طالبان کے ساتھ مذاکرات ۔ ضرورت اور تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
صدر اوبامہ نے دوسری مدت صدارت کی پہلی پالیسی تقریر میں ۲۰۱۴ء کے آخر تک افغان جنگ ختم کر دینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ القاعدہ کو غیر موثر بنانے کا ان کا ہدف پورا ہوگیا ہے، اس لیے اب جنگ کو مزید جاری نہیں رکھا جائے گا۔
یہ جنگ ’’القاعدہ‘‘ کے خلاف تھی یا ’’افغان طالبان‘‘ اس کا اصل ہدف تھے؟ جن افغان طالبان کی حکومت کو نیٹو افواج کی عسکری یلغار کے ذریعہ ختم کر دیا گیا تھا، ان سے مذاکرات کی مسلسل کوششیں اس جنگ میں امریکہ اور نیٹو افواج کی ’’کامیابی‘‘ کی اصل کہانی بخوبی بیان کر رہی ہیں اور اس سلسلہ میں ہمیں کچھ عرض کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی، جبکہ خطہ سے امریکی اور نیٹو افواج کے بڑے حصے کے انخلا کے بعد صورت حال کیا ہوگی؟ اس کے بارے میں کچھ کہنا شاید قبل از وقت ہو، البتہ پاکستان کی سیاسی اور فکری دانش کے بعض دائروں میں ممکنہ ’’خطرات و خدشات‘‘ پر جو واویلا بھی شروع ہوگیا ہے، اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
ہمارے بعض دانشوروں کو یہ خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ افغانستان میں افغان طالبان اپنی واپسی کی صورت میں پہلے سے زیادہ طاقت ور ہوں گے اور ایک بڑی قوت کے مقابلہ میں فتح کا احساس ان کی قوت کو دو آتشہ کر دے گا۔ اس لیے پاکستان پر ان کے فکر و فلسفہ کے اثر انداز ہونے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بالخصوص اس صورت میں کہ پاکستان میں طالبان کے فکر و فلسفہ کے حامل لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور بوقت ضرورت وہ ایک موثر قوت کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں ہمارے ان دانش وروں کو اے این پی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے اس متفقہ موقف کے بارے میں بھی تحفظات درپیش ہیں کہ پاکستانی طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش کو قبول کیا جائے اور مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ حل کر کے امن کے قیام کو ترجیح دی جائے۔ حالانکہ اے این پی کی اس اے پی سی کا یہ موقف پوری قوم کی دل کی آواز ہے اور موجودہ حالات کے تناظر میں باہمی جنگ و جدال کی دلدل سے نکلنے کا اس کے سوا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا لیکن دانش کی ایک سطح کو یہ خوف لاحق ہے کہ اس سے طالبان کو اپنی سوچ اور وژن کے مطابق نفاذِ اسلام میں پیش رفت کا موقع مل سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں مزید کچھ عرض کرنے سے قبل اس بات کی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے کہ ہم نے اپنی گزارشات میں ہمیشہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھا ہے اور یہ فرق آج بھی پوری طرح ہمارے سامنے ہے۔
افغان طالبان جہادِ افغانستان میں روسی استعمار کی شکست اور سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد رونما ہونے والی اس خانہ جنگی کے رد عمل میں منظر عام پر آئے تھے جو مغربی قوتوں نے جہادِ افغانستان کے ذریعے سوویت یونین کے خلاف اپنے مقاصد کے حصول کے بعد افغانستان کو تنہا چھوڑ دینے کی شعوری یا غیر شعوری پالیسی اختیار کر کے پیدا کی تھی اور جسے ختم کرنے کی کسی سنجیدہ کوشش کی بجائے افغان مجاہدین کی اتحادی قوتوں نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ کر اس خانہ جنگی کی عملاً حوصلہ افزائی کی تھی۔
افغان طالبان نے جہاد افغانستان کے نظریاتی مقاصد کے حصول اور افغانستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے میدان میں قدم رکھا اور کامیابی حاصل کی جسے القاعدہ کی آڑ میں امریکہ اور نیٹو کی فوجوں نے عسکری یلغار کے ذریعہ ختم کر دیا۔ اس کے بعد سے وہ افغانستان پر غیر ملکی جارحیت کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اسی جوش و جذبہ کے ساتھ لڑ رہے ہیں جس کے ساتھ انہوں نے سوویت یونین کی عسکری جارحیت کے خلاف جنگ لڑی تھی مگر پاکستانی طالبان کا دائرہ اس سے مختلف ہے۔ انہوں نے پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے ہتھیار اٹھائے اور ان کا آغاز حکومت پاکستان کے ساتھ نفاذ شریعت کے ایسے معاہدات سے ہوا تھا جو ملک کے دستوری فریم ورک کے اندر تھے مگر ان سے کیے گئے وعدوں کو عمدًا توڑ دیا گیا، ہم سمجھتے ہیں کہ اگر پہلے صوفی محمد کے ساتھ اور پھر پاکستانی طالبان کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں کی پاسداری کی جاتی تو آج یقیناًیہ صورت حال نہ ہوتی جو ہمارے ان دانش وروں کو پریشان کر رہی ہے۔ ہم نے پاکستانی طالبان کے ہتھیار اٹھانے کی کبھی حمایت نہیں کی اور نہ ہی اب اسے درست سمجھتے ہیں لیکن ان کے اس مطالبہ کی سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کے ساتھ مختلف مواقع پر جو معاہدات کیے گئے ہیں ان کی پابندی کی جائے اور ان پر عملدرآمد کیا جائے بلکہ ہم اس سے آگے بڑھ کر یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ ریاست سوات، بہاول پور اور قلات کو پاکستان میں شامل کرتے وقت ان کے عدالتی نظام کے بارے میں جو معاہدے کیے گئے تھے اگر انہیں سرد خانے میں نہ ڈال دیا جاتا تو صوفی محمد یا پاکستانی طالبان اور عسکریت پسندوں کا دور دور تک کوئی وجود نہ ہوتا۔ اس لیے ہم اس تاریخی تسلسل کو کسی طرح نظر انداز نہیں کر سکتے کہ آج کی صورت حال ان مذکورہ معاہدات کی خلاف ورزی کا رد عمل اور منطقی نتیجہ ہے اور اس صورت حال سے نکلنے کے لیے قوم کو بحیثیت قوم ان معاہدات کی طرف واپس جانا ہوگا، اس کے بغیر ان خطرات و خدشات کے سدباب کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے جس کا ہمارے دانش وروں کی طرف سے اظہار کیا جا رہا ہے۔ ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ بعد کی ساری باتیں چھوڑ دیجئے صرف ان معاہدوں کی گرد جھاڑ کر انہیں سامنے لائیے جو سوات، قلات اور بہاول پور کی ریاستوں کو پاکستان میں شامل کرتے وقت کیے گئے تھے اور ان پر عملدرآمد کا اہتمام کر لیجئے اس ساری شدت پسندی اور عسکریت کی ہوا اکھڑ جائے گی۔
باقی رہی بات نفاذ اسلام کے وژن کی، ہم اپنے محترم دانش وروں کو یاد دلانا چاہیں گے کہ پاکستان بننے کے بعد جمہور علماء اسلام نے علامہ اقبالؒ کا وژن قبول کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے ذریعہ نفاذ اسلام کا راستہ اختیار کیا تھا اور قادیانیوں کو مرتد قرار دے کر قتل کرنے کی بجائے ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر قبول کر لینے کا فیصلہ بھی اقبالؒ کے وژن پر ہی کیا گیا تھا مگر ہمارے ان مہربان دانشوروں نے جمہور علماء اسلام کے اس اجتہادی فیصلے کا کتنا احترام کیا ہے؟ قرارداد مقاصد، پاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ، ناموس رسالتؐ کے تحفظ کا قانون اور دستور کی دیگر اسلامی دفعات منتخب پارلیمنٹ کے فیصلے ہیں، اور ان میں سے بیشتر فیصلے پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی سرکردگی میں ہوئے ہیں۔ لیکن ہمارے بعض دانش وروں نے منتخب پارلیمنٹ کے ان جمہوری فیصلوں کے خلاف جو مورچہ لگا رکھا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ علماء کرام تو اقبالؒ کے وژن پر آگئے تھے، انہوں نے اقبالؒ کا وژن قبول کر کے اس کے مطابق جمہوری اسلامی ریاست کا راستہ اختیار کر لیا تھا اور جمہور علماء پاکستان آج بھی اس وژن پر قائم ہیں لیکن حکمران طبقوں اور سیکولر دانش وروں نے عوام کے منتخب نمائندوں کے جمہوری فیصلوں کے خلاف جو روش گزشتہ ساٹھ برس سے اختیار کر رکھی ہے اس کے رد عمل میں اس شدت پسندی اور عسکریت نے جنم لیا ہے جو پوری قوم کے لیے اضطراب کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ہم ایک لمحہ کے لیے اس شدت پسندی اور عسکریت کے حامی نہیں ہیں لیکن جس روش نے حالات کو یہاں تک پہنچایا ہے اسے تبدیل کیے بغیر اس پر قابو آخر کیسے پایا جا سکتا ہے؟ اس شدت پسندی اور عسکریت کے سد باب کے لیے دستور کی اسلامی بنیادوں کو تسلیم کرنے کا اعلان کیجئے اور ان پر خلوص دل کے ساتھ عملدرآمد کا اہتمام کیجئے، شدت پسندی کا راستہ خود بخود بند ہو جائے گا اور ان کے لیے قوم کے اجتماعی فیصلے کے سامنے سرنڈر ہونے کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں رہے گا۔
دینی مدارس میں عصری علوم ۔ محمد افضل کاسی کا مکتوب
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
دینی مدارس کے نصاب و نظام میں عصری علوم کو شامل کرنے کے حوالہ سے مختلف اصحابِ دانش نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور اس مفید مباحثہ کے نتیجے میں بہت سے نئے پہلو سامنے آرہے ہیں جن پر غور و خوض یقیناً اس بحث کو مثبت طور پر آگے بڑھانے کا باعث ہوگا، اس سلسلہ میں جامعہ دارالعلوم کراچی کے ایک طالب علم محمد افضل کاسی آف کوئٹہ کا خط پیش خدمت ہے، راقم الحروف کے نام اس خط میں انہوں نے اس مسئلہ پر ایک طالب علم کے طور پر اپنے جذبات و تاثرات پیش کیے ہیں جو یقیناً قابل توجہ ہیں۔ ہماری ایک عرصہ سے یہ رائے چلی آرہی ہے جس کا مختلف محافل میں ہم نے اظہار کیا ہے اور بعض مضامین میں لکھا بھی ہے کہ ہمیں باہر کی آواز سننے کی زیادہ ضرورت نہیں ہے لیکن دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کی بات ضرور سننی چاہیے اور انہیں اس مباحثہ میں شریک کرنا چاہیے۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر دینی مدارس کے سینئر اساتذہ کے لیے ملک کے چند بڑے مدارس میں مشاورتی اجتماعات اور ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے جن میں وہ دو تین روز شریک رہ کر دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ کو درپیش تعلیمی، تربیتی اور فکری مسائل پر کھلے دل کے ساتھ بحث و مباحثہ کر سکیں تو اس کے بہت مفید نتائج سامنے آئیں گے اور اس کے بارے میں کوئی واضح رخ متعین کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ پروگرام وفاق المدارس کے زیر انتظام ہوں تو زیادہ موثر اور محفوظ ہوں گے، کوئی اور فورم اس کا اہتمام کرے گا تو اس سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ بہرحال اس سلسلہ میں ایک طالب علم کا نقطۂ نظر اور تجاویز ملاحظہ فرمائیں اور یہ دیکھیں کہ جو طبقہ اس معاملہ میں ’’مبتلیٰ بہ‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے اس کے اپنے جذبات اس حوالے سے کیا ہیں؟
ابوعمار زاہد الراشدی
’’دینی مدارس میں دنیوی تعلیم کا امتزاج کرنے کے لیے کیا کیا جائے؟ اور کیا یہ صحیح بھی ہے یا نہیں؟ اور اگر یہ امتزاج کیا جائے تو کن خدشات کا سامنا کرنا پڑے گا؟ اس موضوع پر مختلف حضرات اپنی آراء دے چکے ہیں۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے چند معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن چونکہ میں خود ایک طالب علم ہوں۔ اور طلبہ کے درمیان رہتے ہوئے ان کی دلی خواہشات اور حالات سے زیادہ شناسا ہوں اس وجہ سے اس موضوع پر بات کرنے سے پہلے میں طلبہ کے حالات اور ان کی سوچ کے حوالے سے بحث کروں گا۔
دینی مدارس میں بعض طلبہ تو صرف وقت گزاری کے لیے مدارس میں ہوتے ہیں ان میں سے اکثریت ان کی ہوتی ہے جنہیں والدین نے یا گھر کے کسی بڑے نے زبردستی مدرسے میں داخل کرایا ہوتا ہے۔ ایسے طلبہ کو نہ تو مدارس کے نصاب سے دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی جدید علوم سے، البتہ یہ جدید علوم کو دینی تعلیم پر فوقیت دیتے ہیں اور مدارس میں یہ امتحان پاس کرنے کے لیے مجبوراً کچھ نہ کچھ پڑھ لیتے ہیں۔ بعض طلبہ کو دینی اور دنیوی تعلیم، دنوں کا شوق ہوتا ہے اور محنت بھی کرتے ہیں لیکن ان کی ذہنی استعداد اتنی نہیں ہوتی کہ وہ دونوں کو یکجا کر سکے لہٰذا ہوتا یہ ہے کہ جدید علوم حاصل کرنے کے چکر میں ان کے دینی تعلیم کا نقصان ہوتا ہے۔ اور بعض طلبہ صرف دینی تعلیم حاصل کرنے کو اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں اور جدید علوم کے متعلق بات کرنے کو بھی اخلاص کے منافی سمجھتے ہیں اور جو طلبہ عصری علوم حاصل کر رہے ہوتے ہیں ان پر دل کھول کر طعن و تشنیع کرتے ہیں۔ اور بعض طلبہ جو دینی و عصری علوم حاصل کرنے کے شوقین ہوتے ہیں اور دونوں کے ایک ساتھ حاصل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں مگر مدارس کے روایتی نظام الاوقات کی وجہ سے یا مدرسے کی بعض پابندیوں کی بنا پر جدید علوم سے رہ جاتے ہیں۔
طلبہ کے حالات جاننے کے بعد اب ہم دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کی بحث کرتے ہیں جس میں سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ دینی علوم میں کمزوری پیدا ہو جائے گی اور اس کی طرف توجہ میں کمی واقع ہوگی۔ اس خدشے سے خلاصی اس صورت میں ممکن ہے کہ وہ طلبہ جو عصری علوم کی تحصیل کا شوق رکھتے ہو، ان کے لیے مدرسے کے امتحان میں اعلیٰ درجے سے کامیابی شرط قرار دی جائے جو طلبہ مذکورہ شرط پر پورا اترے ان کو عصری علوم حاصل کرنے کی نہ صرف اجازت دی جائے بلکہ ان کے لیے کلاسز اور تمام جدید وسائل کا انتظام کیا جائے۔ کیونکہ اگر اہل مدارس عصری علوم کے لیے خصوصی کلاسز کا بندوبست نہیں کریں گے تو جو طلبہ عصری تعلیم کے دلداتے ہیں وہ ہر صورت میں اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں گے جس کے لیے ان کو مدارس سے باہر جانا پڑے گا اور بھاری فیسیں دینی پڑے گی اور دینی علوم کے گھنٹوں کو قربان کریں گے اس بنا پر ان کی دینی تعلیم متاثر ہوگی۔ اس کا مشاہدہ مدارس کے طلبہ سے مل کر ان کے حالات جان کر کیا جا سکتا ہے کہ چند طلبہ انگریزی سیکھنے اور بعض طلبہ کمپیوٹر ٹریننگ، اور چند طلبہ بی اے کی تیاری کے لیے اور بعض صحافت، خطابت، و فلکیات غرض مختلف کورس کرنے کے لیے مدارس سے باہر جاتے ہیں جس سے طلبہ کو شدید دقت ہوتی ہے۔ اگر اہل مدارس ان کورسز کے لیے دینی تعلیم کے گھنٹوں میں توازن برقرار رکھتے ہوئے خصوصی کلاسز کو انعقاد کریں اور سابقہ شرائط کے تحت طلبہ کو داخلہ دیا جائے تو طلبہ پر احسان عظیم ہوگا۔
چونکہ مدارس میں ان جدید علوم کے لیے کوئی خاص بندوبست نہیں اگر ہے بھی تو صرف تخصص کے طلبہ کے لیے، اس وجہ سے جو طلبہ کالج، یونیورسٹی وغیرہ سے پڑھ کر دعوت و تبلیغ یا کسی اور سبب کی بنا پر مدارس آتے ہیں وہ بھی کمپیوٹر اور انگریزی وغیرہ کے عدم استعمال کی وجہ سے سب کچھ نہ سہی مگر بہت کچھ بھول ہی جاتے ہیں کیونکہ آئے روز کمپیوٹر میں نت نئے پروگرامز آرہے ہیں اور انگریزی کے ذخیرہ الفاظ بھی تکلم و مطالعہ نہ ہونے کے سبب ذہن کے سکرین سے آہستہ آہستہ آؤٹ ہوتے چلے جاتے ہیں۔
مدارس کے منتظمین اور اساتذہ سے درد مندانہ درخواست ہے کہ اگر جدید علوم کے تمام کورسز نہ سہی تو کم از کم انگریزی اور کمپیوٹر کی طرف توجہ فرمائیں۔
محمد افضل کاسی، کوئٹہ
دور حاضر کے تقاضے اور شعبہ اسلامیات پنجاب یونیورسٹی
پروفیسر خالد ہمایوں
کوئی بیس بائیس برس پہلے کی بات ہے، میں نے ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ میں جماعت اسلامی کی فکر اور اُس کی سیاسی جدوجہد پر ایک تنقیدی جائزہ لکھا تو اس میں جماعت کی تمام کتابوں کی فہرست بھی شامل کی تھی۔ دکھانا یہ مقصود تھا کہ ان میں کوئی کتاب ایسی نہیں جس کا تعلق پاکستانی معاشرے کے عملی مسائل و معاملات سے ہو۔ کسی ایک کتاب میں بھی اُن چیلنجز کا جواب نہیں ملتا جو حصول آزادی کے بعد ہمیں پیش آتے رہے ہیں۔ یہ تمام لٹریچر بڑی حد تک نظری مباحث پر مشتمل ہے جو یہ بتاتا ہے کہ اسلام فی الواقع سچا اور بہترین دین ہے۔
جس وقت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، میاں طفیل محمد، امین احسن اصلاحی، نعیم صدیقی، ملک غلام علی، صدر الدین اصلاحی، پروفیسر خورشید احمد اور اسعد گیلانی یہ لٹریچر تیار کر رہے تھے تو اُس دور میں سوشلسٹ اور سیکولر فکر سے مسلمان نوجوان متاثر ہو رہے تھے۔ خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ ہماری اگلی نسلیں دہریت اور الحاد کا شکار ہو جائیں گی، چنانچہ جماعت کے خالص نظریاتی لٹریچر نے انہیں اسلام کی بنیادی سچائیوں پر یقین اور اعتماد عطا کیا تھا۔ لیکن چونکہ وہ لٹریچر معاصر معاشرتی اور ریاستی نظام کی بحث سے یکسر خالی تھا، اس لیے جنرل ضیاء الحق بڑی آسانی کے ساتھ جماعت کو فریب دینے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے فورًا بعد اپنی پہلی تقریر خطبہ مسنونہ سے شروع کی تو اسلام پسند حلقوں کو یوں لگا جیسے وہ سحر طلوع ہوا چاہتی ہے جس کا مدت سے خواب دیکھا جا رہا تھا۔ گیارہ سال بعد محسوس یہ ہوا کہ سحر کیا طلوع ہوتی، اُلٹا تاریکیاں دبیز ہوتی چلی گئیں اور آج پاکستانی قوم انہی میں بھٹکتی پھر رہی ہے۔ نہ منزل سامنے ہے اور نہ کوئی بڑا دماغ راستہ دکھانے والا نظر آتا ہے۔
آج جب میں شعبہ اسلامیات پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے شائع ہونے والی تازہ کتاب ’’ارمغانِ علامہ علاؤ الدین صدیقی‘‘ کی ورق گردانی کر رہا ہوں تو میری مایوسی دوچند ہوگئی ہے۔ پہلے ’’ارمغان‘‘ کی وضاحت کر دوں۔ ارمغان کا مطلب ہے تحفہ۔ علمی برادری کبھی کسی بڑی علمی شخصیت کی خدمت میں اعلیٰ پایہ کے مضامین و مقالات کا مجموعہ بطور تحفہ پیش کرے تو اُسے ارمغان کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ گویا اُس شخصیت کی علمی خدمات کا اعتراف ہوتا ہے۔ علامہ علاؤ الدین صدیقی (۱۹۰۷ء تا ۱۹۷۷ء) بھی ایک صاحب علم شخصیت تھے۔ تعلیم میں ایم اے فارسی، ایم او ایل اور ایل ایل بی تھے۔ انہیں تحریک پاکستان میں شمولیت کا اعزاز حاصل تھا۔ ۱۹۳۵ء میں مسجد شاہ چراغ میں درسِ قرآن کا آغاز کیا۔ ۱۹۴۵ء میں انہیں اسلامیہ کالج (ریلوے روڈ) میں دینیات کے استاد کے طور پر مقرر کیا گیا۔ ۱۹۴۶ء میں مسلم لیگ صوبہ پنجاب کے جنرل سیکرٹری بنے۔ تقسیم کے بعد بھی صوبائی سیاست میں سرگرم رہے۔ ’ارمغان‘ کی مرتبہ ڈاکٹر جمیلہ شوکت کی روایت کے مطابق علامہ صاحب صوبہ پنجاب کی صداردور حاضر کے تقاضے اور شعبہ اسلامیات پنجاب یونیورسٹیت کے لیے ممتاز دولتانہ کے مقابلے میں کھڑے ہوئے۔ ایک متوسط خاندان کے فرد ہونے کی وجہ سے ایک با اثر زمیندار، سرمایہ طبقے کے فرد کا مقابلہ نہ کر سکے اور اس طرح دولتانہ جیت گئے۔ اس کے بعد علامہ صاحب کوچہ سیاست کو خیرباد کہہ کر تعلیم و تدریس میں مصروف ہوگئے۔
۱۹۵۰ء میں پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ اسلامیات قائم ہوا تو حکومت نے شعبے کی سربراہی سنبھالنے کے لیے علامہ محمد اسد (لیوپولڈ) کو دعوت دی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد علامہ علاؤ الدین صدیقی کو بلایا گیا۔ علامہ صاحب ۱۹۶۴ء سے ۱۹۷۳ء تک اسلامی مشاورتی کونسل کے چیئرمین بھی رہے۔ ۱۹۶۹ء سے ۱۹۷۳ء تک وہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ علامہ صاحب کی کوئی تحقیقی کتاب ہماری نظر سے نہیں گزری۔ ارمغان میں البتہ ان کے تین انگریزی مقالات شامل ہیں جن کے عنوان ہیں:
1- Abraham and His Influence on History
2- Muhammad: The Universal Prophet
3- The Attitude of Islam Towards Other Religions
ارمغان کی مرتبہ محترمہ پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت نے علامہ صاحب کے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کی تاریخ صفحہ ۱۸ پر ۱۹۳۲ء اور صفحہ ۲۱ پر ۱۹۳۵ء درج کی ہے۔ معلوم نہیں، درست کون سی ہے۔ خیر غلطی تو بڑی آسانی سے کمپوزر کے کھاتے میں ڈالی جا سکتی ہے۔ یہ کمپوزر ٹائپ لوگ تو شاید ہوتے ہی اس لیے ہیں کہ غلطیاں ہم کریں اور ملبہ اُن پر گرا دیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے علامہ صاحب کے کوائف زندگی لکھتے ہوئے یہ نہیں بتایا کہ اُن کے دور میں یونیورسٹی نے ترقی کی کتنی منزلیں طے کی تھیں۔
میں نے ’’ارمغان علامہ علاؤ الدین صدیقی‘‘ میں شامل علمی مقالات کے بارے میں جو مایوسی کا اظہار کیا ہے تو اس حوالے سے نہیں کیا کہ مقالات کا علمی معیار کمتر ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلاشبہ ہر مقالہ بہت محنت سے لکھا گیا ہے، زبان و بیان کے سارے سلیقے برتے گئے ہیں۔ ان سب کا تعلق ادیان کے تقابلی مطالعے سے ہے۔ یہ علامہ صاحب کا پسندیدہ موضوع تھا۔ اس اعتبار سے ’’ارمغان‘‘ کی ایک اپنی قدر وقیمت بنتی ہے۔ میرا اعتراض یہ ہے کہ اگر علامہ صاحب مرحوم و مغفور کو کوئی علمی تحفہ پیش کرنا ہی تھا تو قومی زندگی کے کسی زندہ مسئلے پر لکھنے کے لیے سکالر حضرات کو زحمت دی جاتی۔
’’ارمغان‘‘ کے بعض صفحات پر شعبہ اسلامیات کے اساتذہ کی لکھی ہوئی کتابوں کی جو فہرستیں دی گئی ہیں، انہیں دیکھ کر شعبے کے اساتذہ کے علمی رجحان کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے شعبے نے آج کی دُنیا کے مسائل و افکار سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھا ہوا۔ اس سے پہلے کہ میں اپنے نقطہ نظر کی مزید تشریح کروں، آپ اساتذہ کے تصنیفی سرمایے پر ایک نظر ڈال لیں، ممکن ہے آپ میری گزارشات بہتر طور سے سمجھ سکیں۔
پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت:
(۱) مسند عائشہ صدیقہ: تحقیق و دراسۃ (۲) الامام جلال الدین سیوطی: تحقیق و تخریج (۳) تحفۃ الطالبین فی ترجمہ الامام النوری (۴) اشاریہ تفہیم القرآن (۵) سٹڈیز ان حدیث (انگریزی) (۶) اسحاق بن رواح: لائف اینڈ ورکس۔
پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی:
(۱) المنہاج السوی فی ترجمۃ الامام النووی (۲) انسان کامل ﷺ (۳) حفاظتِ حدیث (۴) رسولِ رحمت ﷺ (۵) حضور ﷺ سے ہمارے تعلق کی بنیادیں (۶) پیغمبرانہ منہاج دعوت (۷) اصول الحدیث (۸) اسلام کا معاشرتی نظام (۹) اقبال اور احیائے دین (۱۰) اقامت الصلوٰۃ (۱۱) پیغمبرانہ دعائیں (۱۲) اسلام کے اصول تجارت (۱۳) خلق عظیم (۱۴) نظریہ پاکستان (۱۵) شرح اربعین نووی۔
پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد صدیقی:
(۱) قرآن حکیم کی روشنی میں رسول کریمؐ کی شان و عظمت (۲) ورفعنا لک ذکرک (۳) خطبات جمعہ (۴) مثالی پیغمبرؐ (۵) فقہ حنفی اور اس کی خصوصیات (۶) ماڈرن ٹرینڈز ان تفسیر لٹریچر (۷) سید علی ہجویری، حالات و خدمات۔
پروفیسر ڈاکٹر ثمر فاطمہ:
(۱) مشعل راہ (۲) اسلامی تہذیب و تمدن۔
ڈاکٹر حمید اللہ عبد القادر:
(۱) اصول حدیث (۲) مصباح الحدیث (۳) حدیث نبوی اور مستشرقین (۴) اللولووالمرجان (ترجمہ و تشریح)
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر:
(۱) استحکام مملکت اور بد امنی کا انسداد (تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں) (۲) مریض کا علاج اور تیمار داری اسلام کی نظر میں۔
حافظ عثمان احمد:
(۱) ’’اضطراب‘‘ (مجموعہ کلام) (۲) اللہ میاں کے نام اُداس خط۔
ڈاکٹر حافظہ شاہدہ پروین:
(۱) ریت کے گھروندے (۲) فہرست مقالات (۱۹۵۲ء تا ۲۰۰۹ء) بہ اشتراک۔
پروفیسر حافظ احمد یار خان:
(۱) یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ
شعبہ کے اساتذہ کی کتابوں کے عنوانات سے ظاہر ہوتا ہے جیسے یہ لوگ کسی غار میں رہ رہے ہیں۔ انہیں خبر ہی نہیں کہ دنیا کن تغیرات سے گزر رہی ہے اور ہمارا وطن عزیز کن مسائل کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ جن مقاصد کی خاطر یہ ملک معرض وجود میں آیا تھا اور برصغیر کے مسلمانوں نے آگ اور خون کے دریا پار کیے تھے، ان میں سے کوئی ایک مقصد بھی آج تک پورا نہیں ہوا۔ اگر پینسٹھ سال گزرنے کے بعد بھی اسلام کو ریاستی نظام میں عمل دخل حاصل نہیں ہو سکا تو آخر اس کے کچھ اسباب و محرکات تو ضرور ہوں گے۔ اساتذہ کرام کی توجہ اس موضوع کی طرف کیوں نہیں جاتی؟ پھر اس ملک کا دو لخت ہو جانا اسلامی تاریخ کا بہت بڑا سانحہ ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کسی استاد کے دل میں کبھی اس حوالے سے درد نہیں اٹھا۔ کیا اساتذہ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ پاکستان کے قیام کا مقصد جدید تقاضوں کے مطابق اسلامی معاشرے کا قیام تھا۔ کاش کوئی استاد اس حوالے سے بھی قلم اٹھاتا کہ اس مملکت خداداد میں اسلام پر کیا گزری ہے! آخر ان قوتوں کی نشاندہی کون کرے گا کہ جن کی سازشوں سے اسلامی معاشرے کے قیام کا خواب آج تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا؟
کاش یہ اساتذہ کوئی ایک کتاب اُن قوتوں کے جائزہ ہی پر مبنی لکھ دیتے جو اسلام کو مروجہ استحصالی نظام کے نزدیک آنے نہیں دیتیں۔ ان اساتذہ کے سامنے افسروں کے لاؤ لشکر پالیسیاں بناتے اور ان کا نفاذ کرتے ہیں۔ وہ ماشاء اللہ مسلمان بھی کہلاتے ہیں۔ آخر ان کے کیا مفادات ہوتے ہیں کہ وہ ملک کو غیروں کی محتاجی سے نہیں نکالتے؟ کیوں انہوں نے کئی قسموں کا نظام تعلیم رائج کر رکھا ہے؟
اسی پاکستان میں قانون کے محافظ جس جس انداز سے خود قانون ہی کی مٹی پلید کرتے اور مظلوم عوام کی کھالیں اُدھیڑتے ہیں، کیا ان کے احوال کا جائزہ لینا ان سکالروں کا کام نہیں؟ آخر اسلام نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے جو احکام دے رکھے ہیں اُن کا اطلاق کن لوگوں پر ہوتا ہے؟ قیام پاکستان کے فورًا بعد عوامی حلقوں سے مطالبہ اٹھا تھا کہ انگریزی دور کی یادگار جاگیرداریوں اور وڈیرہ شاہیوں کو ختم کیا جائے گا۔ یہ وڈیرے نہ پاکستان میں جمہوریت آنے دیں گے نہ اسلام۔ جائزہ لینے کی ضرورت تھی کہ اسلام میں ان جاگیرداروں اور وڈیروں کے لیے کیا حکم ہے۔ یہ اسلام پر سالوں سے لیکچر دینے اور روایتی ریسرچ کروانے اور بھاری مراعات سمیٹنے والے اساتذہ نے یہ کام نہیں کرنا تو آخر کس نے کرنا ہے؟ کیا یہ کام کرنے کے لیے آسمان سے فرشتے نازل ہوں گے؟ باہر عوام جس اسلامی نظام کے لیے دعائیں مانگتے اور گڑگڑاتے یا خودکشیاں کرتے ہیں، اُن بے چاروں کو خبر ہی نہیں کہ جن لوگوں نے عوام کو ان ظالموں سے نجات پانے کے لیے شعوری طور پر تیار کرنا ہے، وہ صدیوں پہلے کی فقہی موشگافیوں، فتاویٰ کے قلمی نسخوں اور تفسیروں کے تقابلی مطالعہ میں گم ہیں۔
پاکستان بننے کے بعد جب مزدور طبقہ بہت بڑے حجم کے ساتھ منظر عام پر ظہور پذیر ہوا تو اُس کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ فیکٹریاں، کارخانے لگانے والوں نے اُن سے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام تو لیا مگر ان کے جائز حقوق سے آنکھیں بند کیے رکھیں۔ نہ اُن کی صحت کی فکر کی، نہ انہیں بونس دیے اور نہ اُن کی رہائش کا سوچا۔ جب مزدوروں نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی تو انہیں سوشلسٹ اور کمیونسٹ قرار دے کر روکنے کی کوشش کی گئی۔ ساری انتظامی مشینری سرمایہ دار کا دست و بازو بن جاتی رہی۔ کیا ان اساتذہ نے کبھی نچلے طبقات کی محرومیوں کا بھی جائزہ لیا؟ کیا اسلام محروم طبقات کی بات نہیں کرتا؟ کیا ان اساتذہ نے قرآن مجید میں بیان ہونے والے اقوام سابقہ کے قصص پر تجزیاتی نظر ڈالی؟ کیا ان اساتذہ کو یہ معلوم نہیں کہ اقوام کے اندر مستضعفین اور مترفین کون تھے اور آج کے مستضعفین اور مترفین کون ہیں؟
پاکستان میں گزشتہ ایک ڈیڑھ عشرے سے میڈیا جو قباحتیں برپا کر رہا ہے، کیا اُس کے حسن و قبیح پر بھی اسلامیات کے اساتذہ کو کچھ سوچنا اور لکھنا چاہیے یا نہیں؟ یوں لگتا ہے جیسے انہیں معلوم ہی نہیں کہ میڈیا نام کی کوئی چیز کب کی ہمارے معاشرتی عمل میں شامل ہو چکی ہے اور زندگی کی ساری جہتوں پر بے پناہ اثرات مرتب کر رہی ہے۔ کوئی استاد اِن اثرات ہی کا جائزہ لے لے، یہ بھی تو اسلام ہی کی خدمت ہوگی۔
کیا اسلامیات کے ان اساتذہ کی نظر کبھی اے لیول اور اولیول کے تعلیمی نظام کی طرف نہیں گئی جو نظام ہر سال کتابوں اور امتحانوں کی فیسوں کے بدلے ہم سے اربوں روپے سمیٹ کر بیرونی طاقتوں کی تجوریاں بھر دیتا ہے۔ آخر اسلام ا س حوالے سے کچھ بتاتا ہے یا نہیں؟ کیا اس طرح کا تعلیمی نظام پاکستانی معاشرے میں کوئی یکجہتی پیدا کر سکتا ہے جہاں غریبوں یتیموں کے سکول الگ ہوں اور لاکھوں کی فیسیں بٹورنے والے الگ۔ پھر اس امر کا جائزہ کون لے گا کہ ان اونچے سکولوں سے پڑھ کر نکلنے والے کتنے بچے وطن اور اسلام پر قربان ہونے کا جذبہ اپنے سینوں میں رکھتے ہیں؟ کیا ان اساتذہ کو نظر نہیں آتا کہ سرمایہ دار طبقے نے پنجاب یونیورسٹی کو عوام کی یونیورسٹی سمجھتے ہوئے اپنی ضروریات کے مطابق الگ تعلیمی ادارے قائم کر لیے ہیں جہاں طلباء کو حصول ملازمت کا پورا پورا تحفظ حاصل ہے۔
کیا اُن اساتذہ نے کبھی ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے احوال بھی معلوم کیے جہاں کرپشن نے ایسے ڈیرے ڈال رکھے ہیں کہ اس کی اصلاح کرنا آج دنیا کا مشکل ترین کام نظر آتا ہے۔ کاروباری طبقہ جس جس طرح سے افسروں اور کلرکوں کو رشوت کا عادی بناتا ہے، کیا ان گندے طور طریقوں پر تحقیقی کام کرنا غیر اسلامی فعل ہے؟ آج حرام کمانے کے جو ہزارہا طریقے رائج ہو چکے ہیں، کیا اُن کا جائزہ لینا وقت کی بہت بڑی ضرورت نہیں؟ کیا اسلام یہ کہتا ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے جاؤ اور قلم اٹھانے سے فرار اختیار کیے رکھو۔ ادیان کے تقابلی مطالعے کی بھی کچھ نہ کچھ اہمیت ضرور ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ شعبہ اسلامیات کے اساتذہ کرام کی توجہ عملی زندگی کی پیچیدگیوں کی طرف کیوں نہیں جاتی؟ کیا یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ ریسرچرز علامہ علاؤ الدین صدیقی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایسا ’’ارمغان‘‘ مرتب کرتے جس کے لیے سوسائٹی کے کسی زندہ مسئلے سے متعلق کوئی عنوان دیا جاتا؟ لے دے کے صرف ایک استاد نے پاکستانی معاشرے کے ایک مسئلے پر کتابچہ تحریر کیا ہے اور وہ ہے ’’یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ‘‘۔ جنرل ایوب خان کے دور میں یہ مسئلہ پوری شدت سے اٹھا تھا اور اس پر بہت لے دے ہوئی تھی۔ ورنہ اساتذہ کرام کی کوئی ایک تحریر بھی اپنے ریاستی اور معاشرتی احوال سے اعتنا نہیں رکھتی۔
میرے نزدیک اسلامیات کے اساتذہ کی اس غفلت کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ وہ دین و مذہب کے علاوہ دیگر سماجی علوم مثلاً سماجیات، تاریخ، بشریات، نفسیات، سیاسیات، ابلاغ عامہ، بین الاقوامی تعلقات، قانون، معاشیات وغیرہ سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ اُن کی ذاتی لائبریریوں میں شاید ہی اس حوالے سے کوئی ایک بھی کتاب موجود ہو۔ عصر حاضر کے سماجی علوم سے بے رغبتی کی وجہ ہی سے انہوں نے جو نصابات بھی رائج کر رکھے ہیں، وہ بھی موجودہ دور سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے۔ اس کے بعد پھر تبدیلی آئے تو کیسے آئے، محض دھرنے دینے سے تو یہ کام ہونے سے رہا۔ وما علینا الا البلاغ۔
(بشکریہ روزنامہ پاکستان، لاہور)
ریاست، معاشرہ اور مذہبی طبقات (۱)
پاکستان کے تناظر میں اہم سوالات کے حوالے سے ایک گفتگو
محمد عمار خان ناصر
انٹرویو : مشعل سیف
(مارچ ۲۰۱۲ء میں نارتھ کیرو لائنا، امریکہ کی ڈیوک یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اسکالر مشعل سیف نے پاکستانی ریاست کے ساتھ مذہب کے تعلق، مذہبی طبقات کے کردار اور مذہبی نظام تعلیم کے حوالے سے اہم سوالات پر مبنی راقم الحروف کا ایک تفصیلی انٹرویو کیا جسے ترتیب وتدوین کے بعد یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ عمار ناصر)
مشعل سیف: میرا نام مشعل سیف ہے۔ میں ڈیوک یونیورسٹی امریکا سے پی ایچ ڈی کر رہی ہوں۔ آپ ویسے تو ماشاء اللہ بہت مشہور ہیں، لیکن اگر اپنا مختصر تعارف کرا دیں اور اپنی تعلیم کے بارے میں بتا دیں کہ آپ نے کہاں کہاں سے سندیں حاصل کی ہیں تو مناسب ہوگا۔
عمار ناصر: ہمارا جو خاندانی پس منظر ہے، وہ ایک مذہبی گھرانے کا ہے۔ میرے دادا اور میرے والد کے حوالے سے ہمارے خاندان کو ایک معروف مذہبی گھرانے کے طور پر جانا جاتاہے۔ اپنی خاندانی روایت کے مطابق، میں نے بچپن میں حفظ قرآن کی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد درس نظامی کا ایک آٹھ سالہ کورس ہوتا ہے جس میں ہمارے روایتی دینی علوم قرآن، حدیث، فقہ وغیرہ پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے ابتدائی درجات کی تعلیم میں نے مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ میں حاصل کی، جبکہ اس کی تکمیل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کی جو ملک کے بڑے مدارس میں شمار ہوتا ہے۔ اس وقت ہمارے دادا مولانا محمد سرفراز خان صفدر بقید حیات تھے اور وہاں پڑھاتے تھے۔ دورۂ حدیث جس میں حدیث کی کتابیں صحاح ستہ وغیرہ پڑھائی جاتی ہیں، وہ میں نے وہاں پڑھا ہے۔ بس یہ مختصراً میری دینی تعلیم کا پس منظر ہے۔ اس کے بعد میں دس گیارہ سال تک اسی مدرسے میں پڑھاتا بھی رہا ہوں۔
مشعل سیف: آپ مدرسے میں کون سے مضامین پڑھاتے تھے؟
عمار ناصر: مختلف مضامین ہوتے تھے۔ مدارس میں جو تعلیم کا نصاب ہے، اس میں عربی زبان بنیادی چیز ہوتی ہے۔ کلاسیکی عربی لٹریچر ہوتا ہے۔ قرآن کی تفسیر، حدیث، فقہ اور پھر ان کے ساتھ اصول فقہ اور اصول حدیث، یہ سارے مضامین ہوتے ہیں اور میں تقریباً یہ ساری چیزیں پڑھاتا رہا ہوں۔ ۲۰۰۶ء کے بعد سے میں باقاعدہ کسی مدرسے میں نہیں پڑھا رہا۔ اس سے کچھ پہلے اور اس کے بعد سے میری زیادہ توجہ تحریر وتصنیف پر مرکوز ہے۔ بہت سے ایشوز ہیں جن پر میں لکھتا رہتا ہوں۔
مشعل سیف: آپ کی کچھ کتابوں کا مطالعہ میں نے کیا ہے۔ ’’براہین‘‘ آپ نے لکھی ہے اور کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی نے بھی ایک کتاب ’’حدود وتعزیرات‘‘ پر آپ کی چھاپی ہوئی ہے۔ ایک سوال جو بہت زیادہ اٹھتا ہے، وہ یہ ہے کہ آپ کا کون سے مسلک سے تعلق ہے؟ شاید آپ جانتے ہوں گے کہ یہ ایک controversy بھی ہے۔ بعض علما کہتے ہیں کہ آپ کہا تو کرتے ہیں کہ آپ دیوبندی ہیں، لیکن آپ کے جو افکار ہیں، وہ عموماً جو دیوبندیوں کے افکار ہوتے ہیں، ان سے ہٹ کر ہیں۔
عمار ناصر: میرا جو فیملی بیک گراؤنڈ ہے، وہ تو بالکل typical دیوبندی بیک گراؤنڈ ہے اور ظاہر ہے کہ جب آدمی نے ایک خاص ماحول میں تعلیم اور پرورش پائی ہو تو وہ اس کے اثرات سے بالکل باہر شاید نہیں جا سکتا۔ اس لیے آپ بڑی حد تک کہہ سکتے ہیں کہ جو دیوبندی مزاج ہے، چیزوں کو دیکھنے کا جو زاویہ ہے، اس کے اثرات یقیناًمجھ پر ہوں گے، لیکن جن معنوں میں دیوبندی اہل علم define کرتے ہیں کہ دیوبندی وہ ہے جو دینی مسائل کی تحقیق میں دیوبندی علماء اور دیوبندی اکابر کی مجموعی فکر سے باہر نہ جائے اور ان سے ہٹ کر کوئی بات نہ کہے تو اس معنی میں شاید آپ مجھے دیوبندی نہیں کہہ سکتے۔ میرے اپنے سوچنے کے انداز میں اور غور فکر کے طریقے میں جو developmentہوئی ہے، اس کے بعد میں نہیں سمجھتا کہ کسی ایک خاص اسکول آف تھاٹ کا پابند ہو کر رہنا، یہ علمی طور پر کوئی مثبت چیز ہے۔ میں نے مختلف فکری دھاروں سے چیزیں سیکھی ہیں۔ مولانا موددی سے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب میرے استاذ بھی ہیں، ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ علم جو ہے، اسلام اس میں تو کسی تعصب کی تعلیم نہیں دیتا۔ علم کی بات آپ کو جہاں سے بھی ملے، غیر مسلم سے بھی ملے، وہ لے لینی چاہیے۔ تو میرے خیال میں یہ جھگڑا ایسے ہی چلتا رہے گا۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ دیوبندی ہے، کچھ کہیں گے کہ نہیں ہے۔
مشعل سیف: آپ اپنے آپ کو کیسے تسلیم کرتے ہیں؟
عمار ناصر: میں دیوبندی تعبیر دین کو بڑا متوازن اور عوام کی سطح پر دینی ضروریات کے لیے بہت مفید سمجھتا ہوں۔ ان کے مزاج میں، ان کے فکر میں ، دوسرے اسکولز آف تھاٹ کی بہ نسبت خاصا توسع ہے، وسعت نظر ہے۔ چیزوں کو دیکھنے کا جو زاویہ نظر ہے، وہ خاصا positive ہے، لیکن یہ پابندی کہ جو دیوبندی علما ہیں، جو دیوبندی اکابر ہیں، ان کی رائے ہی ہر معاملے میں یقیناًدرست ہوگی اور ان سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا، اس کو میں نہیں مانتا۔
مشعل سیف: میں پڑھ رہی تھی، آپ نے اپنے ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں ۲۰۰۹ء میں ایک مضمون میں یہ واضح کیا تھا کہ آپ دیوبندیت کو کس طرح تصور کرتے ہیں۔ آپ نے لکھا تھا کہ یہ بہت وسیع مکتب فکر ہے۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ کون ہے جو اکابر کے طریقے پر چل رہا ہے اور کون اکابر کی باتوں کو تسلیم نہیں کر رہا، کیونکہ دیوبندیت میں بہت diversity ہے۔
عمار ناصر: جی، میں ایسے ہی تصور کرتا ہوں کہ دیوبندی اکابر کی جو آرا ہیں، ان سے اگر آپ اختلاف رکھتے ہیں تو میرے خیال میں آپ کے دیوبندی ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ میرا اپنا نقطہ نظر ہے۔ لیکن بہرحال دیوبندی کون ہے اور کون نہیں ہے، یہ طے کرنے میں، میں کوئی اتھارٹی نہیں۔ یہ تو جو دیوبندی سمجھے جانے والے لوگ ہیں، مدارس ہیں، ادارے ہیں، وہی یہ حق رکھتے ہیں کہ اس کو متعین کریں۔ ان کے زاویہ نظر سے دیکھنا چاہیے۔ وہ اگر سمجھتے ہیں کہ فلاں آدمی ہمارے فریم ورک سے باہر جا رہا ہے اور وہ اسے دیوبندی تسلیم نہیں کرتے تو یہ ان کا حق ہے۔ یہ میرے لیے کوئی ایسا اہم مسئلہ نہیں ہے۔
مشعل سیف: لیکن آپ اپنے آپ کو دیوبندی کہیں گے، کسی حد تک؟
عمار ناصر: غالباً علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ہر معقول پسند مسلمان دیوبندی ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ ندوۃ العلماء کا حلقہ فکر بھی بحیثیت مجموعی دیوبندی ہی سمجھا جاتا ہے، اگرچہ ان کے ہاں ایک آزادانہ فکری روش بھی موجود ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ مولانا مناظر احسن گیلانی نے کوئی نصف صدی قبل تحریک دیوبند کی وسعت اور ہمہ گیر اثرات پر ایک مضمون لکھا تھا جس میں مولانا مودودی اور ان کی جماعت اسلامی کو بھی دیوبندی تحریک کی ایک شاخ قرار دیا تھا۔ سو اگر آپ اس مفہوم میں مجھے دیوبندی کہنا چاہیں تو میں انکار نہیں کروں گا، لیکن آپ نفی کرنا چاہیں تو میں اصرار بھی نہیں کروں گا۔
مشعل سیف: آپ نے جاوید احمد غامدی صاحب کا ذکر کیا۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ ان کے مسلک سے یا ان کے افکار سے کافی اتفاق کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں کچھ بتانا چاہیں گے کہ آپ کا کب سے ان سے رابطہ ہے او ر کس طرح آپ ان کے اسٹوڈنٹ رہے ہیں؟
عمار ناصر: میرا ان سے تعارف تو غالباً ۱۹۹۰ء میں ان کے رسالے کے ذریعے سے ہوا تھا۔ ان کا رسالہ ہمارے پاس آتا تھا۔ میں ان کی لکھی ہوئی چیزیں پڑھتا رہا، لیکن ۲۰۰۱ء یا ۲۰۰۲ء تک زیادہ ملاقاتیں نہیں ہوئیں۔ اس دوران میں کوئی پانچ سات ملاقاتیں ہوئی ہوں گی۔ البتہ میں ان کے نتائج فکر پر خاصا غور کرتا رہا اور بہت سی باتوں نے مجھے اپیل بھی کیا۔ ۲۰۰۲ء کے بعد میں باقاعدہ ان کے ادارے کے ساتھ وابستہ ہوا اور ان کی جو علمی مجالس ہیں، ان میں شرکت کرتا رہا۔ ان کے ساتھ اور ان کے ادارے ’المورد‘ کے رفقا کے ساتھ میرا بہت اچھا اور بڑی محبت کا تعلق ہے۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میرے فکر ونظر کی تربیت میں اور دین کو سمجھنے کا ایک زاویہ دینے میں جیسے میرے اپنے خاندانی ماحول کا اثر ہے اور جہاں عمومی مطالعے کے بہت سے اثرات ہیں، اسی طرح میں نے غامدی صاحب سے بھی بہت سیکھا ہے۔ باقی، آرا کا اختلاف یا اتفاق، یہ میری نظر میں زیادہ اہم چیز نہیں ہوتی۔ جاوید غامدی صاحب کی بہت سی آرا سے مجھے اتفاق بھی ہے اور بہت سی آرا سے اختلاف بھی ہے۔ آپ نے میری تحریروں میں دیکھا ہوگا، میں نے بہت سے اختلافات بیان بھی کیے ہیں۔ اصل میں آدمی کے سوچنے کا جو انداز ہے، وہ ساری زندگی develop ہوتا رہتا ہے۔ میں ان کو اپنے نہایت قابل احترام استاذ او راپنے معلم کا درجہ دیتا ہوں، لیکن کلی اتفاق کسی سے بھی ضروری نہیں۔ ان کی آرا سے بھی اختلاف ہو سکتا ہے، بلکہ میں نے اپنے اساتذہ میں علمی اختلاف کو جتنا encourage کرنے والا اور اپنے نقطہ نظر پر علمی تنقید کی دعوت دینے والا ان کو پایا ہے، کسی دوسرے کو نہیں پایا۔
مشعل سیف: آپ دیوبندیت کو اور طرح سے تصور کرتے ہیں۔ آپ کے خیال میں اس کے اندر لچک ہے اور آپ مختلف خیالات رکھتے ہوئے بھی دیوبندی ہو سکتے ہیں۔ آپ نے کہا کہ آپ کے خیال میں دیوبندی ہوتے ہوئے بھی آپ دیوبندی اکابر سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن ساتھ ہی آپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ آپ کسی کو دیوبندی کہنے یا نہ کہنے کا حق ان کو دیتے ہیں جو ان کے زیادہ ماننے والے ہیں؟
عمار ناصر: دیکھیں، سوسائٹی میں کوئی کمیونٹی ہوتی ہے تو اس کی ترجمانی کرنے والی جو شخصیات ہوتی ہیں یا ادارے ہوتے ہیں، فطری طور پر انھی کو یہ حق ہونا چاہیے۔ مثلاً دیکھیں، احمدی یہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ احمدی ہم میں سے نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی جو پہلے سے ایک کمیونٹی موجود ہے، اس کو یہ حق ہے کہ وہ یہ طے کرے کہ وہ کس گروہ کو اپنے اندر میں سے شمار کرتے ہیں۔ سو احمدیوں کو خود سے الگ شمار کرنا یہ مسلمانوں کاحق ہے۔ اسی طرح دیوبندیت کی بطور مذہبی گروہ کے ایک Identity ہے۔ اس کی ترجمانی کرنے والی کمیونٹی موجود ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ فلاں نقطہ نظر یا فلاں رائے ہمارا جو انٹلکچول فریم ورک ہے، اس سے میل نہیں کھاتی اور اس سے باہر ہے تو اس کو یہ حق ہے کہ وہ یہ طے کرے کہ یہ ہم سے مختلف ہے۔ یہ ان کا حق ہے اور یہ جمہوریت کا تقاضا ہے۔ مجھے یا کسی بھی آدمی کو یہ نہیں کرنا چاہیے کہ ہم کسی حلقہ فکر کے فکری پیرا ڈائم یا اس کے مسلمات سے اختلاف بھی کریں اور پھر یہ خواہش بھی رکھیں کہ ہمیں ضرور اس کے اندر شمار کیا جائے۔ یہ رویہ تو اخلاقی جرات کے فقدان سے پیدا ہوتا ہے۔
مشعل سیف: مگر آپ کی سوچ مجھے interesting لگی کہ آپ خود کو اس طرح دیوبندی تصور کرتے ہیں کہ آپ کی پرورش ایک دیوبندی گھرانے میں ہوئی اور آپ کے افکار پر اس کا کافی حد تک Impact رہا ہے۔
عمار ناصر: ہاں، یہ ظاہر ہے۔ میں ’المورد‘ کے دوستوں میں اٹھتا بیٹھتا ہوں تو ان کا تاثر یہ ہے کہ میرے فکر یا زاویہ نظر پر دیوبندی اثرات زیادہ ہیں، سو وہ مجھے دیوبندی کہتے ہیں۔ یوں میں دو گھروں کا مہمان ہوں۔ دیوبندی میرے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ غامدی ہے اور المورد والے کہتے ہیں کہ یہ دیوبندی ہے۔
مشعل سیف: میں اپنے مقالے میں پاکستان کے علما پر تحقیق کر رہی ہوں۔ خاص طور پر یہ دیکھنا چاہ رہی ہوں کہ یہ لوگ کس طرح تصور کر رہے ہیں کہ آیا پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے یا نہیں۔ پاکستان کا آئین اس کو اسلامی جمہوریہ قرار دیتا ہے۔ اس موضوع پر آپ کا youtubeپر ایک لیکچر ہے جو آپ نے گجرات یونیورسٹی میں اقبال پر ہونے والے سیمینار میں دیا تھا۔ اس میں آپ نے اسلامی ریاست کے بارے میں بات کی تھی۔ اسی طرح آپ کی حدود وتعزیرات پرجو کتاب ہے، اس میں بھی آپ نے اس موضوع پر لکھا ہے۔ آپ نے بہت مختلف چیزیں کہی ہوئی ہیں۔ میں چاہ رہی تھی کہ آپ ان کو elaborate کر دیں۔ مجھے خاص طور سے جو سمجھ میں آیا ہے، وہ یہ ہے کہ آپ پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہیں تو اس کو اسلامی ریاست کا درجہ دے کر بات کرتے ہیں۔ آپ نے اپنی کتاب ’’حدود وتعزیرات‘‘ میں بھی جو لکھا ہے تو اسلامی ریاست کہہ کر ہی اس کے بارے میں بات کی ہے۔ میں اور بھی بہت سے علما سے مل چکی ہوں۔ ان میں سے کافی ایسے ہیں جو پاکستان کو اسلامی ریاست تصور نہیں کرتے۔ تو آپ اس کی کچھ وضاحت کر دیجیے کہ آپ کے خیال میں اسلامی ریاست کیا ہے اور آیا پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے یا نہیں؟
عمار ناصر: اسلامی ریاست اور مسلم ریاست، یہ کافی کنفیوزنگ چیزیں ہیں۔ یہ جو فرق ہے کہ ایک اسلامی ریاست ہے اور ایک مسلم ریاست ہے، یہ بہت بعد میں پیدا ہوا ہے۔ اگر آپ شروع میں چلے جائیں تو ابتدائی دور میں اس طرح کا کوئی فرق فقہا کے ہاں نہیں ملتا۔ وہ یہی کہتے ہیں کہ وہ علاقہ جہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہو اور مسلمان اپنے قوانین کو نافذ کر سکتے ہوں تو وہ علاقہ دار الاسلام ہے، چاہے مسلمان عملاً کتنے ہی بدکردار ہوں، ان کے حکمران کتنے ہی بگڑے ہوئے ہوں، عملاً قانون شریعت کے مطابق فیصلے ہو رہے ہوں یا نہ ہو رہے ہوں۔ اگر کسی علاقے میں مسلمان رہتے ہیں اور وہ اسلام سے اپنی وابستگی کو قائم رکھتے ہیں اور ان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ شریعت کونافذ کر سکتے ہیں تو ہماری کلاسیکی فقہی اصطلاح میں وہ علاقہ دار الاسلام ہے۔ یہ جو فرق ہے مسلم ریاست کا اور اسلامی ریاست کا، یہ اب دور جدید میں آکر اس تناظر میں پیدا ہوا ہے کہ ریاست کا ایک تصور مغرب سے ہمارے پاس آیا ہے جس میں آئیڈیل یہ ہے کہ مذہب کے معاملات سے ریاست کو کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ یہ مغربی تصور جمہوریت میں بنیادی چیز ہے۔ اب یہ تصور جب ہمارے ہاں آیا ہے تو مختلف مسلمان ملکوں میں اس تصور کو اسی طرح یا کچھ modify کر کے اختیار کرنے کی کوشش کی گئی، بلکہ ترکی میں تو مغرب سے بھی ایک ہاتھ آگے بڑھ کر اس کو اختیار کر لیا گیا۔ اس سے لوگوں کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ اسلام تو یہ چاہتا ہے کہ جو ریاست ہے، وہ مذہب کے معاملات میں بھی اپنی ذمہ داریاں قبول کرے اور اپنے فرائض کو ادا کرے، اس لیے جو جدید تصور ریاست ہے، وہ اسلامی ریاست کے تصور کے ساتھ compatible نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں فرق کرنا پڑے گا کہ کون سی ریاست ایک مسلم ریاست ہے او رکون سی ریاست اسلامی ریاست ہے۔
اس لحاظ سے لوگوں نے یہ سوال پیدا کیا ہے اور آپ دیکھیں کہ اس فرق کی ضرورت کا احساس پیدا ہونا، قابل فہم ہے۔ ایک ایسا عنصر شامل ہو گیا ہے کہ لوگ یہ فرق کرنا چاہتے ہیں اور اس کی ایک نظری بنیاد بھی موجود ہے کہ یہ فرق ہونا چاہیے۔ یعنی جب تک ریاست فی الواقع ان بنیادوں پر قائم نہ ہو جو ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن میں بیان ہوئی ہیں، حدیث میں بیان ہوئی ہیں تو اس وقت تک اس کو اسلامی ریاست نہیں کہنا چاہیے۔ بہت سے لوگ ایسا ہی سمجھتے ہیں اور ایک حد تک ان کی بات قابل فہم ہے۔ لیکن اس تصور کے حامل بہت سے لوگ اس سے آگے بڑھ کر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ چونکہ یہ اسلامی ریاستیں نہیں ہیں، اس لیے ان ریاستوں میں جو نظام اطاعت قائم ہے، اس کی پابندی بھی مسلمانوں پر لازم نہیں جیسا کہ اسلامی ریاست کے قوانین کی پابندی لازم ہوتی ہے۔ چنانچہ اس طرح سوچنے والے بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ انقلاب کے ذریعے سے ہم نظام کو بدلیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ چونکہ یہ ایک اسلامی ریاست نہیں ہے، اس لیے یہاں پر جو ایک نظم قائم ہے اور جو بھی نظام بنا ہوا ہے حکومت کا، اس کی پابندی ہم پر لازم نہیں۔
یہ ایک قابل بحث بات ہے اور میرے خیال میں یہ نتیجہ درست نہیں۔ قرآن سے، سنت سے اور ہمارے فقہا کی جو تصریحات ہیں، ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ریاست یا حکومت کا نظام کتنا ہی بگڑا ہوا کیوں نہ ہو، قرآن وسنت سے عملاً ہٹا ہوا ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ اس علاقے کے مسلمانوں کی رضامندی سے اور ان کے اپنے اختیار سے قائم کیا گیا ہے تو اس کو ایک عملی جواز حاصل ہوتا ہے اور اس میں اگر آپ رہ رہے ہیں تو اس پر چاہے آپ تنقید کریں، اس سے اختلاف کریں، اصلاح کی کوشش کریں، لیکن آپ کا ریاست کے ساتھ ایک معاہدہ ہے جس کی رو سے آپ اس نظام کی پابندی کرنے کے مکلف ہیں۔ شریعت پر قائم ہونا میرے خیال میں کسی نظام کی اطاعت کرنے یا نہ کرنے کا اور اس کے قوانین کی پابندی قبول کرنے یا نہ کرنے کا معیار نہیں ہے۔ آپ ایک خالص غیر مسلم ریاست میں رہ رہے ہیں جس کو ہماری کلاسیکی اصطلاح میں دار الحرب کہتے ہیں، یعنی ایسے کفار ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ برسر جنگ ہیں، وہاں بھی اگر مستقل طو رپر رہ رہے ہیں تو قوانین کی پابندی لازم ہوگی۔ اسی طرح اگر آپ ایک معاہدے کے تحت گئے ہیں کہ آپ وہاں امن وامان کو نہیں چھیڑیں ہیں، وہاں کے قوانین کی پابندی کریں گے تو اس کی اطاعت بھی واجب ہے۔ اس معاہدے کی خلاف ورزی آپ نہیں کر سکتے۔ پر امن ممالک کے مقامی قوانین کی پابندی کرنا مزید اہم ہو جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید نے حضرت یوسف کے واقعے میں بیان کیا ہے کہ ان کے چھوٹے بھائی کو ان کے پاس مصر میں روکنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص تدبیر فرمائی، کیونکہ وہ ملکی قانون (دین الملک) کے مطابق اسے اپنے پاس نہیں روک سکتے تھے۔
اسی اصول پر یہ دیکھنا چاہیے کہ اس وقت جو مسلم ریاستیں ہیں، ان کی شریعت سے وابستگی جتنی بھی ہو، جیسی بھی ہو، اس میں جو بھی نظری یا عملی مسائل ہوں، لیکن جب آپ وہاں رہ رہے ہیں تو وہاں کے قانون اور نظام کے پابند ہیں اور اس معاہدے کے تحت رہ رہے ہیں کہ ہم نظام کی پابندی کرتے ہوئے یہاں رہیں گے۔ معاہدے کو توڑنا جیسے ایک غیر مسلم ریاست میں جائز نہیں ہے، اسی طرح ایک مسلمان ریاست میں بھی جائز نہیں ہے۔ مثال کے طو رپر پاکستان ہے۔ یہاں آپ کو اسلامی شریعت کے مطابق ریاست قائم کرنی ہے تو اس کا طریقہ یہ ہرگز نہیں ہے کہ ایک گروہ اٹھے یا چند لوگ اٹھیں اور وہ کہیں کہ ہمارے ذہن میں اسلامی ریاست کا جو ماڈل ہے، وہ یہ ہے، اس لیے اس کو ہم بالجبر نافذ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کی اسلام میں اجازت نہیں ہے۔ یہاں پر حکومت کا نظام یہاں کے لوگوں نے جو اختیار کیا ہے، وہی ہوگا۔ لوگوں کی مرضی کے بغیر ہم ان پر کوئی نظام مسلط نہیں کر سکتے۔ ہاں، لوگوں کو اس پر قائل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ جو نظام آپ نے اختیار کیا ہوا ہے، اس میں یہ خرابیاں ہیں، اس میں یہ خامیاں ہیں اور اس کا متبادل یہ ہے۔ آپ یہاں کی سیاسی جماعتوں کو آمادہ کریں کہ و ہ بہتر ماڈل کو اختیار کریں۔ آپ اپنی کوئی پولیٹیکل پارٹی بنائیں، لیکن اس نظام کے دائرے میں آپ کو جدوجہد کرنی ہے۔ اس سے باہر آپ جائیں گے تو اس سے بہت سے اصول شریعت کے بھی پامال ہوں گے اور اخلاقیات کے بھی پامال ہوں گے۔
میں اس معاملے کو ایسے دیکھتا ہوں۔ نظری سطح پر بحث رہے گی کہ اسلامی ریاست اور مسلم ریاست میں فرق ہے یا نہیں، لیکن عملاً ہمیں اس نظام کی پابندی کرنی ہے۔ اسلامی ریاست ہے، تب اس کی پابندی کرنی ہے اور اگر محض ایک مسلم ریاست ہے تو بھی ایک نظام بنا ہوا ہے، ہم یہاں کے شہری ہیں اور یہاں کے آئین کی پابندی ہم پر لازم ہے۔ ہمیں جو بھی جدوجہد کرنی ہے، اس کے دائرے میں کرنی ہے۔
مشعل سیف: آپ کے خیال میں ایک اسلامی ریاست کیا ہے؟ کس طرح تصور کریں گے اسلامی ریاست کو؟
عمار ۔ سادہ بات ہے۔ مسلمان فرد کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے جس کو ہم قانونی درجہ کہتے ہیں کہ قانون کی نظر میں یہ آدمی مسلمان ہے۔ اس کے لیے تو اتنا کافی ہے کہ آدمی اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو اور in principle یہ قبول کرتا ہو کہ میں اللہ کی دی ہوئی ہدایات کا پابند ہوں۔ یہ آدمی مسلمان ہو گیا۔ اب وہ عملاً جتنا بھی بدکردار ہے، عملاً وہ چاہے دین کے فرائض بھی پورے نہ کرتا ہو، وہ مسلمان ہے۔ البتہ جو ایک معیاری مسلمان کا درجہ ہے، وہ ظاہر ہے کہ یہ نہیں ہے۔ یہی معاملہ ریاست کا ہے۔ پاکستان کی ریاست اپنے عقیدے اور اپنے نظریے کو آئین میں واضح کر چکی ہے کہ یہ ایک اسلامی ریاست ہے جو شریعت کی پابندی کو قبول کرتی ہے۔ اس میں مختلف قسم کی gurantees دی گئی ہیں کہ قوانین کو اسلام کے مطابق بنایا جائے گا اور فلاں اور فلاں اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست قانونی درجے میں مسلمان ہو گئی ہے۔ لیکن عملاً اس کے پورے اسٹرکچر کو بدل کر اس معیار پر لانا کہ یہ اسلامی ریاست کی جو ذمہ داریاں ہیں، ان کو پورا کرے، خدا کے لحاظ سے بھی، مسلمانوں کے لحاظ سے بھی اور دنیا میں غیر مسلموں کو دعوت پہنچانے کے لحاظ سے بھی، تو یقیناًیہ اس وقت اس حالت میں نہیں ہے اور اس میں بہت اصلاح کی ضرورت ہے۔
تو فرد کی مثال سے ریاست کا معاملہ سمجھنا چاہیے۔ جیسے ہم ایک فرد کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ مسلمان ہے، لیکن بدعمل ہے، اسی طرح ہماری جو اس وقت مسلمانوں کی ریاستیں ہیں، وہ اگر شریعت کی پابندی کو اصولی طو رپر قبول کرتی ہیں تو وہ مسلمان ریاستیں ہیں اور قانونی طور پر اسلامی ریاستیں بھی ہیں۔ اب ان کو اپنے آپ کو اس معیار پر لانا ہے کہ وہ ایک صحیح اسلامی ریاست کی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔ یہ ظاہر ہے کہ صرف حکومتوں کا کام نہیں ہے۔ اس میں پوری سوسائٹی کو اس نہج پر ڈھالنا ہوگا۔ جمہوری دور میں تو خاص طور پر حکومت کا عمل دخل بہت کم ہو جاتا ہے۔ سوسائٹی کے جو دوسرے ادارے ہیں، مختلف طبقات ہیں، ان کی ذمہ داری زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ سوسائٹی کو اس رخ پر لے کر جائیں کہ صحیح اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے راہ ہموار ہو۔
مشعل سیف: آپ نے اپنے گجرات یونیورسٹی کے لیکچر میں ایک اور بڑی اہم بات کہی ہے کہ آج کے دور میں ہم اسلامی ریاست کا جو تصور رکھتے ہیں، وہ کافی مختلف ہے اس سے جو قدیم دور میں اسلامی ریاست ہوتی تھی۔ آپ نے اس کے مختلف پہلو بیان کیے ہیں کہ مثلاً حکمران کافی دیر تک حکومت کرتا رہتا تھا اور اس کو ہٹانے کا کوئی طریقہ نہیں تھا، جبکہ آج ہمارا ایک الیکشن سسٹم ہوتا ہے۔ پھر دار الحرب اور دار الاسلام میں دنیا تقسیم ہوتی تھی، جبکہ آج ایک بہت مختلف بین الاقوامی نظام ہے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ جب یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اصولی طور پر ایک اسلامی ریاست ہے تو پھر اس کو ہم اسلامی ریاست کے قدیم تصور کے مطابق کیسے اسلامی ریاست سمجھیں گے؟ جبکہ آپ نے خود بہت سے ایسے پہلو بیان کیے ہیں جو اسلامی ریاست کے قدیم اور جدید تصور میں باہم مختلف ہیں۔ اس نکتے کی کچھ وضاحت کر دیں۔
عمار ناصر: دو الگ الگ باتیں ہیں۔ اسلامی ریاست وہ ہے جو شریعت کے نفاذ کو اور خدا کے دیے ہوئے قانون کی پابندی کو اصولی طو رپر قبول کر لے۔ اس کے بعد دو چیزیں آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ شریعت کے جو مختلف احکام ہیں، ان کی تعبیر وتشریح میں یقیناًفرق موجود ہے۔ ہماری جو کلاسیکی فقہ ہے، وہ بہت سی چیزوں کو اور طرح سے دیکھتی ہے۔ اب ہم آج اس وقت دنیا میں بیٹھے ہیں تو آج کے اہل علم اور فقہا ان چیزوں کو اور طرح سے دیکھتے ہیں۔ اب ایسا نہیں ہے کہ اگر ہماری interpretation پرانے فقہا سے بدل گئی ہے تو ہم شریعت کی بالادستی کے منکر ہو گئے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ شریعت کی تعبیر کا اختلاف ہے نہ کہ شریعت کی بالادستی کے اصول کا۔ میں نے جتنی چیزیں بھی اپنے لیکچر میں گنوائی ہیں کہ یہاں یہاں فرق ہے، قدیم ریاست کا اسٹرکچر اور ہے، جدید ریاست کا اور ہے، ان میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اسلامی ریاست کا جو بنیادی تصور ہے، اس کے ساتھ Incompatible ہو۔ یہ وہ تبدیلیاں ہیں جن کا تعلق حالات کے ساتھ ہے۔ یہ جو فرق آیا ہے، میں اس کو اسلامی ریاست کے تصو رکے خلاف نہیں سمجھتا۔ مثلاً آج اگر ہم غیر مسلموں کو مسلمانوں کے برابر سیاسی حقوق دیتے ہیں تو یہ اسلام کے کسی غیر متبدل اصول کے خلاف نہیں، اگرچہ ہمارے کلاسیکی فقہا نے اس معاملے کو اور طرح سے دیکھا ہے۔ یا آج اگر ہم خواتین کو معاشرتی وسیاسی زندگی میں اس سے زیادہ حقوق اور مواقع دیتے ہیں جو پہلے زمانے میں ان کو حاصل تھے تو اس میں اسلام کے ساتھ کوئی ٹکراؤ نہیں ہے، اگرچہ کلاسیکی دور کے فقہا کا زاویہ نظر مختلف ہے۔
تو اس بات کو بالکل واضح کرنا چاہیے کہ ہم جدید دور میں اسلامی قانون کے بہت سے مسائل کو بالکل نئے زاویے سے اور اگر میں فقہی اصطلاح استعمال کروں تو یہ کہنا چاہیے کہ اجتہاد مطلق کی سطح سے دیکھ رہے ہیں۔ ریاست کا اسٹرکچر کیا ہونا چاہیے، اس کو ہم قدیم دور کے فقہا سے بے حد مختلف طریقے سے دیکھ رہے ہیں، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس لیے کہ تعبیر کے اختلافات پہلے دور میں بھی رہے ہیں جو اس دور کے علماء کے مابین تھے۔ آج ہم یہی اختلاف دور اور زمانے کے فرق کے تناظر میں کر رہے ہیں۔ تو ایک بات تو یہ ہے کہ بعض چیزوں کی تعبیر وتشریح میں اگر اختلاف ہے تو اس سے شریعت کی بالادستی کے اصول کی نفی نہیں ہوتی۔
دوسری چیز یہ ہے کہ آپ کے سامنے اچھے اسلامی معاشرے کا ایک آئیڈیل ہے۔ اس آئیڈیل تک پہنچنے کے لیے سوسائٹی کو تیار کرنا ہوگا اور اس میں وقت لگے گا، بلکہ ہم اس کی کوئی ضمانت بھی نہیں دے سکتے کہ وہ جو آئیڈیل ہے، وہ کبھی achieve بھی ہو سکے گا۔ اس معاملے میں ہمیں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو حکمت عملی نظر آتی ہے اور بعد کے ادوار میں بھی مسلمان جہاں جہاں گئے ہیں، وہاں اسی حکمت عملی کو اختیار کیا گیا ہے، ویہ ہے کہ آپ کے سامنے جو آئیڈیل ہے، جو قرآن وسنت میں ہمیں ایک معیاری مسلم معاشرے کا نقشہ دیا گیا ہے اور جس کا نمونہ ہمیں خلفائے راشدین کے دور میں ملتا ہے، اس کا ہر جگہ قابل حصول ہونا عملاً ممکن نہیں اور شاید مطلوب بھی نہیں۔ ہمیں کوشش کرنی ہے۔ جیسے فرد کی سطح پر ایک مسلمان کے سامنے نمونہ تو ہے کہ ایک بہترین مسلمان ایسا ہوتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں بلکہ ممکن بھی نہیں کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی اکثریت ساری زندگی کی محنت کے باوجود اس مقام پر آ جائے۔ ہم سب گنہ گار ہیں اور جب لوگ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو اللہ سے یہی دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہمارے گناہوں کو بخش دے اور جیسے کیسے بھی اعمال ہیں، انھیں قبول کر لے۔ اسی پر معاشرے کو بھی قیاس کرنا چاہیے۔ ایک فرد جب ایک معیاری جگہ پر نہیں پہنچ سکتا، بڑا مشکل ہے اور ہم اللہ سے رحمت ہی کی امید رکھتے ہیں تو معاشرے تو کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں۔ ان میں زیادہ complexities ہوتی ہیں، اس لیے ان کے متعلق یہ تصور کرنا کہ لازماً کوئی معاشرہ اس مطلوبہ معیار پر پہنچ جائے، تبھی ہم اس کو ایک اسلامی معاشرے کا سرٹیفکیٹ دیں گے، یا ریاست جب اس معیار پر پہنچ جائے گی جس کا نمونہ خلافت راشدہ کے دور میں دکھائی دیتا ہے، تبھی ہم اسے اسلامی ریاست قرار دیں گے، یہ ایک بہت تصوراتی سی بات ہے۔ ہمیں کوشش کرنی ہے، اپنے آپ کو بھی اچھا مسلمان بنانے کی اور معاشرے کو بھی اچھا مسلمان بنانے کی۔ کوشش ہم کرتے رہیں گے۔ جتنا ہو جائے گا، ہو جائے گا۔ جو نہیں ہو سکے گا، اللہ سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمائے گا۔
مشعل سیف: آپ نے کہا کہ کلاسیکی فقہا کا جس طرح کا اسلامی ریاست کا تصور ہے، آج کے زمانے میں ہم اس سے کافی ہٹ کر تصور رکھتے ہیں، کیونکہ ہم ایک بہت مختلف دور میں ہیں۔ آپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کلاسیکی فقہا سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور کلاسیکی فقہا کی اپنی ایک سوچ تھی، ان کا اپنا ایک زمانہ تھا۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا اور آج ہم اس سے ہٹ کر سوچ سکتے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اختلاف کرنے کو پسند نہیں کرتے اور کلاسیکی فقہا کے تصور کے مطابق ہی اسلامی ریاست کو دیکھتے ہیں۔ اب جب وہ پاکستان کا جائزہ لیتے ہیں تو اسی سانچے میں لیتے ہیں جو انھوں نے کتابوں میں پڑھا ہوتا ہے۔ آپ نے بھی اپنے لیکچر میں یہ کہا تھا جو بالکل اہم اور صحیح ہے۔ میں جب بہت سے علماء سے ملتی ہوں یا اس موضوع پر ان کے فتاویٰ دیکھتی ہوں تو حوالہ انھی چیزوں کا دیا جاتا ہے جو انھوں نے کتابوں میں پڑھی ہیں۔ ان کا ایک بالکل مختلف تصور ہوتا ہے اسلامی ریاست کا۔
عمار ناصر: بالکل درست ہے۔ فکر کی یہ دونوں رَویں موجودہیں۔ دیکھیں، جو مسلم معاشرے سعودی عرب یا ایران کی طرز کے ہیں، جہاں تعبیر شریعت کی حتمی اتھارٹی علماء کو دے دی گئی ہے، وہاں سردست اس طرح کے مسائل سطح پر نمایاں نہیں، لیکن ایسے مسلم معاشرے جہاں ہم نے اسلام کو اپنی بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کے ساتھ جمہوریت کو بھی قبول کیا ہے، وہاں کشمکش بہت نمایاں ہے۔ اسلامی ریاست جو ہے، وہ دنیا میں ایک مجرد اور تصوراتی شکل میں نہیں رہی۔ اس کی اپنی ایک tradition ہے۔ مسلمانوں کے ریاستی نظام اور مسلم معاشرے کے جو مختلف ادارے ہیں، ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے پورا لٹریچر موجود ہے۔ اسلامی فقہ ہے جو آپ کو ایک پورا ماڈل دیتی ہے۔ جدید مسلم ریاستوں میں اس کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ریاست کے ان دو مختلف ماڈلوں کا ایک synthesis وجود میں لایا جائے۔ پاکستان اس کی بڑی اچھی مثال ہے۔ ہماری جو اوپر کی سطح کی مذہبی قیادت ہے، وہ بہت سمجھ دار بھی ہے اور معاملہ فہم اور حقیقت پسند بھی۔ اس نے اس کو قابل عمل سمجھتے ہوئے اس کی تائید بھی کی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ نظری سطح پر synthesis تو بنا لیا گیا اور آئین کی سطح پر اس کو اختیار بھی کر لیا گیا، لیکن اس سارے اجتہادی عمل کا analysis نہیں ہوا کہ ہم نے یہ کیا کیا ہے اور کس بنیاد پر کیا ہے۔ اس پر کوئی intellectual debates نہیں ہوئیں۔ اس وجہ سے من حیث المجموع جو مذہبی طبقہ ہے، وہ کوئی بھی ہو، اس میں کسی مکتب فکر کا کوئی فرق نہیں رہ جاتا، اس کا جو بحیثیت مجموعی mindset ہے، وہ اصل میں یہی ہے کہ ہم نے یہ مجبوری کی حالت میں کیا ہے۔ اصل میں تو ہمیں کوشش یہی کرنی ہے کہ اس کو بدل کر اس پرانے ماڈل کے مطابق بنائیں۔
تو یہ کنفیوژن موجود ہے اور جب تک اس پر باقاعدہ گفتگو نہیں ہوگی، ایک intellectual debate نہیں ہوگی اور یہ بتایا نہیں جائے گا کہ صورت حال میں اتنا فرق واقع ہو چکا ہے اور ایک اجتہادی زاویہ نظر اختیار کرتے ہوئے ہم نے چیزوں کو نئے سرے سے دیکھنا ہے، اس وقت تک یہ کنفیوژن موجود رہے گا۔ یہاں علامہ اقبال نے جو بحث کی ہے، وہ ساری relevant ہو جاتی ہے۔ اقبال نے یہی بتایا ہے کہ ریاست، مذہب سے لاتعلق نہیں ہو سکتی۔ یہ اسلام کی جو nature ہے، اس کے خلاف ہے۔ لیکن ہمیں اسلام کے اجتماعی نظام کے حوالے سے پرانے دور میں جو ایک تعبیر ملتی ہے، اس پر بہت سے معاشروں کے اور تاریخی حالات وتجربات کے بڑے گہرے اثرات ہیں۔ ملوکیت نے بڑے گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ آپ کے ہاں خلافت بھی ابتدائی کچھ سالوں کو چھوڑ کر ملوکیت ہی تھی۔ اس کے بڑے اثرات ہیں۔ فقہ نے ایک خاص دور میں آ کر بالکل جمود کی شکل اختیار کر لی تھی۔ اس کے زیر اثر کچھ attitudes اور کچھ فکری مقدمات پیدا ہوئے ہیں۔ تو ہمیں تاریخی طور پر جو ایک tradition ملی ہے، اس کا ایک burden ہے جو آپ کو آسانی سے اپنے نیچے سے ہلنے نہیں دیتا۔ یہاں پر اجتہاد کی ضرورت ہے اور اجتہاد محدود اور جزوی معنوں میں نہیں، بلکہ اپنے اصل اور حقیقی معنوں میں۔ علماء اصل میں کہتے ہیں کہ اجتہاد تو ہم کر رہے ہیں۔ جو بھی مسئلہ سامنے آتا ہے جو کتابوں میں نہیں ملتا، ہم اس کا حل پیش کر دیتے ہیں۔ ٹھیک ہے، یہ بھی اجتہاد ہے، لیکن بہت جزوی سطح کا اجتہاد ہے۔ اجتہاد ایک بہت بڑے canvas پر مطلوب ہے، کیونکہ پوری دنیا کا نقشہ بدل گیا ہے۔ دنیا میں مسلمانوں کا رول کیا ہونا چاہیے، مسلمان ریاست کا نقشہ کیا ہونا چاہیے، اس میں جو مختلف طبقات ہیں جن کے interests مختلف ہیں، جن کے رجحانات مختلف ہیں، ان کوہم کیسے آپس میں harmonize کریں تاکہ یہ مل جل کر قوم کی اجتماعی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں اور اپنی توانائیاں باہمی کھینچا تانی میں صرف نہ کرتے رہیں۔ یہ سارے سوالات بڑی گہری اور بنیادی سطح پر اجتہادی زاویہ نظر کا تقاضا کرتے ہیں۔
دیکھیں، اس وقت کیا ہو رہا ہے؟ ہر مسلم معاشرے میں قدیم اور جدید کی ایک کشمکش ہے جو آگے نہیں بڑھنے دے رہی۔ سب کوشش کر رہے ہیں کہ معاشرے کو کھینچ کر اپنے رخ پر لے جائیں۔ فکر کا ایک سانچہ ہمیں ورثے میں ملا ہے۔ فکر کا دوسرا سانچہ وہ ہے جو ہمیں مغرب سے ملا ہے اور یہ دونوں سانچے قوم کو اپنی اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چونکہ دونوں powerful ہیں، اس لیے قوم دونوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ نہ ادھر جا رہی ہے اور نہ ادھر جا رہی ہے۔ یہ کھینچا تانی ختم ہونی چاہیے اور وہ سیاسی انداز سے ختم نہیں ہو سکتی۔ اس کا کوئی امکان نہیں کہ کبھی وہ وقت آئے گا کہ قدیم مذہبی عنصر اتنا حاوی ہو جائے کہ وہ اپنی سیاسی طاقت کے ذریعے سے نظام ریاست کو اپنے تصور کے مطابق ڈھال لے۔ اسی طرح جو سیکولر فکر ہے، وہ بھی کبھی اتنی طاقت ور نہیں ہو سکتی کہ مذہب سے بالکل لاتعلق ہو کر ایک سیکولر ریاست بنانے میں کامیاب ہو جائے۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ لازماً اس کا حل یہ ہے کہ یہ طبقات آپس میں dialogue کریں اور چیزوں کو intellectual debate کے ساتھ حل کریں۔ اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ درمیان کی راہ اختیار کی جائے اور ہم بحیثیت قوم اعتدال کے ساتھ، روایت سے بھی وابستہ رہیں اور جو مغرب کے پیش کردہ مفید تصورات وتجربات ہیں جو اسلام کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، ان سے بھی استفادہ کریں اور ایک اعتدال پسندی کی راہ سامنے آئے جس کو سوسائٹی کا عمومی اعتماد حاصل ہو جائے۔ اس وقت تو دو انتہا پسندوں کے مابین سوسائٹی پھنسی ہوئی ہے۔
تو میرے خیال میں سارے مسئلے کی جڑ یہ ہے کہ ہم نے یہاں پاکستان میں جو اجتہاد کیا ہے اسلام اور مغرب کے جمہوری نظام کو ملا کر ایک مرکب بنانے کا، اس کے بارے میں کسی بھی سطح پر، کسی بھی طبقے میں جو مکالمہ اور ڈائیلاگ ہونا چاہیے تھا، وہ نہیں ہوا۔ لوگوں کو سمجھانا چاہیے تھا کہ بھئی، پرانا اسٹرکچر یہ تھا، اس کی bases یہ تھیں۔ اب یہ تبدیلیاں آ چکی ہیں، اب ہمارے پاس یہ بنیادیں ہیں فیصلہ کرنے کی۔ اب ہم فقہ اور شریعت کے بہت سے مسائل کو نئے سرے سے دیکھ رہے ہیں۔ اب ہم نئے سرے سے نصوص کو دیکھ رہے ہیں اور ایک نئی interpretation کر رہے ہیں۔ جب تک بالکل واضح طریقے سے آپ یہ بات لوگوں کو نہیں بتائیں گے، اس وقت تک یہ کنفیوژن دور نہیں ہوگا اور معاملات یونہی چلتے رہیں گے۔ جدید ریاستی نظام کے حوالے سے ہماری اعلیٰ سطحی مذہبی قیادت نے جن چیزوں پر صاد کیا ہے، وہ کسی بھی طرح اجتہاد مطلق سے کم نہیں ہے۔ نہایت بنیادی ایشوز پر کلاسیکی تصور ریاست سے اختلاف کیا گیا ہے جو ایک مثبت طرز فکرہے، لیکن تضاد یہاں سے پیدا ہوتا ہے کہ سب کچھ کرنے کے باوجود علماء بطور ایک طبقے کے جو اپنا فکری مقدمہ پیش کرتے ہیں، وہ کلاسیکی فقہ ہی کو Idealize کرتا ہے۔ وہ یہ کہنے کی جرات نہیں رکھتے کہ ہاں، اجتہاد مطلق ہو سکتا ہے اور ہم نے عملاً کیا ہے۔ اس سے شاید انھیں خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ پھر معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔
مشعل سیف: آپ نے جو حل بتایا ہے کہ ہمیں نئے سرے سے اجتہاد کرنا چاہیے تو کیا آپ کے خیال میں اس سلسلے میں مدارس میں جو تعلیمی نظام ہے، اس میں بھی کچھ تبدیلیاں لانی چاہییں؟
عمار ناصر: وہ تو بنیادی چیزہے، اس لیے کہ آپ کا جو قدیم تصور ریاست ہے، وہ اس وقت آپ کو بتا کون رہا ہے؟ وہ تو دنیا میں کہیں پڑھایا نہیں جا رہا اور نہ کہیں موجود ہے۔ وہ یہ مدارس ہی ہیں جو قدیم فقہ کو پڑھاتے ہیں اور وہی لوگوں کو اس کے متعلق بتاتے ہیں، لیکن ساتھ یہ نہیں بتاتے کہ اب حالات بدل گئے ہیں۔ چنانچہ لوگ وہیں سے فکری طور پر ایک ماڈل اخذ کرتے ہیں اور پھر جب وہ اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں تو انھیں پورا معاشرہ ایسے لگتا ہے جیسے یہ کوئی اجنبی معاشرہ ہے۔ ان کے اور لوگوں کے مابین ایک اجنبیت کی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ پورے سسٹم کے بارے میں نظریاتی بنیادوں پر تحفظات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد جب کچھ ا س طرح کی پالیسیاں سامنے آتی ہیں جیسے افغانستان کے معاملے میں پاکستان نے اپنائیں اور امریکی جنگ کا حصہ بن گیا تو اس سے ایک ری ایکشن پیدا ہوا۔ اس میں ہماری اپنی غلط قسم کی سیاسی پالیسیوں کا بھی پورا پورا کردار ہے۔ جب ہم لوگوں کو ہتھیار پکڑا دیں گے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا، بلکہ نکل چکا ہے کہ پورا ایک علاقہ اس تصور کی بنیاد پر ہتھیار لے کر اٹھ کھڑا ہوا کہ یہ سرے سے ایک اسلامی ریاست ہی نہیں اور جمہوریت کا یہ سارا نظام کفر ہے اور ہمیں یہاں اس کی جگہ شریعت کو نافذ کرنا ہے۔ تو کچھ مذہبی آئیڈیالوجی، کچھ قدیم تصور ریاست اور کچھ آپ کی غلط پالیسیوں پر غصہ اور رد عمل، یہ ساری چیزیں مل کر ان کو اس جگہ پر لے آئی ہیں کہ انھوں نے ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔
مشعل سیف: تو کیا آپ کے خیال میں کلاسیکی فقہ کو پڑھاناہی نہیں چاہیے؟ کیا کرنا چاہیے؟
عمار ناصر: نہیں، یہ مطلب ہرگز نہیں ہے۔ کلاسیکی فقہ کو پڑھائیں، لازماً پڑھائیں، لیکن وسیع تر فکری اور عملی تناظر میں پڑھائیں۔ ہمارے ہاں تو مدارس میں مسئلہ یہ ہے کہ جو کلاسیکی فقہ ہے، اس کی جس طرح سے development ہوئی ہے، وہ بھی نہیں پڑھائی جاتی۔ مثلاً برصغیر کے مدارس میں فقہ کی جو سب سے مفصل کتاب پڑھائی جاتی ہے، وہ ہدایہ ہے جو پانچویں صدی کے حنفی عالم مرغینانی نے لکھی تھی۔ پانچویں صدی تک فقہ حنفی جس حد تک develop ہو چکی تھی، وہ آپ کو اس میں نظر آئے گی۔ وہ آپ کو پڑھا دی جاتی ہے۔ اس کے بعد کیا کچھ ہوا، نہ وہ پڑھایا جاتا ہے اور وہاں تک فقہ کیسے پہنچی، پہلے پانچ سو سال کا ارتقا بھی نہیں پڑھایا جاتا۔ گویا آپ طالب علم کو فقہ کا ایک بالکل Static View دے رہے ہیں۔ اس کے لیے وہی حرف آخر ہے جو اس نے اس میں پڑھ لیا ہے۔ اس تصور کے ساتھ آپ کیا توقع رکھتے ہیں کہ وہ اتنی بڑی تبدیلی کو سمجھ سکے گا جو اب ہر سطح پر دنیا میں رونما ہو چکی ہے؟ تو مدارس کے بنیادی نظام، تعلیم کے بنیادی تصورات اور نصاب تعلیم کی اصلاح، یہ پوری اسکیم ہے اور یہ بنیادی چیز ہے۔ وہاں اگر آپ اصلاح نہیں کریں گے تو باقی جتنی چاہیں discussions کر لیں، ٹاک شوز کر لیں، اخبارات میں لکھ لیں، جب تک وہ مائنڈ سیٹ produce ہوتا رہے گا اور اس کی اصلاح کے لیے آپ جڑ سے نہیں پکڑیں گے، معاملہ حل نہیں ہوگا۔
مشعل سیف: اس پر کچھ مزید روشنی ڈالیے کہ کس طرح کی تبدیلیاں لے کر آنی چاہییں تعلیمی نصاب میں۔ کیونکہ آپ یہ نہیں کہہ رہے کہ ہمیں کلاسیکی فقہ نہیں پڑھانی چاہیے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اس کو ضرور پڑھانا چاہیے، مگر ساتھ یہ بھی پڑھائیں کہ تاریخ میں کس طرح اس میں تبدیلیاں آئی ہیں اور ہمیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ آج کل دنیا میں جس طرح کا پولیٹیکل اسٹرکچر ہے، وہ بہت مختلف ہے اور اس کی بھی تعلیم دینی چاہیے۔ تو سوال یہ ہے کہ پھر کلاسیکی فقہ پڑھانے کا آخر فائدہ کیا ہوا؟ کیا یہ اس لیے ہے کہ یہ تاریخی طور پر ہمارا ورثہ ہے، اگرچہ آج کل کے حالات میں یہ ہماری زیادہ مدد نہیں کرتی؟
عمار ناصر: دیکھیں، ہم اپنی علمی Tradition کو تو نظر انداز نہیں کر سکتے، نہ دست بردار ہو سکتے ہیں۔ آپ مغرب کو دیکھیں۔ وہ اپنے ہاں جو بھی علوم پڑھاتے ہیں، ان میں افلاطون اور ارسطو سے لے کر اب تک کی جو بھی روایت ہے، وہ آپ کو پڑھائیں گے تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ وہ کہاں کہاں سے گزر کر اور کون کون سے مراحل طے کر کے آج یہاں پہنچے ہیں۔ تو اپنی روایت سے ہم کیسے دست بردار ہو سکتے ہیں؟ ہمیں اس سے راہ نمائی لینی ہے۔ مذہب اور شریعت کو اپنا بنیادی سرچشمہ مان کر چیزوں کو دیکھنے کا جو زاویہ نظر ہے، ہمیں وہ اسی سے ملے گا۔ کلاسیکی فقہ کے جو applied نتائج ہیں، ان سے آج ہم یقیناًاختلاف کریں گے، لیکن جو ایک Thinking Process ہے، قرآن وسنت سے چیزیں اخذ کرنے کا جو منہج ہے، اس کے اچھے نمونے اور نظائر تو ہمیں وہیں سے ملیں گے۔ وہ تو آپ کو Anglo-Saxon Law نہیں دے گا۔ کلاسیکی فقہ ہمارا ایک غیر معمولی ورثہ ہے۔ ہمیں اس کو پڑھنا ہے، اس کو گہرائی میں جا کر سمجھنا ہے۔ اس سے ہمیں دست بردار نہیں ہونا، اس کو لینا ہے، اس سے سیکھنا ہے اور اس کو حاصل کرنا ہے۔ اس پراسس کو سمجھ کر پھر ہم نے آج نئے سرے سے اسے apply کرنا ہے۔ اس کو لازماً پڑھانا چاہیے۔اس کے بغیر تو ہم اپنی روایت سے بالکل کٹ جائیں گے۔
ہماری جو Tradition ہے، جو پوری روایت ہے، اس میں اصول فقہ ہے، اصول تفسیر ہے، اصول حدیث ہے، دوسرے دینی علوم ہیں، ان کو وسیع تناظر میں دینی علوم کے طلبہ کو پڑھانا چاہیے اور اس کے ساتھ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں آج کے مغربی فلسفے اور سماجی علوم کو بھی اپنے نصاب میں شامل کرنا چاہیے۔ یہ بھی ہماری روایت کا حصہ ہی ہوگا، کیونکہ ہم نے قدیم دور میں جو اس وقت کی Greek Philosophy تھی، اس کو اپنے تعلیمی نصاب میں شامل کیا تھا، بلکہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کو ہم نے Islamize بھی کر لیا اور اس میں ہمارے مفکرین نے اپنے اضافے کیے۔ تو علم میں کوئی تعصب نہیں ہے۔ جیسے ہم نے یونانی فلسفے میں بعض غلط تصورات کی اصلاح کی، آج ہم مغرب کے علوم کے ساتھ بھی یہ کر سکتے ہیں۔ ان سے ان کا فلسفہ سمجھیں، ان کے نتائج فکر پڑھیں، ان کے تجربات لیں اور اس میں جہاں بھی محسوس کرتے ہیں کہ یہاں اسلام سے ہٹی ہوئی کوئی بات ہے، اس میں اپنا Contribution دیں کہ یہ اس حوالے سے ایک متبادل زاویہ نظر ہے۔ ہمارے ہاں بہت سے لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ مغربی فلسفے کے ساتھ شاید یہ نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے حاصلات کو مغرب کے لادینی رجحانات سے الگ کر کے ایک دوسرے نظری اور اسلامی فریم ورک میں ڈھال لیا جائے۔ میرے خیال میں اس نقطہ نظر میں زیادہ گہرائی نہیں ہے اور یہ زیادہ تر تاثراتی ہے جس میں مغرب کی لادینیت کے خلاف رد عمل زیادہ جھلکتا ہے۔
مشعل سیف: آپ نے مائنڈ سیٹ کی بات کی کہ مدارس میں ایک خاص طرح کا مائنڈ سیٹ بنا دیا جاتا ہے جس میں کلاسیکی فقہ کا اس طرح احترام کرنا ہوتا ہے کہ آپ اسی کو حتمی اور حرف آخر تسلیم کر لیں۔ مگر آپ کی خود بھی جو پرورش ہوئی اور آپ نے جو دینی تعلیم حاصل کی، وہ انھی مدارس سے کی ہے۔ تو آپ کے اندر یہ جو مختلف رجحان اور فکر آئی، یہ کہاں سے آئی؟
عمار ناصر: دیکھیں، مدارس کے سسٹم میں اس کا پورا اہتمام ہوتا ہے کہ آپ کا ذہن ایک خاص سوچ کے دائرے میں محدود ہو جائے، لیکن ایسا تو نہیں ہے کہ آپ کسی بند کنویں میں رہتے ہیں۔ رہتے تو آپ دنیا میں ہی ہیں اور دیکھتے سنتے ہیں کہ ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔ ذاتی طور پر مجھے یہ خیال ہوتا ہے کہ میرے اپنے گھر کا جو ماحول ہے، وہ تھوڑا مختلف ہے۔ میرے والد کا جو انداز نظر ہے اور ان میں جو ایک وسعت فکر ہے، اس کا اس میں بڑا کردار ہے۔ انھوں نے جمعیۃ علماء اسلام میں مفتی محمود صاحب کے ساتھ سیاسی کام کیا ہے۔ اس دائرے میں کام کرنے کی وجہ سے ان کے اپنے زاویہ نظر میں بڑی وسعت آئی۔ ہر طرح کے اور ہر طبقہ خیال سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ ان کو میل جول کا موقع ملا، بلکہ ان کے اپنے نہایت گہرے ذاتی دوستوں میں ایسے لوگ شامل رہے ہیں جنھیں عام طور پر مذہب دشمن اور Leftist سمجھا جاتا ہے۔ تو والد صاحب کا اپنا زاویہ نظر بڑا وسیع ہے اور انھوں نے ہمارے یعنی بچوں کے معاملے میں بھی کبھی فکری جبر کی یا کوئی خاص نقطہ نظر ٹھونسنے کی کوشش نہیں کی۔
میں نے اپنے تعلیمی دور کا زیادہ تر حصہ اپنے والد کے پاس اور اپنے گھر سے متصل مدرسہ انوار العلوم میں گزارا ہے۔ عام طور پر کسی بھی مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ اس کا اہتمام کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو ایک خاص نوعیت کے مسلکی رنگ میں رنگنے کی کوشش کریں، لیکن میرے ساتھ یہ نہیں ہوا۔ مجھے بچپن سے ہر طرح کی چیزیں پڑھنے کی آزادی حاصل تھی، حتیٰ کہ دس بارہ سال کی عمر میں مجھے بائبل کا مطالعہ کرنے کی بھی آزادی تھی۔ مجھے اس زمانے میں یہ معلوم کرنے میں دلچسپی پیدا ہوئی کہ یہودیت او رمسیحیت، یہ کیسے مذاہب ہیں اور بائبل میں کیا لکھا ہوا ہے۔ میں مسیحی لٹریچر منگوا کر پڑھتا تھا اور انار کلی لاہور میں مسیحی اشاعت خانہ جا کر وہاں سے کتابیں لے کر آتا تھا۔ اس میں مجھ پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ اسی طرح ہمارے ہاں ہر طرح کی مذہبی اور سیاسی سوچ رکھنے والے لوگ اور مختلف مکاتب فکر کے رسائل وجرائد آتے تھے۔ اس طرح مجھے بچپن سے ہی اس کا موقع ملا کہ میں مختلف قسم کی چیزیں پڑھوں۔ میرے خیال میں اس ماحول کا کافی اثر ہوا۔
مشعل سیف: بہت سے علماء کا یہ کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد پاکستان اسلامی ریاست نہیں رہا، کیونکہ اس واقعے کے بعد جو فیصلہ کیا گیا، اس سے واضح ہو گیا ہے کہ ہماری حکومتی پالیسیاں پوری طرح امریکہ کے کنٹرول میں ہیں۔ آپ اس پر کچھ تبصرہ کریں گے؟
عمار ناصر: نائن الیون کا واقعہ خاصا اہم تھا، سیاسی لحاظ سے بھی اور تہذیبی اعتبار سے بھی۔ اس نے دو تہذیبوں کے باہمی تعلق کو ایک خاص شکل دے دی ہے۔ اس واقعے کے تناظر میں پاکستان نے جو فیصلہ کیا، ا س کو القاعدہ کے لوگ تو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ پاکستان نے ریاست کی سطح پر مسلمانوں کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا جو ایک اسلامی ریاست نہیں کر سکتی۔ میرے خیال میں یہ استدلال کافی سادہ ہے اور ہمیں صورت میں جو بہت سی پیچیدگیاں ہیں، ان کو بھی سامنے رکھنا پڑے گا۔ مثلاً ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کسی ریاست کی جو نظریاتی حیثیت ہے، وہ ہم اس کے آئین اور اس کے دستور سے اخذ کریں گے یا ہماری حکومت یا فوج نے ایک مخصوص صورت حال میں جو پالیسی اختیار کی، اس سے طے کریں گے؟ یہ ایک بنیادی سوال ہے۔ میں تو پہلی بات کو ہی صحیح سمجھتا ہوں۔ ہم نے آئین کی صورت میں جو ایک قومی میثاق کیا ہے، جس پر پوری قوم نے اتفاق کیا ہے، وہ اصل معیار ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک مسلمان کلمہ پڑھ لیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ اس کے بعد وہ کام ایسے کرتا ہے جو اسلام کے خلاف ہیں تو اس کو ہم کافر نہیں کہتے۔ یہی اصول میرے نزدیک ریاست پر بھی لاگو ہوگا۔ اگر ہمارا آئین یہ کہتا ہے اور ہماری قوم کا اجتماعی ضمیر بھی یہی کہتا ہے کہ جو فیصلہ کیا گیا، وہ غلط تھا تو اس کا ذمہ دار پالیسی ساز اداروں کو تصور کرنا چاہیے، نہ کہ ریاست کی نظریاتی حیثیت کی نفی کر دینی چاہیے۔
پھر ایک اور پہلو بھی بڑا اہم ہے۔ یہ جو مقدمہ پیش کیا جاتا ہے کہ فوج نے مسلمانوں کے خلاف امریکہ کا ساتھ دے کر ارتداد کا ارتکاب کیا ہے، یہ بالکل یک طرفہ اور یک رخی بات ہے۔ یہ دیکھنا چاہیے کہ فوج نے کن حالات میں یہ فیصلہ کیا اور اس میں بنیادی ذمہ داری میرے نزدیک پاکستانی فوج پر نہیں ، بلکہ خود القاعدہ پر عائد ہوتی ہے، اس لیے کہ وہ سچویشن جس میں یہ فیصلہ کیا گیا، وہ القاعدہ نے پیدا کی تھی۔ القاعدہ نے افغانستان میں بھی اسلامی شریعت کے اصولوں کو violate کیا۔ اسلامی شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی کہ آپ مسلمانوں کے کسی ملک میں مہمان کے طو رپر رہ رہے ہوں اور وہاں کی حکومت اور لوگوں کے ہاتھ میں ہو، لیکن فیصلے آپ کرنے لگیں کہ ہم نے یہاں بیٹھ کر فلاں ملک پر حملہ کرنا ہے۔ ملا عمر اگر یہ فیصلہ کرتے کہ ہم نے امریکہ کے ساتھ جنگ چھیڑنی ہے تو چلیں، نتیجہ کیسا بھی ہوتا، کم سے کم وہ اس لحاظ سے تو justified ہوتا کہ ایک ملک کی ایک با اختیار اتھارٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ امیر تو وہاں کے ملا عمر ہیں اور جنگ کرنے کا فیصلہ بن لادن کر رہے ہیں؟ اسلام کی نظر میں یہ بالکل جائز نہیں ہے۔ پھر یہ لوگ وہاں سے بھاگ کر پاکستان میں آ جاتے ہیں، جبکہ پاکستان یہ طے کر چکا تھا کہ ہم اس جنگ میں طالبان کے ساتھ نہیں ہیں۔ اسی سے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں اور فوجی آپریشن جیسے مخمصوں نے جنم لیا۔ تو یہ دراصل القاعدہ کی غلط سوچ اور غلط حکمت عملی ہے جس کا خمیازہ افغانستان کو اور پاکستان کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ غلط ہونے کے باوجود اس کی بنیادی ذمہ داری پاکستانی فوج پر نہیں، بلکہ القاعدہ پر عائد ہوتی ہے۔
مشعل سیف: آپ نے پاکستان کے بارے میں کہا کہ یہ اصولی طور پر اسلامی ریاست ہے۔ اس کے علاوہ عملی طور پر بھی کچھ اقدامات کیے گئے ہیں۔ مثلاً اسلامی نظریاتی کونسل ہے اور وفاقی شرعی عدالت ہے۔ اس حوالے سے کچھ بتائیں کہ ان اداروں سے کس حد تک مدد مل سکتی ہے پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے میں؟
عمار ناصر: آپ کو معلوم ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو آئین میں کوئی اتھارٹی حاصل نہیں ہے۔ وہ ایک مشاورتی ادارہ ہے۔ وہ ریاست نے اپنی سہولت کے لیے بنایا ہے کہ اگر اس نے اسلامی قانون سازی کرنی ہے تو ظاہر بات ہے کہ اس کے لیے کافی کام کرنا پڑے گا۔ ہر عالم سے آپ رائے تو لے سکتے ہیں، لیکن آپ کو قانون کو ایک Codified شکل دینی ہے تو اس کے لیے ایک خاص طرح کی سمجھ بوجھ اور Expertise چاہیے۔ ایسے لوگ چاہییں جو قانون کو، اس کی زبان کو، اس کے مسائل کو سمجھتے ہوں۔ نظریاتی کونسل اس مقصد کے لیے بنائی گئی ہے کہ قانون کی drafting میں وہ مدد کرے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے انھوں نے ایک Criterion بھی بنایا ہے کہ ایسے لوگ اس میں شامل ہوں گے جن کا عمومی قانون کا یا اسلامی قانون کا پس منظر ہو۔ اس کا ایک بہت محدود، limited دائرہ ہے۔ اس کے باوجود جو کام اس ادارے نے اب تک کیا ہے، وہ میرے خیال میں مفید ہی ہے۔ اس نے مروجہ قوانین کا جائزہ لے کر اسلامی قانون کی روشنی میں اس میں تبدیلیاں تجویز کر دی ہیں اور بیشتر قوانین کے متبادل مسودات بھی تیار کر دیے ہیں۔ اس کے بعد ان کی تنفیذ حکومت کا کام ہے۔
مشعل سیف: بہت سے لوگ اسلامی نظریاتی کونسل پر یہ تنقید کرتے ہیں کہ اس میں حکومت اپنی پسند کے علماء کو مقرر کرتی ہے تاکہ وہ ان کی ترجیحات کے مطابق رائے دیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں؟
عمار ناصر: اصل جو مسئلہ ہے، اس کو اس کی اصل جگہ سے پکڑنا چاہیے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس طرح کے جو ادارے بنائے جاتے ہیں، ان کی Composition کے بارے میں وقتاً فوقتاً سوالات اٹھتے رہتے ہیں کہ آیا اس میں Genuine اہل علم کو مقرر کیا گیا ہے یا یہ جانب دارانہ تقرریاں ہیں۔ وہ مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان معاشروں میں بہت سے جدید تغیرات آ چکے ہیں، ریاست کی سطح پر بھی اورمعاشرت کی سطح پر بھی اور یوں سمجھیں کہ ہم اس وقت دنیا میں مغرب کے بنائے ہوئے سیاسی نظام اور معاشرتی اقدار کے تحت رہ رہے ہیں۔ اب ہمارا جو قدیم اسٹرکچر ہے فکر کا، وہ اس سے بہت زیادہ ٹکراتا ہے۔ اس تضاد کو ہم دانش کی سطح (Intellectual Level) پر حل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ جب نہیں کر رہے تو ظاہر ہے کہ تضادات تو موجود ہیں۔ ایک پورا طبقہ ہے جو یہ چاہتا ہے کہ جیسے قدیم دور میں تھا، آج بھی علماء ہی دین وشریعت کی تعبیر میں حرف آخر سمجھے جائیں۔ اگرچہ اسلام میں تھیا کریسی نہیں ہے، لیکن بہرحال یہ تو ہے کہ دین کی تشریح کسی اہلیت رکھنے والے صاحب علم کو ہی کرنی چاہیے۔ اس لحاظ سے جو اپنے وقت کے علماء ہوتے تھے، انھی کو عام طور پر مرجع مانا جاتا تھا۔ اب یہ Ideally بڑی اچھی بات ہے کہ دین کی تعبیر وتشریح اسی کو کرنی چاہیے جس کے پاس دین کا گہرا علم ہو، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اس وقت جو طبقہ ہے دین کو سمجھنے والا یا دین کی تعبیر کرنے والا، اس کو حرف آخر ماننے کے لیے جدید ذہن تیار نہیں جو خود دور جدید کے تغیرات کا تو ادراک رکھتا ہے، لیکن اس کے پاس دین کا علم نہیں ہے۔ وہ اس پر مطمئن نہیں ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ آج کے دور کے جو مسائل ہیں اور جو تبدیلیاں آئی ہیں، علماء کے فہم دین میں ان کو صحیح جگہ نہیں دی جا رہی۔ گویا علماء بحیثیت طبقے کے دور جدید کے تغیرات کا ادراک نہیں کر رہے،جبکہ یہ دوسرا جو طبقہ ہے جس کا ریاست کے معاملات پر زیادہ کنٹرول ہے، وہ علماء کو یہ مقام دینے کے لیے تیار نہیں کہ ان کی بات حرف آخر ہو، اس لیے کہ وہ ان کے فہم پر مطمئن نہیں ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ علماء بالکل قدیم دور میں کھڑے ہیں، اجتہاد کا زاویہ نظر ان کے ہاں نہیں ہے اور یہ جو تعبیرات پیش کر رہے ہیں، وہ ہمارے آج کے حالات کے لحاظ سے قابل عمل نہیں ہیں۔
یہ جو ایک بد اعتمادی ہے مسلمانوں کے ان دو بڑے طبقات کے مابین، یہ اصل میں دانش ورانہ مکالمہ کے ذریعے سے دور ہونی چاہیے۔ علماء کو چاہیے کہ اپنے زاویہ نظر میں اتنی وسعت پیدا کریں، اتنا اجتہادی زاویہ نگاہ پیدا کریں کہ آج کے حالات کے تناظر میں مسائل کا ایسا حل پیش کریں کہ وہ آج کی دانش کو appeal کرے اور آج کا ذہن اس پر مطمئن ہو۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو تعبیر دین میں ان کی بات کا وزن خود بخود تسلیم کر لیا جائے گا۔ یہ اختیار کسی فرد یا طبقے کو استحقاقی دعوے کی بنیاد پر نہیں ملا کرتا۔ جو چیزیں فکر سے متعلق ہوتی ہیں، دانش سے متعلق ہوتی ہیں، ان میں اصل میں آپ کا جو استدلال ہوتا ہے اور آپ کے نقطہ نظر کی جو علمی وعقلی مضبوطی ہوتی ہے ، وہی آپ کو ایک اتھارٹی کی جگہ دے دیتی ہے۔ قدیم دور میں بھی دیکھیں، ایسا تو نہیں ہوتا تھاکہ علماء کو یہ کہہ کر اس منصب پر appoint کیا جائے کہ آپ اتھارٹی ہیں۔ نہیں، بلکہ علماء اپنے طور پر دین پر غور کرتے تھے، اس میں محنت کرتے تھے، اس کا فہم پیدا کرتے تھے۔ اس سے ان کو لوگوں کی نظر میں اتھارٹی مل جاتی تھی کہ حکمران بھی ان کی رائے کے خلاف کوئی اقدام نہیں کر سکتے تھے۔ آج بھی یہ ہے کہ جن مسائل میں علماء کی رائے میں وزن محسوس کیا جاتا ہے اور سوسائٹی ان پر اعتماد کرتی ہے، حکومت سارا زور لگانے کے باوجود اس کے برخلاف کچھ نہیں کر سکتی۔
میری نظر میں جب تک ہم اس مخمصے سے نہیں نکلتے، یہی ہوتا رہے گا کہ اسلامی نظریاتی کونسل جیسے ادارے بنیں گے اور اس میں پرویز مشرف صاحب اقتدار میں آئیں گے تو وہ جدید ذہن کے نمائندوں کو لے آئیں گے اور ضیاء الحق صاحب آئیں گے تو وہ قدیم فکر کے نمائندوں کو اس میں مقرر کر دیں گے۔ اس طرح کے ادارے جو اس مقصد کے لیے بنائے گئے ہیں کہ وہاں قوم اپنے اجتماعی قانونی فہم کو بروئے کار لائے، جب وہ بھی بد اعتمادی کا شکار ہو جائیں تو اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ پیچھے اصل مسائل کیا ہیں۔ اصل مسئلہ قدیم اور جدید فکر کا تضاد اور ان کی کشمکش ہے۔ ان کے مابین کوئی مکالمہ نہیں ہے۔ قدیم فکر کے لوگ اپنے زاویہ نظر کو وسیع کرنے کے لیے تیار نہیں اور جدید ذہن کے بھی بعض مسائل ہیں۔ یہ ہماری جو روایت ہے، بعض دفعہ اس سے بالکل ہٹ کر ایسی باتیں کرتا ہے جو ہمارے فکری سانچے سے بالکل میل نہیں کھاتی۔ یہ دو الگ الگ دھارے ہیں جو الگ الگ سمتوں میں معاشرے کو لے جانا چاہتے ہیں۔ ایک Conflict ہے جس کا کوئی Intellectual حل نہیں نکالا جا رہا۔ اس کی وجہ سے بہت سے مصنوعی اقدامات کر کے ہم کام چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
میرے خیال میں یہاں بھی مسئلہ وہی ہے اور اس کے حل کا راستہ بھی وہی ہے۔ ہمارے جو ایشوز ہیں، ہم اپنی تاریخ کو، اپنی فقہ کو، آج کے جو تغیرات ہیں، ان کو ایک سنجیدہ علمی مکالمے کا موضوع بنائیں اور ابہامات کو واضح کرنے کی کوشش کریں۔ تب یکسوئی پیدا ہوگی، ورنہ ایسے ہی سلسلہ چلتا رہے گا۔
مشعل سیف: اسلامی نظریاتی کونسل نے آپ کی ایک کتاب چھاپی ہے۔ آپ کا اس ادارے سے کوئی رابطہ رہتا ہے؟
عمار ناصر: میرا ادارے کی سطح پر تو کوئی رابطہ نہیں ہے۔ میں صرف ایک موقع پر ایک علمی نشست میں شرکت کے لیے وہاں گیا تھا۔ کتاب کی اشاعت کا پس منظر یہ تھاکہ ۲۰۰۷ء میں اسلامی نظریاتی کونسل نے حدود وتعزیرات سے متعلق چند سفارشات پیش کی تھیں جن میں اہم پہلوؤں سے متعلق کلاسیکی فقہی موقف سے مختلف نقطہ نظر پیش کیا گیا تھا۔ یہ سفارشات سامنے آنے سے اس ضرورت کا احساس ہوا کہ ان پر ایک تبصرہ لکھ کر واضح کیا جائے کہ ان آرا کی علمی بنیاد کیا ہے تاکہ ان مسائل پر غور وفکر کے لیے اور علمی مباحثہ کے لیے کچھ پیش رفت ہو سکے۔ میں نے اپنا تبصرہ اس پہلو سے لکھا تھا اور سفارشات پر ناقدانہ نظر ڈالتے ہوئے اپنے فہم کے مطابق بعض چیزوں کی تائید کی اور بعض سے اختلاف کیا تھا۔ اصلاً یہ کونسل کے کہنے پر یا اس کے اہتمام میں نہیں لکھا گیا تھا، لیکن جب میں نے لکھ دیا تو کونسل نے اس کو مفید سمجھتے ہوئے شائع کر دیا۔
مشعل سیف: وفاقی شرعی عدالت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
عمار ناصر: میں چونکہ شرعی عدالت کے فیصلوں کو باقاعدہ follow نہیں کرتا، اس لیے میں اس کے متعلق کچھ کہہ نہیں سکتا کہ دور جدید میں اسلامی قانون کی تعبیر میں یا ایک اجتہادی زاویہ نظر سے مسائل کو دیکھنے میں اس کا اب تک کیا کردار رہا ہے۔ البتہ یہ ادارہ ایک لحاظ سے اہم ہے اور اگر اس کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ بڑا useful ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ یہ کہ اسلامی قانون کے اصولوں کی re-application کا جو معاملہ ہے اور اس کو دور جدید کے حالات ومسائل کے تناظر میں اور بدلتی ہوئی معاشرتی ضروریات کے لحاظ سے reinterpret کرنے کی جو ضرورت ہے، وہ اس عدالت کے فیصلوں کے ذریعے سے پوری کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ یقیناًاس نوعیت کا کام ہوا ہوگا، لیکن میں فیصلوں پر نظر نہ ہونے کے سبب کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اصل میں تو جو ہمارے دینی اداروں کے دار الافتاء اور مفتی صاحبان ہیں، ان کو بھی یہی کرنا چاہیے، لیکن وہاں جمود کی گرفت بہت مضبوط ہے۔ وہاں بنیادی فقہی اصولوں کی روشنی میں نئے اجتہاد کا تو کیا سوال، قدیم فقہی ذخیرے سے استفادے کے لیے بھی کڑی تکنیکی شرائط کی پابندی کو زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے بہ نسبت معروضی صورت حال کی رعایت کے۔ اس لیے وہاں سے تو اطلاق وانطباق کی سطح پر فقہ اسلامی کی تجدید کی کوئی توقع نہیں۔ البتہ شرعی عدالت کے ادارے کو میں اس پہلو سے ایک مفید ادارہ سمجھتا ہوں کہ اس کے ذریعے سے یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔
میرے خیال میں شرعی عدالت کے فیصلوں سے استفادہ کا دائرہ اب تک بہت محدود رہا ہے، کیونکہ یہ صرف قانونی جریدے میں چھپتے ہیں۔ اس کا زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے اگر اس ادارے میں پچھلے پچیس تیس سال میں جو اجتہادی عمل ہوا ہے، اس کا تجزیہ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ ان میں کن ایشوز کو موضوع بنایا گیا ہے اور کس نوعیت کا اجتہادی زاویہ نظر اختیار کیا گیا ہے۔ ایسے فیصلوں کو عمومی علمی حلقوں کے سامنے لانا چاہیے۔ خاص طور پر جو روایتی علماء کا طبقہ ہے، ان تک انھیں پہنچایا جائے تاکہ انھیں اندازہ ہو کہ حقیقی فقہی فہم اصل میں نظری طور پر کتابی بحثیں پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتا۔ عملی صورت حال میں کئی پیچیدگیاں involve ہوتی ہیں۔ عدالت کو ایک طرف شرعی نصوص کو دیکھنا ہوتا ہے اور دوسری طرف عملی مسائل کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔ اسے مقدمے کے فریقین اور ان کے پس منظر پر بھی نظر رکھنی ہوتی ہے۔ اس طریقے سے میرا خیال ہے کہ مذہبی لوگوں میں جو کسی مسئلے کو صرف فقہ کی پرانی کتابوں سے دیکھ کر اس کا حل ڈھونڈنے کا رجحان ہے، اس میں کچھ بہتری آ سکے گی اور انھیں اندازہ ہوگا کہ معاملے کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ کتاب میں لکھی ہوئی تشریح بھی ہوتی ہے اور وہ situation بھی ہوتی ہے جس میں بندہ کھڑا ہے۔ ان دونوں پہلوؤں کو آپ نے کیسے ملحوظ رکھ کر حل نکالنا ہے، اس کی تربیت ہوگی، اگر شرعی عدالت کے فیصلوں پر کچھ اس طرح کا کام کر لیا جائے۔
(جاری)
امت کا فکری بحران ۔ تاریخی بیانیے کا ایک تنقیدی مطالعہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن
امتِ مسلمہ پچھلی کئی صدیوں سے زوال کا شکار ہے۔ زوال و انحطاط کی مدہوشی میں اس کے ہوش و حواس پر ایک ہی منظر چھایا ہوا ہے۔ اس منظر کا نام ’شان دار ماضی‘ ہے۔ شان دار ماضی میں اسلاف ہیں اور اسلاف کے عظیم کارنامے ہیں۔ یہ منظر اپنی مجموعی کلی حیثیت میں پورے کا پورا چھایا ہوا نہیں ہے۔ شان دار ماضی کے حصے بخرے ہو گئے ہیں۔ سیاست، معیشت، فلسفہ، قانون، تصوف، سائنس، عمرانیات، اخلاقیات، الہیات اور زندگی کے دیگر پہلوؤں میں حاصل کی گئیں کامیابیاں اور کامرانیاں الگ الگ خانوں میں بٹ چکی ہیں۔ اگر ان خانوں کو جدا جدا کرنے کا مقصد، انکشافِ حقیقت کی غرض سے یہ واضح کرنا ہو کہ ان کے مجموعے سے ایک کُل کی صورت گری ہوئی ہے جس کا نام ’’شان دار ماضی‘‘ ہے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ جیسے لمبائی، چوڑائی اور گہرائی بتانے سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ مکان (space) کو ٹھیک ٹھیک سمجھا جا سکے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ الگ الگ خانے یکساں طور پر توازن کے ساتھ شان دار ماضی کی تشکیل نہیں کر سکے ہیں۔ اس لیے شان دار ماضی کی مختلف جہات بغیر کسی معقول مناسبت کے، امت کے اجتماعی ضمیر کا حصہ بن چکی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ آج کی صورتِ حال میں جب بھی شان دار ماضی، اسلاف اور اسلاف کے کارناموں کی بات ہوتی ہے تو کسی یک رخی مظہر کو مرکب کی صورت میں لے لیا جاتا ہے۔ یعنی زندگی کے گوناں گوں پہلوؤں اور اسلاف کے متنوع کارناموں میں سے چند ایک کو شان دار ماضی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ طور طریقہ تاریخ و تحقیق سے اغماض تو ہے ہی، بد دیانتی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔
آج ہمارے عہد کے مصلحین، امت کا خون گرمانے کے لیے شان دار ماضی کا تذکرہ چھیڑتے ہیں تو معاشیات، عمرانیات، عسکریات،نفسیات، طبیعات، مابعدالطبیعات، فلکیات، ریاضیات،حیاتیات اور لسانیات،ادبیات، ارضیات،وغیرہ کا ذکر ہی نہیں کرتے، اگر کرتے ہیں تو اتنا سرسری کرتے ہیں کہ ایک جیتے جاگتے سماج میں ان علوم کی قدر و قیمت نہ صرف واضح نہیں ہوتی بلکہ یہ علوم سرے سے غیر ضروری معلوم ہوتے ہیں۔ اس لیے فی زمانہ، شان دار ماضی کی تشکیل میں ان ’غیر ضروری علوم‘ کا کسی قسم کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ امت کے خطبا اور مقررین، فصاحت و بلاغت کے دریا بہاتے ہوئے گھوڑوں کی ٹاپوں کا ذکر کرتے رہتے ہیں جنھوں نے ساتوں برِ اعظموں کو روند ڈالا تھا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسی شعلہ بیانی، عسکریات (war studies) کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔
(۲)
امت کے حالیہ بحران کی جڑیں تلاش کی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ شان دار ماضی کی حکایت (narrative of past glory) کا علمی دیانت پر مبنی نہ ہونا ہے۔ شان دار ماضی کے بیانیے (narrative) میں بادشاہوں کے کارنامے شامل ہیں اور اصولیین و فقہا کی وکیلانہ طراریاں۔ ہمارے شان دار ماضی کا بس یہی کچا چٹھا ہے۔ بادشاہوں کے کارنامے (adventures) انتہائی سطحی اور جذباتی طور پر تاریخی داستانوں کا حصہ بنے ہیں، البتہ اصولیین کی فقہی موشگافیاں علم و استدلال کی رَو میں تاریخی بیانیے میں شامل ہوئی ہیں۔
لہٰذا عملی طور پر امتِ مسلمہ کے شان دار ماضی کے فقط دو حقیقی مظاہر ہیں اور شان دار ماضی کے نام پر یہی مظاہر امت کے ہوش و حواس پر بری طرح چھائے ہوئے ہیں۔ اس لیے شان دار ماضی سے جذباتی وابستگی ( مثال کے طور پر) یہ تو بتا دیتی ہے کہ اندلس پر مسلمانوں نے کئی سو سال حکومت کی، مسجدِ قرطبہ اور الحمرا جیسی پر شکوہ عمارتیں تعمیر کیں وغیرہ وغیرہ، لیکن یہ نہیں بتاتی کہ ان عظیم الشان عمارتوں کے لیے ترجیحی بنیادوں پر خطیر رقم کیسے اور کیوں فراہم کی گئی، فنِ تعمیر کے ماہرین کی تربیت گاہیں کہاں کہاں اور کس معیار کی تھیں، پھر یہ کہ اندلس کا معاشی نظام کیسا تھا، کاری گروں اور مزدوروں کی معاشی حالت کیسی تھی، تاجروں کے طور طریقے کیسے تھے، معاشی امور میں حکومتی مداخلت کس نوعیت کی تھی، دوسری اقوام و ملل سے لین دین و تجارتی معاہدات میں کون کون سے پہلوؤں کو اور کیوں کلیدی اہمیت دی گئی تھی، معاشرت اگر طبقاتی تھی تو اس طبقاتی اونچ نیچ کو مہمیز عطا کرنے والے عناصر کون کون سے تھے، عسکری شعبے میں کیسے کیونکر ایجادات ہوئیں، وغیرہ وغیرہ۔ آج ان موضوعات پر شاید ہی کوئی سنجیدہ علمی کتاب مل سکے۔ لیکن اندلسی حکم رانوں کی ظاہری فتوحات ان کی بہادری کی داستانیں بغیر کسی تجزیے کے، طومار کی صورت میں ملیں گی۔ اسی طرح حیاتیات، طبیعات، فلکیات، موسمیات، اور بشریات، ادبیات لسانیات وغیرہ کے متعلق ضمنی بیانات ’فرض کفایہ‘ ادا کرتے دکھائی دیں گے، لیکن اندلسی اصولیین و فقہا کے جواہر پارے تفصیلی استناد کے ساتھ رسائی میں ہوں گے۔ .......... سوال پیدا ہوتا ہے کہ شان دار ماضی کا ایسا بیانیہ کیا ماضی کو واقعی شان دار رہنے دیتا ہے؟ کیا ایسے یک رخے بیانیے سے (without contexture) امت کے ’حال‘ کی مثبت تعمیر کی جا سکتی ہے؟
(۳)
واقعہ یہ ہے کہ راہ سے بھٹکانے والی، شان دار ماضی کی اس ادھوری اور نا مکمل تصویر کے پیچھے اصولِ تاریخ سے انحراف کے علاوہ تلبیسِ تقدیس کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ اصولِ تاریخ سے انحراف کی گواہی، قرآنی تصورِ تاریخ کے ساتھ شان دار ماضی کی حکایت کے تقابلی جائزے میں مل جاتی ہے۔ جس کے مطابق:
۱۔ قرآن کے تصورِ تاریخ کی بنیادی اکائیوں میں سے ایک، حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں کے تذکرے میں کسی بادشاہ یا سردار کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ یہ بنیادی طور پر دو بھائیوں کا قصہ ہے۔
۲۔ پھر جہاں کہیں قرآنی بیانیے میں بادشاہوں کے قصے چھڑے ہیں وہاں اقوام کے مجموعی احوال کے علاوہ مختلف رشتوں ناتوں اور انسان کی نفسیاتی پے چیدگیوں کا بھی بھر پور تذکرہ کیا گیا ہے۔
۳۔ اقوام کے مجموعی طرزِ عمل کے احوال میں (مثال کے طور پر) قومِ نوحؑ ، قومِ لوطؑ ، قومِ شعیبؑ اور قومِ عاد و ثمود، وغیرہ کے متعلق قرآنی آیات دیکھ لیجیے۔
۴۔ غور کیجیے کہ قرآن مجید نے کئی مقامات پر بادشاہوں اور عسکری کمانڈروں کے بجائے ترجیحی طور پر ’بنی اسرائیل‘ کو خطاب کیا ہے۔
۵۔ انسانوں کے باہمی رشتوں ناتوں کی مختلف پے چیدگیوں سے واقفیت کے لیے نوحؑ کے بیٹے اور ابراہیم علیہ السلام کے باپ کا تذکرہ پڑھیے۔ زوجہ نوح علیہ السلام اور عزیز مصر کی بیوی کا قصہ دیکھئے۔ برادرانِ یوسفؑ پرایک کڑی نظر کیجیے اور موسی ؑ و ہارون ؑ کے بھائی چارے کو بھی دیکھئے۔
۶۔ زندگی کے متنوع مظاہر کے ضمن میں طوفانِ نوحؑ ، کشتی نوحؑ اور واقعہ سبت ، اصحابِ کہف اور ان کے کتے (وغیرہ) کو دیکھ لیجیے۔
۷۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے میں جہاں ان کے کافر باپ آزر کا ذکر ہے وہاں ان کے دوعظیم بیٹوں اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام کا بیانیہ بھی رونق افروز ہے۔ حیات بعدالممات کا حق الیقین، خانہ کعبہ کی تعمیر اور ذبح عظیم جیسے واقعات اس قصے کو مزید تاب ناک کرتے ہیں۔ پھر تلاشِ حق کی جستجو اور نمرود سے دل چسپ مکالمے نے اس تاریخی بیانیے کو بہت پر اثر، معنی خیز اور ثمر آور بنا دیا ہے۔
ان سات نقاط میں، قرآنی قصص میں سے چند ایک کا انتہائی مختصراً اجمالی تعارف کروایا گیا ہے۔ لیکن ان تعارفی نقاط میں بھی قرآنی بیانیے کے اسالیب، قرآنی تصورِ تاریخ کی صراحت بہت عمدگی سے کر دیتے ہیں، کہ صرف بادشاہوں کے قصے کہانیاں ہی تاریخ نہیں ہیں۔ اب اسے المیہ قرار نہ دیا جائے تو کیا کہا جائے کہ بادشاہوں کی فتوحات کے وزن سے بوجھل، ہمارے شان دار ماضی کا یک رخا بیانیہ، قرآنی اصولِ تاریخ کی مطابقت میں نہیں ہے۔ شاید اسی لیے مستشرقین اور دیگر غیر مسلم سکالرز سمیت بعض مسلم سکالرز کو بھی یہ اعتراض کرنے کی پوری پوری گنجائش مل گئی ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور تلواروں کی جھنکاروں سے مزین شان دار ماضی کا بیانیہ(narrative of past glory)، اب امتِ مسلمہ کی عمومی نفسیات کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لیے پچھلی کئی صدیوں سے، اس بیانیے سے تربیت پائی نفسیات کے زیرِ اثر تاریخ دہرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں جاری جہادی کاروائیاں اس لیے بے سود رہی ہیں کیونکہ سماجیات، معاشیات، عسکریات اور اخلاقیات وغیرہ کو نظر انداز کر کے ماضی کی فتوحات کے فقط ظواہر کو لینے کا جانب دار جذباتی رویہ، ان عسکری مہم جوئیوں کے پس منظر میں کارفرما ہے۔
(۴)
مشرق و مغرب کی سرزمین پر اسلام کا جھنڈا لہرانے والی شاہی عسکری مہمات کے جلو میں، قرآنی اصولِ تاریخ سے انحراف پر مبنی شان دار ماضی کے بیانیے کی تکمیل اصولیین کی نا قابلِ شکست فقہی موشگافیوں کے روپ میں ہوئی ہے۔ یوں شان دار ماضی کے اس نام نہاد مکمل بیانیے سے، امتِ مسلمہ کے اجتماعی ذہن میں اسلام اور مردِ مومن کی جو تصویر نقش ہوئی ہے اس کے مطابق اسلام کی سربلندی کا خواہاں مردِ مومن ہمیشہ گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ہے، جب گھوڑے کی پیٹھ چھوڑتا ہے تو فقہ کی باریکیاں سمجھ سمجھا کر اپنا وقت قیمتی بناتا رہتا ہے۔
شان دار ماضی کے اس نام نہاد مکمل بیانیے سے امت کی دلی جذباتی وابستگی اس آئینے میں نظر آتی ہے جس میں ایک طرف کئی صدیوں سے مار کھاتے مجاہدین کی تصویر منقش ہے اور دوسری طرف فروعی مسائل کے بھنور میں پھنسے علمائے دین کی۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ پچھلے تقریباً ایک ہزار سال میں اسلام کا سفر گھوڑے کی پیٹھ سے فروعی مسائل کی مسند تک کا سفر رہا ہے۔ اس سفر کا ’’حال‘‘ اب اتنا ترقی یافتہ ہو چکا ہے کہ گھوڑے پر سواری کا فیصلہ بھی، خیر سے فروعی برتری ثابت کرنے کے لیے فروعی تناظر میں کیا جاتا ہے۔
(۵)
شان دار ماضی کے بیانیے کی فقہی جہت کو قرآنی اصولوں پر پرکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید نے فضول کی کرید اور بے سود باریک بینی سے مکمل احتراز برتا ہے۔ قرآن مجید، اپنے تاریخی بیانیے (قصص القرآن وغیرہ) کے خاکے میں لفظ برائے لفظ کے مباحث سے بے رنگی اور بے نوری نہیں بھرتا، بلکہ حرف و لفظ کی توں تکار سے مکمل بچتے ہوئے انسانی زندگی کے زندہ اور سنجیدہ احوال کے بہت قریب رہتا ہے۔ حتیٰ کہ سابقہ آسمانی صحائف اور کتب سماوی کے تذکرے میں بھی قرآنی بیان، قانونی قسم کا روکھا پھیکا اسلوب اختیار نہیں کرتا۔ اس لیے اس امر میں شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ اپنی حقیقت میں قرآن پاک کا تاریخی بیانیہ، زندگی کے رنگارنگ جواہر پاروں سے مزین ہے۔ لہٰذا قرآنی بیانیے کے مطابق زندگی کے جواہر پارے، صرف مذہب و قانون کی اقلیم تک محدود نہیں ہیں۔ لیکن امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر نے اس قرآنی بیانیے سے انحراف کی روش اپناتے ہوئے اپنے شان دار ماضی کے بیانیے میں صرف مذہب و قانون کو ہی کُل زندگی قرار دیا ہے۔ اس لیے فقہی ذخیرے کو اگر دیانت داری سے کھنگالا جائے تو اس میں سے صرف اور صرف مذہب (نماز، روزہ، حج وغیرہ کے مسائل) اور قانون (انسانی معاملات وغیرہ کو نظم میں لانے کے اصول) برآمد ہوتے ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ماضی کی مسلم تہذیب میں (نام نہاد تاریخی بیانیے کے مطابق) صرف مذہب اور قانون ہی چھائے ہوئے تھے، تو یہ تہذیب زندگی کی کلیت اور تنوع کو دھتکارتے ہوئے بامِ عروج پر کیسے پہنچ گئی؟ بلکہ اس سے بھی بڑا سوال تو یہ ہے کہ مذہب و قانون کے اصول(یعنی فقہی استنباطات) فی نفسہٖ بلا شرکت غیرے (exclusively) کیسے ظہور میں آ گئے؟ حالاں کہ ایسا ہونا محال ہے۔
(۶)
مذہب و قانون کے اصول بجائے خود وجود میں نہیں آ سکتے، یہ سمجھنے کے لیے یہ مقدمہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسانی زندگی، تکوینی طور پر خود رَو تسلسل سے عبارت ہے۔ زندگی کی یہ خاصیت اسے سفر میں رکھتی ہے۔ سفر کی تکان اتارنے کے لیے یہ کہیں کہیں پڑاؤ بھی ڈال لیتی ہے۔ لیکن صرف سستاتی ہے، سوتی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زندگی اگر کبھی مسافرت میں نہ بھی رہے تو پھر بھی کم از کم بیدار ضرور رہتی ہے۔ زندگی جاگتی رہتی ہے۔
انسانی زندگی جتنی مسافت طے کرتی ہے اس کا اظہار اپنی اقدار، اپنے اداروں اور اپنے علوم و فنون (تکوینی اعتبارات و حقائق) میں کرتی ہے۔ ہر آنے والا پڑاؤ، پچھلی مسافت کی ان نافع باقیات کو سنبھال لیتا ہے جو سفر کی دھول میں گم ہونے سے بچ جاتی ہیں۔لیکن ان بچ رہنے والی باقیات میں سے کچھ نہ کچھ کسی اگلی مسافت میں غیر نافع ثابت ہوتی ہیں اور یوں مسافت در مسافت کے عمل میں یہ باقیات آخر کار معدوم ہوتی جاتی ہیں۔غیر نافع باقیات کا مٹتے چلے جانا پتا دیتا رہتا ہے کہ زندگی جاگ رہی ہے۔
امتِ مسلمہ بھی ایک انسانی گروہ ہے۔ اپنی انسانی (اور تکوینی) حیثیت میں اس نے بھی، زندگی کی مسافرت کے دوران میں (باقیات کی مدد سے) مفید اور نافع علوم و فنون کا اضافہ کیا ہے۔ ان علوم و فنون میں سے اکثر و بیشتر ہزار سالہ مسافت کی نذر ہو گئے ہیں۔ اگرچہ ان کی نافع باقیات اگلی مسافت کو منتقل ہو گئی ہیں۔ جی ہاں! امرِ واقعہ یہ ہے کہ اُمتِ مرحومہ کے علوم و فنون کا جوہر (essence) عرصہ ہوا مغرب کو منتقل ہو چکا ہے۔
(۷)
اس مقدمے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے انسان کی تکوینی زندگی اور اس کے حاصلات کو خدائی نظم میں لانے کے لیے وقتاً فوقتاً انسانوں ہی میں سے کسی ایک کو انسانوں کے لیے ہی شریعت عطا کی ہے۔ نبی خاتم محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر عطائے شریعت کا یہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔ بر سبیلِ تذکرہ! انسان کی تکوینی زندگی اور اس کے حاصلات کے تناظر میں حضرت آدم علیہ السلام کے حوالے سے یہ بحث کہ وہ نبی تو تھے ہی لیکن صاحبِ شریعت رسول تھے کہ نہیں، قابلِ فہم ہو جاتی ہے۔ بادی النظر میں معلوم یہی ہوتا ہے کہ ہبوطِ آدمؑ کے وقت انسانی زندگی تکوینی طور پر ابھی اتنی مسافت طے نہیں کر پائی تھی کہ اسے خدائی نظم میں لانے کے لیے شریعت کی ضرورت محسوس ہوتی۔ شاید اسی لیے آدم علیہ السلام کے بیٹوں کے قصے میں شرعی قانون کا اطلاق کہیں نظر نہیں آتا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ شریعت کے نفاذ و اطلاق کے لیے انسان کی تکوینی زندگی کا ترقی یافتہ ہونا ضروری ہے۔ سطورِ بالا میں ذکر ہو چکا کہ انسان تکوینی طور پر اپنی ترقی کا اظہار مختلف اقدار، اداروں اور علوم و فنون میں کرتا ہے۔ انسانی ترقی کے یہ اظہاریے، انسانی زندگی سے نامیاتی طور پر جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ یعنی، اصل میں یہ انسانی زندگی کے تہ در تہ حقائق کے عکاس ہوتے ہیں۔ یہ حقائق فی نفسہٖ، ایک مطالبہ لیے ہوتے ہیں کہ انسانی زندگی کو افراط و تفریط سے بچانے کا اہتمام کیا جائے اور انھیں ایک (خدائی) نظم میں لایا جائے۔ یعنی اس مرحلے پر انسان کی تکوینی زندگی، کسی صاحبِ شریعت رسول کا تقاضا کرتی ہے۔
اس سرسری بحث سے یہ واضح ہو گیا کہ انسان کی تکوینی زندگی کی ترقی یافتہ شکل کو ہی تشریعی بنایا جاتا ہے اور انسان کی بنائی ہوئی اقدار، اس کے منظم کردہ ادارے اور اس کے وضع کردہ علوم و فنون، (یعنی تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق) تشریعی ڈھانچے کا جواز بنتے ہیں۔ ان قدروں، اداروں اور علوم و فنون کی عدم موجودگی میں شریعت کے نفاذ کی کوشش خلا میں محلات تعمیر کرنے کے مترادف ہے، جو محال ہے(شاید اسی لیے ہر پیغمبر، صاحبِ شریعت نہیں تھا)۔ یہاں غور کرنے کا مقام ہے کہ جب شریعت اپنے اظہار اور نفاذ کے لیے، انسان کی تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کا مطالبہ کرتی ہے تو پھر شریعت سے ماخوذ فقہ ان اعتبارات و حقائق سے بے نیاز رہ کر کیسے اظہار پا سکتی ہے؟ اس لیے اس امر میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ فقہی استنباطات (یعنی، مذہب و قانون کے اصول) فی نفسہٖ بلا شرکت غیرے (exclusively) ظہور میں نہیں آ سکتے۔
(۸)
یہ حقیقت بھی نظر سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے کہ فقہ اپنی مبتدا و منتہٰی میں دیگر علوم و فنون کے مانند خالصاً بشری علم و فن ہے۔ اسے شریعت (قرآن و سنت) جیسی تقدیس سے نہیں نوازا گیا۔ ہوتا یوں ہے کہ زندگی کا تکوینی پہلو جب خود رَو تسلسل سے مختلف اقدار اور علوم و فنون وغیرہ میں منکشف ہوتا ہے تو اسے نظم میں لانے اور اس کے پیدا کردہ مسائل سے نمٹنے کے لیے شریعت سے مدد لی جاتی ہے۔ چونکہ شریعت بجنسہٖ اور بعینہٖ اپنی الوہی حیثیت میں نافذ نہیں ہو سکتی، اس لیے اس کے نفاذ کی خاطر انسان کو تردد کرنا پڑتا ہے۔ تردد کا یہ عمل، فقہانبھاتے ہیں۔ ایک اعتبار سے اصولیین اور فقہا، انسانی زندگی کی تکوینی جہت اور شریعتِ الہیہ کے درمیان پُل اور واسطے کا کام دیتے ہیں، ....... اور یوں فقہ کو ظہور میں لاتے ہیں۔
یہاں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ اگرچہ شرعی احکام غیر متغیر اور غیر متبدل رہتے ہیں لیکن انسانی زندگی کا تکوینی پہلو خود رَو تسلسل سے کبھی بھی دست بردار نہیں ہوتا۔ انسانی زندگی کی یہ حرکی خاصیت، نئی اقدار، نئے اداروں اور نئے علوم و فنون کی تخلیق کرتی رہتی ہے، ...... کہ زندگی جاگتی رہتی ہے۔ اس تخلیقی سفر کے دوران میں جب بھی زندگی ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف بڑھتی ہے تو اس بڑھنے اور پھر مقام پر پہنچنے کے عمل پر فقہا کو بہت گہری اور عمیق نظر رکھنی ہوتی ہے۔ یعنی، ابھرتی ہوئی نئی اقدار نئے اداروں اور نئے علوم و فنون کی ماہیت اور پس منظر کے علاوہ ان کے ممکنہ مثبت و منفی اثرات کو انھیں بصیرت کی آنکھ سے دیکھنا ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے فقہ کی یہ جہت ایک پتے کی بات بتاتی ہے کہ اگر فقہ کو انسانی زندگی کے زندہ احوال کا حصہ بننا ہے تو اسے لازمی طور پر زندگی کے مذکورہ حرکی و تخلیقی پہلوؤں کے شانہ بشانہ آگے بڑھنا ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ فقہ بطور علم و فن، دیگر علوم و فنون کے مانند سفر میں رہتا ہے (بلکہ ان علوم کا ہم سفر رہتا ہے)، یہی وجہ ہے کہ کسی دَور کے فقہی مظاہر میں اس دَور کی قدروں، اداروں اور علوم و فنون کا پَرتَو جھلکتا رہتا ہے۔
اس بارے میں دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ شریعت خلا میں نہیں بلکہ انسانوں پر نافذ ہوتی ہے، پھر یہ کہ شریعت خود کار انداز میں اپنے طور پر خود بخود نافذ نہیں ہو جاتی، اسے نافذ کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے انسانی زندگی کا یہ (ایک اعتبار سے جامد) تشریعی پہلو، تکوینی پہلو (کے خود رَو حرکی تسلسل) سے خاصا مختلف ہے۔تشریعی پہلو کی جمودی کیفیت، زندگی کے تکوینی پہلو کی تخلیقیت سے تعلقِ خاطر قائم کیے بغیر انسانی احوال کا حصہ بننے سے قاصرہوتی ہے۔اصولیین اور فقہا یہی تعلق پیدا کرتے ہیں اور فقہ کو ظہور میں لاتے ہیں، جس کے نتیجے میں (غیر متغیر اور جامد) شرعی احکام کے لیے نافذ ہونا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ اصولاً، شریعت تو بعینہٖ نافذ ہی نہیں ہوتی اور نہ ہی ہو سکتی ہے، البتہ اس کے نام پر فقہ کی تنفیذ ضرور ہو جاتی ہے۔
(۹)
ہمارے شان دار ماضی کے بیانیے کی تکمیل، فقہی موشگافیوں کے روپ میں کیوں ہوئی ہے؟ اس کا جواب اس لطیف نکتے میں مل جاتا ہے کہ چونکہ شریعت تو نافذ ہی نہیں ہوتی، شریعت کے نام پر فقہ کی تنفیذ ہوتی ہے،اس لیے فقہ کی اس نیابتی حیثیت سے ناوافقیت کی بنا پر اسے ہی اصل(شریعت) سمجھ لیا گیا ہے اور فوراً سے پہلے تقدس کا جامہ پہنا کر شان دار ماضی کا کبیر بیانیہ (grand narrative of past glory) قرار دیا گیا ہے۔
یہ درست ہے کہ فقہ کی اساسی تشکیل میں شرعی احکامات کا بہت بنیادی کردار ہے کہ اپنے جامد اور محکم اعتبار کے ساتھ شریعت ایک ناقابلِ شکست پیمانہ ہے۔ اور یہ پیمانہ زندگی کے غیر محکم اور متغیر پہلو کی ہر دو (سلبی اور ایجابی) اعتبار سے حد بندی اور توسیع کرتے ہوئے فقہ کا قطب نما بھی قرار پاتا ہے۔ لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ شریعتِ محکم، اساس فراہم کرنے اور راہ دکھانے کے باوجود بعینہٖ نافذ نہیں ہو پاتی، بلکہ فقہ کو نیابتی ذمہ داری سونپ کر سبک دوش ہو جاتی ہے۔
شان دار ماضی کے بیانیے میں فقہ کو تقدس کا لبادہ اوڑھانے کے بجائے، چاہیے تو یہ کہ اس سوال پر غور کیا جائے کہ شارع نے شریعت کے بجنسہٖ اور بعینہٖ نفاذ کی کوئی صورت کیوں نہیں نکالی؟ کیا اسی لیے نہیں کہ زندگی کے اعتبارات اور حقائق، کہیں تقدس کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں، جس کے نتیجے میں شریعت آخر کار خود بے اعتبار نہ ٹھہر جائے؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسانی زندگی کے تکوینی اعتبارات اور حقائق، لازمی طور پر اتنے اہم اور ناگزیر ہیں کہ ان کے اثبات کو ممکن بنانے کی غرض سے انھیں شریعت کی تقدیس سے آزاد رکھا گیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب شریعت کی تقدیس ان اعتبارات و حقائق کے آڑے نہیں آئی تو پھر بے چاری فقہ انھیں کیسے لگام دے سکتی ہے؟ لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ شان دار ماضی کے بیانیے میں فقہ نے غیر فطری اور مصنوعی طور پر، انسان کی تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کو مفلوج کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔
(۱۰)
اب تک کی بحث سے یہ بنیادی نکتہ سامنے آتا ہے کہ انسان کی تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کی غیر موجودگی میں شریعت غیر موثر ہو جاتی ہے۔ اس لیے شریعت نے (اصولی طور پر) کبھی بھی انسانی زندگی کے تکوینی اعتبارات و حقائق کی نفی نہیں کی، اور فقہ نے بھی شریعت کی نیابتی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ان اعتبارات و حقائق کو مکمل جگہ (space) دی ہے، کیونکہ ان کے اثبات کے بغیر فقہ کی تشکیل ممکن ہی نہیں تھی۔ لیکن ہمارے شان دار ماضی کے کبیر بیانیے نے فقہ کی جو تصویر امتِ مسلمہ کے ذہن میں نقش کر دی ہے اس کے مطابق فقہ کا ظہور زندگی کے تکوینی اعتبارات و حقائق سے بے نیازی (بلکہ ان کی نفی) کی حالت میں ہوا ہے۔ اس لیے اس بیانیے میں سماجیات، معاشیات، ریاضیات، عسکریات، فلکیات، بشریات وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں، البتہ الہیات، روحانیات اور اخلاقیات کو معمولی درجے میں قابلِ اعتنا ضرور سمجھا گیا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ اسی یک رخے بیانیے کی بنیاد پر امتِ مسلمہ کے حال کی تعمیر ہوئی ہے۔ دینی اداروں میں دینی اعتبار صرف فقہ کو حاصل ہے۔ اس فقہ میں نماز روزہ حج وغیرہ کے مسائل و دلائل ہیں اور ماضی کی تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق سے وابستہ قوانین ہیں۔ حالاں کہ اب انسان کی جدید زندگی نے خالصاً مذہبی مسائل کی بابت بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں، چہ جائے کہ تکوینی زندگی کے عصری اعتبارات و حقائق کی نیرنگی اور بو قلمونی ہو۔
(۱۱)
اس وقت امتِ مسلمہ کے فکری بحران کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ شان دار ماضی کے تکمیلی بیانیے یعنی فقہ کو بہ تکلف عصری زندگی کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں انسانی زندگی کا حرکی و تخلیقی پہلو مسلسل نظر انداز ہو رہا ہے۔ دین سے گہری وابستگی رکھنے والے لوگ، اصولیین اور فقہا کے ناموں اور کارناموں سے بخوبی واقف ہیں، لیکن جن موجدین اور تخلیق کاروں نے تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کو منکشف کیا، اور پھر ان انکشافات و ایجادات کی بدولت فقہ کو جواز بخشا، جس سے فقہ کی تشکیل ممکن ہو سکی، آج ان کے ناموں اور کارناموں سے کوئی واقف نہیں، کیونکہ وہ لوگ شان دار ماضی کے کبیر بیانیے میں کوئی مقام نہیں پا سکے۔ یہ بہت بڑی اور انتہائی سنگین فرو گزاشت ہے۔
اس وقت ہم عصر ماحول میں، انسان کی تکوینی زندگی جن اعتبارات و حقائق کو منکشف کر رہی ہے، شان دار ماضی کا بیانیہ ان کی مطابقت میں نہیں ہے اور اسے اصولاً ہونا بھی نہیں چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ فقہ کو انسان کی تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کے اکتشافات کے پہلو بہ پہلو آگے بڑھنا چاہیے تھا، کہ فقہ کا محکم اور منجمد پہلو، جو تکوینی زندگی کا پیمانہ بھی بنتا ہے، یعنی قرآن و سنت، وہ تو استقلال کے ساتھ قائم و دائم کھڑا ہے، ...... پھر فقہ زندگی کے متغیر (تکوینی) پہلو سے منحرف ہو کر جمودِ محض کی علامت بن کر رسوا ہی ہو سکتی ہے۔ اس لیے امتِ مسلمہ کا فکری بحران اس تضاد سے مزید گھمبیر ہوا ہے کہ فقہ (ذہنی اور نفسیاتی طور پر) اس کے شان دار ماضی کا تکمیلی بیانیہ ہے اور یہ بیانیہ عصری صورتِ حال میں (عملی طور پر) بری طرح پِٹ چکا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کو فکری بحران کے گرداب سے نکالنے کے لیے فقہ کی بنیادی ساخت کو سمجھنا ہو گا۔ فقہ اپنی ساخت میں، محکم (تشریعی) اور متغیر (تکوینی) پہلوؤں کی حامل ہے۔ محکم پہلو، قرآن و سنت سے عبارت ہے اور متغیر پہلو زندگی کے تکوینی اعتبارات و حقائق سے مزین ہے۔ فقہ کا کام ان دونوں پہلوؤں کو مکمل طور پر سمجھنا ہے اور پھر متغیر پہلو کو محکم کے پیمانے پر پرکھتے ہوئے اس کی تحدید یا توسیع کو حتی الامکان ممکن بنانا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم عصر ماحول میں فقہ نے ایک پست درجے میں قرآن و سنت کو تو کچھ نہ کچھ سمجھنے کی کوشش ضرور کی ہے لیکن تکوینی زندگی کے عصری اعتبارات و حقائق اس کی دست گاہ میں نہیں رہے۔ اس لیے ایک لحاظ سے اس کی قرآن و سنت کو سمجھنے کی کوشش بھی لاحاصل ہو جاتی ہے کیونکہ اس پیمانے پر جس کو پرکھا جانا ہے وہ ہی سرے سے موجود نہیں۔
(۱۲)
اس طرح امتِ مسلمہ کے فکری بحران کی یہ واقعاتی شہادت سامنے آتی ہے کہ فقہ کے نام پر ایک بے جان غیر نافع اور کھوکھلے علم و فن کو سیکھا سکھایا جا رہا ہے۔ عملی طور پر غیر معتبر اور غیر نافع ہونے کے باوجود، یہ علم و فن ایک رجھانے والی نفسیاتی تسکین دے رہا ہے کیونکہ اس کے پیچھے شان دار ماضی کا کبیر بیانیہ موجود ہے جس میں فقہ، امت کی عظیم کامیابی اور معراج قرار پائی ہے۔
یہاں ایک سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ فقہ کی ساخت کے دو عناصر (تشریعی و تکوینی) میں سے تشریعی (قرآن و سنت) تو ہمارے عصری ماحول میں منتقل ہو چکا ہے، اور خود ان دو عناصر کا مجموعہ و امتزاج(فقہ) بھی، لیکن تکوینی عنصر تا حال بے دخل ہے، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وہ نقطہ ہے جہاں پر امتِ مسلمہ کے فکری بحران کی واقعاتی جڑ موجود ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ عصری ماحول میں اگرچہ کسی نہ کسی درجے میں شریعت اور فقہ کو الگ الگ دیکھا جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی فقہ کو جامع العلوم سمجھنے کی غلطی بھی کی جاتی ہے۔ یہ غلطی اس وجہ سے ہوتی ہے کیونکہ فقہ کا دائرہ کُل انسانی زندگی کو محیط ہے اور تقریباً ہر شعبہ علم و فن سے اسے معاملہ کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے فقہ کی اس مخصوص نوعیت اور پھر شریعت کی نیابتی حیثیت نے، اسے نہ صرف مقدس بنایا ہے بلکہ کبیر بیانیے کے مقام سے بھی سرفراز کیا ہے۔ حالاں کہ اپنی حقیقت میں، جامع العلوم ہونا تو دور کی بات ہے، فقہ شاید مکمل علم بھی نہیں ہے۔ اس کے علم نہ ہونے کی وجہ یہ ہے اس کی اپنی آزاد، خود مختار اور خود کفیل حیثیت نہیں ہے۔ یہ اصلاً فن ہے اور ایسا فن ہے جس کے ذریعے علوم کے دو بڑے متوازی دھاروں (تشریعی اور تکوینی) کو قریب لایا جاتا ہے، اور ان کے باہمی میل ملاپ سے انفرادی اور اجتماعی نظم کا ایک ڈھانچہ تشکیل دیا جاتا ہے۔ عصری ماحول میں فقہ کو مخزن العلوم سمجھنے کے دو خطرناک اور سنگین نتائج برآمد ہوئے ہیں:
۱۔ انسان کی تکوینی زندگی کے عصری اعتبارات و حقائق(نئی قدریں، نئے ادارے، نئے علوم و فنون وغیرہ) انتہائی بے توجہی کا شکار ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر دینی جامعات اس حوالے سے انتہائی غفلت کی مرتکب ہو رہی ہیں۔
۲۔ اس بے توجہی اور غفلت کے باوجود تکوینی زندگی کا خود رَو تسلسل، عصری اعتبارات و حقائق کو منکشف کر رہاہے، لیکن فقہ کی جامع العلوم حیثیت ان علوم کو اجنبی اور غیر ضروری قرار دیتے ہوئے، انھیں ایک الگ تھلگ دائرے میں محدود کر رہی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ دو نتائج ایک بڑا مشترکہ نتیجہ یہ دیتے ہیں کہ واقعاتی سطح پر انسان کی عصری زندگی کے تکوینی اعتبارات و حقائق، تشریعی پیمانے کی رسائی میں نہیں رہے، اس لیے زندہ متحرک اور عصریات سے جڑی ہوئی فقہ ظہور میں نہیں آ رہی۔ تکوینی اعتبارات و حقائق اور شریعتِ الہیہ، جو فقہ کے دو بڑے داخلی عناصر ہیں، اب مختلف بلکہ متضاد سمتوں میں رواں دواں ہیں، ان کے دائرہ ہائے کار مکمل طور پر الگ الگ ہو گئے ہیں۔ اس لیے شریعت عملی طور پر معطل ہو کر رہ گئی ہے، کیونکہ انسان کی تکوینی زندگی سے بے نیازی کی حالت میں، یہ کسی بھی صورت میں اظہار نہیں پا سکتی۔ اب شریعتِ معطلہ کے سر پر ایک ایسی جعلی اور مصنوعی فقہ سوار ہے جو اپنے تےءں جامع و مانع ہے۔
(۱۳)
مذکورہ مباحث کے ضمن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شان دار ماضی کے بیانیے میں فقہ ایک بہت برتر مقام پا چکی ہے اور اس کے دو داخلی عناصر میں سے ایک عنصر یعنی تشریعیت کا بھی عصری ماحول میں انتقال ہو چکا ہے، تو پھر دوسرا عنصر یعنی انسان کی زندگی کا تکوینی حوالہ، یکسر غائب کیوں ہے؟ اس کا بادی النظر میں جواب یہ ملتا ہے کہ ایک خاص عرصے تک مسلم تہذیب انسان کی تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق منکشف کرتی رہی ہے، ان انکشافات کی بدولت اصولیین اور فقہا کے لیے یہ ممکن ہو سکا کہ انھیں تشریعی پیمانے پر مانپ کر، قواعد و ضوابط کے روپ میں فقہ کو ظہور میں لے آئیں۔ فقہ کے ظہور کے بعد، یہ بہت ضروری تھا کہ تکوینی اعتبارات و حقائق کے تغیرات کے پہلو بہ پہلوفقہی قواعد وغیرہ کو بھی حرکت میں رکھا جائے اور ان میں مطلوب تبدیلیاں مسلسل کی جاتی رہیں۔ لیکن ہوا یوں کہ فقہی قواعد و ضوابط اپنے زیریں مقام اور زیریں حیثیت سے بہت اوپر اٹھ آئے اور انھوں نے بجائے اپنے اندر تبدیلیاں کرنے کے، تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کو پابند کرنا شروع کر دیا۔ اس سے نئی قدروں، نئے اداروں اور نئے علوم و فنون کی ترویج رک گئی، زندگی رک گئی، ...... بلکہ روک دی گئی۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ فقہ اپنے زیریں مقام سے اتنا اوپر کیسے اُٹھ آئی؟ یہ ایک ذریعے کے درجے سے ترقی پاکر بجائے خود مقصد کیسے بن گئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ فقہ چونکہ صرف معاملات یا دیگر دنیاوی قسم کے موضوعات ہی کو نہیں چھیڑتی، بلکہ عبادات مثلاً نماز روزہ حج وغیرہ سے بھی بھر پور تعرض کرتی ہے، اس لیے اس میں تقدیس شامل ہوتی گئی۔ اس پر طرہ یہ کہ اس کے ایک لازمی داخلی عنصر شریعت (قرآن و سنت) نے اس کی تقدیس پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی اور آخرکار...... فقہ ہی شریعت قرار پائی۔اس طرح اس سارے منظر کے عفریت نے تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کو بری طرح پچھاڑ کر رکھ دیا اور یہ آہستہ آہستہ معدوم ہوتے چلے گئے اور ایک اکلوتی فقہ مخزن العلوم کا تاج سر پر رکھے مسلم تہذیب کی گردن پر سوار ہو گئی اور اسے زوال کی پستیوں میں دھکیلتی چلی گئی۔
یہ بڑی دلچسپ حقیقت ہے کہ امت مسلمہ نے زوال آمادہ ہونے کے بعد، زوال کے اسباب پر غور کرنے کے بجائے دین کی محافظت کے نام پر فقہ کی حفاظت شروع کر دی، کیونکہ فقہ کی دینی حیثیت مسلّم ہو چکی تھی۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ درحقیقت فقہ کی اسی مسلّم حیثیت نے اُمہ کے تنقیدی شعور کے بال و پر کاٹ کر زوال کے اسباب پر غور کرنے کی ہر راہ مسدود کر دی جس کے نتیجے میں دین کے نام پر فقہ کی محافظت کی ( معذرت خواہانہ) نفسیات مزید پروان چڑھی اور بالآخر فقہ شان دار ماضی کا کبیر بیانیہ قرار پائی۔
(۱۴)
اس بحث سے اس تاریخی غلط فہمی کا ازالہ بھی ہو جاتا ہے کہ مسلم تہذیب میں نئے علوم و فنون کی کبھی بھی کسی بھی درجے میں مخالفت نہیں کی گئی۔ یہ درست ہے کہ اس مخالفت کی نوعیت، یورپ میں مسیحیت کی طرف سے نئے علوم و فنون کی، کی گئی مخالفت سے بہت مختلف ہے، لیکن بہرحال یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اُمہ کی، تکوینی اعتبارات و حقائق کے انکشافات پر مبنی علمی روایت، فقہ کے بوجھ تلے دم توڑ گئی اور فقہ علوم و فنون کے سنگھاسن پر براجمان ہو گئی۔ اس تاریخی حقیقت کی واقعاتی شہادت کے لیے دینی جامعات کے عصری نصاب کا ناقدانہ جائزہ لینا کافی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ نئے علوم و فنون کی مسیحی مخالفت، براہ راست مذہب کی جانب سے کی گئی۔ کلیسا کے کارپردازوں نے تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کو بائبل سے متصادم قرار دے دیا، لیکن تکوینی انکشافات نے اپنی واقعیت کے بل بوتے پر پادریوں کو ان کی خرافات سمیت لپیٹ کر رکھ دیا جس کے نتیجے میں مسیحیت سماجی فعالیت سے دست بردار ہو کر کلیسا کی چار دیواری میں مقید ہو کر رہ گئی۔ لیکن مسلم تہذیب میں تکوینی حقائق کی حوصلہ شکنی ایک تو براہ راست مذہب نے نہیں کی۔ دوسرا محرف بائبل کے بر خلاف قرآن مجید تکوینی انکشافات کے کبھی بھی آڑے نہیں آیا۔ تیسرا یہ کہ فقہ نے اپنی مسلّم دینی حیثیت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان انکشافات کو رد کرنے کبھی جرات نہیں کی، البتہ اتنا ضرور ہوا کہ فقہ میں تقدس در آنے سے، پہلے مرحلے میں دیگر علوم و فنون کی اہمیت ثانوی ہو گئی اور دوسرے مرحلے میں یہ علوم و فنون غیر ضروری قرار پائے۔
تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کو دبانے کی مسیحی اور مسلم تاریخ، اگرچہ مختلف نوعیت کی ہے لیکن ان دونوں نے تقریباً یکساں اور مماثل نتائج دیے ہیں۔ اگر مسیحیت چرچ تک محدود ہو گئی ہے تو اسلام بھی خیر سے مساجد و مدارس تک محدود ہے۔ اگر چرچ میں لوگ کم ہی جاتے ہیں تو مساجد کون سا کھچا کھچ بھری ہوئی ہوتی ہیں؟ اگر پادری اور وکیل اپنے اپنے کام میں مست ہیں تو مولوی اور وکیل بھی تو خیر سے اپنی اپنی اقلیم سنبھالے ہوئے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ دنیا بھر کی دینی جامعات سے فارغ التحصیل ’’وکلا‘‘ آخرکار مولوی ہی قرار پاتے ہیں اور تقریباً انھی معنوں میں جن معنوں میں پادری، وکلا سے مختلف سمجھے جاتے ہیں۔
البتہ مسیحیت اور اسلام میں یہ بنیادی فرق پایا جاتا ہے کہ مسیحیت نے خجالت سے تکوینی اعتبارات و حقائق کے آگے سر جھکا دیا ہے اور الگ راہ لی ہے، جس کی وجہ سے وہاں تکوینی انکشافات کی واقعیت نے خوب لوہا منوایا ہے۔ مسیحیت کے برعکس اسلام کو تکوینی اعتبارات کے ہاتھوں کوئی شرمندگی نہیں اٹھانی پڑی۔ اگر ایسا ہے اور واقعی ایسا ہی ہے تو پھر ہمارے یہاں تکوینی انکشافات کی بھر پور لہریں ٹھاٹھیں مارتی نظر آنی چاہییں تھیں جو کہ نظر نہیں آتیں۔
واقعہ یہ ہے کہ مسیحی، نظری اور عملی طور پر یک سُو ہیں۔ اگرانھوں نے عملی طور پر کلیسااور ریاست کو الگ الگ کر رکھا ہے تو نظری طور پر بھی وہ اس افتراق کے قائل ہیں۔ انتہائی افسوس اور معذرت کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ مسیحیوں کے برعکس، امتِ مسلمہ نظری اور عملی طور پر یک سُو نہیں ہے۔ اُمہ اس وقت انتہائی گھٹیا قسم کی منافقت کا شکار ہے۔ اُمہ، نظری طور پر تو دین و دنیا کی وحدت کی علم بردار ہے، لیکن اس کے ہاں عملی طور پر دین و دنیا الگ الگ ہو چکے ہیں۔ دین، قرآن و سنت کے نام پر فقہ کو قرار دیا گیا ہے اور دنیا، جو ایک لحاظ سے تکوینی زندگی کے انکشافات سے معمور ہے، دینی اقلیم سے عملی طور پر خارج ہو چکی ہے۔ یہ انتہائی منافقانہ طرزِ عمل ہے۔ اس طرزِ عمل نے امت کا بحران سنگین تر کر دیا ہے۔
(۱۵)
امت کے فکری بحران کی عصری صورتِ حال پر، کھسیانی بلی کھمبا نوچے، کا محاوہ صادق آتا ہے۔ اُمت اُمت کی رَٹ لگانے والے تکوینی اعتبارات کو اپنے نصاب وغیرہ میں تو جگہ نہیں دے پائے(کہ فقہ نے ان کے دماغ مفلوج کر دیے ہیں)، لیکن چونکہ تکوینی انکشافات کی واقعیت اپنا آپ منواتی ہے اس لیے یہ لوگ ذرا تردد سے، ہر نئے انکشاف کے سامنے یہ کہہ کر ہتھیار ڈال دیتے ہیں کہ صدیوں پہلے قرآن نے فلاں آیت میں اس کے متعلق آگاہ کر دیا تھا۔ ان کے ایسا کہنے سے ان کی اپنی نفسیاتی تشفی ہو جاتی ہے اور دوسروں کے زیرِ لب مسکراہٹ بکھر جاتی ہے۔
اُمت کے ان خیر خواہوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قرآن و سنت اور ایمان و یقین کا زندگی کے تکوینی اعتبارات سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔ مثلاً، حضرت خالد بن ولیدؓ قبولِ اسلام سے پہلے بھی ایک عظیم جرنیل تھے، جس کا ثبوت غزوہ احد میں ان کی جنگی حکمت عملی سے ملتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قبولِ اسلام کے بعد ان کے فنِ حرب کی سند کیا قرآن میں تلاش کی جانی چاہیے تھی؟ صرف یہی ہونا چاہیے تھا ناں کہ ان کی زندگی کا یہ تکوینی پہلو، تشریعی ضابطے میں آ جائے؟ لیکن خیال رہے کہ تشریعی ضابطہ بجائے خود نہ تو ایسے علوم و فنون کی تخلیق کرتا ہے اور نہ ہی ان کی نفی کرتا ہے۔ لیکن تشریعی ضابطہ اپنے انطباق کے لیے، ایسے اعتبارات و حقائق کا اثبات بلکہ تقاضا ضرور کرتا ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ قرآن و سنت کے علاوہ زندگی کی دیگر تمام سرگرمیاں معطل ہو کر رہ جائیں تو پھر قرآن و سنت آخر کس کو موضوع بنائیں گے؟ اس لیے تکوینی اعتبارات و حقائق کی سند قرآن و سنت میں نہیں تلاشنی چاہیے کہ یہ تو زندگی کے خودرَو تسلسل سے خود بخود برآمد ہوتے ہیں، البتہ برآمدگی کے بعد (اور بعض اوقات برآمدگی کے دوران میں) انھیں قرآن و سنت کے تشریعی ضابطے میں ضرور لایا جاتا ہے ، جیسا کہ پچھلے مباحث میں بیان ہو چکا، اصولیین اور فقہا یہی کام کرتے ہیں۔
امتِ مسلمہ کو اپنے جس علم و فن (فقہ) پر بہت ناز ہے، دیکھنے والی بات ہے کہ یہ علم و فن بغیر تکوینی حقائق سے میل کھائے، کیسے راہ پا سکتا ہے؟ جب تکوینی اعتبارات و حقائق خود اُمہ کے ہاں منکشف نہیں ہو رہے تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر فقہ راہ نہیں پاسکتی، اگر فقہ راہ پا رہی ہے تو وہ جعل سازی پر مبنی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس وقت ایک متروک فقہ کو عصریات کا لبادہ اوڑھا کر وسیع پیمانے پر جعل سازی کی جا رہی ہے۔
(۱۶)
ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن و سنت اور فقہ کے دائرے میں مقید امتِ مسلمہ کو مغرب کا شکر گزار ہو نا چاہیے کہ اس نے اپنی مذہبیات کی قیمت پر تکوینی اعتبارات و حقائق کی ترویج کر کے امتِ مسلمہ کو زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنے سے بچا لیا ہے۔ سماجیات، معاشیات، نفسیات، طبیعات، فلکیات، بشریات،حیاتیات، ریاضیات، عسکریات وغیرہ وغیرہ کتنے ہی تکوینی اعتبارات ہیں، جو مغرب نے تکوینی زندگی کے عصری تناظر میں منکشف کیے ہیں۔ اُمہ کے ہاں فکری سطح پر تکوینی زندگی سے بے توجہی اور اس کی واقعیت کی کمی کا ازالہ (فی الواقعی) انھی مغربی انکشافات سے ہو ا ہے۔ لیکن اُمہ احسان مند اور شکر گزار ہونے کے بجائے نظری طور پر ان مغربی اکتشافاتِ جدیدہ کی ناقد ہے اور منافقت سے کام لیتے ہوئے عملی طور پر ان سے استفادہ بھی کر رہی ہے، ...... کہ تکوینی زندگی کی واقعیت سے فرار ممکن ہی نہیں ہے۔
امتِ مسلمہ کا فکری بحران اس منافقانہ طرزِ عمل سے دو چند ہوا ہے۔ آج ایک طرف مغربی اکتشافات کو (مجبوراً) تشریعی ضابطے میں لانے کی کوشش سے، دین کا انسان اور سماج سے رشتہ بحال ہو رہا ہے، کیونکہ اکتشافاتِ جدیدہ، زندگی کی واقعیت کے عکاس ہونے کے ناتے انسان اور سماج کے ساتھ مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں، اور یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ دین، انسان و سماج کی واقعیت کو مخاطب کیے بغیر اثر و نفوذ نہیں پا سکتا۔ لیکن دوسری طرف اکتشافاتِ جدیدہ کی مستعار واقعیت کو (فکری سطح پر غیر ضروری گردانتے ہوئے) رواج دینے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جارہی، بلکہ دینی علوم کے نام پر فرسودگی کی تعلیم دی جا رہی ہے۔
(۱۷)
واقعہ یہ ہے کہ آج کے عالم گیریت (Globalization) کے ماحول میں ، آہستہ روی کے ساتھ اور انتہائی غیر محسوس طور پر ایک بہت بڑا مظہر تشکیل پا رہا ہے۔ اس کا نام ہماری مروج اصطلاح میں ’’فقہ‘‘ ہے۔ اب ایک نئی فقہ کا ظہور ہو رہا ہے۔ اس فقہ کے بھی متروک فقہ کے مانند دو بڑے عناصر ترکیبی ہیں، تشریعی اور تکوینی۔ تشریعی عنصر اُمہ کے پاس ہے اور تکوینی عنصر مغرب کے پاس۔ کیونکہ زندگی کے تکوینی اعتبارات و حقائق سے منہ نہیں موڑا جا سکتا، اس لیے اُمہ زیریں سطح پر مغربی اکتشافات سے (بالفعل) مستفید ہو رہی ہے اور ایک ایسی نئی فقہ ترتیب دے رہی ہے جو مناسبِ حال بھی ہے اور مقاصدِ شریعہ سے ہم آہنگ بھی۔ کیونکہ رب، رب العالمین ہے اور قرآن، ذکر ہے عالمین کے لیے، اور نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم، رحمت ہیں عالمین کے لیے، اس لیے مغرب بھی اپنے تکوینی اکتشافات کو کسی اعلیٰ اخلاقی دائرے میں لانے کی غرض سے (بالفعل) شریعت اسلامیہ کی طرف رجوع کر رہا ہے، جس سے ایسی فقہ ظہور پا رہی ہے جو اپنے ظاہر میں سیکولر ہے لیکن مقاصدِ شریعہ سے کافی حد تک ہم آہنگ ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ امتِ مسلمہ اور اہلِ مغرب ایک دوسرے سے بالفعل مستفید ہو رہے ہیں۔ بلکہ دیکھا جائے تو اُمہ ہی مغرب سے عملی فائدہ اٹھا رہی ہے، کیونکہ زندگی کے تکوینی اعتبارات و حقائق انسان کی دست رس میں ہیں، انھیں انسان نے اپنی کاوشوں سے منکشف کرنا ہوتا ہے، اُمہ یہ کام خود کرنے کے بجائے مستعار اکتشافاتِ جدیدہ پر انحصار کر رہی ہے، یعنی مغرب کی محنت و کاوش سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف اگر مغرب کسی اعلیٰ اخلاقی دائرے کا متلاشی ہے اور شریعتِ اسلامیہ اس کی یہ ضرورت پوری کر رہی ہے تو اہلِ مغرب حقیقت میں امتِ مسلمہ سے فائدہ نہیں اٹھا رہے بلکہ قرآن و سنت کی عالم گیر حیثیت سے فیض پا رہے ہیں۔
دل چسپ اور لطیف نکتہ تو یہ ہے کہ نئی فقہ کے دونوں عناصر ترکیبی عالم گیر نوعیت کے ہیں۔ اگر قرآن و سنت آفاقی ہیں تو زندگی کی واقعیت کے مظاہر بھی آفاقی اور تمام انسانیت کا مشترکہ ورثہ قرار پائے ہیں۔ ایک دَور میں زندگی کی واقعیت، تکینکی پس ماندگی کی وجہ سے مقامیت کی حامل تھی۔ یعنی، کسی خاص انسانی گروہ یا قوم کی محنت سے حاصل کیے گئے اکتشافات وغیرہ تقریباً اُسی تک محدود رہتے تھے۔ لیکن پچھلے چند عشروں میں تکنیکی ترقی نے مکان (space) کو برق رفتاری سے اضافی بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے اکتشافاتِ جدیدہ کی برکات مغرب تک محدود نہیں رہیں۔ لہذا اب ایک آفاقی شریعت کے متوازی آفاقی اکتشافات موجود ہیں، جنھیں آفاقی اذہان کے مالک اصولیین ہی آفاقی فقہ دے سکتے ہیں۔
(۱۸)
اب تک کے مباحث سے یہ واضح ہو گیا کہ اُمت کے فکری بحران کے باوجود، زندگی جاگ رہی ہے اور آگے بڑھ رہی ہے۔ اُمت بحیثیت مجموعی، طوعاً و کرہاً زندگی کے تشریعی اور تکوینی پہلوؤں کی آفاقیت کے پہلو بہ پہلو چلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم دردی کے نام پر اُمت کی سست روی کو مزید سست کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ یہ کام وہ لوگ کر رہے ہیں جو واقعی اُمت کے ہم درد ہیں۔ آج دنیا بھر کی دینی جامعات میں شریعت کے نام پر قرآن ، سنت اور فقہی کلیات کی تعلیم دی جارہی ہے۔ حالاں کہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ شریعت کے صرف اور صرف دو عناصر، قرآن اور سنت ہیں۔ شریعت میں ایک تیسرے خارجی عنصر یعنی فقہی کلیات کی شمولیت کے پیچھے شان دار ماضی کا کبیر بیانیہ (grand narrative of past glory) کارفرما ہے۔ دینی جامعات میں اس کبیر بیانیے کی گھن گرج جاری ہے جس کے نتیجے میں عصریات سے مجرمانہ غفلت برتتے ہوئے، فقہی کلیات کے تناظر میں قرآن و سنت کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اسے اجتہاد کہا جاتا ہے۔
آہستہ روی سے ظہور پذیر نئی آفاقی فقہ کے مقابل، متروک فقہ کے حاملین کے بڑے بڑے گروہ دینی جامعات سے نکل رہے ہیں۔ ان گروہوں کی بقا، نئی آفاقی فقہ کی فنا میں پوشیدہ ہے۔ لیکن زمانہ گواہ ہے کہ ٹھہرنے والے ہی بالآخر فنا ہوتے ہیں اور جیسے تیسے قافلے کی ہم سفری اختیار کرنے والے منزلِ مقصود پر جا پہنچتے ہیں۔ اس لیے دینی جامعات کے کار پردازوں کو اس بنیادی حقیقت سے آگاہ ہونا چاہیے کہ فقہ اور وہ بھی متروک فقہ، سماجیات سیاسیات معاشیات نفسیات حیاتیات فلکیات وغیرہ کے ماہرین پیدا نہیں کر سکتی۔ البتہ قانون کے ماہرین مہیا کر دیتی ہے۔ تو کیا اُمت کے ان ہم دردوں کے نزدیک قانون کے ماہرین باقی شعبہ ہائے زندگی کی کفایت کر دیتے ہیں؟ المیہ تو یہ ہے کہ یہ قانون بھی الفاظ و مباحث تک محدود ہے کیونکہ عصریات سے کوسوں دور ہے۔ دینی جامعات کے فارغ التحصیل کتنے فی صد ’’وکلا‘‘ ریاستی عدالتوں میں پریکٹس کرتے ہیں؟ اگر دینی جامعات کا حاصل صرف وکلا ہیں اور پھر ایسے وکلا جنھیں پریکٹس کا کبھی موقع ہی نہیں ملتا ، تو پھر دینی جامعات آخر کس قسم کی سماجی خدمات سر انجام دے رہی ہیں؟ بس، مساجد اور جنازہ گاہوں کے امام ہی مہیا کررہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سماجی اور ریاستی حوالے سے دینی جامعات کا دائرہ کار مسلسل محدود ہو رہا ہے۔ البتہ ریاست اپنے سیاسی مقاصد کے لیے انھیں اٹھائے پھرے تو الگ بات ہے ورنہ مستقبل قریب میں ان کی حیثیت میوزیم سے بڑھ کر نہیں رہے گی۔
(۱۹)
اختتامی کلمات کی طرف بڑھتے ہوئے ہم گزارش کریں گے کہ امت کے فکری بحران کے پیچھے شان دار ماضی کا ایسا بیانیہ موجود ہے جس نے فقہ کو جامع العلوم کے سنگھاسن پر براجمان کر رکھا ہے، حالاں کہ فقہ اصل میں فن ہے جو مختلف علوم اور شعبوں سے معاملہ کرتا ہے۔ چونکہ یہ فن تقریباً ہر علم اور ہر شعبہ سے معاملہ کرتا ہے، اس لیے اسے غلطی سے علم ہی نہیں بلکہ مخزن العلوم سمجھ لیا گیا ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ جب فقہ کا حقیقی منصب مختلف علوم اور شعبوں سے معاملہ کرنا ہے تو اس کا لازمی مطلب یہ ہوا کہ مختلف علوم اور شعبے موجود ہونے چاہییں، تبھی تو فقہ معاملہ کر سکے گا۔ یعنی مواد (material) موجود ہو گا تواسے منضبط (disciplined)کرنا بہت مشکل یا نا ممکن نہیں رہے گا، لیکن خالی خولی انصرام و انضباط (discipline) میں سے مواد (material) نکالنا تو محال ہے۔
اس دَورِ زوال میں، اُمت کے ہم دردوں نے شان دار ماضی کے کبیر بیانیے سے شہ پا کر ایک مقبولِ عام جملے کو جنم دیا ہے کہ ’’اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے‘‘۔ واقعہ یہ ہے کہ اس جملے کے پیچھے بھی، فقہ کی تمام شعبہ ہائے زندگی سے معاملہ کرنے کی صلاحیت کارفرما ہے، اس لیے اُمت کے ہم دردوں سے ہم دردی کرتے ہوئے ہم یہ کہنے کی جسارت کریں گے کہ حیات (زندگی کے تکوینی اعتبارات و حقائق اور واقعیت) برق رفتاری سے بہت آگے نکل گئی ہے اور ضابطہ کہیں دُور بہت پیچھے گردِ راہ میں گم ہو گیا ہے۔ حیات کی ہم سفری کے لیے ضابطے کو تیزی سے اس کے تعاقب میں جانا ہو گا۔ لیکن خیال رہے کہ شان دار ماضی کے کبیر بیانیے کو revisit کیے بغیر یہ تعاقب بہت بوجھل اور تھکا دینے والا ثابت ہو گا۔
مولانا عبد القیوم ہزارویؒ / مولانا قاری عبد الحئ عابدؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا عبد القیوم ہزارویؒ
۷ فروری کو نمازِ مغرب کے بعد مری کے قریب ایک تعلیمی مرکز میں دوستوں کے ساتھ بیٹھا ان کی فرمائش پر اپنے دورِ طالب علمی کے کچھ واقعات کا تذکرہ کر رہا تھا اور استاذِ محترم حضرت عبد القیوم ہزارویؒ کا تذکرہ زبان پر تھا۔ میں دوستوں کو بتا رہا تھا کہ جن اساتذہ سے میں نے سب سے زیادہ پڑھا اوربہت کچھ سیکھا ہے، ان میں حضرت والد مکرم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے بعد تیسرے بڑے استاذ حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ ہیں اور اس حوالے سے یہ عرض کر رہا تھا کہ میری ذہن سازی اور تربیت میں مسلک کے دائرے میں حضرت والدِ محترمؒ اور فکری محاذ پر حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ اور حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ کا اثر سب سے زیادہ ہے۔ میں ابھی یہ بات کر ہی رہا تھا کہ مجلس میں موجود ایک دوست کے موبائل فون کی بیل بجنے لگی وہ اٹھ کر باہر گئے اور واپس آکر بتایا کہ استاذِ محترم مولانا عبد القیوم ہزارویؒ کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے آغاز سے ہی حضرت صوفی صاحبؒ کے رفیقِ کار تھے اور ہمارے طالب علمی کے دور میں حضرات شیخینؒ کے ساتھ وہ تیسرے بڑے استاذ کا درجہ رکھتے تھے۔ انہوں نے چار عشروں سے زیادہ عرصہ تک مسلسل نصرۃ العلوم میں تدریسی خدمات سر انجام دیں۔ میں نے زرّادی اور زنجانی سے لے کر دورۂ حدیث میں ابو داؤد شریف تک مختلف فنون کی بہت سی کتابیں ان سے پڑھی ہیں۔ معقولات کے اونچے درجے کے اساتذہ میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ مزاج کے سخت تھے اور عبارت وغیرہ میں نرمی اور کمزوری برداشت نہیں کرتے تھے، اس لیے ان کے سبق میں خاصی تیاری کر کے بیٹھنا پڑتا تھا۔ ابتدا میں ان کا طرز اَنّھی والے استاذ حضرت مولانا ولی اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ والا ہوتا تھا۔ طالب علم کو خود مطالعہ کر کے اور سبق حل کر کے آنا ہوتا تھا۔ استاذ صرف سنتے تھے اور اگر کوئی بات ضروری ہوتی تو وضاحت کر دیتے تھے۔ میں نے نور الانوار سمیت بہت سی کتابیں اس طرز پر ان سے پڑھی ہیں۔ وہ کتاب پڑھانے کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ذہن سازی کی طرف بھی خصوصی توجہ دیتے تھے۔ سیاسی طور پر حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ سے زیادہ قریب تھے اور زندگی بھر اسی فکر پر رہے۔ دینی اور روحانی حوالہ سے شیرانوالہ لاہور اور حضرت درخواستیؒ کے ساتھ گہری عقیدت رکھتے تھے۔ حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ کے ساتھ ان کی اکثر و بیشتر معاملات میں ذہنی ہم آہنگی ہوتی تھی۔ ایک دور میں مجلس احرار اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت میں عملی طور پر متحرک رہے۔ جمعیۃ علماء اسلام کی تنظیم نو میں شریک تھے اور ایک مرحلہ میں شہر کے امیر بھی رہے ہیں۔
صدر ایوب خان مرحوم کے دور میں ان کی آمریت کے خلاف عوامی جدوجہد اور ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب کی فکری بے روی کے خلاف جمعیۃ علماء اسلام کی تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا۔ متحدہ حزب اختلاف کے زیر اہتمام شیرانوالہ باغ میں ہونے والے اس عوامی جلسہ کی صدارت انہوں نے ہی کی تھی جس پر پولیس نے پہلے آنسو گیس پھینکی اور پھر فائرنگ کی تھی۔ اس فائرنگ میں غالباً دو نوجوان شہید ہوئے تھے اور گوجرانوالہ ایوبی آمریت کے خلاف عوامی تحریک کا اہم مرکز بن گیا تھا۔ یحییٰ خان کے مارشل لاء کے آغاز میں انہوں نے مسجد فاروقیہ پونڈانوالہ میں خطبۂ جمعہ کے دوران قادیانیوں کی تردید کی جس کے نتیجے میں وہ مارشل لاء کے تحت گرفتار ہوئے۔ اس کے علاوہ تحریک ختم نبوت کے دوران بھی گرفتار ہوئے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ قادیانیوں کے خلاف تحریک میں وہ اس دور میں پورے جوش و جذبہ کے ساتھ سرگرم حصہ لیتے رہے جس دور میں کسی خطبہ یا تقریر میں قادیانیوں کا نام لینا بھی قانونی جرم سمجھا جاتا تھا اور اس پر مقدمہ درج ہو جایا کرتا تھا۔
استاذِ محترمؒ جامع مسجد فاروقیہ پونڈانوالہ کے ایک عرصہ تک خطیب رہے ہیں اور ان کے دور میں یہ مسجد مسلکی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ تحریک ختم نبوت اور دیگر دینی تحریکات کا بھی مورچہ ہوتی تھی۔ صدر یحییٰ خان کے مارشل لاء میں خطبہ جمعۃ المبارک کے دوران قادیانیوں کے خلاف تقریر کے بعد وہ گرفتارر ہوگئے تو حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ نے مجھے طلب فرمایا کہ مولانا عبد القیومؒ گرفتار ہوگئے ہیں۔ اب اگر اگلے جمعہ پر اس مسجد میں قادیانیوں کے بارے میں کوئی بات نہ ہوئی تو اسے ہماری کمزوری سمجھا جائے گا اور اگر تقریر کرنے کے بعد دوسرا خطیب بھی گرفتار ہوگیا تو یہ سلسلہ تحریک کی صورت اختیار کر سکتا ہے جس کا ابھی موقع مناسب نہیں ہے۔ اس لیے یہ جمعہ مسجد فاروقیہ میں تم نے پڑھانا ہے، اس طرح کہ ختم نبوت پر بات بھی پوری ہو اور گرفتاری کی صورت بھی نہ بنے۔ میں اس وقت نصرۃ العلوم میں غالباً موقوف علیہ کے درجہ کا طالب علم تھا۔ حضرت مفتی صاحبؒ کے حکم پر میں نے یہ ذمہ داری قبول کر لی اور میں اسے حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی چند صحبتوں کا فیضان سمجھتا ہوں کہ عقیدۂ ختم نبوت پر ایک گھنٹہ خطاب کے باوجود گرفتاری سے محفوظ رہا۔ سی آئی ڈی میں ہمارے ایک دوست سید مہتاب علی شاہ مرحوم ہوتے تھے۔ انہوں نے بعد میں ایک موقع پر بتایا کہ محکمہ پولیس کے مقدمات کے انچارج پی ڈی ایس پی نے تین مرتبہ ٹیپ ریکارڈر سے آپ کی تقریر سنی ہے، لیکن وہ کوئی ایسی بات تلاش نہیں کر سکے جسے مقدمہ کی بنیاد بنایا جا سکے۔ یہ بات میں نے تحدیث نعمت کے لیے عرض کی ہے اور یہ بات بتانے کے لیے لکھی ہے کہ ہمارے بزرگ بالخصوص حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ہمیں اس بات کی تلقین کرتے تھے اور تربیت دیا کرتے تھے کہ اپنی بات صحیح طریقہ سے پوری بیان کرنا تو ضروری ہے، لیکن پکڑے جانا ضروری نہیں ہے۔
عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ، ملک میں نفاذِ شریعت اور دیوبندی مسلک کے فروغ و تحفظ میں حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ اس دور میں ہمارے لیے راہ نما اور رہبر کی حیثیت رکھتے تھے اور میری سیاسی و تحریکی زندگی کا آغاز ان کی انگلی پکڑ کر ہوا تھا۔ بعد میں جمعیۃ علماء اسلام کی بعض پالیسیوں سے اختلاف کی وجہ سے جن کا اظہار وہ کھلم کھلا کرتے تھے، وہ رفتہ رفتہ پیچھے ہٹتے گئے جبکہ میری پیش رفت جاری رہی۔ وہ مجھے بھی سمجھایا کرتے تھے اور کبھی کبھی ناراض بھی ہو جاتے تھے جسے میں ان کا بزرگانہ حق سمجھ کر خاموشی کے ساتھ سن لیا کرتا تھا۔ مجھے مزاج اور ڈیلنگ کے حوالے سے بہت نرم سمجھا جاتا ہے اور کسی حد تک میں ہوں بھی، لیکن موقف اور پالیسی کے معاملہ میں ہمیشہ بے لچک رہا ہوں۔ سنتا سب کی ہوں مگر کرتا وہی ہوں جسے صحیح اور مناسب سمجھتا ہوں اور اسے بھی استاذِ محترم حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ کے فیض کا حصہ سمجھتا ہوں۔ کافی عرصہ سے علیل تھے، لیکن اس کے باوجود جامعہ محمدیہ چائنہ چوک اسلام آباد میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے کئی سال تک انہوں نے تدریسی خدمات سر انجام دی ہیں۔ وہاں کئی بار ان کی خدمت میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ گزشتہ سال رمضان المبارک سے قبل مانسہرہ کے ایک سفر کے دوران تمبرکھولا حاضری ہوئی۔ ملاقات و زیارت کے ساتھ ساتھ ان کی دُعا اور شفقت سے بھی شاد کام ہوا۔ آج وہ ہم سے رخصت ہوگئے ہیں، لیکن ان کا فیض اور یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور ان کے صدقات جاریہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ اور جامعہ محمدیہ اسلام آباد کے علاوہ ان کے ہزاروں شاگردوں کی صورت میں ان کے ذخیرۂ آخرت میں اضافے کا ذریعہ بنتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور پسماندگان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق دیں۔ آمین یا رب العالمین۔
مولانا قاری عبد الحئ عابدؒ
حضرت مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں انتقال کر گئے ہیں اور اپنے ہزاروں سامعین، دوستوں اور عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ قاری صاحب محترمؒ اپنے وقت کے ایک بڑے خطیب حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے چھوٹے بھائی تھے اور خود بھی ایک بڑے خطیب تھے۔ ان دونوں بھائیوں نے کم و بیش نصف صدی تک پاکستان میں اپنی خطابت کا سکہ جمایا ہے اور صرف سامعین میں اپنا وسیع حلقہ قائم نہیں کیا بلکہ خطیب گر کے طور پر بیسیوں خطباء کو بھی اپنی لائن پر چلایا ہے۔
دونوں بھائیوں کا خطابت و وعظ کا اپنا منفرد انداز تھا اور ان کے دورِ عروج میں ہزاروں سامعین ان کے خطابات سننے کے لیے دور دراز سے جمع ہوا کرتے تھے، اکابر علماء دیوبند کا والہانہ انداز میں تذکرہ، توحید و سنت کا پرچار، عظمت صحابہ کرامؓ کا تذکرہ اور شرعت و بدعات کی مخصوص لہجے میں تردید و ابطال ان کی خطابت و وعظ کے سب سے نمایاں پہلو تھے۔
حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ وعظ و خطابت کے ساتھ ساتھ تحریکی ذوق بھی رکھتے تھے اور بہت سی دینی تحریکات میں انہوں نے سرگرم اور بھرپور کردار ادا کیا ہے جبکہ مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ خطابت و وعظ کے ساتھ اصلاح و سلوک کے ذوق سے بہرہ ور تھے، ان کا روحانی تعلق شیرانوالہ لاہور سے تھا، ہمارے شیخ حضرت مولانا عبید اللہ انور قدس اللہ سرہ العزیز کے مجازین میں شامل تھے، اپنے عوامی خطابات میں ذکر خداوندی کی تلقین اور اس کا ورد عام طور پر کیا کرتے تھے اور اپنے سلسلہ کے سالانہ روحانی اجتماع کا بھی اہتمام کرتے تھے، دینی اور مسلکی حمیت میں اپنے بہت سے معاصرین میں ممتاز تھے اور دین و مسلک کے لیے ایثار و قربانی کا ہر موقع پر عملاً اظہار کرتے تھے۔
مجھے یاد نہیں کہ دونوں بھائیوں میں سے پہلے کس کی تقریر میں نے سنی ہے لیکن اتنا یاد ہے کہ طالب علمی کے دور میں ان کی بیسیوں تقریریں سن چکا تھا۔ پھر عملی زندگی میں ان کے ساتھ چار عشروں سے زیادہ عرصے تک رفاقت رہی ہے۔ مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کا دو حوالوں سے میری جماعتی و تحریکی زندگی میں گہرا دخل ہے، جمعیۃ علماء اسلام میں ضلعی سطح پر میں طالب علمی کے دور میں ہی متحرک تھا اور ضلعی سیکرٹری اطلاعات کے طور پر کام کرتا تھا، مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ جب جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے سیکرٹری جنرل چنے گئے تو انہوں نے مجھے صوبائی سیکرٹری اطلاعات کے طور پر اپنی ٹیم میں شامل کیا اور میری جماعتی سرگرمیوں کا دائرہ پورے صوبے تک وسیع ہوگیا۔ جبکہ ۱۹۸۵ء کے دوران لندن میں منعقد ہونے والی پہلی سالانہ بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس میں میری شرکت کے پہلے محرک وہ تھے اور انہی کی ترغیب اور تحریک پر میں نے اس کانفرنس کے لیے لندن کا پہلا سفر کیا تھا۔ مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ کے ساتھ میرا رابطہ شیرانوالہ لاہور کے حوالہ سے زیادہ تھا کہ میں بھی اسی روحانی مرکز سے وابستہ تھا اور حضرت الشیخ مولانا محمد عبید اللہ انور قدس اللہ سرہ العزیز کی محافل میں ہماری شرکت و رفاقت رہتی تھی۔
مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ کچھ عرصہ مجلس احرار اسلام میں شامل رہے ہیں اور احرار راہ نماؤں کے ساتھ دینی تحریکات میں شریک کار رہے ہیں۔ حضرت والد مکرم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ دونوں بھائیوں کا گہرا تعلق تھا اور حضرت والد مکرمؒ بھی ان کی دینی سرگرمیوں اور خدمات کو سراہتے تھے۔ گکھڑ میں حضرت والد محترمؒ کی مسجد میں متعدد بار حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ اور حضرت مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ نے دینی اجتماعات سے خطاب کیا ہے اور جس دور میں مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ جامعہ قاسمیہ فیصل آباد میں شعبان المعظم اور رمضان المبارک کے دوران علماء کرام کے لیے تربیتی کورس کا اہتمام کرتے تھے کئی سال تک حضرت والد محترمؒ علماء کرام کو مختلف مسائل کی تحقیق پڑھانے کے لیے فیصل آباد تشریف لے جاتے رہے ہیں۔ دونوں بھائی وقتاً فوقتاً گکھڑ آتے اور ملاقات کے ساتھ ساتھ مختلف مسائل میں حضرت والد محترمؒ سے مشورہ اور راہ نمائی حاصل کرتے تھے۔
دونوں بھائیوں کی خطابت کا انداز کم و بیش یکساں تھا البتہ مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کی خطابت میں تحریکی گھن گرج کا پہلو نمایاں ہوتا تھا جبکہ قاری صاحبؒ حضرت سلطان باہوؒ اور حضرت بابا فریدؒ کا کلام مخصوص لہجے اور ترنم کے ساتھ پڑھنے کا ذوق زیادہ رکھتے تھے اور سامعین ان کی خطابت کے ساتھ ساتھ نعت و شعر کے ذوق اور ترنم سے محظوظ ہوا کرتے تھے۔ برطانیہ کے مختلف اسفار میں حضرت قاری صاحبؒ کے ساتھ میری رفاقت رہی ہے، وہاں بھی ان کے سامعین اور عقیدت مندوں کا بڑا حلقہ ہے جو بطور خاص انہیں سننے کے لیے جلسوں میں آیا کرتا تھا۔ دوست بنانے اور دوستی نبھانے کا ذوق دونوں بھائیوں میں بھرپور تھا جبکہ قاسمی صاحبؒ دوست نوازی اور دوستوں کو آگے بڑھانے میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔
مجھے قاسمی صاحب محترمؒ کا وہ جملہ اکثر یاد آتا ہے جو میری تمام دینی حلقوں اور جماعتوں کے ساتھ یکساں رابطہ رکھنے کی کوشش کو دیکھ کر ’’رانجھا سب دا سانجھا‘‘ کہہ کر داد دیا کرتے تھے اور قاری صاحبؒ کا یہ دعائیہ جملہ مجھے نہیں بھولتا جو وہ کم و بیش ہر دوست کے لیے کہا کرتے تھے ’’جتھے پیر اوتھے خیر‘‘ (یعنی جہاں بھی قدم پڑے وہاں خیر ہو)۔ اللہ تعالیٰ دونوں بھائیوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور ان کے پسماندگان کو ان کی روایات کا تسلسل جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم
امید ہے خیریت سے ہوں گے۔ پچھلے چند سالوں سے الشریعہ زیر مطالعہ ہے۔ تقلید جامد اور علمی وفکری جمود کے دور عروج میں آپ کا رسالہ تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔ علمی وفکری موضوعات پرمختلف بلکہ متضاد آرا کا سامنے آنا اس دور میں بہت غنیمت ہے۔
فروری ۲۰۱۳ء کے شمارے میں کلمہ حق میں آپ کی تحریر ’’میڈیا کا محاذ اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ نظر سے گزری۔ اس حوالے سے چند گزارشات/ سوالات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں:
’’حالت امن اور حالت جنگ کے قوانین میں فرق ہوتا ہے، بہت سی باتیں جو حالت امن میں درست نہیں ہوتیں مگر حالت جنگ میں انہیں مجبورًا اختیار کرنا پڑتا ہے۔ ایک شخص محاذ جنگ پر دشمن کے سامنے کھڑا ہے تو اسے یہ دیکھنا ہے کہ دشمن کے ہاتھ میں کون سا ہتھیار ہے اور وہ اس کے مقابلہ میں کون سا ہتھیار اختیار کر کے دشمن کو زیر کر سکتا ہے، اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ اس کی مثال عرض کروں گا کہ ایٹم بم کو اسلام کی جنگی اخلاقیات کی رو سے ایک جائز ہتھیار قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اور جہاد کے جو تقاضے اور دائرے بیان فرمائے ہیں کہ عورت کو قتل نہیں کرنا، بوڑھے کو قتل نہیں کرنا، غیر متعلقہ شخص کو قتل نہیں کرنا، بچے کو قتل نہیں کرنا اور دشمن کے اموال اور ملکیتوں کو بلا وجہ نقصان نہیں پہنچانا وغیرہ۔ ایٹم بم کے استعمال میں ان میں سے کسی بات کا لحاظ نہیں رکھا جا سکتا، اس لیے میری طالب علمانہ رائے میں اگر جنگ میں اسلامی اخلاقیات کا لحاظ رکھا جائے تو ایٹم بم ایک جائز ہتھیار نہیں ہے، لیکن ہم سب ایٹم بم کے بنانے پر زور دیتے ہیں اور ہم نے ایٹمی صلاحیت حاصل کی ہے اس لیے کہ جب دشمن کے پاس یہ ہتھیار موجود ہے تو ہمارے پاس اس کا موجود ہونا ضروری ہے ورنہ ہم دشمن سے مار کھا جائیں گے۔ اسے اضطراری حالت کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح حالتِ اضطرار میں جان بچانے کے لیے حرام کھانا جائز ہوجاتا ہے اسی طرح حالت جنگ میں جان بچانے کے لیے ایسے ہتھیار کا استعمال جائز بلکہ ضروری ہو جاتا ہے جو اسلامی اصولوں کی رو سے شاید جائز ہتھیار نہ ہو۔‘‘
اس تحریر کو پڑھ کر میرے جیسا ایک عامی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اگر دین اسلام کی بیان کردہ انتہائی ’فطری‘، ’صریح‘، ’بدیہی‘ اور ’دائمی‘ اخلاقی تعلیمات آج کے دور میں ناقابل عمل قرار پاتی ہیں اور حالت جنگ میں قطعی ممنوع قرار دی جانے والی حرکات ’اضطرار‘ کے نام پر نہ صرف جائز بلکہ ’ضروری‘ ٹھہرتی ہیں تو پھر دین کے وہ کون سے ممنوعات اور حرام کام ہیں جن کو اسی دلیل سے جائز اور ضروری قرار نہیں دیا جا سکتا؟
سیدھی سی بات ہے کہ اگر دین کی کچھ تعلیمات حالت جنگ کے لیے دی گئی ہیں، جیسے عورت کو قتل نہیں کرنا، بوڑھے کو قتل نہیں کرنا، غیر متعلقہ شخص کو قتل نہیں کرنا، بچے کو قتل نہیں کرنا اور دشمن کے اموال اور ملکیتوں کو بلاوجہ نقصان نہیں پہنچانا وغیرہ تو ان کو اس دلیل سے آخر کیسے اضطراری بلکہ ضروری ٹھہرایا جا سکتا ہے کہ ’حالت امن اور حالت جنگ میں فرق ہو تا ہے‘ اور ’بہت سی باتیں جو حالت امن میں درست نہیں ہوتیں، مگر حالت جنگ میں انھیں مجبوراً اختیار کرنا پڑتا ہے۔‘ جب یہ ہدایات اور قوانین دیے ہی حالت جنگ سے متعلق گئے ہیں تو ظاہر ہے ان پر عمل کا دائرہ ہے ہی حالت جنگ۔ اگر تو یہ ہدایات حالت امن میں عمل کرنے کی دی گئی ہوتیں تو پھر بھی کسی حیلے بہانے سے اضطرار کے نام پر حالت جنگ میں استثنا نکالنے کا جواز پیدا ہو سکتا تھا، مگر حالت جنگ ہی کے لیے دیے گئے احکام کو حالت جنگ ہی کے لیے دیے گئے احکام کو حالت جنگ ہی کے لیے کس طرح اضطراری ٹھہرایا جا سکتا ہے؟
پھر جب خود آپ کی طالب علمانہ رائے میں ’اگر جنگ میں اسلامی اخلاقیات کا لحاظ رکھا جائے تو ایٹم بم ایک جائز ہتھیار نہیں ہے‘ تو کیا اس ناجائز ہتھیار کو صرف ان دلائل سے جائز اور ضروری قرار دیا جا سکتا ہے کہ ’اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکے گا‘ اور ’ہم سب ایٹم بم بنانے پر زور دیتے ہیں‘ اور’ہم نے ایٹمی صلاحیت حاصل کی ہے‘ اور ’جب دشمن کے پاس یہ ہتھیار موجود ہے تو ہمارے پاس اس کاموجود ہونا ضروری ہے‘۔ اگر ان’’عقل عام‘‘ پر مبنی دلائل کی بنیاد پر ایٹم بم جیسے اسلامی اخلاقیات کی رو سے قطعی ناجائز ہتھیار کو جائز اور ضروری ٹھہرایا جا سکتا ہے تو پھر نہ صرف حالت جنگ بلکہ حالت امن میں بھی وہ کون سا عمل، ترکیب، چال اور مکر وفرویب ہے جن کو انھی یا ان جیسے دوسرے دلائل کی رو سے جائز اور قرار نہیں دیا جا سکتا؟ پھر تو ایٹم بم ہی کیا، خود کش دھماکے، بم دھماکے، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، اپنی رائے سے اختلاف کرنے والے ہر فرد کا قتل وغیرہ وغیرہ ہر چیز جائز اور ضروری قرار دی جا سکتی ہے، بلکہ آپ اور ہم جانتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جائز اور ضروری قرار بھی دی جا چکی ہیں اور ہم عملاً ’جہاد‘، ’دفاع‘ اور ’ردعمل‘ کے نام پر عرصے سے یہ سب کچھ دیکھ اور بھگت رہے ہیں۔
اگر دشمن کا کسی ہتھیار یا چال کو استعمال کرنا ہمارے لیے بھی اس کے استعمال کو جائز بلکہ ضروری ٹھہرا سکتا ہے تو کیا دشمن اگر جنگ کے موقع پر عورتوں کی اجتماعی عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیار کے طورپر استعمال کرے، جیسا کہ جنگوں میں یہ ایک معمول رہا ہے، تو کیا ہمارے لیے بھی یہ عمل جائز اور ضروری قرار پا سکتا ہے؟ اگر دشمن اپنے فوجیوں کی ’رفع حاجت‘ کے لیے انھیں طوائفیں مہیا کرے، جیسا کہ معمول ہے، تو کیا ہمارے لیے بھی جائز اور ضروری ہو سکتا ہے کہ ہم بھی اپنے فوجیوں کے لیے ایسا ہی کریں؟ علیٰ ہذا القیاس۔
مزید برآں،آپ کا جو اصل موضوع تھا یعنی ’میڈیا کا محاذ‘ کیا اس میں ایسا ہوسکتا ہے کہ اگر دشمن اس محاذ کو جس طرح چاہے ، تمام اخلاقی تعلیمات اور حدود سے ماورا ہوکر استعمال کرے، جیسا کہ معمول ہے ، تو کیا ہم بھی ’اضطرار‘ کے نام پر جھوٹے پروپیگنڈے، فحاشی و عریانی ، لایعنی و منفی تفریح وغیرہ کے لیے جیسے چاہیں میڈیا کو استعمال کریں؟ یا ہمیں بہرحال دشمن سے بے نیاز ہوکر دین کی بتائی ہوئی تعلیمات اور حدود کا پابند رہنا ہوگا؟ میں انتہائی معذرت کے ساتھ اپنے آپ کو یہ کہنے پر مجبور پاتا ہوں کہ آپ کی اس تحریر سے مجھ جیسے ایک عامی کو یہ تاثر ملتا ہے کہ ہمارے دین کی بعض بنیادی تعلیمات بھی ایسی ہیں جو آج کہ دور میں قطعی ناقابل عمل ہیں اور اگر ان پر عمل کے لیے اصرار کیا جائے تو نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ اجتماعی اور قومی سطح پر بھی ہمارا زندہ رہنا مشکل ہے اور اگر ہم ان تعلیمات پر عمل کرنے لگیں تو دشمن سے مار کھا جائیں گے۔ آپ کی یہ تحریر صاف صاف اس بات کا اعلان ہے کہ ہم آج کے دور میں شریعت کی پابندیوں پر عمل نہیں کرسکتے۔
میرا احساس ہے کہ دو صحابہ کا غزوہ بدر میں صرف اس لیے شریک نہ ہونا کہ وہ کفار سے جنگ میں شریک نہ ہونے کاعہد کرچکے تھے یا ایک جنگ میں سیدنا اسامہ بن زیدؓ کے ہاتھوں غلط فہمی کی بنا پر ایک مقاتل کے ہتھیار ڈال دینے کے باوجود اس کو قتل کر دینے پررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا شدید اظہار ناراضی یا صرف زبانی معاہدے کی بنیادپر ابو جندلؓ کو کفار کے حوالے کرنے کا معاملہ ہو یاسیدنا معاویہؓ کا دشمن سے کیے گئے ایک معاہدے کی بظاہر خلاف ورزی کے صرف ارادہ کرنے پر ایک صحابی رسول سیدنا عمرو بن عنبسہؓ کی سخت تنبیہ اور سیدنا معاویہؓ کا اس ارادے سے رجوع اور اس طرح کے سیکڑوں ہزاروں واقعات جن میں ہمارے اسلاف نے عین ’حالت جنگ‘ میں دین کی بتائی ہوئی اخلاقی حدود و تعلیمات کا خیال رکھا،،، یہ سب واقعات اب محض وعظ اور درس میں سنانے اور سر دھننے کے لیے رہ گئے ہیں ، اور ہمارا عمل حقیقتاً’’جو تم کرو گے، وہ ہم کریں گے ‘‘ کے فلسفے کے مطابق رہ گیا ہے۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ’الشریعہ‘ ہی کے مارچ ۲۰۱۲ء کے شمارے سے مولانا محمد یحییٰ نعمانی کے مضمون سے کچھ سطور یہاں نقل کردی جائیں:
’’جہاد کے بارے میں ہمیں کسی قسم کا کوئی معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ جہادی تعلیم اسلام کا وہ باب ہے جو اس کی حقانیت کی روشن دلیلوں میں سے ہے۔ ایک طرف انسانیت کی ایک شدید ضرورت کو پورا کرنے کے مقصد کی بلندی ہے۔ دوسری طرف اللہ کی رضا کی نیت کی پاکیزگی ہے۔ اور تیسری طرف مجاہدانہ اخلاقیات کا حسنِ جہاں آراو جہاں زیب۔ نورُُ علی نور۔ یہ جہاد دنیا کو زیبائش و آرائش بخشنے کے لیے ہی فرض کیا گیا ہے۔ اس کو کیا نسبت اس فساد و فتنہ اور غدرودغا سے جس پر مغربی تہذیب کے زیر سایہ موجودہ بین الاقوامی سیاست کا نظام قائم ہے۔ ایک ریاست دوسری ریاست سے معاہدوں میں ہاتھ بھی ڈالتی ہے، سفارتی تعلقات بھی قائم کرتی ہے اور پھر اپنی ایجنسیوں کے ذریعہ قتل وخونریزی کے واقعات بھی کراتی ہے۔ انسانیت کو مغربی تہذیب نے جو الم ناک ’’تحفے‘‘ دیے ہیں ان میں یہ خفیہ ایجنسیوں کا نظام بھی ہے۔ مگر اس وقت کچھ نا سمجھ مسلم نوجوانوں کو جہاد کے نام پر معاہدات کی پامالی کا سبق دینے لگے ہیں، یہ ان میں ایسا اشتعال پیدا کرتے ہیں کہ شریعت تو ٹوٹتی ہے ہی، اللہ کے حدودتو پامال ہوتے ہیں ہی، ساتھ ہی اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے ۔۔۔ افسوس ! یہ شرعی ’’حدود‘‘ (قوانین) جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی صریح غیر مشکوک سنت سے ثابت ہیں ان کا ہمارے یہاں مذاکرہ نہیں ہوتا اور نتیجتاً ہم عصر حاضر کی صورتِ احوال میں اس کی تطبیق نہیں کر پاتے ۔ اس سلسلے میں بہت سے لوگ نہایت غیر محتاط بلکہ شرعی ضابطوں کو توڑنے والی رایوں کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اگر یہ غلطیاں صرف وہ نوجوان کر رہے ہوتے جنہوں نے اس دور کے ظالموں کی چیرہ دستیوں سے عاجز آکر ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کا مظاہرہ کیا ہے تو کوئی زیادہ تعجب نہ ہوتا۔ مگر جب علمی قسم کے اداروں اور رسائل و مجلات کی طرف سے یہ بے احتیاطیاں ہوتی ہیں تو حیرت ہی نہیں، افسوس اور قلق بھی ہوتا ہے ‘‘۔
ڈاکٹر عبدالباری عتیقی، کراچی
drbari_atiqi@yahoo.com
(۲)
Dear Moulana Ammar Khan Nasir Sahab,
Assalamu 'Alikum.
I am very thankful to you and the Al-Shariah team for sending me in a copy of your magazine. I read the note by Mufti Fazeel al-Rahman Uthmani sahab about "three talaq in one session ..." and your note on talaq and have some observations to make:
- Mufti sahab has relied mostly on the book 'Islami Qanoon' from India but that book is NOT a 'masdar-i-Asli'. The learned author should have mentioned that the opinion in Islami Qanoon is based on Fatawa Qadi Khan and that the opinion of Qadi Khan is most probably based on hadith-i-Rukanah; that why Qadi Khan has mentioned that the opinion of the husband is accepted 'diyanatan', i.e. as far as the matter between him and Allah is concerned but not 'qada'an'. The Question to be asked and answered or at least attempted in such a discussion is why should not the opinion of such a husband be accepted by the qadi (court)? In my humble opinion since the Prophet SAW was acting as a judge, therefore, the opinion of the husband should be accepted by the court as well (wallahu 'alam). I have explained this somewhere.
- Unfortunately, the learned author (Mufti sb) did not mention the relevant law in Pakistan, i.e. section 7 of the Muslim Family Law Ordinance 1961 and its analysis and Islamicity or otherwise. The learned author could have also mentioned the position of other Muslim countries on this point. I have explained this somewhere.
- The learned author (Mufti sb) could have also analysed that section 7 has so many problems; that it is law legislated by a Muslim government a whether Muslims in Pakistan should follow it or not and what do Muslim jurists say about such a law and situation. This would have been a very good discussion.
- In your short note the first observation in my humble opinion is: first, when a husband delegates the right of talaq to his wife (see section 18 of the Nikah nama in Pakistan) and she exercises that right, she will divorce herself with one revocable talaq and she does not have the right to pronounce three talaq on herself. The reason is that she was delegated the right of divorce in specific words used for talaq which amounts only to one and NOT three if exercised. (I have written on this long ago).
- Your last opinion (the issue of automatic talaq) on page 39 is problematic. First, from which source is this opinion derived? Secondly, it would be better to mention that this is a very old issue in the subcontinent and that the great Sheikh and Hakeemul Ummat Moulana Ashraf 'Ali Thanavi (Rahmatullahi 'alihi) had done his best to provide battered Muslim women some remedies in the shape of Dissolution of Muslim Marriages Act 1939. His classic book Al-Heelah is available for its background. A lot is written on this issue.
Best regards,
Dr. Muhammad Munir,
Chairman Department of Law,
IIU, Islamabad
(۳)
جناب مدیر صاحب ماہنامہ الشریعہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟
ماہنامہ الشریعہ فروری ۲۰۱۳ء کے شمارے میں خواجہ امتیاز احمد صاحب سابق رکن اسلامی جمعیت طلبہ گوجرانوالہ کا ایک مضمون ’’جماعت اسلامی کے ناقدین ومصلحین‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے جس کے آغاز میں اپنا تعارف کراتے ہوئے انھوں نے اپنے استاذ، میرے استاذ اور آپ کے بھی استاذ کے متعلق ایک جملہ لکھا ہے جو ہماری سمجھ میں نہیں آ سکا۔ لکھتے ہیں: ’’صوفی صاحبؒ ، مولانا عبد القیوم صاحب، مولانا محمد خان مبلغ ختم نبوت او رمولانا محمد حیات مرحوم جو نصرۃ العلوم میں تشریف لاتے تھے، میرے سوالات سے کچھ گھبرا جاتے تھے۔‘‘ (ص ۴۹) یہ جملہ مجھے اور دیگر کئی احباب کی سمجھ میں نہیں آ سکا کہ وہ کون سے سوالات تھے جن سے یہ جبال علم گھبرا جاتے تھے اور وہ بھی ایک نو آموز اور مبتدی طالب علم سے!! ہماری معلومات تو اول الذکر دونوں بزرگوں کے متعلق یہ ہیں کہ وہ اعلاء کلمۃ الحق کے لیے کبھی کسی جابر سلطان کے سامنے بھی حق کہنے سے نہیں گھبرائے، اس لیے ہم الشریعہ کی وساطت سے خواجہ صاحب موصوف کی خدمت میں مودبانہ درخواست پیش کریں گے کہ اگر ان کی یادداشت صحیح کام کر رہی ہو تو براہ کرم ان سوالات کی لسٹ الشریعہ میں طبع کرا دیں تاکہ ہماری معلومات میں بھی اضافہ ہو سکے۔ عین ممکن ہے کہ خواجہ صاحب موصوف کو علم ہی نہ ہو اور یہ حضرات اپنی تحریروں، تقریروں اور مواعظ میں ایسے سوالات کے جوابات دے چکے ہوں۔ یہ تو بہرحال ان کے سوالات سامنے آنے پر ہی واضح ہو سکے گا۔
محمد فیاض خان سواتی
مہتمم جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
دو قومی نظریہ اور امجد علی شاکر
سید امتیاز احمد
جہاں علمی ادارے، میڈیا اور ذہن سازی کے جملہ مراکز اور ذرائع نقطہ ہائے نظر کو تاریخی حقائق اور نظریات کو عقائد بنا کر پیش کرنے میں مصروف ہوں، جہاں سماعتیں آدھا سچ سننے اور بصارتیں ادھوری حقیقت پڑھنے کی اس حد تک عادی ہو چکی ہوں کہ پورے سچ اور مکمل حقیقت کے روبرو ہونے کی خواہش ہی موجود نہ رہے، وہاں اگر کوئی دیوانہ پکار اٹھے کہ ’’بادشاہ تو ننگا ہے‘‘، وہاں اگر کوئی مؤرخ، تعصبات سے بلند ہو کر تاریخ کا جائزہ لینے کا حوصلہ کر بیٹھے، وہاں اگر کوئی حقیقت کا متلاشی سچ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے کسی کوئے ملامت میں جا نکلے، وہاں اگر کوئی دانش ور سرکاری نقطۂ نظر اور درباری تاریخ پر شک کا اظہار کر بیٹھے ۔۔۔ تو ہمارا اور آپ کا بھی فرض بنتا ہے کہ اس کی نیت پر حملہ آور ہونے سے قبل اس کی بات کو توجہ سے سن تو لیں، ذرا دیر کو ٹھہر کر اس کے موقف پر غور تو کر لیں۔ امجد علی شاکر کی کتاب ’’دو قومی نظریہ: ایک تاریخی جائزہ‘‘ بھی ہم سے کچھ ایسا ہی تقاضا کرتی ہے۔
یہاں یہ وضاحت شاید غیر ضروری نہ سمجھی جائے کہ یہ تاریخ کی کتاب نہیں، یہ ایک ایسے نظریے کا تنقیدی، تحقیقی اور تاریخی جائزہ ہے جو نہ صرف ہماری ماضی قریب کی تاریخ کی تشکیل پر اثر انداز ہوا ہے بلکہ آج بھی سوچنے سمجھنے والے ذہنوں کے لیے ایک معما بنا ہوا ہے۔ یہ نظریہ ہمارے لیے یوں بھی ایک ’’مجتمع الضدین‘‘ بن چکا ہے کہ اگر چھوڑتے ہیں تو اپنی (نصابی) تاریخ سے جاتے ہیں اور اگر رکھتے ہیں تو حال بے حال ہوتا ہے۔ یہی غالبًا اس موضوع کو شعوری طور پر نظر انداز کیے جانے کا سبب بھی ہے۔ یہ وضاحت تو خیر کتاب کے اجمال کا جواز فراہم کرنے کے لیے تھی، شاکر صاحب نے اب اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے تو بڑی حد تک حق بھی ادا کیا ہے۔
پہلی بات تو یہ کہ مصنف نے اس نظریے کے آغاز کو اس کے نو آبادیاتی تناظر میں رکھ کر سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بات ایک بڑی خوبی یوں بن جاتی ہے کہ ہم لوگ بالعموم نو آبادیت اور اس کے جملہ مضمرات سے بالعموم بے خبر ہی رکھے گئے ہیں۔ سبب وہی کہ اگر نو آبادیاتی استحصال کی تفصیل بیان کی جائے تو لامحالہ، اس استحصال کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا ذکر بھی آئے گا۔ جنہیں ہم بوجوہ، مطعون و مغضوب ہی رکھنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف اس ظلم و استحصال میں استعمار کے دست و بازو بن کر مفادات حاصل کرنے والوں کا ذکر بھی ناگزیر ہوگا جو اس دور سے لے کر آج تک، ہمیشہ، اقتدار کی غلام گردشوں میں پائے گئے ہیں۔ نو آبادیاتی قوتوں کی مذمت گویا انہی کی مذمت بن جاتی لہٰذا اس موضوع کو یا کم از کم اس کی تفاصیل کو نصابی اور تاریخی کتابوں سے باہر رکھنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن ظاہر ہے، اس قسم کی کوششیں ایک حد تک ہی موثر ہوتی ہیں اور اتنی سامنے کی باتوں پر پردہ ڈالے رکھنا تو اور بھی مشکل ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ نو آبادیاتی اور سامراجی قوتیں اپنی مفتوحہ نو آبادیوں کے عوام و خواص کو محض سیاسی اور معاشی طور پر ہی تباہ و برباد کرنے پر قانع نہیں رہتیں، اس استحصال کی حدود محکوم اقوام کی علمیّات، ان کی تہذیب و ثقافت اور عقائد و نظریات تک کو اپنے گھیرے میں لے آتی ہیں۔ حاکم قوم کی تہذیبی اور علمی برتری کو تسلیم کروانے کی کوشش تو خیر سامنے کا پہلو ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ خالص مقامی مسائل اور ان کے حوالے سے تشکیل پانے والے نقطہ ہائے نظر و نظریات کو بھی صاحبانِ عالی شان کے ردّ و قبول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جو نظریات غیر ملکی اقتدار کو دوام بخشنے میں ممّد و معان ہو سکتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، بلکہ بوقتِ ضرورت ایسے مسائل خود بھی متعارف کروائے جاتے ہیں مثال کے طور پر ہندی اردو تنازعہ اس کے برعکس جو تصورات و نظریات نو آبادیاتی اقتدار کو کمزور کرنے اور محکوموں کو استعماری قوتوں کے استحصال سے آگاہ اور اس کے خلاف منظم کرنے کا باعث ہو سکتے ہیں، ان کے علم برداروں کے حصہ میں ایک طرف تو پھانسیاں، جائدادوں کی ضبطیاں اور حبسِ دوام بعبور دریائے شور آتے ہیں اور دوسری طرف الزام تراشی، بہتان طرازی اور کردار کشی۔ ہندوستان میں دو قومی نظریے بلکہ نو آبادیاتی دور میں سامنے آنے والے کسی بھی نظریے کے ظہور کا جائزہ لیتے ہوئے اس تناظر کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اور اس کتاب میں بھی فاضل مصنف نے اسے پیش نظر رکھ کر ہی گفتگو کا آغاز کیا ہے۔
کتاب کا پہلا باب سر سید احمد خان کے حوالے سے ہے۔ اس نظریے کے بعض موئیدین کے جذباتی بیانات سے صرفِ نظر کیا جائے تو دو قومی نظریے کا تحریک پاکستان کے پس منظر میں باقاعدہ آغاز سر سید ہی سے کیا جاتا ہے، بالخصوص مولانا حالی کے نقل فرمودہ بیانات سے۔ مثال کے طور پر:
’’۔۔۔ مجھے یقین ہوگیا کہ اب ہندو مسلمانوں کا بطور ایک قوم کے ساتھ چلنا اور دونوں کو ملا کر سب کے لیے ساتھ ساتھ کوشش کرنا محال ہے۔‘‘
یہاں شاکر صاحب ایک بہت بڑی اور غالباً دانستہ پیدا کی گئی غلط فہمی کو دور کرتے ہیں، جب وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ بیان ۱۹۶۷ء کے ہندی اردو تنازعے کے حوالے سے دیا گیا تھا جب کہ اس کے بعد اپنی وفات سے چند ماہ قبل تک موصوف اس قسم کے بیانات دیتے رہے;
’’ ۔۔۔ پس مسلمانوں اور ہندوؤں میں کچھ مغائرت نہیں ہے۔ جس طرح آریا قوم کے لوگ ہندو کہلائے جاتے ہیں، اسی طرح مسلمان بھی ہندو یعنی ہندوستان کے رہنے والے کہلائے جا سکتے ہیں۔‘‘
اور محض بیانات ہی نہیں علی گڑھ کالج ہو یا ’’وفادار ہندوستانیوں کی ایسوسی ایشن‘‘ ہر جگہ وہ ہندوؤں کو (یا کم از کم اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کو) ساتھ لے کر ہی چلتے رہے۔ اس صورتِ حال میں سر سیّد کو دو قومی نظریے کا علم بردار قرار دینا، خلطِ مبحث پیدا کرنے کی شعوری کوشش ہی کہلائے گا۔ خیر کوششوں کا کیا گلہ کیا جائے کراچی کے ایک صاحب علم تو دو قومی نظریے کا اثبات قرآن و حدیث سے کرنے کی کوشش کرتے پائے گئے تھے۔
دوسرے باب کا عنوان ’’علامہ اقبال اور دو قومی نظریہ‘‘ ہے۔ علامہ سر محمد اقبال کو بہرحال دو قومی نظریہ کے باقاعدہ نظریہ سازوں میں شامل کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا چاہیے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انہوں نے برصغیر کے معروضی حالات اور زمینی حقائق کا جائزہ لینے کے بعد جملہ جزئیات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ایک باقاعدہ اور مکمل نظریے کی صورت میں یہ تصور پیش کیا تھا۔ انہوں نے متعدد سامنے کے پہلوؤں کو بھی نظر انداز کر دیا تھا۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں رہ جانے والی مسلم اقلیت اور مسلمان ریاست میں رہنے والے غیر مسلموں کی قومیت کا مسئلہ اور دیگر ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ تعلق کی نوعیت کا مسئلہ وغیرہ۔ جہاں تک اسلام کے تصورِ ملت کی آفاقیت اور مقامی قومیتوں کے تصور میں مطابقت اور دونوں کے الگ الگ تقاضوں کی تفہیم کے مسئلے کا تعلق ہے، حیرت ہوتی ہے کہ وہ قوم اور ملت کی اصطلاحوں میں واضح نصوص کے باوجود کوئی فرق روا رکھنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ایک سامنے کی لیکن ضروری بات یہ بھی ہے کہ عملی طور پر اس صورت حال کے بہت سے پہلو، علامہ کی وفات کے بعد سامنے آئے یا واضح ہوئے، سو اب کیا کہا جا سکتا ہے کہ ان کے تصورات ارتقا پا کر کیا صورت اختیار کرتے اور بعد کی سیاسی پیش رفت کے دوران میں ان کا نقطہ نظر کیا ہوتا؟ پنجاب مسلم لیگ کے ساتھ ان کے تعلق کے مختلف مراحل اور اس دوران ان کے نقطہ نظر میں آنے والی تبدیلیاں ہمارے سامنے ہیں۔
جہاں تک خود بانئ پاکستان اور دو قومی نظریے کا تعلق ہے، صورت حال دلچسپ تر ہے۔ انہوں نے اس معاملے کے نظری پہلو پر کبھی تفصیل سے کلام کیا ہی نہیں۔ ان کی تقاریر کے اقتباسات اور بیانات ہی پیش کیے جاتے ہیں لیکن ان میں مختلف مواقع پر مختلف بلکہ متضاد تصورات پائے جاتے ہیں۔ غالبًا اس کا سبب تقاریر کے لکھنے والے ہو سکتے ہیں۔ اگر Speech Writer غلام احمد پرویز ہوں تو ان کی تقریر میں صرف قرآن سے رہنمائی لینے اور مرکز ملت کا تصور جھلکنے لگتا ہے۔ جب وہ اپنی تقریر خود لکھتے ہیں تو ۱۱ ۔اگست کا تاریخی خطاب سامنے آتا ہے، ان بیانات میں مطابقت پیدا کرنا جناح صاحب کے ہر سوانح نگار کے لیے ایک مسئلہ رہا ہے اور رہے گا۔ کتاب کا ایک معنیٰ خیز بلکہ بعض حضرات کے لیے چشم کشا باب ’’دو قومی نظریہ کے ہندو اور انگریز نظریہ ساز‘‘ ہے۔ لیکن اس سے پہلے وہ مودودی صاحب کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے دیگر مصنفین کا تحریک آزادی، تحریک پاکستان اور دو قومی نظریے کے حوالے سے رویّہ دلچسپ اور تاریخی ہی نہیں، نفسیاتی مطالعے کا بھی سزاوار ہے۔ غالبًا یہی سبب ہے کہ فاضل مصنف نے ایک باب اس حوالے سے شامل کتاب کرنا ضروری سمجھا وگرنہ اس دور کی جماعت کا حجم اور مولانا مودودی کے اس وقت کے مقام و مرتبہ اور حلقۂ اثر کو پیش نظر رکھا جائے تو اس حوالے سے ان کا کوئی قابل ذکر اور موثر کردار ممکن ہی نہیں تھا۔ لہٰذا مجید نظامی کا انہیں پاکستان مخالف قرار دینا اور جماعتی حلقوں کی جانب سے انہیں محسنینِ تحریک پاکستان میں شامل کرنا افراط و تفریط ہی کہلائے گا۔
دو قومی نظریے کے شارحین کے بیان میں فاضل مصنف ایک اہم لیکن نسبتًا غیر معروف کردار فضل کریم درّانی کو بھی یاد کیا ہے۔ یہ صاحب ایک دور میں اتنے اہم تھے کہ محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی ملاقاتوں میں موجود ہوتے تھے۔ ان کی کتاب The Future of Islam In India علامہ اقبال کے خطبۂ الٰہ آباد سے دو سال قبل شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب میں دو قومی نظریہ پوری تفصیل اور شدّت کے ساتھ موجود ہے۔ لہٰذا خورشید کمال عزیز کا یہ سوال بے جا نہیں کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے اور باہم تعارف اور ملاقاتوں کے باوجود علامہ اقبال درانی صاحب کے خیالات سے متاثر یا کم از کم بخوبی آگاہ نہ ہو چکے ہوں۔
اس کے بعد ذکر آتا ہے تھانوی حلقہ کے علمائے کرام اور جناب جی اے پرویز کا۔ دونوں کا ذکر ایک ہی جملے میں کرتے ہوئے ہمیں بھی عجیب لگ رہا ہے اور یقیناًپڑھنے والوں کو بھی عجیب لگے گا لیکن یہ بھی تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی کو اعلاء السنن میں غلام احمد پرویز اور طلوع اسلام کا حوالہ دینا پڑے۔
کتاب میں اور بھی بہت کچھ ہے لیکن اصل سوال آج کے دور میں دو قومی نظریے کی ایسی معنویّت تلاش کرنے کا ہے جسے قبول کرنے کے بعد ۱۵۔ اگست ۱۹۴۷ء سے قبل بھی اس کا جواز برقرار رہے۔ کیا دو قومی نظریے کے علم برداروں میں سے کوئی ایسا کر پایا؟ آخری باب میں شاکر صاحب نے جناب جاوید اقبال کی خود نوشت سوانح ’’اپنا گریباں چاک‘‘ میں شامل ’’علامہ اقبال کے نام دوسرا خط‘‘ سے ایک اقتباس نقل کیا ہے، ہم اسی اقتباس کو درج کرتے ہوئے اپنی بات سمیٹ لیتے ہیں۔
’’اے پدرِ محترم! اگر اب ہماری اجتماعی شناخت کے لیے وہ علاقہ مختص ہوگیا ہے جسے پاکستان کہتے ہیں اور جس کا مفاد ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے تو پھر مولانا حسین احمد کا قول کس اعتبار سے غلط ہوا؟ کیا ہمارے عمل سے یہ ثابت نہیں ہوگیا کہ قومی یا وطنی اعتبار سے تو ہم پاکستانی ہیں اور ملی اعتبار سے مسلم۔‘‘
’’رسول اکرم ﷺ کی مجلسی زندگی‘‘ ۔ مضمون نویسی کا انعامی مقابلہ
ڈاکٹر حافظ محمد رشید
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی طرف سے شہر کے دینی مدارس کے طلبہ کے درمیان ’’رسول اکرمؐ کی مجلسی زندگی‘‘ کے عنوان پر اس سال مضمون نویسی کے انعامی مقابلہ کا اہتمام کیا گیا جس میں شہر کے دس مدارس کے ۲۲ طلبہ نے حصہ لیا۔ ان میں سے (۱) محمد اشرف علی، جامعہ حقانیہ (۲) حسن البناء ، جامعہ عربیہ (۳) عبد الغنی، جامعہ نصرۃ العلوم (۴) محمد عثمان، دارالعلوم نے بالترتیب اول، دوم، سوم اور چہارم پوزیشن حاصل کی جبکہ محمد حفیظ اللہ (مدرسہ ابو ایوب انصاریؓ ) اور عبد الوہاب (جامعہ نصرۃ العلوم) کو یکساں طور پر پنجم پوزیشن کا مستحق قرار دیا گیا۔
۳ فروری کو مغرب کے بعد اکادمی میں تقسیم انعامات کی تقریب منعقد ہوئی جس میں علماء کرام اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ المشرق سائنس کالج کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی مہمان خصوصی تھے، تقریب سے مہمان خصوصی کے علاوہ الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد عبد اللہ راتھر اور قطر سے تشریف لائے ہوئے معزز مہمان الشیخ عبد اللہ بن احمد عمانی نے بھی خطاب کیا اور مولانا داؤد احمد میواتی کی دعا پر یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس کے طلبہ کے درمیان مختلف موضوعات پر وقتاً فوقتاً مضمون نویسی کے مقابلوں کا الشریعہ اکادمی کی طرف سے اہتمام کیا جاتا ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ طلبہ میں لکھنے پڑھنے کا ذوق پیدا ہو اور وہ اپنے دور کے تقاضوں اور ضروریات کو سمجھتے ہوئے لوگوں میں دین کی بات کہنے اور لکھنے کے لیے اپنی صلاحیت کو اجاگر کریں۔ اس سال اس مقصد کے لیے ’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلسی زندگی‘‘ کا انتخاب کیا گیا اور مختلف مدارس کے طلبہ نے اس میں حصہ لیا، ان طلبہ کے ساتھ اس عمل میں شریک ہونے کے لیے اس موضوع پر کچھ گزارشات پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روز مرہ معمولات کا آغاز بھی مجلس سے ہوتا تھا اور اختتام بھی مجلس پر ہی ہوتا تھا، صبح نماز کے بعد عمومی مجلس ہوتی تھی اور رات کو عشاء کے بعد خواص کی محفل جمتی تھی جبکہ دن میں بھی مجلس کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ سیرت اور حدیث کی مختلف روایات میں بتایا گیا ہے کہ نماز فجر کے بعد جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہی اشراق کے وقت تک تشریف فرما ہوتے تھے، اس دوران وہ ساتھیوں کا حال احوال پوچھتے تھے، کسی نے خواب دیکھا ہوتا تو وہ بیان کرتا تھا اور تعبیر پوچھتا تھا، خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو تعبیر کے ساتھ وہ خواب بیان فرماتے تھے، کوئی تازہ وحی نازل ہوتی تو اس کا ذکر کرتے تھے، کوئی اعلان کرنا ہوتا تو کرتے تھے۔ ا س موقع پر مجلس میں دورِ جاہلیت کے واقعات کا تذکرہ ہوتا تھا اور شعر و شاعری کا دور بھی چل جاتا تھا جن میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شریک نہیں ہوتے تھے لیکن سن کر مسکرا دیتے تھے۔ پھر سارا دن مجالس چلتی رہتی تھیں، احکام و مسائل کا تذکرہ ہوتا تھا، ہدایات ہوتی تھیں اور تلاوت اور ذکر و اذکار کا سلسلہ بھی ہوتا تھا جبکہ عشاء کے بعد خواص کی مجلس ہوتی تھی جس کا تذکرہ حضرت علیؓ نے شمائل ترمذی کی ایک روایت کے مطابق یوں کیا ہے کہ خاص خاص احباب عشاء کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حجرے میں جمع ہو جاتے تھے جہاں اس رات آپ کا قیام ہوتا تھا، اس میں مختلف علاقوں کی صورت حال پیش کی جاتی تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مختلف قبیلوں اور علاقوں کے حالات دریافت کرتے تھے اور لوگوں تک پہنچانے کے لیے پیغامات دیتے تھے، اس طرح مجموعی صورت حال پر باہمی مشاورت ہو جاتی تھی اور اگلے روز کی تیاری بھی ہوتی تھی۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ بہت سے لوگ جو اپنی حاجات اور ضروریات خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش نہیں کر پاتے تھے، ان کی ضروریات اور مسائل ہم لوگ رات کی مجلس میں پیش کر دیتے تھے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں ہر طرح کی باتیں ہوتی تھیں اور بے تکلفی کے ماحول میں ہوتی تھیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام صحابہ کرامؓ کے دلوں میں حد سے زیادہ تھا لیکن اس کے باوجود مجلس کا ماحول کھلا رہتا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی خوش طبعی اور دل لگی فرماتے تھے اور صحابہ کرامؓ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے تکلفی اور خوش طبعی کر لیتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کا نام حضرت نعیمانؓ ہے، بدری صحابی تھے اور بہت خوش طبع آدمی تھے، ان کی دل لگی کے بہت سے واقعات ان کے تذکرہ میں ملتے ہیں حتیٰ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی دل لگی کر لیتے تھے، ایک بار وہ مسجد میں آرہے تھے کہ راستہ میں ایک ریڑھی پر انگور دیکھے، بیچنے والے سے کچھ انگور لیے اور کہا کہ یہ مسجد میں لے جا رہا ہوں، اگر پسند نہ آئے تو واپس کر دوں گاورنہ تھوڑی دیر کے بعد تم مسجد میں آکر پیسے لے لینا، مسجد میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ نعیمانؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! انگور کھائیں گے؟ فرمایا کھا لیں گے۔ اس نے انگور حضورؐ کے سامنے رکھ دیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھائے اور مجلس میں بیٹھے دوسرے لوگوں نے بھی کھائے۔ تھوڑی دیر میں انگوروں والے نے آکر پیسے مانگے تو نعیمانؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! اس کو پیسے دے دیں۔ فرمایا کس بات کے؟ کہا یہ جو انگور کھائے ہیں ان کے پیسے۔ فرمایا کہ میں نے تو نہیں منگوائے تھے، نعیمانؓ نے کہا کہ کھائے تو ہیں نا! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیسے دے دیے تو نعیمانؓ نے کہا کہ میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے کہ اس کے بغیر آپؐ نے انگور کھانے نہیں تھے۔ غرضیکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سب دوستوں کے ساتھ بے تکلفانہ ہوتی تھی اور ہر قسم کا ذوق رکھنے والے کو اس میں اپنی تسکین کا سامان مل جاتا تھا۔