فلسطینی عوام، عالمی ضمیر اور مسلمان حکمران
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
فلسطینی عوام ایک بار پھر صہیونی جارحیت کی زد میں ہیں۔ غزہ میں اسرائیل کی فضائی اور زمینی کاروائیوں نے سینکڑوں فلسطینیوں کو خون میں نہلا دیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ کے غیور اور مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی آزادی کی اور تشخص کو مکمل طور پر پامال کر دینے پر تل گیا ہے اور اسے حسب سابق مغربی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان فلسطینی عوام کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ فلسطین کے باشندے ہیں۔ اپنے اس حق سے دستبردار ہونے کے لیے کسی صورت تیار نہیں ہیں اور اس کے لیے مسلسل قربانیاں دیتے چلے جا رہے ہیں۔ اب سے ایک صدی قبل برطانوی وزیر خارجہ بالفور نے فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن تسلیم کرتے ہوئے انہیں دنیا بھر سے وہاں لا کر بسانے اور ان کی ریاست قائم کرانے کا جو معاہدہ کیا تھا، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک نے ہر قسم کی انسانی، اخلاقی اور سیاسی حدود کو پاؤں تلے روندتے ہوئے اسے نہ صرف پورا کیا ہے بلکہ وہ اس کی مکمل پاسداری کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اقوام متحدہ نے فلسطین کو تقسیم کر کے فلسطین کو الگ اور آزاد وطن دینے کا جو وعدہ کر رکھا ہے، اقوام متحدہ کے اصولوں اور بین الاقوامی معاہدات کی دنیا بھر میں دہائی دینے والے مغربی ممالک کو اس کا بھی کوئی پاس نہیں ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطین کو تقسیم کر کے فلسطین اور اسرائیل کے نام سے دو آزاد ریاستیں قائم کی تھیں اور ان کی سرحدوں کا تعین بھی کر دیا تھا۔ اگرچہ اس حوالہ سے مسلم ممالک میں دو الگ الگ موقف پائے جاتے ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان سمیت بہت سے ممالک نے اس تقسیم کو تسلیم نہیں کیا اور وہ اسرائیل کو ایک جائز ریاست کے طور پر قبول نہیں کر رہے، مگر مصر، اردن اور بعض دیگر مسلم ممالک نے اس تقسیم کو تسلیم کر رکھا ہے اور اسرائیل کو ایک قانونی ریاست کا درجہ دیا ہوا ہے، بلکہ خود فلسطینیوں میں الفتح اور حماس کے موقف اس سلسلہ میں الگ الگ ہیں۔ لیکن فلسطین کی تقسیم کو بالفرض تسلیم کرتے ہوئے بھی اقوام متحدہ کے فیصلے کے مطابق جس آزاد فلسطین ریاست کو قائم ہونا چاہیے تھا، اس کا دنیا کے نقشے پر کوئی وجود نہیں ہے اور میونسپلٹی طرز کی فلسطینی اتھارٹی قائم کر کے فلسطینیوں کو ان کی اپنی حکومت کے لالی پاپ پر بہلانے کی فریب کاری تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ بلکہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی مقرر کردہ بین لااقوامی سرحدوں کو پامال کر کے جن علاقوں پر گزشتہ نصف صدی سے قبضہ کر رکھا ہے، ان میں بیت المقدس بھی شامل ہے۔ انہیں اسرائیل سے واگزار کرانے میں کوئی بھی سنجیدہ نہیں ہے۔
جو لوگ اسرائیل کو ایک جائز ریاست تسلیم نہیں کرتے اور فلسطین کی تقسیم کے فیصلے کو منصفانہ نہیں سمجھتے، ہم بھی ان میں شامل ہیں، لیکن اسے ایک طرف رکھتے ہوئے خود تقسیم فلسطین کے اس بین الاقوامی فیصلے کے دو بنیادی تقاضے ہیں۔ ایک یہ کہ فلسطینیوں کی آزاد اور خود مختار ریاست تسلیم کی جائے جو کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت اور نگرانی سے پاک ہو۔ دوسرا یہ کہ اقوام متحدہ کی مقرر کردہ سرحدوں کو پامال کر کے اسرائیل نے جن علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے، انہیں اس سے واگزار کرایا جائے۔ عراق نے بین الاقوامی سرحدوں کی خلاف ورزی کر کے کویت پر قبضہ کیا تھا تو ہر طرف ہاہاکار مچ گئی تھی اور امریکہ نے اقوام متحدہ کی چھتری تلے فوجی کاروائی کر کے کویت کی خود مختاری کو بین الاقوامی سرحدات کے تقدس کے نام پر بحال کرا دیا تھا، لیکن اسرائیل نے دن دہاڑے بیت المقدس پر ناجائز قبضہ کیا اور مصر، شام اور اردن کی مسلمہ سرحدوں کو روند ڈالا مگر اقوام متحدہ خود بھی اور اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے مغربی ممالک بھی نصف صدی سے منقار زیر پر ہیں۔
سوال یہ ہے کہ دنیا پر اپنی چودھراہٹ کا ڈھنڈورا پیٹنے والے مغربی ممالک فلسطینیوں اور عرب ممالک کے اس جائز حق کی بحالی کے لیے سنجیدگی کیوں اختیار نہیں کر رہے اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے لاکھوں فلسطینی مہاجرین اور فلسطین کے اندر اسرائیل کی بار بار جارحیت کا نشانہ بننے والے مظلوم فلسطینی انہیں دکھائی کیوں نہیں دے رہے؟ اس سے زیادہ ستم ظریفی کا منظر یہ ہے کہ عالم اسلام اور عرب ممالک میں بھی اس حوالہ سے کوئی سنجیدگی دکھائی نہیں دے رہی۔ یوں لگتا ہے جیسے عالم عرب اور مسلم امہ نے بھی فلسطینیوں کو حالات بلکہ اسرائیل کے رحم و کرم پر چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مسلم حکومتوں کو اپنی داخلی حدود میں شدت پسندی اور بغاوت تو دکھائی دیتی ہے اور اسے کچلنے کے لیے وہ اپنی پوری قوت صرف کر رہی ہیں، لیکن اس شدت پسندی اور بغاوت کا باعث بننے والی بین الاقوامی دہشت گردی اور اسرائیلی جارحیت ان کو دکھائی نہیں دیتی اور انہوں نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ حالانکہ اگر مسلم ممالک متفق ہو کر اسرائیل، کشمیر، اراکان اور اس جیسے دیگر سلگتے ہوئے مسائل پر جرأت مندانہ موقف اور کردار اختیار کرنے کا حوصلہ کر لیں تو یہ داخلی شدت پسندی اور بغاوت خود ان مسلم ممالک کی اپنی قوت کا رخ بھی اختیار کر سکتی ہے۔
مسلم حکمران تھوڑی دیر کے لیے ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سوچیں کہ مسلم دنیا کے کسی حصے میں ’’خلافت‘‘ کا نعرہ ابھرتا ہے تو دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کی آنکھوں میں چمک کیوں آجاتی ہے اور ان کے دلوں کی دھڑکن کیوں تیز ہو جاتی ہے؟ دراصل مسلم امہ خلافت کے اس کردار کو زندہ ریکھنا چاہتی ہے کہ سندھ میں راجہ داہر کی قید میں ایک مسلم خاتون اپنی بے بسی پر فریاد کرتی ہے تو عراق میں خلیفۂ وقت کا مقرر کردہ گورنر حجاج بن یوسفؒ اس کی مدد کے لیے بے چین ہو جاتا ہے اور اپنے بھتیجے محمد بن قاسمؒ کی کمان میں فوج روانہ کر دیتا ہے۔ یہ کردار امت مسلمہ کی ضرورت ہے اور وقت کا تقاضا ہے۔ اگر مسلم حکمرانوں میں یہ کردار اختیار کرنے کی سوچ اور حوصلہ موجود ہے اور وہ اسے روبہ عمل لانے کی کوئی صورت نکال سکتے ہیں تو شاید حالات کچھ سنبھل جائیں۔ ورنہ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ خلا اور حبس زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتے اور حبس جس قدر شدید ہو اس کی طرف بڑھنے والی آندھیوں کی رفتار بھی اسی حساب سے تیز ہوا کرتی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں سیاسی و مذہبی کشمکش
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
عراق و شام میں سنی مجاہدین کے گروپ نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں اسلام خلافت کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ ’’اسلامک اسٹیٹ آف عراق و شام‘‘ کے نام سے کام کرنے والے ان مجاہدین نے مسلح پیش رفت کر کے عراق اور شام کی سرحد پر دونوں طرف کے بعض علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے اور بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا قبضہ ختم کرانے میں عراق اور شام دونوں طرف کی حکومتوں کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی۔ حتیٰ کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی گزشتہ دنوں بغداد کا دورہ کر کے اس سلسلہ میں ایک مشاورت میں شریک ہو چکے ہیں اور عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کی درخواست پر امریکہ ان کی امداد کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
’’اسلامک سٹیٹ آف عراق و شام‘‘ کا پس منظر یہ ہے کہ عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی اور شام کے صدر بشار الأسد دونوں کا تعلق اہل تشیع سے ہے اور دونوں ملکوں کی سنی آبادی کو ان کے جارحانہ اور انتقامی طرز عمل کی شکایت ہے۔ حتیٰ کہ امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن ایک انٹرویو میں نوری المالکی کے بارے میں کہہ چکی ہیں کہ وہ فرقہ وارانہ تعصب رکھتے ہیں۔ انہوں نے برسر اقتدار آنے کے بعد فوج اور سول انتظامیہ سے سنی افسران کو چن چن کر نکال دیا تھا اور وہ سنی آبادی کو حکومتی معاملات میں شریک کرنے کی سوچ نہیں رکھتے۔ دوسری طرف شام کے صدر بشار الأسد کو ملک کی سنی اکثریت کے خلاف معاندانہ اقدامات اپنے والد حافظ الأسد سے ورثہ میں ملے ہیں اور وہاں یہ کشمکش گزشتہ چار عشروں سے تھوڑے بہت اتار چڑھاؤ کے ساتھ مسلسل جاری ہے۔ جب حافظ الاسد نے سنی علماء اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر کے ان کے مضبوط مذہبی گڑھ اور تاریخی بستی ’’حماۃ‘‘ کو فوجی آپریشن کا نشانہ بنایا تھا، کہا جاتا ہے کہ اس آپریشن اور کریک ڈاؤن میں دس ہزار کے لگ بھگ سنی علماء اور کارکنوں نے جام شہادت نوش کیا تھا اور شام کی اخوان المسلمون کے سربراہ الاستاذ عبد الفتاح ابو غدہؒ سمیت سینکڑوں سرکردہ علماء کرام جلا وطنی پر مجبور ہوگئے تھے۔
موجودہ صورت حال میں نوری المالکی اور بشار الاسد کو نہ صرف ایران کی مکمل حمایت حاصل ہے بلکہ لبنان کی حزب اللہ اس لڑائی میں ان کے شانہ بشانہ ہے اور عالمی سطح پر روس اور چین کی واضح سپورٹ کے بعد اب امریکہ بھی انہیں بچا لینے کی حکمت عملی پر آگیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی حلقوں میں لگاتار گردش کرنے والی اس خبر پر بھی نظر ڈال لی جائے کہ عراق کو تین حصوں (۱) شیعہ عراق (۲) کرد عراق اور (۳) سنی عراق میں تقسیم کرنے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہیں جس کے نتیجے میں سنی عراق صرف تین صوبوں تک محدود ہو کر رہ جائے گا اور یہ وہ صوبے ہیں جہاں نہ تیل ہے اور نہ ہی انہیں دوسرے وسائل میسر ہیں۔ اور اس طرح ایک عرب صحافی کے بقول عراق کے سنی (السنۃ علی باب اللہ) مستقبل میں اللہ تعالیٰ کے دروازے پر کھڑے نظر آتے ہیں۔
اردن کے شاہ عبد اللہ نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے اہل سنت شیعہ ہلال کے حصار میں ہیں۔ اور آج یہ بات علاقے کی صورت حال میں واضح عملی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اس پس منظر میں شام اور عراق کے سنی مجاہد گروپوں نے اتحاد قائم کر کے دونوں طرف کے علاقوں پر قبضہ کرنے کا جو سلسلہ کچھ عرصہ سے شروع کر رکھا ہے اس سے یہ بات سمجھ آرہی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کے جغرافیائی نقشہ کو از سر نو تبدیل کرنے کی عالمی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کی فکر میں ہیں۔ اس خطہ کی موجودہ جغرافیائی تقسیم پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کے ساتھ خلافت عثمانیہ کی شکست و ریخت اور اس کے بیشتر علاقوں پر یورپی ممالک کے تسلط کے بعد اس وقت وجود میں آئی تھی جب بین الاقوامی معاہدات کے تحت ترکی کو خلافت کا ٹائیٹل ترک کر دینے کی صورت میں اس کی حدود میں محصور کر دیا گیا تھا۔ اور اس کے بہت سے صوبوں کو نئی سرحدات کے ساتھ آزاد ممالک کی حیثیت دے دی گئی تھی۔ ورنہ یہ سب علاقے حتیٰ کہ اسرائیل بھی ترکی کی خلافت عثمانیہ کے صوبوں کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر یورپی قوتوں نے خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے زیر نگیں علاقوں کو اس طرح تقسیم کر دینا بھی ضروری سمجھا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے کام نہ آسکیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار رہیں۔
عالمی استعمار کو ایک صدی کے بعد اپنے مفادات اور تسلط کے تحفظ اور اسرائیل کی بقا کے لیے مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سرحدوں کی نئے سرے سے تشکیل کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور اس کے لیے تانے بانے بنے جا رہے ہیں۔ عالمی استعمار نے مشرق وسطیٰ کی نئی جغرافیائی تقسیم کے ساتھ ساتھ عالم اسلام میں خلافت اسلامیہ کے قیام اور شریعت اسلامیہ کے نفاذ کو ہر قیمت پر روکنے کو بھی اپنے ایجنڈے میں شامل کر رکھا ہے۔ کچھ عرصہ قبل برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے جو وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کے بعد سے مغرب کی فکری قیادت کے لیے مسلسل سرگرم ہیں، ایک خطاب میں کہا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی خلافت قائم نہیں ہونے دی جائے گی، اور نہ ہی شریعت نافذ ہوگی۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ ترکی نے ’’معاہدہ لوزان‘‘ میں جب خلافت و شریعت سے دست برداری اختیار کی تھی اور آئندہ کبھی خلافت و شریعت کو اپنی حدود میں دوبارہ واپس نہ لانے کا یورپی قوتوں سے وعدہ کیا تھا تو اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ترک لیڈر مصطفی کمال اتاترک اور عصمت انونو اس کانفرنس میں خلیفہ عثمانی کے نمائندے کے طور پر شریک ہوئے تھے اور اسی حیثیت سے دستخط کیے تھے۔ اس پر بعض مغربی دانش وروں کا کہنا ہے کہ خلافت و شریعت سے مکمل اور مستقل دست برداری کا یہ معاہدہ عثمانی خلافت کے نمائندے نے کیا تھا جو پورے عالم اسلام کی طرف سے تھا۔ اس لیے پوری مسلم امہ اس بات کی پابند ہے کہ وہ خلافت و شریعت سے دست برداری پر ہمیشہ قائم رہے۔ جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عالم اسلام میں خلافت کے احیاء کی ضرورت کا احساس بڑھتا جا رہا ہے اور اس کے لیے مسلم ممالک میں بیسیوں تحریکیں کام کر رہی ہیں جن میں سے بعض نے عسکری جدوجہد کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ ان کے طریق کار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن بنیادی طور پر وہ بھی خلافت اسلامیہ کے احیاء و قیام کے لیے مصروف عمل ہیں اور عالم اسلام کی ایک اجتماعی دینی و ملی ضرورت کی تکمیل چاہتے ہیں۔
خلافت اسلامیہ امت مسلمہ کی دینی ضرورت تو ہے ہی، ملی اور عالمی ضرورت بھی ہے کہ عالم اسلام اس وقت زخموں سے چور ہے مگر عالمی سطح پر اس کی آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے، جبکہ امت مسلمہ پوری کی پوری عالمی استعماری قوتوں کے رحم و کرم پر ہے۔ اس کا اندازہ ایک بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ نے ایک انٹرویو میں عالم اسلام کی بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے انتہائی حسرت کے ساتھ یہ جملہ کہا تھا کہ ’’اب تو کوئی Ottomon Empire (سلطنت عثمانیہ) بھی نہیں ہے جو عالمی سطح پر مسلمانوں کی آواز اٹھا سکے‘‘۔
اس ساری صورت حال میں سنی ممالک کی حکومتوں کا رویہ کیا ہے اور سنی دنیا کی علمی و فکری قیادتیں کس مزے سے خواب خرگوش میں مست ہیں، اس پر یہ شعر ان کی نذر کرنے کو جی چاہ رہا ہے کہ:
گلۂ جفائے وفا نما جو حرم کو اہل حرم سے ہے
کسی بتکدے میں بیاں کروں تو کہے صنم بھی ہری ہری
اعجازِ قرآن ۔ ایک مختصر جائزہ
محمد حسنین
علوم قرآن کے تمام مباحث پر قرن اول سے اب تک ہر پہلو اور ہر زاویہ سے بحث کی جاتی رہی ہے لیکن پھر بھی ان کا حق ادا نہ ہو سکا اور اب بھی وہ تشنہ معلوم ہوتے ہیں۔ دوسرے مباحث کی طرح ’’اعجاز قرآن‘‘ کا موضوع بھی ابتدا ہی سے زیر بحث رہا ہے۔ اگرچہ ابتدائی صدیوں میں متکلمین کے کلامی مباحث یا مفسرین کی تفسیروں کے ضمن میں اس کا تذکرہ ہوتا تھا، لیکن بہت جلد اس موضوع پر مستقل تالیفات وجود میں آنے لگیں۔ چنانچہ کوئی صدی ایسی نہیں ملتی جس میں اعجاز قرآن کے موضوع پر پائے جانے والے علمی سرمایہ میں اضافہ نہ ہوا ہو۔
اعجاز قرآن کے مسئلہ کو شروع شروع میں مستقل بحث و تحقیق کا موضوع نہیں بنایا گیا، بلکہ اسے دیگر ان مسائل کے ساتھ شامل رکھا گیا جن میں اس زمانے میں زبردست کلامی بحثیں ہوتی تھیں اور ان کے سلسلہ میں اسلامی فرقوں کے درمیان باہم اختلاف تھا، خاص طور پر ان مسائل کے ساتھ جو نبوت اور معجزہ سے متعلق تھے۔ تیسری صدی ہجری میں اسلامی معاشرہ میں اعجاز قرآن کے بارے میں مختلف اقوال تھے جن کی وجہ سے اسلامی فرقوں میں کشمکش کی نازک صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ ہر فرقہ کے لوگ اعجاز قرآن کے بارے میں اپنی رائے کا اثبات اور اپنے مخالفین کی آواز کا ابطال کرتے تھے۔ اس قسم کی کتابوں میں ابن قتیبہ کی ’’تاویل مشکل القرآن‘‘ ابوالحسن اشعری کی ’’مقالات الاسلامیین‘‘ جاحظ کی ’’حجج النبوۃ‘‘ اور ابوالحین خیاط کی ’’الانتصار‘‘ قابل ذکر ہیں۔ ہر صدی میں ’’اعجاز قرآن‘‘ پر لکھی جانے والی تالیفات کے مصنفین نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ اعجاز قرآن پر جو کچھ لکھ رہے ہیں، وہ حرفِ آخر ہے، لیکن اگلی صدی نے ان کے اس دعویٰ پر خط نسخ کھینچ دیا۔
معجزہ
معجزہ کی حقیقت پر بات کرتے ہوئے علامہ جلال الدین السیوطی ؒ المتوفی ۹۱۱ھ رقمطراز ہیں کہ
’’اعلم أنَّ المعجزۃ أمر خارق للعادۃ ، مقرون بالتحدی، سالم من المعارضۃ‘‘ ۱
ترجمہ’’ معجزہ ایسے خارق عادت امر کو کہتے ہیں جس کے ساتھ تحدی بھی کی گئی ہو اور وہ معارضہ سے سالم رہے۔‘‘
جہاں تک معجزہ کی اقسام کا تعلق ہے حضرات علماء نے اس کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔
۱۔ حسی معجزہ
۲۔ عقلی معجزہ
قوم بنی اسرائیل کے اکثر معجزات کا تعلق حسی معجزات سے تھا جس کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ قوم بڑی کند ذہن اور کم فہم تھی جبکہ امت محمدیہ کے زیادہ تر معجزات عقلی ہیں جس کا سبب اس امت کے افراد کی ذکاوت اور ان کے عقل کا کمال ہے اور دوسرا سبب یہ ہے کہ شریعت محمدیہ چونکہ آخری اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، اس لحاظ سے بھی اس کو عقلی معجزہ دیا گیا تاکہ اہل بصیرت اسے ہر وقت اور ہر زمانہ میں دیکھیں۔۲
اس ضمن میں ایک قول یہ بھی ہے کہ گزشتہ زمانہ کے واضح معجزات حسی اور آنکھوں سے نظر آنے والے تھے مثلاً صالح علیہ السلام کی اونٹنی اور موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور قرآن کا معجزہ عقل و ادراک کے ذریعہ سے مشاہدہ میں آتا ہے۔ اس لیے اس کے متبع لوگ بکثرت ہوں گے کیونکہ آنکھوں سے دکھائی دینے والی چیز اپنے دیکھنے والے کے فنا ہوتے ہی خود بھی فنا ہو جاتی ہے، مگر جو چیز عقل کی آنکھوں سے دکھائی دیتی ہے، وہ باقی رہنے والی شے ہے۔ اس کو ہر ایک شخص یکے بعد دیگرے دائمی طور پر دیکھتا رہے گا۔۳
۱۔ قرآن کریم، ایک مسحور کن کلام
قرآن کریم کے اعجاز بیان کے سامنے اہل عرب نے آغاز بعثت ہی سے سپرڈال دی۔ جونہی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے سامنے اس کی تلاوت کی، ان کو اس کے اعجاز بیان کا اندازہ ہو گیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ کوئی بھی عربی ، جو عربی زبان کی حس اور اس کا اصلی ذوق رکھتا ہے یہ تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے اہل عرب کو اس کلام الٰہی کے سننے سے روکنا چاہا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بلاشبہ یہی تھی کہ ان کو یقین تھا کہ کوئی بھی عربی اس قرآن اور انسانی کلام میں تمیز کرنے میں غلطی نہیں کر سکتا۔
کبھی کبھی اس کی کچھ آیتیں کسی ایسے شخص کے گوش گزار ہو جاتیں جو اسلام کا شدید دشمن ہوتا، لیکن انہیں سنتے ہی اعجاز قرآن کے سامنے سپرڈال دیتا ، جیسا کہ حضرت عمر بن الخطابؓ کا اسلام لانے کا واقعہ ہے۔۴ اسی طرح روایتوں میں آتا ہے کہ جبیر بن مطعم بن عدی ایک مشترک کافدیہ ادا کرنے کی غرض سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت آپ سورۃ الطور کی تلاوت فرما رہے تھے۔۵ جب اس آیت پر پہنچے:
إِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ، مَا لَہُ مِن دَافِعٍ (الطور /۷، ۸)
ترجمہ: ’’ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ‘‘
تو ان پر کپکپی طاری ہو گئی اور فوراً اسلام قبول کر لیا اور کہنے لگے، مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں مجھ پر عذاب نہ آپڑے۔
پھر یہی نہیں کہ یہ شعلہ بیان خطیب اور آتش نوا شاعر قرآن کریم کا مقابلہ نہیں کر سکے بلکہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے اس کلام کی حیرت انگیز تاثیر کا کھل کر اعتراف کیا۔ امام حاکمؒ اور امام بیہقیؒ نے قرآن کریم کے بارے میں ولید بن مغیرہ کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:
واللّٰہ ان لقولہ الذی یقول حلاوۃ وان علیہ لطلاوۃ وانہ لمثمر اعلاہ مغدق اسفلہ وانہ لیعلو وما یعلیٰ
’’خدا کی قسم ، جو یہ کلام بولتے ہیں اس میں بلا کی شیرینی اور رونق ہے۔ یہ کلام غالب ہی رہتا ہے، مغلوب نہیں ہوتا‘‘۔
یہ ولید بن مغیرہ ابوجہل کا بھتیجا تھا۔ ابوجہل کو جب یہ پتہ چلا کہ میرا بھتیجا اس کلام سے متاثر ہو رہا ہے تو وہ اسے تنبیہ کرنے کے لیے اس کے پاس آیا۔ اس پر ولید نے جواب دیا کہ خدا کی قسم ! تم میں کوئی شخص شعر کے حسن کو مجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں، خدا کی قسم ! محمد جو کہتے ہیں، شعر کو اس کے ساتھ کوئی مناسبت اور مشابہت نہیں ہے۔ ۶
۲۔ اعجاز قرآن کے ادراک میں تمام اہل عرب برابر تھے:
کیا ان لوگوں پر قرآن کا اعجاز واضح ہو گیا تھا؟ جس سے ان کی بصیرتیں روشن ہو گئیں اور وہ قرآن کی چند آیات سن کر ہی رسول اکرم صلی اللہ علی وسلم کے معجزہ پر ایمان لے آئے جبکہ دوسرے لوگوں پر قرآن کا اعجاز واضح نہ ہو سکا اور وہ عرصہ تک دشمنی اور تکذیب میں لگے رہے؟
قاضی ابوبکر باقلانی اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان وجوہ میں سے جن کی وجہ سے لوگ اسلام قبول کرنے سے باز رہے اور عرصہ تک شرک و تکذیب کی روش پر قائم رہے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زمانہ بعثت میں فصاحت کے معاملہ میں اہل عرب میں تفاوت پایا جاتا تھا۔ انہوں نے سورۃ توبہ کی آیت ذکر کی ہے۔
وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَأَجِرْہُ حَتَّی یَسْمَعَ کَلاَمَ اللّٰہِ ثُمَّ أَبْلِغْہُ مَأْمَنَہُ ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّ یَعْلَمُونَ (التوبہ /۶)
’’ اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اسے پناہ دید و یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ یہ اس لیے کرنا چاہیے کہ یہ لوگ علم نہیں رکھتے‘‘
اور اس سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس آیت سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ اہل عرب میں کچھ لوگ ایسے تھے جن کا محض کلام الٰہی سن لینا ان پر حجت تھا۔
باقلانی نے اس پر درج ذیل اعتراض بھی ذکر کیا ہے:
’’ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اگر یہ بات صحیح ہے تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ عہد نبویؐ میں تمام فصحاء قرآن سننے کے معاملہ میں ایک درجے پر تھے تو اسے یہ جواب دیا جائے گا کہ اس سے یہ ہرگز لازم نہیں آئے گا۔ اس لیے کہ انہیں اسلام قبول کرنے سے باز رکھنے والی اور بھی بہت سی چیزیں تھیں مثلاً یہ کہ وہ شکوک و شبہات میں مبتلا تھے۔ ان میں بعض خالق کی ذات میں شک کرتے تھے۔ بعض کو توحید میں شک تھا بعض نبوت میں مشکوک تھے۔ ‘‘۷
پھر ان کے شکوک و شبہات کے وجوہ مختلف تھے کچھ لوگ ایسے تھے جن کے شبہات کم تھے اور انہوں نے قرآن میں اتنا غور کیا جتنا غور کرنے کا حق تھا اور انکار کی روش اختیار نہیں کی چنانچہ وہ مشرف باسلام ہو گئے اور کچھ لوگ ایسے تھے جن کے شبہات زیادہ تھے اور انہوں نے قرآن کریم میں غور کرنے سے اعراض کیا۔ یا یہ کہ وہ بلاغت کے اعلیٰ مرتبہ پر نہیں تھے، اسی لیے انہیں غور و فکر کرنے میں عرصہ لگ گیا اور انہیں یہ دیکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ کیا دوسرے ویسا کلام لانے سے عاجز، ہیں اس لیے ان کا معاملہ موقوف رہا۔ اگروہ فصاحت میں ایک ہی مرتبہ پر ہوتے اور اسلام قبول کرنے سے بار رکھنے والے اسباب یکساں ہوتے تو بیک وقت سب کے سب مشرف با سلام ہو جاتے۔۸
ڈاکٹر عائشہ عبدالرحمن بنت الشاطی اس کے جواب میں کہتی ہیں کہ جو شخص عربی زبان جانتا ہو لیکن فصاحت کے اس درجے پر نہ ہو جو اسالیب کلام اور زبان جاننے کے وجوہ کی معرفت کے لیے ضروری ہے، وہ عجمی کے برابر ہے کیونکہ جس طرح عربی نہ جاننے والا اعجاز قرآن کا ادراک نہیں کر سکتا، اسی طرح وہ بھی اس سے ناواقف رہتا ہے۔ اس معاملہ میں ایک عرب اہل زبان جو زبان کے اس مرتبے پر نہ ہو اور غیر اہل زبان دونوں برابر ہیں۔۹
اس کلام میں ضعف اور زیادتی ہے، اس لیے کہ زمانہ بعثت میں اہل عرب تمام کے تمام فصحاء تھے، اگرچہ ان میں بلاغت اور اظہار کی قدرت کے مراتب میں تفاوت تھا اور اس میدان میں بلیغ خطباء اور ماہر شعراء کو امتیاز حاصل تھا۔ ایسا بھی نہ تھا کہ وہ اچھے اور برے قول اور اعلیٰ اور ادنیٰ کلام میں فرق نہ کر سکتے ، مگر ان میں تنقیدی حس موجود تھی جسے خالص لغوی سلیقہ نے مزید جلا بخشی تھی۔ ۱۰
ڈاکٹر عائشہ عبدالرحمن بنت الشاطی فرماتی ہیں کہ اعجاز قرآن کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر فرد قرآن جیسا کلام پیش کرنے کی قدرت کا گمان کرنے لگے، پھر ویسا کرنے سے عاجز ہو جائے اور نہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایک فرد کے بجائے تمام ماہرین فصاحت سے رجوع کیا جائے اور وہ اس کا مثل لانے سے عاجز رہیں ۔ لہٰذا اصل بات یہ ہے کہ تمام اہل عرب فصحاء تھے۔۱۱
۳۔ قرآن کریم کا چیلنج
اب ذرا زمانہ جاہلیت کے اہل عرب کا تصور کیجیے۔ خطابت اور شاعری ان کے معاشرے کی روح رواں تھی۔ عربی شعر و ادب کا فطری ذوق ان کے بچے بچے میں سمایا ہوا تھا۔ فصاحت و بلاغت ان کی رگوں میں خون حیات بن کر دوڑتی تھی۔ ان کی مجلسوں کی رونق، ان کے میلوں کی رنگینی ، ان کے فخر وناز کا سرمایہ اور ان کی نشرو اشاعت کا ذریعہ سب کچھ شعرو ادب تھا اور انہیں اس پر اتنا غرور تھا کہ وہ اپنے سوا تمام قوموں کو ’’ عجم ‘‘ یعنی گونگا کہا کرتے تھے۔ایسے ماحول میں ایک اُمّی (جناب محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک کلام پیش کیا اور اعلان فرمایا کہ یہ اللہ کا کلام ہے کیونکہ:
قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَی أَن یَأْتُواْ بِمِثْلِ ہَذَا الْقُرْآنِ لاَ یَأْتُونَ بِمِثْلِہِ وَلَوْ کَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیْراً (الاسراء/۸۸)
’’ اگر تمام انسان اور جنات مل کر اس قرآن جیسا (کلام) پیش کرنا چاہیں تو اس جیسا پیش نہیں کر سکیں گے، خواہ وہ ایک دوسرے کی کتنی مدد کیوں نہ کریں ‘‘۔
یہ اعلان کوئی معمولی بات نہ تھی۔ یہ دعویٰ اس ذات پاکؐ کی طرف سے تھا جس نے کبھی وقت کے مشہور ادباء اور شعراء سے کوئی علم حاصل نہ کیا تھا۔ کبھی مشاعرے کی محفلوں میں کوئی ایک شعر بھی نہیں پڑھا تھا اور کبھی کاہنوں کی صحبت بھی نہ اٹھائی تھی۔ خود شعر کہنا تو درکنار آپؐ کو دوسرے شعراء کے اشعار تک یاد نہیں تھے۔ پھر یہی وہ ذات تھی جسے میدان فصاحت کے یہ سور ما ایک نئے دین کا بانی کہا کرتے تھے۔ اگریہ اعلان سچا ثابت ہو جائے تو ان کے آبائی دین کی ساری عمارت منہ کے بل گر پڑتی ۔ اس لیے یہ اعلان تو درحقیقت ان کی ادبی صلاحیتوں کو ایک زبردست چیلنج تھا۔۱۲
سورۃ البقرہ میں ارشاد فرمایا کہ
وَإِن کُنتُمْ فِیْ رَیْْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَی عَبْدِنَا فَأْتُواْ بِسُورَۃٍ مِّن مِّثْلِہِ وَادْعُواْ شُہَدَاءَ کُم مِّن دُونِ اللّٰہِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ، فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِیْ وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ أُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ (البقرۃ / ۲۳، ۲۴)
’’اگر تمہیں اس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے یہ ہماری ہے یا نہیں تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاؤ۔ اپنے سارے ہم نواؤں کو بلا لو۔ ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو مدد لے لو ۔ اگر تم سچے ہو تو یہ کام کر کے دکھاؤ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا اور یقیناًکبھی نہیں کر سکتے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر، جو مہیا کی گئی ہے منکرین حق کے لیے‘‘۔
اس طرح اس آیت مبارکہ کے ذریعے چیلنج ختم کر دیا گیا۔ اس سلسلہ میں مکی عہد میں ۸۶ سورتیں نازل ہوئیں لیکن اہل عرب قرآن جیسی ایک سورت بھی لانے سے عاجز وبے بس رہے۔
ڈاکٹر عائشہ کہتی ہے کہ بعض متکلمین کا یہ خیال ہرگز درست نہیں۔۔۔ جیسا کہ قاضی عبدالجبار نے نقل کیا ہے ۔۔۔ کہ نبیؐ نے قرآن کے ذریعے انہیں اس وقت چیلنج کیا جب آپ کو قوت و شوکت حاصل ہو گئی تھی، آپ کی دعوت پھیل گئی تھی، آپ کے اصحاب کثیر تعداد میں ہو گئے تھے اور آپ نے ان سے جنگ بھی چھیڑ دی تھی، اس لیے اہل عرب خوف کی وجہ سے ان کا مثل نہ لا سکے۔ کیوں کہ سورۃ بقرہ کی آیت کے علاوہ بھی چیلنج کی تمام آیات ہجرت سے قبل ہی نازل ہوئی تھیں جب مکہ میں ظلم و زیادتی ، اذیت و تعذیب اور فتنہ اپنے بام عروج پر تھا۔۱۳
ولید بن مغیرہ کا واقعہ حضرت ابن عباسؓ نقل فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد جب موسم حج آیا تو اس نے قریش کو جمع کر کے کہا کہ موسم حج میں عرب کے مختلف قبائل یہاں آئیں گے۔ اس لیے محمد کے بارے میں کوئی ایسی بات طے کر لو کہ پھر باہم کوئی اختلاف نہ ہو۔ قریش نے کہا کہ ہم لوگوں سے یہ کہیں گے کہ محمد کاہن ہیں ۔ ولید نے کہا : خدا کی قسم! ان کا کلام کاہنوں جیسا نہیں ہے۔ قریش نے کہا کہ پھر ہم انہیں مجنون کہیں گے، ولید بولا کہ ان میں جنون کا شائبہ تک نہیں ۔ قریش کہنے لگے کہ پھر ہم کہیں گے کہ وہ شاعر ہیں ۔ ولید نے کہا کہ شعر کی تمام اصناف سے میں واقف ہوں۔ یہ کلام شعر ہرگز نہیں ہے۔ قریش نے کہا کہ پھر ہم انہیں جادوگر کہہ دیں ۔ ولید نے پہلے اس کا بھی انکار کیا مگر عاجز آ کر اسی پر فیصلہ ہوا۔۱۴
البتہ چند مسخروں نے قرآن کریم کے مقابلے میں کچھ مضحکہ خیز جملے بنائے تھے وہ تاریخ کے صفحات میں آج تک محفوظ ہیں اور اہل عرب ہمیشہ ان کی ہنستی اڑاتے آئے ہیں۔ مثلاً کسی نے ’’ سورۃ القارعہ ‘‘ اور ’’ سورۃ الفیل ‘‘ کے انداز پر یہ جملے کہے تھے کہ: الفیل ما الفیل وما ادراک ماالفیل لہ مشفر طویل وذنب اثیل وما ذاک من خلق من ربنا لقلیل۔۔۔ یا کسی نے قرآن کے مقابلے پر یہ جملے بنائے تھے: الم ترا الی ربک کیف فعل بالحبلی اخرج منھا نسمۃ تسعی بین شراسیف وحشی۔۔۔ پھر نزول قرآن کے کافی عرصے کے بعد عربی کے مشہور ادیب اور انشاء پرداز عبداللہ بن المقفع (المتوفی ۱۴۲ھ) نے قرآن کریم کا جواب لکھنے کا ارادہ کیا لیکن اسی دوران کسی بچے کو یہ آیت پڑھتے سنا کہ: وَقِیْلَ یَا أَرْضُ ابْلَعِیْ مَاء کِ وَیَا سَمَاء أَقْلِعِیْ وَغِیْضَ الْمَاء وَقُضِیَ الأَمْرُ (ہود /۴۴) تو پکار اٹھا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کلام کا معارضہ ناممکن ہے اور یہ ہرگز انسانی کلام نہیں۔ ۱۵
اعجاز قرآن کے مختلف وجوہ
زمانہ قدیم سے مسلم علماء سلف میں اعجاز کی بحث ہوتی رہی ہے اور اعجاز کے وجوہ میں ان کے مختلف مسالک اور متعدد اقوال رہے ہیں۔ انہوں نے وجوہ اعجاز کے بارے میں کچھ بھی کہا ہو۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن کا بلاغی اعجاز کبھی جدل و اختلاف کا موضوع نہیں بنا۔ اسلامی فرقوں میں اس کے بارے میں اگر کچھ اختلاف رہا ہے تو محض یہ کہ صرف بلاغت ہی قرآن کا وجہ اعجاز ہے یا اس کے ساتھ ساتھ دوسرے وجوہ بھی ہیں۔ بظاہر ان کے کلامی مجادلہ کے شور میں اختلاف کا شبہ ہوتا ہے لیکن اگر ان کے موقف میں بنظر غائر دیکھا جائے تو آخر کار کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔۶ ۱
علامہ الرمانی کہتے ہیں کہ اعجاز قرآن کے وجوہ ان امور سے ظاہر ہوتے ہیں کہ باوجود بکثرت و داعی اور سخت حاجت ہونے اور تمام لوگوں کے مقابلہ پر تحدی کیے جانے کے اس کا معارضہ کسی سے نہ بن آیا۔۱۷ جبکہ علامہ زرکشیؒ نے وجوہ کی ایک وجہ وہ رعب بیان کیا ہے جو کہ اس کے سننے سے سامعین کے قلوب میں پیدا ہوتا ہے۔ عام اس سے کہ وہ سننے والے قرآن کے مقر ہوں یا منکر ۔ ۱۸ اس بات میں تو کسی کو شک نہیں کہ اعجاز قرآن کی بہت سی وجہیں ہیں۔ یہاں چند وجوہ کو بیان کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
۱۔ قرآن کریم کی بلاغت اور فصاحت:
قرآن حکیم بلاغت کے اس اعلیٰ معیار پر پہنچا ہوا ہے جس کی مثال انسانی کلام میں قطعی نہیں ملتی۔ ان کے کلام کی بلاغت اس معیار تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ بلاغت کا مطلب یہ ہے کہ جس موقع پر کلام کیا جا رہا ہے اس کے مناسب معنی کے بیان کے لیے بہترین الفاظ اسی طرح منتخب کیے جائیں کہ مدعا کے بیان کرنے میں اور اس پر دلالت کرنے میں نہ کم ہوں نہ زیادہ ہوں۔ لہٰذا قرآن کریم بلاغت کے اس بلند معیار پر پورا اترتا ہے۔
علامہ جلال الدین السیوطیؒ کہتے تھے کہ قرآن کریم کی بلاغت اور اُس کے آئندہ معاملات میں پیشین گوئیاں اور اس کا معمول کو توڑ دینا اور پھر اس کا ہر ایک معجزہ پر قیاس ہونا، یہ باتیں بھی اُس کے اعجاز کی مثبت ہیں۔ اور معمول کلام توڑنا اس بات کا نام ہے کہ نزول قرآن سے قبل اور اس کے عہد میں معمول اور عادات کے مطابق کلام کی کئی نوعیں رائج تھیں۔ مثلاً شعر ، سجع ، خطبے ، رسائل اور منشور کلام جس کے ذریعہ سے لوگ معمولی بات چیت کیا کرتے ہیں اور جو روزمرہ کی بول چال ہے مگر قرآن نے ان سب طریقوں سے جدا اور خارج از عادت ایک نیا مفرد طریقہ پیش کیا جس کا درجہ حسن میں ہر ایک پر فائق ہے۔۱۹
قرآن کریم کے جملوں میں وہ شوکت ، سلاست اور شیرینی ہے کہ اس کی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی۔ یہاں صرف ایک مثال پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔
قاتل سے قصاص لینااہل عرب میں بڑی قابل تعریف بات تھی اور اس کے فوائد ظاہر کرنے کے لیے عربی میں کئی مقولے مشہور تھے۔ مثلاً : القتل احیاء للجمیع (قتل اجتماعی زندگی ہے) اور القتل الفی للقتل (قتل سے قتل کی روک تھام ہوتی ہے) اور اکثروا القتل لیفل القتل (قتل زیادہ کرو تاکہ قتل کم ہو جائے) ۔
ان جملوں کو اتنی مقبولیت حاصل تھی کہ یہ زبان زد عام تھے اور فصیح سمجھے جاتے تھے۔ قرآن کریم نے بھی اسی مفہوم کو ادا فرمایا لیکن کس شان سے ؟ ارشاد ہے :
وَلَکُمْ فِیْ الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ (البقرۃ/۱۷۹)
’’ اور تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے ‘‘۔
اس جملے کے اختصار ، جامعیت ، سلاست ، شوکت اور معنویت کو جس پہلو سے دیکھیے بلاغت کا معجز شاہکار معلوم ہوتا ہے اور پہلے کے تمام جملے اس کے آگے سجدہ ریز دکھائی دیتے ہیں ۔ ۲۰
۲۔ اسلوب کا اعجاز:
زمانہ بعثت میں جب مشرکین اہل عرب قرآن کے مثل ایک سورت بھی نہ لا سکے تو اس پر چیلنج کی بحث ختم کر دی گئی۔ تاکہ اعجاز کا مسئلہ پے در پے نسلوں کے سامنے رہے اور یہ سوال ہمیشہ ان کے پیش نظر رہے کہ آخر اہل عرب قرآن کے مثل ایک سورۃ بھی لانے سے کیوں قاصر و عاجز رہے۔
قرآن کریم کے اعجاز کا سب سے زیادہ روشن مظاہرہ اس کے اسلوب میں ہوتا ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کا مشاہدہ ہر کس و ناکس کر سکتا ہے۔ اس کے اسلوب کی چند اہم معجزانہ اور خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔ قرآن کریم ایک ایسی نثر پر مشتمل ہے جس میں شعر کے قواعد و ضوابط ملحوظ نہ ہونے کے باوجود ایک ایسا لذیذ اور شیریں آہنگ پایا جاتا ہے جو شعر سے کہیں زیادہ حلاوت اور لطافت کا حامل ہے۔ ۲۱
۲۔ علماء بلاغت نے اسلوب کی تین قسمیں قرار دی ہیں۔ ۱۔خطابی ۲۔ادبی ۳۔علمی
ان تینوں قسموں کے دائرے الگ الگ ہیں۔ خصوصیات جدا اور ان تینوں کو ایک ہی عبارت میں جمع نہیں کیا جا سکتا مگر قرآن کریم کا اعجاز یہ ہے کہ وہ ان تینوں اسالیب کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔
۳۔ اگر ایک ہی بات کو بار بار دہرایا جائے تو کہنے والا ادب و انشاء میں خواہ کتنا بلند پایہ مقام رکھتا ہو ایک مرحلے پر پہنچ کر سننے والے اکتا جاتے ہیں، لیکن قرآن کریم کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں ایک ہی بات بعض اوقات بیسیوں مرتبہ کہی گئی ہے۔ ایک ہی واقعہ بار بار مذکور ہوا ہے لیکن ہر مرتبہ نیا کیف ، نئی تاثیر محسوس ہوتی ہے۔ ۲۲
۳۔ غیب کی خبروں سے اعجاز کا پہلو:
قرآن کے اعجاز کی وجوہ میں سے تیسری بڑی وجہ غیب کی خبروں کے بارے میں پیشن گوئیاں ہیں ۔یہاں پر صرف چند پیشن گوئیاں بیان کی جا رہی ہیں۔
قرآن کریم آنے والے واقعات کی ان پیشن گوئیوں پر مشتمل ہے جو بالآخر سو فیصد درست ثابت ہوئیں۔
(۱) الم، غُلِبَتِ الرُّومُ، فِیْ أَدْنَی الْأَرْضِ وَہُم مِّن بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُونَ، فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ (الروم/ ۱۔۳)
’’ ا۔ل۔م۔ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہو گئے ہیں اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہو جائیں گے ‘‘ ۔
(۲) لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِن شَاء اللَّہُ آمِنِیْنَ مُحَلِّقِیْنَ رُؤُوسَکُمْ وَمُقَصِّرِیْنَ لَا تَخَافُونَ (الفتح/۲۷)
’’ اگر اللہ نے چاہا تو تم مسجد حرام میں ضرور داخل ہو گئے۔ اس طرح کہ تم میں بعض نے اپنے سرمنڈوائے ہوئے ہوں گے ، بعض نے بال چھوٹے کرائے ہوئے ہوں گے اور تمہیں کوئی خوف نہ ہو گا‘‘۔
(۳) سَتُدْعَوْنَ إِلَی قَوْمٍ أُوْلِیْ بَأْسٍ شَدِیْدٍ (الفتح/۱۶)
’’ عنقریب تمہیں ایک ایسی قوم کی طرف بلایا جائے گا جو سخت قوت والی ہے‘‘۔
اس میں جو خبر دی گئی ہے وہ بعینہ اسی طرح واقع ہوئی۔ اس لیے کہ سخت قوت والی قوم کا مصداق راحج قول کے مطابق بنو حنیفہ مسلیمۃ الکذب کا قبیلہ ہے اور بلانے والے صدیق اکبرؓ ہیں۔
(۴) إِذَا جَاء نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ، وَرَأَیْْتَ النَّاسَ یَدْخُلُونَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ أَفْوَاجاً (النصر/۱،۲)
’’ جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے اور آپؐ لوگوں کو دیکھ لیں کہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں‘‘۔
یہاں فتح سے مراد فتح مکہ ہے، کیونکہ صحیح قول کے مطابق یہ سورت فتح مکہ سے قبل نازل ہوئی ہے۔ اس لیے کہ اِذَا استقبال کو مقتضی ہے۔گزرے ہوئے واقعہ کے لیے اِذَا جَأءَ مستعمل نہیں ہوتا اور نہ اِذَا وَقَعَ کہا جاتا ہے۔ سو مکہ فتح ہو گیا اور لوگ جوق در جوق گروہ در گروہ اہل مکہ اور طائف کے رہنے والے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں داخل اسلام ہوئے۔
(۵) قُل لِّلَّذِیْنَ کَفَرُواْ سَتُغْلَبُونَ (آل عمران/۱۲)
’’ آپ کافروں سے کہہ دیجیے کہ عنقریب تم مغلوب ہوجاؤ گے ‘‘۔
ٹھیک اسی طرح واقع ہوا جس طرح خبر دی گئی اور کفار مغلوب ہو گئے۔۲۳
اعجازِ قرآن اور اہل بلاغت
مفسرین اور خاص طور پر ان میں سے اہل بلاغت نے آیات قرآنی کی تفسیر کے سیاق میں بلاغت کے جن پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ قرآن کے اعجازبیان پر اس اجماع نے اعجاز کی بحث کو خاص طور پر بلاغی میدان میں منتقل کر دیا۔ بلاغی اعجاز کے سلسلہ میں ابتدائی کوششیں ظاہر ہوئیں اور عبدالقاہر جرجانی کو اس بات میں شہرت حاصل ہوئی کہ وہ نظم میں اعجاز کے قائل ہیں۔ اسی طرح ابوبکر باقلانی اس حیثیت سے مشہور ہوئے کہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے قرآن کی بلاغت میں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔
اگر ہم بلاغی اعجاز کے سلسلہ میں ان ابتدائی مصنفین کے اسلوب اور طریقہ بحث پر کوئی حکم نہیں لگا سکتے جن کی کتابیں ہم تک نہیں پہنچ سکی ہیں تو کم از کم ان لوگوں کے اسالیب میں تو ضرور غور کر سکتے ہیں جن کی کتابیں ہم تک پہنچتی ہیں اور جو ہمارے لیے نقوش راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ چند کا مختصراً تعارف یہاں پیش کیا جاتا ہے۔
۱۔ خطابی ؒ
سب سے پہلے خطابی (متوفی ۳۸۸ھ) نے چوتھی صدی ہجری میں اپنے رسالہ ’’ بیان اعجاز القرآن ‘‘ میں نظم کے ذریعے اعجاز کے فکر کی تشریح کی۔ اسی طرح بلاغت کے پہلو سے اعجاز کی وضاحت کی جس کے ان سے پہلے اکثر علماء اہل نظر قائل تھے، اگرچہ ان کی فکر اس سلسلہ میں ایک قسم کی تقلید اور غلبہ ظن پر مبنی تھی۔
خطابی نے اس کتاب میں ان لوگوں کے شبہات کا بھی جواب دیا جنہوں نے بعض قرآنی آیات کی بلاغت پر اعتراض کیا اور مدعیان نبوت کے ان اقوال کا رد کیا ہے جنہیں ’’ معارضات قرآن ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کتاب کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ خطابی نے قرآن کریم کے ایسے الفاظ میں دلالت کے لحاظ سے باریک فرق کی طرف اشارہ کیا ہے جن کے بارے میں ہماری ڈکشنریوں اور تفسیر کی کتابوں میں کیا جاتا ہے۔۲۴
۲۔ رمانی ؒ
علی بن عیسیٰ الرمانی نے، جو چوتھی صدی ہجری کے ہیں، اپنے رسالہ ’’ النکت فی اعجاز القرآن ‘‘ میں بلاغت قرآن کو موضوع بنایا ہے۔ شروع میں انہوں نے اعجاز قرآن کے سلسلہ میں سات وجوہ بیان کیے ہیں پھر بلاغت کے پہلو سے اعجاز پر تفصیل سے بحث کی ہے۔۲۵
۳۔ قاضی عبدالجبار ؒ
قاضی عبدالجبار معتزلی کی کتاب ’’ المغنی ‘‘ کا جو حصہ ’’ اعجاز قرآن ‘‘ کے لیے خاص ہے اس میں قرآن کی فصاحت ، بحث و نظر کا موضوع رہی ہے۔۲۶
۴۔ باقلانی ؒ
چوتھی صدی کے اواخر میں باقلانی ظاہر ہوئے۔ انہوں نے اپنی مشہور کتاب ’’ اعجاز القرآن ‘‘ پیش کی جو اعجاز پر خالص قرآنی مطالعہ نہیں جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے اور جیسا کہ اس کے مقدمہ میں بھی باقلانی وعدہ کرتے ہیں بلکہ وہ کلامی اور مذہبی مجادلہ اور شعرو نثر کے بے شمار طویل نصوص کی ادبی تنقید سے زیادہ قریب ہے۔
باقلانی کی کتاب کا مطالعہ کرنے والے کے لیے دشوار ترین امر یہ ہے کہ کلامی مجادلہ اور شعر و نثر کے طویل نصوص کے اس طومار سے نظم قرآن کے بلاغی اعجاز کے سلسلہ میں باقلانی کی کوئی واضح فکر حاصل کر سکے۔
۵۔ جرجانی ؒ
پانچویں صدی ہجری میں عبد القاہر جرجانی نے اپنے رسالہ ’’الشافیہ‘‘ میں اعجاز کی بحث میں متکلمین اور مذہبیین کے اختلافات کا جائزہ لیا اور ان تمام لوگوں کے شبہات کا استقصاء کیا جنہوں نے اعجاز کو اس کے بلاغی پہلو سے پھیر دیا ہے خاص طور پر وہ لوگ جو ’’صرفہ‘‘ کے قائل ہیں۔ ۲۷
عبدالقاہر کے نزدیک نظم میں اس بلاغی اعجاز کو وہ شخص نہیں سمجھ سکتا جو سمجھنے کے آلہ سے محروم ہو اور وہ ہے علم بلاغت و فصاحت ، انہوں نے اپنی کتاب ’’ دلائل الاعجاز ‘‘ میں اس علم کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ جرجانی نے اپنی کتاب ’’دلائل الاعجاز ‘‘ کی ابتدائی فصلوں میں اپنے مسلک کا اثبات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فصاحت و بلاغت میں اصل اعتبار نظم کا ہے نہ کہ الفاظ کا اس لیے کہ الفاظ معانی کے خادم ہوتے ہیں چونکہ ان کا خیال ہے کہ نظم قرآن کا اعجاز اسی وقت سمجھ میں آ سکتا ہے جب فصاحت کے اسرار کا ادراک حاصل ہو۔۲۸
اعجاز قرآن پر عیسائی علماء کے اعتراضات
پہلا اعتراض: قرآن کریم کی بلاغت پر
عیسائی علماء قرآن کریم پر اعتراض یہ کرتے ہیں کہ یہ بات تسلیم نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کریم بلاغت کے اس انتہائی معیار پر پہنچا ہوا ہے جو انسانی دسترس سے باہر ہے اور اگر اس کو مان بھی لیا جائے تب بھی یہ اعجاز کی ناقص دلیل ہے، کیونکہ اس کی پہچان اور شناخت صرف وہی شخص کر سکتا ہے جس کو عربی زبان اور لغت عرب کی پوری مہارت ہو۔ اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ تمام کتابیں جو یونانی ، لاطینی زبانوں میں بلاغت کے اعلیٰ معیار پر پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ بھی کلام الٰہی مانی جائے۔
جواب :
قرآن کریم کی عبارت کو بلاغت کے اعلیٰ درجہ تک پہنچا ہوا نہ ماننا سوائے ہٹ دھرمی کے کچھ نہیں۔ رہی یہ بات کہ اس کی شناخت صرف وہی کر سکتا ہے جس کو عربی زبان کی کامل مہارت ہو ، سو یہ درست ہے لیکن اس سے ان کا مدعا ہرگز ثابت نہ ہو گا کیونکہ یہ معجزہ بلغاء اور فصحاء کو عاجز اور قاصر کرنے کے لیے تھا اور ان کا عاجز ہونا ثابت ہو چکا، نہ صرف یہ کہ وہ معارضہ نہیں کر سکے بلکہ اپنی عاجزی کا اعتراف بھی کیا اور مسلمانوں نے یہ دعویٰ کبھی نہیں کیا کہ قرآن کے کلام اللہ ہونے کا سبب صرف اس کا بلیغ ہونا ہے بلکہ ان کا دعویٰ تو یہ ہے کہ بلاغت بھی قرآن کے کلام الٰہی ہونے کے بے شمار اسباب میں سے ایک سبب ہے اور قرآن کریم اس لحاظ سے منجملہ بہت سے معجزات کے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ ہے۔ ۲۹
جسٹس محمد تقی عثمانی اس اعتراض کے جواب میں کہتے ہیں کہ اگرشیخ سعدی کی کتاب فارسی زبان کی اعلیٰ ترین کتاب تسلیم کی جاتی ہے یا پھر دوسرے لوگوں نے اپنی اپنی زبانوں میں جو اعلیٰ بلاغت پر کتب لکھی اور آج تک ان کی کوئی نظیر پیش نہیں کر سکا تو پھر بھی ان اعلیٰ غلاغت کی کتب کو کلام الٰہی تسلیم نہیں کیا جائے گا کیونکہ کلام الٰہی کو کلام الٰہی اس لیے تسلیم کیا جاتا ہے کہ یہ کلام ایک اُمّی نے پیش کیا۔ جبکہ شیخ سعدی نے دن رات محنت کر کے اساتذہ سے علم حاصل کر کے اعلیٰ بلاغت کی کتب لکھی جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ کوئی استاد تھا اور نہ ہی آپ پڑھے لکھے تھے۔ ۳۰
دوسرا اعتراض: بائبل کی مخالفت
چونکہ قرآن کریم نے بعض مقامات پر عہد نامہ جدید و عہد نامہ قدیم کی کتابوں کی مخالفت کی ہے اس لیے وہ خدا کا کلام نہیں ہو سکتا ؟
جواب :
عیسائی پادری قرآن کریم اور بائبل کے درمیان جو مخالفتیں بیان کرتے ہیں وہ تین قسم کی تھیں۔
اول : منسوخ احکام کے لحاظ سے
دوم : بعض واقعات ایسے ہیں جن کا ذکر قرآن میں موجود ہے اور دونوں عہد ناموں میں نہیں پایا جاتا۔
سوم: قرآن کے بعض بیان کردہ حالات ان کتابوں کے بیان کیے ہوئے احوال کے مخالف ہیں۔
ان تینوں لحاظ سے عیسائیوں کا قرآن پر طعن کرنا محض بے جا اور بے معنی ہے کیونکہ قرآن کریم نے سابقہ کتب کے احکام کو منسوخ کر دیا اور یہ عمل کثرت سے سابقہ شریعتوں میں بھی پایا جاتا رہا ہے تو پھر قرآن کے منسوخ احکام پر ہی اعتراض کیوں ؟ جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت نے سوائے نو ( 9 ) احکام کے تمام احکام کو منسوخ کر دیا، یہاں تک کہ توریت کے مشہور دس احکام بھی منسوخ کر دیے گئے۔ پھر عہد نامہ جدید میں بہت سے قصے وہ ذکر کیے گئے ہیں جن کا ذکر عہدنامہ قدیم کی کسی کتاب میں نہیں۔ ۳۱
تیسرا اعتراض: اللہ کی جانب گمراہی کی نسبت
قرآن کریم میں کہا گیا ہے کہ ہدایت اور گمراہی اللہ کی جانب سے ہے۔ جنت میں نہریں اور حوریں اور محلات ہیں اور کافروں کے ساتھ جہاد کرنا واجب ہے۔ یہ تینوں کام قبیح اور برے ہیں جو اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن جو ایسے قبیح مضامین پر مشتمل ہے وہ اللہ کا کلام نہیں ہو سکتا۔
جواب :
پہلی بات کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس قسم کا مضمون عیسائیوں کی مقدس کتابوں میں بہت سے مقامات پر موجود ہے۔ لہٰذا ان کو یہ ماننا پڑے گا کہ ان کی مقدس کتابیں بھی یقینی طور پر منجانب اللہ نہیں ہیں۔ کچھ آیات یہاں نقل کی جا رہی ہیں:
۱۔ ’’ پر خداوند نے فرعون کے دل کو سخت کر دیا اور اس نے بنی اسرائیل کو جانے نہ دیا‘‘۳۲
۲۔ ’’ لیکن خداوند نے تم کو آج تک نہ تو ایسا دل دیا جو سمجھے اور نہ دیکھنے کی آنکھیں اور سننے کے کان دیئے‘‘ ۳۳
۳۔ ’’ اس سبب سے وہ ایمان نہ لا سکے کہ یسعیاہ نے پھر کہا ، اس نے ان کی آنکھوں کو اندھا اور دل کو سخت کر دیا، ایسا نہ ہو کہ وہ آنکھوں سے دیکھیں اور دل سے سمجھیں اور رجوع کریں ‘‘ ۳۴
دوسری بات کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امر میں کہ جنت حورو قصور اور دوسری نعمتوں پر مشتمل ہے۔ عقلی طور پر کوئی قباحت نہیں ہے، نیز مسلمان یہ نہیں کہتے کہ جنت کی لذتیں جسمانی لذتوں تک محدود ہیں، جس طرح فرقہ پروٹسٹنٹ کے علماء غلطی سے یا عوام کو غلطی میں ڈالنے کے لیے کہتے ہیں بلکہ جنت روحانی اور جسمانی ہر دو قسم کی لذتوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے پہلی لذت دوسری سے بڑھی ہوئی ہے۔۳۵
چوتھا اعتراض: اختلافات مضامین
قرآن کریم میں وہ مضامین نہیں پائے جاتے جو روح کے مقتضیات اور اس کے پسندیدہ ہو سکتے ہیں۔
جواب :
دو چیزیں جو روح کے مقاصد اور مقتضیات ہیں اور جو اس کی پسند اور چاہت کی چیزیں ہیں، وہ صرف دو ہیں۔ کامل اعتقادات اور نیک اعمال۔ قرآن کریم ان دونوں قسم کے مضامین کو مکمل طور پر بیان کرتا ہے۔ ۳۶
پانچواں اعتراض: قرآن کا معنوی اختلاف
قرآن میں جابجا معنوی اختلاف پائے جاتے ہیں۔ مثلاً :
لاَ إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ (البقرۃ/۲۵۶)
’’ دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے‘‘
فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَکِّرٌ، لَّسْتَ عَلَیْْہِم بِمُصَیْْطِرٍ (الغاشیۃ/۲۱، ۲۲)
’’ پس اے نبیؐ! آپ نصیحت کیجیے آپ نصیحت کرنے والے ہی تو ہیں۔ آپ ان کے داروغہ نہیں ‘‘
یہ آیات ان آیات کے مخالف ہیں جن میں جہاد کا حکم پایا جاتا ہے۔
اسی طرح اکثر آیتوں میں کہا گیا ہے کہ مسیح انسان اور صرف رسول ہیں :
إِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُولُ اللّٰہِ وَکَلِمَتُہُ أَلْقَاہَا إِلَی مَرْیَمَ وَرُوحٌ مِّنْہُ (النساء/۱۷۱)
’’ بلاشبہ عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول اور اللہ کا وہ کلمہ ہیں جو اللہ نے مریم پر نازل کیا، اور اللہ کی روح ہیں ‘‘
اس کے برعکس دوسرے موقع پر کہا گیا ہے کہ وہ نوع انسانی میں سے نہیں ہیں بلکہ ان کا مقام بلند تر ہے:
وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِیْ أَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِن رُّوحِنَا (التحریم/۱۲)
’’ اور مریم بنت عمران جس نے اپنی شرمگاہ کو (بدکاری) سے محفوظ رکھا تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی‘‘
جواب :
پہلے اختلاف کی نسبت تو یہ کہا جائے گا کہ اس کو اختلاف کہنا ہی غلط ہے، بلکہ یہ حکم جہاد کے حکم سے قبل کا ہے۔ جب جہاد کا حکم نازل ہوا تو پہلا حکم منسوخ ہو گیا اور نسخ کو اختلاف معنوی کہنا بالکل لغو ہے۔ ورنہ لازم آئے گا کہ توریت اور انجیل کے تمام احکام منسوخہ میں اختلاف معنوی تسلیم کیا جائے۔
جب ان دونوں آیتوں کے فیصلہ کے مطابق مسیح خدا کی روح ہیں تو ضروری بات ہے کہ وہ الوہیت کے درجہ میں ہوں کیونکہ خدا کی روح خداسے کم نہیں ہو سکتی۔ عیسائی علماء کا یہ اعتراض در حقیقت صرفی قواعد سے لاعلمی کی بنیاد پر ہے اور یہ دونوں قسم کی آیات ہرگز اس پر دلالت نہیں کرتیں کہ عیسیٰ بن مریم نوع انسانی میں سے نہیں ہیں۔
حوالہ جات
۱ السیوطیؒ ، جلال الدین، علامہ، الاتقان فی علوم القرآن ، بیروت: دارالمعرفہ، ۱۳۱۷ھ، جلد ۲،ص۲۲۸
۲ ایضاً
۳ ایضاً،۲/۲۲۹۔۲۲۸
۴ ابن ہشام، جمال الدین عبداللہ بن یوسف، السیرۃ النبویۃ، بیروت: داراحیاء التراث العربی، ۱۳۹۸ھ، جلد۱، ص ۷۰ ۔ ۳۶۹
۵ ایضاً ، ۲/۲۳۵
* مزید وضاحت کیلئے دیکھیں، اعجاز القرآن ازباقلانی، ص ۳۸
۶ السیوطیؒ ، جلال الدین، علامہ، الخصائص الکبریٰ، بیروت: دارصادر، جلد۱، ص ۱۱۳
۷ البلاقانیؒ ، ابوبکر قاضی، اعجاز القرآن، مصر: دارالمعارف، ۱۱۱۹ھ، ص ۴۰
۸ ایضاً، ص ۱۷۱
۹ الشاطیؒ ، عائشہ عبدالرحمن، ڈاکٹر، قرآن کریم کا اعجاز بیان، مترجم(محمد رضی الاسلام ندوی)، لاہور: دارالکتاب،جولائی ۲۰۰۴ء، ص ۴۸
۱۰ الشاطیؒ ، عائشہ عبدالرحمن، ڈاکٹر، قرآن کریم کا اعجاز بیان، ص ۴۸
۱۱ ایضاً، ص ۴۹
۱۲ عثمانی، محمد تقی، مولانا، علوم القرآن اور اصول تفسیر، کراچی: مکتبہ دارالعلوم، ۱۴۲۳ھ، ص ۵۰۔۲۴۹
۱۳ الشاطیؒ ، عائشہ عبدالرحمن، ڈاکٹر، قرآن کریم کا اعجاز بیان، ص ۸۱
۱۴ السیوطیؒ ، جلال الدین، علامہ، الخصائص الکبریٰ، جلد۱، ص۱۱۳
۱۵ عثمانی، محمد تقی، مولانا، علوم القرآن اور اصول تفسیر، ص ۵۴۔۲۵۳
۱۶ الشاطیؒ ، عائشہ عبدالرحمن، ڈاکٹر، قرآن کریم کا اعجاز بیان، ص ۹۸
۱۷ السیوطیؒ ، جلال الدین، علامہ، الاتقان فی علوم القرآن ، جلد ۲، ص۲۳۰
۱۸ الزرکشیؒ ، بدر الدین، امام، البرہان فی علوم القرآن، بیروت: دارالمرفۃ، ۱۲۱۷ھ، جلد۱، ص ۱۴۲
۱۹ السیوطیؒ ، جلال الدین، علامہ، الاتقان فی علوم القرآن ، جلد ۲، ص۲۳۵
۲۰ عثمانی، محمد تقی، مولانا، علوم القرآن اور اصول تفسیر، ص ۲۵۹
۲۱ یہ پوری بحث حضرت شاہ ولی اللہ محدث علی دہلویؒ کی کتاب ’’الفوزالکبیر فی اصول تفسیر‘‘ میں دلکھیں۔
۲۲ عثمانی، محمد تقی، مولانا، علوم القرآن اور اصول تفسیر، ص ۶۴۔۲۶۳
۲۳ کیرانویؒ ، رحمت اللہ، مولانا، اظہار الحق، بیروت: منشورات المکتبۃ المعریۃ، جلد۲، ص، ۹۹۔۹۸
۲۴ الشاطیؒ ، عائشہ عبدالرحمن، ڈاکٹر، قرآن کریم کا اعجاز بیان، ص ۱۲۴۔۱۲۰
۲۵ الشاطیؒ ، عائشہ عبدالرحمن، ڈاکٹر، قرآن کریم کا اعجاز بیان، ص ۱۲۵
۲۶ ایضاً، ص ۱۳۰
۲۷ ایضاً، ص ۱۴۷۔۱۳۴
۲۸ ایضاً، ص ۱۵۰۔۱۴۸
۲۹ کیرانویؒ ، رحمت اللہ، مولانا، اظہار الحق،جلد۲، ص، ۱۲۶۔۱۲۴
۳۰ عثمانی، محمد تقی، مولانا، علوم القرآن اور اصول تفسیر، ص ۲۵۹
۳۱ کیرانویؒ ، رحمت اللہ، مولانا، اظہار الحق،جلد۲، ص، ۲۷۔۱۲۶
۳۲ کتاب مقدس، عہد نامہ قدیم، کتاب خروج،باب، ۱۰، آیت ۲۰
۳۳ کتاب استثناء، باب ۲۹، آیت ۴
۳۴ انجیل یوحنا، باب ۱۲،آیت۱۰
۳۵ کیرانویؒ ، رحمت اللہ، مولانا، اظہار الحق،جلد۲، ص، ۱۲۶۔۱۲۵
۳۶ ایضاً، جلد۲، ص ۱۶۳
عراق اور فرقہ واریت کی آگ / مسئلہ فلسطین
خورشید احمد ندیم
عراق کی وحدت فرقہ واریت کی زد میں ہے۔شیعہ سنی تنازعہ عراق کو شاید ایک ملک نہ رہنے دے۔ عرا ق تقسیم ہواتو پھر مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بھی تبدیل ہو جا ئے گا۔تاریخ یہ ہے کہ وہاں لگنے والی آگ ہمارے دامن کو ضرور چھوتی ہے۔کیا اس باربھی یہی ہوگا؟
القاعدہ کا قصہ بحیثیت تنظیم ،تمام ہوا۔تاہم ایک نظریے کے طور پر وہ زندہ ہے اور مقامی تنظیموں کی صورت میں ظہور کر رہا ہے۔پاکستان میں تحریکِ طالبان کی شکل میں اور شام وعراق میں امارت اسلامیہ عراق و شام (ISIS) کے روپ میں۔ فرات کا کنارہ اب اس کے قبضے میں ہے۔ شام کے ایک علاقہ اور اب عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کے ساتھ تکریت پر اب ISIS کو قوتِ نافذہ حاصل ہو چکی۔عراق کو اردن اور شام سے ملانے والی چار گزرگاہوں میں سے تین ان کے کنٹرول میں ہیں۔امارت والوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور فرانس نے ریت پر لکیریں کھینچتے ہوئے جو تقسیم کی تھی،اب ختم ہو نے کو ہے اور اسلامی خلافت ایک بار پھر قائم ہورہی ہے۔مو جود ہ سرحدیں اب بے معنی ہو جا ئیں گی۔عراق کی مو جودہ شیعہ حکومت ان کا ایک ہدف ہے۔وزیر اعظم مالکی شیعہ ہیں۔ اپنے طویل دورِ اقتدار میں وہ مسلکی تعصب سے بلند نہیں ہو سکے۔سنی اقلیت ان سے نا لاں رہی۔امارتِ اسلامیہ کے مو جودہ تمام تصورات، وہ القاعدہ کی صورت میں ہوں، طالبان کی شکل میں یا امارتِ اسلامیہ کے روپ میں،سب میں جوخیلات مشترک ہیں، ان میں ایک شیعہ دشمنی بھی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں شیعہ سنی اختلاف تاریخ کے مختلف ادوار سے گزر تاہوااب ایک پیچیدہ صورت اختیار کر چکا۔اس کا آ غاز خلافت راشدہ کے عہد میں ہو گیا تھا۔عرب مسلمانوں کی فتوحات کا دائرہ جب ایران تک وسیع ہوا تو اسے نظریے کے بجائے عرب ایران کشمکش کے تناظر میں دیکھا گیا۔یہ گرہ آج تک کھل نہیں سکی۔صفویوں کی آ مد سے پہلے،ایران سنی اکثریتی ملک تھا۔عراق میں بھی انیسویں صدی تک سنیوں کی اکثریت تھی۔آج عراق میں سنی اقلیت میں ہیں۔صدام حسین اقلیت کے نمائدہ تھے مگر اقتدار ان کے پاس تھا۔بحرین میں شیعہ اکثریت میں ہیں لیکن اقتدار سنیوں کا ہے۔ شیعہ سارے مشرقَ وسطیٰ میں بکھرے ہوئے ہیں۔ ایران ان کی سیاسی قوت کا مرکز ہے۔۱۹۷۹ء میں جب انقلاب آیا تو ایران کا مسلکی تشخص نمایاں ہو گیا۔اس نے مشرقِ وسطیٰ کے اہلِ تشیع میں بیدداری کی ایک لہر پیدا کر دی۔ولی رضا نصر نے اپنی کتاب ’اہلِ تشیع کا احیا(Shia Revival) میں لکھا ہے کہ اس انقلاب سے پہلے مشرقِ وسطیٰ کے شیعہ مختلف قومی جماعتوں اور تحریکوں سے وابستہ تھے۔انقلاب کے بعد انہوں نے اپنے مسلکی تشخص کے ساتھ ظہور کیا۔ پھر جب انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی صاحب نے انتقالِ اقتدار کا تصور پیش کیا تو سنی بادشاہتیں بہت سے اندیشوں میں مبتلا ہو گئیں۔
یہ اندیشے آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کی بنیاد بن گئے۔اہلِ عرب نے اپنی تما م قوت صدام حسین کی پشت پر لا کھڑی کی۔ ایران کو تو شکست نہ ہو سکی لیکن صدام حسین کو سمجھنے میں عربوں سے غلطی ہو گئی۔وہ کویت پر چڑھ دوڑے اور اب عربوں کے خائف ہو نے کا وقت تھا۔امریکا اور عالمی طاقتیں ،معلوم ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے وسائل پرایک مدت سے نظریں رکھے ہوئے ہیں۔اسرائیل اسی لیے قائم ہوا۔یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اس صورتِ حال سے فائدہ نہ اٹھاتیں۔ کویت کی حمایت کو عنوان بنا کر انہوں نے اپنی فوجیں اتار دیں اور یوں بالفعل مشرقِ وسطیٰ پر ان کا قتدار قائم ہو گیا۔ ایران نے اس اقتدار کو چیلنج کر نا چاہا تو وہ عالمی قوتوں کا ہدف بنا۔اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے،امریکا نے اسی شیعہ سنی اختلاف کو استعمال کیا جو پہلے سے مو جود تھا۔تاریخ کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی ایک باگ اگرانسانی ہاتھ میں ہے تو دوسری قدرت کے۔اسے ہم تاریخ کا جبر کہتے ہیں۔یہ جبر اپنا کام کر تا رہا۔ امریکا نے جن مذہبی جذبات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر نا چاہا،ایک وقت آیا کہ وہ خود اس کے لیے چیلنج بن گئے۔یہی حادثہ عربوں کے ساتھ ہوا۔ وہ جس سلفی اسلام کے نمائدہ تھے، اس کا ایک فرزند اسامہ بن لادن ا ن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گیا۔ عراق کی صورتِ حال نے ایران کواب پھر امریکا کے قریب کر دیا۔
مفادات کے اس کھیل میں جو پیچیدہ صورتِ حال ابھری ہے، اس کا ایک نقشہ ٹائم میگزین نے اپنی حالیہ اشاعت میں کھینچا ہے۔عراق میں امارتِ اسلامیہ کی پیش رفت نے امریکا اور ایران کو اتحادی بنا دیا ہے۔ دونوں وزیر اعظم مالکی کی پشت پر کھڑے ہیں۔شیعہ اثرات کو محفوظ کرنے کی خواہش نے ایران کو شام کے بشار الاسد کی پشت پر لا کھڑا کیا ہے جو مارت اسلامیہ سمیت اپنے ان باغیوں سے چار سال سے لڑ رہے ہیں جنہیں سعودی عرب کی حمایت حا صل ہے۔ امریکا ایران کے اثرات کے محدود کرنے کے لیے عرب ریاستوں کے ساتھ کھڑا ہے لیکن اب اسے شکایت ہے کہ وہ سنی جنگوؤں کی مدد کر رہے ہیں جو امریکا کے لیے بھی خطرہ ہیں۔امریکا، ایران، عراق اور کرد، امارتِ اسلامیہ کے خلاف یک زبان ہیں لیکن کرد خوش ہیں کہ امارت کی پیش رفت سے ان کی آ زادی کا راستہ کھل رہا ہے۔وہ عراق کی ایک بڑی آئل ریفائنری پر قابض ہیں اور ان کا راہنما مسعود برزانی اب کردستان کو ایک حقیقت سمجھتا ہے۔کرد عراق کی آبادی کا بیس فی صد ہیں۔ وہ شام میں ہیں اور ترکی میں بھی۔تاریخی اعتبار سے کرد اور ترکی لڑتے رہیں لیکن اب ان کے مابین بھی بشارالاسد اور تیل کے معاملے میں ایک اتفاقِ رائے وجود میں آ چکا۔اب ترکی نے کرد ریاست کی دبے الفاظ میں حمایت کا اشارہ بھی دے دیاہے۔
امریکا، ایران،عرب مالک،جس نے جو کچھ کیا،اب اس کے نتائج بھگت رہا ہے ۔تاریخ کی جو باگ قدرت کے ہاتھ میں ہے،وہ اس کا رخ موڑ رہی ہے۔کوئی قدرت کے اشاروں کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔یہ آگ اب پھیلے گی۔ سنی شیعہ تنازعہ عراق کو اپنی لپیٹ میں لے چکا۔ امارت اسلامیہ کے مقابلے میں ریاست شکست کھاچکی۔آیت اللہ سیستانی نے ریاست کی حمایت میں اپنی ملیشیا کو تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے، اس کے ساتھ مقتدیٰ الصدرنے بھی اپنی ملیشیاکو دوبارہ منظم کر لیا ہے تاہم وہ ریاست کے ساتھ نہیں ہیں۔جب ریاست اس طرح خانہ جنگی کا شکار ہو جا ئے تو پھر اس کا منظم رہنا مشکل ہو جا تا ہے۔اگر عراق کی وحدت قائم نہیں رہتی تو یہ ممکن نہیں کہ شام، اردن، ایران اور ترکی براہ راست اس سے متاثر نہ ہوں۔ اسی طرح سعودی عرب بھی ہو گا اور پھر لازم ہے کہ پاکستان بھی ہو۔
اس ساری معرکہ آرائی میں امتِ مسلمہ کہیں نہیں ہے۔ نسلی عصبیتیں ہیں یا مسلکی۔میں اسی لیے یہ عرض کرتا رہاہوں کہ بحیثیت سیاسی تصور، امتِ مسلمہ ایک ایساا سم ہے جس کا کوئی مسمیٰ نہیں۔ایک روحانی وحدت کے طور پر وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ عراق کے مو جودہ قضیے سے یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے۔دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں نے اس تصور کو مجسم کرنی کوشش کی اور اپنی صفوں کی حد تک اس کا اہتمام بھی کیا جیسے پاکستان کی جماعت اسلامی یا مشرقِ وسطیٰ کی الاخوان المسلمون لیکن عملاًہر جگہ نسلی یا مسلکی تقسیم ہی غالب رہی۔اس میں اہلِ پاکستان کے لیے بڑا سبق ہے جہاں لوگوں کی وابستگی پاکستان کے جغرافیے سے زیادہ اپنے مسلک کے ساتھ ہے جن کی اساس مشرقِ وسطیٰ میں ہے۔ یہ وابستگی پہلے بھی یہاں ظہور کرتی رہی ہے اورایک بار پھرکرے گی۔سطحی مباحث اور تماشوں میں گھری قومی قیادت کیا اس کا ادار ک رکھتی ہے؟کیا قوم کو اس نئے چیلنج کے بارے میں خبر دار کیا جا رہا ہے؟کاش میں ان سوالات کے جواب اثبات میں دے سکتا۔
مسئلہ فلسطین
میرا مخاطب اسرائیل یاامریکانہیں،اردو پڑھنے والے وہ لوگ ہیں جو فلسطینیوں پر روارکھے گئے ظلم پر اداس ہیں۔
آج اہلِ فلسطین کے ساتھ ہمدردی کا تقاضا ہے کہ ان کے قتلِ عام کو رکوایا جائے۔یہی نہیں، اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے کہ آئندہ ایسے واقعات کم سے کم ہوں۔میرے نزدیک تشدد کی مکمل نفی کے سوا اس کی کوئی صورت نہیں۔ بدقسمتی سے پہلے الفتح اور اب حماس جیسی تنظیموں نے تشدد کو بطورحکمت عملی اختیار کرکے فلسطینیوں کو زخموں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اس حکمتِ عملی سے مکمل آزادی تو دور کی بات، اب ادھوری آزادی کا تصور بھی خواب وخیال ہو تا جا رہا ہے۔یاسر عرفات نے بعد از خرابی بسیارتشددکو الوداع کہا۔حماس کوابھی تک تشدد پہ اصرار ہے۔اس لائحہ عمل کی ناکامی نوشتہ دیوار ہے۔ فلسطینیوں کا بہتا لہو،تنہا ایسی دلیل ہے جو اس اندازِ فکر کی غلطی پر شاہد ہے۔آج اہلِ فلسطین کو ایک نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ایسی حکمت عملی جو ان کے جانی و مالی نقصان کو کم کر سکے اور مسئلے کے ایک منصفانہ حل کے لیے ان کی جد وجہد کو زندہ رکھ سکے۔میری اس رائے کی بنیاد چند دلائل پر ہے:
۱۔ چند دنوں کے تصادم میں۲۳۴فلسطینی مارے جا چکے اور اس کے مقابلے میں صرف ایک اسرائیلی کی جان گئی ہے۔اگر ہم ان واقعات کی ابتدا کو سامنے رکھیں تو تین اسرائیلی نوجوان اغوا کے بعد قتل ہوئے۔یوں یہ دو سو چونتیس اور چار کی نسبت ہے۔گویا ایک اسرائیلی کے بدلے میں اٹھاون فلسطینیوں کی جان گئی۔ابھی جنگ جاری ہے اور نہیں معلوم کہ یہ نسبت کہاں تک جاتی ہے۔اس سے پہلے،جب بھی تصادم ہوا، نسبت کم و بیش یہی رہی۔۹۔۲۰۰۸ء میں بھی یہی ہوا تھا۔اس وقت۱۱۶۶؍ فلسطینیوں کے مقابلے میں تیرہ اسرئیلیوں کی جان گئی۔تب یہ نسبت ایک اور نوے(۹۰)کی تھی۔مجھے اس قیادت پر حیرت ہے جو اس حکمت عملی پر اصرار کرتی ہے جس میں انسانی جان کے ضیاع کا تناسب یہ ہے۔اس قربانی کو بھی گوارا کیا جا سکتا ہے اگر یہ معلوم ہو کہ وہ مقصد پورا ہو رہا ہے جس کے لیے جانیں دی جارہی ہیں۔اس کابھی دور دور تک کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔
۲۔ فلسطینی اس وقت کئی سیاسی وعسکری گروہوں میں منتقسم ہیں۔محمود عباس کی جماعت اور حماس کا اختلاف ظاہرو باہر ہے۔یہ اختلاف نظری ہے اور مفاداتی بھی۔برسرِ پیکار گروہ باہم قتل وغارت گری میں بہت سے لوگوں کی جان لے چکے۔اس طرح منقسم قوم کسی منظم ریاست کے خلاف کیسے لڑ سکتی ہے؟
۳۔ امتِ مسلمہ جس کو دن میں کئی بات پکارا جاتا ہے،کہیں مو جود نہیں ہے۔اس لیے اس پکار کا کوئی جواب نہیں آتا۔مجھے حیرت ہے کہ لوگ اس کے باوجودخلا میں صدا لگاتے اور یہ امید کرتے ہیں کہ جواب آئے گا۔میں بارہا عرض کر چکا کہ امت ایک روحانی وجود تو ہے کوئی سیاسی یا سماجی اکائی نہیں۔ آج مسلمانوں کی قومی ریاستیں ہیں یا مسلکی گروہ۔سب اپنے اپنے مفادات کی آ ب یاری کر رہے ہیں۔’داعش‘ نے اپنے تئیں خلافت کا اعلان کیا اور القاعدہ نے اسے مسترد کر دیا۔داعش کا اپنا خلیفہ ہے اور القاعدہ کا اپنا۔امتِ مسلمہ پاکستان جیسے ملکوں میں بعض گروہوں کا رومان ہے۔وہ فلسطینیوں کے لیے صرف احتجاج کر سکتے ہیں اور بس۔کیا اس سے ان کے دکھوں میں کوئی کمی آ سکتی ہے؟
۴۔ اسرائیل ایک منظم ریاست ہے اور اس کی پشت پر امریکا، برطانیہ اور روس جیسی کئی طاقت ور ریاستیں ہیں۔یہ طاقتیں ہر اخلاقی اور بین الاقوامی قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیل کی حمایت کرتی ہیں۔دنیا کا اس وقت اجماع ہے کہ اسرائیل کو بطور ریاست قائم رہناہے۔فلسطینی ریاست کے بارے میں ابھی تک ابہام ہے۔فلسطینیوں کی حمایت ایران کی ریاست کرتی ہے یا شام کی۔اس حمایت کی اساس بھی نظریہ یا امت نہیں، ان ریاستوں کے علاقائی مفادات ہیں۔اس وقت حماس کے ساتھ اسلامی جہاد کی تنظیم بھی مو جود ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔کہا جاتا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کو ایک تشویش یہ بھی ہے کہ حماس کی نسبت اسلامی جہاد سے معاملات کرنا مشکل تر ہو گا، اس لیے حماس سے معاملہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ شام کی حکومت اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے،اس لیے فلسطینیوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتی۔یوں بھی،بشار الاسد کے خانوادے کو امت مسلمہ سے جو نسبت ہے، اس کا حال کوئی اخوان سے پوچھے جن کی پیٹھ پر اس خاندان کا تازیانہ مسلسل برستا رہا۔پھر یہ کہ ماضی میں بھی ان ریاستوں کی کوئی مدد فلسطینیوں کے کام نہ آ سکی۔مصر میں اخوان ان کا اخلاقی اور کسی حد تک مادی سہارا تھے۔ان کے بے چارگی ہمارے سامنے ہے۔
سادہ سا سوال ہے کہ ان اسباب کی روشنی میں اہلِ فلسطین کو کیا کر نا چاہیے؟میرا خیال ہے کہ قابلِ عمل حل صرف ایک ہے۔فلسطینی خود کوایک سیاسی قیادت کے تحت منظم کریں اور دوریاستی حل کو قبول کرلیں۔وہ اس بات کی پوری کوشش کریں کہ ان کی ریاست ہر طرح سے خود مختار اور آز اد ہو۔اس کے ساتھ یروشلم کو ایک آزاد شہر قرار دینے کا مطالبہ کیا جائے کیونکہ یہ تینوں ابرہیمی مذاہب کے لیے تقدس رکھتا ہے۔دو ریاستی حل پر اس وقت کم و بیش ساری دنیا متفق ہے۔جب یہ فارمولا پہلی بار سامنے آیا تو اس میں فلسطینیوں کے لیے بہت کچھ تھا۔جب انہوں نے اسے تسلیم نہیں کیا اور یہ خیال کیا کہ وہ عسکری جدو جہد سے اسرائیل کاخاتمہ کردیں گے توان اسباب کی بنا پر ،جن کا میں نے ذکر کیا، ان کا وجود سمٹتا چلا گیا۔آج اگر اسرائیل ۱۹۶۷ء سے پہلے کی سرحد کو تسلیم کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے خالی کرتا اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کو عملاً تسلیم کرتا ہے تو یہ فلسطینیوں کی بڑی فتح ہو گی۔
اگر تشدد کو خیر باد کہتے ہوئے، فلسطینی اس کے لیے سیاسی جدو جہد کرتے ہیں تو اس کے دو فوئد ان کو فوری طور پر مل سکتے ہیں۔ایک یہ کہ اسرائیلی تشدد میں کمی آ جائے گی۔دوسرا یہ کہ انہیں دنیا کے ایک بڑے حصے کی اخلاقی و سیاسی تائید میسرآ جائے گی۔اس وقت امریکا میں یہودیوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو اسرائیل کے خلاف ہے۔وہ اس ظلم کی تائید پر آ مادہ نہیں۔خود اسرائیل میں بھی بہت سے یہودی ہیں جو اسرائیل کو خوف کی اس فضا سے نکالنا چاہتے ہیں۔اس کے ساتھ مسلمان قومی راستیں بھی اپنے قومی مفادات کو قربان کیے بغیر، فلسطینیوں کی حمایت کر سکیں گی۔اسرائیل آسانی کے ساتھ مقبوضہ علاقوں کو خالی نہیں کرے گا۔اس کے لیے بھی طویل جدو جہد کی ضرورت ہو گی۔ تاہم اس وقت ساری تو جہ فلسطینیوں کے قتل عام کو روکنے پر دی جانی چاہیے۔کاش انہیں ایسی قیادت میسر آ سکے جوان کی بچوں کو زندگی کا پیغام دے سکے۔پاکستان کی اسلامی تحریک اگر اہلِ فلسطین کو یہ مشورہ دے سکے تو ان کے ساتھ یہی حقیقی ہمدردی ہو گی۔اب اس کے سوا کچھ نہیں ہو گا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہو جائے۔کیا ۲۳۴ ؍افراد کی جان اس لیے دی گئی؟یہ سچ یہ کہ اسرائیل نے ظلم کیا لیکن سوال یہ ہے کہ فلسطینی قیادت نے اس ظلم کو روکنے کے لیے کیا کیا؟ اس وقت اہل فلسطین کو ایک نئی قیادت اور ایک نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔یہ طے کہ موت کو گلیمرائز کرنے والے زندگی کا امید نہیں دے سکتے۔جو عمومی زندگی میں بھی جنگ کے اصول اپنا تی ہو،قومیں ایسی قیادت کے ہاتھوں برباد ہو جاتی ہیں۔
(بشکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘)
حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ڈاکٹر رضوان علی ندوی کی تنقید (۲)
مفتی امان اللہ نادر خان
پانچویں اعتراض کا جواب
اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ ’’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث مروی نہیں ‘‘۔
علامہ عبد العزیز فرہاروی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ’’لا یصح‘‘ سے مراد’’صحیح اصطلاحی‘‘ کی نفی ہو تو یہ بات ہو سکتی ہے ،لیکن یہ مضر نہیں اس لیے کہ ’’ صحیح اصطلاحی‘‘ احادیث کا تو وجود ہی کم ہے، یہی وجہ ہے کہ عام شرعی احکام اور فضائل ’’حدیث حسن ‘‘ سے ثابت ہوتے ہیں ، یہی ابن راہویہ کی مراد ہے ۔ اور اگر یہ مراد لیا جائے کہ کوئی حدیث ثابت ہی نہیں، جیسا کہ ڈاکٹر صاحب کا مدعا ہے، تو یہ بات بالکل غلط ہے ، اس لیے کہ ’’ حسن ‘‘ درجے کی کئی احایث حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں احادیث کی معتبر کتابو ں میں مو جود ہیں جو ازروئے اسناد صحیح ہیں۔ اختصاراً یہاں کچھ ذکر کرتے ہیں :
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں پہلی حدیث
(۱) مسند احمد کی روایت ہے:
حدثنا علي بن بحر، حدثنا الولید بن مسلم، حدثنا سعید بن عبد العزیز عن ربیعۃ بن یزید عن عبد الرحمن بن أبي عمیرۃ الأزدي عن النبي ﷺأنہ ذکر معاویۃ وقال: اللھم اجعلہ ھادیاً مھدیاً وأھد بہ ‘‘ (مسند احمد: ۲۹؍۴۲۶)
محقق شعیب ارنوؤط سند کی تصحیح اور رجا ل کی توثیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’رجالہ ثقات ،رجال الصحیح ‘‘ .
اس کے علاوہ کئی جلیل القدر محدثین نے مختلف طرق سے اس کی تخریج کی ہے،چنانچہ امام بخاری نے ’’ التاریخ الکبیر‘‘ (۵؍۲۴۰)،(۷؍۳۲۷)، امام ترمذی نے اپنی’’ جامع ‘‘(۳۸۴۲)ابن ابی عاصم نے ’’اآاحاد والمثانی‘‘ (۱۱۲۹)، خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ(۱؍ ۲۰۷ ،۲۰۸ )،امام ابو بکر الخلال نے ’’ السنۃ ‘‘ (۶۹۹) ابن قانع نے ’’معجم الصحابۃ‘‘ (۲؍ ۱۴۶ )،امام طبرانی نے ’’ الأوسط‘‘ (۶۶۰)، ابو نعیم اصفہانی نے ’’حلیۃ الأولیا ء ‘‘(۸؍ ۳۵۸)، خطیب تبریزی نے ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ (ص: ۵۷۹)، امام ذہبی نے ’’تاریخ الإسلام ‘‘(۲؍۳۴۲)، حافظ نور الدین ہیثمی نے’’موارد الظمآن‘‘(۵۶۶)، ابن سعد نے ’’ الطبقات الکبری ‘‘(۷؍ ۱۳۶)،ابو نعیم نے ’’أخبار أصفہان‘‘ (۱؍ ۱۸۰ )،ابن الاثیر جزری نے ’’أسد الغابۃ‘‘(۴؍ ۳۸۶ )حافظ ابن کثیرنے ’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ (۸؍ ۱۲۹) ابن عساکر نے ’’ تاریخ دمشق‘‘ (۶؍ ۶۸۶ )، امام نووی نے’’ تہذیب الأسماء واللغات‘‘ (۲؍ ۱۰۳ ،۱۰۴)،ابن ابی حاتم نے اپنی ’’ علل‘‘ (۲؍ ۳۶۲)، امام احمد نے ’’کتاب فضائل الصحابۃ‘‘(۲؍ ۹۱۳،۱۴)اور ابن حجر ہیثمی نے ’’تطہیرالجنان ‘‘(ص: ۱۱،۱۲ ) میں اس کو ذکر کیا ہے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن قراردیا ہے۔ ’’ڈاکٹر صاحب ‘‘ اس ’’ حسن ‘‘ درجے کی حدیث کو ابن الجوزی کے حوالے سے ’’موضوع کہہ کر آگے چل دیے ۔
ہم یہاں ڈاکٹر صاحب کی ’’خیانتوں ‘‘اور ’’ حدیث دانی ‘‘ کا جائزہ لیں گے۔
۱۔ ابن الجوزی نے دو طرق سے یہ ر وایت نقل کی، ایک میں ’’ محمد بن اسحاق ‘‘اور دوسرے میں ’’ اسماعیل بن محمد ‘‘پر کلا م کر کے اسے رد کر دیا ، ہماری روایت میں یہ دونو ں راوی نہیں ، ایک طریق کا حکم لے کر دوسرے پر چسپاں کر نا خالص ’’ علمی افتراء‘‘،’’تلبیس ابلیس ‘‘اور ’’ تحقیقی خیانت ‘‘ ہے ۔
۲۔ ابن الجوزی نے ’’لایصحان‘‘ کہا تھا، جو أعم ہے ’’موضوع‘‘ سے ۔ حدیث کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ ہر ’’ مو ضو ع‘‘ حدیث ’’لا یصح‘‘ ہو تی ہے، جب کہ ہر ’’لا یصح‘‘ حدیث ’’مو ضوع ‘‘ نہیں ہو تی، لہٰذا اسے ’’موضوع ‘‘قرار دے کر اس کی نسبت ابن الجوزی کی طرف کرنا نرا بہتان اور خالص افترا ہے۔
۳۔علیٰ سبیل التسلیم’’ موضوع ‘‘ مان لینے سے یہ حکم اسی طریق کا ہو گا ،جسے ابن الجوزی نے ذکر کیا ہے باقی پر یہ حکم بوجہ عدمِ وجودِعلت نہیں لگے گا ۔
۴۔پھر اس سے زیادہ سے زیادہ مذکورہ طریق ہی ’’ مو ضوع ‘‘ کہلائے گا ، نفسِ حدیث کا مو ضوع ہو نا پھر بھی کسی صورت ثابت نہیں ہو تا ۔
۵۔ڈاکٹر صاحب کا مبلغ علم دیکھیے کہ دیگر تمام جلیل القدر محدثین کرام کی تصحیح ، تحسین وتو ثیق کو یکسر نظر انداز کر کے صرف ابن الجوزی کی بات پر ( اور اسکی حقیقت بھی ہم واضح کر چکے )اعتماد کر کے ایک صحیح حدیث کو رد کر دیا ۔
(۶) ڈاکٹر صاحب کو ’’سیر الأعلام ‘‘ کے بیالیس صفحات میں یہ حدیث نظر نہیں آئی ؟
( ۷) امام ذہبی نے اس مو ضو ع پراکیس ’’ مو ضوع ‘‘ احایث کی نشاندہی ’’سیر الأعلام ‘‘ میں کروائی ہے، ان میں مذکورہ حدیث کو شمار نہیں کیا ۔(سیر الأعلام : ۳؍ ۱۲۸۔۱۳۱)
اس اعتراض کا تحقیقی جواب یہ ہے :
۱۔ حضرات محدثینِ کرام وماہرین علومِ حدیث کے نزدیک علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کا شمار ’’متشددین‘‘ میں ہوتا ہے، جو جرحِ راوی اور تضعیف راویت میں سختی سے کام لیتے ہیں۔(قواعد في علوم الحدیث، ص: ۱۸۸ و الرفع والتکمیل، ص: ۳۲۰، ۳۲۱)
۲۔ ان حضرات (جن کا شمار ’’متشددین‘‘ میں ہوتا ہے)کی جرح کا حکم یہ ہے کہ ان کی جرح اس وقت مقبول ہو گی، جب دیگر محدثینِ کرام نے ان کی موافقت کی ہو اور مقابلے میں کسی اور محدث سے توثیق منقول نہ ہو، یا اگر توثیق بھی منقول ہو تو پھر جرح مفسر ہو، ورنہ ان کی جرح محدثین کے ہاں معتبر نہیں۔ (قواعد في علوم الحدیث، ص: ۱۸۸-۱۹۰)
۳۔ ثقہ محدثین کرام کی تصریحات کے مطابق اسی تشدد وافراط کے نتیجہ میں ابن الجوزی رحمہ اللہ نے صحاحِ ستہ کے علاوہ مسند أحمد، مستدرک حاکم، السنن الکبریٰ، شعب الإیمان، دلائل النبوۃ، صحیح ابن حبان، صحیح ابن خزیمۃ، سنن الدارقطني، اور مسند دارمي کی بعض ضعیف ، بعض حسن، بلکہ بعض ’’صحیح‘‘ درجے کی احادیث پر بھی کلام کیا ہے اور اسے ’’موضوع‘‘ قرار دیا ہے۔نیز! حضراتِ محدثین کرام نے ایسی تمام احادیث کی باقاعدہ نشاندہی کی ہے اور انہیں شمار کیاہے، جن کی تعداد ۳۰۰ تک پہنچتی ہے۔(تدریب الراوي:۱؍۲۷۸۔ منہج النقد، ص:۲۹۷، ۲۹۸۔ الأجوبۃ الفاضلۃ، ص: ۱۶۳، ۱۶۹).
۴۔اسی وجہ سے کئی جلیل القدر محدثین کرام نے علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کا اس صنیع پر خوب تعاقب کیا ہے جسے علامہ سیوطی رحمہ اللہ کی ’’اللآليالمصنوعۃ‘‘، ’’ذیل اللآليالمصنوعۃ‘‘، ’’النکت البدیعات‘‘، اور شروح سنن ’’ابی داؤد، نسائی و ابن ماجہ‘‘ وغیرہ میں، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی ’’القول المسدد‘‘ اور ’’الخصال المکفرۃ‘‘ میں اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ کی ’’تلخیص کتاب الموضوعات‘‘ اور’’ تلخیص العلل المتناہیۃ‘‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
۵۔ محدثین کرام کی تصریحات کے مطابق علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کی مذکورہ تسامحات کے دو سبب ہیں:
الف: کسی راوی پر کسی محدث کی جرح ہوتی ہے (اگرچہ یسیر ہو،) علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ اسی کو مدار بنا کر روایت کو رد کر دیتے ہیں اور اس راوی کے حق میں دیگر محدثین کرام کے توثیقی و تعدیلی کلمات کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔
ب: دوسرا سبب یہ ہے کہ کسی روایت کے کسی ایک طریق محدثینِ کرام نے ’’وضع‘‘ کا حکم لگایا ہوتا ہے، جب کہ اسی روایت کے دیگر صحیح طرق بھی موجود ہوتے ہیں، علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ مغالطہ میں پڑ کر ’’مطلق متن ‘‘ پر ’’وضع‘‘ کا حکم لگا دیتے ہیں، جس کی زد میں ’’صحیح طُرق‘‘ بھی آجاتے ہیں، حالانکہ دیگر محدثینِ کرام کا کلام نہ ’’ مطلق متن‘‘ اور نہ ہی دیگر ’’صحیح طرق‘‘ پر ہوتا ہے۔
۶۔ علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کے اس افراط و تفریط کی شہادت علامہ سیوطی ، حافظ ابن حجر، حافظ سخاوی،حافظ انصاری، حافظ عراقی، امام نووی، حافظ ذہبی اور دیگر جلیل القدر محدثینِ کرام رحمہم اللہ نے دی ہے۔
مذکورہ حدیث پر جو کلام علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے کیا ہے یہ بھی ان کے جملہ اوہام اور تسامحات میں سے ہے، جس کی تصریح حافظ ذہبی نے ’’تلخیص العلل المتناہیۃ‘‘ میں کی ہے، چناں چہ علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث کے ایک طریق میں ’’ محمد بن اسحاق لؤلؤی‘‘ نامی راوی پر کلام کیا ہے، حافظ ذہبی نے یہاں ابن الجوزی کو ہونے والے مغالطے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’قال ابن الجوزي : مدارہ علی محمد بن إسحاق اللؤلؤي، ولم یکن ثقۃ، وھذا جھل منہ؛ فإنما محمد بن إسحاق ھنا أبو بکر الصاغاني، ثقۃ‘‘.(تلخیص العلل المتناہیۃ، ص:۹۳)
یعنی ابن الجوزی نے یہاں لاعلمی اور مغالطہ سے مذکورہ راوی کو ’’محمد بن اسحاق لؤلؤی بلخی‘‘ سمجھاہے، جس پر انہوں نے جرح نقل کی ہے، حالاں کہ یہ محمد بن اسحاق ’’ابو بکر صاغانی‘‘ ہیں اور یہ ’’ثقہ‘‘ راوی ہیں۔
پھر علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے ایک دوسرے طریق میں ’’اسماعیل بن محمد‘‘ نامی راوی پر کلام کرتے ہوئے فرمایا:
قال الدارقطني: إسماعیل بن محمد ضعیف کذاب‘‘.
حافظ ذہبی نے اس پر استدراک کرتے ہوئے فرمایا:
’’وھذہٖ بلیۃ أخریٰ، فإنما إسماعیل ھنا ھو الصفار-ثقۃ- والذي کذبہ الدارقطني ھو المزني، یروي عن أبي نعیم‘‘. (تلخیص العلل المتناہیۃ، ص: ۹۴)
یعنی یہ دوسری مصیبت ہے اس لیے کہ یہاں روایت میں جو ’’اسماعیل بن محمد‘‘ نامی راوی ہیں، یہ ’’اسماعیل بن محمد الصفار‘‘ ہیں، جو ایک ’’ثقہ‘‘ راوی ہیں۔ اورابن الجوزی نے امام دارقطنی کے حوالے سے جن کی تکذیب نقل کی ہے، وہ ’’اسماعیل بن محمد المزنی‘‘ ہیں، جو ’’ابو نعیم‘‘ سے روایت کرتے ہیں۔
اس تحقیقی جواب کی تفصیل کے لیے دیکھیے: ’’معرفۃ أنواع علم الحدیث‘‘ (ص:۲۰۴)، ’’تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ‘‘ (۱؍۱۰)، ’’فتح المغیث‘‘ (۱؍۲۷۵، ۲۷۶)، ’’قواعد في علوم الحدیث‘‘ (ص:۱۸۸ -۱۹۰)، ’’الرفع والتکمیل في الجرح والتعدیل‘‘ (ص: ۳۲۰، ۳۲۵)، ’’تدریب الراوي‘‘ (۱؍۲۷۸، ۲۷۹)، ’’منہج النقد في علوم الحدیث‘‘ (ص: ۲۹۷، ۲۹۸)، ’’الأجوبۃ الفاضلۃ للأسئلۃ العشرۃ الکاملۃ‘‘ (ص:۱۶۳ -۱۷۱) اور ’’تلخیص العلل المتناہیۃ‘‘(ص: ۹۳، ۹۴).
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں دوسری حدیث
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو دعا دیتے ہوئے فرمایا :
’’ اے اللہ ! معاویہؓ کوکتاب اورحساب کا علم عنایت فرما اور اسے عذاب سے محفوظ فرما ‘‘۔
دیکھیے: ’’مسند أحمد ‘‘(۴؍ ۱۲۷)،’’مجمع الزوائد ‘‘(۹؍ ۳۵۶)،’’کتاب فضائل الصحابۃ للأمام أحمد ‘‘ (۲؍ ۹۱۳،۹۱۴)، ’’موارد الظمآن ‘‘(ص: ۵۶۶)،’’کتاب المعرفہ والتاریخ للبسوي (۲؍ ۳۴۵)،’’أنساب الأشراف للبلاذري‘‘(۴؍ ۱۰۷)،’’تاریخ دمشق‘‘ (۱۶؍۶۸۳)، ’’تاریخ الإسلام للذہبي ‘‘ (۲؍ ۳۱۸)، ’’الاستیعاب ‘‘(۳؍ ۳۸۱)،’’البدایۃ والنہایۃ‘‘(۸؍ ۱۲۰)،’’الإصابۃ‘‘(۱؍ ۳۸۵،۳۸۶)،’’کنز العمال‘‘ (۶؍ ۱۹۰ )،(۷؍ ۸۸)، ’’جزء الحسن بن عرفۃ العبدي‘‘(رقم الحدیث :۳۶،۶۶) بحوالہ سیرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ،از مولانا محمد نافع مد ظلہ،(۱؍۱۱۲)
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں تیسری حدیث
حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
’’ معاویہ کا تذکرہ خیر و خوبی کے سوا مت کرو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ہے کہ آپ معاویہ کے حق میں فرماتے تھے: ’’اے اللہ !انہیں ہدایت نصیب فرما ‘‘ ۔
دیکھیے: ’’سنن الترمذي‘‘ (ص: ۵۴۷)،’’ التاریخ الکبیر للبخاري‘‘( ۴؍ ۳۲۸)،’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ (۸؍ ۱۲۲)،’’ تاریخ دمشق ‘‘(۱۶؍۶۸۶) .
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں چوتھی حدیث
حضر ت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے، آپ نے ارشاد فرمایا: کہ آپ کے جسم کا کو ن سا حصہ میرے قریب ترہے ؟ تو حضرت معاویہ نے فرمایا :میرا شکم آپ کے نزدیک ہے ، تو اس وقت آپ نے ارشاد فرمایا :’’ اے اللہ ! اسے علم و حلم سے پرُ فرما ‘‘۔
دیکھیے :’’التاریخ الکبیر للبخاري‘‘ (۴؍ ۱۸۰)،’’علل الحدیث لابن أبي حاتم‘‘(۲؍ ۳۵۹)،’’تاریخ الإسلام للذہبي‘‘(۲؍ ۳۱۹)،’’تاریخ دمشق‘‘( ۱۶؍ ۶۸۸ )بحوالہ سیرت معاویہ رضی اللہ عنہ ،از مولانا محمد نافع (۱؍ ۱۱۵)
ابن عساکر نے ’’تاریخ دمشق‘‘ میں’’نفی فضیلتِ معاویہ رضی اللہ عنہ ‘‘ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ مذکورہ روایات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں وارد روایات میں سے اصح ترین ہیں:
’’أصح ماروي في فضل معاویۃ، حدیث أبي حمزۃعن ابن عباس أنہ ’’کان کاتب النبي ﷺ‘‘، فقد أخرجہ مسلم في صحیحہ، وبعدہ حدیث،’’ اللھم علمہ الکتاب والحساب‘‘، وبعدہ حدیث ابن أبي عمیرۃ : ’’اللھم اجعلہ ھادیاً مھدیاً‘‘( ۱۶؍ ۶۹۷)
اسی کو ابن عراق کنانی نے بھی’’تنزیہ الشریعۃ‘‘میں علامہ سیوطی کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔(تنزیہ الشریعۃ: ۲؍۸، ذیل الآالی للسیوطی ،ص: ۷۵)
حافظ ابن کثیر مندرجہ با لا احادیث پر بحث کر نے کے بعد فرماتے ہیں کہ
’’ ہم نے اس مسئلہ میں مو ضو ع ومنکر روایات سے احتراز کر کے صرف صحیح ، حسن اور جید روایات کے بیان کر نے پر اکتفا کیا ہے‘‘۔ ( البدایۃ والنھایۃ:۸؍۱۲۲)
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا بحری جہاد کر نے والے لشکر کو جنت کی خوشخبری دی ہے (بخاری، کتاب الجہاد :رقم : ۲۹۲۴)اور محدثین و مؤرخین کا اس پر اتفاق ہے کہ پہلی بار غزوہ( جسے ’’غزوہ قبرص‘‘ کہا جاتا ہے )۲۷ھ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت میں پیش آیا۔
اب ڈاکٹر صاحب پر اپنا مدعا ثابت کر نے کے لیے اصولی طور سے لازم ہے کہ وہ ہماری ذکر کردہ پانچوں’’صحیح احادیث ‘‘کو جملہ طرق کے ساتھ،’’موضوع ‘‘ ثابت کریں ،اس لیے کہ ایک طریق کی صحت سے بھی فی الجملہ مضمون کا ثبوت ہو جا تا ہے اور صرف ’’ضعیف ‘‘ثابت کرنے سے بھی بات نہیں بنے گی کہ ’’ باب الفضائل‘‘میں ضعیف حدیث تین شرائط کے ساتھ مقبول ہے ،پھر تعدد طرق سے تو وہ بھی قوی ہو جاتی ہے ۔
اس کے بعد ڈاکٹر صاحب کے ذکر کردہ ’’مطاعن ‘‘ کا سر سری جا ئزہ لیتے ہیں ۔
پہلے طعن کا جواب
۱۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کا گور نر بنانا ،حمص کی ولایت انھیں سپرد کرنا ،بعد ازاں شام کے تمام علاقے و نواحی ان کی امارت میں دینا اور اپنے دورِ خلافت کے آخر تک انہیں بر قرار رکھنا ،پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا بھی ان سے یہی معاملہ بر قرار رکھنا ظاہر ہے کہ اسی کو ’’ اعتمادِخاص ‘‘ کہا جا تا ہے ۔
رہی بات دُرّے مارنے والے واقعے کی، سو وہ ایک جزوی واقعہ ہے جو نہ ’’ اعتمادِ خاص ‘‘ کے منافی ہے اور نہ ہی ’’نفی فضیلت ‘‘ کو مستلزم ہے۔ پھر یہ ان حضرات کا ’’غایتِ تقوی ‘‘اور ’’ کمال ‘‘ تھا کہ ذرا سی بات پر بھی فوراً گرفت فرماتے۔ ساتھ ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی’’جلالی شان ‘‘ بھی اگر مد نظر رکھیں تو با ت واضح ہو جاتی ہے۔ کئی احادیث میں ان کا یہ مقولہ مذکور ہے :
’’دعني یا رسول اللہ ﷺ! أضرب عنق ھذا المنافق‘‘
اسی تناظر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس بات کو بھی دیکھ لیا جائے کہ
’’ یہ اللہ کا اقتدار ہے وہ نیک کو بھی دیتا ہے اور فاجر کو بھی ‘‘۔
پھر کسی بھی صحابی سے متعلق ’’معصومیت ‘‘ کا دعویٰ ہم نے کب کیا ہے ؟ ان سے بڑی بڑی غلطیاں سر زرد ہوئیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے مغفرتِ کاملہ فرمائی۔ حضرت ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’لقد تاب توبۃ لو قسمت بین أمۃ لوسعتھم ‘‘ (مسلم، رقم :۴۴۳۱)
لیکن ڈاکٹر صاحب اب بھی معاف کر نے کے لیے تیار نہیں۔ ’’سیر الأعلام ‘‘کے حوالے سے لکھتے ہیں :
’’ اے اللہ ! ابو سفیان پر لعنت کر ‘‘۔
لیکن آپ کا یہ مبارک ارشاد یاد نہیں: ’’الإسلام یھدم ما کان قبلہ‘‘، یہ کہا ں کی تحقیق ہے؟’’رافضیت نوازی‘‘ اور کس چیز کا نام ہے ؟
دوسرے طعن کا جواب
(۲) حضرت عمر رضی ا للہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی مدح سرائی میں فر مایا کرتے تھے کہ :
’’تم قیصر و کسریٰ کی دانائی اور زیرکی کا ذکر کرتے ہو ،حالانکہ تمہارے پاس معاویہ جیسے دانشمند اور زیرک آدمی مو جود ہیں ‘‘۔
کبھی فرماتے :
’’تم ہرقل اور کسری کی ہوشمندی و ہوشیاری سے تعجب کرتے ہو اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو چھوڑبیٹھتے ہو‘‘۔
بعض دفعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر نظر فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا:
’’دانائی اور زیرکی میں معاویہ رضی اللہ عنہ کو تو عربوں کے کسری ہیں‘‘۔
دیکھیے:’’ الکامل في التاریخ ‘‘( ۳؍ ۳۷۳)،’’تاریخ الإسلام ‘‘(۲؍۳۴۳)،’’البدایۃ والنہایہ‘‘(۸؍ ۱۳۲).
لیکن ڈاکٹر صاحب نے جب ’’تعصب ‘‘ ( بلکہ رافضیت ) کی عینک سے مطالعہ کیا ،تو انہیں یہ مَنْقَبت بھی مذمت نظر آئی ،نتیجۃً اس کا جومفہوم بیان کیا، وہ قارئین ملاحظہ فرماچکے ہیں ۔فکر ہر کس بقدر ہمت اوست ۔
تیسرے طعن کا جواب
۳۔ ’’لا أشبع اللہ بطنہ‘‘کے جواب سے قبل ڈاکٹر صاحب کے چند ’’ تسامحات ‘‘کی نشاندہی ضروری ہے :
(۱) ابتداءً حوالہ’’ مسند احمد‘‘ کا دیا گیا ہے ، حالانکہ اس میں نہ تین مرتبہ کاذکر ہے اور نہ ہی بد دعا کا۔
(۲) مسند احمد میں ’’وکان کاتبہ‘‘(کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی تھے ، )بھی مذکور ہے ،ڈاکٹر صاحب نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔
(۳) آپ نے انہیں کتابتِ وحی کے لیے بلایا تھا ۔
(۴) تین مرتبہ بلائے جانے اور بد دعا کا ذکر ’’سیر الأعلام ‘‘(۳؍ ۱۲۳)اور ’’ البدایۃ والنہایۃ ‘‘(۸؍ ۱۲۶)میں ہے، جس کا حوالہ ڈاکٹر صاحب نے دیا ہے ،لیکن دونوں جگہ ’’وکان یکتب الوحي‘‘ کی تصریح ہے اور دونوں حضرات نے اس کے بعدانتہائی بہترین ومناسب توجیہ بھی ذکر کی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ آپ کی طرف سے دعا ہے، بددعا نہیں ۔یہ دونوں باتیں بھی’’ڈاکٹر صاحب ‘‘کی ’’دیانت ‘‘ کی نذر ہو گئیں ۔
اب اصل جواب کی طرف آتے ہیں ،وہ یہ کہ حدیث کی کتاب ’’مسند احمد ‘‘میں جواصل واقعہ مذکور ہے ،اس میں نہ تین مرتبہ کا ذکر ہے، نہ بد دعا کا، جس سے معلوم ہوا کہ یہ کسی راوی کا اپنا ادراج ہے ، البتہ مزید تتبع سے ’’مسلم ‘‘ میں بھی یہ روایت ملی ،وہاں دو مرتبہ کا ذکر ہے اور مذکورہ بد دعا کا بھی ۔
علامہ بلاذری نے ’’أنساب الأشراف ‘‘ میں لکھا :
’’قال أبو حمزۃ: فکان معاویۃ بعد ذلک لا یشبع‘‘. (۴؍ ۱۰۶)
اس تصریح سے معلوم ہوا کہ یہ راوی ابو حمزہ (جو ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کر تے ہیں )کا ادراج ہے ،یہ ابو حمزہ عمران بن ابی عطاء الأسدی الواسطی ہیں ، ایک متکلم فیہ راوی ہیں ،علمائے رجال نے ان پرنقد و کلام کیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: ’’المغني في الضعفاء‘‘(۲؍ ۱۳۶)،’’کتاب الضعفاء الکبیر‘‘(۳؍ ۲۹۹)،’’میزان الاعتدال‘‘ (۳؍ ۲۳۹)،’’الجرح والتعدیل‘‘ (۶؍ ۳۸۷)،’’تہذیب الکمال ‘‘(۲۲؍ ۳۴۳)،’’تہذیب التہذیب‘‘(۸؍ ۱۳۶)،’’تقریب التہذیب ‘‘(ص: ۴۳۰).
ان کی تضعیف یا تو ثیق سے متعلق حتمی رائے قائم کرنا تو مشکل ہے ،البتہ امام نووی کی تصریح کے مطابق اتنی بات متفق علیہ ہے کہ ان کی صرف ایک ہی روایت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے ہے، جو مسلم اور مسند احمد میں ہے اور اس میں ان کی متابعت کوئی نہیں۔ (شرح النووی :۱۶؍ ۳۷۱)۔ حاصل یہ ہے کہ یہ ان کا متفردانہ قول ہے اور راوی کا متفرد قول بغیر متابعت کے لائقِ اعتناء نہیں ہوتا،پھر روایت پر نقد و کلام سے قطع نظراس جملہ کا صحیح محمل موجود ہے، وہ یہ کہ یہ ’’ثَکَلَتْک أمُّک‘‘،’’ترِبت یداک‘‘ اور ’’ علی رَغمِ أنفک‘‘کے قبیل سے ہیں جو بغیر کسی قصد کے صادر ہوتے ہیں ، اس توجیہ کو امام نووی نے اختیا ر کیا ہے ۔(شرح النووی :۱۶؍ ۳۷۱)
امام ذہبی نے ’’سیر الأعلام‘‘میں یہ مطلب بیان کیا کہ ’’ اللہ ان کو شکم سیری نہ دے ،تا کہ قیامت کے دن انہیں بھوک کی تکلیف نہ ہو‘‘۔(۳؍ ۱۲۳) اس لیے کہ آپ نے فرمایا :
’’ جو شخص دنیا میں سب سے زیادہ شکم سیر ہو گا، وہ آخرت میں سب سے زیادہ بھو کا ہوگا ‘‘۔ (ترمذی: ۲۴۷۸) و ( ابن ماجہ :۳۳۵۰)و(ابن ابی الدنیا فی الجوع :۲؍۲)و(مجمع الزوائد: ۵؍ ۳۱)
تیسری توجیہ :امام نووی فرماتے ہیں کہ امام مسلم نے پہلے یہ حدیث ذکر کی کہ:
’’اے اللہ!میں اگر کسی بھی شخص کو ایسی بد دعا دوں،جس کا وہ مستحق نہ ہو،تو اس بد دعا کو اس کے لیے گناہوں سے پاک کر نے ،تزکیہ اور قربت کا ذریعہ بنا ‘‘۔
پھر اس سے متصل ہی مذکورہ حدیث کو لا کراستنباط کیا ہے کہ یہ آپ کے پہلے فرمان کے مطابق در حقیقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا ہے۔ (شرح النووی :۱۶؍ ۳۷۱ ) اسی کو امام ذہبی نے ’’سیر الأعلام‘‘ (۳؍ ۱۲۴)اور حافظ ابن کثیر نے ’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ (۸؍ ۱۲۶،۱۲۷)میں اختیار کیا ہے ،لیکن ڈاکٹر صاحب اسے ماننے کے لیے تیا ر نہیں کہ ’’ہنر بچشم عداوت بزرگ تر عیب است‘‘۔
چوتھے طعن کا جواب
۴۔ رہی با ت بخاری و مسلم کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی منقبت میں کوئی باب نہ باندھنے کی ،سو اس کے جواب میں اولاًیہ عرض ہے کہ کسی فضیلت کے ثبوت کو بخاری و مسلم پر موقوف کرنے کا نرالا معیار چودہ صدیوں میں سے کس مفسر ، محدث ،محقق یا فقیہ کاہے؟ کیا بخاری میں تمام صاحبِ مناقب صحابہ کے مناقب و فضائل موجود ہیں
وثانیاً: ’’عدم ذکر الشئ لایستلزم عدم وجودہ‘‘ جس کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔
وثالثاً: ایسا ہے بھی نہیں ،بلکہ مسلم کے حوالے سے تو ہم ابھی ذکر کر چکے اور امام بخاری نے اگر ’’صحیح بخاری‘‘ میں مناقب بیان نہیں کیے تو ’’التاریخ الکبیر ‘‘بھی تو انہی کی کتاب ہے ۔
رہی بات امام بخاری کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حالات کو’’ذکرِمعاویہ ‘‘ کے عنوان سے ذکر کر نے کی ،سو یہ اگر ’’نفی فضیلت ‘‘کو مستلزم ہے ،تو ڈاکٹر صاحب سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ عباس بن عبد المطلب،ابوالعاص بن الربیع،اسامہ بن زید ،عبد اللہ بن عباس ،جریر بن عبد اللہ البجلی ،حذیفہ بن الیمان ،اور ہند بن عتبہ بن ربیع رضی اللہ عنہم اجمعین کے فضائل و مناقب کا بھی انکار کردیں ،یہ الزامی جواب ہے ،تحقیقی جواب یہ ہے کہ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ ’’تفنن فی الکلام ‘‘کی غرض سے ایسی تعبیرات اختیار کرتے ہیں ،کذا في’’الناہیۃ ‘‘(ص:۳۴)۔
پانچویں طعن کا جواب
۵۔ ڈاکٹر صاحب نے جو آخری طعن ذکر کیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فضائلِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں وارد روایات کو مَن گھڑت اور مو ضوع قرار دیا ہے، پھر آخر میں اسحاق بن راہویہ اور امام نسائی کا حوالہ بھی دیاہے۔
جہاں تک بات ہے اسحا ق بن راہویہ اور امام نسائی کے کلام کی ،تو اس کا جواب سابق میں ہم تفصیل و تحقیق کے ساتھ دے چکے ہیں،رہی بات امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کی ،سو اس میں یہ یقین نہیں کہ وہ ’’مَن گھڑت ‘‘ فضائل کون سے ہیں؟ ڈاکٹر صاحب جب تک یہ ثابت نہ کریں کہ ان ’’مَن گھڑت ‘‘ فضائل سے وہی مراد ہیں، جو ہم نے سابق میں احادیث کی معتبر کتب سے محدثین کرام کی تحسین و توثیق کے ساتھ ذکر کیے ہیں،اس وقت تک ان کا مدعا ثابت نہیں ہو گا اور یہ ثابت کر نے کے لیے ڈاکٹر صاحب کو بلا مبالغہ صدیاں در کار ہیں۔ لیکن ان کی سہولت کے لیے ہم خود ہی ثابت کردیتے ہیں کہ اس سے مراد وہ فضائل نہیں جو ہم نے ذکر کیے ہیں۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی منقبت میں متعدد موضوع روایات اس کے علاوہ ہیں، جو ہم ذکر کر چکے ، جیسا کہ حافظ ذہبی کی ’’سیر الأعلام ‘‘ کے حوالے سے اکیس روایا ت کا حوالہ گزرا ، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کی مراد بھی وہی دیگر مو ضوع روایات ہیں ، نہ کہ وہ جو ہم نے ذکر کیں ، دلیل اس کی یہ ہے کہ ہماری ذکر کردہ روایا ت کو خود امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے ’’مسند أحمد‘‘ اور ’’کتاب فضائل الصحابۃ‘‘ میں ذکر کیا ہے ،اگر ان کی مراد یہی روایات ہیں، تو پھر امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے خود کیوں ان فضائل کو ذکر کیا ؟
ڈاکٹر صاحب نے ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے یہ تو ذکر کیا تھا:
’’ولاخلاف أن أبا سفیان ومعاویۃ أسلما في فتح مکۃ سنۃثمان ‘‘.
لیکن ابن قیم کا یہ فیصلہ نظر انداز کر گئے کہ:حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مذمت کی متعلقہ احادیث کذب محض ہیں:
’’ومن ذلک الأحادیث في ذم معاویۃ رضي اللہ عنہ، وکل حدیث في ذمہ فھو کذب‘‘. (المنار المنیف في الصحیح والضعیف، ص:۱۱۷)
یہ ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی کے صحیح حالات۔ ان میں سے بہت سے گوشے ابھی تفصیل طلب ہیں۔ عام قارئین کو یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر ،عظیم المرتبت صحابی رسول ہیں، ۷ھ میں مشرف با سلام ہوئے۔ صحیح احادیث کی روشنی میںآپﷺ سے ان کے حق میں کئی دعائیں منقول ہیں۔ ان کا شمار سرِ فہرست ’’کاتبین وحی ‘‘ میں ہوتا تھا۔ حضرت عمر و عثمان رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں بیس (۲۰) سال تک شام کے ’’امیر ‘‘( گورنر) رہے۔ اس کے بعد بیس(۲۰) سال تک ’’خلیفہ ‘‘ رہے ،کم وبیش آدھی دنیا پر (اسلامی نظام نافذ کرکے )حکومت کرنے کے بعد ۶۰ھ میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوکر دارِ بقاء کی طرف منتقل ہو گئے۔
مادی ترقی اور شناخت کا بحران
حافظ کاظم عثمان
مئی ۲۰۱۴ء کے شمارے میں ایک مضمون ’’مادی ترقی کا لازمی نتیجہ: شناخت کا بحران، واہمہ یا حقیقت‘‘ پڑھنے کا موقع ملا۔ جناب محمد ظفر اقبال صاحب کا موضوع قابل ستایش ہے اور مغربی عقائد و نظریات کے بارے میں ان کا مؤقف بھی مضبوط ہے، لیکن مضمون پڑھتے ہوئے بعض باتوں نے پریشان کیا اور ذہن میں کئی سوالات پیدا ہوئے۔ یہ مضمون دراصل ان سوالات کے جوابات کی تلاش میں لکھا گیا ہے۔
1۔ محمد ظفر اقبال صاحب ابتدا ہی میں لکھتے ہیں کہ ’’امر واقعہ ہے کہ مسلمان آج مادی ترقی میں بہت پیچھے ہیں۔ ‘‘
سوال یہ ہے کہ مسلمان آج مادی ترقی میں کس سے پیچھے ہیں اور یہ پیچھے ہونا کیا واقعی ایک problematic issue ہے؟ اور کیا مسلمانوں کو اس belated consciousness میں مبتلا ہونا چاہیے؟ پیچھے رہ جانے کا تعلق تو اس گروہ کا ہوتا ہے جو اس دوڑ میں شامل ہو جبکہ امت مسلمہ کے معتبر اہل علم حضرات نے کبھی بھی اس دوڑ میں شامل ہونے کی ترغیب نہیں دی بلکہ اس ترقی کی دوڑ کے بارے میں ان کا رویّہ ہمیشہ حقارت آمیز رہا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ہم پیچھے نہیں ہیں، بلکہ ہم اس سے لاتعلق ہیں کیوں کہ یہ ترقی دنیا کو پوجے بغیر ممکن نہیں۔
اس معاملے کو دوسری طرح دیکھیں تو آج مسلمان مادی ترقی میں کوئی اتنا پیچھے بھی نہیں، بلکہ آج بلا تفریقِ مذہب، بنی نوع انسانی میں کچھ لوگ اس ترقی میں پیچھے ہیں اور کچھ آگے ہیں۔ یہی صورتحال مسلمانوں کی بھی ہے۔ اسی لیے آج مسلم و غیر مسلم ممالک میں cosmopolitan urbanization ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ آج مادی ترقی میں کوئی خاص قوم آگے یا پیچھے نہیں ہے بلکہ ایک خاص گروہ ( The Elite) ہے جو کہ رنگ ونسل، زبان اور جغرافیائی سرحدوں کے اختلاف کے باوجود ایک ہی تہذیب کا پیروکار ہے۔ اْن کے تصرف میں دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی ہے، ان تمام لوگوں کی پسند نا پسند، بود و باش، برانڈ، پسندیدہ کھانے، پسندیدہ میوزک اور فلمیں وغیرہ سب ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ان میں مسلمان بھی ہوتے ہیں، ہندو بھی، عیسائی بھی اور یہودی بھی لیکن کوئی ان کے طرز حیات سے یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ یہ کس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
C. Wright Mills اس حوالے سے کہتا ہے:
"The upper class style of life is pretty much the same-although there are regional variations- in each of the big cities of the nation. The houses and clothing, the types of social occasions the metropolitan 400 care about, tend to be homogeneous. The brooks brother suit-and-shirt is not extensively advertised nationally and the store has only four branches outside New York City, but it is well known in every major city of the nation, and in no key city do the "representatives" of Brooks Brothers feel themselves to be strangers. There are other such external that are specific and common to the proper upper-class style."1
’’اشرافیہ کی طرزِ زندگی تقریباً ایک جیسی ہے، البتہ کہیں کہیں کسی قوم کے بڑے شہروں میں علاقائی تغیر پایا جاتا ہے۔ ان کے مکانات اور لباس، معاشرتی اجتماع کے مواقع یکسانیت کی طرف مائل ہیں۔ (مثلاً) بروک برادر سوٹ اینڈ شرٹ کے زیادہ اشتہار نہیں چھپتے اور نیو یارک میں اْس کی محض چار شاخیں ہیں، مگر پورے امریکا میں (یہ برانڈ) اچھی طرح جانی جاتی ہے اور بروک برادرز کے کپڑے پہننے والے کہیں بھی اجنبی محسوس نہیں ہوتے۔ اسی طرح مزید بھی کچھ مخصوص مظاہر ہیں جو کہ اشرافیہ میں مشترک ہیں۔ ’’
آج دراصل اس تناظر میں اقوام کو دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ صحیح منظر نامہ پیش نظر رہ سکے اور عالم اسلام میں سے اگر کوئی اس اشرافیہ طبقے میں شامل ہو بھی جائے تو ہم اْسے اسلام کی کامیابی نہ سمجھیں اور نہ ایسے مسلمانوں کو اپنا ہیرو تصور کریں۔ مسلمان آج جس مغلوبیت اور پسپائی کا شکار ہیں، اْس کا اس ترقی اور مقابلہ بازی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مسلمانوں کی زبوں حالی کی وجہ اْن کے دین سے نکلتی ہے نہ کہ خارجی عوامل سے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی مسلمان ایمانی طور پر مردہ ہوئے، زمانے کے ہاتھوں مفتوح ہوگئے۔ خواہ ہندوستان ہو، خلافت عثمانیہ ہو یا اسپین، مسلمانوں کو ہمیشہ ایمانی کمزوری کی وجہ سے شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑ ا اور غیروں نے بالعموم مردوں پر جھنڈے گاڑ کے فتح کا جشن منایا۔
2۔ کیا بیک وقت کئی ادوار میں زندہ رہنا صرف مسلمانوں کا مسئلہ ہے؟
ان چار ادوار کی نشاندہی محترم جناب ڈاکٹر عبد الوہاب سوری صاحب نے ایک مضمون میں فرمائی ہے جس کا نام What is live and what is dead in Iqbal's thought ہے اور یہ مضمون آکسفرڈ کی شائع کردہ کتاب "Revisioning Iqbal As a poet and Muslim Political Thinker" میں شامل ہے۔ حیرت ہے کہ اس مضمون کا حوالہ شامل نہیں کیا گیا۔ بہرحال یہ چار ادوار کا مسئلہ آج ہر قدیم تہذیب کے ساتھ ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ ہندوستانی، چینی اور جاپانی اقوام وغیرہ بھی ایک ساتھ کئی ادوار میں زندہ ہیں۔ ان کا بھی معاشرتی ڈھانچہ قدیم ہے بلکہ ان کا مذہبی ورثہ اسلام سے بھی پہلے کا ہے تو پھر مسلمان ہی اس مخمصے میں مبتلا کیوں ہیں؟ ہمارے خیال میں کئی ادوار میں زندہ رہنے سے زیادہ یہ بات با معنی ہے کہ ہم اپنی دینی اقدار پر مصر ہیں اور ہمارا معاشرتی ڈھانچہ بھی دین ہی کی بدولت پوری طرح جاہلیت جدیدہ کا شکار نہیں ہوا۔
3۔کیا یہ تین طبقات مسلم اہل فکر کی صحیح نمائندگی کرتے ہیں؟
امت مسلمہ کے کئی گروہ ایسے ہیں جن کی نمائندگی اس زمرہ بندی میں نہیں ہوتی۔ مثلاً تبلیغی جماعت نہ تو مادی ترقی کو اصل شے مانتی ہے، نہ مغرب کی کچھ چیزیں لینے اور کچھ چھوڑنے کی قائل ہے اور نہ ہی مغرب پر تنقیدی نظر رکھتی ہے۔ وہ تو ایک خالص دینی جماعت ہے جن کی علمیت روایتی مذہب سے نکلتی ہے۔ لیکن کیا یہ منہج اپنی ذات میں کوئی قابلِ التفات شے نہیں ہے؟ کیا یہ مغرب سے تصادم کے نتیجے میں کامیاب ترین گروہ نہیں ہے؟ بلکہ آج تو محسوس ایسا ہوتا ہے کہ مغرب سے نبردآزما ہونے کا واحد راستہ مغرب سے کلیتاً بے اعتنا ہوجانا ہی ہے۔ مزید یہ کہ علماء دیوبند، علماء اہل حدیث یا بریلوی علما ء اس زمرہ بندی میں کہاں کھڑے ہوتے ہیں؟
جب ہم کسی شے کی زمرہ بندی کرتے ہیں اور اس کو ایسے بیان کرتے ہیں کہ جو ہے یہی ہے تو اس سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔ مثلاً اس مضمون میں امت مسلمہ کا سوادِ اعظم نظر انداز کردیا گیا جس کی وجہ سے ایک قاری یا تو ان افراد کو امت کی mainstream میں شامل ہی نہیں سمجھے گا اور اگر سمجھے گا بھی تو بس بے وقعت سی شے کے طور پر۔ دوسرا یہ کہ اس طرح کی ناقص زمرہ بندی سے درست نتائج اخذ کرنا کیونکر ممکن ہوگا۔
4۔تیسرے طبقے کی وضاحت کرتے ہوئے موصوف نے اظہارِ خیال فرمایا: ’’مادی ترقی کے حصول کے لیے صرف مغربی زبان اور سائنسی علوم و فنون کی تحصیل و تعلیم کافی نہیں ہے۔ زبان تو علوم کے ابلاغ، اظہار و تفہیم کا محض ایک ذریعہ ہے۔ وہ فکری سرمایہ اور خرد افروزی امر دیگر ہے جو مادی ترقی کا لازمہ ہے۔‘‘
اس عبار ت میں دو مسئلے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ کوئی بھی زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ اپنے بولنے والوں کی نفسیات، اْ ن کے احساسات، چیزوں کے بارے میں اْن کا نظریہ اور اْن کی جمالیات وغیرہ کو منعکس کرتی ہے۔ اس کی سادہ سی مثال یہ ہے کہ اْردو میں مخاطب حاضر کے کئی صیغے ہیں، احترام کے رشتوں میں ’’آپ‘‘ کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے، بے تکلف احباب کو ’’تم‘‘ یا ’’تو‘‘ سے پکارا جاتا ہے، جبکہ انگریزی میں مخاطب کرنے کے لیے صرف ایک ہی لفظ You ہے۔ تو کیا جب ایک انگریز اپنے والد اور احباب کو "You" کہہ کر مخاطب کرتا ہوگا اور ایک ارد و بولنے والا اپنے والد کو آپ کہہ کر اور دوستوں کو تم کہہ کر پکارتا ہوگا تو ان کی نفسیاتی کیفیت ایک جیسی ہوتی ہوگی؟ کیا یہ دونوں زبانیں بولنے والے اپنے بڑوں کا ایک جیسا احترام کرتے ہوں گے؟
ہائیڈیگر اس حوالے سے کہتا ہے:
"Language is a human activity. The kind of being of this activity will be determined from the kind of being of the human being, for the human being alone, as distinguished from stone, plant and animal, speaks. The being of the human being in itself the being of the language." 2
’’زبان دراصل ایک انسانی عمل ہے۔ کسی معاشرے میں جس طرح کے انسان ہوں گے اْسی طرح کی زبان وجود میں آئے گی۔ جمادات، نباتات اور حیوانات کے برعکس انسان گفتگو کر سکتا ہے۔ لہٰذا انسان ہونے کا معاملہ درحقیقت زبان کے تعین سے طے پاتا ہے۔ ‘‘
دوم یہ کہ یہاں تک آپ کی بات ٹھیک ہے سائنسی علوم و فنون کی تعلیم مغربی مادی ترقی کے لیے کافی نہیں ہے۔ لیکن اْن عقائد کی راہ ہموار کرنے کے لیے اس کی طاقت بھی غیر معمولی ہے، اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جب ہم ان عقائد کے نتیجے میں وجود میں آنے والی اشیاء کا استعمال کرتے ہیں تو وہ عقائد بھی غیر محسوس طریقے سے در آتے ہیں۔
ایک گزارش:
موجودہ دور لفظوں کی بے توقیری کا دور ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ جو لکھنا چاہے لکھے، جس موضوع پر چاہے قلم اْٹھائے، دفتر کے دفتر سیاہ کردے۔ اس وجہ سے آج لفظوں کا خالق کون ہے، یہ بات غیر اہم ہوگئی ہے اور مضمون کی تفہیم کی واحد صورت لفظ رہ گئی ہے۔ ہمارے اسلاف میں لکھنا ایک مشق نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ ایک مقدس فریضہ سمجھا جاتا تھا ا ور معاشرے کے بڑے لوگ ہی لکھنے کے فریضے کو سرانجام دیتے تھے۔ اسی لیے معاشرے میں علمی ذوق اور کتابوں کے بارے میں ان کا رویّہ یکسر مختلف تھا۔ اور پھر جو علم وجود میں آتا تھا وہ مشقی یا مشغلے کے طور پر یا ڈگری حاصل کرنے کے لیے معرض وجود میں نہیں آتا تھا بلکہ اْس کے پیچھے علم و فہم کا ایک سمندر ہوتا تھا، وہ معاشرے کی کوئی ضرورت پوری کرتا تھا، حوالوں کے مجموعے کے بجائے خود ایک حوالہ بنتا تھا۔
الفاظ کی بھر مار سے ایک اور مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ خیالات کا معیار اور لفظوں کی اہمیت گھٹ گئی۔ یہ سانحہ صرف مغرب کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ مشرقی اقوام بھی اپنے اپنے قلم تھامے اس میدانِ عمل میں نکل پڑے۔ اس طوفانِ افکار و نظریات کی وجہ سے آج ایک شخص کے پاس کسی تحریر کو پڑھنے کے بعد کچھ سوچنے کا، reflect کرنے کا یا کوئی لائحہ عمل بنانے کا وقت نہیں رہا۔ ذرا سوچیں کیا ہم انسانوں کو ذہنی طور پر مفلوج کرنے میں مغرب کے ساتھ برابر کے شریک نہیں ہیں؟ کیا اس رویّے سے امت مسلمہ کی بحیثیت مجموعی سوچنے سمجھنے اور غور و فکر کرنے کی صلاحیت مفقود نہیں ہوجائے گی؟
نیل پوسٹ مین نے اپنی کتاب Amusing Ourselves to Death میں جارج آرویل اور ایلڈس ہکسلے کے مستقبل کے بارے میں خیالات کا بہت دلچسپ موازنہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ ان دونوں ناول نگاروں نے تقریباً ربع صدی سے پہلے اگلے دور کی پیش گوئی کی تھی۔
"Orwell feared those who would deprive us of information. Huxley feared those who would give us so much that we would be reduced to passivity and egoism. Orwell feared that the truth would be concealed from us. Huxley feared the truth would be drowned in a sea of irrelevance."3
’’آرویل اس بات سے خوفزدہ تھا کہ ہم سے معلومات چھپائی جائے گی جبکہ ہکسلے کا یہ خدشہ لاحق تھا کہ ہمیں اتنی معلومات دی جائے گی کہ ہماری جہالت اور غفلت میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ آرویل اس بات سے ڈرتا تھا کہ ہم سے سچ چھپایا جائے گا۔ لیکن ہکسلے کو اس بات کا ڈر تھا کہ سچ کو غیر ضروری معلومات کے دریا میں بہا دیا جائے گا۔‘‘
ڈاکٹر اسرار احمد کا دینی تحریکوں اور افراد کارکے حوالے سے کیا گیا تجزیہ بھی بہت relevant ہے۔’’ اسلام کی نشاۃ ثانیہ: کرنے کا اصل کام‘‘ میں آپ فرماتے ہیں:
’’مغربی تہذیب و تمدن اور فلسفہ و فکر کا یہ تسلّط اس قدر شدید اور ہمہ گیر ہے کہ بعض اْن قوّتوں کے نکتہ نظر کا جائزہ بھی اگر دقت نظر سے لیا جائے جو مختلف ممالک میں مغربی تہذیب و تمدّن کے خلاف صف آرا ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی مغربی اثرات سے بالکلیہ محفوظ نہیں ہیں اور خود ان کا طرزِ فکر بہت حد تک مغربی ہے۔‘‘4
ہمارے خیال میں اس طرح تابڑ توڑ لکھنا بذات خود جدیدیت کی ایک علامت ہے اور اس نقار خانے میں محض ایک اور آواز کا اضافہ ہے۔ اس کے بجائے اگر ہم خاموش ہوجائیں تو شاید کئی آوازوں سے زیادہ مؤثر ہوجائیں۔
حواشی
1- C. Wright Mills, The Power Elite, Oxford university press, 1959, p. 6
2- Martin Heidegger, Logic As the Question Concerning the Essence of Language, State University of New York, 2009, p.23
3- Neil Postman, Amusing Ourselves to Death: Public Discourse in the Age of Show Business, New York Penguin, 1985, p. 80
4۔ ڈاکٹر اسرار احمد ، ’’اسلام کی نشاۃ ثانیہ : کرنے کا اصل کام‘‘، انجمن خدام القرآن، 1968، صفحہ ۵۰
قرآنی مطالبہ تدبر کائنات: حقیقت مطلق تک رسائی کا عالمگیر مذہبی تجربہ یا ایک ناقابل ابلاغ سری کیفیت پر اصرار؟
عاصم بخشی
اگر کسی اہم سوال پر مبنی مضمون کا مقدمہ عقل و شعور کو اپنا مخاطب بنانے کی بجائے مناظرانہ اسلوب میں کیے گئے ان دعوؤں سے شروع ہو کہ بات تو نہایت واضح ہے مگر چوں کہ یہ سائنسی علمیت کا شکار نام نہاد دانشور عوام میں غلط فہمیاں پیدا کر کے ان کو صراط مستقیم سے بھٹکا رہے ہیں اس لیے ہمیں قلم اٹھانا پڑ رہا ہے، تو یہ مکالمہ کی موت ہے اور علمی تنقیدکا کیاکہیے کہ وہ توشاید مکالمہ سے کہیں آگے کا مرحلہ ہے۔ یہ تھا وہ فوری احساس جو مولانا عبداللہ شارق کا مضمون ’’تدبر کائنات کے قرآنی فضائل: روحانی تدبر مراد ہے یا سائنسی‘‘ پڑھ کے ذہن میں پیدا ہوا۔ مگر یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ فاضل مصنف نے ایک اہم سوال اٹھایا ہے اور ان کا مضمون ہماری جدید کلاسیکی مذہبی فکر کے ایک کافی بڑے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔ کچھ قارئین کے لیے لفظ ’جدید‘ کا استعمال شاید حیرانی کا سبب ہو مگر ہمارے عظیم علمی ورثہ میں ایسا بہت کچھ ہے جس کی بنیاد پرمذہبی فکر کے ان سادہ لوح رجحانات کو ’جدید‘ کہنا شاید اتنا بھی غیر مناسب نہیں۔ ان مخصوص رجحانات کی جدیدیت اس لیے بھی واضح ہے کہ حقائق کائنات اور ایجاد و ابداع عالم کے متعلق اولین دور کے سادہ مگر جامع اور مکمل نظریاتی ڈھانچے اور عہد وسطیٰ کے پیچیدہ اور دقیق علم الکلام کے برعکس یہ جدید رجحانات یا توظاہراً اِس بحث کی فلسفیانہ اور سائنسی جہتوں، یعنی کہ نظریہ علم و وجود، اِس کی تکوینی نسبتیں، اْن کا شعور انسانی سے تعلق اور اس کے نتیجے میں حق تک رسائی سے بالکل ہی نابلد ہیں اور یا پھر نیت یہ ہے کہ بحث کو ان تمام ’خرافات‘ سے پاک رکھ کر اس کا دائرہ اتنا سکیڑ دیا جائے کہ مفتیانِ کرام کو فتوی ٰ دینے میں آسانی ہو کہ کون سا تدبر کائنات قابل تقلید ہے اور کون سا مکروہ۔
اعادے کے طور پر زیر نظر مضمون کا خلاصہ کلام کچھ یوں ہے: قرآن اپنے مخاطب سے کائنات کی حقیقت کی بارے میں جس قسم کے تدبر کا مطالبہ کرتا ہے وہ ’سائنسی ‘ نہیں بلکہ ’روحانی‘ ہے۔ کیوں کہ مصنف کی اپنی بنائی گئی اصطلاح ’سائنسی تدبر‘ ایک مادی اورتجربی ذریعہ تحقیق ہے اور ہر انسان اسے کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس قسم کا تدبر ایک پرکیف مذہبی تجربے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔اس کے برعکس قرآن کا مطلوب تدبر کائنات، مصنف کی وضع کی گئی ایک اور اصطلاح کے مطابق ایک ’روحانی تدبر ‘ ہے جو انسان کو خدا کی موجودگی کے ایک روحانی جذبے سے سرشار کر دے۔ سائنسی علم و تحقیق محض مباحات میں سے ہے اور اسے کسی ایسے کائناتی تدبر پرمنطبق نہیں کیا جا سکتا جس کا مطالبہ اللہ تعالیٰ انسان سے کرتا ہے۔ اگر سادہ طور پر دیکھیں تو مصنف شاید اس بات سے متفق نظر آتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو کائنات کے بارے میں سائنسی غوروفکر اور تدبر سے کوئی مطلب نہیں اور سائنسی تدبر کو خدا کے مطالبے کے طور پر کرنا تو ہے ہی غلط۔ نتیجتاً کیوں کہ مذہبی تجربہ خالص روحانی ہے اس لیے وہ اس کے اور سائنسی غوروفکر کے مابین بعد المشرقین ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ’سائنسی تدبر‘ میں عدم دلچسپی کا حوالہ دے کرمصنف یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر یہ اتنا ہی اہم اور ضروری تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ترغیب کیوں نہ دی اور آخر عباسی دور کی تحریک ترجمہ تک مسلمانوں نے شدومد سے کائنات میں سائنسی غوروفکر شروع نہ کیا؟(۱)
مزید آگے بڑھنے سے پہلے یہ ضروری صفائی پیش کرنا ناگزیر ہے کہ جدید سائنسی مادہ پرستی اور روایتی مذہبی روحانیت کے درمیان جاری تنازعات کے تناظر میں مصنف کا ذہنی جھکاؤ قابل تحسین ہے۔ اس بات سے کوئی صالح ذی فہم شخص شاید ہی انکار کرے کے جدید سائنسی سرمایہ دارانہ علمیت ایسے علمی نظریات کو زیادہ فروغ دے رہی ہے جن کا رجحان مقابلتاً الحادی افکار کی جانب ہے۔ اس کے علاوہ جدید انسان کا فکری نمونہ، اگر بالکل مادہ پرستی کی طرف مائل نہ بھی ہو تو کم سے کم ایک ناگزیر دوئی کاشکار تو ضرور ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس ساری بحث میں ہمارے پیش نظر ایک مذہبی شخص ہے جو کم از کم اتنا جدید تو ضرور ہے کہ ا س کا شعور کئی کسری اکائیوں میں بٹا ہوا ہے۔ لہٰذا ہمیں پورے وثوق سے اس بات کا اقرار ہے کہ روایتی مذہبی فکر کا ایک خاص دھارا ، جس سے فاضل مصنف کا تعلق ہے، کی نیت اس بحث کو سائنسی اور فلسفیانہ موشگافیوں سے نکال کے روحانیت کی آفاقی بنیادوں میں واپس لوٹانے کی ہے۔ جہاں تک ان آفاقی بنیادوں کا تعلق ہے، ہم ان سے متفق ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ قرآن کے مطالبہ تدبر کائنات کی تعریف و توضیح کسی بھی ایسے مقام سے کرنا ناممکن ہے جو ماورائے زمان و مکان ہو، کیوں کہ ایسا کوئی بھی مقام ہمیں کم از کم کائنات کے اندر تو شاید نہ مل سکے۔ مزید برآں یہ کہ ذہن کی کسی ایسے مقام تک رسائی بھی ناممکن ہے جو قلب و ذہن سے باہررہ کر کسی بھی قسم کے تدبر کائنات کا دعوی ٰ کر سکے۔ لہٰذاہمیں اس مفروضے پر متفق ہونا پڑے گا کہ اگر شاعرانہ تخیل کا سہارا نہ لیا جائے تو تدبر کائنات کے روحانی احوال، جن کا مصنف نے اپنے مضمون کے شروع میں ذکر کیا ہے، عقل و شعور اور ذہن و وجود کے راستوں سے گزر کے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں قرآنی اصطلاح، ’تدبر‘ کی قوس کسی بھی طرح انسانی تجربے سے قائم الزوایہ تو نہیں کھینچی جا سکتی، ہاں یہ بالکل ٹھیک ہے کہ ایک بدو اور ایک ریاضی دان قرآن کے یکساں مخاطب ہیں۔ مگرتدبر کائنات کے پس منظر میں ان کی ذہنی واردات کا ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہونا اس بات پر ہر گز دلیل نہیں کہ حضورِ حق کے احوال،انسانی قلب وذہن پر منکشف ہونے سے پہلے کسی ایک خاص ذریعہ علم ہی کے متقاضی ہیں اور اس پر اصرار کرتے ہیں۔
اب اس سارے مسئلے کو اس مختصر پس منظر میں رکھتے ہوئے ایک فلسفیانہ ذہن اور ہماری بحث کی حد تک محدود رکھا جائے توایک ایسے سائنسی ذہنی رجحان رکھنے والے مذہبی شخص کے سامنے کچھ اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں جو سائنس کی سطحی اور افادی حیثیت سے بالا تر ہو کر اسے ایک نظریہ علم اور ایک ایسے مستند ذریعہ علم کے طور پر مانتا ہو،جو کائنات کے ابدی حقائق تک رسائی بہم پہنچا سکتا ہے۔ اولاً تو یہ کہ قرآنی علم المعانی کے دائرے میں رہتے ہوئے تدبرِ کائنات آخر ہے کیا؟ یعنی کیا یہ تدبر ،کائنات کے عام فہم معانی، یعنی کائنات کے طبیعی عوامل ، اس کی حقیقت وجود اور اس کے دوام و بقا اور ایجاد وغیرہ سے بالا تر کوئی کارِ عظیم ہے اور قرآن کس درجے میں اس کا طالب ہے؟ ثانیاً یہ کہ خارجی دنیا کے متعلق انسانی تجربے کی ساخت کیا ہے؟ اور یہ تجربہ انسان کی داخلی دنیا یعنی وجدانی کیفیات، جذباتی رویوں ، نفسیات اور دیگر رجحانات سے کیا تعلق رکھتا ہے اور ان پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟ کیا اس اندرونی نفسیات اور خارج کا علم دینے والے حسی تجربات کی حیثیت ایک مربوط ٹھوس اکائی کی ہے یا ان میں زمانی درجے میں علت ومعلول کا کوئی رشتہ ہے؟ ثالثًا کیا فی الوقت کوئی ایسے متفقہ نفسیاتی نمونے موجود ہیں جو دنیا کے تمام افراد کے آفاقی حقائق کے متعلق باطنی تجربات کی ماہیت اور اس کے نتیجے میں واردقلبی سکینت کی کیفیت کو غیر مبہم طور پر بیان کر سکیں ؟ یاد رہے کہ یہ وہی آفاقی سچائیاں ہیں جو تدبر کائنات کے نتیجے میں قرآن کو مطلوب ہیں۔ رابعاً چوں کہ قائم کردہ مفروضہ یہ ہے کہ ابدی حقیقت تک رسائی کے لیے تدبر کائنات تو ناگزیر ہے ہی، لہٰذا کیا قرآن کسی خاص قسم کے عارفانہ تجربے پراصرار کرتا ہے ، یعنی ایک سری وحدت قسم کا باطنی تجربہ ، یا پھر جدید انسان کی ٹھوس فکر کی عادت بھی ایسا یقینی علم حاصل کرنے کے قابل ہے، جس کے لیے ذہن کی آخری حد تک ابدی حقیقت کی رسائی اور زبان و بیان کی آخری حد تک ترسیل ممکن ہو؟
ظاہر ہے کہ مقصودآخری درجے میں ان سوالوں کے تسلی بخش جواب فراہم کرنا نہیں اور نہ ہی ہم جیسے طالب علم اس طرح کی جرات کر سکتے ہیں، کیوں کہ قدیم زمانے سے لے کر آج تک کے اعلیٰ ترین دماغ فلسفیانہ ، سائنسی ، نفسیاتی، جمالیاتی اور مذہبی نقطہ ہاے نگاہ سے ان سوالوں کے جواب مہیا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد انبیاوصالحین اور ائمہ کرام کی بھی ہے،مگر چوں کہ نئے اور کثیرالجہت علمی تجربوں کی روشنی میں انسانی شعور کا اپنے آپ سے متعارف ہونے کا سلسلہ قیامت تک جاری وساری ہے ، ہمارا مقصد روایتی مذہبی سوچ سے جذباتی وابستگی کے باوجود اس کے اس زیربحث فکری دھارے کے سامنے ان سوالوں کا اٹھانا ہے تاکہ جدید اور روایتی ذہن ایک ہی درجے میں فہم حق کی منازل طے کر سکیں۔
زیرتبصرہ رجحان کے ظاہری طرزفکر کے برعکس، ’علم‘ اور ’حق‘ جیسے قرآنی مقولات ایک ٹھوس اکائی ہیں، یعنی کائنات کی حقیقت مطلق اپنی بنیادی حیثیت میں واحد ہے۔ اقسامِ علم یعنی طبیعات، حیاتیات اور نفسیات وغیرہ اسی حقیقت واحد کی سمت راہ نمائی کرتی ہیں۔ فلسفہ سائنس میں ایک جدید اور غالب رجحان، کہ تمام عالم ایک واحد اور قابلِ شناخت طبیعی اصول کے ماتحت ہے،اورجس کی جانب کم از کم پچھلی کچھ صدیوں سے تحقیق جاری ہے، عمومی طور پر قرآنی روح سے متضاد نہیں ہے۔ مزید برآں یہ کہ انسان کی داخلی دنیا بھی چوں کہ کائنات ہی کا حصہ ہے، اس لیے یہ مفروضہ کم از کم ممکنات کی حد تک قائم کیا جا سکتا ہے کہ انسان کا شعوری تجربہ ،جو اس آفاقی اصول سے ہر گز ماورا نہیں ہے، اس حقیقتِ مطلق تک رسائی کی قابلیت رکھتا ہے۔ اس روشنی میں اگر صرف سادہ طور پر ہی تجزیہ کیا جائے تو یہ تصور کہ حضور حق کا ایک خاص قسم کا عارفانہ تجربہ ہر صورت میں ایک ٹھوس عقلی بنیادوں پر قائم ایک سائنسی فکر ی تجربے سے متضاد کوئی الگ شے ہے، اتنا معقول معلوم نہیں ہوتا۔ یہ وہ جوہریت زدہ رجحان ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے۔ اس رجحان کی استغراقی تجریدیت اس شاعرانہ تخیل سے واضح ہے جو کہ ’روحانی تدبر‘ کی تعریف میں مصنف بیان کرتے ہیں:
’’اس سے مراد وہ تدبر ہے جو انسان کو خالق کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس میں توجہ الی اللہ پیدا کرتا ہے، جس کے ساتھ انسان کو کائنات کے ہر ہر ذرہ میں خداوند جل و علا کا نور نظر آتا ہے اور دیکھنے والا خود اس نور میں نہا جاتا ہے، جس تدبر کے دوران، تدبر کرنے والا زمین و آسمان کو دیکھتے دیکھتے خدا کی ذات میں محو ہو جاتا ہے، اللہ کی قدرت و عظمت کے احساس سے مغلوب ہو جاتا ہے اور تعلق مع اللہ کی کیفیات اس میں موجزن ہوتی ہیں۔‘‘ (۲)
یہاں درپیش مسئلہ ہرگز وہ نمونہ فکر نہیں جہاں کائنات کا ایک حسی تجربہ، مثلاً زمین و آسمان کو نگاہ اٹھا کر ٹکٹکی باندھے دیکھتے رہنا، ایک آفاقی حقیقت مطلق کے عارفانہ مذہبی تجربے کو تحریک دے رہا ہے، جس کے نتیجے میں ناظر کی حسِ بصیرت اسے خدا کی انفس و آفاق میں موجودگی کا شدید جذباتی احساس دلا رہی ہے۔ اگر یہ کیفیت اس طرح حاصل ہو جاتی ہے تو یقیناًیہی مطلوب ہے، مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اس قسم کا تدبر کائنات عصر حاضر میں عمومی طورپر حقیقت مطلق تک رسائی کا ضامن ہے، بعید از قیاس ہے۔ علاوہ ازیں یہ مسئلہ کہ قدیم دور، ازمنہ وسطیٰ اور زما نہ جدید کے انسانوں کے تصور کائنات میں کیا فرق ہے اور اس کا تدبر کائنات کے ساتھ کیا تعلق ہے ،بھی یقیناًغور طلب ہے۔ مگر فی الوقت ان دونوں مسائل سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم روایتی ذہن کے اس رجحان میں دلچسپی رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں تقریباً فطری غفلت سے ایک سرّی عارفانہ تجربے کو ایک ٹھوس یا نام نہاد سائنسی تجربے کے بالمقابل رکھ کر دیکھا جا رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے رجحانات کی ایک اہم وجہ مذہبی تجربے کے نتیجے میں حاصل ہونے والے احساسِ سکینت کو بڑی حد تک ایک عارفانہ سعادتمندانہ جذبہ سرشاری تک محدود رکھنا ہے، اور اسے اسی تناظر میں دیکھنے پر اصرار کرنا ہے۔ پچھلی صدی کی اہم ترین مذہبی نفسیات اور سائنس کے مطالعوں کو علامہ اقبال نے اپنے خطبہ اول میں زیر بحث لاتے ہوئے اسلامی نظریے کی ندرت اور اہمیت کو واضح کیا ہے اور عیسائیت کے مقابلے میں اسلام کے مابعدالطبیعی عنصر کومحض ایک پیچیدہ،مخفی اور ناقابل ابلاغ عارفانہ تجربے کے بجائے ایک ٹھوس حسی و عقلی و ذہنی تجربے کے نتیجے کے طور پر ثابت کیا ہے۔ اقبال لکھتے ہیں:
’’بے شک قرآن حکیم کے نزدیک مشاہدۂ فطرت کا بنیادی مقصد انسان میں اس حقیقت کا شعور اجاگر کرنا ہے جس کے لیے فطرت کو ایک آیت یا نشانی قرار دیا گیا ہے، مگرمقام غور تو قرآن کا تجربی رویہ ہے جس نے مسلمانوں میں واقعیت کا احترام پیدا کیا او ریوں انہیں بالآخر عہد جدید کی سائنس کے بانی کی حیثیت سے متعارف کرایا۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ اسلام نے مسلمانوں میں تجربی روح اس دور میں پیدا کی جب خدا کی جستجو میں مرئی کو بے وقعت سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا تھا۔‘‘ (۳)
پھر آخر اس بات کا آخر کیا مطلب ہے کہ تدبر کائنات ، جو کہ آخر ایک حسی تجربے ہی سے تحریک پاتا ہے، مجھے حقیقت مطلق تک رسائی دے سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ نفسِ تدبر اس شے کے بارے میں جو مقصودِ تدبر ہے، کوئی نہ کوئی رائے تو قائم کر ے گا ہی ، اور اس بات پر تو ہم آغاز ہی سے متفق ہیں کہ قرآن کائنات کو خدائی تخلیق کے مظہر کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ یہ غایتی مقدمہ اپنے اندر یہ واضح مطالبہ رکھتا ہے کہ کائنات کو جانا جائے، سادہ لفظوں میں اس بات کو اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ تدبر کائنات اور تصور کائنات کا آپس میں ایک پیچیدہ گٹھ جوڑ ہے؛ لہٰذا یہ مسئلہ کلاسیکی مسئلہ علم کے دائرہ کار سے باہر نہیں ہے، اور یہی وہ دائرہ ہے جہاں عقل اس شے سے، جسے وہ جاننا چاہتی ہے، مسلسل مصروف پیکار ہوتی ہے۔ علم کی نظریاتی پیچیدگیوں سے بالا تر ہو کر ہم صرف اس سادہ سوا ل میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ اشیاومظاہر کائنات تدبر کے لیے اپنے آپ کو ذہن وعقل کی تجربہ گاہ میں کس طرح پیش کرتے ہیں؟ وحی بنیادی طور پر ہمارے شعور کے وجدانی حصے کو اپنا مخاطب بناتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ حسی تجربے کی دعوت دیتی ہے تاکہ اس وجدانی طور پر جانی گئی حقیقت کا اثبات یا انکار کیا جاسکے۔ ظاہر ہے کہ عمومی حسی تجربہ ہی تمام نوع انسانی کی مشترکہ میراث ہے۔ مذہبی تجربے کی ناقابل ابلاغ عارفانہ روایات کے بالمقابل حقیقت مطلق تک رسائی کے تجربی طریق کو متعارف کروانا قرآنی فلسفے کا ایک اہم ندرتی پہلو ہے، ایک ایسا پہلو جو کسی بھی زمانے کے انسان کی تجرباتی تسکین و اعتماد کے ساتھ ساتھ تدبر کائنات کے جدید سائنسی میلان سے بھی بالکل ہم آہنگ ہے۔ لہٰذا سائنسی تناظر میں بھی قرآن حقیقت مطلق تک راہ نمائی کے لیے کائناتی مناظر کو محض وجدانی علامات کے طور پر پیش کرتا ہے اور ان علامات کے ذریعے حصولِ علمِ کائنات کے لیے ایک ذہنی وعقلی جاذبیت پیدا کرتا ہے۔ رہا روحانی و عارفانہ تجربہ تو وہ تدبر کائنات کا نہیں بلکہ حقیقت مطلق کو پا لینے کالازمی نتیجہ ہے۔ مثلاً جب قرآن اپنے قاری کی اس حقیقت تک راہ نمائی کرتا ہے جیسا کہ ان اللہ ینزل الغیث (لقمان: ۴۳) یا ولقد خلقنا الانسان من سلالۃ من طین (المومنون: ۲۱) یا اولٰئک کالانعام بل ھم اضل (الاعراف: ۹۷۱) تو یہ علمی درجے میں محض کچھ وجدانی سچائیوں کا تعارف ہے۔ اور موسمی اور ماحولیاتی تغیرات اور ان کی طبیعاتی علل کی دریافت، انسانی مادۂ تخلیق کے بارے میں علم حیاتیات کی تحقیق اور علم نفسیات اور فلسفہ اخلاق کی وہ جہات جو انسان کو جانوروں اور درندوں سے ممتاز کرتی ہیں، قرآن کا براہ راست موضوع نہیں ہیں ،مگر ان علوم کی تشکیل کی حقیقی اساس ہونے کے ساتھ ساتھ ان کو وہ ناگزیر وجدانی مفروضے بھی فراہم کرتی ہیں جو ان کی صحیح سمت متعین کرتے ہیں اور جن کے بغیر یہ محض الل ٹپ ٹامک ٹوئیاں ہی مار سکتے ہیں۔ (۴)
فلسفیانہ اور سائنسی تناظر میں دیکھا جائے تو بہ طور مسلمان ہمارا بنیاد ی مفروضہ چوں کہ ایک سچے نبی کے ذریعے وحی خداوندی کا ابلاغ ہے، اس لیے قرآن تدبر کائنات کی آفاقی ہدایت کے طور پر اپنے آپ کو مختصر وجدانی حقائق تک محدود رکھتا ہے۔ ان وجدانی حقائق کا تدبر کائنات سے گہرا تعلق ہے، مگر ان کے نتیجے میں جو تصور کائنات قائم ہوتا ہے وہ ہر گز ماورائے زمان نہیں ہے۔ اسے ماورائے زمان ماننا اصل میں ان وجدانی حقائق اور ان کے نتیجے میں حاصل کردہ علوم کو قران کے مطلوب تدبر کائنات سے کوئی لاتعلق شے ماننا ہے، اور یہ نہ صرف قرآن کا ایک سطحی مطالعہ ہے بلکہ تاریخ ِ فلسفہ سائنس سے ناآشنا ہونے کا بھی ثبوت ہے۔ خدا کے رسول اسی لیے آتے ہیں کہ حقیقت مطلق سے متعلق مختلف عقائد اور پہلے سے موجود وجدانی نظریات کا بذریعہ وحی اثبات یا ابطال کر دیں مگر جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، یہ اثبات و ابطال کچھ متبادل علامات ہی فراہم کرتا ہے جو ظاہر ہے کہ حق پر مبنی ہوتی ہیں۔ ان علامات پر تعقل و تدبر ظاہر ہے کہ ایک انسانی کاوش ہے اور عصری علوم اور افکار پر ہی منحصر ہے۔
ذہن جدید اور تجربہ جدید کا پیچیدہ ہونا محض ایک واقعاتی و تاریخی حقیقت ہے اور اس کا نتیجہ کسی بھی قسم کی ذہنی برتری یا کم تری کی صورت میں نکالنا نہ صرف فکری تعصب بلکہ سراسرناواقفیت پر مبنی ہے جس کے مقلدین آج کے کئی معاشرتی دانشور، فلسفی، ماہرین نفسیات اور سائنسدان ہیں۔ ہم یہاں قارئین کی مدد کے لیے نہایت مختصراً صرف اتنا واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایک صحابی اور عصر حاضر کے انسان کے تدبر کائنات میں کیا فرق ہو سکتا ہے اور اس کے کون سے عوامل ہیں؟ قدیم اور جدید انسان کے فطرت وکائنات کے بارے میں مشاہدات اور تجربات کا موازنہ ایک مستقل تحقیق طلب مضمون ہو نا چاہیے ، اور ہمیں فی الوقت اس سے کوئی غرض نہیں کہ عرب کی قبائلی معاشرت کے خاص فکری پہلو کیا تھے جنہیں کسی بھی طور ’سائنسی‘ کہا جا سکے، مگر ہمارے مکالمے کی حد تک کم از کم یہ باور کرانا ناگزیر ہے کہ اس تصور کائنات کے مطابق، جس کے زمانے میں قرآن نازل ہوا،وہ ایک جکڑ ی ہوئی تنگ کائنات تھی۔ (۵) اس کے تغیرات کا دائرہ نہایت محدود تھا اور ہر انسان ان تغیرات کے روزمرہ کے عمومی تجربے سے واقف تھا۔اس قدیم فکر کے مطابق ایک کائنات کا ایک مربوط نظام فکر صرف انہی تغیرات کی بنیاد پر قائم ہو سکتا ہے جس کا علت و معلول ظاہراً واضح ہو یا جن سے کوئی معینہ یا مقررہ افادی نتیجہ برآمد ہو۔ آپ قرآن کی کوئی کائناتی مثال ایک قدیم قاری کے ذہن سے پڑھیں تو آپ کو سائنسی تجریدیت کا شائبہ تک نہ ہو گا۔ یہ دنیا یقینی طور پر غیر مبہم واضح اقسام میں بٹی ہوئی تھی اور یہ طبقے مقرر تھے اور قدرت کے کارخانے میں بھی ذات پات کا ایک سلسلہ قائم تھا۔ اس سلسلے میں یہ ہونا ناممکن تھا کہ انواع وطبقات آپس میں گڈ مڈ ہو جائیں یا دو مختلف الانواع اشیا ایک تیسری نوع کو وجود میں لا سکیں۔ (۶)
یہ اس زمانے کا خاصہ تھا کہ ناقابل ابلاغ اور ناقابل فہم علل کو فوق الفطرت قوتوں سے منسوب کیا جائے۔ اصولوں اور مبینہ صداقتوں کو تجربے ، تشکیک اور سوال کی دنیا میں رکھنے کے بجائے آفاق گیر سمجھا جاتا تھا۔ سائنس یا فلسفے کا کوئی ادنیٰ درجے کا طالب علم بھی آج یہ سیکھتا ہے کہ کسی بھی مبینہ صداقت کو آج اپنا جواز پیش کرنا ضروری ہے۔ایک دس سالہ بچے کا ذہن بھی جدید درس گاہوں میں آج اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ فطرت کو مابعدالطبیعاتی یا دینیاتی مقصد کے تابع سمجھنے کے بجائے اسے انسانی غرض کا مطیع سمجھا جائے۔ سورۃ الملک کی وہ عظیم آیات جن میں دو بار افلاک کی طرف نظر دوڑانے کا ذکر ہے، کیا آج کا انسان ایک قدیم انسان کے ذہن سے پڑھنے کا تصور بھی کر سکتا ہے؟ یا پھر وہ آخری آیت جس میں پانی کے بند ہو جانے کی تنبیہ ہے، کیا ہماری ہنسلی کی ہڈی میں بھی وہی سنسناہٹ دوڑا سکتی ہے جو ایک صحابی کو محسوس ہوتی ہو گی؟ اگرعصر حاضر کاانسان اس قابل ہے کہ محض خلا میں گھورنے سے ازلی حقائق پر غوروخوض کرتے ہوئے حقیقت مطلق کا احاطہ کر سکے اوردیکھتے دیکھتے اپنے آپ کو نورِ رباّنی کی حضوری سے سرشار محسوس کرے تو اس میں ظاہرہے کہ کچھ قابل اعتراض نہیں، مگر آج کے انسان کی ذہنی و فکری ساخت اور تجربے کو قدیم اور قبل از دورِ وسطیٰ کے انسان، جن میں انبیاو صالحین و صحابہ کرام وغیرہ بھی شامل ہیں، پر قیاس کرنا اور اس سے عمومی طور پر اْس قسم کے تدبرکا مطالبہ ایک عجیب و غریب طرح کی سادہ لوحی ہے۔
ایک اوراہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا فکری عوامل کی بدولت اس طرح کا مخفی عارفانہ تجربہ عصر حاضر میں ٹھوس بنیادوں پر ایک عالم گیر سچائی کے طور پر ناقابل ابلاغ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایک طرح کی انفرادی وجدانی کیفیت تو ہو سکتی ہے مگر یہ کیفیت تصدیق یا تکذیب کی متلاشی ہے۔ یہ بھی یقیناًسچ ہے کہ اس وجدانی کیفیت کا تعلق کائنات کی کسی طبیعی حقیقت ، جیسا کہ زمین کا کروی یا چپٹا ہونا، سے نہیں ہے مگر پھر اس کا کیا جائے کہ قرآن کا مطالبہ تدبر کائنات تجریدی ہر گز نہیں بلکہ تجرباتی ہے ، جو اپنے قاری کو بار بار حسی تجربے پر اکساتا ہے اوراپنے دلائل میں جا بہ جا کائنات کے ان گنت طبعی عوامل اور مناظر کا حوالہ دیتا ہے۔ اب اگر پورا تجرباتی تناظر ہی بدل چکا ہے تو پھر یا تو اس گردش ایام کو پیچھے کی طرف دوڑائیے اور یا پھر اپنی تدبرانہ نگاہ کو بدلیے۔ ہاں یہ ذکر پہلے گزر چکا ہے کہ وحی کائنات کے طبعی یا نفسیاتی حقائق تک صرف ایک وجدانی علامتی پیرایے میں ضرورت کی حد تک ہی راہ نمائی کرتی ہے اور آگے کی گرہیں کھولنے کا کام عقل و شعور ہی کے حوالے کر دیتی ہے۔ تدبر کائنات کے پس منظر میں ہم میں سے ہر انساناپنے اخلاقی، جمالیاتی اور مذہبی شعور کی حد میں رہتے ہوئے ، اپنے اپنے علم کی مطابق، وحی سے معانی اخذ کرتا رہتا ہے اور جوں جوں علم کا دائرہ وسیع ہورہا ہے تدبر کائنات بھی زرخیزی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ اسی عمل کا نتیجہ مذہبی تجربے کاتدریجاً قابل ابلاغ ہونا ہے۔ اور ہماری ناچیز راے میں قرآن کا یہ وعدہ کہ سنریھم اٰیتنا فی الاٰفاق و فی انفسھم حتی یتبین لھم انہ الحق (حم السجدہ: ۳۵) اسی کا مصداق ہے۔
مذہبی ایمانیات سے قطع نظر ہو کے بھی دیکھا جائے تو ایسے حقائق کی کیا وقعت ہے جن کا ہم دعویٰ تو کرتے نہ تھکیں ،مگر ہمیں اس بات پہ قدرت نہ ہو کہ ان سچائیوں کا اظہار پوری قوت سے ایک عالم گیر اصول بلاغت کو بنیاد بنا کر اپنے خارج میں کر سکیں؟ اگر کسی کا اس بات پر اصرار ہے کہ واحاط بما لدیھم و احصی کل شیء عددا (الجن: ۸۲) اور وان من شی ء الا عندنا خزائنہ و ما ننزلہ الا بقدر معلوم (الحجر: ۱۲) جیسی علامات پر تدبر اسے ایک روحانی کیفیت اور تعلق مع اللہ کے جذبہ سے سرشار کر دیتا ہے تو پھر اسے اس حقیقت کو، جو اس پر تدبر کے نتیجے میں آشکار ہوئی ہے، اس درجے میں قابل ابلاغ بنانے پر یقین کامل ہونا چاہیے کہ وہ آنے والے تمام زمانوں کے اعلیٰ ترین ذہنی و فکری مطالبوں کے مطابق ایک حقیقی سچائی کے طور پر قبول کی جائے۔ اس کے لیے ایسے عالم گیر اصولوں کا علم ناگزیر ہے جن کی نسبت قطعی العلم اور جن کی ساخت قطعی الدلالت ہو۔ قدیم اور جدید دنیا میں یہی حق کا معیار ہے۔ اس لیے اگر آج ایک ماہر علم منطق، ریاضی دان یا سائنسدان ان آیات پر تدبر اس طرح کرے کہ یہ شاید متناہیات اورلامتناہیات کی جانب کچھ حتمی وجدانی علامات ہیں تو ایساسائنسی تدبر قابل تعریف و تقلید ہے؛ کیوں کہ یہ حقیقت مطلق تک عالم گیر رسائی کی راہ کھولتا ہے۔ سائنسی، معاشرتی اور نفسیاتی وجوہات سے بالا تر ہو کر، علم و وجود کے درمیان کامل اتفاق اور ایک میٹا تھیوری کی تشکیل تو اصلاً مذہب ہی کا اہم ترین مطالبہ ہے۔
آخر میں ایک بار پھر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ قرآن تدبر کو کسی خاص ترکیبی اصطلاح سے مخصوص نہیں کرتا؛ لہٰذا ہمیں بھی کوئی حق نہیں پہنچتا کہ قارئین کے اپنے مزاج کے مطابق اس مطالبہ قرآنی کو پورا کرنے کی کوشش کو حق یا باطل ثابت کرتے پھریں۔ اس بات پر تو ہم سب متفق ہیں کہ قرآن کوئی طبیعات ، کیمیا، حیاتیات یا نفسیات کی کتاب تو ہے نہیں، مگر چوں کہ قرآن ہدایت کی خاطر جا بجا ہمیں مظاہرِ انفس و آفاق کی طرف متوجہ کرتا ہے؛ لہٰذا عصر حاضر کا قاری ان علوم کے دلائل کو استعمال کیے بغیر شاید تدبر کائنات کے مطالبے کا مکمل حق ادا نہیں کر سکتا۔ رہی اللہ کے انعام کی بات تو وہ جس کو چاہے جس طور حقیقت مطلق کی تجلی سے نواز دے۔ اس لیے کسی بھی سائنسی یا فلسفیانہ رجحان کے تدبر کا مطلب ہر گز روحانی مقاصد واحوال کا انکار نہیں ہے۔ حقیقت اور شعور کے مابین یقیناًکچھ پیچیدہ مخفی نسبتیں ہیں مگر انہیں جاننے کا عمل بھی تدریجاً سائنسی دائرہ اختیار میں آتا جا رہا ہے، اور انہیں مکمل طور پر جاننے سے پہلے کسی آفاقی حقیقت پر اپنے خارج میں اصرار محض ایک اصرار یا پھر زیادہ سے زیادہ تخیلاتی شاعری سے ملتی جلتی کوئی شے ہے۔ انسان اپنے مختلف المزاج ہونے کے باعث تدبرکی متعدد شاہراہوں سے گزر کر منزل حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں مگر ملکیت حق اور تائید حق فی نفسہ اس بات پر دلیل نہیں کہ یہ حقیقت قابل بیان وابلاغ بھی ہے۔ حلقہ فیثا غورث کے دور سے آج تک انسان اس کوشش میں ہے کہ ریاضی کے تجریدی نظریات استعمال کرتے ہوئے حقیقت مطلق کی ٹھوس شبیہات تخلیق کر سکے۔ اسی طرح یونانی المیے سے لے کرآج تک ایمان و یقین کی تمام روحانی ونفسیاتی و جذباتی اشکال، انسا ن کے جمالیاتی شعور کے مختلف مظاہر ہیں۔ جدید سائنس کا دائرہ کار مسلسل وسعت پزیر ہے اور اس کے قواعدوضوابط کا اطلاق آج عمرانیات، لسانیات، نفسیات، تاریخ یہاں تک کہ تخلیقی جمالیاتی علوم پر بھی ہو رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب مذہبی تحریر ومکالمہ بھی سائنسی اسلوب ہی میں مستند ٹھہرے گا۔ مزید برآں حقیقت مطلق کی ربانی تعبیرکی ملکیت کا واحد دعوے دار ہونے کی وجہ سے مذہبی انسان کو فطری طور پر علم ووجود کی عالم گیر وحدت کا علم بردار ہونا چاہیے۔ سائنسی علمیت کو محض مادہ پرستی یا افادیت تک محدود کرنے اور اپنے بودے مفروضوں کے دلائل، تواریخ میں تلاش کرنے کی بجائے روایتی علمیت کے حامل مذہبی ذہن کو آگے بڑھ کر فلسفہ اور سائنس کی سمت متعین کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ذہن و عقل اور روحانیت، اور مادیت اور ناگفتنی لطافت کا ایک مثالی میل ممکن ہو۔
حواشی
۱۔ اس آخری سوال پر کلام سے میں نے اس تحریر میں جان بوجھ کر گریز کیا ہے، کیوں کہ مسئلہ تدبر کائنات کے پس منظرمیں اولین معاشرے اور عصر حاضر کا فرق تو کافی گہرائی سے زیر بحث آچکا تھا جس سے بات بہت حد تک واضح ہو چکی ہے، مگر پھر بھی یہ تاریخی پس منظر میں مسلم بنیادیں دریافت کرنے کا ایک اہم تحقیقی مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں دو سے زائد مکتبہ فکر موجود ہیں اور ایک دلچسپی رکھنے والے قاری کو ان تفصیلات سے کلی طور پر آگاہی کے لیے جارج سلیبا کی کتاب کا Islamic Science and the Making of European Renaissance (2011) کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔
۲۔محمد عبداللہ شارق، ’’تدبر کائنات کے قرآنی فضائل‘‘ (الشریعہ، جون ۲۰۱۴)
۳۔ علامہ محمد اقبال، ’’تجدید فکریاتِ اسلام‘‘ ، ترجمہ: ڈاکٹر وحید عشرت، اقبال اکادمی پاکستان(۲۰۰۲)
۴۔ ڈاکٹر محمد رفیع الدین، ’’قرآن اور علم جدید‘‘، ڈاکٹر رفیع الدین فاؤنڈیشن(۲۰۱۱)
5- John Dewey, Reconstruction in Philosophy, Henry Holt and Company, New Jersey (1920)
ترجمہ :انتظار حسین، ’’فلسفہ کی نئی تشکیل‘‘، سنگ میل پبلی کیشنز لاہور (۱۹۹۱)
6- Edwin. A. Burtt, Metaphysical Foundations of Modern Physical Science, Kegan Paul, Trench, Trubner and Co, New York (1925)
روحانی تدبر کائنات؟
ڈاکٹر محمد شہباز منج
کوئی بات کسی کے سر تھوپنے کا واقعی کوئی اخلاقی جواز نہیں۔لیکن کچھ مہربان صرف یہ جملہ استعمال کرکے دوسروں کے سر جو جی چاہے تھوپنے کی سند حاصل کر تے دکھائی دیتے ہیں۔میرا سائنس اور مغربی فکر سے متعلق اپنے مضامین میں ایک مقدمہ یہ تھا کہ قرآن کائنات میں تدبر کی جو دعوت دیتا ہے، اس کے نتیجے میں سائنسی ترقی میں مدد مہیا ہوتی ہے۔میں نے کہیں یہ بات نہیں کہی کہ قرآن سے کسی ایسے تدبر کی دعوت ملتی ہے جو آدمی کو خدا بیزار بنا دے یا اسے خدا اور اس کے مطالبات سے غافل کر دے ۔ الشریعہ جون 2014کے "تدبرِ کائنات کے قرآنی فضائل" نگارنے میرے مضامین سے یہ تدبر خدا جانے کہاں سے اخذ کر لیا؟
اگر بات صر ف میرے سر تھوپنے کی ہوتی تو ان سطور کی حاجت نہ تھی،مگر تنقید نگار تو روا روی میں قرآن کے سر بھی وہ تصور تھوپ گئے ہیں جواس کتاب الٰہی کے لیے یکسر اجنبی ہے۔ ان بے ربط جملوں کا ایک محرک یہ بھی ہے کہ جناب مدیر ’’الشریعہ‘‘ نے اسی تصور کو بڑی فکرِ رسا کا نتیجہ خیال کرتے ہوئے موقررسالے کے بیرونی صفحے پر نمایاں کیا ہے۔ تنقید نگار اور مدیر ہر دو احباب کے ذمے ہے کہ وہ قرآن سے کوئی حوالہ دے کر بتائیں کہ قرآن کے تدبر کائنات سے ضمنی طور پر بھی سائنسی تدبر مراد نہیں ہو سکتا؛قرآن نے اپنے تدبرِ کائنات کو روحانی و سائنسی خانوں میں تقسیم کیا اور ان مختلف تدبروں کے نتائج یا متوقع نتائج کو الگ الگ ذکر کیا ہے۔قرآن سے ذرا اس مقام کی نشاندہی فرمائیے جہاں قرآن نے کہا ہو کہ تدبر کرنے سے پہلے یہ طے کر لیں کہ آپ کا تدبر کس نوعیت کا ہے؟ آپ روحانی تدبر کرنے جا رہے ہیں یا سائنسی ومادی تدبر؟ جب تدبر کرنے لگیں تو فلاں نوع کا تدبر کریں، وہ آپ کو خدا تک پہنچائے گااور فلاں قسم کے تدبر سے گریز کریں، وہ آپ کو ملحد بنا دے گا ؟قرآن کہتا ہے کائنات میں تدبر کرو آپ کہتے ہیں کائنات میں روحانی تدبر کرو۔گویا صرف قرآنی تدبر سے قرآن کا مقصود حاصل نہیں ہو سکتا۔اس کو آپ کی اختراع کردہ روحانیت سے مقید کرنا ضروری ہے۔
قرآن کے مخاطب اگر صرف آپ ایسے مسلمان اور صاحباِنِ روحانیت ہی ہوتے تو وہ یقیناًآپ کی تشفی کا سامان کرتا مگر اس کے مخاطب تو وہ لوگ بھی ہیں جو روحانیت سے واقف ہیں اور نہ خدا و رسول سے۔آپ مطمئن ہوں یا نہ ہوں اسے معلوم تھا کہ ایسے لوگوں کو صرف تدبر کی ترغیب دی جا سکتی ہے آپ کے وضع کردہ روحانی تدبر کی نہیں۔جس شخص کو حقیقت و روحانیت تک پہنچنا ہی تدبر کے ذریعے سے ہے، اسے آپ روحانی تدبر کی دعوت کیونکر دے سکتے ہیں؟ نتیجہ ہاتھ میں تھما کر تدبر کی دعوت ایک صاحبِ ایمان کو تو دی جاسکتی ہے، اور اس کے لیے کار گر بھی ہو سکتی ہے، لیکن ایک خداناشناس کو نہ ایسی دعوت فائدہ مند ہو سکتی ہے اورنہ وہ ایسی دعوت پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ یہ چیز اسے سوچ سمجھ کر اور غو و فکر کرکے ماننے کے دیے گئے اختیار اور اس کے حق میں منشا ومقصودِ الٰہی ہی کے خلاف ہے؟اگر اسے لازماً منوانا مطلوب ہوتاتو صرف ماننے کو کہا جاتا یا اس پر مجبور کیا جاتا، غور و فکراور تدبر کر کے ماننے کو نہ کہا جاتا۔
وہ تدبر جو ایک ملحد یا بے خداسائنسدان سائنسی ایجادات و انکشافات کے لیے کرتا ہے، بالکل اسی طرح اچھا یا برا ہو سکتا ہے جیسے ایک مسلمان اور باخدا شخص کا الٰہیات وغیرہ کے حوالے سے تدبر۔عین ممکن ہے کہ وہ ملحد جس کے تدبر کو آپ سائنسی تدبر کہہ کر مذموم قرار دے رہے رہیں، وہ اس کو با خدا اور صاحبِ ایمان بنا دے اور وہ مسلمان اور باخدا جس کے تدبر کو آپ روحانی ٹھہرا کر محمود بتا رہے ہیں، وہ اسے بے خدا اور بے ایمان بنا دے۔سعود عثمانی یاد آگیا:
میاں یہ عشق ہے اور آگ کی قبیل سے
کسی کو خاک بنا دے کسی کو زر کر دے
آپ نے سائنسی تدبر والے بڑے بڑے کافر وں کا تدبر روحانی اور بڑے بڑے روحانی تدبر والوں کا تدبر سائنسی بنتے دیکھا نہیں تو سنا ضرور ہوگا۔ کتنے کافر "سائنسی " تدبر سے مسلمان ہو جاتے ہیں اور کتنے" روحانی" تدبر سے کافر یا کم از کم کفر کے ملزم ؟کیا آپ اس روحانی تدبر کو نہیں جانتے جو بہت سے ایسے لوگوں کو کافر ٹھہرا دیتا ہے ،جس کو مسلمانوں کا ایک جم غفیر خدا رسیدہ اور اسلام کا سچا پیروکار سمجھتا ہے! نتیجہ ؟ تدبر تدبر ہوتا ہے روحانی یا سائنسی نہیں۔جب آپ کا روحانی تدبر تباہی کا موجب بن سکتا ہے اور آپ کے سائنسی تدبر سے خیر برآمد ہو سکتی ہے تو پہلے سے اس درجہ دوستی کا کیا جواز ہے کہ دوسرے سے دشمنی کے بغیر یہ نبھائی نہ جا سکے !
محترم صاحبِ مضمون تضاد خیالی میں مبتلا ہیں۔ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ"تدبر کائنات سے اصولی طور پر تو کیا ضمنی طور بھی سائنسی تدبر مراد نہیں ہو سکتا " اور دوسری طرف فرماتے ہیں:"قرآن نے سائنسی و مادی تدبر کی کہیں کوئی ترغیب دی ہے اور اور نہ ہی اس سے کوئی ممانعت فرمائی ہے۔ سائنسی تدبر ایک مباح سر گرمی ہے ۔۔۔ موجودہ دور میں جبکہ امت کو ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے تو اس دور میں مسلمانوں کے سائنسی تدبر کی طرف متوجہ ہونے کی کوئی فضیلت بھی ہو سکتی ہے۔"
سوال یہ ہے کہ جس چیز کی فضیلت بھی ہو سکتی ہے، اسے بعض واضح نصوص سے اور وہ بھی ضمناً مراد لینے میں کون سا امر مانع ہے؟اگر آپ کا خیال یہ ہے کہ اس فضیلت سے اہلِ اسلام کے لیے کوئی مذہبی نوعیت کی فضیلت نہیں، محض دنیوی اور قومی و ملی فضیلت مراد ہے تو ہم آپ سے عرض کریں گے کہ قوم و ملت کے مفاد میں ایسی سر گرمی جس کی قرآن و سنت میں ممانعت نہ ہوثواب ہے یا گناہ ؟اگر گناہ ہے تو اس کی فضیلت نہیں ؛اگر ثواب ہے تو یہ خلافِ قرآن نہیں، موافقِ قرآن ہے۔ اورموافقِ قرآن ہے تو آپ کا مقدمہ باطل۔
قرآنی تدبر کائنات سے ضمنی طور پر بھی سائنسی تدبر مراد لینا ہمارے مہربانوں کو خلافِ قرآن بلکہ قرآن پر اتہام یا اس میں تحریف دکھائی دیتا ہے لیکن مذہب کے نام پر یہ "ضمنی طور پر" وہ وہ چیزیں مراد لے لیتے ہیں کہ بقول اقبال خدا و جبرائیل و مصطفی بھی حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔آپ کی وہ ضمنی مرادیں جنہوں نے امت مرحومہ کو انتشار و تشتت میں مبتلا کر رکھا ہے،اور جن کا دین کے "سارے فسانے " میں کہیں کوئی ذکر نہیں ، آپ کو بالکل خلافِ قرآن نظر نہیں آتیں،خلافِ قرآن نظر آتا ہے تو بے چارہ بے ضرر سا ضمنی سائنسی تدبر !
ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے
خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھیے
تدبر کائنات کی قرآنی دعوت سے اہل اسلام نے جو ضمنی سائنسی فوائد حاصل کیے میں نے ان فوائد کو بہت سے حوالہ جات کے ساتھ الشریعہ میں شائع شدہ اپنے مضمون "فکر مغرب: بعض معاصر مسلم ناقدین کے افکار کا تجزیہ" میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔مضمون نگار سے گزارش ہے کہ ذرا اس تفصیل کو دوبارہ ملاحظہ فرما لیں۔ اس تفصیل سے واضح ہے کہ قرآنی تدبر کے مسلمانوں کے حق میں ضمنی سائنسی نتائج کوقرآن سے عقیدت رکھنے والے مسلمانوں ہی نے نہیں، بہت سے غیر مسلم محققین نے بھی تسلیم کیا ہے۔
"کسی مظہر قدرت یا آیت اللہ پر غور و فکر ترک کر دینا اس سے پہلے کہ اس کی حقیقت پوری طرح منکشف ہو، اس سے اعراض کے زمرے میں آتا ہے" یہ بات میں نے قرآنی آیات کے حوالے سے نقل کی تھی ۔مضمون نگار کو میرے مضمون میں اس بات سے متصل یہ آیاتِ قرآنی کیوں نظر نہیں آئیں: وکاین من آیۃ یمرون علیھا وھم عنھا معرضون؛ الذی خلق سبع سموات طباقا ما تری فی خلق الرحمن من تفوت۔فارجع البصر ھل تری من فطور۔ ثم ارجع البصر کرتین ینقلب علیک البصر خاسئا و ھو حسیر۔کیا یہ اور اس نوع کی دیگر بہت سی آیات حقیقت منکشف ہونے تک غور کی دعوت نہیں؟ ہاں، مگر مسئلہ یہ دکھائی دیتاہے کہ ہمارے مہربان دوست کے نزدیک حقیقت منکشف ہونے سے لازماً مراد کوئی معروف و اصطلاحی سائنسی دریافت ہی ہے، جبھی تو حضرت کو یہ فکر لا حق ہو گئی کہ یوں تو صحابہ پر بھی بہت سی چیزوں کی حقیقت منکشف نہیں ہوئی تھی۔کیا اس بار بار غور سے اللہ کا ایقان و عرفان حاصل کر لینا حقیقت کا منکشف ہونا نہیں ہے؟
تنقید نگار کا ایک نہایت ہی عجیب استدلال یہ ہے کہ "آخر نبی کی پوری زندگی میں اس نوع کی سائنسی سرگرمی کہیں کیوں نظر نہیں آتی۔" (یہ استدلال اسی نوعیت کا ہے جیسا کہ ہمارے روایتی مذہبی حلقوں میں بدعت کے حوالے سے پیش کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں ہمارے یہاں جو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، ان سے متعلق راقم نے جنا ب مولانا زاہد الراشدی زید مجدہ کی ایک تحریر پر نقد کے ضمن میں تفصیلی گفتگو کی ہے، لیکن دیگر مصروفیات کی وجہ سے یہ تکمیل پذیر نہیں ہو پا رہی ۔ان شاء اللہ اسے جلد شائع کراؤں گا جس میں بدعت کے اس تصور کے بودے پن کو تحقیقی منہاج پر شرح و بسط سے نمایاں کیا جائے گا)۔ سوال یہ ہے کہ کیا حضور کی زندگی میں وہ سرگرمیاں نظر آتی ہیں جو ہم اور آپ آج کل ببانگ دہل دین کی خدمت کے نام پر انجام دے رہے ہیں ؟کیا حضور اور آپ کے صحابہ ہماری طرح مضمون نگاری کیا کرتے تھے؟ کیا انہوں نے بڑے بڑے مدارس اور اداروں کی ادارت سنبھال رکھی تھی ، اور ان کے لیے وہ نصاب وضع کر رکھا تھا جو ہمارے نزدیک قریب قریب الہامی ہے؟ کیا وہ اشعری ، ماتریدی ،حنفی ،شافعی ،دیوبندی ،بریلوی کہلایا کرتے تھے؟ کیا وہ غزالی اور ابن رشد کی کلامی بحثوں پر وقت ضائع کیا کرتے تھے ؟ کیا ان میں سے بہت سی بحثیں کبھی صحابہ کے خواب و خیال میں بھی آئی تھیں ؟ انہوں نے ایسی مذہبی سیاسی جماعتیں بنا رکھی تھیں جو اسلام کی خدمت کے نام پر ان سیکولرلوگوں کے ساتھ مل کر حکومت کیا کرتی تھیں جن کی کرپشن اور اسلام دشمنی کا خود ہی ڈھنڈورا پیٹا کرتی تھیں ؟ صحابہ نے تو آپ کے بقول" قرآنی لفظ "اب" کی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں نہیں بنائی تھی "لیکن ہمارے فقہا اور متکلمین نے قرآن کے ایک ایک لفظ کے فقہی و کلامی مصداق ڈھونڈنے میں عمریں کھپا دیں۔ ہم اس پر بھی مطمئن نہ ہوئے اور ان کی مزید کرید کے لیے تھوک کے حساب سے دارالافتاء، مفتی اور متکلم بنا دیے اور مسلسل بنائے جا رہے ہیں۔ دفتروں کے دفتر سیاہ کر دیے اور کرتے جا رہے ہیں۔نبی اور صحابہ نے کھجوروں سے مسجدیں بنائیں، ہم نے بھوک سے بلکتی مخلوق کی سنی ان سنی کر کے قومی دولت کو تزئین منبر و محراب میں جھونک دیا۔ "شاگردانِ رسول نے مفتوحہ علاقوں میں پڑے کتا بوں کے انبار سے دلچسپی نہ لی" اور ہم ہیں کہ اپنی للہیت اور خدارسیدگی کو داؤ پر لگا کر مدارس اور کتب خانوں میں انواع واقسام کی کتابیں جمع کر تے رہتے ہیں؛اوران کتابوں میں بہت سی ایسی بھی ہیں جن میں ہمارے عقائد کے لحاظ سے کفر بھرا ہوا ہوتاہے۔ یہ فہرست بہت طویل ہے۔
یہ سب چیزیں اگر عہدِ نبوی و صحابہ میں موجود نہ ہونے کے باوجوددین و ملت کی خدمت ہیں تو سائنس بے چاری؛جس نے آپ کی ان دینی خدمات کے لیے اپنی بہت سی سروسز پیش کی ہیں، اس سے متعلق غور و فکر ہی دشمنی ملت اور مخالفتِ قرآن کیوں ٹھہری!
کسی ایک زمانے کی قومی وملی ،دینی و ثقافتی ،سیاسی و حربی ،علمی و فنی ضرورتوں اور تقاضوں کا حوالہ دے کر اسے ہر زمانے پر اپلائی کرنے کی سوچ سے زیادہ بودی سوچ کوئی نہیں ہو سکتی۔اس اعتبار سے چودہ پندرہ سو سال کے فرق کو چھوڑیے، عہدِ نبوی اور خلفاے راشدین ہی کے ادوار پر نظر ڈال لیجیے۔ آپ کو عہد نبوی ،عہد صدیقی ،عہد فاروقی ،عہدِ عثمانی اور عہدِ علی المرتضی ہر ایک میں واضح فرق نظر آئے گا۔
دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے حالاتِ زمانہ کے تحت توپیں ،بم اور ٹینک وغیرہ سامانِ حرب کی تیاری تقریباً تمام اہل علم کے نزدیک قرآن کی تعلیمِ اعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ کی مصداق ہے۔کیا یہ اسی نہج پر تدبر کے بغیر ممکن ہے؟ اور کیا اسلحہ کے لیے بے شمار انواع کے علوم و فنون کی ضرورت نہیں ،جو ظاہر ہے کہ تدبر ہی کی بنیاد پر استوار ہو سکتے ہیں۔ کیا اس تدبر کے نتیجے میں وجود پذیر ہونے والی چیزیں سائنسی دریافتیں نہیں کہلائیں گی ؟ان اشیا کے حوالے سے کیے گئے تدبر پر آپ کا فتویٰ کیا ہو گا؟روحانی تدبر یا سائنسی تدبر؟اگر روحانی تدبر ہے تو سائنسی دریافتیں روحانی ہو گئیں اور اگر سائنسی تدبر ہے تو اعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ ایک مباح سرگرمی ٹھہری۔
پھر اس تدبر(جسے آپ ضمناً بھی قرآن کی تعلیمِ تدبر کی مراد ماننے کو تیار نہیں ) کی واحد دینی و قرآنی بنیاد اعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ ہی نہیں، نوع انسانی کی بھلائی اور اسے سہولتوں کی فراہمی سے متعلق سینکڑوں نصوص بھی اس کی انتہائی غیر مبہم بنیادیں ہیں۔ کیا بجلی ،گیس وغیرہ اشیا اور ان سے جڑی دیگر لاتعداد چیزوں اور ضرورتوں ،جن کے بغیر آج کل اہل دنیا ہی نہیں، اہل دین کے لیے بھی رشتہ جسم و جاں قائم رکھنا مشکل ہے،کی فراہمی و تیاری وغیرہ کے امورپر غورو تدبر خلافِ قرآن ہے؟کتنی حیرت کی بات ہے کہ فضول قسم کی کلامی،فقہی ،مسلکی بحثوں اور دینی حلقوں میں مروج اس نوع کے بہت سے دیگرامورکے حوالے سے تدبر ،جو نہ قرآن کا مطالبہ ہے اور نہ ایک عام مسلمان کو اس سے کوئی سروکار اور فائدہ،" روحانی تدبر" ٹھہرا کرسر آنکھوں پر رکھا جائے اور جوتدبر قرآن کا مطالبہ بھی ہو اور بنی نوع انسان کے لیے نفع بخش بھی، وہ" سائنسی تدبر" اور"مباح سرگرمی "قرار دے کر "گناہِ بے لذت "کا مصداق بنا دیا جائے:
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
دہشت گردی کے خلاف قومی مہم
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
طبیب کسی بھی طریق علاج سے تعلق رکھتا ہو، مریض کا علاج شروع کرنے سے پہلے دو باتیں ضرور چیک کرتا ہے۔ ایک یہ کہ اسے بیماری کیا ہے اور دوسری یہ کہ اس بیماری کا سبب کیا ہے۔ بیماری اور اس کے سبب کا تعین کیے بغیر کوئی معالج کسی مریض کے علاج کا آغاز نہیں کرتا۔ پھر وہ صرف بیماری کا علاج نہیں کرتا بلکہ سبب کے سدّباب کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ بسا اوقات سبب سے پیچھا چھڑانے کو بیماری کے علاج سے بھی مقدم کرتا ہے، اس لیے کہ جب تک سبب کا خاتمہ نہ ہو کسی بیماری کے علاج کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو پاتی۔
ہم اس وقت قومی سطح پر دہشت گردی کے سدّباب کی جس مہم میں مصروف ہیں اس میں بھی علاج کے اس مسلّمہ اصول اور طریق کار کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، جو کہ دکھائی نہیں دے رہا۔ اور اس سے اصحابِ فکر و دانش کی تشویش مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حدود میں حکومت کی رٹ کا قائم ہونا اور دستور کی بالادستی کو تسلیم کیا جانا ہر لحاظ سے ضروری اور ناگزیر ہے۔ اور کسی بھی دینی یا سیاسی مطالبہ کے لیے ہتھیار اٹھانا ملکی سا لمیت، قومی وحدت اور ملّی تقاضوں کے منافی ہے۔ افواج پاکستان دستور کی بالادستی اور حکومتی رٹ کے لیے جو کاروائی جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ شمالی وزیرستان میں آپریشن سے متاثرہ بے گھر شہریوں کی دیکھ بھال اور امداد کے لیے قوم کے مختلف اداروں اور طبقات کی جو سرگرمیاں جاری ہیں، پوری قوم ان کے ساتھ ہے اور اس مشن کی کامیابی کے لیے دعا گو ہے۔ لیکن معاملات کو اس سطح تک لے جانے والے اسباب و عوامل کی طرف کسی ادارے یا طبقے کی کوئی توجہ نظر نہیں آرہی جو تشویشناک امر ہے اور اہل فکر و نظر سے سنجیدگی اختیار کرنے کا تقاضہ کر رہی ہے۔
بلاشبہ دہشت گردی ایک کینسر ہے جو پورے قومی وجود میں سرایت کرتا جا رہا ہے اور بدقسمتی سے کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور سمیت ملک کے اہم مراکز اس کی زد میں ہیں۔ مگر ہمارے قومی پالیسی سازوں نے قومی جسم کے کینسر زدہ اعضاء کو کاٹتے چلے جانے کی پالیسی کے ساتھ کینسر کا سبب بننے والے عوامل کے سدباب کو ابھی تک اپنی پالیسی میں شامل نہیں کیا۔ اس لیے ہم اس قومی کینسر کے علاج کی ریاستی پالیسی کی حمایت کرنے کے باوجود یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ حکومت اور دیگر پالیسی ساز اداروں سے گزارش کریں کہ اسباب و عوامل کا سدباب کیے بغیر کینسر کا علاج کینسر زدہ اعضاء کو کاٹتے چلے جانے کی صورت میں مسلسل جاری رکھنے کے نتائج پر ضرور غور کر لیا جائے اور اس سلسلے میں پالیسی ترجیحات کا ایک بار پھر جائزہ لے لیا جائے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کے شمال مغربی علاقوں سوات، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان وغیرہ میں حکومتی رٹ کو چیلنج اور اس کے جواب میں فوجی آپریشن کے اسباب پر غور کیا جائے تو دو سبب سب سے بڑے اور نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ جہادِ افغانستان میں روس کے خلاف جنگ میں شریک ہونے والے ہزاروں ملکی اور غیر ملکی افراد کو جنگ ختم ہونے کے بعد اپنا ایجنڈا طے کرنے میں آزاد چھوڑ دیا گیا اور کسی قومی پالیسی کا انہیں حصہ نہیں بنایا گیا، جس کی وجہ سے ہر گروہ نے اپنا ایجنڈا خود طے کیا اور آج پوری قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ سوویت یونین کے خلاف افغانستان کے جہاد میں جو لوگ شریک ہوئے وہ پاکستانی شہری ہوں یا بیرون ممالک سے آئے ہوں، ان کی آمد اور جہاد میں شرکت خود ہماری ریاستی پالیسی کا حصہ تھی۔ ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ ان لوگوں کو جہاد کی تربیت دینے اور اس میں عملاً شریک کرنے کے عمل کے ہر مرحلہ میں ہم ان کے ساتھ شریک تھے۔ لیکن روسی فوجوں کی افغانستان سے واپسی کے بعد اس بات کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا کہ ہزاروں لوگوں نے ہمارے ذریعہ ہتھیاروں کی ٹریننگ حاصل کی ہے اور انہیں ہتھیاروں تک رسائی بھی میسر ہے۔ اس لیے ان کے مستقبل کے پروگرام اور ایجنڈے میں ان کی راہ نمائی اور نگرانی کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سندھ کے چند ہزار مسلح حروں کو تو حکمت عملی کے تحت قومی نظم کا حصہ بنا لیا گیا تھا، لیکن جہاد افغانستان کے بعد ان سے کم از کم دس گنا زیادہ مسلح افراد کے بارے میں کوئی قومی پالیسی طے نہیں کی گئی اور انہیں اس طرح آزاد چھوڑ دیا گیا کہ آج وہ حکومتی رٹ اور دستوری بالادستی کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔
ہمیں اس حقیقت کا اعتراف بہرحال کرنا ہوگا اور اس کی روشنی میں اس خطرے سے نمٹنے کی حکمت عملی اور ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔ امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے تو ایک موقع پر یہ اعتراف کیا تھا کہ روسی فوجوں کی واپسی کے بعد مجاہدین کے گروپوں کو نظر انداز کرنا ہماری غلطی تھی، مگر ہماری قومی قیادت ابھی اس کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی۔ جبکہ اس حقیقت کو تسلیم کر کے اس کی بنیاد پر قومی پالیسی کی تشکیل کے بغیر اس مسئلہ کے پائیدار حل کی کوئی صورت کم از کم ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔
دوسرا سبب ہمارے نزدیک نفاذِ شریعت کے اہم قومی تقاضے کو مسلسل نظر انداز کرتے چلے جانا ہے۔ حالانکہ اس مسئلہ میں اصولی طور پر کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ دستور پاکستان نفاذِ شریعت کی بات کرتا ہے۔ ہماری قومی سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشوروں میں اسلامی احکام و تعلیمات کی عملداری کی بات موجود ہے۔ جبکہ ریاستوں کو پاکستان کا باقاعدہ حصہ بناتے وقت اور اس کے بعد مختلف تحریکات کے ساتھ کیے جانے والے معاہدات میں اس کا باقاعدہ وعدہ کیا گیا ہے، لیکن اس کی کوئی عملی صورت سامنے نہیں آرہی۔ اس حوالہ سے ایک عذر یہ کیا جاتا ہے کہ نفاذ شریعت کے لیے طالبان کا وژن ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ یہ بات درست ہوتی اگر ہم نے دستور میں طے شدہ طریق کار کے مطابق نفاذ شریعت کی طرف پیش رفت کی ہوتی اور منتخب پارلیمنٹ اور دستوری عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کا کچھ نہ کچھ اہتمام کر لیا ہوتا۔ اس صورت میں یہ کہا جا سکتا تھا کہ پاکستانی قوم کے جمہوری وژن کے مطابق ہم نے نفاذ اسلام کے لیے یہ اقدامات کر رکھے ہیں، اس لیے اس کے برعکس کسی وژن کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن صورت حال یہ ہے کہ نفاذِ اسلام کے لیے پارلیمنٹ کے فیصلوں، دستور کے تقاضوں اور عدالت عظمیٰ کی واضح ہدایات کے باوجود کوئی عملی پیش رفت موجود نہیں ہے۔ مگر نفاذِ شریعت کے مطالبات کو ہم ’’طالبان کا وژن‘‘ قرار دے کر مسترد کرتے چلے جا رہے ہیں، یہ بات نہ قرین انصاف ہے اور نہ ہی عقل و دانش اس کا کوئی جواز فراہم کرتی ہے۔
آج بھی نفاذِ شریعت کے حوالہ سے ’’طالبان کے مبینہ وژن‘‘ کو روکنے کا راستہ یہی ہے کہ دستور و پارلیمنٹ نے ملک میں نفاذِ اسلام کے لیے جو فیصلے کر رکھے ہیں ان پر عملدرآمد کا اہتمام کیا جائے۔ اور طالبان کے ساتھ ساتھ پوری قوم کو یہ واضح پیغام دیا جائے کہ دستور و قانون اور عدلیہ و پارلیمنٹ کے فیصلوں کے مطابق نفاذِ اسلام کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اور یہ آغاز عملاً دکھائی بھی دے۔ ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ دستور کے مطابق نفاذ اسلام کو قومی پالیسی کا عملی حصہ بنانے کے اعلان سے ہی نفاذ شریعت کے کسی متبادل وژن کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔
ہم دستور کی بالادستی اور حکومت رٹ کی بحالی کے لیے حکومت اور افواج پاکستان کے ساتھ ہیں اور شمالی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی بحالی اور دیکھ بھال کے لیے ریاستی اداروں اور قوم کے مختلف طبقات کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ مگر یہ درخواست کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ کینسر کا علاج کرتے ہوئے کینسر کے اسباب کے سدّباب اور روک تھام کی بھی کوئی صورت نکالی جائے۔ ورنہ کینسر کا شکار ہونے والے ایک کے بعد دوسرے عضو کو کاٹتے چلے جانے کا آخری نتیجہ بہرحال ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہوگا۔