جولائی ۲۰۱۳ء

طالبان اور امریکہ کے مذاکراتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اراکان کے مظلوم مسلمانوں کی حالت زارمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
آزادی فکر و نظر اور مسلم معاشرے کی صورت حالمولانا محمد وارث مظہری 
بر صغیر کی دینی روایت میں برداشت کا عنصر (۲)مولانا مفتی محمد زاہد 
تحفظ ناموس رسالتڈاکٹر قاری محمد طاہر 
مغربی اجتماعیت : اعلیٰ اخلاق یا سرمایہ دارانہ ڈسپلن کا مظہر؟ (۲)محمد زاہد صدیق مغل 
مولانا مودودیؒ اور مولانا ہزارویؒ کے حوالے سے مباحثہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
چراغ علم و حکمتمولانا حافظ محمد عارف 
مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحبؒ / مولانا قاضی مقبول الرحمنؒمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مکاتیبادارہ 
بعض مسائل کے حوالے سے امام اہل سنتؒ کا موقفمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
خسرہ کا مجرب علاجحکیم محمد عمران مغل 

طالبان اور امریکہ کے مذاکرات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قطر میں افغان طالبان کا سیاسی دفتر کھلنے کے ساتھ ہی امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا دکھائی دینے لگا ہے اور دونوں طرف سے تحفظات کے اظہار کے باوجود یہ بات یقینی نظر آرہی ہے کہ مذاکرات بہرحال ہوں گے، کیونکہ اس کے سوا اب کوئی اور آپشن باقی نہیں رہا اور دونوں فریقوں کو افغانستان کے مستقبل اور اس کے امن و استحکام کے لیے کسی نہ کسی فارمولے پر بالآخر اتفاق رائے کرنا ہی ہوگا۔ 
افغانستان میں امریکی افواج اور نیٹو کی عسکری یلغار کے بعد ہم نے اس وقت بھی عرض کر دیا تھا اور اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً یہ گزارش کرتے آرہے ہیں کہ مداخلت کار قوتوں کو بالآخر طالبان کا وجود تسلیم کرنا ہوگا اور ان کے ساتھ مذاکرات کی میز سجانا ہوگی، اس کے لیے کوئی لمبی چوڑی فراست درکار نہیں تھی کیونکہ تاریخ کا عمل اسی کو کہتے ہیں اور تاریخ پر نظر رکھنے والے کسی بھی شخص کی رائے اس سے مختلف نہیں ہو سکتی۔ 
یہ مذاکرات ابھی وقت لیں گے، مذاکرات کے دوران بلکہ اس سے پہلے بھی روٹھنے اور منائے جانے کے کئی مراحل درمیان میں آئیں گے، بلکہ بعض مناظر مایوسی کے بھی دکھائی دینے لگیں گے، مختلف حوالوں سے ایک دوسرے کے بارے میں بے اعتمادی اور تحفظات کا اظہار ہوگا، یہ مذاکرات کئی بار ٹوٹتے ٹوٹتے جڑیں گے اور جڑتے جڑتے ٹوٹیں گے، لیکن یہ بات اب نوشتۂ تقدیر ہے کہ آخر کار یہ مذاکرات منطقی نتیجہ تک پہنچیں گے اور نہ صرف یہ کہ افغانستان مکمل آزادی اور خود مختاری کی منزل سے ہمکنار ہوگا بلکہ امریکہ اور نیٹو افواج بھی کسی نئے ہدف کی تلاش میں خود کو آزاد محسوس کریں گی۔ 
افغان طالبان افغانستان سے امریکہ اور نیٹو کی افواج کے انخلا کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ اس سے قبل افغان مجاہدین اپنی سرزمین سے سوویت یونین کی فوجوں کے انخلا کے لیے جنگ لڑ چکے ہیں۔ اس وقت افغان قوم کے سامنے ہدف یہ تھا کہ سوویت یونین کی فوجیں افغانستان کی سرزمین سے نکل جائیں اور اب اس حریت پسند قوم کا ہدف یہ ہے کہ امریکہ اور نیٹو کی افواج افغانستان کا علاقہ خالی کر دیں۔ مگر ایک فرق واضح ہے کہ اُس وقت انہیں عالمی برادری حتیٰ کہ امریکہ کی بھی حمایت و امداد حاصل تھی جبکہ اب وہ تنہا ہیں اور کوئی ان کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ درپردہ امداد و حمایت کی بات الگ ہے، مگر ظاہری منظر یہی نظر آرہا ہے کہ سوویت یونین کے خلاف تو عسکری جنگ کے ساتھ ساتھ سفارتی جنگ میں بھی عالمی برادری ان کی پشت پر تھی مگر امریکہ اور نیٹو کے خلاف جنگ میں میدان جنگ کے علاوہ سفارتی محاذ پر بھی وہ اکیلے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اس لیے یہ افغان طالبان کی ذہانت و فراست کا بہت کڑا امتحان ہے اور اگر انہوں نے گزشتہ عشرے کے دوران اپنی کشمکش کے پس منظر اور پیش منظر سے کچھ سبق حاصل کر لیا ہے اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر حقیقت پسندی کی بنیاد پر حکمت و تدبر کے ساتھ آگے بڑھنے کا عزم رکھتے ہیں تو ہمیں یقین ہے کہ وہ اس امتحان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب ہوں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ 
مذاکرات کے عمل کے دوران افغان طالبان کی ایک بڑی ضرورت یہ بھی ہوگی کہ مذاکرات کو صحیح نتائج تک لے جانے کے لیے ان کا عسکری دباؤ کمزور نہ ہونے پائے، اس مقصد کے لیے ان کے ساتھ پاکستان کے علماء کرام، دینی کارکن اور اصحابِ خیر اس فیصلہ کن مرحلہ میں جو بھی تعاون کر سکتے ہوں، اس سے گریز نہ کیا جائے۔ مثال کے طور پر:
  • افغان طالبان کو عمومی سیاسی و اخلاقی حمایت مہیا کی جائے اور نہ صرف ملکی رائے عامہ بلکہ عالمی رائے عامہ کو بھی ان کے جائز موقف کی طرف توجہ دلانے کا اہتمام کیا جائے۔
  • بین الاقوامی اداروں اور خاص طور پر عالم اسلام کے بین الاقوامی اداروں میں افغانستان کی آزادی و خود مختاری اور اس کے اسلامی تشخص کی بحالی و تحفظ کے لیے لابنگ اور ذہن سازی کی قابل عمل صورتیں نکالی جائیں۔
  • افغان طالبان کی جدوجہد اور پاکستان کے قبائلی علاقوں کی صورت حال کے فرق کو واضح کیا جائے اور پاکستان کی داخلی کشمکش کی ذمہ داری سے افغان طالبان کو بری الذمہ قرار دینے اور اصل زمینی حقائق کے اظہار کے لیے علمی و فکری محنت کی جائے۔

اراکان کے مظلوم مسلمانوں کی حالت زار

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

این۔این۔آئی کے حوالہ سے ’’پاکستان‘‘ (۲۰ جون کو) میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے برما (میانمار) سے مطالبہ کیا ہے کہ اقلیتی روہنگیا مسلمانوں کی شہریت اور طویل مدتی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے معاملات کا تعین کیا جائے جن میں لاکھوں افراد نسلی تشدد کے واقعات کے نتیجے میں پناہ گزین خیموں میں رہائش پر مجبور ہوئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد سے متعلق ادارے نے بتایا ہے کہ برما کی مغربی ریاست راکھین (اراکان) میں ایک لاکھ چالیس ہزار افراد بے گھر ہیں۔ ایک برس سے جاری بودھ مسلمان فسادات کے باعث تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ یہ خطہ مذہبی اور نسلی بنیادوں پر بٹ چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضرورت مندوں کو اب روزانہ کی بنیاد پر خوراک تقسیم ہوتی ہے اور اکہتر ہزار سے زائد افراد کو پناہ دینے کے لیے عارضی خیمے قائم ہیں۔ عالمی ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ تناؤ کی بنیادی وجوہات ختم کیے بغیر دیرپا امن اور ہم آہنگی قائم نہیں ہو سکتی۔ رپورٹ میں کم و بیش آٹھ لاکھ مسلمانوں کی شہریت کے تعین کے معاملے کو حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ 
میانمار (برما) کی مغربی ریاست اراکان کے بارے میں اس قسم کی رپورٹیں کم و بیش ایک سال سے تسلسل کے ساتھ اخبارات کی زینت بن رہی ہیں اور اقوام متحدہ اور او۔آئی۔سی سمیت عالمی اداروں کی طرف سے احتجاج اور برما کی حکومت سے اصلاح احوال کے مطابات بھی نظر سے گزرتے رہتے ہیں، لیکن صورت حال میں بہتری کی کوئی صورت سامنے نہیں آرہی بلکہ اراکانی مسلمانوں کی اس بے رحمانہ خونریزی کو بودھ مسلم فسادات یا نسلی فسادات کا عنوان دے کر فریقین کے درمیان کشمکش بتایا جا رہا ہے حالانکہ یہ سب کچھ یکطرفہ ہے۔ قتل بھی صرف مسلمان ہو رہے ہیں، مکانات صرف ان کے جل رہے ہیں، وہی جلا وطن ہو رہے ہیں، پناہ گزینوں کے کیمپوں میں صرف ان کا بسیرا ہے اور انہی پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ 
ہم سمجھتے ہیں کہ اراکان کے ان مسلمانوں کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں، ایک اسلامی ریاست کا پس منظر رکھتے ہیں اور بد قسمتی سے بودھ اکثریت کے ملک برما (میانمار) کا حصہ بن گئے ہیں، جبکہ ان کا اس سے بھی بڑا جرم یہ ہے کہ انہوں نے برصغیر کی تقسیم کے وقت پاکستان میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ سے ملاقات کر کے ان سے اس کی درخواست بھی کر دی جو بوجوہ قبول نہ کی جا سکی۔ اس لیے ہمارے خیال میں یہ مسئلہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ’’مسئلہ کشمیر‘‘ سے مختلف نہیں ہے۔ گزشتہ برس ہم نے مولانا فضل الرحمن سے جو اس وقت پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے، ملاقات کر کے درخواست کی تھی کہ مسئلہ کشمیر کے ساتھ اراکان کے مسئلہ کو بھی حکومت پاکستان کے ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے اور اس کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھائی جائے۔ مولانا موصوف نے قومی اسمبلی میں اور مختلف بین الاقوامی اداروں میں برما کے ان مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائی ہے اور اس کے اثرات بھی سامنے آئے ہیں، لیکن اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ او آئی سی اس سلسلہ میں زیادہ سنجیدگی کے ساتھ توجہ دے، بنگلہ دیش کی حکومت اسے باقاعدہ اپنے ایجنڈے میں شامل کرے اور حکومت پاکستان بھی اسے ترجیحات کا حصہ بنائے۔ اراکانی مسلمان صدیوں تک ایک آزاد اسلامی ریاست کا پس منظر رکھنے کے باوجود آج مسلسل مظالم اور بے بسی کا شکار ہیں تو ان کے حق میں آواز اٹھانا اور عالمی رائے عامہ اور اداروں کو برما (میانمار) کی حکومت پر موثر دباؤ ڈالنے کے لیے آمادہ کرنے کے ساتھ ساتھ مظلوم مسلمانوں کی امداد کا اہتمام کرنا بہرحال ہماری دینی اور قومی ذمہ داری بنتی ہے۔

آزادی فکر و نظر اور مسلم معاشرے کی صورت حال

مولانا محمد وارث مظہری

(یہ مقالہ اسلامک فقہ اکیڈمی،انڈیا کی طرف سے 12-13 اکتوبر 2013 کو ’’تصور آزادی اور فقہ اسلامی میں اس کی تطبیق‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں پیش کیا گیا۔)

آزادی فکر ونظر انسانی فطرت کا لازمی تقاضا ہے۔انسان حیوان ناطق ہے۔اسے عقل اور قوت تفکیر سے نوازا گیا ہے جس کے ذریعے وہ خیر وشر میں تمیز کرتا ہے اور جس کی بنیاد پر اس سے فطرت کا مطالبہ ہے کہ وہ خود اپنی ذات وکائنات میں غور کرکے اپنے وجود کے مقصد کی دریافت کرے ۔قرآن میں درجنوں مقامات پر تقلیدی روش اختیار کرنے کے بجائے انسان کو عقل کے استعمال پر ابھارا گیا ہے اور عقل وفکر کو پس پشت ڈال دینے والوں کو اس معاملے میں جانوروں بلکہ ان سے بھی بدتر قرار دیا گیا ہے۔(الاعراف: 179) اس لحاظ سے دوسرے تمام قابل ذکر مذاہب کے مقابلے میں اسلام کو عقل و فکر کا مذہب قرار دیا جا سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام سے قبل انسانی عقل تقلید وروایت پرستی اور اساطیر و اوہام کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی۔تاریخ انسانی میں یہ سہرا بلا شبہ اسلام کے سر ہی جاتا ہے کہ اس نے اس کوان زنجیروں سے آزاد کیا۔اسلام میں اقدامی سطح پر جس فتنے کے استیصال کے لیے جہاد و قتال کی اجازت دی گئی، وہ در اصل مذہبی تعذیب کی وہ صو رت حال تھی جو وقت کی مطلق العنان طاقتوں نے ہر اس شحص کے لیے روا رکھی تھی جو’’الناس علی دین ملوکہم‘‘ کے کلیے سے انحراف وانکار کی روش اختیار کرتے ہوئے فکروعقیدے کی آزادی کا قائل ہو۔اسلام نے ہر فر د مسلم کو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا مکلف بنایا ہے اس کا بھی تقاضا ہے کہ اس کو اظہار راے کی مکمل آزادی حاصل ہو۔رسول اللہ نے سلطان جائرکے سامنے کلہ حق بلند کرنے اور اس کوراہ حق کی طرف تلقین کو افضل جہاد قرار دیا ہے۔(1)
اسلام کی نظر میں فکری تکثیریت، خواہ اس کا تعلق انسان کے حیات وکائنا ت کے نظر یے (world view)یا بالفاظ دیگر عقیدے سے ہی کیوں نہ ہو،انسانی فطرت کا اقتضا اوراس کائنات کے بنائے ہوئے نقشے کے عین مطابق ہے، اس لیے اس نقشے کو نہ توچیلنج کرنا ممکن ہے اور نہ چینج کرنا۔ قرآن کی متعدد آیات میں اس پہلو کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: قل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر۔’’کہہ دیجیے کہ حق اللہ کی طرف سے ہے۔ تو جوچاہے ایمان کا راستہ اختیارکرے اور جو چاہے کفر کا‘‘۔( الکہف: 29)۔ لو شاء ربک لامن من فی الارض کلہم جمیعا افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مؤمنین ’’اگر آپ کا رب چاہتا تو دنیا کے تمام لوگ ایمان قبول کرلیتے۔ کیا لوگوں کو مومن بنانے کے لیے آپ ان کے ساتھ زبردستی کریں گے؟‘‘ ( یونس:99)) دوسری جگہ کہا گیا ہے: ولو شاء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ ’’اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو صرف ایک امت بنادیتا۔‘‘(المائدہ:48) ہو الذی خلقکم فمنکم کافر ومنکم مؤمن’’اللہ نے ہی تمہاری تخلیق کی ہے تو تم میں کچھ لوگ مومن ہیں اور کچھ لوگ منکر‘‘( التغابن:2)۔ اس طرح مومن کے ساتھ منکر ہونے کو ایک ابدی اور فطری حقیقت کے طور پر خود قرآن میں تسلیم کیا گیا ہے۔
اسلام میں فکرورائے کی ایک اہم اساس مشورہ کا اصول ہے جس کے متعدد روشن نمونے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ملتے ہیں۔ آپ اجتماعی معاملات میں اپنے اصحاب سے مشورہ کرتے تھے ۔مختلف جنگوں کے مواقع پر آپ نے صحابہ کرام کے مشوروں پر عمل کیا۔یہاں تک کہ آپ اپنی ازواج مطہرات سے بھی مشورہ کرتے تھے۔(2) چناں چہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ نے اپنی زوجہ مکرمہ ام سلمہ کے مشورے پر عمل کیا۔ مختلف احادیث میں رسول اللہ نے مشورہ کرنے اور مشورہ کے مطابق اقدام پر زوردیا۔ مشورے کے علاوہ رسول اللہ کا ایک اسوہ اصحاب کرام کواجتہاد کی روش اختیار کرنے کی ترغیب دینا تھا۔ حضرت معاذ بن جبل سے تعلق رکھنے والا مشہور واقعہ ہے کہ آپ نے انہیں یمن روانہ کرتے وقت دریافت کیا کہ تم کس طرح فیصلہ کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ کتاب اللہ کی روشنی میں۔ آپ نے پوچھا کہ اگر تمہیں کتاب اللہ میں متعلقہ حکم نہ ملے تو؟ انہوں نے فرمایا اللہ کے رسول کی سنت میں۔آپ نے سوال کیا کہ اگر اس میں بھی تم وہ مسئلہ نہ پاؤ تو کیا کروگے؟ حضرت معاذ نے جواب دیا پھرمیں اجتہاد کروں گا اور اس میں کوئی کسرنہیں چھوڑوں گا (اجتہد ولا آلو)۔اس پرآپ نے ان کے سینے پرہاتھ مار کر فرمایا :’’ اللہ کے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں جس نے اللہ کے رسول کے رسول کوتوفیق سے نوازا‘‘۔(3)
اس طرح آپ نے عقبہ بن عامر اوران کے ساتھ ایک دوسرے صحابی سے فرمایا کہ : اجتہدوا فان اصبتما فلکم عشر حسنات وان اخطأتما فلکما حسنۃ’’ (4) ’’تم اجتہاد کرو، اس میں اگرتم نے صحیح اجتہاد کیا تو تم کو دس نیکیاں ملیں گی اور اگرتم سے اس میں خطا سرزد ہوئی تب بھی تمہیں ایک نیکی ملے گی۔‘‘ ذخیرہ احادیث میں اس مفہوم کی متعدد روایات ہیں۔
ڈاکٹر طہ جابر جابر علوانی لکھتے ہیں کہ حریت عقیدہ کی قرآن کی کم ازکم دو سو آیات میں ضمانت دی گئی ہے۔(5) حریت عقیدہ کے تعلق سے سب زیادہ بحث ومناقشے کا موضوع اسلامی فقہ میں ارتداد کی سزا کا مسئلہ ہے۔ علما کی ایک جماعت اس بات کی قائل رہی ہے کہ ہرصورت میں ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے، لیکن غالب موقف بہرحال یہی رہا ہے کہ ارتداد کی راہ اختیارکرنے والا شخص قابل قتل ہے۔ تاہم رسول اللہ کے تعلق سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ آپ نے کسی کو اس جرم میں قتل نہیں کرایا۔ ڈاکٹرعلوانی لکھتے ہیں: انہ من الثابت المستفیض انہ لم یقتل مرتد ا طیلۃ حیاتہ الشریفۃ ’’یہ بات پورے طور پر ثابت ہے کہ رسول اللہ نے اپنی پوری زندگی میں کسی کو ارتداد کے جرم میں قتل نہیں کرایا‘‘۔(6) ابن الطلاع کا قول ہے کہ کسی مشہور کتاب میں یہ مذکور نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مرتد یا زندیق کوقتل کرایا ہو۔(7) اس لیے صحابہ میں حضرت عمر فاروق اور فقہا میں امام نخعی اور سفیان ثوری کی رائے یہ رہی ہے کہ ان سے ہمیشہ توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا ،انہیں قتل نہیں کیا جائے گا: یستتاب ابدا ولایقتل۔ (8) یوسف قرضاوی کے نزدیک ارتداد کی دوقسمیں ہیں: ۱۔ خاموش ارتداد (ردۃ صامتۃ) جس کا وبال فرد کی اپنی ذات تک محدود ہو اور ۲۔ علانیہ اور ددسروں کو اپنی طر ف دعوت دینے والا (ردۃ مجاہرۃ داعیہ)۔ان میں سے دوسری قسم کے مرتدین قابل قتل ہیں۔ پہلی قسم کے مرتدین سے تعرض نہیں کیا جائے گا۔(9) نیز اس بات پر فقہا کے درمیان اتفاق ہے کہ ارتداد میں ملوث ہونے والی عورتوں کو بہر حال قتل نہیں کیا جائے گا۔اس سے بھی اس موقف کوتقویت ملتی ہے کہ وہ ارتداد موجب قتل ہے جو محاربہ کے ہم معنی ہو۔ اس لیے یہ موضوع بہرحا ل غور و فکر کا متقاضی ہے۔یہاں اس مسئلے کے دوسرے پہلوؤوں پر تفصیل سے بحث ممکن نہیں ہے۔
رسول اللہ کی سیرت طیبہ میں ایسے متعدد واقعات ملتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ فرد کو فکر ورائے کی مکمل آزادی دیتے تھے اور خاص طور پر عقیدے کے باب میں کسی قسم کے جبر کو پسند نہیں کرتے تھے۔ دین میں جبر واکراہ کوممنوع قرار دینے والی مشہور آیت :لا اکراہ فی الدین کا شان نزول حضرت ابن عباس سے یہ بیا ن کیا جاتا ہے کہ: مدینہ کی ایسی عورتیں جن کو اولاد نہیں ہوتی تھی وہ اس بات کی نذر مان لیتی تھیں کہ اگر انہیں اولاد ہوئی تو وہ اس کویہودی بنا دیں گی ۔چناں چہ جب قبیلہ بنونظیر کو مدینہ سے جلاوطن کیا گیا تو مدینہ کے ایسے مسلمان جواس طرح یہودی بن گئے تھے، ان کے والدین رسول اللہ کے پاس آئے اور انہوں نے آپ سے کہا کہ ہم ایسا جاہلیت میں اس وقت کرتے تھے جب ہم یہود کے مذہب کو اپنے سے بالا وبرتر سمجھتے تھے، لیکن اب جب کہ اسلام کی شکل میں حق ہمارے پاس آچکا ہے تواب ہم اپنے بچوں کو کیوں نہ مجبور کریں کہ وہ اسلام قبول کرلیں۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(10)

اسلامی تہذیب کی شاندارروایت

عہد نبوی کے علاوہ صحابہ و تابعین اور ان کے بعد مسلمانوں کے دور زریں میں اور تہذیبی عروج کے زمانے میں حریت فکر ونظر اورآزادی اظہار رائے کی نہایت اعلی مثالیں ملتی ہیں۔ صحابہ کرام میں حضرت عمر کے تعلق سے آزادی اظہار رائے کے متعدد نادر واقعات مشہور ہیں جن کے اعادے کی یہاں ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ایک واقعہ جو حضرت امام ابو یوسف نے کتاب الخراج میں لکھا ہے، یہ ہے کہ :ایک شخص نے حضرت عمر کومخاطب کرتے ہوئے کہا :اے عمر! اللہ سے ڈرو۔اور بار بار اس کو دہرایا۔حاضرین میں سے کسی نے اس شخص کواس پرٹوکا کہ اب چپ ہوجاؤ امیرالمؤمنین کو بہت کچھ کہہ چکے ۔حضرت عمرنے اس پر جوجملہ ارشاد فرمایا، وہ آب زرسے لکھے جانے کے قابل ہے ۔آپ نے فرمایا:’’اس کوکہنے دو۔اس لیے کہ تم میں کوئی خیر نہیں اگر تم ایسی بات مجھ سے نہ کہو اور ہمارے اندر کوئی خیر نہیں اگرہم اس کو قبول نہ کریں‘‘(لا خیر فیکم ان لم تقولوھا ولا خیر فینا ان لم نسمعھا)۔(11)
یہ نہایت قابل غور پہلو ہے کہ صحابہ اور ائمہ محدثین میں سے جلیل القدر شخصیات سے ایسے اقوال و فرمودات مشہور ہیں جن کے حاملین پر آج آسانی کے ساتھ بدعت وزندقہ سے اوپر بڑھ کر نعوذ باللہ کفر کا حکم چسپاں کیا جاسکتا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ قرآن کی آخری دونوں سورتوں (معوذتین) کو قرآن کی سورت تسلیم نہیں کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ دعا ہے جو جھاڑ پھونک کے لیے نازل کی گئی تھی۔(12)حضرت عبدا للہ ابن عمر کتابیہ سے نکاح کے قائل نہیں تھے۔ حالا ں کہ یہ نص قرآنی سے ثابت ہے۔حضرت ابو طلحہ روزے کی حالت میں اولہ کھانے کو ،حضرت ابوحذیفہ سورج نکلنے تک سحری کھانے کوجائز سمجھتے تھے ۔(13) حضرت عمر،عبداللہ ابن مسعود،ؓ ابوہریرہ ، عبد اللہ ابن عباس، ابوسعید اور تابعین میں اما م شعبی اور اور بعد کے اہم علما میں ابن تیمیہ اور ابن قیم اس بات کے قائل تھے کہ ایک دن جہنم کوفنا کردیا جائے گا اور بالآخر کفار بھی جنت میں داخل کر دئے جائیں گے۔(14)۔حضرت ابوذر غفاری ایک دن سے زائد مال جمع کرنے کو کنز تصور کرتے تھے اور اسے حرام و ناجائز سمجھتے تھے۔ ابن قیم نے اعلام المؤقعین میں لکھا ہے کہ عبداللہ ابن مسعود نے تقریبا سو مسائل میں حضرت عمر فاروق سے اختلاف کیا۔(15) لیکن اس کے باوجود عمر ان کو علم وفقہ سے بھرا ہوا پیالہ (کنیف مُلیءَ فقہا وعلما) سمجھتے تھے۔
اسلام کے عہد زریں میں باطل فرقوں کی کثرت تھی۔معتزلہ، جہمیہ حشویہ ، قدریہ ان سب میں سب سے زیادہ شدت پسند فرقہ خوارج کا تھا، لیکن اہل سنت والجماعت کے علما نے ان کی تکفیر نہیں کی۔ بلکہ امام تیمیہ سے منقول ہے کہ امام احمد بن حنبل ان فرقوں کے ائمہ کے پیچھے نماز تک پڑھ لیتے تھے:
قد نقل ابن تیمیہ ان الامام احمد بن حنبل لم یکفر ھذہ الفرق(القدریۃ والجہمیۃ وغیرہا) بل صلی(احمد بن حنبل) رضی اللہ عنہ خلف بعض الجہمیۃ و بعض القدریۃ وان اکبر ما توصف بہ کل تلک الفرق عند ابن تیمیہ ہو الفسق۔
’’امام ابن تیمیہ سے منقول ہے کہ امام احمد بن حنبل نے (جہمیہ اورقدریہ جیسے) گمراہ فرقوں کی کبھی تکفیر نہیں کی ۔بلکہ انہوں نے بسااوقات جہمیہ یا قدریہ کے پیچھے نماز تک ادا کی۔زیادہ سے ابن تیمیہ ان فرقوں کوفاسق قرار دیتے تھے‘‘۔(16)
محدثین و مفسرین کی رواداری کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے ان کی روایات تک اپنی کتابوں میں شامل کی ہیں۔ان میں خود اما م بخاری بھی شامل ہیں ۔انہوں نے اہل بدعت اور شیعہ راویوں کی روایتیں اپنی الجامع الصحیح میں شامل کی ہیں۔ اس کی متعدد حیرت انگیز مثالوں میں سے ایک مثال یہ ہے کہ عمران بن حطان بخاری کے رواۃ میں سے ہیں۔یہ اپنے ہم مسلک خو ارج کے سردار اورخارجیت کے اتنے بڑے علم بردار تھے کہ جب ابن ملجم نے حضرت علی کو قتل کیا تواس پر انہوں نے نہایت مسرت انبساط کا اظہارکیا۔ابن ملجم کی موت پرانہوں نے اس کا مرثیہ لکھا جس کے دو اشعار سے حضرت علیؓ سے ان کی نفرت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے:
یا ضربۃٌ مِّنْ تقیِّ ما ارادَ بھا
الا لیَبْلُغَ مِنْ ذی العرشِ رِضوانا
’’واہ! اس پرہیز گار نے کیا وار کیا ہے۔یہ وار کرنے والے کی اس سے کوئی غرض نہیں تھی سوائے اس کے اس نیکی سے عرش کا مالک خدا راضی ہوجائے‘‘۔
انِّی لأذکرہ یوما فأحْسِبُہ
أوفَی البریِّۃِ عند اللہِ میزانا 
’’میں جب اس وار کویاد کرتا ہوں توسوچتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اس(ابن ملجم) کی یہ نیکی تمام نیکیوں سے بڑھ جائے گی۔‘‘(17) 
غور کرنے کی بات ہے کہ عمران بن حطان کی دو روایتیں بخاری کتاب اللباس میں موجود ہیں (18)۔ اسی طرح ابوداؤد اوراما م نسائی نے بھی ان کی روایتیں اپنی سنن میں لی ہیں۔ پاکستان کے مفتی سعید خان صاحب لکھتے ہیں:
’’بدعتیوں کے تمام فرقہ باطلہ خوارج ،شیعہ، قدریہ ،مرجۂ ،معتزلہ اورجہمیہ وغیرہ سے اہل السنت والجماعت کے ائمہ حدیث ،تفسیراورفقہ وتاریخ نے ان گنت روایات لی ہیں اوریہ ایسی حقیقت ہے کہ کوئی بھی صاحب مطالعہ مفسر، محدث ،فقیہ یا مؤرخ اس کا انکارنہیں کرسکتا۔اسماء الرجال کی کتابوں میں اگرکوئی ابان بن تغلب،سعید بن فیروز ،سعید بن عمرو ہمدانی،عبداللہ بن عیسی کوفی ، عدی بن ثابت ،محمد بن جحادہ اور زاذان کندی وغیرہ کے حالات کا مطالعہ کرے گا توہماری گزارشات کی تصدیق ہوجائے گی‘‘۔(19)
ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری کے مقدمے ’’ہدی الساری‘‘ میں اٹھارہ ایسے روات کا تذکرہ کیا ہے جو شیعہ تھے اور ان کی روایات بخاری (20)میں موجود ہیں۔(21)۔بخاری میں کم ازکم ایک رافضی کی بھی روایت موجود ہے، حالاں کہ عام طورپر محدثین نے تشیع اوررفض میں فرق کرتے ہوئے اہل تشیع کی روایات تو قبول کی ہیں، لیکن رافضی کی روایات کو لینے سے احتراز کیا ہے۔یہ رافضی راوی عباد بن یعقوب الرواجنی الکوفی ابو سعید ہیں۔ابن حجر نے ان کے بارے میں جو کچھ فتح الباری کے مقدمے ہدی الساری میں لکھا ہے، وہ بے کم وکاست یہاں نقل کردینا کافی ہے۔لکھتے ہیں:
رافضی مشہور الا انہ کان صدوقا وثقہ ابو حاتم،وقال الحاکم کان ابن خزیمہ اذا حدث عنہ یقول حدثنا الثقۃ فی روایتہ، المتہم فی رأیہ عباد بن یعقوب۔وقال ابن حبان کان رافضیا داعیۃ وقال صالح بن محمد کان یشتم عثمانؓ ۔قلت روی عنہ البخاری فی کتاب التوحید حدیثا واحدا مقرونا و ہوحدیث ابن مسعود ای العمل افضل ولہ عند البخاری طرق اخری من روایۃ غیرہ (22) 
غور کرنے کی بات ہے کہ حدیث کی سب سے عظیم ومہتم بالشان کتاب صحیح بخاری کی سب سے مہتم بالشان حصے کتاب التوحید میں ایک رافضی کی روایت موجود ہے۔محدثین نے اہل بدعت و ہوی کی روایات اس اصول کے تحت اپنی کتابوں میں لی ہیں کہ وہ جھوٹ سے بچنے والا اور صادق اللسان ہو(صدوق) اور اپنے مذہب کا داعی نہ ہو۔ابن حجر نے اس تعلق سے محدثین اوراصحاب علم کے متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ایک قول یہ نقل کیا ہے:
ان یکون داعیۃ لبدعتہ او غیر داعیۃ،فیقبل غیر داعیۃ و یرد حدیث الداعیۃ۔وہذا المذہب ہو الاعدل وصارت الیہ طوائف من الائمۃ و ادعی ابن حبان اجماع اہل النقل علیہ لکن فی دعوی ذلک نظر۔(23)

مسلم معاشرے کی موجودہ صورت حال

اہم سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آزادی فکر ونظر کی صورت حال کیا ہے؟ اس میں شک نہیں کہ اسلام فکر ونظر کی آزادی کا داعی ونقیب ہے۔اسلام کے دور زریں میں اس کی نہایت شاندار روایت قائم رہی ہے ۔معاصر اور بعد میں ظہور میں آنے والی تہذیبوں پر اس کے غیر معمولی اثرات قائم ہوئے۔تاہم جہاں تک معاصر مسلم معاشرے کامعاملہ ہے ،حقیقت یہ ہے کہ وہ خود اپنی ہموار کردہ راہ پر چلنے سے گریزاں ہے۔ یہاں سیاسی اور فکری دونوں طرح کی آزادی کی صورت حال نہایت مخدوش ہے۔جہاں تک سیاسی صورت حال کی بات ہے،اس تعلق سے مسلم ممالک کی صورت حال دنیا کے دوسرے تمام ممالک کے مقابلے میں نہایت ناگفتہ بہ ہے۔ مغرب کی ماد ر پدر آزادی کے تصور کو نشانہ تنقید بنانے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے گھرکی اس صورت حال کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔فکری حلقوں کی صورت حال یہ ہے کہ اس بات کوتقریباً خاموشی کے ساتھ تسلیم کرلیا گیا ہے کہ اسلاف کرام جیسی صلاحیت رکھنے والے لوگوں کی پیدائش کا سلسلہ اللہ تعالی نے بند کردیا ہے کیوں کہ ایسی صلاحیت رکھنے والے لوگوں کی اب ضرورت باقی نہیں رہی۔ اس لیے کہ سادہ لوح دین پسند اذہان کے مطابق دین وشریعت کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جو سلف صالحین کی فکر و نظر کا مرکزنہ بنا ہو اور جس میں انہوں نے بعد میںآنے والوں کے لیے کوئی خلا یا گنجائش چھوڑی ہو۔اس تعلق سے یہ مقولہ مشہور ہے کہ بھلا علمائے سلف نے پچھلوں کے لیے کام کی گنجائش چھوڑی ہی کہاں ہے؟اجتہاد کی مزعومہ قفل بندی کے بعد یہ نظر یہ آخری حد تک مستحکم ہوگیا کہ: ما اغلقہ السلف لا یفتحہ الخلف۔’’اسلاف کرام نے اجتہاد کے جس راستے کوبند کردیا ہے، اس کوان کے بعد آنے والے لوگ کھول نہیں سکتے‘‘۔اسلامی حلقوں کے اس غالب رجحان کے مطابق، گویا اصل مسئلہ سرے سے فکر کا ہے ہی نہیں! مسئلہ صرف عمل کا ہے۔ یہ دراصل ہماری عملی کوتاہیاں ہیں جنہوں نے ہمیں عروج کے میناروں سے اٹھا کر زوال کی کھائیوں میں پھینک دیا ہے۔ حالاں کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد آیات سے اس کا اشارہ ملتا ہے کہ امت مسلمہ کے مسائل کا اصل سرچشمہ وہ فکری انحراف وانتشار ہے جو امت کے اندر دور زوال میں پیدا ہوجائے گا۔چناں چہ رسول اللہ کی مشہور حدیث ہے کہ آپ نے فرمایا : لتتبعن سنن من کا ن قبلکم شبرا شبر و ذراعا بذراع حتی لو دخلوا جحرضب تبعتموہ’’ تم لوگ گزشتہ لوگو ں کی بالشت در بالشت اور دست در دست پیروی کروگے حتی کہ اگر وہ گوہ کے بل میں گھس جائیں تو تم بھی ایسا ہی کروگے‘‘۔(24 )۔بعض احایث میں علم اٹھالینے اورجہل پھیلنے کی بات کہی گئی ہے۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ آپ کوئی بھی بات غالب فکر سے ہٹ کر کہنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ اگر آپ کی طرف سے ایسی جرأت کا اظہار ہوتا ہے تونہ صرف آپ پرکفر وزندقے کا الزام عائد ہوتا ہے بلکہ آپ کو اسلام اور اہل اسلام کا باغی تصور کیا جاتا ہے۔ 
عالم اسلام کے مختلف خطوں خصو صاً مصر میں ایک طرف جماعۃالتکفیروالہجرۃ اور اس طرح کی بعض دوسری جماعتوں کی تکفیری ذہنیت اور دوسری طرف فکری اباحیت پسندوں کے ایک طبقے کی طرف سے دین کے بعض اہم مسلمات پر زبان درازی کی وجہ سے مختلف مصنفین اور قلم کاروں سے متعلق تنازعات پیدا ہوتے رہے ہیں۔بعض لوگ جن میں فرج فودہ (مصر)، مہدی عامل اورحسین مروہ (لبنان )وغیرہ شامل ہیں، کا قتل ناگہانی بھی کیا گیا اوربعض دوسرے لوگوں پر کفر وزندقہ کا ملزم قرار دے کر انہیں ملک سے چھوڑ دینے کے لیے مجبورکردیا گیا۔ اس میں شک نہیں کہ ایسے بہت سے معاملات میں فکری ا باحیت کے شکار لوگوں کی فکری جارحیت ہی فساد کا باعث ہوتی ہے۔ خود ان مذکورہ قلم کاروں میں کوئی بھی ایسا نہیں جوفکری اباحیت کا شکار نہ ہو، لیکن ایسے مسئلے پر زیادہ شدت پسندانہ رخ اختیارکرنے کی وجہ سے اسلام اورمسلمانوں کی شبیہ خراب ہوتی ہے۔ایسے بہت سے مسائل کے ساتھ ازہرکے بالغ نظر علما نے نہایت حکمت اوردانائی کے ساتھ تعامل کیا اور اس کے نہایت شاندار نتائج سامنے آئے۔اس کی مثالیں طہ جابر علوانی کی ’’اشکالیۃ الردۃ والمرتدین‘‘ اوردوسری کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ 1937میں ایک مصری مصنف اسماعیل ادہم نے ’’ لماذا انا ملحد‘‘( میں ملحد کیوں ہوں؟) کے نام سے کتاب لکھی۔ اس کا جواب سنجیدہ طور پر علماے ازہر نے کتاب لکھ کرہی دیا ۔ مصرکے حسن حنفی اور نجیب محفوظ کے تعلق سے بھی دانش مندی کی روش اختیارکرتے ہوئے مصر کے اصحاب علم وفکر نے عوام کویہ موقع نہیں دیا کہ وہ ان کی جان کونشانہ بنائیں اورمسئلے سے سنجیدہ طور پر نمٹنے کی کوشش کی۔
ہندوستان میں بعض شخصیات کوان کے بعض علمی واجتہادی نقطہ نظر کی بنا پر ملک کے بعض اہم دینی اداروں سے برطرف کر دیے جانے کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ایک قابل ذکرعالم ومصنف کو رجم کے حد شرعی نہ ہونے کے موقف پر کتاب لکھنے کی پاداش میں ایک بڑے دینی ادارے کے منصب تدریس سے مستعفی ہوکر جنوبی ہند میں پناہ لینا پڑی۔ اس نوع کی بہت سی مثالیں ہیں۔بعض شخصیات پر جان لیوا حملے کیے جانے اور علمی حلقوں میں انہیں تقریبا اچھوت بنا دئے جانے کی بھی مثالیں موجود ہیں۔
ہمارے معاشرے میںیہ روایت بالکل نئی نہیں ہے۔ اس کی مثالیں اسلام کے دور زریں میں بھی ملتی ہیں، لیکن اس کی وجہ سے سماج میں انتشار پیدا نہیں ہوتا تھا۔اس کا توازن نہیں بگڑتا تھا۔ آپس کے تعلقات متاثرنہیں ہوتے تھے۔ حضرت امام شافعی کے بارے میںیونس صدقی کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی سے زیادہ عقل مند اور روادار کسی کو نہیں دیکھا۔ ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ مناظرہ کیا، پھر الگ ہوگئے۔ پھر ایک دن جب ان سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:اے ابوموسیٰ، کیا یہ بہترنہیں ہے کہ ہم آپس میں بھائی بھا ئی رہیں، خواہ کسی مسئلے میں بھی متفق نہ ہوں۔(الا یستقیم ان یکون اخوانا وان لم نتفق فی مسئلۃ) (26)
لیکن آج کی صورت حال یہ ہے کہ آج یہ تسلیم کرلیا گیا ہے کہ جس کی فکر ہماری فکر سے ہم آہنگ نہیں ہے، وہ ہم سے نہیں۔ ہندوستان کے دینی حلقوں سے اس وقت بلاشبہ سیکڑوں رسائل مجلات شائع ہوتے ہیں ،جن میں ایسے رسائل ومجلات کی تعداد شاید انگلیوں پر گنے جانے کے بھی قابل نہ ہو جوتعدد فکرکے حامی و مؤید ہوں۔اکثر رسائل میں خطوط تک کی اشاعت میںیہ اہتمام کیا جاتا ہے کہ ان میں متعلقہ حلقے کی فکر سے متصادم کوئی بات نہ کہی گئی ہو، حالاں کہ ان رسائل میں بھی یہ روایتی جملہ زیب قرطاس ہوتا ہے کہ ’’ مقالہ نگار کی رائے سے ادارے کا اتفاق ضروری نہیں ہے۔‘‘

دینی مدارس کی صورت حال

دینی مدارس نظری سطح پر اس بات کی تعلیم دیتے رہے ہیں کہ امت کا اختلاف رحمت ہے (اختلاف امتی رحمۃ)۔ ادب اختلاف پر تقریروں اورتحریروں کے ضمن میں اسلام کے صدر اول کی نیم افسانوی حد تک نظرآنے والی استعجاب انگیز مثالوں سے محفل سخن میں گرمی لانے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن عملی سطح پر آپ کو اس کی اجازت نہیں کہ آپ خالص مجتہد فیہ مسائل میں بھی اپنے حلقے کے موجودہ اکابر کی کسی رائے سے اختلاف کی جرأت کرسکیں۔ہاں، فقہی مباحث میں آپ کو نہ صرف اس کی اجازت حاصل ہے بلکہ آپ کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے کہ آپ اپنے مسلکی نقطہ نظر کی توجیہ و ترجیح میں دوسرے مکاتب فقہ کے صف اول کے ائمہ و محدثین پر پوری شدت کے ساتھ رد وقدح کریں اور انہیں ہدف تنقید بنائیں۔یہاں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ دیگر فقہا اور ائمہ ومحدثین کی آرا کوزیر بحث لاتے ہوئے ان پر تنقید کے ضمن میں ان کااحترام ملحوظ رکھا جاتا ہے،اگرچہ یہ بات کلی طور پر درست نہیں ،تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اپنے حلقے کی اہم شخصیات کے فقہی و علمی مواقف وآرا پر اسی درجے میں زبان کھولنے اور ردوقدح کی اجازت حاصل ہے جس درجے میں دوسرے مکاتب فقہ کی اکابر شخصیات کے خلاف اس کو جائز اور قابل ثواب تصور کیا جاتا ہے؟ ظاہر ہے، اس کا جواب نفی میں ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ خالص علمی و اجتہادی مسائل میں بھی یہ در اصل ہمارے حلقے کی نمائندہ اور مقتدا شخصیات ہیں جنہیں اصلاً دلائل وبراہین کی جگہ حاصل ہوگئی ہے۔ہمارے دینی و علمی حلقوں میں انظروا الی ماقال کے بجائے انظروا الی من قال  کی روایت نہایت پختہ اورمستحکم ہوچکی ہے۔امام غزالی نے مظاہر تکفیر کی رد میں لکھی جانے والی اپنی کتاب’’ فیصل التفرقۃ بین الاسلام والزندقۃ ‘‘میں لکھا ہے کہ حق سے دوراور نظریاتی افراط کا شکارہوجا نے کا ایک بڑا ذریعہ شخصیت پرستی ہے جس میں حق کو ایک شخص کے ساتھ محصورسمجھ لیا جاتا ہے۔ ان کے الفاظ میں :’’اگرتم انصاف سے کام لو گے توتمہیں اس بات کا علم ہوجائے گا کہ بعینہ کسی ایک صاحب نظر پرحق کو موقوف کردینے والا کفر اور تناقض سے زیادہ قریب ہے‘‘۔ (ان انصفت علمت ان من جعل الحقائق و قفا علی واحد من النظار بعینہ فھو الی الکفر والتناقض اقرب) (27)
اس المیے پر غور کیجیے، ہندوستان کے ایک عظیم و نامور علمی ادارے کے ایک فاضل کواس جرم میں اس کی تحقیقی اکیڈمی سے نکا ل دیا گیا کہ اس نے ایک اخبار میں ادارے کے نصاب میں تبدیلی کی ضرورت پر مراسلہ لکھ دیا تھا۔اسی طرح اس واقعے سے سیکڑوں لوگ واقف ہیں کہ اسی ادارے کے ناظم تعلیم نے ایک صحافی کو ایک اجتماع عام کے بعد عمومی دسترخوان سے اس جرم و گستاخی کی بنا پر کھدیڑ کر بھگا دیا گیا کہ اس نے دہلی کے ایک اردو ماہنامے میں ادار ے کے نصاب میں تبدیلی کی ضرورت پر مضمون لکھ دیا تھا۔بہت سے مدارس میں دوسرے مکاتب فکر کی کتابیں تک رکھنا اور پڑھنا ممنوعات میں سے ہے۔ دراصل مدارس میں حریت فکر ونظر کے خاتمے میں سب سے بڑا دخل اس مسلکی کش مکش کو ہے جس کا سلسلہ انیسویں صدی کے اواخر سے اب تک جاری ہے۔مثالوں سے قطع نظر بظاہر ایسی کوئی علامت نظر نہیں آتی جس سے یہ امید قائم ہوتی ہو کہ مسلکی شدت پسندی اور تناؤ میں فی زمانہ کوئی کمی آئی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوپاک میں پابندی فکرونظر کی موجودہ صورت حال میں اس وقت تک نمایاں سطح پر تبدیلی نہیںآسکتی جب تک کہ وہاں ایک متعین فقہ پر ترکیز کے بجائے یا اس کے ساتھ خالص اسلامی فقہ یافقہ مقارن کو پڑھانے کا التزام نہ کیا جائے اور اس تناظر میں مدارس کے نصا ب میں مناسب تبدیلی نہ لائی جائے۔نیز ان کی مجموعی فضا پر حلقہ واریت کے بجائے اسلامیت کے رنگ کوپختہ کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

تکفیر کا ظاہرہ

دور حاضر میں ہمارے علمی ودینی حلقوں میںآزادی فکرونظر کو پابند سلاسل کرنے اور اس پرقدغن لگانے کی جو کوششیں کی جاتی رہی ہیں،اس کا ایک نہایت خطرناک مظہر تکفیرکی صورت حال ہے۔اسلامی تاریخ میں صحابہ کرام کے مثالی دور میں اس کے واقعات نہیں ملتے، حالاں کہ ان کے درمیان مختلف دینی امور میں شدید ترین نظریاتی اختلافات پائے جاتے تھے۔ کبھی یہ اختلافات شدید تر بھی ہوجاتے تھے۔ حضرت قدامہ بن مظعون نے جو بدری صحابی اور ام المؤمنین حفصہ کے ماموں تھے، شراب پی اور حضرت عمر کی طرف سے اس بابت سوال اور محاسبے پر اپنے اس فعل حرام کے جواز میں قرآن کی اس آیت سے استدلال کیا: لیس علی الذین آمنوا وعملوا الصالحات جناح فیما طعموا اذا ما اتقوا (28) صحابہ کرام کے مشورے سے جس میں حضرت علی اور عبد اللہ ابن عباس شامل تھے، حضرت عمرؓ نے ان پر حد جاری کی لیکن ان کی تکفیر نہیں کی۔ سیاسی سطح پر حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے اختلافات نے تاریخ کے دھارے کو بدل کر رکھ دیا، لیکن ان نظری و سیاسی اختلافات نے کبھی تکفیر کی شکل اختیار نہیں کی۔ خوارج حضرت علیؓ، حضرت عثمانؓ سمیت اکثر صحابہ کی تکفیر کرتے اور انہیں مباح الدم سمجھتے تھے، لیکن حضرت علیؓ نے ان کی تکفیر نہیں کی۔ اس تعلق سے ایک شخص کے سوال کے جواب میں انھوں نے فرمایا کہ وہ کفر سے ہی تو بھاگے ہیں۔ (من الکفر فروا) جب ان سے پوچھا گیا کہ پھر ان پر کیا حکم لگایا جائے توانہوں نے فرمایا: اخواننا بغوا علینا‘‘،وہ ہمارے بھائی ہیں جو ہمارے خلاف باغی ہوگئے ہیں‘‘۔ (29)۔۔فقہا و محدثین کی جماعت میں اس تعلق سے احتیاط کی روش پائی جاتی تھی۔ وہ حکمِ شرعی کا اطلاق فرد کی ظاہری حالت پر کرتے ہوئے باطن کی کیفیت کو خدا پر چھوڑنے کے قائل تھے۔ اسلاف کا مسلک تھا کہ ہم ظاہر حال پر حکم لگاتے ہیں اور چھپے ہوئے احوال کو اللہ کے حوالے کردیتے ہیں۔(نحن نحکم بالظواہر ونولی الی اللہ السرائر) اس لیے جو لوگ دین کے اساسی اعتقادات پر ایمان لاتے ہوئے خود کو مسلمان کہتے تھے، انھیں مسلمان سمجھا جا تا تھا۔ یہی وجہ ہے جیسا کہ اوپرگزرا، خوارج، معتزلہ،جمہیہ، یا قدریہ جیسی جماعتوں کے ضلال وانحراف کے اظہر من الشمس ہوجانے اور ان سے ہر طرح اختلاف کے باوجود علما ئے اہل سنت اس نکتے پر متفق رہے کہ ان کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔
البتہ متاخرین فقہا میں جب تقلیدی جمود پیدا ہوا، ان کے ایک طبقے میں دنیا داری سرایت کرگئی اور اس نے بڑے بڑے سرکاری مناصب کے حصول کے لیے فقہ کو پڑھنا شروع کردیا جس پر امام غزالیؒ جیسے لوگوں نے شدید تنقید کی ہے۔ (30) اس سے علما کے درمیان حلقہ بندی میں شدت پیدا ہوئی۔ فقہ میں انتشار کی کیفیت جو بعد کے ادوار میں پیدا ہوگئی تھی، اس میں سنگین اضافہ ہوگیا اور یہ شعبہ انحطاط کا شکار ہوتا چلا گیا۔ باہمی کشمکش کے اس ماحول میں تکفیر کو ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ’’الاقتصاد فی الاعتقاد‘‘ میں غزالی نے لکھا ہے کہ: ’’غلطی سے ایک ہزار کفار کو چھوڑدینا اس کے مقابلے میں ہلکا ہے کہ غلطی سے ایک مسلمان کا (اس پر کفر کے اطلاق کے بعد مرتد کی سزا کے طور پر)خون بہا یا جائے‘‘(31)فیصل التفرقۃ میں انہوں نے یہ بامعنی بات لکھی ہے کہ تکفیر میں تو خطرہ ہے، لیکن سکوت میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ (32)
پس چہ باید کرد!
ہمارے علمی ودینی حلقوں میں فکر ونظر اور اظہار رائے کی آزادی کے تصورکی عملی سطح پر بحالی کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کی ضرورت ہے ۔حقیقت یہ کہ ہم اصولی سطح پر اس کے جتنے بھی حامی و مدعی ہوں،لیکن عملی سطح پر ہم اس کے لیے تیار وآمادہ نہیں ہیں۔ہمارے علمی دوینی حلقے اس خوف واندیشے میں مبتلا ہیں کہ فکرونظر اور اظہار رائے کی آزادی مسلم معاشرے کومغرب کی راہوں پر ڈال دینے کاباعث ہوگی جس کے نتیجے میں مغرب کے نمونے پر مسلم معاشرے میں فکری اباحیت کا دروازہ کھل جائے گا۔اس میں شک نہیں کہ مغرب کے طرز پر فکرونظر کی مکمل آزادی مکمل اباحیت کا دوسرا نام ہے۔اس سلسلے میں مغرب کی تقلید نہ صرف مذہبی بلکہ انسانی اقدارو روایات اورشرافت وتہذیب کے معیارات کو بھی ملیامیٹ کرکے رکھ دے گی۔ تاہم اہمیت کی بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں خود اسلامی تہذیب کا ورثہ نہایت متمول اوروسیع ہے۔ممکن ہے اس کے بعض ادوار میں چنداں افراط و تفریط کی صورتیں بھی پائی جاتی ہوں لیکن فی نفسہ اس میں بہت حدتک اعتدال نظر آتا ہے۔عباسی دور میں مانوی،دیصانی،راوندی جیسے باطل فرقوں کی وہ کثرت تھی کہ عباسی حکم راں مہدی کوباضابطہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکوتی سطح پر الگ سے ایک شعبہ قائم کرنا پڑاجس کے تحت ایک طرف ا ن کے خلاف مقدمات قائم کیے جاتے تھے، لیکن دوسری طرف باضابطہ اہل علم سے کتابیں لکھواکر فکری سطح پران کے رد کی بھی کوشش کی جاتی تھی۔(33) ۔اس دور کے مشہور زنادقہ میں حماد عجرد، حماد الراویہ ،مطیع ابن ایاس، ابن ابی العوجاء، صالح بن عبدالقدوس اوربابک خرمی جیسوں کی ایک طویل فہرست ہے۔(34) یہ لوگ ہندوعجم کے افکارسے متاثر ہوکر اسلامی مسلمات کونشانہ بناتے تھے، لیکن اللہ کی بنائی ہوئی فطرت’’اما الزبد فیذہب جفاء واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض‘‘ کے تحت ان کی کتابیں فنا کے گھاٹ اترگئیں یاپھروہ آج محض تحقیق ومطالعہ کے لیے لائبریریوں کی زینت ہیں۔اسلامی سماج پران کے اثرات بعد میں باقی نہیں رہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے علمی حلقوں خصوصا مدارس و جامعات اورفکری اداروں میں آزادی فکرونظر کی روایت کودوبارہ بحال کرنے کو مرکز توجہ بنایا جائے ۔تنقید ذات (self criticism ) کو رواج دینے او رپوری جرأت وحوصلہ مندی کے ساتھ اپنے علمی وتہذیبی ورثے کی تنقیح وتنقید کی کوشش کی جائے۔یہ کام عقل و فکر اور اظہار رائے کی آزادی کے بغیرممکن نہیں ہے۔عرب ممالک کی موجودہ صورت حال طہ جابر علوانی (35) اورنجات اللہ صدیقی (36)کے مشاہدات وتجربات کی روشنی میںیہ ہے کہ وہاں طلبہ کوعلمی وفکری موضوعات پراس بات کی اجازت ہی حاصل نہیں ہے کہ وہ کھل کر ان میں غوروفکر کرسکیں اور اپنی رائے قائم کرسکیں۔ان کے لیے کسی بھی صورت میں یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ یہ لکھ سکیں کہ فلاں مسئلے میں میری رائے یہ ہے۔پی ایچ ڈی کے مناقشوں میں اس طرح کی جرأت مندی کا اظہار کرنے والوں کے مقالے کورد کردیا جاتا ہے۔ ہندوپاک کے علمی حلقوں میں بھی غالب صورت حال تقریباً یہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس صورت حال میں جب تک اعتدا ل کے ساتھ خوش گوار تبدیلی نہ آئے،اس وقت تک ہمار ا فکری قافلہ اپنی راہ پرآگے نہیں بڑھ سکتا اورہم یہ توقع نہیں کرسکتے کہ امت مسلمہ خود مسلط کردہ تہذیبی زوال کے دائروں سے خود کونکال پائے گی۔ 

حواشی وحوالہ جات

(1) رسول اللہ کی مشہور حدیث ہے: افضل الجہاد کلمۃ حق عند سلطان جائر۔ مسلم
(2) رسول اور اصحا ب رسو ل کی سیرت کے مقابلے میں یہ موضوع حدیث امت میں پھیلانے کی کوشش کی گئی کہ: عورتوں سے مشورہ اور وہ جوکچھ وہ مشورہ دیں ان کے خلاف کرو (شاوروہن وخالفوہن)
(3) احمد بن حنبل : جلد 5مسند احمد، بیروت، دارالکتب العلمیہ،2008،ص،236
(4) ابو حامد الغزالی :المستصفی ج: 2 ،بیروت :دارالکتب العلمیہ،1413ص،355
(5) طہ جابر علوانی: اشکالیۃ الرد ۃ و المرتدین من صدر الاسلام الی الیوم ۔قاہرہ،مکتبہ الشروق الدولیہ، ،2006 ص،138
(6) : ایضا ص165
(7) ایضا ص،166بحوالہ عمدۃ القاری ج، ۱۱ ص،235۔
(8) یوسف قرضاوی :فی فقہ الاولویات : قاہرہ، مکتبہ وہبہ2005 ص140
(9) ایضا
(10) قرطبی: الجامع لاحکام القرآن: دارالکتب العلمیہ،بیروت،1988،ج،3 ص182-183
(11) ابویوسف:کتاب الخراج ،مکتبہ مشکا ۃ الاسلامیۃ روایت نمبر32 ص12،یہ کتاب ہم نے نیٹ سے ڈاؤن لوڈ کی ہے اور اس نسخے میں دیگرتفصیلات درج نہیں ہیں۔
(12) قرطبی :ج،20 ص،172
(13 ابن تیمیہ : قاعدۃ جلیلہ فی التوسل والوسیلہ لاہور: ادارہ ترجمان السنۃ بدون سنہ ص103-104
(14) ابن قیم : حادی الارواح الی بلاد الافراح مکتبہ المتنبی ،قاہرہ بدون سن ص،247 - ابن قیم نے اپنے استاذ علامہ ابن تیمیہ اور اپنے موقف کی حمایت میں اس کتاب میں نہایت تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔یہ موقف جمہورامت سے یقیناًہٹا ہوا ہے، لیکن ابن قیم کی اس موضوع پر بحث (دیکھیے مذکورہ کتاب ص،246 تا 271) پڑھنے کے لائق ہے۔یوسف قرضاوی :فتاوی یوسف قرضاوی ،(اردو ترجمہ ’’فتاوی معاصرہ ‘‘ مترجم سید زاہد اصغر فلاحی)، دہلی : مرکزی مکتبہ اسلامی ،2005ص62
(15) طہ جابر علوانی : ادب الخلاف، ورجینیا،امریکا، المعہد العالمی للفکر الاسلامی 1991 ص،63
(16) جمال بنا: حریۃ الفکر والاعتقاد فی الاسلام، قاہرہ: دارالفکر الاسلامی، بدون سنہ
(17) سیر اعلام النبلاء: بحوالہ http://ar.wikisource.org 
مزید تفصیل اس سائٹ پر موجود ہے: http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=283236
(18)محمد بن اسماعیل البخاری : الجامع الصحیح :کتاب اللباس ،باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال وقدر مایجوز منہ ،دار عالم الکتب ،ریاض1996 جلد ،7ص،45۔فتح الباری میں ابن حجر نے اس روایت کے تحت عمران بن حطان پرگفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے:
و عمران ہوالسدوسی کان احد الخوارج من العقدیۃ بل ہو رئیسہم وشاعرہم و ہو الذی مدح ابن ملجم قاتل علی بالابیات المشہورۃ و ابو حطان... وانما اخرج لہ البخاری علی قاعدتہ فی تخریج احادیث المبتدع اذا کان صادق اللہجۃ متدینا وقد قیل ان عمران تاب من بدعتہ وہو بعید۔ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، ج،8 ص،338 ۔دیوبند:مکتبہ شیخ الہند،2006) 
اہل بدعت کے تعلق سے محدثین کے موقف پرابو داؤد کے اس قول سے روشنی پڑتی ہے: امام ابو داؤد نے فرمایا: 
’’لیس فی اہل الاہواء اصح حدیثا من الخوارج‘‘اہل ہویٰ کے اندر حدیث کی روایت میں خوارج سے زیادہ صحیح فرقہ کوئی اور نہیں ہے۔ (سیر اعلام النبلا ء، ج ۴ ص، 214 موسسہ الرسالہ ط ۳ 1985) 
(19) مقالہ’’ اہل بدعت کی روایات‘‘: ماہنامہ الندوۃ،اسلام آباد،دسمبر2011 ص،11
(20) الصحیح البخاری ،حدیث نمبر3197
(21) ہدی الساری مقدمہ فتح الباری، دیوبند :مکتبۃ شیخ الہند،2006 دیکھیے الفصل التاسع ص،535-540 
(22) ایضا،ص،465-466
(23) ایضا ص،455
(24) بخاری کتاب الفتن باب ظہور الفتن ج،8 ص،89
(25) اس کتاب کے مصنف محمد عیسی انصاری ہیں۔کتاب مکتبہ فہم قرآن وسنہ ،لاہور، سے 2011 میں شائع ہوئی ہے۔
(26) سیر اعلام النبلاء ج،10 ص،16
(27) ابو حامدغزالی : فیصل التفرقہ بین الاسلام والزندقہ،تعلیق و تخریج: محمود بیجو، مکتبہ دار البیروتی ، ط:1، ۱۹۹۲، ص،61 ص،23
(28) قرطبی:ج،ص،192
(29) ابوبکر عبدالرزاق بن الہمام: مصنف عبد الرزاق ج،10، المجلس العلمی ،جنوب افریقیاص، 150
(30) غزالی:احیاء العلوم،مکتبہ مطبعہ کریاتہ فوترا،سماروغ ،اندونیشیا،بدون سن ج،1،ص،22
(31) الاقتصاد فی الاعتقاد، (ضبطہ و قدم لہ :مونس الفوزی الجسر) ط،1،1994، ص، 211
(32) فیصل التفرقہ بین الاسلام والزندقہ۔ 61 ۔ تکفیر کے مسئلے پر علما ے سلف میں غزالی نے نہایت متوازن اور روادارانہ موقف اس کتاب میں اختیار کیا ہے۔ غزالی کے موقف پر تجزیاتی مطالعہ کے لیے دیکھیے راقم کا مضمون: ’’غزالی اور مسئلہ تکفیر‘‘، سالنامہ کتابی سلسلہ ’’ الاحسان ‘‘ الہ اباد:شاہ صفی اکیڈمی 2012
(33) احمد امین :ضحی الاسلام ،قاہرہ ،مکتبہ النہضۃ المصریۃ بدون سنہ ج،۱ ص۔140-141
(34) ایضا 
35۔ طہ جابر علوانی: ’’جدید فکری بحران نشاند ہی اور حل‘‘ اردو ترجمہ :عبدالحفیظ رحمانی، نئی دہلی :قاضی پبلشرز،1994 ،ص 41-42
36۔ حوالے کے لیے دیکھیے انٹرویو: یوگیندر سکنداز نجات اللہ صدیقی 
http://www.lubnaa.com/article.php?id=65

بر صغیر کی دینی روایت میں برداشت کا عنصر (۲)

مولانا مفتی محمد زاہد

بر صغیر میں فرقہ وارانہ تقسیم کا ایک اہم زاویہ حنفی اور اہلِ حدیث تقسیم ہے۔ اگرچہ دونوں طرف کے حضرات کے درمیان مناظرہ بازی اور کبھی کبھار دشنام بازی بھی ہوتی رہی ہے، لیکن دونوں طرف کے سنجیدہ اور راسخ علم رکھنے والی شخصیات نے ہمیشہ نہ صرف یہ کہ اس اختلاف کو اپنی حدود میں رکھنے کی کوشش کی بلکہ ایک دوسرے کے احترام کی مثالیں بھی قائم کیں۔ اس سلسلے میں چند واقعات کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔
حنفی، اہلِ حدیث اختلاف کا ایک اثر جو دینی مدارس میں درس و تدریس کے ماحول پرمرتب ہوا اور پھر عوامی ماحول بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، یہ تھا کہ درس و تدریس بالخصوص حدیث کی تدریس کا ایک بڑا حصہ نمازمیں رفع یدین ، آمین بالجہر جیسے چند ایسے مسائل پر صرف ہونے لگا کہ جن میں عہدِ صحابہ سے دونوں طرح کے عمل چلے آرہے ہیں اور دونوں طرف حدیثیں بھی موجود ہیں۔ ان مسائل پر بحث اس انداز ہونے لگی کہ ہر فریق یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگارہا کہ ذخیرۂ حدیث صرف اور صرف اسی کے موقف کی ترجمان ہے، دوسرے فریق کے پاس کچھ موجود نہیں۔ دوسرا فریق جن احادیث کو اپنی دلیل سمجھ رہا ہے، یہ محض اس کی خام خیالی ہے جبکہ یہ بات حقیقت کے بالکل خلاف ہے۔ تاہم درس و تدریس کے حلقوں میں اصل حقیقت کا ادراک بھی موجود رہاہے۔ مولانا مناظر احسن گیلانی اپنے استاذ شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ کا طرزِ تدریسِ حدیث بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’جب کوئی ایسی حدیث آجاتی جو بظاہر مفہوم کے لحاظ سے قطعی طور پر حنفی مذہب کے خلاف ہوتی اور پڑھنے والا طالب علم خود رک کر دریافت کرتایا دوسرے طلبہ پوچھتے ’’حضرت یہ حدیث تو امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ کے قطعاً خلاف ہے‘‘۔ جواب میں مسکراتے ہوئے بے ساختہ شیخ الہندؒ کی زبانِ مبارک سے یہ الفاظ نکلتے ’’ خلاف تو ہے بھائی! میں کیا کروں ؟ہاں آگے چلیے‘‘(۲۵)۔
بظاہر کہنے کامقصدیہ تھاکہ یہ کوئی اچنھے کی بات نہیں ہے ۔اجتہادی اختلافی مسائل میں توایساہوتاہی ہے کرہرفریق کے پاس کوئی نہ کوئی دلیل ہوتی ہے اورہرفریق کی دلیل بظاہر دوسرے فریق کے خلاف ہوتی ہے، اس لیے ایسے مسائل میں یہ توقع رکھناکہ ہمارے خلاف کوئی دلیل نہ ہو، اس کامطلب یہ بنتاہے کہ دلیل صرف ہمارے پاس ہو، دوسرے فریق کے پاس نہ ہو۔ اگرایساہوتاتو اس مسئلے میں اختلاف ہی کیوں ہوتا۔
مولانا اشرف علی تھانویؒ متصلب اور متبحر حنفی علما میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے فقہ حنفی کی تائید میں اعلاء السنن جیسی ضخیم کتاب بھی تالیف کروائی۔ اس کے باوجود بعض اہلِ حدیث حضرات ان کے حلقۂ ارادت میں شامل تھے اور مولانا تھانوی کی طرف سے ان کی خانقاہ میں رفع یدین وغیرہ پرکوئی پابندی نہیں تھی ۔ اہلِ حدیث اور حنفی حضرات میں جن مسائل پر بحث مباحثے کا بازار گرم رہتاہے، یہ وہ مسائل ہیں جو عہدِ صحابہ و تابعین اور ائمہ مجتہدین کے دور ہی سے مختلف فیہ چلے آرہے ہیں۔ مولانا تھانوی ان مسائل کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، اس کے بارے میں ان کے ایک وعظ سے اقتباس ملاحظہ ہو : 
’’یہ بھی وجہ ہے ہندوستان میں تقلیدِ مذہبِ حنفی کے وجوب کی کہ یہاں رہ کر کسی دوسرے مذہب پر صحیح عمل نہیں ہوسکتا، کیونکہ ہندوستان کے اکثر علما حنفی ہیں، اور یہاں کتابیں بھی فقہِ حنفی کی زیادہ ملتی ہیں۔ اساتذہ بھی اسی فقہ کے میسر ہو سکتے ہیں، دوسرے فقہ کی نہ زیادہ کتابیں یہاں موجود ہیں ، نہ ان کے پڑھانے والے میسر آسکتے ہیں ، تو عمل کی کیا صورت ہو ۔ ہمارے ایک مہربان مکہ مکرمہ جاکر شافعی بن آئے ہیں۔ یہ تو کوئی ملامت و طعن کی بات نہیں تھی۔ اگر تحقیق کے ساتھ دوسرے مذہب کو اختیار کیا جائے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ مذاہبِ اربعہ سب حق ہیں۔ ہاں، تلعب بالمذاہب البتہ حرام ہے کہ اس کو کھیل بنا لیا جائے‘‘ (۲۶)۔
اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ یہ بات مولانا تھانوی ہی کے ایک فیض یافتہ مولانا حبیب احمد کیرانوی نے انہی کی سرپرستی میں لکھی جانے والی کتاب ’’إعلاء السنن ‘‘ کے فقہی مقدمے میں لکھی ہے ۔ مولانا حبیب احمد کیرانوی نے پہلے تو مختلف فقہوں کے مقلدین کے اس دعوے اور دلیلوں کو ذکر کیا ہے کہ ان کے بقول ان کے امام کی فقہ سب سے افضل ہے۔ یہ باتیں نقل کرنے کے بعد مولانا نے بڑی وضاحت کے ساتھ ان کی تردید کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ بذاتِ کسی امام کی فقہ کو دسرے امام کی فقہ پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے۔ اسی سلسلے میں وہ فرماتے ہیں : 
والحق أن الأئمۃ المقتدی بہم فی الدین کلّہم علی ہدی مستقیم ، فأیّ مذہب من مذاہبہم کان شائعا فی بلد من البلاد وفی العلماء بہ کثرۃ یجب علی العامی اتباعہ، ولا یجوز لہ تقلید إمام لیس مذہبہ شائعا فی بلدہ ولا فی العلماء بہ کثرۃ؛ لتعذر الوقوف علی مذہب ذلک الإمام فی جمیع الأحکام والحال ہذہ، فافہم، فإن الحق لایتجاوز عنہ إن شاء اللہ تعالی، ولو شاعت المذاہب کلّہا فی بلد من البلاد واشتہرت، وفیہ من العلماء بکل مذہب عدد کثیر جاز للعامی تقلید أیّ مذہب من المذاہب شاء، وکلُّہا فی حقہ سواء، ولہ أن لا یتمذہب بمذہب معین، ویستفتی من شاء من علماء المذاہب، ہذا مرۃ وذلک أخری، کما کان علیہ السلف الصالح رضی اللہ عنہم، بشرط أن لا یلفّق بین مذہبین فی عمل واحد، ولا یتتبع الرخص متبعا ہواہ، لأن ذلک من التلہی وہو حرام بالنصوص 
’’صحیح بات یہ ہے کہ جن ائمہ کی بھی اقتدا کی جاتی ہے، وہ سارے کے سارے سیدھے راستے پر ہیں ، لہٰذا ان کے مذاہب میں سے جس کا مذہب بھی کسی علاقے میں مروّج ہو اور وہاں اس مذہب کے جاننے والوں کی کثرت ہو تو عامی پر اس مذہب کی اتباع واجب ہے ، اور اس کے لیے ایسے امام کی تقلید درست نہیں ہے جس کا مذہب وہاں عام نہ ہو اور اس مذہب کے جاننے والے کثرت سے موجود نہ ہوں، اس لیے کہ ایسی حالت میں تمام احکام میں اس امام کے مذہب کو جاننا انتہائی دشوار ہوگا۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو ، اس لیے کہ ان شاء اللہ حق اس سے متجاوز نہیں ہوگا ۔ اور اگر کسی علاقے میں تمام مذاہب رائج اور مشہور ہوں اور ہر مذہب کے جاننے والے علما بھی وہاں کثیر تعداد میں موجود ہوں تو عامی کے لیے بھی جائز ہے کہ وہ ان مذاہب میں سے جس مذہب کی چاہے تقلید کرلے ، اور یہ سارے مذاہب اس کے حق میں برابر ہیں ، اور اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ کسی متعین مذہب کو اختیار نہ کرے ، بلکہ مختلف مذاہب کے علما میں سے جس سے چاہے مسئلہ دریافت کرلے ، کبھی اِ س سے ، کبھی اُس سے ، جیسا کہ سلفِ صالحین کا طریقہ تھا ، بشرطیکہ ایک ہی عمل میں دو مذہبوں کے درمیان تلفیق نہ کرے اور اپنی خواہشات کی پیروی کی خاطر رخصتوں کا متلاشی نہ بنے ، اس لیے کہ یہ دین کو کھلونا بنانا ہے، جو نصوص کی رو سے ناجائز ہے۔‘‘ (۲۷) 
یہاں ایک معروف حنفی عالم مولانا احمد علی لاہوریؒ اور ایک اہلِ حدیث عالم مولانا سید داؤد غزنویؒ کا واقعہ قابل ذکر معلوم ہوتا ہے۔ مولانا لاہوری کے جاری کردہ جریدے ’’خدام الدین‘‘ سے اسے بعینہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:
’’اہلِ حدیث عالم حضرت مولانا سید داؤد غزنوی رحمہ اللہ نے ایک دفعہ اطلاع بھجوائی کہ فلاں روز وہ اپنے رفقا کے ساتھ شیرانوالا تشریف لائیں گے ۔ حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ نے اپنے مریدین تلامذہ اور عقیدت مندوں کو حکم فرمایا کہ مولانا سید داؤد غزنوی صاحب اور ان کے ساتھی جس نماز میں ہمارے ساتھ شامل ہوں تو آپ سب لوگ ان کے مسلک کے احترام میں رفعِ یدین کریں اور آمین بالجہر کہیں تاکہ ہمارے مہمانوں کو یہاں کوئی اجنبیت محسوس نہ ہو۔ جبکہ مولانا سید داؤد غزنوی پہلے ہی اپنے ساتھیوں کو تاکید فرما چکے تھے کہ شیرانوالا میں میرے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے آپ لوگ نہ رفع یدین کریں، نہ اونچی آواز سے آمین کہیں، کیونکہ مولانا احمد علی حنفی مسلک ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس رواداری اور احترامِ مسلک کا یہ عجیب منظر دیکھا کہ حنفی مسلک نمازی رفع یدین کررہے ہیں اور آمین بلند آواز سے پڑھ رہے ہیں جبکہ اہلِ حدیث مہمانوں نے اپنے میزبان کے اکرام میں نہ رفعِ یدین کیا نہ آمین بالجہر پڑھی۔‘‘ (۲۸)
ایک معروف صاحبِ دل اہلِ حدیث عالم مولانا ابوبکر غزنوی کے جماعتِ اہلِ حدیث سے ایک خطاب کے کچھ اقتباسات نقل کرنا بھی مناسب معلوم ہوتاہے۔ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ اپنے مخاطبین سے وہی باتیں کی جاتی ہیں جو وہ سننا چاہیں تاکہ ان کی نظر میں مقبولیت میں کمی واقع نہ ہو، اس لیے عموماً دوسرے فرقے کی خامیاں زیادہ بیان کی جاتی ہیں۔ لیکن اس خطاب میں مولانا ابوبکر غزنوی نے دوسرا انداز اختیار کیا ہے۔ یہ اقتباس پیش کرکے دکھانا یہ مقصود ہے کہ ہر مکتبِ فکر میں ایسے سنجیدہ علما موجود رہے ہیں جو دوسروں پر طعن وتشنیع کرنے کی بجائے اپنے حلقوں میں پائی جانے والی کوتاہیوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ یہ کام اگرچہ مشکل ہے لیکن اگر علما کی بڑی اکثریت وہ طرز اختیار کرلے جو مولانا غزنوی کی آنے والی دل سوز عبارتوں سے واضح ہوتا ہے تو بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں : 
’’دوستو! وعظ کیا ہے ، روحانی اور اخلاقی بیماریوں کی تشخیص کرنا اور دوا دینا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوا تلخ ہوتی ہے اور بیمار ناک بھوں چڑھاتا ہے، لیکن مشفق طبیب کو چاہیے کہ دوا کو حلق میں انڈیل دے۔ مریض کو جب شفا ہوجاتی ہے تو دعا دیتاہے۔ دوستو! اگر مریض کو زکام ہو اور طبیب اسے معدے کی دوا دے تو اس کی نااہلی میں شک وشبہ کی کیا گنجائش باقی رہتی ہے؟اپنی اور سامعین کی جو بیماریاں ہوں انہیں ڈھونڈھنا اور ان کی دوا دینا یہ وعظ ہے۔ ۔۔وہ واعظ دنیا دار ہے جس کا منتہائے نظر یہ ہو کہ دھواں دھار تقریر کی جائے، جذبات کو بھڑکا دیا جائے نہ اپنے کو فائدہ نہ دوسرے کو فائدہ۔آج کل تو سر دُھننا ، وجد میں آنا، نعرے لگانا، ہاؤ ہو کرناوعظ کے لوازمات بن کررہ گئے ہیں۔ میری نظر میں وعظ تو یہ ہے کہ بیماریوں کو چن چن کر بیان کیا جائے اور ان کا علاج کیا جائے۔‘‘ 
اپنے حلقۂ خطاب یعنی جماعتِ اہلِ حدیث کو توحید کے حقیقی تقاضوں کی طرف متوجہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں : 
’’ووسری بات یہ عرض کرتا ہوں کہ موحد ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی بے مہار ہوجائے ۔ رسیاں تڑوا بیٹھے۔ بے ادب اور گستاخ ہوجائے ۔ اہل اللہ کی شان میں گستاخیاں کرے ۔ محسنوں کا گریبان پھاڑے اور سمجھے کہ میں توحید کے تقاضے پورے کررہاہوں۔ دوستو! میرا کام مرض کی تشخیص اور اس کا علاج ہے۔ گو مریض چیخے ، چلائے ، ناک بھوں چڑھائے۔ مشفق ڈاکٹر وہ ہے جو حلق میں دوا انڈیل دے۔ آج تم کسمساؤگے ، مضطرب ہو گے، زانو بدلوگے۔ مگر کچھ عرصے کے بعد مجھے دعا دو گے اور کہوگے کہ بات ٹھیک کہہ گیا تھا۔ جب مریض شفا یاب ہوجاتا ہے تو کڑوی دوا دینے والے کو بھی دعا دیتا ہے۔
’’دوستو! کچھ حدیثیں ایک مسجد میں بیان ہوتی ہیں ، کچھ دوسری مسجد میں بیان ہوتی ہیں۔ اور کچھ ایسی ہیں جو کہیں بیان نہیں ہوتیں۔ اس لیے کہ ان کا بیان کرنا فرقہ وارانہ مصلحت کے خلاف سمجھتے ہیں۔‘‘ 
اس کے بعد مولانا غزنوی نے تفصیل سے وہ حدیثیں پیش کی ہیں جن سے صحابہ کرام کی ادب اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ لگاؤ کی شان سمجھ آتی ہے تاکہ اپنے مخاطبین کو اس طرف متوجہ فرمائیں۔ اس کے بعد ’’ارواحِ ثلثہ‘‘ اور دیگر کتب کے حوالے سے بڑوں اور بزرگانِ دین کے ادب کے حوالے سے اپنے اکابر کے واقعات بیان فرمائے ہیں۔ یاد رہے کہ ’’ارواح ثلاثہ‘‘ مولانا اشرف علی تھانوی کی تالیف ہے جس میں اولیائے امت بالخصوص برصغیر کے آخری دور کے بزرگوں کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ اہلِ حدیث حضرات اس طرح کی کتابوں کا مذاق اڑاتے ہیں ، لیکن مولانا غزنوی کا مذکورہ بیان پورا پڑھنے سے اس تاثر کی بالکلیہ نفی ہوتی ہے۔
اس کے بعد مزید فرماتے ہیں : 
’’دوستو! یہ فقرہ غور سے سنیں۔ موحد ہوتے ہوئے مؤدب ہونا اور مؤدب ہوتے ہوئے موحد ہونا بہت بڑی سعادت ہے۔ کچھ لوگوں کو توحید کی شد بد ہوتی ہے تو ادب کی لطافتوں اور باریکیوں سے محروم ہوتے ہیں۔ اور کچھ لوگوں کو ادب کی شد بد ہوتی ہے تو توحید کے معارف سے محروم ہوتے ہیں۔ مؤدب ہوتے ہوئے موحد ہونا اور موحد ہوتے ہوئے مؤدب ہونا یہ بہت بڑی سعادت ہے۔ دوستو! اور میں خدا سے اس سعادت کی بھیک مانگتاہوں۔‘‘
مزید فرماتے ہیں: 
’’اور ہم جو اتباعِ سنت پر زور دیتے ہیں تو کیا سچ مچ سنت کی پیروی ہمارا شعار ہے؟ کیا چند فروعی مسائل پر جھگڑا اتباعِ سنت ہے؟‘‘
اپنے حلقے کے لوگوں کو ذکر اللہ کی اہمیت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ، اس حوالے سے ہونے والی سستی اور کوتاہی کا شکوہ کرتے ہوئے اور اپنے بزرگوں کے اہتمامِ ذکر اور استغراق فی الذکر کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’یہ تھے ہمارے اسلاف۔ ہم تو دنگا فساد لڑائی جھگڑے میں پڑگئے۔ میں نے دیکھا کہ ایک آدمی دوسرے کی کھِلّی اڑارہا تھا اور اس پر پھبتی کس رہا تھا کہ تمہارا درود غیر مسنون ہے او رتم بدعتی ہو۔ میں نے اسے کہا کہ بھائی آج جمعہ تھا۔ خود تم نے کتنا درود پڑھا؟ یہ تو تم نے کہا کہ اس نے غلط درود پڑھا، مگر تمہاری اپنی زبان بھی ساکت وصامت تھی۔ مسنون درود پڑھنے کی تمہیں ایک بار بھی توفیق نہیں ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اکثروا علی الصلاۃ یوم الجمعۃ (جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو‘‘ (۲۹)۔
اب آتے ہیں دوسری طرف۔ مولانا علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا قریب کے زمانے کے محدثین میں جو مقام ہے، وہ اسلامی علوم کے کسی بھی طالب علم سے مخفی نہیں۔علمِ حدیث کے علاوہ کے فقہ حنفی پر بھی ان کے احسانات محتاجِ بیان نہیں۔ دینی مدارس میں علمِ حدیث کی تدریس کے دوران عموماً زیادہ زور ائمہ مجتہدین کے درمیان مختلف فیہ مسائل پر دیا جاتا ہے۔انہی میں کچھ مسائل وہ ہیں جو حنفی اور اہلِ حدیث حضرات کے درمیان بحث مباحثے کا موضوع بنتے رہتے ہیں۔ یقیناًشاہ صاحب ؒ نے ان مسائل پر مفصل بحثیں کیں۔ اگرچہ شاہ صاحب نے کبھی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، پھر بھی ان تمام بحثوں کے بارے میں ان کے احساسات کیا تھے، اس کا اندازہ انہی کے شاگردِ مولانا مفتی محمد شفیع ؒ کے بیان سے ہوسکتاہے جو انہی کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جارہا ہے:
’’قادیان میں ہر سال ہمارا جلسہ ہوا کرتا تھااور سیدی حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی اس میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔ ایک سال اسی جلسہ پر تشریف لائے۔ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ ایک صبح نمازِ فجر کے وقت اندھیرے میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوئے بہت مغموم بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا حضرت کیسا مزاج ہے۔ کہا ، ہاں ! ٹھیک ہی ہے۔ میاں مزاج کیا پوچھتے ہو۔عمر ضائع کردی۔
میں نے عرض کیا حضرت! آپ کی ساری عمر علم کی خدمت میں دین کی اشاعت میں گذری ہے ، ہزاروں آپ کے شاگرد علماء ہیں، مشاہیر ہیں جو آپ سے مستفید ہوئے اور خدمتِ دین میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ کی عمر اگر ضائع ہوئی تو پھر کس کی عمر کام لگی؟
فرمایا: میں تمہیں صحیح کہتا ہوں ، عمر ضائع کردی۔
میں نے عرض کیا : حضرت بات کیا ہے؟
فرمایا ہماری عمر ، ہماری تقریروں کا ، ہماری ساری کد وکاش خلاصہ یہ رہا کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کردیں۔ امام ابو حنیفہ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں۔ یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا ، تقریروں کا اور علمی زندگی کا۔
اب غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی ۔ ابو حنیفہؒ ہماری ترجیح کے محتاج ہیں کہ ہم ان پر احسان کریں؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو مقام دیا ہے، وہ مقام لوگوں سے خود اپنا لوہا منوائے گا۔ وہ تو ہمارے محتاج نہیں۔۔۔
پھر فرمایا :
ارے میاں اس کا تو حشر میں راز نہیں کھلے گا کہ کونسا مسلک صواب تھا اور کون سا خطا اجتہادی مسائل۔ صرف یہی نہیں کہ دنیا میں ان کا فیصلہ نہیں ہوسکتا ، دنیا میں بھی ہم تمام تر تتحقیق و کاوش کے بعد یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی صحیح یا یہ یہ صحیح ہے ، لیکن احتمال موجود ہے کہ یہ خطا ہو ۔ اور وہ خطا ہے کہ اس احتمال کے ساتھ کہ صواب ہو۔ دنیا میں تو یہ ہے ہی ، قبر میں منکر نکیر نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترکِ رفع یدین حق تھا۔ آمین بالجہر حق تھی یا بالسرحق تھی۔ برزخ میں بھی اس کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا۔اور قبر میں بھی یہ سوال نہیں ہوگا۔
اللہ تعالی شافعی کو رسوا کرے گا نہ ابو حنیفہ کو نہ مالک کو نہ احمد بن حنبل کو۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے علم کا انعام دیا ہے ، جن کے ساتھ اپنی مخلوق کا بہت بڑے حصے کو لگا دیا ہے ، جنہوں نے نورِ ہدایت چار سو پھیلایا ہے، جن کی زندگیاں سنت کا نور پھیلانے میں گزریں ، اللہ تعالی ان میں سے کسی کو رسوا نہیں کرے گا۔ وہاں میدان محشر میں کھڑا کر کے یہ معلوم کرے کہ ابو حنیفہ نے صحیح کہا تھا یا شافعی نے غلط کہا تھایا اس کے بر عکس، ایسا نہیں ہو گا۔
تو جس چیز کو نہ دنیا میں نکھرنا ہے ، نہ برزخ میں ، نہ محشر میں، اسی کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کردی۔ اپنی قوت صرف کردی اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی مجمع علیہ اور سبھی کے مابین جو مسائل متفقہ تھے اور دین کی جو ضروریات سبھی کے نزدیک اہم تھیں، جن کی دعوت انبیائے کرام لے کر آئے تھے ، جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا اور وہ منکرات جن کو مٹانے کا کی کوشش ہم پر کی گئی تھی، آج یہ دعوت تو نہیں دی جارہی، یہ ضروریاتِ دین تو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہی ہیں، اور اپنے و اغیار ان کے چہرے کو مسخ کررہے ہیں، اور وہ منکرات جن کو مٹانے میں ہمیں لگے ہونا چاہیے تھا، وہ پھیل رہے ہیں اور گمراہی پھیل رہی ہے ، الحاد آرہاہے، شرک وبت پرستی چل رہی ہے، حرام وحلال کا امتیاز اٹھ رہا ہے، لیکن ہم لگے ہوئے ہیں ان فروعی بحثوں میں۔
شاہ صاحب نے فرمایا: یوں میں غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کررہاہوں کہ عمر ضائع کردی۔‘‘ (۳۰)
خود حنفی حضرات میں اختلاف کا ایک دائرہ دیوبندی بریلوی اختلاف ہے۔ اس اختلاف کے بنیادی طور پر تین محور ہیں۔ ایک یہ کہ بعض رسوم وعادات کو اکثر دیوبندی علما نے بدعت سمجھتے ہوئے اپنے پیرو کاروں کو ان سے منع کیا ہے، جبکہ بریلوی علما ان رسوم وعادات کو بدعت نہیں سمجھتے بلکہ متعدد مصالح کی بنیاد پر انہیں اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جن علما نے ان کاموں کاموں کو بدعت قراردیا، اس کا مطلب بھی یہ تھا کہ جو لوگ ہماری تحقیق اور رائے پر عمل کرنا چاہیں، وہ ان سے گریز کریں نہ یہ کہ دوسروں کو بھی زبردستی ان سے روکنے کی کوشش کی جائے۔اس لیے کہ جو لوگ یہ کام کرتے ہیں وہ انہیں بدعت سمجھ کر نہیں کرتے اور شروع میں سلف کا یہ مزاج بیان کیا جاچکاہے کہ اپنی رائے کو دوسرے پر مسلط نہیں کیا جاتا۔ راقم الحروف نے بعض ثقہ راویوں سے سنا ہے کہ ایک دفعہ کچھ حضرات مولانا مفتی محمد حسنؒ بانی جامعہ اشرفیہ لاہورکے پاس ایک فتویٰ تصدیق کرانے کے لیے لائے جس کا حاصل یہ تھا کہ بارہ ربیع الاول کو نکالا جانے والا جلوس بدعت ہے۔ بظاہر وہ لوگ اس فتوے کی رو سے اس جلوس کو رکوانا چاہتے ہوں گے۔ مفتی صاحبؒ نے اس پر دستخط کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار فرمادیا کہ بھائی اس دور جو جس طریقے سے بھی اللہ رسول کا نام لیتا ہے، اسے لینے دو۔
دیوبندی اور بریلوی اختلاف کا دوسرا محور بعض نظریاتی مسائل ہیں ، جیسے حاضر و ناظر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب ہونے کا مسئلہ۔ ان مسائل میں بھی اگر دونوں طرف کے جید علما کی تحریروں کو سامنے رکھا جائے تو شاید اختلاف اتنا گہرا نہیں ہوگا جتنا تاثر پیدا ہوگیاہے۔
اس اختلاف کا تیسرا محور تکفیر کا فتویٰ ہے۔ مولانا احمد رضا خاں بریلوی نے علمائے دیوبند کی بعض عبارات کو بنیاد بنا کر ان پر کفر کا فتویٰ جاری کیا۔ دوسری طرف دیوبندیوں میں بھی بعض حضرات ایسے موجود رہے ہوں گے جو بریلویوں کو مشرک قرار دیتے ہوں گے۔ یہ یقیناًبڑا سنگین معاملہ ہے۔ اس لیے کہ ایک دوسرے کے ایمان پر شکوک وشبہات پیدا کردینا کوئی معمولی بات نہیں، لیکن اس کے باوجود یہ خوش گوار حیرت کی بات ہے کہ یہ اختلاف بھی دونوں طرف کے سنجیدہ علما کے تلخی اور کشیدگی کا باعث نہیں بنا۔ چنانچہ بریلوی علما مولانا احمد رضا خاں بریلوی کو اپنا مقتدا مانتے اور ان کی بہت زیادہ عزت وتوقیر کرتے ہیں ، اس کے باوجود عملی طور پر ان کے فتوی تکفیرسے متفق نظر نہیں آتے۔ اس لیے سنجیدہ بریلوی علما دیوبندیوں کے ساتھ کافروں والا برتاؤ اور معاملہ کبھی نہیں کرتے۔
اسی طرح جن کے خلاف تکفیر کے یہ فتوے جاری کیے گئے تھے، انہوں نے بھی اسے مناسب محمل پر محمول کرکے بات کو زیادہ بگڑنے نہیں دیا۔ مثال کے طور پر جن کے خلاف تکفیر کے فتوے دیے گئے، ان میں ایک نام مولانا اشرف علی تھانویؒ کا ہے۔ راقم الحروف نے مولانا تھانویؒ کے متعدد خلفا سے سنا کہ مولانا تھانوی فرمایا کرتے تھے کہ جنہوں نے واقعی مجھے کستاخِ رسول سمجھ کر میرے خلاف فتوے دیے ہیں ، اگرچہ یہ بات امرِ واقعہ کے خلاف ہے لیکن ان کو بہر حال غلط فہمی ہوگئی، اس لیے میں انہیں اس میں معذور سمجھتاہوں ، نہ صرف معذور بلکہ ماجور سمجھتا ہوں۔ یعنی انہیں اس فتوے پر بھی اجر ملے گا۔ اس حوالے مولانا تھانوی کے دوخلفا مولانا مفتی محمد حسن ؒ اور حاجی محمد شریف ؒ کا مکالمہ پیش خدمت ہے۔ حاجی محمد شریف ؒ لکھتے ہیں:
’’ایک دفعہ میں لاہور میں حضرت مفتی صاحب ؒ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا ۔ عصر کی اذان ہوئی اور تمام حضرات اٹھ گئے۔ مجھے عصر کے بعد فیصل آباد جانا تھا۔ مصافحہ کے لیے آگے بڑھا، سلام کیااور عرض کیا نماز کے بعد مجھے جانا ہے ۔ اس پر حضرت مفتی صاحب نے میرا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لے لیا اور دیر تک دباتے رہے اور فرمایا : دیکھو! میرے ایک سوال کا جواب دو۔ تم حضرت (تھانوی) کی خدمت میں بہت رہے ہو۔ یہ لوگ جو حضرت والا کی مخالفت کرتے ہیں، کیا حضرت کی زبان مبارک سے بھی تم نے ان کے متعلق کوئی بات سنی؟
میں نے عرض کیا کہ میں نے تو حضرت کی زبان مبارک سے ان کی کبھی بھی برائی نہیں سنی۔ بلکہ ایک دفعہ کسی صاحب کے سوال پر حضرت نے فرمایا تھا : دیکھنا یہ چاہیے کہ یہ لوگ جو میری مخالفت کرتے ہیں، اس مخالفت کا منشا کیا ہے۔اگر منشا حب رسول ہے تو میں نہ ان کو معذور بلکہ ماجور سمجھتا ہوں۔ یہ میری مخالفت کی وجہ سے ان کو اجر ملے گا۔اس پر حضرت مفتی صاحب نے فرمایا کہ اورمیں تو حضرت کی خدمت میں بہت زیادہ رہاہوں ، مجھے ایک واقعہ بھی یاد نہیں کہ حضرت نے ان کو برائی سے یاد کیا ہو۔‘‘(۳۱) 
مولانا قاضی مظہر حسینؒ کے والد مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر نے جب باطنی استفادے کے سلسلے میں مولانا حسین احمد مدنیؒ سے رجوع کیا تو اس سے پہلے وہ سیال شریف کی گدی سے منسلک اور وابستہ تھے جہاں کا ذوق ظاہر ہے کہ علمائے دیوبند کے مزاج سے مکمل ہم آہنگ نہیں تھا۔ اس کے باوجود مولانا مدنی ؒ نے دبیر صاحبؒ کو اسی گدی سے منسلک رہنے کامشورہ دیتے ہوئے تحریر فرمایا :
’’تجدیدِ بیعت کی ضرورت نہیں، آپ اپنے سابق شیخ کے تلقین کردہ وظیفہ پر عمل کریں ، میں آپ کے لیے اور آپ کے عزیر کے لیے حسنِ خاتمہ کی دعا کرتا ہوں‘‘(۳۲) ۔
اس کے علاوہ علمائے دیوبند اور پنجاب سمیت بر صغیر کے مختلف علاقوں کی معروف خانقاہوں او رگدیوں کے درمیاں جو اچھے تعلقات رہے، وہ ایک مستقل تاریخ ہیں جس کا کچھ نمونہ سید نفیس شاہ صاحبؒ نے ’’حکایت مہر وفا‘‘ میں بیان کردیا ہے۔ معروف کالم نگار عطاء الحق قاسمی کے والد مولانا بہاؤ الحق قاسمی ؒ نے بھی مختلف فرقوں کی آویزش کم کرنے کے لیے ’’اسوۂ اکابر‘‘ کے نام سے اسی طرح کاایک رسالہ لکھا تھا۔ انہیں دو رسالوں سے یہاں ایک دو مثالیں نقل کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
مولانا میاں شیر محمد شرق پوری کا نامِ نامی محتاجِ تعارف نہیں۔ شرق پور شریف کا شمارپنجاب کی چند اہم خانقاہوں اور گدیوں میں ہوتاہے۔ میاں شیرمحمد ؒ کے خلیفہ صوفی محمد ابراہیم قصوریؒ نے ان کے حالاتِ زندگی پر ایک کتاب ’’خزینۂ معرفت‘‘ لکھی ہے۔ اس میں انہوں نے میاں صاحبؒ اور مولانا انورشاہ کشمیریؒ کے تعلقات کا واقعہ لکھاہے جو سید نفیس شاہ صاحب نے بھی اسی کتاب کے حوالے سے لکھا ہے۔ مولانابہاؤ الحق قاسمی نے یہ واقعہ ذرا تفصیل سے لکھا ہے۔ یہاں سیدنفیس شاہ صاحب کی کتاب ’’حکایت مہر و وفا‘‘ سے صوفی محمد ابراہیم کے الفاظ میں نقل کیا جاتاہے:
’’مولانا انور علی شاہ صدر مدرسہ دیوبند ہمراہ مولوی احمد علی صاحب مہاجر لاہوری شرق پور شریف حاضر ہوئے اور حضرت میاں صاحبؒ کو بڑی ارادت سے ملے۔ آپ ان سے کچھ باتیں کرتے رہے اور شاہ صاحب خاموش رہے۔ پھر آپ نے مولانا انور شاہ صاحب کو بڑی عزت سے رخصت کیا۔ موٹر کے اڈے تک حضرت میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ خود سوار کرانے کے لیے ساتھ تشریف لائے۔ شاہ صاحب (علامہ انور شاہ) نے میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے کہا ’’آپ میر کمر پر ہاتھ پھیر دیں‘‘۔ آپ نے ایسا ہی کیا اور رخصت کرکے واپس مکان پر تشریف لائے۔ بعد ازاں آپ نے بندہ (صوفی محمد ابراہیم) سے فرمایا: شاہ صاحب بڑے عالم ہوکر میرے جیسے خاکسار سے فرمارہے تھے کہ میری کمر پر ہاتھ پھیردیں۔ اور میاں صاحب نے فرمایا کہ دیوبند میں چار نوری وجود ہیں۔ ان میں ایک شاہ صاحب بھی ہیں‘‘(۳۳)۔
پیر سید جماعت علی شاہ صاحب ؒ کا ایک واقعہ بھی ’’حکایت مہر و وفا‘‘ سے پیش کیا جاتا ہے:
’’حضرت مولانا سید محمد اسلم صاحب خطیب مسجد قادری لائل پور نے خود راقمِ سطور (سید نفیس شاہ صاحبؒ) سے بیان فرمایا کہ میں نے علی پور شریف میں اپنے استاذ محترم حضرت صاحبزادہ محمد حسین شاہ صاحب (خلف الرشید حضرت پیر حافظ سید جماعت علی شاہ صاحب علی پوری) سے دورہ حدیث سے پہلے کی کتابیں پڑھی تھیں۔ ایک روز میرے والد صاحب حضرت مولانا عبد الغنی شاہ صاحب (م: ۱۹۴۰) خلیفہ اعظم زبدۃ العارفین حضرت سید جماعت علی شاہ صاحب ثانی علی پوری رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا : میرا خیال ہے تم اپنی تعلیم مکمل کرلو۔ دورہ حدیث شریف کے لیے دو جگہیں ہیں۔ دارالعلوم دیوبند اور منظر اسلام بریلی۔ جہاں تمہارا جی چاہے وہاں چلے جاؤ اور تکمیل کرلو۔ میں نے عرض کیا میں کہ میں اپنے استاد حضرت صاحبزادہ محمد حسین شاہ صاحب کے مشورے سے کوئی فیصلہ کروں گا۔ ۔۔۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے دارالعلوم دیوبند کا مشورہ دیا۔۔۔اس زمانے میں مرشدی ومولائی حضرت اقدس ثانی صاحب علی پوری ابھی حیات تھے۔ ان کی خدمت میں حاضر ہوکر دعا کی درخواست کی ، انہوں نے دارالعلوم دیوبند جانے پر بشاشت ظاہر فرمائی اور دعواتِ صالحہ سے مجھے رخصت کیا۔‘‘
خط کشیدہ عبارت سے معلوم ہوا کہ ان حضرات کی نظر میں اصل مقصود حدیث پڑھنا تھا، اس کے لیے دیوبند اور بریلی برابر تھے، بلکہ اختلافِ مشرب کے باوجود دیوبند کے انتخاب پر خوشی کا اظہار فرمایا جارہا ہے۔
ایک آخری واقعہ عرض کرکے اس بات کو ختم کیا جاتاہے۔ راقم الحروف نے خود مولانا مجاہد الحسینی حفظہ اللہ سے جو سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے رفیق و خادم تھے، متعدد بار سنا کہ جب ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں تحریک کی مرکزی قیادت لاہور جیل میں تھی ، ان میں سید عطاء اللہ شاہ صاحب بھی تھے اور بریلوی مکتبِ فکر کے مولانا ابو الحسنات بدایونی بھی تھے۔مولانا مجاہد الحسینی بتلاتے ہیں کہ میں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ مولانا ابو الحسنات قضائے حاجت کے تشریف لے گئے ہیں اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری ان کی خدمت کے لیے وضو کے پانی کا لوٹالے کر باہر کھڑے ہیں۔ 
فرقہ وارانہ بنیادوں کے علاوہ بر صغیر فکری اختلافات کا وجود بھی رہاہے۔ خاص طور پر دو حوالوں سے ، ایک تو تعلیمی نظام کے حوالے سے ، اس سلسلے میں دیوبند اور علی گڑھ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ دوسرے سیاسی پالیسی کے حوالے سے ، خاص طور انگریزوں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کے اعتبارسے۔ دونوں سطحوں پر سرسید احمد خاں نے مسلمانوں کو وہ مشورے دیے جو عام علما بالخصوص علمائے دیوبند کی سوچ سے مختلف تھے۔ لیکن اس کے باوجود ان مختلف حلقہ ہائے فکر میں منافرت کی وہ فضا نہیں تھی جس کا تأثر آج کل بعض تحریروں یا بیانات سے ملتا ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سرسید احمد کی دین کی تعبیر وتشریح کے سلسلے کی کاوشیں اور ان کی تعلیمی اور سیاسی فکر دو الگ چیزیں ہیں۔ جہاں تک اول الذکر کا تعلق ہے، وہ سرسید احمد خاں کی خالص ذاتی آرا ہیں جن سے خود ان اپنے حلقۂ فکر میں بہت کم اتفاق کیا گیاہے، تاہم تعلیمی اور سیاسی سوچ کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ فکری سطح کے اختلاف کے باوجود دونوں طرف سے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ احترام کا رشتہ برقرار رہاہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے امداد الفتاویٰ میں سرسید احمد خاں کی دینی فکر پر شدید تنقید کی ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مولانا تھانویؒ ہی نے اپنے مواعظ و ملفوظات میں نہ صرف سرسید احمد خاں کی ذاتی خوبیوں کا اعتراف کیا ہے بلکہ اختلافِ رائے کے باوجود ان کے حسن نیت کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اخلاق اور مروّت کے واقعات تفصیل سے بیان فرمائے ہیں جنہیں اگر مولاناتھانویؒ کے مواعظ و ملفوظات وغیرہ سے یکجا کیا جائے تو شاید ایک کتابچہ تیار ہوجائے۔
دیوبند اور علی گڑھ دو الگ نظام ہائے تعلیم تھے جو اپنی سمجھ کے مطابق مسلمانوں کی مختلف نوعیت کے ضروریات کو پورا کر رہے تھے،لیکن دونوں جگہوں کے نہ صرف یہ کہ بہت اچھے مراسم اور روابط تھے بلکہ ایک دوسرے سے استفادے کی ضرورت کا احساس بھی موجود تھا۔ چنانچہ دارالعلوم دیوبند کے ابتدائی جلسہ ہائے تقسیم اسناد میں سے ایک میں علی گڑھ کالج کی طرف سے نمائندگی کے طور پر صاحبزادہ آفتاب احمد شریک ہوئے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ دارالعلوم کے تعلیم یافتہ علی گڑھ کالج انگریزی پڑھنے جایا کریں۔ (۳۵)اسی طرح اسی جلسے میں اپنے خطاب کے دوران مولانا نانوتویؒ نے دارالعلوم کے نصاب کی خصوصیات اور اس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے فرمایا :
’’اس کے بعد (یعنی دارالعلوم کے تعلیمی نصاب سے فارغ ہونے کے بعد) اگر طلبہ مدسہ ہذا، مدارس سرکاری میں جاکر علومِ جدیدہ حاصل کریں تو ان کے کمال میں یہ بات زیادہ مؤید ثابت ہوگی‘‘ (۳۶)۔
اسی طرح انگریزحکومت کے ساتھ تعلقات یا ان کے بارے میں رویہ کیا ہونا چاہیے، یہ عام طور پر بڑا حساس موضوع رہاہے۔ لیکن آزادی سے پہلے کی تاریخ اٹھاکر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس حوالے سے اختلاف افکار کی موجودگی کے باوجود ایک دوسرے کے احترام کی روایت موجود تھی ، یہ نہیں تھا کہ پالیسی معاملات میں جس کی رائے مختلف ہو وہ غدار اور نہ معلوم کن کن القاب کا مستحق ٹھہرے۔
اس سلسلے میں ایک مثال راقم الحروف اپنے ہی ایک سابقہ مضمون سے بعینہ نقل کرنا مناسب سمجھتا ہے۔ 
جب شیخ الہند مولانامحمودحسن ؒ مالٹا کی اسارت سے واپس آئے توان سے ملاقات کرنے والوں اورانہیں انگریز کے خلاف جدوجہد سے الگ ہونے کامشورہ دینے والوں میں ایک نام مولانارحیم بخش ؒ کابھی ہے۔ مولاناسید حسین احمد مدنیؒ کے سوانح نگارمولانافریدالوحیدی ان کے تعارف میں لکھتے ہیں:’’ریاست بہاولپورکے مدارالمہام تھے ،حضرت گنگوہی کے متوسلین میں اورعلماء کرام کے بڑے معتقدتھے ، تاہم حکومتِ برطانیہ کے خیرخواہ اورمعتمد تھے‘‘(۳۷)۔انہی مولانارحیم بخش کے بارے میں مولانا مدنی کے والد ماجد مولوی سید حبیب اللہ صاحبؒ کے حالات میں لکھا ہے:
’’اتفاق سے اسی زمانے میں نواب صاحب بہاولپور بھی حج وزیارت کے لیے حاضر ہوئے ۔ان کے وزیراعظم مولانارحیم بخش صاحب بڑے عالم،متقی اورباخداشخص تھے اورحضرت قطب عالم گنگوہی ؒ کے متوسلین میں سے تھے۔ انتظامات کے لیے وہ نواب صاحب کی آمد سے پہلے ہی مدینہ طیبہ حاضر ہوئے۔ قدرتی طورپران کومولوی صاحب (مولوی حبیب اللہ) اوران کے حضرت گنگوہی کے خلفا صاحبزادگا ن سے خصوصی تعلق اورعقیدت ہوگئی اورنواب صاحب آئے توموصوف نے ان کی جانب سے دس روپیہ ماہوار کاوظیفہ مقررکرا دیا،یہ ساری مستقل آمدنیاں تھیں‘‘۔ (۳۸)
گویاایک طرف تو مولانا رحیم بخش حکومتِ برطانیہ کے’’ خیر خواہ اور معتمد ‘‘تھے، دوسری طرف وہ ’’بڑے عالم، متقی اورباخداشخص‘‘ تھے اور ان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت وہ ہے جواقتباس بالاسے سمجھ میں آرہی ہے ۔
مولانا ابو الکلام آزاد نے اپنی آپ بیتی India Wins Freedom کے آغاز ہی میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ انہوں نے اپنے ’’آزاد‘‘ تخلص کا انتخاب سرسید احمد خاں کی تحریروں سے متاثر ہوکر کیا ۔ مولانا نے غبارِ خاطر میں موسیقی کے بارے میں اپنی بہت نرم رائے کا اظہار کیا ہے۔ اتاترک کے اصلاحات کے بارے میں مولانا کا نقطۂ نظر بیان کرتے ہوئے اصغر علی انجینئر صاحب لکھتے ہیں : 
’’جب کمال پاشا نے ترکی میں بغاوت کی اور خلافت کو اقتدار سے بے دخل کردیا اور خلافت کے ادارے کو فرسودہ قرار دیا تھا مولانا (ابو الکلام آزاد) نے اتاترک کی جدید اصلاحات کا استقبال کیا تھااور مسلمانوں کو خلافت کے ادارے کی حفاظت کی کوششوں کو ترک کردینے کا مشورہ دیا تھاجس سے ترکی لیڈران خود دست بردار ہوگئے تھے۔‘‘ (۳۹)
مولانا آزاد کی اس رائے سے اتفاق یا اختلاف تو الگ معاملہ ہے، لیکن یہ ظاہر ہے کہ یہ رائے علماء کے عام حلقوں میں مروجہ رائے سے بالکل ہٹ کر ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس طرح کی باتوں کے باوجود ان حلقوں میں مولانا آزاد کے لیے پائے جانے احترام میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

حواشی

(۲۵) مولانا مناظر احسن گیلانی : ص ۱۱۸مکتبہ عمر فاروق کراچی
(۲۶) وعظ الہدی و المغفرۃ ص ۵۰ مطبوعہ مکتبہ تھانوی کراچی در مجموعہ مواعظ اشرفیہ
(۲۷) کیرانوی ، حبیب احمد ، مقدمۃ إعلاء السنن ( قواعد فی علوم الفقہ ) إدارۃ القرآن والعلوم الإسلامیۃ ، ص ۲۲۴ .
(۲۸) مولانا احمد علی لاہوری کے حیرت انگیز واقعات ص ۲۵۶ ماخوذ از خدام الدین ۲۴ مئی ۱۹۹۶ء
(۲۹) خطبات و مقالات سید ابوبکر غزنوی رحمہ اللہ ، ترتیب و تخریج میاں طاہر ناشر طارق اکیڈمی فیصل آباد ص ۲۴۵۔ ۲۶۲
(۳۰) مفتی محمد شفیع : وحدتِ امت ، دار الاشاعت کراچی ص ۱۵
(۳۱) حاجی محمد شریف ملتان : اصلاحِ دل ، ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان ص ۲۵۴
(۳۲) عبد الجبار سلفی : احوال دبیر ، قاضی کرم الدین دبیر اکیڈمی پاکستان ص ۶۲
(۳۳) سید نفیس شاہ الحسینی : حکایت مہر ووفا ، دار النفائس لاہور ص۱۹
(۳۴) حوالہ بالا ص ۲۷ 
(۳۵) مولانا مناظر احسن گیلانی : سوانح قاسمی ، مکتبہ رحمانیہ لاہو۲/۲۹۶
(۳۶) حوالہ بالا ص ۲۸۱
(۳۷) فرید الوحیدی،مولانا،شیخ الاسلام مولاناحسین احمدمدنی :ایک تاریخی وسوانحی مطالعہ ص۲۱۷مکتبہ محمودیہ لاہور۱۹۹۵ء۔ 
(۳۸) حوالہ بالاص۵۵۔
(۳۹) http://newageislam.com/urdu-section

تحفظ ناموس رسالت

ڈاکٹر قاری محمد طاہر

مولانا زاہد الراشدی بہت بالغ نظر عالم ہیں۔ ان کی نظر میں بلوغت ہی نہیں بلکہ گہرائی و گیرائی بھی ہے۔ حالات کو وسیع تناظر میں دیکھتے ہیں۔ بین السطور معاملہ پڑھ لینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور جلد معاملے کی تہہ تک پہنچ جانا ان کا وصف ہے۔ مولانا ناخن گرہ کشا بھی رکھتے ہیں جن کی وجہ سے بڑی بڑی پیچیدہ اور الجھی گتھیاں سلجھتی چلی جاتی ہیں۔ پچھلے دنوں آزاد کشمیر میں تھے۔ جہاں توہین قرآن کے حوالے سے حالات نازک ہو گئے۔ مولانا کی گرہ کشائی کی صلاحیت بروقت کام آئی اور معاملات کنٹرول میں آگئے۔ وگرنہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر لوگوں کے لیے حالات بہت گھمبیر ہونے کا خدشہ تھا۔ 
آگ لگانا آسان ہے لیکن آگ بجھانے کے لیے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ بندھی رسی پر بغیر سہارے چلنا شاید آسان ہو لیکن بگڑے حالات کو قابو میں لانا تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے۔ اس کام کے لیے دل بھی چاہیے اور دل کے ساتھ گردے بھی توانا ہونے ضروری ہیں۔ مولانا موصوف نے آزاد کشمیر میں یہی فریضہ سر انجام دیا اور حالات سنبھل گئے۔ جسے اس واقعہ کی تفصیل جاننا ہو وہ ۲۷ مئی ۲۰۱۳ء کے روزنامہ پاکستان میں مولانا کا کالم بعنوان ’’تحفظ ناموس رسالت‘‘ پڑھ لے۔ مولانا موصوف نے بڑی جرأت سے کام لیا۔ جو کام انتظامیہ کے بس کا نہ تھا آپ نے آسانی سے کر دکھایا۔ مولانا ماضی میں بھی ایسے مثبت کام سر انجام دیتے رہے ہیں۔ ایک موقعہ پر مولانا کی ایسی ہی خدمات پر بشپ آف پاکستان ڈاکٹر الیگزینڈر نے مولانا کا شکریہ ادا کیا۔ مولانا نے اپنے کالم میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’میں نے بشپ آف پاکستان کے اس شکریے کا ذکر تو کر دیا ہے مگر اس انتظار میں ہوں کہ عظیم عرب مجاہد امیر عبدالقادر الجزائریؒ کی طرح مجھ پر بھی (عیسائیوں کا گماشتہ) ہونے کا فتویٰ کب صادر ہوتا ہے‘‘۔ 
ہم مولانا سے عرض کریں گے ’’گھبرائیے نہیں اس طرح تو ہوتا ہی ہے اس طرح کے کاموں میں‘‘۔ 
تقریباً سال بھر ادھر کی بات ہے، ملک میں قرآنی اوراق سوزی کے واقعات رونما ہوئے۔ اخبارات نے خوب سرخیاں جمائیں، توڑ پھوڑ بھی ہوئی۔ دل سوزی کے بعد گر سوزی کے واقعات بھی سامنے آئے۔ ہم نے اس حوالے سے ایک کالم لکھا، لیکن کالم کی طباعت سے باز رہے۔ مبادا بھڑکتے جذبات میں چھڑکا ہوا پانی تیل ہی ثابت ہو اور مزید شعلے بھڑک اٹھیں۔ مولانا زاہد الراشدی کے کالم کے تناظر میں وہ کالم اب طباعت کے لیے بھیجنے کا حوصلہ کر رہے ہیں۔ 
’’نور حسین ایک سیدھا سادا آدمی تھا۔ بچپن میں اس کے والدین نے اسے تعلیم دلانے کی بہت کوشش کی لیکن اس کی طبیعت اس طرف نہ آسکی۔ حتّٰی کہ وہ قرآن مجید بھی نہ پڑھ سکا۔ جب بڑا ہوا تو اسے اپنی اس محرومی کا بے حد احساس ہوا۔ اس کا دل اسے کچوکے دیتا۔ کاش میں قرآن مجید کو پڑھ سکتا۔ روزانہ تلاوت کر لیا کرتا۔ اس احساس نے اس کے دل میں قرآن سے بے پناہ محبت پیدا کر دی۔ جو کوئی قرآن پڑھتا وہ اس کے پاس بیٹھ کر نہایت محبت سے سنتا۔ ریڈیو پر تلاوت آتی تو بہت انہماک سے سننے لگتا۔ قرآن مجید کی تلاوت کے کیسٹ لگا کر گھنٹوں سنتا رہتا۔ یہی اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ایک روز راستہ چلتے ہوئے اس نے ایک کاغذ سڑک پر گرا دیکھا ۔ اس پر قرآنی آیات لکھی ہوئی تھیں۔ اس نے بڑھ کر اٹھایا ، چوما، ماتھے سے لگایا اور گھر لا کر الماری کے اوپر والے پھٹے پر رکھ دیا کہ اﷲ کا قرآن ہے ۔ اس کی بے حرمتی نہیں ہونی چاہیے۔ اب اس نے یہ عادت بنا لی۔ وہ ہر گرے پڑے کاغذ کو دیکھا کرتا۔ اگر اس پر کوئی قرآنی آیت لکھی ہوتی تو وہ اٹھاتا، چومتا ، گھر لے آتا۔ کرتے کرتے دو بوریاں بھر گئیں۔ ان کا مصرف کیا ہو؟ وہ ان بوریوں کا کیا کرے ؟ کہاں رکھے؟ مزید اوراق قرآنی کس طرح جمع کرے؟ 
جب یہ اوراق بہت زیادہ ہو گئے اور رکھنے کی جگہ بھی نہ رہی تو اسے پریشانی لاحق ہوئی کہ ان اوراق کا کیا کرے؟ اس پریشانی کا حل تلاش کرنے کے لیے وہ ایک روز شہر کے مفتی صاحب کے پاس گیا۔ وہ بڑے عالم تھے۔ ان کے سامنے نور حسین نے اپنا مسئلہ رکھا ۔ مفتی صاحب نے نور حسین کی بات غور سے سنی اور جواب میں فرمایا کہ ان اوراق کو بہتی ندی میں بہا دو۔ بہتا پانی پاک ہوتا ہے۔ نور حسین نے بوسیدہ اوراق قرآنی سے بھری بوریاں سر پر اٹھائیں ۔ ہانپتا کانپتا ان کو ندی کنارے لے گیا۔ وہاں اس نے ان اوراق کو پانی میں بہانا شروع کیا۔ چند اسلام کے متوالوں نے دیکھ لیا۔ اسے پکڑ کر مارنے لگے۔ یہ صورت حال دیکھ کر کچھ لوگ آگے بڑھے ، بیچ بچاؤ کرا دیا۔ وجہ نزاع معلوم کی ، پتہ چلا کہ یہ قرآن کی بے حرمتی کر رہا تھا۔ قرآن مجید کے اوراق کو دریا برد کر رہا ہے۔ سننے والوں نے بھی مارنا شروع کیا۔ اگلے دن اخبارات میں سرخیاں لگ گئیں ۔ ایک شخص قرآن کی بے حرمتی کرتا ہوا پکڑا گیا۔ لوگوں نے اس کو بروقت دیکھ لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ نور حسین پر اس جرم کی پاداش میں مقدمہ چلا ۔ مقدمہ کی کاروائی کے دوران وہ جیل ہی میں رہا۔ کسی نے اس کی ضمانت تک نہ کرائی۔ لیکن اس کی قسمت اچھی تھی۔ وہ مقدمہ میں بری ہو گیا۔ 
اس کو قرآن سے محبت تھی۔ اس نے پھر قرآن کے بوسیدہ اوراق اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔ جب بہت زیادہ جمع ہو گئے تو اس نے پھر مفتی صاحب سے مسئلہ پوچھا۔ اور اپنی بپتا بھی بیان کی اور کہا کہ مفتی صاحب میں اب بوسیدہ اوراق کو ندی میں نہیں بہاؤں گا ۔ مجھے اس کا کوئی اور حل بتلائیے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ بہتر ہے ان اوراق کو قبرستان میں گڑھا کھود کر دفن کر دوکہ فقہی طور پر اس کی اجازت ہے۔ وہ مفتی صاحب کی بات سن کر خوش ہوا ۔ گھر آگیا۔ اس نے احتیاط برتی ۔ وہ رات کے اندھیرے میں قبرستان گیا تاکہ اسے کوئی دیکھ نہ سکے اور پھر پہلے جیسی نوبت نہ آجائے ۔ اس نے گڑھا کھودا اور تمام اوارق دفن کر دیے، گھر لوٹ آیا ۔چند دن بعد کچھ گورگن قبر کھود رہے تھے کہ یہی اوراق اور بوسیدہ قرآن مجید وہاں سے برآمد ہوئے۔ یہ دیکھنتے ہی لوگوں میں غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ سب لوگ فوراً تھانے گئے اور نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا۔ اخباروں میں سرخیاں لگ گئیں۔ کسی بدبخت نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی ہے۔ قبر کھودتے ہوئے بے شمار قرآن مجید گڑھے میں گرے ہوئے ملے۔ شہر کے شرفا سراپا احتجاج ہیں ۔ سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے۔ 
پھر کیا تھا،پولیس مستعد ہوئی۔ نور حسین گرفتار ہو گیا۔ مقدمہ چلا ، سزا ہوئی ، جیل کاٹ کر گھر آگیا۔ محلے کے لوگ دوست احباب اور دیگر تعلق والے ملنے آئے اور کہا اب تم ایسا کوئی کام نہ کرنا۔ لیکن اسے تو قرآن سے عشق کی حد تک محبت تھی۔ وہ قرآن کی بے حرمتی کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے پھر قرآن کے بوسیدہ اوراق جمع کرنا شروع کر دیے۔ پھر دو بوریاں بھر گئیں۔ پھر مفتی صاحب کے پاس گیا۔ کہنے لگا کوئی اور صورت بتائیں۔ اب میں ان بوسیدہ اوراق کو نہ تو ندی میں بہاؤں گا ، نہ قبرستان میں دفن کروں گا۔ کوئی اور ترکیب بتلائیے۔ مفتی صاحب نے سوچ بچار کے بعد کہا کہ ایسا کرو ان بوسیدہ اوراق کو ندی کنارے لے جا کر جلا دو۔ اور ان کی راکھ پانی میں بہا دو۔ وہ جواب سن کر تھوڑا سا ٹھٹھکا۔ کہنے لگا میں ان بوسیدہ اوراق کو آگ لگاؤں۔ یہ تو اچھی بات نہیں۔ مفتی صاحب بولے یہ عمل حضرت عثمان غنی ؓ سے ثابت ہے۔ انہوں نے قرآن مجید کے بعض حصوں کو آگ لگا کر راکھ پانی میں بہا دی تھی۔ اس لیے ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ 
نور حسین نے دونوں بوریاں اٹھائیں اور رات کے وقت شہر سے دور ویرانے میں نہر کنارے چلا گیا۔ وہاں اس نے ان اوراق بوسیدہ کو ایک ایک کر کے جلانا شروع کیا۔ کچھ جیالے قسم کے نوجوان سگریٹ کے مرغولے ایک دوسرے پر چھوڑتے اٹھکیلیاں کرتے سیٹیاں بجاتے قہقہے لگاتے ادھر سے گزر رہے تھے ۔بولے او بھئی کیا کر رہے ہو؟ نور حسین خاموش رہا۔ وہ آگے بڑھے اور اوراق قرآن دیکھ کر ایک دم طیش میں آگئے اور اسے مارنے لگے ۔ تمہیں شرم نہیں آتی قرآن کے اوراق جلا رہے ہو۔ نور حسین بیچارہ چیختا رہا ۔ میں نے فتویٰ ۔۔۔تویٰ۔۔۔تویٰ۔۔۔ پوچھا ہے۔ مگراس کی کون سنتا ۔ اس شور شرابے میں دیگر راہ گیر اور اکٹھے ہو ئے ۔ انہوں نے بھی نور حسین کو مارکر ثواب حاصل کرنے کی کوشش کی اور قرآن سے محبت کا ثبوت بہم پہنچایا۔ نور حسین بیچارہ کیا کرتا ۔مار کھا کر گھر آگیا۔ 
اگلے روز اخبارات میں سرخیاں جم گئیں ’’ایک بدبخت نہر کنارے قرآن کو آگ لگا کر بھاگ گیا۔ مقدمہ درج ہو چکا ہے۔ پولیس تعاقب کر رہی ہے۔ مجرم کو جلد پکڑ لیا جائے گا اور اس کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ عوام مشتعل نہ ہوں‘‘۔ 
علامہ اقبال کو اس دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً پون صدی ہو چکی ہے۔ لیکن جانے انہیں کس طرح اپنی زندگی ہی میں نور حسین کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی خبر ہو گئی تھی ۔ اس لیے وہ پہلے ہی قرآن کی عظمت کے رکھوالوں اور متوالوں کے بارے میں فرما گئے:
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت 
کرلے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگا دے
یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد‘‘

مغربی اجتماعیت : اعلیٰ اخلاق یا سرمایہ دارانہ ڈسپلن کا مظہر؟ (۲)

محمد زاہد صدیق مغل

غربت اور افلاس کا فروغ اور اس کے مجوزہ حل

ذرائع پیداوار پر مارکیٹ ڈسپلن کے غلبے کے نتیجے میں غربت و افلاس ،معاشی و سماجی ناہمواریوں اور استحصال نے جنم لیا۔ (یہاں اس بات کا دھیان رہے کہ اگرچہ سرمایہ دارانہ نظام میں لوگوں کی مطلق آمدن (absolute income) میں اضافہ ہونے کی بنا پر مطلق (absolute) غربت تو کم ہوجاتی ہے، البتہ اضافی (relative) آمدنیوں کا تفاوت اور اضافی غربت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سرمایہ دارانہ معاشرے میں لوگوں کی آمدنیوں میں مسلسل اضافے کے باوجود ۹۸ فیصد لوگ خود کو محروم اور ناخوش محسوس کرتے ہیں)۔ اس کی بنیادی طور پر چند وجوہات ہیں: 
  • روایتی معاشروں میں عمل صرف اجتماعی (shared) ہوا کرتا تھا، یعنی خاندان یا قبیلہ جتنی دولت پیدا کرتا، سب لوگ اس میں یکساں حصہ دار سمجھے جاتے (اس کی جھلک ہمارے موجودہ خاندانی نظام میں بھی دیکھی جاسکتی ہے)، لہٰذا کوئی شخص نہ تو غریب ہوتا اور نہ ہی افلاس کی وجہ سے بنیادی ضروریات زندگی سے محروم رہتا۔ ان معاشروں میں ایک شخص کا عمل صرف اس کی پیداواری صلاحیت سے منسلک نہ تھا۔ لیکن مارکیٹ نظم کے بعد جب یہ نظام منتشر ہوا اور انفرادیت پسندانہ نظم غالب آنے لگا تو عمل صرف فر دکی پیدواری صلاحیت کے ساتھ براہ راست منسلک ہوگیا۔ مارکیٹ نظم میں ایک شخص کا کل پیداوار میں حصہ اس اصول سے متعین ہوتا ہے کہ وہ نفع خوری پر مبنی پیداواری عمل میں کتنا اضافہ کرنے (نیز اس پر سودے بازی کی کتنی )صلاحیت رکھتا ہے، جو شخص زیادہ efficient ہوگا مارکیٹ اس کی صلاحیتوں کی اسی قدر زیادہ قدر متعین کرے گی اور مجموعی پیداوار میں اس کاحصہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ چنانچہ آبادی کی وہ عظیم اکثریت جو سرمایے میں اضافے کے لائق نہ تھی ان کے روز گار کے مواقع ناپید ہوتے چلے گئے اور خاندانی و قبائلی حفاظت نہ ہونے کی بنا پر وہ افلاس کی چکی میں پسنے لگے ۔
  • چونکہ لوگوں کی پیداواری اور سودے بازی کی صلاحیتوں میں تفاوت پایا جاتا ہے، لہٰذا ایک سرمایہ دارانہ معاشرے میں تقسیم وسائل لازماً غیر مساویانہ ہوتی ہے (ایک نہایت قلیل اقلیت بہت امیر ہوتی ہے اور غالب اکثریت غربت و افلاس کا شکار ہوتی ہے)۔ درحقیقت سرمایے کی بڑھوتری و گردش کا چکر سرمایے کے ارتکاز (concentration of capital) کا عمل ہے، یعنی سرمایہ بے شمار جگہوں اور ملکیتوں سے کھنچ کھنچ کر مستقلاً چند مقامات اور چند کارپوریشنوں کے زیر تسلط جمع ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام فروغ پاتا ہے معاشرتی، معاشی و سیاسی نامساویت (inequality) بڑھتی چلی جاتی ہے، بے روز گار لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے 
  • درحقیقت مارکیٹ میں قیمتوں اور اجرتوں کا تعین اجتماعی سودے بازی کی صلاحیت اور طبقاتی کشمکش کی قوتوں سے ہوتا ہے۔ چونکہ سرمایہ دارانہ پیداواری عمل سرمایے کو چند ہاتھوں میں مرتکز کردیتا ہے لہٰذا ان معاشروں میں سیاسی و سماجی قوت بھی انہی چند ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہے۔ نتیجتاً کارپوریشنوں اور بڑے کاروبار مالکان کو لاکھوں مزدوروں کے استحصال کا موقع ہاتھ آجاتا ہے۔ انڈسٹریل انقلاب کے ابتدائی ایام کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یورپ و امریکہ کے حالات کچھ ایسے تھے: ورکنگ ڈے سولہ گھنٹے طویل ہوتا ، فیکٹریوں میں بچوں اور عورتوں سے کام کروایا جاتا، افریقی غلاموں کو روٹی اور کپڑے کے عوض تمام عمر کے لیے ان فیکٹریوں میں جھونک دیا جاتا (مگر بے شرمی کی انتہا یہ ہے کہ یورپی مفکرین ہم سے پوچھتے ہیں کہ اسلام میں غلامی کیوں روا رکھی گئی)، مزدوروں کے کوئی سوشل حقوق نہ ہوتے (مثلاً اگر دوران کام کسی مزدور کا ہاتھ کٹ گیا تو مل مالک اس کی کفالت کا ذمہ دار نہیں)، فیکٹریوں میں کام کا ماحول اتنا خراب ہوتا کہ مزدور دمے کے مرض سے مر جاتے۔
یہ وہ مظالم تھے جو سرمایہ دارانہ نظام کے فروغ اور استحکام کے منطقی نتیجے کے طور پر سامنے آئے۔ ظاہر بات ہے کہ مارکیٹ نظم کے اندر ان مظالم (غربت، افلاس، استحصال، معاشی ناہمواریوں، سماجی اخراج) کے حل کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں، کیونکہ مارکیٹ ذاتی نفع خوری (private profit maximization) کے تحت کام کرتی ہے۔ اس اصول کے تحت سرمایہ وہیں جائے گا جہاں اس میں مزید اضافے کا امکان ہو۔ ان مظالم کو کم کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ اشتراکی اور سوشل ڈیموکریٹ ریاستوں نے سوشل رائٹس (social rights) کا تصور پیش کیا۔ اہم ترین سوشل رائٹس یہ ہیں: 
الف) اجتماعی سودے بازی (collective bargaining) کا حق۔ اشتراکی اور سوشل ڈیموکریٹ مفکرین اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں سب سے نمایاں نا مساویت مزدور اور مینجمنٹ (management) کے درمیان تقسیم اختیار اور قوت کے ضمن میں پائی جاتی ہے (مثلاً ایک عام مزدور کمپنی مینجمنٹ کے سامنے بالکل بے بس ہوتا ہے)، لہٰذا مزدور یونیوں کو مینجمنٹ کے عمل میں شرکت اور اجرتوں کے تعین میں اختیارات کے مواقع ملنا چاہیے (تاکہ وہ فیکٹری کے ورکنگ ماحول کو بہتر بنانے نیز مزدوروں کے سوشل حقوق وغیرہ منوانے کے لیے مزدوروں کی پر زور نمائندگی کرسکیں) ۔
ب) غربت، افلاس اور سماجی اخراج ذدہ طبقے کے لیے دوسرا اہم سوشل رائٹ سرمایہ دارانہ ریاستوں سے یہ مطالبہ تھا کہ وہ عوام کو ویلفئیر حقوق کی فراہمی یقینی بنائے، جن کے ذریعے ہر سٹیزن مسلسل بڑھتی ہوئی آمدنی، صحت، تعلیم اور رہائش حاصل کر سکے (غور کیجیے روایتی نظم معاشرت میں یا تو یہ مظالم سرے سے تھے ہی نہیں اور اس قسم کی ضروریات کے حصول کے لیے فرد ریاست کا محتاج نہیں تھا، جو مفکرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ’یورپی ریاستوں نے جو ویلفیئر رائٹس اپنی عوام کو دیے وہ مغل سلطنت کیوں نہ دیتی تھی ‘ وہ درحقیقت سرمایہ دارانہ اور غیر سرمایہ دارانہ نظم معاشرت و ریاست کے فرق سے نا واقف ہیں)۔ ان سوشل رائٹس کا مقصد فرد کو مارکیٹ نظم میں شرکت کے لائق بنانا تھا، مارکیٹ سوسائٹی میں ایک شخص یا تو صارف اور یا پھر سرمایہ کار کی حیثیت سے شرکت کرتا ہے، جس شخص کے پاس نہ سرمایہ دارانہ علم ہو، نہ صحت ہو اور نہ خرچ کرنے کے لیے آمدن ہو تو ظاہر بات ہے اس میں مارکیٹ (یعنی سوسائٹی) میں شرکت کرنے کی صلاحیت (capability) ہی نہیں۔ لہٰذا یہ ضروری سمجھا گیا کہ سرمایہ دارانہ ریاست بڑھوتری سرمایے کے عمل کو اس طرح ترتیب دے کہ اس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ لوگ سرمایے میں اضافے سے مستفیذ ہو سکیں۔ 

مذہب کی مارکیٹ کاری اور اس کے ثمرات 

سرمایہ دارانہ معاشرہ ہر اس شے کو اپنے اندر سمونے کی خواہش اور صلاحیت رکھتا ہے جس کے ذریعے سرمایے میں اضافہ کرنا ممکن ہو، اور مذہبی شعائر بھی اس اصول سے مستثنی نہیں۔ سرمایہ داری کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ ہر معاشرے میں وہاں کے عمومی غالب نظریات کے ذریعے اپنا راستہ بناتی ہے۔ یورپ میں اس کا راستہ ہموار کرنے کے لیے پروٹسٹنٹ ازم نے خاص کردار ادا کیا جس نے پوپ کی اجتماعیت کو رد کرکے مذہب کی انفرادیت پسندانہ تشریحات کا علمی جواز پیش کیا۔ چونکہ یہ بالکل ظاہر ہے کہ علوم لدنی سے بے بہرہ شخص کی عقل نفسانی خواہشات ہی کی غلام ہوتی ہے، لہٰذا ہر شخص کو کتاب الٰہی کی تشریح کا حق دینے کا لازمی مطلب وحی الٰہی کو نفسانی خواہشات کے تابع کردینا ہے، یعنی یہ وہ طریقہ کار ہے جس کے ذریعے ایک فرد کتاب الہی سے محض اپنی خواہشات کا جواز حاصل کرنے کے لیے رجوع کرتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ پروٹسٹنٹ ازم نے سرمایہ دارانہ ورک ایتھکس (work-ethics) (مثلاً جو دنیا میں زیادہ کامیاب ہے وہی آخرت میں کامیاب ہے، حصول دولت حصول آخرت کا ذریعہ ہے، اصل عبادت چرچ جانا یا ذکر و ازکار کرنا نہیں بلکہ دنیا کے کام زیادہ انہماک سے کرنا ہے، نیز فطرت کا مطا لعہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ جتنا بائبل کا وغیرہ) کا مذہبی جواز بھی فراہم کیا۔ سرمایہ دارانہ ریاست روایتی معاشروں میں مذہب کی ایسی تشریحات کو بھر پور فروغ دیتی ہے جن کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ اداروں کا جواز اور ورک ڈسپلن مستحکم ہوسکے۔ موجودہ دور میں اسلامی بینکاری ، اسلامی جمہوریت و اسلامی سائنس کے فکری منہج کی یہی وہ نظریاتی خدمت ہے جس کی بنا پر انہیں سرمایہ دارانہ استعمار کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اسی طرح سرمایہ داری سے ہم آہنگ انفرادی مذہبی اخلاقیات (مثلاً سچ بولنا، ایمانداری، وقت کی پابندی وغیرہ) کی اہمیت بھی خوب اجاگر کی جاتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر ایسے مذہبی اخلاقیات کے پابند شخص کی نگرانی (survelience) کرنے کی ضرورت نسبتاً کم ہوتی ہے ( کیونکہ وہ اپنے ایمانی تقاضے کی بنا پر اپنا کام پوری مستعدی یعنی efficiency سے کرتا ہے)، ایسا شخص بالعموم ہڑتال وغیرہ کے ذریعے کمپنی مینیجنٹ کے لیے مسائل پیدا نہیں کرتا نیز سرمایہ دارانہ وظائف (وقت پر آنا جانا، کام کے اوقات میں کام کرنا، قرض کی وقت پر ادائیگی وغیرہ) کو بخوبی سر انجام دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرت و ریاست کے استحکام کے لیے ان مذہبی اخلاقیات کے فروغ کی ضرورت کو جدید ماہرین معاشیات نے خوب اچھی طرح بھانپ لیا ہے اور اسی کے زیر اثر آجکل economics and ethics, economics and religioin جیسی شاخیں وجود میں آرہی ہیں۔ مذہب کی اس مارکیٹ سازی کا مقصد سرمایہ دارانہ مظالم کم کرنا بھی ہوتاہے۔ چنانچہ دنیا کی ایسی کوئی سرمایہ دارانہ ریاست نہیں جو تمام سٹیزنز کو مارکیٹ کے مظالم سے چھٹکارا دلانے کی صلاحیت رکھتی ہو، اسی لیے ایسے انفرادی مذہبی اخلاقیات کو اپنانے کی ترغیب دلائی جاتی ہے جو ذاتی نفع خوری پر مبنی عمومی نظم اجتماعی کے ظلم و جبر کو نسبتاً کم کرسکیں (مثلاً خیرات کرنے کا جذبہ اس لیے اجاگر کیا جاتا ہے تاکہ افلاس کے شکار لوگوں کا بندوبست ہوسکے وغیرہ)۔ مذہب کی مارکیٹ سازی میں سب سے اہم کردار ٹی وی ادا کرتا ہے جس کی ایک مثال امریکہ میں اونجلیکل (evangelical) عیسائیت کے ساتھ ہونے والا سلوک ہے (اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے ہمارا مضمون ’ٹی وی اور تبلیغ اسلام‘ ماہنامہ محدث لاہور، شمارہ اگست ۲۰۰۸)۔ 

علم کی مارکیٹ کاری

مذہبی تہذیبوں میں علم سے مراد خدا کی مرضی جان کر اس کے مطابق عمل کرنا سمجھا جاتاہے، اس کے مقابلے میں لذت پرستانہ تصور زندگی کے مطابق علم سے مراد ایسی بات جاننا ہے جس کے ذریعے انسان اس چیز پر قادر ہو جا ئے کہ اس کے ارادے کی تکمیل کیسے ہوسکتی ہے۔ وہ علم جو انسان کو یہ بتا تا ہے کہ کائنات پر اس کے ارادے کا تسلط کیسے ممکن ہے اسے ’سائنس ‘ کہتے ہیں ۔ لہٰذا لذت پرستی و ترقی کا اصل معنی علم کو سائنس کے ہم معنی قرار دینا ہے، یعنی ترقی سے مراد ان معلومات میں اضافہ ہے جو انسانی ارادے کی تکمیل کو ممکن بناتی ہوں ۔ گویا مغربی تہذیب میں ’ارادے و خواہشات کی تکمیل ‘ ہی معلومات کے مجموعے اور عالم (knower)کے درمیان تعلق کی بنیاد ٹھہر ا۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی تہذیب میں علم وہ چیز جاننا نہیں ہے کہ جس سے انسان اپنے رب کی رضا جان لے ( یعنی علم یہ نہیں کہ مجھے وضو یا غسل وغیرہ کرنے کا طریقہ اور مسائل معلوم ہو جائیں) بلکہ علم تو یہ ہے کہ میں یہ جان لوں کہ پنکھا کیسے چلتا ہے، بجلی کیسے دوڑتی ہے، جہاز کیسے اڑتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ گویا اب علم رضا ئے الہی کے حصول کا طریقہ جان لینا نہیں، بلکہ تسخیر کا ئنا ت یا با الفاظ دیگر انسانی ارادے کے کائناتی قوتوں پر تسلط قائم کرنے کا طریقہ جان لینے کے ہم معنی بن گیا ۔ دوسرے لفظوں میں یہاں علم اللہ تعالی کی رضا نہیں بلکہ نفس انسانی کی رضا اور اس کی تکمیل کا سامان فراہم کرنے والی معلومات کا نام پڑ گیا۔ تصور علم کی یہ تبدیلی انسانی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی تبدیلی تھی جس نے انسان کی کامیابی کو کسی خدا کی اطا عت (obedience) کے ساتھ نہیں بلکہ لا متناہی خواہشات انسانی کی تکمیل و ارادہ انسانی کے تسلط (dominance) کے ساتھ مشروط کر دیا۔ اس تصور علم میں فطرت ان معنوں میں انسا ن کی حریف ٹھہری کہ یہ انسانی ارادے کی تکمیل پر حد بندی کرتی ہے اور اسے تسخیر کرکے انسا نی ارادے و خوا ہشات کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا ضروری ٹھہرا۔ آج بھی مو جودہ سائنسی علمیت کا یہ جنون ہے کہ انسانی عقل کو استعمال کر کے فطرت کے تمام رازوں سے پردہ اٹھا نا نیز انسانی ارادے کو خود اس کے اپنے سواء ہر بالا تر قوت سے آزاد کرنا عین ممکن ہے ۔ 
پس جدیدی فلسفیوں کے بقول سرمایہ دارانہ (یا سائنسی علمیت ) کی اقداری حقیقت ’خرید وفروخت‘ کے معنی خیز الفاظ میں بیان کی جا سکتی ہے۔ چونکہ آزادی کا مطلب سرمایے میں اضافہ ہے، لہٰذا علم بھی اسی کے ہم معنی ٹھرا۔ سرمایے کی بڑھوتری کا عمل اسی وقت ظہور پزیر اور قوی ہوتا ہے جب علم بذات خود نفع خوری (profit-maximization) کے نظم (Discipline) کا پابند اور اس کے تابع ہوجائے ، یعنی علم تعمیر کیا جائے ’بیچنے‘ کے لیے اور اسے ’خریدا ‘ جائے صرف (consumption) کرنے کے لیے [knowledge is produced for sale, and purchased for consumption]۔ دوسرے لفظوں میں لذت پرستی کی ذہنیت علم کو خریدوفروخت میں تبدیل کردیتی ہے اور خرید و فروخت کی یہ ذہنیت ہی سرمایہ دارانہ علمیت (طبعی و عمرانی سائنسز) کا اصل جوہر (essence) ہے۔ چنانچہ سرمایہ دارانہ معاشروں میں سائنس و ٹیکنالوجی کی ایجادات سے لیکر سوشل و بزنس سائنسز کی تحقیقات تک خرید وفروخت کے اسی عمل کے اظہار کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ مثلاً جب ایک یونیورسٹی میں کمپیوٹر یا بزنس سائنس کا طالب علم چار سال کی محنت شاقہ کے بعد اپنے تعلیمی کیرئیر کے آخری سال میں اپنا تحقیقی کام (Research project) کرنے لگتا ہے تو اس کے اساتذہ اس کے پلے یہ ہدایت نامہ باندھتے ہیں: ’بیٹا ایسا کام کرو جس کی کوئی مارکیٹ میں مانگ (Market value) ہو ، فضول کاموں میں وقت برباد مت کرو‘۔ درحقیقت یہی نصیحت تمام تر علم اور ٹیکنالوجی کا نقطہ آغاز و انتہا ہوتا ہے۔ تعلیم، تحقیق اور کنسلٹنسی (consultancy) کے تمام تر ادارے اسی اصول پر اور ایسا ہی علم تعمیر کرتے ہیں جسے زیادہ متوقع منافع و آمدنی کے ساتھ کمپنیوں کو بیچنا ممکن ہو، اور کمپنیاں ایسے ہی علم کو خریدتی ہیں جسے وہ اپنے پیداواری عمل میں استعمال کرکے مزید اشیاء بیچ کر زیادہ سے زیادہ منافع کما سکیں۔ خرید و فروخت کے اس علم کی پروان کے ساتھ معاشروں کی ’مارکیٹ کاری ‘ مستحکم تر ہوجاتی ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی معاشرے میں سائنسی علوم عام ہوں اور افراد میں ذاتی اغراض اور حرص و حسد نیز دیگر اخلاق رزیلہ پروان نہ چڑھیں۔ یہ تعلق بالکل ایسا ہی ہے جیسے مذہبی علوم کا مقصد افراد میں زہد، تقوی ، عزیمت ، عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم وفنا جیسی صفات عام کرنا ہے۔ سرمایہ دارانہ علوم کی بالا دستی کا مطلب در حقیقت افراد کی ذہنیت اور معاشروں کو خرید وفروخت کے نظم میں شامل اور تابع کرنے کا دوسرا نام ہے۔ ایسے علوم (مثلاًمذہبی علم) جو خریدوفروخت کی کسوٹی پر پورا نہ اترتے ہوں یعنی جنہیں خریدنے اور بیچنے کے نتیجے میں سرمایے کی بڑہوتری کے مواقع کم ہوں ان کے پنپنے کے مواقع بھی اتنے ہی کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ 
سرمایہ دارانہ علم کے اس جا ہلانہ تصور کو عوام الناس میں رائج کرنے کے لیے ضروری تھا کہ اس وقت کے معاشروں میں پائے جانے والے مقبول عام تصور علم کو غیر معتبر اور لا یعنی ثا بت کیا جائے۔ قرون وسطی میں موجود علمیت کوئی اور نہیں بلکہ عیسائی علمیت تھی جسے ہر طرح کے جھوٹے پروپیگنڈوں اور نام نہاد عقل پرستی کے دعووں کی آڑ میں حقارت سے دیکھا جا نے لگا۔ اس ضمن میں اہم بات یہ کہ عوام الناس کا عیسائی علمیت سے ایمان کمزور کرنے کے لیے سب سے ضروری یہ تھا کہ اس علمیت کے حا مل فرد یعنی پوپ (اور ہمارے معاشروں میں مولوی) کی شخصیت کو متنازع اور مشکوک بنا یا جائے۔ اس کامقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام الناس کا رابطہ ان مذہبی پیشواوں سے ٹوٹ جائے جہاں سے انہیں دنیا کے دارا لا متحان ہونے اور آخرت کی تیاری کا سبق ملتا ہے تاکہ جدیدیت کے حامی ان کے قلوب میں دنیا داری کے بیج بو سکیں۔ جدیدیت دنیا کے جس ملک میں بھی گئی اس نے مذہبی پیشواؤں کے عوامی اثر و رسوخ کم کرنے کے تمام حربے استعمال کیے ۔ 
دھیان رہے یہ تمام تر تبدیلیاں سرمایہ دارانہ پیداواری عمل میں زیادہ سے زیادہ افراد کو سمونے کے لیے سرمایہ دارانہ بنیادوں (for-profit business enterprise) کے تحت رونما ہوئیں۔ تنویری مفکرین (اور ان کے زیر اثر لبرل مسلم مفکرین) یہ پراپیگنڈہ کرتے ہیں کہ سرما یہ دارانہ نظام فرد کو یہ آزادی دیتا ہے کہ وہ جیسی زندگی گزارنا چاہے گزار سکتا ہے، مگر یہ سراسر جھوٹ ہے۔ درج بالا تجزئیے کی روشنی میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح سرمایہ دارانہ پیداواری عمل نے انسانی زندگی کے انتہائی پاکیزہ ترین اداروں کو تباہ و برباد کرکے فرد کو مارکیٹ ڈسپلن اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔ سرمایہ دارانہ نظام اس حد تک فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرتا ہے کہ ’اس کے بچوں کی تعداد‘ اور ’ان کی تربیت کے پیمانوں ‘ تک کے فیصلے مارکیٹ نظم کے تابع ہوکر رہ جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام فرد کو ایک ایسی زندگی گذارنے پر مجبور کردیتا ہے جس میں وہ سرمایے کی غلامی کے سواء کچھ اور کرنے کے لائق نہیں رہتا۔ اس حقیقت کو یوں بیان کیا جاتا ہے کہ Market is a totalizer (یعنی مارکیٹ فردکی ذاتی و اجتماعی زندگی پر پوری طرح حاوی ہوجاتی ہے)۔ 

نتائج

درج بالا تفصیلات سے ہم ان نتائج پر پہنچتے ہیں کہ: 
۱) مغربی نظم اجتماعی اور ادارے اس مارکیٹ ڈسپلن کا اظہار ہے جو ذاتی اغراض پر مبنی سرمایہ دارانہ پیدواری عمل کے قیام، تشکیل و استحکام کے لیے لازمی حیثیت رکھتا تھا۔ مغربی معاشروں میں سڑکوں پرٹریفک سگنلز کی پابندی، ہسپتالوں میں مریضوں کے خیال کا نظام، قطاروں میں اپنی باری کا انتظار وغیرہ اخلاقیات نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظم ڈسپلن کی پابندی اورsurvelience کا نتیجہ ہے (یہ ایسی چیزیں ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کے قیام کے لوازمات ہیں اور ایک سٹیزن کے اس ذمہ دارانہ سرمایہ دارانہ شعور (mature capitalist subjectivity) کا اظہار ہے جو سٹیزن کے اندر ایک سرمایہ دارانہ نظم میں زندگی گزارنے کے بعد ارتقاء پزیر ہوتا ہے)۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جیسے جیسے سرمایہ دارانہ پیداواری نظام ہمارے معاشروں کو اپنی جکڑ میں لیتا جا رہا ہے (جیسے شہروں کو) ویسے ویسے ہماری عوام بھی سرمایہ دارانہ ایتھکس (ethics) کے پابند ہوتے چلے جارہے (مثلاً اب ہمارے ہاں بھی لوگ اطمینان کے ساتھ گھنٹوں قطار میں CNG کے لیے اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں)۔ یہیں سے ایتھکس (ethics) اور اخلاقیات (morality) کا فرق سمجھا جا سکتا ہے۔ ایتھکس (ethics) کا مطلب کسی بھی کام کو اس کے منطقی لوازمات و مضمرات کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ سر انجام دینا ہوتا ہے۔ اس بات کو اس دلچسپ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک مرتبہ ہماری نظر سے ایک کتاب گزری جس کا عنوان تھا Ethical guide for call girls (جس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ جسم فروشی کے پروفیشن سے منسلک خواتین کی procedural ذمہ داریاں کیا ہیں)۔ اس کے برعکس اخلاقیات (morality) کا مطلب یہ ہے کہ فرد خواہشات میں ترجیحات کا پیمانہ قائم کرسکے، یعنی یہ سوال اٹھائے کہ قدر ( اچھا اور برا) کیا ہے۔ یہ سوال کہ انسا ن کو کس چیز کی خواہش کرنا چاہیے تنویری یا سرمایہ دارانہ نقطہ نگاہ سے ایک ناقابل تفہیم سوال ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ تنویری مفکرین کے مطابق حصول آزادی واحد مقصد حیات ہے اور چونکہ وہ ہر انسان کو اس حق کا مکلف گردانتے ہیں، لہٰذا ان کے نزدیک ہر شخص کو مساوی حق ہے کہ وہ جو چاہنا چاہتا ہے چاہے۔ یہی وجہ ہے کہ تنویری فکر کسی ابدی اخلاقیات کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہے، اس کا مقصد حصول آزادی کی جستجو ہے اور چونکہ آزادی لا حاصل (درحقیقت کچھ نہیں محض خلا ) ہے، لہٰذا قدر کا اثبات کرنے سے قاصر ہے۔ چنانچہ ایتھکس (ethics) کا تعلق کسی فعل کی ادائیگی و تنفیذ کے لیے اس کی داخلی prodecural consistency (عملی ہم آہنگی) سے ہوتا ہے، جبکہ اخلاقیات کا تعلق کسی فعل کی قدر سے متعلق سوال اٹھانا ہے۔ قدر کا مطلب یہ ہے کہ انسان یہ سوال اٹھاس کے کہ اسے کیا چاہنا چاہیے اور کیا نہیں، کیا اہم ہے اور کیا غیر اہم۔ چونکہ تنویری فکر میں اخلاقیات کی بنیاد صرف انسانی خواہشات ہیں، لہٰذا اخلاقی قدروں کا تعین وہاں ناممکن ہے کیونکہ یہ بالکل واضح ہے کہ نفس لوامہ خواہشات کو صرف احکام الہی کے سامنے تول کر ہی پرکھ سکتا ہے اور اگر احکامات الہی سے انکار کرکے انسان خدا بن بیٹھے تو نفس امارہ نفس لوامہ پر غالب آجاتا ہے۔ ہائیڈیگر کہتا ہے کہ مغربی علمی تناظر میں ’نفس لوامہ کی بحث صرف خاموشی ہے‘ (discourse of discriminatury self is pure silence)۔ وہ نفس جس کے احکام کی بنیاد خواہشات ہوں، قدر کی پہچان اور علم و عرفان کے حصول سے قاصر رہتا ہے۔ قدر کا تعین صرف احکام الہی کی بنیاد پر ممکن ہے۔ یہی وہ بات ہے جسے امام اشعری و غزالی نے صدیوں پہلے بیان فرما دیا تھا کہ خیر و شر اعمال کے ذاتی نہیں بلکہ شرعی اوصاف ہیں، انسانی عقل، وجدان یا فطرت میں صلاحیت نہیں کہ انکا ادراک کر سکے۔ 
ایتھکس (ethics) اور اخلاق کا فرق ایک اور مثال سے سمجھا جا سکتا ہے، اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ کھانا کس طرح کھایا جائے تو ظاہر بات ہے اس فعل کو سر انجام دینے کے بے شمار ممکنہ طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں ( مثلاً کھڑے ہوکر، چلتے ہوئے، بیٹھ کر، لیٹ کر، جانور کی طرح کھانے میں منہ مار کر، رکابی میں ڈال کر، ہاتھ سے، چمچ کانٹے سے، زمین پر بیٹھ کر، کرسی پر بیٹھ کر وغیرہ)۔ ان میں سے جو بھی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا ہر طریقہ کار کی ادائیگی کے چند جداگانہ عملی لوازمات ہوں گے جن کے بغیر اس کی ادائیگی نامکمل تصور کی جائے گی، چنانچہ ان بے شمار ممکنہ طریقوں میں سے کسی ایک طریقہ کار کو اپنا کر اسے اس کے منطقی لوازمات کے ساتھ ادا کرنا ایتھکس (ethics) ہے (انہی معنی میں کرسی میز پر بیٹھ کر کھانے کی ایتھکس (ethics) چلتے پھرتے یا بیٹھ کر کھانے کی ایتھکس سے مختلف ہوگی)۔ اس کے مقابلے میں اخلاقیات کا مطلب یہ سوال اٹھانا ہے کہ ان بے شمار ممکنہ طریقوں میں سے کون سا طریقہ بہتر و افضل ہے، ظاہر بات ہے عقل یا وجدان کی روشنی میں اس کاکوئی جواب دینا ممکن نہیں اور یہاں قول فیصل یہی ہوگا کہ حضور پر نور ﷺ نے کس طرح کھانا کھایا اور درحقیقت یہی طریقہ اخلاقیات کا مظہر ہے (حدیث شریف انما بعثت لا تمم مکارم الاخلاق یعنی ’مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے‘ کا معنی یہی ہے)۔ اس طریقہ کار کے سواء دیگر طریقے ethical تو ہو سکتے ہیں مگر moral نہیں۔ اسی طرح بدکاری کو فروغ دینے کے بہت سے ethical طریقے تجویز کیے جا سکتے ہیں لیکن حقیقتاً یہ سب غیر اخلاقی (immoral) ہوں گے۔ انہی معنوں میں مغربی اجتماعیت ethical تو ہے (کہ وہاں سرمایہ دارانہ نظم ڈسپلن داخلی ہم آہنگی کے ساتھ ہمارے معاشروں کے مقابلے میں قدرے بہتر طور پر نافذ ہے)، البتہ یہ کسی طور اخلاقی نہیں (بلکہ اخلاق بد کا مظہر ہے) ۔ اسی لیے ہم پورے شرح صدر کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ’مغرب کا اجتماعی نظم اعلی اخلاق نہیں بلکہ انتہائی رزیل انسانی احساسات پر مبنی عقلیت (حرص، حسد، شہوت، غضب، طول امل، حب جاہ دنیا و مال) اور اس پر قائم ہونے والی ادارتی صف بندی (مارکیٹ و ریاست) کے قیام کے لیے مطلوب نظم کی پابندی کا غماز ہے‘۔ یہی وجہ ہے کہ کسی سرمایہ دارانہ معاشرے میں اعلی اخلاق (مثلاً للہیت، عشق رسول، شوق عبادت، خوف آخرت ،طہارت، تقوی، عفت، حیا، ایثار، محبت، شوق شہادت، توکل، صبر، شکر، زہد، فقر، قناعت ، عزیمت وغیرہ) نہیں پنپتے۔ جو مسلم مفکرین ethics اور morality کے اس فرق سے واقف نہیں اور مغربی اجتماعیت کو اسلامی اقدار کا غماز قرار دینے کی غلط فہمی کا شکار ہیں وہ اس بات کا کوئی تشفی بخش جواب نہیں دے سکتے کہ آخر مغرب میں (اور جہاں کہیں یہ نظام پروان چڑھتا ہے وہاں) درج بالا اخلاقی قدریں کیوں نا پید ہوجاتی ہیں۔ 
۲) مغرب میں جسے rule of law اور سوشل رائٹس کہا جاتا ہے ان کی فراہمی کا مقصد سٹیزن کو اس قابل بنانا تھا کہ وہ مارکیٹ نظم میں شامل ہو کر سرمایے کی بڑھوتری کے عمل میں اپنا کردار ادا کرسکے اور اس عمل میں شرکت کے ذریعے اپنی خواہشات نفسانی کی تکمیل کرسکے (یعنی لذات کو فروغ دینے کا مکلف بن سکے)۔ یہی سرمایہ دارانہ عدل ہے اور سرمایہ داری کی تاریخ اسی عدل کے حصول کی جدوجہد سے عبارت ہے۔ اس سرمایہ دارانہ عدل (جو درحقیقت ظلم ہے) کی فراہمی کو خلافت کا مظہر سمجھنا ناسمجھی کے سواء اور کچھ نہیں کیونکہ نفس پرستی کے فروغ کے نتیجے میں عبدیت ہرگز پروان نہیں چڑھتی۔
۳) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ’مغرب ہم سے بہتر مسلمان ہے‘ وہ درحقیقت سرمایہ داری کو بطور نظام زندگی نہیں پہچانتے اور نہ ہی انہیں مغرب میں اس کے معاشرتی ارتقا و لوازمات کا ادراک ہے۔ حقیقت یہ نہیں کہ مغرب ہم سے بہتر مسلمان ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے یعنی ’ہم مغرب سے برے سرمایہ دار ہیں‘۔ مغرب میں چونکہ سرمایہ دارانہ نظام دو صدیاں قبل مستحکم ہونا شروع ہوگیا تھا لہٰذا ان کے ہاں سرمایہ دارانہ ڈسپلن اور ادارے پختہ ہو چکے ہیں، ان کی معاشرت و ریاست خاندانی تعلقات کے تانے بانے (web of relationships) سے نکل کر مارکیٹ نظم میں پوری طرح سمو چکی ہے۔ اس کے برعکس ہمارے یہاں دو نظاموں کے درمیان کشمکش کا دور ہے، تہذیبی تبدیلیوں کے معاملے میں ایسے دور کو عبوری دور (transitionary phase) کہا جاتا ہے۔ اس دور کی خصوصیت یہی ہوتی ہے کہ ایک نظام تحلیل ہورہا ہوتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا نظام اپنی جگہ بنانے کی کوشش کررہا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے معاشرے توڑ پھوڑ کے عمل کا شکار ہوتے ہیں اور نتیجتاً فرد کو نہ تو پرانے نظام کا عدل اور نہ ہی نئے نظام کا عدل پوری طرح میسر ہو پاتا ہے اور وہ گونا گوں نفاق کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے (یعنی جسے پسند نہیں کرتا کرسکتا وہی ہے ، اور جسے پسند کرتا ہے اسے کرنے کے مواقع نہیں پاتا)۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں سرمایہ دارانہ ڈسپلن کی پابندی اور اداروں کی کارکردگی نسبتاً خراب ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مغرب میں سرمایہ دارانہ مظالم ہمارے معاشروں کے مقابلے میں نسبتاً کم ہیں اور وہاں سٹیزن کے لیے سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی نسبتاً بہتر ہے ]حضرت علیؓ کی طرف ایک مشہور قول منسوب ہے کہ ’کفر کے ساتھ حکومت کی جاسکتی ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں‘۔ اگر واقعی یہ نسبت درست ہے تو ہمارے نزدیک اس قول میں ظلم کفر کے مقابلے میں استعمال نہیں ہوا کیونکہ کفر بذات خود ظلم ہے اور حضرت علیؓ جیسی علمی شخصیت سے بعید ہے کہ وہ کفر کو ظلم سے علیحدہ قرار دیں گے، اس قول کا معنی یہ ہیں کہ اگر کفر بھی اپنا تصور عدل( جو درحقیقت ظلم ہی ہوتا ہے) پیہم فراہم کرنا شروع کردے تو اس کی حکومت بھی قائم رہ سکتی ہے (جیسے سرمایہ دارانہ حکومتیں قائم ہیں) اور اگر اہل حق اپنے تصور عدل کی تنفیذ سے پھر جائیں (یعنی اس کے ساتھ ظلم کریں) تو ان کی حکومت بھی قائم نہ رہے گی۔ دوسرے لفظوں میں ایک ظالمانہ نظام عدل (مثلاً سرمایہ دارانہ عدل) اگر بھر پور طریقے سے فراہم کیا جائے تو وہ بھی قائم رہ سکتا ہے اور اگر ایک منصفانہ نظام عدل کے ساتھ ظلم کیا جائے (یعنی اسے فراہم نہ کیا جائے) تو وہ بھی دنیاوی اعتبار سے مغلوب ہو جائے گا، گویا حضرت علیؓ اس قول میں اہل ایمان کو یہ تلقین فرما رہے ہیں کہ اسلامی تصور عدل کی محض تبلیغ ہی کافی نہیں بلکہ اس کانفاذ بھی ضروری ہے کیونکہ اگر تم اپنے عدل کی تنفیذ نہ کرکے اس کے ساتھ ظلم کرو گے تو کافر اپنے ظلم کی تنفیذ کرکے تمہیں زیر کر سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہی تشریح حضرت علیؓ جیسی بالغ النظر شخصیت کے شایا ن شان ہے نہ کہ وہ غلط تشریح جو عام طور پر بیان کی جاتی ہے[۔ 
۴) جیسا کہ عرض کیا گیا کہ سرمایہ دارانہ عدل ظلم ہے کیونکہ یہ عبدیت نہیں بلکہ آزادی یعنی لذت پرستی کے فروغ کا دوسرا نام ہے۔ جب اسلامی تحریکات مغربی اجتماعی نظم کو اسلامی اقدار کا عکاس فرض کرکے اسلامی معاشروں کو مغربی آدرشوں (آزادی، مساوات، ترقی، ہیومن رائٹس، سوشل رائٹس) اور ادارتی صف بندی (سائنس، جمہوریت، مارکیٹ، بینکاری، سول سوسائٹی) پر استوار کرنے کی جدوجہد کرتی ہیں تو درحقیقت وہ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کا اسلامی جواز فراہم کرتی ہیں (جو ایک انتہائی فاسد فکری رویہ اور خطرناک حکمت عملی ہے)۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بیشتر سیاسی اسلامی تحریکات نے سرمایہ دارانہ نظم ڈسپلن کو ٹیکنیکل اور غیر اقداری ڈھانچہ فرض کرکے اسے مقاصد شریعت کے حصول کا ذریعہ سمجھ لیا ہے اور ان کے خیال میں اس ملحدانہ ڈھانچے کے نفاذ کے ذریعے ضروریات دین کی تکمیل کرنا ممکن ہے۔ یہی وہ فاسد خیال ہے جس کی وجہ سے ہمیں سکینڈنیوین (scandinavian) ممالک کی سرمایہ دارانہ ویلفیئر ریاستوں میں خلافت راشدہ کی جھلک دکھا ئی دیتی ہے، فیا للعجب (گویا یا تو ان حضرات کا یہ مفروضہ ہے کہ ان مما لک میں بسنے والے لوگ مانند صحابہ ایمان و کردار کے حامل ہیں اور یا پھر ان کے خیال میں خلافت راشدہ کے قیام کے لیے صحابہ جیسا ایمان و کردار سرے سے درکار ہی نہیں)۔ 
۵) اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ مغربی معاشروں میں بھلائی (مثلاً خیرات کرنا، چرچ جانا وغیرہ) کے جو چند شعائر ہمیں دکھائی دیتے ہیں ان کی کیا توجیہ کی جائے، تو اس کاجواب یہ ہے کہ ایک فرد بیک وقت دو مختلف اور متضاد عقلیتوں (rationalities) کا شکار ہو سکتا ہے اور ایسا اکثر ہوتا ہے کہ زندگی کے کسی ایک گوشے میں وہ ایک عقلیت سے اور دوسرے حصے میں دوسری عقلیت سے متاثر ہوکر فیصلے کرتا ہے۔ مغربی فرد بھی کسی حد تک اسی مخمصے کا شکار ہے، چنانچہ ایک طرف وہ قدیم عیسائی شناخت کا وارث ہے (یہ اور بات ہے کہ اس کی شناخت کا یہ شعور اس کی زندگی کے بیشتر معاملات میں لایعنی ہو چکا ہے) مگر ساتھ ہی ساتھ وہ ایک غالب ملحدانہ سرمایہ دارانہ انفرادیت کے قالب میں خود کو ڈھال چکا ہے۔ گو کہ عیسائی انفرادیت اور عصبیت مغربی ممالک میں نہایت کمزور ہو چکی ہے البتہ یہ پوری طرح ختم نہیں ہوگئی (ظاہر بات ہے انسان کبھی بھی پوری طرح شیطان کی مانند شر محض نہیں بن جاتا بلکہ بد سے بد تر انسان میں بھی خیر کا کوئی نہ کوئی پہلو بہرحال موجود رہتا ہے)۔ پس مغربی فرد کے شعور پر جس حد تک ایک محدود عیسائی انفرادیت و شناخت کے اثرات باقی ہیں اسی قدر ان معاشروں میں خیر کے چند مظاہر ابھی تک باقی ہیں۔ یہ بات بھی دھیان میں رہنی چاہیے کہ سرمایہ داری مذہب کو مکمل طور پر نیست و نابود نہیں کردیتی بلکہ فرد کو اس کی ایک ایسی تشریح قبول کرنے پر راضی کرتی ہے جس کے ذریعے وہ بارضا ورغبت سرمایہ دارانہ ڈسپلن اختیار کرلے نیز سرمایہ دارانہ نظام کے مظالم کا مداوا کیا جا سکے (جیسا کہ اوپر بتایا گیا)۔ 
۶) سرمایہ دارانہ خطوط پر معاشروں کی مارکیٹ کاری خود بخو دکسی فطری قانون کے تحت رونما نہیں ہوجاتی بلکہ اس کے لیے بھرپور سرمایہ دارانہ ریاستی جبر درکار ہوتا ہے (یعنی سرمایہ داری evolution نہیں بلکہ engineering کے نتیجہ میں بر آمد ہوتی ہے)۔ اس ضمن میں سرمایہ دارانہ ریاست کی ذمہ داریوں کا خلاصہ ذیل میں دیا گیا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں چیزیں جیسی کہ وہ ہیں سمجھنے کی صلاحیت عطا فرما دے، آمین۔ 

مولانا مودودیؒ اور مولانا ہزارویؒ کے حوالے سے مباحثہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ، مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور مولانا محمد چراغؒ کے حوالے سے کچھ عرصے سے ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات پر بحث جاری ہے اور چونکہ اب یہ بحث مکالمہ کے بجائے مورچہ بندی کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے، اس لیے مزید تکرار سے بچنے کے لیے ہم نے اس کو یہیں ختم کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جیسا کہ کئی بار عرض کیا جا چکا ہے، ’’الشریعہ‘‘ کو علمی، فکری، تاریخی اور دیگر متعلقہ مسائل پر باہمی مباحثہ ومکالمہ کا فورم ضرور بنایا گیا ہے، لیکن ہم اسے صرف مکالمہ کی حد تک رکھنا چاہتے ہیں اور مناظرہ ومحاذ آرائی کا رنگ نہیں دینا چاہتے۔ کسی مسئلہ پر متعلقہ فریقوں کا موقف کیا ہے اور اس کے بنیادی دلائل کیا ہیں؟ یہ امور تو ضرور زیر بحث آنے چاہییں، لیکن طعن وتشنیع اور تحقیر واستہزا سے ہماے خیال میں خود دلیل کا وزن کم ہو جاتا ہے۔
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودویؒ کے بعض افکار ونظریات اور دینی تعبیرات سے جمہور علما کو اختلاف رہا ہے۔ اس کا اظہار شدت اور نرم روی کے دونوں لہجوں میں خاصا ہوا ہے اور اس کے دفاع میں بھی دونوں اسلوب یکساں کار فرما چلے آ رہے ہیں، جبکہ ہم اس معاملے میں موقف کے حوالے سے بہرحال جمہور اہل علم کے ساتھ ہیں۔ البتہ یہ حضرات چونکہ دنیا سے جا چکے ہیں اور ان کا معاملہ اب اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے، اس لیے اگر کسی دینی ضرورت کے تحت ان کے باہمی مباحث کا اعادہ ناگزیر ہو تو ان کی معاصرانہ چشمک اور باہمی فقرہ بازی کو نظر انداز کرتے ہوئے موقف اور دلائل کا تذکرہ ہی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔
مولانا محمد چراغ علیہ الرحمہ کے علم وفضل کی ایک دنیا معترف ہے۔ ہم خود بھی ان کے نیاز مندوں میں سے ہیں، اس لیے ان کے ایک معاصر مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے ان کے نام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک معروف اردو محاورے ’‘چراغ تلے اندھیرا‘‘ کا اپنے مخصوص لہجے میں مناسب یا نامناسب ترجمہ کر دیا تو اسے معاصرانہ چشمک کے دائرے میں ہی رکھنا بہتر تھا اور باقاعدہ کسی تحقیقی مضمون کا عنوان بنانے کی شاید ضرورت نہیں تھی۔ بہرحال، مولانا حافظ محمد عارف صاحب ہمارے محترم دوست ہیں۔ انھوں نے اپنے استاذ محترم کے دفاع میں جن جذبات کے ساتھ قلم اٹھایا ہے، وہ استاذ اور شاگرد کے رشتے کے حوالے سے قابل قدر ہیں۔ انھی جذبات کے احترام میں ان کا یہ مضمون مولانا محمد فیاض خان سواتی کے ایک وضاحتی نوٹ کے ساتھ شائع کر تے ہوئے ہم اس بحث کا باب بند کر رہے ہیں۔

چراغ علم و حکمت

مولانا حافظ محمد عارف

ماہنامہ الشریعہ کے فروری 2013ء کے شمارہ میں خواجہ امتیاز احمد صاحب (سابق ناظم اسلامی جمعیت طلبہ گوجرانوالہ )کا ایک مضمون شائع ہوا، جو چوہدری محمد یوسف صاحب ایڈووکیٹ (سابق رکن جماعت اسلامی)کے مضمون کے جواب میں تھا۔ جس میں جماعت اسلامی کے بارے میں اظہار خیال کیا گیا تھا۔خواجہ امتیاز احمد صاحب نے اپنے مضمون کے شائع ہونے کے بعد مئی 2013ء کے شمارہ میں ایک مکتوب کے ذریعے مولانا فیاض صاحب کے استفسار پر چند وضاحتیں کیں۔ جن میں مولانا غلام غوث ہزاروی علیہ الرحمۃ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ
’’وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد چراغ رحمہ اللہ کو سیاہ دل کہا کرتے تھے اورکہتے تھے چراغ باہر روشنی دیتا ہے، اندر سے سیاہ ہوتا ہے ۔ ‘‘
اس مکتوب کے جواب میں مولانا محمد فیاض خاں سواتی مد ظلہ نے الشریعہ کے جون 2013 ء کے شمارہ میں ایک طویل مضمون لکھا ہے، جس میں جماعت اسلامی ، مولانا مودودی رحمہ اللہ اور مولانامحمد چراغ رحمہ اللہ کے بارے میں خامہ فرسائی کی گئی ہے۔ اپنے مضمون میں انہوں نے حضرت مولانا محمد چراغ کے بارے میں جس قسم کا اظہار کیا ہے وہ نہ صرف یہ کہ مولانا فیاض صاحب کے شایان شان نہیں ۔ بلکہ وہ اس کی معلومات کے ناقص ہونے پر دلالت کرتا ہے ۔ اس لیے صرف دو باتوں کی وضاحت ضروری محسوس کرتے ہوئے چند گزارشات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں ۔ 
مگر ان گزارشات سے پہلے ذرا مولانا فیاض خاں سواتی صاحب کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے۔جو انہوں نے حضرت مولانا محمد چراغ رحمہ اللہ اورمولانا غلام غوث رحمہ اللہ کا تقابل کرتے ہوئے تحریر فرمائے ہیں ۔
’’حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی اورمولانا محمد چراغ دار العلوم دیو بند میں کلاس فیلو تھے، دونوں نے محدث العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ سے ۱۹۱۸ء میں دورۂ حدیث پڑھا تھا۔ مولانا ہزاروی مولانا محمد چراغ مرحوم سے علم میں فائق بھی تھے ۔ ان کی کلاس میں اوّل انڈیا کے ایک عالم جبکہ دوسرے نمبر ہر مولانا ہزاروی آئے تھے ۔ اسی وجہ سے کچھ عرصہ دار العلوم دیو بند میں مدرس بھی متعین کیا گیا تھا، اورپھر دار العلوم نے اپنے نمائندہ کے طور پر قاضی کے عہدہ پر انہیں حیدر آباد بھیجا تھا۔ وہ مولانا چراغ مرحوم کو جتنا قریب سے جانتے تھے ، ماوشمانہیں جانتے تھے۔مولانا غلام غوث ہزاروی کی علمی پوزیشن کے بارے میں بریگیڈیر جناب فیوض الرحمن جدوں اپنی کتاب مشاہیر علماء ج ۲ ص ۵۴۷ میں لکھتے ہیں: ایک رسالہ پوسٹ مارٹم بھی لکھا جس میں جناب مولانا سید ابوالاعلی مودودی صاحب کی تحریروں پر مضبوط گرفت کی ، ان میں سے بعض تحریروں سے مولانا نے رجوع فرما لیا ہے۔‘‘
پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ بالکل غلط اورخلافِ واقعہ ہے کہ مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ اورمولانا محمد چراغ صاحب رحمہ اللہ دیوبند میں کلاس فیلو تھے۔ کیونکہ حضرت مولانا محمد چراغ صاحب رحمہ اللہ مولانا قاری محمد طیب رحمہ اللہ کے کلاس فیلو تھے اورانہوں نے ۱۹۱۸ء میں دورۂ حدیث کیا جس طرح فیاض صاحب نے اپنی تحریر میں ذکر کیا ہے ، جبکہ مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ نے ۱۹۱۹ء میں دورۂ حدیث کیا۔ 
جیسا کہ ماہنامہ الشریعہ کی خصوصی اشاعت بیاد امام اہلِ سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدر رحمہ اللہ (شمارہ جولائی --اکتوبر۲۰۰۹)کے صفحہ ۶۷ مضمون : حضرت شیخ الحدیث(مولانا محمد سرفراز خاں صفدر رحمہ اللہ )کے اساتذہ کا اجمالی تعارف از مولانا حافظ محمد یوسف (رفیق شعبہ تصنیف و تالیف الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ )میں حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے متعلق درج ہے:
’’۱۳۳۷ھ مطابق ۱۹۱۹ء میں حضرت کشمیری ،حضرت مولانا غلام رسول(صحیح مولانا رسول خاں ) علامہ شبیر احمد عثمانی اورحضرت مولانا ابرہیم بلیاوی سے دورۂ حدیث پڑھ کر سند حاصل کی۔‘‘
نیز ماہنامہ الرشید دارالعلوم دیوبند نمبر شمارہ فروری ،مارچ۱۹۷۶ء میں علماء دیوبند سرحدکی تصنیفی خدمات کے عنوان کے تحت قاری فیوض الرحمن صاحب جدون مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے تذکرہ میں لکھتے ہیں:
’’۱۳۳۷ھ /۱۹۱۹ء میں امام العصر مولانا انورشاہ کشمیری ؒ سے دورۂ حدیث پڑھ کر سند الفراغ حاصل کی‘‘ (ص:۴۴۳)
مزید حوالے کے لیے دیکھئے سوانح مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ تالیف عبدالقیوم حقانی ،ص:۳۰ کہ اس میں بھی سنِ فراغت ۱۹۱۹ء درج ہے۔ 
دوسری گزارش یہ ہے کہ بہتر ہوتا مولانا فیاض صاحب مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے اس قول کا بوجھ اپنے سر نہ لیتے ، جیسا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے شروع میں لکھا ہے:
’’ہر آدمی صرف اپنے قول و فعل کا ذمہ دار ہوتا ہے، دوسروں کا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے:(ولا تزر وازرۃ وزر اخری) ’’کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘‘اورجناب نبی اکرم ؐ نے بھی اپنے خطبۂ حجۃ الوادع میں زمانۂ جاہلیت کی رسم کو ختم کرتے ہوئے اعلان کر دیا: (الا، لا یجنی جان الا علی نفسہٖ) ’’ہر جنایت کرنے والا خود ذمہ دار ہو گا‘‘اورمشہور محاروہ بھی ہے :’’جو کرے وہی بھرے‘‘۔
مگر انہوں نے اپنے ہی اصول کی نہ صرف خلاف ورزی کی ہے بلکہ حضرت مولانا محمد چراغ کے بارے میں مولانا ہزاروی ؒ کے قول کی بالواسطہ تائیدکر کے مولانا محمد چراغ کے ہزاروں تلامذہ اورعقیدت مندوں کے دلوں کو مجروح کیا ہے۔ 
مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ نے اگر حضرت مولانا محمد چراغ رحمہ اللہ کو ’’سیاہ دل ‘‘کہا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ صریح بد گمانی ہے ۔ اس لیے کہ اولاً دلوں کا حال اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ نبی ؐ نے حضرت اسامہ ابن زیدؓ سے ایک نو مسلم کے قتل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے عرض کیا :’’حضور ! اس نے صرف جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا تھا‘‘ تو آپ نے فرمایا: افلا شققت عن قلبہ  (صحیح مسلم) پھر آپ نے فرمایا: من لک بلا الٰہ الا اللہ یوم القیامۃ  (سنن ابی داؤد) اس پر حضرت اسامہ بن زید سخت نادم ہوئے اورفرماتے ہیں کہ میں تمنا کرنے لگا کہ کاش میں آج ہی اسلام قبول کرتا کہ میرا یہ گناہ بھی اسلام لانے کی وجہ سے معاف ہوجاتا ۔ 
اور ثانیاً بد گمانی کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ایاکم و الظن فان الظن اکذب الحدیث) ’’بدگمانی سے بچو کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے ‘‘۔ (صحیح بخاری)
جہاں تک محترم مولانا فیاض صاحب کے اس قول کا تعلق ہے کہ ’’مولانا ہزارویؒ مولانا چراغ مرحوم سے علم میں بھی فائق تھے۔۔۔ وہ مولانا چراغ مرحوم کو جتنا قریب سے جانتے تھے ، ما و شما نہیں جانتے تھے۔‘‘
معلوم نہیں مولانا فیاض صاحب کو کس نے اس منصب پر فائز کیا ہے کہ وہ ان دونوں بزرگوں کا علمی محاکمہ کر کے اپنا فیصلہ صادر فرمائیں ۔ کیا وہ ان دونوں بزرگوں سے بڑے عالم ہیں یاانہوں نے ان دونوں بزرگوں سے براہ راست اکتساب فیض کیا ہے اوران کی علمی مجالس میں شرکت کی ہے کہ وہ اپنا حکم جاری کریں۔ 
معلوم ہوتا ہے وہ ولئ کامل عالمِ بے بدل شیخ التفسیر والحدیث استاذ العلماء حضرت مولانا محمد چراغ صاحب رحمہ اللہ کے علمی مرتبہ سے آگاہ نہیں ۔ اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مولانا محمد چراغ صاحب رحمہ اللہ کے علمی مرتبہ کے بارے میں چند باتیں’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘کے طور پر عرض کر دی جائیں:

تعلیم و تربیت

حضرت مولانا محمد چراغ رحمہ اللہ نے اپنی مختصر خود نوشت سوانح میں لکھا ہے :
’’میری تعلیم و تربیت میں تین اساتذہ کا بہت بڑا حصہ ہے ، اورمیں جو کچھ ہو انہیں بزرگوں کا فیضان نظر ہوں ۔ 1 ۔ حضرت مولانا سلطان احمد صاحب گنجویؒ (تلمیذ رشید شیخ الہند رحمہ اللہ )2۔ حضرت مولانا ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ (انہی شریف)، 3۔ محدث العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ‘‘

مولانا محمد الیاس رحمہ اللہ کی طرف سے تحسین

آپ دورِ طالب علمی میں ہی کتنے ذہین و فطین اورقابل تھے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب آپ مدرسہ مظاہر العلوم (سہارنپور ، انڈیا )میں پڑھنے کے لیے گئے اورحضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ بانی تبلیغی جماعت کے درس میں شریک ہوئے تو انہوں نے کنزالدقائق کے مقدمہ میں چند الفاظ کے بارے میں پوچھا ، انہیں کس طرح پڑھا جائے ، بتائیے؟مگر کوئی پنجابی طالب علم ابھی نہ بولے۔ اب کسی نے کچھ پڑھا کسی نے کچھ۔ پھر آپ نے فرمایا : ہاں اب کوئی پنجابی بولے ۔ اس پر مولانا محمد چراغ رحمہ اللہ نے درست عبارت پڑھی ۔ تو آپ نے شاباش دی اورذہانت کی تعریف کی۔ 
آپ سے پوچھا گیا: حضرت نے پنجابیوں کو کیوں خاموش رہنے کا کہا؟ آپ نے فرمایا: پنجابی طالب علم عموماً حضرت مولانا ولی اللہ صاحبؒ انہی شریف والوں کے مدرسے میں پڑھ کر آتے ہیں ۔ اس لیے ان کو وہاں صرف ونحو کے قواعد میں طاق کر دیا جاتا ہے کہ عربی عبارت فرفر پڑھ لیتے ہیں ۔ آپ نے موقوف علیہ تک مولانا ولی اللہ ؒ سے ہی تعلیم حاصل کی۔ مزید فرمایا: دار العلوم دیوبند میں داخلہ کے لیے طلبہ کا ٹیسٹ ہوتا لیکن انہی شریف کے فارغ التحصیل طلبہ اس سے مستثنیٰ تھے۔ ایک موقع پر حضرت شاہ صاحب (مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ )نے فرمایا: ’’انہی والے مولوی صاحب کا ہم پر احسان ہے کہ وہ ایسے ذی سِواد(صاحب استعداد)طالب علم بھیج دیتے ہیں جو ہماری باتوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ ‘‘

محدث العصر حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ اورمولانا محمد چراغ ؒ

جب آپ دورۂ حدیث کے لیے دار العلوم دیو بند تشریف لے گئے تو محدث العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے درس بخاری کو دورانِ درس اردوسے عربی میں منتقل کر کے محفوظ کیا۔ حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کے افادات کے اس مجموعہ کا نام آپ نے ’’السیح الجاری الی جنۃ البخاری‘‘ رکھا۔ عراق کے ایک شیخ (عبدالغفور موصلی )نے حضرت سے درخواست کی کہ آپ مجھے بھی اس کی ایک نقل دے دیں ۔ وہ دور فوٹو اسٹیٹ کا نہیں تھا ۔ آپ نے امتحان کے دنوں میں اس کی نقل تیار کر کے انہیں دے دی۔ حضرت شاہ صاحبؒ عراقی شیخ سے بہت محبت کرتے تھے ۔ ایک دفعہ وہ ملاقات کے لیے حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا : آپ کے ہاتھ میں یہ کاغذات کیسے ہیں؟انہوں نے کہا یہ آپ کے درس بخاری کے افادات ہیں جو سراج بنجابی (مولانا محمد چراغ رحمہ اللہ )نے جمع کیے ہیں ۔ آپ نے دیکھ کر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ’’میں نہیں سمجھتا تھا کہ اس زمانے میں بھی ایسے ذی سِواد (صاحب استعداد)ہوتے ہیں۔‘‘ پھر آپ نے آئندہ سال کے لیے حضرت مولانا محمد چراغ صاحب کو بلا کر اپنی تقریر ترمذی نوٹ کرنے کا کہا جو بعد میں العرف الشذی کے نام سے چار دانگ عالم میں مشہور ہوئی۔ اس کے بارے میں علامہ خالد محمود صاحب لکھتے ہیں:
’’حضرت شاہ صاحب کی ’’العرف الشذی ‘‘سے حدیث کا کوئی مدرس مستغنی نہیں رہ سکتا ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے عجیب مقبولیت بخشی۔‘‘ (ماہنامہ الرشید دار العلوم دیو بند نمبر، ص: ۱۱۴،جلد ۴ شمار ۲،۳فروری ،مارچ ۱۹۷۶ء)
حضرت مولانا محمد چراغ رحمہ اللہ تو اپنے شیخ (مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ )سے عشق کی حد تک لگاؤ رکھتے تھے اوران کی باتیں لطف لے لے کر بیان کرتے تھے۔ حضرت شیخ کے نز دیک اپنے شاگرد کا کیا مرتبہ تھا، اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے جس کے راوی مولانا محمد یوسف مرحوم (امرہ کلاں گجرات) ہیں۔
’’حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب مرحوم جامع مسجد گوجرانوالہ تشریف لائے، ان کے تلامذہ اوردیگر عقیدت مند لوگ اورعلماء جوق در جوق بغرضِ ملاقات آنا شروع ہوگئے ۔ حضرت شاہ صاحب مرحوم سب سے بیٹھے بیٹھے مصافحہ کر رہے تھے ۔ حضرت مولانا محمد چراغ صاحب ؒ جب حاضرہوئے تو فرمایا: ٹھہرو مجھے پان لگالینے دو پھر پان منہ میں رکھا ، ہاتھ صاف کیے اور کھڑے ہو کر آپ کے ساتھ معانقہ کیا۔‘‘ (ماہنامہ چراغ اسلام ، اپریل ، مئی ص:۲۴۷،۲۰۱۱ء)

پیر سید جماعت علی شاہ صاحب رحمہ اللہ کی نظر انتخاب

پیر سید جماعت علی شاہ صاحب (۱۸۴۵ء--۱۹۵۱ء، علی پورسیداں ، ضلع سیالکوٹ)جوخود بھی بہت بڑے عالم تھے۔ (جن کے بارے میں محمد خالد متین اپنی کتاب تحفظ ختم نبوت اہمیت اورفضیلت میں لکھتے ہیں : امیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ ؒ ان عظیم بزرگوں میں شامل ہیں جن کی زندگی کا مقصد صرف تحفظ ناموسِ رسالتؐ تھا اوراس مشن کی تکمیل کے لیے انہوں نے شب و روز ایک کر دئیے تھے، تحفظ ختم نبوت اورفتنۂ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں آپ کی خدمات جلیلہ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں )انہوں نے اپنے صاحبزادے سید محمد حسین کی تعلیم و تربیت کے لیے آپ کو انتہائی ادب و احترام سے علی پور سیداں مدعو کیا ۔ چنانچہ آپ نے سید محمد حسین صاحب کو تعلیم سے بہرہ یاب فرمایا ۔ بعد ازاں وہ دورۂ حدیث کے لیے دار العلوم دیو بند تشریف لے گئے۔ 

حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ کے نزدیک مولانا محمد چراغ رحمہ اللہ کا مقام

حضرت مولانا احمدعلی لاہوری رحمہ اللہ نے قرآن مجید کے تفسیری حواشی پر جن علماء کرام سے تقاریظ لکھوائیں ان میں مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری، مولانا قاری محمد طیب ، مولانا مفتی کفایت اللہ کے ساتھ حضرت مولانا محمد چراغ ؒ سے بھی تقریظ لکھوائی ۔ جو آپ کے استاذ بھی ہیں اورشاگرد بھی۔

امیر شریعت حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری رحمہ اللہ کا اعتماد

امیر شریعت حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری رحمہ اللہ آپ کے گہرے دوستوں میں سے تھے۔ جیل میں کافی عرصہ اکٹھے رہے ۔ انہوں نے حضرت(مولانا محمد چراغ ؒ )سے کہا : میں چاہتا ہوں کہ میری بچیاں آپ کے گھر رہ کر آپ سے تعلیم حاصل کریں ،مگر آپ نے یہ ذمہ داری اٹھانے سے معذرت کر لی۔

آپ ؒ کے تلامذہ

مولانا غلام محمد (مرہانہ ، ڈسکہ ضلع سیالکوٹ والے)جن کے پاس امامِ اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صاحب رحمہ اللہ بھی پڑھنے کے لیے گئے مگر داخلہ نہ مل سکا۔ وہ حضرتؒ کے خود بھی شاگردِ خاص تھے ۔ ان کے بیٹے، پوتے اورپڑپوتے بھی حضرت کے شاگردوں میں شامل ہیں۔ آپ کے شاگردوں کی فہرست تیار کی جائے تو ایک چراغ سے ہزاروں چراغ روشن ہوئے ہیں جن میں مولانا مفتی عبدالواحد (مرکزی مسجد شیرانوالہ باغ) جو مولانا فیاض صاحب کے دادا استاذ ہیں، مولانا محمدحیات ، فاتح قادیان ، قاضی عصمت اللہ (قلعہ دیدار سنگھ)، مولانا عبد الخالق طارق (مولانا ولی اللہؒ کے پوتے، یوگنڈا) مولانا عبداللطیف (جہلم ) مولانا منظوراحمد چنیوٹی، حضرت مولانا مفتی نذیر احمدؐ (سابق شیخ الحدیث جامعہ عربیہ )اوردیگر بہت سے علماء قابل ذکر ہیں۔ 

ردّ قادیانیت کے سلسلے میں آپ کی خدمات

پھر ردّ قادیانیت اورمرزائیت کے ردّ میں جو آپ کی خدمات ہیں ان سے کون واقف نہیں ۔ آپ نے مرزا قادیانی کی تمام کتب کا بالاستیعاب مطالعہ کیا اورا س کے تضادات کو جمع کر کے ایسا مواد ترتیب دیا کہ مرزا قادیانی کو جھوٹا قرار دینے کے لیے ان کی اپنی تحریں کافی ہیں۔ چنانچہ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’بندۂ ناچیز اس میدان میں جو کچھ بھی ٹوٹی پھوٹی خدمت اندورن ملک اوربیرون ملک سر انجام دے رہا ہے یا جو کچھ معلومات رکھتا ہے، یہ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات کا تمام تر فیض ہے ۔ اوربالواسطہ حضرت الاستاذ مولانا محمد چراغ مولف’’چراغ ہدایت‘‘کا فیض ہے۔ حضرت موصوف مدظلہ العالی (رحمہ اللہ) میرے دادا استاد ہیں۔ جہاں جہاں حضرت استاد کا فیض افادہ کار فرما رہا، آپ نے وہاں قادیانیت کے خلاف ایک عملی روح پھونکی ، اس الحاد کے خلاف فکری چراغ جلائے۔ جماعت اسلامی کے حلقوں میں بھی جہاں کہیں آپ کو قادیانیت کے خلاف کوئی کام ملے گا ، اس کے پیچھے حضرت مولانا محمد چراغ صاحب رحمہ اللہ کی علمی اورفکری قوت ملے گی جو اپنے استاد حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری سے پائی تھی۔ ‘‘(مقدمہ چراغ ہدایت ، ص:۳۷،۳۸)
حضرت مولانا فیاض صاحب حضرت رحمہ اللہ کے بارے میں کچھ جانیں یا نہ جانیں ، ان کو ایک دنیا جانتی ہے ۔ ان کے تفقہ فی الدین ،تفہیم دین، تقویٰ ، دیانت ، خودی ، اخلاص اورعلمی کارناموں کی بہترین مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ 
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے
باغ تو سارا جانے ہے
مضمون کی طوالت کا خوف ہے، ورنہ اس موضوع پر مواد کا اتنا بڑا ذخیرہ ہے کہ پورا رسالہ بھی تنگئ داماں کی شکایت کرے۔ 
مولانا محمد فیاض نے قاری فیوض الرحمن کی اس تحریر کا حوالہ دیا ہے کہ 
’’حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ نے ایک رسالہ پوسٹ مارٹم لکھاجس میں جناب مولانا سید ابوالاعلیٰ مودوی صاحب ؒ کی تحریروں پر مضبوط کی گرفت کی، ان میں سے بعض تحریروں سے مولانا نے رجوع فرما لیا ہے۔‘‘
شکر ہے یہ بات تو تسلیم کر لی گئی ، مولانا مودودی رحمہ اللہ اپنی غلطی کو تسلیم کر کے رجوع کر لیا کرتے تھے۔دوسرے نمبر پران کے نزدیک اس بات کی بڑی اہمیت ہے کہ مولانا مودودی جیسے بڑے عالم پر حضرت مولانا ہزاروی ؒ نے گرفت کی جو ان کے بڑا عالم ہونے کی دلیل ہے۔ اگرچہ اس کی کوئی مثال نہیں دی گئی مگر مولانا محمد چراغ صاحب رحمہ اللہ کے خطوط شائع ہو چکے ہیں جس میں اس امر کی کئی مثالیں موجود ہیں کہ مولانا مودودی رحمہ اللہ نے حضرت مولانا محمد چراغ صاحب رحمہ اللہ کے توجہ دلانے پر اپنی رائے سے رجوع کیا ۔
میرا مقصد قطعاً حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ کی تنقیص نہیں ہے۔ اورنہ میں نے کوئی ایسا جملہ لکھا ہے جس میں کسی قسم کی توہین یا تنقیص پائی جائے۔مولانا محمد فیاض صاحب بھی ہمارے محترم ہیں۔ میں صرف احقاقِ حق کرنا چاہتا ہوں اورحضرت مولانا محمد چراغ صاحب رحمہ اللہ کے علمی مرتبہ کے بارے میں بعض لوگوں کی غلط فہمی دور کرنا چاہتا ہوں۔ کاش انہوں نے حضرت کی شاگردی کی ہوتی تو انہیں پتہ چلتا کہ فصیح عربی ادب کا ٹھیٹھ پنجابی ادب میں کس طرح ترجمہ کیا جاتا ہے ۔ اورعربوں کے محاورات کی تفسیرو توضیح کس طرح کی جاتی ہے۔ اورترجمہ ہی اس طرح کیا جائے کہ تشریح سے مستغنی کر دے۔
آخر میں ایک واقعہ------ جو مولانا محمد اشرف قریشی صاحب نے اپنی کتاب ’’ہجرت کشمیر‘‘ میں تحریر کیا ہے------بلاتبصرہ نقل کرتا ہوں ۔ قارئین خود ہی فیصلہ کرلیں کہ کون فائق ہے۔
’’حضرت استاذ اخبار و رسائل کا بالاستیعاب مطالعہ فرمایا کرتے تھے اورطلبہ کی سہولت کے لیے اہم مضمون یا خبر پر سرخ لائن لگا دیتے تھے۔ علامہ عامر عثمانی کے ماہنامہ تجلی دیو بند کا ایک سلسلہ وار مضمون ’’مسجد سے میخانے تک‘‘کا انتظار رہتا ، اسی طرح شورش کاشمیری ؒ کا ہفت روزہ چٹان ہم طلبہ بھی شوق سے دیکھتے ۔ ایک دفعہ شورش کاشمیری مرحوم نے لکھ دیا کہ مولانا غلام غوث ہزاروی کو کسی بے قاعدگی کی پاداش میں دار العلوم دیو بند سے بغیر سند دئیے نکال دیا گیا تھا۔حقیقت کا علم تو اللہ کے پاس ہے مگرمولانا ہزاروی اورشورش چوں کہ اکٹھے رہ چکے تھے اورپورے ملک میں شورش کاشمیری ہی مولانا ہزاروی کے انداز میں انہیں للکارا کرتے ۔ اوراگرچہ اس پُر فتن دور کا یہ ایک اہم انکشاف تھا مگر حضرت استاذ رحمہ اللہ نے اس پر سرخ نشان نہیں لگایا۔جب رسالہ ہم تک پہنچا تو ہم نے بھی پڑھ لیا ، اوردوسرے روز جب ہدایہ پڑھنے کے لیے حضرت کی کلاس میں گئے تو طلبہ کے ساتھ پہلے سے مشاورت کی بناپر میں نے حضرت سے شکایت کی کہ آپ نے اپنے ہم جماعت (ہم مکتب)کی پردہ پوشی فرمائی ہے اوراتنے اہم انکشاف پر سرخ نشان نہیں لگایا؟اتنا عرض کرنا تھا کہ حضرت کو خلاف معمول جلال آگیا اورفرمایا:اس طرح کی حرکتیں وہ لوگ کرتے ہیں جو اپنے آپ کو اللہ کے ہاں جواب دہ تصور نہیں کرتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو یہ تعلیم نہیں دی ،اورشورش نے انتہائی غلط حرکت کی ہے۔مولانا ہزاروی اپنے رویہ کے لیے اللہ کے ہاں خود ذمہ دار ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس قسم کی حرکتیں کرنا شروع کردیں ۔اس کے بعد آپ نے فرمایا:یہ سیاست یا اخلاق نہیں بلکہ اخلاقی جرم ہے ،اورمیں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ کبھی اس قسم کی باتوں میں دلچسپی نہ لینا، اورپھر آپ نے چند مثالیں دے کر سمجھایا۔‘‘ (ص: ۴۷۵)
اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے:(ومن اصدق من اللہ قیلا)’’اور اللہ کے فرمان سے زیادہ سچا قول کس کا ہو سکتا ہے ‘‘(انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء) ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو (حقیقی) علماء ہوں ‘‘۔


مولانا محمد فیاض خان سواتی کا وضاحتی نوٹ

’’تاریخ دار العلوم دیوبند‘‘ ص ۱۰ پر پیش لفظ میں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ لکھتے ہیں:
’’(سید محبوب رضوی) جنھیں ذمہ داران دار العلوم نے اس خدمت کے لیے منتخب کیا، انھوں نے تاریخ دار العلوم پر نہایت خوش اسلوبی، جامعیت اور تحقیق کے ساتھ قلم اٹھا کر اپنی سعی ومحنت کی حد تک اس موضوع کا حق ادا کر دیا ہے۔‘‘ 
سید محبوب رضوی لکھتے ہیں:
’’مولانا غلام غوث ہزارویؒ ۱۳۳۷ھ میں دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہوئے۔‘‘ (ج ۲ ص ۱۳۹)
’’مولانا محمد چراغ گوجرانوالوی ۱۳۳۷ھ میں دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہوئے۔‘‘ (ج ۲ ص ۱۳۶)
یاد رہے کہ ۱۳۳۷ھ، یہ ۱۹۱۸ء کا سال ہے۔ اس کی تعیین بھی اسی کتاب میں قاری محمد طیب صاحبؒ کے تذکرے میں موجود ہے کہ قاری صاحب نے 
’’۱۳۳۷ھ/۱۹۱۸ء میں فراغت اور سند فضیلت حاصل کی۔‘‘ (ج ۲ ص ۱۳۳)
اس میں یہ امکان بھی نہیں ہے کہ مورخ کو یہ تاریخ لکھنے میں کوئی سہو ہوا ہے، کیونکہ انھوں نے یہی تاریخ اپنی اسی کتاب میں آگے جا کر دوبارہ بھی لکھی ہے:  ۱۳۳۷ھ (یعنی) ۱۹۱۸ء (ملاحظہ فرمائیں ج ۲ ص ۲۳۶)
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ قاری محمد طیب صاحبؒ نے اپنے قلم سے خود لکھا ہے:
’’مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے ۱۳۳۷ھ میں علوم دینیہ سے فراغت حاصل کی۔‘‘ (دار العلوم دیوبند کی صد سالہ زندگی ص ۷۶)۔ 

نیز یہ کہ 

’’احقر کے ہم سبق رہے ہیں۔‘‘ (ایضاً، ص ۷۸)
اب یا تو تاریخ دار العلوم دیوبند غلط ہے یا مولانا عارف صاحب۔ اس کا فیصلہ قارئین خود فرما لیں۔ 

مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحبؒ / مولانا قاضی مقبول الرحمنؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر رحمہ اللہ تعالیٰ ملک کے بزرگ صوفیاء کرام میں سے تھے جن کی ساری زندگی سلوک و تصوف کے ماحول میں گزری اور ایک دنیا کو اللہ اللہ کے ذکر کی تلقین کرتے ہوئے طویل علالت کے بعد گزشتہ ہفتے کراچی میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا روحانی تعلق حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز کے حلقہ کے تین بڑے بزرگوں حضرت مولانا محمد احمد پرتاب گڑھیؒ ، حضرت مولانا شاہ عبد الغنی پھول پوریؒ اور حضرت مولانا شاہ ابرار الحق آف ہر دوئیؒ سے تھا۔ وہ ان بزرگوں کے علوم و فیوض کے امین تھے اور زندگی بھر ان فیوض و برکات کو لوگوں میں تقسیم کرتے رہے۔ ان کا حلقۂ ارادت پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے باہر جنوبی افریقہ، برطانیہ اور دیگر ممالک تک وسیع تھا اور بلا مبالغہ لاکھوں مسلمانوں نے ان سے روحانی استفادہ کیا۔ علماء کرام کی ایک بڑی تعداد ان سے بیعت تھی اور انہیں اہل علم کے مرجع کا مقام حاصل تھا۔
مجھے مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے ہمراہ لندن کی بالہم مسجد میں ایک بار ان کی صحبت میں حاضری کا اتفاق ہوا تھا اور اس مجلس کی تروتازگی اور بہار ابھی تک ذہن میں نقش ہے۔ باغ و بہار شخصیت تھے، سخن فہمی کے ساتھ ساتھ شعر گوئی کا کمال بھی رکھتے تھے اور با ذوق صوفیاء کرامؒ کی طرح انہیں محبت الٰہی اور عشق رسولؐ کے حوالہ سے دلی جذبات کی تپش کو اشعار کی صورت میں ڈھالنے کا بھرپور ذوق اور ملکہ حاصل تھا۔ گلشن اقبال کراچی میں ایک بڑی دینی درسگاہ اور خانقاہ قائم کی جہاں سے ہزاروں علماء کرام نے علمی و روحانی فیض حاصل کیا۔ اب ان کے فرزند جانشین مولانا حکیم محمد مظہر صاحب اس مرکز کا نظام چلا رہے ہیں اور اپنے عظیم باپ کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لاہور میں اس خانقاہ کی شاخ چڑیا گھر کی مسجد میں مصروف عمل ہے اور ہمارے محترم دوست ڈاکٹر عبد المقیم اپنے شیخؒ کی روحانی برکات لوگوں میں بانٹ رہے ہیں۔
ہماری دینی اور معاشرتی زندگی میں خانقاہ کا ایک مستقل مقام اور نظام ہے جہاں سے لوگوں کو روحانی فیض، اللہ اللہ کے ذکر کی تلقین اور محبت رسولؐ کی حلاوت کے ساتھ ساتھ نفسیاتی سکون بھی ملتا ہے۔ اگرچہ دوسرے بہت سے اداروں کی طرح یہ ادارہ بھی کمرشل ازم سے بہت متاثر ہوا ہے لیکن شاہ حکیم محمد اخترؒ جیسے باخدا بزرگوں کی صورت میں قدرت ایزدی نے اس عظیم ادارے کی آبرو اور بھرم کو قائم رکھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت حکیم صاحبؒ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور ان کے لگائے ہوئے علمی و روحانی گلشن کو ہمیشہ آباد رکھیں۔ آمین یا رب العالمین۔ 

مولانا قاضی مقبول الرحمنؒ

دوسرے بزرگ میرپور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے مولانا قاضی مقبول الرحمن قاسمیؒ ہیں جو گزشتہ عشرہ کے دوران اپنے رب کو پیارے ہوگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا آبائی تعلق آزاد کشمیر کے علاقہ باغ سے تھا۔ مدرسہ رحمانیہ ہری پور اور مدرسہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ سمیت مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ اشرفیہ لاہور میں ۱۹۶۶ء میں دورۂ حدیث کر کے فراغت حاصل کی اور وہیں تدریس کے فرائض سر انجام دینے لگے۔ آزاد کشمیر میں سردار محمد عبد القیوم خان صاحب نے جب اسلامی حدود و تعزیرات کے نفاذ کا فیصلہ کیا اور سیشن جج صاحبان کے ساتھ جید علماء کرام کو قاضی کے طور پر بٹھا کر مشترکہ عدالتی نظام کا آغاز کیا تو اس پر مختلف حلقوں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور اس مشترکہ عدالتی نظام کی کامیابی کو مشکوک سمجھا جانے لگا، لیکن تحفظات کی اس فضا کو ختم کرنے اور نئے نظام کو کامیاب بنانے میں جن علماء نے تدبر و فراست کے ساتھ محنت کی اور اپنے علم و فضل کے کمال کے ساتھ ساتھ حوصلہ و جرأت اور دیانت و امانت کی اعلیٰ مثال پیش کر کے جدید تعلیم یافتہ حلقہ کے تحفظات کو دور کیا اور اسلامی قوانین کے علاوہ علماء کرام کی علمی و عدالتی استعداد و صلاحیت کا سکہ منوایا۔ ان میں قاضی مقبول الرحمن قاسمیؒ کا نام نمایاں ہے جنہوں نے کم و بیش ربع صدی تک آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں ضلع قاضی کے طور پر فرائض سر انجام دیے۔ آزاد کشمیر کے علماء کرام کو اس مرحلہ میں دو بڑے چیلنج درپیش تھے۔ ایک یہ کہ اسلامی قوانین و احکام آج کے عالمی تناظر اور معاشرتی ضروریات میں کس طرح قابل عمل ہو سکتے ہیں، اور دوسرا یہ کہ جدید ترقی یافتہ عدالتی نظام میں دینی مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے علماء کرام کو کس طرح ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے؟
محترم سردار محمد عبد القیوم خان صاحب نے، جو اب صاحبِ فراش ہیں، مجھے متعدد ملاقاتوں میں بتایا کہ آزاد کشمیر کے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے بڑے حوصلہ اور تدبر کے ساتھ ان چیلنجوں کا سامنا کیا جس کی وجہ سے آج بھی آزاد کشمیر میں ضلع اور تحصیل کی سطح پر جج صاحبان اور قاضی حضرات کی مشترکہ عدالتیں کامیابی کے ساتھ چل رہی ہیں۔ لیکن سردار صاحب محترم اس سلسلہ میں تین علماء کرام کا نام بطور خاص لیتے ہیں، حضرت مولانا محمد یوسف خان آف پلندریؒ ، مولانا قاضی بشیر احمدؒ اور مولانا قاضی مقبول الرحمن قاسمیؒ ۔ سردار صاحب کا کہنا ہے کہ ان تین علماء کرام کے علم، دیانت اور محنت نے علماء کرام کا بھرم قائم کیا اور ان کی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان تینوں میں سے مولانا قاضی مقبول الرحمن قاسمیؒ حیات تھے جن کا گزشتہ ہفتے میرپور میں انتقال ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب بزرگوں کو جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور سردار محمد عبد القیوم خان کو صحت و سلامتی سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔ 

مکاتیب

ادارہ

(۱)
محترم جناب مدیر الشریعہ، گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے موقر مجلے کے تازہ شمارے میں ڈاکٹر ممتاز احمد صاحب (صدر اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد) کے ایک خط کے جواب میں عبد الفتاح محمد صاحب کا عربی مکتوب پڑھا۔ مکتوب نگار نے پاکستان کے اہل تشیع کے خلاف غم وغصے کا اظہار کیا ہے اور اسلام آباد میں شیعہ مدارس کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے کہ ’’اسلام آباد میں سات شیعہ جامعات قائم ہیں جن میں سے سب سے چھوٹے جامعہ کا حجم بھی اہل سنت کی سب سے بڑی یونی ورسٹی سے کئی گنا زیادہ ہے۔ دارالحکومت کے وسط میں جامعۃ الکوثر قائم ہے جو اردو میں الکوثر ہی کے نام سے ایک ٹی وی چینل بھی چلا رہا ہے۔‘‘
میں اس خط کے ان مندرجات کے حوالے سے گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں جن کا تعلق ہم سے ہے۔ اپنے علاوہ دوسروں کے اعمال کی وضاحت یا دفاع سے ہمیں غرض نہیں۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے متعلق جو باتیں کہی گئی ہیں، وہ خلاف حقیقت ہیں:
۱۔ میں اسلام آباد میں قائم دو مدارس کا مہتمم ہوں۔ ان میں سے جامعہ اہل بیت کا قیام ۱۹۷۵ء میں جبکہ جامعہ کوثر کا قیام ۱۹۹۲ء میں عمل میں آیا تھا۔ ان دونوں مدرسوں اور دو ٹی وی چینلوں ’’ہادی‘‘ اور ’’کوثر‘‘ کا سیاسی یا مالی یا انتظامی، کسی بھی لحاظ سے کسی غیر ملکی قوت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ جامعہ الکوثر کی تعمیر کے لیے فنڈ دینے والے اصحاب خیر کے نام جامعہ کی دیواروں پر لکھے ہوئے ہیں۔
۲۔ مکتوب نگار نے لکھا ہے کہ ایرانی قیادت، شیعہ مرجعیت کو ایران میں محدود کرنے پر تلی ہوئی ہے اور اس نے نجف اشرف سمیت تمام ممالک میں شیعہ مراجع کی مذہبی حیثیت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی دینی مرجع کی حیثیت کو ختم کرنا کسی کے اختیار میں ہی نہیں، کیونکہ اہل تشیع کے ہاں دینی مراجع کسی سیاسی طاقت کے تحت نہیں ہوتے۔ شیعہ کے سب سے اونچے رتبہ کے دینی مرجع آج بھی عراق میں نجف اشرف میں ہیں۔
۳۔ ہماری اگر بیرون ملک کہیں نسبت ہے تو وہ عراق کے مرجع کے ساتھ ہے اور ہم عراق کے مرجع کی اجازت سے عوام سے شرعی اموال جمع کر کے ان سے دینی مدارس کا انتظام وانصرام چلاتے ہیں۔ یہ ایسی ہی نسبت ہے جیسے دیوبندی مدارس دینی علوم میں اعلیٰ مقام اور پختگی کے حوالے سے اپنی نسبت دار العلوم دیوبند کی کرتے ہیں اور وہاں کے علماء سے راہ نمائی لیتے ہیں۔
۴۔ مکتوب نگار نے لکھا ہے کہ ’’پاکستان کے شیعہ دراصل پاکستان کے نہیں، بلکہ ایران کے وفادار ہیں‘‘۔ میں اس پر اس کے سوا کیا تبصرہ کروں کہ انا للہ وانا الیہ راجعون! بخدا، ہم اپنے وطن عزیز پاکستان سے محبت رکھتے ہیں جو سب سے پیارا وطن ہے اور نواصب کو چھوڑ کر ہم یہاں کے رہنے والوں سے بھی محبت رکھتے ہیں۔ پاکستان اور ا س کی مخالف قوتوں کے درمیان جنگیں چھڑنے پر ہماری پیش کردہ قربانیاں کسی طرح بھی دیگر باشندگان وطن سے کم نہیں اور اس وطن کی تعمیر میں بھی ہمارا حصہ بہت وافر ہے۔
مکتوب نگار کا یہ کہنا کہ ’’اگر خدانخواستہ دونوں ملکوں میں جنگ ہو جائے تو وہ (پاکستان کے شیعہ) ایران کی طرف سے جنگ میں شامل ہوں گے‘‘ محض ان کے تخیل کی اپج اور بد گمانی کا کرشمہ ہے۔ یہ ایک بالکل بازاری سطح کی بات ہے جہاں نہ تو امانت داری کا کوئی لحاظ ہوتا ہے اور نہ خدا کا خوف۔ یہ ایک ایسا مفروضہ ہے جو نہ کبھی پہلے رونما ہوا اور نہ آئندہ کبھی ہوگا۔ اہل تشیع قرآن پر ایمان رکھتے ہیں اور قرآن اہل ایمان کے مابین جنگ چھڑنے پر دونوں گروہوں میں صلح کرانے یا زیادتی کرنے والے گروہ کے مقابلے میں کھڑے ہو جانے کی تعلیم دیتا ہے۔ البتہ کسی مخصوص صورت حال کے تجزیے میں غلطی یا خطا کا ہو جانا ممکن ہے۔
۵۔ ہمیں پاکستان سے تعلق رکھنے والی کسی عسکری تنظیم کا علم نہیں جو شام میں جا کر لڑ رہی ہو۔ اگر ایسی کوئی مفروضہ تنظیمیں ہوتیں تو وہ پاکستان میں دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کا دفاع کرتیں اور خود کش حملہ آوروں کے خلاف لڑتیں جو بے گناہ عورتوں اور بچوں کا خو،ن بہاتے رہتے ہیں اور مسلمانوں ، خاص طور پر اہل تشیع کی مسجدوں اور گھروں کی حرمت کو پامال کرتے رہتے ہیں۔
۵۔ مکتوب نگار نے دہشت گردی اور تکفیر کی نسبت بھی اہل تشیع کی طرف کی ہے جس سے لگتا ہے کہ وہ اپنے عالم تصور میں چیزوں کو بالکل الٹا دیکھتے ہیں۔
فاضل مکتوب نگار کے لیے مناسب تھا کہ وہ آداب تنقید کو ملحوظ رکھتے اور گفتگو کا مہذب لہجہ اختیار کرتے۔ ان کے قلم کے ناخنوں سے تو گویا خون کی بو آتی ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں حقائق کو جاننے کی توفیق دے اور حقائق کو مسخ کرنے کی جسارت سے ہمیں دور رکھے۔ اے اللہ! ہمیں افترا پردازی اور خواہشات کی پیروی سے محفوظ رکھ اور کینہ اور بغض کی بیماری میں مبتلا نہ فرما۔ بے شک تو دعاؤں کو سننے والا ہے۔
محسن علی نجفی
مہتمم جامعۃ الکوثر، اسلام آباد
(۲)
واجب الاحترام برادر مکرم حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب، دام مجدہم جانشین حضرت امام اہل سنتؒ 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ نے پہلے بھی ایک مضمون میں تحریر فرمایا تھا اور حالیہ ایک مضمون میں بھی اسی کو دہرایا کہ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ عید سے پہلے تقریر کو اور تراویح کے بعد دعاء کو بدعت سمجھتے تھے، حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ عید سے پہلے تقریر کو بدعت نہیں بلکہ غیر اولیٰ سمجھتے تھے۔ انہوں نے کسی بھی تقریر یا تحریر میں اس کو بدعت نہیں کہا۔ بدعت کے معاملہ میں تو وہ بڑے متشدد تھے جبکہ عید سے پہلے تقریر کے معاملہ میں وہ اپنے قریبی احباب کو بھی سختی سے منع نہیں فرماتے تھے جس کا اظہار آپ نے خود بھی فرمایا ہے۔ اسی طرح تراویح کے بعد دعاء کو علی الاطلاق بدعت نہیں فرماتے تھے بلکہ فرض نمازوں کے بعد کی جانے والی دعاء کی طرح التزام کو بدعت کہتے تھے۔ میں نے بفضلہ تعالیٰ چار دفعہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی موجودگی میں جامع مسجد بوہڑ والی گکھڑ میں تراویح میں قرآن کریم سنایا۔ میں کبھی کبھی دعاء کیا کرتا تھا، کبھی انہوں نے نہیں روکا۔ بلکہ ایک دفعہ محترم جناب حاجی اللہ دتہ بٹ صاحب مرحوم بیمار تھے تو جب میں تراویح سے فارغ ہوا تو حضرت نے خود فرمایا کہ بٹ صاحب کے لیے دعاء کریں۔ اور ختم قرآن کریم کے موقع پر تو ہر دفعہ دعاء ہوتی تھی آخر وہ بھی تو تراویح کے بعد ہوتی تھی۔ حضرت نے اس بارہ میں فتاویٰ رشیدیہ کے حوالہ سے تحریر فرمایا بعد ختم قرآن کے دعاء مانگنا مستحب ہے خواہ تراویح میں ختم ہوا ہو خواہ نوافل میں۔ خواہ خارج نماز پڑھا ہو کہ بعد عبادت کے نماز ہو یا ذکر ہو اجابت کی توقع ہے۔ پھر اس کے بعد آگے لکھا بعد سنن و نوافل کے خاص التزام کے ساتھ دعاء مانگنا اس کا ثبوت حدیث شریف اور فقہ کی کسی کتاب میں نہیں بلکہ اس کا التزام بدعت ہے اس کا ترک ضروری ہے۔ (خزائن السنن ج ۲ ص ۱۳۸، ۱۳۹) اس لیے حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جانب یہ نسبت کرنا کہ وہ تراویح کے بعد دعاء کو علی الاطلاق بدعت کہتے تھے تو یہ درست نہیں ہے۔ 
اسی طرح آپ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہوائی جہاز میں نماز کو ناجائز کہتے تھے تو یہ بھی درست نہیں ہے، اس لیے کہ میں نے خود کوئٹہ سے واپسی پر حضرت کے ساتھ باجماعت عصر کی نماز جہاز میں پڑھی اور بخاری شریف پڑھاتے ہوئے حضرت نے اپنے ایک سفر کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ہوائی جہاز میں باجماعت نماز ادا کی۔ بخاری شریف کی کیسٹوں میں اس کو سنا جا سکتا ہے۔ 
برادر مکرم! آپ حضرت والا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین ہیں، اس لیے حضرت کے نظریہ کی صحیح ترجمانی آپ کا فریضہ ہے۔ اس میں بے توجہی کا نتیجہ خلفشار پیدا کرتا ہے۔ اس لیے احقر نے ان مسائل کی جانب توجہ دلانا ضروری سمجھا۔ 
مخالفین کے بارے میں حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے طرز عمل کو پیش کر کے عزیزم عمارخان ناصر کے بے اعتدالی کی راہ پر چل کر اختیار کردہ نظریات کو تحفظ فراہم کرنا بھی درست نہیں ہے، اس لیے کہ حضرت نے کبھی آزاد خیال نظریات کے حامل لوگوں کی تائید نہیں فرمائی بلکہ حتی الوسع تردید ہی فرمائی۔ مودودی صاحب اور ان جیسے حضرات کی کھلم کھلا تردید اس کا بیّن ثبوت ہے۔ یہی نہیں بلکہ جب عزیزم عمار خان ناصر نے چند فقہی مسائل میں اپنے آزاد نظریہ کا اظہار ایک رسالہ میں کیا تو حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے اس کی تردید لکھنے کا حکم فرمایا۔ میں نے ایک مضمون تیار کر کے ان ہی دنوں عزیزم عمار کو بھیجا، مگر حیرانگی کی بات ہے کہ عزیزم عمار موافق و مخالف ہر طرح کے مضامین شائع کر دیتے ہیں، مگر میرا وہ مضمون ایسے انداز سے ردی کی ٹوکری میں پھینکا کہ اپنے کسی قریبی کو بھی اس کی خبر نہ ہونے دی۔ 
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی وفات سے چند دن قبل جب آخری ملاقات ہوئی تو مجھ سے پہلے حضرت کے پاس کچھ حضرات حاضر ہوئے، انہوں نے عزیزم عمار کے بارہ میں کچھ باتیں کیں۔ جب میں حاضر ہوا تو حضرت پریشان تھے اور فرمانے لگے: ’’ایہہ ناصر کیہڑے پاسے ٹر پیا اے؟ تسی اینوں روکدے کیوں نئیں؟ توں تے اوہدا استاد وی ایں، اونوں سختی نال روکو۔‘‘ (یہ ناصر کس طرف چل نکلا ہے؟ تم اسے روکتے کیوں نہیں؟ تم تو اس کے استاد بھی ہو، اس کو سختی سے روکو)۔ عزیزم عمار سے جب بھی ملاقات ہوئی، اس کو اس راہ سے واپس لوٹنے کی تلقین کی، مگر سختی سے روکنا میرے بس کی بات نہیں۔ عزیزم عمار نے پہلے چند فقہی مسائل میں اپنے آزاد نظریہ کا اظہار کیا۔ پھر آگے بڑھ کر امت کی متفقہ آراء کے برخلاف نظریات پیش کیے۔ بے اعتدالی کی راہ پر اس کے قدم دن بدن آگے ہی بڑھتے جا رہے ہیں، اس لیے خطرہ ہے کہ کہیں وہ مسلمہ اصول و عقائد پر بھی پنجہ نہ مار دے۔ اس صورت حال میں حکمت و مصلحت کو ملحوظ رکھ کر اس کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے کی ضرورت ہے جس کی اولین ذمہ داری حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین اور عزیزم عمار کے والد محترم اور مسلکی ذمہ دار عالم دین کی حیثیت سے آپ پر عائد ہوتی ہے۔ آپ کسی حد تک اس ذمہ داری کو نباہ بھی رہے ہیں، معلوم ہوتا رہتا ہے کہ آپ وقتاً فوقتاً مناسب انداز میں اس کو سمجھاتے رہتے ہیں اور اس کے مضامین پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی فرماتے ہیں۔ کاش آپ صرف تحفظات کہہ دینے پر اکتفا نہ کرتے بلکہ تحفظات کی تفصیل بیان کرنے کے بعد اپنے نظریہ کی وضاحت فرما دیتے تو بہت حد تک مسئلہ حل ہو جاتا اور چہ می گوئیوں کا سدّباب ہو جاتا اور بدخواہوں کے منہ بند ہو جاتے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ صحت و عافیت کے ساتھ تا دیر سلامت رکھے اور عزیزم عمار کو جلد سے جلد بے اعتدالی کی راہ چھوڑ کر راہ راست پر آنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو صحیح راہ پر صرف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا الٰہ العالمین۔
اگر میری یہ تحریر طبیعت پر ناگوار گزرے تو معذرت خواہ ہوں، مناسب سمجھیں تو شائع فرما دیں ورنہ مجھے مطلع فرما دیں۔
حافظ عبد القدوس قارن
مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
یکم جون ۲۰۱۳ء‘‘
(۳)
استاذ محترم وعم مکرم جناب حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن صاحب زید مجدکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
والد گرامی کے نام آپ کا حالیہ خط مجھے بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ اس میں ایک بات کی وضاحت مجھ سے متعلق ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ وہ آپ کی خدمت میں عرض کر دوں۔ وہ یہ کہ آپ نے چند فقہی مسائل کے ضمن میں میرے ایک مضمون پر اپنی تنقیدی تحریر کا ذکر ایسے انداز میں فرمایا ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ میں نے آپ کی اس تنقید کو چھپانے کی کوشش کی، حالانکہ حقیقت حال اس سے بالکل مختلف ہے۔ میرا یہ مضمون’’فقہ اسلامی میں غیر منصوص مسائل کا حل ‘‘ کے زیر عنوان ’الشریعہ‘ کے اگست ۲۰۰۱ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ اس پر آپ نے ایک خط کی صورت میں، جو میرے نام لکھا گیا تھا اور آپ ہی کی طرف سے اس کی نقل دوسرے ذمہ دار حضرات کو بھی بھجوائی گئی تھی، اس بات کی نشان دہی فرمائی کہ بعض مسائل کے ضمن میں جس فقہی رائے کو ترجیح دی گئی ہے، وہ دیوبندی اکابر کی معروف آرا کے خلاف ہے۔ یہی مضمون انھی دنوں میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی نظر سے بھی گزرا تھا جو اس وقت ماشاء اللہ بقید صحت تھے۔ چنانچہ انھوں نے مجھے طلب کر کے فقہ اور اجتہاد کے ضمن میں اکابر دیوبند کی آراکی پابندی کے حوالے سے اپنا اصولی موقف سمجھایا اور میری طرف سے نظر ثانی پر آمادگی ظاہر کرنے پر ہدایت فرمائی کہ میں آئندہ شمارے میں ان چند امور کی وضاحت کر دوں اور بہ تاکید فرمایا کہ وضاحتی تحریر میں خود اپنے قلم سے تحریر کروں۔ یہ کم وبیش وہی مسائل تھے جن کا آپ نے اپنے خط میں ذکر فرمایا تھا۔ حضرت رحمہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں، میں نے ایک تحریر لکھی جو ’الشریعہ‘ کے اگلے شمارے (ستمبر ۲۰۰۱ء) میں ’’چند علمی مسائل کی وضاحت‘‘ کے عنوان سے شائع ہو گئی۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس واقعاتی پس منظر میں میرے حوالے سے آپ کی تنقید کو چھپانے اور ’’کسی قریبی کو بھی اس کی ہوا نہ لگنے‘‘ دینے کی شکایت درست ہو سکتی ہے، جبکہ خود آپ ہی کی طرف سے اس کی نقل متعدد حضرات کو بھجوا دی گئی تھی اور میں نے انھی مسائل کی وضاحت حضرت شیخ الحدیث کے حوالے سے آئندہ شمارے میں کر دی تھی۔ البتہ اگر آپ کا شکوہ یہ ہے کہ یہ وضاحت صرف حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے حوالے سے کیوں کی گئی اور اس میں آپ کا ذکر کیوں نہیں آیا تو یہ شکوہ یقیناًبجا ہے اور اس کے لیے میں دلی معذرت پیش کرتا ہوں۔
امید ہے، نیک دعاؤں میں یاد فرماتے رہیں گے۔
محمد عمار خان ناصر
(۴)
جناب مولانا عمار خان ناصر صاحب مدظلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
راقم کو حال ہی میں الشریعہ، مارچ ۲۰۱۲ء کا شمارہ، جو کہ جہاد کے موضوع پر ہے، تفصیل سے مطالعہ کرنے کا موقع میسر آیا۔ اس میں مندرجہ ذیل سوالات میں حضرت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ کی رائے معلوم کرنا مقصود ہے۔ بے شک جوابات اختصار کے ساتھ فرما دیے جائیں:
۱۔ قتال کی علت کیا ہے؟ (کفر، شوکت کفر، یا محاربہ اور فساد؟)
۲۔ کیا قتال اقدامی زمان ومکان کے حوالے سے محدود ہے یا نہیں؟ (یعنی جہاد اقدامی عہد رسالت وصحابہ اور جزیرۃ العرب کے ساتھ محدود ہے یا نہیں؟)
۳۔ علت قتال کے حوالے سے جزیرۂ عرب کے اندر اور باہر میں فرق ہے یا نہیں؟ (جزیرۃ العرب کے اندر علت ’’کفر‘‘ اور باہر ’’شوکت کفر یا محاربہ‘‘)
۴۔ شوکت کفر کے خاتمے کے لیے کافر کا ذمی بن کر جزیہ ادا کرنا ہی ضروری ہے یا امن معاہدہ بھی کافی ہے؟
۵۔ کافر حکومت کی طرف سے صلح کی پیش کش پر مسلمان حکومت کے لیے جہاد اقدامی کی استعداد رکھتے ہوئے کفار سے صلح کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ اگر ضروری نہیں تو استعداد اور مصلحت نہ ہونے کی صورت میں بھی صلح کی جا سکتی ہے یا نہیں؟
۶۔ اگر صلح کی جا سکتی ہے تو دائمی یا عارضی؟ مشروط یا مطلق؟
۷۔ جزیہ کفر کی سزا ہے یا ذی کے جان ومال کی حفاظت کا معاوضہ؟
۸۔ قتال اور جزیہ میں اصل کیا ہے؟
۹۔ کیا اتمام حجت ہو چکا ہے یا نہیں؟ (کیونکہ تبلیغی جماعت کے احباب کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا، جبکہ مولانا تقی عثمانی دامت برکاتہم کے نزدیک اتمام حجت ہو چکا)۔
۱۰۔ کیا رسول اللہ اور صحابہ کرام کے جہاد اقدامی کے اہداف محدود تھے یا نہیں؟
۱۱۔ کیا عہد رسالت وصحابہ میں غلبہ دین اور اس کی تکمیل ہو چکی ہے یا قرب قیامت میں مہدی اور عیسیٰ علیہما السلام کے ہاتھوں ہوگی؟ نیز غلبہ دین کا وعدہ کسی مخصوص خطے کے لیے تھا یا ہے یا پورے کرۂ ارض کے لیے ہے؟
۱۲۔ کیا جبر واکراہ کی مخالفت اور جہاد اقدامی کے احکام باہم معارض نہیں، اگر جہاد اقدامی قیامت تک کے لیے اور پورے کرۂ ارض کے لیے مشروع ہو تو؟
(نوٹ) الشریعہ میں ’’مکاتیب‘‘ کے عنوان کے تحت شائع فرما دیجیے گا۔
محمود الحسن عفی عنہ
جامعہ اشرفیہ ، القباء
جوہر ٹاؤن، لاہور

بعض مسائل کے حوالے سے امام اہل سنتؒ کا موقف

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

برادر عزیز مولانا عبد القدوس خان قارن سلمہ نے ایک خط میں، جو ’الشریعہ‘ کے اسی شمارے میں شامل اشاعت ہے، اس طرف توجہ دلائی ہے کہ گزشتہ شمارے کے ’کلمہ حق‘ میں عید کی نماز سے پہلے تقریر، ہوائی جہاز میں نماز اور نمازِ تراویح کے بعد اجتماعی دعا کے حوالے حضرت والد محترم نور اللہ مرقدہ کے موقف کی درست ترجمانی نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے میری گزارشات حسب ذیل ہیں:
  • عید سے پہلے تقریر کے بارے میں ایک مختصر سا مکالمہ درج کر دیتا ہوں جو حضرت والد محترمؒ کی وفات سے چند ماہ پہلے کا ہے اور برادرم مولانا قاری حماد الزھراوی سلّمہ کی موجودگی میں ہوا تھا۔ عید سے دو تین روز بعد میں حضرت والد محترمؒ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا۔ قاری حماد صاحب سے میں نے پوچھا کہ آپ نے عید کی نماز کس وقت پڑھی ہے؟ وہ گکھڑ میں حضرت والد محترمؒ کی جگہ ان کی حیات میں ہی ان کی مسجد میں خطابت و امامت کے فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں اور اب بھی یہ فریضہ انہی کے ذمہ ہے۔ انہوں نے وقت بتایا اور مجھ سے پوچھا کہ آپ نے کس وقت نماز پڑھی ہے؟ میں نے وقت بتایا جو ان کے وقت سے ایک گھنٹہ بعد کا تھا۔ حضرت والد محترمؒ یہ گفتگو سن رہے تھے۔ انہوں نے متوجہ ہو کر فرمایا کہ بہت دیر سے پڑھائی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ ہم نے پہلے تقریر بھی کرنی ہوتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ بدعت ہے۔ میں نے عرض کیا کہ بعد میں لوگ سنتے نہیں ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ مروان بن الحکمؒ بھی یہی کہتے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ وہ عربی خطبہ کے بارے میں کہتے تھے، جبکہ ہم عربی خطبہ نماز کے بعد ہی پڑھتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ لوگ تقریر کو بھی خطبہ کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کا رُخ کسی اور طرف مڑ گیا اور اس کے بعد نہ انہوں نے کچھ فرمایا نہ میں نے کچھ عرض کیا۔
  • ہوائی جہاز میں نماز کا مسئلہ اپنے پس منظر کے لحاظ سے کچھ مختلف سا ہے جو میں دورۂ حدیث کے طلبہ کے سامنے کئی بار بیان کر چکا ہوں اور شاید کہیں لکھا بھی ہے کہ میری بیرونی اسفار میں بسا اوقات حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کے ساتھ رفاقت رہتی تھی۔ ان کا ذوق یہ تھا کہ وہ جہاز میں نماز کا وقت ہونے پر جس کیفیت میں ہوتے تھے، نماز پڑھ لیتے تھے اور پوری طرح اطمینان نہ ہونے کی صورت میں بعد میں نماز کا اعادہ کر لیتے تھے۔ ایک دو دفعہ مجھے بھی انہوں نے فرمایا، مگر مجھے اس پر اطمینان نہیں تھا۔ انہوں نے کسی بڑے بزرگ کے فتوے کا حوالہ بھی دیا۔ میں نے اس کے بارے میں حضرت والد محترمؒ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ تم ایسی صورت میں نماز نہیں پڑھو گے، اس لیے کہ تم مولوی صاحب نظر آتے ہو۔ تم تو نماز کا بعد میں اعادہ کر لو گے، لیکن تمہیں دیکھ کر دوسرا کوئی شخص نماز پڑھے گا تو وہ اعادہ نہیں کرے گا۔ میں اس واقعہ کو حضرت والد محترمؒ کے ’’تفقہ‘‘ کی مثال کی صورت میں بیان کیا کرتا ہوں۔
  • جہاں تک نماز تراویح کے بعد اجتماعی دعا کا تعلق ہے، وہ دُعا یا اس کے التزام جس کو بھی بدعت کہتے تھے، اس سے منع بھی فرمایا کرتے تھے۔ مجھے اس کی تفصیل سے غرض نہیں، میں نے صرف اتنی بات عرض کی ہے کہ وہ جس بات کو غلط سمجھتے تھے، اس کا اظہار بھی کرتے تھے اور اس سے منع بھی کرتے تھے، لیکن اسے مسئلہ نہیں بناتے تھے بلکہ دلیل کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرتے تھے، اختلاف کو سنتے تھے اور اسے اختلاف کے دائرے میں رکھتے تھے۔ میری شکایت ان حضرات سے ہے جو اپنے ذہن میں موجود موقف یا اپنے اردگرد محدود ماحول میں پائے جانے والے کسی موقف کے خلاف کوئی بات سنتے ہیں تو ان کی حالت ایسی ہو جاتی ہے جیسے کسی نے سیون اپ کی بوتل کھولتے ہی اس میں نمک کی چٹکی ڈال دی ہو۔ میں اس رویے کو شرعی، علمی اور اخلاقی تینوں حوالوں سے درست نہیں سمجھتا، اس کے خلاف مسلسل لکھتا رہتا ہوں اور آئندہ بھی یہ فریضہ سر انجام دیتا رہوں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

خسرہ کا مجرب علاج

حکیم محمد عمران مغل

خسرہ ایک متعدی مرض ہے۔ اس کا تعلق ایک مخصوص وائرس سے ہوتا ہے۔ صفراوی مزاج رکھنے والے بچے فوری اس کی زد میں آتے ہیں۔ اس کے ساتھ بخار بھی لازمی ہوتا ہے۔ نزلہ، زکام، کھانسی کی شکایت ہوتی ہے۔ پھر چوتھے دن جسم پر خشخاش یا باجرہ نما باریک دانے ظاہر ہوتے ہیں جو آپس میں ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ زبان پر سفید تہہ جم جاتی ہے۔ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ ابکائیاں آنے لگتی ہیں۔ مزاج حد درجہ چڑچڑا ہو جاتا ہے اور بھوک ختم ہو جاتی ہے۔ تین دن کے یہ دانے ڈھلنے لگتے ہیں۔ دانے ختم ہونے کے بعد باریک بھوسی جسم سے اترنے لگتی ہے۔ بچے کا پیشاب گاڑھا اور سرخ ہو جاتا ہے۔
اس کا علاج یہ ہے کہ اگر بچے کو سردی لگ جائے تو پہلے اس کا تدارک کریں اور درج ذیل مقوی قلب ادویہ دیں: خمیرہ مروارید، چھوٹا چمچ نصف صبح شام سادہ پانی یا عرق گاؤزبان سے دیں۔ کھانسی بار بار ستائے تو لعوق سپستان آدھا چمچ دن میں چار مرتبہ چٹائیں۔ یہ تیار شدہ ادویہ ہیں جو آپ سفر وحضر میں بلا خوف دے سکتے ہیں۔
ذیل میں میرا ایک مجرب نسخہ درج ہے۔ اسے خود تیار کر کے بچے کو دیں۔ 
ہو الشافی: خاکسی، ایک چھوٹا چمچ۔ یہ خشخاش کی طرح باریک باریک دانے ہوتے ہیں۔ تھوڑی سی ملٹھی، تقریباً ایک آدھ انچ۔ دو سے چار دانے عناب کے (توڑ کر)۔ یہ سب چیزیں ایک یا ڈیڑھ گلاس پانی میں دو تین جوش دے کر ٹھنڈا کر لیں۔ مناسب سمجھیں تو شہد یا چینی سے مزید میٹھا کر لیں اور سوتے وقت پلا دیں۔ صبح اللہ کے فضل سے کملایا ہوا پھول کھلکھلایا ہوا لگے گا۔ خوراک دن میں دو بار بھی دے سکتے ہیں۔ قرشی یا کسی بھی اچھے دوا خانہ کے شربت عناب کا بڑا چمچ صبح شام پلا دیا کریں۔
یہ نسخہ پرانے اطبا نے زندگی بھر کی محنت شاقہ سے ترتیب دیا ہے۔ میں تیس سال سے صرف اور صرف یہی نسخہ استعمال کر رہا ہوں۔ آج تک اللہ نے ناکامی نہیں دکھائی۔ یاد رکھیں، کھانسی، نزلہ، زکام، بخار، خسرہ اگر خدا نخواستہ بگڑ گیا تو بچے کی ساری زندگی برباد ہو جائے گی۔ دوران مرض میں ہوا اور پانی کی تبدیلی بلا وجہ نہ کریں اور عام جسمانی کمزوری کا بھی خیال رکھیں۔ مرطوب ہوا بھی نہ ہو۔ خمیرہ مروارید آب حیات سمجھ کر دیتے رہیں۔ دلیہ، ساگو دانہ، کھچڑی، کالے چنے، جس چیز میں بھی بچہ رغبت محسوس کرے، دے دیں۔ خمیرہ ابریشم حکیم ارشد والا سونے پر سہاگہ ہے۔ مریض کو بازار کی کوئی چیز نہ دیں۔ جب مرض کی شدت ختم ہو جائے تو بکرے کی اوجھڑی کا سالن دیں۔