اپریل ۲۰۱۴ء

اسکولوں میں عربی زبان کو لازم قرار دینے کا فیصلہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مطالعہ سیرتؐ کے روایتی اور غیر روایتی پہلوڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی 
اسلامی قانون کی تشکیل نو : درپیش چیلنج اور محدود فکری رویےڈاکٹر محمود احمد غازی 
خاطراتمحمد عمار خان ناصر 
دیسی سیکولروں کی مغالطہ انگیزیاں (۲)محمد زاہد صدیق مغل 
’’جمہوری و مزاحمتی جدوجہد‘‘ ۔ ایک تجزیاتی مطالعہمحمد رشید 
میاں محمد عارف ایڈووکیٹ کا انتقالمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاںادارہ 
مولانا زاہد الراشدی کے اسفارادارہ 
فیثا غورث کے زریں اصولحکیم محمد عمران مغل 

اسکولوں میں عربی زبان کو لازم قرار دینے کا فیصلہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف خان نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں قرآن کریم کے حفاظ میں انعامات کی تقسیم کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ خوش خبری دی ہے کہ اسرکاری سکولوں میں میٹرک تک عربی زبان کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے جس کے لیے اصولی فیصلہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے عربی زبان کی تعلیم کی ضرورت ہے اور ہمارے ہاں اس سلسلہ میں مسلسل بے پروائی سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ مگر اب حکومت نے اس طرف توجہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور میٹرک تک عربی تعلیمی کو لازم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عربی زبان ہماری دینی زبان ہے اور صرف قرآن کریم سے واقفیت کے لیے نہیں بلکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ و سنت تک براہ راست رسائی اور امت مسلمہ کے ماضی کے علمی ذخیرہ سے آگاہی کے لیے بھی عربی زبان بنیادی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد سے ہی جب کہ اس کی ضرورت اسی وقت سے محسوس کی جا رہی ہے، اس سے بے اعتنائی کا رویہ جاری ہے اور بار بار توجہ دلانے کے باوجود حکومتی حلقے اس کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔
عربی زبان کی اہمیت و ضرورت تو اپنے مقام پر مگر ہماری رولنگ کلاس کا حال یہ ہے کہ قرآن کریم ناظرہ کی تعلیم کو بھی ابھی تک ہمارے سرکاری تعلیمی نصاب و نظام میں ضرورت کا درجہ نہیں دیا جا سکا۔ کچھ عرصہ قبل وفاقی محتسب اعلیٰ نے باقاعدہ آرڈر دیا تھا کہ سرکاری سکولوں میں مڈل تک قرآن کریم ناظرہ کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے۔ مگر یہ آرڈر کم از کم دو عشرے گزر جانے کے باوجود عملدرآمد کے مرحلہ میں داخل نہیں ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ ملک بھر میں پرائمری اور مڈل سکولوں کی تعداد کو سامنے رکھتے ہوئے ان میں سے ہر سکول کو کم از کم دو قاری مہیا کرنے کے لیے بھی قراء کرام موجود نہیں ہیں۔ اور اگر اتنی تعداد میں قاری حضرات میسر آبھی جائیں تو ان کی تنخواہوں کے لیے بجٹ میں رقم کا بندوبست نہیں ہے۔ یہ کہہ کر پرائمری اور مڈل سکولوں میں قرآن کریم ناظرہ کی تعلیم کا اہتمام کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا اور اب بھی اس کے کوئی امکانات دکھائی نہیں دے رہے۔ حالانکہ ایک مسلم ریاست میں دینی تعلیم کا یہ بالکل ابتدائی لیول ہے کہ ایک مسلمان بچہ یا بچی کم از کم قرآن کریم ناظرہ پڑھنے کی استطاعت رکھتے ہوں۔
دوسری طرف جو دینی مدارس اتنی بڑی قومی ضرورت کو پورا کرنے میں اپنا کردار مؤثر طریقہ سے ادا کر رہے ہیں، وہ ہر دور میں حکومتوں کی منفی پالیسیوں کی زد میں رہتے ہیں اور ہر حکومت انہیں دباؤ میں رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ حالانکہ پرائمری اور مڈل سکولوں سے کہیں زیادہ تعداد میں موجود مساجد اور مدارس کو قرآن کریم پڑھانے والے حافظ اور قاری صاحبان مہیا کرنے کی خدمت یہی دینی مدارس سر انجام دے رہے ہیں اور وہ حکومت سے کسی بجٹ کا تقاضا بھی نہیں کر رہے۔ تھوڑی دیر کے لیے اس صورت حال پر ایک نظر ڈالنے کی زحمت کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دینی مدارس ہمارے معاشرے میں مسجد و مدرسہ کا نظام قائم رکھنے کے لیے حافظ، قاری، خطیب، امام، مدرس اور مفتی جتنی تعداد میں مہیا کر رہے ہیں، وہ پرائیویٹ سیکٹر میں فی الواقع حیرت انگیز بات ہے۔ مگر اس کا اعتراف اور تحسین کرنے کی بجائے مختلف حوالوں سے دینی مدارس کی کردار کشی اور ان کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے ساتھ ساتھ ان کے کردار کو محدود بلکہ غیر مؤثر کرنے کی سرکاری پالیسیاں وقفے وقفے کے ساتھ سامنے آتی رہتی ہیں اور اب بھی قومی سلامتی پالیسی کے عنوان سے ان کا اعادہ کیا جا رہا ہے۔
یہ بات ہم نے اس لیے عرض کی ہے کہ سردار محمد یوسف خان محترم عربی زبان کو میٹرک تک لازم قرار دینے کی جو خوش خبری دے رہے ہیں وہ لائق تحسین ہے۔ لیکن اس سے پہلے اس بات کی ضرورت ہے کہ سرکاری اسکولوں میں کم از کم قرآن کریم ناظرہ کی تعلیم کا تو اہتمام کیا جائے اور اس کے لیے کسی نئی پالیسی کی ضرورت نہیں بلکہ وفاقی محتسب اعلیٰ کے اس حکم پر عملدرآمد کی کوئی صورت نکال لی جائے جو برس ہا برس سے معطل پڑا ہے۔ عربی زبان صرف ہماری دینی زبان نہیں بلکہ آج کی زندہ اور مروجہ بین الاقوامی زبانوں میں بھی اہم مقام رکھتی ہے اور بیسیوں ممالک کی قومی زبان ہے جن کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں اور جن ممالک میں پاکستان کی افرادی قوت روزگار کے لیے لاکھوں کی تعداد میں ہر وقت موجود رہتی ہے۔ ہمیں سردار محمد یوسف خان کے اس ارشاد سے سو فی صد اتفاق ہے کہ اگر ہمارے ہاں عربی زبان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے آغاز سے ہی اس کی ضرورت تعلیم کا اہتمام ہو جاتا تو ہمیں بہت سے الجھے ہوئے مسائل سے نجات مل سکتی تھی اور اب بھی عربی زبان کو اس کا صحیح مقام دے کر ان الجھنوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری اسٹیبلشمنٹ اور رولنگ کلاس ایسا ہونے دے گی؟ اگر قومی پالیسیوں کے فریزر کا دروازہ کھولا جائے تو اس میں سپریم کورٹ آف پاکستان، اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت، وفاقی محتسب اعلیٰ، بلکہ حکومتوں کے بڑے بڑے اچھے فیصلے منجمد ملیں گے جو اصولی طور پر کر لیے گئے تھے اور ان پر عمل کا اعلان بھی کر دیا گیا تھا مگر آج تک وہ حکومتوں کی توجہ کے طلب گار ہیں۔ 
ہماری حالت یہ ہے کہ ہم فیصلہ کرنے میں بخل نہیں کرتے اور دینی ضرورت اور قومی مفاد کے لیے بہتر سے بہتر فیصلہ کرنے میں ہم پوری مہارت رکھتے ہیں لیکن خود اپنے کیے ہوئے فیصلوں پر عملدرآمد ہمارے لیے مشکل ہو جاتا ہے اور اندرونی و بیرونی مشکلات ہر اچھے کام کی طرف پیش رفت میں ہمارے پاؤں کی زنجیریں بن جاتی ہیں۔ اس لیے فیصلوں سے زیادہ ان پر عمل درآمد کے نظام کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سردار محمد یوسف خان ایک محترم، شریف النفس، عوامی خدمت گار اور نظریاتی شخصیت کا تعارف رکھتے ہیں۔ ہم ان کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ایک اچھے فیصلے پر حکومت کو مبارک باد دیتے ہوئے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اچھے فیصلے کرتے ہوئے ان پر عملدرآمد کے نظام کی اصلاح کی طرف بھی توجہ دیں کہ اصل ضرورت اسی کی ہے۔

مطالعہ سیرتؐ کے روایتی اور غیر روایتی پہلو

ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی

(۸ مارچ ۲۰۱۴ء کو الشریعہ اکادمی میں علماء و طلبہ کی نشست سے خطاب۔)

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم۔
حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب اور دیگر حضرات علماء اور معزز سامعین!
میرے لیے خوش قسمتی کی بات ہے کہ پاکستان آنے کے بعد مجھے مسلسل آپ حضرات سے رابطے اور اپنی باتیں اور معروضات پیش کرنے کا موقع ملتا ہے، سعادت ملتی ہے۔
سیرت نبویؐ بنیادی طور پر اس خاکسار کا حوالہ بن گئی ہے کہ عام طور پر اسی موضوع پر کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ جدید دور میں جتنے کام اس وقت ہو رہے ہیں، بلا تکلف یہ عرض کر سکتا ہوں کہ پاکستان میں اس کی مختلف جہات پر بہت عمدہ، اچھا اور وسیع کام ہو رہا ہے۔ اردو میں جتنا کام اس وقت پاکستان میں ہوا ہے، وہ دوسرے مقامات پر نہیں ہو سکا۔ ایک تجزیے کے مطابق عربی میں اتنا اچھا کام ابھی تک نہیں ہو پایا ہے جتنا یہاں مختلف جہتوں سے سیرت پر ہوتا رہا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سیرت ایک وسیع اور ہمہ گیر موضوع ہے جس میں بہت سی چیزیں آجاتی ہیں۔ ایک طرف سیرت نبوی کا تعلق قرآن مجید سے ہے، دوسری طرف حدیث مبارکہ سے ہے، تیسری طرف سماجیات اور تاریخ سے ہے، چوتھی طرف علوم و فنون سے ہے۔ ایسی بہت سی جہات تلاش کی جا سکتی ہیں اور ان پر گفتگو کی جا سکتی ہے۔ اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ سیرت نگاری کا طریقہ یا سیرت کا مطالعہ کیسا ہو؟ ایک طریقہ ہمارے ہاں اب تک چلا آرہا ہے کہ ہم بیانیہ انداز میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح ولادت سے لے کر وفات تک مکی اور مدنی ادوار میں تقسیم کر کے اس کو پڑھتے ہیں اور وہ ایک تاریخی بیانیہ ہوتا ہے۔ یہ تاریخی بیانیہ عام طور پر اب لکیر کا فقیر ہوگیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امامین ہمامین ابن اسحاقؒ اور ابن ہشامؒ نے جو طرز قائم کر دیا تھا، اس کی پیروی ہمیشہ کی جاتی رہی۔ علامہ شبلیؒ نے جب سیرۃ نبوی کا خاکہ مرتب کیا اور کتاب لکھی تو جلد اول خالصتاً اسی Pattern (طرز) پر لکھی اور اس کے بعد جتنی سنجیدہ کتابیں آئیں اور اضافہ کرنے والی بھی بنیں وہ اسی پیٹرن پر لکھی گئیں، اور وہ جو بیانیہ Historical Narrative تھا، وہ ہمیشہ برقرار رہا۔ 
مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کی کتاب ’’سیرۃ المصطفیٰ‘‘ ہو، مولانا مودودیؒ کی ’’سیرت سرورِ عالم‘‘ ہو، مولانا عبدالرؤف دانا پوری کی ’’اصح السیر‘‘ ہو، یا ان کے علاوہ جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں تو وہ بیانیہ انداز میں چلتی ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت، رضاعت، بچپن، لڑکپن، نوجوانی، قبل بعثت کی زندگی، بعد بعثت کی زندگی، نبوت، تبلیغ، خفیہ تبلیغ کا زمانہ، علانیہ تبلیغ کا زمانہ، مظالم قریش۔ اس طرح کے سارے بیانات و عنوانات کو ملا کر دیکھیں، آپ کو یکساں ملیں گے۔ اب اس میں بعد کے لوگوں نے کیا اضافے کیے؟ وہ اضافے صرف یہ ہوئے کہ لوگوں نے کچھ دوسرے ماخذ سے چند روایتیں بڑھا دیں۔ حدیث سے کہیں اضافہ کر دیا۔ شبلیؒ سے غلطی ہوئی تھی تو اس کی تصحیح اور تنقیح کر دی۔ دوسرے علماء کرام نے جب دیکھا کہ شبلیؒ پہ تنقید ہو رہی ہے تو انہوں نے تنقید کے جواب میں تنقید لکھ دی، دوسرے مکتب فکر والوں نے کچھ اور اضافے کر دیے۔ اس طرح سیرت کا ایک اسلوب چل پڑا، وہی روایتی۔ اب اسی طریقے کو اختیار کیا جائے گا تو بہت دنوں تک کوئی اضافہ قابل قدر اس میں نہیں کیا جا سکتا۔ اصل طریقہ کیا ہے ہمارے روایتی علماء کا یا سیرت نگاروں کا؟ چاہے اس میں یونیورسٹی کے دانشور ہوں یا پروفیسر اہل قلم ہوں، ان سب کا طریقہ یہی ہوتا ہے کہ دو چار کتابوں کو سامنے رکھ کے ایک اور کتاب لکھ دیتے ہیں۔ کہیں کہیں اضافے کر دیتے ہیں، جو غلطیاں ہوگئی ہوں ان کی اصلاح کر دیتے ہیں، بعض مآخذ کے حوالے دے دیتے ہیں۔ لیکن اس میں بنیادی فرق نہیں ہوتا۔ 
اصل میں مغربی دنیا کے لوگوں نے جو چلن نکالا ہے، وہ ہم کو اختیار کرنا چاہیے۔ موضوعاتی اسٹڈی آف ہسٹری ہونی چاہیے۔ یعنی موضوعاتی اعتبار سے، تحلیل و تجزیہ کی بنیاد پر سیرت کی اسٹڈی ہوگی تو نئی نئی جہتیں سامنے آئیں گی اور پھر نئی نئی چیزیں نکلتی جائیں گی۔ اور مآخذ میں جو روایتی مآخذ ہیں ابن اسحاقؒ ، ابن ہشامؒ ، واقدیؒ ، ابن سعدؒ اور طبریؒ ، ان روایات کو چھوڑ کر یا ان سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے غیر روایتی مآخذ سے بھی ہم کو بہت سی چیزیں مل سکتی ہیں اور بڑی قیمتی معلومات ملتی ہیں۔ شہروں پر کتابیں ہیں، مکہ اور مدینہ کی تاریخوں پر، ازرقی اور سمہودیؒ کی کتابیں ہیں۔ اسی طرح سے دوسرے شہروں کی تاریخیں ہیں، تاریخ بغداد ہے، تاریخ دمشق ابن عساکرؒ کی ہے، اسی طرح بہت سے شہروں کی تاریخیں ہیں جن میں ہمارے لیے بہت سا مواد ہے، اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نئی نئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ 
دوسرے اور بھی مآخذ ہیں جس میں فہرست نگاری ہے، مثلاً محمد ابن حبیب بغدادی کی کتاب المحبر  اور المنمق فی اخبار قریش۔ ان میں فہرستیں ہیں جن میں تفصیلات ملتی ہیں کہ مثلاً عہد نبوی میں یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے قبل، بعثت کے زمانے میں یا بعد میں خلافت راشدہ، خلافت امویہ کے زمانے میں کون کون سے لوگ مطعمون میں شامل تھے، کھانا کھلانے والے تھے ، کون لوگ جوادون میں تھے۔ ایسے لوگ جنہوں نے مکی و مدنی زندگی میں ایسے غلط کام کیے تھے جنہیں دین حنیف تسلیم نہیں کرتا تھا، جیسے نکاح الوقت کا معاملہ ہے۔ ایسے کون لوگ تھے جنہوں نے بعثت سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں دین حنیفی کو پوری طرح سے سمجھا تھا اور اس کی پابندی کی تھی، قدر دانی کی تھی۔ شراب نوشی نہیں کی، بت پرستی نہیں کی، دین حنیف کو قائم رکھنے کی کوشش کی۔ ایسے کون سے لوگ تھے جنہوں نے تاریخ کے دھارے کو بدلنے کی کوشش کی تھی۔ تو ایسی تمام فہرستیں موجود ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کی فہرستیں ہیں۔ صحابہؓ کے مختلف طبقات کیے گئے ہیں، ان کی فہرستیں ہیں۔ ان میں بنیادی جو چیز ہے وہ معاشرتی اور سماجی تفصیل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کن لوگوں کے سماجی پیشے (Economic Professions) کیا تھے۔ تو اس میں ساری تفصیلات ہمارے پاس ہیں کہ کون لوگ گیہوں کی تجارت کرتے تھے، کتنے لوگ ایسے تھے جو تیل کی تجارت کرتے تھے، اور مختلف حضرات سبزی اور دوسری چیزوں کی تجارت کرتے تھے۔ یہ تجارتی Classification (تقسیم کار) ہے، یہ بہت دلچسپ اور بہت اہم ہے۔ اس میں سماج کا ایک بڑا طبقہ شامل تھا۔ 
پیشے کے علاوہ صنعت اور حرفت کے کچھ مسائل ہیں۔ ان علاقوں کا ذکر ہے جہاں مختلف چیزیں پیدا ہوتی تھیں، ان کو لایا جاتا تھا۔ ثقیف اور طائف کے بارے میں پوری پوری کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اتفاق سے وہ کتابیں عام لائبریریوں میں نہیں ملتیں، لیکن بہرحال چھپ گئی ہیں اور موجود ہیں۔ تو ثقیف کے بارے میں ہماری معلومات بہت زیادہ ہو جاتی ہیں۔ طائف کے بارے میں، ہمارا عام طور سے خیال ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طائف اور ثقیف سے تعلق بالکل معمولی تھا، بعد کے زمانے میں قائم ہوا۔ حالانکہ رضاعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت حلیمہ سعدیہ کے گھر میں اور وطن میں ہوئی تھی اور وہاں سے پانچ سال یا دو سال کے بعد آپ واپس تشریف لے آئے۔ اس میں یہ بحث بڑی اہم ہے کہ آپؐ نے حضرت حلیمہ سعدیہ کے یہاں رضاعت کا کتنا زمانہ گزارا، دو برس یا پانچ برس؟ یہ بہت اہم چیزیں ہیں جن کی ہم تحقیق کر سکتے ہیں۔ لیکن آپ اس کے بعد واپس جب تشریف لائے تو کیا طائف کے سفر پر نبوت کے دسویں سال حضرت خدیجہ اور ابو طالب کی وفات کے بعد ہی آپ تشریف لے گئے؟ اس کے دوران آپ کا کوئی تعلق نہیں رہا یا ثقیف کے لوگوں کا اور قریش کے لوگوں کا کوئی تعلق نہیں رہا؟ یہ تصور اصل میں ہمارے ہاں معلومات کے خلا کی وجہ سے آیا ہے۔ اس سب کو نسب کی کتابوں سے اور شہروں کی تواریخ سے اور جو روایتی مآخذ ہیں ابن اسحاق، ابن ہشام، واقدی اور بلاذری، ان کتابوں سے پر کیا جا سکتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اکابر صحابہؓ کا ان سے پہلے اکابر قریش کا ثقیف سے مسلسل رابطہ تھا۔ ہر طرح کے تعلقات تھے۔ سماجی، معاشرتی، سیاسی، تجارتی، دینی، ہر طرح کے تعلقات تھے۔ 
مثلاً آپ اس لائبریری میں بیٹھے ہیں، اس کے حوالے سے ایک بات کہوں۔ عرب میں ایک شخص تھے جنہوں نے اس زمانے میں ایک لائبریری قائم کر رکھی تھی۔ ان کا نام تھا امیہ بن ابی الصلت ثقفیبہت مشہور شاعر ہیں۔ وہ تاجر بھی تھے، کوئی دلچسپ چیز دیکھتے تو خرید لیتے۔ حضرت ابو سفیانؓ کے دوست تھے، شریک تھے، ندیم تھے، ساتھ مل کے تجارت کرتے تھے۔ وہ بصریٰ اور شام کے مختلف شہروں میں جاتے تھے، انہیں لکھنے پڑھنے کا بڑا شوق تھا۔ بہت بڑے شاعر تھے اور توحید پر مبنی اشعار اُن کے ملتے ہیں۔ ان کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا کہ ان کا شعر اسلام لا چکا تھا اور بلا شبہ آپ نے ان کے اشعار سنے بھی تھے۔ ان کے اشعار پر بہت کام بھی ہو چکا ہے۔ امیہ بن ابی الصلت کا خیال یہ بھی تھا کہ جس نبی آخر الزمان کے آنے کا وقت ہوگیا ہے تو شاید وہی منتخب کیے جائیں۔ چنانچہ وہ جناب رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو مکے میں ملنے کے لیے ائے تھے، لیکن جب آپ کے اعلان رسالت کی خبر سنی تو ان کا دل ٹوٹ گیا اور وہ نہیں آئے۔ یہ سوچنے کی سب باتیں ہیں جو آدمی سوچ سکتا ہے۔ یہ ایک بہت دلچسپ بات ان کے بارے میں ملتی ہے کہ ابو سفیان کے ساتھ جب سفر پر جاتے تھے تو تجارت کے علاوہ صومعوں میں، گرجاؤں میں، یہودیوں کی عبادت گاہوں میں، مختلف جگہوں میں چلے جاتے تھے، وہاں کتابیں نکال کے جمع کرتے تھے، پڑھتے تھے اور بہت سی چیزیں لے کے آتے تھے۔ ابو سفیان اکثر و بیشتر ان پر طنز کرتے تھے کہ آپ تجارت کے لیے آئے ہیں یا یہاں کتابیں پڑھنے کے لیے آئے ہیں۔ تو بہت سی کتابیں تلاش کر کے لاتے تھے اور طائف میں انہوں نے اپنی ایک لائبریری بنائی ہوئی تھی۔ 
چونکہ ہم روایتی مآخذ کے علاوہ دوسری روایتوں کا تجزیہ نہیں کرتے، اس لیے ہماری معلومات ادھوری رہ جاتی ہیں۔ مثلاً کتاب المحبر اور المنمق اور بہت سی دوسری کتابیں، ان کتابوں کی بنیاد پر عہد نبوی میں تجارت اور جاہلی دور میں تجارت پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے، بلکہ کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ تجارت کا وہاں ایک مسئلہ یہ تھا کہ اکثر و بیشتر ایک دوسرے کے شریک ہوتے تھے جنہیں ندیم کہا جاتا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شریک تجارت کا ذکر ملتا ہے، جاہلی دور میں آپ کے شریک تجارت رہے تھے۔ 
ایک فہرست بغدادی نے کتاب المحبر اور المنمق میں دی ہے۔ اس کے شروع میں انہوں نے عبد المطلب بن ہاشم اور ان کے شریک تجارت حرب بن امیہ اموی کو بیان کیا ہے۔ آخر میں ایک مسئلے پر دونوں میں اختلاف پیدا ہوا، وہ اختلاف بھی تجارتی تھا۔ وہ اختلاف یہ تھا کہ عبد المطلب کے جوار میں، پناہ میں ایک یہودی تاجر تھا جو بازاروں میں ان کے مال سے تجارت کیا کرتا تھا۔ وہ کسی وجہ سے حرب بن امیہ کو پسند نہیں کرتا تھا۔ چنانچہ وہ بار بار عبد المطلب پر دباؤ ڈالتے تھے کہ اس کو بازار سے اٹھا دیا جائے۔ لیکن جب وہ نہیں مانے تو لوگوں کو اس کے خلاف بھڑکا دیا اور لوگوں نے اس یہودی تاجر کو قتل کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عبد المطلب نے اپنے رشتہ دار سے جو شریک تجارت بھی تھے، خاندانی رشتے اور قرابت داری بھی تھی، فوری طور پر مطالبہ کیا کہ اس کی دیت دی جائے ورنہ ہمارے تمہارے تعلقات ختم ہو جائیں گے۔ دیت دینے سے انہوں نے انکار کر دیا۔ نتیجتاً آپ نے جو تجارتی معاہدہ کیا تھا، اسے توڑ دیا اور عبد اللہ بن حزام تیمی سے اپنا تجارتی تعلق قائم کر لیا۔ 
آپ اس فہرست کو دیکھیں اور اس کا موازنہ کریں تو تمام اکابر قریش، تمام اکابر صحابہؓ ایک دوسرے کے تجارتی ندیم نظر آئیں گے۔ ایک طرف اموی ہاشمی ہیں، ایک طرف مخزومی ہیں۔ مخزومیوں کا اور ہاشمیوں کا آپس میں تعلق بڑا عجیب و غریب نظر آئے گا۔ یہ کہانی آپ نے عام طور پر سنی ہوگی، کتابوں میں عام طور سے سنائی جاتی ہے کہ بنو امیہ اور بنو ہاشم میں شروع سے ہی اختلاف چلا آرہا تھا اور رقابت تھی، دشمنی تھی۔ لیکن یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے، اس لیے کہ کم سے کم تیس چالیس شادیاں تو دونوں خاندانوں میں اس زمانے کی موجود ہیں۔ تجارتی تعلقات موجود ہیں، مضاربت کے تعلقات ہیں، ندیمی کے تعلقات ہیں، سماجی تعلقات ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے تعلقات ملتے ہیں۔ ایک بات اور بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ بنو ہاشم، بنو عبد شمس یعنی بنو امیہ، بنو نوفل اور بنو عبد المطلب، یہ چار خاندان تھے جن کو بنو عبد مناف کے بڑے نام سے جانا جاتا تھا اور ہمیشہ ان چاروں خاندانوں کا مجموعہ ان کا بزرگ خاندان بنو عبد مناف تھا۔ یہ عہد نبوی میں بھی تھا اور بعد میں بھی تھا۔ ابن اسحاق نے بھی لکھا ہے اور دوسرے تمام لوگوں نے بھی لکھا ہے کہ جب بنو عبد مناف کا بنو مخزوم سے یا قریش کے کسی بھی دوسرے خاندان کے سامنے کوئی معاملہ ہوتا تھا تو بنو عبد مناف کے یہ چاروں خاندان ایک طرف ہوتے تھے، متحدہ محاذ بنا لیتے تھے، اور دوسروں کے مقابلے میں ایک خاندان کی حیثیت سے پیش آتے تھے۔ ایسے معاشرتی تعلقات پر گفتگو کی جا سکتی ہے۔ 
ایک دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ان خاندانوں، بنو عامر بن لوی ہوں یا بنو مخزوم ہوں یا دوسرے لوگ ہوں، آپس میں ان کے سماجی اور معاشرتی تعلقات تھے۔ ہمارے ہاں صورت حال یہ ہوتی ہے کہ اگر ہمیں کسی سے اختلاف ہے کسی وجہ سے تو سلام دعا بھی بند ہو جاتی ہے۔ لیکن وہاں صورت حال بالکل مختلف تھی۔ اس سے پہلے کے سماجی تعلقات، معاشرتی تعلقات اسلام لانے کے بعد بھی خراب نہیں ہوتے تھے ، ان میں دراڑ نہیں پڑتی تھی۔ اختلاف ہوتا تھا لیکن اس کے باوجود بھی معاشرتی سطح پر اسے قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ہدایت بھی فرمائی تھی۔ آپ نے کبھی سوچا یا کبھی آپ کے خیال میں یہ آیا کہ ابو جہل مخزومی جسے ہم فرعون امت کہتے ہیں اور ہر وقت لعن طعن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بلا شبہ اس نے مخالفت شدید ترین کی تھی، لیکن جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنہائی میں ملتا تھا تو مصافحہ کرتا تھا اور اس کے بعد آپؐ بھی اس سے مصافحہ فرماتے تھے؟ اس لیے داعی کا بنیادی طور پر کام یہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی سے نفرت کرے۔ اگر وہ کسی شخص سے نفرت کرے گا تو دعوت کا کام نہیں کر سکے گا۔ کسی صحابیؓ نے کہا کہ وہ تو مخالفت کرتا تھا، دوسرے بھی مخالفت کرتے تھے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کس نے نہیں کی؟ سوائے ایک دو کے سب نے مخالفت کی۔ حضرت عمرؓ تو قتل کرنے کے درپے ہوگئے تھے، دوسرے لوگوں نے بھی کچھ کم کام نہیں کیے تھے۔ لیکن بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف کر دیا تھا اور ان کا اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس لیے کہ آپ کا کام تھا دلوں کا جیتنا۔ ان کو زیر کرنا، شکست دینا، ان کو فنا کر دینا آپ کا کام نہیں تھا۔ منٹگمری واٹ نے بڑی خوبصورت بات لکھی ہے:
The policy of the prophet Muhammad (saw) was to win the hearts of the people, not to crush them.
(پیغمبر محمدؐ کی پالیسی یہ تھی کہ لوگوں کے دل جیتے جائیں نہ کہ انہیں توڑا جائے)
یہ بنیادی چیز ہے کہ آپؐ کا نبوت سے پہلے کا معاملہ ہو یا نبوت کے بعد کا، مکی دور کا ہو یا مدنی دور کا، آپؐ نے کبھی بھی کسی شخص کو فنا کرنے کی، اپنے دشمنوں کو تہس نہس کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ ان کو جیتنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب نے پوری تفصیل سے اعداد و شمار دیے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سالہ جنگوں میں کتنے لوگ مقتول ہوئے تھے، کتنے زخمی ہوئے تھے۔ صرف دو سو اٹھارہ آدمی مارے گئے تھے کل غزوات میں۔ فتح مکہ ہوگیا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب کے سامنے موجود تھے۔ سب کی گردنیں جھکی ہوئی تھیں، خطرہ تھا کہ نجانے کیا ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارا کیا خیال ہے، میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا؟ تو لوگوں نے کیا کہا؟ یہی تو کہا تھا کہ آپ کریم ابن کریم ہیں۔ آپ ہمارے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو ایک کریم کو زیب دیتا ہے۔ آپ نے فرمایا، جاؤ، انتم الطلقاء، تم سب کے سب آزاد ہو۔ یہ وہ صورت حال تھی جو سمجھنے کی ہے۔ آپؐ کو لوگوں کو ختم کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا تھا، نہ آپ کی زندگی میں کبھی یہ پالیسی رہی تھی۔ آپ لوگوں کے گھروں میں جاتے تھے، کافروں کے گھروں میں کھانا کھاتے تھے، ان کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کی دعوتیں کرتے تھے، ان کی دعوتیں قبول فرماتے تھے، ان کے ساتھ سلوک کرتے تھے۔ 
امیہ بن خلف کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زبردست دشمنی تھی جو بعد میں مارا بھی گیا۔ اس نے مکے کے تمام اکابر کی دعوت کی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی آیا اور کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر کھانا کھانے کے لیے تشریف لائیں۔ آپ نے اس کی دعوت فورًا قبول فرمالی۔ جب وہ واپس گیا تو راستے میں اس کا دوست عقبہ بن ابی معیط اموی اس سے ملا۔ اس نے کہا کہ سنا ہے تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کھانے پر بلایا ہے۔ اس نے کہا، ہاں بلایا ہے۔ کھانے پر تو بلانا ہی چاہیے اور سب کو دعوت دی تو ان کو بھی دعوت دی، وہ بھی آرہے ہیں۔ اس نے بہت لعن طعن کیا، لیکن امیہ نے کہا کہ بنیادی بات یہ ہے کہ وہ آدمی اچھے ہیں، ہمیں دین سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن آپ آدمی اچھے ہیں اور اچھے آدمی کو کھانے پر بلانا چاہیے۔ 
اسی طرح اس پہلو کو الٹ کر دیکھیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ زندگی بھر رہے اور پچاس سال کی عمر تک ان سے تعلق رہا۔ بچپن سے لے کر ان کی تربیت میں رہے، ان کے گھر میں بھی رہے، وہ تو اسلام نہیں لائے تھے۔ آپ ان کے گھر میں کھاتے پیتے تھے، خود حضرت فاطمہ بنت اسد یعنی ابو طالب کی بیوی کہا کرتی تھیں کہ رسول اکرمؐ کھانے کے لیے جب گھر آتے تھے تو برکت ہوتی تھی۔ ہم ان کے لیے کھانا بچا کے رکھا کرتے تھے، اپنے بچوں کو نہیں دیتے تھے جب تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ کھا لیں۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ سماج و معاشرت میں سب لوگوں کے ساتھ میل ملاپ کا تھا۔
یہی تعلیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرامؓ کو دی تھی۔ امیہ بن ابی خلف اور ایک بہت مشہور صحابی جو عشرہ مبشرہ میں ہیں، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپس میں دوست تھے اور بہت قریبی دوست تھے۔ جیسے کہتے ہیں، ایک دوسرے کے ’’لنگوٹیے یار‘‘ تھے۔ دوستی میں آپس میں ملتے جلتے تھے۔ عبد الرحمن بن عوف نے شروع میں ہی اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل دیا، عبد الرحمن رکھ دیا۔ امیہ بن ابی خلف کو شکایت ہوئی، وہ آپؓ کو عبد الرحمن نام سے نہیں پکارتا تھا۔ وہ ہمیشہ آپؓ کو عبد الکعبہ کے نام سے پکارتا تھا تو حضرت عبد الرحمن جواب نہیں دیتے تھے۔ دونوں میں اختلاف چلتا رہا۔ ایک دن اس نے کہا کہ میں آپ کو پکارتا ہوں، آپ جواب ہی نہیں دیتے۔ تو حضرت عبد الرحمنؒ نے فرمایا، تم پتہ نہیں کس شخص کو بلاتے ہو۔ آخر میں اس پر صلح ہوئی (اس بات پر غور فرمائیے گا) کہ نہ تم عبد الرحمن کہو گے اور نہ عبد الکعبہ کہو گے، بلکہ عبد الٰہ کہہ کے پکارو گے۔ اس کے بعد امیہ آپؓ کو عبد الٰہ کہہ کے بلاتا تھا تو آپ جواب دیتے تھے۔ یہ دونوں حضرات ایک دوسرے کے ساتھ جاتے تھے، ندیم تھے، شریک تھے، کھانے پینے میں، اٹھنے بیٹھنے میں، اکٹھے تجارت کرتے تھے۔ بالآخر ہجرت مدینہ سے پہلے باقاعدہ ایک دستاویز لکھی ان دونوں نے کہ مکے میں عبد الرحمن بن عوفؓ کے جتنے تجارتی اور شخصی مفادات ہیں، ان سب کی حفاظت امیہ بن خلف کرے گا اور مدینہ میں عبد الرحمن بن عوف، امیہ کے تجارتی اور شخصی مفادات کی حفاظت کریں گے۔ 
یہ معاہدہ باقاعدہ لکھا گیا تھا، دستاویز تھی۔ امام بخاریؒ نے اس حدیث کو دو جگہ بیان کیا اور اس میں بیان کیا ہے کہ ایسا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ باب کتاب الاجارۃ میں ہے اور اس سے امام بخاری نے یہ اخذ کیا ہے کہ مسلم اگر حربی سے دارالاسلام یا دارالحرب میں کوئی معاہدہ کرے تو وہ جائز ہوگا۔ ایک کافر کی جان مال کی حفاظت کی ضمانت دی گئی تھی۔ پھر جنگ احد میں مشرکین کو شکست ہوئی اور امیہ اور اس کا بیٹا ؟؟ جان بچانے کے لیے بھاگنے لگے تو حضرت بلالؓ اور پر جوش صحابہؓ نے جو ان کے مظالم سے تنگ آگئے تھے، ان کا پیچھا کیا۔ اس موقع پر حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے بہت کوشش کی کہ امیہ کی جان بچا سکیں، لیکن بلال اور ان کے ساتھیوں نے کسی صورت میں اسے معاف نہیں کیا اور اسے قتل کر کے ہی دم لیا۔ اس کشمکش میں حضرت عبد الرحمنؓ، امیہ کو بچانے میں زخمی ہوگئے تھے۔ 
اسلام کی شان یہ تھی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمت کا جو تصور پیش کیا تھا، انسانیت کو سنوارنے کا وہ تصور ہمیں پیدا کرنا چاہیے اور اسی پر عمل کرنا چاہیے۔ یہ اسوہ نبویؐ ہے اور اس کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و جلالت ہے، محبت و کرامت ہے، جس کو ہمیں سمجھنا چاہیے اور اس لحاظ سے ہمیں سیرت نبویؐ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبلؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے کہا تھا : بشرا ولا تنفرا، لوگوں کو بشارت دو، نفرت نہ پھیلاؤ۔ نفرت نہیں پھیلانی چاہیے، بشارت دینی چاہیے۔ آپؐ تو ان لوگوں کے لیے بھی سراسر رحمت تھے جنہوں نے آپؐ کی جان لینے کی کوششیں کیں، ان کو بھی معاف کر دیا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ آپ نے اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ایک جنگ میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو آپؐ نے بھیجا اور ان کے ساتھ دوسرے صحابہ کرامؓ تھے۔ حضرت اسامہ نے دشمن پر تلوار سونتی۔ ایک اور انصاری نے بھی تلوار سونتی۔ اس نے تلوار کے سامنے فورًا کلمہ پڑھا اور لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ دیا۔ انصاری نے اپنی تلوار روک لی اور حضرت اسامہؓ تلوار نہیں روک سکے اور اس کو قتل کر دیا۔ جب واپس آئے تو انصاریؓ نے یہ رپورٹ حضورؐ کو دی کہ حضرت اسامہؓ نے یہ کیا۔ آپؐ نے بلا کر ان سے پوچھا تو حضرت اسامہؓ نے کہا کہ تلوار کے خوف سے اس نے اسلام قبول کر لیا۔ تو آپ نے فرمایا ھلاّ شققت عن قلبہ  تو نے اس کا دل چیر کے دیکھا تھا؟ اسامہ، وہ دن کیسے ہوگا جب وہ لا الٰہ الا اللہ کہتا ہوا آئے گا، تم کیا جواب دو گے؟ اسامہ وہ دن کیسا ہوگا جب وہ لا الٰہ الا اللہ کہتا ہوا آئے گا، تم کیا جواب دو گے؟ آپؐ نے یہ تین بار فرمایا۔ حضرت اسامہؓ کہتے ہیں کاش میں اس سے پہلے مر گیا ہوتا۔ 
تو یہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے پہلو ہیں جن کو ہمیں عملی دنیا میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ روایتی معجزاتی پہلو بہت بیان ہو چکا ہے، اب اس کی بجائے موضوعاتی پہلو پر توجہ دینی چاہیے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اگر ایک بھی معجزہ نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ دوسری بات آپ سے یہ کر دوں، آپ سب اہل علم ہیں۔ معجزہ بنیادی طور پر اللہ کی آیات میں سے ہوتا ہے، صرف ظاہر نبی کے ہاتھ پر ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں وضاحت ہے کہ اگر آپ چاہیں کہ کوئی آیت، کوئی نشانی لے آئیں تو آپ نہیں لا سکتے۔ معجزات تو صرف دلائل نبوت کے طور پر پیش کیے گئے تھے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ آپ سچے نبی ہیں۔ آپؐ کا سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے اور آپؐ کی سیرت و رحمت ہے اور پوری دنیا کو محیط ہے۔ تو بنیادی طور پر ہمیں سیرت کا مطالعہ اس طرح سے کرنا چاہیے۔
ضروری نہیں کہ بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی جائیں۔ ضخیم کتابوں کو آپ چھوڑ دیں۔ مولانا محمد علی جوہرؒ بڑے لمبے لمبے خطوط اور مضامین لکھا کرتے تھے تو کسی نے کہا کہ آپ اتنے لمبے لمبے خطوط اور طویل مضامین کیوں لکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا، بھئی مختصر لکھنے کی فرصت نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مختصر لکھنے کے لیے بڑی پتہ ماری کرنی پڑتی ہے۔ ہزاروں صفحات کو دس بیس صفحوں میں جمع کرنا بہت مشکل کام ہے، لیکن ایک بات کو پچاس صفحوں پر پھیلا دینا عام طور پر ہمارا علماء کا کام ہے۔ یہ کام ہم بہت آسانی سے کر سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ مجھے حضرت شاہ ولی اللہؒ پر ایک تعارف لکھنے کا حکم دیا گیا، ایک بڑے بزرگ آدمی نے حکم دیا تھا کہ چالیس صفحے میں لکھنا ہے۔ دانتوں پسینہ آگیا کہ صرف چالیس صفحے پر اس عظیم آدمی کی شخصیت کو کیسے سمویا جا سکتا ہے۔ لیکن لکھا اور اسے دس مرتبہ لکھا، اور اللہ کا شکر ہے کہ وہ بہت جامع چیز بن گئی۔ لیکن اس کو لکھنے میں ہم کو یہ اندازہ ہے کہ کیا گزری تھی۔ تین چار سو صفحے لکھنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ تو ایسی چھوٹی چھوٹی چیزیں علماء کرام کو لکھنی چاہئیں۔ جو سیرت سے واقف ہیں، ان کو چھوٹے رسائل لکھنے چاہئیں۔ آپ جانتے ہیں کہ طویل کتابیں و مضامین آپ لکھیں گے، بہت سی چیزیں لکھیں گے، اس کا Impact (اثر) نہیں ہوتا۔ اس کو لوگ پڑھ نہیں سکتے۔ اب زمانہ ہے بہت تیز رفتاری کا، جلدی سے کچھ پڑھ لینے کا۔ تو چھوٹی چھوٹی چیزیں سیرت پر آنی چاہئیں۔ دس صفحے کی، پندرہ صفحے کی، چالیس صفحے کی، اس میں آپؐ اسی قسم کی چیزیں سیرت کی لائیں۔ اس لیے کہ آپ ایسی کوئی کتاب لا سکیں جس میں بہت ہی نئی چیزیں ہوں، نئی معلومات ہوں یا نئی تشریحات ہوں، اس کے لیے آپ کو بہت زیادہ مطالعہ کرنا پڑے گا۔ بسا اوقات دس بیس سال بھی لگ جاتے ہیں۔ ایسی چھوٹی چھوٹی چیزیں لکھیں جو دلوں کو چھو لیں، جو انسانوں کی زندگی کو بدل دیں، جو ذہن و فکر کو بدل کے بالکل دوسرے راستے پر ڈال دیں جس کی تعبیر اقبال نے کی تھی:
؂ نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
تو یہ تقدیریں بدلنے کا کام اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کے قلم میں ہے، آپ کی تقریر میں ہے۔ بہت لمبی تقریریں کرنے سے بہت لمبے مضامین لکھنے سے، روایتی قسم کی باتیں کرنے سے اب کچھ نہیں ہوتا، اب نئی چیزیں کہنے کی ضرورت ہے۔ 
حضرات! آپ کا بہت شکر گزار ہوں۔ پاکستان جب بھی آتا ہوں تو بہت محبت ملتی ہے۔ بڑا اعزاز و اکرام آپ اس بندہ ناچیز کا کرتے ہیں۔ بہت ہی دل میں شرمساری بھی محسوس ہوتی ہے اور بالکل سچی بات کہہ دوں کہ نفس کچھ موٹا بھی ہو جاتا ہے اپنی تعریفیں سن سن کے۔ یہ اچھا لگتا ہے، لیکن شرمندگی بھی ہوتی ہے۔ احساس ہوتا ہے کہ کیا دھرا کچھ نہیں، لیکن تعریفیں بہت ہوتی ہیں۔ یہ سب آپ کی فیاضی، آپ کے دل کی سخاوت ہے۔ میں گھر میں اکثر کہتا ہوں کہ جب گھر میں لکھتے لکھتے تھک جاتا ہوں اور بہت پریشان ہوجاتا ہوں اور محبت کے کوٹے میں کمی ہو جاتی ہے تو پھر میں پاکستان چلا جاتا ہوں۔ 
وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین۔

اسلامی قانون کی تشکیل نو : درپیش چیلنج اور محدود فکری رویے

ڈاکٹر محمود احمد غازی

(ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی مختلف تحریروں سے مرتب کیا گیا۔ مدیر)

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لیے بڑی ریاست چھوڑی جو کم و بیش بائیس لاکھ مرب کلو میٹر رقبے پر پھیلی ہوئی تھی جس میں آبادی کا اندازہ ایک ملین کے قریب تھا جن میں ایک چوتھائی کے قریب صحابہ کرامؓ تھے۔ باقی لوگوں کا شمار تابعین میں ہوتا تھا۔ اسلامی ریاست میں مختلف علاقوں میں عمال حکومت مقرر تھے۔ محصلین زکوٰۃ ہر صوبے، علاقے اور ہر قبیلے میں مقرر کیے جا چکے تھے۔ ہر علاقے میں فیصلہ کرنے والے قاضی اور فتویٰ دینے والے مفتی موجود تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانشینی فرمانے والے خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ اس پورے نظام کی سربراہی فرما رہے تھے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو قرآن مجید اور اپنی سنت کے علاوہ کوئی مرتب یا مدون قانون عطا نہیں فرمایا تھا۔ صحابہ کرامؓ، ان کے بعد تابعین اور ان کے بعد تبع تابعین کو جب کسی معاملے کا فیصلہ کرنے کی ضرورت پیش آئی تو وہ اس کے لیے اجتہاد سے کام لیتے تھے۔ صحابہ کرامؓ میں سے جو حضرات مجتہد تھے وہ خود اجتہاد کرتے اور اپنے اجتہاد کی روشنی میں معاملہ کا فیصلہ فرما دیتے۔ اگر وہ خود مجتہد نہ ہوتے یا اس معاملہ میں اپنے انتہائی تقویٰ اور محتاط رویہ کی وجہ سے خود اجتہاد نہ فرماتے تو دوسرے مجتہدین کی رائے پر عمل درآمد کرتے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ صحابہ کرامؓ سب کے سب مجتہدین میں شامل تھے یا ان کی بڑی تعداد کو اجتہاد میں نمایاں مقام حاصل تھا۔ تابعین میں بھی مجتہدین کی بڑی تعداد تھی۔ تبع تابعین میں بھی بہت سے مجتہدین تھے۔ یہ حضرات اگر وہ خود مجتہد ہوتے تو براہ راست اجتہاد سے کام لیتے اور قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے اجتہاد کے مطابق معاملات کا فیصلہ کر دیا کرتے تھے۔
صحابہ کرامؓ میں سے گورنر، قاضی اور مفتی صاحبان نے اور ان تمام حضرات نے جو معاملات کا فیصلہ کرنے کے سرکاری طور پر مکلف تھے، اسی طریقے کے مطابق کسی مدوّن قانون کے بغیر اپنے براہ راست اجتہاد کے نتیجے میں معاملات کو چلایا۔ اگر قاضی، عامل، گورنر یا فیصلہ کرنے والا خود اپنے کو اجتہاد کا اہل نہ سمجھتا تو کسی مجتہد سے جس کے تقویٰ اور علم پر اس کو اعتماد ہوتا، استفسار کرتا اور اس کے فتوے یا اس کے اجتہاد کی روشنی میں معاملات کو طے کر دیتا۔ یوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قانون میں وسعت پیدا ہوتی گئی اور فقہ اسلامی کے نام سے ایک نیا فن وجود میں آتا گیا۔ 
جب تابعین کا آخری زمانہ تھا اور تبع تابعین کے دور کا آغاز تھا تو اہل علم نے عام طور پر یہ محسوس کیا کہ اسلامی ریاست اور مسلم معاشرہ کی روز افزوں ضروریات کے لیے احکام فقہ کی تدوین ضرو ری ہے۔ اب تک یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوا، اس کا اجتہاد کے ذریعہ حل دریافت کر لیا گیا۔ جب کوئی مقدمہ سامنے آیا، اجتہاد کے ذریعہ اس کا فیصلہ کر دیا گیا۔ اب اس امر کی ضرورت محسوس ہوئی کہ کسی صورت حال کے واقعتا پیش آنے کا منتظر رہنے کی بجائے معاملات کا پہلے سے اندازہ کر کے اور مسائل کا پہلے سے اداراک کر کے ان کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں تجویز کر دیا جائے۔ بعض فقہا نے اس ضرورت کا احساس کیا اور اس پر کام شروع کر دیا، بعض اہل علم نے اسے غیر ضروری سمجھا اور اس سے اجتناب کیا۔ 
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ نے پہلے گروہ کی رائے کو قابل قبول سمجھا اور ان کے کام کو سراہا۔ ان حضرات میں امام اعظم ابوحنیفہؒ (م ۱۵۰ ھ)، امام شافعیؒ (م ۲۰۴ھ)، ان حضرات کے تلامذہ، امام مالکؒ (م ۱۷۹ھ) اور بہت سے دوسرے ائمہ مجتہدین شامل ہیں۔ ان حضرات نے انفرادی اور اجتماعی دونوں طریقوں سے کام لے کر آئندہ آنے والی مشکلات کی پیش بندی کی۔ ان مسائل کا اندازہ کیا جو امت کو پیش آنے والے تھے اور اپنی انتہائی فہم و بصیرت کے مطابق قرآن و سنت کی روشنی میں ان کا پیشگی حل تجویز کیا۔ ان میں سے جس فقیہ یا مجتہد کے علم اور تقویٰ پر امت کو اعتماد تھا، امت نے اس فقیہ کے اجتہادات پر عمل درآمد شروع کر دیا اور یوں فقہی مسالک یا مذاہب وجود میں آگئے۔ جس زمانے میں فقہی مسالک و مذاہب کی داغ بیل پڑ رہی تھی، یعنی دوسری صدی کے وسط سے لے کر تیسری صدی کے اواخر تک، یہ وہ زمانہ ہے جب مجتہدین بڑی تعداد میں دنیائے اسلام کے ہر علاقے میں موجود تھے۔ ان مجتہدین امت نے اپنے اپنے ذوق، اپنے اپنے مزاج، اپنے اپنے علاقے کی ضروریات اور اپنے اپنے تخصصات (Specialization) کے مطابق شریعت کے مختلف میدانوں میں کام کیا اور آنے والوں کے لیے رہنمائی کا سامان فراہم کرگئے۔
اس وقت تک یعنی چوتھی صدی ہجری کے وسط تک اس بات کی کوئی پابندی نہیں تھی کہ فیصلہ کرنے والا قاضی یا قانونی رہنمائی کرنے والا حکمران یا فرماں روا، کسی معاملہ کا فیصلہ کرنے والا کوئی عامل حکومت یا گورنر کسی خاص فقہی مسلک کی پیروی کرے۔ نہ یہ سرکاری طور پر لازمی قرار دیا گیا تھا، نہ عامۃ الناس نے اس کی ضرورت کو محسوس کیا اور نہ فقہائے اسلام نے اس کو لازمی قرار دیا۔ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ فقہائے اسلام نے ہر ایسے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جس کا مقصد یہ تھا کہ کسی خاص فقہی اسلوب اجتہاد یا کسی خاص فقیہ کے اجتہاد کو لازمی قرار دیا جائے یا لازمی سمجھا جائے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ان کا کام محض ایک تجویز کی حیثیت رکھتا ہے جو امت کے اہل علم کے سامنے رکھی گئی ہے۔ امت کے اہل علم اگر اس سے اتفاق کریں گے تو اس پر عمل درآمد کریں گے۔ جن حالات میں اتفاق کریں گے ان حالات میں اس پر عمل درآمد کریں گے اور جن حالات میں اتفاق نہیں کریں گے ان حالات میں اس پر عمل درآمد نہیں کریں گے۔
پانچویں صدی ہجری کے اواخر میں فقہائے اسلام نے غور کیا تو انہوں نے محسوس کیا کہ اب مختلف علاقوں میں الگ الگ اسلوب اجتہاد اس طرح مروج ہوگئے ہیں کہ اب اگر قاضی، مفتی یا جج صاحبان کو اس کی اجازت دی گئی کہ وہ ان مسالک سے ماورا ہو کر براہ راست اجتہاد سے کام لیں اور ان مسالک کو نظر انداز کر کے یعنی مقامی رائج الوقت اسلوب اجتہاد کو نظر انداز کر کے کسی نئے اسلوب اجتہاد سے کام لیں تو اس سے عامۃ الناس میں ایک تشویش پیدا ہوگی اور ذہنی طور پر لوگ الجھن کا شکار ہوں گے۔ اس لیے اس وقت یہ طے کیا گیا کہ جس علاقے میں جو اسلوب اجتہاد مروج ہے، قاضی صاحبان اسی کی پیروی کریں اور اس اسلوب اجتہاد کو چھوڑ کر کسی اور اسلوب کی طرف رجوع نہ کریں۔ اس کے دو بڑے اسباب تھے اور یہ دونوں اسباب بڑے وقیع تھے:
۱۔ اس کا ایک بڑا سبب تو یہی تھا کہ تخصصات اور مہارتیں ایک خاص مسلک ہی کے اندر دستیاب تھیں اور ان مسالک سے ہٹ کر مہارتیں اور تخصصات بڑے پیمانے پر دستیاب نہیں تھیں۔ اس لیے بڑے پیمانے پر آزادانہ اجتہاد کا کام ان تخصصات اور مہارتوں سے ہٹ کر کرنا بڑا دشوار تھا۔ مثال کے طور پر اگر سمرقند اور بخارا کے فقہاء یہ فیصلہ کرتے کہ کسی خاص معاملے میں امام مالکؒ کے اسلوب اجتہاد کے مطابق کام کریں تو وہاں نہ فقہ مالکی کی کتابیں دستیاب تھیں، نہ وہاں فقہ مالکی کے متخصصین موجود تھے اور نہ وہاں کے طلبہ اور اساتذہ کو اور اساتذہ کے اساتذہ کو کئی سال سے فقہ مالکی کتابیں پڑھنے پڑھانے کا موقع ملا تھا۔ اس لیے اگر یکایک ان سے یہ کہا جاتا کہ وہ کسی معاملے کا فیصلہ فقہ مالکی کے مطابق کریں تو یا تو وہ کمزور دلائل اور نامکمل مطالعہ کی بنیاد پر یہ فیصلہ کرتے یا کم از کم نامکمل مواد یا کم دستیابی مواد کی بنیاد پر یہ فیصلہ کرتے جو ہو سکتا ہے کہ کمزور یا غلط فیصلہ ہوتا اور فقہ مالکی کی حقیقی روح اور اسلوب کے مطابق نہ ہوتا۔
ایک خطرہ جو بڑا حقیقی خطرہ تھا، یہ تھا۔ اس حقیقی خطرے کی تائید ان جغرافیائی حالات سے بھی ہوتی ہے جو اس وقت امت مسلمہ کو درپیش تھے۔ فرض کریں کہ مفتی جو سمرقند میں تشریف فرما ہوں، ان کے سامنے کوئی مسئلہ پیش ہو تو کیا ان سے یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ وہ چھ مہینے کا سفر کر کے گھوڑے کی پشت پر سوار ہو کر اسپین یا قیروان یا مراکش جائیں اور وہاں چھ آٹھ مہینے قیام کر کے مالکی فقہ کے ماہرین سے استفادہ کر کے مالکی فقہ کی کتابیں حاصل کریں اور پھر واپس آکر سوال پوچھنے والے کو جواب دیں؟ ظاہر ہے کہ یہ بات قابل عمل نہ تھی اور نہ اس کی ضرورت تھی۔ اس لیے فقہائے اسلام نے بجا طور پر یہ طے کیا کہ جس اسلوب اجتہاد کی جس علاقے میں زیادہ پیروی ہو رہی ہے اور وہاں زیادہ مروّج ہے، اسی کی پابندی کی جائے اور اس کے حدود سے حتیٰ الامکان نکلنے سے گریز کیا جائے۔
۲۔ اس پابندی کو لازمی قرار دینے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ عامۃ الناس جن کی بڑی تعداد قانون کی نزاکتوں سے واقف نہیں ہوتی، جن کی بڑی تعداد اجتہادات کی پشت پر کارفرما دلائل اور اصولوں کے نازک پہلوؤں سے واقف نہیں ہوتی، اگر ان کے سامنے کوئی ایسے دلائل یا ایسے اجتہادات رکھے جاتے جو ان کے مانوس اور مالوف اسلوب سے مختلف ہوتے تو اس کا امکان تھا کہ ان میں تشویش یا رد عمل پیدا ہو جس سے مزید مسائل اور قباحتیں پیدا ہو سکتی تھیں۔ فقہ اسلامی محض ایک قانون نہیں ہے، یہ محض ایک سیکولر لاء نہیں ہے جس سے صرف عدالتوں، صرف قاضیوں یا صرف حکومتوں کو واسطہ ہو بلکہ یہ زندگی کی ایک ہمہ گیر اسکیم کا ایک مربوط اور متکامل حصہ ہے جس سے لوگوں کی جذباتی، اخلاقی اور دینی ہر طرح کی وابستگی ہے۔ لوگ اس کو اپنی زندگی سے بھی زیادہ قیمتی شے سمجھتے ہیں۔ ایک مسلمان دین سے اپنی وابستگی کو ہر چیز سے قیمتی قرار دیتا ہے۔ اس لیے کوئی مسلمان کسی ایسے معاملے میں جو اس کی زندگی سے بھی زیادہ قیمتی حیثیت رکھتا ہو، کوئی ایسا عمل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا جس سے اس کے خیال و ادراک میں اور اس کے مالوف اور پسندیدہ طرز عمل میں کوئی انحراف پیدا ہو۔ ایک عام مسلمان کی رائے میں ممکن ہے کہ اسے انحراف سمجھا جاتا، اس لیے فقہائے اسلام نے اس سے احتراز کیا۔
جب فقہائے اسلام غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچ گئے تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جس علاقے میں جو اسلوب اجتہاد مروّج ہے، وہاں کے قاضی صاحبان کو اسی کی پیروی کرنی چاہیے اور اس سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قاضی صاحبان اور تعبیر شریعت کی غیر محدود آزادی جو ابتدائی پانچ سو سال تک جاری رہی، کی حد بندی کی طرف یہ پہلا قدم تھا۔ اس سے پہلے فقہائے اسلام، مجتہدین اور قاضی صاحبان مکمل طور پر آزاد تھے کہ براہ راست اپنے اجتہاد یا کسی اور کے اجتہاد کی روشنی میں کسی معاملے کا جو فیصلہ صحیح سمجھیں، اس کے مطابق معاملے کو طے کر دیں۔ اب امت مسلمہ نے اپنے اجتماعی فیصلے سے ایک اجتماعی ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ اس آزادی میں ایک حد بندی قائم کی جائے اور اس آزادی کو اس خاص اسلوب اجتہاد یا مسلک یا مذہب فقہی تک محدود کر دیا جائے جو اس علاقے میں مروج ہے، سوائے اس کے کہ تمام علمائے کرام اتفاق رائے سے کوئی اور فیصلہ کریں۔ اس کی گنجائش پہلے بھی تھی اور بعد میں بھی رکھی گئی لیکن عمومی طور پر ایک مسلک کی پیروی کو لازمی قرار دے دیا گیا۔
اگر آپ پانچویں صدی ہجری کے بعد لکھی جانے والی کتابیں دیکھیں تو ان میں قاضی صاحبان کے لیے جو شرائط بیان کی گئی ہیں ان میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ وہ اس مسلک یا اسلوب اجتہاد میں مہارت رکھتے ہوں جس کے مطابق ولی یعنی حکمران نے ان کو فیصلہ کرنے کا پابند کیا ہے۔ یہ بحث بھی اس زمانے میں ملتی ہے کہ ولی امر قاضیوں اور عدالتوں کو کسی خاص اسلوب اجتہاد کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند کر سکتا ہے۔ اس سے پیشتر تیسری چوتھی صدی ہجری کی کتابوں میں یہ بات نہیں ملتی۔ ان میں یہ واضح طور پر لکھا ہوا ملتا ہے کہ قاضی کو مجتہد ہونا چاہیے اور قاضی اگر مجتہد نہیں ہے تو وہ قاضی نہیں بن سکتا۔ زمانے کے لحاظ سے اجتہاد میں تبدیلی کا یہ فرق ہے کہ جب مجتہد ہونے کی ضرورت تھی تو فقہائے اسلام نے قاضی کے لیے مجتہد ہونا ضروری قرار دیا اور جب حالات ایسے ہوئے کہ احکام شریعت مدوّن ہوگئے اور نئے اجتہاد کی ضرورت بہت سے معاملات میں ختم ہوگئی تو انفرادی طور پر قاضی کا مجتہد ہونا لازمی نہیں رہا۔ تاہم اگر قاضی مجتہد ہو تو اچھی بات ہے۔ یہ سلسلہ کم و بیش مزید پانچ سو سال جاری رہا۔ ان مزید پانچ سالوں میں یعنی اندازاً کہا جا سکتا ہے کہ پانچویں صدی ہجری کے اواخر سے دسویں صدی ہجری کے وسط یا اوائل تک فقہاء کرام کا نقطہ نظر عام طور پر یہ رہا ہے کہ قاضی، مفتی، اور فیصلہ کرنے والے صاحبان کے لیے اس خاص مسلک یا مذہب کی پابندی لازمی ہے جو اس علاقے میں مروّج ہے اور جس پر عمل کرنے کا حکمران یا بادشاہ نے ان کو حکم دیا ہے۔ 

ایک آفاقی فقہ: مستقبل کا تقاضا

[تاہم] گزشتہ سو، سوا سو برس کے تجربے نے یہ بتایا ہے اور ہر آنے والا دن اس تجربہ کی صداقت کی گواہی دے رہا ہے کہ آئندہ دور مختلف فقہی مسالک میں محدود رہنے کا دور نہیں ہے بلکہ ان مسالک کو اجتماعی طور پر مسلمانوں کی مشترکہ میراث قرار دینے اور ان سب کو ساتھ لے کر چلنے کا دور ہے۔ آئندہ جو فقہ سامنے آنے والی ہے، وہ صرف اور صرف عالمگیر فقہ اسلامی ہوگی۔ وہ فقہ حنفی، مالکی، شافعی یا حنبلی فقہ نہیں ہوگی۔ آج ایک آفاقی (Cosmopolitan) فقہ وجود میں آرہی ہے جس میں مسلمانوں کے سامنے پورے فقہی ذخیرے کو سامنے رکھ کر نئے انداز سے احکام مرتب کیے جا رہے ہیں۔ ایسے احکام جن میں فقہ اسلامی کے پورے ذخائر سے کام لیا جا رہا ہے اور جن میں شریعت کے مقاصد اور قرآن و سنت کی نصوص کو اوّلین اور اساسی حیثیت حاصل ہے۔ اس عالم گیر فقہ کی صحیح اسلامی خطوط پر تدوین دورِ جدید کی سب سے بڑی اور سب سے بنیادی ضرورت ہے۔
جس چیز کو آفاقی فقہ کہا گیا ہے، یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، بلکہ در اصل فقہ اسلامی ہی کی اس اصل اور ابتدائی روح کا احیا ہے جس سے اس عظیم الشان کام کا آغاز ہوا تھا۔ صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے مبارک دور سے جس فقہی سرگرمی کا آغاز ہوا تھا، وہ انسان کی فکری تاریخ میں ایک ایسا غیر معمولی کارنامہ ہے جس کی تفصیلات و دقائق اور جس کی مختلف جہتوں پر غور و خوض کا کام ابھی جاری ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی عظمت کے مختلف پہلو محققین کے سامنے آتے جائیں گے۔ صدرِ اسلام میں فقہی سرگرمی کسی مسلک، علاقہ، زمانہ یا کسی انفرادی رائے تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ عمومی طور پر شریعت اسلامی کی روح اور شریعت اسلامی کی بین الانسانیت اور بین الاقوامیت کی ترجمان تھی۔ صحابہ کرامؓ کے دور میں جو فقہ مرتب ہو رہی تھی، جس میں مزید وسعت تابعین اور تبع تابعین کے دور میں پیدا ہوئی، اس کو نہ کسی مسلک کی تنگنائیوں میں محدود کیا جا سکتا تھا، نہ کسی خاص علاقے سے اس کو اس انداز سے وابستگی تھی جو بعد میں فقہی مسالک کو مختلف علاقوں سے حاصل ہوگئی تھی۔ بلکہ یہ ایک ایسی عالمگیر، بین الاقوامی اور بین الانسانی فقہ تھی جس نے اسلامی ریاست اور مسلم معاشرے کی بڑھتی ہوئی ضروریات میں راہنمائی کا سامان فراہم کیا۔ یہ وہ دور تھا جب اسلامی ریاست روزانہ سینکڑوں میل کے حساب سے وسعت اختیار کر رہی تھی۔ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے تھے اور آئے دن نئے ممالک اور نئی تہذیبیں امت اسلامیہ کا حصہ بن رہی تھیں۔ تبدیلی کے اس غیر معمولی عمل اور انسانی سرگرمی کی اس غیر معمولی وسعت کو جس چیز نے نظم و ضبط کے دائرے میں رکھا اور جس چیز نے ان سب تبدیلیوں کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کیا وہ فقہ اسلامی اور فقہائے اسلام کی تحقیقات ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فقہ اسلامی تمام دنیا کی انسانی ضروریات کا جواب دے رہی تھی۔ وہ اپنے زمانے کے ساتھ نہیں چل رہی تھی بلکہ اپنے زمانے سے صدیوں برس آگے تھی۔ وہ زمانہ کی پیرو نہیں، زمانہ کی قائد تھی۔ فقہائے اسلام ان مسائل پر غور کر رہے تھے جن کو پیش آنے میں ابھی کئی کئی سو سال اور بعض صورتوں میں ایک ایک ہزار سال کا زمانہ باقی تھا۔ 
فقہائے کرام کی کم و بیش دو اڑھائی سو سالہ کوششوں کے بعد جب فقہ اسلامی اپنی ترقی کی ایک خاص سطح تک پہنچ گئی اور اس کی ترتیب و تنظیم کا کام شروع ہوا، اس وقت ضرورت محسوس کی گئی کہ مختلف علاقوں میں وہیں کے رائج اور مقبول فقہی اسالیب کی پیروی کی جائے تاکہ ترتیب و تنظیم کے اس عمل اور توسیع کو منضبط کرنے کے اس کام کو عقلی حدود اور شرعی قواعد کا پابند کیا جا سکے۔ یہ ایک انتظامی ضرورت بھی تھی اور ایک علمی ضرورت بھی۔ ایسا بعض جغرافیائی اور تاریخی اسباب کی بنا پر بھی کیا گیا، لیکن بہرحال یہ ایک عارضی اور وقتی چیز تھی۔ عارضی اور وقتی چیز اس وقت تک کے لیے تھی جب تک دنیائے اسلام بالخصوص اور دنیائے انسانی بالعموم ایک نئے بین الاقوامی اور عالم گیر دور میں قدم نہ رکھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک ہزار سال کی فقہی تیاری اور فقہائے اسلام کے تمام تشکیلی کارنامے اس دور کی ایک تمہید تھے جو اب شروع ہو چکا ہے۔ آئندہ آنے والے دن، عشرے اور صدیاں اس کی ضرورت کو مزید واضح کرتی چلی جائیں گی۔ آئندہ آنے والا دور عالم گیریت کا دور ہے۔ اس وقت دنیا ایک عالم گیر گاؤں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ آج اگر کوئی شخص دنیا کے کسی ایک گوشے میں کسی رائے کا اظہار کرتا ہے تو چشم زدن میں وہ رائے دنیا کے ہر گوشے تک پہنچ جاتی ہے۔ اس پر تنقید، جواب اور جواب الجواب اور تبصرے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ 
آج سے پانچ سو سال پہلے اگر یہ ممکن تھا کہ فقہائے ماوراء النہر بعض معاملات میں شدت اختیار کریں اور کچھ دوسرے فقہاء دنیا کے بعض دوسرے علاقوں میں انہی معاملات کے بارہ میں نرمی اختیار کریں، اور یہ نرمی اور شدت بیک وقت دنیائے اسلام میں رائج العمل رہے، تو یہ اس دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق تھا لیکن آج ایسا ممکن نہیں ہے۔ آج اگر دنیا کے کسی بھی گوشے میں بیٹھا ہوا فقیہ کوئی شدید رائے اختیار کرتا ہے یا کوئی ایسا نقطہ نظر اختیار کرتا ہے جو کسی احتیاط پر مبنی ہونے کی وجہ سے عامۃ الناس کی نظر میں مشکل قرار دیا جائے تو اس کے نتیجے میں پوری دنیا میں فقہ اور شریعت پر تنقید اور تبصرے کا ایک طویل رد عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے منفی اثرات پوری دنیائے اسلام پر اور خاص طور پر ان لوگوں پر پڑتے ہیں جو فقہ اسلامی سے وابستگی کی وہ سطح نہیں رکھتے جو ہر مسلمان کی ہونی چاہیے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ایسا نقطہ نظر اختیار کرتا ہے جو ضرورت سے زیادہ رخصت یا غیر ضروری تخفیف پر مبنی ہو تو اس کے اثرات بھی بہت جلد پوری دنیائے اسلام میں پھیل جاتے ہیں۔ اس لیے آج کل کے حالات میں یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی خاص اسلوب یا طرز اجتہاد کی پیروی کو اس طرح لازمی قرار دیا جائے جس طرح آج سے نو سو سال پہلے لازمی قرار دیا گیا تھا۔ 
وہ مسائل جو دور جدید نے پیدا کیے ہیں جن کے بارے میں متقدمین کی کتابوں میں کم راہ نمائی ملتی ہے یا بعض جگہ نہیں ملتی، ان کے بارے میں دور جدید کے علمائے اسلام نے ایک اجتماعی اجتہاد کی روش اپنائی ہے اور تمام فقہی مسالک اور نقطہ ہائے نظر کو سامنے رکھ کر ایک ایسا نقطہ نظر اپنانے کی کوشش کی ہے جو دور جدید کے تقاضوں کو بھی پورا کرتا ہو، جس میں قرآن و سنت کے نصوص کی حدود کی پوری پوری پیروی کی گئی ہو اور جو جائز رخصت اور تخفیف مسلمانوں کو حدود شریعت میں دی جا سکتی ہو، وہ دی گئی ہو جس کی مثال راقم الحروف نے اسلامی بینک کاری، اسلامی بیمہ کاری، اسلامی تکافل، اسلامی سیاسی نظام، قانون سازی اور اس طرح کے معاملات سے دی ہے۔ یہ وہ معاملات ہیں جن میں دنیائے اسلام میں گزشتہ پچاس سال کے دوران نئے اجتہادی رجحانات پیدا ہوئے ہیں۔
آج دنیائے اسلام میں اسلامی ریاست کے بارے میں تصورات تقریباً واضح ہیں۔ آج یہ بات طے ہے کہ جس چیز کو ہم اسلامی دستور یا نمائندہ حکومت کا اسلامی تصور قرار دیتے ہیں، اس کے اساسات اور بنیادیں کیا ہیں۔ اس کے اہم خصائص اور تصورات کیا ہیں اور وہ کون سے اصول ہوں گے جن پر دور جدید کی نمائندہ حکومت کا دستور تیار کیا جائے گا۔ آپ جامعہ ازہر کے تیار کیے ہوئے معیاری اسلامی دستور کو دیکھیں، پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو ملاحظہ فرمائیں، علمائے کرام کے بائیس نکات کو دیکھیں، اسلامی کونسل آف یورپ کے تجویز کردہ مثالی اسلامی دستور کو دیکھیں، اس طرح کی تمام دستاویزات میں ایک یکسانیت اور ہم رنگی پائی جاتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا تعلق مختلف فقہی مسالک سے ہے۔ ان دستاویز کو مرتب کرنے والوں میں کوئی شافعی ہے، کوئی حنفی ہے اور کوئی حنبلی ہے۔ لیکن ان سب حضرات نے ان دستوری تجاویز کو تیار کرنے میں کسی ایک مسلک کی پیروی کو ضروری نہیں سمجھا بلکہ فقہ اسلامی کے تمام ذخائر سے بالعموم اور قرآن و سنت کے ذخائر سے براہ راست بالخصوص استفادہ کیا ہے۔ یہ دستوری فکر اسلامی دستوری فکر تو کہی جا سکتی ہے، اس کو حنفی دستوری فکر یا شافعی یا حنبلی دستوری فکر نہیں کہا جا سکتا۔
ابھی حال ہی میں برادر ملک سعودی عرب میں بعض نئے دستوری فیصلے کیے گئے ہیں۔ وہاں مقامی سطح پر انتخابات کا عمل بھی ابھی پایہ تکمیل تک پہنچا ہے۔ چند سال پہلے ایک مجلس شوریٰ بھی تشکیل دی گئی تھی۔ یہ تمام فیصلے وہ ہیں جو ایک نئے انداز سے پہلی مرتبہ جزیرہ عرب میں ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان فیصلوں یا ان تجربات میں برادر ملک سعودی عرب کے لوگ رائج الوقت مغربی تجربات سے متاثر نہیں ہوئے۔ یقیناًمغربی تجربات سے متاثر ہو کر اور مغربی تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ تمام معاملات اختیار کیے گئے۔ لیکن ان معاملات کو شریعت کے مطابق تشکیل دینے اور انہیں اسلامی تعلیمات اور روایات سے ہم آہنگ کرنے میں سعودی علماء نے صرف فقہ حنبلی کی پیروی نہیں کی بلکہ انہوں نے فقہ اسلامی کے تمام ذخائر اور قرآن و سنت کی بنیادی اور اساسی نصوص کو سامنے رکھا۔ یہی بات پاکستان، مصر اور دنیائے اسلام کے دوسرے ممالک کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔
اسی طرح سے اسلامی بینک کاری یا اسلامی بیمہ کاری کی مثال لے لیں۔ اسلامی بینک کاری پر اس وقت سوڈان، پاکستان، ایران، ملائیشیا اور مصر میں خاص طور پر بڑا نمایاں کام ہوا ہے۔ مصر اور ملائشیا کے لوگ فقہ شافعی کے پیروکار ہیں، پاکستان میں اکثریت فقہ حنفی کی پیروکار ہے اور ایران میں گزشتہ چار سو سال سے فقہ جعفری کی پیروی کی جا رہی ہے۔ لیکن یہ بات بڑی حیرت انگیز اور خوش آئند ہے کہ ان تمام ممالک میں اسلامی بینک کاری کے تصورات ایک جیسے ہیں۔ ان سب ممالک میں ربا کے جو اسلامی متبادلات تجویز کیے گئے ہیں، وہ تقریباً یکساں ہیں اور جہاں جہاں بھی کسی فقہ اور ملک میں کوئی نرمی یا تخفیف ملتی ہے اس کو بلا استثنا ان تمام ممالک میں اختیار کیا گیا ہے۔
مثال کے طور پر آج کل کارپوریٹ فنانسنگ میں یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ جب ایک انٹر پرینیور (Entrepreneur) کسی انٹر پرائز کا فیصلہ کرتا ہے اور اس انٹر پرائز کی کامیابی یا اس کے شروع کیے جانے کی صورت میں جس منافع کا وعدہ کرتا ہے، یہ منافع اس کے لیے ادا کرنا واجب التعمیل ہے یا نہیں۔ فقہ حنفی کی رو سے اس طرح کے کاروباری وعدے قانوناً واجب التعمیل نہیں ہیں۔ وہ صرف اخلاقی طور پر واجب التعمیل ہیں۔ اب پاکستان میں بھی اور پاکستان سے باہر بھی یہ محسوس کیا گیا کہ خالص حنفی نقطہ نظر کے مطابق دور جدید کی کارپوریٹ فنانسنگ پر عمل بڑا دشوار ہے۔ آج کے نظام کاروبار میں اس بنیادی وعدے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور اسی کی بنیاد پر سارا نظام چلتا ہے جس میں پہلے قدم کے طور پر یہ بتایا گیا ہو کہ جو لوگ اس کاروبار میں حصہ لیں گے یا اس میں سرمایہ کاری کریں گے ان کو فلاں شرح سے نفع دیا جائے گا۔ اب اگر اس وعدے کو محض اخلاقی وعدہ قرار دیا جائے اور یہ عدالتوں کے ذریعے قابل نفاذ نہ ہو تو اس کے نتیجے میں نہ کمپنیاں چل سکتی ہیں، نہ شیئر مارکیٹ چل سکتی ہے اور نہ کارپوریٹ فنانسنگ کے بہت سے کام کیے جا سکتے ہیں۔ اس مشکل کا سامنا کرتے ہوئے یا اس مشکل کا لحاظ کرتے ہوئے یہ محسوس کیا گیا کہ اگر اس میں فقہ مالکی کے نقطہ نظر کو اختیار کر لیا جائے تو یہ مشکل دور ہو سکتی ہے۔ لہٰذا قریب قریب ہر ملک کے اہل علم نے یہ رائے ظاہر کی کہ اس معاملہ میں فقہ مالکی ہی کی رائے کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ امام مالکؒ کا فتویٰ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی سے ایسا وعدہ کرے جس کے نتیجے میں وہ شخص جس سے وعدہ کیا گیا ہے، کوئی مالی ذمہ داری اپنے اوپر لے لے تو اس ذمہ داری کا بالآخر بوجھ وعدہ کرنے والے پر ہوگا۔ اس کو محض اخلاقی وعدہ قرار نہیں دیا جائے بلکہ اسے قانونی طور پر نافذ کیا جائے گا۔ امام مالکؒ کا یہ نقطہ نظر تقریباً تمام فقہاء نے اختیار کر لیا ہے۔ مصر اور ملائشیا جیسے شافعی ممالک میں بھی، پاکستان جیسے حنفی ملک میں بھی اور ایران جیسے جعفری ملک میں بھی اس مالکی نقطہ نظر پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔
اسی طرح سے کچھ معاملات ایسے ہیں جہاں فقہ حنبلی کا نقطہ نظر نسبتاً زیادہ آسانی فراہم کرتا ہے اور بقیہ تینوں فقہاء کا نقطہ نظر وہ سہولتیں فراہم نہیں کرتا جس کی ضرورت آج محسوس کی جا رہی ہے۔ اس لیے اب عام رجحان یہ ہے کہ معاملات اور تجارت کے باب میں ان سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جائے جو حنبلی اجتہادات کے ذریعے ہمیں ملتی ہیں۔ غیر حنبلی ممالک میں اور خود حنبلی ملک سعودی عرب میں امام احمد بن حنبلؒ کے اجتہادات سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ یہی کیفیت فقہ حنفی کے بعض معاملات میں بھی ہے کہ اس نے اپنے اجتہاد کی بنیاد پر بعض معاملات میں ایسی رعایتیں تجویز کی ہیں جو دوسرے فقہاء کے ہاں نہیں ملتیں۔ 
لہٰذا ضرورت اور حالاتِ زمانہ نے یہ ناگزیر کر دیا ہے کہ فقہ اسلامی کے تمام ذخائر کو سامنے رکھا جائے اور ایک ایسی اجتماعی فقہ تشکیل دی جائے جو دنیائے اسلام کے مسائل کا یکساں طور پر ادراک کرے اور ان کا یکساں اور ایک جیسا حل تجویز کرے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ضرورت کا دائرہ بھی بڑھتا جائے گا اور احساس بھی روز بروز گہرا ہوتا چلا جائے گا۔ جیسے جیسے ضرورت کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا، اس کی ضرورت کا احساس بھی پیدا ہوتا چلا جائے گا۔ جیسے جیسے یہ احساس پیدا ہوگا، عملاً اس فقہ کے خصائص سامنے آتے جائیں گے۔ آئندہ پچاس سال یا چالیس سال میں (اللہ کو بہتر معلوم ہے کتنی دیر میں) ایک نئی فقہ سامنے آجائے گی جسے نہ فقہ حنفی کہا جا سکے گا اور نہ مالکی فقہ کہا جا سکے گا۔ بلکہ وہ اسلامی عالمی فقہ کہلانے کی زیادہ مستحق ہوگی۔ یہ اسلامی عالمی فقہ پوری دنیائے اسلام کو یکساں طور پر مخاطب کر رہی ہوگی۔ یہ پوری دنیائے اسلام کے مسلمانوں کو درپیش مسائل و مشکلات کا یکساں انداز میں جواب دے رہی ہوگی۔ اس میں مسلم اقلیات کے مسائل کی نشاندہی بھی کی گئی ہوگی۔ اس میں مسلمانوں کے بین الاقوامی معاملات سے فقہی اعتناء کیا گیا ہوگا۔ اس میں مسلم اقلیات کے مسائل کی نشاندہی بھی کی گئی ہوگی۔ اس میں مسلمانوں کے بین الاقوامی معاملات سے فقہی اعتنا کیا گیا ہوگا۔ اس میں جسے آج کل انٹرنیشنل ہیومن ٹیرین لاء (International Humanitarian Law) یعنی بین الاقوامی انسانی قانون کہتے ہیں، اس کے مسائل کا بھی جواب دیا گیا ہو گا۔ موجودہ فقہی ذخائر جو مسالک کے عنوان سے مرتب و مدوّن ہیں، یہ اس نئی فقہ کے لیے مآخذ اور مصادر کا کام دیں گے۔ ان مصادر و مآخذ کی مدد سے یہ نئی فقہ اسی روح کی علم بردار اور اسی جذبے سے سرشار ہوگی جس روح کی علم بردار صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی فقہ تھی اور اسی جوش عمل سے سرشار ہوگی جس جوش عمل سے صحابہ، تابعین اور تبع تابعین سرشار تھے۔
یہ کام کس رفتار سے آگے بڑھے گا اور کن حدود اور خطوط پر بڑھے گا، یہ بات اہل علم کے غور کرنے کی ہے۔ آج اگر فقہائے دور جدید اس ضرورت کا احساس کر کے اس آئندہ آنے والی پیش رفت کے قواعد و ضوابط مقرر کر دیں گے تو یہ پیش رفت معقول اور شرعی حدود کے اندر برقرار رہے گی۔ اگر دورِ جدید کے معاصر علماء اور فقہاء نے اس نئے رجحان کی ضرورت اور اہمیت کا احساس نہ کیا یا اس ضرورت کو غیر حقیقی ضرورت قرار دیا تو اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ یہ پیش رفت کسی حد کی پابند نہ رہے، اور وہ لوگ جو شریعت کا علم نہیں رکھتے یا وہ لوگ جو اس پیش رفت کو غلط طریقے سے استعمال کرنا چاہیں یا اسے غلط راستے پر چلانا چاہیں، وہ اس پیش رفت پر اثر انداز ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہ ایک منفی رجحان ہوگا جو بالآخر امت مسلمہ کے لیے خوش آئند ثابت نہیں ہوگا۔

علامہ اقبالؒ کی خواہش

یہ اتنا بڑا چیلنج ہے جس کا احساس علامہ اقبالؒ نے آج سے کم و بیش اَسّی سال پہلے کیا تھا۔ یہ اتنا بڑا کام ہے جس کے لیے وہ خود عرصۂ دراز تک خواہاں رہے کہ کچھ ماہرین شریعت کی مدد دستیاب ہو جائے تو وہ اس کام کا آغاز اپنی زندگی ہی میں کر جائیں۔ انہوں نے ۱۹۲۵ء میں یہ لکھا تھا کہ جو شخص زمانہ حال کی جورس پروڈنس پر نگاہ ڈال کر احکام قرآنیہ کی ابدیت کو ثابت کرے گا، وہ بنی نوع انسان کا سب سے بڑا محسن اور اس دور کی اسلامی تاریخ کا مجدّد ہوگا۔ آج اسی تجدیدی کام کی ضرورت ہے۔ 
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تقنین سے مراد صرف اتنی ہے کہ قدیم کتابوں میں فقہائے اسلام نے جو کچھ لکھا ہے اس کو دفعہ وار ایک دو تین ڈال کر مرتب کر دیا جائے۔ واضح رہے کہ تقنین اس کا نام نہیں ہے۔ تقنین، احکامِ فقہ پر ایک نئی اجتہادی بصیرت کے ساتھ نگاہ ڈالنا، احکامِ فقہ کو دور جدید سے ہم آہنگ کرنا اور دور جدید کے معاملات اس طرح مرتب کرنا ہے کہ یہ سارا عمل شریعت کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہو جائے۔ جہاں فقہائے کرام کے اجتہادات دورِ جدید میں نظر ثانی کے محتاج ہیں، ان پر اس طرح نظر ثانی کرنا کہ حدودِ شریعت کی خلاف ورزی نہ ہو اور شریعت کے مقاصد کماحقہ پورے ہوں۔ یہ سارا کام اس احتیاط، تدبیر اور حکمت کے ساتھ کرنا کہ دورِ جدید کا وہ انسان (جس میں تعلیم دین کی بھی کمی ہے، جس کی دینی تربیت بھی مناسب انداز کی نہیں ہوئی اور جو ایک غیر اسلامی اور غیر دینی ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہے) اس تبدیلی کو قبول کر لے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں اسے کوئی ایسا حرج یا مشکل پیش نہ آئے جس کی وجہ سے وہ احکام شریعت کو قبول کرنے میں تأمل کرے۔ قرآن مجید نے یسر (آسانی) کا حکم دیا ہے اور رفعِ حرج (تنگی و مشقت دور کرنا) کی تلقین کی ہے۔ آج ہمیں تدوین نو کے اس عمل میں یسر اور رفعِ حرج سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ 
واقعہ یہ ہے کہ پاکستان میں، پاکستان سے باہر اور جدید دنیائے اسلام کے بیشتر مقامات پر تدوین شریعت کا کام اس انداز سے نہیں ہوا جس انداز سے دورِ جدید میں کیا جانا مقصود تھا۔ جامعہ ازہر (مصر) میں آج سے تقریباً تیس سال پہلے مختلف فقہی قوانین کی تدوین نو کا بیڑا اٹھایا گیا تھا اور وہاں کے ماہرین کی ایک بڑی جماعت نے مختلف مسالک کی بنیاد پر قوانین کے الگ الگ مجموعے مرتب کیے تھے۔ علمی اعتبار سے یہ ایک اچھی کاوش تھی، لیکن اس سے دنیائے اسلام میں زیادہ استفادہ نہ کیا جا سکا اور یہ کام محض کتب خانوں کی زینت بننے سے آگے نہ بڑھ سکا۔ شاید اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ اب مسلکوں کی پابندی کا دور آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔ اب جدید مسلم ممالک کا پبلک لاء مسلکوں کے محدود دائرہ کار کی پابندی کے ساتھ نہیں بنایا جا سکتا۔ 

حدود وقصاص میں عورت کی گواہی 

[مثال کے طور پر حدود وقصاص کے مقدمات میں عورت کی گواہی کے مسئلے میں] دلائل کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن پاک یا سنت رسولؐ میں کوئی ایسی واضح اور صریح نص قطعی موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر کوئی حتمی اور طے شدہ رائے قائم کی جا سکے۔ مسئلہ صدر اسلام میں صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کے مابین مختلف فیہ رہا ہے اور جہاں صحابہ و تابعین کی غالب اکثریت نے یہ رائے اختیار فرمائی کہ حدود میں عورتوں کی گواہی قابل قبول نہیں ہے، وہاں ایسے صحابہ کرام اور تابعین بھی ہیں جنہوں نے اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے حدود میں عورتوں کی گواہی کو قابل قبول قرار دیا۔ لہٰذا یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ دور صحابہ و تابعین میں یہ مسئلہ مختلف فیہ تھا اور مجتہدین صحابہ و تابعین نے اپنے اپنے اجتہادات کے مطابق اس معاملہ میں آرا اختیار فرمائیں۔ مذکورہ بالا چار دلائل کی حیثیت نصوص قطعیہ کی نہیں بلکہ محض شواہد و مؤیدات کی ہے جو جمہور کے اجتہاد کی تائید میں پیش کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض فقہا نے صرف زہری کے اثر کا حوالہ دینا کافی سمجھا ہے اور بعض نے آیات و احادیث کے صیغہ ہائے تذکیر کی بنیاد پر گفتگو کی ہے۔ شبہ بدلیت اور قصور ولایت کی بات متاخرین کے ہاں ملتی ہے۔ متقدمین کے ہاں عموماً یہ دلائل نہیں ملتے۔ یوں بھی فقہاء کرام کا یہ اسلوب معلوم و معروف ہے کہ وہ اپنے امام مجتہد کے اقوال کی تائید میں جو عقلی دلائل دیتے ہیں ان کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ ان کے امام مجتہد نے محض ان کی بنیاد پر یہ رائے قائم کی ہے بلکہ یہ عقلی دلائل عموماً فریق ثانی پر اتمام حجت کے لیے دیے جاتے ہیں۔ یہ دلائل محض ایک نقطہ نظر کی تائید میں عقلی توجیہات ہیں جن کو نہ کوئی مضبوط شرعی دلیل قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ اس طرح کے دلائل کی بنیاد پر شریعت کے قطعی احکام کا تعین ہو سکتا ہے۔ فقہائے کرام کی جانب سے ایسے عقلی دلائل کا دیا جانا خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ معاملہ کو اجتہادی معاملہ سمجھتے تھے اور انہوں نے جو رائے قائم کی وہ ان کی اجتہادی رائے تھی جس سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔
یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ائمہ اربعہ کے متفق علیہ نقطہ نظر سے ہٹ کر کسی اور رائے کا اختیار کرنا بڑی بھاری اور نازک ذمہ داری ہے جس کے لیے بہت غیر معمولی احتیاط اور غور و فکر کی ضرورت ہے۔ لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اس سے قبل دنیائے اسلام کے دوسرے ممالک کے علاوہ خود پاکستان میں بہت سے معاملات میں ائمہ اربعہ کی رائے سے ہٹ کر نقطہ ہائے نظر اختیار کیے گئے ہیں اور ان کو قبول عام بھی حاصل ہوا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں اور خود اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے علاوہ رائج الوقت اسلامی بین الاقوامی قوانین میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ ایک معاملہ میں ائمہ اربعہ کی رائے سے ہٹ کر کوئی اور رائے اختیار کی گئی۔ اس لیے راقم الحروف کی یہ جسارت اس نوعیت کی پہلی جسارت نہیں ہے اور شاید آخری بھی نہیں ہوگی۔ ان گزارشات کی روشنی میں راقم الحروف کی رائے کا خلاصہ یہ ہے:
۱۔ حدود و قصاص اور دوسرے معاملات میں عورتوں اور مردوں کی گواہی یکساں طور پر معتبر ہے۔ 
۲۔ البتہ قرآن پاک اور سنت رسول خدا کی قطعی نصوص کی بنیاد پر دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوگی۔ 
۳۔ حدود و قصاص کے تمام معاملات قرینہ قاطعہ کی بنیاد پر بھی طے کیے جا سکتے ہیں اور ان کی بنیاد پر حدود کی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ قرینہ قاطعہ کا حدود و قصاص میں قابل قبول ہونا قرآن پاک، سنت رسول، تعامل صحابہ اور اقوال ائمہ مجتہدین سے ثابت ہے۔ اس لیے اس کے خلاف کسی فقیہ کی رائے کو قابل قبول نہیں کہا جا سکتا۔

اصول فقہ دور جدید میں

دور جدید میں جہاں دوسرے اسلامی علوم میں نئے نئے رجحانات پیدا ہوئے ہیں اور تحقیق و تدبر کے نئے نئے میدان سامنے آئے ہیں، وہاں اصول فقہ میں بھی نئے نئے رجحانات پیدا ہوئے ہیں اور تحقیق اور غور و فکر کے لیے بہت سے نئے موضوعات سامنے آئے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ پچاس سال اصول فقہ کے لیے ایک دور جدید کے منار ثابت ہوں گے اور جو رجحانات گزشتہ پچاس ساٹھ سال میں ابھر کر سامنے آئے ہیں وہ پایہ تکمیل تک پہنچیں گے اور ان کے حتمی نتائج و ثمرات سامنے آجائیں گے۔
اس سے قبل یہ اشارہ کیا جا چکا ہے کہ جدید مغربی اصول قانون کے اثر سے بہت سے معاصر اہل علم نے اصول فقہ کے مضامین کو نئے انداز سے مرتب کرنا شروع کیا ہے۔ اس ترتیب نو کے دو بڑے بڑے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ ایک رجحان جو دنیائے عرب میں پایا جاتا ہے وہ اصول فقہ کے موضوعات کو فرانسیسی اصول قانون کی ترتیب سے مرتب کرنے کا ہے۔ اس رجحان کے ابتدائی اور پیش رو نمائندوں میں معروف دو الیبی، مصطفی زرقاء، صبحی محمصانی اور سلام مدکور وغیرہ کے نام نمایاں ہیں۔ ان حضرات میں بیشتر کی اصل اور بنیادی تعلیم اسلامی علوم اور بالخصوص فقہ اسلامی کی تھی جس کو انہوں نے اسلام کے بنیادی مآخذ و مصادر اور فقہ اسلامی کے جید اساتذہ سے پڑھا اور سمجھا تھا۔ بعد میں ان حضرات نے فرانس کی درسگاہوں میں فرانسیسی زبان اور قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اسلامی قانون کے مختلف پہلوؤں اور تصورات پر وہاں کی جامعات میں مقالات لکھے اور یوں فقہ اسلامی کے موضوعات کو فرانسیسی اسلوب میں پیش کرنا سیکھا۔
اس سلسلہ کا آغاز تو بیسویں صدی کے اوائل ہی میں ہوگیا تھا لیکن اصل پیش رفت بیسویں صدی کے وسط میں ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب شام، مصر اور الجزائر و مراکش سے بڑی تعداد میں طلبہ فرانس گئے اور وہاں کی یونیورسٹیوں میں قانون کی اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔ اس انداز سے اصول فقہ پر جو کتابیں لکھی گئیں، ان میں استاذ مصطفی احمد زرقاء کی ’’الفقہ الاسلامی فی ثوبہ الجدید‘‘ ایک ممتاز مقام رکھتی ہے۔ استاذ مصطفی احمد الزرقاء نے اس کتاب میں اصول فقہ کے چند اہم مباحث کے ساتھ ساتھ فقہ اسلامی سے بہت سا ایسا مواد اخذ کر کے مرتب کیا ہے جو روایتی طور پر اصول فقہ کے مباحث میں شامل نہیں سمجھا جاتا تھا۔ یہ بلا شبہ ایک بڑا تاریخ ساز اور اجتہادی نوعیت کا کام تھا جو استاد مصطفی زرقاء اور ان کے معاصر اہل علم نے بڑی کامیابی اور عرق ریزی سے انجام دیا۔ ان حضرات نے فقہ کی بنیادی کتابوں کے عمیق اور تنقیدی مطالعہ سے ایسے اصول اور تصورات دریافت کیے جن کی ضرورت متقدمین نے محسوس نہ کی تھی اور وہ ان اصولوں اور تصورات کو اس نئے انداز کے بجائے اپنے قدیم روایتی انداز سے جزئیات اور فروعی مسائل کے سیاق و سباق میں پیش کرتے تھے۔ استاذ مصطفی الزرقاء، شیخ علی الخفیف اور استاذ ابو زہرہ جیسے علمائے اصول نے ملکیت، مال، قبضہ، حق اور ایسے بہت سے فقہی اصولوں اور تصورات کو نئے انداز سے مرتب کر کے اصول فقہ کی کتابوں میں شامل کیا، اور یوں بہت سے فقہی مباحث کو نئی ترتیب دے کر اصول فقہ کے دائرہ میں شامل کر لیا۔ 
اس سلسلہ کا دوسرا بڑا رجحان ہمارے برصغیر میں سامنے آیا جہاں انگریزی قانون کی فرمانروائی اور انگریزی اسلوب کی حکمرانی تھی۔ یہاں کے مسلمان اہل علم نے اصول فقہ کے مباحث کو انگریزی اصول قانون کے انداز میں مرتب کرنے کی طرح ڈالی۔ اس رجحان کے اولین نمائندہ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، جسٹس سر عبد الرحیمؒ تھے۔ ان کی کتاب Principles of Muhammadan Jurisprudence اس اعتبار سے اپنی نوعیت کی پہلی کتاب تھی کہ اس میں اصول فقہ کے مباحث کو انگریزی اصول قانون کے اسلوب میں بیان کیا گیا تھا۔ اس کتاب نے انگریزی تعلیم یافتہ اور قانون دان طبقہ میں اصول فقہ کے مباحث کو متعارف کرایا۔ بیسویں صدی کے اوائل سے مغرب میں بھی اصول فقہ کا مطالعہ شروع ہوگیا۔ میکڈانلڈ، گولڈ تسیہر (Goldziher) اور شاخت (Schacht) جیسے نامور مغربی فضلا نے اپنے اپنے نقطہ نظر سے اصول فقہ کا مطالعہ کیا اور بہت سے ایسے مباحث اور سوالات اٹھائے جو مسلمان مصنفین نے اس سے قبل نہیں اٹھائے تھے۔ ان مباحث نے مغربی جامعات کے مسلمان طلبہ کے ذریعہ جدید علمائے اصول کے انداز تحقیق و تصنیف کو بھی متاثر کیا اور انہوں نے اپنی اپنی تصانیف میں ان نئے سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی۔ فقہ اسلامی کے قانون روما سے متاثر ہونے کی بحث، اجماع کے واقع ہو سکنے اور واقع ہونے کی صورت میں اس کے تیقن کا مسئلہ، جدید قانون سازی اور ضابطہ بند احکام کے نفاذ سے پیدا ہونے والے مسائل وہ ہیں جو بہت سے معاصر مصنفین کی تحریروں میں اٹھائے گئے ہیں۔ 
آج اصول فقہ پر کمی (Quantity) اور کیفی (Quality) دونوں اعتبار سے جتنا کام عرب دنیا میں ہوا ہے، وہ ابتدائی چند صدیوں کے بعد ہونے والے مجموعی کام سے (چند اہم مستثنیات کو نکال کر) زیادہ نہیں تو اس کے برابر ضرور ہے۔ چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کو ہم بلا تامل اصول فقہ کے عہد تجدید اور احیائے نو سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ گزشتہ ہجری صدی کے اوائل سے عرب دنیا میں جو کام ہونا شروع ہوا ہے اس میں دو بنیادی خصوصیات نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ دور جدید کی اصول فقہ کی کتابوں میں کسی متعین اور پہلے سے طے شدہ فقہی یا اصولی مسلک کی پابندی کم کی گئی ہے۔ بہت کم کتابیں ایسی ہیں جن میں کسی خاص فقہی مسلک کی پابندی کو پیش نظر رکھا گیا ہو۔ ورنہ اکثر تحریروں کا رجحان یہی ہے کہ فقہ اور اصول فقہ کے پورے سرمایہ کو مسلمانوں کا مشترکہ ورثہ قرار دے کر بحیثیت مجموعی علمائے اصول کے خیالات کو پیش کیا جائے اور فقہی مسالک اور اصولی نقطہ ہائے نظر کے مابین ایک مثبت اور صحت مندانہ تقابلی مطالعہ کے رواج کو فروغ دیا جائے۔ استاذ مصطفی زرقاء، استاد محمد ابو زہرہ، محمد سلام مدکور اور ڈاکٹر عبد الرزاق سنہوری کی تصریروں میں یہ بات واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔
دوسری قابل ذکر بات جس کے بارہ میں پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے، یہ ہے کہ دور جدید کے بہت سے عرب مصنفین نے مختلف مغربی تصورات کا بھی تنقیدی مطالعہ کرنے کی کوشش کی ہے اور اصول فقہ کے نظریات و تصورات کا تقابل مغربی قانون کے اصولوں سے کیا ہے۔ اس تقابل سے بہت سی ایسی غلط فہمیاں دور ہوگئی ہیں جو بعض مغربی مصنفین کی تحریروں سے پیدا ہوئی تھیں۔ مثال کے طور پر بعض مغربی مصنفین نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ فقہ بالعموم اور اصول فقہ کے بعض نظریات بالخصوص رومن قانون سے ماخذ ہیں اور چند جزوی مشابہتوں کو ادھر ادھر سے جمع کر کے بعض مغربی مصنفین یہ لکھنے لگے تھے کہ یہ چیزیں رومن لاء کے زیر اثر اسلامی قانون میں داخل ہوئیں۔ تقابلی مطالعہ بات سے یہ غلط فہمی دور ہونے لگی اور اسلامی قانون کے اصل ماخذ اور اصولوں کے ارتقائی مطالعہ نے اس تاثر کو ہمیشہ کے لیے ختم کر ڈالا۔
دنیائے اسلام کے دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ برصغیر جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان میں بھی اصول فقہ پر تحقیق و تصنیف کی ایک نئی رو گزشتہ سو سال کے دوران سامنے آئی ہے۔ برصغیر میں اصول فقہ کی تاریخ دوسرے علوم کی تاریخ سے مختلف نہیں رہی۔ یہاں کے اہل علم کی متعدد فقہی اور اصولی تالیفات نے دنیائے اسلام کے علمی اور تعلیمی حلقوں کو متوجہ کیا۔ عہد مغلیہ کے مشہور و معروف فقیہ، اصولی اور فلسفی قاضی محب اللہ بہاریؒ (م ۱۱۱۹ھ) کی مشہور و معروف کتاب ’’مسلّم الثبوت‘‘ اصول فقہ کی ایک انتہائی مقبول اعلیٰ درسی کتاب کے طور پر دنیائے اسلام کے مختلف حصوں میں متداول رہی ہے۔ برصغیر کے علاوہ ترکی، مصر، شام اور افغانستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایک طویل عرصہ تک ’’مسلّم الثبوت‘‘ اصول فقہ کے نصاب کی ایک اعلیٰ کتاب کے طور پر پڑھی اور پڑھائی گئی۔ برصغیر میں اصول فقہ پر لکھی جانے والی کسی اور کتاب کو اتنی مقبولیت حاصل نہیں ہوئی جتنی ’’مسلّم الثبوت‘‘ کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔ ’’مسلم الثبوت‘‘ کے علاوہ بھی برصغیر پاک و ہند کے مختلف حصوں میں بالعموم اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں بالخصوص اصول فقہ کے موضوع پر متعدد قابل ذکر کتابیں لکھی گئیں۔ یہاں ان سب کا تذکرہ تو دشوار ہے البتہ ایک معروف درسی کتاب ’’نور الانوار‘‘ کا ذکر ضروری ہے۔ یہ کتاب جو برصغیر میں گزشتہ تین سو سال سے ایک متداول کتاب چلی آرہی ہے، عہد شاہ جہانی اور عہد عالمگیری کے مشہور استاد اور فقیہ ملا احمد جیون امیٹھویؒ (م ۱۱۳۰ھ) کی تصنیف ہے۔ ملا جیونؒ مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیرؒ کے استاد اور کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ ’’نور الانوار‘‘ ایک اور قدیم تر اصولی کتاب ’’المنار‘‘ کی شرح ہے۔
دنیائے اسلام کے نامور مفکر اور برصغیر پاک و ہند میں تجدید و اصلاح کے ایک رجحان ساز قائد شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (م ۱۱۷۶ھ) کی کتابوں نے بھی اصول فقہ کی درس و تدریس پر گہرا اثر ڈالا۔ شاہ صاحب نے براہ راست اصول فقہ پر کوئی کتاب تو نہیں لکھی لیکن انہوں نے متعدد اہم اصولی مسائل کو اپنی تحقیقات کا موضوع بنایا۔ ان کی کتابوں ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘، ’’الانصاف‘‘ اور ’’عقد الجید‘‘ میں اجتہاد، اجماع اور تفسیر و تعبیر سنت جیسے اہم مسائل پر گفتگو کی گئی ہے۔ شاہ صاحب کے افکار نے بعد میں آنے والے تقریباً تمام اہل علم، فقہاء اور علمائے اصول کو متاثر کیا۔ ان کے خیالات میں جو جامعیت اور اعتدال پایا جاتا ہے اس نے بعد میں آنے والوں کے ذہنوں پر گہرا اثر ڈالا اور یوں برصغیر میں ایک نیا اسلوب سامنے آیا۔
اوپر سر عبد الرحیمؒ کی کتاب کا تذکرہ کیا جا چکا ہے جو بیسویں صدی کے آغاز میں سامنے آنے والی ایک منفرد انداز کی کتاب تھی۔ اس کتاب نے پہلی مرتبہ مغربی تعلیم یافتہ قانون دانوں کے حلقے کو اصول فقہ کے مباحث سے متعارف کرایا۔ اگرچہ سر عبد الرحیمؒ کی کتاب عربی میں لکھی جانے والی بعض درسی کتابوں کے اردو تراجم کی انگریزی تلخیص ہے، تاہم اس کی ترتیب میں ایک جدت پیدا کی گئی تھی اور اسلوب بھی نئے انداز کا تھا۔ اس نئی ترتیب اور اسلوب نے اصول فقہ کو مغربی اصول قانون کی ترتیب اور اسلوب میں پیش کرنے کی طرح ڈالی۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ سر عبد الرحیمؒ کی ڈالی ہوئی نیو پر بعد میں مزید تعمیر کی جاتی اور اس اسلوب پر کام کو آگے بڑھایا جاتا لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا اور مغربی تعلیم یافتہ حضرات میں سے کسی اور قانون دان نے اس کام کو آگے بڑھانے میں دلچسپی نہ لی۔
البتہ حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبالؒ کو شدت سے اس امر کا احساس تھا کہ فقہ اور اصول فقہ کی تدوین نو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سر عبد الرحیمؒ کی کتاب کا بنظر غائر مطالعہ کیا تھا اور یہ محسوس کر لیا تھا کہ اب اصول فقہ اور فقہ کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔ اس نئے دور کے تقاضوں سے نمٹنے کے لیے وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ فقہ اور اصول فقہ کی مکمل تدوین نو کی ضررت ہے۔ ان کی مختلف تحریروں میں تدوین نو کے ان مجوزہ خطوط کی کسی حد تک نشاندہی بھی ہوتی ہے۔ تاہم ان کا احساس یہ تھا کہ یہ کام تن تنہا کسی ایک فرد کے کرنے کا نہیں بلکہ اس غرض کے لیے قدیم و جدید کے ماہرین کو مل کر مشترکہ کوششوں سے یہ کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس کام میں ہاتھ بٹانے کے لیے وقتاً فوقتاً برصغیر کے نامور اہل علم سے درخواست کی، لیکن افسوس کہ کوئی بھی اس معاملے میں ان کا ہاتھ بٹانے پر آمادہ نہ ہو سکا۔ خود انہوں نے تن تنہا اس کام کا بیڑا اٹھانا (غالباً اپنے انتہائی متواضعانہ مزاج کی وجہ سے) مناسب نہ جانا۔
پاکستان بننے کے بعد بھی اصول فقہ کے میدان میں طویل عرصہ تک کوئی خاص قابل ذکر پیش رفت نہ ہو سکی اور ایک آدھ ہلکی پھلکی درسی کتاب کے علاوہ کوئی ٹھوس اور دیرپا کام نہیں ہوا۔ پاکستان میں گزشتہ دو ایک عشروں میں جو تھوڑا بہت کام ہوا ہے وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد پاکستان، بالخصوص اس کے ذیلی شعبہ ادارہ تحقیقات اسلامی سے وابستہ حضرات کا ہے۔ ادارہ تحقیقات اسلامی اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے وابستہ اہل علم میں ڈاکٹر کمال فارو قی، ڈاکٹر احمد حسن، ڈاکٹر خالد مسعود اور پروفیسر عمران احسن نیازی کی کاوشیں قابل قدر اور وقیع ہیں۔ 
خوشی کی بات یہ ہے کہ اب دیگر جامعات اور بعض دینی مدارس میں بھی اصول فقہ کی تدوین نو کی ضرورت کا احساس پیدا ہونے لگا ہے۔ اس معاملے میں پنجاب یونیورسٹی لاہور پاکستان کو سبقت کا شرف حاصل ہے۔ پنجاب یونیورسٹی نے قانون اور اسلامیات کے شعبوں میں اصول فقہ کے نصابات کو ذرا نئے انداز سے مرتب کیا جس کے نتیجے میں کئی نئی تحریریں سامنے آئیں۔ دینی مدارس سے وابستہ حضرات میں مولانا ثناء اللہ زاہد اور مولانا محمد انور بدخشانی کی کاوشیں قابل ذکر ہیں۔ ان حضرات نے بعض قدیم درستی کتابوں کو نئے انداز سے مرتب کیا ہے اور طلبہ کو اصول فقہ کے مضمون سے متعارف اور مانوس کرانے کے لیے پرانی درسی کتابوں کے نئے اور آسان متون تیار کیے ہیں۔

دور جدید میں اسلامی ریاست کا نقشہ

بیسویں صدی کے وسط میں جب دنیا کے مختلف ممالک میں یہ سوال پیدا ہوا کہ اس دور میں اسلامی ریاست کا احیاء کیسے کیا جائے اور جدید جمہوری ماحول میں اسلامی شریعت کی بالادستی کیسے قائم کی جائے تو بہت سے حضرات کے ذہنوں میں اسلامی ریاست کا کوئی واضح نقشہ اور تصور نہیں تھا۔ اس تصور کے واضح نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی ریاستیں کم و بیش دو سو سال پہلے مغربی استعمار کی آمد پر ایک ایک کر کے ختم کر دی گئی تھی۔ اسلامی قوانین کو ایک ایک کر کے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ مسلمانوں کے اجتماعی اور ملی ادارے ایک ایک کر کے مٹا دیے گئے تھے۔ اب بیسویں صدی کا وسط آتے آتے صورت حال یہ ہوگئی تھی کہ مسلمان کئی سو سال سے جس نظام اور جن اداروں سے مانوس تھے، وہ اسلام سے بالکل متعارض تھے، اس لیے ان کے سامنے ایسا کوئی عملی نقشہ برسر زمین موجود اور کافرما نہیں تھا جس کی بنیاد پر اور جس کو سامنے رکھ کر وہ ایک نئے نظام کا خاکہ مرتب کر سکتے۔ اسلامی ریاست و حکومت کے موضوع پر قدیم دینی لٹریچر اور اسلامی کتابوں میں جو کچھ لکھا ہوا ملتا ہے وہ تین قسم کی چیزوں سے عبارت ہے۔ مثال کے طور پر اسلامی سیاسی نظام کے بارے میں علامہ ماوردیؒ (م ۴۵۰ھ) کی مشہور کتاب ’’الاحکام السلطانیہ‘‘ جو پانچویں صدی ہجری کے اوائل میں لکھی گئی تھی اور اس طرح کی دیگر بہت سی کتب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں تین اقسام کے معاملات سے بحث کی گئی ہے:
کچھ معاملات بنیادی احکام سے متعلق ہیں۔ یہ وہ احکام ہیں جو قرآن و سنت کی نصوص میں بیان ہوئے ہیں اور جن کو اسلامی ریاست یا اسلامی معاشرہ کا اساسی عنصر اور شرط لازم یا جزو لاینفک قرار دیا جا سکتا ہے۔ یعنی ایک ایسا لازمی عنصر جس کی عدم موجودگی میں نہ معاشرے کو اسلامی معاشرہ قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ریاست کو اسلامی ریاست کہا جا سکتا ہے۔ 
دوسرا حصہ ان احکام پر مشتمل ہے جو فقہائے اسلام نے اپنے اجتہاد اور فہم و بصیرت کی روشنی میں مرتب کیے ہیں جن سے اختلاف کرنے کی گنجائش بعد کے مفکرین اور مجتہدین کے لیے موجود ہے اور موجود رہی ہے، بلکہ ان احکام کے زمرہ سے تعلق رکھنے والے بعض معاملات میں قدیم فقہاء سے اختلاف بھی کیا گیا ہے۔
تیسرا حصہ ان امور پر مشتمل ہے جو فقہائے کرام کے کسی اجتہاد پر مبنی نہیں تھا بلکہ وہ ان فیصلوں اور احکام پر مشتمل ہے جو مختلف انتظامی اداروں کے لیے مرتب کیے گئے تھے اور جن کو مختلف مسلمان حکمرانوں اور مسلمان ریاستوں نے حالات کے تقاضوں کے پیش نظر اختیار کیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ مختلف مسلمان حکمرانوں اور مسلمان ریاستوں نے حالات کے تقاضوں کے پیش نظر مختلف زمانوں میں مختلف ادارے قائم کیے اور ان اداروں کے لیے تفصیلی احکام بھی مرتب کرائے۔ ریاستی مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے مختلف اداروں کے قیام کی ضرورت ہر دور میں پیش آتی ہے اور اس دور میں بھی پیش آتی تھی۔ بعض ادارے پہلی صدی ہجری میں وجود میں آئے، بعض دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں اور چھٹی صدی میں بنائے گئے۔ غرض ہر صدی میں بعض اداروں کے قیام کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی۔ ان اداروں کے بارے میں بھی تفصیلات ان کتابوں میں موجود ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج ہمارے دور میں اسلامی ریاست قائم کی جائے گی تو کیا اس کے لیے متذکرہ بالا تینوں قسموں کے احکام پر عمل کرنا ضرور ہوگا؟ دور جدید میں اسلامی ریاست کی بات کرنے سے قبل اس اہم سوال پر غور کرنا اور اس کا جواب دینا ضروری ہے۔ قرآن پاک، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور فقہاء کی تصریحات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں قسم کے احکام کی حیثیتیں مختلف ہیں۔ پہلی قسم کے احکام جو کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں منصوص ہیں وہ اپنی تمام جزئیات اور تفصیلات کے ساتھ جن میں کوئی نظر ثانی یا سمجھوتے کی گنجائش نہیں ہو سکتی، لازمی طور پر واجب التعمیل ہیں۔
جو معاملات اجتہادی ہیں ان میں اس دور کے مفکرین اور مجتہدین کو کم از کم نظری اعتبار سے اس بات کا اختیار ہے کہ وہ موجودہ دور کے لحاظ سے ان میں کسی تبدیلی یا اجتہاد کی ضرورت محسوس کریں تو شریعت کی دی گئی گنجائش کے مطابق نئے احکام وضع کر سکتے ہیں۔
تیسری قسم کے احکام کے بارے میں سب سے پہلے یہ دیکھا جانا ضروری ہے کہ کیا وہ اس دور میں بھی اپنی معنویت رکھتے ہیں؟ اور کیا وہ یا ان میں سے چند احکام موجودہ حالات کے سیاق و سباق میں قابل عمل ہیں؟ مثال کے طور پر جہاد کا حکم تو شریعت میں ہے، اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا، لیکن جہاد کے لیے ادارے، تنظیمیں اور حالات کے موافق طریق کار ہر دور میں متعین کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم ان تنظیمات اور اداروں کی تفصیلات وضع کرنے میں حالات و زمانہ کی رعایت رکھی جائے گی۔ ان تفصیلات سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور اگر ان سے بہتر کوئی تدبیر اور تنظیم موجود ہے تو اس کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔
بہت سے مسلمان دانشور ان تینوں اقسام کے احکام میں کوئی امتیاز نہیں کرتے اور اس عدم امتیاز کی بنا پر فکری الجھنوں کا شکار ہوتے ہیں اور بعض اوقات انہی الجھنوں کی بنا پر خود شریعت ہی سے بد ظن ہو جاتے ہیں اور اسلام کے بارہ میں ان کے ذہنوں میں الجھنیں اور شبہات پیدا ہو جاتے ہیں۔ وہ اس تیسری قسم کے احکام کو بار بار دہرا کر یہ کہتے ہیں کہ اس دور میں یہ احکام کیسے چل سکتے ہیں؟ اس دور میں تلوار سے جہاد کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اور آخر قتل کے کسی مجرم کو سزا کے لیے تلوار ہی سے گردن اڑانے کی کیا ضرورت ہے؟
دوسری طرف کچھ لوگ جو شریعت کے علمبردار ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان تینوں اقسام کے احکام کو تمام تفصیلات کے ساتھ جوں کا توں اس دور میں بھی اختیار کیا جانا ضروری ہے۔ ان دونوں نقطہ ہائے نظر کے حامل حضرات نے کبھی سنجیدگی سے شریعت کے احکام اور مسلمانوں کے تاریخی تجربہ کے مابین فرق کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کا نتیجہ مزید ژولیدگی کی صورت میں نکلا اور یوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی صورت حال پیدا ہوگئی جس نے اسلامی قوانین کے نفاذ کے سارے معاملہ کو خاصا پیچیدہ بنا دیا۔ 
حکومت پاکستان نے ۱۹۴۸ء میں اسلامی نظام کا خاکہ مرتب کرنے کے لیے تجاویز طلب کیں۔ بہت سے لوگوں نے اس سلسلے میں اپنی تجاویز دیں۔ ان میں سے دو کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا، جس سے اندازہ ہوگا کہ اسلامی نظام کے بارے میں لوگوں میں کس انداز کی فکر پائی جاتی رہی ہے اور وہ نفاذ شریعت کے معاملے کو کس طرح دیکھتے رہے ہیں۔ ایک خاکہ میں تجویز کیا گیا تھا کہ اسلامی حکومت کا نظام نافذ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ فلاں خاص فقہ سے وابستہ جتنی مساجد ہیں، ان سب کا سروے کر کے ان سب کی ایک فہرست مرتب کرلی جائے۔ اس فہرست کے مرتب کرنے کے بعد ان مساجد کے خطباء اور ائمہ مساجد اور ان مساجد میں قائم مذہبی مدارس کے سربراہان کو دعوت دی جائے کہ وہ اپنے میں سے سب سے زیادہ متقی اور صاحب علم شخصیت کو منتخب کر لیں اور جب وہ شخصیت منتخب ہو جائے تو سب ائمہ اور خطباء حضرات اس شخصیت سے بطور امیر المومنین یا خلیفہ المسلمین بیعت کر لیں۔ بیعت کے بعد پاکستان کا نظام اس شخصیت کے سپرد کر دیا جائے اور پھر سارا کام اسی کے ہاتھوں چلے۔ وہ شخصیت جو بھی نظام حکومت چلائے گی، وہی اسلامی نظام حکومت ہوگا اور اس کی ہدایات اور احکام کے نفاذ کو شریعت کا نفاذ قرار دیا جائے گا۔ ظاہر بات ہے کہ نفاذ شریعت کی یہ شکل نہ ۱۹۴۸ء میں پاکستان میں ممکن تھی، نہ آج ممکن ہے اور نہ آئندہ ممکن ہوگی اور نہ نفاذ شریعت کے یہ معنی ہیں کہ کسی خاص مسلک یا طبقہ کے ائمہ مساجد اور خطباء کو بلا کر معاملات ریاست ان کے سپرد کر دیے جائیں۔
ایک اور خاکہ کی رو سے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ فلاں مسلک کے ایک بڑے ممتاز اور جید عالم کو شیخ الاسلام کے منصب پر فائز کر دیا جائے، وہ شیخ الاسلام مساجد کا نظام چلائے، نکاح اور طلاق کے مقدمات کی سماعت کرے۔ جب ایسا ہو جائے گا تو پاکستان میں شریعت اسلامی کا نفاذ ہو جائے گا۔
اگر اسلامی نظام کے قیام کا مطلب یہی ہے کہ ایک مشہور عالم شیخ الاسلام کہلاتے ہوں، وہ مساجد کا نظام چلاتے ہوں اور نکاح و طلاق کے مقدمات جو ان کے پاس آئیں ان کا فیصلہ کرتے ہوں تو اس اعتبار سے آج کا روس بھی اسلامی مملکت ہے، کیونکہ وہاں شیخ الاسلام کا منصب بھی موجود ہے، وہاں مسجدوں کا نظام بھی شیخ الاسلام کے سپرد ہے اور جو لوگ نکاح و طلاق کے مقدمے شیخ الاسلام کے پاس لے کر آتے ہیں، وہ ان کا فیصلہ بھی کر دیتے ہیں۔ اس مفہوم کے اعتبار سے کئی ممالک آج اسلامی ممالک کہے جا سکتے ہیں۔ لیکن اس بات سے نہ کوئی صاحب علم و بصیرت اتفاق کرے گا اور نہ اسلامی نظام کے یہ معنی ہیں۔
ان دو مثالوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بعض حضرات کے ذہنوں میں پاکستان کے ابتدائی دنوں میں اسلامی نظام کے بارے میں کیا تصورات تھے۔

خاطرات

محمد عمار خان ناصر

علم الکلام کی اصطلاح اگرچہ علمی وفنی لحاظ سے ایسے جدلیاتی مباحث کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن میں کسی مخصوص الٰہیاتی اور اعتقادی مسئلے کا اثبات یا تردید مقصود ہو، تاہم اپنے اصل مقصد کے لحاظ سے دیکھا جائے تو مسائل ومباحث کو براہ راست موضوع بحث بنانے کے علاوہ ایسی عمومی حکمت عملی وضع کرنا اور اس کے خط وخال کی وضاحت کرنا بھی اس علم کے دائرے میں ہی شمار ہوگا جس کا مقصد غلط نظریات اور باطل فلسفوں کے منفی اثر سے ذہنوں کو بچانا اور اسلامی عقائد ونظریات کی حقانیت اور صداقت کا یقین دلوں میں راسخ کرنا ہو۔ یہ پہلو عام طور سے علم الکلام سے متعلق تحریروں میں زیر غور نہیں لایا گیا، جبکہ غور کیا جائے تو انسانوں کے مزاجوں اور طبائع کے فرق اور جدید تہذیبی ونفسیاتی رجحانات کے تناظر میں ایسے راہ نما اصول متعین کرنے کی ضرورت اس علم کے اصل مقصد کے لحاظ سے بے حد واضح ہے جن کی روشنی میں ملحدانہ فکر سے متاثر اذہان کو مختلف او رمتنوع طریقے اختیار کرتے ہوئے مذہب کی طرف مائل کیا جا سکے اور ان کے ذہنوں سے شکوک وشبہات کے کانٹے چنے جا سکیں۔ 
اس ضمن میں تجربے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جدلیاتی انداز میں براہ راست کسی مسئلے پر مباحثہ یا مناظرہ کا طریقہ بیشتر افراد کے لیے زیادہ مفید نہیں ہوتا۔ علمی وعقلی بحث ومباحثہ کی ایک خاص سطح پر اپنی اہمیت اور افادیت ہے اور فکر ودانش کی سطح پر موثر عقلی انداز میں حق کے اثبات اور باطل کی بے مائیگی واضح کرنے کی ضرورت وافادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، تاہم جہاں تک انفرادی سطح پر متاثرین کی اصلاح کا تعلق ہے تو ان کے لیے براہ راست موضوع پر مناظرہ یا مباحثہ کا طریقہ بسا اوقات الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میں بیسویں صدی کے ممتاز عالم اور دانش ور مولانا عبد الماجد دریابادی نے اپنی آپ بیتی میں جو اپنے ذاتی تجربات بیان کیے ہیں، وہ بے حد مفید اور قابل توجہ ہیں اور الحاد سے متاثر نئی نسل کو مخاطب بنانے کے لیے نہایت اہم نفسیاتی اور دعوتی اصولوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ 
راقم کو مولانا کی آپ بیتی آج سے کم وبیش بیس سال قبل بزرگوارم مولانا ملک عبد الرؤف صاحب (خطیب آسٹریلیا مسجد، لاہور) کے گھر پر دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ ان دنوں ’’متحدہ علماء کونسل‘‘ سرگرم تھی جس کا دفتر ملک صاحب کے گھر میں قائم گیا تھا اور والد گرامی مختلف تنظیمی ودفتری امور کی انجام دہی کے لیے ہفتہ وار ملک صاحب کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے۔ کئی مواقع پر میں بھی والد گرامی کے ہمراہ ہو جاتا اور ملک صاحب کے مہمان خانے میں کتابوں کی الماری سے اپنے ذوق کی کتابیں نکال کر دیکھتا رہتا۔ مصر کے مشہور عالم عباس حسن کی ضخیم کتاب ’’النحو الوافی‘‘ اور کئی دوسری علمی کتابیں میں نے پہلی مرتبہ ملک صاحب کے ذاتی کتب خانے میں ہی دیکھیں۔ وہیں مولانا دریا آبادی کی آپ بیتی بھی پڑی ہوئی تھی جو میں نے بڑی دلچسپی سے پڑھی اور یاد پڑتا ہے کہ شاید ساری پڑھی تھی۔
سالہا سال کے وقفے کے بعد گزشتہ دنوں یہ آپ بیتی دوبارہ پڑھنے کا موقع محترم ومکرم جناب ڈاکٹر باسط بلال کوشل صاحب کی تحریک سے ملا جو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں سوشل سائنسز کے استاذ ہیں اور جدید الحاد کا تنقیدی مطالعہ ان کی تحقیق کا خاص موضوع ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے دینی مدارس کے طلبہ کو اس موضوع کے اہم مباحث اور آج کے علمی سوالات وضروریات سے روشناس کرانے کے لیے ایک تربیتی کورس مرتب کیا ہے جو وہ مختلف مقامات پر پڑھا رہے ہیں۔ اس ضمن میں الشریعہ اکادمی میں بھی متعدد نشستیں منعقد ہوئیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کورس کے لیے جو تدریسی نصاب مرتب کیا ہے، اس میں مولانا عبد الماجد دریابادی کی آپ بیتی کے متعلقہ حصے بطور خاص شامل کیے گئے ہیں تاکہ نظری بحثوں کے بجائے انسانی نفسیات اور تجربے کی سطح پر یہ سمجھا جا سکے کہ گمراہ کن نظریات کیسے انسان کے فکر ودماغ کو متاثر کرتے ہیں اور ان کا مداوا کرتے ہوئے کن علمی ونفسیاتی اصولوں کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ خاص طور پر الحاد سے واپسی کے ذہنی سفر کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مولانا نے جن مختلف فلسفوں، مصنفین اور موضوعات سے راہ ہدایت کی بازیافت میں معاونت ملنے کا ذکر کیا ہے، وہ بہت قابل توجہ ہے اور فکری دعوت کے میدان میں کام کرنے والے حضرات اس سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
ذیل میں مولانا کی آپ بیتی کے متعلقہ ابواب سے چند اقتباسات نقل کیے جاتے ہیں:
’’ایک عزیز کے پاس ایک انگریزی کتاب محض اتفاق سے دیکھنے میں آ گئی۔ ۔۔۔ جوں جوں آگے بڑھتا گیا، گویا ایک نیا عالم عقلیات کا کھلتا گیا اور عقائد واخلاق کی پوری پرانی دنیا جیسے زیر وزبر ہوتی چلی گئی! کتاب مذہب پر نہ تھی، نہ بہ ظاہر اس کا کوئی تعلق ابطال اسلام یا ابطال مذاہب سے تھا۔ اصول معاشرت وآداب معاشرت تھی۔ نام تھا: Elements of Social Science ۔ ۔۔۔ کتاب کیا تھی، ایک بارود بچھی ہوئی سرنگ تھی۔ حملہ کا اصل ہدف وہ اخلاقی بندشیں تھیں جنھیں مذہب کی دنیا اب تک بہ طور علوم متعارفہ کے پکڑے ہوئے ہے اور ان پر اپنے احکام کی بنیاد رکھے ہوئے ہے، مثلاً عفت وعصمت۔ کتاب کا اصل حملہ انھیں بنیادی اخلاقی قدروں پر تھا۔ ۔۔۔ کتاب کی زد ہر ایسی قدر پر پڑتی تھی جو مذہب اور اخلاق کو ہمیشہ عزیز رہے ہیں۔ ۔۔۔ پروپیگنڈے کا کمال بھی یہی ہے کہ حملہ براہ راست نہ ہو، بلکہ اطراف وجوانب سے گولہ باری کر کے قلعہ کی حالت کو اتنا مخدوش بنا دیا جائے کہ خود دفاع کرنے والوں میں تزلزل وتذبذب پیدا ہو جائے اور قدم از خود اکھڑ جانے پر آمادہ ہو جائیں۔‘‘ (ص ۲۳۴ تا ۲۳۶)
’’اسلام اور ایمان سے برگشتہ کرنے اور صاف وصریح ارتداد کی طرف لانے میں ملحدوں اور نیم ملحدوں کی تحریریں ہرگز اس درجہ موثر نہیں ہوئیں جتنی وہ فنی کتابیں ثابت ہوئیں جو نفسیات کے موضوع پر اہل فن کے قلم سے نکلی ہوئی تھیں۔ بظاہر مذہب سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھتی تھیں، نہ نفیاً نہ اثباتاً۔ اصلی زہر انھیں بہ ظاہر بے ضرر کتابوں کے اندر کھلا ہوا ملا۔ مثلاً ایک شخص گزرا ہے ڈاکٹر ماڈسلی (Maudesley)۔ ۔۔۔ اختلال دماغی اور امراض نفسیاتی کو بیان کرتے کرتے یک بیک وہ بدبخت مثال میں وحی محمدی کو لے ایا اور اسم مبارک کی صراحت کے ساتھ لکھ گیا کہ مصروع شخص کے لیے یہ بالکل ممکن ہے کہ وہ اپنا کوئی بڑا کارنامہ دنیا کے لیے چھوڑ جائے۔‘‘ (ص ۲۴۰)
’’ڈیڑھ دو سال (۱۹ء، ۲۰ء) کے اس مسلسل مطالعہ کا حاصل یہ نکلا کہ فرنگی اور مادی فلسفہ کا جو بت دل میں بیٹھا ہوا تھا، وہ شکست ہو گیا اور ذہن کو یہ صاف نظر آنے لگا کہ اسرار کائنات سے متعلق آخری توجیہ اور قطعی تعبیر ان فرنگی مادیین کی نہیں، بلکہ دنیا میں ایک سے ایک اعلیٰ ودل نشین توجیہیں اور تعبیریں اور بھی موجود ہیں۔ ۔۔۔ اسلام سے ان تعلیمات کو بھی خاصا بعد تھا، لیکن بہرحال اب مسائل حیات، اسرار کائنات سے متعلق نظر کے سامنے ایک بالکل نیا رخ آ گیا اور مادیت، لا ادریت وتشکیک کی جو سربفلک عمارت برسوں میں تعمیر ہوئی تھی، وہ دھڑام سے زمین پر آ رہی۔ دل اب اس عقیدہ پر آ گیا کہ مادیت کے علاوہ اور اس سے کہیں ماورا ومافوق ایک دوسرا عالم روحانیت کا بھی ہے۔ حواس مادی محسوسات، مرئیات ومشہودات ہی سب کچھ نہیں، ان کی تہہ میں اور ان سے بالاتر ’’غیب‘‘ اور مغیبات کا بھی ایک مستقل عالم اپنا وجود رکھتا ہے۔ قرآن مجید نے بالکل شروع میں جو ایمان کا وصف ایمان بالغیب بتا دیا ہے، وہ بہت ہی پرحکمت ومعنی خیز ہے۔ پہلے نفس ’’غیب‘‘ پر تو ایمان ہو، پھر اس کے جزئیات وتفصیلات بھی معلوم ہوتے رہیں گے۔ ہمارے مولوی صاحبان کو اس منزل ومقام کی کوئی قدر نہ ہو، لیکن درحقیقت یہ روحانیت کا اعتقاد، ایمان کی پہلی اور بڑی فتح مبین مادیت، الحاد وتشکیک کے لشکر پر تھی۔‘‘ (ص ۲۴۷، ۲۴۸)
’’ہندو فلسفہ اور جوگیانہ تصوف نے گویا کفر وایمان کے درمیان پل کا کام دیا۔ اس معروضہ کو وہ متقشف حضرات خاص طور پر نوٹ کر لیں جو ہندو فلسفہ کے نام ہی سے بھڑکتے ہیں اور اسے یکسر کفر وضلالت کے مرادف قرار دیے ہوئے ہیں۔ ہدایت کا ذریعہ بھی اسے بآسانی بنایا جا سکتا ہے۔ اور یہ حضرات اپنے جوش دین داری میں شبلی اور محمد علی لاہوری کی خدمت تبلیغ کو سرے سے نظر انداز نہ کر جائیں، میں نے تو دونوں کی دست گیری محسوس کی بلکہ اسپرٹ آف اسلام والے جسٹس امیر علی کے کام کو بھی حقیر نہ سمجھیں حالاں کہ وہ بچارے تو قرآن مجید کو شاید کلام محمد ہی سمجھتے تھے۔ اپنی سرگزشت کا تو خلاصہ یہی ہے کہ جس فکری منزل میں، میں اس وقت تھا، حضرت تھانوی جیسے بزرگوں کی تحریروں کو ناقابل التفات ٹھہراتا، ان کی طرف نظر تک نہ اٹھاتا اور ان کے وعظ وتلقین سے الٹا ہی اثر قبول کرتا۔ غذا لطیف وتقویت بخش ہی سہی، لیکن اگر مریض کے معدہ سے مناسبت نہیں ہوگی تو الٹی مضر ہی پڑے گی۔‘‘ (ص ۲۵۵، ۲۵۶)
’’اسی دور کی ابھی ابتدا ہی تھی کہ مولانا شبلی کی سیرۃ النبی کی جلد اول پریس سے باہر آ گئی۔ کتاب شبلی کے قلم سے تھی۔ موضوع کچھ بھی سہی، کیسے نہ اس کو شوق سے ہاتھوں سے کھولتا اور اشتیاق کی آنکھوں سے پڑھتا۔ کھولی اور جب تک اول سے آخر تک پڑھ نہ لی، دم نہ لیا۔ دل کا اصلی چور تو یہیں تھا اور نفس شوم کو سب سے بڑی ٹھوکر جو لگی تھی، وہ اسی سیرۃ اقدس ہی کے متعلق تو تھی۔ مستشرقین ومحققین فرنگ کے حملوں کا اصل ہدف تو ذات رسالت ہی تھی۔ خصوصاً بہ سلسلہ غزوات ومحاربات، ظالموں نے بھی تو طرح طرح سے دل میں بٹھا دیا تھا کہ ذات مبارک نعوذ باللہ بالکل ایک ظالم فتح کی تھی۔ شبلی نے (اللہ ان کی تربت ٹھنڈی رکھے) اصل دوا اسی درد کی کی، مرہم اسی زخم پر رکھا۔ اور کتاب جب بند کی تو چشم تصور کے سامنے رسول عربی کی تصویر ایک بڑے مصلح ملک وقوم اور ایک رحم دل وفیاض حاکم کی تھی جس کو اگر جدال وقتال سے کام لینا پڑا تھا تو پھر بالکل آخر درجہ میں، ہر طرح پر مجبور ہو کر۔ یہ مرتبہ یقیناًآج ہر مسلمان کو رسول ونبی کے درجہ سے کہیں فروتر نظر آئے گا اور شبلی کی کوئی قدر وقیمت نظر میں نہ آئے گی، لیکن اس کا حال ذرا ا س کے دل سے پوچھیے جس کے دل میں نعوذ باللہ پورا بغض وعناد اس ذات اقدس کی طرف سے جما ہوا تھا۔ شبلی کی کتاب کا یہ احسان میں کبھی بھولنے والا نہیں۔‘‘ (ص ۲۴۸)
’’بڑی خیر یہ ہوئی کہ مجلسی، خانگی تعلقات اپنے عزیزوں اور خاندان والوں سے بدستور باقی رہے۔ اپنے ایک ساتھی کو اسی زمانہ میں دیکھا کہ اپنوں سے کٹ کر مکمل غیروں میں شامل ہو گئے تھے اور رہن سہن تک بالکل ہندوانہ کر لیا تھا۔ میں اپنے کھانے پینے، وضع ولباس اور عام معاشرت میں، بلکہ کہنا چاہیے کہ ایک حد تک جذباتی حیثیت سے بھی مسلمان ہی رہا، البتہ ایک روشن خیال مسلمان۔ اور روشن خیال مسلمان اس وقت نوجوانوں میں کون نہ تھا؟ اور مسلم قومیت سے میری یگانگت کی جڑیں بحمد اللہ کٹنے نہ پائیں۔ مسلم قومیت کی نعمت بھی، دین اسلام کے بعد، ایک بڑی نعمت ہے اور کوئی صاحب اسے بے وقعت وبے قیمت نہ سمجھیں۔ مجھے آگے چل کر اس بچی کھچی نعمت کی بھی بڑی قدر معلوم ہوئی۔‘‘ (ص ۲۴۲)
’’مخلصانہ وحکیمانہ کوششیں پھر اگر تھوڑی بہت کسی کی چپکے چپکے کارگر ہوتی رہیں تو بس ان دو ہستیوں کی:
(۱) ایک الہ آباد کے نامور ظریف شاعر حضرت اکبرؒ ۔ بحث ومناظرہ کی انھوں نے کبھی چھانوں بھی نہیں پڑنے دی اور نہ کبھی پند وموعظت ہی کی طرح ڈالی۔ بس موقع بہ موقع اپنے میٹھے انداز میں کوئی بات چپکے سے ایسی کہہ گزرتے جو دل میں اتر جاتی اور ذہن کو جیسے ٹہوکے دے دیتے کہ قبول حق کی گنجائش کچھ تو بہرحال پیدا ہو کر رہتی۔ ۔۔۔۔۔۔ 
(۲) دوسری ہستی وقت کے نامور رہ نمائے ملک وملت مولانا محمد علیؒ کی تھی۔ بڑی زوردار شخصیت ان کی تھی او رمیرے تو گویا محبوب ہی تھے۔ کبھی خط میں اور کبھی زبانی، جہاں ذرا بھی موقع پاتے، ابل پڑتے اور جوش وخروش کے ساتھ، کبھی ہنستے ہوئے، کبھی گرجتے ہوئے اور کبھی آنسو بہاتے ہوئے تبلیغ کر ڈالتے۔ ان کی عالی دماغی، ذہانت، علم، اخلاص کا پوری طرح قائل تھا، اس لیے کبھی بھی کوئی گرانی دونوں کی تبلیغ سے نہ ہوئی اور دونوں حق نصح (خیر خواہی) ادا کر کے پورا اجر سمیٹتے رہے۔‘‘ (ص ۲۴۹، ۲۵۰)
’’اکتوبر ۲۰ء میں سفر دکن میں ایک عزیز ناظر یار جنگ جج کے ہاں اورنگ آباد میں قیام کا اتفاق ہوا اور ان کے انگریزی کتب خانہ میں نظر محمد علی لاہوری احمد (عرف عام میں قادیانی) کے انگریزی ترجمہ وتفسیر قرآن مجید پر پڑ گئی۔ بے تاب ہو کر الماری سے نکالا اور پڑھنا شروع کر دیا۔ جوں جوں پڑھتا گیا، الحمد للہ ایمان بڑھتا ہے۔ جس ’’صاحبانہ‘‘ ذہنیت میں اس وقت تک تھا، اس کا عین مقتضا یہ تھا کہ جو مطالب اردو میں بے اثر رہتے اور سپاٹ معلوم ہوتے، وہی انگریزی کے قالب میں جا کر موثر وجاندار بن جاتے۔ یہ کوئی مغالطہ نفس ہو یا نہ ہو، بہرحال میرے حق میں تو حقیقت واقعہ بن کر رہا۔ اور اس انگریزی قرآن کو جب ختم کر کے دل کو ٹٹولا تو اپنے کو مسلمان ہی پایا اور اب اپنے ضمیر کو دھوکا دیے بغیر کلمہ شہادت بلا تامل پڑھ چکا تھا۔ اللہ اس محمد علی کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ اس کا عقیدہ مرزا صاحب کے متعلق غلط تھا یا صحیح، مجھے اس سے مطلق بحث نہیں۔ بہرحال اپنے ذاتی تجربہ کو کیا کروں، میرے کفر وارتداد کے تابوت پر تو آخری کیل اسی نے ٹھونکی۔‘‘ (ص ۲۵۴، ۲۵۵)
’’گیتا کے مطالعہ کے بعد سے طبیعت میں رجحان تصوف کی جانب پیدا ہو گیا تھا اور مسلم صوفیا کی کرامتوں اور ملفوظات سے اب وحشت نہیں رہی تھی، دلچسپی پیدا ہو گئی تھی اور خاصی کتابیں فارسی اور اردو کی دیکھ بھی ڈالی تھیں۔ ۔۔۔ ۱۹۱۹ء کا آخر تھا کہ اپنے ایک عزیز سید ممتاز احمد بانسوی لکھنوی کے پاس مثنوی رومی کے چھ دفتر کان پور کے بہت صاف، روشن وخوشنما چھپے ہوئے دکھائی دیے اور طبیعت للچا اٹھی۔ ان بچارے نے بڑی خوشی سے ایک ایک دفتر دینا شروع کر دیا۔ کتاب شروع کرنے کی دیر تھی کہ یہ معلوم ہوا کہ کسی نے جادو کر دیا۔ کتاب اب چھوڑنا چاہوں بھی تو کتاب مجھے نہیں چھوڑ رہی ہے۔ ۔۔۔ یاد نہیں کہ کتاب کتنے عرصے میں ختم کی۔ بہرحال جب بھی ختم کی، تو اتنا یاد ہے کہ دل ممتاز میاں کا نہایت درجہ احسان مند تھا کہ یہ نعمت بے بہا انھیں کے ذریعے ہاتھ آئی تھی۔ شکوک وشبہات بغیر کسی رد وقدح میں پڑے، اب دل سے کافور تھے اور دل صاحب مثنوی پر ایمان لے آنے کے لیے بے قرار تھا! (ص ۲۵۱، ۲۵۲)
’’۲۳ء کا غالباً ستمبر تھا کہ مکتوبات مجدد سرہندی کے مطالعہ کی توفیق ہوئی۔ بڑا اچھا نسخہ، خوب خوش خط وروشن اچھے کاغذ پر، حاشیہ کے ساتھ (مثنوی کے کان پوری ایڈیشن کی طرح) نو حصوں میں امرتسر کا چھپا ہوا مل گیا۔ اس نے طبیعت پر تقریباً ویسا ہی گہرا اثر ڈالا جیسا تین چار سال قبل مثنوی سے پڑ چکا تھا۔ فرق اتنا تھا کہ مثنوی نے جوش ومستی کی ایک گرمی سی پیدا کر دی تھی۔ بجائے ادھر دھر کی آوارہ گردی اور ہر صاحب مزار وصاحب آستانہ سے لو لگانے کے، اب متعین شاہراہ اتباع شریعت کی مل گئی۔ منزل مقصود متعین ہو گئی کہ وہ رضائے الٰہی ہے اس کے حصول ووصول کا ذریعہ اتباع احکام مصطفوی ہے۔ مثنوی اور مکتوبات، دونوں کا یہ احسان عمر بھر بھولنے والا نہیں۔ راہ ہدایت جو کچھ نصیب ہوئی، کہنا چاہیے کہ بالآخر انھیں دونوں کے مطالعہ کا ثمرہ ہے۔‘‘ (ص ۲۵۷)

دیسی سیکولروں کی مغالطہ انگیزیاں (۲)

محمد زاہد صدیق مغل

(۵) سیکولر ریاست خیر کے معاملے میں غیر جانبدار ہوتی ہے 

سیکولر لوگ اکثر یہ راگ الاپتے بلکہ اس راگ کے ذریعے اہل مذہب پر رعب جمانے کی کوشش کرتے ہیں کہ دیکھو ’سیکولرازم کا مطلب ریاست اور مذہب میں جدائی ہے اور بس، سیکولر ریاست کا کوئی اخلاقی ایجنڈہ (دین) نہیں ہوتا اور یہ خیر کے معاملے میں غیر جانبدار ہوتی ہے‘۔ اس دعوے کا مقصد یہ ثابت کرنا بلکہ دھوکہ دینا ہوتا ہے کہ (۱) چونکہ سیکولر ریاست ایک پوزیٹو (positive، حقیقت جیسی کہ وہ ہے ) ریاست ہوتی ہے نہ کہ نارمیٹو (normative، حقیقت جیسی کہ اسے ہونا چاہئے )، (۲) اسی لئے سیکولر ریاست کسی تصور خیر کی بیخ کنی نہیں کرتی، (۳) بلکہ تمام تصورات خیر کے فروغ کے یکساں مواقع فراہم کرتی ہے، (۴) لہذا ریاست کو پوزیٹو (سیکولر، یعنی غیرجانبدارانہ) بنیاد پر قائم ہونا چاہئے نہ کہ مذہبی بنیاد پر کیونکہ مذہب خیر کے معاملے میں جانبدار ہوتا ہے اور اپنے مخصوص تصور خیر سے متصادم تمام تصورات کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کرتا۔ سیکولر ریاست کی اس غیر جانبداریت کے دعوے کو سیکولر لوگ ایک عرصے سے دھرتے چلے آرہے ہیں۔ اس کے جواب میں عام طور پر اہل مذہب یہ کہتے ہیں کہ ’ریاست کو خیر کے معاملے میں غیر جانبدار نہیں بلکہ جانبدار ہونا چاہئے ‘ یا یہ کہ ’ اسلامی ریاست سیکولر ریاست کی طرح غیر جانبدار نہیں بلکہ خیر کے معاملے میں جانبدار ہوتی ہے اور یہ اچھی بات ہے ‘ وغیرہ۔ مگر اس قسم کے تمام جوابات یہ فرض کرلیتے ہیں گویا سیکولر ریاست واقعی ’ہر خیر‘ کے معاملے میں ’غیر جانبدار‘ (neutral) ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے عین برعکس ہے، ایک سیکولر ریاست نہ صرف یہ کہ ’ اپنا مخصوص اخلاقی ایجنڈہ ‘ رکھتی ہے اور اس مخصوص تصور خیر کی طرف جانبدار ہوتی ہے بلکہ ’دیگر تمام تصورات خیر کو جانچنے کیلئے ایک انتہائی ڈاگمیٹک اخلاقی پیمانہ ‘ بھی رکھتی ہے اور اسی بنیاد پر یہ ’ان دیگر تصورات کی بیخ کنی‘ کرتی چلی جاتی ہے، لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ ساری واردات وہ ’پوزیٹوازم، معروضیت اور غیر جانبداریت‘ کے پردوں میں ہی کرجاتی ہے، اور مذہبی حضرات ان پردوں کو چاک کرکے سیکولر لوگوں کا گھناؤنا چہرہ سامنے لانے کے بجائے ان کی پچ پر ہی کھیلنا شروع کردیتے ہیں۔ بظاہر معصوم دکھائی دینے والے اس دعوے میں کئی خطرناک وارداتیں چھپی ہوئی ہیں، یہاں ان کا جائزہ لیتے ہیں۔ 
سیکولر لوگوں کا یہ دعویف کہ سیکولر ریاست کا کوئی اخلاقی ایجنڈہ (ٹھیک اور غلط کا تصور و پیمانہ ) نہیں ہوتا‘ اپنی ذات میں متناقض (self-contradictory)دعوی ہے۔ درحقیقت یہ دعوی اس قدر مضحکہ خیز ہے کہ اسے رد کرنے کے لیے کسی پیچیدہ دلیل کی ضرورت ہی نہیں۔ ان عقلمندوں سے کوئی پوچھے کہ کیا بذات خود یہ تصور کہ ’مذہب کو ریاست سے الگ ہونا ’’چاہئے‘‘‘ (لفظ چاہئے پر فوکس رہے) ایک اخلاقی چوائس اور ترجیح کا معاملہ نہیں؟ پھر یہ کہنا کہ ’مذہب کو ذاتی زندگی تک محدود رکھنا ’’چاہئے‘‘ ‘ (لفظ چاہئے پر توجہ رہے) ٹھیک اور غلط کی ایک مخصوص چوائس نہیں؟ ظاہر ہے تمام لادینی نظرئیے اس اخلاقی ترجیح کے بھی قائل نہیں، مثلاً مارکسزم اپنی اصل شکل میں اس انفرادی مذہبی آزادی دینے کا بھی روا نہیں، تو یہ انفرادی مذہبی آزادی کا حق ایک اخلاقی ترجیح ہی ہوئی نا؟ پھر یہ تصور کہ ’اجتماعی نظم زندگی مذہب کے سوا کسی دوسری بنیاد (مثلاً ہیومن رائٹس) پر قائم ہونا ’’چاہئے‘‘‘ صحیح اور غلط کا ایک مخصوص تصور نہیں؟ زیادہ سے زیادہ کوئی یہی کہہ سکتا ہے نا کہ یہ تصور اسے بوجوہ بھلا معلوم ہوتا ہے، مگر کیا اسکا انکار کرسکتا ہے کہ یہ ایک اخلاقی ترجیح کا معاملہ ہی ہے؟ کیا ہیومن رائٹس سے نکلنے والے تصور خیر کو دیگر تمام تصورات خیر پر ’’فوقیت دینا‘‘ ایک اخلاقی ترجیح نہیں؟ پھر کیا دنیا کے تمام تصورات خیر کو ہیومن رائٹس کی کسوٹی پر ’’جانچنا ‘‘ اور اس ہی کسوٹی پر پرکھ کر ان کے ’’ٹھیک یا غلط ہونے کا فیصلہ صادر کرنا‘‘ بذات خود خیروشر کا ایک پیمانہ وضع کرلینا نہیں ہے؟ درحقیقت سیکولرازم کے بارے میں اس قسم کے دعوے وہی شخص کر سکتا ہے جسے سیکولرازم کے ڈسکورس کے بارے میں کوئی خبر ہی نہ ہو۔ 
اب ذرا آگے بڑھ کر مزید باریکی سے انکے دعوے کا جائزہ لیتے ہیں۔ جب سیکولر لوگ یہ کہتے ہیں کہ مذہب کو ریاستی معاملات سے الگ رکھ کر ایسے قانونی نظام پر ریاست کی تشکیل کی جانی چاہئے جو خیر کے معاملے میں غیر جانبدار ہو کر تمام تصورات خیر کو پنپنے کے مواقع فراہم کرے، تو ایسا قانونی نظام انکے خیال میں ہیومن رائٹس فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ مگر ہیومن رائٹس کے مطابق اصل تصور خیر ’فرد کی آزادی ‘ (یعنی ’حق کی خیر پر فوقیت ہونا‘) ہے، لہٰذا اس کے مطابق دنیا کا ہر وہ تصور خیر جو ’فرد کی اس صلاحیت کہ وہ جو چاہنا چاہے چاہ سکے اور اسے حاصل کرسکے‘ پر قدغن لگاتا ہے وہ غیر اخلاقی، غیرعقلی و غیر فطری تصور ہے اور اسی لئے اس کی بذریعہ قوت سرکوبی کرنا لازم ہے۔ معلوم ہوا کہ ہیومن رائٹس پر ایمان لانا غیر جانبداری کا رویہ اختیار کرنا نہیں بلکہ بذات خود خیر کے ایک مستقل مابعد الطبیعیاتی تصور (فرد کی آزادی کے حصول) پر ایمان لانا ہے ، اور ہیومن رائٹس پر مبنی سیکولر (جمہوری دستوری ) ریاست لازماً اسی تصور خیر کے تحفظ اور فروغ کی پابند ہوتی ہے (اور یہی اسکا ’دین ‘ ہوتا ہے)۔ لہٰذا اسے ’پوزیٹوازم اور غیر جانبداریت‘ سے تعبیر کرنا دھوکہ دھی کے سوا اور کچھ نہیں۔ 
چنانچہ خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ مغرب اور سیکولر طبقے کا یہ دعوی کہ لبرل سیکولر ریاست خیر کے معاملے میں غیر جانبدار اور اسی لئے Tolerant ہوتی ہے (اسکی قلعی بھی ہم آگے کھولے دیتے ہیں) ایک جھوٹا دعوی ہے کیونکہ خیر کے معاملے میں غیر جانبداری کا رویہ ممکن ہی نہیں۔ درحقیقت اس دنیا میں غیر جانبداریت (neutralism) بمعنی ’عدم رائے‘ (no position) کا کوئی وجود نہیں، بلکہ غیر جانبداری کے دعوی کا اصل مطلب ہوتا ہے ’کسی اصول کے مطابق رائے دینا یا فیصلہ کرنا‘ (غیرجانبداریت، معروضیت ، پوزیٹوازم، عقلیت، فطرت وغیرہ جیسے الفاظ محض اپنے مخصوص مفروضہ مقاصد و نظریات کو چالاکی کے ساتھ فروغ دینے اور مدمقابل کیلئے قابل قبول بنانے کا ایک مناظرانہ طریقہ کار ہے اور بس)۔ جو لوگ ان معنی میں غیر جانبداری کا دعوی کرتے ہیں گویا وہ تمام اصولوں سے ماوراء کہیں خلا میں معلق ہو کر اپنی رائے دے رہے ہیں فی الحقیقت وہ مہمل تصورات کا شکار ہیں، کیونکہ اس دنیا میں ایسا کوئی مقام نہیں جہاں پہنچ کر انسان غیر جانبدار ہوجائے۔ مثلاً یہ کہنا کہ ’فلاں مسئلے میں آپ مسلمان کے بجائے غیر جانبدار ہو کر غور کریں ‘ محض بے وقوفی کی بات ہے، کیا اسلا م سے باہر نکل کر انسان کافر ہوتا ہے یا غیر جانبدار ؟ کیا کفر بذات خود ایک جانبدارانہ مقام نہیں؟ [ائمہ علم الکلام نے معتزلہ کے ’المنزلۃ بین المنزلتین‘ (ایمان و کفر کے ما بین ایک امکانی غیر جانبدار پوزیشن) کے عقیدے کی بیخ کنی اسی گمراہی سے امت کو بچانے کیلئے فرمائی۔ عبدیت سے باہر نکل کر انسانی عقل غیر جانبدار نہیں بلکہ خواہشات اور شیاطین کی غلام ہو جاتی ہے جیسا کہ ارشاد ہوا فان لم یستجیبوا لک فاعلم انما یتبعون اھواۂم ومن اضل ممن اتبع ھواہ بغیر ھدی من اللہ  (پس اے رسول اگر وہ قبول نہ کریں آپ کے ارشاد کو تو جان لو کہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیرو کارہیں اور اس شخص سے بڑا گمراہ کون ہوگا جو خدائی ہدایت کے بجائے اپنی خواہشات کی پیروی کرے)، مزید فرمایا لاتطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا واتبع ھواہ  (اس شخص کی اطاعت نہ کرجس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور جس نے اپنے خواہش نفس کی پیروی اختیار کرلی ہے) ، نیز من یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطاناً فہو لہ قرین (جو کوئی رحمن کے ذکر سے منہ موڑتا ہے تو ہم اسکے اوپر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں جو اسکا دوست بن جاتا ہے)]۔ 

(۶) سیکولر ریاست کسی تصور خیر کی بیخ کنی نہیں کرتی 

درج بالا بحث کے بعد یہ غلط فہمی خود بخود صاف ہوجانی چاہئے کیونکہ اپنے دائرہ عمل میں سیکولر ریاست صرف انہی تصورات خیر اور حقوق کو برداشت کرتی ہے جو اسکے اپنے تصور خیر (ہیومن رائٹس، یعنی ہیومن کی آزادی) سے متصادم نہ ہوں، اور ایسے تمام تصورات خیر جو ہیومن رائٹس سے متصادم ہوں انکی بذریعہ قوت بیخ کنی (suppress) کر دیتی ہے۔ ان حقائق کو چند آسان مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔ فرض کریں ہندو اپنی مذہبی روایات کی بنیاد پر ’ستی کرنے‘ یا معاشرے کو اپنے مخصوص ’ذات پات کے نظم‘ پر تشکیل دینا چاہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا سیکولر ریاست ان اعمال کی اجازت دے گی؟ ہرگز نہیں، کیوں؟ اسی لیے نا کہ ’ہیومن رائٹس قانون انہیں ان اعمال کی اجازت نہیں دیتا کہ یہ اعمال و ترجیحات بنیادی انسانی حقوق کے فلسفے سے متصادم ہیں‘۔ تو کیا سیکولر ریاست ان اعمال کی اجازت نہ دے کر بلکہ بذریعہ جبر، قوت و قانون انہیں بند کر کے ہندو تصور خیر کی بیخ کنی نہیں کرتی؟ اتنا ہی نہیں ذات پات کے نظام کی تشکیل منہدم کرکے سیکولر ریاست ہندو انفرادیت کے فروغ کا راستہ بند کردیتی ہے اور اس طرح ہندو انفرادیت کی بھی بیخ کنی دیتی ہے کیونکہ ہندو ں کے خیال میں ذات پات کے معاشرتی نظم کے بغیر وہ انفرادیت جو انکے عقائد کے ساتھ ہم آہنگ ہے کبھی دریافت نہیں کی جاسکتی۔ دوسرے لفظوں میں سیکولر ریاست ہیومن رائٹس کے نام پر ہندو رسوم ہی نہیں بلکہ ہندو عقائد کو مہمل بنا کر انکی بھی بیخ کنی کرڈالتی ہے۔ اسی طرح فرض کریں ایک مسلمان لڑکی کسی کافر سے شادی کرنا چاہتی یا مسلمان لڑکا بدکاری کرنا یا کسی لڑکے کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے، ظاہر ہے اس معاملے میں اسلامی معاشرہ وریاست ہرگز اس کی اجازت نہیں دے گی، مگر چونکہ ہیومن رائٹس قانون ان افعال کو ہیومن کا حق قرار دیتا ہے لہذا اس ریاست میں افراد کو انکی قانونی اجازت اور ریاستی سرپرستی حاصل ہوگی۔ اگر مسلمان اجتماعیت اس لڑکی اور لڑکے پر اپنا تصور خیر مسلط کرنے کی کوشش کرے گی تو لبرل ریاست ان کے خلاف کاروائی کرکے ان کی سر کوبی کردے گی۔ اب دیکھئے مسلمان چاہتے ہیں کہ ان کے معاشرتی نظم کی بقا جس اجتماعی ڈھانچے میں مضمر ہے اسے تحفظ فراہم کیا جائے مگر سیکولر ریاست عین اسکے برعکس قانون بناتی ہے۔ کیا اسکے نتیجے میں اسلامی معاشرت اور نتیجتاً اسلامی انفرادیت انتشار اور تحلیل کا شکار نہیں ہوجائے گی؟
یہاں بنیادی بات یہ سمجھنے کی ہے کہ ہیومن رائٹس ’ہیومن (خود کو قائم بالذات سمجھنے والی یعنی خدا کی باغی انفرادیت) کے حقوق‘ (right of HUMAN) کا تحفظ کرتے ہیں نہ کہ ’مسلم (ہندو یا عیسائی) انفرادیت کے حقوق‘ (right of MUSLIM)۔ دیکھئے مسلم مرد کی مرد سے شادی ’ہیومن کا حق‘ تو ہے مگر ’مسلمان کا حق نہیں‘، سوال یہ ہے کہ جب ان دوقسم کی انفرادیتوں کے حقوق میں مخاصمت ہوگی تو کیا سیکولر ریاست کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتی ہے یا نہیں؟ نیز کس کو کس پر ترجیح دیتی ہے؟ درحقیقت اسی سوال کے جواب میں سیکولر ریاست کی ’جانبداریت‘ کی ساری واردات چھپی ہوئی ہے۔ تو جب یہ ریاست ’ہیومن رائٹس‘ (ایک مخصوص تصور انفرادیت و خیر) کو دیگر تصورات خیر پر فوقیت دیتی ہے نیز اسی پیمانے پر انہیں جانچتی ہے تو کیا یہ بذات خود ایک مخصوص تصور خیر کی طرف جانبداریت کا رویہ نہیں؟ پس خوب یاد رہے کہ اپنے مخصوص خیر کے معاملے میں لبرل جمہوری ریاست بھی انتہائی راسخ العقیدہ (dogmatic) اور intolerant ہوتی ہے اور اپنے اس مخصوص تصور خیر سے متصادم کسی نظرئیے کی بالادستی کو روا نہیں رکھتی۔ چنانچہ مشہور لبرل مفکر رالز (Rawls) کہتا ہے کہ مذہبی آزادی کو لبرلزم کے لئے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، وہ مذہبی نظریات جو لبرل آزادیوں کا انکار کریں ان کو عملاً کچل دینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی وبا کو ختم کرنا ضروری ہوتاہے۔ اسی بنیاد پر ہیومن رائٹس کی چمپئن یورپی اقوام نے کروڑوں ریڈ انڈین اور دیگر اقوام کا قتل عام روا رکھا (جان لاک اور جیفرسن کے الفاظ میں ریڈ انڈین بھینسے اور بھیڑئیے ہیں ) اور آج بھی مجاہدین کو قتل کیا جا رہا ہے۔ 

(۷) سیکولر ریاست تمام تصورات خیر کے فروغ کے مساوی مواقع فراہم کرتی ہے 

اب تک کی بحث کے بعد اس نکتے پر زیادہ تفصیلی گفتگو کی ضرورت تو نہیں البتہ چند ایک مزید پہلووں سے بھی اس دعوے کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اصولی بات یہ ہے کہ افراد کی ذاتی زندگیوں میں وہی اقدار ، کیفیات، صلاحیتیں و اعمال پھلتے پھولتے ہیں جن کے اظہار کے اجتماعی زندگی میں مواقع موجود ہوں، جنہیں اجتماعی زندگی میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو، نیز جن کے حصول و عدم حصول پر اجتماعی زندگی میں کامیابی و ناکامی کا انحصار ہو۔ ایسی اقدار جو اجتماعی زندگی میں لایعنی و مہمل تصور کی جاتی ہوں یہ سمجھنا کہ لوگوں کی نفرادی زندگی میں پھلتی پھولتی رہیں گی ایک غیر عقلی بات ہے۔ جس ذاتی زندگی کا اجتماعی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو آہستہ آہستہ مہمل بن کر اپنی موت آپ ہی مر جایاکرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب ہمارا اجتماعی سیکولر نظام فرد کو علم دین کے حصول کیلئے کسی درجے میں بھی مجبور نہیں کررہا تو دینی علوم کا حصول افراد کی نجی زندگیوں میں غیر متعلقہ ہوتا جارہا ہے مگر سائنسی علوم ہر کسی کا مطمع نظر بن رہا ہے جسکی وجہ یہ ہے کہ جدید اجتماعی زندگی اسی علم کے ارد گرد تعمیر کی گئی ہے۔ 
اب ذاتی اور اجتماعی زندگی کے اس باہمی تعلق کو سامنے رکھ کر اس بات پر غور کریں کہ سیکولر ڈسکورس کا ایک اہم تقاضا آخرت کی اقداری حیثیت کا انکار کردینا بلکہ اسے لایعنی و مہمل قرار دینا بھی ہے۔ چنانچہ سیکولر ڈسکورس کہتا ہے کہ معاشرتی و ریاستی صف بندی میں یہ سوال کہ ’افراد اس معاشرے میں زندگی بسر کرنے کے بعد جنت میں جائیں گے یا جہنم میں‘ ایک لایعنی و مہمل سوال ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ مسئلہ کہ آیا ’افراد کو معاشرے میں زیادہ نیکیاں اور کم گناہ کمانے کے مواقع میسر ہیں‘ ایک بے کار سوال ہے، کیونکہ جونہی ’نیکی اور بدی کے مواقع‘ کا سوال اٹھایا جائے گا مذہب فورا ذاتی زندگی سے نکل کر اجتماعی میدان میں آجاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں اس ریاست کے نزدیک خود ’نیکی و بدی ‘ ہی لایعنی تصورات ہیں۔ اب ظاہر ہے اسلامی نکتہ نگاہ سے آخرت کی اقداری حیثیت بنیادی نوعیت کی ہے، یعنی یہاں معاشرتی و ریاستی صف بندی میں اصل اور فیصلہ کن سوال ہی یہ ہے کہ افراد کو جنت میں جانے کے مواقع زیادہ فراہم ہونگے یا جہنم میں؟ مگر مذہب کو فرد کا نجی مسئلہ قرار دینے کا مطلب یہ اعلان کرنا ہے کہ ’مرنے کے بعد جنت و جہنم میں جانا‘ اجتماعی نظم کی تشکیل میں بے کار و بے معنی سوال ہے، جبکہ اسلام میں سب سے اہم اورپہلا سوال ہی یہ ہے کہ مرنے کے بعد کوئی شخص کہاں جائیگا ۔ اب دیکھئے مذہب اجتماعی نظم کے قیام کیلئے جس شے کی اقداری حیثیت و فوقیت کو کلیدی سمجھتا ہے سیکولر ڈسکورس اسے لایعنی قرار دیکر نکال باہر کردینا چاہتا ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ سیکولر اجتماعی نظم بھی قائم ہوجائے مگر لوگوں کی زندگیوں میں آخرت بطور قدر بھی پنپتی رہے؟ صرف ایک فاتر العقل انسان ہی ایسا امکان سوچ سکتا ہے۔ جس خاندان کے کسی اجتماعی عمل اور فیصلے میں تقوی و پرہیزگاری سرے سے متعلقہ سمجھے ہی نہ جارہے ہوں آخر وہاں بچے کیونکر تقوی و پرہیزگاری اختیار کرتے رہنے کو ترجیح دیتے رہیں گے؟ اسے کہتے ہیں کہ people seek what the system rewards ، یعنی افراد اس شے کی تگ و دو کرتے ہیں جسے نظام قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ محض نظریاتی باتیں نہیں، بلکہ دنیا میں جہاں بھی سیکولر جمہوری اقدار (آزادی ، مساوات اور ترقی) کا فروغ ہوا، ان معاشروں کے افراد کی زندگیوں میں فکر آخرت اور مرنے کے بعد کی زندگی کا سوال بے کار ہوتا چلا گیا اور لذت پرستانہ فکر معاش فکر معاد پر غالب آگیا۔ درحقیقت افراد کی نجی زندگی میں وہی اقدار پنپتی ہیں جو اجتماعی زندگی میں قابل قدر سمجھی جارہی ہوتی ہیں، جن ذاتی اقدار کا اجتماعی زندگی میں کامیابی و ناکامی سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو آخر فرد کیونکر انہیں اختیار کرتا چلا جائے گا؟ لہذا یہ کہنا کہ سیکولر نظم ’ہر تصور خیر‘ کے فروغ کے مساوی مواقع فراہم کرتی ہے ایک سفید جھوٹ ہے۔ درحقیقت لبرل معاشروں میں سیکولر ریاست جس نظام زندگی کو جبراً مسلط کرتی ہے وہ لبرل سرمایہ دارانہ نظام زندگی ہے جسکے نتیجے میں سوائے ہیومن کے تمام اجتماعیتیں لازماً تحلیل ہو جاتی ہیں اور دیگر تمام نظام ہائے زندگی پر عمل کرنے کا دائرہ کار کم سے کم تر ہوتے ہوتے ختم ہو جاتا ہے۔ 

(۸) سیکولر ریاست پرامن مذہبی بقائے باہمی ممکن بناتی ہے 

اس ضمن میں سیکولر لوگ بڑے طمطراق سے یہ بھی کہتے ہیں کہ سیکولر ریاست مذہبی اختلافات (مثلا شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی) کو ختم کرکے انکے پرامن بقائے باہمی کو ممکن بناتی ہے، اور ہمارے چند دینی لوگ بھی اس جھانسے کا شکار ہوکر اسے سیکولر ریاست کی کوئی ’خوبی ‘ اور اہل مذہب پر اس کا کوئی ’احسان ‘ تصور کرنے لگتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سیکولر ریاست مذہبی نزاعات کا یہ حل مذہب کی اجتماعی و ذاتی اقداری حیثیت کو ’قائم و دوائم ‘ رکھتے ہوئے ’اس کے اندر‘ ہی طے کردیتی ہے یا مذہب کو ’لایعنی و مہمل‘ بنا کر حل کرتی ہے؟ اگر یہ حل وہ مذہب کی اقداری حیثیت کو لایعنی، غیرضروری و مہمل بنا کر کرتی ہے جیسا کہ امر واقعہ ہے تو اس میں اہل مذہب کیلئے خوش کن بات کیا ہے؟ ظاہر ہے اس دنیا میں کوئی بھی انسان بے کار و لایعنی شے کیلئے نہیں لڑتا، چنانچہ سیکولر ریاست کے قیام و بقا کے نتیجے میں مذہبی ترجیحات کی اقداری حیثیت چائے و کافی کی ترجیح سے زیادہ کچھ نہیں رہتی۔ کیا اسلام کو ’دین‘ سمجھنے والوں کے لیے یہ قابل قدر بات ہے یا تشویش کا مقام ؟ دوسرے لفظوں میں سیکولر ریاست کا جو فعل و خصوصیت اہل مذہب کے لیے انتہائی قابل مذمت ہونا چاہئے، چند سادہ لوح لوگ اسے اس کی خوبی فرض کرلیتے ہیں۔ 
اسی طرح جب یہ کہا جاتا ہے کہ ’سیکولر ریاست حصول مذہب کے معاملے میں کسی پر جبر نہیں کرتی‘ تو فی الحقیقت اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مذہب اِس نظم میں مہمل و لایعنی قرار دیا گیا ہے کیونکہ نظام اس ہی شے کے حصول کے لیے جبر کرتا ہے جسے وہ قابل قدر سمجھتا اور بنانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیکولر ریاست فرد پر سائنسی (بشمول فزیکل و سوشل سائنسی) علوم کے حصول کیلئے بھرپور جبر کرتا ہے کہ اسکے بغیر وہ اس نظام میں کامیاب نہیں ہوسکتا جبکہ مذہب اسکے نزدیک محض کھیل تماشا ہوتا ہے۔ مگر ہمارے سادہ لوح مذہبی لوگ سیکولر نظام کی فراہم کردہ چند غیر متعلقہ مذہبی آزادیوں سے یہ دھوکہ کھا جاتے ہیں گویا یہ نظام مذہب کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ چنانچہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ سیکولر ریاست ہر مذہب کے چند انفرادی شعائر کی ادائیگی کا حق اس لئے نہیں دیتی کہ یہ انہیں ’قابل قدر یا اہم‘ سمجھتی ہیں بلکہ اس لئے دیتی ہے کہ یہ انہیں ’مہمل ، لایعنی، اور غیر متعلقہ‘ سمجھتی ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ ہمارے یہاں چند ایسے مفکرین (مثلاً وحید الدین خان صاحب) بھی پیدا ہوگئے ہیں جن کے خیال میں اسلام پھیلتا ہی سیکولر نظام میں ہے، گویا زہر ہی ان کے نزدیک تریاق ہے۔ ایسے لوگ یا تو مذہب کو محض چند رسوم عبادت تک محدود سمجھتے ہیں اور یا پھر یہ سیکولر لوگوں کے دعوائے غیر جانبداریت سے انتہائی حد تک متاثرہیں اور اسی وجہ سے اپنے تئیں یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ چونکہ اسلام حق ہے لہٰذا جونہی اسے یہ ’نیوٹرل‘ موقع ہاتھ آئے گا یہ اپنا لوہا منوالے گا۔ لیکن اس قسم کے استدلال کو ان حضرات کی سادہ لوحی پر تو محمول کیا جا سکتا ہے مگر علمی دنیا میں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ 
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ سیکولرریاست کے غیر جانبداریت کے اس جھوٹے دعوے سے متاثر ہوکر تمام مذہبی گروہ اور طبقے اس کے ہاتھوں خوشی خوشی اپنی جڑیں کٹوالینے پر تیار ہوجاتے ہیں؛ یعنی بریلوی، دیوبندی، سلفی، شیعہ سب ایک ایسی انفرادیت (ہیومن) اور اجتماعیت (سول سوسائٹی) کے غلبے کو قبول کرلینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں جو ان سب کی نفی اور بیخ کنی کردیتی ہے مگر یہ سادہ لوح لوگ اسے اپنے ساتھ ’برابری، مساوات، عدل و انصاف ‘ کا معاملہ اور ’اپنی بقا کا غماز ‘ سمجھتے رہتے ہیں، فیاللعجب۔ اس مقام پر سیکولر لوگ تو کجا خود مذہبی لوگ ہی یہ استدلال پیش کرنے لگتے ہیں کہ کیونکہ یہ تمام مذہبی گروہ آپسی نزاعی کیفیت کا شکار ہیں اور ان کا باہمی رویہ ٹھیک نہیں لہٰذاخود ان گروہوں کے حق میں یہ بہتر ہے کہ اقتدار کی کنجیاں ان کے پاس رہنے کے بجائے کسی غیرجانبدار قوت کے پاس رہیں۔ سوچئے کس قدر عجیب ہے یہ استدلال ، کیا آپسی ناگوار رویوں کو بنیاد بنا کر کسی ایسے تیسرے فریق کو گھر کا مالک بن بیٹھنے کی اجازت دی جاسکتی ہے جو ہم سب کا استحقاق ملکیت غصب کرکے گھر پر ایسا قانون مسلط کردے جو ہم سب ہی کے خلاف ہو اور ہم سب کی بیخ کنی کردے؟ مستحکم سیکولر ریاستی نظام میں تو مسلم، عیسائی ، ہندو ہونا ہی لایعنی ، مہمل اور غیر متعلقہ شے بن جاتی ہے چہ جائیکہ ان ذیلی شناختوں کی بقا کا تصور کیا جاسکے۔ 
(جاری) 

’’جمہوری و مزاحمتی جدوجہد‘‘ ۔ ایک تجزیاتی مطالعہ

محمد رشید

’’الشریعہ‘‘ کے مدیر اعلیٰ مولانا زاہد الراشدی صاحب کچھ عرصہ سے تسلسل کے ساتھ نفاذ اسلام کے لیے آئینی اور جمہوری جدوجہدکی تلقین فرما رہے ہیں اور مسلح مزاحمت کے مقابلے میں غیر مسلح مزاحمت کے طریق کار کی دعوت پیہم اصرار سے دے رہے ہیں۔ اس تناظر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلح مزاحمت کسے کہتے ہے؟ اور غیر مسلح مزاحمت کیا ہے؟ 

مسلح مزاحمت کیا ہے؟ 

مسلح مزاحمت یا مسلح بغاوت دراصل کسی کمزورفریق کے مقابلہ میں بے حد طاقتور فریق کے ظلم، جبراورآمرانہ سوچ اورشکنجہ کو بے رحمی سے اس کمزورفریق پرمسلط کرنے کے نتیجہ میں رونما ہوتا ہے۔مسلح بغاوت یا مزاحمت درحقیقت کسی بے حد طاقتورسلطنت میں کمزورکواپنی مرضی کی زندگی نہ گزارنے دینے کے نتیجے میں رونما ہوتا ہے۔پُرامن،باانصاف اور غریب پرور معاشروں میں مسلح بغاوت یا مزاحمت ایک روگ، ایک بیماری او ر ایک فتنہ ہے، جبکہ ظالم، بے انصاف، بے رحم ، بے حس ،غریب کُش اور کمزوروں کا استحصال کرنے والے معاشروں میں مسلح بغاوت یا مزاحمت ظلم،جبر،بے رحمی اور بے انصافی کی لعنتوں کا ردعمل ہے۔جوطاقت و قوت کے زعم اور تکبر میں مبتلا ایوانوں کے ردعمل میں جنم لیتا ہے ۔طاقت کے وہ ایوان جنہیں اپنے قارونی خزانوں اور مہیب مسلح قوتوں کا زعم اور نشہ ہر کمزور اور مخالف سوچ کو کچل دینے پہ آمادہ پیکار رکھتا ہے،مسلح بغاوت یا مزاحمت اس مکروہ ظالمانہ اور بے رحم معاشرے کے چہرے پرکمزوروں کا زوردار طمانچہ ہوتا ہے۔ازل سے ایسا ہوتا رہا ہے کہ انسان کی انانیت،تکبر اور اس میں چھپا ہوا ابلیس اسے اپنے سے کمزوروں کا استحصال اور ان کا دائرہ حیات تنگ کرنے پر آمادۂ پیکار کرتا رہا ہے۔جس کا نہایت مسکت جواب قوانین فطرت کے عین مطابق’’مسلح بغاوت یا مسلح مزاحمت‘‘ کی صورت میں ہردور کے نمرودوں اور فرعونوں کو ملتا رہا ہے۔
لیکن دنیا پر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات اور اسلام کے سورج کے روشن ہوجانے کی وجہ سے ابلیس کو یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ اگردنیا کے نادار،غریب اور کمزورطبقات کی اسلام کے ’’جذبہ جہاد‘‘ تک رسائی ہوگئی توپھر فرعونیت، قارونیت اورہامانیت یعنی بے رحم اور بے حس سرمایہ داروں،جاگیرداروں اوربادشاہوں کا دنیا سے ہمیشہ کے لیے صفایاہوجائے گا۔’’جذبہ جہاد‘‘ کی یہ وہ ہیبت ناک تلوار تھی جس نے ابلیس اور ابلیسی ذریت کو بے حد خوف اور فکر میں مبتلا کردیا۔چنانچہ اس نے اس کا توڑکرنے، انسانیت کو ’’جہاد‘‘ اور ’’جذبہ جہاد‘‘ سے محروم کرنے کے لیے حضرت انساں کے ہاتھوں میں جمہوریت،آزادی رائے اور انتخابی و احتجاجی سیاست کے ساحرانہ کھلونے تھما دیے۔اسی حقیقت کا اظہار ہمیں اقبال کے اشعار میں بھی جابجاملتاہے ۔چند مثالیں ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:
آزادی افکار ہے ابلیس کی ایجاد
(بال جبریل بعنوان ’’آزادی افکار‘‘)
یہ علم ،یہ حکمت، یہ سیاست، یہ تجارت
جو کچھ ہے وہ ہے فکر ملوکانہ کی ایجاد 
(ارمغان حجازبعنوان ’’د وزخی کی مناجات‘‘)
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خودشناس و خودنگر
(ارمغان حجازبعنوان ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘)
جمہورکے ابلیس ہیں ارباب سیاست
باقی نہیں اب میری ضرورت تہہ افلاک
(ارمغان حجازبعنوان ’’ابلیس کی عرضداشت‘‘)
جدید دور کے سامری نے جمہوریت نامی اس کھلونے کے ذریعہ ساری دنیا کے انسانوں کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیا۔ اس طرح اپنے مکر،فریب اور سحر کے ذریعہ انسانیت کو ایک بار پھر اسلام سے اوردنیا اور آخرت کے دکھوں سے نجات حاصل کرنے کی راہ سے دورلے جانے میں کامیاب ہوگیا۔عہد حاضر کے سامری کا یہ وہ جادو ہے جو سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ نہ صرف اسلام کی دولت سے محروم طبقات عہد جدید کے سامری کے ’’جمہوریت‘‘ نامی اس سحر میں بری طرح گرفتار ہوچکے ہیں بلکہ اس سحر نے اسلام کے پیروکاروں کی عظیم اکثریت کو بھی اپنے جال میں جکڑ لیا ہے، حتیٰ کہ نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ بہت سے مسلم مذہبی زعما، قائدین اور علماء تک کے اذہان پر اس سحر نے رسائی حاصل کر لی۔ لہٰذا اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے بہت سارے نہایت محترم قائدین اور علماء بھی جمہوریت،آئینی جدوجہداورانتخابی و احتجاجی سیاست کواسلام اورمسلمانوں کے لیے بالکل اسی طرح مفید،ضروری اورناگزیر قرار دیتے ہیں جس طرح مغرب کے ملحد،لادین اور سرمایہ پرست اسے اپنے معاشروں کے لیے بے حد مفید،ضروری اور ناگزیر قرار دیتے ہیں۔
دکھ اور افسوس کا مقام صرف یہ نہیں ہے کہ مغرب کے مقتدرابلیسی اور دجالی اذہان دیار مغرب میں رہنے والے انسانوں کی عظیم اکثریت کو جمہوریت ،آئین،انتخابی اور احتجاجی سیاست کے کھلونے دے کران کا ذہنی،جسمانی اور روحانی بدترین استحصال کررہے ہیں بلکہ ’’درداتنا ہے کہ ہررگ میں ہے محشر برپا‘‘ کے مصداق ناختم ہونے والی اذیت کامقام یہ ہے کہ اہل اسلام کے نہ صرف سیاسی قائدین بلکہ دینی مذہبی راہنما اور مفکرین کی نگاہ میں بھی جمہوریت، آئین، انتخابی اور احتجاجی سیاست کے دجالی کھلونے اہل اسلام کے دکھوں کا واحد علاج اور مداوا ہیں۔

غیر مسلح مزاحمت کیا ہے؟

آئیے اب دیکھتے ہیں کہ یہ غیر مسلح مزاحمت یا احتجاجی سیاست کس نیلم پری کا نام ہے۔ابلیس اور اس کے پیروکاروں نے ہزاروں سال تک مذہب کا راستہ روکنے اور انسانیت کی روح کا گلا دبانے کی سرتوڑکوششوں کے بعد جب یہ دیکھا کہ ان کی تمام تر کاوشوں کے باوجود اسلام کا سورج طلوع ہوچکا ہے جو ابلیس کی بنائی گئی مہیب ترین اور ہیبتناک ترین قیصروکسریٰ کی سلطنتوں کو خس وخاشاک کی طرح بہا کر لے گیا توانہیں عالم تصور میں ہرظالم،قاہراور بدمعاش سلطنت و قوت ڈوبتی ہوئی نظر آنے لگی۔لہٰذا آنے والے دور میں ظالموں،بدمعاشوں، خائنوں، دغابازوں اور انسانیت کے دشمنوں کے تحفظ کے لیے اور انسانیت کو اسلام کی رحمت سے دور رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ کوئی ایسا مذہب اور ایسی فکر ایجاد کی جائے جو دکھوں کی ماری انسانیت اوراسلام کے درمیان ایک ناقابل عبور دیوار کھڑی کردے۔اور یوں انسانیت ایک بار پھر اپنے دکھوں کا علاج اپنے خالق و مالک سے دریافت کرنے کی بجائے ابلیسوں اوردجالوں کے جعلی نسخوں میں تلاش کرنے میں سرگرداں رہے۔ابلیس کے پرانے جعلی نسخے اب مزید چلتے دکھائی نہیں دے رہے تھے،لہٰذا ابلیس نے جمہوریت،آزادی رائے اورانتخابی واحتجاجی سیاست کے خوشنما ودلفریب عنوان سے نیا نسخہ تیار کیا اور انسانیت کے ہاتھ میں اسے تھما دیا۔
آج جب ہم اپنے اردگردنگاہ دوڑاتے ہیں توحیرت میں گم ہوجاتے ہیں کہ ابلیس اپنی چال میں میں کیسا زبردست کامیاب رہا؟ آج ساری دنیا کے شیاطین اور مقتدرطبقات (ابلیس کی نمائندہ عالمی طاقتوں )نے دنیا بھرمیں جمہوریت کو اپنی محبوب ترین لونڈی بنایا ہوا ہے۔یہ عالمی طاقتیں اپنی اس لونڈی کے ذریعے اسلام کی بدترین مخالفت کررہی ہیں، اسلام،اہل اسلام، مشاہیر اسلام کا مذاق اڑا رہی ہیں اورمسلمانوں کے محبوب ترین شعائر یعنی رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن حکیم کی بدترین توہین کی مرتکب ہورہی ہیں۔ابلیس،اس کی آلہ کارعالمی طاقتیں اور ان عالمی طاقتوں کے آلہ کارمسلم حکمرانوں نے ساری دنیا میں فتنہ اور فساد کا بازاد گرم کیا ہوا ہے۔ یہ ابلیسی ٹولہ انسانیت کی روح کا گلا دبا رہا ہے، انسان کی روحانی زندگی کے لیے یہ ٹولہ ایک عذاب بنا ہوا ہے۔درحقیقت یہ ٹولہ بدترین دہشت گرد ہے، جس نے اپنے اختیارات ،وسائل ،جدید جنگی ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ سے نوع انسانی کو ایک دہشت اور خوف میں مبتلا کیاہوا ہے۔ یہ ابلیسی ٹولہ نہ صرف انسان اور آخرت(انسان کی ابدی مسرت) کے درمیان ایک دیوار بن کرکھڑا ہوگیا ہے بلکہ ابلیس لعین کا یہ پیروکار ٹولہ انسان اور اس کی دنیا کی نہایت محدود زندگی کی مسرتوں کے درمیان بھی ایک دیوار بن کر کھڑا ہے۔ ساری دنیا کے انسانوں کو سود کی لعنت اور نحوست میں جکڑدیاگیا ہے، ساری دنیا کے انسانوں کے لیے زندگی کی بنیادی ترین ضرورتیں پورا کرنا مشکل سے مشکل تر کردیاگیا ہے۔تازہ آکسیجن، خالص او ر صحت بخش غذا،سرچھپانے کے لیے چھت،اپنی نئی پود کی روحانی و جسمانی تعلیم یہ وہ بنیادی ترین ضرورتیں ہیں جن سے آج کے انسان کومحروم کرنے کے لیے تہذیب ، آزادی اور جمہوریت کے نام پر بدترین مکاریاں کی جارہی ہیں۔لعنت ہے ایسی ترقی،ایسی جمہوریت اور ایسی نام نہاد آزادی پرجو نہ صرف انسان کو اس کی آخرت کی ابدی مسرتوں سے محروم کردے بلکہ دنیا کی قلیل زندگی کی مسرتوں کا بھی گلا گھونٹ کررکھ دے۔
عالمی طاقتوں اور ان کے آلہ کارسرمایہ پرست حکمرانوں کی دولت کی بھوک اور ہوس نے فضاؤں کواس حد تک آلودہ کردیا ہے کہ تازہ آکسیجن ملنا محال ہوگیا ہے،دودھ کے نام پر ڈبوں میں بندسفید خوشنما زہرنما محلول سے اس کے جسم کی پرورش کی جارہی ہے،خوشنما غذاؤں کے ذریعے سے بیماریوں کی پرورش کی جارہی ہے،عام انسان کے لیے عمدہ سبزی اور دال تک رسائی مشکل سے مشکل ترکردی گئی ہے ، سرچھپانے کے لیے چھت حاصل کرنے کو ’’سرمایہ غم فرہاد‘‘بنا کررکھ دیاگیا ہے۔متوسط اور غریب طبقہ کے علاج کی راہ میں ڈاکٹرو کی شکل میں ڈاکو بٹھادیے گئے ہیں پھر جدید دور کا انسان ان ڈاکو نمامسیحاؤں سے لٹ کر نکلتا ہے توارزاں ترین دوائیں مہنگی ترین قیمتوں پر خریدنے پر مجبو ہوجاتا ہے۔مگر اس ظلم ، اس استحصال اور اس شیطنیت پر مجال ہے جمہوریت اور جمہوری نمائندوں کے ماتھے پر کوئی شکن پڑے۔جدید زندگی کی یہ وہ اذیتناکیاں ہیں جنہیں دیکھ کر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے دوزخ میں جلتے ہوئے انسان کے جذبات کواپنی نظم’’دوزخی کی مناجات‘‘ کے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا:
اللہ تیرا شکر کہ یہ خطہ پُرسوز	
سوداگر یورپ کی غلامی سے ہے آزاد
حقیقت یہ ہے کہ ابلیس نے ’’جمہوریت اور آزادی‘‘ کے عنوان سے اجتماعی سطح پرانسانیت کا جو بدترین استحصال کیا ہے اور انسانیت کو زندگی کی بنیادی ترین ضرورتوں سے جس طرح محروم کیا ہے، ماضی کی بدترین بادشاہتوں کے دور میں بھی اجتماعی سطح پر انسانیت کا اس طرح گلا دبانا ناممکن تھا۔ یہی وجہ ہے ابلیس نے جہاں انسانیت کی ’’روح اورجسم‘‘ ہردوکا گلا دبانے کی جو نہایت گھناؤنی اور بدترین چال تیار کی تھی وہاں اسے یہ خوف بھی دامن گیر تھا کہ کہیں انسانوں کا کوئی فہیم طبقہ اٹھے اورقرآن کے جذبہ جہاد سے سرشار ہوکرتمام عالم کے ان ابلیسی آلہ کاروں سے ٹکرا جائے جو انسانیت کو بدترین دکھوں میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔لہٰذا ابلیس نے اپنے آلہ کاروں کی حفاظت کے لیے احتجاجی سیاست (’’غیرمسلح مزاحمت /تصادم‘‘)کا نسخہ ایجاد کیا۔تاکہ عوامی احتجاج کے ذریعے سے وقتاً فوقتاً عوام کے موڈ کا پتہ چلتا رہے اور ابلیسی آلہ کار حالات کے مطابق اپنی حفاظت کا بندوبست کرتے رہیں۔ابلیس نے جدید دور کے سامری کے ذریعے سے آئین اورجمہوریت وغیرہ کا جو سحر پھونکااس کی رو سے عوام کے لیے اپنے جمہوری آقاؤں/انسانیت کے دشمنوں کے خلاف کسی بھی صورت ’’مسلح تصادم‘‘ کو ہمیشہ کے لیے حرام قرار دے دیاگیا۔یعنی جمہوری آقا اگرآپ سے آپ کی خالص غذا چھین لیں، غذا کے نام پر آپ کو ہر روز زہر کھانے پر مجبورکریں، آپ کو زندگی کی بنیادی ترین ضرورتیں آپ کی صلاحیتوں کا بدترین استحصال کرکے اور آپ کو کولہو کا بیل بناکر بھی پوری نہ ہونے دیں،آپ کے لیے ایسا ماحول بنادیں کے آپ کے لیے سودسے پاک معیشت اختیار کرنا،بے حیائی اور عریانیت سے پاک معاشرت اختیار کرنا اور مادہ پرستی و زرپرستی سے پاک تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہوجائے اور انسان کی بنیادی ترین ضرورتوں کا حصول اس حدتک مشکل کردیاجائے اور اس کی خاطر اسے پیسے کے پیچھے اتنا بھگایا اور تھکایاجائے کہ وہ پیسے کا پرستار اورپجاری بن کر رہ جائے۔اس حقیقت کا اظہار مریدرومی علامہ اقبال ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
عصرحاضر ملک الموت ہے تیرا، جس نے
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکر معاش 
پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی طبقہ جمہوریت اور جمہوریت کی ان لعنتوں سے آزاد رہنے کی کوشش کرتا ہے (مثلاً پہاڑی علاقوں پر رہنے والے اور اسلام سے محبت کرنے والے مسلم قبائل)تو تعلیم،آزادی،تہذیب اورجمہوریت کے خوشنماعنوانات کے تحت انہیں ان لعنتوں میں گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے جس میں اس وقت نوع انسانی من حیث المجموعی گرفتار ہے۔ پہاڑوں پر رہنے والے آزاد اور بہادر مسلم قبائل ابلیسی قوتوں کے اس بہکاوے اور لالچ میںآنے سے جب انکار کرتے ہیں اورمغربی ابلیسیت کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں توانہیں دہشت گرد قرار دے کر ان پر جنگ مسلط کردی جاتی ہے۔
یہ وہ معروضی حقائق ہیں جن سے ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ عالمی ابلیسی طاقتیں اور ان کے پیروکاراپنے ان سب جرائم کو جمہوریت، آزادی اور آئین کے خوشنما پردوں میں چھپانے کی کس طرح کوشش کرتے ہیں اور انسانی معاشروں کے فہیم طبقہ کے لیے کوئی راستہ باقی نہیں رہنے دیتے کہ وہ اپنے ملک و قوم اور ساری انسانیت کو ابلیسیت کے اس ملعون اور منحوس شکنجے سے نکالنے کے لیے اسلام کے جذبہ جہاد وقتال کو کام میں لائے۔ابلیس کی یہ داشتہ جمہوریت اسلام کے ماننے والوں پر لازم کرتی ہے کہ وہ ابلیس اور اس کی نمائندہ عالمی طاقتوں اور ان کے آلہ کار مسلم حکمرانوں کے اسلام کش اور انسانیت سوز جرائم پر زیادہ سے زیادہ بس ’’احتجاج ‘‘ کرلیا کریں۔اس ’’احتجاج‘‘ سے آگے بڑھ کر اگر انہوں نے ابلیس اور اس کے آلہ کارعالمی طاقتوں کے انسانیت سوز جرائم کے خلاف قرآن کے جذبہ جہاد و قتال سے کام لینے کی کوشش کی تواس کی انہیں کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
افسوس صد افسوس جدید دور کا سامری اپنی آلہ کار عالمی طاقتوں کے ذریعے سے ساری دنیا کے انسانوں سے جو مطالبہ کررہا ہے عین وہی مطالبہ ہمارے نہایت محترم علمائے دین بھی کرنے لگ گئے ہیں۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ: 

(1) ہم نہ ہی سیاسی حکومت کا قیام بذریعہ انتخاب(Election) کو حرام سمجھتے ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے دینی و دنیاوی استحصال پر احتجاج کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔ہمارا اصل دکھ تو یہ ہے کہ ان ٹولز کو ضرورت اور کام چلانے کے ٹولز کے عام مقام پر رکھنے کی بجائے ہمارے قائدین اور دینی زعماء انہیں انسانیت کی یافت اور مسائل کا واحد حل بناکر پیش کررہے ہیں۔
(2) جہاد وقتال کے قرآنی و نبوی منہاج پر کب کیسے اور کس طرح عمل پیرا ہونا چاہیے، یہ ایک الگ معاملہ ہ اور اس پر اختلاف رائے کی پوری پوری گنجائش موجود ہے۔نیز یہ کہ جس طرح دین کے کسی بھی جز اور رکن کو اللہ کی رضا اور اخروی نجات کے جذبے کے تحت ادا کرنا مطلوب ہے اور ذاتی و دنیوی مقاصد کے حصول کے لیے دینی ارکان کی ادائیگی اللہ کے نزدیک بجائے اجر کے الٹا عذاب کا باعث بنادیتی ہے بالکل اسی طرح ’’جہاد و قتال‘‘ کے قرآنی حکم کو ذاتی اغراض اور مفادات کے لیے استعمال کرنے کی شدید حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔
لیکن سوچنے کا مقام ہے کہ پاکستان کے اس ’’بازار‘‘ میں یہ جعلی پراڈکٹ اتنی زیادہ کیوں بک رہی ہے؟کہیں ایسا تونہیں کہ قرآن وسنت جیسی اعلیٰ ترین نعمت کی ناقدری وخلاف ورزی اور ایمان و اخلاق کے معاملہ میں افلاس و قحط زدگی میں مبتلا غافل قوم کی غفلت کا فائدہ اٹھا کرعالمی ابلیسی قوتوں نے اسلام،مسلمانوں اور مذہبی قوتوں کو بدنام کرنے اور برائی کا سمبل ثابت کرنے اور مسلم ممالک کو بدترین خانہ جنگی میں دھکیلنے کے لیے ایک طرف جعلی مجاہدین بناکرانہیں مسلم علاقوں کا امن تباہ کرنے اور مسلم افواج سے لڑائی پر لگادیا۔تاکہ اس طرح مسلم علاقوں کا امن وامان بھی تباہ و برباد کردیاجائے اور مسلمانوں کی اعلیٰ ترین دفاعی قوت(جہاد و قتال‘)کوبھی دہشت گردی کا نام دے کرنہ صرف غیرمسلم دنیا بلکہ غفلت ومعاصی میں ڈوبی ہوئی مسلم دنیا میں بھی اسے برائی کا ایک سمبل بناکررکھ دیاجائے۔اوراپنے اس جعلی جہاداورجعلی مجاہدین کے ذریعے سے اصلی جہاد اور اصل مجاہدین کو بدنام اور ان کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیاجائے۔جبکہ قرآن وسنت نہایت شدومد سے مسلمان اور جذبہ جہاد کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہیں۔حدیث نبوی کی رو سے جس کے اندر شہادت کی آرزو نہیں اور اس کی اس حالت میں موت واقع ہوگئی تو اس کی موت ایک قسم کے نفاق پر ہوئی۔جبکہ پاکستانی معاشرے میں ’’ایمان اور جہاد‘‘ کی دعوت اور محنت ایک اجنبی دعوت بن چکی ہے۔ ہم اجتماعی طور پرایک طرف اگر ایمان کی آبیاری، ایمان کے احیا اور سیرت و اخلاق کے تزکیہ سے غافل و لاپرواہ ہیں اور اس طرح امت مسلمہ کے محوری و مقصدی اورداخلی حصار سے بدترین غفلت کا مظاہرہ کررہے ہیں تو دوسری طرف امت مسلمہ کے خارجی حصار یعنی جذبہ جہاد وقتال کی آبیاری، آگاہی، اس کی متوازن تعلیم اور اس کی حکیمانہ ومومنانہ تربیت سے ہم تہی دست اور بانجھ ہوچکے ہیں۔اوراس نہایت اہم ترین فریضہ(ایمان و جہاد)پر اپنی توجہات کو مرکوز کرنے کی بجائے ہم اپنی قو م کو ’’اسلام کا نفاذ بذریعہ جمہوری واحتجاجی تحریک‘‘کا لالی پاپ دیے چلے جارہے ہیں جس کے بارے میں علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا:
اٹھاکر پھینک دوباہرگلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے 
ہمیں مولانا زاہدالراشدی اور دیگرمسلم مفکرین کے اخلاص پہ کوئی شبہ نہیں ہے۔اور ہمارے خیال میں ان کی زیربحث متنازعہ سوچ کی پشت پر بھی’’نئی تہذیب کے ان گندے انڈوں‘‘ کو ایک جبراور مجبوری (لادینیت )سے نجات کے لیے بطورہتھیاراستعمال کرنے کا مبارک جذبہ کارفرما ہے۔اور’’جہاد‘‘ کے نام پر مسلم معاشروں کو بدترین بدامنی اورخانہ جنگی کی طرف دھکیلنے سے بچانابھی مطلوب ہوسکتا ہے۔ہم ان کے ان مبارک احساسات کی دل کی گہرائیوں سے قدر کرتے ہیں۔لیکن ہم نہایت ادب سے عرض کرنا چاہتے ہیں کہ جدید شیطانی تہذیب کی طرف سے مسلط کردہ جبراور مجبوری(لادینیت) سے نجات کے لیے اسی تہذیب کے ٹولزمیں جزوی ترامیم کرکے انہیں اسلامی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اوراس کی عظمت کے گن گائے بغیر اسے ایک عارضی ضرورت سمجھناایک الگ معاملہ ہے، عقل و شریعت جس کی تائید کرتی ہیں۔لیکن وقتی ضرورت کے ان عارضی ٹولز کو اسلام کے غلبہ کے لیے واحد منہاج قرار دے دینااور اسے انسانیت کے لیے ایک عظیم نعمت قرار دے دینانہ صرف مبالغہ آمیزی ہے بلکہ اسے اس حد تک اہمیت دینا کہ اسلام کا ’’جہاد و قتال‘‘ کا تصوردب جائے اور پس پردہ چلا جائے(اور مغرب کی ابلیسی طاقتوں کی چلائی گئی مہم کہ جہاد فساد ہے کی تائیدہوتی محسوس ہو) تو ہمارے نزدیک ایک مثبت اورمبارک جذبہ کے تحت وقوع پذیر ہونے والی سوچ مبالغہ اور عدم توازن کا شکار ہوکرلاشعوری اوربالواسطہ طور پراسلام کے تصور جہادوقتال کی توہین اور تنقیص کی مرتکب ہورہی ہے۔
جب دنیا کا منظرنامہ یہ صورتحال پیش کررہا ہو کہ پوری دنیا میں’’جمہوریت ‘‘ کے نام پر انسانیت کی بدترین تذلیل اور استحصال ہورہا ہو۔ساری دنیا کی حکومتیں جمہوریت کا نام لے کراپنے عوام کی ’’روح اور جسم‘‘ ہردوکا slowly & steadily گلا دبارہی ہوں۔ابلیس کی آلہ کار عالمی طاقتیں اسلام اور جمہوریت کو ایک دوسرے کی ضد ثابت کرنے پر تلی ہوں۔دنیا کے ہر کونے میں ’’جمہوریت ‘‘ کے نام پر اسلامی اقداراور اس کی علامتوں(حیا،پردہ،حجاب، داڑھی)کو چن چن کر ختم کرنے کی کوششیں ہورہی ہوں اورجہاں بس چلے (مثلاً فلسطین، چیچنیا، کوسوو، بوسنیا، میانمار، کشمیر، عراق، افغانستان میں) مسلمانوں کو بھی چن چن کر مار دیا جائے۔ عالمی ابلیسی قوتوں کے آلہ کارحکمران طبقات کومسلم معاشروں میں جمہوریت کے نام پرکرپشن، بددیانتی، بدعہدی، لوٹ مار، قانون شکنی، غریب کا گلا گھونٹنے،ظلم و فساد کا بازارگرم کرنے، تعلیم، صحت،قانون،عدالت،امن غرض ہرشعبہ زندگی کی ’’حیات’’ کا گلا نہایت مکاری، منافقت، سفاکی اور بے حسی سے گھونٹنے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ان مقاصد کے حصول کے لیے عالمی طاقتوں کاابلیسیت کی تمام طاقتوں سے مسلح ہوکراپنے آلہ کار مسلم حکمرانوں کی مکمل سرپرستی کرنااور بار بار جمہوریت کا راگ الاپناوہ بدترین فعل ہے جس نے مسلم ممالک میں بدترین فساد،بربادی،تباہی، انارکی کا ایک ناختم ہونے والا منحوس چکر چلایا ہوا ہے۔جمہوریت کے نام پر مسلم ممالک کا تعلیمی شعبہ مغربی دہشت گردی کا شکار ہے، ہمارا صحت کا شعبہ ابلیسی دہشت گردی کا شکار ہے، ہمارا عدالتی نظام قانون کے نام پر بے انصافی اورانصاف میں تاخیرکی خوفناک دہشت گردی کا شکار ہے،ہماری معیشت، ہماری معاشرت، ہمارے ذرائع ابلاغ غرض زندگی کا ہر ہر موثروقابل ذکر شعبہ ابلیسی دہشت گردی کا شکار ہے۔اور ہم اس بدترین زوال، اس بدترین دہشت گردی کا شکار ہونے کے باوجود۔۔۔اور تسلسل کے ساتھ مسلم معاشروں کے ہر شعبہ زندگی پر مغرب کے ابلیسی فکری و عملی دہشت گردانہ حملوں کی موجودگی میں تنازعات کو صرف’’جہاد بذریعہ غیرمسلح احتجاجی تحریک‘‘میں سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یہ رویہ نہ صرف جہاد بمعنی قتال میں مداہنت کے ارتکاب پر مبنی ہے بلکہ مسلم ممالک اورساری انسانیت کو درپیش ابلیس کے شش اطراف دہشت گردانہ حملوں سے آنکھیں چرانے اور غض بصر کرنے کے مترادف ہے۔

پس چہ بایدکرد! 

ہمارے محترم قائدین کے لیے مستقل اور اصل لائحہ عمل یہ ہے کہ وہ قرآن وسنت پر پوری قوت سے کاربند ہوجائیں۔اپنے عمل ، اپنے کردار اور اپنے رویوں سے ایمان واخلاق کا ایسانمونہ پیش فرمائیں کہ مسلم عوام سیرت سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان زندہ نمونوں کو آئیڈیلائز کرنے پر آمادہ ہوجائیں جس کا نتیجہ ہوگا کہ امت مسلمہ کے ایمان اور اخلاق کے اجتماعی نمونہ کی کشش ساری دنیا کے باضمیرانسانوں کو اپنی طرف مائل کرے گی۔اور ساری دنیا کے اذہان کو قرآن اور سنت نبوی کا زندہ، مثبت اور پُرکشش پیغام متاثرکرے گا۔مستقل اور اصل لائحہ عمل کے ساتھ پیہم وابستگی اور تمسک کرنے کے ساتھ ساتھ اس وقتی واضطراری لائحہ عمل کے جواز کوتسلیم کیاجاسکتا ہے کہ ہماری دینی قوتیں اپنے اصل فرض منصبی اور مستقل لائحہ عمل کو ترک کیے بغیراپنے اپنے ملکوں کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام دینی قائدین و مسلم زعماء کے اتفاق رائے سے نفاذ اسلام کے لیے انتخاب یا احتجاج کا اضطراری آپشن استعمال کریں۔اگرچہ ہماری رائے میں مغرب کی عالمی ابلیسی قوتوں نے یہ اٹل فیصلہ کیا ہوا ہے کہ انہوں نے ان دونوں آپشنز کو غلبہ اسلام اور نفاذ دین کاذریعہ کسی صورت نہیں بننے دینا۔دوسرے لفظوں میں اسلام کا نفاذمغربی طاقتوں کے لیے کسی صورت قابل برداشت نہیں۔لہٰذاان آپشنز کو صرف ایک وقتی مجبوری اوراضطرارسمجھیں ۔لہٰذا اس طریقہ کے ذریعے نفاذ اسلام میں ناکامی کی صورت میں انہیں لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیں،نہ کہ نفاذ اسلام کے لیے اسے کائنات کا بہترین اور واحد ممکن ترین طریقہ ثابت کرنے پر اپنی توانائیاں اور وقت ضائع کرتے چلے جائیں۔
اس تناظر میں اس اضطراری آپشن کا نہایت محتاط اور صرف بوقت ضرورت استعمال کے جواز کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری دینی قوتوں کا فرض ہے کہ وہ جمہوریت کے خوشنما چہرے میں چھپی ہوئی بدترین شیطنیت کا ادراک کریں اور جدید،روشن خیال تہذیب کے عنوان سے پچھلے دو سوسالوں سے ابلیسیت کی نمائندہ عالمی طاقتوں کی انسانیت (اور انسانیت کے حقیقی محافظ اسلام)کے خلاف اعلان جنگ کا پردہ چاک کرتے ہوئے اپنے اپنے دائرہ کار میں(تعلیم اور ابلاغ کے ذریعے سے)ایمان اور جہادوقتال کے قرآنی و نبوی منہاج کی دعوت کوڈسپلن بنیادوں پر استوار کریں۔
ہماری دینی قوتوں پر ہردم یہ واضح رہنا چاہیے کہ ایمان واخلاق نہ صرف تمام شعبہ ہائے حیات کی اصلاح کا مستقل اورابدی نبوی منہاج اور حل ہے بلکہ انسانی شعبہ ہائے حیات پر ابلیسیت کے جابرانہ اورقاتلانہ حملوں،امن کے خلاف ابلیس کے پیدا کردہ فساد، دہشت گردی اورجنگ کے تدارک کے مستند ترین اور کائنات کے رب کے محبوب ترین علاج ’’جہاد و قتال‘‘ کا بھی داخلی محافظ و نگہباں ہے جبکہ جہاد وقتال ایمان واخلاق کا خارجی محافظ ہے۔آج مسلم عوام کو، مسلم اساتذہ کو، مسلم صحافیوں کو، مسلم ذرائع ابلاغ کو، مسلم حکمرانوں کواور مسلم مسلح افواج کو ابلیسیت کے شش اطراف انسانیت کش حملوں سے بچانے کا اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ اان کے فکر و عمل کو ’’ایمان واخلاق‘‘کی ابدی طاقت اور ‘‘جہاد قتال‘‘کی ہنگامی ربانی طاقت سے مسلح کرنے میں ہمارے قائدین اور مفکرین مسلسل، پیہم اور بلاتعطل جدوجہد پر اپنی صلاحیتوں کو مرکوز فرمائیں۔اس جدوجہدسے غفلت اورعدم توجہی نے انسانیت کی روح کو ’’موت و حیات‘‘ کی کشمکش میں مبتلا کیا ہوا ہے۔اگرہمارے نہایت محترم قائدین کسی مجبوری یا عذرکی وجہ سے اپنی اصل اور مستقل ذمہ داری نباہنے سے قاصر ہیں تو ہم نہایت ادب سے عرض کریں گے کہ وہ کم از کم امت مسلمہ کے وقاراور اسلام کے نفاذکو ان وقتی ہنگاموں،احتجاجی جلوسوں اور لانگ مارچوں سے مشروط کرنے کا سبق نہ پڑھائیں، جنہیں آزما آزما کرحضرت انسان تھک چکا ہے مگرمنزل ہے کہ ہاتھ لگتی ہی نہیں۔ یہ فرسودہ احتجاجی ہتھکنڈے(بمعنی منظم اورپرامن احتجاجی تحریکیں) کم از کم پچھلے ایک سوسال سے مسلم سیاسی ومذہبی تحریکوں کے زیرعمل ہیں۔۔۔لیکن نتیجہ سب کے سامنے ہے،دنیا میں غلبہ واقتدار اور دین کا احیا تو کیا ہوتا، الٹا ایمان اورمذہب کی رہی سہی قدریں بھی اس راہ میں گم ہوکر رہ گئیں۔سوال کیاجاسکتا ہے کیوں؟ اس کا سادہ سا جواب ہے کہ اضطرار کو اضطرار کے مقام پر رکھنے کی بجائے اسے اوڑھنا بچھونا بنالیاگیا اوراس غیر فطری اصرار اور جنون میں وہ اپنا اصل اور مستقل لائحہ عمل بھلاتے اور پس پشت کرتے چلے گئے۔
ماضی وحال کا ذرا باریک بینی سے ہم مشاہدہ کرتے ہیں توصاف نظرآتا ہے انسانیت کے اجتماعی ضمیر نے جب بادشاہت اور کلیسا کے انسانیت کش گٹھ جوڑ کے ظالمانہ شکنجے سے نکلنے کے لیے اپنے شدید غم وغصہ کا اظہار بذریعہ ایک غیرمسلح احتجاجی تحریک کیا تواس کے نتیجے میں دنیا ’’بادشاہت اور کلیسا‘‘ کے جبر اور تسلط سے تو نکل آئی مگرابلیس نے فوراً اپنا لباس تبدیل کرلیا اورنتیجتاً دنیامغرب کے عیار،بے حس،مکار اور انسانیت دشمن جمہوریت پسندتاجروں کے تسلط میں پھنس گئی اور بیسویں صدی کے یہی جمہوری درندے تھے جن کے درمیان دو عالمگیر جنگیں برپا ہوئیں جس میں کروڑوں انسان ہلاک ہوئے، کسی جنگ میں اتنی بڑی تعداد میں انسانوں کی ہلاکت تاریخ انسانی میں صرف پہلی بار ہوئی، ان جمہوریت پرست درندوں نے براعظم امریکہ کے کروڑوں انسانوں کو چن چن کرجانوروں کی طرح ہلاک کیا۔اور آج تک یہ انسانیت دشمن، ابلیس کے پیروکار، حیا اور اسلام سے دہشت زدہ جمہوری درندے ساری دنیا پر مسلط ہیں۔ اگرجمہوریت نے مغرب کے ان درندہ صفت انسانوں میں کوئی تبدیلی پیدا کی ہوتی (جو Dark Agesمیں بھی بالکل درندوں ہی کی طرح ایک دوسرے کا گلا کاٹتے رہتے تھے)تویہ انسانیت کوعقیدہ و فکر کی آزادی دیتے، انسانیت کے لیے زندگی کی ضروریات وسہولیات کا حصول (ارزاں ترین قیمت پر)آسان ترین کردیتے،اسلام اور حیا کو اپنا سب سے بڑا دشمن نہ سمجھتے، دولت، سائنس اور ٹیکنالوجی کو ساری دنیا کے انسانوں کے دکھ ،درداور مسائل دور کرنے کے لیے استعمال کرتے، جنگی جنون اور مہلک ایٹمی و کیمیاوی ہتھیاروں سے اپنے آپ کو مسلح نہ کرتے۔مگر آج دنیا کا جو منظر نامہ ہے وہ ان مثبت باتوں کے بالکل الٹ ہے۔ان مہلک نتائج کو دیکھ کر ہی حضرت علامہ اقبال کو آج سے قریباً سو سال پہلے کہنا پڑا:
تیری حریف ہے یا رب سیاست افرنگ
مگر ہیں اس کے پجاری فقط امیر و رئیس
بنایا ایک ہی ابلیس آگ سے تونے
بنائے خاک سے اس نے دو صد ہزار ابلیس
(نوٹ: جمہوریت کے مکروہ اور وحشی چہرے سے یوں پردہ اٹھتا دیکھ کر عام امن پسند انسان کے ذہن میں سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ پھر موجودہ دنیا کے لیے قابل عمل سیاسی نظام کون سا ہوسکتا ہے تواس کا جواب ہے خلافت۔اس ضمن میں عملی پیچیدگیوں کی وضاحت کی لیے مولانا زاہد الراشدی صاحب کی کتاب’’اسلام ،پاکستان اور جمہوریت‘‘میں قابل قدرمواد موجود ہے ،ان سطور کے حقیر راقم کا یہ مضمون اس کتاب کے آخری باب کا نقدلیے ہوئے ہے۔جبکہ خلافت کے مقاصدکے حوالے سے ڈاکٹر محمودغازیؒ کی کتاب’’محاضرات شریعت‘‘ میں بے حد مفید مواد دستیاب ہے) 
اسلامی انقلاب بذریعہ غیر مسلح مزاحمت کوبطورایک فلسفہ اورمستقل منہاج بتانے والوں کی سوچ زمینی حقائق سے کس قدرنابلداورلاتعلق ہے؟اوربظاہر ایک نہایت سنجیدہ فلسفہ ہونے کے باوجود اس میں کس قدرلطیفے پنہاں ہیں۔۔۔یہ کہانی پھرسہی۔ طوالت کے خوف سے ہم اپنی گذارشات کو یہیں پہ ختم کرتے ہیں اور اپنے بزرگوں سے امید کرتے ہیں کہ وہ ہماری گذارشات پر ضرور غورفرمائیں گے۔اختلاف رائے میں اگر کہیں حدادب سے تجاوز ہوا ہو تو اپنی درج ذیل کیفیت کی وجہ سے ہم دل کی گہرائیوں سے معذرت خواہ ہیں:
گفتار کے اسلوب پہ قابونہیں رہتا
جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات

میاں محمد عارف ایڈووکیٹ کا انتقال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۴ مارچ، جمعۃ المبارک کو صبح اذان فجر ہو رہی تھی کہ قاری محمد یوسف عثمانی صاحب نے فون پر اطلاع دی کہ میاں محمد عارف صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دو روز قبل میں ان سے مل کر آیا تھا، ان کا ہارٹ کا آپریشن ہوا تھا اور بظاہر کامیاب ہوگیا تھا۔ ہم خوش تھے کہ آپریشن کامیاب ہوگیا ہے اور وہ بھی حالات حاضرہ پر حسب معمول گفتگو کر رہے تھے۔ ہم نے اجازت چاہی تو کہا کہ آنا اپنی مرضی سے ہوتا ہے لیکن جانا ہماری مرضی سے ہوگا، اس لیے چائے پیے بغیر نہیں جا سکیں گے۔ اس بہانے کچھ دیر ان کے ساتھ گفتگو رہی جو زیادہ تر حالات حاضرہ اور حکومت طالبان مذاکرات کے بارے میں تھی۔ وہ مولانا سمیع الحق کے بارے میں پریشان تھے کہ وہ اس بڑھاپے میں بہت بڑی آزمائش سے دو چار ہوگئے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ جب سے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا ہے، میں بھی مولانا سمیع الحق کے لیے مسلسل دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی عزت اور بھرم کو قائم رکھیں، وہ ہمارے شریف اور باوقار بزرگوں میں سے ہیں، آمین یا رب العالمین۔
میاں محمد عارف کا تعلق گوجرانوالہ کی انصاری برادری سے تھا۔ ان کا خاندان تقسیم ملک کے بعد امرتسر کے علاقہ سے ہجرت کر کے گوجرانوالہ میں آباد ہوا تھا اور پل لکڑ والا کے قریب گلی آسا ملتانیہ میں ان کی رہائش تھی۔ ان کے والد محترم میاں رحیم بخش انصاری نیک دل اور خداترس بزرگ تھے، کپڑے کا کاروبار کرتے تھے، پرانے ریلوے اسٹیشن کے سامنے ریل بازار میں سفینہ کلاتھ مارکیٹ میں ان کی بیڈ شیٹ وغیرہ کی دکان ہے اور ایک فیکٹری بھی ہے جس میں اسی نوعیت کی چیزیں تیار ہوتی ہیں۔ میاں رحیم بخش صاحب مرحوم والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے قریبی ساتھیوں اور معتقدین میں سے تھے، اور حضرت والد محترمؒ کے بارے میں اپنی عقیدت و محبت کا اظہار ان الفاظ میں کیا کرتے تھے کہ ’’وہ اس صدی کے مجدد ہیں‘‘۔ 
میاں محمد عارف مرحوم کے ساتھ میرا تعلق اس دور میں قائم ہوا جب وہ کالج کے اسٹوڈنٹ تھے اور میں نصرۃ العلوم میں آخری درجات کا طالب علم تھا۔ جمعیۃ طلباء اسلام کی تشکیل کا مرحلہ تھا، اس موقع پر ہمارے استاذِ محترم مولانا حافظ عزیز الرحمنؒ کو جمعیۃ طلباء اسلام کا گوجرانوالہ میں صدر چنا گیا اور میاں محمد عارف سیکرٹری چنے گئے، جبکہ مجھے نائب صدر بنایا گیا۔ وہیں سے ہماری جماعتی اور تحریکی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ باہمی ربط و تعلق کا آغاز ہوا جو کہ کم و بیش پینتالیس برس جاری رہنے کے بعد اس دنیا میں ان کی وفات پر ختم ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ 
حضرت حافظ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ اور حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے ساتھ عقیدت و محبت کا گہرا رشتہ تھا۔ حضرت درخواستیؒ ان کے گھر تشریف لایا کرتے تھے اور بہت شفقت فرمایا کرتے تھے۔ ان دونوں بزرگوں کے ساتھ میرا تعلق بھی اسی نوعیت کا تھا اور خانپور اور شیرانوالہ کی حاضری ہمارے لیے ’’ایمان کی تازگی‘‘ کا باعث ہوا کرتی تھی۔ میں جمعیۃ طلباء اسلام میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد جمعیۃ علماء اسلام میں منتقل ہوگیا جبکہ میاں صاحب مرحوم ایل ایل بی سے فراغت کے بعد جمعیۃ طلباء اسلام میں ہی متحرک رہے اور اپنی محنت اور صلاحیتوں کے باعث بڑھتے بڑھتے مرکزی صدر کے منصب تک جا پہنچے۔ جماعتی اور تحریکی سرگرمیوں کے دوران حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ ، حضرت مولانا سید نفیس الحسینی ؒ ، حضرت مولانا محمد اکرمؒ اور دیگر بزرگوں کے ساتھ مسلسل رابطے رہتے تھے اور میاں محمد عارف کو ان بزرگوں سے خوب استفادہ اور رفاقت کا شرف حاصل ہوا۔
حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وفات کے بعد جب جمعیۃ علماء اسلام دو حصوں میں بٹ گئی تو میری طرح میاں محمد عارف مرحوم بھی حضرت درخواستیؒ کے ساتھ تھے اور بہت پر جوش اور متحرک تھے۔ ہمارا مزاج ایک دوسرے سے مختلف تھا، میں ہمیشہ موقف میں بے لچک مگر طرز عمل اور گفتگو میں نرم رو رہا ہوں۔ میاں صاحبؒ دونوں حوالوں سے بے لچک اور سخت تھے جس کا اظہار وہ بے باکی کے ساتھ کرتے تھے بلکہ بعض دوست تو ان کے غصے کا نظارہ کرنے کے لیے اس قسم کے مسائل ان کے سامنے چھیڑ دیا کرتے تھے۔ 
گوجرانوالہ میں قدیم اور جدید تعلیم کے امتزاج کے ساتھ ایک نیا تعلیمی ادارہ قائم کرنے کا کچھ دوستوں نے پروگرام بنایا تو وہ بھی شروع ہی سے ہمارے رفیق کار تھے۔ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی جو کہ اب جامعہ شاہ ولی اللہؒ کے نام سے جامعۃ الرشید کراچی کی شاخ کے طور پر کام کر رہی ہے، اسی پروگرام کا نتیجہ ہے جس کے لیے الحاج میاں محمد رفیق مرحوم کے ساتھ میاں محمد عارف مرحوم بھی ایک عرصہ تک سرگرم عمل رہے اور اب بھی وہ جامعہ شاہ ولی اللہؒ کے مشاورتی نظام کاحصہ تھے، اور اس کی بہتری اور ترقی کے لیے آخر دم تک فکر مند رہے۔ 
جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں ایک مرحلہ میں بعض انتظامی معاملات میں تنازعہ نے شدت اختیار کر لی اور معاملات عدالتوں تک جا پہنچے تو حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے ساتھ پورے شد و مد اور جوش و خروش کے ساتھ کھڑے ہو کر مقابلہ کرنے والے دوستوں میں میاں محمد عارف سر فہرست تھے۔ وہ مدرسہ کی کمیٹی کے صدر بھی بنے اور وفات تک رہے۔ شہر کے بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے کئی بار حصہ لیا، اپنے حلقہ کے کونسلر اور ناظم رہے اور ایک موقع پر ڈپٹی میئر کے منصب پر بھی فائز ہوئے۔ 
مولانا سمیع الحق کے ساتھ ان کا بہت گہرا تعلق تھا، اور وہ ان کے مشیر خاص سمجھے جاتے تھے۔ جمعیۃ علماء اسلام (س) کے مرکزی نائب امیر تھے اور جماعت کی پالیسی سازی میں ان کا اہم کردار ہوتا تھا۔ گزشتہ دنوں مولانا سمیع الحق نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالہ سے مختلف مکاتب فکر کے راہ نماؤں کو اعتماد میں لینے کے لیے لاہور کے ایک ہوٹل میں کل جماعتی کانفرنس کی تو مجھے وہاں میاں محمد عارف دکھائی نہ دیے جو میرے لیے حیرت اور تعجب کی بات تھی۔ دوستوں سے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ وہ بیمار ہیں اور انہیں ہارٹ کی تکلیف ہوگئی ہے۔ دوسرے دن فون پر ان سے حال پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ انجیو گرافی کے لیے لاہور جا رہے ہیں۔ ایک دو روز کے بعد پھر حال معلوم کیا تو پتہ چلا کہ ان کا ہارٹ کا آپریشن ہوا ہے اور وہ گوجرانوالہ واپس آگئے ہیں۔ گزشتہ روز ان کی عیادت کے لیے جلیل ٹاؤن ان کے گھر گیا جس کا حال پہلے لکھ چکا ہوں، اور آج صبح ان کے انتقال کی خبر مل گئی ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آج میں ایک مخلص، پر جوش اور درد دل سے بہرہ ور ساتھی کی پینتالیس سالہ رفاقت سے محروم ہوگیا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ اب مجھ سے جھگڑے کون کرے گا، تلخ و تند لہجے میں اختلاف کون کیا کرے گا اور ملی و قومی مسائل پر گہرے رنج و اضطراب کے ساتھ اظہار خیال کس سے سننے کو ملے گا؟ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاں

ادارہ

  • دسمبر ۲۰۱۳ء جنوری ۲۰۱۴ء میں اکادمی کے زیر اہتمام دینی مدارس کے طلبہ کے لیے جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں ۴۰ روزہ عربی بول چال کورس کا، جبکہ جنوری تا مارچ ۲۰۱۴ء کے دوران میں انگریزی بول چال کورس کا انعقاد کیا گیا۔
  • ۲۳  فروری کو مولانا زاہد الراشدی نے الشریعہ اکادمی میں پندرہ روزہ فکری نشست سے خطاب کیا۔ حالیہ نشستوں میں ’’تصوف اور عصرحاضر‘‘ کے عنوان پر تسلسل سے گفتگو جاری ہے۔
  • برصغیر کے ممتازسیرت نگارومحقق ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی ۷ اور ۸ مارچ بروز جمعہ وہفتہ گوجرانوالہ کے دو روزہ دورے پر تشریف لائے۔ اس دوران میں انھوں نے گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام منعقدہ سیرت سیمینار میں خطاب کرنے کے علاوہ وزیر آباد میں گورنمنٹ ظفر علی خان ڈگری کالج کے شعبہ علوم اسلامیہ کے زیر اہتمام منعقد کیے گئے سیرت سیمینار میں کلیدی خطبہ دیا، جبکہ ۸ مارچ کو الشریعہ اکادمی میں علماء وطلبہ کی ایک مختصر نشست میں’ ’سیرت نگاری کے جدید اور عصری تقاضے‘‘ کے عنوان پر گفتگو فرمائی۔
  • ۱۸ مارچ کو الشریعہ اکادمی میں جمعیت علماءِ اسلام(س)کے مرکزی نائب امیراور گوجرانوالہ کے سابق ڈپٹی مئیر میاں محمد عارف ایڈووکیٹ کی وفات پر تعزیتی نشست مولانا عبدالرؤف فاروقی صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں مولانا زاہدالراشدی، مولانا محمد رمضان علوی، مولانامفتی محمد سیف الدین، میاں محمد طارق ایڈووکیٹ، میاں فضل الرحمن چغتائی اور جناب محمد فاروق شیخ نے خطاب کیا۔ میاں صاحب مرحوم کی دینی وملّی خدمات پر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔
  • اکادمی کے زیر انتظام مدرسۃ الشریعہ میں زیر تعلیم درسِ نظامی سالِ سوم کے طلبہ مارچ کے دوران میں گوجرانوالہ بورڈ کے تحت دسویں جماعت کے امتحانات سے فارغ ہو گئے جبکہ سالِ دوم کے طلبہ کے نویں جماعت کے امتحانات جاری ہیں۔
  • الشریعہ اکادمی کے زیر انتظام مدرسۃ الشریعہ، سالِ سوم کے طالبِ علم محمد امتیاز اورمحمد ابو بکر صدیق نے پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے زیر اہتمام تعلیم کے موضوع پر منعقد ہونے والے مقابلۂ مضمون نویسی میں حصہ لیا اور اعزازی اسناد کے حقدار قرار پائے۔

مولانا زاہد الراشدی کے اسفار

ادارہ

اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے گزشتہ ماہ کے دوران میں مختلف شہروں میں درج ذیل تقریبات اور مجالس میں شرکت اور خطاب کیا:
  • ۲۱ فروری کوجامع مسجد چمن شاہ میں بعد نمازِ مغرب عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کی تربیتی نشست سے خطاب۔
  • ۲۲ فروری بعد نمازِ عشاء تلونڈی کجھور والی میں شہداء کانفرنس سے خطاب۔
  • ۲۳ فروری کو چیمبر آف کامرس گوجرانوالہ کے ہال میں بزمِ حفاظ قرآنِ کریم گوجرانوالہ کے زیر اہتمام تحفیظ القرآن کے سالانہ پروگرام سے خطاب۔
  • ۲۳ فروری کو مغرب کے بعد جامعہ فاروقیہ،شیخوپورہ میں ایک دینی اجتماع سے خطاب۔
  • ۲۵ فروری کو ظہر کے بعدجامعہ تعلیماتِ اسلامیہ،فیصل آباد میں تحریکِ انسدادِ سود کے موضوع پر منعقدہ سیمینار کی صدارت۔ سیمینار میں سرکردہ علماء کرام، تاجر حضرات اور بینکنگ سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی جبکہ ڈاکٹر زاہد اشرف، مولانا ارشاد الحق اثری، مولانا مفتی محمد زاہد، مولانا یاسین ظفر، جناب حامد اشرف، جناب معظم خلیل، جناب محمود احمد کمبوہ، جناب محمد آفاق شمسی اور پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر نے خطاب کیا۔ 
  • ۲۵ فروری کو مغرب کے بعد ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد، چنیوٹ میں سالانہ فتحِ مباہلہ کانفرنس سے خطاب ۔
  • ۲۶ فروری کو ایوانِ اقبال،لاہور میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی سالانہ عالمی فتح مباہلہ کانفرنس سے خطاب
  • ۲۷ فروری کوبعد نمازِ مغرب گکھڑ کے قریب بستی کولار میں حفاظ کی دستار بندی کے ایک پروگرام سے خطاب۔
  • ۲۸ فروری کو دارالعلوم تعلیم القرآن،راجہ بازار،راولپنڈی میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب۔
  • ۲۸ فروری کو جامعہ رحمانیہ،ماڈل ٹاؤن ہمک ،اسلام آبادمیں سودی نظام کی نحوست کے موضوع پر گفتگو۔
  • یکم مارچ کو فیصل مسجد، اسلام آباد کے اقبال ہال میں اتحادِ امت کانفرنس سے خطاب۔
  • یکم مارچ کو مارگلا ٹاؤن اسلام آباد میں ’’وسطی ایشیا میں فقہ حنفی کے ارتقاء‘‘ کے موضوع پر پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین احمد کی تصنیف کی تعارفی تقریب میں شرکت۔ یہ کتاب جامعہ کراچی میں ڈاکٹر نثار احمد صاحب کی نگرانی میں ڈاکٹریٹ کے مقالہ کے طور پر لکھی کی اور گئی چھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل ضخیم کتاب کی صورت میں شائع ہوئی ہے۔ تعارفی تقریب میں آزاد کشمیر کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا محمد اسحاق خان المدنی اور علامہ اقبالؒ اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر جناب ڈاکٹر علی اصغر چشتی بھی شریک تھے۔
  • یکم مارچ کو جامعہ رحمانیہ ماڈل ٹاؤن ہمک اسلام آباد میں سودی نظام کے خلاف مہم کے سلسلہ میں عمومی نشست میں شرکت۔ نشست سے شریعہ اکیڈمی اسلام آباد کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی اور پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری حافظ سید علی محی الدین نے بھی خطاب کیا۔ 
  • ۲ مارچ کوشاہدرہ لاہور میں ظہر کے بعد علامہ ڈاکٹرخالد محمود کے ادارہ جامعہ ملیہ کے سالانہ پروگرام میں حضرت شیخ عبدالقدر جیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی شخصیت وکردار کے موضوع پر خطاب۔
  • ۷ مارچ کومغل چوک گوجرانوالہ میں دینی مدرسہ کے جلسہ سے خطاب۔
  • ۸ مارچ کو چوک یادگار شہداء لاہور میں جامعہ حنفیہ قادریہ کے سالانہ جلسہ سے خطاب۔
  • ۱۰  مارچ کو اسلام آباد ہوٹل اسلام آباد میں ’’مجلس صوت الاسلام پاکستان‘‘ کے زیر اہتمام ’’تربیت علماء کورس‘‘ کے فضلاء میں تقسیم اسناد کی محفل میں شرکت۔ مجلس کے چیئرمین مولانا مفتی ابوہریرہ محی الدین، مولانا عبد القیوم حقانی، ڈاکٹر سعد صدیقی، ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی، ڈاکٹر دوست محمد، سینیٹر طلحہ محمود، جناب خورشید احمد ندیم، ڈاکٹر طاہر حکیم، اور دیگر سرکردہ علماء کرام اور ارباب دانش کے علاوہ اسلام آباد میں رابطہ عالم اسلام کے ڈائریکٹر جنرل الشیخ عبدہ محمد بن ابراہیم عتین نے بھی خطاب کیا۔ بزرگ عالم دین حضرت مولانا محمد اسحاق مدنی کی دعا پر یہ محفل اختتام پذیر ہوئی۔ 
  • ۱۵  مارچ کواسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سالانہ اجلاس میں شرکت اور مغرب کے بعد مرکزی جامع مسجد ابوبکررضی اللہ عنہ، جی-الیون-ون میں سودی نظام کے خلاف نشست سے خطاب۔
  • ۱۶ مارچ کو ظہر کے بعد جامعہ قاسمیہ گوجرانوالہ میں وفاق المدارس العربیہ کے ڈویژنل اجلاس کی صدارت۔
  • ۲۰  مارچ کو روڈ و سلطان ضلع جھنگ میں شیخ العلماء حضرت مولانا محمد عبد اللہ بہلوی قدس اللہ سرہ العزیز کے ادارے ’’خانقاہ بہلویہ‘‘ میں خانقاہ شریف کے سالانہ اجتماع میں شرکت اور گفتگو۔
  • ۲۰  مارچ کو عشاء کے بعد احمد پور سیال کی قدیمی درسگاہ جامعہ شمسیہ فخر المدارس کے سالانہ جلسہ کی ایک نشست میں سیرت نبویؐ کے موضوع پر خطاب۔ اس موقع پر اتحاد اہل سنت کے نو منتخب سیکرٹری جنرل مولانا مفتی شاہد مسعود کے ساتھ ملاقات اور ملک میں مسلکی جدوجہد کے حوالہ سے مختلف امور پر تبادلۂ خیالات ہوا۔
  • ۲۳ مارچ اتوار کو خوشاب میں ایک نئی مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کی سعادت۔
  • ۲۳ مارچ ظہر کے بعد دوسری جامع مسجد صدیق اکبرؓ میں ’’نظریہ پاکستان اور تحفظ مدارس دینیہ‘‘ کے عنوان سے کانفرنس میں شرکت۔
  • ۲۴ مارچ کو جلال پور جٹاں ضلع گجرات میں مولانا قاری میاں احمد صاحب کے مدرسہ جامعہ انوار القرآن کی سالانہ تقریب میں طلبہ کی دستار بندی اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے خطاب۔

فیثا غورث کے زریں اصول

حکیم محمد عمران مغل

فیثا غورث اپنے وقت کا جتنا بڑا سائنس دان تھا، اس سے کہیں بڑا ریاضی دان بھی تھا۔ اس نے جیومیٹری کے قائمۃ الزاویہ سے متعلق جو نظریات پیش کیے، انھیں بعد میں کوئی ریاضی دان چیلنج نہ کر سکا۔ اس کا ایک رونگٹے کھڑے کر دینے والا قول ہے کہ جسے ریاضی نہیں آتی، وہ اپنے آپ کو انسان نہ سمجھے۔ یہ شخص ایک بتی سے کئی تراشے دکھانے والا ریاضی دان تھا۔ 
فیثا غورث نے اپنی کامیابی اور علمیت کا راز تین باتوں میں بتایا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ پینے کے لیے کھلے منہ کا برتن ہونا چاہیے۔ (آج ہم صبح سے شام تک کولا پیتے ہیں، وہ بھی پائپ بوتل میں ڈال کر پیتے ہیں۔ بوتل کا منہ ویسے ہی چھوٹا ہوتا ہے۔) دوسری بات جلیل القدر فیثا غورث نے یہ بتائی کہ کھانے کے لیے موٹا آٹا ہونا چاہیے۔ (بند، ڈبل روٹی، کیک، بسکٹ، باقر خانی، کلچہ کے شیدائی اپنا انجام سوچیں۔) تیسری بات یہ بتائی کہ جوتا چمڑے کا ہونا چاہیے۔
بظاہر یہ بڑے سادہ لیکن حقیقت میں بہت انمول اصول ہیں۔ نت نئے پکوانوں کے فیشن نے ہمارے گردوں اور جگر کا ستیاناس کر دیا ہے۔ پیزا اور سموسے جس دستر خوان پر دیکھے گئے، انھیں صبح شام کسی نہ کسی کلنک پر حاضری دیتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔ ہیپا ٹائٹس اور جسمانی دردیں تو آج ہماری پہچان بن گئی ہیں۔ اس کے ساتھ فارمی مرغی کے بے تحاشا استعمال نے لوگوں کو خونی امراض میں مبتلا کر دیا ہے، اس لیے ہر چھوٹا بڑا خونی یا بادی بواسیر کی شکایت کر رہا ہے۔ فیثا غورث نے کبھی میدہ یا باریک آٹے کے متعلق سوچا بھی نہ ہوگا۔ اس غذا کا پہلا حملہ معدہ پر ہوتا ہے۔ یہیں سے معدہ بگڑتا ہے اور انسانی جسم میں شوگر کے مرض کی ابتدا ہوتی ہے۔