اپریل ۲۰۱۳ء

علم الکلام اور اس کے جدید مباحثمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
شاہ ولی اللہؒ اور علامہ محمد اقبالؒمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
علماء اور جدید طبقوں میں ہم آہنگیمولانا مفتی محمد زاہد 
شعبہ اسلامیات، جامعہ پنجاب کا علمی کامپروفیسر خالد ہمایوں 
’’کافروں‘‘ کے دفاع میں جہادجان کائزر 
ریاست، معاشرہ اور مذہبی طبقات ۔ پاکستان کے تناظر میں اہم سوالات کے حوالے سے ایک گفتگو (۲)محمد عمار خان ناصر 
مکاتیبادارہ 
فاسٹ فوڈ اور بڑھتے ہوئے امراضادارہ 

علم الکلام اور اس کے جدید مباحث

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

علم العقائد اور علم الکلام کے حوالے سے اس وقت جو مواد ہمارے ہاں درس نظامی کے نصاب میں پڑھایا جاتا ہے، وہ اس بحث ومباحثہ کی ایک ارتقائی صورت ہے جس کا صحابہ کرامؓ کے ہاں عمومی دور میں کوئی وجود نہیں تھا اور اس کا آغاز اس وقت ہوا جب اسلام کا دائر ہ مختلف جہات میں پھیلنے کے ساتھ ساتھ ایرانی، یونانی، قبطی اور ہندی فلسفوں سے مسلمانوں کا تعارف شروع ہوا اور ان فلسفوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے شکوک وسوالات نے مسلمان علما کو معقولات کی طرف متوجہ کیا۔ 
ابتدائی دور میں عقیدہ صرف اس بات کانام تھا کہ قرآن کریم نے ایک بات کہہ دی ہے یا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات ارشاد فرما دی ہے، بس اسی کو بے چون وچرا مان لینے کا نام عقیدہ ہے۔ ان عقائد کے حوالے سے صحابہ کرامؓ کو اس سے زیادہ کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی تھی کہ قرآن کریم نے یا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بات فرما دی ہے اور نہ ہی انھیں اس بات سے کوئی غرض ہوتی تھی کہ وہ بات ہماری عقل وفہم کے دائرے میں آتی ہے یا نہیں یا ہمارے محسوسات ومشاہدات اس کو قبول کرتے ہیں یا نہیں اور وہ ان باتوں سے بے نیاز ہو کر قرآن وحدیث کی تصریحات پر ایمان رکھتے تھے بلکہ معقولات کے حوالے سے عقائد پر بحث ومباحثہ کو بھی پسند نہیں کیا کرتے تھے۔ البتہ بیرونی فلسفوں کے در آنے سے جب عقلی سوالات کھڑے ہوئے اور علماے اسلام کو ان سوالات کے جواب میں اسلامی عقائد کی وضاحت کی ضرورت پیش آئی تو صحابہ کرامؓ کے آخری دور میں اس قسم کے مباحثوں کا آغاز ہوا اور تابعین واتباع تابعین کے دور میں ہمیں یہ مباحث اپنے عروج پر نظر آتے ہیں۔ 
معقولات کے حوالے سے جب عقائد کے مختلف پہلووں پر بحث ومباحثہ شروع ہوا تو ایک دور تک اس کے مسائل کی نوعیت اس طرح تھی کہ اللہ تعالیٰ کی رویت ممکن ہے یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا باہمی تعلق کیا ہے؟ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے یااس کی مخلوق ہے؟ کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے کوئی مسلمان ایمان کے دائرے سے نکل جاتا ہے یا نہیں؟ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو جانے پر ان کی نیابت امامت کے حوالے سے ہوگی یا خلافت کے عنوان سے ہوگی؟ وغیر ذلک۔ اس دور میں اس علم یا فن کو ’’فقہ‘‘ کا حصہ تصور کیا جاتا تھا اور فقہ صرف احکام وقوانین تک محدود نہیں ہوتی تھی، بلکہ ایمانیات یعنی عقائدا ور وجدانیات یعنی تصوف وسلوک بھی فقہ ہی کے شعبے شمار ہوتے تھے، چنانچہ عقائد پر حضرت امام ابوحنیفہؒ کا رسالہ ’’الفقہ الاکبر‘‘ کہلاتا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ عقائد کے اس عقلی مباحثے کو علم التوحید والصفات، علم النظر والاستدلال اور علم اصول الدین بھی کہا جاتا تھا۔ چونکہ ان مسائل پر عام طور پر بحث ومباحثہ ہوتا تھا اور اس مباحثہ میں معتزلہ پیش پیش ہوتے تھے، اس لیے شہرستانی کے بقول سب سے پہلے معتزلہ نے اسے ’’علم الکلام‘‘ کا نام دیا، مگر اہل سنت کے اکابر علما نے اسے پسند نہیں کیا، چنانچہ اصول فقہ کی متداول کتاب ’’التوضیح والتلویح‘‘ کے محشی نے نقل کیا ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عمرو بن عبید کو تباہ کرے کہ اس نے کلام کا دروازہ کھولا ہے، امام ابو یوسفؒ نے فتویٰ دیا کہ متکلم کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے، امام احمد بن حنبلؒ نے اس کی مذمت کی اور امام شافعیؒ نے اسے شرک کے بعد بدترین برائی سے تعبیر کیا۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ بحث ومباحثہ آگے بڑھتا گیا اور ان علماے اسلام نے بھی جو اس بحث وکلام کو پسند نہیں کرتے تھے، اسلامی عقائد کی عقلی وضاحت اور اثبات کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے اسے اپنے علمی معمولات میں شامل کر لیا، چنانچہ علم الکلام کے نام سے ایک پورا نصاب اب ہمارے دینی مدارس میں پڑھایا جاتا ہے۔
قرآن وحدیث کے بیان کردہ عقائد پر عقلی بحث ومباحثہ اور ان کی عقلی توجیہات وتعبیرات کے نتیجے میں اس دور میں جو فرقے وجود میں آئے، ان میں معتزلہ، جبریہ، قدریہ، مرجۂ، خوارج، اہل تشیع اور اہل سنت وغیرہ کے نام معروف ہیں۔ ان میں سے اہل سنت اور اہل تشیع اب تک اپنے پورے تعارف کے ساتھ موجود چلے آ رہے ہیں جبکہ باقی فرقوں کا اپنے نام اور تعارف کے ساتھ وجود نظر نہیں آتا، البتہ ان کا ذہن اور سوچ کا انداز مختلف حوالوں سے اب بھی اس سابقہ تعارف اور تشخص کے بغیر امت میں پایا جاتا ہے۔ ان میں سے اہل السنۃ والجماعۃ خود کو امت کااجتماعی دھارا قرار دیتے ہیں جن کی بنیاد دو اصولوں پر ہے: ایک یہ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دینیات بالخصوص عقائد کی کیا صورت ارشاد فرمائی ہے اور دوسری یہ کہ صحابہ کرامؓ نے اجتماعی طور پر اسے کیسے سمجھا ہے؟ اہل سنت کے نزدیک یہی وہ دو معیار ہیں جن کی بنیاد پر عقیدہ سمیت دین کی کسی بھی بات کو صحیح طور پر سمجھا جا سکتا ہے اور اسی وجہ سے وہ اہل السنۃ والجماعۃ کہلاتے ہیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے مقدمہ میں اہل سنت کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ اہل سنت وہ ہیں جو قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر اسی صورت میں ایمان رکھتے ہیں جیسا کہ انھوں نے فرمایا ہے اور وہ ان ارشادات کی عقلی توجیہ کو ضروری نہیں سمجھتے او رنہ ہی عقلی توجیہ وتعبیر کو قرآن وسنت کے کسی فرمان پر یقین کا معیار تصور کرتے ہیں، البتہ جہاں کسی عقیدہ کی وضاحت یا کسی عقلی سوال کے جواب کے لیے ضرورت محسوس کرتے ہیں، وہاں وضاحت کی حد تک اس عقلی بحث ومباحثہ کو ناجائز بھی نہیں سمجھتے اور ضرورت کے مطابق اس مباحثہ میں شریک ہوتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب نے یہ بھی فرمایا ہے کہ قرآن وسنت کی تصریحات کو ان کی ظاہری صورت میں تسلیم کرنے والے تمام لوگ اہل سنت ہیں، البتہ ظاہری صورت پر فی الجملہ ایمان رکھنے کے بعد اس کی تعبیر وتوضیح میں اختلافات خود اہل سنت کے اندر بھی موجود ہیں اور ایسے کسی اختلاف سے کوئی شخص اہل سنت کے دائرے سے خارج نہیں ہوتا۔ اہل سنت کے دائرے میں عقائد کی ایسی تعبیرات، تشریحات، توجیہات اور توضیحات کے حوالے سے جو مختلف مکاتب فکر موجود چلے آ رہے ہیں، ان میں اشاعرہ، ماتریدیہ اور ظواہر کے گروہ متعارف ہیں جو امام ابو الحسن اشعری، امام ابو منصور ماتریدی اور اما م ابن حزم ظاہری کے بیان کردہ اصولوں کی روشنی میں عقائد کی تعبیر وتشریح کرتے ہیں اور بہت سے امور میں ان کے درمیان اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔
یہ تو مختصر تعارف ہے اس علم الکلام کا جو ہمارے دینی نصاب کا باقاعدہ حصہ ہے اور اب تک انھی خطوط پر استوار ہے جن پر صدیوں قبل اس کی تشکیل ہوئی تھی۔ اب ہم ان تبدیلیوں اور ان کے حوالے سے پیدا ہونے والی ضروریات کی طرف آتے ہیں جو گزشتہ تین صدیوں کے دوران بتدریج رونما ہوئی ہیں اور ہمارے خیال میں ہم اپنے تنزل اور غلامی کے اس دور میں ’’تحفظات‘‘ کے دائرے میں محصور ہو جانے کی وجہ سے ان کی طرف توجہ نہیں دے سکے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا ’’علم العقائد والکلام‘‘ ان تبدیلیوں اور ضروریات کو اپنے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کر سکا اور ہم آج کے عالمی تناظر میں ایمانیات وعقائد کے ضروری تقاضوں کے ساتھ اس کو ہم آہنگ نہیں پاتے جس کی طرف مختلف اصحاب فکر ودانش ہمیں وقتاً فوقتاً توجہ دلاتے رہتے ہیں، لیکن ہم ابھی تک اس کا پوری طرح احساس وادراک نہیں کر پا رہے۔ 
ہمارے ’’علم العقائد والکلام‘‘ کے بیشتر مباحث یونانی فلسفہ اور اس کے ساتھ ساتھ ایرانی، ہندی اور قبطی فلسفہ کے ساتھ ہمارے علمی تعارف کی پیداوار ہیں اور ہمارے ہاں اسے ’’معقولات‘‘ کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے جبکہ خود اس فلسفہ کی اپنی ہیئت تبدیل ہو چکی ہے اور ارتقائی مراحل نے اس کی شکل وصورت تک بدل کر رکھ دی ہے۔ مثلاً ماضی میں سائنس کو معقولات کا حصہ تصور کیا جا تا تھا اور وہ فلسفہ کا حصہ سمجھی جاتی تھی، چنانچہ ہمارے ہاں فلکیات اور طبعیات کو معقولات ہی کے ایک حصے کے طور پر پڑھایا جاتا تھا، جبکہ سائنس ایک عرصہ سے فلسفہ ومعقولات سے الگ ہو کر ایک مستقل علم کی شکل اختیار کر چکی ہے اور اب وہ معقولات اور فلسفہ کا حصہ نہیں ہے بلکہ مشاہدات ومحسوسات کے دائرے میں شامل ہو چکی ہے، لیکن ہم درس نظامی کے نصاب کے باب میں اس تبدیلی کا ابھی تک ادراک نہیں کر سکے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ فلسفہ اور سائنس کی علیحدگی کے باعث عقائد اوران کی تعبیرات کے ضمن میں جو نئے سوالات پیدا ہوئے ہیں، ہم ان کا جواب دینے کی سرے سے ضرورت ہی محسوس نہیں کر رہے۔ مثلاً فلکیات وطبیعیات جب تک فلسفہ ومعقولات کا حصہ تصور ہوتے تھے، ان کی کسی بات سے قرآن وسنت کے کسی ارشاد کے تعارض وتضاد کی صورت میں ہم آسانی سے یہ کہہ دیا کرتے تھے کہ ہماری عقل کا دائرہ محدود ہے، مگرمعقولات کا دائرہ اور اس کے امکانات بہت وسیع ہیں، اس لیے کوئی بات اگر ہماری معروضی اور محدود عقل کے دائرے میں نہیں آتی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ معقولات کے وسیع دائرے اور اس کے مستقبل کے امکانات سے بھی متصادم ہے اور ہمارا یہ جواب نہ صرف یہ کہ اطمینان کی صورت بھی پیدا کر دیتا تھا بلکہ بہت سی صورتوں میں عملاً بھی ایسا ہو جاتا تھا، لیکن اسی بات کے عقل وفلسفہ کے دائرے سے نکل کر مشاہدات ومحسوسات کے زمرہ میں شامل ہو جانے کے بعد یہ جواب کافی نہیں ہے اور ہمیں ایسے سوالات کے جوابات کے لیے کوئی اور اسلوب اختیار کرنا ہوگا اور میری طالب علمانہ رائے میں آج کے دور میں ہمارے علم عقائد کے لیے یہ وقت کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
اسی طرح یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ فلسفہ اور سائنس کے پہلو بہ پہلو ایک اور علم بھی بہت سے سوالات لیے ہمارے سامنے کھڑا ہے اور وہ عمرانیات اور سوشیالوجی کا علم ہے جس نے اس قدر ترقی کی ہے کہ جدید تہذیب اور گلوبل سولائزیشن میں اس نے وحی اور آسمانی تعلیمات کی جگہ حاصل کر رکھی ہے اور انسانی سوسائٹی کے بیشتر مسائل اب اسی کے حوالے سے طے ہوتے ہیں، مگر ہمارے ہاں اس سے بے اعتنائی کا یہ عالم ہے کہ ابن خلدونؒ اور شاہ ولی اللہؒ کے بعد اس درجہ کا کوئی اور عالم نظر نہیں آتا جس نے عمرانیات کو باقاعدہ موضوع بنا کر اس پر بحث کی ہو اور ہمارے دینی حلقوں کو اس علم سے متعارف کرانے کی کوشش کی ہو جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل کے ذہنوں میں عمرانیات اور سوسائٹی کے ارتقا کے حوالے سے سوالات اور شکوک کا ایک جنگل آباد ہے مگر ہمارے دینی حلقوں کے پاس ان سوالات کا نہ کوئی جواب ہے اور نہ ہی ان میں سے بیشتر کو سرے سے ان سوالات کا ادراک ہی حاصل ہے۔ 
اس لیے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ عالمی افق پر گزشتہ تین صدیوں کے درمیان رونما ہونے والی علمی تبدیلیوں اور خاص طور پر فلسفہ، سائنس اور عمرانیات کی انسانی ذہنوں پر حکمرانی سے پیدا شدہ صورت حال میں ہمیں ’’علم العقائد والکلام‘‘ کے نصاب کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔ اس کا مطلب عقائد میں تبدیلی نہیں ہے بلکہ ان کی تعبیرات وتشریحات کے اسالیب اور ترجیحات کی ازسرنو تشکیل ہے جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ماضی میں یونانی اور دیگر فلسفوں کی آمد پر ہم نے اپنے عقائد پر پوری دل جمعی کے ساتھ قائم رہتے ہوئے ان کی علمی وعقلی توجیہات وتعبیرات کا ایک نظام تشکیل دیا تھا جس کے ذریعے ہم نے اپنے عقائد وایمانیات کے خلاف فلسفہ ومعقولات کی یلغار کا رخ موڑ دیا تھا۔ آج بھی اسی کام کے احیا کی ضرورت ہے اور عقائد وایمانیات کے باب میں جدید فلسفہ، سائنس اور عمرانیات کے پیدا کردہ مسائل اور اشکالات کسی اشعری، ماتریدی، ابن حزم، غزالی، ابن رشد، ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ کی تلاش میں ہیں جو ظاہر ہے کہ انھی مدارس کی کوکھ سے جنم لیں گے۔ اس لیے دینی مدارس کو اس پہلو سے اپنے ’’بانجھ پن‘‘ کے اسبا ب کا کھلے دل ودماغ کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے اور اس کے علاج کا اہتمام کرنا چاہیے کہ ان کے ذمہ آج کے دور کا سب سے بڑا قرض یہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی بطور نمونہ عقائد وایمانیات سے تعلق رکھنے والے چند سوالات کا ذکر کرنا چاہوں گا جو آج کے علمی تناظر میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ذہنوں میں ڈیرہ جمائے ہوئے ہیں اور ان کے قابل اطمینان جوابات فراہم کرنا ہماری اسی طرح کی ذمہ داری ہے جس طرح ابو الحسن اشعری اور ابو منصور ماتریدی نے اپنے دور کے علمی چیلنج کا منطق واستدلال کے ساتھ سامنا کیا تھا:
  • انسان کو جب نفع ونقصان کے ادراک کے لیے عقل دی گئی ہے تو پھر مذہب کی ضرورت کیا باقی رہ جاتی ہے؟
  • وحی کی ماہیت کیا ہے اور کیا یہ انسانی عقل ووجدان سے ہٹ کر کوئی الگ چیز ہے؟ 
  • وحی اور عقل کا باہمی تعلق کیا ہے؟
  • انسانی سوسائٹی جب مسلسل ارتقا کی طرف بڑھ رہی ہے تو نبوت کا دروازہ درمیان میں کیوں بند ہو گیا ہے؟
  • سائنس اور مذہب کا باہمی جوڑ کیا ہے؟
  • مذاہب کی مشترکہ صداقتوں پر یکساں ایمان رکھنے اور ان کے مشترکہ مصالح پر مشتمل احکام پر عمل کرنے میں کیا حرج ہے اور کسی ایک مذہب کی پابندی کیوں ضروری ہے؟
  • سوسائٹی کے ارتقا اور تجربات کی بنیاد پر تشکیل پانے والے افکار ونظریات اور تہذیب کو مسترد کرنے کا کیا جواز ہے؟
  • قرآ ن وسنت کے معاشرتی احکام اس دو رکی عرب ثقافت یا رواجات کے پس منظر میں تھے یا اس سے مختلف ثقافتوں کے ماحول میں بھی واجب العمل ہیں؟
  • احکام وقوانین میں مصالح ومنافع اور اہداف ومقاصد معتبر ہیں یا ظاہری ڈھانچہ بھی ضروری ہے؟
  • اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا کا وجود بھی ہے یا نہیں؟ وغیر ذلک۔
یہ مسائل نئے نہیں ہیں، بلکہ ہر دور میں کسی نہ کسی عنوان سے زیر بحث رہے ہیں، لیکن آج کے عالمی تناظر میں یہ زیادہ ابھر کر سامنے آئے ہیں اور ایک مسلمان کو اسلامی اعتقادات وایمانیات کے معیار پر باقی رکھنے کے لیے ان سوالات اور ان جیسے دیگر بہت سے سوالات کے ایسے جوابات ضروری ہیں جو آج کے علمی تناظر اور ہمہ نوع معلومات کے افق میں قابل اطمینان ہوں۔

شاہ ولی اللہؒ اور علامہ محمد اقبالؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور علامہ اقبالؒ جنوبی ایشیا کے ممتاز مسلمان مفکرین میں سے تھے۔ دونوں کے درمیان دو صدیوں کا فاصلہ ہے اور دونوں نے اپنے اپنے دور میں ملت اسلامیہ کی بیداری کے لیے نمایاں اور سیاسی خدمات سر انجام دی ہیں، شاہ ولی اللہؒ کا دور وہ ہے جب اورنگزیب عالمگیرؒ کی نصف صدی کی حکمرانی کے بعد مغل اقتدار کے دورِ زوال کا آغاز ہوگیا تھا اور شاہ ولی اللہؒ کو دکھائی دے رہا تھا کہ ایک طرف برطانوی استعمار اس خطہ میں پیش قدمی کر رہا ہے اور دوسری طرف جنوبی ہند کی مرہٹہ قوت دہلی کے تخت کی طرف بڑھنے لگی ہے، جبکہ علامہ اقبالؒ کو اس دور کا سامنا تھا جب انگریزوں کی غلامی کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد برصغیر کے باشندے اس سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ گویا شاہ ولی اللہؒ غلامی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے اسے روکنے کی کوشش کر رہے تھے اور علامہ اقبالؒ غلامی کو بھگتتے ہوئے اس سے قوم کو آزادی دلانے کی جدوجہد میں مصروف عمل تھے۔
شاہ ولی اللہؒ کو یہ خطرہ درپیش تھا کہ جنوبی ہند کے مرہٹے دہلی کے اقتدار کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اس کا سدّ باب انہوں نے یوں کیا کہ افغانستان کے فرمانروا احمد شاہ ابدالیؒ کو برصغیر کے مسلمانوں کی مدد کے لیے دعوت دی جس کے نتیجے میں پانی پت کی خوفناک جنگ میں مرہٹوں کو فیصلہ کن شکست ہوئی اور شمالی ہند مسلمانوں کے لیے محفوظ ہوگیا، جبکہ علامہ اقبال ؒ اس پریشانی سے دوچار تھے کہ برطانوی استعمار سے آزادی کے بعد اس خطے کا مستقبل ووٹ اور سیاسی عمل کے ذریعہ تشکیل پائے گا جس میں ہندو کی واضح اکثریت مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کو مخدوش کر سکتی ہے، اس کا حل انہوں نے پاکستان کے نام سے مسلمانوں کی الگ ریاست کی شکل میں نکالا اور برصغیر کی تقسیم کی تجویز پیش کر کے مسلمانوں کو سیاسی طور پر محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ گویا خطرہ دونوں کو ایک ہی طرح کا درپیش تھا لیکن دونوں نے اس کا حل اپنے اپنے دور کے تقاضوں اور حالات کی روشنی میں الگ الگ تجویز کیا۔
شاہ ولی اللہؒ کو اپنے دور میں فقہی جمود کا سامنا تھا اور اس جمود کو توڑنے کے لیے انہوں نے نہ صرف مسلمانوں کو قرآن و حدیث سے براہ راست استفادہ کرنے کی دعوت دی بلکہ قرآن کریم اور حدیث نبویؐ کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری کیا اور فقہ میں انہوں نے فقہ حنفی کے اصولی دائرہ کو قائم رکھتے ہوئے توسع اور اجتہاد کو فروغ دینے کی بات کی۔
علامہ اقبالؒ کو بھی اسی قسم کے فقہی جمود سے سابقہ تھا، انہوں نے اپنے طور پر اس کا حل یہ نکالا کہ مسلمان ’’اجتہادِ مطلق‘‘ کے دور کی طرف واپس لوٹ جائیں، چنانچہ ’’تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ‘‘ کے عنوان سے اپنے خطابات میں انہوں نے اہل علم و دانش کو اسی بات کی دعوت دی ہے۔ علامہ اقبالؒ کے یہ خطبات دینی حلقوں میں ایک عرصہ سے زیر بحث ہیں، ان کے بارے میں بہت سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے اور خود میرے بھی بعض تحفظات ہیں لیکن میرے خیال میں اسے اس نقطۂ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے کہ علامہ اقبالؒ نے یہ خطبات بحث و مباحثہ کے ایجنڈے کے طور پر پیش کیے تھے جن پر علمی و تحقیقی کام نہیں ہو سکا۔
شاہ ولی اللہ دہلویؒ خود علوم قرآن و حدیث کے متبحرِ عالم تھے، انہیں اپنے لائق فرزندوں اور قابل فخر شاگردوں کی صورت میں علمی کام کرنے والی ایک مضبوط ٹیم میسر تھی اس لیے ان کے ایجنڈے نے ایک باقاعدہ علمی حلقے کی شکل اختیار کر لی اور جنوبی ایشیا کی دینی فکر پر ابھی تک اسی کا سکہ چل رہا ہے، مگر علامہ اقبالؒ کو یہ سہولت میسر نہ ہو سکی اور وہ اس معاملہ میں بالکل تنہا نظر آتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ کا ایک دور میں یہ خیال تھا کہ اگر علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ لاہور آجائیں تو وہ دونوں مل کر اس علمی و فکری ایجنڈے کو ایک مستقل علمی و فکری کام کی بنیاد بنا سکتے ہیں اور میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ اگر ایسا ہو جاتا تو آج کی علمی و فکری دنیا کا نقشہ ہی مختلف ہوتا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ پھر علامہ اقبالؒ نے سید سلمان ندویؒ اور دوسرے علماء کرام کو اس طرف آمادہ کرنے کی کوشش کی جو کامیاب نہ ہو سکی، حتیٰ کہ پٹھانکوٹ میں دار الاسلام کا قیام اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وہاں آمد بھی بنیادی طور پر علامہ اقبالؒ کی سوچ کا نتیجہ لگتی ہے لیکن کام اس رخ پر آگے نہ بڑھ سکا جو علامہ اقبالؒ کے پیش نظر تھا۔ 
یہ بات درست ہے کہ فقہی جمود کو ختم کرنے اور آزادئ فکر کو اجتہاد کے ذریعہ نشو و نما دینے کی جو صورت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے سامنے تھی علامہ اقبالؒ کی آزادئ فکر اور اجتہاد کے دائرے اس سے مختلف تھے لیکن دونوں کے توسع اور آزادئ فکر کے دائرے بہت مختلف ہونے کے باوجود بنیادی طور پر دونوں کو ایک ہی مسئلہ کا سامنا تھا کہ امت کو اس بے لچک فقہی جمود کے دائرے سے نکالا جائے جو فکری اور علمی ارتقاء اور سماجی ترقی میں ان کے خیال میں رکاوٹ تھے۔ البتہ شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا تصور اجتہاد اور فکری آزادی مسلّمہ فقہی اصولوں کی حدود میں تھی جبکہ علامہ اقبالؒ انہی مسلّمہ فقہی اصولوں پر نظر ثانی کی بات کر رہے تھے۔ میرا یہ خیال ہے کہ اگر علامہ اقبالؒ کو شاہ ولی اللہؒ کی طرح کی علمی ٹیم اور مواقع میسر آجاتے تو ان کی فقہی سوچ کے بارے میں دینی حلقوں کے تحفظات یقیناًتوازن کی صورت اختیار کر لیتے لیکن ان کے خطبات صرف ایجنڈا ہی رہے اور اس ایجنڈے پر علمی و تحقیقی کام کا خواب تعبیر کی شکل اختیار نہ کر سکا۔ مجھے اس موقع پر آغا شورش کاشمیری مرحوم کا یہ جملہ یاد آرہا ہے جو ان کا اپنا ہے یا شاید کسی اور دانش ور کے قول کے طور پر انہوں نے نقل کیا تھا کہ ’’اقبالؒ وہ شبلی نعمانی ؒ ہے جسے کوئی سید سلمان ندویؒ میسر نہ آسکا۔‘‘
میرے نزدیک فکرِ اقبالؒ کا اصل المیہ یہی ہے اور اس کا حل آج بھی یہی ہے کہ اقبالؒ اور انور شاہؒ مل کر بیٹھیں اور قدیم اور جدید ایک دوسرے کی نفی کرنے کی بجائے ایک دوسرے کا وجود اور ضرورت تسلیم کرتے ہوئے باہمی مشاورت اور اشتراک کے ساتھ امت مسلمہ کی علمی و فکری راہ نمائی کریں۔ اقبالؒ کے تصورِ اجتہاد کے سب پہلوؤں سے اتفاق نہ ہونے کے باوجود میں اسے ایک ایجنڈا تصور کرتے ہوئے اس پر علمی و تحقیقی کام کو آج کی ایک اہم ضرورت سمجھتا ہوں اور امت مسلمہ کی صحیح سمت راہ نمائی کے لیے قدیم و جدید کے متوازن امتزاج کو وقت کا ایک ناگزیر تقاضا تصور کرتا ہوں۔

علماء اور جدید طبقوں میں ہم آہنگی

مولانا مفتی محمد زاہد

(سوسائٹی فار انٹر ایکشن آف ریلجین، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (SIRST) مانسہرہ کے زیر اہتمام ساتویں قومی سیمینار (منعقدہ دسمبر ۲۰۰۹ء) میں گفتگو۔)

میں سب سے پہلے تو جناب پروفیسر عبد الماجد صاحب اور ’’سرسٹ‘‘ میں ان کی پوری ٹیم کو اس دور افتادہ جگہ میں ایسی شاندار علمی و فکری محفل جمانے اور اس سطح کے اہل فکر و دانش کو جمع کرنے پر ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہوں اور ان کا شکر گزار بھی ہوں کہ انہوں نے مجھ جیسے طالب علم کو اس محفل میں شریک ہو کر مستفید ہونے اور اپنی گزارشات پیش کرنے کا موقع عطا فرمایا۔
یہ سیمینار انسانیت کے اجتماعی المیے کے حوالے سے چل رہا ہے، مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ انسانیت کو بحیثیت مجموعی موضوع بحث بنایا گیا، تمام انبیاء علیہم السلام بالخصوص خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا بنیادی موضوع انسانیت کی فلاح ہی رہا ہے، بلکہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کا دائرہ تو عالمین تک پھیلا ہوا ہے۔ قرآن حکیم نے عالم کی بجائے ’عالمین‘ کی جو بات کی ہے، اس کی صحیح حقیقت کا انکشاف تو شاید آنے والے کسی زمانے میں ہی ہو اور اس وقت پتا چلے کہ قرآن چودہ سو سال پہلے اکیسویں صدی کے سائنس فکشن سے بھی آگے کی بات کر رہا تھا۔ فی الحال اس طرح کی قرآنی تعلیمات اور تعبیرات کا اتنا اثر تو ہونا چاہیے کہ ہم اس کرہ ارضی پر بسنے والی انسانیت کو بحیثیت مجموعی موضوع بحث بنائیں۔ یقیناًجب بھی انسان پر ایک معاشرتی جاندار کی حیثیت سے بحث ہوگی تو دین و اخلاق کا حوالہ لازماً آئے گا۔ خاص طور پر دین اسلام کے نقطۂ نظر سے اس ایشو پر نظر ڈالے بغیر بحث ہی ادھوری اور نامکمل رہے گی اور ظاہر ہے کہ جب انسان کے اجتماعی المیے کے مسئلے کے ساتھ اسلام کے تعلق پر بات ہوگی تو اسلام کی تشریح و تعبیر سے تعلق رکھنے والے طبقات کا حوالہ بھی ناگزیر ہوگا۔ اسی تناظر میں مجھے علماء کی دیگر طبقات کے ساتھ ہم آہنگی کے فقدان پر عرض کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ 
ہمارے عرف میں جب علماء کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے عموماً دینی مدارس کے فضلاء مراد لیے جاتے ہیں۔ ان علماء کی جدید طبقے کے ساتھ ہم آہنگی کا سوال تو ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے پہلا سوال ان کی معاشرے اور زندگی کے ساتھ ہم آہنگی کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے مدارس میں تعلیم و تدریس کا انداز اور عمومی ماحول کچھ ایسا ہوتا ہے کہ جیتی جاگتی زندگی کے ساتھ ان کا تعلق نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں علماء اور دینی مدارس کے ذمہ داران کے لیے جو بات سب سے پہلے قابل توجہ معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ جب ان حضرات سے کسی طبقے کے ساتھ ہم آہنگی، روابط یا تعلقات کار بہتر بنانے کی بات کی جاتی ہے تو ان میں سے بعض حضرات کے رد عمل سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے ایسی درخواست یا گزارش کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ ان سے اپنے کچھ حقوق سے تنازل و دستبرداری یا اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں کمپرومائز کی بات کی جا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ یہ محسوس کر رہے ہوں کہ ان سے کسی اور طبقے کے لیے رعایت مانگی جا رہی ہے یا ان کے مد مقابل کے لیے ان کے سامنے وکالت کی جا رہی ہے یا یہ کہ انہیں اس طرح کی بات کہہ کر کسی مفاد کے حصول کے لیے راغب کیا جا رہا ہے جو ان کے خیال میں (بجا طور پر) اخلاقی پستی اور اپنے مشن سے انحراف کے زمرے میں آتا ہے۔ 
ہو سکتا ہے کہ کئی لوگ انہیں اس طرح کے مشورے واقعی اسی نقطہ نظر سے دیتے ہوں، لیکن عمومی طور پر حقیقت یہ ہے کہ اس نوعیت کے مشورے خود ان کے اپنے مشن کی بھی ضرورت ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر تو دینی علوم کو اس نقطہ نظر سے پڑھنا یا پڑھانا ہو کہ یہ دنیا میں پائے جانے والے چند علوم ہیں یا ایسے علوم ہیں جن سے کسی زمانے میں انسانوں کا ایک بڑا طبقہ اعتنا رکھتا تھا اور اب یہ انسانی تاریخ کا ایک حصہ ہیں، جیسا کہ مستشرقین نے عموماً اسلامی علوم کا اسی زاویہ نگاہ سے مطالعہ کیا اور اپنی تحقیقی کاوشیں علمی دنیا کے سامنے پیش کی ہیں، اگر اسلامی علوم کو اسی زاویہ نگاہ سے پڑھنا پڑھانا ہو جس زاویہ نگاہ سے انہیں مستشرقین نے پڑھا ہے یا آج بھی مغرب کے کئی جامعات میں پڑھے پڑھائے جاتے ہیں تو جیتی جاگتی عملی زندگی اور اپنے سماج سے تعلق کی نوعیت کا سوال اور اس کے بارے میں مشورے اور تجاویز سب غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر ان علوم کو اس نقطہ نظر سے حاصل کرنا ہو کہ یہ انبیاء علیہم السلام کی وراثت ہیں تو مذکورہ سوالات اور تجاویز سے صرف نظر ممکن نہیں ہے، اس لیے کہ انبیاء علیہم السلام کا علم محض برائے علم نہیں ہوتا، علم برائے دعوت ہوتا ہے۔ ان کا علم اس لیے ہوتا ہے کہ انسانوں کی زندگی پر نافذ اور جاری ہو اور انسانوں کو فکری و عملی طور پر انہیں قبول کرنے اور اپنے اندر جذب کرنے کے لیے تیار کیا جائے۔ یقیناًدینی مدارس میں اسلامی علوم کا حصول اسی زاویہ نگاہ سے ہوتا ہے، اس لیے بنیادی طور پر یہ علماء کرام داعیانہ مشن کے حامل ہوتے ہیں اور داعی کی اپنی ضرورت ہوتی ہے، اپنے ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اس کے مشن کے لیے کہ لوگوں کو اپنے قریب کرے اور خود ان کے قریب ہو، انہیں سمجھے اور اپنا آپ انہیں سمجھائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اوصاف قرآن میں مذکور ہیں ان میں ایک صفت من انفسھم کی بھی ہے جو اسی پہلو کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ 
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کا اگر جائزہ لیں تو ان سے بھی یہ بات بڑی وضاحت کے ساتھ سمجھ میں آتی ہے۔ مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کو یمن کی طرف روانہ فرمایا تو انہیں کچھ نصیحتیں فرمائیں۔ یہ حضرات وہاں حاکم بن کر بھی جا رہے تھے، مفتی بھی، معلم دین اور مبلغ و داعی بھی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ نصیحتیں ان سب شعبوں میں کام کرنے والوں سے متعلق ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا : یسرا ولا تعسرا، لوگوں کے لیے آسانی کرنا، انہیں تنگی میں نہ ڈالنا۔ معلوم ہوا کہ مفتی کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے لیے یسر اور سہولت کے پہلو کو مد نظر رکھے، معلم کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم کو آسان سے آسان بنائے، حاکم کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا سے آسانی کا برتاؤ کرے اور انہیں تنگی اور مشقت میں نہ ڈالے۔ مبلغ و داعی کے لیے بھی یہی ہدایت ہے۔ ظاہر ہے کہ لوگوں سے روابط، ان سے تعلقات کار اور انہیں سمجھے بغیر ان کے لیے آسانی کا راستہ نہیں ڈھونڈا جا سکتا۔ اس سے اگلی ہدایت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے وہ اس معاملے میں اس سے بھی واضح ہے، آپ نے فرمایا : بشرا ولا تنفرا، دین کو اس انداز سے پیش کرو کہ وہ خوشی خوشی اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔ بشرا  کا لفظ بشر سے نکلا ہے جس کا معنی جسم بالخصوص چہرے کے ظاہری حصے کے ہیں۔ تبشیر ایسا خوش کرنے کو کہا جاتا ہے جس سے انسان کا چہرہ دمک اٹھے اور اس کی شکل بتا رہی ہو کہ وہ خوش ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ دین ایسے انداز سے پیش کرو کہ جنہیں وہ پیش کیا جا رہا ہے وہ اسے انتہائی رضا و رغبت کے ساتھ قبول کریں، محض خاموشی نیم رضا والی بات بھی نہ ہو۔ اسی ہدایت کے دوسرے جملے میں فرمایا : ولا تنفرا  جس کا لفظی ترجمہ ہم کر سکتے ہیں: ’’انہیں بدکاؤ نہیں‘‘۔ یعنی ان سے ایسا برتاؤ نہ کرو، ان کے سامنے اپنی بات ایسے انداز سے نہ رکھو جس سے وہ تم سے اور تمہاری بات سے دور ہوں اور بدکنے لگیں اور تمہارے قریب آنا انہیں مشکل محسوس ہو۔ 
بات یہاں سے شروع کی گئی تھی کہ علماء کی جدید طبقے کے ساتھ ہم آہنگی کے فقدان پر بات کرنے کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کے سوسائٹی کے ساتھ تعلق کے بارے میں بات کی جائے۔ بہت سے مسئلے اسی جڑ کو پکڑ کر درست کرنے سے حل ہو سکتے ہیں۔ اب تک جو عرض کیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس طرح کی بحث اور گفتگو ضروری نہیں کہ انہیں یا ان کے شاگردں اور حلقہ اثر کو ’’دنیا دار‘‘ بنانے کے لیے ہو، بلکہ یہ بحث ان کے عظیم داعیانہ بلکہ قائدانہ منصب کا تقاضا ہے۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے ایک جگہ دینی مدرسے کا تعارف کراتے ہوئے بڑی خوبصورت بات کہی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ دینی مدرسہ در حقیقت وہ پائپ لائن ہے جو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض حاصل کرتی اور زندگی کو اس سے سیراب کرتی ہے، اس لیے اس کا کام تب پورا ہوتا ہے جب اس کا ایک سرا دربارِ رسالت سے جڑا ہوا ہو اور دوسرا سرا جیتی جاگتی عملی زندگی سے۔ اس پہلو سے اگر دیکھیں تو ہمارے مدارس کے فضلاء کے مزاج، رویے اور سوچ میں بہتری کی گنجائش اور ضرورت کے موجود ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اس سلسلے میں یہاں چند گزارشات پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ 
ہمارے مدارس کا نظام تعلیم و تربیت کچھ ایسا ہے کہ طالب علم شروع ہی سے اپنے ماحول اور معاشرے سے گھل مل نہیں پاتا۔ کم از کم آٹھ سالہ درس نظامی کے دوران سال کے تعلیمی ایام تو اسے گھر سے دور کسی مدرسے میں گزارنے ہی ہوتے ہیں۔ تقریباً دو ماہ کی سالانہ تعطیلات میں بھی بیشتر طلبہ کی اولین ترجیح اور خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ یہ ایام بھی کسی ’’دورہ‘‘ وغیرہ کے عنوان سے کسی مدرسے ہی میں گزاریں۔ یوں وہ تعلیم کے پورے عرصے کے دوران نہ صرف اپنے گاؤں، شہر اور معاشرے سے بلکہ اپنے خاندان تک سے کٹا رہتا ہے۔ (اسی لیے میں تو بیشتر طلبہ کو یہ مشورہ دیا کرتا ہوں کہ وہ تعطیلات اپنے گھر میں گزارنے کی کوشش کریں بلکہ کھیتی باڑی، کاروبار وغیرہ میں والدین کے کام میں کچھ ہاتھ بھی بٹائیں)۔ اوپر سے بعض اوقات جونہی ایک بچہ یا نوجوان دینی تعلیم کے حصول کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ اب وہ چونکہ ’’دنیادار‘‘ سے ’’دین دار‘‘ ہونے جا رہا ہے، اس لیے اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ ’’دنیا داری‘‘ کے انتہائی گندے تالاب سے نکل کر ’’دین داری‘‘ کی انتہائی مقدس دنیا کی طرف جا رہا ہے، اب پچھلی دنیا سے اس کا کوئی واسطہ اور لینا دینا نہیں ہے۔ اگر کبھی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنا بھی ہے تو ان ’’دنیا دار‘‘ اور ’’گنہگار‘‘ لوگوں کو ’’ٹھیک‘‘ کرنے کے لیے۔ اس طرح اس میں اپنی سوسائٹی میں گھلنے ملنے اور سماج کی فکرمندیوں، غموں اور خوشیوں کا حصہ بننے، اپنے معاشرے اور ملک کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھنے کا داعیہ پیدا نہیں ہو پاتا۔ اس طرح سے اس کی اور اس جیسے کچھ اور لوگوں کی ایک بالکل الگ ذہنی دنیا آباد ہوتی ہے جس سے باہر نکلنا وہ گوارا نہیں کرتا اور یہ صورت حال اس کے گاؤں کی سطح سے لے کر ملکی اور عالمی مسائل تک ہوتی ہے۔ فرض کریں، کبھی ملک میں عام انتخابات ہونے والے ہوں جس کے نتائج ملک کی سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی تعلقات وغیرہ کے حوالہ سے فیصلہ کن اور گہرے دور رس اثرات مرتب کرنے والے ہوں، اتفاق سے انہی انتخابات میں کسی ایک آدھ نشست پر کسی دینی جماعت کے کوئی راہ نما بھی امیدوار ہوں اور وہاں کسی قدر فرقہ وارانہ نوعیت کا انتخابی معرکہ بپا ہو، ایسے ماحول میں آپ پورے ملک کے مدارس کا دورہ کر کے اور ان میں زیر تعلیم طلبہ کی الیکشن میں دلچسپیوں کے رخ کا جائزہ لے کر دیکھ لیں کہ ان میں سے کتنے لوگ اس پر بحث کر رہے ہیں کہ بحیثیت مجموعی کون سی جماعت کے برسر اقتدار آنے کی صورت میں ملک کے اندرونی و بیرونی معاملات پر کیا مثبت یا منفی اثرات ہوں گے اور ملکی پالیسیاں کیا رخ اختیار کریں گی، اور ان طلبہ میں کتنے ایسے ہوں گے جن کی ذہنی سوئی اسی ایک انتخابی نشست پر اٹکی ہوئی ہوگی جس کے بظاہر ملک کی عمومی صورت حال پر کوئی خاص اثرات مرتب ہونے والے نہیں ہوں گے۔ حاصل یہ کہ چھوٹے سے چھوٹے دائرے سے لے کر وسیع سے وسیع تر سطح پر دیکھیں تو ہمارے ان مدارس کے اندر تعلیم حاصل کرنے والوں میں من انفسھم  جیسے اہم نبیوں والے وصف کی جھلک بہت کم نظر آئے گی۔ دینی مدارس کے ذمہ داران کو اس صورت حال کے اسباب کا تجزیہ کر کے اس سے نکلنے کی کوئی صورت ضرور نکالنی چاہیے۔
علماء کرام کی جدید طبقے کے ساتھ ہم آہنگی بھی ایک حد تک اسی صورت حال کا شاخسانہ ہے۔ علماء کرام اور جدید طبقے کے تعلقات کی جب ہم بات کرتے ہیں تو ’’جدید طبقے‘‘ میں کئی قسم کے لوگوں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ لوگ ہیں جو سرے سے مسلمان ہی نہیں ہیں۔ ایک وہ لوگ ہیں جو مسلمان ہونے کے باوجود اپنے کام اور شعبے میں ایسے منہمک ہیں کہ دین کی تشریح و تعبیر یا مسلم امہ کے عمومی مسائل سے انہیں کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ کچھ حضرات ایسے ہیں جنہوں نے باقاعدہ طور پر دینی مدارس کے نظام میں تعلیم نہیں پائی ہوتی یا اس میں تعلیم پانے کے باوجود ان کے فکری منہج سے وابستہ نہیں رہے ہوتے، تاہم دینی علوم ان کی محنتوں کا محور ہوتے ہیں لیکن دین کی تفہیم و تعبیر میں ان کا نقطہ نظر دینی مدارس کے حضرات سے مختلف ہوتا ہے۔ بعض حضرات ایسے بھی ہیں جو دینی علوم میں نہ تو مہارت کا دعویٰ کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان میں اپنی آرا رکھتے اور ان کا اظہار کرتے ہیں، البتہ مسلم امت کو بحیثیت مجموعی درپیش مسائل اور چیلنجز کے بارے میں وہ سوچتے بھی ہیں اور ان ایشوز پر اپنی رائے بھی رکھتے ہیں اور بسا اوقات ان کے پیش کردہ حل اور تجاویز دینی مدارس کے علماء کی سوچ اور فکر سے مختلف ہوتی ہیں۔ اس وقت بنیادی طور پر ہم موخر الذکر دو طبقات کے ساتھ علماء کرام کے تعلقات کے حوالے سے بات کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بات تو کافی حد تک درست ہے کہ ان طبقات اور علماء کرام میں ہم آہنگی کا فقدان ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم آہنگی پیدا کرنے کا مطلب کیا ہے؟ ہم آہنگی سے مراد یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہر ہر ایشو پر سب کی رائے بالکل ایک ہو۔ ایسا ہونا نظام قدرت کے خلاف ہونے کے ساتھ تنوع سے پیدا ہونے والے حسن اور اختلاف رائے سے پیدا ہونے والے متبادل راستوں سے ہاتھ دھونے کا بھی باعث ہوگا۔ ہم آہنگی سے مراد یہ ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف تو ہو مخالفت نہ ہو، سب ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سننے اور گوارا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ 
اس سلسلے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ان تمام طبقات کو اس بات کا بھرپور ادراک ہونا چاہیے کہ ان کے تجویز کردہ راستے اگرچہ ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن منزل سب کی ایک ہے۔ منزل ایک ہونے کا ادراک اپنے بارے میں بھی ہو اور دوسروں کے بارے میں۔ اپنے بارے میں اس معنی میں کہ منزل سے نظر ہٹ جانے کی وجہ سے اپنے تجویز کردہ راستے ہی کو منزل سمجھنے کی غلطی نہ ہو، اور دوسروں کے بارے میں اس معنی میں کہ ان کے بارے میں محض اپنے حریف ہونے کا تصور نہ ہو بلکہ ایک معنی میں ہم سفر ہونے یا ہم منزل ہونے کا ادراک بھی ہو اور ان طبقات سے ان کا فرق ملحوظ رہے جن کی منزل ہی بالکل الگ ہے۔ اس ادراک اور استحضا ر کی ذمہ داری صرف ایک خاص طبقے پر نہیں ڈالی جا سکتی، بلکہ یہ گزارش ان تمام طبقات سے کرنی ہوگی جن کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا مقصود ہے۔ 
دوسری بات اس سلسلے میں قابل گزارش یہ ہے کہ ہر طبقے کو چاہیے کہ وہ دوسرے طبقے سے ربط و تعلق، ان کی بات سننے اور اپنی بات سنانے اور ایک دوسرے کی بات پر سنجیدگی سے غور کرنے کو خود اپنی، اپنے مشن اور اپنے مقاصد کی ضرورت سمجھے۔ دو وجہ سے، ایک تو اس لیے کہ میں دیانت داری سے اگر ایک نقطہ نظر یا ایک تجویز کو درست سمجھتا ہوں اور میری یہ بھی دیانت دارانہ رائے ہے کہ دوسرا شخص بھی میری بات کو قبول کر لے تو اچھاہوگا، تو میں اس بات کا ایک طرح سے داعی بن گیا ہوں۔ اس لیے دعوتی رویہ اور انداز اپنانا میرے اپنے مقصد کی ضرورت ہے، اور جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، داعی کا کام تبشیر ہے ، تنفیر اس مقصد کے لیے مضر ہے۔ داعی کا کام تقاضا کرتا ہے کہ وہ خود بھی دوسروں کے قریب ہو اور دوسروں کو اپنے قریب کرے۔ اگر میں کسی کی بات سننے ہی کا روادار نہیں ہوں گا تو اس کے میرے دعوتی مقاصد پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ جن طبقات کی ہم بات کر رہے ہیں، ان کی منزل اور بنیادی مقاصد ایک ہیں۔ اپنے مقصد اور اپنی منزل سے سچی لگن کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے لیے بہتر سے بہتر راستے اور موثر سے موثر طریق کار کے لیے متلاشی رہے۔ اپنے مقاصد سے سچی لگن رکھنے والا کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے اس حصول کے لیے جو کچھ سوچا اور کیا ہے، وہی کافی ہے۔ اگر کسی اور کے ہاں اسے کوئی ایسی چیز ملے جو اسے مقصد کے قریب کر سکتی ہو تو وہ لازماً اس طرف توجہ دے گا اور اس سے محض اس وجہ سے منہ نہیں پھیرے گا کہ وہ بات ہمارے لوگوں کی نہیں ہے۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دانائی کی بات مومن کی گم شدہ متاع ہے، جہاں سے بھی اسے ملے وہ اس کا حق دار ہے۔ اس حدیث مبارک میں در اصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی معاشروں کے ایک دوسرے سے استفادے میں حائل ایک بہت بڑی نفسیاتی رکاوٹ کو دور فرمایا ہے۔ عموماً ہوتا یہ ہے کہ اگر اچھی بات اپنے کسی حریف اور مد مقابل کی طرف سے سامنے آئے تو اسے قبول کرنے میں انسان کی انا رکاوٹ بن جاتی ہے۔ وہ یہ سوچتا ہے کہ میں اس کی بات لے کر ایک طرح سے اس کے زیر احسان ہو جاؤں گا اور اس کی چیز استعمال کرنے والا بن جاؤں گا۔ یہ تصور اس کے دل میں اس کے استعمال کے بارے میں خاص قسم کی ہچکچاہٹ پیدا کرتا ہے۔ اگر میرے پاس اپنی گھڑی نہیں ہے اور کوئی دوسرا شخص کہہ دیتا ہے کہ میری گھڑی تم باندھ لو اور اپنے استعمال میں لے آؤ تو فطری بات ہے کہ مجھے اپنی کمتری کا ایک خاص قسم کا احساس ہوگا کہ میں فلاں کی چیز استعمال کر رہا ہوں، لیکن اگر مجھے یہ بتا دیا جائے کہ یہ چیز ہے ہی تمہاری، یا اس پر تمہارا بھی اتنا ہی حق بنتا ہے جتنا دوسرے کا تو ظاہر ہے کہ میری یہ خاص قسم کی ہچکچاہٹ ختم ہو جائے گی۔ 
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث مبارک میں اسی دکھتی ہوئی رگ پر ہاتھ رکھ کر مسئلے کو جڑ سے پکڑا ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مومن کو یہ نہیں بتا رہے کہ دانائی کی بات کسی سے اگر ملتی ہے تو وہ ہے تو اسی کی مگر تم اسے لے لو، بلکہ آپ یہ فرما رہے ہیں کہ وہ تمہاری ہے، اس لیے اس کے لینے میں تمہیں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ دانائی کی کوئی بھی بات ہو انسان زیادہ سے زیادہ اسے دریافت کرتا ہے اس کا خالق نہیں ہوتا، اسے پیدا کرنے والے کی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے خاص فرد یا خاص قوم کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے پیدا کیا ہے، اس لیے اسے دریافت کرنے والے کو اس دریافت کا کریڈٹ اور صلہ تو ضرور ملنا چاہیے، لیکن اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ دانائی ہے ہی اس دریافت کرنے والی کی، کوئی اور اگر اس سے فائدہ اٹھائے گا تو دوسرے کی چیز سے مستفید ہو کر اس کے مقابلے میں کم تر ہو جائے گا تو یہ غلط فہمی ہوگی۔ اس لیے کہ خالق کائنات نے یہ چیز جن کے لیے بنائی ہے، ان میں صرف اس کو دریافت کرنے والا ہی نہیں، استعمال کرنے والا بھی شامل ہے۔ حاصل یہ کہ مذکورہ بالا قدیم و جدید طبقات کو ایک دوسرے کی بات سننے کا تسلسل جاری رکھنا چاہیے، اپنی ضرورت سمجھ کر کہ ہو سکتا ہے کہ ہماری اپنی متاع دوسرے کے پاس موجود ہو اور اب تک ہم اسے حاصل نہ کر سکے ہوں، یہ ضرورت دونوں طبقوں کی ہے۔ طبقہ علما دیگر طبقات سے بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے اور دیگر طبقات کے سیکھنے کے لیے طبقات علماء کے پاس بھی بہت کچھ موجود ہو سکتا ہے۔ 
یہاں دینی مدارس کے حلقوں کے دو معروف بزرگوں کی مثالیں ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ان میں ایک تو مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی شخصیت ہے جنہیں عموماً بانی دار العلوم دیوبند کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے سوانح قاسمی میں دارالعلوم دیوبند کے جلسہ دستار بندی کے موقع پر دیا گیا مولانا نانوتوی کا ایک خطبہ نقل کیا ہے جس میں انہوں نے اس بات کا اظہار فرمایا ہے کہ ہم نے اپنا نصاب اس انداز سے تشکیل دیا ہے کہ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد طالب علم عصری تعلیمی اداروں کا رخ بھی کر سکے۔ دوسری مثال شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی زندگی کا وہ آخری خطبہ صدارت ہے جو ان کی طرف سے جامعہ ملیہ کے افتتاحی جلسے میں پڑھا گیا تھا۔ اس میں انہوں نے کھل کر اس بات کا اظہار فرمایا ہے کہ جب انہوں نے محسوس کیا کہ جس درد اور فکر کو وہ اٹھائے پھر رہے ہیں، اس میں ان کے ہمنوا بننے والے کالجز اور یونیورسٹیز کی لائن میں زیادہ لوگ مل سکتے ہیں تو انہیں خیال ہوا کہ ایک قدم اس طرف بھی بڑھا کر دیکھ لیا جائے۔ ان دو مثالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دینی مدارس کی لائن کے بزرگوں کے پیش نظر یہ بات نہیں تھی کہ وہ باقی طبقات زندگی سے کٹی ہوئی کوئی مخلوق تیار کریں جو کسی اور کے قریب جانے یا کسی کو اپنے قریب کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ 
تیسری گزارش میں یہاں پر یہ کرنا چاہوں گا کہ ایک دوسرے کی بات سننے اور سنانے کے نتیجے میں جہاں بعض باتوں پر اتفاق رائے ہو سکتا ہے، کئی مشترکہ و متفقہ نکات اور پہلو سامنے آسکتے ہیں یا ایک طبقے کے لوگ دوسرے طبقے کے بعض لوگوں کی کسی بات سے متفق ہو سکتے ہیں، وہیں ایک دوسرے کے نقطہ نظر سے اختلاف بھی ہو سکتا ہے اور اس اختلاف کا اظہار بھی ہو سکتا ہے۔ اتفاق ہو یا اختلاف رائے دونوں کے فوائد ناقابل انکار ہیں، لیکن ماضی میں ایک دوسرے طبقے کے ساتھ تخاطب میں دونوں طرف سے بعض ایسی غلطیاں بھی سرزد ہوئی ہیں جو ایک دوسرے کے قریب ہونے یا کم از کم ایک دوسرے کی بات پر سنجیدہ غور کرنے کی راہ میں حائل ہوگئی ہیں۔ بہت سی جگہوں پر اندازِ بیان حریفانہ ہوگیا ہے جو کہ ظاہر ہے کہ ایک ہی منزل کے راہیوں کے شایان شان نہیں ہے۔ بعض اوقات اندازِ تخاطب میں چبھن یا ایک دوسرے کی تحقیر بھی پیدا ہوگئی۔ مثلاً ایک طبقے کے بعض لوگوں کو کسی قدر استہزا کے انداز میں حالاتِ زمانہ سے ناواقف قرار دیا گیا، دوسرے طبقے کی طرف سے جواب میں پہلے کی نیت یا اسلام سے اس کے لگاؤ ہی پر شک کا اظہار کر دیا گیا، بعض حالات میں ایک دوسرے کی کسی موضوع پر رائے زنی کی اہلیت یا استحقاق ہی کو چیلنج کر دیا گیا گیا جس سے حریفانہ کشمکش میں اضافہ ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں طرف سے ہی اس طرح کے انداز خطاب نے دوریاں اور بد گمانیاں پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے، اگرچہ دونوں طرف سے استثناء ات بھی کم نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں مزید احتیاط کی ضرورت ہے، اس لیے کہ اس طرح کے اختلافی امور پر بات یا تو مباحثے کے لیے ہوتی ہے یا دوسرے شخص کو اپنی بات کا قائل کرنے اور اسے دعوت دینے کے لیے۔ مذکورہ لب و لہجہ دونوں مقاصد کے منافی ہے، خاص طور پر ایک دوسرے کی نیت پر حملہ کرنے یا دوسرے فریق کی اس موضوع پر بات کرنے کی اہلیت ہی کو جلدی سے چیلنج کر دینے کا انداز مطلوبہ نتائج کے لیے بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔ 
ہمارے ایک استاذ حضرت مولانا عبد المجید انور صاحبؒ اپنا ایک لطیفہ نما واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ وہ کہیں سفر کے لیے ویگنوں کے اڈے پر گئے۔ جیسا کہ ہوتا ہے، مختلف ویگنوں اور بسوں والے ان کے پیچھے ہوگئے، کہاں جانا ہے، فلاں جگہ جانے کے لیے فلاں قسم کی سواری بالکل تیار ہے۔ ہر کوئی اپنی گاری کی طرف بلا رہا ہے، مولانا ان کی صداؤں کو نظر انداز کرتے تشریف لے جا رہے ہیں۔ اتنے میں ایک کنڈکٹر ان کے ہاتھ سے بیگ کھینچتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ مولانا اپنے بیگ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے اس سے کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہاں جانا ہے اور کون سی گاڑی پر بیٹھنا ہے۔ وہ کارندہ مایوس ہو کر یہ کہتے ہوئے پیچھے ہٹ جاتا ہے: ’’تسیں مولویاں نے ہی ملک دا بیڑا غرق کیتا اے‘‘ (تم مولویوں نے ہی ملک کا بیڑا غرق کیا ہوا ہے)۔ مولانا فرماتے تھے کہ چونکہ میں اس کی گاڑی میں نہیں بیٹھا، اس لیے صرف میں نہیں، میرے جیسے سارے مولوی ہی ملک کا بیڑا غرق کرنے کے ذمہ دار ہوگئے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہم نے اپنی اپنی ویگنیں اور بسیں بنائی ہوئی ہیں اور جو ہماری بس میں نہ بیٹھے وہ ملک و ملت کا غدار ہے، وہ اس قابل نہیں کہ اس کی بات بھی سنی جائے۔ 
جس طرح میاں بیوی کے درمیان مزاج کی ہم آہنگی کا فقدان ہو تو بھی ایک چیز ایسی ہوتی ہے جو انہیں ایک دوسرے کے قریب رکھتی اور بنا کر رکھنے پر مجبور کرتی ہے، اور وہ چیز ہے ان کی اولاد۔ اس لیے کہ ان کی بہبود دونوں کا مشترکہ مسئلہ اور خواہش ہے، دونوں کا ان کے ساتھ لگاؤ بھی یکساں نوعیت کا ہے۔ جتنا ان کا اولاد کی طرف دھیان رہے گا، اتنا ہی ان کے باہمی اختلاف اور تنازعے میں کمی آئے گی اور جتنی یہ نظروں سے اوجھل ہوگی، اتنی ہی ان کی باہمی کش مکش اپنے اثرات زیادہ دکھائے گی۔ جن طبقوں کی یہاں ہم بات کر رہے ہیں، ان کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ یہاں بھی ایک چیز ایسی ہے جس کی طرف زیادہ توجہ کرنے سے ان دونوں میں قرب بڑھ سکتا ہے، اور وہ ہے امت کی مجموعی مشکلات و مسائل، اسے درپیش چیلنجز اور عام لوگوں کو دین پر عمل کے سلسلے میں پیش آنے والی دشواریاں۔ ان کی طرف توجہ مبذول ہونے کے لیے عملی اور زمینی حقیقتوں کا ادراک ضروری ہے۔ بعض اوقات دونوں طبقوں میں نظری قسم کی بحثیں زیادہ ہوتی ہیں جو انہیں ایک دوسرے سے زیادہ دور لے جاتی ہیں۔ اگر ان نظری بحثوں کے ساتھ عملی حقائق و واقعات اور لوگوں کی مشکلات، کسی خاص پالیسی، قانون یا حکم کے ان کی زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات پر بھی نظر ہو تو یہ چیز ان کے درمیان فاصلے اسی طرح کم کر سکتی ہے جیسے اولاد میاں بیوی کے درمیان۔ 
اس سلسلے میں ہم یہاں مثال دے سکتے ہیں عائلی قوانین پر پچھلی صدی کے پچاس کے عشرے میں شروع ہونے والی بحث کی جس نے اپنی بحثوں کو نظریاتی چیزوں تک ہی محدود رکھا، کسی نے بھی بالتفصیل عملی حقائق معلوم کرنے اور یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ کس طرح کے قانون یا حکم سے لوگوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ بالخصوص عورتوں اور بچوں پر کس صورت پر کیا بیتے گی۔ حکومت کے مقرر کردہ عائلی کمیشن رپورٹ میں قرآن کی تشریح و تعبیر کے لیے نئے اجتہاد کی ضرورت جیسی عمومی بحثوں پر کئی صفحات موجود ہیں، لیکن حیرت کی بات ہے کہ زیر بحث خاندانی مسائل میں امر واقعہ کیا ہے؟ کس مسئلے میں کیا ہو رہا ہے؟ اور اس پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اس بارے میں اعداد و شمار اور معلومات اس رپورٹ میں موجود ہی نہیں اور نہ ہی انہیں اکٹھا کرنے اور میدانی تحقیق (فیلڈ ورک) کرانے کی کوئی ضرورت محسوس کی گئی۔ جب تک معاشرے کے بارے میں جس پر مجوزہ قوانین لاگو ہونے ہیں، درست معلومات موجود نہیں ہوں گی، تب تک یہ فیصلہ کیسے کیا جا سکے گا کہ جو کچھ تجویز کیا جا رہا ہے، اس سے مطلوبہ نتائج برآمد ہوں گے۔ 
مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ آج تک ان مسئلوں پر بحث کسی نہ کسی سطح پر جاری ہے اور اس میں ایک فریق دوسرے کو یہ الزام دے رہا ہے کہ وہ معاشرے کو پیچھے کی طرف لے جانا چاہتا ہے اور دوسرا پہلے کو یہ الزام کہ وہ مطلوبہ رفتار سے زیادہ تیزی کے ساتھ آگے کی طرف بڑھ رہا ہے اور یہ کہ یہ تیز رفتاری خطرناک ہو سکتی ہے، لیکن معاشرے میں کیا ہو رہا ہے، کن کن علاقوں میں کتنے فیصد بچپن کے نکاح ہو رہے ہیں؟ ان کے محرکات اور عوامل کیا ہوتے ہیں؟ ان میں کتنے نکاحوں میں رخصتی تک نوبت پہنچتی ہے اور کتنوں میں رخصتی سے پہلے ہی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں؟ رخصتی ہو جانے کے بعدان میں کتنے فیصد نکاح کامیاب ثابت ہوتے ہیں؟ یا مثلاً ہماری عورتیں خلع یا فسخِ نکاح کا دعویٰ لے کر عدالتوں میں آتی ہیں، اس کی وجوہات عموماً کیا ہوتی ہیں؟ وکیل کے تیار کیے ہوئے کیس اور حقیقی وجوہات میں کتنی یکسانیت ہوتی ہے؟ کتنے فیصد مقدمات میں واقعی بیوی اپنے خاوند سے علیحدگی چاہتی ہوتی ہے اور کتنے فیصد کیسوں میں وہ اپنے خاندان کی انا کی بھینٹ چڑھ کر دباؤ کے تحت عدالت میں بیان دے رہی ہوتی ہے؟ میاں بیوی کے درمیان تفریق کے بعد کیا ہوتا ہے اور کسے کس طرح کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے؟ اس طرح کے بے شمار سوالات ہیں جن کے بارے میں قابل اعتماد اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، حالانکہ آج شماریات کا دور ہے، ہر کامیاب پالیسی کے پیچھے میدانی تحقیق (field research)، مصدقہ سروے اور اعداد و شمار ہوتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جدت پسندی کا دعویٰ کرنے والوں کو بھی اس طرح کے مسائل میں امرِ واقعہ جاننے اور اس کے لیے سائنٹیفک انداز اپنانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ حکومتی وسائل کے ساتھ اسلام پر کام کرنے والے اداروں نے اس طرح کا کام کروانے کی غالباً کبھی ضرورت محسوس نہیں کی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جدید دینی موضوعات پر ہماری بحثوں اور تحقیقات کی نوعیت نظری زیادہ اور عملی کم ہے، حالانکہ سائنسی انداز سے سامنے لائے جانے والے حقائق کا نہ تو انکار ممکن ہوتا ہے اور نہ کوئی اس سے صرف نظر کر سکتا ہے، ہم عملی صورت حال اور جیتی جاگتی زندگی سے جتنا متعلق ہوں گے، اتنا ہی ایک دوسرے کے قریب ہوں گے۔
بہرحال ہم آہنگی کی اساس یہی ہے کہ ایک دوسرے کی بات کو سنا اور سنایا جائے، اس پر غور کیا جائے۔ الحمد للہ آج کی صورت حال گزشتہ ایک آدھ عشرے کے مقابلے میں خاصی بہتر ہے۔ کئی ایسے فورم موجود ہیں جہاں دونوں طبقے کے لوگ اکٹھے ہوتے اور ایک دوسرے کی بات سنتے ہیں اور ایسے ہر پروگرام کے بعد ہر طبقے کے شرکا اس کی افادیت اور اس طرح کے پروگرام مزید ہونے کی ضرورت کا اعتراف کرتے ہیں۔ ’’سرسٹ‘‘ بھی اسی نوعیت کی اچھی کوشش ہے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے زیادہ سے زیادہ بار آور بنائیں۔ آمین۔ 
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
(بشکریہ مجلہ ’’سائنس ریلیجین ڈسکورس‘‘ ۲۰۱۰ء)

شعبہ اسلامیات، جامعہ پنجاب کا علمی کام

پروفیسر خالد ہمایوں

۸ فروری کو میرا ایک کالم ’’دور جدید کے تقاضے اور شعبہ اسلامیات پنجاب یونیورسٹی‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس میں، میں نے شعبہ کے اساتذہ کی تصانیف کی فہرست پیش کی تھی اور ساتھ عرض کیا تھا کہ اس میں سوائے ایک کتاب (یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ) کے کوئی دوسری کتاب ایسی نظر نہیں آتی جس میں ہمارے سماجی اور ریاستی نظام کو زیر بحث لایا گیا ہو۔ ماضی بعید یا قریب کے کسی مفسر، کسی محدث، کسی سیرت نگار اور کسی فقیہ کو تحقیق کا موضوع بنانا بھی بلا شبہ بہت اہم کام ہے۔ آخر ہم اپنے کلاسیکی دینی لٹریچر کو کیسے فراموش کر سکتے ہیں، وہ تو ہماری تہذیبی زندگی کی اساس ہے، لیکن میرے نزدیک اساتذہ کرام کی یہ روش کسی طرح بھی موزوں و مناسب نہیں کہ وہ آج کی پر مسائل اور پر مصائب زندگی سے آنکھیں پھیر لیں۔ اگر ہم اسلام کو زندگی کی تمام اطراف کے لیے راہنما دین مانتے ہیں تو پھر اس کی تشریح و توضیح عہد جدید کے تقاضوں کے مطابق کیوں نہ کریں۔ 
اساتذہ کرام کی کتابوں کے بعد جب مجھے شعبہ اسلامیات کے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات کی فہرست دیکھنے کا اتفاق ہوا تو سچی بات ہے میرا دل امید کی روشنی سے بھر گیا۔ یوں لگا جیسے راکھ میں ابھی کچھ چنگاریاں باقی ہیں۔ مذکورہ فہرست شعبہ کے اساتذہ ہی نے ترتیب دی اور شعبہ ہی نے اس کی اشاعت کا اہتمام کیا ہے۔ اس کا پہلا ایڈیشن 1990ء میں منظر عام پر آیا تھا، تب سے آج تک اس کے چھ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے علمی برادری میں بہت پذیرائی ملی ہے۔ یقیناًدیگر یونیورسٹیوں اور علمی اداروں میں اس سے بہت کچھ استفادہ کیا گیا ہوگا۔ طبع سوم میں فاضل مرتبین نے تعارفی نوٹ میں لکھا: ’’مقالات کے لکھوانے کا مقصد جہاں طلبہ و طالبات کی تخلیقی و تحقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے، وہاں اہم عصری و تہذیبی مسائل پر قرآن و سنت اور عصری علوم کی روشنی میں معاشرے کی رہنمائی بھی کرنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ تحقیقات محض لائبریریوں کی زینت نہ بنی رہیں بلکہ اہل علم و محققین اور معاشرے کے دیگر طبقات کے سامنے بھی لائی جائیں تاکہ وہ اس سے رہنمائی حاصل کریں۔ مذکورہ فہرست کا ایک مقصد ارباب دانش کو اس تحقیقی کام کی اہمیت و افادیت کی طرف توجہ دلانا ہے۔‘‘
مذکورہ فہرست کے مطابق 1952ء سے 2009ء تک ایم اے کے 1634، ایم فل کے 88 اور پی ایچ ڈی کے 175 مقالات لکھے گئے ۔۔۔ (معلوم نہیں سرورق پر 2010ء - 1952ء کا دورانیہ کیوں ظاہر کیا گیا ہے) ۔۔۔ ایم اے کے بعض مقالات پنجاب یونیورسٹی سے ملحقہ کالجوں میں بھی لکھے گئے، لیکن مرتبین نے پیش لفظ میں یہ وضاحت نہیں دی۔ یہ وضاحت نہ دینے سے یوں لگتا ہے جیسے ایم اے کے تمام مقالات شعبہ ہی کے طلبہ و طالبات نے لکھے ہیں ۔۔۔ ’’فہرست مقالات‘‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم بے شمار ایسے عنوانات سے متعارف ہوتے ہیں جن کا تعلق آج کے دور سے ہے۔ بعض مقالات کتابی صورت میں بھی اہل علم تک پہنچے ہیں۔ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں اساتذہ کے تصنیفی سرمایے پر جو اظہار خیال کیا تھا تو اس کا مقصد خدانخواستہ ان کے مقام و مرتبے کو گھٹانا نہ تھا بلکہ توجہ دلانا تھا کہ وہ معاصر ملی و عالمی مسائل کو بھی موضوع تحقیق بنائیں۔ فہرست مقالات نے شہادت دی ہے کہ اساتذہ کرام نے اپنے شاگردوں سے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی ، تینوں سطحوں پر ایسے موضوعات پر بہت کام کروایا ہے۔ اس حوالے سے اُن کی مساعی یقیناًقابل قدر ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں اور زیادہ توفیق عطا کرے۔ یہاں گنجائش تو نہیں کہ مختلف النوع موضوعات پر لکھے گئے سبھی مقالات کا تعارف کرایا جائے، البتہ ایسے عنوانات کی فہرست قارئین کی نذر کی جاتی ہے جس میں قارئین ملی و ملکی اور عالم اسلام کے جدید ترین مسائل پر ہونے والے کام سے تعارف حاصل کر سکتے ہیں۔ 

ایم اے کے مقالات: 

اسلام میں انشورنس کی اہمیت اور پاکستان میں اس کے نفاذ کی تدابیر، موجودہ دور کی تعلیم یافتہ مسلمان عورت کی الجھنیں اور ان کا حل، پاکستان کی نسوانی تحریکیں، ٹیکس کا موجودہ نظام اور زکوٰۃ، سینما کی شرعی حیثیت، موجودہ جہیز۔ ایک غیر اسلامی معاشرتی خرابی، یونیورسٹی میں پردے کا مستقبل، میثاق استنبول، موجودہ مسلمان معاشرے میں لڑکی کی حیثیت، پاکستان کی دینی جماعتوں کا مختصر جائزہ، اسلام اور بہبودئ اطفال، دور حاضر میں عورت کی ملازمت کا مسئلہ، پاکستانی معیشت میں بلاسودی اسکیم کے نفاذ کا جائزہ، نجی سرمایہ کاری کے اسلامی اصول و ضوابط، شریعت بل، الجہاد فی افغانستان، پاکستانی معاشرے پر تہذیب جدید کے اثرات، انشورنس اور اسلام، پاکستان میں بے روزگاری کے عوامل اور اسلام کی روشنی میں انسداد، پاکستان میں نظام سرمایہ داری اور اسلام میں کشمکش، پاکستان میں نظام ٹیکس اور اسلام کے حوالے سے ناقدانہ جائزہ، عصر حاضر میں نابینا افراد کی بحالی اور اسلام، سقوط ڈھاکہ کے نظریاتی اسباب، قرآن و سنت کی روشنی میں مصوری اور مجسم سازی، اعضاء کی پیوند کاری اور انتقال خون، آئین 1973ء کی 8ویں ترمیم، منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحانات، انتظامیہ اور عدلیہ کی علیحدگی کا عصری اور اسلامی تصور، ٹیسٹ ٹیوب کی شرعی حیثیت، تعلیمی پالیسی 1978ء کا تنقیدی جائزہ، پاکستان میں نظام انتخابات، حدود آرڈیننس کا جائزہ، نفسیاتی طریقۂ علاج۔ ایک جائزہ، نیو ورلڈ آرڈر، سانحہ بابری مسجد، نئی نسل کے مسائل، بچوں کی جبری مشقت، حقوق نسواں کی تحریکیں، شیئرز، پرائز بانڈ اور انعامی سکیمیں، مسئلہ ربا اور عصری تفاسیر، سٹاک ایکسچینج، موجودہ دور کے نفسیاتی مسائل، تعلیم یافتہ عورت کے مسائل، معاشی بدحالی کے اسباب و اثرات، کلوننگ کی شرعی حیثیت، دست شناسی، موجودہ نظام وکالت، پاکستان میں جاگیرداری نظام، عائلی زندگی کے مسائل، امریکہ اور اقوام متحدہ کے تعلقات عالم اسلام کے تناظر میں، طالبان کی بت شکنی، این جی اوز کا کردار، جیلوں میں دعوت و اصلاح کے امکانات، خاندانی منصوبہ بندی، فدائی حملے، 11 ستمبر 2001ء کا بحران، جرائم کی صورت حال، خواتین کی تفریحی سرگرمیاں، افغانستان پر امریکی حملے کے مضمرات، ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل، الیکٹرانک میڈیا میں دینی پروگرامات، طلاق کے موجودہ رجحانات، بینکاری میں لیزنگ، بھارتی اقلیتوں کی حالت، دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم، گلوبلائزیشن کے اثرات و نتائج، گداگری، زیردست لوگوں کی معاونت، سود کی جدید صورتیں، تعین اجرت کے اصول، طالبان کا نظام حکومت اور کوٹ میرج۔

ایم فل کے مقالات: 

عصر حاضر میں دین کی تفہیم۔ فکر مودودی کا مطالعہ، پاکستان میں دینی یکجہتی کے لیے کی گئی کاوشیں، عصری معاشری مسائل، بیسویں صدی کے اردو فتاویٰ کا تحقیقی و تقابلی مطالعہ، پاکستان میں غیر مسلموں کو دعوت دین۔ طریق کار اور عصری تقاضے، دینی مدارس کا نصاب تعلیم۔ عصری مسائل اور تقاضے، مختلف تجارتی صورتیں اور ادائیگی زکوٰۃ کا طریق کار، عالمی اقتصادی نظام کی تشکیل نو اور اسلامی تعلیمات، مغرب کی تہذیبی و ثقافتی یلغار۔ ذرائع ابلاغ کا کردار، اسلام میں عورت کی وراثت۔ عصری قوانین اور عملی صورت حال، پاکستان میں غیر مسلم اقلیتیں، پاکستان میں عدالتی بحران، پاکستان میں اسلامی بینکاری، کیرن آرمسٹرانگ کا اسلوب مطالعہ، غاصب حکمران کی حکمرانی کا مسئلہ، عالم اسلام کے قدرتی وسائل کے عالمی سیاست پر اثرات، پاکستان کا معاشی بحران اور اس کا اسلامی حل، سود سے متعلق عملی مسائل اور علمائے پاکستان،غلبۂ دین۔ تصور طریقہ کار اور عصر حاضر، معاشرتی اقدار پر ذرائع ابلاغ کے اثرات۔
آخر میں پی ایچ ڈی کی سطح کے تحقیقی کام میں سے اس حصے کو ملاحظہ فرمائیے جس میں دور جدید کے مسائل و افکار پر داد تحقیق دی گئی ہے: اسلامی قانون میں نظریۂ ضرورت کی اہمیت، مالدیپ کی مضاربت اور ادب پر اسلام کے اثرات، معاشرتی بہبود کا تصور، اسلام اور عصری افکار کی روشنی میں، افواج پاکستان کی دینی و نظریاتی تربیت، عورت کی حکمرانی قرآن و سنت اور عصر حاضر کے تناظر میں، فقہ حنفی میں مزارعت و مساقات برصغیر کے تناظر میں، پاکستان میں نفاذ اسلام کی کوششوں کا تنقیدی جائزہ، خانقاہی نظام کے اجتماعی زندگی پر اثرات، برصغیر کی خواتین کے مسائل اور ان کا حل۔کتب فتاویٰ کی روشنی میں، عصر میں سربراہ مملکت کے مالیاتی اختیارات قرآن و سنت کی روشنی میں، عصر حاضر کی جہادی تحریکات کے اثرات، عالمی اقتصادی صورت حال اور گردش دولت کے اسلامی اصول، جدید طبی سائنسی مسائل کے بارے میں اسلام کا نقطۂ نگاہ، حرام حیوانی اجزاء کے استعمالات اور فقہ اسلامی، عصری اسلامی مملکت کی خارجہ پالیسی۔
فہرست کے مرتبین نے لکھا ہے کہ ’’ہم نے شعبے کی طرف سے ہونے والے تحقیقی کام کی اشاعت کے لیے بعض علمی اداروں سے تعاون کی درخواست کی تو صرف ایک ادارے کی معاونت سے صرف ایک مقالہ کتابی صورت میں چھپ سکا۔‘‘ یہ ہماری تہذیبی زندگی کا بہت بڑا المیہ ہے کہ ایسے کاموں کی اشاعت میں نہ مخیر حضرات تعاون پر آمادہ ہوتے ہیں نہ ادارے ہی اس کار خیر کو درخور اعتنا سمجھتے ہیں۔ اسی سے اندازہ لگا لیجیے کہ ہم اجتماعی سطح پر علم کی قدر و قیمت سے ابھی تک کتنے بے خبر اور لا پروا واقع ہوئے ہیں۔ ہمارا کھاتا پیتا طبقہ فقط مسجدیں بنوانے یا مالی صدقہ و خیرات ہی کو کار ثواب سمجھتا ہے۔ ہمارے روایتی علما کی جامد سوچ کی وجہ سے ہماری قوم ابھی تک علمی تحقیق کو عبادت کے زمرے میں شمار نہیں کرتی۔
مجھے امید ہے کہ اس کالم سے میرے ان شکوہ سنج احباب کی تالیف قلب ہو جائے گی جن کا خیال ہے کہ میرے گزشتہ کالم سے اساتذہ کا امیج خراب ہوا ہے۔ یہ بہت غنیمت ہے کہ اساتذہ نے طلبہ و طالبات کو عصری تقاضوں کے مطابق موضوعات بھی دیے اور ان کی مناسب رہنمائی بھی کی۔ ان کا یہ رویہ یقیناًہماری تہذیبی و ثقافتی زندگی میں تبدیلی پیدا کرنے کا سبب بنے گا، ان شاء اللہ۔ 
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
(بشکریہ روزنامہ پاکستان، لاہور)

’’کافروں‘‘ کے دفاع میں جہاد

جان کائزر

(یہ مصنف کی کتاب ’’امیر عبد القادر الجزائری: سچے جہاد کی ایک داستان‘‘ (شائع کردہ: دار الکتاب، اردو بازار، لاہور) کا ایک باب ہے جو ۱۸۶۰ء میں دمشق میں رونما ہونے والے مسلم مسیحی فسادات کے دوران میں الجزائر کے مشہور مجاہد آزادی امیر عبد القادر کے جرات مندانہ کردار پر روشنی ڈالتا ہے۔ اسے سانحہ بادامی باغ لاہور اور اس جیسے دوسرے شرم ناک واقعات کے تناظر میں یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)

ہر طرف بہت بری افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ تفصیلات بہت کم دستیاب تھیں، لیکن جب اڑتی اڑتی کچھ باتیں امیر کے کانوں تک پہنچیں تو وہ لرز کر رہ گیا۔ عیسائیوں کو اپنے کیے کا پھل بہت جلد ملنے والا تھا۔ ۵ مارچ ۱۸۶۰ء کو دمشق کے گورنر احمد پاشا نے اپنے محل میں کئی مقامی رہنماؤں کی میٹنگ طلب کی جس کے بارے میں بعد میں پتہ چلا کہ اس کا مقصد ’’ذمہ‘‘ کا قانون ختم کرنے والی اصلاحات کو بے اثر کرنا تھا۔ جن لیڈروں کو اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا، ان میں دو دروز سرداروں سعید بے جنبلاط اور ولد العطرش کے علاوہ دمشق کے مفتی بھی شامل تھے۔ دروزوں نے لبنان میں پہلا مرحلہ مکمل کرنا تھا جہاں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان ٹیکسوں اور مساوی حقوق کی نئی اصلاحات پر پہلے ہی ہر روز فسادات ہو رہے تھے۔ دمشق کا دھیان رکھنا احمد پاشا نے اپنے ذمے لیا تھا۔ اگر دمشق میں شورش کا آغاز ہوا تو ان کا خیال تھا کہ درستی کا عمل خود بخود حمص، حلب، لاذقیہ اور ایسے دیگر علاقوں تک پھیل جائے گا جہاں عیسائی آبادی رہتی ہے۔
عبدالقادر نے فرانس کے قائم مقام قونصلرلانوزے سے ملاقات کی۔ لانوزے ماہر عربیات تھا اور امیر کے فرانسیسی مداحوں کے غیر سرکاری ’’حلقہ قادریہ‘‘ کا رکن تھا۔ اسے امیر پر اتنا اعتماد تھا کہ اس نے فوراً دیگر ممالک کے سفیروں کو اکٹھا کرکے میٹنگ کی اور سب نے احمد پاشا سے مل کر زیر گردش افواہوں کے بارے میں براہ راست بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ پرسکون تاثرات والے گورنر نے بڑے وقار سے ان کا خیر مقدم کیا اور انہیں یقین دلایا کہ ساری افواہیں بے بنیاد ہیں۔ اس کی فوج عیسائیوں کی حفاظت کرے گی اور وہ اس پر پورا بھروسہ کر سکتے ہیں۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔ سارے سفیر مطمئن ہو کر واپس چلے گئے۔ احمد پاشا نے فوراً دروز سرداروں کو پیغام بھیجا کہ منصوبے پر عمل درآمد فی الحال ملتوی کر دیا جائے۔ 
مئی کے ابتدائی دنوں میں عبدالقادر کو نئی اطلاع ملی کہ عیسائیوں کے خلاف سازش کا بازار ایک پھر گرم ہو گیا ہے۔ اس بار اطلاع دینے والے خود اس کے الجزائری لوگ تھے جن میں سے کچھ لوگوں سے اس سازش میں شامل ہونے کو کہا گیا تھا۔ عبدالقادر نے ان سے کہا کہ وہ منصوبہ بندی کرنے والوں میں شامل ہو جائیں اور اسے حالات سے باخبر رکھیں۔ امیر ایک بار پھر لانوزے کے پاس گیا۔ تھوڑی سی تگ ودو کے بعد لانوزے سفیروں کو اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوگیا تاکہ عیسائیوں کے قتل عام کی نئی سازش پر بات کی جائے۔ وہ سب دوسری بار گورنر سے ملنے سے ہچکچا رہے تھے کیونکہ ایسا کرنا گورنر کی نیک نیتی پر شک کرنے کے مترادف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگراس طرح کا کوئی منصوبہ تھا بھی تو وہ یقیناًپہلے ہی رفع دفع ہو چکا ہے، لیکن لانوزے کی دلیل یہ تھی کہ اگر ان سب کی سوچ غلط ہوئی اور واقعی اس طرح کا واقعہ رونما ہوگیا تو پھر؟ گورنر سے دوسری بار ملاقات کے لیے جانے کی شرمندگی ہمیشہ رہنے والے اس پچھتاوے سے کم ہوگی جو اس کے خدشات درست ثابت ہونے کی صورت میں ملے گا۔ فرانسیسی قونصلرکی دلیل کام کر گئی اور گورنر کے ساتھ دوبارہ ملاقات کا اہتمام ہوگیا۔ اپنے شائستہ اور ملنسار رویے سے احمد پاشا نے ایک بار پھر سفیروں کو تسلی وتشفی دے کر مطمئن کرکے رخصت کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی ساز باز میں شریک ساتھیوں کو منصوبے پر عملدرآمد مزید مؤخر کرنے کا پیغام بھی بھیج دیا۔
جب ایسی اطلاعات آئیں کہ دروز گھڑ سوار دمشق کی حدود سے باہر موجود عیسائی بستیوں میں لوٹ مار کر رہے ہیں تو عبدالقادر نے دروز سرداروں کو خط لکھ کر انہیں پرسکون رہنے اور احتیاط سے کام لینے کی ترغیب دی۔ اس نے لکھا تھا: ’’اس طرح کی حرکتیں ایک ایسی کمیونٹی کو زیب نہیں دیتیں جو اپنی خوش خلقی اور دانش کی وجہ سے مشہور ہے۔‘‘ امیر نے دروزوں اور عیسائیوں کے درمیان پرانی دشمنی کی موجودگی کو تسلیم کیا اور لکھا کہ اسے گمان ہے کہ حکومت لبنان میں ہونے والی غلط کاریوں کی ساری ذمہ داری دروزوں پر نہیں ڈالے گی، لیکن جہاں تک دمشق کا تعلق ہے، امیر نے انہیں خبردار کیا کہ ’’اگر آپ ایک ایسے شہر کے باسیوں کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کریں گے جس کے ساتھ آپ کی کبھی بھی دشمنی نہیں رہی تو مجھے ڈر ہے کہ اس کا نتیجہ ترک حکومت کے ساتھ شدید بگاڑ کی صورت میں نکلے گا۔ ہم آپ کی اور آپ کے ہم وطنوں کی خیر وعافیت کے بارے میں فکر مند ہیں۔ .....دانش مند شخص پہلا قدم اٹھانے سے پہلے ہی اس کے عواقب کا اندازہ لگا لیتا ہے۔‘‘ امیر نے دمشق میں موجود علما اور اہم مسلم شخصیات کو بھی خطوط لکھے اور ان پر زور دیا کہ وہ معصوم لوگوں کو نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں۔ امیر نے انہیں یہ بھی یاد دلایا کہ اقلیتوں بالخصوص اہل کتاب کو تحفظ فراہم کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔
مئی کے آخری دنوں میں ساری معلومات سمیت امیر ایک بار پھر لانوزے کے پاس پہنچ گیا۔ کوئی طوفان ضرور اٹھنے والا تھا۔ اس بار امیر کے پاس بالکل درست تفصیلات تھیں۔ یہ پتہ چلا تھا کہ احمد پاشا پہلے بھی ایک بار دمشق میں عیسائیوں کے خلاف کارروائی کی کوشش کر چکا تھا، لیکن مقامی رہنماؤں کی مخالفت کی وجہ سے اسے ارادہ ترک کرنا پڑا۔ منصوبہ یہ بنایا گیا تھا کہ ترک عیسائیوں کی جان ’’بچانے‘‘ کے لیے آئیں گے اور انہیں ’’حفاظت‘‘ کے لیے قلعے میں لے جایا جائے گا جہاں سازش میں شریک دروز انہیں قتل کر دیں گے۔ فرانسیسی قونصلرکے سفارت کار ساتھیوں کے پاس گورنر سے ایک بار ملاقات کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ لانوزے امیر کی تازہ ترین معلومات کو بہرحال اتنی سنجیدگی سے ضرور لے رہا تھا کہ اس نے اپنا سارا کیرئیر داؤ پر لگا دیا تھا۔ 
اس وقت فرانسیسی سفارت کاروں کو اجازت تھی کہ کوئی سنگین صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہو تو وہ جتنا چاہے قرض لے لیں۔ لانوزے نے عبدالقادر کے ساتھ اس پر اتفاق کیا کہ اس کے ایک ہزار الجزائری ساتھیوں کو مسلح کر دیا جائے۔ اس کے لیے اس نے استنبول میں اپنے سفیر سے منظوری بھی نہیں لی جس کے مشیر ان افراد کو مسلح کرنے کے معاملے میں متذبذب تھے کیونکہ ان کے خیال میں یہ آدمی جتنی شدت کے ساتھ امیر سے محبت کرتے تھے، اتنی ہی شدت کے ساتھ فرانسیسیوں سے نفرت بھی کرتے تھے۔ 
دمشق سے باہر مقیم سات سو مسلح الجزائری افراد چھوٹے چھوٹے گروہوں کی شکل میں شہر کے اندر آکر ان تین سو لوگوں کے ساتھ شامل ہو گئے جو پہلے ہی شہر کے اندر رہ رہے تھے۔ امیر پر اعتبار کرتے ہوئے لانوزے نے انہیں انتہائی خفیہ طور ہر وہ ہتھیار رکھنے کی اجازت دے دی جسے رکھنا ممکن تھا۔
فرانسیسی قونصل نے ایک بار پھر گورنر سے ملاقات کی اور اس مرتبہ وہ اکیلا ہی اس سے ملنے گیا۔ لانوزے نے گورنر پر یہ واضح کیا کہ اسے سب پتہ ہے کہ کیا ہونے والا ہے اور یہ کہ یورپی قوتیں اس ساری کارروائی کا ذمہ دار احمد پاشا کو ٹھہرائیں گی۔ اس گفتگو کے ترک گورنر پر خاطر خواہ اثرات مرتب ہوئے اور اس نے ولد العطرش اور سعید بے جنبلاط کو ایک اور پیغام بھیجا جس میں سارے منصوبے کو ختم کرنے کا حکم دیا، لیکن اب بہت دیر ہو گئی تھی۔ دونوں سردار پہلے ہی سازش پر عملدرآمد کا آغاز کر چکے تھے۔
احمد پاشا نے اپنے حصے کا کردار تین ہفتے کی تاخیر سے ۸جولائی کو ادا کیا۔ چند مسلمان لڑکوں نے دمشق کی عیسائی بستیوں کے قریب سڑک پر صلیب اور مذہبی پیشوا کے عمامے کی تصویریں بنا کر پہلے ان پر تھوکا اور پھر کوڑا کرکٹ پھینکا۔ عیسائیت کی سر عام توہین کرنے پر احمد پاشا نے ان کے لیے ایسی سزا تجویز کی جس سے صورتحال پر کڑی نظر رکھنے والی یورپی طاقتوں کو یہ ثبوت ملتا کہ اصلاحات کے مطابق مسلمانوں سے اپنے عیسائی بھائیوں کا جس طرح احترام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، اس پر عمل ہو رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اسے یہ بھی یقین تھا کہ اس فیصلے سے مسلمانوں میں شدید غم وغصے کی لہر پیدا ہوگی جو پہلے ہی اپنے داخلی معاملات میں مداخلت کی بنا پر یوریی ممالک سے نفرت کرتے تھے۔
نو جولائی کو مجرموں کی، جن کی حیثیت احمد پاشا کی ساری منصوبہ بندی میں چھوٹے مہروں سے زیادہ نہیں تھی، سرعام پٹائی کرنے کا حکم دیا گیا اور پھر انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ ہاتھوں اور پیروں کے بل چلتے ہوئے ان سڑکوں کو اچھی طرح دھوئیں جن پر انہوں نے غلاظت پھینکی تھی۔ باقی سارا کام اشتعال انگیز عناصر نے خود کر دیا۔

امریکی نائب قونصل اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا۔ عینی شاہدین نے ساٹھ سالہ گول مٹول مائیکل مشاگا کو دیکھا کہ جب اس کا تعاقب کرنے والے بہت نزدیک پہنچ جاتے تو وہ ان کی توجہ بٹانے کے لیے زمین پر سکے اچھال دیتا۔ اس صورتحال میں وہ اکیلا نہیں تھا بلکہ سارے یورپی سفارت کاروں کی رہائش گاہیں اور سفارتخانے ہجوم کے غیظ وغضب کا پہلا ہدف تھے۔
لیکن مشاگا حقیقت میں امریکی نہیں تھا۔ وہ لبنانی پادری تھا جو شام میں پروٹسٹنٹ امریکی مشنریوں کا حامی بن گیا تھا۔ اس کی پیدائش یونانی کیتھولک چرچ میں ہوئی تھی، لیکن وہ اس کی تنگ نظری اور کرپشن سے نالاں تھا۔ اڑتالیس سال کی عمر میں مشاگا نے پروٹسٹنٹ مسلک اپنا لیا اور لاطینی چرچ کے لیے اپنی ناپسندیدگی کی وجہ سے ’’مشرق کا لوتھر‘‘ کے نام سے معروف ہوگیا۔ سفارت کار اور سیاستدان اس کی زبان دانی اور مختلف گروہوں مثلاً دروز، علاوی، یہودی، آرمینیائی، شیعہ، زرتشتی، قطبی، یہاں تک بعض یونانی اور لاطینی عیسائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی بنا پر مشاگا کی بہت قدر کرتے تھے۔ اپنی اچھی ساکھ اور وسیع علم کی وجہ سے امریکہ نے اسے وہاں اپنا قونصل مقرر کیا تھا، لیکن یہ قدر ومنزلت تو اب اس کی جان کے درپے ہوگئی تھی۔
مشاگا نے اس وقت راہ فرار اختیار کی جب مشتعل ہجوم نے اس کے گھر پر حملہ کر دیا۔ عبدالقادر سے راہ ورسم رکھنے والے بہت سے دیگر سفارت کاروں کی طرح مشاگا نے بھی عیسائی علاقوں سے ملحق امیر کی رہائش گاہ کا رخ کیا۔ پچھلے پانچ سال کے دوران امیر اور مشاگا اچھے دوست بن گئے تھے۔ دونوں میں بہت سی دلچسپیوں کے اشتراک کے علاوہ عقیدے، استدلال اور خدا کو ماننے کے طریقوں میں تنوع کے معاملات میں بھی انداز فکر ایک ہی جیسا تھا۔ امیر کی طرح مشاگا کا علم بھی بہت وسیع تھا۔ وہ ایک میڈیکل ڈاکٹر بھی تھا، مذہبی اسکالر، ریاضی دان، موسیقار اور شوقیہ ماہر فلکیات بھی۔
مشاگا امیر کی رہائش گاہ کی طرف بھاگا جا رہا تھا اور ہتھیار لہراتا ہوا ہجوم اس کے تعاقب میں تھا۔ مشاگا نے وہاں پہنچ کر زور زور سے دروازہ دھڑ دھڑایا، لیکن جتنی دیر میں امیر کے ایک ملازم نے دروازہ کھول کر اسے اندر کھینچا، ایک درانتی اس کا کان چیرتی ہوئی نکل گئی۔ 
اندر پہنچ کر مشاگا نے دیکھا کہ امیر کی بیوی خیرا شدید خوفزدہ لوگوں کے ایک چھوٹے سے ہجوم کی بڑے پرسکون انداز میں تواضع کر رہی ہے جیسے وہ چائے کی دعوت پر آئے ہوں۔ البتہ انہیں وہاں کھانے کے لیے کھیرے اور روٹی پیش کی جا رہی تھی۔
لیکن نو جولائی کی صبح عبدالقادر کہاں تھا؟ ایک روز پہلے وہ گھوڑے پر سوار ہو کر شہر سے باہر اپنی جاگیر پر گیا تھا اور اس نے فوراً دمشق واپس پہنچنے کے پیغامات کا بھی کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ جب شہر میں کشیدگی بڑھ رہی تھی اور اس کا وہاں موجود ہونا اشد ضروری تھا تو پھر وہ شہر سے کیوں گیا؟
کیا یہ محض اتفاق تھا؟ یا پھر فرانسیسی قونصل کے ساتھ کی گئی کوئی ساز باز جس کا مقصد چند معصوم جانوں کی قربانی دینا تھا، جیسا کہ بعد میں کچھ لوگوں نے خیال ظاہر کیا؟ دونوں باتیں قرین قیاس نہیں لگتیں۔ چرچل نے اس کی غیر موجودگی کی بڑی قابل تعریف وضاحت پیش کی تھی۔ عبدالقادر کو پتہ چل گیا تھا کہ عیسائیوں کو حفاظت کے بہانے قلعے میں لے جا کر قتل کرنے کے منصوبے کی افواہیں درحقیقت درست تھیں۔ جب اسے یہ اطلاع ملی کہ دروز کیولری دمشق کی جانب بڑھ رہی ہے تو امیر نے اپنے بیٹوں محمد اور ہاشم کو ساتھ لیا اور دروزوں کا راستہ روکنے کے لیے گھوڑوں کو ایڑ لگائی۔ صحنایا کے نزدیک واقع اپنی حوش بلاس کی جاگیر سے عبدالقادر دروزوں کو بہتر طور پر روک سکتا تھا۔ اشرفیہ کے نزدیک امیر نے دیکھا کہ دروز سردار، احمد پاشا کی طرف سے شہر میں داخل ہونے کا اشارہ ملنے کے منتظر کھڑے تھے۔ وہاں امیر کی ان کے ساتھ دیر تک گفت وشنید ہوتی رہی جس کے بعد دروز اپنا گھناؤنا منصوبہ ترک کر کے واپس لوٹ گئے۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ امیر نے دروزوں کو کس ہتھیار سے زیر کیا ہوگا۔ جلد ہی یہ ہتھیار اسے اپنے ساتھیوں پر بھی آزمانا تھا۔ یہ ہتھیار تھا اس کا الوہی قانون اور جنت کا حقدار بننے کی شرائط کے بارے میں اس کا وسیع علم!

دس تاریخ کی سہ پہر کو دمشق واپسی کے بعد عبدالقادر سب سے پہلے عیسائیوں کے علاقے میں قائم فرانسیسی سفارتخانے گیا جہاں امیر کا آغا قارہ محمد اور چالیس سے زائد مسلح الجزائری لانوزے ارو اس کے عملے کی حفاظت کر رہے تھے۔ یہ انتظام امیر نے کسی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر پہلے ہی کر دیا تھا۔ اپنے فرانسیسی سرپرستوں کی سلامتی کے بارے میں مطمئن ہونے کے بعد امیر دمشق کے مفتی کے پاس گیا تاکہ اسے اپنے اور اس کے مذہب اسلام کا واسطہ دے کر عیسائیوں کا تحفظ کرنے کی ذمہ داری پوری کرنے پر قائل کرے، لیکن جب وہ وہاں پہنچا تو ملازمین نے بتایا کہ مفتی موصوف سو رہے ہیں اور انہیں بے آرام نہیں کیا جا سکتا۔
تب ہی عبدالقادر کو یہ بھی پتہ چل گیا کہ جن ترک دستوں کو عوام کا تحفظ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، انہیں فصیل کے اندر ہی رہنے کا حکم دیا گیا تھا اور فسادات کے دوران جب گھروں کو جلایا اورعیسائیوں کو قتل کیا جا رہا تھا تو وہ خاموش بیٹھے تماشا دیکھ رہے تھے۔ عبدالقادر جب واپس فرانس کے سفارتخانے پہنچا تو دیکھا کہ اس کا گھیراؤ کرنے والا ہجوم مزید بڑا اور خطرناک ہو گیا ہے۔ اس پر عبدالقادر نے لانوزے کی حفاظت کا ذمہ اپنے اوپر لیتے ہوئے کہا:
’’آپ ہمیشہ کہتے تھے: ’’جہاں فرانس کا پرچم ہے، وہیں فرانس ہے‘‘۔ آپ اپنا جھنڈا ساتھ لیں اور اسے میرے گھر پر نصب کردیں۔ میرا گھر فرانس بن جائے گا۔ آپ اور آپ کا عملہ میرے مہمان ہوں گے اور پھر میں اپنے سپاہیوں کو، جو اس وقت یہاں آپ کی حفاظت کر رہے ہیں، دیگر عیسائیوں کے تحفظ کے لیے بہتر طریقے سے استعمال کر سکوں گا۔‘‘ 
جب لانوزے وہاں پہنچا تو اسے وہاں روسی، امریکی، ڈچ اور یونانی سفارت کار بھی ملے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے اس وقت لانوزے کا بہت مذاق اڑایا تھا جب وہ عام لوگوں کی نفسیات کو سمجھنے میں عبدالقادر کی صلاحیت پر یقین رکھتے ہوئے بار بار گورنر سے ملنے کی کوشش کر رہا تھا۔
دس جولائی کی ساری سہ پہر عبدالقادر نے عیسائی بستیوں میں مچی بھگدڑ میں اپنے دو بیٹوں کے ساتھ یہ چلاتے ہوئے گزاری کہ: ’’عیسائیو! میرے ساتھ آؤ۔ میں عبدالقادر ہوں، محی الدین کا بیٹا، الجزائری! میرا اعتبار کرو۔ میں تمہاری حفاظت کروں گا۔‘‘ کئی گھنٹے تک امیر کے الجزائری باشندے متذبذب عیسائیوں کو لے جا کر حارۃ النقیب میں اس کے قلعہ نما گھر چھوڑ کر آتے رہے۔ یہ دو منزلہ عمارت اور اس کے کشادہ صحن پریشان حال عیسائیوں کی پناہ گاہ بن گئے تھے۔
چرچل نے لکھا ہے: 
’’رات کے وقت لوٹ مار کرنے والوں کے نئے جتھے جن میں کرد، عرب اور دروز سبھی شامل تھے، عیسائی علاقوں میں داخل ہوئے اور وہاں پہلے سے موجود غضبناک فسادیوں کے ہجوم کو مزید بڑا کر دیا جو نفرت کی آگ میں اندھا ہو کر خون کی پیاس سے مزید دیوانہ ہو رہا تھا۔ ہر عمر کے مرد اور لڑکوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا اور پھر وہیں ان کا ختنہ کر دیا گیا۔ ..... عورتوں کی عزت لوٹی گئی یا انہیں اٹھا کر دور دراز علاقوں میں پہنچا دیا گیا جہاں ان کا مسلمانوں کے ساتھ نکاح کر دیا گیا یا پھر حرم کی زینت بنا دیا گیا۔ اگر کوئی کہے کہ اس سارے قتل عام میں ترکوں نے کوئی حصہ نہیں لیا تو یہ مبالغہ آرائی ہوگی۔ انہوں نے سازش تیار کی، انہوں نے اسے چنگاری دکھائی اوراس میں حصہ لیا۔ اس وقت عبدالقادر واحد آدمی تھا جو زندگی اور موت کے درمیان کھڑا تھا۔‘‘
تھامس گیٹ کے نزدیک واقع فرانسسکن خانقاہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر عبدالقادر نے اپنا سارا زور بیان استعمال کیا، لیکن وہ ان نو راہبوں کو الجزائریوں پر اعتبار کرنے پر آمادہ نہیں کر سکا جنھوں نے خود کو خانقاہ کے اندر مقید کر لیا تھا۔ انہیں ڈر تھا کہ یہ انہیں دھوکہ دے رہے ہیں۔ عبدالقادر نے مایوس ہو کر انہیں ان کے حال پر چھوڑا اور ایک اور عیسائی کمیونٹی کو بچانے کی طرف متوجہ ہوا جو بچوں کے لیے کام کرنے کی وجہ سے اسے خاص طور پر بہت پیاری تھی۔
قتل وغارت شروع ہونے کے بعد ابتدا میں اس کمیونٹی کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا تھا جس کی وجہ شاید یہ تھی کہ یہ لوگ عیسائی علاقے سے باہر رہتے تھے جہاں امیر کے دوست فادر لیروئے نے چار سو یتیم بچوں کے لیے اسکول قائم کر رکھا تھا۔ امیر کی قیادت اور اس کے الجزائری مجاہدین کی حفاظت میں سارے بچے، چھ پادری اور سسٹرز آف چیریٹی کی گیارہ راہبائیں خون سے رنگین اور جانوروں کی لاشوں سے اٹی ٹیڑھی میڑھی گلیوں سے گزر کر نقیب ایلی پہنچ گئیں۔ فرانسسکن راہبوں کو مشتعل ہجوم نے عمارت کے اندر ہی زندہ جلا دیا۔ 
یہ خبر فسادیوں میں بھی پھیل گئی تھی کہ عبدالقادر عیسائیوں کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اگلے روز ہی جنونیوں کا ایک گروہ احتجاج کے لیے امیر کے دروازے پر اکٹھا ہوگیا۔ وہ سفارت کاروں کو پناہ دینے کی حد تک تو امیر کو برداشت کرنے کے لیے تیار تھے، لیکن ان کا مطالبہ تھا کہ عبدالقادر اپنے گھر میں چھپائے ہوئے مقامی عیسائیوں کو ان کے حوالے کرے۔ جب ہجوم زیادہ بڑا ہو گیا اور زیادہ بد تمیزی پر اتر آیا تو امیر دروازے پر آیا۔
’’عیسائیوں کو ہمارے حوالے کرو!‘‘، ہجوم نے چلانا شروع کردیا، لیکن جب وہ خاموشی سے کھڑا انہیں دیکھتا رہا تو لوگ خاموش ہوگئے۔
پھر وہ بولا: ’’میرے بھائیو، آپ کا رویہ خدا کے قانون کے منافی ہے۔ آپ کس بنا پر یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے پاس معصوم لوگوں کو اندھا دھند قتل کرنے کا حق ہے؟ کیا آپ اتنے گر گئے ہیں کہ عورتوں اور بچوں کو ذبح کرنے پر اتر آئے؟ کیا آپ نے سنا نہیں کہ خدا نے ہماری مقدس کتاب میں کیا ارشاد فرمایا ہے، کہ جو کوئی بھی کسی ایسے انسان کو قتل کرے گا جس نے کوئی جرم نہ کیا ہو یا زمین پر فساد نہ پھیلایا ہو تو یہ پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے؟‘‘
’’ہمیں عیسائی چاہئیں! عیسائیوں کو ہمارے حوالے کرو!‘‘
’’کیا خدا نے یہ نہیں کہا کہ مذہب میں کوئی جبر نہیں ہے؟‘‘، امیر نے اپنی بات جاری رکھی۔
ہجوم میں سے ایک شخص نے چیخ کر کہا: ’’او مجاہد! ہمیں تمہاری نصیحتوں کی ضرورت نہیں ہے۔ تم ہمارے کام میں ٹانگ کیوں اڑا رہے ہو؟‘‘
ایک اور شخص نے بلند آواز سے کہا: 
’’تم نے خود بھی عیسائیوں کو مارا ہے۔ اب تم ہمیں اپنی توہین کا بدلہ لینے سے کیسے روک سکتے ہو؟ تم خود بھی ان کافروں کی طرح ہوگئے ہو۔ چپ چاپ ان سب کو ہمارے سپرد کردو جنھیں تم نے اپنے گھر میں پناہ دے رکھی ہے، ورنہ ہم تمہارے ساتھ بھی وہی سلوک کریں گے جو ان سب کے ساتھ ہوگا۔‘‘
’’تم سب بے وقوف ہو! جن عیسائیوں کو میں نے مارا تھا، وہ سب حملہ آور اور غاصب تھے جو ہمارے ملک کو تاخت وتاراج کر رہے تھے۔ اگر تمہیں خدا کے قانون کی خلاف ورزی سے ڈر نہیں لگتا تو پھر اس سزا کے بارے میں سوچو جو تمہیں انسانوں کے ہاتھ سے ملے گی۔ میں تمھیں یقین دلاتا ہوں کہ وہ سزا بہت ہولناک ہوگی۔ اگر تم نے میری بات نہ سنی تو اس کا مطلب ہے کہ خدا نے تمہیں عقل نہیں دی۔ تم ایسے حیوان کی مانند ہو جو گھاس اور پانی دیکھ کر اچھلنے لگتا ہے۔‘‘
’’تم سفارت کاروں کو اپنے پاس رکھ لو۔ عیسائی ہمیں دے دو!‘‘ ہجوم نے پھر چلانا شروع کردیا۔ 
’’جب تک میرا ایک سپاہی بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہے، تم انہیں ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے۔ وہ سب میرے مہمان ہیں۔ عورتوں اور بچوں کے قاتلو! گناہ کی اولاد! ان میں سے کسی کو ذرا چھونے کی کوشش تو کرکے دیکھو، پھر تمہیں اندازہ ہوگا کہ میرے سپاہی کتنا اچھا لڑتے ہیں۔‘‘ امیر نے غضبناک لہجے میں کہا اور مڑ کر قارہ محمد سے مخاطب ہوا: ’’میرے ہتھیار اور میرا گھوڑا لے کر آؤ۔ ہم سب ایک نیک مقصد کے لیے جنگ کریں گے، بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے پہلے ایک نیک مقصد کے لیے جنگ کی تھی۔‘‘
ہجوم نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے اور اپنی بندوقیں اور تلواریں لہرانا شروع کردیں، لیکن جونہی امیر کے لاتعداد جنگوں کی بھٹی میں تپ کر فولاد بنے ہوئے سپاہی نظر آئے تو سارا مجمع گالیاں بکتا ہوا تتر بتر ہوگیا۔

مقامی آبادی میں شمالی افریقہ کے باشندوں کے نام سے پکارے جانے والے الجزائریوں نے گلیوں اور سڑکوں پرگھوم پھر کر عیسائیوں کی تلاش جاری رکھی اور امیر کی رہائش گاہ پر ایک ہزار سے زائد عیسائی اکٹھے کر لیے۔ وہ جگہ اتنی بھر گئی کہ اب وہاں کسی کے بیٹھنے یا لیٹنے کی گنجائش بھی نہیں رہی تھی۔ پانی کی کمی تھی اور صفائی کے ناکافی انتظام کی وجہ سے پیچش یا طاعون پھیلنے کا بھی خطرہ تھا۔ سفارت کاروں کے ساتھ صلاح مشورہ کرنے کے بعد عبدالقادر نے پناہ گزینوں کو قلعے کے اندر بھجوانے کے لیے احمد پاشا کے پاس وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ 
گورنر نے اعتراف کیا کہ اس کے دستوں پر زیادہ بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں بہت سے تو ایسے مجرم تھے جنھیں حال ہی میں جیل سے رہائی ملی تھی۔ آخر اس نے یہ مان لیا کہ عیسائیوں کو الجزائریوں کی حفاظت میں فصیل کے اندر پہنچا دیا جائے، لیکن نقیب ایلی میں ٹھنسے ہوئے ہجوم کے کانوں میں جب اس فیصلے کی بھنک پڑی تو انہوں نے خوش ہونے کی بجائے واویلا مچانا شروع کردیا: ’’ہمیں یہیں اپنے ہاتھوں مار ڈالو! ہم پر رحم کرو! ہمیں یوں زندہ ان جلادوں کے حوالے مت کرو!‘‘
سو افراد پر مشتمل پہلا گروپ اڑ گیا کہ وہ نہیں جائے گا، لیکن جب روس کے سفیر نے ضمانت کے طور پر ساتھ جانے کی حامی بھری تو لوگ مان گئے۔ جب ان کے بخیر وعافیت وہاں پہنچنے کی اطلاع ملی تو باقی سب بھی تعاون کرنے لگے۔ حالات معمول پر آنے کے بعد ایک روز امیر نے افسردگی کے ساتھ ایک فرانسیسی افسر سے کہا: ’’ان کے لیے اتنا کچھ کرنے کے باوجود انہیں اب بھی یقین ہے کہ میں انہیں ان قصائیوں کے حوالے کر سکتا ہوں۔‘‘
سب لوگوں کو قلعے میں منتقل کرنے کے بعد جب امیر کی رہائش گاہ خالی ہوگئی اور اس کی صفائی بھی کر دی گئی تو اس نے اعلان کرایا کہ جو کوئی بھی عیسائیوں کو اس کی رہائش گاہ پر پہنچائے گا، اسے ہر عیسائی کے بدلے پچاس پیاستر انعام دیا جائے گا۔ پانچ دن تک امیر کو سونے کا موقع بھی بہت کم ملا۔ جب تھوڑا سا وقت ملتا تو وہ گھاس پھونس سے بنی اسی چٹائی پر لیٹ کر آنکھ لگا لیتا جہاں بیٹھ کر وہ سارا دن پاس رکھی بوری میں سے رقم نکال کر تقسیم کرتا رہتا تھا۔ جونہی ایک سو عیسائی اکٹھے ہو جاتے، الجزائری سپاہی انہیں لے جا کر قلعے میں چھوڑ آتے۔
بعض سربر آوردہ عیسائی افراد مناسب جگہ کا انتخاب ہونے تک کئی ہفتے امیر کی رہائش گاہ پر ہی رکے رہے۔ آخر کار امیر اور اس کے ساتھی تین ہزار عیسائیوں کا ایک قافلہ لے کر بیروت گئے۔ ان میں بلڈ خاندان کے لوگ بھی تھے جو اس سارے قتل عام کے دوران امیر کی پناہ میں رہے تھے۔
جارج بلڈ ان میں نہیں تھا۔ ۱۸۵۷ء میں جب جارج نے محسوس کیا کہ اس نے عبدالقادر کا اعتماد کھو دیا ہے تو اس نے وزارت سے درخواست کی کہ اسے واپس بلا لیا جائے۔ ان کے باہمی تعلقات میں سرد مہری آگئی تھی۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہوا، لیکن ہو سکتا ہے کہ امیر بلڈ کے اشاروں پر چلتے چلتے تنگ آگیا ہو اور قونصل خانے میں فرانسیسی سفارت کاروں سے براہ راست رابطے میں آنا چاہتا ہو۔ بلڈ، دوما یا بواسونے جیسا بھی تو نہیں تھا جو خود بھی افریقہ میں بارود کی بو سے اچھی طرح آشنا تھے۔ بلڈ اگرچہ یہ سمجھتا تھا کہ عبدالقادر کے گرد تقدس کی فضا بہت گہری ہوگئی ہے اور جب دولت خود چل کر اس کے پاس آئی تو اس نے بے پروائی سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا، لیکن بہرحال بلڈ کی رائے امیر کے بارے میں بہت اچھی تھی۔ 
تشدد کا جو طوفان عیسائی بستیوں میں خون کے چھینٹے اڑاتا گزرا، وہ پانچ دن کے بعد اپنے پیچھے ہزاروں لاشیں چھوڑ گیا۔ خونریزی کی بھینٹ چڑھنے والوں کی تعداد کے بارے میں آرا مختلف تھیں۔ کچھ کا کہنا تھا پانچ سو اور کچھ دس ہزار کہتے تھے۔ 
لانوزے نے وزارت کو رپورٹ بھیجی کہ جب غدر مچا تو اس وقت دمشق کی عیسائی بستیوں میں انیس ہزار لوگ رہتے تھے جن میں وہ پناہ گزین بھی شامل ہیں جو موسم بہار میں فرار ہوکر لبنان چلے گئے۔ ان میں سے بیشتر لوگ قدیم شہر کی فصیل سے باہر بسے دیہات میں رہتے تھے۔ شہر کے اندر کی عیسائی بستی میں گنجائش کم اور کرایے بہت زیادہ تھے اور یہ جگہ آٹھ سے دس ہزار عیسائیوں کا مسکن تھی جن میں زیادہ تر یونانی عیسائی تھے۔ امیر نے کتنے لوگوں کی جان بچائی؟ اس کی گنتی کسی نے نہیں کی۔ اس کو دیکھ کر اور کتنے لوگوں کو ایسا کرنے کی ترغیب ملی؟ یہ بھی کوئی نہیں جانتا۔ عبدالقادر کے دوست لانوزے کے مطابق کم وبیش گیارہ ہزار لوگوں کی جان بچانے کا سہرا امیر کے سر جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ قدیم شہر کے اندر موجود ہر عیسائی کی جان امیر کی وجہ سے بچی تھی۔

دل دہلا دینے والی یہ خبر فرانسیسی عوام تک اٹھارہ جولائی کو پہنچی۔ بلاد الشام (Levant) میں تعینات فرانسیسی بحریہ کے کمانڈر کے ارسال کردہ خط کے حوالے سے ’’لے مانٹئیر‘‘ نے رپورٹ شائع کی کہ ’’دمشق میں عیسائیوں پر حملوں کا آغاز نو تاریخ کی سہ پہر کو ہوا اور شام تک مردوں کی بڑی تعداد کو موت کے گھاٹ اتارا اور عورتوں کو حرم کی زینت بنایا جا چکا تھا۔ ....ترک حکام نے خطرے کا واضح خدشہ ہونے کے باوجود ناقابل توجیہ طور پر کاہلی کا مظاہرہ کیا جبکہ امیر نے علما اور اہم شخصیات کو عیسائیوں کو درپیش خطرے کے بارے میں فعال طریقے سے خبردار کرنے کی کوشش کی۔ .....سارے بحران کے دوران امیر کا رویہ قابل تحسین تھا۔ اس نے عام لوگوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دن رات ایک کر دیا جو انسانیت کے لیے اس کی جاں نثاری اور قربانی کے جذبے کا ثبوت ہے۔‘‘
اگست میں اخبارات وجرائد نے مزید مضامین شائع کیے جو سبھی امیر کی مدح میں تھے۔ لاگزٹ دے فرانس (Le Gazette de France) نے بڑے جوش سے لکھا تھا کہ ’’امیر نے شام کے عیسائیوں کو حوصلہ مندی سے تحفظ فراہم کرکے خود کو لازوال بنا لیا ہے۔ انیسویں صدی کی تاریخ کے سب سے خوبصورت صفحات میں سے ایک صفحہ امیر سے منسوب ہو گا۔‘‘ لے پے ای جورنال دے لان پائر (Le Pays, Journal de l'Empire) نے لیزرسٹس (مقدس لیزرس سے منسوب ایک مسیحی گروہ کے افراد) کے حوالے سے لکھا تھا: ’’جب خون کی ہولی اپنے عروج پر تھی، تب امیر گلیوں ایسے میں نمودار ہوا جیسے اسے خدا نے بھیجا ہو۔‘‘ فرانس کا سارا پریس اسی طرح کی خبروں اور تحریروں سے بھرا پڑا تھا۔ بیس اکتوبر تک یہ اطلاعات امریکہ بھی پہنچ گئیں اور نیویارک ٹائمز نے اپنے مخصوص رجزیہ انداز میں لکھا: ’’بیس سال پہلے عرب امیر عالم مسیحیت کا دشمن تھا اور اس کے آبائی علاقے کی پہاڑیوں میں اس کا شکار کیا گیا، لیکن اب ساری عیسائی دنیا اسلام کے اس معزول شہزادے کی تکریم میں یک زبان ہے۔ اس انتہائی بے لوث جنگجو سورما نے اپنے قدیم دشمنوں کو، جنھوں نے اسے شکست دی اور اس کی نسل کے لوگوں اور اس کے مذہب کو اپنا مفتوح بنایا، غیظ وغضب اور موت سے بچایا۔ .....عبدالقادر کے لیے یہ یقیناًعظمت کا اور حقیقی شان وشوکت کا باب ہے۔ اس بات کو تاریخ میں رقم کرنا کوئی معمولی بات نہیں کہ مسلمانوں کی آزادی کے لیے لڑنے والا سب سے ثابت قدم سپاہی اپنے سیاسی زوال اور اپنی قوم کے ناگفتہ بہ حالات میں عیسائیوں کی زندگیوں اور حرمت کا سب سے نڈر نگہبان بن کر سامنے آیا۔ جن شکستوں نے الجزائر کو فرانس کے آگے جھکایا تھا، ان کا بدلہ بہت حیرت انگیز طریقے سے اور اعلیٰ ظرفی سے لیا گیا ہے۔‘‘
لیکن عبدالقادر نے ایسا کیوں کیا؟ اس بات پر بہت سے لوگ متعجب تھے۔ بعض لوگوں کو حیرانی تھی کہ مسلح مزاحمت کرنے والے سابق راہنما نے اس صورتحال کو ان تکالیف کا انتقام لینے کے لیے استعمال نہیں کیا جو فرانس نے اسے اور اس کے لوگوں کو دی تھیں۔ کچھ مسلمانوں کا خیال تھا کہ امیر فرانسیسیوں کے رنگ میں رنگا گیا ہے اور اب وہ عربوں کی نسبت فرانسیسیوں کے زیادہ نزدیک ہے۔ امیر کا اپنا موقف کیا تھا، اس کی رپورٹ لان پائر نے اکتوبر میں شائع کی جس میں دو بہت سادہ سی وجوہات بیان کی گئی تھیں۔ پہلی یہ کہ وہ تو محض خدا کی منشا کے مطابق کام کر رہا تھا، اور دوسری یہ کہ اس کی انسانیت کا تقاضا بھی یہی تھا۔ اس نے کہا تھا: ’’یہ ایک مقدس فرض کی ادائیگی کے مترادف تھا۔ میں تو صرف ایک کارندہ تھا۔ تعریف کرنی ہے تو اس خدا کی کرو جس نے مجھے یہ ہدایت دی، اور تمہارے سلطان کو بھی جو میرا سلطان بھی ہے۔‘‘
باقیوں کا یہ خیال تھا کہ امیر کی مداخلت اس کے مذہب کی پکار تھی۔ کیا بلڈ نے اپنی رپورٹ میں نہیں لکھا تھا کہ امیر اکثر کف افسوس ملتا ہے کہ اسلام ’’حقیقی مسلمانوں کی کمی‘‘کی وجہ سے دم توڑ رہا ہے؟ شاید اس مثال سے وہ دوسرے مسلمانوں کو دکھانا چاہتا تھا کہ حقیقی مسلمان ہونے سے کیا مراد ہے۔ الجزائر میں بشپ دوپش کے جانشین بشپ لوئی انتونی پیوی کی طرف سے اظہار ممنونیت کے خط کا جواب دیتے ہوئے بھی امیر نے بین السطور میں اسی قسم کی بات کی تھی۔ امیر کی اصل شخصیت اکثر اس وقت جھلکتی تھی جب وہ دوسرے مذاہب کے پیشواؤں کے نام کچھ تحریر کرتا تھا۔ 
’’ہم نے عیسائیوں کے لیے جو کچھ بھی کیا، محض اسلام کے قانون پر ایمان رکھنے اور انسانی حقوق کا احترام کرنے کی وجہ سے کیا۔ خدا کی ساری مخلوقات اس کا کنبہ ہیں اور خدا ان لوگوں سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے جو اس کے کنبے کی بہتری کے لیے سب سے اچھا کام کرتے ہیں۔ مقدس کتابوں پر ایمان رکھنے والے تمام مذاہب کی بنیاد دو اصولوں پر ہے : خدا کی تعریف کرنا اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ .....محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں درد مندی اور رحم دلی کے علاوہ ہر اس بات کو عظیم اہمیت دی گئی ہے جس سے معاشرے میں اتفاق قائم رہے اور جو ہمیں نفاق سے محفوظ رکھے۔ لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مذہب سے تعلق رکھنے والوں نے اسے آلودہ کر دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب وہ راستے سے بھٹک جانے بھیڑ کی مانند ہوگئے ہیں۔ میرے لیے آپ کی دعاؤں اور خیر سگالی کے جذبات کا شکریہ۔ ‘‘
پریس میں امیر کے بارے میں رپورٹیں شائع ہونے کے بعد تو جیسے اعزازات کا انبار لگ گیا۔ فرانس کی حکومت نے اسے لیجن آف آنر عطا کیا جب کہ روس، اسپین، سارڈینیا، پروشیا، برطانیہ، رومی کیتھولک کلیسا، ترک سلطان اور صدر لنکن کی طرف سے اعزازات سے نوازا گیا۔ صدر لنکن نے، جو خود ایک قومی سانحے کے دہانے پر کھڑے تھے، ایک روز پہلے عبدالقادر کو امریکی انداز میں تحسین کی علامت کے طور پر کولٹ برانڈ کے دو پستول بھیجے جنھیں انتہائی نفاست سے خصوصی طور پر امیر کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ انہیں لکڑی کے ایک خوبصورت ڈبے میں بند کیا گیا تھا اور اس پر یہ عبارت کندہ کی گئی تھی: ’’ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر کی طرف سے عزت مآب جناب لارڈ عبدالقادر کے لیے، ۱۸۶۰ء۔‘‘
تاہم عبدالقادر کو عزت افزائی کا سب سے قابل قدر نشان اپنے جیسے ایک حریت پسند اور چیچنیا کے مجاہد محمد شامل کی طرف سے موصول ہوا۔ شامل کو بھی روسی سامراجیت کے خلاف کئی سال جدوجہد کے بعد جلا وطن کر کے ماسکو بھیج دیا گیا تھا۔ محمد شامل نے لکھا تھا:
’’تعریف اس خدا کی جس نے اپنے بندے، انصاف پسند عبد القادر کو طاقت اور ایمان عطا کیا۔ ..... بے حد مبارک۔ خدا کرے اس عزت اور امتیاز کے ثمرات ہمیشہ آپ کو ملتے رہیں۔‘‘
شامل نے ان مسلمانوں کی مذمت کی جنھوں نے عیسائیوں کے ساتھ اتنا قابل نفرت رویہ اپنایا اور اپنے مذہب کو بدنام کیا۔ ’’میں ان حکام کی کور چشمی پر بھونچکا رہ گیا جنھوں نے ایسی زیادتیاں کیں اور اپنے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث فراموش کردی کہ: ’’جس کسی نے بھی اپنے زیر امان رہنے والے کے ساتھ ناانصافی کی، جس کسی نے بھی اس کے خلاف کوئی غلط حرکت کی یا اس کی مرضی کے بغیر اس سے کوئی چیز لی، وہ جان لے کہ روز محشر میں خود اس کے خلاف مدعی بنوں گا۔‘‘آپ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا عملی نمونہ پیش کیا ہے .....اور خود کو ان لوگوں سے الگ کر لیا ہے جو ان کے اسوے کو رد کرتے ہیں۔ .....خدا آپ کو ان کے شر سے محفوظ رکھے جو اس کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔‘‘
امیر کو امام شامل کی صورت میں ایک ایسے ہم مذہب کی تائید بھی ملی جو اپنے خیالات میں بالکل اسی جیسا تھا۔ اس کے جوابی خط میں وہی کچھ دہرایا گیا جو اس نے بشپ پیوی کو لکھا تھا اور جو وہ اکثر جارج بلڈ کے سامنے کہا کرتا تھا۔ امیر نے شامل کو لکھا:
’’میں نے جو کچھ بھی کیا، وہ محض ہمارے مقدس قانون اور انسانیت کے اصولوں کی تعمیل تھی۔ ..... اخلاق سے گری ہوئی حرکت کو تمام مذاہب میں برا کہا گیا ہے، کیونکہ برے اخلاق پر عمل کرنا اپنے ہاتھوں زہر پینے کے مترادف ہے اور یہ سارے بدن کو آلودہ کر دیتا ہے۔ .....اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ سچائی کے حقیقی علمبردار کتنے تھوڑے ہیں اور ایسے جاہلوں کو دیکھتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کا مطلب جبر، سختی، زیادتی اور وحشی پن ہے تو پھر وقت آگیا ہے کہ ان الفاظ کو بدل کر یوں ادا کیا جائے: تحمل خدائی صفت اور خدا کی ذات پر ایمان کا نام ہے۔‘‘
عیسائیوں کے قتل عام نے فرانس کو اپنے اس موقف پر زور دینے کا موقع فراہم کیا کہ سلطنت عثمانیہ میں رہنے والے عیسائیوں کو یورپی تحفظ کی ضرورت ہے۔ چھ ہزار کی نفری پر مشتمل فرانسیسی فوج بیروت کی طرف رواں دواں تھی جہاں اس کی آمد اگست کے وسط میں متوقع تھی۔
قتل وغارت گری تھمنے کے ایک ہفتہ بعد ۲۵جولائی کو غصے سے آگ بگولا ہو کریورپی طاقتوں نے فرانس اور یورپ کی مشترکہ فورس کو لبنان بھیجنے کا فیصلہ کیا جو دمشق کے اندر تک گھسنے کی صلاحیت بھی رکھتی تھی۔ الجزائر میں امیر کے ایک اور پرانے حریف جنرل بیوفو اوٹ پول (Beaufort d'Hautpoul) کی کمان میں شروع کی گئی اس مہم کا مقصد ’’انسانیت کے بنیادی فرائض‘‘ کو یقینی بنانا تھا۔ فرانسیسیوں کے پہنچنے سے پہلے سلطنت عثمانیہ کے وزیر خارجہ فواد پاشا کو، جو اصلاحات کا بڑا حامی اور برطانیہ کا منظور نظر تھا، فوراً لبنان سے تین ہزار فوجیوں کے ساتھ دمشق پہنچنے کا حکم ملا تاکہ فسادات کے مرتکب افراد کی نشاندہی کرکے انہیں سخت سزا دی جائے اور اس طرح فرانس کو اندرونی علاقوں میں مداخلت کے جواز سے محروم کر دیا جائے۔ 
فواد نے اپنے فوجی افسروں، عبدالقادر اور یورپی سفیروں کے ساتھ صلاح مشورہ کرنے کے علاوہ مقامی اکابرین کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور پھر ایک غیر معمولی ٹربیونل تشکیل دیا۔ اس ٹربیونل نے زندہ بچ نکلنے والے عیسائیوں کو فسادات کی آگ بھڑکانے والوں کی فہرست تیار کرنے کی ذمہ داری تفویض کی، لیکن عیسائیوں کی اکثریت کو تو اندازہ ہی نہیں تھا کہ حقیقت میں ان پر حملہ کرنے والے کون لوگ تھے۔ جو زندہ بچ گئے تھے، انہیں صرف ان لوگوں کے چہرے یاد تھے جنھوں نے ان کی جان بچائی تھی۔ اس پر فواد پاشا نے مسلم علاقوں میں تعینات افسروں سے وہاں کے ایسے باشندوں کی فہرست بنانے کو کہا جنھیں قتل وغارت گری کے دوران مسلح دیکھا گیا تھا۔
تین اگست کو دمشق کی گورننگ کونسل نے دیگر مسلمان رہنماؤں سمیت فواد پاشا سے ملاقات کرکے اس فہرست کا جائزہ لیا تاکہ سزا کے مستوجب لوگوں کے ناموں کی تصدیق یا تردید کی جائے۔ اس ساری کارروائی کے دوران شہر کے دروازے بند رکھے گئے اور اشیائے خور ونوش اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کے سوا کسی کو اندر آنے یا باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ 
ٹربیونل نے ۴۶۰۰ ناموں کی فہرست میں سے ۳۵۰ ؍افراد کو گرفتار کیا۔ فہرست میں شامل بہت سے لوگ فرار ہوگئے تھے۔ کچھ پر الزامات ثابت نہیں ہوئے یا ناکافی شہادتوں کی بنیاد پر وہ بری کر دیے گئے۔ گرفتار ہونے والے ساڑھے تین سو افراد میں سے بارہ کے سوا سب ’’قتل وغارت پر اکسانے، قتل کرنے، آگ لگانے یا لوٹ مار کرنے‘‘جیسے جرائم کے مرتکب پائے گئے۔ مجرم قرار دیے جانے والے ۳۳۸ ؍افراد میں سے ۱۸۱ ؍کو گولی مار دی گئی یا پھانسی پر لٹکایا گیا جبکہ ۱۵۷؍کو ملک بدر کر دیا گیا۔ جن لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا، ان میں گورنر احمد پاشا بھی شامل تھا۔ مشاگا کے چھ حملہ آوروں اور اس کے حلقے کے منتظم کو سولی چڑھا دیا گیا۔
بیاسی مجرموں کا تعلق ترکی کے نیم فوجی دستوں سے تھا۔ چونسٹھ افراد کو دمشق میں نووارد کے طور پر شناخت کیا گیا۔ ۱۲۳؍افراد کی شناخت ان کے پیشوں کے اعتبار سے کی گئی جن میں دکاندار، کاریگر، کسان اور اشرافیہ کے ارکان بھی شامل تھے، لیکن اس سارے قضیے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا؟ اس سوال کے جواب میں انگلیاں مختلف سمتوں میں اٹھ رہی تھیں۔
فرانسیسی قونصل کا اشارہ انگریزوں کی طرف تھا اور اس نے توجہ دلائی کہ تمام یورپی سفارتخانوں میں صرف برطانیہ کا سفارتخانہ ایسا تھا جسے نذر آتش نہیں کیا گیا۔ (بعد میں پتہ چلا کہ اس کی حفاظت بھی عبدالقادر کے الجزائری جنگجو کر رہے تھے)۔ پھر انگریز ریورنڈ گراہم کے قاتل کی کہانی بھی بہت اہم تھی جس کا کہنا تھا کہ اس سے بہت بڑی خطا سرزد ہوئی تھی۔ دوسری طرف باقی ممالک کو اس معاملے میں فرانس کا ہاتھ ہونے کا شبہ تھا۔ فرانس کے بارے میں سب جانتے تھے کہ وہ شام پر قبضہ کرنے اور ریشم کے مقامی آڑھتیوں کو فارغ کرکے ان کی جگہ اپنے صنعت کاروں کو بٹھانے کے لیے بہانہ ڈھونڈ رہا ہے۔ استنبول میں اپنے سفیر کے ساتھ خط کتابت میں دمشق میں تعینات برطانوی قونصل نے عبدالقادر پر نائب قونصل لانوزے کے ساتھ ملی بھگت کرنے کا الزام عائد کیا اور اس طرح ہر وقت فرانسیسی منصوبوں سے ڈرے رہنے کی اس روایت کو دوبارہ زندہ کر دیا جو ۱۸۴۰ء میں اس وقت کے برطانوی قونصل نے یہ کہہ کر قائم کی تھی کہ فرانس مصر کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رہا ہے۔ ’’حریص غیر ملکی ہاتھوں‘‘ کے ملوث ہونے کے بارے میں اسی طرح کی کچھ اور قیاس آرائیاں بھی تھیں۔
لیکن اصلی حقائق چرچل کی اس توضیح کو درست ثابت کرتے ہیں کہ یہ اصل میں اصلاحات کے مخالف مسلمانوں میں مغرور عیسائیوں کا ’’دماغ درست‘‘ کرنے کی خواہش تھی جس نے نفرت اور غصے سے بھرا یہ منصوبہ تیار کرایا۔ مشاگا نے چرچل کی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ساری منصوبہ بندی استنبول میں ہوئی تھی۔ عیسائی باشندے تو اپنے حقارت آمیز گھمنڈ اور قانون کی نافرمانی جیسے رویوں کی بنا پر ناپسندیدہ سمجھے جارہے تھے، لیکن دمشق کے مسلمان بھی ایسے ہی تھے جن کی اکثریت بے چین فطرت عربوں اور کردوں پر مشتمل تھی۔ ان کے بعض پرانے مجرمانہ رویوں مثلاً ٹیکس ادا نہ کرنے اور سامراجی وزیروں کے قتل کی سازش کرنے وغیر ہ پر ان کو بھی مزہ چکھانے کی ضرورت تھی۔ یہ گستاخی ہر جگہ تھی۔ زمانے کے سرد وگرم سے آشنا مشاگا نے لکھا ہے: ’’چنانچہ حکومت مسلمانوں کو عیسائیوں کے خلاف بھڑکا کر ایک تیر سے دو شکار کرتے ہوئے دونوں سے انتقام لینا چاہتی تھی۔‘‘
حالات وواقعات کی تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ فسادیوں کا ہجوم تھامس گیٹ سے اندر داخل ہوا اور سب سے پہلے روس کے سفارتخانے پر اور پھر خماریہ کے عیسائی علاقے میں قائم یورپ کے باقی سفارتخانوں پر حملہ کیا۔ یہودی بستی کو کسی نے نہیں چھیڑا۔ مشاگا نے بعض ایسے یہودیوں کے بارے میں بھی بتایا جو ترک ملیشیا کے ارکان کو گنے کا رس ملی برف پیش کر رہے تھے اور انہوں نے لٹیروں سے لوٹ کا مال بھی کوڑیوں کے مول خریدا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میدان کا علاقہ بھی، جہاں عیسائی اور مسلمان دونوں رہتے تھے، تشدد کی لہر سے محفوظ رہا۔ دمشق کے اس علاقے میں ریشم کے گنے چنے تاجر ہی رہتے تھے، لیکن یہ بڑی تعداد میں اناج کے تاجروں کی آماجگاہ تھا۔ میدان میں رہنے والی عیسائی اقلیت نے برسوں کی کوشش سے اپنے مسلم ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر لیے تھے۔ وہ سب نرم خو تھے، مقامی حکام کا احترام کرتے تھے اور اپنے نئے حقوق پر اتراتے نہیں تھے۔
قتل وغارت اور لوٹ مار صرف خماریہ کی عیسائی بستیوں تک محدود رہی جہاں ریشم بننے والے ایسے عیسائی کاریگر رہتے تھے جو مسلمانوں سے زیادہ ہنر مند تھے۔ مسلمان کاریگروں میں، جنھیں جدید کھڈیوں تک رسائی حاصل نہیں تھی، تکنیکی کم تری کے احساس نے بھی دل میں رنج پیدا کیا تھا۔ بہت سے مسلمان یورپیوں کے مقروض تھے اور کارکن طبقہ اس موسم گرما میں اناج کی قلت کی وجہ سے اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں اضافے سے بھی پریشان تھا۔ بے چینی اور اضطراب پیدا کرنے والے اس طرح کے عوامل نے یورپیوں کی شہ پر لاگو ہونے والی اصلاحات کے خلاف نفرت کے ساتھ مل کر لاوے کو مزید دہکا دیا۔ اب ان بے شرم، گستاخ کافروں کو ’’درست‘‘ کرنے کے لیے ذرا سا اجتماعی اشتعال پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔
اس طرح کی شورش کے نتائج ہمیشہ گندے ہوتے ہیں، لیکن حیرت ناک طور پر نو جولائی کو غیظ وغضب کا جو طوفان اٹھا تھا، وہ ایک خاص علاقے میں مرکوز رہا یعنی خماریہ میں محض ایک تہائی مربع میل کے اندر موجود عیسائی بستیوں سے باہر نہیں نکلا۔ بعد ازاں بڑی تعداد میں سزا پانے والے ملیشیا کے جوانوں اور باہر سے آنے والے لوگوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس اشتعال انگیزی کے لیے بیرونی مدد خریدی گئی تھی اور ایسا کرنے والوں کو مارے جانے والوں کے ساتھ کسی طرح کی کوئی ہمدردی یا تعلق نہیں تھا۔ مقامی لوگوں کی طرف سے ان کو ہلہ شیری ملی ، پھر تھوڑی سی لوٹ مار شروع ہوئی جس نے بالآخر قتل عام کی شکل اختیار کر لی۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ سازش کرنے والوں نے اس جگہ کا انتخاب اس لیے کیا تھا کہ یہاں عیسائیوں کو آسانی سے پہچانا جا سکتا تھا اور حملہ آوروں کو مقامی عیسائیوں اور مسلمانوں میں امتیاز کرنے میں دقت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
تحقیقات کرنے والوں نے میدان اور شغار کے محلوں میں رہنے والے مسلمانوں کی خاص طور پر تعریف کی جنھوں نے تشدد کی راہ اختیار کرنے کی بجائے اپنے عیسائی ہمسایوں کی حفاظت کی۔ عبدالقادر نے جو کچھ کیا، وہ بلا شبہ مثالی نوعیت کا تھا لیکن اس کی اتنی تعریف ہوئی کہ بہت سے دوسرے مسلمان جنھوں نے امیر ہی کی طرح عیسائیوں کو پناہ دے کر مشتعل ہجوم کے غضب کا نشانہ بننے کا خطرہ مول لیا تھا، منظر سے ہٹ گئے۔ مشاگا نے اپنی یادداشتوں ’’قتل، بھگدڑ، جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار‘‘ میں بہت سے ایسے مسلمانوں کا ذکر کیا ہے جنھوں نے اپنے مذہبی قانون پر عمل کرتے ہوئے عیسائیوں کی جان بچائی۔ ان میں ایک معتبر عالم شخ سلیم عطار جبکہ میدان کے محلے میں صالح آغا المہایینی، سعید آغا النوری، عمر آغا العابد اور بہت سے دیگر لوگوں کے نام شامل ہیں۔ امیر عیسائیوں کا سب سے نڈر اور سب سے متحرک نجات دہندہ ضرور ہوگا، لیکن وہ تنہا نہیں تھا۔ اس کے علاوہ اور لوگ بھی عیسائیوں کی جان بچانے میں مصروف تھے۔
جب تحقیقاتی کمیشن نے امیر سے ان سارے واقعات کی بابت سوال کیا تو اس نے کیا رائے دی ہوگی؟ اس کا جواب ہمیشہ کی طرح دوسروں سے منفرد تھا۔ اس نے کہا کہ عیسائیوں کے محلے کو بچایا جا سکتا تھا ’’اگر گورنر کی نیت ہوتی۔‘‘ اس نے مزید وضاحت کرنے سے انکار کر دیا۔ ایک سال بعد آثار قدیمہ کے مشہور فرانسیسی ماہر اور مستشرق کومتے دے ووگ نے امیر سے ملاقات کی۔ امیر کے گھر کا ایک بار چکر لگانا تو جیسے یورپ سے آنے والے ہر مسافر پر فرض تھا۔ ملاقات کے دوران فرانسیسی مہمان نے دمشق کے لوگوں کے رویے کے بارے میں امیر کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ اس پر جو جواب ملا، اس نے سارے ملاقاتیوں کو حیران کر دیا۔ ’’انہوں نے جس طرح اپنے حق کا استعمال کیا، وہ غلط تھا، لیکن ان کا عیسائیوں کو سزا دینے کا حق ناقابل تردید ہے۔ عیسائیوں نے استثنائی ٹیکس دینے سے انکار کر دیا تھا۔‘‘ امیر شاید مزید کچھ کہنا چاہتا ہو لیکن اس نے کہا نہیں کہ ایک جنگ زدہ عرب فیڈریشن کے سابق سربراہ کی حیثیت سے وہ ٹیکسوں کی اہمیت اور انہیں بہر صورت اکٹھا کرنے کی اہمیت سے بخوبی آگاہ تھا۔ 
عبدالقادر کی نظر میں قانون بالکل واضح تھا۔ عیسائی باشندے حفظ وامان میں لیے گئے لوگ تھے لیکن وہ بہر حال قانون کا احترام کرنے کے پابند تھے۔ قانون کی نافرمانی کے معاملے میں وہ غلطی پر تھے۔ وہ سرکشی اور بغاوت پر اتر آئے تھے اور انہیں سزا ملنا ضروری تھا۔ دوسری طرف مسلمانوں نے بھی اندھا دھند اور سفاکانہ طریقے سے انہیں ’’ٹھیک‘‘ کر کے غلط کیا۔ 
امیر یقیناً ایک باخبر شخص تھا۔ یورپی ممالک نے سلطنت عثمانیہ پر دباؤ ڈال کر جو اصلاحات نافذ کرائی تھیں، ان میں سرکاری طور پر عیسائیوں کے ’’ذمی‘‘ ہونے کی حیثیت ختم ہوگئی تھی اور جزیہ کا ٹیکس بھی ہٹا لیا گیا تھا۔ اس کی بجائے سب کے لیے ایک عالمگیر استثنائی ٹیکس متعارف کرایا گیا جو عسکری خدمات انجام نہ دینے کے خواہشمند عیسائیوں اور مسلمانوں دونوں کو ادا کرنا تھا۔ اب عیسائی اور ترک برابر ہوگئے تھے اور عیسائی بھی فوج میں خدمات انجام دینے کے پابند تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ عیسائی سلطنت عثمانیہ کے لیے کام کرنے سے نفرت کرتے ہیں۔ ترک بھی عیسائیوں کو فوج میں نہیں لینا چاہتے تھے۔ لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو تو فوج کی نوکری نہ کرنے کے عوض فی کس ایک سو لیرا ٹیکس دینا تھا جب کہ عیسائیوں پر صرف پچاس لیرا ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود عیسائیوں نے وہ ٹیکس ادا کرنے سے انکار کردیا، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر وہ کہیں گے کہ ہم فوج میں نوکری کرنے کو تیار ہیں تو ترک انہیں مسترد کر دیں گے اور اس طرح ان کی ٹیکس ادا کرنے سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ 
فرانسیسی ملاقاتی امیر کے منہ سے اس طرح کی سخت گیر باتیں سن کر بہت حیران ہوئے اور گمان غالب ہے کہ وہ ان نئی پیچیدگیوں سے آگاہ نہیں تھے جو ان اصلاحات سے پیدا ہوئی تھیں۔ فرانس میں عبدالقادر کی شخصیت کو اس کے پرستاروں نے ’’لبرل‘‘ کا جامہ اوڑھا دیا تھا، لیکن کومتے دے ووگ اگر امیر کے پروٹسٹنٹ دوست مائیکل مشاگا سے بھی بات کر لیتا تو اسے اسی طرح کے خیالات سننے کو ملتے۔ 
مشاگا کو اگر مقامی سطح پر ’’مشرق کا لوتھر‘‘کہا جاتا تھا تو یہ بالکل درست تھا۔ لوتھر کے ’’ہر صاحب ایمان کے لیے پادری بننے کا حق‘‘ کے انقلابی تصور نے مقدس رومن سلطنت کے جرمنی کے علاقے میں انتشار پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا : ہر شخص کو، خواہ وہ کتنا ہی غیر تربیت یافتہ ہو، اپنا پادری خود بننے دو؛ خدا اور بندے کے درمیان کسی وسیلے کی ضرورت نہیں۔ جب لوتھر نے دیکھا کہ اس کے نظریات کو کتنا غلط طریقے سے استعمال کیا گیا ہے تو وہ دہل گیا اور سیکولر اتھارٹی کا پکا حامی بن گیا۔ پھر اس نے جو نتیجہ اخذ کیا، وہ یہ تھا کہ کوئی حکمران نہ ہونے سے برا حکمران بہتر ہے اور اس کی تائید اسے سینٹ پال کی تحریروں سے بھی ملی۔
جیسے تین سو سال پہلے لوتھر نے دیکھا تھا، اسی طرح مشاگا نے بھی سرکش روحوں یعنی عیسائیوں اور مسلمانوں کے بپا کردہ کشت وخون کا عینی شاہد بننے کی اذیت جھیلی۔ اپنی طویل یادداشتوں میں اس نے ان لوگوں کو خبردار کیا ہے جو مقررہ حکام کا فرمانبردار رہنے کی ضرورت سے انکار کرتے ہیں۔ ’’میری نیت اپنے حکمرانوں کے احکامات سے سرتابی کے نتائج سے روشناس کرانے اور اس کی وجوہات کی وضاحت کرنے کی تھی۔ .....کیونکہ ہم نے ابھی تک کوئی ایسی ریاست نہیں دیکھی جو احکامات کی تعمیل کرنے والی رعایا کے خلاف انتقامی کارروائی کرے۔‘‘ لوتھر کی طرح مشاگا بھی اکثر رومن کیتھولک حوالے دیتا تھا : ’’ہر انسان مقتدر حاکم کی رعیت ہے۔ حاکمیت صرف خدا کی ہے۔ .....حکمران اچھے کاموں کے خلاف نہیں بلکہ بدی کے خلاف خوف پیدا کرتے ہیں۔ ...... چنانچہ تمہیں ٹیکس ضرور ادا کرنے چاہئیں کیونکہ حکمران خدا کے نائب ہیں جو یہ کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ان کے سارے واجبات ادا کردو۔ .....کسی کا حق اپنے پاس نہ رکھو، سوائے اس کے کہ ایک دوسرے سے محبت کرو۔‘‘

ریاست، معاشرہ اور مذہبی طبقات ۔ پاکستان کے تناظر میں اہم سوالات کے حوالے سے ایک گفتگو (۲)

محمد عمار خان ناصر

انٹرویو: مشعل سیف

مشعل سیف: یہ بتائیے کہ آئین کو اور بہت سے قوانین کو Islamize کر لینے اور نظریاتی کونسل اور شرعی عدالت جیسے ادارے بنا لینے کے بعد پاکستان کو عملی طور پر اسلامی ریاست بنانے کے لیے اب مزید کن چیزوں کی ضرورت ہے اور آگے کس بات کی کوشش کرنی چاہیے؟
عمار ناصر: یہ بھی ایک بڑا اہم سوال ہے کہ عملی طور پر کیا ہو سکتاہے۔ میرے خیال میں جب بھی ہم اسلام کے نفاذ کی بات کرتے ہیں تو ہمارا سارا دھیان ریاست اور حکومت کے فیصلوں اور اقدامات پر مرکوز ہو جاتا ہے۔ میرے فہم کے مطابق قرآن وسنت میں جو مسلم معاشرے کا تصور ملتا ہے، اس میں ریاست اور حکومت کے معاملات بہت ثانوی چیز ہیں۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کا پورا معاشرہ عملاً مسلمان ہو۔ ریاست بھی مسلمان ہو، یہ اس کا ایک بہت محدود حصہ ہے۔ ریاست تو معاشرے ہی کا ایک حصہ ہے۔ جتنا معاشرہ مسلمان ہو چکا ہوگا، اتنی ہی ریاست بھی خودبخود ہو جائے گی۔ تو نفاذ اسلام کے تصور کی اصلاح ضروری ہے۔ آپ دیکھیں کہ معاشرے میں افراد کی اخلاقیات بگڑی ہوئی ہے، افرادکی وابستگی مذہب کے ساتھ صرف جذباتی ہے، عمل کا کوئی داعیہ ان کے اندر نہیں ہے۔ افراد بگڑے ہوئے ہیں، معاشرتی رسوم بگڑی ہوئی ہیں اور بری قدروں نے اسلام کی معاشرتی قدروں کو Replace کر دیا ہے۔ معاشرے میں ہم ہر جگہ لوگوں کو مادیت سکھا رہے ہیں اوران میں صرف اپنی دنیا کو بہتر بنانے کے جذبات بیدار کر رہے اور اس کے طریقے سکھا رہے ہیں۔ جو مذہب کے مطالبات ہیں، خدا کے ساتھ تعلق ہے، آخرت کے لیے تیاری ہے، اپنی اخلاقیات کو اللہ کی نظر میں بہتر بنانے کا معاملہ ہے، یہ احساس ہے کہ میرے کسی قول یا فعل سے کسی کی دل آزاری یا حق تلفی نہ ہو، کسی کو دکھ نہ پہنچے، کوئی نا انصافی نہ ہو، اصل میںیہ افراد تیار ہونے چاہییں۔ صحیح اسلامی معاشرہ وہ ہوگا جس میں افراد اور معاشرے میں رہنے والے انسان بحیثیت مجموعی اسلام کی قدروں کو اپنا لیں۔ اس کے بعد ریاست کا کردار تو بہت محدود ہوتا ہے۔ ریاست کیا کرتی ہے؟ وہ کچھ قوانین نافذ کر دے گی۔ چور کو پکڑے گی اور اسے سزا دے دے گی۔ اصل میں دین پر عمل نوے پچانوے فی صد معاشرے نے خود کرنا ہے۔ معاشرہ اگر تیار نہیں ہے، اس کے اندر اتنی جان نہیں ہے کہ وہ شریعت کی پابندیوں کو قبول کر لے تو ریاست وہاں کیا کرے گی؟
اس وقت یہی ہو رہا ہے۔ ہم نے پہیہ الٹا گھما دیا ہے۔ ہم نے سمجھا کہ اگر ریاست کو کلمہ پڑھا دیں گے اور کچھ قوانین منظور کر لیں گے اور کچھ اسلامی قسم کے ادارے بنا دیں گے تو اس کا اثر معاشرے پر پڑ جائے گا۔ یہ الٹ بات ہے۔ ایسا نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا کسی بھی پیغمبر نے پہلے دن حکومت اور اقتدار کی سطح پر بات نہیں کی تھی۔ پہلے دن لوگوں کو مخاطب بنایا تھا، ان کو ایمان سکھایا تھا، لوگوں کو اخلاق بتائے تھے۔ پھر جب لوگوں میں قبولیت کی استعداد پیدا ہو گئی، تب یہ ہوا کہ ایک دن آپ نے اعلان کیا کہ شراب حرام ہے تو لوگوں نے ساری شراب اٹھا کر باہرپھینک دی۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اگر پہلے دن آپ لوگوں سے یہ کہتے کہ شراب ممنوع ہے اور زنا حرام ہے تو کوئی بھی نہ مانتا۔ تو یہ الٹ ترتیب ہے جو ہم نے اختیار کی ہے۔ 
میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے جو مذہبی لوگ ہیں، جن کی یہ خواہش ہے کہ معاشرہ تبدیل ہو، انھیں اپنی ترجیحات درست کرنی چاہییں۔ اب تک ہم نے سارا زور ریاست پر لگایا ہے اور وہاں جتنا ہو سکتا تھا، اس میں ہم نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ آئین مسلمان ہو گیا ہے، ضمانتیں دے دی گئی ہیں اور کافی قوانین بھی بن گئے ہیں۔ اس سے زیادہ سردست وہاں کچھ نہیں ہو سکتا۔ اب ہمیں اپنی ترجیحات بدلنی چاہییں۔ ہمیں اپنے اخلاق بہتر بنانے ہیں۔ خود مذہبی لوگوں میں بڑے اخلاقی مسائل ہیں۔ ہم خود اسلام کا جتنا اچھا نمونہ پیش کرتے ہیں، اس کو دیکھیں تو سوسائٹی سے ہم کیا توقع رکھتے ہیں؟ اب ہم لوگوں کو مسلمان بنائیں، ان کے اخلاق کو بدلیں، لوگوں کو اس کے لیے تیار کریں۔ جتنا یہ معاشرہ بہتر ہو جائے گا، اتنا اسلام خود بخود آ جائے گا اور اس کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ ہم حکومتوں سے توقع کریں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ 
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اسلام کی نظر میں قانون اور ریاست کا اور معاشرے کی جو اخلاقی صورت حال ہے، اس کا باہمی Relation کیا ہے۔ ہم ان چیزوں کو الگ الگ کر کے کسی ایک پر ذمہ داری نہیں ڈال سکتے کہ حکومت اور حکمران اگر ٹھیک ہو جائیں تو باقی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ حکمران اگر تو آسمان سے اتر کر آئے ہیں تو پھر اور بات ہے۔ اگر حکمران ہم میں سے ہی کچھ لوگ ہیں اور وہ بھی انھی معاشرتی اقدار کے سانچے میں ڈھلے ہیں جن کی چھاپ پورے معاشرے پر ہے تو ہم ان سے کیا توقع کر سکتے ہیں؟
مشعل سیف: آپ bottom-up اپروچ کی بات کر رہے ہیں کہ اگرہم نچلی سطح پر تبدیلیاں لے کر آئیں تو بات eventually ریاست تک پہنچے گی، جبکہ دوسری اپروچ جس کا آپ ذکر کر رہے ہیں، یہ ہے کہ ہم top سے تبدیلی لے کر آئیں۔ یہ بتائیے کہ نیچے سے تبدیلی لانے کے لیے علماء کو معاشرے کے اندر، عام لوگوں میں اور سوسائٹی کے اندر لوگوں کا رجحان اسلام کی طرف کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ کیا تصانیف سے یا لیکچرز سے ایسا ہوگا یا کسی اور طریقے سے؟
عمار ناصر: یہ تو سب ابلاغ کے طریقے ہیں۔ آپ نے بات پہنچانی ہے، لوگوں کو نصیحت کرنی ہے تو یہ اس کے طریقے ہیں۔ آپ اس طریقے سے بھی کر سکتے ہیں اور جمعے کے خطبے اور لیکچر اور درس سے بھی کر سکتے ہیں۔ سب سے زیادہ موثر جو چیز ہے، جو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سارے انبیاء کے طریقے میں ملتی ہے، وہ کردار کا نمونہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ لیکچر نہیں دیا کرتے تھے۔ ہمارے ہاں تو ہر نماز کے بعد کوئی نہ کوئی درس، کوئی نہ کوئی وعظ ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جمعے کے علاوہ آپ عام طور پر پبلک اجتماع کا اہتمام نہیں کرتے تھے۔ ہفتے میں ایک دن رکھا ہوتا تھا جس میں لوگوں کو جمع کرتے اور وعظ ونصیحت کا اہتمام فرماتے تھے۔ اکابر صحابہ کا بھی یہی معمول رہا ہے۔ عبد اللہ بن مسعودؓ سے لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں کچھ زیادہ وقت دیا کریں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ناپسند تھی کہ لوگوں کو باتیں سنا سنا کر اکتاہٹ میں ڈال دیا جائے۔ اصل میں انسان نمونے سے سیکھتا ہے۔ ہماری سوسائٹی کی بدقسمتی یہ ہے کہ اچھی سے اچھی تقریریں کرنے والے آپ کو بے شمار لوگ مل جائیں گے، کوئی اچھا نمونہ دکھانے والا نہیں ملے گا کہ یہ اسلام ہے، یہ اسلامی اخلاقیات ہے۔ آپ کو علماء میں، لیڈر شپ میں، اپنے ارد گرد کے لوگوں میں نمونہ نظر آئے گا تو آپ اس سے سیکھیں گے نا! تقریریں تو ہم سب کر لیتے ہیں۔
تو جو لوگ معاشرے کی اصلاح کے علم بردارہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں، سب سے پہلے ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ عالم کی حیثیت سے، مذہب کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے ہماری جو اپنی اخلاقیات ہے اور فرد کی حیثیت سے سماج میں ہماری جو اخلاقیات ہے، اس کو بہتر بنائیں۔ ہماری ترجیحات کیا ہیں، ان سے نظر آئے کہ ایک مسلمان کو کیسا ہونا چاہیے۔ نمونے سے لوگ سیکھتے ہیں۔ پچھلے دور میں ہمارا ایک ادارہ ہوتا تھا تصوف کا، وہ تربیت کا ایک بڑا ا چھا مرکز تھا۔ اب وہ بدقسمتی سے بالکل برباد ہو گیا ہے۔ اب وہ ادارہ بھی ایک کاروباری ادارہ بن گیا ہے۔ اب ہمیں اچھے خدا والے، اچھے خدا پرست لوگ جن کے پاس بیٹھ کر ہم محسوس کریں کہ یہ دنیا کچھ نہیں ہے، وہ نہیں ملتے۔ یہ ہماری بڑی بدقسمتی ہے کہ ہمیں نمونہ نہیں ملتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی بتایا تھا کہ امت سے جب اللہ تعالیٰ اپنے دین کو اور اپنے دین کے علم کو اٹھانے کا فیصلہ کریں گے تو ایسا نہیں ہوگا کہ کتابیں ناپید ہو جائیں یا کتابوں کو پڑھنے والے لوگ ختم ہو جائیں۔ اصل میں وہ لوگ جو اس کا ایک عمدہ نمونہ ہوں گے، ان کو اللہ تعالیٰ اٹھا لیں گے۔ پھر لوگوں کو جیسے بھی لوگ ملیں گے، وہ انھی کے پیچھے چلیں گے۔ تو اصل چیز یہ ہے کہ ایسے نمونے ہمارے سامنے ہوں جو لوگوں کو زندہ اور چلتے پھرتے نظر آئیں۔ اسی سے لوگ سیکھیں گے۔
مشعل سیف: آپ کی بات سمجھ میں آ گئی، لیکن جو دوسری Top-down اپروچ ہے، جس کے متعلق کافی علما نے لکھا ہوا ہے، اس کے بارے میں کچھ اور بات کرنا چاہتی ہوں۔ آپ نے کہا کہ جو حکومت ہوتی ہے، وہ قوانین اور پالیسیاں وغیرہ بناتی ہے۔ حکومتی پالیسیوں کا ایک بہت اہم حصہ تعلیمی نظام ہوتا ہے۔ مثلاً ہمارے پبلک اسکولوں میں جو تعلیمی نصاب ہے، وہ ایک بہت اہم چیز ہے جس کے ذریعے سے معاشرے میں تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ Top-down اپروچ یہ ہے کہ حکومت سے کہا جائے کہ آپ نظام تعلیم میں تبدیلیاں لے کر آئیں۔ علماء یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں جو تعلیمی اداروں میں اسلام کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے، اس میں تبدیلیاں لانی چاہییں۔ بہت سے علماء نے اس کے متعلق تجاویز دی ہیں۔ تو اس اپروچ کے متعلق کچھ بتائیے کہ اس کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
عمار ناصر: یہ بات بنیادی طور پر غلط نہیں ہے، لیکن ہم تھوڑی سی جگہ بدل کر بات کر رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ریاست کے پاس جو اختیار ہوتا ہے اور اس کے لیے کردار ادا کرنے کے جو مواقع ہوتے ہیں، ان کی اہمیت نہیں ہے۔ بہت سے کام ہیں جو وہی کر سکتی ہے۔ مثلاً اس وقت تعلیم کے دائرے میں ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پوری قوم کے اندر کوئی فکری یکسوئی نہیں ہے۔ درجن بھر تعلیمی نظام کام کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو قوم میں بنیادی ایشوز کے حوالے سے فکری یکسوئی پیدا کرنی ہے تو آپ کو نظام تعلیم کو اس کا ذریعہ بنانا پڑے گا۔ اب یہ کون کر سکتا ہے؟ ظاہرہے کہ ریاست ہی کر سکتی ہے۔ میں اس وقت اس سے اختلاف نہیں کر رہا کہ ریاست کا معاشرے کی اصلاح میں ایک بنیادی اور غیر معمولی کردار ہے۔ میں جو بات عرض کر رہا ہوں، وہ یہ ہے کہ اس وقت ریاست میں اقتدار واختیار رکھنے والے وہ طبقات جنھوں نے یہ کردار ادا کرنا ہے، وہ اس کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔ آپ ان کو محض suggest کر کے کہ یہ طریقہ ہے اور یہ طریقہ ہے، فلاں اقدام کریں تو یہ ہوگا اور یہ فیصلہ کریں تو وہ ہوگا، کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ بے فائدہ ہے۔ ان کے اندر نہ اس کا داعیہ ہے، نہ جذبہ ہے، نہ کمٹ منٹ ہے اور نہ وژن ہے۔ کوئی شبہ نہیں کہ ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا ہے، لیکن اس وقت مقتدر طبقات اس کے لیے تیار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت آپ کو کیا کرنا ہے؟ اور اگر ان طبقات کو آپ اس سطح پر لانا چاہتے ہیں اور انھیں اس کردار کے لیے تیار کرنا چاہتے ہیں تو اس کی حکمت عملی کیا ہے؟ 
ہم حکمران طبقہ کوئی آسمان سے اتار کر تو لا نہیں سکتے۔ اصل میں ہم یہ فرق نہیں سمجھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جو اسلامی ریاست قائم ہوئی، اس میں جن لوگوں کو اقتدار واختیار سونپا گیا، ان کے انتخاب کی اصل بنیاد ہمارے ہاں کے جمہوری طریقے کے مطابق لوگوں کی طرف سے اعتماد کاووٹ نہیں تھا۔ وہ تو براہ راست خدا کی نگرانی میں ایک ریاست قائم ہوئی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خاص گروہ کو تربیت دی تھی اور ان کو اس معیار پر لے کر آئے تھے کہ جب وہ اس ریاست میں زمام اقتدار سنبھالیں تو ایک مثالی حکمران کا نمونہ پیش کر سکیں۔ ان کو اللہ نے امتحانوں اور آزمائشوں کی بھٹی سے گزار کر انعام کے طور پر اقتدار دیا تھا۔ وہاں تو یہ بات بالکل سمجھ میں آتی ہے کہ جو حکمران ہیں، ان کا اپنا ذاتی فعل، کردار، ان کا وژن اور ان کی ترجیحات اس جگہ پر ہیں جہاں انھیں ہونا چاہیے اور جب انھیں اقتدار ملا تو انھوں نے اس کو implement کر کے دکھا دیا۔ آج ہم تو اس صورت حال میں کھڑے نہیں ہیں۔
تو بات یہ نہیں کہ ریاست کو اختیار حاصل نہیں ہوتا یا اس کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی یا اس کا کردار غیر اہم ہوتا ہے۔ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو طبقہ اوپر بیٹھا ہوا ہے، وہ ہم میں سے ہی نکل کر گیا ہے۔ اخلاقی لحاظ سے جو پورے معاشرے کی ترجیحات ہیں، انھی کا اثر ان پر بھی ہے اور اقتدار واختیار کے حوالے سے وہ اسی نفسیات کا نمونہ پیش کرتے ہیں جو عمومی طور پر ہم سب کی ہے۔ ہمارے مذہبی معلمین اور مبلغین اور مصلحین کو چاہیے کہ اس حکمران طبقے کو Target کریں۔ ان کو مخاطب بنائیں اور کافی عرصے تک ان کو تیار کرنے کی کوشش کریں تاکہ ان کے اندر اسلام کا جذبہ اور اسلام کے نفاذ اور سوسائٹی کی اصلاح کا داعیہ پیدا ہو جائے۔ آپ عام لوگوں کو بھی مخاطب بنائیں تاکہ ان کے اندر ایمانی جذبہ اور قبولیت پیدا ہو اور آپ حکمرا ن طبقات اور مقتدر طبقات کو بھی اپنی دعوت وتبلیغ کا اور اصلاح کا ہدف بنائیں تاکہ وہ لوگ اپنی ذات میں ایک اچھا نمونہ بن سکیں، ان کے اندر یہ داعیہ پیدا ہو کہ ہمیں سوسائٹی میں جو مقام اور جو اثر ورسوخ حاصل ہے، اس کوہم نے اچھے مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ یہ وہ بات ہے جو میں عرض کر رہا ہوں۔ریاست کو جو اختیار یا طاقت حاصل ہوتی ہے یا اس کی جو ذمہ داریاں بنتی ہیں، ان کی نفی نہیں کر رہا۔
مشعل سیف: کچھ لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ علماء کو حکمران ہونا چاہیے، کیونکہ وہ اسلام کو بہتر سمجھتے ہیں اور وہی صحیح اسلامی ریاست قائم کر سکتے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں علما کو ہی حکمران طبقہ ہونا چاہیے؟ 
عمار ناصر: دیکھیں، جب آپ ’’طبقہ علما‘‘ کہتی ہیں تو اس کا مطلب بالکل اور بنتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ہمارے ہاں جو علماء کے عنوان سے ایک خاص Class موجود ہے، اس کو حکمرانی کی ذمہ داریاں دے دی جائیں۔ اگر آپ کی یہ مراد ہے تو میں ہرگز یہ نہیں سمجھتا کہ حکومت اس طبقے کے سپرد کرنی چاہیے۔ ہاں، ایک دوسری بات ہے اور وہ یہ کہ جو حکمران ہے، وہ اسلام کا اتنا علم رکھتا ہو کہ وہ ایک عالم دین کے ہم پلہ ہو تو یہ بات درست ہے۔ Ideally مسلمانوں کے حکمران کو عالم ہونا چاہیے، بلکہ میں تو کہوں گاکہ وہ اتنا گہرا علم رکھتا ہو کہ خود اس کی اپنی ایک رائے ہو۔ یہ تو ہمارا خواب ہے کہ کبھی ایسا ہو جائے۔ لیکن آپ طبقہ علماء کو جو اس وقت ہمارے ہاں موجود ہے، اقتدار دینے کی بات کر رہی ہیں تو میرے خیال میں یہ اس کی بالکل اہلیت نہیں رکھتے۔ ان کے پاس وژن بھی نہیں ہے، ان کو معاشرے کے مسائل کا ادراک نہیں ہے اور عملاً ہم متحدہ مجلس عمل کو صوبہ سرحد میں ایک موقع دے کر دیکھ چکے ہیں کہ وہ اپنے دائرۂ اختیار میں بھی کچھ نہیں کر سکے۔ معاشرہ بہت پیچیدہ ہے۔ اس کے مسائل کو کیسے handle کرنا ہے، ہمارا موجودہ طبقہ علما اس سے بالکل نابلد ہے۔ 
مشعل سیف: یعنی آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ علماء کو حکمرانوں کو نصیحت کرنی چاہیے، انھیں خود حکمران بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے؟
عمار ناصر: بالکل کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اور نصیحت بھی اس پہلو سے نہیں کرنی چاہیے کہ وہ حکومت کے معاملات کو کیسے چلائیں۔ یہ وہی بہتر سمجھتے ہیں۔ نصیحت اس پہلو سے کرنی چاہیے کہ ان کے اندر ایمانی جذبہ بیدار ہو جائے، ان کا اپنا اخلاق وکردار بہتر ہو جائے اور ایک مسلمان حکمران کے اندر جو احساس ذمہ داری ہونا چاہیے، وہ پیدا ہو جائے کہ مجھے اپنے اختیار کا غلط استعمال نہیں کرنا، کیونکہ یہ میرے پا س امانت ہے۔ اسی کو تذکیر کہتے ہیں۔علماء کا کام تذکیر ہے،یعنی کسی بھی آدمی کو اس بات کی یاد دہانی کرانا کہ وہ اللہ کے سامنے جواب دہی کے احساس سے اپنے کردار کا، اپنے قول وفعل کا جائزہ لے اور یہ تصور کرے کہ مجھے دنیا میں کچھ دنوں کا اقتدار مل گیا ہے تو میں فرعون نہ بن جاؤں۔ یہ جو ایمان کا جذبہ پیدا کرنا ہے، یہ ایک عام آدمی میں بھی بیدار کرنا ہے اور ایک حکمران میں بھی کرنا ہے تاکہ جس آدمی کو اللہ نے جہاں place کیا ہے، وہاں وہ اللہ کی مرضی اور اس کی منشا کے مطابق عمل کرے۔
یہاں میں یہ بات Stress کے ساتھ کہوں گا کہ علماء سے مراد صرف دین کا علم رکھنے والے لوگ نہیں۔ دین کی باتیں بتانے والے بہت ہیں، آپ کتابوں میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ وہ لوگ مراد ہیں جو اپنے کردار سے اور اپنی سیرت کے حسن سے آپ کو Inspire کر سکیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے دوست وہ ہیں جن کو تم دیکھو تو تمھیں خدا یاد آ جائے۔ ایسی کیفیات پیدا کرنے والے لوگ ہم میں ہونے چاہییں جو ہمیں اپنی اصلاح پر آمادہ کریں۔ تقریریں تو ہم روز سنتے رہتے ہیں، بلکہ میرے خیال میں یہ جو بہت زیادہ تقریریں سننا ہے، یہ بھی ہماری عمل کی حس کو بڑی حد تک دبا دیتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہفتے میں ایک ہی دن وعظ ونصیحت کرتے تھے۔ جب ہم ہر وقت باتیں سنتے اور کرتے رہتے ہیں تو ہماری حس مردہ ہو جاتی ہے اور ہم بے پروا ہو جاتے ہیں کہ یہ باتیں تو ہر وقت سنتے ہی رہتے ہیں۔ تو دعوت وتبلیغ سے مراد مذہبی تقریریں کرنا یا مذہبی اجتماعات منعقد کرنا نہیں۔ مقصد یہ ہے کہ انسان میں تبدیلی کیسے آئے اور نفس کے بندے کیسے خدا کے بندے بن جائیں۔ میرے اندر کیسے تبدیلی آئے، مخاطب کے اندر کیسے آئے اور ہم خدا کے صحیح مسلمان بندے بن جائیں، یہ مطلوب ہونا چاہیے۔
مشعل سیف: آپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے ہمیں نچلی سطح پر توجہ دینی چاہیے۔ یقیناًریاست ایک قوت اور طاقت ہوتی ہے اور وہ بھی معاشرے میں تبدیلی لا سکتی ہے اور نظام تعلیم بھی اس میں کردار ادا کرتا ہے، مگر آپ کے خیال میں پاکستان کے حالات میں زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ علماء معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے محنت کریں۔ آپ بتائیں کہ کیا آپ نے یہ کام کیا ہے یا اگر موقع ملے تو آپ کن خطوط پر محنت کریں گے؟
عمار ناصر: دیکھیں، اس وقت جو کوشش ہونی چاہیے، وہ یہ ہے کہ جن طبقات کا اس وقت ریاست کا نظام چلانے میں بنیادی کردار ہے، اس میں آپ کے سیاست دان ہیں، افواج ہیں، عدلیہ ہے، بیورو کریسی ہے، میڈیا کے لوگ ہیں، سرمایہ دار طبقات ہیں۔ یہی ہیں جو اس وقت الٹا سیدھا جو بھی کر سکتے ہیں، کر رہے ہیں! سو طبقہ علماء کو یا معاشرے کی اصلاح چاہنے والے لوگوں کو چاہیے کہ ان افراد کو اپنی تعلیمی اور تبلیغی واصلاحی کوششوں کا خاص طور پر ہدف بنائیں۔ مثلاً میڈیا کی بہت بڑی طاقت ہے اور وہ لوگوں کے رجحان بنانے اور بگاڑنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن وہاں جو افراد بیٹھے ہوئے ہیں، ان کا جو وژن ہے اور وہ میڈیا کو جیسے دیکھ رہے ہیں، ان کے سامنے سوسائٹی کا جو تصور ہے، وہ اسی کے لحاظ سے اپنا کام کریں گے۔ ان کے سامنے اگر کوئی وژن ہی نہیں ہے اور بس آزادی ہی آزادی کا تصور ہے یا سنسنی پھیلا کر ہر وقت لوگوں کو ٹی وی کے سامنے بٹھائے رکھنا ان کا ہدف ہے یا کمرشلائزیشن کا محرک کام کررہا ہے تو وہ اسی کے لحاظ سے اپنی پالیسیاں اور ترجیحات متعین کریں گے، اسی کے لحاظ سے اپنا content تیار کریں گے۔ اگر اس طرح کے لوگوں کو ہدف بنایا جا سکے تو اس کے کافی اثرات ہوں گے۔ تبلیغی جماعت ایک حد تک یہ کام کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بہت زیادہ Other-worldly ہو جاتی ہے اور ہماری سوسائٹی کے جو مسئلے ہیں، وہ اس کی دعوت کا موضوع نہیں۔ لیکن حکمت عملی ان کی درست ہے۔ آپ افراد تک، وہ جہاں بھی معاشرے میں پھیلے ہوئے ہیں، رسائی حاصل کریں۔ ان کے زاویہ نظر کو یا ان کے عمل کو، ان کے کردار کو بہتر بنانے کی کوشش کریں تاکہ جہاں بھی ان کو کام کرنے کا موقع ملے، وہ وہاں کام کریں۔ 
یہ اسٹریٹجی بنیادی طور پر ٹھیک ہے۔ اس کو اگر ذرا وسیع کر لیا جائے اور جو طبقے آپ کے مخاطب ہیں، ان کی نفسیات کے لحاظ سے ذرا tailor کرلیا جائے، ان کے مزاج سے ہم آہنگ کر لیا جائے تو میرے خیال میں یہ کام کرنے کا ہے۔ یہ مجدد الف ثانی او ران کے مرشد خواجہ باقی باللہ کا طریقہ ہے۔ انھوں نے عوام میں کوئی شور مچانے کے بجائے اور کوئی موومنٹ شروع کرنے کے بجائے اکبر کے بہت قریبی امرا کے ساتھ شخصی روابط قائم کیے۔ ان کے ہاں جو فکری کجی تھی، اس کو درست کیا اور اس سے ایک نتیجہ انھوں نے حاصل کیا۔ جب اکبر کو دین الٰہی کی تبلیغ کے لیے دست وبازو ہی نہ ملے تو بس وہ دربار تک محدود ہو کر رہ گیا۔ میرے خیال میںآج بھی علماء کو یہی کام کرنا چاہیے، لیکن یہ کام بالکل بے لوث ہو کر کیا جائے، تبھی ثمرات دے گا۔ اس وقت ہمارے مذہبی لوگ اہل اقتدار اور بارسوخ طبقات کے ساتھ تعلقات بناتے ہیں، لیکن وہ دعوت کے جذبے سے نہیں ہوتا۔ وہ زیادہ تر اپنا قد اونچا کرنے یا کچھ مفادات حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔
مشعل سیف: آپ بھی تعلقات بناتے ہیں ایسے لوگوں کے ساتھ؟
عمار ناصر: میں تو بالکل گوشہ نشین آدمی ہوں۔ اپنے محلے کے بھی سارے افراد کو نہیں جانتا۔
مشعل سیف: آپ نے کہا کہ ہمارے مدارس میں کلاسیکی فقہ تو پڑھائی جا رہی ہے، لیکن جدید مغربی علوم نہیں پڑھائے جا رہے اور اس کی وجہ سے وہاں قدامت پسند سوچ اور مائنڈ سیٹ پیدا ہو رہا ہے۔ آپ کے علم میں ہوگا کہ اتحاد تنظیمات مدارس نے کچھ عرصہ قبل حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا، لیکن اس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ مدارس میں جدید علوم بھی پڑھائے جائیں گے۔ کیا اس طرح کے کسی معاہدے پر اگر عمل ہو تو آپ کے خیال میں یہ جو قدیم اور جدید فکر کے درمیان دوری کی صورت حال ہے، اس کے حل میں مدد ملے گی؟
عمار ناصر: دیکھیں، اس طرح کے جو معاہدے ہیں، یہ سب Political معاہدے ہیں۔ ان کے پیچھے نہ تو کوئی ایسا جذبہ ہے کہ ہمیں مدارس کے طلبہ کے وژن کو وسیع کرنا ہے اور نہ حقیقی ارادہ (Will) کار فرما ہے۔ یہ سیاسی معاہدے ہیں۔ مدارس پر بہت دباؤ ہے کہ یہ انتہا پسندی کو فر وغ دے رہے ہیں، یہ تنگ نظری پیدا کر رہے ہیں، یہ جدید علوم نہیں پڑھا رہے۔ تو اس دباؤ کو face کرنے کے لیے مدارس کچھ ایسے اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں جو دکھائے جا سکیں کہ دیکھیں، ہم نے یہ باتیں مان لی ہیں تاکہ دباؤ کچھ کم ہو سکے۔ یہ صرف اس حد تک ہے۔ اس کے پیچھے کوئی حقیقی عزم نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ جو جدید علوم آپ کے وژن کو وسیع کر سکتے ہیں، وہ ریاضی اور سائنس تو نہیں ہیں۔ وہ تو سوشل سائنسز ہوتی ہیں۔ سوشل سائنسز ہیں جو آپ کے انداز نظر کو بدلتی اور وسیع کرتی ہیں۔ ان کا تو یہاں کوئی ذکر ہی نہیں۔ آپ مدارس کے طلبہ کو اگر دسویں یا بارھویں جماعت تک انگریزی اور ریاضی پڑھا دیں گے تو اس سے ان کے وژن میں کیا وسعت آ جائے گی؟ 
اصل چیز بنیادی ذہنی رویہ ہے۔ مدارس کی قیادت اپنے ذہنی رویے میں محصور ہے۔ انھیں نہ خود اپنے محدود طبقاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر سوچنا قبول ہے اور نہ اپنے طلبہ میں وہ یہ رجحان پیدا ہونے دینا چاہتے ہیں۔ اسی طرح ہماری جو حکومتیں ہیں، ان کا مفاد بھی اسی میں ہے کہ مدارس کے لوگ اور مذہبی لوگ سوسائٹی میں ایک محدود دائرے میں ہی اپنا کردار ادا کریں۔ آپ اس کا تجزیہ کیجیے گا۔ میری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ مدارس کے لوگوں کو تعلیمی لحاظ سے اور اپنے فکری اثرات کے لحاظ سے ایک محدود دائرے میں رکھنا یہ مدارس کی جو قیادت ہے، اس کے بھی مفاد میں ہے، یہ حکومتوں کے مفاد میں بھی ہے اور یہ سیکولر طبقوں کے بھی مفاد میں ہے۔ وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ اسی دائرے میں رہیں، اس لیے کہ ان کو اگر جدید علوم بھی حاصل ہوں گے تو لازمی طور پر ان میں سوسائٹی میں Peneteration کی زیادہ استعداد پیدا ہوگی اور اس سے ظاہر ہے کہ سیکولر لوگوں کا مقدمہ خراب ہو جائے گا۔ یہ سارے Stake holder کے اشتراک سے، مل جل کر ایک کام ہو رہا ہے۔ البتہ سوسائٹی کو مطمئن کرنے کے لیے یا باہر سے جو دباؤ آتا ہے، اس کو face کرنے کے لیے کچھ اس طرح کے کام وقتاً فوقتاً کر لیے جاتے ہیں۔ ان سے کسی حقیقی تبدیلی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
جنرل پرویز مشرف کے دور سے لے کر اس وقت تک جتنی بھی کوشش ہوئی ہے، اس کا محرک بنیادی طور پر تعلیمی اصلاح نہیں ہے۔ نہ حکومت کا اور نہ مدارس کے کارپردازان کا یہ مقصد ہے کہ ہم اپنے مدارس کے نظام تعلیم کو بہتر بنائیں تاکہ یہاں سے زیادہ باصلاحیت اور زیادہ اونچے calibre کے لوگ پیدا ہوں۔ یہ سارا سلسلہ بیرونی دنیا کے دباؤ کو faceکرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ اس سے مدارس کو سیاسی طور پر فائدہ ہوا۔ انھوں نے اپنی ایک متحدہ تنظیم بنا لی، دباؤ کا سامنا کرنے میں ان کو مدد مل گئی اور حکومت کو بھی بیرونی دنیا کے سامنے کچھ کہنے کے لیے مل گیا کہ دیکھیں، ہم یہ تبدیلیاں کروا رہے ہیں۔ اس حد تک تو اس کا فائدہ نظر آتا ہے، لیکن آپ یہ سمجھیں کہ اس سے کوئی بنیادی تبدیلی آئے گی تو ایسا بالکل نہیں ہے۔ اس کے لیے پہلے رویے بنتے ہیں، آپ کے اندر آمادگی پیدا ہوتی ہے کہ واقعی ہم نے اپنے ہاں سے بہتر لوگ پیدا کرنے ہیں۔ یہ آمادگی یا داعیہ ابھی تک پیدا نہیں ہوا۔ شاید آپ اس کو بدگمانی کہیں، لیکن میں پھر یہ کہوں گا کہ مدارس کی قیادت سمیت اس وقت جتنے بھی فریق ہیں، ان سب کا مفاد اسی میں ہے کہ یہ طبقہ ایک خاص سطح پر ہی رہے اور ایک محدود دائرے میں ہی اپنا کردار ادا کرتا رہے۔ کچھ طبقے شعوری طور پر ایسا چاہتے ہیں اور کچھ غیر شعوری طور پر، لیکن مفاد سب کا اسی میں ہے۔
مشعل سیف: کچھ عرصہ قبل مختلف وفاقوں کے سربراہوں پر مشتمل ایک وفد کو وزیر تعلیم کے ہمراہ مصر اور ترکی میں مذہبی تعلیم کا نظام دیکھنے کے لیے ایک مطالعاتی دورہ کروایا گیا تھا۔ آپ کے خیال میں اس سے کچھ فائدہ ہو سکتا ہے؟
عمار ناصر: دیکھیں، اگر تومدارس کی قیادت میں یہ will موجود ہے کہ ہمیں مثبت تبدیلیاں لانی ہیں تو پھر اس طرح کے جتنے بھی تعلیمی ماڈل دیکھے جا سکیں، وہ مفید ہوں گے اور مختلف ممالک میں کیے جانے والے تجربات سے راہنمائی ملے گی، لیکن مجھے معلوم ہے کہ ایسی کوئی will موجود نہیں۔ میں نے اس دورے کے منتظمین سے کہا تھا کہ یہ حضرات دوسرے ملکوں میں جا کر اچھی اچھی باتیں دیکھیں گے اور سنیں گے، لیکن واپس آ کر اگر آپ ان سے یہ کہیں گے کہ آپ بھی اپنے ہاں ا س طرح کی اصلاحات introduce کروائیں تو وہ کہیں گے کہ بھئی، یہ ہم نہیں کر سکتے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان میں یہ will ہی نہیں ہے اور will کے علاوہ یہ مسئلہ بھی ہے کہ پورے مذہبی طبقے کا جو مائنڈ سیٹ ہے، اس میں تبدیلی کی خواہش مستحکم بنیادوں پر اور وسیع پیمانے پر پیدا کیے بغیر کوئی عملی اقدام ممکن ہی نہیں۔ کیا آپ کے خیال میں وفاق المدارس العربیہ یا تنظیم المدارس کے جو سیکرٹری جنرل ہیں، ان کو یہ مینڈیٹ ملا ہوا ہے کہ وہ جیسی اصلاحات مناسب سمجھیں، قبول کر لیں؟ بالکل نہیں۔ یہ حضرات تو اپنے اپنے حلقے کی سوچ کی نمائندگی کرنے کے لیے ان مناصب پر مقرر کیے گئے ہیں۔ جو تبدیلیاں اور اصلاحات ان سے منوانے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ اگر مان بھی لیں تو نیچے کا طبقہ قبول نہیں کرے گا۔
مشعل سیف: آپ نے مذہبی لوگوں کو ایک دائرے میں محدود رکھنے کی جو بات کی، اس سے مجھے یاد آیا کہ Malika Zeghal ایک اسکالر ہیں جو پی ایچ ڈی ہیں اور مصر کے حالات پر تحقیق کرتی ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ مصر کی حکومت کی علماء کے متعلق یہ پالیسی ہے کہ ان کے دائرۂ اثرکو محدود رکھتے ہوئے انھیں ایک حد تک حکومتی معاملات میں شریک رکھا جائے، اس لیے الازہر کے کچھ علماء کو ہمیشہ حکومتی مناصب میں حصہ دیا جاتا ہے۔ انھوں نے ا س کو مذہبی علماء کی domestication کا نام دیا ہے۔ کیا پاکستان میں بھی اسی طرح کی صورت حال نظر نہیں آتی؟ حکومت جانتی ہے کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ ہیں جو اسلام سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے حکومت ان کو مطمئن کرنے کے لیے کچھ علماء کو اسلامی نظریاتی کونسل میں لے لیتی ہے تاکہ یہ بتایا جا سکے کہ ہم نے اسلام کے لیے بھی کچھ کام کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ علماء کو ایک دائرے میں محدود بھی رکھا جاتا ہے تاکہ وہ پالیسیوں پر زیادہ حاوی نہ ہونے پائیں؟
عمار ناصر: بالکل ایسے ہی ہے۔ پالیسی یہ ہے کہ علماء کے طبقے کی، جو مذہب کی نمائندگی کرتا ہے، اس پہلو سے تسکین ہوتی رہے کہ ہمارے لیے بھی اس نظام میں جگہ ہے۔ کوئی نظریاتی کونسل بنا دی جائے گی، کوئی رؤیت ہلال کمیٹی بن جائے گی، کوئی قرآن بورڈ تشکیل دے دیا جائے گا، سرکاری اہتمام میں کچھ علماء ومشائخ کانفرنسیں منعقد کر لی جائیں گی تاکہ طبقہ علماء کو مطمئن رکھا جائے کہ ایسا نہیں ہے کہ آپ کی کوئی قدر نہیں ہے، تاکہ اس کے بعد جو ایک عمومی نظام بنا ہوا ہے، یہ حضرات اس کے لیے کوئی مسئلہ نہ کھڑا کریں۔ اگر علماء کو engage نہیں کریں گے تو اس طبقے میں نظام سے بہت زیادہ alienation پیدا ہو جائے گی۔ مذہب تو موجود ہے سوسائٹی کی نفسیات میں اور اس کی ایک سماجی اور سیاسی طاقت بھی ہے۔ سو اس طبقے کو نظام پر حاوی کیے بغیر اسے ایک حد تک نمائندگی دے دی جائے، اس انڈرسٹینڈنگ کے ساتھ کہ بھئی، جو جگہ آپ کو دی گئی ہے، اس پر خوش رہیں اور اس سے آگے خواہ مخواہ باقی معاملات میں ٹانگ نہ اڑائیں۔ یہی اس وقت مصر اور پاکستان جیسے معاشروں میں حکومتی پالیسی ہے کہ طبقہ علماء کو اس طرح engage کیا جائے کہ ان کو اس بات کا زیادہ احساس نہ ہو کہ ہمیں sideline کر دیا گیا ہے۔ 
میں اس تجزیے سے ایک سو ایک فی صد اتفاق کرتا ہوں، لیکن میرے نزدیک اس میں دوش ارباب اقتدار کو نہیں، بلکہ خود مذہبی لیڈر شپ کو دینا چاہیے۔ ارباب اقتدار کو تو فطری طور پر ایسے ہی سوچنا چاہیے۔ یہ ان کی سیاست کا بھی تقاضا ہے اور مفاد کا بھی اور ایک لحاظ سے دیکھیں تو حکمت کا بھی۔ اصل میں تو سوال مذہبی لیڈر شپ پراٹھتا ہے کہ وہ کچھ perks and privileges پر راضی ہو کر اپنے طبقاتی مفاد اور وہ بھی زیادہ تر اوپر کی سطح کی قیادت کے مفاد کا تحفظ کرنے پر قناعت کر چکی ہے، جبکہ خدا کے دین کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے ان کی جو ذمہ داری بنتی ہے، وہ بالکل پس پشت ڈال دی گئی ہے۔ مذہب تو اپنی اصل روح کے اعتبار سے لوگوں کی زندگیاں بدلنے اور انسان کو اخلاقی خرابیوں سے پاک کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہم یہ نہیں کر رہے۔ سماجی کردار کے لحاظ سے دیکھیں تو ظلم وجبر اور استحصال پر مبنی ایک نظام میں مذہبی طبقے کا رویہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ایک Stake holder کی طرح بس اپنے مخصوص طبقاتی مفادات کے تحفظ کو مطمح نظر بنا لے، جبکہ ہم بعینہ یہی کر رہے ہیں۔
مشعل سیف: آپ کے حوالے سے ایک مسئلہ جو بہت Controversial رہا ہے، وہ ہے توہین رسالت پر سزا کا قانون۔ آپ کے افکار بہت سے علماء سے مختلف ہیں اور آپ پر اس حوالے سے کافی تنقید بھی کی گئی ہے۔
عمار ناصر: نہیں، میرے افکار کوئی اتنے مختلف نہیں ہے۔ جب آپ کسی معاملے کو politicize کر دیں تو پھر ایسا لگتا ہے۔ میرا نقطہ نظر زیادہ مختلف نہیں ہے۔ دیکھیں، مجھے اس سے پورا اتفاق ہے کہ توہین رسالت ایک جرم ہے۔ مجھے اس سے بھی اتفاق ہے کہ مسلمانوں کے ملک میں اس مسئلے کو قانون کا موضوع بننا چاہیے۔ جہاں مسلمانوں کی ریاست دوسرے جرائم کی روک تھام کے لیے قانون بناتی ہے، یہ بھی اس کی ذمہ داری ہے کہ اپنے پیغمبر کی عزت وناموس کی حفاظت کے لیے بھی قانون سازی کرے۔ اس معاملے سے ریاست لا تعلق نہیں رہ سکتی۔ مجھے اس سے بھی اتفاق ہے کہ اس جرم پر مجرم کے لیے موت کی سزا بھی قانون میں شامل کر لی جائے تو وہ بالکل درست ہے۔ اختلاف کس بات پر ہے؟ اختلاف صرف اتنی بات پر ہے کہ جرم کی نوعیت اور سوسائٹی میں مجرم کی حیثیت کیا ہے یا اس نے جو جرم کیا ہے، اس کا کتنا اثر سوسائٹی میں پھیلا ہے، کیا سزا دیتے ہوئے ان چیزوں کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے یا نہیں رکھنا چاہیے؟ میں نے جتنا بھی اسلامی شریعت کو، فقہ کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور صحابہ کے فیصلوں کو پڑھا ہے، یہی واضح ہوتا ہے کہ آپ کو یہ سارے پہلو ملحوظ رکھ کر ہی مجرم کے خلاف اقدام کرنا چاہیے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک آدمی نے، چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو، کسی بھی کیفیت میں، کسی بھی سچویشن میں، ارادۃً یا بلا ارادہ اپنے منہ سے کوئی ایسا کلمہ نکال دیا جو توہین کو مستلزم ہے تو بس ہم اس کی گردن اڑانے کے ہی پابند ہیں۔ یہ اسلام نے نہیں کہا۔ آپ کو ملحوظ رکھنا ہوگا کہ اگر اس نے بلا ارادہ ایسا کیا ہے تو اسے توبہ کا موقع ملنا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ مسلمان تو ارادۃً ایسا نہیں کر سکتا۔ غیر مسلم نے اگر ارادۃً کیا ہے تو دیکھا جائے کہ کس سچویشن میں کیا ہے؟ کیا بات ہو رہی تھی؟ کیا گفتگو چل رہی تھی؟ عین ممکن ہے کہ مسلمان اور غیر مسلم آپس میں کوئی بحث کر رہے ہوں اور اس میں مسلمانوں نے کوئی سخت بات غیر مسلموں کے مذہب کے بارے میں کہہ دی ہو اور اس کے رد عمل میں غیر مسلم کے منہ سے بھی ایسی کوئی بات نکل جائے اور پھر وہ اس پر نادم ہو اور معذرت پیش کرنے کے لیے آمادہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان ہر طرح کے حالات میں شریعت ہمیں پابند کرتی ہے کہ ہم ضرور اس کی گردن ہی اڑائیں؟ یہ ہرگز شریعت کا منشا نہیں ہے۔
میرا اختلاف صرف اتنا ہے کہ مجرم کے حالات کے لحاظ سے قانون میں موت سے کم تر سزا کی گنجائش بھی ہونی چاہیے اور خاص طور پر اگر مجرم اپنے جرم پر نادم ہو ، شرمندہ ہو اور معذرت پیش کر رہا ہو تو ا س کو توبہ کا موقع دینا چاہیے۔ یہی شریعت کا منشا ہے۔ اور یہ بات میں نے کوئی پہلی مرتبہ نہیں کہی۔ ہمیشہ سے فقہا میں یہ دونوں نقطہ نظر رہے ہیں۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے تلامذہ خاص طور پر اس کے قائل ہیں کہ آپ اس معاملے میں آخری حد تک مجرم کو توبہ ہی کا موقع دیں گے۔ ہاں، جب کوئی مجرم اس سطح پر آ جائے کہ وہ بار بار جرم کا ارتکاب کرتا ہے اور علانیہ کرتا ہے اور باز نہیں آتا، تب اس کے فساد سے بچنے کے لیے آپ اس کو موت کی سزا دے سکتے ہیں۔ 
ہمارے ہاں یہ مسئلہ دراصل politicize ہو چکا ہے۔ جو سیکولر لابی ہے، اس کی کوشش یہ ہے کہ سرے سے یہ قانون ہی ختم ہو جائے۔ اس کے رد عمل میں جو مذہبی لوگ ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ قانون جیسا ہے اور جیسا بھی بن گیا ہے، ا س کو بالکل نہ چھیڑا جائے۔ یہ ایک سیاسی کشمکش ہے اور میں اس میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ ا س جرم پر سزا کا قانون ہونا چاہیے، یہ لازم ہے۔ یہ اسلامی ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے۔ لیکن قانون میں اتنی لچک ہونی چاہیے جتنی لچک شریعت نے رکھی ہوئی ہے۔ تو یہ نقطہ نظر کا اتنا اختلاف نہیں ہے جتنا اس معاملے کے politicize ہو جانے کی وجہ سے دکھائی دیتا ہے۔
مشعل سیف: لیکن کافی علماء ہیں جو ا س معاملے میں لچک پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ کہتے ہیں کہ لچک نہیں ہونی چاہیے۔
عمار ناصر: نقطہ نظر کا اختلاف تو موجود ہے۔ وہ اپنا نقطہ نظر رکھتے ہیں، لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ لچک کا ہونا یہ شریعت کے منشا کے زیادہ قریب ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نہیں ہے تو ٹھیک ہے۔ میں نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے، وہ بھی اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں۔ زبردستی اپنا موقف نہ میں enforce کر رہا ہوں نہ ان کو حق ہے کہ وہ enforce کریں۔
مشعل سیف: آپ کے اور دوسرے علماء کے درمیان ایک اور جو اختلاف ہے، وہ یہ کہ دوسرے علماء کافی حد تک یہ کہتے ہیں کہ جیسے ہی ایک شخص توہین رسالت کرتا ہے، وہ مباح الدم ہو جاتا ہے اور کوئی بھی اس کو قتل کر سکتا ہے، جبکہ آپ اس کے متعلق مختلف بات کہتے ہیں۔
عمار ناصر: بالکل نہیں۔ مباح الدم ہونے کا فیصلہ تبھی ہوگا جب کوئی با اختیار قانونی اتھارٹی یہ قرار دے دے گی کہ اس شخص کے جرم کی نوعیت فی الواقع ایسی ہے کہ اس کے بعد یہ کسی رعایت کا اور توبہ کا موقع دیے جانے کا مستحق نہیں رہا۔ مباح الد م ہونے کا یہ جو تصور ہے کہ جو بھی آدمی چاہے، اس کو اٹھ کر مار دے تو یہ کسی بھی طرح درست نہیں۔ مثلاً آپ دیکھیں کہ ایک آدمی نے کسی کو قتل کر دیا ہے۔اس کی سزا تو definitely یہ ہے کہ اس سے قصاص لیا جائے، لیکن کیا شریعت نے یہ کہا ہے کہ جو چاہے، اٹھ کر قاتل کو قتل کر دے؟ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ مقدمہ عدالت میں جائے گا، عدالت سارا کیس دیکھے گی اور وہی سزا دے گی۔ تو مباح الدم کا یہ جو تصور ہے کہ اس کے بعد وہ آدمی جس کے ہاتھ لگ جائے، وہ اسے مار دے، یہ بالکل کسی بھی لحاظ سے درست نہیں۔
مشعل سیف: اگر حکومت کچھ نہ کر رہی ہو، مثلاً ایک شخص نے توہین رسالت کردی ، مگر حکومت اس پر مقدمہ نہیں چلا رہی تو پھر کیا کیا جائے؟
عمار ناصر: اس کی ذمہ داری ہم پر نہیں ہے۔ ایک چیز ہمارے دائرۂ اختیار میں ہی نہیں ہے تو اس میں ہم مسؤل بھی نہیں ہیں۔ بنیادی بات یہ دیکھنے کی ہے کہ ہمیں کوئی اقدام آیا اس لیے کرنا ہے کہ اس سے ہمارے جذبات کی تسکین ہوتی ہے یا اس لیے کرنا ہے کہ اس سے خدا راضی ہوتا ہے اور ہم نے خدا کے سامنے اس کا جواب دینا ہے؟ اس وقت ہم فیصلے پہلی بنیاد پر کر رہے ہیں کہ اگر ہم اس بندے کو نہیں ماریں گے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہماری دینی غیرت مر گئی ہے۔ آپ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھیں۔ مکہ کی ساری زندگی میں رسول اللہ کو گالیاں ہی دی جاتی رہیں۔ کیا وہاں مسلمانوں کو غصہ نہیں آتا تھا یا ان کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی تھی؟ لیکن شریعت نے روکا ہوا تھا کہ اس وقت اقدام کی اجازت نہیں ہے۔ اس وقت ان ساری خرافات کو گوارا کرنا اور سن کر اعراض کر لینا ہی دین وایمان کا تقاضا ہے۔ تو ہمیں اپنے جذبات کو بھی دین وشریعت کے تابع بنانا چاہیے۔
مشعل سیف: آپ اس جرم کو Crime against the state تصور کرتے ہیں اور آپ نے اپنی کتاب میں بھی یہ لکھا ہوا ہے، جبکہ دوسرے علماء اس کو ایسا تصور نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس نے ہر ہر مسلمان کے خلاف جرم کیا ہے اور وہ مباح الدم ہو چکا ہے تو اب کوئی بھی اسے مار سکتا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ حکومت ہی اقدام کرے۔
عمار ناصر: یہ بات تو ہماری جو کلاسیکی فقہ ہے، اس کے بھی بالکل خلاف ہے۔ فقہ میں کوئی امام بھی اس کا قائل نہیں ہے۔ جو بھی جرائم اسٹیٹ کے خلاف ہوتے ہیں، وہ اصل میں سوسائٹی کے خلاف ہوتے ہیں جس کی نمائندگی اسٹیٹ کر رہی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب تو یہ بنے گا کہ اس نوعیت کے ہر جرم میں آپ ہر شخص کو سزا دینے کا اختیار دے رہے ہیں۔ پھر تو قانون ختم ہو جائے گا۔ اسلامی فقہ میں ہرگز توہین رسالت کے مجرم کو سزا دینے کا یہ طریقہ suggest نہیں کیا گیا اور نہ اس کو پسندیدہ کہا گیا ہے۔ فقہ میں صرف اتنی بات کہی گئی ہے کہ اگر کسی شخص نے گستاخی کی ہے اور کسی مسلمان نے مشتعل ہو کر، جذبات میں آ کر اسے قتل کر دیا اور پھر عدالت نے تحقیق کے بعد یہ دیکھاکہ مقتول نے واقعی یہ جرم کیا تھا اور مارنے والے نے واقعتا جذبات میں آ کر ایسا کیا ہے، کوئی اور motive نہیں تھا تو عدالت اس کو extenuating circumstances کی رعایت دے گی۔ صرف یہ بات کہی گئی ہے۔ یہ نہیں کہ positively یہ تجویز کیا گیا ہے کہ جو شخص چاہے، اس کا قصہ پاک کر دے۔
مشعل سیف: آپ نے توہین رسالت کے بارے میں جو کچھ لکھا، وہ ممتاز قادری کے کیس کے پس منظر میں لکھا۔ کیا یہ بات درست ہے؟
عمار ناصر: اصل میں کسی خاص واقعے کے نتیجے میں مسئلہ highlight ہو جاتا ہے، لوگوں کی توجہ اس کی طرف مبذول ہو جاتی ہے اور لوگ اپنی اپنی آرا بھی پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یوں ایک موقع بن جاتا ہے جس میں آپ کو اپنی بات کہنی پڑتی ہے، ورنہ ممتاز قادری کے کیس کی فی نفسہ میری نظر میں اتنی اہمیت نہیں ہے۔ اس نے ایک ایسا موقع بنا دیا کہ توہین رسالت کے قانون کے بارے میں بحث کھڑی ہو گئی اور اس کے حوالے سے مجھے بھی لکھنا پڑا۔
مشعل سیف: اگر آپ کے نقطہ نظر سے اس کیس کو دیکھا جائے تو پھر ممتاز قادری ایک مجرم ہے، کیونکہ اسے سزا دینے کا حق نہیں تھا۔ یہ توحکومت کا کام تھا۔
عمار ناصر: سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہیے کہ کوئی بھی شخص آیا فی الواقع توہین رسالت کا مرتکب ہوا بھی ہے یا نہیں؟ یہ بنیادی سوال ہے۔ اگر کسی شخص کے بیان کی ایک سے زیادہ interpretations ممکن ہوں تو اس کے متعلق یہ مسلمہ اصول ہے کہ آدمی کو اپنی بات کی وضاحت خود کرنے کا حق ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں توہین رسالت کی حمایت نہیں کر رہا، بلکہ یہ کہہ رہا ہوں کہ ہمارے ہاں اس قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے، اگر ایک شخص اپنی بات کی وضاحت کر رہا ہے کہ وہ قانون کے غلط استعمال پر تنقید کر رہا ہے تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اس نے توہین رسالت کی ہے؟ 
فر ض کر لیں کہ کسی نے واقعی توہین رسالت کی تھی تو اس پر بھی ایک عام آدمی کو کیسے یہ اختیار دیا جا سکتا ہے کہ وہ اٹھے اور ازخود اس کے خلاف اقدام کر ڈالے؟ لیکن یہاں شاید عام آدمی کا اتنا قصور نہیں، اس لیے کہ وہ ایک سادہ ذہن کا مسلمان ہوتا ہے۔ اصل میں تو پکڑنا چاہیے ان لوگوں کو، ان شعلہ بیان مقرروں کو جو ازخود کسی کے بیان کی ایک interpretation کر کے لوگوں کو بھڑکاتے ہیں اور انھیں ترغیب دیتے ہیں کہ فلاں شخص کو مار دینا عشق رسالت کا تقاضا ہے۔ سو یہ جو بھی ہوا، اس کو دونوں حوالوں سے دیکھنا چاہیے۔ پہلے تو آدمی کو اپنی بات کی وضاحت کا حق دینا چاہیے اور اگر اس کی نیت واقعی توہین رسالت کی ہو تو سزا عدالت کے ذریعے سے ملنی چاہیے۔
مشعل سیف: اس معاملے میں آپ کی رائے پر خاصی تنقید کی گئی ہے۔ سنا ہے کہ آپ کو اس پر threats بھی ملیں؟
عمار ناصر: جی نہیں، کوئی threat نہیں آئی۔ میں نے بہت سے sensitive issues پر لکھا ہے اور بعض دفعہ یہ خیال بھی ہوتا ہے کہ کیا میں نے ہی ٹھیکہ لیا ہوا ہے ہر ایسے مسئلے پر لکھنے کا، لیکن بہرحال کوئی ایشو سامنے آتا ہے تو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے لکھنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود مجھے اب تک کوئی براہ راست threat کسی بھی ایشو کے حوالے سے نہیں آیا۔
مشعل سیف: آپ ’الشریعہ‘ کے مدیر ہیں۔ اس ماہنامے کے متعلق کچھ بتائیے۔
عمار ناصر: الشریعہ کا اجرا والد گرامی نے ۱۹۸۹ء میں کیا تھا۔ اب اس کی ۲۴ ویں جلد چل رہی ہے۔ ہمارا خاندانی پس منظر اگرچہ وہی ہے جو میں نے آپ کو بتایا، لیکن والد گرامی کے اپنے فکر اور ذہنی ترجیحات میں مسلکی مسائل اور مذہبی اختلافات جگہ نہیں بنا سکے۔ شروع سے ہی ان کی دلچسپی کا اور غور وفکر کا دائرہ یہی رہا ہے کہ امت کا جو اجتماعی مفاد ہے اور جدید معاشرے کی جو فکری ضروریات ہیں، ان کے لحاظ سے آج کے دور میں کون سے مسائل ہماری توجہ کے طلب گارہیں۔ چونکہ ان کے اپنے وژن میں وسعت تھی تو ’الشریعہ‘ بھی شروع سے اسی دائرے کے موضوعات کو زیر بحث لاتا رہا ہے۔ کبھی اس میں روایتی مسلکی بحثیں نہیں چھپیں۔
میں پہلے دن سے اس رسالے کی ترتیب میں معاون کی حیثیت سے ان کے ساتھ شریک رہا ہوں اور تربیت لیتا رہا ہوں، لیکن ۲۰۰۱ء کے بعد اس کی ادارت باقاعدہ میرے سپرد ہو گئی اور اس کے بعد سے میں ہی اس کومرتب کرتا ہوں۔ اس کے لیے موضوعات اور مضامین کا انتخاب میں ہی کرتا ہوں، بلکہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس کو ایک خاص trend دینے میں بھی بڑی حد تک میرا ہی کردار ہے۔ اگرچہ والد گرامی کی پوری سرپرستی اور تائید مجھے حاصل ہے، لیکن ظاہر ہے کہ عملاً جو آدمی کام کرتا ہے، اس کی اپنی دلچسپیوں اور ترجیحات کا، کام کی عملی صورت اور نقشے پر خاصا اثر پڑتا ہے۔ میں ذاتی طور پر یہ چیز بڑی شدت سے محسوس کرتا ہوں کہ پوری قوم مختلف فکری compartments میں تقسیم ہے، ہر گروہ اپنے ہی خول میں بند کچھ باتیں سوچ کر بیٹھا ہوا ہے او راس سے باہر سوچنے کے لیے تیار نہیں۔ ڈائیلاگ بالکل نہیں، ایک دوسرے سے سیکھنے کا معاملہ بالکل نہیں ہے۔ ایک دوسرا آدمی کیسے کسی مسئلے کو دیکھتا ہے، اس کے پوائنٹ آف ویو کو سمجھنے کی بالکل کوئی کوشش نہیں۔ یہ صورت حال ہمارے بہت سے مسائل کی جڑ ہے۔ سو ہم نے ’الشریعہ‘ میں پچھلے دس بارہ سال سے اس کی کوشش کی ہے کہ یہ جو مختلف الخیال لوگ ہیں، ان کے مابین مکالمے کے لیے ایک فورم مہیا کیا جائے۔ 
اس کوشش میں ہم نے بے شمار sensitive ایشوز پر اور بڑے اہم مسائل پر کھلے مباحثے کا اہتمام کیا ہے اور اس پر ہمیں بڑی گالیاں بھی کھانی پڑی ہیں۔ والد صاحب کا جو اپنا حلقہ فکر ہے، وہ بالکل typical دیوبندی حلقہ فکر ہے۔ اس کی طرف سے انھیں سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا کہ آپ کیوں ایسی چیزیں اس رسالے میں چھاپتے ہیں جو دیوبندی نقطہ نظر سے مختلف ہیں یا بحیثیت مجموعی مذہبی طبقے کی جو سوچ ہے، اس سے میل نہیں کھاتیں۔ لیکن ہم نے بحمد اللہ اس پالیسی کو بڑی استقامت سے continue رکھا ہے اور آئندہ بھی ان شاء اللہ عزم یہی ہے۔ جب تک ہم اس فضا کو نہیں بدلیں گے کہ ہم ایک دوسرے کی بات نہ سن سکتے ہیں، نہ اس پر غور کر سکتے ہیں، جب تک یہ فضا ہے، ہم اسی جمود کی کیفیت میں رہیں گے۔ یہ جو فکری barriers ہیں، ان کو توڑنا سب سے پہلے ضروری ہے۔ اس کے لیے ہم کوشش کر رہے ہیں اور اللہ کی مدد شامل رہی تو کرتے رہیں گے۔
مشعل سیف: آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے تفصیلی گفتگو کے لیے اتنا وقت نکالا۔
عمار ناصر: آپ کا بھی بے حد شکریہ!

مکاتیب

ادارہ

(۱)
جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مزاجِ گرامی بخیر!’’الشریعہ‘‘ کا سفر رواں دواں ہے۔ مشکور ہوں کہ آپ میرے خیالات کو ’’الشریعہ ‘‘ میں جگہ دیتے ہیں۔ حقیقی تعریف تو صرف اللہ کے لیے ہے اور باقی سب پانی کے بلبلے ہیں۔ بلبلہ کی اگر کوئی قدروقیمت ہے تو وہ محض سمندر کی وجہ سے ہے اور اگر کوئی کم زوری ہے تو وہ اس کی اپنی خامی ہے۔’’الشریعہ‘‘ میں بھی بہت سی خوبیاں اور خامیاں ہوں گی۔ مجھے ’’الشریعہ‘‘ کی جن خوبیوں نے متاثر کیا ہے ‘ وہ یہ ہیں۔ 
۱۔ اکثر مجلات کے ٹائٹل پہ ایک علامتی جملہ لکھا ہوتا ہے کہ ’’ادارہ کا مقالہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضرور ی نہیں‘‘ جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اس رسالہ کی طرف سے اپنے مقالہ نگار کو بعض اوقات فروعی مسائل میں اختلاف کی گنجائش بھی نہیں دی جاتی۔ الشریعہ نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ اس میں واقعی ایسے افکار بھی چھپ سکتے ہیں جن سے خود رسالہ کی مجلسِ ادارت متفق نہ ہو۔ 
۲۔ الشریعہ کے قارئین کا حلقہ کہاں سے کہاں تک پھیلا ہوا ہے‘ اس کا اندازہ اس میں چھپنے والی شخصیات کے مضامین اور مکاتیب سے ہوتا رہتا ہے۔ 
۳۔ ایک اور چیز جو میں نے محسوس کی ہے‘ وہ یہ کہ الشریعہ کے قارئین ’’صم بکم‘‘ نہیں‘ انہیں بولنا آتا ہے اور وہ بہت اچھا بولتے ہیں۔وہ اختلاف کرنا بھی جانتے ہیں اور کسی کی بات سے متاثر ہوں تو کھلے دل سے اس کی تعریف بھی کر جانتے ہیں۔
۴۔’’ الشریعہ‘‘ کی ایڈیٹنگ کا نظام بھی بہت مہذب ہے۔ بعض مجلات اور جرائد میں مضامین کی کانٹ چھانٹ اس طرح کی جاتی ہے کہ لکھنا والے کو محسوس ہوتا ہے کہ شاید میرے قلم سے کسی اورکے فکر کی چاکری ہورہی ہے۔ ’’الشریعہ‘‘ کے مقالہ نگار کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ میری محنت کے ساتھ کم از کم یہ سلوک نہیں ہوگا۔ **
مارچ ۲۰۱۳ء کے شمارہ میں ڈاکٹر عبدالباری عتیقی کا مکتوب نظر سے گزرا ‘ مجھے اس حوالہ سے کچھ عرض کرنا ہے۔ 
قتال اور جہاد سے متعلق اسلام نے اپنے پیروکاروں کو چند اخلاقی آداب کی تعلیم دی ہے۔ مثلا یہ کہ دورانِ جنگ عورتوں‘ بچوں اور بے ضرر شہریوں کو گزند نہیں پہنچانی‘ کھیتوں اور درختوں کو نہیں اجاڑنا‘ طاقت و قوت کے بے مہار اور جنونی مظاہرے سے اجتناب کرنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ کیااس سلسلہ میں کوئی حالتِ اضطرار بھی ہے جب مسلمانوں کے لیے ان آداب کی پابندی ساقط ہوجاتی ہو؟ ڈاکٹر عبدالباری عتیقی کے مکتوب سے محسوس ہوتا ہے کہ ایسی کوئی حالتِ اضطرار نہیں ہے ‘ مسلمانوں کے لیے ہر حال میں ان آداب کی پابندی ضروری ہے۔ 
میرے خیال میں یہ بات درست نہیں۔ خود عہد نبوی میں ایک مثال ایسی ملتی ہے جب مسلمان بامرِ مجبوری ان آداب کی پابندی نہ کرپائے جس پر مخالفین کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ مسلمان جنگی اخلاقیات کی رعایت بھی نہیں کرتے۔یہ موقع غزوۂ بنونضیر کا ہے جو ہجرت کے چوتھے سال ہوا۔ جب مدینہ میں مقیم یہود کے ایک قبیلہ بنو نضیر کی بدعہدیوں کی وجہ سے اس کو جلا وطن کرنے کا فیصلہ ہوا تو ان کے قلعہ کا محاصر ہ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ قلعہ کے آس پاس بنونضیر کا ایک باغ تھا جو قلعہ کا محاصرہ کرنے میں رکاوٹ بن رہاتھا۔ مسلمانوں نے اس رکاوٹ کو دو رکرنے کے لیے کچھ درخت تو کاٹ ڈالے اور کچھ کو آگ لگا دی۔ دشمن کو اس پر یہ کہنے کا موقع ملا کہ مسلمان جنگی اخلاقیات کا لحاظ بھی نہیں کرتے‘ جس پر اللہ تعالی کی طرف سے یہ تبصرہ نازل ہوا: ’’ما قطعتم من لینۃ او ترکتموہا قائمۃ علی اصولہا فباذن اللہ ولیخزی الفاسقین‘‘ (سورۃ الحشر‘ آیت۵) یعنی ’’تم نے کھجور کے جن درختوں کو کاٹا اور جنہیں اپنی جڑوں پہ قائم رہنے دیاتو یہ سب اللہ کے حکم سے تھا اور اس لیے تھا کہ اللہ بدکرداروں کو رسوا کردے۔‘‘
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جنگی اخلاقیات بے شک حالتِ جنگ سے متعلق ہی ہیں‘ مگر حالتِ جنگ کی ہی بعض صورتیں حالتِ اضطرار کی ہوتی ہیں جب ان آداب کی پابندی میں قدرے نرمی ہوجاتی ہے۔ یہ حالتِ اضطرار تب ہوگی جب کسی کافر گروہ کا استیصال ضروری ہوجائے اور وہ استیصال اخلاقی پابندیوں کے ساتھ ناممکن ہو۔مذکورہ مثال کا تعلق صرف درختوں کو تلف کرنے کے ساتھ ہے‘ باقی آداب کے ساتھ نہیں۔ یوں بھی بے ضرر شہریوں کے خون بہانے کا معاملہ درخت کاٹنے جتنا ہلکا پھلکا نہیں۔ اس سلسلہ میں بہت زیادہ خوفِ خدا اور سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ خوں ریزی کی حساسیت کا یہ سبق بھی اسی غزوۂ بنونضیر سے ہی ہمیں ملتا ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کو صرف جلا وطن کرنے پر اکتفاء کیا اور خوں ریزی کی نوبت نہیں آئی کیونکہ اصل مقصود ان کے شر سے بچنا تھا اور اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا۔ تاہم خوں ریزی کی چند اضطراری صورتیں بھی فقہاء کے ہاں ملتی ہیں کہ مثال کے طور پر کفار کی کسی جماعت کا استیصال ناگزیر ہوگیا ہو اور وہ اپنے بچاؤ کے لیے بے ضرر شہریوں کو اپنے سامنے ڈھال اور آڑبنا رہے ہوں یا کوئی کافر عورت کمانڈو کا کام کررہی ہو تو بامرِ مجبور ی اور بقدرِ ضرورت ان سے بھی نمٹا جاسکتا ہے۔ (الہدایہ ‘ کتاب السیر)
البتہ ان کی یہ بات ٹھیک ہے کہ ہم نے دشمن سے بے نیاز ہوکر اپنے دین کی تعلیمات پر عمل پیر ا ہونا ہے اور نتائج کو اللہ کے سپرد کرنا ہے۔ دشمن اگر جنگی اخلاقیات کا لحاظ نہ کرے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ‘ ہم بہرحال اپنے دین کی تعلیمات کے پابند ہیں۔ ایک عربی مصنف کے یہ الفاظ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں (ترجمہ حسبِ ذیل ہے): ’’یہ جان لینا ہر یہودی کا حق ہے کہ وہ ہم پر جتنا بھی ظلم ڈھاتا ہے‘ جتنی بھی ہمارے معصوم بچوں کی جان لیتا ہے‘ جتنی بھی ہماری فصلیں تباہ اور ہماری بستیاں ویران کرتا ہے‘ مگر ہم اس کے ساتھ برتاؤ کرنے میں صرف اور صرف اپنی عادلانہ شریعت کے پابند ہوں گے جو اللہ نے ہماری ہدایت اور فلاح کے لیے ہم پر اتاری ہے۔ یہ نہیں کہ ہم اپنے غیظ وغضب کو بجھانے کی کوئی ناجائز کوشش کریں گے۔ ‘‘کافر تو ہے ہی نقیبِ باطل! وہ اگر حالتِ جنگ میں کوئی غیر شرعی یا غیر اخلاقی حرکت کرتا ہے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ وہ جب باطل ہی کے لیے لڑ رہا ہے تو باطل طریقے اختیار کرنا اس کا حق ہے۔ دیکھا تو ہمیں جائے گا کہ ہم جو نقیبِ حق ہیں ‘ شرعی اور اخلاقی آداب کی کتنی پابندی کرتے ہیں۔ ایٹم بم اور اس جیسے ناپسندیدہ ہتھیاروں کو ایجاد کرنے اور محض ’’شو آف پاور‘‘ کے لیے اپنے پاس رکھنے میں بظاہر کوئی مضائقہ نہیں۔ خصوصاً جبکہ آنکھیں دکھانے والے کافر ہمسایوں کو مرعوب کرنے اور دباؤ میں رکھنے کے لیے ایسے ہتھیاروں کا حصول ناگزیر ہوجائے تو امید ہے کہ یہ جائز ہی نہیں‘ ضروری ہوجائے گا اور اس قرآنی تعلیم میں شامل ہوگا کہ ’’ولیجدوا فیکم غلظۃ‘‘ (سورۃ التوبۃ ‘ آیت ۱۲۳) یعنی ’’ ضروری ہے کہ تمہارے پڑوس میں رہنے والے کفار تمہارے اندر سختی محسوس کریں (اور تمہیں اپنے مقابلہ میں تر نوالہ نہ سمجھ لیں)‘‘البتہ اگر مساوی بنیادوں پر ایسے ہتھیاروں سے دنیاکو پاک کرنے کے لیے کوئی سرگرمی ہو تو اس میں حصہ لینا چاہئے۔جنگی اخلاقیات کی پابندیوں میں نرمی جینوئن اضطرار کی حالت میں ہوسکتی ہے‘ مگر محض دشمن کا غیر اخلاقی حرکتوں کا ارتکاب کرناہمارے لیے وجہِ جواز نہیں کہ ہم بھی اس کی اندھی نقالی شروع کردیں۔ 
عورت کو بطور جنگی ہتھیار کے استعمال کرنا یا اپنے فوجیوں کو رنگ رلیوں کے مواقع فراہم کرناایسے امور ہیں جن کو کسی بھی طرح جنگی آداب پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ جنگی آداب میں تو حالتِ اضطرار کی مثالیں موجود ہیں‘ مگر ایسے محرمات کے ارتکاب کی کیا وجہِ جواز ہوسکتی ہے جسے حالتِ اضطرار کہا جاسکے؟واللہ اعلم
محمد عبداللہ شارق 
مدیر مرکز احیاء التراث، قدیر آباد ملتان
mabdullah_87@hotmail.com
(۲)
ماہ فروری کے الشریعۃ میں زاہد صدیق مغل صاحب کا مضمون ’’جزا اور عذاب قبر کی قرآنی بنیادیں‘‘ پڑھا۔ احساس ہوا کہ آں محترم نے شاید قرآن مجید پر اس معاملہ میں تدبر نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے مقالہ میں تین سوال قائم کر کے ان سے عذاب برزخ ثابت کیا ہے۔ پہلے سوال میں اللہ تعالیٰ کے جزا و سزا کے قانون کے دائرہ کار کے حوالہ سے آیات قرآنی پیش کی ہیں جو یہ ہیں: شوریٰ آیت 30، مائدہ آیت 18، بقرہ آیت 6-5، مطففین آیت 14، طہٰ آیت124، زخرف آیت36، حم السجدہ آیات 21-20، طلاق آیت 2-3، آل عمران 25اور 185۔ ان آیات سے آخرت میں اعمال کا پورا بدلہ ملنا ثابت کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ یہ تو متفق علیہ مسئلہ ہے۔ 
دوسرا سوال ہے، عالم برزخ میں شعوری زندگی کا ثبوت! مغل صاحب لکھتے ہیں کہ ’’قرآن مجید میں کئی مقامات پر ایسے قطعی شواہد موجود ہیں جن سے عالم برزخ میں نہ صرف یہ کہ محض انسانی زندگی بلکہ شعوری زندگی کا تصور ثابت ہوتا ہے۔ عالم برزخ میں انسانی زندگی کا اشارہ اس آیت میں موجود ہے:
کَیْْفَ تَکْفُرُونَ بِاللّٰہِ وَکُنتُمْ أَمْوَاتاً فَأَحْیَاکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ إِلَیْْہِ تُرْجَعُونَ (البقرہ:28) 
ترجمہ’’ تم کیسے اللہ کا انکار کرتے ہو۔ حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں زندگی بخشی پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا پھر تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘‘۔
اس کی شرح میں لکھتے ہیں ’’زیر مطالعہ آیت میں دنیوی زندگی کے بعد جو حیات عطا ہوگی وہ لوٹائے جانے سے قبل (یعنی عالم برزخ) میں ہوگی۔ نیز ثم کا استعمال بتا رہا ہے کہ یہ برزخی حیات اور یوم آخرت کو اللہ کی طرف لوٹایا جانا دو الگ واقع ہیں جن میں زمانی مغائرت ہے۔ ‘‘
ناچیز طالب علم کا کہنا ہے کہ اس آیت میں بھی صرف دو موتوں اور دو زندگیوں کا بتایا گیا ہے۔ پہلے موت، پھر حیات، پھر موت اور پھر حیات۔ آخری حیات سے قیامت کے دن زندہ کیا جانا مراد ہے، نہ کہ عالم برزخ میں۔ کی تشریح سورۃ مومن کی آیت 11 سے ہوتی ہے جس میں منکرین اللہ تعالیٰ سے کہہ رہے ہیں:
قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَیْْنِ وَأَحْیَیْْتَنَا اثْنَتَیْْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوبِنَا فَہَلْ إِلَی خُرُوجٍ مِّن سَبِیْلٍ (المومن 11) 
’’وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور دو دفعہ جان دی۔ ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے؟‘‘ 
بقرہ 28کو مومن 11کے ساتھ پڑھیں تو صاف علم ہوگا کہ قرآن کسی بھی تیسری زندگی اور تیسری جگہ ’’عالم برزخ‘‘ کا انکار کرتا ہے اور سورۃ بقرہ کی آیت 28میں کسی بھی عالم برزخ کا کوئی ذکر نہیں۔ 
مغل صاحب نے لکھا ہے کہ ’’عالم برزخ میں زندگی کا ثبوت آیت شہدا میں بھی موجود ہے: وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ یُقْتَلُ فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْیَاءٌ وَلَکِن لاَّ تَشْعُرُونَ (البقرہ154)
سورۃ بقرہ کی آیت 154 میں جس میں مقتول فی سبیل اللہ کو زندہ کہا گیا ہے اور ان آیات میں جو سورہ آل عمران میں آئی ہیں، کسی برزخی زندگی کا ذکر نہیں، نہ ہی ان آیات میں عالم برزخ کا ذکر ہے اور نہ ہی ان آیات سے جزا و سزا کا قانون کشید کیا جا سکتا ہے۔ یہ قیامت کے دن انھیں ملنے والی زندگی اور نعمتوں کا بیان ہے۔ جیسے قرآن میں رسول اللہ کو کہا گیا ہے کہ: انک میت، یعنی آپ بھی مریں گے۔ ایسے ہی مقتول فی سبیل اللہ کے لئے احیاء آیا ہے۔ اس کا معنی نظائر قرآن کی روشنی میں (قیامت کے دن) ’’زندہ کیے جائیں گے‘‘ بنتا ہے۔ 
مقتول فی سبیل اللہ کو زندہ کہا گیا ہے اور زندہ کو نعمتیں ملنا مانا جا سکتا ہے بلکہ ملتی ہیں۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ جنہیں قرآن ’’امواتا غیر احیاء‘‘ کہہ رہا ہے، انہیں کیسے عالم برزخ میں زندہ مان لیا جائے؟ یعنی اللہ تعالیٰ تو کہے: اموات غیر احیاء اور ہم کہیں: احیاء غیر اموات!! قرآن سے ثابت ہے کہ بلا کسی استثنا کے تمام انسان جو پیدا ہوئے ہیں، وہ قیامت کو زندہ ہوں گے۔ ان میں مقتول فی سبیل اللہ بھی شامل ہیں۔ بالفرض مقتول فی سبیل اللہ کی روایتی تشریح بھی مانیں (جس کی وجہ سے شرح قرآن میں تضاد واقع ہوتا ہے کہ کہیں قرآن کہتا ہے سب لوگ قیامت کو دوبارہ پیدا ہوں گے اور کہیں کہتا ہے کہ مقتول فی سبیل اللہ زندہ ہیں) تب بھی اسے حیات برزخی کہنے کی کوئی اصل قرآن میں نہیں بلکہ پھر استثنائی طور پر مقتولین فی سبیل کے لیے زندگی ماننی پڑے گی اور زندہ کو نعمتیں ملنا قابل تسلیم ہے۔ اس سے عام قانون کشید کیا ہی نہیں جا سکتا کیونکہ دوبارہ زندگی کا ملنا قیامت سے سے متعلق ہی بیان ہوا ہے: ثُمَّ إِنَّکُمْ بَعْدَ ذَلِکَ لَمَیِّتُونَ، ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تُبْعَثُونَ (المومنون 15، 16) اور أَمْواتٌ غَیْْرُ أَحْیَاء وَمَا یَشْعُرُونَ أَیَّانَ یُبْعَثُونَ (النحل 21) 
اگر کسی صاحب علم کو مقتول فی سبیل اللہ کے بارے میں ہمارے دلائل سے اختلاف ہو تو وہ آل عمران 195، حج58، سورہ محمد4تا6جیسی آیات سے ہمارے استدلال کی غلطی ہم پر دلیل سے واضح کرے۔ قرآن میں یہ جو کہا گیا کہ تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں تو قرآن نے کسی جگہ کا نام نہیں لیا کہ مقتول فی سبیل اللہ کہاں زندہ ہیں۔ آخر علین و سجین میں نامہ اعمال کا ہونا بھی تو قرآن نے بتایا ہے تو مقتول فی سبیل اللہ کے لیے کسی جگہ کا نام بتانے میں کیا استبعاد تھا؟ اصل بات یہی ہے کہ مقتول فی سبیل اللہ کا جو اکرام دوبارہ جی اٹھنے پر ہوگا، اس کا اس دنیا میں شعور تک نہیں کیا جا سکتا۔ 
سورہ نحل آیت 28-29میں ہر ظالم آدمی کو بوقت وفات ملائکہ جہنم کی وعید سناتے ہیں نہ کہ برزخی عذاب کی اور آیت 32میں پاک لوگوں کو جنت کی بشارت سناتے ہیں نہ کہ برزخی حیات کی قرآن کا یہ مقام ہی فیصلہ کن ہے کہ مرنے کے بعد اگلی منزل انسانی یا جنت ہے یا جہنم۔آیات یوں ہیں:
’الَّذِیْنَ تَتَوَفَّاہُمُ الْمَلاءِکَۃُ ظَالِمِیْ أَنفُسِہِمْ فَأَلْقَوُا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوءٍ بَلَی إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ، فَادْخُلُواْ أَبْوَابَ جَہَنَّمَ خَالِدِیْنَ فِیْہَا فَلَبِءْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ‘‘
’’(ان کا حال یہ ہے کہ ) جب فرشتے ان کو وفات دیتے ہیں اور وہ اپنے حق میں ظلم کرنے والے ہوتے ہیں، اس وقت وہ جھک جاتے ہیں کہ ہم برائی نہیں کرتے تھے۔ کیوں نہیں! اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے جو کچھ تم کرتے تھے۔ پس اب تو ہمیشگی کے طور پر تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ۔ پس کیاہی برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا‘‘ ۔
اور آیت 32میں ہے:
الَّذِیْنَ تَتَوَفَّاہُمُ الْمَلآءِکَۃُ طَیِّبِیْنَ یَقُولُونَ سَلامٌ عَلَیْْکُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ
’’وہ جن کو فرشتے اس حالت میں وفات دیتے ہیں کہ ۔ ان سے کہتے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو۔ اپنے ان اعمال کے بدلے میں جو تم کرتے تھے جنت میں داخل ہو جاؤ‘‘ ۔
یہ نصوص قطعی ہیں کہ مرنے کے بعد اگلی منزل جہنم یا جنت ہے نہ کہ کوئی مزعومہ عالم برزخ۔ مزید غور فرمائیں انسانی جسم تو مرنے کے بعد خاک میں مل کر خاک ہو جاتا ہے تو عذاب و ثواب کیسے اور کیسے ہو سکتا ہے؟ 
قرآن میں روح کا وہ تصور موجود نہیں جو علما کے ہاں پایا جاتا ہے۔ قرآن میں لفظ ’’روح‘‘ وحی اور اللہ کے حکم کے لیے آیا ہے۔ سورۃ نحل آیت 02، المومن آیت 15 اور الشوریٰ آیت 52میں روح کا وہی معنی آیا ہے جو خاکسار نے بیان کیا ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل آیت 85میں جو ’’وَیَسْأَلُونَکَ عَنِ الرُّوحِ‘‘ آیا ہے، وہاں بھی الروح سے مراد قرآنی وحی ہی ہے جیسا کہ اس مقام کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے اور امین احسن رحمہ اللہ نے تدبر قرآن میں لکھا بھی ہے۔ سورۃ سجدہ اور سوۂ ص میں انسان میں نفخ روح کا ذکر آیا ہے۔ اول تو دونوں مقامات پر یہ عمل، تسویہ کے بعد ہوا یعنی انسان کے مکمل بن چکنے کے بعد۔ اس طرح روح سے مراد جان ڈالنا نہیں ہو سکتا کیونکہ جان تو پہلے دن سے ہی تھی جب نطفہ علقہ بنا تھا۔ اگر جرثومہ بے جان ہو تو انسان پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ دوسرے ان دونوں آیات (سجدہ 09 اور ص 72) پر روح کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے: ’’فَإِذَا سَوَّیْْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِن رُّوحِیْ‘‘ یعنی ’’جب اس کو درست کر لوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونکوں‘‘۔ تو قرآن میں تو کسی انسانی روح کا اشارہ تک نہیں۔ یہ روح جو اللہ کا حکم ہے، وحی ہے، یہ تو اللہ کی ہے۔ تیسرے پورے قرآن میں کہیں بھی روح نکلنے کا ذکر نہیں۔ توفی یا اخراج نفس کا ذکر ہے اور نفس اور روح دونوں الگ الگ ہیں۔ نفس کو موت بھی آتی ہے، قتل بھی ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ روح تو وحی ہے اورامر رب ہے، اس لیے یہ تمام سوالات غلط ہیں کہ مرنے کے بعد روح کہاں جاتی ہے اور یہ کہ برزخ میں اسی روح کو عذاب و ثواب ہوتا ہے۔ قرآن کی نص ہے کہ اہل جہنم کی کھالیں جلنے کے بعددوبارہ آجائیں گی تاکہ عذاب چکھیں۔ (نساء آیت 56)۔ میڈیکل سائنس کو غالباً1926میں علم ہوا ہے کہ کھال میں حس (Feeling) ہوتی ہے، مگر قرآن میں ڈیڑھ ہزار سال پہلے یہ بات آنا قرآن کے کلام اللہ ہونے کی دلیل ہے۔ اب روح کی تو کھال ہوتی نہیں جو اسے عذاب دیا جائے۔ 
آخر میں سورہ مومن آیت 45، 46سے بھی، جس میں فرعون اور آل فرعون کو عذاب دیے جانے کا ذکر ہوا ہے، قائلین عذاب برزخ کے استدلال پر بھی چند سطور لکھتا ہوں۔ 
فَوَقَاہُ اللّٰہُ سَیِّءَاتِ مَا مَکَرُوا وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ، النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْْہَا غُدُوّاً وَعَشِیّاً، وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَۃُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
جیسا کہ عرض کیا، سورہ یونس آیت 4سے تمام انسانوں کا بلا استثنا قیامت کو دوبارہ پیدا ہونا ثابت ہے تو اب تمام انسانوں میں فرعون اور اس کی آل بھی داخل ہے۔ سورۃ مومن کی آیت 46کا جو ترجمہ شاہ رفیع الدین نے کیا ہے، وہی نظائر قرآن کی روشنی میں درست ہے۔ آیت میں یعرضون  مضارع کا صیغہ ہے جو حال اور مستقبل دونوں کا معنی دیتا ہے، یعنی ’’آگ ہے جس پر آل فرعون صبح شام پیش کی جاتی ہے‘‘ یا ’’آگ ہے جس پر آل فرعون صبح شام پیش کی جائے گی‘‘۔ ترجمے دونوں درست ہیں، مگر وہی ترجمہ اس مقام پر مانا جائے گا جس کے تائیدی دلائل قرآن میں ہوں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ قرآن سزا کے لیے دنیا یا آخرت تجویز کرتا ہے۔ (سورۃ بقرہ آیت 85، 217۔آل عمران 21-22)۔ دوسری بات یہ کہ قرآن میں النار کل 126مرتبہ آیا ہے اور 125جگہ تمام مفسرین نے اس ’’النار‘‘ سے جہنم مراد لی ہے۔ ظاہر ہے 126ویں جگہ بھی جہنم ہی مراد ہوگی۔ سورۃ مومن میں آٹھ بار ’’النار‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ سات بار تمام مفسرین نے اس سے جہنم مرادلی ہے تو آٹھویں بار بھی جہنم ہی مراد ہونا چاہیے۔ تیسری بات یہ کہ یہ عرض علی النار بھی قیامت کو ہی ہوگا جیسا کہ سورۃ احقاف آیات20تا34سے ثابت ہے : ’’وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا عَلَی النَّارِ‘‘ اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے پیش کیے جائیں گے‘‘۔ چوتھی بات یہ کہ فرعون مصر میں موجود ہے تو عذاب کسے ہو رہا ہے؟ فرعون کی روح کو عذاب کے قائلین کو پہلے انسانی روح ثابت کرنی ہوگی۔ ظاہر ہے قرآن میں کسی انسانی روح کا ذکر ہی موجود نہیں۔ 
حقیقت یہ ہے کہ فرعون کے لیے بھی قرآن سے صرف دو ہی عذاب ثابت ہیں۔ سورۃ مومن آیت 45میں ہے: ’’غرض اللہ نے (موسیٰ کو ) ان لوگوں کی تدبیروں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آگھیرا‘‘۔ اس آیت میں سوء العذاب سے ڈوبنے کا عذاب مراد ہے۔ اس کے بعد آیت 46میں ہے: ’’(یعنی) آتش جہنم کہ صبح شام اس کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی، (حکم ہوگا) فرعون والوں کو سخت عذاب میں داخل کرو‘‘۔ اس آیت میں اشد العذاب  سے مراد بالاتفاق مفسرین عذاب جہنم مراد ہے اور یہ سوء العذاب کے مقابل آیا ہے۔ یہاں سے ثابت ہوا کہ فرعون کے لیے بھی صرف دو ہی عذاب ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ فتح محمد جالندھری صاحب نے بھی یہاں النار  سے مراد جہنم لی ہے، مگر بات صحیح طرح سمجھ نہ سکے۔ 
اس تفسیر کی روشنی میں سورہ مومن آیت 46کا وہی معنی درست ثابت ہوتا ہے جو شاہ رفیع الدین ، مولانا اسلم جے راجپوری اور عبداللہ یوسف علی نے کیا ہے، یعنی یعرضون کے صیغہ مضارع کو مستقبل کے معنی میں لیا ہے جو شواہد و نظائر قرآنی کے عین مطابق ہے۔ ترجمہ یوں ہے’’ وہ آگ ہے کہ حاضر کیے جاویں گے اوپر اس کے صبح و شام اور جس دن قیامت قائم ہوگی، کہا جاوے گا کہ داخل کرو فرعون والوں کو سخت عذاب میں‘‘۔ اس طرح اس آیت میں و او مغایرت کے لیے نہیں، بلکہ تفسیر کے معنی میں آیا ہے۔ اس ترجمہ سے اختلاف رکھنے والے حضرات پر لازم ہے کہ وہ قرآن سے پیش کیے ہمارے شواہد کا دلیل سے جواب دیں۔ ان پر یہ بھی لازم ہے کہ فرعون تو قبر میں گیا ہی نہیں تو عذاب کسے اور کہاں ہو رہا ہے۔ وہ جو بھی کہیں، انہیں دلیل پیش کرنا ہوگی۔
مغل صاحب لکھتے ہیں: ’’عالم برزخ میں اجر و ثواب کا اشارہ سورہ یٰسین میں بیان کردہ اس شخص کے ذکر سے بھی ملتا ہے جسے کہا گیا: ’’قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ قَالَ یَا لَیْْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُونَ، بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ‘‘۔ اسے کہا گیا جا، جنت میں داخل ہو جا۔ وہ بولا کاش میری قوم جان سکتی کہ میرے رب نے کس چیز کے سبب مجھے بخش دیا اور مجھے عزت والوں میں شامل کیا‘‘۔ اس آیت میں لفظ ’’الجنۃ‘‘ فاضل مقالہ نگار کے استدلال کی تردید کر رہا ہے۔ یعنی اس مومن کو تو اس آیت میں جنت کی بشارت دی جا رہی ہے اور ہمارے دوست اس کو عالم برزخ میں بھیج رہے ہیں۔ سورہ یٰسین کے اس مقام پر ایک مومن کے خاتمہ بالخیر کی خبر دی گئی ہے یعنی بوقت وفات اسے فرشتوں نے جنت کا مژدہ جاں فزا سنایا۔ اسی طرح سورہ نحل آیت 32میں ہر مومن کو بوقت وفات فرشتوں کا جنت کا مژدہ سنانا بتایا گیا ہے: ’’الَّذِیْنَ تَتَوَفَّاہُمُ الْمَلآءِکَۃُ طَیِّبِیْنَ یَقُولُونَ سَلامٌ عَلَیْْکُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ‘‘ (ان کی کیفیت یہ ہے کہ ) جب فرشتے انہیں وفات دیتے ہیں اور یہ (کفر و شرک سے) پاک ہوتے ہیں تو سلام علیکم کہتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں بہشت میں داخل ہو جاؤ‘‘۔ یوں قرآن کے ایک مقام نے دوسرے مقام پر ہمیں بتا دیا کہ مرنے والے مومنین کو مرتے وقت ان کا مجمل انجام (جنت) بتا دیا جاتا ہے۔ 
خلاصے کے طور پر یہ کم علم محمد زاہد صدیق مغل صاحب کے تین سوالوں کے جواب یوں دیتا ہے:
۱۔ کیا جزاء و سزا کا اطلاق صرف آخرت کے ساتھ مخصوص ہے؟
جواب: جی نہیں دنیا اور آخرت میں جزاء و سزا کا ملنا قرآن میں مذکور ہے۔
۲۔ کیا زندگی اور موت کے درمیان (یعنی برزخ میں) کسی شعوری زندگی کا تصور موجود ہے؟
جواب: جی نہیں قرآن میں کسی برزخی زندگی سے متعلق کسی آیت میں ذکر ہے اور نہ ہی قرآن کوئی ایسا تصور پیش کرتا ہے۔ اس کے برعکس قرآن اس دنیا کے بعد دوسری دنیا یعنی قیامت سے زندگی دوبارہ شروع ہونے کا یقینی علم دیتا ہے۔
۳۔ کیا قرآن برزخ کی زندگی میں کسی قسم کی جزاء و سزا کا تصور پیش کرتا ہے؟
جواب: جی نہیں، قرآن میں برزخی زندگی کا کوئی تصور موجود نہیں بلکہ قرآن اس دینوی زندگی کے بعد قیامت کے قائم ہونے تک کے وقفہ کو موت کا نام دیتا ہے۔ 
عجیب بات ہے جسے قرآن میں موت کہا گیا ہے، اسے ہمارے اہل علم زندگی قرار دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے صمیم قلب سے دعا ہے ہمیں فہم قرآن صحیح صحیح عطا ہو۔ ہم مقام قرآن سے آگاہ ہوں اور پھر اس پر عمل پیرا بھی ہو سکیں۔ 
محمد امتیاز عثمانی
راولپنڈی

فاسٹ فوڈ اور بڑھتے ہوئے امراض

ادارہ

فاسٹ فوڈ کے نام پر تمام زہروں کو یکجا کر کے انسانی صحت کو برباد کیا جا رہا ہے اور ہم ہیں کہ ہر بری چیز کو آنکھیں بند کر کے قبول کرتے جا رہے ہیں۔ موجودہ امراض ہیپا ٹائیٹس، معدہ اور گردہ کے امراض، جگر کی مختلف بیماریاں، جوڑوں کا درد، قبض، پتہ، مثانہ کی بیماریاں پہلے بھی تھیں، مگر ان کی نوعیت یہ نہیں تھی جو آج دیکھنے سننے میں آرہی ہیں۔ ان امراض کی وجہ سے انسانوں کے چہرے اور دیگر جسمانی اعضا کی شکل بھی بدل چکی ہے۔ خصوصاً شوگر کے آنے کے بعد کے تو حالات بہت بھیانک ہوتے جا رہے ہیں۔ مذکورہ امراض پہلے بھی تھے، مگر فاسٹ فوڈ کی گہما گہمی نے ان کو دو آتشہ کر دیا ہے۔ 
بند، ڈبل روٹی، کیک،، بسکٹ، باقر خانی، حلوہ پوری، کچوری اور حلوائیوں کی مٹھائیوں نے صحت مند معاشرہ کو چاروں شانے چت گرا دیا ہے۔ طبی تحقیقات بتاتی ہیں کہ کوکاکولا میں استعمال ہونے والا رنگ کینسر کا باعث بنتا ہے۔ جن گھرانوں میں کوکاکولا یا بوتلوں کا بند پانی استعمال ہوتا ہے، وہاں امراض گردہ، جوڑوں کا درد شدت سے پھیل چکا ہے۔ کھانے کے بعد بوتلوں کا کھاری پانی پینے سے پیدا ہونے والے ناگفتہ بہ امراض نے ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے اور مریضوں کے حالات سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ الغرض میدہ اور باریک آٹا بالکل استعمال نہ کریں، یہ انسانی انتڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ نے اپنے ہاں میدہ کا استعمال ممنوع قرار کر دیا تھا۔ یاد رکھیں، فاسٹ فوڈ کا دوسرا نام ہیپا ٹائیٹس، امراض جگر اور شوگر ہے۔ صبح شام کوئی کڑوی دوا ضرور استعمال کریں۔ یہ نہیں تو کالی زیری کھانے کے بعد ایک چٹکی کھانے سے جسمانی مشینری خوب کام کرتی رہے گی۔ آج کل چاٹی کی لسی پینا آب حیات سے کم نہیں، اس سے بلڈ پریشر کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ ہاضمہ کا فعل بھی تیز ہو جاتا ہے اور تیزابیت بھی اپنی سطح پر آجاتی ہے۔ نیند بھی خوب آنے لگتی ہے۔ الغرض مشرقی طریق علاج میں ایک ایک تیر سے کئی شکار کیے جاتے ہیں اور بیماریوں کا زور ٹوٹنے لگتا ہے۔