’’الشریعہ‘‘ بنام ’’ضرب مومن‘‘
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا مفتی ابو لبابہ شاہ منصور نے کچھ عرصہ سے ’’ضرب مومن‘‘ اور ’’اسلام‘‘ میں ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کے خلاف باقاعدہ مورچہ قائم کر رکھا ہے اور وہ خوب ’’داد شجاعت‘‘ پا رہے ہیں۔ ہم نے دینی وعلمی مسائل پر اختلافات کی حدود کے اندر باہمی مکالمہ کی ضرورت کا ایک عرصے سے احساس دلانا شروع کر رکھا ہے اور اس میں بحمد اللہ تعالیٰ ہمیں اس حد تک کامیابی ضرور حاصل ہوئی ہے کہ باہمی بحث ومباحثہ کا دائرہ وسیع ہونے لگا ہے اور پیش آمدہ مسائل ومعاملات کے تجزیہ وتحقیق اور تنقیح وتحلیل کے ذریعے اصل صورت حال معلوم کرنے کا ذوق بیدار ہو رہا ہے اور یہی ہمارا مقصد بھی ہے۔
ہم نے بحمد اللہ تعالیٰ شروع سے یہ روش رکھی ہوئی ہے کہ اسے مکالمہ کے دائرے میں رکھا جائے اور زبان واسلوب کے لحاظ سے اسے ’’مورچہ ومحاذ‘‘ بنانے سے گریز کیا جائے، لیکن ظاہر بات ہے کہ ہر شخص اسی زبان اور لہجے میں بات کرے گا جس کی اس نے تربیت حاصل کر رکھی ہے اور جو اس کی زندگی کا معمول ہے۔ عادت کیسی بھی ہو، اس کو بدلنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے۔ مفتی صاحب محترم کا لہجہ واسلوب قارئین ملاحظہ کر چکے ہیں اور ہم اس میں انھیں معذور سمجھتے ہوئے ایک دو دیگر حوالوں سے اس سلسلے میں کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔
مفتی صاحب کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ جب چاہیں، جو چاہیں اور جس لہجے میں چاہیں لکھیں اور ہفت روزہ ’’ضرب مومن‘‘ اور روزنامہ ’’اسلام‘‘ ان کے ارشادات کو من وعن شائع کرنے کے پابند ہیں جبکہ ہم فقیروں کی صورت حال یہ ہے کہ روزنامہ ’’اسلام‘‘ میں ہمارا ایک کالم جو باقاعدہ شائع ہوتا ہے، اس میں اس قسم کی کوئی بات ہلکے پھلکے انداز میں بھی لکھ دیں تو وہ حذف ہو جاتی ہے اور یہ کہہ کر اس کی اشاعت سے انکار کر دیا جاتا ہے کہ ’’متنازعہ امور پر مضامین شائع کرنا ہماری پالیسی نہیں ہے۔‘‘ مختلف مواقع پر مختلف حوالوں سے ایسا ہوا ہے اور اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ الیکشن سے ایک روز قبل شائع ہونے والے ہمارے کالم ’’نوائے حق‘‘ میں دینی جماعتوں کے امیدواروں میں مصالحت کے سلسلے میں حضرت مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے آخر میں درج ذیل نوٹ اس کالم میں شامل کیا گیا تھا جسے حذف کر دیا گیا اور اب مجبوراً ہمیں وہ نوٹ ’’الشریعہ‘‘ میں شائع کرنا پڑ رہا ہے:
ایک نظر ادھر بھی
’’محترم مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب کے تازہ ارشادات (اسلام میں) قارئین نے پڑھ لیے ہوں گے۔ میری نظر سے بھی گزر چکے ہیں۔ میں اس سلسلے میں ایک تجویز پیش کرنا چاہوں گا کہ زیر بحث مسائل پر ایک علمی مباحثہ کھلے دل ودماغ کے ساتھ ہو جانا چاہیے جس کے خد وخال میرے ذہن میں کچھ اس طرح سے ہیں کہ:
- مفتی صاحب موصوف الشریعہ اکادمی اور ماہنامہ الشریعہ کے حوالے سے اپنے اشکالات مرتب شکل میں پیش فرما دیں، ’الشریعہ‘ کی طرف سے ان کی وضاحت کی خدمت میں سرانجام دے دوں گا۔
- ان اشکالات اور میری طرف سے ان کی وضاحت کے بعد اگر کچھ باتیں دونوں طرف سے مزید وضاحت طلب ہوں تو ا س مکالمہ کو آگے بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
- روزنامہ ’’اسلام‘‘ یا ہفت روزہ ’’ضرب مومن‘‘ میں سے کسی ایک کو اس مکالمہ کے لیے منتخب کر لیا جائے تاکہ قارئین کو دونوں طرف کا موقف ایک جگہ پڑھنے کی سہولت مل جائے۔
- مکالمہ دوستانہ ماحول میں باہمی افہام وتفہیم اور قارئین کی درست سمت میں راہ نمائی کی غرض سے ہو اور زبان واسلوب میں امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے طرز کی پابندی کی جائے۔
- اس مکالمہ کے نتیجے میں فریقین میں سے جس کسی کی کوئی غلطی سامنے آ جائے، وہ اس سلسلے میں رجوع اور معذرت سے گریز نہ کرے۔
میرے خیال میں اس طرح اس بحث کو مثبت انداز میں سمیٹا جا سکتا ہے اور علما وطلبہ کے ایک بڑے حلقے میں پائے جانے والے اضطراب کو دور کیا جا سکتا ہے۔ امید ہے کہ محترم مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب میری اس تجویز کے مثبت جواب اور اپنی تجاویز سے جلد نوازیں گے۔‘‘
میں نہیں سمجھ پایا کہ میرے کالم سے اس نوٹ کو حذف کرنے میں روزنامہ ’’اسلام‘‘ کے مدیر محترم کی کون سی مصلحت پنہاں تھی جبکہ مفتی ابولبابہ صاحب کی تحریریں اس کے بعد بھی مسلسل ’’ضرب مومن‘‘ میں شائع ہو رہی ہیں۔
اسی طرح ۲۴؍ مئی کو ’’اسلام‘‘ میں شائع ہونے والے کالم ’’نوائے حق‘‘ میں جہاں میں نے گوجرانوالہ میں مسلم مسیحی فساد کا راستہ روکنے کی کوشش پر بشپ آف پاکستان کے شکریے کا ذکر کیا ہے، وہاں یہ جملہ بھی مسودہ میں شامل تھا کہ:
’’میں نے بشپ آف پاکستان کے اس شکریے کا ذکر تو کر دیا ہے، مگر اب اس انتظار میں ہوں کہ عظیم عرب مجاہد امیر عبد القادر الجزائری رحمہ اللہ تعالیٰ کی طرح مجھ پر بھی ’’عیسائیوں کا گماشتہ‘‘ ہونے کا فتویٰ کب صادر ہوتا ہے؟‘‘
’’اسلام‘‘ کے مدیر محترم کی طبع نازک پر یہ جملہ بھی گراں گزرا ہے اور ان کی قینچی کی نذر ہو گیا ہے۔
’’ضرب مومن‘‘ کے کار پردازان کا رویہ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک ہے۔ ۸؍ مئی کو روزنامہ اسلام میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں، میں نے امیر عبد القادر الجزائری کی شخصیت وکردار کے حوالے سے ’’ضرب مومن‘‘ کے مضامین کا ذکر کر کے گزارش کی تھی کہ:
’’اس بحث میں میری بعض تحریرات پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ میں نے اس سلسلہ میں اپنے موقف کی وضاحت دو مفصل مضامین کی صورت میں کر دی ہے۔ ۔۔۔ اگر ’’ضرب مومن‘‘ بھی میرے ان دو مضامین کو شائع کر دے تو خود اس کے اپنے قارئین کو متعلقہ مسئلہ کے دونوں پہلوؤں سے واقفیت حاصل ہو جائے گی اور وہ یک طرفہ موقف پر الجھن کا شکار رہنے سے محفوظ رہیں گے۔‘‘
تاہم میری اس گزارش کو کسی بھی درجے میں قابل اعتنا نہیں سمجھا گیا، بلکہ عزیزم عمار ناصر پر دار الکتاب کی پیشگی اجازت کے بغیر ان کے نام سے کتاب شائع کرنے کا جو بے بنیاد الزام لگایا گیا تھا، عمار خان کی طرف سے اس سے متعلق حقیقی صورت حال کی وضاحت ’’ضرب مومن‘‘ کو بھیجی گئی جس کی اشاعت صحافیانہ اخلاقیات کی رو سے ’’ضرب مومن‘‘ کی ذمہ داری تھی تو مفتی صاحب نے اگلے کالم میں اس کے جواب میں فرمایا کہ ’’ہمارے صفحات میں ایسے حضرات کی کوئی جگہ نہیں، نہ ہمیں شوق ہے کہ کسی کا نرخ اونچا کرتے پھریں۔‘‘
میں سمجھتا ہوں کہ بے بنیاد الزامات اور یک طرفہ پراپیگنڈے کا یہ رویہ ایک ذمہ دار دینی ادارے کی طرف سے شائع ہونے والے اخبار کو کسی بھی لحاظ سے زیب نہیں دیتا اور اخبار کی انتظامیہ کو اپنی اس پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ بہرحال میں سنجیدہ ومباحثہ کی پیش کش پر اب بھی قائم ہوں اور (۱) غامدی صاحب کے افکار (۲) ناموس رسالت کے قانون (۳) مسجد اقصیٰ کی تولیت (۴) عمار ناصر کی مبینہ انفرادی آرا اور (۵) امیر عبد القادر الجزائری سمیت ہر اس مسئلہ پر کھلے دل کے ساتھ بحث ومباحثہ کے لیے تیار ہوں جس کی نشان دہی مفتی ابو لبابہ صاحب فرمائیں گے اور اگر ہماری طرف سے مفتی صاحب محترم کی کسی تحریر پر اشکال کی کوئی بات ہوگی تو مفتی صاحب کو بھی اسی طرح کھلے دل کے ساتھ تیار رہنا چاہیے، مگر اس کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ:
- مفتی صاحب بحث ومباحثہ کی اخلاقیات اور گفتگو کے ضروری آداب کی پابندی قبول کریں۔
- اگر یہ بحث ’’اسلام‘‘ یا ’’ضرب مومن‘‘ کے صفحات پر ہونی ہے تو یہ دونوں جرائد اپنی یک طرفہ پالیسی پر نظر ثانی کریں جس کا شرعاً، دیانتاً اور اخلاقاً کوئی جواز نہیں۔ بصورت دیگر اس مقصد کے لیے ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات حاضر ہیں۔
دوسری بات جو اس حوالے سے عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں، یہ ہے کہ مفتی صاحب محترم نے اپنی تحریر کے لیے ’’امام اہل سنت کی بارگاہ میں‘‘ کا گمراہ کن عنوان اختیار کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے موقف یا طرز عمل کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ یہ بات نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ ناقابل برداشت بھی ہے، اس لیے کہ امام اہل سنتؒ کی نہ یہ زبان تھی جو مفتی صاحب نے اپنا رکھی ہے، نہ ان کا یہ طرز عمل تھا جو محدود اور تنگ نظر مسلکی سوچ رکھنے والے کچھ دوستوں کی طرف سے ان کی طرف منسوب کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور نہ ہی علمی وفکری معاملات میں ان کا یہ معمول تھا جو ان کے سر مسلسل تھوپا جا رہا ہے۔
میں مختلف مواقع پر ان امور کے بارے میں حضرت امام اہل سنت کے طرز عمل اور اسلوب کی متعدد بار وضاحت کر چکا ہوں اور اس موقع پر بھی چند ضروری باتیں دوبارہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔
علمی وفکری مسائل میں طرز عمل
فقہی، علمی وفکری مسائل میں باہمی اختلاف ایک فطری عمل ہے اور ہر دور میں ارباب علم ودانش کا معمول رہا ہے کہ وہ اختلاف رائے کے حق کا احترام کرتے تھے اور دلیل ومنطق کے ساتھ اس اختلاف کا اظہار کرتے تھے۔ حضرت امام اہل سنتؒ کا طرز عمل بھی یہ تھا کہ وہ اختلاف کو اختلاف کے دائرے میں رکھتے تھے اور طعن وتشنیع اور مخالفت کا رخ اختیار نہیں کرنے دیتے تھے۔ اس کی بھی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں:
- میں نے طالب علمی کے دور میں، جبکہ میں موقوف علیہ کے سال میں تھا، ہفت روزہ ترجمان اسلام میں ’’مزارعت اور بٹائی‘‘ پر ایک تفصیلی مضمون لکھا جو کئی قسطوں میں شائع ہوا۔ میں نے اس میں حضرت امام ابوحنیفہؒ کے اس موقف کی وکالت کی کہ مزارعت جائز نہیں ہے۔ یہ معروف بات ہے کہ بٹائی یعنی حصے پر زمین دینا حضرت امام اعظمؒ کے نزدیک جائز نہیں ہے اور صاحبین یعنی حضرت امام ابو یوسفؒ اور حضرت امام محمدؒ اسے جائز قرار دیتے ہیں۔ احناف کا مفتی بہ قول صاحبین والا ہے، مگر میں نے اس تفصیلی مضمون میں یہ موقف اختیار کیا کہ حضرت ملا علی القاریؒ نے لکھا ہے کہ دلائل امام صاحب کے مضبوط ہیں، جبکہ مصلحت عامہ صاحبین کے موقف میں ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اگر ماضی میں صاحبین کا موقف مصلحت عامہ کی وجہ سے اختیار کیا گیا تھا تو آج اگر مصلحت عامہ امام صاحبؒ کا قول اختیار کرنے میں ہو تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ موقف جمہور احناف کے موقف او رمفتی بہ قول کے خلاف تھا اور اس پر مجھے ’’کمیونسٹ‘‘ اور ’’سوشلسٹ‘‘ مولوی ہونے کے طعنے بھی ملے، مگر حضرت امام اہل سنت نے جب یہ مضمون پڑھا تو اس پر صرف ایک جملہ کہا کہ ’’احناف کا مفتی بہ قول یہ نہیں ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا کہ مجھے معلوم ہے۔ اس کے بعد زندگی بھر ہمارے درمیان اس حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔
- حضرت امام اہل سنتؒ نماز عید سے قبل تقریر کو صراحتاً بدعت کہتے تھے، جبکہ مدرسہ نصرۃ العلوم میں حضرت صوفی صاحبؒ کا اور عیدگاہ گراؤنڈ گوجرانوالہ میں ہمارا معمول شروع سے نماز سے قبل تقریر کا چلا آ رہا ہے۔ یہ بات ان کو معلوم تھی اور کبھی کبھی ہمارے درمیان گفتگو بھی ہو جاتی تھی، مگر کبھی ہلکی پھلکی گفتگو سے بات آگے نہیں بڑھی۔
- رمضان المبارک میں تراویح اور نوافل کے بعد اجتماعی دعا کو وہ بدعت کہتے تھے جبکہ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ان کے استاذ محترم حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کے ہاں اس دعا کا معمول تھا اور میں نے اسی معمول کو اپنایا ہوا ہے۔ حضرت والد محترم کو اس کا علم تھا اور وہ وقتاً فوقتاً بات بھی کرتے تھے، لیکن بات صرف ہلکی پھلکی گفتگو تک رہتی تھی۔
- اہل تشیع اوربریلوی حضرات کی علی الاطلاق تکفیر کے حوالے سے حضرت والد محترم، حضرت عم مکرم مولانا صوفی عبدالحمید سواتی اور راقم الحروف کے نقطہ نظر کا فرق سب احباب کو معلوم ہے، لیکن یہ مسئلہ کبھی ہمارے درمیان نزاع کا باعث نہیں بنا۔
- حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی مدظلہ فارمی مرغی کو ’’جلالہ‘‘ کے دائرے میں شامل کرتے ہیں اور اسے حلال نہیں سمجھتے۔ حضرت والد محترم کے علم میں یہ بات تھی اور وہ کبھی کبھی دل لگی میں کچھ کہہ بھی دیتے تھے، لیکن یہ بات کبھی مسئلہ نہیں بنی اور اس دور میں بھی نہیں بنی جب حضرت مفتی صاحب مدظلہ جامعہ نصرۃ العلوم کے دار الافتاء کے سربراہ تھے۔
- کیمرے اور ٹی وی وغیرہ کی تصویر کے بارے میں حضرت امام اہل سنتؒ کا موقف عدم جواز کا تھا، جبکہ میرا طالب علمانہ رجحان ’’موطا امام محمد‘‘ میں حضرت امام محمدؒ کے قول کی روشنی میں اس کے جواز کی طرف ہے۔ میری یہ رائے حضرت والد محترم کے علم میں تھی، لیکن انھوں نے کبھی اس پر ’’حرام کو حلال کرنے‘‘ کا فتویٰ نہیں لگایا اور نہ اس حوالے سے کبھی مجھ سے کوئی بازپرس کی۔
- استاذ محترم حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ کا اپنا انداز فکر تھا اور ان کے بھی بعض تفردات ہوتے تھے جن کا وہ اپنے سبق کے دوران پوری شدت کے ساتھ اظہار بھی کرتے تھے، لیکن ان کی کوئی اختلافی رائے کبھی مدرسے میں مسئلہ نہیں بنی۔
حضرت امام اہل سنتؒ کا مزاج، رویہ اور ذوق یہ تھا کہ وہ اختلاف رائے کا حق دیتے تھے، اس کا احترام کرتے تھے اور کسی اختلاف کو مسئلہ بنا لینے کی بجائے اسے اس کی حدود میں رکھتے تھے۔
طرز تکلم اور اسلوب بیان
حضرت والد محترم سے تعلیم حاصل کرنے والے سب شاگرد جانتے ہیں کہ وہ اس بات کی اکثر تلقین کیا کرتے تھے کہ اپنا موقف مضبوط رکھو، لیکن بیان کے لیے الفاظ نرم اختیار کرو اور خیر خواہانہ لہجہ اپناؤ۔ وہ سخت کلامی اور سخت بیانی سے نہ صرف خود گریز کرتے تھے بلکہ اسے برداشت بھی نہیں کرتے تھے اور ٹوک دیتے تھے۔ اس سلسلے میں اپنے دو ذاتی واقعات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔
میرا طالب علمی کا ابتدائی دور تھا۔ گکھڑ میں حضرت مولانا قاری سید محمد حسن شاہؒ کا خطاب تھا۔ میرے استاذ محترم جناب قاری محمد انور صاحب نے مجھے چند جملے رٹا کر ان سے پہلے تقریر کے لیے کھڑا کر دیا۔ میں نے مائیک کے سامنے کھڑے ہوتے ہی آؤ دیکھا نہ تاؤ، مرزا غلام احمد قادیانی کا نام لے کر بے نقط سنانا شروع کر دیں۔ حضرت والد محترم اسٹیج پر موجود تھے۔ انھوں نے مجھے گریبان سے پکڑ کر پیچھے ہٹایا اور مائیک پر کھڑے ہو کر باقاعدہ معذرت کی کہ بچہ ہے، جوش میں غلط باتیں کر گیا ہے۔
اسی طرح ایک بار میں نے زمانہ طالب علمی میں بزرگ اہل حدیث عالم مولانا حافظ عبد القادر روپڑیؒ کے کسی مضمون کا جواب لکھا جس میں یہ انداز اختیار کیا کہ ’’حافظ عبد القادر یہ کہتا ہے‘‘۔ حضرت والد محترم کو یہ مضمون چیک کرنے کے لیے دیا تو الٹے ہاتھ کا تھپڑ میرے منہ کی طرف آیا کہ تمھارا چھوٹا بھائی ہے جو یوں لکھ رہے ہو؟ ہو سکتا ہے، تمھارے باپ سے بھی بڑا ہو۔ یوں لکھو کہ مولانا حافظ عبد القادر روپڑیؒ یوں لکھتے ہیں اور مجھے ان کی بات سے اتفاق نہیں ہے۔
معاشرتی وسماجی تعلقات
حضرت والد محترم کا معاشرتی رویہ بھی ماضی کے اہل علم کی طرح مثالی اور آئیڈیل تھا۔ وہ مسلکی اور علمی اختلاف کی وجہ سے باہمی میل جول، ملاقات اور خوشی غمی میں شرکت ترک نہیں کر دیتے تھے۔ اس کی چند مثالیں پیش کرنا چاہوں گا۔
- حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ اہل حدیث مکتب فکر کے بزرگ عالم دین تھے۔ ان کی وفات ہوئی تو ان کے جنازے میں حضرت والد محترمؒ اور حضرت عم مکرمؒ کے ساتھ میں نے بھی شرکت کی۔
- ایک اور اہل حدیث بزرگ عالم دین حضرت مولانا حافظ محمد گوندلویؒ کی وفات پر حضرت والد محترمؒ کو بروقت اطلاع نہ مل سکی تو وہ دوستوں سے سخت ناراض ہوئے کہ انھوں نے بتایا کیوں نہیں، وہ ان کے جنازے میں شریک ہونا چاہتے تھے۔
- مسئلہ حیات النبی پر حضرت والد محترمؒ ، حضرت صوفی صاحبؒ اور حضرت مولانا قاضی شمس الدینؒ کی ایک دوسرے کے جواب میں تصانیف سے کون واقف نہیں؟ لیکن اس کے باوجود ہمارا قاضی خاندان کے ساتھ میل جول کا تعلق شروع سے قائم ہے اور بحمد اللہ اب بھی ہے۔ حضرت مولانا قاضی شمس الدین صاحب فراش تھے تو والد محترم مجھے اور عمار خان کو ساتھ لے کر ان کی عیادت کے لیے ان کے گھر گئے۔ اس موقع پر یہ عجیب سی بات ہوئی کہ میں نے حضرت قاضی صاحبؒ سے جب یہ عرض کیا کہ ’’حضرت! تین پشتیں حاضر ہیں‘‘ تو وہ رونے لگ گئے۔
- حضرت مولانا قاضی شمس الدین صاحب کے جنازے میں حضرت والد محترمؒ او رحضرت صوفی صاحبؒ کے ساتھ راقم الحروف اور ہمارے خاندان کے دیگر افراد نے بھی شرکت کی۔
- حضرت مولانا قاضی عصمت اللہؒ کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا تو حضرت امام اہل سنت نے نہ صرف ان کے جنازے میں شرکت کی بلکہ خود جنازہ پڑھایا۔
- حضرت والد محترم کی بیماری کے دوران حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ صاحبؒ کی بیمار پرسی کے لیے متعدد بار تشریف لائے۔ حضرت قاضی صاحب بیمار ہوئے تو میں ان کی بیمار پرسی کے لیے جاتا رہا اور بحمد اللہ تعالیٰ ان کے جنازے میں شرکت کی سعادت بھی حاصل کی۔ اب بھی ہم دونوں خاندان ایک دوسرے کی خوشی غمی میں حسب موقع شریک ہوتے ہیں اور اگر کہیں ملاقات ہو جائے تو ماتھے پر تیوریاں چڑھا کر ادھر ادھر نہیں دیکھنے لگ جاتے، بلکہ محبت واحترام کے ساتھ ملتے ہیں، ایک دوسرے کا حال پوچھتے ہیں اور ایک دوسرے کو دعا دیتے ہیں۔
- خود ہمارے خالو محترم مولانا عبد الحمید قریشی مرحوم جمعیۃ اشاعۃ التوحید والسنۃ کے سرگرم راہ نما تھے، لیکن اس کے باوجود حضرت والد محترم نے ان کے ساتھ خاندانی روابط میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔ انھیں خوشی غمی کے ہر موقع پر شرکت کی دعوت دی جاتی تھی اور ان کے ہاں خوشی غمی کے مواقع پر حضرت والد محترم اپنے اہل خانہ کی طرف سے نمائندگی کو یقینی بناتے تھے۔
مشترکہ سیاسی وتحریکی جدوجہد
امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اجتماعی دینی وقومی مسائل کے دائرے میں مختلف مکاتب فکر کی مشترکہ جدوجہد میں شریک رہے ہیں اور بھرپور تحریکی وسیاسی زندگی گزاری ہے جس کی چند جھلکیاں درج ذیل ہیں:
- وہ تحریک پاکستان سے قبل جمعیۃ علماء ہند اور مجلس احرار اسلام کے باقاعدہ کارکن تھے اور ان کی تحریکی سرگرمیوں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ وہ اس دور میں مجلس احرار اسلام کے رکن بلکہ رضا کار رہے ہیں جب اس کی قیادت میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کے ساتھ ساتھ مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ ، مولانا مظہر علی اظہرؒ اور صاحب زادہ سید فیض الحسنؒ بھی شامل تھے۔
- وہ کم وبیش ربع صدی تک جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ضلعی امیر رہے ہیں اور جمعیۃ کے مرکزی اجلاسوں میں شرکت کے لیے انھوں نے ڈھاکہ تک کے اسفار کیے ہیں۔ اس دوران جمعیۃ ملک کے جس سیاسی یا دینی متحدہ محاذ میں شامل رہی ہے، وہ اس کا حصہ اور متحرک کردار رہے ہیں۔ اس میں پاکستان قومی اتحاد، آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور متحدہ مجلس عمل بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
- انھوں نے ۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں آل پارٹیز مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے خود گرفتاری پیش کی تھی اور کم وبیش دس ماہ جیل میں رہے تھے۔ اس وقت مجلس عمل کے صدر بریلوی مکتب فکر کے مقتدر راہ نما مولانا سید ابو الحسنات قادریؒ تھے۔
- جب مجاہد اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور قائد اہل سنت حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ نے متحدہ محاذوں میں شرکت سے اختلاف کرتے ہوئے الگ راستہ اختیار کیا تو امام اہل سنت نے ان بزرگوں کے تمام تر احترام کے باوجود ان کا ساتھ نہیں دیا، بلکہ جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ تمام متحدہ محاذوں کا حصہ رہے اور تحریکوں میں کردار ادا کرتے رہے۔
- انھوں نے پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کی اپنے علاقے میں قیادت کی اور فائرنگ کی ڈیڈ لائن کو عبور کرتے ہوئے اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ لیا اور پھر کم وبیش ایک ماہ جیل میں رہے۔
- اپنی زندگی کے آخری دنوں میں جب وہ مسلسل بستر علالت پر تھے، انھوں نے متحدہ مجلس عمل کا ساتھ دیا اور گکھڑ سے قومی اسمبلی کے لیے ایم ایم اے کے امیدوار جناب بلال قدرت بٹ کی کھلم کھلا حمایت کی جو جماعت اسلامی کے ضلعی امیر تھے۔ بٹ صاحب الیکشن تو نہ جیت سکے، لیکن حضرت امام اہل سنت کی اس علانیہ حمایت کی وجہ سے گکھڑ میں انھوں نے سب سے زیادہ ووٹ لیے۔ اس کی صدائے بازگشت حالیہ انتخابات میں بھی سنی گئی۔ بلال قدرت بٹ اس بار جماعت اسلامی کی طرف سے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ ان کے حریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار جناب میاں طارق محمود نے گکھڑ میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلال قدرت بٹ سے مخاطب ہو کر کہا کہ پچھلی بار تو تمھیں مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے یہاں سے ووٹ دلوا دیے تھے، اب دیکھتا ہوں تمھیں کون ووٹ دیتا ہے!
حضرت امام اہل سنت کے حوالے سے یہ چند باتیں میں نے نکتہ واضح کرنے کے لیے تحریر کر دی ہیں کہ ان کا اسلوب گفتگو، طرز عمل اور ذوق ومزاج ہرگز وہ نہیں تھا جس کو ان کی طرف منسوب کرنے یا ان کے ’’زیر سایہ‘‘ اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی بات اپنی ذمہ داری پر کریں اور اپنی فائرنگ کے لیے حضرت امام اہل سنت کا کندھا استعمال کرنے سے گریز کریں۔
بر صغیر کی دینی روایت میں برداشت کا عنصر (۱)
مولانا مفتی محمد زاہد
ایشیا کا وہ خطہ جو بر صغیر کہلاتا ہے ، بالخصوص اس کے وہ علاقے جن میں مسلمان اکثریت میں ہیں یا بڑی تعداد میں آباد ہیں یہ ہمیشہ سے ہی مختلف تہذیبوں کی آماج گاہ اور ان کی آمد و رفت کا راستہ رہے ہیں۔ اس لیے تہذیبی اور ثقافتی تنوع یا اختلافات کا ذائقہ یہ خطے چکھتے چلے آئے ہیں اس کے جو اثرات اس خطے کی اجتماعی نفسیات پر بھی پڑے ہیں وہ ایک مستقل مطالعے کا موضوع ہوسکتے ہیں، یہاں بر صغیر میں صرف مسلمانوں کی دینی روایت کے حوالے سے بات کرنا مقصود ہے۔
بر صغیر میں مسلمانوں کی دینی روایت کو اگر دیکھا جائے تو اس میں فرقہ وارانہ تقسیم ، عدمِ برداشت کے بھی بہت سے مناظر نظر آتے ہیں جن کی متعدد تاریخی وجوہ بھی ہوسکتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہاں کے مسلمانوں کو یہاں کے مقامی مذاہب اور تہذبیوں میں خودکو مدغم ہونے سے بچانے کے لیے بہت زیادہ تگ ود کرنا پڑی۔ اس چیز نے انہیں اپنی شناخت اور پہچان کے حوالے سے حساس بنادیا اور اسی کے اثرات ان کی اندر کی فرقہ وارانہ تقسیم پر بھی پڑے ہوں۔ نیز بر صغیر میں شخصیات اور مقامات کے ساتھ الحاق اور تعلق کی خاص روایت رہی ہے۔یہ چیز بھی ۔اگر اسے اعتدال پر نہ رکھا جائے۔ اختلاف آراء کو تقسیم کا باعث بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری بھی غلو اور جذباتیت کو یہاں کے عمومی مزاج کا ایک حصہ قرار دیتے ہیں۔ خلیق ابراہیم ان کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں
’’مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری تین چار بار ہمارے ہاں آئے۔ وہ بڑی دلچسپ باتیں کرتے تھے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے قومی مزاج کی بات ہورہی تھی ، کہنے لگے : ’’ اس سے زیادہ جذباتی قوم دنیا کے پردے پر نہیں ہوگی ۔اس کے دین نے اسے اعتدال اور حقیقت پسندی کا راستہ دکھایا ہے ، اور سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دین میں غلو نہ کرو۔ مگر اس نے [ہندوستان کی مسلمان قوم نے] دین کو مشعلِ راہ بنانے کی بجائے [اسے] اپنے اعصاب پر سوار کرلیاہے۔اس کے جذبات میں کنکری ڈالو تو لہریں پیدا نہیں ہوں گی بلکہ ایک دم ابال آجائے گا‘‘۔ (۱)
یعنی مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری دین کے بارے میں حد سے بڑھی ہوئی اور اعتدال سے نکلی ہوئی حساسیت کو اعصاب پر سوارکرنے سے تعبیر کرتے ہوئے اسے غلو اور جذباتیت کا سبب قرار دے رہے ہیں۔اس کی وجہ بھی شاید وہی خطرے کا احساس ہو جو اتنی بڑی غیر مسلم آبادی کے درمیان موجود ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا اور پھر تاریخی طور پر ہمارے جینیاتی نظام کا حصہ بن گیا اور شاہ صاحب کے الفاظ میں ہم نے دین سے اپنی زندگیوں میں راہ نمائی اور روشنی حاصل کرنے کی بجائے اسے اپنے اعصاب پر سوار کرلیا۔
خیر! تاریخی توجیہ جو بھی ہو بر صغیر میں مسلمانوں کی دینی روایت میں تقسیم و تفریق کا عنصر موجود ضرور رہاہے۔ لیکن اسی کے ساتھ اس خطے میں مسلمانوں کی دینی روایت میں برداشت اور تنوع کو قبول کرنے کے مظاہر بھی کم نہیں ہیں۔ پاکستان کے حالیہ کچھ عرصے کے مخصوص دینی ماحول نے اس روایت کے اس عنصر اور پہلو کو گہنا سا دیا ہے اور موجودہ حالات کو دیکھ کر بادی النظر میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ یہاں کے دینی حلقے اور ان کے اکابر ہمیشہ سے ایک دوسرے سے برسرِ پیکار رہے ہیں۔ اس تاثر کے ازالے اور تصویر کا دوسرا رخ سامنے لانے کے لیے یہ سطور تحریر کی جارہی ہیں۔
برصغیر میں اہل السنۃ والجماعۃ ہمیشہ اکثریت میں رہے ہیں۔ تاہم اہلِ تشیع کا بھی ہمیشہ قابلِ ذکر وجود رہا ہے۔ بعض علاقوں میں ان کی تعداد خاصی زیادہ رہی ہے۔ بعض جگہوں پرمقامی حکمران یا نواب وغیرہ اہل تشیع میں سے رہے ہیں۔نظریاتی طور پراہل السنۃ اور اہل تشیع کے درمیان بڑے نازک مسائل میں اختلاف موجود رہا ہے۔ ان مسائل پر بحث مباحثہ اور کتابیں لکھنے کا سلسلہ بھی رہاہے۔لیکن سوائے چند استثنائی مثالوں کے یہ اختلاف کبھی ایک دوسرے کے لیے جانی خطرات کا باعث نہیں بنا۔جن مسائل میں فریقین کے درمیان اختلاف رہا ہے وہ بنیادی طور پر تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد کی تاریخ کے پیدا کردہ ہیں ، تاہم ان کے ساتھ چونکہ کئی مقدس اور محترم شخصیات کے ساتھ عقیدت کا معاملہ آگیا ہے اس لیے انہوں نے بہت زیادہ نزاکت اور حساسیت اختیار کرلی اور اس اختلاف کی حیثیت اصولی اختلاف کی بن گئی۔ اگرچہ اب بھی فریقین کے درمیان بہت سے مشترکات موجود ہیں ، دین کے اصل الاصول امور میں کوئی خاص اختلاف نہیں ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بر صغیر کی درس و تدریس کی روایت میں اہلِ سنت کے ہاں اہلِ تشیع کی کئی کتابیں پڑھی پڑھائی جاتی رہی ہیں۔نحو میں کافیہ پر رضی کی شرح کسی زمانے میں یہاں داخلِ درس رہی ہے۔ کافیہ کے مصنف معروف سنی مالکی فقیہ و اصولی اور نحوی ہیں اس کے شارح رضی شیعہ ہیں۔ لیکن متن اور شرح دونوں کہیں نہ کہیں اہل سنت اور اہل تشیع دونوں کے ہاں داخلِ درس نظر آتی ہیں۔ درس نظامی میں شامل منطق کی ایک معروف کتاب شرح تہذیب کے مصنف شیعہ ہیں۔ جبکہ خود تہذیب کے مصنف علامہ تفتازانی سنی ہیں۔ اور متن اور شرح دونوں حلقہ ہائے درس میں پڑھی پڑھائی جاتی رہی ہیں۔
اور تو اور برِ صغیر میں غیر مسلموں کے ساتھ رواداری اور اچھے میل جول کی جو مثالیں ملتی ہیں ہو وہ ہماری تاریخ کا سنہری حصہ ہیں۔ برصغیر میں مسلمانوں کو چونکہ غیر مسلموں سے واسطہ زیادہ پڑتا رہا ہے اس لیے یہاں اس کی مثالیں زیادہ ملتی ہیں اس پر مواد اگر جمع کیا جائے تو وہ پوری ایک کتاب کا مواد بن سکتاہے۔ یہ بات تو بر صغیر کی تاریخ کا ادنی طالب علم بھی جانتا ہے کہ یہاں صوفیائے کرام کے دروازے ہر ایک کے لیے خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم ہو کھلے ہوتے تھے۔ مولانا حسین احمد مدنیؒ نے اپنے ایک مکتوب (مکتوب نمبر : ۶۳ ) میں اس موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے کہ مسلمانوں کی ہندوستان جب آمد ہوئی تو یہاں باہمی اختلاط کا جو ماحول تھا اس سے اسلام اور مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچا ، اور یہ کہ عموماً مسلمان بادشاہوں کی طرف سے ہر مسئلے کا حل طاقت سے کرنے کی پالیسی سے کیسے نقصان پہنچا۔ دیگر مذاہب کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اکبر کی پالیسی پر اگرچہ عام طور پر دینی حلقوں میں تنقید کی جاتی ہے اور اس تنقید کی جائز وجوہ اپنی جگہ موجود ہیں تاہم مولانا مدنی کا نقطۂ نظر اس سے قدرے مختلف ہے۔ وہ اکبر کی پالیسی کو بعض پہلوؤں سے فائدہ مند قرار دیتے ہیں۔ مولانا مدنی کا یہ مکتوب اگرچہ طویل ہے تاہم اس کے چند اقتباسات نقل کرنا مناسب معلوم ہوتاہے۔مولانا لکھتے ہیں :
’’پادشاہانِ اسلام نے اولا تو اس طرف توجہ ہی نہیں کی۔ بلکہ وہ تمام باتوں کا قوت سے مقابلہ کرتے رہے۔ مگر شاہانِ مغلیہ کو ضرور اس طرف التفات ہوا۔ خصوصاً اکبرنے ۔۔۔ اگر اس [اکبر] کے جیسے چند بادشاہ اور بھی ہو جاتے یا کم ازکم اس کی جاری کردہ پالیسی جاری رہنے پاتی تو ضرور بالضرور برہمنوں کی یہ چال[کہ نفرت کی فضا پیدا کرکے لوگوں کو اسلام سے روکا جائے] مدفون ہوجاتی اور اسلام کے دلدادہ آج ہندوستان میں اکثریت میں ہوتے ، اکبر نے نہ صرف اشخاص پرقبضہ کیا تھا ، بلکہ عام ہندو ذہنیت اور منافرت کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا تھا ، مگر ادھر تو اکبر نے نفسِ دینِ اسلام میں کچھ غلطیاں کیں جن سے مسلم طبقہ میں اس سے بدظنی ہوئی ، اگرچہ بہت سے بد ظنی کرنے والے غافل اور کم سمجھ تھے ، ادھر برہمنوں کے غیظ وغضب میں اپنی ناکامیاں دیکھ کر اشتعال پیدا ہوا، ادھر یورپین قومیں خصوصاً انگلستان کو اپنے مقاصد میں کامیابی کا ذریعہ تلاش کرنا پڑا اور سب سے بڑا ذریعہ اس کے لیے منافرت بین الاقوام تھا اور ہے‘‘۔
آگے چل کر اسی پالیسی کی تائید میں دلائل دیتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں :
’’آپ کو معلوم ہے کہ صلح حدیبیہ ہی فتح مکہ اور فتحِ عرب کا پیش خیمہ ہے۔اور جس روز صلح حدیبیہ تمام وکمال کو پہنچی ہے اسی روز إنا فتحنا الآیہ نازل ہوتی ہے جس پر حضرت عمر تعجب کرتے ہوئے استفسار فرماتے ہیں أوفتح ہو یا رسول اللہ؟ آپس میں اختلاط ہونا ، نفرت میں کمی آنا ، مسلمانوں کے اخلاق اور ان کی تعلیمات کا معائنہ کرنا ، دلوں سے ہٹ اور ضد کا اٹھ جانا ، یہی امور تھے جنہوں نے افلاذ اکباد قریش کو کھینچ [کر ] صلحِ حدیبیہ کے بعد مسلمان بناتے ہوئے مکہ سے مدینے کو پہنچا دیا ، حضرت خالدبن ولید ، عمرو بن العاص اس طرح حلقہ بگوش اسلام بن گئے کہ قریش کی ہستی فنا ہو گئی۔
’’الغرض اختلاط باعثِ عدمِ تنافر ہے ، اور وہ اقوام کو اسلام کی طرف لانے والا اور تنافر باعثِ ضد اور ہٹ اور عدمِ اطلاع علی المحاسن ہے اور وہ [تنافر] اسلامی ترقی میں سدِّ راہ ہونے والا، اور چونکہ اسلام تبلیغی مذہب ہے اس لیے اس کا فریضہ ہے کہ جس قدر ہوسکے غیر کو اپنے میں ہضم کرے نہ یہ کہ ان کو دور کرے ، اس لیے اگر ہمسایہ قومیں ہم سے نفرت کریں تو ہم کو ان کے ساتھ نفرت نہ کرناچاہیے ، اگر وہ ہم کو نجس اور ملچھ کہیں تو ہم کو ان کو یہ نہ کہنا چاہیے ، اگر وہ ہم سے چھوت چھات کریں ہم کو ان سے ایسا نہ کرنا چاہیے، وہ ہم سے ظالمانہ برتاؤ کریں ہم کو ان سے ظالمانہ غیر منصفانہ برتاؤ نہ کرنا چاہیے، اسلام پدرِ شفیق ہے ، اسلام مادرِ مہربان ہے ، اسلام ناصحِ خیر خواہ ہے ، اسلام جالبِ اقوام ہے ، اسلام ہمدردِ نوعِ بنی انسان ہے ، اس کو غیروں سے جزاء سیءۃ سیءۃ مثلہا پر کار بند ہونا شایاں نہیں ، بلکہ اس کی غرض [ تبلیغ] کے لیے سدّ یاجوج ہے ، کفر نے کبھی اسلام سے عدل وانصاف نہیں کیا ، [کیف و]إن یظہروا علیکم لا یرقبوا فیکم إلا ولا ذمۃ الخ وغیرہ شاہدِ عدل ہیں ، مگر اسلام نے انصاف عدل واحسان کو کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا اور نہ چھوڑنا مناسب تھا ، اگرچہ جذباتِ انتقامیہ بہت کچھ چاہتے تھے‘‘۔
اسی مکتوب کے حاشیے میں مرتبِ مکتوبات مولانا نجم الدین اصلاحی ؒ وصیت نامہ شہنشاہ بابر بنام شہزادہ نصیر الدین ہمایوں کا اقتباس نقل کرتے ہیں ۔ یہ ایک اقتباس محض ایک بادشاہ کی وصیت کے طور پر یہاں پیش نہیں کیا جارہا بلکہ اس لیے بھی کہ ایک مستند عالم اسے بنظر استحسان نقل کر رہے ہیں:
’’اے پسر! ہندوستان مختلف مذاہب سے پُر ہے ۔ الحمد للہ اس نے بادشاہت تمہیں عطا فرمائی ہے۔تمہیں لازم ہے کہ تم تعصبات مذہبی کو لوحِ دل سے دھو ڈالواور عدل وانصاف کرنے میں ہر مذہب وملت کے طریق کار کا لحاظ رکھو ۔۔۔ عدل و انصاف ایسا کرو کہ رعایا بادشاہ سے خوش رہے ، ظلم وستم کی نسبت احسان اور اور لطف کی تلوار سے اسلام زیادہ ترقی پاتاہے۔ شیعہ سنی کے جھگڑوں سے چشم پوشی کرو ، ورنہ اسلام کمزور ہوجائے گا۔‘‘
مولانا میاں اصغر حسین صاحب دیوبند کے بڑے اساتذۂ حدیث میں شمار ہوتے ہیں۔ صاحبِ دل اور صاحب کشف و کرامات بزرگ تھے۔ ان کے ہاں غیر مسلموں کے ساتھ کیا معاملہ ہوتا تھا اسے ایک اور صاحبِ باطن بزرگ مولانا احمدعلی لاہوریؒ بیان کرتے ہیں۔ یہاں پورا اقتباس نقل کرنا مناسب معلوم ہوتاہے تاکہ اصل بات کے ساتھ ان کے باطنی مرتبے کابھی اندازہ ہو اور آخر میں ذکر کی جانے والی بات کی اہمیت سامنے آئے۔ مولانا عبید اللہ انورؒ اپنے والد مولانا احمد علی لاہوریؒ سے نقل کرتے ہیں کہ میاں صاحب نے انہیں اپنے ہاں دیوبند میں تین دن قیام کے لیے بلایا:
’’تین دن میں جو وہاں رہا ہوں تو دن رات ایک لمحہ نہیں سویا ، ہر وقت ذکر میں مشغول رہا۔ ایک لمحہ بے وضو نہیں ہوا ، اور ایک لمحہ بھی غافل نہیں ہوا۔ حضرت میاں صاحبؒ نے فرمایا کہ آپ جیسے مہمان کے آنے سے دل کو راحت ہوتی ہے۔ او ر فرمایا کہ اب میں دنیا سے جارہاہوں ۔ جو اللہ نے تعالی نے مجھے دے رکھا ہے کچھ تحفے میں چاہتاہوں کہ ساتھ نہ لے جاؤں بلکہ یہ فیض جاری رہے۔ جو مانگتے ہیں وہ اہل نہیں اور جو اہل ہیں وہ مانگتے نہیں۔ ۔۔۔حضرت میاں اصغر حسین ؒ اس قدر عبادت کرتے تھے کہ جس کا کوئی ٹھکانا نہیں۔ ایسے ایسے واقعات ہیں کہ سنیں تو رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ ہر وقت ان کے پاس ہندو ، عیسائی ، مسلمان غرض مندوں کا ہجوم رہتاتھا۔ گھر کا ایک کمرہ غیر مسلموں کے لیے عبادت گاہ کے لیے مخصوص کر رکھا تھا۔‘‘ (۲)
یہ کہنا تو شاید خالی از مبالغہ نہ ہو کہ بر صغیر میں اہل السنۃ اور اہل تشیع کے تعلقات بہت مثالی اورقابلِ رشک رہے ہیں ، لیکن یہ کہنا ضرور درست ہوگا کہ ان میں کبھی اتنا زیادہ اور اتنے طویل عرصے کا تناؤ نہیں رہا جتنا ہمارے ہاں اسّی کی دہائی کے بعد سے نظر آرہاہے۔
کچھ عرصے سے یہ تاثر عام سا ہوگیا ہے کہ اہلِ تشیع کو تمام علمائے اہل السنۃ کافر قرار دیتے ہیں اور یہ کہ یہ ان کا متفقہ فتویٰ ہے۔ یہاں فتاوی کی تفصیل میں جانے کا تو موقع نہیں ہے لیکن یہ غلط فہمی ضرور دور ہوجانی چاہیے اور یہ بات سامنے آنی چاہیے کہ تکفیرِِ شیعہ کا کوئی متفقہ فتویٰ موجود نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ اہل السنۃ والجماعہ کے نزدیک ہمیشہ مختلف فیہ رہاہے۔ اگرچہ متاخر زمانے میں اہلِ تشیع کی بطور فرقہ عمومی تکفیر کوبعض حلقوں کی طرف سے بہت زیادہ شد و مد سے بیان کیا گیاہے، لیکن اس رائے سے اختلاف رکھنے والے بھی خاصی تعداد میں موجود رہے ہیں۔ جن حضرات نے تکفیر کی ہے ان کی ایک بڑی تعداد نے بھی درحقیقت بطور فرقہ تمام اہلِ تشیع کی تکفیر کرنے کی بجائے بعض عقائد کی تکفیر کی ہے ، جس جس کے یہ عقائد ہوں وہ مسلمان نہیں ہے ، مثلاً یہ کہ وہ حضرت علی رضی اللہ کو نعوذ باللہ خدا مانتا ہو ، قرآن کو نہ مانتا ہووغیرہ وغیرہ۔ یہ درحقیقت کسی فرقے کی تکفیر نہیں ہے ، اس لیے کہ یہی عقیدہ شیعہ کے علاوہ کسی بھی فرقے کا شخص اختیار کرے، اس پر یہی حکم لاگو ہوگا۔ فقہ حنفی کی متاخرین کی کتب میں ان کفریہ عقائد کے حاملین کے لیے غالی شیعہ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ غالی شیعہ کے حوالے سے جو عقائد ذکر کیے گئے ہیں، آج کل کے عام شیعہ حضرات انہیں اپنے عقائد تسلیم نہیں کرتے۔ مثلاً حضرت علی کا خدا ہونا ، حضرت جبریل علیہ السلام سے وحی لانے میں غلطی ہونا کہ اصل میں حضرت علی کے پاس وحی لانی تھی، لیکن غلطی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے، تحریفِ قرآن کا قائل ہونا۔ آج شیعہ حضرات ان عقائد کی اپنی طرف نسبت کو غلط قراردیتے ہیں۔ گویا کہ آج کے مین سٹریم کے بہت سے شیعہ حضرات پر فقہاء کی اصطلاح ’’ غالی شیعہ ‘‘ صادق نہیں آتی۔
مولانا عبد الحی لکھنوی فرنگی محلی متاخرین میں فقہ حنفی کا بہت معروف نام ہیں۔ وہ لکھنو کے رہنے والے تھے جو اہلِ تشیع کا گڑھ سمجھا جاتاتھا، مولانا عبد الحی کا کثرتِ مطالعہ بھی ضرب المثل ہے، اس لیے یہ بات بعید سی ہے کہ لکھنو جیسے شہر میں رہتے ہوئے وہ شیعہ مذہب سے ناواقف ہوں۔ مولانا لکھنوی کے مجموعۃ الفتاوی میں بڑی تعداد میں ایسے فتاوی میں موجود ہیں جن میں انہوں نے عام اہلِ تشیع کی تکفیر کا فتوی نہیں دیا۔ بلکہ جو شیعہ سبّ صحابہ کا مرتکب ہو یعنی صحابہ کے بارے میں نامناسب باتیں کہے یا حضرات شیخین (حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ )کی خلافت کونہ مانتا ہو اس کے بارے میں بھی محققین کا قول عدمِ تکفیر کا قرار دیا ہے اور عدمِ تکفیر ہی کو اصح اور مفتی بہ قرار دیا ہے، اور جن حضرات نے ایسے شیعہ حضرات کی تکفیر کی ہے ان سے مفصل دلائل کے ساتھ اختلاف کیا ہے۔
مثلاً ایک استفتا میں امت کے تہتر فرقوں میں بٹنے والی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا گیا کہ ’’بعضے صاحب فرماتے ہیں کہ رافضی کہ شیخین کی شان میں بے ادبی کرتے ہیں کافر ہوگئے ، بعضے کہتے کہ سب اہل اہوا [اہلِ سنت کے علاوہ دیگر فرقے] کافر ہیں ، ایک فرقہ مسلمان ہے جس کو اہلِ سنت وجماعت کہتے ہیں اور بعضے صاحب فرماتے ہیں کہ رافضی کی توبہ قبول نہیں بلکہ اس کو قتل کرنا واجب ہے، جو شرع شریف میں لکھا ہو ارقام فرمائیں‘‘۔ اس کے جواب میں مولانا عبد الحی لکھنوی نے لکھا (ان فتاوی کی زبان اگرچہ پرانی ہے ، لیکن زبان کو آسان بنانے کی بجائے مولانا کی عبارات کو بعینہ نقل کیا گیا ہے):
’’کتابوں عقائد اور فقہ میں اس طرح لکھا ہے کہ بہتّرفرقہ جو اہلِ اہوا ہیں ایک بھی کافر نہیں ہے، چنانچہ عبارت ان کتابوں جو یہاں موجود ہیں بعینہ مفصلہ ذیل میں لکھی جاتی ہیں، اور عبارت فتاوی کی کہ سب الشیخین کفر ہے اس کا جواب بھی لکھا جاتا ہے بغور ملاحظہ فرمائیں۔ بلکہ اعتقاد کفر کا اہلِ اہوا جو بدعتی ہیں ان کی طرف رکھنا بھی کفر ہے‘‘۔ (۳)
مولانا لکھنویؒ سے پوچھا گیا کہ ہندہ ایک سنی خاتون ہے ، اس کا نکاح زید کے ساتھ ہوا جو شیعہ ہے ۔ نکاح بھی شیعہ طریقے کے مطابق ہوا۔ ایک دفعہ رخصتی بھی ہوچکی ہے۔ لیکن اب ہندہ اپنے خاوندکے گھر دوبارہ جانے سے انکاری ہے اور اس کا مطالبہ ہے پہلے مہر معجل ادا کیا جائے پھر جاؤں گی۔ جبکہ شیعہ مذہب میں خاوند مہر معجل کی ادائیگی کے بغیر بھی اسے لے جاسکتا ہے ، جبکہ فقہ حنفی کی عبارات مختلف ہیں۔ اب کیا کیا جائے۔ اس کے جواب مولانا عبد الحی لکھنویؒ نے لکھا ’’ اس صورت میں شوہر ہندہ کو قبل ادا کرنے مہر معجل کے لاسکتا ہے ، موافق قول صاحب بحر رائق کے‘‘(۴)۔
اسی طرح ان سے یہ سوال کیا گیا کہ ایک حنفی شخص کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس کی ایک بیٹی مذہب امامیہ اختیارکیے ہوئے ہے۔کیا اس بیٹی کو وراثت میں حصہ ملے گا تو مولانا لکھنویؒ نے جواب میں لکھا ہے اس لڑکی کو بھی وراثت میں اپنا حصہ ملے گا۔
مولانا اشرف علی تھانویؒ سے سوال کیا گیاکہ ایک شیعہ لڑکے نے سنی لڑکی کو دھوکا دے کر نکاح کرلیا۔ اسے اس نے یہ باور کرایا کہ میں سنی ہوں جبکہ حقیقت میں وہ شیعہ تھا۔ حقیقتِ حال واضح ہونے کے بعد نکاح کے حکم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس نکاح کو نافذ قرار دیا ، البتہ یہ قرار دیا کہ شیعہ سنی چونکہ ایک دوسرے کے کفو نہیں ہیں ، اور نکاح کے وقت غیر کفو ہونے کا علم نہیں تھا اس لیے اس نکاح کو عدمِ کفاء ت کی بنیاد پر فسخ کرایا جاسکتا ہے۔ گویا محض لڑکے کے شیعہ ہونے کی وجہ سے نکاح کو باطل قرار نہیں دیا۔ مولانا تھانویؒ چند فقہی عبارات ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
ان روایات سے معلوم ہواکہ صورتِ مسؤلہ میں ولی منکوحہ اور اسی طرح بعد بلوغ خود منکوحہ کو بھی اس نکاح کے فسخ کرانے کا اختیار حاصل ہے۔ اور یہ فسخ بحکم حاکم ہوگا [یعنی اپنے طور پر میاں بیوی جدائی اختیار کرکے عورت دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی] جو کہ علاقہ حیدرآ باد میں آسان ہے(۵)۔
اسی طرح کا ایک فتوی مفتی محمد شفیعؒ کا بحیثیت مفتی دارالعلوم دیوبند موجود ہے ،یہاں بھی مفتی صاحب نے شیعہ کے کافر ہونے کو بنیاد بناکر نکاح از ابتدا باطل قرار نہیں دیا بلکہ دھوکا دہی کی وجہ سے دوسرے فریق کو فسخ کرانے کا اختیار دیا ہے۔ سوال وجواب دونوں ملاحظہ ہوں :
سوال : زیدسنی کی لڑکی کو دھوکا سے عمر شیعہ اپنے نکاح میں لایا، یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اور عمرشیعہ زید کو کندھا دے سکتا ہے یا نہیں؟ عمر کو زید کے قبرستان میں مردہ دفن کرنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب : اگر عمر نے اپنے آپ کو مثلاً سنی حنفی ظاہر کرکے زید کو دھوکا دے کر اپنا نکاح زید کی لڑکی سے کرلیا اور واقعۃً عمر شیعہ ہے تو اس صورت میں عورت اور اس کے اولیاء کو فسخ نکاح کا حق حاصل ہے ۔۔۔ اور عمر زید کے جنازے کو کندھا دے سکتا ہے اور عمر کو زید کے قبرستان میں دفن کرنا بھی جائز ہے۔ اس طرح کے امور میں جھگڑا فساد کرنا نہیں چاہیے۔‘‘ (۶)
دارالعلوم دیوبند کے مفتی محمود الحسن گنگوہیؒ سے پوچھا گیا کہ لداخ کے علاقے میں اکثر شیعہ ہوتے ہیں اور اکثر ہوٹل بھی انہی کے ہوتے ہیں ، ان کے ذبیحہ کا کیا حکم ہوگا ، تو انہوں جواب میں لکھا:
’’اگر ان کے متعلق یہ تحقیق نہیں کہ ان کے عقائد قرآن کریم کے خلاف ہیں تو ان کے ہوٹل میں اور ان کا ذبیحہ کھانے کی گنجائش ہے۔‘‘ (۷)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مفتی محمود الحسن گنگوہی ؒ کے خیال میں ایسے شیعہ بھی ہوتے ہیں جن کے عقائد قرآن کریم کے خلاف نہ ہوں۔
مولانا میاں اصغر حسین ؒ جو دار العلوم دیوبند کے بڑے اساتذہ میں سے اور صاحبِ کشف و کرامت بزرگ تھے، جن کا ذکر پہلے بھی گذر چکا ، انہوں نے میراث کے احکام پر عام مسلمانوں کے لیے ایک کتاب لکھی ، جس کا نام ’’مفید الوارثین‘‘ ہے۔ اس کے مقدمے میں وہ فرماتے ہیں :
’’اثنائے تحریرِ رسالہ ایک معتبر کتاب مذہبِ شیعہ کی مل گئی تھی۔ ارادہ تھا کہ حاشیہ پر جا بجا اہل سنت اور شیعوں کا اختلاف ظاہر کردوں ، تاکہ ساتھ ساتھ دو فرقوں کے فرائض [احکامِ میراث] کا بیان ہوجائے، لیکن چونکہ رسالہ پہلے ہی سے بہت طویل ہوگیا تھااس لیے کچھ ارادہ ڈھیلا ہوا۔ پھر اس خیال نے بالکل ہی ارادہ فسخ کرادیا کہ اہلِ سنت کو اس کی ضرورت نہیں اور شیعہ صاحب میرے لکھے ہوئے کا کیوں اعتبار کریں گے‘‘۔ (۸)
اسی کتاب میں جہاں یہ مسئلہ بیان ہوا ہے کہ مسلمان اور غیر مسلم شرعاً ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے اور مسلمان رشتہ دار ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں ، وہاں لکھتے ہیں:
’’شیعہ وسنی میں اکثر علما کے نزدیک میراث جاری ہوتی ہے۔یعنی سنی میت کے شیعہ وارث میراث سے محروم نہ ہوں گے ، اسی طرح شیعہ کے ترکہ میں اہلِ سنت حسبِ قاعدہ میراث اور حصہ پائیں گے۔‘‘(۹)
اسی کے حاشیے میں لکھتے ہیں:
’’میراث المسلمین میں یہ مسئلہ دیکھ کر ایک صاحب بہت خفا ہوئے تھے۔ پھر کسی کو اگر شک ہو تو در مختار و شامی و فتح القدیر کی وہ عبارتیں دیکھ لیں جو مولانا عبد العلی بحر العلوم نے مسلم الثبوت کی شرح میں نقل فرمائیں ہیں۔ یا شامی نے جو باب المرتدین میں تحقیق و تفصیل فرمائی ہے ملاحظہ فرمالیں۔ البتہ وہ شیعہ جو بالکل کفریہ عقائد رکھتا ہو تو اس کا حال مثل کافروں کے سمجھا جائے گا۔‘‘
اب آخری زمانے میں مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے بارے میں ماہنامہ الشریعہ کی متعدد اشاعتوں میں یہ بات آچکی ہے وہ بھی تکفیرِ شیعہ کے قائل نہیں تھے۔ عام طور پر تکفیرِ شیعہ کی ایک بنیاد تحریفِ قرآن کو قرار دیا جاتا ہے جبکہ علامہ شمس الحق افغانیؒ نے علوم القرآن میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ شیعہ بھی تحریفِ قرآن کے قائل نہیں ہیں ، یہی بات اس سے بہت پہلے مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ ردِ عیسائیت پر اپنی معروف کتاب ’’اظہار الحق ‘‘ میں فرما چکے ہیں۔
یہاں مقصود فتاوی جات کا احاطہ یا ان میں راجح مرجوح کا فیصلہ کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اصل مقصود یہ دکھانا ہے کہ یہ جو مشہور ہوگیا ہے کہ بطور فرقہ شیعہ کو کافر کہنا اہلِ سنت کا متفقہ موقف ہے یہ درست نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بر صغیر میں جب بھی مسلمان طبقات اور فرقوں کو یکجا کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہاں اہلِ تشیع کو بھی مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ سمجھ کر ساتھ شامل کیا گیا۔مولانا سید فرید الوحیدی مولانا حسین احمد مدنی ؒ کی سوانح حیات میں لکھتے ہیں :
’’۱۹۲۹ء میں مولانا ابو الکلام آزاد نے تیس دوسرے قوم پر ور مسلمان لیڈروں کے ساتھ ’’نیشنلسٹ مسلم کانفرنس‘‘ قائم کی ۔ اگرچہ ان کی سرگرمیوں کا اصل مرکز بدستور کانگریس کا کام رہا۔ نیشنلسٹ مسلم کانفرنس اپنی کوئی مستقل جداگانہ تنظیم قائم نہیں کرسکی ، لیکن قوم پرور مسلمانوں کی مختلف جماعتوں جمعیت علماء ، شیعہ پولیٹکل کانفرنس، مجلس احرار ور خاں عبد الغفار خاں کی تنظیم کے لیے مشترک پلیٹ فارم کا کام دیتی رہی۔‘‘(۱۰)
یہاں شیعہ پولیٹیکل کانفرنس کو مسلمانوں ہی کی ایک تنظیم کے طور پر لیا جارہاہے۔
پاکستان بن جانے کے بعد یہ سوال اٹھا کہ ملک میں اگر اسلام نافذ کیا جائے تو کون سے فرقے کا۔ اس چیز کو نفاذِ اسلام سے گریز کا ایک بہانہ بنا لیا گیا تو ضرورت محسوس ہوئی کہ مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر کے علما حکومتِ وقت اور ریاستی اداروں کو اپنے کچھ مشترکہ اور متفقہ اصول بتادیں۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے ایک مشاورت کے نتیجے میں علما نے دستور سازی میں راہ نمائی کے لیے بائیس متفقہ نکات پیش کیے ۔ ان نکات کی تیاری اور ان پر دستخط کرنے والوں میں تمام مکاتبِ فکر کے علما شامل تھے۔ شیعہ حضرات کی طرف سے دو نام یہاں قابلِ ذکر ہیں ، مفتی جعفر حسین مجتہد رکن بورڈ تعلیمات اسلام اور مفتی کفایت حسین مجتہد ادارہ عالیہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان۔ گویا اس سارے معاملے میں اہل تشیع باقی مکاتبِ فکر کے ساتھ چل رہے ہیں اور باقی مکاتب فکر بھی انہیں مسلمانوں کا ہی ایک طبقہ اور مکتبِ فکر سمجھ کر معاملہ کررہے ہیں۔
ختمِ نبوت کی تمام تحریکوں میں شیعہ حضرات باقی مکاتبِ فکر کے ساتھ شریک رہے ہیں۔ ۱۹۷۴ء کی مجلس عمل تحفظِ ختم نبوت جس کے صدر مولانا محمد یوسف بنوریؒ تھے اس کے دو نائب صدر مولانا عبد الستار نیازی اور اور سید مظفر علی شمسی (شیعہ) تھے(۱۱)۔ نوے کی دہائی میں جب ملی یک جہتی کونسل بنی تو اس میں بھی شیعہ حضرات شامل تھے۔ اسی طرح اب پاکستان کے دینی مدارس کی تنظیموں کا ایک اتحاد ’’اتحاد تنظیماتِ مدارسِ دینیہ‘‘ موجود اور فعال ہے ، جس میں شیعہ حضرات کا وفاق المدارس بھی شامل ہے۔ یاد رہے کہ یہ محض مذہبی تعلیمی اداروں کا اتحاد نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے دینی تعلیم کے اداروں کا اتحاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مسیحی یا قادیانی دینی درس گاہ کے اس اتحادمیں شامل ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
پھر ان دونوں فرقوں میں بحث مباحثوں اور مناظروں کا بازار بھی اگرچہ گرم رہا ، لیکن خود ان مباحثوں میں حصہ لینے والے حضرات میں کئی سنجیدہ شخصیات کا یہ احساس رہا کہ یہ مباحثے شائستگی کی حدود سے باہر نہیں نکلنے چاہئیں اور انہیں ماحول میں تلخی اور افتراق و انتشار کا باعث نہیں بننا چاہیے۔ پاکستان میں مولانا قاضی مظہر حسین چکوالویؒ کا نام اہل تشیع کی تردید میں لکھنے کے حوالے سے بہت معروف ہے۔ ان کے والد مولانا قاضی کرم الدین دبیرؒ بھی اسی میدان کے شہسوار تھے۔ لیکن ان کے احساسات ان کے چند اقتباسات کی شکل میں پیش کیے جاتے ہیں، تاکہ اندازہ ہو کہ ہر مکتبِ فکرمیں ہمیشہ ایسے حضرات موجود رہے ہیں جو ماحول کو تلخی تک پہنچانے سے گریزاں رہتے تھے۔ آگے ذکر کردہ اقتباسات کا پس منظر یہ ہے کہ ان کے زمانے کے احمد شاہ نامی ایک شیعہ عالم جو پہلے سنی تھے نے ایک اشتہار شائع کیا تھا جس میں خلفاء ثلاثہ ( حضرت صدیق اکبرؓ ، حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمانؓ ) پر اعتراضات کیے گئے اورنامناسب زبان استعمال کی گئی تھی۔ اس کے جواب میں مولانا کرم الدین دبیر (والد مولانا قاضی مظہر حسینؒ ) نے السیف المسلول کے نام سے ایک رسالہ لکھا۔ یہ ذہن میں رہے کہ احمد شاہ ہی کے نام کے ایک عیسائی ہوجانے والے شخص نے نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کے بارے میں ایک تکلیف رسالہ لکھا تھا ، جس کا ذکر دبیر صاحب کی بعض عبارات میں موجود ہے۔دبیر صاحب اپنی کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں :
’’مشتہر صاحب [احمد شاہ] نے محض فرقہ اہل سنت والجماعت کا دل دکھانے اور دونوں فرقوں (شیعہ وسنی) کے مابین تخم نفاق بونے کی غرض سے یہ اشتہار لکھ دیا ہے۔۔۔ افسوس کہ آج کل انقلاب زمانہ سے ایسا تو کوئی مردِ خدا دنیا میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتا جو بنی نوع انسان میں اتفاق اور اتحاد بڑھانے کی سبیل پیدا کرنے کی سعی کرے۔لیکن اختلاف ڈالنے اور تفرقہ پیدا کرنے والے ہزاروں پہلوان ہر طرف گونجتے پھرتے ہیں ‘‘۔
یہ کسی سیاسی مصلح یا یکسو مدرس کے الفاظ نہیں بلکہ ایک میدانِ مناظرہ کے شہسوار کے احساسات ہیں ۔ مزید لکھتے ہیں :
’’چاہیے تو یہ تھاکہ ہمارے دوست احمد شاہ جو فرقہ اہل سنت والجماعت کے گھر میں پیدا ہوئے اور انہی کے گھر میں پرورش پاکر علم سیکھا ہے اب اگر کسی مصلحت یا اتفاق سے وہ فرقہ شیعہ میں جاملے ہیں، وہ اس بات کی کوشش کرتے کہ دونوں فرقوں میں رابطہ اتحاد پیدا ہو اور باہمی اتفاق و محبت کی صورت قائم ہو۔‘‘
احمد شاہ عیسائی کے ساتھ ان شیعہ صاحب کا تقابل کرتے ہوئے موخر الذکر سے شکوہ کناں ہیں کہ انہیں مسلمان ہوکر ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے تھا، اس کے بعد لکھتے ہیں:
’’شیعہ وسنی دونوں فرقے ایک خدا کی پرستش کرنے والے ایک نبی ، ایک قرآن پر ایمان لانے والے اور ایک قبلہ کی طرف سر جھکانے والے ہیں ۔ پھر افسوس ان دو متحد المقاصد فرقوں میں احمد شاہ شیعی جیسے ریکروٹ نئے بھرتی ہونے والے حضرات اتحاد قائم نہیں رہنے دیتے ۔‘‘
پھر اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ ہر فرقے میں اس طرح کے جذباتی لوگ ہوتے ہیں جو ماحول کی خرابی کا باعث بنتے ہیں ، لکھتے ہیں :
’’صاحبان! جب تک دونوں فرقوں میں ایسے مجذوب الخیال اور مسلوب الحواس لوگ چن چن کر ’’کالا پانی‘‘ نہ بھیج دیے جائیں ان دونوں فرقوں میں یکجہتی اور اتحاد قائم ہونا مشکل ہے‘‘۔
کالا پانی یا جزائر انڈمین وہ جگہ تھی جہاں انگریزی دور میں مجرموں بالخصوص ’’باغیوں‘‘ کو سزا بھگتنے کے لیے بھیجاجاتا تھا۔یہ پھر ذہن میں رہے یہ ایک ایسی شخصیت کی تحریر ہے جو خود اہلِ تشیع کی تردید کے حوالے سے معروف ومشہور ہیں۔ مقصد ذکر کرنے کا یہ ہے کہ فرقہ وارانہ مباحثوں میں دلچسپی لینے والی شخصیات میں بھی ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو اختلاف کو اختلاف ہی رکھنا چاہتے تھے ، جھگڑا نہیں بنانا چاہتے تھے۔
اپنی اس کتاب کے مقدمے میں صرف خود کو ہی امن کے خواہش مند کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اس بات کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے کہ دوسری طرف بھی اسی طرح کے جذبات رکھنے والے لوگ موجود ہیں، چنانچہ لکھتے ہیں :
’’میں کبھی باور نہیں کرسکتا کہ کہ دونوں فرقوں کے مہذب اور اولی الابصار لوگ ایسی نفاق انگیز تحریروں کو وقعت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں گے۔ بلکہ وہ تو ایسی مفسدہ تحریریں پڑھ کر جل بھُن جاتے ہوں گے۔ مگر کیا کریں یہ لوگ کسی کے قابو میں نہیں کہ اپنے یا بیگانے کسی کی سنیں۔
’’مجھے یاد ہے کہ اسی اشتہار کی نسبت پچھلے دنوں ایک شیعہ بزرگ مولوی مہر محمد شاہ خوش نویس جہلم نے ’’سراج الاخبار‘‘ میں ایک مضمون شائع کروایا تھا جس میں انہوں نے مُشتہر (احمد شاہ)صاحب کو بہت کچھ پھٹکار کی۔ اور ایسے شرمناک اشتہار کی اشاعت پر بہت افسوس ظاہر کیااور اصحاب ثلاثہؓ کا ایمان بروئے آیاتِ قرآنی ثابت کرکے مشتہر صاحب کو نادم کیا اور بڑے زور سے دعوت دی کہ اگر اس کو اس بارہ میں کچھ شک ہے تو ان سے زبانی مباحثہ کرکے اپنا اطمینان کرلیں۔‘‘
اس اقتباس میں ایک قابل توجہ بات تو یہ ہے کہ دوسرے فرقے کے پیشوا کو بھی ’’بزرگ‘‘ کے لقب سے یاد کیا جارہاہے۔ دوسرے اس بیان سے اس تاثر کی بھی نفی ہوگئی کہ ہر ہر شیعہ حضراتِ خلفاء ثلاثہ کو برا بھلا کہتا یا اسے استحسان کی نظر سے دیکھتاہے۔ بلکہ اس کے بر عکس معلوم ہوا کہ اہلِ تشیع میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے بعض لوگوں کے غلو کی اصلاح کرتے ہیں اور خلفاء ثلاثہ کا ایک ایمان قرآن سے ثابت کرتے ہیں۔ اس کی ایک تازہ ترین مثال یہ ہے کہ جب کویت کے یاسر نامی ایک عرب نے نعوذ باللہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بعض افترا پردازیاں کیں تو ایران کی اعلی ترین قیادت نے بھی اس کی سختی سے تردید کی اور صراحتاً یہ کہا کہ اس طرح کا الزام نہ صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگانا غلط ہے بلکہ کسی بھی نبی کی بیوی کے بارے میں اس طرح کی لب کشائی جائز نہیں ہے۔
(جاری)
حواشی
(۱)ماہ نامہ ’’ نقیبِ ختمِ نبوت‘‘ جون ۲۰۱۱ء ماخوذ از : خلیق ابراہیم خلیق : منزلیں گرد کی مانند ص ۲۷۳
(۲)حاکم علی : مولانا احمد علی لاہویؒ کے حیرت انگیز واقعات بیت العلم کراچی ص ۲۵۴
(۳)مجموعۃ الفتاوی ، عمر فاروق اکیڈمی لاہور ۱/۸۹ استفتاء نمبر ۱۰۲۔ آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ تمام اہل اہوء (غیر سنی فرقوں) کو کافر قرار دینے سے خود اپنے کفر کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے ، غالبا اس حدیث کی طرف اشارہ ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کو کسی کو کافر کہتا ہے تو یہ بات دونوں میں سے کسی ایک پر ضرور لگتی ہے۔
(۴) مجموعۃ الفتاوی عمر فاروق اکیڈمی لاہور ۱/۲۴۰ استفتاء نمبر ۱۹۷
(۵)امداد الفتاوی ۲/ ۲۲۹ مکتبہ دار العلوم کراچی]
(۶)فتاوی دارالعلوم دیوبند (امداد المفتین) ص ۵۰۶
(۷)فتاوی محمودیہ ۱۷/ ۲۳۶ فتوی نمبر : ۸۳۳۴مطبوعہ جامعہ فاروقیہ کراچی]
(۸)مفید الوارثین ص ۳
(۹)مفید الوارثین ص ۶۸
(۱۰)شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی : ایک تاریخی وسوانحی مطالعہ ص ۳۳۵
(۱۱) طاہر رزاق : مرگِ مرزائیت ص
مغربی اجتماعیت : اعلیٰ اخلاق یا سرمایہ دارانہ ڈسپلن کا مظہر؟ (۱)
محمد زاہد صدیق مغل
مغربی اثرات کے تحت اسلامی دنیا میں بیسویں صدی کے دوران جو فکری مواد لکھا گیا اس کا ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ ’مغرب کی اجتماعی زندگی چند اعلی انسانی اخلاقی اقدار کا مظہر ہے، لہٰذا مغرب ہم سے بہتر مسلمان ہے بس کلمہ پڑھنے کی دیر ہے‘۔ یہی دعویٰ ان الفاظ میں بھی دہرایا جاتا ہے کہ ’اجتماعی زندگی کی تشکیل کے معاملے میں مغرب ہم سے بہت بہتر اقدار کا حامل ہے، البتہ ذاتی معاملات (مثلاً بدکاری، شراب نوشی وغیرہ کے استعمال ) میں کچھ نا ہمواریاں پائی جاتی ہیں‘۔ دوسرے لفظوں میں یہ دعویٰ کرنے والے حضرات یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مغرب کا اجتماعی نظم ’اسلامی تعلیمات کی روح ‘ کا عکاس ہے۔ اس دلیل کو درست ماننے کے نتائج یہ نکلتے ہیں کہ (۱) ہم مغرب کے نظم اجتماعی کی اسلامی توجیہ پیش کرکے اسے اپنانے کا اسلامی جواز پیش کرتے ہیں اور (۲) ساتھ ہی ساتھ مغربی انفرادیت کی برائیوں کو ثانوی قرار دے کر نئی آنے والی نسل کے لیے انہیں برداشت اور قبول کرنے کا راستہ کھولتے ہیں۔
درج بالا دعوے کی کمزوری یہ ہے کہ اس کی روشنی میں مغربی معاشرے کے ان تضادات کو سمجھنا انتہائی مشکل ہے جو بڑی آسانی سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ مثلاً عام طور پر یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مغرب احترام انسانیت کا بہت قائل ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر مغربی انسان نے ماں باپ کو اولڈ ہاوسز کے حوالے کیوں کردیا ہے۔ ظاہر ہے احترام انسانیت کا سب سے پہلا حق دار انسان کے ماں باپ ہیں تو مغرب میں یہ احترام کیوں نہیں پایا جاتا؟ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ مغرب میں قانون کی پاسداری ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہی مغربی انسان جونہی اپنے ملک کی سرحدوں سے باہر قدم رکھ کر کمزور ملکوں کی سرحدوں میں داخل ہوتا ہے تو کیوں کر ہر طرح کی کرپشن، ناانصافی، قتل و غارت گری کو روا سمجھتا ہے؟ درحقیقت درج بالا تجزیہ پیش کرنے والے مفکرین مباحث اخلاقیات نیز morality اورethics کے فرق سے ناواقف ہیں اور اسی فکری خلجان کی بنا پر یہ لوگ ’سرمایہ دارانہ ڈسپلن‘ (capitalist disciplines) کو اخلاق کے ساتھ خلط ملط کردیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب کا اجتماعی نظم اعلیٰ اخلاق کا نہیں بلکہ انتہائی رزیل انسانی احساسات پر مبنی عقلیت (حرص ، حسد، شہوت، غضب، طول امل، حب جاہ، دنیا و مال) اور اس پر قائم ہونے والی ادارتی صف بندی (مارکیٹ اور ریاست) کے قیام کے لیے مطلوب نظم کی پابندی کا غماز ہے جس میں اعلیٰ اخلاق (مثلاً للہیت، عشق رسول، شوق عبادت، خوف آخرت ،طہارت، تقوی، عفت ،حیا، ایثار، شوق شہادت، توکل، صبر، شکر، زہد، فقر، قناعت ، عزیمت وغیرہ) پنپنے کا کوئی امکان موجود نہیں رہتا۔ اس مضمون میں ہم مختصرا نہی حقائق پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ درج بالا مباحث کو سمجھنے کے لیے جن مقدمات کا پیش نظر ہونا ضروری ہے ہم انہیں ترتیب وار بیان کرتے ہیں، وما توفیقی الا باللہ
نیکی کے بجائے لذت پرستی (Utility maximization / Happiness)
مذہب کی بنیاد پر قائم ہونے والی معاشرت و ریاست کا مقصد ایسی ادارتی صف بندی وجود میں لانا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں فرد کے لیے نیک زندگی (virtous life) گزارنا ممکن ہو سکے، یعنی اسے ثواب کمانے نیز گناہ سے بچنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر آسکیں، تاکہ مرنے کے بعد وہ جنت کا حق دار بن سکے۔ دوسرے لفظوں میں مذہبی معاشرت و ریاست کی بنیاد یہ اصول ہوتا ہے کہ کس طرح ایسا معاشرہ قائم کیا جائے جس میں زندگی گزارنے کے بعد ایک فرد کے لیے حق عبدیت ادا کرنا نیز جنت کا حصول آسان تر اور حصول جہنم مشکل سے مشکل تر بن جائے۔ پندرہویں صدی سے قبل یورپ میں جو عیسائی معاشرے قائم تھے ان کی بنیاد کے طور پر بھی یہی اصول تھا۔ البتہ عیسائیت کی داخلی کمزوریوں، یونانی فلسفے کے اثرات کے تحت ابھرنے والی تحاریک نشاۃ ثانیہ واصلاح مذہب ، سرمایہ دارانہ سیاسی انقلابات اور بالآخر تحریک تنویر و رومانویت (یعنی رد مذہب ) و سائنسی علمیت کے غلبے کے نتیجے میں یورپی معاشروں نے نیکی (عبدیت) کے بجائے حصول آزادی (happiness) کو مطمع نظر بنا لیا۔ اپنے گمراہ کن تصورات کو فروغ دینے کے لیے مغربی مفکرین نے یہ خوش کن عذر پیش کیا کہ نیکی ایک مبہم تصور ہے (کیونکہ خدا کیا چاہتا ہے اس میں اہل مذہب کا اختلاف ہے، اس لیے یہ کبھی معلوم نہیں کیا جا سکتا) لہٰذا اس قدر کی بنیاد پر قائم ہونے والے معاشرے اختلاف اور افتراق کا شکار رہتے ہیں۔ ان کے خیال میں انسانی عقل کا بدیہی تقاضا آزادی ( حصول لذت ) کو زندگی کا مقصد مان لینا ہے اور انسان آزاد کیسے ہوتا ہے اس کے لیے سائنسی طریقہ علم کو اپنانے کی ضرورت ہے نہ کہ خدا کی کتاب کی طرف رجوع کرنے کی۔
آزادی کا معنی سرمایے میں اضافہ
مغربی علمیت کے مطابق انسان اصولاً آزاد ہے، ان معنی میں کہ وہ اپنے اندر یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ قائم بالذات بن جائے، لیکن عملاً وہ آزاد نہیں کیونکہ بالفعل اس کی آزادی کو مادی اور سماجی دونوں طرح کی قوتیں محدود کرتی ہیں (مثلاً آج وہ نظام شمسی سے باہر نہیں جا سکتا، زلزلے یا طوفان کو روک نہیں سکتا، ماں باپ کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا، یورپ و امریکہ میں دو شادیاں نہیں کر سکتا، کیوبا میں زمین نہیں خرید سکتا، ایران یا سعودی عرب میں سرے عام بدکاری نہیں کر سکتا وغیرہ)۔ سرمایہ داری ان مادی اور سماجی پابندیوں کے خلاف جدوجہد کا نظام ہے جو ارادہ انسانی کی متصور اصولی آزادی پر لگی ہوئی ہیں یا لگائی گئی ہیں۔ انسان کی اس اصولی مطلق العنان ربوبیت کی عملی تشریح کا وسیلہ سرمایہ کاری ہے کیونکہ آزادی کا معنی ذرائع (سرمایے) میں لامحدود اضافہ کرنا ہے، سرمایہ وہ شے ہے جو فرد کے لیے جو وہ چاہنا چاہتا ہے چاہنا اور پانا ممکن بناتا ہے۔ آزادی کا معنی لامحدود خواہشات کی تکمیل کو عقل کا تقاضا ماننا ہے اور اس جدوجہد پر قدغن لگانے والی شے سرمایہ ہے۔ چنانچہ حصول آزادی بطور قدر کا سرمایے کی چاہت کے علاوہ کوئی دوسرا مطلب نہ کبھی تھا اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کارانہ عملیات (processes) میں حصہ لینے پر ہر وہ شخص مجبور ہوتا ہے جو آزادی پر ایمان لاتا ہے (انہی معنی میں آزادی کا متوالا عبد الدرہم و دینار ہوتا ہے)۔ سرمایہ دارانہ نظم کا بنیادی وظیفہ ایک ایسی معاشرتی و ریاستی ترتیب وجود میں لانا ہے جو فرد کے لیے حصول سرمایے کے مواقع کو زیادہ سے زیادہ ممکن بنا سکے۔ مغربی علمیت کا مفروضہ ہے کہ چونکہ ہر انسان فطری (جائز) طور پر حریص ہے لہٰذا دنیا کا ہر انسان سرمایے کی چاہت کو دیگر تمام چاہتوں پر فطری طور پر ترجیح دینا چاہتا ہے، اور اگر وہ ایسا نہیں کررہا یا کرنے پر راضی نہیں تو یقیناًکافر ، بدعقیدہ، جاہل و گمراہ ہے۔ ایسے کافر و گمراہ انسان کی یا تو (بذریعہ تعلیم وترغیب، ماحول وجبر) اصلاح کرنے کی ضرورت ہے اور ناقابل اصلاح ہونے کی صورت میں اس کی سزا پہلے معاشرتی اخراج (social marginalization) اور پھر موت ہے۔
سرمایے کا مطلب مارکیٹ
البتہ مغربی مفکرین کے درمیان اس امر پر سخت اختلاف ہے کہ انسان آزادی کا مکلف کس نظم معاشرت کے ذریعے ہوپاتا ہے۔ اس سوال پر ان لوگوں کے اختلافات درحقیقت انتہائی شدید اور بدنما نوعیت کے ہیں اور ان کے سبب جتنے انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیااور جتنے لوگوں کا معاشی و سماجی استحصال کیا گیا، اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ دور حاضر میں اس سوال کا جو جواب مقبول اور غالب ہے اسے مارکیٹ اکانومی کہتے ہیں، جو ایک معنی میں اس سوال کا تاریخی طور پر پہلا نظریہ بھی تھا۔ جن مفکرین کے خیال میں فرد کو سب زیادہ آزاد زندگی گزارنے (یعنی سرمایہ جمع کرنے) کے مواقع مارکیٹ اکانومی فراہم کرتی ہے انہیں لبرل سرمایہ دار (liberal capitalists) کہا جاتا ہے۔ لبرل مفکرین کے خیال میں جب ہر شخص اپنی اپنی ذاتی اغراض و مقاصد کے لیے جدوجہد کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ معاشرہ خود بخود بحیثیت مجموعی تمام افراد کے لیے ویلفیئر کا باعث بنتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان کے خیال میں ذاتی اغراض اور لذت کا حصول سوشل ویلفیئر یا مجموعی لذت کی بڑھوتری کا بنیادی سبب و محرک ہے، معاشرے کی مجموعی لذت کا انحصار اس امر پر نہیں کہ لوگ ’مجموعی ‘ لذت یا مجموعی سرمایے کے لیے شعوری جدوجہد کریں، بلکہ اس امر پر ہے کہ لوگ حصول سرمایے کی جدوجہد اپنی ذاتی اغراض کی تسکین کے لیے کریں۔ چنانچہ لبرل مفکرین معاشرے کو مارکیٹ بنانے کے خواہاں ہیں۔ دھیان رہے کہ مارکیٹ سے مراد محض اشیاء کی لین دین نہیں ہوتا، بلکہ اس سے مراد وہ تمام تعلقات ہیں جن کا مقصد ذاتی اغراض کا حصول ہوتا ہے یا جو ذاتی اغراض کی تکمیل کی عقلیت کے تحت قائم کیے جاتے ہیں۔ ان معنی میں ہمارے جدید اسکول، یونیورسٹیاں، ہسپتال وغیرہ سب مارکیٹ بن چکے ہیں۔ انہی معنی میں ہمارے خاندان، بازار، مسجد، مدرسے ،مذہبی و صوفی حلقے مارکیٹ نہیں ہوتے کہ تعلقات کے یہ تانے بانے اغراض نہیں بلکہ محبت، صلہ رحمی واخوت کی عقلیت کے تحت قائم کیے جاتے ہیں۔ لبرلز کی شدید خواہش ہے کہ مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ان اداروں کو بھی مارکیٹ نظم کے اندر سمو لیا جائے (جس طرح یورپ وغیرہ میں یہ دخول تقریبا مکمل ہونے کو ہے)۔ لذت پرستی کے حصول کے لیے دیگر نظریات بھی پیش کیے گئے البتہ اس مضمون میں تمام نظریات کا احاطہ کرنا ہمارا مقصد نہیں، لہٰذا ہم دور حاضر کے غالب نظریے پر ہی اکتفا کریں گے۔
مارکیٹ نظم کی ضروریات و مضمرات
لبرل نظریات اور انڈسٹریل انقلاب کے تحت جب روایتی عیسائی مغربی معاشرے مارکیٹ میں تبدیل ہونا شروع ہوئے تو ایک طرف روایت پسند عیسائی اقدار پر مبنی معاشرت و ریاست (system of obedience) تحلیل ہونے لگی اور دوسری طرف ایک نئی طرز کی صف بندی وجود میں آنے لگی۔ مارکیٹ پر مبنی یہ نئی قسم کی سرمایہ دارانہ صف بندی لوگوں سے ایک نئے قسم کے نظم کی پابندی کا تقاضا کرتی تھی۔ اس نئے قسم کی پابندی نظم کو ہم سرمایہ دارانہ ڈسپلن (capitalist public discipline) کہتے ہیں، اور اسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مارکیٹ کے پھیلاؤکے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشرتی تبدیلیوں پر ذیل میں کچھ روشنی ڈالیں۔
نفع خوری پر مبنی عمل پیداوار (For-profit business enterprise) کا فروغ:
سرمایہ دارانہ پیداواری نظم کے نتیجے میں عمل پیداوار میں ایک بنیادی نوعیت کی تبدیلی رونما ہوئی اور وہ یہ کہ روایتی مذہبی معاشروں کے برعکس اب عمل پیداوار حصول جنت ، صلہ رحمی و اخوت نہیں بلکہ نفع خوری کی بنیاد پر استوار ہونے لگا۔ غیر سرمایہ دارانہ معاشروں میں اکثریت کے روزگار کا انحصار نفع خوری پر چلنے والے کاروبار اور سرمایہ کاری پر نہیں ہوتا تھا۔ اس نظام پیداوار کی چند بنیادی خصوصیات ہوتی تھیں:
الف) پیداواری عمل کا بنیادی یونٹ فرم (firm) نہیں بلکہ خاندان، برادری یا قبیلے ہوتے اور پیداواری عمل سے حاصل شدہ پیداوار مشترکہ طور پر صرف (consume) کی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ غیر سرمایہ دارانہ نظام پیداوار میں غربت کی شرح اور آمدنیوں کا تفاوت انتہائی کم ہوتا تھا۔ پیداواری عمل کا مقصد efficiency (زیادہ سے زیادہ اضافی پیداوار کا حصول) نہیں بلکہ خاندان کی کفالت اور صلہ رحمی و محبت کو برقرار رکھنا ہوتا تھا، اسی لیے تنخواہ دار لیبر (wage-labor) کا وجود نہ ہونے کے برابر ہوتا، کسی دوسرے کے لیے کام کرنے کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا اور لوگ اپنے خاندانی پیشوں سے منسلک ہونے کو بالعموم پسند کرتے تھے
ب) معاشروں پر حرص و حسد کے بجائے قناعت اور شکر گزاری کی عقلیت غالب رہتی اور لوگ زیادہ سے زیادہ صرف کرنے کو زندگی کا مقصد نہ گردانتے۔ دنیاوی زندگی کو ضروریات کی حد تک محدود رکھا جاتا۔ عمل پیداوار کا مقصد خاندان یا قبیلے کی ضروریات کی تکمیل ہوتا نہ کہ اضافی (surplus) پیداوار کے حصول کے ذریعے مزید سرمایے کے حصول کا چکر بڑھاتے چلے جانا۔ دوسرے لفظوں میں ان معاشروں میں ترقی (سرمایے میں مسلسل اضافہ) کوئی پسندیدہ قدر نہ سمجھی جاتی، اشیاء بنیادی طور پر بیچنے کے لیے نہیں بلکہ صرف کرنے کے لیے پیدا کی جاتی تھیں
ج) مسجد، مدرسہ، خانقاہ اور بازار لوگوں کی روز مرہ اجتماعی معاشرت کی تشکیل کے بنیادی ادارے ہوتے تھے جن میں شمولیت کے ذریعے لوگ خود کو سوشلائز کرتے۔
سرمایہ دارانہ ریاستی اور انڈسٹریل انقلابات (جس کی بنیاد ہی اضافی پیداوار کا مسلسل اور لا متناہی حصول تھا) کے نتیجے میں پیداواری عمل خاندانی کفالت و صلہ رحمی کے بجائے نفع خوری (حرص و حسد) کی عقلیت کے تابع ہونے لگا اور یوں دولت سرمایے میں تبدیل ہونے کی ابتداء ہوئی۔ سرمایہ دولت کا استحصال اور اس کانا جائز استعمال ہے، جب دولت کا مقصد بذات خود اس میں مسلسل اضافہ بن جائے تو دولت سرمایہ بن جاتی ہے۔ انہی معنی میں کارپوریشن سرمایے کی عملی تجسیم ہے کہ اس کامقصد وجود ہی سرمایے میں اضافہ ہے۔ اب پیداواری عمل کا مطمع نظر مزید اضافی پیداوار کے حصول کے لیے اضافی پیداوار (production of surplus for the sake of more surplus production) کا حصول بن گیااور کارپوریشنز وجود میں آنے لگیں۔ ریاستی جبر ، بڑی صنعتوں کو فروغ دینے والی پالیسیوں اورنظام بینکاری کے پھیلاؤ کے نتیجے میں ذرائع کھنچ کھنچ کر کارپوریشنز کے قبضے میں آنے لگے، خاندان کی سطح پر موجود چھوٹے کاروبار کا وجود سکڑنے لگا، تنخواہ دار لیبر عام ہونا شروع ہوئی، لوگ آہستہ آہستہ زیادہ تنخواہ کی لالچ اور چھوٹے کاروبار کے خاتمے کے باعث خاندانوں سے دور شہری علاقوں میں آکربسنے لگے جہاں ان کے آپسی تعلقات کی بنیاد صلہ رحمی و بھائی چارہ نہیں بلکہ اغراض ہوتی تھی۔ یوں معاشروں کی مارکیٹ سازی (marketization) کا عمل شروع ہوا۔
نئے نظام جبر (system of obedience)کی تشکیل:
انڈسٹریل پیداوار ی عمل کا تقاضا یہ تھا کہ مسلسل کام کیا جائے تاکہ لاگت کم سے کم اور نفع زیادہ سے زیادہ ہو۔ بھاری لاگت سے تیار کردہ مشینوں کو بغیر کام چھوڑا نہیں جا سکتا تھا، لہٰذا ’کام کے اوقات ‘ میں غیر ضروری گفتگو ، چہل پہل، دیر سے کام پر پہنچنا یا آرام وغیرہ کرنا سرمایہ دارانہ منطق (efficiency) کے خلاف تھا۔ لہٰذا جو لوگ دوران کام ان باتوں کا خیال نہ رکھتے انہیں مختلف قسم کی سزائیں دی جاتیں (مثلاً جسمانی، تنخواہ میں کٹوتی، زیادہ کام کی ذمہ داری، کام کے اوقات میں اضافہ )، کون کب آتا اور جاتا ہے اور کام کے دوران کون کیا کرتا ہے اس پر کڑی نظر رکھی جاتی۔ دھیان رہے غیر سرمایہ دارانہ پیداواری عمل اس قسم کی نگرانی (survelience) کا متقاضی نہ ہوتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ انڈسٹریلائزیشن کے ابتدائی دور میں کمپنی مالکان کو لیبر تلاش کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا کیونکہ لوگ اس قسم کی ’پابندیوں اور نگرانی ‘ کے عادی نہ تھے اور نہ ہی اسے اچھا سمجھتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مل مالکان نے مزدوروں کی پیداواری صلاحیت ماپنے اور survelience کے قدرے پیچیدہ طریقے ایجاد کرنا شروع کر دیے (موجودہ دور میں Annual Performance Report اسی کی ترقی یافتہ شکل ہے)۔
نیا سرمایہ دارانہ پیداواری عمل محض مسلسل کام نہیں بلکہ ’وقت‘ کی پابندی کا بھی سختی سے متقاضی تھا۔ صبح فلاں وقت پر ڈیوٹی شروع ہوگی، اس لیے مخصوص وقت پر اٹھنا ہے، فلاں وقت پر اتنی دیر کھانے کا وقفہ ہوگا۔ یہی وہ دور ہے جب گھڑیاں رکھنے کا رواج عام ہونا شروع ہوا کیونکہ روایتی معاشروں میں کوئی ’گھڑی کے اوقات‘ (clock time) کے بارے میں حساس نہ ہوتا (اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ پہلے لوگ نماز کی جماعت بھی آج کی طرح گھڑی دیکھ کر ادا نہیں کرتے تھے)۔ مزدور باقاعدہ فیکٹری مالکان کی گھڑیاں چرا لیتے تھے تاکہ وہ لوگوں کے آنے جانے کے اوقات کا اندازہ نہ رکھ سکیں۔ جوں جوں معاشروں کی مارکیٹ سازی کا عمل آگے بڑھا، نئی قسم کی معاشرتی صف بندی کو ممکن بنانے والے جدید اداروں (مثلاً اسکول، ہسپتال) کی صف بندی بھی اسی ’فیکٹری ڈسپلن‘ پر استوار کی گئی (روایتی معاشرے کا حکیم ’مخصوص اوقات ‘ کے جبر کا پابند نہ ہوتاتھا) اور ان اداروں میں خود کو سمونے کے لیے لوگوں نے خود کو اس نئے نظام جبر کے ساتھ ہم آہنگ کرنا شروع کردیا۔ چنانچہ جیسے جیسے معاشروں کی مارکیٹ سازی وسیع تر ہوتی چلی جاتی ہے افراد اسی قدر خود کو سرمایہ دارانہ یا مارکیٹ ڈسپلن کا عادی بنانے پر مجبور ہوتے چلے جاتے ہیں بصورت دیگر سرمایہ دارانہ نظام انہیں سزا دیتا ہے (جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اس میں جگہ بنانا ان کے لیے مشکل سے مشکل تر ہو جاتا ہے)۔ مشہور فلسفی Focault کی کتب (مثلاً Birth of Clinic, Discipline and Punish, Order of Things) میں سرمایہ دارانہ ڈسپلن کے ارتقا کی دلچسپ مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں۔
’ڈسپلن کے پابند ‘ سرمایہ دارانہ پیداواری نظام نے ’آرام کے اوقات ‘ (Leisure) کا ایک مخصوص احساس اور تصور بھی پیدا کیا۔ کڑی نگرانی، بڑھتی ہوئی تخصیص کاری (specialization) اور دوران کام دیگر تما م کاموں سے قطع تعلق کا نتیجہ کام سے اکتاہٹ اور بیزاری کی صورت میں نکلا، اور لوگوں میں یہ احساس پیدا ہونا شروع ہوا کہ کام سے چھٹی کے بعد زندگی کے وہ لمحات شروع ہوتے ہیں جہاں ہم بغیر کسی کی نگرانی اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں کیونکہ سرمایہ دارانہ ورک ڈسپلن دوران کام ان کی یہ آزادی مکمل طور پر سلب کرلیتا ہے۔ اس ڈسپلن ماحول کی وجہ سے مزدور کو کام سے نفرت ہونے لگتی ہے اور وہ کام نہ کرکے خوشی محسوس کرتا ہے (اسی چیز کو مارکس Alienization سے تعبیر کرتا ہے، یعنی اس کے خیال میں انسان کی فطرت ’پیداواری عمل کا حصہ بننا ہی ہے چونکہ اسی کے ذریعے وہ اپنی انسانیت کا اظہار کرتا ہے‘ مگر سرمایہ دارانہ عمل مزدور کو اپنی فطرت سے متنفر کردیتا ہے)۔ انہی معنی میں سرمایہ داری نے غلامی کی ایک جدید صورت متعارف کروائی جہاں ایک فرد اپنے زندگی کے بہترین اوقات، دن کا وقت، سرمایے کی غلامی میں صرف کرنے پر مجبور ہوتا ہے (ذہن نشین رہے کہ سرمایہ داری کے ابتدائی دور میں کام کے اوقات چودہ سے سولہ گھنٹے تک ہوتے) اور سرمایہ داری اس غلامی کو آفاقی بنا دیتی ہے (کہ اس کے علاوہ روز گار کمانے کے دیگر مواقع معدوم ہوتے چلے جاتے ہیں)۔ عام طور پر لیژر (leisure) کی شکلیں شام کے اوقات ،ہفتہ وار اور سالانہ چھٹیاں وغیرہ ہوتیں اور لیژر کے یہ اوقات بذات خود ریاستی قانون سازی کا حصہ بننے لگے۔
سرمایہ داری چونکہ ایک نظام زندگی ہے (ان معنی میں کہ یہ زندگی کے ہر شعبے پر غلبہ پانا چاہتی ہے) لہٰذا سرمایے میں اضافے کے لیے لیژر کی کمرشلائزیشن (commercialization of leisure) عمل میں لائی گئی، یعنی بجائے اس سے کہ لوگ لیژر کے اوقات اپنی مرضی سے استعمال کریں ایسے کاموں کو فروغ دیا جانے لگا جن کے ذریعے لیژر کے اوقات کو نفع خوری اور سرمایے میں اضافے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ خاندانی زندگی سے دور اور کام سے اکتاہٹ کے مارے مزدوروں کی لیے ریلوے کمپنیوں نے اپنے سرمایے میں اضافے کی خاطر سستے پکنک ٹرپس اور سیر سپاٹے کے مواقع اور سہولیا ت فراہم کرنا شروع کیں (چنانچہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے دادا کی نسل کے لوگ عموماً پکنک میں کوئی رغبت نہیں رکھتے کیونکہ وہ اس ڈسپلن ورک کے مارے ہوئے نہ تھے)، اسی کے زیر اثر کھیل تماشوں اور گانے بجانے کی انڈسٹریز کو فروغ ملنا شروع ہوا (جو اب ٹریلین ڈالر انڈسٹریز کی صورت اختیار کر چکی ہیں)۔ ایسے روایتی کھیل اور ثقافتی تہوار جو سرمایے میں اضافے کے ڈسپلن کا حصہ نہ بن سکے آہستہ آہستہ معدوم ہوتے چلے گئے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہر سرمایہ دارانہ معاشرے میں زندگی گزارنے والی ننانوے فیصد اکثریت کی صبح اور شام سرمایہ دارانہ تعلقات سے گہری ہوئی ہے، چنانچہ دن کے وقت یہ لوگ کسی کارپوریشن وغیرہ کے لیے کام کرتے ہیں اور شام کے اوقات ٹی وی (جو بذات خود ایک سرمایہ دارانہ اداراہ ہے) دیکھ کر گزارتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں سرمایہ دارنہ پیداواری عمل نے پوری طرح انہیں جکڑ رکھا ہے (مگر پھر بھی وہ اس دھوکے کا شکار ہیں کہ وہ جو کرنا چاہیں کرنے کے لیے ’آزاد ‘ ہیں!)۔
خاندان کی تباہی اور اس کے نتائج:
سرمایہ دارانہ پیداواری عمل سے نہ صرف لوگوں کی ذاتی عادات و اطوار متاثر ہوئیں، بلکہ تمام انسانی تہذیبوں کا مشترکہ و قدیم ترین معاشرتی ادارہ یعنی خاندان بھی اس کے اثرات بد سے محفوظ نہ رہا۔ انڈسٹریلائزیشن اور سرمایہ دارانہ مسابقتی عمل اس ادارے کی تباہی کے متقاضی تھے۔ چنانچہ ایک طرف بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت (production capacity) زیادہ مزدوروں کی متقاضی تھی مگر دوسری طرف مسابقتی عمل قیمتوں میں کمی کا باعث بن رہا تھا۔ اس کا ایک آسان حل سستی لیبر (عورتوں اور بچوں) کو پیداواری عمل میں شامل کرلینا تھا۔ عورت کی مارکیٹ کاری (marketization) کے اس عمل کو سہل بنانے میں ذیل عناصر نے بنیادی کردار ادا کیا:
- کمپنیاں عورتوں کو مارکیٹ میں شمولیت پر اکسانے کے لیے آسان شرائط پر نوکریوں کی پیش کش کرنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتیں
- عورت کی مارکیٹ سازی کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ بچوں کی پیدائش اور اسکی تربیت سے متعلقہ ذمہ داریاں تھیں، اس کے حل کے لیے ضبط تولید اور خاندانی منصوبہ بندی جیسے نظریات کو فروغ دیا گیا (اس عمل کے لیے Malthus کے گمراہ کن نظریات نے فکری جواز فراہم کیا ) تاکہ خواتین طویل عرصے تک مارکیٹ کا حصہ رہ سکیں اور اس مارکیٹ سازی کے نتیجے میں خواتین کی سرمایہ دارانہ بنیادوں پر تربیت کی جاسکے
- تنویری فکر کے زیر اثر مساوات مرد و زن جیسے خوشنما نعروں نیز گھریلو ذمہ داریوں کو حقیر سمجھنے کی روش کا فروغ۔ خواتین کی مارکیٹ کاری کے عمل کو تیز تر بنانے کے لیے ضروری تھا کہ ان کی گھریلوذمہ داریوں کابوجھ کم ہوجائے ، اس ضرورت کو سرمایہ دارانہ پیداواری عمل کو مزید بڑھوتری دینے کے لیے استعمال کیا گیا جس کے زیر اثر فاسٹ فوڈ، بے بی نیپی، خشک دودھ، واشنگ مشین اور دیگر انڈسٹریز کو فروغ ملا۔
- بڑھتی ہوئی خواہشات و معیار زندگی کو پورا کرنا اکیلے مرد کے بس کی بات نہ رہی اور عورتوں کو بھی بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ اٹھانا پڑا (درحقیقت انسانی تاریخ میں عورت پر ہونے والا یہ سب سے بڑا ظلم تھا) ۔
رہائشی لاگت کم رکھنے کے لیے مل مالکان فلیٹ بنانے کو ترجیح دیتے جس کے نتیجے میں پانی، گندگی اور اس جیسے دیگر مسائل کے حل کے لیے انتظامات کرنا بھی ضروری ٹھرے۔ خواتین کی مارکیٹ کاری کے نتیجے میں فواحش و بدکاری عام ہوئے، طلاق کی شرح میں اضافہ ہوااور بچوں کی تربیت کا خاندانی نظام درہم برہم ہوگیا۔ اپنے آبائی خاندانوں سے دور شہروں میں رہنے کے نتیجے میں نئی نسلوں میں اجتماعی زندگی کی اخلاقی قدریں (محبت، حفظ مراتب، صلہ رحمی، پڑوس وغیرہ) منتقل نہ ہوسکیں، اور خاندان کا تصور ’میاں، بیوی اور بچے‘ تک محدود ہوگیا۔ اس عمل کے نتیجے میں ایسی شہری زندگی وجود میں آئی جہاں لوگ ایک دوسرے کو اپنی ذاتی اغراض کے سواء اور کسی بنیاد پر نہیں پہچانتے تھے۔
عورتوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے بے بی ڈے کئیر سینٹرز بھی وجود میں آئے۔ ظاہر بات ہے روایتی معاشروں کو ایسے کسی ادارے کی ضرورت نہ تھی، اگر وہاں عورت کام کرتی تب بھی اسے بچے کے حوالے سے کوئی پریشانی نہ ہوتی کیونکہ اس کی ساتھی کوئی نہ کوئی عورت (مثلاً ساس، نند، بھاوج وغیرہ ) ضرور اس کے بچے کی کفالت کرلیتی۔ درحقیقت قبائلی یا خاندانی معاشروں میں ایک فرد خود کو قبائلی و خاندانی تعلقات کے تانے بانے میں محفوظ پاتا ہے، اور اسے اپنی حفاظت اور ضروریات کے لیے ریاستی اداروں کی بہت کم ضرورت پڑتی ہے۔ مثلاً بیمار ہونے کی صورت میں اسے کسی ایسے بیرونی ادارے کے معالجاتی نظام (caring system) کی ضرورت نہیں ہوتی جہاں مریض کے پہنچنے کے بعد ہسپتال کا عملہ خود کار طریقے کے تحت اس کاخیا ل رکھے کیونکہ اس کی تیمار داری کے لیے اس کے عزیز و اقارب کا خود کار نظام موجود ہوتا ہے۔ اسی طرح مرجانے کی صورت میں اسے کسی تدفینی ادارے پر انحصار نہیں کرنا پڑتا، بلکہ اس کی یہ ضرورت خاندانی نظام پورا کرتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے خاندانی نظام درہم برہم ہوا، انفرادیت پسندانہ طرز زندگی عام ہوئی، فرد اپنی حفاظت اور ضروریات کی کفالت کے لیے نئے تعلقات کا محتاج ہوگیا۔ سرمایہ دارانہ نظام نے فرد کے یہ مسئلے مارکیٹ (یعنی ذاتی اغراض) پر مبنی تعلقات کی بنیادوں پر استوار کیے، جس کے تحت خود کار معالجاتی نظام (caring system) کی طرز پر ہسپتال اور ریسکیو سینٹرز وجود میں آئے جہاں عزیز و اقارب کے بجائے پروفیشنل لوگ فرد کی حفاظت پر معمور ہوتے، اسی طرح مردے کی کارپوریٹائزیشن کے لیے مرنے کے بعد میت کو ٹھکانے لگانے والے ادارے وجود میں آئے۔
(جاری)
عہد نبوی کے یہود اور رسول اللہ کی رسالت کا اعتراف / امیر عبد القادر الجزائری: شخصیت وکردار کا معروضی مطالعہ
محمد عمار خان ناصر
عہد نبوی کے یہود اور رسول اللہ کی رسالت کا اعتراف
دینی مدارس کے طلبہ واساتذہ کے متعلق عام طور پر یہ شکایت کی جاتی ہے کہ وہ جدید علوم سے واقفیت حاصل نہیں کرتے اور نتیجتاً دور جدید کے ذہنی مزاج اور عصری تقاضوں کے ادراک سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، لیکن میرے نزدیک اس طبقے کا زیادہ بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ خود اپنی علمی روایت، وسیع علمی ذخیرے اور اپنے اسلاف کی آرا وافکار اور متنوع تحقیقی رجحانات سے بھی نابلد ہے۔ اس علمی تنگ دامنی کے نتیجے میں ا س طبقے میں جو ذہنی رویہ پیدا ہوتا ہے، وہ بڑا دلچسپ اور عجیب ہے۔ یہ حضرات اپنے محدود علمی ماحول میں جو باتیں سنتے اور مطالعے کے لیے اپنے اساتذہ کی طرف سے بڑی احتیاط سے منتخب کردہ کتب میں جو چیزیں پڑھتے ہیں، اس کے علاوہ انھیں ہر چیز گمراہی اور بے راہ روی محسوس ہوتی ہے اور یہ غیر شعوری طو رپر نہیں ہوتا، بلکہ اس کی باقاعدہ ذہن سازی کی جاتی ہے۔ میرا بارہا کا تجربہ ہے کہ کوئی علمی بات یا نکتہ اس ماحول کے تربیت یافتہ حضرات کے سامنے پیش کیا جائے تو پہلے کہیں پڑھا یا سنا نہ ہونے کی وجہ سے ان کا فوری تاثر یہ ہوتا ہے کہ یہ تو اکابر سے ہٹ کر دین میں ایک ’’نئی بات‘‘ کہی جا رہی ہے اور اگر معاملہ ذرا حساسیت کا حامل ہو تو فوراً اس پر گمراہی اور ضلالت کے فتوے بھی لگنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس امکان کی طرف ان کا ذہن متوجہ ہی نہیں ہوتا کہ ایسی کسی بات پر کوئی رد عمل ظاہر کرنے سے پہلے ماضی کے علمی ذخیرے کی مراجعت کرتے ہوئے اس بات کی تحقیق کر لی جائے کہ ہم نے جو بات اب تک پڑھ یا سن رکھی ہے، اس سے مختلف بھی کوئی رائے اس ذخیرے میں ملتی ہے یا نہیں۔ یوں یہ حضرات اپنے ارد گرد کے چند گنے چنے اکابر سے سنی ہوئی باتوں کو ہی علم کی کل کائنات سمجھتے اور کوئی بھی نئی بات سامنے آنے پر، اپنے اپنے حوصلے اور وسعت دَہن کے مطابق، اس پر گمراہی، تحریف اور تاویل باطل وغیرہ کے فتوے جڑنے میں ذرا جھجھک محسوس نہیں کرتے۔
اس علمی اُتھلے پن کی ایک دلچسپ مثال راقم الحروف پر کی جانے والی بعض حالیہ تنقیدوں میں سامنے آئی ہے۔ میں نے کافی عرصہ قبل مسجد اقصیٰ کی بحث کے ضمن میں عہد نبوی کی دعوتی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا تھا کہ:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی راہنمائی میں تدبیری لحاظ سے بھی ایسی حکمت عملی اختیار فرمائی کہ اہل کتاب میں مسلمانوں کے ساتھ قرب و اشتراک کا احساس پیدا ہو اور انبیاے بنی اسرائیل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مابین اتحاد اور یگانگت کے پہلو اجاگر ہو جائیں۔ ۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تدبیری کوششوں کی وجہ سے اہل کتاب کو تعصبات اور نفسیاتی الجھنوں سے صاف ماحول میں پوری ذہنی آزادی کے ساتھ آپ کی دعوت کو سمجھنے کا موقع ملا اور آپ کے دعواے نبوت کی حقانیت ان پر پوری طرح واضح ہو گئی، چنانچہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، البتہ وہ آپ کو صرف بنی اسماعیل کا نبی قرار دیتے ہوئے خود کو آپ پر ایمان لانے کے حکم سے مستثنیٰ قرار دیتے تھے۔‘‘ (براہین ص ۳۸۶، ۳۹۸)
اقتباس کے آخری خط کشیدہ جملے کے ماخذ کے طور پر راقم نے سورۂ بقرہ کی آیات ۷۶ اور ۹۱ کا حوالہ دیا ہے۔ یہ آیات، بالترتیب، حسب ذیل ہیں:
وَإِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا، وَإِذَا خَلاَ بَعْضُہُمْ إِلَیَ بَعْضٍ قَالُوا أَتُحَدِّثُونَہُم بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْْکُمْ لِیُحَآجُّوکُم بِہِ عِندَ رَبِّکُمْ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ
’’اور جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم ایمان لائے۔ اور جب باہم تنہا ہوتے ہیں تو (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں کہ کیا تم ان لوگوں کو وہ باتیں بتا دیتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ یہ اس کے ذریعے سے تمھارے رب کے ہاں تمھارے خلاف حجت پیش کر سکیں؟ کیا تم عقل نہیں رکھتے؟‘‘
وَإِذَا قِیْلَ لَہُمْ آمِنُوا بِمَا أَنزَلَ اللّٰہُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنزِلَ عَلَیْْنَا وَیَکْفُرونَ بِمَا وَرَاءَ ہُ
’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے اتارا ہے، اس پر ایمان لاؤ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس پر ایمان لاتے ہیں جو ہم پر اتارا گیا اور اس کے علاوہ (اللہ کے اتارے ہوئے باقی کلام) کا انکار کر دیتے ہیں۔‘‘
گویا میری رائے میں مذکورہ دونوں آیتوں میں یہود کے کسی منافق گروہ کا نہیں، بلکہ اس مخصوص گروہ کا ذکر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا سچا نبی تسلیم کرتے ہوئے یہ استدلال پیش کر کے خود کو آپ کی پیروی سے مستثنیٰ قرار دیتا تھا کہ آپ کی بعثت خاص طور عرب کے امیوں کی طرف ہوئی ہے، جبکہ یہود تورات کی پیروی کو چھوڑ کر آپ پر ایمان لانے کے مکلف نہیں ہیں۔ پہلی آیت میں ’قَالُوا آمَنَّا‘ کا مطلب یہ ہے کہ یہود کا یہ گروہ مسلمانوں کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے، اللہ کا رسول ہونے کا اقرار کرتا تھا جس پر اسے اپنے ہم مذہبوں کی طرف سے زجر وتوبیخ کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جبکہ دوسری آیت میں ’نُؤْمِنُ بِمَا أُنزِلَ عَلَیْْنَا‘ کا جملہ اس گروہ کے اس استدلال کو واضح کرتا ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول تسلیم کرتے ہوئے خود کو صرف تورات کی اتباع کا مکلف تصور کرتے اور اس سے ہٹ کر قرآن مجید کی اتباع قبول کرنے کا پابند نہیں سمجھتے تھے۔
میری اس رائے پر نقد کرتے ہوئے ایک تو اس کو یہ مفہوم پہنایا گیا ہے کہ جیسے میں یہود کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار وتکذیب کے جرم سے بری ثابت کرنے اور یوں ان کی ایک خوبی اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، حالانکہ اوپر نقل کردہ اقتباس سے صاف واضح ہے کہ یہاں مقصود یہود کی کوئی خوبی یا ان کی ایمان داری کا وصف بیان کرنا نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی حکمت عملی کا یہ پہلو اجاگر کرنا مقصود ہے کہ آپ نے حق بات کو اپنے مخاطبین تک پہنچانے اور ان پر اتمام حجت کرنے کا ایسا حکیمانہ اسلوب اختیار کیا کہ اس کے نتیجے میں یہود کے ایک گروہ کے لیے آپ کی صریح تکذیب ممکن نہ رہی اور انھیں یہ تسلیم کرتے ہی بنی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔
بہرحال، اس اقتباس میں کہی گئی یہ بات کہ عہد رسالت کے بعض یہود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی اسماعیل کی طرف اللہ کا رسول تسلیم کرتے ہوئے خود کو آپ کی اتباع سے مستثنیٰ تصور کرتا تھا، صاحب تنقید کے لیے ایک نئی بات ہے اور اتنی نئی ہے کہ اس کے لیے انھیں ’’تحریف‘‘ سے کم تر کوئی عنوان نہیں سوجھا۔ ملاحظہ فرمائیں:
’’احقر نے جب وہ آیت کھولی جس سے خان صاحب نے یہ استدلال کیا تو وہ حزن انگیز انکشاف ہوا جس کا اوپر تذکرہ ہوا۔ میں تسلیم نہیں کرسکتا کہ کوئی بھی صاحب علم بقائمی ہوش وحواس اس آیت کا یہ متضاد ترین مطلب لے سکتا ہے۔ یہ یقیناً ’’یحرّفون الکلم عن مواضعہ‘‘والی برادری کا کارنامہ ہے۔ آپ بھی یہ آیت پڑھیے جس میں قرآن کریم یہود کے کفرونفاق پر حجت قائم کررہا ہے اور برملا اطلاع دے رہا ہے کہ ان کا ایمان کا دعویٰ خالص فریب ونفاق ہے اور خان صاحب اسی آیت سے یہ ثابت کررہے ہیں کہ یہود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول تسلیم کرتے تھے۔‘‘ (’’بولتے نقشے‘‘، ہفت روزہ ضرب مومن، ؟؟ اپریل ۲۰۱۳ء)
دوسری آیت کے حوالے سے فرمایا گیا ہے:
’’قرآن پاک کی یہ آیت بھی۔۔۔ جس سے خان صاحب نے قارئین کو یہ باور کرانا چاہا کہ یہود آپ کو نبی سمجھتے تھے لیکن صرف بنی اسماعیل کا۔۔۔ یہود کے کفر کی صریح گواہی دے رہی ہے اور صاف بتارہی ہے کہ وہ نہ بنی اسماعیل میں آنے والے نبی کو مانتے ہیں نہ بنی اسرائیل میں آنے والے انبیائے کرام کو، ورنہ انہیں قتل کیوں کرتے؟ گویا قرآن پاک کی جو آیت یہود کے جس دعوے کی تردید دلائل کے ساتھ کررہی ہے، خان صاحب اسی دعویٰ کی تصدیق اسی آیت سے کرنے کی سعی فرمارہے ہیں۔‘‘ (ایضاً)
یہاں دو نکتے توضیح طلب ہیں:
ایک یہ کہ کیا عہد رسالت میں یہود کا کوئی ایسا گروہ موجود تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی تو تسلیم کرتا ہو، لیکن خود کو آپ پر ایمان لانے سے مستثنیٰ قرار دیتا ہو؟
دوسرا یہ کہ کیا سورۂ بقرہ کی محولہ بالا آیات میں اسی گروہ کی طرف اشارہ ہے؟
اگر صاحب تنقید ان دونوں نکتوں کی تحقیق کے لیے نادر ونایاب مآخذ کی نہیں، بلکہ صرف تفسیر طبری اور صحیح بخاری کی مراجعت کر لیتے تو اس علمی نکتے سے ان کی ذہنی اجنبیت کم سے کم اتنی نہ رہتی کہ وہ اس پر چھوٹتے ہی ’’تحریف‘‘ کا الزام عائد کر دیں۔
صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد یہودی سے (جو اس وقت تک اسلام نہیں لایا تھا) یہ پوچھا کہ کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ جواب میں ابن صیاد نے کہا:
اشہد انک رسول الامیین (بخاری، رقم ۵۸۲۱)
’’میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں۔‘‘
اس کی شرح میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:
فیہ اشعار بان الیہود الذین کان ابن صیاد منہم کانوا معترفین ببعثۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، لکن یدعون انہا مخصوصۃ بالعرب (فتح الباری، ۶/۱۱۹)
’’اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی، جن سے ابن صیاد کا تعلق تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کا اعتراف کرتے تھے، لیکن ساتھ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ آپ کی نبوت اہل عرب کے ساتھ مخصوص ہے۔‘‘
جہاں تک قرآن مجید کی مذکورہ آیات میں اس گروہ کی طرف اشارے کا تعلق ہے تو اگرچہ مفسرین نے عام طور پر ’قالوا آمنا‘ کو یہود میں سے ایک منافق گروہ کا مقولہ قرار دیا ہے جو اہل ایمان کو دھوکہ دینے کے لیے ان کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اعتراف کر لیتا تھا، لیکن امام طبری نے اسی آیت کی ایک دوسری تفسیر کے طور پر حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا درج ذیل قول بھی نقل کیا ہے:
عن ابن عباس: و اذا لقوا الذین آمنوا قالوا آمنا ای بصاحبکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولکنہ الیکم خاصۃ (طبری، سورۃ البقرۃ، آیت ۷۶)
’’ابن عباس سے و اذا لقوا الذین آمنوا کی تفسیر یہ مروی ہے کہ یہودی یہ کہتے تھے کہ ہم تمھارے صاحب، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں (یعنی انھیں نبی تسلیم کرتے ہیں)، لیکن ان کی بعثت خاص طور پر تمھاری (یعنی اہل عرب کی) طرف ہوئی ہے۔‘‘
میری طالب علمانہ رائے میں بقرہ کی آیت ۹۱ میں ’نُؤْمِنُ بِمَا أُنزِلَ عَلَیْْنَا وَیَکْفُرونَ بِمَا وَرَاءَہُ‘ کے الفاظ بھی اسی گروہ کے موقف کو بیان کرتے ہیں، نہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا مطلقاً انکار کرنے والے یہود کے موقف کو۔ اس کا قرینہ یہ ہے کہ آیت میں آمِنُوا بِمَا أَنزَلَ اللّٰہُ کے الفاظ سے انھیں قرآن مجید سمیت اللہ کی تمام کتابوں پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کے جواب میں ’نُؤْمِنُ بِمَا أُنزِلَ عَلَیْْنَا‘ کا جملہ اسی صورت میں موزوں ہو سکتا ہے جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا بالکلیہ انکار نہ کرتے ہوں، کیونکہ اگر وہ قرآن مجید کو سرے سے اللہ کا نازل کردہ کلام ہی تسلیم نہ کرتے تو یہ کہتے کہ ہم تو اللہ کے اتارے ہوئے ہر کلام پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن چونکہ قرآن منزل من اللہ نہیں ہے، اس لیے ہم اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اس کے بجائے ان کا یہ کہنا کہ ہم تو بس اپنی طرف نازل کردہ کلام پر ایمان لاتے ہیں، میری ناقص رائے میں یہ مفہوم رکھتا ہے کہ اللہ کے اتارے ہوئے ہر کلام کی پیروی ہم پر لازم نہیں، بلکہ ہم صرف اس کلام یعنی تورات کی اتباع کے پابند ہیں جو ہماری طرف نازل کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم
امیر عبد القادر الجزائری: شخصیت وکردار کا معروضی مطالعہ
کچھ عرصہ قبل راقم الحروف نے انیسویں صدی میں الجزائر کے عظیم مجاہد آزادی، عالم اور صوفی، امیر عبد القادر علیہ الرحمہ کی شخصیت کو اردو دان قارئین کے ہاں متعارف کروانے کے لیے جان کائزر کی کتاب کے اردو ترجمے کی اشاعت کے حوالے سے جو قدم اٹھایا تھا، بحمد اللہ اس کے ثمرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور نہ صرف یہ کہ قارئین کا ایک بہت بڑا حلقہ، جو اس سے قبل ان کا نام بھی نہیں جانتا تھا، ان کی شخصیت سے فی الجملہ متعارف ہو چکا ہے، بلکہ ان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے اور ان کے تاریخی کردار سے زیادہ گہری آگاہی حاصل کی خواہش بھی بڑے پیمانے پر پیدا ہو چکی ہے۔ خدا کا کرنا یہ ہے کہ اس تعارف کو وسیع پیمانے پر عام کرنے اور الجزائری کے متعلق تحقیق وتجسس کے جذبے کو ابھارنے میں بے حد اہم کردار حال میں سامنے آنے والی بعض ایسی معاندانہ تحریریں ادا کر رہی ہیں جن میں الزام تراشی اور افترا پردازی کی صلاحیت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے الجزائری کی شخصیت کو مجروح کرنے اور ایڑی چوٹی کا زور لگا کر انھیں تاریخ کا ایک یکسر ناقابل اعتنا اور بے وقعت کردار ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
جہاں تک الجزائری کی شخصیت، افکار ونظریات اور تاریخی کردار کے مختلف پہلوؤں کے تنقیدی جائزے کا سوال ہے تو ظاہر ہے کہ اس کی ضرورت واہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ چیز تاریخی شخصیات کے مطالعے کے عمل کا ایک ناگزیر حصہ ہے اور خود راقم الحروف نے الجزائری کے تصور جہاد کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے اور ان کے طرز جدوجہد کو اسلام کی معیاری تعلیمات کا نمونہ قرار دیتے ہوئے بہت سوچ سمجھ کر اور بہ تکرار ’’بڑی حد تک‘‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ بعض پہلو ایسے بھی ہیں جن پر میں خود اطمینان محسوس نہیں کرتا اور کسی مثبت اور مناسب علمی فضا میں گفتگو ہو رہی ہو تو مجھے ان پہلوؤں کی نشان دہی میں بھی کوئی جھجھک نہیں ہوگی۔ تاہم زیر بحث تنقیدیں الجزائری کی شخصیت کے موضوعی مطالعے یا غیر جانب دارانہ ومنصفانہ تجزیے کے جذبے سے پیدا نہیں ہوئیں۔ ان کا واحد محرک یہ خوف ہے کہ ہمارے ہاں ایک خاص جذباتی فضا میں ایک مخصوص طبقے کی طرف سے جن حضرات کوشخصیت وکردار کی ذاتی بلندی کے بجائے اصلاً امریکہ دشمنی کے جذبات کے زیر اثر جہادی ہیروؤں کا درجہ دے دیا گیا ہے، ان کا قد الجزائری کی شخصیت کے سامنے بے حد پستہ دکھائی دینے لگے گا اور جہادی مساعی کا کوئی بھی ایسا نمونہ سامنے آنے سے جس میں اولو العزمی کے ساتھ ساتھ حکمت وفراست، معروضی حالات کے فہم اور جنگی اخلاقیات کی پاس داری کے اصول نمایاں ہوتے ہوں، جہاد کے اس مسخ شدہ تصور پر زد پڑے گی جو اول وآخر سطحیت اور جذباتیت سے عبارت ہے اور قدم قدم پر شرعی اصولوں اور اعلیٰ انسانی اخلاق وکردار کی پامالی کے ناقابل دفاع نمونے پیش کرتا ہے۔
جو طبقہ اس وقت الجزائری کی داستان سے سامنے آنے والے تصور جہاد سے نفور محسوس کر رہا ہے، اس کی ذہنی ونفسیاتی ساخت کو سمجھنے کے لیے اس تصور جہاد کو سامنے رکھنا ضروری ہے جس سے یہ طبقہ مانوس ہے اور اس سے ہٹ کر جہاد کے کسی تصور میں اپنے غصے اور انتقام کے جذبات کی تسکین کا سامان نہیں پاتا۔ اس تصور جہاد کے نمایاں خط وخال یہ ہیں: مسلمانوں کی ایک ریاست میں بیٹھ کر وہاں کے ارباب حل وعقد کی اجازت اور رضامندی کے بغیر ایک غیر مسلم ملک کے خلاف عسکری کارروائیاں کرنا، دشمن کی فوجی طاقت کو ہدف بنانے کی صلاحیت کے فقدان کا بدلہ دشمن کی عام آبادی کو نشانہ بنا کر لینا اور اس کے لیے احمقانہ شرعی جواز گھڑنا، چند برخود غلط جہادی نظریہ سازوں کا اپنی ذات کو لاکھوں مسلمانوں کی جان ومال سے زیادہ اہم سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو قربانی کے لیے پیش کرنے کے بجائے پوری کی پوری قوم کو جنگ کے بے پناہ مصائب وآلام کا شکار بنا دینا، عالمی طاقتوں کو اس ملک پر حملہ آور ہونے کا موقع فراہم کرنے کے بعد اپنے غیور میزبانوں کے ساتھ میدان جنگ میں ٹھہرنے اور ان کے شانہ بشانہ دشمن سے لڑنے کے بجائے وہاں سے فرار ہو کر ایک پڑوسی ملک میں پناہ لے لینا اور اس طرح اپنے وجود نامسعود سے اس ملک کے عوام اور فوج کو بھی جنگ کے شعلوں کی نذر کر دینا، پھر اپنی اور اپنے ہم نوا عناصر کی موجودگی کے خلاف اس ملک کی افواج کی طرف سے مجبوراً فوجی آپریشن کیے جانے پر پوری فوج کو مرتد قرار دینا اور اس بنیاد پر وہاں کے عوام کو اپنی ہی فوج کے خلاف برسر پیکار کر دینا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دو مسلمان ملکوں میں قتل وغارت اور فساد کی یہ ساری آگ لگانے کے بعد خود ’’شہادت ہے مطلوب ومقصود مومن‘‘ کی تصویر بن کر بیوی بچوں سمیت کسی پرفضا مقام کی خفیہ سکونت اختیار کر لینا۔
ظاہر ہے کہ اس فکری واخلاقی سطح کے تصور جہاد سے متاثر کوئی ذہن اگر الجزائری یا ان جیسی کسی دوسری شخصیت پر تنقید کا بیڑہ اٹھائے گا تو یہ توقع رکھنا کہ وہ تنقید تاریخی شخصیات کے معروضی مطالعے کے اصول وقوانین اور علمی اخلاقیات پر مبنی ہوگی، محض ایک بے کار توقع ہوگی۔ ایسے ذہن سے اگر توقع کی جا سکتی ہے تو اسی طرز تنقید کی جس کا نمونہ ہمیں الجزائری سے متعلق زیر بحث تنقیدوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ مثلاً یہ کہ الجزائری ایک عیاش اور بد کردار انسان تھے جنھوں نے نہ صرف اپنے حرم میں چار سے زیادہ بیویاں رکھی ہوئی تھیں، بلکہ اخلاق باختہ اور آوارہ مغربی عورتوں کے ساتھ بھی ناجائز تعلقات میں ملوث تھے، یہ کہ وہ دراصل ایک یہودی گماشتہ تھے اور ان کی ساری جدوجہد اسی وابستگی سے متاثر اور اسی وفاداری کا عکاسی کرتی ہے اور یہ کہ انھوں نے جدوجہد کے آخری مرحلے میں فرانس کے مقابلے میں شکست تسلیم کرتے ہوئے باقی زندگی کے لیے فرانس کی شہریت اور وفاداری اختیار کر کے الجزائر کی جدوجہد آزادی کے ساتھ ’’غداری‘‘ کی (اور گویا یہ الجزائری قوم کی نری کم عقلی ہے کہ وہ انھیں اپنا قومی ہیرو تصور کرتی ہے، انھیں جدید الجزائر کا بانی قرار دیا جاتا ہے، الجزائر کی حکومت بڑے فخر کے ساتھ ان کا تعارف قیدیوں کے حقوق سے متعلق جدید بین الاقوامی قوانین کے پیش رَو کے طور پر کراتی ہے، اقوام متحدہ میں الجزائر کا سفارتی مشن ان کی حیات وخدمات کے تعارف کے لیے عالمی نمائش منعقد کرتا ہے، حکومت الجزائر کے تحت امیر کی حیات سے متعلق ایک تاریخی فلم کی تیاری کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے، صدر الجزائر کی زیر نگرانی بین الاقوامی انسانی قانون کے میدان میں امیر کی خدمات کے تعارف کے لیے ایک مستقل ویب سائٹ http://emirabdelkaderdih.com/ قائم ہے اور الجزائر کی وزارۃ التعلیم العالی کے زیر انتظام قسنطینہ میں ان کی یاد میں ایک مستقل یونیورسٹی ’’جامعۃ الامیر عبد القاد ر للعلوم الاسلامیۃ‘‘ کے نام سے کام کر رہی ہے)۔
الزامات کی اس فہرست میں جو تازہ اضافہ کیا گیا ہے، وہ بھی اسی طرز فکر کا عکاس ہے۔ الجزائری کے تصور جہاد کا ذکر کرتے ہوئے جان کائزر نے اپنی کتاب میں ان کے اور ان کے ساتھیوں کے اس جرات مندانہ کردار پر روشنی ڈالی ہے جو انھوں نے ۱۸۶۰ء میں دمشق میں مسلم مسیحی فسادات کے موقع پر ہزاروں بے گناہ مسیحیوں کو مسلمانوں کے مشتعل ہجوم سے بچانے کے لیے ادا کیا تھا۔ اس واقعے میں امیر کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے جو کچھ ارشاد فرمایا گیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ امیر عبد القادر نے جن مسیحیوں کو بچانے کی کوشش کی، وہ ’’جزیہ‘‘ کی ادائیگی سے انکار کرنے کی وجہ سے ’’باغی‘‘ تھے (اور گویا مسلمانوں کے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں اجتماعی قتل کے پورے پورے حق دار تھے)، جبکہ الجزائری نے ان کے دفاع کے لیے جو کردار ادا کیا، وہ بالکل غلط تھا اور اس سے الجزائری کے، مغربی طاقتوں کا آلہ کار ہونے پر مہر تصدیق ثبت ہو جاتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
’’موصوف کا تیسرا کارنامہ یہ تھا کہ انھوں نے کافروں کے خلاف جہاد نہ کرنے کا عہد کر لینے کے بعد ’’کافروں کے دفاع میں جہاد‘‘ شروع کر دیا تھا اور یہی وہ چیز ہے جو آج کل عالمی غاصب مغربی طاقتیں چاہتی ہیں۔ ۔۔۔ شام کے عیسائیوں کے پیچھے (غزوۂ تبوک کے پس منظر کی طرح آج بھی) یورپی طاقتیں تھیں اور ترک حکمران عیسائیوں کو ان کی سرکشی کی سزا دینا چاہتے تھے۔ ان دنوں میں ممدوح موصوف نے بالکل ویسے ہی عیسائیوں کے تحفظ کے لیے بے مثال خدمات پیش کیں جیسے برصغیر میں ۱۸۵۷ء کے جہاد آزادی کے دوران انگریزوں کے تحفظ کے لیے ڈپٹی نذیر احمد دہلوی نے پیش کی تھیں۔‘‘ (’’بولتے نقشے‘‘، ہفت روزہ ضرب مومن، ۹ ؍مئی ۲۰۱۳ء)
میں یہاں اس حوالے سے کوئی شرعی وفقہی اور قانونی بحث نہیں اٹھاؤں گا کہ کیا مسیحیوں کی طرف سے ٹیکس کی ادائیگی سے انکار فی الواقع کسی ایسی ’’بغاوت‘‘ کا حکم رکھتا تھا جس پر انھیں قتل کر دینا شرعاً جائز ہو یا یہ کہ ان ’’باغیوں‘‘ کو سزا دینے کا فیصلہ ترک حکام کی طرف سے قانونی اور سرکاری سطح پر کیا گیا تھا جس کی راہ میں امیر عبد القادر بلا وجہ رکاوٹ بن گئے یا، اس کے برعکس، عوام کا ایک مشتعل ہجوم خون کی ہولی کھیلنا چاہتا تھا جسے روکنے کے لیے امیر نے نہایت ذمہ دارانہ کردار ادا کیا یا پھر یہ کہ ’’باغیوں‘‘ کو سزا دیتے ہوئے بلا امتیاز عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور راہبوں تک کو قتل کر دینا آخر کس شریعت کی رو سے جائز ہے جو اس موقع پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا۔ میں یہ سب سوالات اس لیے نہیں اٹھاؤں گا کہ جو ذہن اس وقت مخاطب ہے، اس کے ہاں اس طرح کے سوالات کی سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس کی نظر میں واحد قابل لحاظ نکتہ یہ ہے کہ اس کشمکش میں ایک طرف مسیحی تھے جن کی پشت پناہی مغربی طاقتیں کر رہی تھیں اور دوسری طرف مسلمان تھے جو سیاسی وقانونی حقوق کے ضمن میں مسیحیوں کے بڑھتے ہوئے مطالبات پر نالاں تھے، اس لیے اس ذہن کے نزدیک اسلامی غیرت وحمیت کا تقاضا اس کے علاوہ کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ مسلمان جس طریقے سے بھی ان سرکش مسیحیوں کو ’’ٹھیک‘‘ کرنا چاہتے، امیر عبدالقادر ان کا ساتھ دیتے اور ہزاروں مسیحیوں کا قتل عام کر کے اسلام کی سربلندی کی ایک درخشاں مثال قائم کر دیتے۔
مذکورہ سوالات کو رکھیے ایک طرف اور یہ دیکھیے کہ مذکورہ صورت حال میں امیر کے موقف اور کردار کو واضح کرنے کے لیے علمی دیانت کا کس درجے میں اہتمام گیا ہے۔ کائزر نے متعلقہ باب میں جہاں مسیحیوں کو قتل وغارت سے بچانے کے لیے امیر کے جرات مندانہ کردار کا ذکر کیا ہے، وہاں یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ ان کی طرف سے ٹیکس دینے سے انکار کو درست نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اسے قابل تعزیر جرم تصور کرتے تھے، البتہ انھیں اس طریقے سے اختلاف تھا جو احمق اور عاقبت نا اندیش ترک حکام مسلمان عوام کو مشتعل کر کے ان کے ہاتھوں مسیحیوں کے قتل عام کی صورت میں تجویز کر رہے تھے۔ یہ سطور ملاحظہ کیجیے:
’’عبدالقادر کی نظر میں قانون بالکل واضح تھا۔ عیسائی باشندے حفظ وامان میں لیے گئے لوگ تھے، لیکن وہ بہر حال قانون کا احترام کرنے کے پابند تھے۔ قانون کی نافرمانی کے معاملے میں وہ غلطی پر تھے۔ وہ سرکشی اور بغاوت پر اتر آئے تھے اور انہیں سزا ملنا ضروری تھا۔ دوسری طرف مسلمانوں نے بھی اندھا دھند اور سفاکانہ طریقے سے انہیں ’’ٹھیک‘‘ کر کے غلط کیا۔۔۔۔ فرانسیسی ملاقاتی امیر کے منہ سے اس طرح کی سخت گیر باتیں سن کر بہت حیران ہوئے اور گمان غالب ہے کہ وہ ان نئی پیچیدگیوں سے آگاہ نہیں تھے جو ان اصلاحات سے پیدا ہوئی تھیں۔‘‘ (ص ۴۳۳)
چونکہ الجزائری کو اس واقعے میں مغربی طاقتوں کا آلہ کار ثابت کرنا مقصود ہے، اس لیے ان کا یہ پورا موقف دانستہ قارئین کے سامنے نہیں لایا جاتا اور قلم کار مطمئن ہے کہ آخر قارئین میں سے کون اتنا فارغ ہوگا جو اس کے لکھے پر اکتفا نہ کرتے ہوئے اپنے طو رپر بھی تحقیق کی ضرورت محسوس کرے۔ اسی طرز تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے قارئین کو یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ صرف یورپی دنیا تھی جس نے اس موقع پر امیر کے پر عظمت کردار کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں خراج تحسین پیش کیا۔ مجال ہے کہ قاری کو اس بات کی بھنک بھی پڑنے دی جائے کہ کائزر کی اسی کتاب میں الجزائری کے معاصر اور وسطی ایشیا کے عظیم مجاہد امام شامل کے اس خط کا اقتباس بھی نقل کیا گیا ہے جس میں انھوں نے اس واقعے میں الجزائری کے کردار کی تحسین اور مسلمانوں کے عمومی طرز عمل کی پرزور الفاظ میں مذمت کی تھی:
’’شامل نے ان مسلمانوں کی مذمت کی جنھوں نے عیسائیوں کے ساتھ اتنا قابل نفرت رویہ اپنایا اور اپنے مذہب کو بدنام کیا: ’’میں ان حکام کی کور چشمی پر بھونچکا رہ گیا جنھوں نے ایسی زیادتیاں کیں اور اپنے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث فراموش کردی کہ: ’’جس کسی نے بھی اپنے زیر امان رہنے والے کے ساتھ ناانصافی کی، جس کسی نے بھی اس کے خلاف کوئی غلط حرکت کی یا اس کی مرضی کے بغیر اس سے کوئی چیز لی، وہ جان لے کہ روز محشر میں خود اس کے خلاف مدعی بنوں گا۔‘‘آپ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا عملی نمونہ پیش کیا ہے ..... اور خود کو ان لوگوں سے الگ کر لیا ہے جو ان کے اسوے کو رد کرتے ہیں۔ ..... خدا آپ کو ان کے شر سے محفوظ رکھے جو اس کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔‘‘ (ص ۴۲۷)
یہاں یہ ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا کہ الجزائری کے اس کردار کی تعریف میں امام شامل کی آواز کوئی تنہا آواز نہیں، بلکہ اسے گزشتہ ڈیڑھ صدیوں میں اسلامی وغیر اسلامی دنیا میں مسلمہ پذیرائی حاصل رہی ہے اور الجزائری کی حیات وخدمات پر گفتگو کرنے والا کوئی مسلم یا غیر مسلم قلم کار ان کے اس روشن کردار کی تعریف وتوصیف کیے بغیر آگے نہیں بڑھتا۔ مثلاً دیار عرب کی عظیم احیائی تحریک ’’الاخوان المسلمون‘‘ کی سرکاری ویب سائٹ پر جو انسائیکلوپیڈیا فراہم کیا گیا ہے، اس میں ’’اعلام الحرکۃ الاسلامیۃ‘‘ کے سلسلے کے تحت امیر عبدالقادر الجزائری کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور دمشق کے مسیحیوں کو قتل عام سے بچانے کے ضمن میں ان کی مساعی کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے:
’’اس شورش میں امیر عبد القادر کے اسلامی اور انسانی کردار کی بازگشت عالمی حلقوں میں سنائی دی اور دنیا بھر کے بادشاہوں اور عالمی ممالک کے سربراہوں کی طرف سے انھیں تمغوں اور نشانات اعزاز کے ساتھ شکریے کے خطوط موصول ہوئے۔ بڑے بڑے عالمی اخبارات نے ان کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کے عالی اخلاق اور انسان دوست کردار کی تعریف کی۔ امیر کے، مسیحیوں کی حفاظت کا کارنامہ انجام دینے کا محرک محض اپنے دین کی تعلیمات کی پیروی تھا جو مسلمانوں پر ان کے ملک میں مقیم اہل ذمہ کی حفاظت کو لازم ٹھہراتا ہے۔ امیر عبد القادر دین کا گہرا فہم رکھتے، اللہ کے اتارے ہوئے احکام کو جانتے اور اہل ذمہ کے حوالے سے مسلمانوں کی ذمہ داریوں سے پوری طرح واقف تھے، یعنی ان کو پرامن ماحول اور حفاظت مہیا کرنا اور ان کی جانوں، اموال، عزت وآبرو، عبادت گاہوں اور ہر اس چیز کی حفاظت کرنا جو معاہدۂ ذمہ میں طے کی گئی ہوں۔‘‘
(عبد_ القادر_ الجزائری=http://www.ikhwanwiki.com/index.php?title)
ہمارے ہاں پنجاب یونیورسٹی کا شائع کردہ ’’اردو دائرۂ معارف اسلامیہ‘‘ اسلام اور عالم اسلام کے حوالے سے ایک مستند علمی ماخذ کا درجہ رکھتا ہے۔ ’’عبد القادر بن محی الدین‘‘ کے عنوان کے تحت مذکورہ واقعے میں امیر عبد القادر کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے:
’’انھوں نے (اپنی نیک دلی اور عالی ظرفی) کا عملی ثبوت اس طرح پیش کیا کہ جب دروز قبائل عیسائیوں کا قتل عام کرنے پر کمربستہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے تو انھوں نے فرانسیسی قونصل کو ان کے پنجے سے نجات دلائی اور کئی ہزار اشخاص کی جان بچائی۔‘‘ (ج ۱۲، ص ۹۲۳)
الجزائری کی شخصیت وکردار کے ناقدانہ مطالعے کی یہ سطحی کوششیں، جیسا کہ میں نے واضح کیا، ایک منفی ذہن اور خوف کی نفسیات کی پیداوار ہیں، اس لیے ان میں معروضیت، دیانت یا توازن کی توقع کرنا بدیہی طو رپر بے کار ہے۔ ان کی جگہ تاریخ کا کوڑا دان (dust bin) ہے اور چند دنوں میں ان کا ’ہباء ا منثورا‘ ہو جانا نوشتہ دیوار۔ تاہم الجزائری کی داستان حیات کے سنجیدہ، معروضی اور متوازن تنقیدی مطالعات کی نہ صرف گنجائش بلکہ اہمیت وافادیت مسلم ہے اور حالیہ بحث ومباحثہ کے نتیجے میں سنجیدہ اہل فکر جس طرح اس موضوع کی طرف متوجہ ہوئے ہیں، اس سے مجھے مستقبل میں الجزائری کی شخصیت کے، تجزیہ وتنقید کے معروضی اصولوں کے تحت موضوع بحث بنائے جانے کے امکانات بہت روشن دکھائی دیتے ہیں۔ خود راقم الحروف کو اس موضوع پر مزید کام کرنے کی فرصت اور موقع میسر ہوا تو ان شاء اللہ میں بھی اپنا حصہ ضرور ڈالوں گا، تاہم اس موضوع کی طرف متوجہ ہونے والے دیگر اہل فکر کے سامنے چند گزارشات پیش کرنا اس مرحلے پر مناسب خیال کرتا ہوں۔
ایک یہ کہ کسی بھی شخصیت کے طرز فکر سے استفادہ کرنے اور اس کے کردار کی عظمت تسلیم کرنے کے لیے یہ ہرگز ضروری نہیں کہ وہ انسانی کردار کے ہر ہر پہلو کے لحاظ سے معصوم عن الخطا ہو اور اس کی داستان حیات میں کہیں بھی انگلی رکھنے کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ پیغمبروں کے علاوہ کسی بھی دوسرے انسان کی شخصیت کو عظمت کے اس معیار پر پرکھنے کی کوشش کسی بھی لحاظ سے دانش مندی یا قرین انصاف نہیں کہلا سکتی۔ عام انسانی شخصیات کے فکر اور کردار کے مطالعے کا درست طریقہ یہ ہے کہ انھیں خوبیوں اور خامیوں، کمالات اور نقائص، اور پختگی اور کمزوری، دونوں طرح کے عناصر کا مجموعہ سمجھا جائے اور کسی بھی شخصیت کے مقام ومرتبہ اور تاریخی کردار کا مجموعی وزن ان دونوں عناصر کے باہمی تناسب کی روشنی میں متعین کیا جائے۔ کسی شخصیت کو ہر طرح کی کمزوری اور خامی سے پاک دکھانا اور اس کی ہر ہر بات کے دفاع پر کمر کس لینا یا اس کے برعکس بعض ناہمواریوں کی بنا پر پوری شخصیت کو ناقابل اعتبار اور مجروح ٹھہرانا، یہ دونوں روشیں حقیقت پسندی اور معروضیت کے خلاف ہیں اور غیر متوازن طرز فکر کی نشان دہی کرتی ہیں۔
اس ضمن میں مثال کے طور پر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا حوالہ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ سیدنا خالد بن ولید کو خود زبان رسالت سے ’’سیف من سیوف اللہ‘‘ کا لقب عطا ہوا، جبکہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر ان کے جنگی اقدامات سے یوں براءت ظاہر کی کہ ’اللہم انی ابرا الیک مما صنع خالد بن الولید‘ ،’’اے اللہ! خالد بن ولید نے جو کچھ کیا، میں اس سے تیرے سامنے براء ت ظاہر کرتا ہوں‘‘۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بنو جذیمہ کی طرف دعوت اسلام کے لیے بھیجا۔ آپ نے انھیں ان کے خلاف جنگ کا حکم نہیں دیا تھا، لیکن خالد بن ولید نے ان کی طرف سے ہتھیار ڈال دینے اور قبول اسلام پر آمادگی ظاہر کرنے کے باوجود انھیں باندھ کر قتل کر دیا۔ (صحیح بخاری، رقم ۶۷۶۶۔ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲/۳۶۳)
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے اسی نوعیت کے بعض دیگر اقدامات بھی تاریخ وسیرت کی کتابوں میں نقل ہوئے ہیں۔ (مثلاً مالک بن نویرہ کے قتل کا واقعہ۔ دیکھیے: ابن کثیر ، البدایہ والنہایہ ۶/۳۲۲)
اب بڑا نادان ہوگا وہ شخص جو خالد بن ولید کی شخصیت کے اس پہلو کے پیش نظر ان کے اس عظیم مجاہدانہ کردار ہی کی نفی کر دے جو انھوں نے ’’سیف اللہ‘‘کی حیثیت سے اسلام کی سربلندی کے لیے انجام دیا اور اسلام کے ایک جلیل القدر ہیرو کے طور پر ان کی تعریف وتوصیف سن کر یہ اعتراض کرنے لگے کہ اچھا، تم ایسے شخص کو آئیڈیل بنا کر پیش کر رہے ہو جس کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں!!
میری دوسری گزارش یہ ہے کہ انسانی طبائع اس قدر گوناگوں، تاریخی حالات اس قدر رنگا رنگ اور انسانی فیصلوں کے لیے بنیاد بننے والے نفسیاتی و واقعاتی عوامل اور مذہبی واخلاقی اصول اس قدر متنوع ہیں کہ ہر طرح کے افراد کے لیے ہر طرح کے حالات میں اپنے لیے لائحہ عمل متعین کرنے کا کوئی یک رنگ معیار اور کوئی بے لچک ضابطہ وضع کرنا ممکن ہی نہیں۔ مثلاً دیکھیے، انبیائے بنی اسرائیل میں ہمیں سیدنا سلیمان علیہ السلام جیسی شاہانہ جلال اور شان وشکوہ رکھنے والی شخصیت بھی نظر آتی ہے جو قوم سبا کی ملکہ کی طرف سے بھیجے جانے والے قیمتی تحائف کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیتے ہیں کہ مجھے ان کی ضرورت نہیں اور ملکہ کے بذات خود میرے دربار میں حاضر ہونے سے کم تر کوئی بات قبول نہیں اور ان کی ایک دھمکی پر ملکہ سبا اپنی پوری کابینہ کے ساتھ ان کے دربار میں حاضر ہو جانے میں ہی عافیت محسوس کرتی ہے، جبکہ انھی انبیائے بنی اسرائیل میں سیدنا مسیح علیہ السلام بھی شامل ہیں جو اس دور میں پیدا ہوتے ہیں جب رومیوں کے ہاتھوں بنی اسرائیل کی خود مختار حکومت کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا اور اس سوال کے جواب میں کہ کیا قیصر کو جزیہ دینا روا ہے یا نہیں، یہ فرما کر بنی اسرائیل کو رومی سلطنت کی اطاعت اور وفاداری کی تعلیم دیتے ہیں کہ ’’جو قیصر کا ہے، وہ قیصر کو اور جو خدا کا ہے، وہ خدا کو دو‘‘۔ بدیہی طور پر یہ حالات کا فرق ہے جو بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر کے لیے ایک طرح کے جبکہ اسی قوم کے ایک دوسرے پیغمبر کے لیے دوسری طرح کے طرز عمل کا جواز مہیا کرتا ہے۔
پھر یہ کہ کسی مخصوص صورت حال میں لائحہ عمل کی تعیین میں اذواق وطبائع اور زاویہ نگاہ کے فرق کے پیش نظر اجتہادی اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔ میرے نزدیک تاریخی شخصیات اور ان کے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس نکتے کی اہمیت غیر معمولی ہے اور اسے کسی حال میں نظروں سے اوجھل نہیں ہونا چاہیے۔ مثلاً ہماری ماضی قریب کی تاریخ میں برصغیر میں جہاں علماء کی ایک بہت بڑی جماعت انگریزی حکومت کے ساتھ مصالحانہ روش اختیار کرنے کے خلاف تھی، وہاں سرسید احمد خان جیسے حضرات بھی موجود تھے جنھوں نے انگریزی سرکار کی وفاداری کا دم بھرنے اور مسلمانوں کو بحیثیت قوم اس طرز فکر کی طرف مائل کرنے کو اپنا مقصد حیات قرار دے رکھا تھا۔ سرسید کے اس مسلک سے یقیناًسخت اختلاف کیا جا سکتا ہے اور اس کی وجہ سے ان کے مخالفین کی زبان طعن ہمیشہ ان پر دراز رہی ہے، تاہم مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں:
’’سید احمد بڑے حوصلے کا آدمی تھا، مگر انھوں نے خواہ مخواہ دین میں ٹانگ اڑا کر اپنے آپ کو بدنام کیا، ورنہ ان کو تو لوگ دنیا کا تو ضرور ہی پیشوا بنا لیتے۔ بڑے محب قوم تھے۔ دین میں رخنہ اندازی کرنے کی وجہ سے لوگ ان سے نفرت کرنے لگے تھے۔ اسی سے نقصان ہوا۔ ....... یہ جو مشہور ہے کہ وہ انگریزوں کا خیر خواہ تھا، یہ غلط ہے بلکہ بڑا دانش مند تھا۔ یہ سمجھتا تھا کہ انگریز برسر حکومت ہیں۔ ان سے بگاڑ کر کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ ان سے مل کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات حکیم الامت، ج ۱۱، ص ۲۶۷۔ ۲۶۹)
دلچسپ بات یہ ہے کہ سرسید کے زاویہ نظر کی تائید کرنے والے حضرات خود علماء کی صفوں میں بھی موجود تھے۔ ذرا درج ذیل اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’اگر غور کر کے دیکھو تو فی الحقیقت جس زمانہ میں انگریز ہندوستان میں آتے ہیں، اس وقت اسلامی سلطنت ہندوستان میں برائے نام رہ چکی تھی اور پنجاب میں سکھوں کا نہایت تسلط ہو گیا تھا۔ اگر انگریز ان کا قلع قمع نہ کرتے تو آج تمام ہندوستان میں سکھوں کا ڈنکا بجتا۔ ان کا طرز حکومت جو کچھ تھا اور جو کچھ وہ اسلام اور اسلامیات کی مزاحمت کرتے تھے، وہ آپ سے مخفی نہیں۔ اگر خدا نخواستہ ہندوستان پر ان کی سلطنت ہو جاتی تو آج مسلمانوں سے بھنگیوں اور چماروں کی طرح بیگار لی جاتی۔ میرے خیال میں تو خدا کی رحمت مسلمانوں پر ہوئی کہ انگریز آئے اور انھوں نے سکھوں کا قلع قمع کیا اور ایک مہذب سلطنت قائم ہو گئی جس نے مذہب کی آزادی کو اپنا اولیں فرض قرار دیا۔ یہ تو آپ کو بھی معلوم ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کے دماغ سلطنت کے قابل نہ رہے تھے اور اگر عام مسلمانوں نے کچھ قلیل سی کوشش کی بھی ، کیونکہ تقدیر موافق نہیں تھی، کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔‘‘
یہ اقتباس، جس میں انگریزی حکومت کو ’’خدا کی رحمت‘‘ قرار دیا گیا ہے، انگریزی تہذیب سے مرعوب کسی تجدد زدہ شخص کی تحریر سے نہیں، حلقہ دیوبند کے نامور محدث اور سنن ابی داود کے شارح مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ کے ایک خط سے ماخوذ ہے۔ اس کا حوالہ دینے سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ صورت حال کو سرسید کی نظر سے دیکھنے والے حضرات خود علماء کے اندر بھی موجود تھے اور اس زاویہ نظر کی تائید نہیں تو کم سے کم ان کی پوزیشن کو ہمدردی سے سمجھ کر انھیں ’’انگریز کا ایجنٹ‘‘ کہنے سے گریز کرنے والے تو تھے ہی، جیسا کہ مولانا اشرف علی تھانوی نے سرسید مرحوم کے متعلق لکھا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر بات کا اپنا ایک محل ہوتا ہے اور وہ اپنے محل میں ہی اچھی لگتی اور جچتی ہے۔ پھر اس بات میں انسانی طبائع اور فہم کے لحاظ سے اختلاف بھی ہو سکتا ہے کہ کون سا موقع غیرت وشجاعت اور عزم وہمت کے اظہار کا ہے اور کون سا حکمت اور تحمل سے کام لینے کا اور تدبیر سے زیادہ تقدیر پر بھروسہ کرنے کا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ جب تک کسی واضح اخلاقی وشرعی اصول کی پامالی کا مسئلہ نہ ہو، ہم لوگوں کے لیے اپنے اپنے حالات اور اپنے اپنے طبائع کے لحاظ سے اپنی حکمت عملی خود متعین کرنے کا حق تسلیم کریں اور خواہ خواہ اپنے آپ کو ’’حکم‘‘ کے منصب پر فائز کرنا ضروری نہ سمجھیں۔
تیسرا اور آخری نکتہ یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ الجزائری کی داستان حیات پر کائزر کی کتاب کوئی حرف آخر نہیں، بلکہ صرف ’’ایک‘‘ کاوش کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ سامنے کی بات ہے کہ کوئی بھی مصنف جب کسی شخصیت کی داستان حیات لکھتا ہے تو واقعات کی تحقیق اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں اپنے فکری پس منظر، ذاتی رجحانات وتعصبات اور پسند وناپسند سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ کائزر بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ وہ ایک مغربی اور مسیحی پس منظر رکھنے والے مصنف ہیں اور بنیادی طور پر یہ کتاب بھی مغربی قارئین کے فکر ومزاج کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے۔ اس لحاظ سے ان کا الجزائری کی شخصیت اور طرز فکر میں ایسے پہلو تلاش کرنا اور انھیں اجاگر کرنے کی کوشش کرنا جو رواداری اور وسعت نظر کے مغربی انداز فکر کے قریب تر ہوں، بدیہی طور پر قابل فہم ہے۔ مثال کے طور پر انھوں نے ابن عربی کے فلسفہ وحدت الوجود سے الجزائری کی دلچسپی کے تناظر میں ان کے افکار سے یہ تاثر لیا ہے کہ وہ وحدت ادیان یعنی سارے مذاہب کے یکساں طور پر برحق ہونے کے نقطہ نظر کے قائل تھے۔ یہ ظاہر ہے کہ ایک ایسا استنتاج ہے جس کی توثیق الجزائری کی اصل تحریرات اور افکار کی مراجعت کیے بغیر نہیں کی جا سکتی۔ والد گرامی مولانا زاہد الراشدی نے اسی تناظر میں کائزر کی کتاب کے مقدمے میں اپنا اختلافی نوٹ ان الفاظ میں درج فرمایا ہے کہ:
’’امیر عبد القادر الجزائری کو شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ کا پیروکار، ان کے علوم کا شارح اور ان کے فلسفہ وحدت الوجود کا قائل ہونے کی وجہ سے ان کے فکر کے ڈانڈے ’’وحدت ادیان‘‘ کے تصور سے ملانے کی کوشش کی گئی (جس کی جھلک جان کائزر کی زیر نظر کتاب میں بھی دکھائی دیتی ہے)، حالانکہ وحدت الوجود اور وحدت ادیان میں زمین وآسمان کا فرق ہے اور شیخ اکبرؒ کے نظریہ وحدت الوجود کا مطلب وحدت ادیان ہرگز نہیں ہے۔‘‘
اس نوعیت کی اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو اردو ترجمے پر نظر ثانی کرتے ہوئے مجھے کھٹکی تھیں، لیکن علمی دیانت داری کا تقاضا یہ تھا کہ کائزر نے الجزائری کی شخصیت کو جیسے سمجھا اور پیش کیا ہے، اسے اسی طرح رہنے دیا جائے اور اس میں اپنے خیالات کی آمیزش نہ کی جائے۔ مزید برآں اس نکتے کو بھی ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے کہ کائزر نے الجزائری کی داستان حیات کو ایک دلچسپ قصے یا یوں کہہ لیجیے کہ ناول کے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس کے، بطور ایک ادبی صنف کے، اپنے کچھ تقاضے اور ضروریات ہوتی ہیں۔ ملتان سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’’نقیب ختم نبوت‘‘ میں کائزر کی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ کوئی مستند واقعاتی کتاب نہیں، بلکہ ایک ناول ہے۔ مجھے اس بات سے کلی اتفاق تو نہیں، لیکن اتنی بات میں نے بھی اپنی تعارفی تحریر میں لکھی ہے کہ یہ کتاب بحیثیت مجموعی مستند واقعات پر مبنی ہوتے ہوئے ’’کسی حد تک ناول کے انداز میں‘‘ لکھی گئی ہے۔ اب یہ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے محققین کا کام ہے کہ وہ الجزائری کی داستان حیات کے اصل مآخذ سے رجوع کریں اور اپنی تحقیق کے نتائج قارئین کے سامنے لائیں کہ علم وتحقیق کی دنیا میں پڑھنے والوں کی درست تر نتائج تک راہ نمائی کا طریقہ یہی ہے۔
مجھے امید ہے کہ اگر امیر عبد القادر الجزائری یا کسی بھی تاریخی شخصیت کے طرز فکر اور کردار کا مطالعہ ان گزارشات کو ملحوظ رکھ کر کیا جائے گا تو مطالعے کے نتائج حقیقت پسندی اور معروضیت سے قریب تر ہوں گے اور اس سے ہمیں اس شخصیت کا ایک بہتر اور متوازن تجزیہ کرنے میں مدد ملے گی۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
مکرمی جناب مدیر صاحب ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے ماہنامہ کی وساطت سے محترم جناب خواجہ امتیاز احمد صاحب سابق ناظم اسلامی جمعیۃ طلبہ اسلام گوجرانوالہ نے ہمارے استفسار پر اپنے سوالات کا اظہار فرمایا۔ ہم ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے قارئین کو تذبذب اور ابہام کی کیفیت سے نکالا ہے، کیونکہ ان کے پہلے اجمالی بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ شاید وہ کوئی ایسے علمی سوالات تھے جن کا جواب مفسر قرآن ؒ نہیں دے سکے تھے یا خدانخواستہ بلاوجہ انہوں نے جواب نہ دے کر اپنے منصب سے بے وفائی کی تھی۔ لیکن مئی کے شمارے میں محترم خواجہ صاحب نے اپنے بیان میں حیرت انگیز تبدیلی کرتے ہوئے اس عقدہ کو حل کر دیا ہے اور یہ اقرار بھی کر لیا ہے کہ ’’مفسر قرآنؒ ایک جید، با کردار اور صاحب عمل علماء میں سے تھے، ہمارے دل میں ان کا بہت مقام ہے، میرے استاد محترم صوفی عبد الحمید سواتی ؒ جن کا مقام و مرتبہ میرے نزدیک مولانا مودودیؒ سے کم نہیں ہے‘‘۔
قارئین کرام نے ان کے اٹھائے ہوئے سوالات کو پڑھ کر خود ہی محسوس فرمالیا ہوگا کہ ان تمام باتوں کا جواب براہ راست مفسر قرآنؒ کے ذمے بنتا ہی نہیں تھا کیونکہ ہر آدمی صرف اپنے قول و فعل کا ذمہ دار ہوتا ہے، دوسروں کا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے: ولا تزر وازرۃ وزر اخریٰ کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور جناب نبی اکرمؐ نے بھی اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں زمانہ جاہلیت کی رسم کو ختم کرتے ہوئے اعلان کر دیا: الا، لا یجنی جان الا علیٰ نفسہ ہر جنایت کرنے والا خود ذمہ دار ہوگا۔ اور مشہور محاورہ بھی ہے کہ ’’جو کرے وہی بھرے‘‘۔ اور جس نے ایسا کام کیا ہی نہ ہو، اسے ’’جرم نا کردہ کی سزا‘‘ دینا روا نہیں ہے۔ یہ تو ’’کرے کوئی اور بھرے کوئی‘‘ والا معاملہ بن جاتا ہے۔
آپ نے جتنے سوالات اٹھائے ہیں، ان کا تعلق سیاسی بیانات سے ہے۔ مفسر قرآنؒ کا تعلق علماء حق کی اس جماعت سے تھا جو مذہبی، نظریاتی اور سیاسی اختلاف میں دلیل کی زبان سے بات کرنے کے قائل تھے۔ تہذیب و اخلاق کے دائرہ کو کبھی کراس نہیں کرتے تھے اور ایسے اختلافات میں وہ ذاتیات پر نہ تو خود اٹیک کرتے تھے اور نہ ہی اسے پسند کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسی ابحاث سے بھی اجتناب کرتے تھے۔ ان کے اس رویے کا ایک جہان گواہ اور مداح ہے۔ مودودی صاحب اور جماعت اسلامی سے بھی انہوں نے اپنے اکابرین کی طرح اختلاف کیا ہے۔ مودوی صاحب نے ’’تفہیم القرآن‘‘ کے جن جن مقامات میں ٹھوکریں کھائی ہیں، ان کا مدلل اور مہذب رد آپ ’’معالم العرفان فی دروس القرآن‘‘ میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ حضرت مدنی ؒ کے ’’خطبات صدارت‘‘ کے لیے لکھا ہوا ان کا مقدمہ جس میں مودودی صاحب پر انہوں نے عالمانہ تنقید کی ہے، پڑھنے کے قابل ہے۔ جماعت اسلامی کے ایک فرد حافظ عبید اللہ صاحب نے خط لکھ کر مفسر قرآنؒ سے جامعہ نصرۃ العلوم میں داخلہ کے لیے مشورہ اور فارم طلب کیا جس میں جامعہ نصرۃ العلوم کا دو ٹوک مسلک لکھا ہواہے۔ حافظ صاحب موصوف نے خیانت کرتے ہوئے اسے ۲۲ مارچ ۱۹۶۸ء کے ’’آئین‘‘ میں تنقیدی نظر سے شائع کیا جس کے جواب میں مفسر قرآنؒ نے ایک طویل خط انہیں ارسال فرمایا۔ اس خط کی ایک کاپی ہمارے پاس محفوظ تھی۔ اسے ’’مقالات سواتی‘‘ میں بعنوان ’’مودودی صاحب کے بعض نظریات دین کے لیے نقصان دہ ہیں‘‘ شائع کیا گیا ہے۔ وہ خط بھی مطالعہ کے لائق ہے۔ اس میں وہ برملا لکھتے ہیں:
’’محترم! آپ اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ ہم لوگ مودودی صاحب کے ساتھ کسی قسم کا ذاتی عناد نہیں رکھتے اور نہ سیاسی دھڑا بندی کی بنا پر ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ ذاتی بغض و عناد یا دھڑا بندی اور دنیاوی مفاد کی خاطر کسی شخص سے عناد رکھنا ہم حرام سمجھتے ہیں۔ مودودی صاحب سے جو اختلاف ہے، وہ دین، شریعت اور آخرت کی وجہ سے ہے اور ہم مودودی صاحب کو مسلمان سمجھتے، لیکن ’’ضال و مضل‘‘ کہتے ہیں اور یہ ان کے خاص عقائد و خیالات اور مسائل و تعبیرات کی وجہ سے ہے جو انہوں نے جمہور علماء سلف و خلف کے خلاف لکھے ہیں اور پھر باوجود اس کے کہ مختلف علماء نے ان کو خبردار کیا، متنبہ کیا لیکن انہوں نے اپنی روش میں قطعاً تبدیلی نہیں کی اور مختلف غلط مسائل میں انہوں نے ہر جگہ تاویلات کے دامن میں پناہ لینے کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔۔۔ میں نے ’’جماعت اسلامی‘‘ کے یوم ولادت سے لے کر آج تک اکثر تحریریں خود پڑھی ہیں اور پورے سیاق و سباق کو ملحوظ رکھتے ہوئے ’’محض شنید‘‘ پر مدار نہیں رکھا۔‘‘ (ص ۲۱۵، ۲۱۶)
اس سے آپ کو یہ تو پتہ چل گیا ہوگا کہ آپ کے استاذ محترمؒ کو مودودی صاحب اور جماعت اسلامی کے بارے میں کس قدر گہری معلومات حاصل تھیں اور وہ ہر سنی سنائی بات پر یقین نہیں رکھتے تھے بلکہ صرف مصدقہ بات کی تائید یا تردید فرماتے تھے۔
آپ کے اٹھائے ہوئے سوالات کا جواب دینا ہمارے ذمہ ضروری تو نہیں ہے، لیکن ان کے منظر عام پر آنے سے چونکہ علماء حق خصوصاً مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی حیثیت مجروح ہوئی ہے، اس لیے ہم ان سوالات کے مختصراور صرف الزامی جواب عرض کرنا چاہتے ہیں۔ بطور تمہید کے عرض ہے کہ آپ نے جتنے بھی سوالات اٹھائے ہیں، ان سب کے جواب میں قدر مشترک یہ ہے کہ یہ من و عن کسی نقل صحیح سے ثابت نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے حوالے کے طور پر جتنے بھی لوگوں کو پیش کیا ہے، وہ سب آنجہانی ہیں۔ اگر یہ باتیں آپ کسی معتمد کتاب سے نقل کرتے تو ان کی کوئی حیثیت بھی ہوتی۔ صرف آپ کی بات پر، وہ بھی سنی سنائی جو ایک سے دس تک منتقل ہوتے ہوئے کچھ سے کچھ بن جاتی ہے، اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ بالخصوص جبکہ آپ کو ان لوگوں کے ساتھ کوئی خوش عقیدگی بھی نہیں ہے اور آپ ان کی مخالف جماعت کے ایک اہم عہدہ دار بھی رہے ہیں۔ عربی کا شعر ہے کہ
حبک الشیی یعمی و یصم
وبغضک الشیی یعمی و یصم
کسی چیز کی محبت اور کسی چیز سے بغض انسان کو اندھا اور بہرہ کر دیتا ہے۔
ہاں یہ بات بھی ضرور یاد رہے کہ مودودی صاحب اور ان کی جماعت اسلامی کے صرف علماء ہی مخالف نہیں تھے جس کا سارا غصہ آپ نے ’’نزلہ بر عضو ضعیف می ریزد‘‘ کے مصداق صرف علماء پر گرا دیا ہے۔ چنانچہ مودودی صاحب کا دفاع کرنے والے جناب عاصم نعمانی صاحب نے اس بات کا برملا اقرار کیا ہے جو ان کی کتاب ’’مولانا مودودی پر جھوٹے الزامات اور ان کے مدلل جوابات‘‘ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’ان مخالفین میں مغرب زدہ لوگ، الحاد و دہریت پسند، ہر رنگ کے بے دین، سرمایہ داری کے حامی، سوشلسٹ اور کمیونسٹ، قادیانی اور منکرین سنت وغیرہ سبھی شامل ہیں اور ان میں سے ہر گروہ اپنی اپنی بساط کے مطابق مولانا مودودی کو لوگوں کی نظروں سے گرانے اور انہیں بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ افسوس ہے کہ ان میں کچھ ایسے علماء حضرات بھی شامل ہوگئے ہیں جو خود تو خدا کے دین کے لیے کچھ کرنے کی ہمت اور توفیق نہیں پاتے تھے، لیکن سید مودودی کو متحرک اور سرگرم عمل دیکھ کر ان کے اندر ایک ناقابل فہم حسد اور بغض پیدا ہوگیا ہے اور وہ مولانا کے دوسرے بے دین مخالفوں کے شانہ بشانہ کھڑے مولانا پر الزامات اور بہتانات کی گولہ باری کر رہے ہیں۔‘‘ (ص ۱۱)
اس سے معلوم ہوا کہ جماعت اسلامی اور مودودی صاحب کے مخالفین میں تمام اسلامی غیر اسلامی، مذہبی اور سیاسی جماعتیں تھیں۔ ان تمام کے الزامات و اتہامات اور ان کے طرز بیان کو صرف علماء پر چسپاں کر دینا کہاں کا انصاف ہے؟ جب مودودی صاحب سے یہ اختلافات ابتدائی دور میں چل رہے تھے، اس وقت علماء حق کی نمائندہ جماعت ’’جمعیۃ علماء اسلام‘‘ کے امیر امام الاولیاء شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے برملا ایک اعلان جاری کیا تھا جو ان کی کتاب ‘‘حق پرست علماء کی مودودیت سے ناراضگی کے اسباب‘‘ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’خدا کی قسم! مجھے مودودی صاحب سے کوئی عداوت نہیں ہے میں نے جو کچھ ان کے متعلق تحریر کیا ہے، وہ محض ساڑھے تیرہ سو سالہ اسلام کی مخالفت اور اس کے علمبرداروں کی توہین و تحقیر جو انہوں نے کی ہے، اسے برداشت نہیں کر سکا اور چونکہ وہ اپنے خیالات کا پراپیگنڈہ اپنی جماعت کے اخبارات و رسائل میں کر رہے ہیں، اس لیے قاعدہ یہ ہے کہ جو حربہ مخالف کے ہاتھ میں ہو، وہی حربہ ہمارے ہاتھ میں بھی ہونا چاہیے۔ اس لیے ان کی غلط روش سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لیے اپنے خیالات کی اشاعت اخبار میں مناسب بلکہ ضروری سمجھی۔‘‘ (ص ۸۴)
اب ذرا ان اسباب پر بھی غور فرما لیجیے جن کی وجہ سے مودودی صاحب کے مخالفین نے مثبت یا منفی رویہ اختیار کیا۔
(۱) آپ کے سوال نمبر ۱ اور نمبر ۲ کا تعلق اسی سے ہے۔ مودودی صاحب نے امہات المومنین حضرت حفصہؓ اور حضرت عائشہؓ کے بارے میں ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۹ نومبر ۶۷ء میں یہ لکھا کہ:
’’نبی کے مقابلہ میں کچھ زیادہ جری ہوگئی تھیں اور حضورؐ سے زبان درازی کرنے لگی تھیں۔‘‘ الخ (بحوالہ علمی محاسبہ صفحہ ۳۲۶ از حضرت مولاناقاضی مظہر حسینؒ)
جب علماء نے اس پر پکڑ کی اور سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ توہین آمیز جملہ ہے تو وہ تاویلات کا سہارا لینے لگے اور اپنی بات پر آخر تک مصر رہے اور’’تفہیم القرآن‘‘ میں پھر دوبارہ یہی لکھا کہ ’’حضورؐ سے زبان درازی نہ کیا کرو۔‘‘ (ج ۶ ص ۲۴)
اس کے جواب میں علما نے اپنے اپنے انداز میں ان کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن علما کے علاوہ ان کے عام مخالفین نے مودودی صاحب کی اپنی بیٹیوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ ہمارے نزدیک مودودی صاحب کا اور ان کے ایسے مخالفین دونوں ہی کا طرز بیان غلط تھا، لیکن عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ مودودی صاحب کے اپنے ہی رویے کا رد عمل تھا۔ مودودی صاحب اپنے سیاسی مخالفوں کی خواتین کو بھی برا بھلا کہنے سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ جناب حکیم عبد القوی دریابادی نے اپنی کتاب ’’معاصرین حضرت مولانا عبد الماجد دریابادی ؒ ‘‘ میں برملا لکھا ہے کہ :
’’جب صدر پاکستان کے الیکشن کا مسئلہ چھڑا اور سردار ایوب خان (صدر پاکستان) سے خفا ہوئے تو فرما دیا کہ ایک طرف ان میں کوئی خوبی اس کے سوا نہیں کہ وہ مرد ہیں اور دوسری طرف ان کے مقابل میں فاطمہ جناح ہیں جن میں کوئی برائی نہیں سوا اس کے کہ وہ عورت ہیں۔ زبان کی اس درجہ بے احتیاطی بجائے خود ایک قہر الٰہی ہے۔ اللہ اپنے اس قہر سے ہر مسلمان کو محفوظ فرمائے۔‘‘ (ص ۱۷۴)
ذرا غور فرمائیے، مودودی صاحب نے عورت کو مطلقاً برائی سے تعبیر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود مودودی صاحب کے اپنے ہی فرزند ارجمند سید حیدر فاروق مودودی صاحب نے روزنامہ پاکستان ۲۶ جولائی ۱۹۹۷ء میں انٹرویو دیا تھا جو سارے کا سارا پڑھنے کے قابل ہے، اس میں انہوں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ ’’جماعت اسلامی نے ہمیشہ منفی کام کیے ہیں۔ میں نے پچاس سال جماعت کو اندر باہر سے دیکھا ہے۔ یہ مذہب کے نام پر فساد کرتی ہے، آج بھی اس میں (ہسٹری شیئڑز) کو چن چن کر آگے لایا جا رہا ہے۔ روزنامہ پاکستان میں انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مولانا مودودی کو صرف علمی کام کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے جتنا سیاسی کام کیا، وہ تمام منفی تھا۔ علمی اور سیاسی جدوجہد کے تقاضے الگ الگ ہیں۔ جیل، جلسہ، جلوس اور کاغذ قلم کو بیک وقت ساتھ لے کر چلنا صرف انہی کا خاصہ ہے۔ اسی وجہ سے مولانا نے سیاسی مجبوری کے تحت بہت سی ایسی باتیں کہہ دیں جو نہیں کہنا چاہیے تھیں۔‘‘
یہ مقام عبرت ہے کہ مودودی صاحب نے دوسروں کی خواتین کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا، قدرت نے ان کی اپنی اولاد کو ان کے خلاف کھڑا کر دیا۔ اسی صاحب زادہ نے ۷۔ اپریل ۱۹۸۳ء کے روزنامہ جنگ راولپنڈی کے پریس ریکارڈ پر موجود اس بیان میں مودودی صاحب کے درون خانہ کی قلعی یوں کھولی ہے :
’’مولانا مودودی مرحوم کے صاحبزادے سید حیدر فاروق مودودی نے اپنی والدہ محمودہ بیگم کے خلاف ۸۳ ہزار ۹۸۳ روپے کی عدم ادائیگی کا دعویٰ دائر کر دیا ہے۔ مدعی نے اپنے دعویٰ میں لکھا ہے کہ اس کی والدہ جانشینی کے سرٹیفکیٹ کے تحت اپنے والد کے ترکے میں سے اس کا حصہ ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مولانا مودودی کی بنکوں میں چھوڑی ہوئی رقم دس لاکھ ۳۷ ہزار روپے میں سے اس کا حصہ ایک لاکھ بیس ہزار ۹۸۳ روپے بنتا ہے جس میں سے اسے صرف ۳۷ ہزار روپے ادا کیا گیا ہے باقی رقم کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے۔‘‘ (بحوالہ دو بھائی ابوالاعلیٰ مودودی اور امام خمینی سنسنی خیز انکشافات ص ۴۸)
فاعتبروا یا اولی الابصار۔
آپ نے مودودی صاحب کی بیٹیوں سے متعلق جو سوال لکھے ہیں، یہ ’’بات سے بتنگڑ‘‘ کی صورت اختیار کیے ہوئے ہیں، اس لیے کہ یہی اعتراض جناب عاصم نعمانی صاحب نے بھی اپنی سابقہ مذکورہ کتاب کے صفحہ ۲۵ میں نقل کیے ہیں۔ ان کے نقل کردہ اعتراضات اور آپ کے نقل کردہ سوالات میں بون بعید ہے۔ اس لیے حکم شریعت ہے کہ سنی سنائی باتوں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے، اور حضورؐ نے تو کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع سے وعید بھی فرمائی ہے کہ انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کر دے۔ ان کے نقل کردہ الزامات اور اپنے نقل کردہ سوالات کا ذرا موازنہ کر لیں، وہ نقل کرتے ہیں:
’’الزام: مودودی صاحب نے اپنی تحریروں میں مخلوط تعلیم کی سخت مذمت کی ہے مگر اپنی بیٹیوں کو انہوں نے مخلوط تعلیم کی درسگاہوں میں تعلیم دلوائی ہے اور اب بھی یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم دلوا رہے ہیں۔ ان کی لڑکیاں مخلوط کلاسوں میں پڑھتی ہیں‘‘۔
’’الزام: مولانا مودودی صاحب کی لڑکیاں اور بیوی پردہ نہیں کرتیں‘‘۔
ایسے اعتراض کرنے والے مودودی صاحب کے جملہ مخالفین تھے جسے آپ نے صرف علماء کے ذمہ لگا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب فرمائے۔ اب غور فرمائیں اگر لوگ مودودی صاحب کی بیٹیوں پر اعتراض کریں تو آپ ناراض ہوں، لیکن وہی مودودی صاحب دوسروں کی عورتوں پر اعتراض کریں تو یہ کس اخلاق اور شریعت میں جائز ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ ان باتوں کے لیے اسباب مودودی صاحب نے خود فراہم کیے تھے۔ دراصل مودودی صاحب کی لڑکیوں پر ان کے مخالفین کے اعتراض کی بنیادی وجہ ان کی اپنی ایک تحریر ہے۔ ’’ رسائل و مسائل حصہ اول ص ۱۳۲ بعنوان فقہیات میں لکھتے ہیں:
’’ آج کل کے میڈیکل کالجوں اور نرسنگ کی تربیت گاہوں اور ہسپتالوں میں مسلمان لڑکیوں کو بھیجنے سے لاکھ درجے بہتر یہ ہے کہ ان کو قبروں میں دفن کر دیا جائے۔ رائج الوقت گرلز کالجوں میں جا کر تعلیم حاصل کرنے اور پھر معلمات بننے کا معاملہ بھی اس سے کچھ بہت مختلف نہیں ہے۔‘‘
مخالفین کا اعتراض یہ تھا کہ جب لڑکیوں کو گرلز کالجوں میں تعلیم دلوانے سے زندہ درگور کرنا ہی بہتر ہے تو جناب والا کی اپنی بچیوں کے لیے اس کا جواز کیسے ہوگیا، یا یہ فرمان صرف ما و شما کی بچیوں کے لیے تھا؟ بعد ازاں ان کے عام مخالفین نے اس میں نمک مرچ لگا کر مخلوط تعلیم اور بے پردگی وغیرہ کی باتیں بھی ساتھ شامل کر لیں جسے ہم قطعاً درست نہیں سمجھتے۔ مذہبی یا سیاسی مخاصمت میں کسی کی ماں، بہن، بیٹی، بیوی یا کسی بھی خاتون پر ایسے اتہام لگانا بالکل ناروا ہے اوراسی طرح اس کا الزام صرف علماء پر لگانا اس سے بھی کہیں بڑا جرم ہے۔
(۲) آپ کے سوال نمبر ۳ سے متعلق عرض ہے کہ بد قسمتی سے ہمارے ملک پاکستان میں سیاسی مخالفین ایک دوسرے کو بہت ہی قبیح طریقے سے پکارتے ہیں اور اس میں کوئی بھی بچا ہوا نہیں ہے، الا ماشاء اللہ۔ یہ طریقہ سراسر غلط ہے، لیکن اس میں بھی صرف کسی ایک کو نشانہ بنانا اور دوسروں کو اسی جرم میں چھوڑ دینا کہاں کا انصاف ہے؟ مولانا عبدالصمد رحمانی صاحب اپنی کتاب ’’جماعت اسلامی کے دعوے، خدمات اور طریقۂ کار کا جائزہ‘‘ کے صفحہ ۳۵۳ پر لکھتے ہیں:
’’مولانا مودودی کا فتویٰ :
’’جو لوگ دستور جماعت اسلامی کے حدود سے باہر ہیں وہ دائرہ امت مسلمہ سے باہر ہیں۔‘‘
’’جو گروہ قرآن کی نصوص قطعیہ سے مرتب کیے ہوئے اس دستور جماعت اسلامی کی حدود کے اندر ہیں انہیں ہم امت مسلمہ کے اندر شمار کرتے ہیں، اور جن لوگوں نے ان حدود کو پھاند لیا ہے انہیں دائرہ امت کے باہر سمجھنے پر مجبور ہیں۔‘‘ (ترجمان القرآن ج ۲۶، ص ۲۷۷)
لیجیے آپ تو صرف فتویٰ فروشی کے لفظ سے چیں بجبیں ہو رہے ہیں، یہاں تو جماعت اسلامی کے علاوہ سب کو امت سے ہی خارج کر دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی آپ کی نظر میں نہ تو وہ فتویٰ فروش ہیں اور نہ ہی قصور وار ہیں، فیا للعجب۔
(۳) اس کا تعلق آپ کے سوال نمبر ۴ سے ہے۔ معروف صحافی جناب ممتاز علی عاصی صاحب اپنی کتاب ’’مولانا مودودی اور جماعت اسلامی ایک جائزہ‘‘ کے صفحہ نمبر ۱۹۷ میں لکھتے ہیں:
’’خود نمائی میں بعض دفعہ مولانا (مودودی)سوقیانہ باتوں پر اتر آتے تھے۔ مثلاً اس انٹرویو کا آخری پیرا پڑھیے جس میں لکھا ہے کہ جب ان سے تذکرہ کیا گیا کہ ’’حکمران‘‘ طبقہ آپ کے لٹریچر سے استفادہ توکرتا ہے، لیکن اس کا اقرار کرتے ہوئے ہچکچاتا ہے تو مولانا نے فرمایا ’’ان کی پوزیشن ان ہندو دیویوں جیسی ہے جو اپنے خاوندوں کا نام لیتے ہوئے شرماتی ہیں‘‘۔ کیا یہ الفاظ ایک عالم دین بلکہ اس زمانے کے بزعم خود (بہت بڑے مصلح) کے ہو سکتے ہیں۔ اس کا فیصلہ خود قاری کر سکتے ہیں۔‘‘ (نوائے وقت لاہور ۷ نومبر ۱۹۶۳ء)
لیجئے مودودی صاحب نے حکمران طبقہ کو ہندوؤں کی دیویاں اور اپنے آپ کو ان کا خاوند بنا لیا ہے، آپ چیل اور ہیر کا مسئلہ لیے بیٹھے ہیں۔
(۳) اس کا تعلق آپ کے سوال نمبر ۵ سے ہے۔ معروف صحافی جناب ممتاز علی عاصی صاحب اپنی کتاب ’’مولانا مودودی اور جماعت اسلامی ایک جائزہ‘‘ کے صفحہ نمبر ۵۷ میں لکھتے ہیں:
’’مولانا اور ادھر ان کے رفقاء کار مختلف رسائل، کتابچوں، خطبات اور تقریروں میں پاکستان پر اظہار خیال کر رہے تھے، مثلاً مضامین کے دو عنوان ملاحظہ ہوں: (۱)۔۔۔۔۔۔(۲) لنگڑا پاکستان‘‘ (کوثر لاہور ۱۳ جون ۱۹۴۷ء)
مولانا محمد عبد اللہ صاحب اپنی کتاب ’’صحابہ کرامؓ اور ان پر تنقید‘‘ کے حاشیہ صفحہ نمبر ۱۳۰ میں لکھتے ہیں:
’’مولانا مودودی کی زبان کی شستگی اور پاکیزگی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے حضرات زحمت گوارا فرما کر ’’ترجمان القرآن‘‘ کے ان اوراق کا مطالعہ فرمائیں جن میں انہوں نے اپنے مخالف علماء کے حق میں کمینہ قسم کے مخالف، متعصب، حاسد، کینہ توز، کم ہمت، نا اہل، مناع للخیر، الزام اور بہتان تراش، غرض پرست اور دنی وغیرہ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔‘‘
آپ صرف لنگڑا مودودیا سننے سے ہی گھبرا گئے، ادھر تو سارے پاکستان کو لنگڑا اور علماء کو طرح طرح کے القابات سے نوازا گیا ہے جس پر آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔
(۴) اس کا تعلق آپ کے سوال نمبر ۶ سے ہے۔جناب سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب لکھتے ہیں۔
’’پھر جو لوگ مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے اٹھتے ہیں، ان کی زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی ادنیٰ جھلک تک نظر نہیں آتی، کہیں مکمل فرنگیت ہے، کہیں نہرو اور گاندھی کا اتباع ہے، کہیں جبوں اور عماموں میں سیاہ دل اور گندے اخلاق لپٹے ہوئے ہیں، زبان سے وعظ، عمل میں بدکاریاں، ظاہر میں خدمت دین اور باطن میں خیانتیں، غداریاں، نفسانی اغراض کی بندگیاں‘‘۔(تحریک آزادی ہند اور مسلمان(مشتمل برمسلمان اور موجودہ سیاسی کشمش حصہ اول و دوم اور مسئلہ قومیت ص ۱۰۳)
لیجئے، سیاہ دل ایک نہیں ساری امت کے علماء کو بغیر کسی امتیاز کے بیک جنبش قلم سیاہ دل قرار دے دیا گیا ہے، لیکن آپ کو اعتراض پھر بھی نہیں ہے۔
حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور مولانا محمد چراغ مرحوم دارالعلوم دیوبند میں کلاس فیلو تھے۔ دونوں نے محدث العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ سے ۱۹۱۸ء میں دورہ حدیث پڑھا تھا۔ مولانا ہزارویؒ مولانا چراغ مرحوم سے علم میں فائق بھی تھے۔ ان کی کلاس میں اول انڈیا کے ایک عالم جبکہ دوسرے نمبر پر مولانا ہزارویؒ آئے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں کچھ عرصہ دارالعلوم دیوبند میں مدرس بھی متعین کیا گیا تھا اور پھر دارالعلوم نے اپنے نمائندہ کے طور پر قاضی کے عہدہ پر انہیں حیدر آباد بھیجا تھا۔ وہ مولانا چراغ مرحوم کو جتنا قریب سے جانتے تھے، ما و شما نہیں جانتے۔ مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی علمی پوزیشن کے بارے میں بریگیڈیئر جناب فیوض الرحمن جدون اپنی کتاب ’’مشاہیر علماء ج ۲ ص ۵۴۷‘‘میں لکھتے ہیں:
’’ایک رسالہ پوسٹ مارٹم بھی لکھا جس میں جناب مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کی تحریروں پر مضبوط علمی گرفت کی، ان میں سے بعض تحریروں سے مولانا نے رجوع فرما لیا ہے۔‘‘
(۵) آپ کے سوال نمبر ۷ کا اس سے تعلق ہے۔ مودودی صاحب کے فرزند ارجمند جناب سید حیدر فاروق مودودی صاحب روزنامہ پاکستان ۲۶ جولائی ۱۹۹۷ء کو انٹرویو دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’مولانا (مودودی)نے اپنی سیاسی مجبوریوں کی خاطر اپنی تحریر ’’دین میں حکمت عملی کا مقام‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک اسلامی تحریک کے قائد کو حکمت عملی کے تقاضوں کے تحت یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ جائز کو ناجائز اور ناجائز کو جائز ٹھہرا سکے اور شریعت کے کسی بھی حکم کو مقدم یا موخر قرار دے سکے۔ حیدرفاروق مودودی نے کہا یہ حق تو اللہ نے اپنے انبیاء کو بھی نہیں دیا جو مولانا مودودی کسی اسلامی تحریک کے قائد کو دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اب انجمن ستائش باہمی کی شوریٰ بن کر رہ گئی ہے۔ اس کی تمام لیڈر شپ ’’تنخواہ دار‘‘ ہے جو قوم کے چندوں پر پل رہے ہیں۔‘‘
ایسے ہی افکار و نظریات کے بارے میں مولانا ضیاء القاسمیؒ نے اپنی تقریروں میں اکبر الٰہ آبادی کے مشہور شعر میں انتحال و تظمین کرتے ہوئے کیا ہی خوب اور بجا فرمایا:
میں نے کہا کہ پردہ تمہارا وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مودودی کے پڑ گیا
(۶) آپ کے سوال نمبر ۸ سے اس کا تعلق ہے۔ انعام الحق مرحوم نے جو حرکت کی اس کا ذمہ علماء پر ڈالنا نہایت بے انصافی کی بات ہے۔ بلکہ کسی عام آدمی کے ابھارنے پر اس کا یہ حرکت کرنا تو اس کے ذہنی خلل کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اپنے لیے ایسی صفات کی لڑکی کا رشتہ طلب کر رہا ہے اور پھر اپنے والدین کا اعتماد حاصل کیے بغیر جا کر مودودی صاحب سے ان کی بیٹی کا رشتہ خود ہی پوچھتا ہے۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔
- سیاسی نوک جھونک میں مولانا ہزارویؒ کا اپنے مخالفین کو ’’مریم جمیلہ گروپ‘‘ کہنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے جماعت اسلامی کے مولانا نعیم صدیقی صاحب نے اپنی کتاب ’’اسلامی سیاست‘‘ صفحہ نمبر ۱۳۱ پر علماء کا تمسخر اڑاتے ہوئے ’’مولوی رجمنٹ‘‘ لکھا ہے۔ (جماعت اسلامی کے دعوے، خدمات اور طریقۂ کار کا جائزہ۔ ص ۳۱۴)
کیا مولانا ہزارویؒ کا فون نمبر مریم جمیلہ صاحبہ کے پاس تھا؟ یہ سوچنے کی بات ہے۔ کیونکہ اس دور میں فون کا اتنا رواج نہ تھا اور پھر مولانا ہزارویؒ کے گھر یا دفتر میں اس کی سہولت موجود نہ تھی اور پھر وہ کسی ایک جگہ قیام بھی نہیں کرتے تھے۔ ان کی تجارت طب تھی جو ایک تھیلے میں چند دوائیوں کی صورت میں ہر وقت ان کے ہاتھ میں رہتی تھی۔ وہ مرد قلندر جب فوت ہوا تو مقروض تھا۔ میں نے جماعت اسلامی کے لوگوں کو مولانا ہزارویؒ کو نہایت قبیح الفاظ سے کوستے ہوئے بھی سنا ہے۔حویلیاں میں مودودیوں نے مولانا ہزاروی ؒ پر قاتلانہ حملہ بھی کیا، العیاذ باللہ۔ یاد رہے کہ مریم جمیلہ صاحبہ کا اس سلسلہ میں اپنا بیان جسے عاصم نعمانی صاحب نے اپنی مذکورہ سابقہ کتاب کے آغاز میں نقل کیا، ہے آپ کے بیان سے بہت مختلف ہے ،انہوں نے شخصی طور پر کسی پر الزام نہیں لگایا۔ - مولانا عبد القیوم ہزارویؒ کے بارے میں جو آپ نے تاثر دیا ہے کہ وہ خوامخواہ غصے میں آجاتے تھے، یہ قرین انصاف نہیں ہے۔ یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئی کہ آپ ان کے پاس گئے اور وہ بلا وجہ غصے میں آگئے۔ مخالفت میں اتنا بھی حد سے نہیں گزر جانا چاہیے۔ باقی پونڈاں والی مسجد کے بارے میں آپ کی معلومات نہایت ناقص ہیں، اس مسجد کے بارے میں دو دفعہ ہائی کورٹ سے دیوبندی مسلک کے حق میں فیصلہ ہو چکا ہے گو فریق مخالف کا جارحانہ قبضہ برقرار ہے اور تادم آخر پونڈاں والی مسجد کے نمازی مولانا ہزاروی ؒ سے ملنے کے لیے آتے رہے ہیں۔
- مفسر قرآن ؒ کا نصف صدی تک معمول تھا کہ وہ جمعہ کے خطبہ کے اختتام پر موقع دیتے تھے کہ کسی نے کوئی بات پوچھنی ہو تو وہ چٹ لکھ کر پوچھ سکتا ہے۔ اس کے باوجودجماعت اسلامی کے یعقوب طاہر مرحوم کا جامع مسجد نور میں عین جمعہ کے خطبہ کے دوران اٹھ کر کھڑے ہونا اور پھر مفسر قرآنؒ کے رد میں اپنا بیان شروع کر دینا، کیا اسے عقلمندی قرار دیا جا سکتا ہے؟ کوئی ذی شعور آدمی ایسی حرکت نہیں کر سکتا۔ کسی کی بات کا جواب دینے کے لیے اسے کون مہذب طریقہ قرار دے گا۔ آپ خود بھی تو مفسر قرآنؒ سے سوالات کرتے رہتے تھے۔ کیا آپ کو کبھی انہوں نے اپنی مجلس سے نکالا تھا؟ اگر آپ کو کبھی انہوں نے اپنی مجلس سے نہیں نکالا تو یعقوب طاہر مرحوم کے بارے میں آپ کیسے تصور کر سکتے ہیں کہ انہوں نے اسے مسجد سے باہر نکلوایا ہوگا؟ ہاں کسی نمازی نے ان کی ایسی بے ہودہ حرکت پر از خود پکڑ کر بٹھا دیا ہو یا باہر نکال دیا ہو تو یہ اس کا اپنا عمل ہے۔ آپ کی طرف سے جواب دینے کے لیے ایسے طریقے کی حوصلہ افزائی بجائے خود مضحکہ خیز ہے۔
- مدارس کے طلبہ کے متعلق آپ نے پیرزادہ عطاء الحق قاسمی صاحب کے کندھے پر بندوق رکھ کر نہایت رکیک حملہ کیا ہے کہ مدارس والوں نے ان کی ایسی برین واشنگ کی ہوتی ہے کہ ان کے دماغ دولے شاہ کے چوہوں سے بھی چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ میں ایک حوالہ پیش کر رہا ہوں اس سے آپ اندازہ لگا لیں گے کہ یہ مثال خود آپ کی جماعت پر کیسے فٹ آتی ہے جسے میں یوں تعبیر کروں گا کہ ’’گرو سے چیلے دو قدم آگے نکل گئے۔‘‘ مدیر ایشیا نصر اللہ خان عزیز صاحب جسے مودودی سٹیٹ کا وزیر داخلہ بنایا جانا تھا، اس نے امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے بارے میں لکھا ہے: (الاعتصام لاہور مورخہ ۱۸ نومبر ۵۵ء بحوالہ ایشیا)
’’جاہل، بہتان طراز، مفتری، اخلاقی تعلیمات سے بے بہرہ، تقویٰ، تقدس، للہیت اور تقرب الی اللہ کا ڈھونگ رچانے والے، غیر معقول مسمسی صورت والے، فریبی، جھوٹے تقدس و تقویٰ کی دھونس رچانے والے، مذبوحی حرکتیں کرنے والے، علم و اخلاق سے بے تعلق، فاسد ذہنیت کے مالک، پیشہ ور دیندار، عقل کے اندھے، غیر ذمے دار، قرآن کی فہم سے عاری، ناخدا ترس، بے حس، خدا اور مخلوق کی شرم سے بے بہرہ، بے حیا، بے وقوف گھناؤنے اور مکروہ اخلاق کے مالک، دیوبند کی چراگاہ سے نکلے ہوئے فریبی، دجل و کذب کے مالک، شور مچانے والے کفن چور، افیونی، شوریدہ سر۔ ‘‘ (نصر اللہ خان عزیز مدیر ایشیا لاہور، ماخوذ از ’’تحریک جماعت اسلامی اور مسلک اہل حدیث‘‘) (انکشافات ص ۱۱۲، ۱۱۳)
حقیقت یہ ہے کہ آپ کے اٹھائے ہوئے تمام سوالات کے جواب میں صرف یہ ہی ایک حوالہ کافی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ آپ کو ان بیانات اور تحریرات کے متعلق کبھی اخلاقی اور اسلامی اقدار معلوم کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔
- غلط فہمیاں دور کرنے کا حق مدارس والے نہیں دیتے، یہ بھی آپ کا اتہام ہے۔ آپ کے مضامین ’’ماہنامہ الشریعہ‘‘ میں طبع ہونا یہ مدارس ہی کا فیض ہے اور بجائے خود آپ کے دعویٰ کا ردہے۔
آپ کے والد محترم خواجہ بشیر احمد مرحوم مفسر قرآنؒ اور احقر کے مقتدی رہے ہیں، بہت نفیس مزاج، صاحب مطالعہ اور با اخلاق انسان تھے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے خلاف کتاب بھی لکھی تھی۔ یقیناً انہوں نے آپ کو بھی اس سلسلہ میں سمجھانے کی اپنی ذمہ داری پوری پوری ادا کی ہوگی۔
اللہ تعالیٰ صراط مستقیم کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
محمد فیاض خان سواتی
مہتمم جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
(۲)
(آئندہ سطور میں جناب عبد الفتاح محمد کے ایک عربی مکتوب کی تلخیص پیش کی گئی ہے جو انھوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے صدر جناب ڈاکٹر ممتاز احمد کے خط (شائع شدہ ’الشریعہ‘، مئی ۲۰۱۳ء) کے جواب میں تحریر کیا ہے۔ خط کا پورا عربی متن اگلے صفحات میں شائع کیا جا رہا ہے۔)
۱۔ شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب نے ایرانی صدر احمدی نژاد کے ساتھ آداب میزبانی کے خلاف کوئی گفتگو نہیں کی۔ انھوں نے صرف اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ ایرانی قیادت تقیے سے کام لیتے ہوئے اسلامی اخوت اور اتحاد بین المسلمین جیسے نعرے لگا کر، جن پر وہ دل سے یقین نہیں رکھتے، مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ شیعہ عقیدے کی رو سے غیر شیعہ، ان کے بھائی نہیں ہو سکتے اور نہ قابل احترام ہیں۔ ان پر لعن طعن، زبان درازی اور ان کے عیوب بیان کرنا شیعہ مذہب کا لازمی حصہ ہے۔
۲۔ ایرانی دستور کی رو سے ایران کی صدارت کا منصب اثنا عشریوں کے لیے خاص ہے، جبکہ طے شدہ حکومتی پالیسی کے تحت اثنا عشریوں کے علاوہ دوسرے مذہبی گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد کا کسی بلدیہ کی سربراہی کے منصب پر فائز ہونا بھی ممنوع ہے۔ بیشتر ایرانی شہروں میں اہل سنت کو مساجد بنانے کی اجازت نہیں، جبکہ بعض مقامات پر،مثلاً مشہد اور مغربی آذربیجان کے شہر سلماس میں سنی مساجد کو منہدم بھی کیا گیا ہے۔ اپنے ملک میں اہل سنت کو مذہبی وسیاسی حقوق نہ دینا اور دنیا کے دوسرے ممالک میں مظلوموں کی مدد کا ڈھنڈورا پیٹنا ایرانی قیادت کا ایک منافقانہ رویہ ہے۔
۳۔ ایرانی ذرائع ابلاغ مسلمانوں کے مابین نفرت وعداوت کے جذبات کو برانگیختہ کرنے میں مسلسل مصروف ہیں۔ مثال کے طو رپر سیدہ فاطمہ زہراء کی شہادت کی مناسبت سے جو پروگرام نشر کیے جاتے ہیں، ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت قریبی ساتھیوں کو ان کی شہادت کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا اور ان سے انتقام لینے کا جذبہ ابھارا جاتا ہے۔ پاکستان، تاجکستان، افغانستان، ترکی، شام، مصر، الجزائر اور تونس، ان تمام ممالک میں حتیٰ کہ غیر مسلم ممالک میں بھی ایرانی قیادت کی پالیسی یہی ہے کہ شیعہ سنی تفریق کو بڑھایا جائے۔
۴۔ صدر جامعہ نے لکھا ہے کہ ایران کو دوسرے ممالک اور خاص طور پر خلیجی ممالک (بحرین وغیرہ) کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کا الزام دینا غلط ہے اور یہ کہ اہل سنت کے ممالک میں تشیع کو فروغ دینا ایرانی حکومت کی پالیسی نہیں ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایران خطے میں اپنے مذہبی وسیاسی مفادات، دونوں کو بڑھانے کے لیے پورے جوش وجذبے سے سرگرم ہے۔ ایرانی قائدین، جن میں رفسنجانی، خاتمی اور احمدی نجاد شامل ہیں، متعدد مواقع پر یہ اظہار کر چکے ہیں کہ امریکا کے لیے افغانستان اور عراق پر قبضہ کرنا ان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ ایرانی قیادت علانیہ یہ بھی کہتی ہے کہ عراق اور افغانستان میں معاملات کی درستی ایران کی رضامندی کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ ایران نے ہمیشہ خلیجی ممالک کو خوف زدہ کرنے کی پالیسی اختیار کیے رکھی ہے جس کی وجہ سے وہ امریکا کی گود میں جا بیٹھنے اور اس سے بھاری رقم کے عوض اسلحہ خریدنے پر مجبور ہیں۔
۵۔ بحرین کے لوگوں کے اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہونے میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں، لیکن اس کو ایک مخصوص مذہبی گروہ کی جدوجہد کا رنگ دینا جس کا فائدہ ایران کو پہنچے، درست نہیں۔ بحرین کے معاملات میں ایران کی دلچسپی بالکل کھلی ہوئی بات ہے۔ ایران ستمبر ۲۰۱۱ء اور اس کے بعد دسمبر ۲۰۱۲ء اور اب حال ہی میں اپریل ۲۰۱۳ء میں ’’اسلامی بیداری‘‘ کے نام سے عالمی میلے منعقد کر کے بحرین کی سیاسی تبدیلیوں کو دنیا کے سامنے لانے اور اہل تشیع کے مفادات کو تائید مہیا کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ شیعہ عناصر ۱۴۰۶ھ، ۱۴۰۷ھ اور ۱۴۰۹ھ میں مکہ مکرمہ میں دھماکے کرنے میں ملوث تھے۔ یمن میں حکومت کے باغی حوثیوں کو بھیجے جانے والے اسلحہ کے جہازوں کا پکڑا جانا اور حزب اللہ اور ایران کے پاس داران انقلاب سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کا یمن میں موجود ہونا ساری دنیا کو معلوم ہے۔
۶۔ سنی اکثریت کے ممالک میں ہر جگہ شیعہ اقلیت اپنے جداگانہ مذہبی تشخص کو اجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔ افغانستان میں شیعہ پانچ فی صد سے زیادہ نہیں، لیکن سال کے مخصوص دنوں میں پورا افغانی دار الحکومت سیاہ رنگ میں ملبوس دکھائی دیتا ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ پر شیعہ قابض ہیں۔ ایران میں چوبیس مختلف زبانوں میں ٹی وی چینل کام کر رہے ہیں اور ۲۵ سے زائد چینل صرف عربی زبان میں ہیں۔ ایرانی قائدین جب کہتے ہیں کہ وہ ایران کے بجٹ کا ستر فی صد حصہ انقلاب کی برآمد پر خرچ کرتے ہیں تو آخر اس کا کیا مطلب ہے؟
۷۔ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں خانہ فرہنگ ایران ثقافتی سرگرمیوں کے عنوان سے متحرک ہے۔ صرف اسلام آباد میں سات شیعہ جامعات کام کر رہی ہیں اور شہر کے قلب میں واقع جامعۃ الکو ثر کے زیر اہتمام ’’الکوثر‘‘ ہی کے نام سے ایک ٹی وی چینل بھی قائم ہے۔ ایران کی طرف سے تعلیمی امداد کے تحت شیعہ طلبہ کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں تعلیم دلوائی جاتی ہے اور اس کے بعد انھیں تکمیل تعلیم کے لیے ایران بھیج دیا جاتا ہے۔ یوں ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت ایرانی انقلاب کے کارندے تیار کیے جا رہے ہیں۔
۸۔ ایرانی قیادت، شیعہ مرجعیت کو ایران میں محدود کرنے پر تلی ہوئی ہے اور اس نے نجف اشرف سمیت تمام ممالک میں شیعہ مراجع کی مذہبی حیثیت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ آخر عرب، ہندوستان، پاکستان اور افغانستان کے اہل تشیع اپنے اپنے مقامی مراجع مقرر کرنے کا حق کیوں نہیں رکھتے؟ شیعہ مذہب میں ’مرجع‘ کا جو مقام اور اختیارات ہیں، اس کی روشنی میں صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایران اپنے علاوہ کسی کو شیعہ دنیا کا قبلہ اور مرکز نہیں دیکھنا چاہتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے شیعہ دراصل پاکستان کے نہیں، بلکہ ایران کے وفادار ہیں اور اگر خدانخواستہ دونوں ملکوں میں جنگ ہو جائے تو وہ ایران کی طرف سے جنگ میں شامل ہوں گے۔
۹۔ اس سوال کا جواب بھی معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ برصغیر میں اہل تشیع اور اہل سنت ہمیشہ سے پرامن فضا میں رہتے چلے آ رہے تھے اور دونوں کے مابین مذہبی مباحثات کی ایک مثبت علمی فضا قائم تھی۔ ان کی آپس کی خانہ جنگی، مساجد اور امام بارگاہوں پر حملوں اور باہمی قتل وغارت کا سلسلہ آخر ایران میں شیعہ انقلاب کے بعد ہی کیوں شروع ہوا ہے؟