اگست ۲۰۱۳ء

اختلاف رائے کے دائرے، حدود اور آدابمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مصر میں الاخوان المسلمون کی حکومت کا خاتمہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
علامہ محمد اسدؒ اور ان کی دینی و علمی خدماتڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
اسلام کا تصورِ جہاد ۔ تفہیم نو کی ضرورتمحمد عمار خان ناصر 
اسلامی نظریاتی کونسل اور ڈی این اے ٹیسٹڈاکٹر عبد الباری عتیقی 
مفتی محمد زاہد صاحب کے موقف پر ایک تحقیقی نظر (۱)مولانا عبد الجبار سلفی 
مکاتیبادارہ 
سالانہ دورۂ تفسیر و محاضرات قرآنی ۲۰۱۳ءادارہ 
امراض دل اور بلڈ پریشر کا علاجحکیم محمد عمران مغل 

اختلاف رائے کے دائرے، حدود اور آداب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام ۱۷۔۱۸ جون کو ’’معاشرہ میں باہمی احترام اور رواداری کے فروغ میں ائمہ و خطبا کا کردار‘‘ کے عنوان پر منعقدہ سیمینار کی آخری نشست میں گفتگو۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ! اگرچہ میری گفتگو کا عنوان ’’مختلف فقہی مذاہب سے استفادہ کی صورتیں‘‘ بتایا گیا ہے لیکن میں اس ورکشاپ کے عمومی موضوع کے حوالہ سے بھی کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔ معاشرہ میں باہمی احترام اور رواداری کے فروغ میں علماء کرام اور ائمہ و خطباء کے کردار کے ایک پہلو کے بارے میں شرکاء محفل کو توجہ دلانا مناسب سمجھتا ہوں کہ اگر ہم اختلافات کی حدود اور ان کی مختلف سطحوں کے بارے میں آگاہی حاصل کر لیں اور اختلافات کو ان کے دائرہ اور سطح تک محدود رکھنے کی روایت کو فروغ دیں تو باہمی احترام اور رواداری کے حوالہ سے پیدا ہونے والے بہت سے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ اس لیے کہ ہمارا عمومی مزاج یہ بن گیا ہے کہ کسی اختلاف کی اصل سطح اور دائرہ کو پیش نظر رکھے بغیر ہر اختلاف میں ایک ہی طرح کا طرز عمل اختیار کر لیا جاتا ہے جس سے اختلافات اکثر اوقات تنازعات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لیے میں مذہبی اختلافات کی مختلف سطحوں اور دائروں کے بارے میں اپنے طالب علمانہ مطالعہ کی روشنی میں کچھ امور کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں:
  • مذہبی اختلافات کا ایک دائرہ ایمان اور کفر کا ہے اور ادیان و مذاہب کی سطح کا ہے جیسا کہ مسلمان، مسیحی، یہودی، سکھ، ہندو اور بدھ مت وغیرہ مذاہب کے درمیان ہے۔
  • ایک دائرہ حق و باطل کا ہے جسے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اہل قبلہ کے مختلف گروہوں کا باہمی اختلاف کہتے ہیں۔ یہ اہل سنت، معتزلہ، خوارج، روافض اور منکرین حدیث کے درمیان اختلافات کا دائرہ ہے جو اپنی تمام تر شدت اور سنگینی کے باوجود بہرحال پہلے دائرہ سے مختلف ہے اور میں اسے حق و باطل کے اختلافات سے تعبیر کیا کرتا ہوں۔
  • تیسرا دائرہ اہل سنت کے اپنے داخلی ماحول میں فقہاء کرامؒ کے اختلافات کا ہے جس کا تعلق احکام و مسائل سے ہے مثلاً احناف، شوافع، مالکیہ، حنابلہ اور ظواہر کے باہمی فقہی اختلافات ہزاروں مسائل میں ہیں لیکن یہ اختلافات ایمان و کفر اور حق و باطل کی سطح کے نہیں ہیں بلکہ خطا و صواب کے دائرے کے ہیں۔ کیونکہ فقہ و اجتہاد کے باب میں اہل السنۃ کا مسلّمہ اصول یہ ہے کہ کسی مسئلہ میں جو موقف ہم میں سے کسی نے اختیار کیا ہے وہ صواب ہے جبکہ دوسری طرف کا موقف خطاء پر مبنی ہے (ولکن یحتمل الصواب) مگر اس میں صواب کا احتمال بھی موجود ہے۔ 
  • چوتھا دائرہ اولیٰ و غیر اولیٰ کا ہے جو ایک ہی فقہ کے پیروکاروں کے درمیان اکثر موجود رہا ہے اور یہ اتنا معمولی ہوتا ہے کہ اسے خطا و صواب سے تعبیر کرنے کی گنجائش بھی بسا اوقات نہیں ہوتی۔
  • پانچواں دائرہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تشریحات کے مطابق عقائد کی تعبیرات کا ہے، حضرت شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ مسلّمہ عقائد کے باب میں کسی عقیدہ سے اختلاف کی وجہ سے تو اختلاف کرنے والوں کو اہل السنۃ کے دائرہ سے خارج قرار دیا جا سکتا ہے لیکن نفس عقیدہ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی تعبیر میں اختلاف کرنے والوں کو اہل السنۃ سے خارج قرار دینے کو وہ درست نہیں سمجھتے۔ مختلف عقائد کی تعبیرات کے بارے میں اشاعرہ، ماتریدیہ اور ظواھر کے بیسیوں باہمی اختلافات اسی زمرہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے باوجود یہ تینوں گروہ اہل السنۃ والجماعۃ کا حصہ شمار ہوتے ہیں۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اختلافات کے مختلف دائروں اور سطحوں کو باہم گڈمڈ کر رکھا ہے۔ بات اولیٰ اور غیر اولیٰ کی ہوتی ہے جبکہ ہم کفر و اسلام کے ہتھیاروں کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں، بات خطا و صواب کی ہوتی ہے مگر ہم حق و باطل کے پرچم اٹھائے ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اگر ہم اختلافات کے دائروں اور سطحوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہر اختلاف کو اس کے اصل دائرہ میں رکھیں تو بہت سے تنازعات خودبخود حل ہو جائیں اور باہمی احترام اور رواداری کا ماحول بھی فروغ پانے لگے۔
اس کے بعد میں اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں کہ مختلف فقہی مذاہب سے استفادہ کی صورتیں آج کے دور میں کیا ہو سکتی ہیں۔ ہماری یہ روایت چلی آرہی ہے کہ ہم اپنے اپنے فقہی مذہب پر کاربند رہتے ہوئے ضرورت کے مقامات پر دوسرے فقہی مذاہب سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس حوالہ سے اصول فقہ میں ’’تلفیق‘‘ کی صورت بیان کی گئی ہے جس کی کچھ شرائط ہیں اور ان شرائط کے ساتھ مفتی کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ جہاں اس نوعیت اور درجہ کی ضرورت محسوس کرے وہاں وہ دوسرے فقہی مذہب سے بھی استفادہ کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے مفتی اور ضرورت دونوں کے درجہ اور سطح کو ملحوظ رکھا جاتا ہے اور اس کے مطابق مذاہب میں ایک دوسرے سے استفادہ کی صورت اختیار کی جاتی ہے۔ میں ’’تلفیق‘‘ کے ان اصولوں اور دائروں کا پوری طرح احترام کرتا ہوں اور خود بھی ان کی پابندی کرتا ہوں لیکن یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ یہ معاملہ اس صورت میں ہوتا ہے جب ایک فقہی مذہب کے پیروکاروں کو کسی خاص مسئلہ میں دوسرے مذہب کے فقہی اقوال و جزئیات سے استفادہ کی ضرورت محسوس ہو اور وہ اسے سامنے رکھ کر اپنا مسئلہ حل کر لیں۔ 
لیکن حالات کے تغیر اور معاشرت کے ارتقاء کے باعث کچھ ایسی صورتیں اب سامنے آرہی ہیں جن میں ہمیں اس سے آگے بھی کچھ سوچنا ہوگا اور ایسے اجتماعی مسائل کے حل کی کچھ صورتیں نکالنا ہوں گی جو ’’تلفیق‘‘ کے مسلّمہ دائروں سے مختلف دکھائی دیتی ہیں، مثلاً:
  • جہاں ایسی سوسائٹیاں وجود میں آرہی ہیں بالخصوص مغربی ممالک میں جہاں احناف، شوافع، مالکیہ اور حنابلہ وغیرہ مشترکہ طور پر رہتے ہیں اور مسجد یا کسی ادارے کا مشترکہ طور پر نظام چلا رہے ہیں، یعنی مسجد، مدرسہ یا مسلم سکول بناتے اور اس کا نظام چلانے میں حنفی، شافعی، ظاہری وغیرہ مشترکہ طور پر شریک ہیں وہاں کوئی ایسا مشترکہ فارمولا تشکیل دینا ناگزیر حد تک ضروری ہو جاتا ہے جس میں تمام متعلقہ فقہی مذاہب کا لحاظ رکھا گیا ہو۔ یہ بہت سے مقامات پر آج کی ایک اہم ضرورت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
  • بسا اوقات فقہی دائروں اور سطحوں سے بالاتر ایسے ملّی مسائل سامنے آجاتے ہیں جن میں مشترکہ سوچ کو اپنانا لازمی ہو تا ہے۔ مثلاً پاکستان بننے کے بعد ہمیں دو بڑے مسائل درپیش آئے تھے جن کے لیے ہمیں اجتماعی فیصلہ کرنا تھا۔ ایک یہ کہ پاکستان کا نظام حکومت کیا ہوگا اور کسی فرد یا گروہ کو اقتدار سونپنے کی وجہ جواز کی ہوگی؟ اور دوسرا یہ کہ عقیدۂ ختم نبوت کے منکر قادیانی گروہ کی معاشرتی حیثیت کیا ہوگی؟ ہم نے ان دونوں مسائل کا فیصلہ اجتماعی اجتہاد کے ذریعہ کیا اور طے کیا کہ پاکستان میں حکمرانی کا حق اسے حاصل ہوگا جسے عوام کا اعتماد حاصل ہوگا، جبکہ حکومت قرآن و سنت کی پابند ہوگی۔ اور قادیانیوں کے بارے میں ہم نے فیصلہ کیا کہ انہیں غیر مسلم اقلیت کے طور پر اسلامی ریاست میں معاشرتی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
  • اس مسئلہ کے ایک اور پہلو کی طرف بھی توجہ دلانا چاہوں گا کہ آج کل عالمی مارکیٹ میں ’’حلال فوڈ‘: کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم بھی حلال کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں فراہم کی جانے والی حلال خوراک کے ’’حلال‘‘ ہونے کی ضمانت فراہم کی جائے جو ظاہر ہے کہ مسلمان حکومتوں کی طرف سے ہی فراہم کی جا سکتی ہے۔ بعض ممالک میں حکومتی سطح پر ایسے ادارے موجود ہیں جو کسی فوڈ کے حلال ہونے کے لیے تسلی کرنے کے بعد ’’حلال فوڈ‘‘ کی اسٹیمپ لگا دیتے ہیں جس سے عالمی مارکیٹ میں یہ ضمانت میسر آجاتی ہے۔ پاکستان میں یہ مسئلہ ابھی غور و فکر کے مراحل میں ہے، دو سال قبل لاہور کے ایک ہوٹل میں بین الاقوامی سطح کا سیمینار منعقد ہوا جس میں مجھے بھی شرکت اور گفتگو کا موقع ملا، اس کی جس نشست میں مجھے معروضات پیش کرنا تھیں اس کی صدارت اتفاق سے برادر مسلم ملک انڈونیشیا کے سفیر محترم کر رہے تھے۔ میں نے اپنی گفتگو میں اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ ہمیں بین الاقوامی مارکیٹ میں حلال فوڈ کی گارنٹی فراہم کرنے سے پہلے آپس میں حلال و حرام کا کوئی مشترکہ فارمولا طے کرنا ہوگا۔ اس لیے کہ انڈونیشیا اور ملائشیا میں غالب اکثریت شوافع کی ہے جن کے نزدیک سمندر کا ہر جانور حلال ہے اور اتفاق سے شوافع کی بہت بڑی اکثریت جزیروں میں آباد ہے جہاں چاروں طرف سمندر ہی سمندر ہے۔ جبکہ احناف کے نزدیک مچھلی کی اقسام کے علاوہ سمندر کی کوئی جاندار مخلوق حلال نہیں ہے۔ ہم دونوں جب حلال فوڈ کی گارنٹی لے کر بین الاقوامی مارکیٹ میں جا رہے ہیں تو ہمیں آپس میں اس حوالہ سے ’’حلال و حرام‘‘ کے کسی متفقہ موقف پر آنا ہوگا ورنہ عالمی مارکیٹ میں مذاق بن جائے گا کہ یہ پاکستانی حلال ہے اور یہ انڈونیشین حلال ہے، ہمیں ایسی صورت حال پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ میری اس گزارش سے مجلس میں اتفاق کیا گیا اور ان معاملات میں باہمی اتفاق رائے کی ضرورت کو محسوس کیا گیا۔ 
گزارش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں کم از کم اہل السنۃ کے دائرہ کے فقہی مذاہب یعنی حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور ظاہری فقہی مکاتب فکر سے واقفیت اور باہمی تبادلہ خیالات اور استفادہ کا ماحول پیدا کرنا چاہیے۔ میں اس بات کا پوری طرح قائل بلکہ داعی ہوں کہ کسی ملک میں جس فقہی مذہب کے پیروکاروں کی اکثریت ہے وہاں اسی فقہ کا عملی نفاذ ہو۔ حنفی اکثریت کے ملک میں حنفی فقہ کو قانون کی بنیاد ہونا چاہیے، شافعی اکثریت کے ملک میں فقہ شافعی کا نفاذ ہی صحیح بات ہے اور مالکی اکثریت کے ملک کو اپنے دستور و قانون میں مالکی فقہ سے ہی استفادہ کرنا چاہیے، لیکن جہاں مشترکہ ماحول ہو وہاں اشتراک عمل کی قابل عمل فقہی صورتیں ضرور نکالنی چاہئیں اور بین الاقوامی فورم پر ہمیں مل جل کر باہمی مفاہمت اور ہم آہنگی کے ساتھ جانا چاہیے۔ عالمی اداروں، بین الاقوامی رائے عامہ اور مشترکہ علمی و فکری چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور ظاہری سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے سے استفادہ کی ایسی صورتیں ضرور نکالنی چاہئیں جو آج کی دنیا میں اسلام کے جامع اور صحیح تعارف کے لیے ضروری ہیں۔ 
میری طالب علمانہ رائے میں اس کے لیے زیادہ مناسب بات یہ ہوگی کہ اجتماعی اور مشاورتی اجتہاد کو فروغ دیا جائے۔ یہ فقہ حنفی کی اساس اور روایت بھی ہے کہ حضرت امام اعظمؒ نے شخصی فقہ کی بجائے مشاورتی اور اجتماعی فقہ کی روایت کا آغاز کیا اور ہمارے دو بڑے فقہی ذخیروں ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ اور ’’مجلۃ الاحکام العدلیۃ‘‘ کی بنیاد بھی اجتماعی مشاورت پر ہے۔ اس لیے ہم اگر اجتماعی اور مشاورتی فقہی ماحول دوبارہ بحال کر لیں تو نہ صرف حضرت امام اعظمؒ کی روایت زندہ ہو جائے گی بلکہ آج کے بہت سے مسائل کے حل کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب نے ’’البرہان‘‘ کے حالیہ شمارے میں ’’الشریعہ‘‘ اور ’’ضرب مومن‘‘ کے مباحثے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:
’’ہم سے ایک قاری نے سوال کیا ہے کہ عبد القادر الجزائری کے حوالے سے جو بحث ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ اور ’ضرب مومن‘ میں جاری ہے، ا س کے بارے میں ہماری رائے کیا ہے؟ مختصراً عرض ہے کہ مفتی ابولبابہ صاحب کا موقف صحیح ہے، لیکن ان کا اسلوبِ اظہار روایتی اور جذباتی ہے۔ جاوید غامدی صاحب اور عمار ناصر صاحب کے خلاف لکھنے والے بعض دیگر احباب جیسے سید خالد جامعی صاحب اور محمد رفیق چودھری صاحب کا اور بعض جرائد جیسے ماہنامہ محدث، ماہنامہ صفدر، ماہنامہ ساحل ۔۔۔ کا انداز نگارش بھی جذباتی ہوتا ہے۔ اگرچہ قارئین کا ایک حلقہ اسے پسند کرتا ہے، لیکن سنجیدہ اہل علم اس کے مقابلے میں غیر جذباتی اور مدلل انداز کو ترجیح دیتے ہیں۔ خصوصاً اس صورت میں کہ خود غامدی صاحب اور عمار ناصر صاحب غیر جذباتی، شائستہ اور مدلل انداز میں لکھتے ہیں۔ ‘‘
ہم ڈاکٹر صاحب محترم کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمارے اس موقف سے اتفاق کیا ہے کہ کسی بھی مسئلہ پر اختلاف کا اظہار دلیل اور شائستگی کے ساتھ ہونا چاہیے، تاہم اس کے بعد وہ یوٹرن لے کر فرماتے ہیں کہ ’’اگرچہ اسلام بالعموم بدزبانی کی مذمت کرتا ہے‘‘، لیکن مسئلہ ان کے خیال میں خاص نوعیت کا ہو تو اشتعال انگیزی، الزام تراشی، بدزبانی، طعن و تشنیع اور نفرت خیزی سب کچھ جائز ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب محترم نے سوال کیا ہے کہ اختلاف کی حدود کیا ہیں؟ فرماتے ہیں:
’’ہم مولانا راشدی صاحب سے متفق ہیں کہ علمی اختلاف رائے میں تحمل و برداشت سے کام لینا چاہیے اور دلیل کا جواب دلیل ہی سے دینا چاہیے، لیکن ہم مولانا محترم سے پوچھتے ہیں کہ اس علمی اختلاف رائے کی حدود کیا ہیں اور اس کا منبع کیا ہے؟ ایک بات میں اختلاف، دوسری بات میں اختلاف، احناف سے اختلاف، ائمہ اربعہ سے اختلاف، اجماع امت سے اختلاف، فقہاء سے اختلاف، محدثین سے اختلاف اور محقق صوفیا سے اختلاف۔‘‘ 
ہم سب سے پہلے اس پر کچھ معروضات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری طالب علمانہ رائے میں مذہبی اختلافات کے الگ الگ دائرے ہیں:
  • ایمان و کفر کا دائرہ جو مسلمانوں، یہودیوں، مسیحیوں، ہندوؤں اور دیگر مذاہب و ادیان کے درمیان ہے۔
  • حق و باطل کا دائرہ جو اہل السنۃ، خوارج، معتزلہ اور روافض وغیرہ کے درمیان ہے، اور حضرت شاہ ولی اللہؒ اسے اہل قبلہ کے باہمی اختلافات سے تعبیر کرتے ہیں۔
  • خطا و صواب کا دائرہ جو فقہاء کرام کے درمیان ہے اور احناف، مالکیہ، شوافع، حنابلہ اور ظواہر کے تمام تر فقہی اختلافات اسی دائرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
  • اولیٰ و غیر اولیٰ کا دائرہ جو ایک ہی فقہی مذہب کے پیروکاروں کے درمیان بھی اکثر موجود رہتا ہے۔ 
عقائد کے باب میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں صراحت سے لکھا ہے کہ وہ عقائد کے اختلاف پر تو اہل السنۃ سے کسی کو خارج سمجھتے ہیں، لیکن نفس عقیدہ کو تسلیم کرتے ہوئے صرف تعبیر کے اختلاف پر کسی کو اہل السنۃ سے خارج قرار دینے کے لیے تیار نہیں ہیں، جیسا کہ اشاعرہ، ماتریدیہ اور ظواہر کے درمیان بہت سے عقائد کی تعبیرات کے حوالہ سے اختلاف موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ سب اہل السنۃ کا حصہ شمار ہوتے ہیں۔ اس بنیاد پر عقائد کے باب میں اشاعرہ، ماتریدیہ اور ظواہر کی الگ الگ تعبیرات اور مسائل میں احناف، مالکیہ، شوافع، حنابلہ اور ظواہر کے اختلاف خطا و صواب کے دائرہ میں شمار ہوتے ہیں اور انہیں حق و باطل کے ترازو پر تولنا کسی طرح بھی انصاف کی بات نہیں ہے، جبکہ ہمارا ماحول یہ بن چکا ہے کہ اولیٰ اور غیر اولیٰ کے اختلافات میں بھی ہم کفر و اسلام اور حق و باطل کے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوتے ہیں اور معمولی سے فقہی اختلاف پر بھی دوسرے فریق کو کفر و ارتداد کی حدود میں دھکیل دینے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ 
ہمارے اس موقف سے خود ڈاکٹر محمد امین صاحب بھی ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کے فورم پر پوری طرح متفق ہیں اور اس کا اظہار ہم ملی مجلس شرعی کی دستاویزات میں متعدد بار کر چکے ہیں۔ اس موقع پر قارئین کو اس بات سے آگاہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کے عنوان سے ہمارا ایک مشترکہ علمی و فکری فورم موجود ہے جس میں بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث مکتب فکر کے سرکردہ علماء کرام شامل ہیں۔ مولانا مفتی محمد خان قادری اس کے صدر ہیں جبکہ مجھے سینئر نائب صدر کی ذمہ داریاں ان دوستوں نے سونپ رکھی ہیں۔ ڈاکٹر محمد امین صاحب سیکرٹری جنرل ہیں اور ہمارے رفقاء میں مولانا عبد الغفار روپڑی، مولانا ڈاکٹر حسن مدنی، مولانا عبد المالک خان، مولانا احمد علی قصوری، مولانا عبد الرؤف فاروقی اور ڈاکٹر فرید پراچہ بھی شامل ہیں۔ 
ملی مجلس شرعی کے فورم پر ہم سب کا موقف وہی ہے جو میں نے عرض کیا ہے کہ علمی، مسلکی اور فقہی اختلافات کو ان کی علمی حدود میں رکھا جائے اور ان میں مبالغہ آرائی کر کے انہیں باہمی تنافر و تنازع کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے۔ البتہ ’’البرہان‘‘ میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کا ذوق اس سے کچھ مختلف نظر آتا ہے جو ظاہر ہے کہ ان کا حق بھی ہے کہ وہ اپنے جذبات اور موقف کا جس لہجے میں چاہیں اظہار فرمائیں۔ 
ڈاکٹر صاحب نے جس بحث کے تناظر میں ’’بد زبانی‘‘ کا جواز پیش کیا ہے، انھیں اس کی نوعیت پر بھی غور کرنا چاہیے۔ امیر عبد القادر الجزائری کی شخصیت اور کردار سے متعلق اختلاف کا تعلق تاریخ سے ہے، فقہ و عقائد کے باب سے نہیں۔ جن حضرات کے نزدیک وہ روایات قابل قبول ہیں جو ان کے بارے میں پھیلائی گئی ہیں، وہ ان کے بارے میں جو چاہیں رائے قائم کریں، مگر ہمارا موقف یہ ہے کہ جب الجزائری قوم انہیں اپنا ہیرو سمجھتی ہے، ان کے معاصر عظیم مجاہد امام شاملؒ ان کے مجاہدانہ کردار کو تسلیم کرتے ہیں اور عرب دنیا میں انھیں انتہائی عزت واحترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تو ہم بھی انہیں وہی مقام دیتے ہیں اور اس کردار کے خلاف افسانوی قصوں اور قیاس آرائی پر مبنی بد گمانیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں (اور اس معاملے میں ہم اپنے موقف کو اس بنا پر نہیں چھوڑ سکتے کہ اس سے مغرب کے کسی نظریے کی تائید ہوتی ہے)۔
ہمارے اختلاف رائے کے طرز عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ:
’’ایک بات میں اختلاف، دوسری بات میں اختلاف، احناف سے اختلاف، ائمہ اربعہ سے اختلاف، اجماع امت سے اختلاف، فقہاء سے اختلاف، محدثین سے اختلاف اور محقق صوفیاء سے اختلاف۔‘‘
ہم ڈاکٹر صاحب سے گزارش کریں گے کہ وہ اپنے ان الزامات کی بنیاد پر ان امور کی نشاندہی فرما دیں جن میں ہم ان الزامات کے مستحق قرار پائے ہیں اور ازراہِ کرم درج ذیل سوالات کا جواب بھی مرحمت فرما دیں:
  •  کیا ہزاروں بلکہ لاکھوں مسائل میں فقہاء کرام اور مفتیانِ کرام کے اختلافات ایک دوسرے سے اختلاف نہیں ہے، اور کیا یہ بات بات پر اختلاف نہیں ہے؟
  •  کیا احناف میں باہمی اختلافات موجود نہیں ہیں اور کیا آج کے بیسیوں حنفی دارالافتاء سینکڑوں مسائل میں ایک دوسرے سے اختلاف نہیں کر رہے؟
  • کیا ائمہ اربعہ سے خود ان کے ماننے والوں نے بھی بہت سے مسائل میں اختلاف نہیں کیا؟
  • کیا محدثین اور صوفیاء کرام کے مابین اختلافات کا وسیع سلسلہ موجود نہیں ہے؟ 
آپ اس اختلاف کا دروازہ آخر کیسے بند کر رہے ہیں اور کس دلیل سے کر رہے ہیں؟ 
یہاں ایک اور بات کا تذکرہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ہمارے ایک فاضل دوست نے ایک فکری نشست میں اختلافات اور بحث و مباحثہ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے ہاں تحقیق کا مطلب حق کی تلاش نہیں ہوتا بلکہ حق کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ جو حق ہمارے پاس موجود ہے اس کو ثابت کرنے کے لیے دلائل دیں اور اس کے خلاف پائے جانے والے شکوک و شبہات کے ازالہ کی علمی محنت کریں۔ 
مجھے نصوص صریحہ کی حد تک اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ جو بات قرآن کریم اور حدیث و سنت سے اللہ تعالیٰ اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی صورت میں یقینی طور پر ثابت ہو جائے، وہ بہرحال حق ہے اور اسے دلائل کے ساتھ ثابت کرنا ہی ہماری دینی و علمی ذمہ داری ہے، لیکن کیا غیر منصوص اور غیر صریح احکام و مسائل کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے؟ مجھے اس میں کلام ہے، اس لیے کہ غیر منصوص اور غیر صریح احکام و مسائل میں حکم، مصداق اور تعبیر کا تعین رائے اور اجتہاد سے ہوتا ہے۔ رائے اور اجتہاد کا دائرہ یہ ہے کہ پیغمبر علیہ السلام کے سوا کسی بھی شخصیت کی رائے اور تعبیر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور کیا جاتا رہا ہے۔ سینکڑوں فقہاء کرامؒ نے اس دائرہ میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے اور بڑے بڑے اکابر فقہاء کرامؒ نے بہت سے مسائل میں ایک رائے قائم کرنے کے بعد اس سے رجوع کیا ہے۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ اس لیے یہ کہنا کہ کسی غیر منصوص اور اجتہادی مسئلہ میں ہمارے ذہن میں جو رائے قائم ہوگئی ہے، حق اسی میں بند ہوگیا ہے، حق کی تلاش کی مزید تحقیق کی گنجائش باقی نہیں رہی اور ہم نے اس کے بعد جو تحقیق کرنی ہے، اسی کو ثابت کرنے کے لیے کرنی ہے، درست بات نہیں ہے۔ 

مصر میں الاخوان المسلمون کی حکومت کا خاتمہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بعض دوستوں کو اس بات پر تعجب ہو رہا ہے کہ مصر میں صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے میں اس قدر جلدی کیوں کی گئی ہے اور اسے ایک سال تک بھی برداشت نہیں کیا گیا جبکہ ہمیں حیرت ہے کہ ایک سال تک اسے برداشت کیسے کر لیا گیا ہے؟ ربع صدی قبل الجزائر کے عوام نے ’’اسلامک سالویشن فرنٹ‘‘ کو انتخابات کے پہلے مرحلہ میں اَسّی فی صد ووٹوں کا اعتماد دیا تھا تو اسے دوسرے مرحلہ کا موقع نہیں دیا گیا تھا اور فوجی مداخلت کے ذریعہ نہ صرف انتخابات کے دوسرے مرحلہ کو منسوخ کر دیا گیا تھا بلکہ ’’متحدہ اسلامی محاذ‘‘ کو خانہ جنگی میں الجھا کر ایک دوسرے کے خلاف اس طرح دست و گریبان کر دیا گیا تھا کہ کم و بیش ایک لاکھ الجزائری مسلمان ایک دوسرے کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر گئے تھے۔ 
مغرب نے اٹھارویں صدی کے اختتام پر انقلاب فرانس کے ذریعہ مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی کر کے سول سوسائٹی کے نام پر لا مذہبی سیاست و معاشرت کے دور کا آغاز کیا تھا تو مغرب میں بادشاہت، جاگیرداری اور پاپائیت کے صدیوں پر محیط مشترکہ ظلم و جبر کے پس منظر میں بات کچھ سمجھ میں آرہی تھی، لیکن جب اس فکر و فلسفہ کو پوری دنیا تک پھیلانے اور بالخصوص عالم اسلام کو اس کی لپیٹ میں لانے کی مہم کا آغاز کیا گیا تو بات سمجھ سے بالاتر ہوگئی اور عقل و شعور نے اس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ اس لیے کہ بادشاہت، جاگیرداری اور پاپائیت کی تکون کا جو مشترکہ ظالمانہ کردار ’’تاریک صدیوں‘‘ کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے، عالم اسلام اس پس منظر سے یکسر خالی تھا۔ جس رد عمل کا اظہار یورپ کی سول وسائٹی نے ’’انقلاب فرانس‘‘ کی صورت میں کیا تھا وہ امت مسلمہ کی سرے سے ضرورت نہیں تھی، اس لیے کہ عالم اسلام میں مذہب کا کردار ہمیشہ غریب دوستی، عدل و انصاف اور حق پرستی کا رہا ہے۔ بالخصوص اسلام کے عدالتی نظام نے بادشاہت اور حکمران طبقوں کے خلاف عوام کو جو انصاف اور تحفظ مسلسل بارہ سو برس تک فراہم کیا ہے اس کی مثال دنیا کی پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ لیکن مغرب نے اپنا مخصوص معاشرتی پس منظر اور اس پر اپنا ہی مخصوص رد عمل عالم اسلام پر بھی مسلط کرنے کی کوشش شروع کر دی تو امت مسلمہ اور مغرب کے درمیان اس کشمکش کا آغاز ہوگیا جسے ’’ثقافتی جنگ‘‘ کہنے سے ابھی تک انکار کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے پرت جوں جوں کھلتے جا رہے ہیں مغرب کا ثقافتی تعصب اور مغربی تہذیب و فلسفہ کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کی خواہش بے نقاب ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اب تو ’’عالمی تہذیب و ثقافت‘‘ کے تحفظ کے نام پر اقوام و ممالک کی خود مختاری کو پامال کرنے، لاکھوں افراد کے قتل عام اور مسلسل ڈرون حملوں تک بات جا پہنچی ہے، جبکہ اس سب کچھ کے پیچھے یہی خواہش اور ضد کار فرما ہے کہ مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی کو پوری دنیا سے منوایا جائے، اور خاص طور پر مسلمانوں کو ان کے مذہب کے قومی و سیاسی کردار اور ان کی تہذیب و ثقافت سے محروم کر کے مغرب کے ’’مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی‘‘ پر مبنی فلسفہ و نظام ان سے منوایا جائے۔ 
مغرب نے ’’انقلاب فرانس‘‘ کے ذریعہ دنیا کو پیغام دیا تھا کہ اب سول سوسائٹی ہی سب کچھ ہے اور کسی بھی ملک کے نظام و ثقافت کی بنیاد صرف اسی بات پر ہوگی کہ اس ملک کی سول سوسائٹی کی خواہش کیا ہے۔ مغرب اس ’’خوشنما ڈھول‘‘ کو دو صدیوں سے مسلسل پیٹے جا رہا ہے، لیکن عالم اسلام اسی سول سوسائٹی کے ذریعہ مذہب کے سیاسی و معاشرتی کردار کو واپس لا رہا ہے تو مغرب کے لیے یہ بات ناقابل برداشت ہوگئی ہے اور وہ اس کو روکنے کے لیے ہر حربہ اختیار کرنے پر اتر آیا ہے۔ یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی ہے کہ اس ساری جنگ کا اصل مقصد اور ہدف صرف یہ ہے کہ عالم اسلام میں مذہب کے سیاسی و معاشرتی کردار کی واپسی کو روکا جائے، حتیٰ کہ ہمارے پاکستانی معاشرے میں مغرب کے ’’بوسٹر‘‘ اب یہ آوازیں دینے لگے ہیں کہ پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک نے ’’قرارداد مقاصد‘‘ کے ذریعہ جس نظریاتی سفر کا آغاز کیا تھا اور اس پر قومی زندگی کے اصولوں کی بنیاد رکھی تھی اسے ریورس گیئر میں لایا جائے اور ’’قیام پاکستان‘‘ کو انقلاب فرانس کے ساتھ ہم آہنگی کا ’’اعزاز‘‘ بخشتے ہوئے اس دستور و قانون سے مذہب کے اثرات و نشانات کو محو کر دیا جائے۔ 
الجزائر کا مسئلہ بھی یہی تھا اور مصر کا مسئلہ بھی یہی ہے، نو آبادیاتی قوتوں نے مسلم ممالک پر قبضہ کے دوران اسی دن کے لیے ہر ملک میں ایک ہی طرز کی اسٹیبلشمنٹ تیار کی تھی جو اپنا کردار پوری وفاداری کے ساتھ ادا کر رہی ہے اور وفاداری کی آخری حد تک جانے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔ صدر محمد مرسی کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے اور ان کی جماعت نے رائے عامہ کو اور سول سوسائٹی کو اپنی جدوجہد کا ذریعہ بنایا اور انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کر کے دنیا کو ایک بار پھر بتا دیا کہ عالم اسلام میں شریعت اسلامیہ کا نفاذ صرف دینی حلقوں کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کی آواز ہے اور سول سوسائٹی کی خواہش اور طلب ہے۔ الجزائر میں بھی یہی ہوا تھا اور دنیا کے جس مسلمان ملک میں عوام کی خواہش کو آزادانہ طور پر معلوم کرنے کا دیانتدارانہ اہتمام کیا جائے گا اس کا نتیجہ الجزائر اور مصر سے مختلف نہیں ہوگا۔ لیکن مغرب کا مسئلہ ’’سول سوسائٹی‘‘ نہیں رہا بلکہ اب اس کے تمام تر ’’امور و مسائل‘‘ اسی ایک نکتہ پر مرکوز ہوتے جا رہے ہیں کہ عالم اسلام میں اسلام کے معاشرتی و سیاسی کردار کی واپسی کو کیسے روکا جائے؟ اس نے جبر و تشدد، لالچ، لابنگ اور دباؤ کے تمام وسائل اسی کام کے لیے وقف کر دیے ہیں اور ہر مسلمان ملک میں اس کے ’’بوسٹر‘‘ یہی راگ الاپ رہے ہیں۔ لیکن وہ مغالطہ کا شکار ہیں اور اسلام اور مسیحیت کے فرق کو محسوس نہیں کر رہے۔ اسلام ایک زندہ مذہب ہے، اس کی اوریجنل تعلیمات محفوظ حالت میں مسلمانوں کے پاس موجود ہیں۔ انسانی معاشرت کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت آج بھی ان میں موجود اور تازہ ہے جبکہ اسلامی تعلیمات اور معاشرتی شعور سے بہرہ ور ارباب علم و فضل کی کھیپ عالم اسلام میں سول سوسائٹی کی قیادت کے لیے دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس لیے صدر محمد مرسی کی منتخب حکومت کے خلاف فوجی بغاوت سے ہمیں دکھ ضرور پہنچا ہے، لیکن مایوسی نہیں ہے اس لیے کہ عالم اسلام میں بیداری کی جو لہر آگے بڑھ رہی ہے اس کا راستہ روکنا اب کسی کے بس میں نہیں رہا۔

علامہ محمد اسدؒ اور ان کی دینی و علمی خدمات

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مغرب کے وہ اسکالر جو مشرف بہ اسلام ہوئے اور انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی بیش بہا خدمات انجام دیں، ان میں محمد اسدؒ کا ایک بڑا نام ہے ۔جنہوں نے اسلامیات میں بڑا درک پیداکیاتھا اور قرآن پاک کاانگریزی ترجمہ (مع تفسیری نوٹس) بھی کیا تھا۔ان کا انگریزی ترجمہ قرآن مستند ماناجاتاہے،اس کے علاوہ اسلامیات اور فکر اسلامی پر بھی ان کی تحریروں کو وقعت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ذیل میں علامہ محمد اسد کے حالات زندگی پر مختصر سی روشنی ڈالی جارہی ہے۔ 
محمد اسد نے پولینڈ کے ایک یہودی گھرانے میں لمبرگ (موجودہ یوکرائن) میں /2جولائی1990ء کو آنکھ کھولی۔ان کا خاندانی نام Leopold Weissرکھاگیا۔ ابھی نوْخیزہی تھے کہ مذہبی صحائف اور عبرانی کی تعلیم کے بعد پہلی جنگ عظیم کا طوفان انہیں آسٹریلیائی فوج میں لے گیا۔ فوجی زندگی کے تجربے نے زیادہ طول نہیں کھینچا اور وہ جلد اپنی تعلیم کی طرف لوٹ آئے اورانہوں نے ویانایونیورسٹی میں فلسفہ، تاریخ، آرٹ، طبیعات اور کیمیا کی تعلیم حاصل کی۔ مشرقی اور ایشیائی مطالعات میں دل چسپی لی اور اسلامیات کا گہرامطالعہ کیاجس نے ان کو اسلام کی حقانیت کا قائل کردیا۔تاہم اسلام انہوں نے بعد میں قبول کیا۔
محمد اسد حصول علم ،فکرکی پختگی،اور علمی تبحر میں تو معروف ہیں ہی، ساتھ ہی ان کو سیر وسیاحت کا بھی بڑا شوق تھا چنانچہ وہ بعد کی زندگی میں وہ ایک بڑے سیاح ثابت ہوئے کہ ایک بار سفر شروع ہوا تو پھر تو انہوں نے رکنے کا نام ہی نہیں لیا۔1922ء میں پہلی بار مشرق وسطی کا سفر کیا اور مصر، اردن، فلسطین، شام اور ترکی کے اسفار کیے۔ 1924ء کے دوسرے سفر میں انہوں نے مصر، عمان، شام ٹریپولی، عراق، ایران، افغانستان، وسط ایشیا کی سیاحت کی۔عرب دنیاکی سیاحت کے دوران وہ عرب کلچراور عرب اخلاقیات سے بے حد متاثر ہوئے جس کا تذکرہ انہوں نے اپنی کتاب ’’دی روڈ ٹو مکہ ‘‘میں کیاہے ۔اپنے طویل تجربے اور مشاہدے اور مسلسل مطالعے کے بعد انہوں نے 1926ء میں برلن میں اسلام قبول کیا اور اپنا اسلامی نام محمد اسد رکھا۔ 
قبول اسلام کے بعدحج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی اور قاہرہ میں رشتہ ازدواج منسلک ہوئے۔ وہ عالمی صحافت سے متعلق تھے اور اس حیثیت میں دنیا کا ایک بڑا حصہ دیکھنے کے بعد 1932ء میں ہندوستان آئے۔یہاں ان کا قیام ملک کے مختلف علاقوں اور مشہور شہروں امرت سر، لاہور، سری نگر، دہلی اور حیدرآبا دکن میں رہا۔ اسی دوران محمد اسدعلامہ اقبالؒ سے ملے اور ان سے تبادلہ خیال کیا۔علامہ اقبال نے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ اسلامیہ کالج لاہور میں نسل نو کو اسلامیات کا درس دیں۔سید نذیر نیازی کے نام 1934ء کے متعدد خطوط میں محمد اسد کے حوالے سے علامہ اقبال کا اظہار خیال موجود ہے۔ اسی سال محمد اسدکی کتاب (Islam at the Cross Road) شائع ہوئی، جس کے بارے میں علامہ اقبال نے لکھا:
This work is extremely interesting. I have no doubt that coming as it does' from a highly cultured European convert to Islam will prove an eye-opener to our younger generation
(یہ بہت ہی دلچسپ چیز ہے، مجھے ذرہ برابر بھی شک نہیں کہ ایک اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ نومسلم یوروپین کے قلم سے منظر عام پر آنے سے ہماری نسل کے لیے چشم کشا ثابت ہوگی۔) 
یہ مختصر سی کتاب نئی اسلامی ادبیات میں خصوصی اہمیت کی حامل ہے،چنانچہ اس کے ترجمے عربی اور اردو زبانوں میں ہوئے ،عربی ترجمہ الاسلام علی مفترق الطرق کے نام سے چھپا اور عالم عرب میں کافی مقبول ہوامولانا علی میاں ندویؒ اس کتاب کی تعریف میں رطب اللسان رہتے تھے۔انھی کی تحریک پر اس کا اردو ترجمہ’’ اسلام دوراہے پر‘‘کے نام سے ایک ندوی فاضل کے قلم سے نکلااور مجلس صحافت و نشریات اسلام ندوۃالعلماء لکھنؤ سے شایع ہوا ۔
جس وقت محمداسدہندوستان آئے ،اس وقت آزادی کی تحریک جاری تھی ۔دوسری طرف مسلم کی قیادت میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد جناح اور لیگ کی جذباتی سیاست کے زیر اثر پاکستان کے حصول کے لیے میدان میں آچکی تھی اور یہ صاف محسوس ہورہاتھا کہ ہند کی دوحصوں میں تقسیم ہوکررہے گی۔ علامہ اقبال سے ملاقات کے بعدمحمد اسدؒ نے برصغیر میں ایک آزاد اسلامی ریاست کے قیام کو اپنا نصب العین بنا لیا، اس کے بعد وہ اپنی تحریروں میں اسی نصب العین کے حصول کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔انہوں نے پاکستان بننے کے بعداس آزاد مملکت کے لیے اسلامی دستور کے راہ نما اصو ل کی ترتیب میں بھی حصہ لیا۔ ان کی انہی خدمات کے باعث انہیں Intellectual Co-founder of Pakistanبھی کہا گیا ہے۔ قیام پاکستان، محمد اسد کے خوابوں کی تعبیر تھا، اپنے خوابوں کی اس تعبیر کے بارے میں خود انہوں نے بھی ایک جگہ لکھا ہے۔
For which I my self had worked and striven since 1993
(وہ مقصد جس کے لیے میں خود بھی 1939ء سے سرگرم رہا ہوں۔) 
1935 ء میں محمداسد نے حدیث کی سب سے مشہورومستند کتاب صحیح بخاری کے انگریزی ترجمے اور تشریح کی اشاعت کا کام شروع کیا اور اس کے پانچ اجزاء شائع کیے۔ جنوری 1937ء میں حیدرآباد دکن سے نکلنے والے رسالے Islamic Cultureکے مدیر مقرر ہوئے۔ یہ رسالہ اکتوبر 1938ء تک ان کی ادارت میں شائع ہوتا رہا۔ دوسری جنگ عظیم کے زمانے (یکم ستمبر 1939ء تا/14اگست 1945ء) میں برطانوی حکومت نے انہیں گرفتار کرلیا۔ طویل عرصہ تک صعوبتیں جھیلنے اور صدمے اٹھانے کے بعد رہا ہوئے اور 1946ء میں ایک ماہانہ رسالے ’’عرفات‘‘ کا اجرا کیا۔ 1947ء میں قیام پاکستان کے موقع پر ڈلہوزی سے لاہور آگئے اور ماڈل ٹاؤن میں مقیم ہوئے۔
علمی وتحقیقی کارناموں کے ساتھ ہی عالمی صحافت پر گہری نظر اور پختہ سیاسی شعور کے باعث انہوں نے بحیثیت سفارت کا ر بھی اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا خوب مظاہرہ کیا۔چنانچہ قیام پاکستان کے بعد محمد اسد کو اسلامی تعمیر نو کے ایک نئے محکمے Deparment of Islamic Reconstructionکا ڈائریکٹر بنایا گیا ۔ انہوں نے وزارت خارجہ میں ڈپٹی سیکریٹری اور مڈل ایسٹ ڈویژن کے انچارج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے۔ 1951ء میں حکومت پاکستان کے نمائندے کے طور پر سعودی عرب گئے۔ اگلے برس انہیں اقوام متحدہ میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا جہاں انہوں نے Committee on Information from Non-Self Govt. Territoriesکے چےئر مین اور Disamament Commission of the Security Coundilکے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1953 ء میں ان کی مشہور کتاب The Road to Makkahشائع ہوئی۔اس کتاب کا عربی ترجمہ الطریق الی مکۃ کے نام سے شائع ہوا۔ اس کتاب کی بھی عالم اسلام میں خاصی پذیرائی ہوئی، حتی کہ مولاناعلی میاں ندوی ؒ نے اسی کتاب کے اوپر اپنی ایک مشہور کتاب کانام ہی الطریق الی المدینۃ رکھاہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفارت سے مستعفی ہونے کے بعدمحمداسدؒ نے سوئزر لینڈ، بیروت، شارجہ اور لبنان کے اسفار کیے۔ 1961ء میں ان کی کتاب The Principles of State and Govt. in Islamشائع ہوئی۔ 1946ء میں انہوں نے مراکش میں رہائش اختیار کرلی جہاں وہ 1981ء تک مقیم رہے۔ 1980ء میں قرآن کریم کے ترجمے اور تشریحات پر مبنی ان کی کتاب The Message of The Quranشائع ہوئی۔ 1983ء میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے نفاذ اسلام کے سلسلے میں راہ نمائی لینے کے لیے ایک بار پھر انہیں پاکستان بلایا اور انہوں نے انصاری کمیشن کے اجلاس میں شرکت کی۔ اس کمیشن کے سربراہ مولانا ظفر احمد انصاری تھے ،جو ملک کی ایک بڑی مقتدر شخصیت تھے ۔محمد اسد کے تعلقات پاکستان کے اکثر مشاہیر سے تھے۔ مولانا مودودی، مولانا ظفر احمد انصاری، مولانا امین احسن اصلاحی وغیرہم سے اکثر ان کی ملاقاتیں اور تبادلہ خیال ہواکرتا۔
کہاجاتاہے کہ حصول آزادی کے بعد وہ پہلے شخص تھے جنہیں پاکستانی پاسپورٹ جاری کیا گیا ۔ پہلے پاکستانی پاسپورٹ کے حامل اس آفاقی شخص کا یہ آخری سفر پاکستان ثابت ہوا۔ کیونکہ پاکستان سے /3اگست 1983ء کو لندن چلے گئے تھے جہاں سے انہوں نے پرتگال کا سفر اختیار کیا۔ 1987ء میں وہ ہسپانیہ لوٹے (اسی سال ان کی آخری کتاب The law of Ours and Other Essaysشائع ہوئی) ۔
جیسا کہ سطور ماقبل سے ظاہر ہے، عالمی سطح کے ایک نامور دانشور اور علوم اسلامی کے ایک ماہر کی حیثیت سے پاکستان نے ان کی خدمات سے استفادہ کیا۔ملک کی قدیم ترین اور بزرگ ترین جامعہ، پنجاب یونیورسٹی، نے علامہ اسد کے علم و فضل سے استفادے کی راہیں کشادہ کیں۔ 
علامہ محمد اسد پر اب تک تھوڑا بہت تحقیقی کام سامنے آچکا ہے۔ علامہ محمداسد کی پہلی سوانح (Leopold Weiss alias Muhammad Asad) جرمن زبان میں لکھی گئی ہے جو کہ صرف 1927ء تک کے احوال سے بحث کرتی ہے، اس کے بعد حال ہی میں The Truth Societyکی طرف سے علامہ اسد کے احوال و آثار اور ان کے بارے میں لکھے جانے والے مضامین، دو ضخیم مجلدات کی صورت میں شائع ہوئے ہیں۔ ایک ہزار سے زائد صفحات کے اس مجموعے میں بھی جہاں علامہ اسد کی زندگی کے بیشتر پہلو زیر بحث آگئے ہیں، اقبال اور محمد اسد، محمد اسد اورخیری برادران وغیرہ جیسے باہم مربوط موضوعات پر بھی کلام کیا گیا ہے۔ علامہ محمد اسد کے افکار کے حوالے سے پی۔ ایچ۔ ڈی کی سطح کا ایک مقالہ بھی تحریر کیا جاچکا ہے۔محمد اسد کی حیات وخدمات پر ایک مختصر کتاب انگریزی میں ہندوستان کے معروف اسلامی پبلشر گڈورڈ نے بھی شایع کی ہے۔جرمن اسلامی اسکالر اور مفکرمراد ہوفمان نے اپنی ڈائری میں ان کا مختصر تذکرہ کیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ موجودہ دورمیں مشرق کے علماء و مفکرین کے پہلوبہ پہلو مغرب کے مسلم علماء، اسکالروں اور دانشوروں کی خدمات بھی اسلامیات کے میدان خاصی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان مسلم مغربی علماء میں تین قسم کے لوگ ہیں۔ ایک تو عرب علماء واسکالر جو عرب دنیا سے ہجرت کرکے مغرب کو منتقل ہوگئے اور وہیں رہ کر علمی فکری اور دعوتی اور ادبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان علماء میں معروف فکری ادارہ المعہد العالمی للفکر الاسلامی واشنگٹن کے وابستگان ہیں جن میں اسماعیل راجی الفاروقیؒ شہید،ڈاکٹر طٰہٰ جابر العلوانی اور ان کے رفقائے خاص ہیں۔ دوسرے وہ محققین، داعی اورعلماء ہیں جو برصغیر سے ہجرت کرگئے تھے۔ ان میں سب سے بڑا علمی مقام علامہ ڈاکٹرمحمد حمیداللہ ؒ (آف پیرس) کا ہے۔ تیسرے وہ علما واسکالر ہیں جو مغرب کے ہی باشندے ہیں، جنہوں نے اسلام قبول کیا اور دین کی بیش بہا خدمات انجام دی ہیں۔ مثال کے طور پر فرانس کے اسکالر رینے گینوں، رجاء جارودی ( یہ پہلے مارکسی تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اسرائیل اور صہیونی تحریک پر کئی معرکۃ الآرا کتابیں لگھیں۔ ان کے بعض خیالات میں شذوذ پایا جاتا ہے ،اس لیے بعض عرب علماء نے ان کے بارے میں بڑی سخت رائے دی ہے،البتہ علامہ یوسف القرضاوی نے معتدل رائے کا اظہار کیا ہے ۔ملاحظہ ہو: القدس قضےۃ کل مسلم) مارٹن لنگز ،محمد اسد اور دوسرے دانشور۔ ضرورت ہے کہ ان مغربی علماء واسکالروں کی علمی وفکری خدمات کا تجزیاتی مطالعہ کیاجائے۔
محمد اسدؒ مفسر،مترجم،مصنف،صحافی اور سفارت کار تو اعلی درجہ کے تھے ہی ،ساتھ ہی درس وتدریس کے میدان میں بھی انہوں نے خدمات انجام دیں۔اس ضمن میں شعبہ اسلامیات پنجاب یونیورسٹی کی صدارت بھی ان کی خدمات میں سرفہرست ہے۔ قیام پاکستان کے بعد نئے ملک کی اسلامی شناخت کے سلسلے میں جو اقدامات کیے گئے، ان میں ایک، ملک کی قدیم ترین جامعہ، پنجاب یونیورسٹی میں علوم اسلامی کے شعبے کا قیام بھی شامل تھا۔ پنجاب یونیورسٹی کاقیام 1882ء میں ہوگیا تھا، لیکن ہنوز اس میں علوم اسلامی کا کوئی شعبہ موجود نہیں تھا۔ اس حقیقت اور نئے وطن کے تقاضوں کے پیش نظر پنجاب یونیوسٹی کی سنڈیکیٹ نے اپنے اجلاس /5فروری 1949ء میں یہ فیصلہ کیا کہ یونیورسٹی میں اسلامیات کا ایک شعبہ قائم کیا جائے۔ جامعات میں جب نئے شعبے قائم کیے جاتے ہیں تو ان میں تدریس اور سربراہی کے لیے اس مضمون کی رسمی سند رکھنے والے اکثرمہیا نہیں ہوپاتے، البتہ ان مقاصد کے لیے ایسے علماء کا انتخاب کرلیاجاتا ہے جو اس شعبہ علم میں درجہ کمال پر فائز ہوں۔ چنانچہ اسی سلسلہ میں یونیورسٹی نے محمد اسد کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا۔
علامہ محمد اسد 1926ء میں قبول اسلام کے بعد علوم اسلامی سے سنجیدگی کے ساتھ وابستہ رہے۔ اور انہوں نے اتنا کمال بہم پہنچایا کہ جب پنجاب یونیورسٹی نے علوم اسلامی کا شعبہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کی مسند صدارت کے لیے حکام کی نگاہ انتخاب علامہ محمد اسد پر پڑی۔ پنجا ب یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے جس اجلاس (/5فروری1949ء) کا ابھی ذکر ہوا۔ اس میں وائس چانسلر نے شعبہ اسلامیات کی صدارت کے لیے علامہ محمد اسد کا نام تجویز کیا۔ اس وقت پنجاب یونیورسٹی نے ایک خط کے ذریعے علامہ محمد اسد کو اس پیش کش سے مطلع کیا۔ یہ اطلاع رجسٹرار کیپٹن محمد بشیر کی طرف سے مراسلہ نمبر /1243جی ایم مورخہ /8فروری1949ء کو دی گئی۔
یہ مراسلہ ملنے پر علامہ محمد اسد نے اس پیش کش کو قبول کیا جس کا اظہار ان کے ایک خط سے ہوا جس میں انہوں نے یونیورسٹی رجسٹرار کے منقولہ خط کی رسید دیتے ہوئے یونیورسٹی کا شکر یہ ادا کیا۔ علامہ محمد اسد 11ماہ تک اس عہدہ پر رہے۔ پھربعض وجوہات کے پیش نظر وہ یورپ چلے گئے۔ کچھ عرصہ کے بعد پھر پاکستان آئے، ملک کی سفارتی خدمات انجام دیں اور بیرون ملک بھی ان کے اسفارہوتے رہے۔ تاہم پنجاب یونیورسٹی پاکستان سے ان کا تعلق کسی نہ کسی حیثیت سے برقرار رہا، بلکہ۱۹۸۰ء کے بعد اس کے ذریعہ منعقدہ عالم اسلامی کلوکلیم کے انعقاد کی ذمہ داری بھی ان کو دی گئی تھی۔ اس کے لیے وہ ایک بار پھر پاکستان آئے۔ البتہ اس علمی مذاکرہ کے انعقاد سے پہلے ہی یونیورسٹی انتظامیہ سے اختلاف کے باعث وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ اس کے بعد پھرمحمد اسدکبھی پاکستان نہیں آئے۔ زندگی کے آخری ایام میں وہ ہسپانیہ چلے گئے تھے جہاں 20فروری 1992ء کو انہوں نے زندگی کی آخر ی سانس لی۔تدفین کے لیے محمد اسد کو فلسطین لایاگیا۔ اب وہ غزہ کے مسلم قبرستان میں آرام فرما ہیں۔

اسلام کا تصورِ جہاد ۔ تفہیم نو کی ضرورت

محمد عمار خان ناصر

امیر عبد القادر الجزائری علیہ الرحمہ کے طرز جدوجہد پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے بار بار یہ نکتہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر معروضی حالات میں جدوجہد کے بے نتیجہ ہونے کا یقین ہو جائے تو شکست تسلیم کر کے مسلمانوں کے جان ومال کو ضیاع سے بچا لینا، یہ شرعی تصور جہاد ہی کا ایک حصہ اور حکمت ودانش کا تقاضا ہے۔ فقہا ایسے حالات میں کفار کو خراج تک ادا کرنے کی شرط قبول کر کے ان کے ساتھ مصالحت کی اجازت دیتے ہیں۔ یہی کام ہمارے ہاں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد اکابر علماء نے بھی کیا تھا اور عسکری جدوجہد ترک کر کے معروضی حالات میں انگریزی حکومت کی عمل داری کو قبول کر کے مناسب وقت پر سیاسی جدوجہد کے ذریعے آزادی حاصل کرنے کا طریقہ اختیار کر لیا تھا۔ 
جہاں تک مصالحت یا تسلیم شکست کی عملی صورت کا تعلق ہے تو اس کا تعلق عملی حالات سے ہوتا ہے۔ الجزائری نے اصلاً ہتھیار ڈالنے کے لیے جو شرط رکھی تھی، وہ ایک دوسرے مسلمان ملک کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت تھی۔ یہ فرانس کی بدعہدی تھی کہ یہ شرط پوری کرنے کے بجائے انھیں اور ان کے ساتھیوں کو فرانس میں لے جا کر محبوس کر دیا گیا۔ جب تک وہ محبوس رہے، مسلسل فرانسیسی حکام سے ایفاے عہد کا مطالبہ کرتے رہے۔ اسی دوران میں ان کے فرانسیسی حکام کے ساتھ ذاتی تعلقات اور روابط بھی قائم ہو گئے جس نے انھیں فرانس کی شہریت قبول کر لینے پر آمادہ کر دیا۔ فرانس کی طرف سے وظیفہ قبول کرنے کی وجہ بھی پوری طرح سمجھ میں آتی ہے۔ امیر کے تعلقات ترک حکام کے ساتھ دوستانہ نہیں تھے اور اس دور میں ترکی کے زیر نگیں دوسری مسلمان اقوام کی طرح الجزائر کے لوگ بھی ترکوں کے طرز حکومت، متکبرانہ رویے اور بد نظمی کی وجہ سے ان سے متنفر ہو رہے تھے۔ ان حالات میں الجزائری کے لیے دو ہی راستے تھے: یا تو وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ باقی زندگی کے لیے دربدر پھرنے پر راضی ہو جائیں اور یا پھر فرانسیسی حکام کی طرف سے وظیفے کی پیش کش کو قبول کر لیں۔ امیر نے دوسرے فیصلے کو ترجیح دی تو اپنے حالا ت کے لحاظ سے انھیں اس کا پورا حق تھا۔ 
اس تناظر میں یہاں الجزائری کی معاصر تاریخ کے دو مزید کرداروں کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ 

اکابر علمائے دیوبند اور ’’ترکِ جہاد‘‘

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں شکست ہو جانے کے بعد دیوبندی جماعت کے اکابر نے بالعموم برطانوی اقتدار کے خلاف عسکری مزاحمت کا راستہ ترک کر کے تعلیم اور عوامی اصلاح کو اپنی جدوجہد کا میدان بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے بعد انھوں نے ہندوستان پر برطانیہ کے اقتدار کی قانونی وفقہی حیثیت اور برطانوی حکومت کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کی نوعیت پر بھی ازسرنو غور کیا۔ اس حوالے سے میں یہاں مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کا ایک اہم فتویٰ نقل کرنا چاہوں گا جسے انڈیا کے معروف محقق مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی نے اپنے مرتب کردہ ’’باقیات فتاویٰ رشیدیہ‘‘ میں درج کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
’’سوال: یہ ملک ہندوستان جو سو برس سے زیادہ سے مملوکہ ومقبوضہ حکام مسیحی ہے اور ان کی رعایا میں ہنود وغیرہ مختلف مذاہب کے لوگ آباد ہیں اور ہم لوگ مسلمان بھی زیر حکومت آباد ہیں تو مسلمانوں کو اس ملک میں رعایا حکام بن کر رہنا چاہیے یا نہیں اور ہم مسلمانوں کو ان حکام کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے اور نیز ہنود وغیرہ رعایا حکام کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے؟
الجواب: ۱۔ چونکہ قدیم سے مذہب اور قانون جملہ مسیحی لوگوں کا یہ ہے کہ کسی کی ملت اور مذہب سے پرخاش اور مخالفت نہیں کرتے، او رنہ کسی مذہبی آزادی میں دست اندازی کرتے ہیں اور اپنی رعایا کو ہر طرح سے امن وحفاظت میں رکھتے ہیں، لہٰذا مسلمانوں کو یہاں ہندوستان میں جو کہ مملوکہ ومقبوضہ اہل مسیحی ہے رہنا اور ان کا رعیت بننا درست ہے۔ چنانچہ جب مشرکین مکہ معظمہ نے مسلمانوں کو تکلیفیں اور اذیتیں پہنچائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ملک حبشہ میں جو مقبوضہ نصاریٰ تھا، بھیج دیا اور یہ صرف اس وجہ سے ہوا کہ وہ کسی کے مذہب میں دست اندازی نہیں کرتے تھے۔
۲۔ اور جب مسلمان رعایا بن کر ہندوستان میں رہے اور حکام سے عہد وپیمان کر چکے کہ کسی حاکم یا رعایا حکام کے جان اور مال میں دست اندازی نہ کریں گے اور کوئی امر خلاف اطاعت نہ کریں گے تو مسلمانوں کو خلاف عہد وپیمان کرنا یا کسی قسم کی خیانت ومخالفت حکام کرنا ہرگز درست نہیں اور نہ کسی قسم کی خیانت اور خلاف عہد کرنا رعایا حکام یعنی ہنود وغیرہ کے ساتھ کرنا درست ہے۔ عہد کے پورا کرنے کی مسلمانوں کے مذہب میں اس قدر تاکید ہے کہ شاید کسی دوسرے مذہب میں نہ ہو۔
قال اللہ تعالیٰ: وَأَوْفُواْ بِالْعَہْدِ إِنَّ الْعَہْدَ کَانَ مَسْؤُولاً (بنی اسرائیل ۳۴)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ عہد کو پورا کرو، کیونکہ عہد کے بارے میں بروز قیامت باز پرس ہوگی۔
عہد شکنی کی سخت ممانعت ہے اور کسی سے عہد کر کے اس کے خلاف کرنے پر بہت دھمکی دی گئی ہے۔
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الا من ظلم معاہدا او انتقصہ او کلفہ فوق طاقتہ او اخذ منہ شیئا بغیر طیب نفس فانا حجیجہ یوم القیامۃ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام امت کو فرماتے ہیں، جو کسی غیر مذہب سے عہد کر کے اس پر ظلم کرے یا ان کو کوئی عیب لگاوے اور اس کی بلاوجہ توہین کرے یا اس پر مشقت زائد ڈالے یا اس کے مال میں سے کوئی چیز بلا رضامندی لے لیوے تو قیامت کے دن اللہ کے روبرو میں اس سے جھگڑا کروں گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی نائبوں کو عام تعلیم یہ ہوتی تھی: لا تغدروا۔ یعنی خلاف عہد مت کرو! 
ایک حدیث میں ارشاد ہے:
ذمۃ المسلمین واحدۃ یسعی بہا ادناہم، فمن اخفر مسلما فی ذمتہ فعلیہ لعنۃ اللہ والناس اجمعین، لا یقبل اللہ یوم القیامۃ صرفا وعدلا 
یعنی مسلمانوں کا ذمہ اور عہد ایک ہے۔ اگر ایک مسلمان کسی غیر مذہب والے سے معاہدہ کر لے گا تو سب مسلمانوں پر اس کا پورا کرنا لازم ہے۔ اگر کسی مسلمان کے عہد کو جو اس نے کسی کے ساتھ کیا تھا، کوئی دوسرا مسلمان توڑنا چاہے تو اس پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور آدمیوں کی لعنت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس عہد شکن کی کوئی عبادت فرض یا نفل ہرگز قبول نہ کرے گا۔
۳۔ اسی طرح کسی کو بے گناہ اور بلاوجہ قتل کر دینا، خواہ وہ مسمان ہو یا غیر مسلمان، حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ قال اللہ تعالیٰ:
وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّہُ إِلاَّ بِالحَقِّ (بنی اسرائیل ۳۳)
یعنی جس جان کے قتل کو خدا تعالیٰ نے حرام کر دیا، اس کو ناحق نہ مار ڈالو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
من قتل معاہدا بغیر کنہ لم یرح رائحۃ الجنۃ
یعنی جس نے کسی کے ساتھ عہد کر کے اس کو قتل کیا، وہ جنت کی بو بھی نہ سونگھے گا۔
علیٰ ہذا فقہ کی تمام کتابیں ان مسئلوں اور روایات سے بھری ہوئی ہیں۔ پس مسلمانوں کو اپنے عہد کے موافق حکام کی تابع داری کرنا جس میں کچھ معصیت نہ ہو، ضروری ہے اور کسی قسم کی بغاوت اور مخالفت اور مقابلہ اور خیانت جائز نہیں۔
۴۔ اگر کوئی قوم مسلمان یا غیر مسلمان، جو ممالک مقبوضہ ہمارے حکام سے خارج ہیں، ان ہمارے حکام کے ساتھ مقابلہ اور لڑائی کرنے اور ان پر حملہ کر کے آویں، تو ہم کو اس قوم کے ساتھ ہونا اور ان کو مدد دینا بھی ہرگز درست نہیں، کیونکہ یہ بھی خلاف عہد ہے:
قال اللہ تعالیٰ: وَإِنِ اسْتَنصَرُوکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْْکُمُ النَّصْرُ إِلاَّ عَلَی قَوْمٍ بَیْْنَکُمْ وَبَیْْنَہُم مِّیْثَاقٌ (سورۃ الانفال ۷۲)
یعنی اگر اہل اسلام مدد چاہیں تم سے دین کے معاملے میں، پس تمھارے اوپر مدد کرنا ضروری ہے، مگر اس قوم کے معاملے میں کہ تمھارے اور ان کے درمیان عہد ہو چکا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کا ان لوگوں سے مقابلہ ہو جن سے تم عہد وپیمان کر چکے ہو تو مسلمانوں کا ساتھ مت دو۔ پس مسلمانوں کو ہر حال اپنے عہد کی رعایت کرنی چاہیے۔ نہ خود مخالفت کریں، نہ کسی مخالفت کی اعانت کریں۔ اگر اس کے خلاف کریں گے تو سخت گنہگار اور مستحق عذاب ہوں گے۔ واللہ اعلم‘‘ 
(’’باقیات فتاویٰ رشیدیہ‘‘، مرتبہ مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی، ص ۴۳۷ تا ۴۴۰)
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی نے اس پر اپنی تعلیق میں لکھا ہے کہ:
’’یہ فتویٰ حضرت مولانا تھانوی نے اپنی بیاض میں بھی نقل کیا ہے۔ اس سے پہلے لکھا ہے کہ:
’’یہ فتویٰ مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کے سالانہ جلسہ منعقدہ میں مولانا عنایت اللہ صاحب (مہتمم مدرسہ) نے پڑھ کر سنایا تھا۔‘‘ (الطرائف والظرائف ص ۳۵ تا ۳۸ (طبع اول، تھانہ بھون: ۱۹۲۹ء)
گویا اس فتوے کو اس اجتماع میں شریک علماء کی تائید حاصل تھی اور اسے ایک اجتماعی موقف کے طو رپر پیش کیا گیا تھا۔

امام شاملؒ ۔ ایک اور ’’جعلی مجاہد‘‘

دوسرا تاریخی کردار جس کا ذکر میں کرنا چاہوں گا، وہ اسی دور کے وسط ایشیا کے عظیم مجاہد اور امیر عبد القادر الجزائری کے دوست، امام شاملؒ ہیں۔ جب تیس سال تک (۱۸۳۰ء تا ۱۸۵۹ء) روسی استعمار کے خلاف داد شجاعت دینے اور روسی فوج کو ناکوں چنے چبوانے کے بعد ایک مرحلے پر انھیں شکست تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ دکھائی نہ دیا تو نہ صرف یہ کہ انھوں نے شکست قبول کر لی، بلکہ باقی زندگی کے لیے روسی حکومت کی طرف سے سرکاری وظیفے کی پیش کش بھی قبول کی اور اسی کے سہارے اپنی باقی زندگی بسر کی۔
لاہور کے معروف اشاعتی ادارے ’’نشریات‘‘ کی شائع کردہ کتاب ’’امام شامل‘‘ (مصنفہ ڈاکٹر محمد حامد) میں اس عظیم مجاہد کی جدوجہد کے آخری مرحلے کی منظر کشی یوں کی گئی ہے: 
’’امام کو کئی جگہ میدان جنگ میں شکست ہو چکی تھی۔ ان کے نائبین ایک ایک کر کے جام شہادت نوش کر چکے تھے اور کئی اضلاع نے روسیوں کی غیر مشروط اطاعت بھی قبول کر لی تھی، لیکن پھر بھی امام جیسے باصلاحیت لیڈر کے لیے، جن کے پاس اب بھی خاصی تعداد میں مریدوں کی فوج موجود تھی، جنگلوں سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں میں ہمت کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرنا مشکل نہ تھا۔ صرف ایک شرط تھی اور وہ یہ کہ مقامی آبادی ان کا ساتھ دے اور حوصلہ نہ ہارنے کے ساتھ اپنے تمام وسائل کو امام کے سپرد کر دے۔ یہ آخری بات ہی ایسی تھی جس نے امام کا ساتھ نہ دیا۔ ۔۔۔
کہا جاتا ہے کہ امام کو درے پر روسی قبضے کی اطلاع دی گئی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انھیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اب آخری وقت آن پہنچا ہے۔ اس وقت بھی مریدین کی اچھی خاصی جمعیت ان کے ساتھ تھی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ انھوں نے جوابی حملے کی کوشش کیوں نہیں کی! کئی ہزار داغستانی اب بھی ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار تھے اور اس سے پہلے کی روسی اس تمام علاقے کو مفتوح کر لیتے، امام روسیوں کو شکست دینے کی اہلیت رکھتے تھے، لیکن امام نے کچھ نہیں کیا۔ ۔۔۔
تیس سال پہلے انھوں نے اسلام کی سربلندی کے لیے اس علاقے میں کام شروع کیا تھا۔ روسیوں کا سر کچلنے کے لیے وہ ایک طویل عرصے تک جدوجہد کرتے رہے تھے۔ انھیں اپنے مقاصد میں ایک بڑی حد تک کامیابی بھی ہوئی تھی، لیکن اب انجام ان کے سامنے تھا۔ انھیں شہادت کی منزل قریب نظر آ رہی تھی، لیکن انھوں نے آخر دم تک دفاع کی ٹھان رکھی تھی۔ انھوں نے شروع سے لے کر آج کے دن تک اس عظیم مقصد کے لیے زندگی کا ایک ایک لمحہ وقف کیے رکھا تھا۔ انھیں شدید ناکامیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا اور کامیابیوں نے بھی ان کے قدم چومے تھے۔ انھوں نے روسیوں کو عبرت ناک شکستیں بھی دی تھیں او رخود بھی کئی بار شکست کا سامنا کیا تھا۔ پہلے امام کی زندگی میں انھوں نے پوری تن دہی اور جانفشانی سے کام کیا تھا اور یہ معجزہ ہی تھا کہ وہ بچ نکلے تھے اور امام کے ساتھ شہید نہیں ہوئے تھے۔ وہ ہمزادکے دور میں بھی اسی طرح وفادار رہے اور اگر وہ چاہتے تو خود امام سنبھال سکتے تھے، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ ۱۸۳۴ء سے اب تک انھوں نے خود مریدین کی قیادت کی تھی اور پورے داغستان پر حکومت کرتے رہے تھے۔ اب جب کہ عمر بھی کی جدوجہد اور سالہا سال کی ان تھک کوششوں کے بعد ان کا سامنا روس کی لاتعداد افواج سے ہو رہا تھا اور انھیں شکست یقینی نظر آ رہی تھی، ان کا ضمیر مطمئن تھا کہ انھوں نے اپنے مقصد کی راہ میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی۔ ان کے ضمیر کی اس گواہی پر ہر غیر جانب دار مورخ ان کا ساتھ دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی تحریک کی ناکامی ان کی کسی ذاتی کوتاہی کا نتیجہ نہیں تھی۔ حالات ہی ایسا رخ اختیار کر چکے تھے کہ ان کا کوئی مداوا نہیں ہو سکتا تھا۔
امام بظاہر ناکام ہوئے، لیکن ان کی ظاہری ناکامی پر ہزاروں کامیابیاں نچھاور کی جا سکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ان کی مخالف قوتوں کا اندازہ لگایا جائے تو اتنے طویل عرصے تک ان کا تحریک کو لے چلنا ہی خاصی حیرت انگیز بات لگتیہے۔ ان کے مقابلے میں خارجی عوامل ہی نہیں تھے، داخلی صورت حال بھی ان کے مزاحم تھی۔ انھیں روس کی طاقت ہی کا سامنا نہیں تھا جس کے پاس بے شمار وسائل اور بے شمار فوجیں تھیں، بلکہ انھیں اندرونی کش مکش اور قبائل کی آویزشوں سے بھی نمٹنا تھا اور حالات ایسے تھے کہ وہ نہ ایک طاقت پر قابو پا سکتے تھے اور نہ دوسرے کا سر کچل سکتے تھے۔ ۔۔۔
امام اچھی طرح سمجھتے تھے کہ شریعت کے احکامات کے نفاذ کے بغیر قبائل میں اتحاد کسی صورت پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انھیں سختی سے بھی کام لینا پڑا۔ انھوں نے تبلیغ بھی کی۔ قبائل کو ساتھ ملانے کے لیے انھیں کئی بار قوت کا استعمال بھی کرنا پڑا۔ انھیں اس مقصد میں خاصی کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں، لیکن ان کی کامیابیوں کے زمانہ عروج میں اندر ہی اندر انتشار کی قوتیں بھی منظم ہو رہی تھیں۔ بظاہر اگرچہ کسی قسم کا انتشار محسوس نہیں ہوتا تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ فتح اور کامرانی ہی کا دور دورہ ہے، لیکن نفاق اندر ہی اندر گھن کی طرح کھائے چلا جا رہا تھا۔ وہ لوگ جو اپنے قبیلے کے رسوم ورواج ہی پر ساری عمر چلتے رہے تھے، انھیں شریعت کے احکامات کی پابندی ایک بوجھ محسو س ہوتا تھا۔ امام کے نائبین کی طرف سے کی جانے والی سختیاں بھی انھیں ناگوار گزرتی تھیں۔ پھر جنگ اس درجہ طویل ہو چکی تھی کہ لوگ تنگ آ چکے تھے۔ شاید ہی کوئی گاؤں بلکہ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں خاوند، باپ اور بھائی شہید نہ ہو چکے ہوں۔ خاندانوں کے خاندان ختم ہو چکے تھے۔ پوری کی پوری بستیاں برباد کی جا چکی تھیں۔ کھیتوں میں مدتوں سے ہل نہیں چلا تھا۔ پھل دار درختوں کی طرف کسی نے کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ ۔۔۔
بیریا ٹنکی چاہتا تھا کہ امام کو زندہ گرفتار کیا جائے، اسی لیے اس نے دیہات پر حملے سے پہلے ہتھیار رکھوانے کی ایک بار پھر کوشش کی۔ امام تنہا ہوتے تو ممکن تھا وہ اسی طرح شہید ہو جاتے جیسے قاضی ملا، غمری کے مقام پر شہید ہو گئے تھے، لیکن یہاں ان کے ہمراہ ان کے بیوی بچوں کے علاوہ وہ وفادار دیہاتی اور ان کے خاندان کے افراد بھی تھے جنھوں نے امام کو آخر دم تک بچانے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔ اس وقت جب کہ امام کے لیے پورا داغستان اور چیچنیا دشمن بن چکا تھا اور لوگ ان کی جان اور مال کے درپے تھے، ان بہادر دہقانوں نے انھیں پناہ دی تھی۔ پھر یہی نہیں، امام کے ساتھ دفاعی انتظامات میں دن رات ایک کر دیا تھا۔ اگر عام حملہ ہو جاتا تو شاید ان میں سے ایک ایک شخص امام کے ساتھ شہید ہو جاتا اور گاؤں کا ایک فرد بھی زندہ نہ بچتا۔ امام کو اپنے ان وفادار ساتھیوں، بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کا خیال آ گیا اور انھوں نے دو ساتھیوں کو شرائط طے کرنے کے لیے روسیوں کے پاس بھیجا۔
روسیوں نے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا، لیکن امام ااس کو کسی طرح ماننے کو تیار نہیں تھے۔ بالآخر کانرل لازاروف جو امام کو ذاتی طور پر جانتا تھا، خود گاؤں میں آیا اور یہ وعدہ کیا کہ نہ صرف ان کی جان بخشی ہوگی، بلکہ ان کے تمام ساتھیوں کو بھی امان دے دی جائے گی۔ امام گھوڑے پر سوار ہو کر آگے بڑھے، لیکن کچھ ہی دور گئے ہوں گے کہ روسیوں نے اپنے دشمن کو اس حالت میں دیکھ کر تالیاں بجانی شروع کر دیں۔ امام رک گئے۔ باگیں کھینچیں اور گاؤں کی طرف پلٹنے لگے، لیکن کرنل لازاروف یہ دیکھتے ہی ان کی طرف لپکا اور کہا کہ ان تالیوں کا مقصد عزت افزائی ہے اور یہ آپ کے استقبال کے لیے بجائی جا رہی تھیں۔ کرنل انھیں منا کر پھر لے آیا۔ ان کے ہمراہ ۵۰ مرید تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں مریدین کے لشکروں میں سے اب صرف یہی رہ گئے تھے۔ جب وہ بیریا ٹنکی کے پاس پہنچے تو ان کی اور ان کے خاندان اور ساتھیوں کی حفاظت کا یقین دلایا گیا۔ امام کا چہرہ تنا ہوا تھا اور ان کی عقابی آنکھوں میں چمک تھی۔ دوسرے دن وہ شورا بھجوا دیے گئے جہاں سے انھیں روس بھیج دیا گیا۔ بعد میں ان کا خاندان بھی ان کے پاس پہنچا دیا گیا۔ اس جنگ میں روسیوں کے ۱۸۰ سپاہی ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ دوسری طرف ۴۰۰ مریدوں میں سے صرف ۵۰ باقی بچے تھے۔ 
امام ۱۸۶۹ء تک کلوگا میں رہے او ربعد میں انھیں ان کی خواہش کے مطابق خیوا منتقل کر دیا گیا۔ یہاں سے انھیں حج پر جانے کی اجازت مل گئی۔ بالآخر ۴؍ فروری ۱۸۷۱ء کو مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔‘‘ (ص )
یہ بھی ذہن میں رہے کہ امام شامل نے روس کے مقابلے میں شکست تسلیم کر لینے کے بعد اپنے ہم وطنوں کو، جو جدوجہد آزادی رکھنا چاہتے تھے، اس سے منع کرنے کی کوشش کی تھی۔ امام شامل اس وقت روس کے ’’وظیفہ خوار‘‘ تھے، لیکن ان کا اپنے اہل وطن کو ترک جہاد کا مشورہ اس وظیفہ خواری کا صلہ نہیں تھا، بلکہ معروضی صورت حال کے دیانت دارانہ فہم پر مبنی ان کی ایک رائے تھی۔ سطحی اور جذباتی ذہن اس پر ’’جعلی مجاہد‘‘ کی پھبتیاں کسنا چاہے تو کس سکتا ہے، ۔ 

تاتاریوں کی یلغار اور مسلم مورخین کا معروضی انداز نظر

قرون وسطیٰ میں تاتاریوں نے عالم اسلام پر جو تباہی مسلط کی، اس کا ظاہری سبب یہ تھا کہ ایران میں خوارزم شاہ کے مقرر کردہ حاکم نے چنگیز خان کے بھیجے ہوئے چند تاجروں کا مال واسباب لوٹ کر انھیں قتل کر دیا اور خوارزم شاہ نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ اس پر چنگیز خان نے خوارزم شاہ کے پاس اپنا سفیر بھیجا اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ متعلقہ حاکم کے خلاف کارروائی کرے۔ جواب میں خوارزم شاہ نے چنگیز خان کے سفیر کو بھی قتل کروا دیا اور اس کے بعد عالم اسلام پر تاتاریوں کی تباہ کن یلغار کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ محتاج بیان نہیں۔
اس پورے حادثے کا مطالعہ اور تجزیہ کرتے ہوئے اہم اور قابل توجہ نکتہ مسلم مورخین کا معروضی انداز نظر ہے۔ تاتاریوں نے جس وسیع پیمانے پر عالم اسلام میں عمومی تباہی پھیلائی، ظاہر ہے اس کا کوئی جواز نہیں تھا، لیکن مسلم مورخین اس کی یک طرفہ مذمت کرنے کے بجائے تباہی کا بنیادی ذمہ دار خوارزم شاہ کو قرار دیتے اور سخت الفاظ میں اس کی حماقت اور شوریدہ سری پر تبصرے کرتے رہے ہیں۔ چند ایک نمونے ملاحظہ فرمائیں۔
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
وقد قتل من الخلائق ما لا یعلم عددہم الا الذی خلقہم ولکن کان البداء ۃ من خوارزم شاہ فانہ لما ارسل جنکز خان تجارا من جہتہ معہم بضائع کثیرۃ من بلادہ فانتہوا الی ایران فقتلہم نائبہا من جہۃ خوارزم شاہ وہو والد زوجتہ کشلی خان واخذ جمیع ما کان معہم، فارسل جنکز خان الی خوارزم شاہ یستعلمہ ہل وقع ہذا الامر عن رضا منہ او انہ لم یعلم بہ فانکرہ، وقال لہ فی ما ارسل الیہ: من المعہود من الملوک ان التجار لا یقتلون لانہم عمارۃ الاقالیم وہم الذین یحملون الی الملوک التحف والاشیاء النفیسۃ، ثم ان ہولاء التجار کانوا علی دینک فقتلہم نائبک، فان کان امرا انکرتہ والا طلبنا بدماۂم، فلما سمع خوارزم شاہ ذلک من رسول جنکز خان لم یکن لہ جواب سوی انہ امر بضرب عنقہ، فاساء التدبیر وقد کان خرف وکبرت سنہ وقد ورد الحدیث: اترکوا الترک ما ترکوکم، فلما بلغ ذلک جنکز خان تجہز لقتالہ واخذ بلادہ فکان بقدر اللہ تعالیٰ ما کان من الامور التی لم یسمع باغرب منہا ولا ابشع (البدایہ والنہایہ ۱۷/۱۶۳، ۱۶۴)
مطلب یہ ہے کہ سفیر کے معاملے کی ابتدا خوارزم شاہ کی طرف سے ہوئی تھی جس نے چنگیز خان کے سفیر کے معقول مطالبات کا جواب دینے سے عاجز ہو کر اسے قتل کرا دیا اور اس وقت وہ دراصل بڑھاپے کی وجہ سے سٹھیا چکا تھا۔
علامہ ذہبی ’’تاریخ الاسلام‘‘ میں لکھتے ہیں:
فوردت رسل جنکز خان الی خوارزم شاہ تقول: انک اعطیت امانک للتجار فغدرت، والغدر قبیح وہو من سلطان الاسلام اقبح، فان زعمت ان الذی فعلہ خالط بغیر امرک فسلمہ الینا والا فسوف تشاہد منی ما تعرفنی بہ، فحصل عند خوارزم شاہ من الرعب ما خامر عقلہ فتجلد وامر بقتل الرسل فقتلوا! فیا لہا حرکۃ لما ہدرت من دماء الاسلام اجرت بکل نقطۃ سیلا من الدم (۲۲/۴۴) 
یعنی خوارزم شاہ کی عقل پر پردہ پڑ گیا اور اس نے بزعم خویش بڑی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفیروں کو قتل کر دیا اور ایک ایسی حماقت کا ارتکاب کیا جس کی وجہ سے چنگیز خان کے سفیروں کے خون کے ایک ایک قطرے کے بدلے میں مسلمانوں کے خون کے دریا بہا دیے گئے۔ ع لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے سزا پائی۔

کیا یہ رویہ مسلمانوں کی خیر خواہی کا ہے؟

ربیعہ بن امیہ، قریش کے مشہور سردار امیہ بن خلف کا بیٹا تھا۔ فتح مکہ کے موقع پر اس نے اسلام قبول کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں شریک ہوا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اس نے شراب پی تو امیر المومنین نے اسے کوڑے لگوانے کے ساتھ ساتھ اسے تعزیراً علاقہ بدر کر کے خیبر کی طرف بھیج دیا۔ اس بات پر ربیعہ ناراض ہو کر رومی بادشاہ قیصر کے پاس چلا گیا اور نصرانی مذہب اختیار کر لیا۔ 
امیر المومنین نے کوئی غیر شرعی کام نہیں کیا تھا، بلکہ اپنے جائز اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ربیعہ کو علاقہ بدری کی سزا دی تھی، لیکن اس کا نتیجہ ایک مسلمان کے مرتد ہو جانے کی صورت میں نکلا تو سیدنا عمر کو اپنے فیصلے پر سخت ندامت ہوئی اور انھوں نے یہ اعلان کر دیا کہ ’لا اغرب بعدہ مسلما ابدا‘۔ یعنی آج کے بعد میں کبھی کسی مسلمان کو علاقہ بدر نہیں کروں گا۔ (نسائی، رقم ۵۶۷۶)
یہ منظر سامنے رکھیے اور اس کے تقابل میں اب ایک دوسرے منظر پر نگاہ ڈالیے:
جذبہ جہاد سے سرشار چند لوگ امارت اسلامیہ افغانستان میں بیٹھ کر وہاں کی اسلامی حکومت کی اجاز ت کے بغیر، بلکہ موثق اطلاعات کے مطابق ان کی طرف سے مخالفت کے باوجود، یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ وہ امریکہ کی اقتصادی طاقت کو توڑنے کے لیے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ کریں گے۔ اس کے لیے حکمت عملی تیار کی گئی جو کامیاب رہی۔ سنٹر تباہ ہوا اور امریکہ کی پوری دنیا کی نظروں میں سبکی ہوئی۔ امریکہ نے طالبان حکومت سے القاعدہ کی قیادت کو اس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جسے طالبان حکومت نے اپنے خیال کے مطابق اسلامی حمیت اور آداب میزبانی کے منافی سمجھتے ہوئے مسترد کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ افغانستان میں قائم طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا اور لاکھوں مسلمانوں کو جنگ، ہجرت اور تباہی وبربادی کا سامنا کرنا پڑا۔
افغانستان میں محفوظ پناہ گاہ چھن جانے کے بعد ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ کی منصوبہ بندی کرنے والے جہادی نظریہ ساز پاکستان کے علاقے میں آ گئے، جبکہ پاکستان یہ واضح کر چکا تھا کہ وہ اس جنگ میں افغان طالبان کے ساتھ نہیں ہے۔ بین الاقوامی طاقتوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے۔ پاکستانی فوج نے جہاں تک ممکن تھا، دباؤ برداشت کیا اور قبائلی علاقوں میں جنگ چھیڑنے سے گریز کیا، لیکن جب یہ خطرہ ہوا کہ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی طاقتیں پناہ گزینوں کا پیچھا کرتے ہوئے پاکستان کی حدود میں داخل ہو سکتی ہیں تو مجبوراً اسے خود اپنے علاقے میں ان پناہ گزینوں کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے شہریوں کے خلاف بھی فوجی آپریشن کا فیصلہ کرنا پڑا۔
امیر المومنین سیدنا عمر کا جو واقعہ اوپر نقل کیا گیا ہے، اس کی روشنی میں تو چاہیے یہ تھا کہ اس پورے خطے کے مسلمانوں کو ابتلا وآزمائش میں ڈال دینے والا یہ گروہ ان نتائج کو دیکھ کر اپنے کیے پر ندامت محسوس کرے اور آئندہ کے لیے اس نوعیت کے تباہ کن اور احمقانہ اقدامات سے باز آ جانے کا عزم کر لے جو ایک مسلمان ملک کی پوری کی پوری فوج کو ’’ارتداد‘‘ کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیں، لیکن ایسی صورت حال میں یہ کیفیت، ظاہر ہے ایک ایسے ذہن میں ہی پیدا ہو سکتی تھی جس میں سیدنا عمر کی طرح مسلمانوں کی حقیقی خیر خواہی اور انھیں کسی دینی یا دنیاوی آزمائش سے محفوظ رکھنے کا جذبہ راسخ ہو۔ یہاں تو عقل وفہم کی لگام اندھے انتقام کے جذبے کے ہاتھ میں دے دی گئی تھی جس کی تسکین اپنے کیے پر نادم ہونے سے نہیں، بلکہ ’’خارجیت‘‘ کا طرز فکر اور فلسفہ اپنانے سے ہی ہو سکتی تھی، چنانچہ بے دھڑک یہ فتویٰ صادر فرمایا گیا کہ امریکہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے پاکستانی فوج ’’مرتد‘‘ ہو گئی ہے اور اس کے جوانوں کو مارنا بھی ایسا ہی کار ثواب ہے جیسا امریکی فوجیوں کو جہنم رسید کرنا!! 
کس نے اپنے آشیاں کے چار تنکوں کے لیے
برق کی زد میں گلستاں کا گلستاں رکھ دیا

اسلامی نظریاتی کونسل اور ڈی این اے ٹیسٹ

ڈاکٹر عبد الباری عتیقی

پچھلے دنوں اسلامی نظریاتی کونسل نے کچھ سفارشات پیش کی ہیں جن میں ’’زنا بالجبر‘‘کے کیس میں DNA ٹیسٹ کو ثبوت کے طور پر پیش کرنے کے حوالے سے ایک سفارش بھی شامل ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’زنا بالجبر‘‘ کا کیس ثابت کرنے کے لیے DNA ٹیسٹ قابل بھروسہ نہیں ہے، البتہ اسے ثانوی ثبوت کے طور پر مد نظر رکھا جا سکتا ہے۔ہم اس حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔
ہماری روایتی دینی تعبیر میں زنا ’’مستوجبِ حد‘‘ (چاہے وہ بالرضا ہو یا بالجبر) کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے جو واحد طریقہ کار قابل قبول ہے وہ یہ ہے کہ چار مسلمان، عاقل ، بالغ، تزکیۃالشہود کے معیار پر پورا اترنے والے مرد یہ گواہی دیں کہ انہوں نے یہ جرم اپنی آنکھوں سے ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس سے کم تر یا مختلف کسی طریقے سے یہ جرم ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ جدید ذہن کے لیے یہ چیز قابل قبول نہیں ہے۔ خصوصاََ ’’زنا بالجبر‘‘ کے جرم کو تو اس طریقہ کار سے کبھی ثابت ہی نہیں کیا جا سکتا۔اسی وجہ سے یہ مسئلہ ہمارے یہاں طویل عرصے سے باعثِ نزاع بنا ہوا ہے۔
ہماری رائے میں روایتی دینی تعبیر میں اس حوالے سے ایک بنیادی غلطی پائی جاتی ہے۔ وہ غلطی یہ ہے کہ اس میں زنا کو دو قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک ’’زنا بالرضا‘‘ اور دوسر ی ’’زنا بالجبر‘‘۔ پھر ان دونوں قسموں کو وقوع، ثبوت اور سزا کے حوالے سے بالکل ایک درجے میں رکھ دیا گیا ہے۔ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ اصولاََ ’’زنا‘‘ کا اطلاق صرف اس عمل پر ہوتا ہے جو دونوں فریقوں کی رضا مندی سے کیا گیا ہو۔ اس لیے اسے ’’زنا بالرضا‘‘ کہنا نہ صرف یہ کہ غیر ضروری ہے بلکہ غلط فہمی کا موجب بھی ہے۔ اور ’’زنا بالجبر‘‘ کی اصطلاح تو بالکل ہی الجھانے والی اور Self Contradictory ہے۔ اصل میں یہ اصطلاح جس جرم کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے اس کے لیے صحیح لفظ ’’عصمت دری ‘‘ (Rape) ہے۔ یہ دونوں جرائم یعنی زنا اور Rape اپنے وقوع، نفسیات، اثرات، نتائج ہر حوالے سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں ۔ لوگوں نے محض ظاہری مماثلت کی بنا پر ان دونوں جرائم کو ایک ہی Category میں شامل کر دیا ہے۔ اور اس وجہ سے یہ ساری غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ شریعت میں جہاں بھی زنا، اس کی سزا یا اس کو ثابت کرنے کے مخصوص طریقہ کار کا ذکر ہے وہاں اس سے مراد ’’زنا‘‘ کا جرم ہے۔ رہا Rape یا عصمت دری کا معاملہ تو یہ براہ راست کہیں زیر بحث نہیں رہا۔رسول اکرمﷺ نے جن مجرموں کو رجم کی سزا دی ہے وہ اصل میں ’’زنا‘‘ کے مجرم نہیں تھے بلکہ Rape ، عصمت دری، قحبہ گری وغیرہ کے مجرم تھے۔ روایات میں ان مقدمات کی جو تفصیلات بیا ن ہوئی ہیں وہ اگرچہ کہ اتنی مبہم، ناقص، نامکمل اور بعض اوقات متضاد ہیں کہ محض ان کی بنیاد پر کوئی قطعی بات کہنا مشکل ہے لیکن اگر ان مقدمات پر تدبر کی نگاہ ڈالی جائے تو اتنا ضرور واضح ہو جاتا ہے کہ یہ محض ’’زنا‘‘ کے جرائم نہیں تھے بلکہRape ، عصمت در ی اور قحبہ گری وغیرہ کے واقعات تھے۔ ان مجرموں کو رسول اکرمﷺنے رجم کی جو سزا دی وہ، ہماری رائے میں، سورہ مائدہ کی آیتِ محاربہ سے ماخوذ ہے۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے:
’’وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور ملک میں فسادبرپا کرنے کے لیے تگ و دو کرتے ہیں، ان کی سزا بس یہ ہے کہ عبرت ناک طریقے سے قتل کیے جائیںیا سولی پر چڑھائے جائیںیا ان کے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ ڈالے جائیں یا جلا وطن کر دیے جائیں۔‘‘ (المائدہ ۵: ۳۳)
رسول اکرمﷺنے ان جرائم پر فساد فی الارض کا اطلاق کیا اور ان مجرموں کو آیت میں بیان کردہ حکم اَنْ یُقَتََّلُوْا  (بدترین طریقے سے قتل) کے تحت رجم کرادیا۔اسی طرح اس جرم (Rape) کو ثابت کرنے کے لیے بھی شریعت نے ہمیں کسی مخصوص طریقے کا پابند نہیں کیا ہے۔ہر دور کے تمدن اور حالات کے مطابق جس قسم کے ثبوت اور شواہد سے عدالت اس بات پر مطمئن ہوجائے کے جرم واقع ہوا ہے ، وہی جرم کے مکمل ثبوت کے لیے کافی ہے۔ ہمارے علما کا اصرار ،کہ Rape کا جرم بھی اسی طرح ثابت ہوگا جس طرح شریعت میں ’’زنا‘‘ کے جرم کو ثابت کرنے کی شرائط رکھی گئی ہیں(یعنی چار عینی شاہدین)، نہ تو دین کے درست فہم کے مطابق ہے اور نہ تمدن صدیوں کے سفر کے بعد جہاں پہنچ چکا ہے، اس کا ہی صحیح ادراک ہے۔یہی وجہ ہے کہ DNA ٹیسٹ جیسا تقریباََ یقینی ثبوت بھی ہمارے علما کی نظر میں ناقابل اعتبار ٹھہرتاہے۔ یہ رویہ’’تقلید‘‘ کے نام پر روا رکھا جائے یا ’’تحفظِ دین‘‘کے نام پر، یہ بہرحال لوگوں کو دین سے متنفر کرنے اور جگ ہنسائی کے سوا کوئی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔
اسی سے جڑی ایک اور بات بھی ہم یہاں بیان کر دینا مناسب سمجھتے ہیں۔’’شریعت‘‘ اور ’’فقہ‘‘ کے حوالے سے ہماری یہاں زبردست لاعلمی اور افراط و تفریط پائی جاتی ہے اور لوگ عموماََ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں کرتے۔’’شریعت‘‘ وہ قوانین ہیں جو پروردگار عالم نے انسانوں کے لیے خود متعین اور مقرر کر دیے ہیں۔ زمان و مکان کی تبدیلی سے ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یہ قیامت تک ہر انسان کے لیے واجب الاطاعت ہیں۔ لیکن یہ شریعت اللہ تعالیٰ نے عموماََان معاملات میں دی ہے جن میں انسان خود اپنی عقل اور تجربے سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتااور اس کے ٹھوکر کھانے کے امکانات یقینی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا کرم اور احسان ہے کہ اس نے ان معاملات میں انسانوں کو بغیر ہدایت کے نہیں چھوڑا اور خود ان کی رہنمائی کر دی ہے ۔ یہ شریعت اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔ باقی تمام معاملات اللہ تعالیٰ نے اصلاََ انسانوں کی اس فطرت، عقل اور تجربے پر چھوڑ دیے ہیں جو دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی عطا ہیں۔ یہ کا م مسلمانوں کے نظم اجتماعی اور ارباب حل و عقد کا ہے کہ وہ ان معاملات میں فیصلہ کریں، اس شرط کے ساتھ کہ ان میں دین کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔’’فقہ‘‘ درحقیقت اس سارے ’’انسانی کام ‘‘ کا نام ہے جو اس حوالے سے کیے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کی تاریخ میں یہ کام صدیوں تک ہوتا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں جو علمی اور قانونی ذخیرہ وجود میں آیا ہے اسی کا اصطلاحی نام’’فقہ‘‘ ہے۔ مثال کے طور پر ’’زنا‘‘ کے علاوہ کسی اور جرم کو ثابت کرنے کے لیے کوئی مخصوص طریقہ شریعت میں لازم نہیں کیا گیا ہے۔ فقہا نے اپنے دور کے حساب سے مثلاََ قتل، چوری، شراب نوشی کو ثابت کرنے کے لیے عینی شاہدین کی ایک مخصوص تعدادکا قانون بنا دیا۔ اپنے دور کے حساب سے یہ بالکل در ست قانون رہا ہوگا کیونکہ اس زمانے میں اس سے بہتراور قابل اعتماد کوئی ذریعہ موجود ہی نہیں تھا۔ ہمارے علما کی غلطی یہ ہے کہ وہ اب بھی صدیوں پہلے کے انسانی طریقہ کار کو من و عن جاری رکھنے پر اصرار کرتے ہیں اور اسے شریعت کا لازمی تقاضہ سمجھتے ہیں۔ شریعت اور فقہ میں یہ فرق مد نظر رکھنا لازمی ہے کہ اول الذکر الہامی، ابدی اور غیر متبدل ہے جب کہ ثانی الذکر انسانی، غیر ابدی اور زمان و مکان کی تبدیلیوں کے ساتھ تبدیل ہو جانے والی ہے۔ اگر ہم ’صنوبر باغ میں آذاد بھی ہے پابگِل بھی ہے‘ کے مصداق ’ثبات‘ اور ’ تغیر‘ کے اس متوازن امتزاج کے منہج پر قائم رہتے تو آج دنیا کانقشہ اور مسلمانوں کا مقام ہی کچھ اور ہوتا۔ بد قسمتی سے ہم نے ’’فقہ‘‘ کو ’’شریعت ‘‘ کے مقام پر رکھ دیا ہے بلکہ عملاََشریعت کو فقہ کا اسیر بنادیاہے۔ آج دینی لحاظ سے ہمارے زیادہ تر علمی اور عملی مسائل اسی سوء فہم کا نتیجہ ہیں۔ہمارے مسائل اس وقت تک حل نہیں ہو سکتے جب تک ہم وحی پر مبنی شریعت کو انسانی فہم پر مبنی فقہ کی بیڑیوں سے آزاد نہیں کرا دیتے۔ ہمیں فقہی ذخیرے سے استفادہ تو ضرور کرنا چاہیے لیکن اسے پاؤں کی زنجیر نہیں بننے دینا چاہیے۔

مفتی محمد زاہد صاحب کے موقف پر ایک تحقیقی نظر (۱)

مولانا عبد الجبار سلفی

معاصر ماہ نامہ الشریعہ گوجرانوالہ، بابت جون ۲۰۱۳ء میں جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد صاحب کا ایک مضمون بعنوان ’’برصغیر کی دینی روایت میں برداشت کا عنصر ’’پہلی قسط کے طور پر شائع ہوا۔ فاضل مضمون نگار نے برصغیر پاک و ہند کی مذہبی و دینی روایات میں عدمِ برداشت، اشتعال اور فرقہ وارانہ تقسیم پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ عدمِ برداشت کا تعلق فقط مذہب، مسلک، فرقہ اور عقائد و نظریات سے ہے یا علاقائی، موسمی، خاندانی اور ذاتی مزاج بھی اس میں مدخل ہیں، ہمیں فاضل مضمون نگار کے عنوان اور زیر عنوان کی نگارشات میں مماثلت کی کوئی جھلک نظر نہیں آئی۔ فقط ایک ہی مسئلے پر قلم کشائی کی گئی ہے کہ علماء امت نے شیعیت کی تکفیر کا متفقہ فتویٰ جاری نہیں کیا۔ مبادلۂ افکار و خیالات کی رُو سے پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا خطۂ برصغیر میں فقط شیعہ، سنی کش مکش ہی میں عدم برداشت پایا جاتا ہے؟ کیا دیوبندی و بریلوی، حنفی وغیر مقلد، مرزائی و مسلمان، حیاتی و مماتی، ملا و صوفی حتیٰ کہ مدنی و تھانوی تک کے دائروں میں برداشت، تحمل، وسعتِ نظر اور باوقار اختلاف موجود ہے؟ جب عدم برداشت معاشرے کے ہر ہر فرد کے لہو میں سرایت کر کے خاکم بدہن بلڈکینسر کا روپ دھار چکا ہے تو پھر شیعیت ہی موضوعِ سخن کیوں؟ اور اس ضمن میں قائد اہل سنت حضرت اقدس مولانا قاضی مظہر حسینؒ اور آپ کے والد گرامی ابوالفضل مولانا قاضی کرم الدین دبیرؒ کا بطور اہتمام ذکر کرنا اور ان کی کتب سے اپنے خیالات کشید کرتے ہوئے ادھورے اقتباسات پیش کر کے تکلف اُٹھانا بلاوجہ ہلاکت آمیز نتائج نکالنے کے مترادف ہے۔ تاہم دلی مسرت محسوس کرتے ہوئے ہم اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ اہلِ علم نے ایک پیچیدہ اور دبے ہوئے موضوع پر کافی عرصے کے بعد اپنے خیالات کی نکاسی کی ہے اور اسی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہمیں بھی اپنی طالب علمانہ معروضات ملک و ملت کے سامنے رکھنے کا موقع مل رہا ہے۔
فاضل مضمون نگار کو اپنے خیالات کے اظہار کا مکمل حق ہے اور ہمیں ان کے خیالات سے اختلاف پیش کرنے کا پورا استحقاق! اپنے دماغ میں جنم لینے والی باتوں کو ’’خیالات‘‘ قرار دینا اور دوسروں کے سنجیدہ اختلاف کوانا کا مسئلہ بنا لینا اہل تحقیق کا شیوہ نہیں ہے کیونکہ علم کی اپنی آبرو ہوتی ہے اور آبرو باختہ طبائع کا علمی مزاج سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ سو فاضل مضمون نگار کی خدمت میں پیشگی معذرت اور قلبی تعظیم کے باوجود ہم ان کی کاوشِ فکر پر ایک تحقیقی اور طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔ امید ہے کہ اس متانت آمیز اختلاف سے قارئین کی ذہنی رسائیوں کو وُسعت ملے گی۔
فاضل مضمون نگار کا پہلا اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔
’’برصغیر میں اہل السنۃ والجماعت ہمیشہ اکثریت میں رہے ہیں۔ تاہم اہل تشیع کا بھی ہمیشہ قابل ذکر وجود رہا ہے۔ بعض علاقوں میں ان کی تعداد خاصی زیادہ رہی ہے بعض جگہوں پر مقامی حکمران یا نواب وغیرہ اہل تشیع میں سے رہے ہیں۔ نظریاتی طور پر اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان بڑے نازک مسائل میں اختلاف موجود رہا ہے۔ ان مسائل پر بحث، مباحثہ، اور کتابیں لکھنے کا سلسلہ بھی رہا ہے لیکن سوائے چند استثنائی مثالوں کے اختلاف کبھی ایک دوسرے کے لیے جانی خطرات کا باعث نہیں بنا۔ جن مسائل میں فریقین کے درمیان اختلاف رہا ہے، وہ بنیادی طور پر تو حضور اقدس eکی رحلت کے بعد کی تاریخ کے پیدا کردہ ہیں، تاہم ان کے ساتھ چونکہ کئی مقدس اور محترم شخصیات کے ساتھ عقیدت کا معاملہ آگیا ہے، اس لیے انہوں نے بہت زیادہ نزاکت اور حساسیت اختیار کر لی اور اس اختلاف کی حیثیت اصولی اختلاف کی بن گئی۔ اگرچہ اب بھی فریقین کے درمیان بہت سے مشترکات موجود ہیں۔ دین کے اصل الاصول امور میں کوئی خاص اختلاف نہیں ہے ‘‘ (’’الشریعہ‘‘ صفحہ نمبر ۱۰)

تبصرہ

ہمیں فاضل مضمون نگار کے اس ایک اقتباس میں حقیقت سے گُریز پائی کا عنصر دکھائی دے رہا ہے اور فکری تذبذب کے ساتھ ساتھ لفظ بلفظ تضادات و تشکیک کے کانٹے بکھرے نظر آ رہے ہیں۔۔۔اگر ہم اس مکمل اقتباس کی تلخیص درج کر دیں تو شاید زیادہ تبصرے کی حاجت بھی نہ رہے اور صاحبانِ فکر و نظر بڑی آسانی سے کوئی نتیجہ اَخذ کر سکیں۔ اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے۔
  • اہل سنت اور اہل تشیع میں نازک مسائل میں اختلاف رہا ہے۔
  • یہ اختلافات کبھی جانی خطرات کا باعث نہیں بنے ۔
  • مقدس شخصیات کی عقیدت کی وجہ سے اس اختلاف نے اصولی اختلاف کی حیثیت اختیار کر لی۔
  • فریقین میں بہت سے مشترکات اب بھی موجود ہیں۔
  • اصل الاصول میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
اربابِ فکر و نظر ذرا ان ارشادات پر غور فرمائیں کہ شیعہ و سنی میں اُصولی اختلافات ہیں، مگر ان میں بہت سی مشترکات بھی ہیں۔ اصولی اختلاف اور پھر اشتراک؟ یاللعجب! اور اس سے زیادہ تعجب یہ کہ ’’اصل الاصول میں کوئی اختلاف نہیں‘‘ فیا للعجب
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
فاضل مضمون نگار بخوبی جانتے ہوں گے کہ جب کوئی فرقہ اصولوں کی بناء پر اسلام سے ہٹ جاتا ہے تو پھر اس کے ساتھ اشتراک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی اور یہ بھی پیش نظر رہے کہ جن مقدس شخصیات سے تعلق کو ’’عقیدت‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ وہ دراصل ’’عقیدے‘‘ کا معاملہ ہے عقیدت اور عقیدے میں وہی فرق ہے جو خود شیعہ و سنی میں ہے اور یہ راز بھی فاضل مضمون نگار کی اپنی عبارت میں مضمرہے کیونکہ وہ خود کہتے ہیں کہ ’’مقدس شخصیات کے ساتھ عقیدت کے معاملہ کی وجہ سے یہ اختلاف، اصولی اختلاف کی حیثیت اختیار کر گئے‘‘
حضورِ والا! اصولی اختلاف عقیدے کے ٹکراؤ سے وجود میں آتے ہیں نہ کہ عقیدت کے ٹکراؤ سے۔۔۔ کون نہیں جانتا کہ صحابہ کرام رشد و ہدایت کی وہ مشعلیں ہیں جن کی کرنیں دور دور تک ضیاپاش ہوئیں جب پورے کا پورا معاشرہ ظلم و سرکشی اور تمرّد کی آفتوں میں گھرا ہوا تھا اور انسانوں کے حیاء سوز افعالِ قبیحہ ماحول کو بدبودار کیے ہوئے تھے، وہ صحابہ ہی تھے جن کے زہد و ایقان کی خوشبوؤں نے پورے عالم پر مُشکِ نافہ کا چھڑکاؤ کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب قرآن مجید نے اُن پر جمالِ الٰہی کی چادریں تان دیں اور نبوت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا تو یہ جماعتِ مقدس امت کا ’’عقیدہ‘‘ بن گئی نہ کہ محض مرکزِ عقیدت ۔۔۔شارح ہدایہ علامہ ابن ہمام کی ایمانی جلالت یونہی تو نہیں کہہ اُٹھی کہ
’’ان من فضل علیاً علی الثلاثۃ فمبتدع وان انکر خلافۃ الصدیق اوعمر رضی اللہ عنہما فھو کافر‘‘۔ (فتح القدیر جلد اول صفحہ نمبر ۳۰۴)
ترجمہ: ’’جو حضرت علی کو حضرات ثلٰثہ پر ترجیح دے، وہ بدعتی ہے اور جو حضراتِ ابوبکر و عمر کو خلیفہ نہ مانے، وہ کافر ہے‘‘۔
اور کون نہیں جانتا کہ اہل تشیع نہ صرف خلفاء کی خلافت کا انکار کرتے ہیں، بلکہ انہیں خلافت غصب کرنے والا اور آلِ رسول پر ظلم کرنے والا قرار دے کر نفرتوں کے وہ بھبھکے اُڑاتے ہیں کہ اس پر ایک ہزار سال کا لٹریچر شاہد ہے۔ کسی صدی کا کوئی مہذب سے مہذب شیعہ مجتہد یا عالم پیش کیجیے جس نے اصحاب رسول کی بھداڑانے میں اپنے شب و روز صرف نہ کیے ہوں؟
تاہم شیعہ و سنی اختلاف کی بنیاد مقدس شخصیات نہیں ہیں بلکہ مسئلہ امامت ہے۔ اسلام نے حضور اکرم کی رحلت کے بعد تصور خلافت دیا ہے اور اہل تشیع نے اس کے مقابل عقیدہ امامت کا خود ساختہ نظریہ پیش کیا ہے۔ یہی وہ اصولی اختلاف تھا جس کی بناء پر اہل اسلام اور اہل تشیع کی راہیں جدا جدا ہوگئیں اور اس کے بعد شیعیت میں جتنابگاڑ آیا ہے، وہ اسی عقیدۂ امامت کی وجہ سے آیا ہے اور یہ عقیدۂ امامت شیعہ کے ہاں منصب نبوت سے بڑھ کر ہے ۔اس لیے فاضل مضمون نگار مذہب شیعہ کے متقدمین ہی نہیں، بلکہ متاخرین کی کتب بھی پڑھیں تو یکسانیت ملے گی۔ اگر ہمارے مخاطب ایک معروف عالم دین اور منصب افتاء پر فائز نہ ہوتے تو ہم چند حوالہ جات درج بھی کر دیتے، لہٰذا طوالت کے خوف سے ہم انہیں نظر انداز کر رہے ہیں اور ویسے بھی شیعہ عقیدۂ امامت اب اتنا آشکارا ہوچکا ہے کہ ہر جگہ اس پر شواہد دینے کی ضرورت ہی نہیں رہی البتہ دو حوالے پڑھتے جائیے۔
عصر حاضر کے معروف شیعہ مجتہد محمد حسین ڈھکو فاضل نجف اشرف عراق لکھتے ہیں:
’’تمام شیعہ امامیہ اس کے قائل ہیں کہ امام کو نبی کی طرح اول عمر سے آخر عمر تک تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے اور احکام میں ہرقسم کی خطاء و لغزش سے منزہ و مبرّہ اور معصوم ہونا ضروری ہے۔‘‘ (اثبات الامامت، صفحہ نمبر ۲۳، ناشر مکتبہ السبطین سٹیلائٹ ٹاؤن، سرگودھا) 
اور اس سے پہلے خمینی صاحب بھی لکھ آئے ہیں۔
’’ہمارے ضروریاتِ مذہب میں یہ بات داخل ہے کہ کوئی بھی ائمہ کے مقامِ معنویت تک نہیں پہنچ سکتا، چاہے وہ ملک مقرب یا نبئ مرسل ہو، وہ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔ ‘‘ (حکومت اسلامی، ناشر کتاب مرکز، شمالی ناظم آباد ، کراچی)
خمینی صاحب صرف مذہبی نہیں، بلکہ ملتِ شیعہ کے سیاسی راہنما تھے اور انہوں نے یہ بات ضروریات مذہب میں شامل کی ہے کہ انبیاء و مرسلین تک بھی آئمہ کے رتبے کو نہیں پہنچ سکتے۔ اب بطور تقیہ اہل تشیع ختم نبوت کا اقرار بھی کر لیں تو وہ ناقابل قبول ہے کیونکہ انبیاء علیہم السلام کے بعد عصمت کا اجراء منصب ختم نبوت پر ضرب کاری ہے۔ اسی بناء پر حضرت شاہ ولی اللہ نے ’’تفہیمات الٰہیہ‘‘ میں اہل تشیع کو ختم نبوت کا منکر قرار دیا ہے اور علماء اہل سنت نے اسی بنیادی عقیدے کی بناء پر فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ شیعیت اور اسلام دو مختلف اور جُدا چیزیں ہیں۔ اثنا عشری شیعہ ہوں یا اسماعیلی یا پھر نُصیری، (اس وقت یہی تین فرقے دنیا میں پائے جاتے ہیں) ان تینوں سے اہل السنۃ والجماعت کااصولی اختلاف ہے اور اصولی اختلاف کے فاصلے کبھی نہیں مٹتے۔ نیز اصولوں پر سودے بازی یا پھر اصولی مخالفین سے ’‘اشتراک‘‘ کی راہیں تلاش کرنا ہر دیدۂ بینا کے لیے وجۂ صدا ستعجاب ہے۔
فاضل مضمون نگار اگر خطاء و صواب، اور حق و باطل کے معیار پر غور کرتے تو وہ اس خوش فہمی یا غلط فہمی کا شکار کبھی نہ ہوتے۔فروعی اختلافات میں خطاء و صواب کی خلیج ہوتی ہے اور اصولی مخالفین سے حق و باطل کا معرکہ ہوتا ہے۔ حق و باطل کی محاذ آرائی میں اشتراکی راہیں ڈھونڈنا مچھلی کے منہ میں زبان ڈھونڈنے کے مترادف ہے یا دراز گوش کے سر سے سینگ!!

اہلِ تشیع کے عقائدِ ثمانیہ

جو حضرات شیعیت کے ہر تیور پر نگاہ رکھتے ہیں اور ان کی زندگیاں اسی دشت کی آبلہ پائی میں گذر گئی ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اہل تشیع کے آٹھ عقائد ایسے ہیں جو متصادم دین اسلام ہیں۔
1۔ عصمت کا اجراء تسلیم کر کے ایک گونہ مفہوم ختم نبوت سے انحراف۔
2۔ قرآن مجید کی محفوظیت سے انکار اور محرفین کو کافر نہ کہنا۔
3۔ عقیدۂ رجعت، یعنی آخرت سے پہلے عالم دنیا میں ایک بار پھر لوٹناہے۔
4۔ ائمہ کو افضل قرار دے کر افضیلت انبیاء کا انکار کرنا۔
5۔ حضراتِ شیخینؓ کی صحابیت اور خلافت سے انکار، جب کہ ان کا اللہ و رسول سے رضا یافتہ ہوتا امر قطعی ہے۔
6۔ ام المومنین سیدہ عائشہؓؓ سمیت ماسوائے سیدہ خدیجۃ الکبریؓ، جملہ ازواجِ رسول کے متعلق منافرت پھیلانا۔
7۔ حضور اکرم کو اپنے نبوی مشن میں ناکام قرار دینا۔ جیسا کہ خمینی صاحب نے بھی صراحت سے کہہ دیا ہے۔ (اتحاد ویکجہتی ، ص ۱۵)
8۔ حضور اکرم کے بعد بلافصل خلافت کے قیام کا خدائی دعویٰ اور وعدہ تسلیم نہ کرنا، جب کہ یہ وعدہ قرآن مجید کی آیتِ استخلاف میں موجود ہے۔
سلطان العلماء حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، جن کی علمی تندرستی کا یہ حال ہے کہ رگ رگ سے ارغوانی موجیں تلاطم خیز ہیں، یوں رقمطراز ہیں:
’’حضراتِ محققین نے انہیں (شیعہ کو) ان کے عقائد ثمانیہ (آٹھ عقیدوں) کے باعث ہمیشہ دائرہ اسلام سے باہر سمجھا ہے۔ یہ نہیں کہ انہیں اسلام سے باہر کیا ہے۔ یہ عقائد اسلام میں تھے ہی کب کہ انہیں باہر کیا جائے؟ جو عقیدہ دائرۂ اسلام کے اندر ہو اسے کوئی باہر نہیں نکال سکتا اور جو اسلام کے قطعی عقیدوں سے معارض ہو، اسے اپنے اندر کوئی مسلمان جگہ نہیں دے سکتا۔ لزوم اور الزام اور بات ہے اور جو بات کفر ہو اس کا التزام اور اقرار اور بات ہے۔ ان دونوں صورتوں میں حکم بدل جاتا ہے۔ شیعوں کے ان عقائد کا ان کے ہاں بار بار اقرار ہے اور یہ لوگ اس کا برملا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ان عقائد ثمانیہ کی بناء پر علماءِ حق نے ہمیشہ انہیں مسلمانوں سے باہر سمجھا ہے ‘‘ (عبقات جلد دوم، صفحہ نمبر ۲۰۸)
باقی فاضل مضمون نگار کا یہ کہنا کہ ’’اہل سنت کے ہاں اہل تشیع کی کئی کتابیں پڑھائی جاتی رہیں ہیں جیسے نحو میں کافیہ پر رضی کی شرح یا منطق میں شرح تہذیب وغیرہ‘‘ تو اس کی علمی حیثیت کوئی نہیں ہے۔ علومِ خادمہ میں سے صَرف و نحو ہوںیا فلسفہ و منطق، اس کا تعلق ادیان یا مذاہب کے تقارب سے قطعاً نہیں ہے ۔ اس کا تعلق معلومات کے ساتھ ہے اور معلومات میں نظریاتی سرحدیں رکاوٹ نہیں ہوتیں۔ فاضل مضمون نگار نے علم، معلومات اور عقیدے کو گڈمڈ کر کے اچھا خاصا چڑیا گھر تیار کر دیا ہے۔ ثانیاً عرض ہے کہ علماء اہل سنت کی علمِ کلام یا منطق کی کتب پر جو شیعہ علماء نے شروحات لکھی ہیں، یہ اہل سنت کی علمی عظمت کی دلیل ہے۔ کسی شیعی کتاب کو سُنی معتبر عالم دین نے علمی حیثیت دی ہو تو پیش کیجیے؟ الحمدللہ! علماء اہل سنت کے علوم و فیوض کے سینہ دوز دفینے قیامت تک چشمِ حیرت میں سُرمہ بصیرت ڈالتے رہیں گے۔ فاضل مضمون نگار اگر شیعیت کے تبلیغی مزاج اور تدریسی رجحان کا مشاہدہ کرتے تو انہیں اندازہ ہوتا کہ شیعہ علماء کی کُل کائنات علم منطق ہے۔ ان کے ذاکر اگر جاہلانہ اور عامیانہ لہجے میں اصحابِ رسول پر تبرا بازی کرتے ہیں تو علماء شیعہ فلسفیانہ انداز میں تبرا بازی کرتے ہیں دور حاضر کے رافضی علماء میں سے علامہ طالب جوہری، غضنفر عباس، عقیل الغروی، عبدالحکیم بوترابی، اور ضمیر نقوی وغیرہ اسی قبیل سے ہیں۔ فاضل مضمون نگار سے بصد احترام عرض ہے کہ آپ کے دعوے کے مطابق ’’نحو میں کافیہ پر رضی کی شرح کسی زمانے میں یہاں داخل درس رہی‘‘ اور سنی عالم علامہ تفتازانی کی ’’تہذیب‘‘ کی شیعی شرح تہذیب بھی ‘‘۔۔۔اور اس پیرے کی ابتدا میں آپ نے لکھا ہے ’’اہل تشیع کی کئی کتابیں سنیوں کے ہاں پڑھائی جاتی رہیں۔‘‘ ایک دو شروحات اور لفظ ’’کئی‘‘ ؟؟ مبالغہ آمیزی سے ترازو کا پلڑا جھکاکر بھلا کب کوئی فاتح بن پایا ہے؟
آنکھوں والا تیرے جوبن کا تماشا دیکھے
دیدۂ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے؟

علماءِ اہل سنت کا فتویٰ تکفیر

فاضل مضمون نگار نے مندرجہ ذیل موقف اپنایا ہے:
’’کچھ عرصے سے یہ تاثر عام ہوگیا ہے کہ اہل تشیع کو تمام علمائے اہل السنۃ کا فر قرار دیتے ہیں اور یہ کہ یہ ان کامتفقہ فتوی ہے۔ یہاں فتاوی کی تفصیل میں جانے کا موقع نہیں ہے، لیکن یہ غلط فہمی ضرور دور ہوجانی چاہیے اور یہ بات سامنے آنی چاہیے کہ تکفیرِ شیعہ کا کوئی متفقہ فتویٰ موجود نہیں ہے۔۔۔جن حضرات نے تکفیر کی ہے ان کی ایک بڑی تعداد نے بھی درحقیقت بطورِ فرقہ تمام اہل تشیع کی تکفیر کرنے کی بجائے بعض عقائد کی تکفیر کی ہے‘‘۔ (’’الشریعہ‘‘ صفحہ نمبر ۱۳)

تبصرہ

اگر یہ کہا جاتا کہ کچھ عرصے سے تکفیرِ شیعہ بطور اعلان اور غوغہ عام ہوگیا ہے تو اس سے اتفاق کیا جاسکتا تھا مگر فتویٰ تکفیر کچھ عرصے کا تاثر نہیں، صدیاں بیت رہی ہیں، فاضل مضمون نگار کس صدی میں جانا چاہتے ہیں؟
کسی دور میں لفظِ شیعہ مشترک المعنی لفظ رہا ہے اور ان کی بطور تنظیم ،فرقہ وہ شکل نہیں تھی جو بعد میں ظاہر ہوئی، ان کی مذہبی کتب عام دستیاب نہیں تھیں اور مذہبی شعار ’’تقیہ‘‘ ہونے کی وجہ سے ان کا کوئی رُخ اور متعین سمت نہ تھی۔ علماء اہل سنت ہر قسم کا فتویٰ دینے میں اور خصوصاً فتویٰ تکفیر دینے میں بے حد محتاط ہوتے تھے جب کسی فرقے کا بنیادی مآخذ موجود نہ ہو، یا موجود تو ہو مگر زمانے کے اہل علم کی رسائی نہ ہو، اور تقیہ کی آڑ میں وہ گرگٹ کے بدلتے رنگوں کی طرح اپنے نظریات بدلتے رہتے ہوں تو ان حالات میں کوئی فتویٰ تکفیر کیسے دے؟ یہ کوئی مولانا احمد رضا خان صاحب والا بارُودی مزاج تھوڑا ہی تھاکہ جہاں نگاہ پڑی کافر بنا دیا مگر جن علماء کرام نے اپنی جملہ توانائیاں شیعیت کی کھود کُرید میں وقف کر دیں، ان کے مآخذِ علمیہ تک رسائی حاصل کی ا ور ان کے مذہبی مدوجزر کا مشاہدہ کیا پھر براہ راست ان سے مباحثے کیے۔ اُن سے بڑھ کر اہل تشیع کا واقف کون ہوسکتا ہے؟ لہٰذا فتویٰ اور رائے بھی انہی علماء کی معتبر ہوگی۔ 
علامہ خالد محمود پھر یا د آگئے ۔ پڑھیے:
’’جن علماء نے اثنا عشری عقائد کا ان کے اصل ماخذوں سے مطالعہ نہیں کیا وہ محض سوال کی عبارت پر ان کے بارے میں فتویٰ دیتے رہے۔ سو ان کا فتویٰ اُن کے حق میں معتبر نہیں ہوسکتا۔ اس باب میں ان علماء کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے، جنہوں نے ان لوگوں کا قریب سے مطالعہ کیا ہے یا انہوں نے ان کے اصل ماخذوں پر اطلاع پائی ہے‘‘ (عبقات جلددوم، ص۲۰۸)
علم و فضل کے بحرِ ذخار امام شعبیؒ (متوفیٰ ۱۰۴ھ) سے جب کبھی پوچھا جاتا کہ اہل تشیع کو کیا آپ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں؟ تو وہ جواب میں فرماتے کہ یہ اسلام میں گُھسے ہی کب تھے؟ امام شعبی کے اقوال اور فتوے علامہ ابن تیمیہ اپنی قابل فخر کتاب ’’منہاج السنۃ‘‘ میں جا بجا درج کرتے ہیں حالانکہ ابن تیمیہ جیسا انسان اتنی آسانی سے کسی صاحبِ علم کا نام نہیں لیتا۔۔۔ ایسا ہی ایک قول ابن تیمیہ درج کرتے ہیں۔
قال الشعبی: اخدرکم اہل ھذہ الاھواء المضلۃ، وشرھا الرافضۃ لم یدخلو فی الاسلام رغبۃً ولا رھبۃً۔ (منہاج السنۃ جلد اول صفحہ ۸، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
ترجمہ: ’’امام شعبی نے فرمایا کہ میں تمہیں راہ راست سے بہکانے والے اہل بدعت سے ڈراتا ہوں اور ان میں سے سب سے بدتر رافضی ہیں، یہ لوگ رغبت اور خوفِ خدا کے ساتھ اسلام میں داخل نہیں ہوئے‘‘
قارئین کرام ! ایک ایک جملے پر غور کیجیے! خاموش آتش کی طرح سُلگتی شیعیت کی چنگاریوں سے بچنے کی کس دردِ دل سے دعوت دی جارہی ہے؟ یہ دعوت دینے والے کون ہیں؟ امام شعبی، اور اس کو نقل کرنے والے کون ہیں؟ ابن تیمیہ۔
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لیئم
تو نے وہ گنج ہائے گرانمایہ کیا کیے؟
علامہ سرخسی کے تبحر علمی سے بھلا کون ناواقف ہے؟ کئی افلاطونوں کے دماغ علامہ سرخسی کی قبر کے ایک ایک ذرے پر نچھاور کیے جاسکتے ہیں انہوں نے شیعیت کے داغوں کا مشاہدہ کیا، ان کے مذہبی عقائد پر تحقیق کی اور پھر بولے تو کیا بولے؟ پڑھیے۔
فمن طعن فیھم فھو ملحد، منابذ للاسلام و دواءہُ السیف ان لم یتب۔ (اصول سرخسی، جلد ۲، ص ۱۳۴)
ترجمہ: ’’جو صحابہؓ پر تنقید کے نشتر چلائے وہ الحاد کا مریض ہے اس نے اسلام کی چادر گویا اتار پھینکی، اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو اس کا علاج تلوار ہے۔‘‘
ہمارے پاس بھی فاضل مضمون نگار کی طرح فتاوی کی تفصیل درج کرنے کا موقع نہیں ہے جب کبھی وہ موقع پالیں گے تو ان شاء اللہ ہم بھی شیعیت کے متعلق دس صدیوں کا ریکارڈ پیش کردیں گے۔ یہاں ہم اپنے اسی موقف کا اعادہ کرتے ہیں کہ لکل فن رجال  کے ضابطہ کے تحت تکفیر شیعہ کا مسئلہ ہو یا کوئی اور معرکہ درپیش ہو، اس میدان کے لوگوں کی رائے کو ترجیح دی جائے گی۔ آج بھی آپ کسی بڑے دارالعلوم میں جا کر کسی عالم دین سے کوئی فتویٰ مانگیں تو وہ دارالعلوم میں موجود دارالافتاء کی طرف آپ کی راہنمائی کر دے گا۔ مولانا محمد منظور نعمانی نے حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی سے اپنی ایک ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت تھانوی نے مجھ سے پوچھا، مولانا احمد رضا صاحب نے جو ہم پر تکفیری گولہ داغا ہے، کیا ان کو واقعتا غلط فہمی ہوئی یا دیدۂ و دانستہ انہوں نے کام کیا؟ حضرت تھانوی اپنی سلیم فطرت اور خوفِ خدا سے مزین ضمیر کے مطابق فرماتے تھے کہ کوئی مسلمان اتنی بڑی جرأت نہیں کر سکتا ، ضرور ان کو غلط فہمی ہوئی جب کہ مولانا محمد منظور نعمانی کی زندگی اس موضوع پر مناظروں میں گذر گئی تھی۔ وہ خان صاحب کے طوفانی مزاج اور بعض بریلوی حضرات کی نیتوں سے آگاہ تھے۔ مولانا نعمانی کا موقف یہ تھا کہ مولانا احمد رضا صاحب نے ضد بازی، آتشِ حسد، اور مخصوص اشتعالی مزاج کی بنا ء پر کفر کے فتوے لگائے۔ چنانچہ مولانا محمد منظور نعمانی نے حضرت حکیم الامت تھانوی کے اس حُسنِ ظن اور ملائمت کی ایک وجہ یہ بھی لکھی ہے :
’’اس عاجز کا خیال ہے کہ اگر حضرت (تھانوی) نے ان کی کتابیں ملاحظہ فرمائی ہوتیں تو ان کو بھی یہ شُبہ غالباً نہ ہوتا‘‘ (بریلوی فتنہ کا نیا روپ، صفحہ نمبر ۱۴، مصنفہ مولانا محمد عارف سنبھلی)
معلوم ہوا کسی بھی طبقے کے مآخذ تک رسائی حاصل کیے بغیر محض سنی سنائی باتوں پر (خواہ وہ کتنی ہی ثقہ ہوں) کوئی حتمی رائے دینا مشکل ہوتا ہے اور حضرت تھانوی کا یہ جملہ تو ان کے متعدد ملفوظات میں ملتا ہے کہ جب کوئی مجھ سے شیعیت کے متعلق تفصیل طلب کرتا ہے تو میں اس کو مولانا عبدالشکور صاحب لکھنوی کے پاس بھیج دیتا ہوں کہ وہ اس میدان کے آدمی ہیں۔ فاضل مضمون نگار کی مذکورہ سطر ’’علماء نے بطور فرقہ تمام شیعہ کی تکفیر کرنے کی بجائے بعض عقائد کی تکفیر کی ہے۔‘‘ سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ اس سے بطور فرقہ تکفیر لازم نہیں آتی، ہم سمجھتے ہیں شدید غلط فہمی ہے۔ جب عقائد پر تکفیر یا تفسیق کی جاتی ہے تو کافر یا فاسق تو فاعل ہوتا ہے۔ جو ان عقائد پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ آج اگر کہا جائے کہ جو طبقہ حضور اکرم کے بعد کسی کو نبی مانے تو وہ کافر ہے، اگر سائل پوچھے کہ کون کس کو نبی مانتا ہے؟ تو اس بات کا جواب سوائے اس کے کیا ہوگا کہ وہ فرقہ قادیانی ہے، اب نتیجہ کیا نکلا؟ کہ قادیانی کافر ہیں۔
اگر کہا جائے کہ حجیتِ حدیث کا انکار کرنے والے اسلام سے خارج ہیں؟ اگر سوال کیا جائے کس نے حجیتِ حدیث کا انکار کیا؟ تو لامحالہ عبداللہ چکڑالوی، غلام احمد پرویز یا دیگر ان لوگوں کے نام بتائیں جائیں گے جو صراحتاً منکرین حدیث تھے۔
اگر کہا جائے کہ تقلید ائمہ کے بغیر عوام کے لیے دین پر چلنا مشکل ہے اور تارکینِ تقلید گمراہ ہیں، اس پر جب تارکین تقلید کی نشاندہی کروائی جائے گی تو سوائے غیر مقلدین کے کس کا نام لیا جائے گا؟ جنہیں اہل حدیث کہا جاتا ہے اسی طرح اگر کہا جائے کہ حضور اقدس کی بعد از وفات برزخی حیات پر پوری امت کا اجماع ہے اور اس کا انکار نظریۂ اہل سنت سے مفروری ہے اور جب پوچھا جائے گا کہ کون لوگ ہیں جو انبیاء علیہم السلام کی برزخی حیات کے منکر ہیں؟ تو کم از کم ہمارے وطن (پاکستان) میں مولانا سید عنایت اللہ شاہ صاحب بخاری اور ان کے غالی معتقدین کا نام لیا جائے گا ۔ بعینہٖ جب علمائے اہل سنت نے مشروط فتویٰ دیا تھا کہ ایسے عقائد رکھنے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں مثلاً افک عائشہ صدیقہؓ، یا قرآن مجید میں کمی واقع ہونے کا عقیدہ یا غلط فی الوحی، یا حلت تبرا یعنی سبّ و شتم وغیرہ، یا جیسے مولانا مفتی محمد کفایت اللہ کا فتویٰ موجود ہے کہ:
’’اگر نذیر احمد غالی شیعہ ہوگیا ہے یعنی حضرت عائشہؓ پر تہمت کا قائل ہے یا قرآن مجید کو صحیح اور کامل نہیں سمجھتا یا حضرت ابوبکر صدیق کی صحبت کا منکر ہے یا حضرت علی کو وحی کا اصل مستحق سمجھتا ہے یا حضرت علی کی الوہیت کا قائل ہے تو بے شک وہ کافر ہے‘‘ (کفایت المفتی جلد اول، صفحہ نمبر ۲۸۰)
اب فاضل مضمون نگار ہی بتائیں کہ یہ عقائد کن لوگوں کے ہیں؟ قادیانیوں کے، دیوبندیوں کے، بریلویوں کے یا اہل حدیثوں کے؟ ایک ہی جواب آئے گا کہ یہ عقائد اثنا عشری شیعوں کے ہیں، اور اس وقت دنیا میں اکثریتی آبادی بمقابلہ اسماعیلی و نصیری انہی کی ہے۔ اگرچہ ان کے عقائد بھی خلاف اسلام ہیں۔
آج دنیا گلوبل ویلج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے ہر فرقے اور ہر مسلک کی تقریریں، تحریریں اور لب و لہجہ ایک چھت کے نیچے فراہم کر دیا ہے۔ اب نہ تو وہ زمانہ رہا ہے جب علامہ ابن عابدین شامی کو شیعہ لٹریچر نہیں ملتا تھا اور نہ وہ دن رہے جب مولانا محمد منظور نعمانی انڈیا سے حضرت اقدس مولانا قاضی مظہر حسین کو خط لکھ کر شیعہ مذہب کی کتابیں منگواتے تھے کہ یہاں انڈیا میں اکثر نایاب ہیں۔۔۔ آج بحث و تمحیص کے بازار گرم ہیں، جب کوئی پڑھا لکھا مسلمان شیعہ علماء کی کتابوں میں صحابہ پر غلیظ الزامات دیکھتاہے، تقریروں میں تبرا سُنتا ہے۔ ترجمہ مقبول میں ’’شراب خور خلفاء کی خاطر قرآن بدل دیا گیا‘‘ جیسے رکیک جملے پڑھتا ہے۔ ’’تجلیاتِ صداقت‘‘ میں ’’اصحابِ رسول ایمان سے تہی دامن تھے‘‘ جیسی عبارتیں پڑھتا ہے۔ غلام حسین نجفی، عبدالکریم مشتاق، اشتیاق کاظمی، محمد حسین ڈھکو، اور دنیا بھر کے شیعہ علماء کی عربی، اردو اور فارسی زبان میں سوقیانہ اور واضح خلافِ اسلام باتیں پڑھ سُن کر جب ہمارے مفتیانِ عظام کے ایسے مضامین پر نگاہ ڈالتا ہے تو دونتائج سامنے آتے ہیں، تیسرا کوئی نہیں۔
1۔ یا تو اس کے جذبات مزید مجروح ہوتے ہیں، پہلے وہ شیعیت سے بدظن تھا، اب سُنیوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا کہ ایسے صریح کفریہ عقائد رکھنے والے مسلمان ہیں تو پھر کُفر کس مگر مچھ کا نام ہے؟
2 ۔ یا وہ بھی دھنیاپی کر اعتقادی خرابیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ جب یہ سب کچھ کفر نہیں تو پھر ہمیں بھی صحابہ کے گریبانوں میں ہاتھ ڈال کر طبع آزمائی کر لینی چاہیے۔ پھر یہ تشکیک کے جراثیم بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ کاش فاضل مضمون نگار محض ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کو نہ دیکھتے، زمینی حقائق، نفسیاتی تلاطم، عملی و اعتقادی خرابیوں کے نتائج اور موقع و ماحول کے تقاضوں کو اہلِ افتاء نہیں سمجھیں گے تو کیا ہم بے لگام خطیبوں سے یہ توقع رکھیں؟ فتویٰ دینے کا اہل کون ہے؟ بصد معذت ہم یہاں اپنے قارئین سے مخاطب ہیں نہ کہ فاضل مضمون نگار سے، مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے آج سے چھہتر سال پہلے ۱۹۳۷ء میں لکھا تھا۔
’’فتویٰ دینے والے کے لیے لازم ہے کہ وہ عالم، صاحبِ بصیرت، کثیر المطالعہ، وسیع النظر، احوالِ زمانہ سے واقف ہو‘‘۔ (کفایت المفتی جلد ۲، ص ۲۳۶)
یہ دو سطریں گویا ’’دریا بہ کوزہ‘‘ کا مصداق ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امام شعبی سے لے کر محدثین دہلی تک، خاندانِ شاہ ولی اللہ سے لے کر مولانا محمد قاسم نانوتوی تک، امام اہل سنت مولانا عبدالشکور لکھنوی سے لے کر حضرت اقدس مولانا قاضی مظہر حسین تک سب کے سب رفض و بدعت کے خلاف ایک ہی نہج پہ چلے ہیں، ان میں برداشت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی مگر غیرت غالب تھی۔ ہمارے آج کے فلاسفر اور دانشور فرصت نکال کر عدمِ برداشت اور غیرتِ دینی کے مابین فرق کو بھی ذرا واضح کر دیں تو احسان ہوگا۔
حجۃ الاسلام قاسم العلوم والخیرات مولانا محمد قاسم نانوتوی تحمل و برداشت کا کوہِ گراں تھے۔ اگر ان میں جذباتیت، اور عدمِ برداشت کا عنصر ہوتا تو آج فکرِ دیوبند سکہ رائج الوقت نہ ہوتی۔ آج ہندو پاک میں علوم و فیوض کے جو چشمے بہہ رہے ہیں، ان کا سرچشمہ حضرت نانوتوی کی عالی ظرفی ہی تو ہے، مگر یہی سراپائے علم جب شیعیت کے خلاف قلم اُٹھاتا ہے تو پھر یوں بھی لکھا نظر آتا ہے۔
’’اصحابِ ثلثہ کو اول تو مولوی عمار علی صاحب (شیعہ ، ناقل) جیسوں کی اہانت یا برا کہنے سے کیا نقصان؟ بلکہ الٹا باعثِ رفعتِ شان ہے۔ چاند، سورج کی طرح وہ روشن ہوئے تو کتے ان پر بھونکے ، اوروں پر کیوں نہ بھونکے‘‘۔ (ہدیۃ الشیعہ، صفحہ نمبر ۲۲۳)
حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی سے آغا خانی شیعوں کے عقائد لکھ کر فتویٰ مانگا گیا کہ آیا ہم انہیں مسلمان کہہ سکتے ہیں؟ تو حضرت تھانوی نے تفصیلی فتویٰ جاری فرمایا اور اس کی آخری سطور مندرجہ ذیل ہیں:
’’خلاصہ یہ ہے کہ جب ان کفریات کے ہوتے ہوئے کسی کو مسلمان کہا جائے گا تو ناواقف مسلمانوں کی نظر میں ان کفریات کا قبح خفیف ہوجائے گا اور وہ آسانی سے ایسے گمراہوں کا شکار ہوسکیں گے تو کافروں کو اسلام میں داخل کہنے کا انجام یہ ہوگا کہ بہت سے مسلمان اسلام سے خارج ہوجائیں گے۔ کیا کوئی مصلحت اس مفسدہ کی مقاومت کر سکے گی۔‘‘ الخ (بوادرالنوادر، صفحہ نمبر ۷۴۱)
نوٹ۔ یہ کتاب حضرت تھانوی کی زندگی کی آخری تصنیف ہے اور آخری اعمال و اقوال کا پہلوں کے مقابلہ میں معتبر ہونا مسلَّمہ ہے۔ 
(جاری)

مکاتیب

ادارہ

(۱)
محترم جناب محمد عمار خان ناصر صاحب 
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
’’خاطرات‘‘ کے سلسلے میں ماشاء اللہ نہایت اہم اور فکر انگیز تحریریں شائع ہو رہی ہیں ۔ربِّ کریم آپ کو اس کے تسلسل اور دین کے حوالے سے سامنے آنے والے جدید چیلنجز کے مقابلہ کی ہمت ارزانی فرمائے ۔’’الشریعہ‘‘ جون ۲۰۱۳ء کے خاطرات میںآپ نے ’’عہد نبوی کے یہود اور رسول اللہ کی رسالت کا اعتراف ‘‘ کے زیر عنوان دینی مدارس کے طلبہ و اساتذہ کے اس المیے کا تذکرہ کیا ہے کہ وہ نہ صرف بالعموم جدید علوم سے واقفیت حاصل نہیں کرتے بلکہ اپنے روایتی علمی ذخیرے سے بھی نا بلد ہیں۔ان کے سامنے جب کوئی ایسی علمی بات کی جاتی ہے جو ان کی محدود نصابی آموخت سے مختلف ہوتی ہے تووہ اسے فوراً گمراہی،بے راہ روی اور بدعت وتحریف پر محمول کرنے لگتے ہیں،اور اس طرف ان کا ذہن ہی نہیں جاتا کہ یہ بات قدیم علماے اسلام کے ہاں بھی موجود ہو سکتی ہے۔ وہ اپنے ارد گرد کے چند گنے چنے علماہی کو علم کی کل کائنات سمجھتے ہیں۔یہ بات آپ نے اس تناظر میں کہی ہے کہ مسجد اقصی کی بحث میں آپ نے سورہ البقرہ کی آیات ۷۶ اور ۹۱کی روشنی یہ ذکر کیا تھا کہ عہد نبوی کے بعض یہود حضور کو بنی اسماعیل کا نبی تسلیم کرتے تھے اور تنقید نگارنے اسلامی ذخیرہ علم سے عدم واقفیت کی بنا پر اس کو تحریف سے تعبیر کیا ہے۔پھر آپ نے بخاری ،فتح الباری اور طبری کے حوالے سے اپنے موقف کو موکد کیا ہے۔
محترم عمار صاحب !آ پ تو اسلاف کے ہاں موجود کسی ایسے تفسیری نکتے کو ماننے کی بات کر رہے ہیں جو ہمارے علما کے ہا ں معلوم و معروف نہ ہو ۔ ذرا غور کیجیے کہ اس تفسیری نکتے سے متعلق ان کا رویہ کیا ہو گا جواسلاف کے ہاں موجود نہ ہو۔حالانکہ راقم الحروف کی ناقص رائے میں دلائل موجود ہوں توایسے کسی نکتے سے بھی ابا ضروری نہیں۔ 
اگر،جیسا کہ ہمارے علما بھی بیان کرتے ہوئے نہیں تھکتے،قرآن ہر زمانے اور قیامت تک کے تمام بنی نوع انسان کے لیے رہنمائی کا سامان ہے ۔اور اقبال کا یہ بیان حقیقت ہے کہ قرآن کی حکمت قدیم و لا یزال ہے(آں کتابِ زندہ قرآنِ حکیم ۔حکمتِ او لا یزال است وقدیم)،اس کی آیات میں سینکڑو ں نئے جہان موجود اور اس کے لمحات میں ان گنت زمانے بند ہیں (صد جہانِ تازہ در آیاتِ اوست ۔عصر ہا پیچیدہ درآناتِ اوست)، تو پھر اس سے نئے زمانے میں کسی نئے نکتے کے اخذکرنے پر ناک بھوں چڑھانے کی کیا گنجائش ہے!
قرآن نے دو چار مرتبہ نہیں سینکڑوں مرتبہ غور وفکر کرنے ،عقل و فکر کی قوتوں کو کام میں لانے اور انفس وآفاق اور آیاتِ قرآنی میں تدبر پر زور دیا ہے ۔(مثال کے طور پر دیکھیے:البقرہ۲:۱۶۳؛ النسا۴:۸۲؛ العنکبوت۲۹:۲۰؛ الذاریت ۵۱:۲۰۔۲۱ و مقاماتِ عدیدہ)وہ اللہ کے بندوں کی ایک نہایت اہم صفت یہ بیان کرتا ہے کہ اِِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْہَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا ۔(الفرقان ۲۵:۷۳) یہی نہیں بلکہ بلکہ وہ عقل سے کام نہ لینے والوں کو بد ترین خلائق قرا دیتا ہے۔(اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ۔الانفال۸:۲۲) قواے حسی کو مشاہد ہ فطرت اور ذہنوں کوتدبر و تفکر کے لیے استعمال نہ کرنے والوں کو حیوانوں سے بھی بدتر اور جہنم کے سزاوارٹھراتاہے (وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا وَ لَھُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا وَ لَھُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَا اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْن۔الاعراف۷:۱۷۹)تو کیا آیاتِ قرآنی میں تدبرکے ذریعے ہدایت و رہنمائی کا حصول صرف بزرگانِ سلف تک محدود ہ ہے اور اخلاف کے لیے کتاب و سنت کی روشنی میں ان میں آزادانہ غور و فکر ممنوع ہے۔ظاہر ہے کہ ہر گز نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو متاخرین میں شاہ ولی اللہ،اقبال اور دیگر متعدد نامور اور عظیم مفکرین کا وجود ناپید ہوتا۔
آپ نے اپنے ناقد کے جواب میں درست فرمایا کہ یہ کہہ کرکہ عہدِ نبوی کے بعض یہود حضور کو بنی اسماعیل کا نبی مانتے تھے ،آپ ان یہود کی کوئی خوبی اجاگر نہیں کر رہے تھے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی حکتِ عملی کو کا یہ پہلو اجاگر کر رہے تھے کہ آپ نے حق بات کو اپنے مخاطبین تک پہنچانے اور ان پر اتمام حجت کرنے کا ایسا حکیمانہ اسلوب اختیار کیا کہ یہود کے ایک گروہ کے لیے آپ کی صریح تکذیب ممکن نہ رہی۔لیکن راقم کے خیال میں اگر آپ یہود کی کسی خوبی کو اجاگر کر دیتے تو یہ بات بھی قرآن کے خلاف نہ ہوتی،کیونکہ قرآن حکیم میں اس کی واضح بنیادیں موجود ہیں۔درج ذیل آیات ملاحظہ کیجیے:
وَ مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْہُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّہٖٓ اِلَیْکَ وَ مِنْھُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْہُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّہٖٓ اِلَیْکََ۔(آل عمران۳:۷۵) 
لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَھُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَھُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰی ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْھُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُھْبَانًا وَّ اَنَّھُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْن۔ وَ اِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ (المائدہ ۵:۸۲۔۸۳)
پہلی آیت میں اہل کتاب کے منفی رویے کے ذکر کے ساتھ ساتھ ان کے بعض لوگوں کے دیانتداری پر مبنی رویے کی تعریف کی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ وہ ڈھیروں کی امانت میں بھی خیانت نہیں کریں گے اور دوسری آیات میں یہود اور مشرکین کی نسبت نصاری کے اہلِ اسلام سے قریب تر ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس میں علما و مشائخ موجود ہیں جو تکبر نہیں کرتے اور جب رسول اللہ پر نازل ہونے والے کلامِ ربانی کو سنتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔اس لیے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا۔
قرآن کے نقطہ نظر سے بات بھی کسی طرح قرین انصاف نہیں کہ اہل اسلام تمام غیر مسلموں کو ایک ہی عینک سے دیکھیں۔انہیں قرآن کی ان آیات کو پیش نگا رکھنا چاہیے جن میں بے لاگ انصاف کا حکم دیا گیا اور اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ کسی قوم کی دشمنی انہیں نا انصافی پر آمادہ نہ کرے۔(مثلاً:المائدہ۵:۸)
آپ نے سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی جس دعوتی حکمتِ عملی کا تذکرہ فرما یاہے وہ بلا شک و شبہ ہر زمانے کے داعیانِ اسلام کے لیے مشعل راہ ہے۔لیکن جانے عصر حا ضر کے زیر بحث قبیل کے جذباتی علما ے کرام اسلام کی بہی خواہی کے بلند بانگ دعاوی کے باوصف حضور کے اسوہ حسنہ کہ اس پہلو کو کیوں یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں !آج کے دور میں کوئی مسلمان اسلام کی تبلیغ اور اس کی انسانیت پسندی کے تعارف کے حوالے سے دیگر مذاہب کے لوگوں کی توجہ ان سے متعلق روادارانہ اور مثبت رویہ اپنائے بغیر حاصل نہیں کر سکتا۔اگرمسلمان غیر مسلموں سے خوہ مخواہ کا تعصب برتیں گے تو ان کے حوالے سے یہ کہنا نہایت آسان ہوگا کہ وہ تمام غیر مسلموں کو اپنا دشمن خیا ل کرتے ہیں اور ان سے دشمنی اور مخالفت کے سوا کچھ توقع نہیں رکھتے اور اس چیز کا اسلام اور اس کی دعوت اور مسلمانوں کے حوالے سے ضر ررساں ہونا محتاجِ دلیل نہیں۔
بعض یہود کی طرف سے حضور کو بنی اسماعیل کا نبی تسلیم کرنے کی تصویب کے ضمن میں ایک دلچسپ بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ امر صرف عہدِ نبوی کے اہل کتاب تک محدود نہیں،عصر حاضر کے اہل کتاب میں سے بھی بعض نمایاں لوگ یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نبی تو ہیں لیکن اہل عرب کے لیے۔مشہور مستشرق منٹگمری واٹ کا نام اسلام اور مستشرقین کے موضوع سے ادنی دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بھی اجنبی نہیں۔انہوں نے Companion to the Quran کے نظر ثانی شدہ ایڈیشن کے دیباچے میں لکھا ہے کہ گو میں ہمیشہ سے یہ سمجھتاتھا کہ محمد [صلی اللہ علیہ وسلم] صدق دل سے اپنے اوپر وحی الہی کے قائل تھے، تاہم مجھے ایک عرصہ تک آپ [صلی اللہ علیہ وسلم] کو پیغمبر تسلیم کرنے میں تامل رہا۔ اب البتہ میں یہ علی الاعلان کہتا ہوں کہ آپ [صلی اللہ علیہ وسلم] عہد نامہ قدیم کے پیغمبروں کی طرح کے پیغمبر تھے۔ وہ مختلف قصصِ قرآنی کا قصصِ بائبل سے تقابل کرکے واضح کرتے ہیں کہ قصص قرآنی کو بائبل کی بعینہ نقل قرار دینا کسی بھی طرح درست نہیں۔قصصِ بائبل اور قرآنی قصص میں اس نوعیت کا بنیادی اختلاف ہے کہ اس کی توجیہ بغیر اس کے کوئی نہیں ہو سکتی کہ محمد [صلی اللہ علیہ وسلم] پر عہد نامہ عتیق کے انبیا کی مانند وحی آتی تھی۔البتہ عہد نا مہ قدیم کے پیغمبر اپنے اپنے ادوار کے مذاہب کو ہدف تنقید بناتے تھے اور محمد [صلی اللہ علیہ وسلم] کا مقصدِ بعثت ان لوگوں کو ایمان باللہ کی دعوت دینا تھا جو کسی بھی دین کو ماننے کے روادار نہ تھے۔اس د یباچے میں منٹگمری واٹ نے مشہور مستشرق مترجمِ قرآن آرتھر جے آربری کے حوالے سے جوکچھ لکھا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسٹر آربری بھی حضور پر وحی الہی کے قائل تھے۔مسٹر واٹ لکھتے ہیں کہ آربری نے اپناترجمہ قرآن اس زمانے میں کیا جب وہ ذاتی نوعیت کے پریشانیوں اور مسائل سے دوچار تھے۔ترجمہ کی تکمیل کے بعد انہیں سکونِ قلب اور اطمینان کی دولت میسر آئی جس پر انہوں شکریے کا اظہار کیااور واضح کیا کہ یہ شکریہ وہ اس قوتِِ مطلقہ کا ادا کررہے ہیں جس نے نبی [صلی اللہ علیہ وسلم] پر وحی نازل فر مائی۔
ڈاکٹر محمد شہباز منج
شعبہ اسلامیات،یونیورسٹی آف سرگودھا، سرگودھا 
(۲)
محترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
امیر عبد القادر الجزائری کے بارے میں ’’الشریعہ‘‘ اور’’ ضربِ مؤمن‘‘ کے درمیان جاری مکالمہ بہت دلچسپی سے پڑھا۔چند باتیں ذہن میں ہیں جو گوش گذار کرنا چاہتا ہوں۔
(۱) مفتی ابو لبابہ صاحب نے جو کچھ لکھا ہے آپ کی تائید کردہ کتاب سے لکھا ہے اور با حوالہ لکھا ہے، اس میں اس کا عورتوں کے ساتھ اختلاط ، مہمانوں کو شیمپئین پیش کرنا، کفار سے بڑی بڑی تنخواہیں وصول کرنا، غیراللہ کے نام کی قسمیں کھانا، بالفاظِ خود’’ایک بچے کی طرح‘‘اپنے آپ کو کفار کے حوالے کردینا، یہودیوں اور عیسائیوں کو مسلمان سمجھنا، پردے کو محض عربوں کا رواج کہنا، ، ان کی خوشامد کرکے معافیاں مانگنا وغیرہ خود آپ کی پسند فرمودہ کتاب سے ثابت ہے۔ اب آپ یا تو اقرار کریں کہ امیر عبد القادر الجزائری واقعی اسی چال چلن کا آدمی تھا اور یا پھر تسلیم کریں کہ کائزر نے اس کے بارے میں غلط بیانی کی ہے، اس صورت میں آپ بھی تقریظ لکھنے کی بناء پر کائزر کی غلط بیانی میں شریک ٹھہرائے جائیں گے۔
(۲) آپ نے مفتی صاحب کے اعتراضات کا جواب دینے کی بجائے ان پر یہ الزام لگانے پر اکتفاء کیا ہے کہ ان کا لب و لہجہ ٹھیک نہیں ہے ، ان کا انداز سخت ہے وغیرہ، اس کے جواب میں آپ اسی شمارے میں اپنے فرزند عمار خان ناصر کا شیخ اسامہ بن لادنؒ کے بارے میں لب و لہجہ ملاحظہ فرما لیں کہ دنیا سے رخصت ہو چکنے کے بعدشیخ کے بارے میں اس نوعیت کی الزام تراشی اور طعنہ بازی یہ کس قسم کی اخلاقیات ہے؟
(۳) آپ نے حضرت امامِ اہل سنتؒ کی ترجمانی کے مفتی صاحب کے دعویٰ کی سختی سے تردید کی ہے ، اسے ناقابلِ برداشت بتایا ہے اور گمراہ کن قرار دیا ہے، عجیب بات ہے کہ جنہیں حضرت امامِ اہل سنتؒ کافر کہتے تھے، انہیں آپ مسلمان کہتے ہیں، جنہیں انہوں نے گمراہ قراردیا انہیں آپ اہلِ علم میں شمار کرتے ہیں، جن نظریات کوانہوں نے بدعت و گمراہی سمجھا انہیں آپ ’’تفرد‘‘ خیال فرماتے ہیں، جن چیزوں کو وہ ’’حرام ‘‘کہتے تھے انہیں آپ’’ ضروری ‘‘قرار دیتے ہیں۔ اس کے باوجود آپ ان کے نہ صرف ترجمان ہیں بلکہ آپ کے انداز سے ہٹ کر ان کی ترجمانی کا دعویٰ کرنے والا ’’گمراہ‘‘ ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب عقائد و نظریات اور اصول فروع میں امامِ اہل سنتؒ سے اختلاف کے باوجود آپ ان کے ترجمان بلکہ جانشین ہیں تو محض لب و لہجہ کے اختلاف کے ساتھ مفتی صاحب کا امامِ اہل سنتؒ کی ترجمانی کا دعویٰ کیوں گمراہ کن اور ناقابلِ برداشت ہے؟حضرت امامِ اہلِ سنتؒ کے ہزاروں شاگرد اس وقت موجود ہیں جو حضرت کے مسلکی تصلب اور’’ قدامت پسندی‘‘ کے گواہ ہیں،حضرتؒ کی اپنے ہر شاگرد، مرید اور ملنے والے کو ’’اپنے اکابر کا دامن نہ چھوڑنا‘‘ کی نصیحت آج بھی ان سب کو خون کے آنسو رلاتی ہے،ان سب حضرات کی موجودگی میں جناب عمار خان ناصر نے الشریعہ کے امامِ اہلِ سنت نمبر میں حضرت کے مسلک و مشرب کو جس بے دردی سے مسخ کیا ہے وہ سب تحقیق ہے اور مفتی صاحب اگر حضرت امامِ اہلِ سنت ؒ کے مؤقف کو ان کا مؤقف بتاتے ہیں تو یہ بات گمراہ کن اور ناقابلِ برداشت ہے؟
(۴)آپ نے اپنے طرزِ عمل کے حق میں حضرت امامِ اہلِ سنت اور دیگر اکابر کے متعدد حوالہ جات و واقعات پیش فرمائے ہیں، جب آپ اپنی مرضی کے خلاف حضرت امامِ اہلِ سنت ؒ اور دیگر اکابر کے کسی بھی فیصلے کو قبول کرنا لازم نہیں سمجھتے تو اپنے حق میں ان کی عبارات کو پیش کرنے کا آپ کو کیا حق ہے؟ آپ نے ’’علمی و فکری مسائل میں طرزِ عمل‘‘ کے عنوان سے بہت سے واقعات لکھے ہیں جن سب کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت امامِ اہلِ سنت کو بیشتر مسائل میں آپ سے اختلاف تھا اور وہ آپ کو سمجھانے کی کوشش بھی کرتے تھے،آپ کے مؤقف کو ناجائز اور آپ کے افعال کو بدعت تک کہتے تھے، جبکہ آپ اکثر اوقات ان کی بات نہیں مانتے تھے، اور اب ان باتوں سے اس طرح استدلال فرما رہے ہیں کہ ’’کبھی ہلکی پھلکی گفتگو سے بات آگے نہیں بڑھی‘‘۔آپ ہی فرمائیں کہ وہ آپ کو منع کرتے تھے، سمجھاتے تھے، اس کے علاوہ وہ کر بھی کیا سکتے تھے؟ کیا یہ آپ کی سعادت مندی کی نشانی ہے؟
(۵)اسی طرح آپ نے ’’معاشرتی و سماجی تعلقات‘‘ کے عنوان سے بھی بہت سی باتیں ذکر کی ہیں جن میں بعض فرقوں سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کے جنازے وغیرہ میں آپؒ کی شرکت کا ذکر ہے، جبکہ دیگر فرقوں مثلا شیعہ وغیرہ سے تعلقات میں انتہائی شدت و سختی اختیار فرمانے کا کوئی ذکر نہیں۔ کیا یہ بد دیانتی نہیں؟ اس عنوان کے تحت آپ نے مولانا قاضی شمس الدین صاحب اور قاضی عصمت اللہ صاحب کے حوالے سے بھی بعض واقعات کا ذکر کیا ہے جبکہ خود حضرت شیخ کی تصریح کے مطابق یہ دونوں حضرات مماتی نہیں تھے، چنانچہ حضرت شیخ، ابو طاہر فتح خان صاحب کے خط کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:
’’حضرت قاضی نور محمد صاحب، حضرت قاضی شمس الدین صاحب اور حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب رحمہم اللہ وغیرہ حضرات کا عند القبر صلوۃ و سلام کے سماع کا وہی عقیدہ تھا جو راقم کا ہے۔‘‘
اور مماتیوں کے پیچھے نماز کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’راقم کا وہی جواب ہے جو دارالعلوم کے صدر مفتی حضرت مولانا سید مہدی حسن صاحب رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے، (کہ نماز مکروہ ہے) جو تسکین الصدور کی ابتداء میں درج ہے۔‘‘ (مجلہ المصطفیٰ امامِ اہل سنت نمبر ص۷۴۴)
اہلِ بدعت کے بارے میں حضرت شیخ فرماتے ہیں:
’’ان لوگوں نے شرک کے ساتھ مساجد کو بھی پلید کردیا ہے۔ ان کے عقائد خراب ہیں، ان کے پیچھے نماز قطعاً نہیں ہوتی‘‘ (ذخیرۃ الجنان ج۱۳ ص۲۷۵)
حضرت کی اس قسم کی بے شمار تحریرات و واقعات کو چھپانا اور اپنی مرضی کے واقعات بیان کرنا، کیا دیانت اسی کو کہتے ہیں؟
(۶) یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ آپ ایک مخصوص طرزِ تکلم اور اندازِ بیان کو مکالمہ کے لیے لازم قرار دے کر اس سے انحراف کو بدتہذیبی قرار دے کر مسترد کردیتے ہیں جبکہ عقائد و نظریات، مسائل و معاملات، اور اصول و فروع میں ہر شخص کوہر بات کہنے کی آزادی دیتے ہیں اور اجماعی مسائل میں اختلاف کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انتہائی ادب سے گذارش ہے کہ جب باقی تمام مسائل میں کوئی بھی شخص کوئی بھی رائے اختیار کرسکتا ہے تو اخلاق و تہذیب میں وہ کون سا فارمولا ہے جس پر ’’اجماع‘‘ منعقد ہوچکا ہے اور جس سے روگردانی قابلِ تعزیر جرم ہے؟اگرقرآن پاک میں فمثلہ کمثل الکلب، اؤلئک کالانعام بل ہم اضل، اؤلئک علیھم لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین، کمثل الحمار یحمل اسفارا، اور حدیث شریف سے ’’امصص بظراللات‘‘، یا اخوۃ القردۃ والخنازیر اور ابو الحکم کو ابو جہل کا نام دینا وغیرہ سے استدلال کرکے کوئی شخص اپنی تحریر میں کسی کو کتا، جانور، لعنتی، گدھا وغیرہ لکھے تو کس’’اجماعی‘‘ دلیل سے وہ بد تہذیب کہلایا جائے گا؟
(۷) اسی طرح آپ فرماتے ہیں کہ امامِ اہلِ سنت کی نہ یہ زبان تھی جو مفتی صاحب نے اپنا رکھی ہے..... آپ کا یہ کہنا، کہ حضرت امامِ اہل سنت ہمیشہ نرم لب و لہجہ ہی اختیار کرتے تھے، درست نہیں۔ وہ جس طرح عموماً نرم اور دھیمے لہجے میں اپنا مؤقف سمجھاتے تھے، اسی طرح بوقت ضرورت ان کا لہجہ انتہائی تلخ اور شدید بھی ہوجاتا تھا، آپ خود ان کو پڑھیں توانہوں نے بسا اوقات ’’جنونی مولوی صاحب‘‘ (مجلہ صفدر امام اہل سنت نمبر ص۷۵۶)، خمینی بھینگے نے... (ارشاد الشیعہ ص۱۲۵) خمینی صاحب عقلی اندھے بھی ہیں(ایضاً ص۱۳۱) افسوس ہے اس اسلام دشمنی اور عیسائیت پرستی پر (صرف ایک اسلام ص۱۵) جن سیاہ بختوں کو...(ایضاً ص۱۰۳) اپنی بدباطنی اور بری فطرت کا ثبوت دیا ہے....(ایضاً ص۱۴۱) برق صاحب نے شقاوتِ قلبی کا ثبوت دیا ہے...(ایضاً س۱۷۶) خان صاحب کے تعصب و ہٹ دھرمی کا ثبوت..(عباراتِ اکابر ص۱۸) شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ کرکس دریدہ دہنی کا ثبوت خانصاحب نے دیا ہے..(عبارات اکابرص ۲۵) مجنونانہ بڑھ..(ایضاً ص ۱۲۷)او بے حیا حکمرانو! تم سے زیادہ بے حیا اور بے غیرت کون ہے کہ ابھی تک ان کے دم چھلا بنے ہوئے ہو(ذخیرۃ الجنان ج۱۳ص ۱۵۰)وغیرہ الفاظ استعمال فرمائے ہیں تو کیا کسی کو جنونی، بھینگا، اندھا،اسلام دشمن، عیسائیت پرست،سیاہ بخت، بدباطن، شقی القلب، متعصب، ہٹ دھرم، دریدہ دہن، مجنون، بے غیرت، بے حیا، وغیرہ کہنا جائز ہے اور امام اہل سنت کے کردار کے مطابق ہے؟ نہیں معلوم کہ اب آپ مفتی صاحب کو بدتہذیب قرار دینے سے رجوع کرتے ہیں یا حضرت امام اہل سنت پر بد اخلاقی کا فتویٰ لگاتے ہیں۔
(۸) آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ آپ کے مضامین کو ضربِ مؤمن میں شائع کرنا ضربِ مؤمن والوں کی اخلاقی ذمہ داری تھی اور انہیں شائع نہ کرکے گویا ضربِ مؤمن والوں نے صحافتی بددیانتی کا ثبوت دیا ہے۔ فی الواقع میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کس قانونِ اخلاق کے تحت آپ کے مضامین و خیالات کو شائع کرنا ضربِ مؤمن والوں پر واجب ہے ۔ہر شخص اپنے مؤقف کو خود شائع کرتا ہے، آپ خود تو ’’آزاد فورم‘‘ کا دعویٰ کرنے کے باوجود مولانا عبد الحق خان بشیر صاحب کا عمار خان ناصر صاحب کے جواب میں تحریر کیا گیا مضمون شائع کرنے کے بعد بھی اگلے ایڈیشن سے نکال دینے میں حق بجانب اور صحافتی اخلاقیات کے علمبردار ہیں جبکہ ضربِ مؤمن والے ’’آزاد فورم‘‘ کا دعویٰ نہ کرنے کے باوجود بھی آپ کے مضامین اپنے اخبار میں شائع کرنے کے پابند۔۔۔آخر معاملہ کیا ہے؟ 
(۹)آپ نے مفتی صاحب کو یہ چیلنج بھی دیا ہے کہ وہ جس موضوع پر چاہیں آپ کے ساتھ مباحثہ کریں، لیکن اس کے لیے آپ نے شرط لگائی ہے کہ اگر یہ بحث ضربِ مؤمن یا اسلام کے صفحات پر ہونی ہے تو آپ کے مضامین بھی ان میں شائع کئے جائیں، بصورتِ دیگر یہ مباحثہ الشریعہ میں ہو، اس پرپیچ شرط کے پیچ و خم کھولے جائیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ’’یا تو مفتی صاحب آپ کے مضامین بھی ’’ضربِ مؤمن‘‘ میں شائع کریں اور یا پھر اپنے مضامین بھی اس میں شائع نہ کریں‘‘ کیا اس نرالی دیانت داری کی اس سے پہلے بھی کوئی مثال ملتی ہے؟ پہلے بھی ’’الشریعہ‘‘ کے مختلف جرائد ورسائل کے ساتھ مباحثے چلتے رہے ہیں، کیا ان کے لیے بھی یہ عجیب و غریب شرط عائد کی گئی ہے؟ اگر نہیں تو ’’ضربِ مؤمن‘‘ پر ہی یہ شفقت کیوں؟
(۱۰)آپ کا فرمان ہے کہ الجزائری کی سوانح کے دار الکتاب سے جبرا شائع کروائے جانے کے معاملے میں ضربِ مؤمن نے غلط بیانی کی تھی اور اس غلط بیانی پر ضربِ مؤمن کو معافی مانگنی چاہئے، بجا۔۔ لیکن آپ کی توجہ ایک اور معاملے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ جناب عمار خان ناصر کے ایک مضمون کی بنیاد پر مولانا عبد القیوم حقانی نے ان پر قادیانیت نوازی کا الزام لگایا اور انہیں اس سے باز رہنے کی تلقین فرمائی، آپ نے اس پر شدید ناراضی کا اظہار فرماتے ہوئے اسے ’’دینی جد و جہد کی اخلاقیات‘‘ کی خلاف ورزی قرار دیا ،بلکہ ظلم کی انتہا کرتے ہوئے بعض ختمِ نبوت کے مرحوم اکابر بزرگوں کے’’دینی جد و جہد کی اخلاقیات ‘‘ سے عاری ہونے کے بھی کچھ واقعات ذکر کردئیے۔ مگرالشریعہ مئی ۲۰۱۲ میں خاطرات کے عنوان سے جناب عمار خان ناصر نے خوداپنے قلم سے یہ اعتراف کرلیا کہ وہ در حقیقت اس سے پہلے قادیانیوں کو مسلمان سمجھتے تھے اور اب انہوں نے اپنے اس قول سے رجوع کرلیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ جناب مولانا عبد القیوم حقانی نے جب عمار خان ناصر پر تنقیدکی تھی تب عمار خان ناصرواقعی قادیانیوں کو مسلمان سمجھتے تھے اور حقانی صاحب کی ان پر تنقید بالکل درست اور بر محل تھی ، چاہئے تھا کہ اس حقیقت کے واضح ہوجانے کے بعد آپ واضح الفاظ میں حقانی صاحب سے معذرت کرتے اور قارئین کو بتاتے کہ اس وقت عمار خان صاحب کو قادیانی نواز بتانے میں جناب حقانی صاحب بالکل برحق تھے اور آپ نے ان پر حقائق کو توڑنے موڑنے کا جو الزام لگایا تھا وہ غلط تھا، لیکن افسوس کہ آپ نے اس اہم معاملہ پر بالکل چپ سادھ لی گویا کچھ ہوا ہی نہیں اور پھر بھی آپ اب تک ساری دنیا کو تنگ نظر اور اخلاقیات سے عاری بتانے کی اسی پرانی روِش کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
(۱۱) امیر عبد القادر الجزائری پر لگنے والے اخلاقی الزامات کی جناب عمار خان ناصر نے جوتوجیہ کی ہے وہ بھی پڑھنے کے لائق ہے،خلاصہ یہ ہے کہ جیسے حضرت خالد بن ولیدؓ کی بعض خطاؤں پر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ کے باوجودان کی شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا، اسی طرح امیر عبد القادر الجزائری کی غلطیوں سے بھی اس کی عظمت و شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کاش کہ جناب عمار خان ناصر اپنی اس خداداد ذہانت و نکتہ آفرینی کو الجزائری کے دفاع میں تاویلیں تلاش کرنے کی بجائے حق بات کوسمجھنے کے لیے استعمال کرتے تو ان پر واضح ہوجاتا کہ حضرت خالد بن ولیدؓکی اجتہادی خطا اور امیر عبد القادر الجزائری کی غلطیوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے، حضرت خالد بن ولیدؓ سے جو خطا سرزد ہوئی وہ ان کی لا علمی کی بنا پر تھی، الجزائری کے غیر محرم عورتوں کے ساتھ چہل قدمیاں کرنے، مہمانوں کو شیمپئین پیش کرنے، یہود و نصاریٰ کا بغل بچہ بن جانے کو حضرت خالد بن ولیدؓ کے ساتھ تشبیہ دینا ظلمِ عظیم ہے۔ نجانے جناب عمار خان ناصر کو روزِ قیامت اللہ جل شانہ اور حضرت خالد بن ولیدؓ کی بارگاہ میں جوابدہی کا خوف کیوں نہیں آیا۔
(۱۲)امیر عبد القادر الجزائری کے شام کے عیسائیوں کی مدد کرنے کے عمل کو صحیح یا غلط قرار دینے سے پہلے ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ الجزائری کے شکست کھا جانے، اس شکست کو دل و جان سے قبول کر لینے، اور پھر تا حیات جہاد سے توبہ کرلینے کے بعد اسے بہت بڑا اور عظیم مجاہد قرار دینا جہاد کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔ اس کے دیگر نیک کارناموں کی بناء پر، اگر وہ کارنامے نیک تھے، اسے ایک عظیم الشان صوفی قرار دیا جاتا تو شائد بر موقع ہوتا، اگر الجزائری اپنے ان ’’نیک کاموں‘‘ کی بھاری تنخواہ ساری عمر وصول نہ کرتے رہتے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اگر جناب الجزائری اتنی ہی عظیم شخصیت تھے جتنا انہیں ثابت کیا جا رہا ہے تو اس عظیم ترین شخصیت کی پاکستان میں ’’رونمائی‘‘ جناب جان ڈبلیو کائزر کے واسطے سے ہی کیوں ہوئی؟ اسلامی تاریخ میں کوئی اور کتاب ایسی نہیں تھی جو اس عظیم کارنامے کے لیے موزوں ہوتی؟ ایسا تو نہیں ہے کہ جنابِ کائزر نے ا پنے خیالات و افکار کو جناب عبد القادر الجزائری کی شکل میں ڈھال کر اشاعت کے ثواب کے لیے آنجناب کے حوالے کر دیا ہو اور اب صفائیاں دینے کے لیے آپ کو میدان میں چھوڑ دیا ہو؟
(۱۳)آخر میں جناب عمار خان ناصر نے دبے دبے لفظوں میں گھومتے گھماتے یہ اقرار کر ہی لیا ہے کہ جان ڈبلیو کائزر نے اپنی کتاب میں اگر اپنے فکری پسِ منظر، ذاتی رجحانات، اور تعصبات کو ملحوظ رکھ کر صاحبِ سوانح کے کردار میں تبدیلی کردی ہو تو کچھ بعید نہیں ہے، لیکن پھر سوال یہ ہے کہ جناب عمار خان ناصر نے اس کی نشاندہی یا اصلاح کیوں نہیں کی؟ جواب سنیے! فرماتے ہیں کہ:’’علمی دیانت کا تقاضا یہ تھا کہ کائزر نے الجزائری کی شخصیت کو جس طرح سمجھا اور پیش کیا ہے، اسے اسی طرح رہنے دیا جائے‘‘۔ سبحان اللہ! یعنی اگر کوئی شخص اپنے ذاتی رجحانات و تعصبات کی خاطر دوسرے کی شخصیت کو مسخ کرکے پیش کرتا ہے تو اس کی اس کاوِش کو سر آنکھوں پر رکھا جائے، اسے عام کیا جائے، تاہم ’’علمی دیانت‘‘ کی خاطر اس کی اس فریب کاری کا پردہ بالکل چاک نہ کیا جائے۔ جناب مولانا زاہد الراشدی اور جناب عمار خان ناصر، دونوں نے اس کتاب کا تفصیل سے مطالعہ کیا ہے، مولانا راشدی صاحب نے صرف کائزر کی ایک خیانت کا ذکر کیا ہے جبکہ جناب عمار خان ناصر نے دورانِ مطالعہ ’’کھٹکنے‘‘ والی ایک بات کا بھی ذکر نہیں فرمایا اور ایک کافر امریکی کی لکھی ہوئی کتاب کو ’’پوری دیانت داری ‘‘ کے ساتھ عوام الناس کی خدمت میں پیش کردیا ہے۔ کیا اس عمل کو ’’غیر ذمہ داری‘‘ سے کم بھی کوئی عنوان دیا جا سکتا ہے؟
(۱۴) جناب مولانا زاہد الراشدی نے کائزر کی کتاب کے مقدمے میں فرمایا ہے کہ کائزر نے جناب عبد القادر الجزائری کے فلسفہ وحدۃ الوجود کو وحدتِ ادیان کی شکل میں پیش کیا ہے۔ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ جناب کائزر نے ہی ایسا کیا ہے اور در حقیقت جناب الجزائری کے نظریات وہ نہیں ہیں جو کتاب میں پیش کیے گئے ہیں، جن میں یہودیوں اور عیسائیوں کو مسلمان کہا گیا ہے؟کیا اس بارے میں الجزائری کے صحیح خیالات و افکار کسی مستند حوالے سے پیش کیے جا سکتے ہیں؟ 
امید ہے ان گذارشات پر ضرور غور فرمائیں گے۔
محمد یامین، اسلام آباد
m.yameen2013@hotmail.com
(۳)
جناب عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
آپ کے زیر ادارت چلنے والے ماہنامہ الشریعہ کے امسال جولائی والے شمارے میں محسن علی نجفی صاحب کا مکتوب کھٹکتا ہوانظر سے گزرا۔تعجب خیز باتوں سے بھرا ہوا یہ مکتوب میں ہضم نہ کر سکا۔اس مکتوب میں کتنا جھوٹ ،کتنا سچ ہے؟ اس بارے میں چند باتیں عرض کرنی ہیں۔
۱......میرے خیال میں شیعہ ذمہ داران کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ انہیں صرف عوام کا تعاون حاصل ہے،اور فلاں فلاں’’صاحب خیر‘‘ ہمارا حامی و مددگارہے۔کیونکہ ایرانی سفارتخانے کی سرگرمیاں ،پاکستان کی صدارتی ٹیم کی بالخصوص اور سابقہ حکمران پارلیمانی ٹیم کے بالعموم ،ایرانی حکومت کیساتھ تعلقات،اورپاڑاچنار کے فسادات میں ایران کا مالی اورجانی طور پراہل تشیع کی مدد کرنا ساری دنیا کے سامنے ہے۔ویسے بھی اگر ایران کے ستر فیصد بجٹ کے درامدِ انقلاب والی بات [گزشتہ ماہ کے عربی مکتوب بطور حوالہ ملاحظہ کریں] پر غور کریں تو ہمارا مندرجہ بالا دعویٰ آشکارا ہو جائے گا۔گزشتہ کچھ عرصہ میں جب اہم صدارتی شخصیات کے دورہ ایرا ن اور خامنہ ای صاحب کے ’’دربار عالیہ‘‘ میں موجودگی کی جو تصویریں انٹر نیٹ پر گردش کرتی رہیں ہیں،اگر ان کا معائنہ کیا جائے تو ان تصاویر میںآپ کو صدر مملکت اور ان کے صاحبزادے بصد احترام،ننگے پاؤں سرجھکائے نظر آئیں گے،اور ان کے بالمقابل بیٹھے خامنہ ای صاحب اعلیٰ ترین مناصب پر فائزاپنے روحانی بیٹوں کے سامنے سر اٹھائے محوِ گفتگونظر آئیں گے ۔
ویسے اگر شیعہ اداروں کو امداد پہنچانے کے لیے اگر چند نمائشی’’مخیرحضرات‘‘کا ذریعہ استعمال کیا جاتا ہو توبھی ’’غیر ملکی قوت ‘‘سے موصول ہونے والی امداد کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ظاہر ہے کہ جس ملک کے سربراہان شیعہ جیسی حساس اقلیت سے تعلق رکھتے ہوں ،وہاں ’’جامعہ الکوثر‘‘جیسے بڑے بڑے اداروں کی موجودگی ناگزیر ہے۔
۲.......شیعہ مکتوب نگارنے پاکستان کے شیعوں کی ایران سے وفاداری کا انکار کیا ہے۔شیعہ اگر اپنے روحانی مرکز کی، جس نے ہمیشہ ہر معاملے پر پشت پناہی کی ہے،وفاداری نہیں کریں گے تو کس سے کریں گے؟مزید لکھاہے کہ’’نواصب کو چھوڑ کر ہم یہاں کے رہنے والوں سے بھی محبت رکھتے ہیں‘‘۔ بالکل سچ فرمایا، سنّی مسلمان، جنہیں آپ عموماً نواصب کے لقب سے یاد کرتے ہیں، ان کے علاوہ آپ ہر ہندو، سکھ، عیسائی سے محبت کرسکتے ہیں لیکن سنّی مسلمان سے آپ کی محبت؟ ناممکن... نواصب سے کون مراد ہیں؟ میں آپ کے ’’شیخ الاسلام‘‘ ملا باقر مجلسی کا حوالہ عرض کرتا ہوں، ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں:
’’جو شخص حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کو حضرت علی سے پہلے خلیفہ مانتا ہو، وہ ناصبی ہے۔‘‘(حق الیقین ص ۵۲۱)
نیز سنّی مسلمان کی جو قدر قیمت آپ حضرات کے یہاں ہے وہ بھی انہی ’’شیخ الاسلام‘‘ صاحب کی زبانی بیان ہو جائے تو بہت مناسب ہے۔ لکھتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے کتّے سے بدتر مخلوق پیدا نہیں کی، اور ناصبی خدا تعالیٰ کے نزدیک کتے سے بھی بدتر ہے‘‘۔(حق الیقین ص ۵۱۶)
یہ ملا باقر مجلسی وہ صاحب ہیں جنہیں شیعہ کے ہاں قدوۃ المحدثین، عمدۃ المجتہدین اور شیخ الاسلام کا درجہ حاصل ہے اور جن کی کتب کے مطالعہ کی جناب خمینی نے شیعہ حضرات کو بارہا تاکید فرمائی ہے۔تعجب ہے کہ اب بھی آپ سنّی حضرات کو اپنی ’’محبت‘‘ کا جھانسہ دینے کی کوشش کرتے ہیں:
وعدہ کوئی جھوٹا، کوئی جھوٹی سی تسلّی
دل کیسے کھلونوں سے بہلنے کے لیے ہے
محترم مدیر صاحب !میں آپ کے توسط سے شیعہ مکتوب نگار کو یاد دلانا چاہوں گا کہ پاڑا چنار میں سینکڑوں اہل سنت بشمول بچوں اور عورتوں کا قتل عام،ناموس صحابہؓ کے عنوان سے کام کرنے والے بیسیوں علماء کرام اور ہزاروں مذہبی کارکنوں کی سپاہ محمد کے ہاتھوں شہادتوں اور گزشتہ کچھ عرصہ میں چکوال ،جہلم اور جھنگ میں اہل سنت کی مقدس شخصیات کی سر عام کیجانیوالی توہین کے واقعات بھی ملت تشیع کی جانب سے ’’والہانہ محبت‘‘ کے مظاہر ہیں ۔مکتوب نگار لکھتے ہیں’’اس وطن کی تعمیرمیں ہمارا بھی بہت وافر حصہ ہے‘‘۔اس جملے پر صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ جناب محسن علی نجفی صاحب!سکندر مرزا،آصف علی زرداری اور الطاف حسین جیسی کٹر شیعہ شخصیات کا واقعتاپاکستان کی’’ تعمیروترقی‘‘میں بہت وافر حصہ ہے۔
۳......اگر تو شیعہ مکتوب نگار کا موقف یہ ہے کہ پاکستان اور ایران کے مابین کبھی جنگ چھڑ ہی نہیں سکتی،تو میرے خیال میں یہ ان کے’’ تخیل کی اپچ اور بدگمانی کا کرشمہ‘‘ ہے۔اگر زمینی حقائق کے لحاظ سے دیکھا جائے توپاکستان اور ایران نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے بالکل الٹ ،بلکہ دشمن کہیں تو زیادہ حقیقت پسندانہ بات ہوگی۔یہی وجہ ہے کہ سرحدات پر ان دو مختلف نظریات کا ٹکراؤ بد امنی اورتخریب کاری کا باعث بنا رہتا ہے،اور ان دو مختلف عقائدو نظریات کی کشمکش کسی بھی بڑی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔مثال کے طور پر بیسیوں میں سے چند واقعات پیش کروں گا۔
ا.....۲۷ جنوری ۲۰۱۲کو ایرانی فوجی دستوں نے پاکستانی سرحدات میں بلا اشتعال شدیدفائرنگ کی،جس کے نتیجے میں ۶ پاکستانی افراد شہید اور ۴ شدید زخمی ہوگئے تھے۔
ب.....۸دسمبر ۲۰۱۱ کو ایرانی فوجی دستوں نے پاکستانی بحری سرحد میں فائیرنگ کرکے ۳مچھیروں کو شہید اور ۲ کو شدیدزخمی کردیا تھا۔
پ....اس سے قبل مشرف دور میں ایرانی فوج کی جانب سے پاکستانی سرحد میں راکٹ فائر کرنے کے کئی واقعات ہوئے،اور اب بھی کشیدگی کے باعث پاک ایران سرحد بند ہے۔
۴.....شیعہ مکتوب نگار کا یہ لکھنا کہ’’اہل تشیع قرآن پر ایمان رکھتے ہیں اوراور قرآن اہل ایمان کے مابین جنگ چھڑنے پر دونوں گروہوں کے درمیان صلح کرانے یا زیادتی کرنے والے گروہ کے مقابلے میں کھڑے ہوجانے کی تعلیم دیتا ہے‘‘ بھی کافی غور طلب ہے،کیا شیعہ قرآن پر ایمان رکھتے ہیں؟ میں صدیوں پہلے کی شیعہ کتب کے حوالے نہیں دیتا، اسی پاکستان سے شائع ہونے والے مشہور شیعہ ماہنامے ’’خیر العمل‘‘ کے اقتباس بقل کرتا ہوں جو صفِ اوّل کے شیعہ مجلات میں سے ایک ہے۔ اس ماہنامہ کے شمارہ نومبر ۱۹۸۷ء میں اسی ماہنامہ کے مدیرِ اعلی ڈاکٹر حسن عسکری صاحب لکھتے ہیں:
(۱) اگرچہ حضرت علی کے مرتب کئے ہوئے قرآن کو سرکاری طور پر مسترد کردیا گیا تھا، مگر انہوں نے اپنی ظاہری خلافت کے دور میں بھی اسے رائج کرنے کی کوشش نہ فرمائی مگر انہوں نے یہ ضرور کیا کہ مفسرین قرآن کی ایک جماعت بنائی جس نے قرآن مجید کے معانی و مطالب کو ماثورہ روایات و احادیث سے محفوظ کرلیا۔ اور وہ بتلاتے چلے گئے کہ اس جمع شدہ قرآن میں ترکیب و ترتیب اور آیات کی تقدیم و تاخیر میں کیا کیا خرابی ہوئی ہے۔
(۲) یہ الٹ پلٹ اتفاقاً ہوئی یا غفلتاً، عمداً یا التزاماً، مگر اس سے کلام اللہ میں مبحث خلط ملط ہو کر رہ گئے۔
قرآن پاک نے کفار کو جو چیلنج دیا ہے کہ اس قرآن کے مثل کوئی ایک سورت بھی بنا کر دکھاؤ تو اس کے متعلق لکھتے ہیں:
(۳) آج بھی اللہ کا یہ چیلنج قرآن و اللہ و رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کے لیے قائم ہے مگر جامعین قرآن کی غلط ترتیب سے یہ غیر منطقی بلکہ قدرے مضحکہ خیزبن گیا ہے۔ (نعوذ باللہ من ذالک)
(۴) الٹا غیر منطقی ہونے کا الزام اللہ تعالیٰ پر دھرنے کی بجائے یہی بہتر ہے کہ جامعین و مرتبین قرآن پر اسے دھرا جائے جنہوں نے اِدھر کی آیت کو اُدھر جوڑ دیا اور اُدھر والی کو اِدھر۔
(۵) قرآن بین الدفتین جمع کرنے والوں اور اس پر اعراب و اوقاف لگانے والوں کا مطمحِ نظر بڑی آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے جب یہ سمجھ لیں کہ سقیفائی خلافتوں (چونکہ حضرت ابوبکرؓ کی خلافت سقیفہ بنو ساعدہ میں منعقد ہوئی تھی اس لئے حضرات شیعہ خلفائے ثلاثہ کے لیے سقیفائی خلافت کا لفظ استعمال کرتے ہیں) کی مدِ مقابل وہی شخصیت تھی جسے آنحضرت رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعد خلافت پر نصب و مقرر کیا تھا یعنی علی بن ابی طالب علیہ السلام، لہذا ان کے متعلق آیات پر ہی سقیفائی رندہ پھیرا گیا اور ایک مؤطا قرآن تیار کیا گیا جس میں فضائلِ علی کی صفائی کی گئی۔
(۶) تنزیل قرآن میں بنو امیہ اور دوسرے قریش کے ستر منافقین کے بد نام نازل ہوئے تھے جو مصحف عثمانی سے مفقود ہیں۔
کیا اب بھی جناب نجفی صاحب یہ راگنی گائیں گے کہ وہ قرآن پر ایمان رکھتے ہیں؟ 
جناب نجفی صاحب! کیاشام میں ایک لاکھ سے زائد اہل سنت کے قتل عام میں شامی نصیری حکومت و فوج،ایرانی فوج اور حزب اللہ ملوث نہیں؟کیا حافظ الاسد نے اپنے دور میں حماہ شہر کی گلیوں کو پچاس ہزار اہل سنت کے خون سے رنگین نہیں کیا؟کیاعراقی شیعہ حکومت ہزاروں اہل سنت کے قتل کی ذمہ دار نہیں؟کیا ایرانی حکومت اہل سنت کے حقوق چھیننے کی ذمہ دار نہیں؟کیا ایرانی فضائیہ نے حضرت خالد ابن ولیدؓ کے مزار پر بمباری نہیں کی؟کیا حضرت ثابت بن قیسؓ کے مزار مبارک اور جسد اطہرکی بیحرمتی کاندھوں پر افسری کے تمغے سجائے شامی فوجی افسران نے نہیں کی؟کیا پاڑا چنار میں سینکڑوں اہل سنت کے قتل کی ذمہ دارمقامی شیعہ آبادی نہیں؟کیا حج کے موقع پر دھماکے اور بدامنی پھیلانے کا ذمہ دار ایران نہیں؟ابھی میں جب یہ سطور لکھ رہا ہوں،شام کے اہل سنت اکثریت والے شہر حمص کے شامی فوج کی جانب سے کیے جانیوالے محاصرے کو ایک سال سے زائد عرصہ ہونے کو ہے،روزانہ کئی افراد بھوک کی وجہ سے شہید ہو رہے ہیں،مقامی علماء نے اس حالت میں بلی اور گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت دے دی ہے،اورمقامی اہل سنت صرف حضرت خالد ابن ولیدؓ کے مزار اور جسد کو نصیری فوج کے انتقام سے بچانے کی خاطر حمص شہر شیعہ فوج کے حوالے کرنے کو تیار نہیں۔اللہ اکبر!محسن علی نجفی صاحب!کیا وجہ ہے ہزارہ کے شیعہ کا نقصان ہوتا ہے ،یا بحرین میں شیعہ کے خلاف کریک ڈاؤن تو ساری ملت شیعہ پاکستان کی سڑکوں پر سراپا احتجاج نظر آتی ہے،مگر ایرانی،عراقی اور شامی حکومتوں کے جرائم پر اتنی خاموشی؟ اگر شیعہ ، سنیوں کو بھی مسلمان اور اپنا بھائی سمجھتے ہیں تو ان کے اوپر ہونے والے دلدوز مظالم پر اتنی بے حسی اور خاموشی کیوں؟کیا اکابرین شیعہ نے ان حکومتوں کے جرائم کے خلاف فتوے جاری کئے؟کیا عراق کے مرجع کے جس کے ساتھ آپ کی نسبت ہے نے ان جرائم کی روک تھام کیلئے کوئی اقدام کیا؟زیادتی کرنے والے گروہ کا مقابلہ کرنا تو دور کی بات،اکابرین شیعہ تو ان حکومتوں کی تعریف و توصیف میں مگن ہیں۔ظلم تو یہ ہے کہ معتبرشیعہ علماء کی سرپرستی میں کام کرنے والا ادارہ’’پیام اسلامی ثقافتی مرکز‘‘تو حزب اللہ کے مثالی اور قابل تقلید طرز عمل کی تشہیر اور ادارہ’’ سچ ٹی وی‘‘ شامی حکومت کی صفائیاں پیش کرتا رہا ہے۔پس قوم شیعہ کے اس طرز عمل پتا چلتا ہے کہ یا تو اہل تشیع کا قرآن پر ایمان نہیں ہے،یا پھر وہ اہل سنت کو اہل ایمان سمجھتے نہیں۔
۵.....شیعہ مکتوب نگارنے اپنی تحریر میںیہ موقف اختیار کیا ہے کہ انہیں پاکستان سے تعلق رکھنے والی کسی شیعہ عسکری تنظیم کاعلم نہیں جو شام میں جاکر لڑرہی ہو،اور اگر کوئی ایسی مفروضہ تنظیمیں ہوتیں تو وہ پاکستان میں دہشت گردی کا شکارہونے والوں کا دفاع کرتیں،وغیرہ وغیرہ۔تو عرض یہ ہے کہ اہل تشیع کو ایران کے علاوہ تقریبا وہ تمام مسلم خطے جہاں شیعہ کی ایک معقول آبادی موجود ہے ،ایسی نام نہاد’’ دہشت گردی‘‘ کاسامناہے،مگر شام کا مسئلہ ملت شیعہ کے لیے خطے میں قائم فوجی برتری کی بقاء کا مسئلہ ہے ۔اسی لیئے ملت شیعہ ہر قسم کی چھوٹی موٹی مشکلات کو بالائے طاق رکھ کر شامی نصیری حکومت کو بچانے کے لیے میدان میں کود پڑی ہے۔مثال کے طور پر:-
ا-لبنان میں شیعوں کو شیخ احمد الاسیر کے سنی پیرو کاروں کی طرف سے شدید چیلنجز کاسامنارہتا ہے۔خصوصاََلبنان کے سرحدی شہر طرابلس اکثر حزب اللہ اورسنیوں کے درمیان میدان جنگ بنا رہتا ہے۔لیکن اس کے باوجود شام کے شہر القصیر کی جنگ میں حزب اللہ نے خصوصی طور پر شرکت کی تھی ۔حزب اللہ نے اس جنگ کو کتنی اہمیت دی؟اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے حزب اللہ کے دستوں کی کمان حسن نصر اللہ کے بھائی خضر نصر اللہ کے ہاتھ میں تھی جو کہ اس جنگ میں مارا گیا تھا۔اس کے جنازے کی انٹرنیٹ پر موجود ویڈیو اس بات کی شاہد ہے۔
ب-عراق میں شیعی حکومت کے مظالم کے جواب میں القاعدہ کے ارکان اکثر شیعہ عسکری قوتوں پر حملے کرتے رہتے ہیں،اور اب تو بہت سے سنی قبائل نے بھی ان مظالم کے جواب میں القائدہ کے شانہ بشانہ اس لڑائی میں حصہ لینا شروع کردیا ہے۔بہت سے قبائلی علاقوں میں کسی بھی شیعہ یا حکومت سے متعلق شخص کا داخلہ ممنوع ہے۔لیکن اس سب کے باوجودعراقی شیعہ تنظیموں،ابو فضل عباس بریگیڈ اور جیش المہدی کے سیکڑوں اہلکار دمشق کے علاقے میں مارے جا چکے اور کئی حریت پسندوں کی حراست میں ہیں ۔
پ-یمن میں جب سے حوثی قبیلہ سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع نے ایرانی اسلحہ کے بل بوتے پر اپنے اڑوس پڑوس میں اہل سنت پر حملے شروع کیے ہیں،تب سے القاعدہ کے ارکان کئی حملوں میں حوثیوں کو شدید نقصان پہنچا چکے ہیں۔یہاں تک کہ حوثیوں کی اعلیٰ ترین قیاد ت یعنی حو ثی سردار ،بد ر الدین حوثی اور حسین الدین حوثی بھی ایک خودکش حملے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔لیکن اس کے باوجود بہت سے یمنی شیعوں کی شام میں ہلاکتوں کی خبریں آچکی ہیں۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کے محسن علی نجفی صاحب کواگر پاکستانی شیعوں کی شام میں موجودگی کی خبر دی گئی ہے تو انہیں ’’ہمیں علم نہیں‘‘اور’’ اگر مفروضہ تنظیمیں ہوتیں تو اپنے ہم وطن شیعوں کا دفاع کرتیں‘‘ جیسی بے وجہ تاویلات کرکے جان چھڑانے اور حیران ہونے کے بجائے تسلیم کرلینا چاہیے تھا۔مگر ظاہر ہے کہ اگر پیشوایانِ شیعہ حقیقت کو تسلیم کر لیں گے تو اپنے مذہب کا وجود کیسے برقراررکھ پائیں گے؟۔سب سے بڑھ کر یہ کہ حقیقت اور انصاف پسندی جیسے جذبات سے عاری اپنی عوام کو کیا منہ دکھائیں گے؟
۶....شیعہ مکتوب نگارنے اپنے پانچویں نمبر کے تحت دہشت گردی کی اپنی ملت کی طرف نسبت کا انکار کیا ہے۔مندرجہ بالا سطور میں ہم نے ملت شیعہ کی موجودہ دور میں کی گئی دہشت گردی کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔اس کے علاوہ اگرماضی میں ملت شیعہ کی مسلمانوں سے کی گئی غداریوں کا مطالعہ کیا جائے تو ان کا ایمان بالقرآن کا مفروضہ مزید واضع ہو جائے گا ۔علاوہ ازیں مکتوب نگار نے تکفیر کی نسبت کا بھی انکار کیا ہے،حالانکہ اہل سنت کی تکفیر کی بیماری ان کے ہاں عام ہے۔اصحابِ رسول اللہ ﷺ کی تکفیر تو بہت سے علماء کے خطبات کا لازمی جزو اور ان کے سینکڑوں سالہ لٹریچر کی شان اور جان ہے۔نعوذ باللہ!نجانے اصول کافی اور انوار البحارجیسی بیسیوں کتب میں تکفیر کے زہر بھرے تیر کن بدنصیبوں کی قسمت کا حصہ بنائے گئے ہیں۔پس، ثابت ہوا کہ شیعہ مکتوب نگا ر نے دہشت گردی اور تکفیر کے’’ تِلک‘‘کو اپنے ماتھے سے ہٹانے کی ناکام کوشش کی اورلگتا یہ ہے کہ ’’وہ اپنے عالم تصور میں چیزوں کو بالکل الٹا دیکھتے ہیں‘‘۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں حقائق کو جاننے کی توفیق دے اور حقائق کومسخ کرنے کی جسارت سے ہمیں دور رکھے۔اے اللہ! تو ہمیں منافقوں سے اور اسلام کے پردے میں چھپے اسلام کے دشمنوں سے بچا۔بیشک تو دعاؤں کو سننے والا ہے۔
محمد حمزہ بلال ہنجرا ( بھوانہ، چنیوٹ)
hamzah.hanjra@gmail.com
(۴)
(گزشتہ شمارے میں جامعۃ الکوثر کے مدیر شیخ محسن علی نجفی صاحب کے ایک مکتوب کا اردو ترجمہ شائع کیا گیا تھا۔ صاحب مکتوب کی خواہش پر اس کا اصل عربی متن بھی یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)
قرات رسالۃ باللغۃ العربیۃ فی مجلتکم الموقرۃ ردا علی رسالۃ الدکتور ممتاز احمد رئیس الجامعۃ الاسلامیۃ العالمیۃ اسلام آباد تثور علی شیعۃ باکستان وتذکر مدارس الشیعۃ فی اسلام آباد۔ یقول کاتب الرسالۃ فی لحن بما یلیقہ ’’ان فی اسلام آباد سبع جامعات شیعیۃ کبیرۃ اصغرہا تفوق اکبر جامعۃ سنیۃ بمراحل وجامعۃ الکوثر فی قلب العاصمۃ تدیر قناۃ بالاردیۃ بنفس الاسم‘‘۔
اقرا ہذہ العبارۃ ’’اصغرہا تفوق اکبر جامعۃ سنیۃ بمراحل‘‘۔
اقدم الیکم ملاحظاتی علی ہذہ الرسالۃ ونلفت نظرکم بان غرضی من تقدیم ہذہ الرسالۃ ہو بیان عدم مصداقیۃ النکات التی تتعلق بنا ولیس غرضی الدفاع عن اعمال غیرنا۔
۱۔ انی ادیر مدرستین فی اسلام آباد: جامعۃ اہل البیت اسست سنۃ ۱۹۷۵ء وجامعۃ الکوثر اسست سنۃ ۱۹۹۲ء ولیست لہاتین المدرستین ولقناۃ (ہادی) ولیس (الکوثر) ایۃ صلۃ مع ای جہۃ اجنبیۃ لا سیاسیا ولا اقتصادیا ولا اداریا علی الاطلاق، وان اسماء المتبرعین لبناء جامعۃ الکوثر مکتوبۃ علی جدران الجامعۃ۔
۲۔ یقول کاتب الرسالۃ ’’لماذا قضت ایران علی جمیع المراجع الشیعیۃ وسحبت البساط من تحت اقدام نجف‘‘۔
لیس فی وسع احد القضاء علی المرجعیۃ الدینیۃ لانہا عندنا لیست تابعۃ لای سیاسۃ کما ان المرجع الاعلی للشیعۃ الآن فی العراق فی النجف الاشرف۔
۳۔ وان کان ہناک انتماء فاننا ننتمی الی المرجعیۃ فی العراق وباذن من المرجع فی العراق ناخذ الاموال الشرعیۃ من الناس وتدار المدارس الدینیۃ بہا، کما ان الدیوبندی ینتمی الی جامعۃ دیوبند الاسلامیۃ ویراجع الی علماۂا لما لہا من الاصالۃ والاتقان۔
۴۔ یقول کاتب الرسالۃ ’’قل لی بربک ہل یوالی شیعۃ بلدک باکستان بلدہم ام یوالون ایران؟‘‘
ماذا اعلق علی ہذہ الکلمات سوی ان اقول: انا للہ وانا الیہ راجعون؟ اننا نحب بربنا وطننا العزیز باکستان وانہ احلی وطن واننا نحب اہل ہذا الوطن سوی النواصب۔ واننا قدمنا تضحیات لیست باقل من ای مواطن آخر عندما نشبت الحروب بین باکستان وبین اعداۂا، وان سہمنا اوفر فی بناء ہذا الوطن۔
واما قولہ ’’واذا لا سمح اللہ نشبت حرب بین البلدین الا یقاتلون فی خندق ایران؟‘‘ فہو ولید زعمہ وسوء ظنہ بل ہو مما یقولہ السوقۃ حیث لا تکون امانۃ فی النقل ولا حاجز من تقوی اللہ، ولانہ تنبئ منہ بما لم یقع ولن یقع من الذین یؤمنون بالقرآن اذ القرآن یحکم بوجوب القیام بالاصلاح او القیام بوجہ المعتدی عند نشوب حرب بین المومنین، ویمکن ان یکون ہناک اخطاء فی تشخیص الموضوع۔
۵۔ اننا لا نعرف ملیشیات شیعیۃ باکستانیۃ تقاتل فی سوریۃ۔ الیس کان من الواجب علی ہولاء الملیشیات المزعومۃ ان تدافع عن ضحایا الارہاب فی باکستان وان تقاتل الذین یقومون بعملیات انتحاریۃ بین حین وآخر ویسفکون دماء الابریاء العزل من النساء والصبیان ویہتکون حرمات المساجد وبیوت المسلمین، خاصۃ الشیعۃ منہم؟
۶۔ ومما یضحک بہ الثکلی نسبۃ کاتب الرسالۃ الارہاب والتکفیر الی الآخرین، کانہ یری الاشیاء فی عالم الخیال معکوسا۔
۷۔ الم یکن من المناسب لکتاب الرسالۃ المثقف مراعاۃ ادب النقد واختیار اسلوب حضاری فی الخطاب؟ وکانی اشم رائحۃ ....... من اظافر قلمہ۔
ہذہ ملاحظاتی علی النکات التی تتعلق بنا ومن ہو اعرف بامورنا منا۔
واخیرا نسئل المولی سبحانہ ان یوفقنا للوصول الی الحقائق ونعوذ بہ من ان نرتکب بقلب الحقائق۔ اللہم جنبنا من الافتراء ومتابعۃ الاہواء ولا تفتنا بالحقد والبغضاء، انک سمیع الدعاء۔
والسلام علی من اتبع الہدی وخشی عواقب الردی۔
محسن علی
مدیر جامعۃ الکوثر، اسلام آباد

سالانہ دورۂ تفسیر و محاضرات قرآنی ۲۰۱۳ء

ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام حسب سابق امسال بھی شعبان ورمضان کی تعطیلات میں دینی مدارس کے منتہی طلبہ کے لیے سالانہ دورۂ تفسیر ومحاضرات قرآنی کا اہتما م کیا گیا جو ۸ شعبان/۱۷ جون سے شروع ہو کر ۱۱ رمضان/ ۲۱ جولائی تک جاری رہا۔ جید اساتذہ کرام کی ایک جماعت نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق شرکاء کو تفسیر کا درس دیا، جبکہ مختلف علمی اداروں سے تعلق رکھنے والے اہل علم کو علوم قرآنی کے مختلف پہلووں پر محاضرات کے لیے مدعو کیا گیا۔
قرآن مجید کے مختلف حصوں کی تدریس کی ذمہ داری انجام دینے والے اساتذہ کی تفصیل حسب ذیل ہے:

۱۔ مولانا زاہد الراشدی
شیخ الحدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
سورۃ الفاتحہ تا سورۃ الاعراف۔ الانفال والتوبہ

۲۔ مولانا فضل الہادی
استاذ الحدیث مدرسہ اشاعت الاسلام، مانسہرہ
سورۃ الاعراف۔ سورۂ یونس تا بنی اسرائیل۔ سورۃ الانبیاء تا النور

۳۔ مولانا ظفر فیاض 
استاذ الحدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
سورۃ الکہف تا الانبیاء ۔ سورۃ الفرقان تا فاطر

۴۔ مولانا محمد یوسف
مہتمم مدرسہ ابو ایوب انصاری، گوجرانوالہ
سورۃ یس تا سورۃ الحجرات

۵۔ مولانا وقار احمد
لیکچرر گورنمنٹ کالج، خان پور، ہری پور
سورۃ ق تا سورۃ القمر

۶۔ مولانا حافظ محمد رشید
لیکچرر گورنمنٹ کالج، ڈسکہ
سورۃ الرحمن تا سورۃ التحریم

۷۔ مولانا عمار خان ناصر
ڈپٹی ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ
سورۃ الملک تا سورۃ الناس

درج ذیل حضرات نے مختلف موضوعات سے متعلق علمی محاضرات پیش کیے:

۱۔ مولانا زاہد الراشدی
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ
احکام القرآن اور جدید وضعی قوانین کا تقابل (۲۰ محاضرات)

۲۔ مولانا مفتی محمد زاہد
جامعہ اسلامیہ امدادیہ، فیصل آباد
فہم قرآن میں حدیث وسنت سے استفادہ کے مختلف پہلو

۳۔ مولانا عمار خان ناصر
الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ
۱۔ مکی ومدنی سورتوں میں مضامین اور اسلوب کا فرق
۲۔ مختلف تفسیری اقوال میں ترجیح کے اصول مع تدریب (۲ محاضرات)

۴۔ حافظ نصیر احمد احرار
شیخ الہند اکادمی، لاہور
شیخ الہند ؒ اور ترجمہ قرآن

۵۔ ڈاکٹر فیروز شاہ کھگہ
سرگودھا یونیورسٹی، سرگودھا
قرآن کریم سے متعلق مستشرقین کے مختلف اعتراضات کا جائزہ

۶۔ میاں انعام الرحمن
اسلامیہ کالج، گوجرانوالہ
مروجہ سیاسی وحکومتی نظام کا تعارف

۷۔ مولانا وقار احمد
گورنمنٹ کالج، خانپور، ہری پور
مولانا محمد قاسم نانوتوی کا مسلکی اعتدال

۸۔ ڈاکٹر عبد الماجد المشرقی
المشرق سائنس کالج، گوجرانوالہ
جدید طبقات میں درس قرآن کے اصول

۹۔ مولانا محمد سلیمان اسدی
گورنمنٹ کالج، پسرور
تاریخ تفسیر ومفسرین

۱۰۔ مولانا محمد سرور خان
پیاس یونیورسٹی، اسلام آباد
اصول تحقیق، موضوع تحقیق کا انتخاب 

۱۱۔ مولانا حافظ محمد رشید
گورنمنٹ کالج، ڈسکہ
اصول تحقیق کا تعارف (۳ محاضرات)

۱۲۔ مولانا سید متین احمد شاہ
ادارۂ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد
۱۔ قرآن کریم کا بلاغی اعجاز
۲۔ قرآن کریم کی سائنسی تفسیر، اصول وارتقا

دورۂ تفسیر میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے تین درجن کے قریب طلبہ نے شرکت کی۔ کامیابی سے دورۂ تفسیر کی تکمیل کے بعد سند حاصل کرنے والے طلبہ کے نام اور پتے حسب ذیل ہیں:

۱۔ ذو الفقار احمد بن محمد ایوب قریشی
جامع مسجد تقویٰ، مانسہرہ

۲۔ حسن علی الحسینی بن محمد شریف
کلورکوٹ، ضلع بھکر

۳۔ فتح اللہ بن سیف اللہ
تحصیل الائی، ضلع بٹگرام

۴۔ عبید اللہ بن محمد امین
مکڑ ہامیانہ، ضلع مانسہرہ

۵۔ محمد اویس بن محمد حسن معاویہ
نیو سول لائن، گوجرانوالہ

۶۔ محمد فاروق بن محمد انور
کامونکی، ضلع گوجرانوالہ

۷۔ محمد عمر بن محمد یونس
شاہدرہ، لاہور

۸۔ شوکت علی بن حاجی حضرت نور
ٹل، ضلع مانسہرہ

۹۔ حمید صادق بن 
بیس بن، ضلع خان پور

۱۰۔ عبد السلام بن عبد الخالق عباسی
دھیر کوٹ، آزاد کشمیر

۱۱۔ محمد عابد بن عبد القیوم
خاکی، ضلع مانسہرہ

۱۲۔ خبیب الرحمن بن مولانا جمیل الرحمن 
باغبان پورہ، لاہور

۱۳۔ محمد شفیق بن محمد رفیق
میرا بالا، ضلع مانسہر

۱۴۔ محمد عامر بن اورنگ زیب
تابوال، ضلع ایبٹ آباد

۱۵۔ عثمان فاروق بن فاروق حسین
گوجر خان، ضلع راول پنڈی

۱۶۔ اورنگ زیب بن شاہ عالم
ٹیکسلا، ضلع راول پنڈی

۱۷۔ محمد طیب بن ینو خان
ڈڈیال، ضلع میر پور

۱۸۔ محمد نواز بن امیر نواز
معروف خیل، ضلع چارسدہ

۱۹۔ عبد الرحمن بن محمد رفیق
کنگنی والا، گوجرانوالہ

۲۰۔ عبد البصیر بن علی حیدر
بیلہ، ضلع ہری پور

۲۱۔ شبیر احمد بن محمد رفیق
تاجل، مانسہر

۲۲۔ امرؤ اللہ بن محمد انور
الائی، ضلع بٹگرام

۲۳۔ محمد اسد بن محمد نواز
جھنگڑ، ضلع مانسہر

۲۴۔ اختر عبد الرحمن بن رحمن بادشاہ
خانپور، ضلع شیخوپورہ

۲۵۔ نقیب اللہ بن علی محمد
کوئٹہ، بلوچستان

۲۶۔ تحمید جان بن عبد الغفار
نیموڑے، ضلع چارسدہ

۲۷۔ شبیر احمد بن منتظر
گانگو، ضلع چارسدہ

۲۸۔ عثمان حیدر بن اشتیاق احمد
کروڑ لعل عیسن، ضلع لیہ

۲۹۔ محمد ایوب بن محمد اسماعیل
خانپور، ضلع رحیم یار خان

۳۰۔ عثمان حیدر بن محمد رؤف عثمانی
کروڑ لعل عیسن، ضلع لیہ

۳۱۔ حنیف سید شیرازی بن نواب سید
کنشائی شیراز آباد، ضلع بٹگرام

۳۲۔ ندیم اقبال بن محمد اقبال
صابوکی دندیاں، ضلع گوجرانوالہ

۳۳۔ خورشید الاسلام بن محمد اسلم
میرا مظفر، ضلع ایبٹ آباد

۳۴۔ محمد بلال فاروقی بن محمد ریاض
کینٹ، لاہور

طلبہ کے مابین علوم قرآنی کے حوالے سے ایک تحریری انعامی مقابلہ بھی منعقد کروایا گیا جس میں شرکت کرتے ہوئے گیارہ طلبہ نے مختلف موضوعات پر مختصر مقالات تحریر کیے۔ دورۂ تفسیر سے متعلق تعلیمی امورکی نگرانی کا فریضہ مولانا وقار احمد نے انجام دیا۔ دیگر انتظامی معاملات کی دیکھ بھال مولانا محمد عثمان (ناظم الشریعہ اکادمی) اور مولانا حافظ محمد رشید (استاذ الشریعہ اکادمی) کے سپرد تھی، جبکہ مولانا نذیر احمد اور قاری شبیر احمد (اساتذہ الشریعہ اکادمی) نے ان کی معاونت کی۔ انتظامی امور کی انجام دہی میں منتظمین کو محمد امجد، محمد مجاہد اور الشریعہ اکادمی کے طلبہ کا تعاون حاصل رہا۔
دورۂ تفسیر کی اختتامی تقریب ۲۱ جولائی ؍ ۱۱ رمضان کو بعد از نماز عصر الشریعہ اکادمی میں مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی (مہتمم مدرسہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ) کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں مولانا داؤد احمد (شیخ الحدیث مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ) اور ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی (المشرق سائنس کالج، گوجرانوالہ) نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ دورۂ تفسیر کے شرکاء میں سے مولانا تحمید جان (فاضل دار العلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک) نے دیگر شرکاء کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ مہمانان خصوصی نے دورۂ تفسیر کے شرکاء کو اسناد اور انعامی مقابلے میں شرکت کرنے والوں کو انعامات تقسیم کیے۔ تقریب میں حاضرین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کی دعا پر تقریب کا اختتام ہوا جس کے بعد حاضرین نے روزہ افطار کیا۔

امراض دل اور بلڈ پریشر کا علاج

حکیم محمد عمران مغل

اسلامی کلچر کو جن چیزوں پر فخر ہے، ان میں نظام طب سرفہرست ہے۔ مسلم اطبا نے خصوصاً عباسی دور حکومت میں اس علاج کو نہ صرف بام عروج پر پہنچایا، بلکہ عرب وعجم کے کونے کونے تک پہنچا دیا۔ مغربی اقوام آج درپردہ اس علم کو تیزی سے اپنا رہی ہیں۔ ہمارے اطبا اپنی کم علمی کی بنا پر اس میں پیوند کاری کر کے بھی عوام کے سامنے سرخ رو نہ ہو سکے۔ ہمارے اسلاف نے جس علم طب کو بڑی جانفشانی سے ہم تک پہنچایا تھا، وہ مکمل طور پر غیروں کے ہاں جا چکا ہے۔ ہماری علاج گاہوں اور گھروں میں جب تک مشرقی قندیلیں روشن رہیں، امراض ہم سے کوسوں دور رہے۔ جونہی مغربی چراغ جلنے لگے تو صحت کی مشرقی قندیلیں بجھنے لگیں۔
مشرق کی ایک سو کے قریب قندیلیں جنھیں ہم بجھا چکے ہیں، مغربی اقوام نے ان کے نام بدل کر اپنے ہاں سے نہ صرف امراض ختم کر دیے ہیں، بلکہ اربوں روپے کا زر مبادلہ بھی کما رہے ہیں۔ ان میں درخت ارجن کی مسیحائی قابل ذکر ہے۔ قدرت نے سارے ملک میں ارجن درخت وافر مقدار میں پیدا فرمایا ہے جو بلڈ پریشر اور امراض دل کا حتمی علاج ہے۔اس کے استعمال سے دل کے امراض اور بلڈ پریشر آناً فاناً کافور ہوتے دیکھے گئے۔ سڑکوں کے کنارے ارجن کا موٹا تناور درخت جابجا ملتا ہے۔ باہر سے اس کی چھال سفید اور اندر سے سرخ ہوتی ہے۔ چھال کو خشک کر کے شہد یا گڑ سے اس کی گولیاں بنا لیں۔ صبح شام سادہ پانی سے دو دو کھائیں۔ ایک ہفتے میں دل کا پھیلنا، دھڑکن، دل کا ابتدائی ہلکا سوراخ ختم۔ اطبا کا فرمان ہے کہ کورامین اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ آیور ویدک کا مایہ ناز نسخہ ہے۔ خزائن الادویہ کے مطابق جڑیں، چھال، پتے، پھل سب دوائی خصوصیات کے حامل ہیں۔ اس کا پھل مدھانی کی طرح کا ہوتا ہے۔ خشک ہونے پر سخت ہو جاتا ہے۔ خزائن الادویہ کے مطابق یہ زہروں کا تریاق ہے۔ اس میں پوٹاس، کیلشیم، میگنیشم، چونا، کاربن، گندھک، فاسورس جیسی قیمتی دھاتیں شامل ہیں۔ جوشاندہ بنا کر نوش کرنے کے علاوہ برابر وزن گندم کے آٹے سے حلوہ بھی گڑ ڈال کر کھا سکتے ہیں۔
اس سے پھیپھڑے کا زخم، دق، امراض پیشاب، امراض خون ختم ہو جاتے ہیں۔ جریان احتلام اور بادی بلغمی امراض کو جڑ سے ختم کر کے ٹوٹی ہڈی کو جوڑتا ہے۔ ایک سے تین ماشہ خوراک ہے۔ اس کی چھال کا شربت بھی تیار کرتے ہیں اور اس کی مسواک بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔