چند اہم دینی شخصیات کا سانحہ ارتحال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
گزشتہ ماہ کے دوران میں بہت سی اہم دینی وقومی شخصیات اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آئندہ سطور میں ان کا ایک مختصر تذکرہ کیا جائے گا۔
پروفیسر غفور احمدؒ
پروفیسر غفور احمد اللہ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اخبارات میں ان کی وفات کی خبر پڑھ کر ماضی کے بہت سے اوراق ذہن کی یادداشت میں کھلتے چلے گئے۔ ان کا نام پہلی بار ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے بعد سنا جب وہ کراچی سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ میرا تعلق جمعیۃ علماء اسلام پاکستان سے تھا اور اس دور میں جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی میں مخاصمت دینی اور سیاسی دونوں محاذوں پر عروج پر تھی۔ مجھے مولانا عبد اللہ درخواستیؒ ، مولانا عبید اللہ انورؒ ، مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے قریبی کارکنوں میں شمار ہونے کا اعزاز حاصل تھا، اس لیے جماعت اسلامی کے منتخب ارکان اسمبلی کے حوالے سے کسی مثبت سوچ کا اس وقت کوئی امکان نہیں تھا، لیکن خدا گواہ ہے کہ جوں جوں پروفیسر غفور احمد پارلیمانی اور سیاسی محاذ پر آگے بڑھتے گئے، قلب و ذہن کے دریچے ان کے لیے کھلتے چلے گئے اور ان کی شرافت و متانت اور حوصلہ و تدبر دیکھ کر ان کے احترام کی طرف بتدریج مائل ہوتا رہا۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد باقی ماندہ پاکستان میں دستوری طور پر سب سے بڑا اور پہلا مرحلہ دستور سازی کا تھا۔ ۱۹۷۰ء میں منتخب ہونے والی قومی اسمبلی در اصل دستور سازی کے عنوان پر منتخب ہوئی تھی اور دستور سازی کا مرحلہ طے ہو جانے کے بعد اسے قانون ساز اسمبلی کی حیثیت اختیار کر لینا تھی۔ اس دستور ساز اسمبلی میں اپوزیشن عددی لحاظ سے کچھ قابل ذکر نہیں تھی، لیکن شخصیات کے حوالے سے اتنی مضبوط اپوزیشن شاید ہی قومی اسمبلی کو کبھی میسر آئی ہو ۔ خان عبد الولی خانؒ ، مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ ، مولانا عبد الحقؒ ، چودھری ظہور الٰہی اور پروفیسر غفور احمد جیسی بھاری بھر کم شخصیات اس اپوزیشن کی قیادت کر رہی تھیں اور اسلامی سوشلزم کے نعرے پر الیکشن جیتنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی اکثریت والے ایوان میں دستور کو واضح اسلامی بنیادوں پر استوار کرنے اور اسلام کو ملک کا سرکاری مذہب قرار دلوانے کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کو قانون سازی میں قرآن و سنت کے دائرے میں پابند بنانا ۱۹۷۳ء کے دستور کی وہ نمایاں خصوصیات ہیں جن پر آج بھی اس ایوان کو فخر ہونا چاہیے اور اس مقصد کے لیے دستور سازی کے ہوم ورک میں اپوزیشن کی طرف سے مولانا ظفر احمد انصاریؒ اور پروفیسر غفور احمد کی شبانہ روز محنت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
دستور کی منظوری اور نفاذ کے ساتھ ہی قومی اسمبلی کے سامنے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرر دینے کا مسئلہ پیش آگیا۔ اس مسئلے کی اپنی ایک طویل تاریخ ہے جس کا ذکر بات کو طویل کر دے گا، لیکن ہوا یہ کہ قادیانیوں کی اپنی ایک حماقت کی وجہ سے کہ چناب نگر (ربوہ) کے ریلوے سٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے سٹوڈنٹس پر قادیانی نوجوانوں نے حملہ کر دیا، ملک بھر میں اس پر احتجاجی سلسلہ شروع ہوگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس احتجاج نے بھرپور عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لی اور قومی اسمبلی کو اس پر قانون سازی کرنا پڑی۔ مسئلہ ختم نبوت پر قانون سازی کے اس مرحلے میں بھی پروفیسر غفور احمد نے سرگرم حصہ لیا۔ پروفیسر صاحب کا مزاج عام طور پر ذہن سازی اور لابنگ کے ذریعے اپنی بات کو موثر بنانے کا ہوتا تھا اور وہ اس میں ہمیشہ کامیاب رہتے تھے۔
مجھے ان کے ساتھ قومی اتحاد میں ۱۹۷۷ء کے الیکشن اور تحریک نظام مصطفی کے دوران کام کرنے کا موقع ملا۔ پاکستان قومی اتحاد کے صدر مولانا مفتی محمودؒ تھے اور سیکرٹری جنرل چودھری رفیق احمد باجوہ مرحوم چنے گئے جن کا تعلق جمعیۃ العلمائے پاکستان سے تھا، جبکہ پنجاب میں قومی اتحاد کے صدر محترم حمزہ تھے اور سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی کے رہنما پیر محمد اشرف تھے۔ بعد میں ایک مرحلے میں رفیق احمد باجوہ اور پیر محمد اشرف دونوں ان مناصب سے کسی وجہ سے الگ ہوگئے تو مرکز میں پروفیسر غفور احمد اور پنجاب میں مجھے سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا۔ اس حیثیت سے ہمارا رابطہ پاکستان قومی اتحاد کی تحلیل تک مسلسل رہا۔ پاکستان قومی اتحاد کے اجلاسوں کے علاوہ بھی تنظیمی حوالے سے ہمارا رابطہ رہتا تھا اور وقتاً فوقتاً ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔ اس دوران میں نے کراچی میں پروفیسر غفور احمد مرحوم کے گھر میں بھی حاضری دی اور ان سے مختلف مسائل پر گفتگو اور تبادلۂ خیالات کا سلسلہ چلتا رہا۔ ان کی سنجیدگی، متانت اور تدبر سے ان کا ہر ملنے والا متاثر تھا۔ مجھے بھی ان کے دھیمے رویے، مضبوط موقف اور سب کے احترام پر مبنی لہجے نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔
۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی میں، جو دراصل الیکشن میں دھاندلیوں کے خلاف احتجاجی تحریک تھی، لیکن چونکہ قومی اتحاد نے نظام مصطفی کے نفاذ کے نعرے پر انتخاب لڑا تھا ، اس لیے فطری طور پر اس تحریک نے بھی تحریک نظام مصطفیؐ کا عنوان اختیار کر لیا، اس تحریک کی قیادت میں مولانا مفتی محمود، نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا شاہ احمد نورانی، سردار شیر باز خان مزاری، چودھری ظہور الٰہی، پیر آف پگارہ شریف، سردار محمد عبد القیوم خان اور میاں طفیل مرحوم کے نام نمایاں تھے۔ لیکن اس کے تنظیمی اور دفتری معاملات کو کنٹرول کرنے والی ٹیم کو پروفیسر غفور احمد کی مدبرانہ رہنمائی میسر تھی جو اس تحریک کا ایک اہم کردار ہے۔ قومی اتحاد نے جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں وفاقی کابینہ میں شمولیت اختیار کی تو پروفیسر غفور احمد مرحوم بھی وفاقی وزیر بنے۔ اس سے قبل وہ ذوالفقار علی بھٹور مرحوم کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان قومی اتحاد کے سہ رکنی وفد میں مولانا مفتی محمود اور نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم کے ساتھ شامل رہ چکے تھے۔ اس دور کی یادداشتیں کتابی شکل میں ’’پھر مارشل لاء آگیا‘‘ کے عنوان سے قلم بند کر کے انہوں نے شائع کر دی ہیں۔
پروفیسر غفور احمد کا شمار محب وطن، دیانت دار، با اصول اور حق گو سیاسی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ قحط الرجال کے اس دور میں ان کی وفات سے یقیناًبہت بڑا خلا پیدا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔
قاضی حسین احمدؒ
محترم قاضی حسین احمد مرحوم کے ساتھ میرے تعلقات کی نوعیت دوستانہ تھی اور مختلف دینی و قومی تحریکات میں باہمی رفاقت نے اسے کسی حد تک بے تکلفی کا رنگ بھی دے رکھا تھا۔ ان کے ساتھ میرا تعارف اس دور میں ہوا جب وہ جماعت اسلامی پاکستان کے قیم تھے۔ پاکستان قومی اتحاد کے صوبائی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے مجھے اتحاد میں شامل جماعتوں کے راہ نماؤں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا ہوتا تھا۔ یہ رابطہ انتخابی مہم میں بھی تھا اور تحریک نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے چلائی جانے والی اجتماعی تحریک میں بھی تھا۔ بعد میں جب سینیٹ آف پاکستان میں مولانا قاضی عبد اللطیفؒ اور مولانا سمیع الحق کے پیش کردہ ’’شریعت بل‘‘ کے لیے ملک گیر عوامی جدوجہد منظم کرنے کا مرحلہ سامنے آیا تو اس کے لیے قاضی حسین احمد صاحب پیش پیش تھے اور انہوں نے اس سلسلہ میں بہت متحرک اور بھرپور کردار ادا کیا۔ قاضی صاحب محترم کے ساتھ اس سے قبل ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت میں بھی رفاقت رہی جس کے نتیجے میں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا، اس میں قادیانیوں کو اسلام کا نام استعمال کرنے سے قانونًا روک دیا گیا ہے اور ان کے لیے اسلام کی مذہبی علامات اور اصطلاحات کے استعمال کو قانونی جرم قرار دیا گیا ہے۔
اس دوران ایک دلچسپ واقعہ ہوا۔ قاضی حسین احمد صاحبؒ نے جماعت اسلامی پاکستان کے قیم (سیکرٹری جنرل) کی حیثیت سے حضرت مولانا سید حامد میاںؒ سے رابطہ کیا کہ جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ اگر یہ قرارداد پاس کر دے کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے جن افکار و نظریات سے جمعیۃ علماء اسلام یا دوسرے حلقوں کو اختلاف ہے، جماعت اسلامی انہیں مولانا مودودیؒ کے تفردات سمجھتے ہوئے ان مسائل میں جمہور علماء اہل سنت کے ساتھ ہے تو کیا اس قرارداد کے بعد جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی دونوں مل کر ملک میں دینی جدوجہد کی پوزیشن میں ہوں گی؟ مولانا سید حامد میاںؒ نے اس مسئلہ پر مولانا محمد اجمل خانؒ سے بات کی۔ دونوں بزرگوں نے آپس میں مشورہ سے طے کیا کہ اس سوال کا کوئی حتمی جواب دینے سے پہلے مسلکی حوالہ سے تین بڑے بزرگوں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ، حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ اور حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ سے مشورہ کر لینا چاہیے۔
دونوں حضرات نے ان تینوں بزرگوں کے پاس حاضر ہو کر مشورہ کرنے کی ذمہ داری میرے سپرد کی اور میں نے حضرت مولانا سید حامد میاںؒ اور حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ کے نمائندے کے طور پر تینوں بزرگوں کے سامنے یہ سوال رکھا۔ اس پر تینوں بزرگوں کے جوابات مختلف تھے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے جواب دیا کہ اگر جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ اس مفہوم کی قرارداد پاس کر دے تو پھر ہمارے پاس جماعت اسلامی کے ساتھ اختلاف باقی رکھنے کا کوئی شرعی اور اخلاقی جواز نہیں رہ جاتا۔ حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ نے ارشاد فرمایا کہ صرف اس مضمون کی قرارداد کافی نہیں ہوگی بلکہ جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کو مولانا مودودیؒ کی شخصیت کے بارے میں بھی اپنا موقف واضح کرنا ہوگا، جبکہ علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب کا موقف یہ تھا کہ صرف قرارداد سے کام نہیں بنے گا، اس لیے کہ اصل اختلاف جماعت اسلامی کے دستور کی اس شق سے شروع ہوا تھا جس میں جماعت اسلامی کے رکن کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ رسول خدا کے سوا کسی کو معیار حق نہ سمجھے، کسی کو تنقید سے بالا تر نہ سمجھے اور کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہ ہو۔ اس پر حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے اعتراض کیا تھا کہ اس سے صحابہ کرامؓ کے معیار حق اور تنقید سے بالاتر ہونے کی نفی ہوتی ہے اور تقلید کی بھی نفی ہوتی ہے جو جمہور اہل سنت کے موقف سے انحراف ہے۔ اس سے اختلاف کا آغاز ہوا تھا، اس لیے اگر جماعت اسلامی اختلافات کو ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے دستور کی اس شق میں علماء اہل سنت کے حسب منشا ترمیم کرنا ہوگی، ورنہ قرارداد کے بعد بھی اصل اختلاف جوں کا توں رہے گا۔
میں نے جب تینوں بزرگوں کے جوابات حضرت مولانا سید حامد میاںؒ اور حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ کو پہنچائے تو انہوں نے باہمی مشورہ سے علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ کے جواب کو زیادہ قرین قیاس قرار دیا اور مجھے یہ ذمہ داری سونپی کہ میں قاضی حسین احمد صاحب کو مل کر اس سے آگاہ کردوں۔ چنانچہ میں نے قاضی صاحب موصوف سے ملاقات کی اور انہیں یہ پیغام پہنچا دیا۔ قاضی صاحب نے فرمایا کہ مجلس شوریٰ میں قرارداد کی منظوری کی صورت تو میں کر سکتا ہوں، لیکن جماعتی دستور میں ترمیم کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ اس پر دونوں طرف سے خاموشی اختیار کر لی گئی۔ مگر تھوڑے عرصہ کے بعد قاضی حسین احمد صاحب جماعت اسلامی پاکستان کے امیر منتخب ہوگئے۔ یہ وہ دور تھا جب وہ متحدہ شریعت محاذ کے سیکرٹری جنرل تھے اور میں سیکرٹری اطلاعات تھا۔ گڑھی شاہو لاہور کے علامہ اقبالؒ روڈ پر ڈاکٹر اسرار احمد صاحب مرحوم کی تنظیم اسلامی پاکستان کے مرکزی دفتر میں متحدہ شریعت محاذ کی مرکزی کونسل کا اجلاس تھا۔ قاضی صاحب مرحوم جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہو چکے تھے، لیکن ابھی انہوں نے حلف نہیں اٹھایا تھا۔ اس اجلاس میں قاضی صاحب اور راقم الحروف ساتھ ساتھ بیٹھے تھے۔ میں نے انہیں جماعت کا امیر منتخب ہونے پر مبارک باد دی تو انہوں نے بے تکلفی سے میری ران پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا کہ اب تو میں ترمیم کی پوزیشن میں بھی آگیا ہوں، اب بات کرو! میں نے ہنستے ہوئے دل لگی کے انداز میں کہا کہ ’’رسم تاج پوشی کے بعد بات کریں گے‘‘۔ یعنی وہ جماعت اسلامی پاکستان کی امارت کا حلف اٹھا لیں تو اس کے بعد بات چلائیں گے۔ اس بات سے میں نے حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ اور حضرت مولانا سید حامد میاںؒ کو آگاہ کر دیا، لیکن اس سلسلہ میں اس کے بعد پھر کوئی بات کسی طرف سے بھی باضابطہ طور پر سامنے نہیں آئی اور یہ سارا قصہ تاریخ کی نذر ہوگیا۔
قاضی حسین احمد صاحبؒ کا خاندانی پس منظر جمعیۃ علماء ہند کا تھا۔ ان کے والد محترم حضرت مولانا قاضی عبد الرب صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ جمعیۃ علماء ہند کے صوبائی صدر تھے، دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد تھے۔ قاضی صاحبؒ کے بھائی مولانا عبد القدوسؒ بھی فاضل دیوبند تھے جو وفاقی شرعی عدالت کے جج رہے ہیں۔ قاضی صاحبؒ کا نام حسین احمد حضرت مدنیؒ کی نسبت سے رکھا گیا تھا اور قاضی صاحبؒ نے مجھے خود بتایا کہ وہ چھ سال کی عمر تک گفتگو نہیں کر سکتے تھے۔ ایک بار حضرت مدنیؒ ان کے گھر تشریف لائے تو ان کے والد محترمؒ نے حضرت مدنیؒ سے دعا اور دم کرنے کی درخواست کی۔ حضرت مدنیؒ نے دم کیا، دعا فرمائی اور قاضی حسین احمد صاحب کے منہ میں لعاب ڈالا۔ قاضی صاحب کہتے تھے کہ اس کے بعد میں نے بولنا شروع کر دیا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میں حضرت مدنیؒ کی زندہ کرامت ہوں۔
اس سلسلہ میں ایک لطیفے کی بات یہ ہے کہ قاضی صاحب جب جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہوئے تو ان دنوں میں امریکہ گیا۔ وہاں میرے میزبان جماعت اسلامی کے ایک معروف راہ نما تھے۔ ان کے والد محترم بھی عالم دین تھے۔ وہ نیویارک کے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر مجھے لینے کے لیے آئے تو آمنا سامنا ہوتے ہی انہوں نے مجھے مبارک باد دی کہ مبارک ہو، جماعت اسلامی پر جمعیۃ علماء اسلام نے قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے یہ بات اگرچہ دل لگی کے طور پر کہی تھی، مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسری دینی جماعتوں کے ساتھ جماعت اسلامی کے مخصوص داخلی ماحول کی وجہ سے پیدا ہونے والے بُعد کو کم کرنے اور مل جل کر کام کرنے کا کھلا ماحول قائم کرنے میں قاضی صاحب مرحوم کا کردار بہت نمایاں رہا ہے۔
قاضی صاحب ملک میں نفاذ اسلام اور دیگر دینی و قومی تحریکات کے لیے دینی جماعتوں اور مختلف مکاتب فکر کے درمیان مشترکہ جدوجہد کی راہ ہموار کرنے میں ہمیشہ متحرک رہتے تھے۔ ان میں بات سننے کا حوصلہ تھا، اس لیے ہم ان سے بعض نازک معاملات پر بھی بے تکلفی سے بات کر لیا کرتے تھے۔ جن دنوں قاضی صاحبؒ کا لندن میں دل کا بائی پاس آپریشن ہوا، میں لندن میں تھا، ان کی بیمار پرسی کے لیے حاضر ہوا تو وہاں مجلس میں افغانستان کی خانہ جنگی زیر بحث تھی۔ ان دنوں انجینئر گلبدین حکمت یار اور انجینئر احمد شاہ مسعود کے دھڑوں میں سخت جنگ ہو رہی تھی۔ پروفیسر برہان الدین ربانی افغانستان کے صدر تھے۔ ان کے ساتھ انجینئر گلبدین حکمت یار کو وزیر اعظم بنایا گیا تھا، لیکن انہوں نے وزارت عظمیٰ قبول نہیں کی اور ان دونوں دھڑوں کے درمیان جنگ نے بہت تباہی پھیلائی۔ طالبان اسی خانہ جنگی کے رد عمل میں سامنے آئے تھے۔ میں نے اس مجلس میں قاضی صاحب مرحوم سے کہا کہ انجینئر حکمت یار اور پروفیسر ربانی کے درمیان ہونے والی خانہ جنگی کے مسلسل جاری رہنے کے ذمہ دار آپ ہیں۔ قاضی صاحب تھوڑے سے پریشانی ہوئے اور پوچھا وہ کیسے؟ میں نے کہا کہ یہ دونوں آپ کے سیاسی حلقہ کے لوگ ہیں، سیاسی فکر کے حوالہ سے دونوں کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے، آپ کو کس نے مشورہ دیا تھا کہ آپ گلبدین حکمت یار کے ساتھ فریق بن کر کھڑے ہو جائیں؟ آپ ہی ان میں صلح کرانے کی پوزیشن میں تھے، لیکن آپ نے حکمت یار کے حق میں فریق بن کر خود کو جانبدار بنا لیا ہے، اس لیے اب کون ان میں صلح کرائے گا؟ یہ بات سن کر قاضی صاحبؒ تو خاموش ہوگئے، لیکن مجلس کے دوسرے حضرات نے میری بات کی تائید کی۔
قاضی حسین احمدؒ ایک فکرمند، حوصلہ مند اور دردِ دل سے بہرہ ور راہ نما تھے، ان کی جدائی ہم سب کے لیے صدمہ کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
مولانا عبد الستار تونسویؒ
حضرت مولانا عبد الستار تونسویؒ بھی چل بسے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ابھی دو ہفتے قبل وہ گوجرانوالہ تشریف لائے تھے۔ ایک پروگرام میں شریک ہونے کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم میں آرام فرمایا۔ میں صبح اسباق کے لیے مدرسہ میں پہنچا تو طلبہ نے بتایا کہ حضرت تونسویؒ صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں اور مہمان خانے میں آرام فرما رہے ہیں۔ اسباق سے فارغ ہو کر میں مہمان خانے میں گیا تو وہ لحاف اوڑھے لیٹے ہوئے تھے مگر جاگ رہے تھے۔ میں نے سلام عرض کیا، مصافحہ کیا اور دعا کی درخواست کر کے واپس پلٹ گیا تاکہ ان کے آرام میں زیادہ خلل نہ آئے۔ دورہ حدیث کے طلبہ نے فرمائش کی کہ حضرت تونسوی صاحبؒ انہیں اپنی سند کے ساتھ حدیث روایت کرنے کی اجازت مرحمت فرما دیں۔ میں نے مولانا حاجی فیاض خان سواتی سے کہا کہ وہ مناسب موقع دیکھ کر حضرتؒ سے درخواست کردیں اور گھر واپس آگیا۔ یہ معلوم ہوتا کہ یہ حضرت تونسویؒ سے میری آخری ملاقات ہے تو شاید انہیں کچھ دیر کے لیے بے آرام بھی کر لیتا، مگر یہ علم اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے پاس ہی رکھا ہے کہ کس کی زندگی نے کب اور کہاں اس کا ساتھ چھوڑ جانا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔
حضرت علامہ عبد الستار تونسویؒ کی زیارت پہلی بار غالباً طالب علمی کے دور میں قلعہ دیدار سنگھ کی مدینہ مسجد کے سالانہ اجلاس میں ہوئی تھی جہاں وہ اور ’’تنظیم اہل سنت‘‘ کے دیگر قائدین حضرت مولانا دوست محمد قریشیؒ ، حضرت مولانا قائم الدین عباسیؒ اور دیگر حضرات تشریف لایا کرتے تھے۔ اس کے بعد گزشتہ نصف صدی کے دوران متعدد مجالس اور پبلک جلسوں میں ان سے ملاقات رہی۔ مختلف تحریکات میں ان کے ساتھ شریک ہونے کا موقع ملا اور بہت سے مواقع پر ان سے استفادہ کی سعادت حاصل ہوئی۔ وہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور امام اہل سنت حضرت مولانا عبد الشکورلکھنویؒ کے ممتاز شاگردوں میں سے تھے۔ اہل سنت کے عقائد و مسلک کے تحفظ اور حضرات صحابہ کرامؓ کے ناموس و وقار کی سربلندی کے لیے حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کی جدوجہد اور خدمات اس حوالہ سے تاریخ کے ایک مستقل باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے لکھنو میں بیٹھ کر جو ہمیشہ اہل تشیع کا گڑھ رہا ہے، اہل سنت کے عقائد کا پرچار کیا، حضرات صحابہ کرامؓ کی عزت و ناموس کا پرچم بلند کیا، سنی مسلمانوں کے حقوق و مفادات کا تحفظ کیا اور اس مشن کے لیے برصغیر کے طول و عرض سے تعلق رکھنے والے ہزاروں علماء کرام کی تربیت کر کے انہیں تیار کیا۔ میرے چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ بھی حضرت لکھنویؒ کے شاگردوں میں سے ہیں بلکہ ان کی وساطت سے ہماری سند حدیث ’’علماء فرنگی محل‘‘ کے ساتھ متصل ہو جاتی ہے۔
پاکستان بننے کے بعد جن علماء کرام نے حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کے اس مشن کو ان کے سکھائے ہوئے طرز اور اسلوب کے مطابق سنبھالا اور مسلسل محنت کر کے اسے ایک مستقل تحریک کی حیثیت دی ان میں حضرت مولانا عبدالستار تونسویؒ ، حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ ، حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ ، حضرت مولانا دوست محمد قریشیؒ ، حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ ، حضرت مولانا قائم الدین عباسیؒ ، حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ اور حضرت مولانا عبد الحئی جام پوریؒ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے ملتان میں تنظیم اہل سنت کے عنوان سے مرکز قائم کیا۔ ایک دور میں ’’دعوت‘‘ کے نام سے تنظیم اہل سنت کا مستقل جریدہ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ کی ادارت میں شائع ہوتا رہا ہے جس نے اس مشن اور محاذ کے لیے دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ کی ذہن سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ سرکردہ علماء کرام کے اس عظیم قافلہ کے ساتھ اس محاذ کے ایک اور عظیم مجاہد سردار احمد خان پتافیؒ اور ان کے علاوہ شاعر اہل سنت خان محمد کمتر مرحوم کا تذکرہ نہ کرنا نا انصافی کی بات ہوگی جن کی خدمات اس حوالہ سے بہت نمایاں ہیں۔
حضرت مولانا عبد الستار تونسویؒ کے تین بڑے محاذ تھے، وہ اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان اختلافی مسائل پر مباحثہ کے لیے اپنے وقت کے سب سے بڑے سنی مناظر تھے اور انہوں نے اس محاذ پر بڑے بڑے معرکے سر کیے ہیں۔ وہ پبلک جلسوں میں ناموس صحابہؓ اور عقائد اہل سنت کے اثبات و دفاع میں ایک کامیاب خطیب تھے جن کے محققانہ خطبات ہزاروں لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنے ہیں اور دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ کو سنی شیعہ تنازعات پر مناظرہ کی تیاری کرانا اور سنی کاز کے لیے محنت کرنے کی تربیت دینا ان کا خصوصی مشغلہ تھا جس میں وہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک مصروف رہے ہیں اور ان کے تربیت یافتہ ہزاروں علماء کرام نہ صرف پاکستان بلکہ بہت سے دوسرے ممالک میں بھی خدمات سر انجام دینے میں مصروف ہیں۔
ان کا سیاسی تعلق ہمیشہ جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ رہا ہے اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور دیگر اکابر جمعیۃ کے ساتھ ان کا مسلسل ربط و تعلق تھا۔ انہوں نے اپنے محاذ اور مشن کے ساتھ ساتھ تحریک تحفظ ختم نبوت، تحریک نفاذ شریعت، تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ اور دیگر دینی تحریکات میں بھی متحرک کردار ادا کیا اور ان تحریکوں کی بھرپور سرپرستی کی۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے ساتھ ان کا گہرا تعلق تھا اور ان بزرگوں کی باہمی محبت و شفقت کے بہت سے مناظر نگاہوں کے سامنے گھوم رہے ہیں۔
حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کا تربیت یافتہ یہ قافلہ ایک ایک کر کے ہم سے جدا ہوگیا ہے اور ان کے اسلوب و طرز کے حوالہ سے پیدا ہونے والا یہ عظیم خلا ہم جیسے حساس کارکنوں کو زندگی بھر پریشان کرتا رہے گا۔ ان میں سے اب صرف حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ حیات ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھیں اور حضرت تونسویؒ کی خدمات کو قبولیت سے نوازتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
مولانا محمد اشرف ہمدانی ؒ
۱۶ جنوری کو صبح نماز فجر کے بعد درس سے فارغ ہوا تھا کہ ڈاکٹر حامد اشرف ہمدانی نے فون پر بتایا کہ ان کے والد محترم مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کا فیصل آباد میں انتقال ہوگیا ہے۔ زبان پر بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہوا اور ڈاکٹر صاحب موصوف سے تعزیت و تسلی کے چند کلمات کہے، مگر جنازے میں شریک نہ ہو سکا۔
مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کے ساتھ میرا پرانا تعلق تھا، وہ اس زمانے میں گوجرانوالہ کی پل لکڑ والا کی مسجد میں خطیب و امام تھے جب ہم نے گوجرانوالہ میں جمعیۃ علماء اسلام کی رکنیت سازی اور تنظیم کا کام شروع کیا تھا۔ میرا وہ طالب علمی کا آخری دور تھا اور ہمیں اس محنت میں مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کا بھرپور تعاون حاصل تھا۔ وہ اپنے دور کے ممتاز خطباء میں شمار ہوتے تھے اور ان کے خطبات جمعہ اور دروس گوجرانوالہ میں اور پھر فیصل آباد میں عام لوگوں کے لیے کشش اور استفادے کا ذریعہ ہوا کرتے تھے۔ میرا ان سے رابطہ شیرانوالہ لاہور کے حوالہ سے بھی تھا کہ وہ بھی میری طرح شیخ مکرم حضرت مولانا عبید اللہ انور قدس اللہ سرہ العزیز سے ادارت و عقیدت کا تعلق رکھتے تھے اور شیرانوالہ لاہور کی حاضری میں ہمارا اکثر ساتھ رہتا تھا۔
گوجرانوالہ میں چند سال خطابت کے جوہر دکھا کر وہ فیصل آباد چلے گئے اور جناح کالونی کی مرکزی جامع مسجد میں بطور خطیب خدمات سر انجام دینا شروع کیں، ان کی خطابت نے فیصل آباد میں اپنا رنگ جمایا اور دیوبندی مسلک کی ترجمانی اور ترویج کی جدوجہد میں حضرت مولانا مفتی زین العابدین، حضرت مولانا تاج محمودؒ اور حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے ساتھ ان کا نام بھی نمایاں ہوتا چلا گیا۔ تحریک ختم نبوت ان کا خصوصی میدان تھا، چنانچہ انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے فورم پر نہ صرف اس محاذ پر مسلسل خدمات سر انجام دیں بلکہ ۱۹۷۳ء میں قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم قرار دیے جانے کے بعد چناب نگر (ربوہ) میں قادیانیوں کی آبادی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو آباد کرانے، مسلم کالونی کی ترقی اور وہاں ختم نبوت کی مسجد و مرکز کی تعمیر میں متحرک کردار ادا کیا اور فیصل آباد کے علماء کرام اور تاجران کو اس اہم کام کی طرف متوجہ کرنے کے لیے حضرت مولانا تاج محمودؒ اور حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے ساتھ ان کے دست و بازو کے طور پر محنت کی۔ جناح کالونی کی مرکزی جامع مسجد سے الگ ہونے کے بعد انہوں نے ملت ٹاؤن میں جامع مسجد آمنہ اور اس کے ساتھ روحانی خانقاہ کا نظام قائم کرنے میں اپنی صلاحیتیں صرف کیں اور بہت سے لوگوں کے عقائد کی اصلاح اور دینی و روحانی تربیت کا ذریعہ بنے۔
شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کے ساتھ خصوصی عقیدت رکھتے تھے اور ان کی گفتگو و خطابت میں ان بزرگوں کے فیوض کا اکثر تذکرہ رہتا تھا، والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ بھی ان کا مسلسل ربط و تعلق رہا اور وہ ان کے خوشہ چینوں میں شمار ہوتے تھے۔ چند ہفتے قبل حافظ ریاض احمد قادری کے ہمراہ حاضر ہوا، بستر علالت پر تھے، ضعف کا غلبہ تھا مگر بذلہ سنجی اسی طرح تھی جیسے جوانی کے زمانے میں ہوا کرتی تھی، کھلے مزاج اور بے تکلفانہ گفتگو کے عادی تھے۔ اس روز بھی کھلے مزاج کے ساتھ اور کھلے ماحول میں بہت سی باتیں کیں، لطیفے بھی ہوئے اور چٹکلے بھی سنائے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ بیماری اور ضعف نے ان کے مزاج کو متاثر نہیں کیا۔ وہ کم و بیش پچھتر برس کی زندگی گزار کر اپنے خالق حقیقی کے حضور پیش ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا ہمدانی رحمہ اللہ تعالیٰ کو جنت الفردوس میں جگہ دیں اور پسماندگان کو ان کی حسنات جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
اسلامی نظام کی جدوجہد اور اس کی حکمت عملی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ہمارے ہاں پاکستان کی معروضی صورت حال میں نفاذِ اسلام کے حوالہ سے دو ذہن پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ سیاسی عمل اور پارلیمانی قوت کے ذریعہ اسلام نافذ ہو جائے گا اور دوسرا یہ کہ ہتھیار اٹھائے بغیر اور مقتدر قوتوں سے جنگ لڑے بغیر اسلام کا نفاذ ممکن نہیں ہے۔ ایک طرف صرف پارلیمانی قوت پر انحصار کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف ہتھیار اٹھا کر عسکری قوت کے ذریعہ مقتدر قوتوں سے جنگ لڑنے کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ میری طالب علمانہ رائے میں یہ دونوں طریقے ٹھیک نہیں ہیں۔ صرف الیکشن، جمہوریت اور پارلیمانی قوت کے ذریعہ نفاذ اسلام اس ملک میں موجودہ حالات میں ممکن نہیں ہے اور ہتھیار اٹھا کر حکمران طبقات کے ساتھ جنگ کرنا اس کے شرعی جواز یا عدم جواز کی بحث سے قطع نظر بھی عملاً موثر اور نتیجہ خیز نہیں ہے۔ یہ بحث اپنی جگہ ہے کہ کسی مسلم ریاست میں مسلمان حکمرانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی شرائط فقہاء کرامؒ نے کیا بیان کی ہیں اور خاص طور پر جمہور فقہائے احناف کا موقف اس سلسلہ میں کیا ہے۔ لیکن اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا عسکری گروپوں کے لیے ملک کی فوج اور اسٹیبلشمنٹ سے جنگ لڑ کر کوئی علاقہ حاصل کر لینا اور اس پر قبضہ برقرار رکھ کر اس میں کوئی نظام نافذ کر لینا ممکن بھی ہے؟ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ہوش مند شخص اس سوال کا جواب اثبات میں دے گا، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس سلسلہ میں جدوجہد کے طریق کار کی حد تک ایران کے تجربہ سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ایران کی مذہبی قیادت نے شاہ ایران کی قیادت سے انحراف کر کے یونیورسٹیوں اور کالجوں کو ذہن سازی اور فکری بیداری کی جولانگاہ بنایا، مسلسل سترہ برس تک محنت کے ذریعے اگلی نسل کو اس کے لیے تیار کر کے اسے اپنی قوت بنایا اور اس قوت کے ذریعہ ہتھیار اٹھائے بغیر سٹریٹ پاور اور تحریکی قوت کے نتیجے میں شاہ ایران کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
میں ایرانیوں کے مذہب کی نہیں بلکہ ان کی جدوجہد کے طریق کار کی بات کر رہا ہوں کہ ان کے کامیاب تجربہ کو سامنے رکھ کر کیا ہم اپنی جدوجہد کا طریق کار طے نہیں کر سکتے؟ اگر کچھ دوستوں کو یہ حوالہ میرے قلم سے پسند نہ آرہا ہو تو میں امریکہ کے سیاہ فاموں کی اس جدوجہد کا حوالہ دینا چاہوں گا جو اب سے صرف پون صدی قبل کالوں کو گوروں کے برابر شہری حقوق دلوانے کے لیے منظم کی گئی تھی، ایک مذہبی لیڈر مارٹن لوتھر کنگ نے سیاہ فاموں کی سٹریٹ پاور کو کو منظم کیا، پرُ امن احتجاجی تحریک کو آگے بڑھایا اور صرف دو عشروں میں ایک گولی چلائے بغیر ۱۹۶۴ء میں اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی سے سیاہ فام آبادی کے لیے سفید فاموں کے برابر شہری حقوق کی دستاویز پر دستخط کرانے میں کامیاب ہوگیا۔
میں نے دونوں تحریکوں کا مطالعہ کیا ہے، دونوں کے کے مراکز میں گیا ہوں، ان کے راہ نماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان کی جدوجہد کے مختلف مراحل سے واقف ہوں، میں افغانستان بھی گیا ہوں، بار بار گیا ہوں، روسی استعمار کے خلاف جہاد میں مختلف جنگی محاذوں پر حاضری دی ہے، افغان مجاہدین کی روسی استعمار کے خلاف جنگ کو جہاد سمجھ کر اس میں شریک ہوا ہوں، امریکی استعمار کے خلاف ان کی جنگ کو بھی جہاد سمجھتا ہوں اور حتی الوسع اسے سپورٹ کرتا ہوں، لیکن پورے شرح صدر اور دیانت داری کے ساتھ یہ سمجھتا ہوں کہ دینی تصلب اور حمیت و غیرت میں تو بلاشبہ افغان مجاہدین اور افغان طالبان ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں لیکن نفاذ اسلام کی جدوجہد کے طریق کار کے حوالہ سے ہمیں ایران کی مذہبی تحریک کا مطالعہ کرنا ہوگا اور مارٹن لوتھر کنگ کی تحریک سے واقفیت حاصل کرنا ہوگی۔ اگر پُر امن عوامی تحریک اور رائے عامہ کی منظم قوت کے ذریعہ ’’امامت‘‘ کو دستوری شکل دے کر اسے نافذ کیا جا سکتا ہے تو ’’خلافت‘‘ کے احیاء و قیام کے لیے یہ قوت آخر کیوں کام میں نہیں لائی جا سکتی؟
جزا و عذاب قبر کی قرآنی بنیادیں
محمد زاہد صدیق مغل
موجودہ دور میں انکار و تخفیف سنت مختلف پیراؤں میں جلوہ گر ہوتی ہے جس کی ایک شکل یہ اصول اختیار کرنا ہے کہ حدیث و سنت کی بنیاد پر کوئی عقیدہ ثابت نہیں ہوسکتا۔ چند روز قبل راقم کو اسی قسم کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جب ہمارے ایک عزیز نے دوران گفتگو یہ سوال کردیا کہ جناب، یہ عذاب قبر کا جو تصور ہمارے ہاں رائج ہے، اس کی شرعی بنیاد کیا ہے؟ سوال فی البدیہہ تھا، لہٰذا راقم نے چند احادیث کا حوالہ پیش کردیا، لیکن چونکہ آج کل تخفیف حدیث کی وبا عام ہے، لہٰذا جھٹ سے کہنے لگے کہ ’ قرآن میں کہاں ہے؟‘ جب ان صاحب کے استدلال کا تجزیہ کیا تو ان کی بنیادیں درج ذیل نظری مقدمات پر قائم تھیں:
- اس قسم کا کوئی تصور واضح طور پر قرآن مجید میں موجود نہیں۔
- قرآن کے مطابق جزا و سزا کا فیصلہ روز آخرت میں ہوگا، لہٰذا حساب و کتاب سے قبل قبر میں عذاب دینا نہ صرف یہ کہ خلاف عقل و عدل ہے بلکہ یہ ’پنجاب پولیس‘ سے متاثر شدہ تصور ہے جو عدالت کے فیصلے سے قبل ہی ملزم کو زدو کوب کرنے لگتی ہے ۔
زیر بحث موضوع پر جب گفتگو کا دائرہ وسیع ہوا تو یہ بات واضح ہوئی کہ اس موضوع پر کوئی رائے قائم کرنے کے لیے تین سوالوں پر غور کرنا ضروری ہے :
۱) اللہ تعالیٰ کے وضع کردہ جزا و سزا کے اصول کا دائرہ کار کیا ہے؟ کیا اس کا اطلاق صرف آخرت کے ساتھ مخصوص ہے؟
۲) کیا از روئے قرآن اس زندگی کی موت اور یوم آخرت کے درمیان (یعنی برزخ میں) کسی شعوری زندگی کا تصور موجود ہے؟
۳) کیا قرآن اس برزخ کی زندگی میں کسی قسم کی جزا و سزا کا تصور پیش کرتا ہے؟
اگر ان تینوں سوالات کا جواب اثبات میں ہو تو وہ تمام احادیث جن میں عذاب قبر کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، انہیں ماننے میں کوئی مانع (سوائے ہٹ دھرمی کے) باقی نہیں رہ جاتا۔ اہمیت موضوع کے سبب (کہ یہ معاملات ایمان میں سے ہے)، ذیل میں ان تینوں سوالات پر ہونے والی گفتگو کا خلاصہ قارئین کے پیش نظر ہے۔
۱) قرآن کے قانون جزا و سزا کا اطلاق
قرآن مجید کا محض سرسری مطالعہ ہی یہ بات واضح کردیتا ہے کہ اللہ تعالی کا وضع کردہ تصور جزا و سزا آخرت کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اس کا اطلاق عالم برزخ تو کیا اس دنیا میں بھی جاری و ساری ہے۔ چنانچہ قرآن اپنے قاری کے سامنے یہ تصور بارہا اجاگر کرتا ہے کہ اس دنیا میں آنے والی تمام تکالیف و مصیبتیں یا تو بطور آزمائش ہوتی ہیں اور یا پھر انسان کے اپنے کرتوتوں کا ثمر۔ اس مقدمے پر درج ذیل قرآنی آیت بطور مثال پیش کی جا سکتی ہے:
وَمَا أَصَابَکُم مِّن مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْ عَنْ کَثِیْرٍ (الشوریٰ: ۳۰)
’’جو مصیبت تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کے سبب ہی پہنچتی ہے، جبکہ وہ (کریم رب) تمہارے بہت سے کرتوتوں سے درگزر فرمادیتا ہے‘‘ ۔
گویا اللہ تعالیٰ اس دنیا میں انسانوں کو انکی بد اعمالیوں کی سزا کا مزہ مصیبتوں کی صورت میں بھی چکھا دیتا ہے جبکہ اپنے لطف و کرم کی وجہ سے اکثر گناہوں سے در گزر سے بھی کام لیتا ہے۔
یہودیوں کے بارے میں قرآن یہ اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی، دنیا کی زندگی میں ان کے لیے ذلت مسلط کردی، ان کے دلوں کو سخت کردیا وغیرہ۔ (یہ تمام تفصیلات سورۃ بقرۃ، آل عمران، نساء و مائدۃ میں تفصیل کے ساتھ دیکھی جاسکتی ہیں)۔ ان تمام سزاؤں کی واحد وجہ قرآن نے ان کی بد اعمالیوں کو قرار دیا، یعنی:
ذَلِکَ بِمَا عَصَوا وَّکَانُوا یَعْتَدُونَ (البقرۃ : ۶۱)
’’یہ سب کچھ اس وجہ سے تھا کہ وہ نا فرمان تھے اور (اللہ کی مقرر کردہ) حد وں سے تجاوز کیا کرتے تھے ‘‘۔
یہودو نصاریٰ کی اس غلط فہمی کو کہ ’چونکہ وہ اللہ کی چہیتی مخلوق ہیں لہٰذاسزا سے بری ہیں‘ قرآن یوں رد فرماتا ہے:
وَقَالَتِ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی نَحْنُ أَبْنَاءُ اللّٰہِ وَأَحِبَّاؤُہُ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُم بِذُنُوبِکُم (المائدۃ :۱۸)
’’یہود اور نصاری نے کہا ہم اللہ کی اولاد اور اس کے محبوب ہیں، آپ فرما دیجئے: (اگر تمہاری بات سچ ہے) تو وہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے تمہیں عذاب کیوں دیتا ہے ؟‘‘
یہ آیت واضح طور پر دنیا میں عذاب بسبب گناہ کا اثبات کررہی ہے۔ نیز قران میں بے شمار اقوام (مثلاً عاد، ثمود وغیرہم) پر ان کے گناہوں کے سبب دنیا میں ہی سزا کا کوڑا برسنے کا ذکر موجود ہے۔
قرآن یہ حقیقت بھی عیاں کرتا ہے کہ اللہ تعالی کی نا فرمانی نیز حق کے انکار کی سزا سلب توفیق اور دلوں پر زنگ لگ جانے کی صورت میں ملتی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَیْْہِمْ أَأَنذَرْتَہُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْہُمْ لاَ یُؤْمِنُونَ، خَتَمَ اللّٰہُ عَلَی قُلُوبِہمْ وَعَلَی سَمْعِہِمْ، وَعَلَی أَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌ (البقرۃ: ۵، ۶)
’’بے شک جنہوں نے کفر (کی روش کو) اپنا لیا ہے انکے لیے برابر ہے کہ آپ انہیں خبردار کریں یا نہ کریں، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (وہ اس لیے کہ) اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑ گیا) ہے‘‘ ۔
دلوں کا یوں زنگ آلود ہوجانا کہ حق اس پر اثر ہی نہ کرسکے بلا وجہ ہی نہیں بلکہ بد اعمالیوں کے سبب ہوا کرتا ہے:
بَلْ رَانَ عَلَی قُلُوبِہِم مَّا کَانُوا یَکْسِبُونَ (المطففین: ۱۴)
’’بات اصل میں یہ ہے کہ ان کے دلوں پر ان اعمال بد کا رنگ چڑھ گیا ہے جو وہ کیا کرتے تھے‘‘ ۔
حق سے اغماض کی سزا درج ذیل صورتوں میں بھی نکلتی ہے:
وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَإِنَّ لَہُ مَعِیْشَۃً ضَنکاً (طہ: ۱۲۴)
’’جس نے میرے ذکر سے منہ موڑا تو اس کے لیے دنیاوی معاش قلیل (scarce) کردیا جاتا ہے‘‘ ۔
وَمَن یَعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہُ شَیْْطَاناً فَہُوَ لَہُ قَرِیْنٌ (الزخرف :۳۶)
’’جو شخص رحمان کے ذکر سے صرف نظر کرلے تو ہم اس کے لیے ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں جو ہر وقت اس کے ساتھ جڑا رہتا ہے‘‘
قرآن مجید بد اعمالیوں کے نتیجے میں یک طرفہ طور پر صرف سزا ہی نہیں بلکہ اس دنیا میں نیک اعمال کی مثبت جزا کا تصور بھی پیش کرتا ہے۔ مثلاً خوف و حزن کی کیفیت سے نجات یوم آخرت کے عظیم ترین احسانوں میں سے ایک ہے، لیکن سنیے، قرآن اس بارے میں کیا کہتا ہے:
إِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْْہِمُ الْمَلَاءِکَۃُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنتُمْ تُوعَدُونَ، نَحْنُ أَوْلِیَاؤُکُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ (حم السجدۃ : ۲۰۔۲۱)
’’بے شک جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے پھر وہ اس پر ڈٹ گئے تو ان پر فرشتے اترتے ہیں (جو ان سے کہتے ہیں) کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو، اور تم (اس ) جنت کی خوشیاں مناؤجس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست ہیں اور آخرت میں بھی‘‘۔
یعنی اس احسان عظیم کی کیفیات محض آخرت میں نہیں بلکہ نیک ارواح اس دنیا میں بھی محسوس کرتے ہیں۔ راہ راست اختیار کرنے والوں کے لیے اللہ کیسے خفیہ انتظامات کرتا ہے، اس آیت میں پڑھیے :
وَمَن یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَل لَّہُ مَخْرَجاً وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْْثُ لَا یَحْتَسِبُ (الطلاق: ۲، ۳)
’’جو کوئی خدا خوفی (کی راہ پر چلتا) ہے تو اللہ اس کے لیے راستے کھول دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا‘‘ ۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان سے یہ وعدہ ہے کہ اگر وہ ایمان کی راہوں پر گامزن رہیں گے تو نہ صرف یہ کہ اس دنیا میں انہیں خلافت ارضی عطا کی جائے گی (النور ۵۵) بلکہ وہی غالب بھی رہیں گے۔ (آل عمران ۱۳۹، نساء ۱۷۱)۔
یہ چند آیات بطور نمونہ پیش کی گئی ہیں، ورنہ اس مقدمے (کہ جزا و سزا کا قانون اس دنیا میں بھی لاگو ہے) پر دیگر بہت سی آیات قرآنی دال ہیں۔
اس موقع پر ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر جزاو سزا کا قانون اس دنیا میں بھی لاگو ہے تو آخرت میں حساب وکتاب نیز جزا و سزا کا کیا مطلب؟ قرآن مجید نے آخرت میں ملنے والی جزا و سزا کے بارے میں یہ تصور پیش کیا ہے کہ اس دن ہر شخص کو ’پورا پورا‘ اجر مل جائے گا۔ چنانچہ اس دن کے اجر کے بارے میں سے قرآن نے لفظ ’وفی یوفی‘ استعمال کیا ہے جس کا مطلب ’پورا پورا لینا یا دینا‘ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
کُلُّ نَفْسٍ ذَآءِقَۃُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (آل عمران : ۱۸۵)
’’ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور تمہارے اجر پورے کے پورے تو قیامت کے دن ہی دیے جائیں گے‘‘
(لفظ ’انما‘ چونکہ حصر کا تقاضا کرتا ہے اسی لیے درج بالا آیت کے ترجمے میں اس کا خیال رکھا گیا ہے)۔ اسی طرح ارشاد ہوا:
فَکَیْْفَ إِذَا جَمَعْنَاہُمْ لِیَوْمٍ لاَّ رَیْْبَ فِیْہِ وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُونَ (آل عمران: ۲۵)
’’سو کیا حال ہوگا ان کا جب ہم انہیں جمع کریں گے اس دن جس (کے برپا ہونے ) میں کوئی شک نہیں اور ہر شخص کو جو اس نے کمایا ہے اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ‘‘ ۔
یہی تصور آل عمران: ۵۷ نیز نساء: ۱۷۳ میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ یعنی چونکہ اس عالم فانی میں کار فرما طبعی و اخلاقی قوانین کی محدودیت کی وجہ سے یہاں انسان کے اعمال کا پورا بدلہ دینا ممکن نہیں، لہٰذا اس کے لیے موت کے بعد ایک دوسری دنیا برپا کی جانے والی ہے (مثلاً جس شخص نے سو قتل کیے ہوں، اسے اس دنیا میں سو بار قتل کرنا ناممکن ہے) جہاں ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ مل سکے گا تاکہ کسی پر ظلم نہ ہوسکے۔
درج بالا بحث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ مالک و مختار ہے، وہ جب اور جہاں چاہے اپنے بندے کو جزا یا سزا دے سکتاہے۔ نیز اس کا قانون اجر آخرت کے ساتھ مخصوص نہیں۔ لہٰذا ہمارے ناقدین کا یہ اعتراض کہ ’عذاب قبر خلاف عدل اور پنجاب پولیس سے اخذ کردہ تصور ہے‘ اپنے آپ رد ہوجاتاہے۔ اب آئیے دوسرے نکتے کی طرف۔
۲) عالم برزخ میں شعوری زندگی کا ثبوت
قرآن مجید میں کئی مقامات پر ایسے قطعی قرائن موجود ہیں جن سے عالم برزخ میں نہ صرف یہ کہ ’محض‘ انسانی زندگی بلکہ ’شعوری ‘ زندگی کا تصور ثابت ہوتا ہے۔ عالم برزخ میں انسانی زندگی کا اشارہ اس آیت میں موجود ہے:
کَیْْفَ تَکْفُرُونَ بِاللّٰہِ وَکُنتُمْ أَمْوَاتاً فَأَحْیَاکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ إِلَیْْہِ تُرْجَعُونَ (البقرۃ : ۲۸)
’’تم کیسے اللہ کا انکار (کرنے کی جسارت) کرتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے۔ اس نے تمہیں زندگی بخشی، پھر تمہیں مارے گا، پھر تمہیں زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘‘ ۔
زیر مطالعہ آیت میں اس دنیاوی زندگی کی موت کے بعد جو حیات عطا ہوگی، وہ لوٹائے جانے سے قبل (یعنی عالم برزخ میں) ہوگی۔ نیز لفظ ثُمَّ کا استعمال بتا رہا ہے کہ یہ ’برزخی حیات‘ اور ’یوم آخرت کو اللہ کی طرف لوٹایا جانا ‘ دو الگ الگ واقعے ہیں جن میں زمانی مغایرت ہے۔ عالم برزخ میں زندگی کا ثبوت آیت شہداء میں بھی موجود ہے:
وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ یُقْتَلُ فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ أَمْوَاتٌ، بَلْ أَحْیَاءٌ وَلَکِن لاَّ تَشْعُرُونَ (البقرۃ :۱۵۴)
’’جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ مت کہا کرو، (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم (ان کی زندگی کو) سمجھ نہیں سکتے‘‘ ۔
دوران بحث جب یہ آیت پیش کی گئی تو ہمارے عزیز نے عرض کیا کہ جناب یہاں حیات سے مراد معنوی حیات ہے، یعنی ’شہداء کی حیات کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہوتے ہیں یا یہ کہ اپنے نظریات و اعمال کی وجہ سے وہ معاشروں پر جو انمٹ اثرات چھوڑ جاتے ہیں، اسے حیات سے تعبیر کیا گیا ہے‘۔ مگر زیر مطالعہ آیت کے داخلی قرآئن کی رو سے اس میں بیان کردہ حیات کو معنوی حیات کہنا محل نظر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شہدا کی حیات ایسی ہے کہ ’تم اس کا شعور نہیں رکھتے‘، جبکہ اس معنوی حیات کا شعور تو ہم رکھتے ہیں! یعنی اللہ تو کہہ رہا ہے کہ ہم شہدا کو ایسی زندگی دیتے ہیں جس کا تمہیں شعور نہیں، جبکہ آیت کو معنوی حیات پر محمول کرنے سے اس زندگی کا شعور ہمیں حاصل ہوجاتا ہے تو اللہ کا یہ فرمانا کہ ’تم اس کا شعور نہیں رکھتے‘ ایک بے معنی بات بن کر رہ جاتی ہے۔
عالم برزخ میں زندگی کے وجود پر مزید شرح صدر زیر بحث موضوع کے تیسرے نکتے سے بھی فراہم ہوگی۔
۳) عالم برزخ میں قانون جزا و سزاکا اطلاق
اب آئیے اصل قابل نزع موضوع کی طرف یعنی کیا قرآن عالم برزخ میں جزا و سزا کے اطلاق کا کوئی تصور پیش کرتا ہے۔ فرض کریں کہ قرآن کی کوئی ایک آیت بھی اس مقدمے پر روشنی نہیں ڈالتی، تب بھی درج بالا بحث کے بعد یہ ماننا مشکل نہیں رہتا کہ اگر اللہ تعالیٰ اس دنیا کی زندگی میں انسانوں کو اعمال کا اجر دیتا ہے تو عالم برزخ میں ایسا کیوں نہیں کرسکتا؟ خصوصا کہ جب صحیح احادیث میں اسکا ثبوت بھی موجود ہو! اس قاعدے کے بعد اب آئیے قرآنی شواہد کی طرف۔ چنانچہ شہدا کے بارے میں ارشاد ہوا:
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَمْوَاتاً، بَلْ أَحْیَاءٌ عِندَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ، فَرِحِیْنَ بِمَا آتَاہُمُ اللّٰہُ مِن فَضْلِہِ، وَیَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوا بِہِم مِّنْ خَلْفِہِمْ أَلاَّ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ، یَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍ (آل عمران : ۱۶۹۔۱۷۱)
’’جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں ہرگز مردہ خیال بھی مت کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور زندہ ہیں اور رزق پارہے ہیں۔ جو نعمتیں اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کررکھی ہیں، وہ ان پر شاداں ہیں، اور اپنے ان پچھلوں سے بھی جو (تاحال) ان سے نہیں مل سکے (انہیں راہ راست پر جان کر) خوش ہوتے ہیں کہ ان پر بھی نہ خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے، وہ اللہ کی نعمت و فضل سے مسرور رہتے ہیں‘‘ ۔
اولاً، اس آیت کریمہ سے نہ صرف یہ کہ عالم برزخ کی حیات بلکہ شعوری حیات کا اثبات ہوتا ہے کیونکہ یہاں استبشار کے فاعل شہدا ہیں، یعنی جو خوش قسمت ان نعمتوں سے بہراور ہورہے ہیں انہیں اسکا پورا شعور ہے کہ یہ نعمتیں ہمارے رب کی عنایتیں ہیں ۔ دوسری بات یہ کہ اس آیت میں واضح طور پر عالم برزخ میں اجر ملنے کا تصور موجود ہے، کیونکہ یہ آیت حال کی خبردے رہی ہے نہ کہ قیامت کے کسی واقعے کی۔
عالم برزخ میں اجر و ثواب کا اشارہ سورۃ یس میں بیان کردہ اس شخص کے ذکر سے بھی ملتا ہے جسے کہا گیا:
قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ، قَالَ یَا لَیْْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُونَ بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ (یس ۲۷۔۲۶)
’’اسے کہا گیا جا جنت میں داخل ہوجا، وہ بولا کاش میری قوم جان سکتی کہ میرے رب نے کس چیز کے سبب مجھے بخش دیا اور مجھے عزت والوں میں شامل کیا‘‘ ۔
یہ تو ذکر ہوا عالم برزخ میں اجرو ثواب کا، اب آئیے ذکر عذاب کی طرف۔ پہلی اصولی و منطقی بات یہ کہ اگر عالم برزخ میں ثواب کا اجرا ہو سکتا ہے تو عذاب ماننے میں کیا قباحت ہے؟ البتہ عذاب قوم فرعون کے بارے میں وارد ہونے والی آیت اس موضوع پر نص قطعی ہے :
النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْْہَا غُدُوّاً وَعَشِیّاً، وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَۃُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ (المومن :۴۶)
’’(دوزخ کی) آگ ہے جسے صبح و شام پر ان پر پیش کیا جاتا ہے، اور جب قیامت برپا ہوگی تو (حکم ہوگا) آل فرعون کو مزید سخت عذاب میں داخل کردو ‘‘ ۔
یہاں دو قرینے لائق توجہ ہیں۔ پہلا یہ کہ یہاں یوم قیامت برپا ہونے سے ’قبل ‘ آل فرعون پر عذاب کا ذکر ہے، دوسرا یہ کہ قیامت والے دن ’اشد‘ (مزید سخت) عذاب کی بات ہورہی ہے جو بذات خود ایک کمتر عذاب کا ثبوت ہے۔
الحمدللہ تینوں سوالات کا جواب آیات قرآنی سے اثبات میں ملا جس سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوگئی کہ عذاب قبر کے ضمن میں مروی احادیث درج بالا قرآنی آیات کا بیان ہیں جنہیں رد کرنے یا مشکوک بنانے کے لیے کسی صاحب ایمان وعقل کے پاس کوئی حجت باقی نہیں رہ جاتی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں پر لگے قفل کھول ہے اور ہمیں حق سمجھنے اور اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مریم جمیلہؒ ۔ اسلام کی بے باک ترجمان
پروفیسر خورشید احمد
میں اکتوبر کے مہینے میں لسٹر، انگلستان میں زیرعلاج تھا کہ ۳۱؍اکتوبر۲۰۱۲ء کو یہ غم ناک اطلاع ملی کہ ہماری محترم بہن اور دورِحاضر میں اسلام کی بے باک ترجمان محترمہ مریم جمیلہ صاحبہ کا انتقال ہوگیا ہے___ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔ اللہ تعالیٰ ان کی نصف صدی سے زیادہ پر پھیلی ہوئی دینی، علمی اور دعوتی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کواپنے جوارِرحمت میں اعلیٰ مقامات سے نوازے۔
محترمہ مریم جمیلہ سے میرا تعارف ’’وائس آف اسلام‘‘ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے ان کے امریکا کے قیام کے دوران ہی ہوچکا تھا اور ہم ان کے مضامین شائع کر رہے تھے۔ پھر جون ۱۹۶۲ء میں پاکستان آمد کے موقع پر جن تین افراد نے کیماڑی کی بندرگاہ پر ان کا استقبال کیا، ان میں مَیں بھی شامل تھا۔ میرے ساتھ محترم چودھری غلام محمد صاحب اور برادر غلام حسین عباسی ایڈووکیٹ بھی تھے۔ ہم محترم مولانا مودودی کی ہدایت کے مطابق ان کو خوش آمدید کہنے کے لیے مامور تھے اور کراچی میں ان کے قیام اور پروگرام کے ذمہ دار تھے۔ انھوں نے نیویارک سے پاکستان کی ہجرت کا یہ سفر ایک مال بردار جہاز (cargo ship) میں طے کیا تھا اور غالباً کسٹم اور امیگریشن کی وجہ سے پہلے دن انھیں اترنے نہیں دیا گیا جس کے نتیجے میں انھیں ایک رات مزید جہاز پر ہی گزارنا پڑی۔ اگلے دن ہم انھیں گھر لے آئے۔ ان کے قیام کا انتظام برادرم غلام حسین عباسی کے بنگلے پر کیا گیا تھا اور اسی رات کا کھانا میرے گھر پر تھا۔ پھر مرحوم ابراہیم باوانی صاحب اور عباسی صاحب کے گھر پر کئی محفلیں ہوئیں۔ اس طرح ان سے وہ ربط جو علمی تعاون کے ذریعے قائم ہوا تھا، اب ذاتی واقفیت اور بالمشافہ تبادلۂ خیال اور ربط اور ملاقات کے دائرے میں داخل ہوگیا۔
کراچی میں ان کا قیام مختصر رہا اور وہ چند ہی دن میں لاہور منتقل ہوگئیں۔ جب تک وہ مولانا محترم کے گھر میں مقیم رہیں، لاہور کے ہرسفر کے دوران ان سے بات چیت ہوتی رہی۔ پھر عملاً ملاقات کا سلسلہ ٹوٹ گیا مگر علمی تعلق قائم رہا، اور ان کے انتقال سے چند ماہ قبل تک خط و کتابت کا سلسلہ رہا جس کا بڑا تعلق اسلامک فاؤنڈیشن لسٹر اور اس کے مجلے ’’مسلم ورلڈ بک ریویو‘‘ (MWBR) کے سلسلے میں ان کے قلمی تعاون سے رہا۔۵۰برس پر محیط ان تعلقات میں ذاتی سطح پر کبھی کوئی کشیدگی رُونما نہیں ہوئی۔ البتہ علمی امور پر ہمارے درمیان وسیع تر اتفاق راے کے ساتھ بڑا مفید اختلاف بھی رہا حتیٰ کہ اسلامک فاؤنڈیشن کے مجلے Encounter میں میرے ایک مضمون Man and Civilization in Islam پر انھوں نے ایک تنقیدی مقالہ لکھا جس کا مَیں نے اسی شمارے میں جواب بھی تحریر کیا۔ یہ سب بڑے دوستانہ ماحول میں ہوا اور الحمدللہ ہمارے باہمی اعتماد او ر تعاون کا رشتہ مضبوط اور خوش گوار رہا جو ہمارے پُرخلوص اور خالصتاً لِلّٰہ تعلق کی ایک روشن مثال ہے اور اُمت کے درمیان اختلاف کے رحمت ہونے کی نبوی بشارت کا ایک ادنیٰ مظہر ہے۔ ان کی آخری تحریر جو امریکا سے شائع ہونے والی ایک کتاب Children of Dust: A Portrait of a Muslim Youngman، از علی اعتراز (Ali Eteraz) پر ان کا تبصرہ ہے جو MWBR کے جنوری ۲۰۱۳ء کے شمارے میں شائع ہونے والا ہے اور جس کا آخری جملہ یہ ہے:
"The semi - fiction of this story will certainly give the reader a negative picture of Pakistani youth today.
(یہ نیم افسانوی کہانی یقیناًقاری کو آج کی پاکستانی نوجوان نسل کی منفی تصویر دکھائے گی)۔
اسی طرح ان کے شوہر برادرم محترم محمد یوسف خان صاحب سے بھی میرا تعلق ۱۹۵۱ء سے ہے جب میں جمعیت میں تھا اور وہ جماعت کے سرگرم رکن تھے۔ الحمدللہ یہ رشتہ بھی بڑا مستحکم رہا اور اس طرح شوہر اور بیوی دونوں ہی سے میرا تعلق خاطر رہا۔ محترمہ مریم جمیلہ صاحبہ میرے نام اپنے خطوط میں اپنے شوہر کا ذکر "My Khan Sahab" [میرے خان صاحب] سے کیا کرتی تھیں جو محبت اور مودّت کے جذبات کے ترجمان ہیں۔ ان خطوط میں ’’ترجمان القرآن‘‘ کے ’اشارات‘ کے بارے میں یوسف خان صاحب کے احساسات سے مجھے مطلع کرتی تھیں۔ یوسف خان صاحب کو ٹیلی فون پر تعزیتی جذبات پہنچانے کی کوشش کی لیکن وہ غم میں ایسے نڈھال تھے کہ بات نہ ہوسکی، البتہ ان کے صاحب زادے تک اپنے غم و اندوہ کے جذبات پہنچا دیے اور آج ان صفحات میں اس عظیم خاتون کے بارے میں اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار کررہا ہوں۔
مریم جمیلہ جن کا ماں باپ کا دیا ہوا نام مارگریٹ مارکس تھا، نیویارک کے ایک سیکولر یہودی گھرانے میں ۲۳ مئی ۱۹۳۴ء میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انھوں نے روچسٹر یونی ورسٹی میں ۱۹۵۱ء میں داخلہ لیا۔ علم و ادب اور میوزک اور تصویرکشی (painting)سے طبعی شغف تھا۔ فلسفہ اور مذہب بڑی کم عمری ہی سے ان کے دل چسپی کے موضوعات تھے، بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ حق کی تلاش اور زندگی کی معنویت کی تفہیم ان کی فکری جستجو کا محور رہے۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ اسلام سے ان کا اولین تعارف یونی ورسٹی کے کورس کے ایک ابتدائی مضمون Judaism in Islam کے ذریعے ہوا، جو ایک یہودی استاد ابراہم اسحق کاٹش پڑھاتا تھا۔ اس کی کوشش تھی کہ اسلام کو یہودیت کا چربہ ثابت کرے لیکن تعلیم و تدریس کے اس عمل میں موت اور زندگی بعد موت کے مسئلے پر مریم جمیلہ اس کے خیالات سے خصوصی طور پر متاثر ہوئیں۔ اپنے ایک انٹرویو میں اس کا ذکر اس طرح کیا:
نومبر ۱۹۵۴ء کی ایک صبح، پروفیسر کاٹش نے اپنے لیکچر کے دوران ناقابلِ تردید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حضرت موسٰی ؑ نے توحید کی جو تعلیمات دی ہیں اور جو الوہی قانون ان پر نازل ہوا ہے ناگزیر ہے۔ اگر اخلاقی قوانین خالصتاً انسان کے بنائے ہوئے ہوں، جیساکہ اخلاقی کلچر اور دیگر الحادی اور دہریت پر مبنی فلسفوں میں بیان کیا جاتا ہے، تو وہ محض ذاتی راے اور ذوق، متلون مزاجی ، سہولت اور ماحول کی بنا پر تبدیل ہوسکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ مکمل انتشار ہوگا جس کے نتیجے میں انفرادی اور اجتماعی زوال برپا ہوسکتا ہے۔ آخرت پر ایمان، جیساکہ ربی تلمود میں بیان کرتے ہیں، پروفیسر کاٹش نے دلائل دیتے ہوئے کہا، کہ محض ایک خوش گمانی نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی تقاضا ہے۔ اس نے کہا کہ صرف وہ لوگ جو پختگی سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کو روزِ قیامت خدا کے حضور پیش ہونا ہے، اور زمین پر اپنی زندگی کے تمام اعمال کی جواب دہی کرنا ہوگی اور اس کے مطابق جزا و سزا کا سامنا کرنا ہوگا، صرف وہی اپنی ذات پر اتنا قابو رکھیں گے کہ اُخروی خوشنودی کے حصول کے لیے عارضی خوشیوں کو قربان اور مصائب کو برداشت کرسکیں۔
یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ جس طرح یہودی پروفیسر کے یہ الفاظ نوعمر مارگریٹ مارکس کے دل و دماغ پر مرتسم ہوگئے اور زندگی کا رُخ متعین کرنے میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کیا، اسی طرح مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے جس پہلے مضمون نے ان کے قلب و نظر کو روشن کیا وہ ’زندگی بعد موت‘ کا میرا کیا ہوا ترجمہ تھا، جو جنوبی افریقہ کے مجلے Muslim Digest میں شائع ہوا تھا۔ مریم جمیلہ کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان چیزوں کو اچھی طرح سمجھا جائے جو ان کی زندگی کا رُخ متعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں۔ ان کی اپنی بے تاب روح اور تلاشِ حق کی جستجو، اور حقیقت کی وہ تفہیم جو توحید اور آخرت کے تصور پر مبنی ہے، جس میں زندگی کو خانوں میں بانٹنے کی کوئی گنجایش نہیں اور جس کے نتیجے میں انسان ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً (تم پورے کے پورے اسلام میں آجاؤ۔البقرہ ۲:۲۰۸)کا نمونہ اور زمین پر اللہ کے خلیفہ کا کردار ادا کرنے میں زندگی کا لطف اور آخرت کی کامیابی تلاش کرتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو زندگی میں یکسوئی پیدا کرتی ہے۔ تبدیلی کے لیے انسان کو آمادہ ہی نہیں کرتی بلکہ مطلوب کو موجود بنانے ہی کو زندگی کا مشغلہ بنا دیتی ہے اور بڑی سے بڑی آزمایش میں اس کا سہارا بن جاتی ہے۔ مریم جمیلہ نے امریکا کی پُرآسایش زندگی کو چھوڑ کر پاکستان کی طرف ہجرت، اور بڑی سادہ اور مشکلات سے بھرپور لیکن دل کو اطمینان اور روح کو شادمانی دینے والے راستے کو اختیار کیا اور پوری مستعدی، استقامت اور خوش دلی کے ساتھ سفر حیات کو طے کیا۔ یہ سب اسی ایمان، آخرت کی کامیابی کے شوق، اور انسانی زندگی کو اللہ کے حوالے تصور کرنے کے جذبے کا کرشمہ ہے۔
محترمہ مریم جمیلہ ۱۹۶۰ء کی دہائی میں بڑی کم عمری کے عالم میں مسلم دنیا کے علمی اُفق پر رُونما ہوئیں اور بہت جلد انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کرلیا۔ انھوں نے اسلام کے اس تصور کو جو قرآن و سنت کی اصل تعلیمات پر مبنی ہے اور جو زندگی کے ہرپہلو کی الہامی ہدایت کی روشنی میں تعمیروتشکیل کا داعی ہے، بڑے مدلل انداز میں پیش کیا اور وقت کے موضوعات اور اس دور کے فکری چیلنجوں کی روشنی میں کسی مداہنت کے بغیر اسلام کی دعوت کو پیش کیا ۔ اس باب میں ان کو یہ منفرد حیثیت حاصل تھی کہ وہ نہ صرف ایک مسلمان صاحبِ علم خاتون اور داعیہ تھیں، بلکہ امریکی ہونے کے ناتے مغربی تہذیب سے پوری طرح آشنا تھیں اور ان کی حیثیت Insider یعنی شاہدُ مِنھم کی تھی۔
ان کو موضوع اور زبان دونوں پر قدرت حاصل تھی اور وہ اپنی بات بڑے جچے تلے انداز میں مسکت دلائل کے ساتھ بڑی جرأت سے پیش کرتی تھیں۔ ۳۰ سے زیادہ کتابوں کی مصنفہ تھیں اور ان کے علاوہ بیسیوں مضامین اور تبصرے ان کے قلم سے نکلے۔ سیدولی نصر نے ’’دی اوکسفرڈ انسائیکلوپیڈیا آف اسلامک ورلڈ‘‘ میں ان پر اپنے مقالے میں بجا طور پر یہ لکھا ہے کہ اپنے پاکستان کے قیام کے دوران انھوں نے دورِجدید میں اسلام کے تحریکی تصور کی بڑی عمدگی کے ساتھ ترجمانی کی۔ خصوصیت سے اسلام اور مغربی تہذیب کے بنیادی فرق اور جداگانہ نقطہ ہاے نظر کو انھوں نے بڑی وضاحت کے ساتھ موضوع بنایا اور جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کے افکارونظریات کو متاثر کیا۔ ان کے الفاظ میں :
مریم جمیلہ نے ۱۹۶۲ء میں پاکستان کا سفر کیا اور لاہور میں مولانا مودودی کے گھرانے میں شامل ہوگئیں۔ جلد ہی انھوں نے جماعت اسلامی کے ایک رکن محمد یوسف خان سے بطور ان کی دوسری بیوی کے شادی کرلی۔ پاکستان میں سکونت اختیار کرنے کے بعد انھوں نے اپنی پوری زندگی میں بہت سی مؤثر کتابیں لکھیں جن میں جماعت اسلامی کے نظریے کو ایک منظم انداز سے بیان کیا۔ مریم جمیلہ کو اسلام اور مغرب کے درمیان بحث سے خصوصی دل چسپی تھی جو مولانا مودودی کی فکر کا مرکزی تصور نہ ہوتے ہوئے بھی اس کا ایک اہم پہلو ہے۔ انھوں نے مغرب کے خلاف اسلامی استدلال کو مزید اُجاگر کیا اور عیسائیت، یہودیت، اور سیکولر مغربی فکر پر احیائی تنقید کو منظم انداز سے بیان کیا۔ مریم جمیلہ کی اہمیت ان کے مشاہدات کے زور میں نہیں ہے بلکہ اس اسلوبِ بیان میں ہے جس میں وہ اندرونی طور پر ایک مربوط مثالیے کو مغرب کے احیائی استرداد کے لیے پیش کرتی ہیں۔ اس حوالے سے ان کے اثرات جماعت اسلامی کے دائرے سے بہت آگے تک جاتے ہیں۔پوری مسلم دنیا میں احیائی فکر کے ارتقا میں ان کا کردار بہت اہم رہا ہے۔
محترمہ مریم جمیلہ کی چند تعبیرات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور خود انھوں نے بھی اُن اہلِ علم سے کہیں کہیں اختلاف کیا ہے جن کے افکار و نظریات نے خود ان کے ذہن اور فکر کی تعمیر میں اہم حصہ لیا ہے، لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ بحیثیت مجموعی ان کی ۵۰سالہ علمی کاوش ہماری فکری تاریخ کا ایک روشن باب ہے، اور خصویت سے مغربی تہذیب پر ان کی تنقید ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے قلم میں بڑی جان تھی اور انھوں نے ایمان اور یقین کے ساتھ دین کے پیغام کو پیش کیا اور تمام انسانوں کو کفر، الحاد، بے یقینی، اخلاقی بے راہ روی اور سماجی انتشار اور ظلم و طغیان کی تباہ کاریوں سے بچانے کے گہرے جذبۂ خیرخواہی کے ساتھ اس کام کو انجام دیا جو کارِرسالت کا طرۂ امتیاز ہے۔ قرآن نے رجال کے بارے میں جو شہادت دی ہے وہ نساء کے باب میں بھی اتنی ہی سچی ہے کہ :
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ ج فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا o (الاحزاب ۳۳:۲۳)
ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ انھوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
محترمہ مریم جمیلہ کی زندگی کے دو پہلو ہیں جن کو سمجھنا مفید ہوگا۔ ایک ان کی علمی شخصیت ہے جس میں بلاشبہہ انھوں نے اپنی مسلسل محنت اور سلاست فکر کے باعث ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ انھوں نے مغربی فکروتہذیب پر بڑے علمی انداز میں محاکمہ کیا اور اس کے طلسم کو توڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ فلسفہ، مذہبیات اور عمرانیات کے اہم ترین موضوعات کے ساتھ انفرادی زندگی اور اجتماعی معاملات میں اسلام کی رہنمائی کو بڑے صاف الفاظ میں بیان کیا اور فکرِاسلامی کی ترویج و تبلیغ کے باب میں اہم خدمات انجام دیں۔ اس کے ساتھ ان کی کوشش تھی کہ اسلام کے پیغام کو ہرانسان تک پہنچائیں، اور اسے دنیا اور آخرت کی کامیابی کے راستے پر لانے کی کوشش کریں۔ اس طرح علمی اور فکری خدمات کے ساتھ ان کا دامن دعوتی اور تبلیغی مساعی سے بھی بھرا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں ان کا شاہکار وہ خط ہے جو انھوں نے اپنے والدین کو لکھا اور جس کا ایک ایک لفظ صداقت پر مبنی، دعوتِ حق کی تڑپ کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ ان کی شخصیت اور مقصدحیات کو سمجھنے کے لیے یہ خط بہترین کلید ہے۔ اس کا بڑا خوب صورت ترجمہ کرنل (ریٹائرڈ) اشفاق حسین نے مریم جمیلہ کے خطوط پر مبنی ایک طرح کی خودونوشت کے ترجمے ’’امریکا سے ہجرت‘‘ میں کیا ہے اور اس سے چند اقتباس ایک آئینہ ہے جن میں مریم جمیلہ کے فکروفن اور جذبے اور اخلاص کی حقیقی تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔
مریم جمیلہ لکھتی ہیں:
’’آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ معاشرہ جس میں آپ کی پرورش ہوئی ہے اور جس میں آپ نے اپنی پوری زندگی گزار دی ہے، بڑی تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور مکمل تباہی کے قریب ہے۔ درحقیقت ہماری تہذیب کا زوال بھی جنگِ عظیم کے وقت ہی ظاہر ہوناشروع ہوگیا تھا لیکن دانش وروں اور ماہرین عمرانیات کے سوا کسی کو احساس نہیں ہوا کہ کیا ہو رہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد اور خاص طور پر پچھلے دوعشروں میں یہ اتنی تیزی سے زوال کے اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے کہ کوئی شخص اسے مزید نظرانداز نہیں کرسکتا۔
’’زندگی کے معاملات اور رویوں میں کسی قابلِ احترام اور قابلِ قبول معیار کے نہ ہونے کی وجہ سے اخلاقی بے راہ روی،تفریحی ذرائع ابلاغ پر مبنی کج روی، بوڑھوں سے ناروا سلوک، طلاق کی روزافزوں شرح جو اتنی بڑھ چکی ہے کہ نئی نسل کے لیے پایدار اور خوش گوار ازدواجی زندگی ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ معصوم بچوں کے ساتھ غلط کاریاں، فطری ماحول کی تباہی، نایاب اور قیمتی وسائل کا بے محابا ضیاع، امراضِ خبیثہ اور ذہنی بیماریوں کی وبائیں، منشیات کی لت، شراب نوشی، خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان، جرائم، لُوٹ مار، حکومتی اداروں میں بے ایمانی اور قانون کا عدم احترام___ ان تمام خرابیوں کی ایک ہی وجہ ہے۔
’’اور وہ وجہ ہے لامذہبیت اور مادیت پر مبنی نظام کی ناکامی___، نیک ماورائی، اعلیٰ و ارفع مذہبی نظام سے دُوری اور اخلاقی قدروں کا ناپیدا ہونا___ اعمال کا دارومدار عقیدوں پر ہوتا ہے کیونکہ نیت ہی درست نہ ہو توعمل ہمیشہ ناکام ہوتا ہے.....
’’اگر زندگی ایک سفر ہے تو کیا یہ حماقت نہیں ہوگی کہ بندہ راستے میں آنے والی منزلوں پر آرام دہ ایام اور خوش گوار ٹھکانوں کی فکر تو کرے، لیکن سفر کے اختتام کے بارے میں کچھ نہ سوچے؟ آخر ہم کیوں پیدا ہوئے تھے؟ اس زندگی کا کیا مطلب ہے؟ کیا مقصد ہے؟ آخر ہمیں مرنا ہے اور ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ موت کے بعد کیا معاملہ ہونا ہے؟
’’ابو! آپ نے ایک سے زائد بار مجھے بتایا ہے کہ آپ کسی روایتی مذہب کو اس لیے قبول نہیں کرسکتے کیونکہ آپ کو یقین ہے کہ الہامی مذہب جدید سائنس سے متضاد چیز ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سائنس اور ٹکنالوجی نے ہمیں ساری دنیا کے بارے میں بہت معلومات فراہم کی ہیں، ہمیں آرام و آسایشات اور سہولتیں فراہم کی ہیں، اس نے ہماری کارکردگی میں اضافہ کیا ہے اور ان بیماریوں کے علاج دریافت کیے ہیں جو جان لیوا ثابت ہوتی تھیں، لیکن سائنس ہمیں یہ نہیں بتاتی اور نہیں بتا سکتی کہ زندگی اور موت کا کیا مطلب ہے۔ سائنس ہمیں ’کیا اور کیسے‘ کا جواب تو دیتی ہے لیکن ’کیوں‘ کے سوال کاکبھی کوئی جواب نہیں دیتی۔ کیا سائنس کبھی یہ بتا سکتی ہے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط؟ کیا نیکی ہے، کیا برائی؟ کیا خوب صورت ہے اور کیا بدصورت؟ ہم جو کچھ کرتے ہیں اس کے لیے کس کو جواب دہ ہیں؟ مذہب ان سارے سوالوں کے جواب دیتا ہے۔
’’آج امریکا کئی لحاظ سے قدیم روم کے زوال و شکست کے آخری مرحلوں سے گزر رہا ہے۔ سوچ اور فکر رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ لامذہبیت ہمارے معاشرتی نظام کی مستحکم بنیاد ثابت نہیں ہوسکی۔ وہ مضطرب ہوکر مختلف سمتوں میں اس بحران کا حل تلاش کر رہے ہیں لیکن انھیں ابھی تک نہیں پتا کہ یہ حل انھیں کہاں سے ملے گا۔ یہ تشویش چند ماہرین عمرانیات تک محدود نہیں ہے۔ قومی یک جہتی کی ٹوٹ پھوٹ کی بیماری براہِ راست آپ کو، مجھے اور ہم میں سے ہر ایک کو متاثر کررہی ہے.....
’’آج امریکی باشندے، جوان ہوں یا بوڑھے بڑی تندہی سے رہنمائی کی تلاش میں ہیں۔ تلخ تجربوں کے بعد انھیں پتا چلا ہے کہ زندگی کے کسی مقصد اور صراطِ مستقیم کی طرف قابلِ اعتماد رہنمائی کے بغیر شخصی آزادیاں اور وہ ساری سہولتیں جو امریکیوں کو حاصل ہیں، لایعنی اور اپنی ذات کی تباہی کے مترادف ہیں۔سیکولرازم اور مادیت امریکیوں کو ان کی انفرادی یا اجتماعی زندگی میں کسی طرح کی مثبت اور تعمیری، اخلاقی قدریں فراہم نہیں کرسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائیت اور صہیونیت کے ہاتھوں ناکامی کے بعد امریکا میں زیادہ سے زیادہ لوگ اسلام کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ نومسلم اسلام میں ایک پاکیزہ، صحت مند، صاف ستھری اور دیانت دار زندگی کا سراغ پاتے ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک موت سے ہرچیز ختم نہیں ہوجاتی بلکہ وہ اس کے بعد آخرت میں ہمیشہ رہنے والی نعمتوں، پایدار ذہنی سکون اور دائمی خوشیوں کی توقع رکھتے ہیں۔
’’قرآن مقدس اور رسولِ خدا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی مستند احادیث میں پائی جانے والی یہ ہدایت و رہنمائی صدیوں سے مشرق کے دُورافتادہ علاقوں کی نسلوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ آج مغرب کو جو معاشی، معاشرتی، اخلاقی اور سیاسی مسائل درپیش ہیں، ان کا حل بھی ہدایت کے انھی سرچشموں میں موجود ہے۔ علاوہ ازیں اسلام میں سردمہری، خالق سے دُوری یا خالق کی بے نیازی کے احساسات نہیں پائے جاتے۔ مسلمان ایک ایسے خدا پر یقین رکھتے ہیں جس میں اپنائیت ہے۔ جس نے نہ صرف اس کائنات کو پیدا کیا بلکہ وہ اس کے نظم و نسق کا بھی ذمہ دار ہے اور وہی اس کا حکمران ہے۔ وہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور ہم میں سے ہر ایک کا بہت خیال رکھتا ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ ہم سب سے ہر ایک کی شہ رگ سے بھی قریب ہے.....
’’آپ دونوں کافی طویل عمر پاچکے ہیں اور بہت کم مہلت باقی رہ گئی ہے۔ اگر آپ فوراً عمل کریں تو زیادہ تاخیر نہیں ہوگی۔ اگر آپ کا فیصلہ مثبت ہو تو پاکستان میں اپنے پیارے لوگوں سے آپ کا نہ صرف خونی رشتہ ہوگا بلکہ ایمان کا رشتہ بھی قائم ہوجائے گا۔ آپ نہ صرف اس دنیا میں ان سے محبت کرسکیں گے بلکہ ہمیشہ رہنے والی زندگی میں بھی آپ ہمارے ساتھ ہوں گے.....
’’میں ایک بیٹی کی حیثیت سے، جسے آپ سے محبت ہے، آخروقت تک چاہوں گی کہ آپ اس بُرے نصیب سے بچ جائیں لیکن فیصلہ صرف آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کو مکمل اختیار ہے کہ آپ اس دعوت کو قبول کریں یا مسترد کردیں۔ آپ کے مستقبل کا انحصار اس انتخاب پر ہے جو آپ نے اب کرنا ہے۔
اپنی ساری محبتوں اور نیک خواہشات کے ساتھ۔
آپ کی وفادار بیٹی، مریم جمیلہ‘‘۔ (امریکا سے ہجرت، ص ۲۰۔۲۵)
محترمہ مریم جمیلہ کی زندگی کا دوسرا پہلو ان کی شخصی زندگی ہے جو خود ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب انھوں نے اسلام کی حقانیت کو پالیا اور اپنے آپ کو اس کے سانچے میں ڈھالنے کا عزم کرلیا تو پھر انھوں نے اپنے کو خود اپنوں کے درمیان اجنبی محسوس کیا۔ امریکا میں وہ اپنے کو انمل بے جوڑ محسوس کرنے لگیں اور مسلمان سوسائٹی اور اسلامی زندگی کی تلاش میں انھوں نے پاکستان ہجرت اسی جذبے سے کی جس جذبے سے مکہ کے مسلمانوں نے مدینہ کے لیے ہجرت کی تھی اور پھر مدینہ ہی کے ہوکر رہ گئے تھے۔ گو ان کی تمام توقعات پوری نہیں ہوئیں لیکن انھوں نے پاکستان کو اپنا گھر بنالیااور مڑ کر امریکا جانے کے بارے میں کبھی ایک بار بھی نہ سوچا، بلکہ برادرم یوسف خان صاحب نے ان کو بار بار مشورہ دیا مگر انھوں نے اس طرف ذرا بھی رغبت ظاہر نہ کی۔ امریکا میں ان کے رہن سہن کا معیار امریکی معیار سے بھی اوسط سے کچھ بہتر ہی تھا لیکن پاکستان میں جس عسرت اور سادگی سے انھوں نے زندگی گزاری اور صبروثبات کا جو مظاہرہ کیا وہ قرونِ اولیٰ کے لوگوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔ ایک شادی شدہ شخص سے بخوشی رشتۂ ازدواج استوار کیا، اپنی ’سوکن‘ کے ساتھ اس طرح مل جل کر رہیں کہ یک جان اور دو قالب کا نمونہ پیش کیا۔ دونوں کے غالباً چودہ پندرہ بچے بھی ایک دوسرے سے شیروشکر رہے اور سب ہی بچے بڑی ماں (محترمہ شفیقہ صاحبہ) کو اماں اور چھوٹی ماں (محترمہ مریم جمیلہ) کو آپا کہتے تھے اور مریم جمیلہ نے وصیت کی کہ ان کی قبر بھی محترمہ شفیقہ صاحبہ، جن کا انتقال چند برس ہی قبل ہوا تھا، کی قبر کے پاس ہو۔ مادہ پرستی اور نام و نمود کی فراوانی کے اس دور میں درویشی اور اسلامی صلۂ رحمی کی ایسی مثال اسلام ہی کا ایک معجزہ ہے جس کی نظیر آج کے دور میں بھی دیکھنے کی توفیق اللہ تعالیٰ کی اس نیک بی بی کے طفیل ہم سب کو حاصل ہوئی
آسماں اس کی لحد پر شبنم افشانی کرے
(بشکریہ ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ لاہور)
نشے کی طلاق اور طلاق کے لیے عقل و ہوش کا مطلوبہ معیار
مولانا مفتی محمد زاہد
ذیل کی سطور آج سے پانچ چھ سال قبل لکھ کر ملک متعدد اہلِ افتا کی خدمت میں بھیجی گئی تھیں ٗ تاکہ اس کے ذریعے اس مسئلے پر غور کی دعوت دی جائے۔ تاہم ایک دو کے علاوہ کسی جگہ سے اب تک جواب سے سرفرازی نہیں ہوسکی۔ اب ان گذارشات کو اس لیے شائع کیا جارہا ہے کہ وسیع پیمانے پر اہلِ علم تک پہنچا کر ان کی آراء سے استفادہ کیا جاسکے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے: کل طلاق جائز الاطلاق المعتوہ المغلوب علی عقلہ (جامع الترمذی رقم : ۱۱۹۱)۔اگرچہ تکنیکی طور پر اس حدیث کی سند پر محدثانہ کلام ہوسکتی ہے اور خود امام ترمذی نے بھی اس حدیث کے ایک راوی عطاء بن عجلان جو اسے روایت کرنے میں متفرد ہیں بہت ضعیف ہیں، لیکن اہم بات یہ ہے کہ فقہا کے ہاں اس مضمون کو قبولِ عام حاصل ہے ۔ امام ترمذی نے اسے حدیث کو ضعیف قرار دینے کے بعد کہا ہے کہ اہلِ علم کا عمل اسی پر ہے۔ اس کے علاوہ یہی مضمون حضرت علیؓ سے موقوفا بھی نقل کیا گیا ہے اور وہ سند کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے۔ امام بخاری نے بھی اسے تعلیقا ذکر کیا ہے۔
اس حدیث کی بنیاد پراس بات پرفقہاء کے درمیان اتفاق پایاجاتاہے کہ زوالِ عقل وقوعِ طلاق سے مانع ہے، یعنی جس کی عقل زائل ہوچکی ہو اس کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔لیکن قابلِ غوربات یہ ہے کہ زوالِ عقل کاوہ کون سا درجہ ہے جوطلاق کے واقع ہونے سے مانع ہے، آیااس کے لیے بالکلیہ عقل کازائل ہوجانایعنی جنون کی حدتک پہنچ جانا شرط ہے یااس سے کم درجہ بھی کافی ہے، نشے کی حالت میں دی گئی طلاق کاحکم جاننے سے پہلے اس سوال کاجائزہ لے لینامناسب معلوم ہوتاہے۔
زیرِبحث مسئلے کے علاوہ متعدد مواقع ایسے ہیں جہاں فقہاء ، بالخصوص فقہائے حنفیہ نے زوالِ عقل کی وجہ سے طلاق نافذ نہ ہونے کاحکم لگایاہے،جوحسبِ ذیل ہیں۔
۱) معتوہ کی طلاق
جس طرح مجنون کی طلاق واقع نہیں ہوتی اسی طرح فقہاء بالخصوص فقہائے حنفیہ کی تصریح کے مطابق’’معتوہ‘‘کی طلاق بھی واقع نہیں ہوتی، (الدرالمختار ۳/۲۴۳ )۔ ’’عتہ‘‘ کی وضاحت کرتے صاحبِ درمختار نے لکھاہے: ’’ھو اختلال فی العقل‘‘۔ علامہ شامی نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے البحرالرائق کے حوالے سے نقل کیاہے کہ مجنون اورمعتوہ کے درمیان فرق کے سلسلے میں سب سے بہتر بات یہ ہے کہ معتوہ وہ ہوتاہے جس کی سمجھ بوجھ کم ہو، اس کی گفتگو غیر مربوط ہو اوراس کی تدبیر فاسدہو، البتہ وہ گالی گلوچ اورمارپیٹ نہ کرتاہو، جبکہ مجنون کی علامات اس سے مختلف ہوتی ہیں۔شامی کے نقل کردہ الفاظ یہ ہیں:
وأحسن الاقوال فی الفرق بینہما أن المعتوہ ہوقلیل الفہم، المختلط الکلام ، الفاسد التدبیر،لکن لایضرب ولایشتم ،بخلاف المجنون ۔ (حاشیہ ابن عابدین علی الدرالمختار ج۳ص ۲۴۳)
۲) جائز نشے کی حالت میں طلاق
اگرنشہ کسی ایسے سبب سے جوگناہ کاموجب نہ ہو ،مثلاًبعض ادویہ جن میں نشے کی تاثیر بھی ہوتی ہے انہیں دواکی نیت سے استعمال کیا،لیکن اتفاقاً نشہ آگیا اوراسی حالت میں طلاق دے دی تواکثرفقہاء کے نزدیک طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لیکن اس نشے کی تعریف کیا ہے ، یا نشے کاکون سا درجہ مرادہے،توامام ابوحنیفہ سے نقل کیاگیاہے کہ’’سکران‘‘سے مراد وہ شخص ہے جس کی عقل اتنی زائل ہوچکی ہو کہ اسے زمین وآسمان اورمرد عورت کی تمییز باقی نہ رہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک نشے کی حالت سے مراد ایسی کیفیت ہے جس میں آدمی بے ہودہ اوربے ربط سی باتیں کرتاہو۔یہاں اول تواکثرمشائخِ حنفیہ نے اس مسئلے میں صاحبین کے قول کو اختیار کیاہے، چنانچہ علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:
ومال أکثرالمشائخ الی قولہما ، وہو قول الأئمۃ الثلاثۃ، واختاروہ للفتوی،لأنہ المتعارف،وتأیّد بقول علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ : ’’اذاسکر ہذی ‘‘۔۔۔ وبہ ظہر أن المختار قولہما فی جمیع الأبواب فافہم (حاشیہ ابن عابدین علی الدر المختار ج ۳، ص ۲۳۹)
دوسرے علامہ شامی نے ابن الہمام سے نقل کیاہے کہ امام صاحب نے نشے کے لیے جوشرط لگائی ہے کہ اسے زمین وآسمان کی تمییز نہ رہے اس سے مرادوہ نشہ ہے جس کی وجہ سے حد واجب ہوتی ہے، اس لیے کہ اگرنشہ اس سے کم درجے کاہے توشبہ پیدا ہوجائے گا اورشبہ کی وجہ سے حدساقط ہوجاتی ہے۔جہاں تک حد کے علاوہ باقی احکام کاتعلق ہے مثلاًاس کے تصرفات کانافذ نہ ہونا تواس کے لیے امام صاحب کے نزدیک بھی نشے کی وہی تعریف ہے جوصاحبین کے نزدیک ہے، ابن الہمام کے الفاظ یہ ہیں:
’’وأما تعریفہ عندہ فی غیر وجوب الحد من الأحکام فالمعتبر فیہ عندہ اختلاط الکلام والہذیان کقولہما‘‘۔
پچھلی عبارت میں اکثرمشائخ کی دلیل میں جوکہاگیاتھا’’لأنہ المتعارف‘‘اس سے معلوم ہواکہ کسی شخص کے نشے میں ہونے یانہ ہونے کامدار عرف پر ہے ۔ عرفاً جس شخص کو نشے میں سمجھا جائے وہ شرعاًبھی سکران ہوگا،یہی بات شافعیہ میں سے نووی نے کافی بحث کے بعد نقل کی ہے اور اسے اقرب قرار دیا ہے۔(روضۃ الطالبین ۸/۶۳)
اس سے معلوم ہواکہ طلاق کے عدمِ وقوع کے لیے زوالِ عقل کایہ درجہ شرط نہیں ہے کہ اسے اپنے آپ کا، اپنے اردگرد کا اوراپنی کہی ہوئی باتوں کاہی ہوش نہ ہو ،بلکہ اتناہی کافی ہے کہ اسے اپنی گفتگو پرکنٹرول نہ ہو۔
۳) نابالغ بچے کی طلاق
حنفیہ اوردیگر کئی فقہاء کے ہاں نابالغ کی طلاق بھی واقع نہیں ہوتی ،اگرچہ وہ قریب البلوغ ہویاصبی ممیز ہویعنی اسے طلاق وغیرہ ایسے تصرفات کی سمجھ ہو، اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ابن الہمام لکھتے ہیں :
معلوم من کلیات الشریعۃ أن التصرفاتِ لاتنفذ الاممن لہ أہلیۃ التصرف،وأدرنا ہا بالعقل والبلوغ ،خصوصاماہو دائر بین الضرر والنفع ، خصوصا مالا یحل الا لانتفاء مصلحۃ ضدہ القائم کالطلاق ، فانہ یستدعی تمام العقل ، لیحکم بہ التمییز فی ذلک الأمر ولم یکفِ عقلُ الصبی العاقل لأنہ لم یبلغ الاعتدال۔۔۔(فتح القدیر ج ۳ ص ۴۸۷)
اس سے معلوم ہواکہ طلاق کے نفاذکے لیے عقل یاہوش وحواس کا فی ا لجملہ موجود ہونا کافی نہیں ہے بلکہ ’’تمام العقل ‘‘کاہونا یعنی ایسی ذہنی کیفیت کاہونا ضروری ہے جس میں وہ تصرف کرنے سے پہلے اورلفظ زبان سے نکالنے سے پہلے اس معاملے پر مرتب ہونے والے نفع ونقصان میں موازنہ کرنے کی پوزیشن میں ہو۔
۴) غصے کی حالت میں طلاق
علامہ شامیؒ نے رد المحتار میں ’’طلاق المدہوش ‘‘اور’’طلاق الغضبان‘‘پرتفصیلی بحث کی ہے،انہوں نے ابن القیم ؒ کے رسالہ ’’طلاق الغضبان ‘‘ سے نقل کیاہے کہ غصے کی تین حالتیں ہیں۔ایک ابتدائی حالت ہے، جس میں آدمی کوپتا ہوتاہے کہ میں کیا کہ رہاہوں اورجوکچھ کہ رہاہوتاہے قصداور ارادے سے کہ رہاہوتاہے اس حالت میں دی گئی طلاق کے واقع ہونے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ ایک انتہائی حالت ہے کہ غصے کے غلبے کی وجہ سے اسے پتاہی نہ ہو کہ میں کیاکررہاہوں، اوربغیر قصدو ارادے کے اس کے منہ سے الفاظ نکل رہے ہوں، اس حالت میں دی گئی طلاق کے بلاشک وشبہ واقع نہ ہونے کاحکم لگایاجائے گا ۔تیسری حالت وہ ہے جومذکورہ ان دوکیفیتوں کے بین بین ہے ، اس صورت میں دی گئی طلاق کاحکم قابلِ غور ہوسکتاہے، دلائل کامقتضا یہاں بھی یہ معلوم ہوتاہے کہ طلاق واقع نہ ہو۔
ابن القیم کے حوالے سے مذکورہ بالاتفصیل نقل کرنے کے بعد علامہ شامیؒ نے اس پر وارد ہونے والے بعض اشکالات کاجواب دینے کے بعد ابن القیم کی رائے کی تائید کرتے ہوئے اس طرف رجحان ظاہر کیاہے کہ ’’مدہوش‘‘ اور ’’غضبان‘‘ کے بارے میں مذکورہ مثالوں میں فقہاء کی تصریحات اور تعلیلات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ طلاق کے واقع ہونے کے لیے طلاق دینے والے میں عقل کاجودرجہ ضروری ہے کہ اس میں صرف یہ شرط نہیں ہے کہ علم اورارادہ موجود ہو، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ تصرف سمجھ بوجھ کی حالت میں کیاہو۔ سمجھ بوجھ سے مرادیہ نہیں ہے کہ طلاق دینے والا بہت زیرک شخص ہو،نہ ہی یہ مراد ہے کہ وہ عملاًتمام عواقب ونتائج پراچھی طرح غورکرکے اس طرح کا قدم اٹھائے بلکہ مراد صرف یہ ہے کہ اس کی ذہنی حالت ایسی ہوکہ اپنی سمجھ بوجھ کو استعمال کرنا چاہے توکرسکتاہو ۔ اگر اس حوالے سے اس کی ذہنی حالت نارمل ہے توبغیر سوچے سمجھے طلاق دے دیتاہے تواس کی حماقت کے باوجود طلاق واقع ہو جائے گی۔ تاہم اگرکوئی ایسا عارضہ لاحق ہے جس کی وجہ سے اس کی ذہنی حالت غیر عادی اورابنا رمل ہوگئی ہے اوروہ سمجھ بوجھ کر بات نہیں کرسکتا جیسے سکران (بسبب جائز ) مدہوش،معتوہ، مجنون اورنائم وغیرہ میں ہوتاہے یااس کی سمجھ بوجھ شریعت کی نظر میں ابھی نشوونما کے مراحل میں ہے جیسے نابالغ میں ہوتاہے توطلاق واقع نہیں ہوگی۔
حاصل یہ کہ طلاق کے وقو ع کے لیے یہ ضروری ہے کہ طلاق دینے والا شرعی طورپر اکتمالِ عقل (بلوغ)کے بعد اسے استعمال کرنے کی پوزیشن میں ہو، خواہ عملاًاسے استعمال کرے یانہ کرے ۔دوسرے لفظوں میںیوں کہاجاسکتاہے کہ اس کی ذہنی حالت اس کے قابو میں ہو۔ حدیث کے الفاظ ’’المعتوہ المغلوب علی عقلہ ‘‘کا مقتضا بھی یہی ہے۔ کیونکہ حدیث میں جس کو وقوعِ طلاق سے مستثنیٰ کیا جارہا ہے وہ مفقود العقل نہیں بلکہ مغلوب العقل ہے۔
یہاں تک لکھنے کے بعد سرخسی کی ایک عبارت مل گئی جس میں وہ نشے کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
لأن بالسکر لایزول عقلہ وانما یعجز عن استعمالہ لغلبۃ السرورعلیہ ۔
اس میں بعینہ وہی بات کہی گئی ہے جو اوپر فقہا کے ذکر کردہ متفرق احکام سے مستنبط کی گئی تھی۔
اوریہ بات طے شدہ ہے کہ اگرنشہ حرام سبب سے نہ ہو تو طلاق واقع نہیں ہوتی ، معلوم ہواکہ عدمِ وقوع طلاق کے لیے آخری درجے کازوالِ عقل ضروری نہیں ، بلکہ اس کے استعمال سے عاجز ہونا کافی ہے۔ مدہوش اور غضبان دونوں میں طلاق واقع نہ ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ بد حواسی اس حد تک پہنچ جائے کہ اسے معلوم ہی نہ ہوکہ وہ کیاکررہاہے،بلکہ غلبۂ ہذیان اورسنجیدہ وغیر سنجیدہ گفتگو کاملاجلاہونا کافی ہے، تائید میں انہوں نے ’’سکران‘‘(جبکہ نشہ حرام سبب سے نہ ہو) کی مثال پیش کی ہے کہ اس میں حنفیہ کے مفتی بہ قول کے مطابق نشے کااتنا درجہ ہی کافی ہے، آگے چل کرعلامہ شامیؒ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھاہے کہ اگرمدہوش ،غضبان اورسکران وغیرہ جوکچھ کہ رہے ہیں وہ انہیں معلوم بھی ہے اورکہ بھی قصدا اورارادے سے رہے ہیں لیکن عمومی گفتگو سے عقل کااختلال واضح ہورہاہے تب بھی طلاق واقع نہیں ہوگی، اس لیے کہ سمجھ بوجھ کے صحیح نہ ہونے کی وجہ سے ان کاقصد اورارادہ غیرمعتبر ہے جیساکہ صبی ممیز میں ہوتاہے کہ وہ اگرطلاق دے تواپنے قصداورارادے سے دیتاہے لیکن سمجھ بوجھ کے مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اس کی طلاق واقع نہ ہوگی۔
علامہ شامی کی بحث کے چند اقتباسات یہاں پیش کیے جاتے ہیں ، وہ لکھتے ہیں:
’’والذی یظہر لی أن کلامن المدہوش والغضبان لایلزم فیہ أن یکون بحیث لایعلم مایقول،بل یکتفی فیہ بغلبۃ الہذیان واختلاط الجد بالہزل کما ہو المفتی بہ فی السکران علی مامر‘‘۔
وہ مزید لکھتے ہیں:
والذی ینبغی التعویل علیہ فی المدہوش ونحوہ إناطۃ الحکم بغلبۃ الخلل فی أقوالہ وأفعالہ، الخارجۃ عن عادتہ، وکذا یقال فیمن اختل عقلہ لکبر أو مرض أو لمصیبۃ فاجأتہ ،فما دام فی حال غلبۃ الخلل فی الأفعال والأقوال لاتعتبر أقوالہ، وان کان یعلمہا ویرید ہا، لأن ہذہ المعرفۃ والإرداۃ غیرہ معتبرۃ لعدم حصولہا عن إدراک صحیح کما لا تعتبر من الصبی العاقل۔ (شامی ج۳ص ۲۴۴)
۵) ذہنی مریض کی طلاق
مذکورہ تفصیل سے ایسے لوگوں کی طلاق کاحکم بھی معلوم ہوگیا جوڈیپریشن وغیرہ نفسیانی بیماریوں کے دورے کے دوران طلاق دے دیتے ہیں ، آج کل اس طرح کے نفسیاتی امراض بہت عام ہیں اوربہت سے حالات میں تو ان کاسبب ہی ازدواجی اورخاندانی مسائل ہوتے ہیں ،اگر کوئی دوسر ا سبب بھی ہوتب بھی ان نفسیاتی کیفیات کی تان زیادہ ترگھریلومعاملات پرہی ٹوٹتی ہے اورمریض اپنی بھڑاس یہاں نکالنے کوشاید زیادہ آسان سمجھتاہے ،اس لیے اس طرح کے مریض کے گھریلو معاملات پر تکرار کے دوران اس بات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں کہ وہ خاص اشتعالی یادورے کی کیفیت میں ہو، اگرکوئی شخص واقعتاایسی کیفیت میں طلاق دے دیتاہے تومذکورہ بالاتفصیل سے معلوم ہوتاہے کہ اس کی طلاق واقع نہیں ہونی چاہیے ، اوپر ذکرکردہ علامہ شامی کی عبارت ’’وکذا یقال فیمن اختل عقلہ لکبر أو مرض أو لمصیبۃ فاجأتہ‘‘ سے یہی مستفاد ہوتاہے۔
آج کل دیکھا یہ گیاہے کہ بعض اوقات طلاق دینے والاواقعتانفسیاتی مریض اورنفسیاتی معالج کے زیرعلاج ہوتاہے۔ اس کے معالج کی اس بات پر تصدیق بھی ہوتی ہے کہ اس کی بیماری اس نوعیت کی ہے کہ ناگوار بات سننے یادیکھنے کی صورت میں اس کی ذہنی حالت قابو سے باہر ہوجاسکتی ہے اوروہ جو منہ میں آتاہے کہ ڈالتاہے ،اپنی سمجھ بوجھ کواستعمال کرنا اس کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود طلاق کے واقع ہونے کافتوی دے دیا جاتاہے ،جوکہ مذکورہ تفصیل کے مطابق خلافِ اصول ہے۔
البتہ یہ الگ معاملہ ہے کہ طلاق دینے والا یہ دعوی کرتاہے کہ اس کے طلاق دینے کے وقت یہی کیفیت تھی توکب اس کی بات تسلیم کی جائے گی کب نہیں، بہرحال اگریہ بات ثابت ہوجائے کہ وہ پہلے سے اس طرح کامریض چلاآرہاہے تواس کی یہ بات تسلیم کی جانی چاہیے۔
اس تفصیل کے بعد اب ہم آتے ہیں اصل مسئلے کی طرف، یعنی نشے کی حالت میں دی گئی طلاق کاحکم کیاہے، تواس سلسلے میں پہلے فقہاء کے مذاہب پر نظر ڈال لینا مناسب معلوم ہوتاہے۔
حنفیہ کے ہاں معروف اورمفتی بہ قول کے مطابق نشہ اگر ایسے سبب سے ہوجومعصیت نہ ہو توسکران کی طلاق واقع نہیں ہوگی، اور اگر نشہ کسی ایسے سبب سے ہے جومعصیت ہے تو نشے کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہوجائے گی۔ اس دوسری قسم کے نشے میں خمر توبالاتفاق داخل ہے۔ دیگر ناجائز نشوں کے بارے میں متعدد مواقع پر اقوال کااختلاف بھی ہے ،بالخصوص غیرمائع نشہ آور چیزیں مثلاًبھنگ،افیون وغیرہ ، یاوہ مائع نشہ آورچیزیں جوانگور، کشمش ،کھجور اورچھوارے سے نہ بنی ہو۔، تاہم متأخرین کاعمومی رجحان ان چیزوں کے نشے میں بھی طلاق کے وقوع کی طرف ہے، الایہ کہ استعمال کرنے والے نے ان میں سے بطوردوااستعمال ہونے والی چیز بطور دواہی استعمال کی ہو۔
حنفیہ میں سے طحاوی اورکرخی نے ترجیح اس بات کو دی ہے کہ کسی بھی قسم کے نشے میں کی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوگی، امام زفر اور محمد بن سلمہ کا مذہب بھی یہی نقل کیاگیاہے ،علامہ علاؤ الدین شامی کی ایک عبارت (تکملہ ج ۸ص ۱۹۷)سے معلوم ہوتاہے کہ حسن بن زیاد کا مذہب بھی یہی ہے ،امام غزالی نے الوسیط(۵/۳۹۰) میں امام ابویوسف کامذہب بھی یہی نقل کیاہے ،تاتارخانیہ میں بعض کتب سے اس کا مفتی بہ قول ہونا بھی نقل کیاہے ،لیکن شامی نے اسے عام متون کے خلاف قراردیاہے ۔
مالکیہ میں سے بعض حضرات کے نزدیک نشے کی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی، لیکن مالکیہ کے ہاں معروف یہ ہے اورخودامام مالک کی تصریح بھی یہ ہے کہ یہ طلاق واقع ہوجائے گی، البتہ مالکیہ کے ہاں اس بارے میں اختلاف پایاجاتاہے کہ وقوعِ طلاق کی وجہ کیا ہے،ایک رائے یہ ہے کہ چونکہ نشے میں کی حالت میں عقل بالکل زائل نہیں ہوتی بلکہ کچھ نہ کچھ باقی رہتی ہے اس لیے اس کاتصرف نافذ ہوگا ۔اس قول کے مطابق اگرنشہ اپنی انتہاء کوپہنچ جائے اورعقل بالکلیہ زائل ہوجائے توطلاق واقع نہیں ہوگی۔ اس وجہ کے مطابق مالکی اورحنفی مذہبوں میں اصولی اختلاف ہوجائے گا،کہ حنفیہ کے نزدیک طلاق کے عدمِ نفاذ کے لیے زوالِ عقل شرط نہیں بلکہ اس کامغلوب ہوناہی کافی ہے ، جبکہ مالکیہ کی اس توجیہ کے مطابق عدمِ وقوعِ طلاق کے لیے زوالِ عقل ضروی ہوگا۔ مالکیہ کے ہاں طلاق واقع ہونے کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ چونکہ اس نے اپنی ذہنی کیفیت خوداپنے اختیار سے حرام سبب سے پیداکی ہے اس لیے اس کااعتبار نہیں کیاجائے گا ، اوراس پر ہوش وحواس والے شخص کے احکام جاری ہوں گے ۔اس توجیہ کے مطابق اگرنشا اپنی انتہاء کو بھی پہنچا ہواہو، اس کی طلاق واقع ہوجائے گی۔ (الشرح الکبیر ج ۲ص ۳۶۵ ٗ التاج والاکلیل ج ۴ ص ۴۳)
شافعیہ کے ہاں اگرتونشہ کسی ایسے سبب سے ہوجس میں اس شخص کی تعدّی اورغلطی نہ ہوتوبالاتفاق طلاق نہ ہوگی ، اوراگرنشہ کسی ناجائز سبب سے ہو تو امام شافعی کے اس مسئلے میں دوقول ہیں،ایک یہ کہ طلاق واقع نہیں ہوئی ،دوسرایہ کہ طلاق واقع ہوجائے گی۔ پہلے قول کوقولِ قدیم قرادیاگیا ہے، اورابوثور،مزنی ، ابوسہل ، ابوطاہر الزیادی نے اسے ہی اختیار کیاہے اورامام غزالی نے اسے اقیس قرار دیاہے (الوسیط ج ۵ص ۳۹۰ ، روضۃ الطالبین ج۸ص۶۲) جبکہ دوسرے قول کو قولِ جدید قرار دیاگیا ہے اوربیشتر شافعیہ نے اسی کوترجیح دی ہے۔
سکران کے حکم بارے میں مرداوی نے الانصاف میں امام احمد سے پانچ روایتیں ذکر کی ہیں، ان میں تین کے مطابق طلاق واقع نہیں گی اور دوکے مطابق واقع ہوجائے گی، ترجیح میں بھی حنابلہ کے اقوال مختلف ہیں۔
صحابہ وتابعین میں سے سعید بن المسیب ،حسن بصری،ابراہیم نخعی ،زہری اورشعبی وغیرہ وقوعِ طلاق کے قائل ہیں، حضرت عمررضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کافیصلہ نقل کیاجاتاہے ۔جبکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے سندِ صحیح کے ساتھ ثابت ہے کہ طلاق واقع نہیں ہوگی اوریہی مذہب منقول ہے القاسم بن محمد، طاؤس ،عکرمہ ،عطا اورابوالشعثاء وغیرہ سے ۔عمربن عبدالعزیز پہلے طلاق واقع ہونے کے قائل تھے،بعد میں رجوع کرلیاتھا اورواقع نہ ہونے کے قائل ہوگئے تھے۔
جوحضرات طلاق سمیت سکران کے اقوال کومعتبر اورنافذ مانتے ہیں انہوں نے اس مسئلے پرکوئی واضح نص پیش نہیں کی ،جن نصوص سے کسی درجے میں استدلال کیابھی ہے تووہ ان حضرات کے لیے مفید ثابت ہوسکتاہے جومطلقاًنشے کی حالت کومزیلِ اہلیت نہ مانتے ہوں اس لیے کہ اس میں عقل بالکلیہ زائل نہیں ہوتی خواہ نشہ جائز سبب سے ہومثلاً قرآنی آیت: یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَقْرَبُواْ الصَّلاَۃَ وَأَنتُمْ سُکَارَی [النساء ۴:۴۳] سے بعض فقہائے حنفیہ نے بھی استدلال کیاہے، قطع نظر اس امر کے کہ یہ استدلال کس حد تک واضح ہے اس پر یہ اشکال باقی رہتاہے کہ یہ آیت اس دور میں نازل ہوئی تھی جب شراب حرام نہیں ہوئی تھی اس لیے اس سے ثابت ہونے والے اصول کااطلاق جائز نشے کی حالت پربھی ہونا چاہیے جبکہ حنفیہ کے نزدیک ایسانہیں ہے ۔
دوسری طرف جن حضرات کے نزدیک نشے کی حالت میں اقوال نافذ اورمعتبر نہیں ہیں ان کاایک اہم استدلال ماعزسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے واقعات سے ہے کہ ان کے اقرار کرنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سوال یہ بھی کیاکہ اس نے کہیں شراب تونہیں پی ہوئی ۔ اس سے معلوم ہواکہ نشے کی حالت میں کیاگیا اقرار معتبر نہیں ہے، اگرچہ اس پریہ کہاجاسکتاہے کہ حدود چونکہ شبہات کی وجہ سے ساقط ہوجاتی ہیں اورنشے کی حالت میں اقرار بھی شبہ سے خالی نہیں اس لیے اس اقرارکااعتبارنہیں کیاگیا۔ البتہ حدیث کے الفاظ’’المعتوہ المغلوب علی عقلہ‘‘ کا عموم ان حضرات کی اہم دلیل ہے کہ اس میں اس بات کی وجہ سے فرق نہیں کیاگیاکہ یہ غلبہ عقل جائز سبب سے ہویاناجائز سے۔
بہرحال مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی کہ جوحضرات حرام نشے کی حالت میں وقوعِ طلاق کے قائل ہیں بالخصوص حنیفہ اور شافعیہ ان کا مذہب کسی نص صریح پر مبنی نہیں ہے، اسی طرح ان حضرات کی یہ رائے قیاس اوراصول پربھی مبنی نہیں ہے،اس لیے کہ شروع میں ثابت کیا جاچکاہے کہ ان کے نزدیک اہلیتِ طلاق کے زائل ہونے کے لیے جنون کی کیفیت کاہونا ضروری نہیں بلکہ عقل کامغلوب ہوناہی کافی ہے اور یہ بات نشے میں ہوتی ہے جس کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ اسی طرح کانشہ اگرجائز سبب سے ہو توان حضرات کے نزدیک طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ اس لیے اگرچہ بعض حنفیہ نے حرام نشے کی حالت میں طلاق کے و قوع پر اصول سے استدلال کی کوشش کی ہے لیکن ان سب استدلالات پر ایک عمومی اعتراض یہی کیا جاسکتاہے کہ ان دلائل کے مطابق حلال نشے کی حالت میں بھی طلاق واقع نہیں ہونی چاہیے ۔
ناجائز نشے میں دی گئی طلاق کے وقع ہونے کی اصل وجہ وہی ہے جوتقریباًتمام فقہائے حنفیہ اورشافعیہ نے ذکر کی ہے ،جس کاحاصل یہ ہے کہ اگرچہ نشے کی حالت بذاتِ خود طلاق کے واقع ہونے سے مانع ہے لیکن یہاں یہ مانعیت اپنا اثر اس لیے نہیں دکھائے گی کہ اس نے یہ حالت خود معصیت کے راستے سے پیدا کی ہے۔ گویا نہ صرف یہ کہ وقوعِ طلاق کافتویٰ اصول کامقتضا نہیں ہے بلکہ یہ فتویٰ ایک اصول کی تاثیر کونظرانداز کرکے گویا خلافِ قیاس دیاگیاہے۔
نشے کی حالت زوالِ اہلیت طلاق کاایک سبب ہے،لیکن یہاں طریق کار کے معصیت ہونے کی وجہ سے اس سبب کااثر مرتب نہیں ہوگا، تو کیا یہ بھی کوئی اصول ہے کہ معصیت کسی سبب کی تاثیر میں مانع بن جاتی ہے۔ توکم ازکم حنفیہ کے ہاں عموماایسانہیں ہوتا، اس کی ایک واضح مثال سفرِمعصیت میں قصرٗحالتِ حیض کی طلاق، اکٹھی تین طلاقیں ، ارض مغصوبہ میں نماز وغیرہ ہیں ۔ اسی طرح غصب وغیرہ کے کئی احکام سے اس کی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں ۔یہی اعتراض حافظ ابن حجر نے امام طحاوی کاوقوع طلاق کے قائلین پرنقل کیاہے۔(فتح الباری ۹/۱۹۳) اگربغوردیکھا جائے تووقوع طلاق کے قائلین کوامام طحاوی کی بات کی معقولیت سے بظاہر انکار نہیں ہوگا ۔ اس لیے کہ وقوعِ طلاق کے قائلین پر یہ اعتراض تب ہوتا جب وہ یہ کہہ رہے ہوتے کہ وقوعِِ طلاق کافیصلہ اصول اورقواعد یاقیاس کی بنیاد پر ہے، جبکہ ان حضرات کامنشایہ ہرگز معلوم نہیں ہوتا۔ ان حضرات نے جولفظ استعمال کیے ہیں وہ عموماًدوہیں ایک تغلیظ کا دوسرے زجر۔تغلیظ کے معنی یہ ہیں کہ اگرچہ وہ اصولی طورپر اس ’’رعایت‘‘کامستحق تھاکہ اس کی طلاق واقع نہ ہو لیکن اس کے غلط طریقِ کار کی وجہ سے بطور سزایہ رعایت اسے نہیں دی جائے گی۔ اورزجر کے معنی یہ ہیں کہ جب نشے کی حالت میں دی گئی طلاق ہم نافذکردیں گے تویہ خودبھی اوردوسرے لوگ بھی آئندہ نشہ کرنے سے گریز کریں گے۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کم از کم حنفیہ کے ہاں وقوعِ طلاق کا حکم محض انتظامی ہے اصولی یا منصوص نہیں ہے۔ مذکورہ بالابحث کامقصد بھی دلائل کے اعتبارسے کسی قول کوراجح یامرجوح قراردینا نہیں ہے۔بلکہ یہی دیکھنا ہے کہ وقوعِ طلاق کے قائلین کااصل منشاکیاہے، حقیقت یہ ہے کہ اگراس کوحکم انتظامی قرار نہ دیاجائے تواشکالات کاایک طویل سلسلہ شروع ہوجاتاہے۔ اورظاہر ہے کہ انتظامی نوعیت کے حکم کاانحصار حالات پربھی ہوتاہے جیسے سدّذریعہ وغیرہ پر مبنی احکام میں ہوتاہے، اس لیے حالات کی تبدیلی کی صورت میں ایسے احکام میں بھی تبدیلی ہوسکتی ہے۔
آج کے حالات کے پیشِ نظر نشے کی حالت میں دی گئی طلاق کا فتوی کئی وجوہ سے نظر ثانی کامحتاج معلوم ہوتاہے، مثلاً:
۱)جیساکہ اوپر بیان ہوابیشتر فقہا ء بالخصوص فقہائے حنفیہ نے سکران کی طلاق کو ’’تغلیظاً‘‘، ’’عقوبۃً‘‘ اور ’’تشدیداً‘‘ نافذ قرار دیا ہے۔ اس مسئلے میں فقہاء کی عبارات اتنی کثرت سے ہیں کہ ان کا احاطہ دشوار ہے ،ظاہر ہے کہ ’’تغلیظ‘‘، ’’تشدید‘‘ اور ’’عقوبت‘‘ اسی شخص پرہونی چاہیے جس سے معصیت کاصدور ہواہے، اس سے معلوم ہوتاہے کہ ان فقہاء کے پیش نظر عموماًوہ صورتیں تھی جن میں وقوعِ طلاق کانقصان خاوند کوہوتا ہے ،جبکہ ہمارے زمانے میں بالخصوص برّصغیر کے سماجی حالات میں عموماً طلاق کے اثراتِ بد مرد سے کہیں زیادہ بیوی اوراس کے بچوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک کے کیے کی سزا دوسروں کودینا جبکہ جس حکم کے ذریعے سزادی جارہی وہ غیر منصوص ہو بلکہ نص (المغلوب علی عقلہ)کے عموم اورعام اصول کے بھی خلاف ہو،قرین مصلحت اورقرینِ انصاف نہیں ہے۔
۲)فقہاء نے وقوع طلاق کی ایک وجہ ’’زجر‘‘بیان کی ہے ،لیکن اول توہمارے زمانے میں یہ سوال اہم ہے کہ وقوع طلاق کے فتوے سے یہ مقصد حاصل ہوبھی رہاہے یانہیں، دوسرے اس کامطلب یہ ہواکہ یہ حکم ایک مصلحت کے حصول یاایک مفسدے کے ازالے کے لیے ہے، یعنی لوگ نشے سے بچ جائیں۔ نشہ بھی ایک مفسدہ ہے اورطلاق بھی ایک مفسدہ ہے ٗجسے ابغض الحلال قراردیاگیاہے اورحدیث شریف میں بتایا گیاہے کہ ابلیس اپنے اس چیلے کوزیادہ شاباش دیتاہے جو زوجین میں تفریق کراکے آیاہو، بالخصوص ہمارے ماحول میں اس کے مفاسد پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئے ہیں،معاشی تنگی، مفادپرستی اور خود غرضی کے ماحول کی وجہ سے بیوی بچوں کی کفالت کے بے شمار پیدا ہوجاتے ہیں اور بچوں کی صحیح تعلیم وتربیت کے حوالے سے پیداہونے والے مسائل اس سے بھی سنگین ہوتے ہیں۔ ان حالات میں وقوعِ طلاق اورعدم وقوع دونوں پرمرتب ہونے والے مفاسد کے توازن کومدنظر رکھ کر اس مسئلے پرازسرنو غورکی ضرورت ہے ۔بظاہر یہی معلوم ہوتاہے کہ عموماً وقوعِ طلاق کے مفاسد اس متوقع فائدے(زجرعن السکر)سے زیادہ ہوتے ہیں۔نیززجرکافائدہ محتمل ہے اوروقوعِ طلاق کے مفاسد یقینی ، اس لیے ہمارے زمانے میں عدمِ وقوع طلاق کافتوی ہی انسب معلوم ہوتاہے ۔
۳)یوں لگتاہے کہ سکران کی طلاق واقع کرنے میں فقہاء کے پیش نظراحتیاط کاپہلو بھی تھا،چنانچہ شہد یااناج سے بنے ہوئے نبیذ مسکر پربحث کرتے ہوئے ابن نجیم بزازیہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں :
’’المختار فی زماننا لزوم الحد، لأن الفساق یجتمعون علیہ، وکذا المختار وقوع الطلاق، لأن الحد یُحتال لدرۂ والطلاق یحتاط فیہ، فلما وجب مایحتال لأن یقع مایحتاط أولی‘‘۔
اس سے یہ قاعدہ معلوم ہوتاہے کہ طلاق ان احکام میں سے ہے جنہیں فقہاء بطور احتیاط بھی ثابت کردیتے ہیں،ظاہر ہے کہ احتیاط کو اسی صورت میں اختیار کیاجاتاہے جبکہ اس پر دیگر مفاسد ومضار مرتب نہ ہورہے ہوں۔
۴) جیسا کہ اوپر ذکر ہواسکران کی طلاق واقع ہونے کاحکم منصوص یااصولی نہیں انتظامی ہے۔ اول تو لزومِ مفاسد وغیرہ کی وجہ سے ویسے ہی دوسرے مذہب کواختیار کرنے کی بیسیوں مثالیں فقہاء کے ہاں ملتی ہیں ۔حکم کے انتظامی ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ اورآسان ہوجاتاہے ، اورپھر اس وجہ سے بھی کہ خودحنفیہ میں سے بھی امام زفر، حسن بن زیاد، طحاوی اورکرخی جیسی شخصیات کی آراء عدمِ وقوع کی موجود ہیں۔ مزید برآں یہ کہ ہمارے زمانے میں نشہ یاتوغیرمائع چیزوں سے ہوتاہے یاایسے مائعات سے جوانگور یاکھجور سے بنے ہوئے نہ ہونے کی وجہ سے اشربہ اربعہ سے خارج ہوتے ہیں۔ ان نشوں کی حالت میں طلاق کے بارے میں مشائخِ حنفیہ کے اندرمزید اختلاف موجود ہیں اورتصحیح میں بھی اختلاف ہے۔ مثلاصاحب بحر نے قاضی خان سے عدمِ وقوع کی تصحیح نقل کی ہے، اس لیے عدمِ وقوع طلاق کافتویٰ دینے میں کوئی زیادہ خروج عن المذہب بھی نہیں پایا جا رہا ہے ، اس لیے وقوعِ طلاق والے حکم کی اصل حیثیت وتعلیل کو اورہمارے زمانے اور علاقوں کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے رجحان اس طرف ہورہاہے کہ طلاق واقع نہ ہونے کافتویٰ دیاجائے۔ البتہ اس میں نشے کی نوعیت کی تفصیل میں جانے سے اورقاضی خان وغیرہ کے قول اختیار کرنے کی صورت میں چونکہ بعض نشوں کی شناعت کم ہونے کااندیشہ ہے، اس لیے درست یہ معلوم ہوتاہے کہ امام زفر ،حسن بن زیاد ،طحاوی اورکرخی جیسے حضرات کی رائے اختیار کرتے ہوئے کہاجائے کہ نشے کی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی، قطع نظرنشے کی نوعیت سے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
ایک مجلس کی تین طلاقیں اور اصلاح کی گنجائش
مولانا مفتی فضیل الرحمن عثمانی
اس میں شک نہیں کہ ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دینے کا مسئلہ بعض اوقات بڑی پیچیدگی پیدا کر دیتا ہے۔ عام طور پر لوگ مسائل سے واقف نہیں ہیں اور طلاق دینا اگر ضروری ہی ہو تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے، اس کو نہیں جانتے۔
ایک مجلس میں ایک دفعہ میں تین طلاقیں دی جائیں تو وہ واقع ہو جاتی ہیں۔ یہ مغلظہ طلاق ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ میاں بیوی کا تعلق ختم ہو کر دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور ان میں میاں بیوی کا تعلق ناجائز ہو جاتا ہے۔ اس صورت حال میں اصلاح کی کتنی گنجائش ہے، اس پر نظر ڈالتے ہیں۔
پہلی صورت: تین دیں مگر نیت ایک طلاق کی، کی
اگر ایک ہی دفعہ ایک ہی مجلس میں کسی مرد نے اپنی بیوی کو، جس سے میاں بیوی کا رشتہ قائم ہو چکا تھا، تین طلاقیں دیں، مثلاً اس طرح کہا: ’’میں نے تجھے طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی‘‘ اور شوہر یقین دلائے کہ میرا ارادہ ’’ایک ہی طلاق‘‘ دینے کا تھا، دوسری اور تیسری دفعہ کہنا پہلے جملے کی مضبوطی کے لیے تھا تو یہ گنجائش موجود ہے کہ اس کے بیان کو تسلیم کر کے ایک طلاق کا حکم لگایا جائے۔ (اسلامی قانون، دفعہ ۶۰)
در مختار میں ہے کہ:
کرر لفظ الطلاق (بان قال للمدخولۃ انت طالق انت طالق انت طالق) وقع الکل، فان نوی التاکید دین (در مختار ج ۱، ص ۲۲۴)
’’لفظ طلاق کو دہرایا اور مدخولہ بیوی سے (جس سے میاں بیوی کا تعلق قائم ہو چکا ہے) اس طرح کہا: تجھ پر طلاق، تجھ پر طلاق، تجھ پر طلاق تو سب واقع ہو گئیں اور اگر صرف تاکید کی نیت کی تھی تو دیانتاً تسلیم کیا جائے گا۔‘‘
بعض دفعہ زور اور تاکید کے لیے بھی الفاظ دہرائے جاتے ہیں، جیسے ’’ہاں جاؤ، بھئی جاؤ، چلے جاؤ‘‘۔ یہاں تکرار کا منشا یہ نہیں کہ تین دفعہ جاؤ، بلکہ صرف تاکید اور شدتِ اظہار پیش نظر ہے۔ اس طرح ہو سکتا ہے کہ جوش کے عالم میں کوئی شخص طلاق دے اور بطور تاکید اُسے دہراتا جائے، ذہن میں یہ بالکل نہ ہو کہ ایک سے زائد طلاق دے رہا ہوں۔ یہ طلاق بھی ظاہراً تین ہیں، لیکن فی الحقیقت اس کی صحیح حقیقت نیت اور ارادے کا علم ہونے کے بعد ہی متعین ہوتی ہے۔ (اسلامی قانون صفحہ ۲۲۱۔ تشریح دفعہ ۶۰)
اسلامی قانون متعلق پرسنل لا، ترتیب مولانا منت اللہ رحمانی ، بانی جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ صفحہ ۱۸۱ دفعہ ۲۴ میں ہے کہ:
’’اگر طلاق دینے والا یہ کہتا ہے کہ اس کی نیت ایک ہی طلاق کی تھی اور اس نے محض زور پیدا کرنے کے لیے الفاظ طلاق دہرائے ہیں، اس کا مقصد ایک سے زائد طلاق دینا نہیں تھا تو اس کا یہ بیان حلف کے ساتھ تسلیم کیا جائے گا اور ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔‘‘
بہشتی زیور مرتبہ مولانا اشرف علی تھانوی، حصہ چہارم میں طلاق دینے کا بیان، مسئلہ ۱۳ ہے کہ:
’’کسی نے تین دفعہ کہا کہ تجھ کو طلاق، طلاق، طلاق تو تینوں پڑ گئیں یا گول مول الفاظ میں تین مرتبہ کہا ، تب بھی تین پڑ گئیں، لیکن اگر نیت ایک ہی طلاق کی ہے، فقط مضبوطی کے لیے تین دفعہ کہا تھا کہ بات خوب پکی ہو جائے تو ایک ہی طلاق ہوئی۔‘‘
یہ اصول ہے کہ کہنے والے کے الفاظ کے چند احتمالات میں سے کسی ایک کی تعیین متکلم کی نیت سے ہوگی۔ شریعت میں اس کی نظیریں موجود ہیں۔ مثلاً یہ کہ چند الفاظ میں سے کسی ایک کی تعیین متکلم کی نیت سے کی جاتی ہے۔
اس پہلی صورت میں، جس کی تفصیل بیان ہوئی، ایک دفعہ کی تین طلاقوں کو ایک ماننے کی گنجائش موجود ہے۔
دوسری صورت: تین طلاقیں دیں، نیت کچھ بھی نہیں کی
دوسری صورت یہ ہے کہ طلاقیں تین دیں، مگر نیت کچھ بھی نہ تھی۔ نہ ایک کی، نہ دو یا تین کی تو اس صورت میں دیکھا جائے گا کہ عرف کیا ہے؟ اگر عرف میں تکرار کلام سے مقصد تاکید ہو تو اس کو تاکید ہی پر محمول کیا جائے گا۔ جیسے کوئی کہے ’’میں آتا ہوں، آتا ہوں، آتا ہوں‘‘ تو اس جملے میں عرفاً تین بار آنا مقصود نہیں، بلکہ مقصد محض تاکید ہے۔ (اسلامی قانون متعلق پرسنل لا، دفعہ ۲۴، صفحہ ۱۸۲)
اصول ہے کہ عرف کی رعایت کی جاتی ہے، اس لیے طلاق کی اس دوسری صورت میں عرف کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ گنجائش موجود ہے کہ تین طلاقوں کو ایک طلاق مانا جائے۔
طلاق کی تیسری صورت: انتہائی غضب میں طلاق
انتہائی درجہ کا غضب جس میں عقل مغلوب ہو جائے اور انسان یہ نہ سمجھے کہ کیاکہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے، یہ بھی وہ کیفیت ہے جس میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، شائع کردہ مسلم پرسنل لا بورڈ، صفحہ ۱۳۳)
اسلامی قانون متعلق پرسنل لا میں ہے کہ:
’’دفعہ ۹ ۔۔۔ غصہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ ہاں، اگر غصہ اس درجہ کا ہو کہ ہوش وحواس باقی نہ رہ گئے ہوں اور بوقت طلاق اسے اتنا بھی شعور نہ ہو کہ میری زبان سے کیا بات نکل رہی ہے تو اس حال میں دی ہوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔
وللحافظ ابن قیم الحنبلی رسالۃ فی طلاق الغضبان قال فیہا انہ علی ثلاثۃ اقسام:
احدہا: ان یحصل لہ مبادئ الغضب بحیث لا یتغیر عقلہ ویعلم ما یقول ویقصدہ، وہذا لا اشکال فیہ۔
الثانی: ان یبلغ النہایۃ فلم یعلم ما یقول ولا یرہ، فہذا لا ریب انہ لا ینفذ شئ من اقوالہ۔
الثالث: من توسط بین المرتبتین بحیث لم یصر کالمجنون، فہذا محل النظر والادلۃ تدل علی عدم نفوذ اقوالہ، ملخصا من شرح النقایۃ الحنبلیۃ، لکن اشار فی الغایۃ الی مخالفتہ فی الثالث حیث قال: ویقع طلاق من غضب خلافا لابن القیم وہذا الموافق عندنا لما مر فی المدہوش (رد المحتار، کتاب الطلاق، صفحہ ۵۸۷، جلد ۲)
(اسلامی قانون متعلق پرسنل لا، صفحہ ۱۷۴)
طلاق کی چوتھی صورت: لا علمی
اوپر طلاق کی جو تین صورتیں بیان کی گئی ہیں، ان میں اصلاح کی کافی گنجائش ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص تین طلاقیں ایک مجلس میں یکجائی طور پر دے دے اور پھر دونوں چاہیں کہ میاں بیوی بن کر حسب سابق ایک ساتھ رہیں تو اس میں حلالے کی ناگوار صورتوں کے بغیر اصلاح کی صورتیں موجود ہیں اور اہل علم ونظر نے ان پر اپنی مہر ثبت کر دی ہے۔ طلاق کی چوتھی صورت جس سے عام طور پر سابقہ پیش آتا ہے، یہ ہے کہ لوگ طلاق کے مسئلوں سے ناواقف ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ طلاقیں ہوتی ہی تین ہیں۔ وہ رجعی، بائنہ، مغلظہ کی تفصیلات نہیں جانتے۔ یہ بات عام طو رپر مشہور ہو گئی ہے کہ تین دفعہ کہا جائے، تب ہی طلاق پڑتی ہے۔
شریعت نے عرف کا بڑا لحاظ رکھا ہے۔ عر ف بدلنے سے مسئلے کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ تو کیا اس عرف عام اور لاعلمی کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ تین سے کم طلاقیں واقع ہوتی ہیں اور وہ دونوں میاں بیوی حسب سابق یک جا رہنا چاہتے ہیں تو کیا ایک طلاق واقع ہونے کا فتویٰ دیا جا سکتا ہے اور اس میں رجوع کرنے کی گنجائش ہے؟ اہل علم اور اصحاب فتویٰ سے درخواست ہے کہ ابتلائے عام کو دیکھتے ہوئے اس مسئلے پر غور فرمائیں۔
دلیل کے طور پر ہمارے سامنے ابتلائے عام، لوگوں کی لاعلمی اور یہ سمجھنا ہے کہ طلاقیں ہوتی ہی تین ہیں۔ لوگوں کو ایک بڑے گناہ سے بچانے کے لیے اس صورت پر غور کیا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب وعلمہ اتم واحکم
(بشکریہ: ماہنامہ ’’دار السلام‘‘، مالیر کوٹلہ، انڈیا)
طلاق کا وقوع اور نفاذ۔ چند اجتہاد طلب پہلو
محمد عمار خان ناصر
شریعت نے میاں بیوی کے مابین نباہ نہ ہونے کی صورت میں رشتۂ نکاح کو توڑنے کی اجازت دی ہے۔ شریعت کی نظر میں اس رشتے کی جو اہمیت ہے، وہ یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کو ختم کرنے کا معاملہ پورے غور وخوض کے بعد اور تمام ممکنہ پہلوؤں اور نتائج کو سامنے رکھ کر ہی انجام دیا جائے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص نادانی، جذباتی کیفیت، مجبوری یا کسی بد نیتی کی بنیاد پر طلاق دے دے تو رشتۂ نکاح کے تقدس کے پیش نظر یہ مناسب، بلکہ بعض صورتوں میں ضروری ہوگا کہ اسے غیر موثر قرار دیا جائے یا اس پر عدالتی نظر ثانی کی گنجایش باقی رکھی جائے۔
فقہا کے ایک گروہ کے ہاں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ نکاح یا طلاق کے نافذ ہونے کے لیے کوئی شعوری اور سوچا سمجھا فیصلہ ضروری نہیں، بلکہ کسی بھی کیفیت یا حالت میں اگر طلاق کے الفاظ منہ سے نکل جائیں تو کسی دوسری معاشرتی یا قانونی مصلحت کا لحاظ کیے بغیر وہ لازماً موثر ہو جائیں گے۔ یہ خیال نبی صلی اللہ علیہ وسلم او ربعض صحابہ کی طرف منسوب ایک قول، یعنی ’ثلاث جدہن جد وہزلہن جد‘ (ترمذی، رقم ۱۱۰۴) کے صحیح محل کو نظر انداز کرنے سے پیدا ہوا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ نکاح، طلاق اور طلاق سے رجوع کرنے کا معاملہ سنجیدگی سے کیا جائے یا مذاق میں، وہ بہرحال نافذ ہو جائے گا۔ بعض روایات میں غلام کو آزاد کرنے کو بھی اسی ضمن میں شمار کیا گیا ہے۔ (نیل الاوطار ۷/۲۰۔ ۲۱) حنفی فقہا نے اس کو ایک عام اصول کی حیثیت دے دی ہے اور ان کے ہاں اس کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ کوئی شخص اگر جبر واکراہ کے تحت طلاق دے دے تو وہ اسے بھی موثر قرار دیتے ہیں، حالانکہ عقل وقیاس کے اعتبار سے مذکورہ قول کا صحیح محل یا تو یہ ہو سکتا ہے کہ اسے ایسے لوگوں سے متعلق مانا جائے جو پورے شعور اور ارادے کے ساتھ نکاح یا طلاق کا فیصلہ کرتے ہیں، لیکن بعد میں بدنیتی سے کام لیتے ہوئے یہ کہہ دیتے ہیں کہ انھوں نے ایسا محض مذاق میں کہا تھااوریایہ کہ اسے سد ذریعہ کی نوعیت کا ایک حکم سمجھا جائے جس کا مقصد لوگوں کو متنبہ اور خبردار کرنا ہے کہ وہ ان معاملات کے بارے میں ذہنی طور پر حساس رہیں اور انھیں معمولی اور غیر اہم سمجھتے ہوئے بے احتیاطی کا رویہ اختیار نہ کریں اور اگر وہ ایسا کریں گے تو انھیں اس کے نتائج سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جائے گا۔
اس حد تک یہ بات پوری طرح قابل فہم ہے، لیکن اس کو وسعت دیتے ہوئے یہ اصول قائم کر لینا کسی طرح درست نہیں کہ طلاق کے معاملے میں سوچ سمجھ کر اور پورے شعور کے ساتھ فیصلہ کرنا سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا اور شوہر جس کیفیت اور حالت میں بھی طلاق کے الفاظ منہ سے نکال دے، وہ نافذ ہو جائے گی اور اس کی کسی مجبوری یا عذر کو کوئی وزن نہیں دیا جائے گا۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ شوہر سے جبراً لی گئی طلاق کو کوئی حیثیت نہیں دی، (سنن سعید بن منصور، رقم ۱۱۳۰۔ ۱۱۳۱) بلکہ ’اغلاق‘، یعنی دباؤ کی حالت میں دی گئی طلاق کو بھی غیر نافذ قرار دیا۔ (ابن ماجہ، رقم ۲۰۳۶) شارحین نے ’اغلاق‘ کا مصداق جبر واکراہ کو بھی قرار دیا ہے اور شدید غصے کی کیفیت کو بھی۔ میری رائے میں دونوں باتیں درست ہیں، اس لیے کہ نہ جبر واکراہ کی صورت میں خاوند کا حقیقی ارادہ اور عزم کارفرما ہوتا ہے اور نہ شدید غصے کی کیفیت میں۔
پھر یہ کہ کسی بھی صورت حال میں دی گئی طلاق کو خاوند کے دائرۂ اختیار کی حد تک موثر مان لیا جائے تو بھی اس سے عدالت کے نظر ثانی کے حق کی نفی لازم نہیں آتی۔ قاضی کو ’ولایت عامہ‘ کے تحت جس طرح تمام دوسرے معاملات میں فریقین کے مابین طے پانے والے کسی معاہدے یا کسی صاحب حق کے اپنے حق کو استعمال کرنے پر نظر ثانی کا اختیار حاصل ہے، اسی طرح طلاق کے معاملے میں بھی حاصل ہونا چاہیے اور اگر وہ قانون وانصاف اور مصلحت کے زاویے سے کسی طلاق کو کالعدم قرار دینا چاہے تو نصوص یا عقل وقیاس میں کوئی چیز اس کے خلاف نہیں پائی جاتی۔ اس کے حق میں نقلی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام کو آزاد کرنے کے فیصلے کو سنجیدگی اور مذاق میں یکساں موثر قرار دینے کے باوجود بعض مقدمات میں مالک کے، پورے شعور اور سنجیدگی کے ساتھ اپنے غلاموں کو آزاد کرنے کے فیصلے کو شرعی مصلحت کے منافی سمجھتے ہوئے اسے کالعدم قرار دے دیا۔ (مسلم، رقم ۳۱۵۴) اسی طرح ایک مقدمے میں خاوند نے بیوی کے مطالبے پر اسے کہا کہ طلاق کے معاملے میں جو اختیار مجھے حاصل ہے، وہ میں تمھیں تفویض کرتا ہوں۔ بیوی نے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دیں، لیکن سیدنا عمر اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے یہ سارا معاملہ واقع ہو جانے کے بعد مصلحت کے اصول کے تحت یہ قرار دیا کہ خاوند کا تفویض کردہ حق صرف ایک طلاق کی حد تک موثر ہے۔ (طبرانی، المعجم الکبیر، رقم ۹۶۴۹۔ ۹۶۵۰)
ان مثالوں سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ حق طلاق کے غلط اور غیر حکیمانہ استعمال کی روک تھام اور قانون کے اطلاق کو موثر اور منصفانہ بنانے کے لیے اس نوع کی قانونی تحدیدات عائد کرنے کی نہ صرف پوری گنجایش موجود ہے، بلکہ یہ قانون کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ معاصر تناظر میں دیکھا جائے تو کئی پہلووں سے اس نوعیت کی قانون سازی ضروری معلوم ہوتی ہے۔ شوہر کسی وقتی جذباتی کیفیت میں طلاق دے بیٹھے یا شعوری طور پر طلاق دینے کا فیصلہ کرے، عمومی طور پر اس کے مضر نتائج واثرات عورت اور بچوں ہی کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ چنانچہ عورت اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہے کہ خاوند کے حق طلاق کے نافذ اور موثر ہونے کو بعض قانونی پابندیوں کے ساتھ مقید کیا جائے۔ اسی طرح بعض صورتوں میں عورت بالکل جائز بنیادوں پر طلاق لینے کی خواہش مند ہوتی ہے، لیکن خاوند اس کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، جبکہ عورت کسی جائز وجہ سے خاوند سے علیحدگی چاہتی ہو تو یہ اس کا حق ہے اور خاوند شرعاً اس کے اس مطالبے کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اسی وجہ سے جب ایک ایسا مقدمہ سامنے آیا جس میں بیوی نے شوہر کی رضامندی سے طلاق لینے میں ناکامی کے بعد اس کی جان کو خطرے میں ڈال کر اس سے طلاق لے لی تھی تو سیدنا عمر نے، جو اصولی طور پر جبری طلاق کے غیر موثر ہونے کے قائل تھے، ( سنن سعید بن منصور، رقم ۱۱۲۸) عورت سے اس کا موقف سننے کے بعد اکراہ کے تحت لی گئی اس طلاق کو بھی نافذ قرار دے دیا۔ (سنن سعید بن منصور، رقم ۱۱۲۹) معاصر تناظر میں اس الجھن کا حل یہ ہو سکتا ہے کہ نکاح کے وقت طلاق کے حق کو مناسب شرائط کے ساتھ کسی ثالث یا خود عورت کو تفویض کر دینے کو قانونی طو رپر لازم کر دیا جائے یا یہ قرار دیا جائے کہ اگر عورت خاوند سے طلاق کا مطالبہ کرے تو ایک مخصوص مدت کے اندر شوہر بیوی کو مطمئن کرنے یا اسے طلاق دینے کا پابند ہوگا، ورنہ طلاق ازخود واقع ہو جائے گی۔ واللہ تعالیٰ اعلم
نہ معرفت، نہ نگاہ!
محمد دین جوہر
الشریعہ دسمبر ۲۱۰۲ء میں میاں انعام الرحمن صاحب نے ’’۔۔۔ اور کافری کیا ہے؟‘‘ کے عنوان سے راقم کے مضمون کا جواب دیا ہے۔ انہوں نے کافی محنت سے مضمون کا ایک درسی گوشوارہ مرتب کیا اور پھر اس کا شق وار قانونی جواب دے کر قارئین کی خدمت میں پیش کرنے میں بڑی محنت اٹھائی۔ اس کے لیے وہ یقیناًداد کے مستحق ہیں۔ اس جواب الجواب کی pedantry کا، صاف ظاہر ہے کہ ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ ان کے جواب سے ہمیں یہ اندازہ بخوبی ہو گیا ہے کہ میاں صاحب ہماری گزارشات اور سوالات کو register بھی نہیں کر پائے اور کسی دوسری طرف نکل کھڑے ہوئے۔ لفظوں کی گردانیں تو ہم نے سن رکھی ہیں، لیکن فقروں کی گردانیں بنا کے میاں صاحب نے ایک نئی چیز متعارف کرائی ہے۔ اس پر بھی ہم ان کے تہہ دل سے ممنون ہیں۔
اہم تر یہ امر ہے کہ میاں صاحب نے اپنے جواب کو بالکل ہی ذاتیات بنا دیا اور ما بہ النزاع فکری امور کی طرف ان کی توجہ نہ جا سکی۔ ادھر یہ حال ہے کہ ہمیں ذاتیات میں قطعی کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ فتویٰ بازی ہی سے ہمیں کسی طرح کی طبعی مناسبت ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ علمی مکالمہ ذاتیات کی تنگنائے میں واقع نہیں ہو سکتا اور اس کے لیے طرفین کی مفاہمت سے قائم تہذیبی فضا کی ضرورت ہوتی ہے۔ مزید برآں، ہمیں اس بات کا بھی پورا احساس ہے کہ علم اور عقیدے کا تعلق بہت گہرا ہے اور اس کی نوعیت اور منہج سے بھی شناسائی رکھتے ہیں، لیکن ہم علمی بحث کو عقیدے پر فتویٰ بازی نہیں بناتے جس کا مظاہرہ میاں صاحب نے فرمایا ہے۔ ہمارا پختہ یقین ہے کہ مکالمہ اور گفتگو زیور تہذیب ہیں اور تہذیب ختم ہو جائے تو زیور کی تلاش بے سود ہے۔
جس طرح اوّلی مضمون ان کے علم کا اظہار تھا، بالکل اسی طرح یہ مضمون ان کے جدید مذہبی رویوں اور تہذیب کا اظہار ہے۔ پہلے وہ ملاحظہ فرما لیں، باقی گزارشات میں ٹھہر کے عرض کرتا ہوں۔ کفر و ایمان کا جھگڑا تو انہوں نے عنوان ہی میں صاف کر دیا کہ ’’۔۔۔ اور کافری کیا ہے؟‘‘ یعنی ہمارا مضمون تو کافری ہی کافری ہے اور بزعم خویش اسلام کے شارح اور ترجمان جناب موصوف خود ہیں۔ اس میں حیرت یہ ہے کہ اگر مخاطب کو کافر قرار دے ہی دیا ہے تو پھر مشرک قرار دینے کی کون سی دینی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ شاید ایسی ہی نئی ضروریات کی تکمیل کے لیے وہ کوئی نیا اسلامی اڈیشن تیار کرنا چاہ رہے ہیں۔ موصوف فرماتے ہیں کہ ’’قدیم دیسی شعور‘‘ [اس سے مراد راقم ہے] بھی تو بتوں سے امید لگائے بیٹھا ہے۔‘‘ یہ تو فاضل مضمون نگار کے جدید دینی رویے ہوئے۔ ہمیں کافر کہہ کر ان کی تسکین نہیں ہوئی تو ہم میاں صاحب سے عرض کریں گے کہ کیا مشرک قرار دے کر ان کی تالیف قلب ہو گئی؟ اگر نہیں ہوئی تو وہ ہمارے حوالے سے اپنی مستقل تالیف قلب بھی کرتے رہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اب اس کفر و شرک کے طومار پر بھلا میں کیا تبصرہ کر سکتا ہوں؟ جیسی ان کی جدید دینی تعبیرات ہیں، ویسی ہی ان کی افتائی شطحیات ہیں۔
اب ان کی تہذیب بھی ملاحظہ فرما لیں: ’’اگر جوہر صاحب اپنے مفروضات کے جوہڑ سے باہر آئیں تو۔۔۔‘‘ میاں صاحب سے گزارش ہے کہ ہمیں کسی کو کافر، مشرک قرار دینے یا مخاطب کے نام میں تحقیری تصرفات کرنے میں تو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہ دینی رویے اور تہذیبی شعور انہیں اور الشریعہ کو مبارک ہو۔ ہم اس سے قطعی بری الذمہ ہیں۔ علمی اختلاف کو ذاتیات بنانے اور علمی بحث کو عقیدے کی بحث بنانے میں ہمیں چنداں دلچسپی نہیں اور نہ اس طرح کے فضول کاموں کے لیے ہمارے پاس کوئی وقت ہے۔ ہاں، جہاں تک ان کے جعلی مذہبی علوم کا تعلق ہے، ہم ان کی تحلیل، تجزیے اور پرزور رد کی بساط بھر کوشش کرتے رہیں گے۔ اگر وہ علمی گفتگو کو عقیدے اور نیت پر حملے کی آڑ بنا رہے ہیں تو ہمیں اس طرح کی دشنام گری سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہم جواباً ان پر کفر و شرک تھوپنے یا انہیں بدنیت قرار دینے کے عمل ہی کو قابل مذمت سمجھتے ہیں، خود کیسے اس کا ارتکاب کر سکتے ہیں؟ وہ اگر چاہیں تو اپنی تالیف قلب کے لیے اور اپنے نئے اسلامی اڈیشن کی تشہیر کے لیے اور اس کی روشنی میں دریافت کردہ (نعوذباللہ) ہمارے کفر و شرک کا پورا محضر نامہ اپنے رسالے میں شائع کرواتے رہا کریں۔ ہم نیت اور عقیدے کا معاملہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔ ہمارا سروکار تو ان کے صرف اظہار دادہ خیالات تک ہی محدود ہے۔ میاں صاحب سے گزارش ہے کہ اگر ان کا نیا اسلامی اڈیشن تیار ہو گیا ہے تو وہ اس کی اشاعت کا مناسب بندوبست فرمائیں، فقروں کی گردانیں کر کے انشائی آملیٹ بنا کر قارئین کرام، خود اپنا اور ہمارا وقت ضائع نہ کریں۔
ان کی تہذیب کا ایک نمونہ اور بھی ملاحظہ فرما لیں: ’’جوہر صاحب کے روایتی اسلوب سے مراد اگر ’’دما دم مست قلندر‘‘ جیسے اسالیب ہیں۔۔۔‘‘ اب ایسی باتوں کا آدمی کیا جواب دے؟ دعا ہی کر سکتا ہے۔ علم اپنا دفاع کرتا ہے، غصہ صرف اظہار چاہتا ہے۔ اپنے جواب الجواب میں میاں صاحب نے صرف غصے کا اظہار ہی فرمایا ہے۔ اب اپنے غصے اور اپنی عقل سے دین کی جدید تعبیر کا جو بیڑا میاں صاحب نے اٹھایا ہے، اس کا علم اٹھانے کا حوصلہ تو صرف الشریعہ کے پاس ہے۔ ہمارے حصے میں تو صرف گالیاں ہی آئی ہیں۔
بہر حال کیا راقم اور کیا اس کی اوقات، یہاں تو عامۃ المسلمین کی عزت بھی محفوظ نہیں۔ ذرا ان کا ہٹیلا پن ملاحظہ فرمائیے: ’’جی ہاں! مذکور معنی میں مسلمان بے حیا اور بے غیرت ہیں۔ اس سلسلے میں ہم نے ایک دو مثالیں بھی پیش کی تھیں۔‘‘ یہ میاں صاحب کی بندہ نوازی ہے کہ انہوں نے ایک دو مثالوں سے حاصل ہونے والے تجربے کو قصص القرآن سے اخذ کردہ شرائط کی روشنی میں جس طرح ’’تاریخی تجربے‘‘ میں ڈھال کر مسلمانوں پر منطبق کیا ہے، اس سے ان کے جدید اسلامی اڈیشن کے اخلاقی پہلوؤں کو بڑی سربلندی اور رفعت حاصل ہوئی ہے۔ مسلمانوں کا مذہب یا اس کا ایک خاص اڈیشن بقول میاں صاحب موجودہ عمرانی صورت حال سے غیر متعلق ہو گیا ہے اور خود مسلمان بالعموم بے غیرت اور بے حیا ہیں۔ اب لے دے کے میاں صاحب ہی ان کا آخری سہارا اور امید ہیں، اس لیے ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے نئے اسلامی اڈیشن کی جلد رونمائی کا بندوبست فرمائیں تاکہ روایتی اسلام کی مکمل بیخ کنی کر کے صورت حال کو سنبھالا دیا جا سکے۔ میاں صاحب سے التماس ہے کہ خود ان کے تجزیے کے مطابق ہماری عمرانی صورت حال بہت خراب ہے، اس لیے ان کے نئے اڈیشن کی جلوہ افروزی میں تاخیر نقصان کا موجب ہو سکتی ہے، جو صاف ظاہر ہے ان کا منشا بھی نہیں ہے۔ پھر مسلمانوں کو بالعموم بے غیرت اور بے حیا قرار دیتے سمے ان کی ادعایت میں جارج بش کے لہجے کی جھلک صاف نظر آ رہی ہے۔ اس پر وہ مزید مبارک باد کے مستحق ہیں، کہ ماشاء اللہ جہاں سے تعبیرات آ رہی ہیں، وہاں سے لہجہ بھی مستعار ہے۔
میاں صاحب نے عمرانی کا لفظ کہیں پڑھا یا کسی جدید دانشور سے سن رکھا ہو گا اور امید ہے کہ وہ اس کا مطلب بھی جانتے ہوں گے، اس لیے اس بچارے عمرانی کو سر پر گھماتے ہوئے روایتی دین کا لنکا ڈھانے نکل کھڑے ہوئے۔ کیا انہوں نے سنا ہے کہ جدید سماجی علوم The Death of the Social کا اعلان بھی فرما چکے ہیں؟ جدید معاشرے کا تجزیہ جدید نظری علوم کس کس منہج پر کر رہے ہیں، یہ میاں صاحب کی بلا سے۔ اپنے نو دریافت شدہ عمرانی قمقمے سے ان کی ٹکٹکی ہٹے تو ادھر ادھر بھی کچھ سجھائی دے۔ اپنی ذہنی جھنجھلاہٹ اور چشمی چندھیاہٹ میں ہم پر خواہ مخواہ برس رہے ہیں۔
میاں صاحب کے جواب سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انہوں نے اپنا اوّلی مضمون یونانی زبان میں لکھا تھا جو ہماری سمجھ میں نہیں آیا اور وہ اب اس کی تدریس مکرر کر رہے ہیں۔ وہ تسلی رکھیں، ہم ان کی اردو اور اس میں اظہار دادہ خیالات کو خوب سمجھتے ہیں، اور ویسے ہی سمجھتے ہیں جیسے وہ اظہار فرما رہے ہیں۔ ہم اپنی خوش فہمی میں یہ توقع لگائے بیٹھے تھے کہ اپنے جواب میں وہ فکری طور پر مربوط کسی جدید اسلامی اڈیشن کی توپ چلائیں گے، لیکن انہیں تو اپنی ذات کی تشویش لاحق ہو گئی اور وہ کسی ہار جیت کی نفسیات میں گفتگو کو آگے بڑھانا چاہ رہے ہیں۔ اگر جیت ہی ان کا مسئلہ ہے تو ہم عرض کیے دیتے ہیں کہ جدید تعبیرات والے تو جیتے جتائے لوگ ہیں، یہ تو بچارے دینی روایت سے جڑے ہوئے ہم جیسے لوگ ہیں جو محاصرے میں ہیں اور جن کے موقف کی گنجائش تو دور کی بات ہے، ان کے لیے روایت دین کا نام لینا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ میاں صاحب کی اجازت سے ان کا پسندیدہ لفظ استعمال کرتے ہوئے عرض کروں گا کہ علم کی ’’عمرانی‘‘ ٹہل سیوا کے ساتھ ساتھ انہوں نے مخاطب کا جو ’’دینی بندوبست‘‘ فرمایا ہے، اس سے اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ وہ فاتح طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو جدید تعبیرات پر اپنی اجارہ داری کو درپیش کوئی سوال برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں۔
میاں صاحب کے جواب الجواب کے علاوہ بھی کچھ احباب نے اپنے ردعمل مجھے براہ راست روانہ فرمائے۔ ان سب میں مشترک وہ شدید رد عمل تھا جو ان ایک دو باتوں پر ہوا جو راقم نے دینی روایت اور روایتی علما کے حوالے سے ضمناً عرض کی تھیں۔ مجھے اس قدر اندازہ نہیں تھا کہ دینی روایت اور روایتی علما کا نام لینے پر ہی جدید دانشوروں کو دورہ ہو جائے گا اور جدید تعبیرات دین کا اصل موضوع پس منظر میں چلا جائے گا۔ مجھے براہِ راست موصول ہونے والے رد عمل اسلاف کیلئے گالم گلوچ اور دریدہ دہنی سے پر تھے۔ ہمارا مقصد کسی کو برا بھلا کہنا تو ہر گز نہیں تھا، ہم تو کسی فکری اور علمی مکالمے کے انتظار میں تھے۔ بچارے روایتی مولوی تو چلیے ہر طرح سے فارغ البال ہیں، لیکن جدید مولویوں کے حالات تو بالکل ہی ناگفتہ بہ ہیں۔ اقبال کا یہ مصرع ‘‘نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ’’ اصل میں ان پر ہی صادق آتا ہے۔
ہمارے خیال میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ جدید مذہبی دانشوروں کا نام نہاد عقلی استدلال جب ہانپنے لگتا ہے تو یہ مذہبی استناد کو آڑ بنا کر کفر و شرک کے فتوے صادر فرماتے ہیں۔ جب ان کا ذہن مذہبی استناد کے سامنے متامل ہوتا ہے تو یہ عقلی استدلال کی طرف لپکتے ہیں۔ جدید تعبیرات دین میں کارفرما ذہن نہ عقلِ انکار کا حامل ہے، نہ عقلِ تسلیم کا نمائندہ ہے۔ یہ تو استعمار کا تعمیر کردہ ذہن بیمار ہے جو ذہن ہونے کی بنیادی تعریف پر ہی پورا نہیں اترتا، کیونکہ استعمار کی وجودی نوکری اور استشراق کی شعوری غلامی اس ذہن کا content نہیں ہے، بلکہ structure ہے۔ وجودی نوکری اور شعوری غلامی کے قطبین کے درمیان کارفرما یہ ذہن مذہبی استناد کے حوالے سے شبہات اور عقلی استدلال کے حوالے سے مہجوری کا شکار ہے۔ ارادے کی سطح پر اس شعور کا بنیادی ترین اظہار سازباز اور ذہن کی سطح پر خلط مبحث ہے۔ اس ذہن کے عقلی استدلال کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ جدید علوم نے عقائد کی بیخ کنی کیلئے جو بھی دلائل اور علوم کھڑے کیے ہیں، اور جنہیں استعمال کر کے جدید ذہن اور جدید تہذیب نے اپنے تمام مقاصد تک مکمل رسائی حاصل کی ہے، بعینہٖ وہی دلائل یہ عقائد کے دفاع میں لے کے آتا ہے۔
میاں صاحب نے گلا کیا ہے کہ ہم نے ان پر قرآن مجید کو خلاصۂ تاریخ کہنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے gist of historyقرآن کے داخل میں محفوظ کیے جانے کا نیا فلسفہ دریافت کیا ہے۔ داخل خارج کی بحث تو بعد میں کریں گے، چلیے وہ خود ہی ارشاد فرمائیں کہ اس کو اردو میں خلاصۂ تاریخ نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے؟ جدید مذہبی دانشور چونکہ ایک extreme colourized- subjectivity-کا شکار ہوتے ہیں، اس لیے ان کے ہاں نہ لفظ کی حرمت باقی رہتی ہے نہ کسی تصور کی سالمیت۔ فقروں کی گردانیں یہ اسی لیے شروع کرتے ہیں کہ اپنے مکمل طور پر ..subjective .. معنی کی قطع برید کرتے رہیں۔
اب آپ جناب موصوف کے عقلی سوالات ملاحظہ فرمائیں: ’’ہمارے پاس موجود قرآن مجید نزولی ترتیب کے مطابق نہیں ہے، سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اگر اللہ رب العزت کو حتمی ترتیب (موجودہ ترتیب) ہی مقصود تھی تو قرآن اسی ترتیب پر نازل کیوں نہیں کیا گیا؟ پھر نزولی ترتیب ہی کو باقی کیوں نہیں رکھا گیا؟ کیا یہ سوال اٹھانا جرم ہو گیا؟‘‘ ہم عرض کریں گے کہ بھئی جرم تو نہیں ہوا، البتہ جناب موصوف کا عقلی استدلال بہت مصبوط ہو گیا۔ اب مصنف کی ذمہ داری ہے کہ ان کی طرف سے اس کا کوئی عقلی جواب بھی آنا چاہئے، اور وہ کبھی آنے کا نہیں۔ ملاحظہ فرمائیے کہ سوالات میں کس قدر ہیر پھیر کر کے عقلی ہونے کا جھانسہ دیا گیا ہے۔ سوالات دراصل یہ ہیں کہ ’’اگر اللہ رب العزت کو حتمی ترتیب (موجودہ ترتیب) ہی مقصود تھی تو اس نے قرآن اسی ترتیب پر نازل کیوں نہیں کیا؟ پھر [اللہ رب العزت نے] نزولی ترتیب ہی کو باقی کیوں نہیں رکھا؟ یہ ’’کیا گیا‘‘ اور ’’رکھا گیا‘‘ کا مجہول صیغہ مطلق جعلساز دانشوری ہے۔ یہ سوال کتنے صحابہ کرام نے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام سے پوچھا ہو گا؟ یا کتنے تابعین حکمت کے لیے اس طرح کی لغویات میں پڑے ہوں گے؟ ہمارا موقف ہے کہ یہ سوالات نہ عقلِ انکار کے ہیں نہ عقلِ تسلیم کے ہیں بلکہ ہمارے جدید مذہبی دانشوروں کے ہیں۔ اس سلسلے میں جدید مذہبی دانشوروں سے ہماری گزارش ہے کہ اس طرح کے سوالات تو نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ سے کانفرنس یا سیمینار کے بعد ہی حل ہو سکتے ہیں۔ عقل کا سوال تو صرف یہ ہے کہ بذریعہ وحی نزول قرآن کا کوئی عقلی امکان موجود ہے یا نہیں؟ یا عقلی طور پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ رسالت کا عقلی امکان موجود ہے یا نہیں؟ اب ذرا میاں صاحب ان سوالوں سے مڈھ بھیڑ کریں تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کا خود ساختہ جعلی عقلی استدلال کہاں تک ان کا ساتھ دیتا ہے۔
برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ دہریت کا علمی اور سائنسی نظریہ اب ایک طاقتور سماجی تحریک بھی بن چکا ہے اور اس تحریک کا بنیادی ترین آلۂ علم عقل اور اس کے پیدا کردہ سائنسی علوم ہیں۔ اب ان کے دلائل کا چربہ ہمارے ہاں کے جدید مذہبی دانشور مذہب کے دفاع میں لے کے آتے ہیں۔ اب میاں صاحب ذرا رچرڈ ڈاکن کی عقل اور اس کے دلائل کو ملاحظہ فرما لیں تو انہیں پتہ چل جائے گا کہ عقل کیا ہوتی ہے اور کس طرح کام کرتی ہے۔ اب اس طرح کی باتیں کرنے میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ جدید مذہبی دانشور چونکہ کوئی اخلاقیات بھی نہیں رکھتے، اس لیے فوراً ذاتیات پر اتر آتے ہیں اور فتوے بازی شروع کر دیتے ہیں کہ دیکھو جی دیکھو یہ دہریت والوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ جبکہ ہمارا موقف یہ ہے کہ بطور مسلمان ہماری علمی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اس طرح کے عقلی دلائل کا سامنا کر کے ان کو قطع کرنے کی کوشش کریں نہ کہ ان کا پس خوردہ اٹھا کے اسلام پر لاگو کرنا شروع کر دیں۔ اس وقت رچرڈ ڈاکن کا براہ راست ہدف اسلام ہے، لیکن اس کی علمی domain میں اس کا سامنا کرنے والی ایک آواز بھی پوری مسلم دنیا میں موجود نہیں ہے۔ رچرڈ ڈاکن تو صرف ایک مثال ہے، اور وہ بھی بہت گھٹیا۔ رچرڈ ڈاکن سے کہیں بڑے ذہن مغرب کے تین سو سال سے پروردہ ہلاکت آفریں علمی ترکش میں موجود ہیں۔ ہمارا ذہن ان کا جواب دینا تو دور کی بات ہے، ان کی ادنیٰ ترین فہم بھی پیدا نہیں کر سکا ہے۔ ہماری علمی مہمات اور دریافتیں صرف ان کے پس خوردہ کو اپنے مذہبی متون سے ثابت کرنے تک محدود ہیں۔
اسی طرح کے عقلی استدلال سے حاصل ہو نے والے چند انتاجات اور ملاحظہ فرمائیں: ’’جناب کی خدمت میں عرض ہے کہ علم اخلاق کے بغیر علم محض ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں علم کی بجائے علم نافع کے حصول کی ترغیب دی گئی ہے۔ اور علم اخلاقی دلالتوں کے بغیر نافع کی سرحدوں میں داخل نہیں ہوتا‘‘۔ اب ایک ہی سانس میں میاں صاحب نے علم، علم محض، اور علم نافع گنوائے ہیں۔ جناب نے علم کا جو علم بلند کر رکھا ہے اس کے نظارے کے بعد ہم یہ خوب جانتے ہیں کہ وہ علم محض اور علم نافع کی تفاصیل میں کیا کرشمے دکھائیں گے۔ علم نافع تو جدید مذہبی دانشوروں کا لے پالک ہے، جس کے چوغے سے یہ دانشور جدید سائنس اور اس کے نظریات نکال کر اسلامی بناتے ہیں۔ میاں صاحب چلیے یہی بتا دیں کہ علم محض کس چیستاں کا نام ہے اور علم کی اخلاقی دلالتیں کیا ہوتی ہیں؟ ابھی تو میاں صاحب کو علم ہی کا کوئی علم نہیں ہوا، اور اپنے ہاں غیر موجود چیز کی اخلاقی دلالتوں کا نعرہ انہوں نے خوب لگایا ہے۔ ہم نے تو ان سے نام نہاد ’’عمرانی تفہیم‘‘ کی علمی شرائط کی درخواست کی تھی، وہ ہمیں وعظ کرنے لگے۔ یہاں ہمارے سوال کا جواب آنا چاہیے تھا، یہ وعظ کا محل نہیں تھا۔
’’قرآن مجید نے قصص القرآن وغیرہ کے ضمن میں کسی تجربے کے تاریخی تجربے میں ڈھلنے کی شرائط و خصوصیات بیان کر دی ہیں۔‘‘ یہ کیا چیستاں ہیں؟ میاں صاحب سے گزارش ہے کہ اس طرح کی نعرہ بازی سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ وہ کچھ تو ارشاد فرمائیں کہ انسانی تجربے کی تعریف کیا ہے؟ ان کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تجربہ غیر تاریخی ہوتا ہے جس کے تاریخی تجربہ بننے کی شرائط اور خصوصیات قصص القرآن میں بیان ہوئی ہیں۔ اب اگر کوئی آدمی یہ بات کہہ رہا ہے اور وہ یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ اسے علم سے کوئی صاحب سلامت ہے تو یہ ہمارے ہاں کے جعلی مذہبی علوم میں تو ممکن ہے، مذہب یا علم میں ممکن نہیں ہے۔ اب کوئی ہے جو ان سے کہے کہ بھئی ایسی باتیں کرنا علم نہیں ہے، جنون ہے؟ ہمارے ہاں گزشتہ دو سو سال میں جو جدید جعلی مذہبی علوم پیدا ہوئے ہیں، ان سب کا انحصار اسی طرح کے قضایا پر ہے اور یہ قضایا اور ان سے رسنے والے جدید جعلی مذہبی علوم اسی منہج علم سے پیدا ہوئے ہیں جس کے حسین امتزاج کے میاں صاحب دعویدار ہیں۔
اب مذہب میں کارفرما جدید عقل کا سب سے بڑا کارنامہ ملاحظہ فرمائیے: ’’اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنی ذاتی اور بشری حیثیت میں صورت حال کا جواب نہیں دیتے رہے بلکہ جو جواب آپ کو پہنچایا گیا وہی جواب دیتے رہے۔‘‘ قارئین کرام جانتے ہیں کہ کھجور کو نر دینے والی حدیث مبارکہ کی آڑ میں جدید مذہبی دانش پورے دین کی بنیاد اکھاڑنے پر لگی ہوئی ہے۔ جدید دینی تعبیرات کی اصل الاساس یہ ہے کہ اس حدیث مبارکہ کی آڑ میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ذات پاک میں پہلے حیثیتوں کا فرق تلاش کیا جائے اور ذاتی، بشری، نبوی، اور غیر نبوی حیثیتوں کے امتیازات قائم کیے جائیں کیونکہ جدید دانشورانہ اسلام میں نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی ذاتی بشری نبوی حیثتوں کے مابین تفریقات پیدا کرنے کو بہت مرکزی جگہ حاصل ہے۔ اسلام کی جدید تعبیرات انہیں تفریقات کو قائم کرنے، ان تفریقات کے بیچ اپنا راستہ بنانے اور پھر قلب ہدایت پر شب خون لگانے کا حاصل ہے۔ دین کی جدید تعبیرات حضور علیہ السلام کی ذات بابرکات میں اولاً دُوئی تلاش کیے بغیر ممکن ہی نہیں ہو سکتیں۔
اب میاں صاحب کا عقلی شاہکار ملاحظہ فرمائیں، شاہکار اس لیے کہ اسی ہیرے سے ایک تراشہ انہوں نے اپنے جواب الجواب کے عنوان کے طور پر سجا کر ہمیں خطاب کافری سے نوازا ہے۔ ’’سوال یہ ہے کہ بزرگوں کے تشکیل کردہ standard discources and diciplines-کو question کرنا اگر عیب چینی ہے اور پھر ایسی عیب چینی ہے جس سے دین و ایمان سنگین خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں تو پھر ۔۔۔ کافری کیا ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ فاضل نقاد چون و چرا کی آڑ میں ما فی الضمیر (بتوں سے امیدیں) دابے بیٹھے ہیں۔‘‘ سبحان اللہ! آتش بھی ہے، آب بھی ہے، باد بھی۔ دینی استناد اور عقلی استدلال کا حسین امتزاج بھی فراہم ہے۔ روایت بھی صاف ہے، مخاطب کافر و مشرک اور بدنیت و بد طینت بیک آن بھی ہے۔ غصہ علمی کلابے میں ہے اور عقل تعبیری فراٹے میں۔ میاں صاحب بڑی دور کی کوڑی لائے ہیں، لیکن ان کے اس کوڑی کے جعلی علمی غبارے کو صرف ایک پن ہی کافی ہے۔ ہمارے روایتی دینی علوم canonization کے عمل کا نتیجہ ہیں، اور ان کی تشکیل بالکل اسی طرح کی ہے جس طرح سے جمع قرآن کا عمل ہے۔ یہ ہدایت اور آثار ہدایت کو جمع کرنے کا عمل ہے، اور ہمارے سلف کی عقل تسلیم کے کرشمے اور کرامات ہیں۔ ان کی تشکیل کا طریقۂ کار اور نظری علوم کی تشکیل کا طریقۂ کار بالکل مختلف ہے۔ میاں صاحب کو خوش فہمی ہے کہ فقہ، حدیث اور سیرت کی تدوین اسی طرح ہوئی ہے جس طرح سے ان کی جعلی عمرانیات اور نچوڑی تاریخ کی ہوئی ہے۔ اس میں سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وہ نظری علوم میں تو کسی طرح کے standard discources and diciplines کو جگہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں، بزرگوں کی طرف دیکھیے کیسے لپکے ہیں۔ ان سے التماس ہے کہ اپنے جعلی علوم اور جعلی عقلی استدلال کو نظری علوم میں آزما کے ہمارے ساتھ یہ معاملہ نمٹا لیں، پھر کسی دوسری طرف کا رخ کریں۔ میں ان شاء اللہ انہیں ضرور بتا دوں گا کہ ان کے نام نہاد unarticulated intellectual discource کا stillborn infant کہاں دفن ہو گا۔ کمال یہ ہے کہ articulated discources knowlege کی تو انہیں کوئی سوجھ حاصل نہ ہو سکی، اور یہ unarticulated discourse کی دم انہوں نے خوب پکڑ لی۔ میاں صاحب سے گزارش ہے کہ مباحث پر گفتگو کی تہذیب کو برباد نہ کریں، پہلے اپنے غصہ جاتی مسائل حل کر لیں، علمی مسائل کے لیے کسی عالم سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ جن نام نہاد علمی خیالات کا انہوں نے اظہار فرمایا ہے وہ نہ دینی ہیں نہ عقلی ہیں وہ استعمار اور استشراق کے زیر سایہ پلنے والی محض ہفوات دیرینہ ہیں جو ہدایت پارینہ پر شبخون کی پیہم کوشش میں ہیں۔ ہمارا معاملہ صرف ان کی اظہاردادہ فکر تک ہے ان کی ذات سے ہرگز نہیں۔ میں نے ان کی تحریر کے اس معنی پر اپنے جواب کو منحصر کیا ہے جو غالب احتمال رکھتا ہے۔
اب ان کا ایک اور علمی و عقلی جواہر ریزہ ملاحظہ فرمائیں ’’ہم گزارش کریں گے کہ ہمارے مضمون میں برتا گیا طریقۂ علم مذہبی استناد اور عقلی استدلال کا امتزاج قرار دیا جا سکتا ہے‘‘ اس امتزاج کے حوالے سے میاں صاحب حسین کا لفظ لکھنا بھول گئے۔ دین کی نئی تعبیرات کی مہم میں جس طرح سے انہوں نے غصّے اور عقل کا حسین امتزاج دریافت کیا ہے بعینہٖ علم میں بھی انہوں نے مذہبی استناد اور عقلی استدلال کے حسین امتزاج کو دریافت کیا ہے۔ اگر میاں صاحب کو مذہبی استناد اور عقلی استدلال کے معانی اور مطالب کا اندازہ ہوتا تو وہ کبھی یہ فقرہ نہ لکھتے۔ ہاں اگر ذہن ہی باقی نہ رہا ہو تو پھر سب کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے۔ آدمی یہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ ان کی تقویم میں اگر غصّے اور عقل کا امتزاج ممکن ہے تو مذہبی استناد اور عقلی استدلال کیوں ممکن نہیں ہیں؟ اگر انہیں علم سے کچھ مس ہوتا تو وہ اس طرح کی گفتگو سے یقیناً پرہیز کرتے۔ ہمارے جدید مذہبی دانشوروں کے پاس علم کے جھانسے، طاقت کی دھونس، اخلاقی ادعائیت اور اس سے پیدا ہونے والی incrimination اور recriminatioin، مستعمر خودی کے اکلی مروڑ اور استشراقی ذہن کے کھسوٹیاتی حربوں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔
میاں صاحب کا ایک اور علمی جواہر ریزہ ملاحظہ فرمایئے: ’’ کہ question کرنے، redefine کرنے اور discover کرنے، reunderstand کرنے میں بال برابر نہیں، بلکہ زمین آسمان کا فرق ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ فاضل نقاد کی باریک بین نگاہوں سے یہ موٹا فرق پوشیدہ رہ گیا۔ اب علم و ادب کی درس گاہوں اور صاحبان فکر کو اپنی خیر منانی چاہیے کہ قرآن و سنت کی discovery اورre-understanding کا مطلب ’’عام مسلمانوں کے نزدیک‘‘ نبی پاک کی ذات گرامی پر question کرنا اور قرآن مجید کو redefine کرنا ہو گیا ہے۔‘‘ حیرت ہے کہ جناب موصوف صاحب علم ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور اس طرح کے ارشادات بھی فرماتے ہیں۔ discovery اور reunderstanding کا وہ کون سا عمل ہے جو question کیے بغیر وقوع پذیر ہو سکتا ہے؟ اگر وہ discovery اور reunderstanding کے معنی سے باخبر ہوتے تو وہ اس طرح کا مہمل پیراگراف رقم نہ فرماتے۔ اصل میں جدید مذہبی دانش وروں کا یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے اور ہم بار بار اسی کی طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ وہ دین میں نئی discovery کرنا چاہتے ہیں یا پورے دین کو ازسرنو discover کرنا چاہتے ہیں یا فہم دین کے نئے اصول قائم کر کے دین کو reunderstand کرنا چاہتے ہیں یا کسی طرح کا کوئی نیا اڈیشن لانا چاہتے ہیں۔ ہمارے نیوٹن اور واٹسن کرک سارے کے سارے دین کی قلم رو میں دریافتوں کی مہمات پر نکلے ہوئے ہیں۔ ہمارے جدید اور جعلی مذہبی دانشور گزشتہ دو صدیوں سے اسی کام میں لگے ہوئے ہیں اور بڑی بڑی دریافتوں کا سہرا بھی ان کے سر ہے۔ اگر غور سے دیکھیں تو پندرہ بیس دریافتیں تو میاں صاحب کے گزشتہ مضمون ہی میں مل جائیں گی۔ چونکہ وہ طاقت ور ہیں، اس لئے کوئی ان سے یہ بھی عرض نہیں کر سکتا کہ بھئی کوئی ایک آدھ دریافت فزکس میں کر دیتے تو ہم بھی فخر کرتے۔ ہماری تو ان سے صرف ایک ہی گزارش ہے جس کو سنتے ہی ان کو دورہ ہو جاتا ہے کہ وہ ان سوالات کو تو سامنے لائیں جو انہیں نفس دین پر ہیں یا پرانے قانونی اڈیشن پر ہیں جس کی وجہ سے یہ نئی تاریخی صورت حال کو ایڈریس نہیں کر پا رہا۔ نعرے بازی سے کام نہیں چلے گا کہ یہ روایتی دین فلاں عمرانی اور ڈھمان نچوڑی کو address نہیں کر پا رہا۔ اس میں اب ان کی پوزیشن تو واضح ہے کہ وہ اسلام کے قانونی اڈیشن کو تبدیل کرنا چاہ رہے ہیں۔ ان کا بڑا احسان ہو گا اگر وہ دین فی نفسہٖ اور اسلام بطور قانونی اڈیشن میں پائے جانے والے امتیازات کی تفصیل ہی ارشاد فرما دیں۔ اہم تر یہ کہ کیا میاں صاحب یہ بتا سکتے ہیں کہ اسلام کے کون کون سے اڈیشن مستعمل رہے ہیں، اور یہ کہ اسلام کئی اڈیشنوں کی صورت میں موجود رہا ہے۔ ناچیز کی معلومات کی حد تک آج تک کوئی جدید مذھبی دانشور کھل کر ان سوالات کو قائم کر سکا ہے اور نہ ہرمانیوٹکس کا کوئی مربوط نظام سامنے لا سکا ہے۔
ہمارے جدید مذہبی دانشوروں کا پسندیدہ ترین شعبہ صحافت اور ابلاغیات ہیں، جو دراصل سیاسی طاقت کو mediate کرنے کی قلم رو ہے اور جہاں قول کا حق اور خیر سے امکانی تعلق بھی ختم ہو جاتا ہے۔ جدید صحافت طاقت کی گود میں پتلیوں کے تماشے کا نام ہے۔ یہاں ہر قول اور بات کا معرف طاقت کی ترجیحات ہیں۔ ان کی اس رغبت کی وجہ یہ ہے کہ آج کی دنیا میں ریاستی طاقت جدید مذہبی تعبیرات کی سب سے بڑی گاہگ ہے۔ اگر میاں صاحب بھی اپنی بات ذرا ڈھنگ سے کریں، ان کی تحریر کا کوئی سر پیر بھی ہو، اور وہ کچھ سلیقہ بھی سیکھ لیں تو ان کا نیا اسلامی اڈیشن چلنے کا کافی امکان موجود ہے۔
میاں صاحب نے ہماری اس بات پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے جو ہم نے standard discourse کے حوالے سے کی ہے۔ جدید مذہبی دانشور standard discourse کا نام سنتے ہی غصے اور غضب میں آ جاتے ہیں اور انہیں سوجھتا ہی نہیں کہ وہ کیا ارشادات فرما رہے ہیں۔ اب تو ہمارے ہاں صاحب علم کہتے ہی اسے ہیں جس کو standard disciplines and discources کی ہوا تک نہ لگی ہو اور جو ان کے وجود سے ہی انکار کر تا ہو۔ آج کل ہمارے ہاں جدید مذہبی دانشور یا محض دانشور کہتے ہی اسے ہیں جو الل ٹپ ہو، مثلاً ‘‘ہائی انرجی فزکس اور توحید’’، ‘‘انٹروپی اور قیامت’’، ‘‘نیورانز پر وضو کے اثرات’’ وغیرہ وغیرہ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم صرف نوکری کے حصول میں سنجیدہ ہوتے ہیں، اور پچھلے دو سو سال سے نوکری کے حصول کے لیے کسی نہ کسی discipline- standard- میں ڈگری کا حصول ہمارا سب سے بڑا انسانی اور تہذیبی آدرش ہے۔ یعنی ہمارے ہاں ریاستی اختیار رکھنے والے اہلکاروں کو بھی اس بات کا پتہ ہے کہ نوکری کے لیے کسی نہ کسی standard discipline میں ڈگری ہونا ضروری ہے۔ لیکن میاں صاحب کی طرح کے ہمارے اہل علم مباحث کی حرمت سے قطعاً بے خبر ہیں۔ ان کا رہنما قول یہ ہے کہ نوکری لینی ہو تو standard- discourse- میں گھس جاؤ، اور اگر علم بگھارنا ہو تو صحافت میں گھس جاؤ۔ یہ تو زور آوروں کے ہتھکنڈے ہیں جو ہر حال میں اور طاقت کے زور پر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی تناظر میں میاں صاحب کا ایک جواہر ریزہ مزید ملاحظہ فرمائیں: ’’ایک طرف وہ standard discipline اور discourses کے مؤید اور حامی ہیں اور دوسری طرف علم کے استدلالی اور جدلیاتی عمل کی وکالت بھی فرما رہے ہیں‘‘۔ اب جس آدمی نے غصّے اور عقل کے ساتھ ساتھ مذہبی استناد اور عقلی استدلال کے حسین امتزاجات سے حاصل شدہ دریافتوں کا پشتارہ اٹھا رکھا ہو، اس سے اسی طرح کے جواہر ریزوں ہی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس میں ہمارا موقف بہت واضح ہے کہ علم جدلیاتی عمل کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ جدلیاتی عمل standard discourses اور disciplines میں واقع ہوتا ہے۔ اس میں حتمی بات ہم نے عرض کر دی تھی کہ ’’جس استدلال سے نظری علوم قائم ہوتے ہیں، اسی سے منہدم بھی ہوتے ہیں۔‘‘ اب یہ بات پوری دیانت سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ فقرہ میاں صاحب کی امتزاجی سمجھ سے بالاتر ہے، لہٰذا ہم پر ان کی اسیری کا الزام کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اب یہ بات میاں صاحب کی خدمت میں کون عرض کرے کہ ہدایتِ حق اور نظری علوم میں بنیادی امتیازات قائم کیے بغیر علم کی کوئی گفتگو قائم نہیں ہو سکتی۔ مذہبی متون کو نظری علوم کے برابر کر دینا اور نظری علوم کا ہدایت سے خلطِ مبحث پیدا کرنا جدید مذہبی دانشوروں کا خاصّہ ہے۔ وہ ہدایت کو نظری علوم سمجھتے ہیں اور نظری علوم کو حق کا بیان سمجھتے ہیں۔ یہی وہ حسیں امتزاج ہے جس کا میاں صاحب نے اعتراف کیا ہے اور یہی ان کا کل سرمایہ ہے۔
اگر میاں صاحب اپنے غصّے پر قابو پاتے ہوئے ہماری ایک درخواست پر غور کر سکیں تو الطافِ عمیم ہو گا۔ بقول ان کے اسلام کا روایتی قانونی اڈیشن جدید عمرانی صورت حال کو اڈریس نہیں کر پا رہا۔ اگر وہ اس حوالے سے نقد قارئین کے سامنے لا سکیں، تو ان کی بڑی نوازش ہو گی۔ اس طرح ہمیں یہ معلوم ہو جائے گا کہ اسلام کا یہ قانونی اڈیشن ہماری کون کون سی ضروریات کو پورا نہیں کرتا اور میاں صاحب کا نیا اڈیشن ان ضروریات کو کس طرح سے پورا کرے گا۔ اس میں اہم تر بات یہ ہے کہ میاں صاحب نے اسلام کے قانونی اڈیشن پر جو اعتراضات اٹھائے ہیں، اگر وہی اعتراضات خود اسلام پر لائے جائیں، جیسا آج کل عام ہے، تو وہ اس کا کیا جواب دیں گے؟ لیکن یہ تو بڑے productive کام ہیں اور عرق ریزی کا تقاضا کرتے ہیں، اس لئے جدید مذہبی دانشور اس طرح کی چیستاں میں نہیں پڑتے۔ وہ بس کچھ لفظوں کو گیندوں کی طرح سروں اچھالتے رہتے ہیں تاکہ اپنے شعبدوں سے ناظرین کو متاثر کر سکیں۔ ہمارے تمام جدید اور جعلی مذہبی علوم بھلے وہ شریعت کی جدید تعبیرات ہوں یا جدید تصوف کی لغویات ہوں وہ سب اس لئے پیدا ہوئی ہیں کہ ہم نے علمی مباحث کی بنیادی شرائط کو نظر انداز نہیں کیا، بلکہ انہیں منہدم کر دیا ہے۔ مباحث کی موت دراصل انہدام شعور ہی کا دوسرا نام ہے۔ جدید مذہبی دانشوروں اور اسکالروں کے سامنے آپ standard discourses اور disciplines کا نام لیتے ہی مطعون ہو جاتے ہیں اور وہ خود ہذیان میں چلے جاتے ہیں۔ ان کا پسندیدہ ترین شعبہ صحافت اور ابلاغیات ہے جس میں ہر طرح کی لغویات، ہفوات، اباحیات اور شطحیات کا دور دورہ ہوتا ہے اور جہاں آج کا سچ کل کا جھوٹ اور کل کا جھوٹ آج کا سچ ہوتا ہے۔
جماعت اسلامی کے ناقدین و مصلحین
خواجہ امتیاز احمد
چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ سے میرا پہلا تعارف ۱۹۶۹ء میں ہوا۔ میں اس وقت مرکزی سیکرٹری داخلہ خواجہ محمد صدیق اکبر کے ساتھ اسٹوڈنٹس اسلامک فرنٹ میں بحیثیت چیئرمین ضلع گوجرانوالہ کام کر رہا تھا۔ انور چودھری صاحب ناظم حلقہ گجرات میرے پاس تشریف لائے اور مجھے جمعیت میں کام کرنے کی دعوت دی جو میں نے قبول کر لی۔ میر ے ساتھ چودھری محمد یوسف اور شیخ الحدیث مولانا محمد چراغ مرحوم کے فرزند حافظ محمد حنیف صاحب بھی شامل تھے۔ یہ دونوں مجھ سے سینئر تھے، لیکن مجھے ناظم چنا گیا۔ یہ میرا چودھری محمد یوسف صاحب سے پہلا تعارف تھا۔ چودھری صاحب جماعت اسلامی گوجرانوالہ کے ایک محترم رکن حکیم غلام محمد مرحوم کے فرزند ہیں۔ میرے والد خواجہ بشیر احمد مسلم لیگ امرتسر کے سیکرٹری تھے۔ بعد میں وہ مولانا سرفراز صفدرؒ اور صوفی عبد الحمید سواتی ؒ کے ساتھ جمعیت علمائے اسلام میں رہے۔ ۱۹۷۰ء کے عشرے میں ان کی ایک کتاب ’’جماعت اسلامی اہل حدیث کی نظر میں‘‘ بھی شائع ہوئی جو جماعت اسلامی کے خلاف تھی۔
پس منظر میں اس لیے جانا پڑا کہ پڑھنے والوں کویہ معلوم ہو سکے کہ چودھری محمد یوسف کو جماعت اسلامی وراثت میں ملی اور مجھے سوچ سمجھ اور پرکھ کر اس کا ساتھ دینا پڑا۔ قصہ مختصر، والد مرحوم نے مجھے ترجمہ قرآن شریف کے لیے صوفی عبد الحمید صاحبؒ کے پاس داخل کیا۔ صوفی صاحب نے کچھ عرصہ مجھے پڑھایا اور پھر حافظ عبد الرحمنؒ کے سپرد کر دیا کہ وہ مجھے پڑھائیں۔ صوفی صاحبؒ ، مولانا عبد القیوم صاحب، مولانا محمد خان مبلغ ختم نبوت او رمولانا محمد حیات مرحوم جو نصرت العلوم میں تشریف لاتے تھے، میرے سوالات سے کچھ گھبرا جاتے تھے۔ یہی وہ دن تھے جب میں ’’اسلامی جمعیت طلبہ‘‘ کا ناظم منتخب ہوا۔ چودھری یوسف صاحب ایک نہایت پرجوش، ان تھک اور محنتی کارکن تھے۔ ایسے لوگ ہر تحریک یا جماعت کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ ۷۰ء کے عشرے میں جب پاکستان ایک سخت بحران سے گزر رہا تھا، ہم نے اکٹھے کافی کام کیا۔ کئی تنظیمیں کھڑی کیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے الیکشن میں حافظ محمد ادریس، جاوید ہاشمی اور حفیظ خان کے لیے کام کیا۔ گوجرانوالہ میں مولانا عبدالحمید خان بھاشانی کی ہڑتال ناکام بنائی۔ جب زاہد الراشدی صاحب عوامی فکری محاذ کے ذریعے پیپلز پارٹی کو تقویت پہنچا رہے تھے تو ہم نے ان کے مقابلے میں اسلامی فکری محاذ کھڑا کیا تھا۔
اس کے بعد یہ ہوا کہ جناب چودھری صاحب جمعیت کے اجلاسوں میں ایک دوسرے شہر سے آئے ہوئے رفیق، محمد صدیق صاحب سے بحث مباحثے میں اس قدر الجھتے گئے کہ یہ دنگل ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ اجلاس اسی میں ختم ہو جاتا۔ جمعیت طلبہ کے رفیق اس صور ت حال سے سخت نالاں تھے، لہٰذا ناظم حلقہ گجرات لطیف مرزا سے رجوع کیا گیا۔ انھوں نے محمد صدیق اور چو دھری محمد یوسف صاحب کو جمعیت سے خارج کر دیا، مگر ہمارے ذاتی تعلقات میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اس کے بعد چودھری صاحب جماعت اسلامی میں شامل ہوئے۔ وہاں کے تفصیلی واقعات میرے علم میں نہیں، لیکن شیخ نور محمد صاحب سابق امیر جماعت اسلامی ضلع گوجرانوالہ نے انھیں جماعت اسلامی سے بھی نکال باہر کیا۔ الزامات تقریباً وہی تھے، یعنی بحث ومباحثہ۔ یہ جماعت اسلامی کی بھی بدقسمتی تھی اور چودھری صاحب کی بھی۔
کوئی دو ماہ پہلے چودھری صاحب نے مجھے ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے اکتوبر اور نومبر ۲۰۱۲ء کے شمارے دیے جن میں ان کا مضمون ’’جماعت اسلامی کا داخلی نظم سید وصی مظہر ندوی کی نظر میں‘‘ شائع ہوا ہے۔ میں نے گہری نظر سے مضامین کو پڑھا تو مجھے ایسے لگا کہ جماعت کا داخلی نظم سید وصی مظہر ندویؒ سے زیادہ چودھری یوسف صاحب کی نظر میں ہے اور مظہر ندوی صاحب چودھری صاحب کے سامنے دب سے گئے ہیں۔
چودھری محمد یوسف صاحب کا کہنا ہے کہ جو اصحاب فکر ونظر وقتاً فوقتاً جماعت اسلامی سے علیحدہ ہوتے رہے، اس کی وجہ یہی اختلاف پر پابندی تھی۔ اس طرح جماعت اسلامی کی صفوں میں غیر فعال ارکان کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ کیا چودھری صاحب بتائیں گے کہ منظور نعمانی صاحبؒ ، امین احسن اصلاحی صاحبؒ ، کوثرنیازیؒ ، ارشاد احمد حقانیؒ ، وصی مظہر ندویؒ ، عبد الغفار حسنؒ اور سید جعفر شاہ پھلوارویؒ نے کس فعالیت کا مظاہرہ کیا؟ بعض نے وزارتوں کے مزے لوٹے (کوثرنیازی، وصی مظہر ندوی، ارشاد حقانی) اور باقی آرام سے گھروں میں بیٹھ گئے۔ عبد الرحیم اشرف صاحب نے اپنا کاروبار بڑھایا یا پھر اہل حدیث کی مدد کرتے رہے۔ صرف ڈاکٹر اسرار احمد نے سرگرمی اور فعالیت کا مظاہرہ کیا اور وہ چودھری صاحب کو اس لیے پسند نہیں کہ انھوں نے مولانا مرحوم اور جماعت کی بے جا مخالفت سے منہ موڑ لیا تھا۔
جنرل ضیاء الحق کے زیر سایہ مسلم لیگ کی حکومت میں شامل ہو کر وصی مظہر ندوی صاحب نے اسلام اور پاکستان کے لیے کیا کارنامے سر انجام دیے؟ ندوی صاحب نے عمران خان کو جو خط لکھا ہے، اس پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شاید وہ عمران خان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے تھے اور انھیں سیاست میں اپنا تجربہ بتا رہے تھے۔ یہ سوچنے کا مقام ہے کہ مولانا مودودیؒ کی قیادت کو چھوڑ کر وہ محمد خان جونیجو اور پھر عمران خان کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے۔ کیا یہاں ندوی صاحب کے تحفظات دور ہو گئے تھے؟ اس حکومت کو بر طرف کرتے ہوئے، جو نہ اسلامی تھی اور نہ فلاحی، جنرل ضیاء الحق نے بھرائی ہوئی آواز سے جس کرپشن اور اقربا پروری کا ذکر کیا، کیا وہ مولانا کی نظروں سے اوجھل تھی؟ اگر جماعت اسلامی کے لوگوں نے پی این اے کے فیصلے کے مطابق وزارتیں قبول کر کے غلط فیصلہ کیا تو کیا ندوی صاحب نے وزارت قبول کر کے اسلام کی خدمت کی؟
جماعت چھوڑ کر جانے والوں میں صرف ڈاکٹر اسرار احمدؒ ہی ایسی شخصیت تھے جنھوں نے مثبت طریقے سے کام کے لیے ایک تنظیم بنائی، اکیڈمی قائم کی اور پوری دنیا میں اسلام کی تبلیغ کے لیے محنت کی۔ ڈاکٹر صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ مولانا شیخ الہند محمود حسن، امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد اور مولانا مودودی کی فکر سے متاثر ہیں اور اسی فکر کے تحت کام کرنا چاہتے ہیں۔ مولانا امین احسن اصلاحی کے ساتھ انھوں نے جماعت ضرور چھوڑی تھی، مگر ان کے ساتھ زیادہ عرصہ نہ چل سکے جماعت اسلامی اور مولانا مودودی سے اختلاف کے باجود ان کے خلاف منفی سرگرمیوں کا حصہ نہ بنے۔ اسی وجہ سے انھوں نے مولانا ندوی کو بھی اس حد تک جانے سے روکا۔
ڈاکٹر اسرار احمد نے مولانا امین احسن اصلاحی اور غامدی صاحب کی غلطیوں کی نشان دہی بھی کی، انھیں ٹوکا اور ٹی وی پر غامدی صاحب سے مناظرہ بھی کیا۔ اصلاحی صاحب اور ان کے شاگرد غامدی صاحب نے بعض مسائل میں قرآن وحدیث کی تشریحات کی ہیں، اس پر روایت پسند علماء سخت نالاں ہیں۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب مولانا امین احسن اصلاحی کے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’ان کے زبان وقلم سے بعض ایسی چیزیں منظر عام پر آئی ہیں جو صریح گمراہی پر مبنی ہیں، بلکہ اجماع امت سے انحراف کی وجہ سے ان پر کفر تک کا اطلاق ممکن ہے۔‘‘
چودھری صاحب کو شکایت ہے کہ ’’سید کے ہم مرتبہ لوگ جماعت کی تشکیل کے ایک دو سال بعد ہی جماعت سے الگ ہو گئے۔ جماعت کی تشکیل کے موقع پر جتنا زبردست ٹیلنٹ جمع ہوا تھا، وہ چھٹ گیا۔‘‘ چودھری صاحب جن کو برابر کا ٹیلنٹ کہتے ہیں، مولانا مودودی نے ان کی تالیف قلب کی پوری کوشش کی۔ کسی کو جماعت سے نہیں نکالا۔ ان حضرات نے خود جماعت کو چھوڑا۔ مولانا کی زبانی ہی سنیے:
’’مولانا امین احسن اصلاحی کے معاملہ میں بہت غور کر رہا ہوں، مگر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کی تالیف قلب کے لیے کیا کروں۔ متعین شکایت صرف ایک معلوم ہوئی اور اس کا فوری ازالہ کر دیا گیا۔ ۔۔۔ انھیں جماعت کے رفقاء سے ہی نہیں، بلکہ مجھ سے بھی سوء ظن ہے۔ یہ سوء ظن مجھے الہ آباد میں بھی مولانا کے بعض فقروں سے ہوا تھا، مگر میں نے تاویل کر کے اسے اپنے ذہن سے دور کر دیا تھا۔ اب آپ کی دی ہوئی خبروں سے نہ صرف اس کی تصدیق ہوئی، بلکہ زیادہ واضح طور پر پتہ چلا کہ ان کا ذہن مستقل بدگمانی کی راہ پر چل پڑا ہے۔‘‘ (خطوط مودودی، ص ۱۷۱)
مسعود عالم ندویؒ کے نام ایک خط میں مولانا لکھتے ہیں:
’’یہ آخر کیا آفت ہے؟ کیا یہ بچوں کا کھیل تھا کہ کل ایک جماعت بنائی۔ دعوے کیے کہ ہم خدا کا کلمہ بلند کریں گے۔ نگاہیں ہر طرف اٹھنے لگیں کہ دیکھیں، یہ جماعت کیا کرتی ہے اور ابھی دو قدم نہ چلے تھے کہ آپس میں ایک دوسرے پر بدگماناں کر کے، الزام رکھ رکھ کر اور روٹھ روٹھ کر الگ ہونے شروع ہو گئے۔ پھر نہ کسی صفائی کی کوشش کی، نہ تحقیق کی فکر، نہ خرابیوں کو سمجھ کر انھیں دور کرنے کی طرف توجہ۔ ۔۔۔ میں خود اس معاملے میں اپنے آپ کو بے بس پاتا ہوں کہ ہدف میری ذات کو بنا لیا گیا ہے۔‘‘ (خطوط مودودی، ص ۱۰۲)
مولانا مسعود عالم ندوی کے نام ایک اورخط میں فرماتے ہیں:
’’مولانا جعفر صاحب کو کپورتھلہ کی ریاست میں خطابت کا معاوضہ ۵۶ روپے ماہوار ملتا تھا۔ ۔۔۔ میں نے کہا کہ پچاس روپے مہینہ کی حد تک ادا کرنے کا وعدہ کرتا ہوں۔ مکان یہاں بلا کرایہ حاضر ہے۔ آپ ملازمت چھوڑکر آ جائیے۔ ۔۔۔ انھوں نے فرمایا کہ بھری تھالی (ریاست کپور تھلہ کی ملازمت) کو لات مارتے ہوئے مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں اللہ کے ہاں کفران نعمت میں نہ پکڑا جاؤں۔ پھر جب میں نے انھیں اطمینان دلایا کہ یہ کفران نعمت نہیں ہے، بلکہ خطابت وامامت کی تنخواہ سلف کی نگاہ میں سخت مکروہ ری ہے اور آپ کو اس مکروہ سے بچنے کا ایک موقع مل رہا ہے تو انھوں نے کچھ دن غور کرنے کی مہلت مانگی اور وہ مہلت آخر کار اس تحریر پر ختم ہوئی جو مولانا منظور صاحبؒ کے خط پر توثیقاً انھوں نے ثبت فرمائی ہے۔‘‘ (خطوط مودودی، ص ۱۱۰)
مولانا اور جماعت اسلامی کو کیسے کیسے ناقدین اور مصلحین ملے، اس کا اندازہ ایک واقعے سے کیجیے جو سید علی نقی نے اپنی کتاب ’’سید مودودی کا عہد‘‘ کے صفحہ ۳۷۰ پر بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’ایک دن جمعہ کی نماز سے پہلے میں مولانا کے کمرے میں گیا۔ باتیں کرتے ہوئے دونوں باہر نکلے۔ ابھی مسجد تک نہیں پہنچے کہ مولانا نے فرمایا، میرا پاجامہ ادھڑا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ آپ چلیں، میں کپڑے بدل کر آتا ہوں۔ میں انتظار کرتا رہا۔ مولانا واپس آئے اور ہم دونوں ایک ساتھ مسجد میں داخل ہوئے۔ تقریباً ایک ہفتے بعد مولانا نے مجھے ایک خط دیا کہ اس کا جواب لکھ دیں۔ میں نے خط کھولا تو ایک طویل شکایت نامہ تھا۔ بڑے سخت الفاظ میں لکھنے والے نے لکھا تھا کہ میں آپ کی بڑی تعریف سن کر آیا تھا، لیکن آپ کو ایک جمعہ کے دن گھر سے صاف کپڑے پہنے نکلنے کے بعد واپس جاتے ہوئے اور پھر دوسرے صاف کپڑے پہن کر واپس آتے ہوئے دیکھا۔ مجھے بڑا دکھ ہوا کہ جس شخص کو بار بار صاف کپڑے پہن کر اپنی امارت اور نفاست کا رعب جمانے کا شوق ہو، وہ بھلا تحریک اسلامی کی کیا رہنمائی کرے گا۔ پس میں واپس ہو گیا۔‘‘
چودھری صاحب سے گزارش ہے کہ جماعت کی مخالفت میں اس حد تک مت جائیں کہ خود کو گم کر لیں۔ آپ کے دل میں اسلامی جمعیت اور جماعت اسلامی سے اخراج کا گہرا زخم ہے، لیکن آپ کی دو نسلوں نے جماعت کی بڑی خدمت کی ہے۔ اب بھی اگر مثبت تنقید سے کام لیں تو اس سے جماعت کی بھی اصلاح ہوگی اور آپ کا قد بھی بڑھے گا۔
جہاں تک ’’صریر خامہ‘‘ کا تعلق ہے تو اس پر، پروفیسر سلیم منصور خالد کے تبصرے سے اتفاق کرتے ہوئے اسی پر اپنی بات کو ختم کرتا ہوں:
’’ڈاکٹر محمد ارشد نے مولانا وصی مظہر ندویؒ کے مجموعہ مقالات ومکتوبات پر مبنی کتاب ’’صریر خامہ‘‘ مرتب کی ہے جو ان کی فکر کو سمجھنے کے لیے ایک مفید کتاب ہے۔
مولانا مسعود عالم ندویؒ فرماتے ہیں:
’’اگر تو کوئی رائے رکھتا ہے تو صاحب عزیمت بھی بن، کیونکہ ہر کام میں تردد رکھنا خرابی کی علامت ہے۔‘‘
میڈیا کا محاذ اور ہماری ذمہ داریاں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
۲۳ جنوری ۲۰۱۲ء کو پریس کلب لاہور میں ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا جس میں جناب امجد اسلام امجد، جسٹس (ر) نذیر غازی، جناب اوریاہ مقبول جان اور دیگر ممتاز دانش ور بھی شریک تھے۔ سیمینار میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس و حرمت کے حوالہ سے بنائی جانے والی ایک فلم زیر بحث تھی اور اس فلم کا ایک حصہ شرکاء کو دکھایا گیا، میں نے اس موقع پر جو گزارشات پیش کیں ان کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔
بعد الحمد والصلوٰۃ ! اس فلم کے حوالہ سے دو پہلوؤں پر تو کچھ عرض نہیں کر سکوں گا۔ ایک اس کا فنی اور تکنیکی پہلو ہے جس کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں، اس لیے کہ میں اس فن سے واقف نہیں ہوں اور نہ ہی اس کا ذوق رکھتا ہوں۔ دوسرا پہلو جواز اور عدمِ جواز کی بحث کا ہے، اس کے بارے میں بھی کوئی بات نہیں کہہ سکوں گا؛ اس لیے کہ یہ مفتیان کرام کا کام ہے اور میں مفتی نہیں ہوں۔ چنانچہ نہ تو اس سلسلہ میں کوئی فتویٰ دوں گا اور نہ ہی کسی فتوے سے اختلاف کرنا چاہوں گا۔ البتہ ایک اور پہلو سے کچھ معروضات پیش کروں گا اور وہ ہے ضرورت کا پہلو۔
چونکہ میں خود بھی اس محاذ کا آدمی ہوں، اس لیے محاذ کی ضروریات اور تقاضوں کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھوں گا۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ احزاب سے فارغ ہوئے تو آپ نے مسجد نبویؐ میں ایک اعلان فرمایا کہ اب قریشیوں کو ہمارے خلاف جنگ کے لیے یہاں آنے کی ہمت نہیں ہوگی، اب جب بھی جائیں گے ہم ہی جائیں گے۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ اب یہ ہمارے خلاف زبان کی جنگ لڑیں گے اور خطابت و شاعری کا محاذ گرم کریں گے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم کریں گے، پروپیگنڈہ کریں گے، کردار کشی کریں گے اور عرب قبائل کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکائیں گے۔ یہ فرما کر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ سے پوچھا کہ اس جنگ میں کون آگے بڑھے گا؟ اس موقع پر تین انصاری صحابیؓ حضرت حسان بن ثابتؓ، حضرت کعب بن مالکؓ اور حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ جنگ ہم لڑیں گے۔ چنانچہ ان تینوں نے شاعری کے محاذ پر جبکہ ایک اور انصاری صحابی حضرت ثابت بن قیسؓ نے خطابت کے محاذ پر یہ جنگ لڑی اور اس شان سے لڑی کہ حضرت حسان بن ثابتؓ مسجد نبویؐ میں منبر پر کھڑے ہو کر کفار کے ادبی حملوں کا جواب دیا کرتے تھے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت کے ساتھ ساتھ اسلام کی خوبیاں بیان کرتے تھے جبکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سامنے بیٹھے انہیں داد بھی دیتے تھے اور ان کے لیے دعا بھی فرماتے تھے۔
اسی طرح یہ واقعہ بھی بخاری شریف میں مذکور ہے کہ عمرۃ القضا کے موقع پر حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑے جب مکہ مکرمہ میں داخل ہو رہے تھے تو احرام باندھے ہوئے تلبیہ پڑھنے کی بجائے رزمیہ اشعار پڑھتے جا رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے انہیں اس سے رک جانے کے لیے اشارہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی کہ دعہ یا عمرؓ عمر! اسے پڑھنے دو؛ اس کے اشعار تمہارے تیروں سے زیادہ کافروں کے سینوں میں نشانے پر لگ رہے ہیں۔
اس کے ساتھ یہ واقعہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ بنو تمیم کا وفد جب مدینہ منورہ آیا تو انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شعر و خطابت میں مقابلہ کی دعوت دے دی جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمائی۔ اس کے لیے باقاعدہ مجلس بپا ہوئی جس میں بنو تمیم کے شاعر و خطیب نے اپنی خطابت اور شاعری کے جوہر دکھائے جس کے جواب میں حضرت ثابت بن قیسؓ نے خطابت اور حضرت حسان بن ثابتؓ نے شاعری میں اسلام کی دعوت اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت و تعارف پر بات کی، چنانچہ ان کی برتری کو تسلیم کرتے ہوئے بنو تمیم نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔
اس لیے ایک بات تو میں یہ عرض کروں گا کہ شعر و خطابت اس دور میں ابلاغ کے موثر ترین ذرائع تھے جنہیں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر انداز نہیں کیا بلکہ بھرپور طریقہ سے استعمال کیا، آج اس کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے اور ابلاغ کے دیگر موثر ترین ذرائع بھی سامنے آگئے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ہمیں اسلام کی دعوت اور دفاع دونوں کے لیے ان کا بھرپور استعمال کرنا چاہیے۔ دوسری بات یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ حالت امن اور حالت جنگ کے قوانین میں فرق ہوتا ہے، بہت سی باتیں جو حالت امن میں درست نہیں ہوتیں مگر حالت جنگ میں انہیں مجبورًا اختیار کرنا پڑتا ہے۔ ایک شخص محاذ جنگ پر دشمن کے سامنے کھڑا ہے تو اسے یہ دیکھنا ہے کہ دشمن کے ہاتھ میں کون سا ہتھیار ہے اور وہ اس کے مقابلہ میں کون سا ہتھیار اختیار کر کے دشمن کو زیر کر سکتا ہے، اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ اس کی مثال عرض کروں گا کہ ایٹم بم کو اسلام کی جنگی اخلاقیات کی رو سے ایک جائز ہتھیار قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اور جہاد کے جو تقاضے اور دائرے بیان فرمائے ہیں کہ عورت کو قتل نہیں کرنا، بوڑھے کو قتل نہیں کرنا، غیر متعلقہ شخص کو قتل نہیں کرنا، بچے کو قتل نہیں کرنا اور دشمن کے اموال اور ملکیتوں کو بلا وجہ نقصان نہیں پہنچانا وغیرہ۔ ایٹم بم کے استعمال میں ان میں سے کسی بات کا لحاظ نہیں رکھا جا سکتا، اس لیے میری طالب علمانہ رائے میں اگر جنگ میں اسلامی اخلاقیات کا لحاظ رکھا جائے تو ایٹم بم ایک جائز ہتھیار نہیں ہے، لیکن ہم سب ایٹم بم کے بنانے پر زور دیتے ہیں اور ہم نے ایٹمی صلاحیت حاصل کی ہے اس لیے کہ جب دشمن کے پاس یہ ہتھیار موجود ہے تو ہمارے پاس اس کا موجود ہونا ضروری ہے ورنہ ہم دشمن سے مار کھا جائیں گے۔ اسے اضطراری حالت کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح حالتِ اضطرار میں جان بچانے کے لیے حرام کھانا جائز ہوجاتا ہے اسی طرح حالت جنگ میں جان بچانے کے لیے ایسے ہتھیار کا استعمال جائز بلکہ ضروری ہو جاتا ہے جو اسلامی اصولوں کی رو سے شاید جائز ہتھیار نہ ہو۔
میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جس طرح ہتھیاروں کی جنگ ہے اسی طرح میڈیا کی جنگ بھی ہے بلکہ آج کے دور میں میڈیا کی جنگ کا دائرہ ہتھیاروں کی جنگ سے زیادہ وسیع ہے اور میڈیا ہتھیار سے زیادہ دشمن پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے جہاں ابلاغ کے ذرائع کا وقت کی ضرورت کے مطابق استعمال ضروری ہے وہاں اضطرار اور حالت جنگ کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ آج عالمی سطح پر جس طرح ’’میڈیا وار‘‘ جاری ہے اور اسلام، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس و حرمت اور اسلامی تعلیمات و روایات جس طرح بین الاقوامی پروپیگنڈے اور کردار کشی کے ہتھیاروں کی زد میں ہیں، اس کے پیش نظر ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس ’’میڈیا وار‘‘ کو نظر انداز کرنے کی بجائے اس میں پوری قوت کے ساتھ شریک ہوں اور اسی طرح اس میں حصہ لیں جس طرح غزوۂ خندق کے بعد ذرائع ابلاغ، ادب و خطابت اور شاعری کی جنگ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نامور صحابہ کرام حضرت حسان بن ثابتؓ، حضرت کعب بن مالکؓ، حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ اور حضرت ثابت بن قیسؓ نے کردار ادا کیا تھا۔
الشریعہ اکادمی میں فکری نشستیں
ادارہ
۳۰ دسمبر ۲۰۱۲ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی یاد میں فکری نشست منعقد ہوئی جس میں اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے اپنے مطالعہ اور تاثرات کا ماحصل کیا اور الشریعہ اکادمی کے طلبہ کے علاوہ شہر کے دیگر اصحابِ ذوق اس فکری نشست میں شریک ہوئے۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی شخصیت اور خدمات پر کی جانے والی گفتگو کا مختصر خلاصہ درج ذیل ہے:
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا تعلق نانوتہ میں مقیم صدیقی خاندان سے تھا۔ انہوں نے خود اپنا نسب نامہ تحریر کیا ہے جس کے مطابق وہ حضرت قاسم بن محمدؒ کی اولاد میں سے ہیں جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پوتے تھے اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے نہ صرف بھتیجے تھے بلکہ ان کے علوم و فیوض کے ورثاء میں ان کا نام سرفہرست شمار ہوتا ہے اور وہ تابعینؒ کے دور کے سات بڑے فقہاء کرام میں شامل ہیں۔ حضرت نانوتویؒ ایک زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ تھے، لیکن قدرت نے ان کی راہ نمائی دینی تعلیم کی طرف کی اور اپنے وقت کے اکابر علماء کرام و مشائخ مولانا شاہ عبد الغنیؒ ، مولانا مملوک علی نانوتویؒ ، مولانا احمد علی سہارنپوریؒ اور حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ جیسے بزرگوں سے فیض پا کر وہ خود بھی اپنے دور کے اکابر علماء کرام میں شمار ہوئے۔ انہوں نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں شاملی کے محاذ پر عملی حصہ لیا۔ ارتداد کے فتنوں کا مقابلہ کرکے پنڈت دیانند سرسوتی جیسے مناظرین کو میدان میں شکست دی۔ میلہ خدا شناسی کے نام پر منعقد ہونے والے مختلف مذاہب کے سرکردہ علماء کرام اور متکلمین کے مشترکہ اجتماع میں اسلام کی حقانیت پر معرکۃ الآراء خطاب کے ذریعہ اسلام کی حقانیت کا لوہا منوایا، وہ اپنے دور میں اسلام کے سب سے بڑے متکلم تھے اور وقت کے اسلوب کے مطابق اسلامی تعلیمات کو پیش کرنے میں ان کو کمال حاصل تھا، لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ دارالعلوم دیوبند کا قیام سمجھا جاتا ہے کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی جگہ برطانوی حکومت نے براہ راست متحدہ ہندوستان پر اپنی حکومت قائم کی اور دفتری، عدالتی اور تعلیمی نظام یکسر تبدیل کر کے درس نظامی کے مدارس کو نہ صرف بند کر دیا بلکہ اس کے جاری رہنے کے سارے ظاہری امکانات کو ختم کر کے رکھ دیا۔ ہزاروں مدارس بند کر دیے گئے، ان کی جائیدادیں ضبط ہوگئیں، بہت سے مدارس بلڈوز ہوگئے، علماء کرام کی بڑی تعداد آزادی کی جنگ میں حصہ لینے کی پاداش میں شہید کر دی گئی، بے شمار علماء کرام گرفتار ہوگئے، مقدمات اور داروگیر کے وسیع سلسلہ نے علماء کرام اور دینی کارکنوں پر خوف و ہراس کی کیفیت طاری کر دی اور بظاہر اس کا کوئی امکان باقی نہ رہا کہ قرآن کریم، حدیث، فقہ، عربی زبان، فارسی اور دیگر دینی علوم کی تدریس و تعلیم کا کوئی سلسلہ یہاں باقی رہ سکے گا۔
اس ماحول میں دینی تعلیم کا سلسلہ از سرِ نو جاری کرنے اور مسلمانوں کی مدارس و مساجد کو آباد رکھنے کے لیے مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے اپنے دیگر رفقاء حاجی عابد حسینؒ ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ ، مولانا ذوالفقار علی دیوبندیؒ اور دوسرے حضرات کی معاونت سے دیوبند کے قصبہ میں دینی مدرسہ کا آغاز کیا جس کی برکات سے آج پوری دنیا فیض یاب ہو رہی ہے۔ ایک گمنام سے قصبہ میں ۱۸۶۵ء میں شروع ہونے والے اس مدرسہ کی شاخیں پورے عالم میں اس طرح پھیلیں کہ آج دنیا کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں اس شجر کے گھنے سائے اور متنوع پھل سے مسلمان فیض یاب نہ ہو رہے ہوں جبکہ عالمی استعمار فکری و تہذیبی دنیا میں دیوبند کو اپنا سب سے بڑا حریف اور اپنی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دینے پر مجبور ہے۔
مولانا راشدی نے کہا کہ جن بزرگوں کا ہم مسلسل نام لیتے ہیں، جن کی طرف نسبت کو ہم اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں اور جن کا تذکرہ کر کے ہم تاریخ میں عزت اور مقام حاصل کرتے ہیں، ان کی جدوجہد، خدمات اور مشن سے ہمیں واقف ضرور ہونا چاہیے تاکہ ان کے نقش قدم پر ہم صحیح طور پر چل سکیں۔
مولانا عبد الستار تونسوی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس
۳۱؍ دسمبر کو اکادمی میں حضرت مولانا عبد الستار تونسویؒ کی وفات حسرت آیات پر تعزیتی ریفرنس کے طور پر ایک نشست ہوئی جس میں شہر کے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی اس نشست کے مہمان خصوصی تھے۔ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ اہل سنت کے عقائد و مذہب اور ناموس صحابہؓ کے تحفظ و دفاع کے لیے حضرت مجدد الف ثانیؒ ، حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کی علمی جدوجہد کو امام اہل سنت حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ نے جو منظم شکل دی تھی اور اس کے لیے ایک پورا تربیتی نظام قائم کیا تھا۔ پاکستان میں اس کے امین مولانا عبد الستار تونسویؒ ، مولانا دوست محمد قریشیؒ ، مولانا سید نور الحسن بخاریؒ ، مولانا قائم الدین عباسیؒ ، مولانا قاضی مظہر حسینؒ ، علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ ، مولانا عبد الحئی جام پوریؒ اور ان کے رفقاء تھے جنہوں نے اپنے اکابر کے طرز اور اسلوب کے مطابق مذہب اہل سنت کی خدمت اور عقائد اہل سنت کے فروغ کے محاذ کو قائم رکھا۔ آج مولانا عبد الستار تونسویؒ کی وفات سے تاریخ کا وہ باب مکمل ہوگیا ہے جبکہ آج اسی اسلوب اور طرز کو از سرِ نو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔
مولانا عبد الرؤف فاروقی نے مذہب اہل سنت کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور اس کے پس منظر میں حضرت مولانا عبدالستار تونسویؒ اور ان کے رفقاء کی جدوجہد کی اہمیت کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا تونسویؒ اپنے وقت میں اس فن کے امام تھے اور انہوں نے ہزاروں علماء کرام کو اس مشن کے لیے تیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے مدارس کے طلبہ کی غالب اکثریت کو مذہب اہل سنت کی علمی و فکری بنیادوں اور اپنے اکابر کے طرز و اسلوب سے شناسائی حاصل نہیں ہے اس لیے ضرورت ہے کہ مدارس دینیہ میں حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کی طرز پر کام کیا جائے اور علماء و طلبہ کو علمی اور تحقیقی طور پر اس کے لیے تیار کیا جائے۔
تعزیتی نشست میں حضرت علامہ عبد الستار تونسویؒ کی وفات کو علمی و دینی حلقوں کے لیے ایک عظیم نقصان قرار دیتے ہوئے ان کی دینی و ملی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی مغفرت و بلندئ درجات کی دعا کی گئی۔
’’عالمی رابطہ ادب اسلامی‘‘ کا سیمینار
’’عالمی رابطہ ادب اسلامی‘‘ کی تحریک برصغیر کے ممتاز مفکر اور دانش ور مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے کی تھی۔ ان کے توجہ دلانے پر مختلف ممالک کے اسلامی جذبہ رکھنے والے ادیبوں اور دانش وروں نے جنوری ۱۹۸۶ء کے دوران لکھنؤ (انڈیا) میں جمع ہو کر ’’عالمی رابطہ ادب اسلامی‘‘ کی بنیاد رکھی اور طے کیا کہ اسلام دوست ادیبوں کی تخلیقات کی اشاعت اور ان کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے کے لیے اس عنوان کے ساتھ محنت کی جائے گی۔ اس جدوجہد کے اہم مراکز بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب میں ہیں اور اب تک اس سلسلے میں مختلف سطحوں کے متعدد اجلاس کانفرنسیں اور سیمینارز منعقد ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس کا حلقہ موجود و متحرک ہے جس میں مولانا فضل الرحیم، ڈاکٹر سعد صدیقی، ڈاکٹر محمود الحسن عارف، ڈاکٹر زاہد ملک، مولانا مفتی محمد زاہد، ڈاکٹر ظہور احمد اظہر، پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد طاہر، ڈاکٹر زاہد اشرف، مجیب الرحمن انقلابی، ڈاکٹر حافظ سمیع اللہ فراز، ڈاکٹر محمد ارشد اور دیگر ارباب علم و دانش شامل ہیں۔ اس وقت ڈاکٹر سعد صدیقی ’’عالمی رابطہ ادب اسلامی‘‘ کے حلقۂ پاکستان کی صدارت اور ڈاکٹر محمود الحسن عارف سیکرٹری جنرل کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اب اس فورم نے اپنا دائرہ لاہور کے علاوہ دوسرے شہروں تک وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا آغاز ۳؍ جنوری ۲۰۱۲ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں منعقدہ ایک تقریب سے ہوا۔
یہ سیمینار رابطہ ادب اسلامی کے تعارف اور اس کی سرگرمیوں کے تذکرے کے لیے منعقد ہوا جس کی صدارت اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کی، جبکہ برطانیہ سے تشریف لانے والے ممتاز عالم دین اور دانشور مولانا مفتی برکت اللہ مہمان خصوصی تھے۔ سیمینار سے مولانا مفتی برکت اللہ، مولانا مفتی محمد زاہد، ڈاکٹر سعد صدیقی، ڈاکٹر محمود الحسن عارف، ڈاکٹر محمد ارشد، ڈاکٹر پروفیسر محمد اکرم ورک، ڈاکٹر سمیع اللہ فراز اور جناب خالد صابر نے خطاب کیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی تعلیمات کے فروغ، اسلامی اقدار کے تحفظ، دین کی دعوت و ترویج اور قرآن و سنت کے احکام و قوانین کی تفہیم و تشریح کے لیے ادب کی مختلف اصناف اور ابلاغ کے موثر ذرائع کو اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اس کے لیے ایسا ذوق رکھنے والے علمائے کرام، ادیبوں اور شاعروں اور میڈیا و تعلیم کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو باہمی رابطہ و تعلق کا اہتمام کرنا چاہیے جس کے لیے ’’عالمی رابطہ ادب اسلامی‘‘ کام کر رہا ہے۔
اس موقع پر گوجرانوالہ ڈویژن میں رابطہ کی شاخ قائم کرنے کی ذمہ داری ڈاکٹر محمد اکرم ورک کو سونپی گئی جو وہ کنوینر کی حیثیت سے مختلف شعبوں کے اصحابِ فکر سے رابطے قائم کر کے رابطہ ادب اسلامی کو مقامی سطح پر منظم کرنے کا اہتمام کریں گے۔ مہمان خصوصی مولانا مفتی برکت اللہ نے اپنے خطاب میں علمائے کرام، ادیبوں، دانش وروں، شاعروں، اساتذہ اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے اصحابِ فکر پر زور دیا کہ وہ موجودہ عالمی تہذیبی و فکری کشمکش کا ادراک کرتے ہوئے اسلام کی خدمت کے راستے تلاش کریں اور باہمی مشورہ و رابطہ کے ساتھ فکری جدوجہد کو منظم کریں۔
ہماری خوراک اور دن بدن بڑھتے امراض
حکیم محمد عمران مغل
مشرقی تہذیب وتمدن میں جو امراض آج کل دیکھنے سننے میں آ رہے ہیں، طبی کتب میں ان کا تفصیل سے ذکر ہے، مگر عوامی سطح پر اکثر لوگ ان سے واقف نہیں تھے۔ اس کی ایک بڑی وجہ صحت اور اخلاق کی بلندی تھی ، مگر اب مشرقی معاشرے بھی پستی اور زوال کا شکار ہو چکے ہیں۔آج ہر مشرقی انگوٹھی پر مغربی نگینہ دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہماری بود وباش، خور ونوش سب مغربی تہذیب وتمدن کے رنگ میں رنگی جا چکی ہے۔ صبح اٹھتے ہی آب حیات یعنی چائے نہ ملے تو ہمارے ہوش وحواس بحال نہیں ہو پاتے۔ میں نے وہ حضرات بھی دیکھے ہیں جنھیں چائے کی خوشبو سونگھتے ہی قے ہونی لگتی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ ہمیں رات کی باسی لسی اور باسی دہی نہ ملے تو دن بھر کام کاج کے قابل نہیں ہوتے۔ پھر انھی حضرات کا کہنا ہے کہ ہمارے سامنے نئی نسل باریک آٹے اور میدے سے بنی اشیا کھا کھا کر طرح طرح کے امراض کا شکار ہوتی جا رہی ہے اور ہم بے بس ہیں۔ باریک آٹے نے ہی شوگر کا پہاڑ کھڑا کر دیا ہے اور چھوٹا بڑا ہر کوئی شوگر کی بیماری میں جکڑا جا رہا ہے۔ امریکن شوگر سنٹر کے صدر اور امراض بچگان کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر فرانسس نے کہا ہے کہ پیزا، سینڈوچ یا میدہ کی بنی اشیا کے شوقین بچے میرے علاج سے تندرست نہ ہوئے تو تحقیق سے پتہ چلا کہ یہ سب باریک آٹے کی کارستانی ہے جس کی وجہ سے چھوٹے بچے بھی درجہ دوم کی شوگر کے مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
موٹاپے کا عذاب بھی شروع ہو چکا ہے۔ بند بوتلوں کے پانی، بند ڈبوں کی خوراک پر کافی تحقیق ہو چکی ہے۔ بزرگ اطبا نے صدیوں پہلے بتا دیا تھا کہ یہ زہر ہے۔ اس سے دل، دماغ، گردہ اور جگر تباہ ہو جائیں گے۔ آج جو لنگڑے لولے، اپاہج اور پولیو زدہ بچے پیدا ہو رہے ہیں، اس کی یہی وجہ ہے۔ بچوں کی پیدائش کے کیس بھی خراب ہو رہے ہیں۔ ماؤں میں بچے جنم دینے کی طاقت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ہمارے ملک کی مایہ ناز ڈاکٹر خالدہ عثمانی بھی بارہا کہہ چکی ہیں کہ میدے کی اشیا سے بچیں اور مشرقی کھانوں کو رواج دیں۔