دینی مدارس کے نصاب و نظام میں اصلاح کی ضرورت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
دینی مدارس کے نظام تعلیم اور نصاب میں ضروریات زمانہ کے تناظر میں رد و بدل اور حک و اضافہ کے بارے میں ایک عرصہ سے بحث جاری ہے جو اس لحاظ سے بہت مفید اور ضروری ہے کہ جہاں موجودہ نصاب کی اہمیت و افادیت کے بہت سے نئے پہلو اجاگر ہو رہے ہیں، وہاں عصر حاضر کی ضروریات کی طرف بھی توجہ مبذول ہونے لگی ہے اور صرف توجہ نہیں بلکہ بہت سے اداروں میں عصری تقاضوں کو دینی مدارس کے نصاب و نظام کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کا کام بھی خوش اسلوبی سے جاری ہے جس میں سر فہرست جامعۃ الرشید ہے اور اس کے علاوہ بہت سے دیگر دینی تعلیمی ادارے بھی اس کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ مختلف حوالوں سے یہ بحث و مباحثہ دیکھ کر مجھے قرن اول کا ایک مباحثہ یاد آگیا ہے جو حدیث و تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جب مسجد نبویؐ کو شہید کر کے اس کی جگہ پختہ اور وسیع مسجد تعمیر کرنے کا اعلان کیا تو اس پر چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں اور بعض حضرات کی طرف سے یہ اشکال سامنے آیا کہ یہ مسجد جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے بنوائی ہے اور جس کی دیوار یں اور چھت جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے ڈالے گئے تھے، اسے آخر کس طرح شہید کیا جائے گا؟ یہ عقیدت و محبت کی بات تھی جو اپنے دائرہ میں بالکل درست تھی، لیکن دوسری طرف ضرورت کا دائرہ اس سے مختلف تھا کہ آبادی میں اضافہ اور نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے مسجد میں توسیع ناگزیر ہوگئی تھی اور اردگرد پختہ اور مضبوط عمارتوں کے درمیان یہ کچی مسجد عجیب سی محسوس ہونے لگی تھی۔ اسی وجہ سے حضرت عثمانؓ نے پرانی مسجد کو گرا کر نئی، وسیع اور پختہ مسجد تعمیر کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
ایک طرف محبت، عقیدت اور تقدس و احترام کی بات تھی اور دوسری طرف اجتماعی ضرورت کا مسئلہ تھا، اس لیے حضرت عثمانؓ نے ایک روز خطبۂ جمعہ میں لوگوں کے تحفظات کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا کہ ’’لقد اکثرتم‘‘ تم نے بہت زیادہ باتیں شروع کر دی ہیں، لیکن میں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کا گھر یعنی مسجد تعمیر کی، اللہ تعالیٰ اس کا اسی طرح کا گھر جنت میں بنائے گا۔ چنانچہ سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان تحفظات کو ایک طرف رکھتے ہوئے پرانی مسجد کو شہید کر کے وسیع بنیادوں پر پختہ مسجد تعمیر کردی جبکہ اس کے بعد سے مختلف ادوار میں مسجد نبویؐ کی عمارت میں توسیع کے ساتھ ساتھ اس کی پختگی اور تزئین میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور آج یہ دنیا کی عظیم الشان عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔
مجھے دینی مدارس کے نصاب تعلیم کے حوالہ سے ہونے والا یہ مباحثہ بھی کچھ اسی طرح کا محسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف اکابر کے ساتھ محبت و عقیدت کا اظہار ہے جو اپنی جگہ درست اور قابل قدر ہے جبکہ دوسری طرف عصری تقاضوں اور ضروریات زمانہ مسلسل دامن گیر ہیں جن سے کوئی مفر نہیں ہے اور ہم کسی طرح بھی انہیں نظر انداز کر کے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہمارے ہاں احناف میں بہت سے مسائل میں متاخرین نے متقدمین کے اقوال و آراء سے اختلاف کرتے ہوئے الگ موقف اختیار کیا ہے جو ظاہر ہے کہ اپنے زمانہ کے حالات و ضروریات کے تناظر میں تھا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ متقدمین سے الگ موقف اختیار کرنے والے فقہاء کرام کے دور کے حالات کا تسلسل کا اب تک قائم رکھنا ضروری نہیں ہے کیونکہ حالات بدلتے رہتے ہیں اور ضروریات میں تغیر و تنوع کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے، اس لیے اگر کسی مسئلہ میں آج کے حالات و ضروریات متاخرین کی بجائے متقدمین کے موقف کی طرف واپس جانے کا تقاضہ کر رہے ہوں تو ہمیں اس میں کوئی حجاب محسوس نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی اسے مسئلہ بنا لینا چاہیے۔ حنفیت علمی بحث و مباحثہ کے نتیجے میں تشکیل پانے والی فقہ کا نام ہے اور اختلافِ رائے اس کا سب سے بڑا حُسن ہے، بعد کے ادوار میں اس فقہ پر نظر ثانی یا اس کی تدوینِ نو کی ضرورت پیش آنے پر بھی اجتماعی علمی بحث و مباحثہ کی طرز ہی اختیار کی گئی تھی جیسا کہ ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ اور ’’مجلۃ الاحکام العدلیۃ‘‘ کی صورت میں موجود ہے، اس لیے ہمیں علمی بحث و مباحثہ کی ضرورت سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے۔
ضرورت زمانہ اور عصری تقاضوں کو محسوس کرنا اور انہیں اپنے نظام کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا خود ہمارے اکابر و اسلاف کی روایت چلا آرہا ہے حتیٰ کہ درس نظامی کا مروجہ نصاب اپنے دور کے عصری تقاضوں کو قبول کرنے کے نتیجہ میں ہی تشکیل پایا تھا، مثلاً فارسی زبان کا دینی حوالے سے ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ایران و فارس کی زبان تھی اور اسے درس نظامی میں شامل کرنے بلکہ اس کی بنیاد بنانے کی وجہ یہ تھی کہ مغل سلطنت کے دور میں برصغیر کی دفتری زبان فارسی تھی اور عدالتی زبان بھی فارسی تھی، اسے سیکھے بغیر ہم ملک کے نظام میں شریک نہیں ہو سکتے تھے اور نہ ہی ملی مقاصد میں اس سے استفادہ کر سکتے تھے، اس لیے فارسی زبان کو درس نظامی کا جزوِ لازم بنایا گیا مگر آج کی صورت حال یہ ہے کہ فارسی نہ ملک کی دفتری زبان ہے اور نہ ہی عدالتی زبان ہے، دونوں شعبوں میں اس کی جگہ انگریزی نے لے لی ہے، اس لیے ملک کے دفتری اور عدالتی نظام میں شرکت کے لیے آج انگریزی زبان سیکھنا اسی طرح ضروری ہے جس طرح مغلوں کے دور میں علماء و طلبہ کے لیے فارسی زبان سیکھنا ضروری ہوگیا تھا، آج فارسی کی ضرورت ہمارے دینی حلقوں میں صرف اس قدر باقی رہ گئی ہے کہ فارسی زبان میں لکھے گئے اس وسیع دینی لٹریچر کے ساتھ ہمارا تعلق باقی رہے جو اس زبان میں ہمارے بہت سے بزرگوں نے مختلف اداروں میں تحریر فرمایا تھا اور اسلامی علوم کا ایک معتد بہ ذخیرہ اس زبان میں موجود ہے، اس کے علاوہ فارسی زبان کا اور کوئی مصرف ہمارے ہاں نہیں ہے، اس کے باوجود جائز ضرورت کی حد تک فارسی زبان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح یونانی فلسفہ و منطق اپنے دور کا رائج الوقت فلسفہ تھا اور دنیا بھر میں گفتگو اور مباحثہ و مکالمہ کے دائرہ میں اسی کے اسلوب کی حکمرانی تھی، چنانچہ جب عباسی دور میں یونانی فلسفہ کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ ہوا اور اس فلسفہ کی بنیاد پر معتزلہ نے اسلامی عقائد میں شکوک و شبہات پھیلانا شروع کیے تو دفاعی ضرورت کے لیے اس فلسفہ کا سیکھنا ضروری قرار پایا، ورنہ ابتداء میں اس فلسفہ کی زبان میں عقائد کی بات کرنے کو اس دور کے اکابر اہل علم و فضل نے ناپسند کیا تھا اور اسے بدعت قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا تھا، لیکن جب دنیا میں اس فلسفہ و منطق کا چلن عام ہوا اور معتزلہ وغیرہ نے اس سے غلط فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے عقائد و نظریات کو خراب کرنا شروع کر دیا تو علماء اور فقہاء نے اس فلسفہ کی تعلیم کی ضرورت محسوس کی اور امام ابوالحسن اشعریؒ ، امام ابو منصور ماتریدیؒ ، امام غزالیؒ ، ابن رشدؒ اور ابن تیمیہؒ جیسے عظیم متکلمین نے اس فلسفہ پر عبور بلکہ گرفت حاصل کر کے اسلام کے نظام عقائد کو معتزلہ وغیرہ کی یلغار سے محفوظ رکھا۔ چنانچہ اسی وجہ سے یہ بزرگ عقائد کے باب میں ہمارے ائمہ اور مقتدا شمار کیے جاتے ہیں۔
درس نظامی میں یونانی فلسفہ و منطق کی شمولیت اسی ضرورت کے تحت لازمی سمجھی گئی تھی اور اس پس منظر میں یہ ایک حد تک آج بھی ضروری ہے لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ آج کی عالمی زبان اور بحث و مباحثہ کے اسلوب میں یونانی فلسفہ کا کوئی عمل دخل باقی نہیں رہا کیونکہ مغرب کے سیاسی، سائنسی اور صنعتی انقلاب کے بعد دنیا کی زبان، اسلوب اور منطق یکسر تبدیل ہوگئی ہے اور اب دنیا میں کہیں بھی یونانی فلسفہ میں بات کرنے کا اسلوب موجود نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ ہیومینیٹی یعنی انسانی حقوق کے فلسفہ نے لے لی ہے اور اب دنیا میں ہر جگہ سیاسی، معاشرتی اور معاشی مسائل و معاملات پر گفتگو اسی نئے فلسفہ و اسلوب میں ہو رہی ہے۔ اس لیے اپنی ضرورت کی حد تک یونانی فلسفہ و منطق کو دینی مدارس کے نصاب میں شامل رکھنے کے ساتھ ساتھ اس نئے فلسفہ و منطق کو نصاب تعلیم میں شامل کرنا اسی طرح ضروری ہوگیا ہے جیسے یونانی فلسفہ و منطق کو ایک زمانہ میں عصری تقاضہ سمجھ کر نصاب کا حصہ بنایا گیا تھا۔
کمپیوٹر سائنسز کی صورت حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے، باقی سارے شعبوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو بھی آج کے زمینی حقائق اس حوالہ سے ہمارے سامنے ہیں کہ کتابیں کمپیوٹر پر منتقل ہو رہی ہیں اور جدید دور میں لائبریری کا تصور کتاب اور الماریوں کی صورت میں نہیں بلکہ کمپیوٹرائزڈ سٹوریج کی شکل میں ہے جن سے موبائل ڈیوائسز پر انٹرنیٹ کے ذریعہ سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ اس صورت حال میں اپنے طالب علم کو کمپیوٹر سائنس سے دور رکھنے کا مطلب اسے کتاب، علم اور لٹریچر کی ایک وسیع دنیا سے الگ رکھنا ہے جو کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں ہے۔
اس لیے گزشتہ تین عشروں سے میری طالب علمانہ رائے مسلسل یہی چلی آرہی ہے کہ:
- جہاں تک قرآن و سنت اور حدیث و فقہ کے علوم کا تعلق ہے اس میں تو رد و بدل کی کوئی گنجائش اور ضرورت نہیں ہے البتہ جدید تحقیقات اور عرف و تعامل کے حوالہ سے تغیر پذیر مسائل و احکام کو نصاب میں وقت کے ساتھ ساتھ سموتے رہنا ہر دور کی ضرورت رہا ہے جو اب بھی ہے۔
- عربی زبان اور اپنے ملک کی قومی زبان یعنی اردو کی تعلیم دینی مدرسہ کے طلبہ کے لیے اس درجہ میں لازمی ہے کہ وہ فی البدیہہ گفتگو کر سکیں، مقالہ نویسی کی صلاحیت رکھتے ہوں، علمی و عوامی مباحثوں میں پورے اعتماد کے ساتھ شریک ہو سکیں اور فصاحت کے معروف معیار پر پورے اترتے ہوں۔
- دفتری اور عدالتی زبان ہونے کی وجہ سے انگریزی کی تعلیم بھی اس وقت تک ضروری ہے جب تک اس کی یہ حیثیت تبدیل نہیں ہو جاتی اور اس کی جگہ عملی طور پر اردو رائج نہیں ہو جاتی۔
- عالمی سطح پر دین کی دعوت، اسلامی عقائد و احکام و قوانین کی تشریح اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے رد و جواب کے لیے انگریزی زبان کی ضرورت اپنی جگہ الگ طور پر موجود ہے۔
- ابلاغ کا موثر ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ علمی سرمایے کی کمپیوٹر پر مسلسل منتقلی کے باعث کمپیوٹر کی تعلیم بھی علماء کرام اور دینی طلبہ کے لیے ایک ناگزیر ضرورت کا درجہ اختیار کرتی جا رہی ہے۔
- آج کے اس عالمی فلسفہ اور اسلوب سے واقفیت بلکہ اس کے دائرے میں گفتگو اور مباحثہ کی صلاحیت بھی علماء کرام اور دینی طلبہ کی اہم ترین ضرورت ہے جس فلسفہ و اسلوب میں اسلام کے عقائد و احکام اور شریعت اسلامیہ کے مختلف قوانین پر اعتراضات کیے جا رہے ہیں کیونکہ اس کے بغیر اسلام کی دعوت اور اس کا دفاع اب ممکن نہیں رہا۔
دینی مدارس کے نصاب و نظام کے بارے میں بہت سے دوست مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اس حوالے سے آپ کے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کا موقف اور طرز عمل کیا تھا؟ یہ سوال بہت سے ذہنوں میں آیا ہوگا، اس لیے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کے تعلیمی رجحانات اور طریق کار کی بابت کچھ معروضات پیش کر رہا ہوں۔
اس حوالے سے پہلی گزارش تو یہ ہے کہ میری یہ مجبوری ہے جو بہت سے دوستوں کو سمجھ نہیں آرہی اور بعض دوستوں کو تو ہضم بھی نہیں ہو رہی کہ میں نے ان دو بزرگوں کے زیر سایہ تعلیم و تدریس اور فکری و ذہنی تربیت کے ماحول میں چار عشروں سے زیادہ وقت گزارا ہے اور سب سے زیادہ انہی سے استفادہ کیا ہے۔ ان کی جس خوبی نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ علمی مسائل میں اختلاف کا حق دیتے تھے، اس اختلاف کو سنتے تھے، برداشت کرتے تھے، بڑے تحمل کے ساتھ دلیل اور منطق کے ساتھ اپنا موقف سمجھانے کی کوشش کرتے تھے، اختلاف رائے کو اختلاف کے درجے میں رکھتے تھے اور اسے مسئلہ نہیں بنا لیتے تھے اور بحث و تمحیص اور تجربہ و مشاہدہ کی بنا پر اگر اپنے کسی موقف اور رائے سے رجوع کی ضرورت محسوس کرتے تھے تو اس میں کسی تامل سے کام نہیں لیتے تھے۔
چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کی یہ بات میں زندگی بھر نہیں بھول سکوں گا کہ جب حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وفات کے بعد جمعیت علماء اسلام دو حصوں میں تقسیم ہوئی تو میں ’’درخواستی گروپ‘‘ کے متحرک ترین کارکنوں میں سے تھا اور حضرت درخواستیؒ کے موقف کے اظہار اور دفاع میں پیش پیش تھا۔ اس پر دوسرے گروپ کے بعض سرکردہ بزرگ میرے خلاف شکایت لے کر حضرت صوفی صاحبؒ کے پاس آئے تو حضرت صوفی صاحبؒ نے میرے بارے میں فرمایا کہ اگر اس نے کوئی اخلاقی یا مالی بد دیانتی کی ہے یا کسی بزرگ کی توہین کی ہے تو ابھی اسے آپ حضرات کے پاس بلا کر ڈانٹوں گا، لیکن اگر صرف رائے کی بات ہے تو رائے کا حق جیسے آپ حضرات کو ہے، اسے بھی وہی حق حاصل ہے۔ اس سلسلے میں اسے کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ وہ اپنی رائے میں آزاد ہے۔
اس ضروری وضاحت کے بعد دوسری گزارش یہ ہے کہ والدِ محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کا اب سے نصف صدی قبل خیال تھا کہ درس نظامی کے مروّجہ نصاب میں قرآن کریم ترجمہ و تفسیر کے ساتھ شامل نہیں ہے۔ صرف اوپر کے درجوں میں جلالین اور بیضاوی کا کچھ حصہ پڑھا دینا کافی سمجھا جاتا ہے، حالانکہ سب سے زیادہ ضرورت قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کی ہے۔ اس لیے انہوں نے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں ترجمہ قرآن کریم مناسب تفسیر کے ساتھ مستقل طور پر پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا جس میں اس دور میں کافیہ کے درجہ سے اوپر تک کے طلبہ کی شرکت لازمی ہوتی تھی۔ باقاعدہ حاضری ہوتی تھی، غیر حاضری پر ہمارے طالب علمی کے دور میں جرمانہ ہوتا تھا جو چار آنے (پچیس پیسے) فی غیر حاضری ہوتا تھا اور مدرسہ میں تعلیم کا آغاز درس قرآن کریم کے اسی پیریڈ سے ہوتا تھا۔ بحمد اللہ تعالیٰ اب یہ سعادت میرے حصہ میں ہے اور ترجمہ قرآن کریم کے پون گھنٹے کے اس پیریڈ کے بعد باقی اسباق کی ترتیب شروع ہوتی ہے۔ مکمل ترجمہ قرآن کریم دو سال میں مکمل ہوتا ہے، پندرہ پارے ایک سال اور پندرہ پارے دوسرے سال میں پڑھائے جاتے ہیں۔ دورۂ حدیث اور اس کے بعد کے دو درجات کے طلبہ کی شرکت لازمی ہوتی ہے اور اس کی باقاعدہ حاضری لگتی ہے، البتہ جرمانے کا سلسلہ اب نہیں ہے۔ جرمانے کے سلسلے میں ایک لطیفہ یہ ہے کہ میں نے یہ ترجمہ طالب علمی کے دور میں کم از کم تین بار حضرت والد محترمؒ سے پڑھا ہے۔ اس دوران غیر حاضریاں بھی ہوتی تھیں اور جرمانہ بھی دینا پڑتا تھا۔ حضرت والد محترمؒ جب جرمانے والوں کے نام پکار کر جرمانے کی رقم کا اعلان کرتے تو فہرست میں عام طور پر میرا نام بھی ہوتا تھا۔ میں اپنے نام کے ساتھ جرمانے کا اعلان سن کر حضرت والدِ محترمؒ کے جیب کی طرف دیکھنا شروع کر دیتا کہ ادا تو وہیں سے ہونا ہے۔ اس پر تھوڑی بہت ڈانٹ پلا کر وہ جرمانہ ادا کر دیتے تھے۔
بعد میں ۱۹۷۶ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم اور اس کی ملحقہ جامعہ مسجد نور کو محکمہ اوقات پنجاب نے سرکاری تحویل میں لینے کا اعلان کیا تو اس کے خلاف مزاحمتی تحریک کے دوران یہ ضرورت پیش آئی کہ شعبان اور رمضان المبارک کی تعطیلات میں مدرسہ خالی نہیں رہنا چاہیے۔ چنانچہ سالانہ تعطیلات کے دوران دورۂ تفسیر شروع کر دیا گیا جو پچیس برس تک مسلسل جاری رہا اور ہزاروں علماء کرام اور طلبہ نے اس سے استفادہ کیا۔ یہ دورۂ تفسیر حضرت والدِ محترمؒ کی آواز میں آڈیو سی ڈی کی صورت میں مکمل طور پر موجود و محفوظ ہے اور برادرِ عزیز مولانا عبد القدوس خان قارن اسے تحریری صورت میں مرتب کر رہے ہیں اور یہ قرآن کریم کی تعلیم و تدریس کا ذوق رکھنے والے علماء کرام اور طلبہ کے لیے ایک عظیم علمی تحفہ ہوگا۔
کم و بیش ربع صدی تک مسلسل پڑھانے کے بعد یہ سلسلہ حضرت والد محترمؒ نے ترک کر دیا تو بہت سے دیگر حضرات کے ساتھ ساتھ میں نے بھی ان سے عرض کیا کہ دورۂ تفسیر کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں اب معذور ہوگیا ہوں اور مسلسل پڑھانا میرے بس میں نہیں رہا۔ میں نے عرض کیا کہ چند پارے آپ پڑھا دیں، باقی میں اور قارن صاحب مکمل کر لیں گے۔ انہوں نے فرمایا کہ جو علماء اور طلبہ دورۂ تفسیر پڑھنے کے لیے آئیں گے، وہ اس اعتماد کے ساتھ آئیں گے کہ سارا قرآن کریم میں خود (یعنی حضرت شیخ ؒ ) پڑھاؤں گا۔ اگر میں نے چند پارے پڑھا کر چھوڑ دیا تو ان کا اعتماد مجروح ہوگا جو دیانت کے خلاف ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے فرمایا کہ اب چونکہ وفاق المدارس نے مکمل ترجمہ قرآن کریم نصاب میں شامل کر دیا ہے جو مختلف مراحل میں باقاعدہ پڑھایا جاتا ہے، اس لیے اب اس کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ چنانچہ سالانہ دورۂ تفسیر کا سلسلہ موقوف ہوگیا جبکہ دو سال والا ترجمہ قرآن کریم وفاق المدارس کے ترجمہ قرآن کریم کے نصاب کے باوجود الگ طور پر اب بھی ہوتا ہے اور حضرت والدِ محترمؒ کی زندگی میں ہی ان کے حکم پر یہ سعادت میرے حصہ میں آگئی تھی جو مسلسل جاری ہے، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔
میرے ساتھ ابتدائی سالوں میں حضرت مولانا قاضی مظہر حسین نور اللہ مرقدہ کے بھتیجے قاضی مشتاق احمد صاحب بھی شریک سبق رہے ہیں۔ غالباً شرح ملا جامی تک ہم نے اکٹھے پڑھا ہے۔ بڑے ذہین طالب علم تھے۔ بعض باتیں جو سبق کے دوران سمجھ میں نہیں آتی تھیں، میں تکرار کے دوران ان سے سمجھا کرتا تھا۔ انہوں نے پرائیویٹ طور پر میٹرک کا امتحان دیا اور فرسٹ ڈویژن میں کامیابی حاصل کی۔ یہ دیکھ کر مجھے بھی شوق ہوا اور میں نے میٹرک کا پرائیویٹ امتحان دینے کا ارادہ کر لیا۔ خیال تھا کہ انگریزی اور حساب کے علاوہ دوسرے مضامین میں کچھ زیادہ محنت درکار نہیں ہوگی، اس لیے پہلے مرحلہ میں انہیں کلیئر کرلیتا ہوں اور اگلے سال تیاری کر کے انگریزی اور حساب کا امتحان دے دوں گا۔ اس کے لیے میں نے داخلہ فارم حاصل کر لیا جس کا حضرت والد محترمؒ کو علم ہوا تو انہوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا حتیٰ کہ دھمکی دی کہ اگر تم نے امتحان دیا تو میں تم سے لا تعلقی اختیار کر لوں گا۔ چنانچہ میں نے ارادہ ترک کر دیا حتیٰ کہ جب میرے ساتھی قاضی مشتاق احمدؒ نے میٹرک کے امتحان میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے پر تعلیمی لائن بدل کر سکول و کالج کی لائن اختیار کر لی تو مجھے حضرت والدِ محترمؒ کے اس فیصلے پر اطمینان بھی ہوگیا کہ ان کی ناراضگی اور دھمکی فراست و بصیرت پر مبنی تھی۔
لیکن اس کے بعد دو عشروں کا وقفہ نہیں گزرا تھا کہ ہم نے گوجرانوالہ میں جمعیۃ اہل سنت کے زیر اہتمام ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے قیام کا پروگرام بنا لیا جس کا ٹائٹل ’’دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج‘‘ تھا اور اہداف میں یہ بات شامل تھی کہ علماء اور فضلاء کو یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے کے باقاعدہ امتحانات دلوائے جائیں اور دو تین سال تک ہم نے بہت سے فضلاء کو بی اے اور ایم اے کے امتحانات دلوائے۔ اس سارے پروگرام کی سرپرستی حضرت والدِ محترمؒ اور حضرت عم مکرمؒ فرما رہے تھے۔ دونوں بزرگ شاہ ولی اللہ ٹرسٹ کے رکن بلکہ باقاعدہ سرپرست تھے۔ اس کے اجلاس عام طور پر مدرسہ نصرۃ العلوم میں ہوتے تھے اور حضرت والد محترمؒ ان کی صدارت کیا کرتے تھے۔ اس دوران ایک بات یہ ہوئی کہ ۱۹۸۶ء میں جمعیۃ علماء برطانیہ کی دعوت پر حضرت والدِ محترمؒ اس کی ’’سالانہ توحید وسنت کانفرنس‘‘ میں شرکت کے لیے تشریف لے گئے تو تین ہفتے وہاں کے مختلف شہروں کا دورہ کیا۔ ہمارے محترم دوست اور حضرت والد محترمؒ کے عزیز شاگرد مولانا عبد الرؤف ربانی خطیب مکی مسجد رحیم یار خان ان کے رفیق سفر تھے۔ اس سفر سے واپسی پر ایک مجلس میں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں مجھے فرمایا کہ ’’او خبطی!‘‘ تم ٹھیک کہتے تھے۔ انگریزی زبان اور جدید تعلیم بھی ضروری ہے۔ میں نے عرض کیا کہ یہ بات شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے کسی پروگرام میں سب لوگوں کے سامنے فرما دیں۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی ایک عمومی طرز کی نشست میں حضرت والدِ محترمؒ نے نہ صرف یہ بات فرما دی بلکہ عصری تعلیم کی ضرورت پر پندرہ بیس منٹ تک گفتگو بھی فرمائی جو اس ادارے کی آئندہ تعلیمی پالیسی کی بنیاد بنی۔
یہ ہمارے بزرگوں کا ذوق اور مزاج ہے کہ دینی اور قومی حوالے سے وہ جس چیز کی ضرورت محسوس کر لیتے تھے، اسے نظرانداز نہیں کرتے تھے اور انہیں اس کے لیے اپنی سابقہ رائے سے رجوع کرنا پڑتا تو وہ اس سے گریز نہیں کرتے تھے۔
عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی قدس اللہ سرہ العزیز کا ذوق اس بارے میں یہ تھا کہ وہ درس نظامی کی تعلیم کے دوران جہاں خلا محسوس کرتے تھے، اسے پُر کرنے کی اپنے طور پر کوشش کرتے تھے، چنانچہ وہ دورۂ حدیث کے طلبہ کو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ سبقاً سبقاً پڑھاتے تھے۔ صبح کا دو سالہ ترجمہ قرآن کریم اور ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کی تدریس بحمد اللہ تعالیٰ جامعہ نصرۃ العلوم کے نصاب تعلیم کے امتیازی شعبے ہیں جو ہمارے ان دو بزرگوں کے ذوق کی علامت اور ان کا صدقۂ جاریہ ہیں۔ حجۃ اللہ البالغہ دورۂ حدیث کے نصاب میں اب بھی شامل ہے اور یہ خدمت بھی میرے سپرد ہے۔ البتہ اب اس کے چند ابواب پڑھائے جاتے ہیں اور مکمل تدریس کی حسرت ہی رہتی ہے۔
اس سلسلہ میں میرا ذاتی ذوق اور نقطۂ نظر یہ ہے کہ (۱) عصر حاضر کے مسائل کے تناظر میں احکام القرآن (۲) طحاوی شریف اور (۳) حجۃ اللہ البالغۃ کی مکمل طور پر تدریس دورۂ حدیث سے قبل ہونی چاہیے کیونکہ اسی صورت میں دورۂ حدیث کے طلبہ احادیث نبویہؐ کے عظیم الشان ذخیرے سے صحیح طور پر استفادہ کر سکتے ہیں اور اگر پہلے نہ ہو سکے تو فضلاء درس نظامی کو فراغت کے بعد تکمیل یا تخصص کی صورت میں یہ کورس ضرور پڑھنا چاہیے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اگر باذوق فضلاء کی ایک مناسب تعداد ایک سال کا وقت فارغ کر سکے تو آج کی عالمی فکری و تہذیبی کشمکش کے تناظر میں احکام القرآن کے ساتھ ساتھ حجۃ اللہ البالغۃ اور طحاوی شریف کی مکمل تدریس کا موقع اور سعادت حاصل کر لوں مگر ذوق و شوق، وسائل اور فکری و علمی استعداد میں مسلسل کمی کی وجہ سے اس کی کوئی صورت نہیں بن رہی۔ اپنے اس ذوق کی کسی حد تک تکمیل کے لیے میں نے دورۂ حدیث شریف میں حجۃ اللہ البالغۃ کے ساتھ ایک اور پیریڈ کے اضافے کی ’’بدعت‘‘ شروع کر رکھی ہے جو سالہا سال سے جاری ہے اور اس کے نصاب میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کا اسلامی احکام و قوانین کے ساتھ تقابلی مطالعہ اور دور حاضر کے معاصر ادیان و مذاہب کا اجمالی تعارف شامل ہے۔ یہ ہر جمعرات کو ہوتا ہے اور سال بھر کی پچیس نشستوں میں ’’خلاصۃ الخلاصۃ‘‘ کے درجے میں ان دو موضوعات کو سمیٹنے کی کوشش کرتا ہوں۔
حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کا اس سلسلہ میں ایک ذوق یہ بھی تھا کہ وہ چند طلبہ کو منتخب کر کے انہیں نصاب سے ہٹ کر بعض کتابیں الگ طور پر پڑھاتے تھے۔ ان خوش نصیبوں میں میرا شمار بھی ہوتا ہے اور میں نے ملا علیّ القاریؒ کی شرح نقایہ، مقامات ہمدانی، کلیلہ و دمنہ، رسائل اخوان الصفاء، مصطفی لطفی منفلوطیؒ کی العبرات اور الأستاذ محمد خضری بک کی کتاب نور الیقین ان سے سبقاً سبقاً پڑھی ہے۔ نور الیقین سیرت نبویؐ کی کتاب ہے، حضرت صوفی صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے درس نظامی کے (اس وقت کے) نصاب میں سیرت النبیؐ اور سیرت الخلفاء شامل نہیں ہے، حالانکہ اس کی ضرورت ہے۔ چنانچہ انہوں نے کئی سال تک طلبہ کی متعدد کلاسوں کو ’’نور الیقین فی سیرت سید المرسلین‘‘ پڑھائی ہے۔ اس سلسلے میں لطیفہ کی بات یہ ہے کہ مدرسہ انوار العلوم میں تدریس کے دوران میں نے بعض طلبہ کو ’’ورغلا کر‘‘ سیرت النبیؐ کی ایک کتاب ’’عین الیقین‘‘ درساً پڑھائی جو مصری عالم عبد الحمید الخطیب کی تصنیف ہے اور مجھے وہ اس وقت اس مقصد کے لیے زیادہ موزوں محسوس ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی امام سیوطیؒ کی ’’تاریخ الخلفاء‘‘ کی تدریس بھی شروع کر دی مگر بمشکل ایک سال ایسا کر سکا اور اگلے سال کسی طالب علم کو ’’ورغلانے‘‘ میں مجھے کامیابی حاصل نہ ہوئی۔
یہاں ایک اہم وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ ہم نے جب گوجرانوالہ میں جدید اور قدیم علوم کے امتزاج کے ٹائٹل کے ساتھ ایک نئے تعلیمی ادارے کے قیام کا پروگرام بنایا تو اس کا ابتدائی نام ’’نصرۃ العلوم اسلامی یونیورسٹی‘‘ تھا اور اس منصوبے کا پہلا تعارف پمفلٹ اور اشتہارات کی صورت میں اسی نام سے شائع ہوا تھا، اس سے عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اختلاف کیا ۔ وہ جامعہ نصرۃ العلوم کے مہتمم تھے اور ہمارے اس نئے تعلیمی پروگرام کے سرپرست تھے، انہوں نے فرمایا کہ اس نئے تعلیمی نظام کے لیے الگ نام سے ادارہ بناؤ، یہ بہت ضروری کام ہے لیکن اس کے لیے جو تعلیمی نظام تسلسل کے ساتھ دینی مدارس میں چلا آرہا ہے اسے ڈسٹرب نہ کرو، ان کے اس اختلاف کی وجہ سے ہم نے اس کا نام تبدیل کر کے ’’فاروق اعظمؓ اسلامی یونیورسٹی‘‘ رکھا اور پروگرام کا دوسرا تعارف اس نام سے شائع ہوا۔ حضرت صوفی صاحبؒ نے اس سے بھی اختلاف کیا اور فرمایا کہ ’’بھائی ! جس کے مشن پر کام کرنا چاہتے ہو اس کا نام تمہیں کیوں یاد نہیں آرہا؟‘‘ ان کا اشارہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی طرف تھا جن کے علوم کے وہ اپنے دور کے متخصصین میں شمار ہوتے تھے اور حضرت شاہ صاحبؒ کی تعلیمات پر ان کی گہری نظر تھی۔ چنانچہ ہم نے اپنے اس نئے تعلیمی پروگرام کو شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا نام دے دیا اور اس کے بعد کی پیش رفت گزشتہ کالم میں ذکر کر چکا ہوں۔
حضرت صوفی صاحبؒ کا موقف یہ تھا اور خود میرا ذاتی موقف بھی یہ ہے کہ دینی مدارس کا جو روایتی تعلیمی نظام تسلسل کے ساتھ چلا آرہا ہے اسے چھیڑنے کی ضرورت نہیں ہے البتہ عصری تقاضوں کے حوالہ سے ایک نئے تعلیمی تجربے کا اہتمام ضرور ہونا چاہیے جو بحمد اللہ تعالیٰ بہت سے اداروں کی صورت میں ہو رہا ہے، میرے نزدیک جس طرح عصری تقاضوں کو محسوس کرنا اور انہیں پورا کرنے کی محنت کرنا ضروری ہے اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ تعلیمی نظام کے روایتی تسلسل کو قائم رکھنا اور اس کا تحفظ کرنا بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جامعہ نصرۃ العلوم کا ذمہ دار فرد ہونے کے باوجود ایسے علمی و فکری مباحث کے لیے میں نے ’’الشریعہ اکادمی‘‘ اور ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے نام سے الگ فورم قائم کر رکھا ہے جن مباحث میں زیادہ سے زیادہ اور مختلف الخیال اصحابِ فکر کا شریک ہونا مجھے ضروری محسوس ہوتا ہے۔
معاہدۂ حدیبیہ اور اس کے سبق آموز پہلو
مولانا محمد جمیل اختر ندوی
مدینے آئے ہوئے چھ سال کا عرصہ بیت چکا تھا۔کعبہ سے دوری اور مہجوری پر چھ دور گزر چکے تھے۔ وطنِ عزیز کو چھوڑے ہوئے ایک لمبی مدت ہوچکی تھی۔ شوق گھڑیاں گن رہاتھا۔ امنگیں لمحے شمارکررہی تھیں۔ چاہت بڑھتی جا رہی تھی۔ خواہش دوچندہورہی تھی۔ جذبات کی تلاطم خیزی قنوط کی بندپرضربیں اوراحساس کی شدت صبرکے حصارپرٹھوکریں لگارہی تھیں کہ ایک رات شہِ لولاک نے خواب دیکھاکہ آپ ﷺپنے اصحاب کے ساتھ حلق کرائے ہوئے امن وسکون کے ساتھ مکہ داخل ہورہے ہیں۔ (دلائل النبوۃ للبیھقی، باب نزول سورۃ الفتح۔۔۔: ۴/۱۶۴ (حدیث نمبر: ۱۵۱۲)، السیرۃ الحلبیۃ، غزوۃ الحدیبیۃ: ۲/۶۸۸)
زبانِ نبوت سے خوابِ رحمانی کاتذکرہ سن کرصحابہؓ خوش ہوگئے۔مہاجرین اس لیے کہ اُس شہرستان کادیدارنصیب ہوگا، جواُن کی جائے پیدائش رہی ہے، جہاں کے کوچے اورگلیاںآج تک اُن کی نگاہوں کے سامنے ہیں، جہاں کے پہاڑاوروادی آج تک ذہنوں پرچھائے ہوئے ہیں، جہاں کے پھولوں کی خوشبوسے ابھی تک دماغ میں تازگی ہے اورجہاں کاادنیٰ تذکرہ بھی دلوں کے لیے باعثِ سرورہے اورانصاراس لیے کہ نگاہوں کو اُس دیارکی رؤیت کی سعادت حاصل ہوگی، جواُن کے نبی کاوطن رہاہے، جہاں وہ کعبہ ہے، جسے روئے زمین پرپہلاگھرہونے کاشرف حاصل ہے اورجس کی طرف رخ کرکے آج تک نمازِ پنجگانہ کی ادائے گی کرتے رہے ہیں۔
سن چھ ہجری کی پہلی تاریخ کوحضور اکرم ﷺ نے اپنے چودہ سوقدسی صفات اصحابؓ کے ساتھ عمرہ کی غرض سے مکہ کے لیے رختِ سفرباندھا۔ مقامِ ذوالحلیفہ میں ساتھ میں لائے ہوئے ہدی کے جانوروں کوقلادہ پہناکراُن کااِشعار(کوہان کوزخمی کرکے خون نکالنا؛ تاکہ لوگوں کومعلوم ہوجائے کہ حرم لے جائے رہے ہیں)کیااورلبادۂ احرام پہنا۔بسربن سفیان کوقریش کے حالات سے آگاہی کے لیے پہلے روانہ فرمایا۔کاروانِ نبوت جب مقامِ عسفان میں پہنچاتواُنھوں نے یہ اطلاع بہم پہنچائی کہ قریش نے آپ کی آمدسن کرایک لشکرِجرارتیارکررکھاہے اوردخولِ مکہ سے آپ کوباز رکھنے کے لیے آپس میں عہدوپیمان باندھ لیاہے۔ یہ خبربھی گوش گزارکی کہ خالدبن الولید(جوابھی تک اسلام کی سعادت سے محروم تھے)ہراول دستے کے طورپردوسوشہ سواروں کے ہمراہ’’ غمیم‘‘ تک پہنچ چکے ہیں۔اِس خبرکے سنتے ہی آپ نے اپناراستہ بدل لیاکہ مقصودلڑائی نہیں؛ بل کہ سعادتِ عمرہ سے سرفراز ہوناتھا۔ (جوامع السیرۃ لإبن حزم، غزوۃ الحدیبیۃ: ۱/۲۰۷)
حدیبیہ کی سرزمین کے لیے یہ بخت بیداری کی گھڑی تھی اورقیامت تک تاریخ کے اوراق میں نسبتِ رسول کے ساتھ اُسے محفوظ رہناتھا؛ اس لیے آپ ﷺ کی سواری کے بڑھتے قدم وادی ہی میں رُک گئے۔ لوگوں نے ’’خلأت القصویٰ، خلأت القصویٰ‘‘ (اونٹنی بیٹھ گئی، اونٹنی بیٹھ گئی) کی آواز لگانی شروع کی، آپ نے فرمایا: ما خلأت القصویٰ، وماذاک لہا بخلق، ولکن حبسہا حابس الفیل ’’اونٹنی نہیں بیٹھی اورناہی اِس کی یہ عادت ہے؛ بل کہ اِسے اُس ذات نے روک لیاہے، جس نے ہاتھی کوروکاتھا‘‘۔پھرآپ نے فرمایا: والذی نفسی بیدہ! لایسألونّی خطّۃ یعظمون فیہا حرمات اللہ إلا أعطیتہم إیاہا’’ اُس ذات کی قسم، جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگروہ لوگ میرے سامنے کوئی ایسی تجویز رکھیں گے، جس میں اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کی تعظیم ہوتی ہوتومیں اُسے قبول کروں گا‘‘۔ پھراُونٹنی کوکوچادیاتووہ چل پڑی۔ اب آپ مقامِ حدیبیہ کے ایک سِرے پر خیمہ زن ہوئے، جہاں کم مقدارپانی والے کنوئیں میں آپ ﷺ کے ایک تیرڈالنے کی وجہ سے پانی کے جوش مارنے کا معجزہ ظاہرہوا۔ (بخاری، باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃمع اہل الحرب وکتابۃ الشروط، حدیث نمبر: ۲۷۳۱)
یہاں سے آپ ﷺ نے خراش بن امیہ خزاعی ص کونامہ بربناکرقریش کے پاس اِس پیغام کے ساتھ بھیجاکہ ’’ہم فقط بیت اللہ کی زیارت کے لیے آئے ہیں، جنگ کے لیے نہیں‘‘؛ لیکن قریش نے ان کے اونٹ کوذبح کرڈالا اوراُن کے قتل کے بھی درپے ہوگئے۔ حضرت خراش اپنی جان بچاکرواپس آئے اورسارا ماجرا آپ کے روبروسنایا (الروض الأنف، غزوۃ الحدیبیۃ: ۴/۴۵)۔آپ نے حضرت عمرص کوپیغام بربناکربھیجنا چاہا؛ لیکن اُنھوں نے یہ کہتے ہوئے معذرت چاہی کہ’’ قریش مجھ سے بہت زیادہ برہم اورمیرے سخت دشمن ہیں۔ مزیدیہ کہ میرے قبیلہ کا کوئی شخص نہیں، جومجھے بچا سکے؛ اس لیے حضرت عثمان ص کوبھیجنازیادہ مناسب ہے کہ وہاں اُن کے اعزہ موجود ہیں(جوناگفتہ بہ حالت میں اُن کی حفاظت کریں گے)۔آپنے حضرت عمرص کی یہ رائے معقول سمجھی اورحضرت عثمان ص کو ابوسفیان (جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے)اوررؤسائے مکہ کے پاس اپناقاصد بناکر بھیجا، جب کہ وہاں پر موجود مسلمانوں کو یہ بشارت بھی بھجوائی کہ عنقریب اللہ تعالیٰ فتح نصیب کرے گااوراپنے دین کوغالب فرمائے گا۔
حضرت عثمان اپنے ایک عزیز ابان بن سعیدکی پناہ میں مکہ آئے اورقریشِ مکہ کوآپ کا پیغام اور وہاں موجود مسلمانوں کو خوش خبری سنائی۔حضرت عثمان کی زبانی آپ کاپیغام سن کراہالیانِ مکہ نے جواب دیاکہ ’’اس سال تو محمد مکہ میں داخل نہیں ہوسکتے، ہاں اگرتم تنہاطوافِ زیارت کی سعادت حاصل کرناچاہوتوکرسکتے ہو‘‘۔حضرت عثمان نے جواب دیاکہ’’میں تنہا کبھی اِس سعادت کوحاصل نہ کروں گا‘‘۔ قریش یہ جواب سن کرخاموش ہوگئے؛ لیکن حضرت عثمان کووہیں روک لیا۔اِدھرمسلمانوں میںیہ خبرمشہورہوگئی کہ حضرت عثمان قتل کر دیے گئے۔ جب قتل کی یہ خبرآپ کے کانوں تک پہنچی توآپ کی طبیعت میں تکدر پیدا ہوا اور آپ نے فرمایا: جب تک میں عثمان کابدلہ نہ لے لوں، یہاں سے حرکت نہیں کروں گا۔ پھروہیں ایک ببول کے درخت کے نیچے حضرت عثمان ص کے خون کابدلہ لینے پرتمام صحابہ سے بیعت لی، جوتاریخ وسیرکی کتابوں میں ’’بیعۃ الرضوان‘‘ کے نام سے مشہورہے؛ لیکن بعد میں اِس خبرکے غلط ہونے کی بات معلوم ہوئی (السیرۃ النبویۃ لإبن ہشام، غزوۃ الحدیبیۃ: ۲/۳۱۵)۔قریش کواِس بیعت کاحال معلوم ہواتووہ خوف زدہ ہوئے اورنامہ وپیام کا سلسلہ شروع کیا۔
مقامِ حدیبیہ میں قیام پذیری کے دوران مسلمانوں کے پرانے حلیف بنوخزاعہ (جوپہلے بھی آپ تک قریش کی خبریں پہنچایاکرتے تھے)کے سرداربُدیل بن ورقاء آپ کی خدمت میں حاضرہوئے اورعرض کیا: قریش کی ایک بھاری جمعیت مستعد کھڑی ہے، وہ آپ کوکعبہ میں جانے نہ دیں گے۔ آپ نے اُن سے فرمایا: اُنھیں جاکرکہہ دو کہ ہم صرف عمرہ کی غرض سے آئے ہیں، لڑائی ہمارے حاشےۂ خیال میں بھی نہیں۔ جنگ نے قریش کی حالت زارزارکردی ہے؛ اس لیے بہترہے کہ ہم سے ایک مدت تک کے لیے جنگ بندی کامعاہدہ کرلیں اورمجھے عربوں کے ہاتھوں چھوڑدیں۔ اگروہ اِس پرراضی نہیں توخدا کی قسم ! میں اُس وقت تک لڑتارہوں گا، جب تک میراسرتن سے جدانہ کردیاجائے۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی، باب المہادنۃ۔۔۔۔۔۔، حدیث نمبر: ۱۹۲۸۰)
بدیل نے قریش کے پاس آکرکہاکہ میں محمدکے پاس سے کچھ پیغام لے کرآیاہوں، اشرارنے سننے سے انکارکیا؛ لیکن سنجیدہ قسم کے افرادنے پیغام سنانے کی اجازت دی۔ اُنھوں نے آپ کا پیغام سنایا۔ عروہ بن مسعودثقفی نے اہلِ مجلس سے کہا: کیوں قریش! کیامیں تمہارے لیے باپ کے مقام اورتم میرے لیے بیٹوں کے درجہ میں نہیں؟ سبھوں نے کہا: ہاں! ایسا ہی ہے۔ پھراُس نے کہا: میری نسبت تمہیں کوئی بدگمانی تونہیں؟ جواب ملا: نہیں! اس نے کہا: پھرتومجھے خود محمدکے پاس جاکرمعاملہ طے کرنے کی اجازت دو، اس نے معقول تجویز رکھی ہے۔
عروہ بن مسعود آپ کی خدمت میں حاضرہوئے۔ آپ نے اُن سے بھی وہی باتیں کہیں، جوبدیل سے کہہ چکے تھے۔اُس وقت عروہ نے آپ کو مخاطب کرکے کہا: أی محمد! أرأیت إن استأصلت أمرقومک، ہل سمعت بأحد من العرب اجتاح أصلہ قبلک؟ وإن تکن الأخریٰ، فإنی واللہ لأری وجوہاً ، وإنی لأری أشواباً من الناس خلیقاً أن یفروا، ویدعوک ’’ائے محمد! اگرتم نے اپنی قوم کا استیصال کردیاتوکیااس کی بھی کوئی مثال ہے کہ کسی نے اپنی ہی قوم کا خاتمہ کردیاہو؟لیکن اگرلڑائی کارخ بدلا(اوراہلِ مکہ تم پرغالب آگئے)تومیں تمہارے ساتھ ایسے لوگوں کودیکھ رہاہوں، جوتمہیں چھوڑکربھاگ کھڑے ہوں گے‘‘۔ عروہ کی اِس بدگمانی پرحضرت ابوبکرص نے سخت درشت لہجہ اختیارکرتے ہوئے فرمایا: کیاہم محمد ﷺ کوچھوڑکربھاگ جائیں گے؟حضرت ابوبکرص کی سخت کلامی کوسن کرعروہ نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے جواب دیا: ابوبکرہیں! عروہ نے کہا: اگرمجھ پر تمہارا (زمانۂ جاہلیت میں دیاہواوہ)احسان نہ ہوتا، جس کی میں نے ابھی مکافات نہیں کی ہے تومیں تمہیں اِس سخت کلامی کاجواب ضروردیتا۔
اب عروہ حضور ﷺ سے محوگفتگوہوئے اورعربوں کی عادت کے مطابق اثنائے کلام آپ کی داڑھی مبارک پربھی ہاتھ پھیرتے جاتے۔ عروہ کی اِس حرکت کوحضرت مغیرہ بن شعبہ ص جسارت تصورکیا اوراُن کے ہاتھ پرٹہوکادیااورکہا: أخر یدک من لحیۃ رسول اللہ’’ حضور ﷺ کی داڑھی مبارک سے اپنے ہاتھ دوررکھو‘‘۔ عروہ نے زرہ پوش حضرت مغیرہ ص کی طرف نگاہ اُٹھائی اورپوچھا: یہ کون ؟جواب ملا: مغیرہ بن شعبہ! یہ سن کرعروہ نے کہا: ارے اوغدار! کیا میں نے تمہاری اُس غداری کابدلہ نہیں دیاتھا (جوتم نے زمانۂ جاہلیت میں ایک قوم کے ساتھ کیاتھا؟)۔ پھردُزدِیدہ نگاہوں سے صدق وصفاکے پیکرعشاقِ رسول کودیکھنے لگے اورجاں نثارانِ رسول کی اِک اِک اداکاگہرائی کے ساتھ جائزہ لینے کے بعدقریش کے پاس لوٹے اوریہاں کاآنکھوں دیکھاحال اس طرح بیان کرنے لگے:’’ ائے اہلِ مجلس! بخدا میں نے بادشاہوں کے محلات اورقصورکے سیرکیے ہیں، میں نے کسریٰ اورقیصرکا درباربھی دیکھاہے؛ لیکن میں نے کسی بھی ایسے بادشاہ کونہیں دیکھا، جس کے لوگ اُس کی اِس قدرتعظیم کرتے ہیں، جس قدرتعظیم محمدکے ساتھی محمدکی کرتے ہیں۔ خداکی قسم! محمدکی ناک کی ریزش بھی زمین پرگرنے نہیں پاتی کہ اُس کے ساتھی اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنے چہروں اوراپنے جسموں پرمل لیتے ہیں۔ وہ جب کسی کام کا حکم دیتے ہیں تواُس کے ساتھی اُس کام کوانجام دینے کے لیے لپک پڑتے ہیں۔ جب وہ وضوکرتے ہیں تووضوکے پانی کولینے کے لیے منافست پراترآتے ہیں۔ جب وہ گفتگو کرتے ہیں توتمام لوگ مہربہ لب ہوجاتے ہیں اورکوئی بھی شخص عظمت وجلال کی وجہ سے اُسے نگاہ بھرکربھی نہیں دیکھتا۔ یقیناً محمدکی طرف سے ایک مناسب تجویز آئی ہے، اُسے قبول کرلینا چاہیے‘‘۔
عروہ کی باتیں سن کربنوکنانہ کے ایک فرد نے آپ کے پاس آنے کی اجازت چاہی، قریش نے اُسے بھی جانے کی اجازت دے دی۔ جب وہ کاروانِ نبوت کے قریب پہنچاتوآپ نے صحابہ کو مخاطب کرکے فرمایا:’’دیکھو! فلاں آرہاہے، اِس کاتعلق ایسی قوم سے ، جوہدی کے جانوروں کوتعظیم کی نگاہ سے دیکھتی ہے، لہٰذا تم لوگ ہدی کے جانوروں کے ساتھ اِس کا استقبال کرو‘‘۔ صحابہ نے جانوروں کے ساتھ تلبیہ پڑھتے ہوئے خوش آمدیدکہا۔ جب اُس نے یہ کیفیت دیکھی توبے ساختہ پکارا: سبحان اللہ! ما ینبغی لہؤلاء أن یصدوا عن البیت ’’سبحان اللہ! ایسے لوگوں کو تو بیت اللہ سے نہیں روکاجاناچاہیے‘‘۔ پھر وہ قریش کے پاس لوٹ کرآیااوراُس نے اپنی یہی رائے پیش کی۔
اب مکرز بن حفص نے آنے کی اجازت لی۔ جب وہ آپ کے قریب پہنچاتوآپ نے فرمایا: ’’مکرزبن حفص آرہاہے، یہ بُراآدمی ہے‘‘۔پھراُس کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہوگئے۔ اِسی دوران قریش کی طرف سے وثیقۂ عہدتیارکرنے کے لیے آپ کے پاس سہیل بن عمروآیا۔ آپ نے حضرت علی ص کواملاء کے لیے بلایااورکہا: لکھو: (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم)۔سہیل نے کہا: ’’ہم رحمان کونہیں جانتے؛ اِس لیے وہ لکھو، جوہم لکھتے چلے آرہے ہیں، یعنی: باسمک اللہم‘‘۔ آپ نے باسمک اللہم لکھوایا، پھرکہا: لکھو: ہذا ما قاضی علیہ محمد رسول اللہ ’’یہ وہ ہے، جس پراللہ کے رسول محمدنے مصالحت کی ہے‘‘۔ سہیل نے کہا: ’’خداکی قسم ! اگرہم آپ کواللہ کا رسول تسلیم ہی کرلیتے توبیت اللہ سے ہرگز نہ روکتے اور نا ہی آپ سے جنگ کرتے؛ اِس لیے محمدبن عبداللہ لکھئے‘‘۔ آپ نے اُس کی یہ بات سن کرفرمایا: ’’اللہ کی قسم! میں اللہ کارسول ہوں، اگرچہ کہ تم لوگ مجھے جھٹلاؤ‘‘۔پھرحضرت علی سے محمدبن عبداللہ ہی لکھنے کے لیے کہا۔
اب تحریری شکل کوآگے بڑھاتے ہوئے آپ نے املاکرایا: ’’یہ مصالحت اِس بات پرہے کہ تم لوگ بیت اللہ کے طواف سے ہمیں نہیں روکوگے‘‘۔ سہیل نے کہا: اس کی وجہ سے کہیں عرب یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ ہم نے دب کرصلح کی ہے؛ اِس لیے یہ آئندہ سال پراٹھارکھیں‘‘۔ آپ نے اُس کی یہ بات بھی مان لی۔اب سہیل نے اپنی طرف سے ایک شق لکھائی کہ’’ ہماراکوئی بھی مرد مسلمان ہوکرآپ کے پاس آجائے تو آپ اُسے ہمارے پاس لوٹادیں گے؛ لیکن اگرآپ کا کوئی ساتھی آپ کا دین چھوڑکرآئے توہم اُسے نہیں لوٹائیں گے‘‘۔ صحابہ نے کہا: سبحان اللہ! دائرۂ اسلام میں داخل ہونے کے بعدکسی کو کیسے لوٹایاجائے گا؟
معاہدہ کی اِس شق پربحث وتمحیص چل ہی رہی تھی کہ ابوجندل بن سہیل بن عمروقفسِ تعذیب سے فرار ہو کر بیڑیوں میں گھسٹتے ہوئے یہاں پہنچے۔سہیل نے اُنھیں دیکھتے ہی کہا:’’ معاہدہ کا نفاذ یہیں سے ہوگا‘‘۔ آپ نے فرمایا:’’ ابھی تو معاہدہ کی تکمیل بھی نہیں ہوئی‘‘۔ سہیل نے جواب دیا: ’’پھرتوکسی چیز پرمصالحت نہیں ہوسکتی‘‘۔ آپ نے فرمایا: ’’اچھا میری خاطراِسے چھوڑدو‘‘۔ اس نے کہا: ’’میں اِس پربھی تیارنہیں‘‘۔ (بخاری، باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ مع اہل الحرب وکتابۃ الشروط، حدیث نمبر: ۲۷۳۲) آپ نے اُس وقت حضرت ابوجندل ص کو مخاطب کرکے فرمایا: یا أبا جندل! إصبر واحتسب، فإن اللہ عز وجل جاعل لک ولمن معک من المستضعفین فرجاً ومخرجاً، إناقد عقدنا بیننا وبین القوم صلحاً، فأعطیناہم علی ذلک، وأعطونا علیہ عہداً، وإنا لن نغدربہم. (السنن الصغریٰ للبیہقی، باب المہادنۃ علی النظر للمسلمین، حدیث نمبر: ۳۷۷۲ (۸/۱۶۳)، مسند احمد، حدیث نمبر: ۱۸۹۱۰ (۳۱/۲۱۹) ’’اے ابوجندل! صبرکرواورامیدرکھو، اللہ تعالیٰ تمہارے اورتمہارے ساتھ دوسرے کمزوروں کے لیے ضرورکوئی سبیل نکالے گا۔ ہم نے قریش سے عقدصلح کرلیاہے اوراس پرزبان دیدی ہے اوران لوگوں نے بھی ہم سے عہدکیاہے اورہم ان غداری کے مرتکب نہیں ہوسکتے ‘‘اوراُنھیں واپس مکہ بھیج دیا۔
اِس معاہدہ کی وہ تمام شقیں، جن پرقریش راضی تھے، اِس طرح ہیں:
۱) دس سال تک حرب وضرب موقوف رہے گی۔
۲) قریش کا جومرد مسلمان ہوکراپنے اولیاء اورموالی کی اجازت کے بغیرمدینے آجائے، اُسے واپس کردیاجائے گا۔
۳) مسلمانوں میں سے جومرد(راہِ ارتداداختیارکے)مکہ آجائے، اُسے واپس نہ کیاجائے گا۔
۴) مدتِ معاہدہ میں کوئی دوسرے پرتلوارنہیں اُٹھائے گااورناہی کسی سے خیانت کرے گا۔
۵) محمد اس سال واپس چلے جائیں اورآئندہ سال مکہ میں صرف تین دن رہ کرعمرہ کرکے واپس ہوجائیں، سوائے تلواروں کے اورکوئی ہتھیارساتھ نہ ہواوروہ بھی نیام میں رہیں۔
۶) قبائلِ متحدہ جس کے حلیف بنناچاہیں، بن سکتے ہیں۔ (زادالمعاد، فصل فی قصۃ صلح الحدیبیۃ: ۳/۲۹۹، القول المبین فی سیرۃ سید المرسلین لمحمد الطیب النجار، صلح الحدیبیۃ: ۱/۳۱۶)
اِس معاہدہ میں آپ نے قریش کی وہ تمام شرطیں منظورکرلیں، جوبظاہرمسلمانوں کے خلاف تھیں، جس کی وجہ سے صحابہ ایک قسم کی اندرونی گھٹن میں مبتلاہوگئے؛ حتیٰ کہ حضرت عمر نے آپ کی خدمت میں حاضرہوکراِس طرح سوال کرناشروع کردیا: کیاآپ اللہ کے برحق نبی نہیں ہیں؟ کیاہم حق پراوردشمن باطل پرنہیں ہیں؟آپ نے ہرسوال کے جواب میں’’کیوں نہیں‘‘(یعنی ہاں! ہم حق پرہیں اورمیں اللہ کابرحق نبی ہوں) فرمایا۔تب حضرت عمر نے کہا: فلم نعطی الدنیئۃ فی دیننا إذن؟’’پھرہم دین میں کمی کیوں برداشت کریں؟‘‘۔ آپ نے جواب دیا: إنی رسول اللہ، ولست أعصیہ، وہو ناصری’’ میں اللہ کارسول ہوں، اس کی نافرمانی نہیں کرسکتا اور وہ میرا حامی و ناصرہے‘‘۔ حضرت عمر نے پھرسوال کیا: کیاآپ نے ہمیں نہیں بتایاتھاکہ ہم بیت اللہ جاکراُس کاطواف کریں گے؟ آپ نے جواب دیا: تو کیا میں نے تمہیںیہ بات بھی بتائی تھی کہ اِسی سال کریں گے؟تم ضرورجاؤگے اوربیت اللہ کاطواف کروگے۔
جب معاہدہ کی تکمیل ہوگئی توآپ نے صحابہؓ سے فرمایا: قوموا، وانحروا، ثم احلقوا ’’اُٹھو، اپنے جانوروں کانحرکرواورپھراپنے سروں کاحلق کراؤ‘‘۔گھٹن کی کیفیت میں مبتلاہونے کی وجہ سے کسی صحابی نے بھی جنبش نہ کی؛ حتیٰ کہ آپ نے تین مرتبہ یہی بات فرمائی۔ جب کسی نے حرکت نہیں کی توآپ حضرت ام سلمہ(رضی اللہ عنہا) کے پاس آئے اورلوگوں کے اِس ردعمل کا تذکرہ کیا۔حضرت ام سلمہ (رضی الہہ عنہا) نے فرمایا: یا نبی اللہ! أتحب ذاک؟ أخرج، ثم لا تکلم أحداً منہم کلمۃً؛ حتیٰ تنحر بدنک، وتدعو حالقک فیحلقک۔ اے اللہ کے نبی! کیاآپ یہی چاہتے ہیں؟ (اگرآپ یہ چاہتے ہیں)تونکلیے اورکسی سے ایک لفظ مت کہیے۔ بس سیدھے جاکراپنے ہدی کے جانور ذبح کردیجئے اورنائی کوبلواکرحلق کرواےئے‘‘۔ آپ نے حضرت ام سلمہ(رضی اللہ عنہا) کے مشورے پر عمل کیا۔ جب صحابہ نے آپ کوایساکرتے دیکھاتواُن لوگوں نے بھی اپنے جانورذبح کردئے اور(مارے گھٹن کے) ایک دوسرے کا اِس طرح حلق کرنے لگے، جیسے گردن ہی کاٹ ڈالیں گے۔ (بخاری، باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃمع اہل الحرب وکتابۃ الشروط، حدیث نمبر: ۲۷۳۲)
حدیبیہ میں تقریباً دوہفتے قیام کرنے کے بعدآپ نے اپنے رفقا کے ساتھ واپسی کے لیے کجاوہ کسا۔ جب مکہ مکرمہ اورمدینہ کے درمیان پہنچے توسورۂ فتح نازل ہوئی۔ آپ نے صحابہ کوجمع فرما کر (إنا فتحنا لک فتحاً مبیناً) سنائی۔ صحابہ انگشت بدانداں رہ گئے اوردریافت کیا: ائے اللہ کے رسول! کیا یہ فتح ہے؟ آپ نے جواب دیا: قسم ہے اُس ذات کی، جس کے قبضے میں میری جان ہے! بے شک یہ عظیم الشان فتح ہے۔ (مسند احمد، حدیث مجمع بن جاریۃ، حدیث نمبر: ۱۵۴۷۰ (۲۴/۲۱۲)
جب رسول اللہ ﷺ مدینہ پہنچ گئے توابوبصیرکفارقریش کی قیدسے بھاگ کرمدینہ پہنچے۔ قریش نے فوراًاِن کی واپسی کے لیے دولوگوں کومدینہ روانہ کیا۔ آپ نے ایفائے عہدکرتے ہوئے ابوبصیرکواُن کے ساتھ مکہ کے لیے روانہ کردیا۔ ابوبصیراُن کے ساتھ روانہ توگئے؛ لیکن راستہ میں اُن میں سے ایک کوقتل کردیا، جب دوسرے نے یہ حال دیکھاتوبھاگ کھڑاہوااورسیدھامدینہ آپ کی خدمت میں حاضرہوااورکہا: میراساتھی توماراگیااوراب میں بھی ماراجانے والا ہوں۔ اُسی کے پیچھے ابوبصیربھی مدینہ پہنچے اورحضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کیا: ائے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کے عہدکوپوراکردیا۔ آپ نے تومجھے اُن کے حوالے کردیاتھا۔ پھراللہ تعالیٰ نے اُن سے نجات کی میرے لیے ایک سبیل مہیافرمادی ہے۔ میں نے یہ جوکچھ کیا، محض اس لیے کیاکہ میرے اوراِن کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ویل أمہ! مسعر حرب. لو کان لہ أحد!’’ناس ہو! جنگ بھڑکانے والاہے۔ کاش! کوئی اِس کے ساتھ ہوتا‘‘۔ حضرت ابوبصیرسمجھ گئے کہ آپ کومیرایہاں ٹھہرناپسندنہیں؛ چنانچہ اُنھوں نے ساحلِ سمندرکوٹھکانہ بنایا۔ (بخاری، باب الشروط فی الجہاد۔۔۔ حدیث نمبر: ۲۷۳۲)۔ اب جوبھی مکہ سے فرارہوکرآتا، سیدھے ساحل پرپہنچتا، اِس طرح ستر(۷۰) یاتین سو(۳۰۰)لوگوں کی ایک بڑی تعداد اکٹھی ہوگئی۔ یہ ساحل مکہ سے شام جانے والے تاجرینِ قریش کی راہ میں پڑتاتھا؛ چنانچہ اِن لوگوں نے اُن کے مال واسباب کو اپنی غذائی قلت دورکرنے کاذریعہ بنایا۔ جب قریش اِن سے تنگ آگئے توآپ کواِن لوگوں کواپنے پاس بلالینے اجازت دیدی اوراِس طرح معاہدہ کی ایک شق کو اُن لوگوں نے خود ہی کالعدم قراردے دیا، جب کہ پورامعاہدہ اُس وقت اختتام پذیرہوا، جب قریش کے حلیف بنوبکر نے قریش کے ساتھ مل کربنوخزاعہ پرچشمۂ’’وتیر‘‘میں شب خوں مارااوراُن کے بہت سارے افرادکوموت کی نیندسُلادیا۔ چنانچہ عمروبن سالم خزاعی نے بنوخزاعہ کا ایک وفدلے کردربارِنبوت میں حاضرباش دُہائی دی، جس کو سن کرآپ نے فرمایا: نُصِرْتَ یاعمروبن سالم. (السنن الکبری للبیہقی، حدیث نمبر: ۱۹۳۳۱) ’’ائے عمروبن سالم! تمہاری مددکی جائے گی‘‘۔ پھرآپ نے بنوخزاعہ کی مددکی، جس کے نتیجہ میں مکہ فتح ہوا۔
یہ تھی رودادِ معاہدہ۔ اب آےئے اِس معاہدہ سے حاصل ہونے والے دروس واسباق پرنظرڈالتے چلیں:
معاہدہ کالحاظ
آپ نے کفارِقریش سے کیے ہوئے اِس معاہدہ کاپوراپورالحاظ فرمایااورمعاہدہ کے مطابق ہراُس کام کوانجام دیتے رہے، جومعاہدہ میں طے ہواتھا؛ چنانچہ مدینہ پہنچنے کے بعد جب ابوبصیرقیدوبندکی صعوبتوں سے چھٹکارا حاصل کرکے مدینے پہنچے اورمشرکینِ مکہ نے اِن کی واپسی کامطالبہ کیاتوآپ نے اِنھیں اُن کے بھیجے ہوئے آدمیوں کے حوالہ کردیااوراُس عہد کی پاسداری کا مکمل ثبوت دیا، جوآپ نے اُن سے حدیبیہ کے مقام پرکیاتھا۔
آج ہمیں اپناجائزہ لیناچاہیے کہ کیاہم بھی اپنے کیے ہوئے عہدکاایفاکرتے ہیں؟کیاہم وعدہ کرکے اپنی ادنیٰ منفعت کی وجہ سے اُس کی خلاف ورزی نہیں کربیٹھتے؟ کیاایسانہیں ہے کہ ہم نے معاہدہ کونقصان سے بچنے کا ایک ظاہری سبب بنارکھاہے اورپسِ پشت مُعاہِدْ(معاہدہ کرنے والا)کوضررپہنچانے کی تدبیریں نہیں کرتے رہتے؟ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے توغیرسے کیے ہوئے عہدکونباہ کرکے دکھادیااورہم اُسی کے امتی ہونے کے باوجود اپنوں سے کیے ہوئے پیمان کاپاس نہیں رکھتے۔کاش! آپ کے اِس عمل سے ہم نصیحت حاصل کرتے!
مقصد پر نظر
آپ جب مقامِ عسفان پہنچے توآپ کویہ اطلاع دی گئی کہ خالدبن الولید(جوابھی تک اسلام کی سعادت سے محروم تھے) ہراول دستے کے طورپردوسوشہ سواروں کے ہمراہ ’’غمیم‘‘ تک پہنچ چکے ہیں۔اِس خبرکے سنتے ہی آپ نے اپناراستہ بدل لیاکہ مقصودلڑائی نہیں؛ بل کہ سعادتِ عمرہ سے سرفراز ہوناتھا۔اگرآپ چاہتے تواُن کا مقابلہ کرکے بہ زورشمشیراُن سے راستہ خالی کروالیتے؛ لیکن چوں کہ آپ کا مقصد قطعاً لڑائی نہیں تھا؛ بلکہ آپ کا مقصد بیت اللہ شریف کی زیارت سے مشرف ہوناتھا؛ اس لیے آپ نے مقصدپرنظررکھتے ہوئے بذا تِ خوداپناراستہ بدل لیا۔
آج ہمیں اِس بات کاجائزہ لیناچاہیے کہ کیاہم بھی اپنے مقصدپرنظررکھ رہے ہیں؟ کیاہم بھی اپنے مقصد کے حصول کے لیے جھگڑا وفسادسے گریز کرتے ہیں؟ ہم توایسے ہیں کہ بلاوجہ اپنے بھائی کومقدمات کے گھن چکرمیں ڈال کراُس کی زندگی کے مقصدبھی اُسے محروم کردیتے ہیں۔ہم حقیقی مقصدکوچھوڑکراناکی جیت کومقصدکادرجہ دیتے ہیں۔کاش! معاہدۂ حدیبیہ کے اس واقعہ سے ہم ’’مقصدپرنظر‘‘رکھنے کا سبق حاصل کرسکیں۔
مصلحت اندیشی
آپ نے کفارقریش کے پاس سب سے پہلے یہ پیغام بھیجوایاکہ’’ ہم صرف عمرہ کی غرض سے آئے ہیں، لڑائی ہمارے حاشےۂ خیال میں بھی نہیں۔ جنگ نے قریش کی حالت زارزارکردی ہے؛ اس لیے بہترہے کہ ہم ایک مدت تک کے لیے جنگ بندی کامعاہدہ کرلیں اورمجھے عربوں کے ہاتھوں چھوڑدیں‘‘۔ یہ اِس مصلحت کے پیش نظرتھاکہ اگرایک مدت تک جنگ بندی ہوگئی تواِس طرف سے دھیان ہٹاکردعوتِ اسلام کی طرف پوری توجہ مرکوز کیجا سکتی ہے اورہوابھی یہی کہ معاہدہ کے بعدہی آپ ﷺ نے دیگربادشاہوں کے نام دعوتی خطوط لکھے۔
آج ہم اپنامحاسبہ کریں کہ کیاہمارے اندریہ مصلحت اندیشی پائی جارہی ہے؟ آج ہم صرف جوش کے ٹٹو پر سوار ہو کر نہ جانے کتنے بنتے کام بگاڑ دیتے ہیں! اورجہاں عزم وجزم کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں دُبک کربیٹھ جاتے ہیں۔ خود ہمارے ملک میں ہماری مصلحت نااندیشیوں کی کئی مثالیں موجودہیں۔ قضےۂ بابری مسجدکے سلسلہ میں ایک بات یہ آئی تھی کہ اُسے آثارِ قدیمہ کے حوالے کردیاجائے؛ لیکن مشورہ دینے والے پرہی یہ الزام دھردیاگیاکہ یہ حکومت کا پٹھوہے۔ حالاں کہ آثارِقدیمہ کے حوالے کردینے کی بات مصلحت سے خالی نہیں تھی۔ جب مسجدکی چولیں ہل گئیں تب یہ بات سمجھ میںآئی۔ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ہم اپنی کم ہمتی اوربزدلی کوضرور’’مصلحت اندیشی‘‘کانام دیتے ہیں۔ ہمیں آپ ﷺ کی اِس مصلحت اندیشی سے کچھ سیکھناچاہیے۔
صلح میں پہل
کفارِقریش کی طرف سے کسی پیش قدمی سے پہلے ہی آپ نے صلح ومعاہدہ کاپیغام اُنھیں بھجوایا۔یہ آپ ﷺ کی طرف سے دستِ صلح درازکرنے میں پہل کرنے کی ایک اعلیٰ مثال ہے____آج ہمیںیہ غورکرناچاہیے کہ کیاہم بھی کسی سے صلح کرنے میں پہل کرتے ہیں؟ آج ایسے بہت سارے نمونے ہمارے سامنے موجودہیں کہ ایک سگے بھائی کی چپقلش اپنے سگے بھائی سے برسوں سے چلی آرہی ہے۔ راہ چلتے ایک دوسرے سے منھ چراتے ہیں۔ نہ خوشی کی بزم میں شریک ہوتے ہیں اورناہی غم کی مجلس میں حاضر؛ بل کہ ایک دوجے کی دشمنی میں جلتے بھنتے رہتے ہیں۔ بہت سارے مواقع پرایک دوسرے سے بغل گیربھی ہوناچاہتے ہیں؛ لیکن مونچھ کی اکڑن اورناک کی اونچائی ایسا کرنے سے مانع بنتی ہے۔ کاش! آپ ﷺ کے اِس اُسوہ پرہم عمل پیراہوسکتے!
اہانتِ رسول پر ردعمل
جب عروہ آپ سے ہم کلام ہوئے اورعربوں کی عادت کے مطابق اثنائے کلام آپ کی داڑھی مبارک پربھی ہاتھ پھیرنے لگے تو عروہ کی اِس حرکت کوحضرت مغیرہ بن شعبہ نے جسارت اوراہانت تصورکیا اوراُن کے ہاتھ پر ٹہوکا دیا اور کہا: ’’حضور ﷺ کی داڑھی مبارک سے اپنے ہاتھ دوررکھو‘‘۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ ص کے اِس فعل سے ہمیں سبق ملتاہے کہ آپ کی شان میں ادنیٰ گستاخی بھی ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں۔ آج دشمنانِ اسلام آپ کی شان میں طرح طرح کی گستاخیاں کررہے ہیں؛ لیکن ہم اُن گستاخیوں کاجواب بجز احتجاج کے اورکسی طرح نہیں دے رہے ہیں، ہمیں احتجاج سے آگے بڑھ کرایسے قوانین وضع کرنے کامطالبہ بھی کرناچاہیے، جس میں اِس طرح کی حرکت کرنے والوں کے لیے سخت ترین سزاؤں کی تعیین ہو اور اگر طاقت ہوتواُس مرتکبِ جرم کواُسی طرح ٹہوکادینے سے گریز نہ کریں، جس طرح حضرت مغیرہ بن شعبہ نے دیا تھا۔
بُرے کی بُرائی سے آگاہی
جب مکرز بن حفص آپ کے قریب پہنچاتوآپ نے صحابہ کومخاطب کرکے فرمایا: ’’مکرزبن حفص آرہاہے، یہ بُراآدمی ہے‘‘____آپ کے اِس عمل سے ہمیںیہ درس ملتاہے کہ ہم برے شخص کی برائی دوسروں کے سامنے واضح کردیں؛ تاکہ وہ اُس کی برائی سے محفوظ رہ سکے۔آج ہمارے درمیان بہت سارے ایسے لوگ ہیں، جوبروں کی برائی سے اپنے بھا ئی کواس لیے آگاہ نہیں کرتے کہ یہ اُس کا معاملہ ہے ، وہ سمجھے، مجھے اس سے کیاسروکار؟ خصوصاً رشتوں کے معاملے میں اِس طرح کے واقعات بکثرت پیش آتے ہیں۔ آپ کے اس عمل سے ہمیں نصیحت حاصل کرنی چاہیے اوربرے کی برائی سے دوسروں کوبھی محفوظ رکھناچاہیے۔
مستقبل پر نظر
معاہدہ کی تمام شقیں بہ ظاہرمسلمانوں کے خلاف تھیں؛ لیکن آپ نے تمام کومنظورفرمایا۔ دراصل آپ کے پیش نظرمستقبل تھاکہ ایک بارمعاہدہ ہوجانے کے بعدسکون واطمینان کے ساتھ دعوتِ دین کے فریضہ کی ادائے گی کی طرف توجہ دی جا سکے گی، جس کے نتیجہ میں دیگرقبائلِ عرب کے دائرۂ اسلام میں داخل ہونے کاقوی امکان تھا۔ہوابھی ایساہی۔ مدتِ معاہدہ میں اچھے خاصے لوگ حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔
آج ہماری نگاہ کسی بھی کام میں مستقبل کے بجائے حال پرہوتی ہے۔ ہم کام کم اورنتیجہ کی فکرزیادہ اورشِتاب کرتے ہیں؛ حالاں کہ عجلت پسندی کے نتیجہ میںآراستگی کم اوراُجاڑزیادہ ہوتاہے۔کسی بھی کام کی ابتدا ہمیںیہ سوچ کرنہیں کرنی چاہیے کہ اِس کاثمرہ پیش ازپیش حاصل ہوجائے؛ بلکہ مستقبل کوسامنے رکھناچاہیے۔ اسی سوچ کے ساتھ کوئی فعل یافیصلہ کرناچاہیے کہ صلح حدیبیہ کا ایک پیغام یہ بھی ہے۔
بیوی کے درست مشورے پرعمل
جب معاہدہ کی تکمیل ہوگئی توآپ نے صحابہ سے ہدی کے جانوروں کوذبح کرنے اوراپنے سروں کے حلق کرانے کاحکم دیا۔گھٹن کی کیفیت میں مبتلاہونے کی وجہ سے کسی صحابی نے بھی جنبش نہ کی؛ حتیٰ کہ آپ نے تین مرتبہ یہی بات فرمائی۔ جب کسی نے حرکت نہیں کی توآپ حضرت ام سلمہ (رضی اللہ عنہا)کے پاس آئے اورلوگوں کے اِس ردعمل کا تذکرہ کیا۔حضرت ام سلمہ (رضی اللہ عنہا)نے فرمایا: ’’اے اللہ کے نبی! کیاآپ یہی چاہتے ہیں؟ (اگرآپ یہ چاہتے ہیں) تو نکلیے اورکسی سے ایک لفظ کہے بنااپنے ہدی کے جانور ذبح کردیجئے اورنائی کوبلواکرحلق کرواےئے‘‘۔ آپ نے حضرت ام سلمہ کے درست مشورے پر عمل کیا۔ آج ہم اپنی بیویوں کے کسی بھی مشورے کوقبول کرنے کی نگاہ سے نہیں دیکھتے؛ حالاں کہ اُن کے بہت سارے مشورے راہِ صواب کی رہنمائی کرتے ہیں۔ آپ کے اِس عمل سے ہمیںیہ درس ملتاہے کہ اپنی بیویوں کے مشورے کوبھی قدر کی نگاہ سے دیکھیں، درست معلوم ہونے پراُس پرعمل کرنے سے صرف یہ سوچ کرنہ کترائیں کہ لوگ کہیں’’جوروکاغلام‘‘نہ کہنے لگیں۔
مسلمان کی جان کی قیمت
جب آپ کویہ معلوم ہوا کہ حضرت عثمان کوقتل کردیاگیاہے توآپ نے ان کے خون کا بدلہ لینے پرصحابہ سے بیعت لی اورفرمایا: جب تک میں عثمان کے خون کا بدلہ نہ لے لوں، اُس وقت تک یہاں سے حرکت نہیں کروں گا۔ اِس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ایک مسلمان کی جان کی قیمت کیاہے؟
آج ہم اپنے معاشرہ پرنظر دوڑائیں کتنے ایسے لوگ ہیں، جوایک مسلمان کے خون کواتنی اہمیت دیتے ہیں؟ جوگھریلولڑائی کے بدلہ اپنے حقیقی بھائی کے قتل کے درپے نہیں ہوجاتے؟ جوایک مسلمان کے خون ہوجانے کی خبرسن کربے چین ہوجاتے ہیں؟ آج مختلف ممالک میں خونِ مسلم کوپانی کی طرح بہایا جا رہا ہے، کیا ہمارا دل اِس پرمچل اُٹھتاہے؟ کاش! بیعۃ الرضوان سے یہ سبق ہم سیکھ سکتے!!
محافل سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم
مولانا وقار احمد
ربیع الاول میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور قدسی ہوا ۔ اس مناسبت سے دنیا بھر میں مسلمان ربیع الاول میں میلاد النبی اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوانات سے محافل منعقد کرتے ہیں۔ ان محافل میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور کردار کو واضح کرنے کی اپنی سی سعی کی جاتی ہے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ایسی محافل بہت ہی بابرکت اور بہترین ہیں کہ ان میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک کیا جاتا ہے اور مبارک ہیں وہ قلوب جو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے لبریز ہیں۔
بلا شک و شبہ انسانیت کی معراج اور ایمان کی ابتدا و انتہا پیغمبر انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و عقیدت ہے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور ایمان باللہ آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ ارشاد ربانی ہے : وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہِ (بقرہ :۵۶۱) جو لوگ ایمان لائے ان کو اللہ سے شدید محبت ہے۔ اور محبت الٰہی کا مظہر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے۔ سورۂ آل عمران آیت نمبر ۱۳ میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کو محبت الٰہی کے لیے شرط قرار دیا ہے۔ جب اتباع پیغمبر محبت الٰہی کے لیے شرط ہے تو پھر محبت بطریق اولیٰ شرط ہو گی، کیونکہ بغیر محبت کے اتباع ممکن نہیں ہے۔
خود نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے۔ صحیحین کی روایت ہے : ’’ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کو اس کے والدین ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں‘‘۔ ایک موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کہ خدا کی قسم، تم مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ مجھے اپنے آپ سے بھی زیادہ محبوب نہ رکھو۔
قرآن نے ایسے رویے اور انداز سے سختی کے ساتھ مسلمانوں کو منع کیا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ومرتبہ اور تعظیم کے منافی ہو اور ایسا رویہ اختیار کرنے والوں کو کم عقل اور بیوقوف قرار دیا ہے۔ ( الحجرات: ۴، ۵)
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت جزو ایمان ہے تو پھر اس کا اظہار اور ذکر بھی لوازمات ایمان میں سے ہے، اس لیے ایسی تمام محافل بابرکت ہیں جو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی مناسبت سے قائم کی جائے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ان محافل اور مجالس سے مطلوبہ مقاصد و اہداف حاصل کرتے ہیں؟ کیا ان کے انعقاد کے لیے کوئی عظیم مقصد پیش نظر ہوتا ہے یا محض رسم زمانہ پوری کی جاتی ہے؟ کیا ان کے انعقاد کا طریق کار اسوہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہے؟ کہیں یہ مسلمانوں میں انتشار پھیلانے اور اپنے جتھے کو مضبوط کرنے اور جماعتی نمائش کے لیے تو منعقد نہیں ہوتی ہیں؟ کیا یہ محافل ہماری اجتماعی اور مجلسی قوتوں کو ضائع کرنے کا سبب تو نہیں بن رہیں؟
ان مجالس کا مقصد واحد اسوہ حسنہ کا بیان ہونا چاہیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی کا تذکرہ ہونا چاہیے اور ایک مسلمان کی زندگی میں نبی معلم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا عملی نمونہ پیدا کرنے کی سعی وجہد ہی ان مجالس کا مقصد وحید ہونا چاہیے۔ اسی کی طرف قرآن رہنمائی کرتا ہے: لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ (الاحزاب: ۱۲) ’’بے شک تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اتباع کا بہترین نمونہ ہے۔‘‘ اگر اس مقصد کے تحت ان مجالس کو منعقد کیا جائے تو بلا شک و شبہ یہ مسلمانوں کے لیے فلاح دارین کا ذریعہ ہیں، مگر ہمارے ہاں یہ مقصد فوت ہو گیا ہے اور یہ مجالس محض رسم بن کر رہ گئی ہیں۔
ان مجالس کے انعقاد کے طریقہ کار پر نظر ڈالی جائے تو یہ کسی بھی صورت نبوی منہج سے میل نہیں کھاتیں۔ ان کے انعقاد کے لیے وسائل کی فراہمی میں حلت و حرمت سے بے توجہی، ساری رات محفل میں شرکت اور ترک فرائض، اسپیکر کا استعمال اور احترام انسانیت کا فقدان، کوئی بھی چیز تو اسوہ نبوی سے مناسبت نہیں رکھتی۔
مجالس میں بیان ہونے والے مواد کی حالت اس سے بھی زیادہ ناگفتہ بہ ہے۔ روایات ضعیفہ اور قصص موضوعہ سے تقاریر کو لچھے دار بنایا جاتا ہے۔ ان روایات کی صحت و عدم صحت پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی اور نہ اس بات پر توجہ دی جاتی ہے کہ یہ ہمارے مقاصد سے کس قدر مناسبت رکھتی ہیں۔ پیشہ ور مقررین اور نعت خوانوں کے پیش نظر تو کوئی بڑا مقصد ہوتا ہی نہیں۔ وہ محض گرمی محفل کے لیے یہ قصے بیان کرتے اور اپنے پیٹ کا دھندہ چلاتے ہیں۔ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم اسوہ حیات اور مقاصد بعثت کو چند قصص کے بیان پر قربان کر دیا جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم اسوہ پر محیر العقول قصص کا پردہ ڈال کر مسلمانوں کو عملی زندگی سے دور کر دیا جاتا ہے۔ قرون اولی کے مسلمانوں کی عظیم کامیابیوں کو کرامات کا حاصل قرار دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی خطیب ان خرافات کے بیان سے گریز کرے گا تو وہ مسلمانوں کے چند باہمی جزوی اختلافات کے بیان میں تمام قوتیں صرف کر دے گا اور محافل سیرت کو مسلمانوں کے مابین انتشار اور افتراق کا سبب بنا دے گا۔ اگر ان محافل کے انعقاد میں اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ملحوظ رکھا جائے اور مواد بیان کو حیات رسول کے مستند بیان تک محدود کر دیا جائے تو ان سے مسلمان بحیثیت مجموعی عظیم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ محافل مسلمانوں کی بہت بڑی اجتماعی قوت بن سکتی ہیں، اگر ان کو بامقصد بنایا جائے۔ مگر ہم اس وقت اس قوت کو ضائع کر رہے ہیں۔
ربیع الاول میں انتہائی جوش وخروش سے جشن آمد رسول منایا جاتا ہے۔ تمام انسانیت کے رہبر و رہنما کی پیدائش پر خوشی کا اظہار بجائے خود ایک اچھی بات ہے۔ مگر واضح رہے کہ ربیع الاول ہمارے لیے خوشی کا پیغام اس لیے تھا کہ اس مبارک ماہ میں وہ عظیم انسان آیا جس نے ظلم وجبر کے ماحول کو یکسر ختم کر دیا، اخوت اور بھائی چارے کی فضا کو عام کیا اور بندوں کو بندوں کی بندگی سے نکال کر ایک خدا کی بندگی میں دیا۔ کس قدر مقام تعجب ہے کہ آج ہم اس کی آمد کے مقصد کو یکسر نظر انداز کر کے اسی کی آمد کے جشن مناتے ہیں۔ نتیجتاً ہم دنیا میں غلاموں کا ایک ریوڑ بن چکے ہیں۔ ہمارے دل توحید کی لذت سے ناآشنا اور اعمال الٰہی نور سے محروم ہو چکے ہیں۔ دنیا ہمیں ستانے کے لیے ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرتی ہے اور ہم احتجاج و جشن منانے کے مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ مسلمان اپنی حیات اجتماعی میں اسوہ رسول کو زندہ کرتے اور پھر جشن مناتے تو دنیا میں کامیاب و کامران ہوتے۔ تب دنیا کے کسی رزیل کو ان کے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔
ہماری ان محافل سیرت و میلاد پر مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا تبصرہ کتنا جامع ہے۔ فرماتے ہیں: مروجہ سیرت کانفرنسیں امت کے لیے زہر کی میٹھی گولیاں ہیں۔
دو ہفتے پاکستان میں
مولانا محمد عیسٰی منصوری
بندہ تقریباً چار پانچ سال سے پاکستان نہیں جا سکا تھا۔ وجہ پاکستان کے دھماکہ خیز حالات، بدامنی، دہشت گردی، علاقائی ولسانی جھگڑے۔ ان چیزوں نے ملک کو کسی علمی، دینی، اصلاحی کام کے لیے ناساز گار بنا دیا ہے۔ دوسرے، بھارت و پاکستان کے درمیان کشیدگی وبے اعتمادی۔ دونوں طرف ایک چھوٹا سا طبقہ ہے جو نہایت طاقتور ہے اور وہ حالات کو بہتر ہوتے نہیں دیکھ سکتا اور بڑی عالمی طاقتوں کا مفاد بھی دنیا بھر کے ممالک و قوموں کے لڑانے میں ہے۔
بندہ نے ۲۰۱۱ء کے اواخر میں اس خیال سے ویزا لے لیاتھا کہ رائے ونڈ کے سالانہ تبلیغی اجتماع میں شرکت کرسکا تو چلا جاؤں گا۔ بھارت میں تقریباً سارے ہی احباب کایہی کہناتھا کہ آپ ہرگز نہ جائیں، اس لیے بندہ سفر کے متعلق شش وپنج میں تھا، کوئی فیصلہ نہیں کرپارہاتھا۔ اسی کشمکش کے عالم میں ۱۹ ؍ نومبر کو دہلی سے بذریعہ پی آئی اے لاہور روانہ ہوگیا۔ جہاز تقریباً دوگھنٹہ لیٹ چلا۔ رات تقریباً ۹بجے لاہور ائیر پورٹ پر حسب معمول جامعہ مدنیہ جدید سے مولانا محمود میاں دامت برکاتہم کی گاڑی موجود تھی جو وہاں ہمیشہ میرے میزبان رہے ہیں۔ ۱۰ بجے رات جامعہ مدنیہ پہنچ کر مولانا کے دولت کدہ پر آرام کیا۔ صبح میرے شیخ حضرت شاہ نفیس رقم ؒ کے خادم خاص جناب رضوان نفیس اپنے رفقا کے ساتھ تشریف لائے۔ میر ے ذہن میں کوئی مرتب پروگرام نہیں تھا۔ صرف احباب،دوستوں،اکابرین سے ملاقات اور کتابوں کی تلاش کا سوچاتھا۔ من جانب اللہ خود بخود اس طرح پروگرام بنتا گیا کہ شایدہم خود نہیں بناسکتے تھے۔ احباب کے اصرار پر سفر کے مختصرحالات نہایت اختصار سے پیش خدمت ہیں۔
یہ ہمارے دور کی بدنصیبی رہی ہے کہ کسی بڑی شخصیت کے بعد ان کا کام اور روحانی سلسلہ اختلاف کا شکار ہوجاتا ہے۔ حضرت (شاہ نفیس رقم ؒ ) کے بعد یہی صورتحال پیش آئی۔ حضرت کی خانقاہ ومزار پر حاضری پہلی خواہش تھی۔ وہاں حضرت کے جانشین وپوتے جناب زید نفیس صاحب کے علاوہ دونوں گروپوں کے ذمہ دار رضوان صاحب اور جناب اشعر صاحب موجود تھے۔ بندہ نے تفصیل سے عرض معروض کی اور زور دیا کہ خانقاہ سید احمد شہیدؒ کوذکر وفکر اور تعلیم و تعلّم سے آباد کرنے کی طرف خاص توجہ دیں۔ یہ خانقاہ حضرتؒ کی امیدوں کا مرکز اور زندگی بھر کی محنت کا ثمرہ ہے۔ حضرت کے آخری برسوں میں بے شمار لوگ یہاں سے مستفید ہوئے۔ آپ دونوں حضرات براہ راست ایک دوسرے سے ملیں اور خانقاہ کو علم وذکر سے آباد کرنے کے لیے منصوبہ بنائیں۔ ہر جگہ درمیانی واسطے ہی فساد اور خرابی کا باعث بنتے ہیں۔ آپ دونوں کو ایک دوسرے سے جوبھی شکایتیں ہوں، براہ راست گفتگو کریں۔ الحمد للہ دونوں حضرات اس پر آمادہ نظر آئے۔ اللہ کرے دونوں احباب شیر وشکر ہوکر خانقاہ ومدرسہ کی آباد کاری کرسکیں اور یہاں سے حضرت کا فیض جاری وساری رہے۔ پورے ملک میں ہر جگہ حضرت ؒ کے وابستگان نے بندہ کے ساتھ جس طرح شفقت ومحبت،اکرام واعزاز کا معاملہ فرمایا، واقعہ یہ ہے کہ بندہ اس کا ہرگز مستحق نہیں ہے۔ بندہ ہر جگہ عرض کرتارہا کہ بھائی میں پیر نہیں ہوں، مجھے پیر نہ بنائیں۔ میں دین و ملّت کے کچھ اور ہی شعبوں میں کوشاں ہوں، ا س لیے خدارا مجھ سے پیر جیسا معاملہ نہ کریں۔ حضرت ؒ کے روحانی جانشین اور پوتے جناب زید نفیس صاحب ابھی کم عمر ہیں، مگر لگتاہے حضرتؒ کی دعاؤں کے طفیل اللہ تعالیٰ نے صفات قبولیت سے نوازدیاہے۔ بندہ نے ان کو تفسیر، حدیث، فقہ، سیرت، تاریخ پر گہرے مطالعے کا مشورہ دیا اور رفیق محترم جناب مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم کو مکلف کیا کہ ان کے لیے ایک جامع نصاب تیار کریں۔
لاہور میں جہاں میر اقیام تھا، اس سے چند کلومیڑ کے فاصلے پر رائے ونڈ کا سالانہ عظیم الشان اجتماع ہورہاتھا۔ آج کل مجمع کی کثرت کی وجہ سے یہ اجتماع تقریباً پورے عشرے کا ہوتا ہے۔ پہلے جمعہ،ہفتہ، اتوار کو ملک کے آدھے حصہ کا جوڑ، درمیان میں چار پانچ دن مذاکرے اور مشورے، پھر اگلے جمعہ،ہفتہ، اتوار کو باقی آدھے حصے کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ یہ حج کے بعد شاید دنیا میں سب سے عظیم الشان دینی ودعوتی اجتماع ہے۔ بندہ نے ازدحام سے بچنے کے لیے درمیانی دن میں حاضری دی۔ تمام بزرگوں اور دہلی، رائے ونڈاور دنیابھر کے احباب سے اطمینان سے مل سکے۔
واقعہ یہ ہے کہ تقریباً ایک صدی سے تبلیغی جماعت کی بدولت بر صغیر میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ ہوئی، عوام کا دینی واسلامی ذہن بنا، اسلامی تمدن ومعاشرت، مکاتب ومدارس خانقاہوں کو بے انتہا فائدہ پہنچا۔ حضرت مولانا الیاس کی شروع کردہ محنت کے سبب دین کے تمام شعبوں کو پانی پہنچا اور ا یہ ن کی تقویت وسرسبزی کا ذریعہ بنی، مگر آج کل یہ دیکھ کرافسوس ہوتاہے کہ کچھ عرصہ سے ایک خاص قسم کے مفاد پرست تنگ ذہن لوگ جنہیں بندہ اپنی اصطلاح میں ’’بنیا ذہن‘‘ کہتا ہے، ہر جگہ غلبہ پاتے جا رہے ہیں اور بہت سی جگہوں پر یہ لوگ دین کے دیگر شعبوں کے حریف بنتے جارہے ہیں۔ بندہ کو مولانا سعد صاحب سے بڑی توقعات تھیں، مگر کچھ عرصہ سے جو احوال سامنے آرہے ہیں، یہ توقع بھی ختم ہو گئی ہے۔ خداکرے، تبلیغ کاکام دوبارہ حضرت جی مولاناالیاسؒ اور حضرت مولانامحمد یوسف ؒ کے نہج اور طرز پرآجائے۔ بہرحال، ایک دن رائے ونڈ میں ملاقاتوں کے لیے رکھا تھا۔ صبح مولانا محمود میاں دامت برکاتہم نے گاڑی اور رہبرکاانتظام کردیا۔ رائے ونڈحاضر ی پر دنیابھرسے آئے ہوئے احباب سے اور خاص طور پر بھارت سے آئے ہوئے پندرہ بیس احباب اور انگلینڈکے دوستوں سے ملنا ہوا۔ بھائی عبدالوہاب صاحب (جوپاکستان میں تبلیغ کے روح رواں ہیں) کے ذہن وفکرپر ہمیشہ سے دعوت کا غلبہ رہاہے۔ اب وہ اس حالت میں ہیں کہ ان کی بات بھی بمشکل سمجھ میں آتی ہے۔ ان کی انتہائی نقاہت وکمزوری دیکھ کرصدمہ ہوا، مگر جوش اب بھی جوانوں کا ساہے مگر اب ان کی باتوں میں تبلیغ کے متعلق غلوصاف نظر آنے لگاہے۔ فرمایا، علمائے کرام کام (تبلیغ) کی طرف توجہ نہیں فرمارہے ہیں۔ بندہ نے عرض کیا، علما کو اپنا کام کرنے دیں۔ وہ آپ ہی کا کام کررہے ہیں۔ سب علماء کویہاں بلا کر کیا کرنا ہے؟ آپ کے پاس ایسے لوگ کتنے ہیں جو علماء کو سنبھال سکیں؟
حضرت جی مولانا یوسفؒ کو ایک بار ٹرین کے سفر میں کانپور اسٹیشن پر حضرت مفتی محمود الحسن گنگوہیؒ نظر آئے۔ فوراً آدمی دوڑا کر بلایا اور دو تین مسئلے جو اسی سفر میں پیش آئے تھے، دریافت کیے۔ پھر حسب عادت تبلیغ کے لیے وقت مانگا۔ مفتی صاحب ؒ نے فرمایا، اچھا، اب اپناکام نکلنے کے بعد تشکیل کرتے ہو! کچھ مولویوں کوچھوڑدیناچاہیے تاکہ بوقت ضرورت آپ کو مسئلہ بتاسکیں۔ جہاں تک تبلیغ کاکام ہے وہ ہم اپنے حصے کا پہلے ہی کرچکے ہیں۔ وہ اس طرح کہ طالب علمی کے زمانے میںآپ کی ساری توجہ مطالعہ و تحقیق، تصنیف وتالیف کی طرف تھی اور تبلیغ کے کام سے آپ گریزاں تھے۔ اس لیے حضرت مولانا الیاسؒ آپ کے بارے میں بہت فکرمند رہاکرتے تھے، چنانچہ حضرت مولانا الیاس ؒ نے یہ ڈیوٹی ہماری لگائی تھی کہ ہم کوشش کرکے آپ کو تبلیغ میں لگائیں۔ ہم نے محنت و کو شش کر کے حضرت مولاناالیاسؒ کا دیاہواکام پوراکردیا یعنی آپ کو تبلیغ میں لگادیا۔ اب آپ جانیں اور آپ کی تبلیغ! ہمیں حضرت مولانا الیاس ؒ نے جوکام سونپاتھا، وہ ہم پوراکرچکے ہیں۔
واقعہ یہ ہے کہ علمائے کرام عام طورپر صرف ان اہل علم سے متاثرہوتے ہیں جنہیں تقویٰ وتعلق مع اللہ کے ساتھ رسوخ فی العلم بھی حاصل ہو نہ کہ کارگزاریوں کے نام پرکارناموں کی لا طائل داستانو ں سے۔ رفیق محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب ہر سال رائے ونڈ کے سا لانہ اجتماع کے موقع پر ایک دن کے لیے رائے ونڈ ضرور پہنچتے ہیں۔ کہنے لگے، گزشتہ رات گھنٹہ بھر بھائی عبد الوہاب صاحب کا بیان پوری توجہ سے سننے کی کوشش کے باوجود ایک لفظ سمجھ میں نہیں آسکا۔ بد قسمتی سے ہمارے تقریباً تمام ہی دینی شعبوں اور تنظیموں سے ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر ہی نہیں۔ جو جس جگہ گدی نشین ہوگیا، اب موت ہی اس کو ہٹاسکتی ہے، اس لیے سیکنڈ لائن (صف ثانی) کہیں تیار نہیں ہو رہی ہے او ر ہر حضرت کے بعد زبردست خلا اور قحط الرجال کا واویلا اور رونا رہتا ہے۔ گزشتہ دنوں ’’شرح ثمیری علی القدوری‘‘ کے مصنف مولاناثمیرالدین قاسمی (مقیم یوکے) نے بتایا کہ بھارت کے سفر میں ایک بہت بڑے مدرسے میں، جس کا شمار اُمّ الدارس میں ہوتاہے، ایک بزرگ استاذ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے۔ وہ عالمِ دین عمر کے اس حصہ میں ہیں کہ نہ بول پاتے ہیں نہ ان کی پوری بات سمجھ میں آتی ہے۔ ترمذی کادرس تھا۔ ایسی متعدد جگہوں پر جہاں طلبہ کو سمجھانے کی ضرورت تھی، طلبہ لفظی ترجمہ کرتے ہو ئے گزررہے تھے۔ کبھی کبھار حضرت ایک آدھا فتحہ فرمادیتے جو مجھے بالکل سمجھ نہیں آیا۔ ہم یہ کیوں نہیں کرتے کہ ایک عالم دین کی زندگی بھر کی علمی خدمت کی قدر دانی کے طورپر آخری عمر میں انہیں پڑھانے کی ذمہ داری سونپے بغیر اعزاز کے ساتھ تنخواہ دیں؟ اگر انہیں پڑھانے کا بہت ہی ذوق و شوق ہوتو چند باصلاحیت علماء ان سے استفادہ کریں۔ طلبہ کا حق کیوں مارا جائے اور ایک عالم دین کو روزی روٹی کے لیے کیوں اخیر وقت تک گھسٹ گھسٹ کر کام کرنا پڑے؟ اخیر عمر میں دنیاوی تعلیم گاہوں میں اعزاز کے ساتھ یکمشت رقم اور تاحیات پنشن دی جاتی ہے۔ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین اپنی بھر پور قوت کے زمانہ میں رخصت ہوگئے۔ انہیں اس سلسلے میں اسوۃ حسنہ قائم کرنے کاموقع نہ مل سکاتو آج کے اکابرین بعد والوں کے لیے نمونہ قائم کر دیں۔
تبلیغی جماعت میں میر ے عزیر دوست مولانا فاروق صاحب (کراچی)مقیم سعودی عرب بڑی صفات کے مالک ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ حضر ت مولانا سعید احمد خان ؒ کے بعد عربوں کو اگر کو ئی شخص متاثر کر سکااور عرب علماء وعوام جھنڈ کے جھنڈ کسی کے گر د جمع ہوئے تو وہ صرف مولانا فاروق صاحب ہیں۔ انہیں جیسے ہی بندہ کے پاکستان آنے کی اطلاع ہوئی، دیوانہ وار قیام گاہ(جامعہ مدنیہ جدید) پہنچے۔ میں لیٹ گیاتھا۔ کسی نے کہہ دیا کہ سوگیاہے۔ وہ واپس ہوگئے۔ دوسری رات ۱۲ بجے کے قریب دوبارہ پہنچے۔ دل کھول کربات چیت ہوئی۔ ان کی دعوتی دیوانگی کی وجہ سے فون پر رابطہ نہیں ہوپاتا۔ اللہ کرے، پاکستان کے اہل تبلیغ اب بھی ان کی صحیح قدردانی کرلیں۔ مولاناطا رق جمیل صاحب کے ساتھ اہل رائے ونڈ کا روّیہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ماڈل ٹاؤن لاہور میں تقریباً ان سے گھنٹہ بھر ملاقات اور گفتگو رہی ۔ وہ بھی حضرت شاہ نفیس رقم ؒ کے مجاز ہیں۔ گویا اس نسبت سے بندہ کے پیر بھائی ہوئے اور حضرت کی خانقاہ کے نظام تعلیم کے ذمّہ دار بھی۔ اس سفر میں فیصل آباد میں ان کے مدرسہ میں جانے کا موقع ملا۔ وہاں کی تعلیم میں دعوتی ذہن کے ساتھ عربی زبان پر قدرت امتیازی چیز ہے۔
لاہور کا سب سے بڑا مدرسہ جامعہ اشرفیہ ہے۔ حضرت مولانافضل الرحیم صاحب دامت برکاتہم لندن میں دعوت دے کر آئے تھے۔ حضرت نے بنفس نفیس جامعہ کا تفصیلی معائنہ کروایا۔ وہاں کا نظام تعلیم اور کام دیکھ کر بڑی مسر ت ہوئی۔ جامعہ اشرفیہ پنجاب کی سب بڑی اسلامی یونیورسٹی ہے۔ یہاں دینی شعبوں کی اعلیٰ تعلیم(اختصاص) کے ساتھ ساتھ عصری ضرورتوں پر بھی کماحقہ توجہ دی جارہی ہے۔ کمپیوٹر، انگریزی بحیثیت زبان، عصری موضوعات پر افراد کی تیاری وغیرہ۔ مولانا فضل الرحیم صاحب کی جدیدطرز کی خانقاہ دیکھ کربڑی خوشی ہوئی۔ بندہ نے عرض کیا کہ آج ایسی ہی خانقاہوں کی ضرورت ہے۔ بندہ بھی کوشش کرے گا کہ انگلینڈسے ذکر فکر اور ترتیب کے لیے علماء و طلبہ کو بھیجا جائے۔ دوپہر کا کھانا جامعہ اشرفیہ کے ایک استاذ کے گھر تھا، نہایت پر تکلف۔ خاص بات یہ ہوئی کہ حضر ت مولانا عبد الرزاق اسکندر دامت برکاتہم مہتمم جامعہ بنوری ٹاون اور چند دیگراہم علماء کرام بھی کھانے میں ساتھ تھے ۔
حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب مد ظلہ مہتمم جامعہ خیر المدارس ملتان اور ناظم وفاق المدارس نے اپنے لاہور کے سنٹر غالباً الخیر فاؤنڈیشن میں استقبالیہ دیا۔ یہ سنٹر نہایت خوشنما، جدید ضروریات سے آراستہ، عصری سہولیات اورتقاضوں کے اعتبار سے تیار کیا جا رہا ہے جہاں عصری موضوعات پر علماء کرام کو تیاری کرائی جائے گی۔ عصری چیلنجزسے نبرد آزما ہونے کے لیے ٹریننگ دی جائے گی۔ مولانا جالندھری دامت برکاتہم نہایت فعال، زیرک اور عصری شعور رکھنے والی شخصیت ہیں۔ بعض قدامت پسند بزرگوں کی وجہ سے سنبھل کر اور آہستہ آہستہ کام کر رہے ہیں، لیکن ان کے مستقبل کے منصوبے نہایت وسیع ہمہ گیر ہیں۔ فرمانے لگے کہ ہمارا رخ بھی اسی طرف ہے جس طرف آپ متوجہ کرتے رہے ہیں۔ اللہ کرے، مولانا کی کاوشیں بار آور ہوں۔
جامعہ مدنیہ قدیم کریم پارک کے مہتمم حضرت مولانا رشید میاں دامت برکاتہم نے بندہ کو لاہور اور اطراف کے اکابر علماء ومشائخ سے ملانے کے لیے تقریباً پچاس ساٹھ اہم شخصیات کو کھانے پر مدعو کیاوہاں انگلینڈ۔ کے بندہ کے کرم فرماحضرت مولانا جسٹس خالد محمود بھی تھے۔ بندہ نے دل کھول کر گفتگو کی۔ اندازہ ہوا کہ ہمارے بہت سے اکابر اور بزرگ حالات کی سنگینی،دینی شعبوں کی در ماندگی اور ان کے دن بدن غیر موثرہونے سے فکر مند اورپریشان ہیں۔ متعدد اکابر علماء اور بزرگوں نے اپنی پریشانی اور خدشات کا اظہار کیا۔ بندہ نے عرض کیا کہ دو باتیں نہایت تشویشناک ہیں: (۱) عوام علماء کرام سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ (۲)ہمارا فکری دائرہ سکڑتاجارہاہے یعنی پوری انسانیت اور پوری ملت کے بجائے ہماری سوچ وفکر کی حدوداپنا ملک،علاقہ، طبقہ بلکہ اپنے ا پنے ادارہ و تنظیم تک محدود ہوتی جارہی ہے۔ کچھ علماء تو ایسے ہوں جو پوری ملت اسلامیہ کواپنا جامعہ و ادارہ اور ملت کے مختلف طبقات( علماء کرام، جدید تعلیم یافتہ طبقہ، تاجر، کاشتکار، مزدور، طلبہوغیرہ)کو اپنی کلاسیں سمجھ کر ان سب کے لیے لائحہ عمل تیار کریں۔ ہمارے اکابرین نے انگریز سے لڑکر ہمیں سیاسی آزادی دلوائی تھی، مگر ہم دوبارہ مغرب کے ہمہ جہت(سیاسی، عسکری، معاشی ،تہذیبی ،عملی فکری) غلام بن چکے ہیں۔ اب ایک اور جنگ آزادی لڑنی ہوگی، ورنہ دن بدن ہم بے بس ہوکر حالات کے سامنے سپر اندازہوتے جائیں گے۔
تنظیم اسلامی کے ڈائریکٹرو امیر جناب مولاناعاطف صاحب نے (جو مشہور مفسر قرآن جناب ڈاکٹر اسرار احمدصاحب کے صاحبزادے اور جانشین ہیں) اپنے سنٹر میں اپنے مخصوص رفقا کے ساتھ استقبالیہ دیا۔ بندہ کے ساتھ جناب رضوان صاحب اور جناب ڈاکٹر عبدالماجد صاحب (شعبہ عربی، پنجاب یونیورسٹی) اور چند احباب تھے۔ تقریباً دو گھنٹہ باہمی گفتگو وتبادلہ خیالات رہا۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ڈاکٹر صاحبؒ کے بعد آپ کا مشن جاری وساری ہے۔ یہ معلوم کرکے بھی مسرت ہوئی کہ جناب عاطف صاحب نے اہل حق کے ایک سلسلہ میں بیعت بھی کرلی ہے۔ دعاہے کہ ڈاکٹر اسرار صاحب ؒ کے قرآن سمجھانے او رپھیلانے کا مشن اسی طرح ترقی کرتارہے۔ بندہ نے دیکھا کہ لاہور میں متعدد نوجوان علماء جدید شعبوں میں قابل قدر کام کررہے ہیں۔ ان میں ایک جناب رضا علی صاحب انٹرنیٹ کے ذریعے ایک ادارہ نافع برائے اسلامیات و اقتصادیات گلبرگ لاہور کے ذریعے تاجروں کی دینی رہنمائی کے لیے اہم کام کررہے ہیں۔ اسی طرح جناب ڈاکٹر عبد الماجد صاحب و غیرہ بھی دینی کاوشوں میں مصروف ہیں۔ کالج و یونیورسٹیوں کے طلبہ بڑی تعداد میں دین کی طرف راغب ومتوجہ ہو رہے ہیں۔ اقبال نے کہاتھا:
مسلماں کو مسلماں کردیا طوفانِ مغرب نے
واقعہ یہ ہے کہ مغرب کے استحصالی حربے، مسلمانوں کے ساتھ مسلسل نا انصافیاں، افغانستان، عراق، بوسنیا میں مظالم، اب شام میں اہل سنت کے متعلق مغرب کی منافقت نے نئی نسل کے سامنے مغرب کی اسلام دشمنی الم نشرح کردی ہے اور مغرب کی انسانیت دوستی،انسانی حقوق،مساوات و انصاف کی حقیقت کھول دی ہے اور نئی نسل کو اللہ ورسول کے دامن میں پناہ لینے پر مجبور کردیاہے۔ کاش علماء کرام اس نادر موقع سے فائدہ اٹھاکر ان کی صحیح ومثبت رہنمائی کرسکیں اور انہیں ردّعمل کے طور پر انتہاپسندی کی طرف جانے سے روک سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عرب علما اور اخوان نے جس طرح دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف علمی وفکری کام کیاہے، وہ برصغیر میں نہیں ہوسکا۔ عرب ممالک کے حالیہ انقلابات میں وہاں کے تمام طبقات،تاجر، کاشتکار، ملازم پیشہ، جدید تعلیم یافتہ، مزدور حتٰی کہ اقلیتیں تک ان کے ساتھ میدان میں نکل آئیں جبکہ پاکستان میں افغانستان پر امریکی یلغار کے وقت جب دینی جماعتیں باہر نکلیں تو ان کے ساتھ صرف مدرسوں کے طلبہ اور کچھ دینی کارکن نظرآئے۔ شاید اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ نصف صدی میں عرب ممالک کی دینی جماعتوں (علماء و اخوان) وغیرہ نے کبھی عوام سے پیسہ اور چندہ نہیں مانگا بلکہ اپنی آمدنی کا پانچواں، چھٹا، ساتواں، آٹھواں حصہ حسب توفیق غریبو ں اور خدمت خلق کے کاموں میں خرچ کیا۔ ان کے رہنما ہمیشہ غریبوں میں رہے۔ ہمارے ہاں یہ صورت حال ہے کہ پیر ومشائخ ہوں یا مہتمم صاحبان یا تبلیغی امرا و اکابر، سب اہل ثروت میں گھرے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، غریب آدمی سے ملنے اور ان سے بات کرنے کے لیے کم ہی وقت نکال پاتے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم آج ہندو پنڈتوں کی طرح دان دکھشنا(زکوٰۃ ،صدقات، ہدایا) پر راضی ومطمئن اور قانع ہوچکے ہیں۔ ملک کانظام اجتماعی تمام شعبے یہودونصاریٰ (مغرب) کی تیار کردہ قوتوں کے حوالے کردیے ہیں۔ ہمیں بس دان دکھشنا دیتے جاؤ، باقی ملک کو جس طرح چلاؤ ہمیں سروکارنہیں۔ اس ذہن کے ساتھ نہ ملک میں ترقی وتبدیلی لائی جاسکتی ہے نہ د ین کا غلبہ ہوسکتاہے۔
لاہور میں مشہور نقشبندی بزرگ جناب مقبول احمد نقشبندی دامت برکاتہم ملنے کے لیے تشریف لائے۔ کئی گھنٹے نشست رہی۔ آپ سلوک واحسان کی راہ سے بڑا کام کررہے ہیں۔ آپ کی جدوجہد مشرق بعید (انڈونیشیا، ملائشیا وغیرہ) تک وسیع ہے۔ بندہ ان کی سادگی و انکساری، شفقت ومحبت اور دینی تمام شعبوں کی قدردانی سے بہت متاثر ہوا، جبکہ سال گزشتہ بھارت میں ایک پاکستانی نقشبندی بزرگ برکۃ العصر و قطب الاقطاب بن کر نازل ہوئے اور پروپیگنڈے کی بھرمارسے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق نظر آیا۔
بندہ کے سفر پاکستان کا ایک بنیادی مقصد کتب کی تلاش تھا، خاص طور پر ایسی کتب جن سے معلوم ہو کہ آج عالمی دجّالی قوتیں پوری انسانیت بالخصوص ملت اسلامیہ کو کنٹرول اور بے بس کرنے کے لیے کیا کیا منصوبے (علمی، فکری، تبذیبی، عسکری، سیاسی) بنا رہی ہیں۔ دنیا میں قومیں ر یسرچ وتحقیق کی بدولت ترقی کرتی ہیں۔ آج مغربی اقوام اپنی قومی آمدنی ((GDPکا چار سے چھ فیصد ریسرچ وتحقیق پر خرچ کرکے پوری دنیا کو غلام بناچکی ہیں۔ ایک اسکالر پندرہ بیس سال جان توڑ محنت کرکے کسی موضوع پر ریسرچ کرتاہے، پھر کوئی تصنیف وجود میں آتی ہے۔ عرب علماء کی ذہنی بیداری کے سبب ایسی تحقیقی کتب جلدی عربی میں ترجمہ ہو جاتی ہیں جبکہ اردو میں بہت ہی کم کتب کا طویل عرصہ کے بعد تر جمہ ہوپاتاہے، وہ بھی جدید تعلیم یافتہ کچھ باذوق افراد کرتے ہیں۔
بندہ اپنے کرم فرمامولانا مسعود میاں صاحب کے ہمراہ انار کلی کے اردو بازار میں خاک چھانتارہا۔ ہمارے دینی مکتبے فضائل ومسائل، درسی کتب کی شروحات، مواعظ وملفوطات، سوانح، عقائد وقصص کی کتب سے بھرے پڑے ہیں، ریسرچ وتحقیق برصغیر سے تقریباً رخصت ہوچکی ہے۔ خاص طور پر عصر حاضر میں انسانیت کو درپیش مسائل و چیلنجز کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہورہا۔ یہ سارے میدان کا فروں کے لیے مختص ہیں۔ بقول ایک ایرانی شاعر:
اے فرنگی ما مسلمانیم،جنت مالِ ماست
درقناعت حور و غلمان نازونعمت مالِ ماست
اے فرنگی اتفاق وعلم وصنعت مالِ تو
عدل و قانون ومساوات وعدالت مالِ تو
شغل عالم گیری وجنگ وجلالت مالِ تو
اس سفر میں ایک دن کے لیے حضرت شاہ عبد القادر رائے پوری ؒ کی بستی ڈُھڈیاں ضلع سرگودھامیں بھی حاضری کا موقع ملا جہاں حضرت رائے پوری ؒ آرام فرماہیں اور آپ کے خاندان کے لوگ آباد ہیں۔ ڈھڈیاں نہایت ہی پرسکون، پرفضا بارونق، بر لبِ نہر ایک نہایت چھوٹی بستی ہے۔ دل چاہا کہ چند دن دنیا کے جھمیلوں سے ہٹ کر یہیں رہ پڑیں۔ حضرت کے موجودہ جانشین اور مدرسہ کے ذمہ داروں سے ملاقات ہوئی۔ بندہ کے ساتھ نہایت ہی محبت شفقت اعزازواکرام کا معاملہ فرمایا۔ حضرت رائے پوری ؒ کے مزار پر دیر تک سوچتا رہا کہ حضرت نہ مقرر تھے نہ مصنف، لیکن برصغیرکے دور آخرکے اکابرثلاثہ میں شمار ہے۔ تعلق مع اللہ، ملت کا درد وغم، وسعت ظرفی کی بدولت کیاکچھ کرگئے۔ جو درِ دولت پر پہنچ گیا، اس کے دل کی دنیاآباد ہوگئی۔ آج سب کچھ ہے، بڑے بڑے شاندار جامعات، ہزاروں لاکھوں کے اجتماعات، شعلہ بیان مقررین، تک مگردلوں کی بستی ویران۔
ایک دن کے لیے رفیق محترم مولانا زاہدالراشدی صاحب دامت برکاتہم کے ہاں گوجرانوالہ جانا ہوا۔ بندہ کے ساتھ کرم فرما رضوان نفیس صاحب، جناب عبدالماجدصاحب بھی تھے۔ مولانا نے الشریعہ اکیڈمی میں اجلاس رکھا تھا۔ تھوڑے وقت میں شہر واطراف کے چیدہ چیدہ لوگوں سے ملاقات ہوگئی۔ بندہ نے عصر حاضر کے مسائل پر گفتگو کی۔ معلومات کی حد تک برصغیر کے علماء میں مولانا زاہدالراشدی ایسی شخصیت ہیں جن کی تحریریں نئی نسل کے لیے شعور وآگہی اور راہِ عمل فراہم کرتی ہیں۔ مولانا راشدی صاحب کی سادگی، انکساری، تواضع لوگوں کے لیے حجاب بن گئی۔ آج کے عصری مسائل و چیلنجز پر مرتب ومرصع تحریروتقریر مولانا کا امتیاز ہے۔ قوتیں جب زوال کا شکار ہوتی ہیں تو اپنے صحیح لوگوں اور اپنے محسنوں کی ناقدری کرتی ہیں۔ برصغیر میں مولانا راشدی کی صفات والا شخص دُوردُور تک نظر نہیں آتا۔ اس بار عزیزی عمار ناصر صاحب میں کافی تبدیلی نظر آئی۔ ان میں پختگی کے ساتھ سنجیدگی ومتانت نظر آئی۔ ان کی تحریریں علم وتحقیق کا مرقع ہوتی ہیں۔ موضوع پر گرفت کے اعتبار سے برصغیر میں ان کے ہم عصروں میں کوئی ایسا نظر نہیں آتا۔ بندہ نے عمار صاحب سے ایک بار کہا کہ آج ضرورت دین کی نئی تعبیروتشریح کی نہیں، بلکہ تجدیدایمان کی ہے۔ ہر دور میں تجدید ایمان (ایمان میں اتنی قوت پیدا کر دی جائے کہ ہر حالت میں احکامات پر چل سکے) سے نشاۃ ثانیہ ہوئی ہے جیسے آخری دور میں سید احمد شہیدؒ ، مولانا الیاسؒ اور شیخ حسن البناء وغیرہ نے کیا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے والد اور دادا کے نقش قدم پر جمادے ۔
ایک دن کے لیے فیصل آبا د جانے کا موقع ملا۔ فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑاشہر ہے۔ یہ صنعتی شہر پاکستان کا مانچسٹر کہلاتا ہے۔ وہاں کے دینی جامعات میں جانا ہوا۔ خاص طور پر حضرت مفتی زین العابدین،ؒ مولاناطارق جمیل صاحب اور میرے شیخ حضرت شاہ نفیسؒ کے متعلقین کے مدارس میں۔ میں ظہر کی نماز کے بعد فیصل آباد کے معروف جامعہ امدادیہ میں اساتذہ کرام اور طلبہ سے تفصیلی خطاب کا موقع ملا۔ جامعہ امدادیہ کا نظم ونسق، نظام تعلیم، طلبہ کے اخلاق و آداب، علم سے وابستگی دیکھ کرمسرت ہوئی۔ خاص طور پر مفتی محمد زاہد صاحب سے مل کر خوشی ہوئی جن کے مضامین عرصہ سے ’الشریعہ‘ میں پڑھ رہا تھا۔ صاحب مطالعہ اور محقق ہیں اور قلم پر اچھی دست رس ہے۔
لاہور میں اپنی قیام گاہ جامعہ مدنیہ جدید میں ایک دن صبح بھارت کے مظاہر العلوم کے مولاناشاہد صاحب مع رفقا کے تشریف لائے۔ ان سے وہاں ملاقات نعمت غیر مترقّبہ معلوم ہوئی۔ جامعہ کے مولانا محمود میاں صاحب دامت برکاتہم سے بندہ کی مناسبت اور دلی تعلق ہے۔ مولانا بندہ کی راحت رسانی اور ہر طرح کے انتظامات پر خصوصی توجہ فرماتے ہیں۔ جامعہ مدنیہ میں طلباء کرام سے ایک دن تفصیلی گفتگو کی۔ جامعہ کے متعدد اساتذہ کرام ملنے آتے رہے، خاص طور پر مولانا مفتی محمد حسن صاحب۔ اللہ تعالیٰ ان سب بزرگوں خاص طور پر مولانا محمود میاں دامت برکاتہم کو شایانِ شان جزائے خیر عطافرمائے اور ان کے فیوض وبرکات کو عام فرمائے، آمین۔ اسلام آباد کے لیے احباب اور کرم فرمادوستوں کا شدیداصرار رہا۔ مولانا فیض الرحمن صاحب میرے خاص کرم فرماہیں۔ باربار دعوت دی۔ خود مولانا راشدی صاحب چاہتے تھے کہ اسلام آباد کا سفر ضرور ہو، مگر وقت کی قلت کے سبب آئندہ کسی اور وقت کے لیے ملتوی کرنا پڑا، اس لیے کہ وہاں کے لیے کم ازکم تین یا چار دن چاہییں۔ اتناوقت بندہ کے پاس نہیں بچاتھا۔ اسلام آباد میں ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب ؒ کے ہاں تعزیت کرنی تھی، ان کے بھائی ڈاکٹر غزالی صاحب سے بعض موضوعات پر گفتگو کرنی تھی، انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اور دعوہ اکیڈمی کی مطبوعات خاص طور پر بیسویں صدی کے عظیم اسکالر ڈاکٹر حمید اللہ(پیرس) کی مطبوعات خریدنی تھیں، وغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح لاہور میں مجلس احرار کے مرکزی دفتر میں میر ے عزیز دوست اور احراری رہنماومجلس احرار کے سیکرٹری جنرل جناب عبدالطیف چیمہ صاحب نے دوستوں سے ملاقات اور باہمی تبادلہ خیالات کے لیے ایک شام نشست کا پروگرام ترتیب دیا۔ گفتگو کاموضوع تھا ’’ملت اسلامیہ کو درپیش چیلنجز اور ہماری ذمہ داریاں‘‘۔ بندہ نے تفصیل سے اظہار خیال کیا۔ اتفاق سے اسی مجلس میں شبیر احمد میواتی صاحب سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے قائد اعظم کی زندگی اور سیاسی سوچ پر ایک ضخیم تنقیدی کتاب ’’توصاحب منزل ہے کہ بھٹکاہوا راہی‘‘ (مصنف: نور محمد قریشی ایڈووکیٹ) پیش کی جو ان سے دوستی کا ذریعہ بن گئی۔ ملتان سے حضرت امیر شریعت ؒ کے نواسے اور میرے کرم فرما مولانا سید کفیل شاہ بخاری صاحب دامت برکاتہم اپنے رفقا کے ساتھ تشریف لائے۔ بندہ کو دو نہایت علمی تحفے عنایت کیے: (۱) ماہنامہ ’’احرار‘‘ کا حضرت مدنی ؒ نمبر (۲)ماہنامہ احرار ہی کا ’’امیرشریعت ؒ نمبر‘‘۔ تعجب ہے، احرار کا مشن غلامی کے دور میں نہایت ہمہ گیر ووسیع تھا۔ احرار مسلمانوں کے بڑے بڑے اجتماعی مسائل میں کوشاں رہی۔ (دیکھیے ’’تاریخ احرار‘‘ از جانباز مرزا) لیکن آزادی کے بعد احرار عقیدۂ ختم نبوت تک سکڑ کر رہ گئی، بجائے اس کے کہ مسلمانانِ پاکستان کے اجتماعی مسائل میں رہنمائی کرتی۔ آج کل برصغیر میں ہم لوگوں نے ملک وملت کے تمام سیاسی، معاشی، تعلیمی، تہذیبی مسائل مغرب کی دجاّلی طاقتوں کے ایجنٹوں کے سپرد کر دیے ہیں۔ تاریخ تلاوت کے لیے نہیں ہوتی، ماضی کے واقعات وطرز عمل سے سبق سیکھنے کے لیے اور مستقبل کے لیے راہِ عمل کی درستی کے لیے ہوتی ہے۔ ہم بڑی آسانی سے حضراتِ صحابہؓ سے اجتہادی غلطیوں کے صدور اور ائمہ اربعہ سے بے شمار فقہی مسائل میں خطاوغلطی کا احتمال تو تسلیم کرتے ہیں، مگرماضی قریب (بیسویں صدی) کے اکابرین سے کسی سیاسی یااجتماعی مسئلہ میں اجتہادی خطا کے احتمال کے تصور تک کو کفروگمراہی سے کم نہیں سمجھتے۔ پھر ماضی کی کسی غلطی کی درستی کی کیاصورت ہو؟
واقعہ یہ ہے کہ برصغیر میں جنگ آزادی میں سب سے زیادہ قربانیاں علماء حق نے دیں جس کے طفیل آزادی نصیب ہوئی، مگر انگریزکے نکلتے ہی یہ عجیب فیصلہ ہو اکہ ہم ملک کو آزاد کرکے اپنا کام کرچکے ہیں، اب ہم اپنے دینی شعبوں میں واپس جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ انگریز کے نکل جانے سے سارے مسائل خود بخود حل ہو گئے؟ انگریز سو سالہ نظام تعلیم سے جو کالے انگریز پیدا کرکے انہیں اپنا جانشین بناکرنکلا، کیا ان کا رخ اسلام کی طرف ہوگا؟ حقیقی مسائل تو اب آزادی کے بعد پیداہوئے تھے کہ ملک کی تعمیر وترقی کس نہج پر ہو، کس قوم وطبقہ کی کیاپوزیشن ہو، مستقبل میں ملک کا رخ کیا ہو! علماء حق جنہوں نے ڈیڑھ سوسالہ جنگ آزادی میں زبردست قربانیاں دیں، اسی طرح تحریک پاکستان میں جب تک اسلام کا نام استعمال نہیں ہوا اور علماء کی حمایت حاصل نہ ہوئی، لیگ کی د و سیٹوں کی بھی حیثیت نہیں تھی۔ آزادی کے بعد ملک کی صحیح تعمیر وترقی اور درست رخ پر رکھنے کے لیے علما ودینی قوتوں کا میدان میں رہناضرور ی تھایا میدان چھوڑجانا اور ملک کوپوری طرح لارڈ میکالے کی معنوی اولاد کے حوالے کردینا؟ انگریز کے نظام تعلیم نے ایسی پوری نسل تیار کر دی تھی جو رنگ ونسل کے اعتبار سے ہندوستانی، لیکن فکر وسوچ تہذیب ومعاشرت کے اعتبار سے انگریز تھی۔ اسلام وکفرکا معرکہ تاقیامت ہے۔ ٹھیک ہے، پاکستان کے مسئلے پر علماء لیگ سے ہار گئے تھے، لیکن کسی محاذ پر شکست کے بعد جنرل کو چاہیے کہ وہ میدان ہی چھوڑجائے یا اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لے ازسر نوتیاری کرے؟ کیا ملک اور تمام مسائل کو کالے انگریز کے حوالے کردیناسادہ لوحی نہیں تھی؟ حالات اور نتائج دن بدن روز روشن کی طرح ثابت کرتے جارہے ہیں کہ میدان چھوڑدینے کافیصلہ نادرست تھا۔ ہم اس فیصلہ کو اجتہادی غلطی سے تعبیر کرسکتے ہیں جس میں مجتہد کو ایک اجر بہرحال ملتاہے، لیکن بعد والوں کے لیے ضروری ہے جو درست پہلوسامنے آجائے، اُسے اختیار کریں۔ جب سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر میں لڑائی کے مقام کے تعین اور قیدیوں کے بارے میں اپنی رائے کے بجائے بعض اصحاب کی رائے پر صاد کیا تو اب یہ کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ کسی بڑی شخصیت کی رائے پرہی تاقیامت اصرار کیوں؟
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تن آسانی، راحت وآرام طلبی، عافیت کی خاطربعض ایسے بڑوں کے وقتی فیصلوں کوآڑ وبہانہ بنالیاہے جن کی پوری زندگی مجاہدہ ومیدان عمل میں گزری تھی تاکہ ہماری عافیت پسندی اور عیش وراحت میں خلل نہ آئے۔ انگریزکے دور میں وڈیرہ زمین دار جاگیردار بننے کے لیے اپنے ملک وقوم اور ملت سے غداری کر کے انگریز کے لیے کام کرنا پڑتاتھا۔ آج وڈیرہ وہ بھی اسلامی وڈیرہ بننے کا آسان نسخہ یہ ہے کہ کسی سلسلے کی خلافت یادینی جامعہ کا اہتمام مل جائے۔ عرب ممالک کی سب سے بڑی طاقت اخوان المسلمین کے سارے ادارے اور وسائل واثاثے جماعت کی ملکیت ہوتے ہیں۔ وقتاً فوقتاً چلانے والے، منتظمین، ٹرسٹی، پرنسپل سب ہی بدلتے رہتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں تمام دینی ادارے، جامعات، تنظیمیں نسلاً بعد نسل خاندانی وراثت بن کررہ گئی ہیں جن پر خاص خاندانوں کی اجارہ داری وتسلط قائم ہے۔ کسی جگہ باصلاحیت افراد کی گنجائش نہیں، صرف خوشامدی ٹٹوؤں کا بول بالاہے۔ کیا کسی قوم وملت کے پنپنے کا یہی طریقہ ہے؟ جس اسلام نے سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان پراصرار نہیں کیا کہ وہی اقتدار پر فائز رہے تو بزرگوں کی اولاد ہی سب کچھ کیوں؟ یہ بنی اسرائیل کی امت نہیں کہ باپ کے بعد بیٹاہی ہو بلکہ امتِ محمدیہ ہے۔ یہاں کبھی عرب سے، کبھی عجم سے، کبھی مشرق سے، کبھی مغرب سے، کبھی کسی علاقے سے اور کبھی کسی خاندان وقبیلہ سے اٹھ اٹھ کر لوگ اسلام کا بول بالاکرتے رہیں گے۔
لاہورسے دوستوں اوراحباب کو الوداع کہہ کر بذریعہ پی آئی اے کراچی روانہ ہوا۔ حضرت مولانا محمود میاں صاحب دامت برکاتہم حسب معمول باوجود علالت طبع کے بنفس نفیس رخصت فرمانے ائیر پورٹ تشریف لائے۔ اللہ تعالیٰ ان کے احسانات کاشایانِ شان صلہ عطا فرمائے۔ کراچی ائیرپورٹ پر جامعۃ الرشید کے مولاناصادق صاحب منتظر تھے۔ ان کے ہمراہ بیس منٹ میں جامعۃ الرشید پہنچ گئے۔ جامعۃالرشید ایئر پورٹ اور شہر کے درمیان واقع ہے۔ جامعۃ الرشید کے متعلق متعدد احباب خاص طور سے مولانازاہدالراشدی سے بہت کچھ سن رکھاتھا کہ یہاں دینی و عصری تعلیم کی یکجائی کا منفرد تجربہ ہورہاہے۔ ایسے افراد تیار کیے جا رہے ہیں جو اعلیٰ دینی تعلیم اور ضروری عصری تعلیم کے حامل ہوں۔ حقیقت یہی ہے کہ ۱۲۰۰ سال تک ہماری اصل روایت یہی رہی ہے۔ دور نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر برصغیر پر انگریزی اقتدار تک ہماری درس گاہیں دینی وعصری تعلیم کے امتزاج کا مثالی نمونہ ہوتی تھیں۔ یہاں ایسے افراد تیار ہوتے تھے جو ملت اسلامیہ کی دینی ودنیوی تمام ضروریات پوری کرتے تھے۔ پوری بارہ سو سالہ تاریخ شاہد ہے کہ ہمیں کبھی بھی کسی دنیوی ضرورت کے لیے آج کی طرح کسی دوسرے ملک اور قوم کا محتاج نہیں ہونا پڑا۔ ہماری یہی درس گاہیں بہترین علما وفقہا،خطبا بھی پیدا کرتی تھیں اور دنیا کے بہترین طبیب، انجینئر، مورخین، جغرافیہ دان، سائنسدان، عسکری وانتظامی ماہرین بھی پیداکرتی تھیں۔ انگریز کے تسلط کے بعد جب اس نے برصغیر میں سیکولرنظام تعلیم کے ذریعے مسلمانوں کواسلام و قرآن سے بیگانہ کرکے عیسائی بنانے کی جدوجہد شروع کی تو اللہ ہمارے اکابرین کی قبروں کو نور سے بھر دے، انہوں نے بروقت دین و تہذیب کے تحفظ و بقا کے لیے مدارس کے ذریعے دینی نظام تعلیم کی بنیاد رکھی۔ یہ بڑامبارک اور صحیح فیصلہ تھا جس کی بدولت برصغیر دوسرا اسپین بننے سے بچ گیا، مگر ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ حالات کے جبر کے تحت دفاعی اور وقتی فیصلہ تھا۔ ان بزرگوں نے ساتھ ہی اسلام کے غلبہ اور انگریزکو نکال کر دوبارہ برصغیر کو اسلامی ملک بنانے کی جدوجہد بھی شروع کی جس میں وہ بوجوہ کا میاب نہ ہوسکے۔ اس وقتی پالیسی و فیصلہ کو بدقسمتی سے دائمی پالیسی اور ہمیشہ کے لیے طرزِعمل قرار دے دیا گیا اور ہم نے دائمی طور پردینی ودنیوی تعلیم کی تفریق کو قبول کرلی۔ ہمیں خوب سمجھنا چاہیے کہ یہ دینی وعصری تعلیم کی تفریق انگریز کی لعنت و نحوست کی باقیات ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے مذہبی طبقہ کبھی دنیا میں خلافت ارضی پر متمکن نہیں ہو سکتا۔ آج علوم میں دین ودنیاکی تفریق ہماری تباہی و ذلت کا اصل بنیادی سبب ہے اور جب تک ہم اس لعنت کو ختم نہیں کرتے، ہمیں محتاج، محتاج اور محتاج ہی رہناہے، نہ صرف مغرب اور کفریہ طاقتوں کا بلکہ اپنے ملکوں میں بھی انہی دجالی قوتوں کے ایجنٹوں کا۔ شترمرغ کی طرح ریت میں سر چھپا لینے سے خطرات ٹل نہیں جائیں گے بلکہ مردانہ وار اس چیلنج کا مقابلہ کرکے نظام تعلیم کواصل نہج پر لانا ہوگا جو دور نبوت سے کے لر انگریز کی آمد تک تھا۔
غرض تشریعی وتکوینی علوم کی یکجائی آج ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے اور جامعہ الرشید اس یکجائی کا بہترین نمونہ نظرآیا۔ جامعۃ الرشید کے مختلف شعبے مثلاً کلیۃ الشریعہ اور ذرائع ابلاغ کے مختلف شعبے دیکھے۔ یہاں شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ کی کتاب ’’برصغیرکو انگریز نے کس طرح لوٹا‘‘ پر ایک نہایت موثر ومعلوماتی ڈاکومنٹری دیکھی۔ اسے ہر عالم بلکہ ہر مسلمان کو ضرور دیکھنا چاہیے۔ کسی دینی درسگاہ نے پہلی بار ذرائع ابلاغ کی عصری تکنیک پر ایسی زبردست اہلیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ جامعۃ الرشید اپنی نظافت، حسن تعمیر، طلبہ کی تربیت وشائستگی، نظام تعلیم ہر اعتبار سے ممتاز نظر آیا۔ شاید بندہ کے ذوق کو سامنے رکھ کرہی مولانا راشدی نے میر ایہاں قیام تجویز کیاتھا۔ جامعۃ الرشید نے گزشتہ چند سالوں میں جس طرح برق رفتاری سے ترقی کی، یہ دینی مدارس کے لیے نیک فال ہے۔ یہاں بندہ کو متعدد بار گفتگو کا موقع ملا۔ جامعہ کی عظیم الشان مسجد میں تفصیلی خطاب کے علاوہ اساتذہ کرام، کلیۃالشریعہ کے طلبہ، فقہ المعاملات (اسلامک اکنامکس) کے طلبہ سے مفصل بات کی۔ اذان چینل نے تفصیلی انٹر ویو کیا۔ انورغازی صاحب روزنامہ جنگ اور روزنامہ اوصاف کے کالم نگار و صحافی ہیں اور ان کے کالم نہایت اثر انگیز ومعلوماتی ہوتے ہیں۔ بندہ سے ملنے کے لیے کئی بار تشریف لائے۔ اپنی متعد دتازہ تصانیف عنایت کیں اور بندہ کا تفصیلی انٹرویو کیا۔ کراچی قیام کے دوران رات کا قیام جامعۃ الرشیدہی میں رہا۔ یہیں سے ہر جگہ آنا جانا رہا۔ روزانہ رات گئے تک محفل سجتی جس میں متعدد طلبہ واساتذہ کرام تشریف لاتے۔ جامعۃ الرشید کے صدر مفتی مولانا محمد صاحب اور مولانا سفیر احمد ثاقب صاحب ہر وقت بندہ کے ساتھ رہے۔
کراچی پورا ایک ملک ہے۔ کوشش کی کہ کم سے کم وقت میں اہم اداروں اور شخصیات سے ملاقات ہو جائے۔ حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم سے وقت لے کر ملنے کے لیے ان دونوں حضرات (مفتی محمدصاحب اورمولانا سفیر احمد ثا قب صاحب) کے ساتھ دارالعلوم کورنگی پہنچا۔ گیٹ سے داخل ہوتے ہی محسوس ہوا گویا کسی عظیم الشان اسلامی یونیورسٹی میں پہنچ گئے ہوں۔ حضرت مولانا کچھ علیل تھے، دولت کدہ پر ہی حاضری دی۔ اور بھی چند مخصوص حضرات موجود تھے۔ تقریباً بیس پچیس منٹ ملاقات و استفادہ رہا۔ بلاشبہ حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم برصغیر کی منفرد شخصیت اور برصغیر کے علما کی آبرو وسرتاج ہیں۔ ملاقات کے بعد دارلعلوم کی وسیع و خوبصورت مسجد میں ظہر کی نماز ادا کی۔ حسن اتفاق سے بندہ کی پچھلی صف میں مولانا زبیراشرف صاحب (مفتی اعظم پاکستا ن حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم کے اکلوتے صاحبزادے وجانشین اور دارالعلوم کے استاذِحدیث) تھے۔ نہایت ہی مسرت کا اظہار کیا اور فرمایا کہ آپ کی ملاقات خلاف توقع نعمت غیر مترقبہ ہے۔ زور دیا کہ آپ یہیں قیام کریں، یہاں ہر قسم کی سہولت وراحت میسر ہوگی اور نہایت اصرار سے اسی وقت کھانے کی دعوت دی۔ بندہ نے عذر کیا کہ ابھی حضرت مولاناسلیم اللہ خان صاحب دامت برکاتہم سے ملاقات طے ہے۔ فرمایا کہ کل دوپہر کی دعوت قبول کرنی ہی ہوگی۔ بندہ نے عرض کیا کہ شام تک بتادوں گا۔ دوسرے روز مفتی محمد صاحب اور مولانا سفیر احمد صاحب کے ہمراہ پرتکلف دعوت کا لطف اٹھایا۔ حضرت مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم سفر میں تھے۔ فون پر بات کروائی گئی۔ حضر ت نے بندہ کی آمد پر نہایت مسرت کا اظہار فرماتے ہوئے اس سیاہ کارکے متعلق اس قدر بلند کلمات فرمائے جسے بندہ اپنے لیے ذخیرہ آخرت سمجھتاہے اور دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ محض اپنے کرم سے حضرت مفتی اعظم دامت برکاتہم کے حسن ظن کے مطابق بندہ کو ایسا بنادے، آمین۔ سہ پہر تین بجے کے قریب حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب دامت برکاتہم کے دولت کدے پر انہی دونوں رفقا کے ساتھ حاضری دی۔ حضر ت مولانا کی صحت کئی دنوں سے علیل چل رہی تھی۔ تین دنوں سے اسباق بھی بند تھے۔ حضرت مولانا نمونہ اسلاف اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں۔ حضرت کی عیادت کے بعد بندہ گفتگو کرتارہا جس کا موضوع علماء کرام کو جدید چیلنجز وتقاضوں سے واقفیت کی ضرورت، اسلام کی تعلیم ودعوت کے لیے جدید ترین ذرائع کے استعمال، دینی وعصری تعلیم کے فاصلوں کو کم کرنا وغیرہ وغیرہ تھے۔ تقریباً پچیس منٹ کے بعد دعائیں لے کر وا پسی ہوئی۔ حضرت دامت برکاتہم کی صحت انتہائی نحیف و کمزور نظر آئی۔ حضرت سے ملاقات پر اللہ کا شکرادا کیا۔ بعد میں پتہ نہیں وہاں آنا ہوسکے یا نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ حضرت کے سایہ کو تادیر امت کے سروں پر باقی رکھے، آمین۔
واپسی پر مفتی محمد صاحب نے فرمایا کہ آج تو معجزہ ہو گیا۔ بندہ نے پوچھا، وہ کیا؟ فرمایا، میں حضر ت کا شاگرد ہوں۔ جامعہ فاروقیہ ہی میں تعلیم حاصل کی۔ آپ جن موضوعات پر گفتگوکررہے تھے، حضرت ایک جملہ بھی نہیں سن سکتے۔ فوراً برا فروختہ ہوجاتے ہیں، مگر آج حضر ت نے نہایت بشاشت سے آپ کی پوری بات سنی اور آخر تک مسکراہٹ حضرت کے لبوں پر تھی اور آپ کو دعاؤں سے نوازا۔ بندہ نے عرض کیا کہ یہ بندہ پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے۔ اس دور کے تقریباً سارے ہی اکابرین سے بندہ کوایسا ہی دلی تعلق و محبت ہے۔
زوّار اکیڈمی کے ڈاکٹر عزیزالرحمن صاحب سے ملنے زوّار اکیڈمی پہنچے۔ ڈاکٹر صاحب سے مولاناراشدی اور ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ کی نسبت سے غائبانہ تعارف تھا۔ خاص طور سے ششماہی رسالہ ’’السیرۃ‘‘ کی وجہ سے ملنے کا اشتیاق تھا۔ نہایت محبت وشفقت سے پیش آئے۔ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ گفتگو رہی۔ زوّاراکیڈمی پورے برصغیر کاایک منفرد ادارہ ہے جہاں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر گرانقدر علمی وتحقیقی کام ہو رہا ہے۔ ہرچھ ماہ بعد تقریباً چار پانچ سو صفحات پر مشتمل ایک ضخیم علمی وتحقیقی مجلّہ نکل جاتاہے۔ اب تک تیس کے قریب شمارے آچکے ہیں۔ گویا یہ اکیڈمی پورے برصغیر کے علماء کی طرف سے فرض کفایہ اداکررہی ہے۔ آج پیر پرستی اور گانا بجانے کے انداز کے مقررین کا دور ہے۔ ان حالات میں خالص علمی وتحقیقی ادارے خون جگر سے چلائے جاتے ہیں۔ اس سطحیت اور زوال علم کے دور میں علمی و تحقیقی کام پِتہ مارنے اور جانکاہی کا کا م ہے۔ اللہ تعالیٰ زوّار اکیڈمی کے منتظمین کو پوری امت کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔ ڈاکٹر صاحب سے بڑی مناسبت اور دلی تعلق پیداہوا۔ لندن پہنچ کر بھی برابر فون پر رابطہ ہے۔ بندہ کو اکیڈمی کی تمام تصانیف عنایت کیں۔
کراچی کا اسی طرح کا ایک قابل ذکر اور قابل قدر علمی ادارہ ’’مجلس علمی‘‘ بھی ہے جو حضرت بنوری ؒ کے داماد اور مشہور محقق و مصنف مولانا محمد طاسین صاحبؒ کی یادگارہے۔ اب آپ کے صاحبزادے علم وتحقیق کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ بندہ کے ساتھ بڑی محبت و اکرام کا معاملہ فرمایا۔ مجلس علمی کا کتب خانہ قابل دید اورقابل استفادہ ہے۔ یہاں کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کو علمی کام اور پی ایچ ڈی وغیرہ میں مطالعہ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے خالص علمی و تحقیقی اداروں کی قدر کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ پاکستان شریعت کونسل کے صدر، بندہ کے محسن وکرم فرما حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی دامت برکاتہم کے جامعہ میں بھی حاضری دی اور اساتذہ کرام اور منتہی طلبہ سے گفتگو کی۔ اسی طرح جامعہ بنوری ٹاؤن، دفتر روزنامہ اسلام، بلڈبینک، دار الافتاء وغیرہ میں تھوڑی تھوڑی دیر حاضر ہوکر معائنہ و استفادہ ہوا۔ بہت سی جگہوں پرباوجود شدید اصرار اور خواہش کے نہیں جا سکا جس میں خاص طور پر مولاناجمیل فاروقی صاحب کا ادارہ جامعہ اسلامیہ کلفٹن اور صدیقی ٹرسٹ شامل ہیں۔
مفتی محمد صاحب اور مولاناسفیراحمد صاحب کے ہمراہ ایک یاد گار سفر حیدرآباد کا ہوا جہاں بندہ کے ایک خاص کرم فرما مشہور صحافی و مصنف ومفکرجناب مولانا موسیٰ بھٹو صاحب بڑا کام کر رہے ہیں۔ آپ ایک معیاری رسالہ ماہنامہ ’’بیداری‘‘ تقریباً پچیس تیس سال سے سندھی زبان میں اور گزشتہ کئی سال سے اردو میں نکال رہے ہیں۔ آپ کی کئی درجن ضخیم علمی و تحقیقی وفکری تصانیف ہیں۔ خاص طور پر بیسوی صدی کے علماء،مفکرین ،مشائخ پرمنفرد کام ہے۔ شروع جوانی میں جماعت اسلامی سے سے متاثر ووابستہ رہے، پھر ایسا ردّعمل ہواکہ غلو کی حد تک تصوف کی طرف جھکاؤ ہو گیا۔ کئی سال سے آپ کی تحریریں گویا تصوف کی دعوت تھیں۔ بندہ کوشاں رہا کہ اعتدال پر لایاجائے۔ اب کافی اعتدال پیدا ہو رہا ہے۔ مولانا موسیٰ بھٹو کی زندگی مسلسل ایک مشن ہے۔ شب وروزعملی، فکری دعوتی کام میں جتے ہوئے ہیں۔ کوئی معاون ومددگا ربھی نہیں۔ سوچنا، لکھنا، کمپوزکرنا، چھاپنا، لو گوں تک پہنچانا، ایک مشین کی طرح رات دن مصروف عمل۔ آپ کی ہستی پورے سندھ میں باطل افکار اور نظریات کے سامنے ڈٹی ہوئی ہے۔ کمیونسٹ، ترقی پسند، جی ایم سید کے حامی، قوم پرست، سوشلسٹ اوراپنوں میں جو مولانا عبیداللہ سندھی کی فکرکی غلط تشریح کرتے ہیں کہ حضرات انبیاء ؑ کی بعثت کا اصل وبنیادی مقصد مترفین (حکمران، اہل ثروت، استحصالی طبقہ) کو پست کرکے مستضعفین (کمزور طبقات اور غریبوں) کو ان کی جگہ اختیارات واقتدار سونپنا تھا وغیرہ۔ غرض موسیٰ بھٹو صاحب کی تقریباً نصف صدی سے تمام باطل نظریات و افکار کے خلاف چومکھی لڑائی جاری ہے۔
موسیٰ بھٹو صاحب نے پر تکلف ضیافت کی۔ دل کھول کرباتیں ہوئیں۔ سال بھر کے رسالوں کے علاوہ درجنوں تصانیف میرے دونوں رفقا کوبھی ہدیہ دیں۔ بندہ نے اپنے دونوں ہم سفروں سے کہا کہ اس آدمی کی قدر کریں، ان کے بعد ان کا کوئی نعم البدل پورے سندھ میں نہیں ملے گا۔ بندہ کے نزدیک اس وقت سب سے اہم کرنے کے کام تین ہیں: (۱) دعوت یعنی غیروں کو ایمان و اسلام پہنچانا۔ یہی سارے انبیاء ؑ کا اصل مشن تھا۔ (۲)تذکیر یعنی حضرت مولاناالیاسؒ نے جو کام کیا، مسلمانوں میں آخرت کی فکر پیداکرنا، زندگیوں کو خواہشات سے احکامات کی طرف لانا اور ان کا اللہ سے رشتہ جوڑنا۔ (۳)خدمت خلق جو سرورِدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت ملنے سے تقریباََ پندرہ سال پہلے شروع فرمایا تھا، حتی کہ پورے عرب میں آپ کا عام تعارف وپہچان خدمت خلق کا بن گیا تھا۔ ان تین کاموں کے بعد ہی دین کے سارے شعبے ہیں اور دین کے دیگر شعبوں والوں کو بھی اپنے اپنے شعبے کے ساتھ ساتھ یہ تینوں کا م کرنے پڑیں گے، تب دین کے ان شعبوں میں روح اور صحیح تاثیر پیدا ہوگی۔
جامعۃ الرشید حضرت مولانامفتی رشید احمد لدھیانوی ؒ کی یاد گار ہے۔ بندہ کی بہت پہلے لندن میں حضرت سے ملاقات ہوئی تھی۔ بندہ نے مزاج میں کچھ سختی وشدت محسوس کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے اتنا عظیم وہمہ جہت کام لیا کہ عقل حیران ہے۔ عصر حاضر میں حضرت کے اخلاص کی مثال مشکل سے ہی ملے گی۔ آپ نے اپنے تمام کاموں، شعبوں، اثاثوں کو اپنی اولاد کے بجائے (جو ماشاء اللہ نہایت لائق، صالح اور عصری تعلیم میں ممتاز ہے) اپنے ہونہار اور باصلاحیت شاگردوں کے سپردکیا۔ ان میں سب سے بڑھ کر مفتی عبد الرحیم صاحب ہیں جن سے ملاقات کا اشتیاق رہ گیا کہ مفتی صاحب حجاز مقدّس میں تھے۔ احباب نے فون پر کئی بار بات کروائی۔ مفتی صاحب نے ہر بار یہی فرمایا کہ آپ تشریف لائے اور میں یہاں اتنی دُور ہوں۔ کتنے عرصے سے آپ سے ملاقات کا متمنی تھا۔ بندہ عرض کرتارہا کہ آپ قبولیت دعا کے مقامات پر ہیں، اس سیہ کار کے لیے دعا کردیجیے۔ لندن پہنچ کر فون پر بات ہوئی تو فرمایا کہ جامعۃ الرشید واپس پہنچ کر ہر طرف آپ کی خوشبو اور آپ کی باتوں کے چرچے ہیں۔ اللہ کرے مفتی صاحب سے جلدی ملاقات کی کوئی تقریب پیداہو۔
بندہ اس سفر میں نوجوان فاضل مولانا عدنان کاکاخیل کی صلاحیتوں اور قوّتِ عمل سے کافی متاثر ہوا۔ آپ اسیر مالٹا حضرت مولانا عزیرگل ؒ کے بھائی کے، جو خود بھی بڑے عالم اور فاضل دیوبند تھے، پوتے ہیں۔ حضرت مولانا عزیر گل ؒ حضرت شیخ الہندؒ کے خادمِ خاص، جید عالم دین اور مشہور مجاہد آزادی تھے۔ چند سال قبل جب عدنان کاکاخیل صاحب نے پاکستان کے ڈکٹیٹر وصدر جنرل مشرف کو بالمشافہہ اپنی تقریر میں للکاراتھا، وہ منظر بندہ نے انٹرنیٹ پر دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ انہیں نظر بد سے بچائے اور ان کی زبردست صلاحیتوں سے ملت اسلامیہ پاکستان کو فائدہ پہنچائے۔ آپ ہر ماہ تقریباََ تین ہفتے جامعہ فریدیہ اسلام آباد اور ایک ہفتہ جامعۃ الرشید (کراچی) کے مختلف شعبوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ملاقات پر کہنے لگے کہ طویل عرصہ سے آپ سے ملنے کا متمنی تھا۔ جب آپ کا پہلا مضمون پڑھاتھا تو مولانا راشدی صاحب سے آپ کے متعلق دریافت کیا۔ انھوں نے فرمایا کہ شروع زندگی کا بڑا حصہ تبلیغی جماعت میں گزرا، مگر ’’جراثیم‘‘ ہمارے والے ہیں۔ کہنے لگے کہ آج ہی اسلام آباد واپسی کا دن ہے، مگر کچھ دن آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ غرض چار پانچ دن مزید بندہ کے ساتھ ٹھہرے رہے۔ لندن پہنچ کر بھی عدنان صاحب سے برابر رابطہ ہے۔ اسلام آباد میں کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبہ میں دینی تعلیم کے لیے کوشاں ہیں۔ گزشتہ دنوں کہنے لگے کہ آج کل ایک ایسا فورم تشکیل دینے میں لگاہوا ہوں جہاں ملت کا درد اور فکررکھنے والے مختلف طبقات، مختلف مسالک کے اہل علم و اہل فکر سر جوڑکر بیٹھیں، غور و خوض کریں اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے ملت اور انسانیت کو درپیش مسائل کا حل پیش کریں اور دنیاکواسلام کا مثبت پیغام پہنچائیں۔ دعاہے اللہ تعالیٰ عدنان صاحب کی کا وشوں کو بار آور فرمائے اور ان کو بہترین رفقائے کار فراہم کرے ۔ آمین یا رب العالمین۔
نابالغی کا نکاح اور سیدہ عائشہ کی عمر ۔ چند نئے زاویے (۲)
مولانا محمد عبد اللہ شارق
بلوغتِ سیدہؓ کے قائلین سے ایک سوال:
اول الذکر حضرات جو ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓ کو بوقتِ نکاح بالغ ثابت کرنے پر مصر ہیں‘ ان کا مقصد بھی بالعموم یہی ہے کہ اس نکاح کا اخلاقی جواز ثابت کرکے اس پر ہونے والے اعتراضات کا دفعیہ کیا جائے۔ تاہم اپنی اس کاوش کی بنیاد انہوں نے اخلاقیات کے جدید معاشرتی تصورات پر رکھی ہے۔ تبھی تونابالغی کے نکاح کو بنیادی طور پرغیر اخلاقی تسلیم کرلیا ہے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر موجودہ دور کی نئی معاشرتی اخلاقیات ہی ان حضرات کے نزدیک معیار اور کسوٹی قرار پائی ہیں تو انہیں دیکھ لینا چاہیے کہ کیا بوقتِ نکاح حضرت عائشہ ؓ کو بالغ ثابت کردینے سے یہ نکاح ہماری جدید سماجی وتہذیبی اخلاقیات سے ہم آہنگ ہو جائے گا؟ ہمارے خیال میں ’’ہنوز دلی دور است‘‘ ۔ جس مقصد کے لیے حضرت عائشہ ؓ کو بوقتِ نکاح بالغ ثابت کرنے کی سعیِ بلیغ کی گئی‘ وہ مقصد ابھی تک ہاتھ نہیں آیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر حضرت عائشہؓ کو بوقتِ نکاح بالغ ہی تسلیم کرلیا جائے تو ان کی عمر اس وقت زیادہ سے زیادہ کتنی رہی ہوگی؟ بلوغت کے قائلین کے اپنے قول کے مطابق زیادہ سے زیادہ یہی کوئی تقریباً پندرہ سال۔ دوسری طرف اس وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک تھی تقریباً پچاس سال۔یعنی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ عائشہؓ کی عمر کے درمیان تقریباً پینتیس سال کا تفاوت۔عمر کے اس تفاوت کے ساتھ ہونے والے نکاح کو ہمارے معاشرہ میں کس نظر سے دیکھا جاتا ہے؟ مکرر کہہ دیتا ہوں کہ ایک پختہ عمر کے مرد اور لڑکپن کی حدود سے گزرنے والی دوشیزہ کے باہم نکاح کو ہماری جدید گلوبل سوسائٹی میں کن نگاہوں دیکھا جاتا ہے؟اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ اب خود بتائیے کہ عمومی روایات کے برعکس حضرت عائشہؓ کو بوقتِ نکاح بالغ ثابت کرنے کا فائدہ کیا ہوا؟ اصل معاملہ تو جوں کا توں ہے۔ نہ حضرت عائشہؓ کا نکاح دورِ جدید کی سماجی ومعاشرتی اخلاقیات سے ہم آہنگ ہوا اور نہ ہی معترضین کے اعتراضات کا کما حقہ سدباب ہوا کیونکہ ان حضرات کی یہ کاوش معترضین کے لیے اطمینان کا کوئی سامان نہیں کرسکی۔
سیدہؓ کے نکاح میں پوشیدہ مصالح اور مقاصد:
جن حضرات کو حضرت عائشہؓ کے نابالغی کے نکاح پر کسی طور اطمینان نہیں ہوتا‘ ان کا ایک اعتراض یہ ہے کہ اتنی کم عمری میں حضرت عائشہؓ کے ساتھ عقدِ نکاح فرمانے میں پیغمبر کی آخر کیا حکمت اور مصلحت تھی؟ دوسرے حضرات کی طرف سے عموماً اس کی یہ توجیہات پیش کی جاتی ہیں:
- حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ اخوت اور اپنائیت کے رشتہ میں گہرائی پیدا کرنے کے لیے آپ نے یہ نکاح فرمایا۔
- علوم ومعارف کا جو خزانہ حضرت عائشہؓ ہی کے ذریعہ سے خدا کو امت تک پہنچانا مقصود تھا ‘ اس کے لیے ضروری تھا کہ سیدہ عائشہ ؓ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شب وروز کی رفیق اور شریکِ حیات بنتیں۔وغیرہ وغیرہ
تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ حضرت عائشہؓ کے ساتھ نکاح فرماتے ہوئے یقینی طور پر یہ مصالح آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اول الذکر حضرات کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ بے شک حضرت عائشہؓ سے نکاح فرمانے کی بدولت یہ ثمرات حاصل ہوئے کہ حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ رشتہ کو بھی پائے داری ملی اور حضرت عائشہؓ کے ذریعہ علوم ومعارف کا خزانہ بھی امت کو منتقل ہوا، مگر اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ حضرت عائشہؓ کے ساتھ نکاح فرمانے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود بھی یہی تھا۔ نیز ان حضرات کے مطابق اس نکاح کی تجویز بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت ابوبکرؓ کی بجائے حضرت خولہ بنتِ حکیمؓ کی طرف سے آئی جس سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ یہ مقاصد پیشگی طور پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر نہ تھے اور نہ ہی حضرت ابوبکرؓ کے سامنے تھے۔
حضرت خولہ بنتِ حکیمؓ کی تجویز والا نکتہ حال ہی میں جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے ایک مضمون کے اندر اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس نکاح کی تجویز آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت ابوبکرؓ کی طرف سے سامنے آئی ہوتی تو کہا جاسکتا تھا کہ ان حضرات کے پیش نظر یہ مقاصد رہے ہوں گے، جبکہ ایسا نہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ غامدی صاحب کے اس نکتۂ نظر میں کوئی حقیقت پسندی نہیں پائی جاتی۔ بالکل سامنے کی بات ہے کہ حضرت خولہؓ نے تجویز تو پیش کی تھی، مگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نکاح کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا۔ یہ خیال اولاً آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ آیا تو کیا ہوا؟ حضرت خولہؓ کی اس تجویز کو آنحضور نے قبول تو اپنی ہی رضاو رغبت سے کیا ہوگا‘ کیا یہ ممکن نہیں کہ اس تجویز کو قبول کرتے ہوئے مذکورہ مصالح ومقاصد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر رہے ہوں؟ اگر اس ایک پہلو پر غور کرلیا جائے تو امید ہے کہ غامدی صاحب کے مضمون میں اٹھائے گئے نکتہ کی بنیاد سرے سے ہی ختم ہوجائے گی۔ نیز غامدی صاحب نے اپنے مضمون میں لکھاہے کہ ’’سیدہ کے بارہ میں اگر کسی رؤیا کی بنا پر اس طرح(نکاح) کا کوئی خیال آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں رہا بھی ہو تو آپ نے ہرگز اس کا اظہار نہیں کیا۔ حدیث وسیرت کا ذخیرہ آپ کی طرف سے اس نوعیت کے کسی ایماء‘ اشارے یا تجویز سے بالکل خالی ہے۔‘‘ ان کا دعوی کہ ’’بالکل خالی ہے‘‘ درست نہیں۔ ایک ایسے رؤیا کا پتہ ملتا ہے کہ سیدہ کے ساتھ نکاح سے قبل ہی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہؓ کے ساتھ نکاح کی بشارت دے دی گئی تھی۔ ملاحظہ کیجیے:
’’عن عائشۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لہا: اریتک فی المنام مرتین ‘ اری انک فی سرقۃ من حریر ویقول الملک: ہذہ امرأتک فاکشف فاذا ہی انت ‘ فاقول ان یک ہذا من عند اللہ یمضہ‘‘ [صحیح البخاری حدیث نمبر ۳۸۹۵۔ ۵۰۷۸۔ ۵۱۲۵۔ ۷۰۱۱۔ ۷۰۱۲]
یعنی ’’حضرت عائشہؓ خود نقل کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ میں نے تمہیں دو دفعہ(بعض روایات کے مطابق تین دفعہ) خواب میں دیکھا کہ تم ریشم کے کپڑے میں لپٹی ہوئی ہو اور فرشتہ بتاتا ہے کہ یہ آپ کی بیوی ہے۔ میں کپڑا ہٹاتا ہوں تو وہ تم ہوتی ہو۔ پس میں سوچتا ہوں کہ اگر یہ خواب اللہ کی جانب سے ہے تو وہ خود ہی اسے ظاہر فرمادے گا۔‘‘صرف صحیح البخاری میں مکرر پانچ دفعہ آنے والی یہ حدیث غامدی صاحب کی نظر سے اوجھل رہ گئی ‘ عجیب بات یہ نہیں۔ عجیب ان کا یہ دعویٰ ہے کہ ’’سیدہ کے بارہ میں اگر کسی رؤیا کی بنا پر اس طرح(نکاح) کا کوئی خیال آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں رہا بھی ہو تو آپ نے ہرگز اس کا اظہار نہیں کیا۔ حدیث وسیرت کا ذخیرہ آپ کی طرف سے اس نوعیت کے کسی ایماء‘ اشارے یا تجویز سے بالکل خالی ہے۔‘‘
حاصلِ کلام یہ کہ اس امکان کو بالکلیہ رد نہیں کیا جاسکتا کہ حضرت عائشہؓ کے ساتھ نکاح فرماتے ہوئے یہ مصالح آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر رہے ہوں، بلکہ غالب امکان یہی ہے کہ رہے ہوں گے کیونکہ اس نکاح سے حاصل ہونے والے یہ فوائد اور مبارک ثمرات اتنے خفیہ نہیں تھے کہ نظر ہی نہ آتے۔ تاہم چونکہ اس کا کوئی قطعی ثبوت نہیں اس لیے اگر فرض کرلیا جائے کہ پیشگی طور پر سامنے نہیں رہے ہوں گے تو ایک اصولی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نکاح میں مضمر ان اضافی مصالح ومقاصد کومتعین کرنے کی آخر ہمیں ضرورت کیا آپڑی ہے؟ جب کم عمری کی شادی میں اصولی طور پر کوئی ناانصافی کی بات نہیں‘ صاحبانِ معاملہ اس پر مطمئن بلکہ مسرور ہیں ‘ رخصتی کے وقت لڑکی بھی حقوقِ زوجیت ادا کرنے کی عمر تک پہنچ چکی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ بات کہ یہ معاملہ اللہ جل مجدہ کی رضاء کے خلاف نہیں ہے تو اگر ہمیں اس نکاح کے اضافی مصالح اور مقاصد معلوم نہ بھی ہوں تو آخر اس بیاہ پر اعتراض کی کیا بنیاد باقی رہ جاتی ہے!
کم سن زوجہ۔ نبی کے بے داغ کردار کی برہان:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے جو پہلو اعجاز کے درجہ کو پہنچے ہوئے ہیں اور دنیا ان کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے، ان میں ایک پہلو آپ کی کھلی ہوئی بے پردہ زندگی کا ہے۔ آپ کی زندگی کا کوئی قابلِ ذکر گوشہ پردۂ خفا میں نہیں ہے۔ جلوت وخلوت کے سارے احوال اور اعمال کھلی کتاب کی طرح سب کے سامنے ہیں۔ آپ غور کیجئے !بڑے سے بڑاانسان بھی اپنی زندگی کے ذاتی ‘ نجی اور خانگی پہلو منظرِ عام پر لانے سے کنی کتراتا ہے۔ اگر اس کی سیرت اور اس کا کردار سر تاپا صداقت وامانت سے معمور ہو تو تب بھی اسے اپنی شخصیت کے پوشیدہ پہلو ؤں کو منظر پر لاتے ہوئے ایک خوف سا محسوس ہوتا ہے اور انہیں چھپانے کی شعوری یا غیرشعوری کوشش میں مصروف رہتا ہے۔اپنی ذاتی زندگی کو گھر کی چار دیوار ی کے اندر بند رکھنے میں ہی اسے اپنی عافیت اور اپنی بڑائی کی بقاء نظر آتی ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ بڑی بڑی تمام شخصیات اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ ہوتی ہیں یا پبلک لائف میں ان کی شخصیت پر چڑھا ہوا خول ان کی اندرونی شخصیت سے متضاد ہوتا ہے۔ بے شک ایسا بہت سے لیڈروں کے ساتھ ہوگا‘ مگر سب کو اس پر قیاس کرنا درست نہیں۔ اس کارگاہِ عالم میں کچھ ایسے انمول تاریخی کردار بھی ہیں جنہیں منافقت او ردورنگی کا طعنہ نہیں دیا جاسکتا‘ ان کی ظاہری شخصیت پر کوئی بہروپ یا مصنوعی خول نہیں وتا‘ ان کا من بھی ان کے تن کی طرح صاف اور ان کی گھریلو زندگی ان کی بیرونی زندگی کی طرح اجلی اور بے داغ ہوتی ہے۔ لیکن یہ اخلاقی جراء ت کم لوگوں میں ہوتی ہے کہ وہ پورے وثوق اور اعتماد کے ساتھ اپنی کتابِ زندگی اٹھاکے تبصرے کے لیے لوگوں کے ہاتھوں میں تھما دیں اور اس میں کوئی باک یا ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔
یہ صفت ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم میں بطریقِ اتم پائی جاتی ہے۔ آپ نے نہ صرف یہ کہ کبھی اپنی زندگی کے کسی گوشہ کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش نہ کی‘ بلکہ ا س کے برعکس آپ کی طرف سے اپنے سب متعلقین کو اذنِ عام تھا کہ میری ذات اور میری زندگی میں جو کچھ دیکھو‘ اسے برملا دوسروں کے سامنے بیان کردو ۔ حدتو یہ ہے کہ بیوی جیسے حساس رشتہ میں بھی کبھی آپ نے پردہ داری نہیں برتی حالانکہ بیوی انسان کی شخصیت کے جمیع پہلوؤں سے انتہائی خطرناک حد تک واقف ہوتی ہے‘ بلکہ اس کے برعکس خود اپنی ازواج کو ہی اپنی گھریلو زندگی کا ترجمان بنادیا اور لوگ آکر ان سے آپ کی گھریلو زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کرتے تھی۔اس سلسلہ میں آپ کو کبھی یہ خطرہ محسوس نہیں ہوا کہ اس طرح میرا کوئی کم زور یا قابلِ گرفت پہلو لوگوں کے سامنے آجائے گا‘ یا میرے کسی گھریلو معمول کو غلط طور پر سمجھ کر کم زور ایمان والوں کے ایمان میں دراڑ پڑ جائے گی یا پھر میری اپنی بیویاں ہی کسی وقت کسی وقتی رنجش کے زیرِ اثر میرے بارہ میں کوئی غلط تاثر لوگوں میں عام نہ کردیں۔ ہمالیہ جتنی بلندوبالا یہ خود اعتمادی کسی ایسے انسان کے اندر جگہ نہیں بناسکتی جس کی سیرت وکردار میں ذرا بھی جھول پایا جاتا ہو۔ اپنی بات مزید واضح کرنے کے لیے ہم سید سلیمان ندوی کے ’’خطباتِ مدراس‘‘ سے ایک اقتباس نقل کرتے ہیں:
’’بڑے سے بڑا انسان جو ایک ہی بیوی کاشوہر ہو‘ وہ بھی یہ ہمت نہیں کرسکتا کہ وہ اس کو اذنِ عام دے کہ تم میری ہر بات ‘ ہر حالت او رہر واقعہ کو برملا کہہ دو اورجو کچھ چھپا ہے ‘ وہ سب پر ظاہر کردو مگر آنحضرت کی بیک وقت نو بیویاں تھی او ران میں ہر ایک کو یہ اذنِ عام تھا کہ خلوت میں مجھ کو جو کچھ دیکھو ‘ وہ دن کی روشنی میں ظاہر کردو‘ جو بند کوٹھڑیوں میں دیکھو‘ اس کو کھلی چھتوں پر پکار کر کہہ دو۔ اس اخلاقی وثوق اور اعتماد کی مثال کہیں اور مل سکتی ہے؟‘‘( صفحہ۶۸)ایک اور جگہ کہتے ہیں:’’ انسان کے عادات ‘ اخلاق اور اعمال کا بیوی سے بڑھ کر کوئی واقف کار نہیں ہوسکتا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نبوت کا دعویٰ کیاتو اس وقت حضرت خدیجہؓ کے نکاح کو پندرہ برس ہوچکے تھے اور یہ مدت اتنی بڑی ہے کہ جس میں ایک انسان دوسرے کی عادات وخصائل اور طورطریق سے اچھی طرح واقف ہوسکتا ہے۔ اس واقفیت کا اثر حضرت خدیجہؓ پر یہ پڑتا ہے کہ ادھر آپ کی زبان سے اپنی نبوت کی خبر نکلتی ہے‘ ادھر خدیجہؓ کا دل اس کی تصدیق کے لیے آمادہ ہوجاتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بارِ گراں سے گھبراتے ہیں تو حضرت خدیجہؓ تسکین دیتی ہیں کہ یارسول اللہ ! اللہ آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔۔۔آنحضرت کی تمام بیویوں میں حضرت خدیجہؓ کے بعد آپ کو سب سے زیادہ محبوب حضرت عائشہؓ تھیں۔ حضرت عائشہ ؓ نو برس تک متصل آپ کی صحبت میں رہیں۔ وہ گواہی دیتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کسی کو برا بھلا کہنے کی نہ تھی۔ آپ برائی کے بدلہ میں برائی نہیں کرتے تھی‘ بلکہ معاف کردیتے تھے۔ آپ گناہوں کی بات سے کوسوں دور تھے۔ آپ نے کسی سے اپنا بدلہ کبھی نہیں لیا۔ آپ نے کبھی کسی غلام‘ لونڈی ‘ عورت یا خادم یہاں تک کہ کسی جان ور کو کبھی نہیں مارا۔‘‘ (صفحہ ۱۰۰)
جی ہاں! اپنی بیوی کو اپنے خلوت خانوں کا ترجمان بنانے کا خطرہ مول لینا تو دورکی بات ہے‘ اگر یہی بیوی جو اپنے شوہر کے کردار کی ہر اونچ نیچ سے واقف ہے ‘ ا س کی نہ صرف بڑائی اور عظمتِ کردار ‘ بلکہ الوہی منصب کی معترف ‘ مداح او رپرزور داعی بن جائے تو دنیا کی نظر میں یہی بات بھی اس کی صداقت او رعظمت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ خصوصاً جبکہ اس بیوی کی ایک سے لے کر آٹھ تک سوکنیں ہوں‘ ہفتہ گزرنے کے بعد ایک کی باری آتی ہو‘ پھر شوہر کا زیادہ وقت ذکر وعبادت ‘ تعلیمِ دین اور یادِالہی میں صرف ہوتا ہو‘ دعوت ‘ ہجرت او رجہاد کے لیے طویل سفر الگ درپیش رہتے ہوں‘ گھر بھی مالی اعتبار سے زیادہ خوش حال نہ ہو‘ کئی کئی دن تک فاقے رہتے ہوں‘ چولہا جلانے کی نوبت نہ آتی ہو‘ راتوں کو چراغ روشن کرنے کے لیے تیل تک نہ ہو‘ گھر کی کل کائنات ایک حجرہ ہو جس کا دروازہ خستہ حالی کے باعث کبھی بند نہ ہوپایا ہو‘ پانی اور چھوہارے پہ عموماً گزارہ رہتا ہو اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ بیوی ابھی لڑکپن کی حدود سے گزر رہی ہو جب لڑکیوں کا کام کاج سے زیادہ کھیل کود میں دل لگتا ہے‘ خانہ داری کی ذمہ داریاں ٹھیک طرح اٹھا نہیں پاتیں اور کھانے پکانے میں سو طرح کی غلطیاں ہوجاتی ہیں تو سوچئے کہ اس مخصوص صورتِ حال میں اس بیوی سے کتنی غلطیاں ہونے کا امکان ہے‘ انسان سوچتا ہے کہ ان میاں بیوی کے درمیان تو ہر وقت نوک جھونک رہتی ہوگی ‘ لڑکی کے ارمان پورے نہ ہوتے ہوں گے اور وہ دل سے کبھی بھی اپنے شوہر کی نہ ہوسکی ہوگی۔ اس بیوی کو اگر خاوند دنیا کے سامنے اپنی گھریلو زندگی اور خلوت کدوں کاترجمان بناکر بٹھادے تو اسے اپنے پیروں پہ خود کلہاڑا مارنے کے مترادف سمجھا جائے گا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اس بیوی کی تمام خصوصیات حضرت عائشہؓ میں یکجا نظر آتی ہیں۔ (دیکھئے : سیرتِ عائشہؓ ‘سیدسلیمان ندویؒ ) مگر نتیجہ اس کا یہ ہے کہ وہ نہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر فریفتہ اور صدقے قربان ہیں‘ بلکہ نبی کی دعوت کے حرف حرف پر ایمان رکھتی ہیں‘ انہیں دل و جان سے چاہتی ہیں‘ ان کے ساتھ دفن ہونے کی تمنا رکھتی ہیں(صحیح البخاری‘حدیث ۷۳۲۸) او ران کی تعلیمات کے رنگ میں اس حد تک رنگی ہوئی ہیں کہ حیرت انگیز طور پر ان کا رونا دھونا بھی اس کم عمری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچہ میں ڈھل گیا ہے۔روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت عائشہؓ رونے لگیں‘ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیوں رورہی ہو؟ تو جواب دیا کہ جہنم یاد آگئی تھی۔ (ابوداود‘ حدیث ۴۷۵۵)جی ہاں! اپنے شوہر اور پیغمبر کی سیرت وشخصیت اور صداقت سے اس حدتک متاثر ہیں اور ان کی ان دیکھی غیبی خبروں پر اس حد تک ایمان رکھتی ہیں کہ ان کی بتلائی ہوئی جہنم کو یاد کرکے بیٹھے بٹھائے رونا آگیا۔ اللہ اکبر!
پھر بات اس ذاتی مرعوبیت اور ذاتی تاثر پر ختم نہیں ہوتی ‘ معاملہ کی اصل حساسیت ان کی ترجمانی میں ہے جس میں اصولی طور پر کئی خدشات نظر آتے ہیں۔ غور کیجئے کہ بچے تو بچے ہوتے ہیں جن سے ہر قدم پر ہزار غلطیاں ہوتی ہیں‘ پھر جب ایک کم سن بچی بیوی بھی ہو جو شوہر کے کردار کے تمام پہلوؤں سے واقف ہے اور پھر معاملہ ایک نبی کی صورت وسیرت اورشب وروز کی زندگی نقل کرنے کا ہوتو سوچئے کہ اس کے لیے کتنے محتاظ ترجمان کی ضرورت ہوگی‘ کس طرح ایک ایک قدم سوچ سوچ کر اٹھانے کی ضرورت ہوگی اور اس کم سن بیوی کو یہ فریضہ سونپنے کے نتیجہ میں کتنی بے اعتدالیوں کا خطرہ ہوگا! مگر یہاں ایسا نہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ وہ جس ہستی کی ترجمان بن رہی ہیں ‘ اس کی سیرت وکردار اور حیاتِ طیبہ کا ہر پہلو شفاف اور تابناک ہے۔
ایسا نہیں کہ وہ بچپن کی بھول چوک اور کمی بیشی سے بری تھیں‘ بقول سیدسلیمان ندویؒ : ’’ اس عقل وشعور کے باوجود جو فطرۃً فیاض قدرت کی طرف سے ان کو عطاہوا تھا‘ کم سنی کی غفلت او ربھول چوک سے بری نہ تھیں۔ گھر میں آٹا گوندھ کر رکھتیں او ربے خبر سو جاتیں‘ بکری آتی اور کھا جاتی۔دوسری عمر رسیدہ بیبیوں کے مقابلے میں کھانا بھی اچھا نہیں پکاتی تھیں۔(سیرتِ عائشہؓ ‘صفحہ ۳۵) اور ایسا بھی نہیں کہ کبھی ان کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کسی بات پر اختلاف نہ ہوا ہو یا رنجش کا موقع نہ آیا ہو۔ ازواج مطہرات کے ساتھ پیش آنے والے ایسے چند موقعوں کی طرف اشارہ تو قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ (دیکھئے: سورۃ التحریم کی ابتدائی آیات‘ سورۃ الاحزاب آیت نمبر ۸۲ تا ۹۲۔)ایک دفعہ آپ ایسی ہی کسی رنجش کی بنا پر ایک ماہ کے لیے اپنی بیبیوں سے الگ رہے۔ میاں بیوی کے درمیان چلنے والی لطیف نوک جھوک بھی یہاں چلتی رہتی تھی۔ ان تمام تر پیچیدگیوں کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو اپنا ترجمان بنانا اور حضرت عائشہؓ کا اس ترجمانی کے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ‘صاف شفاف زندگی اور عظیم وپرہیبت کردار کی برہان بن جانا حضرت عائشہؓ کا کمال بھی ہے، مگر اس سے بڑھ کر یہ ان کے سرتاج آقائے نام دار صلی اللہ علیہ وسلم کی بے داغ سیرت ‘ صداقت وراست گوئی اور نبوت وپیغمبری کی ایک دلیل ہے۔اگر نبی کی ذات میں کوئی کجی‘ عیب یا نقص ہوتا تونبی کی یہ محرمِ راز بیبیاں جن کا باہم سوکن کا رشتہ تھاوہ کبھی تو کسی کے سامنے اس کا ذکرکرتیں‘خصوصاً کم سن بیوی جن کی عمر ابھی لڑکپن کی ہے۔جہاں رشتہ سوکن کا ہو وہاں نہ ہوتے ہوئے بھی شوہر کی ذات میں بہت سے عیب نظر آنے لگتے ہیں۔ مگر ان بیبیوں کے بیانات کو دیکھیں تو یوں محسوس ہو کہ ان کا بال بال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن کردار‘ اعلی اخلاق اور معطر صفات کا گرویدہ ہے۔ خصوصاً سب سے کم سن بی بی نبی کی مدح وثناء میں سب سے زیادہ رطب اللسان ہیں۔ بیبیوں کا آپ کی گھریلو زندگی کاترجمان بننا اپنے اندر یقیناًاور بھی بہت سی حکمتیں رکھتا ہوگا ‘ لیکن یہ بھی اس معاملہ کاایک پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
یوں لگتا ہے کہ آپ کے کردار کی پاکیزگئ وطہارت اور صداقت وشفافیت کے دوسرے دلائل قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ‘ اس کی گواہی بیبیوں کے ذریعہ دلوانا خود خدا کو مقصود تھا اور اللہ ہی کے تکوینی امر کے تحت آپ نے غریب وامیر‘ کم سن ومعمر اورکنواری وبیوہ ‘ غرض ہرطرح کی بیبیوں سے شادیاں فرمائیں اور خوب کثرت سے فرمائیں تاکہ خدا کی یہ حکمت اعلی درجہ میں پوری ہو اور دنیا کے سامنے آپ کے پاکیزہ اور بے داغ کردار کی یہ شہادت’’ امر‘‘ ہوجائے‘ مگر کم فہم اور بدنصیب لوگ آپ کی ازدواجی زندگی کی اس عظیم الشان شہادت سے بے خبر‘ سب سے زیادہ اعتراض بھی آپ کی ازدواجی زندگی کے ہی مختلف پہلوؤں پرکرتے ہیں۔ ان اعتراضات سے مرعوب ہوکر روایات کے سراسر برعکس‘ نبی کی کم سن محرمِ راز حضرت عائشہؓ کی کم سنی کا انکار کرنا ناقابلِ فہم اور نبی کے عظمتِ کردار کی اس برہان کی آب وتاب گھٹانے کے مترادف ہے۔جبکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ اقدامی عمل کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بے عیب زندگی کی اس تابناک برہان کو کامل خوداعتمادی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا اور دنیا بھرکے سامنے ان کی نبوت وصداقت کی شہادت دی جاتی۔ صلی اللہ تبارک و تعالی علیہ و علی آلہ و ازواجہ وبارک وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا!
[اس مقالہ کی تیاری میں سید سلیمان ندویؒ کی تصانیف سے خاصی مدد لی گئی ہے‘ اللہ تعالی ہماری طرف سے انہیں نیک جزاء عطا فرمائیں۔ آمین]
مآخذ
۱۔ القرآن الحکیم
۲۔ احکام القرآن‘ امام ابوبکر احمد الرازی الجصاص(وفات:۳۷۰ھ) ط: قدیمی کتب خانہ ‘ آرام باغ کراچی
۳۔ صحیح البخاری(معہ فتح الباری) ط: قدیمی کتب خانہ ‘ کراچی
۴۔ صحیح مسلم۔ ط: بیت الأفکار الدولیۃ
۵۔ سنن ابوداود۔ ط: بیت الأفکار الدولیۃ
۶۔ جامع الترمذی۔ ط: دارالأعلام
۷۔ فتح الباری‘ حافظ ابن حجر العسقلانی(وفات: ۸۵۲ھ)ط: قدیمی کتب خانہ ‘ آرام باغ کراچی
۸۔ کتاب الأم‘ امام شافعیؓ۔ ط:دارالوفاء
۹۔ الہدایہ‘ برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی۔ ط: مکتبۃ البشری‘ کراچی
۱۰۔ سیرتِ عائشہ معہ ضمیمہ’’ تحقیقِ عمرِ عائشہ‘‘ سید سلیمان ندوی۔ط:شمع بک ایجنسی ‘ لاہور
۱۱۔ خطباتِ مدراس‘ سید سلیمان ندوی۔ طارق اکیڈمی ‘ لاہور
۱۲۔ رخصتی کے وقت ام المؤمنین عائشہؓ کی عمر‘ حافظ عمار خان ناصر‘ شاملِ اشاعت : الشریعہ ( شمارہ اپریل 2012ء)
’’شکست آرزو‘‘
عرفان احمد بھٹی
مصنف: ڈاکٹر سید سجاد حسین
ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی، 35ڈی، بلاک 5فیڈرل بی ایریا کراچی، 75950
صفحات 352، قیمت درج نہیں
دسمبر سال کا آخری مہینہ ہوتا ہے‘ ٹھٹھرتی طویل راتیں سال بھر کی خوش گوار اور تلخ یادوں کو تازہ کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ ان خوش گوار راتوں‘ چمکتے سنہرے دنوں اور ماضی کی خوش گوار یادوں میں 16دسمبر اپنی ناخوشگوار اور تلخ یادوں کی وجہ سے اداس کرنے والا بھی ہوتا ہے، جب ایک نظریہ اور ملت کی بنیاد پر وجود میں آئی، نظریاتی مملکت دولخت ہوئی، اور اغیار نے یہ طعنہ دیا کہ ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ سنہری ریشوں کی سرزمین کا تاحد نظر آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والا لہلہاتا بے داغ سبزہ اور اس کی سب بہاریں لسانی فتنہ کی نذر ہو گئیں۔ مہربان راتیں بے مہر ہو گئی تھیں۔ انھی بے مہر بے درد لمحوں کی روداد کو ڈھاکہ یونی ورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور انگریزی کے معروف ادیب ڈاکٹر سید سجاد نے اپنی تصنیف کردہ کتاب The wastes of Time میں بیان کیا ہے جس کا اردو ترجمہ ’’شکست آرزو‘‘ سقوط ڈھاکہ کے منظر اور پس منظر کا بہترین تجزیہ ہے۔
ڈاکٹر سید سجاد حسین بنگال کے ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں فعال کردار ادا کیا‘ بطور طالب علم بھی اور بطور استاد بھی، نظریہ پاکستان کی آب یاری کے لیے دی ایسٹ پاکستان سوسائٹی قائم کی اور ایک پندرہ روزہ سیاسی مجلہ’’پاکستان‘‘ جاری کیا۔ انھوں نے دو قومی نظریے کی ترویج کے لیے بطور صحافی بھی کام کیا اور روزنامہ آزاد کلکتہ اور ’’کامریڈ‘‘ میں بھی مضامین لکھتے رہے۔
زیر نظر کتاب میں انھوں نے تفصیل کے ساتھ دو قومی نظریے کے بارے جدوجہد اور بنگال میں تحریک پاکستان کے قائدین اور سیاست دانوں کے کردار‘ قیام پاکستان کے بعد کے 24سالوں پرمحیط ان کی کمزوریوں اور نظریہ پاکستان سے وابستگی کا جائزہ پیش کیا ہے اور ساتھ ساتھ ہی برطانوی راج سے مسلمانوں کی آزادی دو قومی نظریے اور اس کی خاطر کی جانے والی جدوجہد کی سرگزشت‘ مسلم لیگ کے قیام 1906سے 1947 تک شرح و بسط کے ساتھ بیان کی ہے۔
بنگالی زبان میں مسلمانوں کی ادب کے محاذ پر کمزوری، دینی اور تاریخی لٹریچر نہ ہونے کی وجہ سے بنگالی قوم پرستوں اور ہندوؤں نے تمام صورت حال کو دو قومی نظریے کے خلاف جس طرح استعمال کیا اس کی مکمل تفصیل دی اور ساتھ ہی تاریخی حوالوں اور منطقی دلائل سے ان کی تردید بھی پیش کی گئی ہے۔ انھوں نے بنگلہ قوم پرستی اور لسانی تعصبات کے حوالے سے قوم پرستوں کے بے بنیاد دلائل کے رد میں نہایت بیش قیمت علمی لوازمہ مہیا کیا ہے۔
یہ یادداشتیں انھوں نے 1973میں دوران قید قلم بند کیں، جب بقول آسکروائلڈ جیل کی زندگی انسان کے جذبات کو سخت کر کے پتھر بنا دیتی ہے۔ ابتدائی ابواب میں انھوں نے اپنے ساتھ روا رکھے گئے ظالمانہ سلوک، گھر سے گرفتاری، تشدد‘ جیل میں گزرے ایام، اردو بولنے والوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، قتل و غارت، لوٹ مار کی تفصیلات اور وہاں موجود اہل کاروں کے رویے بیان کیے ہیں۔ ڈھاکہ جیل میں اتنی تعداد میں پڑھے لکھے لوگ پہلے کبھی قیدی نہیں ہوئے ہوں گے۔ ان قیدیوں میں اکثر لوگ پی ایچ ڈی‘ یونی ورسٹی کے اساتذہ، علمائے کرام، یونی ورسٹی اور کالجز کے طلبا شامل تھے۔ غیر بنگالی افراد کو وقتاً فوقتاً تشدد کا نشانہ بنایا جاتا، اس دوران بعض تو دم توڑ گئے۔ چھاپہ مار راہ نماؤں کے سامنے غیر بنگالیوں کی شناختی پریڈ ہوا کرتی تھی اور وہ جس کو چاہتے لے جاتے اور انھیں موت کے گھاٹ اتار دیتے۔ یہ سلسلہ 1972کے موسم گرما تک چلا۔ (ص نمبر71-70)
جیل میں موجود اپنے ’’باغی‘‘ ساتھیوں کی ذہنی کیفیات‘ سیاسی افکار اور نظریہ پاکستان کے بارے ان کے جذبات و محسوسات پر نہایت شرح و بسط سے بحث کی ہے۔ ان ساتھیوں میں متحدہ پاکستان کے آخری سپیکر فضل القادر چوہدری، عبدا لصبور خان اور خواجہ خیر الدین سابق ڈپٹی سپیکر اے ٹی ایم عبدالمتین اور روزنامہ سنگرام کے ایڈیٹر اختر فاروق قابل ذکر ہیں۔ ان ساتھیوں میں ایک ایس بی زمان تھے جو کہ عوامی لیگ کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے لیکن بعد میں شیخ مجیب الرحمن کے انتہا پسندانہ اقدامات کے خلاف بغاوت کر گئے تھے اور پاکستان کے متحد رہنے پر زور دیتے تھے۔ (ص نمبر67) اسی طرح فضل القادر چوہدری جو ہمیشہ پاکستان کے خیر خواہ اور نظریہ پاکستان کے وفادار رہے اور جب ان کے خلاف مقدمہ شروع کیا گیا تو وہ اس قدر بدحواس ہوئے کہ مجیب الرحمن کے اعلان آزادی کی حمایت کر دی اور اس کے برعکس سابق گورنر عبدالمالک نظریہ پاکستان کے مزید قائل ہو گئے اور وہ سمجھتے تھے کہ ’’پاکستانیوں‘‘ نے نظریہ پاکستان سے انحراف کر کے بڑی غلطی یہ کی ہے۔ فاضل مصنف نے 4ابواب ان موضوعات پر لکھے اور ہر شخصیت پر تفصیلی بحث کی ہے۔
خواجہ ناظم الدین کے خانوادہ سے تعلق رکھنے والے سیاسی زعیم خواجہ خیر الدین جو طویل عرصہ تک ڈھاکہ کے وائس چیئرمین رہے‘ ڈھاکہ میں مجیب الرحمن مخالف حلقوں میں اہم کردار کے حامل تھے۔ انھوں نے اپنے اوپر عدالت میں لگائے گئے غداری کے الزام کا پوری جرات سے دفاع کرتے ہوئے پاکستان اور اسلام کے ساتھ اپنی وابستگی کو پورے عزم اور بے باکی کے ساتھ بیان کیا اور اس پر ثابت قدم رہے حالانکہ ان کے دوستوں نے ان سے عدالتی بیان میں ذرا نرمی سے کام لینے کے لیے کہاتھا مگر انھوں نے انکار کر دیا۔
مصنف کے خیال میں ڈھاکہ یونی ورسٹی کے طلبہ کے علاوہ بنگال کے عام دیہاتی افراد کو زبان کے معاملہ سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی۔ ہندوؤں کے زیر اثر بنگلہ قوم پرست عناصر نے اس مسئلے کو ابھارا، دو قومی نظریے پر یقین رکھنے والے لوگوں کی کمزوری اور معذرت خواہانہ رویوں‘ مرکزی حکومتوں کی عدم دل چسپی اور نظر انداز کیے جانے والے اقدامات نے اس کو مہمیز کیا، جس کا واضح ترین ثبوت یہ ہے کہ بنگالی سیاست کے اہم ترین سیاسی کردار یعنی خواجہ ناظم الدین، اور حسن شہید سہروردی کو بنگلہ زبان سے معمولی واقفیت تھی۔
کتاب کے اہم ترین ابواب وہ ہیں جن میں مصنف نے لسانی مسئلے پر تفصیل کے ساتھ بحث کی اور واضح کیا کہ برصغیر میں وحدت اور یکجہتی ہمیشہ مذہبی بنیادوں پر ہی قائم رہی ہے۔ اگر نظریات اور مذہب کے بجائے لسانیت کی کوئی اہمیت ہوتی تو 1946 کے الیکشن میں ی رجحانات واضح ہو گئے تھے کہ اس موقع پر بنگال پر راج کرنے والے اہم ترین سیاست دان اے کے فضل الحق سیاسی منظر نامے سے مکمل طور پر صاف ہو گئے۔ لوگوں نے شخصیات کو چھوڑ کر ایک نظریہ کی خاطر مسلم لیگ کو ووٹ دیے۔ سہلٹ کے ریفرنڈم نے تو اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا حالانکہ یہاں مولانا حسین احمد مدنی ؒ کا بہت اثر تھا وہ محض عالم دین ہی نہیں بلکہ نجی زندگی میں بھی لوگوں کے لیے انتہائی قابل احترام نمونہ تھے۔ اپنی کوشش کے باوجود بھی وہ لوگوں کو دو قومی نظریہ کے خلاف ووٹ دینے پر آمادہ نہ کر سکے۔ (ص217) مصنف نے اس بات کو دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے کہ ہندوستان کے کروڑوں باشندوں کو ایک لڑی میں پرونے والی بنیاد ہمیشہ مذہب ہی رہا ہے خواہ وہ اسلام ہو یا ہندو مت۔ ریاستوں کی تشکیل میں اگر زبان اہم ہوتی تو پھر برصغیر میں جتنی زبانیں ہیں اتنی ہی ریاستیں ہونی چاہیے تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ جب حسین شہید سہروردی نے بنگال کو تقسیم کر کے پاکستان کا حصہ بنانے کے بجائے خود مختار متحدہ بنگال کی تجویز پیش کی تو کانگریس نے اس نقطہ نظر کو رد کر دیا تھا۔ انھیں اندازہ تھاکہ اگر لسانی بنیادوں پر تقسیم کو قبول کر لیا گیا تو پھر ہندوستان کو مزید ٹکڑوں میں بانٹنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ (ص 213) مصنف کے خیال کے مطابق یہ حسین شہید سہروردی کے خیالات کا ٹیڑھا پن اور دو قومی نظریہ پر کمزور یقین کی علامت تھی کہ وہ خود مختار بنگال کو پاکستان کا متبادل سمجھنے لگے تھے، ان کا یہ موقف درحقیقت ہندوؤں اور مسلمانوں کے مشترکہ قومیت کے تصور کو قبول کرنے کا اعلان تھا۔ ان کے خیال میں پاکستان کو ٹکڑے کرنے کا بیج اس تصور نے رکھ دیا تھا۔ (ص نمبر 214,213) بنگال کے علاقوں کی ثقافت، زبان اور ادب کے حوالے سے انتہائی اہم معلومات اس کتاب میں پیش کی گئی ہیں۔
لسانی مسئلہ کے حوالے سے انھوں نے مسلم بنگالیوں کی اہم ترین کمزوری کی نشان دہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ گزشتہ دو تین نسلوں کی ثقافتی لحاظ سے عربی اور فارسی سے عدم واقفیت ایسی کمزور تھی جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے نتیجہ میں بنگال کے مسلمان دوسرے مسلمانوں سے کٹ کر رہ گئے تھے اور نادیدہ طور پر وہ غیر محسوس رشتہ ختم ہو گیا تھا جو انھیں روحانی طور پر امت مسلمہ سے جوڑے ہوئے تھا۔ عربی، فارسی سے نابلد مسلمان آہستہ آہستہ یہ احساس کھو دیتا ہے کہ وہ کسی بڑے وجود کا حصہ ہے۔ وہ تاریخ سے بے گانہ ہو جاتا ہے اور اپنے ملک سے باہر کے مسلمانوں کے کارناموں سے اس کے اندر کوئی احساس فخر پیدا نہیں ہوتا، جواہر لال نہرو نے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اپنے ماضی کے کارناموں پرمشترکہ احساس فخر سے پیدا ہونے والا تعلق ہی مضبوط رشتہ کا باعث ہوتا ہے۔ تعلیم کے شعبہ میں عربی، فارسی کا رجحان ختم ہونے سے مشترکہ احساس تفاخر ختم ہو گیا‘ یہ رجحانات پورے ہندوستان کے تعلیمی نظام میں پروان چڑھے مگر بنگال میں اردو نہ ہونے کی وجہ سے یہ اثر زیادہ گہرا تھا، باقی ہندوستان میں اردو نے عربی فارسی کی اس کمی کو پورا کیے رکھا کیوں کہ مسلمانوں کی تاریخ اور اہم ترین دینی لٹریچر اردو میں منتقل ہو گیا تھا البتہ بنگالی زبان اس دینی لٹریچر اور تاریخی ورثہ سے محروم تھی۔ بنگالی زبان میں مسلمانوں کے لکھنے والوں کا وجود بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ (ص223,24,25)
ہندوؤں نے 1905 میں تقسیم بنگال کی مخالفت کی اور پھر بعدازاں1947 میں مسلم لیگ کو زچ کرنے اور مطالبہ پاکستان سے دستبرداری کے لیے بنگال کی تقسیم کا مطالبہ کر دیا، اگر بنگال کی تقسیم 1905میں غلط تھی تو 1947میں درست کیسے ہو گئی، بنگلہ زبان کے ان پچاریوں نے بھارت سے کیوں مطالبہ نہ کیا وہ مغربی بنگال کو بھی آزاد کر دے تاکہ بنگلہ زبان اور کلچر کا تحفظ ایک بنگالی ریاست خود کرے ۔ اس ضمن میں انھوں نے اشتراکی عناصر کے کردار پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی یہ ایجنڈا طے کر لیا گیا تھا کہ پاکستان کو دولخت کرنے اور اس کی نظریاتی بنیادوں کو منہدم کرنے کے لیے لسانی اور معاشی صورت حال کو ہوا دی جائے گی اور ہماری حکومتیں چین کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہاں ہونے کی وجہ سے اشتراکی عناصر کی سرگرمیوں سے صرف نظر کرتی رہیں اور بائیں بازو کے لوگ مضبوط ہوتے چلے گئے جو کہ نظریہ پاکستان کے مخالف تھے (ص86) کمیونسٹ پارٹی کی اس سازش کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بنگالی راہ نما ابوالہاشم کے بیٹے بدرالدین عمر کی کتاب کا حوالہ دیا ہے کہ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد کلکتہ میں کمیونسٹ پارٹی کا اجلاس ہوا تھا جہاں پاکستان کے بارے حکمت عملی طے کی گئی تھی اس میٹنگ میں شیخ مجیب الرحمن بھی ایک طالب علم کے طور پر شریک ہوئے تھے اور اس کا اظہار وہ ہمیشہ کرتے رہے کہ 1947کے بعد آنکھوں میں بسے خوابوں کی تعبیر مل گئی ہے۔
اگر یہ طے شدہ منصوبہ نہ ہوتا تو کیسے ممکن تھا۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد کوئی کھڑا ہو اور قائد اعظم کی تقریر میں ہنگامہ کرنے کی جسارت کرے۔ اس طرح عبدالرزاق جو مصنف کے قریبی ساتھی اور ڈھاکہ یونی ورسٹی کے استاد اور تحریک پاکستان میں ان کے ساتھی تھے۔ 3سال بعد ہی مایوسی کی باتیں کرنے لگے تھے، مصنف نے ان کو پاکستان کے دفاع میں دلائل دیتے ہوئے واضح کیا کہ 200سال کے انگریزی اقتدار اور ہندو سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے ظلم سے نجات کے لیے ہی ہم نے پاکستان حاصل کیا تھا کہ اب صرف چند سال بعد ہی ہم 200سال کی تلخیوں کو بھلا کر کیسے علیحدگی کی راہ پر چل پڑیں۔ (ص 57,52) دہلی یونی ورسٹی نے 1973میں انھی عبدالرزاق کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔
کمزور مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے قائد اعظم کے ساتھ طلبا کی اس جسارت کا نوٹس لینے کے بجائے اس واقعہ کو نظر انداز کیا بلکہ ان میں سے دو افراد تو بعد میں وفاقی حکومت کے سیکرٹری کے منصب تک بھی پہنچے۔ احساس محرومی ختم کرنے کے نام پر اسی طرح کے سازشی طلبا کو دھڑا دھڑ CSP آفیسرز کے طور پر بھرتی کیا گیا۔ مصنف کے خیال کے مطابق اگر حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگریزی کو بطور دفتری زبان کی حیثیت سے برقرار رکھا جاتا تو زیادہ بہتر اور عملی قدم ہوتا کیوں کہ آج بھی تینوں ملکوں میں عملی حیثیت تو انگریزی کو ہی حاصل ہے اردو زبان پر اصرار بلاجواز تھا، اگر بعد میں اس کو دینی اور تہذیبی نقطہ نظر سے بتدریج پروان چڑھایا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ اس صورت حال نے ان کے حوصلے بڑھائے اور وہ کھل کر علیحدگی کی باتیں کرنے لگے ورنہ 200 سال سے ہندو سرمایہ کار کے زیر تسلط سادہ لوح مسلمان کے لیے یہ کسی صورت ممکن نہ تھا کہ وہ ایک سال بعد ہی پاکستان سے مایوسی کا اظہار شروع کر دیتے۔ حقیقت میں تو یہ کمیونسٹ پارٹی کا ایجنڈا تھا جس کو ہندوؤں نے پروان چڑھایا، پاکستان کے نادان دوستوں اور ارباب بست و کشاد نے اپنے رویوں سے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور 1949میں ہی اس پر کام شروع کر دیا گیا تھا۔ جب 1949 میں کرژن ہال لٹریری کانفرنس کے موقع پر ڈاکٹر شہید اللہ نے صدارتی تقریر میں بنگالی قوم پرستی کا تصور پیش کیا، اس کانفرنس میں کلکتہ سے بھی مندوب آئے تھے۔ ان میں ڈاکٹر عبدالودود بہت اہم تھے جو پاکستان کے قیام اور نظریہ کے مخالف تھے اور ڈھاکہ منتقل نہیں ہوئے تھے۔
مصنف نے ایوب خان دور کے دو اہم ترین بیوروکریٹس الطاف گوہر اور قدرت اللہ شہاب کے منفی کردار اور ان کی جانب سے بائیں بازو کی حمایت کا بھی تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔ (ص 237-38) رائٹرز گلڈ کے بارے‘ جس کے مصنف ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن تھے اور شہاب کے ایسے فیصلوں سے اختلاف کرتے تھے جو لسانی مسئلہ کو ابھارنے کے لیے بنیاد بنتے دکھائی دیتے تھے۔ مثلاً شہاب صاحب کا خیال تھا کہ گلڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی میں ہر زبان کے لوگوں کو نمائندگی دی جائے عملاً یہ مغربی پاکستان کی بالادستی کا منصوبہ تھا جو کثیر لسانی خطہ ہے اور بعد میں قوم پرستوں کے ہاتھوں یہی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے کا خدشہ تھا۔ مصنف نے اس خطرہ کو بھانپتے ہوئے اختلاف کیا جو بالآخر شہاب کو ناگوار گزرا لیکن ان کے اصرار پر بالآخر انھیں ہتھیار ڈالنا ہی پڑے لیکن اس اختلاف کی جسارت کی بنا پر شہاب نے 3سال بعد رکنیت ختم کروا کے ہی دم لیا۔ (ص241)
معاشی مسائل پر بحث کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ وسطی ہند کی دیگر ریاستوں کی طرح بنگال کے لوگ کبھی بھی معاشی لحاظ سے خوش حال نہیں رہے۔ خوش حالی کا تصور یہاں بس اتنا ہی رہا ہے کہ جو دو وقت کی روٹی اور ناشتہ کر لے وہی خوش حال ہے کیوں کہ بنگال کا خطہ ہمیشہ قحط اور سیلابوں کی زد میں رہا اور یہاں دولت کا تصور عام ہندوستانی علاقوں کے برعکس ہی رہا ہے۔ مٹی اور گھاس پھوس کے مکان، اردگرد پھلوں کے چند درخت۔ اعلیٰ معیار کی زندگی یہاں ہمیشہ چند لوگوں کو ہی میسر رہی ہے حتیٰ کہ میزبانی کا تصور بھی یہ تھا کہ مہمان کو دال چاول دیے جاتے وہ خود ہی پکا کر کھا لیتے۔ لیکن یہ باتیں اس شدت سے پھیلائی گئی تھیں کہ ہر خاص و عام نے ان کو قبول کر لیا اگر مشرقی بنگال میں بدحالی اور استحصال تھا تو اس کا ذمہ دار بھی یہی متعصب ہندو طبقہ تھا جو بنگال پر مسلط تھا جس کے لیے مسلمانوں نے تقسیم بنگال کروائی تھی اور پھر اسی طبقہ نے 1911میں تقسیم بنگال کی تنسیخ کے لیے دباؤ ڈالا اور اس کو منسوخ کروا کے ہی دم لیا اس بنا پر تمام تر صنعت کلکتہ کے نواح میں لگی اور اعلیٰ تعلیم کے ادارے بھی یہیں قائم کیے گئے۔ تعلیم کی صورت حال تو یہ تھی کہ 1930میں جب خواجہ ناظم الدین نے The Star of India کے نام سے ایک اخبار نکالا تو انھیں اخبار کے لیے مسلمان عملہ ہی دستیاب نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں ایک عیسائی کو اس کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔ 1911میں تنسیخ بنگال کے وقت مسلمانوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ڈھاکہ میں یونی ورسٹی قائم کی جائے گی۔ ہندوؤں سے یہ بھی برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ انھوں نے انگریزوں پر زور ڈالا کہ ڈھاکہ میں یونی ورسٹی کے قیام سے کلکتہ کی یونی ورسٹی متاثر ہو گی اس لیے اس فیصلہ کو بدل دیا جائے۔ بالآخر10 سال بعد 1921میں ڈھاکہ یونی ورسٹی قائم ہوئی اور یہاں بھی مسلمان سٹاف نہ ہونے کے برابر تھا اگر کوئی کلرک بھی بھرتی ہو جاتا تو یہ بہت بڑی کامیابی تصور کی جاتی، چند مسلمان اساتذہ جو انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے یہاں موجود تھے۔ اس تعصب کا ایک مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا کہ جب تقسیم کے وقت آزاد اور کامریڈ اخبار کے مالک مولانا اکرم خان نے کلکتہ سے شفٹ ہونے کے لیے حالات درست ہونے کا انتظار کیا، وہ اپنا اخباری سیٹ اپ ڈھاکہ لے جانا چاہتے تھے، مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ بدھان رائے ان کے ذاتی دوست تھے، اور ان کا خیال تھا کہ انھیں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی، اور وہ آسانی سے شفٹ کر جائیں گے، لیکن وزیر اعلیٰ نے کسی بھی اخباری پلانٹ کو کلکتہ سے باہر منتقل کرنے پر پابندی لگا دی اور مولانا کو تمام اثاثے چھوڑ کر ڈھاکہ آنا پڑا۔
مصنف نے دو قومی نظریہ کی اہم ترین بنیاد جداگانہ انتخاب کا ذکر کرتے ہوئے مسلم قیادت کی موقع پرستی اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے نظریات کا جائزہ بھی لیا ہے حالانکہ جداگانہ انتخاب مسلم لیگ کی بنیاد تھی۔ نظریاتی لحاظ سے ناپختہ اور کمزور یقین والے مسلم لیگی سیاست دانوں نے خود ہی جداگانہ طرز انتخاب کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور اس طرح عملاً دو قومی نظریے کو غلط ثابت کر دیا‘ حسین شہید سہروردی ہی جداگانہ انتخاب کے خلاف کھڑے ہوئے اور پاکستان میں مخلوط طرز انتخاب کو رواج دے دیا گیا۔
19ابواب پر مشتمل کتاب میں 12مختلف ضمیمے بھی شامل کیے گئے ہیں، جن میں قرارداد لاہور سے بنگال کی تاریخ اور تحریک آزادی پاکستان کے اہم سنگ ہائے میل بھی زیر بحث لائے گئے ہیں۔
سیمینار: ’’حفظ قرآن کریم کے طلبہ کی تربیت اور ذہن سازی‘‘
ڈاکٹر حافظ محمد رشید
الشریعہ اکادمی کنگنی والہ، گوجرانوالہ کی علمی و فکری سرگرمیوں میں ایک سرگرمی مختلف موضوعات پر ہونے والے سیمینار بھی ہیں جن میں متنوع اہم موضوعات پر اہل فکر و دانش کو اظہار خیال کے لیے دعوت دی جاتی ہے۔ رواں سال میں اکادمی میں جن موضوعات پر سیمینار منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ان میں سے پہلا موضوع ’’حفظ قرآن کریم کے طلبہ کی تربیت اور ذہن سازی‘‘ تھا۔ اس موضوع پر مؤرخہ ۲ دسمبر ۲۰۱۲ء بروز اتوار بعد از نماز مغرب سیمینار کا اہتمام کیا گیا جو عشا کی نماز تک جاری رہا۔ اس سیمینار میں حفظ کے اساتذہ مدعو تھے۔ سیمینار کی صدارت اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کی۔ مقررین میں مدرسہ نصرۃ العلوم کے قرأت و تجوید کے مایہ ناز استاد قاری سعید احمد، صفہ اسلامک سنٹر کے بانی و سرپرست جناب سلیم رؤف، دارالعلوم گوجرانوالہ کے استاد قاری عبد الشکور اور سیمینار کے مہمان خصوصی مولانا جہانگیر محمود شامل تھے جو لاہور سے سیمینار میں شرکت کے لیے تشریف لائے تھے۔ تلاوت قرآن کریم اور نعت رسول مقبول کے بعد مولانا زاہد الراشدی نے افتتاحی کلمات میں سیمینار کے کا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا :
ہم وقتاً فوقتاً ان عملی مسائل پر گفتگو کا اہتمام کرتے رہتے ہیں جواساتذہ و طلبہ کو درپیش ہوتے ہیں۔ ان مسائل پر گفتگو کا مقصد ان مسائل کا قابل عمل حل تلاش کرنا، جو لوگ اس میدان میں سرگرم عمل ہیں، ان کے تجربات سے استفادہ کرنا اور یہ شعور پیدا کرنا ہوتا ہے کہ طلبہ و اساتذہ کس طرح اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے جدید دور کی مفید تحقیقات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ آج کا موضوع حفظ کے طلبہ کے مسائل و مشکلات اور ان کی تربیت کے بہتر اسالیب کی نشاندہی ہے۔ میں نے سن ۱۹۶۰ء میں حفظ مکمل کیا تھا۔ مجھے حفظ کے طلبہ کے جو مسائل محسوس ہوتے ہیں، وہ مختصراً کچھ یوں ہیں:
یہ مشاہدے کی بات ہے کہ حفظ کرنے والے بچوں میں سے ستر فیصد بعد میں حفظ کو سنبھال نہیں سکتے۔ میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر طالب علم کو حفظ کروانا ضروری ہوتا ہے؟ میری رائے میں بچے کو ایک دوپارے حفظ کروا کر استاذ کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ کیا یہ بچہ حفظ مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ بچہ حفظ مکمل کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے تو اس کو آگے چلایا جائے، وگرنہ انہیں۔ ایک یا دو پاروں کو پختہ کروا کے بچے کو کسی اور کام کے لیے فارغ کر دینا چاہیے۔ بچے نے جو ایک یا دو پارے حفظ کر لیے ہیں، اتنا قرآن تو ویسے بھی ہر مسلمان کو یاد ہونا چاہیے۔ ایک مسئلہ حفظ کے طلبہ کی دینی و اخلاقی تربیت کا بھی ہے کہ بچہ نما زکا کتنا پابند ہے، اسے جھوٹ سے کتنی نفرت ہے، حلال و حرام کی تمیز ہے یا نہیں، چھوٹے بڑے کا فرق جانتا ہے یا نہیں۔عام طور پر گھر والوں کی طرف سے یہ شکایت آتی ہے کہ جب سے اس نے حفظ شروع کیا ہے، یہ گھر والوں کی کوئی بات مانتا ہی نہیں۔ اس طرح جب بچہ حفظ کر لیتا ہے تو اس کے اعمال و کردار میں کوئی ایسی بات نہیں ہوتی جو دوسروں کو ممتاز نظر آئے، بلکہ بسا اوقات تو حافظ صاحب جب حفظ سے فارغ ہوتے ہیں تو دوسروں سے بڑھ کر ایسی سرگرمیوں میں مصروف و منہمک ہو جاتے ہیں جن کی معاشرہ ان سے توقع بھی نہیں کر سکتا۔ نتیجہ یہ کہ ان حافظ صاحب کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کو حفظ یا دینی لائن میں لانے سے گریز کرتے ہیں۔ ان مسائل کا کیا حل ہے؟ اس کے علاوکیا یہ ممکن ہے کہ حفظ کے سخت معمولات کے ساتھ بچے میں فہم قرآن کا ذوق بھی پیدا کیا جا سکے اور اس مقصد کے لیے بچوں کو قرآن کریم کے کچھ حصے کا ترجمہ بھی پڑھا دیا جائے؟ پھر اگر بچہ حفظ مکمل کر لیتا ہے تو اس کے قرآن کریم یاد رکھنے کی کیا ترتیب اور نظم ہونا چاہیے؟ ایک بہت اہم سوال حفظ کے طلبہ کی بعد از حفظ تعلیمی لائن کا تعین ہے ۔ حفظ کے دوران بچے کے تین چار سال لگ جاتے ہیں اور اس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ دوبارہ اس کے تعلیمی مستقبل کی تعیین میں ضائع کیا جائے، اس لیے دوران حفظ ہی بچے کی آئندہ تعلیمی لائن کا تعین ہو جانا ضروری ہے۔ اس کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں ؟
مولانا زاہد الراشدی کی افتتاحی گفتگو کے بعد قاری سعید احمد صاحب کو گفتگو کی دعوت دی گئی۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
میں سب سے پہلے ان طلبہ و اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جو آج کے دور میں قرآن کریم کے پڑھنے اور پڑھانے میں مشغول ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی میں برکت عطا فرمائے اور ان کو اس کام کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جتنا اونچا کام ہوتا ہے، اتنی ہی اس کی ذمہ داری بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے جہاں یہ لوگ اس دور میں قرآن کریم کی خدمت میں مصروفیت پر مبارک باد کے مستحق ہیں، وہیں ان کی ذمہ داری بھی زیادہ ہے ۔ ہم سب سے پہلے ان کوتاہیوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو عام طور پر حفظ کرواتے ہوئے دہرائی جاتی ہیں اور جن سے حفظ کے طلبہ کی استعداد پر برا اثر پڑتا ہے۔حفظ کی کلاس میں استاد کا ماہر ہونا انتہائی ضروری ہے، لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ اساتذہ جو حفظ کے طلبہ کو نورانی قاعدہ پڑھاتے ہیں، ان کا اپنا نورانی قاعدہ درست نہیں ہوتا۔ الفاظ کی ادائیگی قرآن کریم کی تعلیم میں بنیادی حیثیت کی حامل ہے اور اگر خود استاد کی ادائیگی درست نہ ہوگی تو وہ طلبہ کی ادائیگی کیسے درست کروائے گا؟ اسی طرح بعض جگہ نورانی قاعدہ جلدی پڑھا دیا جاتا ہے اور بعض جگہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ نورانی قاعدہ پر ہی دو دو سال لگا دیے گئے۔ یہ بھی درست نہیں۔ ایک مناسب مدت میں نورانی قاعدہ مکمل کروا دینا چاہیے۔ نورانی قاعدہ مکمل کروا دینے کے فوراً بعد حفظ شروع کروا دینا بھی ٹھیک نہیں۔ پہلے عم پارہ ہجے کے ساتھ پڑھایا جائے۔ پھر دو یا تین پارے ناظرہ پڑھا کر پھر حفظ شروع کروا یا جانا چاہیے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مطالعہ اور سبق سننے میں کوتاہی کی جاتی ہے۔ مطالعہ اساتذہ خود نہیں سنتے اور نہ ہی سبق توجہ سے سنا جاتا ہے جس سے طلبہ کی غلطیاں پختہ ہو جاتی ہیں۔ استاد کو چاہیے کہ ہر طالب علم کا مطالعہ اور سبق خود فرداً فرداً سنے۔ اسی طرح سبقی اور منزل بھی ہر طالب علم کی فرداً فرداً سننی چاہیے۔ ہاں، اگر طلبہ زیادہ ہیں تو ذہین طلبہ کو اپنے دائیں بائیں بٹھا کر ان پر نظر رکھتے ہوئے ان کی منزل سن سکتا ہے۔ منزل کی مقدار بھی مناسب ہونی چاہیے۔ جب طالب علم کے دس پارے ہو جائیں تو اس کی صرف آدھا پارہ یا ایک پارہ منزل کافی نہیں، بلکہ منزل کی اتنی مقدار ہونی چاہیے جس سے جلدی پاروں کا دور مکمل ہو جائے۔ان سب باتوں کو یقینی بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ استاد کو اس کی معاشی مشکلات سے آزاد کر دیا جائے تاکہ وہ توجہ کے ساتھ اپنا کام کر سکے۔
کلاس میں بچوں کو سزا دینے کا بھی کوئی مہذب طریقہ رائج ہونا چاہیے۔ اکثر اوقات یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ درس گاہ میں انتہائی درد ناک اور توہین آمیز طریقے سے سزا دی جاتی ہے جس سے ڈرتے ہوئے بعض بچے حفظ سے ہی توبہ کر جاتے ہیں۔ بچے کو سزا دینے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ جب غلطی آئے تو اس پر نشان لگائے۔ دوسری مرتبہ غلطی آئے تو گول دائرہ لگا دے۔ تیسری مرتبہ غلطی آنے پر اس میں نقطہ لگا دے اور معمولی سزا دے اور سزا دینے میں ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس سے بچے کی اصلاح ہو نہ کہ وہ تعلیم سے ہی بد ظن ہو جائے۔ کلاس میں بچوں کی تعداد کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ بعض جگہوں پر کلاس میں ساٹھ ساٹھ بچے بھر دیے جاتے ہیں جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کسی ایک بچے کو بھی منزل صحیح طرح یاد نہیں ہوتی۔ ایسی صورتحال سے بچنا چاہیے۔ میری رائے میں تین کتابیں ایسی ہیں جو حفظ کے ہر استاد کے پاس ہونی چاہییں۔ ۱۔ قواعد ہجاء القرآن مصنفہ قاری شکیل صاحب، ۲۔ رہنمائے مدرسین مصنفہ قاری رحیم بخش صاحب، ۳۔ تدریب المعلمین۔
قاری سعید احمد کے بعد جناب سلیم رؤف کو خیالات کے اظہار کی دعوت دی گئی ، انہوں نے کہا:
مولانا زاہد الراشدی صاحب نے جو حفظ کی تدریس کے بارے میں جو سوالات اٹھائے ہیں، نہایت اہم ہیں ، لیکن ان میں سے اکثر حفظ کے میدان میں ممکن نہیں۔ مثلاً یہ بات کہ بچے کو ایک دو پارے یاد کروانے کے بعد اس کے حفظ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے اور اگر بچہ حفظ نہیں کر سکتا تو اس کو فارغ کر دیا جائے، اس کام میں سب سے بڑی رکاوٹ خود والدین ہیں۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ والدین نے کوئی منت مانی ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچے کو حفظ کروائیں گے۔ ایسی صورت میں بچے کو کلاس سے نکالنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ اکثر والدین کی حالت یہ ہوتی ہے کہ باپ خود تو نماز بھی نہیں پڑھتا اور بچے کے بارے میں اس کے ذہن میں ہوتا ہے کہ وہ ولی اللہ بن جائے، اس لیے حفظ تو لازمی کروانا ہے، چاہے اس میں سو سال لگ جائیں۔ اس حالت میں استاد ان کو کیسے باور کرائے کہ بچہ حفظ نہیں کر سکتا، اس لیے آپ اس کی تعلیم کا کوئی اور بندوبست کر لیں۔ اگر استاد کہہ بھی دے کہ یہ بچہ حفظ نہیں کر سکتا تو ایسی مثالیں بھی سامنے آئی ہیں کہ بچہ آیا اور آکر کہا گیا کہ اس بچے کو حفظ کروانا ہے۔ اس کا استاد کہتا ہے کہ یہ حفظ نہیں کر سکتا۔ اب یہ چیلنج ہے اور استاد کو دکھانا ہے کہ یہ حفظ کر سکتا ہے۔ اساتذہ کو اس صورت میں چاہیے کہ والدین کو مثالوں سے سمجھائیں کہ دنیا میں کتنے ہی ایسے لوگ موجود ہیں جو پورے قرآن کے حافظ نہیں ہیں، بلکہ ایک یا دو پارے ہی انہوں نے حفظ کیے ہیں۔ شاید بات ان کی سمجھ میں آجائے۔ ایسے بچے جب حفظ کی کلاس سے نکلتے ہیں تو بہت نقصان ہوتا ہے اور ان کی وہی حالت ہوتی ہے جس کا ذکر مولانا زاہد الراشدی نے اپنے سوالات میں کیا ہے۔
حافظ صاحب کے یہ رویہ اپنانے کی ایک وجہ بے جا سختی یا غلط طریقے سے سزا دینا بھی ہوتا ہے۔ اگر کسی بچے کو اس کے بڑے بھائی کی وجہ سے سزا ملے تو لازمی بات ہے کہ اس کے دل میں اپنے بڑے بھائی کی نفرت پیدا ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر قرآن کی وجہ سے بچے کو سزا ملے گی تو اس کے دل میں قرآن سے نفرت پیدا ہو سکتی ہے اور جب وہ حفظ کی فیلڈ سے نکلتا ہے تو قرآن سے دور ہوتا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ والدین کا رویہ بھی ہے۔ والدین عام طور پر اس بچے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جو اسکول وغیرہ کی تعلیم حاصل کر رہا ہو۔ اگر حفظ کرنے والے بچے نے ماں سے ناشتہ مانگا اور ماں نے کہا کہ تو صبر کر اور اس بچے کو جو سکول میں پڑھتا ہے، پہلے ناشتہ دیا تو حفظ کے طالب علم کے دل میں کیسے جذبات پیدا ہوں گے، اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اس لیے والدین کی بھی تربیت کرنی چاہیے۔ استاد اگر بچے کو اپنے ساتھ مانوس کر لے اور اسے پیار سے تعلیم دے تو طالب علم استاد کی بات کو دل و جان سے مانے گا اور تعلیم میں خاطر خواہ بہتری آ جائے گی۔میں نے اس کا کئی مرتبہ تجربہ کیا ہے کہ ایک بچہ عرصہ دراز سے اپنے والدین کی کوئی بات نہیں مان رہا، لیکن میرے یا اپنے استاد کے کہنے پر اپنی ضد چھوڑ کر اس کام کو کرنے پر آمادہ ہو گیا۔بچے کے آئندہ تعلیمی مستقبل کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ اگر چوتھی کلاس پڑھنے کے بعد بچے کو حفظ شروع کروایا جائے اور وہ تین سال بھی اگر حفظ میں لگا لے تو بعد میں اس کے پاس اتنا وقت بچ جاتا ہے کہ آٹھویں کلاس میں داخلہ لے سکے۔
جہاں تک تعلق ہے حافظ صاحب کے معاشرے میں ایسے برے کام کرنے کا جن کی وجہ سے اہل معاشرہ اس سے بدظن ہو جاتے ہیں تو میرے خیال میں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر نقد وبال ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ معاشرے میں حاجی صاحب اور حافظ صاحب کے القاب بہت بدنام ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ دونوں بہت بڑے کام ہیں، یہ کام کر کے(حج کر کے اور قرآن کریم کو اپنے دل میں محفوظ کر لینے کے بعد) بھی جب لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں چھوڑتے تو اللہ تعالیٰ دنیا میں ان کو بدنام کر دیتا ہے۔ جہاں تک تعلق ہے حفظ کے طلبہ میں فہم قرآن پیدا کرنے کا تو اس میں بنیادی کردار استاد کا ہوتا ہے اور ۹۹ فیصد حفظ کے استاد ایسے ہیں کہ ان کو خود قرآن کا فہم حاصل نہیں ہوتا۔ صورتحال یہ بنتی ہے کہ استاد بچے کو پڑھا رہا ہے کہ پڑھو: لاَ تَنَابَزُوا بِالاَلْقَابِ اور قاف وغیرہ کے صحیح پڑھنے پر بڑا زور دے رہا ہے، لیکن بچے سے صحیح ادائیگی نہیں ہو رہی تو لاَ تَنَابَزُوا بِالاَلْقَابِ پڑھانے والا استاد بچے کو کہتا ہے : او کتے، سؤر! صحیح پڑھ ۔ گویا جو پڑھا رہا ہے، اس کے خلاف اسی وقت خود عمل کر رہا ہے۔ یا مثلاً وہی بچہ گھر جا کر سبق یاد کرتا ہے: وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا اور ماں اسے کہتی ہے کہ بیٹا جاؤ، ذرا بازار سے چینی تو لا دو۔ تو اسی وقت وہ کہتا ہے کہ میں نہیں جاتا کسی اور سے منگوا لو۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی پڑھتا جا رہا ہے: وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا۔اس لیے فہم قرآن پیدا کرنے والی تجویز پر عمل کرنا حفظ کے سخت شیڈول اور اساتذہ کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے بہت مشکل ہے۔
اس بارے میں اپنے تجربے کی بنیاد پر میری رائے یہ ہے کہ اگر صبح پندرہ منٹ کی اسمبلی کا اہتما م کر لیا جائے اور اس میں بچوں کی تربیت کی محنت کی جائے تو بڑے اچھے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً مختلف قسم کے انعامات کا اعلان کر کے بچوں میں نیکی کے کاموں میں مقابلے کی فضا قائم کی جائے تاکہ ان میں نیکی عادت بن جائے۔ اسی طرح پورا ہفتہ ایک ہی موضوع پر بھر پور تیاری کے ساتھ اگر اسمبلی میں بچوں کو معلومات فراہم کی جائیں تو ان کے پاس کافی ذخیرہ جمع ہو جاتا ہے اور کئی باتیں ان کے عمل میں آجائیں گی، لیکن شرط یہ ہے کہ یہ کام مستقل مزاجی اور پوری محنت و تیاری کے ساتھ کیا جائے۔
دارالعلوم گوجرانوالہ کے استاد قاری عبد الشکور نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
حفظ کی تدریس بہت مشکل کام ہے۔ اس کی افادیت کا سارا دارومدار استاد پر ہوتا ہے۔ استاد کی اپنی تربیت ہونی چاہیے، خود بھی تعلیم یافتہ ہو، متقی ہو پرہیز گار ہو اور پڑھانا بھی جانتا ہو۔ مدارس کے ذمہ داران کو بھی اس بات کا خیال کرناچاہیے کہ وہ دیکھ بھال کر حفظ کی کلاس کسی کے حوالے کریں۔ استاد کا تجربہ کار اور محنتی ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر کسی استاد کے پاس بیس پچیس بچوں کی کلاس ہے تو وہ تقریباً سارا دن ان سے فارغ نہیں ہو سکتا۔ اگر ایسا استاد یہ کہتا ہے کہ میرے پاس فارغ وقت ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ استاد اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا اور اپنے کام میں خیانت کر رہا ہے۔ استاد کوچاہیے کہ بچوں کو نورانی قاعدہ محنت سے پڑھائے ۔ ہر بچے کا تجوید سے مطالعہ سنے، پھر سبق یاد کروائے۔ ہمارے ہاں دار العلوم میں بچے صبح چار بجے اٹھ جاتے ہیں اور نماز فجر سے پہلے استاد کو سبق سنا دیتے ہیں۔ اس ترتیب میں استاد ۹ بجے تک منزل و سبقی سے فارغ ہو جاتا ہے۔ بچوں پر یہ پابندی ہونی چاہیے کہ وہ عشاء کی نماز تک یا عشاء کی نماز کے بعد اپنے ساتھی کو سبق یاد کر کے سنا دیں تاکہ صبح سبق سنانے میں دقت نہ ہو۔ بچے ایک تو منزل سناتے ہیں اور دوسرا منزل پڑھتے ہیں۔ منزل پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر پابندی ہے کہ وہ روزانہ اپنی منزل سنانے کے علاوہ پاروں کی ایک مخصوص مقدار پڑھیں، چار یا پانچ پارے۔ اس طرح منزل کا پارہ، سبقی کا پارہ اور ان کے علاوہ جو پارے وہ پڑھتا ہے، یہ سب ملا کر روزانہ کے تقریبا آٹھ، دس پارے بنتے ہیں ۔ اس طرح بچے کی منزل بہت پختہ ہو جاتی ہے اور قرآن بھولنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا ۔
سیمینار کے مہمان خصوصی مولانا جہانگیر محمود صاحب نے اپنے خطاب میں کہا:
آپ کا پروگرام بہت اچھا ہے، لیکن میری رائے یہ ہے کہ اس موضوع پر ہفتہ یا دس دن کا کوئی تربیتی پروگرام ترتیب دیا جائے تو زیادہ فائدہ ہو گا۔ مجھے ملک و بیرون ملک طریقہ تعلیم و تدریس پر گفتگو کا موقع ملا ہے، میں جدید فلسفہ تعلیم سے بہت متاثر ہوا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے خیال میں وہ لوگ اپنی ذاتی تحقیق سے اس قابل ہوگئے ہیں کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تعلیم کو ۶۰ فیصد تک اپنا چکے ہیں۔ ابھی سو فیصد تک تو نہیں پہنچ سکے، البتہ اپنی تحقیق اور محنت سے وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تعلیم کا ساٹھ فیصد حصہ اپنا چکے ہیں۔ میں اس نشست میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تعلیم پر بات کروں گا۔ تعلیم و تعلم میں استاد و طالب علم کا باہمی رشتہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہم صحابہ کرامؓ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے واقعات تو بہت مزے لے کر سنتے اور سناتے ہیں، لیکن عام طور پر اس بات پر غور نہیں کرتے کہ صحابہ کرامؓ کی یہ محبت اصل میں عمل نہیں بلکہ ردعمل تھا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے ساتھ محبت کا۔ ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ استاد و معلم تھے، ان کو اپنے شاگردوں یعنی صحابہ کرامؓ کے ساتھ کس درجہ محبت تھی۔ میں اگر معلم کے طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی صفت منتخب کروں تو وہ سب سے اول آپ کی اپنے شاگردوں کے ساتھ شفقت و محبت ہو گی۔ آج ہم اپنے طلبہ کو یہ تو بتاتے ہیں کہ پہلے زمانے میں شاگرد اپنے استاد کے سامنے بولا بھی نہیں کرتے تھے، لیکن میں یہ نہیں بتاتا کہ استاد بھی اپنے طلبہ کے جوتے تک اٹھا لیا کرتے تھے۔ آپ نے احادیث کی کتابوں میں ایک جملہ پڑھا ہو گا کہ صحابہ کرام حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فداک ابی و امی کے الفاظ استعمال کیا کرتے تھے، لیکن کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ یہ جملہ سب سے پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ایک صحابی کے لیے استعمال کیا تھا۔اس لیے ہمیں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا اس حوالے سے بھی مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے کہ بطور معلم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے شاگردوں کے ساتھ کیسا رویہ اوربرتاؤ تھا۔ اگر استاد اپنے شاگرد کی اصلاح کے لیے سخت سزا کا طریقہ اپناتا ہے تو بقول قاری رحیم بخش صاحب جو استاد اپنے شاگرد کی اصلاح کے لیے چالیس دن تک تہجد میں دعا نہیں کرتا، اس کو اسے مارنے کا بھی کوئی حق نہیں۔گویا استاد کی شفقت و محبت شاگرد کی اصلاح و تعلیم کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
جدید طریقہ تعلیم میں بھی اس عنصر کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ جدید فلسفہ تعلیم میں تعلیم کے ہر پہلو پر تحقیق ہو ئی ہے، حتی کہ بچے کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اور شاباش کہنے کے ۱۰۱ طریقے متعارف ہوئے ہیں۔ بچوں کو ترغیب و تشویق دلانے کی کچھ مثالیں میرے بھائی جناب سلیم رؤف صاحب نے ذکر کیں اور میرے خیال میں ان کے ذہن میں اور مثالیں بھی لازمی ہوں گی جو کہ سامعین کے سامنے آنی چاہیےیں۔ ہم نے بھی اپنے ادارے میں ایک طریقہ اپنایا ہے۔ مثلاً ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جب کوئی آدمی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک نقطہ لگ جاتا ہے۔ یہ حدیث ہمارے اس طریقہ کی بنیاد ہے۔ ہم نے اسکول میں دیوار کے ساتھ کاغذ کے علامتی دل بنا کر لگا دیے ہیں اور بچوں کو یہ بتایا ہے کہ جس بچے کا رویہ خراب ہو گا، اس کے دل پر ایک کالا نشان لگا دیا جائے گا اور سال کے اختتام پر دیکھا جائے گا کہ کس بچے کے دل پر کم کالے نشان ہیں۔ پھر اس کو انعام دیا جائے گا۔ سال کے آخر میں ہم ایک تقریب میں ایسے بچے کے والدین کو بلاتے ہیں اور اس کو سنہری رنگ کا علامتی دل پیش کرتے ہیں اور ساتھ یہ بتاتے ہیں کہ یہ آپ کے بچے کا دل ہے جو سارا سال صاف و شفاف رہا۔ اب بچے اس بات کی احتیاط کرتے ہیں اور دیکھتے رہتے ہیں کہ کہیں ہمارے دل پر کوئی نشان نہ لگ جائے۔ اس سے خود بخود ان کی تربیت ہوتی رہتی ہے۔
آج کل بچوں سے بات منوانے کے لیے عام طور پر سختی اور مار پیٹ سے کام لیا جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی زندگیوں سے اس مار پیٹ کی کوئی مثال پیش کر کے دکھا دیں۔ آپ کہتے ہیں کہ آج کلاس میں چالیس چالیس بچے ہیں، اس لیے کام پورا نہیں ہوتا، مار پیٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ آپ کا کام پورا نہیں ہوتا تو نہ ہو، آپ یہ دیکھیں کہ آپ کی سختی اور مار پیٹ سے کیا یہ مزاج بچے کی شخصیت کا حصہ تو نہیں بن جاتا! اس مزاج کو لے کر جب وہ معاشرے میں جائے گا تو کیسا کردار ادا کرے گا؟ کیا آپ کے اس سلوک سے اس کی شخصیت تو نہیں بگڑ رہی؟ سختی سے آپ عادات تو بنا دیں گے، شخصیت کی تعمیر نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہمیں خود پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج اور انداز تربیت سیکھنے کی ضرورت ہے۔کلاس کی ترتیب و نظم کے لیے ہمیں غزوہ بدر کے واقعہ سے راہنمائی ملتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قیدی کو دس مسلمان بچوں کو پڑھانے کا کہا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ صحیح تعلیم کے لیے دس طالب علموں کی ہی کلاس ہونی چاہیے۔ آج کا بین الاقوامی معیار آٹھ کا ہے۔ اس لیے آج کی میری گفتگو کا بنیادی اور مرکزی نقطہ یہ ہے کہ ہمیں طریقہ تعلیم اور انداز تدریس کے سلسلے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے راہنمائی لینی چاہیے اور پہلے خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تعلیم کو سیکھنا چاہیے۔ اگر اہل مغرب اپنی محنت اور کوشش سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تعلیم کے ۶۰ فیصد تک پہنچ سکتے ہیں اور اس کو استعمال کر کے انتہائی عمدہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں تو ہم سب کچھ پاس ہوتے ہوئے بھی ان نتائج سے کیوں محروم ہیں۔
مولانا جہانگیر محمود کے خطاب کے بعد انھی کی دعا پر اس سیمینار کا اختتام کیا گیا۔ سیمینار کے بعد غیر رسمی نشست میں بھی اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا گیا اور سب حضرات نے بچوں اور والدین کے رویے کے حوالے سے اپنے اپنے تجربات بیان کیے اور اس بات پر زور دیا گیا کہ والدین کی تربیت کا بھی کوئی انتظام ہونا چاہیے۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دینی تعلیم میں بہتری کے لیے جو حضرات اپنی اپنی جگہ انفرادی محنت کر رہے ہیں، ان کو ایک جگہ جمع کرنے اور ان کے تجربات سے استفادہ کا کوئی نظم ہونا چاہیے تاکہ دوسرے احباب بھی ان کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ہماری خوراکی بے اعتدالیاں اور کینسر کا مرض
حکیم محمد عمران مغل
خبردار! کینسر کا اژدہا آپ کی دہلیز پر پہنچ چکا ہے۔ شوگر، ہیپا ٹائٹس، گردوں کے امراض نے معاشرے کو اپنے چنگل میں جکڑ لیا ہے۔ اگر ان کا علاج اصول کے خلاف کیا گیا تو کینسر کا حملہ ہو سکتا ہے۔
ہماری خوراکی کمزوریاں لگاتار بڑھ رہی ہیں۔ آج سے ایک صدی پہلے کینسر کا نام ہی سنتے تھے، جبکہ اب آبادی کی اکثریت جلدی امرا ض میں مبتلا ہوتی جا رہی ہے۔ جرمن معالجین نے وضاحت سے بتایا ہے کہ گوشت خوری کی عادت نے جلدی امراض کے ساتھ کینسر کو بھی بڑھا دیا ہے۔ جرمن قوم جفاکش، محنتی اور خود دار ہے۔ اس قوم کی تحقیق یہ ہے کہ جوں جوں گوشت زیادہ کھایا جا رہا ہے، کینسر کا اژدہا بھی اتنی ہی تیز رفتاری سے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔
ایک اخباری اطلاع کے مطابق مردار مرغیوں کے دو ٹرک راستے میں پکڑے گئے جو پنجاب سے کراچی لے جائے جا رہے تھے۔ ہماری خاطر تواضع اسی قسم کے گوشت سے ہو رہی ہے۔ خونی امراض، جگر کے امراض اورہیپا ٹائٹس تو فوراً کینسر کا رخ اختیار کرتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ چالیس دن میں ایک دفعہ گوشت ضرور کھا لینا چاہیے۔ اس سے جگر کا مرض قابو میں رہتا ہے۔ مگر آج تو بکرے کی سالم ران اور مرغ مسلم ہر دستر خوان کی زینت ہے۔ اس کے بغیر دعوت مکمل نہیں سمجھی جاتی۔ اوپر سے بند بوتلوں کا تیزابی پانی!
اگر اللہ نے آپ کو مذکورہ امراض سے بچایا ہے تو پھر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے احتیاط سے زندگی گزاریں۔ کئی کئی دن کی باسی غذا اور بند ڈبوں کی خور ونوش کی خوراک سے پرہیز کریں۔ سردیوں میں کئی کئی ہفتے سے اسٹور کی ہوئی گلی سڑی مچھلیاں بھی کینسر کا باعث ہو سکتی ہیں۔ بے تحاشا گوشت خوری کی عادت آپ کو چاروں شانے چت گرا سکتی ہے۔