قومی نصاب تعلیم میں اصلاح و ترمیم کا مسئلہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
۲۲ اپریل ۲۰۱۳ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس کا موضوع قومی نصاب تعلیم میں اسلامیات کے مضامین اور مواد کو کم کرنے اور نصابِ تعلیم کو مبینہ طور پر سیکولر نصابِ تعلیم کی شکل دینے کے بارے میں بعض اخباری رپورٹوں کا جائزہ لینا تھا۔ ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی نے سیمینار کی صدارت کی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہ نما مولانا اللہ وسایا مہمان خصوصی تھے۔ سیمینار میں مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ مولانا محمد قاسم، مولانا غلام نبی، مولانا محمد عثمان، حافظ محمد عمار خان ناصر، مولانا محمد فخر عالم، مولانا محمد عبد اللہ راتھر، پروفیسر حافظ محمد رشید اور راقم الحروف نے بھی گفتگو کی جبکہ مجموعی طور پر اس گفتگو میں مندرجہ ذیل نکات سامنے لائے گئے:
- نصاب تعلیم کے حوالے سے جن امور کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے، ان کے مختلف دائرے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور قومی نصاب تعلیم کس حد تک ملک کی نظریاتی اساس کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ دوسرا یہ کہ ہماری قومی تعلیمی ضروریات کیا ہیں اور مذہب و ثقافت کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، سول سروس، ملٹری، معیشت اور دیگر شعبوں کے تقاضوں کو یہ تعلیمی نصاب و نظام کس حد تک پورا کرتا ہے، اور تیسرا یہ کہ موجودہ عالمی تناظر میں ملک و قوم کی بین الاقوامی ضروریات کیا ہیں اور ان کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو پورا کرنے میں یہ قومی نصاب تعلیم کیا کردار ادا کر رہا ہے؟
اس کے بعد دوسری سطح یہ ہے کہ متعدد حوالوں سے تعلیمی نصاب و نظام کے بارے میں مختلف حلقوں کی طرف سے جو شکایات وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں اور اس وقت بھی قومی اخبارات میں موضوع بحث بنی ہوئی ہیں، ان کی اصل صورت حال کیا ہے اور ان کے بارے میں اعتدال و توازن کی راہ کیا ہے؟ - قومی نصاب تعلیم کے بارے میں اس وقت دو قسم کی کشمکش چل رہی ہے، ایک کشمکش تو مذہبی اور سیکولر حلقوں کے درمیان ہے جو قیام پاکستان کے بعد سے مسلسل جاری ہے۔ دونوں حلقے اس سلسلہ میں اپنی قوت اور اثر و رسوخ کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور اب بھی یہ کشمکش عروج پر ہے۔ دوسری کشمکش وفاق اور صوبوں کے درمیان ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد نصابِ تعلیم کا معاملہ صوبوں کے سپرد ہوا ہے جو پہلے وفاق کی ذمہ داری اور اختیار کا حصہ تھا۔ صوبوں کو منتقل ہو جانے کے بعد بھی وفاق ان معاملات کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہے مگر صوبوں کا کہنا ہے کہ جب تعلیمی نظام کے معاملات دستور کے مطابق صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں تو انہیں پوری آزادی کے ساتھ اس بارے میں کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔ محسوس ہوتا ہے کہ یہ کشمکش کچھ عرصہ تو چلتی رہے گی مگر بالآخر یہ معاملات صوبوں کے دائرہ اختیار میں آجائیں گے۔ ہمیں تعلیمی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ان پہلوؤں کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
- بسا اوقات تبدیلی اور ترمیم کرنے والوں کے ذہنوں میں وہ بات نہیں ہوتی جو اس پر اعتراض کرنے والوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہے۔ مثلاً خیبر پختون خواہ کی سابقہ حکومت کے دور میں نویں دسویں کے نصاب سے سورۃ الانفال اور سورۃ التوبہ کو نکالنے والوں کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ ہم نے ان سورتوں کو نصاب سے خارج کرنے کی بات نہیں کی بلکہ ترتیب بدلنے کی بات کی ہے کہ اس سطح پر سورۃ الحجرات کی تعلیم زیادہ مناسب ہے اور اس کے اوپر کے درجات میں یعنی انٹرمیڈیٹ کی سطح پر سورۃ الانفال اور سورۃ التوبہ کو نصابِ تعلیم کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ اگر فی الواقع ایسی بات ہے تو اس پر اعتراض کرنے کی بجائے اس کی افادیت اور موزونیت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
- ہمارے نصاب تعلیم کے بارے میں بین الاقوامی ایجنڈا اور اس کے لیے مسلسل دباؤ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ باخبر حضرات کے مطابق عالمی اداروں کی طرف سے تعلیمی شعبہ میں جو امداد دی جاتی ہے اس کے ساتھ متعین شرائط ہوتی ہیں کہ یہ امداد تعلیمی نصاب و نظام میں حسب شرائط تبدیلیوں کی صورت میں ہی ملے گی۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے بھی اربابِ حل و عقد کو بعض تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں، ایسی شرائط کا جائزہ لینا اور یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان میں سے کونسی شرائط اور تبدیلیاں ہمارے دینی اور قومی تقاضوں سے متصادم ہیں۔ ان کی نشان دہی اور ان کی روک تھام کے لیے قوم کی راہ نمائی اور مناسب تدابیر بھی ضروری ہیں۔
- دینی مدارس کے نصاب و نظام کے حوالہ سے عصری و قومی تعلیمی ادارے مسلسل اپنی رائے دیتے رہتے ہیں اور دینی مدارس کے وفاقوں کو اپنے تعلیمی نظام و نصاب کے بارے میں قومی تعلیمی اداروں کو اعتماد میں لینا پڑتا ہے جو ایک اچھی بات ہے۔ اسی طرح قومی تعلیمی نظام و نصاب تشکیل دینے والوں کے لیے بھی یہ ضروری قرار دیا جائے کہ وہ تعلیمی نصاب کے دینی پہلوؤں کے حوالہ سے دینی مدارس کے وفاقوں کو اعتماد میں لیں اور ان کی مشاورت کے ساتھ یہ معاملات طے کریں تاکہ باہمی اعتماد میں اضافے کے ساتھ ساتھ متعلقہ معاملات بھی صحیح رخ اختیار کر سکیں۔
- جب سے پرائیویٹ پبلشرز کی شائع کردہ کتابیں نصاب تعلیم کا حصہ بننے لگی ہیں، اس خلفشار میں اضافہ ہوا ہے۔ بڑے پبلشرز نے اپنے اپنے تعلیمی بورڈ بنا رکھے ہیں جو کتابیں مرتب کرتے ہیں اور جس کی کتاب سکولوں میں چل جاتی ہے، وہ اس دوڑ میں آگے نکل جاتے ہیں۔ اس سے تعلیمی نصاب میں ہم آہنگی مفقود ہوجاتی ہے، کیونکہ ہر پبلشنگ ادارے کے تعلیمی بورڈ کی اپنی پالیسی اور ذوق ہوتا ہے۔ اس صورت حال کو بھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہر سطح پر مشترکہ تعلیمی کمیٹیوں کا قیام مناسب بات ہوگی۔
- اندرونی حلقوں کے مطابق بسا اوقات ملازمین کے بعض ذاتی معاملات کی وجہ سے اس قسم کی شکایات سامنے آتی ہیں اور انہیں اجاگر کیا جاتا ہے، اس لیے یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایسی شکایات کا داخلی پس منظر کیا ہے اور حقیقی صورت حال کیا ہے۔
- نصابِ تعلیم کے اسلامی مضامین اور دینی مواد کے ساتھ ساتھ دوسرے مضامین کے مواد کے بارے میں بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ مثلاً کائنات کی تخلیق اور ارتقاء اور مغربی فلسفہ کے دوسرے بہت سے پہلوؤں کا ہمارے اعتقاد و ایمان کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور بعض مضامین ایسے پڑھائے جا رہے ہیں جو مسلّمہ اسلامی اعتقادات سے ٹکراتے ہیں جس سے مسلم طلبہ کے ذہنوں میں کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے جائزہ میں قومی نصاب تعلیم کے تمام شعبوں کو شامل کرنا چاہیے اور ایسے امور کی نشاندہی کرنی چاہیے۔
- اس سلسلے میں ملک کے مختلف شہروں میں کام ہو رہا ہے اور بہت سے ارباب دانش محنت اور ذہن سازی کر رہے ہیں، ان کے درمیان باہمی رابطہ ضروری ہے تاکہ ایک دوسرے کی محنت اور کام سے استفادہ کر کے ایک مجموعی موقف سامنے لایا جائے اور پھر اس کے لیے مربوط جدوجہد کا لائحہ عمل طے کیا جائے، وغیر ذلک۔
شرکاء کی طرف سے اظہار خیال کے بعد سیمینار میں یہ طے پایا کہ (۱) پروفیسر حافظ عبد الرشید (مرے کالج سیالکوٹ) (۲) مولانا محمد فخر عالم (مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن) اور (۳) جناب علی رضا شیخ ایڈووکیٹ (پریمیئر لاء کالج گوجرانوالہ) پر مشتمل ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا جو پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک، پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی اور حافظ محمد عمار خان ناصر کی نگرانی میں ان امور کا جائزہ لے کر ایک جامع رپورٹ مرتب کرے گا اور اس رپورٹ کی بنیاد پر ملک کے سرکردہ اربابِ علم و دانش اور علمی و فکری اداروں کے ساتھ رابطہ و مشاورت کی کوئی عملی صورت اختیار کی جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
عمار خان ناصر اور اس کے ناقدین
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
’’محترمی ومکرمی ومخدومی وحبی!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ وبعد!
کچھ عرصہ سے اخبارات اور جرائد میں حضرت والا کے فرزند ارجمند کے نظریات ورجحانات پر کچھ علماء واہل قلم اپنے اپنے انداز میں تحفظات بلکہ واضح انداز میں تنقید واعتراضات رقم کر رہے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ ان محررین کی آپ کے صاحبزادے سے ملاقات اور آمنے سامنے گفتگو بھی ہوئی یا نہیں، کیونکہ حق تو یہ ہے کہ صاحب کلام سے اس کے کلام کی توضیح پوچھی جائے، لیکن یہ بات بھی مسلم ہے کہ ’’عیاں را چہ بیاں‘‘ اور صریح بات میں نیت نہیں پوچھی جاتی۔ ممکن ہے کہ ناقدین وجارحین نے صاحبزادہ کے کلام میں اسی وجہ سے ان سے وضاحت لینے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی ہو، لیکن بہر صورت ’صاحب البیت ادریٰ بما فیہ‘ کے تحت اس سب کچھ کو آپ سے بڑھ کوئی نہیں جان سکتا۔
آپ حضرات کی دعاؤں سے بندہ کی یہ طبیعت ہے کہ ایسے کسی مسئلہ میں جب تک خود صاحب واقعہ یا اس کے انتہائی قریبی شناسا سے بات چیت نہ ہو جائے، اپنی حتمی رائے قائم نہیں کرتا بلکہ سرے سے اس میں گفتگو اور بحث ومباحثہ ہی نہیں کرتا۔ آج کل مدارس میں بین الاساتذہ وبین الطلبہ یہ گفتگو کثرت سے چل رہی ہے۔ بندہ ہمیشہ ہی خاموشی سے ایک طرف اور کنارہ کش ہو جاتا ہے، لیکن دل میں کسک بہرحال رہتی ہے۔ امید ہے کہ آپ کے ذریعے سے یہ بھی ختم ہو جائے گی۔
بندہ عبد الرحمن عفا اللہ عنہ
مدرس جامعہ حنفیہ، بورے والا‘‘
’’محترمی مولانا عبد الرحمن صاحب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گزارش ہے کہ ہمارے ہاں بد قسمتی سے یہ مزاج پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ رائے کا اختلاف، تحقیق سے پیدا ہونے والا اختلاف اور علمی مسائل میں تحقیق وتجزیہ کا معاملہ ذاتی پسند وناپسند اور مخالفت وعناد کی صورت اختیار کر جاتا ہے اور ہم جس سے کسی مسئلہ پر اختلاف کرتے ہیں، اسے کسی نہ کسی دشمن کا ایجنٹ اور گماشتہ قرار دیے بغیر خود اپنے موقف کی سچائی پر ہمارا اعتماد قائم نہیں ہوتا۔
تحریک پاکستان میں قیام پاکستان کی حمایت ومخالفت میں دونوں طرف ہمارے بزرگ تھے اور ارباب علم وفضل تھے، مگر اس دور کا لٹریچر ایسے الزامات سے بھرا پڑا ہے جس میں ایک جانب کے بزرگوں کو ہندوؤں کا ایجنٹ کہا گیا اور دوسری طرف کے بزرگوں کو انگریزوں کا آلہ کار قرار دیا گیا ہے۔ ۷۰ء کے انتخابات کے موقع پر ذو الفقار علی بھٹو مرحوم نے ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کا نعرہ لگایا جس پر بہت سے بزرگوں نے کفر کا فتویٰ صادر کر دیا۔ اس فتویٰ سے حضر ت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور دیگر سیکڑوں علماء کرام نے اختلاف کیا کہ اسے اصطلاح وتعبیر کی غلطی تو کہا جا سکتا ہے، مگر اسے کفر قرار دینا درست نہیں ہے۔ اس اختلاف پر ہمارے ان بزرگوں کو ’’سوشلسٹ علماء‘‘، ’’سرخ ملا‘‘ اور کمیونسٹوں کے ایجنٹ کے جن خطابات سے نوازا گیا، اس کی بھرمار کی ایک جھلک اس دور کے دینی جرائد میں دیکھی جا سکتی ہے۔
ابھی چند سال قبل حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے اسلامی بینکاری کے بارے میں اپنا اجتہادی نقطہ نظر پیش کیا تو اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک سیمینار میں ملک کے ایک مقتدر دانش ور نے ان کے نقطہ نظر سے اختلاف کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ عالمی یہودی سرمایہ داروں کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں جس پر میں نے اسی محفل میں اس طرز عمل سے اختلاف کیا کہ کسی علمی اختلاف پر اس قسم کا رویہ اختیار کرنا درست نہیں ہے اور الزام تراشی اور طعن وتشنیع کی زبان قطعی طور پر علمی زبان نہیں ہے، مگر یہ رویہ جو قطعی طور پر غیر علمی اور غیر شریفانہ طرز عمل ہے، ہمارے ہاں مزید پختہ ہوتا جا رہا ہے اور اسے ہمارے بعض جرائد پروان چڑھانے میں فخر محسوس کر رہے ہیں۔
عزیز م عمار خان سلمہ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کتاب کی دنیا کا آدمی ہے، مطالعہ وتحقیق اس کا ذوق ہے اور علمی مسائل پر گفتگو اس کا معمول ہے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص اس کوچے میں قدم رکھے گا اور آگے بڑھے گا، اسے کسی مسئلہ پر اختلاف بھی ہوگا اور وہ اس کا اظہار بھی کرے گا۔ اس کا حل طعن وتشنیع، فتویٰ بازی اور الزام تراشی نہیں ہے بلکہ علم وتحقیق کی زبان میں اس سے اختلاف کرنا ہے اور میں خود بھی بعض مواقع پر اس سے اختلاف کرتا ہوں۔
میرا ذوق یہ ہے کہ جہاں خود اختلاف کا حق استعمال کرتا ہوں، وہاں دوسروں کو بھی اختلاف کا حق دیتا ہوں۔ رائے کے اختلاف کو رائے کے اختلاف تک محدود رکھتا ہوں اور اسے ذاتی مخالفت یا دشمنی تک آگے نہیں جانے دیتا۔ مجھے اس کوچے میں نصف صدی گزر گئی ہے اور سب دوست جانتے ہیں کہ میں نے اختلاف کا حق استعمال کرنے یا دوسروں کو اختلاف کا حق دینے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔ سادہ سی بات ہے کہ جب میں علمی دنیا کے ہر شخص کو اختلاف کا حق دیتا ہوں اور اس کا احترام کرتا ہوں تو عمار خان کو اس حق سے صرف اس لیے محروم نہیں کر سکتا کہ وہ میرا بیٹا ہے۔
عمار خان سلمہ کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ میرے بعض دوستوں اور عزیزوں کو اصل اختلاف میرے کسی طرز عمل سے ہوتا ہے اور نجی محفلوں میں وہ اس کا اظہار بھی کرتے ہیں، لیکن مجھ سے براہ راست اختلاف کرنے یا میرے بارے میں اپنی مخصوص زبان استعمال کرنے کی بجائے وہ یہ نزلہ بھی عمار خان پر گرا دیتے ہیں، اس لیے اسے دوہرے دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔
بہرحال عمار خان کی بعض آرا سے دوسرے دوستوں کی طرح مجھے بھی اختلاف ہوتا ہے، لیکن وہ صرف اختلاف ہوتا ہے، اسی طرح کا اختلاف جیسا اختلاف میں خود والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ، عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی ؒ ، قائد محترم حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ سمیت اپنے بہت سے بزرگوں سے کیا کرتا تھا۔ یہ سیاسی مسائل میں بھی ہوتا تھا، علمی معاملات میں بھی ہوتا تھا اور دینی تعبیرات میں بھی ہوتا تھا اور یہ بزرگ اس اختلاف کو سنتے تھے، دلیل کے ساتھ بحث کرتے تھے، جو بات انھیں قبول نہیں ہوتی تھی، اس کے بارے میں کہہ دیتے تھے کہ انھیں اس سے اتفاق نہیں ہے، لیکن انھوں نے کبھی اختلاف کی حوصلہ شکنی نہیں کی، طعن و تشنیع کی زبان استعمال نہیں کی اور اپنا نقطہ نظر مسلط کرنے میں سختی نہیں کی۔ وکفی بہم قدوۃ!
میری سب ناقدین سے گزارش ہے کہ وہ ضرور اختلاف کریں، تنقید کریں اور اپنے موقف کا کھل کر اظہار کریں جس کے لیے ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات بھی ہمیشہ کی طرح حاضر ہیں، مگر صرف ایک چھوٹی سی درخواست کے ساتھ کہ
اے شیخ گفتگو تو شریفانہ چاہیے
ابوعمار زاہد الراشدی
امام شافعیؒ اور ان کا تجدیدی کارنامہ
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
(۶، ۷ جنوری ۲۱۰۳ء کوہندوستان میں فقہ شافعی پر اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیااورجامعہ حسینہ شری وردھن کے اشتراک سے منعقدہونے والے دوروزہ قومی سیمینارمیں پیش کیا گیا۔)
اللہ تعالیٰ نے دنیاکے لیے جس دین کوپسندکیااوربندوں کوجس کا مکلف بنایاہے، وہ ابدی حقائق پر مشتمل ہے۔ اس کے عقائدومسلمات کو خلودعطاکیاگیاہے، مگرساتھ ہی وہ بھی زندگی سے بھرااورحرکت ونشاط سے معمورہے۔’’یہ دین چونکہ آخری اورعالمگیردین ہے اوریہ امت آخری اورعالمگیرامت ہے، اس لیے یہ بالکل قدرتی بات ہے کہ دنیاکے مختلف انسانوں اورمختلف زمانوں سے اس امت کا واسطہ رہے گا ۔۔۔اس امت کوجوزمانہ دیاگیاہے وہ سب سے زیادہ پرا زتغیرات اورپراز انقلابات ہے ‘‘۔(۱ ) مولاناسیدابوالحسن علی حسنی ندوی کے بقول زمان ومکان کی تبدیلیوں سے عہدۂ برآ ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے دوانتظامات فرمائے ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی تعلیم جامع وکامل اورزندہ ہے اوردوسرے اس دین کو ہر دور میں ایسے زندہ رجالِ کارعطاہوتے رہے ہیں جواس کی تجدیدکرتے ہیں۔ امام شافعی بھی ایسے ہی رجال اللہ اورمجددین اسلام میں سے ہیں جو اپنے تعلق باللہ ،زبان دانی ،اخلاص وللہیت،قانونی فہم، علمی انہماک اورخدمت دین میں ممتازہیں۔
اسلام کی تاریخ میں ائمہ اربعہ کا ظہورایک معجزہ تھا۔ ان میں امام ثالث حضرت امام شافعی کا امتیاز یہ ہے کہ وہ افقہ الامۃ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ ؒ اورامام دارا لہجرت امام مالک ؒ کے بعدآئے اوردونوں کے مدرسہائے فکراورمناہج فقہ کی خوبیوں کے جامع ہوئے ۔انہوں نے دونوں ہی مکاتب فکرسے خوشہ چینی کی ۔ ان کے علاوہ انہوں نے تقریباً انیس شیوخ سے علم اخذکیاجن میں فقیہ الشام امام اوزاعی کے شاگرد عمر بن ابی سلمہ اورفقیہ مصرلیث بن سعدکے شاگردیحییٰ بن حسان شامل ہیں۔ وہ امام لیث کی فقاہت سے بہت متاثرہوئے یہاں تک کہ انہوں نے کہا کہ: اللیث افقہ من مالک الاان اصحابہ لم یقوموا بہ: لیث مالک سے بڑے فقیہ ہیں مگران کے شاگردوں نے ان کواٹھایانہیں۔ (۲) شافعی کے شیوخ میں یمنی ،کوفی ،بصری اورمکی ،بغدادی استادوں کے نام بھی آتے ہیں۔امام مالک کے سامنے توان کوبنفس نفیس زانوئے تلمذطے کرنے کا شرف ملا۔فقہ حجاز یامدرسۃ الحدیث سے استفادہ کے بعدوہ عراق گئے جہاں مدرسۂ کوفہ یامدرسۃ اہل الرائے (۳) کے قریب آئے اورانہوں نے فقہ حنفی کے محررامام محمدؒ بن الحسن سے کسب فیض کیا۔ یوں وہ حدیث وفقہ دونوں کے جامع بنے اوراپنی شاداب عقل ،زرخیز دماغ ،بحث واستدلال اورکلام ومنطق کی زبر دست اورخداداد صلاحیتوں کے باعث دونوں ہی سابق فقہوں سے اپنی الگ راہ نکالی اورتیسرے مذہب فقہ کے بانی ومؤسس ہوئے۔
سوانح زندگی
نام محمد، والدکا نام ادریس بن عباس بن عثمان بن شافع تھا۔ نسبی تعلق قریش کے بنو عبد المطلب سے تھا۔ عبدمناف میں آکر حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا نسب مل جاتاہے۔فلسطین کے شہرغزہ میں سنہ ۱۵۰ ھ میں پیداہوئے۔ خداکی شان ہے کہ اسی دن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کی وفات ہوئی تھی۔ شافعی کے والدکا سایہ بچپن میں ہی سرسے اٹھ گیا، ان کی پرورش تمام تروالدہ نے کی ۔جب دوسال کے ہوئے تووالدہ محترمہ ان کولے کران کے گھروالوں کے پاس مکہ آگئیں۔ عسرت ،یتیمی وتنگ دستی کے باوجودخاندانی وقارکی حفاظت اوراعلیٰ اخلاق پر تعلیم وتربیت ہوئی ۔امام شافعی کو غیر معمولی ذہانت، جفاکشی، دور اندیشی کے ساتھ ہی غضب کا حافظہ عطاہواتھا۔شعروادب میں بھی طاق ہوگئے کہ مدتوں تک مکہ سے دورصحرا میں بنوہذیل کے درمیان رہ کرعربی لغت، محاورے اورفصاحت وبلاغت سیکھی تھی۔ ساتھ ہی تیر اندازی میں بھی حذاقت تامہ حاصل کرلی۔بنوہذیل کے ہاں سے واپس آکرمکہ کے علماء کے پاس قرآن حفظ کیااورحدیث وفتویٰ کی تعلیم حاصل کی ۔ ان کے استادمسلم بن خالدزنجی نے ان کی قابلیت کی شہادت دیتے ہوئے فرمایا: اے ابوعبداللہ، اب تم فتوی دو، کیونکہ فتوی دینے کے اہل ہوچکے ہو ‘‘ ۔ (۴) مگرشافعی کومزیدعلم کا شوق تھاچنانچہ انہوں نے اما م مالک ؒ کے درس حدیث اوران کی کتاب مؤطاکا شہرہ سنا تو مدینہ کی راہ لی۔ والئ مکہ نے ان کے لیے ایک سفارشی خط امام مالکؒ کی خدمت میں لکھ دیا۔ مگرمالک کی خدمت میں حاضری دینے سے پہلے ہی مکہ کے کسی عالم سے مؤطا لے کرپوری پڑھ لی بلکہ حفظ کرلی۔ اس کے بعدمدینہ حضرت امام مالک کی خدمت میں حاضرہوئے جس کا حال یوں لکھاہے : ’’میں صبح سویرے امام مالک کی خدمت میں پہنچ گیااورمؤطازبانی پڑھنی شروع کردی حالانکہ کتاب میرے ہاتھ میں تھی۔ امام صاحب سننے لگے۔ جب مجھے خیال آیاکہ امام مالک تھک گئے ہوں گے تومیں نے قرأت روکنی چاہی، مگرحضرت امام کومیری قرأتِ مؤطااتنی پسندآئی تھی کہ انہوں نے فرمایا: اے نوجوان اورپڑھ،چنانچہ یوں میں نے چنددنوں میں پوری مؤطاان کوسنائی اورختم کرلی۔‘‘ (۵) اس کے بعدشافعی فقہ وحدیث میں امام مالک سے مستفیدہونے لگے یہاں تک کہ اصحابِ مالک میں شمارہونے لگے اوران کی وفات(۱۷۹ھ)تک ان کے سرچشمۂ علم سے سیراب ہوتے رہے ۔
پھریمن کے گورنرشافعی کواپنے ساتھ لے گئے اور علاقۂ نجران کا قاضی مقررکردیا جہاں آپ پوری جرأت ،عدل وانصاف اورخوفِ خداکے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے لگے ،تاہم اس گورنرکے بعض عمال ومقربین کی زیادتیوں پر کھلی اورشدیدتنقیدنے اس کوآپ سے ناراض کردیا۔اس نے آپ سے یوں انتقام لیاکہ خلیفہ کی خدمت میں آپ کی شکایت لکھ بھیجی کہ یہاں کئی علوی لوگ ہیں اورایک قریشی نوجوان ان کا حمایتی ہے۔یہ لوگ خلافت پرخروج کا ارادہ رکھتے ہیں اورمیرے قابومیں نہیں آ رہے ۔خلیفہ عباسی ہارون الرشیدنے ان سب لوگوں کواپنے دربار بغداد بلا بھیجا۔ امام شافعی علویوں سے محبت رکھتے تھے، مگران پربغاوت کا الزام بالکل غلط تھا۔بہرحال اپنی باری آنے پرانہوں نے اپنی طلاقت لسانی اورزوربیان کے بل پر اپنے کیس کی وکالت کی اورخلیفہ کے قاضی امام محمدؒ بن الحسن تلمیذرشیدابوحنیفہ ؒ کی سفارش پر چھوڑدیے گئے۔یہیں سے وہ امام محمدؒ کے رابطہ میں آئے اور انہوں نے امام محمدکے علم وتفقہ سے فیض اٹھایا،ان سے مذاکرے کیے اورعراقی مکتب فکراوراس کے منہج سے براہ راست واقفیت حاصل کی۔
یہاں سے فارغ ہوکرشافعی مکہ گئے جہاں انہوں نے حرم مکی میں نوسال تک درس دیا۔امام احمدبن حنبل ؒ نے مکہ ہی میں ان کے آگے زانوے تلمذ تہہ کیاہے اور جب ۱۹۵ھ میں شافعی دوبارہ بغدادآئے تو امام احمدنے ان کا بڑا اکرام کیا۔ بغداد کے اس سفرمیں انہوں نے فقہ مالک اورفقہ حنفی سے الگ اپنی فقہی رایوں کااظہارشروع کیااوربغدادکے علماء وفقہاء سے ان کے مذاکرے ہوئے ۔ بغدادمیں انہوں نے جوفتوے دیے، انہی کوفقہ شافعی میں قول قدیم کہاجاتاہے۔
مصربھی اس وقت اہل علم کا مرکزتھاجہاں امام مالک کے بہت سے تلامذہ استادکی فقہ کوعام کررہے تھے۔ مصرہی میں امام لیث بن سعدتھے جن سے شافعی کی مراسلت ہوئی تھی۔۱۹۹ھ میں شافعی مصرگئے جہاں انہوں نے اپنامذہب فقہی باقاعدہ قائم کیا۔ وہاں ان کوبہت سے تلامذہ میسرآئے ۔مصرمیں انہوں نے اپنے بہت سے خیالات کی تنقیح کی اور بہت سی سابق رایوں سے رجوع کیااورنئی رائے پر فتوے دیے جن کوقول جدید کہا جاتاہے۔ ۲۰۴ھ میں مصر میں ہی شافعی کی وفات بھی ہوئی جس کے مختلف اسباب بتائے جاتے ہیں ۔ ( ۶ ) ان کے تلامذہ بویطی ،سلیمان بن الربیع وغیرہ نے مصرمیں ان کے مسائل وفتاوی کومدون کیااوریہیں سے شافعی مسلک کی عالم اسلام کے مختلف خطوں میں اشاعت ہوئی ۔
امام شافعیؒ اوران کی فقہ کا بڑاکمال یہ ہے کہ انہوں نے حدیث وفقہ کوجمع کیاہے اوربعض اہل علم کہتے ہیں کہ فقہ شافعی میں اصح ما فی الباب (یعنی کسی مسئلہ کے سلسلے میں سب سے صحیح حدیث) سے اخذواستفادہ کا رجحان ہے۔ شافعی کا بہت بڑااورتجدیدی کارنامہ اورمجموعی طورپر اسلامی فقہ پر ان کا زبردست احسان ہے کہ انہوں نے فقہ اسلامی کے اصول مدون کیے،فروعی مسائل اورجزئیات کومنضبط کرنے والے جامع قواعدوکلیات کا استنباط کیااوراپنی ’الرسالہ‘ اور’الام‘ کے ذریعہ علم وفکرکی ایک نئی دنیا آبادکردی۔کتاب وسنت کے نصوص سے شرعی مسائل کا استنباط اپنی جگہ ایک عظیم الشان کام ہے۔تاہم اس مسائل کی اصول سازی اورنظریہ سازی اس سے بھی بڑاکام ہے اوریہ شافعی کی عبقریت ہے کہ انہوں نے دونوں کام کیے اوراس راہ میں طریق معتدل کی دریافت کی۔ مثال کے طورپر اپنے بہت سے معاصرین کی افراط وتفریط کے درمیان انہوں نے کہاکہ قرآن اصلِ شرع ہے (۷)شافعی کے لفظوں میں:
’’اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جوکچھ بھی اپنی رحمت کے طورپر اوربندوں پرحجت کے لیے نازل فرمایا،اس کا عالم عالم ہے اورجواس کونہیں جانتاوہ جاہل ہے ۔اس کونہ جاننے والے کوعالم نہیں کہ سکتے اوراس کے جاننے والے کوجاہل نہیں کہ سکتے ۔اورعلم کے اندر لوگوں کے درحات مختلف ہیں۔اورجتناکوئی قرآن کا علم رکھتاہے اتناہی اس کا رتبہ سِواہے اس لیے طالبانِ علم پر لازم ہے کہ وہ اس کا زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کی بھرپورجدوجہدکریں اوراس راہ میں جو کچھ بھی پیش آئے اس کو برداشت کریں اورنص یااستنباط سے قرآن کے علم کے حصول میں نیت خالص اللہ کے لیے رکھیں۔‘‘
یعنی قرآن شافعی کے نزدیک بیانِ کلی ہے اور سنت اس کی تبیین۔ (۸ ) صحابہ بھی اسی کے قائل تھے چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں: من جمع القرآن فقد حمل امراعظیما و لقد ادرجت النبوۃ بین جنبیہ ال اانہ لایوحی الیہ: جس کے پاس قرآن کا علم ہے تووہ ایک امرعظیم کا حامل ہے ،گویاکہ اس کے سینہ میں نبوت دے دی گئی ہے، اگرچہ اس کے پاس وحی نہیں آتی۔ (۹) ابن حزمؒ اس بنیادپر کہتے ہیں کہ: کل ابواب الفقہ لیس منہا باب الا ولہ اصل فی الکتاب، والسنۃ تعلنہ۔ فقہ کا کوئی باب ایسانہیں جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو، سنت اس کی تفصیل سے وضاحت کرتی ہے ۔اس کے بعدشافعیؒ نے بیانِ قرآن کی دوقسمیں کی ہیں:
۱۔وہ آیات جوخوداپنی شرح ہیں اورجن کو مزید تفسیر کی ضرورت نہیں، مثلاًصوم اورلعان کا بیان۔
۲۔ قرآن کی دوسری قسم وہ ہے جس کوانہوں نے القسم الذی من القرآن لایکون نص فی الموضوع بل البیان فیہ یحتاج الی السنۃ کہاہے یعنی وہ قسم جو موضوع پر خوددلالت نہ کرے بلکہ اس کے بیان کے لیے سنت کی ضرورت پڑے۔ (۱۰)
اسی طرح یہ مسئلہ ہے کہ قرآن کے فرائض وواجبات کے بارے میں صحیح نقطۂ اعتدال کیاہے؟شافعی نے قرآن کے متعددنصوص میں غورو فکر کرکے فرض کو دو وجہوں پر تقسیم کیاہے: فرض عین اورفرض کفایہ۔ وہ فرض کفایہ کو المطلوب علیٰ وجہ الکفایۃ یراد بہ العام ویدخلہ الخصوص ( ایساعام فرض جوکچھ لوگوں سے مطلوب ہو) سے تعبیرکرتے ہیں۔ (۱۱)امام شاطبی نے اس کی بے حدمعنی خیز تفصیل کی ہے اوراس کوفرض عین پر ایک گونہ فوقیت دی ہے۔ ابوزہرہ کی کتا ب میں اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے ۔چونکہ امام شافعی نے خوداصول و قواعدکا استخراج کیااوران کی تدوین کی، اس لیے بقول ابوزہرہؒ ان کے تلامذہ اور بعد کے لوگوں کو مذہب شافعی پر تخریج (کسی اصل سے مزیدمسئلہ نکالنا)کے لیے اصول ثابتہ مقررہ میسرآگئے، جبکہ یہ چیز دوسرے مذاہبِ فقہ میں نہیں پائی جاتی کیونکہ شافعی کے علاوہ کسی اورامام سے یہ منقول نہیں کہ انہوں نے شافعی کی طرح قواعدبیان فرمائے ہوں۔ (۱۲)
امام شافعی کا دوسراکارنامہ حجیت حدیث کا اثبات ہے ۔موجودہ زمانہ میں انکارحدیث کا جوفتنہ پیداہواہے ،عموماً اس کے بارے میں خیال کیاجاتاہے کہ یہ ایک نیا ظاہرہ Phenomenon ہے، مگرامام صاحب کی دونوں کتابوں الرسالہ اور الام کے ایک سرسری مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ ایسانہیں ہے بلکہ یہ فتنہ نہایت قدیم ہے ۔شافعی کے زمانہ میں تین طرح کے منکرین حدیث موجودتھے جن سے ان کی گفتگوئیں بھی ہوئیں اورجن کی آرا کواپنی تحریروں میں نقل کرکے انہوں نے ان پرتفصیل سے محاکمہ بھی فرمایاہے۔ الام کی کتاب جماع العلم میں شافعی نے تفصیل سے منکرین سنت کے بارے میں بیان کیاہے ۔ (الرسالہ میں حجیت حدیث کا اثبات ہے اورالام میں منکرین سے مناظرہ اوران کے استدلال کا تفصیلی ردہے ۔) شافعی ؒ کے مطابق حدیث کا انکارکرنے والے فی الجملہ تین طرح کے لوگ ہیں :
پہلے تووہ لوگ ہیں جوبالکل ہی سنت کا انکارکرتے ہیں ۔الرسالہ میں امام صاحب نے ان لوگوں کا پورااستدلال نقل کرکے ان کو جواب دیاہے۔ان کے الفاظ میں ان کے استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ : وجملۃ قبولہم واحتجاجہم لہ ان الکتاب فیہ تبیان لکل شیئی، وان الکتاب عربی، لایحتاج الی بیان غیر معرفۃ اللسان العربی والاسلوب العربی الذی جاء القرآن بہ، ولیس وراء بیانہ بیان (۱۳) ای السنۃ لایمکن ان تاتی بشرع زائدعلی مافی الکتاب اللہ (ابوزہرۃ )مطلب یہ ہے کہ قرآن عربی میں نازل ہواہے اورعربی کلام کوسمجھنے کے لیے عربی اورزبان اورعربی اسلوب کے علاوہ کسی اورچیز کی ضرورت کیوں پڑنے لگی ۔اسی سنت قرآن کے کسی حکم پر اضافہ بھی نہیں کرسکتی۔ان کے استدلال کا جواب امام شافعی نے بہت تفصیل سے دیاہے جس کی تلخیص ابو زہرہ نے کردی ہے۔
دوسرے وہ لوگ ہیں جو صرف انہیں حدیثوں کولیتے ہیں جن کے مطابق قرآن میں کوئی حکم پایاجاتاہے۔ یہ خبر واحد کوقبول نہیں کرتے۔(ما کان فیہ قرآن یقبل فیہ الخبر) اورتیسرے نمبرپر وہ لوگ ہیں جوبس انہی احادیث کومانتے ہیں جومتواترومستفیض ہیں اور خبر واحد کی حجیت کے قائل نہیں ہے۔ (وثالث المذاہب المخالفۃ للجماعۃ مذھب الذین ینکرون حجیۃ خبرالآحاد جملۃ ولایعتبرون الا الاخبار المتواترۃ المستفیضہ (۱۴) پہلاگروہ توامت سے بالکل ہی خارج ہے (وقائل ذلک لیس من الاسلام فی شیء) (۱۵) اوردوسرے گروپ کے بارے میں تفصیل ہے کہ ان کے قول کے دومطلب نکلتے ہیں:ایک لحاظ سے یہ بھی پہلے ہی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں، لہٰذاانہیں میں سے شمارہوں گے اوراگران کے قول کا مطلب یہ ہے کہ قرآن وحدیث میں تعارض نہیں ہوسکتاتویہ بات درست ہے اوراس لحاظ سے اگریہ خبرواحدمیں شک کرتے ہیں توان کو خارج عن الامۃ (امت سے باہر) نہیں سمجھاجائے گا۔
پہلے گروپ کوامام صاحب زنادقہ ،خوارج اوربعض معتزلہ کی طرف منسوب کرتے ہیں جنہوں نے اپنی تائیدمیں ایک حدیث بھی گڑھ لی تھی کہ: جب تمہارے پاس کوئی حدیث آئے تواس کوکتاب اللہ پرپیش کرو۔ اس کے موافق ہوتوسمجھوکہ وہ میراہی قول ہے اوراس کے خلاف ہوتوسمجھوکہ وہ میراقول نہیں ہے کہ قرآن مجھ ہی پراتراہے، اسی سے اللہ نے مجھے ہدایت دی تومیراقول اس کے خلاف کیسے ہوگا۔ (ما اتاکم منی فاعرضوہ علی کتاب اللہ، فان وافق کتاب اللہ فانا قلتہ وان خالف کتاب اللہ فلم اقلہ، وکیف اخالف کتاب اللہ وبہ ہدانی اللہ)۔ اس حدیث کے سلسلہ میں عبدالرحمن بن مہدی نے فرمایاکہ اس کوزنادقہ اور خوارج نے گھڑا ہے۔ (۱۶)
آج کے منکرین حدیث بھی کم وبیش انہی خیالا ت کی جگالی کرتے رہتے ہیں۔ ان کے استدلال بھی تقریباً یہی رنگ لیے ہوتے ہیں۔ امام شافعی ایک ایسے عہدمیں پیداہوئے تھے جب روایات کی کثرت تھی ،واضعین حدیث اورمنکرین سنت کی مذموم کوششوں سے اہل علم کے لیے سنت کے حوالہ سے ایک بڑاعلمی چیلنج پیداکردیاتھا۔وضعی حدیثوں کا ایک سیلاب تھا،ایسے میں شافعی جیسے عبقری نے وقت کے ا س چیلنج کا جواب دیا ۔ آپؒ نے واضح کیاکہ سنت صحیحہ ثابتہ قرآن سے باہرنہیں ہے، وہ قرآن ہی مستنبط ہے۔ اس کی اصل قرآن میں موجودہے اورسنت اس کی مستند ترین شرح وتفسیرہے۔ اسی کتاب میں آپ نے ثابت کیاکہ قرآن میں کئی جگہ الکتاب والحکمۃ ساتھ ساتھ آیاہے۔ (مثلاً البقرہ :۱۲۹ ) جس میں کتاب سے مرادقرآن اورحکمت سے مراداس کی نبوی تفسیر(حدیث ) ہے (الکتاب ہو القرآن والحکمۃ ھی السنۃ النبویۃ (۱۷) ظاہرہے کہ حکمت منزل من اللہ وحی اوراسوۂ نبوی کا عمل کی دنیامیں کامل ترین اظہارہے ،یہ وہ دانش نورانی ہے جس کو و ما ینطق عن الہوی ان ہو الاوحی یوحی (النجم:۳، ۴) کی تائیدربانی حاصل ہے ۔الرسالہ میں انہوں نے تینوں فریقوں کے جواب دیے ہیں اوراسی وجہ سے مکہ ،بغداد اور مصروغیرہ میں شافعی کوناصرالسنۃ اورحافظ حدیث کہاجاتاتھا۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ شافعی بغیرکسی تعصب کے حق کی حمایت کرتے تھے۔
امام شافعی سے پہلے اہل الرائے، اصحاب الحدیث پر اپنے منطقی طرز استدلال کے ذریعہ غالب آجایاکرتے جبکہ اصحاب الحدیث ذخیرۂ آثاروروایات میں ان کودبالیتے تھے۔ جب شافعی آئے تووہ ان دونوں ہی ہتھیاروں سے لیس تھے۔ چنانچہ ان سے دونوں مدرسہاءأفکر کے جس آدمی نے بھی بحث مباحثہ کیا، کوئی بھی شافعی کے سامنے نہ ٹک سکا۔ حق کے سلسلے میں بلاخوف لومۃ لائم امام شافعی نے اپنی آرا کا اظہار کیا۔ چنانچہ امام مالک سے محبت کے باوجود انہوں نے ’’خلاف مالک‘‘ لکھی جس میں اپنے استاذکی بہت سی رایوں پر تنقیدتھی۔اسی طرح اپنے دوسرے استادامام محمدسے بھی مناقشہ کیااوربصرہ کے علماء سے مناظرہ کیااورسب میں غالب رہے۔ مگربراہومسلکی تعصب کا کہ جب امام صاحب مصر گئے تووہاں کے مالکیوں نے ’’خلاف مالک‘‘ لکھنے کی وجہ سے والئ مصرسے ان کی شکایت کی اوران کو مصر سے نکلوادینے کی کوشش کی!! حالانکہ ان کا اختلاف صرف مالک سے ہی نہ تھا بلکہ حنفیہ اوردوسرے ائمہ فقہ سے بھی تھا۔ مثال کے طورپرامام شافعی خبر واحد کو اہمیت دیتے ہیں اورقرآن کے عام کی تخصیص خبر واحدسے جائزقراردیتے ہیں۔ اس بارے میں حنفیہ کا ان سے اختلاف ہے کیونکہ حنفیہ کہتے ہیں کہ قرآن قطعی الثبوت ہے اورخبرواحدظنی الثبوت،اس لیے ظنی سے قطعی کی تخصیص نہیں ہوسکتی (۱۸) سوائے اس صورت کے کہ اس عام کی پہلے ہی کسی اورسے تخصیص ہوچکی ہو۔
واضح رہے کہ ابوزہرہ کی تحقیق میں شافعی خودعقیدہ کے اثبات میں خبرواحدکوکافی نہیں سمجھتے ۔ انہوں نے خبرواحدکی حجیت تو ثابت کی ہے تاہم وہ خبر واحد کو، جیساکہ ابوزہرہ لکھتے ہیں، قرآن کے یاخبر متواترومستفیض کے درجہ میں نہیں رکھتے اور ابوزہرہ کے لفظوں میں: بہذا تراہ یضع الامور فی مواضعہا فھو یجعل الآحادحجۃ فی العمل دون الاعتقاد، فیقرر ان الشک فیہ لاعقاب علیہ (۱۹) اس کے بعدامام صاحب نے خبرالواحد (روایات الخاصۃ ) کے قبول کے دقیق شرائط بیان کیے ہیں اوریہ سب شرطیں وہی ہیں جن کوماہرین مصطلح الحدیث نے قبول کیاا ور ان سے اتفاق کیاہے ۔خبرواحدکے علاوہ امام شافعی نے مرسل کوبھی بعض کڑی شرائط کے ساتھ قبول کیاہے، مثلاً یہ کہ مرسل کبارتابعین کی ہو، اس مرسل کی کسی اورمتصل روایت سے تائیدہوتی ہویاقول صحابی اس کے مطابق ہووغیرہ ۔
اسوۂ متواترہ مکشوفہ و مروجہ کا سب سے بڑااظہارامام مالک کے نزدیک عمل اہل مدینہ ہے، لیکن یہ تاریخی حقیقت ہے کہ خلافت راشدہ اور خصوصا حضرت عمربن الخطابؓ کے بعداجلۂ صحابہ کی بڑی تعدادجہاد،نشرعلم اوردعوتی مقاصدکے تحت مختلف بلادوامصادمیں پھیل گئی تھی اورمدینہ کاعلمی اختصاص بڑی حدتک ختم ہوگیاتھااوراس حقیقت کوخودامام مالک بھی تسلیم کرتے تھے۔ جبھی توانہوں نے خلیفہ منصورکواس بات سے روک دیاتھاکہ مؤطاکوپورے عالم اسلام کا دستورالعمل بنادیاجائے ۔انہوں نے خلیفہ کوخودیہی دلیل دی تھی کہ صحابہؓ کے علم کے حامل مختلف بلادمیں پھیل گئے ہیں اور وہاں لوگ ان کے فتووں پر عمل کر رہے ہیں، اگر ان کوایک ہی مدرسۂ فکرکا تابع بنادیاجائے گاتوبڑی مشکل پیدا ہو جائے گی۔اسی دلیل کوآگے بڑھاتے ہوئے امام شافعی نے جواستدلال کیا اس کا مفادیہ ہے کہ سنت قولی جومتعدداہل علم صحابہ جیسے ابوہریرہؓ، عائشہؓ اور ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے، اس کوعمل اہل مدینہ پرترجیج ہوگی ۔الرسالہ میں شافعی نے اصولی طورپر یہ ثابت کردیاکہ قولی حدیثوں سے مروجہ سنت (مدینہ میں)کی تصحیح وتنقیدکاکام لیاجائے گا۔ الرسالہ جو اصول حدیث، فقہ اوراسلام کی مذہبی تاریخ پر اولین تصنیف ہے، اس نے آنے والے دنوں میں فکراسلامی پرگہرے اثرات مرتب کیے۔
ہمارے زمانہ میں کچھ لوگ بڑی شدت سے تقلیدکے خلاف آواز بلندکررہے ہیں حالانکہ جس تقلیدجامدکی مخالفت کا ان کودعویٰ ہے، اس کا رستہ توخودائمہ متبوعین نے خودہی بندکردیاہے۔ چنانچہ ہرامام تقلیدجامدکے بالکل خلاف تھا اورسبھی حریت فکر کے قائل تھے۔ امام شافعی کا بھی اس کلیہ سے کوئی استثنا نہیں۔ جس طرح انہوں نے دلائل کے ساتھ اپنے اساتذہ اورمعاصرین سے اختلاف فرمایا، اپنے شاگردوں کوبھی اسی کی تربیت دی کہ وہ ان کی جامدتقلیدنہ کریں، چنانچہ شافعی نے فرمایا: اذا صح الحدیث فہو مذھبی واضربوا بقولی عرض الحائط ( جب صحیح حدیث مل جائے تووہی میرا مذہب ہے اوراس کے ہوتے ہوئے میرے قول کودیوارپر ماردینا)۔ تمام ائمہ سے اسی طرح کے اقوال منقول ہیں اورامام ابوحنیفہ کے اسکول کا تویہ امتیاز ہے کہ انہوں نے اپنے تلامذہ کو زبردست حریت فکری عطاکی تھی۔ اسی وجہ سے کہاگہاہے کہ ان کے ارشدتلامذہ نے امام ابوحنیفہ کی دو تہائی آرا سے اختلاف کیاہے۔ (۲۰) یہی آزادئ رائے امام شافعی کے ہاں بھی بدرجۂ اتم موجودہے۔چنانچہ ان کے ہاں یہ ہے کہ اگرشافعی کے قول کے خلاف کوئی حدیث مل جاتی ہے اوران کے قول کوچھوڑکرحدیث کو اختیارکرلیاجاتاہے تویہ مذہب سے خروج شمارنہیں ہوتا۔ بس شرط یہ ہے کہ جولوگ مذہبِ امام سے باہرجائیں، وہ رتبۂ اجتہادکوپہنچ گئے ہوں ۔ (۲۱)چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مذہب شافعی میں تخریجات کرنے والے علما ء دوطرح کے تھے ۔وہ مخرّج جواصول شافعی سے باہرنہیں نکلتے جیسے شیخ ابو حامداورقفال۔ دوسرے وہ مخرّج جومذہب شافعی سے اصول وفروع دونوں میں باہرچلے جاتے ہیں، اس لیے کہ وہ خود اجتہاد مطلق کے درجہ پر فائز ہیں۔ مثال کے طورمحمدّون (محمدنام کے علماء )جن سے مرادہیں: محمدبن نصر،محمدبن جریرطبری، محمدبن خزیمہ اورمحمدبن المنذر، لیکن چونکہ انہوں نے کسی الگ فقہی مکتب فکرکی بنیادنہیں ڈالی اورشافعی ہی رہے، اس لیے ان کوبھی شافعی مذہب کے اندرہی شمار کیا جاتا ہے۔البتہ بعض کی رائے میں ان کے تفردات کوشافعی مسلک سے باہرسمجھاجائے گا۔(۲۲)
اسی طرح اسلامی فکرمیں قرآن ،سنت ،اجماع اورقیاس کے اصول اربعہ کوبھی امام شافعی نے الرسالہ میں مضبوط استدلالی بنیادوں پر قائم کردیاہے ۔تاہم ان کی تحریروں سے یہ مترشح ہوتاہے کہ اجماع سے مرادان کی صحابہ کااجماع ہے اوراس کے بعدکااجماع ان کے نزدیک ثابت نہیں۔اس کی توضیح یہ ہے کہ اگر صحابہ کسی امرپر متفق ہوں تووہ تمام فقہاء کے نزدیک اجماع ہے اوراس پر عمل واجب۔ اس میں فقہاء اوراہل الحدیث کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔اس کے بعد اگراہل مدینہ کا کسی امرپر اجماع ہے تواس کوامام مالک ایک دلیل شرعی مانتے ہیں اوراس کی مخالف صحیح حدیث کوردکردیتے ہیں کہ ان کے نزدیک عمل اہل مدینہ کے خلاف ہوناحدیث میں قادح ہے۔امام شافعی کے زمانہ میں صورت حال یہ تھی کہ ہرفریق اپنی رائے پر اجماع کا دعویٰ کررہاتھا۔ایسے میں شافعی نے اصولی طورپر اجماع کوشرعی حجت تسلیم کیا۔کتاب وسنت میں اس کی بنیاددریافت کی ،اس کے مبادی منضبط کیے ۔تاہم عملی سطح پر انہوں نے یہ بھی کہاکہ ہرمسئلہ پر اجماع کا دعویٰ کرناغلط ہے، کیونکہ ہمارے پاس اجماع کے عملاً وقوع کی کوئی دلیل نہیں ۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ اجماع کامرتبہ کتاب وسنت کے بعد ہوگا اور وہ ان کے تابع ہوگا۔ اس معاملہ میں فریق مخالف کی انہوں نے شدت سے مخالفت کرتے ہوئے یہاں تک کہ دیاکہ: دعوی الاجماع خلاف الاجماع (اجماع کا دعوی کرنا خود اجماع کے خلاف ہے )اورآگے اس کوجواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ : اجماع کے عیب کے لیے تویہی کافی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدلوگوں کی زبانوں پر تمہارے اس زمانہ کے علاوہ کبھی اس کا نام نہیں آیا۔(۲۳) یوں شافعی بعض اجماع کے قائل ہیں، من کل الوجوہ اس کا انکارنہیں کرتے۔
اجماع کے علاوہ رائے ،قیاس (یااجتہاد) کوانہوں نے منضبط کیاہے مگراستحسان پر تنقیدکی ہے جس کا اعتبارمالکیہ وحنفیہ دونوں کے ہاں ہوتاہے۔کتاب الام میں اس کے ردمیں انہوں نے جوکچھ لکھاہے اس کاخلاصہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ چونکہ قیاس یارائے (اجتہاد)ایک اصولی فریم ورک کے اندر operate کرتاہے، اس لیے وہ درست ہے، جبکہ استحسان کوکسی کلیہ کے تحت لانا دشوار ہوتا ہے، اس لیے استحسان کودلیل شرعی نہیں سمجھا جائے گا ۔ چنانچہ اس بارے میں انہوں نے اپنے استادامام محمدسے اختلاف کیاہے جس طرح عمل اہل مدینہ کے سلسلہ میں انہوں نے اپنے دوسرے استادو شیخ مالک سے بھی اختلاف کیاتھا۔تاہم قیاس کوشافعی اجماع کی نگرانی میں دینے کے حامی ہیں۔ظاہرہے کہ اس کا مطلب ہے کہ نئی تعبیری اورفکری کوششوں کوفکراسلامی کے محورکے گردرکھاجائے ۔
واضح رہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے اس خیال کا اظہارکیاہے کہ مذاہب اربعہ بنیادی طوردومذاہب یعنی فقہ شافعی اورحنفی کے اندرضم ہو جاتے ہیں اورانہوں نے التفہیمات الالٰہیہ میں کہاہے کہ میراطریقہ جہاں تک ممکن ہے ان دونوں مذاہب کے درمیان جمع وتطبیق کرناہے ۔فرماتے ہیں:
ونحن ناخذ من الفروع مااتفق علیہ العلماء ولاسیما ھاتان الفرقتان العظیمتان الحنفیۃ والشافعیۃ وخصوصاً في الطہارۃ والصلاۃ فأن لم یتیسر الاتفاق واختلفوا فنا خذ بمایشہد لہ ظاہرالحدیث ومعروفہ ونحن لانزدری احداً من العلماء فالکل طالب الحق ولا نعقدالعصمۃ في احدغیر النبیی صلی اللہ علیہ وسلم(۲۴)
’’ فروع میں ہم علما کے متفق علیہ مسئلہ کو لیتے ہیں خاص کر حنفی و شافعی مسلک کے اتفاق کو کہ یہ عظیم فرقے ہیں اور وہ بھی طہارت و نماز کے سلسلہ میں خصوصاً۔اگر اتفاق نہ حاصل ہو اور علما مختلف ہوں تو پھر جس مسئلہ کی تائید ظاہر حدیث سے ہوتی ہے، ہم اسے اختیار کرتے ہیں ۔ ہم علما میں سے کسی کی بھی اہانت نہیں کرتے کہ سبھی حق کے طالب ہیں، البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کسی کے لیے عصمت کا اعتقاد نہیں رکھتے۔‘‘
امام شافعی پر نئے نئے مطالعات جاری ہیں۔ مثال کے طورپرڈاکٹرطٰہٰ جابرعلوانی نے اس کا اظہارکیاہے کہ امام شافعی کے نزدیک ’’نص شرعی ‘‘صرف اورصرف قرآن کوکہاجاسکتاہے ۔اس میں کوئی اورچیز اس کی شریک نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے الام کے بہت سے اقتباسات اورفقرے نقل کرکے اس تحقیق کوپیش کیاہے ۔البتہ یہ وضاحت کردی ہے کہ صحیح اورثابت سنت بہرحال اس کی شرح وتفسیرہے۔(۲۵)
امام شافعی کا ظہورعصرعباسی کے دوسرے مرحلہ میں ہوا جب مختلف اسلامی علوم وفنون کی تدوین زوروشورسے ہورہی تھی۔ علم کلام اورمتکلمین میدان میں تھے۔ یونانی، سنسکرت ،فارسی اوردوسری زبانوں سے عربی میں ترجمہ کی تحریک برگ وبارلارہی تھی۔ مسلمانوں میں بھی طرح طرح کے فقہی ،کلامی اورشیعہ فرقے وجودپذیرتھے۔فقہ حنفی ومالکی کی نشوونماہورہی تھی ۔اس عہدمیں انہوں نے آنکھ کھولی اوراپنے عہدکے ان سبھی حالات ،وقائع اورچیلنجوں سے واقفیت حاصل کی۔ امام صاحب قوی الحجت، زبان آور، فصیح وبلیغ ، اور استدلالی اندازومنطقی اسلوب تکلم کے مالک تھے۔چنانچہ اپنی کتابوں الرسالہ اورالام وغیرہ میں انہوں نے جومقدمات قائم کیے ،اورجس انداز میں فقہ ،فقہ حدیث اوراصول فقہ کے سلسلہ میں اپنے استدلالات کی بنیادرکھی اورجونتائج نکالے، ان سے ایک زمانے نے اتفاق کیا۔امام مالک نے مؤطاکے ذریعہ حدیث ،اقوالِ صحابہؓ اورعلماء مدینہ کی رایوں (عمل اہل مدینہ )اوراپنے فتاویٰ کوجمع کر دیا تھا۔ شافعی مؤطا سے بہت متاثرتھے اورسب سے پہلے اس کوانہوں نے ہی اصح کتاب بعدکتاب اللہ کا معزز نام دیاتھا۔ امام اعظم ابوحنیفہ ؒ نئے نئے مسائل کے حل کے سلسلہ میں اجتماعی اجتہاد، بحث ومناقشہ کے بعد مسائل کے استنباط واستخراج کی عظیم نظیرقائم کرچکے تھے ۔ان دونوں اماموں کے بعدان دونوں کے علمی فکری اورفقہی سرمایہ سے کام لے کرامام شافعی نے اصول فقہ کی تدوین کی اورادلۂ شرعیہ سے اخذ واستنباط کا ایک واضح منہاج قائم کردیاجس کے لیے قیامت تک امت ان کے زیر بار احسان رہے گی ۔
مراجع وحواشی
(۱) مولاناسیدابوالحسن علی ندوی تاریخ دعوت وعزیمت ،حصہ اول ،مجلس تحقیقات ونشریات اسلام لکھنؤ 1992، صفحہ 18
(۲) الامام محمدابوزہرہ ، الشافعی حیاتہ وعصرہ فقہہ وآراۂ طبع ثانی دارالفکرالعربی 1978، ص 47)
(۳) اہل الرائے اوراہل الحدیث محض تغلیباہے۔رائے سے مرادہے کہ قرآن وحدیث میں اگرکسی مسئلہ میں صریح حکم نہیں مل رہاہے تو اجتہادکیاجائے ،جیساکہ فقہاء عراق کرتے تھے ،مگرایسی صورت حال میں فقہاء حجاز اجتہادکارحجان کم رکھتے تھے ۔تاہم ایسانہیں ہے کہ مدرسۃ اہل الرائے یعنی مدرسۂ کوفہ حدیث کوچھوڑکررائے پرعمل کرتاتھا اورنہ ہی یہ مطلب ہے کہ مدرسۃ اہل الحدیث (مدینۃ ) میں رائے اورتفقہ سے کام ہی نہیں لیا جا تا تھا۔فرق صرف کم وبیش کا ہے اوران دونوں ہی رجحانوں کی دلیل اسوۂ نبوی میں ملتی ہے ۔اس کے معنی یہ ہیں کہ اہل الرائے اوراہل الحدیث کا استعمال تغلیباہوتاہے اوردومختلف مناہج فکرکوبتانے کے لیے ہوتاہے ۔ اور یہاں اہل الحدیث سے مرادہمارے زمانہ کافرقہ اہل حدیث توہرگز مرادنہیں ہے ،جس پر ظاہریت کی چھاپ اورآج کل ائمہ فقہ اورخاص کرفقہ حنفی سے عداوت کا غلبہ ہے ۔
(۴) الامام محمدابوزہرہ ، الشافعی حیاتہ وعصرہ فقہہ وآراۂ طبع ثانی دارالفکرالعربی 1978 اوراجتباء ندوی ،تاریخ فکر اسلامی، المرکزالعلمی نئی دہلی 1998)
(۵) حوالۂ سابق ،اور اجتباء ندوی ،تاریخ فکراسلامی ،المرکزالعلمی نئی دہلی 1998)
(۶) مشہور قول کے مطابق بواسیرکے مرض سے بعمر54سال امام شافعی کی وفات ہوئی اورمعجم یاقوت کی روایت کے مطابق کسی فتیان نامی متعصب مالکی سے ان کا مناظرہ ہوا جس میں شافعی نے اس کولاجواب کردیا۔اس نے امام صاحب سے بدسلوکی کی ،جس کی شکایت کسی نے والئ مصرسے کردی ،جس پراس نے فتیان کوسزادلوائی ۔ جذبۂ انتقام میں اس کے ساتھی امام صاحب کے حلقہ میں پہنچ گئے اورجب آپ کے سب تلامذہ اوراصحاب چلے گئے توآپ پرحملہ کردیا۔ان کے زدوکوب کرنے سے آپ زخمی ہوگئے جن کی تاب نہ لاکرچنددن بعدانتقال فرماگئے ۔ الامام محمدابوزہرہ ، الشافعی (32)
(۷) ایضا (211)
(۸) ایضا (211)
(۹) ایضا (210)
(۱۰) ایضا (214)
(۱۱) (202)
۱۲۔ (379)
۱۳۔ (218)
۱۴۔ (220)
۱۵۔ (219)
۱۶۔ (دیکھیں ابوزہرہ : الامام الشافعی : صفحہ 219)
۱۷۔ (222)
۱۸۔ (208)
۱۹۔ (232)
۲۰۔ امام محمدؒ امام ابوحنیفہ ؒ کے شاگردہیں اورفقہ حنفی کے اساطین میں سے ہیں مگراپنے استاذ سے نہ صرف فروع میں بلکہ اصول میں بھی سینکڑوں مسائل میں اختلاف کیا۔ سبکیؒ نے ان کے بارے میں لکھاہے : فانہمایخالفان اصول صاحبہما،طبقات الشافعیہ1/243امام الحرمین الجوینیؒ کہتے ہیں کہ ان دونوں نے مسلک حنفی کے 2/3حصہ میں امام ابوحنیفہ سے اختلاف کیا اور امام شافعی کا قول اختیارکیاہے۔ ملاحظہ ہو: صلاح الدین مقبول احمد، زوابع فی وجہ السنۃ قدیماوحدیثا،مجمع البحوث الاسلامیہ ،الطبعۃ الاولی 1411ھ1991جوگابائی 1/8نئی دہلی ۵۲۰۰۱۱صفحہ ۴۲۲
۲۱۔ (دیکھیں ابوزہرہ : الامام الشافعی،383)
۲۲۔ (صفحہ 382)
۲۳۔ (87)
۲۴۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، (تفہیمات ۲؍ ۲۴۲ اکادمیۃ الشاہ ولی اللہ دہلوی باکستان)۔
۲۵۔ ملاحظہ ہوکتاب :مفاہیم محوریہ فی المنہح والمنھجیہ دوسراباب مفہوم النص دارالسلام ،القاہرہ ،الطبعۃ الاولی، 2009)
مسلم نشاۃ ثانیہ: اصلاحِ مفاہیم
احمد جاوید
۱۔ اس بات کا شعور بہت ضروری ہے کہ نشاۃ الثانیہ کی اصطلاح مسلمانوں کے لیے وہ معانی نہیں رکھتی جو یورپ کی تحریک نشاۃ الثانیہ کی بنیاد بنا تھا۔ مغرب میں نشاۃ الثانیہ کے تمام نتائج دین کے مخالف رخ پر نکلے اور اس تحریک میں ایک رَو اسلام دشمنی کی بھی تھی۔ ایک تہذیبی تناظر میں یورپ نشاۃ الثانیہ میں اسلام دشمنی کے کسی عنصر کی موجودگی ہمارے لیے کوئی بڑا انتباہ نہیں ہے، بشرطیکہ وہ تحریک عیسائیت کے کسی مذہبی تصور کے دفاع اور اس کی تشکیل و تجدید کے لیے اٹھتی، لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ اس تحریک نے عیسائیت کے مذہبی جوہر کو منہا کر کے یونانی انداز تعقل کو نئے سرے سے اختیار کیا اور اس فلسفیانہ عقل پرستی کو مذہبی مابعد الطبیعی مباحث اور حقائق کی شناخت کا واحد مستند ذریعہ قرار دے دیا۔ اس کا جو نتیجہ نکلنا تھا وہ نکلا اور اس تحریک کو جس مقصد کاحصول درکار تھا، وہ مقصد بھی حاصل ہوگیا یعنی دین اور دنیا کی جدائی۔ جدید مغرب اسی تحریک کے شجر کا پھل ہے۔ مسلم نشاۃ الثانیہ، ظاہر ہے کہ ان محرکات اور نتائج کو کسی ادنیٰ درجے میں بھی قبول نہیں کر سکتی۔
۲۔ رہا یہ سوال کہ مسلم نشاۃ الثانیہ کے تصور کا حقیقی سیاق و سباق کیا ہے تو اس معاملے میں ہمیں بہت احتیاط اور تفکر کے ساتھ اپنے وسائل اور مقاصد متعین کرنے پڑیں گے۔ سردست یہ ایک سیاسی تصور بن گیا ہے اور اس میں رومانویت کی آمیزش زیادہ ہے۔ نشاۃ الثانیہ کا مروجہ تصور، جس سے ہم بہت زیادہ مانوس ہو چکے ہیں، یہ ہے کہ ملت اسلامیہ اقوام عالم پر اپنی بالادستی، نظام زندگی کے ہر شعبے میں نہ صرف یہ کہ ثابت کر دے بلکہ ماضی میں جس طرح یہ حاصل تھی، اسے پھر سے قائم کر کے دکھا دے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ مسلم نشاۃ ثانیہ کا تصور رکھنے والے تمام اذہان اس کی مذکورہ بالا تعبیر تک محدود ہیں، لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دیگر تصورات پوری طرح مکمل ہو کر نہ تو بیان ہوئے ہیں اور نہ وسیع پیمانے پر معروف ہو سکے ہیں تو ہمیں اپنا یہ خیال درست محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس تصور سے موافقت رکھنے والا ذہن بنیادی طور پر سیاسی ہے۔ مثلاً احیاء خلافت کا تصور یعنی خلافت راشدہ کو اس کی سوچ کے مطابق دوبارہ رو بعمل لانا۔ اس تصور کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو اس میں خلافت راشدہ کی ساری حیثیت اور حقیقت سیاسی رنگ لیے ہوئے ہے۔
اسی طرح نشاۃ الثانیہ کا ایک دوسرا تصور یہ ہے کہ ہم سائنس، ٹیکنالوجی اور مختلف علوم و فنون میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے زوال کا شکار ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان شعبوں پر ترقی یافتہ اقوام کی طرح دسترس حاصل کریں اور خود کو ان اقوام کی صف میں لانے کی کوشش کریں۔ یہ تصور مذہبی حلقوں سے باہر پایا جاتا ہے اور لوگوں میں اس کی مقبولیت پہلے نظریے کے مقابلے میں زیادہ ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہماری رائے میں نشاۃ الثانیہ کی یہ دونوں تعبیرات جزوی فائدے اور کلی نقصان پر منتج ہو سکتی ہے۔
۳۔ یہ بات نشاۃ الثانیہ کی ترکیب سے ظاہر ہے کہ مسلمان امت تاریخ کے کسی مرحلے پر کمال یافتہ تھی اور اب حالت زوال سے نکل کر اسے وہی کمال دوبارہ مطلوب ہے۔ یہاں تک پوری بات ٹھیک ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر پہلے ہی قدم پر یہ طے کرنا ہوگا کہ اس امت کو جو کمال حاصل تھا، اس کے واقعی اسباب کیا تھے؟ ان اسباب کی بالکل کلینیکل انداز میں تشخیص ہونی چاہیے۔
۴۔ ایک اور ضروری نکتہ یہ ہے کہ عروج زوال کے تاریخی عوامل کیا ہمیں بعض مظاہر عروج کی باز آفرینی کا موقع دیں گے؟ مذہبی ذہن قوانین تاریخ سے مناسبت نہ رکھنے کی وجہ سے اکثر ناگزیر اور بدیہی رکاوٹوں کی طرف سے آنکھ بند کر لیتا ہے۔ اس روش کا ازالہ کیے بغیر نشاۃ الثانیہ محض ایک خواہش کی سطح سے اوپر نہیں اٹھ سکتی۔
۵۔ زندگی کے نئے اسالیب خصوصاً انسان کی جدید تہذیبی اور نفسیاتی ساخت کسی عقیدے یا نظریے کی لفظی اور قانونی تعمیم کو قبول نہیں کر سکتی۔ قبول نہ کر سکنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مستقل عقیدے یا نظریے کی طرف ذہنی میلان ہو بھی جائے تو بھی زندگی کے موجودہ اسالیب و اطوار اس عقیدے کو ذہن سے نکال کر اپنے اندر سرایت کرجانے کا راستہ نہیں دیں گے۔ اس صورت حال میں نشاۃ الثانیہ کے کسی بھی تصور کو عملی صورت دینے کی کوشش کرتے وقت اس عالمگیر مجبوری کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، یعنی اس فکر کے حاملین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مزاحمت یا عدم قبولیت کا پیشگی ازالہ کرنے کی کوئی واضح صورت نکالیں، ورنہ دیگر تصورات کی طرح یہ تصور بھی اپنے اطلاق کے امکان کو مستقلاً گنوا بیٹھے گا۔
۶۔ مسلمانوں میں نشاۃ الثانیہ کا حقیقی مقصود یہ ہے کہ آدمی اپنی بنیادوں کی طرف واپس لوٹے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ترقی و خوشحالی کا کوئی گزشتہ دور واپس آجائے۔ بالفاظ دیگر مسلمانوں میں نشاۃ الثانیہ کا ہر وہ تصور بے معنی ہے جس کا مقصود مسلم ماڈل کی نئی تشکیل کے علاوہ کوئی بات ہو، یعنی ہماری اصل ضرورت عمرؓ ہیں نہ کہ ان کا دور حکومت۔
۷۔ خود مغربی نشاۃ الثانیہ کی تحریک آدمی کی تبدیلی کی تحریک تھی جو بڑی حد تک کامیاب ہوگئی۔ وہ لوگ جانتے تھے کہ انسان میں تبدیلی لائے بغیر حالات کو نہیں بدلا جا سکتا۔ ہمارا سادہ لوح دماغ اس وہم میں مبتلا ہے کہ حالات کو انتظامی، سیاسی یا معاشی طور پر بدل کر یعنی خلافت راشدہ جیسا نظام حکومت لا کر آدمی خود بخود بدل جائے گا جب کہ بات اس کے برعکس ہے۔ آدمی بدلے گا تو حالات بدلیں گے۔ یہ بات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مجموعی اسوۂ مبارکہ کو پیش نظر رکھ کر کہہ رہے ہیں اور اس کے علاوہ انسانوں میں تجدید و احیاء وغیرہ کی جتنی کامیاب تحریکیں چلی ہیں، ان کے طریق کار سے بھی اس کے علاوہ کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا۔
۸۔ جدید مسلم ذہن تاریخ کا کوئی واضح تصور نہیں رکھتا۔ اس کے علاوہ یا اس کی وجہ سے ہم حیات انسانی کے مکینیکل مظاہر (یعنی وہ چیزیں جو زندگی میں خود بخود دَر آتی ہیں) پر بھی کوئی موقف نہیں رکھتے۔ تہذیب، علم، دنیا، عروج و زوال، نفسیات وغیرہ کے بارے میں ہم اگر کچھ کچے پکے تصورات رکھتے بھی ہیں تو انہیں اپنی اساس ہستی اور اپنے مقاصد حیات سے کسی بلند سطح پر ہم آہنگ نہیں کر پاتے یا اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ اس کمی کے ہمیں کم از کم دو بڑے نقصانات اٹھانے پڑے۔ ایک تو یہ کہ ہمارا تصور دین سطحی اور یک رُخا ہو کر رہ گیا۔ دوسرے یہ کہ ہم کوئی ایسا تصور انسان قائم اور پیش کرنے کے قابل نہیں رہے جو انسان کو موضوع بنانے والے کسی بھی علم کے مقابلے میں رکھا جا سکے۔ مثال کے طور پر جدید فلسفۂ قانون پڑھ لیں تو ہمارا موجودہ فقہی ذہن اور اس کا تخلیق کردہ لٹریچر بچوں کا کھیل معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح علم بشریات، نفسیات اور بیشتر سماجی علوم انسان کی واقعی حقیقت کی جن گہرائیوں تک عملاً پہنچ چکے ہیں، وہ ہمارے لیے یکسر نا معلوم اور اجنبی ہیں، حالانکہ ان گہرائیوں کی دریافت ہمارا کام ہونا چاہیے تھا تاکہ ہم انسان تک دین کی رسائی کا بڑا دائرہ بنا سکتے۔ ایسے پس ماندہ ذہن میں بننے والے تصورات فطری طور پر تصور کی حیثیت سے بھی ناقص ہوتے ہیں اور علمی جہت سے بھی ناممکن العمل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نشاۃ الثانیہ کا تخیل بھی ذرا سے غور کے بعد خواب کی طرح معلوم ہوتا ہے جس سے تھوڑی دیر کو سکون تو مل جاتا ہے، لیکن اس کی طرف عملی پیش رفت خود اس خواب میں رہنے والے کے لیے ناممکن ہوتی ہے۔
۹۔ ہماری رائے میں نشاۃ الثانیہ کا کوئی تصور اس وقت تک مسلمانوں کے لیے بامعنی نہیں ہے جب تک اس کے اندر مندرجہ ذیل امور کا ادراک نہ پایا جائے:
- عقیدے اور تاریخ کا تعلق
- انسان میں تبدیلی کی صلاحیت
- انسان کا وہ مرکز جو کسی بات کو قبول کر کے اسے تمام سطحوں پر محفوظ کر لیتا ہے اور حالات کی تبدیلی سے متاثر نہیں ہوتا
- تہذیب کے اصول تشکیل اور ان کا دین سے تعلق
- بنی نوع انسان میں انفرادیت اور اجتماعیت کا نقطۂ اشتراک
- فضائل انسانی اور ان کی Manifestation کا تنوع
- انسانی زندگی اور قانون
- انسان کی مستقل اور عارضی ضروریات
- تقدیر اور تاریخ
- تقدیر اور انسانی اختیار کے حدود
- انسانی اختیار اور تاریخ کا قانون جبر و تغیر
- انسانوں کے اجتماعی نظام کی معنویت
- نظام زندگی: استقلال اور لچک
- نفس انسانی: استعداد اور محرکات
- دین کا مقصد اصلی
۱۰۔ مندرجہ بالا امور پر ایسا دینی موقف اختیار کرنا جو مبنی بر واقعیت ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ ان مباحث کی طرف علمی سفر سے آغاز کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اس علم کو ایک نظام تربیت بنایا جائے۔ اس کے بعد کہیں جا کر نشاۃ الثانیہ کا عمل خارج میں اظہار پذیر ہونا شروع ہوگا۔ لہٰذا پہلی ضرورت یہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم پوری طرح بدلا جائے اور تعلیم کے مقاصد کو دنیا سے منقطع کیے بغیر دین کے تابع رکھا جائے۔
۱۱۔ موجودہ دور چھوڑی بڑی تمام چیزوں کو ایک نظریاتی کل اور نامیاتی وحدت میں اس طرح ڈھالنا چاہتا ہے کہ ایک ہی تعریف (Definition) سب پر صادق آسکے۔ اقوام متحدہ کے زیادہ تر منصوبے مثلاً گلوبلائزیشن وغیرہ دراصل اسی ہمہ گیر تقاضے کے مظاہر ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی استعمار کی طرف سے دیگر اقوام کو اپنے تابع کرنے کی جو نہایت باضابطہ کوششیں کی جا رہی ہیں، وہ محض اس لیے نہیں ہیں کہ ان کے چند سیاسی یا معاشی مفادات کا حصول ممکن ہو جائے، بلکہ اس کے پیچھے ایک نظریہ کار فرما ہے۔ وہ نظریہ یہ ہے کہ انسان اور اس کے تمام متعلقات یعنی علم، تہذیب وغیرہ کو ایک ہی اصل پر مبنی اور ایک ہی مقصود سے وابستہ ہونا چاہیے۔ اس میں پہلی ضرورت یہ ہے کہ جو ترقی یافتہ اقوام اس اصل اور مقصود کا ادراک رکھتی ہیں یا انہیں وضع کر چکی ہیں، وہ پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ قوموں کو اپنے برابر لانے کی بجائے اپنے بنائے ہوئے دائرے میں رکھنا چاہتی ہیں اور اس کے لیے ان کی ہر نظریاتی اور تہذیبی تحدید کو توڑنے کے درپے ہو چکی ہیں۔ کیونکہ ان کی نظر میں قوموں کی سطح پر نظریاتی اور تمدنی انفرادیت کا اظہار اور اس پر اصرار بنی نوع انسان کی ہم اصلی اور ہم مقصدی کے اس تصور کو عمل میں نہیں لانے دے گا جو ان طاقتور اقوام کے پیش نظر ہے۔ عالم اسلام میں اس خطرے کا احساس اور ادراک بالکل مفقود تو نہیں ہے لیکن جس سطح پر ہے، وہ قطعی غیر موثر ہے اور زندگی کی کسی نظریاتی تشکیل میں کوئی با معنی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ ہمارا بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے نظریۂ زندگی اور زندگی میں مطابقت کا ہر پہلو غیر موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان نظریے یا عقیدے اور زندگی کی پوری عدم مطابقت کو زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اسے ان دو غیر متعلق امور میں سے ایک کو لازماً چھوڑنا پڑتا ہے۔ ابھی وہ صورت حال تو نہیں آئی کہ ہم ترک و قبول کے عمل میں ایک حتمی مقام پر پہنچ گئے ہوں، تاہم ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کا رخ جس طرف ہو چکا ہے، اس کے پیش نظر یہ بات بہت بعید از قیاس نہیں ہے کہ ہم محض زندہ رہنے پر قانع ہو جائیں اور زندگی کے بارے میں تصورات کو فراموش کر دیں۔ موجودہ حالات میں ایسا ہو جانا تقریباً یقینی دکھائی دیتا ہے اور تاریخ و انسان کے مطالعے کا کوئی طریقہ ہمارے اس خوف کو زائل نہیں کرتا کہ مستقبل میں ہم دنیا کو اپنا علانیہ مقصود بنا کر دین کو ایک غیر ضروری رکاوٹ قرار دے کر اسے عین اس طرح نظر انداز کر بیٹھیں جس طرح جدید مغرب نے عیسائیت کو کر رکھا ہے۔ اس رویے میں دین کی اتنی بھی وقعت نہیں پائی جاتی کہ اس کا انکار کرنے کا تکلف پالا جائے بلکہ اتنا ہی کافی ہے کہ اسے فرد کا ذاتی مسئلہ قرار دے کر زندگی کے مرکزی دھارے سے الگ کر دیا جائے۔
فی زماننا جدید مسلم ذہن اسی روش پر چلنے پر راضی نظر آتا ہے کہ دین ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے اور اسے کاروبار زندگی میں مخل نہیں ہونے دینا چاہیے۔ مشکل یہ ہے کہ ہماری مذہبی فکر اس بات کا ایک تحکمانہ قانونی اور سیاسی جواب دے کر مطمئن ہو جاتی ہے اور یہ نہیں دیکھتی کہ جس ذہن میں ایسا خیال آسکتا ہے، وہ بھلا فتوے یا خطاب کو قبول کرے گا؟ احیائے امت کی کسی بھی کوشش میں ابتدائی طور پر ہی اس روز افزوں ذہنیت کامکمل تجزیہ کر کے اسے ایک گمراہی کی بجائے ایک مرض کے طور پر دیکھنا ہوگا اور اس کے ازالے کا طریق کار بھی مناظرے کی جگہ معالجے پر مبنی رکھنا ہوگا۔ یہاں معالجے کا مطلب وعظ و نصیحت نہیں ہے بلکہ کسی خرابی کے بنیادی اسباب کی تشخیص کے بعد ان اسباب کا ایسا ازالہ کرنا ہے کہ ان کی دوبارہ پیدائش کا احتمال نہ رہے اور ان کی کشش انسانوں کے اندر سے ختم ہو جائے۔ انسان کا خاصہ یہ ہے کہ اس کی عمومی زندگی کے تقریباً تمام اہداف حق و باطل اور صحیح و غلط کے معیارات پر اتنے استوار نہیں ہوتے جتنے کہ پسند و ناپسند پر ہوتے ہیں۔ زندگی انسان کی جس استعداد یا سطح سے فوری اور فطری مناسبت رکھتی ہے، وہ ذہن نہیں ہے بلکہ طبیعت ہے۔ یہ قانون مسلمانوں کے لیے بدل نہیں جاتا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ مسلمات کی قبیل میں رکھ کر اس کی اپنے نظریات کے مطابق تراش خراش کی جائے یعنی مسلم نشاۃ الثانیہ اگر ایک سلسلہ عمل ہے تو اس سلسلے کی ابتدائی کڑیوں میں سے ایک کڑی یہ ہے کہ زندگی اور طبیعت کا جبری تلازم پورے انسان اور پوری زندگی پر حاوی نہ آجائے یعنی مسلمان اپنے منہاج حیات میں طبیعت تک محدود نہ ہو کر رہ جائے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ طبیعت کو نظر انداز کر کے آدمی کے اندر ذہنی یا اخلاقی مقاصد سے مستقلاً وابستہ رہنے کی قوت باقی نہیں رہتی، چونکہ طبیعت منہا ہو جائے تو بڑی سے بڑی چیز بھی اپنی کشش کھو بیٹھتی ہے اور محض اس کی بڑائی کا ادراک انسان کو اس کے ساتھ جوڑے نہیں رکھ سکتا۔ ہماری اولین ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ ہم اپنے عقیدے کے عملی اور اطلاقی مظاہر کو انسانی نفس اور طبیعت کے لیے ہی قابل قبول بنا دیں تاکہ حق کے ساتھ ہماری وابستگی کی قوت میں ضعف نہ پیدا ہو جائے۔
اس انتہائی بنیادی ضرورت سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مندرجہ ذیل امور کو خوب غور و فکر کے ساتھ پیش نظر رکھا جائے:
- دین کی دنیاوی افادیت بھی ثابت کی جائے، علمی سطح پر بھی اور عملی سطح پر بھی۔
- قرآن و سنت سے بلا تاویل مستنبط ہونے والے تصور انسان کو انسان فہمی کے مروجہ معیارات پر حقیقی بنا کر دکھایا جائے اور انسانیت کے اس ٹائپ کو معاشرے میں مدار فضیلت بنایا جائے۔
- وہ علوم جو کائنات اور انسان کی حقیقت سے بحث کرتے ہیں، انہیں دین کی ثابت شدہ غایات اور مقاصد کے اس طرح تابع رکھا جائے کہ ان علوم کے اپنے اپنے معیارات پر کوئی ضرب نہ لگے۔ مثال کے طور پر نفسیات وغیرہ میں ان تحقیقات کی کوئی حیثیت نہیں جو اس علم کے مسلمہ معیار سے کمتر ہیں۔ ہمارے دور میں اسلامائزیشن آف نالج کی کوششیں اسی لیے دین کی سبکی کا سبب بنی ہیں کہ انہوں نے تمام علوم پر اناڑیوں کی طرح دست اندازی کی ہے۔ انسان کی دنیاوی فلاح کے لیے قائم کیا جانے والا ہر نظام واضح طور پر دینی اساس پر مبنی ہونا چاہیے اور وہ اساس محض قانون کے دائرے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔
- مسلم نشاۃ الثانیہ کا تصور جن اغراض سے پھوٹا ہے، ان میں ایک کڑی غرض مسلمانوں کے مفوضہ کائناتی کردار کی باز آفرینی ہے یعنی ہم ساری دنیا کے لیے داعی الی الحق بنیں۔ اس دعوت کی داخلی بناوٹ علمی سے زیادہ عملی اور نظریاتی سے زیادہ معاشرتی ہونی چاہیے۔ دین کو معاشرت میں منتقل کیے بغیر نشاۃ الثانیہ کا ہر تصور مہمل ہے۔
۱۲۔ احیائے امت کی کسی بھی تحریک کا انحصار اسی آزمودہ منہج پر ہونا چاہیے جس پر اس کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس منہج کے دو پہلو ہیں، علمی اور عملی۔ علمی منہج جس کی بنیاد عقیدہ ہے، اس کے ضروری اجزا یہ ہیں:
- تقویم امت کے حقیقی اصول کی معرفت
- اس سوال کا جواب کہ امت کیا ہے اور مسلمانوں کی مختلف تہذیبی اور قومی وحدتیں امت کی وحدت میں ضم ہوتی ہیں یا ہو سکتی ہیں۔
- اسلام اور مسلمانوں کے موجودہ حالات کی درست تشخیص اور ان کے محرکات
- اسلام اور اہل اسلام کو درپیش مخالفتوں، مزاحمتوں اور مجبوریوں کی شناخت اور ان کا تجزیہ۔ اس تجزیے کے نتائج کو عروج و زوال کے تاریخی اور نقص و کمال کے اخلاقی قوانین کے اندر رہتے ہوئے مطلوبہ نتائج کے حصول کی ذہنی اور عملی کوششوں کی بنیاد بنانا۔
عملی منہج جس کی بنیاد اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع ہے، اس کے بنیادی عناصر یہ ہیں:
- زندگی کے موجودہ مقاصد اور دین کے مطلوبہ مقاصد کے درمیان پیدا ہو جانے اولے فاصلے کو ختم کرنا
- دین کی کلچرلائزیشن
- موجودہ معاشرتی اور دین کے نظام فضائل میں ہم آہنگی پیدا کرنا
- غربت اور نا انصافی کا ازالہ اور بے تحاشا امارت و غیر محدود ملکیت کا خاتمہ
- عورتوں میں مظلومیت اور بے حیائی دونوں کا علاج
۱۳۔ یہ تمام مناہج جس علمی قانون اور اخلاقی اصول پر مبنی ہیں، ان کا تقاضا ہے کہ مسلم نشاۃ الثانیہ کے عمل میں فرد اور اجتماع دونوں کی یکساں ذمہ داریاں ہیں جن میں بعض مشترک ہیں اور بعض منفرد۔ علمی ذمہ داریوں کا اکثر حصہ افراد سے تعلق رکھتا ہے، قانونی فرائض بیشتر اجتماعی نوعیت کے ہیں اور اخلاقی ذمہ داریاں دونوں میں مشترک ہیں، یعنی نشاۃ الثانیہ کی تیاری جس درست علم، محکم ارادے اور خالص نیت پر موقوف ہے، انہیں حاصل کرنے کے عمل میں خود کو ڈالے بغیر ہم اپنے مطلوبہ نتائج کی طرف پہلا قدم بھی نہیں اٹھا سکیں گے۔
خلاصہ یہ کہ مسلم نشاۃ الثانیہ صدر اول کے حالات کی بازیابی کا نام نہیں ہے بلکہ اس انسان کے حصول کا نام ہے جسے صدر اول نے ایک مستقل نمونے کے طور پر عملاً تشکیل دیا تھا۔ گویا جب ہم نشاۃ الثانیہ کی آرزو کرتے ہیں تو اس کا واحد مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے موجود ہونے کی تمام بنیادوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ کر کے انہیں زندگی کے تمام شعبوں میں حالات کی یکسر تبدیلی کے باوجود فنکشنل بنانا چاہتے ہیں۔ نشاۃ الثانیہ کا یہ محرک اتنا جامع اور مانع ہے کہ اس میں کسی چیز کمی کی جا سکتی ہے نہ اضافہ۔
امیر عبد القادر الجزائریؒ کون تھے؟
ادارہ
(امیر عبد القادر الجزائری کی شخصیت اور جدوجہد سے متعلق ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی، ماہنامہ ’’القاسم‘‘ نوشہرہ کے مدیر مولانا عبد القیوم حقانی اور راقم الحروف کی درج ذیل تحریریں اس سے پہلے ’الشریعہ‘ کے مارچ ۲۰۱۲ء کے شمارے میں شائع ہو چکی ہیں جنھیں اس موضوع پر حالیہ مباحثے کے تناظر میں دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)
لاہور کے معروف اشاعتی ادارے ’’دار الکتاب‘‘ نے اپنی تازہ ترین مطبوعات میں امریکی مصنف جان ڈبلیو کائزر کی کتاب کا اردو ترجمہ ’’امیر عبد القادر الجزائری: سچے جہاد کی ایک داستان‘‘ کے عنوان سے پیش کیا ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی کے دوران مسلم ممالک پر یورپ کے مختلف ممالک کی استعماری یلغار کے خلاف ان مسلم ممالک میں جن لوگوں نے مزاحمت کا پرچم بلند کیا اور ایک عرصہ تک جہاد آزادی کے عنوان سے داد شجاعت دیتے رہے، ان میں الجزائر کے امیر عبد القادر الجزائریؒ کا نام صف اول کے مجاہدین آزادی میں شمار ہوتا ہے جن کی جرات واستقلال، عزیمت واستقامت اور حوصلہ وتدبر کو ان کے دشمنوں نے بھی سراہا اور ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا۔
امیر عبد القادر مئی ۱۸۰۷ء میں الجزائر میں، قیطنہ نامی بستی میں ایک عالم دین اور روحانی راہنما الشیخ محی الدینؒ کے ہاں پیدا ہوئے اور اپنے والد محترم سے اور ان کے زیر سایہ دیگر مختلف علماء کرام سے ضروری دینی وعصری تعلیم حاصل کی اور ان کے ساتھ ۱۸۲۵ء میں حج بیت اللہ کی سعادت سے بھی بہرہ ور ہوئے۔
یہ وہ دور تھا جب مغرب کے استعماری ممالک ’’انقلاب فرانس‘‘ کی کوکھ سے جنم لینے والی جدید مغربی تہذیب وثقافت کی برتری کے نشے سے سرشار تھے اور سائنسی ترقی سے حاصل ہونے والی عسکری قوت اور ٹیکنالوجی کی صلاحیت نے انھیں پوری دنیا پر حکمرانی کا شوق دلا دیا تھا۔ عالم اسلام کی دو بڑی قوتیں خلافت عثمانیہ اور مغل بادشاہت ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھیں، چنانچہ برطانیہ، فرانس، اٹلی، ہالینڈ، پرتگال اور دوسرے ممالک نے ان دونوں قوتوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے مختلف اطراف میں یلغار کی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ افریقہ اور ایشیا کے ایک بڑے حصے کو نو آبادیات میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ خلافت عثمانیہ اور مغل بادشاہت کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ وہ سائنسی ترقی اور دنیا میں ہونے والی تہذیبی ومعاشرتی اور سیاسی تبدیلیوں کا بروقت ادراک نہ کر سکیں اور ان کی یہ غفلت استعماری یلغار کے سامنے عالم اسلام کے ایک بڑے علاقے کے سرنڈر ہونے کے اسباب میں ایک اہم سبب ثابت ہوئی۔
بہرحال جب بہت سے مسلم ممالک نے مختلف یورپی ممالک کی نوآبادیاتی غلامی کا طوق گردنوں میں پہنا تو ہر جگہ حریت پسندوں اور آزادی کے متوالوں نے حالات کے اس جبر کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور بہت دیر تک بغاوت اور سرکشی کا محاذ گرم رکھا۔ الجزائر پر فرانس کے تسلط کا آغاز انیسویں صدی کی تیسری دہائی کے آخر میں ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب جنوبی ایشیا میں برطانوی تسلط ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے ہو چکا تھا اور امام ولی اللہ دہلویؒ کے مکتب فکر بلکہ خانوادے سے تعلق رکھنے والے مجاہدین کا ایک گروہ سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کی قیادت میں پشاور کے علاقے میں جہادی سرگرمیوں میں مصروف تھا۔ ان کا وقتی سامنا اگرچہ سکھوں سے تھا، لیکن اپنے عزائم اور اہداف کے حوالے سے وہ برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف جہاد کے لیے بیس کیمپ حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ اس قافلہ حریت نے ۱۸۳۰ء میں پشاور کے صوبہ پر قبضہ اور کم وبیش سات ماہ حکومت کرنے کے بعد ۶؍ مئی ۱۸۳۱ء کو بالاکوٹ میں جام شہادت نوش کیا تھا۔
الجزائر میں جب ۱۸۳۰ء میں فرانس نے تسلط قائم کرنے کی کوشش کی تو علماء کرام اور مجاہدین کی ایک جماعت نے امیر عبد القادرؒ کے والد محترم الشیخ محی الدینؒ کی قیادت میں تحریک مزاحمت کا آغاز کیا، مگر دو سال کے بعد ۱۸۳۲ء میں یہ دیکھتے ہوئے کہ اس مزاحمت کا سلسلہ بہت دیر تک قائم رہ سکتا ہے، تحریک مزاحمت کی مستقل منصوبہ بندی کی گئی اور الشیخ محی الدین کے جواں سال اور جواں ہمت بیٹے امیر عبد القادر کو باقاعدہ امیر منتخب کر کے مزاحمت کی جدوجہد کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
امیر عبد القادرؒ جذبہ جہاد کے ساتھ ساتھ فراست وتدبر کی نعمت سے بھی مالامال تھے، اس لیے انھوں نے اپنی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے الجزائری عوام اور قبائل کو اعتماد میں لیا، وسیع تر مشاورت کا سلسلہ قائم کیا، آزادی کی فوج کو وقت کے ہتھیاروں اور جنگ کی نئی تکنیک سے مسلح کیا اور ایک باقاعدہ فوج منظم کر کے الجزائر پر حملہ آور فرانسیسی فوجوں کے خلاف میدان جنگ میں نبرد آزما رہے۔ انھوں نے ۱۸۳۲ء سے ۱۸۴۷ء تک مسلسل سولہ سال تک فرانسیسی فوجوں کے خلاف جنگ لڑی، بہت سے معرکوں میں فرانسیسی فوجوں کو شکست سے دوچار کیا اور ایک بڑے علاقے پر کنٹرول حاصل کر کے امارت شرعیہ کا نظام قائم کیا۔ وہ اس وقت تک لڑتے رہے جب تک الجزائری عوام اور اسباب ووسائل نے ان کا ساتھ دیا اور جب حالات کی نامساعدت نے انھیں بالکل تنہا کر دیا اور الجزائر کے قبائل ایک ایک کر کے الگ ہوتے گئے تو ۱۸۴۸ء میں انھوں نے اور کوئی چارۂ کار نہ دیکھتے ہوئے ہتھیار ڈال دیے۔
انھیں گرفتار کر کے ۱۸۵۳ء تک فرانس کے مختلف قلعوں میں محبوس رکھا گیا اور پھر آزاد کر کے دمشق کی طرف جلاوطن کر دیا گیا۔ انھوں نے ۲۳؍ دسمبر ۱۸۴۷ء کو ایک مشروط معاہدے کے تحت خود کو فرانسیسیوں کے حوالے کیا تھا، مگر ان کی شرائط کو قبول کیے جانے کے بعد بھی حسب معمول بالاے طاق رکھ دیا گیا تو ایک موقع پر انھوں نے اس حسرت کا اظہار کیا کہ:
’’اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ ہمارے ساتھ یہ کچھ ہونا ہے جو ہو رہا ہے تو ہم جنگ ترک نہ کرتے اور مرتے دم تک لڑتے ہی رہتے۔‘‘
وہ پہلے استنبول گئے اور پھر خلافت عثمانیہ کی ہدایت پر دمشق آ گئے جہاں انھوں نے درس وتدریس کا سلسلہ شروع کر دیا۔ وہ مالکی فقہ کے بڑے علما میں سے تھے اور تصوف میں الشیخ الاکبر محی الدین بن عربیؒ کے پیروکار اور ان کے علوم کے شارح تھے۔ دمشق میں قیام کے دوران انھیں ایک اور معرکے سے سابقہ درپیش ہوا کہ خلافت عثمانیہ کی طرف سے شام میں مقیم مسیحیوں پر جزیہ کا قانون تبدیل کیے جانے کے بعد اس مسئلے پر مسلم مسیحی کشمکش کا آغاز ہوا اور بہت سے حلقوں کی طرف سے قانون کی اس تبدیلی کو ناکام بنانے کے لیے مسیحیوں کے خلاف مسلمان عوام کو بھڑکانے کا سلسلہ شروع کیا گیا جس پر امیر عبد القادر الجزائریؒ نے مسیحیوں کے خلاف اس یلغار کی مخالفت کی اور ان کی حمایت وتحفظ کے لیے کمربستہ ہو گئے۔ اس وقت غصے میں بپھرے ہوئے عوام کے لیے امیر عبد القادر کا یہ اقدام قابل اعتراض تھا، لیکن وہ اپنے اس موقف پر قائم رہے کہ بے گناہ مسیحیوں کی جانیں بچانا ان کا شرعی فریضہ ہے اور وہ ایسا کر کے اپنے اسلامی فرض کی تکمیل کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ امیر عبد القادر الجزائری کے اس جرات مندانہ اقدام کی وجہ سے کم وبیش پندرہ ہزار مسیحیوں کی جانیں بچیں جس کی وجہ سے انھیں مغربی دنیا میں بھی تحسین کی نظر سے دیکھا جانے لگا اور انھیں ’’امن کا ہیرو‘‘ قرار دے کر مغرب کے چوٹی کے سیاسی راہ نماؤں اور دانش وروں نے خراج تحسین پیش کیا، جبکہ نیو یارک ٹائمز نے ان کے کردار کی عظمت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا کہ
’’عبدالقادر کے لیے یہ یقیناًعظمت کا اور حقیقی شان وشوکت کا باب ہے۔ اس بات کو تاریخ میں رقم کرنا کوئی معمولی بات نہیں کہ مسلمانوں کی آزادی کے لیے لڑنے والا سب سے ثابت قدم سپاہی اپنے سیاسی زوال اور اپنی قوم کے ناگفتہ بہ حالات میں عیسائیوں کی زندگیوں اور حرمت کا سب سے نڈر نگہبان بن کر سامنے آیا۔ جن شکستوں نے الجزائر کو فرانس کے آگے جھکایا تھا، ان کا بدلہ بہت حیرت انگیز طریقے سے اور اعلیٰ ظرفی سے لے لیا گیا ہے۔‘‘
امیر عبد القادر الجزائری کا یہ کردار دیکھ کر مجھے متحدہ ہندوستان کی تحریک آزادی کے ایک بڑے لیڈر مولانا عبید اللہ سندھیؒ یاد آ جاتے ہیں اور مجھے ان دونوں بزرگوں میں مماثلت کے بعض پہلو بہت نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ مثلاً مولانا عبید اللہ سندھیؒ اگرچہ میدان جنگ کے نہیں، بلکہ میدان فکر وسیاست کے جرنیل تھے، مگر ان کی سوچ یہ تھی کہ ہمیں سیاست وجنگ کے روایتی طریقوں پر قناعت کرنے کی بجائے ان جدید اسالیب، تکنیک اور ہتھیاروں کو سیاست اور جنگ کے دونوں میدانوں میں اختیار کرنا چاہیے اور وہ عمر بھر اسی کے داعی رہے۔
انھوں نے جب دیکھا کہ وہ حرب وجنگ کے ذریعے سے برطانوی تسلط کے خلاف جنگ جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو انھوں نے اس معروضی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی جدوجہد کے لیے عدم تشدد کا راستہ اختیار کر لیا اور بقیہ عمر پرامن جدوجہد میں بسر کر دی۔
امیر عبد القادر کی طرح مولانا سندھی نے بھی عملی تگ وتاز کے میدان کو اپنے لیے ہموار نہ پاتے ہوئے تعلیم وتدریس کا راستہ اختیار کیا اور ہندوستان واپسی کے بعد دہلی اور دوسرے مقامات میں قرآن کریم کے تعلیمی حلقے قائم کر کے اپنے فکر وفلسفہ کی تدریس وتعلیم میں مصروف ہو گئے۔
مولانا سندھیؒ مغربی تہذیب وثقافت اور تکنیک وصلاحیت کی ہر بات کو مسترد کر دینے کے قائل نہیں تھے، بلکہ اس کی ان باتوں کو اپنانے کے حامی تھے جو اسلامی اصولوں سے متصادم نہیں ہیں اور ہمارے لیے ضروری ہیں۔ اس کی وجہ سے انھیں بہت سے حلقوں کی طرف سے مطعون بھی ہونا پڑا۔
امیر عبد القادر الجزائری کو شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ کا پیروکار، ان کے علوم کا شارح اور ان کے فلسفہ وحدت الوجود کا قائل ہونے کی وجہ سے ان کے فکر کے ڈانڈے ’’وحدت ادیان‘‘ کے تصور سے ملانے کی کوشش کی گئی (جس کی جھلک جان کائزر کی زیر نظر کتاب میں بھی دکھائی دیتی ہے)، حالانکہ وحدت الوجود اور وحدت ادیان میں زمین وآسمان کا فرق ہے اور شیخ اکبرؒ کے نظریہ وحدت الوجود کا مطلب وحدت ادیان ہرگز نہیں ہے۔ اسی طرح مولانا عبید اللہ سندھی کو بھی فرنگی تسلط کے خلاف سیاسی طور پر ہندوستانی اقوام کے ’’متحدہ قومیت‘‘ کے نظریہ پر ہدف تنقید بنایا گیا اور انھیں ’‘وحدت ادیان‘‘ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔
امیر عبد القادر الجزائریؒ مغربی استعمار کے تسلط کے خلاف مسلمانوں کے جذبہ حریت اور جوش ومزاحمت کی علامت تھے اور وہ اپنی جدوجہد میں جہاد کے شرعی واخلاقی اصولوں کی پاس داری اور اپنے اعلیٰ کردار کے حوالے سے امت مسلمہ کے محسنین میں سے ہیں۔ ان کے سوانح وافکار اور عملی جدوجہد کے بارے میں جان کائزر کی یہ تصنیف نئی پود کو ان کی شخصیت اور جدوجہد سے واقف کرانے میں یقیناًمفید ثابت ہوگی۔ ایسی شخصیات کے ساتھ نئی نسل کا تعارف اور ان کے کردار اور افکار وتعلیمات سے آگاہی استعماری تسلط اور یلغار کے آج کے تازہ عالمی منظر میں مسلم امہ کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ ہے اور اس سمت میں کوئی بھی مثبت پیش رفت ہمارے لیے ملی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے۔
(ابو عمار زاہد الراشدی)
جان ڈبلیو کائزر ایک معروف امریکی مصنف ہیں۔ تین چار سال قبل ان کی طرف سے Commander of the Faithful (امیر المومنین) کے زیر عنوان ان کی ایک تصنیف کا انگریزی مسودہ تنقیدی جائزہ کی غرض سے مجھے موصول ہوا۔ یہ کتاب انیسویں صدی کے نصف اول میں الجزائر میں فرانس کے استعماری تسلط کے خلاف آزادی کی جدوجہد کرنے والے نامور مسلمان راہ نما امیر عبد القادر الجزائری کی سوانح حیات سے متعلق ہے اور بحیثیت مجموعی مستند تاریخی واقعات پر مبنی ہوتے ہوئے کسی حد تک ناول کے انداز میں لکھی گئی ہے۔ مجھے اس سے قبل امیر عبد القادر کی حیات اور ان کی جدوجہد سے متعلق زیادہ تفصیل سے پڑھنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ کائزر کے ارسال کردہ مسودے نے اس کی تحریک پیدا کی اور میں نے ان کی کتاب کا تفصیلی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ امیر عبد القادر کی حیات کے بارے میں عربی اور انگریزی میں میسر دیگر مواد کا بھی مطالعہ کیا جو میرے لیے ایک ایمان افروز تجربہ تھا۔
میں نے کتاب سے متعلق اپنے مختصر تاثرات مصنف کو بھجوائے تو اس میں یہ تجویز بھی دی کہ اس کتاب کا عربی، اردو اور دیگر مشرقی زبانوں میں ترجمہ ہونا چاہیے، کیونکہ امیر عبد القادر کو جن حالات کا سامنا تھا اور انھوں نے جن شرعی واخلاقی اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک غاصب استعماری طاقت کے خلاف جدوجہد کی، وہ نہ صرف یہ کہ اسلام کے تصور جہاد کی بڑی حد تک درست ترجمانی کرتی ہے، بلکہ اس میں عصر حاضر کے ان جہادی عناصر کے لیے بھی راہ نمائی کا بڑا سامان موجود ہے جو بدقسمتی سے اشتعال اور انتقام کے جذبات سے مغلوب ہو کر جہاد سے متعلق واضح شرعی وفقہی اصولوں کو نظر انداز اور پامال کرنے پر اتر آئے ہیں اور یوں اپنی جدوجہد سے الٹا اسلام اور امت مسلمہ کے لیے بدنامی اور نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ مختلف زبانوں میں کتاب کے ترجمے کا خیال غالباً پہلے سے کائزر کے ذہن میں تھا۔ بہرحال اس کی طرف پیش رفت ہوئی اور ایک فاضل مترجم نے (جن کا نام میرے علم میں نہیں) اسے اردو میں منتقل کر دیا۔
اردو ترجمے پر نظر ثانی اور ا س کی تسہیل کے لیے مسودہ دوبارہ مجھے بھجوایا گیا اور بحمد اللہ اس کے اردو متن کو آخری شکل دینے اور پھر پاکستان میں اس کی اشاعت کا انتظام کرنے میں مجھے بھی حصہ ڈالنے کا موقع ملا۔ اردو بازار، لاہور کے اشاعتی ادارے، دارالکتاب کے مالک اور ہمارے دوست حافظ محمد ندیم صاحب نے ازراہ عنایت اس کی اشاعت کے لیے آمادگی ظاہر کی اور چند ماہ قبل یہ کتاب ’’امیر عبد القادر الجزائری: سچے جہاد کی ایک داستان‘‘ کے عنوان سے دارالکتاب کے زیر اہتمام شائع ہو کر منظر عام پر آ چکی ہے۔
انیسویں صدی میں عالم اسلام کی وہ شخصیات جنھوں نے مسلم ممالک پر یورپ کے مختلف ممالک کی استعماری یلغار کے خلاف مزاحمانہ جدوجہد کی، ان میں الجزائر کے امیر عبد القادر الجزائریؒ کا نام اس حوالے سے ممتاز ہے کہ ان کی جرات واستقلال، عزیمت واستقامت، حوصلہ وتدبر اور فکر وکردار کی عظمت کو ان کے دشمنوں نے بھی سراہا اور ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا۔ امیر عبد القادر نے انیسویں صدی کی چوتھی اور پانچویں دہائی میں الجزائر میں فرانسیسی استعمار کے خلاف آزادی کی جدوجہد کی اور ایک ایسا نمونہ پیش کیا جسے بلاشبہ اسلام کے تصور جہاد اور جنگی اخلاقیات کا ایک درست اور بڑی حد تک معیاری نمونہ کہا جا سکتا ہے۔ امیر عبد القادر کے تصور جہاد کے اہم اور نمایاں پہلو حسب ذیل ہیں:
۱۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کے ملک پر کسی غیر مسلم طاقت کے تسلط کی صورت میں اس سے آزادی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنا ایک شرعی اور دینی فریضے کی حیثیت رکھتا ہے،چنانچہ انھوں نے اسی جذبے سے روحانی غور وفکر اور تعلیم وتدریس کی زندگی کو ترک کر کے فرانس کے خلاف مسلح جدوجہد آزادی کو منظم کیا۔
۲۔ ان کے ہاں جہاد کا مقصد طاقت یا اقتدار کا حصول نہیں تھا، چنانچہ انھوں نے جدوجہد آزادی کی قیادت خود سنبھالنے سے قبل بھی شاہ مراکش سے درخواست کی کہ وہ اس جدوجہد کی سرپرستی اور راہ نمائی کریں اور پھر جب ایسا نہ ہو سکنے کی وجہ سے انھیں خود اس جدوجہد کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالنا پڑی تو الجزائر کے ایک وسیع علاقے میں اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے بعد انھوں نے دوبارہ شاہ مراکش کو خط لکھا کہ وہ اس الجزائر کو اپنی سلطنت کا حصہ بنا لیں اور یہاں کے معاملات کو چلانے کے لیے اپنا کوئی نمائندہ مقرر کر دیں۔
۳۔ امیر کے ہاں اس امر کا احساس بھی بہت واضح ہے کہ کسی غیر ملکی طاقت کے خلاف جدوجہد آزادی چند لازمی شرائط کے پورا ہونے پر منحصر ہے اور ان کو پورا کیے بغیر کامیابی کا حصول ناممکن ہے۔ مثال کے طور پر انھوں نے نہایت دانش مندی سے یہ سمجھا کہ مسلح جدوجہد کا فیصلہ کسی فرد یا کسی گروہ کو اپنے طور پر نہیں بلکہ پوری قوم کے اتفاق رائے سے کرنا چاہیے تاکہ جدوجہد مضبوط اخلاقی اور نفسیاتی بنیادوں پر قائم ہو اور اسے قوم کی اجتماعی تائید حاصل ہو، کیونکہ اگر قوم ہی اس جدوجہد کے نتائج کا سامنا کرنے اور اس کے لیے درکار جانی اور مالی قربانی دینے کے حوصلے سے محروم ہو تو کوئی گروہ اپنے بل بوتے پر اسے کامیابی سے ہم کنار نہیں کر سکتا۔ اسی وجہ سے امیر نے فرانس کے خلاف لڑائی شروع کرنے سے پہلے الجزائر کے بڑے بڑے قبائل کے سرداروں سے مشاورت کر کے ان کی تائید اور حمایت کو یقینی بنایا۔ اسی طرح امیر نے یہ بات بھی وضاحت سے کہی کہ ایک منظم فوج کے خلاف جنگ کسی دوسری منظم طاقت کی سرپرستی کے بغیر نہیں لڑی جا سکتی، چنانچہ انھوں نے ابتدا شاہ مراکش سے اس جدوجہد کی سیاسی سرپرستی کی درخواست کی اور پھر اس میں ناکامی کے بعد الجزائر کی نمائندہ قبائلی طاقتوں کی تائید سے اپنی امارت قائم کرنے کے بعد ہی عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔
۴۔امیر عبد القادر نے اس بدیہی حقیقت کا بھی ادراک کیا کہ جنگ میں فریقین کے مابین طاقت کے ایک خاص توازن اور عسکری تربیت میں دشمن کی برابری حاصل کیے بغیر زیادہ دیر تک میدان جنگ میں نہیں ٹھہرا جا سکتا،چنانچہ انھوں نے اپنی فوج کو مغربی طرز پر منظم کیا اور جدید طرز کی اسلحہ سازی کے لیے مغربی ملکوں سے مطلوبہ سامان اور ماہرین فراہم کرنے کی طرف بھرپور توجہ دی۔ امیر کی حکمت عملی کا یہ پہلو بھی بے حد قابل توجہ ہے کہ انھوں نے اپنی جدوجہد کا ہدف کسی نظری آئیڈیل کی روشنی میں نہیں بلکہ زمینی حقائق کی روشنی میں متعین کیا اور الجزائر کی سرزمین سے فرانس کو کلیتاً بے دخل کر دینے کو اپنا ہدف قرار دینے کے بجائے اس بات کو قبول کیا کہ فرانس کی عمل داری ساحلی شہروں تک محدود رہے جبکہ الجزائر کے باقی علاقے میں مسلمانوں کی ایک آزاد امارت قائم ہو۔
۵۔امیر کے ہاں عملی حقائق کے ادراک کا ایک ممتاز پہلو یہ بھی ہے کہ انھوں نے عالمی حالات اور دنیا کے تہذیبی ارتقا پر نظر رکھتے ہوئے درست طور پر یہ سمجھا کہ مغربی اقوام نے تمدن اور سائنس کے میدان میں جو ترقی کی ہے،وہ درحقیقت انسانیت کی مشترکہ میراث ہے اور مسلمان بھی اس سے پوری طرح مستفید ہو سکتے ہیں،چنانچہ انھوں نے نہ صرف فرانسیسی حکمرانوں کے نام خطوط میں جابجا اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ فرانس اور الجزائر کے مابین دشمنی کے بجائے دوستی کا تعلق قائم ہونا چاہیے تاکہ دونوں قومیں مفادات کے اشتراک کی بنیاد پر ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکیں،بلکہ عملاً بھی اپنی امارت کے تحت الجزائری قوم کی تنظیم نو میں امیر نے مغرب کے تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
۶۔ امیر کی جدوجہد سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے جان ومال کو جنگ میں بے فائدہ ضائع کروانے اور ایک لاحاصل جدوجہد کو جاری رکھنے کو شرعی تقاضا نہیں سمجھتے اور ان کے نزدیک کسی غیر مسلم قابض کے خلاف جہاد کی ذمہ داری اسی وقت تک عائد ہوتی ہے جب تک اس کی کامیابی کے لیے درکار عملی اسباب ووسائل میسر اور امکانات موجود ہوں۔ چنانچہ انھوں نے اپنی جدوجہد کے آخری مرحلے پر جب یہ دیکھا کہ الجزائری قوم ان کا ساتھ چھوڑ کر فرانسیسی کیمپ کا حصہ بن چکی ہے اور خود ان کے ساتھ وابستہ ایک چھوٹا سا گروہ بھی مسلسل خطرے میں ہے تو انھوں نے کسی جھجھک کے بغیر نہایت جرات سے یہ فیصلہ کر لیا کہ الجزائر کی سرزمین پر فرانس کی حکمرانی خدا کی منشا ہے اور اس کو تسلیم کر لینا ہی دانش مندی ہے۔
۷۔ امیر عبد القادر کے تصور جہاد کا ایک نہایت اہم پہلو اسلام کی جنگی اخلاقیات کی پابندی کرنا ہے اور اس ضمن میں ان کا پیش کردہ نمونہ ہی دراصل مغربی دنیا میں ان کے تعارف اور تعظیم واحترام کی اصل وجہ ہے۔ امیر نے نہ صرف جدوجہد آزادی کے دوران میں فرانسیسی قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی مذہبی ضروریات کا فراخ دلی اور اعلیٰ ظرفی سے بندوبست کیا بلکہ دمشق میں رہائش کے زمانے میں ۱۸۶۰ میں ہونے والے مسلم مسیحی فسادات میں بھی ہزاروں مسیحی باشندوں کی حفاظت کے لیے عملی کردار ادا کر کے اسلامی اخلاقیات کی ایک معیاری اور قابل تقلید مثال پیش کی۔
میں سمجھتا ہوں کہ مذکورہ تمام حوالوں سے امیر عبد القادر کی جدوجہد عصر حاضر میں مغرب کے سیاسی واقتصادی تسلط کے خلاف عسکری جدوجہد کرنے والوں گروہوں کے لیے اپنے اندر راہ نمائی کا بڑا سامان رکھتی ہے اور امیر عبد القادر کے فلسفہ جنگ اور طرز جدوجہد کے ان پہلووں کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔
(محمد عمار خان ناصر)
امیر عبد القادر الجزائری (۱۸۰۷ء۔۱۸۸۳ء) تحریک آزادئ الجزائر کے عظیم مجاہد اور سرفروش قائد وراہنما تھے۔ انھوں نے انیسویں صدی عیسوی کے ابتدائی عشروں میں الجزائر پر فرانس کے غاصبانہ قبضے کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور الجزائری قوم میں اسلامیت کی لہر دوڑا دی۔ الجزائر کے مختلف قبائل کو متحد کیا اور ایک اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔ وہ تیرہ سال تک اس اسلامی مملکت کے امیر رہے۔ اس دوران انھوں نے کئی بار فرانسیسی افواج کو ناکوں چنے چبوائے، مگر اپنوں کی غداری کی وجہ سے انھیں بالآخر فرانس کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہونا پڑا۔ کچھ شرائط کے ساتھ معاہدہ ہوا اور امیر نے خود کو فرانسیسیوں کے حوالے کر دیا جنھوں نے اپنے وعدوں کی پاس داری نہ کرتے ہوئے انھیں برس ہا برس تک قید میں رکھا۔ پھر فرانس لے جائے گئے اور وہاں نظر بند رہے اور آخر رہا کر کے جلا وطن کر دیے گئے۔ عمر کا آخری حصہ دمشق میں گزرا تا آنکہ وقت آخر آ گیا۔
امریکی مصنف جان ڈبلیو کائزر کی یہ کتاب (اردو ترجمہ) اسی مرد مجاہد کے سچے جہاد کی داستان ہے جس کے مطالعہ سے انسانی فکر ونظر کے تغیر وتبدیل اور ارتقا کا اندازہ ہوتا ہے اور پتہ چلتا ہے، مسلمان کس قدر سادہ اور اعتماد کرنے والا ہوتا ہے جبکہ اہل یورپ کس قدر عیار اور بدعہد ہوتے ہیں۔ وہ معاہدوں کی پاس داری نہیں کرتے، بلکہ معاہدے کرتے ہی اس لیے ہیں کہ انھیں توڑا جائے اور کمزور کی بے بسی اور بے سروسامانی کے مزے لیے جائیں۔
یہ کتاب انسانی زندگی کے نشیب وفراز کی کہانی ہے کہ جوانی میں انسانی رگوں میں خون نہیں، سیال فولاد دوڑتا ہے۔ وہ پہاڑوں سے ٹکراتا اور سمندروں کوپھلانگتا ہے، مگر جب عمر ڈھلتی ہے تو پھر اس کی سوچ بدل جاتی ہے اور پھر کچھ ایسا کرنا چاہتا ہے جس سے دوسروں کو سکھ اور چین میسر آ ئے۔ امیر عبد القادر نے جب فرانس کی بھرپور حربی طاقت کے مقابلے میں اپنی فوجی قوت کا جائزہ لیا تو مکمل تباہی کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ ایسے وقت میں انھوں نے ایک دانش مندانہ فیصلہ کیا اور اپنے ہم وطنوں اور ساتھیوں کو مروانے کے بجائے زندہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے اپنی قیمت پر اپنی قوم کو زندگی دی۔ ایک دانش مند قائد کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ وہ اپنی فکر کی بجائے قوم کے مستقبل کی فکر کرتا ہے۔
کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں نے جب بھی اہل یورپ سے شکست کھائی، اپنے ہی گھر کے چراغوں کی غداری سے کھائی اور یہ بھی یورپی ممالک کس طرح دوسرے ممالک کے قائدین، تحریکوں اور نظریات کے بارے میں اپنے عوام کو اندھیرے میں رکھ کر جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ کتاب یورپی اور مغربی نفسیات کا پتہ دیتی ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ تاریخ میں ’’امیر عبد القادر‘‘ کی صورت میں رہ کر بھی زندہ رہا جا سکتا ہے اور مسلمان صرف مسلمانوں کا ہی نہیں، انسانوں کا خیر خواہ ہوتا ہے۔
ایک وہ وقت تھا جب امیر یورپ کی نظروں میں وقت کے سب سے بڑے دہشت گرد تھے اور جب انھوں نے دمشق میں قیام کے دوران مسلم عیسائی فسادات میں پندرہ ہزار عیسائیوں کی جانیں بچائیں تو انھیں امن کا عظیم علمبردار اور دیوتا قرار دے دیا گیا۔
یہ کتاب معروضی حالات سے آنکھیں بند کر کے محض جوش سے کام لینے والے روایتی دوستوں کو شاید پسند نہ آئے، مگر سعید روحوں کے لیے اس میں بڑے سبق ہیں۔ سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جب حالات موافق نہ ہوں تو خود کو اور اپنی قوم کو بچا لینا سب سے بڑی بہادری ہوتی ہے۔ امیر صرف جنگجو رہنما ہی نہ تھے، ایک جید عالم دین اور صوفی بزرگ بھی تھے۔ ان کے یہ الفاظ ہم سب کے لیے بالعموم اور وراثت پیغمبر کے حاملین کے لیے خاص پیغام رکھتے ہیں:
’’پیغمبر ایک دوسرے کی تردید نہیں کرتے، کم از کم بنیادی اصولوں کی حد تک تو نہیں کرتے۔ ان سب کا ایک ہی پیغام ہے کہ اللہ کی بڑائی بیان کرو اور مخلوق کے ساتھ رحم دلی سے پیش آؤ۔‘‘ (ص: ۳۸۵)
اہل علم کو سوچنا چاہیے کہ کیا واقعی ان کے شب وروز اپنے ہی لوگوں کی تردید وتغلیط میں نہیں جا رہے؟ اس کتاب کا مقدمہ مولانا زاہد الراشدی صاحب نے لکھا ہے اور امیر کا تعارف کروایا ہے جو بجائے خود ایک معرکۃ الآرا مقالہ ہے۔ دار الکتاب لاہور کے حافظ محمد ندیم صاحب نے یہ کتاب شائع کر کے ایک کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ ’’القاسم‘‘ محسوس کرتا ہے کہ اگر کتاب کا مطالعہ اس کی روح کے مطابق کیا جائے تو ذہنوں میں انقلاب آئے گا جو آج کے دور میں امت مسلمہ کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا۔ بہ حیثیت مسلمان ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہر ایک سے جنگ وجدل، مخالفت اور مخاصمت نے ہمیں کیا دیا ہے؟ کیا ہم ’’مسلمان‘‘ بن کر نہیں رہ سکتے؟
(تبصرہ نگار: مولانا عبد القیوم حقانی، ماہنامہ ’’القاسم‘‘، نوشہرہ)
جعلی مجاہد کی اصلی داستان
مفتی ابو لبابہ شاہ منصور
قارئین کرام! آپ کو علم ہوگا کہ ضرب مومن میں کتابوں پر تبصرے شائع نہیں کیے جاتے یا بہت ہی کم شائع کیے جاتے ہیں۔ نیز یہ بھی علم ہوگا (راقم الحروف پہلے بھی لکھ چکا ہے) کہ احقر کتابوں کا تعارف یا تقریظ لکھنے سے حتی الامکان کتراتا ہے۔ اپنی کتابوں پر بھی اپنے بڑوں کو تقریظ لکھنے کی زحمت دینا اچھا نہیں سمجھتا۔ مروجہ تقاریظ، کتاب، مصنف اور صاحب تقریظ سب کی ساکھ گرانے کا باعث لگتی ہیں۔ کتاب چاولوں کی دیگ نہیں کہ چند چاول دیکھ کر ساری دیگ کو دم لگ جانے کی خوشخبری سنا دی جائے، لیکن آج ا س اصول کو توڑتے ہوئے ہم اپنے آپ کو ایک انوکھی مجرمانہ کتاب کا تعارف کروانے پر مجبور پاتے ہیں۔ اس کتاب پر تبصرے کا خیال بھی ہمیں پیدا نہ ہوتا اگر ہمیں پاکستان میں جدید شرعی واخلاقی اقدار کے علمبردار چند سو کا عدد اشاعت رکھنے والے ایک رسالے کا تازہ شمارہ دیکھنے کو نہ ملتا جس میں خیر سے ایک ’’سچے مجاہد کی داستان حیات‘‘ قسط وار دی گئی ہے جو ایک ایسی کتاب سے ماخوذ ہے جس کے مترجم وناشر اس کے نسب کی ذمہ داری قبول کرنے پر تیار نہ تھے، لیکن آخر کار یہ تہمت ثبوتوں کے ساتھ سچی ثابت ہوئی اور یہ ناجائز تخلیق ان کے ذمہ لگ رہی۔
یہ کتاب ہمیں کچھ عرصے پہلے ایک مہربان دوست خالد جامعی صاحب نے دکھائی جو مطالعے کے انتہائی شوقین ہیں۔ خود کئی کتابوں کے مصنف ومترجم ہیں اور لکھنا پڑھنا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ بندہ نے پہلی نظر میں بھانپ لیا کہ انگریزی میں لکھی گئی اس کتاب کا مصنف ایوارڈ یافتہ فری میسن ایجنٹ ہے۔ کتاب کا موضوع جو شخصیت ہے، وہ بھی سند یافتہ فری میسن ایجنٹ ہے۔ کتاب کے مترجم کا نام غائب ہے اور اسے جس ناشر نے چھاپا ہے، اس سے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ کتاب اس کے ادارے کے نام سے کسی اور نے چھاپی ہے اور وہ نہیں جانتے کہ شائع کنندگان کے مقاصد کیا ہیں؟ مزید کھوج لگائی گئی تو پتا چلا کہ اس کتاب کی تعارفی تقریب لاہور کے ایک ہوٹل میں امریکی سفارت خانے کے سیکنڈ سیکرٹری کی سربراہی میں منعقد ہوئی تھی اور تقریب کی نظامت ہمارے ممدوح ’’غامدی اصغر‘‘ کر رہے تھے۔ وہی اس کتاب کے ناشر ہیں اور انھوں نے اپنی ایک اور ناجائز تخلیق جو مسجد اقصیٰ کے حوالے سے ہے، بھی اس ادارے کے نام سے اسی جبری نام لگوائی والے طریق کار کے تحت چھپوائی ہے۔
راقم کو اس پر ذرا بھی تعجب نہیں ہوا، کیونکہ وہ ایک انھی صاحبزادے کو نہیں، صاحبزادگان کی ایک ایسی کھیپ کو جانتا ہے جو ’’اس جیسے کام اس جیسے انداز میں‘‘ انجام دینے کے لیے بیرونی سفارت کاروں کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہے، البتہ تعجب اس ڈھٹائی اور بے باکی پر ہوا کہ غامدیت کے اس نوخیز ترجمان نے پچھلے دنوں اپنے تحریفی اقدار کے علمبردار رسالے میں یہ بحث شائع کی تھی کہ افغانستان کا جہاد اعلیٰ اخلاقی اقدار کے تحت کیا جانے والا جہاد نہیں ہے، موجودہ شمارے میں اسی کتاب میں ’’سچے مجاہد کی داستان‘‘ کو قسط وار کیسے شائع کر دیا؟ کیا قلم کی دنیا اور علم کی قلم رو میں شرم ومروت کا اتنا بھی گزر نہیں رہا کہ انسان اپنے پڑوس میں ہونے والے جہاد عظیم کے بارے میں دو اچھے لفظ نہ کہے اور پچھلی صدی میں مصدقہ یہودی گماشتے [اس کی ناقابل تردید تصدیقات خود زیر نظر کتاب سے بھی آ رہی ہیں] کے شکست خوردہ جہاد کو ’‘سچے جہاد‘‘ کا نام دے۔ یہودیت کی خانہ ساز غامدیت کے علمبردارو! خدا کا واسطہ ہے، کچھ تو لحاظ کرو۔ کوئلوں کی دلالی میں کیوں اپنا آپ کالا کرتے ہو؟؟
جو بھی شخص دنیا میں ایسے واقعات کے پیچھے نادیدہ ہاتھ تلاش کرتا ہے جو سمجھ میں آ کے نہیں دیتے، اسے دنیا کو مصائب وآلام میں مبتلا کرنے والی پھٹکاری تنظیم ’’فری میسن‘‘ تک سراغ جاتے دکھائی دیتے ہیں اور جو شخص بھی فری میسن کی آلہ کار شخصیات سے واقفیت رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ امیر عبد القادر جزائری نام کا نام نہاد مجاہد فری میسن ایجنٹ بن گیا تھا۔ یہودی آلہ کاروں پر کام کرنے والے ایک سے زیادہ محققین کا حوالہ میرے پاس ہے جنھوں نے اسے یہود کا گماشتہ لکھا ہے۔ مجھے ان کو پیش کرنے کی ضرورت پڑتی تو ان کے استناد پر بحث شروع ہو جاتی، لیکن خدا کا کرنا یہ کہ ’’سچے جہاد کی داستان‘‘ نامی اس کتاب میں ہی اس کی تصدیق مل گئی ہے، لہٰذا اب اس کی خارجی توثیق کی ضرورت نہیں۔ غامدی صاحبان شاید کتاب دیکھے بغیر اس کی ’’سمساری‘‘ قبول کر لیتے ہیں اور پھر حق نمک ادا کیے بغیر اس کا جائزہ لینے سے پہلے چھاپ بھی دیتے ہیں تاکہ ان کی حماقت اور خیانت کی سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔
کتاب کے وقیع پیش لفظ میں ہماری ایک انتہائی موقر علمی شخصیت نے اس کتاب کا بے نام ونسب اردو ترجمہ پاکستان میں شائع کرنے کے مقاصد بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’امیر عبد القادر الجزائریؒ مغربی استعمار کے تسلط کے خلاف مسلمانوں کے جذبہ حریت اور جوش ومزاحمت کی علامت تھے اور وہ اپنی جدوجہد میں جہاد کے شرعی واخلاقی اصولوں کی پاس داری اور اپنے اعلیٰ کردار کے حوالے سے امت مسلمہ کے محسنین میں سے ہیں۔ ان کے سوانح وافکار اور عملی جدوجہد کے بارے میں جان کائزر کی یہ تصنیف نئی پود کو ان کی شخصیت اور جدوجہد سے واقف کرانے میں یقیناًمفید ثابت ہوگی۔ ‘‘ (ص ۱۱)
آئیے، دیکھتے ہیں جہاد کے شرعی واخلاقی اصولوں کا پاسدار امت مسلمہ کا یہ محسن کون تھا؟ اور نئی پود کو ان کی شخصیت اور جدوجہد سے واقف کروانے کے مقاصد کیا ہیں؟ ہم دور نہیں جاتے، اسی کتاب کے ص ۴۳۸ پر سچے مجاہد کے پیچھے موجود جھوٹے پشت پناہوں کا صاف ستھرا سراغ ملتا ہے۔ مصنف رقم طراز ہے: ’’جب جنرل اوٹ پول اپنے تصور میں امیر کے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا تو پیرس میں فرانسیسی میسونی لاج ’’ہنری چہارم‘‘ کی ایک کمیٹی بڑی احتیاط سے امیر کے نام ایک خط تیار کر رہی تھی اور اس کے ساتھ موزوں عبارت والا ایک قیمتی زیور بھی منتخب کیا جارہا تھا۔ تقریباً ایک مہینے کی عرق ریزی کے بعد سولہ نومبر کو میسونی تنظیم کی علامت سے ڈھکے سبز جڑاؤ تمغے کے ہمراہ یہ خط ’’انتہائی عزت مآب جناب عبدالقادر‘‘کی خدمت میں ڈاک سے روانہ کر دیا گیا۔ تنظیم کا نشان دائرے کے اندر دو چوکھٹوں پر مشتمل تھا جس سے ایک ہشت پہلو شکل بنتی تھی جس سے روشنی کی شعاعیں خارج ہو رہی تھیں۔ عین درمیان میں فیثا غورث کی مساوات کندہ تھی۔‘‘ [یہودیوں کی مخصوص پسندیدہ علامت اس مساوات کا کچھ بیان آگے چل کر آئے گا]۔
مسجع ومقفع انداز میں لکھی گئی عبارت کے آخر میں امیر کو تنظیم کا رکن بننے کی دعوت دی گئی تھی:
’’بہت سے دل ایسے ہیں جو آپ کے دل کے ساتھ دھڑکتے ہیں، بہت سے بھائی ایسے ہیں جو آپ کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ سے محبت کرتے ہیں اور اگر وہ آپ کو اپنی تنظیم کا رکن شمار کر سکیں تو انہیں بہت فخر ہوگا۔‘‘ (ص ۴۳۸، ۴۳۹)
’’عالمی برادری‘‘ میں شمولیت کی اس دعوت کو قبول کرنے میں سچے غامدی مجاہد نے دیر نہیں لگائی۔ چنانچہ ’’۱۸۶۴ء میں امیر کو دمشق میں شام کے میسونی لاج کا اعزازی گرینڈ ماسٹر نامزد کیا گیا۔ اس کے ایک برس بعد جب عبدالقادر فرانس گیا تو اسے فرانسیسی لاج ’’ہنری چہارم‘‘ میں شامل کر لیا گیا جس میں بنجمن فرینکلن، لاپلاس، لافاییٹ، وولٹیئر، سوٹ، مونجے، تالے راں، پرودوں اور دیگر ایسی ممتاز ہستیاں موجود تھیں جن کے لیے مظاہر فطرت، عقل اور اخلاقی قانون سب ایک الوہی تخلیق کار کے باہم موافقت رکھنے والے مظاہر تھے۔ ‘‘ (ص ۴۴۱)
ملاحظہ فرمائیے! عالمی سطح پر مسلم دشمن بلکہ انسانیت دشمن بدنام زمانہ تنظیم کے گرینڈ ماسٹر کو سچا مجاہد بنا کر پیش کرنے والے ’’فہم دین‘‘ اور ’’تفہیم شریعت‘‘ کے داعیوں کے متعلق اگر کوئی یہ سمجھے کہ وہ بھی ’’مظاہر فطرت، عقل اور اخلاقی قانون کے الوہی تخلیق کار کے باہم موافقت رکھنے والے مظاہر‘‘ میں سے ہیں تو کیا یہ غلط گمان ہوگا؟
راقم جب مصر گیا تو نہر سوئز دیکھنے کے لیے پاپڑ بیل کر پہنچ ہی گیا۔ غرض فقط اتنی ہی تھی کہ وہاں کھڑے ہو کر امرؤ القیس کے دوستوں کی طرح دو آنسو بہائے۔ شاید ہمارے اجتماعی گناہوں کو دھو ڈالیں۔ نہ پوچھیے، حسرت اور کرب کا کیا عالم تھا؟ بات صرف اتنی نہ تھی کہ دنیا کی یہ معاشی شہ رگ ایک مسلمان ملک میں ہوتے ہوئے غیر مسلموں کے قبضے میں ہے۔ دکھ اس کا تھا کہ یہ درحقیقت امریکا، برطانیہ، فرانس کے قبضے میں نہیں، قوم یہود کے قبضے میں ہے۔ ہماری غامدی برادری کے ممدوح سچے مجاہد کی اس داستان سے اس کا بھی ثبوت مل گیا کہ اس نہر کی تعمیر میں ایک مخصوص برادری بھی شریک تھی جو الجزائر سے لاہور تک ایجنٹ تلاش کرتی رہتی ہے۔ یہ عبارت ملاحظہ فرمائیے جیسے سمجھنے کے لیے چور کے ہاتھ میں دھرے چراغ کی روشنی اسے پہچاننے کا کام دے رہی ہے۔
’’سترہ نومبر ۱۸۶۹ء کو جب نہر سویز کھولنے کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی تو امیر کو بھی گرینڈ پیولین میں نپولین کی بیوی، ملکہ یوجین، آرچ ڈیوک وکٹر آف آسٹریا، شاہ ہنگری اور ساری دنیا سے آئے ہوئے سفیروں اور اہم شخصیات کے ساتھ بٹھایا گیا۔ ۔۔۔ مشرق اور مغرب کے سمندروں کو آپس میں ملانے کا خواب پورا کرنے میں عبدالقادر نے فرانس کے فردیناں دے لیسپس (Ferdinand de Lesseps) کی کچھ کم مدد نہیں کی تھی۔ ۔۔۔ امیر کے یہ کردار ادا کرنے پر آمادہ ہونے کی بہت سی وجوہات تھیں۔ ۔۔۔لیکن سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ نہر سویز کی تشہیر کرنے والوں میں بھائی چارے کا احساس نظر آتا تھا۔ ان میں بہت سے مقدس سائمن کے پیروکار اور میسونی تھے جن کے مقامی لاج کے طرف سے لہرائے جانے والے بینرز پر ’’پرخلوص دوستی‘‘، ’’پیار اور سچائی‘‘ اور ’’سمندروں کا اتحاد‘‘ جیسے الفاظ درج تھے۔ ۔۔۔ تقریب میں دوستی اور تمام لوگوں کے مابین بھائی چارے کے گیت گائے گئے۔ یہ مقدس سائمن کے اور میسونی نظریات تھے جو عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان پل تعمیر کرنے اور یورپی مادہ پرستی کو اسلام کی روحانیت سے متوازن کرنے کی عبدالقادر اپنی خواہش سے مکمل مطابقت رکھتے تھے۔ ممکن ہے چار سال پہلے پیرس کا دورہ کرتے ہوئے میسونی لاج ’’ہنری چہارم‘‘ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرنے کی بڑی وجہ یہی رہی ہو۔‘‘ (ص ۴۴۲، ۴۴۴)
عالمی میڈیا امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد بارک اللہ فی حیاتہ کو امیر کہنا پسند نہیں کرتا، لیکن امیر عبد القادر کی کتابیں جن کا ترجمہ نگار اپنا نام نسب ظاہر کرنے سے شرماتا ہے، کی کتابیں شائع کر کے سستے داموں پھیلاتا ہے؟ آخر کیوں؟ اس لیے کہ ملا عمر مجاہد نے آخری دم تک دشمنوں کے آگے سر نہ جھکایا، جبکہ الجزائری امیر نے تو اپنی مہر میں بھی یہودی نشان بنا رکھا تھا۔ مذکورہ کتاب کے پشتی سرورق پر اس مہر کا نقش موجود ہے جس میں چھ کونوں والا ستارہ پکار پکار کر تحریک غامدیت پر مہر یہودیت ثبت کر رہا ہے۔ کتاب کے ص ۲۸۵ کے حاشیے پر لکھا ہے:
’’ امیر کی مہر دو مثلثوں پر مشتمل تھی جن میں ایک سیدھی اور دوسری معکوس تھی۔ دونوں مثلثیں ایک دوسرے کے اوپر تھیں جس سے چھ کونوں والے ستارے کی شکل بن جاتی تھی۔ ان کے ارد گرد ایک دائرہ تھا۔ اوپر کی طرف نوک والی مثلث روحانی طاقت کی علامت تھی جب کہ نیچے کی طرف نوک والی مثلث دنیاوی اقتدار کی نمائندگی کرتی تھی۔ دائرہ الوہی رحمت کی علامت تھا۔‘‘
جب فری میسنری کی غلامی قبول کر لی گئی تو یہودی سرمایہ دار ایسے شخص کی حمایت سے کیوں پیچھے رہتے؟ مشہور زمانہ یہودی خاندان ’’روتھ شیلڈ‘‘ ہمارے ممدوح مجاہد کی مدد کو آ گیا۔ سنیے اور سر دھنیے: ’’وقت گزرنے کے ساتھ فرانسیسی حکومت کی مدد سے عبدالقادر نے زرعی زمینیں حاصل کر لیں تاکہ اپنے الجزائری لوگوں کی مدد کے لیے پیسے کمائے جائیں۔ پھر ایک وقت آیا جب وہ اتنی بڑی زرعی جاگیر کا مالک بن گیا جو مغرب میں بحیرہ طبریہ (Sea of Galilee)تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے دمشق اور بیروت کے درمیان پل تعمیر کرایا اور جیمز روتھ شیلڈ کی شراکت سے محصول چونگی بھی قائم کی۔‘‘ (ص ۴۰۶)
کتاب کے عالمانہ تعارف میں اس کی اشاعت کی ایک اور غرض بھی بیان کی گئی ہے:
’’ایسی شخصیات کے ساتھ نئی نسل کا تعارف اور ان کے کردار اور افکار وتعلیمات سے آگاہی استعماری تسلط اور یلغار کے آج کے تازہ عالمی منظر میں مسلم امہ کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ ہے اور اس سمت میں کوئی بھی مثبت پیش رفت ہمارے لیے ملی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے۔‘‘ (ص ۱۱)
آئیے دیکھتے ہیں وہ کون سا کردار ہے جو آج کے تازہ عالمی منظر میں مسلم امہ کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے؟ اور فحاشی وبے حیائی کی اس سمت میں ہم مثبت پیش رفت کریں تو کس اہم ملی ضرورت کو پورا کر سکیں گے؟ اس حوالے سے اس کتاب کی چند عبارتیں بلا تبصرہ پیش خدمت ہیں۔ ان سے معلوم ہوگاکہ ہم میں فقط امریکہ نظریہ جہاد سے ہی متعارف نہیں کروایا جا رہا، بلکہ ہماری نئی نسل کو شہوت پرستی، نسوانیت پرستی اور زنخا پرستی میں بے دریغ دھکیلا جا رہا ہے۔ سچے مجاہد کی حد سے بڑھی ہوئی شہوت پرستی کو یوں بیان کیا گیا ہے:
’’ایسا لگتا تھا کہ اپنی ذات کی سختی سے نفی کرنے والے عبدالقادر کی زندگی میں واحد استثنا عورت تھی اور اس کا مسلسل وسیع ہوتا ہوا حرم سفارت کاروں کے لیے تھوڑے بہت نہیں بلکہ شدید حسد کا باعث تھا۔‘‘ (ص ۳۹۱)
مسلسل وسیع ہونے والے حرم کا اندرونی حال بھی سن لیجیے:
’’اسے ایک بار امیر کے حرم کا جائزہ لینے کا بھی موقع ملا۔ یہ افواہ گرم تھی کہ امیر ہر سال نئی شادی کرتا ہے جو عموماً سرکیشیائی لڑکیاں ہوتی ہیں جن کی عمر پندرہ سال سے زیادہ نہیں ہوتی، لیکن جین کی رپورٹ یہ تھی کہ اگر اس نے ان میں سے بیشتر کو طلاق دے کر رخصت نہیں کر دیا تو پھر یہ افواہ غلط ہے۔ اسے وہاں صرف پانچ بیویاں نظر آئی تھیں*، لیکن یہ تعداد بھی اسلامی شریعت میں دی گئی اجازت کی حد سے ایک زیادہ بنتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی بیوی خیرا کے بارے میں، جس کی امیر سب سے زیادہ قدر کرتا تھا، جین کا کہنا تھا کہ ’’انتہائی موٹی اور جسمانی طور پر بدصورت تھی، لیکن وہ پورے وقار اور پرسکون تحکم کے ساتھ حرم کی سربراہی کرتی تھی۔‘‘ (ص ۴۵۱)
کوئی کہہ سکتا ہے کہ پانچویں عورت بیوی نہیں، لونڈی ہوگی، لیکن اس کا کیا کریں کہ ایسی عورتوں سے تعلقات کے ثبوت بھی اس سچی داستان میں موجود ہیں جو انگلستان جیسے مادر پدر آزاد ماحول میں بھی بدنام تھیں:
’’عبدالقادر برطانیہ کی دو ایسی شخصیات کا دوست اور معترف تھا جو اپنی ثقافت سے باغی تھیں۔ ایک وہ آزاد خیال روایت شکن جس نے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششوں میں تعاون کیا اور جس کے پسندیدہ موضوعات میں پرشہوت عورتیں، جسم فروشی اور زنخا بنانے کے طریقے شامل تھے، جب کہ دوسری شخصیت اخلاق باختہ سمجھی جانے والی ایک خود پسند اور بدنام عورت تھی جس نے اپنی جنسی مہم جوئی کے لیے اپنا بچہ تک چھوڑ دیا۔‘‘ (ص ۴۵۲)
جنسی مہم جوئی کے لیے اپنا سگا بچہ چھوڑنے والی ہمارے سچے مجاہد صاحب سے کیا تعلق رکھتی تھی اور ان کے ڈیرے پر باقاعدگی سے کس لیے حاضری دیتے تھی؟ ملاحظہ فرمائیں:
’’جین ڈھلتی ہوئی عمر کے عبدالقادر کی بھی منظور نظر بن گئی تھی جس نے احتیاط سے خضاب لگی ہوئی سیاہ داڑھی کے ساتھ اپنی جوانی کا تاثر قائم رکھا ہوا تھا۔ جین باقاعدگی سے نقیب ایلی آنے والے مہمانوں میں شامل تھی اور گرمیوں میں اکثر ان مہمانوں میں شامل ہوتی تھی جو امیر کی رہائش گاہ پر دریائے برادا کا نظارہ کرتے ہوئے پودینے کی چائے سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ جین نے اپنے شوہر میدجوئیل المرزگ کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ سال میں چھ ماہ یورپی طرز کے مطابق زندگی بسر کرے گی۔ ۔۔۔ میدجوئل المرزگ کے ساتھ شادی نے ڈگبی جین کی اس دھماکہ خیز رومانی زندگی کا خاتمہ کردیا جس نے اسے سارے انگلینڈ میں بدنام کر رکھا تھا۔ ‘‘ (ص ۴۴۹، ۴۵۰)
اس کتاب کے ذریعے ہمیں کون سے اسلام اور کس طرح کی شریعت اپنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے، اس کا کچھ اندازہ ذیل کی عبارت سے ہو جاتا ہے:
’’امیر کے پاس تو صرف ایک ہی سمت نما تھا اور وہ تھا اسلام۔ تنگ نظری پر مبنی فرقہ وارانہ اسلام نہیں بلکہ اس سے کہیں وسیع تراسلام، فطرت کا اسلام ، ہر اس جاندار کا اسلام جو خدا کے قانون کے آگے سر جھکا دے۔ امیر کا اسلام ایک ایسے خدا پر یقین رکھتا تھا جو ’’عظیم تر‘‘ تھا، جو اس کے حقیر بندوں اور اسلام سمیت اس کے کسی بھی مذہب کے تصور سے بھی عظیم تھا۔ ’’ہر شخص اسے اپنے مخصوص انداز میں جانتا اور اس کی عبادت کرتا ہے اور وہ دوسرے طریقوں سے مکمل طور پر لاعلم رہتا ہے۔‘‘ دوسرے لفظوں میں ہم سب غلط ہیں۔ اب عبدالقادر کے ذہن پر صرف ایک ہی دھن سوار تھی کہ خدا کی وحدانیت کو ان طریقوں کے تنوع کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے جن سے اس کے پیدا کیے ہوئے بندے اس کی عبادت کرتے ہیں۔‘‘ (ص ۳۷۶)
اب ہم ایک آخری حوالہ نقل کر کے رخصت چاہیں گے۔ اس سے معلوم ہوگا کہ اس کتاب کے ذریعے ہمیں اسلام کی جو تعبیر اور قرآن کی جو تشریح سکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ ’’برادری‘‘ کا پرانا حربہ ہے۔ خدا ان لوگوں کو ہدایت دے جو ایسے لوگوں کے آلہ کار بن کر اپنا نام چھپاتے اور کارنامے گنواتے پھرتے ہیں: ’’۱۸۶۰ء کے موسم خزاں میں پیرس میں سولہ صفحات پر مشتمل ایک پمفلٹ گردش کر رہا تھا جس کا عنوان تھا: ’’عبدالقادر، عرب شہنشاہ‘‘۔ اس کتابچے میں لکھا تھا کہ عظیم تر شام کے تخت پر بٹھانے کے لیے عربوں کو حقیقی صلاحیتوں کا مالک ایک رہنما چاہیے اور اس کے لیے عبدالقادر کا نام تجویز کیا گیا تھا۔ اس تحریر کے مطابق عبدالقادر مغرب اور مسلمانوں کو یہ سکھائے گا کہ ’’قرآن کے الفاظ کی صحیح تشریح کیا ہے اور ایک سچے مومن کو ان کی تعبیر کس طرح کرنی چاہیے۔‘‘ (ص ۴۳۵)
جھوٹے مجاہد کے جعلی ترجمان
’’امیر عبد القادر الجزائری‘‘ کے حالات پر مشتمل جان ڈبلیو کائزر کی کتاب کا ترجمہ ’’دار الکتاب‘‘ لاہور کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔ ’’دار الکتاب‘‘ لاہور علمائے دیوبند کی فکری کا وارث ہے اور انقلابی جہادی تحریکوں سے متعلق کتابیں شائع کرتا ہے، لہٰذا یہ بات ہمارے لیے ناقابل یقین تھی کہ انقلابی مجاہدین کے جہادی کارناموں کو عام کرنے والا ادارہ ایک ایسی کتاب کیسے شائع کر سکتا ہے جو جہادی تحریکات کا تمسخر اڑاتی ہو، مجاہدین کو دہشت گرد اور مسلمانوں کو خونی درندے ثابت کرتی ہو۔ لہٰذا ہم نے اس بات کی تحقیق ضروری سمجھی کہ جہاد کی مخالفت کرنے والی اور مجاہدین کو دشمن انسان اور دشمن انسانیت اور دشمن رحمت ورافت ثابت کرنے والی کتاب کس نے شائع کروائی۔
اس سلسلے میں ۱۹؍ اپریل بروز جمعہ دن ۱۱ بجے دار الکتاب کے مالک سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے ہمارے ایک مہربان بزرگ جناب خالد جامعی صاحب کو یہ بتایا کہ امیر عبد القادر الجزائری والی کتاب پر ان کے ادارے کا نام تو ضرور ہے، لیکن وہ نہ تو اس کتاب کے ناشر ہیں اور نہ ہی انھیں اس بات کا علم ہے کہ ترجمہ کس نے کیا، نیز شائع کرنے والوں کے مقاصد کیا ہیں؟ ان سے جب گفتگو کی تفصیلات معلوم کی گئیں تو انھوں نے بتایا کہ یہ کتاب عمار خان ناصر صاحب نے شائع کروائی اور ہمیں فون پر اطلاع دے دی کہ یہ کتاب ہم نے آپ کے نام پر شائع کروائی ہے۔ بالکل اسی طرح عمار خان ناصر کی کتاب ’’براہین‘‘ بھی جبراً شائع ہوئی۔ کتاب عمار ناصر نے خود چھپوائی اور اس پر ہمارا نام شائع کروا دیا۔
ہمارے ایک اور دوست نے بتایا کہ امیر عبد القادر والی کتاب کی تعارفی تقریب لاہور کے ایک ہوٹل میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی امریکی سفارت خانے کے سیکنڈ سیکرٹری تھے۔ نظامت کے فرائص عمار خان ناصر انجام دے رہے تھے۔ اس تفصیل کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ کتاب پر تبصرہ سے پہلے کتاب کی اشاعت وطباعت وترسیل وتقسیم کی طلسماتی کہانی خود ہی اس کتاب کی حقیقت، ماہیت، حیثیت، پس منظر، پیش منظر اور تہہ منظر کو بتانے کے لیے کافی اور شافی ہے۔
کتاب کے سرورق کی پشت پر ایک ویب سائٹ کا نام دیا گیا ہے: www.truejihad.com ۔ اس ویب سائٹ کا نام ہی مغرب کے مقاصد، اہداف، ارادوں اور عزائم کی ترجمانی کرتا ہے۔ جہاد تو جہاد ہوتا ہے۔ True Jihad کیا ہوتا ہے؟ عصر حاضر میں جب بھی کوئی یہ کہے کہ ’’حقیقی اسلام، حقیقی جہاد،حقیقی فقہ، حقیقی اجتہاد‘‘ تو اس کا مطلب صرف اور صرف یہ ہوتا ہے کہ غیر حقیقی اسلام، غیر حقیقی جہاد، ایسا اسلام اور ایسا جہاد جو صرف اور صرف مغرب کے استعماری غلبے، عالمی تسلط اور مسلمانوں کی تباہی وبربادی کو ممکن بنا سکے۔
بروز جمعہ ۱۹؍ اپریل ۲۰۱۳ء کو ۳۰:۱۱ بجے ہم نے truejihad نامی ویب سائٹ کا مطالعہ کیا تو اس ویب سائٹ سے ہمیں دو مضامین میسر آئے۔
(۱) Some words about true and false jihad جو A4 سائز کے بارہ صفحات پر مشتمل ہے۔
(۲) The Abd el-Kader Education project 2011 in Review جو A4 سائز کے 7صفحات پر مشتمل ہے۔ ان کے مطالعہ کے بغیر اس کتاب کی حقیقت آشکار نہیں ہو سکتی۔
عبد القادر ایجوکیشن پراجیکٹ کا تعارف کراتے ہوئے اس پروجیکٹ کے پس منظر کے بارے میں درج ذیل معلومات مہیا کی گئی ہیں۔ ان معلومات پر کسی قسم کے تبصرے کی کوئی ضرورت نہیں۔
امیر عبد القادر الجزائری کی خدمات کے اعتراف کے سلسلے میں Iowa سینٹر) امریکہ کے شہر Iowa City میں قائم کیا گیا۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ مجاہد عالم اسلام کا ہے اور اس کی تقدیس، تکریم، تحسین اور تشہیر امریکا والے کر رہے ہیں۔ این چہ بو العجبی است؟
امیر عبد القادر کی یاد منانے کے لیے ’’القادر اوپیرا ہاؤس‘‘ میں مقررین خطاب فرماتے ہیں اور اس کے بعد روایتی مغربی تفریحات کا اہتمام ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ پر ایک اور ویب سائٹ www.abdelkaderproject.org موجود ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد دنیا کے تمام تعلیمی اداروں کو امیر عبد القادر کے بارے میں معلومات اور نصابی مواد مہیا کرنا ہے تاکہ اسکول میں امیر عبد القادر نصاب کا حصہ بن جائے۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل عبارت ملاحظہ کیجیے:
Provides learning tools & curriculum materials to help educators in corporate abdel-kader's stay & his example in the days's calm zoom.
بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر مسلمان کسی مجاہد یا عظیم ہستی کو اپنے اسکول یا مدرسے کے ہر طالب علم کو واقف کرانا پسند کریں تو دو مجاہدوں کو کسی قیمت پر فراموش نہیں کر سکتا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ، یہ ایسے مجاہدین تھے جن کے صرف اسلام پر ہی نہیں، پوری تاریخ انسانیت پر بے شمار احسانات ہیں۔ مغرب نے ان دو سپہ سالاروں کو منتخب کرنے اور ان کی تعلیمات اور طرز زندگی کو طلبہ تک پہنچانے کے بجائے امیر عبد القادر کا انتخاب کیوں کیا؟ یہ بہت سادہ سا مسئلہ ہے۔
امریکا کے Iowa شہر کے اور ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو Elkader کے نام سے موسوم ہے۔
آخر امریکی جو مسلمانوں پر آگ اور خون کی بارش برسانے میں سب سے آگے ہیں، ایک مسلمان کو اتنی عزت دینے پر کیوں مجبور ہو گئے؟اس فراخ دلی کا راز ہر صاحب عقل پر آشکارا ہے۔ امیر عبد القادر الجزائری جس قسم کے مجاہد تھے، امریکا اور اس کے مغربی حمایتی اسی قسم کے کرزئی مجاہدین کو آگے لانا چاہتے ہیں جنھیں جب چاہیں، ماڈرن اسلام اور ماڈرن جہاد کے مثالی نمونے کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ اور شہید المومنین شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ جیسی صاحب عزیمت واستقامت شخصیات، مجاہدین کے آئیڈیل بن سکیں۔ مغرب کی اس ذہنیت کے تناظر میں ان حضرت کے ذہنی ونظریاتی رشتوں کو بھی سمجھا جا سکتا ہے جو اس قسم کی کتابیں شائع کرا کر ہمارے یہاں ’’سچے جہاد‘‘ کی اشاعت چاہتے ہیں۔
(بشکریہ ہفت روزہ ’’ضرب مومن‘‘ کراچی)
الجزائری کی داستان حیات: چند توضیحات
محمد عمار خان ناصر
کوئی دو سال قبل مجھے امریکی مصنف جان کائزر کی ایک کتاب کے توسط سے انیسویں صدی میں فرانس کی استعماری طاقت کے خلاف الجزائر میں جذبہ حریت بیدا ر کرنے اور کم وبیش دو دہائیوں تک میدان کارزار میں عملاً داد شجاعت دینے والی عظیم شخصیت، امیر عبد القادر الجزائری کی شخصیت سے تفصیلی تعارف کا موقع ملا تو فطری طور پر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ان کی داستان حیات اور خاص طو رپر ان کے تصور جہاد سے پاکستان کی نئی نسل کو بھی آگاہی پہنچانی چاہیے تاکہ ہمارے ہاں شرعی جہاد کا مسخ شدہ اور شرعی اصولوں کے بجائے ہمارے اخلاقی، تہذیبی اور نفسیاتی زوال کی عکاسی کرنے والا جو تصور پروان چڑھ رہا ہے، اس کا کسی حد تک مداوا ہو سکے اور ماضی قریب کی تاریخ سے ایک ایسا نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے جس سے ہم عزم وہمت اور جرات وحوصلہ کے ساتھ ساتھ حقیقت پسندی، معروضیت اور بلند اخلاقی کا سبق بھی سیکھ سکیں۔ اس ضمن میں، مجھے ابتدا ہی سے اس بات کا پورا اندازہ تھا کہ امیر الجزائری کی شخصیت اور طرز جدوجہد سے حکمت وفراست اور اخلاقی اصولوں کی پاس داری کا جو نقشہ سامنے آتا ہے، ہمارے ہاں کا جہادی ذہن یقیناًاس سے بدکے گا اور رد عمل میں لازماً اس انداز کی کوششیں ہوں گی کہ اپنے پسندیدہ جہادی ہیروؤں کے مقابلے میں امیر کی شخصیت کی قدر وقیمت کو گھٹایا اور ان کی ذات کو دینی واخلاقی لحاظ سے مجروح کیا جا سکے۔ میرا یہ اندازہ درست ثابت ہوا ہے اور کراچی سے شائع ہونے والے ہفت روزہ اخبار ’’ضرب مومن‘‘ کے ایک حالیہ شمارے میں مفتی ابو لبابہ شاہ منصور صاحب نے امیر عبد القادر الجزائری کی شخصیت اور ان کی داستان حیات سے متعلق جان کائزر کی کتاب کے اردو ترجمے کی پاکستان میں اشاعت کے حوالے سے، جس میں راقم الحروف کی سعی وکاوش بھی شامل رہی ہے، اپنے خیالات کا اظہار فرمایا ہے۔ مفتی صاحب نے اس حوالے سے بعض ’’خفیہ حقائق‘‘ سے قارئین کو آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے جو وضاحت کا تقاضا کرتے ہیں، اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان سے متعلق اپنی مختصر معروضات قارئین کے سامنے پیش کر دوں۔
پہلی بات کتاب کے اردو ترجمے کی اشاعت کے لیے لاہور کے معروف اشاعتی ادارے ’’دار الکتاب‘‘ کا نام استعمال کرنے سے متعلق ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا ہے کہ راقم الحروف نے جان کائزر کی کتاب ’’امیر عبد القادر الجزائری‘‘ اور اس کے علاوہ اپنے مقالات کا مجموعہ ’’براہین‘‘ دار الکتاب کے مالکان سے اجازت لیے بلکہ انھیں پیشگی اطلاع دیے بغیر ’’جبراً‘‘ ان کے نام سے شائع کی ہیں۔ یہ بات خلاف واقعہ ہونے کے ساتھ ساتھ بدیہی طور پر مضحکہ خیز بھی ہے، کیونکہ اول تو ایک جانے پہچانے اور معروف ادارے کے ساتھ اس طرح کا کوئی ’’ہاتھ‘‘ کرنا ممکن ہی نہیں اور فرض کریں کہ ایسا کیا جائے تو بھی کتاب کی اشاعت کے بعد وہ ادارہ حقیقت حال کی وضاحت کرنے اور قانونی چارہ جوئی کا پورا اختیار رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دار الکتاب کے مالک حافظ محمد ندیم صاحب کے ساتھ کافی عرصے سے راقم کے ذاتی مراسم کے علاوہ اشاعتی کاموں میں باہمی تعاون کا تعلق بھی ہے اور اس سے قبل بھی ہم ۲۰۰۷ء میں دینی مدارس کے نظام تعلیم سے متعلق دو کتابیں الشریعہ اکادمی اور دار الکتاب کے مشترکہ اہتمام میں شائع کر چکے ہیں، جبکہ اسی نوعیت کے دوسرے منصوبوں پر بھی مشورہ اور گفت وشنید کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ’’الجزائری‘‘ اور ’’براہین‘‘، دونوں کی اشاعت کے ضمن میں حافظ محمد ندیم صاحب کو پوری طرح اعتماد میں لیا گیا تھا اور ان کی پیشگی اجازت کے بعد ہی یہ کتابیں دار الکتاب کے نام سے شائع کی گئی تھیں اور اشاعت کے بعد سے اب تک دار الکتاب کے واسطے سے مسلسل قارئین تک پہنچ رہی ہیں۔ البتہ یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ چونکہ مذکورہ کتب اور خاص طور پر ’’براہین‘‘ کی اشاعت اصلاً دار الکتاب کی تجویز نہیں تھی، اس لیے ان کے مندرجات سے ان کا متفق ہونا بھی ضروری نہیں۔ دارالکتاب نے ان کتب کو شائع کرنے کی اجازت اتفاق رائے کے اصول پر نہیں، بلکہ دوستانہ مراسم کے تناظر میں رواداری کے اصول پر دی تھی جس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ جو حضرات ان معروضات کی تصدیق کرنا چاہیں، وہ حافظ ندیم صاحب سے ان کے فون نمبر 0300-8099774 پر براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔
مفتی صاحب نے اس کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں میری دلچسپی اور سعی وکاوش کو اس انداز سے آشکارا کرنے کی کوشش کی ہے جیسے انھوں نے کوئی انتہائی خفیہ ’’سازش‘‘ گہری صحافیانہ تحقیق کے بعد دریافت کی ہو، حالانکہ میں اس کتاب کے مصنف جان کائزر کے ساتھ رابطے، کتاب کے انگریزی متن پر نظر ثانی، اردو ترجمے کی ترتیب وتدوین اور پھر اس کی اشاعت کے سلسلے میں اپنی دلچسپی اور کوششوں کی پوری تفصیل خود اپنے قلم سے ماہنامہ الشریعہ کے مارچ ۲۰۱۲ء کے شمارے میں لکھ چکا ہوں۔ مجھے جان کائزر کی کتاب سے امیر عبد القادر کی شخصیت کے متعلق پہلی مرتبہ علم ہوا اور میں نے ان کی داستان حیات سے اردو قارئین کو واقفیت بہم پہنچانے میں دلچسپی محسوس کی اور اس کے لیے بساط بھر جو کچھ کر سکا، کیا۔ یہ ایک بالکل کھلی ہوئی اور علانیہ بات ہے جس میں نہ سازش کا کوئی پہلو ہے اور نہ خفیہ منصوبہ بندی کا۔
مفتی صاحب نے لاہور کے ایک ہوٹل میں منعقد ہونے والی تقریب کا ذکر بھی کیا ہے جس میں امریکی سفارت خانے کے ایک عہدے دار شریک ہوئے تھے۔ اس ضمن میں بھی بعض معلومات کی تصحیح ضروری ہے۔ یہ تقریب جان کائزر کی کتاب کے تعارف کے حوالے سے نہیں، بلکہ اس کی اشاعت سے بہت پہلے امیر عبد القادر کی شخصیت کے تعارف کے حوالے سے میزونٹ ہوٹل میں منعقد ہوئی تھی۔ اس کا اہتمام جناب عبد القدیر خاموش نے کیا تھا جو ’’مسلم کرسچین انٹرفیتھ ڈائیلاگ‘‘ کے زیر عنوان بین المذاہب افہام وتفہیم کے حوالے سے اس طرح کی تقاریب منعقد کرتے رہتے ہیں۔ میں نے اس تقریب میں نظامت کی ذمہ داری انجام نہیں دی تھی، بلکہ محض امیر کی شخصیت کے حوالے سے ایک لیکچر دیا تھا۔ امریکی سفارت خانے کے ایک عہدے دار (جن کا نام اور منصب مجھے بالکل یاد نہیں) اس میں مہمان خصوصی نہیں تھے، بلکہ مختصر دورانیے کے لیے شریک ہوئے تھے۔ جہاں تک اس طرح کی تقاریب میں شرکت کا تعلق ہے تو تحفظاتی ذہن رکھنے والے حضرات یقیناًاس پر معترض ہو سکتے ہیں اور اس کے ڈانڈے یہود وہنود کی خفیہ سازشوں سے بھی جوڑ سکتے ہیں، لیکن ایسی تقاریب جن کا موضوع سخن مختلف مذاہب کی باہمی دلچسپی سے تعلق رکھتا ہو اور خاص طور پر ان کا مقصد اسلام سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ ہو، ان میں غیر ملکی حکومتوں کے نمائندوں کی شرکت کسی بھی طرح کوئی ناقابل فہم بات نہیں، بلکہ اس نوعیت کی تقریبات میں ہمارے ہاں کا عام معمول ہے۔ اس زاویہ نظر سے کم از کم میں ایسی تقریبات میں شریک ہونے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا اور نہ اس پر کسی قسم کی معذرت خواہی یا صفائی پیش کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں۔
مفتی صاحب نے امیر عبد القادر کی شخصیت کے بارے میں بھی اپنے منفی تاثرات کو بڑی وضاحت سے پیش کیا ہے اور یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ان کے اس منفی تاثر کی بنیاد امیر عبد القادرکا ’’شکست خوردہ‘‘ جہاد ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ امیر عبد القادر نے کم وبیش سولہ سال تک فرانسیسی استعمار کے خلاف میدان کارزار میں سرگرم رہنے کے بعد جب یہ دیکھا کہ پوری الجزائری قوم رفتہ رفتہ فرانسیسی کیمپ کا حصہ بن چکی ہے اور ان کے ساتھ بس چند سو کی تعداد پر مشتمل جاں نثار ساتھیوں کی ایک چھوٹی سی جماعت رہ گئی ہے تو انھوں نے اپنی جماعت کو اس بے حاصل کشمکش کی نذر کرنے کے بجائے فرانس کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھانے کا فیصلہ کر لیا اور اپنی جماعت کو بحفاظت جلا وطن کر دیے جانے کی شرط پر فرانس کے ساتھ مصالحت کر لی۔ امیر کی اس حکمت عملی سے اختلاف کرنے والے اختلاف کر سکتے ہیں اور ہر قیمت پر لڑتے رہنے کو ’’عزیمت‘‘ کا عنوان دے کر جہاد کی آئیڈیل صورت بھی قرار دے سکتے ہیں، لیکن یہ حقیقت نظروں سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے کہ اسلامی تاریخ میں اس طرز عمل کے نمونے بھی موجود ہیں جو امیر الجزائری نے اختیار کیا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک جنگ میں پے در پے شکست سے دوچار ہونے کے بعد جب اپنے ساتھیوں کو بحفاظت میدان جنگ سے نکال کر واپس مدینہ منورہ لے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس عمل کی تحسین فرمائی تھی۔ خود ہمارے ہاں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں شکست کے بعد بعض اکابر نے جلا وطنی اختیار کر لی تھی اور دوسروں نے جنگ سے کنارہ کش ہو کر تعلیم وتدریس کے میدان کا انتخاب کر لیا تھا اور اس کے بعد سے، تحریک ریشمی رومال کے استثنا کے ساتھ، دیوبندی تحریک نے بالعموم انگریزی حکومت کے ساتھ تصادم کے بجائے پرامن سیاسی جدوجہد کا طریقہ ہی اختیار کیے رکھا ہے۔
یہ معروضی صورت حال میں مناسب حکمت عملی کے انتخاب کا مسئلہ ہے جس میں وہی فریق بہتر فیصلہ کر سکتا ہے جو اْس صورت حال میں کھڑا ہو۔ یہ کوئی ایسا جرم نہیں کہ اس پر مطعون کرتے ہوئے امیر عبد القادر کو نہ صرف ’’یہود کا گماشتہ‘‘ قرار دے دیا جائے، بلکہ ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی بے بنیاد الزامات عائد کرنے کی کوشش کی جائے۔
مفتی صاحب کی طرف سے امیر کو ’’یہود کا گماشتہ‘‘ قرار دینے کی بنیاد اس نکتے پر ہے کہ انھوں نے ایک دور میں فری میسن تنظیم کی رکنیت قبول کر لی تھی۔ یہ بات درست ہے اور کوئی ڈھکی چھپی نہیں، بلکہ معلوم ومعروف بات ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ امیر نے یہ رکنیت جس حسن تاثر اور جس اعلیٰ جذبے کے تحت قبول کی تھی، بعد میں اس کے حوالے سے عدم اطمینان ہونے پر انھوں نے اس سے علیحدگی بھی اختیار کر لی تھی۔ افسوس ہے کہ مفتی صاحب نے جان کائزر کی کتاب سے وہ اقتباسات تو نقل کر دیے ہیں جو فری میسن سے وابستگی کی تفصیلات بتاتے ہیں، لیکن انھی صفحات پر موجود یہ اطلاع انھوں نے کمالِ دیانت سے حذف کر دی ہے کہ انھوں نے اس تحریک سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ پھر یہ کہ فری میسن سے وابستگی ان کی زندگی کے آخری دور میں دمشق کے قیام کے دوران کا واقعہ ہے، جبکہ فرانس کے خلاف جہاد اور پھر صلح کے معاملات اس سے کئی دہائیاں پہلے گزر چکے تھے جب امیر کو فری میسن کے بارے میں سرے سے کوئی خبر ہی نہیں تھی۔ اس لیے جہاد سے دست برداری کے معاملے میں ان کے طرز عمل کو ان کے ’’یہودی گماشتہ‘‘ہونے سے وابستہ کرنا کسی بھی منطق کی رو سے درست نہیں ہو سکتا۔
مفتی صاحب نے امیر عبد القادر کو ’’ماڈرن جہاد‘‘ کا نمائندہ ثابت کرنے کے لیے یہ نکتہ بھی پیش کیا ہے کہ ان کی تعریف وتوصیف میں اہل مغرب رطب اللسان ہیں، ان کے نام پر امریکہ کی ریاست Iowa میں ایک قصبے کو موسوم کیا گیا ہے اور وہاں کے پبلک اسکولوں میں طلبہ کو امیر کی شخصیت سے واقف کرانے کے لیے ایک مستقل تعلیمی پروگرام چل رہا ہے۔ مفتی صاحب کا سوال یہ ہے کہ آخر ایک ’’سچے مجاہد‘‘ کے ساتھ اہل مغرب اس طرح کا تعلق خاطر کیونکر رکھ سکتے ہیں؟
یہ سوال اہل مغرب کے ہاں امیر کی مقبولیت کے اصل پس منظر کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہے۔ اہل مغرب کے ہاں امیر کی تکریم وتعظیم کا سبب ان کا ’’مجاہد‘‘ ہونا نہیں، بلکہ ایک تو ان کا وہ اخلاقی طرز عمل ہے جو انھوں نے فرانسیسی قیدیوں کی دیکھ بھال اور ان کے جسمانی ومذہبی حقوق کے احترام کے حوالے سے اختیار کیا اور دوسرا بلکہ اصلی سبب ان کا اور ان کے ساتھیوں کا وہ جرات مندانہ کردار ہے جو انھوں نے ۱۸۶۰ء میں دمشق میں مسلم مسیحی فسادات کے موقع پر بے گناہ مسیحیوں کو مسلمانوں کے مشتعل ہجوم سے، جو ان سب کو تہہ تیغ کر دینا چاہتا تھا، بچانے کے لیے ادا کیا تھا۔ درحقیقت امیر کا یہی وہ کردار ہے جس نے اس وقت کے نمایاں ترین مغربی قائدین اور اخبارات وجرائد کو ان کی تعریف میں یک زبان کر دیا اور انھیں مغرب میں اعلیٰ مذہبی اخلاقیات کے ایک مجسم نمونے کے طور پر جانا جانے لگا۔ امریکہ کی ریاست Iowa میں ایک قصبے کو ان کے نام پر موسوم کرنے اور طلبہ کو ان کی شخصیت سے متعارف کرانے کا پس منظر یہی ہے۔ میرے نزدیک اس پہلو سے امیر کی شخصیت نہ صرف آج کے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے، بلکہ اہل مغرب کے سامنے اسلام کے تصور جہاد کے درست تعارف کے لیے بھی ایک گراں قدر اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے۔ افسوس ہے کہ ہم دعوتی ذہن کے تحت ان جیسی شخصیت کی قدر وقیمت محسوس کرنے کے بجائے نفسیاتی شدت احساس کے زیر اثر انھیں مجروح کرنے اور ان کے مقابلے میں فکری واخلاقی بونوں کا امیج بلند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مفتی صاحب نے امیر الجزائری پر ’’حد سے بڑھی ہوئی شہوت پرستی‘‘ کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ یہاں بھی ، افسوس ہے کہ انھوں نے سخت غیر اخلاقی طرز عمل اختیار کیا ہے۔ انھوں نے جان کائزر کی کتاب سے امیر سے میل ملاقات رکھنے والی ایک مغربی خاتون جین ڈگبی کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ امیر کے حرم میں پانچ بیویاں تھیں، لیکن حاشیے میں مصنف کا یہ نوٹ نظر انداز کر دیا ہے کہ جین ڈگبی کی اس اطلاع کی کسی دوسرے ذریعے سے تصدیق نہیں ہوتی اور یہ کہ جین کا یہ بیان محض قیاس آرائی بھی ہو سکتا ہے۔ مفتی صاحب نے مزید ستم یہ کیا ہے کہ خود جین ڈگبی کو، جو امیر کی مجلسوں میں شریک ہونے اور ان سے قریبی سماجی تعلقات رکھنے والے بہت سے مغربی افراد میں سے ایک تھی، امیر کے ساتھ ناجائز تعلقات میں ملوث دکھانے کی کوشش کی ہے۔ میرے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ استنتاج ایک منفی زاویہ نظر سے بعض معلومات کو پڑھنے کا نتیجہ ہے یا اس میں بالقصد اتہام طرازی کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ حقیقت حال جو بھی ہو، بہرحال یہ ایک نہایت افسوس ناک طرز تحریر ہے جسے میں کسی تردد کے بغیر سطحی اور پراپیگنڈا صحافت کا ایک نمونہ قرار دوں گا۔ قارئین، کتاب کے متعلقہ حصوں کے مطالعے سے خود معلوم کر سکتے ہیں کہ نہ تو مصنف کے پیش نظر امیر اور جین ڈگبی کے مابین ناجائز تعلقات کی نشان دہی ہے اور نہ درج کردہ معلومات سے استدلال کے کسی بھی اصول کے تحت یہ نتیجہ یا اس کی طرف کوئی اشارہ ہی اخذ کیا جا سکتا ہے۔ فرض کریں، امیر کی زندگی میں اس قسم کا کوئی پہلو پایا جاتا ہو تو بھی ایسی کسی بات کا زیر نظر کتاب میں درج ہونا خود مفتی صاحب کے مفروضے کی رو سے بھی ناقابل فہم ہے، کیونکہ اگر یہ کتاب کسی سازش کے تحت مسلمانوں میں ’’جعلی‘‘ مجاہد کو ’’حقیقی‘‘ اسلام کے نمائندے کے طور پر متعارف کروانے کے لیے لکھی گئی ہے تو اس کا مصنف اتنا بے وقوف تو نہیں ہو سکتا کہ مسلمانوں میں اخلاقیات کے تصور سے بالکل ناواقف ہو اور امیر کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو کتاب میں بیان کر دے جس سے کتاب کا سارا مقصد ہی سرے سے فوت ہو جاتا ہو۔ انسان بعض دفعہ سازشی مفروضوں کے گھوڑے پر ایسا سوار ہوتا ہے کہ کامن سینس کو بھی پس پشت ڈال دیتا اور بالکل سامنے کی چیزوں کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ مفتی صاحب کو اس اتہام طرازی کے لیے روز قیامت کو اللہ تعالیٰ اور امیر عبد القادر کے سامنے جواب دہی نہ کرنی پڑے۔
آخری گزارش کے طور پر یہی عرض کرنا چاہوں گا کہ کسی بھی شخص کے آرا وافکار یا حکمت عملی سے اختلاف کوئی ناپسندیدہ بات نہیں، لیکن اختلاف کا حسن یہی ہے کہ آپ اخلاقی اصولوں اور آداب اختلاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے تنقید کریں۔ تحریر میں سطحی اور گمراہ کن ہتھکنڈے استعمال کر تے ہوئے سنسنی کی فضا پیدا کر کے وقتی طور پر تو قارئین میں مقبولیت حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن اس طرز تحریر سے وجود میں آنے والے لٹریچر کی عمر اس دنیا میں بھی زیادہ نہیں ہوتی اور آخرت تو ہے ہی اسی لیے کہ وہ دنیا میں لوگوں کی نظروں میں ’مزین‘ کر دیے جانے والے اعمال کی قلعی کھول کر رکھ دے!! اللہم احسن عاقبتنا فی الامور کلہا واجرنا من خزی الدنیا وعذاب الآخرۃ۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
۱۹ اپریل ۲۰۱۳ء
مکرمی ومحترمی جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گزشتہ مہینے آپ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں میرے دفتر میں تشریف لائے اور مجھے ملاقات کی سعادت نصیب فرمائی۔ اس کے لیے میں آپ کا تہ دل سے ممنون ہوں۔ میرے لیے وہ دن یقیناًبے حد خوشی کا دن تھا۔ آپ سے ملاقات کے دو تین بعد آپ کی عنایت سے آپ کے چند کالم، ’’الشریعہ‘‘ اور ’’نصرۃ العلوم‘‘ کے تازہ شمارے بھی ملے جن کے لیے میں آپ کا بے حد مشکور ہوں۔
آپ کو معلوم ہے کہ میں آپ اور عزیزم محمد عمار خان ناصر کی تحریروں کا ایک مدت سے مداح ہوں۔ خصوصاً اس وجہ سے کہ آپ دونوں کے خیالات میں جو توازن اور اعتدال پایا جاتا ہے، وہ ہمارے مذہبی (اور دیگر حلقوں میں) آج کل ناپید ہے۔ تاہم پورے احترام اور عقیدت کے ساتھ میں ’’نصرۃ العلوم‘‘ کے مارچ ۱۲۰۳ء کے شمارے میں آپ کے قلم سے لکھے ہوئے اداریے کے بارے میں اپنی مایوسی اور شکایت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ آپ جیسے معتدل مزاج عالم دین سے مجھے ہرگز توقع نہیں تھی کہ آپ شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب کے اس متعصبانہ بیان کی تائید کریں گے جو موصوف نے ایران کے صدر جناب محمد احمدی نژزاد کے سامنے دیا۔ مجھے شیخ الازہر سے بھی ہرگز یہ توقع نہیں تھی کہ مہمان نوازی کی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وہ اپنے گھر آئے مہمان کو اس طرح ڈانٹ پلائیں گے جیسا کہ ان کے بیان سے عیاں ہے۔
اس سلسلے میں دو تین باتیں سامنے رکھنا ضروری ہے:
۱۔ شیخ الازہر کا یہ شکوہ کہ ایران خلیج کی ریاستوں اور خصوصاً ’’برادر ہمسایہ عرب ملک‘‘ بحرین کے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے، صریحاً غلط بینی اور یک طرفہ فیصلے کے مترادف ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، بحرین میں اہل تشیع کی اکثریت ہے اور اس کے باوجود انھیں نہ شہری حقوق حاصل ہیں اور نہ ہی ووٹ دینے کا حق۔ گزشتہ دو سال سے وہاں شہری حقوق اور سیاسی آزادیوں کے لیے ایک تحریک چل رہی ہے۔ اس تحریک میں یقیناًاہل تشیع کی اکثریت ہے، لیکن اس میں بحرین کے جمہوریت پسند سنی بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ یہ تحریک پرامن تحریک تھی، لیکن اس کو کچلنے کے لیے جس بے رحمی سے فائرنگ کر کے درجنوں شیعوں کو ہلاک کیا گیا اور سینکڑوں لوگوں کو جیل میں ڈالا گیا، حتیٰ کہ ان ڈاکٹروں اور نرسوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا جنھوں نے زخمی مظاہرین کی مرہم پٹی کی تھی۔ یہ سب کچھ بین الاقوامی پریس میں اور خود ہمارے اخبارات میں مسلسل رپورٹ ہوتا رہا ہے۔ شیخ الازہر شکایت کرتے ہیں (اور آپ اس کی تائید کرتے ہیں) کہ ایران، بحرین کے داخلی امور میں مداخلت کر رہا ہے، حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ بحرین کے شاہی نظام کی حفاظت کے لیے ایران نے نہیں، بلکہ ’’برادر عرب ملک‘‘ نے اپنی فوج بھیجی تھی۔
۲۔ میرے علم کی حد تک حکومت ایران کی جانب سے نہ تو سنی ممالک میں شیعہ مذہب کو پھیلانے کی کوئی باقاعدہ کوشش ہو رہی ہے اور نہ ہی، جیسا کہ شیخ الازہر نے الزام لگایا ہے، ’’اہل سنت کے مسلک کو گزند پہنچانے‘‘ کی کوئی مہم چلائی جا رہی ہے۔ ۱۹۷۹ء کے انقلاب کے فوراً بعد یقیناًایران کی مذہبی قیادت میں مسلکی جوش وخروش کی فراوانی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے اندازہ ہو گیا تھاکہ جس چیز کو اولیت حاصل ہے، وہ ایران کے قومی مفادات ہیں، مسلکی ترجیحات نہیں۔
’’الامام الاکبر‘‘ صاحب کو اتنی بات تو معلوم ہونی چاہیے کہ خطے میں گزشتہ تیس سال سے مختلف ملکوں کے درمیان اقتدار کی جو جنگ جاری ہے، اس میں دوسرے ملکوں کی طرح ایران بھی ایک اہم کردار ہے۔ مشرق وسطیٰ اور خلیج میں جو ملک آج برسرپیکار ہیں، وہ شیعہ اور سنی مسلک کے لیے نہیں، عراق، شام، لبنان اور مقبوضہ فلسطین میں اپنا اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اقتدار کی اس جنگ کو شیعہ سنی تنازعے سے تعبیر کرنا ایسا ہی ہے جیسے صدام حسین کا ۱۹۹۱ء میں یہ دعویٰ کہ وہ اہل عرب اور اہل سنت کی بالادستی کے لیے ایران پر حملہ آور ہوا تھا یا امریکہ کا دعویٰ کہ اس نے ۲۰۰۳ء میں جمہوریت کے فروغ کے لیے عراق پر حملہ کیا تھا۔ بلاشبہ ایران کی خارجہ پالیسی، دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح، تضادات کا مجموعہ ہے اور اس کی بنیادی وجہ ایران کے قومی مفادات ہیں جن کی ترجیحات حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہیں۔ اخلاقیات، مسلک اور مذہبی رجحانات کی حیثیت خارجہ پالیسی میں اکثر وبیشتر ثانوی ہوتی ہے۔
۳۔ جہاں تک الازہر کے شیوخ کی علمی دیانت اور اسلامی Integrity کا تعلق ہے تو میرے خیال میں یہ بات جاننے کے لیے گوگل سرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ گزشتہ پچاس سال سے ان حضرات (الا ما شاء اللہ) صدر جمال عبد الناصر، انوار سادات اور حسنی مبارک اور ان کی پالیسیوں کے حق میں کتنے فتوے دیے ہیں اور ہر آمر کی کن کن حیلوں سے ہاں میں ہاں ملائی ہے۔
۴۔ اداریے کے آخر میں آپ کا یہ ارشاد کہ ’’شیخ الازہر آگے بڑھ کر اس مسئلہ پر عالم اسلام کے علمی حلقوں کی باہمی مشاورت کا بھی اہتمام کریں تاکہ اجتماعی طور پر اس سلسلے میں کوئی لائحہ عمل اختیار کیا جا سکے‘‘ ایک نہایت خطرناک تجویز ہے جس کا مطلب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں لیا جا سکتا کہ شیعوں کے خلاف ایک عالمی سنی محاذ بنایا جائے۔ امید ہے، آپ میری معروضات پر ناراض نہیں ہوں گے اور اپنے اس اداریے کے خطرناک مضمرات پر غور فرمائیں گے۔
کل کی طرح آج بھی آپ کا نیاز مند
(ڈاکٹر) ممتاز احمد
[صدر] بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
(۲)
محترم مدیر ماہنامہ الشریعہ
السلام علیکم۔ اللہ آپ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور نظر بد سے محفوظ رکھے۔
آپ بحث و مباحثہ، حالات و واقعات اور مکالموں میں اپنے نظریات پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کا نقطہ نظر پیش کرتے ہیں جو اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آیا۔ یہ ہی اعتدال کی راہ ہے اور قوم کو تنگ نظری سے نکالنے کا راستہ ہے۔
چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ کے ’’صریر خامہ‘‘ پر تبصرہ کے جواب میں میرا ایک مضمون ’’جماعت اسلامی کے ناقدین و مصلحین‘‘ ماہنامہ الشریعہ کے شمارے فروری میں شائع ہوا جس کی نوک پلک سنوارنے اور ایڈٹ کا فریضہ ادا کرنے سے جہاں مضمون کے حسن کو چار چاند لگ گئے وہاں کچھ ابہام بھی پیدا ہوگئے۔ مثلاً مجھے اسلامی جمعیۃ طلبہ کینٹ کا رکن لکھا گیا جبکہ میں شروع سے آخر تک ناظم ہی رہا۔ اس وقت کینٹ کا وجود ہی نہیں تھا، میں گوجرانوالہ کا ناظم تھا۔ کینٹ میں عارضی طور پر مقیم ہوں، میری رہائش پیپلز کالونی میں ہے۔ شاید اس فقرے سے بھی ابہام پیدا ہوا کہ چودھری یوسف صاحب کو جماعت وراثت میں ملی اور مجھے سوچ سمجھ اور پرکھ کر اس کا ساتھ دینا پڑا۔ مگر میں آج تک جماعت اسلامی کا نہ رکن نہ رفیق نہ متفق رہا۔ اگرچہ ایوب خان کے خلاف پی۔ڈی۔ایم کے پلیٹ فارم سے جاتا رہا، گرفتاری کے فورًا بعد کم عمری کی بنا پر چھوڑ دیا گیا، پاکستان قومی اتحاد کی تحریک میں شریک رہا، گوجرانوالہ کی تحریک کے دوران سب سے بڑا مقدمہ مجھ پر درج ہوا، شاہی قلعہ میں میاں محمد عثمان جو کہ دو دفعہ ایم۔این۔اے رہے اور ایک دفعہ ڈپٹی میئر لاہور رہے، طارق چودھری ۱۲ سال سینیٹر رہے، حافظ ڈاکٹر عبد الرحمن مکی لشکر طیبہ کے ساتھ بھی شاہی قلعہ میں رہا، بہاولپور جیل میں میاں طفیل محمدؒ اور ایئر مارشل اصغر خان کے ساتھ رہا، وہ بھی بہاولپور جیل میں تھے۔ ہم نے شاید بہت سے لوگوں سے زیادہ جیلیں کاٹی ہیں، یہ سب کلمہ حق کہنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
میرے استاد محترم صوفی عبد الحمید سواتیؒ ، جن کا مقام اور مرتبہ میرے نزدیک مولانا مودودیؒ سے کم نہیں ہے، کے جانشین محترم مولانا فیاض خان سواتی نے کچھ سوالات اٹھائے ہیں۔ فرماتے ہیں:
’’وہ کون سے سوالات تھے جن سے یہ جبال علم گھبرا جاتے تھے، وہ بھی ایک نو آموز اور مبتدی طالب علم سے۔ ہماری تو معلومات اول الذکر دونوں بزرگوں کے متعلق یہ ہیں کہ وہ اعلاء کلمۃ الحق کے لیے کبھی کسی جابر سلطان کے سامنے بھی حق کہنے سے نہیں گھبرائے، اس لیے الشریعہ کی وساطت سے خواجہ صاحب موصوف کی خدمت میں مؤدبانہ درخواست پیش کریں گے کہ اگر ان کی یادداشت صحیح کام کر رہی ہو تو براہ کرم ان سوالات کی لسٹ الشریعہ میں طبع کرا دیں تا کہ ہماری معلومات میں بھی اضافہ ہو سکے۔ عین ممکن ہے خواجہ صاحب موصوف کو علم ہی نہ ہو اور یہ حضرات اپنی تحریروں تقریروں اور مواعظ میں ایسے سوالات کے جوابات دے چکے ہوں۔ یہ تو بہرحال ان کے سوالات سامنے آنے پر ہی واضح ہو سکے گا۔‘‘
جب میں صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے پاس پڑھنے جایا کرتا تھا، میرا ذہن بالکل صاف تھا۔ تاریخ کا مطالعہ ضرورت سے زیادہ ہی کرتا تھا اور مولانا غلام غوثؒ ہزاروی جو نصرۃ العلوم جامع مسجد شیرانوالہ باغ اور شیرانوالہ باغ میں اکثر آکر تقاریر فرمایا کرتے تھے۔ ان کا بہت معتقد تھا، بلکہ گھر کی مستورات کو بھی ان کی تقاریر سننے کے لیے لے جایا کرتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقول حضرت عائشہ صدیقہؓ قرآن حکیم کے بتائے گئے اخلاق کا جیتا جاگتا نمونہ تھے اور اُن کے یہ پیروکار جب اُن کے منبر پر بیٹھ کر مخالفین پر جو زبان استعمال کرتے، اس وجہ سے میں ان سے دور ہوتا گیا۔ یہ ہی سوال میں محترم صوفی عبد الحمید سواتیؒ سے کرتا کہ یہ بد اخلاقی کہاں اور کس مذہب میں جائز ہے؟
سوال نمبر ۱: مودودی کی لڑکیاں مخلوط اداروں میں جیب میں ایف۔ایل ڈال کر لڑکوں کے ساتھ پڑھتی ہیں۔
سوال نمبر ۲: مودودی کہتا ہے میں نے سرجمال خان لغاری کو کہا ہے کہ لڑکیوں کا دھیان رکھے، اس نے اچھا ہی دھیان رکھا ہوگا۔
سوال نمبر ۳: جب ۱۹۷۰ء میں ۳۱۳ علماء کا یہ فتویٰ آیا کہ سوشلزم، کمیونزم، نیشنل ازم، سرمایہ داری سب کفر ہیں تو فتویٰ دینے والوں میں تمام فرقوں کے جید علمائے کرام شامل تھے جن میں مولانا رسول خانؒ ہزاروی بھی تھے جو کہ مولانا غلام غوثؒ ہزاروی کے استاد بھی تھے، مگر مولانا نے سب کو فتویٰ فروش کہا۔
سوال نمبر ۴: ایئر مارشل اصغر خان کا ذکر کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا: لوگ شاہین پاکستان کہتے ہیں، میں چیل پاکستان کہوں گا۔ میجر جنرل سرفراز مرحوم کو لوگ محاذ لاہور کا ہیرو کہتے تھے، مولانا غلام غوثؒ نے فرمایا کہ میں تو ہیر کہوں گا۔
سوال نمبر ۵: سابق اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل آل انڈیا مسلم لیگ مولانا ظفر احمد انصاریؒ کو جن کی ایک ٹانگ خراب تھی، لنگڑا مودودیا کہا کرتے تھے۔
سوال نمبر ۶: شیخ الحدیث مولانا محمد چراغ ؒ کو سیاہ دل کہا کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ چراغ باہر روشنی دیتا ہے، اندر سے سیاہ ہوتا ہے۔
سوال نمبر ۷: مولانا ضیاء القاسمیؒ اپنی تقریروں میں اکبر الٰہ آبادی کا مشہور شعر یوں سنایا کرتے تھے:
میں نے کہا کہ پردہ تمہارا وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مودودی کے پڑ گیا
سوال نمبر ۸: مدینہ کتاب گھر کے سامنے حاجی صدر دین مرحوم ہوا کرتے تھے جو عوامی لیگ (مجیب الرحمن) کے لیڈروں میں سے تھے۔ ان کے بیٹے انعام الحق مرحوم خود کافی لوگوں کو بتا چکے ہیں کہ اُن کو اِس حد تک مشتعل کیا کہ وہ لاہور مولانا مودودیؒ کے گھر جہاں وہ عصر کے بعد درس دیا کرتے تھے چلے گئے اور مولانا سے ان کی بیٹی کا رشتہ مانگا، مگر مولانا مودودیؒ مرحوم نے جس تحمل سے اسے جواب دیا، وہ اس دن سے مولانا کا گرویدہ ہوگیا۔
اگر میں لکھتا چلا جاؤں تو بہت کچھ اور بھی آئے گا۔ ان باتوں کا استاد محترم صوفی عبد الحمید ؒ سواتی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ آپ کی مسجد نور سے اسلامیہ کالج جاتے ہوئے سامنے کی طرف درزیوں کی کوٹھی مشہور ہے، وہاں ایک لیڈی ڈاکٹر توحید اخترؒ ہوا کرتی تھیں۔ یہ مولانا مودودیؒ کے گھر اکثر جایا آیا کرتی تھیں اور مولانا مودودیؒ کی بیٹیوں سے دوستانہ بھی تھا۔ ان کے کلینک کے آگے گلی نمبر ۱ گوبندھ گڑھ میں دوسرا مکان ان کا تھا۔ یہ پردہ نماز روزہ کی سخت پابند خاتون تھیں۔ ہمارے گھر آیا کرتی تھیں اور میری خالہ زاد بہن کی دوست بھی تھیں۔ مولانا غلام غوثؒ کی تمام باتوں کی تردید کرتی تھیں۔ اس سے مجھ پر وارثانِ محراب منبر کا یہ پہلو بھی آشکار ہوا۔ مفتی محمودؒ جب ولی خان کے اتحادی تھے اور مولانا غلام غوثؒ ہزاروی اُن سے علیحدہ ہوئے تو اُن کے گروپ کو ہزاروی گروپ کہا جانے لگا تو انہوں نے فرمایا جو مجھے ہزاروی گروپ کہے گا میں اسے مریم جمیلہ گروپ کہوں گا۔ پھر یہ کہنا کہ مریم جمیلہ مجھے فون کرتی ہے کہ مجھے مودودی سے بچاؤ۔ ان سوالات کا دفاع کون کرے گا؟
جہاں تک مولانا عبد القیوم ہزارویؒ کا تعلق ہے، مجھے چودھری منظور صاحب جو ان دنوں جمعیۃ العلمائے اسلام کے نیشنل گارڈ کے سالار اعلیٰ تھے، پونڈاں والا مسجد میں ان کے پاس لے گئے۔ مولانا عبد القیومؒ مسجد کے صحن میں دھوپ میں بیٹھے ہوئے تھے اور آگے حدیث شریف کی ایک کتاب رکھی ہوئی تھی۔ میں نے اسے اٹھا کر اونچا رکھنے کو کہا تو اہل حدیث حضرات کے خلاف سخت الفاظ بولنے لگے۔ منظور صاحب نے کچھ خلافت و ملوکیت کے متعلق مجھ سے بات کرنے کو کہا مگر ان کا غصہ اترنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ اس کے بعد ان سے کچھ کہنا اور سننا فضول تھا۔
الشریعہ کے اسی شمارے میں صفحہ ۶ پر زاہد الراشدی صاحب ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’مزاج کے سخت تھے اور مولانا غلام غوث ہزاروی کے زیادہ قریب تھے اور زندگی بھر اسی فکر پر رہے‘‘۔ اسی سختی کی وجہ سے جب پونڈاں والا کی مسجد پر بریلی مکتب فکر کے لوگوں نے قبضہ کیا تو اردگرد سے ایک بھی بندے کی حمایت مولانا کو حاصل نہ تھی۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں۔
یعقوب طاہر مرحوم جماعت اسلامی کے ایک رکن تھے جو جامع مسجد نور میں نماز جمعہ پڑھنے کے لیے آیا کرتے تھے۔ جب صوفی عبد الحمید سواتیؒ صاحب کبھی مولانا مودودیؒ پر تنقید کیا کرتے تو وہ جواب دینے کی کوشش کرتے۔ انہوں نے قاضی مظہر حسینؒ چکوال اور سید نور الحسن بخاریؒ کی خلافت و ملوکیت پر تنقید کا جواب بھی کتابی صورت میں دیا تھا۔ انہیں پکڑ کر مسجد سے نکال دیا جاتا۔ جب آپ اعتراض کرتے ہیں تو جواب بھی سن لینا چاہیے۔
پیرزادہ عطاء الحق قاسمی جوکہ مشہور کالم نگار بھی ہیں، انہوں نے اپنے ایک کالم میں جس کا عنوان تھا ’’دولے شاہ کے چوہے‘‘ لکھا ہے کہ ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے اپنے اپنے مدرسوں میں طالب علموں کے بڑے بڑے دماغوں کو یوں جکڑ رکھا ہوتا ہے اور یوں برین واشنگ کی ہوتی ہے کہ وہ دولے شاہ کے چوہوں سے بھی چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ یہی بات محترم حافظ عمار ناصر صاحب نے اس شمارے میں صفحہ نمبر ۲۷ پر مشعل سیف کو انٹرویو کے دوران کہی ہے:
’’عام طور پر کسی بھی مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ اس کا اہتمام کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو ایک خاص نوعیت کے مسلکی رنگ میں رنگنے کی کوشش کریں۔‘‘
فیاض خان سواتی صاحب بھی میرے لیے محترم ہیں۔ ان کے کہنے پر کچھ سوالات لکھ دیے ہیں، اب اس پر مزید کچھ نہیں لکھوں گا۔ صوفی عبد الحمیدؒ سواتی صاحب پاکستان کے جید، باکردار اور صاحب عمل علماء میں سے تھے۔ ہمارے دل میں ان کا بہت مقام ہے۔ سوالات پوچھنا، غلط فہمیاں دور کرنا اور مطمئن ہونا ہر طالب علم کا حق ہوتا ہے جو مدرسے والے استعمال نہیں کرنے دیتے۔ اگر میں نے یہ کام کیا تو کوئی جرم نہیں کیا۔
خواجہ امتیاز احمد
سابق ناظم اسلامی جمعیۃ طلبہ گوجرانوالہ
الشریعہ اکادمی کا دورۂ تفسیر ۔ مشاہدات و تاثرات
محمد بلال فاروقی
قرآن مجید اللہ کا آخری پیغام اور کتاب ہدایت ہے۔ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ یہ نسل انسانی کے تمام طبقات سے خطاب کرتا ہے۔ ایک طرف اس کے معانی و مطالب اتنے وسیع اور گہرے ہیں کہ ذکی تر ین آدمی ان میں عواصی کرکے احکام و مسائل اور حقائق کے لعل و جوہر نکالتا ہے۔ دوسری طرف قرآن کا دعوتی و تذکیری پہلو ایک عام انسان کی بھی بڑے دل نواز انداز میں راہنمائی کرتا ہے۔بنیادی عقائد (تو حید، رسالت، آخرت) کو ایسے سادہ پیرایے میں بیان کرتا ہے کہ ہر انسان اس کے موثر اسلوب سے اپنے ظرف کے بقدر استفادہ کر سکتا ہے۔ قرآن کریم کے حقائق و معانی اور احکام و مسائل کا استنباط و استخراج تو وہی لوگ کرسکتے ہیں جنہوں نے علوم اسلامیہ کی تحصیل و تکمیل کی ہو اور قرآن کے فہم و مطالعہ میں عمر کا ایک معتدبہ حصہ گزارا ہو، البتہ اس کے دعوتی و تذکیری پہلو سے ہر آدمی استفادہ کرتا ہے۔
خاندان ولی اللہی کی خدمات قرآنیہ
بارہویں صدی ہجری میں مسلمانوں کے سیاسی و مذہبی حالات انتہائی دگر گوں تھے۔ سیادت و حکومت نا اہل اور عیاش لوگوں کے ہاتھ میں تھی تو مذہبی تعلیم میں قرآن و حدیث کے بجائے علوم عقلیہ مہارت کا معیار تھے۔ قرآن و حدیث کی طرف علماء کی توجہ بہت کم تھی ۔ حفاظ اگرچہ ہوتے تھے، لیکن قرآن مجید کے ترجمہ سے مناسبت صرف علماء کو ہوتی تھی۔ اس زمانہ میں امام شاہ ولی اللہ ؒ نے مسلمانوں کی دینی تعمیر و ترقی کے لیے ایک اصلاحی تحریک شروع فرمائی۔ ایک ہمہ گیراصلاحی تحریک کے لیے ضروری تھا کہ اس کی بنیاد وحی الٰہی کتاب اللہ کو قرار دیا جائے، اس لیے شاہ صاحب نے لوگوں کا تعلق قرآن مجید سے جوڑنے کے لیے کوششیں شروع فرمائیں۔ تمام تر مخالفت کے باوجود شاہ ولی اللہؒ نے قرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ شاہ صاحب نے اپنے مدرسے کے نصاب میں ترمیم کی اور درس قرآن کو تعلیم کا لازمی جزو بنایا۔
اس سلسلے کو بعد میں شاہ صاحب کے صاحبزادوں نے جاری رکھا۔ حضرت شاہ صاحب کی وفات کے بعد ان کے بڑے صاحب زادے حضرت شاہ عبدالعزیز نے تفسیر عزیزی لکھی ۔ جب فارسی کا دائرہ محدود ہونے لگا اور عوام میں اردو زبان ترویج پانے لگی تو شاہ صاحب کے دو صاحبزادوں نے اردو میں قرآنی خدمات سرانجام دینا شروع کیں۔ حضرت شاہ رفیع الدین ؒ نے قرآن مجید کا لفظی ترجمہ کیا اور حضرت شاہ عبدالقادر ؒ نے موضح قرآن کے نام سے ترجمہ ومختصر حواشی لکھے۔ یہ ترجمہ و تفسیر علامہ شاہ ولی اللہ کی اصلاحی تحریک کے بڑے کارناموں میں سے ہے۔ ان تراجم کے بارے میں شیخ الہندؒ فرماتے ہیں :
’’مولانا شاہ ولی اللہ، مولانا رفیع الدینؒ اور مولانا شاہ عبدالقادر ؒ کے تراجم کو جب غور سے دیکھا تو یہ امر بلا تامل معلوم ہو گیا کہ اگر متقدمین اکابر قرآن مجید کی اس خدمت کو انجام نہ دیتے تو اس شدت ضرورت کے وقت ترجمہ کرنا بہت دشوار ہوتا۔ علماء کو صحیح ترجمہ اور معتبر ترجمہ کرنے کے لیے متعدد تفاسیر کا مطالعہ کرنا پڑتا اور بہت سی فکر کرنا ہوتی۔ ان وقتوں کے بعد بھی شاید ایسا ترجمہ نہ کرسکتے۔‘‘ (مقدمہ ترجمہ قرآن)
حضرت شیخ الہند کی خدمات قرآنیہ
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں شکست کے بعد انگریز مسلم دشمنی میں حد سے گزر گئے۔ مسلمانو ں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ے گئے۔ مسلمانوں میں جذبہ جہاد ختم کرنے اور انھیں قرآن سے دور کرنے کے لیے انگریزی تعلیمی اداروں اور مشنریوں کا جال بچھا دیا گیا۔ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے شاہ ولی اللہ کی تحریک کے اس وقت کے امام، قاسم العلوم و الخیرات مولانا محمد قاسم نانو توی نے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی جس نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جس کی اس خطے میں کوئی مثال نہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے پہلے شاگرد حضرت شیخ الہند نے اس تحریک کو بام عروج تک پہنچایا اور جگہ جگہ مکاتب قرآنیہ قائم فرمائے ۔ دیوبند کے فضلاء کی ایک باقاعدہ تنظیم جمعیت الانصار اس مقصد کے لیے قائم فرمائی جبکہ دہلی میں ادارہ نظارۃ معارف قرآنیہ قائم فرمایا۔ حضرت مدنی فرماتے ہیں کہ نظارہ معارف قرآنیہ کا مقصد یہ تھا کہ انگریزی تعلیم سے نو جوانان اسلام کے خیالات و عقائد پرجو بے دینی اور الحاد کا زہریلا اثر شروع ہے، اس کو زائل کیا جائے اور قرآن کی تعلیم اس طرح دی جائے کہ ان کے شکوک و شبہات دین اسلام سے دور ہو جائیں اور وہ سچے اور پکے مسلمان بن جائیں۔ (نقش حیات، صفحہ نمبر ۵۵۵)
حضرت شیخ الہند ؒ نے خدمات قرآنیہ کے حوالے سے دو بڑے کارنامے انجام دیے ۔ ایک آپ کا ترجمہ قرآن ہے جو بعد میں ہونے والے تقریباً تمام اردو تراجم کے لیے بنیاد بنا اور دوسرا آپ نے اپنے شاگردوں کے اندر قرآنی تعلیمات کو عام کرنے کا جذبہ پیدا فرمایا۔ مالٹا سے واپسی پر مسلمانوں کے اسباب زوال میں سے قرآن سے دوری کو بڑا سبب قرار دے کر اپنے شاگردوں کو قرآنی تعلیمات عام کرنے کا حکم دیا۔ آپ کے شاگرد جہاں بھی گئے، وہاں محفل قرآن سجادی۔ حضرت سندھی دہلی گئے تو نظارہ معارف قرآنیہ وجود میں آیا۔ حضرت مدنی نے جیل میں حلقہ درس لگا دیا۔ حضرت تھانوی نے تھانہ بھون میں محفل جمائی۔
قیام پاکستان کے بعد اس اصلاحی تحریک کے کارکنوں نے مسلمانان پاکستان میں تعلیمات قرآنیہ عام کرنے کے لیے دورۂ تفسیر کا آغاز فرمایا۔ حضرت لاہوری ؒ نے ( جو خود نظارہ معارف قرآنیہ کے فاضل تھے) نے لاہور میں، حضرت درخواستی نے خانپور میں، مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے گوجرانوالہ میں، ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے لاہور میں، ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب نے صوبہ سرحد میں اور دوسرے بہت سے حضرات نے مختلف مقامات پر پر دورۂ تفسیر کا اجرا فرمایا۔
امام اہل سنت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ
امام شاہ ولی اللہؒ کے دو سلسلوں (بواسطہ شیخ الہند اور بواسطہ حضرت مولانا حسین علی) کے جامع، اما م اہل سنت شیخ الحدیث والتفسیر مولانا سرفراز خان صفدر ؒ دیوبند سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد گکھڑ میں آئے اور قرآن کریم کی ایسی خدمت کی جو شاید ہی کسی دوسرے کے حصے میںآئی ہو۔ ۱۹۴۳ء سے ۲۰۰۱ء تک یعنی پورے ۵۸ برس اپنی مسجد میں درس قرآن دیا، جبکہ ۱۹۴۳ء سے ۲۰۰۱ء تک گورنمنٹ ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ گکھڑ میں درس قرآن دیتے رہے جس میں اسکول و کالج کے اساتذہ و پروفیسر حضرات شریک درس ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ ۱۹۷۶ء سے ۱۹۹۶ء تک جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شعبان ورمضان کی سالانہ تعطیلات میں دورۂ تفسیر بھی پڑھاتے رہے۔ درس قرآن کے حوالے سے حضرت شیخ کا تجدیدی کارنامہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجر انوالہ میں ترجمہ و تفسیر کا مستقل سبق شروع کرنا ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ تھا کہ صبح سب سے پہلا سبق ترجمہ و تفسیر کا ہوتا تھا جس میں درجہ ثالثہ سے دورۂ حدیث تک کے تمام طلبہ شریک ہوتے۔ ۴۵ منٹ کا پیریڈ ہوتا اور ایک سال میں پندرہ پارے مکمل فرماتے۔ چونکہ اس سبق میں روزانہ رکوع سوا رکوع کا درس ہوتا تھا، اس لیے حضرت تفصیل سے تفسیری نکات بیان فرماتے تھے۔ باوجود ضعف و علالت کے یہ سلسلہ ۲۰۰۱ء تک چلتا رہا۔
حلقہ ہائے درس میں آپ مخاطبین کی ذہنی سطح کا لحاظ رکھتے تھے ۔ اگر سامعین عوام ہیں تو انداز بیان سادہ اور ناصحانہ ہوتا۔ اگر مجمع طلبہ و علماء کا ہوتا تو محققانہ ابحاث ارشاد فرماتے ۔ ہر بات با حوالہ بیان کرتے تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے سامع کسی بڑی لائبریری میں بیٹھا ہے۔ باوجود پٹھان ہونے کے آپ عوام کے لیے پنجابی میں درس ارشاد فرماتے تھے اور عقائد کی تصحیح اور بدعات و رسوم کی اصلاح پر آپ کی خاص توجہ ہوتی تھی۔
جب آپ آئے توگکھڑ شرک و بدعت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، لیکن آپ کی محنت سے توحید کی شمع روشن ہوئی۔ اس جدوجہد میں آپ پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا، لیکن آپ پامردی سے اپنا فریضہ ادا کرتے رہے ۔ ہمیشہ داعیانہ و ناصحانہ انداز اختیار فرماتے تھے، کبھی مناظرانہ اسلوب اختیار نہیں فرمایا ۔ عبادات کے بعد آپ معاملات و معاشرت کی اصلاح پر خصوصی توجہ دیتے۔ حقوق العباد کی اہمیت سمجھانے کے لیے آپ اکثر ایک واقعہ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے حوالے سے سنایا کرتے تھے۔ وہ یہ کہ ایک آدمی فوت ہو گیا۔ خواب میں اسے کسی نے دیکھا تو پوچھا، بھئی کیا معاملہ ہوا؟ اس نے جواباً کہا کہ سزا تو نہیں ملی، لیکن جنت کا دروازہ ابھی تک بند ہے ۔ پوچھا گیا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ کہا کہ میں نے کپڑے سینے کے لیے اپنے ہمسایے سے ایک سوئی لی تھی جو واپس نہیں کی۔ جب تک میرے ورثا واپس نہیں کریں گے، تب تک میں جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔
علماء و طلبہ کے حلقہ میںآپ ہرموضوع پر محققانہ بحث فرماتے۔لغات قرآن کے حل کے لیے قاموس، تاج العروس اور منتہی الارب جیسی کتابوں کے حوالے دیتے۔صرفی ونحوی اشکالات کو سہل انداز میں حل فرماتے۔ شاذ و مردود اقوال کو بیان کر کے ان کے شاذ اور مردود ہونے کی وجہ بھی بیان فرماتے۔ قرآن کریم کے بیان کردہ جغرافیائی مقامات کی وضاحت تاریخ ارض قرآن (سید سلیمان ندویؒ ) یا قصص القرآن(مولانا حفظ الرحمن سیو ہارویؒ ) سے فرماتے۔ اس کے علاوہ یہ دروس بے شمار خصوصیات کے حامل ہوتے جن سے ہر کوئی اپنے ظرف کے بقدر فیض پاتا رہا۔ (ملخص از ’’حضرت شیخ الحدیث کا تفسیری ذوق اور خدمات‘‘‘ از مولانا محمد یوسف صاحب، ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘، امام اہل سنت نمبر)
مفسر اعظم حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی ؒ
آپ کے برادر صغیرمولانا عبدالحمید سواتی شارح علوم ولی اللہی بھی اپنے بڑے بھائی سے پیچھے نہ رہے۔ دیوبند سے فراغت کے بعد امام اہل سنت مولانا عبدالشکور لکھنوی سے تقابل ادیان پڑھا اور طب کی تعلیم طبیہ کالج حیدرآباد دکن سے حاصل کی۔ روحانی و جسمانی بیماریوں کے اس معالج نے ۱۹۵۲ء میں گوجرانوالہ میں مسجد نور اور مدرسہ نصرۃ العلوم کی بنیاد رکھی اور قرآنی خدمات میں مشغول ہو گئے۔ مسجد نور میں آپ نے عوام الناس کے لیے درس قرآن کے سلسلے کا آغاز کیا۔ یہ دروس اب ’’معالم العرفان فی دروس القرآن‘‘ کے نام سے چھپ چکے ہیں۔ حضرت مولانا یوسف لدھیانوی ؒ کا ان دروس پر تبصرہ یہ ہے کہ ’’جس توسع سے آیات کریمہ کی تشریح کی گئی ہے، اس پر تفسیر عزیزی کا گمان ہوتا ہے ۔‘‘
حضرت سواتی ؒ اپنے دروس میں قرآن کریم کو بطور فلسفہ حیات پیش فرماتے ہیں۔ جملہ نظام ہائے زندگی پر بحث کرتے ہیں۔ معاشیات ہو یا سیاسیات، جمہوریت ہو یا ملوکیت، سرمایہ دارانہ نظام ہو یا جاگیردارانہ، تمام نظاموں کی خرابیوں کو طشت ازبام کرکے قرآن کریم کو بطور نظام زندگی پیش کرتے ہیں اور قرآن کے انقلابی پروگرام سے روگردانی کے بھیانک نتائج سے آگاہ کرتے ہیں۔ امام ولی اللہ اور مولانا عبیداللہ سندھی ؒ کے انداز میں حکمت و فلسفہ سمجھاتے ہیں۔ انداز بیان سادہ اور پیرایہ دلنشین ہوتا ہے۔ دوران درس اقوام عالم کے عروج و زوال کے اسباب و علل پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور موجودہ سیاسی و سماجی حالات پر جامع تبصرہ فرماتے ہیں۔ ادبی وکلامی مباحث کے بجائے وہ قرآن کے دعوتی و تذکیری پہلو پر توجہ دیتے نظر آئے ہیں۔ متنازعہ افکار و اقوال سے گریز کرتے ہوئے فقہی مسائل و احکام میں برداشت و تحمل کی دعوت دیتے ہیں۔ (ملخص از مقالہ ایم فل مولانا وقار احمد صاحب)
مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی
مولانا سرفراز خان صفدر ؒ کے صاحبزادے اورمولانا سواتی ؒ کے بھتیجے مولانا زاہد الراشدی ان دونوں شخصیات کے حقیقی جانشیں ہیں۔ تحریک، تحریراور تدریس کے شاہ سوار ہیں۔ عصر حاضر کے موضوعات ومباحث کا خصوصی ذوق رکھتے ہیں اور اس حوالے سے اخبارات وجرائد میں ہزاروں صفحات سپرد قلم کر چکے ہیں۔ ۲۰۰۱ء کے بعدسے آپ جامعہ نصرۃالعلوم گوجرانوالہ کے تین بڑے مناصب (شیخ الحدیث، ناظم تعلیمات، صدر مدرس) کے عہدہ پر فائز ہیں اور بخاری شریف، طحاوی شریف اور حجۃ اللہ البالغہ کے اسباق پڑھاتے ہیں ۔
الشریعہ اکادمی کا دورۂ تفسیر
شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر نے جامعہ نصرۃ العلوم میں ترجمہ و تفسیرکا جو سبق طلبہ کے لیے شروع کیا تھا، ۲۰۰۱ء کے بعد سے وہ مولانا زاہد الراشدی کے ذمے ہے۔ گزشتہ دو سال سے علامہ زاہد الراشدی نے ۱۹۹۶ء سے ٹوٹے ہوئے سالانہ دورۂ تفسیر کے سلسلے کو دوبارہ جوڑا ہے اور اپنے ادارے الشریعہ اکادمی میں دورۂ تفسیر کا آغاز فرمایا ہے جو کامیابی سے جاری و ساری ہے۔ اپنے ذوق کے مطابق حضرت نے دورہ کی افادیت کو بڑھانے کے لیے اس میں کئی نئے اور مفید پہلو شامل کیے ہیں۔ راقم الحروف کو بھی اکادمی کے دورۂ تفسیر میں شرکت کا موقع ملا ۔ ذیل میں، اپنے مشاہدات کی روشنی میں ترجمہ وتفسیر کے اساتذہ اور ان کے ذوق تفسیر کا اجمالی تعارف اور محاضرات قرآنیہ کا مختصر تذکرہ کیا جائے گا۔
عام طور پر دورۂ ہائے تفسیر میں ایک ہی بزرگ عالم دین پورے قرآن مجید کا ترجمہ و تفسیر پڑھاتے ہیں جس میں صرف ایک ہی طرز کے منہج تفسیر اورذوق کا پتہ چلتا ہے۔ الشریعہ اکادمی کے دورہ تفسیر میں چار پانچ اساتذہ تدریس کرتے ہیں جس کی وجہ سے مختلف مناہج سے آگاہی حاصل ہوتی ہے اورمختلف اذواق کا پتہ چلتا ہے۔ اکادمی کے دورۂ تفسیر میں محاضرات علوم قرآنیہ کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے ۔ صبح ترجمہ و تفسیر کا سبق ہوتا ہے جبکہ ظہر کے بعد علوم قرآنیہ میں سے کسی موضوع پر محاضرہ ہوتا ہے جس میں علوم قرآنیہ کا تعارف پیش کیا جاتا ہے۔
مفکر اسلام مولانا زاہد الراشدی قرآن کریم کا عمومی ترجمہ و تفسیر اپنے والد محترم کے طرز پر سمجھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن کریم پر مستشرقین کے اعتراضات اور اہل مغرب کے فکری مغالطوں کا مدلل جواب ارشادفرماتے ہیں۔ احکام القرآن اور عالمی قوانین کا موازنہ کرتے ہیں۔ عالمی قوانین کی کمزوریوں کو افشا کرتے اور قرآن کے احکام کو دلائل سے قابل عمل ثابت کرتے ہیں۔ مغربی انسانی حقوق کے بالمقابل اسلامی انسانی حقوق کا تصور پیش کرتے ہیں۔ حقوق النساء کے حوالے سے پیداکی جانے والی گمراہیوں کا مدلل انداز محاکمہ کرتے ہیں۔ احکام القرآن کے ضمن میں پاکستان اور پوری دنیا میں کی جانے والی علماء کی جدوجہد کا تذکرہ بھی کرتے ہیں۔
مولانا ظفر فیاض صاحب گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ درس نظامی کی تکمیل جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے کی اور یہیں دینی علوم کی تدریس بھی کر رہے ہیں۔ انھوں نے تفسیر مولانا سرفراز خان صفدر ؒ سے اور ولی اللہی علوم حضرت سواتی سے پڑھے ہیں۔ قدیم و جدید موضوعات کا یکساں مطالعہ رکھتے ہیں۔ دوران درس ترجمہ سمجھانے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور سلیس اور عام فہم ترجمہ اور مختصر لیکن جامع تفسیر بیان کرتے ہیں۔ امام اہل سنت کی طرز پر آیات اور سورتوں کا ربط بیان فرماتے ہیں۔
مولانا فضل الہادی صاحب بٹگرام سے تعلق رکھتے ہیں اور مانسہرہ میں ہی تدریس کرتے ہیں ۔ تعلیم کا اکثر عرصہ مدرسہ نصرۃالعلوم میں گزارا اور سند فراغت جامعہ دارالعلوم کراچی سے حاصل کی۔ تفسیر اجمالاً (سالانہ دورۂ تفسیر میں) و تفصیلاً (دوران سال میں ترجمہ و تفسیر) امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر سے پڑھی ہے۔ عربی زبان و ادب میں مہارت رکھتے ہیں۔ فی البدیہہ عربی نظمیں اور قصائد کہتے ہیں اور علم میراث توان کی جیب کی گھڑی ہے۔ پیچیدہ ترین مسائل منٹوں میں حل فرما دیتے ہیں۔ سبق ایسے پڑھاتے ہیں کہ کلاس میں ہی طلبہ کو یاد ہوجاتا ہے ۔ حضرت نے ہمیں پہلے دس پارے پڑھائے ۔ پہلے حافظ الحدیث حضرت درخواستی ؒ کے طرز پر مضامین قرآنیہ کی تقسیم فرماتے ہیں۔ مثلاً سورۃ بقرۃکے مضامین کی تقسیم یوں فرمائی: ایک مقدمہ، تین مقاصد اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔ پھر مقاصد کو آگے ابواب میں تقسیم کرکے پوری سورت کا خلاصہ بیان فرما دیتے ہیں۔ اس کے بعد عمومی تفسیر و ترجمہ حضرت امام اہل سنت کے طرز پر سمجھاتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ کے علوم خمسہ (علم الاحکام، علم مجادلہ، تذکیر بآلأاللہ، تذکیر باایام اللہ، تذکیر بذکر الآخرۃ) کے مطابق ہرآیت کا عنوان بتاتے ہیں۔ ما قبل سے ربط حضرت مولانا سرفراز صفدر ؒ اور حضرت تھانوی ؒ کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں۔ ہم نے استا ذ مکرم کی علم میراث پر مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نماز مغرب کے بعد سراجی بھی پڑھ لی ۔
مولانا محمد عمار خان ناصر، مولانا سرفراز خان صفدر کے پوتے اور علامہ زاہد الراشدی کے بیٹے ہیں۔ انتہائی قابل،وسیع المطالعہ اور ذی فہم مدرس ہیں۔ حدیث و تفسیر، فقہ و کلام، منطق و فلسفہ قدیم و جدید پر یکساں عبور رکھتے ہیں۔ دس سال سے زائد عرصہ تک جامعہ نصرۃ العلوم میں تدریس کی ۔آج کل گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں ایم فل کے طلبہ کو تدریس کے علاوہ تصنیف و تالیف میں مشغول ہیں۔ اس کے علاوہ ماہنامہ الشریعہ جیسے علمی و تحقیقی مجلہ کے منصب ادارت پر فائز ہیں۔ مولانا، نظم قرآنی پرمہارت رکھتے ہیں۔ مضامین قرآنی کو ایسی ترتیب سے بیان کرتے ہیں جیسا کہ موتیوں کی لڑی ہو۔ عربی واردو ادب پر دسترس رکھنے کی وجہ سے ترجمہ انتہائی سلیس اور عام فہم کرتے ہیں۔ بلاغت قرآنی کو بڑے سہل انداز میں سمجھاتے ہیں ۔ آیات کی تفسیر متقدمین مفسرین کے منہج کے مطابق بیان فرماتے ہیں ۔ ان کے درس کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ دوران سبق میں تدبر قرآنی کی عملی تربیت بھی دیتے ہیں۔
مولانا محمد یوسف صاحب، شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر سے فیض یافتہ اور جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل ہیں۔ ترجمہ و تفسیر میں امام اہل سنت کا طرز اختیار فرماتے ہیں۔ ربط بھی حضرت کے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت کا خصوصی ذوق تفسیر بالحدیث ہے۔ تقریباً ہرآیت کی تفسیر میں حدیث ذکر کرتے ہیں اور اس میں اکثر تفسیر ابن کثیر کا حوالہ ارشاد فرماتے ہیں۔
محاضرات قرآنیہ
الشریعہ اکادمی کے دورۂ تفسیر کی دوسری خصوصیت محاضرات علوم قرآنیہ ہیں۔ نماز ظہر کے بعد ہر ہفتے میں دو یا تین محاضرات ہوتے ہیں۔ دورہ تفسیر کے پہلے سال قرآ ن کا دعوتی و تذکیری پہلو، مناہج تفسیر ، قرآن کریم پر مستشرقین کے اعتراضات، ختم نبوت، انسانی حقوق کا عالمی چارٹر، شیخ الہند اور ان کے رفقاء کی خدمات قرآنیہ، ناسخ و منسوخ اور اصول فقہ کے موضوعات پر محاضرات کا اہتمام کیا گیا۔
’’قرآن کریم کا دعوتی و تذکیری پہلو‘‘ کے عنوان پر محاضرہ میں مولانا عمار خان ناصر نے یہ نکتہ واضح فرمایا کہ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والے شخص کے پیش نظر یہ بات رہنی چاہیے کہ قرآن کریم بنیادی طور پر ایک کتاب تذکیر ہے اور اس سے تذکیر حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن کے متن پر توجہ مرکوز رکھیں اور زائد تفصیلات میں الجھنے سے حتی الامکان گریز کریں۔ مولانا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے کی مثال دی کہ اگر اس کو قصہ و کہانی کے انداز میں دیکھا جائے تو کئی پہلو تشنہ رہ جاتے ہیں، لیکن قرآن کریم صرف ان پہلوؤں کو ذکر کرتا ہے جو تذکیر کے پہلے سے مقصود ہیں ۔ اسی طرح حضرت یوسف ؑ کا واقعہ اگرچہ تفصیلی ہے، لیکن وہی امور مذکور ہیں جن سے انسان کی تربیت مقصود ہے۔
ڈاکٹر اکرم ورک صاحب نے ’’قرآن کریم پر مستشرقین کے اعتراضات ‘‘ کے عنوان پر لیکچر دیا۔ ڈاکٹر اکرم ورک صاحب الشریعہ اکادمی کے قدیم رفقاء میں سے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات میں ڈاکٹریٹ کر چکے ہیں اور مستشرقین کے نظریات ان کے مطالعہ وتحقیق کا خاص موضوع ہے۔ ان کا وقیع مقالہ ’’متون حدیث پر جدید ذہن کے اشکالا ت‘‘ کے زیر عنوان کتابی صورت میں چھپ چکا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب نے پہلے استشراق کی تاریخ کو بیان کیا۔ اس کے بعد چند مغربی مستشرقین اور ان کی کتب کا تعارف کروایا اور طلبہ میں اس موضوع پر مطالعہ کا شوق پیدا کرنے کی کوشش کی ۔
مولانا سید متین شاہ صاحب، جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے فاضل اور ادارۂ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد سے وابستہ ہیں ۔نہایت وسیع المطالعہ نوجوان عالم دین ہیں۔ مولانا نے تقریباً دس مناہج تفسیر مثلاً (اصلاحی، کلامی، بلاغی وغیرہ) کا تعارف کرایا اورپھر ان مناہج پر لکھی جانے والی کم از کم تین تین تفاسیر کا ذکر کیا۔ ڈیڑھ پونے دو گھنٹے کا یہ محاضرہ اتنا مدلل اور پر مغز اور انداز بیان اتنا خوبصورت تھا کہ وقت گزرنے کا احساس اس وقت ہو ا جب عصر کی اذان شروع ہوئی اور مولانا کو محاضرہ ختم کرنا پڑا۔
مولانا مشتاق احمد چنیوٹی صاحب نے ’’ختم نبوت‘‘ کے موضوع پر دو محاضرے ارشاد فرمائے۔ مولانا، حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب کے ادارہ مرکزیہ دعوۃ و الارشاد میں تخصص فی رد القادنیۃ کے نگران ہیں اور اس موضوع پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ مولانا نے مرزا کی شخصیت، اس کے دعاوی، حیات عیسیٰ اور مرزا قادیانی کے قرآن سے استدلالات کے حوالے سے مفصل گفتگو فرمائی۔
استاذ مکرم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے ’’انسانی حقوق کا عالمی چارٹر‘‘ کے موضوع پہ بیان فرمایا۔ استاذ محترم اس موضوع پر اتھارٹی ہیں۔ اس موضوع پر آپ درجنوں محاضرات اور تفصیلی مضامین لکھ چکے ہیں۔ مولانا نے چارٹر کی ان شقوں کو اپنا موضوع بنایا جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ ان کی کمزوری کو بیان کیا اور پھر اسلامی نظریہ کو دلائل سے قابل عمل اور راجح ثابت کیا۔
حافظ نصیر احمد احرار صاحب جامعہ اشرفیہ کے فاضل ہیں اور جمعیت طلبہ اسلام کے مرکزی صدر رہ چکے ہیں ۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ پر وسعت مطالعہ کے حامل ہیں۔ انھوں جماعت شیخ الہند کی خدمات قرآنیہ کو تفصیلاً بیان فرمایا۔ محاضرہ کے بعد سوال و جواب کی نشست ہوئی جس میں دو قومی نظریہ کے حوالے سے دلچسپ مباحثہ ہوا۔
مولانا وقار احمد صاحب مدرسہ نصرۃالعلوم کے فاضل ہیں اور اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے مولانا عبدالحمید سواتی ؒ کی تفسیری خدمات پر مقالہ لکھ کر ایم فل کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں ۔ مولانا، الشریعہ اکادمی کے دورۂ تفسیر کے ناظم بھی ہیں۔ مولانا نے نسخ کی تعریف، مقصد اور فلسفہ بیان کرنے کے بعد متعلقہ آیات کے حوالے سے متاخرین علماء میں سے امام شاہ ولی اللہ کی بیان کردہ توجیہات کو سمجھایا۔
مولانا حافظ محمد رشید صاحب اکادمی کے پرانے رفقاء میں سے ہیں۔ دارالعلوم کراچی کے فاضل ہیں اور گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ سے علوم اسلامیہ میں ایم فل کر چکے ہیں۔ مولانا نے ’’حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ؒ کی تصانیف میں اصول فقہ کی مباحث‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھا ہے ۔ اپنے مقالہ کی روشنی میں اصول فقہ کی مبادیات کا ذکر کرنے کے بعد مولانا سرفراز خان صفدر کی تصانیف میں سے متعلقہ مباحث کی تلخیص بیان فرمائی ہے۔
جامعہ ابو ہریرہ، نوشہرہ کے مہتمم اور معروف مصنف ومحقق حضرت مولانا عبدالقیوم حقانی صاحب کا ایک محاضرہ طے تھا، لیکن وہ کسی عذر کی بنا پر تشریف نہ لاسکے، البتہ انہوں نے اپنی کتابوں کا سیٹ طلبہ کے لیے بھجوایا۔
دورۂ تفسیر کے ضمن میں ایک سعادت یہ بھی حاصل ہوئی کہ مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ نے احادیث مسلسلات کی اجازت ہمیں عنایت فرمائی۔
اکادمی کی انتظامیہ نے طلبہ کے لیے اہل علم سے ملاقاتوں کا اہتمام بھی کیا۔ ایک موقع پر طلبہ، حضرت مولانا مفتی محمدعیسیٰ صاحب گورمانی (دامت برکاتہم العالیہ )کے پاس حاضر ہوئے۔ باوجود ضعف و علالت کے حضرت نے عصر سے مغرب تک ہمارے ساتھ گفتگو فرمائی اور کئی نصائح ارشاد فرمائے۔ حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا سرفراز خان صفدر ؒ اور مولانا سواتی ؒ کے ساتھ گزرے وقت کی یادیں بھی بیان فرمائیں۔ آخر میں دعاؤں کے ساتھ رخصت فرمایا۔ اس کے بعد شرکاء دورۂ تفسیر کو جامعہ نصرۃ العلوم لے جایا گیا جہاں حضرت مولانا عبدالقدوس قارن صاحب سے ملاقات ہوئی۔ حضرت بڑے تپاک سے ملے۔ ان دنوں حضرت کی طبیعت ناساز تھی۔ ہمیں بھی دعاؤں کے لیے کہا اور خود ہمارے لیے بھی دعائیں کیں۔ مولانا قارن سے اجازت لے کر ہم جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا فیاض خان سواتی صاحب کے پاس حاضر ہوئے ۔حضرت نے کمال شفقت سے سب کا تعارف پوچھا اور حال احوال دریافت کیا ۔ آخر میں اپنے تحریر کردہ دو رسائل ہمیں عطا فرمائے۔
اکادمی کی انتظامیہ کا رویہ طلبہ کے ساتھ انتہائی مشفقانہ اور دوستانہ تھا۔ مولانا وقار احمد صاحب (ناظم دورہ تفسیر) اور مولانا محمد رشید صاحب طلبہ کی حوصلہ افزائی فرماتے،مطالعہ کا شوق ابھارتے اور طلبہ کے آرام کا مکمل خیال رکھتے ہیں، یہاں تک کہ کھانے کا مینو بھی طلبہ کے مشورہ سے مقرر کیا جاتا ہے۔
دورۂ تفسیر کے اختتام پر ایک سادہ اور پر وقار تقریب منعقد ہوئی جس میں استاد مکرم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے بیان فرمایا اور طلبہ کو اکا دمی کی مطبوعات کا ایک ایک سیٹ عنایت فرمایا۔ اکادمی کی یہ کوشش انتہائی قابل قدر اور مبارک ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو جاری و ساری رکھے اور اس کے فیض کو پھیلاتا رہے۔ (آمین)
’’صاحب قرآن‘‘
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مصنف: ڈاکٹر محمد شکیل اوج
ناشر: شعبہ سیرت، جامعہ کراچی۔ (مکتبہ امام اہل سنت پر دستیاب ہے)
صفحات: ۔ قیمت: ۳۵۰۔
آج کی دنیا میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وسنت کے ہمارے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ بھٹکی ہوئی بلکہ مسلسل بھٹکتی ہوئی انسانی سوسائٹی کو آسمانی تعلیمات اور فطرت سلیمہ کی طرف واپس لانے کے لیے قرآن کریم اور سنت نبوی کو عصر حاضر کی زبان واسلوب اور نفسیات وضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے پورے شعور وادراک کے ساتھ پیش کیا جائے اور لادینی تہذیب وتعلیم نے قرآن وسنت کی تعلیمات کے گرد شکوک وشبہات کا جو وسیع جال پھیلا رکھا ہے، انسانی ذہن کو حکمت وتدبر کے ساتھ اس دام ہم رنگ زمین سے نکالنے کی جدوجہد کی جائے۔
محترم ڈاکٹر محمد شکیل اوج کی علمی وفکری کاوشیں وقتاً فوقتاً نظر سے گزرتی رہتی ہیں اور خوشی ہوتی ہے کہ وہ بھی ارباب فکر ودانش کے اس قافلے میں شامل ہیں جو اس شعور سے نہ صرف بہرہ ور ہے بلکہ اس کے مطابق پیش رفت بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ زیر نظر کتاب ’’صاحب قرآن‘‘ ان کے چند مضامین ومقالات کا مجموعہ ہے جو جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے بعض پہلوؤں کے بارے میں ہیں اور ان کے حسن ذوق اور سعی ومحنت کے آئینہ دار ہیں۔ میں نے ان پر ایک نظر ڈالنے کی سعادت حاصل کی ہے اور یہ دیکھ کر میری مسرت میں اضافہ ہوا ہے کہ نتائج فکر کے بعض پہلوؤں سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود ان کی تحقیق وجستجو کا رخ صحیح سمت میں ہے اور عصر حاضر کی ضروریات اور تقاضوں کے ادراک کا پس منظر رکھتا ہے۔
سیرت طیبہ کے بارے میں کوئی بھی علمی کاوش حرف آخر کا درجہ نہیں رکھتی اور اس میدان میں خوب سے خوب تر کی گنجائش ہمیشہ موجود رہے گی، لیکن مبارک باد کے مستحق ہیں وہ اصحاب علم ودانش جو اس خوب تر کی تلاش میں آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت وعقیدت کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ نسل انسانی کی راہ نمائی کا سامان فراہم کرنے کی کوشش بھی کرتے رہتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب موصوف کی اس کاوش کو قبولیت سے نوازیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ بنائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
خسرہ کا مجرب علاج
حکیم محمد عمران مغل
خسرہ ایک متعدی مرض ہے۔ اس کا تعلق ایک مخصوص وائرس سے ہوتا ہے۔ صفراوی مزاج رکھنے والے بچے فوری اس کی زد میں آتے ہیں۔ اس کے ساتھ بخار بھی لازمی ہوتا ہے۔ نزلہ، زکام، کھانسی کی شکایت ہوتی ہے۔ پھر چوتھے دن جسم پر خشخاش یا باجرہ نما باریک دانے ظاہر ہوتے ہیں جو آپس میں ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ زبان پر سفید تہہ جم جاتی ہے۔ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ ابکائیاں آنے لگتی ہیں۔ مزاج حد درجہ چڑچڑا ہو جاتا ہے اور بھوک ختم ہو جاتی ہے۔ تین دن کے یہ دانے ڈھلنے لگتے ہیں۔ دانے ختم ہونے کے بعد باریک بھوسی جسم سے اترنے لگتی ہے۔ بچے کا پیشاب گاڑھا اور سرخ ہو جاتا ہے۔
اس کا علاج یہ ہے کہ اگر بچے کو سردی لگ جائے تو پہلے اس کا تدارک کریں اور درج ذیل مقوی قلب ادویہ دیں: خمیرہ مروارید، چھوٹا چمچ نصف صبح شام سادہ پانی یا عرق گاؤزبان سے دیں۔ کھانسی بار بار ستائے تو لعوق سپستان آدھا چمچ دن میں چار مرتبہ چٹائیں۔ یہ تیار شدہ ادویہ ہیں جو آپ سفر وحضر میں بلا خوف دے سکتے ہیں۔
ذیل میں میرا ایک مجرب نسخہ درج ہے۔ اسے خود تیار کر کے بچے کو دیں۔
ہو الشافی: خاکسی، ایک چھوٹا چمچ۔ یہ خشخاش کی طرح باریک باریک دانے ہوتے ہیں۔ تھوڑی سی ملٹھی، تقریباً ایک آدھ انچ۔ دو سے چار دانے عناب کے (توڑ کر)۔ یہ سب چیزیں ایک یا ڈیڑھ گلاس پانی میں دو تین جوش دے کر ٹھنڈا کر لیں۔ مناسب سمجھیں تو شہد یا چینی سے مزید میٹھا کر لیں اور سوتے وقت پلا دیں۔ صبح اللہ کے فضل سے کملایا ہوا پھول کھلکھلایا ہوا لگے گا۔ خوراک دن میں دو بار بھی دے سکتے ہیں۔ قرشی یا کسی بھی اچھے دوا خانہ کے شربت عناب کا بڑا چمچ صبح شام پلا دیا کریں۔
یہ نسخہ پرانے اطبا نے زندگی بھر کی محنت شاقہ سے ترتیب دیا ہے۔ میں تیس سال سے صرف اور صرف یہی نسخہ استعمال کر رہا ہوں۔ آج تک اللہ نے ناکامی نہیں دکھائی۔ یاد رکھیں، کھانسی، نزلہ، زکام، بخار، خسرہ اگر خدا نخواستہ بگڑ گیا تو بچے کی ساری زندگی برباد ہو جائے گی۔ دوران مرض میں ہوا اور پانی کی تبدیلی بلا وجہ نہ کریں اور عام جسمانی کمزوری کا بھی خیال رکھیں۔ مرطوب ہوا بھی نہ ہو۔ خمیرہ مروارید آب حیات سمجھ کر دیتے رہیں۔ دلیہ، ساگو دانہ، کھچڑی، کالے چنے، جس چیز میں بھی بچہ رغبت محسوس کرے، دے دیں۔ خمیرہ ابریشم حکیم ارشد والا سونے پر سہاگہ ہے۔ مریض کو بازار کی کوئی چیز نہ دیں۔ جب مرض کی شدت ختم ہو جائے تو بکرے کی اوجھڑی کا سالن دیں۔