دسمبر ۲۰۱۳ء

راولپنڈی کا الم ناک سانحہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
شہید کون؟ کی بحثمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
فقہائے احناف اور ان کا منہج استنباطمولانا خالد سیف اللہ رحمانی 
اسلامی جمہوریت کا فلسفہ ۔ شریعت اور مقاصد شریعت کی روشنی میں (۱)مولانا سمیع اللہ سعدی 
’’اسلام، جمہوریت اور پاکستان‘‘مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مولانا عبد المتینؒ ۔ حیات و خدمات کا مختصر تذکرہمحمد عثمان فاروق 
امام اہل سنتؒ کے دورۂ برطانیہ کی ایک جھلکمولانا عبد الرؤف ربانی 
مولانا حافظ مہر محمد میانوالویؒ کا انتقالمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
تعارف و تبصرہادارہ 
مکاتیبادارہ 
نسوانیت کا دشمن لیکوریاحکیم محمد عمران مغل 

راولپنڈی کا الم ناک سانحہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۰ محرم الحرام کا دن امید و یاس کی کیفیت میں گزارنے کے بعد رات کو بستر پر لیٹا تو خوشی اور اطمینان کے تاثرات ذہن و قلب پر غالب تھے اور مطمئن تھا کہ جو دن بہت سے خطرات و خدشات جلو میں لیے صبح طلوع ہوا تھا، وہ کم از کم ہمارے شہر میں امن و سکون کی کیفت کے ساتھ گزر چکا ہے، اس لیے بھی کہ محرم الحرام کے آغاز میں گوجرانوالہ کی ایک امام بارگاہ میں تین افراد ایک حملہ میں جاں بحق ہو چکے تھے اور ۱۰ محترم جمعۃ المبارک کے روز ہونے کی وجہ سے بد اَمنی کے امکانات زیادہ نظر آرہے تھے۔ مگر صبح نماز فجر کے لیے اٹھا تو موبائل فون کی سکرین پر موجود اس میسج نے سارا سکون غارت کر دیا جس میں سانحہ راولپنڈی کے وقوع کی خبر دی گئی تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر راولپنڈی اور اسلام آباد کے احباب سے فون پر رابطہ شروع کیا تو سبھی فون بند ملے حتیٰ کہ سارا دن کچھ پتہ نہ چل سکا کہ کیا ہوا ہے اور تازہ صورت حال کیا ہے؟ مختلف اطراف سے پے در پے وصول ہونے والی اضطراب انگیز اطلاعات لمحہ بہ لمحہ پریشانی اور رنج و غم میں اضافہ کرتے چلے جا رہی تھیں، جبکہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر طوفان بپا کر دینے والا میڈیا حیرت انگیز طور پر خاموش تھا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی فون سروس معطل تھی اور کوئی قابل اعتماد ذریعہ میسر نہیں آرہا تھا جس سے اصل صورت حال معلوم کی جا سکے۔ 
اس فضا میں ۱۲؍ محرم اتوار کو مرکزی جامع مسجد میں شہر کے علماء کرام اور تاجر راہ نماؤں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں اس وقت تک معلوم ہونے والی صورت حال کے مطابق مقررین نے اپنے جذبات و تاثرات کا اظہار کیا جن میں غم و غصہ اور اضطراب و بے چینی کا پہلو نمایاں تھا اور اس حوالہ سے سامنے آنے والی دہشت گردی اور درندگی پر ہر شخص نفرت و غصہ کا اپنے اپنے انداز میں بھرپور اظہار کر رہا تھا۔ مگر ایک بات سب راہ نماؤں کی زبانوں پر مشترک تھی کہ امن عامہ کے لیے بد اَمنی اور تباہی کا باعث بننے والے مذہبی جلوسوں کو عام شاہراہوں اور گلیوں بازاروں میں لانے کا کوئی جواز نہیں ہے اور اس پر حکومت کو بہرحال نظر ثانی کرنا ہوگی۔ ایسے جلوس اگر عبادت ہیں تو انہیں عبادت گاہوں تک محدود کر دینے کی ضرورت ہے اور اس طرح ہر سال سیکیورٹی کے نام پر پورے قومی نظام اور سرکاری اداروں کو مسلسل ایک عشرے تک معطل کیے رکھنا کوئی معقولیت نہیں رکھتا۔ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعہ مطالبہ کیا گیا کہ حکومت اس سلسلہ میں کوئی واضح حکمت عملی طے کرے اور امن عامہ کے لیے خطرہ بن جانے والے جلوسوں کو چار دیواری میں محدود کرنے کے لیے قانون سازی کرے۔ 
اسی تناظر میں ۱۹؍ نومبر کو فیصل آباد میں پاکستان شریعت کونسل کے ایک اجلاس میں موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستان شریعت کونسل کا جو موقف طے کیا گیا، وہ درج ذیل ہے:
  • سانحۂ راولپنڈی ہر لحاظ سے انتہائی قابل مذمت ہے اور تشدد و بربریت کی بد ترین مثال ہے جس کا سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔
  • حکومت نے اس سانحہ کی انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا ہے جو ایک مناسب قدم ہے، مگر پاکستان شریعت کونسل کی رائے میں اس کمیشن کو سانحۂ راولپنڈی کے اسباب و عوامل کے تعین اور اس کے ذمہ دار حضرات کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ سنی شیعہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ اور اس کے ملک کے امن کے لیے تباہ کن صورت اختیار کرجانے کے اسباب و عوامل اور پس پردہ محرکات کا جائزہ لے کر ان کے سدباب کے لیے بھی سفارشات پیش کرنی چاہئیں۔ اس لیے پاکستان شریعت کونسل حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے دائرہ کار کو وسعت دی جائے اور سنی شیعہ کشمکش میں خوفناک اضافے کے اسباب و عوامل کے تعین کو بھی اس کی ذمہ داری میں شامل کیا جائے۔
  • مسجد و مدرسہ اور مارکیٹ کی سرکاری خرچ پر تعمیر جلد از جلد شروع کی جائے اور ان اداروں کے ذمہ دار حضرات کو اعتماد میں لے کر تعمیر نو کا پروگرام طے کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان شریعت کونسل یہ مطالبہ کرتی ہے کہ مدینہ کلاتھ مارکیٹ کو محکمہ اوقاف سے واگزار کر کے اسے دارالعلوم تعلیم القرآن کو واپس کیا جائے۔
  • محرم الحرام کے ان جلوسوں کی وجہ سے پورے ملک کی انتظامی مشنری مسلسل دس دن تک اسی کام کے لیے وقف رہتی ہے۔ بہت سے ضروری امور معطل ہو جاتے ہیں، کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور کم و بیش دو ہفتے تک خطرات و خدشات کی دھند ملک بھر کی فضا میں چھائی رہتی ہے۔ اس مسئلہ کا مستقل حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ورنہ پہلے سے زیادہ خطرات اور بد اَمنی کو فروغ حاصل ہوتا رہے گا۔ اس لیے پاکستان شریعت کونسل تجویز کرتی ہے کہ بد اَمنی، خوف و ہراس اور فرقہ وارانہ تصادم کا باعث بننے والے جلوسوں کو عبادت گاہوں اور چار دیواری کے دائرہ میں محدود کیا جائے اور گلیوں بازاروں میں ایسے مذہبی جلوسوں کے گزرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔ 
  • اس سانحہ میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ ضلعی حکام کی غفلت بھی اس کا بڑا سبب ہے اس لیے سانحہ کے ملزمان اور پس پردہ افراد و محرکات کے ساتھ ضلعی حکام کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے اور حکومت کو تمام ملزمان اور ذمہ دار حضرات کے خلاف سخت کاروائی کرنی چاہیے۔ سانحۂ راولپنڈی کے موقع پر حالات کو کنٹرول کرنے اور رائے عامہ کی صحیح راہ نمائی کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی کے علماء کرام، وفاق المدارس العربیہ پاکستان، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان، اہل السنۃ والجماعۃ پاکستان اور جمعیۃ اشاعت التوحید والسنۃ کے راہ نماؤں نے جس بیدار مغزی اور حوصلہ و محنت کے ساتھ کردار کیا ہے وہ قابل تعریف ہے اور پاکستان شریعت کونسل ملک کے تمام دینی حلقوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ان اداروں اور جماعتوں کے ساتھ اس سلسلہ میں بھرپور تعاون جاری رکھیں۔ 
  • اجلاس میں میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کا بھی نوٹس لیا گیا اور کہا گیا کہ ملک بھر میں اضطراب و بے چینی پھیلنے اور مختلف شہروں میں بد اَمنی کی فضا پیدا ہونے میں نیشنل میڈیا کی غفلت اور سوشل میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ روش کا بھی بڑا دخل ہے، اس لیے اس بات کا نوٹس لینے کی بھی ضرورت ہے۔
  • پاکستان شریعت کونسل محسوس کرتی ہے کہ تمام مکاتب فکر کو سانحۂ راولپنڈی سے پیدا شدہ صورت حال میں ہم آہنگی اور باہمی مفاہمت کے ساتھ قوم کی راہ نمائی کرنی چاہیے اور خاص طور پر دیوبندی مسلک کی جماعتوں اور مراکز کے درمیان ہم آہنگی اور رابطہ و مشاورت کی انتہائی ضرورت ہے اور تمام جماعتوں کے راہ نماؤں کو اس بارے میں خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
پاکستان شریعت کونسل کے مذکورہ اجلاس میں مختلف مکاتبِ فکر کی طرف سے ’’تحریک انسدادِ سود پاکستان‘‘ کے مشترکہ فورم کے قیام کا خیر مقدم کیا گیا اور ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملک کی معیشت کو اسلامی اصولوں پر استوار کرنے اور سودی نظام سے نجات دلانے کے لیے ایسی تحریک کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی ہے اور مختلف مکاتب فکر کے زعماء کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے۔پاکستان شریعت کونسل اس فورم کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی اور اس کی کامیابی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گی۔ راقم الحروف نے ’’تحریک انسدادِ سود پاکستان‘‘ کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر کے طور پر تحریک کے مرحلہ وار پروگرام کے مختلف مراحل سے شرکاء کو آگاہ کیا اور اس موقع پر فیصل آباد کے ممتاز دانش ور جناب میاں محمد طاہر نے بھی سودی نظام کے خلاف جدوجہد کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

شہید کون؟ کی بحث

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جس طرح امریکہ نے ڈرون حملہ کے ذریعہ حکیم اللہ محسود کو قتل کر کے یہ بات ایک بار پھر واضح کر دی ہے کہ وہ حکومت پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتا، اسی طرح پاکستانی میڈیا کے بعض سرکردہ لوگوں نے بھی اپنی اس پوزیشن کا رہا سہا ابہام دور کر دیا ہے کہ ان کی ترجیحات میں سسپنس پیدا کرنے اور ذہنی و فکری خلفشار فروغ دینے کو سب باتوں پر فوقیت حاصل ہے۔ حتیٰ کہ ملک و قوم کے مجموعی مفاد کو بھی وہ سب کچھ کر گزرنے کے بعد ہی دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ اس موقع پر شہید یا غیر شہید بحث چھیڑنے کا مقصد (یا کم از کم نتیجہ) اس کے سوا اور کیا ہے کہ اصل معاملات سے عوام کی توجہ ہٹا کر غیر ضروری بحثوں میں ان کو الجھا دیا جائے اور اس فضا میں مذاکرات کی جو موہوم سی امید باقی رہ گئی ہے، اسے اس بحث کے دھندلکوں میں غائب کر دیا جائے۔
جہاں تک مذاکرات کا تعلق ہے، وہ تو فریقین کی مجبوری بن چکے ہیں، اس لیے کہ نہ تو ریاستی اداروں کے لیے یہ ممکن نظر آتا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیں اور نہ ہی عسکریت پسندوں کے بس میں ہے کہ وہ ریاست اور فوج سے ٹکرا کر ملک پر قبضہ کر لیں یا ملک کا کوئی حصہ اپنی الگ ریاست قائم کرنے کے لیے خدانخواستہ اس سے جدا کر لیں۔ یہ جنگ جو گزشتہ ایک عشرے سے جاری ہے، خدا نہ کرے مزید ایک عشرہ جاری رہے، تب بھی بات بہرحال مذاکرات کی میز پر ہی طے ہوگی۔ یہ بات کسی دلیل کی محتاج نہیں ہے اور پوری قوم اجتماعی فیصلہ دے چکی تھی کہ مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کو حل کر کے پاکستان کے داخلی امن کو بحال کیا جائے۔ حکومت بھی اس کے لیے تیار تھی اور طالبان نے بھی آمادگی کا اظہار کر دیا تھا، بلکہ مذاکرات کے لیے درمیان کے لوگوں کی فہرست پر بھی اتفاق ہوگیا تھا، اتنے میں ایک تیسرے فریق نے درمیان میں اپنا ’لُچ‘ تل دیا۔ سوال یہ ہے کہ حیلوں بہانوں سے بلا ضرورت سوالات کھڑے کر کے شہید غیر شہید کی بحث چھیڑنے والوں نے ان تینوں میں سے کس فریق کو سپورٹ کیا ہے اور کس کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے؟ 
حکیم اللہ محسود اگر پاک فوج سے لڑتے ہوئے مارا گیا ہوتا تو کسی بحث کی ضرورت اور گنجائش نہیں تھی، لیکن وہ پاک فوج (حکومت پاکستان) کے ساتھ مصالحت کی طرف بڑھتے ہوئے امریکی ڈرون حملے میں جاں بحق ہوا ہے۔ اگر کچھ دوستوں کو امریکن ڈرون حملوں اور پاک فوج کے آپریشن میں کوئی فرق دکھائی نہیں دے رہا یا ان کے نزدیک یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں تو ہم ان کے لیے دعا اور ان کے ساتھ ہمدردی کے اظہار کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ حکیم اللہ محسود شہید ہے یا نہیں؟ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے، لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ پاک فوج کے آپریشن میں نہیں بلکہ امریکی ڈرون حملے میں جاں بحق ہوا ہے اور پاک فوج کے آپریشن کے ساتھ امریکی ڈرون حملے کو ایک درجہ میں رکھنا عقل و حکمت کے ساتھ ساتھ حب الوطنی کے تقاضوں کے ساتھ بھی مناسبت نہیں رکھتا۔ 
البتہ اپنے ماضی سے اگر اس سلسلہ میں ہم راہ نمائی حاصل کرنا چاہیں تو ہمیں واضح راہ نمائی ملتی ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ کے دور میں آپس کی دو جنگیں ہوئی تھیں۔ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جب خلافت راشدہ کا منصب سنبھالا تو ام المومنین حضرت عائشہؓ اور ان کے ساتھ بعض دیگر جلیل القدر صحابہ کرامؓ نے ان سے حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے فوری قصاص لینے کا مطالبہ کر دیا اور حالات نے ایسا رُخ اختیار کر لیا کہ دونوں بزرگ جنگ جمل میں ایک دوسرے کے مقابل آگئے، جنگ ہوئی اور دونوں طرف سے بہت سے افراد شہید ہوئے۔ اس کے بعد حضرت علیؓ نے شام کے گورنر حضرت معاویہؓ سے اطاعت کا مطالبہ کیا تو انہوں نے بھی حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے قصاص کا مطالبہ کرتے ہوئے اس وقت تک حضرت علیؓ کی بیعت سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں ان دونوں بزرگوں کے درمیان صفین کا معرکہ بپا ہوا اور یہاں بھی دونوں طرف سے بہت سے لوگ شہید ہوئے۔ 
آج کی اصطلاحات کے حوالے سے دیکھا جائے تو حضرت عائشہؓ کی حضرت علیؓ کے ساتھ جنگ چند مطالبات پر تھی اور حضرت معاویہؓ کے خلاف حضرت علیؓ کی جنگ اپنی رٹ قائم کرنے اور خلافت کو ان سے تسلیم کرانے کے لیے تھی۔ ان دو جنگوں کے اسباب اور نتائج ہماری گفتگو کا موضوع نہیں ہیں، ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ان دونوں جنگوں کے خاتمہ پر دونوں طرف کے مقتولین کے جنازے حضرت علیؓ نے خود پڑھائے، دونوں کو آپس میں مسلمان بھائی بھائی قرار دیتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت فرمائی، خود ان کی اپنی نگرانی میں تدفین کروائی اور مسلمانوں کی باہمی جنگ کے حوالہ سے ایک راہ نما اصول طے کر دیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ طرز عمل آج کے دور اور حالات میں بھی ہمارے لیے راہ نمائی کا سر چشمہ ہے۔
اس لیے ہم انتہائی درد دل کے ساتھ سب دوستوں سے گزارش کرنا چاہیں گے کہ خدا کے لیے ملک کے امن کے لیے سوچیں، قوم کو فکری ہم آہنگی کے دھارے کی طرف لانے کی کوشش کریں اور پیشہ وارانہ مسابقت کے جوش میں کسی بھی ایسی بات سے گریز کریں جو خلفشار کو بڑھانے اور بد اَمنی کے سایوں کو مزید پھیلانے کا باعث بن سکتی ہو۔

فقہائے احناف اور ان کا منہج استنباط

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

(مولانا قاری عبد الباسط (جدہ) کی تصنیف ’’طریقہ نماز‘‘ کے مقدمے سے ماخوذ۔)

اس بات کو پیش نظر رکھنا مناسب ہوگا کہ آیات و احادیث سے احکام شرعیہ کے اخذ کرنے میں فقہاء حنفیہ کا منہج کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ شروع ہی سے کتاب و سنت سے استنباط میں دو مکاتب فکر ہیں، ایک طبقہ وہ تھا جو حدیث کی حفظ و روایت کے پہلو سے غور کرتا تھا۔ دوسرا گروہ وہ تھا جس نے قرآن و حدیث سے احکام کے استنباط پر زیادہ توجہ دی۔ وہ محض الفاظ حدیث کے ظاہری مفہوم پر اکتفاء کرنے کے بجائے اس کے معانی و مقاصد میں بھی غواصی کرتا تھا اور روایات کو خارجی قرائن کی روشنی میں بھی پرکھتا تھا۔ پہلا گروہ ’’اصحاب الحدیث‘‘ کہلایا اور دوسرا گروہ ’’اصحاب الرائے‘‘۔ اس لیے یہ لقب متقدمین کے نزدیک وجہ تعریف تھا نہ کہ باعث مذمت، جیسا کہ آج کل بعض کوتاہ بین سمجھتے ہیں۔
ائمہ اربعہ میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اس لقب کے زیادہ مستحق تھے اور اسی لیے حنفیہ اور مالکیہ کی فقہ میں قربت بھی زیادہ ہے، حالاں کہ خود امام مالک کا اپنا مزاج اصحاب الحدیث سے قریب تھا، لیکن ان کے استاذ ’’ربیعہ‘‘ اصحاب الرائے سے تھے اور اسی لیے بطور تعریف و تکریم ’’ربیعۃ الرائے‘‘ کہلاتے تھے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی ذہانت و طباعی کا حال یہ تھا کہ لوگ ان کو أعقل أھل الزمان  اور أعلم أھل الزمان  کہتے تھے، اس لیے وہ بھی اصحاب الرائے میں شمار کیے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’اصحاب الرائے‘‘ اور ’’اصحاب الحدیث‘‘ کے گروہ عہد صحابہؓ ہی سے تھے۔ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عائشہ، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ کا شمار اصحاب الرائے میں تھا اور حضرت ابو ہریرہ،ؓ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ وغیرہ اصحاب الحدیث میں تھے، اس کا اندازہ ان مناقشوں سے ہوتا ہے جو صحابہؓ کے درمیان پیش آتے رہے ہیں۔
مثلاً حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ آگ میں پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو کیا جائے۔ تَوَضَّؤُوْا مِمَّا مَسَّتْہُ النَّارُ  (آگ میں پکی ہوئی چیز سے وضوء کرو)۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: 
أرأیت لو توضأت بماء سخن أکنت تتوضأ منہ؟ أو رأیت لو أدھن أھلک بدھن فأدھنت بہ شاربک أکنت تتوضأ منہ۔ (اصول السرخسی ۱/۳۴۰، باب: الکلام فی قبول اخبار الآحاد والعمل بھا، فصل: فی اقسام الرواۃ الذین یکون خبرھم حجۃ)
’’اگر آپ گرم پانی سے وضو کریں تو کیا اس کی وجہ سے دوبارہ وضو کریں گے؟ اگر آپ کے اہل خانہ نے تیل تیار کیا اور آپ نے مونچھ میں تیل لگایا تو کیا آپ اس کی وجہ سے وضو کریں گے؟ ‘‘
اسی طرح حضرت ابو ہریرہؓ نے روایت کیا: 
من حمل جنازۃ فلیتوضأ۔ (حوالہ مذکور)
’’جو جنازہ اُٹھائے وہ وضو کرے۔‘‘ 
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: 
أیلزمنا الوضوء في حمل عیدان یابسۃ۔ (حوالہ مذکور)
’’کیا خشک لکڑیوں کے اُٹھانے کی وجہ سے ہم پر وضو ضروری ہوگا؟‘‘
اسی طرح سیدنا ابو ہریرہؓ سے ایک اور روایت ہے:
ان ولد الزنا شر الثلاثۃ۔ (حوالہ مذکور)
’’ولد الزنا تین میں سے ایک شر ہے۔‘‘
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے سنا تو فرمایا:
کیف یصح ھذا: وقد قال اللّٰہ تعالیٰ: ولا تزر وازرۃ وزر أخرٰی۔ (حوالہ مذکور)
’’یہ کہنا کیوں کر درست ہوگا؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایک شخص پر دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں ہوگا۔‘‘
پس حضرت ابو ہریرہؓ کا طریق استنباط اس انداز فکر کی نشاندہی کرتا ہے جو ’’اصحاب الحدیث‘‘ کا تھا، جس میں نصوص کے ظاہر ہی پر انحصار کی کیفیت تھی، اور حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کا طریق ’’اصحاب الرائے‘‘ کے طریقۂ اجتہاد و فکر کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں تعمق فکر اور غواصی پائی جاتی ہے، اسی لیے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی فقہ میں حضرت عمر، حضرت علی اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کی آراء سے بڑی موافقت پائی جاتی ہے اور اگر ان صحابہؓ کے فتاویٰ کو جمع کیا جائے تو شاید دس فی صد (%10)مسائل بھی فقہ حنفی کے اس سے باہر نہ جائیں۔ فقہ مالکی میں بھی چونکہ حضرت عمرؓ کی آراء اور فتاویٰ سے بہت استفادہ کیا گیا ہے، اسی لیے اس فقہ میں عام فقہاء حجاز کی طرح ظاہریت نہیں پائی جاتی۔ واللہ اعلم۔
فقہ حنفی کے طریقۂ استدلال کا امتیازی پہلو یہ ہے کہ اس میں حدیث کو قبول و رد کرنے اور متعارض نصوص میں سے ایک دوسرے پر ترجیح دینے میں محض راویوں کی ثقاہت ہی کو پیش نظر نہیں رکھا گیا ہے ،بلکہ خارجی قرائن و شواہد کو بھی اس باب میں خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جہاں سندِ حدیث کو اُصولِ روایت کی کسوٹی پر پرکھا گیا ہے، وہیں متن حدیث کے قبول و رَد کرنے میں تقاضائے درایت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں چند اُمور خاص طور پر قابل ذکر ہیں:
(۱) یہ ظاہر ہے کہ قرآن مجید کا حرف حرف نص قطعی ہے اور اپنے ثبوت کے اعتبار سے ہر شک و شبہ سے بالاتر، احادیث میں سوائے احادیث متواترہ کے کوئی اس درجہ صحت و قوت کے ساتھ ثابت نہیں، اس لیے حنیفہ کے یہاں حدیث کے مقبول اور نا مقبول ہونے میں قرآن مجید سے اس کی موافقت کو بڑا دخل ہے، امام سرخسیؒ فرماتے ہیں:
اذا کان الحدیث مخالفًا لکتاب اللّٰہ فانہ لا یکون مقبولا ولا حجۃ للعمل بہ، عامّۃً کانت الآیۃ أو خاصّۃً، نصًّا أو ظاھرا عندنا، علی ما بینا أن تخصیص العام بخبر الواحد لا یجوز ابتداء، وکذلک ترک الظاھر فیہ، والعمل علی نوع من المجاز لا یجوز بخبر الواحد عندنا، خلافا للشافعي۔ (اصول السرخسی: ۱/۳۶۴، باب: الکلام فی قبول أخبار الآحاد والعمل بھا، فصل: فی بیان وجوہ الانقطاع)
’’جب حدیث کتاب اللہ کے خلاف ہو تو ہمارے نزدیک مقبول اور عمل کے لیے حجت نہیں ہوگی، چاہے آیت عام ہو یا خاص، نص ہو یا ظاہر، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ خبر واحد سے عام کو خاص کرنا ابتداءً جائز نہیں، اسی طرح خبر واحد کی وجہ سے ظاہری معنٰی کو چھوڑ دینا اور مجاز کی صورت پر عمل کرنا جائز نہیں، بخلاف امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے۔‘‘
اسی لیے بعض اوقات ایک حدیث سند کے اعتبار سے قوی ہوتی ہے، لیکن قرآن کو اصل بنا کر اس حدیث میں تاویل کی جاتی ہے اور اس کا ایسا مصداق متعین کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید سے اس کا تعارض نہ رہے۔ مثلاً فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مروی ہے کہ مطلقہ بائنہ کے لیے نہ نفقہ ہے نہ سکنیٰ۔ لا نفقۃ و لا سکنٰی للمبتوتۃ لیکن حدیث بظاہر سورۂ طلاق کی آیت ۶ سے متعارض ہے جس میں فرمایا گیا ہے وَأَسْکِنُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُم  اور اِنْ کُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْھِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَھُنَّ، اس لیے حنفیہ کا نقطۂ نظر ہے کہ حضرت فاطمہؓ کی حدیث ایک استثنائی واقعہ ہے اور مطلقہ بائنہ ہو یا رجعیہ، دونوں ہی کے لیے نفقۂ عدت واجب ہے۔ 
اسی طرح بعض روایتیں جو سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں، اس لیے قبول کر لی جاتی ہیں کہ وہ معنًا قرآن سے مطابقت رکھتی ہیں جیسے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
من جمع بین صلٰوتین من غیر عذر فقد أتی بابًا من أبواب الکبائر۔ (سنن الترمذی: ۱/۹۳، باب : ماجاء فی الجمع بین الصلاتین، أبواب الصلاۃ)
’’جس نے بلا عذر دو نمازیں جمع کیں، اس نے گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کیا۔‘‘
اس روایت کا مدار، حنش بن قیس ہیں جو ضعیف ہیں، لیکن آیت قرآنی إِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَاباً مَّوْقُوْتاً۔ (النساء : ۱۰۳) سے فی الجملہ اس کی تائید ہوتی ہے کہ نمازیں اپنے مقررہ اوقات ہی پر ادا کی جائیں، اس لیے حنفیہ کے یہاں معناً یہ روایت مقبول ہے۔ 
متعارض احادیث کی ترجیح میں بھی حنفیہ کے یہاں اس اُصول کو خوب برتا گیا ہے کہ جو روایت اپنے معنٰی و مصداق کے اعتبار سے قرآن مجید سے موافقت اور قربت رکھتی ہو، اسے ترجیح دی جائے گی، چنانچہ احکام صلوٰۃ سے متعلق اکثر مشہور مسائل جن میں حنفیہ اور فقہاء حجاز کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے پر غور کیا جائے تو حنفیہ کا نقطۂ نظر اسی اُصول پر مبنی نظر آتا ہے، مثلاً ’’امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے‘‘ ہی کا مسئلہ ہے، حضرت عبادہ بن صامتؓ کی روایت لا صلٰوۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب  (جس نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی، اس کی نماز نہیں ہوئی) کے عموم سے مقتدی کے لیے قرأت کا وجوب ثابت ہوتا ہے، دوسری طرف آپؐ کا ارشاد بھی منقول ہے کہ:
انما جعل الامام لیؤتم بہ، فاذا کبر فکبروا واذا قرأ فانصتوا۔
’’امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، چنانچہ جب وہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہے تو تم بھی ’’اللہ اکبر‘‘ کہو، اور جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔‘‘
یہ دونوں روایتیں بظاہر متعارض ہیں، فقہاء حجاز نے عام طور پر پہلی روایت کو ترجیح دیا ہے، اور سِرّی اور بعضوں نے جہری نمازوں میں بھی مقتدی کے لیے قرأت فاتحہ کو واجب یا کم سے کم مشروع قرار دیا ہے، حنفیہ نے دوسری حدیث کو ترجیح دی، اس لیے کہ ارشاد خداوندی ہے: اِذَا قُرِأَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا (الاعراف: ۱۰۴) سے یہی حدیث مطابقت رکھتی ہے اور پہلی روایت کو منفرد اور امام سے متعلق قرار دیا۔
اسی طرح آمین کے مسئلہ کو لے لیجئے! آمین بالجہر اور آمین بالسرّ، دونوں روایتیں صراحتاً حضرت وائل بن حجرؓ سے مروی ہیں، شعبہ سے سِرّ کی روایت منقول ہے اور سفیان سے جہر کی۔ حنفیہ نے شعبہ کی روایت کو ترجیح دی، کیونکہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ آمین دعاء ہے اور قرآن مجید نے دعاء کا ادب یہ بتایا ہے کہ دعاء کرتے وقت قلب میں فروتنی و عاجزی کی کیفیت ہو اور آواز میں اخفاء: اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً۔ (الاعراف : ۵۵) 
قرآن سے موافقت کی بناء پر حدیث کا مقبول و نا مقبول ہونا، یا متعارض روایات میں اس کی بناء پر ترجیح دینے کے اُصول کو گو حنفیہ نے زیادہ برتا ہے، لیکن یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ احناف کا طبع زاد اُصول ہے اور وہ اس میں متفرد ہیں، بلکہ اصولی طور پر دوسرے اہل علم نے بھی اسے تسلیم کیا ہے، چنانچہ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے: 
وقال أبو الحسن ابن الحضار فی تقریب المدارک علی موطا مالک، قد یعلم الفقیہ صحۃ الحدیث اذا لم یکن فی سندہ کذاب بموافقۃ آیۃ من کتاب اللّٰہ أو بعض أصول الشریعۃ فیحملہ ذلک علٰی قبولہ والعمل بہ۔ (تدریب الراوی: ۱/۴۸، ط: دارالکتاب العربی، بیروت) 
’’ابوالحسن بن حضار نے ’’تقریب المدارک علی موطا مالک‘‘ میں کہا ہے کہ بعض اوقات فقیہ ایسی حدیث جس کی سند میں کوئی جھوٹا راوی نہ ہو، کے صحیح ہونے پر قرآن مجید کی آیت یا شریعت کے بعض اصول سے موافقت کی وجہ سے مطمئن ہو جاتا ہے، یہ بات اسے اس کے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔‘‘
کتب حدیث میں اس طرح کی بہت سی مثالیں مل جائیں گی، مثلاً نماز حاجت کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن ابی اوفٰیؓ کی جو روایت منقول ہے وہ سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر ان الفاظ میں نقد کیا ہے: 
قال أبو عیسٰی: ھذا حدیث غریب و فی اسنادہ مقال: فائدۃ بن عبد الرحمٰن یضعف فی الحدیث۔ (ترمذی: ۱/۱۰۹، باب ماجاء فی صلاۃ الحاجۃ: ط: دیوبند)
’’امام ترمذی نے فرمایا کہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں کلام ہے، فائدہ بن عبد الرحمن حدیث میں ضعیف ہیں۔‘‘
لیکن تمام ہی فقہاء نے غالبًا ارشاد ربانی: استعینوا بالصبر والصلٰوۃ۔ (البقرۃ: ۴۵) ’’صبر اور نماز کے ذریعہ سے اللہ سے مدد چاہو‘‘ کی روشنی میں اس حدیث کو تسلیم کیا ہے۔ 
بلکہ خود عہد صحابہؓ میں بھی جو حضرات اصحاب الرائے کہلاتے تھے، باوجودیکہ سند حدیث کی تحقیق کی ان کو کوئی حاجت نہیں تھی، انہوں نے اس اصول کو بعض احادیث کے قبول اور رَد کرنے میں معیار بنایا ہے، چنانچہ مطلقہ کے نفقہ و عدت کے سلسلہ میں حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی مذکورہ روایت جب حضرت عمرؓ کو پہنچی تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا اور ارشاد فرمایا:
لا ندع کتاب ربنا و سنۃ نبینا لقول امرأۃ۔ (سنن بیہقی: ۷/۵۷۴)
’’ہم اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبیؐ کی سنت کی سنت کو ایک عورت کی بات کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے۔‘‘
اسی طرح مشہور روایت: ان المیت لیعذب ببکاء أھلہ علیہ۔ (بخاری: باب :ماجاء فی البکاء علی المیت) ’’میت پر اس کے لوگوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے‘‘ پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے رَد فرمایا اور قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کیا کہ لا تزر وازرۃ وزر اخرٰی۔ (الانعام: ۱۶۴) ’’ایک شخص پر دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں۔‘‘ پس، گو حنفیہ نے اپنے اجتہادات میں اس اُصول کو زیادہ ملحوظ رکھا ہے، لیکن در حقیقت اُصولی طور پر تمام ہی اہل علم کو اس سے اتفاق ہے۔ 
(۲) حنفیہ کے طریقۂ استدلال کے سلسلہ میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ان کے یہاں روایات کے مقبول اور نا مقبول ہونے میں اس بات کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے کہ جو روایت شریعت کے عمومی مزاج و مذاق اور اصول و قواعد سے مطابقت رکھتی ہے، بعض اوقات سند میں ضعف کے باوجود مقبول ہوتی ہے اور بعض روایتیں گو سند کے اعتبار سے قوی ہوتی ہیں، لیکن چوں کہ اپنے مضمون اور متن کے اعتبار سے شریعت کے عام اور مسلمہ اصول و مبادی کے خلاف ہیں، اس لیے ایسی حدیثیں رَد کر دی جاتی ہیں۔ چنانچہ قاضی ابو زید دبوسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
الأصل عند أصحابنا أن خبر الآحاد متٰی ورد مخالفًا لنفس الأصول لم یقبل (تاسیس النظر: ۷۷)
’’ہمارے اصحاب کے نزدیک اصول یہ ہے کہ خبر واحد نفس اصول کے خلاف ہو تو اس کو قبول نہیں کیا جائے۔‘‘
حنفیہ کے یہاں بہت سے مسائل ہیں جو بظاہر اس اصول پر منطبق ہیں، جیسے حیوانات کے فضلہ کا ناپاک ہونا، عورت کے یا شرم گاہ کے چھونے کا ناقضِ وضو نہ ہونا، پتھر سے استنجاء میں تین پتھروں کا واجب نہ ہونا اور جس جانور کا دودھ تھن میں روک رکھا گیا ہو (مصراۃ) کو فروخت کرنے کے مسئلہ میں حدیث کی ظاہری مراد پر عمل کرنے کے بجائے تاویل و توجیہ کی راہ اختیار کرنا، اور اس طرح کے کتنے ہی مسائل ہیں جن میں نمایاں طور پر اس قاعدہ کا اثر محسوس ہوتا ہے۔
متعارض احادیث کی ترجیح میں بھی حنفیہ نے اس اصول سے فائدہ اٹھایا ہے، جیسے صلوٰۃ کسوف (سورج گہن کی نماز) ہی سے متعلق روایتوں کو دیکھئے جن میں ایک رکعت میں ایک رکوع سے پانچ رکوع تک کی تعداد مروی ہے، جمہور نے سند کے قوی ہونے پر نگاہ رکھتے ہوئے اس روایت کو ترجیح دیا جس میں ایک رکعت میں دو رکوع کا تذکرہ ہے، حنفیہ نے ان روایتوں کو ترجیح دیا جس میں ایک رکوع کا اشارہ ملتا ہے، کیونکہ یہ نماز کی عمومی کیفیت سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔ 
حنفیہ کے بعد غالباً مالکیہ کے یہاں اس اصول کو زیادہ برتا گیا ہے، علامہ شاطبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر روشنی ڈالی ہے:
اذا جاء خبر الواحد معارضًا لقاعدۃ من قواعد الشرع ھل یجوز العمل بہ؟ قال أبو حنیفۃ: لا یجوز العمل بہ وقال الشافعي: یجوز، وتردد مالک في المسئلۃ، قال: والمشھور والذي علیہ المعول ان عضدتہ قاعدۃ أخری قال بہ وان کان وحدہ ترک۔ (مالک: ۲۵۷، لأبی زہرہ)
’’خبر واحد شریعت کے قواعد میں سے کسی قاعدہ کے معارض ہو تو کیا اس پر عمل کرنا جائز ہوگا؟ امام ابو حنیفہؒ نے کہا کہ اس پر عمل کرنا جائز نہیں، امام شافعی ؒ نے کہا جائز ہے، اور امام مالکؒ کو اس میں تردد ہے، اور مشہور قول جس کو قبول کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اگر دوسرا قاعدہ اس کی تائید میں ہو تو اسے قبول کیا جائے گا اور اگر خبر واحد تنہا ہو تو اسے چھوڑ دیا جائے گا۔‘‘
حنفیہ اور مالکیہ کے یہاں واقعہ ہے کہ اصول کی رعایت زیادہ ہے، لیکن یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ محدثین نے اس کو بالکل ہی نا قابل اعتناء سمجھا ہے، خود امام بخاریؒ کے یہاں ایسی متعدد مثالیں ملتی ہیں کہ انہوں نے اخبار آحاد کے مقابلہ میں شریعت کے قواعد عامہ کو مقدم رکھا ہے، امام ترمذیؒ نے کتنی ہی روایتیں نقل کی ہیں اور اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ اسی پر اہل علم کا عمل ہے، اور بعض ایسی روایتیں بھی ہیں کہ ان کی توثیق بھی کرتے ہیں اور اس کے بھی معترف ہیں کہ اہل علم کے یہاں اس پر عمل نہیں ہے۔
اسی لیے علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اصولی بات لکھی ہے کہ:
وعلٰی کل حال فالتقیید بالاسناد لیس صریحًا في صحۃ المتن وضعفہ بل ھو علی الاحتمال۔ (فتح المغیث: ۱/۱۰۶)
’’بہرحال، اسناد کی قید کے ساتھ (کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف قرار دینا، یعنی یہ کہنا کہ اس کی سند صحیح ہے، یا اس کی سند ضعیف ہے) مضمون حدیث (متن) کے صحیح یا ضعیف ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ اس میں احتمال ہے۔‘‘
پھر آگے لکھا ہے:
وکذا أورد الحاکم فی مستدرکہ غیر حدیث یحکم علی اسنادہ بالصحۃ وعلی المتن بالوھاء بعلۃ أو شذوذ الی غیرھما من المتقدمین وکذا من المتأخرین کالمزني حیث تکرر منہ الحکم بصلاحیۃ الاسناد ونکارۃ المتن۔ (فتح المغیث: ۱/۱۰۷)
اسی طرح متقدمین میں سے امام حاکم مستدرک میں متعدد حدیثیں نقل کرتے ہیں، جن کی سند پر صحیح ہونے کا اور متن پر علت یا شذوذ کی وجہ سے ضعیف ہونے کا حکم لگاتے ہیں، اور اسی طرح متأخرین میں سے امام مزنی وغیرہ سے بھی بار بار یہ بات پیش آئی ہے کہ وہ سند کے معتبر اور متن کے منکر ہونے کا حکم لگاتے ہیں۔‘‘
(۳) حدیث کے مقبول ہونے کے سلسلہ میں حنفیہ کے یہاں ایک اہم اصول یہ ہے کہ حدیث کا صحابہ و تابعین اور ائمہ مجتہدین کے درمیان درجۂ قبول حاصل کر لینا بجائے خود اس کے معتبر و مقبول ہونے کی دلیل ہے، اسی کو اہل علم نے ’’تلقی بالقبول‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ ’’تلقی بالقبول‘‘ کی وجہ سے بعض روایتیں سند کے اعتبار سے ضعیف ہونے کے باوجود اہل علم کے یہاں پایۂ قبول حاصل کر لیتی ہیں اور اگر صحیح یا حسن ہیں تو ان کے استناد و اعتبار میں اضافہ ہو جاتا ہے، لیکن بعض محققین کے نزدیک تو وہ تواتر کے درجہ میں آجاتی ہیں، چنانچہ حضرت عائشہؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے طلاق الأمۃ ثنتان وعدتھا حیضتان والی روایت منقول ہے، ابوبکر جصاص رازی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے: 
وان کان واردۃ من طریق الآحاد، فصار في حیز التواتر لأن ما تلقاہ الناس من أخبار الآحاد بالقبول فھو عندنا في معنٰی المتواتر لما بیناہ۔ (أحکام القرآن للجصاص: ۲/۱۳۰)
’’اگرچہ یہ خبر واحد کے طریقہ پر وارد ہوئی ہے، لیکن یہ تواتر کے درجہ میں ہے، اس لیے کہ جب خبر واحد کو لوگ قبول کر لیں، وہ ہمارے نزدیک تواتر کے حکم میں ہے، اسی بناء پر جو ہم بیان کر چکے ہیں۔‘‘
مولانا ظفر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ اس موضوع پر بحث کے بعد رقم طراز ہیں:
بل الحدیث اذا تلقتہ الأمۃ بالقبول فھو عندنا في معنی التواتر۔ (قواعد فی علوم الحدیث: ۶۲)
’’بلکہ حدیث کو جب امت میں قبول عام حاصل ہو جائے تو ہمارے نزدیک وہ تواتر کے معنٰی میں ہے۔‘‘
اسی طرح جیسا کہ مذکور ہوا، ’’اہل علم کے نزدیک قبول عام‘‘ (تلقی بالقبول) کی وجہ سے سند کے اعتبار سے ضعیف روایتیں بھی صحت کے درجہ میں آجاتی ہیں، حضرت عائشہؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی مذکورہ روایت کی بابت علامہ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
وما تصح الحدیث أیضًا ھو عمل العلماء علی وفقہ۔ (فتح القدیر)
’’جو بات اس حدیث کو صحیح قرار دیتی ہے، وہ علماء کا اس کے موافق عمل کرنا ہے۔‘‘
نیز مولانا عبد الحئی فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے:
وکذا اذا تلقت الأمۃ الضعیف بالقبول یعمل بہ علی الصحیح۔ (الأجوبۃ الفاضلۃ: ۵۱)
’’جب امت حدیث ضعیف کو قبول کر لے تو اس پر صحیح قول کے مطابق عمل کیا جائے گا۔‘‘
بعض حضرات کے نزدیک خاص صورتوں میں خبر واحد قیاس کے مقابلہ میں رد کر دی جاتی ہے، لیکن اسے تلقی بالقبول حاصل ہو تو وہ ان کے نزدیک بھی قابل عمل ہے، علامہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
وما خالف القیاس، فان تلقتہ الأمۃ بالقبول فھو معمول بہ۔ (اصول السرخسی : ۱/۳۴۱)
’’جو حدیث قیاس کے خلاف ہو، اگر اُمت میں اُسے قبولِ عام حاصل ہوگیا ہو تو اس پر عمل کیا جائے گا۔‘‘
حنفیہ کے یہاں اس اصول کو زیادہ ملحوظ رکھا گیا ہے، بلکہ حنفیہ کے یہاں حدیث اور خبر واحد کے درمیان حدیث کی ایک اور قسم ’’خبر مشہور‘‘ کی اصطلاح پر غور کیا جائے تو غالباً اسی اصول پر مبنی ہے۔ فخر الاسلام بزدوی رحمۃ اللہ علیہ نے خبر واحد کی تعریف اس طرح کی ہے: 
المشھور ماکان من الآحاد في الأصل ثم انتشر فصار منقلۃ قوم لا یتوھم تواطؤھم علی الکذب وھم القرن الثاني بعد الصحابۃ رضی اللّٰہ عنھم من بعدھم۔ (اصول البزدوی: ۲/۶۷۴)
’’حدیث مشہور وہ ہے جو اصل میں خبر واحد ہو، پھر اہل علم میں پھیل جائے، یہاں تک کہ اتنے لوگ اس کے نقل کرنے والے ہوں کہ ان کا جھوٹ پر اتفاق ممکن نہ ہو، یعنی صحابہؓ کے بعد دوسری صدی کے ناقلین۔‘‘
گویا خبر مشہور وہ ہے جو گو عہد صحابہ میں اخبار آحاد کے قبیل سے ہو، لیکن تابعین اور تبع تابعین کے عہد میں اسے قبول عام حاصل ہوگیا ہو۔ علامہ نسفی رحمۃ اللہ علیہ نے اس طرف اشارہ کیا ہے، چنانچہ خبر مشہور کے ذریعہ کتاب اللہ پر زیادتی کے درست ہونے کی وجوہ پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
لأن الأمۃ تلقتہ بالقبول واتفاقھم علی القبول لا یکون الا بجماع جمعھم علی ذلک۔ (المنار مع کشف الاسرار: ۲/۱۳)
’’اس لیے کہ علماء کے درمیان قبول عام اور قبولیت پر اتفاق کسی ایسے سبب سے ہی ہو سکتا ہے، جس نے ان سب کو اس پر متفق کیا ہو۔‘‘
حالانکہ حنفیہ کے یہاں خبر واحد سے کتاب اللہ کے عام کی تخصیص اور مطلق کی تقیید نہیں کی جا سکتی، لیکن متعدد روایتیں ہیں کہ احناف نے ان کے ذریعہ تخصیص و تقیید کی ہے، جیسے: القاتل لا یرث ’’قاتل (مقتول کا) وارث نہیں ہو سکتا۔‘‘
یقید الأب من ابنہ ولا یقید الابن من أبیہ۔
’’باپ بیٹے سے قصاص لے گا، بیٹا باپ سے قصاص نہیں لے سکتا۔‘‘
لا زکٰوۃ في مال حتّٰی یحول علیہ الحول۔
’’مال میں زکوٰۃ نہیں، جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے۔‘‘
اسی لیے کہ یہ اور اس طرح کی اخبار آحاد نے قبول عام کی وجہ سے ایک خصوصی درجۂ استناد و اعتبار حاصل کر لیا ہے۔ 
حنفیہ کے یہاں حدیث کی تحقیق و تنقیح میں چوں کہ درایت کا استعمال زیادہ ہے، اس لیے انہوں نے اس قاعدہ سے بھی زیادہ مدد لی ہے، لیکن اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ دوسرے فقہاء محدثین کے نزدیک اس کا کوئی اعتبار نہیں، فقہاء مالکیہ میں علامہ ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث ھو الطھور ماءہ ’’سمندر کا پانی پاک ہے‘‘ پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے: 
لٰکن الحدیث عندي صحیح لأن العلماء تلقوہ بالقبول۔ (تدریب الراوی: ۱/۴۷، ط: دارالکتاب العربی، بیروت)
’’لیکن میرے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے، اس لیے کہ علماء نے اسے قبول کر لیا ہے۔‘‘
ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ نے تمہید میں الدینار أربعۃ و عشرون قیراطًا ’’دینار چوبیس قیراط کا ہوتا ہے‘‘ پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے: 
واجماع الناس علی معنی غني عن الاسناد فیہ۔ (حوالہ سابق)
’’لوگوں کا اس بات پر اتفاق، اسے سند سے بے نیاز کر دیتا ہے۔‘‘
ابو اسحاق اسفرائنی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے: 
تعرف صحۃ الحدیث اذا اشتھر عند أئمۃ الحدیث بغیر نکیر منھم۔ (تدریب الراوی: ۱/۴۷، ط: دارالکتاب العربی، بیروت)
’’جب ائمہ حدیث کے نزدیک کوئی حدیث بلا نکیر مشہور ہو، تو تم اس طرح اس حدیث کے صحیح ہونے کو جان سکتے ہو۔‘‘
علامہ ابراہیم شبرخیتی مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کی ’’اربعین‘‘ کی شرح میں لکھا ہے: 
محل کونہ لا یعمل بالضعیف في الأحکام مالم یکن تلقتہ الناس بالقبول فان کان ذلک تعین و صار حجۃ یعمل بہ في الاحکام وغیرھا کما قال الشافعي۔ (دیکھئے: التحفۃ المرضیۃ: ۳۶۴)
’’احکام میں ضعیف حدیث پر عمل نہ کیے جانے کی بات اس وقت ہے جب کہ لوگوں نے اس کو قبول نہ کیا ہو، پس اگر اسے قبول عام حاصل ہو ۔۔۔ تو وہ حجت ہو جائے گی، جس پر احکام اور دوسرے اُمور میں عمل کیا جائے گا، جیسا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔‘‘
فقہاء شوافع میں علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلہ میں بڑی وضاحت سے لکھا ہے، فرماتے ہیں:
وکذا اذا تلقت الأمۃ الضعیف بالقبول یعمل بہ علی الصحیح، حتی أنہ ینزل منزلۃ المتواتر في أنہ ینسخ المقطوع بہ ولھٰذا قال الشافعي رحمہ اللّٰہ فی حدیث ’’لا وصیۃ لوارث‘‘ أنہ لا یثبتہ أھل الحدیث ولکن العامۃ تلقتہ بالقبول وعملوا بہ حتی جعلوہ ناسخًا لآیۃ الوصیۃ لہ۔ (فتح المغیث للسخاوی: ۱/۳۳۳)
’’جب امت حدیث ضعیف کو قبول کر لے تو صحیح قول کے مطابق اس پر عمل کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس دلیل قطعی کے لیے ناسخ ہونے میں وہ متواتر کے درجہ میں ہو جائے گی، چنانچہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث لا وصیۃ لوارث ’’وارث کے لیے وصیت کا اعتبار نہیں‘‘ کے بارے میں کہا ہے کہ علماء حدیث اسے مستند قرار نہیں دیتے، لیکن عام طور پر اہل علم نے اس کو قبول کیا ہے اور اس پر عمل کیا ہے، یہاں تک کہ اس کو آیت وصیت کے لیے ناسخ قرار دیا ہے۔‘‘
علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ ’’شرح نظم الدر‘‘ میں رقمطراز ہیں:
المقبول ما تلقاہ العلماء بالقبول وان لم یکن لہ اسناد صحیح أو اشتھر عند أئمۃ الحدیث بغیر نکیر عنھم۔ (دیکھئے: التحفۃ المرضیۃ: ۲۶۴)
’’حدیث مقبول وہ ہے جس کو علماء نے قبول کیا ہو، اگرچہ اس کی کوئی صحیح سند موجود نہ ہو، یا وہ حدیث ائمۂ حدیث کے نزدیک کسی نکیر کے بغیر مشہور ہو۔‘‘
علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’التعقبات علی الموضوعات‘‘ میں لکھا ہے: 
وقد صرح غیر واحد بأن من دلیل صحۃ الحدیث قول أھل العلم بہ وان لم یکن لہ اسناد یعتمد علی مثلہ۔ (دیکھئے: تحقیق الأجوبۃ الفاضلۃ للشیخ أبی غدۃ: ۲۲۹)
’’متعدد اہل علم نے صراحت کی ہے کہ اہل علم کا کسی حدیث کا قائل ہونا اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے، گو اس کی کوئی قابل اعتماد سند نہ ہو۔‘‘
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ ’’الافصاح علی نکت ابن صلاح‘‘ میں لکھتے ہیں:
ومن جملۃ صفات القبول التي لم یتعرض لھا شیخنا یعنی الحافظ زین الدین العراقي أن یتفق العلماء علی العمل بمدلول حدیث، فانہ یقبل حتی یجب العمل بہ وقد صرح بذلک جماعۃ من أئمۃ الأصول۔ (الأجوبۃ الفاضلۃ: ۲۳۲)
’’قبول حدیث کی جن صفات کا ہمارے استاذ علامہ زین الدین عراقی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر نہیں کیا ہے، ان میں ایک یہ ہے کہ علماء اس حدیث کے مدلول پر عمل کرنے کی بابت متفق ہوں، کہ وہ مقبول ہوگی اور اس پر عمل کرنا واجب ہوگا اور ائمۂ اُصول کی ایک جماعت نے اس کی صراحت کی ہے۔‘‘
نیز علامہ بزدوی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے:
والیہ ذھب بعض أصحاب الشافعي فقد ذکر في القواطع خبر الواحد الذي تلقتہ الأمۃ بالقبول یقطع بصدقہ۔ (کشف الاسرار للبزدوی: ۲/۶۷۴)
’’اور بعض فقہاء شوافع بھی اسی طرف گئے ہیں، چنانچہ انہوں نے قطعی دلیلوں میں اس خبر واحد کو بھی ذکر کیا ہے، جس کو امت میں قبول عام حاصل ہو، کہ اس کہ درست ہونے کا یقین کیا جائے۔‘‘
فقہ حنبلی کے معروف ترجمان حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ ’’کتاب الروح‘‘ میں ایک ضعیف روایت پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
فھذا الحدیث وان لم یثبت فاتصال العمل بہ في سائر الأمصار والأعصار من غیر انکار کاف في العمل بہ۔ (التحفۃ المرضیۃ: ۲۶۶)
’’یہ حدیث اگرچہ ثابت نہیں ہے، لیکن اس پر تمام شہروں اور زمانوں میں بلا نکیر عمل اس کے قابل عمل ہونے کے لیے کافی ہے۔‘‘
سلفی مکتبہ فکر کے صاحب نظر عالم علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:
وھکذا خبر الواحد اذا تلقتہ الأمۃ بالقبول فکانوا بین عامل بہ و متاول۔ (ارشاد الفحول)
’’اسی طرح خبر واحد کو جب امت میں قبول حاصل ہو جائے، کچھ لوگ اس پر عمل کریں اور کچھ لوگ اس کی تاویل کریں۔‘‘
اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ’’تلقی بالقبول‘‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام لوگ اس حدیث پر عمل ہی کرنے لگیں، بلکہ جو لوگ اس حدیث میں تاویل سے کام لیتے ہوں وہ بھی دراصل ان لوگوں میں داخل ہیں جو حدیث کو قبول کر رہے ہیں، جیسا کہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت بین عامل بہ و متاول سے ظاہر ہے۔
پس تلقی بالقبول ان اسباب میں سے ہے جو ضعیف حدیث کو درجۂ اعتبار عطا کرتا اور صحیح حدیثوں کی قوت و صحت میں اضافہ کا موجب ہوتا ہے اور ایک متفق علیہ اُصول ہے۔ لیکن احناف نیز مالکیہ نے اس اُصول کو زیادہ برتا ہے، مالکیہ کے نزدیک تعامل اہل مدینہ کو جو اہمیت اور اولیت حاصل ہے وہ در اصل اسی اصول کو برتنے سے عبارت ہے، بلکہ غور کیا جائے تو بخاری و مسلم کو حدیث کی دنیا میں جو درجۂ اعتبار و استناد حاصل ہوا ہے وہ اس لیے نہیں کہ اس کی تمام اسناد اہم درجہ ہیں اور کہیں انگلی رکھنے کی جگہ نہیں، اہل علم کے لیے یہ بات محتاج اظہار نہیں کہ بخاری کے سو سے زیادہ راویوں پر تو تشیع کی تہمت ہے اور ناصبیت نیز دوسرے باطل فرقوں کی طرف منسوب راویوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے، لیکن یہ اُمت کی طرف سے قبول عام ہی ہے جس کی وجہ سے ان کتابوں کی احادیث کو مقبول مانا جاتا ہے، چنانچہ ابن صلاح رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ شیخین کی روایت سے علم یقینی نظری حاصل ہوتا ہے اور وجہ یہی ہے کہ انما تلقتہ الأمۃ بالقبول۔(مقدمۃ ابن صلاح: ۱۲)
یہاں اس بات کا ذکر مناسب ہوگا کہ گو اس موضوع پر اصول حدیث و فقہ کی کتابوں میں جا بجا اشارے کیے گئے ہیں، لیکن محدث حسین بن محسن یمانی رحمۃ اللہ علیہ (م : ۳۲۷ھ) کا رسالہ ’’التحفۃ المرضیۃ فی بعض المشکلات الحدیثۃ‘‘ اس مسئلہ پر ایک بے نظیر تحریر ہے جو ’’المعجم الصغیر للطبرانی‘‘ کے ساتھ طبع ہو چکا ہے، اس رسالہ میں در اصل اس سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ بعض روایتوں کو ضعیف قرار دینے کے باوجود لکھا کرتے ہیں کہ اسی پر اہل علم کا عمل ہے: العمل علی ھذا الحدیث عند أھل العلم  تو روایت کے ضعیف ہونے کے باوجود اس پر کیوں عمل کیا جاتا ہے؟ مشہور محدث و محقق شیخ عبد الفتاح ابو غدہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ’’الأجوبۃ الفاضلۃ‘‘ کے اخیر میں اس موضوع پر اپنی تحقیقات رقم فرمائی ہیں جو بڑی چشم کشا اور قابل مطالعہ ہیں۔
یہ تو چند اہم پہلو تھے جو حنفیہ کے یہاں احادیث کے رد و قبول میں خاص طور پر ملحوظ ہیں، لیکن حنفیہ نے متن حدیث پر صحت و ضعف کا حکم لگانے یا متعارض روایات کو ایک دوسرے پر ترجیح دینے میں مزید جن قرائن و شواہد سے فائدہ اٹھایا ہے اور اصول درایت کو برتنے کی کوشش کی ہے، ان میں سے چند کی طرف اشارہ کر دینا بھی مناسب ہوگا۔ 
(۴) حدیث کے اولین راوی چوں کہ صحابہ کرامؓ ہیں اور وہ سب کے سب عادل و ثقہ ہیں اور ان کی عدالت و ثقاہت پر خود حدیث نبوی شاہد عدل ہے، اس لیے کسی حدیث کے بارے میں صحابہؓ نے جو رویہ اختیار کیا ہے، حنفیہ کے یہاں اس کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، چنانچہ:
(الف) اگر کوئی حدیث ایسے مسئلہ سے متعلق ہو جس میں عہد صحابہ میں اختلاف رائے رہا ہو اور اس حدیث سے کسی نے استدلال نہیں کیا ہو تو علامہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ کی زبان میں یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس حدیث میں کہیں کوئی کھوٹ موجود ہے اور یا تو یہ بعد کے راویوں کا سہو ہے یا پھر یہ حدیث منسوخ ہے۔ (اصول السرخسی : ۱/۳۶۹) جیسے عہد صحابہ میں اس بابت اختلاف تھا کہ جو باندی آزاد کے نکاح میں ہو، اس کی طلاق تین ہوگی یا دو؟ لیکن حدیث الطلاق بالرجال والعدۃ بالنساء ’’طلاق میں مردوں کا اور عدت میں عورتوں کا اعتبار ہوگا‘‘ سے استدلال نہیں کیا، اسی طرح نابالغ بچوں کے مال میں زکوٰۃ واجب ہونے کا مسئلہ صحابہ کے درمیان بھی اختلافی رہا ہے، لیکن حدیث ابتغوا فی أموال الیتامٰی خیرًا کیلا تأکلھا الصدقۃ سے استدلال کرنا کسی صحابیؓ سے منقول نہیں، اسی لیے حنفیہ کے یہاں ان احادیث کی تاویل کی گئی ہے۔ 
(ب) کسی روایت پر صحابہؓ کے عہد میں عمل نہ کیا گیا ہو، یا علانیہ اسے ترک کر دیا گیا ہو تو یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس حدیث کا ظاہری مفہوم و مصداق مطلوب نہیں ہے، جیسے زنا کی سزا کے سلسلہ میں ’’جَلد‘‘ (کوڑے لگانے) کے ساتھ ’’تغریب عام‘‘ (ایک سال کے لیے شہر بدر کرنے) کی سزا صحیح احادیث میں منقول ہے (بخاری : ۲/۱۰۰۸۔ ابوداؤد: ۲/۶۱۰) لیکن حضرت عمرؓ نے ایک خاص واقعہ کے پس منظر میں فرمایا کہ آئندہ میں کسی کو شہر بدر کرنے کی سزا نہیں دوں گا۔ اس لیے حنفیہ نے اس حدیث کے ظاہر پر عمل کرنے کے بجائے یہ نقطہ نظر اختیار کیا کہ ’’ایک سال شہر بدر کرنے‘‘ کی سزا سیاست شرعیہ کی قبیل سے ہے اور قاضی و امیر کی صوابدید پر ہے، اسی طرح فتح خیبر کی نظیر حضرات صحابہؓ کے سامنے تھی، پھر بھی حضرت عمرؓ نے فتح عراق کے موقع سے اراضی عراق کی تقسیم نہ فرمائی، اس لیے حنفیہ کے نزدیک اراضی مفتوحہ کی بابت فیصلہ کرنے میں حکومت مصالح کے تحت فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔ 
(ج) اسی طرح صحابہؓ نے کسی روایت کو نقل کیا ہو، جو اپنے معنٰی و مصداق کے اعتبار سے واضح ہو، اس کے باوجود خود اس صحابی کا فتویٰ یا عمل اس روایت کے خلاف ہو تو حنفیہ کے یہاں ایسی روایت بھی نامقبول ہے، جیسے: حضرت ابو ہریرہؓ سے ’’کتے کے جھوٹے‘‘ کے سلسلہ میں سات دفعہ دھونے کی حدیث مروی ہے (صحیح مسلم، باب : حکم ولوغ الکلب) لیکن خود ان کا فتویٰ تین دفعہ دھونے کا ہے (طحاوی: باب : سور الکلب) حنفیہ نے اس حدیث کو اصل بنایا اور سات بار والی روایت کو استحباب پر محمول کیا۔
اسی طرح ترمذی نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر اکثر وتر ادا فرمایا کرتے تھے (ترمذی: ۱/۱۰۸) لیکن خود حضرت عبد اللہؓ کا معمول نقل کیا گیا ہے کہ وتر ادا کرنے کے لیے سواری سے نیچے اتر آتے تھے، لہٰذا حنفیہ نے اسی پر عمل کیا، اور جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کا ذکر ہے، اسے تہجد پر محمول کیا، کیونکہ حدیث میں وتر کا لفظ تہجد کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ 
اسی طرح حضرت عائشہؓ سے وہ روایت منقول ہے جس میں عورت کے نکاح کے لیے ولی کو ضروری قرار دیا گیا ہے لا نکاح الا بولی  لیکن خود حضرت عائشہؓ نے اپنی بھتیجی یعنی حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرؓ کی لڑکی کا نکاح والد کی عدم موجودگی میں خود کیا ہے (المبسوط: ۵/۱۲) اسی لیے حنفیہ کے نزدیک بالغ لڑکی پر اولیاء کی ولایت استحبابی ہوگی نہ کہ وجوبی۔ 
البتہ اس سلسلہ میں دو باتیں قابل توجہ ہیں: اول یہ کہ اگر صحابیؓ کا عمل یا فتویٰ کسی حدیث کے خلاف ہو اور وہ حدیث ایسے مسئلہ سے تعلق رکھتی ہو کہ بعض لوگوں پر اس کا مخفی رہ جانا ناقابل قیاس نہ ہو، تو یہ اس حدیث کے مقبول ہونے میں مانع نہیں ہے، جیسے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس بات کے قائل نہ تھے کہ حائضہ طوافِ وداع ترک کر سکتی ہے، یا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی رائے منقول ہے کہ نماز کی حالت میں قہقہہ ناقضِ وضو نہیں، علامہ سرخسی نے لکھا ہے کہ یہ ایسے ہی مسائل میں ہے۔ (اصول السرخسی: ۲/۸)
دوسرے: اگر کسی حدیث میں ایک سے زیادہ معنوں کی گنجائش ہو اور کسی صحابی نے اپنے اجتہاد سے ایک معنٰی مراد لیا تو یہ حجت نہیں، کیونکہ اس کی بنیاد اجتہاد ہے نہ کہ نص، فالعبرۃ لما روی لا لما رأی  چنانچہ خرید و فروخت کے بارے میں المتبایعان بالخیار مالم یتفرقا  مروی ہے، یہاں جمہور کے نزدیک تفرق أبدان  مراد ہے، یعنی جب تک ایجاب کے بعد قبول کا اظہار نہ ہو جائے بیع کو رد کرنے کا اختیار حاصل ہے، حالانکہ خود حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس حدیث کے وہی معنٰی مراد لینا ثابت ہے جو جمہور نے لیا ہے، لیکن چونکہ خود اس حدیث کے الفاظ میں ان دونوں معنوں کی گنجائش ہے، اس لیے حنفیہ کے یہاں روایت کے الفاظ زیادہ قابل لحاظ ہیں نہ کہ راوی کا اپنا اجتہاد۔ 
(۵) احناف کے یہاں بعض کتب اصول میں خبر واحد کے مقبول ہونے کے لیے یہ شرط بھی لگائی گئی ہے کہ اس کے رُواۃ مقبول ہوں، لیکن حضرت الامام کے مجتہدات پر غور کیا جائے تو اس کی تصدیق دشوار ہے، کیونکہ کتنے ہی مسائل ہیں جن میں حنفیہ نے ایسے راویوں کی روایت کو لیا ہے جو تفقہ میں معروف نہ تھے، ہاں یہ ضرور ہے کہ اگر دو حدیثیں متعارض ہوں اور سند کے اعتبار سے دونوں ہی صحیح ہوں تو امام صاحب ایسی روایت کو ترجیح دیتے ہیں جن کو ’’اصحاب فقہ راویوں‘‘ نے نقل کیا ہے، اس کی بہترین مثال امام ابو حنیفہ رحمۃا للہ علیہ اور امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان دارالحناطین مکہ میں رفع یدین کے مسئلہ پر ہونے والا مناقشہ ہے، جس میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے راویوں کے تفقہ کو ملحوظ رکھ کر ’’حماد عن ابراہیم عن علقمہ و اسود عن عبد اللہ بن مسعود‘‘ کی سند کو ’’زہری عن سالم عن عبد اللہ بن عمر‘‘ پر ترجیح دی اور واسطوں کے کم ہونے کے مقابلہ میں، راوی کے تفقہ کو آپ نے زیادہ اہم سمجھا۔ 
علامہ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے اس مناقشہ کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے: 
فرجح بفقہ الرُواۃ کما رجح الأوزاعي بعلو الاسناد وھو المذھب المنصور عندنا۔ (فتح القدیر : ۱۱/۳)
’’امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے راویوں کے تفقہ کی بنا پر حدیث کو ترجیح دی جیسا کہ امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ نے سند کے عالی ہونے کی بنا پر اور یہی (تفقہ کی بنا پر ترجیح) ہمارے نزدیک مذہبِ منصور ہے۔‘‘
علامہ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے ’’تحریر الاصول‘‘ میں بھی وجوہِ ترجیح میں اس کا شمار کیا ہے اور اس سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ نکاح محرم کے مسئلہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کو ابو رافع رضی اللہ عنہ کی روایت پر ترجیح ہوگی۔ (دیکھئے تیسیر التحریر: ۳/۱۶۷)
بعض حضرات نے اس پر نقد کیا ہے کہ روایت حدیث کا تعلق بنیادی طور پر حفظ سے ہے، اس لیے روایت حدیث میں حفظ پر تفقہ کو ترجیح دینا قرین صواب نہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ روایات زیادہ تر بالمعنی مروی ہیں نہ کہ باللفظ، اور معانئ حدیث کی حفاظت وہی کر سکتا ہے جو فہم بلیغ اور قلب عقول بھی رکھتا ہو، علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ بھی فی الجملہ راوی کے تفقہ کو وجۂ ترجیح قرار دیتے ہیں: ان تفقہ الراوي مرجح بحال۔ (المحصول : ۲/۴۵۴) اور علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس نقطۂ نظر کی معقولیت کا احساس کرتے ہوئے فرماتے ہیں: لأنہ أعرف بمدلولات الألفاظ  (ارشاد الفحول: ۲۶۷)
حنفیہ کے علاوہ بعض دوسرے ائمۂ حدیث و فقہ نے بھی اس اُصول کو تسلیم کیا ہے، امام وکیع نے ایک صاحب سے دریافت کیا کہ تم أعمش عن أبی وائل عن عبد اللّٰہ بن مسعود اور سفیان عن منصور عن ابراہیم عن علقمہ عن ابن مسعود  میں سے کس سند کو ترجیح دیتے ہو؟ ان صاحب نے کہا: اعمش کی سند کو۔ وکیع نے اظہارِ حیرت کرتے ہوئے کہا کہ اعمش و ابو وائل شیوخ ہیں، اور سفیان، منصور، ابراہیم اور علقمہ فقہاء ، اور جس حدیث کے راوی فقہاء ہوں، وہ اس حدیث سے بہتر ہے جس کو شیوخ نے نقل کیا ہو، حدیث یتداولھا الفقہاء خیر من أن یتداولھا الشیوخ۔
(۶) اس طرح یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جہاں محدثین نے اصول روایت کے اعتبار سے ذخیرۂ حدیث کو پرکھا ہے اور اس کے لیے تحقیق رجال کا وہ عظیم الشان کام سر انجام دیا ہے کہ تاریخ مذاہب میں اس کی مثال نہیں مل سکتی اور مستشرقین تک نے اس کا اعتراف کیا ہے، وہاں فقہاء اور بالخصوص فقہاء احناف نے متن حدیث کو کتاب اللہ، شریعت کے عمومی اہداف و مقاصد اور مزاج و مذاق نیز جو واقعات مروی ہیں، ان کے تاریخی پس منظر کی روشنی میں پرکھنے کی جو کوشش کی ہے اور درایت حدیث کے جو اُصول و قواعد قائم کیے ہیں، ان کی داد نہ دینا بھی نا انصافی ہوگی، لیکن افسوس کہ تحقیق حدیث کے اس پہلو کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا، بلکہ فقہاء حنفیہ کو ان کی اس سعی مسعود پر بعض کوتاہ فہم اور کوتاہ بین اہل قلم نے، تارک حدیث اور متبع رائے ٹھہرایا، حالانکہ یہ ایسا ظلم ہے کہ علم کی دنیا میں کم ایسا ظلم روا رکھا گیا ہوگا۔ 
اگر بہ نظر انصاف دیکھا جائے تو بہ مقابلہ دوسرے مکاتب فقہ کے حنفیہ کے یہاں احادیث سے اعتناء زیادہ نظر آتا ہے، اس سلسلہ میں فقہاء کے دو اُصولی اختلاف کی طرف اشارہ کرنا مناسب محسوس ہوتا ہے، اول یہ کہ تابعین کی مرسل روایات میں درمیان کے واسطوں کو حذف کرکے براہ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی گئی روایات، حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک حجت ہیں، بشرطیکہ راوی کے بارے میں معلوم ہو کہ عام طور پر وہ ثقہ راویوں ہی سے روایت لیتا ہے (قفو الاثر: ۶۷) امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور بعد کے اہل علم نے عام طور پر سند میں انقطاع کی وجہ سے مراسیل کے قبول نہیں کیا ہے، حنفیہ نے مرسل روایات اور خاص کر امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کی مراسیل سے بہ کثرت استدلال کیا ہے، جس کا اندازہ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کی ’’کتاب الاثار‘‘ سے کیا جا سکتا ہے۔ 
احناف کا مرسل کو قبول کرنا جہاں ان کی اس فکر کا غماز ہے کہ ’’دین میں نقل پر عمل بہرحال عقل کو راہ دینے سے بہتر ہے‘‘، وہیں یہ حقیقت بھی پیش نظر ہے کہ بہت سے محدثین حدیث کو اس وقت مرسلًا نقل کرتے تھے جب متعدد شیوخ کے ذریعہ ان تک بہ کمال اعتبار و استناد یہ روایت پہنچتی تھی، حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جب کسی صحابی کی روایت مجھ تک چار اصحاب کے ذریعہ پہنچتی ہے تو میں ارسالًا روایت کرتا ہوں، اذا اجتمع لي اربعۃ من الصحابۃ علی حدیث أرسلہ ارسالًا (اصول السرخسی: ۱/۳۶۱) ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کہا کرتے تھے کہ جب میں کسی حدیث کو براہ راست حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کروں تو سمجھنا چاہیے کہ میں نے ایک سے زیادہ لوگوں سے یہ حدیث سنی ہے: اذا قلت قال عبد اللّٰہ فھو عن غیر واحد عن عبد اللّٰہ (تدریب الراوی: ۱/۱۶۹) اسی لیے حنفیہ نے نماز میں قہقہہ کے ناقضِ وضو ہونے کے مسئلہ میں ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ کی مرسل روایت ہی کو اصل بنایا ہے۔ (سنن دار قطنی : ۱/۱۷۱)
(۷) دوسرے جن مسائل میں احادیث مرفوعہ موجود نہ ہوں، کہا جا سکتا ہے کہ ان میں حنفیہ کے یہاں صحابہ کے فتاویٰ کی حیثیت قول آخر کی ہے اور عام طور پر وہ اس سے تجاوز نہیں کرتے، حنفیہ کے علاوہ حنابلہ کے سوا شاید ہی کسی دبستانِ فقہ میں آثارِ صحابہؓ کو اس درجہ اہمیت دی گئی ہو، چنانچہ اس سلسلہ میں حنفیہ کی رائے کا خلاصہ یہ ہے کہ:
i) کوئی ایسا مسئلہ ہو جس میں قیاس کو دخل نہ ہو اور اس سلسلہ میں ایک ہی صحابی کا قول منقول ہو، صحابہ کے درمیان اختلاف نقل نہ کیا گیا ہو تو قول پر عمل کرنا واجب ہے: 
ولا خلاف بین أصحابنا المتقدمین والمتأخرین أن قول الواحد من الصحابۃ حجۃ في مالا مدخل للقیاس في معرفۃ الحکم فیہ۔ (اصول السرخسی : ۲/۱۱، نیز دیکھئے: التقریر والتحبیر: ۲/۳۱۱)
’’ہمارے متقدمین و متاخرین اصحاب کے درمیان اس بابت کوئی اختلاف نہیں کہ ایک صحابی کا قول بھی ان مسائل میں حجت ہے، جن کا حکم جاننے میں قیاس کا کوئی دخل نہیں۔‘‘
چنانچہ حضرت انسؓ کے قول پر حیض کی کم سے کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن، حضرت عبد اللہ بن عمرو بن ابی العاصؓ کے قول پر نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن، حضرت عائشہؓ کے قول پر حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال اور حضرت علیؓ کے قول پر مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم حنفیہ نے مقرر کی ہے، کیوں کہ مقدار اور مدت کی تعیین میں اجتہاد کو کوئی دخل نہیں۔
ii) کوئی ایسا مسئلہ ہو جس میں اجتہاد کی گنجائش ہو اور ایک ہی صحابی کا قول منقول ہو، اس صورت میں اختلاف ہے، ابوبکر جصاص رازی، ابو سعید بردعی، فخر الاسلام بزدوی، شمس الائمہ سرخسی اور ابو الیسر رحمہم اللہ وغیرہ کی رائے پر اس صورت میں بھی قول صحابی حجت ہے اور اس پر عمل واجب ہے۔ (التقریر والتحبیر : ۲/۳۱۰) اور نسفی کا بیان ہے کہ : علی ھذا أدرکنا مشائخنا (کشف الاسرار مع نور الأنوار: ۲/۱۷۴)
یہی رائے مالکیہ کی ہے، یہی ایک قول امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا ہے اور یہی امام شافعی رحمۃ اللہ کا قول قدیم تھا۔ (التقریر والتحبیر: ۲/۳۱۰)
امام کرخی اور قاضی ابو زید دبوسی کا خیال ہے کہ ایسی صورت میں قول صحابی حجت نہیں، بلکہ قیاس پر عمل کیا جائے گا (حوالہ سابق، نیز دیکھئے الاقوال الاصولیۃ للکرخی: ۹۲، باب قول الصحابی) یہی امام شافعی رحمۃ اللہ کا قول جدید ہے۔ (دیکھئے: الاحکام فی اصول الاحکام للآمدی: ۲/۳۵۷) گو اس حقیر کا خیال ہے کہ خود امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے اجتہادات سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی، پہلے نقطۂ نظر اور اس کے دلائل پر امام سرخسی نے شرح و بسط کے ساتھ روشنی ڈالی ہے (اصول السرخسی: ۲/۱۰۸) اور دوسرے نقطۂ نظر کو کرخی نے دلائل و براہین کی قوت کے ساتھ واضح کیا ہے۔ (دیکھئے : الاقوال الاصولیۃ للامام الکرخی: ۹۲)
سرخسی نے اس صورت میں بھی قول صحابی کے معتبر ہونے کے سلسلہ میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور صاحبین رحمۃ اللہ علیہما کا نقطۂ نظر اس طرح نقل کیا ہے: 
  • قیاس کا تقاضا تھا کہ وضو اور غسلِ جنابت دونوں ہی میں کلی اور ناک میں پانی ڈالنا سنت ہو، لیکن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کی بناء پر قیاس کو ترک کر دیا گیا اور وضو میں سنت اور غسل میں واجب قرار دیا گیا۔ 
  • قیاس کا تقاضا تھا کہ خون زخم پر ظاہر ہو اور اپنی جگہ سے نہ بہہ پایا ہو تب بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے، لیکن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کی بناء پر ہم نے اس صورت کو ناقص وضو قرار نہیں دیا۔ 
  • اگر کسی شخص کی ایک شب و روز یا اس سے کم نمازیں بے ہوشی کی حالت میں گزر جائیں تو از روئے قیاس قضا واجب نہ ہونی چاہیے ، لیکن حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے قول کی بنا پر قضا واجب قرار دی گئی۔
  • از روئے قیاس مریض موت کا اپنے وارث کے حق میں اقرار معتبر ہونا چاہیے، لیکن حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عہنما کے قول پر اس کو نا معتبر قرار دیا گیا۔
  • کوئی شخص اس طرح خرید و فروخت کا معاملہ طے کرے کہ اگر میں تین دنوں تک قیمت ادا نہ کر پایا تو ہمارے درمیان بیع نہیں، تو قیاس کا تقاضا ہے کہ یہ معاملہ فاسد ہو، لیکن امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علہما نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عہنما کے قول پر اس معاملہ کو درست قرار دیا ہے۔ 
  • اگر ’’اجیر مشترک‘‘ کے پاس سے سامان کسی ایسے سبب سے ضائع ہوگیا جس سے بچنا بھی ممکن تھا، تو قیاس یہ ہے کہ اجیر پر اس کا ضمان نہ ہو، لیکن امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علہما نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کی بنا پر اس کو ضامن قرار دیا۔
  • امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے محض عبد اللہ بن مسعود اور حضرت جابرؓ کے قول کی بنا پر حاملہ عورت کو ایک سے زیادہ طلاق دینے کو خلاف سنت قرار دیا۔ (ملخص از: اصول السرخسی: ۲/۶۔۱۰۵)
حقیقت یہ ہے کہ یہ محض چند مثالیں ہیں، ورنہ فقہ حنفی میں اس کی بہت سی نظیریں ملتی ہیں کہ قیاس و اجتہاد کے بجائے ’’اقوالِ صحابہ‘‘ کو مشعل راہ بنایا گیا اور عقل پر بہرحال نقل کو ترجیح دی گئی ہے، فقہ حنفی کے اس مزاج و مذاق اور مسلک و طریق پر خود امام صاحب کا قول شاہد عدل ہے کہ:
ان لم أجد في کتاب اللّٰہ ولا سنۃ رسول اللّٰہ آخذ بقول من شئت وأدع من شئت منھم، ولا أخرج من قولھم الی قول غیرھم۔
’’اگر قرآن و حدیث میں حکم نہ ملے تو صحابہ میں سے جس کا قول مناسب سمجھتا ہوں لیتا ہوں اور جس کا مناسب خیال کرتا ہوں چھوڑتا ہوں، لیکن ان کے قول سے باہر نہیں جاتا۔‘‘
اب اگر کسی خاص مسئلہ میں امام صاحب نے قول صحابی کو نہ لیا ہو تو سمجھنا چاہیے کہ اس کی کوئی اور وجہ ہوگی یا صحابہ میں اس مسئلہ میں ایک سے زیادہ رائیں رہی ہوں گی جو امام صاحب کے علم میں آئی ہوں گی، انہیں میں آپ نے ترجیح کا راستہ اختیار کیا ہوگا۔ 
iii) اگر کسی مسئلہ میں صحابہ کے ایک سے زیادہ اقوال ہوں تو پھر امام صاحب ان میں سے انتخاب کرتے ہیں اور جو قول قرآن سے قریب تر اور مزاجِ دین سے موافق تر محسوس ہوتا ہو اس کو اختیار کرتے ہیں۔
iv) فقہ حنفی کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام صاحب بعض اوقات آثار صحابہ سے خبر واحد میں تخصیص کے بھی قائل ہیں، مثلًا حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ:
لیس علی المسلم في عبدہ ولا فرسہ صدقۃ۔
’’مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘
اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عہنما سے مروی ہے کہ گھوڑوں میں زکوٰۃ کا واجب نہ ہونا ان گھوڑوں کے ساتھ مخصوص ہے جو جہاد کے لیے استعمال کیے جائیں۔ (البحر المحیط: ۴/۳۹۸) ایسے ہی مرتد کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: من بدّل دینہ فاقتلوہ  (جس نے اپنا دین بدل لیا، اس کو قتل کر دو) ۔ اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ عورت مرتد ہو جائے تو اسے قتل نہ کیا جائے، چنانچہ حنفیہ نے عورت کو ارتداد کی بنا پر سزائے قتل سے مستثنیٰ کیا ہے، ان کے نزدیک اسے قید میں رکھا جائے گا تا آں کہ وہ تائب ہو جائے۔ 
اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:
اذا أقیمت الصلاۃ فلا صلاۃ الا المکتوبۃ۔ (ترمذی: ۲/۲۸۲، باب : ماجاء اذا اقیمت الصلاۃ)
’’جب نماز قائم کی جائے تو سوائے فرض نماز کے نماز نہیں پڑھی جائے۔‘‘
لیکن حضرت عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہم سے خاص طور پر نماز فجر میں اقامت نماز کے بعد بھی سنت پڑھنا ثابت ہے، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
(۸) حنفیہ کے یہاں حدیث پر عمل کا اس درجہ اہتمام ہے کہ ان کے یہاں یہ بات اُصول کے درجہ میں ہے کہ جن مسائل میں کوئی حدیث موجود نہ ہو، لیکن ایسی ضعیف روایات موجود ہوں جن کے راوی پر کذب کی تہمت نہ ہو تو بمقابلہ قیاس کے ایسی ضعیف احادیث پر عمل کیا جائے گا۔ مشہور محدث اور فقیہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے حنفیہ کا مذہب اس طرح بیان کیا ہے: 
ان مذھبھم تقدیم الحدیث الضعیف علی القیاس المجرد الذی یحتمل التزییف۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۱/۳)
’’حنفیہ کا مذہب یہ ہے کہ حدیثِ ضعیف کو مجرد قیاس پر جو کھوٹ کا احتمال رکھتا ہے مقدم رکھا جائے۔‘‘
علامہ حصکفی رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث ضعیف پر عمل کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے:
شرط العمل بالحدیث الضعیف عدم شدۃ ضعفہ، وأن لا یعتقد سنیۃ ذلک الحدیث۔
’’حدیث ضعیف پر عمل کرنے کی شرط یہ ہے کہ اس کا ضعف شدید نہ ہو، اور اس کے سنت سے ثابت ہونے کا اعتقاد نہیں رکھے۔‘‘
اور شامی رحمۃ اللہ علیہ ’’شدت ضعف‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے رقمطرز ہیں :
شدید الضعف ھو الذی لا یخلو طریق من طرقہ عن کذاب أو متھم بالکذب۔ (رد المختار: ۱/۸۷)
’’شدید ضعف سے مراد یہ ہے کہ اس کی کوئی سند جھوٹے یا جھوٹ سے متہم راوی سے خالی نہ ہو۔‘‘
نہ صرف حدیث کے قبول و رد بلکہ اس کی توجیہ و تاویل کے باب میں بھی علامہ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کیسی شمشیر بے نیام ہیں، وہ محتاج اظہار نہیں، لیکن انہیں بھی اعتراف ہے کہ:
جمیع الحنفیۃ مجمعون علی أن مذھب أبی حنیفۃ ھی أن ضعیف الحدیث عندہ أولی من الرأی۔ (مقدمۃ علوم الحدیث للتھانوی: ۶۹)
’’تمام احناف اس بات پر متفق ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ ان کے نزدیک ضعیف حدیث بھی قیاس سے بڑھ کر ہے۔‘‘
اور علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں:
وأصحاب أبي حنیفۃ مجمعون علی أن مذھب أبي حنیفۃ أن ضعیف الحدیث عندہ أولی من القیاس والرأی، وعلی ذلک مبني مذھبہ کما قدم حدیث القھقھۃ مع ضعفہ علی القیاس والرأی۔ (اعلام الموقعین: ۱/۷۷)
’’حنفیہ اس بات پر متفق ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ ضعیف حدیث ان کے نزدیک قیاس اور رائے پر مقدم ہے، اور اسی پر ان کے مذہب کی بنیاد ہے، جیسا کہ انہوں نے قہقہہ کی حدیث کو اس کے ضعیف ہونے کے باوجود قیاس اور رائے پر ترجیح دی ہے۔‘‘
اس لیے حنفیہ کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ اپنی رائے کے مقابلہ میں صحیح و ثابت احادیث کو نظر انداز کر دیتے ہیں، یا تو ان کے منہج استدلال سے ناواقفیت کے باعث ہے، اور یہ منہج اُصولی طور پر محدثین و سلف صالحین کے نزدیک قریب قریب متفق علیہ ہے، یہ اور بات ہے کہ دوسرے مکاتب فقہ میں اُصولِ روایت پر قناعت کیا گیا اور وجوہِ درایت پر کم توجہ دی گئی اور حنفیہ نے عملی طور پر اس کو برتا ہے، یا پھر یہ بہتان عظیم اور کذبِ اثیم ہے۔ والی اللّٰہ المشتکي۔

اسلامی جمہوریت کا فلسفہ ۔ شریعت اور مقاصد شریعت کی روشنی میں (۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی

سولہویں صدی میں مارٹن لوتھر کی اصلاح مذہب کی تحریک مغربی دنیا میں انقلابات اور تبدیلیوں کا نکتہ آغاز ثابت ہوئی اور مغربی دنیا انقلاب ،تبدیلی ،جدیدیت،پرانے تصورات و مفروضات کی بیخ کنی،مذہب پرستی اور کسی مابعد الطبیعی طاقت کوماننے کی بجائے انسانیت پرستی اور عقل پرستی کی ایک ایسی شاہراہ پر گامزن ہوئی، جس نے حیاتِ انسانی کا ہر شعبہ مکمل طور پر تبدیل کیا۔مغربی مفکرین و فلاسفہ نے انسانیت پرستی،مساوات ،ترقی،آزادی اور عقل پرستی کا نعرہ کچھ اس انداز سے لگایا کہ مغربی دنیا کا ہر فرد اپنے ماضی سے لاتعلقی،مذہب سے بیزاری اور ان مفکرین کے طے کردہ خود ساختہ اصولوں کے مطابق اپنی زندگی کو مکمل طور پر تبدیل کرنے پر آمادہ ہوا۔
مخصوص اسباب اور پس منظر کی بنا پر اس نعرے کی تاثیر اور جاذبیت اتنی زیادہ تھی کہ بقیہ دنیا بھی آہستہ آہستہ مغرب کی ہم نوا بنتی گئی،چناچہ مغربی مفکرین کے خود ساختہ اصولوں کی آفاقیت اورجامعیت ایک طے شدہ اصول اور مسلمہ نظریہ بنتا گیا۔
مغربی دنیا نے اپنے خودساختہ اصولوں اور مسلمات کی بنیاد پر زندگی کا ہر شعبہ از سرنو مرتب کیا۔ آزادی، مساوات،ترقی،عقل پرستی اور انسان کی مکمل خود مختاری کی بنیاد پر حکومت و ریاست کے لیے جو نظام تجویز ہوا،وہ لبرل جمہوریت کا تصور تھا۔لبرل مغربی جمہوریت کی ظاہری ابتدا انقلاب فرانس سے ہو ئی ،لیکن تعجب اور حیرت کی بات یہ ہے کہ حیاتِ انسانی کے لیے مغرب کے بنائے ہوئے دیگر نظاموں کی بنسبت لبرل جمہوریت کی مقبولیت کی رفتار کافی سست رہی ۔ اور انقلاب فرانس 1789سے لیکر جنگ عظیم اول 1914تک صرف چند مغربی ممالک نے لبرل جمہوریت کو ریاست وحکومت کے لیے بطورِ نظام اختیار کیا تھا۔ البتہ جنگ عظیم اول کے نتیجے میں جب خلافت عثمانیہ شکست و ریخت کا شکار ہوئی اور خلافت عثمانیہ کے مختلف خطے نافرمان اولاد کی طرح اپنے مرکز سے سازشوں کا شکار ہو کر جدا ہوئے ،تو مغرب نے لبرل جمہوریت کو جدید دنیا کے لیئے بطورِ نظام متعارف کروانے کے لئے کو ششیں تیز ترکردیں۔ سفارتی ،سیاسی ، عسکری ، فکری ،غرض ہر سطح پر لبرل جمہو ریت کو عام کرنے پر کچھ اس انداز سے محنت ہوئی کہ چند عشروں میں آدھی سے زائد دنیا نے لبرل مغربی جمہوریت کو قبول کیا ۔ اقوام متحدہ کے ادارے نے جہاں دیگر مغربی خود ساختہ اصولوں کو آفاقیت عطا کی ، وہاں ریاست وحکومت کے لئے لبرل جمہوریت کے نظام کو جدید دنیا کامتفقہ و مسلمہ نظریہ بنایااور آج اکیسویں صدی میں جمہوریت کو اتنا تقدس، عظمت اور احترام حاصل ہے کہ جمہوریت کے قیام کے لئے اقوام متحدہ دنیا کے ہر ملک میں مغربی اور امریکی جنگ کو قانونی جواز تک فراہم کرتا ہے ۔

لبرل مغربی جمہوریت کے بنیادی خدوخال اور اصول

اس سے پہلے کہ لبرل جمہوریت کی اسلام کاری اور اسلامی جمہوریت کے فلسفے پر بحث ہو لبرل مغربی جمہوریت کے بنیادی اصول ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ اس بات کا تجزیہ آسان ہو کہ اسلامی دنیا میں لبرل مغربی جمہوریت کے کن اصولوں کی اسلام کاری کس انداز سے کی گئی اور ان صولوں میں ترمیم و تبدیل سے جمہوریت کا نظام کس طرح اسلامی تعلیمات اور مقاصدِ شریعت کے ہم آہنگ ہو گیا ۔

۱۔عوام کی حاکمیت

لبرل مغربی جمہوریت کا بنیادی اور اساسی رکن عوام کی کلی حاکمیت اور خود مختاری کا تصور ہے کہ کسی بھی ریاست کے عوام کو اپنی مرضی کے قوانین بنانے ،اپنی پسند کے نمائندے چننے اور اپنی چاہت و خواہشاات کے مطابق اپنے ملک کا نظام چلانے کا مکمل اختیار ہے ۔

۲ ۔عوامی نمائندوں کا تصور

لبرل مغربی جمہوریت میں عوامی نمائندگی پارلیمنٹ کی شکل میں ہوتی ہے کہ ریاست کے ہرہر فرد کو چونکہ ملکی معاملات میں شریک کرنا ایک ناممکن سی بات ہے اس لئے اس کا طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ ملکی عوام اپنے نمائندے کثرت کی بنیاد پر منتخب کریں گے اور پارلیمنٹ کی صورت میں یہ ارکان عوامی نمائندگی کا فریضہ سرانجام دیں گے۔

۳۔پارلیمنٹ کے لا محدود اختیارات

لبرل مغربی جمہوریت میں چونکہ پارلیمنٹ ریاست کے جملہ افراد کی نمائندگی کرتا ہے اس لئے پارلیمنٹ ملک کا سپریم اور طاقت ور ادارہ ہوتا ہے اور ملک میں ہر قسم کی قانون سازی ،تبدیلی اور اصلاحات کا اختیار پارلیمنٹ کے ارکان کے پاس ہوتا ہے اور ارکانِ پارلیمنٹ اکثریت کی بنیاد پر ہر قسم کا فیصلہ کرنے اور ہر قسم کی قانون سازی کا مجاز ہوتے ہیں۔

۴۔ آئین و دستور کی بالادستی اور تقدس

لبرل مغربی جمہوریت میں عوامی نمائندے قانون کا ایک مجموعہ مرتب کرتے ہیں جو اس ملک کا آئین اور دستور کہلاتا ہے ۔یہ ملکی دستور عوامی نمائندوں کی کثرت کی بنیاد پرمنظور ہوتاہے۔ آئین کو انتہائی تقدس اور عظمت کا درجہ ملتا ہے اور ملک کا کوئی بھی فرد خواہ وہ صدر ہو یا عام آدمی، دستور اور آئین کے خلاف کسی قسم کی لب کشائی نہیں کر سکتا اور نہ ہی ملکی عداتیں دستور اور آئین کے خلاف کسی قسم کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ ملک کے تمام جھگڑوں ،تنازعات اور اختلافات میں آئین کو مرجعیت اور فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ 

۵۔ بالغ رائے دہی کا تصور اور سیاسی مساوات

لبرل مغربی جمہوریت میں ملک کا ہر بالغ فرد رائے دہی اور ووٹنگ کا اہل ہوتا ہے تعلیم یافتہ ہو یا جاہل،مرد ہویا عورت،دیہی علاقے کا ہو یا شہری، اسی طرح ملک کے جملہ افراد کے ووٹ کی یکساں قیمت اور اہمیت ہوتی ہے اور ملک کے کسی بھی فرد کے ووٹ کو دوسرے فرد کے ووٹ پر برتری حاصل نہیں ہوتی ۔نیزملک کا ہر فرد پارلیمنٹ کا ممبر اور امیدوار بن سکتا ہے۔بعض ممالک میں مخصوص تعلیم کی اہلیت کی شرط ہے لیکن جمہوریت کی روح اور اس کا فلسفہ یہی کہتا ہے کہ ملک کے ہر فرد کو پارلیمنٹ کا ممبر بننے کا بنیادی حق حاصل ہے ۔جمہوریت کی اصطلاح میں اسے سیاسی مساوات کہتے ہیں۔

۶۔ کثرتِ رائے کا تصور

لبرل مغربی جمہوریت میں ووٹنگ کاعمل ہو یا پارلیمنٹ میں قانون سازی تمام فیصلے اکثریت کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اور اکثریت کا فیصلہ حتمی شمار ہوتا ہے اکثریت کے فیصلے سے رو گردانی جمہوریت کی بنیادوں سے انحراف سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی کسی جمہوری نظام میں اکثریت کے فیصلے کو رد کرنے کا کسی کو اختیار ہوتا ہے ۔

۷۔سیاسی جماعتوں اور حزبِ اختلاف کا تصور

جمہوری نظام میں ملک کے افرادانفرادی حیثیت میں بھی پارلیمنٹ کا ممبر بننے کے لئے تگ و دو کر سکتے ہیں اور لسانی ،علاقائی،طبقاتی نظریاتی اور دیگر اشتراکات کی بنیاد پرایک جماعت بھی تشکیل دے سکتے ہیں ۔سیاسی جماعت بندی کی کوئی حد متعین نہیں ہوتی۔پھر انتخابات کے بعد اکثریت جماعت کو حکومت بنانے کا حق مل جاتا ہے اور وہ ملک کا نظم و نسق چلانے کا بیڑااٹھا لیتی ہے ۔جبکہ دیگر جماعتیں حزبِ اختلاف بن جاتی ہیں اور یوں ملک کی سیاسی جماعتیں حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف میں تقسیم ہوجاتی ہیں ۔حزبِ اختلاف کا اصل تصور تو یہ ہے کہ اہلِ اقتدار کے لئے وہ پریشر گروپ کا کردار ادا کرتا رہے تاکہ اہلِ اقتدار حکومت و اختیار کے بل بوتے پر ملک وملت کے لئے نقصان دہ معاملات کرنے سے باز رہے لیکن عمومی طور پر جمہوری ملکوں میں حزبِ اختلاف کی وجہ سے پروپیگنڈے،بد اعتمادی اور حکومت کے خلاف افواہوں اور تبصروں کا ایک بازار گرم ہوتا ہے ۔نیز سیاسی جماعتوں کی وجہ سے ملک کے عوام ایک دائمی تقسیم کا شکار ہوتے ہیں۔بعض ترقی یافتہ جمہوری ملکوں میں دو جماعتی نظام رائج ہے ایک حزبِ اقتدار میں ہوتی ہے جبکہ دوسری جماعت حزبِ اختلاف کا کردار ادا کرتی ہے ۔

۸۔مساوات اور آزادی

جنسی ،سیاسی،مذہبی مساوات اور اپنے نظریات اور رائے کے اظہار کی مکمل آزادی جمہوریت کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ ریاست کی نظر میں تمام افراد برابر سمجھے جاتے ہیں۔ ہر ایک کو اپنے مذہب پر عمل اور مذہب کی تبلیغ اور نشر واشاعت کا مکمل اختیار ہو تا ہے سب کو یکساں سیاسی حقوق حاصل ہو تے ہیں۔خلاصہ یہ کہ جمہوری نظام کا فلسفہ کہتا ہے کہ ریاست افراد کے درمیان مذہب، جنس یا کسی اور وجہ سے کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں کرے گی۔ 

۹۔ مذہب اور ریاست کی علا حدگی یعنی لبرلزم وسیکولرزم

لبرل مغربی جمہوریت کی پوری عمارت سیکولرزم کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ سیکولرزم کا سادہ اور آسان مفہوم یہ ہے کہ مذہب خواہ کوئی بھی ہو ،ریاستی معاملات اور امور میں دخل انداز اور اثر انداز نہیں ہو گا۔مذہب افراد کا نجی معاملہ ہے ۔ ریاست کے تمام امور مذہب سے بالکل لا تعلق رہیں گے۔ریاست کے قوانین کے مذہب کی بنیاد پر نہیں بنائے جائیں گے۔

۱۰۔ اختیارات کی تقسیم اور حکومت کی مدت

لبرل مغربی جمہوریت میں اختیارات تقسیم ہو تے ہیں ۔ملک کا نظم ونسق چلانے کاکام انتظامیہ کے سپرد ہو تا ہے۔ قانون سازی کا فریضہ پارلیمنٹ کا ادارہ سر انجام دیتا ہے اور دستور کے مطابق فیصلے کرنے اور دستور کی تشریح عدالتوں کا کام ہو تا ہے۔یہ تینوں ادارے آپس میں بالکل مساوی ؔ حیثیت رکھتے ہیں۔ہر ایک کا اپنا دائرہ کار ہو تا ہے ، کوئی دوسرے پر حاکم اور بالادست نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ جمہوری نظام میں حکومت کی مدت مقرر ہو تی ہے ہر پانچ یا چار سال بعد دوبارہ انتخابات ہو تے ہیں اور ان انتخابات کے نتیجے میں ز سرِنو حکومت بنتی ہے۔

لبرل مغربی جمہوریت کی اسلام کاری کی بحث

لبرل مغربی جمہوریت کی اسلام کاری پر بحث کے لئے اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ لبرل مغربی جمہوریت کے بنیادی اصولوں اور اسلامی تعلیمات میں کتنا تضاد ہے اور کتنی ہم آہنگی؟لبرل مغربی جمہوریت اور اسلامی تعلیمات میں خصوصاً وہ تعلیمات جو حکومت و ریاست سے متعلق ہیں ،مشترک اصول کتنے ہیں؟ ظاہر ہے اگر لبرل مغربی جمہوریت اور اسلامی تعلیمات میں موافقت زیادہ ہے تو اس نظام کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کرنا آسان ہو گا۔ البتہ یہ بات پھر بھی قابل بحث رہے گی کہ جمہوریت کو مکمل اسلامی بنانے کے بعد یہ نظامِِ حکو مت مقاصد شریعت سے کتنی مطابقت رکھتا ہے ؟ اور لبرل جمہوریت کی ’’اسلامی شکل ‘‘سے وہ مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں؟لیکن اگر جمہوریت کے سارے یا اکثر اصول اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں تو محض ایک یا دو چیزوں میں ترمیم کرنے سے لبرل جمہوریت اسلامی نہیں بن سکتی اور جزوی ترمیم سے اس پر اسلامی کا لیبل لگانا درست نہیں ہو گا ،کیونکہ یہ اصول ہے کہ اسلامی اور غیر اسلامی کا آمیزہ غیر اسلامی ہی کہلاتا ہے ۔اسی کو ٹھیٹھ علمی اصطلاح میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ کسی چیز کا اسلامی ہونا موجبہ کلیہ ہے ،جبکہ غیر اسلامی ہو نا سالبہ جزئیہ ہے ۔ 
اب ہم لبرل مغربی جمہوریت کے مذکورہ بنیادی اور اساسی اصولوں کا شریعت کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں ۔اسکے بعد اس پر بحث کریں گے کہ اسلامی ممالک نے جمہوریت کو کن ترمیمات کے ساتھ بطورِ نظام کے قبول کیا،خصوصا پاکستان میں رائج جمہوری نظام پر اسلامی نکتہ نظر سے بحث کریں گے۔

لبرل مغربی جمہوریت کے اصول شریعت کے روشنی میں عوام کی کلی حاکمیت کا تصور

عوام کی کلی حاکمیت اور خود مختاری کا اصول اسلامی تعلیمات سے کلی طور پر متصادم ہے ۔ نصوص اللہ کی کلی حاکمیت اور احکامِِ خداوندی کی ہر اعتبار سے بالا دستی پر دلالت کرتے ہیں، ان الحکم الا للہ ، الا لہ الخلق والامر، ان الدین عند اللہ الا الاسلام، ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلں یقبل منہ، اور اس جیسی آیتیں تقاضا کرتی ہیں کہ بالادستی صرف اور صرف اللہ کے نازل کردہ دین کے لئے ہے ۔ لہذا اسلامی ریاست میں قانون سازی اللہ کی منشاء اور چاہت کے مطابق ہوگی اور دنیا میں اللہ کی چاہت کا مظہر صرف دینِ اسلام ہے ، اس لئے لبرل مغربی جمہوریت کی اسلام کاری کرتے وقت عوام کی جزوی و کلی حاکمیت کے تصور کی بیخ کنی کرنی ہو گی اور ایسی ترمیم کرنی ہوگی کہ حکمران عوامی نمائندہ ہونے کی بجائے اللہ اوراس کے رسول کا نمائندہ ہو اور عوامی خواہشات کی بجائے اللہ اور اس کے رسول کی رضا اور خوشی کو مد نظر رکھے۔

پالیمنٹ کو قانون سازی کے لامحدود اختیارات

یہ اصول بھی شریعت سے متصادم اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے ۔اسلامی ریاست میں قانون سازی صرف مباحات اور انتظامی امور میں ہو تی ہے ، مسائل منصوصہ اور متفق علیہامسائل بلا ترمیم و تبدیلی کے لاگو ہو تے ہیں ، البتہ مسائل اجتہادیہ میں اہل اجتہاد اور اسلامی علوم کے ماہرین یعنی فقہا اور علماء حالات کے مطابق مخصوص حدود کے اندر رہتے ہوئے قانون سازی کر سکتے ہیں ۔ لہذا جمہوریت کی اسلام کاری کرتے وقت پارلیمنٹ کے لا محدود اختیارات پر قد غن لگانا ہو گی ، اس کے لئے علاوہ پارلیمنٹ چونکہ قانون ساز مجلس ہے ،اس لئے اس کی اہلیت کے لئے وہی شرائط ہو ں گی جو مسائل و نصوص میں بحث کے لئے ہو تی ہیں ، کیو نکہ اسلامی تعلیمات کی رو سے عوم اور شرعی علوم سے بے بہرہ افراد کے لئے تقلید و اتباع کا حکم ہے ۔ خلاصہ یہ کہ اسلامی جمہوریت میں پارلیمنٹ سے متعلق دو باتیں طے کرنی ہوں گی:
ایک، پارلیمنٹ کے اختیارات کے حدود و قیود طے کرنا
دوم، پارلیمنٹ کے ممبر بننے کے لئے مخصوص شرائط لگانا

آئین و دستور کی ہر صورت میں بالادستی اور تقدس

آئین و دستور کی بالا دستی ،تقدس اور کلی حاکمیت کا اصول بھی شریعت کے منافی ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق ہر صورت میں بالا دستی صرف اور صرف اللہ کی نازل کردہ شریعت اور دین اسلام کی ہے ۔ ہر ایسا اصول ،قانون اور دستور جو شریعت کے متناقض ہو، دینِ اسلام کے مقابلے میں اس کی کچھ بھی حیثیت نہیں ہے ، خواہ ملک کے تمام افراد بلا کسی اختلاف کے اسے قانون بنائیں لہذا جمہوریت کی اسلام کاری کے وقت ایک تو آئین اور دستور کو مکمل اسلامی شکل میں ڈھالنا ہوگا اور اس کے بعد بھی ایسا نظام بنانا ہوگا جس کی رو سے آئین اور دستور اسی وقت تک محترم و مقدس سمجھا جائے گا جب تک وہ شرعی تعلیمات پر مشتمل ہو۔اگر آئین اوردستور کی کوئی بھی شق شریعت کے خلاف ہوتو اسے ہر صورت میں کالعدم سمجھا جائے گا۔اسے کالعدم قرار دینے کے لئے نہ کسی سفارش کی ضرورت ہو گی اور نہ پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت کی۔نیز پارلیمنٹ کا ہر ایسا پاس کیا ہوا قانون نا قابلِ قبول ہو گا جو شریعت سے متصادم ہو۔

بالغ رائے دہی اور سیاسی مساوات کا تصور

اس اصول کا خلاصہ دو باتیں ہیں : 
نمبر ۱ ۔انتخابِ امیر کا حق ملک کے ہر بالغ فرد کو حاصل ہے ۔
نمبر ۲۔۔ تمام افراد کی رائے کلی طور پر مساوی ہے۔
اس اصول کے دوسرے حصے کے بطلان پر نقل کے ساتھ عقل بھی واضح دلالت کرتی ہے کہ ہر آدمی کی رائے اور ہر آدمی کا مشورہ یکساں نہیں ہے ۔کیا عالم اور جاہل کی رائے برابر ہے؟کیا عقل مند، صاحبِ حکمت اور فہم اور شعور رکھنے والے اور اجڈ ،گنوار اور عقل و خرد سے عاری ایک انسان کی رائے یکساں ہو سکتی ہے؟ نیز عقل کے ساتھ یہ اصول شریعت کے بھی خلاف ہے ۔قرآن پاک میں ہے: ’’ قل ہل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون، افمن کان مؤمناً کمن کان فاسقاً‘‘ اور اس جیسی آیتیں نیک و بد ، عالم و جاہل اور کافر و مومن کے فرق پر دلالت کرتی ہیں۔
اسی طرح آپ نے شیخین کے بارے میں فرمایا: ’’لو اجتمعتما ما خالفتکما‘‘ (مسند احمد)‘‘یعنی جب تم اتفاق کر لیتے ہو تو میں اس کی مخالفت نہیں کرتا‘‘۔
گویا اس حدیث میں شیخین کی رائے کو باقی تمام صحابہ کی رائے پر فضیلت دی ہے۔
اس اصول کے پہلے حصے کے بارے میں چند باتیں پیشِ خدمت ہیں :
نمبر ۱۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے انتخابِ امیر میں مشورہ ضروری ہے البتہ اسلامی سیاست پر لکھنے والے تقریباً تمام مفکرین کا اتفاق ہے کہ مشورہ ہرہر فرد سے لینے کی بجائے صرف اہلِ حل و عقد سے لیا جائے یعنی معاشرے کے وہ با اثر افراد جو دینی،دنیاوی اور علمی وجاہت رکھتے ہوں، لوگوں کی نظر میں محترم سمجھے جاتے ہوں اور لوگ ان کی بات اور رائے کو وقعت دیتے ہیں۔ اس بات پر تو بحث کی گنجائش ہے کہ اہلِ حل و عقد کو متعین کرنے کی صورتیں کیا کیا ہو سکتی ہیں ؟ویسے بھی معاشرے میں ذی وجاہت لوگ تقریباً ممتاز اور متعین ہوتے ہیں، تھوڑی سی چھان بین سے مزید ممتاز ہو سکتے ہیں۔البتہ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ انتخابِ امیر اہلِ حل و عقد کریں گے اور بقیہ تمام امت اس منتخب شدہ امیر کی اطاعت کی بیعت کرے گی۔
علامہ ماوردی الاحکام السلطانیہ میں لکھتے ہیں:
فان اجاب الیھا بایعوہ علیھاوانعقدت ببیعتھم لہ الامامۃ فلزم کافۃ الامۃ الدخول فی بیعتہ والانقیاد لطاعتہ (صفحہ ۸)
اسی بات کو علامہ ابو یعلی نے الاحکام السلطانیہ میں(صفحہ 4 2 (علامہ جوینی نے غیاثی میں)صفحہ 46)ابنِ خلدون نے مقدمہ میں (صفحہ 161)او ردیگر فقہاء نے کتاب الا مارہ کے تحت ذکر کیا ہے۔
بلکہ مشہور محدث علامہ نووی نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ اہلِ حل وعد سے امامت منعقد ہو جائے گی ۔
چنانچہ شرح مسلم میں لکھتے ہیں:
واجمعواعلی انعقاد الخلافۃ باالاستخلاف وعلی انعقادھا بعقد اہلِ الحل والعقدلانسان اذالم یستخلف الخلیفۃ۔
نمبر ۲۔ فقھاء کی تصریحات کے ساتھ خلفاء راشدین کا طریقہ انتخاب بھی اس کی تائید کرتا ہے ،کیونکہ حضرت ابوبکر،حضرت عثمان اور حضرت علی کی خلافت اہلِ حل و عقد کی بیعت سے منعقد ہو گئی ،پھر بقیہ امت نے بیعتِ طاعت کی ۔بلکہ حضرت علی کو جب باغی ٹولے نے خلافت کی پیش کش کی تو حضرت علی نے فرمایا : 
لیس ذلک الیکم انما ہو لاہل الشوری و اہل بدر (الامامہ و السیاسہ لابن قتیبہ) 
خلفاء راشدین کے انتخاب میں اس وقت کے سرکردہ افراد کے علاوہ بقیہ تمام سلطنت میں سے کسی شخص کی رائے نہیں لی گئی ،اگر اسلامی تعلیمات کی رو سے انتخابِ امیر ہر شخص کا حق ہے ،تو خلفاء راشدین امت کے اس حق کو کیسے پامال کر سکتے تھے۔نیز اس زمانے میں پوری اسلامی قلم رو سے کسی نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا ۔خلفاء راشدین اور صحابہ کرام کا طرزِ عمل دلالت کرتا ہے ،کہ انتخاب امیر ہر شخص کا حق نہیں ہے ،بلکہ امت کے ذی شعور،عقل مند اور علم سے بہر ور افراد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خلیفہ کا انتخاب کریں گے۔
نمبر ۳۔۔بعض معاصرین نے اس بارے میں یہ رائے اختیار کی ہے کہ اہلِ حل و عقد کا فریضہ انتخاب کی بجائے محض نامزدگی ہے کہ وہ اپنے فہم سے خلافت کے لئے شخص کو نامزد کرتے ہیں ،پھر بقیہ امت کی بیعت سے اس کی امامت منعقد ہوتی ہے ۔لیکن یہ نظریہ محض نظریہ ہے۔خلفاء راشدین کا طریقہ انتخاب اور فقہاء کی تصریحات اس کی تائید نہیں کرتیں۔اگر واقعی بات ایسی ہے ،تو فقھاء اہلِ حل و عقد کی بیعت کو بیعتِ انعقاد اور بقیہ امت کی بیعت کو بیعتِ طاعت کیوں کہتے ہیں؟ نیزعلامہ ماوردی اور دیگر مفکرین کی عبارات واضح دلالت کرتی ہیں کہ اہلِ حل و عقد کی بیعت سے خلافت منعقد ہو جاتی ہے ،بلکہ امام جوینی نے باقا عدہ ان افراد کوالگ عنوان کے تحت ذکر کیا جو انتخابِ امام کے اہل نہیں ہیں(دیکھئے صفحہ46 تا صفحہ (50اور بقیہ امت پر اس امام کی اطاعت کی بیعت لازم ہو جاتی ہے۔
نمبر۵۔سیاسیاتِ اسلامیہ پر لکھنے والے کچھ معاصر مفکرین نے جو مذکورہ نظریہ اختیار کیا ہے اس کی اصل وجہ یہ ہے ،کہ ان کے بقول انعقاد کا حق صرف اہلِ حل و عقد کو دینا اور بقیہ امت کے افراد کو محروم کرنا ایک قسم کا استبداد ہے اور یہ طریقہ کار عوام کی غلامی اور مقہوریت کی ایک شکل ہے۔حالانکہ اسلام ہر فرد کو اپنی رائے کے جائز اظہار میں مکمل آزادی فراہم کرتا ہے ،لیکن اس قسم کے شبھات محض نظری ہیں ۔کیونکہ اہلِ حل و عقد کوئی خاص طبقہ ،خاص جماعت اور خاص گروہ کا نام نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے زیرک ،باشعور اور دینی و دنیاوی وجاہت والے افراد کو اہلِ حل و عقد کہا جاتا ہے ،خواہ ان کا تعلق کسی بھی خطے سے ہو ۔ہر فرد کو انتخاب کا حق دینے سے عام طور پر اہلیت رکھنے والا شخص منتخب نہیں ہوتا ،کیونکہ عوام کی اکثریت فہم و شعور ،علم وادراک اور صحیح افرادکی پہچان سے قاصر ہوتی ہے۔نیزمعاشرے کے ذی وجاہت لوگوں کی رائے عموماً پورے معاشرے کی رائے سمجھی جاتی ہے۔لہذا جب ہر علاقے ،ہر صوبے اور ہر خطے کے معاملہ فہم افراد انتخاب میں شریک ہیں تو یہ استبداد کے زمرے میں کیسے آتا ہے؟ اگر یہ استبداد ہے تو استبداد کی یہ شکل لبرل مغربی جمہوریت میں بھی پائی جا تی ہے کہ پارلیمانی نظام میں وزیرِ اعظم کے انتخاب کا فیصلہ ارکانِ پارلیمنٹ کرتے ہیں اور ملکی عوام براہِ راست اس انتخاب میں حصہ نہیں لیتے۔
خلاصہ یہ نکلا جمہوریت کی اسلام کاری میں اس اصول میں ایک تو یہ ترمیم کرنی ہو گی ،کہ انتخابِ امیر اور ملکی نظم و نسق اہلِ حل و عقد کے مشورے سے چلانا ہوگا۔البتہ اہلِ حل وعقد پر مبنی مجلسِ شوریٰ میں عوام سے مشورہ لیا جا سکتا ہے ،لیکن عوام کی رائے لازم نہیں ہو گی۔اس میں عوام کی رائے کے علاوہ دیگر شرائطِ اہلیت کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا۔نیز اسلامی تعلیمات کی رو سے چو نکہ اپنا تزکیہ ،اپنی اہلیت اور اپنی دین داری کا دعویٰ کرنا نہایت غیر مستحسن امر ہے۔اس لئے اہلِ حل و عقد کے مجلس شوریٰ کا رکن بننے کے لئے جو فرد مطالبہ کرے، اس پر اشتہاری مہم چلائے اور اپنی نامزدگی کے بارے میں پروپیگنڈہ کرے ،تو اس کی اہلیت محلِ نظر ہو گی۔اس کی مثال یوں ہے کہ لبرل مغربی جمہوریت میں جب نگران وزیرِ اعظم کا معاملہ آتا ہے، تو اگر کوئی خود نگران وزیرِ اعظم بننے کا مطالبہ کرے ،اس پر دلائل دے اور اپنی غیر جانبداری کا پروپیگنڈہ کرے، تو اس کو رد کیا جاتا ہے ،بلکہ ایک ایسے شخص کو نگران وزیرِ اعظم نامزد کیا جاتا ہے، جس کی غیر جانبداری کی گواہی دوسرے لوگ دیں ۔اس کے علاوہ مشورہ دینا چونکہ اہلِ حل و عقد کی ایک ذمہ داری اور ایک امانت ہے، اس لئے اس پر وہ بھاری بھرکم معاوضات کے مستحق بھی نہیں ہوں گے، اس لئے اسلامی جمہوریت میں اہلِ حل و عقد محض خیر خواہی اور امتِ مسلمہ کی بہتری کے لئے مشورہ اور رائے دیں گے۔جب یہ منصب مالی فوائد سے خالی ہو گا ،تو مقاصدِ شریعت مزید بہتر انداز میں حاصل ہوں گے ،کیونکہ مالی فوائد کے نہ ہونے کی وجہ سے اس کی طرف ہر کسی کی رغبت بھی نہیں ہو گی اور یوں درست افراد کے انتخاب تک رسائی زیادہ بہتر اور آسان ہو گی۔ 
خلاصہ یہ کہ جمہوریت کی اسلام کاری میں اس اصول میں درجہ ذیل ترمیمات کرنی ھوگی ۔
نمبر ۱۔ انتخاب امیر کا حق صرف اہل حل و عقد کو ہو گا ،ملک کا ہر شخص اس میں حصہ دار نہیں ہوگا۔
نمبر ۲۔ اہل حل و عقدصرف مشورہ اور رائے کا فریضہ سر انجام دیں گے ۔اس کام پر نہ تو ان کو معاوضہ دیا جائے گا اور نہ وہ اکثریت کے بل بوتے پر حکومت پر اثر انداز ہوں گے۔
نمبر ۳ ۔ایک مرتبہ جب اہل حل و عقد متعین ہو جائے تو مختلف عوامل کی بنیاد پر اس میں کمی بیشی تو ہو گی ،لیکن یہ اصول درست نہیں ہو گا کہ ایک مخصوص مدت تک تو وہ اہل حل و عقد ہوں ،ان کی عقل ، ان کا فہم ،مسلم ہو،پھر دوسری مدت میں ان کی عقل مندی کالعدم ہوجائے اور نئے اہل حل و عقد کی تلاش شروع ہو جائے۔باقی قانون سازی تو اہل حل و عقد میں سے صرف و ہی لو گ کریں گے جو دینی علوم کے ماہر ہوں ،اگرچہ دنیاوی معاملات میں ماہرین سے حقیقت حال معلوم کر کے ہی اس پر کوئی شرعی حکم لگایا جائے گا۔
یعنی جمہوریت کی اسلام کاری میں بالغ رائے دہی اور ہر رائے کی برابری کے اصول میں اسلامی تعلیمات اور مقاصدِ شریعت کے مطابق مناسب ترمیمات کرنی ہو گی ۔

کثرتِ رائے کی حتمیت کا اصول

کثرتِ رائے نہ تو اتنی بری چیز ہے کہ کسی بھی اعتبار سے قابلِ التفات نہیں ہے اور نہ اتنی اچھی ہے کہ ہر حال میں، ہر صورت میں اس کو ماننا لازمی اور حتمی ہے۔ اسلام کا اصول تو یہ ہے کہ الحق احق ان یتبع کہ اختلافِ رائے کے وقت دلائل اور قرائن سے جو رائے حق کے قریب ہو ،اسی کو اختیار کیا جائے خواہ اقلیت کی رائے ہو یا اکثریت کی ۔کسی رائے کے حق میں کثرت کی موافقت بھی اگرچہ اس کے حق اور درست ہو نے کے قرائن میں سے ایک قرینہ ہے ،لیکن یہی آخری اور حتمی قرینہ نہیں ہے ۔ در حقیقت لبرل مغربی جمہوریت کا یہی وہ اصول ہے جس کی مدد سے ملک میں خلافِ عقل ، خلافِ تہذیب اور خلافِ انسانیت اور اغراض پر مبنی ہر قسم کی قانون سازی ہو سکتی ہے ۔ اسی اصول کا کرشمہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں افراد کے کردار ، فہم و شعور اور تعلیم و تربیت کی بجائے کثرت اور محض کثرت کے لئے کوشاں رہتی ہیں اور یوں ملک میں مفاد پرستوں کا ایک ایسا ٹولہ وجود میں آجاتا ہے جو اقتدار و حکومت کے لئے اپنی پارٹیاں اور وفاداریاں ہر مدت کے بعد تبدیل کرتا ہے ، کیونکہ جمہوریت کا نظام صرف اور صرف کثرت کی صورت میں سیاسی جماعتوں اور شخصیات کی رائے کو وقعت دیتا ہے نہ کہ دلائل ، قرائن اور دیگر عوامل کی بنیاد بنا پر۔لہذا لبرل جمہوریت کی اسلام کاری کرتے وقت اس اصول میں یہ ترمیمات کرنی ہو گی ۔
۱۔مسائلِ منصوصہ اور متفقہ مسائل میں کثرتِ رائے کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا ۔
۲۔مسائلِ اجتہادیہ اور انتظامی امور میں کثرتِ رائے کا اعتبار کیا جائے گا ،البتہ حالات اور دلائل کے اعتبار سے اقلیت کی رائے بھی اختیار کی جا سکے گی۔
۳۔کثرتِ رائے کو ماننا قانوناً لازمی اور حتمی نہیں ہو گا۔
غرض کوئی ایسا طریقہ اپنا یا جائے گا جس کی رو سے کثرتِ رائے کی حتمیت اور لزوم ختم ہو جائے ،کیو نکہ کثرتِ رائے کی ہر اعتبار سے حتمیت اسلامی تعلیمات اور مقاصد الشریعہ سے کسی طرح سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

سیاسی جماعتوں اور حزبِ اختلاف کا تصور

لبرل مغربی جمہوریت میں حصولِ اقتدار کے لئے نسلی ، لسانی،علاقائی، ثقافتی اور نظریاتی بنیادوں پر مختلف سیاسی جماعتیں بنتی ہیں ۔ پھر جو جماعتیں دو تہائی اکثریت حاصل کرلیتی ہیں ۔وہ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہو جاتی ہیں اور بقیہ جماعتیں حزبِ اختلاف کا کردار ادا کرتی ہیں ۔ جمہوریت کی اسلام کاری میں یہ سوال نہایت اہمیت رکھتا ہے کہ کیا اسلامی تعلیمات کی رو سے اسلامی ریاست میں مختلف سیاسی جماعتوں کی گنجائش ہے یا نہیں؟نیز اسلامی ریاست میں حزبِ اختلاف کا تصور کس حد تک درست ہے ؟ گویا یہاں دو باتیں قابلِ تنقیح ہیں ۔
نمبر ۱۔حصول ِ اقتدار کے لئے مختلف بنیادوں پر سیاسی جماعتیں بنانا
نمبر ۲۔حزبِ اختلاف کاحکم
جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے ،تو لبرل مغربی جمہوریت میں سیاسی جماعتیں بنانے کی ضرورت اس لئے پیش آتی ہے کہ پارلیمنٹ ایک مکمل خود مختار قانون ساز ادارہ ہو تا ہے اور عمومی طور پر جمہوری ملکوں میں جس قسم کے لوگوں کی کثرت ہوتی ہے ، وہ ایسی قانون سازی کی کوشش کرتے ہیں ،جن سے ان کے خاص مقاصد زیادہ سے زیادہ حاصل ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ اس سے ملک کے دیگر طبقات کے فوائد ، مقاصد اور اور نظریات پر منفی اثر پڑتا ہے ، اس لئے ہر زبان ، ہر نسل ، ہر علاقے اور ہر طبقے والوں کی کوشش ہو تی ہے کہ سیاسی جماعتیں بنا کر پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرے تا کہ ان کے مفادت متاثر نہ ہوں ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کے اعتبار سے مکمل خود مختاری اور کثرتِ رائے کا حتمی ہونا ہی دراصل ملک میں مختلف سیاسی جماعتوں کی بنیاد بنتا ہے۔ جبکہ صحیح اسلامی ریاست میں سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ، کیونکہ مجلسِ شوری کو مسائل منصوصہ اور متفقہ میں ترمیم کا اختیار نہیں ہو تا۔ مسائل اجتہادیہ اور انتظامی امور میں بھی قانون سازی شریعت کے مقرر کردہ حدود اور قیود کے اندر ہو تی ہے ، اس لئے عموماً ملک کے کسی طبقے کے فوائد پر خاص اثر نہیں پڑتا ، کیونکہ اسلامی قوانین اور اصول کسی خاص طبقے کی سوچ اور فکر کا نتیجہ نہیں ،بلکہ احکم الحاکمین کی طرف سے مقرر کردہ ہیں ۔ ان میں انسانیت کے ہر طبقے کی ضروریات و حوائج کا مکمل لحاظ رکھا گیا ہے۔ اس لئے اگر اسلامی تعلیمات کے مطابق ادارہ پارلیمنٹ اور کثرتِ رائے کا اصول کی اصلاح کی جائے تو سیاسی جماعتوں کی ضرورت خود بخود ختم ہو جاتی ہے ۔
لیکن یہ بحث پھر بھی رہ جاتی ہے کہ اسلامی نکتہ نظر سے ایک اسلامی ریاست میں مختلف بنیادوں پر سیاسی جماعتیں بنانے کا کیا حکم ہے ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ نسلی ، علاقائی ، لسانی ثقافتی اور نظریاتی اعتبارات سے سیاسی جماعتیں بنانا اسلامی تعلیمات اور مقاصدِ شریعت سے مختلف وجوہ سے ہم آہنگ نہیں ہے ۔
۱۔ مسلمان بحیثیت امت ایک گروہ اور جماعت شمار ہوتے ہیں اور ان بنیادوں پر سیاسی جماعتیں بنانااتحادِ امت کو پارہ پارہ کر دیتی ہے ، جبکہ امت کا اتحاد و اتفاق برقراررکھنا شریعت کے اعظم مقاصد میں سے ہے۔
۲۔مختلف بنیادوں پر سیاسی جماعتوں کی وجہ سے عصبیت اور قومیت کے جذ بات ابھرتے ہیں اور اسلام اس عصبیت ، رنگ و نسل کے اعتبار سے تفریق اور رنگ ونسل کی بنیاد پر گروہ بندی کا شدت کے ساتھ رد کرتا ہے ۔
۳۔سیاسی جماعتوں میں عام طور پر جذبہ رقابت کی بنیاد پر نفرت اور ایک دوسرے سے بغض و عناد ہوتا ہے ،جس کی وجہ سے آپس میں گالی گلوچ،طعنہ زنی ،بہتان تراشی ،اورا یک دوسرے کی غیبت کا بازار گرم ہوتا ہے اور بسا اوقات قتل و غارت تک نوبت پہنچ جاتی ہے خصوصاً الیکشن کے قریب پورا معاشرہ ان برائیوں کی لپیٹ میں آجاتا ہے جیسا کہ عام مشاہدہ ہے۔جبکہ مسلم معاشرے سے یہ مفاسد اور ان کو جنم دینے والے ذرائع کو جڑ سے اکھاڑنا شریعت کے اعظم مقاصد میں سے ہے۔
۴۔ جب ہر سیاسی جماعت کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طریقے سے اقتدار تک پہنچ جائے ،تو بسا اوقات کچھ جماعتیں اس مقصد کے حصول کی خاطر کفریہ طاقتوں اور عالمی استعمار کی آلہ کار بھی بن جاتی ہیں اور یوں اسلامی معاشرے کے اندر سے منافقین اور کفریہ طاقتوں کے مقاصد پورا کرنے لوگ پیدا ہوتے ہیں ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کی اسلامی ریاست اور مسلم معاشرہ طرح کی مشکلات اور سازشوں کا شکار رہتا ہے ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلم ممالک میں پھیلے سازشوں کے جال در جال میں سیاسی شخصیات اور جماعتوں کا بڑا کردار ہے ۔
۵۔ ہماری پوری اسلامی تاریخ اس قسم کی سیاسی جماعتوں کے وجود سے خالی ہے اور اسلامی تاریخ اور اسلامی تہذیب بھی کسی چیز کے مقاصدِ شریعت سے ہم آہنگ ہونے یا نہ ہونے پر واضح قرینہ ہے۔ماضی میں اس کی کسی قسم کی نظیر نہ ملنا دلالت کرتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں مختلف بنیادوں پر سیاسی جماعتیں بنانا مقاصدِ شریعت سے ہم آہنگی نہیں رکھتا۔باقی ثقیفہ بنی ساعدہ کے مباحث، مہاجرین و انصار کے گروہ،جنگِ صفین اور جنگِ جمل کے واقعات اور واقعہ کربلا سے استشہاد دراصل سیاسی جماعتوں کے مفہوم ،مقصد اور ان تاریخی واقعات کے اصل پسِ منظر سے ناواقفیت پر مبنی ہے ۔عصرِ حاضر کی سیاسی جماعتوں اور ان تاریخی حوادث میں کسی طرح سے مماثلت نہیں ہے ۔
۶۔ بعض معاصرین کی رائے یہ ہے کہ امارت و حکومت تک پہنچنے کے لئے تو سیاسی جماعتوں کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ کام اہلِ حل و عقد سر انجام دیں گے، البتہ مختلف وزارتوں اور مختلف علاقوں کی ولایت اور سربراہی کے لئے سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے تاکہ امیر پوری ریاست میں صرف اپنی پسند کے لوگوں کو تعینات نہ کرے ،لیکن ظاہر ہے کہ جب سیاسی جماعتیں بنیں گی خواہ حکومت کے لئے ہو یا وزارت کے لئے، مذکورہ مفاسد اور برائیاں خود بخود پیدا ہوں گی اس لئے وزارت اورصوبوں کے سربراہ چننے کے لئے کوئی اور ایسا طریقہ کا راختیار کیا جا سکتا ہے ،جس میں مذکورہ مفاسد نہ ہوں مثلاً اہلِ حل و عقد جس طرح انتخابِ امیر کا کام کرتا ہے اسی طرح یہ کام بھی ان کے سپرد ہو۔اس میں بھی کوئی خلافِ شریعت بات نہیں وغیرہ۔غرض سیاسی جماعتوں سے مسلم معاشرے کو پاک کرنا مختلف وجوہ کی بناء پر اسلامی ریاست کے لئے بہت ضروری ہے ۔
اس کے بعدمرحلہ آتا ہے حزبِ اختلاف کا کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے حزبِ اختلاف کا تصور کیا ہے؟ تو اس بارے میں چند باتیں پیشِ خدمت ہیں۔
۱۔ لبرل جمہوری ملکوں میں حزبِ اختلاف کا کردار الیکشن میں ہاری ہوئی جماعتیں ادا کرتی ہیں۔ جب اسلامی ریاست میں اس قسم کی سیاسی جماعتوں کا تصور نہیں ہے تو حزبِ اختلاف بھی نہیں رہے گا۔
۲۔ امیر اور خلیفہ کی اطاعت اور اسلامی ریاست میں انار کی نہ پھیلانا شہریت کے بڑے مقاصد میں سے ہے۔اس پر امیر کی اطاعت پر دلالت کرنے والے نصوص اور مسلمانوں کی اجتماعیت کو برقرار رکھنے والی روایات شاہد ہیں۔جبکہ حزبِ اختلاف کا تصور ان مقاصد کے حصول میں رکاوٹ ہے ۔اس لئے حزبِ اختلاف اسلامی ریاست سے میل نہیں کھاتا۔
۳۔ زیادہ سے زیادہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ جب پریشر گروپ نہیں ہو گا تو حکمران مطلق العنان نہ بن جائیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام میں اس کا حل امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی صورت میں موجود ہے۔اور سلطانِ جائر کے سامنے کلمہ حق کہنا شریعت کی رو سے افضل جہاد ہے، اس لئے اسلامی معاشرے میں نیک،نڈر اور اسلامی غیرت سے سرشار لوگ یہ فریضہ اور جہاد خود بخود کرتے رہتے ہیں ،خواہ اس کے لئے ادارتی حد بندی نہ ہو۔ہماری تاریخ اس قسم کی مثالوں اور واقعات سے مزین ہے۔
۴۔ اسلامی ریاست میں فسق،غیر شرعی امور اور ظلم سے امیر مستحق عزل ہوتا ہے اور بعض حالات میں اہلِ حل و عقد اسے معزول بھی کر سکتے ہیں۔ تو عزل کی تلوار بھی حکمران کی مطلق العنانیت کے لئے مانع ہوتی ہے۔اس لئے الگ حزبِ اختلاف قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
۵۔ عام طور پر حزبِ اختلاف حکومت پر نکتہ چینی خیر خواہی کی بنیاد پر نہیں کرتابلکہ اگلی مدت میں اقتدارکے حصول کے لئے عوام کو حکمرانوں سے بد ظن کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس لئے عام طور پر حزبِ اختلاف کے پروپیگنڈے اور افواہوں میں سچائی کا عنصر کافی کم ہوتا ہے ۔خلاصہ یہ کہ حزبِ اختلاف کی وجہ سے معاشرہ ہمیشہ اپنے حکمرانوں سے شاکی رہتا ہے اور پورے معاشرے میں بے یقینی کی کیفیت سی رہتی ہے، جیسا کہ ہمارے ملک میں اس کا عام مشاہدہ ہے۔
الغرض حزبِ اختلاف کا تصور خالص لبرل جمہوریت کی دین ہے۔ اسلامی تعلیمات میں اس کے مثالی متبادل موجود ہیں، اس لئے جمہوریت کی اسلام کاری کرتے وقت حزبِ اختلاف کے موجودہ تصور اور نظام کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہوگا۔
(جاری)

’’اسلام، جمہوریت اور پاکستان‘‘

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۹۶۲ء کی بات ہے جب صدر محمد ایوب خان مرحوم نے مارشل لا ختم کرتے وقت نئے دستور کی تشکیل وترتیب کے کام کا آغاز کیا تھا اور پاکستان کے نام سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ حذف کر کے اسے صرف ’’جمہوریہ پاکستان‘‘ قرار دینے کی تجویز سامنے آئی تھی تو دینی وعوامی حلقوں نے اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو یہ تجویز واپس لینے پر مجبور کر دیا تھا۔ میری عمر اس وقت چودہ برس تھی اور میں نے بھی بحمد اللہ تعالیٰ اس جدوجہد میں اس طور پر حصہ لیا تھا کہ اپنے آبائی قصبہ گکھڑ میں نظام العلماء پاکستان کی دستوری تجاویز پر لوگوں سے دستخط کرائے تھے اور اس مہم میں شریک ہوا تھا۔ اس دوران اس حوالے سے ہونے والے عوامی جلسوں میں سعید علی ضیاء مرحوم کی ایک نظم بہت مقبول ہوئی تھی جس کا ایک شعر مجھے اب تک یاد ہے کہ 
ملک سے نام اسلام کا غائب، مرکز ہے اسلام آباد
پاک حکمران زندہ باد، پاک حکمران زندہ باد
تب سے اب تک ملک میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کا کارکن چلا آ رہا ہوں، ہر تحریک میں کسی نہ کسی سطح پر شریک رہا ہوں اور اب بھی حسب موقع اور حتی الوسع اس کا حصہ ہوں۔ کسی دینی جدوجہد کے نتائج وثمرات تک پہنچنا ہر کارکن کے لیے ضروری نہیں ہوتا، البتہ صحیح رخ پر محنت کرتے رہنا اس کی تگ ودو کا محور ضرور رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مرتے دم تک اس جادۂ مستقیم پر قائم رہنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین
اس جدوجہد میں مجھے جن اکابر کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا ہے، ان میں مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ، مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا عبید اللہ انورؒ ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، مولانا عبد الحقؒ آف اکوڑہ خٹک، مولانا پیر محسن الدین احمدؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مولانا عبد الستار خان نیازیؒ ، مولانا مفتی ظفر علی نعمانیؒ ، مولانا معین الدین لکھویؒ ، قاضی حسین احمدؒ اور والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ عوامی جلسوں، جلوسوں، قید وبند کے مراحل اور احتجاجی مظاہروں میں شرکت کے ساتھ ساتھ قلم وقرطاس کا میدان بھی میری جولان گاہ رہا ہیاور نفاذ اسلام کی جدوجہد کے بیسیوں پہلوؤں پر اخبارات وجرائد میں سیکڑوں مضامین لکھنے کی سعادت مجھے حاصل ہوئی ہے۔
عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ نے موجودہ حالات کے تناظر میں میری ان تحریری گزارشات کا ایک جامع انتخاب ’’اسلام، جمہوریت اور پاکستان‘‘ کے عنوان مرتب کیا ہے جو نفاذ اسلام کی جدوجہد کے معروضی تقاضوں کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں میرا کوئی الگ فکری یا علمی تعارف نہیں ہے اور میں اس کے کم وبیش تمام پہلوؤں میں انھی بزرگوں اور جمہور علماء کی نمائندگی کرتا ہوں جن میں سے چند بزرگوں کا میں نے سطور بالا میں تذکرہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات جنت الفردوس میں بلند سے بلند فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین
اسلامی نظام اور موجودہ دور کے تقاضوں اور ضروریات کے مختلف پہلوؤں پر ایک نظر ڈال لی جائے تو غور و فکر کے لیے مندرجہ ذیل بنیادی امور سامنے آتے ہیں اور ’’اسلام، جمہوریت اور پاکستان‘‘ کے زیر عنوان اس مجموعے میں انھی کو موضوع گفتگوبنایا گیا ہے:
۱۔ اسلام کا تصور ریاست وحکومت کیا ہے اور اسلام حاکمیت اور اقتدار کا سرچشمہ کس چیز کو قرار دیتا ہے؟
۲۔ حکومت کی تشکیل میں عوام کی نمائندگی اور عوامی رائے کی کیا اہمیت ہے؟
۳۔ تاریخی تناظر میں اسلام کا سیاسی نظا م کن کن مراحل سے گزرا ہے؟
۴۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے وجود، امیدواری اور بالغ رائے دہی سے متعلق اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے؟
۵۔ اسلامی ریاست میں قانون سازی کا طریق کار کیا ہے؟
۶۔ مغرب کے پیش کردہ جمہوری فلسفے اور نظام کا اسلام کی نظر میں کیا مقام ہے؟
۷۔ پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کے بنیادی اصول کیا رہے ہیں اور اس ضمن میں اب تک کیا پیش رفت ہو چکی ہے؟
۸۔ پاکستان کے تناظر میں نفاذ شریعت کے لیے ریاست کے ساتھ تصادم اور مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
میں نے قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اپنے مطالعہ کی روشنی میں، ان امور پر کچھ معروضات پیش کرنے کی جسارت کی ہے، اس امید کے ساتھ کہ اصحاب علم و دانش ان پر سنجیدہ توجہ دیں گے اور یہ گزارشات اس موضوع پر بحث کو آگے بڑھانے میں مدد دیں گے۔
یہ مجموعہ اسلام آباد کے ایک تحقیقی ادارے پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے۔ میں اس کی اشاعت پر پاک انسٹی ٹیوٹ کے ذمہ داران کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے ان طالب علمانہ گزارشات کو لوگوں تک پہنچانے کو مناسب خیال کیا۔ اللہ تعالیٰ انھیں جزائے خیر عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین

مولانا عبد المتینؒ ۔ حیات و خدمات کا مختصر تذکرہ

محمد عثمان فاروق

24 ستمبر 2013ء بروز منگل حضرت مولانا عبد المتین حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپؒ نے 76 برس کی طویل عمر پائی اور زندگی کا ایک ایک لمحہ ذکر خداوندی، ذوق عبادت، حسن معاشرت اور خلق کو خالق کی طرف دعوت دینے میں بسر کیا۔ حسن ظن، اخلاص و بے نفسی اور تحمل و رواداری آپؒ کی شخصیت کے عناصر ترکیبی تھے۔ 
حدیث میں آتا ہے: خیارکم اذا رؤوا ذکر اللّٰہ  (بہترین لوگ وہ ہیں جن کی زیارت سے اللہ یاد آجائے)۔ حضرت اس حدیث کا کامل مصداق تھے۔ راقم الحروف بچپن ہی سے حضرت سے متعارف تھا اور اپنی شعوری عمر ہی سے حضرت کے دروس، مجالس اور نجی ملاقاتوں سے استفادہ کرتا رہتا تھا۔ حضرت ہمیشہ نہایت کشادہ قلبی، خندہ پیشانی سے ملتے، سوالات کے جوابات دیتے اور اشکالات کو رفع کرتے۔ نتائج فکر سے قطع نظر حضرت کا زاویہ نگاہ اور خصوصاً آپ کی طبیعت کی زم خوئی اور مزاج کا ٹھیراؤ بہت اثر انگیز ہوتا تھا۔ عام طور پر عوام الناس کو مذہبی طبقے سے ایک شکایت یہ بھی رہتی ہے کہ یہ لوگ سخت طبیعت، تحکمانہ ذہنیت اور لب و لہجہ میں خشونت و درشتی کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ بات علی الاطلاق درست نہیں لیکن شاید کسی حد تک صداقت کی حامل ہے، لیکن حضرت کی طبیعت، آپ کا مزاج اور لب و لہجہ اخلاق نبویؐ کا آئینہ دار تھا۔ راقم الحروف کو بہت سے علماء، مشائخ، دعاۃ دین اور مفکرین سے بالمشافہ ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہے لیکن جو بے نفسی، نمود و نمائش سے بیزاری، پس منظر میں رہتے ہوئے دعوت و اصلاح کا کام کرنا، سخت سے سخت مخالفت کے باوجود رد عمل کی نفسیات سے اجتناب کرتے ہوئے صبر و ثبات سے کام کرنا اور سب سے بڑھ کر اپنے مخالفین و معاندین کے لیے بھی وسعت قلبی اور حسن ظن رکھنا، آپؒ کے ہاں دیکھی وہ بہت کم لوگوں کو حاصل ہے۔ یہ آپؒ کی امتیازی خصائص ہیں جو آپؒ کو دوسرے علماء و مصلحین سے ممتاز کرتی ہیں۔ 
سلف صالحین کے تذکروں میں ان کی خوبیوں میں دو خوبیاں مشترک پائی جاتی ہیں جو ان کی سعادت دارین کی وجہ ہوتی ہیں: ایک ان کا اخلاص اور دوسرا اُن کی صاف دلی۔ حضرت میں یہ دونوں خصوصیات بدرجۂ اتم پائی جاتی تھیں۔ وہ اپنے سے مختلف نقطۂ نظر رکھنے والے لوگوں کا تذکرہ بھی بہت سنجیدگی، شائستگی اور متانت سے کرتے تھے، کسی بھی شخصیت سے اصولی اختلافات کے علی الرّغم طعن و تشنیع، تکفیر و تضلیل نہ کرتے بلکہ ہر حال میں اعتدال و توازن کا دامن تھامے رکھتے۔ اگرچہ آپ دیوبندی مدرسۂ فکر سے وابستہ تھے لیکن اس کے باوجود دوسرے مسالک کا بھی احترام کرتے اور اس معاملے میں آپ ہر طرح کے تعصب، تحرب اور فرقہ واریت سے ماوراء تھے۔
ایک بار برسبیل تذکرہ بانی جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا ذکر آگیا تو حضرت نے راقم سے کہا کہ سید مودودیؒ بڑے مفکر تھے۔ اگرچہ مجھے ان کے فہم دین اور تعبیر دین سے زیادہ اتفاق نہیں ہے لیکن یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طبقے میں جو مقبولیت ان کو حاصل ہوئی، کسی دوسری شخصیت کو نہیں ہوئی۔ نسل نو کو دین سے قریب لانے اور دین کے لیے جدوجہد کرنے کا جذبہ پیدا کرنے میں مودودی صاحب کی بہت خدمات ہیں۔ پھر حضرت کہنے لگے، جب میں جامعہ اشرفیہ لاہور میں زیر تعلیم تھا تو سید مودودی صاحب سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ میں ان کی رہائش گاہ اچھرہ پہنچ گیا اور اجازت لے کر مولانا کی مطالعہ کے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ مولانا تصنیف و تالیف میں مشغول ہیں۔ پھر کہنے لگے کہ مولانا کی شخصیت بہت باوقار، سنجیدہ اور دلنشین تھی۔ پھر کہنے لگے، بیٹا بس مجھے اتنا ہی یاد ہے کیونکہ یہ بات بہت پرانی ہے اور اب میرا حافظہ بھی میرا ساتھ نہیں دے رہا۔ 
مولانا اس زمانے میں جب جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور مفتی محمودؒ بقید حیات تھے۔ بہت فعال کارکن تھے۔ تعلیمی و تدریسی خدمات کے ساتھ ساتھ تحریک کے جلسے بھی منعقد کروایا کرتے تھے۔ اگرچہ چند سالوں بعد جمعیۃ کی قیادت کے انتقال کے بعد آپ تعلیم و تدریس کے کام میں یکسو ہوگئے، لیکن اس دوران 74ء کی تحریک ختم نبوت میں آپؒ نے بھرپور شرکت کی۔ گوجر خان شہر میں مختلف مکاتب فکر کے علماء و قائدین کو مجتمع کیا اور جیل بھی کاٹی۔ اڈیالہ جیل میں بہت سے لوگوں نے معافی نامے بھی لکھے لیکن حضرت کی غیرت ایمانی نے یہ گوارا نہ کیا۔ پھر جب آپؒ کی رہائی کا معاملہ ہونے لگا تو آپ نے یہ شرط رکھی کہ میرے ساتھ جو اور لوگ قید ہوئے ہیں ان کو بھی رہا کیا جائے ورنہ مجھے بھی جیل میں ان لوگوں کے ساتھ ہی رہنے دیا جائے۔
راقم الحروف نے نج کی مجلس میں حضرت سے ان کی پسندیدہ کتب کی بابت پوچھا تو کہنے لگے مجھے مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ملفوظات و مواعظ، مفتی شفیعؒ کی تفسیر ’معارف القرآن‘‘، مفتی کفایت اللہؒ کے فتاویٰ ’’کفایت المفتی‘‘، مولانا منظور نعمانیؒ کی ’’معارف الحدیث‘‘ اور مولانا یوسف کاندھلویؒ کی ’’حیاۃ الصحابہ‘‘ پسند ہیں اور علوم دینیہ کے شائقین کو یہ کتب ضرور پڑھنی چاہئیں۔ آپؒ راقم کو یہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ بیٹا آج کل کی وہ کتب جو مسلکی اور فروعی مسائل پر مبنی ہوتی ہیں جن میں قصے کہانیاں اور بے سروپا روایات کی بھرمار ہوتی ہے، بہت اجتناب کرنا، اگر دین کا صحیح ذوق پیدا کرنا چاہتے ہو تو متذکرہ بالا کتب کا مطالعہ کیا کرو۔ آپؒ مولانا سید سلمان ندویؒ اور سید ابوالحسن علی ندویؒ کی دینی بصیرت کے بہت قائل اور معترف تھے۔ ان کی کتب کا مشورہ راقم کو اکثر دیتے۔ خصوصاً علی میاں ندویؒ کی کتب ’’تاریخ دعوت و عزیمت‘‘، ’’ارکان اربعہ‘‘ اور ’’پرانے چراغ‘‘ کی ترغیب دیتے تھے۔ کتب سیرت میں اہل حدیث عالم و محققین حضرت قاضی سلیمان منصور پوریؒ کی کتاب ’’رحمت للعالمینؒ ‘‘ بہت پسند کرتے تھے اور ساتھ میں ڈاکٹر عبد الحئی عارفؒ کی کتاب ’’اسوۂ رسول اکرم‘‘ کے مطالعہ کی تشویق بھی دیتے تھے۔
ایک مرتبہ حضرت سے راقم کی گفتگو کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک ایک صاحب آئے اور بڑے پرتپاک انداز سے مولانا سے ملے۔ آپؒ بھی ان صاحب سے واقف تھے۔ یہ صاحب تصوف کے حلقے سے منسلک تھے اور فرط مسرت سے ان کی آنکھیں نم تھیں، کیونکہ انہیں اپنے مرشد سے خلافت عطا ہوئی تھی۔ وہ صاحب اپنے شیخ اور خانقاہ کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان تھے، لیکن جذبات کے عدم توازن سے ان کی زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ راقم اس منظر پر حیرت میں مبتلا تھا۔ وہ صاحب کچھ دیر کی نشست اور سلام دعا کے بعد چلے گئے۔ مولانا میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے کہ بیٹا اصل چیز تعلق مع اللہ ہے، اخلاق و معاملات کی بہتری اور فکر آخرت ہے۔ لوگوں نے جماعتوں، تناظیم اور مختلف حلقوں سے وابستگی کو ہی سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ افسوس کہ حقیقتیں رخصت ہوتی جا رہی ہیں اور بس صورتیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ مقاصد نظروں سے اوجھل ہوگئے ہیں اور وسائل و ذرائع ہی مقصود و مطلوب بن گئے ہیں۔ پھر حضرت نے مولانا تھانویؒ کا یہ قول سنایا: ’’اصل چیز اصلاح ہے، بیعت ہونا مقصود نہیں ہے۔‘‘
راقم کے استفسار پر کہ اس پر فتن دور میں ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں؟ مولانا نے جواب دیا کہ بیٹا! سب سے پہلی اور اصولی بات یہ ہے کہ افرادِ معاشرہ میں سے ہر فرد میں اصلاح نفس کی فکر پیدا ہو اور غالب ہو، اصلاح معاشرہ میری اصلاح سے شروع ہوتا ہے، دوسری چیز اپنے اہل خانہ کی تعلیم و تربیت کی فکر ہے۔ ہفتے میں ایک گھنٹہ مطالعہ قرآن، حدیث، سیرت النبیؐ و صحابہؓ اور آدابِ زندگی کے لیے مختص کیا جائے۔ استغفار و توبہ پر استقامت و مداومت اختیار کی جائے، تلاوت قرآن کا اہتمام کیا جائے، اپنے عیوب و نقائص پر نظر رکھی جائے، غیبت، تجسس اور دوسرے رذائل اخلاق سے بچا جائے۔ راقم کو ہمیشہ مولانا صاحبؒ دو چیزوں کی کثرت سے تلقین کرتے تھے۔ ایک نماز اور دوسرا تلاوت قرآن۔ اگر مولانا کی فکر اور دعوت کو چند جملوں میں سمو دیا جائے تو وہ یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق و محبت جس کا ذریعہ نماز اور قرآن ہے، اہل خانہ کی تعلیم و تربیت جس کے لیے مستند کتب سے اجتماعی مطالعہ ممد و معاون ہے۔ دعوت دین جس میں لوگوں کی دنیا و آخرت کے مسائل کو حکمت، تدریج اور اخلاص سے حل کرنے کی تگ و دو کی جائے۔ دین کی تعبیر و تشریح میں سلف صالحین بالخصوص خیر القرون کے منہج و طریقہ کار کا التزام کیا جائے۔ علماء ربانی کی صحبتوں سے استفادہ کیا جائے۔ دنیا سے بقدر ضرورت تعلق رکھا جائے، آخرت کی فکر اور تیاری کو پیش نظر رکھا جائے۔ لوگوں کی فلاح و بہبود اور رفاہ عامہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے اور اسے پوری دلجمعی اور یکسوئی کیے ساتھ سر انجام دیا جائے۔ آپؒ اکثر راقم کو فتنہ پرور اور مفاد پرست مذہبی پیشواؤں سے متنبہ رہنے کو کہا کرتے تھے جو لوگوں کا استحصال کرتے ہیں اور انہیں راہ حق سے منحرف کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ 
مولانا نے 1958ء میں شہر گوجر خان میں تن تنہا توحید کی شمع روشن کی، پوری یکسوئی اور استقامت سے دعوت و اصلاح کا کام کیا۔ اس معاملے میں ادنیٰ درجے کی مداہنت گوارا نہ کی۔ مخالفین و معاندین نے آپ کی راہ میں روڑے اٹکائے، لیکن آپ اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اعوان و انصار عطا کیے اور یوں یہ قافلہ آپ کی نگرانی میں سرگرم سفر رہا۔ آپؒ کی اولاد و احفاد میں آپؒ کے دو فرزندان ارجمند مفتی امداد اللہ اور مفتی سعید اللہ سر فہرست ہیں۔ اول الذکر جامعۃ المتین کے مہتمم ہیں اور ثانی الذکر اقراء روضۃ المتین سکول کے پرنسپل ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ہم سب کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

امام اہل سنتؒ کے دورۂ برطانیہ کی ایک جھلک

مولانا عبد الرؤف ربانی

(امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز نے 1986ء کے دوران ’’جمعیۃ علماء برطانیہ‘‘ کی دعوت پر ’’سالانہ توحید و سنت کانفرنس‘‘ میں شرکت کے لیے برطانیہ کا دورہ کیا اور مذکورہ کانفرنس کے علاوہ مختلف شہروں میں متعدد دینی اجتماعات سے بھی خطاب فرمایا۔ ان کے ایک شاگرد مولانا عبد الرؤف ربانی (خطیب مکی مسجد، رحیم یار خان) ان کے رفیق سفر تھے۔ انہوں نے ہماری درخواست پر اس سفر کے کچھ تاثرات مختصراً قلم بند فرمائے ہیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ حضرت امام اہل سنتؒ کی ’’سوانح حیات‘‘ کے لیے ان کے بیرونی اسفار کی تفصیلات زیادہ سے زیادہ حاصل کی جائیں تاکہ یہ سوانح جلد از جلد منظر عام پر آسکے۔ احباب سے درخواست ہے کہ اس سلسلہ میں جس دوست کے پاس معلومات ہوں وہ ہمیں مہیا فرمائیں تاکہ یہ کارِ خیر جلد پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔ راشدی)

راقم الحروف کو حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے فرزند ارجمند مولانا زاہد الراشدی کا فون آیا کہ میرے والد گرامی برطانیہ کے تبلیغی دورہ پر وہاں کے مسلمانوں کے شدید اصرار پر تشریف لے جا رہے ہیں۔ چونکہ آپ برطانیہ جاتے رہتے ہیں اور آپ کے خاندان کے افراد بلکہ پورے علاقہ چھچھ کے لوگ برطانیہ میں مقیم ہیں، میری خواہش ہے کہ آپ والد گرامی کے ساتھ بطور خادم ضرور جائیں۔ اس لیے بھی کہ آپ والد گرامی کے شاگرد اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے فارغ التحصیل ہیں۔ یقیناًمیرے لیے زندگی کی یہ سب سے بڑی متاع اور خوشی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ سعادت نصیب فرمائی کہ میں اپنے شفیق استاذ محترم کا ہم سفر بنوں اور اُن کی رفاقت میں خدمت کا کچھ موقع میسر آسکے۔ چنانچہ حسب پروگرام رخت سفر باندھا، جانے کے لیے تیاری کر لی۔ حضرت کا سامان اٹھایا، برطانیہ جانے کے لیے ایئرپورٹ پہنچے، دس گھنٹے کی مسافت کے بعد ہیتھرو ایئرپورٹ پر طیارے نے لینڈ کیا اور خیریت سے لندن پہنچ گئے۔ ایئرپورٹ پر حضرت مولانا کے استقبال کے لیے آئے ہوئے علماء کرام کا جم غفیر تھا۔ حضرت نے حسب مدارج و مراتب تمام علماء کرام اور دیگر استقبال کے لیے آئے ہوئے لوگوں سے معانقہ و مصافحہ کیا۔ 
وہاں کے تمام بڑے بڑے شہروں میں پروگرام پہلے سے ترتیب دیے گئے تھے۔ حضرت امام اہل سنت جہاں جہاں تشریف لے جاتے علماء اور دیندار طبقہ کے لوگ کثیر تعداد میں پہنچ جاتے۔ حضرت شیخ الحدیث اردو زبان میں قرآن و حدیث کے حوالہ جات دے کر بڑا مربوط و مبسوط خطاب فرماتے۔ آپ کی تقریر دلپذیر سن کر لوگوں کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔ حضرت صاحب کا پرتاثیر بیان جو ان کے علم و عمل کی غمازی کرتا تھا، ان کے ذہن و قلب پر نقش ہوتا ہوا محسوس ہوتا۔ زمانہ طالب علمی میں جمعیۃ طلباء اسلام کا مرکزی اور صوبائی عہدیدار رہنے کی وجہ سے میرا سیاسی مزاج تھا، اس لیے میں استاذ محترم کے سفر، سکونت، اخلاق، علمیت اور بالخصوص عملی زندگی کا بغور مشاہدہ کرتا رہا۔ میں آج تک ورطۂ حیرت میں ہوں کہ اس پورے سفر کے دوران میں نے حضرت کا کوئی عمل ایسا نہیں دیکھا جو خلاف سنت ہو۔ ایک حیران کن چیز میرے مشاہدے میں آئی کہ حضرت شیخ الحدیث جس مدرسہ میں جاتے تو وہاں کے کتب خانہ میں جو کتاب بھی اٹھاتے، بس پہلی مرتبہ کتاب کھولتے۔ اسی صفحہ میں سے ایک چھوٹے سے علیحدہ کاغذ کے ٹکڑے پر کچھ تحریر فرماتے اور پھر وہ کاغذ جیب میں رکھ لیتے۔ غرضیکہ جو صفحہ بھی پہلی مرتبہ کھولتے، اسی صفحہ سے دو چار الفاظ لکھ کر اپنے پاس محفوظ فرمالیتے، کبھی اوراق پلٹنے کی نوبت نہ آتی۔ 
برطانیہ کی ایک مسجد میں تقریر کے دوران ایک شخص مجمع میں سے کھڑا ہوا او ر اس نے نہایت عقیدت کے ساتھ آپ کے مدرسہ کے لیے کچھ رقم دینے کا اعلان کیا۔ حضرت فرمانے لگے کہ کسی اور مدرسہ کو دے دو، میں تو صرف برطانیہ کے مسلمانوں سے ملنے آیا ہوں۔ وہاں پر انڈیا کے شہر گجرات کے مسلمانوں نے حضرت کے کھانے کی دعوت کی، بڑی پر تکلف دعوت تھی۔ ایک صاحب نے بڑی محبت کے ساتھ حضرت کی پلیٹ میں سالن ڈالا اور پلیٹ بھر دی۔ حضرت جتنا کھا سکتے تھے، کھا لیا۔ پلیٹ میں سالن چونکہ بہت زیادہ تھا۔ حضرت کم خوراک کھانے والے تھے۔ صوفی مزاج کا وہ گجراتی محبت سے کہنے لگا، حضرت! سنت پوری کریں۔ حضرت نے برجستہ جواب دیا کہ جان کی حفاظت فرض ہے۔ 
مولانا محمد اقبال رنگونی جو کہ برما کے شہر رنگون سے تعلق رکھتے تھے، برطانیہ کے مشہور عالم دین اور صاحب تحریر ہیں، مختلف رسائل میں معلومات سے بھرپور علمی مضامین لکھتے رہتے ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی مولانا بلال احمد جو کہ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ کے غالباً آخری خلیفہ ہیں، اس وقت وہ بالکل نوجوان تھے اور انتہائی اچھے عالم تصور کیے جاتے تھے۔ انہوں نے بڑی عقیدت کے ساتھ حضرت ممدوح کو اپنے ہاں ٹھہرایا۔ حضرت کے معمولات میں تھا کہ رات گئے تک لکھنے میں مصروف رہتے۔ مولانا بلال رنگونی کے ہاں حسب عادت بیٹھے لکھ رہے تھے۔ میں بھی قریب دوسرے بستر پر لیٹا ہوا لحاف میں سے حضرت صاحبؒ کو دیکھ رہا تھا، تاکہ اگر انہیں کوئی ضرورت ہو تو میں خدمت انجام دوں۔ دیکھا کہ حضرت جس قلم سے لکھ رہے ہیں، اس میں سے سیاہی ختم ہوگئی۔ اب حضرت بار بار قلم جھٹکتے لیکن سیاہی نہ ہونے کے باعث قلم نے لکھنے سے جواب دے دیا۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے عرض کیا کہ حضرت سامنے سیاہی کی دوات موجود ہے، قلم میں سیاہی بھر لیتے ہیں۔ حضرت کمال تقویٰ سے فرمانے لگے، مولوی بلال سے پوچھا نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ اس قدر محبت سے مولانا بلال صاحب نے ٹھہرایا ہے، اس کو تو خوشی ہوگی۔ فرمانے لگے کہ اس سے اجازت نہیں لی۔ میرے اصرار کے باوجود حضرت نے قلم میں سیاہی نہیں ڈالی، یہ ان کے تقویٰ کی اعلیٰ مثال ہے۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ جیسی حزم واحتیاط آج کے دور میں عنقا ہے۔ 
انہوں نے تدریس، تصنیف، تقریر اور تصوف کے میدان میں شاندار خدمات سر انجام دی ہیں۔ ان کا قلم دین کی سربلندی، خلق خدا کی اصلاح اور مختلف فتنوں (قادیانیت، شیعیت، شرک و بدعت اور باطل قوتوں) کی بیخ کنی اور ان کے رد میں تا دم حیات سرگرم عمل رہا۔ ان کی تصنیفات اور تالیفات میں گو ناگوں موضوعات کا تنوع ہے۔ 
ہمارے 1977،1978ء کے دور طالب علمی میں حضرت گکھڑ سے روزانہ بس میں سفر کر کے دورہ حدیث پڑھانے کے لیے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ آتے تھے۔ مدرسہ انتظامیہ نے حضرت کے آمد و رفت کی مشکلات دیکھتے ہوئے انہیں لانے لے جانے کے لیے کار لے لی۔ ایک روز گوجرانوالہ کے قریب ڈسکہ میں جلسہ تھا جس میں آپ نے شرکت کرنا تھی۔ فرمانے لگے کہ وہاں بس میں جانا ہے، کار میں نہیں۔ فرمانے لگے کہ مجھے کار پڑھانے کی سہولت کے لیے دی گئی ہے، ذاتی دوروں کے لیے نہیں۔ 
اللہ تعالیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تمام کوششوں، کاوشوں کو قبول فرمائے اور اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ حضرت کی مسند حدیث، مسند تفسیر کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مولانا حافظ مہر محمد میانوالویؒ کا انتقال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

یہ خبر ملک بھر کے دینی، علمی اور مسلکی حلقوں میں انتہائی رنج و غم کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ اہل سنت کے نامور محقق اور درویش صفت بزرگ عالم دین حضرت مولانا حافظ مہر محمد میانوالوی کا گزشتہ روز انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق میانوالی کے علاقہ بَن حافظ جی سے تھا اور وہ جامعہ نصرۃ العلوم کے پرانے فضلاء میں سے تھے۔ میں جب مدرسہ نصرۃ العلوم میں درس نظامی کی تعلیم کے لیے داخل ہوا تو حافظ مہر محمد ؒ بڑی کلاسوں میں تھے جبکہ ان کے بھائی مولانا حافظ شیر محمد بھی بعد میں آگئے اور وہ میرے مختلف کتابوں میں ہم سبق رہے ہیں۔ ترجمہ قران کریم میں حضرت حافظ صاحب مرحوم کے ساتھ بھی میری رفاقت رہی ہے۔ 
والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے ساتھ ان کا گہرا تعلق تھا اور یہ دونوں بزرگ بھی ان کا بہت خیال رکھتے تھے۔ حافظ صاحب محترمؒ مدرسہ نصرۃ العلوم میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی چلے گئے اور محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری قدس اللہ سرہ العزیز سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ اہل سنت کے عقائد کی وضاحت اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموس و وقار کا تحفظ ان کا خصوصی موضوع تھا اور انہوں نے عدالت صحابہؓ پر جو وقیع مقالہ تحریر کیا، اس سے انہیں پورے ملک میں اس حوالہ سے تعارف حاصل ہوا، جس کے بعد وہ اس میدان میں آگے بڑھتے چلے گئے۔ انہووں نے شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ تعالیٰ کے مرکز دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی کے ترجمان ماہنامہ ’’تعلیم القرآن‘‘ کی ادارت کے فرائض بھی کچھ عرصہ سر انجام دیے۔ اس طرح انہیں حضرت شیخ القرآنؒ کے زیر سایہ کام کرنے کا موقع ملا۔ ان کا ذوق تحقیق و مناظرہ کا تھا لیکن وہ یہ سارا کام تحریر کے میدان میں کرتے تھے۔ اہل تشیع کے پیدا کردہ شکوک و شبہات اور اہل سنت کے عقائد و روایات پر ان کے اعتراضات کا علمی و تحقیقی جواب دینا زندگی بھر اُن کا مشغلہ رہا، وہ اس کے لیے کتابی دنیا میں بہت محنت کرتے تھے اور نئے نئے نکات و معارف سامنے لاتے رہتے تھے۔
گوجرانوالہ کے محلہ نور باوا کی ایک مسجد میں کئی برس خطابت و امامت کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور اس دوران مختلف دینی تحریکات میں ہمارے ساتھ شریک رہے۔ انہوں نے گوجرانوالہ میں تنظیم اہل سنت پاکستان کا حلقہ قائم کرنے کے لیے کچھ عرصہ کام کیا مگر تنظیمی مزاج کے بزرگ نہیں تھے، اس لیے زیادہ مصروفیات کتاب اور تحقیق کے دائرہ میں ہی رہتی تھیں۔ قرآن کریم بہت اچھے لہجے میں پڑھتے تھے اور ان کی اقتدا میں نماز پڑھ کر بہت لطف آتا تھا۔
امام اہل سنت حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کے ذوق اور اسلوب کے مطابق کام کرنے کو ترجیح دیتے تھے اور غالباً ایک یا دو مواقع پر حضرت لکھنویؒ کے مرکز لکھنو میں جانے کی سعادت بھی انہوں نے حاصل کی۔ میری دانست کے مطابق پاکستان میں اس ذوق و اسلوب کے حامل وہ آخری بزرگ باقی رہ گئے تھے ۔
؂ اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر
انہوں نے اہل سنت کے عقائد کے تحفظ و دفاع اور حضرات صحابہ کرامؓ کے ناموس کے حاولہ سے بیسیوں کتابیں اور رسالے تحریر کیے جو دینی حلقوں میں ان موضوعات پر بہت معلوماتی ذخیرہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا تعلق کتاب، دلیل، تحقیق اور افہام و تفہیم کی دنیا سے تھا۔ یہ ذوق اب بہت کم ہوتا جا رہا ہے۔ دینی مدارس کے ماحول بالخصوص اساتذہ و طلبہ کے ذہنی رجحانات میں تحریکی جوش کے غلبہ نے دلیل و کتاب کے ساتھ ہمارا تعلق پہلے ہی بہت کمزور کر رکھا تھا کہ ہم کتاب اور تحقیق کی طرف بہت کم توجہ دیتے ہیں۔ بلکہ خالصتاً علمی و فقہی مسائل کو بھی تحریکی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا رجحان ہمارے اجتماعی دینی مزاج کا حصہ بن گیا ہے، جبکہ انٹرنیٹ کی ’’فاسٹ فوڈ‘‘ نے کتاب فہمی اور تحقیق و استدلال کا رہا سہا ذوق بھی ہم سے چھین لیا ہے۔ اس حوالہ سے حضرت مولانا حافظ مہر محمدؒ کی جدائی ہمارے لیے ایک المیہ سے کم نہیں ہے۔
پاکستان شریعت کونسل کے قیام کے وقت سے وہ ہمارے ساتھ شریک تھے۔ ضعف و علالت اور مصروفیات کے باوجود کونسل کے اجلاسوں میں اہتمام کے ساتھ شریک ہوتے تھے اور وفات کے وقت وہ ہمارے مرکزی نائب امیر تھے۔ انہوں نے پاکستان شریعت کونسل کے عنوان کے ساتھ بہت سے مضامین اور پمفلٹ شائع کیے جن کا بنیادی موضوع ملک میں خلافتِ راشدہ کے نظام کا قیام اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموس و وقار کا تحفظ و دفاع تھا۔ وہ وقتاً فوقتاً مطبوعہ خطوط کے ذریعہ حکمرانوں اور ارکان اسمبلی کو ان امور کی طرف توجہ دلاتے رہتے تھے اور علماء کرام کو بھی ان معاملات میں متوجہ کرتے تھے۔
اپنے آبائی گاؤں بن حافظ جی تحصیل میانوالی میں انہوں نے کافی عرصہ سے ’’جامعہ توحید و سنت‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کر رکھا تھا جس کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری ان کے فرزند اور ہمارے عزیز شاگرد مولانا محمد عمر فاروق سلّمہ (فاضل نصرۃ العلوم) سر انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی اور راقم الحروف نے ایک موقع پر جامعہ توحید و سنت میں جانے کی سعادت حاصل کی ہے۔ ہماری حاضری پر حضرت حافظ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی خوشی قابل دید تھی۔ 
مولانا حافظ مہر محمد میانوالویؒ پوری زندگی دین کی خدمت میں بسر کرتے ہوئے ہم سے رخصت ہوگئے ہیں مگر ان کا تحریر کردہ لٹریچر، ان کا قائم کردہ جامعہ توحید و سنت، ان کے فرزند مولانا حافظ محمد عمر فاروق اور ان کے خاندان کی دینی خدمات یقیناًان کے لیے صدقہ جاریہ ہیں اور ان کے ذریعہ حافظ صاحبؒ کی یاد تادیر قائم رہے گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’حیات نعمانی‘‘

ناشر: الفرقان بکڈپو، 114/31 نظیرآباد، لکھنؤ، انڈیا
صفحات: 692 
قیمت: 450 روپے 
اشاعت اول: مارچ 2013
بیسویں صدی کے ہندوستان میں(آزادی کے بعدکے دورمیں)دوشخصیتیں ملت اسلامیہ ہندیہ کی تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ان میں پہلی شخصیت مولاناسیدابوالحسن علی ندوی المعروف علی میاں کی ہے اوردوسری مولانامحمدمنظورنعمانی کی ۔یہ دونوں حضرات زندگی بھربہترین دوست ،ہم مسلک اورہم مشرب بھی رہے اوردعوت اسلامی ،فکراسلامی اورمسلمانوں کی علمی وعملی اصلاح کے سر تاپا جہد و عمل بھی ۔فکری ہم آہنگی اورہم خیالی کے ساتھ دونوں ہی کے اپنے الگ الگ امتیازات وخصائص بھی ہیں۔مثال کے طورپردونوں بڑے مصنف ہیں مگردونوں کالکھنے کا اسلوب بالکل الگ ہے ۔مولاناابوالحسن علی ندوی پر چھوٹی بڑی کئی کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں۔حضرت نعمانی کی بھی مختصرخودنوشت ’’تحدیث نعمت ‘‘کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔مگران کے شخصیت اوران کے کام ا ورجلیل القدرخدمات کے شایان شان کوئی سوانح حیات شائع نہیں ہوئی تھی ۔حیات نعمانی ازقلم مولاناعتیق الرحمان سنبھلی جواسی سال شائع ہوئی ہے اسی ضرورت کوپوری کرتی ہے۔
مصنف کتاب حضرت مولاناعتیق الرحمان سنبھلی ایک ایسے مفکر،عبقری صاحب علم وصاحب قلم ہیں کہ ان کے قلم سے جوچیز نکلتی ہے، وہ ان کے علم کی گہرائی وگیرائی ،ان کی تحقیق ،اصابت رائے اورحقیقت پسندی کی دلیل ہوتی ہے۔ حیات نعمانی ایک بڑاکارنامہ ہے اورواقعہ یہ ہے کہ راقم نے یہ کتاب شروع سے آخرتک پڑھی اوراگرمقدمہ میں یہ نہ پڑھ لیاہوتاکہ ’’عام طورپر لوگوں کوبزرگوں کی سوانح میں مبالغے اورتفصیل واطناب کا شکوہ ہوتاہے،اس کے برعکس یہاںآپ کواگرشکوہ ہوگاتوایجازواختصارکا اورحدسے زیادہ احتیاط کا ‘‘تویقیناراقم شکوہ کناں ہوتاکہ اس لذیذحکایت کواتنامختصرکیوں کردیاگیاکہ یہ داستان حیات اس ہستی کی ہے جومجھ سمیت ملت اسلامیہ ہندیہ کی نئی نسل کی محسن ہے جس پر وہی مصرع فٹ بیٹھتاہے : 
اعد ذکرنعمان لنا ان ذکرہ 
ہو المسک ما کررتہ یتضوع 
(نعمان کا ذکر ہمارے سامنے دہراؤ،یہ تو مشک ہے کہ جتنی باربھی اس کو دہراؤ مشام جاں معطرکرے گا) 
حیات نعمانی دوحصوں پرمشتمل ہے۔پہلے حصہ میں 14چودہ ابواب ہیں جن میں مقدمہ وہدیہ تبریک کے بعدوطن خاندان ،پیدائش وتعلیم ،درس وتدریس اوردفاع حق یعنی مناظرانہ زندگی کا دور،الفرقان کا اجراء ،مولانامودودی ؒ اورجماعت اسلامی سے وابستگی اور انقطاع ، حضرت مولاناالیاس ؒ بانی تبلیغی تحریک سے تعلق ،مادرعلمی دارالعلوم دیوبندکی خدمت ،آزادی کے بعدنئے مسائل وتقاضے ،معذوری کا 20سالہ دور،تصنیفات وتالیفات ،بیرون ہندکے اسفاراوران سفروں کے مشاہدات وتاثرات ،ملفوظات ومکتوبات وخطابات ،مذاق ومزاج اورعادات ومعاملات ،ازواج واولاد ،حقوق اللہ وحقوق العباد،بندہ اپنے رب کے بلاوے پر ،وہ شخصیتیں جن سے کچھ خاص تعلق رہایہ چندجلی عنوانات ہیں جن کے تحت یہ پوری داستان حیات بیان ہوئی ہے۔حصہ دوم میں خودحضرت نعمانی کے قلم سے نہایت مؤثرچھوٹی بڑی تحریریں ہیں جن کا عنوان مصنف نے بندگان حق کی یافت قراردیاہے۔کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے حضرت کی تعلیمی زندگی سے متعلق تھوڑی سی تشنگی سی رہ جانے کا احساس ہوا،مثلا مولانانعمانیؒ کے اساتذہ میں علامہ حبیب الرحمن محدث اعظمیؒ کانام بھی آتاہے ۔حیات نعمانی میں یہ توبتایاگیاہے کہ انہوں نے مؤکے مدرسہ دارالعلوم میں تین سال پڑھاتھامگراِس سے اس پر روشنی نہیں پڑتی کہ کیاآپ نے براہ راست محدث اعظمی سے بھی شرف تلمذحاصل کیا تھا یا نہیں؟یہ سوال ذہن میں اس لیے پیداہواکہ حال ہی میں علامہ اعظمی کی بڑی مبسوط سوانح حیات ابوالمآثر از ڈاکٹر مسعود احمد اعظمی پڑھنے کا اتفاق ہوا۔انہوں نے مولانانعمانیؒ کوعلامہ اعظمی کے اجلہ تلامذہ میں شامل کیاہے، مگرحیات نعمانی میں اس کی طر ف ہلکا سااشارہ بھی نہیں ہے !
مسلمانوں کی نئی نسل جس کاکچھ بھی مذہبی مزاج ہے اوردینی لٹریچرپڑھنے پڑھانے سے اس کوتعلق ہے اس کی دینی تعلیم وتربیت اورمذہبی اصلاح میں مولانانعمانی کی کتابوں اورخاص کر’اسلام کیاہے ،دین وشریعت ،قرآن آپ سے کیاکہتاہے‘ کا خاص حصہ رہاہے ۔دین کی صحیح تعبیر وتشریح میں’ مولانامودودی سے میری رفاقت کی سرگزشت اوراب میراموقف‘اورالفرقان کے خاص نمبرات نے جہاں اکسیرکا کام کیا۔وہیں جب ایران میں آیت اللہ روح اللہ خمینی صاحب کا انقلاب آیاتوریاستی پروپیگنڈے کی قوت سے ایک دنیاکویہ باورکرایاگیاکہ یہ خالص اسلامی انقلاب ہے ۔لاشیعیہ لاسنیہ اسلامیہ اسلامیہ کے نعروں نے شیعہ حلقوں کوتوچھوڑیے خودسنی اسلام پسندوں اورجوشیلے نوجوانوں کواپنی گرفت میں لے لیا۔ایسامعلوم ہونے لگاکہ عقیدہ کی کوئی اہمیت ہی نہیں اوراسلام کے نام پر جذباتی مسلمانوں کوہربڑے بول بولنے والاآسانی سے بے وقوف بناسکتاہے ۔جب اس فتنہ نے ایک دنیاکو اپنی لپیٹ میں لے لیاتو80سال کے اس بوڑھے نے جوانوں کی طرح کام کیااوروہ کتاب لکھی جس کا اردولٹریچرمیں اپنے موضوع پر کوئی جواب نہیں ہے اس کتاب ’ایرانی انقلاب ،امام خمینی اورشیعیت ‘نے شیعیت کوجس طرح بے نقاب کیااس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔واقعہ تویہ ہے کہ امام اہل سنت مولاناعبدالشکورلکھنؤیؒ کو چھوڑ کر شیعیت کا سنجیدہ اورتحقیقی مطالعہ کی یہ اولین مثال تھی جس نے کتنے ہی لوگوں کے خیالات بدل دیے اوران کی اصلاح کی ۔معارف الحدیث ہندوستان میں علم حدیث کی اس انداز سے ایک بالکل نئی اورانقلابی کاوش ہے کہ خالص علمی وفنی اورتحقیقی دقیق بحثوں کی بجائے اس پر ترکیز رکھی ہے کہ مسلمانوں کی دینی زندگی ،عقائدوایمانیات،عبادات ،اخلاق ومعاملات کونبوی تعلیمات کی روشنی میں کس طرح ڈھالاجائے ۔ 
حضرت نعمانی ؒ کی تحریریں لفاظی سے خالی ،صناعی سے معری سادہ انداز واسلوب کی حامل ،سلاست وروانی اوربرجستگی میں بے نظیرہیں ۔یہ بامقصداورصالح تحریریں نہایت مؤثرسوزوگداز میں ڈوبی ہوئی اورازدل ریزد بردل خیزد کا عمدہ نمونہ ہیں ۔یہ وہ ادب ہے جس کی تابندگی اورتاثیرکے سامنے ساری لفاظیاں اورساری خطابت ہیچ معلوم ہوتی ہے۔اورغالبایہی بڑاسبب ہے کہ ان کی کتابیں نہایت مقبول عام ہیں۔
حضرت نعمانی ایک عالم ربانی تھے اورنہایت جامع کمالات شخصیت ،جوبیک وقت دینی خدمات کے کئی سارے محاذوں پر سرگرم ۔علماء ربانین اورجماعت دیوبندکے اکابرین سے مخلصانہ روابط وتعلق اوران سے عقیدت واحترام اوراس مسلک کی حفاظت میں وہ سرگرم رہے ۔ اکابرسے روحانی کسب وفیض ایک طرف انجام پارہاہے دوسری طرف تبلیغی جماعت کے ساتھ طویل دعوتی واصلاحی دورے ہورہے ہیں ۔ تیسری طرف الفرقان کی ادارت کا فریضہ بھی ہے جس پر نامساعدحالات بھی آتے ہی رہتے ہیں۔خانگی ذمہ داریاں اوراہل خانہ اور بچوں کی تعلیم وتربیت پر بھی پوری توجہ ہے۔علمی ،دینی ،دعوتی وفکری تصنیفات کا سلسلہ الگ ہے۔خطابات اورمکتوبا ت کی جولانیاں ہیں ۔تبلیغی جماعت کے بارے میںیارلوگ کہتے ہیں کہ یہ لوگ ’’آسمان سے اوپرکی اورزمین سے نیچے کے علاوہ کوئی بات ہی نہیں کرتے ‘‘مگرحضرت نعمانی کی زندگی اوران کی ساری چلت پھرت اس مشہورعام مقولہ کی مکمل تردیدکرتی ہے،کہ وہ تبلیغی جماعت کے بارے میں بھرپوروقت لگانے کے ساتھ دوسرے اجتماعی تقاضوں سے عہدہ برآ ہوتے ہیں، ملی وجماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کرشامل ، عام مسلمانوں کی جان ومال کی حفاظت ،اسلام واسلامی تعلیم اورمسلم پرسنل لاکی بقاء کی جدوجہدسے ذرابھی غافل نہیں ہیں بلکہ دوسروں سے کچھ آگے ہی ہیں۔
تقریباسات سوصفحات پر مشتمل یہ کتاب صاحب سوانح کی 70سے کچھ اوپرسالوں کی جہدوعمل کی داستان راستان ہے ۔ان کی 92 سال کی یہ بابرکت اوربافیض زندگی تلاش حق ،احیاء دین ،عقائدحقہ کے تحفظ،ملت اسلامیہ کی اصلاح ،تزکیہ وسلوک ،رسوخ فی العلم ،اخلاص عمل اورروشن ملی خدمات کے تابندہ نقوش کی ایک تاریخ ہے جس میں قاری ایک پورے عہدکواپنے سامنے پاتاہے ۔بعض جگہوں پر مصنف نے کچھ اختصارسے کام لیاہے۔ورنہ حضرت نعمانی کا ذکرجمیل ہواور مولاناعتیق الرحمن سنبھلی کا گہربارقلم ہوتویہی جی چاہتاہے کہ یہ تذکرہ اوردراز ہواوردراز ہو۔حضرت نعمانی کی ایک مکمل سوانح عمری اہل علم پر ایک قرض تھاجواس کتاب سے اترگیاہے اورواقعہ ہے کہ خانوادۂ نعمانی میں بھی شاید کوئی اورمصنف مدظلہ سے بہتراس فرض سے عہدہ برآنہیں ہوسکتاتھا۔
کتاب میں کتنے ہی مقامات ایسے ہیں جوہم جیسے طالبان علم کے لیے عقدہ کشا اور سرمۂ بصیرت ہیں۔امیدہے کہ مصنف مدظلہ کی دوسری کتابوں کی طرح یہ بھی ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی۔ 
(تبصرہ نگار: ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی)

جان کائزر کی کتاب ’’امیر عبدالقادر الجزائری ؒ ‘‘ پر ماہنامہ ’’الحق‘‘ کا تبصرہ

انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی میں مسلم ممالک پر مغرب نے اپنے نت نئے حملوں کا آغاز کردیا‘ بہت سے مسلم ممالک پر قبضہ کرکے اپنے استعماری تسلط کو برقرار رکھا۔اس استعماری یلغار کے خلاف ان مسلم ممالک کے عوام الناس اور علماء و کرام نے مزاحمت کا پرچم بلند کیا۔ اپنی جرات واستقلال عزیمت واستقامت حوصلہ اور تدبر کی داستانیں تاریخ میں ثبت کیں اوران کی قربانیوں کواپنوں نے کیا، ان کے دشمنوں نے بھی سراہا اور جب ۱۸۳۰ء میں فرانس نے مسلمانوں کے ریاست الجزائر پر تسلط قائم کرنے کی کوشش کی‘ جس کی مزاحمت میں اس وقت کے عظیم مجاہد شیخ محی الدین ؒ نے فرانسیسوں کے خلاف جہادی تنظیم منظم کی۔ اس کے دیرپا ثمرات مرتب ہونے پر اس نے اپنے جواں سال بیٹے عبدالقادر کو امیر بنا کر باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کیا اور رفتہ رفتہ ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کرگئی۔ امیر عبدالقادر جوان‘ توانا ‘ باہمت اور پرعزم ہونے کے ساتھ ساتھ جذبات کی رو میں بہنے والی شخصیت نہیں تھے بلکہ ہرقدم کو غور و تدبر اوراپنی جماعت مجاہدین کی وسیع ترمفادکی بنیاد پر اٹھاتے رہے۔ 
زیرتبصرہ کتاب اس عظیم مجاہد کی طویل جدوجہد پر مبنی عزیمت و جہاد کی لمبی داستان ہے جو آج کے ہرنوجوان ‘ ہر عالم دین اور ہرمجاہد کے لیے مشعل راہ ہے۔کتاب کے پیش لفظ میں نامور سکالر علامہ زاہد الراشدی صاحب لکھتے ہیں: ’’امیر عبدالقادر الجزائری‘‘ مغربی استعمار کے تسلط کے خلاف مسلمانوں کے جذبہ حریت اور جوش و مزاحمت کی علامت تھے اور وہ اپنی جدوجہد میں جہاد کے شرعی و اخلاقی اصولوں کی پاس داری اور اپنے اعلیٰ کردار کے حوالے سے امت مسلمہ کے محسنین میں سے ہیں۔ان کے سوانح وافکار او رعملی جدوجہد کے بارے میں جان کائزر کی یہ تصنیف نئی پود کو ان کی شخصیت اور جدوجہد سے واقف کرانے میں یقیناًمفید ثابت ہوگی۔ ایسی شخصیات کے ساتھ نئی نسل کا تعارف اوران کے کردار ‘ افکار اور تعلیمات سے آگاہی استعماری تسلط اوریلغار کے آج کے تازہ عالمی منظر میں مسلم امہ کے لئے راہنمائی کا ذریعہ ہے اوراس سمت میں کوئی بھی مثبت پیش رفت ہمارے لئے ملی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ‘‘
بدقسمتی سے معاصر مذہبی رسائل وجرائد میں امیر عبدالقادر الجزائری کی بہت زیادہ کردار کشی کی گئی ‘ انہیں نقلی اور جعلی مجاہد جیسے القابات سے یاد کیا گیا۔لیکن بنیادی طور پر ایک نقطہ سب کی نظروں سے اوجھل رہا۔ وہ یہ کہ کتاب ایک انگریز مصنف جان کائزر کی تصنیف ہے۔ بہت سی ایسی چیزیں جواس نے اپنی طرف سے شامل کی ہیں‘ ان کا امیرؒ سے کچھ تعلق ہے یا نہیں؟ ہمیں ان مسائل کا تجزیہ کرنا چاہیے تھا۔ ہمیں بڑی خوشی ہوتی کہ کوئی مسلمان مصنف اور مورخ اردو یا عربی میں ان کی سوانح لکھتا، لیکن افسوس کہ ہم اپنوں کی قدر نہ کرسکے۔مولانا زاہد الراشدی صاحب نے امیر عبدالقادر کی تشبیہ مولانا عبیداللہ سندھی ؒ سے دے کر بہت سے مسائل کو سلجھا دیا ہے۔ کاش مولانا سندھی ؒ کے تحریک کا ادراک ہم کرتے ہیں اور یہ عقدہ بڑی آسانی سے حل ہوتا۔ امیرعبدالقادر کو عرب دنیا خصوصاً الجزائر وغیرہ میں اب بھی وہی حیثیت حاصل ہے جس طرح اسلامی دنیا خصوصاً پاکستان وافغانستان میں شیخ اسامہ بن لادن اور ملا محمد عمر صاحب مدظلہ کوحاصل ہے۔
بہرحال کتاب ظاہری و معنوی ہراعتبار سے مرصع ہے۔ البتہ ترجمہ کو مزید سلیس ‘ رواں اور آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ ۴۵۴ صفحات پر مشتمل یہ تاریخی دستاویز مکتبہ امام اہل سنت مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ سے دستیاب ہے۔ 

مکاتیب

ادارہ

(۱)
۲۲ نومبر۲۰۱۳ء
بگرامی خدمت محترم مولانا زاہد الراشدی زیدت مکارمہٗ
مولانا! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
جی تونومبر کے الشریعہ میں ’’۔۔۔ ہائڈ پارک ‘‘والا کلمہ حق پڑھ کر کچھ لکھنے کو چاہا تھا مگر اس کے لئے استخارے کی ضرورت تھی جو میں نہیں کرسکا،حتیٰ کہ نومبر کا نقیبِ ختمَِ نبوت آپہنچا ۔اس میں میرے والدِ ماجد ؒ کے ایک مضمو ن کے ساتھ آنجناب کے والدِماجدؒ کاایک فتویٰ بھی یزید کے بار ے میں چھپا ہے، اپنا جو نقطہ نظر یزید کے بارے میں ہے یہ فتویٰ تو اپنے الفاظ سے اسے بہت ہی تائید بہم پہنچاتا ہے ، کہ آجکل کے اعتبار سے تو وہ ولی تھا، مگر میں ان الفاظ کو ذرا وضاحت طلب پارہاہوں کہ ایک زمانہ کا’’ فاسق‘‘ کسی دوسرے زمانے میں فاسق کے بجائے ’’ولی‘‘ کہلانے کا مستحق ہو۔ مجھے کوئی شبہ نہیں حضرت ؒ نے یہ بات از روئے علم فرمائی ہوگی، مگر مجھ کم علم پر وہ عالما نہ نکتہ نہیں کھل رہا ہے، آپ سے بجا طور پر امید ہے کہ اسے کھول سکیں گے۔اور ایک بڑا نکتہ ہاتھ آئے گا۔ والسلام
نیازمند، عتیق سنبھلی 
(۲)
عزیز گرامی محمد عمار خان ناصر ! سلمک اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گزارش ہے کہ ماہ نومبر کے ادارتی صفحات میں آپ کے گرامی قدر والد محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب حفظ اللہ نے ’’الشریعۃ‘‘ کے مستقل عنوان ’’مباحثہ و مکالمہ‘‘ پر ایک معترض کے اعتراض کا جواب تحریر کرتے ہوئے اس پہلو کو اجاگر کیا ہے کہ اس کی اہمیت و افادیت اسی وقت ہے جب طرفین کی رائے ایک ہی جگہ شائع ہو تاکہ قارئین کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ اس تحریر کا مطلب یہ ہے کہ ایک فریق کا موقف تو مکمل طور پر بیان کر دیا جائے، لیکن اس کی وضاحت میں دوسرا فریق اپنا موقف شائع کرنے کے لیے بھیجے تو وہ قطع و برید کی نذر ہو جائے اور اس کے دلائل کا معتد بہ حصہ شائع نہ کیا جائے، یہ مباحثہ و مکالمہ کی روح کے بھی خلاف ہے اور اس سے اس کالم کی افادیت و اہمیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔
راقم کا جو مضمون نومبر کے حصۂ مکاتیب میں (جو مباحثہ و مکالمہ پر مشتمل ہے) شائع ہوا ہے، ’’الشریعۃ‘‘ کے مدیر محترم نے اس کے ساتھ یہی معاملہ کیا ہے۔ اس کے بہت سے دلائل حذف کر دیے گئے ہیں اور بعض جگہ عبارت میں بھی جھول اور بے ربطی پیدا ہوگئی ہے۔ یہ مضمون اہل حدیث پر لگائے گئے جھوٹے الزامات کی وضاحت پر مشتمل تھا۔ جواب میں ظاہر بات ہے، جواب آں غزل کے طور پر مسلک دیوبند بھی زیر بحث آنا تھا کہ اس کے بغیر لگائے گئے الزامات کی صفائی ناممکن تھی۔ یہ ’اس نے غزل چھیڑی میں نے ساز چھیڑا‘ کا آئینہ دار تھا۔ تاہم راقم نے اپنے مضمون میں پوری کوشش کی کہ گفتگو سنجیدگی اور متانت کے دائرے سے نہ نکلے اور لب و لہجہ ایسا شوخ نہ ہو کہ فاضل مدیر کو ’’ایڈیٹنگ‘‘ کی ضرورت محسوس ہو۔ لیکن پھر بھی چونکہ یہ مدحت نگاری نہیں بلکہ تنقید نگاری تھی اور تنقید میں دلائل بھی تلخ ہی محسوس ہوتے ہیں، لیکن یہ تلخی ایسی ہوتی ہے جو علمی گفتگو میں ناقابل برداشت نہیں ہوتی اور فریق مخالف کو یہ جرعۂ تلخ نوش کرنا ہی پڑتا ہے، کیونکہ اس کے بغیر مکالمہ و مباحثہ کا مقصد ہی پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے فاضل مدیر کو راقم کے دلائل میں (لہجے میں نہیں) تلخی محسوس ہوئی تو ان کو حذف کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا بلکہ اس کو بقول حافظ شیرازی :
جواب تلخ می زیبد لب لعل و شکر خارا
کا مصداق سمجھنا چاہیے تھا۔
راقم کے مضمون میں زیر بحث قطع و برید کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے پرندے کے پر کاٹ کر اس کو بلی کے آگے چھوڑ دیا جائے یا ایک فریق کے ہاتھ باندھ کر فریق مقابل کے روبرو کھڑا کر دیا جائے۔ حافظ عبد الجبار سلفی صاحب اور فاضل مدیر دونوں ہم مسلک ہیں۔ راقم کے مضمون سے دلائل کے حذف سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فاضل مدیر نے مسلکی جانبداری کا مظاہرہ بھی کیا ہے اور علمی دیانت کا خون بھی۔ کیا فاضل مدیر اپنے مباحثہ و مکالمہ کے کالم کے حوالے سے اپنے بارے میں اس تاثر کو پسند کریں گے؟
بنا بریں فاضل مدیر سے استدعا ہے کہ وہ راقم کا مضمون مکمل طور پر شائع کریں، پھر اس کے جواب میں سلفی صاحب کا موقف بھی مکمل شائع کریں۔ اس علمی مباحثے کو قارئین کے لیے مفید اور نتیجہ خیز بنانے کا صحیح طریقہ یہی ہے۔ راقم کے مضمون کو مکمل طور پر شائع کیے بغیر فریق ثانی کے جواب کی اشاعت مسلکی جانبداری بھی ہوگی اور علمی دیانت کے منافی بھی۔ البتہ راقم کے مضمون میں کوئی نازیبا، ناشائستہ اور اخلاق سے گرا ہوا لفظ ہو تو اسے کاٹنے کا حق یقیناًآپ کو حاصل ہے۔ لیکن راقم کے مضمون میں خوردبین لگا کر بھی دیکھنے سے ایسا کوئی لفظ نہیں ملے گا جس کو آج کل کی اصطلاح میں غیر پارلیمانی کہا جا سکے۔ 
فاضل مدیر کانٹ چھانٹ کے جواز کے لیے ایک دلیل یا عذر ’’اختصار‘‘ کا بھی پیش کر سکتے ہیں لیکن اختصار کا جواز بھی اسی وقت ہو سکتا ہے جب مضمون میں غیر ضروری طوالت یا غیر متعلقہ چیزیں ہوں، ایک فریق کے پیش کردہ دلائل کو نہ طوالت قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ غیر متعلقہ چیز، کیونکہ موقف کی وضاحت کے لیے حسب ضرورت مواد پیش کرنا ناگزیر ہے۔
راقم ادارتی ذمے داریوں سے بخوبی واقف ہے۔ تقریباً ربع صدی کا عرصہ راقم نے اسی دشت کی سیاحی میں گزرا ہے۔ راقم ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ کا ۲۳، ۲۴ سال مدیر رہا ہے اور اس پر وہ فخر کر سکتا ہے کہ اس کے مؤقر قارئین میں ’’الشریعۃ‘‘ کے رئیس التحریر اور آپ کے والد محترم حفظہ اللہ بھی رہے ہیں جس کی آپ ان سے تصدیق فرما سکتے ہیں۔
مولانا زاہد الراشدی سے راقم کا ربط و تعلق تب سے ہی ہے جب آتش جواں تھا اور گاہے بگاہے دینی مکاتب فکر کی مشترکہ میٹنگوں اور علمی سیمیناروں میں مسلسل ملاقاتیں بھی ہوتی رہی ہیں جس کا سلسلہ کچھ عرصے سے راقم کی صحت کی خرابی کی وجہ سے موقوف ہے۔ راقم ان کو اپنا دوست بھی سمجھتا ہے اور بزرگ بھی، کیونکہ اس وقت وہ قلم و قرطاس اور دیگر علمی محاذوں پر جو خدمت سر انجام دے رہے ہیں، وہ نہایت وقیع اور بہت قابل قدر ہیں۔ متعنا اللّٰہ بطول عمرہ۔ اور وہ بھی راقم کو یقیناًدوست ہی نہیں، بزرگ بھی سمجھتے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہماری اس دینی محبت کو برقرار رکھے اور اس کو ذریعۂ قرب الٰہی بنائے (جیسا کہ احادیث میں یہ بشارت دی گئی ہے)۔
بہرحال بزرگوار محترم کا ذکر تو استطراداً نوک قلم پر آگیا، اس ذکر سے راقم کسی ’’مخصوص رعایت‘‘ کا طالب نہیں، البتہ صحافتی برادری کا ایک فرد ہونے کے حوالے سے ’’الشریعۃ‘‘ کے مدیر سے اپنے اس حق کا خواہش مند ضرور ہے کہ وہ صحافتی ذمے داریوں کے تقاضوں کے پیش نظر راقم کا مضمون مکمل شکل میں شائع فرمائیں۔ بصورت دیگر اس بحث کی بساط لپیٹ دی جائے اور فریق ثانی کی بھی جوابی تحریر کو ہرگز شائع نہ کیا جائے، کیونکہ یہ ’’ون وے ٹریفک‘‘ علمی دیانت کے یکسر خلاف ہوگا۔ 
حافظ صلاح الدین یوسف
مدیر: شعبۂ تحقیق و تالیف دارالسلام لاہور
(۳)
بزرگوارم جناب مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صاحب زید مجدہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
’الشریعہ‘ کے لیے آنجناب کی تحریریں اور شائع شدہ تحریروں کے حوالے سے آپ کا شکوہ نامہ موصول ہوا۔ اس بزرگانہ مواخذہ کے لیے بہت ممنون ہوں۔ 
’الشریعہ‘ جیسے کھلے بحث ومباحثہ کے فورم کے مدیر کے لیے کسی تحریر میں ایڈیٹنگ کا حق استعمال کرنے اور نہ کرنے، ہر دو صورتوں میں شکووں اور شکایتوں سے کوئی مفر نہیں۔ ہماری عمومی پالیسی یہی ہے کہ کم سے کم ایڈیٹنگ کی جائے، تاہم بعض صورتوں میں مخصوص وجوہ سے ایسا کرنا ہی پڑتا ہے۔ آپ نے اپنے مکاتیب میں جن مسائل: تقلید شخصی اور حیاۃ الانبیاء وغیرہ کو موضوع بنایا ہے، وہ بنیادی طور پر ’الشریعہ‘ کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں اور نہ ان مسائل کو ہماری طرف سے بحث ومباحثہ کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ برادرم مولانا عبدالجبار سلفی صاحب نے اہل تشیع پر ایک مضمون میں ضمنی طور پر ان مسائل پر چند جملے لکھے تھے۔ اس کے جواب میں آپ نے اہل حدیث کے نقطہ نظر کی وضاحت فرمائی جو آپ کا حق تھا اور اس کی اشاعت ہماری ذمہ داری۔ تاہم آپ کے دوسرے تفصیلی مکتوب میں گفتگو کا دائرہ موقف کی وضاحت تک محدود نہیں رہا تھا، بلکہ اس میں ایسے پہلو بھی چھیڑے گئے تھے جو ایک fully-fledged  بحث کی تمہید بن سکتے تھے، جبکہ آپ جانتے ہیں کہ اس نوعیت کے فروعی وکلامی اور مناظرانہ بحثوں کا موضوع بننے والے مسائل کو الشریعہ میں الا اللمم  کے درجے میں ہی جگہ دی جاتی ہے۔ اس وجہ سے آپ کے مکتوب کے بعض وہ حصے حذف کرنے کی جسارت کرنا پڑی جو دوسری طرف سے اسی طرح کی تفصیلی جوابی تحریروں کو دعوت دے رہے تھے۔ 
اس ضمن میں مجھ پر ’’مسلکی جانبداری‘‘ کی بدگمانی کم سے کم آنجناب کی طرف سے بالکل سمجھ میں نہیں آئی۔ آپ نے اپنی بعض حالیہ تحریروں میں میری نسبت جس مکتب فکر کی طرف کی ہے اور مجھے اس کی ’’ملحدانہ فکر‘‘ (غالباً یہی الفاظ ہیں) کا علم بردار قرار دیا ہے، وہ یقیناًآپ کو یاد ہوگا۔ ایسے آدمی کے بارے میں یہ الزام کہ اس نے تقلید شخصی اور حیاۃ الانبیاء جیسے مسائل میں مسلکی جانب داری سے کام لیتے ہوئے آپ کی تحریر کو استدلالی قوت سے محروم کرنے کی کوشش کی ہے، بڑی ہی حیرت انگیز بات ہے۔ ایک بالکل سادہ ذہن شخص بھی سمجھ سکتا ہے کہ ’’الحادی‘‘ رجحان کی ہمدردی اگر ہو سکتی ہے تو ان مسائل میں آپ کے موقف سے ہو سکتی ہے، نہ کہ تقلید اور حیاۃ الانبیاء فی القبور کے موقف کو تقویت پہنچانے سے!!
آپ کے شکایت نامہ کے جواب میں یہ چند معروضات پیش کرنا مناسب محسوس ہوا۔ اگر پھر بھی شکایت باقی رہے تو میں نہایت مودبانہ طور پر معافی کا خواست گار ہوں۔
اپنی نیک دعاؤں میں یاد فرماتے رہیے۔ بے حد شکریہ!
محمد عمار خان ناصر
۲۴؍ نومبر ۲۰۱۳ء
(۴)
پاکستان کی دینی جماعتوں کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب خود ان کے اندر موجود ہے، لیکن افسوس وہ اسے باہر تلاش کرتی پھرتی ہیں۔ہماری دینی جماعتوں کی ناکامی کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ان کے قول و فعل کا تضاد ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہماری یہ محترم جماعتیں جس عدل وقسط کوسارے ملک اور ساری دنیاپہ نافذ کرنے کی علمبردار ہیں، افسوس صد افسوس وہ اس عدل و قسط کو اپنی نہایت محدود جماعتی سطح پر نافذ کرنے کے لیے تیار نہیں۔یہ وہ بنیادی ترین جرم ہے جس کی پاداش میں پاکستان کی دینی جماعتیں بدترین ناکامی سے دوچار ہیں اورگزشتہ 66سال سے تلاش منزل کے لیے بھٹک رہی ہیں۔
ہماری ان جماعتوں کا یہ وہ بھیانک جرم ہے جس نے نہ صرف پاکستان میں نفاذ اسلام کی راہ کو کھوٹا کیاہوا ہے بلکہ اسی نحوست کی وجہ سے قدرت نے ’’اطمینان قلب اور روحانی سرور‘‘کی عظیم ترین دولت کے معاملہ میں انہیں قلاش اور مفلس کرکے رکھ دیا ہے۔سارے ملک اور سارے جہاں پر عدل وقسط اور نظام عدل اجتماعی قائم کرنے کے دعووں کے باوجود ہماری یہ جماعتیں(ان جماعتوں کے ذمہ دار) اپنے اندرونی معاملات اور اپنے باہمی اختلافات و نزاعات میں عدل و قسط سے راہ فرار اختیار کرتے ہیں اورجبر،جھوٹ اور بلفنگ کے ناپاک ہتھکنڈے استعمال کرنے کے بعد وہی طرز عمل اختیار کرتے ہیں جو یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اختیار کیا تھا یعنی اپنی ذات یاذاتی اغراض کی تسکین کے لیے ظلم، دھوکہ اور جھوٹ کا بے دھڑک ارتکاب کرنا اور بعد میں نیکو کار بن جانے کی اداکاری کرنا۔کیا یوسف علیہ السلام کے احسن القصص میں ہماری دینی جماعتوں (کے ذمہ داروں)کے لیے کوئی سبق اور کوئی نصیحت نہیں؟
معاف کیجئے گا، ہمارا یہ نہایت تلخ مگر حقیقت پسندانہ تبصرہ پاکستان کی ان دینی جماعتوں (کے ذمہ داروں) کے بارے میں ہے جنہیں ہم پسند کرتے ہیں، جو ہمارے خیال میں قرآن و سنت کے زیادہ قریب رہ کر دعوت و اقامت دین کا کام کرنے کے داعی ہیں، یا دوسرے لفظوں میں جن میں بگاڑ کا لیول باقی دینی جماعتوں کے مقابلہ میں کم ہے۔عدل و قسط کے بیج کو اپنی محدود جماعتی سطح پر ہی کچل دینے کا اولین اظہار ہماری دینی جماعتیں اس طرح کرتی ہیں کہ ’’خوداحتسابی‘‘ اور اس کے حق میں اٹھنے والی ہر آواز کو اپنی محدود جماعتی سطح پر ہی خاموش کرادیتی ہیں اور خوداحتسابی کے ماحول کو پنپنے اور پھلنے پھولنے نہیں دیتیں۔ہم پورے خلوص اور دردمندی سے اس حقیقت کا اظہار کررہے ہیں کہ جس عدل اجتماعی اور نظام عدل و قسط کو ہماری یہ محترم جماعتیں پورے ملک اور پورے عالم پر غالب و نافذ کرنے کی داعی وعلمبردار ہیں،اپنی محدود جماعتی سطح پر اسی ’’عدل وقسط‘‘ کے ننھے پودے کو مسلسل کچلتی اور برباد کرتی رہتی ہیں۔ان جماعتوں میں مخلص افراد کے اخلاص و معصومیت کا بے دریغ قتل کیاجاتا ہے۔ہم حیرت اور تاسف کے ناختم ہونے والے احساس میں ڈوب جاتے ہیں جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ جس اقامت دین اور نظام عدل وقسط کا پورا درخت ملک کے وسیع وعریض رقبے پر گاڑھ دینے کے شوق میں ہماری یہ محترم جماعتیں جنون کی حد تک مبتلا ہیں، اسی نظام عدل وقسط کے ننھے منے پودوں کو ہرروزیہ اپنی محدود جماعتی سطح پر نہایت بے دردی، بے رحمی اور بے حسی سے روندتی چلی جارہی ہیں۔
افراد ہو یا جماعتیں خود احتسابی کے بغیر ترقی اور روحانی ترفع ناممکن ہے۔مگر خوداحتسابی کے لیے تو ایک نہایت بیدار اور طاقتور ضمیرکی ضرورت ہوتی ہے۔جبکہ جماعتوں اور معاشروں کا ضمیر وہ صالح افراد ہوا کرتے ہیں جو جماعتوں اور معاشروں کے قول و فعل کے تضادات اور انحرافات کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں اوراس کی اصلاح کے لیے قول حق کا فریضہ پوری دیانتداری سے ادا کرتے ہیں۔خوش نصیب ہیں وہ معاشرے اور وہ جماعتیں جو اپنے ضمیر(قول حق کا فریضہ ادا کرنے والے اصحاب خیراور جماعتوں کے بگاڑ سے لڑنے والے اصحاب عزیمت)کا گلا گھونٹنے سے نہ صرف اجتناب برتتے ہیں بلکہ اس ’’مبارک ضمیر‘‘کو،بگاڑ کے آگے بند باندھنے اور اصلاح کی راہ ہموار کرنے کے لیے،اپنا فریضہ اداکرنے کی مکمل آزادی عطا کرتے ہیں۔اور خوش نصیبی سے محروم ہیں وہ معاشرے اور جماعتیں جواس ’’ضمیر‘‘کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں، اپنے تضادات اور انحرافات کو منطق کے زور پر منوانے کی کوشش کرتی ہیں اور اصلاح کی ہر آواز کو اجنبی جان کر اسے ’’شہر بدر‘‘یا کم از کم ’’جماعت بدر‘‘ کرنا اپنا حق سمجھتی ہیں۔
ہم نہایت کرب اور اذیت سے اپنے آپ کویہ عرض کرنے پر مجبورپاتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ اور اس کی تمام جماعتیں بشمول دینی ومذہبی جماعتیں’’ضمیر کی آواز دبانے ‘‘کے اسی المیہ سے دوچار ہیں۔پاکستان میں اسلام کی ترویج اور اس کے غلبہ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قول و فعل کا تضاد( عدل و قسط کے بیج کو اپنی محدود جماعتی سطح پر ہی مار دینا اور کچل دینا ) اور ضمیر کی آواز دبانے کا یہی مرض ہے۔یہ وہ منحوس بیماری ہے جو کسی بھی معاشرے کو عام دنیاوی فوائداور نعمتوں سے بھی محروم کرکے رکھ دیتی ہے۔اس کی سب سے بڑی مثال عالم اسلام اور تیسری دنیا کے ممالک ہیں جہاں ہر تعمیری اور اصلاحی آواز کا گلا گھونٹ دیاجاتا ہے۔چنانچہ ان معاشروں میں غربت، جہالت، بیماریاں، بے روزگاری، جرائم، ملاوٹ، غذائی بحران،بھوک، افلاس، قانون شکنی، تعصب، تنگ نظری، گروہ بندیاں۔۔۔غرض فساد اور بگاڑکا ایک ناختم ہونے والا سلسلہ ہے۔جو’’بیماری‘‘ اور ’’نحوست‘‘ کسی معاشرے کو عام دنیاوی فوائد ونعمتوں سے محروم کرکے رکھ دیتی ہے، بھلا اس کے ہوتے ہوئے کائنات کی اعلیٰ ترین نعمت’’ہدایت اور اسلام‘‘کے غلبہ کی راہ کیسے ہموار ہوسکتی ہے؟پاکستان کے دینی قائدین اور جماعتیں جب تک اس روگ اور اس منحوس بیماری سے جان نہیں چھڑاتیں اس وقت تک پاکستان میں اسلام کے غلبہ اور احیاء کی ان کی ہر آواز سوائے خود فریبی ، ذہنی عیاشی اور ضیاع اوقات کے اور کچھ بھی نہیں۔
ہماری مذہبی و دینی قیادت کو یا توقول و فعل کے تضادات اور ضمیر (اصلاح سیرت و کردار اور جماعتی لیول پرعدل و قسط کے لیے اٹھنے والی ہر مخلصانہ آواز)کا گلا گھونٹنے کی منحوس عادات سے جلد سے جلد جان چھڑا لینا چاہیے یا پھر اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے تو پھر وہ دینی قیادت کا منصب چھوڑ کر کوئی سا بھی دنیاوی کاروبار سنبھال لیں کہ اس سے روز آخرت کم از کم اسلام کی راہ روکنے اور اسلام کی بدنامی کے سنگین جرائم کی فرد جرم سے تو وہ بچ جائیں گے۔اگرچہ ہمیں اس بات کا افسوس ہوگا کہ دینی خدمت کے اعلیٰ منصب کو چھوڑ کر یہ محترم شخصیات دنیاوی کاروبار میں مشغول ہوجائیں گی۔تاہم دنیاوی کاروبار میں ضمیر کا گلا دبانے کی سزا کے مقابلے میں جب ہم دین کے کام میں ضمیر واصلاح کی آوازکا گلا دبانے کے سنگین جرم کے دنیاوی واخروی بھیانک سزا کا تصور کرتے ہیں تو ہم پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔
آخر میں ہم یہ واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ معروضات کسی خاص جماعت، کسی خاص گروہ یا کسی خاص شخصیت کے لیے پیش نہیں کی جارہیں بلکہ قرآن حکیم اور سیرت رسولﷺ کے ایک نہایت ادنیٰ طالب علم کا اپنی زندگی کے گزشتہ بیس سال پر محیط پاکستانی معاشرے کے ناختم ہونے والے اخلاقی،ایمانی، معاشرتی،معاشی،سیاسی،تعلیمی اور مذہبی بگاڑ،فساد اور تنزل پر کڑھن ، کرب اور دینی ومذہبی جماعتوں کے تجربہ اور مطالعہ کا ماحصل ہے۔ ہم تمام دینی (خصوصاً قرآن وسنت کے نفاذ کی علمبردار) جماعتوں اور قائدین کا احترام کرتے ہیں اور ان سے دلی ہمدردی رکھتے ہیں۔ اسی احترام اور دلی ہمدردی ہی کا مخلصانہ تقاضا وہ قول حق ہے جس کا اظہار ہم نے سابقہ سطور میں کیا ہے۔
محمد رشید
(abu_munzir1999@yahoo.com)
(۵)
جناب رئیس التحریر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ نے علامہ محمد اسد پر میرا مضمون الشریعہ کے ماہ اگست ۲۰۱۳ء کے شمارے میں شائع کیا۔ شکریہ! اس سلسلے میں جناب محمد اکرام چغتائی صاحب نے اکتوبر کے شمارے میں جو طویل تبصرہ فرمایا ہے، اس کے بارے میں گزارش یہ ہے کہ حقیقت میں اس تحریر میں پنجاب یونیورسٹی سے محمد اسدکی وابستگی کے سلسلے میں ڈاکٹر زاہد منیر صاحب کے مضمون سے استفادہ کیا گیا تھا۔ ان کے نام اور ان کے مضمون کا حوالہ رہ جانا ایک فاش غلطی ہے جس کا مجھے اعتراف ہے اور اب اس کودرست کر دیا جائے گا۔ یہی مضمون کچھ اضافوں کے ساتھ میری کتاب ’’عالم اسلام کے بعض مشاہیر‘‘ میں شامل کیا جا رہا ہے جو عنقریب منظر عام پر آ جائے گی۔ اصل میں بہت مدت ہوئی، یہ مضمون ایک اخباری کالم کے طور پر لکھا گیا تھا۔ اس کے بعد راقم نے اس میں کافی تبدیلیاں کی تھیں۔ غلطی یہ ہوئی کہ الشریعہ میں اشاعت کے لیے وہی پرانا ورژن ارسال کر دیا گیا۔ بہرحال یہ علطی کسی اور کی نہیں، میری ہے اور میں اس کا اعتراف صاف طور پر کرتا ہوں اور اس کی اصلاح کر رہا ہوں۔
محترم چغتائی صاحب نے جو دوسری غلطیوں اور کمیوں کی نشان دہی فرمائی ہے تو مجھے کہنا چاہیے کہ یہ میری معلومات کی کمی کا شاخسانہ ہیں۔ میرے مضمون پر اتنے تفصیلی اور ناقدانہ اظہار خیال کے لیے میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں اور ان کے اس فاضلانہ مراسلے کو سامنے رکھ کر ان کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی کوتاہ علمی اور قلت معلومات کی تلافی کی پوری کوشش کروں گا۔ ان شاء اللہ
رومی پر ایک مقالہ تیار کرتے وقت محمد اکرام چغتائی صاحب کی کئی کتابیں بالاستیعاب پڑھنے کا موقع راقم کو ملا ہے۔ بہرحال انھوں نے جن نکات کی طرف توجہ دلائی ہے، وہ بہت اہم ہیں جن سے مجھے اپنے مقالہ کی اصلاح اور اس کو مزید بہتر اور ثروت مند بنانے میں خاصی مدد ملے گی۔ 
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
mohammad.ghitreef@gmail.com

نسوانیت کا دشمن لیکوریا

حکیم محمد عمران مغل

آج سے نصف صدی پہلے کی زندگی اور آج کے حالات میں کوئی مماثلت نہیں رہی۔ ایسے امراض سے واسطہ پڑ چکا ہے جو کبھی سنے نہیں گئے تھے۔ لیکوریا کا مرض بھی اتنی شدت پر نہ تھا۔ آج تو لڑکی جوں ہی ہوش سنبھالتی ہے، لیکوریا اس کو دبوچ لیتا ہے۔ آج اس مرض میں شدت کی وجوہات ماضی سے بالکل مختلف ہیں۔ ہمارے ہاں جانوروں کا دودھ اتارنے کے لیے انھیں جو انجکشن آکسی ٹوسن لگایا جاتا ہے، یہ جنسی امراض کی بنیاد بن چکا ہے۔ 
خون میں ایک مادہ جسے ایڈر نے لین (Adrenaline) کہتے ہیں، کی ریزش ہوتی رہتی ہے۔ اس سے اختلاج قلب، سوء ہضم، نفخ، درد سر یا دوسرا کوئی بھی بے نام مرض پیدا ہوتا ہے۔ اس کا مقابلہ ہماری قوت وتوانائی کرتی ہے، لیکن اس قوت کی بڑھوتری کے اسباب بھی ہونے چاہییں۔ ورنہ صحت کے کئی مسائل پیدا ہوں گے۔ جوانی کا احساس خیالات سے ہے، کسی مقوی غذا سے نہیں اور خیالات تبھی ٹھیک ہوں گے جب اعضائے رئیسہ تندرست ہوں گے۔ 
موٹے اناج جوار، باجرہ، جو، چنے وغیرہ کی جگہ باریک آٹے نے شوگر کا مرض پیدا کر دیا ہے۔ حلوہ پوری، برگر، چپس، پیزا، مرغ مسلم، فاسٹ فوڈ نے جو حشر برپا کر رکھا ہے، اس کا ہمیں احساس ہی نہیں۔ علامہ مشرقی نے ساری زندگی چھان بورہ کی چائے پی اور موٹے آٹے کی روٹی کھائی۔ ہمارے پڑوس میں ہنزہ ریاست ہے جہاں کے گورے چٹے اور خوب صورت لوگوں کی صحت قابل رشک ہے۔ یہ لوگ ہماری طرز بود وباش سے متنفر ہیں۔ بوتلوں کے بند پانی یعنی کولا مشروبات کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ بھرپور سردی میں یخ ٹھنڈی لسی،مکھن اور دودھ ان کا من بھاتا کھاجا ہے۔ 
۱۔ گندم سات کلو، جو ۲ کلو، کالے چنے ایک کلو۔ سب کو ملا کر آٹا پسوا لیں اور اس کی روٹی کھایا کریں۔ لیکوریا کے علاوہ شوگر اور دیگر کئی خطرناک امراض سے ان شاء اللہ آپ کی جان چھوٹ جائے گی۔ بے ہودہ ناول، ننگی فحش تصاویر اور فلمیں، مخلوط تعلیم، کھٹائی، اچار، چٹ پٹی اشیاء، گرم اور تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کریں۔
۲۔ بھنڈی کے پودے کو جڑوں سے جدا کر کے اس سے پھلیاں اتار لیں اور جڑوں کو کوٹ کر باریک کر لیں۔ ذائقہ کے لیے مناسب مقدار میں میٹھا ساتھ ملا کر صبح شام نصف چمچ چائے والا پانی کے ساتھ کھائیں۔ لیکوریا کے ساتھ جریان، احتلام، سرعت انزال بھی ان شاء اللہ ختم ہو جائیں گے۔