برصغیر کے فقہی و اجتہادی رجحانات کا ایک جائزہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
۱۸۵۷ء کے معرکہ حریت میں جب مجاہدین آزادی کی پسپائی نے جنوبی ایشیا کی سیاسی تقدیر کو برٹش حکمرانوں کے سپرد کیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی جگہ تاج برطانیہ نے براہ راست اس خطے کی زمام اقتدار سنبھال لی تو یہ خطہ زمین زندگی کے تمام شعبوں میں ہمہ گیر اور انقلابی تبدیلیوں سے دوچار ہوا اور برصغیر کے مسلمانوں کے فقہی رجحانات بھی ان تبدیلیوں کی زدمیں آئے بغیر نہ رہ سکے۔ تغیر وتبدل کا یہ عمل تاج برطانیہ کے نوے سالہ دور اقتدار میں مسلسل جاری رہا، مگر اس پر کچھ عرض کرنے سے پہلے ۱۸۵۷ء سے قبل کے فقہی دائروں اور رجحانات پر ایک نظر ڈالنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔
۱۸۵۷ء سے پہلے برصغیر (پاک وہند وبنگلہ دیش وبرما وغیرہ) کے قانونی نظام پر فقہ حنفی کی حکمرانی تھی اور اورنگ زیب عالمگیر کے دورمیں مرتب کیا جانے والا ’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ قانون کی دنیا میں اس ملک کے دستور وقانون کی حیثیت رکھتا تھا۔ مسلم عوام کی اکثریت فقہ حنفی کی پیروکار تھی، حتیٰ کہ قانون کی عمل داری کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم بھی فقہ حنفی اور فتاویٰ عالمگیری کے ذریعے ہی اس عمل میں درجہ بدرجہ شریک ہوتے تھے، البتہ اس اجتماعی رجحان کے ماحول میں کچھ مستثنیات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا:
- امام ولی اللہ دہلویؒ نے جو خود اپنے ارشاد کے مطابق حنفی فقہ میں ’’مجتہد فی المذہب‘‘ کا مقام رکھتے تھے، فقہی حلقوں میں پائے جانے والے روایتی جمود کو توڑنے میں اس طرح پہل کی کہ فقہ حنفی کے اصولی دائرے کو قائم رکھتے ہوئے جزئیات میں اجتہادی عمل کی حوصلہ افزائی کی اور علما وفقہا پر زور دیا کہ وہ جزئیات وفروعات میں وقت کی ضروریات کے مطابق اجتہاد کے عمل کو آگے بڑھائیں اور مکمل جمود کے ماحول سے باہر نکلیں۔
- ۱۸۳۱ء کے معرکہ بالاکوٹ کے بعد امام ولی اللہ دہلویؒ کی درس گاہ کے مسند نشیں حضرت شاہ محمد اسحاق محدث دہلویؒ اور حضرت شاہ عبد الغنی محدث دہلویؒ کے حجاز مقدس ہجرت کر جانے پر دہلی میں درس حدیث کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے حضرت مولانا سید نذیر حسین دہلویؒ کی پیش رفت نے علما کی ایک جماعت کو فقہ اور تقلید کا راستہ ترک کرنے کے رخ پر ڈالا اور یہی تغیر آگے چل کر ’’اہل حدیث‘‘ کے نام سے ایک مستقل مکتب فکر کا نقطہ آغاز ثابت ہوا جس میں مولانا محمد حسین بٹالویؒ اور نواب صدیق حسن خانؒ کی مساعی کو کلیدی مقام حاصل ہے۔
- بمبئی کے ساحلی علاقوں میں شوافع کا وجود قدیم دور سے چلا آ رہا تھا اور فقہ شافعی کے پیروکار اس خطے میں مسلسل موجود رہے ہیں۔ میں نے لندن میں ایک عالم دین دوست کے پاس فارسی زبان میں فقہ شافعی کی مالابد منہ (شافعی) دیکھی ہے جو بالکل حنفی مالابد منہ کی طرز پر اور اسی حجم میں ہے اور یہ مالابد منہ بمبئی کے ان علاقوں میں فقہ شافعی کے متن کے طورپر پڑھائی جاتی رہی ہے۔
- بہت سے علاقوں بالخصوص لکھنو میں فقہ جعفریہ کے پیروکار بھی موجود تھے اور ان کے علماے کرام اس فقہ کے دائرے میں ان کی راہ نمائی کر رہے تھے اور اب بھی مسلسل کر رہے ہیں۔
لیکن ان استثنائی رجحانات کے باوجود ملک کے عمومی ماحول پراصول وفروع کے دونوں دائروں میں فقہ حنفی کی بالادستی تھی اور اس کا معیار اپنی تمام تر تفصیلات سمیت فتاویٰ عالمگیری ہی تھا۔
۱۸۵۷ء کے بعد تاج برطانیہ نے برصغیر کا نظام براہ راست اپنے کنٹرول میں لے کر یہاں کا قانونی نظام تبدیل کیا اور عدالتوں میں فتاویٰ عالمگیریہ کی قانونی حیثیت کو ختم کر کے برٹش قوانین نافذ کرنے کا اعلان کیا تو اس خطے میں فقہ حنفی اور فتاویٰ عالمگیری کا قانونی حصار ٹوٹ گیا اور تمام فقہی رجحانات کو آزادانہ ماحول میں نئی صف بندی کا موقع ملا۔ اگرچہ یہ نئی صف بندی اس خطے کے مسلمان عوام کی غالب اکثریت کی فقہ حنفی کے ساتھ وابستگی پر کچھ زیادہ اثر انداز نہیں ہو سکی، کیونکہ کم وبیش ڈیڑھ سو سال کا طویل عرصہ گزر جانے اور اس دوران فقہ حنفی کے دائرے سے ہٹ کر علمی وفقہی پیش رفت کرنے والے مختلف حلقوں کی مسلسل کوششوں کے باوجود پاکستان، بنگلہ دیش، برما اور بھارت کے مسلمانوں کی غالب اکثریت آج بھی فقہ حنفی سے وابستہ ہے، البتہ اس حقیقت سے انکار کی بھی کوئی گنجایش نہیں ہے کہ غیر حنفی فقہی رجحانات نے اس دوران اپنے اہداف کی طرف خاصی پیش رفت کی ہے اور وہ ایک حد تک حنفی فقہی رجحانات پربھی اثر انداز ہوئے ہیں۔
۱۸۵۷ء کے بعد فقہی رجحانات نے جو نئی کروٹ لی ہے، اسے ہم مندرجہ ذیل صورتوں میں بیان کر سکتے ہیں:
- فقہ حنفی کے روایتی حلقے میں دو الگ مکاتب فکر سامنے آئے۔ ایک بریلوی مکتب فکر جس کے بانی مولانا احمد رضا خان بریلویؒ تھے اور دوسرا دیوبندی مکتب فکر جس کے امتیازی رخ کو متعین کرنے کا سہرا مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے سر ہے۔ ان دونوں مکاتب فکر میں بنیادی اختلاف بعض عقائد کی تعبیر وتشریح اور بعض علماے کرام کی عبارات پر اعتراضات کی بنیاد پر ان کے خلاف مولانا احمد رضا خان بریلویؒ اور ان کے رفقا کی طرف سے لگائے جانے والے کفر کے فتوے پر ہے، جبکہ فقہی فتاویٰ میں دونوں کا بنیادی ماخذ فتاویٰ عالمگیری اور فتاویٰ شامی ہی چلا آ رہا ہے، لیکن ایک فرق کسی حد تک بہرحال موجود ہے کہ دیوبندی مکتب فکر حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی اس اصلاحی تحریک کی نمائندگی کرتا ہے جس کا مقصد یہ تھاکہ مکمل فقہی جمود کے دائرے سے نکل کر قرآن کریم اور احادیث نبویہ کی تعلیمات اور ان سے استفادہ کے رجحان کو عام کیا جائے اور فقہ کو اس کے بعد مسائل واحکام کے تیسرے بڑے ماخذ کے درجے میں رکھا جائے، جبکہ مولانا احمد رضا خان بریلویؒ اور ان کے رفقا نے اس طرف زیادہ توجہ نہیں دی۔
احناف کے ہاں ایک عرصہ تک اسلوب یہ رہا ہے اور کسی حد تک اب بھی ہے کہ کسی مسئلہ کی دلیل میں بنیادی طور پر فقہی جزئیہ پیش کیا جاتا ہے اور اس کی تائید میں قرآن کریم اور حدیث نبوی سے حسب ضرورت شہادت لائی جاتی ہے۔ میری طالب علمانہ رائے میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے دراصل اس ترتیب کو بدلنے کی تحریک کی تھی۔ وہ فقہ حنفی کے دائرے سے بالکل نکل جانے کے حق میں نہیں تھے، البتہ جزئیات وفروعات میں ضرورت سے زیادہ تصلب کے قائل نہیں تھے۔ میں بحمد اللہ تعالیٰ ایک شعوری حنفی ہوں اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے اس اسلوب کو زیادہ قرین قیاس اور قرین انصاف سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک فقہاے احناف میں سے امام ابوجعفر طحاویؒ کا یہ اسلوب زیادہ آئیڈیل حیثیت رکھتا ہے کہ وہ کسی مسئلہ میں احناف کے موقف کی وضاحت یہ کہہ کر نہیں کرتے کہ امام ابوحنیفہؒ کا یہ فتویٰ ہے اور قرآن وحدیث اس کی یوں تائیدکرتے ہیں، بلکہ وہ متعلقہ مسئلہ میں قرآن وحدیث سے تمام میسر آیات وروایات کو سامنے لاتے ہیں، ان سے پیدا ہونے والے ممکنہ پہلووں کا تعین کرتے ہیں، ان کا تجزیہ وتنقیح کرکے ترجیحات قائم کرتے ہیں اور پھر ایک پہلو کو ترجیح دے کر یہ کہتے ہیں کہ یہ بات جو انھوں نے قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے دلائل کے ساتھ ثابت کی ہے، امام ابوحنیفہ کا بھی یہی قول ہے۔
بہرحال یہ ایک ضمنی بات تھی جو درمیان میں آ گئی ہے۔ ہم دراصل ۱۸۵۷ء کے بعد احناف کے دائرے میں سامنے آنے والے دو مکاتب فکر یعنی دیوبندی اور بریلوی کے فقہی رجحانات میں فرق کی بات کر رہے تھے جو اگرچہ عملاً زیادہ نمایاں دکھائی نہیں دیتا، لیکن اس حد تک ضرور موجود ہے کہ دیوبندی مکتب فکر حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی اصلاحی تحریک سے وابستگی کا کھلم کھلا اظہار کرتا ہے، مگر بریلوی مکتب فکر نہ صرف یہ کہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، بلکہ وہ اس قدیمی فقہی اور سماجی روایت کی مکمل نمائندگی کا دعویدار ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی اصلاحی تحریک سے قطع نظر برصغیر میں پہلے سے چلی آ رہی تھی، البتہ فقہی دائروں میں اس اصولی ہم آہنگی اور عملی تنوع کے باوجود بعض عقائد کی تعبیر وتشریح اور بعض اکابر علما کی عبارات کی توجیہ وتطبیق میں دیوبندی اور بریلوی مکاتب فکر کا شدید اختلاف آج بھی کفر واسلام کا معرکہ سمجھا جاتا ہے۔
یہاں اسی دائرے کے ایک اور فقہی رجحان کا تذکرہ بھی ضروری محسوس ہوتا ہے جسے فرنگی محلی مکتب فکر کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ علماے فرنگی محل بھی حنفی تھی اور انھوں نے حنفی فقہ کی بہت علمی خدمت کی ہے اور یہ اعزاز انھی کے حصے میں جاتا ہے کہ درس نظامی کے نام سے جو نصاب تعلیم آج برصغیر کے دیوبندی، بریلوی بلکہ اہل حدیث مدارس میں بھی پڑھایا جاتا ہے، اس کا بنیادی ڈھانچہ فرنگی محل ہی کے ایک عالم دین ملا نظام الدین سہالویؒ کا طے کردہ ہے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد اس فقہی رجحان کی نمائندگی میں حضرت مولانا عبد الحئ لکھنویؒ کا نام سب سے نمایاں رہا، لیکن مولانا عبد الحئ لکھنوی کے بعد اس فقہی مکتب فکر کو اس سطح کی کوئی علمی شخصیت میسر نہ آ سکی جو اس کے الگ تشخص کو قائم رکھ سکتی، اس لیے یہ آہستہ آہستہ دیوبندی مکتب فکر میں ضم ہوتا چلا گیا۔ - فقہ حنفی سے انحراف پر ایک نئے مکتب فکر کی بنیاد ۱۸۵۷ء سے پہلے ہی رکھی جا چکی تھی جب حضرت شاہ محمد اسحاق محدث دہلویؒ کی حجاز مقدس ہجرت کے بعد دہلی میں حضرت مولانا میاں نذیر حسین دہلویؒ نے تقلید ترک کرنے کا اعلان کیا اور دہلی میں درس حدیث دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ اہل حدیث حضرات اسی بنا پر اپنے اس مکتب فکر کو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی اصلاحی تحریک کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔ اس مکتب فکر نے بعد میں باقاعدہ طور پر اپنے لیے ’’اہل حدیث‘‘ کا عنوان اختیار کیا اور اسی عنوان کے ساتھ یہ مکتب فکر اب تک کام کر رہا ہے، جبکہ حضرت شاہ محمد اسحاق دہلویؒ اور حضرت شاہ عبد الغنی محدث دہلویؒ کے تلامذہ میں سے حضرت مولانا احمد علی سہارنپوریؒ اور حضرت مولانامملوک علی نانوتویؒ کے حلقہ نے اپنا مورچہ دیوبند میں لگایا اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی اصلاحی تحریک کے تسلسل کو (بالخصوص فکری اور سیاسی محاذ پر) آگے بڑھانے کا اعلان کیا۔ دیوبند میں مدرسہ عربیہ کے نام سے ۱۸۶۵ء میں جس مدرسہ کا آغاز ہوا، اس کے بانیوں میں مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حاجی عابد حسینؒ نے اپنے اس نئے مدرسے میں، جو بعد میں دار العلوم دیوبند کے نام سے دنیا بھر میں متعارف ہوا، نصاب تعلیم کی بنیاد درس نظامی پر رکھی، لیکن اس میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تعلیمی اصلاحات اور سلسلہ چشتیہ کے عظیم بزرگ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجرمکیؒ کے روحانی تربیتی ذوق کو بھی شامل کر لیا، چنانچہ ان تینوں کے امتزاج سے ایک مستقل فقہی مکتب فکر وجود میں آ گیا جس کے اثرات وثمرات آج دنیا بھر میں بالخصوص برصغیر پاک وہند وبنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے علمی، دینی اور تعلیمی حلقوں میں نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔
دوسری طرف اہل حدیث مکتب فکر کا دائرہ بھی برابر پھیلتا جا رہا ہے اور دنیا کے بیشتر حصوں میں اس کے پیروکار موجودہیں۔ اہل حدیث مکتب فکر نے حنفی فقہ سے انحراف کرتے ہوئے الگ تشخص قائم کرنے کے لیے چند مسائل مثلاً ترک تقلید، فاتحہ خلف الامام، آمین بالجہر، رفع یدین، طلاق ثلاثہ اور دیگر بعض جزوی مسائل کو بنیاد بنایا اور قرآن وحدیث سے اپنے ذوق کے مطابق ان کے دلائل پیش کرنا شروع کیے تو اس کے جواب میں حنفی بالخصوص دیوبندی علما نے بھی احادیث کی تدریس وتعلیم میں فقہ حنفی کے دفاع کا راستہ اختیار کیا۔ رفتہ رفتہ اس مبحث میں تشدد اور فتویٰ بازی بھی در آئی جس سے احادیث نبویہ کی تدریس میں فقہ حنفی کے مسائل واحکام کے اثبات یا ان کے رد نے ایک مستقل معرکہ کی صورت اختیار کر لی۔ اس کا آغاز حضرت مولانا میاں نذیر حسین محدث دہلویؒ نے کیا۔ اس کے جواب میں حضرت مولانااحمد علی سہارنپوریؒ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے فقہ حنفی کے دفاع کامورچہ سنبھالا اور پھر ایک طرف سے مولانا محمد حسین بٹالویؒ ، مولانا محمد جونا گڑھیؒ اور نواب صدیق حسن خانؒ جبکہ دوسری طرف سے شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ ، علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی جیسے سربرآوردہ علماے کرام اور ان کے تلامذہ نے اس علمی معرکہ آرائی کو ایسی مستقل حیثیت دی کہ آج بھی دینی مدارس میں صحاح ستہ کی تدریس وتعلیم میں اسی بحث ومباحثہ کا بازار گرم رہتا ہے۔
میری طالب علمانہ رائے میں اس بحث کے آغاز کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کہ اہل حدیث علماے کرام کو اپنے الگ تشخص کے اظہار کے لیے اس کی ضرورت تھی جبکہ حنفی علما کے لیے فقہ حنفی کے دفاع کے لیے یہ ضروری ہو گیا تھا، مگر اب جبکہ دونوں کی طرف پوزیشن، موقف، دلائل اور علمی مباحث پوری طرح واضح ہو چکے ہیں، دورۂ حدیث کی تدریس میں دونوں فریقوں کا سارا زور انھی مباحث پر اس حد تک صرف ہوتے چلے جانا کہ باقی بہت سے ضروری مباحث نظر انداز ہو رہے ہیں، کم از کم میری سمجھ سے بالاتر ہے، لیکن بہرحال یہ صورت حال اب تک قائم ہے اور اس میں کسی بنیادی تبدیلی کے امکانات سردست دکھائی نہیں دے رہے۔ - ۱۸۵۷ء کے بعد ایک اور فقہی اور فکری مکتب فکر سامنے آیا جس نے فقہ کے ساتھ ساتھ حدیث نبوی کو بھی احکام ومسائل کا ماخذ بنانے سے گریز کرتے ہوئے صرف قرآن کریم کو عقائد واحکام کی بنیاد قراردینے کا اعلان کیا۔ یہ سرسید احمد خان مرحوم کا مکتب فکر ہے جس نے حدیث نبوی کو نہ صرف یہ کہ احکام وقوانین کا مستقل ماخذ تسلیم نہیں کیا، بلکہ قرآن کریم کی تشریح میں بھی حدیث نبوی کو اتھارٹی ماننے سے انکار کر دیا اور کامن سینس کی بنیاد پر قرآن کریم کی تشریح کو بنیاد بنا کر اسلامی عقائد اور احکام وقوانین کی ازسرنو تشریح وتعبیر کو مطمح نظر بنا لیا۔ یہ مکتب فکر بھی موجود ومتحرک ہے اور ہمارے دور میں اس کی نمائندگی میں چودھری غلام احمد پرویز صاحب نے سب سے زیادہ شہرت پائی ہے۔ بعض حلقے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کو بھی اسی مکتب فکر سے وابستہ قرار دیتے ہیں، لیکن میری طالب علمانہ رائے میں یہ بات درست نہیں ہے، اس لیے کہ علامہ اقبالؒ جس طرح جابجا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا حوالہ دیتے ہیں اور ان سے استدلال کرتے ہیں، اس کے پیش نظر انھیں حدیث نبوی کی حجیت کا انکار کرنے والوں یا اس کی حیثیت کو کم کرنے والوں میں شمار کرنا علامہ محمد اقبالؒ کے ساتھ سراسرزیادتی ہے۔
- ایک اور فقہی رجحان اور علمی اسلوب بھی اس دوران سامنے آیا ہے جسے نظر اندازنہیں کیا جا سکتا۔ اس مکتب فکر نے فقہ سے بغاوت اور اس کی مذمت کرنے کے بجائے اس کی افادیت کو تسلیم کیا، البتہ فقہ حنفی کی پابندی کو ضروری نہ سمجھتے ہوئے قرآن وسنت سے براہ راست استدلال اور اس کے بعد چاروں فقہی مذاہب مثلاً حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی بلکہ ظاہری مذہبسے بھی حسب ضرورت استفادہ کو ترجیح دی۔ میں سمجھتا ہوں کہ مولانا شبلی نعمانیؒ ، مولانا ابو الکلام آزادؒ ، مولانا حمید الدین فراہیؒ اور مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کو اسی زمرہ میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ چند امتیازی مسائل سے ہٹ کر اہل حدیث علماے کرام اور مفتیان کرام کا عمومی اور عملی اسلوب بھی یہی ہے، لیکن بعض اکابر اہل حدیث علماے کرام کی طرف سے فقہ کی مذمت اور اسے مطلقاً مسترد کر دینے کی واضح تصریحات کے باعث مذکورہ بالا اصحاب علم کا ان سے ہٹ کر الگ تذکرہ میں نے ضروری سمجھا ہے۔
یہ تو طالب علمانہ تاثرات ہیں ان فقہی رجحانات کے بارے میں جو ۱۸۵۷ء کے بعد سامنے آئے اور جن کی کارفرمائی نہ صرف ۱۹۴۷ء تک قائم رہی بلکہ وہ اس کے بعد بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں اور اپنے اپنے دائروں میں پوری طرح مصروف عمل ہیں۔ اب ہم آتے ہیں ان اجتہادی کوششوں اور اجتہادی مساعی کے اس ارتقائی عمل کی طرف جو ۱۸۵۷ء کے بعد شروع ہوا اور مختلف دائروں میں اجتہاد کے نام پر یہ عمل آج بھی جاری ہے، لیکن اس کے عملی پہلووں پر گفتگو سے قبل ان مختلف فکری دائروں پرایک نظر ڈالنا ضروری ہے جو ان اجتہادی کوششوں اور اجتہادی عمل کی بنیاد بنے۔
- اجتہاد کا ایک فکری دائرہ تو یہ تھا اور اب بھی ہے کہ جس طرح یورپ میں مذہبی اصلاحات کی تحریک مارٹن لوتھر کی راہ نمائی میں چلی اور اس نے بائبل کی تشریح میں پاپاے روم اور چرچ کو فائنل اتھارٹی ماننے سے انکار کر کے پروٹسٹنٹ ازم کے عنوان سے مذہب کی تشریح نو بلکہ ری کنسٹرکشن کا راستہ اختیار کیا، اسی طرح ہم بھی پورے مذہبی ڈھانچے کی تشکیل نو کریں اور ماضی کے تمام اجتہادات کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف قرآن کریم کی بنیاد پر اسلام کا نیا اعتقادی، عملی اور اخلاقی ڈھانچہ طے کریں۔ اس گروہ کے نزدیک ’’اجتہاد‘‘ صرف اس انتہائی عمل کا نام ہے اور اس سے کم وہ کسی درجہ کے عمل کو اجتہاد تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
- اجتہاد کا دوسرا دائرۂ فکر یہ سامنے آیا کہ فقہی مذاہب کے حصار کو ختم کر کے قرآن وحدیث سے براہ راست استنباط واستدلال کیا جائے، البتہ ثانوی درجے میں کسی خاص فقہی مذہب کی پابندی نہ کرتے ہوئے بوقت ضرورت کسی بھی فقہی مذہب سے استدلال کر لیا جائے۔
- اجتہاد کے نام پر ایک سوچ اور فکر یہ بھی پائی جاتی ہے کہ امت میں ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا دروازہ بند ہو جانے کا جو نظریہ پایا جاتا ہے، اسے مسترد کر کے فقہ کی تشکیل نو کا کام اسی ’’زیرو پوائنٹ‘‘ سے دوبارہ شروع کیا جائے جہاں سے حضرات صحابہ کرامؓ اور تابعین نے اس کا آغاز کیا تھا۔
- اجتہاد کا ایک نظریہ یہ بھی سامنے آیا کہ فقہ حنفی کے اصولی دائرے کا قائم رکھتے ہوئے فروعات وجزئیات میں دوسری مسلمہ فقہوں سے بھی بوقت ضرورت استفادہ کیا جائے۔
- ایک سوچ یہ بھی ہے کہ اصول وفروع دونوں میں فقہ حنفی کی پابندی کو بہرصورت قائم رکھا جائے اورجہاں حالات اور ضروریات کا تقاضا ہو، وہاں فقہ حنفی کے اصولوں کے تحت ہی فروعات وجزئیات کے درجے میں اجتہاد کیا جائے۔
- جعفری اور زیدی فقہ کے علماے کرام کے ہاں ان دو فقہوں کے الگ اصول وضوابط ہیں جن کے تحت وہ اجتہادی عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
- بہت سے ذہنوں میں اجتہاد کے بارے میں یہ تصور بھی پایا جاتا ہے کہ اجتہاد کسی علمی، استنباطی اور استدلالی سعی وکاوش کا نام نہیں، بلکہ پاپاے روم کی طرح کا کوئی صواب دیدی اختیار علماے کرام کو حاصل ہے اور انھیں سوسائٹی کی ضروریات اور مطالبات کو پورا کرنے کے لیے یہ صواب دیدی اختیار استعمال کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
یہ اجتہاد کے مختلف مفہوم ہیں جو مختلف حلقوں اور طبقات کے ذہنوں میں ہیں اور ہر طبقہ کا ’’اجتہاد‘‘ ایک الگ اور مستقل مفہوم کا حامل ہے۔ ان تمام امور کو سامنے رکھتے ہوئے اب ہم ان عملی کاوشوں میں سے مثال کے طور پر چند ایک کا تذکرہ کرنا چاہیں گے جن سے اس خطے کے مسلمان عوام نے ۱۸۵۷ء اور ۱۹۴۷ء کے درمیان عرصے میں استفادہ کیا:
- ۱۸۵۷ء کے بعد ایک عملی مسئلہ یہ درپیش ہوا کہ حنفی فقہ میں جمعہ کی نماز اجتماعی طور پر ادا کرنے کے لیے یہ شرط ہے کہ امام حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ہو جبکہ دہلی کے اقتدار پر تاج برطانیہ کا قبضہ ہو جانے کے بعد کوئی مجاز حکومت موجود نہیں رہی تھی جو امام وخطیب کا تقررکر سکے یا جس کا باضابطہ نمائندہ نماز جمعہ میں خطبہ وامامت کا فریضہ سرانجام دے سکے تو اب نماز جمعہ کی ادائیگی کیسے ہوگی؟ اس پر علماے کرام نے اجتماعی طور پر یہ راستہ اختیار کیا کہ کسی امام پر مسلمانوں کی اکثریت کی رضامندی کو اسلامی حکومت کی طرف سے تقرری کا قائم مقام قرار دیتے ہوئے اس شرط میں لچک پیدا کی اور جمعۃ المبارک کو ساقط کرنے کے بجائے اس کا تسلسل باقی رہنے دیا۔ یہ بلاشبہ ایک اجتہادی عمل تھا جو ۱۸۵۷ء کے بعد سامنے آیا جبکہ بعض حلقوں میں اس صورت میں جمعہ کی ادائیگی کے ساتھ احتیاطاً ظہر کی نماز کی ادائیگی کو بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔
- ملک کا قانونی نظام یکسر تبدیل ہو جانے کے باعث مسلمانوں کو سب سے زیادہ مشکل خاندانی معاملات مثلاً نکاح وطلاق اور وراثت وکفالت وغیرہ میں پیش آئی کہ ان خالص مذہبی معاملات میں غیر اسلامی قانون اورغیر اسلامی عدالتوں کے فیصلوں کو کیسے قبول کیا جا سکے گا؟ اس پر ایک طرف تو برطانوی حکومت نے یہ سہولت دے دی کہ مسلمانوں کے شخصی قوانین میں ’’محمڈن لا‘‘ یعنی اسلامی شرعی قوانین کی اہمیت کو تسلیم کیا اور عدالتوں میں انھی قوانین کی پابندی کو لازمی قرار دیا، دوسری طرف علماے کرام نے ایسے تنازعات میں ’’قضا‘‘ کا راستہ بنددیکھ کر ’’تحکیم‘‘ کے شرعی اصول کی طرف توجہ دی اور برصغیر کے مختلف علاقوں بالخصوص صوبہ بہار میں ’’امارت شرعیہ‘‘ یا ا س سے ملتے جلتے ناموں کے ساتھ اس عمل کو آگے بڑھایا جس سے عام مسلمانوں کو یہ سہولت حاصل رہی کہ وہ اگر اپنے تنازعات کا فیصلہ خالصتاً شرعی بنیادوں پر کرانا چاہتے ہیں تو وہ ایسے اداروں سے استفادہ کر سکیں۔
- برطانوی استعمار کے قبضہ کے بعد برصغیر پاک وہند وبنگلہ دیش کی آزادی کے لیے بہت سے اکابر علماے کرام نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں ہی ہندوستان کو دار الحرب قرار دے کر آزادی کے حصول کے لیے جہاد کو شرعی فریضہ قرار دے دیا تھا اور اس فتویٰ کی بنیاد پر درجنوں مسلح تحریکوں نے برطانوی استعمار کے خلاف جنگ لڑی ہے، لیکن ایک مرحلہ آیا کہ اس طریق کار پر نظر ثانی کی ضرورت پیش آئی تو علماے کرام نے مسلح جدوجہد کا راستہ ترک کر کے پرامن سیاسی تحریک کا طرز عمل اپنایا اور حصول آزادی کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد کو ہی ’’جہاد آزادی‘‘ کا قائم مقام قرار دے کر اپنی تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں اس کے لیے وقف کر دیں۔ میری طالب علمانہ رائے میں یہ بھی ایک اجتہادی عمل تھا جو برصغیر کے علماے کرام کی اجتہادی بصیرت کا آئینہ دار ہے۔
- مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اوربرطانوی استعمار کے زیر سایہ ایک نئی امت پروان چڑھائی گئی تو ان کے ساتھ معاملات اور معاشرتی تعلقات کے تعین کا مسئلہ درپیش ہوا۔ ایسی صورت میں فقہی احکام وقوانین کا ایک مستقل دائرہ موجود ہے جو ماضی کی اسلامی حکومتوں میں رو بہ عمل بھی رہا ہے، لیکن معروضی حالات میں ان احکام وقوانین پر عمل دشوار تھا۔ اس لیے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کی اس تجویز کو علماے کرام نے اجتماعی طور پر قبول کر لیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں پر فقہی احکام کا اطلاق کرنے کی بجائے انھیں مسلمانوں سے الگ ایک غیر مسلم گروہ کے طور پر قبول کر کے ان کا اس حیثیت سے معاشرتی درجہ طے کیا جائے۔ میری طالب علمانہ رائے میں یہ بھی علماے کرام کا ایک اجتہادی عمل تھا جس پر وہ پاکستان بن جانے کے بعد بھی قائم رہے اور قادیانیوں پر فقہی احکام کے اطلاق کا مطالبہ کرنے کے بجائے انھوں نے انھیں دستوری طور پر غیر مسلم اقلیت قراردینے کے فیصلے پر قناعت کرلی۔
- تحریک آزادی اور تحریک پاکستان میں شریک علماے کرام کے لیے ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ آزادی کے بعد مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگی تو اس کی شرعی حیثیت اور اس کا شرعی ڈھانچہ کیا ہوگا؟ اس کے بارے میں بھی فقہی احکام وقوانین کے مستقل ابواب موجود ہیں اور مغل بادشاہت اور عثمانی خلافت کے نظائر بھی تاریخ کے ریکارڈ پر ہیں، لیکن یہ دونوں صورتیں دور جدید کے لیے قابل قبول نہیں تھیں، اس لیے علماے کرام نے ایک اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے فقہی احکام وقوانین کے من وعن اطلاق پر اصرار نہیں کیا بلکہ قرآن وسنت کی پابندی کی شرط کے ساتھ جمہوری حکومت کے تصورکو قبول کر لیا جو بلاشبہ ایک اجتہادی عمل تھا جس کے تحت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی طرف سے پاکستان میں جمہوری حکومت اور قرآن وسنت کی بالادستی کی یقین دہانی پر اعتماد کرتے ہوئے علماے کرام کی ایک بڑی تعداد تحریک پاکستان میں شامل ہوئی اور قیام پاکستان کے بعد بھی قرارداد مقاصد، تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماے کرام کے ۲۲ متفقہ دستور ی نکات اور ۷۳ء کے دستور کی اسلامی دفعات کی صورت میں اسی اجتہادی سوچ اور عمل کو آگے بڑھایا گیا۔
یہ چند مثالیں اجتماعی اور قومی سطح کے ان اجتہادات کی ہیں جو ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء تک کے درمیانی عرصہ میں اس خطے میں عملاً رونما ہوئے جبکہ جزوی اجتہادات کا دامن بھی بہت وسیع رہا جس کا مشاہدہ مختلف مکاتب فکر کے بیسیوں بڑے مفتی صاحبان کے فتاویٰ اور مراکز فتاویٰ کے علمی فیصلوں کی صورت میں کیا جا سکتا ہے۔ دار الافتاء کے نام سے قائم ان مراکز کا شمار سیکڑوں میں ہے مگر ان میں بیسیوں ایسے ہیں جو خود علماے کرام اور علمی حلقوں کے لیے مراجع کی حیثیت رکھے ہیں اور ایسے علمی مراکز پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور برما میں مختلف فقہی مکاتب فکر اور مذاہب کے حوالے سے مسلسل مصروف کار ہیں۔ ان مراکز کے جاری کردہ ہزاروں بلکہ لاکھوں فتاویٰ کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سیکڑوں ایسے فتاویٰ ملیں گے جن میں مفتیان کرام نے ماضی کے فتاویٰ سے ہٹ کر زمانے کی ضروریات کے پیش نظر اجتہادی راستہ اختیار کیاہے، البتہ ان میں اجتہادی دائرہ وہی ہے کہ اپنے اپنے فقہی مذاہب کے دائرے میں رہتے ہوئے اسی کے اصولوں کی روشنی میں نئے فتوے دیے گئے ہیں جبکہ بعض فتاویٰ میں فقہی مذاہب کے حصار کو کراس کرنے میں بھی مضائقہ نہیں سمجھا گیا۔ مثال کے طور پر دو مسئلوں کا حوالہ دینا چاہوں گا:
- ایک یہ کہ رؤیت ہلال میں اختلاف مطالع کا اعتبار ہے یا نہیں؟ اس میں احناف متقدمین کا موقف شروع سے یہ چلا آ رہا ہے کہ اختلاف مطالع کا وجود تو ہے لیکن رؤیت ہلال میں شرعاً اس کا اعتبار نہیں ہے اور کسی جگہ بھی چاند نظر آ جانے کے شرعی ثبوت اور مصدقہ خبر پر باقی سب مقامات پر روزے اور عید کا اعلان ضروری ہے یا کم از کم یہ ہے کہ ایسا کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ پوزیشن بریلوی مکتب فکر کے بانی مولانا احمد رضا خان بریلوی اور دار العلوم دیوبند کے صدر مفتی مولانا مفتی عزیز الرحمن دیوبندی تک اسی طرح رہی ہے، لیکن اس کے بعد جب اختلاف مطالع کا اعتبار کرنے کا فتویٰ دیا گیا تو متقدمین احناف کے موقف اور فتویٰ کی پابندی کو ضروری نہیں سمجھا گیا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مفقود الخبر خاوند کی زوجہ کو نکاح ثانی کی اجازت کے بارے میں حضرت امام ابوحنیفہؒ کے قول کی بجائے عمومی ضرورت کی بنا پر مالکیہ کے قول پر فتویٰ دیا گیا ہے۔ یہ دو مسئلے میں نے مثال کے طور پرذ کرکیے ہیں۔ اگر اس رخ پر گزشتہ صدی کے ذمہ دار مفتیان کرام کے فتاویٰ کا جائزہ لیا جائے تو سیکڑوں ایسے فتاویٰ مل جائیں گے جن میں یہ صورت اختیار کی گئی ہے اوریہ عمل محدود پیمانے پر ہی سہی، مگر بہرحال اجتہاد ہی کا عمل ہے۔
- مسلمانوں کے تنازعات ومقدمات کے شرعی قوانین کے مطابق فیصلوں کے لیے قضا، تحکیم اور افتا کے تین ادارے ہیں جن میں سے قضا کے پاس تنفیذ کی قانونی قوت اور تحکیم کے پاس اس کی اخلاقی قوت موجود ہوتی ہے جبکہ افتا کا کام صرف مسئلہ کی شرعی پوزیشن کو واضح کر دینا ہے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد ملک کے عمومی قانونی نظام میں ’’قضا‘‘ کا شرعی ادارہ موجود نہیں رہا تھا، لیکن اندرونی طور پر نیم خود مختار مسلم ریاستوں میں قضا کا یہ ادارہ بھی کام کرتا رہا ہے۔ مثلاً بہاول پور، قلات، سوات اور دیگر ایسی ریاستوں میں ان کے دائرۂ اختیار کی حدود میں قضا کا شعبہ قائم تھا اور ان میں فقہی احکام وضوابط کے مطابق ریاست کے مقرر کردہ قاضی مقدمات کے فیصلے کرتے تھے۔ ان ریاستوں میں قضا کا یہ ادارہ ان کے پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق تک موجود رہا ہے، جبکہ تحکیم کے شعبہ نے مختلف علاقوں میں اس خلا کو بعض معاملات میں پر کرنے کی کوشش کی ہے اور اس سے ہٹ کر بعض خطوں میں ’’امارت شرعیہ‘‘ کا باضابطہ نظام بھی موجود رہا ہے، البتہ فتویٰ کا شعبہ ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء تک برصغیر کے ہر علاقے میں اور ہر سطح پر قائم رہا ہے جس سے عام مسلمانوں کو کسی بھی معاملے میں شریعت کا حکم معلوم کرنے کی سہولت حاصل رہی ہے اور مسلمانوں کی غالب اکثریت مسلسل اس سہولت سے استفادہ کرتی چلی آ رہی ہے۔
اخلاقیات کی غیر الہامی بنیادوں کا داخلی محاکمہ
محمد زاہد صدیق مغل
جدید زمانے کے مذہب مخالفین، خود کو عقل پرست کہنے والے اور چند سیکولر لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ اخلاقیات (خیرو شر، اہم و غیر اہم)یعنی قدر کا منبع الہامی کتاب نہیں ہونا چاھئے (کیوں؟ بعض کے نزدیک اس لیے کہ مذہبی اخلاقیات ڈاگمیٹک ہوتی ہیں، بعض کے نزدیک اس لیے کہ ان کی عقلی توجیہہ نہیں ہوتی اور بعض کے نزدیک اس لیے کہ وہ سرے سے وحی کو علم ہی نہیں مانتے، مگر یہ ’کیوں‘ فی الحال ہمارے لیے اہم نہیں )۔ جب ان سے پوچھا جائے کہ اچھا یہ بتاؤ کہ پھر اخلاقیات کی بنیاد کیا ہے تو انکے مختلف لوگ مختلف دعوے کرتے ہیں۔ اس مختصر مضمون میں ہم اخلاقیات کی انہی معروف غیر الہامی بنیادوں کے اصولی مسائل اور داخلی تضادات پر روشنی ڈالیں گے، وما توفیقی الا باللہ
۱) سائنس سے اخلاقیات کشید کرنے والوں کی خدمت میں
ہمارے یہاں کے ملحدین اور عقل پرستوں میں سائنسی تحقیقات کی بنیاد پر اخلاقیات یا قدر کا اثبات کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اس کی سرے سے کوئی بنیاد ہے ہی نہیں۔ جو لوگ اخلاقی معاملات طے کرنے کیلیے سائنسی تحقیقات پیش کرتے ہیں انہیں اتنی بنیادی بات کی خبر بھی نہیں کہ سائنسی تجربات کا دائرہ ’کیا ہے‘ (what is)جبکہ اخلاقیات کا ’کیا ہونا چاہئے‘ (what ought to be) ہے (یہ الگ بحث ہے کہ سائنس کی بذات خود اپنی اقدار بھی ہیں مگر یہاں ہم بحث کو پیچیدہ نہیں کرنا چاہتے)۔ بنیادی منطق پڑھے لوگ بھی اس امر سے واقف ہیں کہ ’کیا ہے‘ کے دعوے سے ’کیا ہونا چاہیے‘ کا دعویٰ منطقی طور پراخذ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ دو الگ دائرے (categories)ہیں (بالکل اسی طرح جیسے ’ایک کلو ‘ کا موازنہ ’ایک فٹ ‘ سے نہیں کیا جا سکتا)۔ دوسرے لفظوں میں ’کیا ہے‘ کا دعوی ’کیا ہونا چاہئے‘ کی دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ’کیا ہونا چاہئے‘ کا دعوی اخذ کرنے کیلیے دلیل میں لازما ایک نارمیٹو (normative) یعنی ’کیا ہونا چاھئے‘ کا دعوی موجود ہونا ضروری ہے، بصورت دیگر ایسا استدلال دو ناقابل موازنہ دعووں کا غیر منطقی مجموعہ ہوگا۔ مثال کے طور پر یہ دعوی لیجئے کہ ’چرس کے استعمال سے انسانی موت واقع ہوجاتی ہے‘ (ایک پوزیٹو یا مثبت دعویٰ)۔ کیا اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ’چرس نہیں پینی یا نہیں اگانی چاہئے‘ (نارمیٹو یا اخلاقی دعویٰ)؟ ہرگز نہیں، جب تک دلیل میں پہلے دعوے کے ساتھ یہ نارمیٹو دعویٰ ’فرض‘ نہ کرلیا جائے کہ ’انسانی زندگی کو تلف نہیں کرنا چاہئے یا انسان کو بچانا چاہیے‘ اس وقت تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ ’چرس پینی چاہئے یا نہیں‘۔ چنانچہ عقلاً ایسا کوئی اخلاقی دعوی نہیں دکھا یا جا سکتا جس کی پشت پر ایک مفروضہ نارمیٹو دعویٰ موجود نہ ہو (اس اصول کا ایک اہم نتیجہ ذیل میں عقل کی بحث کے ضمن میں بیان ہو گا جس سے یہ دلیل مکمل ہو گی)۔
اس اصولی گفتگو سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ جو عقل پرست لوگ سائنسی تحقیقات کا حوالہ دیکر کسی فعل کے صحیح یا غلط ہونے کا اخلاقی جواز دینے کی کوشش کرتے ہیں وہ کیسی فاش اور مضحکہ خیز منطقی غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ سمجھنا کہ قدر کے سوال میں سائنس ہماری رہنمائی کرے گی ایک غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں، سائنسی تحقیقات اس حوالے سے عقل پرستوں کو کہیں نہیں لے جاسکتی، ’انسان کو قتل کرنا چاہئے یا نہیں‘ سائنس اس بات کا جواب دینے کیلیے کلیتاً بے کار شے ہے (یہ الگ بات ہے کہ ہم سائنس کی مفروضہ اخلاقیات کو پہلے مان لیں، مگر اس صورت میں پھر اس اخلاقی چوائس اور ترجیح کا جواز پیش کرنا ہوگا)۔
۲) تاریخی عمل سے اخلاقیات کشید کرنے والوں کی خدمت میں
جب اخلاقیات کیلیے سائنسی بنیاد کو منہدم کردیا جائے تو یہ عقل پرست اخلاقی قضیوں کے جواز کیلیے ’تاریخی عمل سے تشکیل پانے والے انسان کے اجتماعی شعور‘ کا حوالہ دینے لگتے ہیں۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ انسان اپنی تاریخ اور اجتماعی شعور سے اخلاقی سبق سیکھتا رہتا ہے کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح، کیا فائدہ مند ہے اور کیا نقصاندہ وغیرہ (یعنی سچ بولنا، انسانیت کا احترام وغیرہ یہ سب تاریخی عمل سے سیکھے ہوئے اخلاقی تصورات ہیں)۔ اس اجتماعی شعور کے نتیجے میں انسان غلط کو ترک کرتا اور صحیح کو اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔ انکے خیال میں اس تاریخی عمل میں مذہب بھی کسی طور ان معنی میں شامل کیا جا سکتا ہے کہ مخصوص دور تک کے انسانوں نے اپنے تاریخی تجربات سے جو کچھ سیکھ لیا تھا چند اچھے اور بھلے لوگوں (جنہیں اہل مذہب انبیا ء کہتے ہیں) نے ان اقدار کو معاشرے میں بطور عقیدہ متعارف کروادیا، مگر چونکہ انسانی شعور کی تعمیر کا یہ سفر جاری و ساری ہے لہذا انسان کو ماضی کے ان اقداری تصورات کو قصہ پارینہ سمجھ کر بھول جانا چاھئے اور دور حاضر کی علمیت (یعنی سائنس و سوشل سائنس) کی روشنی میں اقدار اختیار کرنا چاہئے۔ یہ دلیل بلکہ کہانی سنا کر وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے ساری اخلاقی گتھیاں ہمیشہ کیلیے سلجھا دی ہیں۔
مگر یہ کہانی اپنے اندر اس قدر غیر منطقی، باہم متضاد اور غیر ثابت شدہ مفروضات سموئے ہوئے ہے کہ انکا احاطہ کرنے کیلیے ایک مستقل مضمون درکار ہے۔ خوف طوالت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہاں چند ایک کی نشاندہی کئے لیتے ہیں:
۱) انسانی تاریخ ایک مسلسل عمل (continuous process) اور سفر کا نام ہے۔ ظاہر ہے یہ صرف ایک مفروضہ ہے جسے چند ایک فلسفیوں کے سواء دیگر فلسفی نہیں مانتے
۲) یہ تاریخی عمل یک جہتی خط مستقیم (linear path) پر سفر کرتا ہوا ایک عمل ہے، یعنی تاریخی عمل ہمیشہ پیچھے سے آگے کی طرف بڑھتا ہے نیز یہ سفر کبھی معکوس سمت میں نہیں چل سکتا۔ یہ بھی محض ایک مفروضہ ہے نیز اسکے خلاف بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ مثلا ہم دیکھتے ہیں کہ یونانی فخریہ انداز سے برہنہ حالت میں کھیلوں کا مظاہرہ کیا کرتے تھے مگر پھر عیسائیت کے غلبے کے بعد لوگوں نے ایک طویل عرصے تک ایسا کرنا چھوڑ ے رکھا یہاں تک کہ تنویری فکر کے غلبے کے بعد یورپی اور امریکی معاشروں میں یہ فعل دوبارہ راسخ ہونا شروع ہوگیا۔ اسی طرح دور جاہلیت کے عرب شرم کے باعث اپنی بچیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے، پھر ایک عرصے تک اسے برا سمجھا جاتا رہا یہاں تک کہ یہ فعل دنیا میں دوبارہ ابورشن کے حق کے نام پر لوٹ آیا (آج انڈیا میں کئی ایسے گاؤں ہیں جہاں لڑکیاں معدوم ہوتی جارہی ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین پیدائش سے قبل بچے کی جنس لڑکی معلوم ہونے پر اسقاط حمل کرالیتی ہیں)۔ اسی طرح سود کی اخلاقی شناعت کے حوالے سے معکوس سمت میں تبدیل ہوتے انسانی اخلاقی رویوں کی مثال بھی پیش کی جاسکتی ہے۔
۳) کیا اس دنیا میں مطالعہ تاریخ اور اس سے نتائج اخذ کرنے کا ایک ہی مخصوص طریقہ کار اور نظریہ ہے؟ ظاہر ہے ایسا تو ہرگز بھی نہیں، مثلا ہیگل، مارکس، کومٹے، سپنسر، فوکو وغیرہ مختلف نظریات اور مفروضوں کی بنیاد پر تاریخی عمل کا مطالعہ کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایک طرز عمل ایک مفکر کے مطابق اخلاقاً درست ہوتا ہے جبکہ دوسرے کے مطابق غیر اخلاقی قرار پاتا ہے۔ مثلا ’جذبہ مسابقت‘ کو لیجئے، مارکس کے نزدیک یہ ظلم اور استحصال کو فروغ دیتا ہے جبکہ سپنسر اور دیگر سوشل ڈارونسٹ مفکرین کے خیال میں یہ انسانی فطرت کا عمدہ اور جائز ترین اظہار ہے
۴) ان میں سے جو بھی منہج اختیار کرلیا جائے اسکی علمی حیثیت ایک رائے (perspective) سے زیادہ اور کچھ نہیں ہوگی، اور یہ رائے کسی صورت غیر اقداری یا نیوٹرل نہیں ہوگی کیونکہ آپ اسکے ’اندر رہتے ہوئے ‘ تاریخ کو دیکھ رہے ہیں۔ ظاہر ہے تاریخ کے مختلف ادوار اور دھاروں کے اندر رہنے والے لوگ تاریخ کو چند دیگر نظریات و آراء سے دیکھ کر مختلف نتیجے نکالیں گے نیز ان میں سے ہر ایک کو اپنے نظریہ سے نکلنے والی تاریخ ہم آہنگ دکھائی دے گی اور دوسرے کی لایعنی (یہ درحقیقت استقراء کا ایک بنیادی مسئلہ ہے کہ ایک ہی قسم کے مشاہدات کی توجیہہ ایک سے زیادہ مفروضات کے ذریعے کرنا ممکن ہوتا ہے)
۵) مطالعہ تاریخی عمل اور اس سے نتیجہ نکالنے کے مختلف مناہیج میں سے کونسا منہج درست ہے اسکا فیصلہ کیسے کیا جائے گا، یہ فیصلہ کون اور کس بنیاد پر کرے گا؟ پھر کیا اس فیصلہ کرنے کا پیمانہ تاریخی عمل کے اندر ہوگا یا اس سے باہر؟ اگر کہا جائے کہ وہ پیمانہ تاریخی عمل کے اندر ہوگا تو یہ باہم متضاد بات ہے، اس لیے کہ جب ’تاریخ کیا ہے‘ بذات خود ایک منہج سے طے ہوتا ہے اور مختلف مناہیج و نظریات ’تاریخ کے مختلف تصورات ‘ پیش کرتے ہیں تو یہ تاریخ اور اسکے مختلف تصورات بذات خود ان مناہیج پر فیصل حیثیت کیسے اختیار کرسکتے ہیں، یہ تو خود ان سے نکلے (outcome)ہیں؟ اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ پیمانہ تاریخی عمل سے باہر ہوگا تو وہ کہاں سے آئے گا اور کون دیگا؟ نیز یہ بھی باہم متناقض بات ہے کہ ایک طرف تو آپ یہ دعوی کررہے ہیں کہ علم تاریخی عمل سے ائے گا مگر اسکی صحت طے کرنے کا پیمانہ اس سے باہر ہے، سوال یہ ہے کہ جب امکانِ علم ہی تاریخ سے آتا تو اس سے باہر جانے کا امکان کہاں سے آیا؟
۶) اگر کوئی ایک منہج طے کرہی لیا جائے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تاریخی عمل درست سمت میں جارہا ہے یا غلط سمت میں، اسکا فیصلہ کیسے ہوگا؟ ظاہر ہے تاریخی عمل سے وجود میں آنے والا اجتماعی شعور بذات خود اپنا جواز نہیں بن سکتا جب تک کہ یہ ’فرض ‘ نہ کرلیا جائے کہ ’یہ ٹھیک ہوتا ہے اسے مان لو‘۔ پس جب کسی پیمانے پر یہ طے ہی نہیں کیا جا سکتا کہ یہ عمل ٹھیک سمت میں جارہا ہے یا نہیں، تو تاریخی عمل کو اخلاقی اعمال کے جواز کے طور پر پیش کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟
۷) فرض کرلیں اگر یہ تاریخی عمل درست ہے بھی، تب بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ مجھے بطور فرد اسے کیوں قبول اور اختیار کر لینا چاہئے؟ آخر بطور آزاد ہستی میں اسے رد کرکے اسکے خلاف رویہ کیوں نہ اختیار کروں ( خصوصا اس صورت میں کہ جب یہ معلوم ہی نہیں کہ حاضروموجود درست ہے بھی یا نہیں )؟
۳) ’تصورفطرت ‘ سے اخلاقیات کشید کرنے والوں کی خدمت میں
بہت سے عقل پرست انسانی فطرت کو بھی اخلاقی اعمال کے جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں (یعنی فلاں عمل فطرت کا تقاضا ہے یا فطرت کے خلاف ہے، لہذا ایسا کرنا یا نہیں کرنا چاہئے وغیرہ)۔ آگے بڑھنے سے قبل یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ لفظ ’فطرت‘ دو معنی میں استعمال ہوتا ہے، ایک پوزیٹو (مثبت ) دوسرا نا رمیٹو (معیاری)۔ پوزیٹو معنی میں فطرت سے مراد ’کسی کام کو کرنے کی صلاحیت‘ (ability to do something)ہوتی ہے، ان معنی میں سچ بولنا، محبت کرنا، کسی کی مدد کرنا، دوسرے انسان کی جان لے لینا، محرم رشتوں سے بدکاری کرنا ، جھوٹ بولنا، نفرت کرنا، دھوکہ دینا وغیرہ تمام فطری کام ہیں اس لیے کہ انسان میں یہ سب کرنے کی ’صلاحیت‘ موجود ہے۔ نارمیٹو معنی میں فطرت سے مراد ’نارمل، معیاری یا جائز رویہ‘ ہوتا ہے، یعنی یہ سوال اٹھا یا جائے کہ سچ بولنا نارمل ہے یا جھوٹ، محبت جائز عمل ہے یا نفرت، کسی کو قتل کردینا اہم ہے یا بچا لینا، محرم رشتوں کا تقدس ہونا چاہئے یا ان کے ساتھ بدکاری، مزامیر سے پر موسیقی کی سماعت درست ہے یا اسکا نہ سننا وغیرہ۔ چنانچہ جب اخلاقی اعمال کا جواز فطرت سے پیش کیا جاتا ہے تو لفظ فطرت اس دوسرے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، یعنی یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ ’نارمل و ابنارمل، معیاری و غیرمعیاری، جائز و ناجائزانسانی رویوں اور احساسات کا فیصلہ مطالعہ فطرت کی روشنی میں کرنا ممکن ہے‘۔
مگر انسانی فطرت کو ماخذ اخلاق پیش کرنے میں نہایت بنیادی نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس انسانی فطرت کی روشنی میں خیروشر، جائز و ناجائز کا فیصلہ کرنے کا دعوی کیا جارہا ہے وہ ’انسانی فطرت کیا ہے‘ اسکا تعین کیسے ہوتا ہے؟ اسکی تعیین کا ایک طریقہ وہ ہے جو اجتماعیت پسند مفکرین بتاتے ہیں کہ فطرت انسانی کا فیصلہ تاریخی عمل سے وجود میں آنے والے انسانی شعور سے ہوتا ہے، مگر اس فکر کی بنیادی خامیاں اوپر بیان کردی گئیں۔ اسکا دوسرا طریقہ وہ ہے جو انفرادیت پسند مفکرین پیش کرتے ہیں جنکے خیال میں انسانی فطرت کا تعین انسان کو زمان و مکان سے ماوراء (asocial and ahistorical) تصور کرکے کیا جا سکتا ہے۔ یعنی یہ حضرات کہتے ہیں کہ اگر ہم انسان کو معاشرے اور وقت سے ماقبل اور ماوراء اورا ن سے علیحدہ کر کے ایک آزاد ہستی کے طور پر تصور کریں تو وہ اسکی ’حالت اصلی ‘ یا ’فطری حالت ‘ ہوگی، اس اصلی حالت میں انسان جو کرے گا یا کرنا چاہے گا وہی اسکی فطرت کا جائز اظہار ہوگا (اس طریقے کے تحت انسانی فطرت کی تمیز قائم کرنے کی ایک کوشش مشہور فلسفی جان رالز کی کتاب Theory of Justice میں ملتی ہے، مگر اجتماعیت پرست مفکرین کے نقد کے بعد رالز کو اپنی اس پوزیشن سے رجوع کرنا پڑا، اس دلچسپ بحث کے مطالعے کیلیے دیکھئے کتاب Liberals and Communitarians by Stephen Mulhall and Adam Swift)۔ یہ دلیل دینے والوں کا مقصد یہ کہنا ہوتا ہے کہ چونکہ معاشرے میں رہنے کی وجہ سے انسان کی فطرت بہت سے خیالات، میلانات ، معاشرتی رویوں اور سیاسی جکڑ بندیوں کی وجہ سے مسخ ہوجاتی ہے لہذا اصل فطرت کی دریافت کیلیے ضروری ہے کہ اسے معاشرے سے علیحدہ کرکے اور کاٹ کر دیکھا جائے۔ اس طریقہ مطالعہ میں بہت سی بنیادی نوعیت کی خامیاں و کمزوریاں ہیں:
۱) سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ طریقہ ایک ایسی شے جو کٹی ہوئی ہے ہی نہیں اسے کٹی ہوئی فرض کرکے نتیجے نکالنے کی کوشش کرتا ہے، یعنی جو ہے ہی جزو اسے کلیت سے علیحدہ فرض کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایک لامتصور شے کو متصور کرنے کی لاحاصل کوشش کے سواء کچھ نہیں۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی معاشرے کی، ماقبل معاشرہ انسان کا نہ تو کوئی تاریخی ریکارڈ موجود ہے کہ جسکی روشنی میں یہ طے کیا جا سکے کہ وہ ’اصلی انسان‘ کیسا تھا اور نہ ہی ایسا فرض کرنے کی کوئی علمی بنیاد ہمارے پاس موجود ہے۔ معلوم انسانی تاریخ میں تو انسان ہمیشہ معاشرے کے اندر ہی پایا گیا ہے اور اسی کے اندر سے وہ اپنی شناخت، نظریات ورجحانات دریافت کرتا رہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار اور مختلف قسم کے معاشروں میں پیدا ہونے والے لوگوں کے ’فطری و غیر فطری ‘ کے رجحانات و میلانات مختلف ہوتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہزارہا سال کی انسانی تاریخ اور معاشرتی و سیاسی عمل سے گزر جانے اور ان سے نجانے کن کن طریقوں سے متاثر ہوجانے کے بعد آج کون سا شخص اور کس بنیاد پر یہ دعوی کر سکتا ہے کہ فطرت نے اسے کیسا بنایا تھا؟ آخر ’کون‘ اور ’کس بنیاد پر‘ یہ طے کرے گا کہ ’ اسکے‘ میلانات اور رجحانات ’فطری‘ (بمعنی حالت اصلی کا اظہار) ہیں؟ یہ کس طر ح طے ہوگا کہ آج جو ہمارے میلانات ہیں ان میں سے ’کونسے ‘ میلانات اور ’کس حد تک ‘ اصلی ہیں جبکہ دیگر معاشرتی حالات کی پیداوار ہیں؟ درحقیقت معاشرے سے ماقبل انسان کا تصور بدیہی طور پر ایک لغو (absurd) تصور ہے
۲) درحقیقت اپنی مخصوص تاریخی و معاشرتی جکڑ بندیوں کا شکار ہر شخص اس طریقہ کار کے تحت اپنی ’حالت اصلی‘ کا ایک مختلف تصور قائم کرے گا اور ان مختلف تصورات ’حالت اصلی‘ میں تمیز قائم کرنے کی کوئی علمی بنیاد نہیں ہوسکتی۔ مثلا رالز ہی کی مثال لیں، اسکے خیال میں انسان کی اصلی حالت یہ ہے کہ وہ خود کو ’ آزاد، قائم بالذات، اپنے ذاتی مفادات کے حصول کا حریص انسان تصور کرے‘۔ ظاہر ہے اس تصور کو اصلی کہنے کی کوئی علمی دلیل نہیں، رالز نے انسان کی حالت اصلی کے بارے میں یہ رائے اس لیے قائم کی کیونکہ وہ جس مغربی معاشرے میں پیدا ہوا وہاں فرد کی آزادی اور مفادات کے تحفظ کو بنیادی فوقیت دی جاتی ہے لہذا رالز نے اسی کو حالت اصلی ’فرض‘ کرلیا۔ اسکے برعکس ایک قبائلی معاشرت کے انسان کیلیے ذاتی آزادی اور مفاد کوئی معنی نہیں رکھتے، وہ خود کو قبیلے کا رکن تصور کرتا ہے اور اسی کو حالت اصلی سمجھے گا۔ اسی طرح رالز کی ملحدانہ عقل کے برعکس ایک مسلمان کی عقل اسے یہ بتاتی ہے کہ اسکی حالت اصلی (فطرت) ’خدا کا بندہ ‘ ہونا ہے (وہ الست بربکم قالوا بلی کا نعرہ بلند کرتا ہے)۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان عقل پرستوں کے پاس آخر وہ کونسا علمی پیمانہ و بنیاد ہے جس کے ذریعے یہ ان مختلف تصورات فطرت میں تمیز قائم کرکے ’اصلی حالت‘ کاتعین کرسکتے ہیں؟ اور جب ایسا کوئی پیمانہ ہے ہی نہیں تو پھر اس دعوے سے زیادہ لغو بات اور کیا ہوگی کہ ’فلاں کام انسانی فطرت کے مطابق یا خلاف ہے، لہٰذا اسے کرنا یا نہیں کرنا چاہئے‘؟
۴) ’عقلیت ‘ سے اخلاقیات کشید کرنے والوں کی خدمت میں
درج بالا گفتگو کے بعد اس قضئے پر تفصیلی بحث کی کوئی خاص ضرورت نہیں رہتی، البتہ ایک اصولی بات سمجھ لینی چاہئے کہ تصورِ عقل دو معنی میں استعمال ہوتا ہے ، جوہری اور آلاتی(substantive and instrumental rationality)۔ جوہری عقلیت کا معنی یہ ہے کہ ہم عقل کے سامنے یہ سوال رکھیں کہ خیر و شر کیا ہے، حقیقت کا سراغ کیسے لگایا جائے، مقاصدِ حیات کی تعیین و ترتیب کس طرح طے ہو۔ اسکے مقابلے میں آلاتی عقل کا معنی یہ ہے کہ عقل سے کسی ’طے شدہ ‘ مقصد کے حصول کا طریقہ معلوم کیا جائے۔ چنانچہ یہ خوب سمجھ لینا چاہئے کہ دماغی عقل میں جوہری عقلیت کی صلاحیت نہیں، یعنی وہ اس بات کا کوئی تشفی بخش جواب نہیں دے سکتی کہ خیر وشر کیا ہے نیز مقاصد حیات اور انکی باہمی ترتیب کیا ہو۔ دماغی عقل کیلیے صرف یہ ممکن ہے کہ آپ اسے کسی طے شدہ مقصد کے ’ذریعہ حصول ‘ کے طور پر استعمال کریں، یعنی عقل یہ تو نہیں طے کر سکتی کہ مقصد ادائیگی حج ہو یا فٹ بال کھیلنا، البتہ عقل اس امر میں ضرور مدد گار ہو سکتی ہے کہ ادائیگی حج یا فٹ بال کا بہترین انتظام کیسے ہو۔ اسی بات کو امام اشعریؒ و غزالیؒ نے فتنہ اعتزال کے تناظر میں صدیوں پہلے بتا دیا تھا کہ عقل خیر وشر کے تعین کی اہلیت نہیں رکھتی یہ خالصتاً شرعی اوصاف ہیں۔ یعنی جو بات مغربی فلسفیوں کو بیسویں صدی میں سمجھ آئی، امام غزالیؒ نے ہزار سال قبل ہی اسکی وضاحت کردی تھی۔
چند مغربی فلسفیوں نے اخلاقیات کی خالصتاً عقلی توجیہات پیش کرنے کی کوشش بھی کی ہے جن میں سرفہرت نام کانٹ کا ہے۔ اسکی فکر کا حاصل یہ ہے کہ ہر وہ خواہش جسے ایک انسان مقصد میں ٹکراؤ آئے بغیر سب کو پورا کرنے کی اجازت دے سکتا ہے وہ جائز ہے۔ مگر کانٹ کی فکر کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ یہ آزادی کو مفروضے کے طور پر قبول کرتی ہے نیز یہ محض ایک ساخت ہے جس کے اندر سوائے انسانی خواہشات کسی شے کا گزر نہیں ، دوسرے لفظوں میں کانٹ کے خیال میں اخلاقیات کا مافیہ ہم آہنگی کے ساتھ خواہشات کا حصول ہے۔ پھر کانٹ کے اس فریم ورک میں خواہشات کی ترتیب قائم کرنے کا کوئی پیمانہ نہیں، یعنی یہ اصول فرد کو یہ نہیں بتاتا کہ ’ اسے کیا چاہنا چاہئے‘، یہ بس اتنا بتاتا ہے کہ ہر وہ فعل جو ہم آہنگی کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے وہ جائز ہے۔ یہ اور اس قسم کی مزید خامیوں کی بنا پر کانٹ کے اخلاقی فلسفے کو علمی دنیا میں اصولاً رد کردیا گیا (یہ اور بات ہے کہ عملاً اسے قانون کے دائرے میں اب بھی کسی نہ کسی درجے میں برتا جارہا ہے)۔
عقل سے اخلاقیات اخذ کرنے کی مشکلات کو ایک مزید زاویے سے دیکھیں۔ اوپر اس بات کی وضاحت کی گئی کہ اخلاقی دعوی اخذ کرنے کیلیے دلیل میں اخلاقی دعوی موجود ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ اگر ایک نارمیٹو دعوے کے اثبات کیلیے آپ کو دوسرا نارمیٹو دعوی چاہئے، پھر اس دوسرے کا جواز آپ تیسرے سے دیتے ہیں، اور اگر آپ ہر پچھلے نارمیٹو دعوے پر ’یہ کیوں مانا جائے‘ (what is its justification?) کا سوال اٹھاتے چلے جائیں تو آخر میں ایک ایسا نارمیٹو دعوی بچے گا جسے آپکی عقل بدیہی (self-evident، یعنی اپنی دلیل ازخود ) ماننے پر مجبور ہوگی، یعنی آپ کہیں گے کہ ’اسے تو بس ہونا چاہئے، یہ تو واضح بات ہے‘ وغیرہ۔ یہ بدیہی دعوی ہر دوسرے دعوے کی دلیل تو ہوگا لیکن خود اسکی دلیل نہیں ہوگی۔ درحقیقت یہی بدیہی دعوی ایک شخص کا ایمان ہوتا ہے جسے وہ ’عقل ‘ اور ’اخلاق کے پیمانے ‘ کے طور پر مانتا ہے۔ درحقیقت جب عقل پرست مذہبی لوگوں کو کہتے ہیں تم عقل کی بات نہیں مانتے تو اسکا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ ’تم ہماری عقل کی طے کردہ تعریف کیوں نہیں مان رہے؟‘ ۔ ان عقل پرستوں کے ہاں عقل کا معنی انسان کو قائم بالذات اور اسکی لامتناہی خواہشات کی تسکین کو مقصد حیات مان لینا ہے، یہی کلمہ خبیثہ انکی مزعومہ اخلاقیات کی اصل بنیاد ہے، جو انکی اس خود ساختہ عقل کی تعریف کو نہ مانے یہ اس پر جاہل، وحشی، غیر مہذب اور غیر عقلی کے القابات چسپاں کردیتے ہیں۔ انکے یہاں عقل اور قدر کا مطلب انسانی آزادی میں اضافہ ہے اور چونکہ آزادی کی عملی شکل اور تجسیم سرمایہ (capital)ہے لہذا سرمایہ ہی انکے یہاں ہر عمل کی قدر متعین کرنے کا اصلی پیمانہ ہے۔ جو خواہشات اور اعمال بڑھوتری سرمائے میں زیادہ ممد و مددگار ہوتی ہیں مغربی (سرمایہ دارانہ) معاشروں میں انکی قدرقیمت زیادہ ہوتی ہے اور ان کا اجتماعی نظم فرد کو انہی خواہشات و اعمال کو اختیار کرنے پر راغب اور مجبور کرتا ہے۔ خواہشات کی جو ترتیب فرد کو حصول سرمائے کا مکلف نہیں بناتی یہ نظام ایسی ترتیبِ خواہشات رکھنے والے شخص کو سزا دیتا ہے (جس کی شکلیں آمدن میں انتہائی حد تک کمی، معاشرتی اخراج، معاشرے میں شمولیت کے مواقع میں کمی وغیرہ کی صورت ہوتی ہے)۔ چونکہ سرمائے میں اضافے کی یہ جدوجہد حرص و حسد کے عمومی فروغ کے بغیر ممکن العمل نہیں، لہذا حرص و حسد اور شہوت کا فروغ ہی انکے نزدیک فطری انسانی کیفیات ہیں اور یہی عقلیت کا وہ پیمانہ ہیں جنہیں اختیار کرکے فرد اپنا مقصد (آزادی میں اضافہ) حاصل کرنے لائق بنتا چلا جاتا ہے۔ جو جتنا زیادہ حریص، دنیا پرست اور شہوت سے مغلوب ہوتا ہے ان معاشروں میں اتنی ہی زیادہ کامیابی سے ہمکنار ہوتا چلا جاتا ہے۔
جدید انسان کی سرکشی کی عجیب کہانی
اٹھارویں صدی کے ملحد فلاسفہ نے یہ بلند و بانگ دعوی کرکے مذہب کو رد کردیا تھا کہ ہم حقیقت، سچ، معنی، قدر، عدل اور حسن کو وحی کی بنیاد پر قبول کرنے کے بجائے انسانی عقل پر تعمیر کریں گے، انکا دعوی تھا کہ حقیقت، سچ، معنی، قدر، عدل اور حسن کی جو تشریح ہم دریافت کرکے بیان کریں گے چونکہ وہ عقلی ہوگی، کسی مفروضے پر نہیں بلکہ حقائق پر مبنی ہوگی، لہٰذا دنیا کے سب انسان اسے ماننے پر مجبور ہونگے۔ مگر پھر کیا ہوا، دو سو سال کی فلسفیانہ لم ٹٹول اور نتیجہ: ’’ انسان اپنے کلیات سے حقیقت، سچ، معنی، قدر، عدل اور حسن جان ہی نہیں سکتا‘‘۔
اس مقام پر انسان کو اصولا اپنی علمی کم مائیگی اور دامن کی تنگی کو پہچان کر اپنے رب کے حضور جبین نیاز خم کردینی چاہئے تھی کہ اس نے اپنے پالن ہار کے آگے سرکشی کرکے خود خدا بننے کا جو دعوی کیا تھا اس دعوے کے حصول میں وہ چاروں شانے چت ہوگیا تھا۔ مگر یہ کیسا عجیب معاملہ ہے کہ جو شکست اسکی آنکھیں کھول دینے کیلیے بہت کافی ہوجانی چاہئے تھی اس نے اپنے رب کی اسی نشانی کو اپنی سرکشی میں مزید اضافے کا ذریعہ بنا لیا۔ بجائے اپنی شکست قبول کرنے کے آج کا جدید انسان اب یہ کہتا ہے کہ حقیقت، سچ، معنی، قدر، عدل اور حسن نامی کوئی شے ہوتی ہی نہیں، یہ محض اضافی وبے معنی تصورات ہیں۔ وہ زندگی کو ایک بے معنی کھیل تماشا سمجھتا ہے مگر یہ غور نہیں کرتا کہ زندگی کو کھیل تماشا سمجھنا بذات خود ایک ایمان ہی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ حقیقت اور سچ کچھ نہیں مگر یہ نہیں سمجھ رہا کہ اسکا مطلب یہ دعوی کرنا ہے کہ سب کچھ ٹھیک اور سچ ہے (یعنی جو بھی چاہو اور کرلو وہ ٹھیک ہے)۔ اسی ’بے معنویت‘ کی طرف وہ انسانیت کو دعویٰ دیتا ہے۔ آج اپنے اس لغو دعوے کو وہ اپنی ’تلاش‘ قرار دے رہا ہے، جبکہ فی الحقیقت یہ دعوی صرف اور صرف اس کی ’شکست‘ (retreat) کا باغیانہ اعتراف ہے۔ مگر اسے یاد رکھنا چاہئے کہ موت اٹل ہے، اپنے رب کے حضور اسکی حاضری کا وقت بالکل قریب ہے، پھر کیا حال ہوگا اس وقت کہ جب اپنے دفاع کیلیے اسے پورا موقع دیا جائے گا مگر کہنے کیلیے اسکے پاس الفاظ ہی نہ ہونگے؟..... ہاں توبہ کا دروازہ ہر آن کھلا ہے اور اسکا رب بڑا کریم اور رحیم ہے۔
مغرب میں مطالعہ اسلام کی روایت / قصاص کے معاملے میں ریاست کا اختیار
محمد عمار خان ناصر
مغرب میں مطالعہ اسلام کی روایت
گزشتہ دو تین صدیوں میں مغربی اہل علم اور محققین اپنی مسلسل اور اَن تھک کوششوں کے نتیجے میں اسلام، اسلامی تاریخ اور مسلم تہذیب ومعاشرت کے مطالعہ وتجزیہ کے ضمن میں ایک مستقل علمی روایت کو تشکیل دینے میں کامیاب رہے ہیں جو اہل مغرب کے اپنے تہذیبی وفکری پس منظر اور ان کے مخصوص زاویہ نگاہ کی عکاسی کرتی ہے اور جسے نہایت بنیادی حوالوں سے خود مسلمانوں کی اپنی علمی روایت کے بالمقابل ایک متوازی علمی روایت قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ روایت مسلمانوں کی تاریخ وتہذیب اور مذہب وثقافت سے متعلق جملہ دائروں کا احاطہ کرتی ہے اور خالص مذہبی موضوعات (قرآن، تفسیر، حدیث، فقہ،اصول فقہ ، فلسفہ وکلام وغیرہ) سے لے کر مسلمانوں کی سیاست، مسلم ممالک کی معاشرتی وثقافتی خصوصیات اور فکری وذہنی رجحانات تک کوئی بھی چیز مغربی محققین کے مطالعہ وتحقیق اور تجزیہ کے دائرے سے باہر نہیں رہی۔ اپنے مخصوص علمی اسالیب، تجزیہ وتحقیق کے بظاہر معروضی وسائل اور اہل مغرب کے سیاسی ومعاشی غلبہ جیسے عوامل کے تحت مطالعہ اسلام کی یہ مغربی روایت معاصر دنیا میں اپنے غیرمعمولی فکری اثرات رکھتی ہے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج بین الاقوامی سطح پر اسلام، اسلامی تاریخ اور معاصر مسلم معاشروں کا مطالعہ جس علمی فریم ورک میں کیا جا رہا ہے، وہ بنیادی طور پر مغربی مطالعات کی روشنی میں تشکیل پایا ہے۔
معاصر علمی دنیا پر مطالعہ اسلام کی مغربی روایت کے اثرات کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ خود عالم اسلام کے اہل علم اور تحقیقی ادارے بھی مطالعہ اسلام کے ا س خاص تناظر کو ملحوظ رکھنے پر مجبور ہیں اور خاص طور پر اہل مغرب نے معاشرتی وتاریخی موضوعات کے مطالعہ کے لیے جو مخصوص تجزیاتی اسالیب فراہم کیے ہیں، وہ بہرحال مستند اور راسخ الاعتقاد مسلمان اہل علم کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ چنانچہ مولانا عبد الماجد دریابادی مرحوم نے مشہور مستشرق منٹگمری واٹ کی کتاب ’’محمد اَیٹ مکہ‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مصنف کے نتائج فکر سے اختلاف کی پور ی پوری گنجائش کے باوجود اس کتاب سے مطالعہ سیرت کے ایسے ایسے زاویے سامنے آتے ہیں جو شاید کسی مسلمان سیرت نگار کے وہم وگمان میں بھی نہیں آ سکتے تھے، جبکہ انڈیا کے بزرگ عالم دین مولانا عتیق الرحمن سنبھلی نے دیوبندی تحریک سے متعلق معاصر مغربی اسکالر باربرا مٹکاف کی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مصنفہ نے ایسے ایسے پہلوؤں سے دیوبندی تحریک کا جائزہ لیا ہے کہ ہم جیسے پشتینی دیوبندیوں کے لیے بھی اس میں سیکھنے کا بہت سا سامان موجود ہے۔
مغرب میں مطالعہ اسلام کی یہ روایت خاصی وسیع اور رنگا رنگ ہے اور ہر علمی روایت کی طرح اس میں بھی متنوع اور متضاد رجحانات موجود ہیں۔ چنانچہ جہاں اسلام کے متعصب ناقدین موجود ہیں جن کا واحد مطمح نظر مسلمانوں کی پوری علمی روایت اور اس کے حاصلات کی نفی کرنا یا اس کی قدر وقیمت کو گھٹانا ہے، وہاں نسبتاً متوازن اور ہمدردانہ زاویہ نگاہ رکھنے والے حلقے بھی موجود ہیں، اگرچہ بدیہی طور پر انھیں پوری طرح مسلمانوں کے نقطہ نظر اور زاویہ نگاہ کا ترجمان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر اہل مغرب کے سامنے علم ودانش اور مطالعہ وتحقیق کی سطح پر اسلام اور ملت اسلامیہ کے مقدمہ کو پیش کرنا مقصود ہو تو مذکورہ دونوں طرح کے رجحانات اور زاویہ ہائے فکر کا مطالعہ وتجزیہ یکساں اہمیت اور افادیت کا حامل ہے، کیونکہ اس روایت میں پیدا ہونے والی ہر ذہنی رَو بہرحال ان مخصوص ذہنی مقدمات اور تہذیبی رجحانات کی لازماً عکاسی کرتی ہے جن کے زیر اثر اہل مغرب مطالعہ وتحقیق کا عمل انجام دیتے ہیں۔ یوں نتائج سے قطع نظر کرتے ہوئے، ان تمام رجحانات کا سنجیدہ تجزیہ اہل مغرب کی نفسیات اور تہذیبی فکر کے ساتھ ساتھ مطالعہ وتحقیق کے ان فکری سانچوں سے واقفیت حاصل کرنے میں بھی مدد دیتا ہے جن میں اس پوری روایت نے تشکیل پائی ہے اور جن کو سامنے رکھ کر ہی علم ودانش کی سطح پر مغربی روایت کی متبادل علمی روایت وجود میں لائی جا سکتی ہے۔
دوسری طرف یہ ایک حقیقت ہے کہ اہل مغرب کے علمی حاصلات اور زاویہ ہائے نظر کا سنجیدہ علمی وتحقیقی مطالعہ کرنے اور معروضی انداز میں اس کا تجزیہ وتنقید کرنے کی روایت ہمارے ہاں علمی حلقوں میں ابھی تک جڑ نہیں پکڑ سکی جس کے نتیجے میں مسلمان اہل علم خود اپنے مذہب اور اپنی ہی تاریخ وتہذیب کے حوالے سے علم وتحقیق کے میدان میں اپنا مقدمہ موثر انداز میں پیش کرنے میں ناکام ہیں۔ اس بے اعتنائی اور بے توجہی کی ایک بڑی وجہ مطالعہ اسلام کی مغربی روایت سے براہ راست آشنائی کا فقدان اور مغربی اہل علم کے ہاں جاری علمی مباحثات اور علمی دنیا پر ان سے مرتب ہونے والے اثرات پر نظر نہ ہونا ہے۔ یوں مطالعہ اسلام کی ایک مستقل اور متوازی علمی روایت، جو ایک طرف اپنے اندر مثبت استفادہ کے بہت سے امکانات رکھتی ہے اور دوسری طرف اپنے اٹھائے ہوئے تنقیدی سوالات کا جواب چاہتی ہے، مسلمان اہل علم کی کماحقہ علمی وفکری توجہ حاصل کرنے سے ابھی تک قاصر ہے۔
اس پس منظر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مطالعہ اسلام کے ضمن میں اہل مغرب کی تشکیل کردہ علمی روایت کے سنجیدہ اور معروضی مطالعہ کے لیے ایک علمی مجلہ کا اجرا اس وقت کی اہم ترین علمی ضروریات میں سے ایک ہے جس میں اسلام، اسلامی علوم وفنون، تاریخ وتہذیب، معاشرہ وثقافت اور سیاست ومعیشت کے حوالے سے اہل مغرب کے علمی رجحانات اور نتائج فکر کے تعارف وتلخیص پر مبنی مقالات ومضامین پیش کیے جائیں اور مطالعہ اسلام کی مغربی روایت کے حاصلات کو ایک تسلسل کے ساتھ علمی انداز میں تجزیہ وتنقید کا موضوع بھی بنایا جائے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ ہماری جامعات اور علمی وتحقیقی ادارے اس ضرورت کا احساس کریں گے اور اس کی تکمیل کے لیے حتی الوسع کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی۔
قصاص کے معاملے میں ریاست کا اختیار
شرعی نصوص میں اولیائے مقتول کے لیے اسقاط قصاص کے حق کا ذکر جس تناظر میں ہوا ہے، وہ اصلاً عمومی حالات میں قتل کی سادہ صورت ہے جس میں کسی دوسرے پہلو سے شناعت یا سنگینی کا کوئی اضافی پہلو نہ پایا جاتا ہو اور جس میں قاتل کو معافی دینا قانون کے عمومی اصولوں اور معاشرتی مصلحتوں کے منافی نہ ہو۔ اگر کوئی بھی ایسی اضافی وجہ پائی جائے جو قاتل کو معافی کی اس رعایت سے محروم کرنے کا تقاضا کرتی ہو تو یقیناًاولیا کی دی گئی معافی کو غیر موثر قرار دیا جا سکتا ہے۔
مثال کے طور پر ورثا کسی دباؤ، جبر یا خوف کی بنا پر قصاص کے حق سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کریں تو ان کی معافی کو غیر موثر قرار دینا چاہیے۔ یہ بات کہ عدالت کو اولیا کے اعلان معافی کے بارے میں یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کسی دباؤ یا جبر کے تحت تو نہیں کیا گیا، نہ صرف معقول ہے، بلکہ بعض آثار سے بھی ثابت ہے۔ سیدنا علی نے ایک ذمی کے قتل کے مقدمے میں مسلمان قاتل کو قتل کرنے کا حکم دیا تو مقتول کے بھائی نے حاضر ہو کر ان سے کہا کہ میں نے اس کو معاف کر دیا ہے۔ امیر المومنین نے کہا کہ شاید ان لوگوں نے تمھیں ڈرایا دھمکایا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ بات یہ ہے کہ قاتل کو قتل کر دینے سے میرا بھائی واپس نہیں آ جائے گا، جبکہ ان لوگوں نے مجھے دیت دینے کی پیش کش کی ہے جس پر میں راضی ہوں۔ سیدنا علی نے فرمایا: اچھا پھر تم جانو۔ ۱
ورثااگر سرے سے مقتول کے معاملے میں دلچسپی ہی نہ رکھتے ہوں یا ان کی ہمدردی الٹا قاتل کے ساتھ وابستہ ہو جائے، جیسا کہ جاگیردارانہ نظام میں کاروکاری اور قتل غیرت کے معاملات میں بالعموم ہوتا ہے تو انھیں حق قصاص سے محروم کر دینا بھی فقہی اصولوں کے خلاف نہیں ہو گا۔ اسی طرح یہ بھی غلط نہیں ہوگا کہ قتل کی جن صورتوں مثلاً، کاروکاری وغیرہ میں رسم و رواج ورثا کے مدعی بننے کی راہ میں حائل ہوں یا قاتل کے اثر ورسوخ کی وجہ سے ورثا کے دباؤ میں آ کر صلح کر لینے کی عمومی صورت حال پائی جاتی ہو، ان کو سد ذریعہ کے اصول پر ناقابل صلح ( non-compoundable) قرار دے دیا جائے۔ اس ضمن میں یہ ضابطہ بھی بنایا جا سکتا ہے کہ قتل کے ہر مقدمے میں عدالت اس امر کا جائزہ لے گی کہ آیا معافی کا فیصلہ ورثا کی آزادانہ رضامندی سے کیا گیا ہے؟ اور یہ کہ کہیں اس معافی کو قبول کرنے سے انصاف کے تقاضے اور معاشرے میں جان کے تحفظ کا حق تو مجروح نہیں ہوگا؟
عدالت جرم کی سنگینی اور شناعت کے پیش نظر بھی مجرم کو معافی کی صورت میں ملنے والی رعایت دینے سے انکار کر سکتی ہے۔ چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو وارث اپنے مقتول کی دیت لے لینے کے بعد قاتل کو قتل کرے گا، اس کے لیے معافی کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ ۲ آپ سے بعض ایسے واقعات بھی منقول ہیں جن میں آپ نے، اپنے عام معمول کے برعکس، جرم کی سنگینی کے پیش نظر قاتل سے قصاص لینا ہی پسند کیا اور اولیاے مقتول سے رسماً بھی نہیں پوچھا کہ آیا وہ قاتل کو معاف کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ مثال کے طور پر حارث بن سوید نے زمانۂ جاہلیت میں قتل ہونے والے اپنے والد کا بدلہ لینے کے لیے غزوۂ احد کے موقع پر دھوکے سے اپنے والد کے قاتل مجذر بن زیاد کو قتل کر دیا جو اس وقت مسلمان ہو چکے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے سے اس کی اطلاع ملی تو آپ نے حارث کی آہ وزاری اور فریاد اور عذر معذرت کے باوجود اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ اس موقع پر مجذر کے اولیا موجود تھے، لیکن آپ نے اس معاملے میں ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ ۳ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر جن اشخاص کے بارے میں متعین طورپر یہ حکم دیا تھا کہ وہ اگر کعبے کے غلاف کے ساتھ بھی چمٹے ہوئے ہوں تو انھیں قتل کر دیا جائے، ان میں ایک مقیس بن صبابہ بھی تھا جس کا جرم یہ تھا کہ اس نے مدینہ منورہ آکر اسلام قبول کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مطالبے پر اسے اس کے مقتول بھائی کی دیت دلوائی، لیکن اس نے اپنے بھائی کے قاتل سے دیت وصول کرنے کے بعد اسے قتل کر دیا اور مرتد ہو کر مکہ مکرمہ چلا آیا۔ ۴ قرائن سے واضح ہے کہ مقیس کو ان افراد میں شمار کرنے کی وجہ محض اس کا مرتد ہو جانا نہیں، بلکہ اس کا مذکورہ جرم تھا۔ قتادہ اور عکرمہ سے منقول ہے کہ وہ قاتل سے دیت لینے کے بعد اسے قتل کرنے والے کے لیے معافی کے قائل نہیں تھے، ۵ جبکہ ابن جریج اور عمر بن عبد العزیز سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص جارح سے قصاص یا دیت لے لینے کے بعد اس پر زیادتی کرے تو اسے معاف کرنے کا حتمی اختیار صاحب حق یا اس کے اولیا کو نہیں، بلکہ حکمران کو ہوگا۔ ۶
امام ابو یوسف کی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گلا گھونٹ کر کسی کو قتل کرنے کا بار بار مرتکب ہو تو اس کے لیے معافی کی گنجایش ختم ہو جائے گی اور اسے قتل کرنا لازم ہوگا۔ ۷ اسحاق بن راہویہ اور فقہاے مالکیہ کا موقف یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو دھوکے سے کسی ویران جگہ پر لے جا کر قتل کر دے تو اس صورت کے حرابہ کے تحت آ جانے کی وجہ سے حق قصاص ریاست سے متعلق ہو جائے گا اور ورثا کو معافی کا اختیار نہیں ہوگا۔ ۸ فقہاے شافعیہ یہ قرار دیتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں کے حکمران کو قتل کر دے تو اس کے لیے معافی کی کوئی گنجایش نہیں اور اسے لازماً قتل کیا جائے گا۔۹
مذکورہ تمام آرا جرم کی سنگینی کے تناظر میں معافی کے امکان کو کالعدم قرار دینے کی مثال ہیں۔ ہماری راے میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کسی شخص کی جان لے لینا، جتھے کی صورت میں کسی آدمی پر حملہ آور ہو کر اسے قتل کر ڈالنا، آگ لگا کر یا تیزاب ڈال کر ہلاک کرنا، خونخوار درندے کو کسی شخص پر چھوڑ دینا، اذیت دے دے کر کسی کی جان لینا، معصوم بچے کو درندگی کا نشانہ بنانا، کوئی ناجائز مطالبہ پورا نہ کرنے یا اپنے جائز حق کو استعمال کرنے سے روکنے کے لیے کسی کی زندگی چھین لینا، بہت سے افراد کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتار دینا یا قتل کی کوئی بھی دوسری پر تشدد شکلیں اختیارکرنا، سب اسی دائرے میں آنی چاہییں۔ اسی طرح ایک سے زیادہ مرتبہ قتل کے مرتکب کے لیے بھی یہی قانون بنایا جا سکتا ہے۔
امام شافعی نے بعض اہل علم کا یہ موقف نقل کیا ہے کہ اگر قاتل اور مقتول کے مابین کوئی ذاتی مخاصمت نہ پائی جاتی ہو اور قاتل نے کسی اور محرک کے تحت قتل کا ارتکاب کیا ہو تو ایسی صورت میں حق قصاص مقتول کے ولی کے بجاے حکومت کو حاصل ہوگا۔ ۱۰ ہمارے نزدیک اجرتی قاتلوں یا کسی دوسرے کے ترغیب یا اشتعال دلانے پر کسی کو قتل کرنے والوں کے معاملے میں بھی اولیا کے حق معافی کو اسی اصول پر غیر موثر قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس ضمن میں یہ نکتہ بالخصوص ملحوظ رہنا چاہیے کہ قبائلی طرز زندگی کے خاتمے سے قرابت اور مراحمت کے اس تعلق میں جو قدیم معاشرت کی ایک امتیازی خصوصیت سمجھا جاتا ہے، بدیہی طور پر رخنہ پڑا ہے اور جدید معاشرے میں گوناگوں عوامل کے تحت قصاص اور انتقام کا جذبۂ محرکہ نسبتاً کمزور پڑ گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں ریاست کے تصور کے ارتقا کے ساتھ اس کے قانونی اختیارات بھی بڑھ گئے ہیں اور اسی تناسب سے شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کے حوالے سے اس کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔ اس صورت حال میں قصاص کے قانون کو زندہ رکھنے کے لیے افراد کے بجاے ریاست کو زیادہ بنیادی کردار سونپنا اگر کوئی مفید اور نتیجہ خیز اقدام ثابت ہو سکتا ہے تو ایسا کرنا قانون کی علت یا حکمت کے منافی نہیں ہوگا، تاہم اس سارے معاملے میں حالات کی عملی صورت کو نظر انداز کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہوگا۔ کسی بھی معاشرے میں ریاست کو کوئی اختیار سونپنے سے پہلے اس امر کا اطمینان حاصل کرنا ضروری ہے کہ ریاستی مشینری اپنے اخلاص اور خدمت معاشرہ کے جذبے کے لحاظ سے اس ذمہ داری کو اٹھانے کی پوری اہلیت رکھتی ہے اور اس میں نظام انصاف قابل اعتماد صورت میں موجود ہے۔ بصورت دیگر ریاست کا حق قصاص الٹا بے گناہوں یا رعایت کے مستحق خطا کاروں پر زیادتی اور ان کی حق تلفی پر بھی منتج ہو سکتا ہے۔
حوالہ جات
۱ بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۵۷۱۲۔
۲ ابوداؤد، رقم ۳۹۰۸۔
۳ بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۵۸۳۰۔
۴ ابن ہشام، السیرۃ النبویہ ۴/۲۵۶۔ ۲۵۷، ۵/۷۱۔
۵ جصاص، احکام القرآن ۱/۱۱۵۱۔ طبری، جامع البیان۲/۱۱۲۔
۶ مصنف عبد الرزاق، رقم۱۸۲۰۴۔ طبری، جامع البیان۲/۱۱۳۔
۷ الماوردی، الحاوی الکبیر ۱۲/۳۸۔
۸ مسائل الامام احمد بن حنبل واسحاق بن راہویہ ۲/۲۳۰، ۲۷۲۔ حاشیہ الدسوقی ۴/۲۳۸۔وہبہ الزحیلی، الفقہ الاسلامی وادلتہ ۶/۲۷۲۔
۹ الماوردی، الحاوی الکبیر ۱۲/۱۰۳۔
۱۰ الشافعی، الام ۴/۳۱۷۔
(’’حدود وتعزیرات۔ چند اہم مباحث‘‘ سے اقتباس)
دو مرحوم بزرگوں کا تذکرہ
ڈاکٹر قاری محمد طاہر
مفتی سید سیاح الدین کاکاخیلؒ
مفتی سید سیاح الدین قافلہ محدثین کی ایک فراموش شدہ شخصیت کا نام ہے۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ فیصل آباد میں گزرا۔ وہ کم و بیش نصف صدی تک اسی شہر میں قال اللہ و قال رسول کی علمی روایت کو آگے بڑھاتے رہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگاکہ موجودہ فیصل آباد ہمیشہ سے فیصل آباد نہ تھا بلکہ پہلے لائل پور کہلاتا تھا۔ لائل پور سے فیصل آباد کا سفر تقریباً پون صدی میں طے ہوا۔
لائل پور کی ابتدا چناب کینال کالونی کے نام سے ہوئی۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے پہلے وائس چانسلر سر جیمز براڈوڈ لائل تھے۔ انہی کے نام پر اس کا نام لائلپور رکھا گیا۔ پہلے یہ ضلع جھنگ کی تحصیل تھی۔ ۱۹۰۴ء میں اس کو ضلع کا درجہ دیا گیا۔ لائل پور کے بعض لوگوں کی خواہش پر یکم ستمبر ۱۹۷۷ء کو لائلپور کا نام فیصل آباد رکھا گیا۔ لائل پور میں بھی رسول اللہ ﷺ کے پاکیزہ فرامین کی صدائیں قیام لائل پور ہی سے گونجنے لگی تھیں۔ کیونکہ اس شہر کے آباد ہوتے ہی یہاں پہلا دینی مدرسہ اشاعت العلوم کے نام سے قائم ہوا۔
محدث جلیل مفتی سید سیاح الدین کی پیدائش ۸ شوال ۱۳۳۴ھ مطابق ۸ اگست ۱۹۱۶ء کو ہوئی۔ آپ کے والد حکیم حافظ محمد سعد گل تھے۔ آپ کے نانا کا نام محمد مطہر ہے۔ دونوں جید عالم تھے۔ ننہال اور ددھال دونوں طرف سے موصوف کو علمی ماحول ملا۔
سید سیاح الدین کو علم حدیث سے خاص مناسبت تھی۔ یہ مناسبت ان عظیم اور اجلہ اساتذہ کی وجہ سے پیدا ہوئی جو علم حدیث میں آپ کے براہ راست استاد رہ چکے تھے۔ ان حضرات کا مختصر تذکرہ اس جگہ ضروری ہے تاکہ موصوف کے دل میں علم حدیث کی جوت جگانے والے اکابر کا علم ہو سکے۔ ان میں پہلا نام مولانا عبدالحق نافع ؒ کا ہے جودارالعلوم دیوبند کے اجلہ اساتذہ میں سے تھے۔ ان کا تقرر ۱۹۳۳ء میں بحثیت مدرس اعلیٰ دارالعلوم دیوبند میں ہوا۔ موصوف سید سیاح الدینؒ کے بزرگ رشتہ داروں میں سے تھے۔ ان کی علمی کشش مولانا سیاح الدین کو دارالعلوم دیوبند لے گئی۔ چنانچہ آپ جنوری ۱۹۳۴ء مطابق شوال ۱۳۵۲ھ میں دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے۔ یہاں آپ نے مطول شرح عقائد نسفیہ مولانا نافع سے دیوان متبنّی مولانا اعزاز علی اور ہدایہ اولین کا درس مفتی ریاض الدین صاحب سے لیا۔ آپ شعبان ۱۳۵۳ھ نومبر ۱۹۳۴ء میں امتحان دے کر اعلیٰ نمبروں میں کامیاب ہوئے۔ تعطیلات میں گھر واپس آگئے۔
۱۳۵۳ھ ہی میں آپ دوبارہ دارالعلوم دیوبند آئے اور دیوان حماسہ مولانا اعزاز علی توضیح و تلوبح مولانا ابراہیم علیبادیؒ سے، تیسر زاہد اورغلام یحیٰی مولانا عبدالسمیع سے اور جلالین مفتی ریاض الدین سے پڑھیں۔ ۱۳۵۵ھ میں آپ نے دارالعلوم دیوبند سے دورۂ حدیث کی تکمیل کی۔ دورۂ حدیث میں آپ کے اساتذہ شیخ الاسلام و شیخ الحدیث مولانا حسین احمد مدنی، مولانا اعزاز علیؒ ، مولانا میاں اصغرؒ ، مولانا مفتی محمد شفیعؒ ، قاری محمد طیب مہتمم دارالعلوم دیوبند، استاد مفتی ریاض الدین اور مولانا شمس الحق افغانی جیسے اکابر شامل تھے۔
۱۳۵۶ھ مطابق اکتوبر ۱۹۳۷ء میں آپ نے امتحان دیا اور تمام پرچے عربی زبان میں حل کئے اور ایک سو پچاس طلباء میں اوّل آئے۔ یہاں ایک لطیفہ کا تذکرہ بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ اس زمانے میں دارالعلوم دیو بند میں ہر کتاب کے نمبر پچاس ہوتے تھے۔ اگر ممتحن کسی پرچے کو بہت عمدہ خیال کرتا تو پچاس نمبر دینے کے بعد ایک دو نمبر مزید بھی دے دیا کرتا۔ جو طالب علم کے لیے بڑا اعزاز ہوتا۔ مولانا سید سیاح الدین کو آٹھ کتابوں میں پچاس کی بجائے باون باون نمبرملے اور مؤطا امام مالک اور نسائی میں تریپن تریپن نمبر دیئے گئے۔
راقم الحروف پنجاب یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔ ہمارے استاد پروفیسر امان اللہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا امتحان ہوا۔ ہمارے ممتحن محدث عصر مولانا محمد ادریس کاندھلوی مقرر ہوئے۔ انہوں نے بعض طلباء کی اچھی استعداد کو دیکھ کر دارالعلوم دیوبند کی طرز پر کل نمبروں سے دو تین نمبر زیادہ دیے۔ پنجاب یونیورسٹی میں ایک پرچے کے نمبر سو ہوتے تھے۔ انہوں نے ایک سو تین ایک سو دو تک دے دیئے۔ جب نتیجہ کا کاغذ جسے ایوارڈ لسٹ کہا جاتا ہے متعلقہ لوگوں تک پہنچی تو انہوں نے سخت اعتراض کیا اور مولانا سے باز پرس بھی کی۔ مولانا نے جواب دیا میں صدر ممتحن ہوں کیا، مجھے یہ اختیار بھی نہیں کہ اپنی طرف سے کچھ نمبر دے دوں۔ میں کاہے کا ممتحن؟ یہ کہہ کر آپ نے آئندہ پنجاب یونیورسٹی کا ممتحن بننے سے انکار کر دیا۔
۱۳۵۷ھ میں جب دارالعلوم دیوبند کا سالانہ جلسہ تقسیم اسناد منعقد ہوا تو مولانا حسین احمد مدنیؒ نے سید سیاح الدینؒ کے نمبر تعریف کے ساتھ سنائے اور ساتھ ہی فرمایا: ’’سیاح الدین دارالعلوم دیوبند کے استاد مولانا عبدالحق نافع کے عزیز ہیں۔ ان کے انعامات میں حضرت نافع ہی کو دے رہا ہوں‘‘ اور بہت سی قیمتی کتب بطور انعامات اپنے دست مبارک سے عطا فرمائیں۔ راقم نے مولانا سید سیاح الدین کے ایک ہم عصر سے خود یہ بات سنی کہ شیخ الاسلام حضرت حسین احمد مدنیؒ نے اپنے ہونہار شاگرد سید سیاح الدین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس نے چلتا پھرتا ولی دیکھنا ہو، وہ سید سیاح الدین کو دیکھ لے۔ برصغیر پاک و ہند بلکہ دنیائے اسلام کی اس عظیم شخصیت کی طرف سے ان اعزازی الفاظ کا ملنا موصوف کے لیے ایسا اعزاز ہے جس کی نظیر پیش کرنے میں بڑی سے بڑی سند بھی ہیچ ہے۔
۱۹۴۳ء میں آپ کو پیشکش ہوئی کہ آپ دارالعلوم دیوبند میں تدریسی ذمہ داری سنبھالیں۔ آپ نے یہ پیشکش قبول کی اور آپ نے دارالعلوم دیو بند میں ہدایہ اولین، عقائد نسفیہ، مرئاۃ المنطق وغیرہ پڑھائیں۔ ۱۹۴۶ء میں آپ مدرسہ اشاعت العلوم لائل پور بطور صدر مدرس تشریف لائے۔ آپ کی تشریف آوری لائلپور ہی کے ایک عالم مولانا عبدالغنی ؒ فاضل دیوبند کی کوششوں سے ہوئی۔ مدرسہ اشاعت العلوم لائلپور آنے سے قبل آپ دارالعلوم دارالعلوم بھرہ میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ بھیرہ کا دارالعلوم وہی ہے جہاں سے قطب الاقتاب عارف ربانی حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوریؒ نے بھی کسب فیض کیا۔ آپ نے مدرسہ اشاعت العلوم میں ترمذی شریف، مشکوٰ ۃ ، مؤطا امام مالک کے علاوہ دیگر کتب بھی مدۃ العمر پڑھائیں۔
مولانا محمد ادریس میرٹھی وفاق المدارس کے ناظم اعلیٰ تھے۔ انہوں نے مولانا سیاح الدینؒ کی میدان حدیث میں صلاحیت کو بھانپ لیا اور انتظامیہ مدرسہ اشاعت العلوم سے کہا کہ مدرسہ میں دورۂ حدیث کا اجراء کیا جائے اور مفتی سیاح الدین کی فن حدیث میں مہارت سے فائدہ اٹھایا جائے اور اگر اشاعت العلوم کی انتظامیہ کسی وجہ سے ایسا نہ کرسکے تو مفتی سیاح الدین کو اجازت دی جائے کہ وہ جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی تشریف لے آئیں اور حدیث کی کتب پڑھائیں۔ چنانچہ ۱۹۶۶ء میں انجمن اشاعت العلوم نے دورۂ حدیث کے اجراء کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ شوال ۱۳۸۶ھ مطابق ۱۹۶۷ء میں اشاعت العلوم میں دورۂ حدیث کا آغاز ہوا۔ اس کے افتتاح کے لیے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع کراچی سے اور مولانا خیر محمد ملتان سے بطور خاص تشریف لائے۔
اس طرح موصوف ترمذی شریف اور بخاری شریف ہر سال اوّل تا آخر پڑھاتے رہے۔ اگرچہ مدرسہ کے طلباء تو آپ سے درس حدیث لیتے ہی تھے لیکن اس کے علاوہ آپ باذوق لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے اور مدرسہ کے اوقات کے بعد ان کو سبقاً سبقاً مشکوٰۃ پڑھاتے تھے۔ اس کلاس میں عموماًکالجوں کے پروفیسر، لیکچرر، سکولوں کے ہیڈ ماسٹر اور اساتذہ شریک ہوتے تھے۔ ایک کلاس میں پاکستان ماڈل ہائی سکول فیصل آباد کے ہیڈ ماسٹر چودھری عبدالحق، فیصل آباد کی معروف علمی شخصیت مولانا محمد امین، پروفیسر ڈاکٹر چودھری محمد نواز، پروفیسر آغا سلیم اور اس طرح کے دیگر بہت سے حضرات نے آپ سے مشکوٰۃ شریف کا تکمیلی درس لیا۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ مرحوم انتہائی ذوق سے مشکوٰۃ پڑھاتے۔ عموماً یہ کلاس بعد از نماز عصر جامع مسجد کلاں کے ہال میں لگتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی ذات کے حوالے سے آپ ادب و احترام کا بہت اہتمام فرماتے۔ الفاظ کا استعمال بھی بہت محتاط ہوتا تھا۔
حدیث شریف میں یہ واقعہ ملتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک گدھا رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ کے سامنے اپنا سر رکھ دیا۔ یعنی سجدہ کیا اور کچھ بڑبڑایا۔ پھر اٹھا اور چلا گیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ گدھا مجھے یہ کہہ کر گیا ہے کہ اے اللہ کے نبی آپ سلسلہ نبوت کے آخری نبی ہیں۔ میرے ساتھ کے سارے گدھے مر چکے ہیں۔ میں ان میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ آپ مجھے اپنی سواری کے لیے قبول فرمالیں۔ میری بڑی خوش بختی ہوگی۔ قرائن بتلاتے ہیں کہ آپ نے یہ سعادت اسے عطا کی۔ اس کا نام یعفور رکھا گیا۔
مفتی سیاح الدین جب یہ حدیث پڑھانے لگے تو آپ کی زبان رک گئی۔ آپ حضور ﷺ کی خدمت میں آنے والے جانور کے لیے لفظ گدھا استعمال نہ کرنا چاہتے تھے۔ تھوڑی دیر توقف کے بعد آپ نے فرمایا: ایک دراز گوش آپ کی خدمت میں آیا۔ حضور ﷺ کی سواری کے لیے جہاں بھی یہ ذکر آتا آپ ہمیشہ دراز گوش کا لفظ ہی استعمال فرمایا کرتے۔ روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے تو یعفور مدینہ کی گلیوں میں اداس پھرتا رہتا۔ نہ کچھ کھاتا نہ پیتااور تین دن اسی طرح گزر گئے۔ بالآخر اسی غم میں مر گیا۔
رسول اللہ ﷺ کے بارے میں علم غیب کا مسئلہ بریلوی علماء اور غیر بریلوی علماء میں مابہ النزاع رہا ہے۔ بریلوی حضرات کا کہنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو علم غیب تھا، جبکہ بقیہ حضرات اس کے قائل نہیں۔ ایک زمانے میں اس موضوع پر بڑے مناظرے ہوتے تھے۔ مناظرے نہ بھی ہوں تو ایک دوسرے کو مناظرے کا چیلنج دیا جانا معمول بن گیا تھا۔ غیر بریلوی حضرات علاوہ دیگر دلائل کے یہ دلیل بھی دیتے کہ ایک مرتبہ سفر کے دوران حضرت عائشہ قافلہ سے پیچھے رہ گئیں۔ بعد میں ایک صحابی ان کو اپنے اونٹ پر بٹھا کر لائے۔ کفار نے اس واقعے کو خوب اچھالا۔ حضور ﷺ کو اس پر بہت قلق ہوا۔ پھر اللہ نے حضرت عائشہؓ کی براۃ کے لیے قرآن میں آیات نازل فرمائیں۔ غیر بریلوی علماء کا کہنا ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کو علم غیب ہوتا تو آپ اپنی زوجہ کے بارے میں کم از کم مسلمانوں کو تو بتلاتے۔ لیکن آپ تو حضرت عائشہؓ سے بھی کبیدہ خاطر رہنے لگے تھے۔ مولانا سید سیاح الدین اس دلیل کو ہرگز پسند نہ کرتے اور دوران تدریس برملا فرماتے، آج کے دور میں بھی کوئی اپنی والدہ کے بارے میں ایسی بات سننا پسند نہیں کرتا۔ اپنے استاد کے بارے میں بھی غلط تذکرہ کسی کو اچھا نہیں لگتا تو اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے اماں عائشہؑ کے اس واقعہ کا سہارا کیوں لیا جاتا ہے جبکہ ان کی برأۃ قرآن مجید میں بھی آچکی ہے۔ یہ بے ادبی کی بات ہے۔
ایک مرتبہ دوران تدریس صلح حدیبیہ کا تذکرہ آیا کہ جب صلح نامے پر نام لکھا جانے لگا تو حضرت علیؓ نے لکھا محمد رسول اللہ۔ اس پر کفار کے نمائندے نے اعتراض کیا کہ محمد ﷺ کے ساتھ ہم رسول اللہ نہیں لکھنے دیں گے۔ کیونکہ ہمارے اور تمہارے درمیان جھگڑا تو محمد کے رسول ہونے پر ہی ہے۔ محمد ابن عبد اللہ تو مابہ النزاع ہے ہی نہیں۔ حضرت علیؓ کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ وہ اپنے ہاتھ سے رسول اللہ کا لفظ کاٹ دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے بتاؤ وہ لفظ کہاں ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے یہ لفظ قلم زن کیا۔ ایک طالب علم بول اٹھا، کہنے لگا، کیا رسول اللہ ﷺ کو اتنا علم بھی نہیں تھا۔ یہ سنتے ہی مفتی صاحب ناراض ہوئے۔ بولے رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے الفاظ ادا کرتے ہوئے بہت ہی احتیاط برتنی چاہئے۔ اگر تمہارے سامنے کوئی شخص میرے بارے میں کہے کہ تمہارے استاد کو تو اتنا بھی پتہ نہیں تو تمہیں غصہ آجائے گا۔ چہ جائیکہ یہ لفظ ہادی عالم جناب محمد ﷺ کے بارے میں استعمال کیا جائے۔
آپ کو وفاق المدارس کی طرف سے حدیث کا ممتحن مقرر کیا جاتا اور ترمذی کا امتحان لینے کے لیے عموماً سابقہ صوبہ سرحد میں تشریف لے جاتے۔ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق رحمۃ اللہ علیہ کو آپ کی صلاحیتوں کا علم ہوا تو آپ کو اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن نامزد کیا۔ اس حوالے سے آپ کی خدمات مثالی ہیں اور کونسل کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ مفتی صاحب نے بعض اصولی علمی اختلافات کے باعث کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ اپنے استعفیٰ میں ان وجوہات کا ذکر بھی کیا جو استعفیٰ کا سبب بنی لیکن ضیاء الحق مرحوم نے مفتی صاحب کو دوبارہ رکن بنایا۔
سید سیاح الدین کے علمی مقام و مرتبہ کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی ہوتا ہے کہ مولانا مفتی محمد شفیع (صاحب معارف القرآن)سید سیاح الدین کے استاد تھے۔ آپ نے ان سے دارالعلوم دیوبند میں حدیث کی کتاب ابو داؤد جلد ثانی اور مؤطا امام مالکؒ کا اکثر حصہ پڑھا تھا۔ (تفہیم الاحکام ، ص ۲۲)
اللہ تعالیٰ نے سید سیاح الدین کو یہ علمی مقام و مرتبہ عطا فرمایا کہ ان کے استاد مفتی محمد شفیع بھی ان کی تفقہ فی الدین کا اعتراف کرتے۔ صرف اعتراف ہی نہیں بلکہ آپ بعض امور میں سید سیاح الدین کی رائے کو پیش نظر رکھ کر اپنی رائے سے بھی رجوع کیا اور اپنے اس رجوع کا باقاعدہ تحریری اعلان بھی فرماتے۔ ہم آپ کے اعلان کو اس جگہ نقل کر رہے ہیں۔
’’۴ ذی الحجہ ۱۳۸۵ھ کو دارالعلوم میں ایک سوال یہ آیا تھا کہ زید نے چار بیویوں کے ہوتے ہوئے پانچویں عورت سے شادی کر لی اور اس سے اولاد بھی ہوگئی۔ اب زید کا انتقال ہوگیا تو پانچویں سے پیدا ہونے والی اولادزید کے ترکہ میں سے حصہ وراثت کی مستحق ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں تحفۃ الفقہاء وغیرہ کتب فقہ کی عبارات، جن میں بطلان نکاح کے الفاظ مذکور ہیں اور نکاح باطل کا مشہور حکم یہی ہے کہ نسب اور وراثت نہیں ہوتی، اس پر نظر کرتے ہوئے یہ جواب دے دیا گیا کہ پانچویں بیوی کی اولاد ثابت النسب نہیں ہے اس لیے ترکہ میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ مگر مولانا مفتی سیاح الدین کاکا خیل صاحب نے لائل پور (فیصل آباد) سے اس پر تفصیلی تنقید لکھی جس کو دیکھنے کے بعد احقر نے بھی کوشش کی کہ کوئی صریح جزئیہ اس کا مل جائے، وہ تو نہیں ملا، مگر مجموعی حیثیت سے مولانا موصوف کی تحقیق اس کے نظائر و اضحہ کی بنا پر درست معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے میں اپنے مذکورہ سابق فتویٰ سے رجوع کرتا ہوں۔ اب میرے نزدیک بھی صحیح یہی ہے کہ نسب اور وراثت ہوگی۔ پانچویں بیوی کی اولاد بھی حسب حصہ شریعہ زید کے ترکہ سے حصہ پائے گی۔ واللہ تعالیٰ اعلم!‘‘
ہمارے نزدیک رجوع نامے سے جہاں مفتی سید سیاح الدین کے تیجر علمی اور تلاش گہر، وسعت مطالعہ اور صلابت رائے کا اظہار ہوتا ہے وہاں مفتی محمد شفیع ؒ کے عظمت اور علومرتبہ کا پتہ بھی چلتا ہے کہ انہوں نے اپنے ہی طالب علم کی رائے کو صحیح محسوس کیا توا پنی رائے کو تبدیل کر لیا۔ حالانکہ سید سیاح الدین علمی میدان میں مفتی شفیعؒ کے خوشہ چین تھے اور ان سے دارالعلوم دیوبند میں پڑھتے بھی رہے تھے۔
مفتی سید سیاح الدین امر بالمعروف کا فریضہ تو سرانجام دیتے ہی تھے لیکن برسوں کی خدمت حدیث نے آپ کے اندر نھی عن المنکر کا جذبہ بدرجہ اتم پیدا کر دیا تھا۔ اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے ہمیشہ آپ مستعد رہتے اور اپنی عزت تک کو بھی داؤ پر لگا نے سے دریغ نہ کرتے۔ عجیب اتفاق ہے کہ شہر کی جامع مسجد کلاں کچہری بازار سے چند قدم کے فاصلے پر چنیوٹ بازار میں بازار حسن بھی موجود تھا۔ سارا دن ویران رہتا لیکن عین سر شام اس کی رونقیں لوٹ آتیں اور رات کے بھیگتے ہی عروج پر پہنچ جاتیں۔ شہر کے اوباش ہوس کے پجاری جنس کے بیوپاری رات ہوتے ہی ادھر کا رخ کرتے۔ عصمتوں کے سودے ہوتے، کسی کی بہو کسی کی بیٹی اور بہن کا جسم اور حسن دونوں شو کیس میں سجا دیئے جاتے۔ قصاب آتے گردوں کپوروں کاجائزہ لیتے۔ کتنے جسموں کو پیسے کے بل بوتے پر پہلے سونگھتے پھر بھنبھوڑتے۔ جب ہو س کی تسکین ہو جاتی تو صبح دم اپنے گھروں کی راہ لیتے۔ حوا کی بیٹیاں چند ٹکوں کی خاطر اپنی اصل متاع لٹا دیتیں ا ور اگلی رات پھر کسی دوسرے کے انتظار میں رہتی تھیں۔
مدرسہ اشاعت العلوم اور بازارحسن کا فاصلہ چند گز ہی کا تھا۔ اسی مدرسہ کی چھت پر فرمودات رسول ﷺ کے امین مفتی سید سیاح الدین کا گھر بھی تھا۔ آپ کے دل کو جانے کب سے ٹھیس پہنچی، ضمیر نے کچوکا دیا۔ سید سیاح الدین اللہ کو قیامت کے روز کیا جواب دے گا۔ چند قدم پر مسلمان بیٹیاں عصمتوں کے سودے کرتی رہیں تو نے مسجد میں پناہ لیے رکھی، تو مطمئن رہا، ’’میں نے تو آج کی نمازیں ادا کر لیں، طلباء کو دین کا درس بھی دے دیا، کیا ہوا سب فرض ادا ہو گئے‘‘؟
اسی جذبہ نے آپ کا چین چھین لیا۔ نور الدین زندگی کی طرح بستر سے اٹھ بیٹھے۔ ایک طالب علم کو ساتھ لیا، تانگے پر لاؤڈ سپیکرنصب کیا۔ بازارِ حسن کے بیچ پہنچ گئے، کچھ خیال نہ کیا کہ ستھری عبا داغ دار ہوگی، شفاف جبے پر چھینٹے اڑیں گے، دستار کے پیچ و خم نکل جائیں گے، لوگ انگلیاں اٹھائیں گے، جو بھی کہیں ، انہیں کچھ پروا نہ تھی۔
پکارے، تم مسلمان گھرانوں کی آبرو ہو، تمہیں کیا ہوگیا؟ تمہاری پاک باز ماؤں نے تمہیں جنم دیا، ہر گرم و سرد سے تمہیں بچایا، تمہاری حفاظت کی۔ آج تم کس غلاظت میں غوطہ زن ہو، اپنی متاع اصلی کو بازار کی جنس خیال کرتی ہو اور بازار میں بکنے پر لگاتی ہو اور ہر روز نئے خریدار کے انتظار میں رہتی ہو۔ بے غیرت تم نہیں یہ مرد ہیں جو اچھے اور سستے مال کی تلاش میں تم پر ٹوٹے پڑ رہے ہیں۔میری مانو، میری نہیں پیارے نبی کی مانو جس نے عورت کے سر پر حیا کی چادردی، غیرت کا غازہ بخشا۔ اس دھندے کو چھوڑو، محل عفت میں رہو۔اسی میں آبرو ہے اسی میں عزت ہے۔
عورتوں نے ان کی باتوں کو سنا، بیشتر نے اپنے کواڑ بند کر لیے۔ حکومت کان کھلے رکھتی ہے۔ ہرکاروں نے یہ واقعہ اعلیٰ حکام تک پہنچایا۔ اس وقت کے مغربی پاکستان کے غیرت مند گورنر نواب امیر محمد خان آف کالا باغ کے کانوں تک بھی یہ بات پہنچی۔ فوراً حکم نامہ جاری کیا۔ پورے مغربی پاکستان کے تمام بازار حسن بند کر دیئے جائیں۔ عورتوں کو باعزت روزگار مہیا کیا جائے۔ پورا مغربی پاکستان یعنی آج کا پورا پاکستان اس غلاظت سے پاک ہوا۔ اس اہم اقدام میں مفتی سید سیاح الدین کی مساعی شامل ہیں یہ ان کا بڑا کارنامہ ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ انسان نھی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دینے کا پختہ ارادہ کرے تو الہٰی مدد ضرور آتی ہے۔ اس حوالے سے موجودہ پاکستان میں زنا کاری کی لعنت کو ختم کرنے میں مفتی سید سیاح الدین کی جرأت مندانہ کوشش کا بڑا دخل ہے۔ جو ان کی حسنات میں ہمیشہ اضافہ کا سبب بنے گا۔
۲۳ اپریل ۱۹۸۷ء کا دن پاکستان کی تاریخ کا پریشان کن دن ثابت ہوا۔ موصوف نے ایک کانفرنس میں شرکت کرنا تھی۔ صبح پانچ بجے پشاور سے بذریعہ کار اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے۔ حسن ابدال کے قریب آپ کی کار کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں سرزمین فیصل آباد کا یہ عظیم فقیہ، عظیم محدث واصل بحق ہوگیا۔ ان کے انتقال پر ان کے شاگردوں نے آنسو بہائے لیکن قومی سطح پر اس عظیم نقصان کا ملال کسی کو نہ ہوا۔ اگر کوئی فنکار دنیا سے رخصت ہو جائے تو ذرائع ابلاغ سال ہا سال اس کے یوم وفات پر پروگرم کرتے ہیں۔ اعلان ہوتا ہے فلاں فنکار کو ہم سے بچھڑے ۲۰ برس ہو گئے۔ لیکن یہ عظیم محدث ، عظیم فتیہ کسی کی یادوں کا حصہ نہیں۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے ایک ہونہار شاگرد نے تفہیم الاحکام کے نام سے کتاب لکھی جس میں مفتی صاحب کے فتاویٰ کو جمع کیا گیا۔ یہ کتاب دو جلدوں میں ہے اور مفتی سید سیاح الدین کے لیے صدقہ جاریہ کا درجہ رکھتی ہے۔
مفتی سیدسیاح الدین کے وہ مضامین جو آپ نے دارالعلوم بھیرہ کے رسالہ شمس الاسلام می تحریر کئے بڑا علمی سرمایہ ہیں۔ اسی طرح اسلامی نظریاتی کونسل میں آپ کی تحقیقات بھی بڑا علمی شاہکار ہیں۔ کاش کوئی قلم کا دھنی اس طرف توجہ کرے اور اس علمی سرمایہ کو جمع کرے تاکہ اس سرمایہ سے اہل علم مزید روشنی کا سامان مہیا کر سکیں۔
مفتی جعفر حسین مرحوم
ڈاکیہ آیا،اگست کا ’’پیام‘‘ لایا۔ ایک مضمون مولانا محمد اسحاق بھٹی کا تھا۔ عنوان تھا ’’مفتی جعفر حسین‘‘۔ یہ مضمون اسحاق بھٹی صاحب کی کتاب ’بزم ارجمندان‘ سے مقتبس تھا۔ بزم ارجمندان ہم نے پہلے بھی دیکھ رکھی تھی لیکن تکراری لذت کا اپنا ہی مزا ہے۔ لوگ صحافتی زبان میں اسے قند مکرر کا نام دیتے ہیں۔ بھٹی صاحب متعدل فکر، معتدل سوچ رکھنے والے عالم ہیں۔ قلم کے ساتھ ان کا رشتہ کافی مضبوط ہے۔ یہ رشتہ آج کا نہیں نصف صدی پرانا ہے۔ کئی کتابیں ان کے قلم سے نکلیں۔ مسلکاً اہل حدیث ہیں لیکن ذہن میں سختی اور تشبّخ نہیں۔ کھرے کو کھرا کہنے میں باک نہیں رکھتے۔ مجال نہیں کہ کھوٹے کو کھرا کہہ دیں لیکن کھوٹے کو کھوٹا کہنے کا سلیقہ ضرور رکھتے ہیں۔ اس معاملے میں حکمت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔
مفتی جعفر حسین کے بارے میں ان کا مضمون پڑھا تو ماضی کے مضراب پر ضرب لگی اور بہت سے خیالی ساز وآواز نے ذہن کی تاروں کو چھیڑ دیا۔ مفتی جعفر حسین کے حوالے سے یہ چند سطریں یاد ماضی کا حصہ ہیں۔ ۱۹۶۲ء یعنی ساٹھ کی دہائی کی بات ہے۔ میں ملکی فضا میں فرقہ واریت نے ارتعاش کی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ تمام اکابر اس لگی کو بجھانے، ٹھنڈا کرنے کی فکر میں تھے۔ ہمارے استاد علامہ علاء الدین صدیقی پنجاب یوینورسٹی میں شعبہ علوم اسلامیہ کے بانی صدر تھے۔ انہوں نے لاہور موچی درازہ میں تین روزہ سیرت النبی کانفرنس منعقد کرائی۔ جس میں شیعہ ، سنی، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث مکاتب فکر کے چوٹی کے علماء کو دعوت بیان دی گئی۔ مقصد اتحاد بین المسلمین کی فضا پیدا کرنا تھا۔
علامہ علاء الدین صدیقی مولانا احمد علی لاہوری کے شاگرد رشید اور راست فکر عالم تھے۔ ماضی میں بازار سیاست میں اپنی صلاحیتوں کا سکہ جما چکے تھے۔ تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا۔ مسلم لیگ کے راہ نما تھے۔ میاں ممتاز دولتانہ کے مقابلہ میں پنجاب مسلم لیگ کا الیکشن بھی لڑا۔ آپ بعد میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنے۔ پھر اس وقت کے صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان نے ان کو اسلامی نظریاتی کونسل کا سربراہ مقرر کیا۔ آپ اتحاد بین المسلمین کے نقیب تھے۔
مذکورہ کانفرنس انہوں نے سلگتی پر پانی ڈالنے کے لیے منعقد کرائی۔ کانفرس بڑی بھرپور تھی۔ راقم نے مفتی جعفر حسین کو پہلی مرتبہ اس کانفرنس میں دیکھا اور ملاقات کی بھی کی۔ آپ انتہائی دھیمے انداز میں شستہ گفتگو کرتے تھے۔ کہنے کو گوجرانوالہ کے تھے لیکن اردو لہجہ میں لکھنوی انداز کا غلبہ تھا۔ ہم نے ان کو اہل زبان ہی خیال کیا۔ لیکن بھٹی صاحب کے مضمون سے معلوم ہوا کہ ان کا جم پل پنجابی زبان کے گڑھ گوجرانوالہ کا تھا۔ لیکن ان کی گفتگو میں گوجرانوالہ کی ٹکسالی زبان کا دور دور تک نشان نہ ملا۔ زبان کی چاشنی اسی جمال ہم نشین در من اثر کرد کا نتیجہ تھی۔ آپ تحصیل علم کی غرض سے کافی عرصہ لکھنو میں رہے۔
ان کی تقریر سے قبل جناب آغا شورش کاشمیری کی تقریر تھی۔ آغا صاحب شہنشاہ خطابت تھے۔ تحریر و تقریر میں ان کا سکہ چلتا تھا۔ ہفت روزہ چٹان کے ایڈیٹر تھے۔ تقریر کرتے مجمع باندھ دیتے۔ تقریر میں گھن گرج کے علاوہ بر محل اشعار سے تقریر کو مزین کرنا ان کا کمال تھا۔ نادر الفاظ اور تراکیب کے استعمال میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الفاظ کی مالا ان کے گرد ہالہ کئے دست بستہ کھڑی ہے۔ ان کی تقریر کے دوران پورے مجمع پر سناٹا طاری ہوگیا۔ عموماً ان کی تقریر آخر میں ہوتی، کیونکہ لوگ ان کی تقریر کے بعد کسی اور مقرر کو سننا پسند ہی نہ کرتے۔ اتفاق سے ان کی تقریر کے دوران ہلکی سی آندھی آئی اور شامیانے ہوا کے دباؤ سے اڑنے لگے۔
شورش مرحوم کی تقریر کے بعد سٹیج سے مفتی جعفر حسینؒ کا نام پکارا گیا لیکن مجمع ہل گیا۔ لوگ جانے لگے۔ مفتی صاحب مرحوم سٹیج پر آئے۔ خطبہ مسنونہ اہل تشیع کے انداز میں پڑھا۔ لوگ کہاں ٹھہرتے۔ مفتی صاحب نے پر اعتماد انداز میں تقریر شروع کی۔ کہنے لگے، ابھی میرے بھائی آغا شورش کاشمیری تقریر کر رہے تھے تو سائبان ہلنے لگے تھے۔ میری باری آئی ہے تو صاحبان بھی ہلنے لگے۔ بس اس ادبی جملے نے جادو کا اثر کیا۔ لوگ جہاں تھے وہیں بیٹھ گئے۔ مفتی صاحب نے قریباًآدھا گھنٹہ تقریر کی۔ سیرت کے حوالے سے انتہائی نادر نکات پیش کئے۔ ان کی تقریر کے کچھ حصے اب تک ذہن میں محفوظ ہیں۔ فرمانے لگے، اللہ نے دنیا سجائی تھی۔ اپنے نائب آدم ؑ کو پیدا کیا۔ جنت میں بھیجا۔ فرمایا یہ میری جنت ہے یہاں رہو مزے کرو۔ جہاں چاہو گھومو پھرو۔ بس ایک پابندی ہے۔ اس درخت کے قریب نہ پھٹکنا۔ شیطان آدم کا ازلی دشمن تھا۔ اس نے ورغلایا اور ان کو ممنوعہ درخت کا پھل کھلا دیا، پھل نے تاثیر دکھلا دی۔ جنت کا لباس فاخرہ تار تار ہوگیا۔ اللہ نے فرمایا، تم جنت میں رہنے کی صلاحیت کو کھو بیٹھے ہو۔ لہٰذا اب یہاں نہیں رہ سکتے، زمین پر جاؤ۔ زمین پر آئے تو آدم کے بیٹے نے دوسرے بھائی کو قتل کر دیا۔ ناحق خون سے زمین ناپاک ہوگئی۔ خون کے چھینٹوں نے زمین گندی کردی۔ اللہ نے نوحؑ کو بھیجا۔ جاؤ زمین کو دھو کر پاک کراؤ۔ نوحؑ کے سیلاب نے زمین دھو کر صاف کر دیا۔ زمین پاک ہوگئی۔ پھر اللہ نے ابراہیم ؑ کو زمین پر بھیجا۔ زمین کو پھلواری گھاس کے ذریعے خوبصورت بناؤ۔
قلنا یا نار کونی بردًا وسلاماً علی ابراہیم
بس پھر کیا تھا، زمین گل و گلزار ہو گئی۔ اب خطرہ تھا کوئی موذی کوئی دشمن گھاس اور باغیچہ میں چھپا نہ بیٹھا ہو کہ گزند پہنچائے۔ اللہ نے موسٰی ؑ کو بھیجا۔ ایک ہاتھ میں ڈنڈا تھا دوسرے ہاتھ میں ٹارچ تھما دی۔ تاکہ اچھی طرح کونے کھدرے میں دیکھیں کوئی چھپا نہ بیٹھا ہو۔ ایک موذی فرعون پایا گیا۔ موسٰی ؑ نے مار بھگایا۔ پھر رب نے عیسٰی ؑ کو بھیجا کہ اچھی طرح جائزہ لیں اور واپس آکر خبر دیں کہ سب ٹھیک ہے۔ یہ سارا اہتمام بس ایک شخصیت کی تشریف آوری کے لیے تھا۔ طوفان نوح سے زمین کا پاک کروانا، زمین کو گل و گلزار بنانا۔ موسٰی ؑ کے ذریعے سارا جائزہ لینا، یہ سب اہتمام محمد ﷺ کی تشریف آوری کے لیے تھا۔ جب سب بندوبست ہوگیا تو اللہ نے جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو بھیج دیا۔ ساتھ ہی قرآن بھی اتارا اور اعلان کر دیا، قرآن میرا آخری پیغام ہے۔ محمد ﷺ میرا آخری نبی ہے۔ قرآن کے بعد کوئی کتاب نہیں، محمد ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں۔
یہ تقریر جادو اثر ثابت ہوئی۔ لوگ مبہوت دم بخود بیٹھے رہے۔ اس کانفرنس کو منعقد کرانے والے، تقاریر کرنے والے سب کردار زمین بوس ہو گئے۔ منوں مٹی کے نیچے جا چکے۔ وہاں جاچکے جہاں سے کبھی کوئی واپس نہ آیا۔ اللھم اغفرلھم وارحمھم
سزائے موت۔ ایک نئی بحث
خورشید احمد ندیم
شکنجہ سخت ہو رہا ہے۔ معاملہ صرف معیشت یا سیاست کا نہیں، تہذیب کا بھی ہے۔ عالمگیریت ایک سمندر ہے اور اس میں جزیرے نہیں بن سکتے۔ آنکھ کھول کے دیکھیے! ہمارے چاروں طرف کیا ہو رہا ہے؟
چند روز پہلے یورپی یونین کا ایک وفد پاکستان کے دورے پر تھا۔ آنے والے ایک ایسے ادارے سے متعلق تھے جس کا موضوع ’’ انسانی حقوق‘‘ ہیں۔ اس وقت دنیا کی غالب آبادی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ سزائے موت انسانی حقوق سے متصادم ہے۔ وفد ہمیں باور کرانے آیا تھا کہ اگر ہم یورپی یونین سے تجارتی مراعات(GSP_Plus status) چاہتے ہیں تو ہمیں سزائے موت کو ختم کرنا ہوگا۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو پھر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے۔ اگلا قدم پابندیاں ہوگا اور یوں یہ سلسلہ دراز ہوتا جائے گا۔ اس وقت اقوامِ متحدہ کے 105 ارکان ممالک سزائے موت کے خاتمے کا فیصلہ کر چکے۔ ہم نے اگر ایسا نہ کیا تو ہم عالمی برادری سے بچھڑ جائیں گے۔
صدر زرداری ہی نہیں نواز شریف صاحب بھی جانتے ہیں کہ دنیا میں تنہا رہنا ممکن نہیں ۔ انسانی سمندرمیں اب کوئی جزیرہ آباد نہیں ہو سکتا۔زرداری صاحب نے پانچ سال تک سزائے موت کو معطل رکھا۔ میاں صاحب نے جون میں یہ پابندی اٹھا دی۔ اب عالمی برادری کے تیور دیکھے تو اسے ’’ عارضی‘‘ طور پر معطل کر دیا ہے۔ یورپی یونین نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔پاکستان میں ای یوکے سفیر نے اگرچہ اس کی تردیدکی ہے کہ مراعات کا سزائے موت سے کوئی تعلق ہے لیکن وفد کے خیالات غیر مبہم ہیں۔
سزائے موت ہونی چاہیے یا نہیں؟ اسلام کا نقطہ نظر، اس باب میں کیا ہے؟ میں ان سوالات سے دانستہ صرفِ نظر کر رہا ہوں۔ میرے سامنے اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو ہے اور میں اس سارے قضیے کو اس تناظرمیں دیکھ رہا ہوں۔ اس کا عنوان وہی ہے جس کا میں نے ابتدا میں ذکر کیا۔۔۔عالمگیریت۔ یہ ایک نظامِ اقدار کا نام ہے جس پر ان قوتوں کا اتفاق ہے جن کے ہاتھ میں دنیا کا اقتدار ہے۔ وہ اس نظامِ اقدار کو ساری دنیا پر غالب دیکھنا چاہتی ہیں۔ جو اس سے انحراف کرے گا، اسے ’’ راہ راست‘‘ پر رکھنے کے بہت سے طریقے انہوں نے دریافت کرلیے ہیں۔ سب سے مؤثر تو اقتصادی طریقہ ہے۔ جو اس نظامِ اقدار کو قبول نہ کرے، اس پر معیشت کا دروازے بند کر دیے جائیں، یہاں تک کہ بھوک اور افلاس اسے گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کردیں۔
’’انسانی حقوق ‘‘ اس نظام اقدار کا ایک جزو ہے۔ یہ نظامِ اقدار جن بنیادوں پر کھڑاہے، اس میں سب سے اہم ’’ انسانی آزادی‘‘ ہے۔ انسان اپنے معاملات کے تعین میں خود مختار ہے۔ کوئی مذہب ، کوئی الہام، کوئی اتھارٹی اس کی خود مختاری پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتی۔ جینے کا حق چونکہ اس تصور کے تحت بنیادی انسانی حق ہے، اس لیے قتل کا مجرم بھی اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا ان کے خیال میں سزائے موت بنیادی طور پر انسانی حقوق سے متصادم ہے اور اسے گوارا نہیں کیا جا سکتا۔ جو ملک اس کا التزام نہیں کرے گا، وہ انسانی حقوق سے منحرف قرار پائے گا اور اس کے بعد عالمی برادری اسے سزا دینے کا حق رکھتی ہے۔ چین اس حوالہ سے ہمیشہ زیرِ عتاب رہا ہے۔اب وہ لوگ اس کا ہدف بنیں گے جہاں سزائے موت نافذ ہے۔ انسانی حقوق کے دائرے میں محض سزائے موت شامل نہیں ہے۔ خواتین کے حقوق، ازدواجی حقوق اور دوسرے بہت سے حقوق شامل ہیں۔ یہ واضح ہے کہ ان حقوق کی وہی تعریف قابلِ قبول ہوگی جو اس غالب نظامِ اقدار کے تحت کی جائے گی۔ آپ خواتین کے حقوق کا کوئی ایسا تصور رکھتے ہیں جو اس غالب خیال سے مختلف ہے تو وہ قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
میرے نزدیک آنے والے دنوں میں نظام ہائے اقدار کا تصادم مختلف معاشروں کے مابین ایک نئی معرکہ آرائی کی بنیاد بننے والا ہے۔ یہ کچھ بعید نہیں کہ نکاح کا روایتی ادارہ براہِ راست اس کی زدمیں ہو۔بعض ممالک میں ہم جنسی کو نکاح کی ایک صورت کے طور پر قبول کرلیا گیا ہے۔ جہاں جہاں اس کی مخالفت ہے وہاں وہاں اس کی مزاحمت میں شدت آرہی ہے۔ اسے بڑی حد تک بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ مان لیا گیا ہے۔ یہ دائرہ اگر وسیع تر ہوتا گیا تو ان نظام ہائے کی بقا خطرات میں گھر جائے گی جو غالب تصور سے مختلف ہیں۔
اس وقت عالمگیریت کا یہ نظام پوری طرح غالب نہیں آیا۔ اس کی بعض مجبوریاں ہیں جن کی وجہ سے وہ بہت سی باتیں گوارا کر رہا ہے۔ جمہوریت، مثال کے طور پر اس نظامِ اقدار کا اہم جزو ہے۔ جمہوریت کا یہ تصور سیکولرزم ہی کی سیاسی توسیع ہے۔آج مشرقِ وسطیٰ وغیرہ میں اس نظام نے شہنشاہیت کو اگر گوار کیا ہوا ہے تو یہ اس کی سیاسی مجبوریوں کے باعث ہے۔ جب یہ مجبوریاں کم ہوں گی، شہنشاہیت پر دباؤ میں اضافہ ہو جائے گا۔ اس طرح جہاں جمہوریت سیکولرزم کے تابع نہیں ہو جاتی وہاں بھی تصادم جاری رہے گا۔
پاکستان فکری پراگندگی میں مبتلا ایک سماج ہے۔ یہی نہیں، یہاں تضادات ہیں اور ابہام۔ ہم اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایسا سماج ظاہر ہے کہ کسی دباؤ کا سامنا نہیں کر سکتا۔ نہ اقتصادی نہ تہذیبی۔ اس میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ عالمی نظامِ اقدار کی مزاحمت کرے۔ سزائے موت کی معطلی سے یہ بات پوری طرح واضح ہے۔ میرے نزدیک یہ بہت سنجیدہ مسئلہ ہے، بد قسمتی سے جو غورو فکر کا موضوع نہیں بن رہا۔ ہمیں اگر اپنی معاشی سیاسی آزادی عزیز ہے اور ہم اپنی تہذیبی شناخت کے بارے میں حساس ہیں تو اس پر غور کرنا ہوگا کہ اس تہذیبی دباؤ کا سامنا ہم کیسے کر سکتے ہیں؟
تصادم میرے نزدیک کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہمیں مکالمے کے میدان میں اترنا ہوگا۔ خوش قسمتی سے اس نظامِ اقدارہی میں وہ جگہ(room) موجود ہے، جہاں سے ہم اپنی بات کہہ سکتے ہیں۔مثال کے طور پر یہ نظام کثیرالمدنیت(pluralism) کی بات کرتا ہے۔تہذیبی غلبے کی کوشش اس تصور سے متصادم ہے۔یا پھر اس میں جمہوریت کا راگ الاپاجاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی ملک کی اکثریت اس بات پر اتفاق کر لیتی ہے کہ وہ اپنی اجتماعیت کی تشکیل کے لیے وحی کو ماخذ مانے گی تو اکثریت کا یہ حق کیوں قابلِ قبول نہیں۔
ہمارے پاس اس وقت یہی راستہ ہے کہ ہم مکالمے کے میدان میں اتریں اور باہر کی دنیا میں اپنے ہم نوا تلاش کریں۔ میرا خیال ہے کہ خاندان کے ادارے اور ہم جنس پرستی جیسے بے شمار معاملات ایسے ہیں جن پر کلیسا بھی وہی بات کہہ رہا ہے جو ہمارے محراب و منبر سے کہی جا رہی ہے۔اسی طرح سنگاپور اور جاپان میں سزائے موت کی سزا مو جود ہے۔میرے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ سماج کے اہل الرائے ابھی تک معاملے کی سنگینی سے واقف نہیں ہیں۔ اگر کوئی آگاہی موجود ہے تو وہ محض سیاسی ہے اورتصادم کی آب یاری کر رہی ہے۔ بصیرت کا تقاضا یہ ہے کہ جنگ اس میدان میں لڑی جائے جہاں آپ مضبوط جگہ پر کھڑے ہوں۔ فکر و نظر کی دنیا ایسی ہے، جہاں ہماری فتح کا روشن امکان ہے۔ ہمارے مفاد میں یہ ہے کہ اقدار کا معرکہ علم و فکر کی وادی میں برپا ہو۔ سزائے موت کے حوالہ سے یورپی یونین کی تنبیہ ہمیں ایک نئی معرکہ آرائی کی جانب متوجہ کررہی ہے۔
(بشکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘)
عذابِ قبر اور قرآنِ کریم (۲)
مولانا محمد عبد اللہ شارق
برزخ میں زندگی؟
عذابِ قبر اور قرآن میں تضاد دکھانے کے لیے منکرین نے جو سوال اٹھایا ہے کہ قرآن سے تو انسان کی صرف دو زندگیاں ثابت ہوتی ہیں جبکہ عذابِ قبر سے ایک تیسری زندگی کا اثبات ہوتا ہے ، آئیے اب ذرا ایک نظر اس کو دیکھتے ہیں۔ منکرینِ برزخ کی اس بات سے ہم اتفاق کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انسان کو صرف دو ہی زندگیاں عطا فرمائی ہیں جن کا ذکر سورۃ البقرۃ کی آیت۲۸ اور سورۃ المومن کی آیت ۱۱ میں ہے۔ اس سے بظاہر کسی تیسری زندگی کی نفی ہوتی ہے اور یہی بات درست ہے۔ اہلِ سنت جو منکرین کے مقابلہ میں ہمیشہ عذابِ قبر کے قائل رہے ہیں، وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ پہلی زندگی موت پر ختم ہوگی اور دوسری زندگی صورِ اسرافیل کے بعد شروع ہوگی۔ سوائے ایک آدھ غیر معروف عالم کے ان میں سے کسی سے بھی یہ منقول نہیں کہ قبر اور برزخ کے دورانیہ میں انسان کو کوئی تیسری جیتی جاگتی زندگی حاصل ہوتی ہے جو باقی دو زندگیوں کی طرح حقیقی زندگی ہوتی ہے۔ (تفسیر طبری، البقرۃ:۲۸) ایک غیر معروف عالم سے جو اس کے خلاف منقول ہے، وہ بھی محض ایک آیت کی تفسیر کے ضمن میں اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ اسی عالم سے اس آیت کی مختلف توجیہات منقول ہیں جن میں سے ایک توجیہ کی رو سے تین زندگیوں کا اثبات ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خودا س عالم کو بھی تین زندگیوں کے اثبات پر اصرار نہیں، یہی وجہ ہے کہ خود اس سے منقول اگر آیت کی ایک توجیہ کی رو سے تین زندگیوں کا اثبات ہوتا ہے تو دوسری توجیہ بھی اسی سے منقول ہے جس کے قائل جمہور ہیں اور جس کی رو سے تیسری زندگی کی نفی بھی ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ علم العقائد کی بڑی کتابوں ’شرح العقیدۃ الطحاویۃ‘ اور ’النبراس‘ وغیرہ میں جہاں احوالِ برزخ پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے، وہاں خود اہلِ سنت کے کئی قول نقل کیے گئے ہیں کہ اس دوران انسان کو کس طرح کا شعور اور احساس حاصل ہوگا، مگر اس قول سے متعلق ایک لفظ بھی نہیں لکھا گیا ۔ اسی طرح بعث بعد الموت کا مطلب بھی ان کے ہاں یہی لیا جاتا ہے کہ دنیا میں موت آنے کے بعد انسان صورِ اسرافیل پر دوبارہ کھڑا کیا جائے گا۔ اگر مرنے کے فوراً بعد ان کے نزدیک برزخ میں ہی حقیقی زندگی دوبارہ شروع ہوجاتی تو ان کے نزدیک بعث بعد الموت کا محل صورِ اسرافیل کی بجائے قبرو برزخ ہوتے۔
صدیق مغل صاحب نے عذابِ قبر کے اثبات کے لیے جس طرح البقرۃ کی آیت ۲۸ سے استدلال کیا ہے ، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک برزخ میں ہی انسان کو ایک مکمل زندگی حاصل ہوجاتی ہے۔ آیت یہ ہے: ’کنتم أمواتا فأحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ثم ألیہ ترجعون‘ اللہ تعالی نے اس میں انسان کی دو موتوں اور دو زندگیوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلی موت سے مراد پیدائش سے قبل کا زمانہ اور دوسری سے مراد دنیا میں آنے والی موت ہے، جبکہ پہلی زندگی سے مراد دنیا کی زندگی اور دوسری زندگی سے مراد بعث بعد الموت کی زندگی ہے۔ دوسری زندگی کے بعد فرمایا ہے : ’ثم الیہ ترجعون‘ یعنی ’پھر اس دوسری زندگی کے بعد تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘ مغل صاحب کہتے ہیں کہ ’دوسری موت (دنیاوی موت) کے بعد جس دوسری زندگی کا ذکر ہے، وہ لوٹائے جانے سے قبل (عالمِ برزخ) میں ہوگی۔‘ دلیل دیتے ہیں کہ’لفظ ’ثم‘ کا استعمال بتا رہا ہے کہ یہ برزخی حیات اور یومِ آخرت کو اللہ کی طرف لوٹایا جانا دو الگ الگ واقعے ہیں جن میں زمانی مغایرت ہے۔‘ اب ان کو خود ہی بتانا چاہئے کہ اگر یہ زندگی وہی زندگی ہے جو تاابد جاری رہے گی تو کیا ان کے نزدیک بعث بعد الموت کا محل قبر ہے؟ کیونکہ بعث بعد الموت سے حاصل ہونے والی زندگی ہی تاابد جاری رہے گی۔ حالانکہ اہلِ سنت ، بلکہ تمام مسلم فرقوں میں سے شاید کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔ اگر یہ وہ زندگی نہیں ہے اور بعث بعد الموت کا وقت ان کے نزدیک بھی صورِ اسرافیل ہی ہے تو کیا ان کے نزدیک انسان کودو کی بجائے تین دفعہ موت او رحیات کا سامنا کرنا پڑے گا؟ یہ بات مذکورہ آیت کی ایک توجیہ کے ضمن میں ایک عالم ابوصالح (گذشتہ سطروں میں جس غیر معروف عالم کا ذکر ہوا ہے ، ان سے مراد بھی یہی ابو صالح ہیں) سے منقول ضرور ہے، مگر خود اہلِ سنت ہی اس پر شروع سے تنقید کرتے آرہے ہیں اور وہ اس کو سورۃ المومن کی آیت ۱۱ سے متصادم قرار دیتے ہیں جس میں صراحتاً صرف دو موتوں اور دو زندگیوں کا ذکر ہے۔ اگر’ثم الیہ ترجعون‘ کا مطلب تیسری زندگی ہے تو اس سے پہلے ایک تیسری موت کا ذکر بھی ہونا چاہئے تھا جس سے دوسری زندگی ختم ہوکر تیسری زندگی شروع ہوگی، اس کا ذکر کیوں نہیں؟ صرف ’ثم‘ کا سہارالینے سے کام نہیں چلے گا۔ ’ثم‘ دو ایسے واقعات کے درمیان آتا ہے جن کے درمیان وقفہ ہو، لیکن اس کے لیے معمولی وقفہ بھی کافی ہوتا ہے، لہذا ’ثم‘ کی رو سے یہ ممکن ہے کہ صورِ اسرافیل کے بعد دوسری زندگی ملتے ہی اللہ کی طرف لوٹائے جانے کاعمل شروع ہوجائے۔ آخر وہ مفسرین کرام جو دوسری زندگی سے ہمیشہ بعث بعد الموت کی زندگے مراد لیتے رہے، وہ بھی تو ’ثم‘ کا کوئی معنی لیتے تھے۔ ابوصالح نے اگرچہ جمہور کے برخلاف اپنی متنازعہ توجیہ کی روسے مذکورہ آیت سے عذابِ قبر کا اثبات کیا ہے، مگر وہ بھی اس طر ح نہیں جس طرح صدیق مغل صاحب کر رہے ہیں، بلکہ اس طرح کہ پہلی زندگی سے انہوں نے دنیاوی زندگی کی بجائے قبر کی زندگی اور دوسری زندگی سے آخرت کی زندگی مراد لی ہے، لیکن جیسا کہ ہم نے لکھا ہے، خود اہلِ سنت کے محققین نے ہی اس پر صریح لفظوں میں تنقید کی ہے۔ (تفسیر طبری) علامہ آلوسی نے اس توجیہ کو آیت کی دیگر تمام توجیہات سے زیادہ ناگوار اور ناقابلِ فہم قرار دیا ہے۔ علم العقائد کی کتابوں میں اس قول کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔پھر انہی ابوصالح کے بارہ میں بھی گزر چکا ہے کہ انہیں بھی آیت کی صرف اس ایک توجیہ پر اصرار نہیں، بلکہ انہوں نے آیت کی مختلف توجیہات کے ضمن میں اس کو محض ایک ممکنہ توجیہ کے طور پر ذکر کیا ہے۔ (تفسیرِ طبری)واللہ اعلم
اسی طرح بعث بعد الموت کے معنی ہیں’موت کے بعد دوبارہ زندگی ملنا۔‘ اگر یہ زندگی قبر میں مل جاتی تو کم از کم بعث بعد الموت کا پہلا مصداق یہی زندگی کہلاتی، حالانکہ اسلام اس کا ہرگز دعوے دار نہیں۔ قرآن میں کئی جگہ کفار کا اعتراض نقل کیا گیا ہے:’مرنے کے بعد جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو ہمیں کون کھڑا کرے گا، کیا برسوں پہلے مرنے والے ہمارے آباؤ اجداد بھی پھر زندہ ہوں گے؟‘ سادہ سی بات ہے کہ اگر قبر کا دورانیہ کوئی جیتی جاگتی زندگی کا دورانیہ ہوتا تو بعث بعد الموت سے قرآن کی یہی مراد ہوتی اور ان کے اعتراض کا جواب یوں دیا جاتا کہ’تمہارے آباؤ اجداد کب سے زندہ ہوچکے ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں، اسی طرح تمہاری بھی ہڈیاں بوسیدہ ہونے کی نوبت نہیں آئے گی اور اس سے پہلے زندہ ہوجاؤگے۔‘ مگر قرآن کبھی بھی یہ انداز اختیار نہیں کرتا ، بلکہ یوں اثبات کا انداز اختیار کرتا ہے کہ ہاں! (ہڈیاں بکھر جانے کے بعد تم بھی زندہ کیے جاؤ گے اور تمہارے آباؤ اجداد بھی) اور ان کے جوا ب میں قیامت کے نقشے کھینچنے لگتا ہے۔اگر بعث بعد الموت یعنی موت کے بعد زندگی کا سلسلہ قبرو برزخ سے ہی دوبارہ شروع ہوجاتا تو دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیے کہ کیا پھر کفار کے اعتراض کا یہی جواب ہوتا؟اسی طرح قرآن میں اور خود اہلِ سنت کے ہاں جس طرح اس دورانیہ کے لیے ’برزخ‘ یعنی حدفاصل کا لفظ استعمال ہوتا ہے ، اس سے بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ قرآن او رخود اہلِ سنت کے ہاں اس دورانیہ میں انسان کو زندگی جیسی کوئی زندگی حاصل نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس کو الٹا دو زندگیوں کے درمیان حائل حد فاصل سمجھتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ صدیق مغل صاحب اپنے استدلال سے رجوع کرلیں۔
قرآن وسنت کی ساری نصوص اسی بات کی تائید کرتی ہیں او راہلِ سنت بھی اسی کے قائل ہیں کہ قبرو برزخ کا دورانیہ کوئی جیتی جاگتی انسانی زندگی کا دورانیہ نہیں۔ حقیقی اور کامل زندگیاں صرف دو ہیں جن کا ذکر قرآن میں بھی ہے اور حدیث میں بھی۔ جبکہ قبرو برزخ کا دورانیہ فی الجملہ موت کی کیفیت میں ہی گزرے گا۔ البتہ ایک حدیث یہاں ایسی ہے جو وضاحت طلب ہے۔ اس میں فرمایا گیا ہے کہ ’میت کو قبر میں رکھ کر جب لوگ واپس چلے جاتے ہیں تو منکر ونکیر اس کے پاس آتے ہیں اور سوال وجواب کے لیے میت میں روح لوٹائی جاتی ہے۔‘ (ابوداود۔حدیث۴۷۵۵) محدثین کا اختلاف ہے کہ سند کی رو سے یہ حدیث صحیح بھی ہے یا نہیں۔ ابنِ حزم ظاہری لکھتے ہیں: ’یہ سمجھنا کہ میت قبر میں جاکر قیامت سے پہلے ہی زندہ ہوجاتا ہے، یہ غلط ہے۔ قرآنی آیات اس کی نفی کرتی ہیں کیونکہ اس صورت میں تین زندگیوں اورتین موتوں کا عقیدہ رکھنا ہوگا۔‘ مزید لکھتے ہیں: ’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صحیح حدیث میں یہ منقول نہیں کہ منکرونکیر سے سوال وجواب کے وقت مردوں میں ان کی ارواح لوٹا دی جاتی ہیں۔ اگر یہ بات صحیح سند سے ثابت ہوجائے تو ہم بھی اسی کو تسلیم کریں گے۔ روح لوٹائے جانے کی بات کا اضافہ صرف منہال بن عمرو کی روایت میں ہے، باقی روایات میں نہیں اور منہال بن عمرو قوی نہیں۔‘ مزید لکھتے ہیں: ’یہ بات جو ہم نے لکھی ہے۔ یہی صحابہ سے بھی ثابت ہے۔‘ (الملل والنحل۴/۱۱۸۔۱۱۹) حافظ ابنِ قیم نے ابنِ حزم کی مکمل عبارت نقل کرکے لکھا ہے کہ ’روح لوٹائے جانے کی حدیث کو ضعیف کہنا درست نہیں ہے، منہال بن عمرو کے علاوہ بھی کئی لوگ اس کے راوی ہیں اور خود منہال بھی ضعیف نہیں،بلکہ مستند اورثقہ راوی ہے۔‘ (الروح۔ صفحہ۴۴، ۴۷) تاہم اس کے باوجود وہ روح لوٹائے جانے کا معنی کیا لیتے ہیں؟ وہ قابلِ غور ہے: ’’جس طرح کی زندگی ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ انسان تدبر وتصرف کرتاہے اور کھانے ، پینے ولباس کا محتاج ہوتا ہے، اگر ابنِ حزم برزخ میں ایسی زندگی کی نفی کرتے ہیں تو واقعی ایسی زندگی کو برزخ میں ثابت سمجھنا غلط ہے، حس اور عقل کے ساتھ ساتھ قرآن وسنت کی نصوص بھی اس کی نفی کرتی ہیں ( کیونکہ ایسی زندگی صرف دنیا میں اور پھر صورِ اسرافیل کے بعد حاصل ہوگی) لیکن اگر ابنِ حزم اس دیکھی بھالی زندگی کے علاوہ کسی بھی قسم کی زندگی کی بھی نفی کرتے ہیں تو ان کی بات ٹھیک نہیں۔
حدیث میں جور وح لوٹائے جانے کا ذکر ہے اس سے مراد یہی مختلف قسم کی کوئی زندگی ہے جو آزمائش اور سوال وجواب کے لیے اس میں لوٹائی جاتی ہے۔ اس پر یہ اعتراض نہیں ہونا چاہئے کہ اللہ نے تو قرآن میں دو زندگیوں کا ذکر کیا ہے ، پھر یہ تیسری زندگی کہاں سے آگئی؟ کیونکہ یہ زندگی تھوڑے سے وقفہ کے لیے ہوگی اور تھوڑے سے وقفہ کے لیے تو اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کے اس مقتول کو بھی زندہ فرمایا تھا جس کے قاتل کا پتہ نہ چل رہا تھا (اسی طرح قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بھی بطورِ معجزہ کے بعض مردوں کو زندہ فرمایا کرتے تھے، البقرۃ کی آیت ۲۵۹کی رو سے مردہ بستی کے کھنڈرات پر گزرنے والے اس آدمی کو بھی اللہ نے ایک سو سال تک موت کی نیند سلا کر دوبارہ زندہ کردیا تھاجس نے تعجب سے کہا تھا کہ اللہ اس مردہ بستی کو پھر کیسے زندہ کرے گا؟ نیز البقرۃ کی آیت ۲۴۳ کی رو سے اللہ نے ایک گناہ کی وجہ سے کسی قوم کو موت دی اور پھر توبہ کا موقع دینے کے لیے محض اپنی رحمت سے ان کو دوبارہ زندہ کردیا) اگر قرآن میں مذکور ان مثالوں پریہ اعتراض نہیں ہوتا کہ مذکورہ انسانوں کو خلافِ ضابطہ تیسری زندگی کیسے حاصل ہوگئی تھی تو روح لوٹائے جانے کی حدیث پر بھی یہ اعتراض نہیں ہونا چاہئے کیونکہ روح کا یہ لوٹنا بھی بالکل معمولی سے وقفہ کے لیے ہوگا۔‘ (الروح۔ صفحہ۴۲، ۲۰۹) بلکہ مذکورہ قرآنی مثالوں میں حاصل ہونے والی ’تیسری‘ زندگی تو پھر بھی عام فہم ،جیتی جاگتی اور حرکت کرتی زندگی تھی اور اس پہ اعتراض نہیں ہوتا، جبکہ قبر میں روح لوٹائے جانے کا معنی تو خود ابنِ قیم ہی کے بقول ’اس طرح کی زندگی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد کوئی ناقابلِ فہم ، غیر مرئی اور ضعیف قسم کی زندگی ہے جیسے بے ہوش اور سوئے ہوئے کی زندگی ہوتی ہے اسی وجہ سے عین ممکن ہے کہ وہ میت جس کو دفن کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی اور وہ ہماری آنکھوں کے سامنے گل سڑ گیا ہے ، ڈوب گیا ہے، جل گیا ہے یا کسی جان ور کے پیٹ کی غذا بن گیا ہے، اللہ سوال وجواب کے لیے اس کے باقی ماندہ اجزاء میں بھی روح لوٹائیں مگر کسی کو کچھ نظر نہ آئے (اور یہی وجہ ہے کہ قبر کو کھول کر دیکھا جائے تو میت پر بھی تھوڑی دیر پہلے ہلنے جلنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے)۔ ‘ (الروح۔ صفحہ۶۹) اسی طرح علامہ ابن ابی العز الحنفی لکھتے ہیں: ’وارد ہے کہ سلام کہنے والا جب سلام کہتا ہے تو میت کی روح اس کے بدن میں لوٹ آتی ہے اور یہ بھی وارد ہے کہ دفن کرنے والے جب منہ موڑ کر جانے لگتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز بھی سنتا ہے(لہذا اس موقع پر روح لوٹ آتی ہوگی جیساکہ سلام سننے کے لیے لوٹ آتی ہے) روح کے اس لوٹنے سے کوئی خاص قسم کا لوٹنا مراد ہے، یہ نہیں کہ قیامت سے پہلے اس کوکوئی (تیسری) بدنی زندگی حاصل ہوجاتی ہے۔‘ ( شرح العقیدۃ الطحاویۃ۔ صفحہ۳۹۹)
علامہ کی اس گفتگو پر کچھ اشکالات ہیں ، جن کو میں خود محسوس کر رہا ہوں۔ لیکن میرا مقصود ان حوالہ جات سے صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ جو حضرات برزخ کے بعض موقعوں پر روح لوٹنے کے قائل ہیں، وہ بھی اس سے کوئی ناقابلِ فہم قسم کا لوٹنا مراد لیتے ہیں، جیتی جاگتی زندگی کا شاید کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ مولانا عبدالعزیز پرہاروی نے ’النبراس‘ میں جو کچھ لکھا ہے، اس کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ ’منکر ونکیر کے سوال کے وقت اگرچہ مردہ میں روح لوٹ آتی ہے، مگر یہ کم زور قسم کی زندگی ہوتی ہے (جس کو تیسری زندگی اور ) جس کے دوبارہ زوال کو موت نہیں کہا جاسکتا۔ سورۃ الدخان کی آیت ۵۶ کے مطابق انسان کو موت کا ذائقہ صرف ایک ہی بار دنیا میں چکھنا ہے ( اور صحیح البخاری کی حدیث۳۶۶۷ سے بھی یہی کچھ ثابت ہوتا ہے)یہ ساری کیفیات دنیا میں آنے والی موت کا ضمیمہ ہیں جس کے بعد کوئی اورموت یا زندگی نہیں ہے، صرف بعث بعد الموت کے بعد ایک آخری زندگی حاصل ہونی ہے۔ برزخ کے بعض موقعوں پر روح لوٹنے کو زندگی اور اس کے خاتمہ کو موت ا س لیے نہیں کہہ سکتے کہ روح لوٹنے سے کوئی حیاتِ کامل مرادنہیں ہے۔‘ ( صفحہ۳۲۲) حافظ ابنِ حجر بھی منکر ونکیر کی آمد پر روح لوٹ آنے کے قائل ہیں۔ وہ بھی اس سے کم زور قسم کی زندگی مراد لیتے ہیں اورگذشتہ سب بزرگوں سے بھی بڑھ کر یہ کہتے ہیں: ’حدیث سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ خود روح کا لوٹنا ہی پورے جسم میں نہیں، بلکہ صرف اوپر کے آدھے دھڑ میں ہوگا۔‘ (النبراس۔ صفحہ۳۲۲)
خلاصہ یہ کہ اس کا تو قائل نہیں کہ قبرو برزخ کا پورا دورانیہ ایک زندگی کی صورت میں گزرتا ہے۔ صرف بعض موقعوں پر روح لوٹ آنے کا جو معاملہ ہے، اس کو بھی بعض تو تسلیم نہیں کرتے اور اکثر علماء جو تسلیم کرتے ہیں، وہ بھی ایک تو تھوڑے سے وقفہ کے لیے روح لوٹنے کے قائل ہیں اور دوسرا اس روح لوٹنے سے بھی کوئی خاص قسم کا لوٹنا مراد لیتے ہیں۔ کامل حیات کا کوئی قائل نہیں، یہ صرف دنیا میں حاصل ہے یا پھر صورِ اسرافیل کے بعد حاصل ہوگی۔واللہ اعلم
بغیر زندگی کے عذاب و جزا کا احساس کیسے ہوگا؟
اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اگر قبرو برزخ کا دورانیہ بدون زندگی کے ہی گزرے گا تو عذاب وجزاء کی ان کیفیات کااحساس کیسے ہوگاجن کا ذکر احادیث میں ملتا ہے؟ منکرین تو انکاراس وجہ سے کرتے تھے کہ عذاب وجزاء کے احساس کے لیے زندگی ضروری ہے۔ جب قرآن کی رو سے زندگیاں صرف دو ہیں اور برزخ میں کوئی زندگی نہیں تو برزخ میں عذاب وجزاء کی بات بھی غلط ہے۔ یہ تو تھا اس فریق کا استدلال۔ اب حیرت کی بات یہ ہے کہ مغل صاحب جو عذابِ قبر کا عقیدہ رکھتے ہیں، وہ بھی عذاب وجزاء کے احساس کے لیے زندگی ضروری سمجھتے ہیں، تبھی تو البقرۃ کی آیت ۲۸ سے استدلال کرتے ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ پہلا فریق جب اس زندگی کے وجود سے انکار کرتا ہے تو عذابِ قبر کا بھی انکار کرتا ہے اور دوسرا فریق جب عذابِ قبر کو تسلیم کرتا ہے تو اس زندگی کے وجود کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ جب بنیاد غلط رکھی گئی تو استدلال کا نتیجہ بھی غلط نکلا۔
حقیقت یہ ہے کہ عذاب وجزاء کے احساس کے لیے جیتی جاگتی زندگی کا ہونا ضروری نہیں۔ چنانچہ نہ اہلِ سنت میں سے کوئی برزخ کی جیتی جاگتی زندگی کا قائل ہے او رنہ ہی قرآن وسنت اس کے دعوی دار ہیں۔ عذابِ قبر کا تصور جس قرآن وحدیث سے ثابت ہے، دو زندگیوں کا تصور بھی اسی قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ لہذا ایک تصور کو دوسرے پہ ترجیح دینے کی کوئی وجہ نہیں۔ بہتر تو یہی ہے کہ دونوں باتوں کو من وعن تسلیم کیا جائے، ان کے مطابق اپنے کردار وعمل کی اصلاح کی جائے اور غیر ضروری تدقیقات سے احتراز کیا جائے۔ ہم ایمان اس لیے نہیں لائے کہ غیبی حقائق کی اصل ماہیت کو عدسہ لگا کر دریافت کر نا شروع کردیں گے۔ ایمان بالغیب کا معنی ہے کہ نبی کے فرامین کو چپ چاپ تسلیم کیا جائے۔ جو اللہ کو اللہ سمجھتا ہے اور رسول کو رسول سمجھتا ہے، اس کو ان سب باتوں پر ایمان لانے میں ہرگز تردد نہیں ہوگا۔ یہ جہان اسرار کا جہان ہے۔ اس میں کئی سربستہ راز ایسے ہیں ، جن کو ہم لاکھ سرپٹخیں، اگر اللہ نہ چاہے تو ان کے سایہ کو بھی نہیں پاسکتے۔ انسانی آنکھ اور ٹیلی اسکوپ کی حیثیت کیا ہے؟ سائنس خود اپنے کئی مفروضات کو غلط ثابت کرچکی ہے اور آج بھی تسلیم کرتی ہے کہ اس کائنات کا جو کچھ حصہ ہم نے دیکھا ہے ، وہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں جو نہیں دیکھا۔ موت بھی اس کائنات کے سربستہ رازوں میں سے ایک راز ہے۔ عقلیت پسندوں کے لیے یہ بات ایک معمہ رہی ہے کہ موت کے بعد انسان کے احساس، وجدان، شعور اور ’خودی‘ کا کیا بنتا ہے؟ دیکھئے ’خطباتِ اقبال‘ میں خودی کی بحث۔ یہ ہم نے کہاں سے معلوم کر لیا ہے کہ موت کے بعد انسان میں تمام قسم کے احساسات فنا ہوجاتے ہیں؟ یہ عین ممکن ہے کہ بغیر زندگی کے اور موت کی کیفیت میں رہتے ہوئے بھی انسان جزاؤ عذاب کو محسوس کرتا رہے۔ باقی رہا یہ سوال کہ کیسے کرتا ہے؟ تو بہتر یہی ہے کہ اس بحث میں نہ الجھا جائے۔ اگر زبانِ رسول پر ہمیں اعتماد ہے تو خاموشی سے سرِ تسلیم خم کرنا چاہئے اور غیبیات کی اصل ماہیت کو اللہ کے سپر د کرنا چاہئے۔ یہی سلامتی کا راستہ ہے۔ امام ابوجنیفہ کا نکتۂ نظر بھی یہی ہے کہ برزخی شعور کی اصل کیفیت کے بارہ میں سکوت اختیار کیا جائے۔ (شرح العقیدۃ الطحاویہ للغنیمی۔ صفحہ۱۱۷) نجم الدین نسفی نے ’العقائد النسفیۃ‘ میں ، ابن ابی العز الحنفی نے ’شرح العقیدۃ الطحاویہ‘ (صفحہ ۳۹۹) میں ،شیخ عبدالوہاب شعرانی نے’الیواقیت والجواہر‘ (صفحہ۴۲۰) میں ، مولانا عبدالعزیز پرہاروی نے ’النبراس‘ (صفحہ۳۱۵) میں اور دیگر کئی علماء نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے کہ برزخی احساس(جسے مجازاً حیات بھی کہا جاتا ہے) کی کیفیت کے بارہ میں کوئی قیاس آرائی نہ کی جائے اور سکوت اختیار کیا جائے۔ اللہ کی قدرت کے نمونے ہماری آنکھوں کے سامنے ہی اتنے پھیلے ہوئے ہیں کہ ان کو دیکھتے ہوئے یہ چیز اس کی قدرت سے ہرگز بعید معلوم نہیں ہوتی کہ موت کے بعد بھی وہ انسان کے شعور اور احساس کو کسی غیر مرئی طریقہ پر برقرار رکھے۔
تاہم بعض اہلِ سنت نے شاید منکرین کے سوالات کا زور توڑنے کے لیے اس کیفیت کا قرائن سے اندازہ لگا نے کی کوشش بھی کی ہے ، لیکن چونکہ یہ معاملہ غیر منصوص ہے ، اس لیے خود ان کے ہاں ہی اس میں اختلاف دیکھنے کو ملتا ہے کہ آیا جزاؤ عذاب کا ا حساس میت کے بے جان جسم کو ہوتا ہے؟ صرف روح کو؟ یا دونوں کو؟ اگر دونوں کو تو اس کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟
(۱) تفسیر بالحدیث کے امام ، ابنِ جریر طبری کی رائے یہ ہے کہ عذاب میت کے بے جان جسم کو ہوتا ہے اور اللہ کی قدرت سے یہ چیز بعید نہیں۔ قرآن ہی سے ثابت ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے جس میں جمادات بھی شامل ہیں، پتھر خدا کے خوف سے روتے اور گر پڑتے ہیں، شجر و حجر اللہ کو سجدہ کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اگر خدا کی قدرت ان جمادات میں اتنا احساس اور شعور پیدا کرسکتی ہے کہ وہ اس کی تسبیح کریں، اس کے خوف سے روئیں اور اوپر سے نیچے آگریں تو میت کے بے جان جسم میں جزاؤ عذاب کا احساس پیدا کرنا بھی اس کی قدرت سے بعید نہیں ہونا چاہئے۔ (النبراس۔ صفحہ۳۲۱)
(۲) فقہِ ظاہری کے امام، ابنِ حزم کی رائے یہ ہے کہ جزاؤ عذاب کا تعلق صرف میت کی روح کے ساتھ ہے۔ (الملل والنحل۴/۱۱۸) منکرینِ برزخ انسانی روح کے وجود سے بھی انکار کرتے ہیں اور وجہ یہ بتاتے ہیں کہ قرآن میں اس کا کہیں ذکر نہیں ہے اور کہیں ہوا ہے تو وہ اس مفہوم میں نہیں جوہمارے ہاں ’الروح‘ کا مفہوم سمجھا جاتاہے۔ گو قرآن میں ’الروح‘ کا لفظ اس مفہوم میں استعمال ہوا ہے جو ہمارے ہاں سمجھا جاتا ہے اور خود عربوں کے ہاں بھی سمجھا جاتا تھا، چنانچہ جمہور کے مطابق سورۃ بنی اسرائیل کی آیت ۸۵ میں ’ویسئلونک عن الروح‘ کے اندر ’الروح‘ سے یہی مراد ہے اور جمہور کا قول ہی درست محسوس ہوتا ہے، لیکن اگر فرض کرلیا جائے کہ قرآن میں واقعی انسانی روح کا ذکر نہیں ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا قرآن نے انسانی روح کے وجود سے انکار بھی کیا ہے؟ کسی بات کا ذکر نہ کرنا اور کسی بات کا انکار کرنا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ ’اہلِ قرآن‘ کواگر قرآن میں کہیں انسانی روح کا تصور نہیں ملتا تو ان کا حق یہ ہے کہ وہ بھی قرآن کی طرح اس معاملہ میں سکوت اختیار کریں ، نہ یہ کہ انکار اور نفی شروع کردیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی روح کا تصور نبوی احادیث میں صراحتاً موجود ہے کہ یہ جسم اوربدن سے الگ ایک وجود ہے۔ منکرینِ حدیث کہتے تو ہمیشہ یہی ہیں کہ ہم صرف ان احادیث کا انکار کرتے ہیں جو قرآن کے خلاف ہوں، لیکن ان کا طرزِ عمل اس سے متضاد تصویر پیش کرتا ہے۔ اب دیکھ لیجئے کہ انسانی روح کے وجود سے انکا رکیا جاتا ہے ، حالانکہ اس کا ذکر احادیث میں صراحتاً موجود ہے اور خود ان کے اپنے اعتراف کے مطابق قرآن میں اس کی کہیں نفی بھی نہیں ہے۔ مولانا اصلاحی کے بارہ میں یہ تاثر دینا درست نہیں کہ وہ انسانی روح کے وجود سے منکر ہیں، سورۃ بنی اسرائیل کی آیت ۸۵ میں اگرچہ انہوں نے ’الروح‘ سے مراد انسانی روح کی بجائے ’قرآن‘ لیا ہے، لیکن وہ فی الجملہ انسانی روح کے ماثور تصور کے منکر نہیں۔ چنانچہ مذکورہ آیت ہی کی تفسیر کے ضمن میں ان کا ایک جملہ ہے کہ ’جس طرح جسم کی زندگی روح سے ہے، اسی طرح روح و عقل اور دل کی زندگی وحیِ الہی سے ہے۔‘ (تدبرِ قرآن۴/۵۳۹) منکرین تو جسم کے ساتھ کسی روح کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ باقی آیتِ مذکورہ کی تفسیر میں مولانا اصلاحی سے پہلے ماضی بعید کے کئی مفسرین بھی جمہور کے برعکس ’الروح‘ سے مراد قرآن لیتے رہے ہیں۔ دیکھئے: تفسیرطبری، بغوی اور روح المعانی وغیرہ۔
(۳)اہلِ سنت کے بہت سے حضرات کے نزدیک عذابِ قبر کا تعلق جسم یا جسم کے باقی ماندہ حصہ اور روح کے ساتھ ہے ۔ ان کے نزدیک موت کے بعد بھی جسم یا اس کے باقی ماندہ حصہ کے ساتھ ساتھ روح کا تعلق باقی رہتا ہے۔ تاہم یہ تعلق جیتی جاگتی زندگی کی طرح کامل اورمضبوط نہیں ہوتا بلکہ نیند کی طرح ہوتا ہے جس میں روح کا جسم کے ساتھ تعلق ہوتا بھی ہے اور نہیں بھی ہوتا۔ یعنی موت کے بعد بھی روح جسم سے بالکل بے تعلق نہیں ہوجاتی مگر یہ تعلق ایسا بھی نہیں ہوتا کہ اس پر زندگی کا اطلاق ہوسکے، بلکہ وہ موت کی کیفیت ہی ہوتی ہے۔
یہ سب اقوال دراصل ممکنہ صورتیں ہیںیہ سمجھنے کے لیے کہ بغیر زندگی کے بھی انسان کو کیسے اور کیسے عذاب و جزاء کا احساس ہوسکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ حقیقتا عذاب وجزاء کی صورت انہی میں سے کوئی ایک ہو۔ ان ممکنہ صورتوں کے بیان سے اس اعتراض کا دفعیہ ہوجاتا ہے کہ بغیر زندگی کے عذاب وجزاء کا احساس ممکن نہیں۔
جسم اور روح کی بحث میں پڑے بغیر ،مجھے خود قرآن وحدیث کے بعض اشاروں سے جوکچھ محسوس ہوا ہے وہ یہ ہے کہ موت کی کیفیت دراصل نیند سے ملتی جلتی کوئی کیفیت ہے، جس میں شعور اور احساس باوجود زندگی نہ ہونے کے ’خواب وخیال ‘ کے انداز میں کسی قدر باقی رہتا ہے۔ چند اشارے ملاحظہ کریں:
(۱) ’ونفخ فی الصور فاذاہم من الأجداث الی ربہم الی ینسلون قالوا یا ویلنا من بعثنا من مرقدنا‘ یعنی ’صور پھونکا جائے گا تو یکایک یہ اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہونے کے لیے قبر سے نکل کھڑے ہوں گے، (گھبر ا کر) کہیں گے کہ ہائے! ہمیں کس نے ہماری خواب گاہ سے اٹھا دیا‘ (یس:۵۱) کافروں کا صورِ اسرافیل پر جی اٹھنے کے بعد یہ کہنا کہ ’ہمیں کس نے ہماری خواب گاہ سے اٹھا دیا‘ برزخ میں گزرنے والے دورانیہ کو نیند سے تعبیر کرنا اور قرآنِ مجید میں ان کے احساس کا ان الفاظ میں ذکرہونا اشارہ دے رہا ہے کہ قبر وبرزخ اور صورِ اسرافیل سے پہلے کا دورانیہ نیند کی سی کیفیت میں گزرے گا اور جی اٹھنے کے بعد ایک خواب کی طرح ان کو یاد آئے گا۔
(۲) ’أو کالذی مر علی قریۃ وہی خاویۃ علی عروشہا قال أنی یحیی ہذہ اللہ بعد موتہا فأماتہ اللہ ماءۃ عام ثم بعثہ قال کم لبثت قال لبثت یوما أو بعض یوم قال بل لبثت مائۃ عام ‘ یعنی ’وہ شخص جو ایک بستی پر سے گزرا اور وہ کھنڈر بنی ہوئی تھی، کہنے لگا کہ اللہ اس مردہ بستی کو پھر کیسے زندہ کرے گا، پس اللہ نے ایک سو سال تک کے لیے اسے موت دے دی اور پھر اسے زندہ کرکے پوچھا کہ کتنا عرصہ یہاں پڑے رہے، وہ کہنے لگا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم، اللہ نے فرمایا کہ تم ایک سو سال یہاں پڑے رہے ہو‘ (البقرۃ: ۲۵۹)آیت کے کامل سیاق وسباق کو بغور دیکھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ آدمی موت کے دورانیہ کو نیند سمجھ رہا تھا، تبھی تو جی اٹھنے کے بعد یہاں گزرے وقت کو ایک دن یا دن کا کچھ حصہ سمجھ رہا تھا اور اس کو یہ وہم بھی نہیں گزرا کہ میں سو سال تک موت کی کیفیت میں رہا اور اب مرکر اٹھا ہوں تاآنکہ اللہ تعالی نے خود یہ وضاحت فرمائی۔ آیت کے الفاظ سے یہی کچھ محسوس ہوتا ہے۔
(۳) ’اللہ یتوفی الأنفس حین موتہا والتی لم تمت فی منامہا فیمسک التی قضی علیہا الموت ویرسل الأخری الی أجل مسمی‘ یعنی ’اللہ روحوں کو موت کے وقت قبض فرما لیتا ہے او ران ارواح کو نیند کے وقت جو مرے نہیں، پھر جن ارواح کے لیے موت کا فیصلہ فرمایا ہے، ان کی ارواح روک لیتا ہے اور باقی (نیند والی ارواح) کو(بیدار ہونے پر) موت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ ‘ (الزمر: ۴۲)اس آیت سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ موت کی کیفیت نیند اور خواب سے ملتی جلتی کوئی کیفیت ہے، بس فرق یہ ہے کہ نیند کی کیفیت بیداری پر بدل جاتی ہے اور مرنے والے کی مخصوص کیفیت وقتِ مقرر یعنی صورِ اسرافیل تک باقی رہتی ہے۔
(۴)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’النوم اخو الموت‘ یعنی ’ نیند موت سے ملتی جلتی چیز ہے۔‘ (شعب الایمان۔ حدیث ۴۷۴۵) اس سے بھی ضمنا یہی اندازہ ہوتا ہے کہ مردہ سوئے ہوئے کی طرح خواب وخیال کی کیفیت میں ہوتا ہے۔
چنانچہ جس طرح سویا ہوا انسان خواب دیکھتا ہے، کسی بات پہ فرحت اور کسی بات پہ رنج محسوس کرتا ہے، ڈر بھی جاتا ہے، کھانے پینے کے مزے لیتا ہے، سردی گرمی کو محسوس کرتا ہے، دوستوں سے ملاقات کرکے لطف اندوز ہوتا ہے، باوجودیکہ کسی بیدار کھڑے انسان کو سوئے ہوئے کے جسم پر یہ ساری کیفیات نظر آتی ہیں اورنہ ہی وہ منظر نظر آتے ہیں جو سوئے ہوئے کو نظر آرہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ عین ممکن ہے کہ مرجانے والے کے احساس اور شعور کو بھی اللہ تعالی باقی رکھیں، نیند والے خواب سے زیادہ گہرے اور مضبوط خواب کی کوئی صورت پیدا کردیں اور مرنے والا اسی کیفیت میں رہتے ہوئے بغیر زندگی کے جزاؤ عذاب کے سارے احساسات سے گزرتا رہے۔ ابنِ حجر نے فتح الباری (۳/۳۰۱)میں، ابن قیم نے الروح (صفحہ۶۱) میں ، ابن ابی العز الحنفی نے شرح العقیدۃ الطحاویۃ (صفحہ۳۹۹) میں، عبدالوہاب شعرانی نے الیواقیت والجواہر (صفحہ۴۱۸) میں اور دیگر کئی علماء نے جس طرح منکرین کے اعتراض کو دفع کرنے کے لیے برزخی دورانیہ کے شعور کو نیند کے شعور سے مثال دے کر ثابت کیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان سب کے نزدیک موت کی کیفیت نیند سے ملتی جلتی کوئی کیفیت ہے اور اس دوران جزاؤ عذاب کا احساس ان کے نزدیک خواب یا اس سے ملتی جلتی کسی کیفیت میں ہوتا رہتا ہے۔
اب تک کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حقیقی اور جیتی جاگتی زندگیاں صرف دو ہیں او راسلام میں کسی تیسری زندگی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ عذابِ قبر کے لیے جیتی جاگتی زندگی کا ہونا ضروری نہیں ، بلکہ اس کے بغیر بھی اللہ تعالی مردہ کے اندر عذاب وجزاء کا احساس پیدا کرسکتے ہیں۔ لہذا احادیث میں مذکور احوالِ برزخ کو خلافِ قرآن کہنے کا کوئی جواز نہیں۔ قبرو آخرت اور غیبیات کے بارہ میں اسلام کی جتنی تعلیمات ہیں، بہتر یہی ہے کہ ان کومن وعن تسلیم کیا جائے اور ان کی اصل کیفیت کو اللہ کے سپرد کیا جائے، اسی کا نام اسلام اور اسی کا نام ایمان بالغیب ہے۔
تیسرا سوال
احادیث کے اپنے بیانات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ احوالِ برزخ اور میت کی تمام تر کیفیات وحرکات انسانی حواس کے ادراک سے ماو راء ہیں اور غیر مرئی ہیں۔ نیز جیسا کہ ابھی بیان ہوا ہے، احادیث میں مذکور احوالِ برزخ کسی حرکت کرتی اور جیتی جاگتی زندگی کو مستلزم نہیں اور نہ ہی احادیث کسی کامل برزخی حیات کی مدعی ہیں۔ لہذا احوالِ برزخ کی صداقت کو جانچنے کے لیے قبر کو کھولنے کا تکلف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، جب وہ غیر مرئی ہی ہیں تو نظر کیسے آسکتے ہیں؟ اگر کچھ زیادہ ہی شوق ہو تو ان کی صداقت کو جانچنے کے لیے قبر کو کھولنا کافی نہیں، بلکہ مر کر دیکھنا ضروری ہے کیونکہ دنیا کی اس زندگی میں انسان کی آنکھ میں وہ بلب نہیں جو برزخی کیفیات کا ادراک کرنے کے لیے درکار ہے۔
ایک حدیث ہے کہ ’لوگ جب میت کو لے کر قبرستان کی طرف چلتے ہیں تو نیک میت کہہ رہا ہوتا ہے کہ مجھے جلدی لے چلو اور بدکار گھبراہٹ کے یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ مجھے کہاں لے کر جارہے ہو؟ میت کی یہ آواز انسان کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے۔‘ (صحیح البخاری۔ حدیث۱۳۱۴) ایک اور حدیث ہے کہ ’کافر جب منکر ونکیر کے امتحان میں ناکام ہوتا ہے تو اسے زور سے لوہے کا گرز مارا جاتا ہے اور وہ ایک چیخ مارتا ہے جسے جنوں اور انسانوں کے علاوہ آس پاس کی ہر مخلوق سنتی ہے۔ ‘ (صحیح البخاری۔ حدیث۱۳۷۴) یہ دو احادیث بڑی وضاحت سے بتار ہی ہیں کہ احوالِ برزخ غیر مرئی ہیں اور انسانی ادراک سے ماوراء ہیں۔
برزخی احوال کانظر نہ آنا ان کے جھوٹ ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غیر مرئی ہیں اور یہ کہ احوالِ برزخ کسی تیسری حیات کو مستلزم نہیں جس میں انسان کو جیتی جاگتی اور حرکت کرتی زندگی حاصل ہو۔ منکرین مذکورہ جس سوال کو اشکال اور اعتراض بنا کر انکارِ حدیث کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اسی سوال کو حدیث کے صحیح فہم کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا تھا۔ اس سے دوسرا اعتراض بھی رفع ہوسکتا تھا ، تیسرابھی اور چوتھا بھی۔
چوتھا سوال
جواب اس کا بھی وہی ہے کہ احوالِ برزخ جب غیر مرئی ہیں تو ہمیں ان کا ادراک کیسے ہوسکتا ہے۔ جو آدمی ڈوب کر مرگیا ہے، کسی جان ور کی غذا بن گیا ہے، جل کر راکھ ہوگیا ہے، ہماری آنکھوں کے سامنے گل سڑ کر خاک ہوگیا ہے یا فرعون کی ممی کی صورت میں عرصۂ دراز سے ہمارے سامنے پڑا ہے، اللہ تعالی چاہیں تو ان سب کے باقی ماندہ اجزاء میں شعور نما پیدا کرکے، اس کی روح سے یا کسی اور ناقابلِ فہم قسم کی صورت میں اس سے سوال وجواب بھی فرمالیں، جزاؤ عذاب کا احساس پیدا کردیں اور دیکھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ ہو مگر انہیں کچھ نظرنہ آئے۔ اس لیے کہ انسان صرف وہی کچھ دیکھ اور پہچان سکتا ہے جسے دیکھنے کی اجازت اللہ تعالی انسان کے حواس کو دیں۔ ہمارا ایمان ہے او رقرآن سے ثابت ہے کہ فرشتے اور شیاطین ہمارے آس پاس موجود رہتے ہیں، مگر ہمیں نظر نہیں آتے تو کیا اس وجہ سے ہم ان کے وجود سے انکار کرسکتے ہیں؟ اگر دنیا میں ہی غیبیات ہمیں نظر آنا شروع ہوجائیں تو ایمان بالغیب کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالی کی منشاء ہی یہ ہے کہ میرے بندے میری قدرت کو دیکھ کر، میرے اتارے گئے معجزات او رمیرے رسول کی صداقت کو سمجھ کر غیبیات پر بن دیکھے ایمان لے آئیں۔ ورنہ اگر اللہ تعالی چاہیں تو آسمان سے کوئی ایسی نشانی بھی نازل کر سکتے ہیں جسے دیکھ کر سب انسانوں کی گردنیں جھک جائیں۔ (الشعراء: ۴) اگر احوالِ برزخ اس دنیامیں ہی نظر آنا شروع ہوجائیں تو یہ ایک ایسی نشانی ہوگی جو اسلام کی صداقت کے آگے گردن جھکانے پر مجبور کردے گی جو کہ منشاءِ خداوندی کے خلاف ہے۔ اس صورت میں ایمان بالغیب اور اس قرآنی اصول کا کیا معنی رہ جائے گا کہ اللہ تعالی گردنوں کو جھکانے والی اور مجبور کردینے والی کسی نشانی کو قصداً نہیں اتار رہے؟ اللہ تعالی کی قدرت کو اپنی حقیر سی عقل کے ساتھ نہیں ناپنا چاہئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کتنے ہی جان ور اور پرندے ایسے ہیں جو اندھیرے میں دیکھتے ہیں، لیکن انسان کی آنکھیں اندھیرے میں اندھی ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح سوئے ہوئے انسان کو وہ کچھ خواب میں نظر آتا ہے جو بیدار کھڑے انسان کو نظر نہیں آتا۔ اگر احوالِ برزخ کو دیکھنے والی روشنی بھی خدا نے انسانی آنکھ میں نہ رکھی ہو تو یہ کوئی ناقابلِ فہم بات نہیں۔ جو آدمی ایمان بالغیب کا دعوی بھی رکھتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ احوالِ برزخ مجھے نظر نہیں آتے لہذا میں ان کو نہیں مانتا تو اسے چاہئے کہ کسی عربی لغت میں ایمان بالغیب کا معنی دوبارہ دیکھ لے۔ میری تمنا ہے کہ امتیاز احمد عثمانی حق کی طرف رجوع کرنے میں پہل کریں اور باقیوں کے لیے مثال قائم کریں۔
ضروری وضاحت:میرے مضمون میں برزخی احساس وشعور کو نیند اور خواب کے ساتھ جو تشبیہ دی گئی ہے، اس سے مقصود محض ایک تکنیکی وضاحت ہے۔ خواب وخیال کہہ کر برزخی جزاؤ عذاب کی اہمیت کو گھٹانا مقصود نہیں اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ برزخ میں جزاؤ عذاب خواب کی سی کیفیت میں ہی ہو۔ جس جزاؤ سزا کو اللہ کے رسول نے فکر مندی پیدا کرنے کے لیے بیان فرمایا ہے، اس کی اہمیت ہمارے دلوں میں کم نہیں ہونی چاہئے۔ اگر کسی کو مذکورہ بحث سے کوئی ایسا تاثر ملا ہو تو بہتر ہے کہ وہ اس کا ازالہ کرلے۔ قبرو برزخ آخرت کی گھاٹیوں میں سے پہلی گھاٹی اور آخرت کا دیباچہ ہے۔ جو اس گھاٹی میں کامیاب ہوجائے گا، اس کی آخرت بھی ان شاء اللہ خوش گوار ہوگی اور جو اس مرحلہ میں ناکام ہوجائے گا، اس کو آخرت میں خسارہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مراجع
۱۔ القرآن الکریم
۲۔ترجمہ قرآن، شاہ رفیع الدین
۳۔تفسیر طبری۔ ط:مؤسسۃ الرسالۃ
۴۔ تفسیر ابن کثیر۔ ط:دار طیبۃ
۵۔ روح المعانی، علامہ آلوسی۔ ط: دار احیاء التراث العربی
۶۔تفسیر بغوی۔ ط: دار احیاء التراث العربی
۷۔ لباب النقول، سیوطی۔ ط: دار احیاء العلوم
۸۔ تدبرِ قرآن، امین احسن اصلاحی۔ ط:فاران پبلشرز
۹۔ الاتقان، سیوطی۔ ط: مطبعۃ حجازی
۱۰۔ التبیان ، محمد علی الصابونی۔ ط: مکتبۃ الغزالی
۱۱۔ صحیح البخاری۔ ط: دار طوق النجاۃ
۱۲۔ صحیح مسلم۔ ط:دار الغرب الاسلامی
۱۳۔ سنن ابواود۔ ط: دار الکتاب العربی
۱۴۔ مسند احمد۔ ط:مؤسسۃ قرطبۃ
۱۵۔ شعب الایمان، بیہقی۔ ط: دار الکتب العلمیہ
۱۵۔ کنز العمال، علی المتقی۔ ط:مؤسسۃ الرسالۃ
۱۶۔ فتح الباری، ابن حجر۔ ط: قدیمی کتب خانہ کراچی
۱۷۔ الملل والنحل، ابن حزم۔ ط: دار الجیل
۱۸۔ الروح، ابن قیم۔ ط:دار الحدیث
۱۹۔ شرح العقیدۃ الطحاویۃ، ابن ابی العز الحنفی۔ ط:مکتبہ حقانیہ
۲۰۔ العقائد النسفیہ مع شرح النبراس، نجم الدین نسفی۔ ط:مؤسسۃ الشرف
۲۱۔الیواقیت والجواہر، علامہ شعرانی۔ ط:دار الکتب العلمیہ
۲۲۔ شرح العقیدۃ الطحاویۃ، عبد الغنی الغنیمی۔ ط: زمزم پبلشرز
۲۳۔ النبراس، عبدالعزیز پرہاروی۔ ط: مؤسسۃ الشرف
۲۴۔ سیرتِ عائشہ، سید سلیمان ندوی۔ ط: شمع بک کمپنی
۲۵۔ خطباتِ اقبال، ترجمہ شہزاد احمدط: علم وعرفان ببلشرز
۲۶۔ الشریعہ، فروری، اپریل۲۰۱۳ء
برصغیر میں برداشت کا عنصر ۔ دو وضاحتیں
مولانا مفتی محمد زاہد
’’بر صغیر کی دینی روایت میں برداشت کا عنصر‘‘ کے عنوان سے میرا ایک مضمون دو قسطوں میں الشریعہ میں شائع ہوا جو در حقیقت پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی طرف سے شائع ہونے والے ایک کتابچے کا ابتدائی حصے کے علاوہ باقی حصہ تھا۔ الحمد للہ اس کتابچے اور مضمون کو بہت پذیرائی ملی، بلکہ اتنی پذیرائی کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ میں نے ایک فضول کام کیا ہے۔ اس لیے کہ جس بات کو سب مان رہے ہیں، اسے ثابت کرنا تحصیل حاصل کی طرح ہے۔ پذیرائی اور حوصلہ افزائی کرنے والے تمام حضرات کا شکریہ۔ تاہم بہت جلد اس وقت یہ احساس ہوا کہ واقعی یہ باتیں عرض کرنے کی ضرورت تھی جب یک دم اس پر ایک خاص مہم شروع ہوگئی اور موبائل اور دیگر سوشل میڈیا کے ذریعے ناقابلِ بیان قسم کے پی ٹی آئیٍ ٹائپ پیغامات آنے لگے۔ مجھے ان سے بھی کوئی گِلا نہیں، اس لیے کہ جس طرح کی ان نوجونوں کی ذہنی تربیت ہوئی ہے، اس کے مطابق یہ سب کچھ دینی حمیت کے تقاضے سمجھ کر ہی کررہے ہوتے ہیں اور کان إثمہ علی من أفتاہ کے مطابق معذور ہوتے ہیں۔ اس میں میرے لیے یہ پہلو اطمینان کا ہے کہ ایک بے عمل انسان کو مفت میں ان کی حسناتِ مقبولہ حاصل ہوگئیں۔ اللہ تعالی مزید نیکیاں عافیت ہی کے راستے سے عطا فرمائیں۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی ایک نوجوان اور جوشیلے عالم اور لکھاری کی وہ تحریر ہے جو دیگر ماہناموں کے علاوہ الشریعۃ میں بھی شائع ہوئی ہے۔ مجھے اس طرح کی تحریروں کا جواب لکھنے کی عادت نہیں ہے، اس لیے کہ جہاں اپنی ذات کے دفاع کا تاثر بھی پیدا ہوجائے وہاں کچھ عرض کرنا اچھا نہیں لگتا۔ دوسرے میری کمزوری یہ ہے کہ میں نے قلم میں روشنائی بھرنا ہی سیکھا ہے، بارود نہیں ۔ اس سے پہلے بھی میرے ساتھ اس طرح کی ’’وارداتیں‘‘ ہوچکی ہیں۔چند سال پہلے جب تصویر کی حرمت کا ’’متفقہ فتویٰ‘‘ آیا تو میں نے صرف یہ عرض کرنے کا گناہ کرلیا تھا کہ تصویر کے کئی پہلو صحابہ و تابعین کے زمانے سے مختلف فیہ چلے آرہے ہیں اور اب تک ہیں، اس لیے ترجیح جسے چاہیں دیں ، تمام آراء کا احترام ملحوظ رہے۔ اس پر اسی طرح کا ایک جوابی مضمون متعدد مجلات میں شائع ہوا تھا ، بلکہ ایک مجلے کے مدیر نے تو فون پر معذرت بھی کی ہم آپ کی بات سے متفق ہیں، لیکن فلاں بڑی شخصیت کے دباؤ کی وجہ سے یہ شائع کرنا پڑا۔ اس وقت بھی میں نے جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی ، اب بھی حالیہ تردیدی مضمون کا جواب دینے کا ارادہ نہیں ۔ ایسی تحریروں کے لیے میرا مختصر جواب یہی ہوتا ہے کہ میرے اصل مضمون کو دوبارہ توجہ اور غور سے پڑھ لیا جائے ۔البتہ جو ایشوز اس تردیدی مضمون میں اٹھائے گئے ہیں اگرچہ وہ یہاں غیر متعلقہ ہیں تاہم کسی اور فرصت میں اگر ارادہ بنا اور ضرورت محسوس ہوئی تو ان پر بھی اپنی طالب علمانہ گذارشات مستقل طور پر پیش کی جاسکتی ہیں۔ اصل میں مسئلے کا ایک پہلو مناظرانہ ہے۔ اس کے تحت کئی بزرگ خاصا کام فرما چکے ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ ان حضرات نے تقیہ کی چادر اتار کر پھینک دی ہے۔ دوسرا فقہی ، اصولی اور کلامی ہے کہ اس مواد کے سامنے کی بعد کیا تکفیر کے لیے درکار شرائط پوری ہوجاتی ہیں، اس دوسرے پہلو پر تفصیلی کام نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے بذاتِ خود کئی یہ موضوع توجہ طلب تو ہے لیکن میرے مذکورہ مضمون کا اصل موضوع یہ نہیں ہے۔ یہ توقع بھی نہ رکھی جائے کہ ایک شعلہ افگن مضمون کے جواب میں میں کسی بحث میں پڑ جاؤں گا۔
البتہ یہاں دو باتوں کی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ سلفی صاحب نے یہ کہا ہے کہ مولانا شمس الحق افغانیؒ نے علوم القرآن میں لکھی گئی اپنی بات سے رجوع کرلیا ہے۔ لیکن اس کے ثبوت کے لیے جس مکتوب کا مختصر سا اقتباس پیش کیا ہے اس میں صرف تصحیح کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ تصحیح کے ارادے ، عملاً تصحیح کرنے اور رجوع میں فرق کے علاوہ یہاں یہ بات اہم ہے کہ حضرت افغانیؒ نے اس سلسلے میں اپنی کتاب میں کیا تبدیلی فرمائی۔ کیا یہ پورا حصہ حذف کردیا، یہ فرمادیا کہ یہ حوالے غلط ثابت ہوئے (جو کہ بظاہر ناممکن ہے) ، کسی حاشیے کا اضافہ فرمایا ، یا ناشرین کو کوئی اور ہدایت فرمائی، یا تصحیح کا ارادہ ظاہر کرنے کے بعد رائے تبدیل ہوگئی ۔ جب تک یہ سامنے نہ ہو تب تک کچھ کہنا مشکل ہے۔ میں نے اپنے طور پر بازار سے پتا کرایا تو پتا چلا کہ اب تک یہ حصہ حسبِ سابق ہی چھپ رہا ہے۔ کسی کے پاس واقعی مولانا کا تصیح شدہ کوئی نسخہ ہو تو اس سے ضرور آگاہ فرمائیں ، ان کی مہربانی ہوگی۔ بالفرض مان لیا جائے کہ انہوں نے علوم القرآن کی یہ پوری کی فصل ہی واپس لینے کا اعلان اور اسے آئندہ شائع نہ کرنے کی ہدایت فرمائی ہوتو تب بھی میری بحث پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک شخصیت کی بجائے کسی اور کا حوالہ آجائے گا وہ بھی تب جبکہ مولانا افغانی کی اس طرح کی تحریر دستیاب ہوجائے جس میں انہوں نے اپنی بات میں جزوی تصحیح یا توضیح کی بجائے اس سے مکمل رجوع کرلیا ہو ۔ اگر مولاناسلفی کے پاس ایسی تحریر موجود تھی تو اسے اپنے مضمون میں ذکر کرنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آسکی۔
دوسری بات یہ ہے کہ میں نے مولانا کرم الدین دبیر (والد مولانا قاضی مظہر حسین رحمہ اللہ) کے کچھ اقباسات پیش کئے ہیں۔ یہاں بھی’’ حمیتِ دینی‘‘ کے غلبے میں سلفی صاحب کو یہ غلطی لگ گئی ہے کہ میں ان کی طرف شیعہ کی عدمِ تکفیر کا قول منسوب کرنا چاہتاہوں۔ اس خاندان کا تکفیر کا قائل ہونا اظہر من الشمس ہے۔ میرے حواس ابھی اتنے صحیح سالم ضرور ہیں کہ میں ایسی غلط بیانی سے بچوں جو چل ہی نہ سکتی ہو اور اس کا غلط ہونا ہر ایک کو معلوم ہو۔ ویسے مولانا دبیر بڑے آدمی ہیں ، لیکن فتوے کی دنیا میں اتنابڑا نام نہیں ہیں کہ تکفیر کے حوالے سے مجھے ان کی بات سے دور از کار استدلال کی ضرورت ہوتی ۔ ان کی بجائے اور کئی نام بآسانی لیے جاسکتے تھے۔ چلتے چلتے ایک مثال اور عرض کردوں، علامہ بحر العلوم ، ملانظام الدین بانی درس نظامی کے صاحبزادے ہیں، لکھنؤ میں رہتے تھے لیکن اہل تشیع کے ساتھ اختلاف بلکہ جھکڑے اور جان کے خطرے کی وجہ سے انہیں لکھنو چھوڑنا پڑا، ان کے لقب بحر العلوم ہی سے ان کے علمی مرتبے کا اندازہ ہوجاتا ہے، ان کی دیگر تصانیف کے علاوہ اصول فقہ پر ایک معروف کتاب ہے فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ، اس میں وہ عموماً اہل تشیع کا تذکرہ سخت الفاظ میں کرتے ہیں، لیکن جہاں ان کی تکفیر کی بحث آئی ہے وہاں انہوں نے عدمِ تکفیر کومدلل انداز سے ترجیح دی ہے، یہاں ان کی مثال صرف ضمناً یہ عرض کرنے کے لیے دی ہے کہ اگر تکفیر ہی کے حوالے سے کسی کا نام لینا ہوتا تو علامہ بحر العلوم کا لے لیتا جو اہل تشیع کے ڈسے ہوئے بھی ہیں اور فقہی دنیا میں مولانا دبیر کے مقابلے میں بہت بڑا نام ہیں۔ لیکن یہاں مدعا ہی اور ہے۔ میں نے مولانا کرم الدین دبیر کی عبارتیں اس سیاق میں پیش کی ہیں کہ جو حضرات اہلِ تشیع کے خلاف مناظرے کرتے رہے ان میں بھی سنجیدہ حضرات ایسے بھی تھے جن کی بھر پور یہ خواہش ہوتی تھی کہ ماحول میں کشیدگی پیدا نہ ہو۔ میرے اس مدعا پر مولانا کرم الدین کی عبارتیں واضح طور پر دلالت کر رہی ہیں۔ اگر اس کے ساتھ یہ ملا لیا جائے کہ وہ بعد میں تکفیر کے بھی قائل ہوگئے تھے (اگرچہ حاشیے میں انہوں نے کفر کا لفظ استعمال نہیں کیا، اسلام سے واسطہ نہ ہونے کے لازمی معنی تکفیر کے نہیں ہوتے، تاہم ویسے حقیقت یہی ہے کہ وہ اور ان کے صاحبزادے تکفیر کے قائل تھے) تو میرا استدلال اور پختہ ہوجاتا ہے کہ اہل تشیع سے مناظرے کرنے اور تکفیر کا فتوی رکھنے کے باوجود وہ کہہ رہے ہیں کہ ماحول میں تلخی پیدا نہ ہونے پائے ، اب ذرا یہ بات ذہن میں رکھ کر وہ شیعوں کے کفر کے قائل تھے درجِ ذیل اقتباسات دوبارہ پڑھئے ، ان کا مزا بڑھ جائے گااورماحول کو تلخی سے بچانے کے حوالے سے میرا استدلال اور مضبوط ہوتا نظر آئے گا کہ یہ باتیں وہ شخص کہہ رہا ہے جو ان کی تکفیر کاقائل ہے:
’’افسوس کہ آج کل انقلاب زمانہ سے ایسا تو کوئی مردِ خدا دنیا میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتا جو بنی نوع انسان [بنی نوع انسان کا لفظ اہم ہے ]میں اتفاق اور اتحاد بڑھانے کی سبیل پیدا کرنے کی سعی کرے۔لیکن اختلاف ڈالنے اور تفرقہ پیدا کرنے والے ہزاروں پہلوان ہر طرف گونجتے پھرتے ہیں ‘‘
’’صاحبان! جب تک دونوں فرقوں میں ایسے مجذوب الخیال اور مسلوب الحواس لوگ چن چن کر ’’کالا پانی‘‘ نہ بھیج دیے جائیں ان دونوں فرقوں میں یکجہتی اور اتحاد قائم ہونا مشکل ہے‘‘۔
میرا خیال ہے کہ مولانا کرم الدین کے پیروکاروں کو میرے جیسے غریب طالب علموں کی خبر لینے کی بجائے ان کی اس تجویز پر عمل کی کوئی سبیل ڈھونڈنی چاہیے۔
بہر حال میں نے شیعہ سنی مسئلے کے حوالے سے تاریخی تناظر میں تین باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ بطور فرقہ شیعہ کی تکفیر اہل السنت کا متفقہ فتوی نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ ملی تحریکات میں وہ شامل رہے ہیں(شامل کرنا چاہئے یا نہیں یہ میرا موضوع اور مسئلہ نہیں ہے، یہ ان قائدین کے فیصلے کا کام ہے جو میدان میں ہیں، میرے مضمون کا مقصد تو تاریخ کا یہ گوشہ واضح کرنا تھاکہ ایسا بھی ہوتا رہا ہے) تیسرے یہ کہ جو حضرات شیعوں کے کام خلاف کرتے رہے ہیں وہ بھی اس طرح کے ماحول کے روادرا نہیں تھے جو آج کل بنا ہوا ہے (موجود ماحول کے اسباب اور ذمہ داری کا تعین بھی میرے مضمون کے موضوع سے خارج ہے) ، تیسری بات کے سلسلے میں مولانا کرم الدین کے حوالے میں میں نے نقل کئے ہیں، ان حوالوں کا پہلی بات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔پہلی اور تیسری بات کے درمیان متعدد صفحات کا فاصلہ ہے۔ قارئین سے گذارش ہے کہ میرے مضمون میں جہاں سے مولانا کرم الدین کے حوالے شروع ہورہے ہیں وہاں سے میری تمہید ایک مرتبہ پھر دیکھ لیں۔
تاہم ایک جگہ میرے الفاظ ہیں’’احمد شاہ عیسائی کے ساتھ ان شیعہ صاحب کا تقابل کرتے ہوئے مؤخر الذکر سے شکوہ کناں ہیں کہ انہیں مسلمان ہو کر ایسا اقدام نہیں کرنا چاہئے تھا‘‘ یہاں مسلمان کا لفظ بھی تکفیر عدمِ تکفیر کے حوالے سے نہیں بلکہ شیعہ بمقابلہ عیسائی ہے۔ تاہم پھر بھی اگر سلفی صاحب کی تسلی نہ ہو تو خط کشیدہ لفظ کی جگہ ’’مسلمان کہلا کر‘‘ پڑھ لیا جائے تب بھی میرا مدعا حاصل ہے۔جو صاحب بھی آئندہ میری تحریر شائع کریں وہ یہی متبادل لفظ اختیار فرمالیں۔ بس اتنی سی بات تھی۔ ۔۔خاص اس عبارت کی نشان دہی بھی سلفی صاحب نے نہیں کی، میں نے ازخود ڈھونڈی ہے۔۔ اس لفظ کے علاوہ پورے مضمون میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے جس سے وہ اعتراض پیدا ہوتا ہو جس کی عمارت خواہ مخواہ کھڑی کرلی گئی۔ اگر سیاق وسباق پر غور کرنے میں دقت ہورہی تھی تو ایک چھوٹے سے خط کے ذریعے ہی پوچھ لیتے تو مسئلہ حل ہوجاتا۔
یہاں یہ بھی عرض کردوں کہ شیعہ سنی مسئلے پر تاریخی تناظر میں جو تین باتیں میں نے کہی ہیں، ان پر پورے شرح صدر کے ساتھ اب بھی قائم ہوں۔ سنا ہے کہ ایک طریقۂ واردات یہ بھی چلتا ہے بعض اوقات خود ہی یہ مشہور کردیا جائے کہ فلاں صاحب نے میرے کہنے پر رجوع کرلیا ہے۔ جیسے میڈیا والے کہتے ہیں کہ ہماری خبر پر فلاں حاکم نے فلاں معاملے کا نوٹس لے لیا ہے۔ اگر اپنی غلطی سمجھ آجائے تو اس سے رجوع کرنا انسان کا فرض ہے، لیکن میں تا حال ان تینوں باتوں پر پورے شرح صدر کے ساتھ قائم ہوں۔ میری طرف اس طرح کا کوئی وارداتی رجوع منسوب نہ کیا جائے۔
بات قدرے لمبی ہوگئی ، ہمارے جوشیلے عزیز (اللہ ان کا جوش و جذبہ مثبت کاموں میں استعمال کرائے) نے جو لفظ میرے لیے جا بجا استعمال فرمائے ہیں، ان کے ہوتے ہوئے ان سے تو توقع نہیں کہ وہ میرے مشورے کو کوئی اہمیت دیں گے۔ تاہم دیگر نوجوانوں سے گذارش ہے جب آپ کو کسی کی تحریر پڑھ غصہ آنے لگے اور جواب لکھنے کے لیے جوش پیدا ہو تو ہمیشہ تھوڑا سا توقف کرلیں، اور الگ الگ مجلسوں میں اس تحریر کو ٹھنڈے انداز سے متعدد بار پڑھیں۔ پھر سوچنا شروع کریں کہ اس میں کون سی باتیں قابلِ اعتراض ہیں اور کیا لکھنا ہے ، وگرنہ آپ سے ایسی غلطیاں سرزد ہونے کا امکان ہے جو خود آپ کے لیے پشیمانی کاباعث بنیں گی۔
بس آج اتناہی۔ جوشیلے اور غصیلے مضمون کے باقی اجزا کے بارے میں شیخ سعدی کے لفظوں میں بس یہی کہ:
ندانی کہ مارا سرِ جنگ نیست
وگرنہ مجالِ سخن تنگ نیست
مکاتیب
ادارہ
(۱)
محترم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟
میں ایک عرصہ سے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کا قاری اور آپ کا عقیدت مند ہوں ۔ دینی موضوعات پر ’’الشریعہ‘‘ نے بحث ومذاکرہ کی لائق تحسین روایت قائم کی۔ اللہ کرے یہ جاری وساری رہے۔ البتہ گزشتہ کچھ شماروں میں حضرت مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا چراغ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو جس طرح بلا جواز تنقید کا نشانہ بنایا گیا، اس سے سخت دلی صدمہ ہوا۔ چوہدری محمد اسلم صاحب کی یادداشتوں پر جس طرح محمد یوسف صاحب ایڈووکیٹ نے خامہ فرسائی کرتے ہوئے تحقیقی مجلہ کے ۵۶ میں سے ۱۸ صفحات سیاہ کیے ہیں، وہ بھی لائق توجہ اور ’’الشریعہ‘‘ کے شعار ’’و حدت امت کا داعی اور غلبہ اسلام کا علمبردار‘‘ کے قطعاً مغائر ہے۔
علمی بحث سوچ اور فکر کے دروازے کھولتی ہے۔ یقیناًاس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، لیکن شخصیات اور جماعتوں کے حوالے سے ذاتی عناد کج بحثی کی شکل اختیار کرے اور ’’الشریعہ‘‘ جیسا تحقیقی مجلہ اس رجحان کی حوصلہ افزائی کرے تو بہرحال اسے ’’الشریعہ‘‘ کے شایان شان نہ سمجھا جائے گا۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔
عبد الرشید ترابی
امیر جماعت اسلامی، آزاد جموں وکشمیر
(۲)
محترمی ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم
یہ حقیقت ہے کہ ایسے دینی، علمی اور ادبی رسائل کی تعداد بہت کم ہے جن کا ہر مہینے کے آغاز ہی سے انتظار کی صبر آزما گھڑیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ ان جرائد میں آپ کا شائع کردہ ’’الشریعۃ‘‘ بھی شامل ہے جو کچھ عرصے سے باقاعدگی سے پہنچ رہا ہے۔
’’الشریعۃ‘‘ کے تازہ شمارہ بابت اگست ۲۰۱۳ء میں ڈاکٹر محمد تمطریف شہباز ندوی (ڈائرکٹر فاؤنڈیشن فار اسلامک اسٹڈیز، نئی دہلی) کا مضمون بعنوان ’’علامہ محمد اسد اور ان کی دینی و علمی خدمات‘‘ شائع ہوا ہے، جس کی نوعیت تعارفی ہے۔ ممکن ہے، عام قارئین کے لیے یہ مفید ہو، لیکن اس میں چند ایسی باتوں کا ذکر کیاگیا ہے، جو وضاحت طلب ، تصحیح طلب یا سیاق و سباق کے بغیر ان کی تفہیم قدرے مشکل ہے۔ سطور ذیل میں انہی چند امور کی جانب بالاختصار نشاندہی کی گئی ہے۔
سب سے پہلے چند طباعتی اغلاط، یعنی ان کا سال ولادت ۱۹۹۰ء نہیں بلکہ ۱۹۰۰ء ہے اور ان کی قومیت آسٹریلیائی نہیں بلکہ آسٹریائی ہے۔ ان کے علاوہ چند اور اغلاط بھی پائی جاتی ہیں، لیکن ان سے صرفِ نظر کیا جا سکتاہے، کیونکہ بالعموم ان کا ذمہ دار ناشرہی کو ٹھہرایا جاتاہے۔
۱) مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ ’’علامہ محمد اسد پر اب تک تھوڑا بہت تحقیقی کام سامنے آ چکا ہے۔‘‘ اس کے ذیل میں انہوں نے راقم کی دو جلدوں پر مشتمل انگریزی کتاب کا حوالہ دیاہے، جو ۲۰۰۶ء میں منظر عام پر آئی تھی۔ حیرت ہے کہ انہوں نے اس کتاب کو شائع کرنے والی سوسائٹی کا تو ذکر کر دیا ہے، لیکن اس کے مرتب کا نام لکھنا مناسب نہیں سمجھا۔ محمد اسد کی ایک جرمن سوانح کا بھی ذکر کیا ہے، حالانکہ یہ سوانح نہیں بلکہ محمد اسد کی ولادت سے سعودی عرب میں ورود (۱۹۲۷ء) تک کے حالات و واقعات کو مستند دستاویزات اور اساسی منابع کی بنیاد پر قلمبند کیاگیاہے۔ مزید برآں اسد پر ڈاکٹریٹ کے مقالہ خصوصی کا حوالہ دیا گیا ہے، لیکن اس کے مؤلف اور متعلقہ دانشگاہ کا نام تک نہیں لکھا گیا۔ اسی طرح محمد اسد کی حیات، خدمات پر ایک مختصر سی انگریزی کتاب اور نو مسلم جرمن اسکالر مراد ہافمان کے روزنامچہ کا حوالہ دیا ہے، لیکن قاری کی سہولت کے لیے ان کے ناشرین وغیرہ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
متذکرہ بالا فقرے میں دو لفظ ’’تھوڑ ا بہت‘‘ استعمال ہوئے ہیں۔ اول تو یہ الفاظ کسی سنجیدہ تحریر میں بری طرح کھٹکتے ہیں پھر بھی مضمون نگار نے ’’تھوڑا‘‘ ذکر تو کر دیا ہے۔ ’’بہت‘‘ کا تذکرہ اجمالاً راقم پیش کر دیتا ہے۔ یہ درست ہے کہ محمد اسد کی بیشتر انگریزی کتب بالخصوص ’’شاہراہ مکہ‘‘ اور قرآن کا انگریزی ترجمہ و تفسیر متعدد بار اشاعت پذیر ہو چکا ہے اور اب تو دنیا کی تقریباً سبھی بڑی زبانوں میں ان کے تراجم بھی چھپ چکے ہیں۔ محمد اسد اپنی تقریباً تمام کتب کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے ناشر بھی تھے۔ تقسیم سے قبل انہوں نے ’عرفات‘ کے نام سے اپنا مطبع قائم کیا تھا اور یہیں سے ’’صحیح بخاری‘‘ کے انگریزی ترجمہ و تشریح کے پانچ حصے طبع ہوئے تھے۔ جنگ عظیم دوم کے اختتام پر انہوں نے ڈلہوزی میں قائم کردہ اسی نام کے مطبع سے ’’عرفات‘‘ کے نام سے سہ ماہی مجلہ کے نو شمارے شائع کیے۔ بعد میں انہوں نے دارالجبرالٹر کے نام سے اشاعت گھر کی بنیاد رکھی اور اپنی وفات تک ان کی تمام کتابوں کے نئے ایڈیشن اسی مطبع کی جانب سے شائع ہوتے رہے (مع ترامیم و اضافات)۔ ان کی رحلت کے بعد بالخصوص برصغیر میں ان کی مقبول ترین کتابوں کی بلا اجازت طباعتوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ اور یہ غیر قانونی دھندا کہیں رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ یہ صورت حال قابل مذمت تو ہے، لیکن یہ ان کی کتابوں کی مقبولیت کا ایک ناقابل تردید ثبوت بھی ہے۔ محمد اسد کی کتابوں کی مسلسل اشاعت اور ان کے تراجم تو تواتر سے چھپ ہی رہے ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کے سوانح حیات اور ان کی علمی ، دینی اور سیاسی خدمات کا محققانہ اور ناقدانہ تجزیہ اور غیر جانبدارانہ محاکمہ پر کوئی ڈھب کی تحریر نظر نہیں آتی۔ ثقہ قارئین بھی اس کمی کو شدت سے محسوس کرتے تھے۔ چنانچہ ان کے پرزور اصرار پر محمد اسد کی حیات و تصانیف پر ایک منصوبے کا آگاز ہوا، جس کے تحت اب تک راقم کی چھ کتابیں (چار انگریزی اور دو اردو) زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ ایک کا ذکر تو مضمون نگار نے کر دیاہے۔ اس کے علاوہ ’’محمد اسد۔ایک یورپین بدوی‘‘ (مشتمل بر متفرق مقالات )، ’’محمد اسد۔بندۂ صحرائی‘‘ چھپ چکی ہیں۔ محمد اسد کی ’’شاہراہ مکہ‘‘ ابتدا سے سعودی عرب سے روانگی (۱۹۳۲ء) تک کے حالات پر مبنی ہے۔ اس کا دوسرا حصہ، جو برصغیر میں ان کی آمد (۱۹۳۲ء) سے لے کر وفات تک کے انتہائی اہم حالات پر مشتمل ہے، پہلی بار Home-coming of the Heartکے عنوان کے تحت شائع ہواہے۔ برصغیر کی تحریک آزادی، تشکیل پاکستان اور اس نئی مملکت کے ابتدائی چند برسوں کی سیاسی اتار چڑھاؤ پر ایک مستند دستاویز ہے۔ پانچویں کتاب محمد اسد کے ترجمہ قرآن اور ان کے تفسیری حواشی پر نقد و تبصرہ پر مشتمل ہے (انگریزی) اور آخری یعنی چھٹی کتاب میں مختلف اسلامی موضوعات پر ان کے تحریر کردہ جرمن مقالات کے انگریزی ترجمہ اور ان کی بعض انتہائی نایاب تحریروں کو یکجا کیاگیاہے۔ ان کتابوں کے علاوہ محمد اسد کی زندگی اور ان کی علمی خدمات پر راقم کے انگریزی اور اردو مقالات برصغیر کے مؤقر جرائد اور اخبارات میں بھی چھپ چکے ہیں۔
یورپی ممالک میں محمد اسد کو موضوع تحقیق و تدقیق بنانے کے حوالے سے آسٹریا سرفہرست ہے۔ ان دنوں اسد کی جائے ولادت یوکرین میں ہے، لیکن ان کی پیدائش کے وقت یہ علاقہ آسٹروہنگیرین ایمپائر کا حصہ تھا۔ انہوں نے ویانا یونیورسٹی ہی سے اپنی تعلیم مکمل کی۔ یوں ان کی ابتدائی زندگی، خاندانی حالات اور مکمل تعلیمی کوائف یہیں کے نوادر خانوں میں محفوظ ہیں۔ انہی کی بنیاد پر آسٹریا ہی کے ایک اسکالر گیونتر ونڈہاگرنے وہ کتاب سپرد قلم کی (۲۰۰۲ء) جس کا مضمون نگار نے حوالہ دیا ہے۔ اب اسی اسکالر نے اپنا مقالہ خصوصی برائے ڈاکٹریٹ مکمل کیا ہے، جس کا موضوع محمد اسد ، ایک ولندیزی اخبار کے نامہ نگار کی حیثیت سے ہے (بزبان جرمن، ۲۰۰۵ء)۔ دو سال قبل اس کتاب کا عربی ترجمہ بھی سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے شائع کیا ہے (۲۰۱۱ء)۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ چند سال قبل آسٹریا کی حکومت نے محمد اسد کی زندگی پر دستاویزی فلم بنوانے کے لیے کثیر رقم مختص کی اور اس فلم کی تیاری کی ذمہ داری ویانا ہی کی ایک معروف کمپنی کو سونپی۔ نوے منٹ پر محیط یہ فلم چار سال میں مکمل ہوئی اور سات ممالک بشمول پاکستان میں اس کی شوٹنگ ہوئی۔ ۲۰۰۸ء میں یہ دستاویزی فلم یورپ کے تقریباً سبھی بڑے سینما گھروں میں دکھائی گئی۔ اس فلم کی زبان جرمن ہے، لیکن اب یہ انگریزی ترجمہ کے ساتھ بھی دستیاب ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ غیر مناسب نہ ہو گا کہ اس دستاویزی فلم کی رونمائی کے موقع پر ان کے بیٹے طلال اسد آسٹریا کی حکومت کی خصوصی دعوت پر ویانا تشریف لائے۔ اس شہر کے میئر نے یو این او سٹی کے مقابل گزرنے والی سڑک کو محمد اسد کے نام سے موسوم کیا۔
عرصہ دراز سے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں محمد اسد کی بعض مقبول کتب خاص طور پر ’’شاہراہ مکہ‘‘ کے عربی تارجم شائع ہو رہے ہیں۔ اس ضمن میں سعودی عرب کو دیگر تمام ممالک پر فوقیت حاصل ہے۔ اس ملک کے اولین فرمانروا عبدالعزیز ابن سعود اور شاہی خاندان کے سبھی مقتدر شخصیات سے ان کے قریبی تعلقات تھے۔ پانچ سالہ قیام (۱۹۲۷ء۔۱۹۳۲ء) کے دوران محمد اسد نے یہاں کے تاریخی، سیاسی اور معاشرتی پہلوؤں پر بیسیوں مضامین (بزبان جرمن) لکھے۔ ایک معروف قبیلہ کی خاتون سے شادی کی۔ دور دراز علاقوں میں رہائش پذیر قبائل میں رہ کر قدیم عربی بول چال سے شناسائی پیدا کی۔ بالآخر یہیں سے ان کے ترجمۂ قرآن کا ایک حصہ جو ابتدائی نو سورتوں پر مشتمل تھا، شائع ہوا (۱۹۶۶ء)، لیکن بعض علمائے دین کی آراء کی روشنی میں اس پر پابندی عائد کر دی گئی۔ لیکن اب یہ صورت حال خاصی تبدیل ہو گئی ہے ۔ اس کابیّن ثبوت وہ بین الاقوامی سیمینار تھا، جو ۱۲ اپریل ۲۰۱۱ء میں فیصل فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ریاض میں منعقد ہوا۔ اس علمی اجتماع کا موضوع محمد اسد اور ان کی دینی خدمات تھا۔ راقم کے علاوہ محمد اسد کے آسٹروی سوانح نگار ونڈہاکر اور معروف نو مسلم جرمن اسکالر مراد ہافمان بھی شریک ہوئے۔ محمد اسد کے واحد فرزند طلال اسد اپنی مصروفیات کے باعث خود تشریف نہ لا سکے، البتہ انہوں نے اپنا مقالہ ارسال کر دیا، جو ان کی اہم یادداشتوں اور معلومات پر مشتمل ہے۔
۲) محمد اسد طبعاً سیر و سیاحت کا دلدادہ تھا اور ان کے لیے کہیں جم کر بیٹھنا ناممکن تھا۔ مقالہ نگار نے مشرق وسطیٰ کے جن ممالک کے اسفار کاذکرکیا ہے، وہ ان کے سیاحتی ذو ق و شوق سے زیادہ ان کی صحافتی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا تھا۔ انہوں نے ویانا یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد فرینکفرٹ کے معروف روزنامہ ’’فرانکفورٹر تسائی تونگ‘‘ (جو اب بھی نام کے ایک لفظ کے ساتھ شائع ہو رہاہے) میں بطور نامہ نگار برائے ممالک مشرق وسطیٰ ملازمت اختیار کر لی اور اس حیثیت سے انہوں نے بیروت سے افغانستان تک دو بار سفر کیے۔ پہلے ۱۹۲۲ء ۔۱۹۲۳ء اور پھر ۱۹۲۴ء۔۱۹۲۶ء میں اور ہر ملک سے ارسال کردہ رپورٹیں اسی اخبار میں شائع ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ ان کی پہلی جرمن کتاب ’’غیر رومانوی مشرق‘‘ کی بنیاد یہی روزنامہ ہے(مطبوعہ ۱۹۲۴ء)۔ جس کا چند سال قبل انگریزی ترجمہ بھی شائع ہوا ہے (لاہور/کوالالمپور ۲۰۰۴ء)
۳) مضمون نگار کے مطابق محمد اسد نے ’’قبول اسلام کے بعد حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی اور قاہرہ میں رشتۂ ازدواج ]میں[ منسلک ہوئے۔ ‘‘ یہ دونوں باتیں مصدقہ ہیں، لیکن ان میں انتہائی اختصار سے کام لیاگیا ہے اور دوسرے ان کو آگے پیچھے کر دیا گیا ہے۔ ان کے متذکرہ بالا آسٹروی سوانح نگار کی تحقیق کے مطابق وہ پہلے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ ان کی پہلی بیوی جرمن تھی نام ایلسا شیمان تھا اور جانی پہچانی مصورہ تھی۔ سال ولادت ۱۸۷۸ء یعنی محمد اسد سے اس کی عمر بائیس سال زیادہ تھی۔ طلاق یافتہ تھی اور پہلے شوہر سے اس کا ایک بیٹا بھی تھا جو اس کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ محمد اسد نے پہلے برلین میں عبدالستار خیری کی موجودگی میں اسلام قبول کرنے کا اقرار کیا اور وہیں ان کا اسلامی نام رکھا گیا۔ ان کی زوجہ یعنی ایلسا اور سوتیلے بیٹے ایک ہفتہ بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے اور ان کے بالترتیب عزیزہ اور رکھے گئے (سابقہ نام ہائنرخ شیمان تھا)۔ کچھ دنوں بعد اس نو مسلم جوڑے نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ کسی اسلامی ملک میں جا کر اپنے قبول اسلام کا بھی اعلان کریں۔ چنانچہ وہ اپنے سوتیلے بیٹے سمیت قاہرہ پہنچے اور یہاں جامعہ الازہر کے سربراہ دیگر علماء اور حاضرین کی کثیر تعداد کی موجودگی میں اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کیا۔ جب قاہرہ کے اخباروں میں اس واقعہ کی تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی تو اس کو پڑھ کر سعودی عرب کے بانی فرمانروا عبدالعزیز ابن سعود نے انہیں فریضہ حج ادا کرنے کی خصوصی دعوت دی۔ یوں وہ قاہرہ سے سعودی عرب پہنچے اور پہلی بار حج کی سعادت حاصل کی۔ عزیزہ یعنی محمد اسد کی بیوی یہاں کی شدید گرمی برداشت نہ کر سکی اور مکہ میں انتقال کر گئیں اور یہیں انہیں دفن کر دیاگیا (۱۹۲۷ء) ۔ اس کے بعد محمد اسد اور اس کا نوعمر سوتیلا بیٹا چند ماہ اکٹھے رہے، پھر احمد کو بھی واپس آسٹریابھجوا دیا گیا۔
۴) محمد اسد نے برصغیر آنے کے بعد لاہور میں مختلف اسلامی موضوعات پر لیکچر دیئے اور پھر انہیں مناسب اضافوں اود تبدیلیوں کے ساتھ کتابی صورت میں ’’اسلام دوراہے پر‘‘ (بزبان انگریزی) کے عنوان کے تحت شائع کرایا (۱۹۳۴ء)۔ مضمون نگار کا کہنا ہے کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی (م۔۹۹۹ء) اس کتاب کے معترف تھے اور انہیں کی خواہش پر اس کا اردو ترجمہ شائع کیا گیا۔ بلاشبہ محمد اسد کی اس پہلی کتاب کے اب تک متعدد تراجم منظر عام پر آ چکے ہیں، لیکن مولانا موصوف کی فرمائش پر محمد اسد کی جس کتاب کو اردو میں منتقل کیا گیا، وہ ’’اسلام دوراہے پر‘‘نہیں، وہ ’’شاہراہ مکہ ‘‘ تھی۔ یہ ملخص اردو ترجمہ ’’طوفان سے ساحل تک‘‘ کے زیر عنوان ندوۃ العلماء (لکھنؤ) سے طبع ہوا اور دو تین بار پاکستان سے بھی چھپا۔ اس کا پیش لفظ مولانا موصوف کا تحریر کردہ ہے اور اس کے مطالعہ سے ان کی نظر میں محمد اسد کی علمی و دینی خدمات کی قدر و قیمت کا بخوبی اندازہ ہو جاتاہے۔ مولانا علی میاں کا یہ اہم مضمون راقم کی کتاب ’’محمد اسد۔ایک یورپین بدوی‘‘ (طبع دوم، ۲۰۱۲ء) میں شامل ہے۔
۵)پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام عالمی اسلامی کلوکیم منعقد ہوا (۲۹ دسمبر ۱۹۵۷ء تا ۸ جنوری ۱۹۵۸ء)۔ اس کے انعقاد اور دیگر انتظامات کے لیے وزارت خزانہ نے مالی اعانت کی ۔ صدر پاکستان نے اس کا افتتاح کیا۔ برصغیر کے ممتاز علمائے دین کے علاوہ مشرق وسطیٰ ، یورپ اور امریکہ کے اسکالروں نے شرکت کی۔ ۱۹۵۷ء کے اوائل میں اس پُروقار علمی اجتماع کے لیے محمد اسد کو خصوصی طور پر بلایا گیا اور وہ اپنی امریکی نومسلم بیوی پولا کے ہمراہ تقریباً سات آٹھ ماہ اس کانفرنس کو کامیاب کرنے میں شبانہ روز مصروف رہے۔ پنجاب یونیورسٹی ہی میں ان کے لیے الگ دفتر قائم کیا گیا، جہاں ان کی بیگم بلامعاوضہ سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیتی رہیں۔ جب تمام انتظامات خوش اسلوبی سے طے پا گئے، حتیٰ کہ مندوبین کو ہوائی ٹکٹ بھی ارسال کر دیئے گئے کہ بعض ناگزیر وجوہ کے باعث محمد اسد اپنے عہدہ سے مستعفی ہو گئے۔ حیرت ہے کہ جب اس کانفرنس کی کارروائی پر مشتمل جلد شائع ہوئی (۱۹۶۰ء) تو اس میں محمد اسد کا نام تک موجود نہیں۔ تعجب ہے کہ مضمون نگار کے مطابق یہ کلوکیم ۱۹۸۰ء کے بعد منعقد ہوا۔ نیز اس سے متعلق بہت سی معلومات میں گڈ مڈ کردیاگیاہے۔
۶) محمد اسد نے اپنی زندگی کا آخری حصہ سپین کے شہر میخاس میں گزارا اور یہیں ۱۹۹۲ء میں وفات پائی، لیکن انہیں غرناطہ کے مسلمانوں کے قدیم قبرستان میں دفنایا گیا۔ محمد اسد کی حیات و تصانیف کے اولیں محقق اور معروف اسکالر جناب مظفر اقبال (حال مقیم کینیڈا) ان کی امریکی رفیقہ حیات پولا حمیدہ اسد (سنہ وفات ۲۰۰۷ء) سے ملنے کے بعد دعائے مغفرت کے لیے محمد اسد کی قبر پر پہنچے اور اس کی تصویر بھی کھینچی۔ راقم نے یہی تصویر اپنی انگریزی کتاب کے جلد دوم میں ان کے شکریے کے ساتھ شائع کی۔ حیرت ہے، اس کے باوجود مقالہ نگار لکھتے ہیں کہ ’’تدفین کے لیے محمد اسد کو فلسطین لایاگیا ۔ اب وہ غزہ کے مسلم قبرستان میں آرام فرما ہیں۔‘‘
۷) درجہ بالا تسامحات، مصدقہ روایات کی تقدیم و تاخیر اور واقعاتی فروگذاشتوں کے علی الرغم مقالہ نگار نے بعض مصنفین کی دریافت کردہ دستاویزات اور ان کی بنیاد پر تحقیقی نتائج کو بغیر حوالہ دیئے بیان کر دیاہے۔ اس کی واضح ترین مثال محمد اسد کا پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے اولیں سربراہ کی تقرری ہے۔ محمداسد کی زندگی کے اس مخفی گوشے پر سب سے پہلے ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے روشنی ڈالی اور یونیورسٹی ریکارڈ کی قلمی دستاویزوں سے استفادہ کیا۔ حیرت ہے کہ مقالہ نگار نے ان تمام تفصیلات کو ڈاکٹر موصوف کا نام لکھے بغیر من و عن اپنے مضمون کا حصہ بنا لیا، حالانکہ ان کا یہ معلوماتی مقالہ ان کے مجموعہ مقالات بعنوان ’’چلچراغ‘‘ (لاہور، ۲۰۰۷ء، صفحہ ۱۴۱۔۱۷۰) میں شامل ہے۔ علاوہ ازیں اس مقالے کے بیشتر عبارات کو جوں کا توں نقل کر دیاہے۔ مقالہ نگار کا یہ ’’وسیع استفادہ‘‘ علمی دیانتداری کے مسلمہ تقاضوں کے منافی ہے۔ رہی سہی کسر انہوں نے راقم کی انگریزی کتاب (مشتمل بر دو جلد) سے پوری کر دی ہے، جس کے متعلق سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ ع ناطقہ گریباں ہے کیا کہیے۔
محمد اکرام چغتائی
لاہور
(۳)
بخدمت گرامی مولانا حافظ محمد عمار خان صاحب ناصر
السلام علیکم ورحمۃ اللہ !
اگست اور ستمبر کے شماروں میں راقم الحروف کا دو قسطوں میں تکفیرِ شیعہ پر مقالہ شائع کرنے کا نہایت شکریہ ۔
ستمبر کے شمارہ میں محترم مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صاحب نے اپنے مکتوب میں ہمارے موقف کو دینی حمیت اور ایمانی غیرت قرار دیا ہے، اس لیے ان کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ حافظ صاحب نے ہمارے مضمون میں شائع ہونے والی چند بر سبیلِ تذکرہ باتوں پر بھی اظہار خیال کیا ہے ۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں: ’’دین پر عمل کرنے کے لیے تقلید شخصی ضروری نہیں ۔ صرف علمائے دین کی طرف مراجعت ضروری ہے اور یہ عوام کے لیے ناگزیر ہے اور اہل حدیث عوام فَاسئلو اہل الذکر ان کنتم لاتعلمون کے تحت علماء سے دینی معلومات حاصل کر کے دین پر عمل کرتے ہیں‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ محترم حافظ صاحب نے اس اقتباس میں تقلید کی ضرورت خود بیان کر دی ہے۔ علمائے دین کی طرف مراجعت ، لاعلمی کی حالت میں اہل علم سے سوال کرنے کے حکم الٰہی سے استدلال اور اہل دین سے راہنمائی حاصل کرنے کو عوام کے لیے ناگزیر کہنا تقلید نہیں تو اور کیا ہے؟
مکتوب نگار نے مولانا سید عنایت اللہ شاہ بخاری اور ان کے نظریہ سے متعلق ہمارے موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’بلاشبہ حیات برزخی پر امت کا اجماع ہے، لیکن راقم کی معلومات کے مطابق سید عنا یت اللہ شاہ بخاری اور ان کے ہم نوا حیاتِ برزخی کے منکر قطعاً نہیں ہیں۔‘‘
اس کے متعلق عرض ہے کہ علمائے اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ حضور اقدس ﷺ کے جسم اطہر کے ساتھ روح مبارکہ کو ایک خاص تعلق حاصل ہے اور اسی تعلق کی بنا پر آپ اپنے روضہ انور پر پڑھا جانے والا صلوٰ ۃ و سلام سماعت فرماتے ہیں اور بالکل یہی بات اہل حدیث عالم مولانا نذیر حسین دہلویؒ نے لکھی ہے کہ ’’حضراتِ انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں خصوصاً آنحضرت ﷺ کہ فرماتے ہیں جو کوئی عند القبر درود بھیجتا ہے میں سنتا ہوں‘‘۔ (فتاویٰ نذیریہ جلد ۳صفحہ ۵۵) جب کہ مولانا سید عنایت اللہ شاہ بخاری ؒ آنحضرت ﷺ کے جسد اطہر کو تو روضہ مبارک میں صحیح و سالم تسلیم کرتے تھے، مگر روح کے تعلق کے منکر تھے اور اسی انکار کی بنا پر صلوٰۃ و سلام کے سماع کا بھی انکار کرتے رہے اور زور و شور سے تقریریں کرتے تھے ۔
شاہ صاحب کے نظریے کے متعلق آج سے تقریباً پچاس سال پہلے مولانا محمد اسماعیل سلفی ؒ کوجو مغالطہ ہوا تھا، وہ آج بھی اہل حدیث علماء کو اپنے چکمے میں لیے ہوئے ہے ۔مولانا محمد اسماعیل سلفی مرحوم نے شاہ صاحب کے موقف کو صحیح اور باقی علمائے دیوبند کے مسلک کو کمزور قرار دیا تھا جس کے جواب میں مولانا سید امین الحق شاہ ؒ (شاگردِ رشید علامہ انور شاہ کاشمیریؒ ) نے ایک مستقل کتاب ’’تنبیہ الا غبیاء علیٰ حیاتِ الانبیاء ‘‘تصنیف فرمائی تھی ۔ اب تو اس موضوع پر ڈیڑھ سو کے لگ بھگ کتب وجود میں آچکی ہیں، اس لیے مولانا اسماعیل سلفی مرحوم والے مغالطے کا آج بھی اہل حدیث دوستوں میں موجود رہنا قابل تعجب ہے۔
باقی مکتوب نگار کا یہ کہنا کہ ’’دارالعلوم دیوبند کے قیام کے بعد اہل حدیث پر کرم فرمائیاں شدت سے ہونے لگیں‘‘ تو یہ ایک ایسا افسوسناک الزام ہے جس کی ایک عالم دین سے ہمیں توقع نہیں تھی۔ اس بات میں چونکہ سنجیدگی کم اور مسلکی جانب داری زیادہ جھلک رہی ہے، اس لیے ہم اس کو موضوعِ سخن نہیں بناتے۔
حافظ عبد الجبار سلفی
ادارہ مظہر التحقیق ملتان روڈ ‘لاہور
(۴)
تقریبا دوسال قبل ایک دوست کا ایس ایم ایس موصول ہوا کہ علماء کرام کی زیرنگرانی حلال اور پاکیزہ کاروبار مضاربت میں اپنی رقم انویسٹ کریں اور ماہانہ چار سے پانچ ہزار روپے منافع حاصل کریں۔ یہ بات میرے لیے بہت حیران کن بھی تھی اور باعث مسرت بھی میں نے اس دوست سے رابطہ کیا اور مزید تفصیلات معلوم کرنا چاہیں تو پہلے سے زیادہ عجیب اور حیرت انگیز معلومات حاصل ہوئیں۔ اس دوست نے کہا کہ اگر تمہارے پاس اپنے پیسے نہیں تو اپنے جاننے والوں سے کم از کم ایک ایک لاکھ روپے اکٹھے کرکے ہمارے ساتھ کاروبار میں لگوا دو، اس طرح انہیں بھی پورا پورا منافع ملے گا اور تمہیں بھی ہرمہینے ایک لاکھ پر تین سو روپے کمیشن ملے گا۔ اس نے بتایا کہ میں نے اب تک تقریبا نوے لاکھ روپے لوگوں کے اس کاروبار میں لگائے ہوئے ہیں۔ میں نے پوچھا کاروبار کیا ہے؟ اس نے کہا اسکریپ اور ہول سیل کا کاروبار ہے۔
چونکہ اس دوست نے علماء کی زیر نگرانی کاروبار کی بات کی تھی، اس لیے میرا ذہن اس طرف گیا ہی نہیں کہ آیا یہ حلال ہے یا حرام۔ چنانچہ میں نے وقتی طور پر فیصلہ کرلیا کہ لوگوں سے رقم اکھٹی کرکے اس کاروبار میں لگانی چاہیے،لیکن صرف چند ہی دنوں بعد ایک اور پرانے جاننے والے سے ملاقات ہوئی تو اس نے بھی اسی طرح کی آفر کی کہ اپنے زیورات، زمین وغیرہ بیچ کر رقم انویسٹ کرو یا لوگوں سے رقم اکھٹی کرکے ہمیں دو۔ اس صورت میں ایک لاکھ پر پانچ سو روپے کمیشن دوں گا۔ چنانچہ میں نے پہلے والے دوست کو چھوڑ کراس کے پاس لوگوں کی رقم انویسٹ کرنے کا ارادہ کرلیا۔ اسی دوران میری ملاقات ایک تیسرے دوست سے ہوئی۔ اس نے بھی اسی طرح کی آفر کی۔ میں نے پوچھا آپ کا کیا کاروبار ہے ؟ اس نے کہا ہم شہد،زیتون کا تیل اور جوس تیار کرکے انگلینڈ ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ مجھے اس بات پر بہت خوشی ہوئی کہ شکر ہے پاکستانی تاجر اس قابل ہوگئے کہ اب ان کا تیار کردہ جوس گورے نوش کریں گے۔
چونکہ یہ بہت حیران کن انکشافات تھے، اس لیے میں نے اس میں مزید دلچسپی لیتے ہوئے معلومات اکٹھی کرنا شروع کردیں۔ انھی دنوں مختلف شہروں میں ’’میزبان‘‘ نام کے اسٹور کھلنا شروع ہوگئے۔ دوست نے بتایا کہ یہ ہمارے سٹور ہیں۔ یہی ہمارا کاروبار ہے اور اسی سے کما کر ہم ہر مہینے لوگوں کو منافع دیتے ہیں، چنانچہ میں نے تحقیقات اور معلومات اکھٹی کرنے کا دائرہ وسیع کردیا۔ کچھ ہی عرصے بعد اطلاع ملی کے کراچی میں کچھ ایسے لوگ جن کے نام کے ساتھ مفتی اور عالم کے سابقے لاحقے لگے ہوئے ہیں، وہ ہر مہینے بیس ہزار منافع دے رہے ہیں۔ یہی وہ پوائنٹ تھا جہاں سے میری تحقیقات کا رُخ دوسری طرف ہوگیا، کیونکہ یہ بات ناقابل یقین تھی کہ ایک لاکھ پر ہر مہینے باقاعدگی کے ساتھ بیس ہزار کی آمدن کیسے ہوسکتی ہے۔ تقریبا پانچ چھ ماہ کی محنت اور معلومات اکٹھی کرنے کے بعد میں جس نتیجے پر پہنچا، اسے میں نے ایک سال قبل اپنے ایک اخباری مضمون میں لکھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ ایک بہت بڑی گیم ہے جس کے پیچھے ملکی اور غیر ملکی ذہین ترین سٹہ باز ہیں۔ چونکہ ائمہ کرام پر لوگ اعتماد کرتے ہیں، اس لیے انہوں نے ان کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں سے رقم اکٹھی کرنا شروع کردی ہے۔ یہ لوگ نئی جمع ہونے والی رقم میں سے ہی کچھ منافع کے نام پر واپس لوٹا دیتے ہیں اور باقی اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کردیتے ہیں، چنانچہ ائمہ کرام کو دست بستہ اپیل کی کہ خدا را اس گھناؤنے کھیل سے باہر آجائیں۔ یہ کھیل اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک نئے نئے لوگ پیسے جمع کروا رہے ہیں۔ جس دن نئے جمع کروانے والے کم ہوئے، اس دن یہ گیم ختم ہو جائے گئی، چنانچہ ٹھیک ایک سال بعد ایسا ہی ہوا۔
آج جو صورت حال ہے، وہ آپ حضرات کے سامنے ہے۔ بڑے سٹہ باز بھاگ چکے ہیں، جبکہ دوسری کیٹگری کے کچھ روپوش ہیں اور کچھ گرفتار ہیں، جب کہ تیسری کیٹگری کے ائمہ اور علماء کرام عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں۔ کئی مدرسوں کو تالے لگا کر بھاگ گئے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں۔ اسی طرح کے ایک شخص کو ایبٹ آباد میں لوگوں نے سرعام مارا پیٹا اور پھر سر،داڑھی،بھنویں مونڈ کر سڑکوں پر گھمایا۔ اس سارے معاملے میں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ کھربوں روپے کے اس سکینڈل میں حکومت اور عدالتیں بالکل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں، اور اصل کردار ایک ایک کرکے ملک سے فرار ہورہے ہیں۔ اگرچہ اکثر علمائے کرام اپنی ناسمجھی اور بیوقوفی کی وجہ سے اس گیم میں پھنسے ہیں، لیکن کراچی کے ایک جامعہ سے تعلق رکھنے والے بعض ایسے ناخلف مفتی بھی ہیں جن کو پہلے دبئی کی سیر کرائی گئی۔ پھر واپس آکر انہوں نے نہ صرف اس ناجائز کام کے حق میں فتوے دیے بلکہ مخالفت کرنے والے جید علمائے کرام (بنوری ٹاؤن، وفاق المدارس)پر کڑی تنقید بھی کی اور پھر اس مسند پر بیٹھ کرجہاں ان کو دین اسلام کی ترجمانی اور تشریح کے لیے بٹھایا گیا تھا، اس ناجائز کاروبار کا لین دین بھی کرتے رہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوراً تمام مجرموں کو نہ صرف گرفتار کیا کرے بلکہ قرار واقعی سزا دینے کے ساتھ ساتھ غریبوں کی رقم بھی وصول کرے۔
سید عبد الوہاب شیرازی
mymedia.pk@gmail.com
(۵)
استاد محترم مولانا عمار صاحب نے الشریعہ کے گزشتہ شمارے کے ’’خاطرات‘‘ میں امام شامل‘ کو امیر عبد القادر الجزائری کے ساتھ ملاتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امام شاملؒ روس کے وظیفہ خوار تھے اور وہ اپنے اہل وطن کو ترک جہاد کا مشورہ دیتے رہے۔ بادی النظر میں استادمحترم سے یہاں بھول ہوئی ہے۔ امام شاملؒ اور امیر عبد القادر کی جہاد کے بعد والی زندگی کا اگر ہم موازنہ کریں تو بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ امام شاملؒ اپنی جہادی زندگی کو سرمایہ افتخار سمجھتے ہیں اور بعد والی زندگی میں انھوں نے اس پر کسی پشیمانی کا اظہار بھی نہیں کیا اور نہ ہی سابقہ جہاد کی تلافی کے سلسلے میں امت کو جہاد سے روکنے کی کوششیں کیں۔ امام نے اپنے ساتھیوں کو جہاد چھوڑنے کی دعوت دی، اس کا ثبوت بہرحال امام کے کردار سے نہیں ملتا۔ ممکن ہے یہ بات دشمن نے امام کی طرف منسوب کی ہو اور دوران جنگ میں اس طرح کی افواہیں پھیلانا دشمن کا پرانا وتیرہ ہے۔ بالفرض اگر اس بات کو تسلیم بھی کر لیں، پھر بھی یہ بات زندگی میں صرف ایک بار ہوئی۔ امام نے اس بات کو امیر عبد القادر کی طرح زندگی کا مشن نہیں بنا لیا تھا اور قید کے دوران قیدی اگر دشمن کے حق میں کوئی بات کہہ دے تو اس کو اس کے ضمیر کی آواز نہیں کہا جاتا۔ البتہ اگر کوئی شخص اپنے کردار وعمل سے اپنے دل اور زبان سے اپنے دشمن کا ہم نوا ہو جائے تو وہ اصلی زیاں کار اور بد نصیب ہوتا ہے۔ امیر عبد القادر کے ساتھ یہی المیہ پیش آیا۔
امیر عبد القادر کی حیات کو سامنے رکھیں تو واضح پتہ چلتا ہے کہ وہ سابقہ جہاد کی تلافی کے سلسلے میں تاحیات امت کو ترک جہاد کا سبق پڑھاتے رہے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ بعد میں امیر عبد القادر کے بیٹے نے اگراپنے طورپر جہاد کرنا شروع کیا تو امیر نے اس کو عاق کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کی۔ دوسری طرف امام شامل جب سلطان عبد العزیز کے پاس پہنچے تو وہاں جا کر سب سے پہلی بات ہی جہاد کے سلسلے میں کہی اور سلطان کو ڈانٹا کہ تم نے جہاد میں ہمارا ساتھ نہیں دیا جس کی وجہ سے آج مسلمانوں کو شکست کے یہ دن دیکھنے پڑے۔
امیر عبد القادر ترک جہاد کے بعد آزادانہ ہر طرف گھومتے پھرتے تھے، حتیٰ کہ دشمن کی مجلسوں میں آنا جانا اور وہاں نامحرم عورتوں سے دوستیاں لگانا اور امام شامل جتنا عرصہ جہاد کے بعد زندہ رہے، حج پر جانے تک مسلسل نظر بند رہے۔ یہ بات سچ ہے کہ نظر بندی کے دوران کچھ عرصہ تک امام شامل کو دشمن نے اچھی خوراک اور رہائش مہیا کی، لیکن نظر بند کو اچھی خوراک سے کیا لینا دینا؟وہ تو نظر بندی کے دکھ سہہ رہا ہے۔ امام کو حج پر جانے کے لیے جو اجازت ملی، وہ اس شرط پر ملی کہ وہ اپنے بیٹوں کو دشمن کی تحویل میں دے کر جائیں گے۔
امام شامل کو دشمن کا وظیفہ خوار ہونے کا جو طعنہ دیا جاتا ہے، وہ بھی بالکل غلط ہے۔ امام جب خیوا میں نظر بند تھے تو مرکزی حکومت شہری حکام کو رقم دیتی تھی۔ شہری حکام اس رقم سے جہاں امام کی ضروریات کو پورا کرتے تھے، وہاں وہ اس رقم سے امام کے اوپر مخبر بھی مسلط کرتے تھے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ قیدیوں اور نظر بند افراد پر حکومتیں جو اخراجات کرتی ہیں، اس کو وظیفہ خواری نہیں کہا جاتا۔ دوسری طرف امیر عبد القادرکو فرانس گورنمنٹ کی طرف سے سالانہ ایک لاکھ فرانک ملتا تھا جو کہ عیسائی شدت پسندوں کی حفاظت کرنے کے صلے میں ڈیڑھ لاکھ فرانک ہو گیا تھا۔ اس کو وظیفہ، صلہ اور انعام کہتے ہیں۔
امام شاملؒ اور امیر عبد القادر کے درمیان فرق اس لحاظ سے بھی بڑا واضح ہے کہ امام شامل کے جانشین آج بھی کوہ قاف کے پہاڑوں پر روسی فوج کے خلاف جہاد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں او راپنے گرم ومشک بار لہو سے شجاعتوں کی داستانیں رقم کر رہے ہیں اور امیر عبد القادر کو آج چند غیر مسلموں اور ذہنی طور پر پریشان لوگوں کے سوا کوئی جانتا بھی نہیں۔
محمد شفیع (فاضل جامعہ عبیدیہ، فیصل آباد)
شہوانی جذبات میں اضافے کی وجوہات
حکیم محمد عمران مغل
کچھ عرصہ قبل کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کے نیک دل ڈاکٹر صاحبان یہ دیکھ کر تڑپ کر رہ گئے کہ ہمارے معاشرے میں نئی نسل کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور اسے کیسی خوراک کھلائی جا رہی ہے۔ انھوں نے دنیا بھر سے چیدہ چیدہ ڈاکٹر صاحبان کو اکٹھا کر کے اس پر غور وخوض کیا۔ ان کی کوشش رنگ لائی اور شہید صدر ضیاء الحق کو دنیا بھر کے ان ڈاکٹر صاحبان کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ جنرل صاحب کو بتایا گیا کہ گوالے چوپایوں کا دودھ دوہنے سے پہلے اسے ایک انجکشن لگاتے ہیں جس سے جانور فوراً سارا دودھ پھینکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹروں نے ضیاء مرحوم کی خدمت میں یہ بھی عرض کیا کہ اس دودھ پر پلنے والا کوئی بچہ جب بالغ ہوگا تو رات کو اسے اپنے شہوانی جذبات کی تسکین کیے بغیر نیند نہیں آئے گی۔ اس انجکشن کا نام آکسی ٹاکسین ہے او ریہ بے حد سستا مل جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک دوسرا کیمیاوی مرکب جسے عرف عام میں وٹامن اے اور وٹامن ڈی کا مرکب کہا جاتا ہے، یعنی ڈالڈا گھی، وہ بھی یہی اثرات پیدا کرتا ہے۔ صابر ملتانی مرحوم نے فرمایا تھا کہ ڈالڈا گھی استعمال کرنے والی قوم ایک دن روئے گی۔ رنگ برنگے کولڈ ڈرنکس اور گرمیوں میں دودھ سوڈے کا استعمال اس پر مزید ہے۔ قرشی دواخانہ کے نامی گرامی معالجین نے اس دودھ کو زہر کا پیالہ بتایا ہے۔ پھر ہفتہ ہفتہ کے پکے ہوئے باسی پکوان جنھیں فریزر میں محفوظ کر لیا جاتا ہے، جبکہ ان کی افادیت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ چار گھنٹے تک رکھا جانے والا دودھ اپنی اصلیت کھو دیتا ہے۔ اب تو پیکٹ کا دودھ آ گیا ہے جس میں پتہ نہیں کیسے کیسے کیمیاوی مادے ملائے جاتے ہیں۔ فصلوں میں کھاد ملائی جا رہی ہے۔ عام شنید یہی ہے کہ جب سے ڈالی گئی کھاد، تب سے صحت ہوئی برباد۔ شوگر کے مرض نے بھی تب سے ہی سر اٹھایا ہے۔
جہاں تک ہو سکے، ان اشیاء سے بچیں۔ میں نے جن حضرات کو ڈالڈا کی بجائے چوپایوں کی چربی اور سرسوں کے تیل سے تیار شدہ کھانا کھانے کا کہا، انھیں شروع میں تو کچھ تکلیف محسوس ہوئی، لیکن رفتہ رفتہ وہ کافی بہتری محسوس کر رہے ہیں۔ پرہیز کے ساتھ ساتھ کسی اچھے معالج یا دواخانہ کی تیار کردہ جوارش جالینوس آدھا چمچ کسی کھانے کے بعد عرق سونف یا پانی سے استعمال کرتے رہیں۔ ان شاء اللہ زندگی کی گاڑی رواں دواں رہے گی۔ کھانے کے ساتھ دہی لازماً استعمال کیا جائے۔