موجودہ صورتحال اور افغان طالبان کا موقف
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
امارت اسلامی افغانستان کی اعلیٰ سطحی قیادت ان دنوں پاکستان کے سرکردہ علماء کرام اور دینی راہ نماؤں کو اپنے موقف اور پالیسیوں کے حوالہ سے بریف کرنے کے لیے ان سے رابطوں میں مصروف ہے جو ایک خوشگوار امر ہے اور اس کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی۔ افغان طالبان کے بارے میں عالمی اور علاقائی میڈیا طرح طرح کی خبروں اور تبصروں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جو عموماً منفی اور کردار کشی پر مبنی ہوتا ہے، جبکہ خود افغان طالبان کا میڈیا محاذ اس حوالہ سے بہت کمزور ہے اور ان کے پاس اس کے وسائل بھی نظر نہیں آتے۔ اس خلا کو کسی حد تک باہمی رابطوں اور میل جول سے پر کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے امارت اسلامی افغانستان کی اس تازہ مہم سے ہمیں اطمینان حاصل ہوا ہے اور ہم اس کے جاری رہنے کی امید رکھتے ہیں۔
امارت اسلامی افغانستان کے چند سینیئر راہ نماؤں کے ساتھ ان رابطوں کے دوران راقم الحروف کو بھی گفتگو کا موقع ملا ہے جس کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے۔
افغان راہ نماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیرونی عسکری جارحیت کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کی ہیں اس کا اعتراف اب عالمی سطح پر بھی ہونے لگا ہے اور یہ رائے عام ہوتی جا رہی ہے کہ نیٹو اتحاد افغانستان میں طالبان کے خلاف اس جنگ میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا اور اب وہ با عزت واپسی کے راستے تلاش کر رہا ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے اور اس میں کسی طرح کا کوئی مبالغہ نہیں ہے لیکن اب امارت اسلامیہ افغانستان کو ڈپلومیسی اور میڈیا کے محاذ پر جن مشکلات کا سامنا ہے اس کے لیے پاکستان کے دینی حلقوں کی توجہ اور سرپرستی ضروری ہے۔ مثلاً وسائل کی کمی ان کے لیے اپنی پوزیشن کی وضاحت اور بہی خواہوں کے ساتھ رابطوں میں بڑی رکاوٹ ہے۔ خصوصاً میڈیا کے شعبہ میں غلط پروپیگنڈے کا جواب جس قدر زیادہ ضروری محسوس ہوتا ہے اس سے زیادہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔
ڈپلومیسی کے محاذ پر ان کا کہنا ہے کہ اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سب سے بڑی خواہش اور کوشش یہ ہے کہ جانے سے پہلے کسی نہ کسی طرح حامد کرزئی کو افغانستان کے ایک جائز حکمران کے طور پر تسلیم کرا لیا جائے۔ اس کے لیے لوئی جرگہ اور بین الاقوامی کانفرنسوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دینی قیادت کی اہم شخصیات کو مصالحت کے نام پر حامد کرزئی اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ بٹھا کر کٹھ پتلی حکومت کے امیج کو بہتر بنانے کی کوشش ہو رہی ہیں جو حامد کرزئی کو جائز حکمران کی حیثیت دینے کی چال سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ گزشتہ سال کابل میں علماء کرام کی ایک بین الاقوامی کانفرنس اسی مقصد کے لیے منعقد ہوئی تھی جس میں شرکت سے انکار کر کے پاکستان کے سرکردہ علماء کرام نے اس چال کو ناکام بنا دیا تھا۔ اب پھر اسی طرح کا جال پھیلایا جا رہا ہے، اس لیے امارت اسلامی افغانستان کی علماء کرام سے یہ اپیل ہے کہ وہ اس سے ہوشیار رہیں۔ طالبان راہ نماؤں کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان طالبان نے یہ جنگ مظلوموں کے سب سے بڑے ہتھیار ’’فدائی حملہ‘‘ کے ذریعہ لڑی ہے اور اس میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس ہتھیار کی علی الاطلاق مخالفت اور اسے مطلقاً حرام قرار دینے کے فتوے پر ان کے تحفظات ہیں اور وہ اس میں اپنا نقصان محسوس کر رہے ہیں۔
اسی دوران طالبان راہ نماؤں کی طرف سے ایک مفصل تحریری موقف تقسیم کیا گیا ہے جس کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی ضرورت ہے۔ جبکہ کالم کا دامن تنگ ہونے کی وجہ سے اس کا صرف ایک حصہ ہم اس میں پیش کر رہے ہیں، مگر اس سے قبل میں اپنی گفتگو کا مختصر خلاصہ بھی پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
راقم الحروف نے عرض کیا کہ جہاں تک افغانستان میں ہونے والے جہاد کا تعلق ہے ہم اسے افغانستان کی قومی آزادی کی جنگ اور شرعی جہاد سمجھتے ہیں۔ روسی استعمار کے خلاف ان کی جنگ بھی شرعی جہاد تھا اور امریکی استعمار کی عسکری یلغار کے خلاف ان کی مزاحمت اور جنگ بھی شرعی جہاد ہے۔ اسی طرح امارت اسلامی افغانستان نے اپنے پانچ سالہ دورِ اقتدار میں خلفاء راشدینؓ کی روایات کو جس طرح زندہ کیا ہے اسے سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دنیا میں نفاذِ اسلام کے نئے دور کا نقطۂ آغاز ہے اور ہم اس کی کامیابی کے لیے پر خلوص خواہش کے ساتھ دعا گو بھی ہیں۔
حامد کرزئی کو ہم افغانستان کا جائز حکمران تصور نہیں کرتے اور ہمارا موقف یہ ہے کہ غیر ملکی فوجوں کے مکمل انخلاء کے بعد افغان عوام اپنی آزادانہ رائے کے ساتھ جو حکومت قائم کریں گے وہی جائز حکومت ہوگی، اس لیے حامد کرزئی یا اس کے نمائندوں کے ساتھ ان معاملات میں کسی بھی درجہ کی یک طرفہ شرکت غیر اصولی بات ہوگی۔
فدائی حملوں کے بارے میں ہمارا شروع سے یہ موقف ہے جس کا ہم کئی بار اظہار کر چکے ہیں کہ یہ مظلوم اور بے بس قوموں کا آخری جنگی ہتھیار ہوتا ہے جو ہر دور میں استعمال ہوتا آرہا ہے اور آج بھی بے بس مظلوموں کے لیے یہ آخری ہتھیار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے کسی بھی شرعی جہاد یا جائز جنگ میں اس کے استعمال پر ہمیں کوئی اشکال نہیں ہے۔ البتہ پاکستان کے مختلف حصوں میں عام آبادیوں، مساجد، امام بارگاہوں، گرجا گھروں اور مارکیٹوں میں ان خود کش حملوں کے ذریعہ جو تباہی پھیلائی جا رہی ہے، اسے ہم شرعاً درست نہیں سمجھتے اور یہ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ اس لیے پاکستان کا امن و استحکام صرف پاکستانیوں کی ضرورت نہیں بلکہ اسلام اور عالم اسلام کے بھی مفاد میں ہے اور اس میں بدامنی کا فروغ ملت اسلامیہ کے لیے باعث نقصان ہے۔ ہم ان حملوں کے بارے میں واضح تحفظات رکھتے ہیں اور جائز فدائی حملوں اور ناجائز خود کش حملوں کے درمیان فرق قائم رکھنے اور اسے واضح کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں۔
ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان کے اندر ہونے والی اس قسم کی کاروائیوں میں افغان طالبان کا کسی درجہ میں بھی کوئی حصہ نہیں ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ امارت اسلامی افغانستان ایسی کاروائیوں کی کسی طرح بھی حمایت نہیں کر رہی، لیکن میڈیا کے یک طرفہ پراپیگنڈے کی وجہ سے اور ناموں کی مشابہت کی وجہ سے جو غلط فہمیاں پھیلتی جا رہی ہیں ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس فرق کو واضح کرتے رہنا از حد ضروری ہے۔
اس سلسلہ میں امارت اسلامی افغانستان کے تحریری موقف میں جو وضاحت کی گئی ہے وہ اطمینان بخش اور خوش آئند ہے، قارئین کرام اسے بھی ملاحظہ فرمالیں:
’’آخر میں امارت اسلامیہ کی پالیسی اور طریقہ کار سے اچھی طرح آگاہ کرنے کے لیے یہ چند وضاحتیں ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ یہ کہ ہمارے پاس کام کے طریقہ کار کے لیے جید علماء کی جانب سے تائید شدہ مرتب اصول اور لائحہ عمل موجود ہے۔ ہر طرح کے مسائل میں تجربہ کار شیوخ اور علماء کرام سے فتوے طلب کیے جاتے ہیں۔ آپس کے مشورے اور اطاعت کے جذبے سے ہر کام انجام دیا جاتا ہے۔ ہمارے فیصلے ہمارے جذبات کے نہیں اصولوں کے تابع ہیں۔ ہم دشمنوں کی سازشوں کی طرف متوجہ ہیں۔ دنیا کے حالات سے خود کو باخبر رکھتے ہیں۔ داخلی و خارجی سیاست میں امور کے بہتر نظم و ضبط کے لیے الگ الگ کمیٹیاں متعین کی گئی ہیں۔ ایک دوسرے کے کاموں میں بے جا مداخلت نہیں کی جاتی۔ اپنی بساط کے مطابق ہم نے کوشش کی ہے کہ کام اہل کار افراد کے سپرد کیا جائے۔ علماء کرام اور صاحب نظر لوگوں کے مشورے اور نقطہ ہائے نظر بڑی وسعت قلبی اور دل کی خوشی سے سنتے اور ضرورت کے وقت ان سے استفادہ بھی کرتے ہیں۔ ہمارے طریقۂ کار میں ہر معاملے میں بلا ضروری اور بے وقت دست اندازی اور لوگوں کو بے جا تنگ کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ نہ کسی کو دھمکانے اور نہ تاوان کی غرض سے لوگوں کو اغوا کرنے کو قانونی سمجھتے ہیں۔ اور نہ شک کی بناء پر کسی کے جان و مال کی جانب دست درازی کو جائز سمجھتے ہیں۔ مجاہد کے نام پر بھتہ خوری مجاہد کی شان نہیں سمجھتے۔ بے گناہ انسانوں کا قتل، کثیر آبادی اور مقدس مقامات پر ہدف کی تعیین کے بغیر حملے ہمارا کام نہیں اور نہ ہم کسی اور کو ایسا کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ عزت، ذلت، کامیابی اور ناکامی اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمارے ساتھ اس وقت شامل ہوگی جب ہم اللہ کے دین کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں گے۔ اور اس کے احکام پر عمل کریں گے۔ اللہ کی مخلوق کو اذیت نہ دیں۔ لہٰذا تمام علماء کرام، صاحب نظر لوگوں اور اہل خیر سے ہماری توقع ہے کہ کچھ خود سر یا دشمن کے انٹیلی جنس اداروں کے پنجوں میں جکڑے ہوئے نام نہاد مجاہدین کی نازیبا حرکتوں کو امارت اسلامیہ کی جانب منسوب نہ کریں۔ تمام وہ اعمال جو شریعت کے اصولوں سے متصادم ہیں ہماری جانب سے اس کی تردید کی جاتی ہے اور اگر ہماری صف میں کوئی ایسا کرے گا تو اسے شرعی سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ ہمارے مجاہدین کو اللہ تعالیٰ نے ان ناپاک امراض سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ ایسے نا مناسب اور ناجائز امور کی انجام دہی کے بعد اگر کوئی شخص اپنی نسبت امارت اسلامیہ کی جانب کرتا ہے یا محترم امیر المومنین کو اپنا قائد کہتا ہے تو یہ محض نام کا ناجائز استعمال ہے۔ ایسے لوگ امارت اسلامیہ کے مبارک نام سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جو لوگ امارت اسلامیہ سے مربوط ہوتے ہیں وہ امارت اسلامیہ کی اطاعت بھی کرتے ہیں۔ اور امارت اسلامیہ کی پالیسی یہی ہے جو ہم نے اوپر ذکر کی ہے۔ اگر کوئی اس سے سرتابی کرتا ہے تو اس کا امارت اسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی امارت اسلامیہ ایسے شخص کو مجاہد کہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم اور آپ کو تمام بے اطاعت، جاہ طلب اور نا اہل لوگوں کے شر سے محفوظ فرمائے۔ آمین ثم آمین۔‘‘ (2013/12/30)
شیعہ سنی کشیدگی اور فریقین کی قیادت کی ذمہ داری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
گزشتہ محرم الحرام میں راولپنڈی میں رونما ہونے دردناک سانحہ کے تناظر میں ہم راولپنڈی کی ایک درد مند دل رکھنے والی خاتون غزالہ یاسمین کا ایک خط قارئین کی نذر کر رہے ہیں جس میں انہوں نے اس مسئلہ پر اپنا دردِ دل پیش کیا ہے اور اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک کے عام شہریوں کے جذبات اس معاملہ میں کیا ہیں اور وہ اپنی مذہبی قیادتوں سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ محترمہ غزالہ یاسمین صاحبہ اپنے اس خط کی اشاعت کی فرمائش کے ساتھ لکھتی ہیں کہ:
’’پاکستان کبھی امن و آشتی اور یگانگت کا مظہر تھا۔ اسی قوت کے باعث اس ملک کا قیام عمل میں آیا تھا۔ لیکن نہ جانے اس ملک کو کس کی نظر لگ گئی کہ اب یہ اختلافات خصوصًا فرقہ وارانہ نوعیت کے اختلافات کی زد میں ہے۔ ذرائع ابلاغ ان اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور یوں پوری دنیا میں اسلام اور پاکستان کی سبکی کے سامان فراہم کرتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اختلافات کو کم کرنے کو اپنا مشن بنا لیا ہے۔ یہ لوگ خاموش انداز میں اپنے وسائل استعمال کرتے ہیں اور ان مؤثر شخصیات کو جو اختلافات کو کم کرنے میں کسی طرح بھی اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں، مسلسل قائل کرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ ان سے روابط رکھتے ہیں اور ان روابط کو اس کارِ خیر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
قارئین، ناظرین اور سامعین کو مژدہ ہو کہ آج کی اس تحریر میں ایسے ہی تین اشخاص کے ایک مجموعے کو متعارف کرایا جا رہا ہے جنہوں نے 10 محرم کو راجہ بازار راولپنڈی کے سانحے کے بعد یہ قسم کھائی کہ وہ اللہ کی رضا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی کے لیے ملک بھر کے علمائے کرام، دانشوروں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے روابط کو بڑھائیں گے اور جو کچھ نقصان راولپنڈی کے سانحے کی وجہ سے اسلام اور پاکستان کی ساکھ کو پہنچا ہے، اسے کم کرنے کی مقدور بھر کوشش کریں گے۔ بڑی مشکل سے ان حضرات نے اس بات کی اجازت دی کہ ان کے ناموں سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔ ان تینوں شخصیات کا تعلق کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہے۔ ان میں قدر مشترک پاکستان سے ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی محبت ہے۔ وہ اس لیے بھی پاکستان کے دکھ کو برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کا اپنا وطن غلام ہے اور وہ آزادی کی قدر و قیمت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ شخصیات محمد حنیف خان آف راولا کوٹ آزاد کشمیر، سردار محمد ایوب خان آف باغ آزا دکشمیر اور راجہ محمد امجد خان آف اسکردو گلگت بلتستان حال مقیم راولپنڈی ہیں۔
مختلف مواقع پر ان تین حضرات سے جو ملاقاتیں ہوئیں، ان کی تلخیص کچھ یوں ہے:
محمد حنیف خان آف راولا کوٹ: میں نے سانحہ راولپنڈی کے فورًا بعد متعلقہ علمائے کرام کو فردًا فردًا خطوط لکھے اور ان کے معاملات کو صحیح نہج پر لانے کے ضمن میں ادا کیے گئے کردار کو سراہا۔ یہ خطوط ایک عقیدت مند کے خطوط تھے جو ہر طرح کے اختلافات سے بلند ہو کر لکھے گئے تھے۔ میری رائے میں علمائے کرام نے مثالی کردار ادا کیا تھا، اس لیے میں نے اپنے خطوط میں انہیں اولیائے کہتے ہوئے بھی باک محسوس نہیں کیا تھا۔ میں نے اپنے خطوط میں علمائے کرام سے یہ بھی کہا تھا کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں کئی طرح کے لوگ رہتے ہیں۔ ہندو، سکھ اور عیسائی بھی رہتے ہیں۔ شیعہ بھی رہتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ہزاروں بندے مار کر بھی آخر کار بات چیت کریں گے۔ مولانا صاحب! کچھ کیجیے۔ کسی دن کسی شیعہ لیڈر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کر لیں۔ یقیناًقتل و غارت بند ہو جائے گی۔ روزِ محشر اگر بلند مقام نہ پایا تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجھے شرمندہ کر دینا۔
سردار محمد ایوب خان: اپنے ملک کے تمام علمائے کرام اور ان کے عقیدت مندوں سے التماس کرتا ہوں کہ مخالفین کو پیار و محبت سے سیدھی راہ پر لایا جائے۔ ہم تو انہیں اپنی ضد پر پکا کر رہے ہیں۔ کیا ہمارے اکابرین اسی طرح تبلیغ کیا کرتے تھے؟ ہمارے اکابرین کون ہیں؟ یقیناًحضرت شاہ ولی اللہ ہیں۔ یقیناًحضرت مہاجر مکی ہیں۔ یقیناًقاری محمد طیب ہیں۔ یقیناًمولانا اشرف علی تھانوی ہیں۔ یقیناًمولانا احمد علی لاہوری ہیں۔ قریب کے زمانے میں مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا عبد الحق، حضرت مفتی محمود اور حضرت قاضی حسین احمد آخر ہمارے ہی اکابرین میں سے ہیں۔ کیا وہ بھی یوں ہی کیا کرتے تھے جیسے آج کل ہو رہا ہے؟
راجہ محمد امجد خان: 24 دسمبر 2013کو پورا ملک راولپنڈی پر کان دھرے ہوئے تھا کہ 10 محرم کے المناک سانحے کے بعد راولپنڈی میں چہلم کا جلوس نکلنا تھا۔ ہر طرف خدشات تھے کہ نہ معلوم کیا ہوگا؟ ہر آدمی سوچ رہا تھا کہ کشت و خون ہوگا۔ لیکن 24 دسمبر کو صورت حال بالکل مختلف نظر آئی۔ ہر طرف امن و امان تھا۔ لوگ پر سکون تھے۔ لاکھوں افراد کا جلوس تھا جو راجہ بازار سے گزرا۔ کہیں گملا نہ ٹوٹا۔ راجہ بازار کے تاجر سب سے زیادہ مطمئن تھے کہ ان کا سکون بحال ہو رہا تھا۔ میں بھی سروے کرنے نکلا۔ نماز مغرب مرکزی جامع مسجد اہل حدیث میں ادا کی۔ وہاں یہ دیکھ کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جلوس میں شامل شیعہ حضرات کی بڑی تعداد نماز ادا کر رہی تھی۔ جامع مسجد اہل حدیث کے منتظمین انہیں ہر طرح سے خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ مسجد کے باہر شیعہ خواتین نماز ادا کر رہی تھیں۔ مسجد پر کوئی پہرہ نہ تھا۔ اندر آنے کی اجازت عام تھی، بالکل عام دنوں کی طرح۔ دیگر مساجد اور مختلف مقامات پر بھی ایسا ہی دیکھا، کوئی تفریق کہیں نظر نہ آئی۔ دل بہت خوش ہوا۔ گزشتہ 10 محرم کو ہونے والا سانحہ بھی نہ ہوتا اگر دونوں طرف کے علماء باہم روابط استوار رکھتے۔ کہیں نہ کہیں روابط کی کمی کے باعث افسوسناک سانحہ ہوا، لیکن بعد میں چہلم کے موقع پر راولپنڈی خصوصاً راجہ بازار کے لوگوں کے مثالی طرز عمل کے بارے میں آگاہ کرنا چاہتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آئندہ بھی ہمیشہ ایسی ہی یک جہتی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔‘‘
ترجمہ قرآنی ۔اور۔ میری کہانی
مولانا سید سلمان الحسینی الندوی
ستمبر ۱۹۵۴ء میں میری پیدائش ہوئی۔ والد صاحب مظاہر علوم سے فارغ ہوکر حضرت مولانا علی میاںؒ کی خدمت میں ۱۹۵۰ء میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ وہ حضرت مولاناؒ کے ۱۹۵۰ء کے سفرِحجاز میں دیگر چند حضرات کے ساتھ شریک تھے۔ سفر تبلیغی ودعوتی تھا۔ والد صاحب دوسال کے لیے حجاز میں رہ گئے۔اس دوران عراق ،شام وفلسطین کے تبلیغی اسفار کا موقع ملا۔ حجاز کے دورانِ قیام امامِ حرمِ مکی شیخ عبد المہیمن مصری سے قراء ت کی مشق کی۔ قرآن پاک کا حفظ بھی شروع کیا۔ وہ ان کے لہجہ سے متاثر ہوئے۔ حفظ مکمل تو نہیں ہوسکا تھا لیکن اچھا خاصا حصہ یاد تھا۔ مجھے یاد ہے کہ وہ میرے بچپن میں محلہ کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھاتے تھے اور بڑی اچھی حجازی قراء ت فرماتے تھے۔
وہ مرکز تبلیغ، لکھنؤ میں ندوہ کے مکتب میں پڑھاتے تھے جب میری مکتبی تعلیم ان کے پاس شروع ہوئی۔ پھر وہ مددگار ناظم ندوہ بنادیے گئے اور میری مکتبی تعلیم جاری رہی۔ غالباً ۱۹۶۱ء سے مجھے منصور پور ضلع مظفر نگر کے درجہ حفظ میں دو پارے حافظ یامین صاحبؒ کے پاس پڑھنے کا موقع ملا جو بہت اچھے قاری تھے۔ پھر دوبارہ انہی پاروں کا اعادہ مظفر نگر کی حوض والی مسجد میں حافظ ساجد صاحبؒ کے پاس کرنے کی نوبت آئی جہاں ہمارے اباجی سید محمدیوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ رہتے تھے جو حضرت مدنی ؒ کے مرید با اختصاص اور جمعیت العلماء کے مظفر نگر میں ذمہ دار تھے۔ پھر ۶۲۔۱۹۶۳ء میں باقاعدہ میرا داخلہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے درجۂ حفظ میں حافظ محمد اقبال صاحب ؒ کے پاس ہوا۔ پھر ایک سال بعد ۱۹۶۸ء میں حافظ حشمت صاحب ؒ کے سیکشن کی طرف منتقل کردیا گیا جہاں ۱۹۶۷ء میں میرا حفظ قرآن مکمل ہوا۔
دورانِ حفظ قاری رشید الحسن صاحبؒ سے گھر پر قراء ت کی مشق کرتا رہا۔ وہ نواب سید صدیق حسن قنوجی کے پرپوتے تھے جو بعد میں میرے خالو بھی ہوگئے۔ پھر پاکستان منتقل ہوگئے۔ ان کے صاحبزادگان ماشاء اللہ حافظ، قاری اور عالم ہیں اور تعلیمی میدان میں اچھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مجھے ان کی قراء ت اور بالخصوص ان کا ’’مد‘‘ اور اس میں ان کی آواز کا تموج بہت پسند تھا۔ درجہ حفظ میں ہمارے دورمیں طلباء کو قاری عبدالباسط عبد الصمد کی قراء ت سنانے کے لیے گراموفون کا انتظام کیا گیاتھا۔ ہم طلباء ان کی قراء ت کے سحر سے مسحور تھے۔ کبھی کبھی فجر بعد کسی ہوٹل میں ان کی تلاوت لگادی جاتی اور سڑک پر لوگ ٹھٹھک کر کھڑے ہوجاتے۔ قرآن پاک سے یہ میرا حفظ وقراء ت، تراویح کی امامت، اور اس کی تلاوت کی نغمگی سے ذوقی اور وجدانی تعلق کا دور تھا۔
۱۹۶۹ء سے عربی کے درجۂ سوم میں داخلہ ہوا اور عربی کی شد بد سے قرآنی الفاظ کے ابتدائی مطالب سے مناسبت شروع ہوئی جو درجہ کی کتابوں کے اہتمام اور مطالعہ کے چسکہ کی بنیاد پر ۱۹۷۰ء میں خوب پروان چڑھی۔
۷۰۔۱۹۷۱ء میں کلیۃ الشریعہ کے پہلے سال ۔جسے عربی پنجم کہتے تھے۔ کا ترجمہ وتفسیرِقرآن کا گھنٹہ مولانا برہان الدین سنبھلی ۔دام ظلہ۔ کا لگایا گیا۔ مکی دور کی سو رتیں اعراف، یونس، ہود وغیرہ نصاب میں تھیں۔ مولانا کی زبان کی چاشنی، لطیف اشارات، عمدہ محاورات، اور افہام وتفہیم پر استادانہ قدرت ومہارت نے اس موضوع سے بڑا انس پیدا کردیا۔ درجہ میں توجہ سے سنتا اور گھر پر آکر ظہر بعد اپنے حافظہ سے درسِ تفسیر لکھ لیتا۔ ہر کام کی چیز کو حفاظت سے رکھنے کا ذوق تھا۔ سب سے زیادہ اہتمام سے قرآن کے ان دروس کو محفوظ رکھا۔ دھاگہ سے سی کر اس کی جلد بنائی اور اس کے صفحہ اول پر ’’عنوان کتاب‘‘ کے طرز کی معلومات درج کیں۔ تقریباً ۴۰؍ سال بعد خیال آیا کہ مولانا برہان الدین سنبھلی ۔دام ظلہ۔ جو فالج کے بعد معذور چل رہے ہیں۔ اللہ ان کو شفائے کامل عطا فرمائے۔ سے چند سطریں بطور تبرک لکھواکر اس مجموعۂ دروس کو شائع کردوں۔ ایک پیش لفظ کے ساتھ الحمد للہ ’’درسِ قرآنِ کریم‘‘ کے نام سے شائع کردیا۔
یہ جملہ معترضہ تھا۔ قرآن کچھ سمجھ میں آنے لگا اور تروایح میں اب ایک خاص کیف کے ساتھ پڑھنے لگا۔ ۷۳۔۱۹۷۴ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے شیخ ا لتفسیر حضرت مولانا محمد اویس نگرامی ندویؒ سے مدنی سورتوں ۔البقرۃ، آل عمران۔ وغیرہ کی تفسیر پڑھنے کا موقع ملا اور اس کے منتخب اجزا کو عربی میں قلمبند کرتارہا۔ اسی دوران حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی ’’الفوز الکبیر‘‘ درجۂ ہفتم میں پڑھی۔ مولانا نگرامیؒ ،شاہ ولی اللہ، ابن تیمیہ، ابن القیم کے عاشق ودلدادہ تھے۔ شاید ہی کوئی دن ان کے حوالوں، ان کی تحقیقات اور علمی نکات اور بلند مقام کے تذکرہ کے بغیر گذرتا ہو۔ آگے چل کر فضیلت دوم میں حجۃ اللہ البالغۃ کے درس نے تو میرے ذہن پر ان کے فکری نقوش ایسے مرتسم کردیے کہ پھر انہی کی فقہی تحقیقات اور اختلافاتِ فقہاء کے اسباب، اور اجتہاد وتقلید پر ان کے نظریات کو اپنے مقالۂ فضیلت کا عنوان بنایا۔ ان موضوعات پر میرے رسائل شائع ہوچکے ہیں۔
یہی وہ زمانہ تھا کہ مرکز تبلیغ لکھنؤ میں ہر اتوار کو مغرب بعد مولانامحمد منظور نعمانیؒ کا درس قرآن پاک ہوتا تھا جس میں لکھنؤ کے خواص اور باذوق حضرات شریک ہوتے تھے۔ میں بھی طالبعلمانہ حاضری دیتا تھا اور مولانا کے سادہ، پرمغز اور موثر درس سے مستفید ہوتا تھا۔
۱۹۷۴ء میں اپنے درجہ کے ساتھیوں کو لے کر میں نے ’’انجمن شباب الاسلام‘‘ قائم کی جس کے مقاصد میں درس قرآن پاک کے حلقوں کا قیام بڑی اہمیت کا حامل تھا، لیکن ۷۵۔۱۹۷۶ء میں فضیلت کے دوسال کی تعلیم اور ۱۹۷۷ء سے ۱۹۸۰ء کے اواخر تک جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ (ریاض) میں کلیۃ اصول الدین میں ایک سال کی تعلیم اور د و سال مقالۂ ایم اے کی مشغولی نے عملی طور پر انجمن کے کاموں اور درسِ قرآن پاک کے حلقوں کو موخر رکھا۔
ریاض میں کلیۃ اصول الدین میں ۱۹۷۷ء میں میرا داخلہ ہوا۔ وہاں نصاب کا ایک نیا تجربہ ہوا۔ تفسیر کے دوگھنٹے ہوتے تھے۔ ایک تفسیر تحلیلی کے عنوان سے ہمارے ہاں رائج طرز کے مطابق، یہ گھنٹہ ڈاکٹر مصطفی سوری کا تھا۔ وہ بڑے فصیح اللسان اور پختہ صاحبِ علم تھے۔ دوسرا گھنٹہ ’’تفسیر موضوعی‘‘ کے نام سے تھا۔ یہ تفسیر کے معروضی مطالعہ کا نیا طرز تھا جس کے ہم لوگ ہندوستان میں عادی نہیں۔ یہ موضوع ڈاکٹر احمد حسن فرحات سے متعلق تھا۔ وہ بھی شامی ہیں۔ حسن اتفاق یہ کہ میرے اصل موضوع، علوم حدیث کے استاد بھی شام کے معروف عالم ومحدثِ جلیل، شیخ عبدالفتاح ابوغدۃؒ تھے جو ہمارے مقالۂ( ایم، اے) کے نگراں بھی تھے۔ تیسرا موضوع علوم القرآن کا تھا جس میں شیخ مناع القطان کی ’’مباحث فی علوم القرآن‘‘ ہم طلباء نے پڑھی تھی اور ڈاکٹر صبحی الصالح کی ’’مباحث فی علوم القرآن‘‘ بھی مطالعہ میں رہی۔
ڈاکٹراحمد حسن فرحات سے سید قطب کی ’’التصویر الفنی فی القرآن ‘‘ پڑھی جس سے ایک نیا پہلو قرآنیات کا سامنے آیا۔ سید قطب کی ’’مشاہد القیامۃ فی القرآن‘‘ اور ان کی عظیم الشان تفسیر ’’فی ظلال القرآن‘‘ کے مطالعہ کا بھی خوب موقع ملا، بلکہ کہنا چاہیے کہ اس تفسیر میں سید قطب کے جگر کا خون اس طرح شامل ہے اور زبان وبیان کے ساحرانہ ملکہ کی ایسی بلاکی تاثیر اس میں پیدا ہوگئی ہے کہ اس کا قاری صرف علمی اور تحقیقی ٹھنڈی تفسیر نہیں پڑھتا، بلکہ مضامین قرآن کے ساتھ، پہاڑوں پر چڑھتا، وادیوں میں اترتا، گھاٹیوں کو عبور کرتا، فتوحات قرآن سے سرشار ہوتاجاتا ہے۔ یہ حق ہے کہ اس دور میں اتنی طاقتور تفسیر نہیں لکھی گئی۔
ڈاکٹر احمد حسن فرحات کی طرف سے قرآن کے معروضی مطالعہ کے موضوعات طلباء کو دیے گئے تو میں نے ’’الأمانۃ فی القرآن‘‘ اپنے لیے اختیار کیا۔ پھر’’ الأمانۃ‘‘ کو قرآن پاک سے کھنگالا اور کوئی قابل ذکر تفسیر نہ چھوڑی جس سے ’’امانت‘‘ کی تشریحات اکٹھی نہ کی ہوں۔
ندوہ کے دورِ طالبعلمی میں تفسیر قرطبی، تفسیر رازی،تفسیر ابن کثیر، تفسیر مظہری، تفسیر بیان القرآن کے علاوہ تفسیر معارف القرآن، تفسیر ماجدی، مولانا ابوالکلام آزاد کی ترجمان القرآن اور مولانا امین أحسن اصلاحی کی تدبر قرآن، سب ہی پڑھی تھیں، لیکن حضر ت تھانویؒ کے دقیق نکتوں، اور مولانا اصلاحی کی لغوی بحثوں اور سورتوں اور آیتوں کے ربط کے مختلف پہلوؤں اور تفسیر ماجدی کے تقابلی مطالعوں، اور عصری تحقیقی بحثوں سے ذہن متاثر تھا، لیکن مولانا شبیر احمد عثمانی کے حواشی سے زیادہ اشتغال نے ان کا شائق بنارکھا تھا، اور ’’إنا عرضنا الأمانۃ‘‘ کی تشریح میں اس شعر نے
آسماں بار امانت نتوانست کشید
قرعۂ فال بنام من دیوانہ زدند
لوح دماغ پر ایک تصویر مرتسم کردی تھی، اور یہی ’’ الأمانۃ فی ضوء القرآن‘‘ کے موضوع کا محرک بنی۔ الحمد للہ ایم اے سال اول کا وہ مقالہ طبع ہوچکا ہے اور اس کا اردو ترجمہ بھی شائع ہوچکا ہے۔
ڈاکٹر احمد حسن فرحات، مولانا حمید الدین فراہی کے بہت قائل تھے۔ ان کا تذکرہ ندوہ کے ماحول میں ،میں سنتارہا تھا اور ان کے رسالے پڑھتارہا تھا، لیکن ڈاکٹر فرحات کا اصرار تھا کہ میں ایم اے کا اپنا تھیسس ان ہی کی تحقیقات پر لکھوں اور تفسیر کو ہی اپنا موضوع بناؤں، لیکن موضوع کے انتخاب میں شیخ عبدالفتاح ابوغدۃ سے خصوصی تعلق غالب آیا، اور موضوع مقالہ ’’ألفاظ الجرح والتعدیل‘‘ علوم حدیث کا طے پایا۔ میں بطور تحدیث نعمت یہ بھی ذکر کردوں کہ جامعہ محمد بن سعود ریاض میں ’’مسابقۃ الحدیث‘‘ (حدیث کا انعامی مقابلہ) ۱۹۷۸ء منعقد ہوا۔ اس میں پوری جامعہ میں میرا اول نمبر آیا اور پھر ۱۹۷۹ء میں قرآن کا انعامی مقابلہ منعقد ہوا، اس میں حفظ میں بعض مقامات پر بھول جانے کی وجہ سے پوری جامعہ میں دوسرا نمبر آیا۔
جامعہ کے ایک مصری استاد جو شعبۂ تفسیر کے صدر تھے،شیخ’’ محمد الراوی‘‘ تھے۔ ان کا طرزِ قراء ت اور اندازِ تفسیر بڑا موثر ہوتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ دل پر دستک کی چوٹ لگارہے ہیں، ان کا نقش بھی دل ودماغ پر رہا۔
جامعہ محمد بن سعود ۔ریاض ۔سے فارغ ہوکر میں دار العلوم ندوۃ العلماء ۱۴۰۱ھ کے جمادی الثانی اور ۱۹۸۱ء کے ماہ اپریل میں حاضر ہوا اور باوجود تعلیمی سال کے اختتام کے میرے گھنٹے بیرونی طلبا کے لیے سنن ترمذی اور تفسیر کے لگا دیے گئے تھے۔ پھر باقاعدہ ۱۴۰۲ھ مطابق ۱۹۸۲ء سے میں نے سورۃ الفاتحہ، سورۃ البقرۃ، سورۃ آل عمران کا عا لمیت کے سندی سال میں درس دینا شروع کیا اور پہلی مرتبہ سورۃ البقرۃ کے درس کے دوران مجھے پوری سورۃ البقرۃ کی منظم فصلوں اور ان کے عنوانات کا انکشاف ہوا۔
تین انسانی طبقات ۔تین بنیادی عقائد۔ قصۂ آدم وابلیس۔بنی اسرائیل کی تاریخ عروج وزوال۔ امامت ابراہیمی۔ ملت ابراہیمی۔ کعبہ کی مرکزیت۔ یہود ونصاریٰ کی معزولی۔ قبلہ کی تبدیلی۔ امت کا موحدانہ نظام۔ نماز اور زکوۃ کا مکی سورتوں میں بیان گذرنے کے بعد، روزوں کابیان۔ حج کا نظام۔ سماجی مسائل اور اصلاحات۔ خاندانی اور عائلی نظام۔ معرکۂ حق وباطل۔ فلسفۂ موت وحیات۔ انفاق فی سبیل اللہ۔اسلام کا غیر سودی نظام۔ مالیاتی اور معاملاتی مسائل۔ حلفیہ بیانات۔ پھردعاؤں پر اختتام۔
مجھے سورۂ بقرہ ایک جامع اسلامی نظام کے ابتدائی خاکہ کی شکل میں نظرآئی اور میں نے طلبا کو اسی ترتیب سے پڑھایا۔
۱۹۸۲ء سے انجمن شباب الاسلام کی تحریک پھر سے ایک نئے و لولہ اور جوش کے ساتھ شروع کی گئی۔ ہفتہ واری، ماہانہ اور سالانہ پروگراموں کے علاوہ ایک اہم پروگرام شہر کی مساجد میں درس قرآن پاک کے حلقوں کا تھا۔ ندوہ کے متعدد مدرسین کے حلقہ ہائے درسِ قرآن، مختلف مساجد میں شروع کرائے گئے۔
اسی دوران ’’الفوز الکبیر فی اصول التفسیر‘‘ کو معاصر عربی اسلوب کے قالب میں ڈھالنے کے لیے میں نے فارسی اصل کا از سرنو عربی ترجمہ کیا۔ ارادہ اس کی تشریحات اور جامع حواشی کا تھا، لیکن تحریکی مصروفیات نے یہ کام نہ ہونے دیا۔ الفوز الکبیر کا فارسی سے میرا عربی ترجمہ ذی القعدہ ۱۴۰۴ھ میں شائع ہوا۔
درس قرآن کے حلقوں کی مہم ۱۴۰۳ھ کے ماہ رمضان میں، میں نے بڑے زور وشو رسے چلائی اور شہر کی مختلف مساجد میں ختم قرآن کے موقع پر پوری قوت سے عوام کو ترجمہ وتفسیر قرآن پڑھنے کی دعوت دی۔ میرے ذہن میں حضرت شیخ الہند کی یہ بات دوارن مطالعہ نقش ہوگئی تھی کہ حضرت نے مالٹا کے جیل میں خوب غوروخوض کے بعد امت کے مسائل کا حل دونکتوں میں بیان فرمایا تھا، ایک اتحاد ملی کی کوشش، دوسرے قرآن کے مطالب ومعانی کی نشرواشاعت، اور ہماری تحریک کے یہ دونوں بنیادی عناصر تھے۔
میرا ہفتہ واری درسِ قرآن مولوی گنج کی دھنیا مہری مسجد میں بروز چہار شنبہ بتاریخ ۳؍ صفر ۱۴۰۴ ھ مطابق ۹؍نومبر ۱۹۸۳ ء بعد مغرب شروع ہوا جو مولوی گنج کی مسجد خواص کی تعمیر کی تکمیل کے بعد وہاں منتقل ہوگیا۔ پھر مسجد کے لب سڑک ہونے اور ٹریفک کے شوروغل کی وجہ سے ایک عرصہ بعد ہمارے اپنے محلہ کی مسجد ’’قبر ماموں بھانجہ‘‘ میں منتقل ہوا، پہلے یہ درس ہر چہار شنبہ کو بعد مغرب ہوتا تھا، پھر ہر دوشنبہ کو بعد مغرب ہونے لگا۔
لکھنؤ کے مرکز تبلیغ میں بھی مولانا سجاد نعمانی کے لمبے سفرِ تبلیغ کے دوران رمضان وشوال ۱۴۰۳ھ مطابق۱۹۸۳ء میں چند ہفتے پابندی سے درس دینے کا موقع ملا۔ پھر جنوری ۱۹۸۴ء سے نشاط گنج بالدہ روڈ کی جامع مسجد میں وہاں کے حضرات کے اصرار پر پندرہ روزہ درس قرآن شروع کیا، لیکن اپنی شدید مصروفیات کی بنا پر بعد میں اسے دوسرے ساتھیوں کے حوالہ کردیا۔
میرا ہفتہ واری درسِ قرآن۔ حسن اتفاق ہی کہیے کہ۔ نزولِ قرآنی کی مدت ۲۳؍ سال میں پورا ہوا۔ ہر ہفتہ ایک رکوع دور کوع کا درس مغرب سے عشاء تک ہوتا تھا جس کے ٹیپ کرنے کا بھی اہتمام تھا۔ اس کے ساڑھے تین سو، چار سو کیسٹ تیار ہوگئے تھے۔ غالباً ۱۴۲۷ھ مطابق ۲۰۰۶ ء میں یہ درس مکمل ہوا اور اس موقع پر ایک بڑا اجلاسِ قرآنی منعقد کیا گیا۔
اسی دوران اپنے محلہ کی مسجدمیں، میں نے فجر کی نماز کے بعد مختصر درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کیا جو ۱۵؍ سے ۲۰؍ منٹ تک ہوتا تھا جس میں، میں ایک رکوع کی تلاوت کرتا تھااور پھر آیات کا رواں ترجمہ کرتا تھا۔ پھر مختصر سی تفسیر ۔مصلیان مسجد کی رعایت کے ساتھ۔ بیان کرتا تھا۔ الحمد للہ اس یومیہ درس کے ریکارڈ کا بھی اہتمام کیا گیا۔ فجر بعداس مجلس میں الحمد للہ دو مرتبہ پورے قرآن پاک کی تفسیر کا موقع ملا۔
ان دروس کے دوران میں نے مولانا مودودی کی تفہیم القرآن سے بھی بہت استفادہ کیا۔ تفسیر ماجدی اور مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندیؒ کی معارف القرآن بھی زیر نظر رہتی تھی، لیکن یہ احساس ہوتا تھا کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے تفہیم القرآن زیادہ مفید ہے۔ میں نے مولانا مودودی کے ترجمۂ قرآن میں کہیں کہیں عربیت کے صاف اور بلند ذوق کی کمی دیکھی۔ چاہتا تھا کہ ان مقامات کی نشاندہی کردوں لیکن نوبت نہ آسکی۔
قرآن پاک کی تحریک شروع کرنے سے قرآن اور موضوعات قرآنی، میری تقریروں کا عنوان اور موضوع بنتے گئے۔ میں نے اپنے نانا حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کو اپنی تقاریر قرآنی آیات سے شروع کرتے دیکھا تھا۔ قاری کی تلاوت سے مولانا کسی آیت کا انتخاب فرمالیتے تھے، اور اسے ہی تقریر کا عنوان بنالیتے تھے۔ میں نے اسی طرز کو اختیار کیا اور بسااوقات جلسوں میں خطاب سے پہلے کوئی موضوع ذہن میں نہ ہوتا اور کبھی کبھی حمد وثناء وصلاۃ وسلام کے تمہیدی الفاظ ادا کرتے کرتے کوئی آیت کریمہ ذہن میں آتی اور اسی کو موضوع بناکر جلسہ کی مناسبت سے مربوط کرتا۔ اس سلسلہ میں قرآن پاک کی فیاضی، دادرسی اور حکمتوں کے خزانے خوب خوب سامنے آتے رہے۔
مجھے قرآن پاک کے معجزانہ پہلو سے ہمیشہ دلچسپی رہی اور اس سلسلہ میں مصطفی صادق الرافعی کی’’اعجاز القرآن‘‘، علامہ رشید رضا مصری کی ’’الوحی المحمدی‘‘، اور سیدقطب اور محمد قطب کے مضامین کے علاوہ قرآن کے سائنسی اعجاز کے لیے علامہ جوہری طنطاوی کی تفسیر پر بھی نگاہ ڈالی، اوراپنے محترم ومرحوم دوست ۔جن سے عمر کے بڑے فرق کے باوجود تعلق محبانہ اور دوستانہ تھا۔ مولانا شہاب الدین ندویؒ کی ’’چاند کی تسخیر‘‘ سے لے کر تقریباً تمام کتابیں پڑھیں۔ پھر رابطہ عالم اسلامی کے شعبہ ’’الإعجاز العلمی فی القرآن‘‘ کے صدر شیخ عبد المجید زندانی کی ’’إنہ الحق‘‘ اور بعض دیگر کتابیں نظر سے گذریں،اور ان سے متعدد ملاقاتوں میں بھی ان کی تحقیقات سننے کا موقع ملا۔ ہارون یحییٰ کی سی ڈیز دیکھنے اوران کی بعض کتابوں کے مطالعہ سے بھی بہت سے گوشے سامنے آئے۔ قرآن اور سائنس کے موضوع پر موریس بوکائی کی کتاب ’’بائیل قرآن اور سائنس‘‘ بھی غور سے پڑھی۔ اس موضوع پر متعدد متخصص شخصیات کے بیانات سنے جن میں ڈاکٹر زغلول نجار مصری معروف ہیں اور یہ بات کھل کرسامنے آئی کہ آج کے دور میں قرآن کے معجزانہ پہلوؤں میں سب سے زیادہ موثر پہلو، قرآن کے سائنسی اعجاز کا ہے۔ قرآن کے بلاغی، بیانی، لغوی اعجاز کے سمجھنے والے، افسوس ہے کہ مدارس میں بھی برائے نام ہی ہوں گے، لیکن قرآن کے سائنسی اعجاز کا دل ودماغ پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ قرآنی علوم سے متعلق ارض القرآن۔ اعلام قرآنی۔ حیوانات قرآنی۔ اور علوم القرآن کی تمام متداول کتابیں الحمد للہ نظر سے گذریں۔
اسی دوران حضرت مولانا علی میاںؒ کے ۱۹۵۰ء کے قرآنی لکچرز جو انہوں نے دار العلوم ندوۃ العلماء میں بحیثیت استاد تفسیر دیے تھے اور مولاناؒ کے پاس اس کی اصل بھی محفوظ نہیں رہی تھی، والد مرحوم حضرت مولانا سید محمد طاہر صاحبؒ کے محفوظ کاغذات میں ملے۔ انہوں نے مولانا سے وہ لکچرز سنے تھے اور نوٹ کیے تھے۔ میں نے حضرت مولاناؒ کے سامنے انہیں پیش کیا۔ مولانا باغ باغ ہوئے اور پھر ’’مطالعہ قرآن کے اصول ومبادی‘‘ کے عنوان سے نظرثانی اور اضافوں کے بعد اسے شائع کیا۔ پھر حضرت مولاناؒ کی متعدد اردو اور عربی کتابوں کے عربی اور اردو تراجم کی طرح مجھے اس کتاب کو عربی میں منتقل کرنے کی توفیق ملی، اور ’’المدخل إلی الدراسات القرآنیۃ‘‘ کے عنوان سے حضرت والا ؒ نے اپنے مقدمہ کے ساتھ اسے شائع فرمایا۔
اس سیاحتِ قرآنی، تذکیر بالقرآن، جہاد بالقرآن اور تحریکِ قرآنی کی مصروفیتوں کے درمیان متعدد احباب نے ’’اپنا رواں ترجمہ‘‘ پیش کرنے کامجھ سے مطالبہ کیا۔ گذشتہ سالوں میں، میں نے کام شروع بھی کیا، لیکن ایک پارہ سے کام آگے نہ بڑھ سکا۔
ادھر ایک عرصہ سے صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ سال بھر تدریس اور دعوتی مصروفیات کے دوران صرف ہلکے پھلکے مضامین یارسالوں کی نوبت ہی آتی ہے۔ ہاں رمضان المبارک میں سکون سے وقت ملتا ہے۔ چند سالوں سے جامعہ سید احمد شہید میں ماہِ رمضان المبارک گذارنے اور آخری عشرہ کے اعتکاف سے جو یکسوئی نصیب ہوئی، اس میں مسلسل تین سال کے ماہِ رمضان المبارک میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتاب ’’مصفی شرح موطأ‘‘ کے عربی ترجمہ میں مشغول رہا۔ عہدولی اللہی سے ملت اسلامیہ ہندیہ کے علماء پریہ قرض چلا آرہا تھا اور ایامِ طالب علمی سے میری تمنا اس کے ترجمہ کی تھی۔ شاہ ولی اللہ دہلوی کی شخصیت میرے فکری اور فقہی تانے بانے کا اصل مرجع تھی۔
گذشتہ رمضان المبارک ۱۴۳۳ھ میں، میں الحمد للہ’’ مصفی‘‘ کے ترجمہ سے فارغ ہوا اور جوں جوں رمضان المبارک ۱۴۳۴ھ قریب آتا گیا، ترجمۂ قرآن پاک کی پرانی تمنا، دیرینہ مطالبہ اور دلی جذبہ اور پختہ ارادہ عود کرتا گیا۔ ماہ جون ۲۰۱۳ء کے رمضان کوموسم کے اعتبار سے کسی معتدل مقام پر گذارنے اور اس عظیم کام کے لیے یکسو ہونے کا ارادہ کررہا تھا اور خیال تھا کہ جناب ضیاء اللہ شریف صاحب کی قائم کردہ خانقاہ سید احمد شہید میسور ۔ میں ماہِ رمضان المبارک گذارو ں گا اور ترجمہ کا کام انشاء اللہ ایک ماہ میں مکمل کرلوں گا۔ ہمت کہتی تھی کہ روزانہ ایک پارہ کا ترجمہ انشاء اللہ ہوجائے گا، جبکہ رمضان المبارک میں یہ معمول رہتا ہے کہ روزانہ ظہر بعد درس قرآن ہوتاہے، اور پھرروزانہ تراویح کے بعد تراویح میں پڑھے ہوئے حصہ کی مختصر تفسیر ہوتی ہے۔
میں اسی فکر ورابطہ میں تھا کہ رمضان المبارک سے ۲۰؍۲۵؍ روز پہلے کٹھمنڈو ۔نیپال ۔ سے حافظ محمد حسین ندوی مجھ سے ملنے لکھنؤ آئے۔ کٹھمنڈو میں میرے مشورہ سے انہوں نے برادرم سعید قاضی، مولوی عامر ظفر ندوی اور بعض دیگر احباب کے تعاون کے ساتھ ’’مدرسۃ الحرمین‘‘ ۱۹۹۸ء میں قائم کیا تھا۔ پھر ہمارے اصرار پر اس کے لیے چاروں طرف سے پہاڑوں کے بیچ میں ایک خوبصورت وادی میں اراضی خرید کر مسجد، ہوسٹل، اور درجات کی تعمیر کی تھی۔ میری حاضری مدرسہ کے معاینہ اور مدرسہ کے جلسوں میں شرکت کے لیے متعدد بار ہوچکی تھی۔
میں نے حافظ محمد حسین سے رمضان کسی ٹھنڈے مقام پر گذارنے کی اپنی خواہش کا ذکر کیا۔ انہوں نے شدت سے اصرار کیا کہ آپ مدرسۃ الحرمین ۔ کٹھمنڈو ۔ میں رمضان گذاریں۔ وہاں نیپالی، چینی، تبتی اور پاکستانی احباب دروسِ قرآن اور رمضان کے پروگرام سے مستفید بھی ہوں گے اور آپ اپنا کام سکون سے کرسکیں گے۔ میں نے اس پیشکش پر چند شرائط کے ساتھ سنجیدگی سے غور کرنا شروع کردیا اور حافظ حسین نے نیپال میں اس کا اعلان کردیا اور ضروری انتظامات میں کوئی کسرنہ چھوڑی۔
رمضان المبارک ۱۴۳۴ھ کا چاند ہوا۔ مبارک رات سے ابتداہوئی۔ میں نے رمضان المبارک کے پہلے دن، پہلے روزہ کی صبح ۹؍بجے، دو رکعت صلاۃ الحاجۃ اور بارگاہ الٰہی میں مقبول اور پسندیدہ ومفید ترجمہ کی دعاؤں کے ساتھ ۔سورۃ الفاتحہ کے ترجمہ سے’’مقدمۂ قرآن عظیم‘‘ کے عنوان سے ترجمہ کا آغاز کردیا۔ اب روز کا یہی معمول ہوتا۔ ظہر کی اذان تک تقریباً یہ سلسلہ جاری رہتا۔ ظہر بعد مسجد میں درس قرآن ہوتا۔ تراویح کے بعد حسب معمول جتنا حصہ پڑھا جاتا،اس کا مختصر بیان ہوتا اور کبھی تراویح کے بعد احباب کی مجلس کے اختتام پر پھر ترجمہ کی مشغولیت رہتی۔ آخر آخر میں عصر کے بعد مسجد میں کتاب خوانی ودعا کے بعد اپنی قیام گاہ پرمیں پھر ترجمہ میں مشغول ہوجاتا۔
میں نے طے یہ کیا تھا کہ ترجمہ حرفی نہیں ہوگا، معنی خیز ہوگا۔ ضروری وضاحتیں بین القوسین مربوط طریقہ پر ہوتی چلی جائیں گی، تاکہ قاری کو بغیر تفسیر کی حاجت کے، رواں ترجمہ سے ہی مطالب قرآنی سمجھ میں آتے چلے جائیں۔
قرآن کی نزولی ترتیب وقتی ضرورت سے تھی، لیکن حقیقی ازلی اور ابدی ترتیب یہی ہے جو ہمارے سامنے ہے جس کی بنا پر مصحف صدیقی مرتب کیا گیا اور پھر اس کے نسخے مصاحف عثمانی کی شکل میں عالم اسلامی میں پھیلا دیے گئے۔ ظاہر ہے کہ یہ ازلی ترتیب اللہ کی حکمتوں سے لبریز ہے۔ جو عرب اپنی شاعری اور نثاری میں کسی تصنیفی ترتیب سے واقف نہیں تھے اور وہ دور جزیرۃ العرب میں تصنیف وتالیف کا تھابھی نہیں،سورتوں کے ذریعہ مضامین کو اور آیتوں کے ذریعہ مفردات اور جملوں کو پیش کیا گیاتھا۔ زیادہ تر سورتوں کے نام عربی ذوق کے مطابق علامتی رکھے گئے۔ زبان وبیان کے معجزہ سے عرب مبہوت تھے اور ان کے دور کے اسلوب کی اس کلام ربانی میں ایسی نادر اور حیرت انگیز رعایت رکھی گئی تھی کہ وہ فطرت انسانی کو اپیل کرتی تھی، اس لیے وہ نہ ان کے لیے اجنبی تھی، نہ کسی دور میں اجنبی رہی، لیکن ہردور کے انسانوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ’’لتبین للناس‘‘ (تا کہ آپ لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کردیں) کا فریضہ انجام اسی وقت دیا جاسکتا تھا جب ہردور کی زبان اور اصطلاحات میں اس فطری ترتیب کی ترجمانی ہو۔
حق یہ ہے کہ ترجمہ کا یہ کام، رمضان المبارک کے دنوں میں ، صلاۃ الحاجت کے بعد، روزہ کی حالت میں، ایسا مسرت آگیں، سکینت آمیز، اور بارگاہ الہی میں حاضری اور ہم کلامی ومناجات کی روحانی لذتوں کے کیف اور قرب کے وجدانی اثرات سے معمور تھا کہ ایسا لگتا تھا کہ قلب وذہن پر ایک خاص طراوٹ ہورہی ہے اور قلم کو غیبی سہارا دیا جارہا ہے۔ القاء والہام کا دعویٰ تو بڑوں کی بات ہے، لیکن دل جابجا تایید ایزدی اور توفیق ربانی کی گواہی دیتا تھا۔
انہی کیفیات میں ایک دن پورا قرآن ’’ترجمانی کے عصری قالب میں‘‘ ایسا مرتب ہوتا نظر آیا کہ مقدمہ ،ابواب ، فصلیں، ذیلی عنوانات سب ہی مرتب ہوتے چلے گئے۔ نظم وترتیب قرآنی پر تاریخ تفسیر میں معدودے چند عظیم مفسرین نے روشنی ڈالی ہے، لیکن عوام تو عوام، خواص بلکہ اخص الخواص، طلباء اور مدرسین مدارس کی گرفت میں وہ کم ہی آسکی۔ علامتی ناموں سے سورتوں کے حوالہ اور آیتوں کے نمبرات کے ذریعہ جوباتیں کہی جاتی ہیں، ان کے حوالے اس طرح دیے جاتے ہیں کہ ہر مضمون گویاایک مستقل مضمون ہے۔ میرے لیے بہرحال ایک مربوط ترتیب سامنے آتی چلی گئی اور ایک دو مجلس میں قرآن کی ۱۱۴۔ سورتوں کے پندرہ ابواب اور دسیوں فصلوں کے عنوانات طے پاگئے اور پوری فہرست ابواب اور فصلوں کے ساتھ بحمد اللہ مرتب ہوگئی۔ یہ میرے لیے سب سے بڑی دریافت اور سب سے بڑی معنوی فتح تھی۔
قریبی عرصہ میں مولانا تقی عثمانی کا ’’آسان ترجمۂ قرآن‘‘ ضروری تشریحات کے ساتھ تین جلدوں میں چھپ کر آیا ہے۔ انہوں نے رمضان المبارک ۱۹۲۹ء مطابق ستمبر ۲۰۰۸ء میں اس کو مکمل کیا۔ دوسرا ’’آسان ترجمہ وتشریح قرآن مجید‘‘ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے قلم سے رمضان ۱۴۱۹ھ سے درمیان کے لمبے وقفوں کی وجہ سے ربیع الاول ۱۴۳۲ھ مطابق فروی ۲۰۱۱ء میں سورۂ اعراف تک ایک جلد میں شائع ہوا۔ دوسری، تیسری جلد کا انتظار ہے۔ میرا احساس ہے کہ ان دونوں ترجموں سے یہ ترجمہ زیادہ آسان، سہل اور رواں ہے۔ پھر کیونکہ میں نے تفسیر نہیں لکھی، ترجمہ میں ہی ضروری توضیحات مربوط طور پر کر دی ہیں کہ تسلسل کے ساتھ قاری پڑھتا چلاجائے اور اسے بار بار نمبرات دیکھ دیکھ کر نیچے حاشیے نہ دیکھنے پڑیں، اس لیے مجھے امید ہے کہ اس ترجمہ بلکہ ترجمانی سے مستفید ہونے والے قاری کو جس کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، مزید تشریحات کے بغیر مطالب قرآنی سمجھ میں آتے چلے جائیں گے۔
غزالی اور ابنِ رشد کا قضیہ ۔ اصل عربی متون کی روشنی میں (۱)
مولانا محمد عبد اللہ شارق
(نوٹ: بعض عربی عبارات کا ترجمہ نہیں کیا گیا، کیونکہ عربی عبارت نقل کرنے سے قبل ہی ان کا مفہوم، اپنے الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے۔)
غزالی نے اپنے دور میں خود کو مسلم کہنے والے بعض فلسفیوں کی کچھ آراء پر سخت علمی تنقید کی جو ان کی کتاب ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘ کی صورت میں آج تک موجود ہے، جبکہ ایک مشہور فلسفی ’’ابنِ رشد‘‘ نے ’’تہافت التہافت‘‘ کے نام سے اس نقد کا جواب لکھا۔ غزالی اور ابنِ رشد کی اس آویزش کو غزالی اور ابنِ رشد کا قضیہ کہا جاتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں اس علمی آویزش اور بحث کے تمام پہلوؤں کو زیرِ بحث لانا مقصود نہیں، نہ یہ مفید ہے اور نہ ہی آج کے جدید ذہن کے لئے یہ سب پہلو قابلِ فہم ہوں گے۔ موجودہ دور میں بہت سے لوگ غزالی کے مقابلہ میں ابنِ رشد کو اپنا راہ نما قرار دیتے ہیں اور قرائن یہ بتاتے ہیں کہ ان کی اکثریت نے غزالی اور ابن رشد کے عربی متون کو تو درکنار، ان کے تراجم کو بھی نہیں پڑھا۔ کہیں کسی تحقیقی مجلہ میں اس موضوع پر دو، ایک مقالے پڑھ کر وہ اس معاملہ میں ثالثی کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہمارے قومی اخبارات کے بہت سے کالم نگاروں کا یہ پسندیدہ موضوع ہے اور وہ وقفہ وقفہ سے اِس موضوع پر رائے زنی کرتے ہوئے غزالی کے موقف پر ابن رشد کے موقف کو ترجیح دیتے رہتے ہیں۔ غزالی کے حوالہ سے یہ حضرات کچھ سنگین قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر عالمِ اسلام‘ غزالی کی بجائے ابنِ رشد کو اپنا راہ نما بناتا تو آج ذلت کے یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ ان کا خیال ہے کہ ابن رشد سائنس اور اسلام کے درمیان ہم آہنگی کا قائل تھا، جبکہ غزالی سائنس کے مخالف ومنکر تھے اور گیارہویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کے درمیان آنے والا سائنسی وفکری انحطاط غزالی کی مخالفت ہی کی وجہ سے پیدا ہوا۔ زیرِ نظر مضمون میں دراصل انہی ’’مغالطوں‘‘ کا ازالہ مقصود ہے۔ ان حضرات پر میری تنقید غزالی سے اندھی عقیدت کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ سوچی سمجھی رائے ہے جو غزالی اور ابن رشد کے اصل عربی متون کو براہِ راست پڑھنے کے بعد میرے اندر پیدا ہوئی ہے۔
امام غزالی رحمہ اللہ کا موقف
غزالی نے فلسفیوں پر کوئی ایسا جبر نہیں کیا کہ وہ فلسفہ نہ پڑھیں یا سائنسی تحقیقات کرنا چھوڑ دیں اور نہ ہی کبھی انہوں نے یہ کہا کہ اسلام اور سائنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ غزالی کے پیروکاروں نے ایسے فلسفیوں اور سائنس دانوں پر کبھی تنقید نہیں کی جنہوں نے خود کو سائنسی تجربات اور ریاضی وطب جیسے مفید، کارآمد اور اوریجنل سائنسی علوم تک محدود رکھا۔ چنانچہ ہمارے علم کے مطابق الخوارزمی (الجبرا کے بانی)، ابن الہیثم (ماہرِ طب)، حکیم یحییٰ بن ابی منصور، ابو ریحان البیرونی (ماہرین جیومٹری)، مسلم بن فراس (پہلا ہوا باز)، عباس بن سعید جوہری اور سند بن علی (آلاتِ رصد بنانے کے ماہر)، بنو موسیٰ بن شاکر (گھڑی جیسے متحرک آلات بنانے کے ماہر)، محمد بن زکریا رازی (ماہر کیمیا)، حکیم ابو محمد العدلی القائنی، ابو سہل ویجن بن رستم کوہی اور حکیم ابو الوفاء بوزجانی (ماہرین ریاضی) جیسے لوگوں کو کبھی بھی کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلم حکماء اور سائنس دانوں میں اکثر لوگ ایسے ہی تھے جنہوں نے خالصتاً ریاضی وطب جیسے حقیقی اور تجرباتی علوم تک اپنے آپ کو محدود رکھا اور اس میدان میں خدمات انجام دیں، لیکن ان کی زیادہ شہرت نہیں۔
مولانا عبدالسلام ندوی کے بقول’’ صرف مامون الرشید کے زمانہ تک مسلمانوں میں متعدد ریاضی دان پیدا ہوئے اور مشہور ہوئے، مگر فلسفی صرف کندی پیدا ہوا۔ ‘‘ (حکمائے اسلام۔ جلد۱، صفحہ۱۰۵)لیکن ان ریاضی دانوں اور جینوئن سائنس دانوں کے نہ تو آج نام زیادہ معروف ہیں اور نہ ہی تاریخ میں ان کے احوال زیادہ محفوظ ہیں، وجہ وہی کہ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی اور یہ لوگ اپنا سا کام کرتے رہتے تھے، متنازعہ امور میں یا مذہب کے معاملہ میں ٹانگ اڑا کر انہوں نے کبھی مشہور ہونے کی کوشش نہیں کی۔ دیکھئے، بنو موسیٰ بن شاکر، حکیم یحییٰ بن منصور ، عباس بن سعید وغیرہ کے نام سے کون واقف ہے؟ صرف الخوارزمی کا نام جانا پہچانا ہے، مگر اس کے حالات بھی آدھے صفحہ سے زیادہ نہیں ملتے۔ ایسے لوگوں کو بھی اگرچہ بعض اوقات فلسفی کہا جاتا ہے کیونکہ اس دور میں ریاضی وطب جیسے علوم بھی فلسفہ کا ایک شعبہ سمجھے جاتے تھے، لیکن فی الجملہ ان کو فلسفی کی بجائے ’’حکیم‘‘ کہا جاتا ہے۔ فلسفی کا لفظ اس کے مقابلہ میں ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، جنہوں نے خود کو ان جینوئن علوم تک محدود نہیں رکھا، بلکہ مذہبیات اور مابعد الطبیعیات میں ٹانگ اڑا کر اس میں بھی نئی نئی ’’ایجادات‘‘ پیش کرنے کی کوشش کی یا دوسروں کی ’’ایجادات‘‘ کو رد کیا۔ یہی وجہ ہے کہ لطفی جمعہ کی ’’تاریخ فلاسفۃ الاسلام‘‘ میں صرف ایسے ہی لوگوں کا تذکرہ ملتا ہے، جینوئن حکماء اور سائنس دانوں کا نہیں۔
غزالی کی تنقید کا رخ انہی ’’مسلم‘‘ فلسفیوں کی طرف ہے جنہوں نے اپنے متنازعہ ’’کارناموں‘‘ کی وجہ سے شہرت حاصل کی اور ان میں سے بعض نے اپنی الہیات اور مابعد الطبیعیات (Metaphysics)کو اسلام میں داخل کرنے کی سعی کی۔ان فلسفیوں نے اپنے علمِ الہیات میں خداوند تعالی کے بارہ میں یہ عجیب وغریب دعوی کیا کہ وہ اپنی مخلوق کی کلیات کو اور ان پر طاری ہونے والے جزوی حالات کو جانتا ہے یعنی یہ کہ میری مخلوق میں انسان ہے، چرند ہے، پرند ہے،ان میں کس نے کب پیدا ہونا اور کب مرنا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن وہ ان جزئیات میں آنے والے موقع بموقع تغیر سے بے خبر اور غافل ہے، یعنی انسانوں میں اس وقت کتنے انسان موجود ہیں ، کون پیدا ہورہا ہے؟ کون مررہا ہے؟کون سا درخت پھل رہا ہے اور کون سا درخت سوکھ رہا ہے؟ کونسا ہوچکا ہے اور کس نے ہونا ہے؟ اگر کسی کو یہ ’’منطق‘‘ ناقابلِ فہم اور عجیب وغریب محسوس ہوتی ہے تو وہ فلسفیوں کا سر پیٹے، ہمارا نہیں۔ یہ حرف بحرف انہی کا عقیدہ ہے۔ فلسفہ کے مشور و متداول متن ’’ہدایۃ الحکمۃ‘ ‘ کے مصنف اثیر الدین ابہری کے الفاظ ہیں: ’’الواجب لذاتہ عالم بالجزئیات المتغیرۃ علی وجہ کلی۔۔۔ لکن لا یدرکہا مع تغیرہا‘‘ (ہدایۃ الحکمۃ۔ صفحہ۷۲) اہل سنت کے ہاں مشہور یہ رہا ہے کہ فلسفی سرے سے یہ ہی نہیں مانتے کہ اللہ کی ذات کو جزئیات کا علم حاصل ہے، لیکن یہ بات درست نہیں۔ علامہ شبلی نے بھی یہ وضاحت کی ہے۔ (علم الکلام۔ جلد اول،صفحہ۱۲۹) صحیح بات یہی ہے کہ وہ اسے مانتے بھی ہیں اور نہیں بھی، یعنی مانتے ہیں لیکن اپنی عجیب وغریب منطق کے ساتھ۔ تہافت التہافت کے محقق ڈاکٹر سلیمان دنیا نے بوعلی کی سینا کی تصنیف ’’الشفاء‘‘ سے عبارت نقل کرکے دعوی کیا ہے کہ وہ باری تعالیٰ کے بارہ میں جزئیات سے بالکل ناواقف ہونے کا قائل تھا۔ (تہافت التہافت۔ صفحہ۵۸)لیکن میری سمجھ سے یہ بالا تر ہے کیونکہ اس کی محولہ عبارت میں ہی الفاظ یہ ہیں: ’’لایجوز ان یکون عاقلا لہذہ المتغیرات مع تغیرہا من حیث ہی متغیرۃ عقلا زمانیا مشخصا (بل علی نحو آخر نبینہ) ۔۔۔واجب الوجود انما یعقل کل شیء علی نحو کلی۔۔۔‘‘ (تہافت التہافت۔صفحہ۵۰) مزید سنئے، اسی طرح ان فلسفیوں نے یہ دعوی کیا کہ خدا ایک بے دست وپا قسم کی قوت (جسے وہ ’’عقل ‘‘ کہتے ہیں) کا نام ہے جس سے ایک اور قوت نے جنم لیا، اس سے پھر ایک اور قوت نے، یہاں تک کہ یہ سلسلہ دسویں قوت اور ’’عقل‘‘ تک پہنچا۔ اس دسویں عقل اور قوت سے یہ سارا جہان نمودار ہوا۔ اثیر الدین ابہری کے الفاظ ہیں: ’’الصادر من المبدء الاول انما ہو الواحد لانہ بسیط والبسیط لا یصدر عنہ الا الواحد کمامر‘‘ (ہدایۃ الحکمۃ۔ صفحہ۷۵)
یہ باتیں دلیل کی رو سے کتنی بے سروپا اور احمقانہ ہیں، اس بحث میں پڑے بغیر فی الحال صرف یہ دیکھئے کہ ایک آدمی یہ سب باتیں خود کو مسلمان کہتے ہوئے اسلام ہی کے نام پر کرتا ہے تو کیا اسے اس بات کا حق پہنچتا ہے اور اگر کوئی غزالی اس پہ تنقید کرے تو کیا یہ بلاجواز ہے؟ بات بڑی واضح ہے کہ ان ہفوات کو فلسفی بے شک اپنے ’’علم الہیات‘‘ کا جزو بنائیں کیونکہ دین میں جبر نہیں، مگر انہیں اس بات کاکوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ یہ سب باتیں خود کو مسلمان کہتے ہوئے بھی کریں اور یوں مسلمانوں کے لئے تشویش، انتشار اور افتراق کا باعث بنیں۔ طرہ یہ کہ ’’مسلم‘‘ فلسفی اپنی الہیات کو ریاضی اور منطق کی طرح حتمی اور شبہات سے پاک بھی سمجھتے تھے، مگر ان کا دعوی تھا کہ اس کے دلائل کو سمجھنا صرف فلسفیوں کے لیے ممکن ہے۔
غزالی یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان فلسفہ اور سائنس کے صرف کارآمد علوم کو اختیار کریں اور مذہب کے دائرہ سے ان کو الگ رکھتے ہوئے ان کی بنیاد پر اسلام کو بدلنے کی کوئی کوشش نہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نزدیک حکمت وفلسفہ اور سائنس کے تمام اجزاء قابلِ اعتراض نہیں، بلکہ صرف وہ حصہ جو اسلام کی تعلیمات سے صریحاً متصادم ہے ۔غزالی کے اپنے الفاظ ہیں:
’’ہذا الفن ونظائرہ ہو الذی ینبغی ان یظہر فساد مذہبہم فیہ دون ما عداہ‘‘ (تہافت الفلاسفۃ۔صفحہ۸۱)
یعنی ’’فن الہیات اور اس کی امثال ہی فلسفہ کا وہ شعبہ ہیں جہاں ان کے مذہب کی تردید مقصود ہے،فلسفہ کے کسی اور فن یا شعبہ (ریاضی، طب، منطق، سوشل سائنسز وغیرہ) پر تنقید کرنا ہمیں مطلوب نہیں۔‘‘
اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ دیکھیں:
’’علومہم اربعۃ اقسام: الریاضیات والالہیات والمنطقیات والطبیعیات، اما الریاضیات۔۔۔ فلا غرض لنا فی الاشتغال بایرادہ، واما الالہیات فاکثر عقائدہم فیہا علی خلاف الحق والصواب نادر فیہا، واما المنطقیات ۔۔۔ فیخالفون اہل الحق فیہا بالاصطلاحات والایرادات دون المعانی والمقاصد اذ غرضہا تہذیب طرق الاستدلالات، واما الطبیعیات فالحق فیہا مشوب بالباطل‘‘ (مقاصد الفلاسفہ صفحہ۱۰،۱۱)
یعنی ’’فلسفیوں کے نظریاتی علوم کے چار بنیادی شعبے ہیں، ایک تو ریاضی ہے جس کو موضوعِ بحث بنانا مطلوب نہیں، دوسرا الہیات ہے ، اس میں ان کے اکثر عقائد راہِ راست سے ہٹے ہوئے ہیں، تیسرا منطق ہے جس میں اہلِ حق کے ساتھ ان کا اختلاف صرف اصطلاح میں ہے، اصل مفاہیم میں نہیں ، چوتھا طبیعیات ہے جس میں الٹی سیدھی، دونوں طرح کی باتیں پائی جاتی ہیں۔‘‘
تہافت التہافت کی فہرست پر ایک نظر ڈال کر بھی یہ بات بآسانی معلوم کی جاسکتی ہے کہ غزالی کی گفتگو کا محور یا تو الٰہیات کے ان مسائل کی نشان دہی ہے جو دین کی تعلیمات سے صریحاً متصادم ہیں، یا پھر وہ فلسفیوں کے اس زعم کو رد کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی الہیات ریاضی اور منطق کی طرح شک وشبہ سے پاک ہے۔اپنی کتاب میں ان کے صرف یہی دو اہداف ہیں۔ دوسروں کی بنائی ہوئی فہرستوں کو بھی چھوڑ دیجئے، وہ خود ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘ کے مقدمہ میں ایک عنوان قائم کرتے ہیں:
’’فہرست المسائل التی اظہرنا تناقض مذہبہم فیہا فی ہذا الکتاب‘‘ (صفحہ۸۶)
یعنی ’’ان مسائل کی فہرست جن کے اندر فلسفیوں فلسفیوں کے مذہب کے ضعف کو ہم نے اس کتاب میں بیان کیا ہے۔‘‘
اس کے بعد انہوں نے خودبیس مسائل کی فہرست دی ہے۔ ان مسائل پہ ایک سرسری نظر بھی ڈال لی جائے تو اندازاہ ہوجائے گا کہ ان کے اہداف صرف یہی دو ہیں۔ وہ الٰہیات کے ان مسائل کی نشان دہی کرتے ہیں جو دین کی تعلیمات سے صریحاً متصادم ہیں یا پھر وہ فلسفیوں کے اس زعم کو رد کرتے ہیں کہ ان کی الٰہیات ریاضی اور منطق کی طرح شک وشبہ سے پاک ہے۔
اب خود بتائیے کہ کیا غزالی سائنس کے منکر ہیں؟ اسلام کی حقانیت دو اور دو ، چار کی طرح واضح ہے کیونکہ اللہ کا وجود اس کائنات کا سب سے بدیہی سچ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت وراست گوئی کو آج کے غیر متعصب ’’نان مسلم‘‘ بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے بعد اسلام کے اثبات کے لئے کسی فلسفیانہ دلیل کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی فلسفیانہ دلیل کی بنا پر ایسے بدیہی سچ پہ تنقید روا ہے۔ کجا یہ کہ اسلام پہ یہ تنقید خود کو مسلمان کہتے ہوئے (یعنی اسلام کے نام پر) ہی کی جائے۔
ان واضح تصریحات کے بعد کسی کے لئے یہ کہنے کی گنجائش نہ تھی کہ غزالی سائنس کے منکرہیں یا مذہب اور سائنس کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے خلاف ہیں۔ لیکن پروپیگنڈے کاتو کام ہی یہی ہے کہ حقائق کو تروڑا مروڑا جائے۔ بہتر ہوگا کہ یہاں پر ڈاکٹر سلیمان دنیا کی رائے بھی نقل کردی جائے۔ ڈاکٹر سلیمان دنیاجامعۃ الازہر، مصر میں فلسفہ کے استاد اور المرکز الثقافی الاسلامی، نیویارک کے مدیر رہے۔ وہ امام غزالی کی ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘اور ابن رشد کی ’’تہافت التہافت‘‘ دونوں کے بیک وقت محقق، حاشیہ نگار اور مقدمہ نگار ہیں۔ انہوں نے دونوں کتابوں کے حرف حرف کو پڑھا، سمجھا، ان پہ اپنے وقیع علمی حواشی تحریر کیے، موقع بموقع غزالی اور ابن رشد دونوں پہ بے لاگ نقد کیا، دونوں کتابوں کے شروع میں گراں قدر تحقیقی مقدمے تحریر کیے اور مختلف قلمی نسخوں کو سامنے رکھتے ہوئے الفاظ کے معمولی اختلاف تک کو بھی جابجا واضح کیا۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ غزالی اور ابن رشد کے قضیہ کے بارہ میں ان کی رائے کسی بھی دوسرے آدمی کے مقابلہ میں کس پائے کی ہوگی؟غزالی کے بارہ میں وہ لکھتے ہیں:
’’غفل قوم عن ذالک فی القدیم والحدیث، وظنوا ان الغزالی یحمل علی التفکیر العقلی جملۃ ویکرہہ ویحاربہ ویریدہ ان لایکون، ومن ہنا قالوا ما قالوا من ان الغزالی قد ضرب الفلسفۃ ۔یعنون کلہا۔ ضربۃ لم تقم لہا بعد الشرق قائمۃ، ومن الغریب انہ حتی فی عصرنا ہذا ، بعد ما تیسر طبع کثیر من الکتب وتیسر تبعا لذالک الاطلاع علی کثیر من کتب الغزالی، مایزال بعض المنتسبین الی العلم والواضعین انفسہم بین اہلہ فی مقام الصدارۃ یجہلون ہذہ الحقیقۃ‘‘ (تہافت التہافت بہ تحقیق سلیمان دنیا۔ صفحہ۱۶)
’’قدیم اور جدید، دونوں ادوار میں لوگوں کے ایک گروہ کا یہ خیال رہا ہے کہ غزالی پوری عقلی وفکری روایت پر حملہ آور ہیں، فکری کاوشوں کو ناپسند کرتے ہیں، ان کے خلاف بر سرِ پیکار ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس پوری روایت کا خاتمہ ہو۔ اسی بناء پر ان لوگوں نے غزالی کے بارہ میں وہ سب کہا جو ان کے منہ میں آیا۔ ان لوگوں کے مطابق غزالی نے پورے فلسفہ اور سائنس کی ایسی بیخ کنی کی ہے کہ اس کے بعد وہ مشرق میں پیروں پہ کھڑا نہیں ہوسکا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ہمارے زمانہ میں جبکہ کتابیں آسانی سے دستیاب ہیں اور غزالی کی کتابوں سے مراجعت کرنا کوئی مشکل کام نہیں رہا، اب بھی خود کو علم سے منسوب کرنے والے اور اہلِ علم میں خود کو صدر نشینی کا اہل سمجھنے والے لوگ اس حقیقت سے جاہل ہیں۔‘‘
ڈاکٹر سلیمان دنیا کا تعجب بجا، مگر مسئلہ یہ ہے کہ روشن خیال اپنی روشن خیالی کو مصدقہ کروانے کے چکر میں ہر وہ کام کرتے ہیں جس میں انہیں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا۔ غزالی کو پڑھے بغیر ، غزالی کی طرف غلط موقف منسوب کرنا اور پھر ان پہ نقد کرنا بھی شاید اسی غرض سے ہے ۔ خالص عربی زبان میں بپا ہونے والے اس قضیہ کے بارہ میں بھی ان حضرات کا خیال ہے کہ عربی متون کے حوالے ثانوی درجہ رکھتے ہیں اور انگریزی مقالات کے حوالے ان سے زیادہ معتبر ہیں۔
ْ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ فلسفیوں کے علمِ الہیات پر تنقید کرنے میں غزالی تنہا نہیں، فخر الدین رازی اور ابنِ تیمیہ جیسے کئی علماء نے بھی ان پر سخت تنقید کی ہے۔ یہ سب حضرات (فقہی مسائل میں مختلف الخیال ہونے کے باوجود) فلسفیوں پر تنقید کرنے میں یک زبان ہیں۔ اور تو اور، خود ’’سلسلہ فلسفیہ‘‘ میں ایک بڑا نام ابو البرکات بغدادی کا آتا ہے۔ یہ مذہبا یہودی تھا اور بعد میں اس نے اسلام قبول کیا۔ اس نے بھی خود اپنی کتاب ’’المعتبر‘‘ میں فلسفیوں کی الہیات پر شدید اور بھر پور تنقید کی ہے۔ بعض حضرات کے بقول، بعد میں رازی اور ابنِ تیمیہ کی فلسفہ پر تنقید اکثرو بیشتر اسی ’’المعتبر‘‘ سے ماخوذ ہوتی ہے جو سلسلہ فلسفیہ کے ہی ایک عظیم رکن کی تصنیف ہے۔(حکمائے اسلام۔ جلد۱، صفحہ۴۵۰، ۴۵۱)
علامہ اقبال کے درجِ ذیل مشہورِ زمانہ شعر سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بھی فلسفہ کے ناروا پہلوؤں پر غزالی کی تنقید کو درست اور قابلِ رشک سمجھتے تھے۔
رسمِ اذاں رہ گئی ، روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا ، تلقینِ غزالی نہ رہی
ابن رشد کی تنقید
ابن رشد نے اگر چہ غزالی کی ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘ پر تنقید لکھی ہے، مگر جنہوں نے دونوں کو پڑھا ہے، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ابن رشد اپنی تمام تر تنقید کے باوصف غزالی کی کتاب کا قد کاٹھ گھٹا نہیں سکے۔ابنِ رشد کا مقصد ’’تہافت التہافت‘‘ میں کیا ہے اور وہ ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟ یہ بات اگر میں ابن رشد کے حامیوں سے پوچھوں تو مجھے یقین ہے کہ بغلیں جھانکنے کے سوا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا یا پھر ان میں سے جو لوگ ذرا زبان آور ہیں، وہ اندھیرے میں تیر چلاتے ہوئے کوئی نہ کوئی بات بنا لیں گے۔ اس قضیہ سے ان لوگوں کی واقفیت کا عالم تو یہ ہے کہ یہ غزالی کو سائنس ومذہب کی ہم آہنگی کے خلاف سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ خود ابن رشد نے بھی ’’تہافت التہافت‘‘ میں کہیں غزالی پرکم از کم یہ الزام عائد نہیں کیا۔ غزالی کے مقابلہ میں ابن رشد کو راہ نما بنانے کے شوقین جانتے ہی نہیں کہ ابن رشد نے خود لکھا کیا ہے اور غزالی نے ایسا کیا لکھا تھا جس سے ابن رشد نے اختلاف کیا ہے۔
(۱)
غزالی کا مقصود(جیساکہ گذشتہ عنوان کے تحت بھی تفصیل سے بیان ہوچکا ہے) ایک تو فلاسفہ کی الٰہیات کے ان مسائل کی نشان دہی ہے جو دین کی تعلیمات سے صریحا متصادم ہیں۔ ان میں سے دو مثالوں کا ذکر ہم بھی گذشتہ سطور میں کرچکے ہیں:
ا۔ مخلوق کے جزئی احوال سے نا واقفیت والی بات۔
۲۔ یہ سارا جہان اللہ نے پیدا نہیں کیا۔ وہ ایک قوت ہے جسے وہ ’’عقل‘‘ کا نام دیتے ہیں، اس سے ایک قوت اور عقل نے جنم لیا، اس سے ایک اور عقل نے، یہاں تک کہ یہ سلسلہ دسویں عقل تک پہنچا اور اسی سے یہ سارا جہان نمودار ہوا۔
باقی مسائل جو غزالی نے فلاسفہ کی الہیات کی طرف منسوب کئے ہیں، ان سے ہم صرفِ نظر کرتے ہیں، صرف انہی دو مثالوں پر اکتفا کیجیے۔ ابن رشد کے ’’دیسی پیروؤں‘‘ کا خیال ہوگا کہ شاید ابن رشد نے فلاسفہ کی طرف ان مسائل کی نسبت کو غلط ثابت کیا ہوگا اور اس نسبت سے انکار کیا ہوگا، حالانکہ فی الواقع ایسا نہیں۔ پہلا مسئلہ ابن سینا کی تصانیف ’’الاشارات‘‘ اور ’’الشفاء‘‘میں موجود ہے اور ابنِ رشد نے بھی ابن سینا سے اس کی نسبت کو قطع نہیں کیا۔ ڈاکٹر سلیمان دنیا نے ’’الشفاء‘‘ کی طویل عبارت حرف بحرف نقل کی ہے۔ (تہافت التہافت۔ صفحہ۵۸)جبکہ دوسرے مسئلہ کی نسبت کو ابن رشد نے فلاسفہ سے قطع ضرور کیا ہے مگر یونانی فلاسفہ سے، بوعلی سینا اور اس کے ہم نواؤں سے نہیں، انہیں وہ الٹا دوہرا مجرم نام زد کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے خانہ ساز اس عقیدہ کی نسبت غلط طور پر یونانیوں کی طرف کی ہے۔ (تہافت التہافت۔ صفحہ۳۰۹، ۳۰۱) اور غزالی کا مقدمہ خود غزالی ہی کے بقول بوعلی سینا اور اس کے ہم نواؤں کے خلاف ہے۔ (تہافت الفلاسفۃ، صفحہ۷۶، ۷۸۔غزالی کی اصل عبارت بھی آگے ہم نقل کردیں گے۔) سبحان اللہ! اب خود بتائیے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ یونانی فلسفیوں کی جان تو چھوٹ گئی کہ ابنِ رشد کے بقول ان کی طرف اس مسئلہ اور عقیدہ کی نسبت درست نہیں، لیکن کیا اس کے ساتھ ہی ساتھ بوعلی سینا وغیرہ کے خلاف غزالی کی ’’چارج شیٹ‘‘ زیادہ مضبوط نہیں ہوگئی (جن کی تردید کرنا غزالی کو مطلوب تھا)؟ کیونکہ ابنِ رشد ہی کے دعوی کے مطابق اس مسئلہ میں بوعلی سینا وغیرہ ناقل نہیں، بلکہ خود ان کے موجد ہیں۔
بوعلی سینا وغیرہ نے اپنی تصانیف میں کئی ایسے مسائل نقل کئے ہیں، جن کے بارہ میں ابنِ رشد کہتا ہے کہ بوعلی سینا نے یونانی فلاسفہ کی طرف ان کی نسبت غلط طور پر کی ہے اور درحقیقت یہ اس کے اپنے ذاتی افکار ہیں۔مثلا دیکھئے: تہافت التہافت، صفحہ۸۹، ۱۲۱۔ ایسے مسائل کی ایک فہرست علامہ شبلی نے ’’علم الکلام‘‘ میں ترتیب بھی دی ہے۔ (علم الکلام۔ جلد۱، صفحہ۱۲۴)انہی میں سے وہ دوسرا مسئلہ بھی ہے جو ہم نے ابھی ذکر کیا ہے۔
(۲)
جیساکہ ہم نے عرض کیا،غزالی کا مقصود ایک تو ’’الہیات‘‘ کے ان مسائل کی نشان دہی ہے جو دین کی تعلیمات سے صریحا متصادم ہیں۔دوسرا جب وہ فلسفہ کے الہیاتی مسائل پر تنقید کرتے ہیں اور فلسفیوں کے دلائل کے مقابلہ میں مخالف عقلی والزامی دلائل پیش کرتے ہیں تو ان کا مقصود فقط یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ فلاسفہ کی الہیات ریاضی اور منطق کے اصولوں کی طرح قطعی نہیں اور اس میں دلیل کے اعتبار سے اشتباہ اور اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔ ان کے الفاظ ہیں:
’’یستدلون علی صدق علومہم الالہیۃ بظہور العلوم الحسابیۃ والمنطقیۃ ویستدرجون بہ ضعفاء العقول ولوکانت علومہم الالہیۃ متقنۃ البراہین نقیۃ عن التخمین کعلومہم الحسابیۃ لما اختلفوا فیہا کما لم یختلفوا فی الحسابیۃ‘‘ (تہافت الفلاسفۃ۔ صفحہ ۷۶،۷۷)
یعنی ’’ارسطو کے سحر میں مبتلا ’’مسلم‘‘ فلسفی علم الہیات کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لیے یہ حیلہ سازی کرتے ہیں کہ جس طرح یونانی فلاسفہ کے وضع کردہ علمِ ریاضی اور علمِ منطق شک وشبہ سے پاک ہیں، اسی طرح ان کا وضع کردہ علم الہیات بھی قطعی اور حتمی ہے، یوں وہ کم عقلوں کو اپنی الہیات سے مرعوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ اگر ان کا علمِ الہیات علومِ حسابیہ کی طرح مدلل اور شبہات سے پاک ہوتا تو کم ازکم ان کے پیش رو یونانیوں کا اس میں کوئی اختلاف نہ ہوتا جیساکہ علومِ حسابیہ میں ان کا کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔‘‘(جبکہ ان کا اس میں شدید اختلاف منقول ہے اور خود غزالی نے وہ نقل کیا ہے۔)
فلاسفہ کے استدلال کے جواب میں ان کا عقلی اور الزامی استدلال محض یہی بات ثابت کرنے کے لئے ہوتا ہے کہ الہیات کے اندر فلاسفہ کے دلائل اس طرح قطعی نہیں جس طرح کہ ریاضی اور منطق کے مسائل ہیں اور جس طرح کہ ارسطو سے زیادہ ارسطو کے وفادار ’’مسلم‘‘ فلسفی سمجھتے ہیں۔مثال کے طور پر فلسفیوں کا عقیدہ تھا کہ افلاک ذی روح ہیں اور وہ خدا تعالی(جسے وہ ’’عقلِ اول‘‘ کہتے ہیں) کے برعکس مخلوقات کے افعال اور جزئیات میں آنے والے تغیر سے بھی لمحہ بہ لمحہ واقف رہتے ہیں۔ اب اگر کوئی اسے ثابت کرنے کا کہتا تو بتایا جاتا کہ یہ آسان کام نہیں اور اس کے لئے بہت ہی عالی قسم کا دماغ درکار ہے۔ میرا نہیں خیال کہ آج کا کوئی روشن خیال مسلمان بھی فلسفیوں کے اس رویہ کی حمایت کرے یا یہ خیال کرے کہ الہیات کے حوالہ سے ’’مسلم فلسفیو ں‘‘ کی اندھی عقیدت بجا تھی اور غزالی نے جس طرح الہیات کو موضوع بحث بنایا ہے، الہیات کے مسائل کو جس طرح قطعی کی بجائے ظن وتخمین کا مجموعہ بتایا ہے اور ان پر قطعی دلائل کا مطالبہ کیا ہے، یہ ناجائز تھا۔ اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو اسے چاہئے کہ کم از کم ایک دفعہ ضرور فلسفیوں کی الہیات کا مطالعہ کرلے۔
فلسفیوں کا علمِ الہیات حماقتوں کا ایک پلندہ تھا۔ ابنِ خلدون کے بقول، سمجھ نہ آنے کے باوجود لوگ اس سے چمٹے رہتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں یہ سمجھ آجائے تو انسان کو ایک خاص قسم کی غیبی قوت حاصل ہوجاتی ہے۔ (مقدمہ ابنِ خلدون۔ صفحہ۵۶۱) چنانچہ عام لوگ تو رہے ایک طرف، ارسطو کے بعد فلسفہ کے تیسرے بڑے استاد بو علی سینا کے بارہ میں منقول ہے کہ اس نے ’’الہیات‘‘ کے موضوع پر فلسفہ کے دوسرے استاد الفارابی کی ’’مابعد الطبیعہ‘‘ نامی ایک کتاب پڑھی، مگر کچھ پلے نہ پڑا۔ جذبہ ایسا قوی تھا کہ یکے بعد دیگرے اسے چالیس دفعہ پڑھ ڈالا، کتاب لفظ بہ لفظ یاد ہوگئی مگر پلے پھر بھی کچھ نہ پڑا۔یہاں تک کہ اس علم سے مایوس ہوگیااور جوش ٹھنڈا پڑ گیا، لیکن دل میں خلش تھی۔ ایک دفعہ پھر کسی موقع پر اسے پڑھا تو محسوس ہوا کہ اب مجھے سمجھ آنے لگی ہے۔ (حکمائے اسلام۔ جلد۱۔ صفحہ۲۹۵) اور یہ کوئی ہوائی بات نہیں۔ ’’مسلم‘‘ فلسفیوں کا علمِ الہیات آج بھی دستیاب ہے، خود اس کے اس کا مطالعہ کرکے اس کی ’’بے سرو سامانی ‘‘ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ایسے بے سروپا علم کے مسائل کو اگر کوئی فلسفی اپنا عقیدہ بنائے ، خود کو مسلمان کہتے ہوئے بنائے اور اوپر سے یہ دعوی بھی کرے کہ ہمارا علمِ الہیات ریاضی کی طرح شک وشبہ سے پاک ہے، مگر اس کا سمجھنا ہر کس وناکس کے بس کی بات نہیں تو کیا وہ اب بھی قابل تنقید نہیں، قابلِ تعریف ہے؟ غزالی کا قصور یہی ہے کہ انہوں اس رویہ پر تنقید کی ہے۔الہیاتی مسائل کو ثابت کرنے کے لئے فلسفی جو استدلال کرتے ہیں، غزالی نے اس کے برخلاف استدلال کرکے محض یہ بتایا کہ اس کی گنجائش بھی موجود ہے اور الہیات میں فلسفیوں کا استدلال دواور دو، چار کی طرح شک وشبہ سے پاک نہیں، بلکہ وہ محض امکانات ہیں جنہیں ان لوگوں نے عقائد کا درجہ دے رکھاہے۔
اب ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘ میں جگہ جگہ بکھری ہوئی غزالی کی اس تنقید کے جواب میں ابن رشد کیا کہتے ہیں؟ یہ بھی سمجھنے کی چیز ہے۔ اس کے جواب میں ابن رشد نے دیگر فلسفیوں کی طرح ایک تو یہی مضحکہ خیز ’’اندازِ استدلال‘‘ اختیار کیا ہے کہ چونکہ ان دلائل کا سمجھنا عالی دماغ ’’خواص‘‘ کا کام ہے اور عوام کے سامنے ان کی حقیقت کو بیان کرنا درست نہیں، لہذا ان دلائل کی حقیقت‘ میں اپنی اس کتاب ’’تہافت التہافت‘‘ میں کھول نہیں سکتاکیونکہ یہ کتاب میں نے عوام کے لئے لکھی ہے اور ان دلائل کا ان کی رسائی سے دور رہنا ضروری ہے۔ مثلاً ایک جگہ وہ لکھتے ہیں:
’’ہذا العلم لاسبیل الی افشاء ہ فی ہذا الموضع‘‘ (صفحہ۹۲)یعنی ’’اس کتاب میں اس علم کو بے نقاب کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘ ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ’’لا یقف علی مذاہبہم فی ہذہ الاشیاء الا من نظر فی کتبہم مع الشروط التی وضعوہا مع فطرۃ فائقۃ ومعلم عارف‘‘ (صفحہ ۱۹۵)
اسی طرح کا نادر اندازِ استدلال صفحہ۱۱۳، ۱۱۷، ۱۲۹، ۱۷۳، ۳۱۱و ۴۱۷ پر بھی نظر آتا ہے۔ ایک جگہ فلاسفہ کے موقف کے علمی اثبات کو مشکل کہہ کر اس سے جان چھڑا لیتے ہیں۔ ان کے الفاظ ہیں: ’’القدیم لایتغیر بضرب من ضروب التغیر، وہذا کلہ عسیر البیان‘‘ (صفحہ۶۵)
ان کے اسی طرزِ استدلال پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر سلیمان دنیا لکھتے ہیں: ’’الاولی بابن رشد اثبات دعواہ، لاالتہرب منہا بدعوی عسر بیانہا، ثم مہاجمۃ دعوی خصمہ‘‘ (تہافت التہافت۔ صفحہ۶۵) یعنی ’’ ابن رشد کو اپنا دعویٰ ثابت کرنا چاہیے تھا، دعویٰ کے اثبات کو مشکل کہہ کر جان چھڑا لینااور پھر مخالف سے جھگڑا بھی کرنا ‘ یہ کوئی طریقہ نہیں۔‘‘ ابن رشد کے مرید بھی ابن رشد کے اس اندازِ استدلال سے بخوبی واقف ہیں اور وہ اس کے اس قول کی کوئی توجیہ نہیں کرپاتے کہ ’’عوام کو علم وحکمت کی باتوں سے دور رکھنا چاہیے۔‘‘ درج ذیل لنک پر ابن رشد کے مریدوں کا اس موضوع پر مکالمہ دیکھا جاسکتا ہے۔
http://www.mukalma.com/?dialogue=11361
دوسرا ابن رشد کو غزالی کے اس اسلوبِ نقد کو سمجھنے میں ہی سرے سے مغالطہ ہوا ہے۔ فلاسفہ کے استدلال کے مقابلہ میں غزالی جو مخالف استدلال کرتے ہیں، وہ اس کی قطعیت کا دعوی نہیں کرتے، اس سے مقصود محض فلسفیوں کے استدلال میں تشکیک کو اجاگر کرنا اور یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ایسے مسائل میں اشتباہ اور اختلاف کی گنجائش موجود ہے، لہٰذا فلسفیوں کا عوام کو یہ کہہ کر الو بنانا غلط ہے کہ ان کا سمجھنا آسان نہیں، ورنہ یہ بھی ریاضی کی طرح قطعی اور حتمی ہیں۔ مثلاً افلاک کو جان دار ثابت کرنے کے لئے فلسفی ’’اٹکل نما‘‘ جو استدلال کرتے ہیں، غزالی نے اس کے مخالف استدلال کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی کہ افلاک ضرور بے جان ہی ہیں، بلکہ محض یہ بتایا کہ فلسفی اپنے جس تصور کو حتمی اور قطعی سمجھتے ہیں، اس کے لئے کوئی قطعی دلیل موجود نہیں ہے۔ مثلا وہ اپنے مقدمہ میں ہی وضاحت کرتے ہیں:
’’لا ادخل فی الاعتراض علیہم الا دخول مطالب منکر، لا دخول مدع مثبت‘‘ (تہافت التہافت۔ صفحہ۸۲)
یعنی ’’ان پر میرے اعتراض سے مقصودجانبِ مخالف کا دعویٰ اور اس کا اثبات نہیں ہوتا ، بلکہ صرف یہ کھانا ہوتا ہے کہ ان کا موقف غیر قطعی ہے اور دوسرے امکان کی گنجائش بھی موجود ہے۔‘‘
ابن رشد نے ایسے موقعوں پر یہ سمجھا ہے کہ وہ شاید اپنے مخالف استدلال کو قطعی بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس لئے وہ اپنی تصنیف میں جابجا بس یہی ثابت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ یہاں پر غزالی کا مخالف استدلال بھی قطعی نہیں، حالانکہ یہ چیز غزالی کے موقف کو کم زور کرنے کی بجائے الٹا اسے تقویت دیتی ہے کیونکہ جب وہ غزالی کے موقف کو غیر حتمی کہتے ہیں تو اس کا بالواسطہ یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ فلاسفہ کا استدلال بھی اس کے مقابلہ میں حتمی اور قطعی نہیں(اور یہی ثابت کرنا غزالی کا مقصود ہے) ، ورنہ ظاہر ہے کہ اگر ان کا استدلال حتمی اور قطعی ہوتا تو غزالی کے استدلال کو وہ غیر حتمی کی بجائے باطل اور غلطِ محض کہتے۔
’’تہافت التہافت‘‘ کے دو سطری مقدمہ میں ’’تہافت التہافت‘‘ تحریر کرنے کا مقصد خود ابن رشد ہی کے الفاظ میں یہ ہے:
’’فان الغرض فی ہذا القول ان نبین مراتب الاقاویل المثبتۃ فی کتاب التہافت لابی حامدفی التصدیق والاقناع وقصور اکثرہا عن رتبۃ الیقین‘‘ (تہافت التہافت۔ صفحہ۵۵)
یعنی ’’اس کتاب میں ہمارا مقصود یہ بتانا ہے کہ ابو حامد الغزالی کی کتاب ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ میں جو بیانات اور دلائل مذکور ہیں، استدلال کی رو سے ان کا کیا درجہ ہے اور یہ کہ ان میں سے زیادہ تر ایسے ہیں جو یقین کے رتبہ سے فروتر ہیں۔‘‘
بعینہ اسی طرح کا مضمون لفظوں کے ذرا اختلاف کے ساتھ صفحہ ۸۲ پر بھی موجود ہے۔
’’ فقد تبین لک انہ لیس فی الادلۃ التی حکاہا عن المتکلمین فی حدوث العالم کفایۃ فی ان تبلغ مرتبۃ الیقین، وانہا لیست تلحق بمراتب البرہان، ولا الادلۃ التی ادخلہا عن الفلاسفۃ فی ہذاالکتاب لاحقۃ بمراتب البرہان۔ وہو الذی قصدنا بیانہ فی ہذا الکتاب‘‘ ۔
ڈاکٹر سلیمان دنیا اس پہ تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’الغزالی لیس بصدد ان یثبت عقیدۃ فی کتاب تہافت الفلاسفۃ، وانما ہدفہ ہو التشکیک فی ادلۃ الفلاسفۃ تلک الادلۃ التی یزعم الفلاسفۃ انہا بلغت حد الیقین والریاضی ۔۔۔فلیس اذن من حق ابن رشد ان ینتظر من الغزالی فی کتابہ تہافت الفلاسفۃ ان یکون مثبتا ولیس من حقہ کذلک ان یتصید من کلامہ ما یسمیہ ادلۃ لم تبلغ مرتبۃ الیقین‘‘ (تہافت التہافت۔ صفحہ۸۲)
یعنی ’’غزالی اپنی کتاب ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘ میں اپنے عقیدہ کو قطعی دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کے در پے نہیں ہیں (یہ کام غالبا انہوں نے اپنی ایک اور کتاب قواعد العقائد میں کیا ہے جو احیاء العلوم کا حصہ ہے) اس کتاب میں ان کا مقصود محض فلاسفہ کے دلائل میں اشتباہ کی گنجائش نکال کر دکھانا ہے جنہیں فلسفی ریاضی کی طرح قطعی سمجھتے ہیں اور بس،لہذا ابن رشد کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غزالی سے اس کتاب میں قطعی دلائل کی توقع رکھے اور نہ ہی اس کے لئے یہ مناسب ہے کہ ان کے غیر یقینی استدلالات کو غیر یقینی کہہ کر ان کا شکار کھیلے۔‘‘
(جاری)
فکرِ مغرب : بعض معاصر مسلم ناقدین کے افکار کا تجزیہ (۱)
ڈاکٹر محمد شہباز منج
مغربی فکر سے متعلق ہمارے یہاں کے علمی حلقوں میں بالعموم دو رویے پائے جاتے ہیں۔ایک یہ کہ مغربی فکر معیارِ حق ہے،اس کے حاصلات کو نہ صرف یہ کہ رد نہیں کرنا چاہیے بلکہ نعمتِ غیر مترقبہ سمجھتے ہوئے قبول کر لینا چاہیے۔اس رویے کے حامل مذہبی عقائد و نظریات کے مغربی نتائجِ فکر سے تطابق کومعراجِ علم خیال کرتے ہیں۔ان کے نزدیک مذہب کی اس دور میں سب سے بڑی خدمت اس کے ذریعے یہ ثابت کر دینا ہے کہ اے مغرب:مستند ہے’’تیرا‘‘ فرمایا ہوا۔ یہاں تک کہ وہ اس کوشش میں مسلمات و بدیہیاتِ دین کو بھی تاویل کی سان پر چڑھا دیتے ہیں۔ دوسرا رویہ یہ ہے کہ مغربی فکر اور اس کے حاصلات لغو،لایعنی اورباطلِ محض ہیں۔یہ اہلِ اسلام کے لیے شجرِ ممنوعہ کا حکم رکھتے ہیں۔مغرب کی کسی بھی چیز کو اپنالینا یا اسے درست سمجھنا نادانی اور دین سے عدمِ واقفیت کی دلیل ہے۔اس رویے کے حامل مغرب کے ہر تصورو نظریہ کے ردکو دین کی بہت بڑی خدمت سمجھتے ہیں ۔ راقم الحروف کے نزدیک یہ دونوں رویے افراط و تفریط اوردو انتہاوں سے عبارت ہیں۔ اول الذکر سے متعلق ہمارے ہاں بہت کچھ لکھا گیا ہے اور ایک تسلسل کے ساتھ لکھا جا رہا ہے ۔(۱)لیکن ثانی الذکر سے متعلق کوئی قابلِ ذکر تنقید سامنے نہیں آئی ۔شاید اس وجہ سے کہ یہ رویہ اور اس کے فکری اثرات نسبتاً محدود ہیں۔تاہم گذشتہ کچھ عرصے سے اس رویے کے حاملین کے مختلف رسائل و جرائد میں کثرت اور تکرار کے ساتھ مضامین شائع ہو رہے ہیں۔بلکہ بعض ایسے رسائل بھی سامنے آ چکے ہیں جو باقاعدہ اس رویے کے ترجمان ہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس کو سنجیدہ بحث و تجزیے کا موضوع بنایا جائے۔ ہماری یہ گزارشات اسی ضمن میں ایک کوشش ہیں۔ہم ان دانشوروں کے افکار ونظریات کے اہم اور نمایاں نکات ذکر کر کے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔
سائنس و ٹیکنالوجی اور مذہب :یہ دانشور اپنی تنقیدِ مغرب میں جو نتائج سامنے لاتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ مغربی سائنس وٹیکنالوجی مغرب اور نظامِ سرمایہ داری کا ایک جال ہے جواس نے دنیا کو اپنے دام میں پھنسانے کے لیے بچھا رکھا ہے۔سا ئنس مذہب کی دشمن ہے۔اس کی اپنی مخصوص اقدار ہیں ،جو مذہبی اقدار سے متصادم ہیں ۔چنانچہ سائنس مذہبی جوش و جذبے کو تباہ کرتی اور آدمی کو مذہب بیزار بناتی ہے۔یہ سمجھنا کہ اسلام یا اسلامی فکر و تہذیب کا موجودہ سائنس کی ترقی میں کوئی کردار ہے ،ایک بے سند مفروضہ ہے۔سائنس مقاصدِ اسلام کے حصول میں مدد گار کیا ہوگی وہ توالٹا اس کے مقاصد میں سدِّ راہ ہے۔مسلمان اگر واقعی اسلامی معاشرہ تشکیل دینے کے خواہاں ہیں تو انہیں موجودہ سائنس وٹیکنالوجی اور اس کے مظاہر کورد کرنا ہو گا۔اس کے ساتھ ساتھ ان لو گوں کا کہنا یہ بھی ہے کہ سائنسی تحقیقات کی بنیاد پر کسی اخلاقی قدرکا اثبات نہیں ہو سکتا۔اس لیے کہ سائنسی تجربات کا دائرہ ’کیاہے‘ اور’ کس طرح ‘ہے سے عبارت ہے، جبکہ اخلاقیات کا’کیا بہتر ہے‘اور ’کیا ہونا چاہیے ‘ہے۔ لہٰذا اخلاقیات میں سائنس کا حوالہ محض جہالت و نادانی ہے۔
سائنس وٹیکنالوجی اور مذہب کے حوالے سے ہمارے ممدوح دانشوروں کے یہ خیالات اپنی کلیت میں بدیہی اسلامی تعلیمات اور نصوصِ شرعیہ سے متصادم ہیں اور ان میں صریح تضاد و تناقض پایا جاتا ہے ۔ان کے نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں محاکمے سے پہلے ان کے اند موجود تضاد وتخالف پر ایک نظر ڈال لینا مناسب ہوگا۔ان حضرات کا ایک طرف موقف یہ ہے کہ سائنس کو غیر اقداری سمجھنا غلط ہے،اس کی اپنی مخصوص اقدار ہیں۔یہ اپنی ان اقدار کی بقا چاہتی اور اس کے لیے مسلسل کار فرما رہتی ہے۔ لیکن دوسری طرف کہتے ہیں کہ سائنس کا اقدار سے کچھ علاقہ ہی نہیں ۔’کیا اچھا ہے‘،’ کیوں ہے‘،’کیا ہونا چاہیے‘ اس کے دائرہ کار سے باہر کی چیزیں ہیں ،اسے محض ’کیا ہے‘ اور ’کس طرح ہے‘سے بحث ہے۔ یہ واضح تضاد و تناقض ہے ۔ہم ان حضرات سے عرض کرتے ہیں کی جناب آپ کے خیالات سے تین باتیں نکل سکتی ہیں؛ ایک یہ کہ آپ کے خیال میں سائنس فی نفسہ اقداری ہے؛ دوسری یہ کہ سائنس نفس الامر میں غیر اقدای ہے؛اور تیسری یہ کہ سائنس خود تو غیر اقداری ہے، البتہ مرورِ ایام سے کچھ لوگوں یا کسی خاص قوم نے اس میں کچھ مخصوص اقدار داخل کردی ہیں۔اگر آپ پہلی بات کے قائل ہیں تو آپ اس استدلال میں حق بجانب نہیں کہ اقدار واخلاقیات سائنس کے دائرے کی باتیں نہیں۔(واضح رہے کہ بات صرف اقدار کی موجودگی کے قائل ہونے کی ہو رہی ہے ،یہ بحث غیر متعلق ہوگی کہ سائنسی اقدار مذہب کی اقدار سے مختلف ہیں)اور اگر آپ دوسری یاتیسری بات کو درست سمجھتے ہیں توآپ کی یہ ساری بحث لا یعنی ہو جاتی ہے کہ سائنس اقداری ہے۔تیسری بات کی صورت میںآپ کے لیے بحث کا میدان صرف سائنس میں اقدار کا دخول یا اس کے جسمِ ناتواں پر ایک نامناسب بوجھ لادنے کا ذمہ دار طبقہ رہ جاتا ہے کہ اس نے اس بے چاری کو کیوں تکلیفِ مالا یطاق دی ہے۔اقدار کے حوالے سے ہمارے کے نزدیک سائنس کی حیثیت کیاہے؟اس کا تعین ہماری اگلی بحث سے خود بخود ہو جائے گا۔
سائنس وٹیکنالوجی کے مذہب دشمن اور مذہب بیزاری کا ذریعہ ہونے کا نظریہ فی الواقع مغرب کے نشأۃ ثانیہ سے پہلے کے مسیحی اہلِ مذہب کے علم وسائنس دشمن رویے کا تسلسل ہے، اہلِ اسلام کو یہ کسی صورت زیب نہیں دیتا۔علمی تحقیقات اور سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق اپروچ اور رویے کے باب میں مسیحیت اور اسلام میں قطعاً مغائرت ہے۔ہمارے سائنس مخالف دانشور اس بدیہی حقیقت کو ماننے سے نہ صرف اعراض کرتے بلکہ اس کے خلاف طول طویل لا یعنی دلائل پیش کرتے ہیں ،جسے خود عام مغربی اہلِ علم ہی نہیں اہلِ سائنس واضح طور پر محسوس کرتے ہیں۔مغربی اہلِ سائنس تسلیم کرتے ہیں کہ مغرب کے مذہب مخالف مادہ پرست سائنسدان مذہب و سائنس پر گفتگو کرتے ہوئے یہودیت و عیسائیت ہی کو سامنے رکھتے ہیں اور یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ کوئی مذہب ایسا بھی ہو سکتا ہے جس کا سائنس سے متعلق رویہ یہودیت و عیسائیت سے مختلف ہو۔ اسلام سے متعلق غیرصحیح معلومات نے ان کو اس مذہب کے خلاف مذکورہ مذاہب سے بھی زیادہ متعصب بنادیا ہے۔بہ الفاظِ دیگر ان کے خیال میں اسلام یہودیت و عیسائیت سے بڑھ کر اوہام و خرافات پر مبنی، غیر صحیح اور سائنس سے متصادم ہے۔(۲) کیا اس حقیقت کی روشنی میں اسلام اور سائنس کے باب میں مغرب کے ملحدین اورہمارے زیر نظر حامیانِ اسلام دونوں کے نتائج فکر یکساں قرار نہیں پاتے ؟کیا دونوں ہی کی رائے یہ نہیں بنتی کہ اسلام اور سائنس کا باہم کوئی ناتا نہیں،ایک دوسرے کا دشمن اور اس کی راہ میں رکاوٹ ہے؟بایں ہمہ ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ مغرب کے ملحد اسلام دشمن ہیں اورہمارے دانشور اسلام کے تنہا خیر خواہ !یعنی:
تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو مرے نامۂ سیاہ میں تھی
ہماری رائے میں زیر بحث تناظر میں مغرب کے مذہب دشمن ملحدین اور اہلِ سائنس،سائنس کے حق اور مذہب کے خلاف تعصب میں مبتلامسلم مقلدینِ مغرب اور مذہب کے حق اور سائنس کے خلاف تعصب کا شکار مسلم اہلِ قلم تینوں ایک ہی زمرے میں شمار کیے جانے کے لائق ہیں ۔اس لیے کے تینوں میں یہ قدر مشترک ہے کہ مذہب اور سائنس باہم مغائر و مخالف ہیں۔اگر اس بات کے ثبوت فراہم ہو جائیں کہ مذہب اور سائنس یا(مغرب میں یہودیت و مسیحیت ہی کے مذہب کے نمائندہ ہو نے کی غلطی فہمی کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے کہنا چاہیے کہ )اسلام اور سائنس میں کوئی دشمنی نہیں تو تینوں کے تصورات کا بیک وقت ابطال ہو جاتا ہے ۔اور اس کے ثبوت نہایت بدیہی ہیں ۔چند ایک مختصراً ملاحظہ فرمائیے:
سائنس کسے کہتے ہیں؟
اس سوال کے ماہرین کی طرف سے دیے گئے چند جوابات یہ ہیں: یہ طبیعی کائنات کاغیر جانبدارانہ مشاہدہ اور اس سے متعلق بنیادی حقائق کا مطالعہ ہے۔(۳)اس کے معنی جاننے اور سیکھنے کے ہیں۔ (۴)اس کامطلب علم ہے۔(۵) یہ مشاہدے سے دریافت ہونے والے نتائج یا علمی حقائق کو مرتب اور منظم کر نے کا نام ہے۔(۶) یہ تجرباتی علوم و حکمت یا فطری و طبیعی مظہر کا باقاعدہ علم یا ایسی سچائی ہے، جو مشاہدہ، تجربہ یا استقرائی منطق سے معلوم کی گئی ہو،یا طبیعی حقائق کو وہ علم ہے، جو مشاہدے اور تجربے سے حاصل ہو۔(۷) اس کے معنی غیر جانبداری سے حقیقت کے کسی پہلو کا باقاعدہ مطالعہ کرنا ہیں۔(۸)خلاصہ یہ کہ سائنس عبارت ہے علم ،معلومات ،مشاہدے وتجربے ،حقائق کے غیر جانبدارانہ مطالعے ،استقرائی منطق سے حقیقتِ واقعہ تک رسائی سے ۔اب دیکھیے مذہب کو بھی ان چیزوں سے کوئی سروکار ہے یا نہیں۔
قرآن کا مطالعہ کرنے والا ایک عام قاری بھی محسوس کر سکتا ہے کہ قرآن جگہ جگہ ان چیزوں پر زور دیتا ہے۔وہ اپنے قاری سے کثرت اور تکرارکے ساتھ علم،مشاہدے ،تدبر وتفکر اورحقائق کے غیر جانبدارانہ مطالعے کامطالبہ کرتا ہے ۔ جاننے ،سیکھنے اور علم حاصل کرنے کے حوالے سے قرآن کے مثبت رویے کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اس کے مطابق انسان کو اس کی تخلیق کے بعد سب سے پہلے علم الاشیا دیا گیا اوراسی بنا پر اسے فرشتوں پر فضیلت بخشی گئی ۔(البقرہ۲:۳۰۔۳۳)قرآن نے سب سے پہلے علم و تعلم کی اہمیت اجاگر کی۔ اس کے نزول کی ابتدا ہی علم و تعلیم سے متعلق آیات سے ہوئی ۔(العلق ۹۶:۱۔۵)اس نے واضح کیا کہ علم والے اور بے علم برابر نہیں ہو سکتے۔ ( الزمر۳۹:۹)علم والے اللہ کے ہاں صاحبانِ فضل و کمال ہیں۔(المجادلہ۵۸:۱۱)اللہ تعالی سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو اہل علم ہیں۔(الفاطر۳۵:۲۸) اہلِ علم ہی اللہ کی پیش فرمودہ مثالوں کو سمجھتے ہیں ۔(ا لعنکبوت۲۹:۴۳) نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ایک اہم اور بنیادی مقصدہی تعلیم دینا ہے۔( الجمعہ۶۲:۲)چنانچہ اس نے تعلیم دی کہ پروردگارِ عالم سے اپنے علم میں پیہم اضافے کی استدعا کرتے رہو۔(طہ۲۰:۱۱۴)جہاں تک مشاہدے، تجربے ، تدبر فی الخلق کے ذریعے حقیقت تک رسائی کا تعلق ہے توقرآن حکیم نے اس پر اس قدر زور دیا ہے کہ اس کے مقدس اوراق میں سے کم ہی اس سے خالی ہوں گے ۔قرآن کے نقطۂ نظر سے ذکرِ خداوندی کی ترجیحی اہمیت محتاجِ دلیل نہیں، لیکن اس کے نزدیک اس کے ساتھ بھی تدبر لازم ہے۔وہ اصل اہلِ ذکر انہی کو مانتا ہے جو ذکرِ الٰہی کے ساتھ ساتھ تخلیقِ ارض و سما میں غور وفکرجاری رکھتے ہیں۔ (آل عمران۳:۱۹۱)ایک عام آدمی بھی جانتا ہے کہ سائنسدان جانووں، زمین و آسمان اور پہاڑوں وغیرہ کی ساخت پر اور ان سے متعلق دیگر امور پر تحقیقات پیش کرتے ہیں۔قرآن پکا ر پکار کا کہہ رہا ہے کہ ان چیزوں میں بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اور انسانوں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں مشاہدہ اور تفکر و تدبر سے کام لیں۔(الغاشیہ۸۸:۱۸۔۲۰؛ قٓ ۵۰:۶) مشاہدہ اور تدبرفی الخلق کی اہمیت کے پیش نظر قرآن نے ان لوگوں کو حیوانوں سے بھی بدتر اور جہنمی قرار دیا ہے، جو اپنے قوائے حسی کو مشاہدۂ فطرت اور ذہنوں کو تفکر و تدبر کے لیے استعمال نہیں کرتے۔(ا لاعراف ۷:۱۷۹)
قرآن کی دعوتِ فکر وتدبر کے ضمن میں یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم نے کسی مظہرِ فطرت کو دیکھ کر اس پر غور و فکر کیے بغیر آگے گزر جانے کو نافرمانوں کی نشانی بتایا ہے (وَ کَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْھَا وَ ھُمْ عَنْھَا مُعْرِضُوْنَ۔ یوسف ۱۲:۱۰۵)اور اہلِ علم کے مطابق کسی مظہرِ قدرت یا ایۃ اللّٰہ پر غور و فکر ترک کر دینا ،اس سے پہلے کہ اس کی حقیقت پوری طرح منکشف ہو ، اس سے اعراض کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ مسلمان کو یہ حکم ہے کہ جب موجوداتِ قدرت میں سے کوئی چیز اس کے نوٹس میں آئے تو اسے نظر انداز نہ کرے، بلکہ اس کے مشاہدے اور مطالعے کا حق ادا کرے ، اس کی حقیقت اور اصلیت کو پوری طرح سمجھے، اور خدا کی حکمتیں ،جو اس کے اندر پوشیدہ ہیں ،ان سے پوری طرح واقف ہونے کی کوشش کرے ۔ گویا جب تک کسی چیز کی حقیقت پوری طرح واضح نہ ہو جائے، مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اپنی تحقیق و تجسس کو جاری رکھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے امت کو سکھائی گئی یہ دعا بھی اس مطلب کی تائید کرتی ہے: اللّٰہم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ اللّٰہم ارنا الاشیاء کماہی۔’’ اے خدا! ہم کو صداقت بطور صداقت کے دکھا دے اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق دے اور جھوٹ بطور جھوٹ کے دکھادے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ اے خدا! ہمیں اشیا کواس طرح سے دکھا دے جیسی وہ درحقیقت ہیں۔ ‘‘نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا گویا سائنسی طریقِ تحقیق کی حمایت کرتی ہے ،کیونکہ سائنسی طریقِ تحقیق ،جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ مشاہدہ کے نتائج کو کامل احتیاط سے اخذ کیا جائے اور انتہائی طور پر درست کرنے کی کوشش کی جائے ،اس کا مقصد یہی ہے کہ اشیا ایسی ہی نظر آئیں جیسی کہ وہ درحقیقت ہیں۔(۹)
اشیا کو ان کی اصلی حالت میں دیکھنے اور مشاہدے کے نتائج میں غلطی سے بچنے کے لیے قرآن بہ تکرار صحیفۂ فطرت کے مطالعہ کی دعوت دیتا ہے۔مثلاً ایک جگہ ارشاد ہے: الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعْ الْبَصَرَ ہَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ ۔ ثُمَّ ارْجِعِ لْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِءًا وَّہُوَ حَسِیْرٌ۔(الملک ۶۷:۳۔۴ )یہاں قرآن بار بار نگاہ ڈالنے اور غو رو فکر کرنے پر زور دے رہا ہے۔ سائنسی زبان میں یہی چیز مشاہدہ (Observation)اور تجربہ (Experiment)کہلاتی ہے ۔کسی چیز کا بار بار مشاہدہ کرنے اور حالات بدل بدل کریعنی تجربہ کر کے مطالعہ کرنے اور غورو فکر کر کے گہرے نتائج اخذ کرنے کو سائنسی تحقیق (Scientific Research)کہا جاتا ہے۔
تجربہ او رمشاہدہ کی انتہائی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ پر ایمان مضبوط ہوتا اور اطمینانِ قلب نصیب ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کے اپنے خاص بندوں کو،ان کے اطمینانِ قلب کی خاطر کرائے گئے مشاہدات مذکور ہیں۔مثلاًیک واقعہ حضرت ابراہیم سے متعلق ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی مردوں کو زندہ کرنے کی قدرتِ کاملہ پر ایمان تھا تا ہم انہوں نے اطمینانِ قلب کے لیے مشاہدہ کرنا چاہا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے چار پرندے لے کر انہیں سدھایا اور پھر ان کو ذبح کر کے ان کا گوشت باہم ملا کر چار پہاڑوں کی چوٹیوں پر رکھ دیا۔ پھر ان کو ایک ایک کر کے آواز دی تو وہ ان کی نگاہوں کے سامنے زندہ ہو گئے۔(البقرہ ۲:۲۶۰)دوسرا واقعہ حضرت عزیر علیہ السلام سے متعلق ہے۔انہیں بھی اللہ کی قدرتِ کاملہ پر یقین تھاِ تاہم جب انہوں نے ایک بستی کو عجیب و غریب حالت میں تباہ شدہ دیکھا تو یہ جاننا چاہا کہ اللہ تعالیٰ اس بستی کو کس کیفیت سے زندہ کرے گا ؟تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مشاہدہ کرانے کے لیے سو برس تک مردہ رکھا۔ پھر ان کو زندہ کر کے پوچھا کتنی مدت تک اس حالت میں رہے ہو؟ وہ بولے: دن یا آدھا دن۔ اللہ نے فرمایا: نہیں ،بلکہ سو برس تک اس حالت میں رہے ہو۔ کھانے کو دیکھو وہ بالکل نہیں گلا سٹرا اور دیکھو گدھے کی ہڈیوں کو ہم کیسے ترکیب دیتے ہیں؟ اور تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہوتا دیکھ کر حضرت عزیز علیہ السلام کو اللہ کی قدرتِ کاملہ پر اطمینانِ قلبی حاصل ہو گیا۔(البقرہ۲ :۲۵۹)ان واقعات سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں مشاہدہ اور مطالعہ کائنات پر زور دیا اور بھرپور طریقے سے اس کی دعوت و ترغیب دی وہاں اپنے بندوں کو مشاہدات بھی کرائے۔ چنانچہ مشاہدہ تجربہ اور تدبرفی الخلق کے اعتبار سے بھی قرآن اور سائنس میں ایک واضح تعلق نظر آتا ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ قرآن سائنس کی کتاب نہیں،اس کا اصل اور بنیادی کام انسان کی ہدایت ہے۔(۱۰)تاہم وہ جہاں انسان کو اللہ کی معرفت کا درس دیتا ہے، وہاں اللہ کی کبریائی، خلاقیت اور علم و قدرت وغیرہ کے اظہار کے لیے اور اپنے دعوؤں کی حقانیت کے ثبوت میں کائنات اور اس میں کار فرما قوانینِ طبیعی سے تعرض کرتے ہوئے ان کے کسی نہ کسی پہلو کو بطورِدلیل پیش کرتا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ کائنات اور اس کے مظاہر کے مشاہدے اور مطالعے کی دعوت دیتا ہے ۔گویا حقیقت تک رسائی کے لیے جن چیزوں پر سائنس کا انحصار ہے قرآ ن بھی سچائی تک پہنچنے کی غرض سے انہی چیزوں کو ذریعہ بنانے کو کہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ فلاسفہ ، علماے دین اور اہلِ سائنس کے نمایاں اور بڑے بڑے افراد نے مذہب اور سائنس کے تصادم کے تصورکارد کیااوران کی قربت کا اثبات کیا ہے۔مثلاً معرکہ آرا سائنسی نظریہ ’اضافیت‘ (Relativity)پیش کرنے والا ،بیسویں صدی کا سب سے بڑا سائنسدان آئن سٹائن کہتا ہے:’’سائنسی تحقیق آدمی میں ایک خاص قسم کے مذہبی احساسات پیدا کرتی ہے،یہ ایک طرح کی عبادت ہے ۔(۱۱) میرے لیے راسخ ایمان کے بغیر اصلی سائنسدان کا تصور محال ہے۔‘‘(۱۲) معروف فرانسیسی سائنسدان، فزیشن،ماہرِ امراضِ قلب اور فرانس کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق صدرڈاکٹر موریس بکائی لکھتے ہیں:
"It comes as no surprise, Therefore, to learn that religion and science have always been considered to be twin sisters by Islam and that today, at a time when science has taken such great strides, they still continue to be associated. " (13)
’’اس میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اسلام نے مذہب اور سائنس کو ہمیشہ جڑواں بہنیں تصور کیا ہے۔آج بھی، جب کہ سائنس ترقی کی انتہاؤں کو چھو رہی ہے،وہ ایک دوسرے کے قدم بقدم ہیں ۔‘‘
سائنس کے تناظر میں اسلام کی حقانیت پر بات کرنے میں موریس بکائی چونکہ بہت مشہور ہیں اور ان کا عام حوالہ دیا جاتا ہے اس لیے میرے بعض سائنس مخالف دوست اسے ہنسی میں اڑانے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ لوگوں کے پاس آ جا کہ یہی حوالہ ہے،میں ان دوستوں کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ان کا یہ خیال قلتِ مطالعہ یا سائنس سے تعصب کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ تحقیق کی تھوڑی سی زحمت بھی گوارا کریں اور تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ مذہب اور سائنس کی قربت کا قائل صر ف بکائی نہیں دنیا کے اکثر سائنسدان ہیں۔حتی کہ آپ کو شائد ہی کوئی ایسا معتبر سائنسدان ملے جو مذہبی ذہن نہ رکھتا ہو۔آئزک نیوٹن جسے دنیائے سائنس کا سب سے بڑا نام سمجھا جاتا ہے ،دہریت کی مخالفت اور مذہب کے دفاع میں زوردار مضامین لکھتا رہا ہے۔(۱۴) اس نے اپنی متعدد تحریروں میں ببانگ دہل اقرار کیا ہے کہ یہ کائنات اللہ کے وجود کی ناطق شہادت ہے ۔(۱۵)فرانسس بیکن،جو سائنسی طریقِ تحقیق کے بانیوں میں سے ہے، سائنس اور مطالعہ فطرت کو کلامِ خدا کے بعد ایمان کا سب سے ثقہ ثبوت قرار دیتا ہے۔(۱۶)مشاہدۂ فلک کے لیے پہلے پہل ٹیلی سکوپ استعمال کرنے والامشہور سائنسدان گلیلیو کہتا ہے کہ یہ کائنات اور اس کے سارے حقائق خدا کے تخلیق کردہ ہیں ،کائنات اللہ کی تحریر کردہ دوسری کتاب ہے ،لہذا سائنس اورعقیدہ و مذہب کبھی ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہو سکتے۔(۱۷)جدید علم فلکیا ت کا بانی کیپلرسائنس کی طرف آیا ہی اپنے مذہبی رجحانات کی بنا پر تھا ،اس نے واضح کیا ہے کہ اس نے اپنی سائنسی دریافتوں سے خدا کو پایا ہے۔(۱۸)
یہ تو سائنسدانوں کے خیالات تھے ۔جہاں تک علمائے اسلام کا تعلق ہے ان کے حوالے اس سے بھی زیادہ پیش کیے جا سکتے ہیں لیکن مضمون کی شکایتِ تنگئ داماں کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں صرف دو حوالوں پر اکتفا کروں گا؛ایک علامہ اقبا ل کا، جو فلسفہ اور علم دین دونوں میں مسلمہ حیثیت رکھتے ہیں اور جدید مغربی تہذیب کے بہت بڑے ناقد ہیں اور دوسرا مولانا مودودی کا،جو بیسویں صدی کے دوران مسلمانانِ برصغیر میں مغربی تہذیب واقدار کے مقابلہ میں اسلامی تہذیب اقدار پر اعتمادپیدا کرنے اور احیاے اسلام کے حوالے سے ایک اہم اور نمایاں مصنف اور جانے پہچانے عالمِ دین ہیں۔موخر الذکر رقمطراز ہیں:’’حقیقت یہ ہے کہ سائنس کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو انسانوں کے دل میں ایمان کو گہری جڑوں سے رائج کرنے والا نہ ہو۔ فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، اناٹومی، اسٹرانومی غرض جس علم کو بھی دیکھیں اس میں ایسے حقائق سامنے آتے ہیں جو انسان کو پکا اور سچا مومن بنا دینے کے لیے کافی ہیں۔ سائنس کے حقائق سے بڑھ کر آدمی کے دل میں ایمان پیدا کرنے والی کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔ یہی تو وہ آیاتِ الٰہی ہیں جن کی طرف قرآن بار بار توجہ دلاتا ہے۔‘‘ (۱۹)مقدم الذکر کہتے ہیں:
"The truth is that the religious and scientific processes, though involving different methods, are identical in their final aim at reaching the most real." (20)
’’واقعہ یہ ہے کہ مذہب اور سائنس،مختلف طریقِ کار اپنانے کے باوجود، اس اعتبار سے بالکل ایک ہیں کہ دونوں کا مطمأ نظر حقیقتِ واقعہ تک رسائی ہے۔‘‘
جب یہ بات واضح ہوگئی کہ قرآن کی دعوتِ مطالعۂ فطرت اور انفس وآفاق سائنس کی ترقی میں بنیادی اور اہم کردار ادا کرنے والی چیزیں ہیں؛مذہب سائنس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کو مہمیز لگاتا ہے اور اس حقیقت کا اعتراف دنیا کے عظیم سائنسدانوں اور مفکرین نے واضح الفاظ میں کیا ہے تو اس خیال کی بھی آپ سے آپ تردید ہو گئی کہ اسلامی فکر وتہذیب کا سائنس کی ترقی میں کوئی کردار نہیں ۔لہذا اس پر مزید تفصیلی دلائل کی حاجت نہیں۔البتہ اس تصور کا بودا پن متحقق کرنے کی غرض سے اس پر بطورِ خاص چند سطور صرف کر نا ضروری معلوم ہوتا ہے:
یہ حقیقت مسلم اور غیر مسلم محققین نے عام تسلیم کر لی ہے کہ قرونِ وسطی کے مسلمانوں کی سائنسی ترقی قرآن و حدیث کے مشاہداتی و تجرباتی اندازِ نظر کو اپنانے پر زور دینے کی بنا پر تھی،(۲۱)اور متعددسائنسی دریافتیں مختلف شرعی احکام اور تقاضوں کا نتیجہ تھیں؛مثلاً الجبرا کواسلامی قانونِ وراثت اور فلکیات،جغرافیہ،جیومیٹری اور ٹرگنومیٹری کوسمتِ قبلہ اور اوقاتِ نمازمعلوم کرنے کی اسلامی تقاضوں کے تحت ترقی ملی۔(۲۲)ابن النفیس نے بخاری کی حدیث ’’اللہ نے کوئی مرض ایسا پیدا نہیں کیا جس کی دوا پیدا نہ کی ہو۔‘‘کو اپنی عظیم سائنسی دریافتوں کی بنیاد بنایا تھا۔اس نے خون کی دل سے پھیپھروں کی طرف حرکت(Pulmonary Circulation )کو دریافت کیا اور اپنی اس تحقیق کو حشرِ اجساد کے روایتی اسلامی تصور کی تائید میں پیش کیا۔(۲۳)مسلم کیمیا گری ،کیمسٹری اور علم نجوم کے محرکات بھی مذہبی تھے۔ (۲۴)قرآن وحدیث کے ساتھ ساتھ ان اسلامی ذرائع علم کے مستند ماہرین(علماے دینیات) کے افکار و تحریرات نے بھی مختلف سائنسی علوم کی تحریک پیدا کی۔ مثال کے طور پرطبِ اسلامی میں سرجری اورعلمِ تشریح الاعضا پر امام غزالی کی تصنیفات کے اثرات ہیں،جنہوں نے ان علوم کوتخلیقاتِ خداوندی کے ادراک کے لیے استعمال کرنے پر زور دیا۔ (۲۵)پندرہویں صدی کے مسلم ماہرِکونیات علی القوشجی نے ارسطاطالیسی تصورِ سکونِ زمین کو غزالی وغیرہ ایسے عظیم مسلم ماہرینِ علومِ دین کی تنقیدِارسطو سے تحریک پاکر رد کیا تھا۔(۲۶)امام غزالی نے خود ارسطو کے تصور کائنات کو رد کرتے ہوئے تعددِ عوالم کا تصور پیش کیا۔(۲۷)اسلام ،اسلامی تہذیب اور اہلِ اسلام کے دنیائے سائنس میں غیر معمولی کردار کو مغربی اہل علم وقلم۔جو بالعموم اسے ماننے میں تعصب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ نے بھی نہایت واضح لفظوں میں تسلیم کیا ہے۔ مثلارابرٹ بریفالٹ لکھتا ہے: مسلمانوں نے یونانیوں سے کہیں بڑھ کر تجربات پر زور دیا۔(۲۸)ول ڈیوراں اقرار کرتا ہے کہ مسلم کیمیا دان علمِ کیمسٹری کے بانی ہیں۔(۲۹)یورپ کو سائنسی طریقِ تحقیق سے متعارف کرانے والا مشہور مغربی سائنسدان راجر بیکن بھی مسلم سائنسدانوں سے متاثر تھا ۔(۳۰)یہ اور اس نوع کے دیگر لاتعداد واضح شواہد کی ہوتے ہوئے سائنسی ترقی میں اسلامی فکر وتہذیب کے کردار کا انکار حق کا منہ چڑانے کے مترادف ہے۔
حوالہ جات و حواشی
۱۔ میں خود اس رویے اور اس کے حاملین کا سخت ناقد ہوں۔اس ضمن میں مختلف رسائل و جرائد میں راقم کے متعدد مضامین بھی شائع ہو چکے ہیں۔مثال کے طور پر ’’ تحقیقاتِ اسلامی ‘‘علی گڑھ ، انڈیا، شمارہ جنوری۔مارچ ۲۰۱۱ء میں پرویز کی قرآ نی فکر اور ’’الشریعہ‘‘دسمبر۲۰۱۱، فروری۲۰۱۲ء میں دنیائے اسلام پر استشراقی و مغربی فکر کے اثرات پر شائع ہونے والے راقم کے تفصیلی مضامین ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
2. See for details: Maurice Bucaille,The Bible, The Quran and Science,trans. ALastair D. Pannel and Author (ND),102.
3. United States of America, Encyclopaedia Britannica ( U.S.A: Fifteenth Edition, 1986) 10/552; Gould.J.Kolb, A Dictionary of Social Sciences( London:Tavistock Publications, 1964),620.
4. Thomas Arnold,The legacy of Islam (London: Oxford University Press, 1983) ,11.
۵۔ ڈاکٹرعبدالقادر، تاریخ سائنس(لاہور:ادارہ تالیف و ترجمہ، پنجاب یونیورسٹی ،۱۹۸۳ء) ، ۱۔
۶۔ ڈاکٹررفیع الدین، اسلام اور سائنس) لاہور:اقبال اکادمی ،میکلورڈ روڈ،۱۹۸۲ء(،۱۔
۷۔ ڈاکٹرفضل کریم، قرآن اور جدید سائنس(لاہور:فیروز سنز ، ۱۹۹۹ء)،۳۵۔
۸۔ پروفیسرمحمود انور، جدید طبیعات کا تعارف( لاہور :مجلس ترقی ادب ،۲کلب روڈ ، ۱۹۶۵ء)،۱۔
۹۔ ڈاکٹررفیع الدین، اسلام اور سائنس، ۱۷۔
۱۰۔ جو لوگ سائنس کی حمایت میں غلو کر کے قرآن سے خواہ مخواہ اس کی جزئیات نکالنے اور ہر کچے پکے سائنسی تصور کو قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ہمارے نزدیک اسی طرح قابلِ گرفت ہیں جیسے اس وقت زیرِ تنقیدعلما و دانشور۔ایک مسلمان کو نہ سائنس کے ہر نظریے و فرضیے سے مرعوب ہوکر قرآن کو اس کے مطابق کرنے کی فکر چاہیے اور نہ ہی اس کے ہرتصور کو بلاوجہ اسلام مخالف سمجھ لینا چاہیے۔گویا اسیخَیْرُ الْاُمُوْرِ اَوْسَطُھَا کے پیش نظر معتدل رویہ اپنانا چاہیے ۔راقم نے اس سلسلے میں اپنے ایک مضمون میں تفصیلی بحث کی ہے۔دیکھیے: ڈاکٹر محمد شہباز منج،’’مذہب اور سائنس۔باہمی تعلق کی صحیح نوعیت۔‘‘القلم۱۶،شمارہ۔۲ (۲۰۱۱ء):۱۶۱۔۱۸۴۔
11. http://www.einsteinandreligion.com/religioncomments.html
12. http://scienceandthemedia.weebly.com/uploads/6/9/6/2/6962884/ei nstein_science_philosophy_and_religion
13. Maurice Bucaille, The Quran and Modern Science, (Karachi: Ashraf Publication,ND),3.
14. Henry M. Morris, Men of Sciencs Men of God(U.S.A: Master Books, 2012),31-32.
15. See for example: Sir Isaac Newton, Mathematical Principles of Natural Philosophy, trans. Andrew Motte, (Chicago:William Benton, 1952),273-7
16. http://www.christianity.co.nz/ science4.htm
17. http://home.columbus.rr.com/ sciences/enlightened_belief_ history.htm
18. J.H. Tiner, Johannes Kepler-Giant of Faith and Science ( Michigan: Mott Media, 1977),197.
۱۹۔ مولانا بوالاعلی مودودی، ترجمان القرآن( لاہور:پاکستان پرنٹنگ پریس، ۱۹۶۵ء)،۲۸۵۔۲۸۶۔
20. Dr Allama Muhammad Iqbal, The Reconstruction of Religious Thought in Islam (Lahore: Hafeez Press,1965),195-96.
21. See: Laurence Bettany, "Ibn al-Haytham: an answer to multicultural science teaching.", Physics Education 30, no.4 (1995): 247150252;I. A. Ahmad, "The impact of the Qur'anic conception of astronomical phenomena on Islamic civilization", Vistas in Astronomy 39,no. 4 (1995): 395150403
22 . Owen Gingerich, "Islamic astronomy." Scientific American 254 ,no.10 (April 1986):74;Solomon Gandz, "The Algebra of Inheritance: A Rehabilitation of Al-Khuwarizmi." Osiris 5, (1938): 319150391
23. Nahyan A. G.Fancy, "Pulmonary Transit and Bodily Resurrection: The Interaction of Medicine, Philosophy and Religion in the Works of Ibn al-Nafis (d. 1288)."( Electronic Theses and Dissertations ,University of Notre Dame,2006), 2321503
24. George Saliba, A History of Arabic Astronomy: Planetary Theories During the Golden Age of Islam (New York: New York University Press,1994),60, 6715069
25. Emilie Savage-Smith, "Attitudes Toward Dissection in Medieval Islam." Journal of the History of Medicine and Allied Sciences 50, no.1:(1995): 67150110.
26 F. Jamil Ragep, "Tusi and Copernicus: The Earth's Motion in Context." Science in Context 14, no.11502(2001):145150163
27. Taneli Kukkonen, "Possible Worlds in the Tahafut al-Falasifa: Al-Ghazali on Creation and Contingency." Journal of the History of Philosophy 38,no.4 (2000): 479150502 .
28. Robert Briffault,The Making of Humanity (London:G. Allen & Unwin,1928), 190-202.
29. Will Durant, The Age of Faith (New York: Simon & Schuster,1980),4/162-86.
30. David C.Lindberg, "Alhazen's Theory of Vision and Its Reception in the West." Isis 58, no.3 (1967): 321150341 .
(جاری)
مسلمان عورت کا غیر مسلم مرد سے نکاح ۔ ڈاکٹر محمد شکیل اوج کے استدلال کا تنقیدی جائزہ
مولانا سید متین احمد شاہ
(راقم نے یہ مقالہ رائے کے لیے مشفق مکرم جناب عمار خان ناصر صاحب کی خدمت میں پیش کیا۔ انھوں نے اس پر ایک تفصیلی رائے مرحمت فرمائی جس پر بعض مقامات پر اسلوبِ خطاب میں تبدیلیاں کی گئیں۔ اس میں بیان کردہ نکات کو مقالے میں مندرج کرنے کے بجائے بلفظہ مستقلاً شامل کرنا مناسب معلوم ہوا جس کی وجہ ان کی علمی قدر وقیمت ہے، اس لیے اسے بحث کے مزید پہلووں کی توضیح کے لیے آخر میں درج کر دیا گیا ہے۔ متین احمد)
جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامی علوم کے سربراہ ڈاکٹر محمد شکیل اوج نے اپنی سرپرستی میں شائع ہونے والے مجلے شش ماہی ’’التفسیر‘‘ میں اس کے جواز کے بارے میں ایک مضمون لکھا تھا جو اب ان کے مجموعہ مضامین ’’نسائیات‘‘ میں شامل ہے۔یوں تواس مجموعے کے مختلف مندرجات پر گفتگو کی جاسکتی ہے تاہم اس وقت پیش نظر اسی مضمون ’’محصنین اہلِ کتاب سے مسلم عورتوں کا نکاح‘‘پر اپنی ناچیز معروضات پیش کرنا مقصود ہے۔
عہد جدید کے تہذیبی و تمدنی ارتقا اورمشرق و مغرب کے فکری تصادم کے نتیجے میں کئی ایسے مسائل اہلِ علم کے سامنے آئے جن سے گزشتہ دور کے اہلِ علم کو واسطہ پیش نہیں آیا تھا۔ان مسائل کا تعلق زندگی کے کسی ایک پہلو سے نہیں بلکہ تقریبا تمام پہلوؤں سے ہے۔عقیدہ، عبادت، معاملات، معیشت ، سیاست۔۔۔ تمام میدانوں میں فکر کا ایک مستقل دھارا ہے جس کا سامنا امت کے اہلِ علم وفکرنے کیا ہے۔مغرب کی اس تہذیبی یلغار کے اثرات میڈیا کے ذریعے ہر سوچنے والے انسان تک رسائی حاصل کر چکے ہیں اور وہ ان سوالات کی چبھن اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔اس سنگینی کے اثرات کا سامنا ان مسلمانوں کو زیادہ ہے جو دیارِ غیر میں رہ رہے ہیں۔انھی مسائل میں سے ایک افسوس ناک مسئلہ مسلمان عورتوں کے غیر مسلم مردوں سے شادی کرنے کا بھی ہے۔ہمارے ملک میں تو شاید اس مسئلے کی اہمیت اتنی زیادہ نہیں ہے، لیکن امریکا، کینیڈا ، افریقہ، ہندوستان وغیرہ میں مسلمان اس صورتِ حال سے دوچار ہو رہے ہیں۔ ایمانی کم زوری اور مادی چکا چوند نے نئی نسل کو اقبال کے بقول ہربند سے آزاد کر کے کعبے سے صنم خانے میں لا آباد کیا ہے۔ اس طرح کے واقعات پیش آ رہے ہیں کہ کوئی مسلمان لڑکی کسی کافر آشنا کے ساتھ چلی گئی اور شادی منعقد کر لی؛ اس لیے یہ سوال سوچنے والے اہل علم کے لیے تردد کا باعث ہے۔
غیر مسلموں سے نکاح کے سلسلے میں قرآنِ کریم کے تین مقامات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔سورۂ بقرہ میں مومن مردوں کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ وہ مشرک عورتوں سے نکاح کریں، اسی طرح مسلمان مردوں کو اس بات سے بھی منع کیا گیا ہے کہ وہ مسلمان عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے کروائیں۔ ارشادِ خداوندی ہے:
وَلاَ تَنکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ، وَلأَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْْرٌ مِّن مُّشْرِکَۃٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْکُمْ، وَلاَ تُنکِحُوا الْمُشِرِکِیْنَ حَتَّی یُؤْمِنُوا، وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْْرٌ مِّن مُّشْرِکٍ وَلَوْ أَعْجَبَکُمْ، أُوْلَءِکَ یَدْعُونَ إِلَی النَّارِ، وَاللّٰہُ یَدْعُوَ إِلَی الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ بِإِذْنِہِ، وَیُبَیِّنُ آیَاتِہِ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُونَ (۱)
’’اور (مومنو!) مشرک عورتوں سے جب تک ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے، اس سے مومن لونڈی بہتر ہے اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں، مومن عورتوں کو ان کی زوجیت میں نہ دینا کیوں کہ مشرک (مرد) سے خواہ تم کو کیسا بھلا لگے، مومن غلام بہتر ہے۔ یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور خدا اپنی مہربانی سے بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اور اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘
اسی طرح سورۂ مائدہ میں مسلمان مردوں کے لیے حلال چیزوں کے بیان میں نکاح کا ذکر بھی ہے۔وہاں ان کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اہل کتاب میں سے محصن عورتوں سے نکاح ان کے لیے حلال ہے۔ ارشاد ہے:
وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِن قَبْلِکُمْ (۲)
’’اہل کتاب میں سے محصن عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں۔‘‘
مشرک کے معاملے میں مسلمان مرد اور عورت دونوں کو نہی ہے، لیکن اس آیت میں مسلمان مرد کو کتابی عورت سے نکاح کی اجازت تو دی گئی جبکہ مسلمان عورت کے کتابی مرد سے نکاح کے بارے میں سکوت اختیار کیا گیا ہے۔
سورۂ ممتحنہ میں ارشادہے:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِذَا جَاءَ کُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوہُنَّ، اللّٰہُ أَعْلَمُ بِإِیْمَانِہِنَّ، فَإِنْ عَلِمْتُمُوہُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوہُنَّ إِلَی الْکُفَّارِ، لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ یَحِلُّونَ لَہُنَّ (۳)
’’مومنو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کر لو۔ (اور) خدا تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ سو اگر تم کو معلوم ہو کہ مومن ہیں تو ان کو کفار کے پاس واپس نہ بھیجو کہ نہ یہ ان کو حلال ہیں اور نہ وہ ان کو جائز۔‘‘
ڈاکٹر محمد شکیل اوج کے استدلال کی طرف آنے سے پہلے یہ دیکھنا مناسب ہے کہ امت کے مفسرین اور فقہا اس حوالے سے کیا رائے رکھتے ہیں۔ تفاسیر اور کتبِ فقہ کی مراجعت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان عورت کے غیر مسلم مرد سے نکاح کا قائل کوئی بھی قابلِ ذکر مفسر اور فقیہ نہیں رہا ہے اور اس کی حرمت پر چودہ سو سال میں امت کا اجماع رہا ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیت میں صراحتاً مسلمان عورتوں کو مشرک مردوں کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس پر ایک مسلمان غلام کو ترجیح دی گئی ہے خواہ مشرک بظاہر متاثر کن ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت میں سب سے بنیادی اور قابلِ ترجیح چیز دین اور ایمان کا مسئلہ ہے۔ چناں چہ سورۂ بقرہ میں اس حکم کے ساتھ فرمایا گیا: أُوْلَئِکَ یَدْعُونَ إِلَی النَّارِ (یہ مشرک لوگ جہنم کی طرف بلانے والے ہیں)۔ سورۂ مائدہ میں بھی اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا گیا : وَمَن یَکْفُرْ بِالإِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہُ وَہُوَ فِی الآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (۴) (جو کوئی ایمان کا منکر ہو تو اس کا عمل برباد ہو گیا اوروہ آخرت میں خسارے میں چلا گیا۔)
نکاح کے سلسلے میں ایک حدیث شریعت کے اسی مزاج کو واضح کرتی ہے جس میں یہ بات کہی گئی ہے کہ عورت سے نکاح اس کے جمال، مال، حسب ونسب اور دین کی وجہ سے کیا جا سکتاہے، لہٰذا انتخاب کرنے میں دین کو پیش نظر رکھا جائے۔ (۵) احکامِ شرعی کے پہلو بہ پہلو اس ایمانی اور دینی تذکیر کا مقصد یقیناًیہی ہے کہ یہ نکاح محض قضائے شہوت کا ایک ذریعہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ تہذیب و تمدن کے عمیق رشتے مربوط ہیں اور شریعت جن مقاصد کے حصول کے لیے آئی ہے، ان میں نسل اور دین کی حفاظت کا گہرا تعلق اس نکاح کے ساتھ ہے۔اس وجہ سے مسلمان عورت کا نکاح کسی کافر سے جائز نہیں ہے۔علامہ ابن جریر طبری سورۂ بقرہ کی آیت کے تحت بعض سلف کا یہ قول نقل کرتے ہیں:
یعنی تعالی ذکرہ بذلک ان اللہ قد حرم علی المومنات ان ینکحن مشرکا کائنا من کان المشرک ومن ای اصناف الشرک کان، فلا تنکحوہن ایہا المومنون منہم فان ذلک حرام علیکم ولان تزوجوہن من عبد مومن مصدق باللہ وبرسولہ وبما جاء بہ من عند اللہ خیر لکم من ان تزوجوہن من حر مشرک ولو شرف نسبہ وکرم اصلہ وان اعجبکم حسبہ ونسبہ (۶)
’’اللہ تعالیٰ کا مقصود اس سے یہ ہے کہ اس نے مومن عورتوں پر یہ بات حرام کر دی ہے کہ وہ کسی مشرک سے نکاح کریں، خواہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو اور اس میں جس نوعیت کا شرک بھی پایا جاتا ہو، اس لیے اے جماعتِ مومنین! تم ان عورتوں کا نکاح ان مشرک مردوں سے نہ کرو، کیوں کہ ایسا کرنا تم پر حرام ہے۔ان کا نکاح تم اللہ ، اس کے رسول اور اس کی طرف سے لائی گئی وحی پر ایمان رکھنے والے مومن غلام سے کرو، یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ان کا نکاح کسی آزاد مشرک سے کر ڈالو؛اگرچہ اس کا حسب و نسب اعلیٰ ہی کیوں نہ ہو اور اس کی خاندانی نسبت اور حسن وجمال تم کو متاثر ہی کیوں نہ کرے۔‘‘
اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں شرک اپنے عموم پر ہے اوراس عموم کی وجہ بظاہر اس حکم کی علت ہے۔ جملہ أُوْلَئِکَ یَدْعُونَ إِلَی النَّارِ ماقبل کے ساتھ بغیر عطف کے واقع ہوا ہے اور اس کی حیثیت یہاں استینافِ بیانی کی ہے جو ماقبل کلام سے پیدا ہونے سوال کا جواب ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس ممانعت کی وجہ اور علت کیا ہے؟ اس کا جواب اس جملے میں دیا گیا ہے کہ یہ لوگ جہنم کے داعی ہیں، اس لیے ان کے ساتھ یہ نکاح منع ہے۔اگرچہ قرآن مجید میں مشرکین سے براہ راست مراد عام طور پر اس عہد کے مشرکین ہوتے ہیں، لیکن احکام کا تعلق ان کی علتوں کے ساتھ ہوتا ہے ، الا یہ کہ کوئی واضح دلیل آ کر یہ بتا دے کہ یہ حکم انہی افراد کے ساتھ خاص ہے۔ چناں چہ شرک کی یہ علت جہاں بھی پائی جائے گی، وہ دعوتِ جہنم کو مستلزم ہونے کی وجہ سے اس امتناع کا سبب قرار پائے گی اور اس کے دینی اور ایمانی نقصانات سے بچنا جہاں ممکن نہ ہو، وہاں اس کی بنیاد پر حکم کا ترتب ہو گا۔اصول ہے کہ اذا علق الشارع حکما علی علۃ فانہ یوجد حیث وجدت. (۷) (شارع نے کوئی حکم کسی علت کے ساتھ مربوط کیا ہو تو جہاں بھی وہ علت پائی جائے گی، وہ حکم بھی پایا جائے گا۔)
سورۂ ممتحنہ میں بھی مسلمان عورتوں کو کافروں کی طرف لوٹانے کی نہی ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر جانبین سے حلال نہیں ہیں۔ یہاں بھی کفار سے مراعد سیاق وسباق کی روشنی میں مشرکین ہی ہیں۔اس لیے مسئلے کا نقطہ ارتکاز سورۂ مائدہ کی آیت ہے جس میں مومن مردوں کو مومن مسلمان عورتوں اور اہلِ کتاب کی پاک باز عورتوں سے نکاح کے حلال ہونے کو بیان کیا گیا۔اس آیت میں مسلمان عورت کو کتابی مرد سے نکاح کرنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا، لیکن آیا اس سکوت کی وجہ سے یہ مقام مجتہد فیہ بن گیا ہے اور حالات اور ظروف کے مطابق اس کا معاملہ مسلمانوں کی مرضی کے سپرد کر دیا گیا ہے؟ اس بات کو جاننے کے لیے اس آیت کو اس کے سیاق میں دیکھنا ضروری ہے۔ اصل میں یہ آیت سابقہ آیت سے مربوط ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ’’لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا چیز حلال کی گئی ہے؟ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں۔‘‘ (۸) پھر اس آیت میں کچھ چیزوں کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ تمھارے لیے حلال ہیں۔ آگے زیر بحث آیت اصل میں اسی سوال کے جواب کا تسلسل ہے۔ شیخ محی الدین الدرویش نے اس کی نحوی تالیف اس طرح ذکر کی ہے۔
کلام مستانف مسوق لتکریر ذکر الطیبات التی احلت لکم یوم السوال عنہا او الیوم الذی اکملت لکم دینکم (۹)
’’یہ کلام استینافی ہے جس کو انھی پاکیزہ چیزوں کے بیان کو تقویت بخشنے کے لیے لایا گیا ہے جن کو ان کے بارے میں سوال کے یا تکمیلِ دین کے زمانے میں حلال کیاگیا۔‘‘
گویا آیت اور ماقبل آیت کے درمیان حرفِ عطف کا نہ آنا اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں کلام میں بلاغت کی اصطلاح میں فصل بصورت اتحاد تام ہے، اور کلام کی جہت ایک ہی ہے۔جب یہ مقام حلال اور حرام جیسے نہایت نازک امورکی (نئے سرے سے یا تکریرِ سابق کے طور پر)تشریع کاہے تو پہلے اللہ تعالیٰ نے دونوں آیات میں عمومی انداز میں طیبات کا حلال ہونا بتایا، لیکن انسانی عقل یا فطرت کو اس سلسلے میں فیصل اور قطعی قرار نہیں دیا جا سکتا اور ان کے بارے میں ہر وقت یہ احتمال ہے کہ وہ اس معاملے میں غلطی کا ارتکاب کر دیں ، اس لیے حلال امور کو واضح طور پر بتا دیا گیا۔ ایک نازک معاملے میں سوال کا بدیہی تقاضا یہ ہے کہ وہاں جن امور کی حلت یا حرمت بیان کرنا مقصود ہے تو ان کے کسی فرد کے بارے میں کوئی احتمال یا گنجلک کو باقی نہ رہنے دیا جائے اور بات کو واضح کر کے بیان کر دیا جائے ، ورنہ یہ بات ایک حکیمانہ جواب کی عظمت کے منافی ہے۔اگر یہ مقام سوال کے جواب کا نہ ہوتا۔جہاں ایک کلامِ بلیغ کے مناسب وضاحت اصل ہے اور ابہام اس کی بلاغت کے منافی ہے۔ اور متکلم از خود کوئی تشریعی امور کو بیان کر رہا ہوتا تو یہ احتمال تھا کہ یہ مقام مجتہد فیہ ہو جائے، کیوں کہ بہ ہر حال حلال اور حرام کا دائرہ بہت وسیع ہے اور اس میں اصل طیب ہونا ہے، لیکن ان طیبات کے مخصوص افراد میں مسلمان مرد کے کتابی عورت سے نکاح کے حلال ہونے کو بیان کر دینا اور اس کے برعکس صورت کو بیان نہ کرنا اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ یہاں اس طیب کا دائرہ مخصوص ہے؛ اس لیے کسی مسلمان عورت کا غیر مسلم کتابی سے نکاح درست نہیں ہو گا ’’کیوں کہ آیت میں صرف اہل کتاب عورتوں کے متعلق بتایا گیا ہے۔‘‘ (۱۰)
2۔ استدلال کے اس علمی پہلو کے علاوہ مسلمان عورت کے غیر مسلم کے ساتھ نکاح کے ناجائز ہونے کا دوسرا اہم پہلو مقاصدی ہے اور سورۂ بقرہ کی آیت کے ضمن میں مشرکوں کے ساتھ نکاح کے عدمِ جواز کی علت کے بیان میں، جیسا کہ ذکر ہوا، یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ اس کا تعلق دین اور ایمان کی حفاظت کے ساتھ ہے۔ سورۂ مائدہ کی مذکورہ بالا آیت کے ساتھ بھی وَمَن یَکْفُرْ بِالإِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہُ وَہُوَ فِی الآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (اور جو کوئی ایمان کے ساتھ کفر اختیار کرے گا تو اس کا عمل اکارت جاے گا اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہو گا)۔ مسلمان مرد کو کتابی عورت کے ساتھ نکاح کرنے کو جائز کہنے کے باوجود قرآنِ کریم نے اصل مقصدی پہلو کو سامنے رکھا ہے اور وہ ہے ایمان اور دین کا پہلو۔ یہ جملہ معترضہ بتا رہا ہے کہ یہاں یہ اجازت ان کے تزکیہ حال کے لیے نہیں بلکہ تیسیر مسلمین کے لیے ہے۔(۱۱)
3۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے جس کی طرف مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے اشارہ کیا ہے کہ یہاں یہ حکم اور اجازت اس دور میں دی گئی ہے جب اسلام کو مکمل غلبہ حاصل ہو چکا ہے، چناں چہ کہتے ہیں:
’’اس دور میں کفار کا دبدبہ ختم ہو چکا تھا اور مسلمان ایک ناقابل شکست طاقت بن چکے تھے۔ یہ اندیشہ نہیں تھا کہ ان کو کتابیات سے نکاح کی اجازت دی گئی تو وہ کسی احساس کمتری میں مبتلا ہو کر تہذیب اور معاشرت اور اعمال و اخلاق میں ان سے متاثر ہوں گے۔ بلکہ توقع تھی کہ مسلمان ان سے نکاح کریں گے تو ان کو متاثر کریں گے اور اس راہ سے ان کتابیات کے عقائد و اعمال میں خوشگوارتبدیلی ہو گی اور عجب نہیں کہ ان میں بہت سی ایمان و اسلام سے مشرف ہو جائیں۔ علاوہ ازیں یہ پہلو بھی قابل لحاظ ہے کہ کتابیات سے نکاح کی اجازت بہرحال علیٰ سبیل التنزل دی گئی ہے۔ اس میں آدمی کے خود اپنے اور اس کے آل و اولاد اور خاندان کے دین و ایمان کے لیے جو خطرہ ہے، وہ مخفی نہیں ہے۔‘‘ (۱۲)
جناب جاوید احمد غامدی نے یہی بات بڑی جامعیت اور اختصار کے ساتھ بیان کی ہے، لکھتے ہیں:
’’آیت کے سیاق سے واضح ہے کہ یہ اجازت اس وقت دی گئی جب حلال و حرام اور شرک و توحید کے معاملے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔اس کے لیے آیت کے شروع میں لفظ ’’الیومَ‘ بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اجازت میں شرک وتوحید کے وضوح اور شرک پر توحید کے غلبے کو بھی یقیناًدخل تھا۔لہٰذا اس بات کی پوری توقع تھی کہ مسلمان ان عورتوں سے نکاح کریں گے تو یہ ان سے لازماً متاثر ہوں گی اور شرک وتوحید کے مابین کوئی تصادم نہ صرف یہ کہ پیدا نہیں ہو گا، بلکہ ہو سکتا ہے کہ ان میں بہت سی ایمان و اسلام سے مشرف ہو جائیں۔ یہ اس اجازت سے فائدہ اٹھاتے وقت اس زمانے میں بھی ملحوظ رہنی چاہیے۔‘‘ (۱۳)
یہ بات بہت معنی خیز ہے کہ جب یہ غلبے کے دور کی بات ہے اور اس میں نکاح کی اجازت بھی صراحتاً مسلمان مرد کو دی گئی ہے جس کو بیوی پر ولایت کاملہ حاصل ہوتی ہے تو آخر اس غلبے کے عہد میں کسی مسلمان عورت کو یہ اجازت کیوں نہیں دی گئی؟ اس عہد میں اسلام کی دعوت اپنے شباب پر تھی اور داعی اعظم کا وجودِمسعود خود امت میں موجود تھا جنھوں نے کفار کی تالیفِ قلب اور ان کو مسلم معاشرے میں جذب کرنے کے لیے ناقابلِ فراموش اقدامات کیے۔ کیا ان کو اس بات کی حرص نہیں ہو سکتی تھی کہ اس نکاح کو جائز قرا ر دیتے اور صحابہ کرام کو بھی اس کی ترغیب دیتے؟جب کہ صورتِ حال یہ ہے کہ اس وقت کا کوئی ایک واقعہ بھی اس نظریے کی تائید نہیں کرتا۔ مرد کو اجازت دے کر یہ مقصود بھی اسلام نے حاصل کر لیا اور یہاں تک گنجائش بھی تھی جس کو نظر انداز نہیں کیا گیا، لیکن عورت کے معاملے میں یہ مقصد حاصل ہونے کے بجائے اس اقدام کے Counter Productive ہونے کاغالب اور واضح امکان موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ عورت عام طور پرتاثر پذیر ہوتی ہے اور مرد کی قوامیت میں ہوتے ہوئے یہ غالب امکان بلکہ امر واقعہ ہے کہ وہ مرد کی پسند اور ناپسندکے تابع ہوتی ہے، اس لیے یہ عین ممکن ہے کہ وہ (جس کو حدیث میں ناقصات العقل والدین کہا گہا ہے)مرد کے کافرانہ عقائد اور اعمال کو اختیار کر لے۔ عورت کی یہی انفعالیت اور تاثر پذیری ہے جس کی وجہ سے اسے شریعت اسلامی میں حکم و امامت کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
اسی بات کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ مسلمان کے کافر عورت سے نکاح کرنے کے جواز اور برعکس صورت کے عدمِ جواز کے درمیان ایک فارق موجود ہے جس کی وجہ سے دونوں صورتوں کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کیا جاسکتا، اور وہ یہ کہ مسلمان یُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْْکَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ کے تحت سابقہ انبیاء اور ادیان کے، نسخ سے پہلے صحیح ہونے پر ایمان رکھتا ہے۔یہ بات اس کے اسلام کی طرف آنے کا ایک مثبت باعث ہو سکتی ہے، جب کہ ایک نصرانی یا یہودی نہ مسلمانوں کے دین کو صحیح مانتا ہے اور نہ آپ کی نبوت پر ایمان رکھتا ہے۔ ان کا توحید بھی تثلیث جیسے شرک کی بدترین آلودگی میں ملوث ہے؛اس لیے مسلمان عورت کے لیے غالب امکان ہے کہ کافر اس کو اپنے دین کی طرف کھینچ لے۔ (۱۴)
علامہ عبداللہ یوسف علی کہتے ہیں:
A Muslim woman may not marry a non-Muslim, because her Muslim status would be affected: the wife ordinarily takes the nationality and status given by her husband's law. A non-Muslim woman marrying a Muslim husband would be expected eventually to accept Islam. (15)
’’ایک مسلمان عورت ایک غیرمسلم مرد سے شادی نہیں کر سکتی، کیوں اس سے اس کے مسلمان ہونے کی حیثیت متاثر ہو گی۔ بیوی عام طورپر خاوند کے قانون کی طرف سے دی گئی قومیت اور حیثیت کو اختیار کرتی ہے۔ اس کے بر عکس ایک مسلمان سے شادی کرنے والی غیر مسلم عورت آخر کار اسلام قبول کر لے گی۔‘‘
وہبہ زحیلی اس حکمت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
وسبب تحریم زواج المسلم بالمشرکۃ والمسلمۃ بالکافر مطلقا کتابیا کان او مشرکا ہو ان اولئک المشرکین والمشرکات یدعون الی الکفر والعمل بکل ما ہو شر یودی الی النار، اذ لیس لہم دین صحیح یرشدہم ولا کتاب سماوی یہدیہم الی الحق مع تنافر الطبائع بین قلب فیہ نور وایمان وبین قلب فیہ ظلام وضلال، فلا تخالطوہم ولا تصاہروہم اذ المصاہرۃ توجب المداخلۃ والنصیحۃ والالفۃ والمحبۃ والتاثر بہم وانتقال الافکار الضالۃ والتقلید فی الافعال والعادات غیر الشرعیۃ، فہولاء لا یقصرون فی الترغیب بالضلال مع تربیۃ النسل او الاولاد علی وفق الاہواء والضلالات (۱۶)
’’مسلمان مرد کے مشرک عورت کے ساتھ اور مسلمان عورت کے علی الاطلاق کافر مرد، خواہ وہ کتابی ہو یا مشرک، کے ساتھ نکاح کے ناجائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مشرک مرد اور عورتیں، کفر اور واصل جہنم کرنے والے اعمالِ شرکے داعی ہوتے ہیں، کیوں کہ ان کے پاس باعث ہدایت کوئی صحیح دین اور حق کی طرف رہ نمائی کرنے والی کوئی آسمانی کتاب نہیں ہے، نیز نور وایمان اور ظلمت و ضلال کے دلوں کے فرق کے لحاظ سے ان کی طبیعتوں میں تضاد ہے، اس لیے نہ تو ان کے ساتھ اختلاط کرو اور نہ ان کے ساتھ رشتہ داریاں قائم کرو؛ کیوں کہ رشتے داریاں، تعلق باہمی، خیر خواہی، محبت و الفت، ان سے متاثر ہونے، گمراہ کن افکار کے منتقل ہونے اور غیر شرعی عادات و اعمال کی تقلید کا باعث ہوتی ہیں؛ اس لیے کہ یہ لوگ گم راہی کی ترغیب کے ساتھ ساتھ اپنی خواہشات اور گم راہیوں کے مطابق نسل کی تربیت میں کوتاہی نہیں کرتے۔‘‘
ایمان اور دین کا یہی وہ لازمی پہلو ہے جس کی وجہ سے امت کے متعدد فقہا نے دارالحرب اور دارالکفر میں کتابیات سے نکاح کو مکروہ قرار دیا ہے۔
یہاں عہد صحابہ کے ایک واقعے کا ذکر مناسب ہوگا۔ حضرت حذیفہ بن یمانؓ نے ایک یہودی عورت سے شادی کی تو حضرت عمرؓ نے ان کو لکھا کہ اس کو طلاق دے دیں۔ حذیفہ نے ان کولکھا کہ اگر یہ حرام ہے تو طلاق دے دیتا ہوں۔ حضرت عمر نے جواباً تحریر فرمایا کہ میں نہیں کہتا کہ حرام ہے، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم ان کی بیسواؤں کے چکر میں پڑ جاؤ گے۔ (۱۷)
یہ نصیحت اس صحابی کو کی جا رہی ہے جس کا مزاج یہ تھا کہ لوگ حضور سے خیر کے سوالات پوچھتے تھے اور یہ شر کے سوالات دریافت کرتے تھے کہ کہیں فتنے میں نہ پڑ جائیں اور نصیحت کرنے والی شخصیت فاروقِ اعظم کی ہے جن کی ایمانی دوربینی اور بصیرت محتاجِ تعارف نہیں ہے۔ اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ اس معاملے میں صحابہ کا مزاج کیا تھا اور وہ ان امورمیں دینی مصالح کو کس طرح ترجیح دیتے تھے۔ اسی بات کے پیشِ نظر امام مالک کے نزدیک کتابیہ عورت سے نکاح مکروہ ہے۔ (۱۸)
مسلمان مرد کے غیر مسلم عورت سے نکاح کے بارے میں اس طویل عرض کا مقصود یہ تھا کہ اس اجازت میں شریعت اسلامی کا مزاج واضح ہو جائے کہ یہ اجازت کوئی اتنی پسندیدہ چیز نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں عورت کو کسی کے نکاح میں دینا مرد کے نکاح کے مقابلے میں زیادہ نزاکت کا حامل ہو تا ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ عورت پر مرد کو کامل ولایت حاصل ہو تی ہے اور وہ اس کے عادات واطوار کے اپنانے میں منفعل مزاج ہوتی ہے۔کافر کے نکاح میں دینا یقینی اور بدیہی طورپر اس کے دین کی تباہی کے باعث ہو گا ، اس لیے اس سے نکاح کو شریعت بہ طریقِ اولیٰ نادرست قرار دے گی۔
بعض کتبِ تفسیر میں ایک روایت ان الفاظ میں ملتی ہے:
عن جابر بن عبد اللہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’نتزوج نساء اہل الکتاب ولا یتزوجون نساء نا‘‘. (۱۹)
’’حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کر سکتے ہیں، لیکن وہ ہماری عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے۔‘‘
علامہ ابن کثیر یہ روایت نقل کرنے کے بعد ابن جریر طبری کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس روایت کی سند میں وجوہِ ضعف موجود ہیں، لیکن امت کے اجماع کی وجہ سے اس کو درست تسلیم کیا جائے گا۔ (۲۰)
اس بحث کے بعد ڈاکٹر شکیل اوج کے موقف سے تعرض کیا جا تا ہے۔ ڈاکٹر اوج نے اس مسئلے کے بیان کرنے سے پہلے ایک تمہید ذکر کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآنِ کریم نے مشرکین سے دو طرفہ نکاح کی ممانعت کی ہے اور اہلِ کتاب سے یک طرفہ نکاح کی۔ مشرکین سے قرآنی اصطلاح کے مطابق صرف عہد نبی کے مشرکین مراد ہیں اور یہ ممانعت انہی کے ساتھ خاص ہے۔ اہل کتاب سے نکاح کے معاملے میں یک طرفہ جواز کو بیان کیا گیا ہے اور جانب ثانی (مسلمان عورت کے کتابی مرد سے نکاح) کے بارے میں سکوت اختیار کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ مجتہد فیہ بن گیا ہے اور حالات اور ضرورت کے تحت کسی بھی صورت کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔ نیز اہل کتاب کا خاص اطلاق یہود ونصاریٰ پر ہے؛ لیکن تحقیق کے بعد دنیا کی بیش تر اقوام کو اہل کتاب قرار دیا جا سکتا ہے۔ (۲۱)
قرآنِ کریم کی مخصوص اصطلاحات ’مشرکین‘ اور ’اہل کتاب ‘ کے اطلاق میں یہ تخصیص اور تعمیم بظاہر درست نہیں ہے۔ مشرکین سے اگر قرآن کی مراد اس وقت کے مشرکین ہیں تو اہل کتاب سے بھی مراد یہود و نصاریٰ ہی ہیں اور اس دائرے کو پھیلا کر دنیا کی بیشتر اقوام کو اس کے تحت داخل کرنا تکلف محض ہے۔ لفظ مشرک کو اصطلاح پر باقی رکھنا اور لفظ اہ کتاب کو لغوی پہلو سے عام کرنا دعویٰ بلا دلیل ہے۔ قرآن پاک نے جن اکتیس مقامات پر اہل کتاب کا لفظ اور سولہ مقامات پر اوتوا الکتب کے الفاظ استعمال کیے ہیں (جیسا کہ ڈاکٹر اوج بھی ذکر کرتے ہیں)، ان کا سیاق و سباق واضح طور پر بتاتا ہے کہ مراد یہود ونصاریٰ ہیں اور ان سے کسی اور قوم کو مراد نہیں لیا جا سکتا جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل کی ہو۔ اگر کتاب کے لفظ کی عمومیت سے (جیسا کہ البقرہ ۲۱۳ کا حوالہ دیا گیا ہے) دیگر اقوام بھی مراد لی جائیں اور تحقیق کے بعد ان کو اہلِ کتاب قرار دیا جاسکتا ہے تو لفظِ شرک اور اس کے مشتقات کو سامنے رکھ کر یہ دعویٰ کرنا کیوں درست نہیں ہے کہ شرک کی علت جہاں بھی موجود ہو، وہاں مشرک کے لفظ کا اطلاق درست ہے؟آخر مجوسی، صابی، ستارہ پرست، کنفیوشس کے پیروکار بدھ اس عموم میں کیوں نہیں آ سکتے؟ڈاکٹر اوج کا پہلا اطلاق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مکمل طور پر غلط ہے، بلکہ اس کی حیثیت ایسے ہی جیسے ہمارے عرف میں علما کا اطلاق ایک خاص طبقے پر ہوتا ہے لیکن اس سے کسی دوسرے سے علم کی نفی نہیں ہوتی؛ لیکن اسی اسلوب کی گنجائش دوسری جگہ پر اختیار کرنا بھی تو ممکن ہے اور مشرکین کے اطلاق عرفی کے علاوہ شرک کا وجود دوسری جگہ بھی تسلیم کیا جا سکتا ہے۔
علامہ رشید رضا کا کہنا ہے کہ قرآنِ کریم کی دونوں اصطلاحوں ’مشرکین‘اور ’اہلِ کتاب‘میں اس اجتہاد کی گنجائش موجود ہے کہ ان کو اپنے خاص اطلاق سے ہٹ کر بھی استعمال کیا جائے۔ (۲۲) چناں چہ سلف میں بعض افراد سے یہ بات مروی ہے کہ انھوں نے مشرکین سے نکاح کی ممانعت والی آیت میں حکم کا مدار مخصوص اصطلاح پر نہیں رکھا بلکہ اس علت پر رکھا ہے جس کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا اور وہ علت شرک ہے۔ پہلے ابن جریر طبری کے حوالے سے یہ بات گزری ہے اور صحابہ میں حضرت ابن عمرکی طرف یہ بات منسوب ہے کہ وہ مشرکین سے نکاح کی نہی میں یہود ونصاریٰ کو بھی داخل سمجھتے تھے اور ان کی یہ دلیل تھی کہ جب یہود حضرت عزیر کو اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں تو پھر اس شرک سے بدترین شرک اور کون سا ہو سکتا ہے جس کے بعد ان سے مناکحت کے معاملات جائز ہوں؟ جن مفسرین نے اس قول کو اختیار کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت اپنے نزول کے وقت تمام غیرمسلموں، خواہ وہ کتابی ہوں یا غیر کتابی ، کو شامل تھی، لیکن یہ حکم سورۂ مائدہ کی آیت سے جزوی طور پر منسوخ ہے۔(۲۳) تاہم یہ مذہب کم زور ہے اور جمہور کا موقف یہی ہے کہ یہ نکاح جائز ہے البتہ ایسا کرنا،جیسا کہ گزرا، ضرورت کے تحت ہی ہے اور شریعت کی نظر میں زیادہ پسندیدہ عمل نہیں ہے۔
اس تمہید کے بعد ڈاکٹر اوج کہتے ہیں کہ مسلمان عورت کے کتابی مرد سے نکاح کا معاملہ مجتہد فیہ ہے اور ضروریاتِ زمانہ کے اقتضا سے کوئی صورت اختیار کی جا سکتی ہے اور ہمیں اس سکوت میں اثبات کا پہلو زیادہ قرین صواب لگتا ہے، کیوں کہ مثبت معنی کے متعدد قرائن خود قرآن میں موجود ہیں۔اس کے بعد انھوں نے اپنے دعوے کی تائید میں چار قرائن پیش کیے ہیں۔
پہلا قرینہ یہ ہے کہ سورۂ بقرہ کی آیت 221 اور سورۂ ممتحنہ کی آیت ۱۰ میں مشرکین سے نکاح کے معاملے میں نہی دو طرفہ ہے، لیکن سورۂ مائدہ میں حلت کا یک طرفہ بیان ہے؛ اس لیے اگر’’مسلمان عورت کا نکاح اہلِ کتاب مرد سے ناجائز ہوتا تو ضرور اس مقام پر اس کی صراحت کر دی جاتی، جیسا کہ مشرک مردوں کے معاملے میں کی گئی۔‘‘(۲۴)
اثباتی پہلو کے لیے پیش کیا گیا یہ قرینہ کم زور معلوم ہوتا ہے۔ یہاں اسی بات کو دلیل مثبِت بنانے کے بجائے اگر یہ کہا جائے کہ سورۂ بقرہ اور ممتحنہ میں جب دو طرفہ نہی ہے تواس سے معلوم ہوا کہ یہ حرمت دونوں طرف سے ہے۔ اگر اہلِ کتاب کے معاملے میں بھی حلت دو طرفہ ہوتی تو اس کو واضح طور پر بیان کر دیا جاتا ، لیکن یہاں چوں کہ یک طرفہ حلت کا بیان ہے، اس لیے مسئلہ مجتہد فیہ نہیں رہا ، بلکہ یہ بات بالبداہت ثابت ہو گئی کہ کتابی عورت سے تو مسلمان مرد کا نکاح تو جائز ہے، لیکن برعکس جائز نہیں، کیوں کہ اگر دوسری صورت بھی جائز ہوتی تو اس کو صراحت کے ساتھ بیان کر دیا جاتا جس طرح مشرکین کے معاملے میں بیان کیا گیا۔ اگر اس زاویے سے دیکھا جائے جائے تو یہی بات دلیل مثبِت نظر آنے کے بجائے دلیل نافی نظر آنے لگتی ہے اور اس کی تردید کا بظاہر کوئی قرینہ نہیں ہے۔
یہاں اگر دونوں آیات کے سیاق وسباق پر غور کیا جائے تو اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیت سے پہلے مصالحت یتامیٰ کا مضمون ہے اور اس کے تناظر میں کہا گیا ہے کہ اس مصلحت کی اہمیت اپنی جگہ لیکن ایمان بہ ہر حال مقدم ہے اور اس کے لیے نکاح اہل ایمان ہی سے مناسب ہے۔بعد میں بھی یہی کہا گیا کہ مشرکین داعی جہنم ہیں۔ گویا مقام شرح و توضیح کا تھا، اس لیے اس کو واضح کر کے بیان کر دیا گیا۔ سورۂ مائدہ میں بھی۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے ۔یہ مقام اصل میں سوال کے جواب کا مقام ہے اور ایسے مقام پر کلامِ بلیغ کا تقاضا ہے کہ بات میں ایجاز نہ ہو ، بلکہ وہ اطناب اور شرح کے ساتھ ہو کہ سائل کی تشفی ہو جائے اور جواب ملنے کے بعد بھی وہ تشنگی کا احساس نہ کرے۔ چناں چہ یہاں جو جواب شارع کے ہاں مقصود تھا، وہی بیان کر دیا گیا ۔ اگر جانب ثانی اس کی نظر میں حلال ہوتی تو اس کو ضرور بیان کیا جاتا اورسوال کا جواب ہونے نیز تشریع کا مقام ہونے کا تقاضا بھی یہی تھا۔ شرح و توضیح کے مقام پر کلامِ بلیغ کا تقاضا اطناب ہے نہ کہ ایجاز اور پھر مقام اگر نکاح جیسے نازک ترین مسائل کی حلت وحرمت سے متعلق ہو تو وہاں اس کی حساسیت اور بڑھ جاتی ہے اور اس کی حلت و حرمت کا مسئلہ انسانی عقل کے حوالے کرنا کلامِ حکیم کے شایانِ شان نہیں ہے۔ سورۂ نساء میں قرآن نے جہاں محرمات کا بیان کیا ہے، وہاں بھی اطناب اور تفصیل کا اسلوب اختیار کیا ہے۔
دوسرا قرینہ ڈاکٹر شکیل اوج نے اپنے موقف کی تائید میں یہ ذکر کیا ہے کہ سورۂ مائدہ کی اس آیت سے پہلے طیبات کی حلت کا اصول بیان کیا گیا ہے اور پھر طعام کی دوطرفہ حلت کے بیان کے ساتھ ایجاز واختصار کے پیش نظر نکاح میں بہ ظاہر یک طرفہ حلت کو بیان کیا گیا ، لیکن یہ اجازت اصلاً دو طرفہ حلت ہی کو متضمن ہے، کیوں کہ اہلِ کتاب کے مرد بھی محصن ہونے کہ وجہ سے طیب ہو سکتے ہیں۔(۲۵)
یہ قرینہ بھی ایک کم زور قرینہ معلوم ہوتا ہے۔ یہاں بنیادی سوال اہمیت کا ہے۔ کیا شارع کے بلیغ کلام کا یہ نقص نہیں تصور ہوگا کہ طعام کے معاملے میں تو وہ اطناب اور شرح کے ساتھ بتائے کہ وہ دونوں طرف سے حلال ہے ، جب کہ اصول ہے کہ اشیا میں اصل اباحت ہے اور نکاح کے معاملے میں وہ ایجاز سے کام لے جو حلت اور حرمت کے پہلو سے کھانے کے مقابلے میں ایک بہت نازک مسئلہ ہے؟ نکاح کا معاملہ یہاں اگر دوطرفہ حلال ہوتا تو یقیناًاس میں بھی یہاں طعام کی طرح اطناب ہی سے کام لیا جاتا۔ طیبات کو یقیناًشارع نے اصولاً حلال ٹھہرایا ہے ،لیکن اس کے ساتھ بعض حلال چیزوں کو بیان کرنا اسی مقصد کے لیے ہے کہ یہاں انسانی عقل خود ہی طیب کا تعین کرنے میں نہ ٹھوکر کھائے، چناں چہ یہاں طیبات کا دائرہ بیان کر دیا۔ باقی جن طیبات کا ذکر نہیں ہے تو ان میں شریعت کے اس اصول پر عمل کیا جائے گاکہ اشیا میں اصل اباحت ہے اور ابضاع میں اصل تحریم ہے۔ علامہ ابن نجیم فرماتے ہیں: لا یجوز التحری فی الفروج. (۲۶) (فروج کے معاملے میں تحری اور اجتہاد جائز نہیں ہے۔) اس اصل کی حکمت یہی ہے کہ اگر اس میں انسانی عقل کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو انسانی دین اور تمدن پر جو افتاد آئے گی وہ محتاجِ وضاحت نہیں ہے۔اہلِ کتاب عورتوں کے ساتھ مسلمان مردوں کا نکاح غلبہ اسلام کے عہد میں جائز قرار دینا خدمتِ اسلام کی مصلحت کے تحت ہے تاہم شریعت کی نظر میں یہ کوئی بہت پسندیدہ عمل نہیں ہے اور عہد صحابہ میں اس کی چند ایک مثالیں ہی ملتی ہیں،جیسا کہ پہلے گزرا، لیکن مسلمان عورت کو ایک کافر کے نکاح میں دینا اس مصلحت کے حق میں قطعا نہیں ہے۔ اگر یہ کوئی پسندیدہ صورت ہوتی تو یقیناًصحابہ کرام بھی اپنے ذہن رسا سے یہ اجتہاد فرما سکتے تھے اوراہل کتاب کے ’’محصنینِ طیبین‘‘کو تلاش کر کیاس عہد کی نہایت مضبوط ایمان والی صحابیات اس مقصد کو بخوبی پورا کر سکتی تھیں کہ اس کے نکاح میں آ کر اس سے متاثر ہونے کے بجائے اس کی سیرت و کردار کو بدل لیتیں، لیکن اس عہد مبارک کی کوئی ایک مثال بھی اس اجتہاد کی نہیں ملتی۔یہاں تو قرآن کی واضح طور پر اجازت کو بھی دین کے وہ متوالے زیادہ پسندیدہ نہیں سمجھ رہے اور دینی مصلحت کو زیادہ پیشِ نظر رکھ رہے ہیں، جب کہ ان کے مضبوط ایمان کے بارے میں یہی گمان کیا جا سکتا ہے کہ اس طرح کے نکاح ان کے لیے زیادہ مضر بھی نہیں ثابت ہو سکتے تھے۔ڈاکٹر شکیل اوج کے نزدیک ’’جب’’ باعمل کتابیہ ‘‘ مسلم خاندان میں جذب کی جا سکتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ کسی ’’باعمل کتابی‘‘کو جذب نہیں کیا جا سکتا؟باکردار کتابی مردوں کو مسلم معاشرہ یا خاندان میں جذب نہ کرنا غیر مساویانہ طرزِ عمل اختیار کرنا ہے، یا ایک ہی طرح کے مقدمہ میں دو طرح کے فیصلے کرنا ہے۔‘‘ (۲۷) ڈاکٹر اوج کی یہ رائے عالم گیریت کے تناظر میں درست سہی، لیکن اس میں کچھ معذرت خواہی کا انداز نظر آتا ہے۔پہلے یہ بات گزری کہ غلبہ اسلام کے عہد میں اہلِ کتاب سے قرب و موانست کے پیش نظر ان کے ساتھ معاملہ مناکحت کی جس حد تک گنجائش تھی، وہ دے دی گئی۔ اگر اس عہدِ مسعود میں جانب ثانی کی کوئی گنجائش ہو تی تو اس کو ضرور ذکر کیا جاتا اور عملاً اس کا کا کوئی نمونہ سامنے آتا، لیکن ظاہر ہے کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔
تیسرا قرینہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ اہلِ کتاب کی محصنات سے پہلے مومن محصنات کا ذکر ہے،اور مومن مردوں کا ذکر نہیں ہے، لیکن وہاں دو طرفہ صورت جائز ہے تو اہلِ کتاب کے محصن مردوں کے معاملے میں یہی دوطرفہ صورت اختیار کی جائے گی۔ (۲۸)
یہ قرینہ تقریباً پہلے قرینے کی مانند ہی ہے اور اس پر گفتگو سے اس کا جواب واضح ہے کہ یہاں مقام تشریع کا ہے اور اگر شارع کے پیش نظر یہ بات ہوتی تو اسے ضرور واضح کر دیا جاتا۔
چوتھا قرینہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ قرآن میں غیر شادی شدہ مسلمان عورتوں کو کہیں بھی مسلمان مردوں سے شادی کا حکم نہیں دیا گیاجو کہ ان کے ہم مذہب ہیں تو ان کو غیر مسلم مردوں سے نکاح کاکیسے حکم دیا جاتا، اور اس عدمِ ذکر سے یہ کیسے لازم آیا کہ اہل کتاب مردوں سے مسلمان عورتیں نکاح نہیں کر سکتیں۔(۲۹)
یہ دلیل تقریباً اسی طرح کی ہے جو میلاد شریف کے جواز کے لیے پیش کی جاتی ہے کہ جب قرآن وحدیث میں اس کی نہی وارد نہیں ہے تو اس سے خود بہ خود ثابت ہوا کہ وہ جائز ہے۔اگر اس سے نہی نہیں ہے تو اس کا ناجائز ہونا کہاں سے ثابت ہوتا ہے؟ قرآن کریم نے مشرکین سے نکاح کے معاملے میں جب دو طرفہ حکم دیا ہے تو وہاں ظاہر ہے خطاب مسلمان مرد اور عورتوں دونوں کو ہے۔ یہاں دلالۃ النص سے خود یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اہل ایمان کا آپس میں نکاح جائز ہے، مسلمان مرد کا مسلمان عورت سے اور برعکس بھی،لیکن جب اہل کتاب کا معاملہ آتا ہے تو وہاں صرف یک طرفہ صورت ہی بیان کی جاتی ہے۔ یہاں آخر شارع کو کیا امر مانع تھا کہ اس نے دوسری طرف کو بیان نہیں کیا؟ اگر یہ صورت جائز ہوتی تو ضرور اس کو بھی ذکر کر دیا جاتا۔
ڈاکٹر شکیل اوج کی بحث کے بارے میں یہی کچھ عرض کرنا مقصود تھا۔ یہاں اس سوال کا جواب جاننا ضروری ہے کہ موجودہ حالات میں اس بحث کی ضرورت کیا تھی؟شروع میں یہ ذکر کیا گیا کہ بعض جگہوں پر یہ صورتِ حال پیش آ رہی ہے کہ مسلمان عورتیں غیر مسلموں کو ترجیح دے رہی ہیں، اس لیے اہل علم کو یہ سوچنے کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ اس سلسلے میں درست طرز تو یہ تھا کہ ایمان وعمل سے دور بد نصیب مسلمانوں کو یہ تنبیہ کی جا تی اور ان کے والدین کو یہ احساس دلایا جاتا کہ اپنی اولاد کی احسن اسلامی خطوط پر تربیت کریں جس کے نتیجے میں یہ مسائل پیدا نہ ہوں۔لیکن نام نہاد مسلمانوں کی گم راہی ، بد عملی اور تہذیبِ مغرب کی کورانہ تقلید کو تہذیب و تمدن کے ارتقا کا نتیجہ یا مظہر سمجھ کراس طرح کی راہ نمائی یقیناًان کی مزید بے راہ روی کا باعث بن سکتی ہے۔خاندان کا ادارہ شاید وہ واحد ادارہ ہے جس میں مشرق اور مغرب کے درمیان ابھی بہت کچھ امتیاز باقی ہے اور یہاں کی عفت اور تقدس کا کافی گہرا نقش آج زندگیوں میں موجود ہے۔ اگر اس کو بھی ’’قانونِ انجذاب‘‘کے تحت اہلِ مغرب کی زندگیوں کے تابع کر دیا جائے تو پھر شاید ہماری تہذیبی شناخت کے لیے یہ زہرِ ہلاہل سے کم نہیں ہو گا۔بعض مغل شاہنشاہوں نے یہی طرزِ عمل اختیار کیا تو خاندان کے ادارے میں وہ تمام مفاسد در آئے جو ہندو تہذیب کا امتیاز تھے اور’’آج بھی جو لوگ قوموں اور مذہبوں کے امتیازی نشانات ونظریات کو ختم کرنے کے درپے ہیں، وہ اس کا سب سے زیادہ کارگر نسخہ آپس کی شادیوں ہی کو سمجھتے ہیں۔اس وجہ سے ایک مسلمان کو اس معاملے میں بے پرواہ اور سہل انگار نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ (۳۰)
آج سے چودہ سو سال پہلے تو شاید ممکن تھا کہ اْس ماحول میں کوئی محصن مل جائے اور اس سے بھی یک طرفہ اجازتِ نکاح دی جائے، لیکن آج کے جس منظر نامے میں یہ بحث چھیڑی گئی ہے، اس میں ’’اہل کتاب‘‘(جن کے دائرے میں ڈاکٹر شکیل اوج کے اجتہاد کی رو سے روئے زمین کے تمام غیر مسلموں کو تحقیق کے بعد داخل کیا جا سکتا ہے)میں صفت احصان کو تلاش کرنا شاید ایک نا ممکن کام ہو گا۔جہاں جنسی آزادی کو ایک فلسفہ حیات اور انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور اس کے برا ہونے کو سرے سے برا سمجھا ہی نہیں جارہا ، وہاں سے ’’محصنینِ طیبین‘‘ کو تلاش کرکے مسلمان عورتیں ان کے حوالے کرنے کا نقطہ نظر بہ ظاہر درست معلوم نہیں ہوتا۔اس طرح کا کوئی جواز اسلامی شریعت میں ہوتا تو خیرالقرون کا عہد اس کے لیے بہ ترین دور تھا، لیکن ظاہر ہے کہ اس عہد میں اس صورتِ حال کی کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔ پھر آج کے یہود ونصاریٰ میں کثیر تعداد ان لوگوں کی ہے جو سرے سے خدا کے وجود ہی کے قائل نہیں۔ مسلمان مرد کو اس عہد میں تثلیث کے پرستاروں سے یک طرفہ نکاح کی اجازت اس لیے دی گئی تھی کہ کم از کم بد ترین شرک کی آمیزش کے باوجود بہ ہر حال وہ لوگ خدا کے قائل ضرور تھے اور مسلمانوں اور ان میں وحدت کی بعض بنیادیں مشترک تھیں۔ آج یہ صورتِ حال بدل چکی ہے اور جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں شرک ایک شاکلہ تھا ،آج یہود ونصاریٰ کی زندگیوں میں الحاد ایک غالب شاکلے کی حیثیت رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ علامہ شبیر احمد عثمانی آج کے اکثر اہل کتاب سے اْس تعامل کی نفی کرتے ہیں جو اْس عہد کے اہلِ کتاب کے ساتھ روا تھا، بلکہ ان کو تو سرے سے انہیں اہلِ کتاب کہنے ہی سے انکار ہے۔ فرماتے ہیں:
’’یہ یاد رہے کہ ہمارے زمانہ کے ’’نصاریٰ‘‘عموماً برائے نام نصاریٰ ہیں۔ان میں بہ کثرت وہ ہیں جو نہ کسی کتابِ آسمانی کے قائل ہیں ، نہ مذہب کے، نہ خدا کے۔ ان پر اہل کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا، لہٰذا ان کے ذبیحہ او ر نساء کا حکم اہلِ کتاب کا سا نہ ہوگا۔‘‘ (۳۱)
مولانامفتی محمد تقی عثمانی نے بھی یہی بات فرمائی ہے۔(۳۲)اصل وجہ وہی ہے کہ اس قسم کے نکاح کی حلت و حرمت کا مدار کسی کے یہودی یا نصرانی ہونے کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ صیانت دین وایمان کی علت پر ہے۔آج کے اہلِ کتاب میں تو کسی مسلمان کو شاید ہی ایسی محصن عورت مل سکے اور برعکس صورتِ حال بھی اسی طرح ہے، اس لیے کسی مسلمان مرد کابھی اس طرح کامنصوص نکاح حرام لغیرہ ہوگا ، چہ جائے کہ مسلمان عورت کے نکاح کو جائز قرار جائے جس کی اجازت قرآنی فحواے کلام سے بہ آسانی مستنبط نہیں کی جاسکتی۔
جناب عمار خان ناصر کا مکتوب
برادرِ گرامی جناب سید متین شاہ صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
کتابی مرد کے ساتھ مسلمان عورت کے نکاح کے حوالے سے آپ کا مقالہ نظر نواز ہوا۔ ما شاء اللہ عمدہ استدلال پر مبنی ہے، اگرچہ بعض جگہ تبصرے ذرا سخت لہجے میں آ گئے ہیں۔
میرے طالب علمانہ فہم کے مطابق اس مسئلے کے جو قابل غور پہلو بنتے ہیں، ان کے حوالے سے اپنی معروضات پیش کر رہا ہوں:
سب سے بنیادی نکتہ اس بات کی تعیین ہے کہ مائدہ کی آیت میں محصنات اہل کتاب کے تصریحاً ذکر کیے جانے جب کہ محصنین سے سکوت کی وجہ ازروئے بلاغت کیا ہو سکتی ہے؟ آیا یہ سکوت اس پر دلالت کرتا ہے کہ اجازت صرف محصنات کے نکاح کی دینا مقصود ہے یا اس کے علاوہ کچھ دوسرے پہلو ؤں کا بھی احتمال ہے؟
پہلے نکتے کے حق میں یہ دلیل دی جا سکتی ہے (جو جصاص نے بیان کی ہے اور آپ نے بھی ا س کا ذکر کیا ہے) کہ مائدہ کی آیت دراصل سورۂ بقرہ میں مشرکین (یعنی ہر قسم کے اہل کفر) کے ساتھ حرمت نکاح کے عمومی حکم کے بعد ایک استثنایا تخصیص کو بیان کرنے کے لیے آئی ہے اور اس اعتبار سے یہاں محصنات اہل کتاب کے ذکر پر اکتفا اس بات کی دلیل ہے کہ محصنین اہل کتاب سے مسلمان عورتوں کے نکاح کے حوالے سے حرمت کا سابقہ حکم علیٰ حالہ برقرار ہے۔
اگر اس استدلال کا بنیادی مقدمہ درست ہو تو ظاہر ہے کہ نتیجہ بھی بہت محکم ہے، تاہم میری طالب علمانہ رائے میں بقرہ کی آیت: ولا تنکحوا المشرکین کی تعمیم کو قرآن مجید کی مخصوص اصطلاح اور استعمال قبول نہیں کرتا۔ اہل کتاب میں سے نصاریٰ میں یقیناًشرک پایا جاتا ہے، لیکن بطور ایک گروہ کے المشرکین کا لقب قرآن نے خاص طور پر اہل کتاب سے الگ، صرف مشرکین عرب کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس لحاظ سے صحیح صورت حال یہ بنتی ہے کہ قرآن نے بقرہ میں مشرکین سے نکاح کی تو ممانعت کر دی تھی، جبکہ کفار کے دیگر گروہوں کا حکم مسکوت عنہ رہا تا آنکہ مائدہ کی آیت میں اسے ایک مستقل ہدایت کے طور پر، نہ کہ بقرہ کی آیت کی تخصیص کے طور پر، بیان کیا گیا۔
الیوم احل لکم کے الفاظ سے بظاہر یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ یہاں ان چیزوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جنھیں پہلے حرام قرار دیا گیا تھا، لیکن بدیہی طور پر یہ شبہ درست نہیں، کیونکہ یہ اسلوب قرآن کی زبان میں مسکوت عنہ اور مبہم چیزوں کی حلت کے واضح بیان کے لیے بھی اتنا ہی موزوں ہے۔ پہلے مفہوم پر اس لیے بھی انھیں محمول نہیں کیا جا سکتا کہ احل لکم الطیبت اور المحصنت من المؤمنات میں طیبات اور محصنات کو یہاں پہلی مرتبہ حلال نہیں کیا گیا، بلکہ ان کی پہلے سے معلوم حلت کو ایک خاص بلاغی فائدے کے لیے (جس کا ذکر آگے آتا ہے) دہرایا گیا ہے۔
میرے خیال میں قرآن مجید کے مجموعی اسالیب کو سامنے رکھتے ہوئے مذکورہ احتمال کے علاوہ کم سے کم دو مزید احتمالات قابل غور ہیں:
ایک یہ کہ قرآن مجید میں مناکحات کے بیان میں عمومی طور پر مردوں کو ہی مخاطب کیا گیا ہے اور اصلاً انھی کے تعلق سے احکام بیان کیے گئے ہیں، جبکہ خواتین کے احکام ان سے بالتبع اخذ کیے جاتے ہیں۔ مثلاً نساء میں محرمات کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ آزاد عورتوں سے نکاح نہ کر سکتے ہوں، وہ لونڈیوں سے نکاح کر لیں: فمن لم یستطع منکم طولا ان ینکح المحصنت المومنت فمن ما ملکت ایمانکم من فتیاتکم المومنت۔ یہاں آزاد عورتوں کے، غلاموں سے نکاح کا تصریحاً ذکر نہیں، لیکن ظاہر ہے کہ بالتبع اخذ کیا جا سکتا ہے۔ اسی اصول پر مائدہ کی آیت میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ چونکہ مناکحات میں اصلاً مرد ہی مخاطب ہوتے ہیں، اس لیے انھی کے زاویے سے محصنات اہل کتاب کا ذکر کیا گیا ہے اور محصنین اہل کتاب کا حکم اس سے بالتبع اخذ کیا جائے گا۔ گویا مسلمان عورتوں کے لیے محصنین اہل کتاب کی حلت کا عدم ذکر کوئی قطعی دلیل اس بات کی نہیں بنتی کہ ان کے ساتھ نکاح کو ممنوع سمجھا جائے۔
بقرہ کی آیت ولا تنکحوا میں صنفین کے نکاح کی ممانعت کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ وہاں سادہ طور پر صرف نکاح کے احکام کا بیان پیش نظر نہیں، بلکہ بحیثیت مجموعی مسلمان سوسائٹی کے مشرک سوسائٹی کے ساتھ تعلقات کی تحدید مقصود ہے۔ دونوں کے مابین خاندانی رشتے ناتے پہلے سے چلے آ رہے تھے اور قرآن اب اس پر پابندی عائد کرنا چاہتا تھا، اس لیے تصریحاً یہ کہنے کی ضرورت تھی کہ مشرکین کے ساتھ ازدواجی تعلق کی کوئی بھی صورت اختیار نہ کی جائے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ یہاں نئے رشتے قائم کرنے کی ممانعت بتائی گئی ہے، جبکہ سابقہ رشتوں سے متعلق کوئی واضح ہدایت نہیں دی گئی۔ سابقہ رشتوں سے متعلق واضح ہدایت بہت بعد میں سورۂ ممتحنہ میں معاہدۂ حدیبیہ کی ایک شق کے تناظر میں دی گئی اور یہ کہا گیا کہ نہ مسلمان مرد، مشرک عورتوں کو اپنے نکاح میں روکے رکھیں اور نہ مسلمان عورتوں کو، ان کے مشرک خاوندوں کے پاس واپس بھیجا جائے۔
دوسرا احتمال جو قابل غور ہے، وہ یہ کہ قرآن مجید عام طور پر حکم کے بیان میں مخاطبین کے ذہنی حالات اور زمانہ نزول کی معروضی صورت حال کو بھی مد نظر رکھتا ہے اور اس کی بیان کردہ قیود اور شرائط کا صحیح رخ سمجھنے کے لیے اس پہلو کو ملحوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے، جیسے مثال کے طور پر من اصلابکم کی قید کا مقصد سمجھنے کے لیے متبنیٰ سے متعلق عرب روایت کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ مائدہ کی آیت میں صرف محصنات کے حکم پر اکتفا کی ایک ممکنہ وجہ، اس اسلوب کی رو سے، یہ ہو سکتی ہے کہ اس ماحول میں مسلمانوں کے ہاں اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کا رجحان اور رغبت تو موجود تھی اور غالباً یہی چیز یسئلونک ماذا احل لہم کا محرک بنی تھی، لیکن خواتین کو ان کے نکاح میں دینے کی کوئی خاص روایت یا رجحان موجود نہیں تھا۔ اس لحاظ سے قرآن نے اگر سائلین کے ذہنی رجحان کے تناظر میں اسی پہلو کے بیان پر اکتفا کی (اور دوسرے پہلو کے، سرے سے زیر بحث ہی نہ ہونے کی وجہ سے صرف نظر کیا) تو اسے کوئی قطعی قرینہ اس بات کا نہیں کہا جا سکتا کہ وہ محصنین سے نکاح کو ممنوع قرار دینا چاہتا ہے۔
مذکورہ وجوہ سے میری طالب علمانہ رائے کے مطابق محصنین اہل کتاب کے ساتھ نکاح کی ممانعت کو قطعی طور پر منصوص کہنا ازروئے اصول فقہ کافی مشکل ہے۔ البتہ چند قرائن سے شارع کا یہ رجحان یقیناًمعلوم ہوتا ہے کہ ایسا نکاح اس کی نظر میں ناپسندیدہ ہے۔ مثلاً مائدہ کی آیت میں قرآن نے اہل کتاب کے ساتھ معاملات کے حوالے سے دو امور کا ذکر کیا ہے: ایک طعام اور دوسرا نکاح۔ طعام کے ذکر میں صریحاً دو طرفہ حلت بیان کی گئی ہے، یعنی طعام الذین اوتوا الکتاب حل لکم وطعامکم حل لہم، جبکہ نکاح کے بیان میں صرف یک طرفہ حلت کا ذکر ہے۔ ایک ہی سیاق میں اسلوب کی یہ تبدیلی قطعی دلیل نہ سہی، ایک بہت مضبوط قرینہ اس بات کا ضرور ہے کہ شارع نکاح کی اجازت کو یک طرفہ ہی رکھنا چاہتا ہے۔
قرآن کے دیگر بیانات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ مناکحت کے تعلق کو اصلاً اہل ایمان ہی کے مابین پسند کرتا ہے۔ چنانچہ مائدہ کی زیر بحث آیت میں اصولی طور پر المحصنات من المؤمنات کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اس لیے کہ ان کی حلت پہلے سے واضح تھی، تاہم قرآن نے اس کو یہاں دہرایا ہے اور اس کے بعد بالتبع محصنات اہل کتاب کا ذکر کیا ہے تاکہ نکاح کے معاملے میں شارع کی ترجیحات واضح رہیں۔ سورۂ نساء میں لونڈیوں کے ساتھ نکاح کی اجازت میں من فتیاتکم المؤمنات کی قید بھی اسی ترجیح کو واضح کرتی ہے۔
مزید برآں شریعت کے عمومی مقاصد اور پیش نظر مصالح بھی اس رجحان کی تائید کرتے ہیں۔ رشتہ نکاح میں عورت کا مرد کے تابع ہونا ایک بدیہی امر ہے اور ظاہر ہے کہ اسلام کا مجموعی مزاج اس کو ناپسند ہی کرے گا کہ ایک مسلمان عورت کسی غیر مسلم مرد کے فراش پر ہو۔ فی نفسہ ایک ناگوار امر ہونے کے ساتھ ساتھ اگر عورت اور اس کی اولاد کے، شوہر کے دین اور کافرانہ ماحول سے متاثر ہونے کا خطرہ بھی ہو تو ظاہر ہے کہ اس رشتے کی قباحتیں شریعت کی نظر میں مزید بڑھ جاتی ہیں۔
مذکورہ ساری بحث کے تناظر میں، میری رائے یہ ہے کہ اہل کتاب کے مردوں او رمسلمان عورتوں کے مابین نکاح کو عمومی اباحت کے طور پر پیش کرنا اور خاص طور پر یہود ونصاریٰ کے علاوہ دوسرے غیر مسلم گروہوں کو بھی ’’اہل کتاب‘‘ میں شمار کرتے ہوئے باہمی مناکحت کے رجحان کی حوصلہ افزائی کرنا شریعت کے مزاج اور ترجیحات کی درست ترجمانی نہیں۔ البتہ ایک خاص صورت میں عملی مصالح کے تناظر میں اہل کتاب مرد اور مسلمان عورت کے نکاح کو گوارا کیا جا سکتا ہے، یعنی جب میاں بیوی میں سے صرف عورت مسلمان ہو جائے اور اس کے لیے عملی حالات کے لحاظ سے اپنے شوہر اور بچوں سے علیحدگی اختیار کرنا بوجوہ مشکل ہو جائے۔ یہ صورت اس وقت یورپ میں کثرت سے پیش آ رہی ہے اور عالم اسلام کے بعض جید اہل علم نے اس پر اجتہادی زاویہ نظر اختیار کرنے کی دعوت دی ہے۔ (یورپی مجلس افتاء کا رجحان بھی اس حوالے سے تیسیر کی طرف ہے، جبکہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب نے ’’مقاصد شریعت‘‘ میں اس کی تائید کی ہے)۔ میرا طالب علمانہ رجحان بھی اسی طرف ہے اور اپنی کتاب ’’حدود وتعزیرات:چند اہم مباحث‘‘ میں، میں اس پر اپنی رائے ان الفاظ میں بیان کر چکا ہوں:
’’نصوص کے فہم کا ایک بے حد اہم پہلو یہ ہوتا ہے کہ اس دائرۂ اطلاق کو متعین کیا جائے جس میں نص قطعی طور پر موثر ہے اور جس سے باہر ایک مجتہد اپنی مجتہدانہ بصیرت کو بروے کار لانے کے لیے پوری طرح آزاد ہے۔ اس فہم میں ظاہر ہے کہ اختلاف بھی واقع ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن مجید کی رو سے ایک مسلمان خاتون کو کسی غیرمسلم مرد سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ حکم کوئی نیا رشتہ نکاح قائم کرنے کی حد تک تو بالکل واضح ہے، لیکن میاں بیوی اگر پہلے سے غیرمسلم ہوں اور بیوی اسلام قبول کر لے تو کیا ان کے مابین تفریق بھی لازم ہوگی؟ حکم کا اس صورت کو شامل ہونا قطعی نہیں۔ عقلی اعتبار سے حالت اسلام میں کسی غیر مسلم شوہر کا ارادی انتخاب کرنے اور پہلے سے چلے آنے والے رشتہ نکاح کو نبھانے میں ایک نوعیت کا فرق پایا جاتا ہے اور سیدنا عمر کی رائے یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ اس صورت میں تفریق کو ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ بعض مقدمات میں انھوں نے میاں بیوی کے مابین تفریق کر دی ،جبکہ بعض مقدمات میں بیوی کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہے تو خاوند سے الگ ہو جائے اور چاہے تو اسی کے نکاح میں رہے۔ (مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۸۰۰۱، ۳۸۰۰۱) یقیناًاس فیصلے میں انھوں نے بیوی کو درپیش عملی مسائل ومشکلات کا لحاظ رکھا ہوگا اور آج کے دور میں بالخصوص غیرمسلم ممالک میں پیش آنے والے اس طرح کے واقعات میں سیدنا عمر کا یہ اجتہاد رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔‘‘ (ص ۲۵۳، ۳۵۳)
امید ہے کہ زیر بحث مسئلے کے حوالے سے یہ معروضات غور وفکر میں کسی حد تک آپ کی مدد کر سکیں گی۔
دعاؤں کی درخواست کے ساتھ
محمد عمار خان ناصر
۱۷؍ اکتوبر ۲۰۱۳ء
حوالہ جات
۱۔ البقرۃ ۲۲۱
۲۔ المائدہ ۵
۳۔ الممتحنہ ۱۰
۴۔ المائدہ ۵
۵۔ بخاری، صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب الاکفاء فی الدین، رقم ۵۰۹۰
۶۔ محمد بن جریر الطبری، جامع البیان فی تاویل القرآن، ت: احمد محمد شاکر، بیروت، موسسۃ الرسالۃ، ط ۱، ۱۴۲۰ھ۔۲۰۰۰م، ج ۴، ص ۳۷۰
۷۔ محمد بن علی شوکانی، ارشاد الفحول الیٰ تحقیق الحق من علم الاصول، بیروت، دار الکتاب العربی، ط ۱، ۱۴۱۹ھ۔۱۹۹۹ء، ج ۱، ص ۳۳۷
۸۔ المائدہ ۴
۹۔ محی الدین درویش، اعراب القرآن الکریم، بیروت، دار الارشاد، ط ۴، ۱۳۸۳ھ۔۱۹۶۴م، ج ۱، ص ۱۲۶
۱۰۔ عمر احمد عثمانی، فقہ القرآن (خاندانی معاملات نکاح وطلاق وغیرہ)، کراچی، ادارۂ فکر اسلامی، ط ۲، ۲۰۰۰ء، ص ۶۳
۱۱۔ طاہر بن عاشور، التحریر والتنویر، تیونس، دار التونسیۃ، ۱۹۸۴ء، ج ۶، ص ۱۲۴
۱۲۔ امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن، لاہور، فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۹ء، ج ۲، ص ۴۶۵
۱۳۔ جاوید احمد غامدی، البیان، لاہور، المورد، ط ۱، ۲۰۱۰ء، ج ۱، ص ۶۰۰
۱۴۔ ابن عاشور، مرجع سابق، ج ۲، ص ۳۶۳
15- Abdullah Yusuf Ali, The Holy Qur'an: Translation and Commentary (Islamabad: Da'wah Academy, 2004) p. 280
۱۶۔ وہبہ زحیلی، التفسیر المنیر فی العقیدۃ والشریعۃ والمنہج، دمشق، دار الفکر المعاصر، ط ۲، ۱۴۱۸ھ، ج ۲، ص ۲۹۲
۱۷۔ ابن ابی شیبہ، المصنف فی الاحادیث والآثار، کتاب النکاح، من کان یکرہ النکاح فی اہل الکتاب، رقم حدیث ۱۶۱۶۳
۱۸۔ محمد بن یوسف مواق مالکی، التاج والاکلیل لمختصر خلیل، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ۱۹۹۴ء، ج ۵، ص ۱۳۳
۱۹۔ عماد الدین ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ط ۱، ۱۴۱۹ھ، ج ۱، ص ۴۳۷
۲۰۔ نفس مصدر وصفحہ
۲۱۔ ڈاکٹر شکیل اوج، نسائیات (چند فکری ونظری مباحث) ، کراچی، کلیہ معارف اسلامیہ، جامعہ کراچی، جون ۲۰۱۲ء، ط ۱، ص ۹۵۔۱۰۰
۲۲۔ رشید رضا، تفسیر المنار، مصر، الہیءۃ العامۃ المصریۃ للکتاب، ۱۹۹۰ء، ج ۶، ص ۱۵۷
۲۳۔ محمد عزت دروَزہ، التفسیر الحدیث (مرتب حسب ترتیب النزول)، قاہرہ، دار احیاء الکتب العربیۃ، ج ۶، ص ۳۹۳
۲۴۔ شکیل اوج، مرجع سابق، ص ۱۰۰
۲۵۔ شکیل اوج، مرجع سابق، ص ۱۰۲
۲۶۔ زین الدین ابن نجیم، الاشباء والنظائر، حواشی وتخریج: زکریا عمیرات، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ط ۱، ۱۴۱۹ھ۔۱۹۹۹ء، ج ۱، ص ۵۷
۲۷۔ شکیل اوج، مرجع سابق، ص ۱۰۴
۲۸۔ نفس مرجع، ص ۱۰۳
۲۹۔ نفس مرجع وصفحہ
۳۰۔ امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن، ج ۱، ص ۵۲۰
۳۱۔ شبیر احمد عثمانی، تفسیر عثمانی، مجمع الملک فہد، ص
۳۲۔ محمد تقی عثمانی، آسان ترجمہ قرآن، کراچی، مکتبۃ المعارف، ۲۰۱۰ء، ص ۲۳۹
مکاتیب
ادارہ
(۱)
جناب مولانا عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
دسمبر کے الشریعہ میں ایک مضمون ’’ پاکستانی جامعات میں قرآنیات کا مطالعہ‘‘ نظر سے گزرا۔عنوان پڑھ کر دل باغ باغ ہو گیا اور اس امید کے ساتھ پڑھنا شروع کیا کہ اس میں پاکستانی جامعات کے نصابِ تفسیر وعلومِ تفسیر کے حوالے سے ایک جامع استقرا سے کام لیا گیا ہو گا اور اس کے محاسن و معائب کو نمایاں کیا گیا ہوگا، لیکن افسوس ہے کہ ’’پاکستانی جامعات ‘‘ کے عنوان کے اعتبار سے موضوع جس وسعت کا متقاضی تھا، وہ زیرِ نظر مضمون میں نظر نہیں آیا۔
اصولِ تفسیر کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں:’’اس وقت ہماری جامعات میں قرآن کا جو مطالعہ کیا جا رہا ہے، عموما ہر یونیورسٹی کے اندر نصاب یکساں ہے اور اس کے نصاب میں اصولِ تفسیر اور قرآنیات یا تفسیر اور متن تفسیر شامل ہیں۔اصولِ تفسیر میں جو مرکزی کتاب پڑھائی جاتی ہے، وہ شاہ ولی اللہ کی ’’الفوز الکبیر‘‘ ہے۔‘‘ اس کے بعد انھوں نے اس کتاب کی اصولِ تفسیر کے پہلو سے اہمیت بیان کی ہے اور کہا ہے کہ اس کی تدریس ہماری جامعات میں اس طرح نہیں ہوتی جیسی اس کتاب کا حق ہے۔پنجاب یونیورسٹی کے حوالے سے کہا ہے کہ ہم نے گذشتہ سالوں میں امام ابن تیمیہ کا رسالہ بھی شامل کیا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کا یہ ارشاد 1980ء سے اسلام آباد میں قائم، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی کے حوالے سے سخت مغالطہ پیدا کرنے والا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ پاکستان میں یونیورسٹیوں میں علومِ اسلامی کے نصاب کے حوالے سے اسلامی یونیورسٹی ایک بالکل منفرد تجربہ ہے جس کی نظیر اگر پیش کی جا سکتی ہے تو عرب جامعات کی صورت میں پیش کی جا سکتی ہے، جن کے تعلیمی منہج اور اسلوب کی گہری چھاپ اس یونی ورسٹی کے علومِ اسلامی کے نصاب پر نظر آتی ہے۔زیرِ بحث اس وقت چوں کہ قرآنیات سے متعلقہ علوم ہیں، اس لیے مذکورہ اقتباسات کے حوالے سے عرض ہے کہ اصولِ تفسیر کے سلسلے میں اسلامی یونی ورسٹی کے نصاب میں اس سلسلے میں اب تک ہونے والی جملہ کاوشوں سے طالب علم کو نہ صرف روشناس کروایا جاتا ہے، بلکہ عملاً اس کو ان سے استفادہ بھی کروایا جاتا ہے۔چناں چہ اس سلسلے میں جدید عرب علما نے جو کام کیا ہے، اس سے ہماری یونی ورسٹیوں میں عمومی شناسائی نہیں ہے۔مثال کے طور پر شیخ عبدالرحمان حسن حبنکہ المیدانی کی ’’قواعد التدبر الامثل لکتاب اللہ عز و جل‘‘، خالد بن عثمان السبت کی ’’قواعد التفسیر‘‘، خالد عبدالرحمان العک کی کتاب ’’اصول التفسیر و قواعدہ‘‘ اور مساعد بن سلیمان الطیار کی ’’فصول فی اصول التفسیر‘‘اس سلسلے کی نہایت اہم اور جامع کتابیں ہیں جس سے ایک طالب علم پہلی بار اصولِ تفسیر اور علوم القرآن کی ابحاث میں واضع امتیازات سے واقف ہوتا ہے۔اسلامی یونی ورسٹی میں اصول تفسیر کا استاد ان کتابوں کے منتخب ابواب طلبا میں تقسیم کرتا ہے جس سے اس کو موضوع پر خاطر خواہ واقفیت ہو جاتی ہے۔ مذکورہ بالا کتابوں میں سے کوئی کتاب (مثلا’’ فصول فی اصول التفسیر‘‘)بہ طور نصاب کے طے کر دی جاتی ہیاور اس کے ساتھ باقی کتابوں سے معاون کتب کے طور پر استفادہ کیا جاتا ہے، اس طرح اس میں مدارس کا قدیم کتابی طرز اور جدید موضوعی طرز خوب صورتی کے ساتھ جمع ہو جاتے ہیں۔شاہ ولی اللہ کی ’’الفوز الکبیر‘‘ یقیناًایک علمی کتاب ہے لیکن اگر گستاخی نہ ہو تو یہ عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ وہ اصولِ تفسیر سے زیادہ علوم القران کی کتاب ہے۔اصولِ تفسیر کے حوالے سے اس کو دریا بہ کوزہ کا مصداق قرار دینا شاید مبالغہ ہو۔ شاید دیگر جامعات میں اصولِ تفسیر کے نام پر علوم القرآن ہی کی تدریس ہو رہی ہے۔
یہاں ضمناً اس بات کا ذکر غالبا غیر مناسب نہیں ہو گا کہ اصولِ تفسیر وہ مضمون ہے جس کے لیے ہمارے علما عام طور پر اصولِ فقہ ہی کو کافی سمجھتے رہے ہیں، کیوں کہ ان میں کتاب اللہ کے فہم کے اصولوں ہی سے بحث ہوتی ہے، جس کی وجہ سے عام طور پر امت میں اس فن کی تدوین کی طرف توجہ نہیں دی گئی، لیکن متاخرین میں اس ضرورت کا پوری قوت کے ساتھ احساس ترجمان القرآن علامہ حمیدالدین فراہی کو ہوا اور پھر انھوں نے عملاً اس فن کی طرف توجہ بھی کی۔ان کے افکار سے اختلاف کی پوری گنجائش کے ساتھ اس حقیقت کا اعتراف ناانصافی ہو گی کہ ان کے کام میں قرآن کے اسالیب، اس کی بلاغت ،تفسیر کے اصول، ترجیح کے اصول وغیرہ مباحث بے حد قیمتی ہیں۔آج عرب علما نے اس کی طرف توجہ کی ہے تو اس کام سے استفادے کی بہت ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
تاریخ تفسیر کے حوالے سے بھی ہمیں اسلامی یونی ورسٹی کے نصاب میں باقی جامعات کے نصاب سے بہت اختلاف دیکھنے کو ملتا ہے۔چناں چہ یہاں ’’مناہج المفسرین و تاریخ التفسیر‘‘ کے نام سے مستقل مادہ پڑھایا جاتا ہے جس میں اصل بنیاد کی حیثیت محمدحسین الذہبی کی کتاب ’’التفسیر و المفسرون‘‘ کو یا مناہج مفسرین پر لکھی کسی جدید عربی کتاب کو حاصل ہوتی ہے اور معاون کے طور پر دیگر کتابوں کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے۔اس نصاب میں طالب مشہور مدارسِ تفسیر، تاریخ کے بڑے بڑے مفسرین،تفسیرِ ماثور اور تفسیر بالراے کے رجحانات کے تحت لکھی گئی نمائندہ تفاسیر، تفسیر کے منحرف رجحانات وغیرہ امور سے کافی واقفیت حاصل کر لیتا ہے۔باقی یونی ورسٹیوں میں عام طور پر ذہبی کی کتاب کے ترجموں اور تلخیصوں (جیسے غلام احمد حریری کی ’’تاریخ تفسیر اور مفسرین‘‘) پر ہی نصاب کا مدار ہوتا ہے۔
مذکورہ دو امور کے علاوہ تفسیر میں دخیل (یعنی ماثور میں موضوعات اور اسرائیلیات اور تفسیر بالرائے میں غلط اصولوں کے تحت کی گئی تفسیر )، علوم القرآن ، اعجازِ قرآن وغیرہ مستقل مادوں کی حیثیت سے پڑھائے جاتے ہیں، جس سے ایک طالب علم پہلی بار قرآنیات کے ایک وسیع تنوع سے آشنا ہوتا ہے۔برصغیر میں تفسیر اور علومِ قرآن ایک مستقل موضوع ہے جو یہاں پڑھایا جاتا ہے۔ متن تفسیر کے حوالے سے بھی اسلامی یونی ورسٹی کا نصاب موضوعاتی نوعیت کا ہے۔مثلا تفسیر بیانی میں علامہ طاہر ابن عاشور کی ’’التحریر و التنویر‘‘، تفسیر کلامی میں ’’تفسیرِ رازی‘‘، ماثور میں ’’تفسیر نسفی‘‘ وغیرہ تفاسیر کے منتخب حصے داخل نصاب کیے جاتے ہیں جن سے طالب علم تفسیر کی نمائندہ کتابوں کا ذوق آشنا ضرور ہو جاتا ہے۔
نصاب کی اس جامعیت کے علاوہ یہ سب کچھ علومِ اسلامیہ کی اصل زبان عربی میں ہوتا ہے۔طلبہ کو مشقی کام کی تفویض ، پریزنٹیشن، تھیسس وغیرہ سب امور عربی میں کرنا پڑتا ہے۔اس سے معیار اور استعداد کا جو بین فرق سامنے آتا ہے وہ محتاجِ وضاحت نہیں، جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے عام جامعات میں طلبا کی استعداد کی غریب الحالی کو خود واضح فرمایا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اسلامی یونی ورسٹی کا علومِ اسلامیہ (تفسیر وعلومِ تفسیر، حدیث و علومِ حدیث، فقہ و شریعہ، عقیدہ و کلام، سیرت، تقابلِ ادیان وغیرہ) کا نصاب ایک مستقل تجزیاتی بحث اور نقد کا متقاضی ہے اور پاکستان کی کسی بھی جامعہ کے نصاب کے مقابلے میں زیادہ جامعیت، وسعت، گہرائی اور گیرائی کا حامل ہے۔
محمد وقاص، ایم فل اسکالر (شعبہ تفسیر)
اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد
(۲)
مولانا ابو عمار زاہد الراشدی ، رئیس التحریر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
’’الشریعہ‘‘ باقاعدہ مل رہا ہے جس سے جامعہ کے اساتذہ اور طلبہ مستفید ہوتے ہیں۔ اس عنایت پر ازحد شکریہ۔ جزاکم اللہ
ماہ جنوری ۲۰۱۴ء کا شمارہ موصول ہوا جس میں جناب ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی کا نواب صدیق حسن خان پر تفصیلی مضمون نظر سے گزرا۔ انھوں نے بہت خوب لکھا۔ اللہ تعالیٰ جزا عطا فرمائے، آمین۔ البتہ مضمون میں دو باتیں ایسی ہیں جن کی وضاحت ازحد ضروری ہے۔ امید ہے ڈاکٹر صاحب تک نیک خواہشات کے ساتھ یہ وضاحت بھی پہنچا دیں گے۔
(۱) ڈاکٹر صاحب رقم طراز ہیں: ’’باوثوق ذریعہ سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ عبادات وغیرہ میں نواب صاحب مسلک محدثین پر عمل پیرا تھا یا فقہ حنفی کے مطابق عمل کیا کرتے تھے۔ تاہم اپنے فکری منہج کے بارے میں نواب صدیق حسن کا ذہن بالکل صاف تھا۔ انھوں نے صراحت سے لکھا ہے: میں تو مشہور اہل الحدیث ہوں اور تقویۃ الایمان اور رسائل توحید کا پابند ہوں۔‘‘
عبادات میں نواب صاحب کا مسلک مذکورہ پیرا گراف سے ہی واضح ہو جاتا ہے۔ جو شخص اتنی صراحت کے ساتھ اہل الحدیث ہونے کا دعویٰ کرے، وہ کیونکر محدثین کا مسلک چھوڑ کر کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرے گا؟ یقیناًنواب صاحب کا فکری منہج کی طرح عبادات اور سلوک میں محدثین والا مسلک تھا۔ بفرض محال اگر پھر بھی وثوق حاصل نہ ہو تو ان کا تحریر کردہ کتابچہ ’’تعلیم الصلوٰۃ‘‘ دیکھ لینا چاہیے۔ اس کے بعد تو ذرا بھی گنجائش نہیں رہتی کہ جاہ والا کس مسلک کے مطابق نماز ادا کرتے تھے۔ اس میں انھوں نے وہی موقف اختیار کیا ہے جو محدثین کا ہے۔ نماز میں ہل حدیث اور احناف کے درمیان جو اختلافی مسائل ہیں، انھی کا تذکرہ کر کے اپنا موقف واضح کیا ہے۔
(۲) مضمون کے آخر میں ڈاکٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں: ’’یہ وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ فرقہ اہل حدیث میں جو جمود فکر پایا جاتا ہے اور ائمہ اربعہ خاص کر امام ابوحنیفہ کی جو تنقیص کر رہے ہیں، اس کے پیش نظر ان کا اپنے آپ کو نواب صدیق حسن خان کی طرف منسوب کرنا حقیقت سے دور معلوم ہوتا ہے۔‘‘
ہم ڈاکٹر صاحب کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہیں، لیکن یہ پڑھ کر افسوس ہوا کہ انھوں نے رواجی جملے تحریر فرما دیے جو زبان زد عام ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اہل حدیث کوئی فرقہ نہیں، بلکہ محدثین اور اسلاف کے اعلیٰ افکار اور منہج پر کاربند جماعت ہے جو اس عظیم الشان ورثے کی محافظ ہے جو اسلاف نے بے پناہ قربانیوں کے بعد امت کے لیے چھوڑا ہے۔ رہی بات ائمہ اربعہ اور خاص کر امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ کی تنقیص کی تو عرض ہے کہ ہذا بہتان عظیم۔ ہم واشگاف الفاظ میں اعلان کرتے ہیں کہ اہل حدیث کا ہرگز ہرگز یہ منہج نہیں ہے کہ وہ متقدمین یا متاخرین میں سے کسی کی توہین یا تنقیص کریں۔ اس ضمن میں ہماری وہی فکر ہے جو نواب صدیق حسن خان کی ہے جس کا تذکرۂ جمیل ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں فرمایا ہے۔ ہم تمام ائمہ اور فقہاء کرام کادل وجان سے احترام کرتے ہیں اور ان کی آرا کو قدر کی نظر سے دیکھتے ہیں اور انھیں ہر دو حالت میں ماجور سمجھتے ہیں۔ امت محمدیہ کے لیے ان کی بے پناہ خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ جیسے مجھے یہ حق نہیں کہ میں دیگر ائمہ کرام کے بارے میں احناف کا موقف بیان کروں کہ ان کا طرز عمل کیا ہے، اسی طرح کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ اہل حدیث کے موقف کو اپنی خواہش کے مطابق بیان کرے۔ ہم اپنا دوٹوک موقف اوپر بیان کر آئے ہیں۔ اس پر کسی کو تعلیق لگانے کی ضرورت نہیں۔
رہی بات فکری جمود کی تو امر واقعہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں اگر کوئی گروہ، جماعت یا مسلک فکری جمود سے خالی ہے تو صرف اور صرف اہل حدیث ہے، وللہ الحمد۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ دین مکمل ہو چکا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو گئی اور اسلام قیامت تک کے لیے آفاقی دین ہے جو آنے والوں کی مکمل راہنمائی کرے گا۔ جدید مسائل کے بارے میں اجتہاد کیا جا سکتا ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے اور یہ کام علماء امت کرتے رہے اور آئندہ بھی کریں گے۔ اس واضح موقف پر فکری جمود کا الزام بیمار ذہن ہی لگا سکتا ہے۔
اس سے بڑی حقیقت اور کیا ہوگی کہ تما م اہل حدیث مدارس میں رائج نصاب میں فقہ حنفی کی معتبر کتاب ہدایہ بالاستیعاب پڑھائی جاتی ہے اور ا س کے بعد فقہ مقارن مستقل مضمون ہے جو وفاق المدارس السلفیہ کے آخری تین سالوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ کیا حنفی مدارس یہ جرات کریں گے کہ وہ فقہ مقارن کی تعلیم اپنے طلبہ کو دیں؟ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ان کے اول اور آخر ہیں۔ فکری جمود تو ان کے ہاں ہے جو صرف امام ابوحنیفہ پرانحصار کرتے ہیں۔ یہ فکری جمود ان کے ہاں کیسے ہو گیا جو نہ صرف ائمہ اربعہ بلکہ دیگر ائمہ اور فقہاء کے فقہی نقطہ نظر کو پڑھتے پڑھاتے اور ان پر عمل کرتے ہیں؟
اہل حدیث کایہ امتیاز ہے کہ وہ اپنے ہاں بڑی وسعت رکھتے ہیں۔ تمام ائمہ اور فقہاء کی آرا کاباریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں اور جو رائے اقرب الی الکتاب والسنۃ ہو، اسے قبول کرتے ہیں۔ اصل اساس اور بنیاد بہرحال قرآن وحدیث کی ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے کی رائے کی کیا اہمیت ہے؟ خود امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مشہور قول ہے ’’جب میں کوئی ایسی بات کہوں جو قرآن وحدیث کے خلاف ہو تو میری بات چھوڑ دو۔‘‘ اس تناظر میں اہل حدیث کا موقف اظہر من الشمس ہے۔ ان پر فکری جمود محض الزام ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
اس لیے ڈاکٹر صاحب کی خدمت اقدس میں مودبانہ التماس کروں گا کہ وہ دوبارہ بنظر غائر اس کا جائزہ لیں اور جو لوگ حقیقت میں فکری جمود، تقلید جامد کے شکار ہیں، ان کی اصلاح کریں اور کوئی نسخہ تجویز فرمائیں۔
محمد یاسین ظفر
ناظم اعلیٰ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان
پرنسپل جامعہ سلفیہ فیصل آباد