دسمبر ۲۰۱۴ء

جاگیرداری نظام اور سود کا خاتمہ ۔ مذہبی جماعتوں کی ترجیحات؟مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲)ڈاکٹر محی الدین غازی 
تہذیب مغرب: فلسفہ و نتائج (۲)محمد انور عباسی 
جمہوریت، جہاد اور غلبہ اسلاممحمد عمار خان ناصر 
دیوبندی جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم کا قیاممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مکاتیبادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 
الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاںادارہ 

جاگیرداری نظام اور سود کا خاتمہ ۔ مذہبی جماعتوں کی ترجیحات؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق نے مینار پاکستان گراؤنڈ لاہور میں منعقدہ جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع میں سودی نظام کے خلاف جنگ، جاگیرداری نظام کے خاتمے اور متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات کے لیے جدوجہد کو اپنی آئندہ حکمت عملی اور جماعتی کاوشوں کا بنیادی ہدف قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ باتیں ملک کی اکثر دینی اور محب وطن سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشوروں میں شامل چلی آ رہی ہیں۔ اگر ۱۹۷۰ء کے الیکشن کے موقع پر پیش کیے جانے والے انتخابی منشوروں کا جائزہ لیا جائے تو دیگر معاملات کے ساتھ یہ امور بھی ان میں نمایاں نظر آئیں گے، حتیٰ کہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے منشور کو تو جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف نمایاں جنگ کے باعث بعض حلقوں نے ’’سوشلسٹ مولویوں‘‘ کا دستور قرار دینا بھی شروع کر دیا تھا، لیکن پاکستان کی تقسیم اور نئے پاکستان کے مسائل نے سیاسی اور دینی جماعتو ں کی ترجیحات میں ایسی اکھاڑ پچھاڑ کی کہ سب کچھ الٹ پلٹ ہو کر رہ گیا۔ اس کے بعد سے میرے جیسے نظریاتی کارکنوں کا یہ انتظار حسرت میں ہی بدلتا چلا گیا کہ کوئی جماعت جاگیرداری نظام کے خاتمے کی بات کرے، کسی جماعت کی ترجیحات میں سرمایہ دارانہ نظام کے چنگل سے قوم کو نجات دلانے کی بات شامل ہو، کوئی جماعت ملک کے معاشی نظام کو سود کی لعنت سے پاک کرنے کا نعرۂ مستانہ بلند کرے اور کوئی پارٹی متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات کی راہ ہموار کرتی ہوئی دکھائی دے۔
اس وقت پاکستان کے نظام میں تبدیلی کا ایک تصور وہ ہے جو بین الاقوامی سیکولر حلقے پیش کر رہے ہیں اور ملک کی سیکولر لابیاں اور دانش ور اس کے لیے مضطرب اور بے چین ہیں، جبکہ نظام کی تبدیلی کا دوسرا تصور وہ ہے جو دستور پاکستان کے اسلامی تشخص کا تقاضا ہے، قیام پاکستان کے مقصد کی تکمیل کی طرف لے جانے والا ہے اور پاکستان کے عوام کی غالب اکثریت کی خواہش ہے۔ ملک کے عوام کی اکثریت کیا چاہتی ہے؟ اس سلسلے میں ایک قومی اخبار میں ۱۹؍ نومبر کو شائع ہونے والی یہ خبر عوامی رجحانات سے آگاہی کے لیے کافی ہوگی کہ:
’’اسٹیٹ بنک آف پاکستان اور ڈی ایف آئی ڈی کے تعاون سے ہونے والی ایک منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور ۹۵ فیصد عوام کا مطالبہ ہے کہ سود پر پابندی ہونی چاہیے اور ساتھ ہی سود کے موجودہ سسٹم کو بھی ختم ہونا چاہیے۔ تحقیق میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک میں اسلامی بینکاری کے موجودہ حجم سے ملک کی گھریلو اور کاروباری ضروریات پوری نہیں ہو سکتیں۔ رپورٹ میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسی حکمت عملی مرتب کرے جس سے اسلامی بینکاری کی صنعت میں وسعت لائی جائے تاکہ اسلامی بینکاری سے متعلق مصنوعات میں اضافہ ہو سکے۔‘‘
سردست ہمیں اس سے بحث نہیں کہ یہ اسلامی بینکاری جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے انتظام کے تحت چلائی جا رہی ہے، کس حد تک اسلامی ہے اور اسے مکمل اسلامی بینکاری کی منزل تک لے جانے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے، مگر یہ بات سب لوگوں کے لیے قابل توجہ ہے کہ ملک کے ۹۵ فیصد عوام سودی نظام سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ سود کی لعنت سے نجات حاصل کر کے ملک میں اسلامی بنیادوں پر معیشت کا نظام استوار کیا جائے۔ اسی سے باقی امور پر بھی عوامی خواہشات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اور یہ واضح ہوتا ہے کہ عوام کی غالب اکثریت ملک کے نظام میں اس تبدیلی کی خواہش مند ہے جو دستورِ پاکستان کے اسلامی تشخص کی تکمیل کے لیے ہو اور قرآن وسنت کے احکام وقوانین کی موثر عمل داری کے لیے ہو۔
اس پس منظر میں ہم جناب سراج الحق کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں، مگر ہماری خواہش ہے کہ یہ نعرہ صرف ایک پارٹی کے سلوگن کے طور پر آگے نہ بڑھے، بلکہ ملک کی دینی اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ان تین اہداف کے لیے مشترکہ جدوجہد کا اہتمام کیا جائے۔ خاص طور پر جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کے لیے تو ہم اسے بھولا ہوا سبق سمجھتے ہیں اور ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان مقاصد کے لیے تحریک ختم نبوت، تحریک تحفظ ناموس رسالت اور تحریک نظام مصطفی کی طرز پر قوم کو اجتماعی قیادت فراہم کریں تاکہ ملک کو فرسودہ نو آبادیاتی نظام سے نجات دلائی جا سکے اور قوم اپنی حقیقی منزل کی طرف پیش رفت کر سکے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۲۲) أَحْسَنَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ کا ترجمہ:

قرآن مجید میں کئی مقامات پر اعمال کا بدلہ دینے کی بات بڑے زور اور تاکید کے ساتھ کہی گئی ہے۔ اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے بعض مقامات پرقرآن مجید میں جو اسلوب اختیار کیا گیاہے، اسے سمجھنے میں بعض مترجمین سے غلطی ہوئی ہے۔
جزی کا فعل عربی زبان میں کسی چیز کا بدلہ دینے یا کسی کا بدل بننے اور کام آنے کے مفہوم میں آتا ہے۔ اس فعل کے بعد وہ چیز ذکر ہوتی ہے جسے بطور بدلے کے دیا گیا اور وہ چیز بھی ذکر ہوتی ہے جس کا بدلہ دیا گیا۔ کبھی دونوں ساتھ ذکرہوتے ہیں اور کبھی کسی ایک پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ 
دونوں کے ذکر کی مثال ہے:

وَجَزَاہُم بِمَا صَبَرُوا جَنَّۃً وَحَرِیْرا۔ً (الانسان: ۱۲)

’’اور انہیں ان کے صبر کے بدلے جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے۔‘‘ (محمد جوناگڑھی)
فعل جزی کے استعمال کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔ اگر یہ کہنا ہو کہ ’’اس نے تمہیں بہترین بدلہ دیا‘‘ تو کہا جاتا ہے جزاک أحسن الجزاء۔ اگر کہنا ہو کہ ’’اس نے تمہیں تمہارے عمل کا صلہ دیا‘‘ تو کہا جاتا ہے: جزاک بما عملت۔ اگر کہنا ہو کہ ’’اس نے تمہیں تمہارے عمل کا بہترین بدلہ دیا‘‘ تو کہا جاتا ہے: جزاک بما عملت أحسن الجزاء۔ لیکن اگر یہ کہنا ہو کہ اس نے تمہیں تمہارے بہترین عمل کا صلہ دیا تو کہا جاتا ہے: جزاک بأحسن ما عملت۔ گویا اگر بہترین بدلہ کہنا ہو تو أحسن الجزاء کہیں گے، اور اگر بہترین عمل کہنا مقصود ہو تو عمل کی طرف احسن کی اضافت ہوگی، جیسے بأحسن ما کانوا یعملون۔ یہ آخری اسلوب قرآن مجید میں کئی مقامات پر آیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان سب مقامات پر بہترین عمل کا مفہوم اختیار کیا جاتا جو جملہ کی مذکورہ ترتیب سے متبادر ہے، لیکن اس کے بجائے بہت سارے لوگوں نے بہترین بدلے کا مفہوم اختیار کیا۔ 
اردو تراجم سے پہلے یہ غلطی عربی تفاسیر میں ملتی ہے۔ بہت سارے مفسرین نے بہترین بدلے والا مفہوم اختیار کیا، لیکن اس کے یے انہیں أحسن یا أسوأ کے بعد جزاء کو مضاف الیہ کے طور پر محذوف ماننا پڑا۔ ابو حیان کے الفاظ میں:

 وَلَنَجزِیَنَّہْمَ أحسَنَ الَّذِی: أی أحسن جزاء أعمالہم۔ (البحر المحیط: ۸/۳۴۲) 

حالانکہ محذوف ماننے کے اس تکلف کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ صحیح مفہوم وہی ہے جو بغیر محذوف مانے ادا ہورہا ہے۔ مشہور قدیم مفسرابن عطیہ غرناطی نے آیت کا مفہوم صحیح اختیار کیا مگر اس کی نحوی توجیہ کو ایک مضاف محذوف مان کرتکلف آمیز کردیا۔ وہ کہتے ہیں:

 وفی قولہ عز وجل (ولنجزینہم أحسن) حذف مضاف تقدیرہ ثواب أحسن الذی کانوا یعملون۔ (المحرر الوجیز: ۵/۲۱۵) 

حالانکہ ثواب کو مضاف کے طور پر محذوف ماننے کی ضرورت ہی نہیں ہے، کیونکہ جزی کے اندر ثواب  کا مفہوم مکمل طور پر موجود ہوتا ہے، اور جزی کے بعد اس چیز کو راست ذکر کردیا جاتا ہے جس کا صلہ دینا مقصود ہوتا ہے۔
یہ بات بھی سامنے رہے کہ فعل جزی کے بعد کبھی اس چیز کا ذکر کیا جاتا ہے جس کی جزاء دی جاتی ہے اور اس پر کبھی باء لگتی ہے اور کبھی نہیں لگتی ہے، جیسے ہَلْ تُجْزَوْنَ إِلاَّ بِمَا کُنتُمْ تَکْسِبُونَ۔ (یونس: ۵۲)  اور  ہَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ۔ (النمل: ۹۰)  اور کبھی نفس جزاء یا جزاء میں جو چیز دی جاتی ہے، اس کا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن اس پر باء نہیں لگتی ہے۔ اب اگر قرآن مجید میں کہیں أحسن  آیا ہے اور کہیں باء کے ساتھ بأحسن  آیا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں نفس جزاء مراد نہیں ہے بلکہ وہ چیز مراد ہے جو جزاء کا سبب یا اس کا باعث ہے یعنی عمل۔ گویا درست ترجمہ ’’بہترین عمل کا اجر‘‘ ہوگا نہ کہ ’’عمل کا بہترین اجر‘‘۔
مذکورہ بالا وضاحت کے بعد ذیل میں وہ آیتیں ذکر کی جاتی ہیں جہاں بعض مترجمین نے کمزور مفہوم کو اختیار کیا۔

(۱) لِیَجْزِیَہُمُ اللّٰہُ أَحْسَنَ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ۔ (التوبۃ : ۱۲۱)

’’تاکہ اللہ ان کو ان کے عمل کا اچھے سے اچھا بدلہ دے۔‘‘ (امین احسن اصلاحی، یہ ترجمہ کمزور ہے) 
’’تاکہ اللہ ان کے اس اچھے کارنامے کا صلہ انہیں عطا کرے۔‘‘ (سید مودودی)
’’تاکہ اللہ ان کو ان کے بہترین عمل کا بدلہ دے۔‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)

(۲) وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ أَحْسَنَ الَّذِیْ کَانُوا یَعْمَلُونَ۔ (العنکبوت : ۷)

’’اور ان کو ان کے عمل کا بہترین بدلہ دیں گے۔‘‘ (امین احسن اصلاحی،یہ ترجمہ کمزور ہے)
’’اور انہیں ان کے نیک اعمال کے بہترین بدلے دیں گے۔‘‘ (محمدجوناگڑھی،یہ ترجمہ کمزور ہے)
’’اور ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے۔‘‘ (فتح محمدجالندھری،یہ ترجمہ کمزور ہے)
’’اور ان کو ان کے بہترین عمل کا بدلہ دیں گے۔‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)

(۳) لِیَجْزِیَہُمُ اللّٰہُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا۔ (النور: ۳۸)

’’تاکہ خدا ان کو ان کے عملوں کا بہت اچھا بدلہ دے‘‘ (فتح محمدجالندھری،یہ ترجمہ کمزور ہے)
’’اس ارادے سے کہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے‘‘ (محمدجوناگڑھی،یہ ترجمہ کمزور ہے)
’’تاکہ اللہ ان کو ان کے بہترین عمل کا بدلہ دے۔‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)

(۴) وَلَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوا أَجْرَہُم بِأَحْسَنِ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ۔ (النحل: ۹۶)

’’ہم ان کو جو کچھ وہ کرتے رہے، اس کا بہترین اجر دیں گے۔‘‘ (امین احسن اصلاحی،یہ ترجمہ کمزور ہے)
’’اور ہم یقیناًصبر کرنے والوں کو ان کے اعمال سے بہتر جزا عطا کریں گے۔‘‘ (علامہ جوادی،یہ ترجمہ کمزور ہے)
’’اور جن لوگوں نے صبر کیا، ہم اْن کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے۔‘‘ (فتح محمدجالندھری،یہ ترجمہ کمزور ہے)
’’اور صبر کرنے والوں کو ہم بھلے اعمال کا بہترین بدلہ ضرور عطا فرمائیں گے۔‘‘ (محمدجوناگڑھی،یہ ترجمہ کمزور ہے)
’’اور ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں کو اُن کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے۔‘‘ (سید مودودی)
’’ہم ان کے بہترین عمل کا اجر دیں گے۔‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)

(۵) وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ أَجْرَہُم بِأَحْسَنِ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ۔ (النحل:۹۷)

’’اور (آخرت میں) اْن کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے۔‘‘ (فتح محمدجالندھری،یہ ترجمہ کمزور ہے)
’’اور انہیں ان اعمال سے بہتر جزا دیں گے جو وہ زندگی میں انجام دے رہے تھے۔‘‘ (علامہ جوادی،یہ ترجمہ کمزور ہے)
’’اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔‘‘ (محمدجوناگڑھی،یہ ترجمہ کمزور ہے)
’’اورہم ان کے بہترین عمل کا اجر دیں گے۔‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)

(۶) وَیَجْزِیَہُمْ أَجْرَہُم بِأَحْسَنِ الَّذِیْ کَانُوا یَعْمَلُونَ۔ (الزمر : ۳۵)

’’اور ان کو ان کے کاموں کا اس سے خوب تر صلہ دے جو انھوں نے کیے۔‘‘ (امین احسن اصلاحی، اس ترجمہ میں کاموں کو مفضل علیہ قرار دیا گیا ہے جو کہ صحیح نہیں ہے۔)
’’اور ان کا اجر ان کے اعمال سے بہتر طور پر عطا کرے۔‘‘ (علامہ جوادی،یہ ترجمہ کمزور ہے)
’’اور ان کے اچھے سے اچھے کام کا بدلہ دے۔‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)

(۷) وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ أَسْوَأَ الَّذِیْ کَانُوا یَعْمَلُونَ۔ (فصلت : ۲۷)

’’اور انہیں ان کے اعمال کی بدترین سزادیں گے۔‘‘ (علامہ جوادی،یہ ترجمہ کمزور ہے)
’’اور ہم ان کو ان کے بدترین عمل کا صلہ دیں گے۔‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)
’’اور جو بدترین حرکات یہ کرتے رہے ہیں، ان کا پورا پورا بدلہ انہیں دیں گے۔‘‘ (سید مودودی)

(۸) وَلَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ۔ (یس : ۵۴)

’’اورتم کو بس وہی بدلے میں ملے گا جو تم کرتے رہے ہو۔‘‘ (امین احسن اصلاحی،یہ ترجمہ کمزور ہے)
’’اورتم کو بس اسی کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو۔‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)
اسی سیاق میں ایک آیت پر خاص طور سے غور کرنے کی ضرورت ہے، اور وہ ہے:

(۹) لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ أَسَاؤُوا بِمَا عَمِلُوا وَیَجْزِیَ الَّذِیْنَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَی۔ (النجم : ۳۱)

’’کہ وہ بدلہ دے ان لوگوں کو جنھوں نے برے کام کیے ہیں ان کے کیے کا اور بدلہ دے ان لوگوں کوجنھوں نے اچھے کام کیے ہیں اچھا۔‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور اْن لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا ہے۔‘‘ (سید مودودی)
’’تاکہ برائی کرنے والوں کو ان کے کیے کا بدلہ دے اور نیکی کرنے والوں کو نہایت اچھا صلہ عطا فرمائے۔‘‘ (احمد رضا خان)
آپ دیکھیں گے کہ اس مقام پر عموما مترجمین نے بالحسنی کا ترجمہ اچھی جزا کا کیا ہے۔ عربی تفاسیر میں بھی یہی نہج اختیار کیا گیا ہے، لیکن آیت کا اسلوب اور الحسنی پر باء  کا داخل ہونا یہ بتاتا ہے کہ بالحسنی  کا مفہوم یہاں بہترین جزا کے بجائے بہترین اعمال ہے، کیونکہ جس طرح آیت کے پہلے حصہ میں بما عملوا  کہا گیا ہے، اسی طرح اس دوسرے حصہ میں بالحسنی  کہا گیا ہے۔ ترجمہ یہ ہوگا: ’’تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور اْن لوگوں کو جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا ہے، بہترین اعمال کا بدلہ دے۔‘‘ گویا بالحسنی، بماعملوا کے مقابلہ میں آیا ہے۔
اس توجیہ کوزمخشری نے دوسرے نمبر پر ذکر کیا ہے: بِما عَمِلُوا بعقاب ما عملوا من السوء، وبِالحْسنی بالمثوبۃ الحسنی وھی الجنۃ۔ أو بسبب ما عملوا من السوء وبسبب الأعمال الحسنی۔ (تفسیر الکشاف:۴ / ۴۲۵)
سوال یہ ہے کہ اس مفہوم کو چھوڑ کر دوسرا مفہوم لینے کی وجہ کیا بنی؟ دراصل لوگوں کو اشکال یہ پیدا ہوا کہ اگر یہاں صرف بہترین اعمال کے بدلے کی بات ہے تو بہترین سے کم یعنی محض اچھے اعمال کے بدلے کا ذکر رہ جاتا ہے۔ ابوحیان کے الفاظ میں: وھذا التقدیر لا یسوغ، لأنہ یقتضی أن أولئک یجزون ثواب أحسن أعمالہم، وأما ثواب حسنہا فمسکوت عنہ، وہم یجزون ثواب الأحسن والحسن، الّا ان أخرجت أحسن عن بابہا من التفضیل، فیکون بمعنی حسن، فانہ یسوغ ذلک۔ (البحر المحیط: ۸/۳۴۲)
لیکن یہ اشکال صحیح نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ آدمی کو اپنے بہترین اعمال کے صلہ کی زیادہ فکر ہوتی ہے، کیونکہ نجات اور کامیابی کا اصل ذریعہ تو وہی ہوتے ہیں۔ اسی طرح اپنے بدترین اعمال سے زیادہ ڈر لگتا ہے، کیونکہ ان کی سزا زیادہ سخت ہوتی ہے اور ناکامی کا اصل سبب وہی بنتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ جو اللہ کا فرماں بردار بندہ ہوتا ہے، وہ ہر عمل کو احسن عمل بنانا چاہتا ہے اور ایسے بندوں کو اللہ محسنین کی صفت سے یاد کرتا ہے۔ اور جہاں تک بھرپور بدلے کی بات ہے تو وہ مفہوم لفظ جزی کے اندر از خود شامل ہے، کیونکہ جزی کہتے ہی ہیں بھر پور بدلہ دینے کو۔
مذکورہ آیتوں میں بہترین جزا کے بجائے بہترین عمل مراد ہے، اس کی بھر پور تائیدقرآن مجید کی حسب ذیل آیت سے ہوتی ہے: 

أُوْلَئِکَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْہُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا۔ (الاحقاف : ۱۶) 

’’اس طرح کے لوگوں سے ہم اْن کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں۔‘‘ (سید مودودی) 
دراصل اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہی بات دوسرے پیرائے میں مذکورہ بالا آیتوں میں کہی گئی ہے۔

(۲۳)کبھی ایک بات کا تعلق دوچیزوں سے ہوتا ہے مگر ایک سے ہی سمجھ لیا جاتا ہے:

مثال: ہَلْ أَدُلُّکَ عَلَی شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَمُلْکٍ لَّا یَبْلَی۔ (طہ :۱۲۰)
اس آیت میں غور طلب امر یہ ہے کہ شجرۃ کا تعلق الخلد اور ملک دونوں سے ہے یا صرف الخلد سے۔
متعددترجمہ کرنے والوں نے یہ مان کے ترجمہ کیا ہے کہ شیطان نے دو چیزوں کا سراغ دینے کی پیشکش کی تھی۔ ایک چیز زندگئ دوام کا درخت اور دوسری چیز بادشاہی کہ جس میں کبھی ضعف نہ آئے۔
(۱) ’’کیا میں تمہیں زندگئ دوام کے درخت اور ایسی بادشاہی کا سراغ دوں جس پر کبھی کہنگی نہ آئے‘‘ ( امین احسن اصلاحی)
(۲) ’’کیا میں تم کو ہمیشگی (کی خاصیت) کا درخت بتلاؤں اور ایسی بادشاہی کہ جس میں کبھی ضعف نہ آئے‘‘ (اشرف علی تھانوی)
(۳) ’’اے آدم! میں بتاؤں تجھ کو درخت سدا زندہ رہنے کااور باشاہی جو پرانی نہ ہو۔‘‘ (محمود الحسن)
لیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ جو بات قرآن مجید میں مذکور ہے، وہ یہ کہ اس نے صرف ایک درخت کا سراغ دیا جس کی اس نے دوخاصیتیں بیان کیں، ایک زندگئ دوام اور دوسری بادشاہی جس پر کبھی کہنگی نہ آئے۔ درست ترجمہ یوں ہوگا:
’’کیا میں تمہیں زندگئ دوام اور ایسی بادشاہی جس پر کبھی کہنگی نہ آئے، کے درخت کا سراغ دوں۔‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)
اس مفہوم کے حق میں بہت واضح دلیل یہ آیت ہے:

فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّیْْطَانُ لِیُبْدِیَ لَہُمَا مَا وُورِیَ عَنْہُمَا مِن سَوْءَ اتِہِمَا وَقَالَ مَا نَہَاکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ إِلاَّ أَنْ تَکُونَا مَلَکَیْْنِ أَوْ تَکُونَا مِنَ الْخَالِدِیْنَ۔ (الاعراف: ۲۰) 

’’پھر شیطان نے اْن کو بہکایا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں، ان کے سامنے کھول دے۔ اس نے ان سے کہا: ’’تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ اِس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہو جائے‘‘۔ (سید مودودی)
اس آیت سے یہ واضح ہے کہ شیطان نے صرف درخت کی بات کی تھی جس سے آدم اور حوا کو روکا گیا تھا، اور اسی کی طرف اس نے مختلف خاصیتوں کو منسوب کیا تھا۔

(۲۴) اتخذ کے دو مفعولوں کا ترجمہ:

اتخذ کے جب دو مفعول آتے ہیں تو درحقیقت پہلا مفعول مبتدا اور دوسرا مفعول خبر کی جگہ پر ہوتا ہے۔ جیسے: 

وَاتَّخَذَ اللّٰہُ إِبْرَاہِیْمَ خَلِیْلاً۔ (النساء: ۱۲۵) 

’’اللہ نے ابراہیم کو دوست بنایا‘‘، نہ کہ ’’دوست کو ابراہیم بنایا‘‘۔ 
اسی طرح:

اتَّخَذُوا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَاءَ۔ (الاعراف: ۳۰) 

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا دِیْنَہُمْ لَہْواً وَلَعِباً (الاعراف: ۵۱) 

اتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَاباً مِّنْ دُونِ اللّٰہِ (التوبۃ: ۳۱) 

إِنَّ قَوْمِیْ اتَّخَذُوا ہَذَا الْقُرْآنَ مَہْجُوراً (الفرقان:۳۰)

غرض قرآن مجید میں اس کی بہت ساری مثالیں ہیں کہ فعل اتخذ کے بعد دومفعول آئے ہیں اور ہر جگہ فاعل نے پہلے مفعول پر دوسرے مفعول کا اثر واقع کیا ہے اور ہر جگہ ترجمہ کرنے والوں نے اسی کے مطابق ترجمہ بھی کیا ہے، البتہ دومقامات پر لگتا ہے کہ یہ پہلو مترجمین اور ان سے پہلے مفسرین کی نگاہ سے اوجھل ہوگیا۔اور وہ مقامات حسب ذیل ہیں:

(۱) أَرَأَیْْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَہَہُ ہَوَاہُ (الفرقان : ۴۳)

(۲) أَفَرَأَیْْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَہَہُ ہَوَاہُ (الجاثیۃ : ۲۳)

ان دونوں آیتوں میں الھہ پہلا مفعول ہے اور ھواہ دوسرا مفعول ہے۔ مذکورہ بالا قاعدے کی رو سے ترجمہ یہ ہوگا کہ ’’اپنے معبود کو اپنی خواہش بنایا ہے‘‘، اور اس کی تاویل یہ ہوگی کہ اپنے معبود کو اپنی خواہش سے بنایا ہے یا اپنا معبود اپنی خواہش کے مطابق بنایا ہے۔ لیکن لوگوں نے مذکورہ بالا قاعدے کی رعایت نہ کرتے ہوئے اس طرح ترجمہ کیا ہے: 
’’بھلا یہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنارکھا ہے۔‘‘ (امین احسن اصلاحی) 
اور: ’’کیا دیکھا تم نے اس کو جس نے اپنی خواہش کو معبود بنارکھا ہے۔‘‘ (امین احسن اصلاحی)
مفہوم کے لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو مشرکین کا رویہ یہی تھا کہ وہ اپنی خواہش کے مطابق اپنے معبود بنایا کرتے تھے اور اس سلسلے میں وہ دلیل وبرہان کی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ وہ خواہش نفس کی پیروی کرتے تھے جس کے لیے قرآن میں اتباع ہوی کا ذکر ہے، لیکن خواہش نفس کو معبود بنانے کی بات قرآن مجید میں نہیں ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ مذکورہ دونوں مقامات پر دونوں مفعولوں میں مکانی لحاظ سے تقدیم وتاخیر ہوگئی ہے، لیکن اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ قرآن مجید میں فعل اتخذ  دومفعولوں کے ساتھ پچیس سے زیادہ مقامات پر آیا ہے اور ہر جگہ پہلے مفعول کے اوپر دوسرے مفعول کا اثر واقع ہوا ہے، اس لیے کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہاں تقدیم وتاخیر مان کر مفعول اول کو مفعول ثانی مانا جائے۔

(۲۵) فعل تَبَدَّلَ:

فعل تَبَدَّلَ  کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کو چھوڑ کر یا کسی چیز کے بدلے میں دوسری کوئی چیز لے لینا۔ جو چیز چھوڑی جاتی ہے، اس پر حرف باء داخل ہوتا ہے، اور جس چیز کو لے لیا جاتا ہے، وہ مفعول بہ کی صورت میں آتا ہے۔ اس کی واضح مثال ہے:

وَمَن یَتَبَدَّلِ الْکُفْرَ بِالإِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِیْل۔ (البقرۃ: ۱۰۸)

’’اور جو کوئی کفر لیوے بدلے ایمان کے تو وہ بہکا سیدھی راہ سے۔‘‘ (محمود الحسن) 
لیکن سورۃ النساء کی آیت ذیل میں متعدد مفسرین اور مترجمین اس فعل کے قواعد کی رعایت نہ کرسکے:

وَآتُوا الْیَتَامَی أَمْوَالَہُمْ وَلاَ تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّب (النساء: ۲)

اس آیت کا مفہوم یہ قرار دیا گیا کہ اپنے برے مال کو دے کر یتیموں کے عمدہ مال کو مت لے لو۔
’’نہ(اپنے) برے مال کو (ان کے ) اچھے مال سے بدلو۔‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو۔‘‘ (فتح محمد جالندھری)
’’اچھے مال کو برے مال سے نہ بدل لو۔‘‘ (سید مودودی)
قواعد کے لحاظ سے صحیح ترجمہ یہ ہے:
’’اور حلال چیز کے بدلے ناپاک اور حرام چیز نہ لو۔‘‘ (محمدجوناگڑھی)
’’اور پاک مال کے بدلے ناپاک مال حاصل نہ کرو۔‘‘ (محمد حسین نجفی)
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا مال تمہارے لیے طیب ہے، یتیموں کا مال تمہارے لیے خبیث ہے، تو طیب مال چھوڑ کر خبیث مال مت اختیار کرو۔ بالفاظ دیگر یتیموں کا مال مت کھاؤ۔

(۲۶) ’’ضلال بعید‘‘ کا ترجمہ:

قرآن مجید میں ضلال بعید  کا ذکر متعدد جگہ آیا ہے۔ ضلال کے معنی گمراہی اور بعید کے معنی دور کے ہوتے ہیں، یہ درست ہے۔ بعید، ضلال  کی صفت ہے، یہ بھی درست ہے،تاہم واقعہ یہ ہے کہ کوئی بھی شخص راستہ بھٹک جانے کے بعد صحیح راستہ سے جس قدر دور چلاجاتا ہے، اسی قدر زیادہ گمراہ ہوتا جاتا ہے۔ گویا خود گمراہی دور یا قریب کی نہیں ہوتی ہے بلکہ گمراہ ہونے والا قریب یا دور ہوتا ہے۔ اس لیے ضلال بعید کا ترجمہ دور کی گمراہی موزوں نہیں ہے بلکہ گمراہی میں دور جاپڑنا موزوں ہے۔
مثال: فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً بَعِیْدًا۔ (النساء : ۱۳۶)
متعدد مترجمین نے ترجمہ دور کی گمراہی کا کیا ہے:
(۱) ’’تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا۔‘‘ (احمد رضا خان)
(۲) ’’وہ تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا۔‘‘ (محمد جوناگڑھی) 
لیکن موزوں ترجمہ گمراہی میں دور جا پڑنا ہے:
(۱) ’’وہ گمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا۔‘‘ (سید مودودی)
(۲) ’’وہ گمراہی میں دور جاپڑا۔‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)
مندرجہ ذیل مقامات پر بھی ترجمہ میں اس کی رعایت کی جائے گی:

قَدْ ضَلُّوا ضَلاَلاً بَعِیْداً۔ (النساء : ۱۶۷)

وَمَنْ یُشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً بَعِیْداً۔ (النساء : ۱۱۶)

وَیُرِیْدُ الشَّیْْطَانُ أَن یُضِلَّہُمْ ضَلاَلاً بَعِیْداً۔ (النساء : ۶۰)

أُوْلَءِکَ فِیْ ضَلاَلٍ بَعِیْدٍ۔ (ابراہیم : ۳)

إِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُونَ فِی السَّاعَۃِ لَفِیْ ضَلَالٍ بَعِیْدٍ۔ (الشوری : ۱۸)

وَلَکِنْ کَانَ فِیْ ضَلَالٍ بَعِیْدٍ (ق : ۲۷)

(۲۷) عَلیٰ أَعْقَابِہِمْ کا ترجمہ الٹے پاؤں یا پیٹھ پیچھے؟

عَقِبٌ  کا مطلب پاؤں کی ایڑی ہوتا ہے۔ عام طور سے اہل لغت نے اس لفظ کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔ یہ لفظ کہیں مثنی اور کہیں جمع کی صورت میں قرآن مجید میں کئی مقامات پر آیا ہے۔ مترجمین نے بھی عام طور سے اس کا ترجمہ ’’الٹے پاؤں‘‘ کیا ہے، لیکن امین احسن اصلاحی نے اس کا ترجمہ ’’پیٹھ پیچھے‘‘ کیا ہے جس کی عربی لغت سے کوئی تائید نہیں ملتی۔ پھر اس لفظ کا مثنی استعمال ہونا بھی یہی بتاتا ہے کہ یہاں پیٹھ نہیں بلکہ پاؤں کی ایڑیاں مراد ہیں۔ خیال ہوتا ہے کہ شاید موصوف نے اردو محاورہ کا لحاظ کیا ہے، لیکن اردو میں بھی الٹے پاؤں پھر جانا استعمال ہوتا ہے۔ پیٹھ پیچھے پھرجانا خود اردو کے لحاظ سے درست نہیں معلوم ہوتا۔ یہ ترجمہ صاحب تدبر نے کسی ایک مقام پر کرنے کے بجائے کئی جگہ کیا ہے، اس لیے اسے غلطی پر محمول کرنے کے بجائے ان کی سوچی سمجھی رائے قرار دینا مناسب ہوگا، لیکن یہ رائے ہنوز دلیل کی محتاج ہے۔
مثالیں حسب ذیل ہیں:

(۱) اِنْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ وَمَن یَّنقَلِبْ عَلَی عَقِبَیْْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْْءًا (آل عمران: ۱۴۴)

’’تو تم پیٹھ پیچھے پھر جاؤگے؟ جو پیٹھ پیچھے پھرے گا، وہ اللہ کا کچھ نہ بگاڑے گا۔‘‘ (امین احسن اصلاحی)

(۲) یَرُدُّوکُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ (آل عمران : ۱۴۹)

’’تو یہ تمہیں پیٹھ پیچھے لوٹا کے رہیں گے۔‘‘ (امین احسن اصلاحی)

(۳) فَکُنتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ تَنکِصُونَ (المؤمنون : ۶۶)

تو تم پیٹھ پیچھے بھاگتے تھے۔ (امین احسن اصلاحی)

(۴) مِمَّن یَّنقَلِبُ عَلَی عَقِبَیْْہِ (البقرۃ : ۱۴۳)

’’ان لوگوں سے جو پیٹھ پیچھے پھر جانے والے ہیں۔‘‘ (امین احسن اصلاحی)

(۵) وَنُرَدُّ عَلَی أَعْقَابِنَا (الانعام : ۷۱)

’’اور ہم پیٹھ پیچھے پھینک دیے جائیں۔‘‘ (امین احسن اصلاحی)
البتہ ایک مقام پر لگتا ہے، موصوف نے نادانستہ طور سے عام ترجمہ کو اختیار کرلیا:

(۶) فَلَمَّا تَرَاءَتِ الْفِئَتَانِ نَکَصَ عَلَی عَقِبَیْْہِ (الانفال : ۴۸) 

’’تو جب دونوں گروہ آمنے سامنے ہوئے تو وہ الٹے پاؤں بھاگا ۔‘‘ (مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ ’’الٹے پاؤں بھاگا‘‘ کے بجائے ’’الٹے پاؤں پھر گیا‘‘ ہونا چاہیے۔)

(۲۸) جملے کی موزوں ساخت:

کبھی ترجمہ تو بالکل درست ہوتا ہے، لیکن جملے کی ساخت کمزور ہوتی ہے یا ایک جملے کے مختلف حصوں کی ترتیب میں خلل رہ جاتا ہے۔ اس کے لیے ذیل کی مثال ملاحظہ کی جاسکتی ہے:

وَأَوْصَانِیْ بِالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ مَا دُمْتُ حَیّاً (مریم : ۳۱)

اس آیت میں مَا دُمْتُ حَیّاً کا ترجمہ سب نے درست کیا ہے، لیکن اس کو کسی نے جملے کے شروع میں رکھ کر یہ ترجمہ کیا:
’’اور جب تک جیوں، اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کی ہدایت فرمائی ہے۔‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’اور جب تک زندہ ہوں، مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کا ارشاد فرمایا ہے۔‘‘ (فتح محمد جالندھری)
اور کسی نے جملے کے آخر میں رکھ کر یہ ترجمہ کیا:
’’اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا جب تک میں (دنیا میں) زندہ رہوں۔‘‘ (اشرف علی تھانوی) 
’’اور مجھے نماز و زکوٰۃ کی تاکید فرمائی جب تک جیوں۔‘‘ (احمد رضا خان)
دونوں ترجموں میں ’’جب تک جیوں والا‘‘ ٹکڑا الگ تھلگ ہوگیا ہے، حالانکہ جملے کی مناسب ساخت اور ترتیب یوں ہے:
’’اور مجھ کو حکم دیا کہ جب تک جیوں، نماز اور زکوٰۃ پر قائم رہوں۔‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)

(۲۹) إِنَّ اور أَنَّ میں فرق کی رعایت:

ہمزہ پر فتحہ اور کسرہ دونوں کے ساتھ إِنَّ  اور أَنَّ  کا استعمال ہوتا ہے۔ دونوں صورتوں میں جملہ میں تاکید کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے، البتہ کسرہ کی صورت میں وہ جملہ جو إِنَّ  سے شروع ہوتا ہے، لفظی طور سے ایک مستقل جملہ ہوتا ہے۔ گوکہ سابق سے معنوی ربط پایا جاسکتاہے اور اس ربط کا علم سیاق کلام سے حاصل ہوسکتا ہے، لیکن اس کا اظہار لفظ سے نہیں ہوتا۔ جبکہ فتحہ کی صورت میں جو جملہ أَنَّ  سے شروع ہوتا ہے، وہ لفظی طور سے پچھلے جملے کا جزء بنتا ہے۔ اس کا سابقہ کلام سے گہرا معنوی ربط ہوتا ہے اور اس کا اظہار خود اس لفظ سے ہوتا ہے۔ استعمالات کی روشنی میں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کسرہ کی صورت میں تاکید کا مفہوم لازمی طور پر پیدا ہوتا ہے، ترجمہ میں اس کا اظہار بھی ضروری معلوم ہوتا ہے، جبکہ فتحہ کی صورت میں تاکیدکے مفہوم کے مقابلے میں سابق سے ربط کا مفہوم غالب ہوتاہے۔
مختلف تراجم قرآن پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ مترجمین قرآن اکثر مقامات پر أَنَّ  کی اس خاص معنویت کا خیال کرتے ہیں، لیکن بسا اوقات وہ ترجمہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ إنّ والا معاملہ کردیتے ہیں جس سے پورے کلام کی معنویت متأثر ہوجاتی ہے۔ چند مثالیں پیش ہیں:

(۱) ذَلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدَاکَ وَأَنَّ اللّٰہَ لَیْْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ (الحج : ۱۰)

’’یہ تیرے ان اعمال کے باعث ہے جو تیرے ہاتھ آگے بھیج چکے تھے اور بے شک اللہ اپنے بندوں پر بالکل ظلم کرنے والا نہیں ہے‘‘۔ (طاہر القادری) 
صاف واضح ہے کہ یہاں أَنَّ کے بجائے إِنّ کا ترجمہ کردیا گیا ہے۔
’’یہ ہے تیرا وہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لیے تیار کیا ہے، ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے‘‘۔ (سیدمودودی) 
اس ترجمہ میں ’’ورنہ‘‘ کا استعمال عجیب وغریب ہے۔
’’یہ اس کی وجہ سے جو بھیج چکے تیرے دو ہاتھ اور اس وجہ سے کہ اللہ نہیں ظلم کرتا بندوں پر‘‘۔ (محمود الحسن) 
اس ترجمہ میں أَنَّ کی رعایت کی گئی ہے۔

(۲) ذَلِکَ لِیَعْلَمَ أَنِّیْ لَمْ أَخُنْہُ بِالْغَیْْبِ وَأَنَّ اللّٰہَ لاَ یَہْدِیْ کَیْْدَ الْخَائِنِیْنَ (یوسف:۵۲)

’’یہ اس واسطے کہ (عزیز) جان لے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی اور یہ بھی کہ اللہ دغابازوں کے ہتھکنڈے چلنے نہیں دیتا‘‘۔ (محمد جونا گڑھی)
اس ترجمہ میں أَنَّ کی رعایت کی گئی ہے۔
’’یہ اس لیے کہ وہ جان لے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس سے بے وفائی نہیں کی اور بے شک اللہ خائنوں کی چال کو چلنے نہیں دیتا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
یہاں پہلے أَنَّ کا ترجمہ درست ہے لیکن دوسرے لفظ میں أَنَّ کے بجائے إِنّ کا ترجمہ کردیا گیا ہے۔

(۳) ذَلِکَ بِأَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْحَقُّ وَأَنَّہُ یُحْیِی الْمَوْتَی وَأَنَّہُ عَلَی کُلِّ شَیْْءٍ قَدِیْرٌ وَأَنَّ السَّاعَۃَ آتِیَۃٌ لَّا رَیْْبَ فِیْہَا وَأَنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُور (الحج : ۶،۷)

’’یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور یہ کہ وہ مردے جِلائے گا اور یہ کہ وہ سب کچھ کرسکتا ہے اور اس لیے کہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کچھ شک نہیں، اور یہ کہ اللہ اٹھائے گا انہیں جو قبروں میں ہیں‘‘۔ (احمد رضا خان) 
اس ترجمہ میں أَنَّ کی رعایت کی گئی ہے۔
’’ان قدرتوں سے ظاہر ہے کہ خدا ہی (قادر مطلق ہے جو) برحق ہے اور یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتا ہے اور یہ کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کچھ شک نہیں، اور یہ کہ خدا سب لوگوں کو جو قبروں میں ہیں، جلا اٹھائے گا ‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
اس ترجمہ میں بھی أَنَّ کی رعایت کی گئی ہے۔
’’یہ (سب کچھ) اس لیے (ہوتا رہتا) ہے کہ اللہ ہی سچا (خالق اور رب) ہے اور بیشک وہی مردوں (بے جان) کو زندہ (جان دار) کرتا ہے، اور یقیناًوہی ہر چیز پر بڑا قادر ہے، اور بیشک قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں، اور یقیناًاللہ ان لوگوں کو زندہ کر کے اٹھا دے گا جو قبروں میں ہوں گے‘‘(طاہر القادری)
یہاں أَنَّ کے بجائے إِنَّ کا ترجمہ کردیا گیا ہے۔

(۴) وَکَذَلِکَ أَنزَلْنَاہُ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ وَّأَنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَن یُرِیْدُ (الحج : ۱۶)

’’اور ہم نے اسی طرح اس قرآن کو نہایت واضح دلیلوں کی صورت میں اتارا ہے (کہ لوگ ہدایت حاصل کریں) اور بے شک اللہ ہی ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
یہاں أَنَّ کے بجائے إِنَّ کا ترجمہ کردیا گیا ہے۔
’’اور اسی طرح ہم نے اس (پورے قرآن) کو روشن دلائل کی صورت میں نازل فرمایا ہے اور بیشک اللہ جسے ارادہ فرماتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے‘‘(طاہر القادری)
یہاں بھی أَنَّ کے بجائے إِنَّ کا ترجمہ کردیا گیا ہے۔
’’اور یوں اتارا ہم نے یہ قرآن کھلی باتیں اور یہ ہے کہ اللہ سجھادیتا ہے جس کو چاہے‘‘۔ (محمود الحسن) 
اس ترجمہ میں أَنَّ کی رعایت کی گئی ہے۔
’’اور ہم نے اس قرآن کو اسی طرح اتارا ہے کھلی کھلی دلیلیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔‘‘ (اشرف علی تھانوی)
اس ترجمہ میں بھی أَنَّ کی رعایت کی گئی ہے۔

(۵) وَکَذَلِکَ حَقَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوا أَنَّہُمْ أَصْحَابُ النَّار (غافر:۶)

’’اور اسی طرح آپ کے رب کا فرمان اُن لوگوں پر پورا ہو کر رہا جنہوں نے کفر کیا تھا۔ بے شک وہ لوگ دوزخ والے ہیں‘‘ (طاہر القادری) 
’’اور یونہی تمہارے رب کی بات کافروں پر ثابت ہوچکی ہے کہ وہ دوزخی ہیں‘‘(احمد رضا خان) 
غور طلب بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس آیت میں أَنَّ  کا ترجمہ بے شک کا کیا ہے، بالکل اسی اسلوب کی ایک اورآیت میں ایسا نہیں کرتے ہیں اور أَنَّ کی معنویت کا پورا پورا لحاظ کرتے ہیں، ملاحظہ ہو:

کَذَلِکَ حَقَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِیْنَ فَسَقُوا أَنَّہُمْ لاَ یُؤْمِنُون (یونس : ۳۳)

’’اس طرح نافرمانی اختیار کرنے والوں پر تمہارے رب کی بات صادق آ گئی کہ وہ مان کر نہ دیں گے‘‘ (سید مودودی)
’’اسی طرح آپ کے رب کا حکم نافرمانوں پر ثابت ہوکر رہا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے‘‘(طاہر القادری)
’’اسی طرح تیرے رب کی بات ان لوگوں پر پوری ہوچکی ہے جنھوں نے نافرمانی کی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے‘‘(امین احسن اصلاحی)
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ أَنَّ کے ساتھ بعض مترجمین کامذکورہ رویہ ایک سوچا سمجھا موقف نہیں ہے بلکہ ذہن کے چوک جانے کا نتیجہ ہے۔
تدبر قرآن کے ترجمہ میں جو تفسیر کے ساتھ شائع ہوا ہے، اس طرح کی غلطی زیادہ ملتی ہے، البتہ جو ترجمہ تلخیص کے ساتھ شائع ہوا ہے اور جس میں نظر ثانی بھی کی گئی ہے، وہاں أَنَّ کے قبیل کی کچھ غلطیاں دور کردی گئی ہیں، گو کہ ابھی بھی بہت سارے مقامات تصحیح طلب ہیں۔ تصحیح کی ایک مثال یہاں ذکر کی جاتی ہے:

أَمْ لَمْ یُنَبَّأْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوسَی، وَإِبْرَاہِیْمَ الَّذِیْ وَفَّی، أَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی، وَأَن لَّیْْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی، وَأَنَّ سَعْیَہُ سَوْفَ یُرَی، ثُمَّ یُجْزَاہُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَی، وَأَنَّ إِلَی رَبِّکَ الْمُنتَہَی، وَأَنَّہُ ہُوَ أَضْحَکَ وَأَبْکَی، وَأَنَّہُ ہُوَ أَمَاتَ وَأَحْیَا، وَأَنَّہُ خَلَقَ الزَّوْجَیْْنِ الذَّکَرَ وَالْأُنثَی، مِنْ نُّطْفَۃٍ إِذَا تُمْنَی، وَأَنَّ عَلَیْْہِ النَّشْأَۃَ الْأُخْرَی، وَأَنَّہُ ہُوَ أَغْنَی وَأَقْنَی، وَأَنَّہُ ہُوَ رَبُّ الشِّعْرَی، وَأَنَّہُ أَہْلَکَ عَاداًنِ الْأُولَی (سورۃ النجم: ۳۶۔۵۰)

تفسیر تدبر قرآن میں موجود یعنی نظر ثانی سے قبل کاترجمہ یہ ہے:
’’کیا اس کو خبر نہیں ملی اس بات کی جو موسیٰ اور ابراہیم ، جس نے اپنے قول پورے کردکھائے، کے صحیفوں میں ہے؟ کہ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کمائی کی ہوگی، اور یہ کہ اس کی کمائی عنقریب ملاحظہ کی جائے گی، پھر اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور یہ کہ سب کا منتہی تیرے رب ہی کی طرف ہے، اور بے شک وہی ہے جو ہنساتا اور رلاتا ہے، اور وہی ہے جو مارتا اور زندہ کرتا ہے اور وہی ہے جس نے جوڑے کے دونوں فرد نر اور ناری پیدا کیے، ایک بوند سے جبکہ وہ ٹپکادی جاتی ہے، اور بے شک دوبارہ اٹھانا بھی اسی کی ذمہ داری ہے، اور اسی نے غنی اور سرمایہ دار کیا، اور وہی شعریٰ کا بھی رب ہے اور اسی نے ہلاک کیا عاد اول کو‘‘۔
تلخیص میں موجود ترجمہ یعنی نظر ثانی کے بعد کاترجمہ یہ ہے :
’’کیا اس کو خبر نہیں ملی اس بات کی جو موسیٰ اور ابراہیم ، جس نے اپنے قول پورے کردکھائے، کے صحیفوں میں ہے؟ کہ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کمائی کی ہوگی، اور یہ کہ اس کی کمائی عنقریب ملاحظہ کی جائے گی، پھر اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور یہ کہ سب کا منتہی تیرے رب ہی کی طرف ہے، اور یہ کہ وہی ہے جو ہنساتا اور رلاتا ہے، اور یہ کہ وہی ہے جو مارتا اور زندہ کرتا ہے اور یہ کہ وہی ہے جس نے جوڑے کے دونوں فرد نر اور ناری پیدا کیے، ایک بوند سے جبکہ وہ ٹپکادی جاتی ہے، اور یہ کہ دوبارہ اٹھانا بھی اسی کی ذمہ داری ہے، اور یہ کہ وہی ہے جس نے غنی اور سرمایہ دار کیا، اور یہ کہ وہی شعریٰ کا بھی رب ہے اور اسی نے ہلاک کیا عاد اول کو‘‘۔
غور طلب بات یہ ہے کہ نظر ثانی کے بعد بھی آخری آیت کے ترجمہ میں تصحیح نہیں ہوسکی یعنی ’’اور اسی نے ہلاک کیا عاد اول کو‘‘ کے بجائے ’’اور یہ کہ اسی نے ہلاک کیا عاد اول کو‘‘ ہونا چاہیے۔
مذکورہ آیتوں کے ترجمہ میں ایک اور کمزوری یہ بھی ہے کہ عربی کے لحاظ سے ان آیتوں میں کہیں پر حصر کا اسلوب ہے اور کہیں پر حصر کا اسلوب نہیں ہے۔ ہوا یہ کہ جہاں پر حصر کا اسلوب نہیں ہے ،وہاں پربھی حصر کا ترجمہ کردیا گیاہے ، جیسے وہ کی جگہ پر وہی اور اس کی جگہ پر اسی۔
ان آیتوں کا ترجمہ مولانا امانت اللہ اصلاحی کی تصحیح کے بعد اس طرح ہے۔ دونوں ترجموں کا گہرا موازنہ قرآن مجید کے طالب علم کے لیے مفید ہوگا:
’’کیا اس کو خبر نہیں ملی اس بات کی جو موسیٰ اور ابراہیم ، جس نے اپنے قول پورے کردکھائے، کے صحیفوں میں ہے؟ کہ کوئی ہستی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کارکردگی کی ہوگی، اور یہ کہ اس کی کارکردگی کی نوعیت عنقریب سامنے آجائے گی، پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور یہ کہ سب کا منتہی تیرے رب ہی کی طرف ہے، اور یہ کہ وہ ہے جو ہنساتا اور رلاتا ہے، اور یہ کہ وہ ہے جو مارتا اور زندہ کرتا ہے اور یہ کہ وہ ہے جس نے جوڑے کے دونوں فرد نر اور مادہ پیدا کیے، ایک بوند سے جبکہ وہ ٹپکادی جاتی ہے، اور یہ کہ دوبارہ اٹھانا بھی اسی کی ذمہ داری ہے، اور یہ کہ وہ ہے جس نے غنی اور سرمایہ دار کیا، اور یہ کہ وہی شعریٰ کا بھی رب ہے، اوریہ کہ اس نے ہلاک کیا عاد اول کو‘‘ ۔

(۳۰) لفظ ’’تغابن‘‘ کی حقیقت:

لفظ تغابن قرآن مجید میں صرف ایک مقام پر آیا ہے:

یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذَلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ (التغابن : ۹)

اس آیت میں تغابن کا ترجمہ بیشتر مترجمین نے ہار جیت کا کیا ہے۔آیت کے مذکورہ ٹکڑے کے کچھ ترجمے یہاں ذکر کیے جاتے ہیں:
’’اس دن (کو یاد رکھو جب ) اللہ اکٹھے کیے جانے کے دن کے لیے تم کو اکٹھا کرے گا۔ وہی دن در حقیقت ہار جیت کا دن ہوگا‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
’’جس دن تم سب کو اس جمع ہونے کے دن جمع کرے گا، وہی دن ہے ہار جیت کا‘‘(محمد جونا گڑھی)
’’وہ دن ہوگا ایک دوسرے کے مقابلے میں لوگوں کی ہار جیت کا‘‘ (سید مودودی)
’’جس دن وہ تم کو اکھٹا ہونے (یعنی قیامت) کے دن اکھٹا کرے گا، وہ نقصان اٹھانے کا دن ہے‘‘ (فتح محمد جالندھری)
’’جس دن تم کو اکٹھا کرے گا جمع ہونے کے دن، وہ دن ہے ہار جیت کا‘‘(محمود الحسن)
’’جس دن وہ تمہیں جمع ہونے کے دن (میدانِ حشر میں) اکٹھا کرے گا، یہ ہار اور نقصان ظاہر ہونے کا دن ہے‘‘(طاہر القادری)
’’(اور اس دن کو یاد کرو) جس دن تم سب کو ایک جمع ہونے کے دن جمع کرے گا، یہی دن ہے سود و زیاں کا‘‘(اشرف علی تھانوی)
التغابن  کا ترجمہ بعض لوگوں نے ہار جیت کیا ہے۔ لفظ کی حقیقت کے لحاظ سے یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے۔ تغابن  کا صحیح ترجمہ ’’سود وزیاں‘‘ یا ’’نفع ونقصان‘‘ ہے۔ تغابن، غبن سے نکلا ہے، اور یہ خرید وفروخت میں نقصان اٹھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، ہار جیت کا مفہوم اس لفظ میں نہیں پایا جاتا ہے۔
اہل لغت میں اس پر اختلاف ہے کہ تغابن میں اشتراک کا مفہوم ہے یا مبالغہ کا۔ پہلی صورت میں مطلب یہ نکلے گا کہ کسی کو فائدہ اور کسی کو نقصان پہنچنے والادن اور دوسری صورت میں مطلب ہوگا: بہت بڑے نقصان کا دن۔
آیت کے مذکورہ ترجموں پر غور کریں تو کچھ اور بھی کمزور پہلو سامنے آتے ہیں: 
اول: بعض مترجمین نے یَوْمَ  سے پہلے ایک فعل محذوف مقدر مانا ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ’’اس دن (کو یاد رکھو جب )‘‘ کہنے کے بجائے ’’جب ‘‘اور ’’جس دن‘‘ کہہ دینا کافی ہے۔ دراصل اس جملے میں یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ لِیَوْمِ الْجَمْع  مبتدا اول ہے، ذَلِکَ  مبتدا ثانی ہے اور یَوْمُ التَّغَابُن اس کی خبر ہے اور یہ عربی کا بہت عام اسلوب ہے۔
دوم: لِیَوْمِ الْجَمْع کے لام کو بعض نے علت کا سمجھ کر ترجمہ اس طرح کیا ہے : ’’اکٹھے کیے جانے کے دن کے لیے تم کو اکٹھا کرے گا‘‘حالانکہ یہ لام ظرف کے لیے ہے اور ترجمہ یوں ہوگا: ’’اکٹھے کیے جانے کے دن تم کو اکٹھا کرے گا‘‘۔ 
سوم: یَوْمِ الْجَمْع  کا ترجمہ بعض لوگوں نے ’’جمع ہونے کا دن‘‘ اور ’’اکٹھا ہونے کا دن‘‘ کیا ہے،جبکہ جَمْع فعل متعدی کا مصدر ہے، اور زیادہ مناسب ترجمہ ’’جمع کرنے کا دن‘‘ اور ’’اکٹھے کیے جانے‘‘ کا دن ہوگا۔
چہارم: ذَلِکَ  کا ترجمہ کرتے ہوئے بعض مترجمین نے حصر کا مفہوم پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور ’’یہی دن‘‘ اور ’’وہی دن‘‘ جیسی تعبیرات کا استعمال کیا ہے، حالانکہ اسلوب کلام حصر کے مفہوم سے خالی ہے، اور ’’وہ دن‘‘کہہ دینا کافی ہے۔ صحیح ترجمہ یوں ہے: 
’’جب اللہ اکٹھے کیے جانے کے دن تم کو اکٹھا کرے گا، وہ ہوگا نفع ونقصان ظاہر ہونے کا دن‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۳۱) ’’نشأ‘‘ کا مفہوم:

انشاء  اور اس کے مشتقات کا قرآن مجید میں کئی جگہ استعمال ہوا ہے۔ لفظ انشاء  کا مفہوم صرف پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ اصل میں نشوونما دینا اور پروان چڑھانا ہے۔ ساتھ میں پیدا کرنے کا مفہوم بھی شامل ہوجاتا ہے۔علامہ ابن فارس کے الفاظ میں:

(نشأ) النون والشین والہمزۃ أصل صحیح یدلّ علی ارتفاعٍ فی شئ وسموّ. ونَشأ السَّحابُ: ارتفع. وأنشأہ اللہ: رفعہ (معجم مقاییس اللغۃ لابن فارس)

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں:

النشأ والنشأۃ: احداث الشئ وترتیبہ (مفردات القرآن)

ایک حدیث میں عرش کے سائے میں جگہ پانے والوں میں ایک نوجوان ہے جس کی نشوونما رب کی عبادت میں ہوئی ہو، اس کا تذکرہ ان لفظوں میں کیا گیا۔ 

وَشَابّ نَشأ فی عبادۃ ربہ (البخاری)

ذیل کی آیت جس میں خواتین کا ذکر ہے، زیربحث لفظ کی حقیقت بخوبی واضح کرتی ہے:

أَوَمَن یُنَشَّأُ فِی الْحِلْیَۃِ وَہُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْْرُ مُبِیْنٍ (الزخرف : ۱۸)

اس آیت میں عام طور سے مترجمین نے یُنَشَّأُ  کا ترجمہ پلنے اور پروان چڑھنے کا کیاہے۔
’’اور کیا وہ جو گہنے (زیور) میں پروان چڑھے اور بحث میں صاف بات نہ کرے‘‘(احمد رضاخان) 
لیکن دوسرے بعض مقامات پر مختلف تراجم میں اس کا خیال نہیں کیا جاسکا اور اس لفظ کے مفہوم کو صرف پیدائش تک محدود کردیا گیا۔ چند مثالوں سے بات مزید واضح ہوسکے گی:

(۱) قُلْ ہُوَ الَّذِیْ أَنْشَأَکُمْ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَۃَ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُونَ (الملک :۲۳)

اس مقام پر عام طور سے مترجمین نے أَنْشَأَکُمْ کا ترجمہ پیدا کرنا کیا ہے۔
’’کہہ دیجیے کہ وہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے۔ تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو‘‘ (محمد جوناگڑھی)
جبکہ شیخ الہند کا ترجمہ اس لفظ کی معنویت کوبھر پور طریقہ سے ظاہر کرتا ہے:
’’تو کہہ وہی ہے جس نے تم کو بنا کھڑا کیا، اور بنادیے تمہارے واسطے کان اور آنکھیں اور دل۔ تم بہت تھوڑا حق مانتے ہو‘‘۔ (محمود الحسن)

(۲) وَرَبُّکَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَۃِ إِنْ یَّشَأْ یُذْہِبْکُمْ وَیَسْتَخْلِفْ مِن بَعْدِکُم مَّا یَشَاءُ کَمَا أَنشَأَکُمْ مِّن ذُرِّیَّۃِ قَوْمٍ آخَرِیْن (الانعام:۱۳۳)

شیخ الہند نے اس دوسرے مقام پردیگر مترجمین کی طرح ’’پیدا کیا‘‘ ترجمہ کیا ہے:
’’اور تیرا رب بے پرواہ ہے، رحمت والا اگر چاہے تو تم کو لے جاوے اور تمہارے پیچھے قائم کردے جس کو چاہے جیسا کہ تم کو پیدا کیا اوروں کی اولاد سے‘‘ (محمود الحسن)
ایک اور توجہ طلب امر یہ ہے کہ الْغَنِیُّ کا ترجمہ بے پروا کے بجائے بے نیاز کرنا صحیح ہے۔
’’اور تیرا رب بے نیاز، رحمت والا ہے۔ اگر وہ چاہے تم کو فنا کردے اور تمہارے بعد تمہاری جگہ جس کو چاہے لائے، جس طرح اس نے تم کو پیدا کیا دوسروں کی نسل سے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
اس مقام پر سید مودودی نے پیدا کرنے کے بجائے ’’اٹھانا‘‘ کیا ہے جو لفظ کی حقیقت سے زیادہ قریب ہے: 
’’تمہارا رب بے نیاز ہے اور مہربانی اس کا شیوہ ہے۔ اگر و ہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور تمہاری جگہ دوسرے جن لوگوں کو چاہے لے آئے جس طرح اُس نے تمہیں کچھ اور لوگوں کی نسل سے اٹھایا ہے‘‘(سید مودودی)
یہاں پر ایک اشکال یہ وارد ہوتا ہے کہ بجائے یہ کہنے کے کہ تم کو دوسرے لوگوں سے پیدا کیا، یہ کیوں کہا کہ دوسروں کی اولا د سے پیدا کیا؟ مولانا امانت اللہ اصلاحی نے جو مفہوم اختیار کیا ہے، اس سے یہ اشکال دور ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق یہاں مِنْ  تجرید کا ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ ’’جس طرح سے تمہاری نشوونما کی ہے دوسروں کی اولاد کی صورت میں‘‘یا دوسروں کی اولاد بناکر۔ گویا مطلب یہ ہوا کہ جس طرح پہلے اس عالم گیتی میں دوسرے تھے جن کی تم اولاد ہو، وہ نہیں رہے اور ان کی جگہ تم ہو۔ اسی طرح اللہ جب چاہے تم کو نابود کرکے دوسروں کو تمہاری جگہ لا سکتا ہے۔

(۳) أَفَرَأَیْْتُمْ مَّا تُمْنُونَ، أَأَنتُمْ تَخْلُقُونَہُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ، نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْْنَکُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِیْنَ، عَلَی أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَکُمْ وَنُنشِئَکُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُونَ، وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَۃَ الْأُولَی فَلَوْلَا تَذکَّرُونَ (الواقعہ: ۵۸۔۶۲)

’’ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے اور ہم اِس سے عاجز نہیں ہیں کہ تمہاری شکلیں بدل دیں اور کسی ایسی شکل میں تمہیں پیدا کر دیں جس کو تم نہیں جانتے۔اپنی پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہو، پھر کیوں سبق نہیں لیتے؟ ‘‘(سید مودودی)
’’ہم ٹھہراچکے ہیں تم میں مرنا، اور ہم عاجز نہیں اس بات سے کہ بدلے میں لے آئیں تمہاری طرح کے لوگ اور اٹھا کھڑا کریں تم کو وہاں جہاں تم نہیں جانتے۔ اور تم جان چکے ہو پہلا اٹھان، پھر یاد کیوں نہیں کرتے‘‘ (محمود الحسن)
پہلے ترجمہ میں کمزوری یہ ہے کہ پیدائش کا ترجمہ کیا گیا ہے، جبکہ مراد نشوونما ہے۔ مزید یہ کہ قَدَّرْنَا  کا ترجمہ تقسیم کرنا کیا گیاہے، حالانکہ صحیح ترجمہ مقدر کرنا ہے۔ دوسرے ترجمہ میں کمزوری یہ ہے کہ نُبَدِّلَ أَمْثَالَکُم  کا مطلب انسانوں کی جگہ دوسروں کو لانا لیا گیا ہے، جبکہ اس سے مراد انسانوں کی موجودہ شکل وہیئت بدل کر دوسری شکل وہیئت کے ساتھ انہیں نشوونما دینا ہے۔ درست ترجمہ حسب ذیل ہے:
’’ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کی ہے اور ہم عاجز رہنے والے نہیں ہیں اس بات سے کہ تمہاری شکل وصورت بدل دیں، اور تم کو نشوونما دیں ایسی صورت میں جسے تم نہیں جانتے۔ اور پہلی نشوونما تو تم جانتے ہی ہو تو سبق کیوں نہیں حاصل کرتے‘‘(امانت اللہ اصلاحی)

(۴) إِنَّا أَنشَأْنَاہُنَّ إِنشَاءً ا فَجَعَلْنَاہُنَّ أَبْکَارًا (الواقعہ: ۳۵، ۳۶)

یہاں بھی بعض مترجمین نے پیدا کرنے کے مفہوم کو اختیار کیا ہے، جیسے:
’’ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا‘‘ (فتح محمد جالندھری، اس ترجمہ میں مفعول مطلق کا مفہوم بھی نہیں ادا ہوسکا)۔
’’ان کی بیویوں کو ہم خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے‘‘ (سید مودودی) 
اس ترجمہ میں فعل ماضی سے مستقبل کا مفہوم ادا کرنے کی کوشش غیر ضروری ہے۔
جبکہ بعض دوسرے مترجمین نے لفظ کا حق ادا کیا ہے جیسے:
’’بیشک ہم نے ان عورتوں کو اچھی اٹھان اٹھایا‘‘(احمد رضا خان)
’’ہم نے اٹھایا ان عورتوں کو اچھی اٹھان پر‘‘ (محمود الحسن)
’’(اور ان کی بیویاں ہوں گی) جن کو ہم نے ایک خاص اٹھان پر اٹھایا ہوگا، پس ہم ان کو رکھیں گے کنواریاں‘‘ (امین احسن اصلاحی) 
اس ترجمہ میں ماضی کے دونوں افعال کو غیرضروری طور سے مستقبل کا معنی پہنانے کی کوشش کی گئی ہے جو درست نہیں ہے۔ صحیح ترجمہ ہوگا:
’’ان کو ہم نے ایک خاص اٹھان پر اٹھایا ہے، پس ہم نے انہیں بنادیاہے کنواریاں‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)

(۳۲) زمین سے پیدائش یا زمین سے نشوونما؟

قرآن مجید میں بعض مقامات پر انسانوں کے سیاق میں إِنشَاء  اور انبات کے عمل کو زمین سے جوڑا گیا ہے۔ اس کی تفسیر میں بعض لوگوں کا ذہن اس طرف گیا کہ انسان کے تکوینی عناصر وہی ہیں جو زمین میں پائے جاتے ہیں۔ اور بعض نے اس کی تفسیر قرآن مجید کے اس بیان کو سامنے رکھ کر کی جس میں انسان کو مٹی سے پیدا کرنے کی بات کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ خیال کیا کہ طین سے پیدا کرنا اور ارض سے پیدا کرنا ایک ہی مفہوم کو ادا کرتا ہے۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہاں پیدائش نہیں بلکہ نشوونما کی طرف اشارہ ہے اور بتانا مقصود یہ ہے کہ انسان کو نشوونما کے لیے جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے، ان کا انتظام اللہ نے زمین میں فرمادیا ہے۔ مذکورہ آیتوں میں یہ اسلوب بیان ہوا ہے:

(۱) وَإِلَی ثَمُودَ أَخَاہُمْ صَالِحاً، قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَہٍ غَیْْرُہُ، ہُوَ أَنشَأَکُم مِّنَ الأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَکُمْ فِیْہَا (ہود:۶۱)

عام طور سے مترجمین نے اس آیت میں پیدا کرنے کا ترجمہ کیا ہے، جیسے:
’’اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اُس نے کہا، اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے‘‘ (سید مودودی)
جبکہ یہاں ترجمہ ہونا چاہیے: 
’’اسی نے تم کو زمین سے نشوونما دی‘‘(امانت اللہ اصلاحی)

(۲) ہُوَ أَعْلَمُ بِکُمْ إِذْ أَنشَأَکُمْ مِّنَ الْأَرْض (النجم:۳۲)

’’وہ تمہیں خوب جانتا ہے تمہیں مٹی سے پیدا کیا‘‘(احمد رضا خان)
’’وہ تمھیں اْس وقت سے خوب جانتا ہے جب اْس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا ‘‘(سید مودودی)
’’وہ تمہیں خوب جانتا ہے جب اس نے تمہاری زندگی کی ابتداء اور نشو و نما زمین (یعنی مٹی) سے کی تھی‘‘(طاہر القادری)
’’وہ تم کو خوب جانتا ہے جب بنا نکالا تم کو زمین سے‘‘ (محمود الحسن)
یہاں بھی لفظ کی رعایت سے درست ترجمہ اس طرح ہوگا: 
’’وہ تم کو خوب جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں نشوونما دی زمین سے‘‘(امانت اللہ اصلاحی)

(۳) وَاللّٰہُ أَنبَتَکُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتاً (نوح:۱۷)

اس آیت میں بعض لوگوں نے زمین سے اگانے کا تو بعض لوگوں نے زمین سے پیدا کرنے کا ترجمہ کیا ہے، جیسے:
’’اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اگایا‘‘(سید مودودی)
’’اور اللہ نے تمہیں سبزے کی طرح زمین سے اْگایا‘‘ (احمد رضا خان)
’’اور خدا ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے ‘‘(فتح محمد جالندھری)
’’اور تم کو زمین سے ایک (خاص اہتمام سے) اگایا ہے (اور پیدا کیا ہے) ‘‘(محمد جوناگڑھی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں: 
’’اور اللہ نے خاص انداز سے زمین سے تمہاری نشوونما فرمائی ‘‘
دراصل جس طرح إِنشَاء  کا اصل مفہوم نشوونما دینا ہے، اسی طرح انبات کا بھی اصل مفہوم نشو ونما دینا ہی ہے۔ إِنشَاء  اور انبات میں ہم معنی ہونے کے ساتھ خاص فرق یہ ہے کہ إِنشَاء  جانداروں کے لیے خاص ہے اور بطور استعارہ نباتات کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ انبات نباتات کے لیے خاص ہے اور بطور استعارہ غیر نباتات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ إِنشَاء کے بارے میں علامہ راغب لکھتے ہیں:

وأکثر ما یقال ذلک فی الحیوان۔ وقولہ تعالی: أَفَرَأَیْْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُورُونَ، أَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَہَا أَمْ نَحْنُ الْمُنشِؤُونَ (الواقعۃ: ۷۱۔۷۲) فلتشبیہ ایجاد النار المستخرجۃ بایجاد الانسان (مفردات القرآن)

انبات کے بارے میں علامہ ابن فارس لکھتے ہیں: 

النون والباء والتاء أصل واحد یدلّ علی نماءٍ فی مزروع، ثم یستعار. (معجم مقاییس اللغۃ)۔

انبات کا اصل مفہوم نشو ونما دینا ہے ، یہ ذیل کی آیت سے بہت اچھی طرح واضح ہوتا ہے:

فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَہَا نَبَاتاً حَسَنًا (آل عمران:۳۷)

یقینی طور پر اس آیت میں پیدا کرنے یا اگانے کا ترجمہ درست نہیں ہوگا۔ 
’’پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا اور اسے بہترین پرورش دی‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’تو اسے اس کے رب نے اچھی طرح قبول کیا اور اسے اچھا پروان چڑھایا‘‘ (احمد رضا خان)
’’تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا‘‘(فتح محمد جالندھری)
بالکل اسی طرح سورہ نوح کی مذکورہ بالا آیت میں بھی پرورش کرنا مراد ہے، البتہ وہاں مِّنَ الْأَرْضِ  کا اضافہ اس حقیقت کا بیان ہے کہ نشوونما کا انتظام جس طرح نباتات کے لیے زمین سے ہوتا ہے، اسی طرح انسانوں کی نشوونما کا انتظام بھی اللہ نے زمین میں کردیا ہے۔

(۳۳) فرض علیہ اور فرض لہ کے درمیان فرق:

فرض کے ساتھ جب علی آتا ہے تو اس کے معنی کسی پر کچھ فرض کرنے اور لازم کرنے کے ہوتے ہیں:

قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْْہِمْ فِیْ أَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُہُمْ (الأحزاب : ۵۰)

’’ہم کو اچھی طرح معلوم ہے جو کچھ ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے باب میں فرض کیا ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’ہم کو معلوم ہے کہ عام مومنوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں ہم نے کیا حدود عائد کیے ہیں‘‘ (سید مودودی)
صحیح بخاری کی حسب ذیل حدیث میں فرض علی دوبار آیا ہے اور دونوں جگہ اس کا مفہوم واجب کرنا ہے:

عن ابن عباس رضی اللہ عنھما أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لما بعث معاذا، رضي اللہ عنہ، علی الیمن، قال: انک تقدم علی قوم أھل الکتاب فلیکن اول ما تدعوھم الیہ عبادۃ اللہ، فاذا عرفوا اللہ فاخبرھم أن اللہ قد فرض علیھم خمس صلوات فی یومھم ولیلتھم، فاذا فعلوا فأخبرھم أن اللہ فرض علیھم زکاۃ (تؤخذ) من أموالھم وترد علی فقراءھم، فاذا أطاعوا بھا فخذ منھم وتوق کرائم أموال الناس۔ 

البتہ فرض کے ساتھ جب لام آتا ہے تو مفہوم کسی کے اوپر کچھ لازم کرنے اور عائد کرنے کا نہیں ہوتا، بلکہ کسی کے لیے کچھ مقرر کرنے کا ہوتا ہے۔ ذیل کی دومثالوں سے یہ واضح ہوتا ہے:

(الف) لَاجُنَاحَ عَلَیْْکُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوہُنُّ أَوْ تَفْرِضُوا لَہُنَّ فَرِیْضَۃً (البقرۃ : ۲۳۶)

’’اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں‘‘ (جالندھری)

(ب) وَإِن طَلَّقْتُمُوہُنَّ مِن قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُم (البقرۃ : ۲۳۷)

’’اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا‘‘ (جالندھری)
دونوں مقامات پر عام طور سے مترجمین نے مہر مقرر کرنے کا مفہوم ذکر کیا ہے۔ تاہم فرض علی کے مقابلے میں فرض لہ  کا یہ اہم فرق بعض ترجموں میں ملحوظ نہیں رکھا جاسکا۔ ذیل کی مثالوں میں یہ بات دیکھی جاسکتی ہے:

(۱) مَّا کَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَہ (الاحزاب : ۳۸)

’’اور نبی کے لیے اللہ نے جوکچھ فرض کیا، اس میں کوئی تنگی نہیں ہے‘‘(امین احسن اصلاحی)
’’اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس کام (کی انجام دہی) میں کوئی حرج نہیں ہے جو اللہ نے ان کے لیے فرض فرما دیا ہے‘‘(طاہر القادری)
’’نبی کے لیے خدا کے فرائض میں کوئی حرج نہیں ہے‘‘(جوادی)
غور طلب امر یہ ہے کہ یہاں بات کسی ایسے فرض کی نہیں ہورہی ہے جو نبی پر عائد کیا گیا ہو، بلکہ اللہ نے نبی کے لیے ایک بات مقرر کی ہے اور یہ بتایا جارہا ہے کہ اسے انجام دینے میں نبی کے لیے کوئی حرج نہیں ہے۔درست ترجمہ یہ ہے:
’’نبی پر کوئی حرج نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمائی‘‘ (احمد رضا خان)

(۲) قَدْ فَرَضَ اللّٰہُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ أَیْْمَانِکُمْ (التحریم :۲)

’’اللہ نے تمہاری (خلاف شرع) قسموں کا توڑ دینا تم پر فرض کردیا ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’خدا نے فرض قرار دیا ہے کہ اپنی قسم کو کفارہ دے کر ختم کردیجیے‘‘(جوادی)
یہاں بھی یہ نہیں بتایا جارہا ہے کہ قسموں کو توڑنا فرض ہے، بلکہ یہ بتایا جارہا ہے کہ اللہ نے قسموں سے آزاد ہونے کا طریقہ بتادیا ہے، اس لیے آزادی کے ساتھ خدا کی شریعت پر عمل پیرا ہونے کے بجائے خود اپنی قسموں کی پابندی میں گرفتار رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ درست ترجمہ یہ ہے:
’’اللہ نے تم لوگوں کے لیے اپنی قسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ مقرر کر دیا ہے‘‘ (سید مودودی)

إِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْْکَ الْقُرْآنَ لَرَادُّکَ إِلَی مَعَادٍ (القصص :۸۵)

اس آیت میں فَرَضَ کے ساتھ علی آیا ہے، اس لیے اردو مترجمین میں سے بڑی تعداد نے ترجمہ ’’فرض کرنا‘‘ کیا ہے، جیسے:
’’اے نبی، یقین جانو کہ جس نے یہ قرآن تم پر فرض کیا ہے، وہ تمہیں ایک بہترین انجام کو پہنچانے والا ہے ‘‘(سید مودودی)
علامہ راغب اصفہانی نے یہی مفہوم اختیار کیا ہے:

وقال: إِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْْکَ الْقُرْآنَ (القصص: ۸۵)، أی: أوجب علیک العمل بہ۔ (مفردات القرآن)

البتہ بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ نازل کرنا کیا ہے، جیسے:’’جس اللہ نے آپ پر قرآن نازل فرمایا ہے وہ آپ کو دوبارہ پہلی جگہ لانے والاہے ‘‘(محمد جوناگڑھی)
اس آیت میں فرض کامطلب نازل کرنا عرب مفسرین کے یہاں بھی ملتا ہے۔ امام قرطبی لکھتے ہیں: و’’فَرَضَ‘‘ معناہ أنزل۔ (تفسیر القرطبی: ۱۳؍۳۲۱)۔ لگتا ہے ان لوگوں کو یہ اشکال ہوا کہ قرآن پر فرض کیے جانے کا اطلاق کیسے کیا جائے، فرض کیے جانے کی چیز تو احکام ہوتے ہیں۔ تاہم علامہ طاہر بن عاشور کا خیال ہے کہ یہاں بھی فَرَضَ مقرر کرنے کے معنی میں ہے، اور علیٰ  وجوب کا مفہوم ادا کرنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ بتانے کے لیے ہے کہ یہاں فعل انزل  کی تضمین ہے جس کا صلہ علیٰ ہے جسے ذکر کردیا گیا ہے۔ گویا مطلب ہوگا اللہ نے تمہارے لیے قرآن کو منتخب کرکے تم پر نازل کیا۔علامہ لکھتے ہیں:

ومعنی (فَرَضَ عَلَیْْکَ الْقُرْآن) اختارہ لک من قولھم: فرض لہ کذا اذا عین لہ فرضا أی نصیبا۔ ولما ضمن (فرض) معنی (أنزل) لأن فرض القرآن ھو انزالہ عدی فرض بحرف (علی)۔ (التحریروالتنویر: ۲۰؍۱۲۰)

(جاری)

تہذیب مغرب: فلسفہ و نتائج (۲)

محمد انور عباسی

تحریکِ نسوان یا نسوانیت (Feminism) :

روشن خیالی کی تحریک سے قبل مغربی معاشرے میں عورت کو معاشرے کا کوئی مفید فرد تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ ہیگل اور فرائیڈ دونوں نے عورت کے بارے میں کچھ مثبت رائے کا اظہار نہیں کیا۔ شوپنہار (Schopenhauer) نے تو صاف طور پر عورت کو انتہائی سادہ لوح اور کوتاہ نظر قرار دیا ہے۔ اس کے نزدیک عورت کو مکمل انسان نہیں کہا جا سکتا۔ (۱۰) اسی بنیاد پر عورت کو تو ووٹ کا بھی حق نہیں تھا۔ پروفیسر کرسٹن کے الفاظ میں:
"By the second wave of Feminism in the 1960s to 1970s most women in Western Countries had gained basic social and political rights such as the vote after considerable social dispute." (11)
یعنی۱۹۶۰ اور ۱۹۷۰ کے عشروں میں تحریکِ نسوانیت کے دوسرے دور میں مغربی ممالک میں بڑے جھگڑوں کے بعد اکثر خواتین کو بنیادی معاشرتی اور سیاسی حقوق مثلاً ووٹ حاصل ہوئے۔ عیسائیت نے بھی عورت کو ازلی گناہ کی اصل ذمہ دارقرار دیا ہے۔ ان حالات میں کئی اہل فکر سامنے آئے جنہوں نے عورت کے حق میں آواز اٹھائی۔
روشن خیالی کی تحریک نے جدیدیت کے فلسفے کی روشنی میں مغربی انسان کو دوسرا بڑا تحفہ جو دیا، وہ جنسی میدان میں تحریکِ نسوانیت کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ امر دلچسپی کا باعث ہو گا کہ اس تحریک کا آغاز خواتین نے نہیں بلکہ مردوں نے کیا تھا۔ برطانیہ کا جریمی بینتھم (Jeremy Bentham..1791) غالباً ابتدائی مفکرین میں شمار ہوتا ہے جس نے مکمل مساواتِ مرد و زن کا نعرہ دیا۔ روشن خیالی کا سب سے بڑا اور پیارا نعرہ یہ تھا کہ انسان مکمل آزاد ہے، یعنی وہ ہر قسم کے خیالات، اعمال و افعال کو اپنا سکتا ہے ، اس کو پابند کرنے کے لیے کوئی مافوق الفطرت ہستی ہو ہی نہیں سکتی۔ تحریکِ نسوانیت میں عورتوں کو مکمل آزادی دینے سے قبل پہلے مرحلے میں ایک اور نعرہ دیا جانا مناسب سمجھا گیا کہ عورت اور مرد برابر ہیں۔ اسی کے ہم عصر مارکوس(Marques de Condorcet...1790) نے فرانس سے اسی قسم کے خیالات کا پرچار شروع کیا۔ اسی دور میں پہلی خاتون Mary Wollstonecraft نے تحریکِ نسواں میں بڑا نام پیدا کیا۔ صنعتی انقلاب کے بعد جب عورتوں کوگھروں سے نکلنا پڑا تو اٹھارویں صدی میں دیہاتوں سے شہروں کی جانب ہجرت کو جواز بخشنے کے لیے خوبصورت نعروں کی ضرورت پڑی۔ اس پس منظر میں مساواتِ مرد و زن بڑا ہی مقبول نعرہ ثابت ہوا۔ لیکن روشن خیالی کی تحریک اور hیومن ازم نے بھی عورت کو دوسرے درجے میں ہی رکھا ، اسے اوپر نہیں آنے دیا۔ سوزین پال(Suzanne Paul) نے بڑے کرب کا اظہار کرتے ہوئے بجا طور پر اس کا شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ:
"If Humanist, male or female, embrace the Enlightenment position of rationality and humanism at its word and its starting point common respect then is due to all people because they are rational. However wowen have been unfairly excluded from the respect which they are due as human beings on the basis of an insidious assumption that we are less rational then men." (12)
اس کا کہنا ہے کہ ہیومنسٹ، مرد یا عورت جب روشن خیالی کی تحریک میں وابستہ ہوتے ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے تمام انسان عقل و شعور کے مالک ہیں۔لیکن عورتوں کو ایک غلط نا جائز اور عیارانہ طریقے سے اس اعزاز سے باہر رکھا گیا ہے کہ ہم عورتیں مردوں سے کم عقل و شعور رکھتی ہیں۔ یہ تو ہر فرد تسلیم کرے گا کہ فطری ساخت کے اعتبار سے عورت اور مردکی تخلیق میں فرق رکھا گیا ہے اور یہ کسی کی اپنی خواہش پر نہیں چھوڑا گیا۔ اب اس کا کیا کریں کہ اس فرق کی موجودگی میں ہیومن ازم اور روشن خیالی کی تحریک میں بھی عورتیں وہ ’’مقام‘‘ حاصل نہیں کر پا رہیں جس کی تڑپ انہیں مذہبی اخلاقیات اور خدا کو ترک کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔ سوزین پال ایک نسخہ کیمیا ڈھونڈ لائی ہیں۔ ان کا ارشاد ہے کہ: ’’ اس اختلاف کو عورتوں کے ساتھ غیر مساویانہ سلوک کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔ لہٰذا سرے سے اس اختلاف کو ہی نظری اور عملی طور پر ختم کرنا ہوگا تاکہ عورتیں معاشرے اور ہیومن ازم میں اپنا جائز مقام حاصل کر سکیں۔‘‘ (۱۳) یہ فطری اختلاف کس طرح ’’نظری اور عملی‘‘ طور پر ختم کیا جا رہا ہے اس کی ایک ہلکی سی جھلک ہم اس تحریر میں دیکھیں گے، تاہم عملی تصویر دیکھنے کے لیے مغربی معاشرے کو عمیق نظروں کی ضرورت ہے۔
ان اختلافات کو دور کرنے کے لیے مغرب میں چند عملی قدم اٹھائے گئے، لیکن ان کو جواز بخشنے کے لیے فلسفہ یا تھیوری کی ضرورت پڑتی ہے۔ چنانچہ ۱۹۹۰ ؁ ء میں Queer Theory سامنے لائی گئی جس میں یہ ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی کہ جنسِ مخالف (Heterosexuality) کی کشش کوئی فطری جذبہ ہے ہی نہیں، محض انسان کی فطری ہیجان اور بھوک ہے جوانسانی جسم میں موجود حسی جذبات ابھارنے والی مشینری (Ocean of sensory stimuli: motion, color, texture, shape, heat, cold etc.) ہر دم تیار رہتی ہے۔ اس کو تسکین دینے کے لیے جنسِ مخالف ہی کیوں لازمی ہو؟ اس کے لیے کوئی بھی ہم جنس پرستی (Homosexuality) کی راہ اپنائی جا سکتی ہے۔ (۱۴) اس نظریے پر مبنی عملے معاشرے کے قیام کے لیے مغربی دنیا میں تقریباً ہر ملک میں قانون سازی ہو رہی ہے۔
تحریکِ نسواں کی تیسری لہر(Third wave) میں عورتوں کے کردار، حیثیت اور جنسی رویّوں کے متعلق بڑی انقلابی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ اس عہد میں خاندان کی حیثیت وہ نہیں رہی جو کچھ عشرے قبل میں معروف تھی، وہ حیثیت رہ ہی نہیں سکتی تھی۔ عورتوں میں امتیازی جنسی رویوں کے خلاف وسیع پیمانے میں ردِّ عمل اور احتجاج سامنے آیا۔ اخلاقیات کا تو خیر اب سوال ہی کیا، وہ تو اب ایک قصہِ پارینہ تھا، آزادخیالات (Liberal) نظریات کے تحت، پوسٹ ماڈرن تحریک کے زیرِ اثر اب ہر بات درست سمجھی جانے لگی تھی۔پوسٹ ماڈرن تحریک کا سب سے بڑا تحفہ موضوعیت (Subjectivity) اور اضافیت (Relativity) ہے۔ جس میں ہر نظریہ، ہر قول درست مانا جاتا ہے ۔ اس کے متعلق پوسٹ ماڈرن مفکرین کے الفاظ میں:
"We can believe anything - or, what amounts to the same thing, believe nothing."
یعنی ہم ہربات پر یقین کر سکتے ہیں، دوسرے الفاظ میں ہم کسی بات پر بھی یقین نہیں رکھتے۔چنانچہ عورتوں نے شادی کے ادارے ہی کے خلاف آواز بلند کر دی، کہ یہ ادارہ دراصل عورتوں کو غلام بنانے کا ایک آلہ تھا۔ شادی اور بچوں کی پیدائش اور پرورش سے ہی عورتیں مردوں کی غلام بنتی ہیں۔چنانچہ شادی کے بغیر ناجائز بچوں کی پیدائش اور پرورش کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔ Dean Koontz  ایک ناجائز اولاد کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: 
"Be glad that you are illegitimate, baby, because that means you are free. Little bastard children don't have as many relatives clinging like psychic leaches and sucking away their souls." (Intensity: p.382)
یعنی برخوردار تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ تم ایک ناجائز اولاد ہو، کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ تم آزاد ہو۔ حرامی بچوں کے اتنے رشتہ دار نہیں ہوتے جوجونکوں کی طرح ان کی روحوں کو چوس لیتے ہوں۔پہلے مرحلے میں تو یہی کچھ ہو سکتا تھا۔ اگلے مرحلے میں بچوں سے گلوخلاصی کی تدبیریں سوچی جانے لگیں۔ 
۱۹۷۰ء  میں فائرسٹون نے اپنی کتابThe Dialectics of Sex: The case for Feminist Revolution میں لکھا کہ تحریکِ نسواں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ عورتوں کے بارے میں غیر مساوی رویہ دراصل ان کے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ اسی وجہ سے وہ مردوں کے ماتحت زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ مردوں کے برابر رتبہ حاصل کرنے کا بس ایک ہی علاج ہے کہ ٹسٹ ٹیوب بے بی کا سہارا لیا جائے۔ چنانچہ سائنس اور ٹیکنالوجی ہی عورتوں اور مردوں کے درمیان مساوات پیدا کر سکتی ہے۔ 
ان کے خیال میں شادی اور خاندان کا ادارہ عورت کو محکوم بنانے کو’ مردانہ سازش‘ تھی۔ اس سازش کے خلاف جنگ یوں جیتی جا سکتی تھی کہ عورت بیوی اور ماں بننے کے لیے ازدواجی حدود یکسر مسترد کر دیں اور ایک نعرہ بلند ہوا کہ’عورت کا جسم اس کی اپنی ملکیت ہے جس پر کسی دوسرے کا کوئی اختیار نہیں‘۔مردوں کے لیے یہ امر خوش کن تھا۔ عورت اور مرد دونوں اپنے اپنے گمان میں مسرور اور مطمئن ہو گئے۔ (۱۵) مشہور فیمینسٹ مصنفہ شیلا کرونن (Sheila Cronan)لکھتی ہے:
"Since marriage constitutes slavery for women, it is clear that women's movement must concentrate on attacking marriage."(16) 
یعنی شادی عورتوں کے لیے غلامی کے ہم معنی ہے اس لیے عورتوں کی تحریک نسواں کو شادی کے ادارے پر حملوں کو مرکزی اہمیت دینی چاہیے۔ بیٹی فرائیڈین (Betty Friedan ،جو قومی تنظیم برائے خواتین کی بانی ہے، شادی کے ادارے کو’ آرام دہ کنسٹریشن کیمپ‘ کہہ کر پکارتی ہے جس سے عورتوں کو آزادی دلانا ضروری ہے۔ (۱۷) چنانچہ شادی شدہ عورتوں کو طلاق پر ابھارنے کے لیے بڑے بڑے فلسفے سامنے آئے۔ طلاق کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے Mel Krantzler نے دل لبھانے والے ادیبانہ جملے استعمال کرتے ہوئے اپنی مشہور کتابCreative Divorce میں لکھا:
"To say goodbye is to say hello....hello to a new life - to a new, freer, more self-assured you. Your diverce can turn out to be the very best thing that ever happened to you." ۔ 
کتاب کا نام ہی دل لبھانے والا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ طلاق دے کر خدا حافظ کر کے رخصت کر دینا در اصل ایک نئی نسبتاً زیادہ آزاد اور خود اعتماد والی زندگی کو خوش آمدید کہنا ہے۔ تمہاری یہ طلاق تمہاری زندگی کی بہترین چیز ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح معاشیات کے میدان میں کام کرنے والے مفکرین نے تحقیق کر کے ’’ثابت‘‘ کیا کہ طلاق کے بعد کس طرح فریقین کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے اور وہ نسبتاً بہتر زندگی بسر کرنے لگے ہیں۔ ۱۹۸۵ ؁ء میں Weitzman کی ایک کتاب سامنے آئی جس کا نام ہے he Divorce Revolution T ۔ کتاب کا نام ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ طلاق کوئی بری شے نہیں بلکہ یہ تو ایک انقلابی قدم ہے۔ اس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ طلاق کے بعد سابق شوہر کی آمدنی میں ۴۲% اضافہ ہوا ہے۔ 
گلوریا سٹینن نے پیٹر کولیر اور ڈیوڈ ہارووتھ کی کتاب سے تحریکِ نسواں کے علمبراروں کہ یہ جملہ نقل کیا ہے :
"We wan to destroy the three illars of Class and a caste society - the family, private property, and the state."(18)
کہ ہم ایک ذات پات پر مبنی معاشرے کے تینوں ستونوں ۔فیملی، نجی ملکیت اور ریاست۔ کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔عورتوں کو مکمل ’آزادی‘ دلانے کے لیے ان کو یہ احساس دلانا ضروری تھا جس کے لیے یہ فلسفہ گھڑا گیا، کہ عورتیں اپنے جسم کی خود مالک ہیں اور مردوں کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے جسم کو استعمال کریں۔گلوریا جو خود بھی تحریک نسواں کے کاروان میں شامل تھی ، بالآخر اس نتیجے پر پہنچی کہ امریکہ کے روایتی خاندانی ساخت پر حملوں کی وجہ سے تحریک ایک برائی کا خوفناک عفریت(Evil monster) ہے۔
Claire Mexwell Peter Aggleton 2009 کی رپورٹ میں کہا گیا کہ:
’’نوجوان عورتوں اپنے جنسی تجربات کرنے اور ایسی صلاحیت پیدا کرنے پر آمادہ کرتے ہوئے بولنے پر تیار کرنے کا راستہ یہ ہے کہ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اپنے جسم کا کنٹرول خود حاصل کر رہی ہیں یا وہ گم شدہ کنٹرول دوبارہ حاصل کر رہی ہیں۔‘‘(۱۹)
اس طرح ۱۹۶۰۔۱۹۷۰ میں مساواتِ مرد و زن سے آگے بڑھ کر تحریکِ نسواں کے مقاصدلبرل ازم کی برکت سے اپنے منطقی نتائج کی طرف آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔جب مستقل اقدار(Permanent values) باقی نہ رہیں اور ہر چیز اضافی(Relative) بن جائے تو کچھ بھی باقی نہیں رہ سکتا۔ عورتوں نے یہ نام نہاد ’آزادی‘ حاصل تو کر لی مگر کس قیمت پر، یہ ابھی غالباً سوچنے کا موقع نہیں آیا۔ Sylvia Ann Hewlett نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے’ ایک کمتر زندگی: امریکہ میں عورتوں کی آزادی کا افسانہ‘۔ 
"A Lesser Life: The Myth of Women's Liberation in America"
اس میں عورتوں کے بارے میں چشم کشا واقعات بیان کئے گئے ہیں کہ خاندان کی تباہی کے بعد عورتیں نہ گھر کی رہیں نہ باہر کی۔افزائشِ نسل کے لیے عورتوں کا کردار مسلّم ہے لیکن بقول فائرسٹون بچوں کے متعلق سوچتے ہوئے ان کی پیدائش کا عمل ذہن میں فوراً ابھرتا ہے کہ وہ کیسے پیدا ہوتے ہیں۔جوں ہی اس عمل پیدائش میں عورتوں کے رول کو سامنے رکھیں گے` عورتوں کی ماتحتی اور غلامی کا تصورہی سامنے آئے گا۔ لہٰذا عورتوں کو اس سارے جھنجھٹ سے نکالنے کے لیے واحد راستہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ’’آسانی‘‘ فراہم کی گئی۔
پہلے مرحلے پر اسقاطِ حمل کو قانوناً جواز بخشنا تھا۔لیکن بحث کی خاطر لفظ ’آزادی اور انسانی حقوق‘ کے مارے ہوئے انفرادیت پسند ہمیں یہ دلیل دیتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں کہ اسقاطِ حمل میں مستقبل میں پیدا ہونے والے بچہ (Fetus) کا بھی تو کوئی حق ہوتا ہے، لہٰذا اس کی مرضی کے بغیر اس کو دنیا میں آنے سے کس طرح روکا جا سکتاہے! یہ تو سب ہی کو معلوم تھا کہ جنین میں پرورش پانے والا ایک گوشت کا لوتھڑا کس طرح اپنی مرضی کا اظہار کر سکتا ہے۔ اس کمزور دلیل کو سامنے لایا ہی اس لیے گیا تھا کہ اس کی دھجیاں بکھیر کر اسقاطِ حمل کی راہ ہموار کی جا سکے۔چنانچہ عین توقع کے مطابق اس دلیل کو رد کر دیا گیا ۔ Judith Jarvis Thomson نے لکھا کہ:
"If women have rights over their bodies, then they have right not to have their bodies used by others against their will."
یعنی یہ تو طے شدہ بات ہے کہ عورت اپنے جسم کی مالک ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر عورتوں کو اپنے جسم کے مالک ہونے کی حیثیت سے مکمل حقوق حاصل ہیں تو کسی دوسرے کو (یعنی پیدا ہونے والے بچے کو) ان کی مرضی کے خلاف ان کا جسم استعمال کرنے کا حق کس طرح دیا جا سکتا ہے۔ یعنی ماں کی مرضی کے خلاف اس کے جسم میں پرورش پانے والے بچے کا کوئی حق ہو ہی نہیں سکتا۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے ماں جب چاہے اس سے نجات حاصل کر سکتی ہے۔وہ اپنا جسم کسی کو استعمال کیوں کرنے دے! تاہم اگر کبھی اس کو بچے کی خواہش ہو جائے توکرائے کی ماں کا تصور دے کر اس کی ایک حل نکال لیا گیا، جسے Commercial Surrogacy کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے ایک عورت کا مسئلہ تو حل کر لیا لیکن دوسری عورت پھر بھی غلام کی غلام ہی رہی!
پہلے مرحلے میں مرد ، بچوں اور خاندان سے یوں گلوخلاصی کے بعد اگلا قدم مردوں سے مکمل آزادی تھا، چنانچہ عورت کی عورت سے شادی کا تصور اجاگر کیا گیا اور اس کے بعدبہرحال مغربی سرمایہ دارانہ کا بے قید و لبرل معاشرہ آزاد منڈی کے ذریعے مصنوعی آلات جنسی تسکین کے لیے سامنے لے آیا تاکہ کسی سے بھی شادی وغیرہ کے جھنجھٹ سے جان بچائی جا سکے۔ یہ سب رویّے اب مغربی معاشرے کا لازمی حصہ ہیں۔ہمارے مسلمان معاشرے میں ہمار لبرل طبقہ فی الحال اس حد تک نہیں گیا۔ مغرب میں بھی پہلے پہل بڑی احتیاط سے قدم رکھا گیا تھا۔ اسی طرح قدم پھونک پھونک کر رکھتے ہوئے یہ بھی کچھ ابتدائی نوعیت کے کام کا آغاز تو ہو ہی گیا ۔ اظہارِرائے کی آزادی کے نام پر یہاں بھی بہت کچھ ملنے کے آثار شروع ہو گئے ہیں۔ 
اسی نوعیت کا کچھ ابتدائی کام آغا خان فاؤنڈیشن نے آغا خان نرسنگ سکول کے صحت کے بارے میں گیارہ سال سے پندرہ سال کی طالبات سے سوالنامے سے ظاہر ہے۔ یہ سوالات ملاحظہ ہوں:
  • کیا کسی مرد نے کبھی آپ کے جسم کو چھوا ہے، اگر ہاں تو یہ مرد کون تھا؟
  • کیا کسی نے کبھی آپ کے پستان کو چھوا ہے؟
  • کیا آپ جانتی ہیں کہ اپنی چھاتی کا خود معائنہ کس طرح کیا جاتا ہے؟
  • کیا کسی لڑکی کو شادی سے پہلے جنسی تعلق رکھنا چاہیے، اگر ہاں تو کس عمر میں؟
  • ایڈز غیر محفوظ جنسی تعلق سے ہوتا ہے۔ طوائف سے ہوتا ہے یا ہم جنس پرستی سے ہوتا ہے۔ آپ اس بات کو یقینی کس طرح بنائیں گی کہ آپ محفوظ جنسی تعلقات قائم کر رہی ہیں؟
  • کیا آپ نے کبھی جنسی تعلقات قائم کیے؟ اگر ہاں تو کس عمر میں؟
  • کیا شادی سے پہلے محبت کرنے والے لڑکے اور لڑکی کو ایک دوسرے سے جنسی تعلق قائم کرنا چاہیے؟
  • جنسی تعلق سے زیادہ سے زیادہ تلذذ کس طرح ممکن ہے؟
  • کیا آپ نے کبھی اپنی بہن کو بے لباس دیکھا ہے، اگر ہاں تو کس نوعیت کے جذبات آپ کے اندر پیدا ہوئے؟کیا آپ نے کبھی اس سے جنسی تعلق کے بارے میں سوچا؟
  • کیا آپ کے باپ نے کبھی آپ سے جنسی تعلق قائم کیا ؟ کیا آپ کے بھائی نے کبھی ایسا کیا؟
  • کیا بچپن میں آپ اپنی والدہ کے ساتھ سوتے رہے؟ کیا آپ نے کبھی سے برہنہ دیکھا ہے ، اگر ہاں تو کس نوعیت کے جذبات آپ میں پیدا ہوئے؟ (۲۰)
ان سوالات سے اندازہ ہو جانا چاہیے کہ تحریکِ نسواں کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہمارے لبرل اور سیکولر مفکرین ہمارے معاشرے کے بارے میں کیا نقشہ اپنے ذہن میں رکھتے ہیں۔

ما بعد جدیدیت (Post Modernism):

مغربی تہذیب کا یہ دورِ جدید دوسری جنگِ عظیم کے بعد ۱۹۴۵ ؁ء سے شروع ہوا۔ جدیدیت اس دعوے کے ساتھ سامنے آئی تھی کہ وہ عقل سے عالمگیر صداقتوں کو دریافت کر سکتی ہے، انسان کے لیے دنیا میں بہترین نظام وضع کر سکتی ہے۔ اس نے عقل کے ذریعے بہترین انسانی معاشرے کی تشکیل کے لیے جو دو عملی نمونے دنیا کے سامنے پیش کئے ان کی ہلکی سی ایک جھلک ہم گذشتہ اوراق میں دیکھ چکے ہیں۔ 
جدیدیت یا ماڈرن ازم جب عملی طور پر کوئی قابل عمل اخلاقی نظام دینے میں ناکام رہی تو مابعد جدیدیت یہ نعرہ سامنے لے آئی کہ دنیا میں کسی مطلق سچائی(Absolute truth) کا وجود ہو ہی نہیں سکتا، یہی وجہ ہے کہ ماڈرن ازم کامیاب نہیں ہو سکی ہے کیونکہ وہ ایک موہوم امیدپر یقین کر کے ایک سعیِ لا حاصل کا فضول کام اپنے ذمے لے بیٹھی ہے۔بل کراؤز (Bill Crouse) نے اپنے ایک مقالے Post Modernism: A new Paradigm میں پوسٹ ماڈرن ازم کی تعریف اس طرح کی ہے:
"PM is a mood that succeeds Modernism or the Enlightenment. After two world Wars and two holocausts, Postmodernism no longer shared in the optimism of the past that reason would provide a foundation for human progress". 
یعنی پوسٹ ماڈرن ازم محض ایک کیفیت کا نام ہے جس نے ماڈرن ازم اور روشن خیالی کی جگہ لے لی ہے۔ دو عالمی جنگوں اور تباہی کے بعد پوسٹ ماڈرن حضرات نے عقل اور استدلال کے متعلق یہ خوش گمانی ترک کر دی کہ وہ انسانی ترقی کے لیے کوئی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔
اسی طرح ایک مشہور مفکر Larry J. Solomon نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ:
"Postmodernists like to attack modernists for their belief in objective truth and value. (In fact) nothing is any better than anything else." (21)
یعنی ماجدیدیتی مفکرین ، ماڈرنسٹ حضرات کے اس عقیدے پر زبردست تنقید کرتے ہیں کہ کسی مطلق سچائی یا اخلاقی قدر کا کوئی وجود پایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کوئی اخلاقی قدر کسی دوسری سے بہتر نہیں ہو سکتی۔ دوسرے الفاظ میں دنیا میں تمام اخلاقی اقدار مساوی درجہ رکھتی ہیں۔ اس کی وجہ ان کے نزدیک بڑی سادہ سی ہے کہ وہ ہر سوچ، فکر،عقیدہ،قدر کو محض اضافی (Relative) سمجھتے ہیں ۔ 
Michael Werner نے ۱۹۹۱ء  میں لکھاکہ:
’’سچائی اور حقیقت متعلق ہمارے سارے تصورات محض ہمارے ذہن کی پیداوار ہی تو ہیں۔ سچائی ایک معاشرتی تصور ہے۔ کسی بھی عقیدے کے لیے کوئی آخری بنیاد نہیں پائی جاتی۔ تمہارے جتنے بھی تصورات و عقائد ہیں وہ تمہارے معاشرے کے پیدا کردہ ہیں جو صرف طاقت اور کنٹرول کو جواز بخشنے کے لیے وضع کئے گئے ہیں۔ بعض پوسٹ ماڈرن مفکرین سرے سے فلسفے، روشن خیالی کی تحریک اور عقل و شعور کا خاتمہ سمجھتے ہیں۔ اس تحریک نے روشن خیالی کی اس رومانوی تحریک کو رد کر دیا جس کے نزدیک معاشرے میں ترقی یافتہ بہتر سوسائٹی وجود میں آ سکتی ہے۔‘‘ (۲۲)
یہی مصنف مابعد جدیدیت کی مزید تشریح اس طرح کرتے ہیں:"The Continental (European) Post-modernists argue that reality is pure illusion." (23) یعنی یورپین ما بعد جدیدیتی مفکرین کے نزدیک ’’حقیقت‘‘ محض ایک فریب اور دھوکا ہے۔ ماڈرنسٹ حضرات کے بالکل برعکس ان کا ارشاد ہے کہ"Since we cannot believe in any thing for certain, we should only believe in our intuitions and emotions." (24) یعنی چونکہ ہم یقینی طور پرکسی پر اعتماد نہیں کرسکتے اس لیے ہمیں صرف اپنے وجدان اور جذبات پر ہی اعتماد کرنا چاہیے۔ اس تصور کی بنیاد ڈیکارٹ(Rene Descartes) کے اس فلسفے میں دیکھ سکتے ہیں کہ "I think therefore I am". سادہ الفاظ میں ہر فرد دوسرے سے مختلف ہے اور ایک منفردسوچ رکھتا ہے۔ اس کی اس سوچ کو دوسرے فرد کی سوچ پر کس طرح ترجیح دی جا سکتی ہے ، یہ ممکن نہیں۔ ہر فکر، خیال، تصور،عقیدہ بنیادی طور پر ایک اضافی (Relative) اور موضوعی(Subjective) تصور ہے۔کوئی بھی عقیدہ یا خیال خارجی، حقیقی اور معروضی(Objective)نہیں ہو سکتا۔ وہ ایک داخلی احساس ہی ہو سکتا ہے۔ 
Jack Grassby اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ: ’’مابعد جدیدیت اور اضافیت کی اصطلاحیں ہمارے تمام تصورات کی موضوعی اور اضافی حیثیت سے روشناس کرواتی ہیں۔ ان کا مقصد کسی بھی عالمگیر سچائی کے انکار اور تمام مافوق الفطری عقائد اور نظریات کے رد پر ہے۔ ‘‘ (۲۵) اگر تمام عقائدو تصورات فی الحقیقت کوئی مطلق (Absolute) قدر نہیں رکھتے اور سب کچھ relative ہی ہے تو ظاہر ہے کہسب تصورات کو ایک ہی درجہ دینا ہوگا۔ عقلی استدلال چونکہ یہاں کوئی معنی ہی نہیں رکھتا، سب کچھ وجدان اور جذبات پر ہی انحصار کرتا ہے تو ہر اخلاقی قدر یکساں اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔کوئی بھی کسی پر تنقید کر سکتا ہے نہ اعتراض۔ اس کی گنجائش بھی نکل سکتی۔ہر چیز کو اضافی قرار دینے والے حضرات کسی پر بھی یقین کر لینے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں ۔ چنانچہ پوسٹ ماڈرنسٹ حضرات کے نزدیک 
"All concepts, all values are of equal status and so relativists can believe in anything." (26) 
یعنی تمام تصورات ، تمام اقدار یکساں درجہ اور اہمیت رکھتی ہیں، اس لیے وہ کسی پر بھی ایمان لا سکتے ہیں۔ اس کا دوسرا مطلب یہی ہے کہ وہ کسی پر بھی ایمان نہیں رکھتے جس طرح جیک گراسبی نے لکھا کہ
"We can believe any thing. Or what amounts to the same thing, believe nothing. " (28) 
یعنی ہم کسی پر بھی یقین کر سکتے ہیں، جس کا دوسرا مطلب یہی ہے ہم کسی پر بھی یقین نہیں رکھتے!!
روشن خیالی کی تحریک کے زیرِاثرماڈرن ازم نے عقل اور سائنسی اندازِفکر کو بڑی ہی اہمیت دی تھی حتیٰ کہ یہ دعویٰ کر ڈالا کہ ہر وہ چیز جو ہمارے حواس میں نہ آ سکے وہ قابل رد ہے۔ پوسٹ ماڈرن ازم نے اسی فکر کو بنیاد بناتے ہوئے اس فکر کی دھجیاں بکھیر دیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تمام تصورات و عقائد ہمارے حواس ہی کی پیداوار تو ایک کے حواس کو دوسرے کے حواس پر کسی قسم کی ترجیح کیوں کر دی جا سکتی ہے۔ ان کے خیال میں ’’سچائی‘‘ اور ’’حقیقت‘‘ کے تصورات اپنی اصل کے اعتبار سے انسانی تعبیرات ہی تو ہیں، جوانسانی دماغ کی پیداوار اور ہمارے جسمانی حسی اعضاء کا ماحول کے ردِّ عمل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ انسانی دماغ کی ساخت، علم و تجربہ بالکل منفرد اور جدا ہوتا ہے ۔ ہر معاشرہ جدا، معاشرے کا ہر فرد جدا، اس کی سوچ و فکر جدا۔ لہٰذا اس کا منطقی نتیجہ تو یہی نکل سکتا ہے کہ تمام عقائد و تصورات جو بنیادی طور پر کسی خاص معاشرے کے کسی فرد کے دماغ سے ہی سامنے آتے ہیں، اس خاص معاشرے سے ہی وابستہ ہو سکتے ہیں جو کبھی بھی مطلق نہیں ہو سکتے، ہمیشہ اضافی اور موضوعی ہی ہو ں گے۔
ماڈرن ازم نے روشن خیالی کی تحریک سے شہ پا کر مذہبی اخلاقیات سے جان تو چھڑا لی اور اس کی جگہ عقل کو یہ مقام دے دیا کہ وہ انسان کے لیے ایک نئی اخلاقیات تلاش کر لائے، مگر اسی کے بطن سے پھوٹنے والی تحریک نے ماڈرن اور اس کی عقل پر مبنی اخلاقیات کے تصور کو ان ہی دلائل سے ٹھکرا دیا اوردوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی دنیا نے جو اخلاقی نظام انسانیت کے لیے تجویز کیا اس کے مطابق:
"It is now generally recognized that reason alone cannot lead us to beliefs, values or ethics." (28)
جی ہاں۔ آج کل با لعموم یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ عقل و استدلال سے ہمیں عقائد ، اقدار یا اخلاقیات کے اصول کے لیے کوئی راہنمائی نہیں مل سکتی۔ جب کہ ماڈرن ازم کا تو دعویٰ ہی یہ تھا کہ ہم عقل و استدلال سے ہی انسان کے لیے اخلاقیات کے اصول وضع کر سکتے ہیں جن سے ہمیں راہنمائی مل سکتی ہے نہ کہ کسی خدا یا مذہب سے۔ مشہور پوسٹ ماڈرن مفکر رچرڈ رورٹی(Richard Rorty) ماڈرن ازم کے خیالات کو رد کرتے ہوئے بر ملا کہا کہ’’فکری اور اخلاقی بنیادوں کی روایتی تلاش و جستجو بالکل بیکارِ محض ہے‘‘ (۲۹) یہ روایتی تلاش ماڈرن ازم نے روشن خیالی کی تحریک سے غذا حاصل کر کے ھیومن ازم کے جھنڈے تلے شروع کی تھی کہ ہم مذہب اور خدا کو ترک کر کے عقل و استدلال سے اخلاقی بنیادوں کو پا سکتے ہیں۔ پوسٹ ماڈرن ازم نے آکر سارا جھگڑا ہی ختم کر دیاکہ یہ تلاش ہی فضول اور ایک بے معنی حرکت ہے کیونکہ
"Our conceptual schemes, our sciences, our rationalities and our ethical beliefs all lack the absolute, objective grounding that the traditionalist philosophical project hoped to provide." (30)۔ 
ہماری تصوارتی تدبیریں، ہماری سائنس، ہماری قوتِ فیصلہ اور ہمارے اخلاقی عقائد سب کے سب کوئی معروضی بنیاد فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی امید روایتی فلاسفر (ماڈرن ازم کے علمبردار) کر رہے تھے۔ 
یہ تو درست تشخیص تھی کہ مغربی معاشرے میں ماڈرن ازم کے نام پر ہیومن ازم کے نئے مذہب نے جودعوے کیے تھے، وہ پورے نہیں ہو ئے تھے، ہو ہی نہیں سکتے تھے۔اس کی وجہ بڑی سادہ سی ہے کہ انسانی عقل، سائنس،فلسفہ وغیرہ اخلاقی اقدار وضع کر ہی نہیں سکتے۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالناکہ سرے سے مطلق سچائی یا کسی اخلاقی قدر کا کوئی وجود ہی نہیں ہو تا اور ہر سوچ و فکر ایک اضافی تصور Relative) ( ایک انسانی ردِّ عمل تو ہو سکتا ہے جس کی عقل و منطق میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوسٹ ماڈرن مفکرین کے فلسفہ میں عقل، استدلال اور منطق کی کوئی اہمیت ہی نہیں، نہ صرف اہمیت نہیں دی بلکہ عقل، استدلال اور منطق کے خلاف وسیع پیمانے پر مضامیں لکھے ۔ Larry J. Solomon نے بڑی وضاحت کے ساتھ لکھا کہ: ’’ پوسٹ ماڈرن مفکرین منطق اور عقلی استدلال پر زبردست تنقید کرتے ہیں۔ ان کے ہاں اب منطق کی جگہ سیاسی، نیم مذہبی لفّاظی (quasi-religious rhetoric) استعمال ہوتی ہے۔ ‘‘ (۳۱)
ہر تصور، فہم و ادراک کو اضافی قرار دے کر منطقی طور پر پوسٹ ماڈرنسٹ حضرات اس نتیجے پر پہنچے کہ کسی لٹریچر، کسی متن کی درست اور تعبیر اور توجیح ممکن ہی نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ
"Every thing is a text, and only subjective interpretation is possible. One can never know the intent of the author." 
یعنی سب کچھ محض متن ہی ہے جس کی صرف موضوعی تعبیر ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی کسی مصنف کا قصد اور نیت معلوم نہیں کر سکتا کہ فی الحقیقت وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اس تصور کے بعدانسان ایک دوسرے سے کیونکر تبادلہِ خیال کر سکتے ہیں۔ متن ہی کے ذریعے تو انسانوں کے درمیان ابلاغ ہوا ہے۔ آج تک تاریخ میں خطوط،فیکس، ای میل وغیرہ کے ذریعے ہی دور درازعلاقوں سے رابطہ ممکن تھا۔ لیکن جب ہم کسی متن کی درست تشریح کر ہی نہیں سکتے کہ پتہ نہیں لکھنے والے کا درست مدعا کیا ہے ، وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے تو دنیا سے لٹریچر کا سارا ذخیرہ ہی دریا برد کرنے پڑے گا۔ادب اور شاعری کو تو چھوڑیں ایک طرف، بین الاقوامی تجارت وغیرہ کا سارا سلسلہ ہی ختم سمجھیں کہ اس میں آج تک تویہی دیکھنے سننے میں آیا تھا کہ متن ہی کے ذریعہ ہم اپنا مقصد دوسروں تک پہنچاتے تھے اور دوسرے بالکل وہی مقصد سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہو کر اس تجارت کو ممکن بناتے تھے۔اضافیت پسند(Relativist) عقلیت کا مارا ہوا فرد عقل و منطق کواستعمال کر کے خود اس کے خلاف دلائل فراہم کر کے اب خود پریشان ہے کہ اب کیا کیا جائے۔ اگر یہ فلسفہ درست ہو تو ایک دوسرے سے گفتگو ہی بے معنی ہو جائے۔ 
عقل، منطق اور استدلال پر تنقید کر کے اس سے بظاہر جان چھڑانا آسان لگتا ہے، مگربالبداہت یہ انتہائی نامعقول فکر ہے جو انسانی عقل نے ہی انسان کے سامنے رکھی ہے! عقل استعمال کر کے عقل کی مذمت کرناآج کے مغربی معاشرے کے پوسٹ ماڈرن ازم فلسفے کا طرہِ امتیاز ہے۔ پوسٹ ماڈرنسٹ حضرات کے ہاں چونکہ ہر خیال، عقیدہ، فکر کوئی مطلق قدر نہیں بلکہ ہر چیز موضوعی(Subjective)اور اضافی (Relative) ہے اس لیے یہ سب کو درست سمجھتے ہیں، اور ان کے حق میں ’’عقلی دلائل‘‘ استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اس اندازِ فکر کو تھوڑے سے ہی عرصے میں بڑی مضحکہ خیز صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ 
سائنس اور عقلی استدلال سے بالعموم ایک نتیجہ برآمد ہو جایا کرتا ہے۔ لیکن پوسٹ ماڈرن حضرات اس نتیجے کو محض چند لوگوں کے دماغ کی کارستانی قرار دے کر ایک اضافی نتیجہ قرار تو دیتے ہیں،لیکن اس کو غلط نہیں کہتے۔ ان کے اس خیال کی غلطی کو واضح کرنے کے لیے جون ۱۹۹۶ ؁ء میں امریکہ میں ایک بڑا سکینڈل سامنے آیا جو The Sokal Hoax کے نام سے مشہور ہوا۔ نیویارک یونیورسٹی کے ایک مشہور عالمِ طبیعات Alan Sokal نے ایک مقالہ لکھا جس کا عنوان تھا ’’ "Transgressing the Boundries: Towards a Transformative Hermeneutics of Quantum Gravity".۔ یہ مقالہ اس نے ایک مشہور پوسٹ ماڈرنسٹ رسالے Social Text میں اشاعت کے لیے بھیجا۔ اس میں اُس نے جان بوجھ کر ایسی اصطلاحات استعمال کیں جو پوسٹ ماڈرن حضرات کے ہاں معروف و مقبول تھیں۔یہ اصطلاحات استعمال کر کے غلط سلط یہ ’’ثابت‘‘ کیا گیا تھا کہ ابھی تک ماڈرن فلسفے اور سائنس میں کششِ ثقل کی جو حقیقت بیان کی جاتی رہی ہے وہ بالکل غلط ہے۔ فی الحقیقت کششِ ثقل یعنی (Gravity)کا کوئی وجود ہی نہیں اور یہ محض چند سائنسدانوں کے ذہنوں کی پیداوار ہے۔ یہ کوئی مستقل، مطلق حقیقت نہیں، کیونکہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا! لہٰذا یہ ’’سائنسی حقیقت‘‘ ماڈرنسٹ سائنس دانوں کے ہاں ہی درست ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ ایک relative تصور ہی تو ہے!! رسالے کے اڈیٹر حضرات نے اسے اپنے دور کی ایک اہم علمی پیش رفت اور کاوش قرار دے کر جون ۱۹۹۶ ؁ء میں اپنے رسالے میں شائع کر دیا۔ ان کے نزد یک ا س سے ہر تصور و عقیدے کا اضافی(Relative) ہونا ثابت ہوتا ہے ! Allan Sokal کا یہ مذاق پوری تفصیل کے ساتھLingua Franca کی کتابThe Sokal Hoax, the Sham that shook the Academy میں شامل ہے،جس کو یونیورسٹی آف نیبراسکا پریس نے ۲۰۰۰ ؁ء میں شائع کیا ہے۔ اس کی تفصیل بڑی آسانی سے انٹرنیٹ میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
اس مذاق سے بہرحال ایک ہلکا سا اندازہ ہو جاتا ہے کہ جب عقل کو بالکل آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ کیا کیا گُل کھلا سکتی ہے۔ سمندر میں جہاز کو لنگر سے آزاد کر دیا جائے تو بہر حال سمندر کی لہریں اسے دائیں بائیں گھسیٹتے ہوئے ساحل سے بہت دور لے جا سکتی ہیں۔ عقل بھی جہاز کی مانند ہے جسے اللہ تعالیٰ کی وحی کے لنگر سے باندھنے کی ضرورت ہے۔
بل کراؤز نے پوسٹ ماڈرن ازم کی چند نمایاں خصوصیات کیا ہے جو اضافیت (Relativism) کے تصور نے اس میں پیدا کر دی ہیں۔ ان میں سے کچھ درجِ ذیل ہیں؛

۱۔غیر معقول رویّہ (Irrationality and irony):

پوسٹ ماڈرن حضرات چونکہ کسی ضابطے اور اصول کے تحت نہیں سوچتے اور نہ گفتگو کرتے ہیں اس لیے بسا اوقات وہ متضاد خیالات کے علمبردار بن جاتے ہیں۔ مثلاً سائنسی طرزِ استدلال کے قائل نہ ہونے کے باوجود جب دوسروں سے بات کریں گے تو عقلی دلیل ہی دیں گے کہ یہ چیز درست ہے اور فلاں غلط ہے۔ لیکن جب کوئی دوسرا یہی دلیل دے تو فوراً کہہ دیں گے کہ یہ علی الاطلاق درست نہیں ہو سکتا کیونکہ ہر خیال ایک اضافی(relative) تصور ہی تو ہے!! Michael Werner نے بالکل درست کہا کہ الفاظ اور منطق پوسٹ ماڈرن حضرات کے ہاں ایک جابرانہ ہتھکنڈہ ہے لیکن انہوں نے جتنی کتابیں لکھی ہیں ان میں منطق اور الفاظ ہی کا سہارا لیا ہے!!

۲۔عدمِ برداشت (Hostility and Intolerance):

اگرچہ برداشت بظاہر اس فکر میں ایک بڑی قدر کہلائی جاتی ہے ،مگر وہ اکثر انتہائی تنگ نظر اورغیر روادار پائے جاتے ہیں۔اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے دوسروں کے خیالات اور عقائد کو اضافی قرار دے کر ٹھکرانے والے کو اگر یہی دلیل دی جائے تو ان کا رویّہ دیدنی ہوتا ہے۔

۳۔متضاد اضافیت (Inconsistent Relativism):

پوسٹ ماڈرن ازم میں عدل و انصاف کا دعویٰ تو کیا جاتا ہے مگر اس کے لیے صحیح اور غلط کے معیارات کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ یہ لوگ روایتی اخلاقی معیارات کے خلاف لعنت و ملامت کرتے ہیں جوعالمگیر طور پر مانے جاتے ہیں لیکن ان کی جگہ نئے مطلق اخلاقی معیارات کو دوسروں پر لاگو کرنا چاہتے ہیں۔ Bill Watkins نے اپنی کتاب THE NEW ABSOLUTES میں بڑے خوبصورت انداز میں اضافیت کے تصور کو بے معنی اور امرِ محال ثابت کیا ہے۔(۳۲)

۴۔ تشدد میں اضافہ (Increase in violence):

اخلاقی اضافیت کا لازمی اور منطقی نتیجہ لاقانونیت اور تشدد ہے۔ یہ بالکل ظاہر سی بات ہے کہ جب کوئی اصول، کوئی ضابطہ،کوئی اخلاقی قدروجود ہی نہیں رکھتی تو معاشرے کے افرادکے ذہنوں میں مختلف بلکہ متضاد افکار جنم لیں گے۔کوئی کچھ کہہ اور سمجھ رہا ہو گا اور دوسرا کچھ اور۔ہر اپنے خیالات کو درست اور دوسرے کے خیالات کو اضافی قرار دے رہا ہو گا۔دلائل اور بحث و مباحثے میں دعویٰ یہ کیا جا رہا ہوگا کہ ہمیں وسیع الظرف اور وسیع القلب ہونا چاہیے تاکہ دوسروں کو برداشت کر سکیں۔ہم سب کو اپنا اپنا دماغ کھلا رکھنا چاہیے۔ اس کا مطلب صر ف یہ ہوتا ہے کہ ان کا مخاطب اپنا دماغ کھلا رکھے۔ اس فلسفے کے منطقی نتائج کو دیکھتے ہوئے مشہور پوسٹ ماڈرنسٹ مفکر Richard Rortyنے ایک تاریخی جملہ کہا کہ:"We should not become so open-minded that our brains fall out." یعنی ہمیں اتنا بھی کھلے دماغ والا نہیں بن جانا چاہیے کہ ہمارا سارا بھیجا ہی باہر نکل پڑے!
جی بالکل درست ! ہمارے مخاطب کو بہرحال وسیع القلب اور کھلے دماغ والا لازماً ہونا چاہیے، رہے ہم ، تو یہ حق ہم اپنے حق میں محفوظ رکھتے ہیں۔ مائیکل ویرنر پوسٹ ماڈرن ازم اور ھیومن ازم کے مستقبل کے بارے تجزیہ کرتے ہوئے جس نتیجے پر پہنچا وہ یہ ہے:
"We should not be deluded by the neoromantic siron song of Postmodernism's world utopianism. Beneath that loving facade lies a nihilistic relativism."(33)
یعنی ہمیں پوسٹ ماڈرن ازم کی نیم رومانوی دنیا کے خیالی بلند بانگ اور دلفریب راگ سے فریب نہیں کھانا چاہیے۔ اس خوبصورت چہرے کے نیچے اضافیت کی انارکی کی دنیا پھیلی ہوئی ہے۔ 
اضافیت کے خوبصورت چہرے کی فی الحقیقت اپنی اصل حیثیت کیا ہے اس کے متعلق DEREK PARFIT اپنی مشہور کتاب On What Matters میں لکھتا ہے : 
"In many books and articles, Subjectivism is not even claimed to be the best of several views, but is presented as if it were the only possible view. So it is of great importance whether this view is true".(34)
یعنی بہت سی کتابوں اور مضامین میں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ اضافیت ہی سب سے بہترین نقطہ نظر ہے لیکن اس کو اس طرح ظاہر کیا جاتا ہے جیسے یہی ایک نقطہِ نظر ممکن ہے، لہذا اس کی بڑی اہمیت ہے کہ یہ دیکھا جائے آیا یہ درست بھی ہے یا نہیں۔ اس کے بعد بہت سے دلائل و شواہد کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ:Subjectivism is false (35). یعنی اضافیت کا نظریہ درست نہیں ہو سکتا۔اسی طرح Melford Spiro  اپنی ایک کتاب میں لکھتا ہے کہ:
"And in any event the subjectivity of the human subject precludes the possibility of science discovering objective truth."(36)
یعنی اضافیت اس امکان کو ختم کر دیتی ہے کہ سائنس کوئی معروضی حقیقت کو دریافت کر سکے۔ اضافیت کا بنیادی طور پر دعویٰ یہ تھا کہ انسانی کردار، انسان کی شخصیت، اس کی وراثت اور اس کے ماحول کا نتیجہ ہے اسی لیے وہ جو نظریات و اخلاقیات اختیار کرتا ہے اپنے ایک خاص ماحول و داخلی کیفیات کے مطابق ہی ہو سکتے ہیں۔ اس کے مطابق یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی ایک شخص کی اخلاقی رائے دوسرے شخص کی اخلاقی رائے سے زیادہ بہتر، درست یا معقول کہلائی جا سکے۔ لیکن اس نقطہِ نظر کو رد کرتے ہوئے راشڈل کا خیال ہے کہ
"There is one absolute standard of values, which is the same for all rational beings, is just what morality means." (37) ۔ 
یعنی اقدار کاایک ہی مطلق پیمانہ ہے جو تمام ذی شعورمخلوق کے لیے یکساں حیثیت رکھتا ہے اور اخلاقیات کا صرف یہی مفہوم ہے۔ داخلیت یا اضافیت کے خلاف اس نے بڑے واضح الفاظ میں لکھا کہ’’ غیر مشروط اور خارج میں موجود اخلاقی قانون بطور ایک نفسیاتی حقیقت کے موجود ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم اپنے پاس کوئی خارجی دلیل نہیں رکھتے کہ دنیا کے سارے انسان کبھی اخلاقیات کے بارے میں ایک ہی نقطہِ نظر رکھیں گے، لیکن ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ قانونِ اخلاق (داخلیت کے بر عکس) اپنا ایک حقیقی وجود رکھتا ‘‘(۳۸)ولیم للی نے بھی دوٹوک انداز میں اضافیت یا داخلیت کے خلاف اپنی تحقیق ان الفاظ میں پیش کی کہ: ’’کوئی اخلاقی داخلیت کا نظریہ درست نہیں ہو سکتا اور یہ فرض کرنا نہایت ضروری ہے کہ ایک مطلق اخلاقی معیار ہو۔‘‘ (۳۹)۔
اضافیت کے خلاف ایک اہم اقتباس نقل کرکے ہم آگے بڑھتے ہیں۔ ایمٹ بارسلو نے بڑے خوبصورت انداز میں لکھا کہ: ’’ایک بات تو بالکل ظاہر ہے۔ اگر یہ دعویٰ کہ’دنیا میں ہر چیز اضافی ہے‘ اپنا وہی مفہوم رکھتا ہے جو اس سے ظاہر ہے تو اس کی زد میں باقی مفروضات کی طرح یہ دعویٰ بھی اسی طرح آ جاتا ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ کہ ’ہر چیزاضافی ہے‘ کوئی معروضی حقیقت نہیں۔ یہ بعض اشخاص کے لیے ہی درست ہو سکتی ہے جو اس پر ایمان لے آئے ہوں، لہذا یہ دعویٰ خود اپنے اندر اپنی تباہی کا سامان رکھتا ہے۔‘‘(۴۰) 
ماڈرن ازم اور پوسٹ ماڈرن ازم میں چند نمایاں فرق درجِ ذیل کے چارٹ سے ظاہر ہیں:

اس طرح کے کئی اور فرق ظاہر کیے گئے ہیں جن کی تفصیل لیسٹر فیگلے(Lestor Faigley) کی مشہور کتاب Fragments of Rationality میں دیکھی جا سکتی ہے۔ 

حاصلِ کلام:

مذہب سے جان چھڑانے کے بعدمغربی انسان کو اس بات کا یقین دلایا گیا تھا کہ اب ہر فکر،سوچ اور عمل کی بنیاد سائنسی اندازِ فکر اور عقل پر مبنی ہو گی۔کہا گیا تھا کہ مذہب تو انسانوں کو تقسیم کرتا ہے جب کہ انسان ہونے کے ناتے سب انسان برابر ہیں لہٰذا بشریت یا ہیومن ازم صحیح بنیادیں فراہم کر سکتا ہے۔ اس جدید مذہب نے جو عملی ’’فقہ‘‘ نافذ کی، وہ ماڈرن ازم اور پوسٹ ماڈرن ازم کے اصولوں پر مشتمل تھی۔ ماڈرن ازم کی عقلیت پرستی کے خلاف ، اسی ہیومن ازم کے مذہب کے تحت پوسٹ ماڈرن ازم نے علم بغاوت بلند کر دیا۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ خود ہیومن ازم کے خلاف اعتراضات ابھر کر سامنے آ گئے۔ Levi-Strauss, Barthes, Foucault, and Lacan وغیرہ نے ہیومن ازم کو ایک فلسفی دھوکہ کر رد کر دیا۔ (rejected humanism as a philosophical illusion)۔ (۴۱)Baudrillard نے ان سب سے بڑھ کریہاں تک کہہ دیا کہ ہیومن ازم مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے لہذا اس کے لیے مزیدسعی لا حاصل ہو گی۔ (۴۲)
مذہب کے خلاف ہیومن ازم نے سائنس کا سہارا لے کر دعویٰ کیا تھا کہ ہم اس کی مدد سے حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں اس لیے کسی مافوق الفطرت ہستی کی اہمیت ہے نہ ضرورت۔ لیکن پتہ چلا کہ ہیومن ازم خود ایک فلسفیانہ دھوکہ کے سوا کچھ بھی تو نہیں اور یہ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے جس کی مزید سعی لا حاصل ہوگی۔ سائنس جس کے متعلق خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ نہ صرف خدا سے چھٹکارا دلانے میں مدد کرے گی، بلکہ زندگی گزارنے کے لیے بہترین نظام سے بھی متعارف کرائے گی، اس کے متعلق بھی اب یہی لوگ ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ: 
"Science has destroyed even the refuge of the inner life. What was once a sheltering haven has become a place of terror." (43) 
یعنی ’’سائنس نے تو ہماری قلبی زندگی کو بھی تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ کبھی جو ہمارے لیے خطرے سے بچنے کے لیے جائے پناہ تھا، اب خوف و دہشت کی جگہ بن کر رہ گیا ہے۔‘‘
لبرل ازم اور ماڈرن ازم نت نئے فلسفے لے کر سامنے آتے رہے لیکن اسی فلسفے کے بطن سے اس کے خلاف آوازیں اُٹھتی گئیں، ماڈرن ازم کے خلاف پوسٹ ماڈرن ازم اوراس کے بعد اضافیت(Relativism) کے خلاف مفکرین کے اعتراضات سے ہمیں بخوبی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ مغربی انسان کے سامنے اب کوئی معیار ہی باقی نہیں رہا۔ C.G.Jung بڑی دلسوزی کے ساتھ فریاد کرتے ہوئے نظر آتا ہے کہ:’’مجھے اچھی طرح احساس ہو چکا ہے کہ میں دنیا کے لیے ایک معقول انتظام کے امکانات سے مایوس ہو چکا ہوں اور صدیوں کا پرانا خواب کہ جس میں امن و ہم آہنگی کا بول بالا ہو، اب زرد پڑتا جا رہا ہے۔‘‘(۴۴) مغربی معاشرے کی اس افراتفری ، خاندان کی تباہی اور اخلاقی اقدار کی پامالی پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک برطانوی مصنف چیخ اٹھے کہ:’’اس طویل انسانی تاریخ میں پہلی بار ایک تہذیب کو تخلیق کا اعزاز ہم اُنیسویں اور بیسویں صدی کے لوگوں کے حصے میں آیا ہے۔ صنعتی دور نے بہت سے فوائد پہنچائے ہیں، لیکن اس نے انسان کے لیے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جو دیکھنے میں ایک بھیانک خواب سے کم نہیں۔‘‘(۴۵)
علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا: ع
تمہاری تہذیب اپنے خنجرسے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
اس فکری انتشار کے بعدبھی اگر کوئی مغربی معاشرے کو ہی اپنانا چاہتا ہو تو الگ بات ہے مگر ہم سب کو قرآن کا ایک آفاقی اصول ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے کہ: وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِےْشَۃً ضَنْکًا (۱۲۴/۲۰) کہ جو ہماری کتابِ ہدایت سے منہ موڑے گا، اس کے لیے سخت تنگ و ترش زندگی ہو گی۔ 

حواشی:

10. Heike Wrenn,English 428; The Woman in Modernism; (p.10)
11. Jack Grassby: Gender and Sexulaty; (p.31)
12. Suzanne Paul: Feminism/Postmodernism; (p.107)
13. ibid, p 107
14. Rhonda Hammar and Douglas Kellner: Third Wave Feminism; (p.7)
۱۵۔ ڈاکٹر محمد آفتاب خان/ریاض اختر: ماہنامہ ’ترجمان القرآن، دسمبر ۲۰۱۲ء، (ص ۹۳)
16. Gloria Steinen: The Impact of Feminism on the Family;
17. ibid
18. ibid
۱۹۔ مرزا محمد الیاس: قتلِ غیرت، (ص ۱۷۲)
۲۰۔ مرزا محمد الیاس: ہفت روزہ آئین مئی، ۲۰۰۵ ؁ء ،(ص ۲۰۰)
21. Larry J. Solomon: What is Post-modernism?
22. Michael Werner,1991: Post Modernism and the Future of Humanism.
23. ibid
24. ibid
25. Jack Grassby: Post-Modernism Humanism; (p1)
26. ibid; (p.4)
27. ibid; (p.6)
28. ibid; (p.13)
29. Richard Rorty: Consequences of Pragmatism; (p.151)
30. Thomas W. Clark 1993 : Humanism and Post-Modernism - A Renconciliation
31. Larry J. Solomon: What is Post-modernism?
32. Bill Crouse: Post Modernism - a new paradigm.
33. Michael Werner,1991: Post Modernism and the Future of Humanism.
34. DEREK PARFIT: On What Matters; p.85. 
35. ibid; pp.92, 96, . 
36. Spiro, Melford E. (1996) Postmodernist Anthropology, Subjectivity, and Science. A Modernist Critique. In Comparative Studies in Society and History. V. p.759-780.
37. H. Rashdal: Theory of Good and Evil. vol.2, p.286 
38. Ibid, p. 211
39. Williams Lillie: An Introduction to Ethics; p. 116. 
40. Emmett Barcalow: An Introduction to Philosophy; p. 107. 
41. Rhonda Hammar and Douglas Kellner: Third Wave Feminism; ???
42. ibid, (p.15)
43. C.G.Jung: Man in search of soul; p. 236. 
44. ibid; p. 235. 
45. Gai Eaton: King of the Castle; (p.109)

جمہوریت، جہاد اور غلبہ اسلام

محمد عمار خان ناصر

اسلام آباد میں قائم، ملک کے معروف تحقیقی ادارے پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) نے حالیہ چند مہینوں میں اسلام، جمہوریت او رآئین پاکستان کے موضوع پر لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں متعدد علمی وفکری مذاکروں کا اہتمام کیا اور ملک بھر سے مختلف حلقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے اہل فکر ودانش کو موضوع کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کے لیے جمع کیا۔ ان نشستوں کے انعقاد کا مقصد یہ تھا کہ نائن الیون جیسے واقعات کے تناظر میں جدید جمہوری اصولوں پر قائم نظم حکومت کو خلاف شریعت قرار دے کر ریاستی نظام کو بزور قوت تبدیل کرنے کی جو سوچ پیدا ہوئی ہے، اس کے فکری مقدمات اور اہم اعتراضات کا جائزہ لیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ نفاذ اسلام کے لیے جمہوری اصولوں کے تحت پرامن جدوجہد پر یقین رکھنے والے مذہبی طبقات اس ساری صورت حال کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگرچہ منتظمین کی طرف سے اس کی بھی کوشش کی گئی کہ ان مذاکروں میں مسلح جدوجہد پر یقین رکھنے والے عناصر کی بھی نمائندگی ہو اور دونوں نقطہ ہائے نظر کو باہمی مکالمہ کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا جائے، تاہم اس میں زیادہ کامیابی نہیں ہوئی اور منعقدہ مذاکروں میں زیادہ تر مین اسٹریم کے نمائندہ مذہبی اسکالرز نے ہی حصہ لیا۔ کچھ عرصہ قبل مذکورہ ادارے نے جدید مسلم ریاستوں کے خلاف مسلح جدوجہد کے موضوع پر بھی اسی نوعیت کے مذاکروں کی ایک سیریز منعقد کی تھی جس میں بڑی وقیع اور اہم بحثیں سامنے آئیں، تاہم اس موقع پر بھی عمومی صورت حال یہی رہی اور جمہوری نظم ریاست سے اختلاف رکھنے والے عناصر کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر رہی۔ 
بہرحال اسلام، جمہوریت اور آئین پاکستان کے موضوع پر حالیہ سلسلہ مجالس کی آخری نشست ۲۲ ستمبر ۲۰۱۴ء کو اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں ڈاکٹر قبلہ ایاز، خورشید احمد ندیم، صاحبزادہ امانت رسول، مولانا احمد بنوری، مولانا اعجاز احمد صمدانی، مولانا محمد شفیع چترالی، ڈاکٹر رشید احمد، مولانا یاسین ظفر، جناب ثاقب اکبر، مولانا عبد الحق ہاشمی اور راقم الحروف نے شرکت کی۔ منتظمین کی طرف سے راقم کو ان تمام مذاکروں کی روشنی میں ابھر کر سامنے آنے والے متفقہ نکات مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی اور آخری اجلاس میں راقم کے مرتب کردہ درج ذیل نکات کو ’’متفقہ سفارشات‘‘ کی حیثیت سے منظور کیا گیا:
’’۱۔ اسلام کے سیاسی نظام میں حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ مسلمان ریاست میں کوئی قانون شریعت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا۔ البتہ اجتہادی امور میں اجتماعی بصیرت اور غور وفکر سے قانون سازی کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ مجلس قانون ساز کا تصور بنیادی طور پر اسلام کے خلاف نہیں ہے۔
۲۔ اسلام کا سیاسی نظام شورائیت کے اصول پر مبنی ہے۔ مطلق العنان بادشاہی اور آمریت کا طرز حکومت اسلامی تصورات کے خلاف ہے۔
۳۔ حکمرانوں کو رائے عامہ کا اعتماد حاصل ہونا چاہیے۔ تاہم حکمران کے انتخاب کا کوئی لگا بندھا ضابطہ شریعت میں نہیں بتایا گیا۔ خلفائے راشدین کا انتخاب الگ الگ طریقوں سے کیا گیا۔ اس لیے بدلتے ہوئے حالات میں اس مقصد کے لیے کوئی بھی موزوں طریق کار اختیار کیا جا سکتا ہے۔
۴۔ اسلام کی رو سے امیدوار کا انتخاب ایمان، عمل صالح، اہلیت وصلاحیت اور دیانت وامانت کی بنیاد پر ہونا چاہیے، جیساکہ آئین پاکستان کی شق ۶۲ و ۶۳ میں بھی اس کی ضمانت دی گئی ہے۔ پاکستان میں نظام انتخابات کی اصلاح کے ضمن میں اقدامات وتجاویز کو قومی سطح پر موضوع بحث بنایا جائے اور مروجہ طریق کار کے ساتھ دیگر متبادل طریقہ ہائے کار مثلا متناسب نمائندگی وغیرہ کو بھی زیر غور لایا جائے۔
۵۔ ریاستی سطح پر طے ہونے والے اجتماعی معاملات میں اختلافات ونزاعات کے تصفیے کے لیے اکثریت کی رائے کو بنیاد بنائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اقلیت کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنے تصورات اکثریت پر مسلط کرے۔ یہی اصول شریعت کی تعبیر وتشریح کے باب میں بھی لاگو ہوگا اور اس کا فیصلہ منتخب پارلیمان کی سطح پر ہوگا۔
۶۔ اسلام اگرچہ مختلف سیاسی گروہوں کے وجود کی نفی نہیں کرتا، لیکن وہ اس پر اصرار کرتا ہے کہ حکمرانوں پر تنقید یا ان سے اختلاف کا مقصد نظام حکومت کی بہتری، انسانی حقوق کا تحفظ اور رفلاح عامہ ہونی چاہیے۔ اسلام دھڑے بندی اور اختلاف برائے اختلاف کے بجائے باہمی تعاون اور خیر خواہانہ محاسبہ وتنقید کو حکمرانوں اور رعایا کے باہمی تعلقات کی بنیاد تصور کرتا ہے۔
۷۔ پاکستان کا آئین ایک اسلامی آئین ہے جو علماء کی تائید سر مرتب کیا گیا ہے۔ اس میں قرارداد مقاصد دیباچے کے طور پر موجود ہے ، قوانین کو قرآن وسنت کے تابع رکھنے کی ضمانت دی گئی ہے اور خلاف شریعت قوانین کی تبدیلی کے لیے پورا طریق کار وضع کیا گیا ہے۔ اس کی حیثیت قومی اتفاق کی ہے جسے تمام نمائندہ طبقات کا اعتماد حاصل ہے۔
۸۔ آئین میں دی گئی ضمانتوں اور یقین دہانیوں کے باوجود ملک کے عملی نظام سے متعدد غیر اسلامی امور کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا۔ اس پہلو پر خاص توجہ دینی چاہیے، کیونکہ یہ آئین میں کیے گئے عہد کا بھی تقاضا ہے اور حکومتوں کی طرف سے عملی کوتاہی اور تساہل کی وجہ سے فی نفسہ آئین اور دستور کے متعلق بھی منفی رجحانات جنم لے رہے ہیں۔
۹۔ ملکی قوانین کی شریعت کی روشنی میں اصلاح کے لیے آئین ادارے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو غور وخوض اور بحث کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دستوری طور پر کونسل کی سفارشات کا پارلیمان کے سامنے پیش کیا جانا ضروری ہو۔
۱۰۔ دستور پاکستان کی حیثیت ایک قومی معاہدے کی ہے جس کی پاس داری اسلامی تعلیمات کی رو سے تمام فریقوں پر ضروری ہے۔ البتہ دستور کی ہیئت میں کسی تبدیلی یا متبادل تجاویز کے حوالے سے بحث ومباحثہ کا دروازہ کھلا رکھنا چاہیے۔ نہ تو دستور کی کسی شق سے نظری اختلاف کو غداری قرار دینا چاہیے اور نہ عملی طور پر دستور سے ہٹ کر بزور قوت ملکی نظام میں کوئی تبدیلی لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
۱۱۔ بعض طبقات کی طرف سے اسلامی اقدار کے منافی غیر ذمہ دارانہ رویوں کی وجہ سے رد عمل پیدا ہوتا ہے جو بسا اوقات تشدد پر منتج ہوتا ہے۔ اس رجحان کے سد باب کے لیے غیر اسلامی تصورات اور سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے اور مثبت اقدار کے فروغ کے لیے ریاست کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
۱۲۔ مسلمان معاشروں میں جمہوریت کا وہی تصور قابل قبول ہو سکتا ہے جو اسلامی نظام اقدار اور ضابطہ حیات سے ہم آہنگ ہو۔ مغربی قوتوں کو چاہیے کہ وہ مسلمان معاشروں کی مذہبی وثقافتی حساسیتوں اور ترجیحات کو پیش نظر رکھیں اور معاشرت کی تشکیل یا انتقال اقتدار کے حوالے سے مسلم رائے عامہ کے اکثریتی وجمہوری فیصلوں کا احترام کریں۔ 
۱۳۔ ایک نظریاتی اسلامی ریاست اور ایک قومی ریاست کی ترجیحات میں فرق کے حوالے سے پاکستان کے مختلف طبقات میں فکری ابہامات پائے جاتے ہیں جنھیں فکری سطح پر موضوع بنانے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں علمی وتحقیقی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
۱۴۔ نفاذ اسلام کے لیے غیر جمہوری اور عسکری جدوجہد پر یقین رکھنے والے طبقات کے ساتھ اسلام اور جمہوریت نیز جہاد اور غلبہ دین جیسے اساسی تصورات کے حوالے سے براہ راست مکالمے کا اہتمام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ اس ضمن میں موجود غلط فہمیوں اور ابہامات کا ازالہ کیا جا سکے۔‘‘
مذکورہ سفارشات کا آخری نکتہ خاص طور پر راقم الحروف نے اپنی گفتگو میں اٹھایا تھا اور یہ عرض کیا تھا کہ جو ذہن ’’جہاد‘‘ کے تصور کے زیر اثر پاکستان کے ریاستی نظام کے خلاف برسرپیکار ہے، اس کے ساتھ مکالمے کے لیے بنیادی سوالات وہ نہیں ہیں جن کا مذکورہ سفارشات میں جواب دیا گیا ہے۔ اس ذہن کے فکری مقدمات اور اس طرز جدوجہد کے محرکات کو درست طور پر سمجھنے اور اس کے ساتھ مکالمہ کرنے کے لیے محدود سطح کی آئینی وقانونی یا فقہی بحثیں غیر موثر اور غیر متعلق ہیں۔ اس کے لیے اعلیٰ فلسفیانہ اور فکری سطح پر تاریخ وتہذیب سے متعلق چند اساسی سوالات کو موضوع بحث بنانا ہوگا اور ایسی بحثیں اٹھانا ہوں گی جو مذہبی ذہن کو تاریخ انسانی میں اسلام کے کردار اور غلبہ دین جیسے تصورات پر نئے پہلوؤں سے غور کرنے میں مدد دیں۔ راقم نے اس ضمن میں غور وفکر اور مکالمہ کے لیے جن سوالات ومباحث کی طرف توجہ دلائی، وہ حسب ذیل ہیں:
۱۔ دنیا میں تہذیبی وسیاسی غلبے سے متعلق سنت الٰہی کیا ہے؟ کیا یہ معاملہ سرتا سر انسانی تدبیر سے متعلق ہے یا اس میں تکوینی فیصلے کارفرما ہوتے ہیں؟ اس ضمن میں تکوینی مشیت الٰہی اور انسانی تدبیر میں سے اصل اور اساس کی حیثیت کس کو حاصل ہے؟
۲۔ سنت الٰہی کی رو سے کسی قوم کو دنیا میں غلبہ واقتدار حق وباطل کے ساتھ وابستگی کی بنیاد پر دیا جاتا ہے یا اس کی بنیاد کسی دوسرے اصول پر ہے؟ پوری انسانی تاریخ میں جن جن قوموں اور تہذیبوں کو دنیا میں عالمی اقتدار حاصل رہا ہے، کیا وہ سب کی سب حق کی پیروکار تھیں؟ نیز ان قوموں کو یہ سیادت واقتدار کسی تکوینی سنت الٰہی کے تحت ملا تھا یا وہ مشیت الٰہی کے علی الرغم اس پر قابض ہو گئی تھیں؟
۳۔ کسی قوم کو سنت الٰہی کے تحت غلبہ واقتدار دیا جائے اور پھر وہ رو بہ زوال ہو جائے تو قانون الٰہی کے تحت اس کی بنیادی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اس کے اسباب اصلاً داخلی ہوتے ہیں یا خارجی؟ کیا کوئی مخالف گروہ محض اپنی سازشوں کے ذریعے سے کسی سربلند قوم کو زوال سے ہم کنار کر سکتا ہے؟ (اس ضمن میں ذَالِکَ باَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مَغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَھَا عَلَی قَومٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِاَنْفُسِھِمْ کے اصول پر خاص توجہ کی ضرورت ہے۔)
۴۔ اگر کسی قوم کی، منصب سیادت سے معزولی کا فیصلہ اخلاقی اصولوں کے تحت تکوینی سطح پر ہوتا ہے تو کیا اس کو محض انسانی تدبیر سے بدلا جا سکتا ہے؟
۵۔ اگر کوئی قوم صدیوں کے عمل کے نتیجے میں زوال کا شکار ہوئی ہے تو کیا اس صورت حال کو سالوں کی جدوجہد سے بدلا جا سکتا ہے؟ دوسرے لفظوں میں انسانی تاریخ کی سطح پر رونما ہونے والے کسی ہمہ گیر اور جوہری تغیر کو محدود وقتی نوعیت کی حکمت عملی (short term strategy) کے ذریعے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے؟
۶۔ اگر حق کی حامل کوئی قوم سنت الٰہی کے مطابق غلبہ وسیادت کے لیے مطلوبہ اوصاف سے محرومی کے بعد زوال سے ہم کنار کر دی جائے تو کیا محض ’جہاد‘ شروع کر دینے سے اسے دوبارہ غلبہ حاصل ہو جائے گا؟ دوسرے لفظوں میں ’جہاد‘ غلبہ وسیادت کی ایک مکمل اسکیم کا جزو اور حصہ ہے یا محض یہ ایک نکاتی ایجنڈا ہی مطلوبہ نتیجے تک پہنچا دینے کا ضامن ہے؟
۷۔ کیا کسی قوم کو اس کے تہذیبی وسیاسی غلبے کے دورِ عروج میں طاقت کے زور پر شکست دی جا سکتی ہے؟ اس ضمن میں انسانی تاریخ کے مسلسل واقعات ہماری کیا راہ نمائی کرتے ہیں؟
۸۔ مسلح تصادم کو بطور حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے نفع ونقصان کے تناسب اور طاقت کے توازن کے سوال کی اہمیت کتنی ہے؟ اس حوالے سے قرآن وسنت اور فقہ اسلامی ہماری کیا راہ نمائی کرتے ہیں؟
۹۔ روحانی سطح پر امت میں ایمان، یقین، اعلیٰ کردار اور بلند اخلاق کے اوصاف اجتماعی سطح پر پیدا کیے بغیر کیا محض عسکری جدوجہد سے مغرب کے غلبہ کو امت مسلمہ کے غلبے سے تبدیل کر دینا ممکن ہے؟
۱۰۔ امت مسلمہ میں داخلی سطح پر مذہبی، سیاسی اور نسلی تفریقات کی موجودگی میں اور ٹھوس سیاسی وعمرانی بنیادوں پر ان کا کوئی حل نکالے بغیر کیا بطور امت، مسلمانوں میں وہ وحدت پیدا ہو سکتی ہے جو بطور ایک تہذیب کے، مغرب کی سیادت کو چیلنج کرنے کے لیے درکار ہے؟
۱۱۔ کیا دنیا پر مغرب کا استیلا محض عسکری اور سیاسی واقتصادی ہے یا اس کے پیچھے فکر وفلسفہ کی قوت بھی کارفرما ہے؟ حیات وکائنات اور انسانی معاشرت سے متعلق مغرب نے مذہب کی نفی پر مبنی جو افکار ونظریات پیش کیے اور متنوع انسانی علوم وفنون کی مدد سے انھیں ایک طاقتور متبادل فلسفہ حیات کے طور پر منوا لیا ہے، ان کا سحر توڑے بغیر کیا محض عسکری میدان میں نبرد آزمائی سے مغرب کے استیلا کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے؟
۱۲۔ اگر حق کا حامل گروہ مخصوص حالات میں مغلوب ہو جائے تو انسانی تاریخ کی روشنی میں، کیا حق کے، باطل پر غالب آنے کی یہی ایک صورت ممکن ہے کہ مغلوب گروہ کو دوبارہ غلبہ حاصل ہو جائے یا اس سے مختلف صورتیں بھی ممکن ہیں؟ مثلاً یہ کہ باطل کا پیروکار گروہ طاقت کے میدان میں غالب رہتے ہوئے دعوتِ حق سے مغلوب ہو کر اس کی پیروی اختیار کر لے؟ (جیسے مسیحیت کی تاریخ میں رومۃ الکبریٰ کے مسیحی مذہب کو اختیار کر لینے سے اور اسلامی تاریخ میں تاتاریوں کے حلقہ بگوش اسلام ہو جانے کی صورت میں ہوا)
۱۳۔ دنیا میں اسلام کو دوبارہ غلبہ حاصل ہونے کے ضمن میں ظہور مہدی اور نزول مسیح علیہ السلام سے متعلق جن پیشین گوئیوں کی بنیاد پر ایک تصور مستقبل قائم کیا جاتا ہے، کیا وہ علمی وشرعی طور پر کسی حکمت عملی کا ماخذ بن سکتی ہیں؟ یعنی کیا اس چیز کو حکمت عملی کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں ایسے حالات پیدا کرنے کی سعی کی جائے جس میں مذکورہ شخصیات کا ظہور ہونا ہے؟ ان شخصیات کے ساتھ بلکہ ان سے پہلے دجال کے ظہور کی بات بھی روایات میں بیان ہوئی ہے جس سے تمام انبیاء پناہ مانگتے آئے ہیں۔ ایسی صورت میں ظہور دجال کے لیے حالات کو ہموار کرنے کی شعوری کوششوں کی دین وشریعت کے نقطہ نظر سے کیا حیثیت ہوگی؟
۱۴۔ مذکورہ واقعات سے متعلق روایات کیا اتنی واضح، مربوط اور مفصل ومنضبط ہیں کہ ان سے کسی مخصوص تاریخی دور کے ظہور اور واقعات کی ترتیب کا ایک واضح نقشہ اخذ کیا جا سکے ؟ کیا تمام متعلقہ روایات علم حدیث کی رو سے اس درجے کی ہیں اور ان میں بیان ہونے والے تمام تر اجزا اور ان کی زمانی وواقعاتی ترتیب اتنی قطعی اور واضح ہے کہ ان پر باقاعدہ ایک حکمت عملی کی بنیاد رکھی جا سکے؟
۱۵۔ کسی بھی صورت حال میں دینی جدوجہد کی ذمہ داری کی نوعیت اور اہداف طے شدہ ہیں یا اضافی؟ یعنی کیا اہل ایمان ہر طرح کی صورت حال میں پابند ہیں کہ ایک ہی طرح کے اہداف کے حصول کے لیے جدوجہد کو اپنی ذمہ داری تصور کریں یا یہ کہ اس کا تعلق حالات وظروف سے ہے؟ اس ضمن میں انبیائے سابقین میں سے، مثال کے طور پر، حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت مسیح علیہ السلام نے جو طریقہ اختیار فرمایا، وہ اسی طرح کے حالات میں امت محمدیہ کے لیے بھی قابل استفادہ ہے یانہیں؟ نیز کسی بھی صورت حال میں کسی ہدف کے حصول کے لیے جدوجہد کے لیے حکمت عملی کا مسئلہ منصوص، متعین او ربے لچک ہے یا اجتہادی؟
۱۶۔ کسی بھی صورت حال میں بحیثیت مجموعی پوری امت کے لیے یا کسی مخصوص خطے میں اس علاقے کے مسلمانوں کے لیے حکمت عملی متعین کرنے کا حق کس کو حاصل ہے؟ کیا یہ اہل ایمان کا اجتماعی حق ہے یا اس میں کسی مخصوص گروہ کو باقی امت کے مقابلے میں زیادہ فضیلت اور اختیار حاصل ہے؟ دوسرے لفظوں میں، کیا کسی گروہ کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے تئیں کسی ایسی حکمت عملی کا تعین کر کے اس پر عمل شروع کر دے جس کے نتائج عمومی طور پر مسلمانوں کو بھگتنا پڑیں، حالانکہ اقدام کرنے والے گروہ کو عمومی طور پر مسلمانوں کا اعتماد یا ان کی طرف سے امت کے اجتماعی فیصلے کرنے کا اختیار نہ دیا گیا ہو؟
راقم نے یہ تجویز دی کہ مذکورہ سوالات پر غور وفکر اور مباحثہ کے لیے ایک مستقل سلسلہ مجالس کا انعقاد کیا جائے اور اس میں ہر دو نقطہ ہائے نظر کے حامل اہل علم ودانش کو باہمی مکالمہ کا موقع فراہم کیا جائے۔ مجھے امید ہے کہ قومی سطح کے علمی وفکری ادارے اور ان کے علاوہ ہماری جامعات ان سوالات کو غور وفکر او رتحقیق کا موضوع بنانے کی ضرورت کا ادراک کریں گی، اس لیے کہ ان سوالات سے متعلق اپنے تصورات کو واضح اور یکسو کیے بغیر امت مسلمہ کے لیے دور جدید میں عالمی سطح پر کوئی کردار ادا کرنا تو درکنار، اپنے لیے کوئی اجتماعی سمت اور رخ متعین کرنا بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

دیوبندی جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم کا قیام

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ابن امیر شریعت مولانا حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری باہمت بزرگ ہیں جو بڑھاپے، ضعف اور علالت کے باوجود اہل حق کو جمع کرنے کے مشن پر گام زن اور اس کے لیے پرعزم ہیں۔ وہ علمائے دیوبند کی مختلف جماعتوں اور حلقوں کو ایک فورم پر متحد کرنے کے لیے محنت کر رہے ہیں۔ ۱۸؍ نومبر کو ان کی دعوت پر اسلام آباد مختلف دیوبندی جماعتوں، حلقوں اور مراکز کے سرکردہ حضرات جمع ہوئے اور علماء دیوبند کی جماعتوں، حلقوں اور مراکز کے درمیان رابطہ واشتراک عمل کے لیے حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر دامت برکاتہم کی سربراہی میں سپریم کونسل اور حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری کی سربراہی میں رابطہ کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس اعلان کے بعد سے ملک بھر سے احباب مسلسل پوچھ رہے ہیں کہ یہ تو بہت اچھا ہو گیا ہے اور ہمیں اس کا شدت سے انتظار تھا، مگر اب کرنا کیا ہے اور خاص طو رپر علاقائی اور مقامی سطح پر علماء کرام اور کارکنوں کوکس انداز میں کام کرنا چاہیے؟
اس کے بارے میں دو تین گذارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
ایک یہ کہ اسلام آباد کے اجتماع میں مشترکہ جدوجہد کے لیے جو اہداف طے پائے ہیں، ان کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے۔ یہ رسمی امور نہیں ہیں، بلکہ طویل مشاورت اور غور وخوض کے بعد ان کا تعین کیا گیا ہے۔ ان سے ہر دیوبندی کا واقف ہونا اور ان کے مطابق اپنے منتشر فکر وعمل کو مجتمع کرنا ضروری ہے۔ یہ بات اس لیے بھی عرض کر رہا ہوں کہ چند سال قبل جامعہ اشرفیہ لاہور میں دیوبندی جماعتوں اور مراکز کا اس سے بڑا اور بھرپور نمائندہ اجتماع ہوا تھا اور کئی نشستوں کے مباحثہ اور غور وخوض کے بعد ایک اعلامیہ متفقہ طور پر طے پایا تھا جسے ملک بھر میں ایک ’’متوازن اور جامع اعلامیہ‘‘ کے طور پر سراہا گیا تھا، مگر اس کی ایک بار اشاعت کے بعد ہم اسے بھول ہی گئے ہیں حتیٰ کہ ہمارے بیشتر دینی جرائد نے بھی اس کی اشاعت کی ضرورت محسوس نہیں کی جس کی وجہ سے اس بھرپور اجتماع کے ثمرات وفوائد دیر پا ثابت نہیں ہوئے۔ اس لیے ہمارے خیال میں یہ سب سے زیادہ ضروری ہے کہ تبلیغی جماعت کے چھ نمبروں کی طرح ان آٹھ نکات کی بھی بار بار اور ہر سطح پر تشہیر کی جائے اور ہر دیوبندی کو ذہن نشین کرا دیا جائے کہ اس کی آئندہ جدوجہد کا دائرہ یہ آٹھ نکات ہیں جو درج ذیل ہیں:
۱۔ پاکستان کے اسلامی تشخص کا تحفظ اور اسلامی نظام کا نفاذ
۲۔ قومی خود مختاری اور ملکی سا لمیت ووحدت کا تحفظ، امریکہ اور دیگر طاغوتی قوتوں کے سیاسی ومعاشی غلبہ وتسلط سے نجات
۳۔ ۷۳ء کے دستور بالخصوص اسلامی دفعات کی عمل داری
۴۔ تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے قوانین اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل داری کی جدوجہد
۵۔ مقام اہل بیت عظام وصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تحفظ
۶۔ قومی تعلیمی نصاب میں غیر ملکی کلچر کے فروغ کی مذمت اور روک تھام
۷۔ فحاشی وعریانی اور مغربی کلچر کے فروغ کی مذمت اور روک تھام
۸۔ ملک میں فرقہ وارانہ نفرت انگیزی بالخصوص شیعہ سنی اختلافات کو فسادات کی صورت اختیار کرنے سے روکنا
ہمارے خیال میں سپریم کونسل میں شامل جماعتوں کے نام، ان کے سربراہوں کے اسماء گرامی، رابطہ کمیٹی کے ارکان کے نام اور مذکورہ بالا آٹھ نکات ایک پمفلٹ کی شکل میں شائع کر کے اس کی ملک بھر میں ہر سطح پر تشہیر کی جائے اور تمام دینی جرائد اسے شائع کر دیں تو یہ مقصد کسی حد تک پورا ہو سکتا ہے۔
دوسرے نمبر پر میں محترم حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری کے اس ارشاد کا اپنے مکمل اتفاق کے ساتھ ذکر کرنا چاہوں گا کہ مذکورہ بالا آٹھ نکات مسلکی سے کہیں زیادہ قومی اور ملی مقاصد کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کے لیے قومی سطح پر جدوجہد کو منظم کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے دیگر مکاتب فکر کو اعتماد میں لینا اور انھیں ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہے۔ ہماری اب تک کی جدوجہد اپنے گھر کی اصلاح اور داخلی صف بندی کو درست کرنے کے لیے ہے تاکہ ہم پورے اعتماد، حوصلہ اور باہمی اتفاق کے ساتھ دوسرے مکاتب فکر سے بات کر سکیں اور مضبوط بنیادوں پر قومی جدوجہد کا لائحہ عمل تشکیل دے سکیں اور اس کام میں جس قدر جلد پیش رفت ہو سکے، اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
تیسرے نمبر پر یہ عرض کرنا چاہوں گاکہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ سپریم کونسل تو جماعتوں کے سربراہوں پر مشتمل ہے جو سال میں ایک دو بار ہی مجتمع ہو سکے گی۔ عملی طور پر سارا کام رابطہ کمیٹی نے کرنا ہے، اس لیے جہاں یہ ضروری ہے کہ رابطہ کمیٹی کے ارکان اپنی ذمہ داری کو زیادہ اہمیت کے ساتھ محسوس کریں اور ملک بھر کے احباب کو مایوس ہونے سے بچائیں، وہاں تمام دینی وسیاسی جماعتوں، علمی مراکز، مسلکی حلقوں، علماء کرام اور کارکنوں کو بھی چاہیے کہ وہ رابطہ کمیٹی کو بھرپور اعتماد اور تعاون فراہم کریں اور رابطہ کمیٹی جو لائحہ عمل طے کرے، اس کے مطابق جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے ہر سطح پر محنت کریں تاکہ ہم سب مل کر اپنے ملی، دینی اور مسلکی فرائض کی تکمیل کے لیے آگے بڑھ سکیں۔

حافظ عبد الحمیدؒ کا انتقال

۲۴؍ نومبر کو میرے برادر نسبتی اور عزیزم عمار ناصر کے ماموں حافظ عبد الحمیدؒ انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ کافی عرصہ سے مختلف امراض کے باعث صاحب فراش تھے۔ اس سے تین روز قبل میں راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں ان کی بیمار پرسی کے لیے گیا تھا تو اس وقت بھی حالت تشویش سے خالی نہیں تھی۔ قارئین سے درخواست ہے کہ وہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ انھیں جنت الفردوس میں جگہ دیں اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
لندن ۲۶؍اکتوبر ۱۴ٍ۲۰ء
بخدمت گرامی مرتبت مولا نا زاہد الراشدی دامت الطافہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
راقم نے آپ کے جوابِ باصواب کی رسید دیتے ہوئے عرض کیا تھا کہ رسید کے علاوہ مجھے کچھ اور بھی کہنا ہے جو ذرا ٹھہر کر۔ یہ عریضہ اسی سلسلہ کا ہے۔ عرض یہ کرنا تھا کہ اپنا روزنامہ اسلام والا محولہ کالم ذرا دوبارہ ملاحظہ فرمائیں۔ میری نظرمیں تو وہ اوج صاحب کو واضح طور علمی اعتبار عطا کرتا تھا۔ اسی کے باعث تو مجھے اندیشہ ہوا تھا کہ میں نے اپنی تنقید میں کہیں جہالت کا ثبوت تو نہیں دے دیا۔
اس گزارش کا مقصد اوج صاحب کے مسئلہ سے بحث نہیں ہے، بلکہ عرض کرنا ہے کہ آپ اس طرح کے لوگوں کے معاملہ میں جس درجہ وسعتِ قلبی کا سلوک اپنے اخلاقِ عالیہ کے زیر اثر کرتے ہیں، وہ ہم جیسے محبین کی نظر میں بھی نظر ثانی کا متقاضی ہے۔ مولانا سلیم اللہ خاں صاحب سے آپ کو انتہاء پسندی کی شکایت ہو سکتی ہے (اور میں فی الجملہ اتفاق کروں گا) لیکن اس اوج صاحب ہی کے معاملہ کو سامنے رکھ کر غور فرمائیے کہ اس وقت کے سب سے بزرگ دیوبندی شیخ کی حیثیت سے (یہ الفاظ ملحوظ رہیں) ان پر اگر آپ کے اس طرح کے ’’فی الجملہ‘‘ انتہا پسندانہ رویہ کا رد عمل سخت ہوا تو کچھ ذمہ داری اس کی دوسری طرف بھی ہے کہ نہیں؟ اوج صاحب نے اپنے مضمون میں جس چیز کے خلاف دادِ تحقیق دی تھی، وہ موقفِ جمہور ہی نہیں، امر منصوص تھا۔ مگر آپ کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ وسعتِ قلب اس کی سمائی کے لیے بھی تنگ نہ تھی۔
مولانا! محبانہ عرض ہے کہ ذرا نظر ثانی کی ضرورت سمجھیں۔ ہم تو خود اچھے خاصے آزاد خیال ہیں جس کا آپ کو ضرور اندازہ ہوگا، مگر پھر بھی آپ کے معاملہ میں ایسا محسوس کریں تو کچھ تو وجہ ہونی چاہیے۔ کوئی بات اپنی حد سے بڑھ کر لکھ دی ہو تو در گزر فرمائیے گا۔ گزارش کا محرک ’’الدین النصیحۃ‘‘ کے سوا کچھ نہیں۔ والسلام 
نیازمند، عتیق سنبھلی
(۲)
باسمہ سبحانہ
محترمی حضرت مولانا عتیق الرحمن سنبھلی صاحب دامت فیوضکم
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟
مکرر یاد فرمائی اور خیر خواہی کا صمیم قلب سے شکریہ!
آپ کا ارشاد میرے لیے مشورہ کا نہیں، بلکہ راہ نمائی کا درجہ رکھتا ہے جس کا آئندہ ان شاء اللہ لحاظ رکھا جائے گا۔ البتہ اس سے ہٹ کر اس حوالہ سے بھی راہ نمائی کا طالب ہوں کہ کیا گمراہی کی طرف جانے والوں کو جانے دینے کی بجائے واپس لانے کی کوشش زیادہ بہتر حکمت عملی نہیں ہے؟ تاریخ کے طالب علم کے طور پر میرے ذہن میں ایک بات مسلسل اٹکی ہوئی ہے کہ واصل بن عطا کو اگر امام التابعین حضرت حسن بصریؒ کی بجائے حضرت امام ابوحنیفہؒ کی مجلس میسر آ جاتی اور بحث ومباحثہ کا کھلا ماحول مل جاتا تو شاید اعتزل عنا کی نوبت نہ آتی۔ ہم نے اپنے دور میں اس کا مشاہدہ بھی کیا ہے کہ غلام احمد پرویز کو فتووں کا سامنا تھا اس لیے دوسری طرف لڑھک گئے، جبکہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق مرحوم کو براہ راست فتوے کی جائے کسی حد تک مکالمہ کا ماحول میسر آ گیا تو رجوع کی صورت بن گئی۔ 
مجھے فقہاء عظامؒ کے اس ارشاد کے حوالے سے بھی کبھی کبھی الجھن ہونے لگتی ہے کہ ایک شخص مرتد ہو جائے اور اس کا ارتداد ثابت ہو جانے کے بعد سزا دینی کا فیصلہ ہو جائے، تب بھی اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اسے توبہ کے لیے تین دن کی مہلت دی جائے اور اس کے شکوک وشبہات دور کرنے کے لیے اہل علم ماہرین فراہم کیے جائیں، مگر ہمارا حال یہ ہے کہ کسی کو اس سمت جاتا دیکھ کر ہی ’’خس کم جہاں پاک‘‘ کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔
بہرحال آپ کی راہ نمائی کا شکر گزار ہوں، اس امید کے ساتھ کہ آئندہ بھی نظر رکھیں گے اور اس قسم کی کوتاہیوں سے آگاہ فرماتے رہیں گے۔ شکریہ! والسلام
ابو عمار زاہد الراشدی 
۷؍ نومبر ۲۰۱۴ء
(۳)
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
قدر افزائی کے لیے شکر گزار ہوں۔ میں تو اصولی طور پر آپ کا ہم خیال ہوں۔ بات حدود کی ہے اور اس میں ظاہر ہے میرا اور آپ کا من وعن ہم رائے ہونا ضروری نہیں۔ 
میرے یہاں ابھی الشریعہ نہیں آیا ہے۔ جعفر سلمہ نے انٹرنیٹ پر دیکھ کر خبر دی تھی اور اس سے پتہ چلا تھا کہ میرا آخری عریضہ شاید دیر سے ملا جو شامل نہیں ہوا۔ غالباً مع آپ کے جواب کے آئندہ آجائے گا۔ 
نیازمند، عتیق
(۴)
گذشتہ ماہ راولپنڈی میں تبلیغی جماعت کے بزرگ قاضی عبد المجید صاحب کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس کا وسیلہ یوں بنا کہ حافظ صفوان محمد چوہان صاحب نے ملتان سے اسلام آباد جاتے ہوئے راستے میں ہمیں ایک شب کے لیے شرفِ مصاحبت و خدمت بخشا۔ اسی دوران قاضی صاحب کے انتقال کی خبر بھی ملی۔ حافظ صاحب کو اب ان کے جنازے میں بھی شریک ہونا تھا، ہمارا بھی ارادہ بن گیا۔ جامعہ امدادیہ کے پڑوسی اور فاضل حنظلہ شاہ صاحب اپنے بھائی حمزہ شاہ اور ایک دوست وقاص صاحب کا جنازے میں شرکت کا ارادہ بن گیا، بلکہ شاہ صاحبان نے اپنی گاڑی بھی پیش کردی۔
اسی کے ساتھ ایک حسن اتفاق یہ بھی ہوا کہ حافظ صاحب کی جنازے کے وقت سے پہلے جناب جاوید احمد غامدی صاحب سے ملاقات طے تھی جو مختصر عرصے کے لیے پاکستان آئے ہوئے تھے۔ میری پہلے کبھی غامدی صاحب سے باقاعدہ ملاقات نہیں ہوئی تھی، نہ ہی براہِ راست کوئی رابطہ تھا۔ حافظ صاحب نے یہ بھی بتلایا کہ جب انہوں نے میزبان جناب عامر عبد اللہ صاحب (جن سے فیس بک کے ذریعے شناسائی ہے) سے براستہ فیصل آباد آنے کا ذکر کیا تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ یہ طالب علم بھی حافظ صاحب کے ساتھ حاضر ہوجائے۔ جناب عامر عبد اللہ صاحب کی اس محبت کے لیے شکر گذار ہوں۔ بہر حال غامدی صاحب سے مختصر سی ملاقات ہوئی۔ ایک بات جو میں نے راستے میں بھی احباب سے عرض کی تھی ، اور مواقع پر بھی عرض کرتا رہتا ہوں، وہ جناب جاوید صاحب اور وہاں موجود ان کے حلقہ فکر کے چند احباب سے بھی عرض کی کہ دینی تعبیر کے حوالے سے مختلف الخیال حلقوں میں ایشوز اور مسائل پر بات چیت سے ہٹ کر محض سماجی روابط اور میل جول کا سلسلہ اگر شروع ہوجائے، بغیر کسی طے شدہ موضوعِ بحث اور ایجنڈے کے بس اکٹھے چائے پی لی جائے۔ سب نے ، خصوصاً غامدی صاحب نے اس بات کو پسند بھی فرمایا۔ بعض سابقہ کوششوں اور عملی مشکلات کا بھی ذکر ہوا ( مثلاً اہلِ علم کی مصروفیات، اور بڑے شہروں میں ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے کی مشکلات بذاتِ خود ایک مسئلہ ہیں)۔ بہر حال اس کی افادیت پر سب کا اتفاق تھا۔ مثلاً مولانا محمد تقی عثمانی اور جاوید صاحب جیسے حضرات اکٹھے کچھ دیر کے لیے بھی بیٹھ جائیں گے تو امت کے لیے خیر ہی کا کوئی پہلو نکلے گا۔ اسی طرح اس سطح سے نیچے کے حضرات۔ ویسے بھی کہیں بعض سلف کا یہ مقولہ پڑھا تھا کہ العلم رَحِم بین اھلہ، یعنی خیالات میں فرق اور اختلاف کے باوجود علم بذاتِ خود ایک رشتہ داری ہے، اور اہلِ علم ایک دوسرے کے رشتہ دار ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ رشتے داروں کو ایک دوسرے سے ملتے جلتے رہنا چاہیے۔ خیال ہوا کہ اپنی یہ خواہش یہاں بھی شیئر کردوں۔ باقی اس مختصر ملاقات کا احوال موقع ملا تو پھر کبھی سہی۔
(فیس بک پر مولانا مفتی محمد زاہد (جامعہ امدادیہ، فیصل آباد) کی ایک پوسٹ)

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’باقیاتِ فتاویٰ رشیدیہ‘‘

نادر و نایاب چیزوں کے حصول پربے پناہ خوش ہونا ایک فطری بات ہے،پھراگر وہ نایاب خزانے علم کی دولت سے مالامال ہوں اوراُن کی نسبت ایسے اہل علم کی طرف ہوجن سے وابستگی کو انسان اپنے لیے باعث فخر اور آخرت کاسرمایہ شمار کرتا ہوتو خود اندازہ کیاجاسکتاہے کہ ایسے نایاب خزانے کے حصول پر ہم جیسے اکابر کی نسبتوں کواپنے لیے سرمایہ سمجھنے والے کس قدر خوش ہوئے ہوں گے!
ایسی ہی ایک خوشی کی بات خاص اُس وقت حاصل ہوئی جب ابوحنیفۂ عصر، قطب الاقطاب حضرت اقدس مولانارشیداحمد محدث گنگوہی قدس سرہ کے اب تک نادرونایاب اورغیرمطبوعہ، گوشہ گمنامی میں دبے رہنے والے فتاویٰ پر مشتمل تازہ علمی سوغات میرے ہاتھوں میں آئی اور میں کبھی اُس کے سرورق کو بغور دیکھتا تو کبھی اندرونی صفحات الٹتا پلٹتا ہوااُس میں کھوجاتا۔ ایسا کیوں نہ ؟ کیوں کہ حضرت گنگوہی قدس سرہ وہ عظیم شخصیت ہیں جن سے ہماری تمام نسبتیں خواہ وہ علمی ہوں یاجہادی، فقہی ہوں یاصوفیانہ ، سب انہیں سے جڑی ہوئی ہیں، ان کی ذات ہماری محبتوں اورعقیدتوں کامحور، ان کی فکرونظر ہمارے لیے بدعات کی تاریک اندھیروں میں رہنماقندیل، ان کی مخلصانہ، زاہدانہ اور بے لوث دینی خدمات میں ہمارے لیے آگے بڑھنے کے لیے مفیدسبق آموز باتیں، ان کی اصلاحی اورجہادی خدمات میں دینی غیرت وحمیت کی روشن کرنیں آج بھی ایسی تاثیررکھتی ہیں جن کے پڑھنے اورسننے سے ذوقِ علم کو آبیاری اور شوقِ عمل کومہمیز ملتی ہے۔
عجیب اتفاق یہ بھی ہے کہ یہ کتاب اُس وقت منظر عام پر آئی جب کہ حضرت کی وفات پر ایک صدی پوری ہورہی ہے، گویا نئی صدی کے آغاز پر دوبارہ حضرت گنگوہی قدس سرہ کے فیض کاآفتاب طلوع ہواہے۔ حضرت گنگوہی قدس سرہ کی خدمات کے حوالے سے یہ بات بلاتردید کہی جاسکتی ہے کہ برصغیرہندوپاکستان میں حضرت شاہ محمد اسماعیل شہید کے بعد اِتباع سنت اور رسوم وبدعات کی تردید میں کوئی اورآواز اس قدر طاقتوراور بلند بانگ نہیں تھی، جیسی حضرت مولانا گنگوہی کی تھی، حضرت مولانا نے اسی اندازو آہنگ میں ،اس پیام کی تجدید کی اور اس پیغام کو، جس پر زمانہ گزرنے کے ساتھ، کچھ میل ساآنے لگا تھا، اس شان سے زندہ کیا، کہ وہ پھر ایک نئی قوت، نئی طاقت اور مسلسل تحریک بن کر، متحرک اور رواں ہو گیا۔
حضرت مولانا گنگوہی اپنے وقت کے عظیم محدث بھی تھے اور بلند پایہ شیخ طریقت بھی، اسی لیے آپ کے حلقہ تربیت سے جو اَفراد اُٹھے، ان میں سے ایک بڑی تعداد ایسے علماء اور اَصحابِ معرفت کی تھی، جنہوں نے اس دعوت و پیام کو اپنا نصب العین بنا کر، اپنی زندگیاں اس کی جدوجہد اور اس کی تبلیغ و ترویج کے لئے وقف کردی تھیں اور اپنی سادگی، بے نفسی اور بے غرض کوشش سے، اسکی جڑیں بہت دورتک اور اس طرح گہرائی تک پہنچا دی تھیں، کہ ان سے خودبخود نئی نئی کو نپلیں،نئے نئے پودے، پھوٹتے اور پروان چڑھتے رہتے ہیں، فکرو عمل کے نئے گلستان آباد ہوتے رہتے ہیں، جس میں ایسی شادابی تازگی اور مہک ہوتی ہے، کہ اُمت کا ایک بڑا طبقہ اس کے فیض سے آراستہ ہوکر، ان خوشبوؤں سے اپنا دامن بھر لینا چاہتا ہے اور اس چمنستان سے ملتے تحفوں کو دوسروں تک پہنچانا، اپنی سعادت و خوش بختی خیال فرماتا ہے، یہ نئے افراد اس تحریک کے ایسے ہی پر جوش خادم بنتے ہیں اور راہ شریعت و سنت پراسی طرح قدم بہ قدم چلنے کی کوشش کرتے ہیں جس طرح ان کے بزرگوں اور اس خانوادہ کے اکابر علماء نے چلنے کی کوشش کی تھی۔
حضرت مولانا نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ، دین کی خدمت، تعلیم و تدریس،اصلاح و ارشاد اور معاشرہ کی برائیوں کو ختم کرنے میں گزارا،عقائد اور معالات کے بگاڑ کو دور کرنے کی کوشش کی، فقہی مسائل و مباحث میں عوام و خواص کی رہنمائی، ان کے سوالات کے جوابات لکھنا، ان کے علمی و قلبی سوالات ومشکلات کے حل کی جستجو اور بھٹکے ہوئے آہوکو بہتر سے بہتر طریقے اور عمدہ سے عمدہ ترین تدبیر کے ذریعہ سے، صحیح راستہ پر لانے کی دن رات بلکہ تمام عمر متواتر جدوجہدکی، جوحضرت مولانا کا طغرائے امتیاز ہے۔دارالعلوم دیوبند اور مدارس اِسلامیہ کی تاسیس کی جو روایت، قاسم العلوم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کی مبارک شخصیت سے شروع ہوئی تھی، اُس کی سب سے زیادہ آبیاری اور سرپرستی حضرت مولانا گنگوہی سے ہوئی، ان مدارس کے ذریعہ سے علم وکمال اور خدمت قرآن و حدیث اور فقہ و شریعت کا جودریا جاری ہوا اور اتباع دین و شریعت کی جو فضا قائم ہوئی اور جو بادِ بہاری چلی، اس میں بھی حضرت والا کے رسوخ فی العلم اور دعوت واتباع سنت کے گہرے اثرات میں بہت بڑا بلکہ غیر معمولی حصہ ہے۔
حضرت مولانا کی ذات گرامی سے، جو بے شمار دینی منافع امت کو حاصل ہوئے، خصوصاً برصغیر پاک وہند بلکہ افغانستان وماوراء النہرکی ملت اسلامیہ کو جو رہنمائی ملی اور فکرو بصیرت کا جو خزانہ ہاتھ آیا، اس میں حضرت کی تصانیف و مؤ لفات اور تحریرات وفتاویٰ کے ساتھ، حضرت مولانا کے عالی مرتبت شاگردوں کا بھی، بہت بڑا حصہ ہے، یہ شاگرد اور تربیت یافتہ اصحاب کئی قسم کے تھے۔ بعض اصحاب حدیث شریف کی گرہ کشائی میں ماہرتھے ،تو بہت سے حضرات سلوک و طریقت میں کامل اوردینی شرعی مسائل کی واقفیت اور جواب دہی میں منفرد، ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ ان میں سے کسی ایک فن میں یگانہ روزگار تھے، کچھ ایسے جن کو دو چیزوں میں کمال اور بصیرت حاصل تھی اور بیشتر ایسے جواِن میں سے ہر ایک منزل کے رہ نورد، ہر ایک دریا کے غوّاص اور حدیث و فقہ، یا سلوک و معرفت،ہر ایک کی ،اعلیٰ درجہ کی بصیرت و نظر سے سر فراز اور ہر ایک کی گرہ کشائی میں ،اپنے عصر کے لئے نشانِ راہ اور مینارۂ نور تھے۔
یوں تو حضرت مولانا کے شاگردوں اور مستفیدین کی ایک بڑی تعداد ہے مگر یہاں صرف اُن حضرات کے نام ذکر کئے جاتے ہیں ،جنہوں نے حضرت مولانا کی خدمت میں قیام کرکے یا ان سے استفادہ کرکے ایک مدت تک فقہ و فتاویٰ کی تعلیم حاصل کی،فتاویٰ نویسی کے اصول جانے، اسکی عملی مشق کی، اور بعد میں خود ایسے ثابت ہوئے، کہ ان اب کے نام اور ان کے کام (عظیم الشان خدمات کے علاوہ) اور فقہ و فتاویٰ کی دنیا میں ان کا ایسا بلند مرتبہ ہے کہ ان میں سے بعض کے فتاویٰ اور فقہی ہدایات کاایک پورا دبستان قائم ہوچکاہے۔ان شاگردوں کے کارناموں سے ہی حضرت گنگوہی قدس سرہ کے علوم وفیوض کاادراک ہوجاتاہے:
۱:مولانا حافظ احمد( خلف حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی)
۲:حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی:
۳: حضرت علامہ محدث العصر محمد انورشاہ کشمیری:
۴:حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب عثمانی دیوبندیؒ 
۵: حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری،مہاجر مدنیؒ 
۶: حضرت مولانا صدیق احمد کاندھلویؒ 
۷:حضرت مولانا عبدالغفار صاحب اعظمیؒ 
۸:حضرت مولانا مفتی عبدالکریم پنجابیؒ 
۹:حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن عثمانی دیوبندیؒ 
۱۰:حضرت مولانا محمد یحییٰ صاحب کاندھلویؒ (حوالہ: مقدمہ متذکرۂ بالاکتاب)
الغرض حضرت گنگوہی قدس سرہ نے تقریباً پینتالیس سال تک تحریرفتاویٰ میں بسر کئے اور آپ کے فتاوی اپنے زمانے میں نمایاں استنادی حیثیت رکھتے تھے مگر چونکہ اس وقت ان فتاوی کوجمع رکھنے کاکوئی انتظام نہ تھا اس لیے بلاشبہ ایک بہت بڑاذخیرہ زمانے کی دست برد کاشکار ہوکرضائع ہوگیا۔
مگر اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے کاندھلہ کے علمی خانوادے کے عالم باعمل صاحبِ تحقیق عالم دین حضرت مولانا نورالحسن راشدکاندھلوی صاحب کو جنہوں نے ہندوستان کے اجڑتے علمی خزانوں کوجمع کیا، انہوں نے اپنی زندگی اکابردیوبند اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے علمی خانوادے کی نادرونایاب اورغیرمطبوعہ تحریرات جمع کرنے کے لیے وقف کررکھی ہے۔ اس وقت پورے ہندوپاک میں اکابر کی نادرونایاب علمی تحقیقات کاجس قدر ضخیم ذخیرہ مولانا کے پاس جمع ہے شاید ہی کسی اور شخص کے پاس ہو،پھر مولانا نے ان خزائن علمیہ کو صرف تلاش کرنے اورجمع کرنے پراکتفاء نہیں کیا بلکہ ان پردن رات کی محنت صرف کرکے ان پرتحقیقی کام کیا، ان پرمفید توضیحی حواشی لکھے ،اور انہیں مختلف اہل علم کی نظروں سے گزار کرافادہ عام کے لیے ان کی اشاعت کاانتظام کیا۔
زیرتذکرہ کتاب جس کانام’’باقیات فتاویٰ رشیدیہ‘‘ ہے ایک ایسی ہی علمی اور تاریخی سوغات ہے جو ہندوستان میں چھپنے کے بعد اب پاکستان میں شائع ہوچکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب اکابردیوبند سے وابستگی رکھنے والے تمام اہل علم عموماً اور اصحاب فقہ وفتاویٰ کے لیے خصوصاً ایک بڑی خوش خبری اور نادرتحفہ ہے۔ اس میں حضرت گنگوہی قدس سرہ کے تقریباً ایک ہزار کے قریب ایسے فتاویٰ جمع کیے گئے ہیں جوپہلے سے موجود فتاویٰ رشیدیہ میں شامل نہیں تھے اور اب تک غیرمطبوعہ یاناپیدتھے۔ دارالعلوم دیوبندکے شیخ الحدیث وصدرالمدرسین مفتی سعیداحمد پالن پوری مدظلہ نے ان تمام فتاویٰ کولفظ بلفظ ملاحظہ فرمایاہے اور ان پر توضیحی حواشی بھی تحریرفرمائے ہیں اور بہت سے مقامات پر اصل تحریروں سے ان کاتقابل بھی کیاہے اوراستاذ محترم حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی کی تقریظ نے اس کتاب کو مزیدقابل اعتناء اور لائق استنادبنادیاہے۔ہمارے ماحول میں عمومی طور پراکابر سے وابستگی کے بلندبانگ نعروں کے باوجود ان کے خزائن علمیہ سے بے رخی اوربے اعتنائی کی فضاطاری ہے اور تحقیق طلب کاموں کی طرف رغبت کاجوفقدان ہے، اس ماحول میں ایسی کاوش یقیناًنئے فضلاء اور علمی لگن رکھنے والوں کے لیے ایک بہترین نشان منزل ہے۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کی تیاری اور منظر عام پر لانے میں کاوش کرنے والے تمام اصحاب علم وفضل کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی اس کاوش کواپنی بارگاہ میں مقبول ومنظور اور حضرت گنگوہی قدس سرہ کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین
(تبصرہ نگار: مدثرجمال تونسوی۔ بشکریہ ہفت روزہ ’’القلم‘‘)

’’قرآن پاک کے منظوم تراجم یا کلام اللہ کے ساتھ کھلواڑ‘‘

نام مصنف: ڈاکٹر رئیس احمد نعمانی
ناشر: گوشۂ مطالعات فارسی علی گڑھ (ہند)
ڈاکٹر رئیس احمد نعمانی کا تعلق علی گڑھ (ہندوستان) سے ہے، مگر پاک وہند اور ایران کے علمی وادبی حلقے نہ صرف یہ کہ آپ کے نام سے شناسا ہیں بلکہ آپ کے علمی وتخلیقی شہ پاروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اُردو اور فارسی میں درجن سے زائد نثری وشعری تخلیقات زیورِ طبع سے آراستہ ہوکر نذرِ قارئین ہوچکی ہیں۔ اس وقت راقمِ سطور کے پیشِ نظر ۲۴ صفحات پر مشتمل کتابچہ بہ عنوان ’’قرآن پاک کے منظوم تراجم یا کلام اللہ کے ساتھ کھلواڑ‘‘ ہے۔ جیساکہ عنوان سے ظاہر ہے، یہ کتابچہ قرآن مجید کے منظوم اُردو تراجم پر نقد ہے۔ ڈاکٹر رئیس نعمانی جہاں کہیں دینی حوالے سے کوئی منفی قلمی سرگرمی دیکھتے ہیں تو آپ کی دینی حمیت بے دار ہوجاتی ہے اور ہر قسم کی روادری کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اُس کے خلاف قلمی جہاد کو اپنے اوپر فرض قرار دیتے ہیں۔ برصغیر پاک وہند کے علمی وتحقیقی مجلات کے ان گنت صفحات پر آپ کے تنقیدی مضامین و مکاتیب اِس بات کا بین ثبوت ہیں۔ راقم الحروف کے پیشِ نظر کتابچہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اس مختصر مضمون میں آپ نے مولانا محمد حسن کے منظوم ترجمہ بہ عنوان ’’اُردو منظوم ترجمۂ قرآن مجید‘‘، عطا قاضی کے منظوم ترجمہ ’’مفہوم القرآن‘‘ پروفیسر سمیع اللہ اسد کے ’’قرآن منظوم‘‘ اور جناب انجم عرفانی کے ’’منظوم القرآن‘‘ پر نقد کیا ہے۔ اوّل الذکر کے ماسوا بقیہ تینوں تراجم راقمِ سطور کی ذاتی لائبریری میں موجود ہیں۔ 
جناب رئیس نعمانی نے اپنے کتابچہ میں اِن چاروں تراجم کے صرف سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کے اوّل رکوع کے منظوم ترجمے کا تجزیہ پیش کیا ہے اور بقیہ ترجمۂ قرآن کو اسی پر قیاس کرنے کا کہا ہے۔ منظوم ترجمے کا تجزیہ کرتے ہوئے جناب نعمانی نے تین چیزوں کا خاص طور پر خیال رکھا ہے: 
نمبر۱۔ کیا منظوم ترجمہ متن قرآن کی ترجمانی کرتا ہے یا نہیں؟ 
نمبر۲۔ ترجمہ زبان وبیان کے اعتبار سے درست ہے یا نہیں؟ 
نمبر۳۔ ترجمہ اوازن وبحور کے میزان پر پورا اترتا ہے یا نہیں؟ 
اس تجزیے کے بعد مصنف اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ قرآن پاک کو نظم کرنا اور ذہنی ورزش کے لیے سامانِ مشق بنانا قرآن پاک کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے۔فاضل مصنف سے بعض مقامات پر اختلافی رائے کے باوجود یہ کتابچہ تنقیدی ادب میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔
نثر میں ترجمۂ قرآن بہت احتیاط کا متقاضی ہے، نظم میں تو احتیاط کی اور زیادہ ضرورت ہوتی ہے؛ ایک طرف متن قرآن کے مفہوم کی پاسداری تو دوسری طرف وزن وبحر اور ردیف وقافیہ کی کڑی پابندی۔ ذرا سی لغزش بہ جائے اجر وثواب کے ضلالت وگمراہی اور ذلت وذلالت کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لیے منظوم تراجم کی وادی میں صرف اُن صاحبانِ علم ودانش کو قدم رکھنا چاہیے جو ایک طرف تو علوم قرآنیہ پر مہارت تامہ رکھتے ہوں تو دوسری طرف فن شاعری پر کامل دستگاہ رکھتے ہوں؛ جہاں وہ اُردو زبان وبیان سے مکمل آگاہ ہوں وہاں عربیت سے بھی مکمل شناسائی رکھتے ہوں۔ بہ صورتِ دیگر انہیں قرآن مجید کے منظوم ترجمے کی جسارت سے گریز کرنا چاہیے۔
(تبصرہ نگار: محمد سعید شیخ۔ شعبہ اسلامیات 
گونمنٹ شالیمار کالج، باغبان پورہ، لاہور)

الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاں

ادارہ

۲۵ اکتوبر کو دعوۃ اکیڈمی،اسلام آباد سے آرمی کے خطباء پر مشتمل ۴۵ علماء کے وفد نے ’’الشریعہ اکیڈمی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اکادمی کے سربراہ علامہ زاہد الراشدی مدظلہ نے فکر انگیز اور دلسوز بیان فرمایا۔
۶ نومبر ’الشریعہ اکیڈمی‘‘ کے ۲۳ طلباء اورچار اساتذہ کا قافلہ رائے ونڈ کے سالانہ اجتماع میں شرکت کے لیے روانہ ہوا۔
۸ نومبر کو ’’الشریعہ اکیڈمی‘‘ کے سربراہ علامہ زاہد الرشدی نے سالانہ عالمی اجتماع، رائے ونڈ میں شرکت فرمائی اور وہاں چند اہم شخصیات سے ملاقات کے علاوہ’’ جامعہ نصرت العلوم‘‘ کے کیمپ کا دورہ بھی فرمایا۔ 
۱۰ نومبر کو پندرہ روزہ فکری نشست میں علامہ زاہد الراشدی مدظلہ نے’’قادیانی مسئلہ اور دستوری فیصلہ‘‘ کے عنوان پر گفتگو فرمائی۔
۲۰ نومبر کو عربی بول چال کورس کے اختتام پر طلبا کا امتحان لیا گیا اور کامیاب طلباء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔
۲۳ نومبر کو اکادمی کی مجلس تعلیمی کی میٹنگ میں طے کیا گیا کہ آئندہ ربیع الاول کے دوران میں دینی مدارس اور کالجز کے طلبہ کے مابین ’’عہد نبوی میں بیت المال کا معاشرتی کردار‘‘ کے موضوع پر ایک تحریری مقابلہ منعقد کروایا جائے گا جس میں اول، دوم اور سوم آنے والے طلبہ کو ایک خصوصی تقریب میں انعامات دیے جائیں گے۔