ستمبر ۲۰۱۳ء

مشرق وسطیٰ کی سیاسی و مذہبی کشمکشمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
میری علمی و مطالعاتی زندگیڈاکٹر زاہد منیر عامر 
پاکستانی طالبان ۔ غلبے کے اسبابمحمد اظہار الحق 
مفتی محمد زاہد صاحب کے موقف پر ایک تحقیقی نظر (۲)مولانا عبد الجبار سلفی 
عذابِ قبر اور قرآنِ کریم (۱)مولانا محمد عبد اللہ شارق 
مکاتیبادارہ 
’’میری تحریکی یاد داشتیں‘‘ (چوہدری محمد اسلم کی خود نوشت)چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ 
جگر کے امراضحکیم محمد عمران مغل 

مشرق وسطیٰ کی سیاسی و مذہبی کشمکش

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مصر میں اخوان المسلمون کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے والے فوجی حکمرانوں کی سیاسی و اخلاقی تائید کے ساتھ ساتھ اربوں روپے کی صورت میں ان کی مالی امداد کر کے سعودی حکومت نے اپنے بارے میں بہت سے سوالات کھڑے کر لیے ہیں۔ اگرچہ یہ سوالات نئے نہیں ہیں لیکن آج کی نسل کے لیے ضرور نئے ہیں اور اپنے ماضی سے بے خبری کے باعث علم و دانش کا سطحی اور معروضی ماحول حیرت اورشش و پنج کی کیفیت سے دوچار ہے۔ 
سعودی حکومت اسلامی نظام کی عملداری اور قرآن و سنت کی حکمرانی کی علمبردار ہے اور اس نے اپنی مملکت کی حدود میں ایک حد تک اس کا اہتمام بھی کر رکھا ہے، جبکہ مصر میں اخوان المسلمون کا ایجنڈا بھی یہی ہے اور وہ گزشتہ پون صدی سے اس کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہے۔ اخوان نے سول سوسائٹی اور رائے عامہ کی مدد سے حسنی مبارک کی جس حکومت بلکہ آمریت سے نجات حاصل کی ہے اور مصر کے عوام کو جبر کے جس تیس سالہ طویل دور سے نجات دلائی ہے، اس کا ایجنڈا سیکولر ازم، مغرب نوازی، اسرائیل دوستی اور جبر و تشدد کے ذریعہ حکمرانی کا رہا ہے۔ حسنی مبارک کا طویل دورِ حکمرانی اس کا شاہد ہے، اس لیے جب مصر کے عوام نے سڑکوں پر آ کر قربانی اور جدوجہد کے ذریعہ حسنی مبارک کے آہنی شکنجے کو توڑا اور محمد مرسی کو بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب کر کے ایوانِ صدر میں پہنچایا تو نہ صرف مصر کے عوام نے اطمینان کا سانس لیا بلکہ عالم اسلام کی وہ دینی تحریکات بھی مطمئن ہوئیں جو پُر امن اور عدم تشدد پر مبنی سیاسی جدوجہد کے ذریعہ اپنے اپنے ملک میں نفاذِ اسلام کے لیے کوشاں ہیں۔ لیکن ہمیں خدشہ تھا کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ، عرب دنیا کی رولنگ کلاس اور مصر کے اردگرد کے ماحول کے لیے اخوان المسلمون کی یہ کامیابی ہضم ہونے والی چیز نہیں ہے۔ چنانچہ صدر مرسی کے اقتدار سنبھالنے کے ٹھیک ایک سال بعد فوجی مداخلت کے ذریعہ ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اس موقع پر توقع کی جا رہی تھی کہ دنیا بھر کی پُر امن اسلامی تحریکیں اور اسلام کی حکمرانی پر یقین رکھنے والے حلقے اخوان کی آواز میں آواز ملائیں گے اور ان کی پشت پناہی کریں گے۔ لیکن سعودی عرب کی طرف سے مصر کے فوجی انقلاب کی حمایت اور فوجی حکمرانوں کی خطیر مالی امداد کا اچانک اعلان ایک ایسا بریکر ثابت ہوا جس نے توقعات اور امیدوں کا یہ سارا نظام تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔ 
ہمارے ایک فاضل دوست اور ملک کے معروف عسکری تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام جیلانی خان صاحب نے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں شائع ہونے والے دو کالموں میں اس صورت حال پر تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کیا ہے۔ انہیں یہ شکایت ہے کہ آج کی نسل کو اپنے ماضی بلکہ ماضی قریب کی بھی خبر نہیں ہے اور وہ خلافت عثمانیہ کے زوال میں عرب دنیا کے کردار، آل سعود کے سیاسی و تاریخی پس منظر، جنگ عظیم اول کے بعد نئی عرب ریاستوں کے ساتھ برطانیہ و امریکہ کے معاہدات اور موجودہ عالمی نیٹ ورک میں عرب ریاستوں کی حیثیت و مقام سے بالکل بے خبر ہیں، جس کی وجہ سے ہم نہ صرف یہ کہ معروضی حالات کے اصل تناظر اور زمینی حقائق سے آگاہی حاصل نہیں کر پاتے بلکہ کسی مسئلہ میں صحیح موقف اور طرز عمل اختیار کرنا بھی ہمارے لیے ممکن نہیں رہتا۔ 
ہمیں خان صاحب محترم کے اس ارشاد سے مکمل طور پر اتفاق ہے بلکہ ہم خود متعدد بار یہ عرض کر چکے ہیں کہ یہ ’’بے خبری‘‘ ہماری نئی نسل کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، لیکن اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ’’بے خبری‘‘ محض اتفاقی اور صرف نئی نسل کی بے پروائی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ ’’انجینئرڈ بے خبری‘‘ ہے جس کا ماحول پیدا کرنے کے لیے ہمارے متعلقہ سرکاری اور غیر سرکاری ادارے قیام پاکستان کے بعد سے مسلسل مصروف عمل ہیں۔ اس شعبہ میں ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ یونیورسٹیوں کے اساتذہ، دینی مدارس کے مدرسین، سیاسی جماعتوں کے راہ نماؤں اور ربع صدی سے زیادہ عرصہ تک خطابت و امامت کے فرائض سر انجام دینے والے علماء کرام سے یہ پوچھ لیں کہ خلافت عثمانیہ کا دائرہ کار کیا تھا اور اس کے زوال کے اسباب کیا تھے؟ یا اسرائیل کیسے وجود میں آیا اور اس میں کس کس نے کیا کیا کردار ادا کیا ہے؟ تو قوم کی سیاسی، دینی اور علمی قیادت کا مقام رکھنے والے ان چاروں طبقوں کی غالب اکثریت کے پاس بغلیں جھانکنے کے سوا اس سوال کا کوئی جواب موجود نہیں ہوگا۔ فیا أسفاہ و یا ویلاہ۔
خان صاحب محترم کو شکوہ ہے کہ مڈل ایسٹ میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سنی شیعہ کشمکش کے حوالہ سے ’’پراکسی وار‘‘ چل رہی ہے اور پاکستان میں جاری فرقہ وارانہ کشیدگی اس کا حصہ ہے جس کو سعودی عرب ہوا دے رہا ہے۔ ہمیں ان کی اس بات سے بھی اختلاف نہیں ہے البتہ یہ ضرور عرض کریں گے کہ یہ یکطرفہ اور ادھوری بات ہے۔ 
یہ منظر اب ہر ایک کو نظر آرہا ہے کہ مڈل ایسٹ میں سنی شیعہ کشمکش دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور اس نے مذہبی دائرے سے بڑھ کر سیاسی و عسکری دائروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اس کشمکش کے دائرے میں پاکستان بھی شامل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس مذہبی کشمکش نے سیاسی اور عسکری رُخ کب سے اختیار کیا ہے؟ اس حقیقت کا اظہار کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو، مگر اس کے حقیقت ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایران کے مذہبی انقلاب کے بعد پاکستان میں اس کی نمائندگی کے عنوان سے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ وجود میں آئی اور اس کی طرف سے اپنے فرقہ وارانہ مطالبات کے لیے وفاقی سول سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کیا گیا جس کے رد عمل کے طور پر سنی شدت پسند تحریکوں نے جنم لیا اور معاملات بڑھتے بڑھتے مذہبی خانہ جنگی کی افسوسناک صورت اختیار کر گئے۔ 
اسی طرح مڈل ایسٹ کی ریاستوں میں ایران کے مذہبی انقلاب کے اثرات نے پیش رفت شروع کی، اس عمل اور اس کے رد عمل نے مشرق وسطیٰ کی بہت سی ریاستوں کے داخلی ماحول کو لپیٹ میں لے لیا اور اب حالات یہ رُخ اختیار کرتے جا رہے ہیں کہ غلام جیلانی خان صاحب نے اپنے مضمون میں خلافت عباسیہ کے خاتمہ کے بعد قائم ہونے والی جس فاطمی حکومت کا تذکرہ کیا ہے، اگر کوئی مضبوط رکاوٹ نہ ہوئی تو وہ فاطمی حکومت ایک بار پھر خدانخواستہ مشرق وسطیٰ میں اپنا پرچم لہراتی ہوئی دکھائی دینے لگی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ صورت حال پورے خطے کی سنی اکثریت کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی اور وہ اس سے بچنے کے لیے کچھ نہ کچھ ہاتھ پاؤں تو ضرور مارے گی۔ 
ہماری خان صاحب محترم سے گزارش ہے کہ وہ اس صورت حال پر تشویش کا اظہار ضرور کریں، ہم بھی ان کے ساتھ اس تشویش میں شریک ہیں، لیکن تصویر کے صرف ایک رُخ پر اکتفا کرنے کی بجائے اس کا دوسرا رُخ بھی سامنے رکھیں اور دونوں پہلو سامنے رکھتے ہوئے اس مخمصہ سے نکلنے کے لیے قوم کی راہ نمائی کریں۔
خان صاحب محترم نے شکوہ کیا ہے کہ سعودی حکومت نے مصر کے فوجی انقلاب کی تو خطیر رقم کے ساتھ مالی امداد کی ہے لیکن پاکستان جس کو اس وقت مالی امداد کی سخت ترین ضرورت ہے اسے صرف ائمہ حرمین کے دوروں کی خوش خبری پر ٹرخایا جا رہا ہے۔
خان صاحب نے پاکستان کی مالی امداد کی طرف توجہ نہ دینے پر جو شکوہ کیا ہے، وہ بالکل بجا ہے اور سعودی حکومت سے ہمارا شکوہ بھی یہی ہے۔ لیکن انہوں نے ائمہ حرمین کے پاکستان کے دوروں کا اس کے تقابل میں جس انداز میں تذکرہ کیا ہے، وہ بہرحال محل نظر ہے۔ ائمہ حرمین شریفین کی پاکستان تشریف آوری ہمارے لیے ہمیشہ باعث برکت رہی ہے، وہ کبھی فرقہ وارانہ کشمکش کا حصہ نہیں بنے، حتیٰ کہ حرمین شریفین میں ان کے خطبات جمعہ و عیدین میں بھی فرقہ واریت کا مواد عام طور پر موجود نہیں ہوتا۔ جبکہ ائمہ حرمین بالخصوص فضلیۃ الشیخ السدیس حفظہ اللہ تعالیٰ اپنے خطبات میں وحدت امت اور مذہبی رواداری کے ساتھ ساتھ امت کے دینی، علمی، فکری اور معاشرتی مسائل کی طرف مسلمانوں کی جو راہ نمائی کرتے ہیں، وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔
ویسے بھی سعودی عرب کے علماء کرام کا اپنا ایک کردار ہے۔ سعودی حکومت کے مذہبی دائروں کو قائم رکھنے میں آل شیخ کا مسلسل کردار چلا آرہا ہے۔ سعودی نظام کی اصلاح کے لیے سعودی عرب کے سابق چیف جسٹس الشیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور فتاویٰ مسلم ممالک کی عدلیہ کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خلیج عرب میں امریکی افواج کی آمد پر سعودی عرب کے چوٹی کے دو سو علماء کرام نے جو عرضداشت ’’مذکرۃ النصیحۃ‘‘ کے عنوان سے سعودی فرمانروا کو پیش کی تھی اور جس کے نتیجے میں بہت سے علماء کرام جیلوں میں گئے تھے اور بعض جلا وطن بھی ہوئے، وہ نفاذِ اسلام کی تحریکات کے لیے گائیڈ لائن کا درجہ رکھتی ہے۔ اس لیے ہماری درخواست ہے کہ سعودی حکومت کے سیاسی فیصلوں پر ضرور تنقید کی جائے اور ان سے اختلاف بلکہ احتجاج کا حق بھی استعمال کیا جائے، لیکن ائمہ حرمین شریفین اور سعودی عرب کے علماء کرام کو اس دائرے سے الگ رکھا جائے اور انہیں خواہ مخواہ اس کے ساتھ لپیٹنے سے احتراز کیا جائے، اس لیے کہ اُن کا اِن معاملات کی ذمہ داری میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ 
جہاں تک ’’آل سعود‘‘ کے تاریخی پس منظر اور سیاسی کردار کا تعلق ہے ہم نے کچھ عرصہ قبل ’’پاکستان‘‘ میں ہی اس کا مختصر تذکرہ کیا تھا اور سعودی عرب کے بانی شاہ عبد العزیز مرحوم اور لارڈ چیمسفورڈ کے درمیان ہونے والے اس تیرہ نکاتی معاہدے کا ذکر بھی کیا تھا جس میں برطانیہ عظمیٰ نے سعودی عرب میں آل سعود کے نسل در نسل حکمرانی کے حق کو تسلیم کیا تھا، جبکہ آل سعود کی طرف سے عالمی سطح پر برطانوی مفادات کے خلاف نہ جانے کا عہد کیا گیا تھا اور اس معاہدہ کے نتیجے میں سعودی عرب کی ریاست وجود میں آئی تھی۔ اس میں صرف یہ فرق آیا ہے کہ عالمی سطح پر برطانیہ کی جگہ امریکہ نے لے لی ہے جبکہ باقی معاملات جوں کے توں چل رہے ہیں۔ 
ہمارا خیال ہے کہ جس طرح ائمہ حرمین شریفین اور علماء سعودی عرب کو ’’آل سعود‘‘ کے سیاسی کردار کے ساتھ نتھی کرنا مناسب نہیں ہے اسی طرح ’’آل سعود‘‘ کے سیاسی کردار کو حرمین شریفین کے تقدس کی آڑ میں رکھنا بھی درست طرز عمل نہیں ہے بلکہ اس پر کھلے دل کے ساتھ بحث و مباحثہ کی ضرورت ہے۔ مگر ہم پہلے مرحلہ میں یہ چاہیں گے کہ غلام جیلانی خان صاحب محترم اپنے مخصوص انداز میں خلافت عثمانیہ کے عروج و زوال، اسرائیل کے قیام کے پس منظر، ہاشمی خاندان اور آل سعود کے تاریخی تناظر، پہلی جنگ عظیم کے بعد خلافت عثمانیہ کی شکست و ریخت کے نتیجے میں وجود میں آنے والی عرب ریاستوں کے ساتھ برطانیہ، فرانس اور امریکہ وغیرہ کے معاہدات اور مشرقی وسطیٰ کی موجودہ صورت حال کے ’’معاہداتی پس منظر‘‘ پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالیں۔ ان کے پاس معلومات کے ذرائع بھی زیادہ ہیں، وہ بات کو خوبصورت انداز میں کہنے اور پھر اسے اپنے لہجے میں ڈھالنے کا سلیقہ بھی رکھتے ہیں۔ اس لیے اس داستان کو نئی نسل کے سامنے پیش کرنے کا حق وہ زیادہ رکھتے ہیں، البتہ کہیں منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے ہمیں مداخلت کی ضرورت محسوس ہوئی تو ہم اس سے گریز نہیں کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

میری علمی و مطالعاتی زندگی

ڈاکٹر زاہد منیر عامر کے مشاہدات و تاثرات

ڈاکٹر زاہد منیر عامر

سوالنامہ : عرفان احمد

(عرفان احمد بھٹی اور عبد الرؤف کے مرتب کردہ سوال نامہ کے جواب میں لکھا گیا۔)

میری مطالعاتی زندگی کی ابتدا ایک ’’چھن‘‘ سے ہوتی ہے۔ متوسط درجے کے گھرانوں کے بچے اُکھڑے ہوئے فرش والے کلاس روم میں ریشہ ریشہ وردیدہ ٹاٹوں پر بیٹھے ہیں، سرکاری اسکول کے استاد میز پر ٹانگیں رکھے سگریٹ پینے میں مشغول ہیں، دھوئیں کے مرغولے اڑ رہے ہیں، ان کا ایک مستقل مہمان میز پر بیٹھا ان سے باتیں کررہا ہے۔ اچانک ’’چھن‘‘کی ایک آواز ابھرتی ہے۔ استاد محترم جو اپنے مہمان کی بات بھی کم ہی سن رہے تھے، چونک کرسگریٹ کے دھوئیں کوفضامیں بکھیرتے ہیں اور غضب ناک ہو کر پوچھتے ہیں ’’ یہ آواز کہاں سے آئی ہے۔۔۔؟‘‘
لڑکوں کو سانپ سونگھ جاتا ہے، ساری کلاس سر جھکا کر کتابیں دیکھنے لگتی ہے گویا بہت دل جمعی سے مطالعہ ہو رہا تھا۔ استاد صاحب لڑکوں کی شان میں کچھ ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں یہ تحریر جن کا بار اٹھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ’’چھن‘‘ کی یہ آواز ایک روز تو ’چھناکے ‘ میں بدل گئی جب استادِ محترم نے کلاس روم کے دروازے کی اندر سے کنڈی چڑھا دی۔ طالب علموں کی نالائقی اور استادوں کا احترام نہ کرنے پر لیکچر دیا، سگریٹ نوشی کے طویل دورانیے میں لیکچر کا یہ وقفہ خلافِ معمول تھا۔ دراصل ہوا یہ تھا کہ کسی نے ان کمرہ جماعت میں سگریٹ نوشی کی بابت ہیڈماسٹر صاحب کو مطلع کردیا تھا جس پر غالباً ہیڈ ماسٹر صاحب خفا ہوئے ہوں گے، اس کا بدلہ وہ طالب علموں کو Scapegoatکر کے لینا چاہتے تھے، مکالمہ یہ تھا۔ 
اگر آپ سے کوئی کلاس میں آکر پوچھے کہ شاہ صاحب کیسا پڑھاتے ہیں تو آپ کو کیا کہنا ہے۔۔۔؟ردِ عمل میں خاموشی پا کر وہ خود جواب سمجھاتے ہیں:
بہت اچھا۔ بہت کی ’’ہ ‘‘کو کھنچتے ہوئے۔ 
سوال دہرایا جاتا ہے۔ اب جو اب طلبی پرساری جماعت بیک آواز’’ ہ‘‘ کو کھینچ کر بہت اچھا پکارتی ہے۔
کیا کلاس میں ان کے مہمان بھی آتے ہیں۔۔۔؟
طالب علم اس سوال کا کیا جواب دیتے جب کہ ان کے مہمان اس وقت بھی کمرہ جماعت میں موجود تھے۔ ایک بار پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ استاد صاحب جواب سمجھاتے ہیں:
جی نہیں۔ جی کی ’ی‘ کو طول دیتے ہوئے۔
سوال دہرایا جاتا ہے ،اب جماعت بیک آواز جواب دیتی ہے جی ی ی نہیں
کیا شاہ صاحب کلاس میں سگریٹ بھی پیتے ہیں۔۔۔؟
جی نہیں۔ جی کی ی کو کھینچ کر’’جی نہیں‘‘ بعدمیں’’کبھی نہیں‘‘ کا اضافہ کرتے ہوئے۔ 
یہ مڈل اسکول کے زمانے کا قصہ ہے۔ اسی کلاس روم کی عقبی دیوار کے ساتھ لوہے کی کچھ الماریاں اوندھے منہ کھڑی رہتی تھیں جن کا مصرف فقط یہ تھا کہ شرارتی طالب علم کلاس روم کے ٹوٹے پھوٹے فرش سے کنکر اکھیڑ کر چپکے سے پیچھے کی سمت اچھالتے اور یہ کنکرالماریوں کی پشت سے ٹکرا کر ’’چھن‘‘کی آواز پیدا کیا کرتے تھے۔ اس آواز پر استاد سیخ پا ہو جاتے اور اس حرکت پر سزا دینے کے لیے ساری کلاس کو للکارتے لیکن طلبا سر جھکا کر یہ وقت گزار دیتے تھے۔ میرے ذہن میں یہ سوال جنم لیتا کہ آخر کلاس روم میں یہ الماریاں رکھنے کا مقصد کیا ہے۔۔۔؟ الماریوں کے دروازے کمرے کی عقبی دیوار کے ساتھ جڑے ہوئے تھے، ان میں کبھی کسی کو کچھ رکھتے یا نکالتے نہیں دیکھا گیا تھا۔ میں نے ایک روز جرأت کر کے ان الماریوں میں جھانکا تو پتہ چلا کہ یہ الماریاں کتابوں سے بھری ہوئی ہیں۔ حیرت اور تعجب سے یہ بات دوسروں کو بتائی تو پتہ چلا کہ یہ تو اسکول کی لائبریری ہے جو جانے کب سے یوں اوندھے منہ دیوار سے لگی کھڑی ہے۔ میں نے ایک مہربان استاد سے یہ لائبریری دیکھنے کی خواہش ظاہر کی ۔ میں اپنے ان استادِ محترم کا آج بھی ممنون ہوں جنھوں نے کمالِ شفقت سے مجھے یہ لائبریری دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ میں نے اس لائبریری سے جو تین کتابیں اپنے نام جاری کروائیں، وہ مجھے آج بھی یاد ہیں۔ یہ تین مطبوعات ’’سیارہ ڈائجسٹ‘‘ کا رسول نمبر‘‘، ’’دیوانِ مولانا محمد علی جوہر‘‘ اور ’’مارشل لا سے مارشل لا تک‘‘ تھیں۔ گویا اس کم سنی میں مذہب، ادب اور تاریخ نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا تھا، آج پلٹ کر دیکھتا ہوں تو یہ حیران کن حقیقت سامنے آتی ہے کہ بعد کے زمانے میں جتنا کچھ پڑھنے لکھنے کا موقع ملا، اس سب کا تعلق علم کے انھی تین دائروں سے ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچپن کی باتیں بعد کی زندگی اور دلچسپیوں پر کس قدر اثر انداز ہوا کرتی ہیں۔ 
کتابوں سے دوستی کا یہ عالم ہو گیا تھا کہ صبح گھر سے سکول جاتے ہوئے وہ راستہ اختیار کرتا تھا جس میں عید گاہ راہ میں پڑتی ہے۔ عید گاہ کی ویرانی میں راہ چلتے کوئی کتاب پڑھتا رہتا تھا۔ عید گاہ کے ایک سرے سے داخل ہو کر دوسرے انتہائی سرے تک مطالعہ اور سفر جاری رہتا۔ سکول میں خالی پیریڈ اور وقفۂ تفریح کے اوقات بھی مختلف کتابچوں اور کتابوں کے مطالعہ میں گزرتے۔ اسکول سے نکلتا تو قریب ہی واقع اردو بازار کی دکانوں میں کتابوں کی سیر کرتاجس کتاب کو خریدنے کی قدرت ہوتی وہ خرید لیتا باقی دکان دار کے پاس محفوظ (Reserve) کروا دیتا تاکہ اس کی قیمت کے بقدر پیسے جمع ہو جانے پر اسے خرید سکوں۔ اس زمانے کی سیرِ کتب کے ثمرات اب بھی اپنی زندگی میں محسوس کرتا ہوں۔ 
ہائی اسکول کے زمانے میں ایک سکاؤٹ کے طور پر پہلی بار لاہور آنے کا موقع ملا۔ ہمارے گروپ نے باغِ جناح میں ایک ٹیبلوکے بعد ہمیں شہر میں گھومنے پھرنے کی اجازت دے دی گئی۔۔۔ میں نے سن رکھا تھا کہ انار کلی بازار میں سستی کتابیں ملتی ہیں، میں اپنے ایک ہم جماعت دوست کے ساتھ ڈان باسکو ہائی سکول سے نکلا اور ایمپریس روڈ پر آکر راہ گیروں سے انار کلی کا راستہ دریافت کرنے لگا، کسی نے بتایا کہ فلاں ویگن انار کلی جاتی ہے۔ اتنے میں ایک ویگن آکر رکی جس کا کنڈیکٹر ساندے، ’’مفت جاندے‘‘کی آوازیں لگا رہا تھا، یہی وہ ویگن تھی جسے انار کلی بازار سے گزرنا تھا۔ مفت جاندے‘ تو صرف قافیہ پورا کرنے کے لیے تھا، میرے پاس اس وقت پچاس روپے تھے۔ اس زمانے میں یہ ایک بڑی رقم تھی۔ دونوں دوستوں کا کرایہ دینے کے بعد جتنے پیسے بچے وہ سب انار کلی کے کہنہ فروشوں سے پرانی کتابیں خریدنے کے کام آئے۔ ان دنوں مجھے جسٹس منیر مرحوم کی ۱۹۵۳ء کے فساداتِ پنجاب پر تحقیقاتی رپورٹ پڑھنے کی بہت خواہش تھی۔ سرگودھا میں یہ رپورٹ کہاں مل سکتی تھی، انار کلی کے ایک فٹ پاتھ پر یہ رپورٹ نظر آگئی، اس بوگس رپورٹ کو پالینے سے جو خوشی ہوئی تھی وہ بیان میں نہیں آسکتی۔ ایوب خان کی خود نوشت Friends Not Masters کا اردو روپ’’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘‘ اپنی پرواز کو تاہ کر کے جگہ جگہ خاک نشین تھا۔ دس روپے کے عوض یہ کتاب بھی خریدی، المیہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے کچھ کتابیں خریدیں، اخبار ’’سیاست‘‘ کے مدیر سید حبیب کے ’’سفر نامہ یورپ‘ کا پہلا ایڈیشن بھی ملا جو غالباً پیسہ اخبار کے مطبع سے شائع ہوا تھا، لیکن کہنہ فروش نے اس کی قیمت میری ہمت سے زیادہ بتائی جس کے باعث میں اسے خرید نہ سکا، بعد میں دیر تک اس نادر کتاب سے محرومی کا افسوس رہا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر اسکول کے ایک طالب علم کو ان کتابوں سے کیوں دلچسپی ہوئی ہو گی، یہ سوال طبعی ہے لیکن جواب خلافِ توقع۔ دراصل اسکول کے زمانہ طالب علمی ہی میں مجھ پر ایک کتاب لکھنے کا خیال مسلط ہو گیا تھا۔ یہ کتاب تحریک آزادی کے ایک خاص گوشے کی وضاحت کے لیے لکھنا چاہتا تھا، منیر انکوائری کمیشن کی رپورٹ وغیرہ کتب اسی ضمن میں مطلوب تھیں، میٹرک کے زمانے اور اس کے بعد ہونے والی چھٹیوں میں میں نے یہ کتاب لکھ لی جو میرے سال اوّل میں پہنچنے تک زیور طبع سے بھی آراستہ ہو گئی۔ 
اب اگر مجھ سے یہ پوچھا جائے کہ آخر مجھے ایسے خشک موضوع سے دلچسپی کیسے ہوئی تو میں اگر کوئی جواب دے سکتا ہوں تو فقط یہ کہ میرا ابتدائی شوق اخبار بینی تھا، اسکول کے زمانے میں جب تک روزانہ دو اخباروں کا مطالعہ نہ کر لیتا سو نہیں سکتا تھا۔ اخبارات کے اداریے،ادارتی صفحے کے مضامین اور اسپیشل ایڈیشن خاص شوق اور توجہ سے دیکھتا اور پڑھتا تھا۔ اخباروں کو سنبھال کر رکھنے کا بھی شوق تھا ،اخبارات کی خاص خاص اشاعتیں جمع کر کے ان کی جلد بندھوالیا کرتا تھا۔ اس شوق کے طفیل بعض بہت قدیم اخبارات بھی تلاش کرلیے تھے اور ان سب کو بڑے جہازی سائز کی جلدوں میں محفوظ کرنے کی دُھن سوار رہتی تھی۔ یہ جلدیں رکھنے کے لیے گھر میں کوئی موزوں جگہ نہ تھی چنانچہ خود لکڑی کا ایک بہت بڑا صندوق تیار کیا جس میں سیدھے اخباروں کی جلدیں پوری آتی تھیں اور اس صندوق پر ریگزین چڑھا کر بریف کیس کی طرح کے تالے لگا دیے تھے تاکہ یہ قیمتی اخبارات دوسروں کی دست برُد سے محفوظ رہیں۔ 
اسکول ہی کے زمانے میں سرگودھا کے ایک جلد ساز کے ہاں ۱۹۷۰ء کے ہنگامہ خیز انتخابات کے زمانے کے کچھ ہفت روزے مل گئے، اپنی قدرت کے مطابق جیب خرچ سے ایک ایک کر کے یہ تمام رسالے خرید لیے،انھیں پڑھ کر ۱۹۷۰ء کا سارا ملکی منظر نامہ نگاہوں پر آئینہ ہو گیا، اس المیے کی تفصیلات سے آگاہی نے دل اداس کردیا، حب وطن کے جذبے میں اضافہ ہو گیا۔ بعد میں ان رسالوں کی فائلیں مکمل کرنے کاخیال دامن گیرِ دل ہو گیا، یہ مہم بھی سر کرڈالی، اب ان کی تجلید کی فکر ہوئی، اس سے پہلے ان رسائل کے مندرجات ومضامین کی فہرست سازی ضروری محسوس ہوئی سو کر ڈالی اور فہرستوں اور اشاریوں کے ساتھ جلدیں بندھوائیں ، ان جلدوں کے مطابق خانوں کی حامل الماریاں نہ تھیں، چنانچہ ان کے سائز کے مطابق الماریاں خود بنائیں۔ 
اوپر مولانا محمد علی جوہر کے دیوان کا ذکر ہوا تھا، یہ دیوان مولانا کے دستِ خط میں لکھی گئی غزنوی اور سامنے ان کی کتابت کے ساتھ شائع ہوا تھا، یہ نادر کتاب اس سے پہلے کسی جگہ دیکھ چکا تھا جہاں سے اسے حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا، مولانا کے ہاتھ کی لکھی ہوئی غزلوں کی کشش تھی کہ دل میں اس کتاب کی طلب کی شمع روشن ہو گئی تھی، نویں جماعت میں میں سائنس کا طالب علم تھا لیکن آرٹس کے طالب علموں سے اردو اعلیٰ کی کتاب مستعار لے کر پڑھتا رہتا اور اس میں سے اردو شعرا کی غزلیں اور ان کے حالات نوٹ کیا کرتاتھا، اس مقصد کے لیے ایک الگ نوٹ بک بنالی تھی جس میں شاعر کی تصویر لگا کر اس کے حالات زندگی، پھر کچھ انتخابات کلام اور تبصرہ لکھتا بعد ازاں اس میں مفکر ،ادیب، سیاست دان اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے نام اور اصحاب شامل ہوتے گئے اور اس مقصد کے لیے نام ور لوگوں کی تصویروں اور ان کے احوال کی جستجو رہنے لگی گویا یہ ایک طرح کا تذکرہ تھا جوتذکرہ نگاری کے شعور کے بغیر لکھا جا رہا تھا۔ ٹکٹیں جمع کرنے کا شوق ہوا تو دنیا جہان کی ٹکٹیں جمع کرڈالیں اور پھر ان کے بارے میں حاصل ہونے والی معلومات پر مبنی ایک کتابچہ ٹکٹوں کی دنیا کے عنوان سے لکھ ڈالا جس کاآخری جملہ یہ تھا کہ ’’دیکھا آپ نے’’ ٹکٹوں کی دنیا‘‘ کتنی خوبصورت ہے۔‘‘ کالج میں پہنچنے تک علمی دلچسپیوں کے دائرے میں وسعت آئی، جدید شاعری سے آشنائی ہوئی اور ساتھ ساتھ علمی دنیاسے شغف بڑھتا گیا، اب نہیں یاد کہ کیسے چھٹی صدی ہجری کے محدّث اور امامِ لُغت امام رضی الدین حسن الصنعانیسے دلچسپی پیدا ہو گئی، ان کے احوال کی تحقیق میں بہت وقت صرف کیا، ان سے متعلق کم وبیش تمام مصادر عربی میں تھے ،عربی نہ جاننے کے باوجود عربی کی امہات الکتب سے رجوع کرتا رہا۔ کچھ نہ کچھ سمجھ ہی لیتا تھا، البتہ بعد میں کسی اہل علم سے اپنے سمجھے ہوئے مطالب کی تصحیح کروالیا کرتا تھا۔ اسی دور میں یہ منصوبہ بھی پیش نظر رہا کہ حدیث کی ترویج میں اردو زبان کی خدمات کا جائزہ لیا جائے، اس مقصد کے لیے سرگودھا کے کتب خانوں کا جائزہ مکمل کرنے کے بعد شہر سے نکلا اور لاہور اور کراچی تک کے کتب خانے چھان ڈالے۔ اس زمانے کے بنائے ہوئے سینکڑوں کارڈ آج بھی میرے گھر کے سازوسامان میں منتقل ہوتے ہیں۔ اسی زمانے میں کسی ایسی کتاب کے مطالعہ کی خواہش نے جنم لیا جو میرے ان دنوں کے مسائل ومعاملات سے بحث کرتی ہو، کتابوں اور کتاب خانوں سے بے حد تعلق کے باوجود ایسی کوئی کتاب نہ مل سکی، پھر خیال پیدا ہوا کہ اگر آج تک کسی نے ایسی کتاب نہیں لکھی تو کیوں نہ میں ہی ایسی کتاب لکھوں، یہ درست ہے کہ میرا رسمی طالب علمی کا زمانہ تو ختم ہو جائے گا لیکن ہر زمانے کی نئی نسلیں تو طالب علم بن بن کر آتی رہیں گے۔ اگر مجھے اپنے بزرگوں سے ایسی کوئی راہنمائی مل سکی جو میرے آج کے مسائل ومعاملات سے بحث کرتی ہو تو کیوں نہ میں آنے والوں کے لیے ایسی تحریر چھوڑ جاؤں، چنانچہ اس خیال سے میں نے’’ لمحوں کا قرض‘‘ اور’’ اپنی دنیا آپ پیدا کر‘‘نا می کتابیں لکھیں جو میرے کالج کے زمانہ طالب علمی میں ہی شائع ہو گئیں۔ بلکہ میں وہ کانووکیشن کیسے بھلا سکتا ہوں جس میں مجھے بی۔ اے کی ڈگری کے ساتھ میری ہی کتاب’’ لمحوں کا قرض ‘‘انعام میں دی گئی تھی۔ 
اب تک کی تفصیلات سے آپ جان چکے ہوں گے کہ میرا ذوقِ مطالعہ کبھی تفریح نہیں رہا، میں نے ہمیشہ بامقصد مطالعہ کیا، محنت سے مضامین کا حصر کیا، اپنی بساط کے مطابق نتائج اخذ کرنے کی کوشش کی اور جو کچھ سمجھا اُسے پوری دیانت داری کے ساتھ سینہ، قرطاس پر منتقل کیا۔ کتابوں کے حصول کے سلسلے میں میرے تجربات بہت دلچسپ ہیں۔ جب میں ایک کم سواد طالب علم تھا (حالانکہ اب بھی ایک کم سواد طالب علم ہوں) تو لوگ کتاب دینے میں بہت خِست سے کام لیتے تھے، بعض تجربات تو بہت ہی تکلیف دہ ہیں لیکن بعد کے زمانے میں وہی لوگ نیاز مندانہ ملنے لگے اور مجھے خدا جانے کیا کیا مقام دینے لگے۔ میں ان تجربات سے گزرنے کے باوجود کتاب دینے کے معاملے میں بخیل نہیں رہا، میرا خیال یہ رہا کہ کتاب ایک جاری کردہ ہے جسے آگے سے آگے بڑھنا چاہیے۔ ایک عمر کے تجربے کے بعد اب البتہ احتیاط کرنے لگا ہوں کیونکہ کتاب کے سب طلب گار کتاب دوست نہیں ہوتے۔ میرا مجموعہ کتب فقط میری دلچسپی کی کتابوں پر مشتمل ہے جس میں قرآن وسیرت، شعروادب، تاریخ تذکرے، سوانح اور خطوط شامل ہیں۔ یہ کتابیں تعداد میں اتنی ہیں کہ اگر آپ فراخ دل ہوں تو انھیں میری ذاتی لائبریری بھی کہہ سکتے ہیں، یہ کتب میں نے بہت محنت اور صرفِ کثیر سے مہیا کی ہیں ۔اب ایک عرصے سے مجھے اطراف واکناف سے بہت زیادہ کتب ورسائل تحفتاً موصول ہوتے ہیں، ان سب کو دیکھتاہوں لیکن اپنی دلچسپی کی چیزوں کے علاوہ باقی مطبوعات اپنے پاس نہیں رکھتا اگر ایسا کروں تو گھر میں رہنے کو جگہ باتی نہ رہے، یوں بھی میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ لائبریری بنانا افراد کا کام نہیں، یہ اداروں اور حکومتوں کا کام ہے، انفرادی طور پر بنائی گئی لائبریری میں آپ جتنا بڑا مجموعہ کتب بھی مہیا کرلیں تو بھی کسی باقاعدہ لائبریری سے بے نیاز نہیں ہوا جا سکتا، جب محتاجی قائم ہی رہنی ہے تو پھر انفرادی طور پر رسالوں کے فائل مرتب کرنے، ہر نوع کی کتابوں کا مجموعہ بنانے دوراور دیر کے امکان پر تعداد کتب بڑھانے سے کیا حاصل۔۔۔؟
میں حافظ کی طرح فراغتے وکتابے وگوشہء چمنے کا قائل ہوں لیکن زندگی میں مثالی صورتیں کہاں ملتی ہیں جب اور جیسا وقت ملے پڑھتا ہوں، میرا کوئی سفر کتاب کے بغیر نہیں ہوتا، بچپن میں راہ چلتے کتابیں پڑھا کرتا تھا، بعد میں جب سلامتی کے اصول پڑھے تو یہ روش ترک کر دی لیکن دورانِ سفر اب بھی پڑھتا ہوں ،اگرچہ میڈیکل سائنس اس کی بھی اجازت نہیں دیتی۔ میں نے زندگی میں جو کچھ سیکھا اور سمجھا اس کا مآخذ مطالعے کو تجربے سے آمیز کر کے دیکھنا بھی سیکھا۔ اس سے تصورات دولخت ہوئے لیکن میری عملیت پسندی مثالیت پسندی پر غالب آگئی، میرا خیال ہے کہ بچوں کوکتاب دوستی کی طرف مائل کرنا چاہیے، الیکٹرونک میڈیا نے آج بچوں کے ہاتھوں سے کتابیں چھین لی ہیں، یہ سوچ کہ سی ڈی، ڈی وی ڈی، انٹرنیٹ کتاب کا نعم البدل ہیں میرے نزدیک یہ خام ہے، میری دانست میں کتاب لامسہ، باصرہ، خیال، حافظہ، واہمہ متصرفہ اورحِس مشترک کو شاد کرتی ہے، الیکٹرونک میڈیا بیک وقت یہ سب کچھ نہیں کرسکتا۔ اس لیے میری رائے میں کتاب زندہ رہے گی اور لکھا ہوا لفظ ہوا میں تحلیل ہوجانے والے الفاظ پر غالب رہے گا۔ 

پاکستانی طالبان ۔ غلبے کے اسباب

محمد اظہار الحق

بنوں اور پھر ڈی آئی خان جیل کی مہمات کامیابی سے سر ہونے کے بعد اس حقیقت سے شاید ہی کوئی انکار کرسکے کہ پاکستانی طالبان غلبہ حاصل کرچکے ہیں اور جہاں چاہیں اپنی مرضی کی کارروائی کرسکتے ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان مافوق الفطرت انسانوں پر مشتمل نہیں‘ نہ ہی اس کے پاس ہتھیاروں کی کوئی ایسی قسم ہے جو حکومت پاکستان کے لیے انوکھی ہو۔ اس کے غلبے اور حکومت پاکستان کی مسلسل ناکامیوں کے اسباب وہی ہیں جو دنیا میں ہمیشہ سے چلے آرہے ہیں۔ خدا کی سنت وہی ہے جو بیان کردہ اصولوں کے مطابق کچھ کو تفوق اور کچھ کو زیردستی سے ہم کنار کرتی ہے۔ اگر خدا کی سنت کے بجائے کچھ لوگ تاریخ کے پروسیس کا نام لیتے ہیں تو اس سے حقیقت حال تبدیل نہیں ہوتی! اس کالم نگار کے تجزیہ کے مطابق طالبان کی بالادستی کے پانچ اسباب ہیں۔
اول۔ وہ اپنے نصب العین اور نظریات کے بارے میں کسی ابہام یا ذہنی کشمکش کا شکار نہیں۔ ہم انہیں غلط سمجھیں یا صحیح، یہ اور بات ہے۔ مگر وہ جس بات کو درست گردانتے ہیں، اس پر مجتمع ہیں اور اس پر انہیں شرحِ صدرحاصل ہے۔ یہ ذہنی یکسوئی ان کی مادی قوت کو زیادہ موثر کردیتی ہے۔ جس راستے کو وہ جنت کا راستہ سمجھ رہے ہیں، اس پر چلنا ان کے لیے آسان ہے اس لیے کہ ان کا اپنے نظریات پر پختہ یقین ہے۔ اس کے مقابلے میں حکومت پاکستان کو معلوم ہی نہیں کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے۔ جس طرح پورے ملک میں بہت سے لوگ طالبان کے حامی ہیں، اسی تناسب سے ان کے ہمدرد سارے شعبوں میں بھی موجود ہیں۔ کوئی بھی اپنے مقاصد کے بارے میں واضح نہیں۔ چار افراد طالبان کو غلط سمجھتے ہیں تو دو صحیح کہتے ہیں۔ طالبان کا مقابلہ کرنے والے خبروں میں سنتے ہیں کہ کچھ طالبان اچھے ہیں اور کچھ برے ہیں۔ کبھی انہیں معلوم ہوتا ہے کہ حکومت طالبان سے گفت وشنید کرنے کی تیاریاں کررہی ہے آپ اس کا مقابلہ پاکستان اور بھارت کی جنگ سے کرلیں۔ قوم کے ہرفرد کو معلوم ہوتا ہے کہ بھارت دشمن ہے اور بقا اس میں ہے کہ اس کا مقابلہ کیا جائے اور فتح حاصل کی جائے۔ یہ یقین، یہ برہنہ تلوار جیسا ایمان طالبان کا مقابلہ کرنے والوں کے دلوں میں مفقود ہے۔(اس کا سبب آگے چل کر بتایا جائے گا )۔
دوم۔ جنگ میں فتح حاصل کرنے کے لیے لازم ہے کہ احکام کا منبع ایک ہو۔ اسے Unity of Command کہتے ہیں۔ طالبان کو یہ یونٹی آف کمانڈ پوری طرح حاصل ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ پالیسی کہاں طے ہورہی ہے اور حملے کا فیصلہ کس نے کرنا ہے۔ اس کے مقابلے میں حکومت کو خودمعلوم نہیں کہ فیصلہ کس نے کرنا ہے اور پالیسی کس نے بنانا ہے۔ ڈی آئی خان کاواقعہ دیکھ لیجیے۔ متعلقہ اداروں کو معلوم ہی نہیں کہ وہ کس اتھارٹی کو متنبہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے متعلقہ وزیر، پولیس کے اعلیٰ افسر، انتظامیہ کے انچارج‘ سب کو اطلاعات فراہم کیں۔ لیکن کوئی ایک اتھارٹی ایسی تھی ہی نہیں جو معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیتی اور فیصلے صادر کرکے احکام نافذ کرتی۔ اس کنفیوڑن کے مارے لوگ طالبان کا مقابلہ کسی صورت میں نہیں کرسکتے۔
سوم۔طالبان کی بالا دستی کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کے سرکاری محکموں کی نااہلی، کرپشن اور بددیانتی ہے۔ جنگ صرف فوج اور پولیس نہیں لڑتی ، حکومت کا ہر شعبہ حصہ لیتا ہے اور اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ ہرشعبہ اپنا کام سوفی صد درست کرے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ افریقہ اور لاطینی امریکہ کے چند ملکوں کو چھوڑکر حکومت پاکستان کی نااہلی کرپشن اور بدیانتی کی کوئی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ بارڈرز پر جولوگ متعین ہیں، وہ چند سکوں کی خاطر سب کچھ کررہے ہیں۔ لاکھوں شناختی گارڈ اور پاسپورٹ رشوت لے کر ان لوگوں کو جاری کیے گئے اور کیے جارہے ہیں جن کا ان دستاویزات پر کوئی حق نہیں۔ جعلی ڈومی سائل سرٹیفکیٹ لینے کے لیے آپ نے کچہری کے کسی بدنیت اہلکار کو چند سرسراتے نوٹ دکھانے ہیں اور بس۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ کچہریوں میں ننانوے فی صد معاملات رشوت سے طے ہورہے ہیں اور یہ سچائی سب کے علم میں ہے۔ پولیس اور جیل کے وہ اہلکار طالبان جیسی تازہ دم قوت کا مقابلہ کس طرح کرسکتے ہیں جن کی تعیناتی، بھرتیاں، تبادلے اور ترقیاں سفارش اور رشوت سے طے ہوتی ہیں۔ جس ملک کی پولیس اغواکاروں اور بھتہ خوروں کو اطلاعات فروخت کرے، وہ کسی حملہ آور کا مقابلہ کرنے کا سوچ ہی نہیں سکتی۔ 
آپ نااہلی کی انتہا دیکھیے کہ پولیس کے جس سربراہ کو اس رسواکن شکست پر مستعفی ہونا چاہیے تھا، وہ خوش مذاقی کے موڈ میں ہے اور اس کا یہ دلچسپ بیان میڈیا میں چھپا ہے کہ طالبان اور پولیس کا تعلق بیٹنگ اور باؤلنگ کا ہے اور یہ کہ کبھی ہم چھکا لگاتے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ ایسی مہمل اور مضحکہ خیز باتیں کرنے والے لوگ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکتے ہیں ؟ اور ان لوگوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں جو پھٹے ہوئے کپڑے پہن کر زمین پر سوتے ہیں ؟ کیا پولیس کا یہ سربراہ قوم کو بتائے گا کہ اس کی، اس کے محل کی اور اس کے اہل خانہ کی حفاظت پر کتنے اہلکار متعین ہیں ؟ ان کے پاس کتنا اسلحہ ہے اور اس پر حکومت کا کتنا روپیہ خرچ ہورہا ہے ؟ کیا طالبان کو نہیں معلوم کہ یہ شہزادے میدان کے شیر نہیں، محض سرکاری شیر ہیں اور سرکاری شیر کاغذی شیروں سے بھی زیادہ کمزور ہوتے ہیں ؟ جس حکومت کے افسر اور اہلکار کسی واضح پالیسی کے بغیر، ہرچند ماہ کے بعد تبدیل کردیئے جائیں اور انہیں اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کا علم ہو نہ یہ معلوم ہوکہ ان کے اہل خانہ سر کہاں چھپائیں گے ، وہ کسی برتے پر اپنے سینے گولیوں کے سامنے رکھیں گے ؟ اس وقت نااہلی اور بددیانتی اس درجہ ہے کہ اگر کسی دفتر کو فوٹو کاپی مشین مہیا کرنی ہوتو اس میں مہینے لگ جاتے ہیں۔ 
آپ نااہلی کی ایک اور مثال دیکھیے۔ چودھری نثار علی خان وزیر داخلہ بنے تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ دارالحکومت کا ٹریفک کا نظام درست کردیا جائے گا۔ مہینے گزر چکے ہیں دارالحکومت کی بڑی شاہراہ پر‘ جوکنونشن سنٹر اور لیک ویو پارک کے درمیان ہے، آوارہ مویشیوں کے‘ گَلّوں کے گَلّے چہل قدمی کررہے ہیں۔ یہیں سے ن لیگ کے قائداور ملک کے وزیراعظم اکثر وبیشتر مری جانے کے لیے گزرتے ہیں۔ جس ملک کے دارالحکومت کی بڑی شاہراہوں پر آوارہ ڈھور ڈنگر کھلے عام پھررہے ہوں، اس ملک کے سرکاری اہلکار طالبان کا کیا مقابلہ کریں گے !
خودکش حملوں کے بارے میں حکومت کا موقف یہ ہے کہ ایک ایک شخص کی تلاشی ممکن نہیں۔ یہ ایک لغو دلیل ہے۔ آخر امریکہ برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ملکوں میں دہشت گردوں کی کارروائی کو کس طرح روکا گیا ہے ؟آخر حکومت صدر، وزیراعظم اور وزراء اعلیٰ کی حفاظت کامیابی سے کیسے کرلیتی ہے ؟آخر خودکش حملہ آور ان بڑے لوگوں تک کیوں نہیں پہنچ پاتے ؟اس کا جواب آسان ہے۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے ملکوں میں ہر شہری کی حفاظت اس طرح کی جاتی ہے جیسے ہمارے ہاں نام نہاد وی آئی پی کی‘ کی جاتی ہے۔ آج اگر وہ انتظامات جو ایک شہر میں حکمرانوں کی حفاظت کے لیے کیے جارہے ہیں، پورے شہر کے لیے کیے جائیں تو حکمرانوں کے لیے الگ انتظامات کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔
ہم طالبان کی بالادستی کے اسباب کی طرف واپس آتے ہیں۔ آپ طالبان کی چستی اور حاضر دماغی دیکھیے! ڈی آئی خان میں انہوں نے جو جنگی چالیں چلیں، پولیس ان کا خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی۔ انہوں نے اپنی تیرہ گاڑیاں جیل سے دور ٹاؤن ہال کے پاس پارک کیں تاکہ ان پر حملہ نہ ہوسکے۔ ان کا ہراول دستہ جواٹھارہ افراد پر مشتمل تھا، پولیس کی وردی میں آیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ کسی نے انہیں شہر میں روکا نہ جیل کے اندر جانے سے۔ انہوں نے جیل کی بجلی کاٹ دی جس سے مکمل بدانتظامی پھیل گئی جب کہ خود طالبان کے پاس تاریکی میں دیکھنے والی عینکیں تھیں۔ پولیس کے افراد وائرلیس پر جوگفتگو کرتے تھے وہ طالبان سن سکتے تھے۔ انہوں نے کنفیوڑن پھیلانے کے لیے وائرلیس پر کچھ اس طرح کی گفتگو کی کہ ان کا اگلا نشانہ فوجی چھاؤنی ہے۔ یہ اس لیے تھا کہ فوجی چھاؤنی والے جیل کا رخ کرنے کے بجائے اپنی حفاظت کی فکر کرنے لگ جائیں۔ طالبان کو معلوم تھا کہ یہ کرکٹ کا میچ نہیں، جنگ ہے جب کہ پولیس کے افسروں کا خیال یہ تھا کہ یہ تو باؤلنگ اور بیٹنگ کا مسئلہ ہے جو بہت سادہ اور آسان ہے !
طالبان کے غلبے کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ پاکستانیوں کی کثیر تعداد انہیں نجات دہندہ سمجھتی ہے۔ طالبان کے حامیوں کی ایک قسم وہ ہے جو نظریاتی حوالے سے انہیں اپنے قریب سمجھتی ہے لیکن ایسے حامیوں کی تعداد بھی کم نہیں جنہیں طالبان کے نظریات اور طرز حکومت سے کوئی دلچسپی نہیں مگر پاکستانی ریاست، پاکستانی حکومتوں اور بالائی طبقے کے ظلم و ستم سے وہ اس قدر عاجز آچکے ہیں کہ بالآخر انہیں طالبان جیسا نجات دہندہ بھی قبول ہے۔ پٹواری، تھانیدار، واپڈا اہلکار، سوئی گیس کے راشی ملازم، ملاوٹ کرنے والے بددیانت تاجر، تجاوزات کے ذریعے ماحول کو گندا کرنے والے دکاندار، راہگیروں کو کچلنے والے بدمست ڈرائیور، فرعونیت کے لہجے میں بات کرنے والے سرکاری عّمال، اقربا پروری ا ور دوست نوازی کرنے والے عوامی نمائندے ان عوام کو کمّی کمین سمجھتے ہیں۔ ایک ایک گلی پکی کرانے ا ور ایک ایک کنکشن لینے کے لیے شرفا کو برسوں پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ کوئی سیاسی جماعت، کوئی حکومت، کوئی مارشل لاء4 ، عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکا۔ ہر نیا سال نئے ظلم لاتا ہے۔ مخصوص گروہوں کے کام کرانے والا ایک ٹولہ پارلیمنٹ سے نکلتا ہے تو دوسرا ٹولہ آ کر دوسرے گروہوں کے کام کرانا شروع کر دیتا ہے۔
پاکستانی عوام اس اشرافیہ سے عاجز آچکے ہیں جس پر قانون کا اطلاق نہیں ہوتا، جس کی گاڑیوں کے شیشے کالے ہی رہتے ہیں اور جو اسلحہ کی نوک پر سارے غلط کام آسانی سے کروا لیتی ہے۔ پاکستانی عوام نوکر شاہی کے ان گماشتوں سے خدا کی پناہ مانگ رہے ہیں جن سے ملاقات کرنا تو کجا، ٹیلیفون پر بات کرنا بھی ناممکن ہے اور جن کے دربان اور پی اے سائلوں کو نہ صرف دھتکارتے ہیں بلکہ موقع ملے تو ٹھڈے بھی مارتے ہیں۔ پاکستانی عوام ان حکمرانوں کو ہاتھ اٹھا اٹھا کر بددعائیں دے رہے ہیں جو خود تو چھینک آنے پر بھی اپنی تین تین بیگمات کے ساتھ لندن کا رخ کرتے ہیں لیکن کسی گاؤں میں عام آدمی کے لیے ڈسپنسری قائم کرنی ہو تو بیس لاکھ روپے پر بھی سانپ بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ظلم اور ناانصافی کے ڈسے ہوئے یہ مظلوم بے کس اور بے بس عوام جب سنتے ہیں کہ طالبان اپنی عدالتیں لگا کر مجرموں کو سزائیں دیتے ہیں اور مظلوموں کو انصاف بہم پہنچاتے ہیں تو ان کے دلوں میں طالبان سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ طالبان کا مقابلہ کرنے والے سرکاری اہلکاروں سے آخر عوام کو کیا ہمدردی ہوسکتی ہے؟ یہی اہلکار اور ان کے افسر ہی تو ہیں جنہوں نے ان کی زندگیوں کو جہنم بنا رکھا ہے۔ عوام خواب دیکھ رہے ہیں کہ کیا عجب کل طالبان کو مکمل غلبہ حاصل ہوجائے تو وہ بددیانت راشی سرکاری ملازموں کو درختوں سے لٹکا کر پھانسیاں دیں۔ بجلی اور گیس سے عوام کو محروم کرنے والوں کو درّے ماریں۔ خوراک‘ ادویات اور معصوم بچوں کے دودھ میں ملاوٹ کرنے والے ’’حاجیوں‘‘ کو جلتے تنوروں میں پھینکیں۔ فساد معاشرے میں جس طرح پھیل چکا ہے اس کا علاج باریاں بدلنے والے کھرب پتی سیاستدانوں کے بس کی بات نہیں، نہ ہیان کی نیت ہے۔ 
یہ ظلم طالبان جیسے جنونی اور سودائی ہی ختم کر سکتے ہیں۔پانچواں سبب یہ ہے کہ طالبان کو پاکستانیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نظریاتی کمک پہنچا رہی ہے۔ اس کا سبب اسلام کی ایک خاص تعبیر ہے جو پاکستان اور افغانستان سے باہر دنیائے اسلام میں شاید ہی کہیں نظر آئے۔ اسلام کی اس خاص تعبیر میں افغانستان اور پاکستان کی مقامی ثقافتوں کا عمل دخل ہے اور مقامی ثقافت کے ان مظاہر کو بھی اسلام کا لبادہ پہنا دیا گیا ہے جو افغانستان اور پاکستان کے باہر کے مسلمانوں کے لیے اجنبی ہیں۔ پھر بدقسمتی سے اس مذہبی گروہ کا ہیڈکوارٹر بھی پاکستان میں ہے جو دین کو صرف ظاہری ہیئت کے حوالے سے دیکھتا ہے، حقوق العباد سے مکمل روگردانی کرتا ہے۔ایک خاص کتاب کو [ معاذاللہ] سب کچھ سمجھتا ہے۔ لوگوں کو تلقین کرتا ہے کہ بس اسی کتاب کو پڑھیں ، سنیں اور سنائیں۔ یہ گروہ لوگوں کو یہ تک کہتا ہے کہقران کو سمجھ کر پڑھنا صرف علما کا کام ہے۔ان تمام عوامل کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عوام کی کثیر تعداد اسلام کو محض عبادات کا مجموعہ سمجھنے لگی ہے۔ عملی زندگی سے اسلام کا عمل دخل ختم ہوچکا ہے۔ نمازیں پڑھنے، روزے رکھنے اور حج کرنے کے باوجود اکثریت اکل حلال اور صدق مقال سے محروم ہے۔ وعدہ خلافی اور جھوٹ کو برائی سمجھا ہی نہیں جارہا۔ ملاوٹ، ٹیکس چوری، ناروا تجاوزات اور نقص چھپا کر مال فروخت کرنا ان لوگوں کا معمول ہے جو ظاہری لحاظ سے مذہبی نظر آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے بالائی طبقات میں بھی طالبان کے حامی موجود ہیں۔ سید منور حسن، جنرل حمید گل ،جنرل مرزا اسلم بیگ، عمران خان اورلال مسجد کے با اثر خطیب مولانا عبدالعزیز جیسے طاقتور افراد طالبان کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ نہیں معلوم اگر طالبان کو اقتدار مل گیا تو یہ سابق جرنیل ا پنی ظاہری وضع قطع میں ان کی پیروی کریں گے یا نہیں اور اپنا وہ معیار زندگی ترک کریں گے یا نہیں جس کا پاکستانی عوام کی اکثریت خواب میں بھی تصور نہیں کرسکتی مگر بہرطور یہ حضرات طالبان کے نظریاتی حامی ہیں اور یہ اکیلے نہیں، ان کے لاکھوں ہم خیال، پیروکار اور معتقدین ہیں۔ طالبان کے ہمدرد لامحالہ تمام اداروں میں بھی ہوں گے۔ جب کسی تحریک کے حامی پیدا ہوتے ہیں تو وہ صرف ایک خاص علاقے تک محدود نہیں ہوتے نہ کسی خاص انکم گروپ سے تعلق رکھتے ہیں نہ کوئی خاص زبان بولتے ہیں۔ یہ حامی تمام طبقات اور تمام علاقوں میں موجود ہوتے ہیں۔
ہم میں سے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ طالبان دنیا اور دنیا کے حالات سے بے خبر ہیں، غیر تعلیم یافتہ ہیں اور معاشرتی حرکیات (DYNAMICS) سے ناآشنا ہیں، غلطی پر ہیں۔ ان کی پیش قدمی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان کے ظاہری بلکہ غیر ظاہری حالات سے بھی آگاہی رکھتے ہیں۔

مفتی محمد زاہد صاحب کے موقف پر ایک تحقیقی نظر (۲)

مولانا عبد الجبار سلفی

فاضل مضمون نگار نے مولانا عبدالحئی فرنگی محلی کے متعلق لکھا ہے کہ وہ لکھنؤ کے باسی تھے جو اہل تشیع کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ مولانا عبدالحئی کا کثرتِ مطالعہ بھی ضرب المثل ہے، اس لیے یہ بات بعید سی ہے کہ لکھنؤ جیسے شہر میں رہتے ہوئے وہ شیعہ مذہب سے ناواقف ہوں۔ مولانا لکھنوی کے مجموعۃ الفتاوی میں بڑی تعداد میں ایسے فتاوی موجود ہیں، جن میں انہوں نے عام اہل تشیع کی تکفیر کا فتویٰ نہیں دیا۔ الخ

تبصرہ

مبالغہ آرائی اہلِ علم کے وقار کو بہت دھچکا لگاتی ہے۔ عدم تکفیر پر مولانا عبدالحئی لکھنوی کے ’’بڑی تعداد‘‘ کے فتاویٰ میں سے کوئی تھوڑی سی تعداد اگر پیش کر دی جاتی تو ماہ نامہ الشریعہ کے صفحات یقیناًیہ بوجھ اُٹھا ہی لیتے اور جو عبارات دی گئی ہیں، ہم سمجھتے ہیں ان کا فاضل مضمون نگار کے موقف سے کوئی تعلق نہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ لکھنؤ کے مولانا عبدالحئی لکھنوی پر سو فیصد اعتماد ہے، مگر انہی کے قابل فخر شاگرد مولانا سید عین القضاۃ رد شیعیت کے لیے اپنے محبوب شاگرد مولانا علامہ عبدالشکور لکھنوی کو اس میدان میں نہ صرف اتارتے ہیں بلکہ ان کی استعدادِ علمی، اور کمالِ فن مناظرہ سے متاثر ہو کر انہیں ’‘امام اہل سنت‘‘ کا خطاب بھی دیتے ہیں۔ تو نہ مولانا عین القضاۃ کا تذکرہ اور نہ علامہ عبدالشکور لکھنوی کا ذکر، جن کی پوری زندگی اسی محاذ پر صرف ہوئی۔ مولانا عبدالحئی لکھنوی اگرچہ کثیر المطالعہ تھے مگر مطالعے کے لیے بھی تو کتابیں چاہئیں؟ اور یہ بات تاریخ کے ماتھے پہ درج ہے کہ ردِ رفض پر کام کرنے کے لیے علماء اہل سنت نے جب قلم اُٹھانا چاہا ، کتابوں کی عدم دستیابی آڑے آ گئی۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی کی ’’ہدیۃ الشیعہ‘‘ کا ابتدائیہ پڑھ لیجیے۔ آپ نے لکھا ہے کہ کتبِ شیعہ ہاتھ نہ آسکیں، آخر کار ’’تحفہ اثنا عشریہ‘‘ میں لکھے گئے شیعی عقائد کا عقلی و نقلی انداز میں ردْ لکھا گیاہے۔ کسی شہر کے باسی کا وہاں کے جملہ افکار و نظریات کے حامل افراد یا ان کی فکر سے مطلع نہ ہونا فاضل مضمون نگار کو ’’بعیدسی‘‘ بات محسوس ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ کوئی ایسی کباب کی ہڈی نہیں جو گلے سے نہ اُتر سکے۔ ہر شخص کا ’’ہر فن مولا‘‘ ہونا تو نظامِ فطرت کے بھی خلاف ہے۔ چلیں سو سنار کی ایک لوہار کی، علامہ عبدالشکور لکھنوی بھی تو لکھنؤ کے باسی تھے اور رات دن ان کا مشغلہ ہی تردیدِ رفض تھا۔ ماہ نامہ ’’النجم‘‘ کی فائلیں، چھوٹی بڑی درجنوں کتابیں صرف اسی موضوع پر لکھی گئیں، ہر تقریر، ہر مباحثہ اور ہر نجی محفل میں شیعیت ہی موضوعِ سخن ہوتی۔ آپ علی الاطلاق تکفیر شیعہ کے قائل تھے تو کیوں نہ علمِ حدیث، فنِ اسماء الرجال اور تاریخی معلومات کے اعتبار سے ہم مولانا عبدالحئی لکھنوی پر اعتماد کر لیتے ہیں اور تکفیر شیعہ کے مسئلے پر امام اہل سنت علامہ عبدالشکور لکھنوی کی تحقیق پر اعتماد کر لیتے ہیں اور اعتماد کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مزید تحقیق کے دروازے بندکر دیے جائیں۔
شیعیت ہمیشہ سے نشۂ قوت کی بدمستی کا شکار رہی ہے
فاضل مضمون نگار نے مندرجہ بالا بحث کے ضمن میں یہ بھی لکھا ہے کہ :
’’یہ کہنا تو شاید خالی از مبالغہ نہ ہو کہ برصغیر میں اہل السنۃ اور اہل تشیع کے تعلقات بہت مثالی اور قابل رشک رہے ہیں لیکن یہ کہنا ضرور درست ہوگا کہ ان میں کبھی اتنا زیادہ اور اتنے طویل عرصے کا تناؤ نہیں رہا، جتنا ہمارے ہاں اسّی کی دہائی کے بعد سے نظر آرہا ہے‘‘۔

تبصرہ

ہمیں خوشی ہے کہ یہاں آکر فاضل مضمون نگار کو ’’مبالغہ آرائی‘‘ کے مُضر اثرات کا ادراک ہوا ہے۔ مگر یہ المیہ بہرحال ہے کہ وہ ہوا میں چلائے ہوئے فائر کو ’’یہ کہنا ضرور درست ہوگا‘‘ کہہ کر خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ چڑیا کیا، عقاب شکار ہوچکا ہوگا۔
جناب من! شیعیت کی خون آشامیوں سے تو ہزاروں آبادیاں کھنڈرات بن کر لٹی عظمتوں کے زندہ مرثیے بن چکی ہیں۔ علامہ سید انور شاہ کشمیری سے ہی سُن لیجیے۔ رقمطراز ہیں:
’’واکثر تخریب السلطنت الاسلامیۃ کان علی ایدی الروافض خذلھم اللہ تعالیٰ۔ (فیض الباری جلد اوّل صفحہ نمبر ۱۷۲)
’’اور اسلامی سلطنت کی زیادہ تر بربادی روافض کے ہاتھوں سے ہوئی ہے۔ خدا انہیں رسوا کرے‘‘
شیعیت نے ہمیشہ اہل اقتدار کے زیر سایہ پروان چڑھ کر آگ و خون کا کھیل کھیلا ہے خلیفہ معتصم باللہ کے وزیر ابن علقمی نے بغاوت کر کے بغداد میں تقریباً سولہ لاکھ افراد قتل کروا دئیے۔ تاتاریوں کا یہ ظلم ایک جگر گداز سانحہ ہے جس کے متعلق حضرت شیخ سعدی نے گلستان کے اندر کہا ہے۔
آسماں را حق رَسد کہ خوں ببارد بر زمیں
بر زوال ملک معتصم امیرالمومنین
علاوہ ازیں شام، خراسان، عراق، الجزائر وغیرہ میں شیعیت نے کیا کیا مظالم ڈھائے، علامہ ابن تیمیہ کی منہاج السنۃ پڑھ لیجیے جس میں انہوں نے ان دلگداز سانحات کا تذکرہ کیا ہے۔ آج بھی ملک شام میں نصیری شیعوں کے ہاتھوں ظلم کا بازار گرم ہے۔ بشارالاسد نُصیری شیعہ حکمران ہے اور اہل تشیع کا یہ فرقہ حضرت علی کی الوہیت کاقائل ہے۔ اب پاکستان میں بھی اس فرقہ کے لوگ سراُٹھا رہے ہیں۔ ان کے باقاعدہ مقررین ہیں اور مجلسیں بھی ہورہی ہیں۔ اس فرقہ کے ایک مقرر علامہ غضنفر عباس کی تقریرمیں علانیہ ’’علی اللہ ، علی اللہ، کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔
اور اگر عالمی حالات سے قطع نظر ۸۰ء کے بعد پاکستان کے حالات کا تجزیہ مقصود ہے تو پھر فاضل مضمون نگار بتائیں کہ ۸۰ء کے بعد کی بدامنی کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر تو یہ خیال ہے کہ ۷۹ء میں ایرانی انقلاب کے بعد پاکستان میں حالات خراب کیے گئے۔ صحابہ کرام کے خلاف گھٹیا لٹریچر دھڑا دھڑ تقسیم ہوا۔ اور ایرانی اشیر باد پر پاکستانی شیعیت نے اہل سنت کا قتلِ عام کیا، ردعمل میں پھر سُنی نوجوان بھی کنٹرول میں نہ رہے اور نتیجتاً شیعہ، سنی خطرناک تصادم سامنے آیا یہ تو درست ہے اور حقیقت بھی یہی ہے لیکن فاضل مضمون نگار کا غالباً یہ خیال نہیں ہے کیونکہ وہ تو پہلے کہہ آئے ہیں کہ فریقین کے مابین جنگ و جدل کے واقعات پیش نہیں آئے اور ان میں اشتراک پایا جاتا ہے۔ ظنِ غالب یہ ہے کہ اُن کا اشارہ مولانا حق نواز جھنگوی کی جانب ہے۔ اس لیے ہم عرض کریں گے کہ جہاں تک سنی شیعہ قتل و غارت کا تعلق ہے، جب کبھی اس میں ریاستی طاقتیں اثر انداز ہوتی ہیں تو یہ مناظر سامنے آتے ہیں۔ مگر اس سے پہلے بھی لڑائی جھگڑے اور سرپھٹول کے واقعات بے شمار پیش آئے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جب یہ نزاعی مسائل پہ لڑتے تھے تو سر پھٹتے تھے اور جب ریاستی طاقتیں مدخل ہوئیں تو سرکٹنے لگ گئے۔ کیونکہ تحمل و رواداری قیادت اور اہل علم میں ہوتی ہے۔ عوام کا کوئی اسٹیشن نہیں ہوتا۔ اس لیے فاضل مضمون نگار اگر شیعہ ، سنی مناظروں کی رودادیں مطالعہ فرمائیں تو انہیں نظر آئے گا کہ ہلکے پھلکے تصادم ہر دور میں کہیں نہ کہیں رہے ہیں۔
مولانا حق نواز جھنگوی شہید کے طریقۂ کار سے اتفاق نہیں ہوسکتا اور ان کی جاری کردہ تحریک کا فلسفۂ تشدد بھی ہمیشہ زیر بحث رہا۔ مگر ۸۰ء کے بعد کے ناگفتہ بہ حالات کی ذمہ داری اُن پر ڈال دینا بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ اُن کے خلوص اور عظمتِ صحابہ کے لیے مثالی جدوجہد کا انکار کسی زندہ ضمیر مسلمان سے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے اپنے خون سے منقبتِ صحابہ کا قصیدہ لکھا اور مکروفریب کے چلمنی پردوں سے رفض و بدعت کے خائن دلوں کی دھڑکنوں کو بھانپ کر اُنہیں دبوچا اور اس حال میں مست ہو کر اپنی جان تک کی بازی لگا دی۔
راہ الفت میں جو مرتے ہیں فنا ہوتے نہیں
کشتگانِ عشق کا ، عمرِ ابد ہے خون بہا
ہاں سپاہ صحابہ کی جذباتی نوجوانوں کی وہ پالیسیاں جو اپنوں سے منافرت ، شدت اور انتہا پسندی پر مشتمل ہیں۔ان سے یقیناًاتفاق نہیں کیا جاسکتا۔ اصل میں فاضل مضمون نگار نے اپنے خیالات کا بالکل آٹا گوندھ دیا ہے نہ صرف یہ کہ ان کے دعاوی اور دلائل میں مطابقت نظر نہیں آتی بلکہ سطر بہ سطر تفاوت اور تضادات بھی نظر آتے ہیں۔

مسئلہ تحریفِ قرآن

فاضل مضمون نگار لکھتے ہیں:
’’عام طور پر تکفیر شیعہ کی ایک بنیاد تحریفِ قرآن کو قرار دیا جاتا ہے جب کہ علامہ شمس الحق افغانی نے علوم القرآن میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ شیعہ بھی تحریف قرآن کے قائل نہیں ہیں۔ یہی بات اس سے بہت پہلے مولانا رحمت اللہ کیرانوی ردِّ عیسائیت پر اپنی معروف کتاب ’’اظہار الحق‘‘ میں فرما چکے ہیں۔۔۔ یہ جو مشہور ہوگیا ہے کہ بطور فرقہ شیعہ کو کافر کہنا اہل سنت کا متفقہ موقف ہے۔ یہ درست نہیں۔‘‘

تبصرہ

اگر فاضل مضمون نگار کو علامہ افغانی اور علامہ کیرانوی کے پائے کے ہی اہل علم ایسے لاتعداد مل جائیں جو شیعوں کو محرفِ قرآن مانتے ہیں تو پھر فاضل موصوف کس کا موقف اختیار کریں گے؟ ہمیں اسی بات پر بار بار حیرت ہورہی ہے کہ دل تو تکفیر و عدم تکفیر جیسے مسائل پر بحث کو بے تاب ہورہا ہے اور پاؤں کے نیچے محض ریت ہی نہیں، پورا صحرا ہے۔
فاضل مضمون نگار کو چاہیے تھا کہ وہ پہلے شیعہ علماء کی ان کتب اور روایات کا مطالعہ کرتے جن میں تحریف قرآن کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ پھر ان شیعہ علماء کی عبارات پڑھتے جنہوں نے اپنے علماء سے اختلاف کیا، اس تقابلی مطالعے کے بعد وہ متقدمین اہل سنت کا نظریہ پیش نظر رکھتے ، پھر متاخرین کے دعاؤی و ثبوت کا متقدمین کی آراء سے تقابل کرتے، اس دوران زمینی حقائق، روزمرہ کے مشاہدات، اور قائلین کی مراد کا بھی تجزیہ ہوتا، تب کہیں جا کر وہ کوئی بڑا دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں آتے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ فاضل مضمون نگار کی یہ محنت روح افزاء ثابت ہوگی، اتنی بے باکی اور عجلت سے تو اہل تشیع بھی خود کو قرآن کے ماننے والوں کی صف میں کھڑا نہیں کر سکتے، جتنی جلدی فاضل موصوف نے ان پر احسان کر دیا ہے۔ علامہ رحمت اللہ کیرانوی کا میدان تردید عیسائیت تھا۔ اظہار الحق میں وہ عیسائیوں کو الزامی و تحقیقی جوابات دے رہے تھے۔ موقع اور محل کے تقاضوں کو وہی سمجھ سکتا ہے جو میدان میں کھڑا ہو۔ عافیت کدوں میں بیٹھ کر پَر تلاش کرنا اور پھر خود ہی ان پَروں میں طوطے، کوے لگا کر خیالی فضاؤں میں چھوڑتے رہنا اہلِ تحقیق کے مزاج کے بالکل خلاف ہے۔ اگر کسی ایسے ماحول میں انسان چلا جائے جہاں سارے ہندو یا عیسائی ہوں، اور عیسائی ہم سے تکفیر شیعہ کی بحث چھیڑ دیں تو ظاہری بات ہے اس ماحول میں ہم نے بچھو کو چھوڑ کر سانپ کا ہی تعاقب کرنا ہے۔
علامہ شمس الحق افغانی کی علوم القرآن والی عبارت پر ہمارے حضرت اقدس مولانا قاضی مظہر حسین نے انہیں تفصیلی خط لکھا تھا جس میں اہل تشیع کے عقیدۂ تحریفِ قرآن کے دلائل اُنہی کی کتب سے پیش کیے تھے۔ اس پر علامہ افغانی نے رجوع فرما لیا تھا اور اس بات کا اعتراف فرمایا کہ چیزیں میرے علم میں پہلی بار آئی ہیں۔ وہ تفصیلی مضامین اور مکتوب عنقریب کتابی شکل میں شائع ہونے والے ہیں۔

علامہ تونسوی کا مکتوب اور علامہ افغانی کا رجوع 

مولانا رحمت اللہ ارشد (بہاولپور) علامہ شمس الحق افغانی کے شاگرد تھے۔ انہوں نے ایک مرتبہ مولانا عبدالستار تونسوی سے کہا تھا کہ ہمارے استاذ محترم فرمایا کرتے تھے کہ شیعوں کے سنجیدہ لوگ تحریف قرآن کے قائل نہیں ہیں۔ کیا یہ بات درست ہے؟ تو علامہ تونسوی نے فرمایا شیعہ کے ائمہ معصومین، جمہور، محدثین اور مجتہدین سے زیادہ سنجیدہ کون ہوسکتا ہے؟ وہ سب کے سب اس پر متفق ہیں کہ موجودہ قرآن محرّ ف و مبدّل ہے۔ شیعہ کتب میں دو ہزار سے زائد روایات اس پر صراحتاً دال ہیں۔ البتہ صرف چار آدمیوں نے شیعہ فرقہ میں سے تحریف کا انکار کیا ہے، ان چار کے نام یہ ہیں۔
شریف المرتضیٰ، علامہ ابوجعفر طوسی، شیخ ابوعلی طبرسی، شیخ صدوق۔ اور یہ ان کی ذاتی رائے ہیں۔ آئمہ معصومین کی روایات کے مقابلہ میں ان کی کیا اہمیت ہے؟ اس لیے جمہور شیعہ علماء نے ان چار کی رائے کو کوئی اہمیت نہ دی۔ چنانچہ اس کے بعد علامہ عبدالستار تونسوی نے مولانا شمس الحق افغانی کو خط لکھ کر اس ساری تفصیل سے آگاہ فرمایا۔ علامہ افغانی نے علامہ تونسوی کے نام جوابی خط میں لکھا۔
’’مجھے آپ کی تحقیق پر پورا اعتماد ہے، میں ان شاء اللہ اپنی کتاب کے نئے اڈیشن میں اس بات کی تصحیح کر دوں گا‘‘ (بحوالہ، نقوش زندگی، صفحہ نمبر ۳۱۹)
نوٹ: یاد رہے کہ ’’نقوشِ زندگی‘‘ مولانا عبدالستار تونسوی کی سوانح حیات ہے جواُن کے نواسہ مولانا عبدالحمید تونسوی مدظلہ نے لکھی ہے اور یہ سوانح علامہ تونسوی کی نگرانی میں لکھی گئی اور اُن کی زندگی میں ہی طبع ہوگئی تھی۔ اس کتاب کی طباعت کے دس بارہ سال بعد علامہ تونسوی کا انتقال ہوا، اس لحاظ سے یہ بات دستارِ اعتبار کا پورا حق رکھتی ہے۔ حضرت اقدس مولانا قاضی مظہر حسین اور علامہ عبدالستار تونسوی کے آگاہ کرنے پر علامہ شمس الحق افغانی نے اپنے موقف سے رجوع فرما کر یہ ثابت کر دیا کہ جو جس شعبے میں ماہر ہو، اسی کی بات معتبر ہوتی ہے مگر ہمارے فاضل مضمون نگار کمر کے مُہروں کا علاج سُنار سے کروانے چلے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ اپنے اس فیصلے پر پوری طرح مطمئن ہیں۔
سر کاٹ کے ڈلوا دئیے، انداز تو دیکھو
پامال ہے سب خلقِ جہاں، ناز تو دیکھو
تفسیر قمی شیعہ مذہب کی معتبر تفسیر ہے۔ الجزائر کے معروف شیعہ عالم علامہ طیب موسوی الجزائری کے مقدمہ کے ساتھ یہ تفسیر اس وقت ہمارے پیش نظر ہے مقدمہ میں طیب الجزائری نے کلینی، برقی، عیاشی، احمد بن ابی طالب، باقر مجلسی، نعمت اللہ الجزائری، حرعاملی، علامہ فتونی اور سید بحرانی جیسے بڑے نام لکھے ہیں کہ یہ سب علماءِ شیعہ تحریف قرآن کے قائل تھے اور لکھا ہے کہ ان حضرات نے تحریف قرآن پر ایسی ایسی روایات اور ثبوت پیش کر دیے ہیں کہ ’’لا یمکن الاغماض منہا‘‘ اُن سے چشم پوشی ناممکن ہے۔ (مقدمہ تفسیر قمی جلد اول صفحہ نمبر ۲۴، مطبوعہ قُم۔ایران)
علاوہ ازیں حسین بن محمد النوری الطبرسی نے تو تحریف قرآن پر باقاعدہ کتاب لکھی ہے جس کا نام ’’فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب‘‘ ہے یہ کتاب ۱۲۹۸ھ میں لکھی گئی تھی اور اس لیے اہل تشیع نے اس کتاب کے مصنف کو بعد از وفات مشہدِ مرتضوی میں دفن کر کے اعزاز بخشا تھا۔ یہ کتاب دو کم ۴۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔
اس لیے ہم ایک بار پھر معذرت کے ساتھ عرض کریں گے کہ ہمارے مخاطب فاضل مضمون نگار تحقیقی و علمی براہین سے محروم ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے گرد و پیش کے کسی ماحول سے منفی اثر لے کر بلاوجہ نفسِ موضوع کو نشانہ بنا لیا ہے۔ اُن کا فقط یہی اعزاز نظر آرہا ہے کہ یہ مضمون ماہ نامہ الشریعہ میں شائع ہوگیا ہے۔

دینی تحریکوں میں اہل تشیع کی شمولیت

فاضل مضمون نگار نے بڑا عامیانہ تاثر لے کر یہ رائے قائم کی ہے کہ ہمارے ہاں دینی تحریکوں میں اہل تشیع کی شمولیت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی امت مسلمہ کا حصہ ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے مفتی جعفر حسین، سید مظفر حسین شمسی اور تحریک ختم نبوت کا حوالہ دیا ہے۔ جس میں بقدرِ اشکِ بُلبل اہل تشیع نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملی یکجہتی کونسل اور ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘‘ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

تبصرہ

کفار مجاہرین اور کفار منافقین ، یہ کفار کی دو قسمیں ہیں، کھلے طور پر اسلام کی صفوں میں داخل نہ ہونے والوں کو کفار مجاہرین کہا جاتا ہے اور جو دائرہ اسلام میں گھس کر اسلام کے آفاقی اور اصولی فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتے، انہیں کفار منافقین کہا جاتا ہے۔ دوسری قسم کے کفار کو حسبِ مصلحت وقتی طور پر شاملِ اتحاد کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ امت کے وسیع تر نظریاتی عقائد کی حفاظت کے لیے حساس اہلِ علم اس کے بھی قائل نہیں ہیں۔ ہمارے حضرت اقدس قاضی صاحب کا شمار انہی علماءِ کرام میں ہوتا تھا اور آج بھی تحریک خدام اہل سنت اہلِ کفر و الحاد سے کسی قسم کا کوئی اشتراک برداشت نہیں کرتی۔
ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی حکمت صرف یہ ہوتی ہے کہ یہ کہیں علانیہ کفر کرنے والے لوگوں سے نہ جاملیں۔ یہ ایک سیاسی حکمت عملی ہے جو کبھی کامیاب رہتی ہے کبھی ناکام۔ مظفر علی شمسی جیسے شیعہ تو ہمارے اکابر کے ساتھ رہ کر شیعیت سے تقریباً دور ہوچکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مولانا عبیداللہ انور سے جنازہ پڑھوانے کی وصیّت کی تھی۔ 
مولانا مظہر علی اظہر تو اس حد تک اہل سنت کے ساتھ گُھل مل گئے تھے کہ اہل تشیع ان کو بطور طنز ’’مولانا اِدھر علی اُدھر‘‘ کہا کرتے تھے۔ فاضل مضمون نگار بتائیں کہ اہل تشیع کو اتحادوں میں شامل کرنے سے آج تک کسی شیعہ کو اپنے مذہب کی ترویج کے لیے سنی اسٹیج استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے؟ اور یہ بھی ہمارے بزرگوں کی مصلحت کے تحت ایک وقتی پالیسی تھی۔ وگرنہ بٹالہ ضلع گورداسپور میں حضرت اقدس مولانا قاضی مظہر حسین کے والد گرامی ایک جلسۂ عام میں اہل تشیع کی کتب اٹھا اٹھا کر اُن کے کفریہ عقائد پیش کر رہے تھے اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری بھی تشریف فرما تھے۔ امیر شریعت کی تقریر بعد میں تھی۔ آپ نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ جب مولانا کرم الدین دبیر شیعوں کے عقائد بیان کر رہے تھے تو میرے سینے پر گویا ہتھوڑے برس رہے تھے کہ جن کے ایسے ایسے عقائد ہوں، تو انہیں اپنے ساتھ ملاتا ہے، یہ واقعہ مولانا کرم الدین دبیر نے خود اپنے فرزندِ سعادت مند کو سنایا تھا۔ (بحوالہ، کشفِ خارجیت طبع اول صفحہ نمبر ۱۰۴، مصنفہ حضرت اقدس قاضی صاحب)
اور یہ بھی یاد رہے کہ مولانا کرم الدین کی ردِّ شیعیت پر بے مثال تصنیف ’’آفتابِ ہدایت‘‘ امیر شریعت نے اپنی صاحبزادی کو جہیز میں دی تھی۔ کہاں اکابر کی خلوص بھری مصلحتیں اور کہاں نفرت آمیز غیر مستند اور ہوائی باتیں؟ ہم اپنے مخاطب کے کون کون سے ’’فکری شگوفوں‘‘ کو موضوعِ بحث بنائیں؟ کیونکہ
مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

اکابرین عالمی مجلس اور فتنۂ رفض

۱۹۵۷ء میں مولانا محمد علی جالندھری نے مولانا لعل حسین اختر اور مولانا محمد حیات جیسے حضرات کو چوکیرہ ضلع سرگودھا میں امام پاکستان علامہ احمد شاہ چوکیروی کے پاس بھیجا تھا اور علامہ چوکیروی سے کہا کہ یہ علماء آپ کے طلبہ کو فتنۂ مرزائیت کے خلاف تیاری کروائیں گے اور آپ ان علماء کرام کو ردِّشیعیت پر تیاری کروائیں۔ اس واقعہ کے راوی اور عینی گواہ علامہ چوکیروی کے فرزند مولانا سید قاسم شاہ صاحب بقیدِ حیات ہیں۔ ان سے تحقیق کی جاسکتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین کو مرزائیت کے ساتھ ساتھ فتنۂ رفض کی سرکوبی کا کتنا درد اور احساس تھا۔ ختم نبوت کے تاج و تخت کا تحفظ بھی ہم نے کرنا ہے اور ان شاء اللہ صحابہؓ کے جُوتے اپنے رخساروں پر بھی ہم ہی مَلیں گے۔

مسئلہ تکفیر، مولانا کرم الدین دبیر کی عبارت اور مفتی زاہد صاحب کی کم شعوری

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ حضرت مولانا کرم الدین دبیر اور ان کے فرزند سعادت مند حضرت اقدس قاضی صاحب نے اعتدال، ملائمت اور حکمت و بصیرت سے سُنی مذہب کی خدمت کی ہے لیکن اس سے یہ مفہوم اَخذ کرنا کہ وہ کسی لامذہب فرقے کی تکفیر کے قائل نہیں تھے، عدم معلومات کا نتیجہ ہے۔ فاضل مضمون نگار نے مولانا کرم الدین دبیر کی کتاب ’’السیف المسلول لاعداء خلفاءِ الرسول‘‘ کی مذکورہ عبارت سے اپنا من چاہا مطلب نکالنے کی غیر سنجیدہ اور بعید از علم حرکت کی ہے۔
’’شیعہ و سنی دونوں فرقے ایک خدا کی پرستش کرنے والے ایک نبی، ایک قرآن پر ایمان لانے والے اور ایک قبلہ کی طرف سرجھکانے والے ہیں۔ پھر افسوس ان دو متحد المقا صد فرقوں میں احمد شاہ شیعی جیسے ریکروٹ نئے بھرتی ہونے والے حضرات اتحاد قائم نہیں رہنے دیتے‘‘ (الشریعہ ۱۷)

تبصرہ

ابوالفضل مولانا کرم الدین دبیر کی یہ کتاب ۱۸۹۹ء میں پہلی بار چھپی تھی۔ جس میں احمد شاہ شیعہ کے اعتراضات کا جواب اور خلفاءِ راشدین کا قرآن مجید کی چالیس آیات کی روشنی میں دفاع کیا گیا ہے۔ دوسری بار یہ کتاب ۱۹۲۹ء میں مصنف نے اپنی نگرانی میں طبع کروائی۔ اور پھر تیسری مرتبہ تقریباً بیاسی سال کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے قاضی کرم الدین دبیر اکیڈمی کی جانب سے یہ اکتوبر ۲۰۱۱ء میں راقم الحروف کے مقدمہ و حواشی کے ساتھ نہایت خوبصورت انداز میں شائع ہوئی ہے۔ ۱۹۲۹ء میں جب یہ چھپی تو مولانا کرم الدین دبیر نے مذکورہ عبارت کے نیچے یہ حاشیہ اضافی لگایا۔
’’یہ اس وقت کا خیال ہے، جب بوقتِ تصنیف رسالہ ھذا، کتب شیعہ اور ان کے عقائد و مسائل پر پورا عبور نہ تھا۔ لیکن بعد مطالعہ کتبِ اصول و فروعِ شیعہ، اب معلوم ہوا کہ شیعوں کا قرآن پاک پر بھی ایمان نہیں ہے۔ ایسی حالت میں اسلام سے ان کو کچھ واسطہ اور تعلق ہی نہیں ہوسکتا‘‘۔
ہم حیران ہیں کہ فاضل مضمون نگار یہ حاشیہ اتنی آسانی سے کیسے ہضم کر گئے؟ یہ دانستہ کیا گیا ہے یا نادانستہ؟ اگر دانستہ ہے تو پھر نیتوں کے کھوٹ سے تحقیقی کام کبھی پروان نہیں چڑھتے۔ اور اگر نادانستہ ہے تو بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک ہی صفحے پر اتنا واضح حاشیہ نظر کیوں نہیں آیا؟ ہمیں سو فیصد یقین ہے کہ مضمون نگار کے پیش نظر یہی تیسرا اڈیشن ہے اور یہ تو اتنا صاف سُتھرا اور نفیس و جلی کمپوزنگ سے لکھا ہے کہ دماغی فتور کے علاوہ اس سے صَرف نظر ناممکن ہے اور ہم نے باقاعدہ اس توضیحی حاشیہ کے آگے مصنف کا نام بریکٹ میں لکھا ہے تاکہ ہمارے حواشی سے التباس نہ ہوسکے۔ اور فاضل مضمون نگار اگر مولانا کرم الدین کی دیگر کتب بھی پڑھ لیتے تو شک و شبے کی کوئی گنجائش نہ رہتی۔ ’’آفتابِ ہدایت‘‘ میں تکفیر روافض پر باقاعدہ فتوی شامل اشاعت ہے اور جابجا ابحاث میں مصنف ان کی تکفیر کرتے ہیں۔ جولائی ۱۹۱۱ء میں مولانا کرم الدین کی ایک یادگار تصنیف ’’تازیانۂ سنت‘‘ ردِّاہل رفض و بدعت‘‘ شائع ہوئی تھی۔ اب ٹھیک ایک سو سال کے بعد محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی جدید طباعت کروائی گئی ہے۔ اس میں بھی صراحتاً تکفیر شیعہ ثابت ہے۔ مولانا دبیر اور آپ کے فرزند سعادت مند حضرت اقدس مولانا قاضی مظہر حسین نے کبھی رفض و بدعت کے خلاف لچک کا مظاہرہ نہیں کیا۔۔۔ ہمیں اس پر بھی حیرت ہے کہ مصنف نے اہل تشیع کا دفاع کرتے ہوئے ہمارے ان بزرگوں کو موضوعِ سخن کیوں بنایا ہے؟ جبکہ ان حضرات کی زندگی کا ایک ایک پل عظمتِ صحابہ کے دفاع اور رفض وبدعت کی بیخ کنی میں گذرا ہے۔ یہ دونوں باپ بیٹا عظمتوں کے تاج سر پر سجا کر عقبیٰ میں حضراتِ ابوبکرؓ و عمرؓ کے جلوؤں کے مزے لوٹ رہے ہیں اور ان کی قبر کاایک ایک ذرہ چراغ نہیں بلکہ سورج بن کر گم گشتگان وادئ ضلالت کی راہنمائی کر کے انہیں صحابہ کا سچا سپاہی بنا رہا ہے۔ اور ان شاء اللہ قیامت تک ان کا فیضانِ جاری رہے گا۔ آپ اپنے خیالات اور جذبات کا علمی اصولوں کے مطابق ضرور اظہار کیجیے۔ مگر یاد رکھیے ان حضرات کی محنتوں کو اپنے خود ساختہ اور کچے نظریات سے تخت و تاراج کرنے کی ہر سازش بے نقاب کر دی جائے گی۔ ہم جگنو نہیں ہیں کہ روشنی دے سکیں، مگر پروانے ضرور ہیں جو روشنی پہ مرسکیں۔
پروانہ اک پتنگا، جنگو بھی اک پتنگا 
وہ روشنی کا طالب ، یہ روشنی سراپا

آخری گزارش 

فاضل مضمون نگار اور ماہ نامہ الشریعہ کی مجلس منتظمہ سے ہماری آخری گزارش یہ ہے کہ فتوے کی زبان سے ہٹ کر اور تکفیر و عدم تکفیر کی بحثوں میں الجھے بغیر ہمیں یہ بتایا جائے کہ شیعہ مذہب ایک گمراہ ترین مذہب ہے یا نہیں؟ کیونکہ کفر پر دستاویزی ثبوت ہیں جو اس میدان کے لوگ ہی جانتے ہیں مگر گمراہ ترین ہونے پر تو واقعاتی اور مشاہداتی دستاویزات سب کے سامنے ہیں جب آپ بلاوجہ اس عنوان کو نرم کر کے اور ان کے دفاع میں گفتگو کریں گے تو کیا اہل سنت والجماعت کے سادہ لوح لوگ آپ کی ان باتوں سے تاثر لے کر شیعیت کا شکار نہیں ہوں گے؟ کیا آپ کی اس پالیسی سے عظمتِ صحابہ کا ایمانی مسئلہ مجروح نہیں ہوگا؟ کیا اس قسم کے مضامین ایک عام قاری کو ایک ہزار سال کے محققینِ اہل سنت کی کاوشوں سے برگشتہ نہیں کریں گے؟
اگر غیروں کو قریب کرنے کے غیر فطری عمل سے آپ کے فطری متعلقین آپ سے کٹ گئے تو کیا یہ دین کی خدمت ہے؟ اگر اڑتی چڑیوں کو پکڑنے کی چاہ میں آپ ہاتھوں کی چڑیاں اڑا بیٹھیں تو کیا یہ دانش مندی ہے؟ اور اگر آپ واقعی مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد کی خواہش رکھتے ہیں تو اس کے لیے بڑے بڑے معرکے گرم ہیں، جہاں آپ خدمات پیش کر کے کوئی مثبت خدمت کا فریضہ سرانجام دے سکتے ہیں۔ اور بطور باشندگانِ وطن اگر آپ شیعہ، سنی تصادم ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ آپ ان کی وکالت کرنے بیٹھ جائیں، کیونکہ تصادم ختم کیا جاسکتا ہے، اختلاف نہیں۔ معاف کیجیے گا، آپ حضرات کی انہی لایعنی اور بے روح باتوں نے اہل سنت کو ’’سپاہ صحابہ‘‘ جیسی جماعتیں بنوا کر تشدد کے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ ہم اس وقت ایک خطرناک دوراہے پر کھڑے ہیں۔ اب ہم نے دشمنوں کا تعاقب بھی کرنا ہے اور اپنوں کی جان و آبرو کی حفاظت بھی کر نی ہے۔
ہم آپ کو دعوتِ فکر دیتے ہیں کہ آئیے! سب مل کر دفاعِ اسلام اور دفاع صحابہ کے محاذ پر بذریعہ تقریر، تحریر، تدریس یا ہر مثبت ذریعہ بروئے کار لاکر یہ مقدس فریضہ سرانجام دیتے ہیں اور اگر آپ کے شکم مبارک کے مروڑ صرف اسی صورت میں ختم ہوسکتے ہیں کہ آپ نے رفض کو مسلمانوں کی قطاروں میں ہی دیکھنا ہے تو پھر سرکردہ علماء کرام کا ایک ثالثی بورڈ تشکیل دیجیے اور اس موضوع پر یعنی اہل تشیع کے خلاف گرم و نرم رویہ رکھنے والے فریقین کا باحوالہ موقف سُنیے۔۔۔ اور اس کے بعد کوئی رائے قائم کیجیے اور معذرت کے ساتھ، اگر آپ نے محض ’’دماغی عیاشی‘‘ کرنی ہے اور بغیر کسی تحقیق و تفہیم کے پانی میں ہی مدھانی چلانی ہے تو پھر ماہ نامہ ’’الشریعہ‘‘ حاضر ہے۔ آپ جیسے حضرات کے دم قدم سے ہی ہمارے اس اکلوتے ماہ نامہ کی رونقیں ہیں۔ فکرِ آخرت یا خدا خوفی کی دعوت ہم آپ کو دے نہیں سکتے کہ آپ خود علماء دین ہیں۔ وقال اللہ تعالیٰ ۔ اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَآء ۔
البتہ اتنا ضرور کہیں گے کہ عالم دین کی فکری و اصولی لغزش بانجھ پن کی مریض نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ غلطیوں پر غلطیاں جنم دیتی چلی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ وطن عزیز میں نظام خلفاءِ راشدین کے عملی نفاذ کے جذبے کے ساتھ دفاعِ صحابہ کا جذبہ نصیب ہو۔ اور دین اسلام کے آفاقی دستور کی حفاظت کے لیے ہر فتنے کے سامنے سرسکندری بننے کا من جانب اللہ اعزاز حاصل ہوجائے۔آمین ثم آمین
ٹپک اے شمع! آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں میں
سراپا درد ہوں، حسرت بھری ہے داستاں میری

عذابِ قبر اور قرآنِ کریم (۱)

مولانا محمد عبد اللہ شارق

یہ حقیقت ہمیں تسلیم کرنی چاہئے کہ اسلام نے جتنا زور بعث بعدالموت اور آخرت کی زندگی پر دیا ہے، اتنی شدومد سے قبر کے احوال کو بیان نہیں کیا۔ قرآنِ مجید نے عموماً ’الیوم الآخر‘ (روزِ قیامت) کا ذکر کیا ہے ، اسی پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے، اسی سے ڈرنے اور اس کی فکر کرنے کی تلقین کی ہے، اسی کے احوال کو پھیر پھیر کر بیان کیا ہے اور ایمان کی تعریف میں رب، رسول، ملائکہ اور کتبِ الہیہ کے ساتھ ساتھ صرف ’الیوم الآخر‘ اور بعث بعد الموت کا ذکر کیا گیاہے۔ حتی کہ روایت ہے کہ’جب ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یہودی عذابِ قبر کا ذکر کرتے ہیں، کیا یہ بات درست ہے کہ قبر میں عذاب ہوتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں۔ قیامت سے پہلے کوئی عذاب نہیں۔‘ ( مسند احمد، حدیث ۲۴۵۲۰) حافظ ابنِ حجر نے اس حدیث کی سند کو بخاری کے معیار کی سند قرار دیا ہے۔ (فتح الباری ۳/ ۳۰۲) یوں تو حضرت عائشہ کا اس بابت استفسار کرنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ قبر کی جزاؤ سزا کا قرآن اور وحیِ الہی نے اتنا ذکر نہیں کیا کہ ہر خاص وعام کے علم میں یہ بات ہوتی، ورنہ حضرت عائشہؓ جیسی عالم اورفقیہہ تو کم ازکم اس سے ہرگز لاعلم نہ ہوتیں۔ لیکن یہاں تو اس سے بھی دوقدم آگے بڑھ کر یہ نظر آتا ہے کہ خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں بھی پہلے یہ بات نہ تھی۔ تاہم جب بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں یہ بات آگئی توآپ نے ایک اور موقع پر اس کی وضاحت بھی فرمادی۔ (مسند احمد حوالہ مذکور، صحیح البخاری، حدیث۱۳۷۲) حافظ ابنِ حجر اور ابنِ کثیر نے قرائن سے اندازہ لگایا ہے کہ مدنی دورکے بھی آخر میں آپ کو عذابِ قبر کا علم ہوا، اس سے پہلے آپ کو اس کا علم نہیں تھا۔ تاہم ابنِ حجر نے خیال ظاہر کیاہے کہ یہ لاعلمی صرف مؤمنین کے عذابِ قبر کے حوالہ سے ہوگی، ورنہ کفار کے لیے برزخی عذاب کا ذکر مکہ میں نازل ہونے والی دو آیات میں ہی ملتا ہے۔ (فتح البار ی حوالہ مذکور) 
راقم کی نظر میں یہ خیال بظاہر درست نہیں کیونکہ اگر کفار کے لیے عذابِ قبر کا آپ کو پہلے سے علم ہوتا تو حضرت عائشہؓ کے جواب میں آپ اس کی وضاحت فرماتے اور عذابِ قبر کا مطلقًا انکار نہ کرتے۔ باقی رہیں وہ دو آیات جن کے بارہ میں اشکال کیا گیا ہے کہ وہ مکہ میں نازل ہوئیں اور ان میں برزخی جزاؤ سزا کا ذکر ہے تو وہ دو آیات یہ ہیں: (۱)المومن: ۴۶(۲) ابراہیم: ۲۷ ۔ ان میں سے پہلی آیت کے اندر آلِ فرعون کو صبح وشام جہنم کے روبرو پیش کیے جانے کا ذکر ہے، جبکہ دوسری آیت میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالی دنیا وآخرت میں اپنے مومن بندوں کو کلمہ توحید کے ساتھ ثابت قدمی عطا فرمائے گا(اور پھسلنے سے ان کی حفاظت فرمائے گا) جبکہ کافروں کو بھٹکا دے گا۔ پہلی آیت سے بظاہر صرف آلِ فرعون کے بارہ میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ قیامت سے پہلے ہی ایک اذیت ناک عذاب میں مبتلا ہیں، کافروں کے لیے عذابِ قبر کا مطلق اثبات اس سے نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا علم تو رہا ہو، مگر مطلق عذابِ قبر کا نہیں۔دوسری آیت میں جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، برزخ کے جزاؤ سزا کا کوئی صریح بلکہ مبہم اشارہ بھی نہیں ہے جو عقل کی مدد سے معلوم ہوسکے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ابنِ کثیر نے مذکورہ اشکال صرف اول الذکر آیت کی بنیاد پر اٹھایا ہے اور دوسری آیت کا حوالہ اس ضمن میں دیا ہی نہیں کہ اس سے بھی عذابِ قبر کا اثبات ہوتا ہے۔(تفسیر ابنِ کثیر، المومن:۴۶) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احوال قبر اور منکر ونکیر کے سوال وجواب کا ذکر فرمانے کے بعد بعض احادیث میں جس طرح یہ آیت تلاوت فرمائی، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ آپ اس کو حیاتِ برزخ یا عذابِ قبر کے اثبات کے لیے تلاوت نہیں فرمارہے، بلکہ محض یہ بتانے کے لیے تلاوت فرمارہے ہیں کہ اللہ تعالی نے جو دنیاو آخرت میں مسلمان کو ثابت قدم رکھنے کا وعدہ فرمایا ہے، وہ قبر میں منکر نکیر کی آمد پر بھی پورا ہوگاجو آخرت کی گھاٹیوں میں سے پہلی گھاٹی ہے اوراسی طرح کافروں کے بارہ میں مدد نہ کرنے کا جو فیصلہ فرمایا ہے ، وہ بھی قبر میں بھی پورا ہوگا کہ کافر منکر ونکیر کے امتحان میں ناکام ہوگا۔ 
باقی صحیح البخاری (حدیث۱۳۶۹) وغیرہ میں جو یہ مذکور ہے کہ ’نزلت فی عذاب القبر‘ یعنی ’ یہ آیت عذابِ قبر کے بارہ میں نازل ہوئی ‘ تو علوم القرآن کی کتابوں میں یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ ’نزلت فی کذا‘ یعنی ’ یہ آیت فلاں معاملہ میں نازل ہوئی‘ کا اسلوب کسی آیت کے بارہ میں صریحاً یہ نہیں بتاتا کہ اس آیت کا شان نزول بھی یہی معاملہ ہے اور یہ آیت اسی معاملہ کے اثبات کے لیے نازل ہوئی، بلکہ علامہ زرکشی کے مطابق تو صحابہ و تابعین کی عادت ہی یہ تھی کہ وہ ’نزلت فی کذا‘ کا اسلو ب وہاں اختیار کرتے تھے جہاں مذکورہ معاملہ آیت کا شانِ نزول نہ ہوتا،بلکہ صرف یہ بتانا مقصود ہوتا کہ آیت کے مفہوم کا فلاں معاملہ پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔ (التبیان۔ صفحہ۲۳) اس لیے ضروری نہیں کہ جب آیت نازل ہوئی ہو تو’نزلت فی کذا‘ کے ساتھ بیان کیا گیا مخصوص معاملہ بھی اسی وقت ثابت ہوگیا ہو، بلکہ یہ عین ممکن ہے کہ وہ معاملہ اس وقت کسی کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ رہا ہو۔’نزلت فی کذا‘ کی ایسی کئی مثالیں علوم القرآن کی کتابوں میں موجود ہیں۔ (الاتقان ۱/۳۲) لہذا یہ ممکن ہے کہ سورۃ ابراہیم کی آیت۲۷ تو پہلے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں رہی ہو، مگر عذابِ قبر پہلے آپ کے علم میں نہ رہا ہو۔ بعد میں جب آپ کے علم میں یہ بات آگئی تو آپ نے احوال قبر کے ساتھ اس آیت کو تلاوت کرکے محض یہ بتا یا کہ آیت میں مومنوں کی مدد اور کافروں کی ہلاکت کا جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ قبر میں بھی پورا ہوگا اور منکرو نکیر کے امتحان میں مسلمان کامیاب جبکہ کافر ناکام ہوگا۔ ’نزلت فی عذاب القبر‘ کو بھی اسی پر محمول کرنا چاہئے۔ اگر ’نزلت فی عذاب القبر‘ کا یہ معنی ہوتا کہ آیت کا شان نزول بھی عذاب قبر ہے اور آیت کے اترتے ہی عذابِ قبر کا علم بھی حاصل ہوگیا ہوگا تو کم ازکم’اسباب النزول‘ کی مخصوص کتابوں (لباب النقول وغیر ہ ) میں بھی مذکورہ آیت کے ساتھ اس کا یہ شانِ نزول بیان ہوتا ، لیکن اسباب النزول کی کتابوں میں اس آیت کے ساتھ ’نزلت فی عذاب القبر‘ کا ذکر نہ ہونااس بات کا قرینہ ہے کہ ان کے ہاں بھی ’نزلت فی عذاب القبر‘ کا معنی آیت کا شانِ نزول نہیں سمجھا گیا۔ واللہ اعلم 
خیر ، ثابت یہ کرنا مقصود ہے کہ اسلام نے قبروبرزخ کے احوال پر وہ زور نہیں دیا جو پہلے ہی دن سے قیامت، آخرت اور بعث بعد الموت پر دیا ہے۔ اسلام کی کامل پیروی اسی میں ہے کہ اسلام نے جس چیز کا بار بار تکرار کیا ہے، اس کا تکرار اور بار بار مذاکرہ کیا جائے جبکہ جس چیز کو نسبتاً کم دفعہ بیان کیا ہے، ہمیں بھی اس کو بہت زیادہ دفعہ بیان نہیں کرنا چاہئے۔ اس کے بعد مطلوبہ تنائج کو اللہ کے سپرد کردینا چاہئے۔ اگر اللہ نے چاہا تو اس سے اسلام کے مٹے ہوئے نقوش اور شعائر خودبخود زندہ ہونے لگیں گے۔ (یہ نکتہ قدرے زیادہ تفصیل سے میرے ایک اور مضمون میں بیان ہوگا۔)حساب وکتاب کا احساس اور خوف پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ کثرت سے وہ مضامین بیان کیے جائیں جن پر خود اسلام نے پہلے دن سے زیادہ زور دیا ہے اور اسلوب بدل بدل کر ان کو قرآن میں بیان کیا ہے تاکہ ان کی تلاوت کی جائے، بار بار پڑھا جائے، سنا جائے اور تکرار کیا جائے۔ قبر کی جزاؤ سزا کا علم بھی ہمیں قرآن وحدیث کے ذریعہ ملا ہے، لیکن اسلام میں اس کے احوال پر وہ زور نہیں جو احوالِ قیامت پر دیا گیا ہے۔ اصل مسئلہ افراط وتفریط سے پیدا ہوا۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھ لیاکہ اگر قبر کی زندگی کی کوئی حقیقت ہوتی تو قرآن عموماً صرف آخرت پرہی کیوں زور دیتا ہے؟ اس کے نتیجہ میں وہ انکارِ حدیث تک جا پہنچے۔ دوسری طرف بعض لوگوں نے جب دیکھا کہ انسان کے لیے جزاؤسزا کا سلسلہ قبر سے ہی شروع ہورہا ہے تو انہوں نے قیامت سے زیادہ قبر پر ہی زور دینا شروع کردیا۔ اسی کے احوال کو اس کثرت اور شدومد کے ساتھ بیان کیا ، جس شدومد اور کثرت کے ساتھ قرآن قیامت کی احوال پر زور دیتا ہے۔

عذابِ قبر اور منکرین کے شبہات

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ قبر اور برزخ کو ہم ایک ہی مفہوم میں استعمال کریں گے۔ موت کے بعد صورِ اسرافیل تک جو دورانیہ ہے ، قرآن میں اس کے لیے برزخ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ (المومنون:۱۰۰) ’برزخ‘ کے معنی حدفاصل کے ہیں۔ چونکہ یہ دورانیہ دنیا کی زندگی اور بعث بعد الموت کے بعد حاصل ہونے والی زندگی کے درمیان حائل حد فاصل ہے، اس لیے اسے برزخ کہا گیا ہے۔ احادیث میں جو اس دورانیہ کے دوران رونما ہونے والی کیفیات کو قبر کی طرف منسوب کیا گیا ہے جیسے عذابِ قبر وغیرہ، تو وہ تغلیباً ہے کیونکہ اکثر لوگوں کا یہ دورانیہ قبر میں ہی گزرتا ہے۔ واللہ اعلم! ورنہ اسی دورانیہ کے کئی احوال قرآن وحدیث میں ایسے مذکور ہیں، جن کے ساتھ قبر کا قطعا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اسی طرح یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ قرآن وحدیث میں قبر کے عذاب کے ساتھ ساتھ اس کی نیک جزاء کا بھی ذکر ہے۔ فریقین کے درمیان تنازعہ کا عنوان اگر چہ عذابِ قبر رہا ہے، مگر یہ تنازعہ صرف عذابِ قبر کے بارہ میں نہیں۔ جو عذابِ قبر کو مانتے ہیں، وہ قبروبرزخ کے باقی احوال کو اور اس کی نیک جزاء کو بھی مانتے ہیں۔ جبکہ جو لوگ عذابِ قبر کا انکار کرتے ہیں، وہ باقی احوال کا اور اس دورانیہ کی نیک جزاء کا بھی انکار کرتے ہیں۔ 
احوال برزخ اور قبر کے عذاب وجزاء کا انکار کوئی آج کی بات نہیں، صدیوں پہلے روافض، خوارج اور بعض معتزلہ بھی اس کے منکر رہے ہیں۔ ان کے اعتراضات جو ابنِ قیم کی کتاب ’الروح‘ سے نقل کیے گئے ہیں، کچھ اس طرح کے تھے:
(۱) جو احوالِ برزخ احادیث میں تفصیل سے مذکور ہیں، وہ قرآن میں کیوں مذکور نہیں؟ (الروح۔ صفحہ ۷۱)
(۲) قبر کے جزاؤ سزا کا تصور نہ صرف یہ کہ قرآن میں نہیں ہے، بلکہ یہ قرآن کے خلاف بھی ہے کیونکہ جزاؤ سزا کے احساس کے لیے زندگی ضروری ہے اور قرآن کی رو سے زندگیاں صرف دو ہیں۔ ایک دنیا میں اور دوسری صورِ اسرافیل کے بعد جو تاابد جاری رہے گی اور جسے بعث بعد الموت کا نام دیا گیا ہے۔ عذابِ قبر کا اثبات دراصل ایک تیسری زندگی کا اثبات ہے، جوکہ قرآن کے خلاف ہے۔ (صفحہ۴۲)
(۳) قبر کے احوال جو احادیث میں مذکور ہیں، وہ خلافِ عقل بھی ہیں کیونکہ اگر میت کو دفن کرنے کے کچھ عرصہ بعد قبر کو کھولا جائے تو میت کو جیسے دفن کیا گیا ہوتا ہے، وہ ویسے کا ویسے پڑا ہوتا ہے۔ جزاؤ عذاب کی جن کیفیات کا ذکر احادیث میں ہے ، ان میں سے کوئی بھی کیفیت وہاں نظر آتی ہے اور نہ ہی اس کے کوئی آثار ملتے ہیں۔ (صفحہ۵۹)
(۴) اگر قبر میں جزاؤ عذاب کا تصور حق ہے تو جولوگ پانی میں ڈوب کر، پھانسی پہ چڑھ کریا کسی جان ور کے پیٹ کی غذاء بن کر مرجاتے ہیں اور انہیں دفن کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی تو منکر نکیر ان سے سوال کیسے کریں گے اور انہیں جزاؤ سزا کا احساس کیسے ہوگا۔ (صفحہ۶۹)
آج کے دور میں جو لوگ عذابِ قبر کا کلیتاً انکار کرتے ہیں، وہ بھی کم وبیش یہی اعتراضات کرتے ہیں۔ چنانچہ الشریعہ کے شمارہ اپریل ۲۰۱۳ء میں شائع ہونے والے امتیاز احمد عثمانی کے مکتوب کو دیکھا جاسکتا ہے ، جس کی ساری گفتگو انہی نکات کے گرد گھومتی ہے۔ اگریہ انکار اس وجہ سے ہوتا کہ ان لوگوں تک نبوی احادیث نہیں پہنچیں تو ان کا یہ انکار کسی حدتک قابلِ فہم ہوتا، مگر یہاں ایسی کوئی بات نہیں۔ صریح احادیث کے پہنچنے کے بعد ان کا انکار کیا جارہاہے۔ ذہنِ جدید کی الجھنوں کو سامنے رکھتے ہوئے اب ہم ان سوالات پر بالترتیب غور کرتے ہیں جو منکرینِ برزخ (عذابِ قبر کے منکرین) کی طرف سے اٹھائے جاتے ہیں۔ 

پہلا سوال

اس سوال کا جواب دینے سے پہلے اس کے پسِ پردہ کارفرما سوچ کا مختصر محاکمہ ضروری ہے۔ عموماً جو لوگ سنت کی تخفیف کرتے ہیں اور ہر بات کا حوالہ قرآن سے مانگتے ہیں، ان کا نکتۂ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ احادیث ’وحی‘ نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن فہمی کا نتیجہ ہیں، لہذا اصل چیز قرآن ہے۔ پس حدیث کی صحت وسقم کو جانچنے کا اصول ان کے نزدیک یہ ہے کہ جس حدیث کا ماخذ انہیں (بزعمِ خود) قرآن میں مل جائے ، اس کو تو حدیث تسلیم کرلیا جاتا ہے اور نبوی قرآن فہمی کی حیثیت سے اسے دیکھا جاتا ہے، جبکہ جس حدیث کا ماخذ انہیں قرآن میں نہ ملے، اس کے بارہ میں باور کرلیا جاتا ہے کہ راویوں نے یہ حدیث غلط طور پر آنحضور کی طرف منسوب کردی ہے۔ ہمارے خیال میں اس نکتہ کی کوئی وقعت نہیں۔ یوں تو ہمیں خود قرآن نے جس طرح نبی کی غیر مشروط اطاعت کا حکم دیا ہے، اس کے بعد ہمیں اس بات سے سروکار نہیں ہونا چاہئے کہ نبی کی کونسی بات کیسے اور کون سے ذریعہ سے ماخوذ ہے؟ آیا قرآن سے ؟ کسی خواب سے؟ یا کسی فرشتہ کے اطلاع دینے سے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اگر فرض کر لیا جائے کہ نبی کی ساری احادیث محض ’’قرآن فہمی‘‘ کا درجہ ہی رکھتی ہیں (اگر چہ اس مفروضہ کی کوئی دلیل نہیں اور فضائلِ اعمال کی اکثر احادیث اس مفروضہ کی نفی کرتی ہیں)تو پھر بھی ضروری نہیں کہ نبی کے ہر فرمان کا ماخذ صاف صاف ہمیں بھی قرآن میں نظر آجائے۔ یہ عین ممکن ہے کہ نبی نے اپنی شانِ عبدیت اور خداداد بصیرت کے ساتھ اپنے رب کے کلام سے کوئی ایسی بات سمجھی ہوجو ہم جیسے سیاہ کار اور دنیادار رہتی دنیا تک نہ سمجھ سکیں اور نبی کی قرآن فہمی کوئی معمولی قرآن فہمی نہیں کہ مودودی اوراصلاحی کی قرآن فہمی کی طرح اس سے اختلاف کیا جاسکے۔ لہذا صحیح سند سے ثابت ہونے والی اور تاریخی تنقید کے اصولوں پر پورا اترنے والی کسی حدیث کو محض اس وجہ سے مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ ہمیں اس کا ماخذ اور مستنبط قرآن میں نہیں مل رہا۔ باقی یہ پہلو بھی قابلِ توجہ ہے کہ قرآن میں کسی بات کا مذکور نہ ہونا اور قرآن کا کسی بات کی مخالفت کرنا‘ دو الگ الگ باتیں ہیں۔ اگر ایک بات کا ذکر قرآن میں نہیں ہے تو ضروری نہیں کہ قرآن اس کا منکر اور مخالف بھی ہو۔ 
چنانچہ اگر فرض کرلیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروبرزخ کے تمام احوال قرآن ہی سے سمجھے، مگر ہمیں یہ استدلال اور استنباط سمجھ نہیں آرہا یا پھر واقعی قرآن میں قبروبرزخ کے جزاؤ عذاب کا کوئی ذکر نہیں ہے، مگر قرآن اس کا انکار بھی نہیں کرتاتو ان دونوں صورتوں میں قرآن ہی کی پیروی کا یہ تقاضا ہے کہ احوالِ برزخ کو نبی پر اعتماد کرتے ہوئے تسلیم کیا جائے یا کم ازکم اس حوالہ سے سکوت اختیار کیا جائے جس طرح کہ ’’اہلِ قرآن‘‘ کو قرآن اس حوالہ سے ساکت نظر آتا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں قرآن کے نام پر برزخی جزاؤ عذاب کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔ 
اس ابتدائی تمہید کے بعد ہم اصل سوال کی طرف لوٹتے ہیں۔ اگر چہ کسی چیز کا اس وجہ سے انکار کرنا درست نہیں کہ اس کا ذکر صرف احادیث میں کیوں ہے اور قرآن میں کیوں نہیں، مگر عذابِ قبر اور برزخی جزاؤ سزا کے بارہ میں حقیقت یہ ہے کہ قرآن بھی ان کے ذکر سے خالی نہیں، لیکن انداز ایسا ہے کہ بقول سیدسلیمان ندوی’اس سے عذابِ قبر کی طرف ذہن بتصریح منتقل نہیں ہوتا۔‘ (سیرتِ سیدہ عائشہ۔صفحہ۱۹۵)تاہم جن لوگوں کو احادیث کے مفاہیم قرآن میں تلاش کرنے کا شدید شوق لاحق ہے، انہیں اِ ن آیات پر ضرور غور کرنا چاہئے۔ 
(۱) ’النار یعرضون علیہا غدوا وعشیا ویوم تقوم الساعۃ أدخلوا آل فرعون أشد العذاب‘ (المومن:۴۶)
یعنی ’آلِ فرعون صبح و شام جہنم کے روبرو پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت واقع ہوگی تو کہا جائے گاکہ آلِ فرعون کو جہنم میں ڈال دو۔‘ 
آیت کے اپنے الفاظ صاف گواہی دے رہے ہیں کہ جہنم کے روبرو پیش کیے جانے کا عذاب قیامت سے پہلے ہی آلِ فرعون کو ہورہا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کا تعلق برزخ کے دورانیہ سے ہی ہے۔ آیت میں اگر چہ صرف آلِ فرعون کے لیے عذابِ برزخ کا ذکر ہے، مگر منکرینِ برزخ آلِ فرعون کے حق میں بھی اس عذاب کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ آیت کے ترجمہ میں ’ پیش کیے جاتے ہیں‘ کی بجائے ’پیش کیے جائیں گے‘ کہا جائے اور پھر ’پیش کیے جائیں گے‘ کا معنی ’قیامت کے دن پیش کیے جائیں گے‘لیا جائے۔ دلیل میں شاہ رفیع الدین ؒ وغیرہ کا ترجمہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ انہوں نے بھی ’پیش کیے جائیں گے‘ کا ترجمہ کیا ہے۔نیز سورۃ الاحقاف کی آیت۲۰،۳۴ کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے کہ وہاں قیامت کے دن کافروں کو جہنم کے روبرو پیش کیے جانے کا ذکر ہے، لہذا مذکورہ آیت میں بھی پیشی سے مراد قیامت کے دن کی پیشی مراد ہونی چاہئے۔ (دیکھئے : الشریعہ اپریل ۲۰۱۳ء۔صفحہ ۵۴)
ان حضرات کی خدمت میں گذارش ہے کہ شاہ رفیع الدین نہ عذابِ قبر کے منکر ہیں اور نہ ہی منکرحدیث، جبکہ احادیث (جن کو منکرینِ حدیث مجبوراً نبوی فہمِ قرآن کہتے ہیں)میں آیت کا یہی معنی لیا گیا ہے کہ آلِ فرعون کو جہنم کے روبرو پیش کیے جانے کا عذاب قیامت سے پہلے ہی ہورہا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر) لہذا شاہ رفیع الدین کے ترجمہ میں کوئی توجیہ کرنی چاہئے جو ان توجیہات میں سے کوئی بھی توجیہ ہوسکتی ہے:
  • اردوایک نوزائیدہ زبان ہے۔ اب اگرچہ یہ کافی ترقی کرچکی ہے، لیکن شاہ رفیع الدین کے زمانہ تک اس کے قواعد ضوابط زیادہ منضبط نہیں تھے۔ اس لیے اس دور کی غیر ادبی اردو میں معمولی اونچ نیچ کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ ان کے ترجمہ میں اگر ’پیش کیے جائیں گے‘ کا مطلب ’پیش کیے جاتے رہیں گے (قیامت تک)‘ لیا جائے تو یہ زیادہ مناسب ہے۔ 
  • کاتب کے سہو کے امکان کوبھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ اصل میں جملہ ’پیش کیے جاتے رہیں گے‘ ہی ہو ، مگر کاتب کی غلطی سے ’پیش کیے جاویں گے‘ بن گیا ہو۔ 
  • ممکن ہے کہ واقعاتی انداز اختیار کرتے ہوئے یہ ترجمہ کیا گیا ہو۔ واقعاتی اندا ز میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ قاری ماضی کے ایک واقعہ کو سنتے ہوئے گویا خود بھی اس واقعہ کا حصہ بن گیا ہے اور ماضی میں پہنچ گیا ہے۔ چونکہ آیت مذکورہ سے پہلے موسی علیہ السلام، ان کے ساتھی اور فرعون کا قصہ بیان ہورہا ہے اور آخر میں ان کا انجام بیان کیا گیا ہے،لہذا واقعاتی انداز اختیار کرتے ہوئے آخری آیات کا ترجمہ یوں ہوسکتا ہے کہ ’اللہ نے موسی کے ساتھی کو فرعونیوں کی سازشوں کے شر سے محفوظ فرمایا اور آلِ فرعون پر برا عذاب نازل ہوا، (اب قیامت تک کے لیے) دوزخ ہے جس پر وہ صبح شام پیش کیے جائیں گے اور جب قیامت واقع ہوگی تو کہا ۔۔۔‘ اس توجیہ کی رو سے مستقبل کا معنی لینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ 
  • فرض کیجئے کہ آیت کا ترجمہ لکھتے وقت وہ برزخی عذاب کے منکر بھی رہے ہوں اور نظمِ قرآنی کو سمجھنے میں ان سے چوک رہ گئی ہو تو یہ اس وجہ سے ہوگا کہ تب تک ان کے علم میں صریح احادیث نہیں آئی ہوں گی۔ 
شاہ رفیع الدین کے علاوہ بھی جس کسی نے مستقبل کا معنی لیا ہے اور وہ منکرِ حدیث نہیں ہے تو اس کے بارہ میں بھی انہی توجیہات میں سے کوئی کار آمد توجیہ اختیار کی جاسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احادیث سے صرفِ نظر کر کے بھی دیکھا جائے تو آیتِ مذکورہ کے اندر قیامت کا ذکر بعد میں الگ سے ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ جہنم کے رو برو پیش کیے جانے کا عذاب وقوعِ قیامت سے پہلے ہی ہورہا ہے ورنہ اس عذاب کے ذکر کے بعد یہ کہنا کیا معنی رکھتا ہے کہ ’اور جب قیامت واقع ہوگی تو کہا جائے گا کہ ۔۔۔‘ اگر دونوں عذابوں کا تعلق روزِ قیامت سے ہے تو وقوعِ قیامت کی بات دونوں عذابوں کے ذکر سے پہلے ہونی چاہئے تھی۔ اسی طرح اگر جہنم کے روبرو پیش ہونے کے عذاب کا تعلق روزِ قیامت سے ہو تو ’صبح شام پیش کیے جائیں گے ‘ کا کیا مطلب؟ کیا قیامت کی صبح وشام مراد ہے؟ اگر ہاں تو اب آیت کا ترجمہ یوں ہوگا کہ ’آلِ فرعون قیامت کے دن صبح شام جہنم کے روبروپیش کیے جائیں گے اور جب قیامت واقع ہوگی تو کہا جائے گا کہ آلِ فرعون کو جہنم میں ڈال دو۔‘ اگر قیامت کی صبح سے لے کر شام تک آلِ فرعون کو صرف جہنم کے روبرو پیش کیے جانے کاعذاب ہی ہوگا تو اگلی کلام پھر یوں ہونی چاہئے تھی کہ ’اور جب قیامت کی شام بھی ڈوب جائے گی تو ۔۔۔‘ اگر کوئی سمجھنا چاہے تو اس کے لیے یہی وضاحت ہی کافی ہے اور جو نہیں سمجھنا چاہتا تو اسے نہ قرآن کا اپنا اسلوب مطمئن کرسکتا ہے اور نہ ہی احادیث۔بس اس کی جمع پونجی وہی مفروضات ہیں جو اس نے اپنے دماغ میں قائم کر رکھے ہیں۔جو لوگ منکرِ حدیث نہیں ، وہ نہ صرف یہ کہ آلِ فرعون کے لیے برزخی عذاب کو تسلیم کریں گے، بلکہ وہ تو اس حدیث کو بھی تسلیم کریں گے کہ نہ صرف آلِ فرعون ، بلکہ ہر مومن اور ہر کافر کو مرنے کے بعد اور وقوعِ قیامت سے پہلے جنت یا جہنم میں اپنا مخصوص ٹھکانہ صبح وشام دکھایا جاتا ہے اور وہ اس کے روبروپیش کیا جاتا ہے۔ (صحیح البخاری۔ حدیث۳۲۴۰) باقی سورۃ الاحقاف کی آیت۲۰ اور ۳۴ یعنی ’ویوم یعرض الذین کفروا علی النار‘ میں جو کافروں کو جہنم کے روبروپیش کیے جانے کا ذکر ہے تو نہ وہاں صبح شام کا ذکر ہے اور نہ ہی اس ’’پیشی‘‘ کے بعد قیامت کا الگ سے ذکر کیا گیا ہے۔ وہاں کوئی ایسا قرینہ نہیں جو مجبور کرے کہ اس ’پیشی‘ سے ’برزخی پیشی‘ ہی مراد لی جائے، اس لیے وہاں قیامت کے دن کی پیشی بھی مراد ہوسکتی ہے کیونکہ بہرحال جہنم میں گرائے جانے سے قبل کفار کو جہنم کے روبرو ہی پیش ہونا ہوگا۔ تاہم ضروری نہیں کہ اگر سورۃ الاحقاف کی آیت میں روزِ قیامت کی پیشی مراد ہے تو آلِ فرعون کے لیے بھی یہی پیشی مراد ہو۔ ایسا سمجھنے والوں کی ’قرآن دانی‘ اور ’عربی دانی‘ ہمارے فہم سے بالاتر ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ دونوں مقامات پر آیات کے اپنے اسلوب کی رعایت کی جائے گی اور صاحبِ قرآن کی احادیث کو بھی دیکھا جائے گا جو قرآن ہی کی تائید کرتی ہیں۔ ’آلِ فرعون‘ والی آیت سے ان لوگوں کے شبہ کا بخوبی ازالہ ہوجاتا ہے جو برزخی عذاب کی کلیتا تردید کرتے ہیں۔
(۲) حیاتِ شہداء والی آیات (البقرۃ:۱۵۴، آل عمران:۱۶۹) بھی اپنے مضمون میں بالکل واضح ہیں کہ’ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو مردہ مت کہو، وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس ہیں، کھلائے پلائے جاتے ہیں، اللہ کی عنایت پر خوش ہیں، پیچھے رہنے والے اپنے ساتھیوں کے بارہ میں تسلی رکھتے ہیں کہ ان کے لیے بھی اچھا انجام ہے۔‘ اگر خالی الذہن ہوکر دیکھا جائے تو آیت کا اپنا اسلوب بتار ہا ہے کہ اللہ کے ہاں ان کا اعزاز واکرام قیامت سے قبل ہی ہورہا ہے توظاہر ہے کہ اس کا تعلق بھی برزخ سے ہوگا۔ آیت میں اگرچہ صرف شہداء کے لیے برزخی انعام واکرام کا ذکر ہے ،مگر منکرینِ برزخ شہداء کے حق میں بھی اس اعزاز واکرام کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ قرآن سے کہیں ثابت نہیں کہ صورِ اسرفیل پر ہونے والے بعث بعد الموت سے شہداء مستثنی ہیں اور عمومی بعث بعد الموت سے پہلے ہی ان کو زندگی مل چکی ہے۔ لہذا جب شہداء کی زندگی بھی بعث بعد الموت کے بعد شروع ہوگی تو آیتِ شہداء میں اسی زندگی کا ذکر ہے جو بعث بعد الموت کے بعد ان کو حاصل ہوگی۔ اب مذکورہ آیات کے ترجمہ میں ’زندہ ہیں‘ کی بجائے ’زندہ ہوں گے (مستقبل میں)‘ کہا جائے۔ (الشریعہ اپریل ۲۰۱۳ء۔ صفحہ ۵۱) 
نہ جانے اس قبیل کے لوگوں کو حدیثِ نبوی سے کیا چڑ ہوتی ہے کہ وہ اس کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے؟یہ بات ٹھیک ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو صرف دو زندگیاں عطا فرمائی ہیں، ایک دنیاوی اور دوسری صورِ اسرافیل کے بعد۔ (اس پر تفصیلی کلام ان شاء اللہ دوسرے سوال کے جواب میں ہوگی)اسی طرح یہ بھی ٹھیک ہے کہ شہداء عمومی بعث بعد الموت میں باقی لوگوں کے ساتھ کھڑے کیے جائیں گے اور ان کے لیے بھی دو ہی زندگیاں ہیں جن کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے۔ احادیث بھی اسی کی تائید کرتی ہیں۔ ابن عساکر کی روایت میں صراحت ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن شہید کو بھی زندہ فرمائیں گے (کنز العمال، حدیث۱۱۷۳۸) جس سے اس بات کی نفی ہوتی ہے کہ شہداء عمومی بعث بعد الموت سے مستثنی ہیں۔ اس کے بعد اگر امتیاز عثمانی صاحب کے دل میں اشکال پیدا ہوتا ہے کہ آیتِ شہداء میں شہداء کے لیے تیسری زندگی کا ذکر کہاں سے آگیاتو اس اشکال کا حل یہ نہیں کہ شہداء کی حیاتِ برزخی کا انکا رکردیا جائے جس کا اعلان آیتِ شہداء کر رہی ہے۔ بعث بعد الموت اور دو زندگیوں کا ذکر اگر قرآن میں ہے تو صورِ اسرافیل سے قبل شہداء کو حاصل زندگی کا غیر مبہم بیان بھی اسی قرآن میں ہے۔ ’نظائرِ قرآنی‘ کے نام پر ہمیں قرآن کی پیوند کاری سے باز رہنا چاہئے۔ اجمالی ایمان کے لیے تو اتنی بات کافی ہے کہ قرآن میں دونوں باتوں کا ذکر ہے لہذا دونوں ہی حق ہیں، لیکن اگر برزخی جزاؤ سزا کا انکا ر کرنے والوں کو اس پہ کوئی اشکال ہے ہی تو انہیں اپنے اس اشکال کا جواب حدیثِ نبوی میں مل سکتا تھا ، بشرطیکہ وہ احادیث کو دیکھ لینے کے ہی روا دار ہوتے۔ قرآن میں جن دو زندگیوں کا ذکر ہے، ان سے مراد جیتی جاگتی انسانی زندگیاں ہیں، جبکہ احادیث بتاتی ہیں کہ شہداء کی برزخی حیات سے مراد کوئی جیتی جاگتی انسانی زندگی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اللہ تعالی ان کی ارواح کو سبز رنگ کے پرندوں میں ڈال کر جنت میں گھومنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔(صحیح مسلم۔ حدیث۱۸۸۷) لہذا یہ اعتراض ختم ہوجاتا ہے کہ قرآن میں تو دو زندگیوں کا ذکر ہے، جبکہ حیاتِ شہداء سے ایک تیسری زندگی کا اثبات ہوتا ہے۔ آیت کے ترجمہ میں ’بل أحیاء‘ کا معنی ’زندہ ہیں‘ کی بجائے’زندہ ہوں گے‘ بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کے بعد جو ان کے باقی احوال بتائے گئے ہیں، ان میں ایک حال یہ بھی ہے کہ ’پیچھے رہنے والے اپنے ساتھیوں کے بارہ میں وہ تسلی رکھتے ہیں کہ ان کے لیے بھی اچھا انجام ہے۔‘ ظاہر ہے کہ پیچھے رہنے والوں کے بارہ میں یہ تاثر برزخ میں ہوسکتا ہے، صورِ اسرافیل کے بعد نہیں جب سب لوگ ہی دوبارہ زندہ ہوچکے ہوں گے اور’پیچھے رہنے والے ساتھی‘کوئی نہیں ہوں گے جن کے بارہ میں یہ تاثر پیدا ہوسکے۔
امتیاز صاحب نہ تو قرآن کے مفہوم کو اس کے اپنے الفاظ سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی قرآن فہمی کے لیے احادیث کو دیکھنے کے روا دار ہیں۔ آلِ فرعون کے عذاب سے متعلق گذشتہ آیت کے بعد اب آیتِ شہداء کے ضمن میں بھی ان کاطرزِ فکر کھل کر نظر آرہا ہے کہ قرآن مجید بعث بعدالموت سے پہلے ہی شہداء کو حاصل زندگی کو ظاہر کرتا ہے، مگر ان کو اس ظاہر وبارز مفہوم پر اشکال ہے۔ پھر اس اشکال کا جواب جو حدیث میں ملتا ہے، وہ بھی ان کے حلق سے نہیں اترتا۔ آخر وہ چاہتے کیا ہیں کہ قرآنی مضامین کو ان کے عقلِ سلیم اور قلبِ منیب کے سہارے چھوڑ دیا جائے؟مجھے امتیاز صاحب سے ہمدردی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ان کا شمار ان لوگوں میں نہ ہو جو حدیث کانام سنتے ہی بدک جاتے ہیں۔
گذشتہ دونوں آیات سے ثابت ہوا کہ برزخ کے عذاب وجزاء کا کلیتا انکار کرنے والوں کا یہ دعوی درست نہیں کہ برزخی جزاؤ سزا کا ذکر قرآن میں بالکل نہیں ہے۔ اہلِ سنت نے اگر چہ برزخی عذاب وجزا کے اثبات کے لیے بعض دیگر قرآنی آیات سے بھی استدلال کیا ہے، مگر میرے خیال میں ان دو آیات سے زیادہ صریح آیت شاید کوئی نہ ہو۔ اس لیے ہم انہی دو پر قناعت کرتے ہیں۔ زاہد صدیق مغل صاحب نے ’الشریعہ فروری ۲۰۱۳ء‘ میں برزخی جزاؤسزا کے اثبات کے لیے البقرۃ کی آیت ۲۸ سے استدلال کیا ہے جو ہماری نظر میں بالکل درست نہیں۔ (واللہ اعلم) اس استدلال پر تفصیلی گفتگو ہم چند سطروں بعد کریں گے۔ 

دوسرا سوال

یہ بات درست ہے کہ جو حدیث قرآن کے خلاف ہو، وہ قابلِ قبول نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے خلاف کوئی بات ارشاد نہیں فرما سکتے۔ کسی روایت کو خلافِ قرآن کہنے سے مقصود اس کے راوی کو قصور وار ٹھہرانا ہوتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے، یا وہ پوری روایت کو محفوظ نہیں رکھ سکا یا پھر ’غیر حدیث‘‘ کو غلطی سے حدیث سمجھ بیٹھا۔ معاذ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الزام عائد نہیں کیا جارہا ہوتا کہ انہوں نے کوئی بات قرآن کے خلاف کہہ دی۔ اس کے بعد یہ نکتہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ راوی اور ناقل کو نقلِ روایت میں تبھی قصور وار ٹھہرایا جاسکتا ہے کہ جب وہاں قصور رہ جانے کا امکان بھی ہو۔ مثلا یہ کہ اس کے راوی اکا دکا ہوں جسے ’خبرِ واحد‘ کہا جاتا ہے اور یہ ممکن ہو کہ وہ راوی جھوٹ پر اتفاق کر لیں یا انہیں ’غیرِ حدیث‘ کو حدیث سمجھنے کا ایک جیسا مغالطہ لاحق ہوجائے۔ لیکن اگر فرض کیجئے کہ اس کے راوی اتنی تعداد میں ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس حدیث اور معاملہ کی نسبت تواتر اور قطعیت کے ساتھ ثابت ہوجائے اور کثیر التعداد راویوں کے بارہ میں یہ تصور کرنا عقل سے بعید ہو کہ انہوں نے ایک جھوٹ کو پھیلانے پر اتفاق کرلیا ہوگا یا ان سب کو حدیث کے سمجھنے میں ایک جیسی غلطی لگی ہوگی تو اس صورت میں اس حدیث اور معاملہ کو خلافِ قرآن کہنے کا مطلب براہِ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قصوروار ٹھہرانا ہوگا کیونکہ نبی کی طرف اس بات کی نسبت قطعیت سے ثابت ہوچکی ہے اور واقعہ کی دنیا میں ایسے کسی معاملہ کے اندر راویوں سے قصور رہ جانے کا امکان نہیں ہوتا۔
خلاصہ یہ کہ اگر روایت متواتر ہو تو اس صورت میں اس کو خلافِ قرآن کہنے کا مطلب نبی کوقصور وار ٹھہرانا ہوگا کیونکہ جب خبر حد تواتر تک پہنچ جائے تو راویوں اور ناقلوں کو غلط بیانی اور غلط فہمی کا ذمہ درا نہیں ٹھہرایا جاتا۔اس صورت میں اگر کسی کو اس حدیث کے ساتھ اختلاف ہوتو سیدھے لفظوں میں یہ نبی کے ساتھ اختلاف ہوگا۔ پس کسی حدیث یااحادیث سے ثابت کسی معاملہ کو ’خلافِ قرآن‘ کہنے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہئے کہ وہ حدیث یا معاملہ متواتر تو نہیں اورکہیں اس روایت کی نسبت آنحضور کی طرف قطعیت کے ساتھ تو ثابت نہیں ہوچکی۔ اگر ایسی صورت میں کسی کو قرآن اور حدیثِ متواتر کے درمیان تضاد محسوس ہوتا ہی ہے تو احترامِ رسول کا تقاضاہے کہ وہ حتی المقدور ان کے درمیان تطبیق کی صورت پیدا کرے یا تقابلی جائزہ کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنے فہم کو قصور وار ٹھہرائے اور دونوں پر اجمالی ایمان رکھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کبھی ہوگا ہی نہیں کہ قرآن اور حدیثِ متواتر کے درمیان کوئی ایسا اختلاف پیدا ہوجائے جس کو دور کرنے کے لیے تطبیق کی کوئی صورت ہی نہ ہو، بشرطیکہ دیکھنے والے کی بنیادی نفسیات درست ہو۔ 
احادیث میں مذکور برزخی جزاؤ سزا اور دیگر احوالِ برزخ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ ثابت ہیں۔ایک ایک جزئی روایت تو شاید متواتر نہیں، مگر ان کا مجموعی مفہوم اور ان کی قدرِ مشترک (جس کا انکار منکرینِ برزخ کرتے ہیں) وہ تواتر کی حد تک پہنچتا ہے۔ چنانچہ صرف صحابہ میں سے جن افراد نے احوالِ برزخ کوروایت کیا ہے، ان کی تعداد ایک اندازہ کے مطابق ۱۹؍ تک پہنچتی ہے اور ان کے نام یہ ہیں:۔۔۔ ۱۔حضرت عمر۲۔ حضرت عثمان ۳۔ انس بن مالک ۴۔ براء بن عازب ۵۔ تمیم داری ۶۔ ثوبان ۷۔ جابر بن عبداللہ ۸۔ حذیفہ بن یمان ۹۔ عبادۃ بن صامت ۱۰۔ عبداللہ بن رواحہ ۱۱۔ عبداللہ بن عباس ۱۲۔ عبداللہ بن عمر ۱۳۔ عبداللہ بن مسعود ۱۴۔ عمرو بن عاص ۱۵۔ معاذ بن جبل ۱۶۔ ابو امامہ ۱۷۔ ابو الدرداء ۱۸۔ ابوہریرہ۱۹۔ حضرت عائشہ (النبراس۔ صفحہ ۳۲۰) تحقیق کی جائے تو شاید اس تعداد میں مزید بھی اضافہ ہوجائے۔ پھر یہ تعداد صرف صحابہ کی ہے، بعد میں ان سے نقل کرنے والوں کی تعداد تدریجاً بے حدوبے حساب ہوتی چلی جاتی ہے۔ ظاہر ہے ان سب راویوں کے بارہ میں یہ تصور کرلینا کہ انہوں نے ایک ہی جھوٹ پر ایکا کرلیا ہوگایا سب کو ادھوری حدیث یادر ہ گئی ہوگی یا سب ہی لوگ عذاب قبر کے بارہ میں ’’غیر احادیث‘‘ کو احادیث سمجھنے کے ایک جیسے مغالطہ کا شکار ہوئے ہوں گے، یہ ممکن نہیں۔ اگر کوئی ان سب روایات کو ’خلافِ قرآن‘ کہتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ بالواسطہ آنحضور کو قصور وار ٹھہرا رہا ہے کہ انہوں نے قرآن کے خلاف کئی باتیں کہہ دیں حالانکہ نبی کی بات کتاب اللہ کے خلاف نہیں ہوسکتی۔ 
اجمالی ایمان کے لیے تو اتنی بات ہی کافی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بے شمار احادیث میں قبر کے جزاؤ عذاب کا ذکر ہے، اس لیے وہ حق اور سچ ہے۔ اگر قرآن سے تقابلی مطالعہ کا ضرور ہی شوق ہو تو جو آدمی احادیث کو قرآن کے مطابق دیکھنا ناپسند نہیں کرتا، اسے قرآن میں بھی اس کے کئی اشارے مل جائیں گے جیسا کہ اہلِ سنت کو ملتے رہے ہیں اور گذشتہ سطور میں ہم نے بھی ان میں سے دو ناقابلِ تردید آیات نقل کی ہیں۔ لیکن اگر خدانخواستہ نفسیات ہی یہ بن چکی ہو کہ اپنے عقلی مفروضات سے قرآن کی مطابقت پیدا کرنے کے لیے تو قرآنی مضامین میں جیسی تیسی تاویل بھی کردینی ہے او راحادیث سے قرآن کی مطابقت کو سمجھنے کے لیے قرآن کے تائیدی اشاروں کو بھی قبول نہیں کرنا، بلکہ کسی ایسی آیت کا مطالبہ جاری رکھنا ہے جو سو فی صد وہ بات کہہ رہی ہو جو حدیث میں گئی ہے، تو ایسی نفسیات کا کیا علاج ہوسکتا ہے؟ برزخی جزاؤ سزا کے بارہ میں قرآن کے تائیدی اشاروں کو در خورِ اعتناء نہ سمجھنے والے امتیاز صاحب ایک سائنسی انکشاف کی قرآن سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے کس طرح قرآن میں تاویل کرتے ہیں، ذرا دیکھئے: ’روح سے مراد جان ڈالنا نہیں ہوسکتا کیونکہ جان تو پہلے ہی دن سے تھی جب نطفہ علقہ بنا تھا۔ اگر جرثومہ بے جان ہو تو انسان پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔ ‘ ( الشریعہ اپریل ۲۰۱۳ء۔ صفحہ۵۳)
(باقی)

مکاتیب

ادارہ

(۱)
بسم اللہ
لندن، ۲۹ جولائی ۲۰۱۳ء
مکرم ومحترم مولانا زاہد الراشدی،السلام علیکم ورحمۃ اللہ 
جون کا شمارہ پاکر میاں عمار صاحب کو لکھا تھا کہ بھئی یہ زاہد صدیق مغل صاحب (جو مغربی اخلاق پر لکھ رہے ہیں)یہی تو نہیں تھے جنھوں نے مولانا تقی عثمانی صاحب اور اسلامی بینکنگ پر کافی لکھا تھا؟یہ تو بس یونہی خیال آیا تو پوچھ لیا ورنہ کوئی خاص مقصد نہ تھا ۔بہرحال، وہ ہوں یا کوئی دوسرے صاحب ، 
یہ مضمون چونکہ ہم ’’مغرب باسیوں‘‘ سے گہرا تعلق رکھتا ہے اس لیے پرھنے میں دلچسپی ہوئی ۔مگریہ Morality اور Ethics  کی اصطلاحوں میں بات سے مضمون کاجو مطالبہ ہم لوگوں اور تمام ان لوگوں سے ہے جو مغرب کی بعض اخلاقیا ت کی تعریف یا اعتراف کیا کرتے ہیں اس پر تو علامہ اقبال کا شعر ؂ 
الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں ہیں دانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے 
یاد آنے لگتا ہے۔ ہمیں ان کے اخلاق سے مطلب ہے کہ ان کی اخلاقیات کے پس منظر سے؟ہمارا ان کا کوئی معاشرتی تعلق تو ابھی تک بنا نہیں ہے۔ زیادہ تر بس وقتی باہمی رابطہ کی نوبت مختلف صورتوں رہتی ہے اورا س میں جو ان کے اخلاق یا Behaviour کا پہلو سامنے آتا ہے تو بالکل قطعی بات ہے کہ اس میں مجموعی طور پر وہ ہمارے لوگوں سے فائق ٹھہرتے ہیں۔اور یہ کہتے ہوئے شرمانا نہیں چاہئے کہ ان ’’کفار‘‘ نے ہمیں اپنی بہت سی بھولی باتیں یا د دلائی ہیں۔
موصوف فرماتے ہیں کہ :
’’مغرب کا اجتماعی نظم اعلیٰ اخلاق کا نہیں بلکہ انتہائی رزیل انسانی احساسات پر مبنی(حرص، حسد، شہوت، غضب ، طولِ امل،حبِ جاہ، دنیا و مال) اور اس پر قائم ہونے والی ادارتی صف بندی۔۔۔۔۔ کے قیام کے لیے مطلوب نظم کی پا بندی کا غماز ہے۔ جس میں اعلیٰ اخلاق (مثلًا للٰہیت،عشقِ رسول ،شوقِ عبادت، خوفِ آخرت، طہارت۔تقویٰ،عفت، حیا، ایثار، (وغیرہ وغیرہ) کے پنپنے کا کوئی امکان موجود نہیں رہتا۔ ‘‘ (ص۱۹۔۲۰)
یہ اعلیٰ اخلاق کی جو مثالیں مصنف دے رہے ہیں،یہ عام انسانوں سے متعلق ہیں یا خاص ایمان باللہ والوں سے! مغربی اخلاق کی تعریف کرنے والا وہ کون مسلمان ہے جو اِن خاص مؤمنانہ اخلاق کے مفہوم میں مغربیوں کو سندِ اخلاق دیتا ہو،جس کو رد کرنے کے لیے موصوف نے اتنے طویل اور دقیق مضمون کی ضرورت محسوس فرمائی؟ اور پھر یہ بھی سمجھ سے بالکل ہی باہر قسم کی بات ہے کہ کسی اخلاقیات کا تعلق ’’حرص، حسد، شہوت، غضب ، طولِ امل وغیرہ جیسی چیزوں سے ہو ۔ پتہ نہیں مصنف کس عالم کی بات کرتے ہیں!
حضرت علیؓ کی طرف ایک سیدھا سا قول منسوب ہے کہ حکومت کفر کے ساتھ قائم رہ سکتی ہے ظلم کے ساتھ نہیں۔ اور یہ وہ سچائی ہے جسے سارے زمانے دیکھتے آرہے ہیں۔ مگر یہ مقولہ ہمارے مصنف کے خاص خیالات سے (جن کا اظہار اوپرکے اقتباس سے ہورہا ہے) ٹکراجاتا ہے ،تو اس کی تأویل و توجیہ میں موصوف نے جو کچھ لکھا ہے وہ عدمِ توازن کی ایسی مثال ہے جس کے بعد کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی۔ پتہ نہیں کہاں سے مصنف کے ذہن وہ کچھ خیالات سماگئے ہیں کہ انھوں نے پھرا یسی عجیب باتوں میں کوئی تأمل ان کے لیے نہیں رہنے دیا ۔ یہ سوال بالکل صحیح ہے کہ مغرب کی انسانیت جو اندرونی اخلاق میں نظر آتی ہے وہ ان کے اپنے ملک سے باہر نکلتے ہی کہاں چلی جاتی ہے۔ کہ سب غیر انسانی حرکات میں بے مہار ہو جاتے ہیں ۔ مگر اس سے تووہ بھی اختلاف نہیں کرتے جو اندرون ملک ان کے بہتر اخلاقی رویہ کو سراہتے ہیں۔اور اس کا جواب مغرب کے ذمہ ہے جو اپنی مطلق برتری کا دعویٰ کرتی ہے۔ اسی ضمن میں ایک سوال مصنف نے اور اُٹھایا کہ اولاد بوڑھے ماں باپ کی خود خبر گیری کے بجائے انھیں اولڈ پیوپلز ہومز کے حوالے کیوں کرتی ہے؟ اس کے بارے میں مصنف کو اگر یہ معلوم ہو جائے کہ ان ملکوں میں لڑکا یا لڑکی جہاں بلوغ کی عمر(۱۶یا ۱۸ سال) کو پہنچے یہاں کے معاشرتی دستور میں ان کی رہایش پھر ماں باپ کے ساتھ نہیں رہتی۔ پرندوں کے بچوں کی طرح کہ جہاں پر نکلے اپنا آب و دانہ خود تلاش کرتے اور الگ ٹھکانہ بناتے ہیں۔اس کو ذہن میں رکھئے تو پھریہاں کا یہ چلن ان لوگوں کے عدمِ انسانیت کا ثبوت شاید نہیں بنتا۔
محترم مولانا راشدی صاحب،میں ان دنوں اپنے سلسلۂ محفلِ قرآن کی تیسری جلد تیار کرنے میں ایسا مصروف ہوں کہ کسی اور بات میں حصہ لینے کو نہ وقت نکلتا ہے نہ دل دماغ میں طاقت رہتی ہے۔ مگریہاں کی زندگی میں یہاں کے نظامِ اجتماعی سے جو آرام اور فائدہ اٹھائے ہیں اور ان کا سلسلہ جاری ہے، بس ان کے خیال سے ارشادِ نبوی ’’مَن لّمْ یشکرِ الناس لم یشُکرِ اللہ ‘‘  کا تقاضہ نظر آیا کہ یہاں والوں کے ساتھ زیادتی دیکھی جائے تو اس کے بارے میں بقدرِ ضرورت اپنے احساس کا اظہار کردیا جائے۔ والسلام
مخلص، عتیق الرحمن (سنبھلی)، لندن
(۲)
الشریعہ کے تازہ شمارے (اگست ۲۰۱۳ء) میں مولانا عبد الجبار سلفی ڈائریکٹر ختم نبوت اکیڈمی لاہور کا شیعوں کے کفریہ عقائد کی وضاحت پر ایک مضمون شائع ہوا ہے جو ان کی ایمانی غیرت اور دینی حمیت کا غماز ہے۔ لیکن اس میں ان کا ایک پیرا پڑھ کر سخت تعجب ہوا کیونکہ وہ واقعے کے خلاف ہے۔ وہ پیرا حسب ذیل ہے۔
’’اگر کہا جائے کہ تقلید ائمہ کے بغیر عوام کے لیے دین پر چلنا مشکل ہے اور تارکین تقلید گمراہ ہیں، اس پر جب تارکین تقلید کی نشاندہی کروائی جائے گی تو سوائے غیر مقلدین کے کس کا نام لیا جائے گا؟ جنہیں اہل حدیث کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کہا جائے کہ حضور اقدس کی بعد از وفات برزخی حیات پر پوری امت کا اجماع ہے اور اس کا انکار نظریۂ اہل سنت سے مفروری ہے اور جب پوچھا جائے گا کہ یہ کون لوگ ہیں جو انبیاء علیہم السلام کی برزخی حیات کے منکر ہیں؟ تو کم از کم ہمارے وطن (پاکستان) میں مولانا سید عنایت اللہ شاہ صاحب بخاری اور ان کے غالی معتقدین کا نام لیا جائے گا۔‘‘ (ص ۳۳)
اس پیرے میں اہل حدیث پر جو کرم فرمائی کی گئی ہے، اس پر گفتگو مقصود نہیں ہے، اہل حدیث پر یہ کرم فرمائیاں صدیوں سے جاری ہیں، البتہ اس میں شدت ڈیڑھ صدی قبل جب دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا، اس وقت سے آئی ہے۔ تاہم فاضل مضمون نگار سے ایک سوال کرنے کو ضرور جی چاہتا ہے۔
صحابہ و تابعین کے دور میں کیا تقلید کا وجود تھا؟ اگر نہیں تھا اور یقیناًنہیں تھا تو کیا اس وقت عام لوگوں نے دین پر مکمل عمل نہیں کیا؟ کیا دین پر عمل کرنے میں ان کو واقعی مشکلات پیش آئیں، محض اس وجہ سے کہ اس وقت تقلید ائمہ کا سلسلہ نہیں تھا؟ اور آج بھی الحمد للہ کروڑوں اہل حدیث تقلید ائمہ کے بغیر دین پر بغیر کسی مشکل کے مکمل عمل کر رہے ہیں، کیونکہ دین پر عمل کرنے کے لیے تقلید شخصی ضروری نہیں، صرف علمائے دین کی طرف مراجعت ضروری ہے اور یہ عوام کے لیے ناگزیر ہے اور اہل حدیث عوام فَاسْءَلُوا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْن کے تحت علماء سے دینی معلومات حاصل کر کے دین پر عمل کرتے ہیں۔
صحابہ کرام و تابعین عظام کے دور کے لوگوں کا یہی طرز عمل تھا جس پر اہل حدیث عمل پیرا ہیں، اس کا نام اگر گمراہی ہے تو سوچ لیجئے اس کی زد میں سب سے پہلے کون لوگ آئیں گے؟ اہل حدیث کے بارے میں آپ حضرات نے جو تصورات قائم کیے ہوئے ہیں جن کی بنا پر آپ بغیر کسی تأمل کے گمراہ ہونے کا فتویٰ عائد کر دیتے ہیں، وہ سب خلاف واقعہ، توہمات و مفروضات کا شاخسانہ اور ان کے عمل بالحدیث کے خلاف تعصب کا نتیجہ ہے۔ دنیا میں تو اس کا فیصلہ ہونے سے رہا کہ کُلُّ حِزْبٖ بِّمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْن۔ تاہم روز قیامت بارگاہ الٰہی میں یہ فیصلہ ضرور ہوگا کہ گمراہ کون تھا؟
تاہم اس مراسلے کی ضرورت مسلک اہل حدیث کی وضاحت کے لیے پیش نہیں آئی بلکہ اس کے بعد انبیاء علیہم السلام کی حیات برزخی کی بابت فاضل مضمون نگار کی غلط بیانی یا غلط فہمی اس کی اصل وجہ ہی ہے۔ فاضل مضمون نگار نے سید عنایت اللہ شاہ بخاری اور ان کے غالی معتقدین کو حیات برزخی کا منکر قرار دیا ہے جب کہ حیات برزخی پر امت کا اجماع ہے۔ 
بلاشبہ حیات برزخی پر امت کا اجماع ہے، لیکن راقم کی معلومات کے مطابق سید عنایت اللہ شاہ بخاری اور ان کے ہم نوا حیاتِ برزخی کے منکر قطعًا نہیں ہیں۔ ان کا اختلاف اپنے ہی ہم مسلک دوسرے دیوبندی علماء سے یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے ابدی قانون کے مطابق موت سے ہم کنار ہو کر دنیا سے چلے گئے، اب دنیا سے ان کا کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ البتہ حیات برزخی ان کو حاصل ہے لیکن اس حیات کی نوعیت اللہ ہی جانتا ہے، ہم اس کی نوعیت و کیفیت سے نہ آگاہ ہیں اور نہ ہو ہی سکتے ہیں۔
اس کے برعکس دوسرے دیوبندی علماء کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی ان کو اسی طرح کی زندگی حاصل ہے جس طرح ان کو دنیا میں حاصل تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ حقیقی زندگی آپ کو حاصل ہے۔ مولانا سید احمد مدنی مرحوم لکھتے ہیں:
’’آپ کی حیات نہ صرف روحانی ہے جو کہ عام مومنین و شہداء کو حاصل ہے بلکہ جسمانی بھی ہے اور اَز قبیل حیات دنیوی، بلکہ بہت سی وجوہ سے اس سے قوی تر ہے۔‘‘ 
اور جب ایسا ہے تو اس کے ڈانڈے بھی بریلویت سے جا ملتے ہیں، چنانچہ اگلے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
’’آپ سے توسل نہ صرف وجود ظاہری کے زمانے میں کیا جاتا تھا بلکہ اس برزخی وجود میں بھی کیا جانا چاہیے، محبوب حقیقی تک وصال اور اس کی رضامندی آپ ہی کے ذریعے سے اور وسیلے سے ہو سکتی ہے، اسی وجہ سے میرے نزدیک یہی ہے کہ حج سے پہلے مدینہ منورہ جانا چاہیے اور آپ کے توسل سے نعمت قبولیت حج و عمرہ کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔‘‘ (مکتوبات شیخ الاسلام، ج ۱، ص ۱۲۰، طبع لاہور)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعد از وفات، حیات (بلکہ برتر از حیاتِ دنیا) کا یہ عقیدہ جسے علمائے دیوبند کی اکثریت نے اپنایا ہوا ہے اور اس عقیدے کے تحت اب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے توسل نہ صرف جائز ہے بلکہ کرنا چاہیے حتیٰ کہ حج کرنے سے بھی پہلے آپ کی قبر مبارک پر حاضر ہو کر قبولیت حج کی کوشش کرنی چاہیے۔ مولانا عنایت اللہ شاہ بخاری اور ان کے معتقدین کو اِس عقیدۂ حیات النبی سے انکار تھا اور ہے نہ کہ حیات برزخی سے۔
علمائے دیوبند میں سے وہ حضرات جو سید عنایت اللہ شاہ بخاری مرحوم کے مذکورہ مسلک کے ہم نوا ہیں، جن کو فاضل مضمون نگار نے ’’غالی معتقدین‘‘ کا نام دیا ہے، ان سے گزارش ہے کہ راقم نے سید صاحب کے بارے میں جو وضاحت کی ہے، اگر وہ صحیح ہے تو وہ اس کی تصویب فرما دیں۔ بصورت دیگر ان کے مسلک کی صحیح نوعیت واضح فرما دیں۔ 
حافظ صلاح الدین یوسف
مدیر: شعبہ تحقیق و تالیف دارالسلام لاہور۔

’’میری تحریکی یاد داشتیں‘‘ (چوہدری محمد اسلم کی خود نوشت)

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

پبلشر: ادارہ معارف اسلامی منصور، لاہور
صفحات : ۳۴۴۔ سال اشاعت: ۲۰۱۰ء ۔قیمت : ۲۵۰روپے
خود نوشت سوانح انتہائی دلچسپ فن ہے۔ ایسی بے شمار سوانح پڑھ چکا ہوں۔ اسلوبِ بیان ہر سوانح میں مختلف ہو سکتا ہے۔ خود نوشت میں عام طور پر صاحبِ تالیف اپنی زندگی کے واقعات بیان کرتا ہے۔ بیان میں سیاق و سباق اتنا مربوط ہوتا ہے کہ بیان کی درستی کا تاثر ہمیشہ گہراہوتا ہے۔ اس کے باوجود یہ گمان باقی رہے گا کہ واقعات کے بیان میں مولف نے اپنے آپ کو صاف طور پر پیش کرنے کی شعوری کوشش کی ہے۔ اس طرح بیان میں ڈنڈی مارنے کی کسی حد تک گنجائش بھی ہوتی ہے۔ لیکن بعض مولفین نے اپنی زندگی کے ایسے پہلو بھی بیان کئے ہیں جو تحریر کی صورت میں لانے سے اجتناب کو ہی انسانی وقار اور قدر کا تقاضا سمجھا جاتا ہے۔ ان میں جوش ملیح آبادی کی ’’یادوں کی بارات‘‘ اور ڈاکٹر جاوید اقبال کی ’’چاکِ گریباں اپنا‘‘ قابل ذکر ہیں۔ یہ کتابیں استثنائی حیثیت رکھتی ہیں۔ البتہ ان کتابوں کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مولفین نے اپنا آپ کھول کر ظاہر کر دیا ہے۔ یہ مشکل کام ہے۔ اپنی کوتاہیوں کو چھپانا کسی حد تک فطری چیز ہے۔ پردہ داری میں واقعات کی تعبیر اور تفصیل بڑی اہم ہوتی ہے۔ مگر واقعات و حالات کو سرے سے ہی گول کر جانا کسی طرح پسندیدہ اور معیار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سوانح نگاری کے فن میں ایسی کوتاہی تالیف کی قدر کو گھٹا دیتی ہے۔
البتہ پیش لفظ میں مولف اگر یہ لکھے کہ’’میرے احباب کا یاد داشتیں مرتب کرنے کا تقاضا حد سے بڑھاتو میں نے بسم اللہ کر کے اس کام کا بیڑا اٹھا لیا۔ اس طرح کئی ماہ کی محنت شاقہ کے بعدمیں نے اپنی داستانِ حیات کو بالآخر قلم بند کر لیا۔ اپنی سرگذشت بیان کرتے وقت واقعات کو بلا لاگ لپیٹ بیان کیا گیا ہے، ۔۔۔ تحریر میں حافظے پر انحصار کیا گیا ہے، لہٰذا اگر کوئی صاحب کسی غلطی کی نشاندہی فرمائیں تو آئندہ اشاعت میں اس کو درست کر دیا جائے گا اور راقم ان کا شکر گزار بھی ہو گا‘‘ اور تقدیم میں اشاعتی ادارہ کے ڈائریکٹر جناب حافظ محمد ادریس جیسے ثقہ اور کہنہ مشق مولف یہ ضمانت دیں کہ ’’چوہدری محمد اسلم صاحب کی یاد داشتوں کو موجودہ صورت دینے کے لیے ادارہ معارف اسلامی کے رفقا پروفیسر ظفر حجازی اور شیخ افتخار احمد نے بہت محنت کی ہے‘‘ تو ہمارے لیے کتاب کے بلند معیار کا جو تصور قائم ہو جاتا ہے، اس کا اندازہ تو ادارہ معارف اسلامی کے قیام اور اس کے متعینہ مقاصد اور ادارہ کی دیگر پروڈکٹس کو سامنے رکھتے ہوئے بخوبی ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر جناب آباد شاہپوری کی دو جلدوں میں تاریخ جماعت اسلامی اور محمد علی قصوری کی مشاہداتِ کابل و یاغستان واقعتا شاہکار ہیں۔ ایسے میں کتاب پر تنقیدی نگاہ ڈالنا کس قدر مشکل ہو جاتا ہے، مگر جوئندہ یابندہ کے مصداق کتاب کو بغور پڑھا تو کام کافی آسان محسوس ہوا۔ 
مولف نے ایک باب کا عنوان ’’قید و بند کی آزمائشیں‘‘ قائم کیا ہے۔ یہ باب صفحہ ۱۸۱ سے شروع ہوتا ہے۔ صفحہ ۱۹۸ پر اپنی چوتھی گرفتاری کا بیان ہے۔ یہ گرفتاری ۶ جنوری ۱۹۶۴ کو جماعت اسلامی کے خلاف قانون قرار دینے کے ساتھ ہی عمل میں لائی گئی۔ جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ، پوری کی پوری گرفتار کی گئی۔ ایک ممبر کو چھوڑا گیا۔ وہ کوثر نیازی تھے۔ ان کے بارے میں شورش کاشمیری نے انکشاف کیا کہ وہ ۸۰ روز تک حکومت کو جماعت کی ڈائری دیتے رہے۔ گرفتار صاحبان کو مختلف جیلوں میں نظر بند کر دیا گیا۔ گرفتاری کے بعد دو ماہ کے اندر اندر، نظر بندوں کو ریویو بورڈ کے سامنے پیش کرنے کے لیے لاہور کی ڈسٹرکٹ جیل میں جمع کیا گیا۔ یہاں گزرے دنوں کے احوال بیان کرتے ہوئے چوہدری محمد اسلم صاحب، صفحہ ۲۰۴ پر لکھتے ہیں:
’’بورڈ کے فیصلے کے بعد کم و بیش ایک ماہ تک جماعت کی اعلیٰ قیادت اور جملہ ارکان مرکزی شوریٰ کو ڈسٹرکٹ جیل لاہور میں یک جا رہنے کا موقع میسر آیا۔ رفقائے شوریٰ کے لیے یہ خدا داد موقع بہت غنیمت تھا۔ نماز با جماعت اور درسِ قرآن و حدیث کا باقاعدہ اہتمام تھا۔ درسِ قرآن عام طور پر سید ابوالاعلیٰ مودودی دیتے اور جماعت کی امامت بھی آپ ہی فرماتے تھے۔ مولانا امین احسن اصلاحی درسِ حدیث دیتے تھے۔ ‘‘
۱۹۶۴ء میں جماعت پر پابندی کے زمانے میں قید، جماعتی زعما میں، مولانا امین احسن اصلاحی کا درسِ حدیث دینا، چوہدری محمد اسلم صاحب کی بھول یا خواب ہو سکتا ہے مگر ادارہ معارف اسلامی کے ذمہ داران کی محنت کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ادارہ کے ذمہ داران میں سے جناب پروفیسر ظفر حجازی صاحب کا میں ذاتی طور پر مداح ہوں۔ شیخ افتخار احمد صاحب سے میری ملاقات نہیں۔ البتہ روئداد ہائے شوریٰ کی تازہ شائع شدہ دو جلدیں میری نظر سے گزری ہیں۔ وہ جناب شیخ نے مرتب کی ہیں۔ ان کی شائع شدہ شکل میں منظوری تو ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے دی ہے۔ اس کمیٹی میں عرش نشیں لوگوں کی اکثریت ہے ۔ لہٰذا میں روئداد پر رائے دینے سے پرہیز کروں گا۔ البتہ ادارہ معارف اسلامی کے ڈائریکٹر جناب حافظ محمد ادریس صاحب کی تقدیم میں دی گئی ضمانتوں کو شک کی نگاہ کے علاوہ کسی اور نگاہ سے دیکھنا، کم از کم میرے لیے مشکل ہو جاتاہے۔ تاریخ سے متعلقہ امور میں بیان کا ذمہ دارانہ ہونا لازم ہے۔ 
چوہدری محمد اسلم صاحب میرے بزرگ ہیں۔ پیش لفظ میں ان کا یہ کہہ دینا کہ حافظے پر انحصار کی بنا پر بیان میں غلطی محتاجِ درستی ہو گی، اس کے بعد ان سے شکایت کا بظاہر کوئی جواز نہیں رہتا۔ عمر کے اعتبارسے وہ جس مرحلہ میں ہیں، وہ ہر طرح رعایت کے حقدار ہیں۔ ان کے اپنے بیان کے مطابق ان کی تاریخ پیدائش ۱۷۔جنوری ۱۹۲۰ء ہے۔ اس طرح ان کی عمر ۹۲ سال سے زیادہ ہے۔ سالِ اشاعت کے لحاظ سے دو سال کم ہو سکتے ہیں۔ اس عمر میں یادداشتوں کوجمع کر کے لکھ دینا یا لکھوا دینا کوئی معمولی بات نہیں۔ مجھے ان سے ملاقات کے مواقع بھی میسر نہیں کہ ان کی ذہنی کیفیت کا اندازہ کر سکوں۔ مجھے جو کچھ بھی کہنا ہے، وہ کتاب کے متن اور ترتیب پر انحصار کر کے کہنا ہے۔ میرا منشا یہ ہے کہ چوہدری صاحب سے بیان میں ایسی غلطیوں کا امکان بہرصورت رہتا ہے۔ میں چوہدری محمد اسلم صاحب کے ایک نیاز مند کے طور پر ایسی بلکہ اس سے بھی بڑی غلطیوں کی نشاندہی کرنا اپنا فرض سمجھوں گا اور اس کے لیے ان کی جانب سے شکریہ کا حق مانگوں گا اور نہ ہی اگلی اشاعت میں درستی کو ضروری سمجھوں گا۔ وجہ یہ ہے کہ ہماری نیاز مندی بے لوث ہے۔ یہ نیاز مندی تو میرے اسکول کے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔
اس کتاب کے صفحہ نمبر ۱۸۹ پر چوہدری محمد اسلم صاحب اپنے خلاف ایک سنگین سیاسی مقدمے میں گرفتار ہونے کے بعد کے مرحلے کے ذکر میں تحریر فرماتے ہیں:
’’کیس کی سنگین نوعیت کے پیش نظر جماعت کے رہنماؤں نے دو وکلا صاحبان جناب عطا اللہ سجاد (بطور سینئر وکیل) اور جناب محمد رفیق تارڑ (بطور جونیئر وکیل) کی خدمات حاصل کر لیں۔ انہوں نے کیس کا مطالعہ کیا اور اس کے سنگین ہونے کی تصدیق کی۔ واضح رہے کہ چودھری محمد رفیق تارڑ صاحب نے ابھی نئی نئی پریکٹس شروع کی تھی۔ بڑے سمارٹ، محنتی اور دیندارنوجوان تھے۔‘‘
جناب رفیق تارڑ صاحب کے بارے میں چوہدری محمد اسلم صاحب کا یہ لکھنا کہ وہ دین دار نوجوان تھے، چوہدری صاحب کی بے خبری کی دلیل ہے۔ رفیق صاحب کے جج بننے سے پہلے کی زندگی اور جج بننے کے بعد کی زندگی میں جو واضح فرق ہوا، اس کی شہادت دینے والے لوگ ابھی تک زندہ ہیں۔ وہ خودبھی شاید جوانی کے دور کو فراموش نہیں کرتے ہوں گے۔ بلا شبہہ جج بن کر انہوں نے جس طرح اپنے آپ کو بدلا۔ وہ اوسط درجے کی پیشہ وارانہ مہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک دیانت دار اور دیندار جج کا کردار ادا کرتے رہے مگر ان سے جو آخری گناہ سرزدہوا، وہ جسٹس سجاد علی شاہ کے زمانے میں سپریم کورٹ کو تقسیم کرنا تھا۔ اس کے لیے انہوں نے بریف کیس لے کر جس طرح چیف جسٹس کے خلاف سپریم کورٹ کے ججوں کو خریدا، چوہدری محمد اسلم صاحب کسی طرح اس اعلیٰ کردار سے بے خبر نہیں ہوں گے۔ اگر رفیق تارڑ صاحب اس وقت اس طرح کا کردار ادا نہ کرتے تو شاید ہماری عدالتی تاریخ میں جسٹس سجاد علی شاہ اس انقلاب کی طرح ڈال دیتے جو کم و بیش ایک عشرے کے بعد جناب جسٹس افتخار چوہدری نے ڈالی ہے۔
جناب رفیق تارڑ صاحب کا چوہدری محمد اسلم صاحب نے اپنی تالیف میں ایک آدھ دیگر مقام پر بھی اچھے لفظوں میں ذکر کیا ہے۔ ہم اس ذکر سے متفق ہیں مگر کسی شخصیت کے تذکرے میں اس کے مجموعی کردار کو لینا چاہیے۔ کوئی شخص خامیوں سے مبرا نہیں ہو سکتا۔ کسی شخص کا ادھورا اور یکطرفہ ذکر، بیان کی دیانت اور ثقاہت کو متاثر کرے گا۔
چوہدری محمد اسلم صاحب بڑی صلاحیتوں کے مالک شخص تھے۔ اس کتاب میں ان کے بدلتے ہوئے اسلوبِ بیان سے بھی ان کی متنوع صلاحیتوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ بعض مقامات پر اسلوب اتنا سادہ اور سلیس ہے کہ بے ساختہ داد دینا پڑتی ہے۔ لیکن اکثر و بیشتر اسلوب میں مشکل پسندی، بوجھل تراکیب اور ثقیل محاورں کا بر محل اور بے محل استعمال اور سیاق و سباق کے بغیر خطابت اور خود کلامی سے مغلوب بے معنی بلکہ لا یعنی پن حیران کر دیتا ہے۔ ایک مثال کے طور پر ذیل کا اقتباس کافی ہے:
’’حضرت مولانا کا آخری کارنامہ جو شاید سب سے زیادہ اہم ہے، جامعہ عربیہ کا آغاز ہے۔ ۱۹۳۶ء میں جس جامعہ عربیہ کی حضرت نے ابتداکی تھی،پون صدی کے بعد مجھے تو اب یہ جامعہ بمعنی یونی ورسٹی نظر آتا ہے۔ کہاں محلے کی ایک دور افتادہ چھوٹی سی مسجد میں ایک ابتدائی مدرسہ اورکہاں یہ یونی ورسٹی نما جامعہ عربیہ۔ میں اس جامعہ کا سنگ بنیاد (۱۹۶۷ء) میں رکھنے والوں، اعلی حضرت استاذ کل حضرت ولی اللہ صاحب اور مہمان خصوصی حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی صاحب جیسے نابغہ روز گار علما کودیکھوں یا اپنے استاذ حضرت مولانا محمد چراغ رحمت اللہ علیہ کی خدا ترسی خلوص اور توکل پر غور کروں۔ میں اس جامعہ کی لب نہر اور لب شاہراہ (جی ٹی روڈ) کی عالیشان اور پر شکوہ عمارت کو دیکھوں یا اس میں دی جانے والی قال اللہ قال الرسول کی تعلیم اور اس کے جدید کمپوٹرائزڈ شعبے پر غور کروں یا حضرت صاحب مرحوم و مغفور کے پوتوں کی جوڑی کوچشم تصور میں لاؤں جو مجھے ہیروں کی جوڑی (نظر بد دور) نظر آتے ہیں۔ یا ان سینکڑوں طالبان اور تشنگان علم کا تصور کروں جو دور دراز علاقوں سے علم دین کی پیاس بجھانے کے لیے یہاں جمع ہوتے ہیں۔ مجھے تو جامعہ عربیہ کا ہر پہلو اپنی طرف کھینچتا اور متوجہ کرتا ہے کہ ’جا ایں جا است‘۔ پھر وہ مدرستہ البنات جو حوا کی بیٹیوں کی سیرتوں کی تعمیر میں کوشاں ہے، ہر لحاظ سے قابل قدر اور قابل ذکر اور قابل ستایش کاوش ہے۔ یہ اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ کی طرف سے ایساصدقہ جاریہ ہے کہ جس کی توصیف الفاظ میں نہیں کی جاسکتی۔ حضرت کا یہ کارنامہ آپ کے تمام کارناموں پر فوقیت کا حامل نظر آتا ہے۔‘‘
بیان بھی ہفت زبان ہے۔ فارسی، عربی اور انگریزی کے الفاظ کا بے محابہ استعمال بیان کو کس قدر حسین بنا رہا ہے، دیکھنے اور پڑھنے کی چیز ہے۔ انگریزی زدہ اردو تو الٹر اماڈرن ڈراموں کی زبان معلوم ہوتی ہے۔ اندازِ بیان اگر کہنے کی اجازت ہو تو اسے نوابانہ کہنا پڑے گا ۔ آخر ریاست کپور تھلہ کے مہتمم اعلیٰ (چیف سیکریٹری یا وزیر اعظم) کے فرزند اور we are seven میں سے واحد چوہدری، باقی چھ کے چھ بھائی تو عمر بھر سرکار کی نوکری کرتے رہے۔ نوکری بقول ان کے نہایت عزت اور دیانت داری سے کی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد تمام کے تمام جماعت کے رکن بنے۔ زمانے بھر کو جماعت میں شامل کرنے کی جد و جہد کرتے رہے۔ البتہ اپنی اولاد پر جماعت کے اثرات کے بارے میں کتاب میں مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ یہاں نوح کی اولاد کی مثال قائم رکھنا بھی تو سنتِ انبیاء ہے۔ کتاب میں بے شمار دوستوں اور بزرگوں کا ذکر ہے، مگر مشکل ہی کسی کے نام کے ساتھ تکلفاً ہی جناب یا صاحب لکھنا گوارا کیا۔ کتاب میں بیان کی ایک صریح غلطی تو ہم نے شروع میں ذکر کر دی ہے۔ مزید اغلاط کا ذکر کریں تو ساتھ مطالبہ کرنا پڑے گاکہ موجودہ ایڈیشن کو ادارہ واپس لے۔ اس لیے میں ساری اغلاط کا ذکر نہیں کروں گا۔ چند ایک کے ذکر پر اکتفا کروں گا۔ لیکن کتاب میں مشکل اسلوب بیان کے حوالے سے محاوروں کے بے محابہ استعمال کی چند مثالوں کو اولیت دے کرآگے چلیں گے۔
کتاب میں محاوروں کی بھر مار ہے۔ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا محاورہ رطب اللسان ہونا ہے۔ صفحہ نمبر ۲۵۸ پر تحریر ہے کہ’’ تقریر کے اختتام پر سامعین جہاں چوہدری محمد علی صاحب کے علم و فضل اور حضرت علامہ اقبال کے حیات بخش کلام کی تعریف میں رطب اللسان تھے، وہیں ایوبی حکومت کے جبر واستبداد پر نفرین کر رہے تھے۔‘‘ صفحہ نمبر ۳۱۵ پر ’’کسی بھی گاؤں میں چلے جائیں توعام لوگوں کومیرے بارے میں رطب اللسان پائیں گے۔‘‘صفحہ نمبر ۳۱۲ پر ’’میں حتی الوسع لوگوں کے جائز کاموں میں مختلف محکموں اور تھانے کچہری میں جائز سفارش کر کے ان کے کام کروا دیتاتھا جس کی وجہ سے وہ مشکور ہو جاتے اوررطب اللسان رہتے تھے۔‘‘ خودستائی میں محاورہ کا یہ استعمال کمیاب ہی ہے۔ مہمان نوازی سے استفادہ (۱۰۲)، نیند کی آغوش میں چلے جانا (۲۰۲)، ’’میں نے باقاعدہ کرسی صدارت نہیں سنبھالی تھی اور فرش مسجد کو ترجیح دی تھی، اس لیے افسران نے غص بصر سے کام لیتے ہوئے مجوزہ لسٹ سے میرا نام حذف کردیا اوریوں میں گرفتار ہوتے ہوتے بچ نکلا‘‘، حکمت عملی سے استفادہ (۲۵۲)، پر تکلف دعوت عصرانہ سے استفادہ(۲۶۳)، تباہ شدہ مکانوں کے ملبے میں کہیں کہیں سیڑھیاںیا دوسری سخت جان دیواریں ایسی تھیں جو بمباری کے صدمے سے جانبرہوگئی تھی، محفوظ تھیں(۲۶۳)، ملک ایک بارپھرفوجی طالع آزما جنرل ضیا الحق کے چنگل میں پھنس گیا اور عوام کوایک بار پھر میرے ہم وطنو والا خطاب سننا پڑا۔ تفوبر تواے چرخ گردوں تفو (۲۸۴)۔ محاورے استعمال ہوئے مگر اسلوب بیان میں ثقالت بڑھ گئی معلوم ہوتی ہے اور موقع کے لحاظ سے مناسبت بھی کچھ کم ہی لگتی ہے۔ یہ اسلوب آج کے دور میں خاصا متروک سا ہے۔
اب ہم کتاب کے متن میں پائی جانے والی واقعاتی غلطیوں کی جانب آتے ہیں۔
چوہدری محمد اسلم صاحب نے کتاب کے صفحہ نمبر ۵۰ پر ایوب خانی دور کی بنیادی جمہوریتوں کا ذکر کیا ہے۔ وہ بی ڈی ممبرز کی کل تعداد چالیس ہزار بیان کرتے ہیں، جب کہ شروع دن ہی سے یہ تعداد اسی ہزار رہی۔ ایوب اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی معرکے کے حوالے سے کتاب کے صفحہ نمبر ۵۴ پر لکھتے ہیں کہ
’’مادر ملت نے مرکزی قیادت اور پی ڈی ایم اور ان کے احباب و اعوان کے جلو میں پورے ملک کے بڑے بڑے شہروں کا دورہ کیا۔‘‘
جب کہ اس معرکے کے لیے اپوزیشن کا جو فورم تھا، اسے متحدہ حزب اختلاف (COP ) کہا جاتا تھا۔ پی ڈی ایم کی تشکیل تو فروری ۱۹۶۶ء میں ہونے والی نیشنل کانفرنس میں ہوئی تھی۔ جب کہ صدارتی انتخاب کا یہ معرکہ ۲۔جنوری ۱۹۶۵ء کو ہوا۔
صفحہ نمبر ۵۷ پر جناب چوہدری صاحب رقم طراز ہیں:
’’معاہدہ تاشقند کے چند ماہ بعد ایوب خان نے مسٹر بھٹو کو اپنی کابینہ سے نکال باہر کیا، لیکن اب ان کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ متحدہ اپوزیشن جو پہلے پی ڈی ایم کے نام سے منظم تھی اس میں مزید دو پارٹیاں شامل ہو گئیں اور اسے ڈی اے سی کا نام دے دیا گیا۔ اس طرح تمام اپوزیشن پارٹیاں ایوب خان کے خلاف متحد ہو گئیں۔ ادھر مشرقی پاکستان میں اگرتلہ سازش کیس سامنے آیا۔ جس میں ایوب خان کے خلاف طاقت کے بل پر شیخ مجیب الرحمان کی قیادت میں انقلاب کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ مشرقی پاکستان ہی میں مولانا عبدالحمید بھاشانی نے حکومت کے خلاف گھیراؤ جلاؤ کا پروگرام لانچ کر رکھا تھا۔ بھٹو صاحب بھی وزارت سے علحدگی کے بعد خم ٹھونک کر ایوب خان کے خلاف میدانِ کارزار میں اتر آئے۔ ان حالات میں ایوب خان بالکل تنہا اور زچ ہو گئے۔ اس پر مزید اضافہ یہ ہوا کہ اپوزیشن نے آل پاکستان نیشنل کانفرنس منعقد کر کے ماحول کو ایوب خان کے خلاف مزید سرگرم کر دیا۔‘‘
یہاں واقعات کی ترتیب الٹ دی گئی ہے۔ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ فروری ۱۹۶۶ء میں نیشل کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس میں پی ڈی ایم (پاکستان تحریک جمہوریت)قائم ہوئی۔ یہ کانفرنس لاہور میں چوہدری محمد علی سابق وزیر اعظم پاکستان کی کوٹھی پر منعقد ہوئی۔ اسی کانفرنس میں جماعت کے ساہیوال سے صوبائی اسمبلی کے ممبر جناب راؤ خورشید علی خان نے گرما گرم تقریر کی اور بعد میں جماعت سے علحدگی اختیار کر لی تھی۔ ڈی اے سی (جمہوری مجلس عمل)اور مجیب کا منصوبہ اور بھاشانی کا جلاؤ گھیراؤ بعد کے واقعات ہیں۔ ان کے بعد تو ایوب خان نے گول میز کانفرنس بلوا کر مذاکرات کئے تھے۔
چوہدری صاحب کتاب کے صفحہ نمبر ۷۲ پر لکھتے ہیں کہ:
’’جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت نے بھی ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کو حکومت کے بگڑے ہوئے تیوروں اور لب و لہجے کی طرف توجہ دلائی اور انہیں آگاہ کیا کہ حکومت آپ کے درپئے آزار ہے اور یہ بھی کہ آپ کی جان خطرے میں ہے، لیکن ڈاکٹر نذیر احمد شہید پر احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کا جذبہ مسلط تھا۔ اس لیے انہوں نے کسی مداہنت سے کام لینے یا امرِ بالمعروف اور نہیِ عن ا لمنکر سے اغماض برتنے سے صاف انکار کر دیا۔ چنانچہ کھر (غلام مصطفےٰ)صاحب کے اشارے پر انہیں کسی پولیس افسر نے دورانِ نمازِ مغرب شہید کر دیا۔ ‘‘
’’ڈاکٹر نذیر احمد شہید پر احقاق حق اور ابطال باطل کا جذبہ مسلط تھا‘‘ میں لفط مسلط تکلیف دہ ہے۔ بہر حال جماعت میں عزیمت اور رخصت کے دونوں نقطہ نظر موجود ہیں۔ چوہدری صاحب کا نقطہ نظر کچھ بھی ہو، لفظ ’’مسلط‘‘ زیادتی ہے۔ البتہ یہ کہنا کہ ڈاکٹر صاحب کو دورانِ نمارِ مغرب کسی پولیس افسرنے شہید کر دیا، بالکل غلط اور خلافِ واقعات ہے۔ وقوعہ کا وقت بھی غلط ہے۔ یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ان پر حملہ دوران نماز مغرب ہوا۔ ڈاکٹر نذیر شہید پر حملہ آور پولیس افسر نہیں تھا۔ قاتل ایک سپرنٹر سکوٹر پر سوار ہو کر آئے۔ ان میں سے ایک شاہنواز کو موقع پر اور دوسرے شخص کو بعد میں بطور اللہ وسایا شناخت کیا گیا۔ دونوں بستہ الف کے نامی گرامی بدمعاش تھے۔ وقوعہ ۸ جون ۱۹۷۲ء کو رات کے ساڑھے آٹھ بجے ہوا۔ ڈاکٹر صاحب ہسپتال جا کر رات کے نو بج کر پچاس منٹ پر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ حملہ آور پولیس ملازم نہیں تھا۔ البتہ ضیا ء الحق دور میں نامکمل تفتیش میں اس دور کے ڈیرہ غازی خان کے ایس پی قمرالزماں اور پولیس ملازمین شاہنواز کے ساتھ قتل کی سازش میں شریک ثابت ہوئے۔ جماعت اسلامی کے امیر صوبہ سید اسعد گیلانی قتل کیس میں باقاعدہ گواہ تھے۔ کیس میں بڑے ملزم قمرالزماں کا وقوعہ کے بعد گوجرانوالہ میں تبادلہ ہوا۔ وہ یہاں ایس پی کے طور پر کام کرتے رہے۔ یہ امکان ہو سکتا ہے کہ چوہدری محمد اسلم صاحب کی گوجرانوالہ تعیناتی سے پہلے یا دوران ملاقات رہی ہو۔ ڈاکٹر نذیر شہید قتل کیس کے بڑے ملزم کے طور پر قمرالزماں کو فراموش کر دینے میں بھول جانے کا امکان،حالات کے سیاق و سباق میں معتبر نظر نہیں آتا۔
کتاب کے صفحہ نمبر ۷۳ پر نواب محمد احمد خان کے مقدمہ قتل کے حوالے سے تحریر کیا گیا ہے کہ 
’’بھٹو صاحب کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی جو seal کر دی گئی۔ یہی FIRضیا الحق کے دور میں قتل کے مقدمے کی بنیاد بنی۔‘‘
ایف آئی آر seal نہیں ہوئی تھی، بلکہ کیس untraced file ہوا تھا۔
جناب چوہدری صاحب کتاب کے صفحہ نمبر ۹۸ پر پٹھانکوٹ میں ہونے والی تربیت گاہ میں اپنی شرکت اور اس میں مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کے درسِ قرآن کے ذکر میں لکھتے ہیں:
’’ابو صالح اصلاحی نے ان کے سامنے یہ سوال پیش کر دیا کہ آپ قرآن مجید کے اس مقام کی یوں تفسیر فرما رہے ہیں جب کہ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب نے یوں فرمایا ہے۔ ان الفاظ کا سننا تھا کہ مولانا امین احسن اصلاحی طیش میں آگئے اور غصے میں لال پیلے ہو گئے اور جذبہِ جلال سے اس قدر مغلوب ہو ئے کہ بڑے جوش اور غضب ناک لہجے میں فرمایا، میں اس معاملے میں امام رازی، امام غزالی اور فلاں اور فلاں امام کو خاطر میں نہیں لاتا تم میرے سامنے مودودی کو پیش کرتے ہو؟
تربیت گاہ کے شرکا اس فرمان کو سن کر سناٹے میں آگئے اور ماحول خاصا کشیدہ اور سوگوار ہو گیا۔ سید صاحب موصوف نے بھی جو ساتھ والے کمرے میں نوشت و خواند میں مصروف تھے، مولانا امین احسن اصلاحی کا ’’شگفتہ تبصرہ‘‘سنا اور پی گئے اور ان کے لب شیریں سے گالیاں سن کر بھی بے مزہ نہ ہوئے۔‘‘
اصلاحی صاحب کے تبصرے پر سوگوار ہونا تو مبالغے اور غلو کے ذیل میں آ سکتا ہے مگر اس پر ’’لب شیریں سے گالیاں سن کر بھی بے مزہ نہ ہونے ‘‘کی پھبتی، نوے سالہ بزرگ اور گوجرانوالہ میں دینی اور جماعتی اور سیاسی حلقوں میں کوہ گراں کا سا وقار پانے والے شخص کے زیادہ ہی شایانِ شان ہو سکتا ہے۔
صفحہ ۸۰ پر لکھا گیا کہ :
’’بالآخر تیسری طاقت نے شب خون مار کر ۴ جولائی کو ملک پر غاصبانہ قبضہ جما لیا۔‘‘
صفحہ نمبر ۸۲ پر فرماتے ہیں:
’’پی این اے کے نمایاں رہنما ائر مارشل اصغر خان نے ایک خفیہ مکتوب کے ذریعے سے افواج پاکستان کو فوجی انقلاب برپا کرنے کی دعوت دی۔ ائر مارشل اصغر خان آس لگائے بیٹھے تھے کہ فوج انقلاب برپا کر کے اقتدار بطور سینئر عسکری قائد ان کے سپرد کر دے گی اور وہ آسانی سے مسند اقتدار پر براجمان ہو جائیں گے لیکن ’اے بسا آرزو کہ خاک شد‘ کے مصداق انہیں اس مکروہ سازش سے کوئی فائدہ نہ ہوا البتہ پی این اے سے غداری کا لیبل ضرور ان پر چسپاں ہو گیا۔‘‘
یہاں یہ سوال ہے کہ اس غاصبانہ مارشل لا میں خاکی وردی اور جرنیلی چھڑی تلے جماعت کے چار وزرا نے نو دس مہینے شامل ہو کر پی این اے کو مضبوط کیا اور کیا یہ غصب اقتدار میں شرکت نہیں تھی؟ اصغر خان پر چوہدری صاحب بہت بر ہم ہیں مگر جماعت کے فیصلوں پر بھی کچھ کہتے۔ جہاں تک ائر مارشل کے خط کا تعلق ہے، اس کے متن کو دیکھنا چاہیے۔ حقیقی صورت حال واضح ہو جائے گی۔
صفحہ ۸۸ پر ہے:
’’انتخابات کے انعقاد کا بہانہ بنا کر وزرا کو فارغ کر دیا۔‘‘
حالانکہ پی این اے کے وزرا انتخابات کے اعلان کے پیش نظر خود الگ ہوئے۔
جناب چوہدری محمد اسلم صاحب کتاب کے صفحہ ۹۸ پر فرماتے ہیں کہ میرے بعد مولانا عبیدا لرحمان جماعت اسلامی ضلع گوجرانوالہ کے امیر ہوئے۔ حالانکہ چوہدری صاحب کے بعد امیر ضلع شیخ محمد انور صاحب ہوئے۔ وہ پانچ سال تک اس منصب پر فائز رہے۔ پھر مدنی صاحب کی باری آئی۔
صفحہ نمبر ۱۴۴ پر تحریر ہے کہ :
’’میرے آخری زمانہ امارت میں شہر میں ارکان جماعت کی تعداد ۵۵، ۶۰ کے قریب تھی۔‘‘
یہ تعداد کسی طرح درست نہیں۔ ارکان شہر کی تعداد ۴۰، ۳۵ تھی۔ چوہدری صاحب کا جملہ بھی انتہائی مہمل بلکہ بے معنی ہے۔ ۵۵، ۶۰کی تعداد بیان کرنا تو بیان کا ایک مسلمہ ڈھنگ ہے۔ اس کے ساتھ لفظ قریب لگا دینا بیان کو غیر یقینی پن سے دوچار کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ منشا در اصل اپنے بارے میں پائے جانے والے عام تاثر کا سدباب ہے۔ یہ جملہ بظاہر بڑا معصوم ہے، مگر حقیقت میں معصومیت سے مکمل عاری نظر آتا ہے۔یہاں یہ بھی سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ بیس لاکھ کی آبادی کے شہر میں ۵۵ تا ۶۰ ارکان کی کیا حیثیت ہے۔ ضلعی اور شہری جماعت پر تیس سال کا ہمہ اقتدار جماعتی توسیع میں اتنا ہی ساز گار ہوا، زمین بنجر تھی یا حضرت کاشتکار ہی کچھ ایسے تھے۔
صفحہ مذکورہ پر ہی خالد محمود قریشی کو ایڈووکیٹ قرار دیا گیا ہے، حالانکہ وہ بی اے بھی نہ کر سکے۔ وہ ہمیشہ سے کاشتکاری سے منسلک ہیں۔ البتہ ان کے بڑے بھائی منور حسین ہاشمی وکالت کر رہے ہیں۔
صفحہ نمبر ۱۵۹ پر مولانا امین احسن اصلاحی کے داماد نعمان شبلی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ صوبائی حکومت کے اسسٹنٹ انجینئر تھے۔ جماعت کے رکن تھے۔ حکومت نے انہیں جماعت کی رکنیت یا ملازمت میں سے ایک رکھنے کانوٹس دیا۔ انہوں نے ملازمت سے دستبرداری اختیار کر لی اوررکنیت کو ترجیح دی۔ چوہدری صاحب نعمان شبلی صاحب کی عزیمت کی تحسین فرماتے ہیں، لیکن منیر احمد صاحب کے سلسلے میں ان کا طرز عمل اس کے بالکل بر عکس تھا۔ ہم یہاں منیر صاحب کے قصے کو درج کر دینا بہت متعلقہ سمجھتے ہیں۔
ان کے اکتیس سالہ دور امارتِ ضلع کے دوران، شہر گوجرانوالہ کے کسی با صلاحیت رکن کو سکون میسر نہ آیا۔ جو بھی اپنی کارکردگی کی بنا پر نمایاں ہوا تو چوہدری صاحب کو کھٹکنے لگا۔ آخر کار اسے کسی نہ کسی طرح ٹھکانے لگانے میں کامیاب ہوئے۔ اس دور میں شہری جماعت کے ارکان کی تعداد بیس تیس کے لگ بھگ رہی۔ ۱۹۸۳ء میں تعداد پینتیس تھی۔ ۱۹۷۰ء میں منیر احمد صاحب امیر شہر تھے۔ نوجوان، فعال اور بلا کے محنتی۔ ایم اے عربی تھے۔ صنعت کارانہ پس منظر کو چھوڑ کر سکول کے مدرس ہو گئے۔ ملت ہائی سکول کی انجمن کے چوہدی محمد اسلم صاحب صدر تھے۔ منیر احمد صاحب سکول میں استاد تھے۔ تدریس اور امارتِ شہر کی دونوں ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام دے رہے تھے۔ شہری جماعت میں اس حیثیت سے بڑے مقبول ہو رہے تھے۔ پڑھے لکھے تو تھے ہی مگر حقیقی علمی ذوق رکھتے تھے۔ عربی زبان اور عربی علوم، خاص طور پر کتبِ حدیث پر خاصا درک رکھتے تھے۔ اس طرح امیر ضلع کے لیے صورت حال کافی پریشانی کا باعث بن رہی تھی۔ امیر ضلع کا استصواب دو سال کے بعد ہوتا ہے۔ ضلع میں گوجرانوالہ کی شہری جماعت کے ارکان کی تعداد بڑی موثر تھی۔ ضلع کے کل ارکان پچاس ساٹھ ہو گی۔ منیر احمد صاحب میں ضلعی سطح تک متبادل قیادت کے طور پر ابھرنے کا بڑا امکان نظر آتا تھا۔ صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لیے امیر ضلع کو کوئی موقع کوشش کے باوجود ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔ ۱۹۷۲ء میں بھٹو صاحب نے پرائیویٹ سکولوں کو قومیا لیا تو ملت ہائی سکول بھی سرکار کے کنٹرول میں چلا گیا۔ اس مرحلے میں جماعت کے ارکان اساتذہ کے لیے مشکل صورت کے امکانات پیدا ہوئے۔ سرکاری تحویل میں آنے والے اسکول کے استاد کے طور پر جماعت کی رکنیت رکھنا ایک الجھن ہو سکتی تھی۔ مرکز جماعت کی طرف سے ایک سرکلر کے ذریعے ایسے مدرس ارکان کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنے روز گار کے بارے میں پریشانی سے بچنے کے لیے جماعت کی رکنیت سے الگ ہو جائیں۔ اس سرکلر نے چوہدری محمد اسلم صاحب کو موقع فراہم کر دیا۔ چنانچہ انہوں نے منیر صاحب سے جماعت کی رکنیت ترک کر دینے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ منیر احمد صاحب نے یہ موقف اختیار کیا کہ وہ روز گار پر جماعت سے اپنی وابستگی کو ترجیح دیں گے۔ ان کے لیے سکول کی ملازمت چھین لی گئی تو کوئی پریشانی نہیں ہو گی، وہ اپنی روزی کئی دیگر طریقوں سے حاصل کر لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جماعت کی خدمت ان کا مشن ہے وہ اسے ترک کرنا نہیں چاہتے۔ اسکول کی ملازمت قربان کی جاسکتی ہے۔ ہوس و عشق کا یہ معرکہ گرم ہوتا رہا۔ نامہ و پیغام سے خطوط کا ایک پلندہ تیار ہو گیا۔ بالائی نظم تک بات پہنچی۔ امیر صوبہ، امیر ضلع اور امیر شہر کی باہم آویزش میں اپنے آپ کو جلد فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں سمجھتے ہوں گے۔ ایسی صورت میں معاملے کو لٹکانے کی حکمت عملی ہمیشہ موثر ہوا کرتی ہے۔ صورت حال میں ایک پیچیدگی بھی ہے۔ امیر ضلع صوبائی اور مرکزی شوریٰ کے رکن بھی تھے اور امیر صوبہ سے ان کے روابط امیر شہر کے مقابلے پر کہیں موثر تھے۔ ادھر امیر شہر اور امیر ضلع کی آویزش مقامی ماحول کو خراب کر رہی تھی۔ امیر ضلع پیچھے ہٹتے تو ان کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوتا۔ امیر شہر اپنے موقف کی صداقت پر قائم رہنے پر بوجوہ مجبور تھے۔ ضلعی شوریٰ کے لوگ ان دو بڑوں کی لڑائی میں تماشائی سے زیادہ رول ادا کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ کوئی بزرگ ایسا نہ تھا جو جماعتی مصالح کے تحت ہی سلجھاؤ کے لیے کچھ کر سکتا۔ یہ تناؤ دن بدن تلخ ہوتا جا رہا تھا۔ اس مرحلہ میں منیر احمد صاحب نے امیرِ جماعت اسلامی پاکستان جناب میاں طفیل محمد کو ایک خط لکھا۔ خط میں انہوں نے امیرصوبہ کی جانب سے معاملے کو موخر رکھنے کے بار ے میں اپنے احساسات کا کھل کر اظہار کیا۔ اس میں انہوں نے اس بد گمانی کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا کہ امیر صوبہ سے ان کو انصاف کی توقع نہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ بے لاگ انصاف کی توقع تو وہ امیر جماعت سے بھی نہیں رکھتے لیکن آخر معاملہ کسی طور پر طے تو ہونا ہی ہے۔
یہ صورت حال امیر ضلع صاحب کے لیے بڑی ہی ساز گار ہو گئی۔ امیر جماعت نے فیصلہ فرمایا۔ انہوں نے قرار دیا کہ متنازعہ امر میں موقف منیر احمد صاحب (امیر شہر)کا درست ہے۔ چوہدری محمد اسلم صاحب (امیر ضلع) کا موقف غلط ہے۔ لیکن امیر شہرنے امیر صوبہ پر ہی نہیں امیر جماعت پر بھی بد اعتمادی کا اظہار کر کے نظم کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس طرح امیرِ شہر کو معذرت کے لیے موقع دیا گیا۔ فیصلہ میں لکھا گیا کہ اگر امیر شہر نے معذرت کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معذرت نہ کی تو ان کے خلاف نظم کی خلاف ورزی کی بنا پر کارروائی ہو گی۔ امیر شہر نے معذرت نہ کی اور نتیجہ کے طور پر نظم کی خلاف ورزی پر جماعت کی بنیادی رکنیت سے فارغ کر دئیے گئے۔ اس طرح امیر ضلع کی راہ کا کانٹا چن دیا گیا۔
امیر ضلع کی راہ صاف ہو گئی۔ نقصان کس کا ہوا؟ جماعت کا۔ امیر ضلع اور رکنیت سے فارغ کئے جانے والے امیر شہر، دونوں فائدے میں رہے۔ دونوں کی انا کی تسکین ہوئی۔ امیر ضلع کا منصب محفوظ رہا۔ ان کی انا قائم رہی۔ امیر شہر کو پرائیویٹ کارو بار کا موقع ملا اور وہ گوجرانوالہ سے لاہور منتقل ہو کر پبلشنگ کے کام میں یکسو ہو گئے لاکھوں میں کھیلتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ بیس پچیس ارکان کی جماعت کو اتنا فعال اور با صلاحیت امیر شہر، قدیم و جدید تعلیم سے آراستہ، ایک طویل مدت تک میسر نہ آیا۔
کتاب کے صفحہ نمبر ۱۵۶ اور ۱۵۷ پر ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں چوہدری صاحب کے قومی اسمبلی کے امیدوار بننے، بیٹھنے اور پھر کھڑے ہونے کی تفصیل بیان کی ہے۔ میں اس اٹھک بیٹھک کا گواہ ہوں۔ چوہدری صاحب نے نظم کی اطاعت کے حوالے سے اپنے طرز عمل کو کھل کر، خود تعریفی کے انداز میں بیان کیا ہے۔ کارکنوں کے نظم کے خلاف جذبات کا ذکر بھی کیا اور ساتھ ہی راولپنڈی سے مولا نا فتح محمد صاحب کی جانب سے ائر مارشل اصغر خان کے حق میں بیٹھنے سے گریز کے لیے ضلعی شوریٰ کی قرارداد کو نہایت دانشمندی قرار دیا ہے۔ اپنی اطاعت کا چرچا اور مولانا فتح محمد کی ضلعی شوریٰ کی مدد سے عدم اطاعت کو دانشمندی قرار دے کر قاری کو کس مخمصے میں ڈال رہے ہیں، اس کا جواب تو ادارہِ معارف اسلامی کے ڈائریکٹر جناب حافظ ادریس ہی دے سکتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ قاضی حسین احمد صاحب نے حافظ صاحب کو امیر صوبہ بنانے کے لیے مولانا فتح محمدکو امارت صوبہ سے مستعفی ہونے کے لیے مجبور کردیا تھا، حالانکہ ان کی مدتِ تقرری باقی تھی۔
کتاب کے صفحہ نمبر ۱۶۲ پر لکھتے ہیں کہ ملک محمد رفیق صاحب جوانی میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ میں ملک صاحب کے جنازے میں شریک ہواتھا۔ چوہدری محمد اسلم صاحب کو جنازے میں شریک نہیں دیکھا۔ ملک صاحب کی وفاتِ حسرت آیات کو جوانی کی موت کہا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ چوہدری صاحب بانوے سال کی عمر میں بھی جوان ہیں۔ میرے پاس ان کو جوان قرار دینے کا جواز اس وجہ سے بھی ہے کہ وہ ہر سال گرمیوں میں میرے والد مرحوم سے ’’ٹھنڈک‘‘ بنوایا کرتے تھے۔ شاید اس معاملے میں ملک رفیق صاحب سے ان کی کوئی قدر مشترک ہو۔ بہر حال ملک رفیق صاحب کافی بزرگی کو پہنچ کر فوت ہوئے۔ میری ان سے نیاز مندی رہی۔ بڑے پیار سے ملتے تھے۔ ان کے جنازے میں شیخ احمد اللہ ظفر صاحب ملے۔ وہ بہت ضعیف ہو چکے تھے۔ مجھے پہچان کر فرمانے لگے کہ کبھی کبھی ملنے کے لیے آ جایا کرو۔
کتاب میں صفحہ نمبر ۱۶۳ پر خالد احمد شیخ کو پروفیسر لکھاگیا ہے۔ حالانکہ ان کے بھائی زاہد احمد شیخ پروفیسر ہیں۔
صفحہ نمبر ۱۸۸ پر transportation for life کا ترجمہ ’سزائے موت‘ لکھا گیا ہے جب کہ عمر قید ہونا چاہیے۔ 
چوہدری صاحب اپنے کہنے کے مطابق، رشوت کے مخالف رہے اور ہمیشہ اس سے بچتے رہے۔ سفارش اسی طرح کی چیزہے۔ دونوں میں فرق نہیں۔ سفارش کرتے رہے۔ یہاں تک کے عدالتوں کے ججوں کو بھی سفارش کرنے کے کئی واقعات کتاب میں درج کئے ہیں۔
صفحہ ۲۷۴ پر لکھا ہے کہ :
’’تمیز الدین خان صدر دستور سازاسمبلی نے دستورسازاسمبلی توڑنے کے حکم کو چیلنج کیا لیکن سپریم کورٹ نے ان کی استدعامستردکردی۔‘‘
یادرہے کہ اس زمانے میں سپریم کورٹ کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ فیڈرل کورٹ تھی۔
بھول چوک بھی کئی قسم کی ہوتی ہے۔ رفیق تارڑ اورائر مارشل اصغر خان کے حوالے سے چوہدری صاحب کے بیان میں ان کی پسند ناپسند غالب نظر آتی ہے۔ جماعت اسلامی شہر گوجرانوالہ کے نمایاں ارکان کے ذکر میں بھی ان کی بھول چوک پسند نا پسند میں پھنسی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ ملت ہائی سکول کا کتاب میں دو دفعہ ذکر کیا۔ اسکول کی انتظامی مجلس کے خود صدر اور ملک امین کے سیکریٹری ہونے کا کئی دفعہ بطور اہتمام ذکر کیا۔ 
ملت ہائی سکول کے اجرا کے مرحلے میں چوہدری محمد اسلم صاحب نے شیخ احمد اللہ ظفر (ناظم دفتر جماعت شہر گوجرانوالہ) کی وساطت سے شیخ عبد اللطیف صاحب کو واہ کینٹ سے گوجرانوالہ واپس بلوا کر سکول کا ہیڈ ماسٹر مقرر کیا۔ انہوں نے جماعت کی رکنیت بھی اختیار کی۔ ایک سال کے بعد امیر حلقہ (ڈویژن) جناب بہاول خان ناگرہ کو اسکول کے معائینہ کے لیے دعوت دی۔ ناگرہ صاحب محکمہ تعلیم کے اونچے منصب سے ریٹائر شدہ تھے۔ انہوں نے اسکول کا تفصیلی جائزہ لے کر اسکول کی کار کردگی کو اطمینان بخش قرار دیا۔ اس پر چوہدری محمد اسلم صاحب خوش ہونے کے بجائے برہم ہوئے ۔ انہوں نے فرمایا کہ، ناگرہ صاحب ہم تو چاہتے تھے کہ آپ ایسی رپورٹ دیں کہ اسکول والوں کی گردنیں ناپنے کا موقع ملتا۔
اس کے بعد شیخ صاحب سکول کے ہیڈ ماسٹر رہتے؟وہ خاموشی سے الگ ہو گئے اور اپنا اسکول (تعمیر نو مسلم ہائی اسکول) کھول لیا، لیکن ان کا ذکر نہیں کیا۔ وہ جماعت کے رکن بھی بنے اور ۱۹۶۸ء میں امیر شہر بھی ہوئے۔ ان کا ذکر بالکل بھول گئے ہیں۔ حکیم نذیر احمد صاحب شہر کے بڑے معروف و مستند طبیب تھے۔ نہایت فاضل عالم دین بھی تھے۔ اکثر ہفتہ وار اجتماع میں درس قرآن ارشاد فرماتے تھے۔ جماعت کے باقاعدہ رکن تھے۔ اہلحدیث مسلک سے تعلق بھی تھا۔ ڈاکٹر منظور الحق ڈار بھی اہم رکن رہے۔ شہری و ضلعی شوریٰ کے رکن رہے۔ ان کا تذکرہ بھی فراموش ہوا ہے۔ معلوم یوں ہوتا ہے کہ اختلاف کرنے والے شخص کو بھولنے میں چوہدری صاحب زیادہ مستعد واقع ہوئے ہیں۔
شیخ عبدالرشید امرتسر جماعت کے رکن تھے۔ محکمہ ڈاکخانہ جات میں ملازم تھے۔ جماعت نے ارکان جماعت کے لیے سرکاری ملازمت کو ممنوع قرار دیا تو ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ قیام پاکستان کے بعد گوجرانوالہ شہر منتقل ہو گئے۔ گوجرانوالہ کے ارکان میں سینئر ترین رکن ہوں گے۔ طویل عرصہ جماعت کے ناظم مالیات رہے۔ بڑے نرم خو مگر صاحبِ مطالعہ تھے۔ گوجرانوالہ میں مولانا محمد چراغ کے علاوہ ان کے پاس ماہنامہ ترجمان القرآن کی مکمل فائل موجود تھی۔ مولانا چراغ رکن نہیں تھے۔ شیخ صاحب رکن جماعت تھے۔ چوہدری صاحب ان کا ذکر بھی بھول گئے ہیں۔
چوہدری محمد اسلم صاحب نے ۱۹۵۱ء کے صوبائی انتخابات میں پنڈی بھٹیاں کے حلقے سے انتخاب لڑا۔ حافظ آباد کی نشست سے جماعت کے ایک اور امید وار بھی تھے۔ یہ محکمہ ایکسائز میں انسکپٹرتھے۔ علیگڑھ یونیورسٹی سے ایم اے ایل ایل بی تھے۔ مولانا کے حکم پر انہوں نے چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر ایکسائز انسپکٹری سے استعفا دے کر انتخاب لڑا۔ مولانا مودودی نے ان کے انتخابی جلسہ سے خطاب کیا۔ بعد میں گوجرانوالہ منتقل ہوئے۔ گورنمنٹ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ سے وائس پرنسپل کے طور پر ریٹائرہوئے۔ چوہدری محمد اسلم صاحب کے محلہ دارتھے۔ جس زمانے میں جماعت کا ہفت روزہ اجتماع دال بازار کی مسجد اہلحدیث گوجرانوالہ میں ہواکرتاتھاتواسرار صاحب اجتماع میں حالات حاضرہ پر تبصرہ کیا کرتے تھے۔ کئی کتابوں کے مصنف رہے۔ حلقہ ادب اسلامی کے مرکزی رہنماؤں میں سے تھے۔ چوہدری صاحب سے ان کا ذکر بھی فراموش ہوا ہے۔
جناب چوہدری محمد اسلم صاحب کتاب کے صفحہ نمبر ۳۱۵ پر دعویٰ کرتے ہیں:
’’جن پندرہ دیہات میں میں نے کاشت پٹے پر کی ہے، ان کے نام میرے پاس محفوظ ہیں۔ میرا یہ دعویٰ ہے اگر کوئی صاحب ان دیہات میں سے کسی گاؤں میں چلے جائیں توعام لوگوں کومیرے بارے میں رطب اللسان پائیں گے۔ میں نے زائد ادائیگی کر دی لیکن کبھی کسی سے مالی جھگڑا نہیں کیا، کسی کا حق نہیں مارا۔ مزدوروں کو اجرت دوسرے لوگوں سے ہمیشہ سوائی ڈیوڑھی دی اور اجرت کی ادائیگی میں کبھی تاخیر نہیں کی۔ ان پندرہ سولہ دیہات میں کوئی شخص میرے معاملات کی شکایت کرنے والاآپ کو یا کسی دوسرے شخص کو نہیں ملے گا۔ انشا ء اللہ۔‘‘
مسلمان کی شان عجزوانکساری میں ہے ۔وہ ہمیشہ اپنی تقصیر کا اعتراف کرتا ہے ۔ دعویٰ عجز و انکساری کی نفی ہے۔ بہرحال چوہدری صاحب نے یہ دعویٰ کیا ہے توسوال یہ ہے کہ اس کتاب میں اس دعوے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ دعویٰ کا کسی نے مطالبہ کیا؟ کیا بغیر مطالبے کے قسم اٹھانے کے بارے میں حدیث رسول واضح نہیں؟ پھر اس دعوے میں پندرہ دیہات کی تخصیص کیوں؟ دعوے کی ضرورت کسی وجہ سے مان لی جائے تو سب سے پہلے تو جماعتی ساتھیوں کے ہاں دعویٰ کیا جانا چاہیے تھا۔ ۱۹۵۲ء سے ۱۹۸۲ء تک جن پر حکمرانی کی ان سے حسن معاملت کا دعویٰ ہونا چاہیے تھا۔ پھر ان کے ساتھ معاملات بھی رہے۔ چوہدری احمد سعید صاحب اور چوہدری اسلم صاحب کے مابین تنازعے میں تو میرے والد صاحب ثالث رہے۔ اس کتاب کے ایک دیگر باب میں بہت سے دوستوں کے بارے میں اپنی معلومات درج کر چکا ہوں۔ چوہدری صاحب کا طویل عرصے تک ذمہ دارانہ حیثیت میں رہنا اور اس میں ان سے کسی کو شکایت کا نہ ہونا ایک نا ممکن کام ہے۔ کوئی شخص بشری کمزوریوں سے مبرا نہیں۔ لہٰذا دعویٰ کسی درجے میں بھی مستحب نہیں ہو سکتا۔ بہرحال چوہدری صاحب کو سیٹلائٹ ٹاؤن سے لے کر کالی صوبہ، چناب سے لے کر کھوڑی تک، کون نہیں جانتا، مگر جماعت چھوڑی، شہر چھوڑا، وہ بھی اس طرح کہ نام و نشان تک نہ رہے؟ ضلع بھر کے محلے، گاؤں، درودیوار، سڑکیں اور پکڈنڈیاں بھی پوچھتی ہیں کہ یہ فراق کیسے ہوا اور کیوں ہوا۔ آپ کو جماعت سے کسی نے نکالا تو نہیں تھا، خودہی استعفا دیا تو کیوں دیا؟اگر کسی وجہ سے ایسا ضروری تھا تو سیٹلائٹ ٹاؤن کا پیرگودڑی کے قریب والا مکان کیوں فروخت کیا؟ پھر جتنی دیر شہر میں رہے، شہریوں سے ناطہ توڑ کررہے۔ آخر کار گوجرانوالہ شہر پر ۱۹۵۲ء سے لے کر ۱۹۸۲ء تک حکمرانی کرنے کے بعد، اس شہر کے باسیوں سے کیا قصور ہوا کہ آپ لاہور سدھار گئے۔ 
اپنی تحریکی یاد داشتوں کے پیش لفظ میں آپ نے اپنے آپ کو سابق امیر جماعت اسلامی ضلع گوجرانوالہ و رکن مرکزی مجلس شوریٰ تحریر کیا ہے۔ گوجرانوالہ کے ارکان آپ کو سابق کرنے والے تو نہ تھے۔ آپ سابق کیوں ہوئے؟ آپ نے رکنیت سے استعفا دیا تو آپ ذہنی طور پر اس وقت بھی جوان و توانا تھے۔ مقامی شوریٰ میں میں نے خود چوہدری صاحب کی صلاحیتوں کا مشاہدہ کیا ہے ۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر آپ خود پیچھے نہ ہٹتے، لاہور کو گلے نہ لگاتے تو کم از کم بیس سال اور بھی امیر ضلع رہ سکتے تھے۔ آپ مرد میدان تھے۔ شیخ محمد انور، عبید الرحمان مدنی، امان اللہ بٹ، بلال قدرت بٹ اور عبیداللہ گوہر کی آپ کے مقابلے پر کیا حیثیت ! ان یادداشتوں کے لکھنے کے بجائے آپ اپنی تگ و تاز میں مصروف ہوتے۔ یادداشتیں تو اس وقت لکھی جاتی ہیں جب کوئی کام نہ رہے۔ اگر یادداشتوں کا لکھنا پھر بھی ضروری ہوتا تو اس میں جس بھول چوک کی نشاندہی مجھ جیسے کوتاہ شخص نے کی ہے، یہ بھول چوک کبھی واقع نہ ہوتی۔ 
میں اپنے اسکول کے زمانے سے چوہدری صاحب کی جہدِ مسلسل کا شاہد و مداح ہوں۔ آپ نے کتاب میں اس جدو جہد کے بارے میں بہت کچھ بالکل سچ سچ لکھا ہے۔ لیکن یہ سوال تشنہ جواب کیوں چھوڑ دیا۔ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ آپ شہر کا وقار تھے۔ آپ جیسی قد آور شخصیت شہر سے خاموشی کے ساتھ رخصت ہو گئی تو کیوں؟چلیے شہر چھوڑنا ہی تھا تو کسی کو بتائے بغیر؟یہ جواب تو آپ کو ہی دینا ہو گا کہ یہ شہر کن لوگوں کے ہاتھوں دے کر آپ لاہور کے ہو گئے؟ یہ کیوں ہوا؟کیسے ہوا؟میں اس کا جواب کس سے لوں؟ 
چوہدری محمد اسلم صاحب کی طویل اور بھر پور تحریکی زندگی یقیناًتحریک کی امانت ہے۔ اسے بھرپور طور پر منتقل کیا جاتا توادارہ معارف اسلامی کی خدمت ہوتی۔ افسوس سے کہنا پڑے گاکہ بظاہر کتاب میں ادھورے پن کا اہتمام کرنے کے لیے واقعتا بڑی محنت کی گئی ہے۔ چوہدری اسلم صاحب کی کئی مہینوں کی محنت شاقہ اور ادارہ کے رفقا کے تجربہ اور محنت کا نتیجہ ادھورے پن کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ کتاب میں تکرار بھی کافی زیادہ کھٹکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تکرار کو قرآن کے اسلوب کے طور پر اختیار کیا گیا ہو۔ البتہ ادھورے پن کا کوئی جواز میں پوری ذہنی استعداد لگاکر بھی تلاش نہیں کر سکا۔ چوہدری صاحب نے کتاب میں ضلعی امارت ۱۹۵۲ء سے ۱۹۸۲ء کے دور پر کتاب کو مرکوز رکھا ہے۔ زمانہ رکنیت کاتذکرہ برائے نام ہے۔ مولانامودودی سے کیسے متاثر ہوئے؟ اس کی تفصیل کی کتاب میں کمی محسوس ہوتی ہے۔ ۱۹۸۲ء کے بعد جماعت سے مستعفی ہوئے۔ استعفا کیوں دیا؟ یاد داشتوں سے محو ہے۔ کتاب میں یہ خلا بہت کھٹکتا ہے۔ محترم چوہدری صاحب بھول گئے یا انہوں نے یہ خلا ارادی طور پر رکھا۔ اس سوال پر چوہدری صاحب کے دور کے لوگ، اپنی معلومات اور ذہن کے مطابق رائے قائم کر سکتے ہیں۔ مگر ادارہ معارف اسلامی کے ذمہ داران بھی اس خلا کے ذمہ دار ٹھہرتے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنا پڑے گاکہ کچھ تو دال میں کالا ہے جو اتنی پردہ داری کااہتمام ہے۔ 
استعفا کے بعد ربع صدی گذارنے کے بعدیاد داشتیں لکھی گئی ہیں۔ ربع صدی کی یادداشتیں بالکل غائب ہیں۔ لاہور کے لیے گوجرانوالہ کو داغ مفارقت دینے کے باوجود گوجرانوالہ کے تحریکی اور سیاسی لوگ ان کی زندگی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں اٹھنے بیٹھنے کے مرحلے میں ہی کارکن جذباتی نہیں تھے بلکہ اب بھی متجسس ہیں۔ کتاب اس پہلو سے بالکل ادھوری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ دوبارہ جماعت کے رکن بن گئے ہیں۔ ان کا جماعت سے استعفا کاسوال ابھی محتاجِ جواب ہے لیکن دوبارہ رکن بننا خوشی کا باعث ہونے کے باوجود تجسس کا باعث ہو گا۔ سنا ہے آج کل امریکہ میں ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ رکنیت کا حلف اٹھانے کے بعد امریکہ یاترا ضروری ہوگئی ہوگی۔ یقیناًجماعت کے لیے امریکہ سے تارے توڑ کرلانے گئے ہوں گے۔ 
ادھوری کہانی کو نیاز مند لوگوں کو مکمل کرنے کے لیے جس تجسس میں مبتلاکیا گیا ہے وہ نیاز مندوں کی سخت آزمائش ہے۔ مولف اور ادارہ نے تو شاید ساری محنت اور صلاحیت کتاب میں ادھورے پن کو قائم کرنے پر صرف کی ہے۔ کتاب میں مہمل اور غیر یقیناًپن اسی لیے اختیار کیا گیا ہے۔ میں یہاں تک کہوں گاکہ کتاب میں بیان کی غلطیاں بھی دفاعی نوعیت کی اور ارادی ہیں۔ آخر میں پندرہ دیہات میں کاشتکاری کے حوالے سے اپنی معاملت کے شفاف ہونے کا جو دعویٰ کیا گیا ہے، یہ دعویٰ بھی پھیلی ہوئی ایک خاص کہانی کی صفائی کرنے کے لیے ہے۔ اس کہانی کا تانا بانا ۱۹۸۲ء کے بعد جماعت کی رکنیت سے استعفا سے جا کر ملتا ہے۔ حال ہی میں جماعت کی دوبارہ رکنیت کا حصول بھی صفائی کی اسی مہم کا حصہ ہے۔ در اصل صورت حال یہ تھی کہ گوجرانوالہ کے شہری اور جماعت کے لوگ آج بھی چوہدری صاحب کو بد قسمتی سے پیدا ہونے والی صورت حال سے بری الذمہ خیال کرتے ہیں۔ چوہدری صاحب کے دو بیٹوں کے بارے میں گناہ گارہونے کاتاثر تو بہت گہراہے، مگر چوہدری صاحب کو لوگ بے قصور خیال کرتے ہیں۔ اس میں چوہدری صاحب کے بارے میں عام پایا جانے والا حسن ظن بڑا طاقت ور ہے۔ مگر حقائق میں اتر کر دیکھا جائے تو یہ ماننا پڑے گاکہ دولت کے سیلاب کے سامنے چوہدری صاحب کی بھاری بھرکم شخصیت ٹھہرنہ سکی۔ نتیجتاً ڈسکہ تحصیل کے گاؤں میں چوہدری صاحب نے اپنے حق میں تحصیل کی تاریخ کا سب سے بڑا بیع نامہ رجسٹر کروایا۔ یہ بیع نامہ چوہدری صاحب نے خود تحریر و تکمیل کرایا۔ اس میں شناخت کنندہ وکیل صاحب ہماری بار کے ممبر اور بقید حیات ہیں۔ جب سیلاب زر کا پس منظر جرائم کے انسدادی ادراوں کے ہاتھ لگا تو چوہدری صاحب نے اپنا دامن بچایا اور نہ جماعت کو بچانے کی کوشش کی۔ البتہ جماعت کی رکنیت سے استعفا دے دیا۔ اپنے بچوں کا پورا بچاؤ کیا۔ جب لوگ عمومی طور پر صورت حال کو بھول گئے تو پھر دوبارہ رکنیت بھی حاصل کر لی اور اپنی یادداشتیں بھی لکھنے بیٹھ گئے۔ یاداشتوں میں بول بھلیوں کا سا انداز اختیار کر کے پوتر ہوکر نکلنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بھلکڑوں کا سا اسلوب ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسے جناب آصف علی زرداری نے سوس کورٹ میں اپنے پاگل ہونے کی کہانی ثابت کی۔ 
ادارہ معارف اسلامی چوہدری صاحب کی اس شعوری کاوش میں، ان کا ہر طرح سے معاون ہوا ہے۔ یہ معاونت شعوری اور غیر شعوری دونوں طرح کی ہو سکتی ہے۔ زیادہ امکان غیر شعوری کا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جماعت کے اندر شعور کا امکان کافی کم ہوتا ہے۔ البتہ جناب پروفیسر ظفر حجازی صاحب کی معاونت کا امکان کم ہے۔ وہ بیچارے تو اپنی شرافت کی وجہ سے whitener کے طور پر بھی کس حد تک کام آ رہے ہیں، تحقیق کا موضوع ہو سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب، ذہانت و مہارت کا کمال، ہوش و حواس کو عاجز کر دینے کے لیے کافی معلوم ہوتا ہے۔ اس غرض کے لیے انتہائی اونچی درجے کی اجتہادی بصیرت سے کام لیا گیا ہے ۔ چوہدری صاحب کی نسل اس بصیرت کی وارث بنی۔ انہوں نے اس بصیرت کو برؤے کار لا کر، ہیروئن کی سمگلنگ کو اسلامیانے کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔ میں اس کار نامے پر ریاست کپور تھلہ کے مقتدر و مقدس خون کو آنئدہ کئی نسلوں کی جانب سے داد و تحسین کا حقدار قرار دیتا ہوں۔ باقی رہی مکافات عمل تو اس پرکسی کا اختیار ہے اور نہ ہی انسان کبھی اس کو سمجھ سکاہے۔
تحریک کے لیے چوہدری صاحب کی لگن، محنت اور جانفشانی سے انکار کرنا بھی چاہیں تو انہیں جاننے والا انکار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ہمیشہ ذہانت اور جرات مندی سے بھی خوب خوب کام لیا۔ بلا شبہہ انہوں نے محنت و جانفشانی میں کارکن کی ادنیٰ سے ادنیٰ سطح تک جا کر بھی کام کیا۔ البتہ ایک سوال بڑا اہم ہے کہ طویل ترین کیریر میں انہوں نے پورے ضلع میں کسی ایک بھی موثر شخص کوجماعت میں شامل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ وہ برابری میں اپنے قریب کی سطح کی کسی شخصیت کو جماعت میں لا سکے۔ اپنی کتاب میں انہوں نے بے شمار بڑے اور چھوٹے لوگوں کا ذکر کیا ہے۔ ان کے ذکر کافائدہ۔ یہ لوگ جماعت میں نہ آئیں، دیگرجماعتوں میں چلے جائیں، یا باہربیٹھ کر صرف سرمایہ فراہم کرتے رہیں۔ سرمایہ فراہم کرتے ہوئے سرمایہ کاری کے ذہن کو ہاتھ سے جانے نہ دیں، تربیت جمعیت سے پائیں اور دنیاوی داری میں کھو جائیں۔ سوچنا چاہیے، تیس سال کی جانفشانی میں کچھ تو کمی ہے، بے شک چوہدری اسلم صاحب جیسا با صلاحیت اور جذبے والا شخص تیس سال کے بعد بھی آج تک کوئی نہیں آیا۔ ساٹھ سال کی تاریخ کا حاصل ضرب نکالنے کی ضرورت ہے۔ چوہدری اسلم صاحب کو اپنی یاد داشتوں میں یہ حاصل ضرب پیش کرنا چاہیے تھا۔
کیوں ہجوم ہے شراب خانے میں
فقط یہ بات کہ ساقی ہے مرد خلیق
میرا مطلب یہ ہے کہ تیس تیس سال منصب داری کے اہتمام والا نظام ہمیشہ قحط الرجالی کا ذریعہ بنے گا۔ساٹھ سال کا حاضل ضرب یہ ہے کہ چوہدری محمد اسلم صاحب نے جماعت کی تنظیمی وسعت کو پورے اہتمام سے روکا۔ مقصود امیر ضلع رہ کر اپنے سیاسی مقاصدکے حصول کے لیے جماعتی وسائل کو خوب خوب بروئے کار لانا تھا۔ وہ اپنے اس طرزعمل پر کار بندرہے۔ شہر میں چوہدری صاحب کے سیاسی اثرات پھیلتے رہے۔ یہاں تک کہ قدرت نے سب کچھ سمیٹ دیا اوران کو امار ت ضلع کے منصب سے پیچھے ہٹنے پر مجبورہونا پڑا۔ ان کو کسی نے مجبور نہ کیا۔ وہ خود ہی مجبورہوئے۔ در اصل مکافات عمل نے اپنا آپ دکھا دیا۔ مخلص کارکنوں کو نمایاں کارکردگی کی بنا پر ابھرتے دیکھ کر ان کو جماعت سے باہر دھکیلنے کی روش خمیازہ دیے بغیر کب تک رہتی۔ منیر احمد صاحب کا قصہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر منظور الحق ڈار صاحب اور اقبال بٹ صاحب کے واقعات کا چوہدری صاحب نے ذکر تک نہیں کیا۔ یہاں تفصیل درج کی جاتی ہے۔ 
ڈاکٹر محمد منظور الحق ڈار صاحب گوجرانوالہ کے ایک معروف ہومیو پیتھک ڈاکٹر تھے۔ ریلوے سے مستعفی ہونے کے بعدہومیو پیتھک پریکٹس کرنے لگے۔ بڑے خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ، اعلیٰ ذوق مطالعہ رکھنے کے علاوہ نہایت باریک بین شخص تھے۔ بڑے منضبط معمولات رکھتے تھے۔ وقت کے نہایت پابند۔ جماعت کے رکن تھے۔ ضلعی شوریٰ کے رکن بھی رہے۔ ضیا ء الحق کے دور میں سیاسی جماعتوں پر پابندی تھی۔ اس کے باوجود دائیں بازو کی جماعتیں اپنی سرگرمیاں علانیہ طور پر جاری رکھی ہوئی تھیں اور حکومت چشم پوشی سے کام لے رہی تھی۔ حقیقتاً پابندی کا اطلاق پیپلز پارٹی پرتھا۔ اصولی جماعت ہوتے ہوئے بھی جماعت اس پابندی کے باوجود پوری طرح سر گرم تھی۔ یہاں تک کے اس کے اپنے انتخابات بھی ہوئے۔ اجتماعات ہوتے اور جماعت کے ہر سطح کے ذمہ داران کے اخبارات میں بیانات بھی چھپتے۔ بظاہر یہ دو عملی تھی کہ جماعت پر قانونی طور پر پابندی ہو مگر عملاً سب کچھ ہو رہا ہو۔ جماعت حکومت سے مطالبات بھی کرتی رہے۔ ڈاکٹر منظور صاحب کو اس صورت حال سے اطمینان نہیں تھا۔ ان کے خیال میں قانونی طور پر پابندی کا احترام ہونا چاہیے تھا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے اس عدمِ اطمینان کا ساتھیوں کے ساتھ بحث و اظہار بھی کرتے رہتے تھے۔ 
امیر جماعت اسلامی پاکستان جناب میاں طفیل محمد گوجرانوالہ تشریف لائے۔ جامعہ عربیہ میں ارکان کی نشست تھی۔ ڈاکٹر صاحب بھی تشریف رکھتے تھے۔ ڈاکٹر ڈار صاحب کے بڑے ہی چہیتے شاگرد جناب امان اللہ غازی صاحب نے موقع دیکھ کر میاں صاحب کا ان سے اس ایشو پرمکالمہ کروا دیا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے منطقی انداز میں اشکالات پیش کرتے رہے۔ خاص طور پر میاں صاحب کا ایک بیان زیر بحث تھا۔ کسی سیاسی مسئلہ پر پریس نے میاں صاحب سے جماعت کا موقف پوچھا تو میاں صاحب نے کہا کہ جماعتوں پر پابندی ہے۔ پابندی ختم ہو گی اور شوریٰ کا اجلاس ہو گا تو جماعت کا موقف طے ہو گا تو پوچھا بھی جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ جماعت عملاً قائم ہے۔ انتخاب و استصواب اور اجتماعات کے سلسلے بھی چل رہے ہیں۔ کسی اہم مسئلے پر موقف پوچھا جائے تو سوال ٹالنے کا یہ طریقہ کار درست نہیں۔ یہ واقعات اور حقائق کے خلاف ہے۔ شوریٰ بھی قائم ہے۔ اجلاس بھی ہوتے ہیں۔ موقف بھی واضح ہے سوال کا جواب قانونی پابندی کی آڑ میں ٹالنا غلط بیانی کے زمرے میں آتا ہے۔ بحث جاری رہی۔ طول پکڑی تو میاں صاحب ڈاکٹر صاحب کا اطمینان نہ کراسکے۔ گفتگو کے دوران ڈاکٹر نے کچھ اس قسم کی بات کی کہ جماعت کا اس مسئلے پر طرز عمل منافقانہ ہے۔ میاں صاحب پابندی کے سائے میں جاری سرگرمیوں کو صورت حال میں بالکل جائز سمجھتے تھے۔ گفتگو میں بے بس ہو کر میاں صاحب نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ اتنے متقی شخص کو جماعت سے مستعفی ہو جانا چاہیے تھا۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے جماعت کی رکنیت سے اپنا استعفیٰ ٰتحریر کر کے بھجوا دیا۔ ان کا استعفیٰ کبھی منظور تو نہ ہوا مگر امیر ضلع کی ایک نہایت زیرک نقاد سے خلاصی ہو گئی۔ ارباب نظم کی صفوں میں اطمینان قلب وذہنی سکون اپنی اتنہائی حدوں کو پہنچ رہا تھا۔ 
جناب غازی صاحب کو گلا رہا کہ ڈاکٹر صاحب ہر معاملے میں ان سے مشورہ کرتے ہیں اور استعفیٰ دینے میں مشورہ نہیں کیا۔ وہ پشیمان رہے۔ چاہتے تھے کہ اگر ارباب نظم میں کوئی استعفیٰ واپس لینے کا مطالبہ کرتا تو وہ واپس آ جاتے۔ غازی صاحب کا نہایت دکھ سے کہنا ہے کہ کسی نے بھی ان کو واپسی استعفیٰ کے لیے رسماً بھی نہیں کہا۔ غازی صاحب کتنے سادہ ہیں۔ ہمیشہ ارباب نظم کے دائیں بائیں رہنے کے باوجود ان کو پہچان نہیں سکے۔ جن اربابِ نظم کے قلب و دماغ میں خوشی حدوں سے پار ہوئی جاتی ہے وہ ڈاکٹر صاحب کو واپس آنے کے لیے کہتے۔ در اصل یہی وہ موقع ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو ذاتی انا قربان کر دینا چاہیے تھی اور اپنی غلطی خود تسلیم کر کے استعفا واپس لے لینا چاہیے تھا۔ در اصل انہوں نے میاں طفیل صاحب کے مشورہ کو بھی زیادہ سنجیدگی سے لیا۔ بظاہر میاں صاحب نے صورت حال کو ٹالنے کے لیے کہا تھا۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب سے استعفا کے مطالبہ نہیں کیا تھا۔ نظم کی اطاعت کے تصور میں غلو چونکہ مامورین کے ذہنوں پر چھایا رہتا ہے اس لیے ڈار صاحب نے استعفا کے مشورہ کو حکم کے طور پر لیا۔ بہر حال مصلحتیں ارباب نظم کی ہی غالب آتی ہیں غازی صاحب کا گلا اور صدمہ باقی رہے گا۔ مجھے معلوم نہیں غازی صاحب اس طرح کے کتنے صدمے اٹھا چکے ہیں۔ بظاہر تو ایک ہی صدمہ نظر آتا ہے۔ میرے سامنے تو صدمات کا ہجوم ہے۔
جناب اقبال بٹ صاحب کا قصہ اس طرح ہے کہ چوہدری اسلم صاحب امیر ضلع نہیں رہے تھے۔ ان کا نظم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جماعت کے عام رکن تھے۔ ۱۹۸۴ء کا ذکر ہے۔ شہری جماعت کے ایک رکن شیخ محمد اقبال بٹ صاحب تھے۔ ریلوے اکاوئنٹس لاہور میں ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔ صاف ستھری سروس کی۔ ملازمت کے زمانے سے ہی جماعت کے کارکن تھے۔ مطالعے کے عادی اور شوقین تھے۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں لاہور ڈیوٹی کے لیے جاتے، حاضری لگا کر واپس گوجرانوالہ آ جاتے اور جماعت کی انتخابی مہم میں رات گئے تک مصروف رہتے۔ چوہدری محمد اسلم صاحب قومی اسمبلی کے لیے جماعت کے امید وار تھے۔ وہ ان کی مہم میں شرکت کو جہاد اکبر کے درجہ کی چیز سمجھتے ہوں گے۔ اس غرض کے لیے لاہور میں اپنے دفتر میں حاضری لگا کر گوجرانوالہ واپس آ جانا ان کے نزدیک اخلاقی اور قانونی طور پر کسی طرح برا نہیں تھا۔ اس واضح مس کنڈکٹ پر، ان کو کسی نے ٹوکا بھی نہیں ہو گا۔ نہ ٹوکنے کی وجہ یہی کہ ہر کوئی اسے تقویٰ اور صالحیت کا تقاضا خیال کرتے ہوئے ثواب عظیم کا ذریعہ سمجھتا ہو گا۔ بہر حال اقبال بٹ صاحب بہت خوش طبع اور مجلسی شخص تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد رکن بنے۔ ایک مقامی اجتماع میں شریک تھے۔ میں بھی موجود تھا۔ امیر شہر مولانا عبیداللہ عبید اجتماع کی صدارت فرما رہے تھے۔ ہر رکن جماعت اپنے اپنے مقامی حلقے، یعنی محلے کی رپورٹ دے رہے تھے۔ اقبال بٹ صاحب نے اپنے محلے کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے تفصیل بتائی کہ ہفتہ وار اجتماع میں ایک ہی ساتھی تشریف لاتے ہیں اور کوئی نہیں آتا۔ اس پر عبدالجبار گکھڑ صاحب نے کچھ طنزیہ انداز میں تبصرہ کیا۔ بٹ صاحب نے امیر شہر سے کہا کہ کیا آپ نے گکھڑ صاحب کو اپنے لیفٹیننٹ کے طور پر رکھا ہوا ہے۔ اس پر گکھڑ صاحب تلخ ہوئے۔ نوبت تکرار تک پہنچنے لگی۔ اس مرحلہ پر عبدالجبار گکھڑ صاحب نے صورت حال بے جا مداخلت کر کے خراب کی تھی۔ مگر امیر شہر نے گکھڑ صاحب کے بجائے، بٹ صاحب کو اجتماع سے باہر چلے جانے کے لیے کہا۔ بٹ صاحب خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے۔ 
اس کے بعد بٹ صاحب نے شہری جماعت کے ہفتہ وار اجتماعات میں شرکت کے لیے آنا بند کر دیا۔ چند غیر حاضریوں کے بعد امیر شہر نے ان کی رکنیت کے اخراج کا نوٹس جاری کر دیا۔ نوٹس کا جواب آیا تو جواب کو غیر تسلی بخش قرار دے کر اخراج کی سفارش امیر ضلع کو ارسال کر دی۔ امیر ضلع شیخ محمد انور صاحب نے رپورٹ اخراج ضلعی شوریٰ کے سامنے پیش کر دی۔ شوریٰ نے جوابِ نوٹس کے پیش نظر مقامی شوریٰ کے ذریعے انکوائری کی ہدایت جاری کر دی۔ اس طرح انکوائری کمیٹی بنی اور راقم الحروف کو اس کمیٹی کا کنوینر بنا دیا گیا۔ میں نے بہت معذرت کی مگر امیر شہر مجھے کمیٹی کی سربراہی سے فارغ کرنے کو تیار نہ ہوئے۔ کمیٹی میں تین دیگر ارکانِ شوریٰ مجھ سے ہر لحاظ سے سینئر تھے۔ حافظ محمد انور قاسمی، قاضی محمد فاضل اور حکیم احمد دین اعوان۔ قاضی محمد فاضل صاحب میرے سکول کے استاد تھے۔ ان بزرگوں کی کمیٹی کی سربراہی سے مجھے گریز تھا۔ بہر حال ہمیں انکوائری کرنا پڑی۔ ہم نے باقاعدہ شواہد ریکارڈ کئے اور متفقہ طور پر انکوائری میں بٹ صاحب کو الزامات سے بری کر دیا اور صورت حال میں مقامی نظم پر معاملہ نا فہمی کا بوجھ ڈال دیا۔ خاص طور پر امیر شہر کو کوتاہی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ہم نے مفصل رپورٹ تحریر کر کے امیر شہر کی وساطت سے ضلعی شوریٰ کو بھجوادی۔ ہماری رپورٹ پر عام تبصرے ہونے لگے، حالانکہ رپورٹ پر ضلعی شوری کے فیصلے تک اسے اوپن نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ ناظمِ دفتر چوہدری محمد ایوب صاحب نے فرمایا کہ ’’کمیٹی کو بھینس کے نیچے چھوڑا گیا تھا مگر یہ کٹے کے نیچے چلی گئی‘‘۔ امیر ضلع نے رپورٹ چوہدری محمد اسلم صاحب کو بھجوائی۔ ان سے کہا گیا کہ ان کو رپورٹ سے بچاؤ کا راستہ بھی بتائیں اور اقبال بٹ صاحب سے بھی جان چھڑوائیں۔ ذرا سی صورت حال بنی تو ان سے خلاصی کا فیصلہ کر لیا گیا۔ 
اقبال بٹ صاحب چوہدری محمد اسلم صاحب کے ہم عصر اور جماعت کے دیرینہ سرگرم کارکن تھے۔ چوہدری صاحب نے اقبال بٹ صاحب کو اپنے گھر پر بلوایا اور ان پر واضح کیا کہ کمیٹی کی رپورٹ میں ان کی بریت کے باوجود ان کا اخراج ہو سکتا ہے۔ اربابِ نظم نے آپس میں معاملات طے کرنے ہوتے ہیں۔ انکوائری میں بریت پر ان کو خوش نہیں ہونا چاہیے۔ جب نظم ان کو رکن نہیں رکھنا چاہتا تو ان کو مستعفی ہونا چاہیے۔ اقبال بٹ صاحب چوہدری صاحب کی گفتگو سے دلبرداشتہ ہو کر آئے اور رکنیتِ جماعت سے استعفا لکھ کر بھیج دیا۔ استعفے کی زبان احتجاجی نوعیت کی تھی۔ وہ سخت ذہنی اذیت میں تھے۔ استعفے کی ایک نقل کمیٹی کے کنوینر کے طور پر مجھے ارسال کی۔ میں نے نقل کمیٹی کے دیگر ارکان کو دکھائی اور میرے سمیت جملہ ارکان کمیٹی نے مقامی شوریٰ کی رکنیت سے احتجاجاًاستعفا پیش کر دیا۔ ہمارا احتجاج اس وجہ تھا کہ ہماری رپورٹ پر فیصلہ کی مجاذ ضلعی شوریٰ تھی۔ چوہدری محمد اسلم صاحب کی مداخلت اور بٹ صاحب پر دباؤ ڈال کر مستعفی ہونے پر آمادہ کرنا بڑا غیر مناسب تھا۔ اربابِ نظم استعفے کے منتظر تھے۔ اس کے لیے ان کی کیفیت تو یہ تھی کہ
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے
کسی نے استعفے کی احتجاجی زبان کا لحاظ نہیں کیا۔ فوراً ہی اسے منظور کر کے بٹ صاحب کی رکنیت ختم کر دی۔ 
آج غور کرتا ہوں تو اس سارے واقعے میں واضح طور پر مکافات عمل کار فرما نظر آتی ہے۔ اقبال بٹ صاحب سروس میں انتہائی فرض شناس اور ڈسپلن کے پابند رہے۔ ساری سروس میں کبھی explanation  کا موقع بھی نہ آیا۔ ایک مشن کی آڑ میں انتخابی مہم کا مرحلہ آیا تو جعلی حاضری مارک کر کے جس شخص کے لیے شریک مہم ہوتے رہے، اس غرض کے لیے بابو ٹرین کے ذریعے لاہور جاتے اور دس گیارہ بجے واپس گوجرانوالہ آ جاتے اور جس خلوص سے رات گئے تک انتخابی کام میں مصروف رہتے، مصروف کیا رہتے، بس جماعت کے دفتر میں انتخابی گپ شپ میں سارا وقت گذر جاتا۔ اسی شخص کے ہاتھوں بغیر کسی کوتاہی کے جماعت سے باہر کا رستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔ 
سخت ہیں فطرت کی تعزیریں
چوہدری صاحب نے اپنی امارت کی آخری مدت ختم ہونے سے چند ماہ پہلے شیخ محمد انور صاحب کو قائم مقام امیر ضلع نامزد کر دیا۔ اس طرح استصواب میں شیخ صاحب کے امیر ضلع منتخب ہونے کی راہ صاف ہوگئی۔ مگر یہ سب کچھ چوہدری صاحب کی یاد داشتوں سے غائب ہے۔ یہ تسلیم کرنا بہت مشکل ہے کہ یہ ان کی یادوں سے بھی محو ہوا ہو۔ اس دورکے ابتدائی ارکان کے ذہنوں میں موجود ہے، چوہدری صاحب کے ذہن سے کیسے نکل سکتا ہے۔ 
کتاب کی تقدیم میں صفحہ نمبر ۹ پر جناب حافظ محمد ادریس صاحب نے تحریر فرمایا ہے،
’’حق واضح ہو جانے کے بعد ان تمام لوگوں نے محسوس کیا کہ کوئی اور اقامت دین کا یہ فریضہ اداکرنے کی کوشش کرے یا نہ کرے، انہیں تو بہر حال یہ فریضہ اداکرنا ہے۔‘‘
حقیقی مرض کی بنیاد اس جملے کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔ اتفاق سے اسی سے ملتا جلتا جملہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی کئی بار ارشاد فرمایا ہے۔ اس جملے میں نفسیاتی طور پر دوسروں کو ساتھ لینے کی خواہش اور جذبے کی عملاً نفی ہو جاتی ہے۔ البتہ اپنے مقاصد کے حصول میں زمینی حقائق کو نظر انداز کرنے اور جلد بازی کا بے تدبیری کی حد تک پایا جانے والا مزاج چوہدری صاحب کی زندگی میں پوری طرح راسخ نظر آتا ہے۔ تاریخ نے اس بارے میں خود فیصلہ کر دیا ہے۔ 
چوہدری محمد اسلم صاحب ان تھک شخص تھے۔ سخت سے سخت کام بھی کر لینے کی ہمت رکھتے تھے۔ زندگی بھر انہوں نے بلند ہمتی کا ثبوت دیا۔ انہوں نے کبھی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ہم نے سیاسی لوگوں کے حوصلے دیکھے ہیں۔ چوہدری صاحب نے گوجرانوالہ کی ڈسٹرکٹ بار کے صدر کی چوہدری محمد علی کی یوم اقبال کی تقریب سے غائب ہو نے کا ذکر کیا ہے۔ چوہدری محمد اسلم صاحب نے بار کے صدر صاحب کا نام نہیں لیا۔ نام لیتے تو اچھا ہوتا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ ہم نے بھی مشاہدہ کیا۔ چوہدری جلیل احمد خان ڈسٹرکٹ بار کے صدر تھے۔ بار کے جماعتی دوستوں کی تحریک پر قاضی حسین احمد کو بار میں خطاب کی دعوت دی گئی۔ ضیا الحق کا زمانہ تھا۔ ضیا صاحب سے جماعت کا بگاڑ پیدا ہو چکا تھا۔ بار کے صدر صاحب پر دباؤ آیا تو چوہدری جلیل احمد خان نے خطاب کی دعوت واپس لے لی۔ اس پر جماعتی دوستوں نے بار کا اجلاس بلوایا۔ اجلاس میں صدر صاحب کی مذمت کی گئی۔ انہوں نے معذرت کی اور قاضی صاحب کو خطاب کی دوبارہ دعوت دی گئی۔ اس طرح یہ معاملہ درست ہوا۔ در اصل بار کا فورم نہایت مضبوط اور جاندار فورم ہے۔ وہاں نا معقولیت پر اصرار ممکن نہیں۔ بار کے فورم کے مقابلے پر جماعت اسلامی جو کہ منظم ترین جماعت سمجھی جاتی ہے، ایک نظریاتی اور دینی تحریک ہے۔ تحریکی یادداشتوں کی روشنی میں معقولیت کی کس سطح پر کھڑی معلوم ہوتی ہے، ہمارا یہ تبصرہ شاید اس کا اندازہ کرنے میں معاون ہو سکے۔ ہم یہ واضح کرنے پر مجبور ہیں کہ مولف کا پیش لفظ میں یہ دعویٰ کہ انہوں نے سب کچھ بلا لاگ لپیٹ بیان کیا ہے، کتاب کے مندرجات کو مولف کے دعویٰ کے لحاظ سے دیکھاجائے تویہ دعویٰ بے بنیاد معلوم ہوتا ہے۔ کتاب میں لاگ لپیٹ کا پورا پورااہتمام پایا جاتا ہے۔

جگر کے امراض

حکیم محمد عمران مغل

انسان جتنے زہر کھاتا ہے، ان کے تدارک کے لیے قدرت نے جگر کو پیدا فرما کر انسان پر احسان عظیم فرمایا ہے۔ یوں تو انسان کا ہر عضو اپنی مثال آپ ہے، مگر انسانی جگر کو ایک خاص مقام اور اہمیت حاصل ہے۔ ایک انسان نے اپنی زندگی کے خاتمے کے لیے زہر کھا لیا، وہ کافی دنوں تک زندہ رہا۔ دوسرے نے زہر کھاتے ہی زندگی سے منہ موڑ لیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پہلے انسان میں قوت مدافعت زیادہ تھی، اس لیے کہ اس کا جگر کام کر رہا تھا۔ ہیپاٹائٹس کا بھی یہی حال ہے۔ جتنا جگر تنومند ہوگا، اتنا ہی ہیپاٹائٹس کا مریض کافی عرصہ زندہ رہے گا یا اس پر اس کا حملہ ہی نہیں ہوگا۔ جگر کی خرابی کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ہم کھڑے کھڑے کوئی مشروب یا پانی پی لیں اور جب جسم پسینہ سے لبریز ہو تو پھر اس کی خرابی کی گویا ضمانت مل جاتی ہے کہ یہ کمزور ہونا شروع ہوگیا ہے۔ جگر گرم رہے گا تو انسانی مشینری کام کرتی رہے گی۔ آج صحت مند معاشرہ ملنا اور دیکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ مرجھائے موئے کاغذی چہرے بڑھتے جا رہے ہیں۔ صبح سے رات تک یخ ٹھنڈے مشروبات پیے جا رہے ہیں۔ جتنی ٹھنڈک ہم استعمال کر رہے ہیں، تاریخ انسانی میں ہم سے پہلے اس کی مثال نہیں ملتی۔ 
چین میں کھانے کے بعد سادہ یا نیم گرم پانی پیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کثرت آبادی کی وجہ سے کٹر کے پانی کا پینے والے پانی میں شامل ہو جانا کافی عرصہ سے جاری ہے۔ حفظان صحت کے اصول سے ہم بالکل بے بہرہ ہو چکے ہیں۔ تجربہ کرنا چاہیں تو ایک بڑا جگ پانی سے بھر کر کے کسی تانبا یا لوہے کے برتن میں دس پندرہ منٹ ابال کر رکھ دیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ہیرے موتی جواہرات کے علاوہ تمام اقسام کے وٹامنز یکجا ملیں گے۔ یہی ہیرے موتیوں کا کچرا ہمارے گردوں میں پتھریاں پیدا کر کے ہمیں ڈائیلسز کی دہلیز پر پہنچا تا ہے۔ ایک صدی پرانا انسان اپنے تمام کام فرش پر بیٹھ کر اپنے ہاتھوں سے انجام دیتا تھا جبکہ ہم وہ سارے کام بجائے فرش کے عرش پر انجام دے رہے ہیں۔ بہرحال ’’جگر کے بل پر ہے انسان جیتا‘‘ کے اصول کو اپنے خاندان میں رواج دیں جس کے لیے پہلا اور حتمی نسخہ یہ ہے کہ پانی ہمیشہ ابال کر پیتے رہیں۔ دوسرا نسخہ چٹنی کے نام سے مشہور ہے۔ انار دانہ اور ادرک یا سونٹھ اور پودینہ کو ہم وزن باریک کر کے رکھ لیں۔ یہ پاؤڈر کی شکل اختیار کرے گا۔ اس میں پانی یا نمک مرچ دیگر کوئی چیز نہیں ملانی۔ کھانے والا ڈیڑھ چمچ صبح شام کھانے کے بعد کھا لیا کریں۔ تین ماہ کے استعمال کے بعد دل گردہ جگر کے تمام امراض کے علاوہ نظام انہضام کے تمام نقائص ان شاء اللہ بالکل ختم۔ دل گردہ کے آپریشن کے منتظر حضرات بھی تین ماہ بعد ہشاش بشاش ہوں گے، لیکن مضر صحت اشیاء اور عادات سے پرہیز شرط اول ہے۔