نومبر ۲۰۱۳ء

الشریعہ اور ہائیڈ پارکمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیماتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دعوت دین اور انبیاء کرام علیہم السلام کا طریق کارمولانا امین احسن اصلاحیؒ 
فقہ شافعی اور ندوۃ العلماءمولانا عبد السلام خطیب بھٹکلی ندوی 
اسلام، جمہوریت اور مسلم ممالکقاضی محمد رویس خان ایوبی 
میری علمی و مطالعاتی زندگیڈاکٹر اسلم فرخی 
نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مکاتیبادارہ 
’’حیات ابوالمآثر علامہ حبیب الرحمان الاعظمیؒ‘‘ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 

الشریعہ اور ہائیڈ پارک

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہمارے انتہائی مہربان اور فاضل دوست پروفیسر ڈاکٹر محمد امین صاحب کی زیر ادارت لاہور سے شائع ہونے والے اہم علمی و فکری جریدہ ماہنامہ ’’البرہان‘‘ کے ستمبر ۲۰۱۳ء کے شمارے میں جامعہ ہمدرد کراچی کے ایک فاضل بزرگ جناب فصیح احمد کا مضمون ’’تار عنکبوت‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے مولانا وحید الدین خان کے بعض افکار کا ناقدانہ جائزہ لیا ہے اور اس میں ’’الشریعہ‘‘ کی پالیسی کے حوالہ سے بھی کچھ ارشاد فرمایا ہے جو درج ذیل ہے:
’’ایک بات ہم مدیر البرہان ڈاکٹر محمد امین صاحب کی خدمت میں بصد احترام عرض کرنا چاہتے ہیں کہ البرہان ایک نظریاتی، تحقیقی اور علمی رسالہ ہے لہٰذا اس رسالے میں مضامین کا چناؤ اور مضامین کی اشاعت کے حوالہ سے بھی علمی تحقیقی رویہ اپنانا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ قارئین کو علمی و فکری انتشار سے بچایا جائے۔ انتشار ذہنی سے بچنے کے لیے اس بات کی کوشش کی جائے کہ ایسے گمراہ کن اور غیر علمی مضمون کو رسالے میں چھاپنے کی ضرورت ہی نہیں اور اگر کسی مصلحت کے تحت کبھی شائع کرنا ضروری ہو تو پہلے کسی اہل علم کو وہ مضمون بھجوا دیا جائے اور ان سے جواب لکھوایا جائے۔ مضمون کا جواب ملنے کے بعد اس مضمون کے ساتھ اس جواب کو بھی شائع کر دیا جائے تاکہ قارئین دونوں کے موقف کو سامنے رکھ کر رائے قائم کر سکیں، کیونکہ بسا اوقات قاری ایک ماہ کا رسالہ پڑھنے کے بعد دوسرے ماہ اس کا جواب کسی وجہ سے نہیں پڑھ سکا تو اس قاری کے فکری انتشار یا گمراہی کا ذمہ دار کون ہوگا؟ ہم سمجھتے ہیں کہ قارئین البرہان کو علمی و فکری انتشار سے بچانے کا اس سے بہتر اور مناسب کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔ ہماری عاجزانہ رائے یہ ہے کہ البرہان کو ہائیڈپارک نہیں بننا چاہیے۔ دینی علمی رسالوں کو ہائیڈ پارک میں تبدیل کرنے کا کام مولانا زاہد الراشدی صاحب نے الشریعہ کے ذریعہ بخوبی انجام دیا ہے۔ دنیا بھر کی غلط سلط تحریریں نہایت کروفر کے ساتھ الشریعہ میں شائع ہوتی ہیں۔ انتشار پھیلانے کے اس عمل کو وہ آزادانہ رائے اور علمی ترقی کہتے ہیں۔ موصوف جاوید غامدی صاحب کے نظریات اپنے صاحبزادے کے سائے میں پھیلانے کا کام کر رہے ہیں، تجدیدِ دین کے نام پر تجدد عام ہو رہا ہے۔‘‘
’’الشریعہ‘‘ کے بارے میں جناب فصیح احمد کے ارشادات پر کچھ معروضات پیش کرنے سے پہلے ہم ان کا تہہ دل سے شکریہ ا دا کرتے ہیں کہ انہوں نے علمی و فکری مسائل پر باہمی تبادلۂ خیالات اور مباحثہ و مکالمہ کی اہمیت و افادیت کے ساتھ ساتھ دونوں طرف کے مضامین کو ایک ہی فورم پر شائع کرنے کی ضرورت بیان کر کے ہمارے اس موقف کی اصولی طور پر تائید فرما دی ہے کہ علمی و فکری مسائل پر مکالمہ و مباحثہ ہونا چاہیے اور کوئی ایسا فورم بھی ضرور موجود ہونا چاہیے جہاں کسی مسئلہ پر مختلف موقف رکھنے والے دو یا دو سے زائد فریقوں کا موقف یک جا شائع ہو تاکہ قارئین کو سب لوگوں کا موقف سامنے رکھ کر رائے قائم کرنے میں آسانی رہے۔ الشریعہ گزشتہ ربع صدی سے یہی خدمت سر انجام دے رہا ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ ہماری پالیسی پر ناقدانہ نظر رکھنے والے علمی حلقوں میں بھی اس کی اہمیت و ضرورت کا احساس پیدا ہو رہا ہے، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔
البتہ محترم جناب فصیح احمد کے ان تحفظات کے حوالہ سے کچھ عرض کرنا بھی ضروری ہے جن کا اظہار انہوں نے اس ارشاد گرامی میں کیا ہے۔ مثلاً انہوں نے فرمایا ہے کہ الشریعۃ نے ’’ہائیڈ پارک‘‘ کا کردار ادا کرنا شروع کر رکھا ہے۔ ہمارے خیال میں انہیں اس تشبیہ کے لیے لندن کا طویل سفر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، لاہور کا ’’موچی دروازہ‘‘ ان کے جذبات کے اظہار کے لیے کافی تھا۔ باغ بیرون موچی دروازہ یا ملک کے مختلف حصوں میں منعقد ہونے والے مذہبی اور سیاسی جلسوں میں ہمارے ہاں ایک دوسرے کے خلاف جو زبان استعمال ہوتی آرہی ہے، اسے سامنے رکھتے ہوئے ’’ہائیڈ پارک‘‘ کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ ہم اس معاملہ میں خود کفیل نظر آتے ہیں۔ 
ہمیں اعتراف ہے کہ ’’الشریعہ‘‘ میں گزشتہ ربع صدی کے دوران شائع ہونے والے بہت سے مضامین کی زبان ’’ہائیڈ پارک‘‘ اور ’’موچی دروازہ‘‘ سے مختلف نہیں ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ زبان کس نے استعمال کی ہے؟ اگر یہ زبان اور لہجہ و اسلوب ’’الشریعہ‘‘ کی طرف سے اختیار کیا گیا ہے تو ہم مجرم ہیں۔ جناب فصیح احمد الشریعہ کی گزشتہ فائلیں چیک کر کے جہاں جہاں نشان دہی کریں گے، ہم اس پر کھلے دل سے معافی مانگیں گے۔ لیکن اگر ایسے مضامین ہم نے خود جناب فصیح احمد کی بیان کردہ ضرورت کے مطابق جوابی موقف کے طور پر مجبورًا شائع کیے ہیں تو اس کا بار ’’الشریعہ‘‘ پر ڈالنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ہماری یہ معاشرتی مجبوری بن گئی ہے کہ ہم علمی، فکری اور تحقیقی مباحث میں بھی (چند مستثنیات کے ساتھ) ہائیڈ پارک کی زبان بولنے اور موچی دروازے کا لہجہ و اسلوب اپنانے کے عادی ہیں۔ ’’الشریعہ‘‘ اسی منفی معاشرتی رویے کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ارباب علم و فضل کے عمومی ماحول کو یہ احساس دلانے کی سعی میں مصروف ہے کہ علمی و فکری مسائل میں علمی و فکری اسلوب اور زبان اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ جناب فصیح احمد جیسے اصحابِ دانش پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ ’’ہائیڈ پارک ‘‘ میں کھڑے لوگوں سے تو کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کر رہے ،ہیں لیکن انہیں ’’ہائیڈ پارک‘‘ کے ماحول سے باہر آنے کی دعوت دینے والوں پر ان کی ناراضگی کا سارا نزلہ گر رہا ہے۔
رہی بات مضامین کے معیار اور انتخاب کی تو اس سلسلہ میں دو باتیں قابل توجہ ہیں، ایک یہ کہ ہم متعدد بار ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات میں یہ اپیل کر چکے ہیں کہ مضمون نگار حضرات علمی و تحقیقی لہجہ میں بات کریں اور باہمی الزام تراشی اور طعن و تشنیع سے گریز کرتے ہوئے علمی اندا زمیں اپنا موقف بیان کریں۔ ہماری اس اپیل کا دھیرے دھیرے اثر ہو رہا ہے اور بحمد اللہ تعالیٰ پہلے سے ’’افاقہ‘‘ دکھائی دینے لگا ہے۔ لیکن اس میں بہرحال وقت لگے گا اور ہمیں امید ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ علمی مباحث میں علمی زبان و اسلوب کا ماحول عام کرنے میں ضرور کامیابی ہوگی۔ ہماری مجبوری یہ ہے کہ ایک طرف کا موقف شائع ہوا ہے تو دوسری طرف کا موقف شائع کرنا بھی ضروری ہے، لیکن وہ موقف ایسے لہجے اور اسلوب میں ہے کہ جناب فصیح احمد صاحب کے معیار پر پورا نہیں اترتا تو ہماری ترجیح یہ ہوتی ہے کہ زبان و اسلوب کی کمزوری کو نظر انداز کرتے ہوئے موقف کو شائع کر دیا جائے، ہو سکتا ہے دونوں مضامین کے تقابل میں خود صاحب مضمون کو اس بات کا احساس ہو جائے۔ 
دوسری بات یہ کہ کن عنوانات پر بات ہونی چاہیے اور کن موضوعات کو نظر انداز کر دینا چاہیے؟ ہماری رائے یہ ہے کہ اسلام کی تعبیر و تشریح اور نفاذِ اسلام کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں عالمی اور قومی سطح پر جو امور زیر بحث آتے ہیں ان پر بات ضرور ہونی چاہیے اور مختلف علمی مکاتب فکر کے نقطۂ نظر کو قارئین کے سامنے آنا چاہیے۔ 
ہماری ایک معاشرتی اور نفسیاتی مجبوری یہ بھی ہے کہ وقت کی ضروریات کا تعین اپنے اپنے دائروں میں ہم خود ہی کر لیتے ہیں، حالانکہ وقت نہ اپنی رفتار میں ہمارا انتظار کر رہا ہوتا ہے اور نہ اپنی ضروریات کا تعین ہم سے پوچھ کر کرتا ہے، اس کی رفتار بھی اپنی ہوتی ہے اور ضروریات کا دائرہ بھی اپنا ہوتا ہے، مگر ہماری الجھن یہ ہے کہ جو بات ہماری ترجیحات میں شامل ہو جاتی ہے وہ وقت کی ضرورت کا درجہ اختیار کر لیتی ہے، اور جو عنوان یا موضوع ہماری ذاتی یا گروہی ترجیحات کا حصہ نہیں بن پاتا، اسے ہم سرے سے وقت کی ضروریات کے دائرے سے خارج قرار دینے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں۔ 
اس سلسلے میں بسا اوقات عجیب و غریب لطیفے رونما ہو جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ہمارے ہاں یہ بحث چلی کہ گستاخ رسولؐ کے لیے توبہ کی گنجائش ہے یا نہیں؟ ملک کے علماء کرام نے عمومی طور پر یہ موقف اختیار کیا کہ موجودہ حالات میں اس کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ ہم نے بھی اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن جب اس بات کو علمی موقف کے طور پر بیان کیا جانے لگا تو یہ کہا گیا کہ احناف کا موقف بھی یہ ہے۔ ہم نے اس سے اختلاف کیا اور عرض کیا کہ احناف کا متفقہ موقف یہ نہیں ہے اس لیے کہ امام ابو یوسفؒ اور امام ابوجعفر طحاویؒ نے گستاخ رسولؐ کے لیے صراحتاً توبہ کی گنجائش لکھی ہے جبکہ علامہ ابن عابدین شامیؒ نے اس پر مستقل رسالہ تحریر کیا ہے کہ گستاخ رسولؐ کے لیے توبہ کی گنجائش کا نہ ہونا احناف کا متفقہ موقف نہیں ہے۔ اس لیے اگر حالات کے تقاضے کے تحت اس موقف کو اختیار کرنا ضروری ہو تو اس میں مضائقہ نہیں، لیکن اسے احناف کا متفقہ موقف نہ کہا جائے۔ اس پر ہمارے بہت سے دوست چیں بہ جبیں ہوئے اور بعض احباب نے تو چائے کی پیالی میں طوفان کھڑا کرنے کی کوشش بھی فرمائی۔ لطیفے کی بات یہ ہے کہ ایک انتہائی مہربان اور صاحب علم دوست نے ذاتی ملاقات میں ہم سے فرمایا کہ بات تو آپ کی ٹھیک ہے، مگر اسے اس وقت بیان کرنے اور لکھنے کی ضرورت نہیں تھی، ہم نے عرض کیا کہ اگر اس وقت ضرورت نہیں تھی تو احناف کے موقف کی صحیح پوزیشن بیان کرنے کی ضرورت کیا قیامت کے دن پیش آئے گی؟ 
اسی طرح یہ مسئلہ کہ کیا پاکستان میں نفاذِ اسلام کے لیے ہتھیار اٹھانا درست ہے یا نہیں؟ ہم ایک عرصہ سے گزارش کر رہے ہیں کہ نفاذِ اسلام کی جدوجہد کی ضرورت ہے اور اس کے لیے پر امن جدوجہد کا ہر حربہ اختیار کرنا ہمارے لیے دینی فریضہ کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن ہتھیار بدست ہو کر اس مقصد کے لیے عسکری جنگ لڑنا درست نہیں ہے۔ اس پر ہمارے ایک انتہائی مہربان دوست جن کی دینی و جہادی خدمات کے ہم ہمیشہ معترف رہے ہیں، دور دراز سفر کر کے گوجرانوالہ تشریف لائے اور بڑے خلوص و خیر خواہی کے ساتھ فرمایا کہ آپ کا موقف درست ہو سکتا ہے، لیکن اس کے اظہار کا وقت یہ نہیں ہے، اس لیے ابھی اس بارے میں خاموشی اختیار کر لیں۔ میں نے عرض کیا کہ میرے بھائی! اس وقت نہ صرف پاکستان میں بلکہ پورے عالم اسلام میں اس موضوع پر بحث جاری ہے کہ نفاذِ اسلام کے لیے عسکری جدوجہد جائز ہے یا نہیں؟ اس لیے میرے خیال میں یہی وقت ہے کہ ہم اپنے موقف کا وضاحت کے ساتھ اظہار کریں۔ آپ ہمارے موقف سے اختلاف کریں، لیکن ہمیں اپنے موقف کے اظہار کے حق سے تو محروم نہ کریں۔ 
اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی کی وفات پر منعقد ہونے والی مجالس میں حاضری میرا معمول نہیں ہے، اکثر اوقات معذرت کر دیتا ہوں، لیکن اگر کہیں عمومی دینی مصلحت کے پیش نظر شریک ہونا ضروری ہو جاتا ہے تو وہاں اپنی گفتگو میں یہ وضاحت کر دیتا ہوں کہ اس قسم کی مجالس محض رسمی ہوتی ہیں، ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ اگر انہیں شرعی حیثیت دی جائے تو یہ بدعت کا درجہ اختیار کر لیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک محفل میں یہ بات میں نے قدرے وضاحت سے بیان کی تو ایک دوست نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ لوگ غم کے لیے جمع تھے، یہاں یہ بات کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ میں نے عرض کیا کہ کیا یہ بات مجھے شادی کی کسی محفل میں بیان کرنی چاہیے تھی؟ میرے بھائی! بات وہیں کہی جائے گی جو اس کا موقع ہوگا اور جہاں اس کی ضرورت ہوگی۔ 
اس لیے ہمارا موقف یہ ہے کہ اسلام کے حوالے سے عالمی اور ملکی سطح پر یا معاشرتی ماحول میں جس مسئلہ پر گفتگو چل رہی ہو یا جو سوال سامنے آجائے، اس پر اظہار خیال اہل دین کی ذمہ داری بن جاتا ہے اور کسی موضوع سے یہ کہہ کر گریز کرنا درست نہ ہوگا کہ وہ ہماری گروہی یا مسلکی ترجیحات میں شامل نہیں ہے، البتہ ایک دوسرے کے موقف اور دلائل سے ضرور واقف ہونا چاہیے اور موقف کے اظہار کے لیے زبان اور اسلوب و لہجہ کو متوازن رکھنا چاہیے۔ 
محترم فصیح احمد صاحب نے جناب جاوید احمد غامدی اور ان کے حلقۂ فکر کے بعض احباب کے مضامین کی ’’الشریعہ‘‘ میں اشاعت کا ’’طعنہ‘‘ بھی دیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی نظر صرف ان مضامین پر پڑی ہے اور انہی صفحات میں ان کے جواب میں شائع ہونے والے بیسیوں مضامین ان کی نظر کی توجہ حاصل نہیں کر سکے۔ حالانکہ غامدی صاحب کے بہت سے افکار پر متعدد اصحابِ قلم نے ناقدانہ قلم اٹھایا ہے اور ’’الشریعہ‘‘ نے تفصیل و اہتمام کے ساتھ انہیں شائع کیا ہے۔ خود راقم الحروف کے ایک درجن سے زائد مضامین ’’الشریعہ‘‘ میں شائع ہوئے ہیں جن میں غامدی صاحب کے افکار پر نقد کیا گیا ہے، حتیٰ کہ عمار خان سلّمہ نے بھی (جسے غامدی صاحب کے افکار کے فروغ کا ذریعہ قرار دینے کی ’’زیادتی‘‘ جناب فصیح احمد صاحب نے بھی بلاتکلف فرما دی ہے) ’’الشریعہ‘‘ کے انہی صفحات میں غامدی صاحب کے متعدد افکار سے اختلاف کیا ہے اور ان پر ’’علمی نقد‘‘ کیا ہے، مگر یک طرفہ مطالعہ کے خوگر دوستوں کو یہ سائیڈ دکھائی ہی نہیں دیتی اور وہ یک طرفہ طور پر ان یحدث بکل ما سمع کا ورد کیے چلے جا رہے ہیں۔ 
ہمارے ہاں شوقین مزاج نوجوان ’’یوم آزادی‘‘ یا دوسرے مواقع پر جب زیادہ موج میں ہوتے ہیں تو موٹرسائیکلوں کے سائلنسر اتار کر ’’ون ویلنگ‘‘ کرتے ہوئے گلیوں بازاروں میں شہریوں کی قوت سماعت کا امتحان لینا شروع کر دیتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ علمی اور دینی مباحث اس ماحول سے باہر نکلیں اور ہم جب کسی علمی اور فکری گفتگو اور مکالمہ کے دائرے میں داخل ہوں تو اپنے سائلنسر اور ویل چیک کر لیا کریں۔ بس اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں چاہتے۔ 
؂ شاید کہ اترجائے ’’کسی‘‘ دل میں مری بات

بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۲۳ ستمبر ۲۰۱۳ء کو اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی کے زیر اہتمام معروف عرب سکالر ڈاکٹر عامر الزمالی کی مرتب کردہ کتاب ’’بین الاقوامی قوانین انسانیت اور اسلام‘‘ (مترجم: پروفیسر محمد مشتاق احمد، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد) کی تقریب رونمائی کے موقع پر کی جانے والی گفتگو کا خلاصہ۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ! ڈاکٹر عامر الزمالی کی کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت ہمارے سامنے ہے جو مختلف اصحابِ علم کے مقالات کا مجموعہ ہے۔ پروفیسر محمد مشتاق احمد نے انتہائی مہارت اور ذوق کے ساتھ اسے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے اور آج کے دور کی ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے جس پر وہ اور بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی ہم سب کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔ بین الاقوامی قوانین و معاہدات کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مطالعہ اور مطابقت و اختلاف کے پہلوؤں کی نشاندہی ہماری اس دور کی اہم ضرورت ہے جس کی طرف ہماری توجہ نہیں ہے۔ ہمارے انتہائی محترم اور فاضل دوست ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں خاصا کام کیا تھا اور اب پروفیسر محمد مشتاق احمد کی اس طرف توجہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ خدا کرے کہ دیگر اصحابِ علم بھی اس طرف متوجہ ہوں۔ 
مجھ سے قبل جناب خورشید احمد ندیم نے اپنے خطاب میں بین الاقوامی قوانین و معاہدات کے مطالعہ اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کے تجزیہ و تحقیق کی ضرورت کا ذکر کیا ہے اور اس کے لیے مطالعہ اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کے تجزیہ و تحقیق کی ضرورت کا ذکر کیا ہے اور اس کے لیے مکالمہ و مباحثہ کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ مجھے ان کی اس بات سے اتفاق ہے اور اسی بات کو آگے بڑھانا چاہوں گا۔ لیکن گفتگو کے آغاز میں دو سال قبل لاہور میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی کے ایک سیمینار کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ مجھے بعض چہرے یہاں دکھائی دے رہے ہیں جو اس سیمینار میں بھی موجود تھے، اس لیے یاد دہانی کے طور پر اپنی گزارش کا اعادہ کروں گا۔ میں نے اس سیمینار میں عرض کیا تھا کہ بین الاقوامی معاہدات بالخصوص جنگوں سے متاثرہ افراد دیکھ بھال اور ان کے حقوق و مفادات کے بارے میں وضع کیے گئے قوانین کا اسلامی تعلیمات کے ساتھ تقابلی مطالعہ بہت بہتر بات ہے اور وقت کی ضرورت ہے، لیکن اگر اس ضرورت کا احساس ان قوانین کی ترتیب اور معاہدات کی تشکیل کے وقت کر لیا جاتا اور اسلام کو ایک زندہ معاشرتی حقیقت تسلم کرتے ہوئے معاہدات و قوانین کی تشکیل و تدوین میں اس کے احکام و قوانین کو سامنے رکھا جاتا تو آج کی صورت حال بالکل مختلف ہوتی اور یہ کاوشیں جو آج ہم کر رہے ہیں ان کی نوبت ہی نہ آتی۔ لیکن اس وقت اس ضرورت کو محسوس نہیں کیا گیا بلکہ نظر انداز کر دیا گیا جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر مشکلات پیدا ہو رہی ہیں اور ان کو حل کرنے کے لیے ہمیں اس مکالمہ کی طرف آنا پڑ رہا ہے۔
اس حوالہ سے آج یہ بحث جن نکات کے گرد گھوم رہی ہے وہ یہ ہیں کہ:
  • کیا آج کے بین الاقوامی معاہدات و قوانین اسلام سے بالکل متصادم ہیں؟
  • کیا یہ معاہدات و قوانین اسلامی تعلیمات سے مکمل موافقت رکھتے ہیں؟
  • کیا ان معاہدات و قوانین کی بنیاد اسلامی تصورات پر رکھی گئی ہے؟ اور
  • کیا ان معاہدات و قوانین کو اسلامی تعلیمات پر یا اسلامی تعلیمات کو معاہدات و قوانین پر برتری حاصل ہے؟
میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان نکات کے گرد گھومنے والی یہ ساری بحث محض تکلف ہے اور مفروضات پر مبنی ہے۔ ہمیں مفروضات کے دائرے سے ہٹ کر زمینی حقائق کی روشنی میں ان مسائل پر مکالمہ کرنا ہوگا اور معروضی صورت حال میں پیش آمدہ مشکلات کا حل نکالنا ہوگا۔ 
میری طالب علمانہ رائے میں آج کے بین الاقوامی معاہدات و قوانین کا پس منظر صرف اور صرف مغربی ہے۔ مغرب میں تاریک صدیوں کے دوران بادشاہت، جاگیرداری اور پاپائیت کی تکون کے جبر کا شکار ہونے والا معاشرتی ماحول ان معاہدات اور قوانین کا حقیقی پس منظر ہے، جبکہ مسلمانوں کا ایک ہزار سال سے زائد عرصہ کا معاشرتی ماحول اور ان کا تہذیبی پس منظر اس میں قطعی طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اس وقت یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ جس طرح مغربی سوسائٹی مسیحیت کے معاشرتی کردار سے دست بردار ہوگئی ہے، اسی طرح مسلم سوسائٹی بھی آہستہ آہستہ اپنے دین کے معاشرتی کردار سے دستبردار ہو جائے گی اور لادینی سوچ پر مبنی نئے فلسفہ و نظام کو سب سے منوانا آسان ہو جائے گا۔ لیکن یہ مغالطہ تھا کیونکہ اسلامی دنیا کو مذہب سے بے گانہ کرنے کے لیے کم و بیش دو صدیوں کی مسلسل منفی محنت کے باوجود مسلمان آج بھی دنیا میں ہر جگہ دین کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ پر قائم ہے اور دینی تعلیمات سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور آج اسلام اور بین الاقوامی معاہدات کے حوالہ سے مکالمہ کی جس ضرورت کا احساس و اظہار کیا جا رہا ہے، وہ بھی اسی حقیقت کا غماز ہے۔ اس لیے میں یہ کہتا ہوں کہ جب یہ معاہدات تشکیل پا رہے تھے اور قوانین کی ترتیب قائم کی جا رہی تھی اگر اس وقت اسلام اور مسلمانوں کو نظر انداز نہ کیا جاتا تو صورت حال یہ نہ ہوتی جس سے آج ہم دوچار ہیں۔ مگر اس وقت اسلام اور مسلمانوں کو محض رسمی طور پر ثانوی درجہ میں شریک کار بنانے کا طرز عمل اختیار کیا گیا جس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔
ڈاکٹر عامر الزمالی کی اسی کتاب میں شامل جیمس کوکین کے تفصیلی مقالہ کو ایک نظر دیکھ لیا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو ان معاہدات اور قوانین کی تشکیل و تدوین کے مرحلہ میں کس طرح پس منظر میں رکھنے کی مسلسل کوشش کی گئی۔ مجھے اس کتاب میں وہ مقالہ سب سے زیادہ دلچسپ لگا ہے اور میں نے اسے بغور پڑھا ہے۔ اس موقع پر ریڈکراس کا کام اور اس کا نشان تک جس انداز میں زیر بحث آیا اور ہلال احمر اور سرخ سورج کے نشانات پر بحث ہوئی، اس کشمکش کا تذکرہ اس کتاب میں بطور خاص پڑھنے کے لائق ہے۔ اس کے باوجود ہم اس بنیادی خلا کی بات کرتے ہوئے آج یہ نہیں کہتے کہ جو کچھ ہو چکا ہے، اسے بالکل ختم کر کے زیرو پوائنٹ پر واپس جایا جائے۔ یہ تو قابل عمل بات نہیں ہوگی مگر ہم یہ ضرور کہیں گے کہ اس خلا کو محسوس کیا جائے اور اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ بین الاقوامی معاہدات و قوانین کی تشکیل میں مسلمانوں کو ان کا حصہ اور کردار نہیں دیا گیا۔ پھر ان حقائق کے اعتراف کے ساتھ اس پورے عمل کا جائزہ لیتے ہوئے باہمی مکالمہ اور مباحثہ کے ذریعہ اس بات کا تعین کیا جائے کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات اور آج کے بین الاقوامی معاہدات و قوانین میں تعارض و اختلاف کے نکات کون سے ہیں اور ان پر نظر ثانی کر کے قابل قبول ایڈجسٹمنٹ کا ماحول کیسے قائم کیا جا سکتا ہے؟ 
میں سمجھتا ہوں کہ ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد نے جب وہ او۔آئی۔سی کے سربراہ تھے، اقوام متحدہ کی پالیسی سازی کے نظام اور انسانی حقوق کے عالمی چارٹر وغیرہ پر نظر ثانی کی جو بات کی تھی، وہ اسی حقیقت کی طرف توجہ دلانے کے لیے تھی مگر عالمی ادارے تو رہے ایک طرف، اس تجویز کو خود مسلمان حکومتوں نے قابل توجہ نہیں سمجھا تھا۔ 
میں اس سلسلہ میں ایک اور خلا کی طرف بھی توجہ دلانا چاہوں گا کہ بین الاقوامی معاہدات و قوانین اور اسلامی تعلیمات کے درمیان مکالمہ میں اسلامی تعلیمات کی طرف سے جن لوگوں کو نمائندہ سمجھا جاتا رہا ہے، وہ خود اس کنفیوژن کا ایک بڑا سبب ہیں کیونکہ وہ لوگ اپنی حکومتوں اور قوموں کی نمائندگی ضرور کر رہے ہوں گے، لیکن انہیں اسلام اور اسلامی تعلیمات کا نمائندہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ چند سال قبل مسیحیوں کے پروٹسٹنٹ فرقہ کے عالمی سربراہ آرچ بشپ آف کنٹربری ڈاکٹر روون ولیمز اسلام اباد تشریف لائے تو ان کے سامنے مذاکرات اور مکالمہ کے لیے جناب شوکت عزیز تشریف فرما تھے۔ میں نے اس وقت بھی یہ سوال اٹھایا تھا کہ آرچ بشپ آف کنٹر بری تو پروٹسٹنٹ مسیحیوں کی نمائندگی کر رہے ہیں، یہ شوکت عزیز صاحب مسلمانوں کے کون سے مکتب فکر کے نمائندہ ہیں؟ چنانچہ ہمارے ساتھ یہ دھاندلی بھی ہو رہی ہے۔ 
اس لیے میں ڈاکٹر عامر الزمالی کی اس کتاب اور بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی کی طرف سے ان معاہدات و قوانین کے حوالہ سے مکالمہ کی ضرورت کے احساس و ادراک کا خیر مقدم کرتا ہوں اور اس کتاب کی اشاعت کو اس سلسلہ میں ایک اہم پیش رفت سمجھتا ہوں۔ لیکن یہ گزارش کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مکالمہ کا فائدہ اسی صورت میں ہوگا جب ہم مفروضات کے دائروں سے نکل کر معروضی صورت حال، تاریخی پس منظر اور زمینی حقائق کی بنیاد پر حقیقت پسندی کے ساتھ اس مکالمہ اور تحقیق کو آگے بڑھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمت کام کرنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

دعوت دین اور انبیاء کرام علیہم السلام کا طریق کار

مولانا امین احسن اصلاحیؒ

انبیاء علیہم السلام نے جس طرح طہارت و عبادت اور معاشرت و معیشت سے متعلق ہماری رہنمائی کے لیے اپنی سنتیں چھوڑی ہیں، اسی طرح اصلاح معاشرہ، اقامت دین یا اسلامی نظام کے طریقہ قیام سے متعلق بھی اپنی نہایت واضح سنتیں چھوڑی ہیں جن کو اختیار کیے بغیر اقامت دین کے نصب العین کے لیے کوئی نتیجہ خیز کام نہیں کیا جا سکتا۔ ان سے ہٹ کر جو کوشش بھی اس مقصد کے لیے کی جائے گی، وہ بالکل بے برکت اور بے نتیجہ ثابت ہوگی۔ ۔۔۔ یہاں ہم اس موضوع پر تفصیل کے ساتھ لکھنے کے لیے گنجائش نہیں رکھتے۔ صرف چند اصولی باتوں کی طرف اشارہ کریں گے جس سے فی الجملہ یہ اندازہ ہو سکے گا کہ انبیاء علیہم السلام کا طریقہ کار کن خاص پہلوؤں سے اہل سیاست کے طریقوں سے مختلف ہوتا ہے۔

پہلی خصوصیت: قول اور عمل کا توافق 

سب سے پہلی چیز جو انبیاء علیہم السلام اور ان کے طریق کار کو دوسروں سے الگ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ انبیاء جن باتوں کے داعی بن کر اٹھتے ہیں، ان کے سب سے بڑے عملی مظہر وہ خود ہوتے ہیں۔ وہ جن نیکیوں کے مبلغ ہوتے ہیں اگر دوسروں سے ان پر پاؤ سیر عمل کا مطالبہ کرتے ہیں تو خود ان پر پورا سیر بھر عمل کرتے ہیں۔ اسی طرح جن برائیوں سے لوگوں کو بچنے کی تلقین کرتے ہیں ان کے بارے میں وہ دوسروں سے اگر صرف یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان سے احتراز کریں تو اپنے لیے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کی پرچھائیں بھی ان پر نہ پڑنے پائے۔ برعکس اس کے اہل سیاست کا عام طریقہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے بقول یہ ہوتا ہے کہ جس بوجھ کے اٹھانے میں وہ اپنی انگلی کا بھی سہارا نہیں دینا چاہتے اس کو وہ پورے کا پورا دوسروں کی کمر پر لاد دیتے ہیں۔ قرآن کریم نے علمائے یہود کے بارے میں فرمایا ہے کہ کہ تم دوسروں کو تو نیکی کا درس دیتے ہو لیکن خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔ اسی طرح اہل سیاست جن باتوں سے خود کوسوں دور ہوتے ہیں ان کی منادی وہ اپنی ہر تحریر اور تقریر میں کرتے پھرتے ہیں، وہ اپنے قول ہی کو عمل کا قائم مقام سمجھتے ہیں اور محض زبان کے پھاگ سے وہ ثمرات و نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں جو نتائج خون اور پسینہ ایک کر دینے سے حاصل ہوتے ہیں اور جن کے لیے آدمی کو اپنے ایک ایک بن مُو کو گواہ بنانا پڑتا ہے۔ اگر آپ ایمانداری سے اپنے حالات کا جائزہ لیں گے تو ہماری اس رائے سے اتفاق کریں گے کہ ہماری قوم کو ایک مدت دراز سے ایسے ہی طبیبوں سے سابقہ ہے جو خود سو مریضوں کے مریض ہونے کے باوجود قوم کے علاج کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور جو اپنی آنکھوں میں بڑے بڑے شہتیر چھپائے رکھنے کے باوجود دوسروں کی آنکھوں کے تنکے تلاش کرنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں ___ ایسے طبیبوں کی سعی علاج کا جو نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے وہ معلوم ہے۔ 

دوسری خصوصیت: سیاسی تبدیلی سے پہلے معاشرے کی اصلاح 

دوسری چیز جو حضرات انبیاء کے طریقہ کو دوسروں کے طریقہ سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ انبیاء سیاسی اقتدار کے حصول پر اصلاحِ معاشرہ کے کام کو منحصر نہیں قرار دیتے بلکہ معاشرہ کی اصلاح کو نظام سیاسی کی اصلاح کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ان کے طریقہ کار میں اصل اہمیت جس چیز کو حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں کے دل و دماغ اور اعمال و اخلاق تبدیل ہوں اور برائی سے لڑنے اور بھلائی کو قائم کرنے کے لیے ان کے ضمیر پوری طرح بیدار ہو جائیں۔ یہ بیداری پیدا کرنے کے لیے وہ جدوجہد کرتے ہیں اور یہ جدوجہد وہ مسلسل جاری رکھتے ہیں یہاں تک کہ دو باتوں میں سے کوئی ایک بات ظاہر ہو کر رہی ہے۔ یا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی کوششوں سے ایک صالح معاشرہ کھڑا کر دیا اور اس معاشرہ کے ہاتھوں ایک صالح نظام قائم ہوگیا ہے یا اسی مقدس کام میں ان کی زندگیاں ختم ہوگئیں اور چند نفوس کے سوا کسی نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔ حضرات انبیاء کی زندگیوں میں ان دونوں ہی چیزوں کی کی مثالیں ملتی ہیں اور اس دوسری چیز کی مثالیں کم نہیں بلکہ پہلی چیز کے مقابل میں کچھ زیادہ ہی ملتی ہیں لیکن کسی ایک نبی کی زندگی میں بھی اس بات کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ اس نے معاشرہ کی اصلاح کو نظام کی اصلاح کا ذریعہ بنانے کے بجائے اس مقصد کے لیے دعوت دینا شروع کر دی ہو کہ پہلے جس طرح بنے اقتدار پر قبضہ کرو اور پھر اس اقتدار کو اصلاح معاشرہ کا ذریعہ بناؤ۔
اس کے بالکل برعکس سیاسی طور پر کام کرنے والوں کی ساری بھاگ دوڑ حصول اقتدار کے لیے ہوتی ہے، بعض اس اقتدار کے حصول کے لیے آئینی طریقے اختیار کرتے ہیں، بعض غیر آئینی راستے اختیار کرنے میں بھی کوئی قباحت نہیں محسوس کرتے۔ جو لوگ آئینی طریقے اختیار کرتے ہیں ان کا سارا اعتماد اس بات پر ہوتا ہے کہ ووٹروں کی زیادہ سے زیادہ تعداد ان کے ساتھ ہو۔ اس وجہ سے ان کی توجہ رات دن ووٹروں کے ساتھ جوڑ توڑ پر صرف ہوتی ہے۔ ان کو ساتھ ملانے کے لیے وہ سارے جتن کر ڈالتے ہیں، یہاں تک کہ اس سرگرمی میں وہ جائز اور ناجائز کی بھی کچھ زیادہ پرواہ نہیں کرتے۔ کوئی بات اگر انہیں ناجائز محسوس ہوتی بھی ہے تو یہ خیال کر کے اپنے اس ناجائز کو بنا لیتے ہیں کہ کسی بڑے مقصد کے لیے کسی چھوٹے ناجائز کو جائز کر لینے میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ ووٹروں سے ان کا سارا یارانہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ ان کے خیر و شر سے انہیں کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔ اگر وہ اپنے ووٹ انہیں دے دیں تو ان کے نقطہ نظر سے وہ معاشرہ کے بہترین افراد ہیں اگرچہ وہ فی الواقع اتنے برے ہوں کہ ان کے فتنوں سے شیطان بھی پناہ مانگتا ہو۔ اس طرز کے لوگ اگر معاشرہ کی خدمت اور اصلاح کا کوئی چھوٹا بڑا کام کرتے بھی ہیں تو اس میں بھی خلوص اور للہیت کا حصہ بہت کم ہوتا ہے۔ اصل پیش نظر مقصد وہی ہوتا ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے، یعنی یہ کہ ان کی ان خدمتوں سے متاثر ہو کر انتخابات میں لوگ اپنے ووٹ ان کے حق میں استعمال کریں۔ یہ مقصد اس گروہ پر اتنا غالب ہوتا ہے کہ اگر کہا جائے کہ یہ حضرات اپنے انتخابی حلقوں میں نماز بھی اگر پڑھتے ہیں تو اس ووٹ کے مقصد ہی سے پڑھتے ہیں تو شاید اس میں بھی کوئی مبالغہ نہ ہو۔ پھر خاص بات یہ ہے کہ ان سیاسی کار فرماؤں کا سارا جوش کار صرف اس وقت تک باقی رہتا ہے، جب تک ان کے لیے برطانوی طرز کا پارلیمانی نظام ملک میں قائم رہے۔ اگر یہ نظام قائم نہ ہو تو ان کا سارا جوشِ جہاد و اصلاح اس طرح ٹھنڈا پڑ جاتا ہے گویا سو مُردوں کے یہ ایک مردہ ہیں۔ یہ ساری خرابی در حقیقت ان کے طریق کار کی ہے ورنہ انبیاء علیہم السلام اس بات کے محتاج کب رہے ہیں کہ ملک میں امریکی یا انگریزی طرز کا نظام ہو تب وہ کام کریں ورنہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں۔ 
یہ ذکر آئینی طریقہ پر کام کرنے والوں کا تھا، جو لوگ غیر آئینی طریقہ پر کام کرتے ہیں ان کا اعتماد خفیہ سازشوں پر ہوتا ہے۔ وہ اپنے نظریات کھلے میدان میں عقل اور استدلال کی راہ سے منوانے پر اعتماد نہیں رکھتے، اس وجہ سے سازشی طریقے اختیار کرتے ہیں۔ اس راہ سے اقتدار حاصل کرنے میں اگر ان کو کامیابی ہو جاتی ہے تو پھرسیاسی جبر کے ذریعے سے وہ معاشرہ پر اپنے نظریات مسلط کر دیتے ہیں۔ اشتراکیت کے علمبرداروں کا طریق کار یہی ہے۔ ظاہر ہے یہ طریق کار انبیاء کے طریق کار سے پہلے طریقہ سے بھی زیادہ دور ہے، اس لیے کہ اس کی بنیاد جبر پر ہے اور انبیاء کے طریقہ میں جبر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ خواہ یہ جبر آئین کے ذریعہ سے حاصل کردہ اقتدار کے ہاتھوں استعمال ہو یا سازش کے ذریعہ سے حاصل کردہ اقتدار کے ذریعہ سے۔ ہاتھوں کے اختلاف سے اصل حقیقت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ اسلامی نظام کوئی مجبوری کا سودا نہیں ہے بلکہ آزادانہ ایمان و اسلام کا معاملہ ہے اور اس کے لیے واحد پسندیدہ طریقہ یہی ہے کہ ایک آزاد اسلامی معاشرہ میں اس کی آزادانہ مرضی اور آزادانہ رائے سے قائم ہو۔ وہ لوگ اس کو قائم کریں جنہوں نے عقل سے اس کو قبول کیا ہو، دل سے اس کو مانا ہو اور عمل سے اس کی گواہی دے رہے ہوں۔ 
بعض لوگوں کو یہ شبہ ہوتا ہے کہ اگر اسلامی نظام کا قیام معاشرہ کی اصلاح ہی پر منحصر ہے اور اس کے لیے اہل سیاست کے سے طریقے نہیں اختیار کیے جا سکتے تو پھر یہ بیل کبھی منڈھے نہیں چڑھ سکتی۔ ان کے خیال میں یہ طریق کار اتنی طویل مدت چاہتا ہے کہ جب تک معاشرہ کی اصلاح ہوگی، اس وقت تک جو خرابیاں آج پاؤ سیر ہیں موجودہ نظام کے زیر سایہ پرورش پا کر من بھر ہو جائیں گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ آج اگر اسلام کا نام لینے کا موقع ہے تو کل یہ نام لینے کا بھی امکان باقی نہیں رہے گا۔ یہ بات بہت سے لوگوں کو دھوکے میں ڈالے ہوئے ہے لیکن ہمارے خیال میں اس میں کئی مغالطے چھپے ہوئے ہیں۔ 
اس میں پہلا مغالطہ تو یہ ہے کہ یہ حضرات اس بات کو محسوس نہیں کرتے کہ اگر ایک صحیح کام صحیح طریقہ پر کرنے میں بہت دیر لگنے کا اندیشہ ہے تو اس کی تلافی کا یہ کون سا دانشمندانہ طریقہ ہے کہ ایک غلط کام بالکل غلط طریقہ ہی پر کر ڈالا جائے، غلط کام بہرحال غلط ہے۔ وہ اس وجہ سے صحیح نہیں بن جائے گا کہ وہ جلدی سے انجام پاجاتا ہے۔ ہر کام کی ایک مخصوص فطرت ہوتی ہے اور وہ نتیجہ خیز اسی صورت میں ہوتا ہے، جب اس کو اس کے مخصوص ڈھب پر انجام دیا جائے، اگرچہ اس میں کتنا ہی وقت لگے۔ 
دوسرا مغالطہ یہ ہے کہ بعض لوگ زبان کے پھاگ اور عمل کے جہاد میں اثرات و نتائج کے لحاظ سے جو فرق ہے اس کو نہیں سمجھتے۔ اگر اسلامی نظام کا دعویٰ محض زبان اور قلم پر ہو، عملی زندگی اسلام کے حقیقی رنگ میں رنگی ہوئی نہ ہو تو اسلامی نظام تا قیامت قائم نہیں ہو سکتا، اگرچہ آپ کو سیاسی اقتدار حاصل ہی کیوں نہ ہو جائے۔ سیاسی اقتدار دنیا میں اسلام کے بہت سے مدعیوں کو حاصل ہوا لیکن اسلام کے لیے وہ اگر کچھ مفید ہوا تو اسی شکل میں ہوا جب اقتدار والوں کی عملی زندگیوں میں اسلام کا کچھ اثر رہا۔ برخلاف اس کے ہم نے اپنی آنکھوں سے ایسے اشخاص دیکھے ہیں، جنہوں نے چند سالوں کے اندر اندر معاشرہ کے معاشرہ کو اپنے رنگ میں رنگ ڈالا اور ملکوں اور قوموں کی قسمتیں بدل دیں۔ حالانکہ جب انہوں نے یہ کام کیے ان کو سیاسی اقتدار حاصل نہیں تھا۔ اگر ان کو کوئی چیز حاصل تھی تو صرف یہ تھی کہ وہ اپنے اصولوں، نظریات اور اپنے دعاویٰ کے فی الواقع عملی مظہر تھے۔ اگرچہ ہمارے نزدیک ان کے بہت سے نظریات صحیح نہیں تھے، لیکن کردار کا جادو وہ چیز ہے کہ بسا اوقات یہ کنجشک فرومایہ کو بھی عقاب و شاہین کی سرعت بخش دیتا ہے۔ 
تیسرا مغالطہ یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر اقتدار پر قبضہ کر کے برائی کے پھیلانے والے طاقتور ہاتھوں کو معطل نہ کر دیا جائے تو بھلائی کے پھیلانے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ ہمارے نزدیک یہ بات بھی صحیح نہیں ہے۔ کسی معاشرہ میں برائی پھیلنے کی اصل وجہ یہ نہیں ہوتی کہ برائی پھیلانے والے ہاتھ بڑ ے زور دار اور مؤثر ہیں، بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہوا کرتی ہے کہ ان برائیوں کی برائی سے لوگوں کو آگاہ کرنے والے یا تو موجود ہی نہیں ہوتے یا موجود تو ہوتے ہیں لیکن ان میں اخلاص، دلسوزی، درد مندی اور عزیمت نہیں ہوتی۔ اگر کسی معاشرہ کے اندر معاشرہ کا سچا درد رکھنے والے، برائیوں پر تڑپ جانے والے، علم و دلیل کے ساتھ بات کرنے والے اور ہر برائی کے مقابل میں صداقت و عزیمت کے ساتھ ڈٹ جانے والے موجود ہوں تو وہ کسی سیاسی طاقت کے بغیر برائی کے طاقتور سے طاقتور ہاتھوں کو بھی معطل کر کے رکھ دیتے ہیں۔ ایسے مردانِ حق کے سامنے برائی خود کتنے ہی زور اور دبدبہ کے ساتھ آئے لیکن وہ بھلائی کو مغلوب کرنے کے بجائے خود اپنے آپ کو عریاں کرتی ہے اور بالآخر اسے میدان سے پسپا ہونا پڑتا ہے۔ اس کے خلاف اگر کوئی شہادت ہمیں ملتی ہے تو صرف ایسے معاشرہ کے اندر ملتی ہے جس کا فساد اس قدر بڑھ چکا ہو کہ قدرت کی طرف سے اس کے لیے ہلاکت مقدر ہو چکی ہو ورنہ معاشرہ کے اندر اگر زندگی کی کوئی رمق باقی ہے تو صحیح طور پر کام کرنے والوں نے ان مظالم کو بھی حق کے لیے غذا بنا دیا ہے، جو طاقتور ہاتھوں نے باطل کی حمایت میں کیے ہیں۔ تنور میں آگ زوردار ہو تو گیلی لکڑی بھی اس کو بجھانے کے بجائے اس کے لیے ایندھن کا کام دے جاتی ہے۔ 

تیسری خصوصیت: الحب للہ والبغض للہ 

انبیاء علیہم السلام کے طریق کار کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ ان کی مخالفت و موافقت جو کچھ بھی ہوتی ہے للہ و فی اللہ ہوتی ہے۔ ان کی محبت بھی اللہ کے لیے ہوتی ہے اور دشمنی بھی صرف اللہ کے لیے، وہ حق کے ساتھی ہیں، خواہ ان کے دشمن ہی کے اندر پایا جائے اور باطل کے وہ مخالف ہوتے ہیں، اگرچہ وہ ان کے کسی ہواخواہ کے اندر ہی کیوں نہ پایا جائے۔ انہیں کسی خاندان، کسی گروہ، کسی پارٹی اور کسی قوم سے محض اس کے ایک مخصوص گروہ یا خاندان یا پارٹی ہونے کے سبب سے نہ دشمنی ہوئی اور نہ دوستی۔ دشمنی اور دوستی جو کچھ انہیں ہوتی ہے وہ اصول و عقائد اور اعمال و اخلاق کی بناء پر ہوتی ہے۔ وہ اپنے مخالف کی خوبیوں کا بھی اسی فیاضی کے ساتھ اعتراف کرتے ہیں جس فیاضی کے ساتھ اپنے موافق کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہیں، اور اسی طرح اپنے موافق کی برائیوں پر بھی اسی شدت کے ساتھ نکیر کرتے ہیں جس شدت کے ساتھ اپنے کسی مخالف کی برائیوں پر نکیر کرتے ہیں۔
برعکس اس کے جو لوگ سیاسی طریقوں پر کام کرتے ہیں، ان کی دوستی اور دشمنی ان کے گروہی مفاد اور سیاسی مصالح و اغراض پر مبنی ہوتی ہے۔ ان کی تمام جدوجہد کا محور صرف اقتدار ہوتا ہے، اس وجہ سے ان کی یہ فطرت بن جاتی ہے کہ جو اقتدار سے محروم ہوں وہ اصحاب اقتدار کے اندر کسی خوبی کا اقرار نہ کریں اگرچہ وہ خوبی سورج کی طرح روشن ہو اور جو اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوں وہ اقتدار سے محروم جماعتوں کی کسی خوبی کا اعتراف نہ کریں اگرچہ وہ خوبی اندھوں کو بھی نظر آرہی ہو۔ جس طرح ہم نے آج تک کسی ہڈی کی موجودگی میں دو کتوں کو ایک دوسرے کے لیے انصاف پسند اور خیر خواہ نہیں پایا اسی طرح اقتدار کی استخوان نزاع کی موجودگی میں اقتدار کے حاملین اور اقتدار سے محرومین کو کبھی ایک دوسرے کے لیے خیر خواہ اور انصاف پسند نہیں پایا۔ اختلاف برائے اختلاف ان کا دین ہوتا ہے اور اپنے اس دین کی پیروی وہ بہ حالت ہوش و حواس اور بہ ثبات عقل و اختیار کرتے ہیں اور اس احمقانہ رویّہ کو اپنی سیاسی زندگی کی ایسی ناگزیر ضرورت بتاتے ہیں جس سے ان کے نزدیک مفر کی کوئی صورت ہی باقی نہیں ہے۔ 

چوتھی خصوصیت: اصل نہج تبلیغ و شہادت 

انبیاء علیہم السلام دنیا میں اللہ کا دین قائم کرنے کے لیے آئے، اور اس مقصد کے لیے جس چیز کو انہوں نے ذریعہ اور وسیلہ بنایا وہ تبلیغ و شہادت ہے۔ تبلیغ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو دین ان پر اتارا، انہوں نے بغیر کسی کمی بیشی، بغیر کسی دخل و تصرف اور بغیر کسی رد و بدل کے پوری وضاحت و صراحت کے ساتھ خلق خدا کو پہنچا دیا۔ نہ اس کے مزاج میں کوئی تغیر ہونے دیا، نہ اس کے مواد میں، نہ اس کے انداز میں کوئی تبدیلی پیدا کی، نہ اس کی تدریج میں۔ وہ اللہ کے دین کے امین تھے، اس کے موجد اور مصنف نہیں تھے۔ اس وجہ سے اپنی ذمہ داری انہوں نے ہر طرح کے حالات میں صرف یہ سمجھی کہ اس کے پیغام کو لوگوں تک پہنچائیں۔ انہوں نے اس بات کی پروا کبھی نہیں کی کہ اس دین کی تبلیغ حالات و مصالح کے مطابق ہے یا نہیں اور لوگ اس کو رد کریں گے یا قبول کریں گے۔ اگر مصلحت کے پرستاروں کی طرف سے کبھی یہ اصرار کیا گیا کہ فلاں بات میں اگر یہ ترمیم و اصلاح کر دی جائے تو وہ پورے دین کو بخوشی قبول کر لیں گے تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم اپنی جانب سے اس میں کسی رد و بدل کے مجاز نہیں ہیں جس کا جی چاہے اس کو قبول کرے، جس کا جی نہ چاہے وہ رد کر دے۔ 
شہادت کا مطلب یہ ہے کہ دل سے، زبان سے، قول سے، عمل سے، خلوت سے، جلوت سے، زندگی سے، موت سے، غرض اپنی ایک ایک ادا سے انہوں نے اسی دین کی گواہی دی جس کے وہ داعی بن کر آئے۔ ان کی زندگی کی کتاب اور ان کی دعوت کی کتاب میں کوئی فرق نہیں ہوا۔ انہوں نے جس چیز سے دوسروں کو روکا، اس سے پوری شدت کے ساتھ خود پرہیز کیا۔ جس چیز کا دوسروں کو حکم دیا اس پر خود پوری قوت و عزیمت کے ساتھ عمل کیا۔ ان کی دعوت اور ان کی زندگی کی یہی مکمل مطابقت در حقیقت ان کی دعوت کی صداقت کی وہ دلیل بنی جس کو ان کے کٹر سے کٹر دشمن بھی جھٹلانے کی جرأت نہ کر سکے۔ 
اس کے بالکل برعکس معاملہ اہل سیاست کا ہے۔ اہل سیاست خدا کا دین نہیں قائم کرتے بلکہ تحریک چلاتے ہیں۔ اگر وہ دین کا نام لیتے بھی ہیں تو وہ دین بھی ان کی تحریک ہی کا ایک جزو ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جس وادی میں ان کی تحریک ٹھوکریں کھاتی پھرتی ہے، ان ساری وادیوں میں ان کا دین بھی بھٹکتا پھرتا ہے۔ ایک تحریک کے لیے تبلیغ اور شہادت کے معصوم ذریعے بالکل بیکار ہیں۔ اس لیے اہل سیاست کا سارا اعتماد اپنے مقصد کی کامیابی کی راہ میں پروپیگنڈے پر ہوتا ہے۔ پروپیگنڈے اور تبلیغ میں صرف انگریزی اور عربی ہی کا فرق نہیں ہے بلکہ روح اور جوہر کا بھی فرق ہے۔ تبلیغ تو جیسا کہ واضح ہو چکا ہے صرف اللہ کے دین کو پورا پورا پہنچا دینا ہے، لیکن پروپیگنڈے کا مقصود پیش نظر تحریک کو کامیاب بنانا ہوتا ہے، یہ کامیابی جس طرح بھی حاصل ہو۔ پروپیگنڈا ایک مستقل فن ہے جس کو زمانہ حال کی سیاسی تحریکات نے جنم دیا ہے، اور اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ان تمام اخلاقی حدود و قیود سے بالکل آزاد ہوتا ہے جن کی پابندی حضرات انبیاء علیہم السلام نے اپنے اقامت دین کے کام میں واجب سمجھی ہے۔ 
مناسب ہوگا کہ ہم مختصر طور پر پروپیگنڈے کی چند خصوصیات کی طرف بھی اشارہ کر دیں تاکہ سیاسی تحریکات کے اس سب سے بڑے وسیلۂ کار اور تبلیغ کے درمیان جو فرق ہے، وہ واضح ہو کر سامنے آجائے۔ 
پروپیگنڈے کے اجزائے ترکیبی پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس کے اندر جزو اکبر کی حیثیت مبالغہ کو حاصل ہوتی ہے۔ بات کا بتنگڑ اور رائی کا پربت بنانا اس کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔ کوئی مجمع ۵ سو کا ہوگا تو وہ اس کی بدولت اخبارات کی شہ سرخیوں میں ۵ ہزار کا بن جائے گا۔ کسی کا استقبال دس آدمی کریں گے تو یہ دس آدمی اس پروپیگنڈے کی کرشمہ سازی سے دس ہزار بن جائیں گے۔ کسی بستی یا شہر کے دو چار آدمی اگر کسی مسلک سیاسی کے ساتھ ذرا سی ہمدردی کا بھی اظہار کر دیں گے تو اس مسلک کے حامی اپنے اخبارات و رسائل میں یوں ظاہر کریں گے کہ گویا وہ پورے کا پورا شہر ان کی تائید و حمایت میں دیوانہ وار اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اگر کسی باہر کے ملک سے تائید و ہمدردی کا ایک کارڈ بھی آجائے گا تو پریس میں اس کی تشہیر یوں ہوگی کہ فلاں ملک کو فلاں تحریک نے بالکل مسخر کر لیا ہے۔ اگر کوئی خدمت حقیقت کے ترازو میں چھٹانک ہوگی تو پروپیگنڈے کی مشینری کا یہ فرض ہے کہ وہ اس کو کم از کم من بھر دکھائے۔ اس جھوٹ اور مبالغہ آرائی کو موجودہ زمانہ میں ہمارے اہل سیاست نے اس طرح اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے کہ اب اس کے برائی ہونے کا شاید لوگوں کے اندر احساس بھی مردہ ہوگیا ہے۔ اس کوچہ میں بدنام تو اکیلا غریب گوئبلز ہے (اور اس کی یہ بدنامی بھی پروپیگنڈے ہی کا کرشمہ ہے) لیکن حقیقت اور انصاف یہ ہے کہ اس سیاست کے حمام میں سب کو گوئبلز ہی کے اسوہ کی پیروی کرنی پڑتی ہے۔ خواہ کوئی شخص دنیا کا نام لیتا ہوا اس میں داخل ہوا یا دین کا کلمہ پڑھتا ہوا داخل ہوا۔ 
اس جھوٹ اور مبالغہ ہی کا ایک پہلو یہ ہے کہ اپنے موافق کو مدح و توصیف سے آسمان پر پہنچایا جائے، اور جس کو مخالف قرار دے لیا جائے اس کے خلاف اتنے جھوٹ اور اتنی تہمتیں تراشی جائیں کہ وہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رہ جائے۔ اسلام میں تو مدح و ذم اور تعریف و ہجو دونوں کے لیے سخت حدود و قیود ہیں، اور کوئی شخص دین سے بے قید ہوئے بغیر اپنے آپ کو ان حدود و قیود سے آزاد نہیں کر سکتا۔ لیکن سیاست میں صرف ایک ہی اصول چلتا ہے، وہ یہ کہ اپنے موافق کو آسمان پر پہنچاؤ اور اپنے مخالف کو تحت الثرٰی میں گراؤ۔ اور اس مقصد کے لیے جس قسم کے جھوٹ اور جس نوع کے افترا کی ضرورت پیش آئے اس کو بے تکلف گھڑو اور بالکل بے خوف ہو کر اس کو لوگوں میں پھیلاؤ۔ صحیح اسلامی نقطہ نظر سے یہ بات کتنی ہی بے حیائی اور بے شرمی کی سمجھی جائے، لیکن اہل سیاست اپنی تحریکات کی کامیابی کے لیے اس چیز کو ناگزیر خیال کرتے ہیں، ان کے نزدیک اسی طرح وہ اشخاص اٹھتے ہیں جو تحریک کی گاڑی کو چلاتے ہیں، اور اسی طرح وہ اشخاص گرتے ہیں جو تحریک کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ یہ خفض و رفع کا فلسفہ ایک مستقل فلسفہ ہے جس کے تحت کتنے بے علم ہیں جو مولانا اور علامہ کا مقام حاصل کر لیتے ہیں، اور کتنے صاحب علم و تقویٰ ہیں جن کی پگڑیاں اچھلتی رہتی ہیں۔ 

پانچویں خصوصیت: مقصودِ حقیقی صرف فلاح اخروی

ایک اور چیز جو انبیاء علیہم السلام کے طریق کار کو عام اہل دنیا کے طریقہ ہائے کار سے نمایاں کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کی تمام جدوجہد میں مطلوب و مقصود کی حیثیت صرف خدا کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی کو حاصل ہوتی ہے۔ اس چیز کے سوا کوئی اور چیز ان کے پیش نظر نہیں ہوتی۔ اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی جدوجہد کی کامیابی سے اللہ کے دین کو اور دین کے لیے کام کرنے والوں کو دنیا میں بھی غلبہ اور تفوق حاصل ہوتا ہے۔ لیکن وہ اس بات کی دعوت کبھی نہیں دیتے کہ آؤ حکومت الٰہیہ قائم کرو یا اقتدار حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرو۔ بلکہ دعوت صرف اللہ کے دین پر چلنے اور اس پر چلانے ہی کی دیتے ہیں۔ اس لیے کہ آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کے لیے خدا کے دین پر چلنا اور اسی پر دوسروں کو بھی چلنے کی دعوت دینا شرط ضروری ہے۔
اس کے برعکس اہل سیاست کی ساری تگ و دو کا مقصود اقتدار کا حصول ہوتا ہے۔ وہ اسی اقتدار کے حصول کے لیے اپنی تنظیم کرتے ہیں، اور اسی کے لیے لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔ یہ مقصود ایک خاص دنیوی مقصود ہے لیکن بعض لوگ اس پر دین کا ملمع کر کے اس چیز کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ وہ یہ اقتدار اپنے لیے نہیں چاہتے بلکہ خدا کے لیے یا اس کے دین کے لیے چاہتے ہیں، ضروری نہیں ہے کہ ان کی نیتوں پر شبہ کیا جائے، ہو سکتا ہے کہ وہ جس اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، وہ خدا ہی کے لیے استعمال کریں، لیکن اس سے جدوجہد کا نصب العین بالکل تبدیل ہو جاتا ہے اور اس نصب العین کی تبدیلی کا جدوجہد کی مزاجی خصوصیات پر برا اثر پڑتا ہے بلکہ سچ پوچھئے تو یہ نصب العین کی تبدیلی سارے کام ہی کو بالکل درہم برہم کر کے رکھ دیتی ہے۔
ہم جس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں وہ اچھی طرح واضح اس طرح ہوتی ہے کہ اہل سیاست جس دنیوی اقتدار کے حصول کو تمام خیر و فلاح کا ضامن سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ دین کی خدمت کا کوئی کام بھی ان کے نزدیک اس وقت تک انجام ہی نہیں دیا جا سکتا جب تک اقتدار حاصل نہ ہو جائے۔ اس اقتدار کو انبیاء علیہم السلام نے اس نصب العین کے لیے نہایت خطرناک سمجھا ہے جس کے داعی وہ خود رہے ہیں۔ چنانچہ متعدد احادیث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ آپؐ نے صحابہؓ کو اس بات سے آگاہ فرمایا کہ میں تمہارے لیے فقر و غربت سے نہیں ڈرتا بلکہ اس بات سے ڈرتا ہوں کہ دنیا کی عزت و ثروت تمہیں حاصل ہوگی اور تم اس کے انہماک میں اصل نصب العین یعنی آخرت کو بھول جاؤ گے۔ آپ کا ارشاد ہے، خدا کی قسم میں تمہارے لیے فقر سے نہیں ڈرتا، بلکہ جس بات سے ڈرتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ دنیا جس طرح تم سے پہلے والوں کے لیے کھول دی گئی، اسی طرح تمہارے لیے بھی کھول دی جائے گی، پھر جس طرح وہ اس کی بھاگ دوڑ میں مصروف ہوگئے، اسی طرح تم بھی اس کے لیے بھاگ دوڑ میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ پھر یہ تمہیں بھی اسی طرح ہلاک کر چھوڑے گی جس طرح اس نے تمہارے پہلوں کو ہلاک کر چھوڑا۔
مذکورہ حدیث سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی جدوجہد میں اصل مطمح نظر کی حیثیت آخرت کو حاصل ہوتی ہے۔ دنیا کا اقتدار اس نصب العین کے لیے مفید بھی ہو سکتا ہے اور مضر بھی، بلکہ مضر ہونا زیادہ اقرب ہے۔ اس وجہ سے جو لوگ انبیاء علیہم السلام کے طریقہ پر کام کرتے ہیں وہ اس اقتدار کو بھی خدا کی ایک بہت بڑی آزمائش سمجھتے ہیں، اور ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جس طرح غربت اور فقر کے دور میں انہیں آخرت کے لیے کام کرنے کی توفیق حاصل ہوئی ہے، اسی طرح امارت و سیادت کے دور میں بھی اس نصب العین پر قائم رہنے کی سعادت حاصل ہو۔ انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں اس امر کا کوئی ادنیٰ نشان بھی نہیں ملتا کہ اقتدار کو انہوں نے اصل نصب العین سمجھا ہو یا اصل نصب العین کے لیے اس کو کوئی بڑی سازگار چیز سمجھا ہو۔
ہماری اس تقریر سے کسی صاحب کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ہم یہ رہبانیت کی دعوت دے رہے ہیں۔ ہم رہبانیت کی دعوت نہیں دے رہے ہیں بلکہ اس حقیقت کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کی تمام جدوجہد کا مقصود آخرت ہوتی ہے، وہ اسی کے لیے خلق خدا کو دعوت دیتے ہیں، اسی کے لیے لوگوں کو منظم کرتے ہیں، اسی کے لیے جیتے ہیں، اور اسی کے لیے مرتے ہیں، اسی چیز سے ان کی جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے، اور اسی چیز پر اس کی انتہا ہوتی ہے، ان کی تمام سرگرمیوں میں محرک کی حیثیت بھی اسی چیز کو حاصل ہوتی ہے، اور غایت و مقصود کی حیثیت بھی اسی کو حاصل ہوتی ہے، وہ دنیا کو آخرت کے منافی نہیں قرار دیتے، بلکہ دنیا کو آخرت کی کھیتی قرار دیتے ہیں۔ ان کی دعوت یہ نہیں ہوتی کہ لوگ دنیا کو چھوڑ دیں، بلکہ اس بات کے لیے ہوتی ہے کہ وہ اس دنیا کو آخرت کے لیے استعمال کریں۔
ان کے ہر کام پر ان کے اس نصب العین کے حاوی ہونے کا خاص اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد میں کسی ایسی چیز کو کبھی گوارا نہیں کرتے جو ان کے اس اعلیٰ نصب العین کی عزت و حرمت کو بٹہ لگانے والی ہو۔ ان کے مقصد کی طرح ان کے وسائل و ذرائع بھی نہایت پاکیزہ ہوتے ہیں۔ وہ کامیابی حاصل کرنے کی دھن میں کبھی ایسی چیزوں کا سہارا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے، جن کی پاکیزگی مشتبہ اور مشکوک ہو۔ ان کی کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ کرنے والی میزان بھی چونکہ اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں ہے، اسی وجہ سے ان کی کامیابی اور ناکامی کے معیارات بھی عام اہل سیاست کے معیارات سے بالکل مختلف ہیں۔ اہل سیاست کے ہاں تو کامیابی کا معیار ان کے نصب العین کے لحاظ سے یہ ہے کہ ان کو دنیا میں اقتدار حاصل ہو جائے۔ اگر یہ چیز ان کو حاصل نہ ہو سکے تو پھر وہ ناکام و نامراد ہیں، لیکن انبیاء کے طریقہ پر جو لوگ کام کرتے ہیں ان کی کامیابی کے لیے صرف یہ شرط ہے کہ وہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقہ پر صرف اللہ ہی کی رضا کے لیے کام کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ اسی حالت پر ان کا خاتمہ ہو جائے۔ اگر یہ چیز ان کو حاصل ہوگئی تو وہ کامیاب ہیں، اگرچہ ان کے سایہ کے سوا کوئی ایک متنفس بھی اس دنیا میں ان کا ساتھ دینے والا نہ بن سکا ہو، اور اگر یہ چیز ان کو حاصل نہ ہو سکی تو وہ ناکام ہیں، اگرچہ انہوں نے تمام عرب و عجم کو اپنے اردگرد اکٹھا کر لیا ہو۔ 
بہرحال ہمارے نزدیک اسلام اور اسلامی زندگی کے احیاء کے لیے کام کرنے والوں کو اہل سیاست کے طریقوں سے کلیۃً پرہیز کرنا چاہیے۔ انہیں حصول اقتدار کی خواہش، ووٹ حاصل کرنے کی غرض اور سیاسی جوڑ توڑ کے ہر شعبہ سے پاک اور بالاتر ہو کر عوام کے پاس صرف ان کی خدمت اور ان کی مذہبی و اخلاقی اصلاح کے لیے جانا چاہیے۔ جو برائیاں اس وقت معاشرے میں عام ہو رہی ہیں ان کے دنیوی اور اخروی نقصانات دلسوزی اور ہمدردی کے ساتھ انہیں بتانے چاہئیں۔ جن فضول قسم کے مذہبی مناقشات میں اس وقت ہمارا دینی طبقہ الجھا ہوا ہے، علماء اور عوام دونوں کو ان کے مضر نتائج سے آگاہ کرنا چاہیے، اور یہ کام ان لوگوں کو کرنا چاہیے جو خود دینی رنگ میں گہرے طور پر رنگے ہوئے ہوں، اسلام کا نام محض ان کی زبانوں ہی پر نہ ہو بلکہ ان کے دلوں میں بھی اترا ہوا ہو، اور جو صرف لٹریچر اور پروپیگنڈے ہی کو حصول مقصود کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ اپنے عمل اور اپنے کردار سے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر لیں۔

اس وقت کرنے کا کام 

اس وقت سب سے اہم کام کرنے کا یہ ہے کہ جدید فکر و فلسفہ کی بدولت اسلام کے خلاف خود مسلمانوں ہی کے ایک طبقہ کے اندر جو ذہنی اور عملی بغاوت پھل رہی ہے، اس کو روکنے کی ہر ممکن سعی کی جائے۔ اس کو روکنے کے لیے کوئی ہنگامی اور وقتی تدبیر کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ایک سے زیادہ ایسے علمی و تحقیقی اداروں کی ضرورت ہے جو اسلام کی خدمت کے لیے ذہین اور صالح فطرت نوجوانوں کی تربیت بھی کریں اور جو ان تمام مسائل پر بلند پایہ علمی اور تحقیقی لٹریچر بھی تیار کریں جو مغربی فکر و فلسفہ کی فتنہ انگیزیوں سے اسلام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، اور جن سے ہمارا پورا جدید تعلیم یافتہ طبقہ اس وقت بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کا اب ہمیں اعتراف کر لینا چاہیے کہ ہمارے موجودہ مذہبی طبقے کے اندر اس فتنہ کے مقابلہ کی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔ اس کام کے لیے، ایسے رجال فکر تیار کرنے کی ضرورت ہے، جو اسلام کی حمایت و مدافعت کے لیے جدید اسلحہ سے مسلح ہوں۔ اگر اس قسم کے اشخاص پیدا کرنے کا جلدی سے جلدی کوئی انتظام نہ ہوا تو ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اس ملک میں اسلام کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ یہ بات اگرچہ نہایت ہی درد انگیز ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے، اس وجہ سے ہمیں کہنی پڑتی ہے، اور خاص طور پر اس وجہ سے کہنی پڑتی ہے کہ جس چیز پر اس ملک میں اسلام کا انحصار ہے، اس کے لیے کوئی عملی اقدام تو درکنار اب تک اس کا کوئی احساس بھی ہماری قوم کے اندر نہیں پایا جاتا۔ 
اس چیز کے مفید تر بنانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ یہ کام ایسے لوگوں کے ہاتھوں انجام پائے، جن پر کسی خاص پارٹی یا جماعت کا لیبل لگا ہوا نہ ہو ، تاکہ ہماری قوم کا ہر طبقہ بغیر کسی شک اور بد گمانی کے اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ بسا اوقات ہم نے دیکھا ہے کہ نہایت اعلیٰ مذہبی اور عملی خدمات محض اس وجہ سے شکوک اور بد گمانیوں کی نذر ہو جاتی ہیں، اور لوگوں کے اندر ان کے خلاف تعصبات پیدا ہو جاتے ہیں کہ ان خدمات کے انجام دینے والوں پر کسی خاص پارٹی یا جماعت کا لیبل لگا ہوا ہوتا ہے۔ بعض حالات میں اس بدگمانی کے لیے نہایت معقول اسباب بھی ہوتے ہیں، تجربہ گواہ ہے کہ پارٹیوں اور جماعتوں کے ساتھ وابستہ ہوجانے کے بعد پارٹی کے طرز فکر اور جماعت کے مخصوص رجحانات کا اتنا غلبہ ہو جاتا ہے کہ آدمی کے سوچنے کا انداز علمی کی بجائے بالکل سیاسی ہو جاتا ہے۔ اس کے متعلق یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ اس کے فکر کا کتنا حصہ بے آمیز اور خالص ہے اور کتنا اس کے اپنے جماعتی رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ جماعتی عصبیت کے مریضوں نے حقائق کو مسخ کرنے اور ہر چیز کو (یہاں تک کہ اللہ و رسول کو بھی) اپنے رنگ میں دکھانے کی ایسی مکروہ کوششیں کی ہیں کہ ان کے کسی کام کو بھی جنبہ داری سے بالاتر سمجھنا مشکل ہوگیا ہے۔ 
ممکن ہے کسی کے ذہن میں اس مقام پر یہ شبہ پیدا ہو کہ یہ فکر دینے والا گروہ اگر ہر قسم کی سیاسی تنظیمات سے بالکل الگ تھلگ رہے تو اس فکر سے اجتماعی زندگی متاثر کس طرح ہوگی اور اس سے کوئی انقلاب کس طرح رونما ہوگا؟ یہ شبہ جن لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے وہ دنیا کے انقلابات کی تاریخ اور ان کی حقیقت سے بالکل بے خبر ہیں۔ یہ بالکل ضروری نہیں ہے کہ جو اشخاص فکر دیں، وہی انقلاب کا چکر بھی گھمائیں، ایک صحت مند اور طاقت ور فکر خود اپنے حامی اور علمبردار پیدا کر لیتی ہے اور وقت آنے پر اس کے لیے کام کرنے اور اس کو عملاً برپا کر دینے والے خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں۔ روح انسانی آج جس چیز کے لیے بے چین ہے، آپ اس کے مہیا کرنے کا سامان کیجیے، اس میں اگر زندگی ہوگی تو قبرستان کے مردوں کو بھی اپنی حمایت میں اٹھ کھڑا کرے گی۔
ملک کے حالات پر جن لوگوں کی نظر ہے وہ اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ آج ہر چیز نہایت تیزی سے بدل رہی ہے، معاشرے کی اخلاقی و مذہبی حالت روز بروز گرتی جا رہی ہے۔ ہماری زندگی کے ہر شعبہ پر مغربی رنگ چھائے جا رہا ہے۔ تعلیم میں، تمدن میں، معاشرت میں، معیشت میں مذہب کا عنصر کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ساری چیزیں قابل توجہ ہیں، اس دور میں اگر توجہ کی جائے، جبکہ ہر چیز ایک نئے سانچہ میں ڈھل رہی ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ ان کی تشکیل میں کچھ حصہ اہل دین کا بھی شامل ہو جائے گا، لیکن جب ہر چیز ڈھل ڈھلا کر ایک خاص صورت قبول کر چکے گی اور ایک مخصوص ہیئت پر وہ پختہ ہو جائے گی تو اس وقت آپ کا متوجہ ہونا بالکل بعد از وقت ہوگا۔ آج تو یہ ممکن ہے کہ ایک بات ہمدردانہ مشورہ دینے ہی سے درست ہو جائے، لیکن کل جب کہ وہ پختہ ہو جائے گی تو سر دے کر بھی شاید آپ اس کو درست کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ 
اس مقصد کے لیے وسائل و ذرائع کا بھی سوال ہے اور ساتھ ہی اشخاص و رجال کا بھی۔ اس میں شبہ نہیں کہ پیش نظر کام کے لیے نہ تو موزوں آدمی ہی نظر آتے ہیں اور نہ ضرورت کے مطابق سرمایہ ہی حاصل ہونے کی موجودہ حالت میں کوئی امید بندھتی ہے۔ اس مشکل کے حل ہونے کی صرف ایک ہی تدبیر ہے وہ یہ کہ جو لوگ اس مقصد کی اہمیت کو سمجھ چکے ہیں، وہ باہم مل کر یکجہتی کے ساتھ کوئی جامع پروگرام بنائیں اور اپنی طاقتیں، اپنے وسائل، الگ الگ نشانوں پر ضائع کرنے کے بجائے ایک ہی نشانہ اور ایک ہی مرکز پر صرف کریں۔ اس ملک میں ایسے اصحاب وسائل ہیں جو اس مقصد کے لیے روپیہ صرف کرنا چاہتے ہیں، اسی طرح ایسے اشخاص بھی ہیں جو اس نصب العین کے لیے اپنی قابلیتیں اور صلاحیتیں وقف کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن ان کی راہ میں جو مشکل ہے، وہ یہ ہے کہ یہ سب کے سب اپنے اپنے مقامی بندھنوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اس پابندی کے سبب سے ان سب کا باہم دگر جڑنا دشوار ہو رہا ہے اور آپس میں جڑے بغیر ان کا ایسی کوئی موثر طاقت بننا محال ہے جس سے اسلام اور مسلمانوں کی کوئی مفید اور قابل ذکر خدمت انجام پا سکے۔ 
اگر یہی صورت حال قائم رہے تو یہ اسلام کے جتنے بھی درد مند ہیں، سب اپنے اخلاص اور اپنی درد مندی کے باوجود اپنی اپنی جگہوں پر یا تو ٹھنڈی آہیں بھرتے رہیں گے یا اپنے مال اور اپنی صلاحیتیں نہایت ہی حقیر کاموں پر ضائع کرتے رہیں گے جس سے اسلام کو کوئی نفع نہیں پہنچے گا۔ اگر یہ حضرات فی الواقع اس دور غربت میں اسلام کی کوئی مفید خدمت انجام دینا چاہتے ہیں تو اس کی صرف ایک ہی راہ ہے، وہ یہ کہ سب لوگ اپنے مقامی علائق سے اپنے اپنے ذہنوں کو آزاد کر کے اس بات پر آمادہ ہو جائیں کہ باہمی مشورہ سے اسلام کی خدمت کے لیے اس وقت جو کام جس جگہ کرنا طے پا جائے گا، اپنے اپنے وسائل اور اپنی اپنی صلاحیتیں للہ و فی اللہ سب اس کی نذر کر دیں گے۔ اگر یہ شکل بن جائے تو ہم توقع رکھتے ہیں کہ معاشرہ کی اخلاقی و مذہبی اصلاح کا ایک نظام بھی قائم ہو سکتا ہے۔ وسیع پیمانہ پر ذی صلاحیت نوجوانوں کی تربیت کا ادارہ بھی قائم ہو سکتا ہے اور فکری اصلاح کے لیے تحقیقات اور ریسرچ کے کام بھی انجام دیے جا سکتے ہیں۔

فقہ شافعی اور ندوۃ العلماء

مولانا عبد السلام خطیب بھٹکلی ندوی

ندوۃ العلماء ایک علمی، اصلاحی و دعوتی تحریک کا نام ہے جس کی خشتِ اول ۱۳۱۰ھ مطابق ۱۸۹۲ء میں مدرسہ فیضِ عام کانپور کے ایک جلسہ دستار بندی میں اس وقت کے زمانہ شناس اور نباضِ دہر علماء نے رکھی، جن میں سر فہرست حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ کی شخصیت تھی۔ اس کے اہم مقاصد میں:
(۱) علوم اسلامیہ کے نصاب درس میں دور رَس اور بنیادی اصلاحات اور نئے نصاب کی تیاری۔
(۲) ایسے علماء پیدا کرنا جو کتاب و سنت کے وسیع و عمیق علم کے ساتھ جدید خیالات سے بخوبی واقف اور زمانہ کے نبض شناس ہوں۔
(۳) اتحاد ملی اور اخوت اسلامی کے جذبات کو فروغ دینا۔
(۴) اسلامی تعلیمات کی اشاعت بالخصوص برادرانِ وطن کو اس کی خوبیوں سے روشناس کرانا۔ ۱؂
اس تحریک کے تعارف کا سب سے پہلا جلسہ ۱۳۱۱ھ مطابق ۱۸۹۴ء میں مدرسہ فیض کانپور ہی میں ہوا۔ پھر یہ تحریک آہستہ آہستہ آگے بڑھی اور اپنے متعین کردہ اہداف کے مطابق کام کرتی رہی، اس کے متعین کردہ اہداف و پالیسیوں میں ایک اہم شق رفع نزاعِ باہمی یعنی اتحاد ملی اور اخوت اسلامی کے جذبات کو فروغ دینا تھا۔ اس کے لیے ندوۃ العلماء کے زیر سرپرستی منعقد ہونے والے جلسوں اور پروگراموں کی رودادوں کا ایک نظر مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ندوہ کے اجلاس میں ہمیشہ غیر منقسم ہندوستان کے مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے افراد کی نمائندگی رہی۔ ندوۃ کے اسٹیج پر اگر ایک طرف علمائے کرام تشریف فرما ہوتے تو ان کے شانہ بشانہ سوٹڈ بوٹڈ عصری تعلیم یافتہ حضرات بھی بیٹھے نظر آئے۔ اگر خانقاہ کے سجادہ نشیں حاضر جلسہ ہوئے تو دوسری طرف درس و تدریس سے متعلق اساتذہ بھی۔ حنفی حضرات کی ایک خاصی تعداد ہوئی تو اپنے دور کے عامل بالحدیث افراد بھی حاضر رہتے۔ فقیہ العصر جناب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ تحریر فرماتے ہیں:
’’ندوۃ کے پلیٹ فارم نے احناف اور اہل حدیث، علماء دیوبند اور علمائے بدایوں، مدارس و خانقاہوں سے نکلنے والے مشائخ اور عصری جامعات کے فضلاء کو ایک جگہ بٹھایا۔ ‘‘ ۲؂
بانیانِ ندوۃ کے سامنے وہ ذلت آمیز رسوا کن حالات تھے جو مسلمانوں کی حکومت و سلطنت کے ختم ہوجانے اور انگریزوں کی غلامی میں زندگی گزارتے ہوئے پیدا ہوگئے تھے کہ چھوٹے چھوٹے فروعی مسائل، ایسے اختلافات اور ایسی لڑائیاں کہ الامان والحفیظ۔ علماء و اہل مدارس اپنے پڑھے لکھے جدید تعلیم یافتہ طبقے کی نگاہوں میں ذلیل و بے حیثیت ہو رہے تھے تو غیروں کی نگاہوں میں بے وقعت و بیکار۔ خاص کر شمالی ہندوستان میں کہ یہاں پر احناف اور اہل حدیث حضرات کی مخلوط و ملی جلی آبادی تھی، تو ان کے رفع یدین اور آمین بالجہر کے اختلافات، کورٹ کچہریوں تک پہونچ گئے تھے کہ اب مسائل کا شرعی حل غیر مسلم جج صاحبان کے حوالے تھا۔ 
تو اس عہد میں تحریک ندوۃ العلماء کا سب سے بڑا فائدہ بقول حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی زید مجدہ:
’’یہ ہوا کہ مختلف الفکر لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کی وجہ سے فاصلے کم ہوگئے، اختلاف رائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا ہوئی، اور مخالف نقطہ نظر کے احترام کا جذبہ بیدار ہوا اور اس کی وجہ سے اہل علم کے ایک طبقہ میں وسیع الفکری اور وسیع المشربی کا مزاج پروان چڑھا۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جہاں بھی فکر میں وسعت اور اختلاف رائے میں تحمل پیدا ہوگی وہاں اعتدال اور میانہ روی پیدا ہوگی اور افراط و تفریط سے بچنا ممکن ہوگا۔ اسی لیے فقہ کے میدان میں بھی ندوۃ العلماء کی پہچان اس کا اعتدال اور فروعی مسائل میں غلو سے اجتناب ہے۔‘‘ ۳؂
چونکہ مسلمانوں کے اس طرح کے بیشتر اختلافات کی جڑ یا تو تعلیم کے میدان میں قدیم و جدید کی تقسیم یا فقہی فروعی اختلافات میں تشدد و غلو تھا، اس لیے ندوۃ العلماء نے (ایک طرف) اصلاحِ نصاب کے ذریعہ قدیمِ صالح و جدیدِ نافع کو جمع کرنے کی کوشش کی تو دوسری طرف اختلافات فقہیہ میں اعتدال کی راہ دکھائی۔ اور اس سلسلہ میں مسند الہند حضرت شاہ ولی اللہؒ کا نقطہ نظر ہی ندوۃ العلماء کی پہچان رہا، کہ شاہ صاحبؒ کے یہاں جو فکری و فقہی وسعت و توسع پایا جاتا ہے وہ برصغیر میں کم از کم اس وقت ناپید تھا۔ اور ندوۃ نے اس سلسلے میں صرف اجمالی رہنمائی اور اشارتی گفتگو ہی نہیں کی بلکہ فقہ کی تعلیم اور دارالافتاء کے قیام کے ذریعہ سے اس کو عملی شکل دینے کی بھی مکمل کوشش کی۔ اسی لیے سب سے پہلے ناظم ندوۃ العلماء حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ نے قیام ندوہ کے ابتدائی دور سے ہی دارالافتاء کے قیام کی کوشش کی اور بہت جلدی ہی اس سلسلے میں ندوۃ کی طرف رجوع ہونے لگا۔ اور اب تو ماشاء اللہ ندوہ کا دارالافتاء و دار القضاء ہندوستان کے گنتی کے چند اہم اداروں میں شمار کیا جاتا ہے اور ہند و بیرونِ ہند مختلف ممالک سے استفتاء ات آتے ہیں اور اس کے جوابات دیے جاتے ہیں اور دارالقضاء کے ذریعہ مختلف معاشرتی و سماجی مسائل کا تصفیہ کرایا جاتا ہے۔ 
اسی طرح سے فقہی منہج و مزاج میں توازن و اعتدال پیدا کرنے کے لیے علمائے ندوہ نے اپنے طلباء و مستفدین کی اعتدالی تربیت کا بھی بڑا خیال رکھا۔ علامہ سید سلیمان ندویؒ اپنے ایک عامل بالحدیث شاگرد کو ایک خط کے جواب میں نصیحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’وہابیت میں غلو اور تشدد نہ چاہیے، تصلب اور تعصب حکمِ دین میں چاہیے نہ کہ اشخاص اور ان کے مسالک میں، خواہ حنفیت ہو یا وہابیت بل ملۃ ابراھیم حنیفًا وماکان من المشرکین۔‘‘ ۴؂
ایک دوسری جگہ اپنے فقہی مزاج کی نشاندہی کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’مذہبی مسائل کی تحقیقات میں میرا یہ عمل رہا ہے کہ عقائد میں سلف صالحین کے مسلک سے علیحدگی نہ ہو البتہ فقہیات میں کسی ایک مجتہد کی تقلید بتمامہ نہیں ہو سکی بلکہ اپنی بساط بھر دلائل کی تنقید کے بعد فقہاء کے کسی ایک مسلک کو ترجیح دی ہے، لیکن کبھی کوئی ایسی رائے نہیں اختیار کی جس کی تائید ائمہ حق میں سے کسی ایک نے بھی نہ کی ہو، خصوصیت کے ساتھ مسائل کی تشریح میں حافظ ابن تیمیہؒ ، حافظ ابن قیمؒ اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تحقیقات پر اکثر اعتماد کیا ہے۔‘‘ ۵؂
اسی طرح ایک مرتبہ اپنے ایک شاگرد کو لکھا کہ:
’’اور مسائلِ فقہیہ میں فقہائے محدثین کے طرز کو اختیار کیا جائے۔‘‘ ۶؂
علامہ نے اپنے فقہی مقالات اور ریاستِ بھوپال کے چیف قاضی کی حیثیت سے دیے گئے فیصلوں میں اس کا بڑا خیال بھی رکھا۔ اسی لیے ایک ندوی فاضل نے آپ کے فقہی مزاج و مسلک کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
’’مولانا سید سلیمان ندوی حنفی ضرور تھے مگر تقلید کی وجہ سے نہیں بلکہ تحقیق کی بناء پر، لیکن وہ اس انتساب کا ذکر و تذکرہ نہیں کرتے اور نہ ہی اس نسبت سے وہ اپنا تعارف کراتے ہیں، ان کے پیش نظر اسلام تھا، اور ان کی تمام تر خدمات اسلام اور مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہیں، ان کے نزدیک ملت کے لیے وہی نام بس ہے جو حضرات ابراہیم ؑ کی طرف سے تجویز ہوا۔ ھو سمّا کم المسلمین۔‘‘۷؂
یہ حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ کی تربیت کا انداز اور ان کا فقہی مزاج تھا جو ندوۃ کے ابتدائی دور کا سب سے کامیاب ترین پھل اور نتیجہ تھے۔ پھر جیسے جیسے ندوۃ اپنی ترقی کے مراحل طے کرتا گیا اسی طرح اس میں علمی و عملی میدان میں ترقی ہوتی گئی۔ 
ندوۃ کی دوسری سب سے اہم و ممتاز شخصیت حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی ہے جو کہ شیخ العرب والعجم کہلائے۔ ان کے دور میں تو ندوہ کا تعارف بھی ہندوستان و بیرون ہند میں زبردست ہوا اور ندوۃ میں مختلف علاقوں اور ملکوں سے کسب فیض کے لیے آنے والوں کی تعداد خوب بڑھی۔ حضرت مولانا علی میاںؒ نے بھی فقہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی لیکن باین معنئ عام آپ نہ مفتی کی حیثیت سے مشہور ہوئے اور نہ اپنے آپ کو مفتی ثابت کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ فقیہ النفس، نباضِ زمانہ اور امت مسلمہ کے ایک مقبول و ممتاز رہبر و رہنما تھے۔ مولاناؒ نے اپنے دور میں جدید پیش آمدہ مسائل کے علمی و فقہی حل کے لیے علماء و مفتیانِ کرام پر مشتمل چند افراد کی ایک کمیٹی ’’مجلس تحقیقات شرعیہ‘‘ کے نام سے قائم کی جو اس وقت کا ایک بڑا ہی جرأت مندانہ و مجتہدانہ قدم تھا۔ اس مجلس کے ذریعہ اجتماعی طور پر بہت سے جدید مسائل کو حل کرنے کی منظم کوششیں کی گئیں اور اب تو عالم اسلام اور ہندوستان میں فقہ اکیڈمی وغیرہ اس طرح کے مسائل کو الحمد للہ حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ 

فقہ شافعی اور ندوۃ العلماء

حضرت مولانا علی میاںؒ کے دور میں تھائی لینڈ، ملیشیا، انڈونیشیا اور بعض دوسرے ممالک سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ندوہ آئے تھے، اس کا سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے۔ اسی طرح بھٹکل، کیرالہ، کوکن و مدراس کے بھی طلبہ کی آمد کا سلسلہ ندوہ میں شروع سے رہا۔ بھٹکل سے تو بڑے منظم و مرتب انداز میں طلبہ آتے رہے اور الحمد للہ روز افزوں ترقی پر ہے۔ تو مولانا علی میاں صاحبؒ نے ان طلبہ کی فقہ کی تعلیم کے لیے ندوہ کے عام نظام کے اندر ہی فقہ حنفی کے بجائے ان کے لیے فقہ شافعی کو پڑھانے کا انتظام کیا تاکہ یہ طلبہ واپس جا کر اپنے معاشرے کے لیے نامانوس نہ رہیں اور معاشرے کی صحیح رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکیں۔ اس کے لیے حضرت مولانا علی میاں صاحبؒ نے فقہ شافعی کے علماء و مدارس کے فقہ شافعی کے نصاب کو دیکھتے ہوئے ندوہ میں پڑھنے والے شافعی طلبہ کے لیے فقہ شافعی کی اہم درسی کتابوں کو نصاب میں داخل کیا اور فقہ شافعی سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی ایک اچھی تعداد کو ندوہ میں استاذ مقرر کیا۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ایک شافعی ندوی عالم کو شام کے ایک ممتاز فقیہ کے پاس شافعی کے اختصاص کے لیے بھیجا۔ اسی طرح ندوہ سے متعلق مدارس میں ان مدارس کو جو شوافع کے علاقے میں قائم ہیں، ان کو پوری آزادی دی کہ فقہ کے تعلق سے وہ اپنے علاقے کے نظام و مسلک سے وابستہ رہیں۔ ندوہ کے بہت سے شافعی فارغین نے اپنی تصنیفات کے ذریعہ سے بھی فقہ شافعی کی خدمت کی، جن کی بھٹکل، کیرالہ اور دوسرے علاقوں میں ایک خاص تعداد ہے۔ ابھی چند ماہ پیشتر راقم کو تھائی لینڈ کے سفر میں وہاں جو ندوی فضلاء کی ایک بڑی تعداد اور ان کا عوام و علاقے کے اہم مدارس و مراکز سے جڑے رہنے کو دیکھنے کا موقع ملا تو اندازہ ہوا کہ ندوہ میں فقہ شافعی کے پڑھنے کی برکات کا اس میں بڑا دخل ہے کہ عوام کے مانوس مسلک سے ہٹ کر انہوں نے فتویٰ نہیں دیا اور عوام سے دور نہ رہے۔ 
اسی طرح بھٹکل اور اطراف کے علاقہ کا ندوہ سے جڑے رہنے میں بھی ندوہ کی بہت سی خوبیوں کے ساتھ اس کے فقہی مزاج کے اعتدال و توسع اور باقاعدہ عملی طور پر شوافع کے لیے فقہ شافعی کی عملی تعلیم کے انتظام کرنے کا بڑا دخل ہے۔ بلکہ ندوہ سے ملحق بعض مدارس میں بھی چند شافعی طلبہ اگر پہونچ جاتے ہیں تو ان کے بھی فقہ کو پڑھانے کا یہ حضرات اہتمام کرتے ہیں جس کی بہترین مثال خود حضرت مولاناؒ کے وطن ہی میں قائم مدرسہ ضیاء العلوم ہے کہ وہاں دو شافعی ممتاز علماء تدریس کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، شافعی نواں کے لیے فقہ حنفی کے پڑھانے کا مستقل انتظام کیا جاتا ہے۔ جامعہ اسلامیہ بھٹکل و مدرسہ ضیاء العلوم اور بعض دوسرے ندوی شافعی فضلاء کے قائم کردہ اداروں میں علمائے شوافع اور فقہ شافعی پر بھی جو کام ہوا یا ہو رہا ہے اس میں ندوہ کی سر پرستی اور اس کے فقہی اعتدال و توسع کا ضرور اثر پایا جائے گا۔
اس وقت ناظم ندوۃ حضرت مولانا سید محمد رابع صاحب حسنی ندوی دامت برکاتہم جو اپنے استاد و مرشد پیش رو حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ہی کے صفات کے حامل اور انہی کے پرداختہ و پروردہ ہیں، ان میں بھی اسی طرح کا اعتدال و جامعیت، فقاہت و دانشمندی اور امت کی رہنمائی و رہبری کے صفات پائے جاتے ہیں۔ ان کے دور میں تو حدیث میں اختصاص کرنے والے شافعی طلبہ کے لیے بخاری شریف کی جگہ باقاعدہ سنن بیہقی کے وہی ابواب داخل نصاب کیے گئے ہیں، اور اس سے شافعی طلبہ کو اپنے مسلک کے دلائل و ترجیحات کے معلوم کرنے کے سلسلے میں بڑا فائدہ ہو رہاہے۔ اسی طرح ندوہ کے دارالافتاء سے بھی فقہ شافعی سے متعلق سوالات پوچھے جاتے ہیں تو ان کا بھی اس کے اعتبار سے جواب دیا جاتا ہے۔ ندوہ کے مختلف دارالمطالعوں اور ندوہ کے علامہ شبلی لائبریری میں فقہ شافعی کے مصادر و مراجع بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح دارالمصنفین میں مقیم ندوی فضلاء نے بھی امام شافعیؒ اور فقہائے شافعیہ کے سیرت و حالات پر بعض کتابیں لکھیں۔ اسی طرح ندوے سے متعلق ایک اہم ادارے جامعہ اسلامیہ بھٹکل کی تاسیس پر نصف صدی گزرنے پر گزشتہ سال ۲۰۱۲ء میں جو علمی و دعوتی پروگرام ہوئے اس میں بھی نوجوان ندوی فضلاء جن میں سے اکثر ندوہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، انہوں نے بھی قدیم فقہائے شافعیہ کے حالات پر اردو میں مختصر و جامع کتابیں لکھیں۔ ندوہ کی جامع مسجد میں جو ائمہ حضرات مہتمم ندوہ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن صاحب الاعظمی الندوی کی نگرانی میں نماز پڑھاتے ہیں، ان میں بھی ایک شافعی امام ہیں، نیز مسجد ندوہ میں عموماً شافعی طلبہ کی بڑی رعایت کی جاتی ہے۔ 

حوالہ جات

۱۔ تاریخ ندوۃ العلماء (جلد ۱)
۲۔ ندوۃ العلماء کا فقہی مزاج اور ابنائے ندوہ کی فقہی خدمات (ص ۲۶)
۳۔ ایضاً 
۴۔ مطالعہ سلیمانی (ص ۱۲۰)
۵۔ مطالعہ سلیمانی (ص ۱۱۷)
۶۔ مطالعہ سلیمانی (ص ۱۲۲)
۷۔ مطالعہ سلیمانی (ص ۱۲۴)
(بشکریہ ماہنامہ ’’بانگ حرا‘‘ لکھنؤ جون ۲۰۱۳ء)

اسلام، جمہوریت اور مسلم ممالک

قاضی محمد رویس خان ایوبی

ترجمہ: قاضی محمد رویس خان ایوبی

۱۹۹۹ء میں Center For Study Of Islam And Democracy  مسلم اور غیر مسلم دانشوروں کے باہمی اشتراک سے قائم کیا گیا ۔ اس کا بنیادی مقصد اسلام او ر جمہوریت کے بارے میں تحقیقاتی مباحث تیار کرنا اور مسلمان ملکوں میں جمہوریت کے فروغ کے لیے جدوجہد کرنا ہے اور یہ کہ دور جدید کی اسلامی جمہوری ریاست کا قیام کس طرح عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ اس ادارہ کے زیر اہتمام مختلف اوقات میں تربیتی ، تحقیقاتی ، پروگرام منعقد ہوتے رہتے ہیں جن کا موضوع اسلام اور حقوق انسانی اور امن عالم ہوتا ہے۔ یہ ادارہ ہمہ وقت اس کوشش میں مصروف ہے کہ عالم اسلام اور امریکہ دنیا میں قیام امن کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔ راقم الحروف کو اس ادارے کے زیر اہتمام ۱۸؍جون ۲۰۰۲ء کو منعقد ہونے والے سیمینار میں شرکت کا موقع ملا جس کی رپورٹ کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔ (مترجم)

جمہوریت اور اسلام 

تمہید : عموماً لوگوں میں یہ خیال عا م طو ر پر پایا جاتا ہے کہ جمہوریت ایک مغربی اصطلاح ہے۔ اسے مذہبی اعتبار سے سیاسی اعتبا ر سے بھی مغرب ہی کے مفکرین نے پروان چڑھایا اوریہی وجہ ہے کہ جمہوریت اسلام کی تعلیمات اور اس کے بنیادی عقائد سے قطعی طور پر ایک مختلف نظام حکومت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربیت کے اس لیبل کی وجہ سے جمہوریت کو دنیا میں پچپن (۵۵) اسلامی ممالک کے کروڑوں باشندوں میں مقبولیت حاصل نہ ہوسکی اور اکثر اسلامی ممالک جبرواستبداد اور آمریت کے خوفناک شکنجے میں کسے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات راسخ کر دی گئی ہے کہ تم جمہوریت چاہتے ہو یا سلام؟ گویا جمہوریت اوراسلام دو متضاد نظام ہیں جو اکٹھے نہیں چل سکتے ۔ علامہ رضوان معموری نے اس خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام اور جمہوریت میں کوئی تضاد نہیں ۔ اسلام کے سیاسی ضوابط اور جمہوریت میں تضاد ہے۔ بلکہ اس کے متعدد عوامل ہیں، تاریخی، اقتصادی، سیاسی ، ثقافتی عوامل نے ہی اسلامی ممالک کو جمہوریت کی راہ پر نہیں چلنے دیا۔ دین اسلام جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہم مذکورہ بالاعوامل کی باریکیوں پر بحث کرتے رہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم وہ ذرائع اور اسلوب اختیار کریں جن کے ذریعے ہم موجودہ صورتحال سے نکل سکیں۔ امریکی شہری ہونے کے ناطے اور امریکن مسلمان ہونے کے ناطے وہ کون سے وسائل ہیں جنہیں اختیار کرکے ہم اسلامی ممالک میں جمہوری عمل کو فروغ د ے سکتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ ان تمام مسلمان اداروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دے گی جو امریکی مفادات کو اپنے ملکوں میں تحفظ فراہم کریں گے۔ قطع نظر اس بات کے کہ ان کی انسانی حقوق اور جمہوری اداروں او ر سیاسی امور کی پالیسیاں کس ڈگر پر چل رہی ہیں؟ 
معموری نے اپنے مقالہ میں استفسار کیا ہے کہ’’ ہم نے اس بات پر سمجھوتہ کر لیا ہے کہ ہم اس وقت تک عالم اسلام کے ان جابر حکمرانوں کی پشت پناہی کرتے رہیں گے۔ جب تک وہ امریکی مفادات کے لیے کام کرتے رہیں گے اور ہمارے بندہ بے دام بن کر ہماری ہاں میں ملاتے رہیں گے۔ لیکن اس سیاست کے اسلامی دنیا پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ؟کیا یہ ممکن نہیں کہ اس طرح کی سودے بازی امریکہ کے خلاف مزید نفرتوں اور دشمنیوں اور دہشت گردی کو فروغ دے گی؟ اور اگر ہم اس طرز عمل کو بد ل ڈالیں اور اسلامی دنیا میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کریں تو کیا اس صورت میںیہ ممکن ہے کہ جمہوری عمل کا قیا م پر امن طریقے سے عمل میں لایا جائے اور اسلامی دنیا میں اس تبدیلی سے مقامی وملکی حالات میں کوئی گڑبڑ اور فساد نہ ہو؟ اور زمام حکومت انتہاء پسندوں کے ہاتھ چلی جائے۔ کیا استحکام اور جمہوریت میں سے ہم کسے اختیار کریں تاکہ ہمارے مقاصد پورے ہو سکیں یا کوئی اور ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے کسی فتنہ وفساد کے بغیر جمہوریت کو فروغ دیا جا سکے۔ 

مسلم دنیا میں جمہوریت کے لیے مشکلات 

لیث lath cobbaنے اپنی تقریر میں واضح کیا ہے کہ اسلامی ممالک میں جمہوریت کی بحالی ایک مشکل اور تکلیف دہ مرحلہ ہے۔ کسی معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا اور ترقی پسند اداروں کا قیام اور نچلی سطح سے تبدیلی کا آغاز نہایت سست رفتاری سے اور نہایت محدود طریقے سے ہوتا ہے۔ جمہوری اقدار تاہنوز ظلم وجبر او رروایتی کلچر کو اسلامی ممالک سے ختم نہیں کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ملکوں میں فوجی ٹولہ، چند سرمایہ دار، قبائلی سردار اور رجعت پسند لیڈر ہی کرسی اقتدار پر ہمہ وقت براجمان رہتے ہیں۔ اس کے برعکس مغربی ممالک میں سیاسی تشدد، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور سرکاری مناصب کا غلط استعمال بہت کم ہوتا ہے، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اکثر اسلامی ممالک بالکل جمود کی حالت میں ہیں جو ممالک بددیانت بیوروکریسی اور ظالم ڈکٹیٹر شپ کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ وہاں کسی قسم کی اصلاح اور تبدیلی ناممکن ہے جس کا نتیجہ جوابی تشدد اور انتہاپسندی ہے۔ اس طرح اسلام کے نام پر لادین عناصر سیاست کا کاروبار کر رہے ہیں، جبکہ معتدل اسلا می جماعتیں جوکہ لوگوں کوقابل قبول ہیں۔ وہ مذکورہ بالافوجی سرداروں اور نسلی اقتدار پرستوں کے ظلم وجبر کا شکار ہیں۔ 
لیث کبہ نے زور دے کر کہا کہ ’’ بیشتر اسلامی ممالک اور غیر ترقی یافتہ ممالک کے لوگ پوری قوت سے جدید تہذیب، ترقی اور منتشر وسائل کو مجتمع کر نے کی جدوجہد کر ر ہے ہیں اور مقامی اقوام کی خواہشات کو شاندار مستقبل سے وابستہ کرکے ایک مرکزی حکومت کی تشکیل میں مصروف ہیں۔ جہاں اصلاحات کا آغاز اوپر سے فرسودہ نظام سے نچلی سطح تک لاکر جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ بہت سارے سیاسی مفکرین کا خیال ہے کہ یہی وہ بہترین طریقہ ہے جس سے ہم جمہوری انداز میں تعمیر وترقی کے زینے پر چڑھ سکتے ہیں۔ تاہم اس کام کے لیے پیچیدہ اورمشکل آغاز سے راہ فرار اختیار کرنا ناممکن نہ ہوگا۔ اس کام کے لیے ایک ایسا نظام متعارف کروانا ہوگا جہاں متعدد تنظیمیں سرگرم عمل ہوں اور پبلک کا عام آدمی بھی بھر پور شرکت کرسکے ۔ نیز اس کے لیے فرد کی مکمل آزادی اور لبرل ازم کو فروغ دینا ہوگا۔ 
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ لادین قوتوں نے معاشرے کی ضروریات کو پورا کرنے میں قطعی طور پر کوئی مثبت پیش رفت نہیں کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ۱۹۷۹ء میں ایرانی انقلاب نے لوگوں کی توجہ اسلام پسند قوتوں کی طرف مبذول کردی۔ اس وقت سے اسلام جو کہ ہر معاشرے میں جذب ہونے اور معاشرتی اقدار کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایک خطرناک ہتھیار کے طور پر اپوزیشن اور برسراقتدار گروہ کے ہاتھ لگ گیا، تجدد پسند گروہ ہوںیا قدامت پرست، دونوں نے اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ بایاں بازو اور دایاں بازو، دونوں اسے ایک سیاسی نظام سمجھنے لگے۔ علاوہ ازیں تمام اسلامی تحریکیں ایک لادینی نظام کے بجائے اسلامی سیاسی نظام کے لیے کوشاں ہو گئیں۔ تاہم ان کے افکار وجمہوریت اور آمریت کے بارے میں مختلف ہیں۔ گزشتہ دو عشروں میں تعلیم یافتہ مسلمان جمہوریت اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں مصروف ہیں، کیونکہ اشتراکیت کا بوریا بستر گول ہوگیا ہے اوراب میدان خالی ہے۔ لادین نظام حکومت اور اسلامی ادارے اقتصادی، اجتماعی ضروریات پوری کرنے سے قاصر رہے۔ یہ جدید طرز فکر صرف تعمیر وترقی کی طرف گامزن کرنے کے لیے نہیں بلکہ اصل جدوجہد اسلامی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ 
کبہ کے خیال میں اسلامی دنیا میں جمہوریت کے معدوم ہونے کے اسباب صرف مسلمانوں کے کردار کا مطالعہ سے معلوم نہیں کیے جاسکتے بلکہ ان کی ثقافتی ، تمدنی اور سیاسی ضروریات پر گہرا غور وخوض کرنے کے بعد ہی معلوم کیے جا سکتے ہیں۔ اسلام کو ریاست اور دین معاشرت سب کے لیے یکساں طور پر بغیرکسی نظم وضبط اور ترتیب کے شافی علاج قرار دینااس کی صورت کی مسخ کر دینے کے مترادف ہے۔ اگرچہ مذکورہ مشکلات کے حل کے لیے ہمیں کسی حد تک اسلام کی طرف رجوع کرنا پڑے گا اور اس کے مختلف مسلک کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ تاہم مسلمانوں کے اہم اور بڑے بڑے مسائل کاتعلق اسلام سے نہیں بلکہ خود مسلم کمیونٹی سے ہے۔ ان مسائل کومذہب کے ساتھ نتھی کرنے سے ہی دراصل مشکلات پیداہوتی ہیں اور یہ مسائل جدید تمدنی انقلاب نے پیدا کیے ہیں۔ اسلام صرف ایک عنصر ہے ان مجموعی عناصر میں سے جن سے اسلام کی اورمسلمانوں کی تاریخ اور تمدن اور ثقافت وجود میں آئی۔ صاف ظاہر ہے کہ اس وقت ۵۵ اسلامی ممالک ہیں۔ ان میں اکثر کا تمدن وثقافت زبان ایک دوسرے سے مختلف ہے جو کہ جغرافیائی اعتبار سے دنیاکے مختلف خطوں میں واقع ہیں، لیکن اس کے باوجود ان ممالک کے باشندے اسلامی تعلیمات کی تاثیر رکھتے ہیں۔ ثقافتی اعتبار سے یہ ایک دوسرے سے اسی طرح مختلف ہیں جس طرح عیسائی مذہب والے لوگ لاطینی امریکہ سے لے کر فلپائن تک مختلف ثقافتی اقدار کے مالک ہیں۔ اگرچہ اسلامی ممالک کی مجموعی صورتحال حوصلہ افزا نہیں تاہم مسٹر کبہ کے خیال میں تعلیمی معیار بلند کرنے سے حالات تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح میڈیا کے ذریعے اسلامی معاشرے میں تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں جو کہ مختلف ثقافتی اقدار کو اسلامی معاشرے میں منتقل کر رہا ہے، جب کہ اسلامی ریاستیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ ان میں بنیادی تبدیلیاں واقع ہوں اور اصحاب اقتدار اور رعیت کے درمیان فاصلے کم ہوں۔ 
کب نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہاکہ ہم مستقبل سے مایوس نہیں ہیں اور ہمیں پوری امید ہے کہ اگر اس طرح کے مذاکرات اور سیمینار جاری رہے تو اسلامی دنیا کو اسلامی تمدن کے باقی رکھتے ہوئے جدید خطوط پر استوار کیاجا سکتا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ اس طرح کے مذاکرات سے ہم اسلامی دنیا میں جمہوریت کے قیام اور انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے کام کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم مقامی حالات کو مدنظر رکھ کر کام کریں۔ 

اسلام اور جمہوریت میں مطابقت 

مسٹر مقتدر خان نے اپنے خطاب میں اس نظریے کو قطعی طور پر مسترد کر دیا کہ اسلامی دنیا میں جمہوریت سرے سے نہیں اور انہوں نے واضح کیا کہ ۷۵فی صد مسلمان بنگلہ دیش ، ہندوستان، انڈونیشیا ، یورپ، شمالی امریکہ، اسرائیل، ایران وغیرہ میں جمہوری اداروں کے تحت ہی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس پر مزید اضافہ کر لیجیے کہ اسلامی تاریخ میں ہمیں علماء دین کو کشمکش اقتدار میں شریک ہوتے نہیں دیکھا، سوائے ایران کے انقلاب کے، جبکہ گزشتہ پندرہ سو سال سے ظہور اسلام سے لے کر آج تک اسلامی ممالک میں اقتدار سیکولر منتخب لوگوں کے ہاتھوں میں رہا۔ 
اسلام اور جمہوریت کے درمیان عدم مطابقت کا دعوی بالکل دو متضاد فکر رکھنے والے گروپوں کے درمیان تنازعہ ہے۔ بعض مغربی مفکرین کا خیال ہے کہ اسلامی بنیادی طورپر جمہوری نظام کے خلاف ہے اور یہ مذہب دراصل استبدادی نظام پر استوار ہے جس سے دراصل یہ ثابت کرنا مقصو د ہے کہ اسلام کی اصل تصویر کو مسخ کردیاجائے اور بتایاجائے کہ مغربی لبرل ازم کے مقابلے میں اسلام کی کوئی حیثیت نہیں اور یہ اسلام جدید تمدن اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس فکر کے حاملین دراصل اسرائیل کے گماشتے ہیں جو یہ ثابت کرناچاہتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں صرف اسرائیل ہی جمہوریت کاعلم بردار ہے۔ دوسری طرف بہت سارے جدید فکر کے حامل مسلمان لادین حکومت اور اقتدار کو غلط معانی پہنا لیتے ہیں تاکہ جمہوریت کی نفی کی جاسکے تاکہ لوگوں کو یہ باور کرایاجا سکے کہ عوام کی حکومت دراصل حاکمیت الٰہیہ کے مقابلہ میں گھڑی گئی ہے جوکہ سراسر شرک ہے جبکہ ان کا یہ خیال قطعی طور پر غلط ہے کہ لادین حکومت اور جمہوریت دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ جب کہ سیدھی سی بات ہے کہ جمہوریت اورسیکولرازم لازم وملزوم نہیں اور ضروری نہیں کہ ایک جمہوری حکومت لادین حکومت ہو۔ عین ممکن ہے کہ دین جمہوری حکومت میں اہم کردار ادا کرے جیساکہ اہم امریکہ میں دیکھتے ہیں۔ 
مسٹر خان نے اپنے خطبہ میں یاد دلایا کہ مسلم مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ شورائی نظام اسلام کی اساس ہے۔ تاہم نظام شورائیت اور جمہوریت میں بعض اختلافات موجود ہیں۔ مثلاً ’’شوریٰ‘‘ کانظام یہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی فیصلہ کرنے سے قبل باہمی مشاورت کرنا ہے اور ایساکرنا واجب ہے۔ کیوں کہ قرآن کریم میں ارشاد ’’وشاورہم فی الامر‘‘ امروجوب کے لیے ہے، لہٰذا شوریٰ کے ’’ مشورہ‘‘ کے بغیرکوئی فیصلہ قابل عمل نہ ہوگا اور شوری کے فیصلوں پر عمل کرنا واجب ہوگا۔ جب کہ دوسرا گروہ قرآن کی دوسری آیت سے استدلال کرتا ہے کہ ’’امرہم شوری بینہم‘‘۔ مشورہ کرنا چاہیے، لیکن مجلس شوریٰ کے فیصلے پرعمل درآمد ضروری نہیں ۔ لہٰذا اساسی طور رپر شوریٰ نظام حکومت کاحصہ توہے لیکن بعض کے نزدیک اس کی حیثیت صرف مشاورت کی ہے۔ نفاذ کااختیار شوریٰ کونہیں اور بعض کے نزدیک شوریٰ کا فیصلہ بہرطور نافذ ہونا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی قسم کے سرکاری فیصلوں کے لیے شوری کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن کیا حکومت شوریٰ کے فیصلوں کی پابند ہے اور کیا شوریٰ کے فیصلوں سے انحراف کرنے والی حکومت غیر قانونی حکومت کہلائے گی؟ سر دست ان سوالوں کا جواب کافی مشکل ہے۔ 
بہت سے مفکرین یہ کہتے ہیں کہ شوریٰ نظام سے بہتر نظام ہے، لیکن فقہاے اسلام کا موقف اس سلسلہ میں واضح نہیں ۔ ان میں بہت سے فقہا غیر شورائی نظام کو درست سمجھتے ہیں تاکہ انہیں روزگار کی سہولتیں حاصل رہیں اور آمرانہ حکومتوں نے ان کو جو سہولتیں دے رکھی ہیں وہ برقرار رہیں۔ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ شورائی نظام جمہوری نظام کی تائید کرتا ہے تاہم یہ کہنامشکل ہوگاکہ شورائی نظام اور جمہوری نظام ایک ہیں۔ 
مسٹر خان کا خیال ہے کہ ہمیں اس میدان میں مسلسل فکری کاوشوں کی ضرورت ہے تاکہ ہم شورائی نظام کے مزاج اور اس کے جمہوری نظام سے تعلق کی حد بندی کر سکیں اور یہ معلوم کرسکیں کہ اس کااسلام کے اساسی نظام سے کیا تعلق ہے۔ مسٹر خان نے زور دے کر کہاکہ اب میدان سیاست میں بے شمار تحریکیں کود پڑی ہیں جن کی نظر میں اسلامی اقتدار بنیادی نقطہ ہے اور ان کے خیال میں جمہوری نظام کاقیام اور اسلامی نظام کا قیام دو متضاد نظریے ہیں۔ قرآن کریم میں اقتدار کا مفہوم کسی خاص جغرافیائی حدبندی کا متقاضی نہیں، بلکہ وہ بشری توسط سے ایک با لاتر چیز ہے۔ یہ ایک ایسا کامل نظام ہے جس کو تقسیم نہیں کیاجاسکتا۔ یہ ایک انسانی نظام بھی ہے جسے انسانیت سے الگ نہیں رکھا جاسکتا۔ اس کا مفہوم کلی یہ ہے کہ اقتدار اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اور قانون سازی کا حق بھی صرف اللہ ہی کو ہے۔ ریاست اور خلیفہ صرف اس کے نفاذ کے وسائل ہیں جنہیں جزوی طور پر نفاذ قانون کی ذمہ داریاں پورا کرنا ہیں ۔ فکری اعتبار سے جدت پسندی اور اسلامی حاکمیت کے تصور میں کوئی فرق نہیں، تاہم عملی اعتبار سے اس میں خاصا اضطراب ہے۔
اسلامی ممالک کی نوجوان نسل کا خیال ہے کہ جمہوریت اس نظام حکومت کا نام ہے جس میں قوانین کا نفاذ اور ان کا صدور انسانی خواہشات کے مطابق ہوتا ہے جب کہ اسلامی مبادیات اور اس کی اساس قوانین الٰہیہ پر مشتمل ہے جس چیز کو یہ لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں، وہ یہ ہے کہ جمہوریت دراصل حکومت کے جبرواستبداد کے روکنے کا راستہ ہے۔ اس کا تعلق صرف قانون سازی سے نہیں۔ فکری اعتبارسے اقتدار اور حکومت کس کاکام ہے۔ قطع نظر اس بات کے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عملاً ملک کے اندر حکومت ہی تمام تبدیلیاں لاتی ہے۔ مثلاً افغانستان میں طالبان نے حکومت الٰہیہ کاقیام کا اعلان کیا، لیکن عملی طور پر تو خود طالبان ہی تمام نظام کو کنٹرول کر رہے تھے اور وہاں کی حاکمیت ملا عمر کی تھی۔ خدا خود تو حکومت نہیں چلا رہا تھا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ حکومت چلانا بندوں کا کام ہے چاہے وہ جمہوری نظام ہو یا اسلامی نظام۔ پس سوال یہ نہیں کہ انسان کو حکومت کرنے کا حق ہے یا نہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ انسانی حکومت کو ہم کس طرح قوانین کاپابند کر سکتے ہیں کیوں کہ اسلامی نظام حکومت ہو یا جمہوری ، بہرحال دونوں نظاموں میں فیصلہ صادر کرنے کا اختیار بندوں کے پاس ہوتا ہے۔ 
جمہوریت ایک ایسانظام ہے جس کی غرض وغایت حکومت کے اختیارات کو محدود کرنا، ریاستی ذمہ داریوں کابوجھ اٹھانا اور اختیار واقتدار میں توازن برقرار رکھنا عدلیہ کوانتظامیہ سے الگ کرنا ؍رکھنا اور صاف ستھرے فیصلہ صادر کرنا اور ناجائز اختیارات کوپوری قوت سے استعمال کرناہے۔ اسلامی دنیا کے مطلق العنان انسانی حکمرانوں اور فوجی طالع آزماؤں او ر ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کور اہ راست پر لانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی آمریت کونہ صرف محدود کیا جائے بلکہ اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ 
ڈاکٹر خان نے کہا کہ اسلامی نظام میں انسان خداکانمائندہ ہے جو اس کے دیے ہوئے قوانین کو نافذ کرنے کا پابند ہے۔ وہ خود شارع نہیں کہ اپنی مرضی سے تشریع (قانون سازی) کرتا پھرے۔ اسلامی نظام کا اصل ہدف یہ ہے کہ نوع انسانی کی بھلائی کے لیے خدا کی طرف سے دی گئی امانت اقتدار کوکس طرح استعمال کیا جائے کہ انسانیت کا مستقبل اور حال روشن ہو۔ ہماری اس دنیا میں حقیقی حکومت تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ انسان تو صرف اس کی حاکمیت کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے اس کا نمائندہ ہے۔ حکومت انیبیہ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آمراور بادشاہ ایسے جبرواستبداد کو فروغ دیں جس سے نوع انسانی بلبلا اٹھے اور یہ ظالم محض اللہ کے نام پر استحصال کرتے رہیں اور کسی کے سامنے بھی جواب دہ نہ ہوں۔ 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کہ اسلامی جمہوری نظام کاایک مکمل نمونہ نظر آتی ہے جیساکہ آپ میثاق مدینہ کے احکامات میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ ۶۲۲ ء میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد نقشہ عالم میں پہلی مرتبہ اسلامی ریاست کی داغ بیل ڈالی آپ ہی اس ریاست کے سربراہ تھے۔ آپ ہی امت اسلامیہ کے قائد اور رہنماتھے۔ آپ ہی سیاسی لیڈرتھے۔ مسلسل دس سال تک مدینہ کے تین سیاسی اور مذہبی عناصر کوساتھ لے کر چلتے رہے ۔ مہاجرین ، انصار، یہود اگر چہ میثاق مدینہ کو دورحاضر کے نقطہ نظر سے ریاستی دستور کانام نہیں دیا جاسکتا، تاہم یہ میثاق دور حاضر میں ایک شاندار گائیڈ کا کام دے سکتا ہے۔ 
میثاق مدینہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ آسمانی ہدایت اور زمینی دستور میں کس طرح توازن رکھاجا سکتا ہے۔ یہ بات ممکن تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کوحکم دیتے کہ جو کچھ بذریعہ وحی نازل ہوگا اس کا تسلیم کرناسب پر واجب ہوگا اور ہر غیر مسلم وحی آسمانی پر پابند ہوگا، لیکن جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمہوری روح پیدا کرنے کے لیے میثاق مدینہ ، اصحابؓ کے مشورہ سے تحریر فرمایا جس پر یہود کے دستخط بھی تھے اور مسلمان زعما کے دستخط بھی۔ یہ طرز فکر آج کل مسلمانوں میں مفقود ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرریاست مدینہ کے لیے وحی آسمانی کو دستور قرار دیا تو عین اسی وقت مدینہ میں رہنے والے تمام انسانوں کوبھی میثاق مدینہ کے ذریعے اس ریاست کے معزز شہری کی حیثیت دی، قطع نظر اس کے کسی کامذہب کیا ہے۔ اس میثاق سے ایک سوشل ویلفیئر ریاست وجود میں آئی جس میں ؟؟ نے بلا لحاظ مذہب اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح اپنا حاکم تسلیم کیا، جس طرح مسلمانوں نے۔ کاش کہ آج بھی مسلمان حکمران اسی طرز عمل کو اپناتے تو انہیں ذلت اور خواری اور عوام دشمنی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ 
میثاق مدینہ عوام کی مرضی اور حکومت اور عوام مسلم دونوں کومساوی حقوق حاصل تھے۔ تمام مذاہب کو اپنے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق اعمال کرنے کی اجازت تھی۔ مساوات ، عوامی رائے کا احترام، مختلف النوع افراد او ر قبائل کا باہمی اتفاق واتحاد میثاق مدینہ کی روح تھی۔ ڈاکٹر خان نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی بلند ترین اخلاقی اقدار کی حامل تھی۔ درگزر، معافی، رحمت اور شفقت کا اعلی ترین نمونہ تھی جبکہ موجودہ میں بعض لوگ قرآن کی تشریح کرتے ہوئے ان اعلیٰ اقدار کو نظر انداز کرتے ہوئے محض جبروتشدد ہی کو اسلام سمجھنے لگے ہیں۔ یہ غلط اور محض غلط الزام تراشی ہے جیسے طالبان نے افغانستان میں کیا۔ 

اسلام اور انسانی حقوق

انسانی حقوق کے اعتبار سے ہم مسلم مفکرین کوتین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ 
پہلی قسم وہ لوگ ہیں جواسلام کی ان اقدار پر سختی سے کاربند رہناچاہتے ہیں جوانہیں اسلام کے ابتدائی یا درمیانی د ور میں ملتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشرہ افراد کے مجموعے کانام ہے ۔ اگر فرد درست نہ ہوں گے تو معاشرہ درست نہیں ہو سکتا۔ ان کے نزدیک عورت کاحجاب اور اس کابے باک نگاہوں سے مردوں کے سامنے آنا بھی معاشرہ میں فساد کا سبب ہے۔ یہ لوگ دعوت دین کے معاملے میں بھی لگی بندھی روایتی رسومات کے پابند ہیں ۔ ایسے لوگوں کاکہناہے کہ مغربی دنیا اسلامی حقوق کے نام پر اسلامی دنیا پر قبضہ کے خواب دیکھتی ہے۔ اس کو انسانی حقوق سے زیادہ اسلامی دنیا کے مادی وسائل پر قبضہ سے دلچسپی ہے تاکہ اسلامی معاشرے کوانسانی حقوق کی خوبصورت چھتری مہیا کر کے اسے دینی بندھنوں سے آزاد کرکے آوارہ ،جنس پرست بنا کر ان کے وسائل ہتھیالیے جائیں۔ یہ گروہ اس اعلان کی سختی سے مخالفت کرتا ہے جس کی دفعہ ۱۶، ۱۸ میں میاں بیوی کو برابر کے حقوق دیے گئے ہیں، جن میں کہا گیاہے کہ میاں بیوی دونوں کوحقوق حاصل ہے کہ وہ جو دین بھی اختیار کریں، ان پر کوئی پابندی نہیں۔ بالخصوص عورتوں کے سلسلہ میں بنائے گئے بین الاقوامی قوانین جن میں مردو زن کی کلی مساوات کا ذکرہے، اسے یہ لوگ تسلیم نہیں کرتے۔ خاص طور پر ان کے نزدیک کسی عورت کو کسی غیرمسلم سے شادی کاحق نہیں۔ ان کے نزدیک جو شخص اسلام کو ترک کر کے کوئی دوسرا مذہب اختیار کرلے، واجب القتل ہے۔ اس گروہ کے لوگ اس امر کو نہیں مانتے کہ ’’عقل‘‘ اخلاقی اقدار کا مصدر رہے بلکہ ان کے نزدیک قدیم ورثہ مذہب ہی اصل ہے اور ہمیں اپنی وراثت قدیمہ کوترک نہیں کرنا چاہیے ۔اس گروہ کے دورحاضر کے سرخیل حسب ذیل حضرات ہیں: ابوالاعلیٰ مودودی (م۱۹۷۹ء)، حسن البناء، سید قطب (۱۹۶۶ء)، امام خمینی (م ۱۹۸۹ء) ۔
دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں اور جدید افکار ونظریات کے ذریعے اصلاحات کا عمل دورحاضر کے مطابق جاری رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ غیر اسلامی اوراسلامی افکار میں تفریق کے قائل نہیں۔ ان کے خیال میں ترقی کے لیے اسلامی حدود میں رہ کر ہر طرح کے وسائل اختیار کرنا درست ہے۔ یہ لوگ اسلامی مبادیات کے تحفظ کی بات بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ان کا خیال بھی ہے کہ اسلامی روایات تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ انہیں جدید معاشرے کے مطابق ڈھالنے کے لیے تبدیلی ضروری ہے تاکہ اسلامی تعلیمات کو وقتی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے ۔اس اختلاف کاتجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اصلاح پسندوں کے خیال میں قدامت پسند طبقہ جن قوانین کو قانون الٰہی کا درجہ دیتا ہے، یہ اصل میں مختلف اسلامی مفکرین کی تعبیرات ہیں جنہیں اسلامی قانون کا درجہ دے دیا گیا ہے جب کہ علم الٰہی کے ماہرین کی تعداد بہت کم تھی جنہوں نے بہت عرصہ قبل ان تشریحات کو مدون کر دیا تھا۔ سروش نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ دین کی نصوص کی تشریح کے سلسلے میں کسی ایک فرقہ کی اجارہ داری یا کسی جماعت، گروہ، فرد کی اجارہ داری کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا ،بلکہ اس سلسلہ میں ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء دین اور دیگر مفکرین اور دانش وروں کے درمیان کھلے عام کھلے ذہن کے ساتھ بحث وتمحیص ہو۔ سروش کے خیال میں انسانی حقوق کے مسائل کا فقہی معاملات سے رسمی سا تعلق ہے۔ انسانی حقوق کا تعلق تو فلسفہ، علم کلام، یعنی عقل ، آزادی فکر اور اسلامی جمہوریت سے ہے۔ (عبدالکریم سروش کے مضامین، جامعہ آکسفورڈ نمبر ۱۲۸ )۔
سروش اپنے مضامین میں باربار اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ بعض معاملات ایسے ہیں جنہیں مذہب سے اخذ نہیں کیا جا سکتا ۔ انہی معاملات میں سے انسانی حقوق کے مسائل ہیں۔ اس دین کی زبان اور قانون دین کی زبان فرائض وواجبات، Dutiesکی زبان ہے۔ اس میں حقوق کا کوئی تذکرہ نہیں، جب کہ شیخ راشد غنوشی جو کہ تونس میں اسلامی انقلاب کے قائد ہیں، ان کا خیال ہے کہ ہمیں ایسی جمہوریت ایسی آزادی فکر کی ضرورت ہے جوکہ امت اسلامیہ کوپستی اور غیر ترقی یافتہ اقوام کی صف سے نکال کر ترقی یافتہ اقوام کے شانہ بشانہ کھڑا کرسکے، لیکن یہ آزادی فکری اور یہ جمہوریت اسلام کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ فرد کے ساتھ معاشرہ مجموعی طور پر وہ اصلی زمینی حقیقت ہے جس کے بغیر کسی قسم کے تصورات کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ۔ جمہوریت، آزادی، دو ایسے وسیلے ہیں جنہیں اختیار کر کے امت مسلمہ اپنی خودمختاری اور اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتی ہے۔ ( اسلام اور جمہوریت سیکولرازم کا چیلنج جلد ۷ ، شمارہ ۲۰، ص ۶، ۱۹۹۶ء ) 
تیسری قسم ان مسلمانوں کی ہے جو کہ مسلمان تو ہیں مگر سیکولرازم کے قائل ہیں جن کے خیال میں مغربی سیکولرازم کو اپناکر مسلم قوم کو ترقی سے ہم کنار کیا جا سکتا ہے ۔ یہ گروہ دنیا میں ہونے والی عملی تبدیلیوں اور زمینی حقائق کے مطابق فیصلہ کرنے کے قائل ہیں۔ ان کے خیال میں شرعی قوانین کو انسانی قوانین کی جگہ نافذ کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔ ان کے خیال میں اسلام کے سیاسی نظام شوریٰ اور بیعت خلافت نے فرد کی اصلاح کے لیے کچھ نہ کیا اور نہ اس نظام میں ایساکرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی اس نظام میں لوگوں کوحکومت کامحاسبہ کرنے کاحق حاصل ہے۔ یہی وہ ہے کہ اس وقت عالم اسلام میں لادین قوتیں ہی بر سراقتدار ہیں۔ 
ایران ۱۹۷۹ء سے، سوڈان ۱۹۸۹ء اور طالبان حکومت ۱۹۹۵ء سے (جو کہ اب ختم ہو چکی ہے) صرف یہی حکومتیں مذہبی بنیادوں پر قائم ہیں۔ باقی سارا عالم دین لادین عناصرکے زیر تسلط ہے۔ (یہ کہنا غلط ہے اس لیے کہ برائے نام ہی سہی، پاکستان ؍ آزاد کشمیر ، یمن، سعودی عرب، میں بھی کسی حد تک اسلامی نظام قائم ہے اوران ملکوں میں اسلام کو نہ صرف سرکاری مذہب قرار دیا گیا ہے بلکہ بہت سارے اسلامی قوانین بھی نافذ ہیں۔ مترجم)
اس میں کوئی شک نہیں کہ عالم اسلام اس وقت ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ نوجوان طبقہ قدامت پسندوں اور تجدد پسندوں اور لادین عناصر کے درمیان پس رہا ہے اور اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ وہ کدھر جائے جبکہ اس کا سیاسی نظام افرا تفری کا شکار ہے۔ لہٰذا انسانی حقوق کا مسئلہ اسلامی دنیا میں دینی مسئلہ نہیں اور نہ یہ فلسفیانہ علم کلام سے حل ہوگا۔ یہ خالص سیاسی مسئلہ ہے۔ 
مسلمان جن خطرات سے دو چارہیں، وہ مندرجہ ذیل ہیں: 
سیاسی ، ثقافتی ، اقتصادی اور تعلیمی ترقی کاایک مربوط نظام ان کے ہاں مفقود ہے۔ جب کہ دنیا انگڑائی لے کر اٹھ چکی ہے اور نئے افق دنیا کے سامنے روشن ہیں، جبکہ مسلمان دنیا اس کے صرف خواب دیکھ رہی ہے۔ نوجوان، خواتین کی تنظیمیں، صحافتی حلقے، تعلیم یافتہ طبقہ اور اصلاح پسند علماء دورحاضر کو ترقی وتمدن کا دور سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ہمیں بین الاقوامی دھارے میں شامل ہو کر ہی ترقی کی منازل نصیب ہو سکتی ہیں۔ 
باوجود اس کے اسلامی دنیا میں انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں، تاہم کچھ خواتین تنظیمیں اپنے نسوانی حقوق کے حوالے سے علم بغاوت بلند کر چکی ہیں اور فرسودہ نظام سے چھٹکارے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ نوجوانوں کی کچھ تنظیمیں بھی حکومتوں کے ظلم واستبداد کے خلاف آواز بلند کرتی نظر آئی ہیں ۔ا ن تحریکوں سے یہ امر سامنے آجاتا ہے کہ انسانی حقوق کے حصول کے لیے یہ تحریکیں نہایت موثر کردار ادا کریں گی۔ 
منشی پوری ( ایک محقق تجدد پسند عالم) کہتا ہے کہ مسلمان دانشوروں کو چاہیے کہ وہ اسلامی تعلیمات کو دور حاضر کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں تاکہ دنیا کو یہ بتا سکیں کہ اسلامی نظام اور عقائد اقوام متحدہ کے منظور شدہ چارٹر کے مطابق دیے گئے انسانی حقوق سے متصادم نہیں۔ مغربی دنیا کافرض ہے کہ وہ ایسے مسلم دانشوروں کی سرپرستی کرے اور اصلاح پسندوں کی ہر طرح امداد کرے اور حقوق انسانی کے حوالے سے ایسی تحریکوں کو بین الاقوامی دھارے میں شامل کرے ۔ منشی پوری نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اسلامی دنیامیں انسانی حقوق کی پامالی میں اسلام کا کوئی کردار نہیں۔ یہ تو مسلم دنیا کے اقتصادی اور معاشی مسائل کے سبب پیدا ہوئی ہے۔ نیز انسانی حقوق کے حصول میں ناکامی یا کامیابی کا تعلق مقامی حالات سے ہے۔ امت مسلمہ کے صاحبان اقتدار کے لیے ضروری ہے کہ وہ انسانی حقوق کی طرف توجہ کواولیت دیں۔ 
یہ نکتہ بھی قابل اعتراض ہے کہ جن ملکوں میں جبر واستبداد ریاستی سرپرستی میں ہوتا ہے اور جہاں عدالتی نظام غریب کو انصاف مہیا کرنے سے قاصر ہے۔ دہشت گردی کی تحریکیں ایسی ہی سرزمین سے جنم لیتی ہیں۔ اس لیے مغربی دنیا اگرسنجیدگی سے دہشت گردی کوختم کرنا چاہتی ہے تو اسے اور ان ملکوں کے عدالتی نظام کی تبدیلی کی کوشش کرنا ہوگی، ناانصافی کا خاتمہ کرنا ہوگا،۔ ایسی تنظیموں اور جماعتوں کی مدد کرناہوگی جوریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کررہی ہیں ۔ مغربی دنیاکو ایسے ممالک کی اقتصادی امداد بند کرناہوگی جہاں ظلم واستبداد اورریاستی دہشت گردی عوام کا مقدر بنی ہوئی ہے تاکہ ایسی حکومتیں اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لائیں۔ 

ا مریکہ کو کیا کردار کرناچاہیے؟

مسٹر ہیکس نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے خلاف اور جمہوری طرزعمل کے حق میں امریکہ سرکاری طور پر اپنے حلیف ملکوں کے ساتھ تعاون کررہا ہے ، لیکن ان تمام مساعی کے باوجود امریکی انتظامی عرب دنیا کے ان جابر حکمرانوں کی حمایت پر مجبور ہے جوامریکہ کے حلیف بھی ہیں اور اپنے عوام کے حقوق بھی غصب کر رہے ہیں اور امریکی انتظامیہ اس صورت حال کو صرف اس لیے قابل قبول سمجھتی ہے کہ موجود ہ حکمران اپنے عوام کے لیے بے شک ظالم اور جابر ہیں مگر وہ امریکی بغل بچے ہیں اور وہ پوری دنیا میں امریکی مفادات کا تحفظ کررہے ہیں۔ لہٰذا اگر امریکہ ان ملکوں میں جمہوری طریقے سے تبدیلی لائے تو ممکن ہے۔ عوامی رائے سے آنے والے لوگ امریکی مفادات کے لیے آلہ کار نہ بن سکیں۔یہ جابر حکمران اور مطلق العنان ڈکٹیٹر انتظامیہ کوہمیشہ یہ باور کراتے آئے ہیں کہ صرف وہی امریکی مفادات کے محافظ ہیں۔ اگر انہیں اقتدار سے ہٹایا گیا تو خطے میں ا مریکی مفادات کوخطرہ لاحق ہو جائے گا۔ اس طرح یہ حکمران امریکی حکومت کے لیے بھی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ دراصل یہ لوگ اسلامی شدت پسندوں کے خطرے کا ہوا کھڑا کر کے امریکہ کو ڈراتے ہیں کہ اگر ہم نہ ہوتے تو اسلامی انتہا پسند اقتدار میں آجائیں گے، لہٰذا ہماری غلط پالیسیوں کی بھی حمایت کی جانی چاہیے تاکہ امریکی مفادات کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ 
امریکہ نے ان جابر اور ظالم حکمرانوں کے سامنے صرف اس لیے گھٹنے ٹیک دیے ہیں کہ انہوں نے اسلامی شدت پسندی ، کوایک خطرناک ہتھیار کے طو ر پر متعارف کروایا ہے۔ انہوں نے امریکہ کو باور کروایا ہے کہ ہم نہ ہوں گے تو اسلامی شدت پسند، بر سرا قتدارآکر امریکی مفادات او رمغربی تہذیب وتمدن کو مٹا ڈالیں گے ۔ حکمرانوں کو اس ہولناک اور ہمہ گیر پروپیگنڈے سے متاثرہو کر امریکہ نے طے کر لیاہے کہ اسلامی تحریکوں کو کچلنے کے لیے ہر طریقہ اختیار کی جانا چاہیے، تاکہ مغربی مفادات کاعموماً اور امریکی مفادات کاخصوصاً تحفظ کیا جا سکے۔ ہیکس نے اپنے بیان میں کہاکہ تونس میں تمام بنیادی حقوق ختم کر دیے گئے ہیں اور اسلامی انتہا پسندی کوکچلنے کے بہانے عوام کی آزادیاں سلب کرلی گئی ہیں ۔ یہی صورت حال مصراور دوسرے عرب ممالک کی ہے، یہی طرزعمل ملائیشیا ،الجزائر اور ترکی میں اختیار کیا گیا ہے (اور یہی مشرف حکومت نے پاکستان میں اختیار کررکھاہے اور اسی طرزعمل کی دہائی دے کر بے نظیر امریکہ سے اقتدار کی بھیگ مانگ رہی ہے۔ مترجم)
اس طرزعمل نے درگزر، سیاسی فکراور آزادی رائے کو معدوم کردیا جو کہ جمہوری طرزعمل کی اساس ہے۔ اس طرزعمل نے آزادی انصاف کو مجروح کردیا ۔سیاسی جماعتوں کی تشکیل، سول رائٹس اور انتظامیہ اور عدلیہ کی علیحدہ علیحدہ شناخت کوختم کر دیا۔ اس کا نتیجہ برآمد ہواکہ زیرزمین سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ، لوگ اپنی محرومیوں کا بدلہ لینے کے لیے دہشت گردی کی راہ اختیار کی ۔ اسلام نے جس حریت فکر کی بنیاد ڈالی تھی، اسے اسلام ہی کے نام پر ختم کردیا ، کیوں کہ خیر سے یہ سارے کارنامے مسلم حکمران انجام دیتے ہیں۔ اس طرح اسلام خود مسلمان ملکوں میں حزب مخالف کے طور پر ابھرا، حکمرانوں کاطرزعمل اور ہوگیا اور مسلمانوں کا طرزعمل اور ہوگیا ۔ مسلم علماء کو بدنام کیاگیا اور متوازن فکروالے لوگ حکمرانوں کے طرزعمل سے بد دل ہو گئے اور الگ تھلگ ہوگئے۔ 
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے دوستوں نے جمہوریت کی راہ میں روڑے اٹکائے ان پر مغربی ملکوں نے تنقید کی ۔ ادھر امریکہ جن ملکوں کا مخالف ہے، ان پر وہ بھی جمہوریت ہی کے مقدس نام سے نہ صرف تنقید کر رہا ہے بلکہ ان حکومتوں کو الٹنے کے درپے ہے جوامریکی خوشنودی کے لیے کام کرنے کے لیے تیار نہیں چنانچہ ایسے لوگوں کے بجائے ظلم اور دشمن ممالک کو پسند ہیں جوامریکہ کے لیے کام کریں اور جمہوریت کے نام پر اپنے عوام کا استحصال کریں اور وہ لوگ امریکہ کی نظر میں ناقابل قبول ہیں جواگرچہ جمہوری اقدار کے حامل ہیں مگر امریکہ آشیر باد اوراس کی پشت پناہی کے بغیر اقتدار میں آگئے، چاہے وہ عوام کے ووٹوں سے ہی کیوں نہ منتخب ہوئے ہوں، جیسے ایران سے خمینی، ازم جسے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ جیسے سوڈان کی اسلامک نیشنل فرنٹ اسی طرح امریکہ نے انسانی حقوق کانام ونہاد پرچم بلندکر کے اب صدام کو بھی برائی کامحور قراردے دیاہے۔ ( اس وقت صدام برسراقتدار تھے اور امریکہ حملہ کے لیے تیارتھا) 
مسٹر ہیکس کہتے ہیں:
امریکہ کی اس دوغلی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ اب دنیاکا اعتماد امریکہ سے اٹھ گیا ہے۔ امریکہ کو ایران اور افغانستان میں خواتین کے حقوق پامال ہوتے نظر آتے ہیں مگر اسے سعودی عرب کی خواتین کی مشکلات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اگر امریکہ کو عراقی عوام سے اتنی محبت ہے کہ عوام کے آزادانہ ووٹ کے لیے صدام کے خلاف خوفناک جنگ کا آغاز کررہا ہے تو امریکہ یہی جنگ مصرا ورتیونس کے خلاف کیوں نہیں کرتا جہاں ظلم وجبر پرقائم نظام عوام کے لیے وبال جان بنا ہوا ہے؟ (اور اس سے بدترین نظام آمریت سعودی عرب، مراکش، لیبیا، پاکستان اور الجزائر میں ہے مگر امریکہ کو وہاں جمہوریت سے کوئی دلچسپی نہیں ۔مترجم)
اسی طرح افغانستان میں جب افغانیوں نے روس کے خلاف مزاحمت شروع کی تو امریکہ نے افغانستان میں کسی قسم کی جمہوریت نہ ہونے کے باوجود مجاہدین کی بھرپور مدد کی اور جب طالبان گورنمنٹ قائم ہوئی تو امریکہ نے دہشت گردی کی آڑ میں اسی افغانستان کومٹی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا جو کہ روس کی تباہی کا سبب بناتھا۔ گویا امریکہ نے اپنے ہی دوستوں کو صرف اس لیے کچل ڈالا کہ وہ امریکہ کے سامنے سجدہ ریزی کے لیے تیار نہ تھے۔ 
کتنا تضاد ہے کہ امریکہ انسانی حقوق کا چمپئن بنا ہوا ہے اور وہ پوری دنیا میں جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے، لیکن جہاں جمہوریت کونیست ونابود کرنے والی قوتیں امریکہ کی حلیف بن جاتی ہیں، وہاں امریکہ کو جمہوری اقدار کی پامالی نظر نہیں آتی، جیسے پاکستان میں فوجی حکومت کی حمایت، سعودی عرب میں بادشاہت کی حمایت، الجزائر میں فوجی حکومت کی حمایت، اسرائیلی مظالم کی تائید اور مصر کے ظالمانہ نظام کی حمایت جب کہ اسرائیل اور مصر دونوں انسانی حقوق کی رو سے بین الاقوامی مجرم ہیں۔ ( یہ حال امریکہ کی پالیسی کاہندوستان کے بارے میں ہے جہاں مسلمانوں کو ذبح کیا جارہا ہے۔ گجرات کشمیر کے مظالم امریکہ کونظر نہیں آتے۔ وہ ہندوستان کو ایشیا میں اپنے مفادات کا نگران کہتا ہے۔ مترجم)
اس کے بر عکس امریکہ سوڈان، لیبیا اورعراق پر پابندیاں لگا کر معصوم بچوں کی خوراک اور دوائیوں سے محروم کررہا ہے ۔ مسٹر ہیکس نے اپنے خطاب میں بش ، کلنٹن انتظامیہ کے اس کردار پر تبصرہ کیا جووہ مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے کردار کر رہے ہیں۔ امریکہ کی تمام تر مساعی کے باوجود مشرق وسطی میں جمہوری عمل اس لیے فروغ نہیں پا رہاکہ اسرائیل جمہوری اقدا ر اور انسانی حقوق کی پامالی میں بین الاقوامی معاہدات کی دھجیاں بکھیر رہا ہے۔ اوسلوا دور اور میڈرڈ کے تمام معاہدے ناکام ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے امریکی ساکھ دنیا میں گر گئی ہے ۔ اسرائیلی مظالم پر امریکی خاموشی بلکہ امریکی تائید نے امریکہ کو پوری دنیا میں تنہا کردیا ہے۔ دوسری طرف عرب ممالک جوکہ امریکہ کی آنکھ کاتارا ہیں اور جنہوں نے امریکہ کواپنی گود میں بٹھایا ہوا ہے، وہ اپنی رعایا پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑرہے ہیں اوران کی پالیسیاں انسانی حقوق کے لیے زہر قاتل ہیں۔ مگر امریکہ اپنے دوستوں کو اس ظلم سے باز رکھنے کے لیے ادنیٰ سی کوشش بھی بروے کار نہیں لارہا۔
لہٰذا عالمی رائے عامہ کاامریکہ کے خلاف ہونا فطرتی عمل ہے۔ یہ کوئی حادثاتی عمل نہیں ، امریکہ کے دوہرے معیارنے اسے دنیا میں مکمل طو رپر تنہاکردیا، اسی لیے اسلامی دنیا میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ جمہوریت انسانی حقوق کے نعرے سراب سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ کیوں کہ امریکہ ان قوتوں کاسرپرست ہے جوجمہوریت کی دشمن اور انسانی حقوق کے نام پر صرف اس لیے آواز نہیں ا ٹھ رہی کہ یہ نعرے امریکہ کے ایجاد کردہ ہیں جس کی عملی طور پر امریکہ نفی کررہاہے، لہٰذا عام طور پر اسلامی دنیا میں اب ان نعروں سے نفرت کرنے لگی ہے۔ اس ضمن میں مسٹر ہیکس نے حسب ذیل تجاویز پیش کی ہیں:
امریکہ کو چاہیے کہ وہ اسلامی دنیا میں جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے ان اداروں کی زیادہ سے زیادہ مالی مدد کرے جو جمہوریت کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن اس امداد کے لیے چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی ہونا چاہیے تاکہ لاکھوں ڈالرلوگوں کی جیب کی نذر نہ ہو جائیں۔ نیز حکومتیں ان رقوم کو مخالفین کے کچلنے کے لیے استعمال نہ کریں۔( ملاحظہ فرمایا آپ نے مالی امداد دے کر مسلم دنیا کے حکمرانوں کے کان کھینچنے کا طریقہ بھی سکھایا جا رہا ہے۔ مترجم)
۲۔ ایسے پریشر گروپ تشکیل دیے جائیں جو مسلم ممالک میں امریکی مفادات کا تحفظ بھی کریں اور اپنے ملک میں جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے بھی کام کریں، اس لیے ضروری ہے کہ امریکی انتظامیہ ایسے اسلامی ملکوں کو سختی سے حسب ذیل امور پر عمل درآمد کی پابند کرے: 
مساوات مردوزن ، حریت فکر ، آزادی صحافت ،عدلیہ کی مکمل آزادی ،سیاسی تنظیم سازی کی آزادی، سیاسی جماعتوں کے معاملات میں حکومت کی عدم مداخلت۔ 
اس کام کے لیے صرف مالی امداد پر ہی اکتفا کرنا مناسب نہ ہوگا بلکہ مسلم ممالک کو ثقافتی، تجارتی، تعلیمی میدان میں بھی مغرب کوعموماً اور امریکہ کوخصوصاً شریک کرناہوگا تاکہ مسلم ممالک مغرب کے وسیع تر تہذیبی ، ثقافتی، تجارتی ،سیاسی دھارے میں شامل ہوکر اندرون ملک اور بیرون ملک تبدیلیوں سے مستفید ہوسکیں۔ اس کی بہترین مثال ترکی ہے جو اسلامی ملک ہونے کے باوجود یورپی یونین میں شامل ہوکر عالمی منڈی میں رسائی حاصل کرچکا ہے اوریہی وجہ ہے کہ ترکی اپنے ملک میں مغربی افکار کوعملاً نافذ کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ (اندازہ فرمائیے کس طرح جمہوریت کے نام پر لیکچر جھاڑنے والے مسلم دنیاکو جمہوریت کی افیون کھلاکر پورے ملک کومغربی تہذیب کی گودمیں ڈالنا چاہتے ہیں اور بین الاقوامی دھارے کے خوبصورت الفاظ میں مسلم دنیا کااسلا می تشخص ختم کرنے کے لیے کیسی کیسی خوبصورت ترکیبیں بتائی جارہی ہیں۔ شاید انھی تجاویز پر عمل ہورہاہے کہ پاکستان اور عرب دنیا میں اسی نام نہاد دھارے میں شامل ہو کر اپنا تشخص کھو چکے ہیں اور وہ کسی بھی ایسے مظلوم ملک کی مدد کرنے سے قاصرہیں جو کہ امریکہ کے خوفناک ہتھیاروں کانشانہ ہیں۔ مترجم) 
۳۔ اسلامی ممالک سے ان بین الاقوامی معاملات پر عمل در آمد کروایا جائے جن پر مسلم ممالک نے یو این او کے تحت دستخط کر رکھے ہیں اور جن میں تمام ممالک پر زور دیاگیا ہے کہ وہ اپنے عوام کے بنیادی حقوق، آزادی نسواں کو یقینی بنائیں، لیکن ایسا تب ہی ممکن ہے جب کہ امریکہ مسلم دنیا سے مسلمانوں کومطمئن کرے تاکہ عالم اسلام میں امریکہ کے خلاف نفرت ختم ہو سکے ۔ مسلمان ممالک کے خلاف امتیازی سلوک کو ختم کیاجائے اور مسلمانوں کی آزادی کی تحریکوں کی حمایت ہی نہیں بلکہ سرپرستی بھی کرے۔ 
امریکہ کو چاہیے کہ وہ حلیف ممالک میں اس امر کا جائزہ لے کہ :
الف۔ کیا ان ملکوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی تونہیں ہورہی۔
ب۔ سیاسی مخالفین کوانتقامی کارروائیوں کا نشانہ تو نہیں بنایاجا رہا۔
ج۔ سیاسی مخالفین کوجیلوں میں تونہیں ڈالا جاتا، ان کی املاک کو توضبط نہیں کیا جاتا۔ 
اس کام کے لیے امریکہ کو بین الاقوامی شہرت یافتہ صحافیوں، دانشوروں ، تجزیہ نگاروں کی خدمات حاصل کرنا ہوں گی۔ انہیں معقول معاوضہ د ے کر تحقیقاتی رپورٹس تیار کروائی جاسکتی ہیں۔ 

نظام احتساب

بیشتر اسلامی ممالک میں حکمرانوں کے احتساب کا کوئی واضح نظام نہیں جس کی وجہ سے حکمران طبقہ اپنی من مانی کر کے عوام کے حقوق غصب کر رہا ہے۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ اسلامی عالمی تنظیموں کے ساتھ مل کر مسلمان ملکوں کے حکمرانوں کے خلاف احتساب جاری کرے تاکہ مطلق العنا ن آمریت کا خاتمہ ہو سکے۔ اس ضمن میں عرب لیگ اور اوآئی سی کواستعمال کیاجاسکتا ہے۔ ترکی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے جہاں جمہوریت قائم ہے اور ترکی نے اپنے تمام شہریوں کو یورپی یونین کی عدالت میں شکایت کا حق دے رکھا ہے اور ترکی نے اس معاہدے پر دستخط کر ا رکھے ہیں جس کی روسے یورپی یونین کے عدالتی فیصلوں کی پابندی ترکی کے لیے ضروری ہے۔

(ترکی کو باربار اس لیے نمونہ پیش کیا جار ہا ہے کہ ترکی نے مغربی تہذیب کو جبراً اپنے ملک میں نافذ کرکے اسے یورپ کے مادر پدر آزاد معاشرے میں ضم کردیاہے۔ اسلامی اقدارکی پابندی کرنا ترکی میں قابل دست اندازی پولیس جرم ہے، حجاب پر پابندی ہے ،نماز پڑھنے والے او ر باریش افسروں کو فوج سے باہر نکال دیا گیا ہے، سکارف پر پابندی لگاکر پردے کی دھجیاں مغربی تہذیب کی دہلیز پر بکھیر دی گئی ہیں۔ گویا مغربی مفکرین کے نزدیک مغربی تہذیب وقوانین کو ڈنڈے کے زور پر نافذ کرنا عین جمہوریت ہے اور اس مقصد کے لیے انسانی حقوق، آزادی ضمیر کو تہس نہس کرنا جائز ہی نہیں بلکہ ضروری ہے جیسا کہ ترکی میں ہورہا ہے۔ وہاں اسلام پر عمل کرنا جرم ہے مگرا سے مذہبی آزاد ی کے منافی اس لیے نہیں سمجھا جاتا کہ مغربی مفکرین کا اصل ہدف ہی اسلام اور اسلامی تہذیب ہے۔ جہاں مسلمانوں نے نظام اسلام کے نفاذ کی بات کی، وہیں مغرب کے پیٹ میں جمہوریت، آزادی، عدلیہ کامروڑ اٹھنا شروع ہو جاتا ہے اور جن ملکوں میں علما کو پابند سلاسل کیا جائے، پردہ نشیں خواتین کو ہراساں کیا جائے، دینی مدارس پر قدغن لگائی جائے، مذہبی عناصر کا جینا محال کر دیاجائے، وہاں مغربی ممالک مالی امداد بھی فراہم کرتے ہیں اورایسے ملکوں کی مکمل سرپرستی کرتے ہیں جہاں نام نہاد مسلم حکمران مسلمان کا گلا گھونٹنے اوراہل علم کو کچلنے میں مشغول ہیں۔ گویا مذہبی لوگ نہ تو انسا نی حقوق کے حق دار ہیں نہ انہیں آزادی رائے کا حق دیا جا سکتا ہے۔ یہ ہے وہ فکر جو مغرب برآمد کرکے اسلامی دنیا کوذلت وخواری کے عمیق گڑھے میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ فتدبروا ۔ مترجم) 

میری علمی و مطالعاتی زندگی

ڈاکٹر اسلم فرخی کے مشاہدات و تاثرات

ڈاکٹر اسلم فرخی

سوالنامہ : عرفان احمد

(عرفان احمد بھٹی اور عبد الرؤف کے مرتب کردہ سوال نامہ کے جواب میں لکھا گیا۔)

اگرمیں بیان کرناشروع کروں گا تو آج کا دن کل کے دن میں بدل جائے گا لیکن میرے دل کا حال پھر بھی بیان نہیں ہو سکے گا، چونکہ ہرآدمی جومیری عمرکاہے اور جس نے لمبی زندگی گزاری ہے، اُسے اپنی عمر کے آخری حصے میں پہنچ کرماضی کی بازیافت سے بہت دلچسپی پیداہوجاتی ہے۔ میں تو عملاً کبھی اپنے حالات زندگی کے بارے میں گفتگو نہیں کرتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اپنے بارے میں کچھ کہنا نہایت مشکل بات ہے۔ اگرصحیح بات کہوں تو سننے والے یہ کہتے ہیں کہ صاحب بڑی تعلیٰ سے کام لیا اوربہت غلوسے کام لیا۔ اختصار برتوں توسننے والے کچھ اور سوچیں گے۔ 
بہت مختصر بیان کرناچاہوں تو اتنا کافی ہے کہ میں23اکتوبر1924ء کولکھنو میں پیداہوا۔ میں نے ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی۔ میری ننھیال لکھنو ہی میں تھی اور میرے نانا وہاں رہتے تھے اور میں چونکہ اُن کی بڑی بیٹی کابڑابیٹا تھا اور اُن کے ہاں کوئی اولاد نرینہ نہیں تھی، اس لیے انہوں نے مجھے بیٹے کی طرح پالا اورچاہا۔ جب میں بڑا ہوگیا تو میں اپنے والد کے پاس فتح گڑھ آگیا جو ضلع فرخ آباد کاصدرمقام ہے۔ میرے نانااور میرے دادا دونوں کاخاندانی کام کتابوں کی اشاعت کا تھااوردونوں کے پریس تھے، تو نانانے بہت سی کتابیں شائع کیں اورمشہورشاعرداغ دہلوی کے وہ تمام مجموعے جورام پورمیں مرتب ہوئے، اُن کے حقوق میرے نانا کے پاس تھے۔ گلزار داغ، آفتاب داغ اور فریاد داغ وغیرہ۔ پھراُس کے علاوہ ایک اورسلسلہ تھا جس میں آھا نظم گائی جاتی تھی۔و ہ ایک خاص لے میں گائی جاتی تھی اور اچھے پڑھنے والے وہ نظم پڑھتے تھے۔ مسلمانوں نے بھی ایک نظم لکھی جس کانام تھااسلام کھنڈ اوراُس میں غزوات کے بارے میں اُسی زبان میں شاعری کی گئی تھی۔ وہ بھی بڑے شوق سے گائی جاتی تھی، لوگ سنتے تھے اور اُس سے محظوظ ہوتے تھے۔ یہ کتاب بھی بڑی مشہور ہوئی۔
اس کے علاوہ پریس کاکام تھا۔ اُس زمانے میںHandپریس ہوتے تھے۔اب تومنٹوں میں چیزیں چھپتی ہیں، جب کہ اس وقت پتھرسے چھپائی کی جاتی تھی۔ کاتب پہلے کاغذ پر ایک خاص قسم کی روشنائی سے لکھتے تھے اور وہ پتھر پہُ اتاری جاتی تھی اورلکھنو میں بعض ایسے کاتب تھے جوکاپی نہیں لکھتے تھے بلکہ وہ معکوس رقم کہلاتے تھے۔ پتھر ان کے سامنے ایک چھوٹی میز پر رکھ دیا جاتا تھا اور وہ اُلٹے رخ پر لکھتے جاتے تھے یعنی معکوس انداز میں لکھتے جاتے تھے۔ عبدالحلیم شررکاجورسالہ تھا دل گداز، وہ اسی طرح پتھر پہ لکھا جاتا تھا۔ میں نے دیکھا ہمارے ہاں کاتب صبح نوبجے آئے، ایک میزاُن کے سامنے رکھی گئی اورپتھر اُس پہ جمایا گیا اور دن بھر لکھتے رہے۔ ہمارے پردادا کے ہاں بھی پریس تھا۔ وہ بھی کتابیں چھاپتے تھے اورمصنف بھی تھے۔ انہوں نے بعض اچھی کتابیں بھی چھاپیں۔مثلاً اُن کی چھاپی ہوئی کتاب تاریخ فرخ آباد بہت مشہور ہوئی۔ توکہنے کامقصد یہ ہے کہ مجھے بچپن ہی سے علم وادب کاماحول ملا۔
یہ کتابیں کیسے لکھی جاتی ہیں، کتابیں لکھنے والے کون ہوتے ہیں، کتاب پڑھنے والے کون ہوتے ہیں، ان کے بارے میں تفصیل سے باتیں بعد میں ہوں گی۔ پہلے ذرا تحریک پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ میں قصبے کی مسلم لیگ کاسیکرٹری رہا۔ 1946ء کے الیکشن میں بھرپور حصہ لیا، گاؤں گاؤں پھرا۔ طالب علموں کا ایک گروہ تھاجویہ کام کرتے تھے۔ سارے یوپی میں جومسلمان طالب علم تھے، وہ یہی کام کرتے تھے۔ توپھر نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان قائم ہوگیا۔ 
میں ستمبر1947ء یہاں آیا اورستمبر1947ء ہی سے میں کراچی میں مقیم ہوں۔ یہاں میری نئی زندگی شروع ہوتی ہے۔ مجھے لکھنے پڑھنے کاشوق تھا۔ اُس زمانے کی مقبول تحریک ترقی پسند تحریک تھی۔مجھے اُس تحریک کے اغراض و مقاصد سے دلچسپی تھی۔ اپنے قصبے میں اُس تحریک کی ایک شاخ میں نے بھی قائم کررکھی تھی۔یہاں آگیا تویہاں ساری سرگرمیاں اس لیے ماندپڑگئیں کہ میں ریڈیومیں مسودہ نگارکی حیثیت سے چلاگیا اور نظم اورنثرساری چیزیں ریڈیوکے لیے وقف ہوگئیں۔ پانچ سال میں ریڈیو میں رہا اور اس دوران بہت کچھ لکھا۔نظمیں لکھیں،غزلیں لکھیں،فیچرلکھے،گیت لکھے، تقریریں لکھیں، بچوں کی تقریریں لکھیں اور جب ریڈیوپاکستان سے سکول براڈکاسٹ کاپروگرام شروع ہواتو اُس کے بہت سے پروگرام لکھے۔ افسوس یہ ہے کہ کوئی چیزمحفوظ نہیں ہے۔ بعض فیچرایسے تھے جومجھے خودپسند تھے۔ مثلاً خلیفہ اول حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے بارے میں رفیق رسول ﷺ کے عنوان سے فیچرلکھا تھااور بڑی محنت سے لکھا تھا۔ بہت پسندکیاگیا تھااورآفتاب عظیم ٹیلی ویژن کے ایک پروڈیوسرتھے، وہ جب ملتے تھے توکہتے تھے کہ میں اس کی ایک ویڈیو کیسٹ بناؤں گا۔ وہ بھی مصروف ہوگئے، میرے پاس اب کچھ ریکارڈ بھی نہیں ہے۔ لیکن کبھی کبھی یاد آتا ہے کہ وہ بہت اچھا لکھا تھا۔ اس طرح واجد علی شاہ، بہادرشاہ ظفر پر فیچر تھے۔ 
فیچروں کے علاوہ ڈرامے بھی بہت سے لکھے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، لیکن میرایہ ارادہ تھاکہ میں ریڈیو میں زندگی نہیں گزاروں گا۔ مجھے تدریس کاشوق تھا۔ میرے والد نے جب میٹرک پاس کیاتواُن کو گورنمنٹ سکول میں جگہ مل گئی اور وہاں پڑھاتے رہے۔ لیکن اس دوران میں تحریک خلافت اورعدم تعاون کی تحریک شروع ہوئی اورمسلمانوں میں یہ تحریک چلی کہ انگریزوں کی ملازمت ترک کر دینا چاہیے تو انہوں نے ملازمت ترک کردی، اس لیے یوں کہناچاہیے کہ تدریس میرے خون میں شامل ہے۔میں یہ سوچتا تھا کہ میں ان شاء اﷲ تعالیٰ کسی کالج یایونیورسٹی میں پڑھاؤں گا تومجھے سندھ مسلم کالج میں جگہ مل گئی۔ اُس زمانے میں کالج بھی کم تھے اور تعلیم کاماحول بھی ایسا نہیں تھا۔ سندھ مسلم کالج میں جگہ مل گئی، میں چلا گیا۔ بہت اچھا وقت گزرا۔غلام مصطفی شاہ صاحب پرنسپل تھے اوروہ بڑی زبردست شخصیت کے حامل تھے۔ ہمدردتھے۔ جب تک زندہ رہے اُن سے تعلقات رہے اور میری طرح بہت سے نوجوانوں لوگ تھے جوپڑھارہے تھے۔
پھر یہ ہواکہ مرکزی حکومت نے سنٹرل گورنمنٹ کالج قائم کیا جو اب بھی ہے تواُس کالج میں پبلک سروس کمیشن نے اساتذہ کا تقرر کیا۔ تو اُس میں میرا بھی تقررہوگیا، میں بھی وہاں چلاگیا۔نیاکالج تھا اورپڑھانے والے بھی نئے تھے۔ آدھا حصہ مغربی پاکستان اورآدھا حصہ بنگالی اساتذہ کاتھا مگریہ کہ روابط ایسے تھے کہ بنگالی اورغیربنگالی میں کوئی فرق نہیں تھا۔ اتنے اچھے اور بے تکلف تعلقات تھے اوروہ اس طرح گھل مل گئے تھے کہ دن رات اُن کے گھروں میں جانا اور اُن کاہمارے ہاں آنا۔ساری باتیں تھیں۔ وہیں میں نے ’’محمدحسین آزاد کی حیات اورتصانیف‘‘ کے عنوان سے اپنی پی ایچ ڈی کاThesisلکھا۔یہ دوجلدوں میں تھا اورمجھے بعدمیں آدم جی ایوارڈ بھی ملا تھا۔ پھر گورنمنٹ کالج سے میں کراچی یونیورسٹی آگیا ۔شعبہ اردومیں آگیا، بہت خوش رہا، بہت اچھا ماحول تھا۔ ڈاکٹر ابواللیث صدیقی تھے۔ڈاکٹر ابوالخیرکشفی تھے، ڈاکٹر شاہ علی تھے، ڈاکٹر فرمان فتح پوری تھے، اساتذہ کاایک پوراگلدستہ تھا۔ کراچی یونیورسٹی اُس زمانے میں اعلیٰ تعلیم کاایک بہت بڑااوربہت اچھا مرکز بھی تھی۔ ہرشعبے میں ایسے اساتذہ تھے جوبین الاقوامی سطح پرنامی گرامی سمجھے جاتے تھے۔مثلاً تاریخ کے شعبے میں ڈاکٹراشتیاق حسن قریشی اور ڈاکٹر محمود حسین تھے۔ ڈاکٹریوسف تھے جو عربی کے بہت بڑے اسکالرتھے۔ فارسی میں ڈاکٹرغلام سرور تھے، ڈاکٹر ملیع الامام عابد علی خان تھے یہ جونام میں آپ کوگنوارہا ہوں، یہ وہ لوگ تھے جنہیں اپنے موضوع پربہت بڑاعالم اورمستند سمجھا جاتا تھا۔ لکھنے پڑھنے کابہت عمدہ دور گزرا۔ 
یہاں میں شعبہ تصنیف وتالیف کاناظم رہا اور آخرمیں یونیورسٹی کارجسٹرارہوگیا تھا، حالانکہ وہ ایک انتظامی کام ہے۔ چونکہ میں سینٹرٹیچر تھا، لہٰذا ہرمعاملے میں ٹھیک سمجھا جاتا تھا۔بڑاکامیاب رہا۔وہاں سے نکلا توایک دن بھی گھرمیں فالتو بیٹھنا نصیب نہیں ہوا۔ نورالحسن جعفری انجمن ترقی اردو کے ناظم تھے۔انہوں نے کہاکہ آپ کل سے انجمن میں آجائیں۔ میں نے کہاکہ ایک آدھ مہینے آرام کروں توانہوں نے کہا کہ صاحب آپ کو کل آنا ہے توانجمن میں مشیرکی حیثیت سے چلاگیا۔ وہاں کام کرتارہاآٹھ دس سال۔ پھراُس کے بعدصحت خراب ہوگئی تھی۔ گھرمیں بیٹھ گیا۔ میرے حساب سے کوئی چاربرس ہوئے ہوں گے کہ اردو یونیورسٹی کی سینٹ کاممبربن گیا۔سینٹ نے مجھ سے یہ کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ایک بڑی گرانٹ اس لیے دی ہے کہ اردومیں سائنس کی درسی کتابیں تیارکی جائیں۔ اردویونیورسٹی توبن گئی ہے اوریونیورسٹی بن جانے کامطلب ہے کہ تدریس اردو میں ہو۔ سائنس بھی اردو میں پڑھائی جائے تومیں نے کہا کہ میری صحت اجازت نہیں دیتی، لیکن مجھے دودفعہ کہا گیا تو مجھے قبول کرناپڑا اس طرح شعبہ تصنیف وتالیف کا اعزازی نگران اعلیٰ بن گیا۔ ایم ایس سی اور آنرز کی سطح کے لیے سائنس کی درسی کتابیں لکھواتا رہا ہوں۔ کتابیں شائع کیں، لیکن مجھے بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں کتاب لکھنے کا کوئی تصورنہیں ہے۔ کتابیں توبہت ہیں، لیکن بعض بنیادی باتیں قابل توجہ ہیں اوروہ یہ ہیں کہ ادب اورشعرکی کتابیں توآپ لکھتے ہیں اورسینکڑوں کی تعداد میں شائع ہوتی ہیں، لیکن علمی کتابیں بہت کم لکھی جاتی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک مستند مکمل کتاب لکھنے کے لیے مصنف کا پوری طرح اپنے مضمون پرحاوی ہونا ضروری ہے۔ اگروہ اپنے مضمون پر کامل دستگاہ نہیں رکھتا اوراُس کاعلمUpto dateنہیں ہے تووہ ٹیکسٹ بک نہیں لکھ سکتا۔چنانچہ بیشتراساتذہ ٹیکسٹ بک لکھنے سے گھبراتے ہیں۔میں نے سارے ملک میں دورے کیے۔ جامعات اور کالجوں میں گیا، سائنسی اداروں میں گیا۔جوخوشامد کرسکتا تھا کی کہ یہ علم کے فروغ کامسئلہ ہے، مگرکسی نے کتاب لکھنے کی حامی نہیں بھری اوراب بھی یہی حال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی علمی اور تحقیقی کتابوں کی اشاعت کی رفتار بہت سست ہے۔
بچوں کی کتابیں بہت پڑھیں۔دارالاشاعت پنجاب کاایک ادارہ تھا، وہ ایک رسالہ ’’پھول‘‘ چھاپتے تھے، وہ پڑھا کرتا تھا۔ میری پہلی کہانی اس میں چھپی تھی۔ مجھے کتنی خوشی ہوئی تھی۔ کراچی آنے کے بعد میں نے شمس تبریزی کے ساتھ مل کر بچوں کا ایک رسالہ ’’میرا رسالہ‘‘ شائع کرنا شروع کیا۔ برسوں جاری رہا۔ ایک ادبی رسالہ ’’نقش‘‘ بھی شمس صاحب کے ساتھ جاری کیا۔ اُس سے آگے بڑھے توجوکتاب ہاتھ لگی پڑھی۔آب حیات اورنیرنگ خیال میں نے بچپن میں پڑھی۔ تب سے محمدحسین آزاد سے دلچسپی پیدا ہو گئی تواب تک یادہے کہ نیزنگ خیال جوتھی وہ لمبے سائز پرتھی اورآب حیات بھی بڑے سائز پرتھی۔ میں نے پچاسوں بارپڑھی۔ اسی طرح درباراکبری بھی پچاسوں بار پڑھی۔ 
شاعری کی بہت سی کتابیں پڑھیں، بچوں کی بھی، بڑوں کی بھی۔ میرے والد کوچونکہ انگریزی کی کتابیں پڑھنے کا غیرمعمولی شوق تھا، وہ جوکتاب پڑھتے تھے میں دیکھتا تھا اور اس سے میرے شوق کو مہمیز ملتی تھی اور میں بھی اس کتاب کا مطالعہ کرتا تھا۔ ایک بات اوربھی ہے کہ کتابوں کے حوالے سے طلسم ہوشربا کا کلچر بھی تھا۔ وہ ہمارے یہاں اس طرح تھاکہ جوہمارے مولوی صاحب تھے، وہ ہمارے یہاں رہتے تھے اورشام کواُن کے دوست احباب اُن سے ملنے آتے تھے اورچونکہ وہ خود بھی شوق رکھتے تھے، اس لیے لالٹین روشن کی جاتی تھی۔ مولوی صاحب بہ آواز بلندطلسم ہوشرباپڑھتے تھے اور وہ بہت سے لوگ جو وہاں جمع ہوتے تھے، اسے سنتے تھے۔ بہت دفعہ میں بھی وہاں جاکربیٹھا اورسنتا رہا۔طلسم ہوشرباکوخود بھی پڑھنے کی کوشش تھی۔ اُس کی سات جلدیں تھیں اور پانچویں کی دوجلدیں ہیں، پنجم اول اور پنجم دوم۔ میں نے یہ کتاب اپنے لڑکپن میں پڑھ لی اور یہ دعویٰ تونہیں کرتا کہ وہ سمجھ میں آئی۔ وہ روانی، وہ اسلوب، سجا ہوا مرصع طرزبیان لیکن پڑھا سب اوربڑا لطف حاصل کیااوراُس کا بڑا اثر رہا۔ وہ ایک بڑی اہم کتاب رہی۔ دوسری داستانیں بھی تھیں طلسم نورپیکر ہے۔ طلسم نور افشاں ہے۔ اول نامہ، ایرج نامہ، بہت پڑھا اوربہت یادرکھا اورمیراخیال یہ ہے کہ اگر اُس کوآسان زبان میں لکھ کربچوں کے لیے ایک کتاب تیارکی جائے توبہت دلچسپ رہے۔
میرے والد انگریزی میں کتابیں منگواتے رہتے تھے۔بعض کتابوں کی کہانیاں انہوں نے مجھے سنائیں۔ مثلاً Victor Hugo کی کتاب Les Miserables کی کہانی میں نے انہی سے سنی تھی اورپھرمجھے یاد ہوگئی تھی اور پھرمیں نے خود بھی پڑھی۔ اوربہت سی کہانیاں بھی سنیں جومیں نے بعدمیں پڑھیں۔ انگریزی ناول پڑھنے کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ اب تک جاری ہے۔ اس طرح کی کتابیں بھی پڑھیں۔ پھر Mob Lick پڑھی۔ بہت مشکل کتاب تھی، میری سمجھ سے ماورا تھی، لیکن پھر بھی میں نے پڑھی۔پھرمیں نے اس کوباربار پڑھا اورپھر اُس پرایک ریڈیو Playبھی لکھا۔ ڈارمے سے بڑی دلچسپی رہی۔ نئے ڈرامہ نگاروں کوپڑھا ۔اُن کے ڈراموں سے استفادہ کیا۔ تنقید پڑھی، تنقیدنگاروں سے استفادہ کیا۔انگریزی شاعروں سے استفادہ کیا۔ یہ پوراسلسلہ ہے جوآج تک جاری ہے۔
ادب کا شوق مجھے اپنے والد سے ورثے میں ملا، سارے خاندان کو ملا۔ میری ایک چھوٹی بہن تنقید بہت اچھی لکھتی تھیں۔ میرے ایک چھوٹے بھائی انور احسن صدیقی معروف ادیب شاعر اور صحافی ہیں۔ میرے بچے اور پوتا پوتی ادبی وراثت کے حصہ دار ہیں۔ میری بیوی ڈپٹی نذیر احمد کی پڑپوتی ہیں۔ انہوں نے شاہد احمد دہلوی کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے۔ ایک کتاب خدیجہ مستور کے بارے میں ہے۔ ایک کتاب ڈپٹی نذیر احمد کے بارے میں زیر طبع ہے۔ میرے بچوں کو ان کی ادبی وراثت سے بھی حصہ ملا ہے۔ 
محمدحسین آزاد کے ساتھیوں میں ڈپٹی نذیراحمد کا نام قابل ذکر ہے۔ میراخیال ہے کہ جیسی گٹھی ہوئی نثرنذیراحمد نے لکھی ہے، اردوکے کسی انشا برداز نے نہیں لکھی۔زبان پر، چہرہ نگاری پر، انسان کے کردار کو بیان کرنے پراور تیز جس مزاح کے ساتھ وہ لاجواب اسلوب تحریر اور انداز نگارش کے حامل تھے۔ کیونکہ اُن کے سامنے ایک مقصدتھا، لہٰذا انہوں نے اپنی کتابوں میں اُس مقصد کوپوراہوتا ہوا دیکھا۔ مولانا شبلی کی سیرت النبیؐ اعلیٰ کتاب ہے۔شبلی کی سیرت النبیؐ کا جو پہلا ایڈیشن تھا، وہ میرے پاس ہے اور اتنے بڑے سائز پرپہلا اور دوسرا ایڈیشن تھا کہ اب اتنے بڑے سائز پر کتابوں کی اشاعت کا رواج نہیں رہا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایڈیشن اگرنایاب نہیں توکم یاب ضرورہے۔ بہت بڑے اہتمام سے شائع ہواتھا۔اسی طرح اور کچھ کتابوں کے پہلے ایڈیشن تھے، وہ لوگوں کے پاس سے میرے پاس بھی آئے۔
مشتاق احمد یوسفی صاحب کی نثرنہایت اعلیٰ قسم کی نثر ہے اوراردو اسلوب کے اعتبارسے یوسفی صاحب کااردونثر میں بہت اہم مقام ہے۔ محمدحسن عسکری کی نثرایک صاحب اسلوب کی نثرتھی اور جو نثر اختصار، اجمال، جامعیت اوراستعجاب کا نمونہ ہے، وہ سعادت حسن منٹو کی نثر ہے اور عصمت چغتائی کی نثر ہے۔خدیجہ مستورکی نثر ہے۔بڑی کاٹ داربڑی چبھنے والی۔ ہمارا اردو ادب اچھے نثرگاروں سے خالی نہیں تھا۔ شاہد احمد دہلوی سے میں نے نثر لکھنا سیکھی۔ ان کی شخصیت اور فن کا میری زندگی پر گہرا اثر ہے۔ 
نام سے جھگڑے پیداہوتے ہیں کہ صاحب اُس کے افسانے کواچھا کہہ دیا۔ بہت سے نام اور بھی ہیں۔ انتظار صاحب جو ہمارے عہد کے بڑے افسانہ نگار ہیں، انہوں نے اردو افسانے کو نئی جہت دی ہے۔ راجندرسنگھ بیدی نے کراچی کے فسادات پر بعض بہت اچھے افسانے لکھے۔ قاسمی صاحب اشفاق احمد کااضافہ کرلیجیے۔ خالدہ حسین کااضافہ کرلیجیے۔ یہ بہت اچھے اوراعلیٰ درجے کے افسانہ نگار ہیں۔ بعض اور افسانہ نگار بھی ہیں۔ نام کہاں تک گنواؤں۔ 
بیسویں صدی میں اتنابڑاناول ’’آگ کادریا‘‘ لکھاگیا ۔خدیجہ مستورنے آنگن لکھا۔آنگن اتناخوبصورت اور مکمل بھرپور ناول ہے۔ قیام پاکستان کے پورے عمل کو، اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے جذبات کو، اُن کی کوشش کواوراُن کے مجاہدے کو، اُن کے جوش وخروش کوخدیجہ مستور نے جس طرح ظاہر کردیا ہے، وہ بڑے کمال کی بات ہے۔اسی طرح کا ٹیڑھی لکیر ہے، اداس نسلیں ہے، علی پور کاایلی ہے، راجہ گدھ ہے۔ سب اچھے ناول ہیں۔ اور آگ کا دریا ہے، قرۃ العین حیدر کے دوسرے ناول اور افسانے ہیں۔ زندگی اور وقت کا پورا طلسم ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کا ’’کیسے چاند تھے سرآسماں‘‘ زبردست ناول ہے۔ فاروقی صاحب ناول، افسانے اور تنقید کا بہت بڑا نام ہیں۔ عہد ساز اور رجحان ساز ادیب ہیں۔ ہمہ جہت ادیب ہیں۔ 
مولانا امین حسن کی تفسیر تدبر قرآن مجھے بہت پسند ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد کی مطالب القرآن جتنی بھی شائع ہوئی، بڑی زبردست اور فکر انگریز کتاب ہے۔ میں اس کتاب سے بہت متاثر ہوا۔ 
بات یہ ہے کہ سیرت کی کتب بڑی عقیدت سے لکھی گئی ہیں بڑی لگن سے لکھی گئی ہیں لیکن ہم سب کو اس پہ غور کرناچاہیے کہ ابھی تک سیرت نگاری کا حق ادانہیں ہوا۔ مسلمان قوم ہی دنیا بھر میں وہ قوم ہے جس نے تاریخ کے علم کوعلمی حیثیت دی ہے۔ مگر ہمارے ہاں تاریخ کاصحیح افادہ نہیں ہوا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی تفسیر میں نے پڑھی ہے اور میں اُن کی ذہانت اوراُن کے علم اوراُن کے طرز بیان کا مداح ہوں۔ اُن کے خطوط کامجموعہ غبار خاطر اردو نثر کا اعلیٰ نمونہ ہے اوراُن کی جوتفسیر ہے، بہت اچھی تفسیر ہے۔ اسی طرح مولانا مودودیؒ کی تفسیر ہے۔ میں مذہبی سکالر یا دانش ور کی لیاقت اور قابلیت پر رائے دینے کااہل نہیں ہوں۔ مولانا مودودی کااسلوب بڑاسادہ اوربڑا پرکشش ہے۔اُن کی پوری تفسیر میں آپ کو بڑی کامیاب نثرنگاری کااحساس ہوتاہے۔
تصوف سے دلچسپی اپنے نانا کی وجہ سے پیداہوئی۔ انہیں بزرگان کرام سے بڑی دلچسپی تھی اوروہ بالعموم عرسوں میں شرکت کرتے تھے۔ نہ صرف میرے نانا جان عرسوں میں حاضری دیا کرتے تھے بلکہ ہمارے خاندان کے اور افراد بھی مزارات پر جایا کرتے تھے۔ اس طرح صوفیا سے دلچسپی مجھے وراثت میں ملی اور نتیجتاً میں نے امیرخسروکاخصوصی مطالعہ کیا تو پھر میرا ذہن منتقل ہوا حضرت نظام الدین اولیاء کی طرف۔ خواجہ محبوب الٰہی کاخصوصی مطالعہ کیااورمیں بڑامتاثرہوا اورمیں اُن کی درگاہ میں سترہ سال تک مسلسل حاضرہوا۔ میراخیال ہے کہ میرا جوحاصل زندگی ہے، وہ میری کتاب ’’دبستان نظام‘‘ ہے۔ پانچ سو صفحے کی یہ کتاب اس مقصد کی خاطر لکھی گئی ہے کہ لوگ عام طورپر یہ تصور کرتے ہیں کہ صوفیائے کرام کے ہاں کرامتیں تھیں اور روحانی تجلیات تھیں۔ کبھی کسی نے یہ غور نہیں کیا کہ یہ سب کے سب جتنے بھی تھے، اپنے عہد کے عالم اورمعاشرتی مصلح بھی تھے۔ان لوگوں نے اپنی مثالی زندگیوں سے معاشرے میں اصلاح کا کام کیا۔ مثلاً حضرت نظام الدین اولیاء کے حوالے سے تاریخ فیروز شاہی میں ضیاالدین برنی نے لکھا ہے کہ کیفیت یہ ہوگئی تھی کہ لوگ مضافات سے حضرت کے دیدار کے لیے آتے تھے تولوگوں نے راستے میں جگہ جگہ چھپر ڈلوا دیے تھے اور وضو کے لیے لوٹے رکھوادیے تھے۔ مصلے بچھوا دیے تھے تاکہ وہ نماز اداکریں اورلوگ ایک دوسرے سے یہ پوچھتے تھے کہ بھائی فلاں نماز میں حضرت صاحب کون سی سورہ پڑھتے ہیں اور فلاں نماز میں کون سی سورہ پڑھتے ہیں۔ شام کوکیا ورد ہوتا ہے اورصبح کوکیاورد ہوتا ہے اوراس بات کی کوشش کرتے تھے کہ کون کون سے گناہ سے بچیں۔ توصاحب اگرآپ کرامات کے قائل نہیں ہیں، تب بھی یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ انسانوں کے قلوب کونیکی فلاح کی طرف راغب کیا اوردوسری بات یہ ہے کہ یہ بزرگ علمی و ادبی اعتبار سے ایک بڑے دبستاں کی حیثیت رکھتے تھے۔ ایک بہت بڑاادارہ ایک بہت بڑا Institutionتھے۔ دبستان نظام کاپہلا باب جوہے، وہ حضرت سلطان جی رحمتہ اﷲ علیہ کی معلومات کی گہرائی ظاہر کرتا ہے۔ مثلاًیہ کہ اتنا حاضر علم تھا کہ کسی نے قرآن مجید کی کسی آیت کاکوئی لفظ منہ سے نکالا توآپ نے وہ آیت پڑھ دی۔ کسی نے کسی حدیث کاتذکرہ چھیڑا توآپ نے اُس حدیث کی روایت بیان کر دی۔ کسی نے کسی شعر کا مصرع پڑھا تو آپ نے پورا شعرپڑھ دیا۔ تویہ چیزجوہے یہ برجستگی اور تیزی یہ حافظہ یہ یادداشت، اس پہ قربان جانے کو دل چاہتا ہے۔
اسی انداز پر امیر خسرو کوتربیت حاصل ہوئی تو پھر انیس برس کی عمرمیں انہوں نے پہلا دیوان مرتب کیا اور حضرت کی خدمت میں آئے۔ مسودہ دیا۔ حضرت نے ملاحظہ فرمایا اورکہاکہ بھائی اصفہانیوں کی طرح لکھا کرو اور پھرسمجھا یاکہ اصفہانیوں کی طرح لکھنے کامطلب کیاہے اوراُن کی نظم ونثرکی اصلاح ہوتی رہی۔ کوئی کتاب امیرخسرو کی ایسی نہیں ہے جو حضرت سلطان جی کے ذکرسے معمورنہ ہو۔حضرت امیرخسرو کی موسیقی کو چمکانے والے حضرت سلطان جی ہیں۔پھرحسن سجنر جو امیرخسرو کی ٹکر کے شاعرتھے۔ شبلی نے لکھاہے کہ حسن اس پانے کے شاعر تھے کہ خسرو کواُن پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ وہ برجستگی میں خسرو سے بڑے ہیں۔ خواجہ حسن سجنر نے وہ کام کردیا جویاد گارہے۔ حضرت سلطان جی کے ملفوظات فوائد الفواد کے عنوان سے مرتب کیے۔ پندرہ سال کے فوائدلکھے ہیں۔ وہ کتاب ایسی ہے جوملفوظات کا پہلا مستند مجموعہ ہے اور میراخیال یہ ہے کہ ہندوستان میں بنگلہ دیش میں، ایران میں، افغانستان میں، وسط ایشیا میں ہرجگہ بڑی دلچسپی سے پڑھی جاتی ہے۔ پھرخواجہ ضیاء الدین برنی تاریخ فیروزشاہی والے نے تاریخ کاہنراوراندازحضرت سلطان ہی سے سیکھا۔ امیر خرد جنھوں نے ’’سیرالاولیاء‘‘ جیسی کتاب زبردست لکھی، ایسی جوچشتیہ سلسلے کی انسائیکلوپیڈیا ہے۔جس ذات گرامی نے اِن لوگوں کی تربیت کی، وہ علم وادب کانہایت اعلیٰ اورنہایت مستحکم دبستان تھا۔ میری کتاب دبستان نظام جس کے لکھنے میں، میں نے تین برس لگائے، اس کتاب کولکھنے میں اس کاابتدائیہ حضرت کی درگاہ دلی میں لکھا تھا۔ اس کااختتامیہ مدینہ منورہ میں لکھا اورمیں سمجھتا ہوں کہ میری زندگی کا اگرکوئی کام ہے تو یہی ہے۔ تصوف کے بارے میں پیر و مرشد ڈاکٹر غلام مصطفی خان نے میرے بے ربط خیالات کی تہذیب کی، ان کا فیض میرے لیے بڑی نعمت تھا۔ 
فارسی میں ایک ہی کتاب کاحوالہ دیتاہوں اور وہ فوائد الفواد ہے۔شاعری جوہے وہ وقت کے ساتھ ساتھ آدمی کو Hauntکرتی ہے۔ مثلاً یہ کہ آج امیرخسرو کاشعر پڑھیں توآپ ہفتوں سردھنتے ہیں۔ حافظ کاکوئی شعرپڑھا، کسی اور شاعر کاکوئی شعر پڑھا، اقبال کاکوئی شعرپڑھا، اُسی کوگنگنا رہے ہیں۔ توہرشاعرکاکوئی نہ کوئی شعراچھا لگتاہے۔نظیری ہوں، فیض ہوں، بیدل، غالب ہوں، خسروہوں اورصاحب! آپ کے بڑے اچھے شاعر جنہیں آپ نہیں پڑھتے، وہ واقف لاہوری ہیں۔ کیا اچھی غزل ہے۔
ہر غنچہ بشگقت الادل من
اے وادل من صدا دل من 
اوربیدل توبہت ہی بڑاشاعرہے۔غنیمت کی مثنوی نیرنگ عشق پہلے پڑھائی جاتی تھی۔ بیدل بڑے شاعرتھے اور ہمارے اپنے زمانے کی اقبال کی جوغزلیں ہیں جاوید نامہ میں، وہ اپنی جگہ ایک شاہ کار کی حیثیت رکھتی ہیں مگرافسوس یہ ہے کہ ہمارے ملک سے فارسی کاچلن اُٹھ گیاہے اورہم اپنے ادبی اورثقافتی سرمایے کے بڑے حصے سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ 
جدید شاعروں میں جوبڑے شاعرہیں، وہ سب بہت اچھے شاعر ہیں۔ میں جوش کوبھی پڑھتا ہوں، فیض کوبھی پڑھتا ہوں، منیر نیازی کواوراپنے دوست احمد فراز کو بھی، قاسمی صاحب کوبھی، زہرہ نگاہ، کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض، فاطمہ حسن اور شاہدہ حسن کوبھی پڑھتاہوں بلکہ فہمیدہ ریاض میں تو تصوف کی ایک لگن پائی جاتی ہے۔ مولانا روم کی جن غزلوں کااردو میں ترجمہ کیا، وہ توایک بہت ہی نادر اور نفیس تجربہ ہے۔ مولانا روم کی مثنوی فارسی میں بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ 
ایک تو فوائد الفواد میری زندگی میں سب سے بڑی کتاب ہے۔میرے گھرکے ہرکمرے میں آپ کویہ کتاب ملے گی۔ میری صبح کا آغاز ایک سپارے کی تلاوت اور فوائد الفواد کی ایک مجلس کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ میں روزنامہ ڈان باقاعدہ پڑھتا ہوں۔ ورنہ 1942ء سے لے کرآج (8 مئی 2011) تک کے اخبارات باقاعدہ پڑھے اور ہندوستان میں دلی سے مسلم لیگ کا ایک اخبارنکلا کرتا تھا جس کانام تھا منشور۔ حسن ریاض ایڈیٹر تھے، ان کی کتاب ’’پاکستان ناگزیر تھا‘‘ تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ وہ پڑھتا رہا، کراچی کے اردو اخبار بھی پڑھتا ہوں۔ 
دوران سفر چھوٹے چھوٹے سفرکے لیے کبھی کوئی اور کبھی کوئی کتاب ساتھ رکھ لیتا ہوں اور حقیقت تو یہ ہے کہ اب ایک ہی سفر کرنا باقی رہ گیا ہے جس میں مطالعے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ دوران سفراخبار پڑھ لیا، رسالہ پڑھ لیا۔ مطالعے کے لیے انسان کواپنی پوری صلاحیتوں کو مجتمع کرناپڑتا ہے۔ مجھے ہزاروں شعریادہیں اور واقعی یہ بات بالکل صحیح ہے کہ مجھے بے شمار شعر یادہیں، تاریخیں یادہیں، واقعات یاد ہیں، نثر کے ٹکڑے یادہیں۔ حافظہ اچھا ہے۔ مثلاً کسی کا ٹیلی فون آیاکہ صاحب یہ شعر بتا دیجیے توکہتے یہ ہیں کہ غالب کے دیوان میں ڈھونڈناپڑے گا، آپ سے فوراً معلوم ہوجائے گا۔ اس طرح کے ٹیلی فون مسلسل آتے ہیں۔ اشعار یاد رکھنے کا ملکہ مجھے اپنے والد سے ورثے میں ملا ہے۔ انہیں ہزاروں شعر یاد تھے۔ 
میرے ذوق مطالعہ کا میرے بچوں پہ بہت اچھا اثر ہواہے۔ میرے بڑے بیٹے آمد کاجدید ادبیات میں مطالعہ مجھ سے بہت زیادہ ہے۔ وہ انگریزی میں بھی لکھتے ہیں اور ہم دونوں ادبی موضوعات پرتبادلہ خیال کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے استفادہ کرتے ہیں۔ وہ کوئی کتاب پڑھتے ہیں تومجھے بتاتے ہیں، میں کوئی نئی کتاب پڑھتا ہوں تومیں اُن کوبتاتا ہوں۔ پھر اُس کے بعدگفتگو ہوتی ہے، مکالمہ ہوتاہے۔ افسوس ہے کہ ضعف بصارت کی وجہ سے پڑھنا برائے نام رہ گیا ہے۔ آئے روز ایک نئی کتاب مجھے دکھاتے ہیں، مگر میں پڑھ نہیں سکتا، صرف افسوس کر سکتا ہوں۔ 
ہمارے ہاں کا دستور تھا لڑکوں کاایک گروہ تھاجو چھپ کر گھٹیا جاسوسی ناول پڑھتے تھے ایک مصنف تھے جن کانام تھا منشی ندیم صبہانی فیروز پوری۔چار آنے میں اُن کاناول آتاتھا۔ پیسے جمع کرکے اُن کاناول لاکے پڑھتے تھے۔پھرہم نے اورضمیرالدین احمد نے جو ہمارے دوست تھے یہ طے کیا کہ دلی جاکر منشی ندیم صبایی فیروز پوری سے ملاقات کرتا چاہے بعدمیں یہ عقدہ کھلا کہ وہ اور جتنے اس طرح کے لکھنے والے تھے وہ اصل میں کاتب تھے اور وہ کتابت کی ہوئی کتاب بالعموم دس روپے پندرہ روپے میں پبلشرز کو دے دیتے تھے اب اُس زمانے میں پانچویں چھٹی جماعت میں وہ بہرام ڈاکو اورجاسوسوں کے کارنامے بڑے اچھے محسوس ہوتے تھے۔بعدمیں خیال آتاہے کہ یہ کیا حماقت اور لغویت تھی۔
ذاتی لائبریری ہے توسہی لیکن مرتب نہیں کیونکہ کتابیں رکھنے کے لیے جگہ نہیں ہے۔میرے بزرگوں نے بہت کتابیں جمع کی تھیں۔ میں نے آپ کوبتایا کہ 16-15ہزارکتابیں تھیں جوبعدمیں ہندوستانی حکومت نے گھر کے سارے سامان کے ساتھ ضبط کر لی تھیں اور مجھے بڑا دکھ ہوا اورساری زندگی رہے گا کہ وہ کتب خانہ صرف ساٹھ روپے میں نیلام ہوگیا تھا۔ بہت دن تک یہاں آکر کتابوں کو جمع نہیں کیا پھرجمع کرناشروع کیا ۔یہاں جگہ نہیں ہے بہت سی کتابیں میں کتب خانوں کودے دیتاہوں۔ میں نے ایک دن اندازہ لگایا تومجھے یہ خیال آیاکہ کم ازکم اب تک تیس چالیں برس میں میں ہزاروں کتابیں مختلف کتب خانوں کودے چکاہوں۔انگلش Fiction کا بہت بڑا Collection تھا۔توپھرآہستہ آہستہ اب صورت حال یہ ہے کہ اس گھرکے ہرکمرے میں کتابیں ہی کتابیں ہیں کتابیں اتنی ہوگئی ہیں کہ سارے گھروالے تنگ آگئے ہیں اور یہ بھی سچی بات ہے کہ اُن کوجداکرنے کودل بھی نہیں چاہتا۔مثلاً میں نے ابھی آپ کے سامنے تذکرہ کیاکہ سیرت النبیؐ کاجوپہلا ایڈیشن ہے وہ ہے میرے پاس، اب جی نہیں چاہتا کہ وہ ایڈیشن کسی کودے دوں۔ بہت بڑا اطمینان ہے اوروہ اطمینان یہ ہے کہ میری کتابیں کباڑیوں کے ہاں نہیں جائیں گی کیوں کہ میری ساری کتابیں آصف سنبھال لیں گے ان کاگھربھی اسی طرح کی کتابوں سے بھراہواہے اوریہ کہ اُن سے کہا ہے کہ تم جس کتب خانے کوبہترسمجھواُسے دے دینا۔
سینکڑوں کتابیں ضائع ہوئیں۔افسوس ہوتاہے جولے گیا اُس نے واپس نہیں کی مگریہ کہ ایک شاگردہے اُسے ضرورت ہے توکتاب تو دینا پڑے گی۔ بعض اچھی ہیں ایسی ہیں مثلاً محمدحسین آزاد کی کتابوں کاپوراسیٹ میرے پاس ہے۔ اُن میں سے اگر کوئی کتاب ضائع ہوجائے تووہ پھر مل نہیں سکتی۔
باقی زندگی کے لیے جو تین کتابیں پسند کرنے کی بات ہے، ان میں ایک تو فوائد الفواد ہوگی، دوسری کتاب دیوان غالب ہوگی اورتیسری کتاب یا دبستان نظام ہو گی۔ 
بہت سی ایسی تحریریں ہیں جن سے اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ ایک تحریر تھوڑی ہے، بے شمار تحریریں ہیں ۔ لوگ دل آزاری سے باز نہیں آتے۔ شائستگی کومدنظرنہیں رکھتے۔ مجھے سفید رنگ پسند ہے۔ آپ کوکوئی دوسرا رنگ پسند ہے تو بھائی اس کی ضرورت نہیں ہے کہ مجھ میں اورآپ میں تکرار ہو اور آپ میری دل آزاری کے لیے سفید رنگ کو برا کہیں۔ یہ آج کی دنیا میں جودل آزارچیزیں لکھی جارہی ہیں اوران کے پیچھے عصبیتیں ہوتی ہیں، وہ قابل نفرت ہوتی ہیں۔ 
اشتعال انگیز تحریریں نفرت پھیلانے اور خبث باطن کے اظہار کے لیے لکھی جاتی ہیں۔ دل آزاری کے لیے لکھی جاتی ہیں، فساد کرانے کے لیے لکھی جاتی ہیں۔ ہماری تعلیم تو یہ ہے کہ کسی کو برا نہ کہو، ہر بزرگ ہمارا بزرگ ہے۔ اس کی عزت کرو، یہ کیا کہ دوسرے بزرگوں کی مذمت شروع کر دی کوئی کارٹون بنانے لگا کوئی ناول لکھنے لگا، یہ سب نہایت تکلیف دہ باتیں ہیں اور خبث باطن کا اظہار ہیں۔ پھرادب میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جوایک دوسرے کے خلاف لکھتے ہیں۔تووہ جوخلاف لکھتے ہیں تواُن کوحق ہے کہ ضرور لکھیں کہ صاحب غالب جوتھا بڑا گھٹیا شاعرتھا۔ ٹھیک ہے صاحب بالکل ٹھیک ہے اگرآپ کی رائے ہے تواس میںآپ اپنی رائے پرقائم رہیں۔میں اپنی رائے پرقائم رہوں گا کہ غالب اچھے شاعرتھے۔مگرآپ اگریہ کہیں کہ فلاں شاعر یانثرنگارتوذلیل آدمی تھا کمینہ تھا قلاش تھا تویہ تودل آزاری کی بات ہوگی اور اس دل آزاری سے فضا اور ماحول خراب ہو گا، نفرت پھیلے گی۔اگر آپ کسی شخص کی علمی یا ادبی حیثیت کے منکر ہیں توآپ انکارکیجیے کوئی حرج نہیں لیکن گستاخی نہ کیجیے۔
میرے مطالعے کے اوقات مقرر نہیں۔ ہر وقت اور ہر جگہ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ میں کتاب پر نشان نہیں لگاتا جو کچھ پڑھتا ہوں اسے ذہن میں محفوظ رکھتا ہوں اور حسب ضرورت اس سے فائدہ اٹھاتا ہوں۔ یہ سب باتیں اس وقت کی ہیں جب آتس جواں تھا۔ اب دنیا کے ستم جاد نہ اپنی ہی وفا یاد۔ یہ خواب و خیال وہ گیا۔ نہ کسی سے شکوہ ہے نہ کسی سے کوئی گلہ، سب اچھے ہیں۔ سارے لکھنے والے لائق تحسین ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو خوش رکھے۔

نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ دنوں بعض عسکریت پسند گروہوں کی طرف سے اس مضمون کے بیانات اخبارات میں شائع ہوئے کہ حکومت پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے آئین کی بات کرتی ہے جبکہ ہم شریعت کی بات کرتے ہیں۔ اس سے یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ بہت سے عسکریت پسند گروپوں کے نزدیک دستور پاکستان اور شریعت اسلامیہ ایک دوسرے کے مد مقابل اور حریف ہیں جبکہ یہ خیال درست نہیں ہے اور اس مغالطے کو فوری طور پر دور کرنے کی شدید ضرورت ہے۔
دستور پاکستان کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ شریعت اسلامیہ سے متصادم ہے، دستور پاکستان سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ اس لیے کہ دستور پاکستان کی بنیاد عوام کی حاکمیت اعلیٰ کے مغربی جمہوری تصور پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کے اسلامی تصور پر ہے جس پر دستور کی بہت سی دفعات شاہد و ناطق ہیں۔ دستور پر عمل نہ ہونا یا اس بارے میں رولنگ کلاس کی دوغلی پالیسی ضرور ایک اہم مسئلہ ہے لیکن اس سے دستور کی اسلامی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اہل السنۃ والجماعۃ کا اصول ہے کہ کوئی شخص کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جائے اور دینی مسلمات میں سے کسی بات سے انکار نہ کرے تو اس کی بے عملی یا بد عملی کی وجہ سے اسے کافر قرار نہیں دیا جائے گا اور وہ فاسق و فاجر کہلانے کے باوجود مسلمان ہی شمار ہوگا۔ اس لیے رولنگ کلاس کی بے عملی یا دوغلے پن کی وجہ سے دستور کو غیر اسلامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 
اس سلسلہ میں دوسری گزارش یہ ہے کہ یہ دستور اس وقت پاکستان کی وحدت کی اساس ہے، خدانخواستہ اس دستور کی نفی کر دی جائے تو ملک کو متحد رکھنے کی اور کوئی بنیاد باقی نہیں رہے گی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وحدت و سا لمیت کو خدانخواستہ داؤ پر لگانے کا کسی مسلمان کو رسک نہیں لینا چاہیے۔ 
جبکہ تیسری گزارش ہم یہ کرنا چاہیں گے کہ اس دستور کی تشکیل و تدوین میں ملک کی تمام دینی و سیاسی قوتیں شریک رہی ہیں اور اب بھی وہ اس پر متحد و متفق ہیں۔ یہ دستور جب 1973ء کے دوران ترتیب دیا جا رہا تھا اس وقت اسے مرتب و مدون کرنے میں دوسرے بہت سے قومی راہ نماؤں کے ساتھ دستور ساز اسمبلی کے ارکان کے طور پر حضرت مولانا عبد الحقؒ آف اکوڑہ خٹک، حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، حضرت مولانا نعمت اللہؒ آف کوہاٹ، حضرت مولانا صدر الشہیدؒ آف بنوں، حضرت مولانا عبد الحکیم ہزارویؒ اور حضرت مولانا عبد الحقؒ آف کوئٹہ بھی شامل تھے اور ان سب بزرگوں کے اس پر دستخط ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اس وقت عسکریت پسندوں کی بہت بڑی اکثریت ان میں سے کسی نہ کسی بزرگ کی بالواسطہ یا بلاواسطہ شاگرد ہے، اس لیے انہیں اپنے ان عظیم المرتبت اساتذہ کے موقف سے انحراف اور ان کی کاوشوں کی نفی کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے اور البرکۃ مع اکابرکم کا خیال رکھتے ہوئے دستور پاکستان کی پاسداری کا واضح اعلان کرنا چاہیے۔ 
ہم متعدد بار یہ لکھ چکے ہیں کہ ایک مسلمان ریاست میں حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانا جسے فقہی اصطلاح میں ’’خروج‘‘ کہتے ہیں، حکمرانوں کی طرف سے ’’کفر بواح‘‘ یعنی کھلے کفر کے اعلان کے سوا شرعاً جائز نہیں ہے اور جب تک ہمارا کوئی حکمران گروہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی تشخص اور دستور کی اسلامی بنیادوں سے خدانخواستہ صراحتاً انکار نہیں کرتا، اس پر ’’کفر بواح‘‘ کا فتویٰ لگا دینا درست نہیں ہے بلکہ اگر ’’خروج‘‘ کے جواز کا کسی درجہ میں ماحول دکھائی دیتا ہو تو بھی اس کے قابل عمل ہونے کو فقہائے احناف نے جواز کی شرائط میں شامل کیا ہے، کیونکہ قابل عمل ہونے کے غالب امکان کے بغیر حنفی فقہاء کسی مسلم حکومت کے خلاف خروج کو بعض دوسری شرائط کے پائے جانے کے باوجود شرعاً درست قرار نہیں دیتے۔ جبکہ پاکستان کے معروضی حالات میں اس کا کسی درجہ میں کوئی امکان نہیں ہے کہ کوئی مسلح گروہ ملک کے کسی حصے پر قبضہ کر کے وہاں اپنی حکومت قائم کر سکے اور اس میں اپنی مرضی کا نظام نافذ کر لے۔ اس لیے ہم نے نفاذِ شریعت کے خواہش مند اور اس کے لیے جدوجہد کرنے والے مسلح عناصر سے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ وہ مسلح جدوجہد کا راستہ ترک کر کے پُر امن جدوجہد کا طریقِ کار اختیار کریں اور اس کے لیے جمہور علماء امت کو اعتماد میں لیں۔ 
ہمارے نزدیک نفاذِ اسلام کی جدوجہد کا اصل راستہ وہی ہے جو ہمارے بزرگوں نے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی مالٹا کی قید سے واپسی پر ان کی راہ نمائی میں اختیار کیا تھا اور آزادی کی جدوجہد کے لیے پُر امن عوامی سیاسی تحریک کے ذریعہ برطانوی استعمار کے خلاف عدم تشدد پر مبنی مزاحمت کی صبر آزما محنت کر کے اسے یہاں سے رخصت ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ تحریک خلافت، جمعیۃ علماء ہند، مسلم لیگ اور مجلس احرار اسلام کی تحریکات اس کی زندۂ جاوید تاریخی شہادتیں ہیں اور ہمارے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس لیے ہم نہ مسلح جدوجہد کے طریقِ کار کی حمایت کرتے ہیں اور نہ ہی صرف الیکشن پر قناعت کرنے کو نفاذِ اسلام کی جدوجہد کا درست طریق کار سمجھتے ہیں۔ نفاذِ اسلام کے لیے بین الاقوامی اور ملکی اسٹیبلیشمنٹ کے منافقانہ کردار اور دوغلے رویے کے خلاف شدید عوامی مزاحمت درکار ہے کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے، البتہ یہ مزاحمت اسلحہ اور ہتھیار کی بجائے اسٹریٹ پاور، سول سوسائٹی، پر امن عوامی تحریک اور منظم احتجاجی قوت کے ذریعہ ہونی چاہیے۔ 
قبائلی علاقہ جات کی کالعدم تحریک طالبان سمیت بہت سے دیگر دینی حلقوں کو یہ شکوہ ہے کہ ملک کے جمہور علماء ان کی دینی جدوجہد میں ان کا ساتھ نہیں دے رہے، جبکہ ہمارا تجربہ اس سے مختلف ہے۔ راقم الحروف کو بھی تحریکی دنیا کا کارکن سمجھا جاتا ہے، درجنوں تحریکوں میں مختلف سطحوں پر متحرک کردار ادا کرنے کی سعادت بحمد اللہ تعالیٰ حاصل کر چکا ہوں اور اسے اپنے لیے باعث نجات سمجھتا ہوں۔ ہمارا تجربہ یہ ہے کہ دینی جدوجہد کے جس مرحلہ میں بھی جمہور علماء کرام اور ان کی علمی و فکری قیادتوں کو اعتماد میں لے کر ان کی مشاورت سے کسی تحریک کا پروگرام طے کیا گیا ہے، جمہور علماء بلکہ عوام نے بھی کبھی مایوس نہیں کیا۔ تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفیؐ اور شریعت بل کی تحریکات اس پر شاہد ہیں، البتہ ملک کے کسی بھی دینی طبقہ اور جماعت نے کسی بھی دینی جدوجہد کا پروگرام اگر از خود طے کیا ہے، اس کے اہداف، ترجیحات اور طریق کار کے تعین میں جمہور علماء کی قیادتوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور سب کچھ از خود طے کر کے جمہور علماء کو اپنے پیچھے چلنے کی دعوت دی ہے تو اسے بہرحال مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اور یہ ایک فطری بات ہے، اس لیے کہ اگر جمہور علماء دینی جدوجہد کے عنوان سے ہر آواز کی طرف لپکنا شروع کر دیں تو ملک کے عمومی دینی ماحول کی رہی سہی اجتماعیت بھی داؤ پر لگ جائے گی جو کسی طور بھی دین اور ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔ 
ہمیں دین کے لیے کسی بھی حوالہ سے جدوجہد کرنے والوں کے خلوص، قربانیوں اور سعی و محنت سے انکار نہیں ہے، لیکن ملک کے عمومی دینی ماحول کا تعاون حاصل کرنے کے لیے جمہور علماء کرام بلکہ مختلف مکاتب فکر کی دینی، علمی اور فکری قیادتوں کو جدوجہد کے مقاصد، ترجیحات اور طریق کار کے بارے میں اگر اعتماد میں نہیں لیا جائے گا تو ان سے عدم تعاون کا شکوہ کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں ہوگا۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
بعد از سلام مسنون
میں شاید ان دنوں پچھلے دو تین سالوں کے الشریعہ کی ورق گردانی کی بات لکھ چکا ہوں۔ اسی ضمن میں نومبر ۲۰۱۱ء کے شمارہ میں محمد اظہار الحق صاحب کا مضمون پڑھنے میں آیا۔ دلچسپ نکلا۔ اظہار صاحب نے اس میں صفحہ ۴۷ پر سوال اٹھایا ہے کہ فلاں خط میں فلاں صاحب کے متعلق ایسے ایسے ناملائم الفاظ کی بہتات ہے۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ ’’اس کی اشاعت ایک دینی پرچہ میں کیوں ضروری تھی اور اس کے شائع نہ ہونے سے کون سی صحافتی اقدار مجروح ہو رہی تھیں۔‘‘ مجھے یاد آیا کہ بارہا مجھے خیال ہوا کہ آپ کو اور مولانا کو لکھا جائے کہ آپ اپنے بارے یہ فراخ حوصلگی رکھتے ہیں تو رکھیں کہ مکاتیب نگار جو کچھ بھی مناسب نامناسب آپ کے بارے میں لکھیں، وہ آپ من وعن چھاپ دیں، لیکن دوسروں کے حق میں تو اس فراخی کا مجاز اپنے آپ کو نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ایڈیٹر اگر ایسے امور میں بھی ایڈیٹنگ نہ کرے تو وہ ایڈیٹر کس معنی کا۔ الغرض یہ فرض جو اب تک کوتاہی کی نذر رہا، اظہار الحق صاحب کی ’’برکت‘‘ سے آج ادا ہو جاتا ہے۔
(مولانا) عتیق الرحمن سنبھلی (لندن)
(۲)
عزیز گرامی محمد عمار خان ناصر سلمک اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حافظ عبد الجبار سلفی صاحب نے راقم کی وضاحت پر پھر خامہ فرسائی کرنی ضروری سمجھی ہے، حالانکہ ان کے اصل مضمون میں جو دو غلطیاں یا غلط فہمیاں تھیں، راقم نے ان کی بابت حقیقت واقعی کی وضاحت کی تھی جس میں بحث وتکرار کی قطعاً ضرورت نہیں تھی، لیکن ذہنی جمود مخالف کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں مانع بن جاتا ہے۔ یہی حادثہ ان کے ساتھ بھی پیش آیا ہے۔
راقم نے عرض کیا تھا کہ عدم تقلید کو گمراہی قرار دینا یکسر غلط ہے۔ اس فتوائے گمراہی کی زد میں صرف اہل حدیث ہی نہیں آتے، بلکہ خیر القرون کے صحابہ وتابعین بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔ ان کا جو طرز عمل تھا، اہل حدیث کا طرز فکر وعمل اسی کے مطابق ہے اور اسلاف کا یہی منہج، منہج حق ہے۔ اصل گمراہی منہج سلف سے انحراف ہے۔ اس کی بابت موصوف نے کوئی وضاحت نہیں فرمائی اور راقم نے صحابہ وتابعین کے طرز عمل کی جو وضاحت کی تھی اور قرآن کریم کی ایک آیت بھی پیش کی تھی، اس کو انھوں نے تقلید کی حمایت قرار دے دیا، حالانکہ اس سے تقلید شخصی کا اثبات نہیں ہوتا بلکہ صرف اہل علم کی طرف مراجعت کا حکم ہے۔ تقلید اور اتباع دونوں کو یکساں قرار دینا کسی صاحب علم سے اس کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ پھر قرآن کریم کی آیت فاسئلوا اہل الذکر سے تقلید شخصی کا اثبات تو ستم ظریفی کی انتہا ہے۔ 
تقلید کا مطلب ہے امام کی بات کو بلا دلیل مان لینا۔ اس میں مقلد کو سرے سے دلیل پوچھنے کا حق ہی نہیں ہے، قول امام ہی دلیل ہے۔ اور تقلید شخصی کا مطلب ہے ایک ہی امام اور ایک ہی فقہ کی بات کو ماننا، کسی بھی دوسرے امام یا فقہ کی بات نہ ماننا۔ کسی امام اور فقہ کے پابند عوام کو اپنے مقلد علماء سے دلیل پوچھنے کی اجازت ہے نہ جرات۔ اور اگر کوئی یہ جرات کر بیٹھتا ہے تو اس کو دلیل کے بجائے جھڑک اور ڈانٹ ملتی ہے۔ الحمد للہ اہل حدیث عوام اور علماء میں اتبا ع کا طریقہ تائج ہے جو صحابہ وتابعین کا بھی منہج ہے۔ عوام یقیناًدینی مسائل میں رہنمائی کے لیے علماء کی طرف رجوع کرتے ہیں اور علماء ان کی رہنمائی کرتے ہیں، لیکن عوام کے ذہن میں بھی یہی ہوتا ہے کہ ان کو صرف اللہ رسول کی بات بتلائی جائے اور علماء بھی پوری دیانت داری سے اپنے فہم او رمعلومات کی روشنی میں اللہ رسول ہی کی بات بتلاتے ہیں۔ وہ نہ کسی امام کی رائے یا فقہ کی روشنی میں فتویٰ دیتے ہیں اور نہ اپنے ہی کسی بڑے بزرگ کی رائے کے مطابق۔ اور قرآن کی محولہ آیت سے بھی اسی طریقے کا اثبات ہوتا ہے نہ کہ تقلید کا۔
دوسرا مسئلہ حیات النبی کا ہے جس کی بابت عرض کیا گیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر مبارک میں جو زندگی حاصل ہے، وہ برزخی ہے جس کی نوعیت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے نہ جان ہی سکتا ہے۔ دنیوی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہی مسلک دیوبندی علماء میں سے مولانا عنایت اللہ شاہ بخاری مرحوم کا تھا اور یہی مسلک اہل حدیث کا ہے، جبکہ عام دیوبندی علماء کا عقیدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں جو زندگی حاصل ہے، وہ دنیوی زندگی ہی کی طرح بلکہ اس سے بھی قوی ہے، اس لیے جس طر ح ان سے زندگی میں توسل جائز ہے، اسی طرح اب بھی آپ سے توسل جائز ہے۔ یعنی قبر مبارک پر جا کر آپ سے درخواست کرنا، جائز ہے۔ اسی لیے مولانا حسین احمد مدنی نے حج پر جانے والوں کو یہ تاکید کی ہے کہ مکہ جانے سے پہلے مدینہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبولیت حج کی استدعا کی جائے۔ یہ عقیدہ قرآن وحدیث کی نصوص صریحہ کے خلاف ہے، اس لیے سید عنایت اللہ شاہ بخاری اس سے انکار کرتے تھے اور اہل حدیث بھی اس مسئلے کو اسی طرح ہی مانتے ہیں۔
جہاں تک فاضل موصوف کی یہ بات ہے کہ ’’حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر کے ساتھ روح مبارکہ کو ایک خاص تعلق حاصل ہے‘‘ یہ بالکل صحیح ہے، لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی برزخی زندگی بالکل دنیوی زندگی کی طرح حقیقی بلکہ اس سے بھی قوی زندگی ہے؟ روح اور جسم کا معنوی تعلق بھی تو برزخ ہی کی زندگی کی ایک صورت ہے جس سے کسی کو انکار نہیں ہے، لیکن اسے دنیوی زندگی کی طرح کیونکر کہا جا سکتا ہے جو آپ حضرات کا عقید ہ ہے؟ بنا بریں اس صحیح بات پر یہ عقیدہ کیونکر متفرع ہو سکتا ہے جو آپ نے کیا ہے کہ ’’اسی تعلق کی بنا پر آپ اپنے روضہ انور پر پڑھا جانے والا صلوٰۃ وسلام سماعت فرماتے ہیں۔‘‘ سماعت کا یہ عقیدہ اس وقت تک صحیح قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک آپ جسم وروح کے معنوی تعلق کو دنیوی زندگی کی طرح حقیقی زندگی ثابت نہیں کر دیتے اور اس کے اثبات کے لیے نص صریح کی ضرورت ہے۔ وہ آپ پیش فرمائیں، وہ آپ کے اکابر کے اپنے بیان کردہ عقیدوں سے ثابت نہیں ہوگی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قرآن کے اس عموم میں داخل ہیں کہ فوت شدگان کو کوئی اپنی بات نہیں سنوا سکتا۔ الا یہ کہ کسی نص صحیح وصریح سے آپ کا (عند القبر) سننا ثابت نہ کر دیا جائے، جیسے حدیث میں آتا ہے کہ جب مردے کو دفنا کر لوگ واپس ہوتے ہیں تو فوت شدہ جانے والوں کے قدموں (جوتوں) کی آہٹ سنتا ہے۔ مردے کا یہ سننا ایک استثناء (تخصیص) ہے جو حدیث صحیح وصریح سے ثابت ہے، اس لیے اس پر ہمارا ایمان ہے، لیکن یہ تخصیص اس حد تک ہی محدود رہے گی جس کی صراحت حدیث میں ہے، اسے عام نہیں کیا جا سکتا۔ اس حدیث سے یہ استدلال جائز نہیں ہوگا کہ فوت شدگان ہر بات سن سکتے ہیں، جیسا کہ بعض لوگوں نے اس حدیث سے مطلقاً سماع موتی کا جواز ثابت کر کے غیر اللہ سے استمداد واستعانت (شرک) کا راستہ کھول رکھا ہے۔
(عند القبر درود و سلام سننے کا مطلب تو یہ بنتا ہے کہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ کی صفت سمیع سے متصف ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ مافوق الاسباب طریقے سے سننے پر قادر ہے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مافوق الاسباب طریقے سے لوگوں کی درخواستیں سن سکتے ہیں۔ ظاہر اسباب کے مطابق ایک فوت شدہ شخص گھر کے اندر بھی، جب کہ ابھی اس کو دفنایا نہ گیا ہو، کوئی بات نہیں سن سکتا، لیکن اس کو منوں مٹی کے نیچے دفنانے کے بعد یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ اب بھی ہماری بات سن سکتا ہے تو اس کا یہ سننا (بالفرض اگر وہ سنتا ہے) ظاہری اسباب کے مطابق کہلائے گا یا مافوق الاسباب؟ ظاہر بات ہے یہ سننا ماورائے اسباب ہی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی نص قرآنی کے مطابق وفات پا چکے ہیں اور صحابہ نے عام انسانوں کی طرح آپ کو بھی لحد مبارک میں دفنایا ہے۔ آپ کی وفات کے بعد کسی صحابی نے آپ کی قبر پر جا کر آپ سے توسل یا استشفاع نہیں کیا۔ اب یہ کہنا کہ آپ روضہ انور کے پاس کھڑے ہو کر پڑھے جانے والا صلوٰۃ وسلام بھی سنتے ہیں اور ہر قسم کی درخواستیں بھی تو یہ سننا مافوق الاسباب قوت سماعت کے بغیر ممکن نہیں۔ جب تک کسی نص صریح سے یہ ثابت نہیں کر دیا جائے گا کہ آپ بھی اللہ تعالیٰ کی طرح مافوق الاسباب طریقے سے قوت سماعت سے متصف تھے اور اب بھی ہیں، اس وقت تک دیوبندی عقیدہ بھی بے بنیاد ہے اور وہ تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ بریلویوں کے مماثل ہے۔
ہمارے ناقص علم کے مطابق محولہ حدیث جس کے الفاظ ہیں: من صلی علی عند قبری، ضعیف ہی نہیں، موضوع ہے۔ اس کی اسنادی بحث کے لیے ملاحظہ ہو: السلسلۃ الضعیفۃ للالبانی جلد ۱، ص ۲۳۹، رقم الحدیث ۲۰۳ اور ’’تحقیقی وعلمی مقالات‘‘ از حافظ زبیر علی زئی، جلد ۱، ص ۲۵، ۶۶، مکتبہ اسلامیہ لاہور۔ اس لیے اس سے زیر بحث مسئلہ ثابت نہیں ہو سکتا۔ علاوہ ازیں اس کے لیے کسی بھی بڑے سے بڑے عالم یا بزرگ کی کتاب یا فتویٰ یا رائے کا حوالہ کافی نہیں ہے، چاہے اہل حدیث کے ہاں بھی اس کی علمی حیثیت مسلمہ ہو، کیونکہ حدیث کی صحت کے لیے یہ بات کافی نہیں ہے کہ فلاں بزرگ نے اس سے استدلال کیا یا اس کو صحیح کہا یا اپنی کتاب میں درج کیا ہے۔ مسلمہ اصول حدیث کے مطابق اس کی صحت کا اثبات ضروری ہے۔
موصوف فرماتے ہیں کہ ’’بالکل یہی بات اہل حدیث عالم مولانا نذیر حسین دہلوی نے لکھی ہے۔‘‘ 
اہل حدیث کے نزدیک سید نذیر حسین یا اور دیگر کبار علمائے اہل حدیث اپنے علم وفضل اور خدمات کے پیش نظر یقیناًقابل احترام ہیں، لیکن اہل حدیث چونکہ اکابر پرستی اور غلو عقیدت سے پاک ہیں، اس لیے وہ معصوم صرف نبی مفترض الطاعت کو مانتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کسی کو معصوم سمجھتے ہیں نہ مانتے ہیں، اس لیے کئی مسائل میں وہ سید نذیر حسین کی رائے اور فتوے کو بھی غلط قرار دیتے ہیں۔ محولہ عبارت بھی اگر واقعی ان کے فتاویٰ یا کسی کتاب میں لکھی ہوئی ہے تو وہ ہمارے نزدیک غلط اور ناقابل حجت ہے۔ 
ثانیاً، واقعہ یہ ہے کہ محولہ عبارت نہ صرف یہ کہ محولہ مقام پر نہیں ہے، بلکہ فتاویٰ نذیریہ کی تینوں جلدوں میں یہ عبارت تمام مظان دیکھنے کے باوجود ہمیں نہیں ملی۔ یہ عبارت اگرچہ مدار استدلال نہیں، لیکن ہماری یہ خواہش ضرور ہے کہ اس عبارت کا اتا پتا ہمیں معلوم ہو تاکہ اس کا سیاق وسباق دیکھا جا سکے۔
فاضل موصوف نے مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی طرف عند القبر صلاۃ وسلام کے سماع کا فتویٰ منسوب کیا ہے، حالانکہ ان کا یہ فتویٰ ان کے فتاویٰ میں ہمیں کہیں نہیں ملا۔ ان کا اصل فتویٰ ملاحظہ فرمائیں۔ اصل فتویٰ فارسی میں ہے، اس کا اردو ترجمہ جو اس کے حاشیے ہی میں درج ہے، حسب ذیل ہے:
’’اور نبی یا کسی دوسرے کو ندا (یا  کے لفظ سے خطاب کرنا) یا درود اور غیر درود میں ندا کرنے کا جو فرق کیا جاتا ہے، وہ ہماری سمجھ سے تو بالاتر ہے کیونکہ ندا (یا) تو حاضر کے لیے ہوتی ہے اور نبی بھی حاضر نہیں ہوتا، نہ درود کے وقت اور نہ کسی دوسرے وقت۔ اور درود کے متعلق صرف اتنا ثابت ہے کہ اس کو فرشتے پہنچا دیتے ہیں۔ پس ندا (یا) حاضر ہونے کے عقیدے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یہ عقیدہ شرک ہے تو ایسے الفاظ شرکیہ سے پرہیز کرنا نہایت ضروری ہے۔‘‘ (فتاویٰ نذیریہ جلد اول ص ۱۶۰)
یہاں درود کے بارے میں واضح طور پر یہ لکھا ہے کہ صرف اتنا ثابت ہے کہ اس کو فرشتے پہنچاتے ہیں۔ یہ لفظ انھوں نے مطلقاً لکھے ہیں، یہ درود پڑھنا عند القبر ہو یا کسی اور جگہ سے ہو۔ ہر دو صورتوں میں فرشتے ہی پہنچاتے ہیں، جیسے حدیث میں ہے: ان للہ ملائکۃ سیاحین فی الارض یبلغونی عن امتی السلام (موارد الظمآن، حدیث ۲۳۹۲)
یہ چند گزارشات بادل نخواستہ اس لیے پیش کی گئی ہیں کہ اہل حدیث کی بابت یکسر خلاف واقعہ الزام تراشی اور نہایت غلط تاثرات کا اظہار کیا گیا ہے، اس لیے انھی صفحات پر ان کا ازالہ ووضاحت ضروری تھی۔ امید ہے کہ آئندہ ایسی صورت حال پیش نہیں آئے گی (کم از کم الشریعہ کے صفحات پر) کہ ہمیں پھر یہ ناخوش گوار فریضہ ادا کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ وما علینا الا البلاغ
حافظ صلاح الدین یو سف
مدیر شعبہ تحقیق وتالیف دار السلام لاہور
(۳)
(اہل تشیع کی تکفیر کے حوالے سے اس بحث میں دونوں طرف کا موقف متعدد بار تفصیل کے ساتھ سامنے آ چکا ہے اور اب یہ مباحثہ تکرار اور مناظرے کی حدود میں داخل ہوتا نظر آ رہا ہے، اس لیے اس خط کی اشاعت کے ساتھ اس سلسلے کو یہیں ختم کیا جا رہا ہے۔ کسی دوسرے موقع پر کوئی نیا علمی یا فکری تقاضا سامنے آنے کی صورت میں اس موضوع پر گفتگو کے لیے ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات پھر سے حاضر ہوں گے۔ مدیر)
مفتی محمد زاہد صاحب کا مضمون ’’برصغیر میں برداشت کا عنصر‘‘ماہ نامہ الشریعہ میں شائع ہوا ۔ اس میں فاضل مضمون نے تین دعوے کیے تھے :
۱۔ بطور فرقہ شیعہ کی تکفیر اہل سنت کا متفقہ فتویٰ نہیں ہے ۔
۲۔ اہل تشیع ملی تحریکات میں شامل رہے ۔ 
۳۔ جو حضرات شیعوں کے خلاف کام کرتے رہے، وہ بھی موجود ہ ماحول کے روادار نہیں تھے ۔
ہم نے اپنے سابقہ مضمون میں ان تینوں باتوں کاتفصیلی جواب دیا۔ ہمارے موقف کا لب لبا ب یہ تھا کہ :
۱ ۔ جنہوں نے شیعیت کے مدو جزر پر مستقل نگار رکھی ہے، انہوں نے علی الاطلاق بطور فرقہ تکفیر کی ہے اور اس مسئلہ پر رائے بھی انہی کی معتبر ہو گی ۔ 
۲۔ ملی تحریکات سے نظریاتی اختلاف کے فاصلے نہیں سمٹتے، نیز ہمارے اسلاف نے انہیں شامل کرنے کے باوجود موقع بہ موقع علمی تعاقب جاری رکھا ۔ 
۳۔ موجود ہ مذہبی ماحول لاریب اسلاف کے مزاج کے خلاف ہے اور ہم نے پوری دیانت کے ساتھ اس پر بحث کر دی ہے ، مگر اس کا ذمہ دار کوئی ایک جماعت یا طبقہ نہیں ہے اور نہ ہی اس ماحول کے کالے بادل دور کرنے کے لیے کسی گمراہ فرقے کی وکالت ضروری ہے۔
اس کے جواب میں فاضل مضمون نگار اپنی حالیہ تحریر میں یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ انہوں نے برصغیر کے مذہبی ماحول میں برداشت کے عنصر کے حوالہ سے بحث کی ہے ، حالانکہ یہ تاثر غلط ہے۔ انہوں نے اہل تشیع اور اہل تسنن کے ضمن میں کلیتاً اہل تشیع کا دفاع کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ صراحتاً یہ باور کرایا گیا تھا کہ ان کا ملت اسلامیہ کے ساتھ کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے اورساری تگ و تاز اہل تشیع کے دفاع پر تھی۔ ہمیں اس سے غرض نہ تھی کہ تکفیرِ شیعہ پر اکابرین امت کا اجماع ہے یا نہیں۔ ہم نے تو فاضل مضمون نگار کی اس روش کی تردید کی ہے کہ علی الاطلاق تکفیر نہ کرنے والوں نے بھی کبھی اس گمراہ ترین فرقے کی وکالت نہیں کی۔ ملتِ اسلامیہ کے جن جہابذۂ روزگار اہل علم نے پوری متانت اور فکرِ بیدار کے ساتھ رفض کے نشیب وفراز کا مشاہدہ کیا، انہوں نے ان کی تکفیر کی اور جنہیں غور کرنے کے لیے دیگر خدماتِ دینیہ کے انہما ک نے موقع نہیں دیا، انہوں نے بھی اس فرقہ کو ’’گمراہ ترین‘‘ ضرور کہا ہے اور مشروط تکفیر کرنے سے انہوں نے بھی دریغ نہیں کیا۔جو سود ا آپ کے دماغ میں سمایا ہے، یہ اہل دانش و بینش کے علمی مزا ج کے برعکس ہے ۔ 
کسی متشدد طبقے کی مخالفت میں نفسِ مسئلہ کا ہی انکار کر دینا کہاں کی علمی دانش ہے ؟ کل کلاں اگر جذباتی نوجوان مرزائیوں کے خلاف تشدد پر اتر آئے تو آپ مرزائیوں کی ترجمانی کرنے بیٹھ جائیں گے؟ فاضل مضمون نگار کو فتوے اور رائے میں تمیز ملحوظ نظر رکھ کر قلم اٹھانا چاہیے تھا۔ سو فاضل مضمون نگار نے جب شیعہ ، سنی نزاعی مسائل پر علمی ذوق استعمال کر نے کے بجائے محض ایک فرقہ کو مسلمانوں کی قطار میں کھڑا کر نا چا ہا تو ہم نے امت کے ان اکابر کی تحقیق پیش کر دی جنہوں نے پوری چھان بین کے بعد علی الاطلاق اہل تشیع کے تین فرقوں یعنی ۱۔ اثنا عشریہ ۲۔ اسماعیلی اور۳۔ نصیری پر فتویٰ تکفیر دیا۔ 
ہمارا یہ مضمون ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘، ماہنامہ ’’حق چار یا ر‘‘ اور ماہنامہ’’ صفدر‘‘ کے ذریعے جب اہل ذوق کے ہاتھوں میں پہنچا تو دادو تحسین کے ڈونگرے برس پڑے ۔ کیا علماء اور کیا وکلا ء بلکہ مقتدر مفتیانِ عظام نے باضابطہ فون کے ذریعہ حوصلہ افزائی فرمائی اور ان کے جذبات یہ تھے کہ آپ نے اکابرینِ اہل سنت کی ترجمانی کی ہے۔ 
تحریفِ قرآن پر فاضل مضمون کا دعویٰ یہ تھا کہ اہل تشیع اس کے قائل نہیں ہیں اور دلیل کے طور پر انہوں نے مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ اور علامہ شمس الحق افغانیؒ کے حوالہ جات پیش کیے ۔ ہم نے اس ضمن میں جو بحث کی ہے، اس کا دوبارہ یہاں اندارج ضرور ی نہیں ۔ تاہم حیرت اس امر کی ہے کہ موصوف نے اس ساری بحث کو ہضم فرما محض ایک ہی نکتہ اٹھایا کہ مولانا شمس الحق افغانیؒ کا رجوع ثابت کرنے کے لیے جس مکتوب کا مختصر سا اقتباس پیش کیا گیا ہے، اس میں صرف تصحیح کرنے کا وعدہ ہے۔ تصحیح کے وعدے ، تصحیح کے ارادے ، عملاً تصحیح کرنے اور رجوع میں فرق ہے ۔ علاوہ ازیں یہ کہ اس وقت مارکیٹ میں موجود ’’علوم القرآن ‘‘میں وہ عبارت جوں کی توں موجود ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مشاغل علمی اور ہجومِ کار نے علامہ افغانی ؒ کو ممکن ہے اپنی زیر نگرانی تصحیح کا موقع نہ دیا ہو ۔ کیونکہ کسی بھی کتاب کا پہلا ایڈیشن ختم ہوتا ہے تو دوسرا شائع ہوتا ہے۔ اس وقت تک ان کو صحت، یادداشت نے موقع نہیں دیا ہوگا۔ اور اس کی تاریخ میں ایک نہیں، بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔ مولانا ابو الکلام آزادؒ اور مولانا عبد الماجد دریا بادی ؒ کی زندگی میں کئی اتارچڑھاؤ آئے،جمہور اہل سنت کے نظریات سے ہٹ کر کی گئی لاتعداد باتوں سے ان حضرات نے عملاً رجوع کیا ۔ مگر ان کی کتابوں میں کئی ایک مقامات پر سابقہ نظریہ موجود ہے ، بلکہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق مرحوم کی انکارِ حدیث اور دیگر لایعنی موضوعات پر آج بھی کتابیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں جبکہ انہوں نے زندگی کے اواخر میں ’’تاریخ حدیث‘‘ لکھ کر اپنے سابقہ عقیدے سے رجوع کر لیا تھا، مگر پیشہ ور تجار اب بھی ان کی کتابیں شائع کر رہے ہیں ۔ 
فاضل مضمون نگار لکھتے ہیں کہ علامہ بحر العلوم نے ’’فواتح الرحمو ت شرح مسلم الثبوت‘‘ میں جہاں شیعہ کی تکفیر کی بحث آتی ہے، وہاں انہوں نے عدمِ تکفیر کو مدلل انداز سے ترجیح دی ہے ۔ 
علامہ بحر العلوم نے شیعہ مفسر علامہ ابو علی طبرسی کی تفسیر ’’مجمع البیان‘‘پڑھ کر ان کے عقیدہ تحریف قرآن پر غور کیا تو صاف الفاظ میں شیعوں کی تکفیر کی۔ ملاحظہ ہو فواتح الرحمو ت شرح مسلم الثبوت صفحہ ۴۱۷۔ امام اہل سنت علامہ عبد الشکور لکھنویؒ نے ’’فقہی نظر سے مختتم فیصلہ‘‘ کے زیر عنوان علامہ بحرالعلوم کے اس فتویٰ تکفیر کو تفصیل سے بیان فرمایا تھا اور ساتھ یہ بھی لکھا کہ میں نے بھی کسی زمانہ میں شیعوں کے ساتھ مناکحت کا جواز لکھا تھا، لیکن جب کتب شیعہ پر عبور ہوا تو اس فتوے سے رجو ع کر لیا جیسا کہ علامہ بحر العلوم نے رجوع فرمایا تھا ۔ (ملاحظہ ہو: ’’النجم ‘‘لکھنو ۷شوال ۱۳۴۵ھ) 
فاضل مضمون نگار اپنے حالیہ مضمون میں مولانا کرم الدین دبیرؒ کے متعلق لکھتے ہیں ’’ویسے مولانا دبیر ؒ بڑے آدمی ہیں، لیکن فتوے کی دنیا میں اتنا بڑا نام نہیں کہ تکفیر کے حوالے سے مجھے ان کی بات سے دو ر از کار استدلال کی ضرورت ہوتی۔‘‘ فاضل مضمون نگار کو غلط فہمی ہو رہی ہے کہ مولانا دبیر مفتی نہیں تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں ایک مدقق ، صاحب نظراور فقہی باریکیوں پر نگاہ رکھنے والے منصب افتاء پر فائز تھے اور شرعی و فقہی روشنی میں لوگوں کے نکاح و طلاق اور دیگر معاشرتی و سماجی فیصلے صاد ر فرماتے تھے اور اسی منصب کی وجہ سے وہ’’ قاضی‘‘مشہور ہو گئے تھے، ورنہ ان کی ذات تو ’’اعوان‘‘ تھی۔ تاہم فاضل مضمون نگار کی مہربانی ہے کہ وہ مولانا دبیرؒ اور حضرت اقدس قاضی صاحب کے متعلق فرماتے ہیں کہ ’’اس خاندان کا تکفیر کا قائل ہونا اظہر من الشمس ہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’تاہم ویسے حقیقت یہی ہے کہ وہ (مولانا دبیرؒ )‘ اوران کے صاحبزادے تکفیر کے قائل تھے ۔‘‘
فاضل مضمون نگار تو ہم سے مایوس ہیں، مگر ہم ان سے مطمئن ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ آپ اپنے اور میرے مضامین کو ٹھنڈے دل کے ساتھ بار بار نظر نواز کیجیے اور غصہ تھوک دیجیے۔ 
بس آج اتنا ہی۔ اپنے ناراض بزرگ عالم دین کی خدمت میں حافظ شیرازیؒ کا ایک شعر بھرپور امیدوں کے ساتھ پیش خدمت ہے : 
آہِ من گراثرے داشتے
یار من بکویم گزرے داشتے 
(اگر میری آہ میں کوئی اثر ہے تو میرے دوست کا میری گلی سے ضرور گزر ہوگا)
حافظ عبد الجبار سلفی، لاہور

’’حیات ابوالمآثر علامہ حبیب الرحمان الاعظمیؒ‘‘

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مصنف : ڈاکٹر مسعود احمد الاعظمی 
ناشر: مرکز تحقیقات وخدمات علمیہ (مدرسہ مرقاۃ العلوم) مؤیوپی
دوجلد: صفحات قریباً :۱۵۰۰ قیمت : ندارد
علامہ حبیب الرحمن اعظمیؒ نے مؤ میں آنکھ کھولی، اس کے قدیم اور تاریخی مدرسہ دارالعلوم اور پھر مفتاح العلوم سے تعلیم حاصل کی۔ خدا کی شان یہ کہ دوبار دارالعلوم دیوبند میں پڑھنے کے لیے داخل کیے گئے مگر دونوں ہی بار کچھ عوارض خاص کر طبیعت کی ناسازی کے ایسے پیش آئے کہ ان کو دارالعلوم سے فراغت کا موقع نہیں ملا۔ غالباً مشیتِ الٰہی تھی کہ ایک چھوٹی سی جگہ سے پڑھ کر مؤ کی خاک سے جو ذرہ اٹھے وہ علوم اسلامیہ اور بطور خاص علم حدیث کا نیر تاباں بن کر عالم اسلام کو منور کرجائے۔ ایسی بار عب ، پر ہیبت اور جلیل القدر شخصیات کم ہی ہوتی ہیں جن کے علمی جاہ و جلال کا ڈنکا ہر طرف بج جائے جیسا کہ حضرت اعظمیؒ تھے۔ جن کی زیارت کے لیے علامۃ الشام شیخ عبدالفتاح ابوغدہؒ تین تین بار مؤ جیسے دور افتادہ قصبے میں تشریف لائے۔ جن کی خدمت میں مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ جیسے مشاہیرنیاز مندوں کی طرح پیش آتے تھے۔ جن کو شیخ الازہر امام اکبر شیخ عبدالحلیم محمود نے اکبر علما العالم الاسلامی (دنیاکے سب سے بڑے عالم )کا خطاب دیا۔ جنہوں نے اپنی پہلی ملاقات میں انا حبیب الرحمن الاعظمی من الہند کہہ کر تعارف کرایا توان کے لیے علامۂ نجد شیخ عبدا لعزیربن بازاحترامااپنی کرسی سے کھڑے ہوگئے اور اس پر آپ کو بٹھادیا۔ جن کوعلامہ یوسف القرضاوی جیسے بڑے فقیہ نے دوحہ قطرکے اپنے مرکزبحوث ودراسات السیرۃ میں تشریف لانے کی دعوت دی ۔مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ جیسے جدید وقدیم کے جامع جن سے استفادہ کرنے میں فخر جانتے تھے ۔ جن سے سید الطائفہ سلیمان ندوی ؒ عمرمیں ان سے بڑے ہونے کے باوجود علمی مسائل میں صرف استفادہ ہی نہیں بلکہ اپنی کتابوں پر نظرثانی کی گزارش کرتے تھے۔جن کوشیخ الاسلام مولانا حسین احمدمدنیؒ ، حضرت مولانااشرف علی تھانویؒ اور شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ جیسے اکابرکا اعتمادحاصل ہوا۔جن کو ڈاکٹر محمد حمیداللہ ؒ نے شاہ ولی اللہ ثانی کہا۔اس کتاب کو پڑھ کر میری زبان سے نکلا کہ حق یہ ہے کہ محدث عمربن عبسہؒ کا وہ جملہ دہرایاجائے جو انہوں نے مشہورتابعی ابوقلابہؒ کے بارے میں حضرت عمربن عبدالعزیزؒ کی مجلس میں کہاتھاکہ ’’ہذا الجند بخیر مادام ھذا الشیخ بین اظہرہم‘‘ (اہل شام خیرکے ساتھ رہیں گے جب تک یہ شیخ ان کے درمیان موجودہیں)۔
کتاب کا پہلا حصہ ۱۲؍ابواب پر مشتمل ہے اس میں فاضل مصنف جوحضرت اعظمی کے نواسے ہیں،نے حضرت اعظمی کے وطن ، خاندان، پیدائش ، نشوونما، اساتذہ ، تلامذہ، تدریسی وتالیفی خدمات، اسفار، سیاسی مصروفیت، نثر و نظم ، اعیان کی وفیات پر حضرت کے تاثرات، خانگی زندگی اخلاق و عادات علامہ اور تصوف، مبشرات و کرامات، علامہ اعظمی ؒ اہل علم کی نظر میں وغیرہ جیسے مباحث پر تفصیل سے قلم اٹھایا آثار قلم کے ایک الگ عنوان سے مولانا کے تمام مضامین کے نام اور حوالے اوران کی وفات پر جو مراثی تحریر کیے گئے ان سب کو جمع کیا گیا ہے۔ فہرست مراجع اور رسائل وغیرہ کا اشاریہ دیاگیا ہے۔ یوں اس جامع مرقع کو پڑھنے کے بعد یہ فیصلہ کرنا آسان ہوجاتا ہے کہ محدث کبیرؒ کی شخصیت اس قدر متنوع اور مختلف الجہات تھی کہ سید العلماء سید سلیمان ندویؒ نے بجا طور پر ان کو ہندوستان کے دوائر علم میں شمار کیا تھا۔ ڈاکٹر مسعود الاعظمی قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے نہایت محنت سے حضرت العلامہ کی حیات و خدمات سے متعلق مباحث اور تحریروں کو بڑی عرق ریزی سے جمع کیا اوران کو ایک جاندار تذکر ہ اور ایک دلکش سوانحی مرقع کی صورت میں پیش کردیا ہے۔کتاب کا دوسرا حصہ حضرت اعظمی ؒ کی علمی خدمات کے تعارف و تلخیص پر مشتمل ہے۔ یہ دراصل ایک ار مغان علمی ہے جس میں نہایت جامعیت وکمال کے ساتھ علامہ اعظمی کی وسیع الاطراف خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں حضرت محدث اعظمی کتابوں کی حیرت انگیز معلومات، مخطوطات سے شغف، تفسیر واصول تفسیر ، حدیث، اصول حدیث، متون و رجالِ حدیث کی مہارت، فقہی مرجعیت ، عربی زبان و ادب اوردیگرمروجہ علوم اسلامیہ پر علامہ کی مہارت کو بیان کیاگیا ہے۔ اس کے بعد علامہ اعظمی فتنوں کے تعاقب میں کے تحت رد سلفیت، رد شیعیت، ردرضا خانیت اور فتنہ انکار حدیث پر روشنی ڈالی ہے ۔علامہ کے ردودکی خاصیت یہ ہے کہ وہ علمی دنیاکے مسلمہ اصولوں پر بھی پورے اترتے ہیں اوراپنے اسلوب اورزبان وبیان کے اعتبارسے بھی چاشنی لیے ہوئے ہیں ۔ساتھ ہی خوش گوارطنزیہ جملوں نے ان کو نہایت کاٹ داربنادیاہے ۔یہی وجہ ہے کہ مذکورہ معاندین حضرت کے علمی تعاقب کے آگے ڈھیرہوجاتے تھے اورکسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ اس جبل العلم سے ٹکرائے ۔
علامہ ناصرالدین البانیؒ نے حدیث کی مختلف کتابوں کی تحقیق ،تعلیق اورتحشیہ سے پوری عرب دنیامیں ایک غلغلہ ڈال رکھاتھا ۔اوران کے شذوذ اورنارواحملوں سے حضرت امام اعظم ؒ اوردوسرے حنفی ائمہ بھی محفوظ نہیں تھے ۔ قارئین کویاددلادوں کہ باوجوداپنے تمام ادعائے علم وتحقیق اوردعوائے عدم تقلیدکے البانیؒ صاحب نے اپنی الضعیفہ میں امام ابوحنیفہ ؒ کے بارے میں خطیب بغدادی کی اڑائی ہوئی اس ہفوات پر جزم ویقین کرلیاکہ امام صاحب کوکل 17حدیثیں پہنچی تھیں۔یہ اوراسی طرح کے بہت سے الزامات حنفی ائمہ پرانہوں نے لگائے ہیں۔جن کا جواب باصواب علامہ اعظمیؒ نے الابانی اخطاۂ وشذوذہ  لکھ کردیا۔اوراس کتاب کا کوئی جواب البانی یاان کے تلامدہ سے نہیں بن پڑا۔مخطوطات ومسودات کی چند عکسی تصاویر اور ردودِ مذکورہ کی تفصیل کے ساتھ فقہیات میں محدث اعظمی ؒ کی خدمات بھی اہم باب ہے۔ جس میں انساب و کفائت کی شرعی حیثیت ہمارے علماء وفقہاء اور اربابِ افتاء کے لیے نہایت چشم کشا بحث ہے۔کیونکہ ہمارے بہت سے مفتیان کرام اورمصنفین اس باب میں افراط وتفریط کا شکارہوگئے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ اس باب میں حضرت اعظمی نے مفتی محمد شفیعؒ اور مولانا تھانویؒ پربھی نقد فرمایا ہے۔ دست کار اہل شرف بھی اسی موضوع سے ملتی جلتی کتاب ہے اور اس لائق ہے کہ نسب فروشی کے سارے دوکان دار اسے پڑھیں ۔ اموی دور خلافت اور خاص کر سید نا معاویہؓ اور ان کے بیٹے یزید پر لعن طعن کیاجاتاہے۔ حضرت محدث اس وادی میں بھی افراط و تفریط سے ہٹ کر گزرے ہیں اور اس سلسلہ میں مہتم دارالعلوم دیوبندقاری محمد طیبؒ اور مولانا اطہر مبار کپوری ؒ پر گرفت فرمائی ہے۔ کہنے کا مطلب ہے کہ محدث اعظمی کے سامنے اصل چیز احقاقِ حق ہے ،اوراس کے لیے انہیں اگراپنی جماعت کے بزرگوںیااپنے احبا ب پر بھی تنقیدکرنے پڑے تواس سے قدم پیچھے نہیں ہٹاتے اوراس میں کسی جنبہ داری یاجماعتی تعصب کوراہ نہیں دیتے ۔
اس کے بعد عربی تصانیف و مضامین کے تحت مولف نے علامہ اعظمیؒ کے حدیثی کا ر ناموں کا ذکر کیا ہے جن میں مسند حمیدی، کتاب الزہد، سنن سعید بن منصور، مصنف عبدا لرزاق ، مختصر الترغیب وا لترہیب، المطالب العالیہ، کشف الاستار ، کتاب الثقات لابن شاہین ، استدرا کات قاسم قطلوبغا ، رسائل شاہ ولی اللہ ، حیاۃ الصحابہ ،فتح المغیث ، اورجزء خطبات النبی اہم ہیں۔ راقم کے نزدیک یہی حصہ اس کتاب کیا مغز ہے اوراس سے پتہ چلتاہے کہ حدیث کی ان عظیم کتابوں کی خدمت کے سلسلہ میں محدث اعظمی نے کتنی جان فشانی کی ہے اورکس طرح محنت ومشقت سے وسائل نہ ہونے کے باوجودایک چھوٹے سے قصبہ میں بیٹھ کراس فردفریدنے وہ کام کردیاجس کویوروپ میں بڑی بڑی اکیڈمیاں کیاکرتی ہیں۔ہمارے علمی حلقے اورخاص کرعلماء کے طبقہ کوجس میں تن آسانی اب عام ہوچکی ہے ،اس کتاب کوضرورپڑھناچاہیے کہ ان کوپتہ چلے کہ ان کی صفوں میں کیسے کیسے گوہرنایاب ہوگزرے ہیں اوراب وہ خوداس کس حال میں ہیں۔ کتاب کے آخر میں مصنف نے علامہ کے چند مکاتیب دے کر اس میں چار چاند لگادیے ہیں۔ غرض یہ کہ کتاب کیا ہے پورا کتب خانہ ہے جس کو فاضل مصنف نے ۷۵۸ صفحات میں جامعیت کے ساتھ لکھا ہے اور یوں حضرت ابوا لمآثر کی مفصل سوانح عمری اورا ن کی علمی و فکری خدمات پردو ضخیم جلدیں لکھ کرعلماء ہندپر سے ایک بڑاقرض اتاردیاہے ۔ توقع ہے کہ کتاب مقبول ہوگی اور محدث اعظمی کے مطالعات کی نئی راہیں کھلیں گی ۔ کیااچھاہواگراس کتاب کا عربی اورانگریزی ترجمہ بھی کروادیاجائے ۔عرب دنیاکے علاوہ مستشرقین اورمغرب کے لوگ بھی آپ کے حالات سے کماحقہ واقف ہوسکیں۔