ستمبر ۲۰۱۲ء

انسانی حقوق، اقوام متحدہ اور عالم اسلاممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
شام لہولہان اور عالم اسلام پر بے حسی طاری!ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
منفی اقدار کے فروغ میں میڈیا کا کردارمحمد رشید 
میری علمی و مطالعاتی زندگیحکیم محمود احمد برکاتی 
رؤیت ہلال کا مسئلہ اور ہمارے قومی رویے / توہین مذہب کا تازہ واقعہ۔ توجہ طلب امورمحمد عمار خان ناصر 
سرمایہ دارانہ انفرادیت کا حال اور مقام (۳)محمد زاہد صدیق مغل 
پاکستان میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد ۔ قرآنی نظریہ تاریخ کی روشنی میں ایک عمرانی مطالعہپروفیسر میاں انعام الرحمن 
ماہنامہ ’الشریعہ‘ اہل علم و ادب کی نظر میںادارہ 
تن ہمہ داغ داغ شد ۔۔۔حکیم محمد عمران مغل 
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہےادارہ 

انسانی حقوق، اقوام متحدہ اور عالم اسلام

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(مذکورہ بالا عنوان پر الشریعہ کے رئیس التحریر کے زیر طبع تفصیلی مقالہ کا ایک حصہ۔)

مغرب میں انسانی حقوق کے حوالہ سے جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اس کا آغاز ’’میگنا کارٹا‘‘ سے کیا جاتا ہے۔ ۱۲۱۵ء میں برطانیہ کے کنگ جان اور جاگیرداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا معاہدہ اس عنوان سے ہوا تھا جس کا اصل مقصد تو بادشاہ اور جاگیرداروں کے مابین اختیارات اور حدودکار کی تقسیم تھا لیکن اس میں عام لوگوں کا بھی کسی حد تک تذکرہ موجود تھا، اس لیے اسے انسانی حقوق کا آغاز تصور قرار دیا جاتا ہے۔ 
مغربی ممالک میں ایک عرصہ تک حکمرانی کا حق اور اس کے تمام تر اختیارات تین طبقوں کے درمیان دائر رہے ہیں: 
(۱) بادشاہ (۲) جاگیردار اور (۳) مذہبی قیادت۔
ان میں مختلف مراحل میں آپس میں کشمکش بھی رہی ہے لیکن عام شہری اس تکون کے درمیان جو دراصل جبر اور ظالمانہ حاکمیت کی تکون تھی صدیوں تک پستے رہے ہیں، مغرب خود اس دور کو جبر و ظلم اور تاریکی و جاہلیت کا دور کہتا ہے اور اس تکون سے نجات حاصل کرنے کے لیے مغربی دنیا کے عوام کو طویل جدوجہد اور صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔ بہرحال ان حکمران طبقات کی باہمی کشمکش کے پس منظر میں کنگ جان اور جاگیرداروں کے درمیان اختیارات کی باہمی تقسیم کے معاہدہ کو ’’میگناکارٹا‘‘ کہا جاتا ہے اور مغربی دنیا اسے انسانی حقوق کی ابتدائی دستاویز قرار دیتی ہے جو ۱۲۱۶ء میں ۱۵ جون کو طے پایا تھا۔ 
اس کے بعد ۱۶۸۴ء میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں انقلابی فوج نے پارلیمنٹ کے اقتدار اعلیٰ کا قانون پیش کیا اور ۱۶۸۹ء  میں برطانوی پارلیمنٹ نے ’’بل آف رائٹس‘‘ (حقوق کے قانون) کی منظوری دی جو اس سمت پیش رفت کا اہم مرحلہ تھا۔ 
ادھر امریکہ میں تھامس جیفرسن نے ۱۲ جولائی ۱۷۷۶ء کو برطانوی استعمار کے تسلط سے امریکہ کی مکمل آزادی کا اعلان کیا اور ۱۷۸۹ء  میں امریکی کانگریس نے دستور میں ترامیم کے ذریعہ عوامی حقوق کو دستور کا حصہ بنایا۔ 
فرانس میں زبردست عوامی جدوجہد اور بغاوت کے ذریعہ ۱۷۸۹ء کو جاگیرداری، بادشاہت اور ریاستی معاملات میں چرچ کی مداخلت کو مسترد کر کے قومی اسمبلی سے شہری حقوق کا قانون ’’ڈیکلریشن آف رائٹس آف مین‘‘ منظور کرایا اور پورے سیاسی اور معاشرتی نظام کی کایا پلٹ دی، اسے ’’انقلابِ فرانس‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور مغرب میں ظلم و جبر اور حقوق کے درمیان حد فاصل قرار دیا جاتا ہے، اسی انقلاب فرانس کے ذریعہ نہ صرف بادشاہت اور جاگیرداری کا مکمل خاتمہ ہوگیا بلکہ اقتدار میں مذہبی قیادت کی شرکت کی بھی نفی کر دی گئی جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ چرچ، پوپ اور مذہبی قیادت نے عوام پر بادشاہ اور جاگیرداروں کی طرف سے ہونے والے دوہرے مظالم اور شدید جبر و تشدد میں عوام کا ساتھ دینے کی بجائے بادشاہ اور جاگیردار کا ساتھ دیا تھا اور مذہب عملاً بادشاہت اور جاگیرداری کا پشت پناہ بن کر رہ گیا تھا۔ اس لیے بادشاہ اور جاگیردار کے ساتھ ساتھ پوپ کی سیاسی قیادت کا بوریا بستر بھی لپیٹ دیا گیا تھا اور نئے نظام میں ہمیشہ کے لیے طے کر دیا گیا کہ مذہب اور چرچ کا تعلق انسان کے عقیدہ، عبادت اور اخلاقیات کے ساتھ رہے گا جبکہ سیاسی و معاشرتی معاملات میں رائے دینے، راہ نمائی کرنے اور مداخلت کرنے کا مذہب، پادری اور چرچ کو کوئی حق نہیں ہوگا، اسی کو آگے چل کر ’’سیکولرازم‘‘ سے تعبیر کیا گیا اور اسی کو معیاری نظام قرار دے کر پوری دنیا سے اسے اختیار کرنے اور اس کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ 
بیسویں صدی عیسوی کے دوسرے عشرہ میں یورپی ممالک یعنی برطانیہ اور جرمنی وغیرہ کے درمیان جنگ ہوئی جس میں پوری دنیا بالواسطہ یا بلا واسطہ لپیٹ میں آگئی، اس لیے اسے ’’جنگ عظیم اول‘‘ کا نام دیا جاتا ہے، اس میں عالم اسلام کی نمائندہ حکومت ’’خلافت عثمانیہ‘‘ نے جرمنی کا ساتھ دیا تھا اور جرمنی کے ساتھ ساتھ وہ بھی شکست سے دوچار ہوگئی تھی اور اسی کے نتیجے میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ بھی ہوگیا تھا۔ اس جنگ میں لاکھوں انسانوں کے قتل ہو جانے کے بعد اقوام و ممالک کی ایک بین الاقوامی تنظیم ’’لیگ آف نیشنز‘‘ قائم کی گئی تھی جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اقوام و ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو جنگ کی صورت اختیار نہ کرنے دی جائے اور اس بین الاقوامی فورم کے ذریعہ ان تنازعات کا حل نکال کر قوموں اور ملکوں کی باہمی جنگ کو روکا جائے، لیکن ’’لیگ آف نیشنز‘‘ اپنے اس مقصد میں ناکام ہوگئی اور بیسویں صدی کے چوتھے اور پانچویں عشرے کے درمیان پھر عالمی جنگ بپا ہوئی جس میں جرمنی اور جاپان ایک طرف اور برطانیہ، فرانس اور روس وغیرہ دوسری طرف تھے۔ اس جنگ نے پہلی جنگ سے زیادہ تباہی مچائی اور اس کے آخری مراحل میں امریکہ نے اتحادیوں کی حمایت میں جنگ میں شریک ہو کر جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا جس پر جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا۔ 
اس کے بعد ۱۹۴۵ء میں ایک اور بین الاقوامی تنظیم ’’یونائیٹڈ نیشنز‘‘ (اقوام متحدہ) کے نام سے وجود میں آئی جو ابھی تک نہ صرف قائم ہے بلکہ بین الاقوامی معاملات کا کنٹرول اسی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اقوام متحدہ کے تنظیمی اور پالیسی سازی کے اختیارات اور معاملات پر اجاری داری کی وجہ سے اقوام متحدہ پر مغربی ممالک کی بالادستی قائم ہے اور اسے عام طور پر انہی کے حق میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ 
اقوام متحدہ کی تنظیمی صورت حال یہ ہے کہ اس کی ایک ’’جنرل اسمبلی‘‘ ہے جس میں تمام ممبر ممالک برابر کے رکن ہیں اور سال میں ایک بار تمام ممالک کے حکمران یا ان کے نمائندے جمع ہو کر عالمی مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں جس کے نتیجے میں قراردادیں پاس ہوتی ہیں۔ لیکن ان قراردادوں کی حیثیت صرف سفارش کی ہوتی ہے، ان کا نفاذ ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ چنانچہ جنرل اسمبلی کی سینکڑوں سفارشی قراردادیں اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ کی فائلوں میں دبی پڑی ہیں۔ 
اقوام متحدہ میں پالیسی سازی، فیصلوں اور ان کے نفاذ کی اصل قوت ’’سلامتی کونسل‘‘ ہے جس کے گیارہ ارکان میں سے پانچ ارکان (۱) امریکہ (۲) برطانیہ (۳) فرانس (۴) روس اور (۵) چین مستقل ممبر کی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ چھ ارکان دنیا کے مختلف ممالک میں سے باری باری دو دو سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ یہ گیارہ رکنی سلامتی کونسل اقوام متحدہ کی اصل قوت اور اتھارٹی ہے لیکن ان میں سے پانچ مستقل ارکان کو ویٹو پاور یعنی حق استرداد حاصل ہے کہ امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس میں سے کوئی ایک ملک بھی سلامتی کونسل کے کسی فیصلے کو مسترد کر دے تو وہ کالعدم ہو جاتا ہے۔ اس طرح پوری دنیا کے نظام پر اقوام متحدہ کے نام سے اصل حکمرانی اور کنٹرول ان پانچ ممالک کا ہے اور یہ پانچ ممالک جس بات پر متفق ہو جائیں پوری دنیا کو وہ فیصلہ بہرحال تسلیم کرنا ہوتا ہے۔ 
اقوام متحدہ کا اصل مقصد تو قوموں اور ملکوں کے درمیان ہونے والے تنازعات کا حل تلاش کرنا اور جنگ کو روکنا ہے، لیکن ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ ؁ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا عالمگیر چارٹر منظور کر کے اور اس کی پابندی کو تمام ممالک و اقوام کے لیے لازمی قرار دے کر دنیا کے سیاسی اور معاشرتی نظام میں راہ نمائی اور مداخلت کو بھی اپنے دائرہ کار میں شامل کر لیا اور اس کے بعد سے ممالک و اقوام کے درمیان جنگ کو روکنے کے ساتھ دنیا بھر کے ممالک کے سیاسی اور معاشرتی نظاموں کو کنٹرول کرنا بھی اقوام متحدہ کی ذمہ داری سمجھا جا رہا ہے اور اقوام متحدہ اس سلسلہ میں مسلسل کردار ادا کر رہی ہے۔ 
کہا یہ جاتا ہے کہ اقوام متحدہ ایک بین الاقوامی تنظیم ہے اور اس کے تحت متفقہ طور پر یا اکثریت کے ساتھ طے ہونے والے فیصلے ’’بین الاقوامی معاہدات‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن تاریخ اور معاشرت کے ایک طالب علم کے طور پر مجھے اس سے اختلاف ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنے جن فیصلوں کو دنیا پر نافذ کرنا چاہتی ہے وہ عملاً نافذ ہوتے ہیں، ان کی خلاف ورزی کرنے والے ملکوں کو سزا دی جاتی ہے حتیٰ کہ خلاف ورزی کرنے والے ملکوں پر فوج کشی بھی کی جاتی ہے اور انہیں اقوام متحدہ کا فیصلہ تسلیم کرنے پر بزور مجبور کیا جاتا ہے، اس لیے انسانی حقوق کا چارٹر اور اقوام متحدہ کے دیگر فیصلے صرف ’’معاہدات‘‘ نہیں بلکہ عملاً ’’بین الاقوامی قانون‘‘ بن چکے ہیں اور خود اقوام متحدہ صرف بین الاقوامی تنظیم نہیں بلکہ عملاً ایک عالمی حکومت کا درجہ رکھتی ہے جس کے ذریعہ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ممالک عملاً پوری دنیا پر حکومت کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اس عملی کردار کو سامنے رکھنا بالخصوص عالم اسلام کے ان حلقوں کے لیے انتہائی ضروری ہے جو اسلامی نظام کے نفاذ، اسلامی معاشرہ کے قیام اور خلافت اسلامیہ کے احیاء کے لیے دنیا کے کسی بھی حصہ میں محنت کر رہے ہیں تاکہ انہیں یہ معلوم ہو کہ اس سلسلہ میں ان کا مقابلہ اصل میں کس قوت سے ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر ایسی جدوجہد کرنے والے حلقے اور طبقے اس غلط فہمی کا کا شکار رہتے ہیں کہ ہم اپنے ملک میں اپنے مقتدر حلقوں سے نفاذِ اسلام کا مطالبہ کر رہے ہیں یا ان سے نفاذِ اسلام کے لیے لڑ رہے ہیں جبکہ حقیقی صورت حال یہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے کسی بھی حصے میں نفاذِ اسلام یا شریعت کے قوانین کی ترویج کی جدوجہد ہو اس کا سامنا اصل میں ایک بین الاقوامی نظام سے ہے اور ایک مضبوط عالمی نیٹ ورک سے ہے جو ساری دنیا میں ’’انسانی حقوق کے چارٹر‘‘ کے عنوان سے مغرب کا طے کردہ سیاسی اور معاشرتی نظام نافذ کرنے کے لیے پوری طرح مستعد ہے۔ 

شام لہولہان اور عالم اسلام پر بے حسی طاری!

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

شام (سیریا) کی سرزمین وہ ہے جس کو خود قرآن پاک میں متعد مقامات پر مقدس وبابرکت قرار دیا گیا ہے۔ زبانِ رسالت سے جس کے لیے علیکم بالشام  (شام کو لازم پکڑو)، طوبی للشام  (شام کے لیے خوش خبری ہو) اور کنانۃ الاسلام  (اسلام کی چھاؤنی )جیسے الفاظ آئے ہیں ، جس کے لیے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہم بارک فی شامنا  (اے اللہ ہمارے شام میں برکت دے )کہہ کردعافرمائی ہے اورجس کی برکت وفضیلت میں اتنی حدیثیں آئی ہیں کہ کسی اورسرزمین کے تقدس کے بارے میں نہیںآئیں،وہ شام جہاں سیدنا بلالؓ ، امینِ امت ابوعبیدہ بن الجراحؓ، اللہ کی تلوار خالدبن ولیدؓ،کسرائے عرب امیرمعاویہؓ ،ام المومنین ام حبیبہؓ ،معاذبن جبلؓ ابودرداءؓ ،سعدبن عبادہؓ ،ابی بن کعبؓ اور حضرت دحیہ کلبیؓ جیسے کبارصحابہؓ آسودۂ خاک ہیں، جہاں عمربن عبدالعزیزؒ جیسے خلیفۂ راشد،صلاح الدین ایوبیؒ ؒ ؒ جیسے مجاہدکے علاوہ ابن الصلاحؒ ،ذہبی ؒ ،ترمذیؒ ؒ ؒ ؒ ،ابن کثیرؒ ،ابن عساکرؒ ، نوویؒ اور ابن تیمیہؒ جیسے ائمۂ اعلام کی آرام گاہیں ہیں،وہی شام آج لہولہان ہے اورعالم اسلام پر اس کے سلسلہ میں بے حسی طاری ہے۔
دوسال ہونے کو آرہے ہیں جب مارچ ۲۰۱۱ء میں شام میں انقلاب کی شروعات ہوئی ۔یہ انقلاب عالم عرب کے دوسرے ممالک تیونس ،مصراورلیبیامیں آنے والے عوامی انقلابوں سے بھی inspire ہواتھااورخودسیریامیں ا س انقلاب کی جڑیں بہت گہری تھیں۔ اس کی وجہ ۱۹۷۰ء سے چلے آنے والے اسدخانوادے کی جابرانہ وآمرانہ سفاک علوی حکومت ہے جوفوج کی مددسے سیریاکے اکثریتی سنی مسلمانوں پر کسی عفریت کی طرح مسلط ہے۔ واضح رہے کہ شام پر بدعقیدہ اورملحدعلوی نصیری مسلط ہیں جوحضرت علیؓ کی الوہیت کے قائل ہیں اورتقیہ پر یقین رکھتے ہیں۔یہ سنیوں کے بدترین دشمن ہیں اوریہ فرقہ شیعوں کا ایک غالی فرقہ ہے جس کو خودراسخ العقیدہ شیعہ امامیہ کافرمانتے ہیں ۔ یہ سب لوگ عرصہ ہائے دراز سے پیشۂ سپہ گری سے وابستہ رہے ہیں اوربیسویں صدی کے آغاز میں جب عرب دنیانے اپنی پہلی ہمالیائی غلطی بلکہ اسلام کے ساتھ غداری کی تھی کہ خلافتِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت کرکے انگریزوں اور فرانسیسیوں سے ہاتھ ملالیاتھا۔اس وقت اس علوی نصیری فرقہ کو فرانس نے اپنے وسیع مقاصدکے لیے گودلے لیاتھا۔ اس نے ان کو فوجی تربیت دی اورسنیوں کے خلاف لڑنے کے لیے تیارکردیاتھا۔اس کے بعدحافظ الاسدجیسے ملحد اور اسلام دشمن فوجی جنرل کے ہاتھ ان کی قیادت آگئی تواس نے نہ صرف ملک کے اقتدار پر قبضہ کرلیابلکہ شام کے دروبست پر اورزندگی کے ہرشعبہ میں کلیدی عہدوں پر ان کو مسلط کردیا۔
آغاز میں یہ انقلاب بالکل پر امن مظاہروں پر مشتمل تھا اور اس کا مطالبہ جابرانہ ملکی قوانین میں تبدیلی اور سیاسی نظام میں مثبت تبدیلیاں لانے کاتھا اورحکومت وقت یعنی ظالم وجابرصدربشارالاسدکے نظام کوختم کرنے کا مقصد ظاہرنہیں کیا گیا تھا، مگر جب بشارالاسدکی حکومت نے کسی بھی مطالبہ کوسننے اورماننے سے قطعی انکارکرکے پرامن مظاہرین کا استقبال گولیوں،توپوں کے دہانوں اور قید وبندسے کیا، ان کو سیریاکے بدنام زمانہ جیلوں میں ڈال کر شدید ٹارچر و تعذیب کی انتہاکردی تویہ پر امن مظاہرے منظم سیاسی احتجاج میں بدل گئے اور خاصے دنوں تک دمشق ،حلب، اریحا، ریف ،غوطہ ،حمص وغیرہ شہروں میں روزانہ یہ مظاہرے نکلنے لگے ۔ احتجاجیوں نے کئی پلیٹ فارم منظم کیے ،حقوق انسانی کے گروپ بنے ، انہوں نے باہر کی دنیا سے رابطہ کیا ۔ بشار الاسد اور اس کے ظالم وجابر باپ کرنل حافظ الاسدکے زمانہ سے جو لوگ اس نظام کے خلاف تھے اور سیریا سے بھاگ کرفرانس ،ترکی اور دوسرے یوروپی ممالک میں پناہ لیے ہوئے تھے، انہوں نے فرانس اور ترکی میں اپنے آپ کو منظم کرنا شروع کردیا۔ سیریائی اپوزیشن پارٹیوں نے احتجاجیوں کی حمایت کی اور بشارا لاسد کے نظام کے خلاف سیاسی عمل کے لیے زور ڈالنا شروع کردیا۔انہوں نے کئی محاذبنائے جن میں سب سے بڑے محاذ کے صدربرہان غلیوم ہیں۔اب انقلاب کانشانہ موجودہ نظام کو ختم کرنااوراس کی جگہ ایک جمہوری واسلامی سیریاکی تشکیل تھی ۔
سیریامیں انقلاب کی بڑی وجہ داخلی ہے کہ وہاں ۱۹۷۰ سے کرنل حافظ الاسدنے فوجی بغاوت کرکے جمہوری وعوامی حکومت کا تختہ پلٹ دیاتھااورجن لوگوں نے بھی ان کے خلاف کوئی آواز اٹھائی، ان کو سختی سے کچل کررکھ دیاتھا اور انسانی حقوق بری طرح پامال ہورہے ہیں ۔ اسی خوں خوارحافظ الاسدنے حماۃ شہرمیں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے انقلابیوں کو بری طرح بمباری کرکے ہلاک کردیاتھا ۔اس کی خونریزی سے تین ہزاردین پسندمسلمان شہیدہوئے تھے۔ اس کے بعدسے سیریاجمہوریت پسندوں اورمذہبی لوگوں کے لیے ایک کھلا قیدخانہ بن گیا۔جولوگ پابندی سے نماز پڑھتے انٹی جنس کے لوگ ان کے پیچھے لگ جاتے ،پریس کی آزادی سلب کرلی گئی، آزادخیال صحافی اوردانشوراورادیب اورعلماء ایک ایک کرکے سیریاکو چھوڑ کر چلے گئے یااسدکے عقوبت خانوں میں پوری عمریں گزارکردنیاسے چلے گئے ۔کتنے لوگوں کوپولیس نے پکڑ ا اور پھر ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔
جب یہ انقلاب شروع ہواتوباپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بشار الاسد نے ان نہتے اور غیرمسلح احتجاجیوں کے خلاف ہر شہر میں فوج اتار دی اور فوج نے راکٹوں، فوجی ہیلی کاپٹروں، توپوں اور ٹینکوں کے ساتھ ان کے گلی محلوں پر چڑھائی کردی ۔ مختلف شہروں میں بہت سے کمپاؤنڈ، مارکیٹیں اور محلے اڑادیے گئے ۔ پورے کے پورے محلے قبرستان بنا دیے گئے ۔ بہت سارے علاقوں، خاص طور پر ریفِ دمشق ،حلب اور غوطہ ،دیرالزور،درعااورادلب جیسے شہروں میں یہ وحشیانہ کارروائیاں اب بھی جاری ہیں ۔جس وقت یہ سطریں لکھی جارہی ہیں، حلب اوروسطی دمشق میں سیریاکی سرکاری فوج اورآزادفوج کے جیالوں میں معرکہ آرائی جاری ہے۔ روزانہ سودوسوآدمی شہیدکیے جارہے ہیں۔اب تک ۵۱ ہزار سے زیادہ بے قصور عوام فوج کے جبر وتشدد کا نشانہ بن چکے ہیں اورا س سے کئی گنا زیادہ تعدا جیلوں میں سڑ رہی ہے۔ کتنے علماء کو اغوا کر لیا گیا ہے ، کتنوں کو مارڈ الا گیا ہے اور کتنی ہی مسجدیں زمیں بوس کی جا چکی ہیں۔ شام کے مظلوم عوام اپنا دوسرا رمضان ان ناگفتہ بہ حالات میں گزار رہے ہیں کہ جب حلب کا فوجی محاصرہ کیا ہوا ہے اور فوجی ہیلی کاپٹروں سے اس پر بمباری جاری ہے۔ لوگوں کو کھانے پینے کے سامان کی قلت ہے ،دوا اور علاج دستیاب نہیں ،بڑے پیمانے پر نوجوانوں اورلڑکوں کی بے محابا گرفتاریاں مسلسل جاری ہیں۔ شورش زدہ علاقوں کی لائٹ کاٹ دی جاتی ہے ،ان کی پانی کی سپلائی روک دی جاتی ہے، غرض وہ انتہائی شدیدحالات سے دوچارہیں جس کی تھوڑی سی جھلک الجزیرہ کی رپورٹوں اوراس کی سیریافائل (ملف سوریا ) میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ اندازہ کیاجاسکتاہے کہ ان کی عیدکیسی ہوگی !! 
سیریاکی حکومت نے غیرملکی صحافیوں اورذرائع ابلاغ پر مکمل طورپر پابندی لگائی ہوئی ہے اورانہی صحافیوں کو ملک میں داخلہ کی اجازت ملتی ہے جن کو مختلف ممالک میں اس کے سفارت خانے بھیجتے ہیں،جوظاہرہے کہ وہی خبریں دیتے ہیں جن سے انقلابیوں کی شبیہ خراب ہو اور حکومت کا مثبت امیج بنے ۔غیرملکی ریلیف ورک بھی نہیں ہونے دیاجارہاہے اورامدادی سامان مستحقوں تک نہیں پہنچ پاتاکیونکہ شامی سرکاری فوج کے علاوہ حکومت کے مسلح مخبرجوسادہ کپڑوں میں ہوتے ہیں، ہرجگہ پھیلے ہوئے ہیں اور لوگوں کوخوف زدہ اورہراساں کرنے کاسب سے بڑاآلہ بنے ہوئے ہیں۔ ان کوسیریامیں الشبیحہ  کہتے ہیں، اردومیں ان کوکرایہ کے قاتل کہہ سکتے ہیں۔بشارالاسدکابھائی ماہرالاسدسیریائی انٹیلی جنس کاسربراہ اورانتہائی سفاکانہ طبیعت رکھتاہے ،اس کوشام میں ماہرالجزار(قصائی )کہتے ہیں۔اس نے نوجوانوں کو قیدکرنے اور ٹارچر کرنے کا رکارڈ قائم کیاہے اورحقوق انسانی کی وہ خلاف ورزیاں کی ہیں جن پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔
مہینوں تک سیاسی لڑنے اور پرامن مطالبات کے بعد آخر خود شام کی سرکاری فوج سے فوجیوں کے بھاگنے اورانقلابیوں میں شامل ہونے کا عمل شروع ہوااورکرنل ریاض الاسعدکی قیادت میں الجیش السوری الحر(آزاد سیریائی فوج )کی بنیادڈالی گئی ۔شروع میں اس کے اندر صرف چندہزارنفرتھے، اب ترکی کی فوجی تربیت اور اسلحہ کی سپلائی کے باعث یہ آزادفوج بھی بہترپوزیشن میں ہے اورسرکاری فوج سے لوہا لے رہی ہے۔مگراس فوج کے پاس اورانقلابی رضاکاروں کے پاس ہلکے پھلکے اسلحہ ہیں ،ان کے پاس نہ بمبارجہازہیں نہ ٹینک اور توپ ،مگرظالم وجابرنظام سے آزادی حاصل کرنے کا جذبہ ہے جوان کو اپنی جوانیاں لگانے اور جانیں قربانیں کرنے کے لیے مہمیز کررہا ہے ۔
ترکی میں شامی مہاجرین کی تعداد سرکاری اعدادوشمارکے مطابق تعدادساٹھ ہزارتک پہنچ چکی ہے۔ بشارالاسدنے ایک سنی، ریاض الحجاب کو جوان کے پرانے وفادارتھے ،وزیراعظم بنادیاتھا، لیکن گزشتہ ہفتہ وہ بشارالاسدکا ساتھ چھوڑکر انقلابیوں سے مل گئے اورشام سے نکل گئے ہیں۔ ابھی وہ عمان میں ہیں اورانہوں نے شامی فوج سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کا قتل عام نہ کریں اوربشار الاسدکا ساتھ چھوڑکر عوام کا ساتھ دیں۔
سترہ مہینے کی لگاتارجدوجہدکرنے والے اورایک وحشی فوج سے نبردآزماشام کے ان انقلابیوں میں بڑاحصہ ان مذہبی لوگوں کا ہے جواخوان المسلمون کی فکرکے حامل ہیںیاسلفی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں ۔اس کے علاوہ ایک قلیل تعدادان لوگوں کی بھی ہے جونیم مذہبی یالبرل ہیں مگرجمہوریت اوراستبدادی نظام سے آزادی چاہتے ہیں۔ان سترہ مہینوں کے اندر شامی قوم پر قیامت گزرگئی ہے ،وہ بدترین عذاب جھیل رہی ہے ۔ مگرابھی تک ہزاروں بیٹوں اورفرزندوں کی قربانیاں دے کربھی اس نے حوصلہ نہیں کھویاہے۔اس سلسلہ میں بدقسمتی سے ۵۷ رکن ممالک والی اوآئی سی اور عرب لیگ عالم اسلام کی دونوں تنظیمیں ان مظلوموں کی کوئی مددکرنے اورشام کے بحران کاکوئی حل نکالنے میں ناکام رہی ہیں ۔عرب لیگ نے اب سے کئی مہینے پہلے اپنے دوسومبصرین شام میں تعینات کیے تھے اورحکومت سے اپیل تھی کہ وہ خون خرابہ بندکردے مگرہزارزبانی دعووں اورعالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کے باوجودحکومت نے اپنے تمام جارحانہ اقدامات جاری رکھے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ کئی بارعرب لیگ نے امن منصوبے پیش کیے مگرحکومت نے سردمہری سے کام لیااوراپناظلم وجبرترک نہیں کیا۔عالمی قوتوں میں روس اورچین کی ہمدردیاں شام کو حاصل ہیں کیونکہ دونوں ملکوں کے وسیع تجارتی مفادات اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ چونکہ برسراقتدار بعث پارٹی کمیونزم کا عربی ورژن ہے، اس لیے روس سے اس کی زبردست قربت چلی آرہی ہے ،یہاں کہ ۱۹۵۶ء سے دونوں میں دفاعی معاہدہ بھی چلاآرہاہے۔اسی لیے روس سلامتی کونسل میں اس کے خلاف ہر قرارداد کو ویٹو کر دیتا ہے اوراس نے اس کا اعلان بھی کررکھاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شام کو ناٹوکی کارروائی کا خوف نہیں ہے۔
مسلم دنیا میں ایران اس کا سب سے بڑاحمایتی ہے اوراس کی ہرطرح مددکررہاہے۔ اسی طرح لبنان کی طاقت ور ملیشیااورسیاسی قوت حزب اللہ بھی اس کی زبردست حمایتی ہے۔ایران اورحزب اللہ دراصل مسلکی بنیادوں پر اس کے ساتھ ہیں، کیونکہ شام میں علوی نصیری فرقہ مسلط ہے جوصرف ۱۰ سے ۱۵ فیصد ہے، مگرملکی زندگی کے سیاہ وسفیدپر اسی کا تسلط ہے اوراس علوی آمرانہ نظام نے فوج کی مددسے ۸۵ فیصدسنی اکثریت کو بدترین استحصال اورظلم و بربریت کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ عرب علماء اور ان میں خاص طورپر شیخ یوسف القرضاوی نے واضح طور پر اس جابرنظام حکومت کے خلاف فتویٰ دیاہے اور اس نظام کو بیخ وبن سے اکھاڑپھینکنے کی اورشام کے مظلوم سنی مسلمانوں کی تائیدوحمایت کی اپیل کی ہے۔ ان کے علاوہ شام کے شیخ محمدغسان نجار،شیخ ہشیم المالح،سلفی جماعت کے شیخ عدنان عرعور،جامع اموی کے سابق خطیب معاذ الخطیب الحسنی اورنمایاں کردلیڈرسب انقلاب کے حامی ہیں اوراس میں شامل ہو کر ہرطرح کی قربانیاں دے رہے ہیں۔نیز دنیاکے مختلف ممالک میں سیریائی سفارت کاروں نے بھی اپنی حکومت سے انحراف شروع کردیا ہے۔
اقوام متحدہ اوردوسرے عالمی ادارے بھی اس محاذپر ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔یواین اوکے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کو اقوام متحدہ نے اپناسفیربناکرخصوصی مشن پر سیریابھیجاتھا ۔ان کا مشن سیریامیں امن کا قیام ،سیاسی اصلاحات میں تیزی لانااورحکومت کواس پر راضی کرنا تھا کہ وہ فوج کوشہروں اورآبادیوں سے ہٹاکرواپس بیرکوں میں بھیجے اورانقلابیوں کے ساتھ گفت وشنیدکرے، مگربالآخر ان کا یہ مشن بھی سیریا حکومت کی ہٹ دھرمی کے آگے فیل ہوگیا۔ سچی بات تویہ ہے کہ امریکہ اورناٹووغیرہ اگرکوئی کارروائی سیریاکے خلاف کرتے ہیں تو اس کے خلاف سب سے زیادہ غل بھی مسلمان اورعرب ہی مچائیں گے اورہنگامہ کریں گے کہ صلیبی دنیاایک اورمسلم ملک پر چڑھ دوڑی، مگر وہ خوداپناگھردرست کرنے کی کوشش نہیں کرتے اورالمیہ یہ ہے کہ ہم ہروقت مغرب کو کوستے کاٹتے بھی ہیں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے بھی مغربی دنیاکی طرف ہی دیکھتے ہیں!!ان سطورکے لکھے جانے کے وقت مکہ میں تنظیم اسلامی کانفرنس کے وزرائے خارجہ کی چوٹی کانفرنس ہو رہی ہے۔ اس کے صدرنے یہ عندیہ دیاہے کہ سیریاکو تنظیم سے نکالاجاسکتاہے۔ یادرہے کہ ایک ماہ قبل اس کوعرب لیگ سے بھی نکال دیا گیا ہے،مگرایران کی پرجوش حمایت کے باعث ایسے علامتی اقدامات سے اس پر کوئی اثرپڑنے والانہیں ہے۔امریکہ اوردوسرے مغربی ملکوں نے شام پر اقتصادی پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔ اس کے ساتھ کاروبارکی بندش کے علاوہ درجنوں اشخاص کے اثاثے بھی منجمدکردیے ہیں اور ان کے سفرکرنے پر بھی پابندی ہے ۔آج امریکہ نے تنظیم اسلامی کانفرنس پر زوردیاہے کہ وہ شام میں فوجی مداخلت کرے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ ایک صحیح مشورہ ہے اورمسلم ملکوں کو بہت پہلے ہی یہ قدم اٹھالیناچاہیے تھا، مگرمسلمانان عالم کی قیادتوں کا جورخ ہے، اس سے نہیں لگتاکہ وہ کوئی ٹھوس قدم اٹھاسکیں گے ۔
لیبیامیں انقلاب اسی طرح رونماہواتھا کہ عوام نے اقتداروقت کے خلاف ہتھیاراٹھالیے اورمحض چندمہینے میں قذافی کا خاتمہ کردیا۔ سیریا میں یہ تجربہ اس لیے نہیں دہرایاجاسکتاکہ لیبیادنیامیں بالکل تنہاپڑگیاتھااورآس پاس کے کسی ملک نے اس کی حمایت نہیں کی تھی، جبکہ مشرق وسطی میں سیریا،ایران اورحزب اللہ کی ایک تکون بن گئی ہے جسے بجا طور پر Axis of evil (بدی کامحور) کہاجاسکتاہے اوریہ محورہم مسلک بھی ہے، یعنی سب شیعہ قوتیں یک جاہوگئی ہیں جو سیریا کے سنی مسلمانوں کا قافیہ تنگ کیے ہوئے ہیں۔ان کے مقابلے میں سیریاکے سنی بڑی نازک پوزیشن میں ہیں۔ مغربی دنیاان کی مددنہیں کررہی ،اقوام متحدہ اورحقوق انسانی کے دوسرے ادارے ان کے لیے زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھتے، پڑوسی عرب ممالک سب بدترین درجہ کے منافق حکمرانوں کے قبضہ میں ہیں جو پون صدی سے چلے آرہے مشرق وسطی کے ناسورفلسطین کا مسئلہ نہیں حل کرا سکے توان سے سیریاکے مسئلہ کے حل کی توقع رکھناخودفریبی کے سوا کچھ نہیں۔ البتہ سعودی عرب، قطر اور دوسرے ممالک نے ریلیف پہنچائی ہے اوراخلاقی طورپر انقلابیوں کی مددکی ہے۔
حال ہی میں دمشق میں آزاد سیریائی فوج نے ۴۸؍ ایرانیوں کوپکڑاہے اوراسی طرح کئی لبنانی باشندے بھی پکڑے گئے ہیں جو حزب اللہ کے لوگ ہیں ۔چنانچہ الجزیرہ نے آزاد سیریائی فوج کے حوالہ سے نقل کیاہے کہ یہ ایرانی باشندے جن کو زائرین باورکرایاجارہاہے کہ وہ دمشق میں واقع روضہ سیدہ زینب کی زیارت کے لیے آئے تھے،دراصل ایرانی فوجی ہیں جوزائرین کے بھیس میں سننی علماء اورمشائخ کو نشانہ بنانے کے لیے آئے تھے ۔آزاد سیریائی فوج کے اس الزام میں اس لیے قوت محسوس ہوتی ہے کہ سیریامیں انقلاب کے آغازکوسترہ مہینے گزرچکے ہیں اوریہ انقلابی لہرپورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے توآخرایسے بحرانی دورمیں کوئی محض مذہبی زیارت کے لیے دوسرے ملک کیوں جائے گااوراسے اتنی آسانی سے ویزاکیونکرمل جائے گااوروہ بھی ایک دونہیں سینکڑوں کی تعدادمیں؟
حیرت ہوتی ہے کہ ہندوستانی مسلمان جوروایتی طورپر پوری امت مسلمہ کے لیے تڑپتے ہیں اورہمیشہ امیرمینائی کے اس شعرکے مصداق ثابت ہوئے ہیں ؂ 
خنجرچلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے 
سیریاکے مظلوم مسلمانوں کے لیے کیوں بے حس بن گئے ہیں؟ ان کے اخبارات وجرائدخاموش ،ان کی ملی تنظیمیں جو ہر چھوٹے بڑے مسئلہ پر غل مچانے میں اپناجواب نہیں رکھتیں، وہ خاموش ۔میرااندازہ ہے (کاش کہ یہ انداز ہ غلط ہو!) کہ ان کے کسی اجلاس اورکسی کانفرنس نے اس لمبی مدت میں سیریاکے مسئلہ پرانقلابیوں کی حمایت اورجابرحکومت کی مذمت میں کوئی قراردادجاری نہیں کی ۔صرف فقہ اکیڈمی کااستثنا ہے جس نے اپنے علی گڑھ کے سیمینارمیں اس مضمون کی باضابطہ ایک قرارداد پاس کی تھی ۔اس کے علاوہ مادرعلمی دارالعلوم ندوۃ العلماء کے عربی رسائل الرائداورالبعث میں شام پر برابرمضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔اردومیں ہندوستانی علماء ودانشوروں میں صرف پروفیسر محسن عثمانی ندوی کی کئی چھوٹی بڑی تحریریں اس سلسلہ میں شائع ہوئی ہیں اورموقع موقع سے ان کے مضامین کئی اخبارات ورسائل میں آئے ہیں اورانہوں نے اپناخون جگرصفحہ قرطاس پر انڈیلاہے ۔ان کے علاوہ بالکل سناٹاہے اورہزاروں علماء ودانشوروں کی بھیڑمیں کوئی نہیں جو ملی غیرت کا ثبوت دے اورمصلحتوں کا دامن چھوڑکرحق کے دوبول بول سکے ۔یہاں تک کہ وہ تنظیمیں اوروہ لوگ بھی جوخودکو اخوان المسلمون کاہم خیال بتاتے ہیں،وہ بھی مصلحتوں کے اسیرہیں ،چونکہ ان میں سے بعض کے مفادات ایران سے وابستہ ہیں اورجو ایرانیوں اورحزب اللہ کے اتحادبین المسلمین کے کھوکھلے نعروں پر ایسے ایمان لائے ہوئے ہیں جیسے وہ وحی ہوں،اس لیے وہ اس کے خلاف نہیں جاسکتے اوربآوازبلندحق کی بات نہیں کہہ سکتے ۔اردوکے بہت سے اخبارات اوراردوکے کئی صحافی جو ایرانیوں کے پے رول پر ہیں اوران کے علاوہ کچھ وہ لوگ جن کوسیریائی سفارت خانہ نے سیریاکا سفرکرایاہے، وہ ابھی تک بشارالاسدکے قصیدے پڑھ رہے ہیں -
بدنام زمانہ سیریائی صدرجن کے ہاتھ سے زمین آہستہ آہستہ سرک رہی ہے ہوش کے ناخن نہیں لے رہے ہیں۔اب وہ دن دورنہیں جب ان کے وحشی خانوادے اوران کے وفاداروں کا یوم حساب شروع ہوگااوران ظالموں کوخوددنیاکے اندرہی اسی حشرسے دوچارہوناہوگاجس سے ان جیسے سینکڑوں جابراورآمردوچارہوچکے ہیں۔

منفی اقدار کے فروغ میں میڈیا کا کردار

محمد رشید

جدید دنیا کے تعلیمی اداروں، فکری رہنماؤں، دانشوروں، قلمکاروں اور صحافیوں پر اس مغربی ابلیسی تہذیب کا ایسا سحر طاری ہے کہ اس عریانیت وفحاشی پر مبنی ’’فلم انڈسٹری‘‘کے خلاف اگر کبھی کوئی آواز اٹھتی ہے تو ابلیسی سحر میں گرفتار یہ دانشور،قلمکار اور صحافی انسانیت کی دشمن اس ابلیسی پروگرام کو منوانے کے لیے میدان میں نکل کھڑے ہوتے ہیں اور انسان کی تخریبی صلاحیتوں کو ابھارنے والی اس شیطانی موسیقی اور فلم انڈسٹری کو فن، آرٹ اور تخلیقی صلاحیت کا نام دے کر اسے منوانا چاہتے ہیں اور جو اس پر تنقید کرے اوراس شیطانی انڈسٹری کو فروغ دینے والوں پر تنقید کرے تو ہمارے یہ صحافی اور دانشور اسے آڑے ہاتھوں لیتے ہیں اور ایسے افراد پر مبنی پوری قوم کو’’بیمار قوم‘‘ کا نام دے کر پوری قوم کے منہ پر طمانچے رسید کرتے ہیں۔
جاوید چودھری صاحب۷؍اگست ۲۰۱۲ء کے روزنامہ ایکسپریس کے کالم کا خلاصہ یہ ہے کہ ساری دنیا گلوکاروں، موسیقاروں، فلم سازوں، اداکاروں اور تصویرسازوں کو عزت و احترام دے رہی ہے اور انہیں ڈالروں میں تول رہی ہے، جبکہ اس کے برعکس پاکستانی معاشرہ ابھی تک فلم سٹارز کو احترام اور عزت دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔چنانچہ اپنے کالم کے کلائمکس میں فرماتے ہیں:
’’دنیا وہاں جارہی ہے اور ہم ۱۲۰۲ میں یہ بحث کر رہے ہیں ہمارے میڈیا نے راجیش کھنہ کو سارا دن کوریج کیوں دی؟ راجیش کھنہ اداکار تھا، اداکاری سولائزیشن اور تہذیب کی علامت ہے اور مہذب معاشرے راجیش کھنہ جیسی علامتوں کو عزت دیتے ہیں۔‘‘
ندامت اور شرمندگی کا بدترین مقام یہ ہے کہ ایک مسلمان ملک کے میڈیا کے طور پر ہمارے ذرائع ابلاغ کو جو سب سے بڑا افسوس کرنا چاہیے تھا کہ ’’آج ایک اورصلاحیتوں سے مالا مال غیرمسلم اپنی صلاحیتوں کو گمراہی اور بے حیائی کی اشاعت میں خرچ کرتے کرتے ایمان کے دولت سے محروم دنیا سے چلا گیا اور ابدی زندگی میں ہمیشہ ہمیش کی دوزخ اس کامقدر ہوگئی۔ہم مسلمانوں سے بہت بڑی کوتاہی ہوئی کہ ہم نے اسلام اور ایمان کی دولت اس تک پہنچانے میں مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا،اے کاش! اگر ہم اسے ایمان اور اسلام کی دولت سے ہمکنار کرپاتے تو اس مرنے والے کی غیرمعمولی صلاحیتیں بے حیائی اور بے مقصدیت کی اشاعت کی بجائے حیا اور اعلیٰ مقاصد پھیلانے میں خرچ ہونے لگ جاتیں‘‘۔بجائے یہ افسوس کرنے کے ہم نے دنیا میں شیطانی فلم انڈسٹری کے اس ایک ورکر(راجیش کھنہ) کو ایک ہیرو،ایک بہت بڑی تخلیقی شخصیت بناکر اس کے عریانی اور فحاشی پر مبنی گانے بار بار قوم کو دکھائے۔اگر اس پر قوم کے چند افراد کی طرف سے تنقید کی گئی توقوم کے ان افراد کے شکر گزار ہونے کی بجائے ’’فن اور آرٹ‘‘ کے گمراہ کن الفاظ کی آڑ میں ہمارے یہ محترم صحافی انہیں ’’بیمار قوم‘‘ کا لقب دے کر اپنے مجرمانہ کردار کو چھپانے کو شش کررہے ہیں۔ ہمارے اس طاقتورطبقہ کی ڈھٹائی ملاحظہ فرمایے کہ یہ ناپاکی اور عریانی کے ایک بہت بڑے پروموٹراور مبلغ فلمی اداکار کی طبعی موت پر اس کی فلموں کے جنسی ہوس اور بوس و کنار پر مبنی جھلکیاں بار بارقوم کو دکھا کر اسے ایک ہیرو کے طور پر منوانے کی ناپاک کوشش کرتا ہے مگر عین انہی لمحوں میں برما میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کمزور،نہتے اور مظلوم مسلمانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح موت کی طرف دھکیلا جاتا ہے، لیکن ابلیسی تہذیب سے ہم آہنگ ہمارا یہ طاقتور میڈیا اتنے بڑے انسانی المیے کی معمولی سی بھنک اورخبر بھی ناظرین تک نہیں پہنچنے دیتا۔
وہ قوم جس میں ہرروزامریکہ کے ظالمانہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں سینکڑوں افراد بے گناہ قتل کا نشانہ بن رہے ہیں۔۔۔ وہ قوم جس کی بے گناہ اور معصوم بیٹی عافیہ کو تہذیب اور تمدن کے نمائندہ و علمبردار امریکہ نے تاریخ انسانی کے بدترین ظلم و تشدد کانشانہ بنایاہوا ہے ۔۔۔وہ قوم جس میں امریکی استعمار کی مخالفت پر کمربستہ جید اور بالغ النظر عالم دین مفتی نظام الدین شامزئی شہید کردیے جاتے ہیں۔۔۔وہ قوم جس میں مولانا اسلم شیخوپوری جیسے انسانیت کے سچے خیر خواہ اور مدرس قرآن دن دیہاڑے شہیدکردیے جاتے ہیں۔۔۔وہ قوم جس میں غیر معمولی قوت بیان اور منطق کی صلاحیتوں کے حامل ڈاکٹر اسرار احمد جیسے مدرس قرآن ۔۔۔اورغیرمعمولی تعمیری و تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال عظیم استاد اور علم کا ہمالیہ ڈاکٹر محمود احمد غازی انتقال کرتے ہیں تو میڈیا کو جیسے سانپ سونگھ جاتا ہے، لیکن یہی میڈیاانسانیت دشمن شیطانی تہذیب کے ایک اہم ادارے ’’فلم انڈسٹری‘‘ کے ایک ورکر کی موت پر اسے ایک ہیرو بنا کر اس کی فلموں کے گندے اور ناپاک سین پر مبنی جھلکیاں قوم کو بار بار دکھاتاہے اور خاموش لفظوں میں یہ مطالبہ کرتا ہے کہ شیطان کے ان پیروکاروں کو اپنا ہیرو اور آئیڈیل بناؤ۔اس پر ایک مسلمان ملک کے میڈیا کے اس مجرمانہ طرزعمل پر قوم کے چند افراد تنقید کرتے ہیں تو ہمارے جاوید چودھری صاحب جیسے صحافی ’’بیمار قوم‘‘ کی لٹھ لے کر ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور اپنے قلم کی تلوار کی نوک قوم کی پیٹھ میں چبھاکرمطالبہ کرتے ہیں کہ چونکہ ساری دنیا فلم انڈسٹری کے اداکاروں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اس لیے تم بھی انہیں وہی عزت دو جو عزت انہیں خدا بیزار اورمشرکانہ وملحد دنیا میں حاصل ہے۔ یہ مطالبہ کرتے وقت یہ صحافی اپنے اسلام اور اپنے ایمان کو پرانے کپڑے کی طرح اتار کر ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور الحاد(سیکولرزم) کا جدید اور نظر کو خیرہ کردینے والا لباس پہن کراپنی قوم کو ’’بیمار قوم‘‘ کی گالی دینے کے بعدقوم کی بیماری کا علاج یہ تجویز کرتے ہیں کہ گندگی، فحاشی، عریانیت اور گناہ کے علمبرداروں کو آرٹسٹ،فنکار اور تخلیق کار کا نام دے کر انسانی معاشروں میں عزت و احترام کا جو بلند ترین مقام ہوسکتا ہے وہ انہیں عطا کردیاجائے۔ 
مہذب دنیا اور سولائزیشن کی دہائی دے کرفکری سطح پر برائی اور غلامانہ ذہنیت کی دعوت دیتے وقت ہمارے یہ محترم صحافی بھول جاتے ہیں کہ فن، آرٹ اور تخلیقی صلاحیت کا اظہار اگر گناہ کو پھیلانے، فحاشی و عریانی اور تشدد و خون خرابے پر مبنی فلم انڈسٹری کی ترقی کے لیے استعمال ہوتوایسا فن اور آرٹ شیطانی آرٹ کہلایاجائے گا، ایسی تخلیقی صلاحیت برائی اور بگاڑ کو خوبصورت بناکر پیش کرنے کی وجہ سے درحقیقت ایک خوفناک تخریبی عناصرکا مجموعہ ہونے کی وجہ سے حوصلہ شکنی، پابندی اور ممنوع قرار دیے جانے کی مستحق ہے۔ہمارے یہ صحافی حضرات یہ بات بھی شاید جان بوجھ کر بھول جاتے ہیں کہ صرف اسی صورت میں فن، آرٹ اور تخلیقی صلاحیت کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا، جب یہ فن، آرٹ اور تخلیقی صلاحیت دنیا میں روحانیت، انسانیت، خلوص، محبت، وفا، ہمدردی، خیرخواہی اور پاکیزگی و طہارت کے فروغ کے لیے استعمال کی جائے گی۔دنیا میں اچھائی ،انصاف اور سچ کے علمبردار بھی فن، آرٹ اور تخلیقی صلاحیت سے مالا مال رہے ہیں اور برائی، ظلم اور جھوٹ کے علمبردار بھی ’’انسان‘‘ ہونے کی وجہ سے ان صلاحیتوں کے حامل رہے ہیں۔ اسلام فن، آرٹ اور تخلیقی صلاحیت کے پہلی قسم کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اسے عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے جبکہ دوسری قسم کے استعمال کا خاتمہ کرنا اسلام کا مقصود اور اس کا مشن ہے ۔مذہب کے خلاف پانچ سو سالہ محنت کے نتیجے میں جدید تہذیب اور جدید دنیا میں آج برائی، ظلم اور جھوٹ اور بے حیائی کے علمبردار انسان ہی کے فن، آرٹ اور تخلیقی صلاحیت کو سلام کیاجاتا ہے اور اسے عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جبکہ دوسری طرف پاکیزگی، حیا، امن، سچائی، وفا، خلوص اور انسانی ہمدردی کے فروغ کے لیے آرٹ، فن اور تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال انتہائی کمیاب ہی نہیں بلکہ نایاب نظر آتا ہے۔
عام طور پر چھوٹی سکرین یعنی ٹی وی کو بڑی سکرین یعنی سینما (فلم) کے مقابلے میں بہت ہی صاف ستھرا قسم کا حامل ادارہ سمجھاجاتا ہے۔ لہٰذا چھوٹی سکرین کے اداکار اکثر ان خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ بڑی سکرین (فلم انڈسٹری) گناہ اور بدکاری (اسکینڈل)کے مواقعوں سے اس حد تک بھرچکی ہے کہ وہ اس کی طرف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ٹی وی اور فلم انڈسٹری کے اس فرق کو ذہن میں رکھیے اور پھر آئیے دیکھیے کہ امریکہ کے ایک نہایت ناموراور مقبول مصنف سٹیفن آرکووے اپنی شہرہ آفاق کتاب The 7 Habits of Highly Effective Families  میں ٹی وی کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ وہ لکھتے ہیں کہ:
’’یہ سچ ہے کہ ٹی وی کے بیشمار فوائد بھی ہیں جن میں اچھی معلومات اور پرلطف تفریح شامل ہے تاہم ہمارے اور اہلخانہ کے لیے اس میں نقصان کا پہلو زیادہ ہے۔ ٹی وی سے مثبت شے تلاش کرنا ایسے ہی ہے جیسے آپ کوڑے کے ڈھیر میں سلاد کے لیے پتے ڈھونڈ رہے ہوں۔ ہوسکتا ہے آپ انہیں ڈھونڈ لیں تاہم اس دوران آپ کا جس قدر گندگی اور مکھیوں سے واسطہ پڑے گا اس کا آپ بخوبی تصور کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔امریکہ میں ہونے والے ایک سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہاں کے 90فیصد لوگ اخلاقی انحطاط کا شکار ہورہے ہیں اور 62فیصد افراد کا خیال ہے کہ اس میں ٹی وی کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔‘‘
غور کیجئے جب ٹی وی کے بارے میں مغربی دنیا کے ایک غیرمسلم منصف مزاج دانشورکی یہ رائے ہے تو پھر فلم انڈسٹری اور فلمی دنیااخلاق و حیا کے لیے کس حد تک تباہ کن ثابت ہوئی ہے، اس کا اندازہ بخوبی لگایاجاسکتا ہے۔
اسلام ایسی حیا باختہ اور ناپاک تہذیب کا سب سے بڑا مخالف ہے اور اسے انسانیت کے لیے تباہی و بربادی کا سبب سمجھتا ہے، لہٰذا ایسی لعنتی تہذیب جس میں بے حیائی، عریانی، فحاشی اور بے مقصدیت کو پھیلانے والی اداکاری کو معاشرے میں عزت واحترام کی علامت سمجھا جاتا ہو، کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے اسی تہذیب کو فساد (دہشت گردی)قرار دیتے ہوئے فرمایا تھا:
فسادِ قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب
کہ روح اس مدنیت کی رہ نہ سکی عفیف
رہے نہ روح میں پاکیزگی تو ہے ناپید
ضمیر پاک، خیال بلند، ذوق لطیف
اسی ناپاک تہذیب کے بارے میں حکیم مشرق فرماتے ہیں:
اہل نظر ہیں یورپ سے نومید
کہ ان امتوں کے باطن نہیں پاک
اسی تہذیب کاگہرا ادراک اور واضح شعوررکھنے والے علامہ محمد اقبال اپنی نظم ’’ابلیس کی عرضداشت‘‘میں ابلیس کا مکالمہ ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں :
ناپاک جسے کہتی تھی مشرق کی شریعت
مغرب کے فقہیوں کا یہ فتویٰ ہے کہ ہے پاک!
اور پھر اس نظم کا اختتام ان الفاظ میں کرتے ہیں:
جمہور کے ابلیس ہیں ارباب سیاست
باقی نہیں اب میری ضرورت تہ افلاک!
ابلیس کہہ رہا کہ عصرحاضر کی تہذیب کے ذریعے سے ہر معاشرے کے انسانوں میں سے بڑے بڑے شیطان ان کی سیاسی زندگی پر قابض ہیں، لہٰذا اب آسمان کے نیچے میری ضرورت باقی نہیں رہی۔یہ ہے آج کی سولائزڈ دنیا اور تہذیب جس کی دہائی دے کر ہمارے صحافی ہمیں ناپاک علامتوں کا احترام کرنے کی تلقین کررہے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ اپنے کامل دین کی کامل تعلیمات کی پیروی نہ کرنے اورسر تا پا گناہوں میں ڈوبے ہونے کی وجہ سے پاکستانی قوم ایک ’’بیمار قوم‘‘ بن چکی ہے۔لیکن اس ’’بیمار قوم‘‘ کا ضمیر اور تحت الشعور زندہ ہونے کی یہ ایک علامت ہے کہ وہ سر تاپیر برائی میں ڈوبی ہونے کے باوجود بہرحال برائی کو برائی سمجھ رہی ہے۔۔۔گناہ کو گناہ سمجھتی ہے۔۔۔ظلم کو ظلم ہی سمجھتی ہے۔بجائے اس کے کہ قوم میں ایمان کی اس بجھتی ہوئی آگ میں سے اس بچھی کھچی چنگاریوں کو کام میں لاکر ذرائع ابلاغ کے مقدس پیشہ سے وابستہ صحافی قوم کا ایمان اور اس کی مرتی ہوئی اقدار کو زندہ کرنے کی کوشش کرتے ۔بجائے قوم کی بیماری کا یہ درست علاج کرنے کے اس بیمارقوم کے طاقتور صحافی فکری اور روحانی سطح پر اجتماعی خودکشی کی دعوت دیے چلے جارہے ہیں کہ یہ قوم گناہ اور ظلم کو برائی سمجھنا ہی چھوڑ دے، بلکہ وہ عریانی وبے حیائی کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھنا شروع کردے۔فکری سطح پر موت کی اس دعوت کوہمارے یہ صحافی عین حیات قرار دے رہے ہیں۔جناب عالی!اگر یہ قوم گناہ کو گناہ سمجھ رہی ہے، ظلم اور ناانصافی کو ظلم ہی کہہ رہی ہے، گناہ کی فلمی دنیا کے اداکاروں کو عزت دینے سے انکار کررہی ہے تو یہ شعوری یا لاشعور ی سطح پرنبی اکرمﷺ کی اس نصیحت پر عمل کررہی ہے کہ ایمان کا کمزورترین درجہ برائی کو دل سے برا سمجھنا ہے۔اپنے عظیم رسول ﷺ کے اس حکم کی وجہ سے، کہ ’’اگر کوئی برائی کو دل سے بھی برا نہ سمجھے تو اس کے سینے میں ایک ذرہ کے برابر بھی ایمان نہیں‘‘ ، اس بیمار قوم کا اجتماعی ذہن بدترین زوال کا شکار ہونے کے باوجود ظلم کو ظلم سمجھ رہا ہے، فلمی دنیا کے ناپاک کرداروں کو عزت و احترام دینے سے انکار کررہا ہے۔جبکہ میڈیا ناپاک فلمی دنیا کے ہندواداکاروں کے مقابلے میں دنیا بھر میں کروڑوں مسلمانوں کی جان ، مال،عزت اور آبروکو زیادہ اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں۔کشمیر،فلسطین، چیچنیا، افغانستان، عراق اور بوسنیا اوراب برما کے کمزوراورنہتے مسلمانوں پر عالمی دہشت گردطاقتیں اور ابلیسی تہذیب کے علمبردارغنڈے حملہ آورہیں، لیکن میڈیاکے مجرم طبقہ کی پریشانی یہ ہے کہ پاکستانی قوم برما کے مظلوم اور قتل و غارت گری کے شکار مسلمانوں کے مقابلہ میں فلمی اداکاروں کو زیادہ اہمیت اور عزت اور احترام دینے پر آمادہ نہیں ہے۔
جناب جاوید چودھری جیسی پسندیدہ شخصیت اورصحافی پر گرفت کرنا ایک تکلیف دہ فریضہ تھا ۔اس فریضہ کی ادائیگی صرف اور صرف نصح و خیرخواہی اور دینی حمیت کے جذبے کے تحت کی گئی ہے۔ہماری شدید خواہش ہے کہ ہماری معروضات ہمارے محترم صحافی کو اپنے ناپسندیدہ طرزعمل پر نظرثانی پر مجبورکردیں۔ وہ صحافی جس کی کتاب ’’زیروپوائنٹ۔1‘‘ کو ہم ان کی تخلیقی صلاحیتوں اور مثبت وتعمیری سوچ کا نقطہ عروج سمجھتے ہیں اورکچھ سال پہلے ان کی یہ کتاب پڑھ کر راقم کے دل سے شدید خواہش ابھری کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں اس کتاب کو میٹرک کے ہر طالب علم کو مطالعہ کرانا لازم قرار دیاجانا چاہیے، لیکن افسوس ہمارے یہی محترم صحافی اپنے حالیہ متعدد کالموں میں شدید فکری واخلاقی بحران میں مبتلا نظرآتے ہیں۔اے کاش! ہماری یہ چند حقیر معروضات ہمارے اس غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل مسلمان صحافی کومحمد رسول اللہﷺ کی دی ہوئی تہذیب اور شریعت کی نفی کرنے والی ابلیسی تہذیب کی حیا باختہ علامتوں کے احترام کی تباہ کن سوچ ترک کرنے پر مجبور کردیں اور ان کے ذہن اور فکر کو قرآن وسیرت سے حتمی روشنی کے حصول پر آمادہ کردیں۔

میری علمی و مطالعاتی زندگی

حکیم محمود احمد برکاتی سے انٹرویو

حکیم محمود احمد برکاتی

انٹرویو نگار : عرفان احمد

میری ولادت ریاست ٹونک میں 1926 میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم وطن میں پھر درس نظامی کی تکمیل اجمیر میں، پھر طب کی تحصیل طبیہ کالج دہلی میں، فراغت کے بعد مطب اور تدریس، 1952 میں پاکستان کی طرف ہجرت، یہاں 1957 سے مطب کا سلسلہ اور برکاتی دواخانے کی بنا۔ 1964 میں برکات اکیڈمی کا قیام، اب اجل مسمی کا بے تابی سے انتظار۔
تالیفات: سیرت فریدیہ از سرسید کی تدوین 1964، فضلِ حق خیر آبادی اور سن ستاون 1975، شاہ ولی اللہ اور ان کا خاندان (تخلیق مرکز لاہور، مکتبہ جامعہ دہلی)، مولانا معین الدین اجمیری: افکار و کردار، مولانا معین الدین اجمیر: تلامذہ کا خراج عقیدت، ترجمہ اتفاق العزفان فی ماہیۃ الزمان از مولانا برکات احمد (اقبال اکیڈمی لاہور دو ایڈیشن)، ترجمہ الروض المجود فی تحقیق حقیقۃ الوجود داز علامہ فضل حق خیر آبادی (مکتبہ قادریہ لاہور)، مولانا حکیم برکات احمد: سیرت و علوم، شاہ ولی اللہ اور ان کے اصحاب (ادارہ یادگار غالب کراچی اور مکتبہ جامعہ دہلی)، حیات شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی (شاہ ابوالخیر اکیڈمی دہلی)، سفر و تلاش، مقالات، کراچی، کشکول برکاتی (جامعہ کراچی)۔ 
مطالعہ کا ذوق بلکہ لت مجھے بدوشعور سے ارزانی ہوئی۔ میں نے جو کتاب سب سے پہلے پڑھی تھی، وہ حیات سعدی (خواجہ حالی) تھی۔ اس وقت میری عمر12سال تھی۔ پڑھی کیا تھی، چکھی تھی۔ شاید 25فی صد مواد کسی حد تک سمجھ میں آیا ہو۔ والد مرحوم کے کتب خانے میں مختلف علوم کی کتابوں کے ساتھ بہت سی اردو کتابیں بھی تھیں، جامعہ عثمانیہ کے دارالترجمہ کی، دارالمصنفین اعظم گڑھ کی خواجہ حسن نظامی کی مطبوعات وغیرہ۔ میں روز ان میں سے دو ایک کتابیں نکالتا تھا۔ کسی کی زیارت کر کے، کسی اور کی ورق گردانی کر کے واپس الماری میں رکھ دیتا۔ اپنے اس ذوق کو میں خون کا اثر کہوں گا۔ والد مرحوم مجھے چھ سال کا چھوڑ کر دنیا سے چلے گئے تھے۔ دوسرے جو بزرگان خاندان تھے، وہ صرف تعلیم کو ضروری سمجھتے تھے۔ مطالعہ کی طرف انہوں نے کبھی متوجہ نہیں کیا اور چوں کہ میں کھیل کود کی بجائے کتب خانے میں وقت گزارتا تھا، اس لیے وہ مطمئن تھے۔ا س ذخیرے میں سیماب وساغر کے ماہ نامہ پیمانہ کے شمارے بھی تھے (جو والد مرحوم کے لیے اعزازی آیا کرتے تھے)، الہلال و البلاغ کے فائل بھی تھے۔ مولانا راشد الخیری والد مرحوم کے زیر علاج رہے تھے۔ اس لیے ان کے یہاں رسائل و مطبوعات بھی تھے۔ علامہ مشرقی کی کتاب تذکرہ جو بہت اعلیٰ کاغذ پر چھپی ہوئی تھی، اس کی جلد بھی اعلیٰ تھی۔ اس لیے وہ بار بار اٹھا کر دیکھتا اور رکھ دیتا تھا۔ والد مرحوم نے میری ہمشیرہ کے لیے کئی زنانہ رسائل جاری کروائے تھے وہ والد مرحوم کے بعد بھی منگواتے رہے۔ ان میں سے دو کے نام اس وقت یاد آرہے ہیں: ’’آواز نسواں‘‘ اور ’’تہذیب نسواں‘‘ وہ میں پڑھ لیتا تھا۔ اسی زمانے میں لاہور کے ناشر علامہ اقبال اور خواجہ دل محمد وغیرہ کی نظمیں چھوٹے چھوٹے اور خوش نما کتابوں کی شکل میں چھاپتے تھے۔ وہ ایک مقامی تاجر کتب کے یہاں سے خرید لاتا اور یہ نظمیں جھوم جھوم کر پڑھتا۔ حافظہ اس دور میں بہت اچھا تھا، اس لیے زیادہ تر نظمیں مجھے زبانی یاد ہو جاتی تھیں۔ مولانا شبلی کے کلیات (شاید ’’مجموعہ نظم شبلی‘‘ نام تھا) بھی ہم (آپا جان اور میں) پڑھتے تھے اور بہت متاثر ہوتے تھے اور یاد ہو گئے تھے۔ دادی صاحبہ اور والدہ صاحبہ اکثر فرمائش کر کے ہم سے سنا کرتی تھیں۔ 
میرا ماحول سراسر مشرقی اور قدامت پسندی کا تھا۔ میں درس نظامی کا متعلم تھا۔ درسی کتابوں پر جو توجہ دینا ہوتی، وہ دیتا۔ اساتذہ کو کبھی مجھ سے بے شوقی اور غفلت کی شکایت نہیں ہوئی۔ مگر وہ نصاب سے خارج خاص طور پر اردو کتابوں کے مطالعہ کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔ معیاری اور مخرب اخلاق کتابوں کا تو سوال ہی نہیں تھا۔ میرے ہاتھ میں جب بھی دیکھتے کوئی علمی یا ادبی کتاب ہوتی مگر ان کی پیشانی پر شکن آجاتے۔ یہ تھا اس ماحول میں میرے مطالعہ کا آغاز۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی، صلاحیت بڑھتی گئی۔ غیر نصابی کتابوں کے مطالعہ کی رفتار بھی بڑھتی گئی۔ منقولات، معقولات، تاریخ (امصار و دیار کی تاریخ) علوم کی تاریخ، تصوف، نظم، افسانہ (ناول کے مطالعہ میں کبھی دل نہ لگا، صرف شرر کے دو ناول پڑھ سکا تھا) سفر نامے، خود نوشت تحریریں، علمی و دینی ادبی رسائل (طب کا ذکر آپ کو مطلوب نہیں)۔ اس طرح برسوں مطالعہ کا جنون شباب پر رہا۔ مگر طول عمر، ضعف قویٰ، ضعف دماغ و بصارت کے سبب یہ جنوں اعتدال پر آگیا ہے اور مطالعے کی رفتار سست ہوئی ہے اور موضوعات کا دائرہ بھی سکڑ گیا ہے۔ اب ہر قسم کی کتابیں اور ہر قسم کے رسائل نہیں پڑھتا۔ میرے چھوٹے بھائی مسعود احمد برکاتی کے پاس بکثرت رسائل آتے ہیں۔ مہینے میں ایک دو بار جا کر ان سب پر بھی ایک سرسری نظر ڈال لیتا ہوں۔ بعض کتابوں سے مصافحے اور معانقے پر اکتفا کرتا ہوں اور رسائل میں سے بعض بعض کے خاص خاص مضامین پڑھ کر رسالہ سامنے سے ہٹا دیتا ہوں۔ مختصر یہ کہ مرض میں افاقہ ہے مگر ابھی اس کا ازالہ نہیں ہو سکا۔ 
غیر نصابی کتابوں کے مطالعہ کی ترغیب میں کسی بھی شخصیت کا نام یاد نہیں آرہا، اصل ترغیب و تحریک اس کولوں اور کالجوں کے ہم عمر طلبہ سے ہوئی ہے۔ ہم لوگ اپنی زیر مطالعہ کتابوں اور رسائل کا باہم ذکر کرتے اور باہم تبادلہ کیا کرتے تھے۔ 
کتابیں اور رسالے بکثرت پڑھتا رہا ہوں، دائرہ مطالعہ کافی وسیع تھا۔ بس جو کتاب یا رسالہ ہاتھ آیا پڑھ ڈالا مگر چند خاص موضوعات یہ تھے:
شعر و ادب جس کا مجھے فطری ذوق تھا، چنانچہ شعرا (متقدمین و معاصرین) کے دو اوین اور مجموعے پڑھتا رہتا تھا۔ 1944سے 1948 تک دلی میں رہا، اس لیے جدید شعراء کے مجموعہ ہائے کلام میں شاید ہی کوئی مجموعہ میری نظر سے بچا ہو۔ فارسی شعرائے متقدمین کے دو اوین خوب پڑھے۔ مگر عربی شاعری مجھے کبھی نہیں بھائی۔ عربی شعرا کے تذکرے کرکے ضرور پڑھتا تھا۔ ویسے ہمارے نصاب میں جاہلی دور اور اسلامی دور کے شعرا کے کافی انتخاب شامل تھے۔ تصوف کا ذوق مجھے ورثے میں ملا تھا، لیکن کئی سال تک یہ ذوق سر نہ ابھار سکا۔ جب میں نے تصوف کے خلاف فضلا کے مقالات پڑھے تو اس طرف رجوع ہوا اور اکابر صوفیہ کی عربی و فارسی کی کتابیں، صوفیہ کے تذکرے، ملفوظات، مکتوبات وغیرہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھنے شروع کیے تو صوفیہ اور تصوف کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں دور ہوئیں اور متاخرین کے تصور میں در آنے والے بعض فلسفیانہ اور بعض تدابیر غیر اسلامی عناصر کا سراغ ملا اور تکثیر مسلمین کے سلسلے میں ان کی خدمات جلیلہ کا اندازہ ہوا۔ براعظم پاک و ہند کے صوفیہ (جن میں سے اکابر تو بیرون ہند سے ہی آئے تھے) کی دینی خدمات کے ساتھ ان کی سیاسی خدمات کا بھی علم ہوا اور پھر میں نے صوفیائے کرام پر ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کیا اور بہت سا مواد جمع کر لیا اور اس سلسلے میں چند مضامین بھی لکھے جو شائع بھی ہوئے۔ صوفیہ اور حصول علم صوفیا اور مقامی زبانیں صوفیا کے ذرائع معاش، صوفیا اور خدمت خلق، پھر یہ کام آگے نہ بڑھ سکا۔ حسرت ہی رہی کہ کام مکمل ہو جاتا۔ 
تاریخ درس نظامی میں ایک بہت بڑی کمی یہ ہے کہ اس میں جغرافیہ اور تاریخ کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ تاریخ میں صرف تاریخ الخلفاء(جلال الدین سیوطی) ایک مختصر سی کتاب داخل تھی۔ خلافت راشدہ سے سیوطی نے اپنے دور تک کے خلفا کو نمٹا دیا ہے۔ تاریخ و جغرافیہ سے بے خبر ہونے کا احساس کسی بھی موضوع کی کتاب کے مطالعہ کے دوران شدید ہوتا تھا۔ خصوصاً جب اپنے ہم سنوں سے میں شمال و جنوب سنایا قطب شمالی یا قطب جنوبی سنایا کسی تاریخ واقعہ اس کے محل وقوع کی وضاحت کے ساتھ سنتا تو بڑی الجھن ہوتی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے میں سکولوں کی ابتدائی جماعتوں کے طلبہ سے ان کی جغرافیہ کی نصابی کتابیں لے کر پڑھتا اور پرائمری اور سکینڈری کے طلبہ سے ان کی تاریخ کی کتابیں لے لے کر پڑھیں۔ پھر یہ لے بڑھتی گئی اور میں نے ہند کی تاریخ، عرب کی تاریخ، یورپ کی تاریخ، انبیا علیہ السلام کی تاریخ غرض جو جو ملا خرید کر عاریتاً لے کر پڑھا۔ اب خود میرے پاس تاریخ و سوانح کا الحمد اللہ اچھا خاصہ ذخیرہ ہے۔ 
میں صرف عربی، فارسی اور اردو کی کتابیں پڑھتا ہوں۔ انگریزی کی مجھے شُدبُد ہے۔ طب جدید کی انگریزی کتابوں کا کسی حد تک مطلب نکال لیتا ہوں۔ 
پسند میں عمر کے ساتھ تو کمی و بیشی اور تبدیلی ہوتی ہے۔ میرے پسندیدہ مصنف مولانا شبلی نعمانی، مولانا سید سلمان ندوی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، نعیم صدیقی، مولانا عبدالماجد دریا آبادی، مولانا مناظر احسن گیلانی، مالک رام، قاضی عبدالودود، علامہ اقبال وغیرہ ہیں۔ 
جہاں تک میری پسندیدہ کتابوں کا تعلق ہے، وہ کثیر ہیں، خاص کر قرآن و متعلقات قرآن اور سنت نبوی اور علوم دینیہ کی کتب درس نظامی کا طالب علم ہونے کی وجہ سے اور طب کی کتابیں اپنے فن کی وجہ سے اور قدیم فلسفہ کی کتب خیر آبادی خاندان کی وراثت کی وجہ سے زیر مطالعہ رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ جن کتب کا بار بار مطالعہ کو دل چاہتا ہے، ان میں مولانا آزاد کی تذکرہ، غبار خاطر، کلام نعیم صدیقی کلیات علامہ اقبال اردو، فارسی، دیوان حافظ، وغیرہ ایک محدود انتخاب ہے۔ 
اب تو برسوں سے افسانے پڑھنے کا وقت نہیں ملتا۔ کرشن چندر کے افسانے پسند آتے تھے۔ کالم ایک زمانے میں مرحوم ابن انشاء کے کالم پڑھنے میں لطف آتا تھا۔ 
جن شخصیات کا میری شخصیت پر زیادہ اثر ہوا ہے، ان میں پہلے نمبر پر مولانا ابوالکلام آزاد، دوسرے نمبر پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی۔
جہاں تک اخبارات کا تعلق ہے، ہمیشہ کراچی کا کوئی ایک روزنامہ پڑھتا رہا ہوں۔ کسی زمانے میں روزنامہ انجام کراچی، کسی زمانے میں روزنامہ حریت کراچی۔ اب تو عرصے سے روزنامہ جنگ کراچی پڑھتا ہوں جو ایک مکمل روزنامہ ہے، اگرچہ اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ کار ہے اور جب سے روزنامہ جسارت کراچی جاری ہوا ہے، التزاماً پڑھتا ہوں۔ اگرچہ ایک ناقص روزنامہ ہے مگر کاروان عزیمت کا ایک مسافر ہے۔ 
جب تک ریل میں سفر کرتا تھا تو مسلسل پڑھتا تھا کیوں کہ مجھے سفر میں نیند نہیں آتی۔ ہوائی جہاز میں بھی جب بھی طویل سفر کیا ہے، تمام وقت پڑھتے ہوئے گزرتا ہے۔ 
مطالعہ کے اوقات اب تو وہی ہیں جو فراغت کے ہیں یعنی مطب اور تالیف کے اوقات، مگر دوران تعلیم درس گاہ سے فراغت کے بعد باقی وقت سیر و تفریح کی بجائے مطالعہ میں صرف کرتا تھا۔ ٹونک میں تو صرف کتابیں پڑھتا تھا۔ جب اجمیر پہنچا تو وہاں کتابوں کے علاوہ چند تازہ دینی اور ادبی رسائل بھی مل جاتے تھے۔ وہاں ایک لائبریری تھی جس میں علمی و ادبی کتابوں کا اچھا خاصا ذخیرہ تھا مثلاً انجمن ترقی اردو کے رسالے اردو کا پورا فائل تھا۔ نگار کا بھی فائل تھا اور کئی رسالے جو بند ہو گئے ، ان کے بھی فائل تھے۔ 
پہلے وہ کتاب پڑھتا تھا جو ہاتھ آجاتی تھی، چاہے کسی موضوع پر ہو اور کسی بھی سطح کی ہو، لیکن اب بہت دن سے ان کے انتخاب کا دائرہ تنگ کر دیا ہے، بلکہ کر دینا پڑا ہے۔ جسمانی قوی کے اضمحلال، دماغ اور بصارت کے ضعف کی وجہ سے موضوعات کی فہرست مختصر کر دی ہے۔ بہرحال جو کتابیں ہدیتہ ملتی ہیں، انہیں ضرور سرسری انداز میں پڑھ ڈالتا ہوں۔ ایسی کتابوں کے نام بھی بھولنے لگا ہوں مگر معیاری کتابوں اور ان کے مضامین کے ناموں کو بھلانے پر قادر نہیں ہوں۔ 
اگر کتاب اپنی ہو تو اس پر نشان بین السطور لائنیں لگاتا ہوں اور جلد کے سادہ اوراق پر خاص خاص مشمولات کے صفحات لکھ دیتا ہوں۔ مطالعہ کے ساتھ میں قلم اور کاغذ تقریباً پچاس سال سے ساتھ رکھتا ہوں جس پر کچھ عبارتیں نقل کرتا رہتا ہوں جو بعد میں فائل میں لگا دیتا ہوں۔ 
پڑھنے کے لیے سکون مطلوب تھا اور وطن میں تو یہ حاصل تھا، مگر پاکستان میں چھوٹے گھروں میں یہ سہولت بہت کم مل سکی، اس لیے ہر حالت میں پڑھ لیتا ہوں۔ 
بیگم کو الحمد اللہ مطالعہ کا ذوق ہے، مگر وہ صرف سیرت نبویﷺ، سیر صحابہؓ و صحابیات اور فقہ کی کتابیں پڑھتی ہیں، اخبارات پر چند منٹ کے لیے نظر ڈالتی ہیں۔ میرے ایک بیٹے جامعہ کراچی میں استاد ہیں۔ وہ زیادہ تر سائنس کی کتابیں اور دو بیٹے طبیب ہیں، وہ زیادہ تر طب کی کتابیں پڑھتے ہیں۔ تین بچیوں میں سے دو کو یہ ذوق ہے اور ان کے پاس اچھا خاصا ذخیرہ کتب بھی ہو گیا ہے۔ یہ دونوں زیادہ تر اسلامی اور مسلمین کی تاریخ اور دینی موضوعات پر کتابیں پڑھتی ہیں۔ 
میرے کتب خانے میں سولہ RACKS ہیں جن میں عربی، فارسی، اردو کی تقریباً پانچ ہزار کتابیں ہیں۔ رسائل کے فائل ان کے علاوہ ہیں۔ اس ذخیرے کی ابتدا میرے محترم پردادا حکیم سید دائم علی سے ہوئی۔ پھر محترم داداد سید برکات احمد پھر والد محترم سید محمد احمد اس میں اضافہ کرتے رہے۔ میں بھی اس میں اضافہ کرتا رہا۔ پھر ترک وطن جن حالات میں کرنا پڑا، ان میں مطبوعات کی بڑی تعداد امانتاً اعزا کے ہاں رکھ دی گئی کیوں کہ وہ ذخیرہ قانوناً اور عملاً ساتھ نہیں لایا جا سکتا تھا۔ اس لیے مخطوطات میں سے بھی نوادار، مطبوعات میں بھی قدیم الطبع اور کم یاب مطبوعات ساتھ لے کر چلا۔ وہ بھی اس طرح کہ والدہ محترمہ اور بیگم نے اس سفر ہجرت کے لیے سخت انتخاب کے بعد دوصندوق تیار کیے تھے۔ میں نے ان میں سے بے دردی کے ساتھ تمام قیمتی ملبوسات نکال لیے اور ان کی جگہ کتابیں رکھیں اور دونوں سے عرض کی کہ یہ سب چیزیں ان شاء اللہ وہاں دوبارہ مل جائیں گی۔ الحمد اللہ مل گئیں مگر یہ کتابیں یہ خزانہ پھر ہاتھ نہیں آئے گا۔ دو صندوق صرف کتابوں کے الگ بھرے اور الحمد اللہ یہ خزانہ یہاں پہنچ گیا۔ پھر اس ذخیرے میں ہر فن اور زبان کی کتابوں کا اضافہ ہوتا رہا۔ میں بھی خریدتا رہا اور متعدد حضرات نے میرا ذوق اور یہ ذخیرہ دیکھ کر اپنا ذخیرہ مجھے عطا کیا۔ کسی نے پندرہ کتابیں اور کسی نے اس سے زیادہ جن میں کچھ کم یاب کتابیں بھی اور چند مخطوطات بھی تھے۔ اسی طرح نظم و نثر کی وہ کتابیں اس ذخیرے میں اضافہ کرتی رہیں جو شعرا اور اہل قلم احباب اور مریضوں نے دیں۔ یوں ساٹھ سال میں حدیث، تفسیر، فقہ، اصول فقہ، تصوف، منطق، فلسفہ، علم الکلام، طب، عربی، فارسی ادب، اردو ادب، تاریخ عالم، تاریخ ہند، تاریخ اسلام وغیرہ کا یہ ذخیرہ جمع ہوا۔
اپنی تصانیف نظم و نثر عطا کرنے والے حضرات میں جو نام یاد آرہے ہیں، ان میں اختر شیرانی، ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی، ڈاکٹر اسلم لاہور سید ابوالخیر کشفی، حکیم محمد سعید حکیم نیر واسطی لاہور، مولانا ماہر القادری، ڈاکٹر معین الحق، سید محمد سلیم، ڈاکٹر معین الدین عقیل، ڈاکٹر سید اسلم کراچی، ابواللیث صدیقی، ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہان پوری، محمد ایوب قادری، سید الطاف علی بریلوی، سید مصطفی علی بریلوی، ثناء الحق صدیقی، نادم سیتا پوری، مسلم ضیائی، ڈاکٹر سفیر اختر، مولانا مفتی مظہر بقا صاحب، محمود احمد عباسی، مولانا فضل اللہ، جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن، کے پروفیسر مجتبیٰ احسن، ڈاکٹر وقار احمد رضوی، مولانا عرشی امرتسری، ضیاء الدین لاہوری، رئیس علوی وغیرہ ہیں۔ کراچی کے شعرا میں سے رئیس امرہوی، راغب مراد آبادی، انجم اعظم، قمر ہاشمی، سحر انصاری، سرشار صدیقی، امید فاضلی، رضی اختر شوق، ظفر محمد خان ظفر انجم وغیرہ۔ 
نادر کتابوں میں المشجر الکبیر، یحییٰ بن نوادرماسویہ کتاب 597ہجری۔ برعظیم میں اس کے تین نسخے ہیں جن میں سے دوسرا پٹنے میں اور تیسرا رام پور میں ہے۔ مگر میرا یہ مخطوطہ چھٹی صدی ہجری میں کتابت ہوا۔ دوسرا پٹنے کا مخطوطہ آٹھویں صدی ہجری میں اور رام پور کا نسخہ۔ گیارہویں صدی ہجری میں بیرون ملک کے جن ذخائر کی فہرست نظر سے گزری ہیں، ان میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ مگر اب یہ نسخہ کراچی نیشنل میوزیم ہے۔ 
تاریخ یمنی ترجمہ مولانا فضل امام خیر آبادی۔ یہ مولانا فضل امام کا اصلی نسخہ ہے۔ 
بیاض مولانا فضل حق خیر آبادی (جن میں چند مکاتیب کے مسودے اور چند قصہ) 
حاشیہ شفا (ابن سینا) از آقا حسین خوانساری۔ 
حاشیہ قدیمہ برشرح تجدید۔ محقق طوسی کی کتاب تجدید الکلام کی شرح علامہ قوشیخی نے کی تھی، اس پر محقق دوانی نے تین حاشیے یکے بعد دیگرے لکھے تھے، ان میں سے یہ پہلا حاشیہ ہے۔ 
حاشیہ خوانساری۔ ابن سینا کی کتاب الاشارات کی ایک شرح امام نے کی تھی اور ایک محقق طوسیٰ نے۔ علامہ قطب الدین رازی نے ان دونوں پر محاکمہ کیا تھا۔ اس کتاب کا حاشیہ خوانساری نے لکھا تھا۔ یہ محفوظ خوانساری کے شاگرد محمد اشرف کاخی نے خوانساری کی حیات میں خود محنسی کے نسخے سے نقل کیا تھا۔ 
کتاب التحصیل (منطق، طبیعات، الہیات) از بہمار بن و زباں آزربائیجان)، یہ ابن سینا کے شاگرد تھے۔ 
ابن سینا کی کتاب الشفا کے حصہ الہیات کا حاشیہ از مولانا عبدالحق خیر آبادی۔ 
جی ہاں مستعار بھی کی ہیں۔ مگر ہر بار سعی بلیغ کی ہے کہ بہت احتیاط سے کتاب کا مطالعہ کیا جائے۔ کتاب جلد سے جلد واپس کی جائے، کتاب خود جا کر مالک کے ہاتھ میں دی جائے، مالک کی عدم موجود میں اہل خانہ یا اطفال کرام کو نہ دی جائے بلکہ اس کام کے لیے دوبارہ جائیں۔ 
مستعار دینے کے تجربے بڑے تلخ اور ناقابل فراموش ہیں۔ بارہا یہ ہوا کہ کتاب واپس نہ آسکی اور اگر آئی تو حسرت موہانی سے زیادہ باحال زار آئی۔ مثلاً بے احتیاطی اور کتاب سے غیر عالمانہ معاملہ کیے جانے کے عواقب کا میرزبوں ہو کر چند کتاب شناس احباب نے اجازت اور کتاب کی عمر دیکھے بغیر فوٹو اسٹیٹ بنوا لیے جس سے اس عجوزہ بڑھیا کی صحت مزید متاثر ہوئی۔ چند مستعیر حضرات نے کتاب اپنے احباب کو پیش کر دی کہ تم بھی فائدہ اٹھاؤ۔ مستعیر ثانی نے بھی اسی شان سے مشق ستم کی میری ڈھٹائی کہ ان تخریبی اعمال سے خوب خوب متمتع ہو کر بھی میں کتاب دینے سے باز نہ آسکا۔ یہ سن کر کہ کسی کو کسی موضوع پر کام کرنے کے سلسلے میں جس کتاب کی ضرورت ہے، وہ میرے پاس ہے مجھ سے یہ کہے بنا رہا نہیں جاتا کہ یہ میرے پاس ہے، آپ لے جائیے۔ دل گوارا نہیں کرتا کہ کسی علمی و دینی کام میں خدمت سے محروم رہ جاؤں۔ کتاب دینے کے بعد واپس خود تو کم ہی شرفا کرتے ہیں ورنہ تقاضا کرنا پڑتا ہے مگر کبھی تو یہ جواب ملا کہ آپ کو یاد نہیں ہے۔ میں نے آپ سے یہ کتاب واپس کرنے سے پہلے وفات پا لی۔ دو تین بار اپنی دی ہوئی کتاب کبھی ٹھیلے پر بکتی ہوئی خریدی۔ ایک صاحب نے فرمایا تھا کہ میں واپس کر گیا تھا آپ بھول گئے ہیں مگر میں نے کتاب ان کے اور اپنے کسی مشترک دوست کے یہاں دیکھی۔ کتاب پر میرا نام بھی لکھا تھا اس لیے سوال کیا کہ آپ کے پاس کیسے؟ تو انہوں نے مستعیر اول کا نام لے کر بتایا کہ انہوں نے مجھے دے دی تھی۔ 
جی ہاں، مطالعے سے بھی اور عمر کے ساتھ بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اگر باقی زندگی میں کوئی ایسا لمحہ تنہائی آیا تو میں قرآن مجید کا جو حصہ بھی یاد ہے اس کی تلاوت اور اس پر تدبر میں وقت صرف کروں گا۔ 
جب تک اپنے وطن ٹونک میں رہا جو ایک چھوٹا شہر ہے تو بہت کم مشابہہ سے نیاز حاصل ہو سکا اور مشابہ کا تصور ذہن میں مافوق البشر کا سا تھا، مگر تین سال اجمیر میں رہا وہاں خواجہ اجمیر کی درگاہ تھی، اس لیے یہاں ملک کے گوشے گوشے سے متعقدین شعراء، علماء، سیاسی زعما کثرت سے آتے رہتے تھے۔ اس لیے ان میں سے کسی سے سلام کا تبادلہ کسی سے مصافحہ، کسی سے سرسری گفت گو اور کسی سے مفصل ملاقات ہوتی رہی تھی اور مشابہ کا وہ بت چکنا چور ہو گیا اور مرعوبیت بالکل نہیں رہی۔ پھر چار سال دہلی میں رہا تو وہاں کثرت سے علما، شعرا، مصنفین کو سونگھا چکھا، تناول کیا، افسوس ہوا کہ کاش ہم ان کو اتنے قریب سے نہ دیکھتے کہ ان کا قد اتنا بلند ہے جتنا ہم نے قیاس کیا تھا۔ ان کا کردار بے داغ نہیں ہے، یہ اتنے بڑے نہیں ہیں جتنا ہم انہیں دیکھنے سے پہلے سمجھ بیٹھے تھے۔ کسی کو بہت پست قامت پایا اور اندازہ ہوا کہ شہرت صرف کمال اور جمال میں سے حاصل نہیں ہوتی، بہت کم صلاحیتوں کے ساتھ بھی بہت سے ذرائع سے شہرت حاصل کی جاتی ہے۔ پھر جب میں دہلی پہنچا تو مے خانے کا در کھل گیا۔ وہاں ایک طرف بہت سے اہل علم و قلم، قدیم و جدید مدارس کے معلمین، نام ور مصنفین، شعر و سخن کے اساتذہ جمع تھے۔ علمی و ادبی اجتماعات ہوتے رہتے تھے اس لیے دہلی پہنچ کر معلوم ہوا کہ تہہ خانے سے نکل کر میدان میں آگیا ہوں۔ وہاں ندوۃ المصنفین کا مشہور علمی ادارہ اور ماہ نامہ برہان کا دفتر تھا۔ یہ ہمارے کالج کے قریب تھے ادارے کے ارکان مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا سعید احمد اکبر آبادی، مولانا عتیق الرحمن عثمانی اور مولانا بدر عالم میرٹھی زندگی میں پہلی بار کوئی علمی ادارہ دیکھا تھا، اس لیے میں اکثر وہاں جاتا تھا۔ سراسر علمی ماحول، ارکان اپنے اپنے کمروں میں خاموشی سے مصروف کار، ہر کمرے میں الماریاں کتابوں سے معمور۔ انتظام مفتی عتیق الرحمن کے ہاتھ میں تھا۔ وہ کتابوں اور ماہ نامے کے پیکٹ بنوانے، کتابت کروانے، پروف کی اصلاح وغیرہ میں مصروف ہوتے اور میں برہان کے تبادلے میں آئے تازہ رسائل اور الماریوں میں سے اپنی پسند کی کتابیں نکال کر پڑھنے بیٹھ جاتا اور ضحیم کتاب بھی مفتی صاحب مجھے لے جانے کی اجازت دے دیتے تھے۔ 
جامعہ ملیہ اسلامیہ کا مرکز اس وقت تک قرول باغ میں اجمل روڈ پر ہی تھا۔ جامعہ کا کتب خانہ اور دارالمطالعہ بھی اسی روڈ پر تھا۔ میں وہاں بھی حملے کرتا رہتا تھا اور اپنی علمی بھوک اور پیاس بجھانے کی کوشش کرتا۔ شہر میں دو اور دارالمطالعے تھے۔ ایک پنجابی سوداگر دہلی کا اور دوسرا ہارڈنگ لائبریری۔ میں تقریباً دونوں جگہ کے پھیرے کرتا تھا۔ ہمارے اساتذۂ طب حکیم خواجہ رضوان، حکیم فریداحمد عباسی، حکیم عبدالحفیظ صاحبان کے کتب خانوں تک بھی میری تگ و تاز تھی، ان کتب خانوں میں طبی کتابوں کے علاوہ ان اساتذہ کے ذوقِ مطالعہ کی وجہ سے علمی و دینی و تاریخی کتابیں بھی ہوتی تھیں۔ یہ حضرات میرے بزرگوں سے نہ صرف واقف بلکہ ارادات مند تھے، اس لیے مجھ سے دوسرے طلبہ کے بہ نسبت خصوصی معاملہ فرماتے تھے اور میں ان کے یہاں سے نادر مطبوعات تک لے آتا تھا۔ ہارڈنگ لائبریری کے انچارج اس زمانے میں اسرار الحق مجاز تھے۔ وہ دارالمطالعہ میں ایک اونچے چبوترے پر ایک بڑی سی میز پر بیٹھے اور روزانہ ان سے سلام کا تبادلہ ہوتا تھا۔ ایک دن میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھے بہت اچھے لگتے ہیں مگر جب وقت ختم ہونے کا گھڑیال بجاتے ہیں تو آپ پر بہت غصہ آتا ہے تو انہوں نے بہت لطف لیا۔ رئیس احمد جعفری کی قائد اعظم پر ایک ضخیم کتاب ایک دن لائبریری میں داخل ہوئی تھی۔ مجھے اس کے مطالعے کا اشتیاق تھا مگر میں لائبریری کا ممبر نہیں تھا۔ اس لیے اپنے نام جاری نہیں کروا سکتا تھا۔ فرط اشتیاق سے میں مجاز صاحب کے پاس لے کر گیا اور درخواست کی کہ اسے اپنے نام سے جاری کروا دیں۔ یہ سوال ان کے لیے غیر متوقع تھا، اس لیے سن کر مسکرائے اور کچھ دیر سوچتے رہے، پھر اپنے نام سے کتاب جاری کروا دی۔ میں کتاب لے آیا اور صبح ہوتے ہوتے کتاب پڑھ ڈالی۔ دوسرے روز حسب معمول عصر کے بعد لائبریری پہنچ کر کتاب مجاز صاحب کو پیش کر دی۔ انہوں نے حیرت سے کتاب ہاتھ میں تولنے کے انداز میں پوچھا کتاب پڑھ لی؟ میں نے کہا جی ہاں پڑھ کر واپس کرنے لایا ہوں رات بھر پڑھ کر ختم کر دی صبح اپنے دوسرے فرائض ادا کیے اور اب واپس کرنے آیا ہوں۔ مجاز صاحب استفہام انکاری کے لہجے میں کہنے لگے: اتنی ضخیم کتاب ایک رات میں؟ میں نے کہا مجاز صاحب میں قائد اعظم پر تین کتابیں پڑھ چکا ہوں۔ اس کتاب میں قائد اعظم اور دوسروں کی تقاریر کے طویل طویل اقتباسات میرے لیے نئے نہیں تھے۔ اجلاسوں کی رودادیں بار بار پڑھی ہیں، ان کا پڑھنا کیوں ضروری تھا۔ باقی ہر نئی چیز میں نے پڑھ لی ہے، آپ امتحان لے لیں۔ 
مطالعہ کی اس جوع البقر کا یہ عالم تھا کہ رسالوں کا فلمی حصہ جس میں فلموں کی خبریں، اداکاروں کی کارکردگی پر تبصرے وغیرہ ہوتے تھے، میں وہ بھی پڑھ ڈالتا تھا، حالانکہ نہ اس وقت تک کوئی فلم دیکھی تھی نہ کبھی اس کا شوق ہوا تھا۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ دلچسپ ہوا۔ میں چند دن کے لیے اپنے اعزہ کے یہاں ملنے کے لیے گیا۔ وہاں بزرگوں سے زیادہ اپنے ہم سن عزیزوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا تھا۔ ایک دن ان حضرات نے تواضع کی خاطر مجھے فلم دکھانے کا پروگرام بنا لیا اور جب مجھ سے ذکر کیا تو میں نے یہ دعوت قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ احباب نے اس انکار کو تکلف پر محمول کیا مگر میں انہیں بتایا کہ میں نے آج تک کوئی فلم دیکھی ہے اور نہ اس کو جائز سمجھتا ہوں تو وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ ان کی حیرت کی وجہ یہ تھی کہ اس عرصے میں ان سے جب بھی گفت گو ہوئی اور وہ اپنے ذوق کے مطابق فلموں کی بات کرتے تو میں بھی اس گفت گو میں حصہ لیتا تھا اور فلموں اور اداکاروں کے متعلق اپنے ماہرانہ تبصرے اس شان اعتماد سے بیان کرتا کہ فلم میں نے خود دیکھی ہو۔ میری یہ معلومات رسالوں کے فلمی صفحات کے حرف بحرف پڑھنے کا نتیجہ تھیں۔ 
رسائل اور کتابوں کے علاوہ شعر و ادب کی طرف بھی زیادہ دلچسپی رہی اور شعرا و ادبا کے ساتھ ادبی موضوعات پر مذاکروں کا سلسلہ جاری رہتا، اس دور میں ترقی پسند ادب بھی ہمارا خاص موضوع بحث تھا اور اس موضوع کے حامیوں اور مخالفوں کی جو کتابیں شائع ہوئی تھیں، وہ میں ضرور پڑھتا تھا۔ اسی طرح شعراء کے مجموعہ ہائے کلام بھی کثرت سے شائع ہو رہے تھے اور وہ میں التزاماً پڑھتا تھا چنانچہ جان نثار اختر نے مولانا ماہر القادری سے ایک محفل میں میرے متعلق کہا کہ تازہ شائع ہونے والا ہر مجموعہ یہ ضرور حاصل کرتے اور پڑھتے ہیں۔ انہی دنوں مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب غبارِ خاطر کے زیر طباعت ہونے کی خبر ملی میں اردو بازار دہلی میں ناشر کی دوکان کے روز چکر لگانے لگا آخر ایک روز وہ بازار میں آگئی اور میں جب دوکان پر پہنچا تو دوکان کے مالک نے اس کتاب کا ایک نسخہ میز کی دراز میں سے نکال کر مجھے دیا کہ لاٹ میں سے پہلا نسخہ میں نے آپ کے لیے پہلے الگ کر لیاتھا کہ سب سے زیادہ انتظار آپ کوہی تھا۔ 

رؤیت ہلال کا مسئلہ اور ہمارے قومی رویے / توہین مذہب کا تازہ واقعہ۔ توجہ طلب امور

محمد عمار خان ناصر

رؤیت ہلال کا مسئلہ اور ہمارے قومی رویے

عید کے موقع پر چاند کی رؤیت کے حوالے سے اہل علم کے مابین بعض فقہی اختلافات عالم اسلام کے کم وبیش تمام حصوں میں موجود ہیں، مثلاً یہ کہ کیا چاند کی رؤیت کا فیصلہ فلکیاتی حسابات کی بنیاد پر بھی کیا جا سکتا ہے یا اس کے لیے چاند کو آنکھوں سے دیکھنا ضروری ہے؟ اسی طرح یہ کہ کیا ایک علاقے میں چاند کے دیکھے جانے پر دوسرے علاقوں کے لوگ، جہاں چاند نظر نہیں آیا، رمضان یا عید کا فیصلہ کر سکتے ہیں یا ہر علاقے کے لوگوں کے لیے ان کی اپنی رؤیت کا اعتبار ہے؟ وغیرہ۔ تاہم ہمارے ہاں چاند کے دیکھے جانے کا فیصلہ کرنے کے لیے علماء کی سربراہی میں رؤیت ہلال کمیٹیوں کی صورت میں جو نظام بنایا گیا ہے، اس نے اس اختلاف کو مستقل طو رپر ایک ایسی نزاع کی شکل دے دی ہے جو فقہی سے زیادہ سیاسی، مسلکی اور صوبائی تعصبات کے اظہار کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ 
حالیہ عید کے موقع پر بھی یہی ہوا۔ ۱۸؍ اگست کو وزیرستان میں وہاں کے مقامی علما نے بعض ’’گواہیوں‘‘ کی بنیاد پر عید منانے کا فیصلہ کیا تو ایک مضحکہ خیز فیصلہ ہونے کی وجہ سے بدیہی طو رپر اسے زیادہ اہمیت نہیں دی گئی، لیکن خیبر پختون خواہ کی صوبائی رؤیت ہلال کمیٹی نے اپنی سابقہ روایت کے مطابق مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے برعکس ۱۹ ؍ اگست کو عید کا اعلان کر دیا تو حسب سابق مخصوص مسلکی اور علاقائی تعصبات متحرک ہو گئے اور بہت سی ذمہ دار شخصیات کی طرف سے یہ بیانات سامنے آنا شروع ہو گئے کہ چونکہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی نے خیبر پختون خواہ کی کمیٹی کو موصول ہونے والی شہادتوں کو نظر انداز کر کے چاند نظر نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے، اس لیے یہ جانب دارانہ فیصلہ ہے اور یہ کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کو ازسرنو تشکیل دینا چاہیے۔ 
جہاں تک شہادتوں کو نظر انداز کرنے کا تعلق ہے تو ہمارے نزدیک یہ اعتراض علمی واصولی طو رپر زیادہ وزن نہیں رکھتا۔ ماہرین فلکیات کے حسابات کے مطابق ۱۸؍ اگست کی شام کو چاند کی مدتِ پیدائش اس سے کم ہونے کی وجہ سے جو چاند کے دکھائی دینے کے لیے ضروری ہے، پورے جنوبی ایشیا میں کہیں بھی چاند دکھائی دینے کا امکان نہیں تھا۔ علما کا عمومی موقف یہ ہے کہ محض ماہرین فلکیات کے حسابات پر مدار رکھتے ہوئے چاند کی رؤیت کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، تاہم علما، ماہرین فلکیات کی رائے کو اس حد تک پورا وزن دیتے ہیں کہ اگر فلکیاتی حسابات کی رو سے کسی مخصوص تاریخ کو کسی مخصوص علاقے میں چاند کے دکھائی دینے کا امکان نہ ہو تو اس علاقے میں چاند کے دیکھے جانے کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے اس حوالے سے مکہ مکرمہ کی فقہ اکیڈمی میں ہونے والے مباحثات کی جو روداد اپنے ایک حالیہ مضمون میں بیان کی ہے، اس کے مطابق اس وقت عالم اسلام کے ممتاز ترین علما وفقہا کی اکثریت اسی کی قائل ہے، جبکہ فلکیاتی حسابات کی رو سے چاند کی رؤیت ممکن نہ ہونے کے باوجود محض گواہیوں کی بنیاد پر چاند کے دیکھے جانے کا فیصلہ کرنے کی رائے ایک ’’شاذ‘‘ رائے کا درجہ رکھتی ہے۔ اس تناظر میں اگر مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی نے ۱۸؍ اگست کی شام کو چاند کے دکھائی نہ دینے کا اعلان کیا تو یہ فقہی اصولوں کا عین تقاضا تھا، بلکہ ہمارے خیال میں تو اس صورت میں ۱۸؍ اگست کو چاند دیکھنے کا تکلف کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ماہرین فلکیات کی مذکورہ پیش گوئی یوں درست ثابت ہوئی کہ خیبر پختون خواہ کے علاوہ پورے جنوبی ایشیا میں اس تاریخ کو کہیں چاند دکھائی نہیں دیا اور ہر جگہ ۲۰؍ اگست کو ہی عید منائی گئی۔ اس لحاظ سے علمی وفقہی اعتراضات کا ہدف دراصل خیبر پختون خواہ کی رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلے کو بننا چاہیے تھا کہ جب ۱۸؍ اگست کو چاند کا دیکھا جانا ممکن ہی نہیں تھا تو وہ آخر کیسے نظر آ گیا، لیکن یہ مسلکی وصوبائی تعصبات کا کمال ہے کہ اعتراض کا ہدف الٹا مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلے کو بنا لیا گیا اور یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ جیسے ساری خرابیوں کا منبع کمیٹی کا موجودہ ڈھانچہ اور خاص طور پر اس کے سربراہ مولانا مفتی منیب الرحمن کی ذات ہے۔
اجتماعیت اور قومی وحدت کسی بھی قوم کے لیے اللہ کی بہت بڑی نعمت بھی ہے اور عزت وسرفرازی کی علامت بھی، لیکن اس نعمت کا حق دار وہی قوم ہوتی ہے جس کے ذمہ دار طبقات اپنے اندر کچھ مخصوص رویوں اور اخلاقیات کو پیدا کر لیں۔ ان میں سب سے بنیادی اخلاقی اصول یہ ہے کہ اختلاف رائے کے مواقع پر اختلاف کے اظہار کے باوجود عملاً وحدت اور اجتماعیت کو قائم رکھا جائے اور کوئی گروہ اپنی رائے کے تسلیم نہ کیے جانے کو بہانہ بنا کر کوئی الگ راستہ اختیار نہ کرے کہ یہی چیز تفرقہ اور انتشار کے پیدا ہونے کی بنیاد بن جاتی ہے۔ صحابہ وتابعین کے ہاں ہمیں اس کی بڑی روشن مثالیں ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جب اپنے عہد خلافت میں حج کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلے خلفاء کے معمول کے برعکس منیٰ میں ظہر اور عصر کی چار رکعتیں ادا کرنا شروع کر دیں تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی منیٰ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی دو دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں۔ پھر تم لوگوں کے راستے الگ الگ ہو گئے۔ مجھے تو یہی پسند ہے کہ میں چار رکعتوں کی جگہ دو رکعتیں ادا کروں جو (اللہ کے ہاں) قبول ہو جائیں۔‘‘ اس کے باوجود جب نماز کا وقت ہوا تو انھوں نے سب لوگوں کے ساتھ سیدنا عثمان کے پیچھے منیٰ میں چار رکعتیں ہی ادا کیں۔ لوگوں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ افتراق پیدا کرنا شر کی بات ہے۔ (سنن ابی داود، حدیث نمبر ۱۹۶۰) جلیل القدر تابعی امام شعبی سے منقول ہے کہ انھوں نے اس دن کے متعلق جس کے بارے میں لوگ کہتے ہوں کہ یہ رمضان کا پہلا دن ہے (لیکن ارباب حل وعقد کی طرف سے اس کا اعلان نہ کیا گیا ہو)، کہا کہ تم حکمران کے فیصلے سے ہٹ کر ہرگز روزہ نہ رکھنا، کیونکہ (مسلمانوں میں) تفریق کی ابتدا اسی جیسے معاملات سے ہوئی تھی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر ۹۵۹۸)
ہمارے ہاں رؤیت ہلال کے حوالے سے اس اجتماعی اصول کی پامالی نے ایک مستقل اور طے شدہ پالیسی کی شکل اختیار کر لی ہے جس کا مظاہرہ کم وبیش ہر عید کے موقع پر کیا جاتا ہے۔ فرض کر لیجیے کہ مرکزی کمیٹی کسی موقع پر چاند کے حوالے سے غلط فیصلہ کر لیتی ہے۔ اس کے باوجود دین کی تعلیمات کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے فیصلے کی پابندی کی جائے اور ایک اجتماعی معاملے میں اس نوعیت کے اختلاف کو افتراق پیدا کرنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ ویسے بھی اصولی طور پر چاند کے دکھائی دینے یا نہ دینے کے فیصلے کا اختیار مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے پاس ہے اور صوبائی کمیٹیاں اس کی معاونت کے علاوہ چاند کی رؤیت کا اعلان کرنے کا کوئی مستقل اختیار نہیں رکھتیں۔ اس لحاظ سے کسی بھی صوبے کی رؤیت ہلال کمیٹی کی طرف سے ایسا کوئی فیصلہ کیا جانا اجتماعیت کے مذکورہ اصول کی پامالی کے علاوہ اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کی بھی ایک افسوس ناک مثال ہے۔
اجتماعیت کا دوسرا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب کسی شخص کو کسی قومی منصب پر فائز کر دیا جائے اور اسے اس منصب سے متعلق ذمہ داریوں کے دائرے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا جائے تو شخصی ناپسندیدگی، طبقاتی پس منظر، ذاتی جھگڑوں یا فکری ونظریاتی اختلافات کی وجہ سے اس کے فیصلوں کو قبول کرنے سے گریز کی راہیں تلاش نہ کی جائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اجتماعیت کے اس اصول کی تعلیم ان الفاظ میں دی تھی کہ اگر تم پر کسی نک کٹے حبشی غلام کو بھی، جس کا سر کشمش کے دانے کی طرح چھوٹا سا اور سکڑا ہوا ہو، امیر مقرر کر دیا جائے تو تم اس کی بات سننا اور سر تسلیم خم کر دینا۔ ہمارے ہاں اس اصول کی خلاف ورزی بھی ایک اجتماعی ’شعار‘ کا درجہ رکھتی ہے۔ سیاسی ومسلکی تعصبات کی موجودہ صورت حال میں رؤیت ہلال کمیٹی کی سربراہی اور اس طرح کے دیگر سرکاری عہدوں نے مختلف مسالک اور فرقوں کے مابین ایک مستقل استخوان نزاع کی شکل اختیار کر لی ہے اور کسی ایک مسلک سے تعلق رکھنے والی شخصیت ایسے کسی عہدے پر رونق افروز ہوتی ہے تو دوسرے مسالک کے لوگوں کو یہ بات اچھی نہیں لگتی اور ان کی طرف سے کسی نہ کسی حوالے سے نکتہ چینی اور تنقید کا مشغلہ اختیار کر لیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بین المسالک تعلقات میں تناؤ بھی بڑھتا ہے اور علما کا عمومی وقار بھی معاشرے کی نظروں میں مجروح ہوتا ہے۔ 
مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کا قیام سنجیدہ دینی حلقوں کے تقاضے پر عمل میں لایا گیا تھا جس کا مقصد ملک بھر میں رؤیت ہلال کے علاقائی پرائیویٹ حلقوں کے نظام سے پیدا شدہ ملک گیر خلفشار کو ختم کرنا اور مرکزیت پیدا کرنا تھا، کیونکہ اس سے قبل ملک کے کم وبیش ہر بڑے شہر میں یہی صورت حال ہوتی تھی جو اب خیبر پختون خواہ کے بعض علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ افسوس ہے کہ جو نظام خود دینی حلقوں کے تقاضے پر اور ان کی کوششوں سے ملک میں وحدت اور اجتماعیت پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، دینی حلقوں ہی کے غیر متوازن رویوں کی وجہ سے اس کی افادیت پر سوالیہ نشان کھڑا ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے نزدیک اس صورت حال سے یہ بنیادی حقیقت بھی سمجھی جا سکتی ہے کہ ہمارے ہاں قومی سطح پر پائے جانے والے ہمہ گیر بگاڑ کی اصلاح درحقیقت مختلف قسم کے ’’قومی فورم‘‘ یا ’’اجتماعی ادارے‘‘ بنانے سے نہیں، بلکہ اخلاقی اصولوں کی پاس داری کے حوالے سے قوم کی تربیت کرنے سے ہی ہو سکتی ہے، اس لیے کہ فکر اور مزاج کی درست تربیت کے بغیر اس نوعیت کی ہر کوشش اسی انجام سے دوچار ہوگی جو مثال کے طور پر ہم مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے حوالے سے اس وقت دیکھ رہے ہیں۔
پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ قوموں میں اجتماعی رویے محض وعظ وتلقین سے پیدا نہیں ہوتے۔ اس کے لیے ذمہ دار اور مقتدر طبقات کو اپنے عمل سے اس کی مثال پیش کرنی پڑتی ہے اور سب سے پہلے خود ان رویوں اور اخلاقی اصولوں کی پابندی کا مجسم نمونہ بننا پڑتا ہے۔ اس کی ذمہ داری سب سے بڑ ھ کر اہل مذہب پر عائد ہوتی ہے، اس لیے کہ قوم اپنی مذہبی واخلاقی تربیت کے لیے سب سے زیادہ انھی سے کردار ادا کرنے کی توقع رکھتی ہے اور اس منصب کے مدعی بھی سب سے بڑھ کر وہی ہیں۔ انھیں محسوس کرنا ہوگا کہ اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے انھیں اپنے قول وعمل کے تضاد کو دور کرنا ہوگا اور جن اخلاقی اصولوں کی پاس داری کی وہ دن رات ساری قوم کو تلقین کرتے ہیں، اپنے طرز عمل سے بھی ان کی پاس داری کا یقین دلانا ہوگا، اس لیے کہ:
گر یہ نہیں ہے بابا، پھر سب کہانیاں ہیں

توہین مذہب کا تازہ واقعہ۔ توجہ طلب امور

اسلام آباد کے نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک مسیحی لڑکی کی طرف سے مبینہ طو رپر قرآن مجید کے اوراق جلائے جانے کے واقعے نے ایک بار پھر توہین رسالت کے قانون اور اس کے منفی استعمال کو ملکی وغیر ملکی میڈیا میں موضوع بحث بنا دیا ہے۔ ابتدائی اخباری اطلاعات (۲۰؍ اگست) کے مطابق مسلمانوں کے ایک ہجوم کی طرف سے ملزمہ کے گھر کے گھیراؤ کرنے اور اس پر قرآن مجید کے اوراق جلانے کا الزام عائد کرنے پر پولیس نے لڑکی اور اس کے والدین کو اپنی کسٹڈی میں لے لیا ہے اور صدر آصف علی زرداری کی خصوصی ہدایت پر اس ضمن میں تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔
توہین رسالت یا توہین قرآن کا ارتکاب کرنے والے کسی شخص کو کیا سزا دی جانی چاہیے اور کیا اس نوعیت کے ہر مجرم کے ساتھ ایک ہی انداز کا معاملہ کیا جانا چاہیے؟ یہ ایک الگ بحث ہے اور اس ضمن میں کچھ عرصہ قبل اخبارات وجرائد میں تفصیلی علمی بحثیں شائع ہو چکی ہیں۔ اسی طرح اس سوال کو بھی سردست ایک طرف رکھ دیجیے کہ اسلامی شعائر کے تحفظ واحترام کے تناظر میں کیا یہ رویہ ازروئے حکمت مناسب ہے کہ کسی بھی کونے کھدرے میں رونما ہونے والے ہر واقعے کو مسلمان ازخود منظر عام پر لاتے ہوئے اس کی تشہیر کریں اور جس واقعے کی منفی تاثیر ایک مضافاتی علاقے کی کسی گلی تک محدود تھی، اس کو بڑھا چڑھا کر بین الاقوامی میڈیا کا موضوع بحث بنا دیں؟ ان دونوں سوالوں سے صرف نظر کرتے ہوئے سردست توہین قرآن کے اس تازہ واقعے کے حوالے سے اخباری رپورٹوں کی روشنی میں تین امور ہیں جن کی تحقیق قانون کے مطابق مقدمے کے اندراج اور اس پر عدالتی کارروائی کے لیے بالکل غیر جانب دارانہ طو رپر ضروری ہے:
سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ کیا واقعتا قرآن مجید کے اوراق جلائے گئے ہیں؟ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ایک مقامی پولیس افسر قاسم نیازی کا کہنا ہے کہ جب لڑکی کو تھانے میں لایا گیا تو اس کے پاس موجود ایک شاپنگ بیگ میں جزوی طو رپر جلے ہوئے مذہبی نوعیت کے کچھ دوسرے اوراق تو موجود تھے، لیکن ان میں قرآن مجید کے اوراق شامل نہیں تھے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر واقعے میں جتنی سنگینی پائی جاتی ہے، اس کو اسی حد تک محدود رکھنا ملکی قانون اور اسلامی فقہ، دونوں کی رو سے واجب ہے۔
دوسری چیز یہ ہے کہ کیا ملزمہ کی ذہنی حالت درست ہے اور کیا شرعی، اخلاقی اور قانونی طو رپر اس پر قانون کا نفاذ کیا جا سکتا ہے؟ یہ اس لیے ضروری ہے کہ لڑکی کے والدین کے بیان کے مطابق وہ ذہنی طو رپر بیمار اور ایک مخصوص دماغی بیماری کا شکار ہے۔ یہ دعویٰ خلاف واقعہ ہو سکتا ہے، لیکن قانون کے منصفانہ نفاذ کے لیے اس پہلو کی غیر جانب دارانہ تحقیق بہرحال ضروری ہے۔
تیسری چیز ملزمہ کی عمر کا مسئلہ ہے۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق ملزمہ مبینہ طور پر نوعمر ہے اور اس کی عمر گیارہ سے سولہ سال کے درمیان ہے۔ اگر واقعتا ایسا ہے تو اس کے خلاف مقدمہ چلاتے ہوئے پاکستان کے قانون کے مطابق اس کی عمر کا لحاظ رکھنا اور بالغ اور نابالغ مجرم کے مابین جس فرق کو دنیا کا ہر قانون ملحوظ رکھتا ہے، اس کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوگا۔
ان تینوں باتوں کی تحقیق نفاذ قانون کی بنیادی شرائط میں سے ہے اور ان کو نظر انداز کرتے ہوئے اگر محض عوامی جذبات یا مذہبی طبقات کے سیاسی دباؤ کو اس معاملے میں اصل فیصلہ کن عامل کا درجہ دیا جائے گا تو یہ قانون اور انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہوگا جو پاکستان کے عمومی حالات کے لحاظ سے کوئی نادر الوقوع چیز نہیں۔
ایک مسلمان ریاست میں توہین رسالت یا توہین قرآن پر سزا کے قانون کا موجود ہونا اور جو مجرم فی الواقع سزا کے مستحق ہوں، ان پر اس قانون کا نافذ ہونا ہمارے نزدیک اسلام، جمہوریت اور عقل عام، تینوں کا ایک بدیہی تقاضا ہے، لیکن اسلام اور عمومی اخلاقیات کا اس سے بھی بڑھ کر تقاضا یہ ہے کہ اس قانون کا نفاذ نہایت منصفانہ، غیر جانب دارانہ اور کتاب قانون میں درج شرائط اور ضوابط کے مطابق ہو اور اس میں مذہبی تعصب، فرقہ واریت اور خاص طور پر اقلیتی گروہوں کے احساس تحفظ کو ناروا طور پر مجروح کرنے کا عنصر کسی بھی درجے میں نہ پایا جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں نفاذ قانون کی اخلاقیات کے حوالے سے عمومی مذہبی ومعاشرتی رویے اس کے بالکل برعکس ہیں اور میں یہ بات نہایت ذمہ داری کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ اس نوعیت کے مقدمات کی ایک بڑی تعداد کے پیچھے اصل عوامل اور محرکات وہی ہوتے ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کے تحت اب تک جن افراد کے خلاف مقدمہ چلایا گیا ہے، ان میں سے نصف سے زیادہ مقدمات میں ملزم غیر مسلم نہیں بلکہ مسلمان ہیں، جبکہ یہ سامنے کی بات ہے کہ کوئی مسلمان، اسلام پر قائم ہوتے ہوئے بقائمی ہوش وحواس اس جرم کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔ ایسے مقدمات عام طو رپر یا تو کسی ایک فرقے سے وابستہ لوگوں کی طرف سے اپنے مخصوص عقائد پر تنقید کی بنیاد پر مخالف فرقے کے کسی فرد کے خلاف درج کرائے گئے ہیں (مثلاً ایک واقعے میں دیوار پر لکھے ہوئے ’’یا رسول اللہ‘‘ کے الفاظ میں سے ’’یا‘‘ کا لفظ مٹا دینے پر توہین رسالت کا مقدمہ درج کروا دیا گیا، جبکہ ایک دوسرے مقدمے میں مدعی نے کہا کہ ملزم نے میلاد مصطفی کانفرنس کا پوسٹر پھاڑا ہے جو کہ توہین رسالت ہے) اور یا کسی ذاتی یا گروہی عناد اور مخاصمت کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے مخالفین پر توہین رسالت کا الزام عائد کر دیا گیا ہے۔ بعض دینی حلقوں بالخصوص اہل حدیث مکتب فکر کی مختلف جماعتوں کی طرف سے ان تحفظات کا اظہار بھی ہو چکا ہے کہ مسلکی اختلافات کی بنیاد پر توہین رسالت کے متعدد مقدمات درج کرائے گئے ہیں اور ان میں بہت سے لوگوں کو مقدمات اور دار وگیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے واقعات بھی موجود ہیں جن میں ملزم کی ذہنی حالت درست نہیں، لیکن نہ تو مدعی اس پہلو کا لحاظ کرنے پر آمادہ ہیں اور نہ عدالتیں ہی عوامی دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے خالص قانونی بنیادوں پر مقدمے کو نمٹانے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
غیر مسلموں کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات کا معاملہ اس سے بھی زیادہ نازک ہے، کیونکہ اگر کسی مسلمان فرقے سے تعلق رکھنے والے کسی فرد پر یہ الزام عائد کیا جائے تو اس کی معاشرتی حیثیت اور اثر ورسوخ کے لحاظ سے اسے اپنے طبقے کی طرف سے حمایت اور دفاع کی کچھ نہ کچھ سہولت میسر آہی جاتی ہے، لیکن الزام کسی غیر مسلم پر عائد کیا گیا ہو تو گویا پورا معاشرہ مدعی کی جگہ پر آ کھڑا ہوتا ہے اور بپھرے ہوئے ہجوم عام طو رپر ایسے مواقع پر الزام کی منصفانہ تحقیق اور ملزم کو کسی قسم کی صفائی کا موقع دینے کے بجائے اسی کو اپنے دین وایمان اور مذہبی حمیت کا تقاضا سمجھتے ہیں کہ قانون کو خود ہاتھ میں لے کر بر سر موقع ’’مجرم‘‘ کو نمونہ عبرت بنا دیں۔ 
یہ صورت حال بے حد افسوس ناک ہے اور اس سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ مذہبی طبقات کی طرف سے اس رجحان کی روک تھام کے لیے جس قدر کوشش کی ضرورت ہے، اس کی ادنیٰ خواہش بھی ان کے ہاں دکھائی نہیں دیتی۔ اس کے نتیجے میں غیر مسلم اقلیتیں، جو اصولی طورپر توہین رسالت پر سخت سزا کے قانون کے خلاف نہیں اور ان کے اعلیٰ سطحی ذمہ دار راہ نما اپنا یہ موقف برملا ظاہر کر چکے ہیں، جب کسی مشکل سے دوچار ہوتی ہیں تو انھیں اپنے حق میں آواز اٹھانے کے لیے مذہبی راہ نما اور علما نہیں، بلکہ غیر مذہبی قائدین ہی میسر آتے ہیں۔ اس صورت حال میں مسیحی راہ نماؤں کا یہ سوال اپنے اندر بے حد وزن رکھتا ہے کہ اگر مسلمانوں کے مذہبی راہ نما خود اپنے پیروکاروں کے طرز عمل کو حدود کا پابند رکھنے کی عملی ذمہ داری اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو وہ مسیحی اقلیت سے یہ مطالبہ کس منہ سے کرتے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سیکولر لابیوں کی مہم کو تقویت پہنچانے کے بجائے اپنا وزن اسلام پسندوں کے پلڑے میں ڈال دیں؟
توہین رسالت پر سزا کا مسئلہ اس وقت مغرب اور مغرب سے متاثر فکری طبقات کا خاص ہدف ہے۔ ان کی طرف سے اس قانون کی مخالفت کی بنیادیں فکری اور نظریاتی ہیں، لیکن اس کے خلاف استدلال کے لیے عام طو رپر اس قانون کے غلط اور جانب دارانہ استعمال کی مثالوں کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے عمومی مذہبی ومعاشرتی رویے اس استدلال کو جواز بھی فراہم کر رہے ہیں اور مسلسل تقویت بھی پہنچا رہے ہیں۔ میں اپنی نجی مجالس میں کئی دفعہ یہ عرض کر چکا ہوں کہ ہمارے ہاں جس بے دردی سے کسی بھی شخص پر توہین رسالت کا الزام عائد کر دینے کا رجحان فروغ پذیر ہے، اس کے نتیجے میں بعید نہیں کہ کچھ عرصے کے بعد خود مذہبی طبقات اور مذہب سے مخلصانہ وابستگی رکھنے والے عوام بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ اس صورت حال کے مقابلے میں تو اس قانون کو ختم یاعملاً معطل کر دینا ہی باعث عافیت ہے۔ اگر نوبت یہاں تک پہنچتی ہے تو میں بلا خوف لومۃ لائم یہ کہوں گا کہ اس کی بنیادی ذمہ داری خود اہل مذہب کے غیر متوازن رویوں پر عائد ہوگی، چاہے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے کے لیے اسے ’’دشمنان اسلام کی سازش‘‘ کا پرفریب عنوان دے دیا جائے۔ 


دعائے صحت کی اپیل

پاکستان شریعت کونسل کے نائب امیر اور ملک کے ممتاز عالم اور محقق حضرت مولانا قاضی رویس خان ایوبی (میر پور، آزاد کشمیر) کچھ عرصہ قبل دماغ کی نس پھٹنے کی وجہ سے علیل اور صاحب فراش ہیں۔ 
جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے مہتمم اور استاذِ حدیث مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی نے بھی گزشتہ دنوں پتے کا آپریشن کروایا ہے اور بستر علالت پر ہیں۔
قارئین سے درخواست ہے کہ ان حضرات کے لیے خصوصی طور پر اور ان کے علاوہ تمام بیماروں کے لیے عمومی طور پردعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انھیں صحت کاملہ وعاجلہ سے نوازیں۔ آمین

سرمایہ دارانہ انفرادیت کا حال اور مقام (۳)

محمد زاہد صدیق مغل

جاوید اکبر انصاری / زاہد صدیق مغل 

۳۔ اصلاح انفرادیت کے اسلامی کام کی نوعیت 

یاد رہنا چاہیے کہ مغربی فرد کے اضطرار کی بنیاد گناہ سے آگاہی ہے۔ یعنی اللہ تعالی نے انسان کو عبد پیدا کیا ہے اور جب وہ عبدیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو درحقیقت اپنی اصل اور فطرت سے لڑتا ہے اور نتیجتاً ہر وقت اضطرار اور گناہ کے احساس سے معمور رہتاہے اور گناہ پر مطمئن ہونے کے لیے لغو تعبیریں تلاش کرکے خود کو دھوکا دیتا ہے۔ گناہ سے چھٹکارا اس وقت ممکن ہے جب انسان عبدیت کی نیت کرے، اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور گناہ معاف کردیتا ہے۔ اس کے دل کو اضطرار سے نجات دلا کر اطمینان کی دولت سے نوازتا ہے۔ حقیقت نفس کی آگاہی انسان کو عبدیت پر راضی کرتی ہے۔ لہذا تعمیر شخصیت میں کرنے کا سب سے پہلا کام نیتوں کو ٹھیک کرنے کا ہے یعنی فرد کی نیت حصول رضائے الہی کے سواء اور کچھ نہ رہے اور وہ ہر کام اور فیصلے کو اس بنیاد پر جانچے کہ اس کے نتیجے میں اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے یا نہیں۔ پھر محض نیت ٹھیک ہونے سے انسان اللہ کی رضا حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوجاتا بلکہ نیت کے ساتھ ساتھ اس کو اپنے حال کو بھی ٹھیک کرنا ہے۔ حال کو ٹھیک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر معاملے میں اتباع سنت کی جائے۔ فرد اپنی ذاتی زندگی میں وہ پیمانے مقرر کرے کہ ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل سے لیکر بڑے سے بڑے عمل تک اپنے محبوب نبیﷺ کی اتباع کرے۔ ہر شخص کا حال اتنا ہی ٹھیک ہے جتنا وہ اتباع سنت کرتا ہے اور جو اتباع سنت سے جتنا دور ہے اس کا حال اتنا ہی خراب ہے ، ممکن ہے اس کی نیت ٹھیک ہو۔ گویا ہم چاہتے ہیں کہ فرد کی محض خواہش ہی نہ ہو کہ وہ اللہ کی رضا حاصل کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ افعال بھی انجام دے ۔ وہ آپﷺ کی زندگی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالے اور آپﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا خواہش مند ہوجائے(۲۴) ۔ دھیان رہے کہ حال سے ہماری مراد ظاہری اعمال اور احوال قلب دونوں ہیں کیونکہ احساس قلبی کیفیات اور جسمانی کیفیات دونوں کے تعلق کو بیان کرتا ہے۔ جس طرح قلبی میلانات انسان کے ظاہر پر اثر انداز ہوتے ہیں اسی طرح جسمانی اعمال بھی قلبی احوال پیدا کرنے میں مدد گار ہوتے ہیں، الغرض دونوں کا تعلق نہایت پیچیدہ اور پہلو دار ہے۔ البتہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قلبی کیفیات کی تشکیل میں جسمانی کیفیات کے علاوہ دیگر ماورائے جسم ذرائع کا بھی اہم کردار ہے۔ رویائے صادقہ کا ورود عموماً باوضو اجسام پر ہوتا ہے لیکن باوضو ہونا رویائے صادقہ کے لیے نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی کافی۔ احساسات کو سمجھنے کے لیے محض بدنی، ماحولیاتی اور دیگر مادی حالات کا سمجھنا کافی نہیں بلکہ اس کے لیے تعلقات استوار کرکے ذات میں شرکت کرنا لازم ہے۔ تو دعوت اولاً نیت کو ٹھیک کرتی ہے اور اس کی بنیاد پر حال کو راہ راست پر لاتی ہے۔ 
جب یہ حال کو ٹھیک کرتی ہے تو انسان کو اس بات کے لیے تیار کردیتی ہے کہ وہ کائنات میں اپنے مقام کی پہچان (appreciate) کر کے معرفت حاصل کرلے ، یعنی یہ کہ وہ یہاں کس آزمائش میں رکھا گیا ہے اور اس کی حقیقی پوزیشن کیا ہے۔ وہ یہ ’محسوس کرنے ‘ لگے کہ اللہ تعالی کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت کیا ہے، دوسرے بندوں کے ساتھ اس کا تعلق کیا ہے اور اس کائنات کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہونا چاہیے۔ یاد رہے جب تک حال ٹھیک نہیں ہوگا وہ قلبی کیفیات اور تناظر (perspective) قائم نہیں ہوسکے گا جسکے نتیجے میں انسان اپنے مقام کو پہچان کر اسپر راضی ہوجائے۔ جس شخص کا قلب گناہوں کا اثیر ہو وہ اپنے مقام کو نہیں پہچان سکتا۔ حدیث شریف میں بیان ہوا کہ جو شخص گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب پر ایک سیاہ دھبہ لگا دیا جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرکے اپنے حال کو درست کرلے تو اسے مٹا دیا جاتا ہے اور اگر وہ گناہوں کی روش برقرار رکھے تو آہستہ آہستہ اس کا سارادل سیاہ ہوجاتا ہے اور اس شخص سے توبہ کی توفیق سلب کرلی جاتی ہے۔ پس ادراک حقیقت کے لیے گناہوں سے توبہ کرکے حال کی درستگی لازم ہے۔ خود قرآن نے کہا کہ میں ھدی للمتقین  ہوں۔ جب انسان اپنا مقام پہچان لیتا ہے تو اس کے اندر شہوت و غضب کے خبیث میلانات کم یا ختم ہو جاتے ہیں (اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کس کا حال کتنا درست ہوا)۔ جب انسان اپنے اصل مقام کو پہچان لیتا ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے، اس کی مرضی کو قبول کرنا اور اسے نافذ کرنا اس کا مقصد ہے ، اپنے نفس کو تابع بنا کر خود کو اللہ کے سپرد کردیتا ہے، اپنی تمام قوتوں کو خواہشات کی تسکین کے لیے صرف نہیں کرتا یعنی اپنے آپ کو خدا بنانے کی کوشش ترک کردیتا ہے اور اپنے مقام پر راضی ہوجاتا ہے تو شہوت و غضب جو عبدیت کو رد کرنے اور اسے خدا بنانے کے ہتھیار ہیں ان کے لیے اس کے دل میں کراہیت پیدا ہوجاتی ہے اور اس کے میلانات تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو فرد کا حال ٹھیک نہیں ہے اور اہل دعوت و دل اسی بنیاد پر انسان کو چانچتے ہیں کہ اسمیں کس حد تک اپنے مقام پر راضی رہنے کی صلاحیت موجود ہے نیز کس حد تک اس کے اندر لذات کی رغبت موجود ہے۔ شیوخ فرد کی تربیت اسی بنیاد پر کرتے ہیں کہ وہ غضب اور شہوت کو ترک کرکے عبدیت کو چاہے جس کی شکل عشق ہے (۲۵) ۔ تو خوب دھیان رہے کہ مقام کو پہچاننا صرف کوئی فکری (intellectual) چیز نہیں ہے بلکہ یہ ایک فطری و قلبی چیز ہے، یہ ظاہر کا نہیں ہے بلکہ اندرون کا معاملہ ہے۔ اس کے ادراک کے لیے یہ کوشش کار آمد نہیں ہوسکتی کہ داعی کوئی منطقی دلیل دے کر یہ ثابت کردے کہ اللہ رب ہے اور میں اس کا بندہ ہوں یا یہ کہ کائنات مخلوق ہے، بلکہ یہاں تو معاملہ فرد کے اندر جذبات اور احساسات کا ہے کہ وہ رزائل کو دور کرکے عبدیت پر راضی ہوجائے۔ کتنی ہی اسلامی تحریکات ہیں جو لوگوں کے قلوب تک پہنچنے کے بجائے محض عقلی تقریر وں کی بنیاد پر ان کے مقام کو درست کرنے کی ناکام سعی کرتی ہیں۔ آخر کیا راز ہے کہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت باوجود عقلی مسلمان ہونے کہ اسلام میں داخل نہیں ہوپاتی؟ 
جب انسان کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ وہ اپنا مقام پہچان کر اس میں بلندی حاصل کرلے تو وہ مشاہدے کے قابل ہوجاتا ہے کہ جو کچھ اس کے حواس کے سامنے پیش آئے اور جو کچھ اس کے قلب پر وارد ہو اس سے صحیح نتائج اخذ کرسکے۔ جب تک اس کے اندر عبدیت اور ربوبیت کو قبول کرنے اور اسپر راضی ہونے کی کیفیت نہیں ہوگی تو اس کا زاویہ نگاہ (vision) اور تناظر ٹھیک نہیں ہوگا۔ ایسا اس لیے کہ اصل میں تو وہ عبد ہے مگر جب رب کا بندہ بننے کی خواہش نہ ہوگی تو جس چیز کا بھی وہ مشاہدہ کرے گا غلط مقام و نقطہ نگاہ (distorted vision)سے دیکھے گا اور نتیجتاً اس کی حقیقت تک رسائی حاصل نہ کرسکے گا۔ مگر جب اس کے ادراک کامقام درست ہوگا تو وہ معروضیت یعنی objectivity (چیزوں کو جیسی وہ ہیں ویسی دیکھنے) کے لائق ہوجاتا ہے کیونکہ شہوت وغضب کو رد کرکے وہ اس مقام سے دیکھنے لگتا ہے جو اس کا اصل مقام ہے۔ جب قلب شہوت و غضب سے پاک اور عشق الہی سے معمور ہو تو ایسے شفاف آئینے کی مانند ہوجاتا ہے جہاں انوار الٰہی منعکس ہوتے ہیں ۔ 
حدیث شریف میں ارشاد فرمایاگیا کہ ’بندۂ مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے‘، ایسا قلب ادراک حقیقت کے قابل ہوجاتا ہے اور اسی کو معروضیت کہتے ہیں۔ حدیث شریف میں بیان ہوا کہ جب بندہ مومن فرائض اور نوافل پر استقامت اختیار کرکے اپنے رب کا قر ب اختیار کرتا ہے تو پھر اللہ تعالی اس کی آنکھ بن جاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے کان بن جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے۔ خوب سن لو کہ معروضیت کی بلند ترین سطح یہی ہے کہ انسان پوری طرح خدائی تناظر (perspective) میں آجائے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا: فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلْاِسْلاَمِ  (اللہ تعالی جس شخص کو راہ راست دکھانا چاہتا ہے تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے)۔ رسول اللہﷺ سے سوال کیا گیا کہ شرح صدر سے کیا مراد ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ نور ہے جو اللہ تعالی دل میں ڈالتا ہے اور جب پوچھا گیا کہ اس کی علامت کیا ہے تو حبیب خداﷺ نے فرمایا ’اس دار غرور سے کنارہ کشی اور ہمیشہ رہنے والے گھر کی طرف رجوع اختیار کرنا‘۔ قرآن میں ارشاد ہوا: یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا (انفال: ۲۹) ’اے ایمان والو اگر تم خدا خوفی اختیار کرو گے تو اللہ تمہیں ایک کسوٹی فراہم کردے گا (جسکے ذریعے تم حق و باطل میں تمیز کرسکوگے )‘۔ جان لو تقوی و زہد ہی معروضیت ہیں ، بجز تقوی اور نفس کشی کے ادراک حقیقت اور سعادت اخروی کی امید نہیں کی جاسکتی۔ 
وہ لوگ جو اللہ ہی کے لیے ہو لیتے ہیں امام ابو نصر سراج طوسیؒ نے ان کے بالترتیب سات مقامات بیان فرمائے ہیں: (ا) مقام توبہ (۲) مقام ورع (۳) مقام زھد (۴) مقام فقر (۵) مقام صبر (۶) مقام توکل اور (۷) مقام رضا (۲۶) ۔ انہی مقامات کے ادراک میں درجات بلند کرکے بندہ مومن ادراک حقیقت کے لائق ہوتا چلا جاتا ہے۔ پس جسکا حال اور مقام جتنا بلند ہوتا ہے اس کا مشاہدہ بھی اتنا ہی معروضی اور درست ہوتا ہے۔ معروضیت قلب کو غضب و شہوت سے پاک کرکے اسے انوار الہی کا مسکن بنانے سے حاصل ہوتی ہے، عقلیت دماغی کے استعمال اور فروغ سے حاصل نہیں ہوتی۔ جو قلب طاہر نہیں وہ حقیقت کا شناسا نہیں ہوسکتا اور اس کا غضب و شہوت اس کے احساس پر غالب ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں کفار کے بارے میں ارشاد ہوا : بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوبِہِمْ مَّا کَانُوا یَکْسِبُونَ  (دراصل ان کے قلوب پر ان کے گناہوں کے سبب زنگ چڑھ گیا ہے)۔ چونکہ ایسے شخص کا حال درست نہیں لہذا وہ کائنات میں اپنے مقام سے نہ آگاہ ہوسکتا ہے اور نہ مطمئن۔ ایسا شخص حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی کائنات تخلیق کرنا چاہتا ہے، ایک ایسی کائنات جو اس کی خودی (شہوت و غضب) کا اظہار بن سکے ۔ خود اظہاری (self-expression) کی اسی جستجو کو subjectivity (یعنی چیزوں کو اپنی ذات کی عینک سے دیکھنا) کہتے ہیں۔ خود اظہاری یا نفس پرستی کی یہ جستجو قلب اور حقیقت کے درمیان ایسے تاریک پردے حائل کردیتی ہے کہ انسان کو کائنات کی ہر شے میں اپنی ذات کا پرتو نظر آتا ہے۔ ایسا شخص ہر چیز کو ذاتی تناظر میں (subjectively) دیکھے گا، یعنی جو چیزیں اس کے مشاہدے میں آرہی ہیں کس طرح اس کے غضب یا شہوت کی تسکین کا باعث بن سکتی ہیں۔ معروضیت درحقیقت فنا (تمام خواہشات کو ختم کرکے نفس مطمئنہ کا درجہ حاصل کرلینے) کا دوسرا نام ہے۔ چونکہ فی الواقعہ انسان عبد ہے اس لیے اس subjectivity میں ہی objectivity ہے اس لیے کہ حقیقت یہی ہے اور فرد خود کو اس پوزیشن میں لے آتا ہے جو اس کا اصل میں حق مقام ہے۔ اسی لیے اللہ کا ایک نام حق بھی ہے اور ہم عبد الحق ہیں۔ یاد رکھو عقلیت دماغی عقلیت قلب کے ماتحت ہے۔ اگر قلب شہوت و غضب سے مغلوب ہے تو عقلیت دماغی شہوت و غضب کے فروغ کے طریقوں کی نشاندہی کرے گی۔ عقلیت دماغ کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس کی مدد سے قلب کو شہوت و غضب سے پاک کیا جا سکے۔ سترہویں صدی سے لیکر آج تک کی مغربی تاریخ اسی بات کی تصدیق کرتی ہے کہ وہاں عقلیت دماغی کو شہوت و غضب کی تسکین و فروغ کا ذریعہ بنایا گیا ہے (۲۷) ۔ 
دھیان رہے کہ یہ جو غیر جانبدار (neutral) ہونے کی دعوت دی جاتی ہے محض فریب اور جھوٹ ہے، اس دنیا میں ایسا کوئی مقام نہیں جہاں پہنچ کر انسان غیر جانبدار ہوجائے۔ یہ جو کہتے ہیں کہ ’تم مسلمان کے بجائے غیر جانبدار ہو کر غور کرو ‘ یہ نری جہالت ہے، کیا اسلا م سے باہر نکل کر انسان کافر ہوتا ہے یا غیر جانبدار ؟ کیا کفر بذات خود ایک جانبدارانہ مقام نہیں؟ ائمہ علم الکلام نے جو ’ المنزلۃ بین المنزلتین‘ (۲۸) کے عقیدے کی بیخ کنی فرما ئی یہ اسی گمراہی سے امت کو بچانے کے لیے فرمائی۔ عبدیت سے باہر نکل کر انسانی عقل غیر جانبدار نہیں بلکہ خواہشات اور شیاطین کی غلام ہو جاتی ہے جیسا کہ ارشاد ہوا : فَاِن لَّمْ یَسْتَجِیبُوا لَکَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُونَ اَھْوَاءَہُمْ وَمَنْ اَضَلَّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ھَوَاہُ بِغَیْرِ ھُدًی مِّنَ اللّٰہِ  (پس اے رسول اگر وہ قبول نہ کریں آپ کے ارشاد کو تو جان لو کہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیرو کارہیں اور اس شخص سے بڑا گمراہ کون ہوگا جو خدائی ہدایت کے بجائے اپنی خواہشات کی پیروی کرے)، مزید فرمایا: لاَ تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہُ عَنْ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ھَوَاہُ  (اس شخص کی اطاعت نہ کرجس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور جس نے اپنے خواہش نفس کی پیروی اختیار کرلی ہے) ، نیز: مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہُ شَیْطَاناً فَہُوَ لَہُ قَرِینٌ  (جو کوئی رحمن کے ذکر سے منہ موڑتا ہے تو ہم اس کے اوپر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں جو اس کا دوست بن جاتا ہے)۔ 
جب فرد اپنے مقام کو پہچان کر مشاہدے کے قابل ہوجاتا ہے تو پھر اس مشاہدے کے دو طریقے ہیں، ایک وہ جسے مراقبہ کہتے ہیں اور دوسرے کو مجاہدہ۔ مشاہدہ ایک تو اس چیز کا ہے کہ انسان پر ان حقیقتوں کو وارد کرے جو عقل و حواس سے ماوراء ہیں، یعنی جن کا تعلق عالم لاہوت وغیرہ سے ہے۔ یہ وہ دائرہ ہے جن سے مابعد الطبعیات (metaphysics) بحث کرتی ہے اور جہاں عقل کی رسائی ممکن نہیں۔ ان حقائق کو قلبی کیفیات پر وارد کرنے کی سعی کو مراقبہ کہتے ہیں۔ انسان جتنا زیادہ اپنے مقام کا ادراک حاصل کرتا ہے اور اس کا مشاہدہ جتنا زیادہ معروضی ہوجاتا ہے اس کے قلب پر بذریعہ مراقبہ سکون نازل ہوتا ہے اور اس کا قلب مطمئن ہوجاتا ہے ۔ مراقبے سے مراد وہ عمل ہے جس کے ذریعے انسان اپنے قلب کو پاک کرلے اور اس کے اندر وہ کیفیت پیدا ہوجائے جسے نفس مطمئنہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ وہ ذریعہ ہے جس سے گزر کر فرد استقامت اختیار کرتا ہے اس نعمت پر جو اللہ تعالی اسے عطا فرماتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ محض مراقبہ کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جہاں لوگ گمراہ ہیں وہاں ہدایت و ارشاد کی شمع جلانا اور جہاں غیر اللہ کا حکم جاری ہے وہاں غلبہ اسلام کی کوشش کرنا بھی لازم ہے، بصورت دیگر مراقبہ ایک بے جان شے بن کر رہ جاتا ہے کیونکہ مراقبہ انسان کو فنا فی اللہ کے لیے تیار کرتا ہے لیکن اگر گرد وپیش کے ماحول میں فنا کے مواقع ہی موجود نہ ہوں تو مراقبہ صرف اپنے اندر جانے کی چند ٹیکنیک کا نام رہ جاتا ہے۔ مراقبہ کے ذریعے عالم انوار تک رسائی کے لیے ضروری ہے کہ فنا عملاً ممکن ہوسکے یعنی ایسی معاشرت و ریاست موجود ہو جو تطہیر قلب اور اسلامی انفرایت کے فروغ کو ممکن بنائے ۔ حصول فنا کا جو طریقہ سنت نبویﷺ سے ثابت ہے وہ جہاد کا طریقہ ہے کیونکہ منزل جہاد منصب ارشاد کا لازمی نتیجہ ہے اور جب صوفیاء تحریکیں جہاد سے ہاتھ کھینچ لیتی ہیں تو نہ صرف یہ کہ ان کا معاشرتی اثر بھی زائل ہوجاتا ہے بلکہ وہ ایک بے جان ساخت بن کر رہ جاتی ہیں ۔ 
واضح رہنا چاہیے کہ اصلاح معاشرہ اور قیام ریاست بذات خود مطلوب نہیں بلکہ تطہیر قلوب کا ذریعہ ہے ۔ تعمیر معاشرہ اور ریاست کی کوشش اسی حد تک رضائے الہی کے حصول کا ذریعہ بن سکتی ہیں جس حد تک ان کے ذریعے تطہیر قلوب ممکن ہو (۲۹)۔ غلبہ اسلام تطہیر قلب کے ہم معنی ہے، ہر تاریخی دور میں اسلام اتنا ہی غالب ہوتا ہے جتنی عقیدے اور حال کی درستگی عام ہوتی ہے۔ اسلامی ریاست کا کام یا اس کے اثر اور حدود میں توسیع تطہیر قلوب کا ذریعہ بن کر غلبہ اسلامی کو ممکن بناتا ہے۔ پس غلبہ اسلامی تطہیر قلوب کا ہم معنی ہے قیام و استحکام ریاست کا ہم معنی نہیں۔ تطہیر قلوب کا اسلامی طریقہ تصوف ہے اور اسی طریقے پر امت کا عمل رہا ہے۔ تصوف کا تربیتی نظام قلوب کو شہوت و غضب سے پاک کرکے ان کو عشق الہی سے معمور کردیتا ہے۔ معروف سلسلہ ہائے تصوف سے تعلق اتنا ہی ضروری اور مفید ہے جتنا آئمہ اربعہ سے مطابقت اور تعلق ضروری اور مفید ہے۔ جن تحریکات نے تطہیر قلوب کے لیے طریقہ تصوف کو ترک کیا وہ اپنے کارکنان کے لیے تطہیر قلوب کا کوئی دوسرا طریقہ وضع نہ کرسکے اور نتیجتاً وہ بڑے خیر سے محروم ہوگئیں۔ 
المختصر دعوت کا مقصد فرد کے لیے جنت میں داخلے کو آسان بنانا ہے۔ اسی مقصد کی خاطر تحریکات اسلامی اس بات کی کوشش کرتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو ان تمام مراحل سے گزار لیں، یعنی : 
(۱) فرد کی نیت ٹھیک کردیں ۔
(۲) اس کا حال ٹھیک کردیں ۔
(۳) وہ اپنے مقام کو پہچان کر اسپر راضی ہوجائے ۔
(۴) اس پہچاننے اور راضی ہونے کی بناء پر وہ اس مشاہدے کے لائق ہوجائے جس کے ذریعے حقیقت تک رسائی ممکن ہے۔
(۵) پھر اس رسائی کو تعمیر کرنے اور تقویت دینے کے لیے لوگوں کو مراقبے کے لیے تیار کریں کہ وہ اپنی نیت حال اور مقام پر مستحکم رہیں اور اس دعوت کو عام کرنے کے لیے جہاد بطور بنیادی طریقہ اختیار کریں کہ جسکے ذریعے فرد اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ سنت نبویﷺ کو نہ صرف قائم کرسکے بلکہ قائم رکھ بھی سکے 
خوب سمجھ لو کہ اگر جہاد کو ترک کردیا جائے تو باقی تمام مراحل بگاڑ کا شکار ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ نیتیں بھی آلودہ ہونے لگتی ہیں (یعنی فرد میں حصول رضائے الٰہی اور حصول جنت کا جذبہ مدہم پڑجاتا ہے اور شہوت و غضب اس کے قلب کو گھیر لیتے ہیں )۔ اسی طرح اگر جہاد کا تعلق بھی باقی تمام مراحل سے کٹ جائے تو محض قتال بن جاتا ہے اور ایسا جہاد معاشرے اور تاریخ پر اثر نہیں چھوڑتا۔ یہ بھی اچھی طرح جان لو کہ یہ سب کام ایک مسلسل عمل (process) ہے، ان میں تقدیم و تاخیر کا سوال غیر اہم ہے۔ یعنی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ آج میں اپنی نیت ٹھیک کرلوں، کل حال کی فکر کروں گا، پرسوں مقام کو پہچانوں گا، پھر مشاہدہ کرکے جمعہ کے روز جہاد کروں گا۔ ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے اسی لیے اداروں (institutions) کا قیام ناگزیر ہے جو ایک مستقل عمل کو چلاتے رہیں اور ہمیشہ نیتیں بھی ٹھیک ہوتی رہیں، ہمیشہ حال بھی درست ہوتا رہے، ہمیشہ لوگ اپنا مقام بھی پہچانتے رہیں اور ہمیشہ جہاد بھی جاری و ساری رہے۔ یہ سب بیک وقت کرنے کے کام ہیں۔ ان میں پہلے اور بعد یا زیادہ اہم اور کم اہم کا سوال نہیں ہے۔ کیا نہیں دیکھتے کہ کسی معاشرے میں جب تعلیم کو عام کرنا ہو تو وہاں اس کولوں کی تعمیر، اساتذہ کی تربیت، بچوں کی تعلیم، ماں باپ میں تعلیم کی اہمیت کے احساسات کا فروغ ، نصاب کی تعمیر و تطہیر ، ریاستی تعلیمی پالیسی کا وضع کرنااور اس کی پشت پناہی کے لیے مناسب قانونی انتظام کا بندوبست وغیرہ سب پر ایک ساتھ توجہ کی جاتی ہے۔ پس اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ عقائد کا درست ہونا حال کے درست ہونے پر اور کائنات میں اپنے صحیح مقام کو پہچاننے پر منحصر ہے۔ حال درست اس وقت ہوتا ہے جب قلب ایمان باللہ اور اخلاص فی اللہ سے معمور ہو۔ اگر ایمان کمزور اور اخلاص نا پید ہو تو انسان کے احساسات ایسے نہ ہونگے جو حال کی درستگی اور مقام کی اصلیت تک پہنچنے کے لیے مدد گار ہوں۔ 
حقیقت الہی کا ادراک صرف ان قلوب کے لیے ممکن ہوتا ہے جو عشق سے سرشار اور شہوت و غضب سے پاک ہوں۔ عشق عبادت اور خود فراموشی کو ممکن بناتا ہے۔ عشق مومن کا دائمی حال اور تحریکات اسلامی کا اساسی جذبہ ہے۔ تحریک اسلامی کا کارکن اصلاً اور فطرتاً ایک عاشق ہوتا ہے۔ اسے خدا سے محبت ہوتی ہے اسے عبادت کہتے ہیں، اسے خدا کے بندوں سے محبت ہوتی ہے اسے رفاقت کہتے ہیں۔ تحریک اسلامی کا کارکن عشق کے جذبے سے سرشار ہو کر ہی میدان کارزار میں اترتا ہے۔ اس کو اپنے رفیقوں کی فلاح اور اخروی کامیابی کی تمنا ہوتی ہے اور وہ انہیں جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتا ہے۔ اس کی یہی وارفتگی اور خود فراموشی دعوت کے مخاطب کا حال بدل دیتی ہے۔ وہ تحریک اسلامی کے کارکن کو اپنا محب، محسن اور اپنا اتنا بہی خواہ سمجھنے لگتا ہے کہ اپنا سب اس کے سپرد کردیتا ہے۔ خوب سن رکھو کہ لوگ ایمان دل کے بدلنے کی وجہ سے لاتے ہیں۔ دعوت اسلامی اگر پنپ سکتی ہے تو صرف محبت کی بنیاد پر خود غرضی اور حسد کی بنیاد پر ہرگز نہیں پنپ سکتی۔ خود غرضی اور حسد کو بنیاد بنا کر غیر کو اپنایا نہیں جاتا بلکہ اسے تباہ و برباد کیا جاتا ہے۔ تمام غیر اسلامی تحاریک (مثلاً لبرل ازم، قوم پرستی ، اشتراکیت وغیرہ) غیر کو فنا کرنے کی تحاریک ہیں۔ ان کی دعوت خود غرضی اور نفس پرستی کی دعوت ہے، وہ شہوت اور غضب کو فروغ دیتی ہیں۔ لبرلزم فرد کو یہ تعلیم دیتی ہے کہ وہ اپنی انفرادی آزادی کے حصول اور توسیع کو ہر چیز پر مقدم رکھے، کسی غیر کو اس کی خواہش کی تحدید کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد نفسانی خواہشات کی تسکین کے سواء کچھ نہیں ہوتا۔ وہ فطرتا شہوت اور ہوس سے مغلوب ہوتا ہے۔ قوم پرستی اور اشتراکیت انسانی گروہ کی خدائی کے قیام و استحکام کے دلدادہ ہیں۔ ایک قوم پرست اپنی شخصیت اپنی قوم میں سمو دیتا ہے، وہ اپنی قوم کو دیگر اقوام پر فوقیت دیتا ہے اور اسی فوقیت کا تحکم اس کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے۔ وہ دیگر قوموں کو اپنا حریف سمجھتا ہے اور ان سے سب کچھ چھین لینا چاہتا ہے ۔ ایک قوم پرست کے قلب پر غضب کا پردہ پڑا رہتا ہے اور یہی اس کی subjectification ہے کہ وہ غضب کو فروغ دیکر اپنی قوم کی پرستش کرتا ہے۔ اگر تم قوم پرست اور اشتراکی کی قلبی کیفیات پر غور کرو تو جان لو گے کہ اشتراکی کا قلب بھی حسد اور غضب کے اندھیروں کا شکار ہوتا ہے۔ حقیقت کا شناسا عشق کے جذبے سے سرشار ہوتا ہے اور یہی مومن کا اصل حال ہے۔ فتح مکہ کے وقت حضور پر نورﷺ نے جو اسوہ حسنہ اختیار فرمایا وہ ایک مومن اور قوم پرست کے حال کا فرق واضح کرتا ہے۔ مومن عشق سے معمور ہوتا ہے جبکہ کافر و فاسق شہوت و غضب سے مغلوب ہوتے ہیں۔ کافر صرف اپنی ذات سے محبت کرسکتا ہے، وہ ہستی کو قائم نہیں رکھ سکتا۔ ہستی کی بقا اس بات پر منحصر ہے کہ وہ تمام تعلقات استوار کیے جائیں جو انسان کے حقیقی مقام کا تعین کرتے ہیں۔ ہستی کی بقا کا وسیلہ محبت ہے: 
  • خدا سے محبت جو کہ عبدیت ہے 
  • بندوں سے محبت جو کہ رفاقت ہے 
  • کائنات سے محبت جو کہ خلافت ہے 
کافر خدا کی ربوبیت کا انکار کرکے خود خدا بننے کی جستجو میں دوسرے انسانوں پر ظلم کرکے انہیں اپنا بندہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی باطل جستجو میں وہ کائنات کو مسخر کرتاہے۔ وہ رفاقت اور خلافت کا اہل نہیں کہ اس کا قلب شہوت و غضب کی آماجگاہ ہوتا ہے۔ اس کا مقام ایک سرکش باغی کا مقام ہے۔ اس کی معاشرت اغراض کی معاشرت ہے۔ اغراض کی اس جستجو کو اسنے حقوق (قومی حقوق، انسانی حقوق وغیرہ) کا نام دیا ہے۔ اس کی سیاست بھی حقوق کی سیاست ہوتی ہے جسکا مقصد انسانوں کی ربوبیت یعنی جمہوریت کا قیام و استحکام ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت کی نیت حصول آزادی اور پرستش نفس ہے، اس کا حال شہوت و غضب اور اضطرار ہے، اس کا مقام باغی کا مقام ہے، اس کا مشاہدہ دنیا ہے اور اس کا مجاہدہ اسی مقصد یعنی تصرف فی الارض میں لامحدود اضافے کی سعی کرنا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں اس برے حال اور مقام سے محفوظ فرمائے ۔

حواشی 

۲۴۔ امام ابو نصر طوسیؒ اپنی کتاب اللمع فی التصوف میں بندہ مومن کے جن احوال کا ذکر فرماتے ہیں وہ یہ ہیں: (۱) حال مراقبہ (۲) حال قرب (۳) حال محبت (۴) حال خوف (۵) حال رجاء (۶) حال شوق (۷) حال انس (۸) حال اطمینان (۹) حال مشاہدہ اور (۱۰) حال یقین
۲۵۔ حال کا انحصار دو چیزوں پر ہے، ایک نیت اور دوئم اخلاص۔ صوفیاء کے نزدیک وہ حال جسکی بنیاد پر نیت اور اخلاص کو ٹھیک رکھا جا سکتا ہے وہ محبت کی کیفیت ہے۔ یعنی اگر کیفیت ایک عاشق کی ہے تو ہماری نیت بھی ٹھیک ہوسکتی ہے اور اخلاص بھی قائم رہ سکتا ہے اور ہم کائنات میں اپنے مقام پر مطمئن اور راضی ہوسکتے ہیں۔ ہائیڈیگر کے الفاظ میں we are in home at the world والی کیفیت ہوگی۔ اگر بنیادی کیفیت عشق کی نہیں ہے تو جیسا صوفیاء نے ارشاد فرمایا کہ دو ہی کیفیات ہو سکتی ہیں، (۱) شہوت (۲) غضب۔ ان دونوں کیفیات کے نتیجے میں ہم اس مقام سے مطمئن نہیں رہ سکتے جس میں خود کو پاتے ہیں اس لیے یا تو ہمیں ہوس اور شہوت دامنگیر ہوگی اور یا پھر حسد و غضب ۔ دونوں خبیث قوتوں کا بنیادی جذبہ تخریب ہے، یہ جذبہ ہمیں کائنات کو مسخر کرنے کے لیے آمادہ کرتا ہے جسکے نتیجے میں فساد برپا ہوتا ہے اور ہمیں ایک ایسا مقام حاصل کرنے کی طرف راغب کرتا ہے جو ہمارا حقیقی مقام نہیں ہے۔ ظاہر ہے ان حالات میں نہ تو ہماری نیت ٹھیک رہ سکتی ہے اور نہ ہی حال ۔
۲۶۔ دیکھیے ان کی کتاب اللمع فی التصوف 
۲۷۔ آج کا پس جدیدی (post-modern) فلسفہ اس بات کا معترف ہے کہ عقلیت دماغی کے ذریعے غضب اور شہوت پر قابو پانا ناممکن ہے۔ عقلیت دماغی کسی معروضی اور آفاقی اخلاقیات کی نشاندہی یا تعبیر کرنے سے قاصر ہے۔ شہوت و غضب سے مغلوب ہوکر عقلیت دماغی کے ذریعے عیسائی اخلاقیات کو رد تو کردیا گیا لیکن اس کی جگہ کوئی اثباتی اخلاقی نظام آج تک مروج نہ ہوسکا اور جو کچھ مغرب میں قائم ہے تو وہ محض سرمایہ دارانہ اخلاقی قدروں (شہوت و غضب) کا غماز ہے ۔
۲۸۔ معتزلہ کا عقیدہ تھا کہ کفر اور اسلام کے درمیان ایک ایسا مقام بھی ہے جہاں انسان نہ کافر ہوتا ہے اور نہ مسلمان۔ ان کے خیال میں گناہ کبیرہ کا مرتکب اسلام سے نکل کر اس مقام پر پہنچ جاتا ہے ۔
۲۹۔ تطہیر قلب ، اصلاح معاشرہ اور قیام ریاست کے کاموں کے ربط کو اچھی طرح سمجھنا تحریکات اسلامی کے کارکنان کے لیے نہایت ضروری ہے۔ آج کل یہ تینوں کام ان معنی میں جدا ہوگئے ہیں کہ تطہیر نفس اور اصلاح معاشرے کاکام وہ علماء وصوفیا ء اور جماعتیں کررہی ہیں جو تعمیر ریاست کے کام سے لاتعلق ہیں، تعمیر ریاست کا کام وہ جماعتیں کررہی ہیں جن کے پاس بالعموم تطہیر قلب کا کوئی واضح ضابطہ موجود نہیں ہے۔ نتیجتاً تطہیر قلب کا کام محض تبلیغ و تطہیر اور ریاست کا کام محض قتال یا جمہوری عمل بن کر رہ گیا ہے۔ تقریباً ہر اسلامی گروہ و جماعت اپنے کام کو دوسرے اسلامی گروہ کے کام کا متبادل (substitute) اور اس سے اعلی و ارفع سمجھتی ہے جبکہ حقیقتاً ان کے درمیان تعلق ایک دوسرے کے تکملے (complementarity) کا ہے اور ان تینوں میں سے کسی دینی کام کو دوسرے دینی کام پر کوئی اقداری فوقیت حاصل نہیں۔ اصل ضرورت کسی نئے دینی کام کو شروع کرنے، یا ایک دینی کام و جماعت کو چھوڑ کر کسی دوسری دینی جماعت میں ضم ہوجانے یا کوئی ایسی نئی دینی جماعت بنانے کی نہیں جو سب کام کرے کیونکہ الحمد للہ مختلف انفرادی دینی جماعتوں کا کام مل کر مطلوبہ مجموعی دینی کام کی کفایت کرتا ہے، اصل ضرورت موجودہ دینی تحاریک کے کام میں ارتباط پیدا (relate) کرنے کی ہے۔ ہر دینی گروہ اس بات کو لازم پکڑے کہ اپنے کارکنان کو دوسری دینی تحاریک کا قدر دان بنائے اور ان کے ساتھ اشتراک عمل کرنے پر رغبت دلائے۔ جب تک اسلامی گروہوں میں اشتراک عمل کا یہ طرز فکر عام نہ ہوگا، دوسرے گروہ کے دینی کام کو برابر اہمیت نہ دی جائے گی اور مجموعی کام کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط نہیں کیا جائے گا انقلابی جدوجہد کا سہ جہتی (three dimensional) کام ادھورا ہی رہے گا۔

پاکستان میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد ۔ قرآنی نظریہ تاریخ کی روشنی میں ایک عمرانی مطالعہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

قیامِ پاکستان کے بعد سے اس ملک میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد بجائے خود، ایک اجتماعی معاشرتی خواہش (collective social will) کی مظہر رہی ہے کہ اسلام نافذ کیا جائے اور مملکت کے تینوں دساتیر (۵۶، ۶۲، ۷۳) کے بنیادی ڈھانچے ایک حد تک اسی معاشرتی خواہش کے سیاسی نتائج (political output) دیتے چلے آئے ہیں۔ ۱۹۷۳ کے آئین میں تو خیر سے ریاست کو بھی کلمہ پڑھوا دیا گیا ہے کہ اسلام، مملکت کا سرکاری مذہب قرار پایا ہے۔ اس لیے جہاں تک آئین و قوانین کی بات ہے، معاشرتی خواہشات کے سیاسی ثمرات میں ڈھلنے کا تعلق ہے، حالات و واقعات بہت زیادہ سنگین اور تشویش انگیز نہیں ہیں۔ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ نفاذِ اسلام کی اجتماعی معاشرتی خواہش (collective social will) کی کسی نہ کسی حد تک صورت پذیری (actualization) کے باوجود، اس مملکت کی غالب اکثریت ان فوائد سے اب تک یک سر کیوں محروم ہے جو اس کے خیال میں نفاذِ اسلام کے بعد حاصل ہونے چاہییں تھے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد بے اطمینانی، غربت، افلاس، پس ماندگی اور جہالت کا شکار ہے؟ ہر طرف افراتفری کا عالم کیوں برپا ہے؟........... کیا نفاذِ اسلام کی معاشرتی خواہش کی تھوڑی بہت سیاسی صورت پذیری کے (تھوڑے بہت) مثبت اثرات سامنے نہیں آنے چاہییں تھے؟ یقیناً ایسا ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا ہوا نہیں، اور نہ ہی سرِدست ایسا ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اندریں صورت سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاشرت۔سیاست کے وسیع میدان کے آخر کس کس گوشے میں ایسی کون سی بنیادی گڑ بڑ ہو رہی ہے جو مطلوب و مقصود تک راہ ہم وار نہیں ہونے دے رہی؟ اور اس گڑبڑ کی ’نوعیت‘ کیا ہے؟کیا اسلام کو نافذ کرنے کی معاشرتی خواہش بجائے خود غلط ہے؟ کیا اس اجتماعی خواہش کے سیاسی روپ میں کوئی بنیادی نقص رہ گیا ہے؟ اور اسی وجہ سے یہ سیاسی روپ، معاشرتی خواہش کی مطابقت میں نہیں ہے؟ یا پھر سرے سے نفاذِ اسلام کی اجتماعی عاشرتی خواہش (collective social will) کو سیاسی صورت پذیری (political actualization) کے پیچھے لگا دینا ہی ہماری بنیادی غلطی ہے؟ 
(۲)
واقعہ یہ ہے کہ ملکی آبادی کی غالب اکثریت کے عمومی رجحان کا لحاظ رکھا جائے تو نفاذِ اسلام کی اجتماعی۔معاشرتی خواہش (collective social will) برخود غلط معلوم نہیں ہوتی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ خواہش سادہ لوحی پر مبنی اور انتہائی خام صورت میں ہے۔ یہ خواہش، جذباتی نعرہ بازی کی شور شرابہ تکنیک کے ذریعے، ایک پریشر کی صورت میں جب بھی (خام شکل میں) سامنے آتی ہے تو مقتدر حلقے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں کہ ملکی آئین و قوانین میں معمولی سی تبدیلی، حفاظتی والو (safety valve) کا کام دے سکتی ہے۔ اس لیے اگر ملکی آئین اور قوانین میں موجود اسلامی شقوں کا (ان کے پس منظر سمیت) غیر جانب دارانہ تنقیدی مطالعہ کیا جائے تو نفاذِ اسلام کی خواہشِ اجتماعی کی سیاسی صورت پذیری، حفاظتی والو کے سوا اور کچھ بھی نہیں معلوم ہوتی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ نفاذِ اسلام کی جدوجہد کرنے والے اس حفاظتی والو کو اپنی کامیابی گردانتے ہیں۔ ایسا شاید اس لیے ہے کہ یہ لوگ بزعمِ خود جس امر کو اسلام سمجھ رہے ہیں اس کا منتہٰی (the end) آئین و قانون ہے۔ اور آئین و قانون، منتہٰی اس لیے ہے کیونکہ وہ خود مثالی (حقیقی) مسلمان نہیں ہیں بلکہ اصلاً صرف اور صرف ’قانونی‘ مسلمان ہیں۔ مقتدر حلقے (بغیر تحفظات کے) ان قانونی مسلمانوں (کے دینی عزائم) کی مطابقت میں ملکی آئین و قوانین کو اسلام کا جامہ پہناتے جاتے ہیں۔ البتہ یہ مقتدر حلقے نہایت مکاری سے جان بوجھ کر کہیں کہیں روڑے بھی اٹکا دیتے ہیں جس کا مقصد قانونی مسلمانوں کی نظر میں کسی قانون کی اسلامیانے (Islamization) کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے، جس کے پیچھے حقیقی مقصد یہ چھپا ہوتا ہے کہ وہ (قانونی مسلمان) قانون کی اسلامیانے کی حد پر قانع (content) ہو جائیں۔ ایسا ہو بھی جاتا ہے، ملکی تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا چلا آیا ہے۔
(۳)
مقتدر حلقوں کے استحصالی ہتھکنڈوں کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔ لیکن ملکی آبادی کے اکثریتی قانونی مسلمان بھی ایک کھلے تضاد کا شکار ہیں۔ یہ لوگ اپنی ذات کی حد تک، دینِ اسلام کے تصورات ومقاصد کا نفاذ نہیں کر پائے، صرف کلمہ پڑھ کر مطمئن ہوئے بیٹھے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ لوگ ایک کلمہ پڑھوائی ریاست سے اسلام کے تصورات و مقاصد کی ’’مثالی تنفیذ‘‘ کی امید اور توقع کیوں باندھے ہوئے ہیں؟ کہیں وہ اس غلط فہمی میں تو مبتلا نہیں کہ ریاست، افراد سے بالکل الگ تھلگ (isolated) کوئی مافوق الفطرت ہستی ہے؟ حالاں کہ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ریاست تو افراد کے مجموعہ کا نام ہے اور یہ افراد کے ایسے مجموعی منشا (collective will) کی نمائندگی کرتی ہے جو افردِ معاشرہ میں فرد فرد بکھری ہوتی ہے۔ اب اگر ریاست کے افراد، فرد فرد اپنے تئیں قانونی مسلمان ہونے پر قانع ہیں تو پھر ریاست کے قانونی مسلمان ہونے پر (کہ سرکاری مذہب اسلام ہے) قناعت کیوں نہیں کرلیتے؟ 
مذکورہ بحث دھیان میں رہے تو پتا چلتاہے کہ نفاذِ اسلام کی خواہشِ اجتماعی، جذباتی نعرہ بازی کے شور شرابہ میں آئین و قانون کو مطلوب و مقصود تو بنا لیتی ہے، لیکن اس مقصد کے حصول کے کچھ عرصہ بعد ہی اسے احساس ہو جاتا ہے کہ ’’حقیقی مقصد‘‘ ذرہ برابر بھی حاصل نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اصل مسئلہ آئین و قانون کو مطلوب و مقصود بنا لینا ہے۔ اور آئین و قانون کو مطلوب و مقصود اس لیے بنا لیا جاتا ہے کیونکہ ملکی آبادی کی اکثریت، قانونی مسلمان ہونے کے ناتے آئین و قانون کے اسلامیانے کو ہی اسلامی تصورات و مقاصد کا عین حصول سمجھ رہی ہوتی ہے۔ یہاں منطقی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایسا کیوں سمجھتی ہے؟ جواب یہ ہے کہ اس کے اذہان میں پچھلی کئی صدیوں سے اسلام کی یہی تعریف نقش کر دی گئی ہے۔ لہذا معلوم ہوا کہ اس وقت اسلام کی تعریف پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔ اور یہ اسلام کی نئی تعریف ہے جو نفاذِ اسلام کی خواہشِ اجتماعی کو ایسے راستے پر گامزن کر سکتی ہے جس کی منزل، آئین و قانون کے بجائے اسلام کے حقیقی مقاصدسے ہم آہنگ ہو گی۔ 
(۴)
اسلام کی نئی تعریف کی تلاش کا عمل خاصا گھمبیر (complex) ہے۔ نئی تعریف کی تلاش کی بنیادی شرط یہ ہے کہ مروجہ تعریف سے چھٹکارہ پایا جائے، کیونکہ فرسودہ قانونی تعریف کی موجودگی میں نئی تعریف کے لیے جگہ (space) نہیں بچ پاتی۔ لیکن اب ایسا بھی نہیں کہ مروج قانونی تعریف کے مکمل خاتمے کے بعد ہی نئی تعریف کی ترویج کا سوچاجائے۔ کیونکہ عملاً (تاریخی اعتبار سے) ایسا ہوتا آیا ہے اور ایسا ہی ہو گا کہ نئی تعریف کی تلاش شروع کر دی جائے، جیسے جیسے نئی تعریف وقیع اور پختہ ہوتی جائے گی، ویسے ویسے فرسودہ قانونی تعریف پیچھے ہٹتی جائے گی اور نئی تعریف پیدا شدہ میسر خلا کو پُر کرتی جائے گی۔ اس کا ایک واضح مطلب یہ ہوا کہ بے ثمرقانونی تعریف اور اس کی پیدا کردہ ابتری کا مسئلہ اتنا اہم نہیں ہے جتنا نئی تعریف کی عدم موجودگی ا ور عدم دستیابی کا ہے۔ اس لیے ادھر ادھر کی ہانکنے اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بجائے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ فی الفور نئی تعریف کی عدم موجودگی و عدم دستیابی کے اسباب تلاش کیے جائیں۔
تلاشِ اسباب کے دوران میں سب سے پہلی نظر اجتہاد کے بند دروازے کے افسانے پر پڑتی ہے۔ اسلام کی مروج بے ثمر قانونی تعریف کے متعلق تحفظات (reservations) رکھنے والے (متجددین) اجتہاد کے بند دروازے کی بابت چیخ و پکار کرتے نظر آتے ہیں۔ اس چیخ و پکار اور غوغا آرائی سے متجددین یہ تاثر پھیلانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ علمائے دین نے اجتہاد کا دروازہ مقفل کر کے چابی اپنے قبضے میں لے رکھی ہے۔ اب نہ تو وہ خود دروازہ کھولتے ہیں اور نہ ہی کسی اور کو دروازہ کھولنے کے لیے چابی دینے کو تیار ہیں۔ سچ یہ ہے کہ متجددین کا پیدا کردہ یہ تاثر اپنی اصالت میں، حقیقت کم اور افسانہ زیادہ ہے۔ 
واقعہ یہ ہے کہ اجتہاد کے بند دروازے کا افسانہ متجددین کا گھڑا ہوا ہے۔ اس افسانے کے پیچھے یہ حقیقت ان کا منہ چڑا رہی ہے کہ اصل میں ان کی اپنی نالائقی، کم ہمتی اور علمی بے بضاعتی نے اس دروازے کو مقفل کر رکھا ہے۔ رہے جمود پسند علمائے دین؟ وہ تو اسلام کی فرسودہ قانونی تعریف سے چمٹے ہوئے ہیں، انھیں نئی تعریف کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ در اصل متجددین ہیں جو نئی تعریف کی بات کرتے ہیں ......... اور بس بات ہی کرتے ہیں۔ متجددین میں علمی و اخلاقی اعتبار سے اتنی پختگی نہیں پائی جاتی کہ مروجہ بے ثمر قانونی تعریف کو چیلنج کر کے ایک متبادل قابلِ قبول (alternatively acceptable) تعریف دے سکیں۔ اگر ان کی طرف سے کوئی نئی تعریف ’’پختگی‘‘ سموئے سامنے بھی آتی ہے تو وہ قابلِ فہم اور با معنی نہیں ہوتی۔ 
دوسری طرف جمود پسند علما، اجتہاد کادروازہ بند رکھنے کے لیے جو افسانہ گھڑتے ہیں وہ بھی بے سر و پا (absurd) ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ائمہ اربعہ کے بلند پایہ علمی کام کے بعد اس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اور اگر خوامخواہ کی ذہنی عیاشیوں کے لیے یہ دروازہ کھولا گیا تو بکھری ہوئی امت مزید داخلی انتشار کا شکار ہو جائے گی جس کا دشمن بے اندازہ فائدہ اٹھائیں گے۔ علمائے دین کی سادہ لوحی (simpilicity) کا احترام اپنی جگہ! لیکن واقعہ یہ ہے کہ اجتہاد کے دروازے کی بندش کا نہ تو ائمہ اربعہ کے بلند پایہ علمی کام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی امت کے تشتت و انتشار سے اس کا کوئی دور کا بھی واسطہ ہے۔ بلکہ کڑوہ سچ یہ ہے کہ پچھلی کئی صدیوں سے مسلم معاشرہ اخلاقی اور فکری لحاظ سے زوال کی انتہائی پستیوں کو چُھو رہا ہے۔ اس معاشرے کی تخلیقی قوت (دیانت و صلاحیت) اب قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ ورنہ فطرت تو یہی بتاتی ہے کہ جس بیج میں دم ہو وہ اپنا آپ ضرور دکھاتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اجتہاد اور اسلام کی نئی تعریف کے لیے جس درجے کے جمالیاتی شعور کی ضرورت ہے، اس معاشرے کا نام نہاد جمال دوست تخلیق کار اور فقیہ اس سے کوسوں دور ہے۔ دیانت اور صلاحیت، اب کتابوں میں ہیں یا پھر غیروں (دشمنوں) کے طور اطوار کا حصہ ہیں۔ اس لیے جمود پسند علمائے دین اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ ان کی شب و روز کی محنتوں، مشقتوں اور کوششوں سے اجتہاد کا دروازہ بند ہوا ہے۔ ہاں البتہ! اتناضرور ہوا ہے کہ اس بندش کے نتیجے میں وہ ’’عالی مقام‘‘ پر فائز ہو گئے ہیں اور اسلام کی ایک (فرسودہ) قانونی تعریف کے تسلسل کو یقینی بنائے ہوئے ہیں۔ 
(۵)
مذکورہ بحث سے معلوم ہوا کہ اجتہاد کے بند دروازے کے افسانے کو حقیقت کی دنیا میں کھولنے کے لیے، مسلم معاشرے کی کھوئی ہوئی تخلیقی قوت (دیانت۔صلاحیت) کی جمالیاتی بازیابی، ایک بنیادی شرط کا درجہ رکھتی ہے۔ اگر تخلیقی و حرکی قوت موجود ہو گی تو اپنے جمالیاتی اظہار کی خاطر اجتہاد کا راستہ ضرور اپنائے گی۔ تخلیقی قوت کے دو بڑے عناصرِ ترکیبی (دیانت و صلاحیت) کو ذرا تنقیدی نظر سے جانچئے اور غور کیجیے کہ ان کی عدم موجودگی میں کسی معاشرے کی اخلاقی و فکری حالت کیا ہوسکتی ہے؟وہی ناں، جو اس وقت ہمارے معاشرے کی ہے۔ جمود پسند علمائے دین اپنے تئیں تخلیقی و حرکی قوت کے نتیجے ’اجتہاد‘ کو ملی وحدت کے عنوان سے دابے بیٹھے ہیں، لیکن ان کی اکثریت اس سامنے کی بات سے بھی آگاہ نہیں ہے کہ اصلاً، عمومی سماجی رویے (general social behaviour) سے ’دیانت و صلاحیت‘ کی بے دخلی پر یہ لوگ مطمئن ہوئے بیٹھے ہیں۔ بڑی عجیب بات ہے کہ علمائے دین اس امر پر خاصے حیران و پریشان رہتے ہیں کہ ان کی ان تھک شبانہ روز مخلصانہ کوششوں کے باوجود ملی وحدت حقیقت کی دنیا میں کیوں نہیں ڈھل پائی؟ اب انھیں یہ بتانے کی جرات کون کرے، بھلے لوگو! آخر دیانت و صلاحیت کے بغیر ملی وحدت کیسے اور کیونکر پروان چڑھ سکتی ہے؟ بہرحال! اس بحث سے یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ تخلیقی وقت (دیانت۔صلاحیت) کی بازیابی کے لیے بنیادی شرط (pre-requisite)، اس قوت کی عدم موجودگی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے شدید اخلاقی و فکری اور جمالیاتی نقصان کا احساس ہے۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ طبقہ علما کی بہت بڑی اکثریت اس نقصان کے احساس سے بالکل عاری ہے۔ 
(۶)
اگرچہ تخلیقی قوت کے عناصرِ ترکیبی کی بابت بحث کی جا سکتی ہے، لیکن ان میں سے دو عناصر (دیانت اورصلاحیت) کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان دو کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ صلاحیت تو خدا داد (God gifted) ہوتی ہے جس میں انسان کی اپنی کاوشوں کا کوئی خاطر خواہ عمل دخل نہیں ہوتا۔ ایک فرد میں صلاحیت کم اور دوسرے میں زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہ خدائی تقسیم ہے جس کے سامنے انسان بے اختیار اور بے بس ہے۔ لیکن اس خدا داد صلاحیت سے فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا انسان کے دائرہ اختیار میں شامل ہے۔ اس لیے عین ممکن ہے ایک زیادہ صلاحیت کا حامل انسان اپنی خداداد صلاحیت سے فائدہ اٹھانے میں بخیل اور ناکام ثابت ہو، اور دوسرا کم صلاحیت رکھنے والا نسبتاً بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر کے سخاوت کا عملی نمونہ پیش کر دے۔ 
دیکھا جائے توخدا داد انسانی صلاحیت کا ایک داخلی لازمہ (a necessary corolla)، امانت ہے۔ صلاحیت اپنے حامل کے، امین ہونے کا تقاضا لیے ہوتی ہے۔ یعنی، انسان اپنی صلاحیت کو امانت کے طور پر لیے ہوتا ہے۔ کیونکہ صلاحیت، اختیاری نہیں بلکہ خدا داد ہے، اسی لیے اس کی حیثیت امانت کی ہوتی ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ انسان اصلاً امین ہے۔ اب اگر وہ صلاحیت کا اظہار نہیں کرتا تو امین ہونے کا حق ادا نہیں کرتا، بلکہ خائن (perfidious) شمار ہوتا ہے۔ 
یہاںیہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسانی زندگی میں وہ کون سی چیز ہے جس کے ذریعے انسان اپنی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے اور امین ہونے کا حق ادا کر سکتا ہے؟ اور کس چیز کی کمی اس کی صلاحیت کو زنگ آلود کر کے اسے خائن بنا ڈالتی ہے؟ اس کا جواب ہے، دیانت۔ جی ہاں! وہ چیز صرف اور صرف دیانت ہے۔ اس لیے بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ ارضی احوال و ظروف میں انسان کی اصل جولاں گاہ ’دیانت‘ ہے۔ 
(۷)
مذکورہ نکتے سے یہ واضح ہو گیا کہ اللہ رب العزت نے انسان کوبے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ پاکستانی معاشرہ نوازشاتِ الٰہیہ سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اگر کہیں کوئی گڑبڑ ہے کوئی مسئلہ ہے تو ان صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے ’ذریعے‘ میں ہے اور وہ ذریعہ دیانت ہے۔ اب کیا یہ باقاعدہ بتانے والی بات ہے کہ (صلاحیت کی) امانت ادا کرنے میں اگر دیانت، دھیان میں نہ رہ پائے تو صلاحیت کی کیا درگت بنتی ہے؟ اور اس کے نتیجے میں لوگوں کی عمومی اخلاقی و فکری حالت کیا ہوتی ہے؟ اور ان کے جمالیاتی شعور پر کیا بیتتی ہے؟(اگر بے چارہ کسی طور کچھ بچ رہا ہو) ۔
تنقیدی نظر سے پرکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے خود اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ تعلق میں، دیانت اور اس کے روبہ عمل ہونے کا ایک ناگزیر لازمہ جسے ہم ’حیا‘ سے موسوم کر سکتے ہیں، بہت ہی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن اس حیا کے معانی وہ نہیں ہیں جو عموماً مراد لیے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں حیا کو جنسی اور جسمانی تناظر میں دیکھا جاتا ہے، جس کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ یہاں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ اس کے علاوہ حیا کی ایک جہت اور بھی ہے جس کا بنیادی تعلق معاشرے میں بسنے والے افراد کے تعامل (inter-action) سے ہے۔ یعنی یہ حیا اپنی ماہیت میں معاشرتی نوعیت کی حامل ہے۔ کسی بھی معاشرے میں، اصلاً یہ حیا ہوتی ہے جو افرادِ معاشرہ کو (انفرادی طور پر) باہمی معاملات میں بد دیانتی سے روکنے کا انتہائی اہم اور حساس فریضہ سر انجام دیتی ہے۔ اس حیائی روک کے بعد ہی افرادِ معاشرہ (انفردای طور پر) اس قابل ہو پاتے ہیں کہ باہمی معاملات میں دیانت کا اظہار کریں، بلکہ دیانت کا ’’خودکارانہ‘‘ اظہار کریں۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بھی کسی معاشرے میں دیانت، خودکار اظہار شروع کر دیتی ہے اس معاشرے کے افراد کی خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں اور ایسا معاشرہ جمالیاتی شعور کے تخلیقی اظہار پر قادر ہو جاتا ہے۔
(۸)
اب تک کی بحث سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ خدا داد صلاحیت کی امانت کو خیانت سے بچانے کی اولین شرط، حیا (modesty) ہے۔ اگر کوئی فرد یا معاشرہ خائن ہونے سے بچ جاتا ہے یا دوسروں لفظوں میں بے حیا نہیں ہونے پاتا، تو اس کا خودکار انداز میں دیانت کے توسط سے خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ایک لازمی امر ہوتا ہے۔ اب اس اصول پر اپنے معاشرے کو پرکھ لیجیے۔ تھوڑی دیر کے لیے ذرا اپنے ارد گرد موجود عوام و خواص کے رویوں کا تنقیدی جائزہ لیجیے، بے حیائی غراتی نظر آئے گی اور بے چاری دیانت دبکی بیٹھی دکھائی دے گی .......... بلکہ دوسروں کوچھوڑیے، اپنے ہی رویے کو جانچ لیجیے...... لیکن مسئلہ تو وہی ہے اب اپنے رویے کو بے حیائی کے دامن سے چھڑانے کا دعوی بھلا کون کرے؟ البتہ دعوی کے بجائے ’عزم‘ کا ارادہ کر لیاجائے تو شاید بات کچھ بن جائے۔ ایسے عزم کی اچھی نیت کے بکھیڑوں میں الجھنے کے بجائے مناسب یہی ہے کہ زیر بحث نکتے کے حوالے سے چند کرداروں کا جائزہ لے لیاجائے۔ اپنے ہاں کے وزرا کو دیکھ لیجیے، کسی مسئلے پر (شرم کھا کر) مستعفی ہونے کی کتنی مثالیں موجود ہیں؟ اور (بے شرمی و ڈھٹائی سے) ڈٹے رہنے کے کتنے نظائر (precedents) ہماری قومی تاریخ کا حصہ ہیں؟ اب ذرا سچ سچ بتایے کہ شرم اور بے شرمی کی مثالوں کی تعداد میں کوئی پست درجے کی بھی نسبت ہے؟ ہماری پوری قومی تاریخ میں مستعفی ہونے کی ’جسارت‘ شاید ہی کسی وزیر نے کی ہو۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کو لیجیے۔ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو لیجیے۔ لاہور کے اس مقام کو لیجیے جہاں اس صوبے کے اعلیٰ ترین عہدے دار انتظام و انصرام سنبھالے بیٹھے ہیں۔ جی ہاں! پنجاب سیکریٹریٹ کی بات ہو رہی ہے۔ اب اس عمارت کے مرکزی دروازے پر کھڑے ہو جایے اور کروڑوں کی آبادی والے اس صوبے میں، لاکھ نہیں، ہزار نہیں، سو نہیں، پچاس نہیں، دس نہیں، بلکہ صرف اور صرف ’’ایک‘‘ ایسے سائل شہری کو ڈھونڈ نکالیے جو اس عمارت سے برآمد ہو کر آپ کو یہ بتائے کہ اس کا کام روٹین میں ہو گیا ہے۔ (ہمیں اس ’’ایک‘‘ کے عدد پر معاف کر دیجیے گا کیونکہ اس سے کم ممکن ہی نہیں ہے)۔ اس ’’مثالی انتظام و انصرام‘‘ والی عظیم عمارت میں داخل ہونے والا کوئی ایک ایسا شہری بھی تلاش کر دیجیے جو اپنے داخل ہونے سے پہلے پر اعتماد ہو کہ اس کا کام روٹین میں ہو جائے گا اور اس کی عزتِ نفس بھی محفوظ رہے گی۔ تجربہ کرنے پر آپ جان جائیں گے کہ ہماری نشاندہی مبالغے پر مبنی نہیں ہے۔ کیا اجتماعی بے حیائی کی اس سے بڑی مثال پیش کی جا سکتی ہے؟
مسئلہ یہ ہے کہ بات یہیں نہیں ختم ہو جاتی بلکہ انزالِ اثر (trickle down effect) کے تحت یہ انتظامی و انصرامی بے شرمی پورے صوبے میں پھیلی ہوئی ملتی ہے۔ اس معاملے کا دل چسپ پہلو یہ ہے کہ پنجاب سیکریٹریٹ اور باقی کے تمام دفاتر میں ایک دو نہیں بلکہ ہر سائل کا کام بالآخرہو بھی جاتا ہے، کیونکہ بے حیائی کے اظہار سے دیانت دبک کر کسی کونے کھدرے میں چھپ جاتی ہے اور بد دیانتی کو خوب کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ بمشکل پانچ فی صد شہریوں کا کام کسی تگڑی سفارش سے ہو جاتا ہے اور باقی سائلین، بانی پاکستان قائد اعظم کی سفارش میں پناہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ہمارے دیگر ریاستی و معاشرتی کردار بھی بے حیائی اور بد دیانتی میں گندھے ہوئے ہیں۔ چاہے ڈاکٹرز، اساتذہ ہوں یا وکلا، ججز اور صحافت سے وابستہ افراد ہوں، چاہے ٹی وی چینلز و اخبارات کے مالکان اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مدارلمہام ہوں یا مسلح افواج کے اعلیٰ عہدے داران ہوں، اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ 
(۹) 
اب تک کے مباحث سے یہ معلوم ہوا کہ کسی قوم یا معاشرے میں سے ’حیا‘ کا مکمل اٹھ جانا، اس کے اخلاقی و فکری زوال کا بنیادی سبب بن جاتا ہے۔ ایسی قوم یا معاشرے کا جمالیاتی شعور، بد دیانتی کے سرکنڈوں سے لہولہان ہو جاتا ہے۔ اپنے جمالیاتی شعور کی قیمت پر پلنے والی ایسی قوم کے تخلیقی سوتے بالکل خشک ہو جاتے ہیں اور ایک کریہہ منحوس منظر اسے ہر طرف سے گھیر لیتا ہے، اور ........ اجتہاد کا دروازہ خودبخود بند ہو جاتا ہے۔ 
یہاں علمائے دین کے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اجتہاد کے دروازے کی بندش کا ان کی ملتِ اسلامیہ کے لیے درد مندی سے کوئی تعلق نہیں، اور نہ ہی اسلاف کے کارنامے کبھی بھی اتنے بڑے اور دیوہیکل ہو سکے ہیں کہ ان کے سامنے زندگی کا تخلیقی و حرکی پہلو ہتھیار ڈال دے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے تخلیقی و حرکی رویے کی عدم موجودگی نے ہی اسلاف کے کارناموں کو ابھی تک کارناموں کی فہرست میں رکھا ہوا ہے۔ زندگی کا حرکی و تخلیقی رویہ پروان ہی تب چڑھتا ہے، جب صلاحیت کی امانت میں خیانت نہ کی جائے۔ خیانت سے صرف حیادار (modest) لوگ ہی بچ پاتے ہیں، پھر یہی لوگ دیانت کے سہارے خدا داد صلاحیتوں کے جمالیاتی اظہار میں زندگی کے حرکی و تخلیقی تسلسل کو دوام بخشتے ہیں۔
اس لیے علمائے دین کو اجتہاد کے دروازے کی بندش کے جواز (rationale) نہیں تلاشنے چاہییں بلکہ اس بندش کے اسباب پر نہایت سنجیدگی سے غور و فکر کرنا چاہیے کہ یہ اسباب (خیانت،بے حیائی،بد دیانتی) بہت ہی سنگین نوعیت کے ہیں۔ علمائے دین اس حقیقت سے آنکھیں کیسے چرا سکتے ہیں کہ اجتہاد کے دروازے کی بندش کے پیچھے اصلاً، خیانت، بے حیائی اور بد دیانتی جیسے انتہائی مکروہ عناصر کارفرما ہیں۔ وہ بھلے اجتہاد کا دروازہ نہ کھولیں، اس مقفل دروازے کی چابی کو کہیں دور کوہ قاف میں پھینک دیں، اس سے ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا۔ لیکن انھیں خیانت کو جڑ سے اکھاڑنے کی تدابیر کرنی چاہییں، بے حیائی کے تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہییں اور بد دیانتی کے خاتمے کے لیے موثر کوششیں کرنی چاہییں۔ اگر زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی طور پر یہ سب کچھ کر لیا جاتا ہے تو خاطر جمع رکھیے، اجتہاد کا بند دروازہ خودبخود کھل جائے گا(کھل جا سم سم)۔ 
(۱۰)
یہاں یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا علمائے دین سے، مطلوب طرزِ عمل کی انجام دہی کی توقع کی جا سکتی ہے؟ اس سوال کا دیانت دارانہ جواب نہیں میں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ علمائے کرام بجائے خود، خدا داد صلاحیت کی ا مانت میں خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کو جتنی فراخ دلی سے بے کار فضول مباحث کی نذر علما نے کیا ہے شاید ہی کوئی دوسرا طبقہ ان کا ثانی ہو۔ ان میں مقبولِ عام فروعی مسائل کی نوعیت کا جائزہ لیجیے اور ان مسائل کو بیان کرنے کے اسالیب کو پرکھیے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ذرا سچ سچ بتائیے کہ بے حیا ہوئے بغیر کیا کسی مسجد پر ’’قبضہ‘‘ کیا جا سکتا ہے؟ کیا بے حیا ہوئے بغیر کسی علاقہ میں کئی مساجد کے موجود ہوتے ہوئے بھی ’’اپنی مسجد‘‘ کی تعمیر اٹھائی جا سکتی ہے؟ یہ بھی بتا ہی دیجیے کہ جب حیا نہ رہے تو اصلاحی موضوعات پر کتنی دیانت سے قلم اٹھایا جا سکتا ہے؟ اور کیا کسی دل جلے کو دینی خدمت کے نام پر شائع ہونے والے لٹریچر کے پس منظر میں حیا اور مواد میں دیانت، ڈھونڈے سے بھی مل پاتی ہے؟
اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا داد صلاحیت کی امانت کی سنبھال کی سب سے زیادہ ضرورت تو طبقہ علما کو ہے۔ اس امانت کو خیانت سے بچانے کا بنیادی تقاضا حیا ہے۔ علمائے کرام سے بہتر کون جانتا ہے کہ ہر دین کا ایک امتیازی وصف ہے اور اسلام کا امتیازی وصف حیا ہے۔ اس لیے اس امر میں کوئی شک نہیں کہ اپنی ذات اور دوسروں کے ساتھ تعلق میں حیا کے در آنے سے، طبقہ علما اپنی صلاحیتوں کا دیانت دارانہ اظہار بھی کر سکتا ہے۔
(۱۱) 
اس ساری بحث کا ایک قابلِ اعتنا پہلو یہ ہے کہ ہم لوگ بغیر دیکھے بھالے بڑی آسانی سے اہلِ مغرب پر ’’بے حیائی‘‘ کا لیبل چسپاں کر دیتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حیا کے مذکور معنوں میں وہ لوگ با حیا نہیں ہیں؟ اور نتیجتاً دیانت دار نہیں ہیں؟ کیا ان کے وزرا شرم کھا کر عموماً مستعفی نہیں ہو جاتے؟ کیا ان کے دفاتر میں ہر شہری کا کام روٹین میں نہیں ہوتا؟ وغیرہ وغیرہ۔ واقعہ یہ ہے کہ اسی حیا اور دیانت (modesty and honesty) کی وجہ سے ان کی اخلاقی و فکری حالت ہم سے بہت بہتر ہے۔ اسی اخلاقی و فکری برتری کے نتیجے میں جمالیاتی شعور کے ذریعے، وہ لوگ ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں اور دنیا کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ہمارے پاس تو صرف نعرہ بازی کی شور شرابہ تکنیک ہے اور بے حیائی و بد دیانتی کا طوفانِ بد تمیزی ہے۔ 
(۱۲) 
اس تحریر کے آغاز میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد کے ثمرات کے متعلق بات ہوئی تھی کہ ہمارے معاشرے کی اکثریتی آبادی، آئین و قوانین کی اسلام کاری (Islamization) کی صورت میں اپنی خواہش کی تکمیل کے بعد، حیران و پریشان کھڑی منہ تکتی رہ جاتی ہے کہ اسے تو کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ اس لا حاصلی یا نامرادی کی حالت کاذمہ وار اس کا وہ فہمِ اسلام ہے جس کے مطابق قانون بنا دینے سے مقصد پورا ہو جاتا ہے(law is an end in itself)۔ ہمارے معاشرے کی اکثریتی آبادی کے ذہن میں، اسلام کے اس قانونی ایڈیشن کو نقش کرنے میں، ہمارے مذہبی طبقے نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اس طبقے کا ذہن اس لیے قانونی ہے کیونکہ اسے اسلاف کے کارناموں میں سے ائمہ اربعہ کے صرف وکیلانہ کارنامے بھلے لگتے ہیں۔ پاکستان کے مذہبی طبقے کو تو امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے نام ور شاگردوں کے علاوہ دیگر اماموں کے کارہائے نمایاں بھی نظر نہیں آتے۔ بات یہ ہے کہ صدیوں پہلے جس وقت اسلام کے قانونی ایڈیشن کا ظہور ہوا، ہو سکتا ہے یہ اس وقت کے تقاضوں کی مطابقت میں ہو۔ عین ممکن ہے اس وقت ضرورت ہی اسلام کے فقط قانونی دوائر کے تعینات کی رہی ہو۔ لیکن اب صورتِ حال بدل چکی ہے۔ اگر پاکستان کا مذہبی طبقہ دین اسلام کی ترویج میں واقعی سنجیدہ اور مخلص ہے تو اسے ان قانونی دوائر کی حد بندیوں کو لازماً پھلانگنا ہو گا۔ اس طبقے کو اب احساس ہو جانا چاہیے کہ اسلام کے قانونی ایڈیشن کی پرستش نے (انفرادی اور معاشرتی سطح پر) ، خیانت، بے حیائی اور بد دیانتی کو خوب فروغ دیا ہے۔
اس وقت رائج اسلام کی قانونی تعریف کا (داخلی لحاظ سے) اصلی مسئلہ یہ ہے کہ یہ روایتی فقہ کی بھی مطابقت میں نہیں ہے۔ کیونکہ ائمہ اربعہ کی وضع کردہ قانونی تعریف، ہمارے معروف معنوں کے قانون (law) جیسی نہیں ہے۔ ان ائمہ کے استنباطات، قانونِ محض (pure law)کے دائرے میں نہیں آتے، بلکہ فقہ کی وسعتوں (law in broader sense) سے ہم کنار ہیں۔ اس لیے ان جلیل القدر ہستیوں کی وضع کردہ فقہ میں اصولِ قانون، فلسفہ قانون اور مقاصدِ قانون کے اطراف و اکناف اکھٹے ہو گئے ہیں۔ ہمارے زمانے کے علما تک پہنچتے پہنچتے اس فقہی روایت کی داخلی روح کہیں کھو گئی ہے اور خالی خولی ظاہری قانونی ڈھانچہ باقی رہ گیا ہے۔
فقہ کے سمندر سے قانون کے چھپڑ تک، صدیوں پر محیط اس سفر کے دوران میں مختلف تاریخی عوامل کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں یورپ کی نوآبادیاتی یلغار کے منفی اثرات کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اگر روایتی فقہ، تاریخی جبر کا شکار نہ ہوتی، اور اپنے ظاہری قانونی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ اپنی داخلی روح اور حقیقی جوہر کو بھی ہمارے زمانے کے علما تک پہنچا پاتی، تو اسی روایت کے تسلسل سے اسلام کی نئی تعریف لازمی طور پر خود بخود برآمد ہوتی۔ واقعہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہو سکا۔ اور ایسا نہ ہونے سے ، داخلی روح کے یکسر غائب ہونے سے، علما نے معذرت خواہانہ دفاعی پوزیشن لیتے ہوئے روایتی فقہ کے ظاہری قانونی ڈھانچے کو سنبھالنے میں ہی عافیت جانی۔ 
(۱۳)
اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں، اب جب کہ روایتی فقہ اپنی داخلی روح اور حقیقی جوہر سے محروم ہو چکی ہے، اس کے ظاہری ڈھانچے سے پیچھا چھڑائے بغیر، نفاذِ اسلام سے حاصل ہونے والے حقیقی مقاصد تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ جو مذہبی حلقے اس بے جان ڈھانچے میں فکرِنو کے گلوکوز لگا کر بہتری کی آس لگائے ہوئے ہیں، ان کے خلوص پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی اور نہ ہی ان کے جذبات و احساسات قابلِ گرفت سمجھے جا سکتے ہیں۔ ایسے احباب کے اخلاص کو چیلنج کیے بغیر ہم گزارش کریں گے کہ داخلی روح اور حقیقی جوہر سے محروم بے جان ڈھانچہ اب بہت بوسیدہ ہو چکا ہے، فکرِ نو کا گلوکوز جس خاص وقت میں کارآمد ہو سکتا تھا وہ وقت کب کا گز رگیا ہے۔ اس لیے خوامخواہ کی پیوند کاری (patch-work) میں الجھنے کے بجائے اسلام کی نئی تعریف کی تلاش کی کوشش کرنی چاہیے۔ 
ہمیں نئی تعریف کی تلاش کے لیے اسلام کے دورِ اول کی طرف دیکھنا ہو گا کہ اس وقت کی سماجی صورتِ حال میں دین کی ترویج کن اصولوں کے تحت ہوئی، جس کے نتیجے میں مقصود حاصل ہو گیا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے تو نزولِ قرآن مجید کو لیجیے، اور بتایے کہ کیا اس کی آیاتِ مبارکہ، بالکل مجرد روپ میں (in purely abstract form) نازل ہوتی رہیں اور اسی طرح ان کا نفاذ بھی سماجی صورتِ حال سے کٹ کر (in isolation from social condition) ہوتا رہا؟ یا یہ کہ تقریباً ہر آیت کسی صورتِ حال کے جواب میں (in response to a given situation) نازل ہوئی؟ واقعہ یہ ہے کہ شانِ نزول کی مستند روایات کے علاوہ خود قرآن مجید میں ایسے داخلی شواہد موجود ہیں جو اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ تقریباً ہر آیت کسی نہ کسی صورتِ حال کا جواب تھی۔ 
اب ذرا توقف کر کے غور کیجیے کہ اصلاً کوئی نہ کوئی ’’صورتِ حال‘‘ ہی آیات کے نزول کا سبب بنتی رہی۔ اس لیے اس سارے عمل میں سے صورتِ حال کو خارج کر دیا جائے تو نزولِ آیات کا جواز (rationale) ختم ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صورتِ حال موجود نہ ہوتی تو قرآن مجید کا بھی نزول نہ ہوتا۔ اگر بات کو غلط رنگ نہ دیا جائے تو ہمیں کہنے دیجیے کہ اس تناظر میں متنِ قرآن (text of Quran) سے کہیں بڑھ کر صورتِ حال (the given situation) اہم ہو جاتی ہے۔ متن قرآن تو ’’لوح محفوظ‘‘ میں پہلے سے موجود تھا، اس کے بتدریج نزول کی اہمیت یہی ہے کہ اسے اس صورتِ حال کی مطابقت میں نازل کیا گیا۔ صورتِ حال نے اسے مجرد شکل میں اپنے سر نہیں لیا۔ یہاں نکتے کی بات یہ ہے کہ متنِ قرآن اور صورتِ حال میں مطابقت کی بنیادی شرط، اس صورتِ حال کی صداقت پر مبنی غیر جانب دارانہ بالائے تعصب، کلی تفہیم تھی۔ اس لیے متنِ قرآن نہیں بلکہ حقیقت میں صورتِ حال کی اس مبنی بر صداقت تفہیم نے، اس سماج کو قرآن پاک کی وہ معنویت عطا کی جس نے بعد ازاں اس صورتِ حال کو اپنے قابو میں کر لیا،........ اور اسے بدل کر رکھ دیا۔ 
(۱۴)
مذکورہ بحث کے بین السطور یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکت کے ’’اسوہ کامل‘‘ ہونے کا ایک درخشندہ پہلو، اپنے دور کی سماجی صورتِ حال اور اس سے منسلک مطالبوں کے مکمل ادراک پر محیط ہے۔ نبوت عطا ہونے کے بعد سے وصال تک کے ۲۳ برس کے عرصہ میں کتاب اور صاحبِ کتاب، قرابتِ مسلسل (intimacy) میں رہے۔ اس لیے اسوہ کامل کے اس خاص پہلو (کتاب اور صاحبِ کتاب کی قرابتِ مسلسل) سے فیض یاب ہونے کے لیے قرآن مجید کی ترتیبِ نزولی اور ترتیبِ نزولی کی تفہیم کی اساس، (آیات مبارکہ کا شانِ نزول)اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ اندریں صورت شانِ نزول سے متعلق احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر مستند تاریخی آثار کا تنقیدی مطالعہ، اس زمانے کی عمرانی صورتِ حال سے واقفیت کا ایک مطالبہ اور لازمہ (prerequisite) بن جاتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اب نہ تو قرآن مجید ترتیبِ نزولی کی صورت میں موجود ہے اور نہ ہی ایسی مستند احادیث و روایات پائی جاتی ہیں جو پورے قرآن مجید یا اس کے کثیر حصے کے نزول کے اسباب واضح کرتی ہوں۔ اس لیے یہاں یہ غور کرنے کا مقام ہے کہ اللہ رب العزت نے ترتیبِ نزولی کی بدلی صورت (قرآن مجید کی حتمی ترتیب) کو تشریعی کیوں قرار دیا ہے؟ اور پھر اس بدلی ترتیب کی تشریعیت (divine status) کے تحفظ کے لیے، تکوینی ذریعے سے شانِ نزول سے متعلق آثار و احادیث کی بہت ہی کم تعداد کیوں باقی رہنے دی ہے؟ 
ہماری رائے میں ان سوالات کا تعلق قرآن مجید کے نظریہ تاریخ سے ہے۔ قرآن مجید نے انبیائے کرام ؑ کے واقعات بیان کرتے ہوئے، ایک تو تمام انبیاعلیہم السلام کا ذکر نہیں کیا، دوسرا یہ کہ جن انبیا ئے کرامؑ کے قصے بیان کیے ہیں ان کی زندگیوں کا بھی مکمل احاطہ نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن کے مطابق تاریخ کی تمام تر تفصیلات (چاہے ان کا تعلق انبیاؑ سے ہو) کا جاننا بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے ضروری نہیں ہے۔ بلکہ ضروری امر تو یہ ہے کہ تاریخی تفصیلات و جزئیات کا لازمی طور پر نچوڑ (gist) لیا جائے (نچوڑنے کے کیا اصول ہیں؟یہ الگ بحث ہے)۔ تہذیبِ اسلامی میں تاریخ کے حاصل و نچوڑ (gist of history) کے اس اصول کا بجائے خود اطلاق، شانِ نزول جیسی روایات و احادیث کی تکوینی چھانٹی میں نظر آتا ہے۔ جس کے نتیجے میں قرآنی نظریہ تاریخ کا ایک تشریعی مطالبہ پورا ہوجاتا ہے۔ 
دیکھا جائے تو اس خاص حوالے سے نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم پر بتدریج نازل ہونے والا قرآن پاک نہ صرف ماقبل ضروری تاریخ کا احاطہ کیے ہوئے ہے بلکہ ما قبل تاریخ کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعثت کی عمرانی صورتِ حال کے ساتھ نامیاتی طور پر جوڑ بھی دیتا ہے۔ اس لیے ترتیبِ نزولی کا حامل قرآن تاریخ کے نچوڑ کے جلو میں، عصری مطالبات کی تکمیل کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یعنی ایک لحاظ سے نزولِ قرآن کا یہ خاص پہلو صراحت کرتا ہے کہ تاریخ نہیں بلکہ چھانٹی شدہ تاریخ (selected history) سے ایک حد تک مدد لے کر عصری مسائل سے نمٹا جا سکتا ہے۔ (اسبابِ نزول کی روایات چونکہ بنیادی طور پر تاریخ ہیں اس لیے تاریخ سے ایک حد تک مدد کے قرآنی ضابطے کی مطابقت میں (تکوینی ذریعے سے) انھیں ایک حد تک ہی باقی رہنے دیا گیا ہے)۔ قرآن مجید، تاریخ کی چھانٹی یا نچوڑ کس اصول کے تحت کرتا ہے، تفصیلی تجزیے سے بچتے ہوئے قصص القرآن کے اجمالی جائزے سے ہی کم از کم ایک اساسی اصول دریافت ہو جاتا ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ تاریخی تفصیلات کی چھانٹی کے عمل میں، کسی ایسی عمرانی صورتِ حال اور اس کے مطالبات کو قرآن مجید میں کوئی جگہ نہیں دی جاتی، جو کسی بھی لحاظ سے کسی عمومی عمرانی صورتِ حال سے میل نہ کھاتے ہوں۔ اس لیے قصص القرآن میں مذکورواقعات کے مجمل اور مفصل ہونے کا تعین، کسی بھی عمومی عمرانی صورتِ حال سے ان کی مطابقت سے ہوتا ہے۔ 
(۱۵)
اسلام کے دورِ اول کے مذکورہ علائق و قرائن، اسلام کی نئی تعریف کے لیے ایک واضح راہ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ قرآن مجید خالی خولی مجرد حالت میں نازل نہیں ہوا تھا بلکہ تاریخ کے نچوڑ کے عمل کی ہم راہی میں، معاصر عمرانی صورتِ حال سے جڑا ہوا تھا۔ اس تناظر میں اسوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی ترتیبِ نزولی کا باہمی تعلق (co-relation) جہاں اہم ہو جاتا ہے، وہیں اس تعلق کے مطالعے کی افادیت، کسی بھی عمرانی صورتِ حال میں قرآن و سنت کے نفاذ کے لیے رول ماڈل بن جاتی ہے۔ اس مطالعے کے دوران میں ایک اساسی نکتہ دھیان میں رکھنا بہت ضروری ہے کہ کتاب اور صاحبِ کتاب کی اس نوع کی تفصیلات، قرآنی نظریہ تاریخ کی روشنی میں کھنگال لینی چاہییں۔ یعنی ان تفصیلات میں سے ترجیحی طور پر ان امور کو زیرِ بحث لانا چاہیے جو کسی بھی عمومی عمرانی صورتِ حال سے مطابقت رکھے ہوئے ہوں۔ ایک لحاظ سے یہ وہی کام ہے جو شارع نے خود نزولِ قرآن کے وقت، ماقبل تاریخ کی چھانٹی اور نچوڑ کی صورت میں کیا تھا، اب اس کام کی ذمہ داری امتِ مسلمہ کے کندھوں پر ڈال دی گئی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ محدثین کرام رحمۃ اللہ علیھم نے کتاب اور صاحبِ کتاب کی تفصیلات جمع کرنے میں اگرچہ تساہل نہیں برتا، لیکن ابھی تک ان تفصیلات کی چھانٹی، قرآنی نظریہ تاریخ کی روشنی میں قابلِ اطمینان حد تک نہیں ہونے پائی۔ 
(۱۶)
اس بحث کا ایک قابلِ اعتنا پہلو یہ ہے کہ قرآن مجید کی ترتیبِ نزولی کے بدل دیے جانے پر صورتِ حال بدل جاتی ہے۔ اسوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی ترتیبِ نزولی کے باہمی تعلق کی حیثیت ’’تاریخ‘‘ کی ہو جاتی ہے۔ اب اس مخصوص عمرانی صورتِ حال کی حامل تاریخ میں سے نچوڑی عمل کے ذریعے سے حاصل شدہ تاریخ (gist of history)، جو کسی بھی عمرانی صورتِ حال کے موافق ہو سکے، اصولاً (قرآن کے داخل میں) محفوظ کر لی جانی چاہیے تھی۔ اور اسے محفوظ کر بھی لیا جاتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ جب تاریخی چھانٹی کا اطلاق کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں قرآن مجید کی نزولی ترتیب (مخصوص تاریخی تفصیلات اور علائق و قرائن سے اوپر اٹھ کر) بجائے خود چھانٹی شدہ تاریخ کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ جس سے قرآن کی دو حیثیتیں سامنے آتی ہیں:
۱۔ قرآن مجید کی حتمی ترتیب اس کے چھانٹی شدہ تاریخ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔
۲۔ یہی حتمی ترتیب کا حامل قرآن لوحِ محفوظ کی زینت ہے۔
قرآن مجید کی پہلی حیثیت ایک اعتبارسے اس امر کی علامت بن جاتی ہے کہ شارع نے تاریخ کی چھانٹی کا عمل قرآن کے داخل میں کر دکھایا ہے، اس لیے قرآن سے باہر خارج (روایات و احادیث وغیرہ) میں بھی تاریخی چھانٹی کا اطلاق، خود انسانوں کو کرنا چاہیے۔ قرآن مجید کی یہی پہلی حیثیت، قرآن مجید کے چھانٹی شدہ تاریخ ہونے کی بنا پر ایک مطالبہ بھی کرتی ہے کہ اسے ہر وقت کسی نہ کسی عمرانی صورتِ حال سے جوڑ (relate) کر رکھا جائے تا کہ وہ اپنے داخل میں پنہاں معنویت آشکارا کر سکے(جیسے نزول کے وقت قصص القرآن ایک طرف چھانٹی شدہ تاریخ تھے تو دوسری طرف انھیں اس کی وقت کی عمرانی صورتِ حال کے موافق کیا گیا)۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو قرآن مجید ایک مجرد صورت (abstract form) اختیار کر جاتا ہے(جیسے قصص القرآن کو عمرانی صورتِ حال سے جوڑا نہ جاتا تو وہ مجردِ محض (pure abstract) کے درجے میں رہتے)۔ اس لیے قرآن مجید کو گوشہ تنہائی سے نکالنے کے لیے از بس ضروری ہے کہ اسے عمرانی صورتِ حال سے لازمی تطبیق دی جائے، اور یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں کہ صورتِ حال کا مکمل ادراک، اس مطابقت و موافقت کا بنیادی مطالبہ ہے۔ اس نکتے کا ایک مطلب یہ ہوا کہ آج بھی قرآن کے متن کے بجائے، موجود صورتِ حال کے مکمل ادراک کی اہمیت اسی طرح بہت زیادہ ہے جیسے نزولِ قرآن کے وقت تھی، ...... کہ نزولِ قرآن کے دوران میں شارع نے، اس وقت کے انسانی اور عمرانی مطالبات کو پوری طرح دھیان میں رکھتے ہوئے، حسبِ منشا آیات کو (پردہ غیب میں موجود) لوحِ محفوظ سے نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی تک پہنچایاتھا۔ 
نزولِ قرآن کی تکمیل کے بعد لوحِ محفوظ پردہ غیب میں نہیں رہی، بلکہ ایک لحاظ سے قرآن مجید کی حتمی ترتیب کی صورت میں منکشف ہو چکی ہے۔ جیسا کہ اوپر کی سطروں میں بیان کیا گیا کہ تاریخی چھانٹی کے بعد قرآن کی دو حیثیتیں سامنے آتی ہیں، ان میں سے دوسری یہی ہے کہ لوحِ محفوظ کی زینت، حتمی ترتیب کا حامل قرآن ہے۔ لوحِ محفوظ میں ہونے کے ناتے سے یہ قرآن، زماں و مکاں (time and space) سے ماورا ہے۔ قرآن کی یہ ماورائی حیثیت اسے ما بعد کی تاریخ پر بھی حاوی کر دیتی ہے۔ اس لیے اگر کسی کو قرآن پاک کے باطن میں جھانکنے کی توفیق مل جائے تو وہ شخص حال میں رہتے ہوئے بھی مستقبل کے ہفت خواں بآسانی طے کر سکتا ہے۔ 
(۱۷)
ہماری نظر میں اسلام کی نئی تعریف کابنیادی تعلق، شارع کے اس مطالبے سے ہے کہ (منکشف) لوحِ محفوظ میں سے حسبِ منشا آیات، عمرانی صورتِ حال کے موافق تلاش کی جائیں، ...... یعنی، قرآن کوپھر سے نازل ۔وحی کیا جائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اب نہ تو خدا نازل کرے گا اور نہ ہی کوئی نبی ہو گا جس پر نازل کرنا خدا کا منشا ہو۔ لیکن قرآن اپنی اس حیثیت میں، کہ یہ نچوڑی ہوئی چھانٹی شدہ تاریخ ہے، اپنے جواز کے لیے کسی عمرانی صورتِ حال سے مطابقت کا مطالبہ کرتا ہے۔ اور اپنی دوسری حیثیت میں، کہ یہ زماں و مکاں سے ماورا (منکشف) لوحِ محفوظ ہے، اپنے میں سے انزال (اطلاق و انطباق) کی سہولت بھی دیتا ہے۔ اور یہ وہ کام ہے جو شارع نے ایک خاص زمانے کی عمرانی صورتِ حال کے موافق اسے نازل کر کے ’’رول ماڈل‘‘ کے طور پر کر دکھایا ہے، اور اب ہم سے وہی کچھ کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ بہرحال! اس نکتے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ایک طرف قرآن مجید، چھانٹی شدہ تاریخ ہونے کے ناتے عمرانی صورتِ حال سمجھنے کا مطالبہ کرتا ہے تو دوسری طرف، لوحِ محفوظ سے انزال (اطلاق و انطباق) کی سہولت میں عمرانی صورتِ حال پر قابو پانے میں معاون بھی ثابت ہوتا ہے۔اس کا ایک سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ ہم مطالبہ پورا کریں گے تو صرف اسی صورت میں تعاون ملے گا۔ 
اس بحث کے تناظر میں اسلام کی نئی تعریف کی تلاش کے دو بنیادی تقاضے سامنے آتے ہیں:
۱۔ موجود واقعی صورتِ حال کا مکمل ادراک حاصل کیا جائے۔ 
۲۔ قرآن کے باہر خارج میں پائی جانے والی تاریخی تفصیلات کی قرآنی نظریہ تاریخ کی روشنی میں چھان پھٹک کی جائے۔ اپنے اسلاف کے کارناموں کی تفصیلات میں سے صرف معاصر صورتِ حال کے موافق مواد لینے پر اکتفا کیا جائے۔ تاریخ کے نچوڑ کے اس عمل کے نتیجے میں، ہو سکتا ہے کہ بعض ایسے افراد کے نام تک سامنے نہ آنے پائیں، جنھیں ہم اکابرین میں شمار کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اس سے ان کابرین کی ذرہ برابر تحقیر نہیں ہوتی، کہ خود قرآن نے تاریخی نچوڑ کے عمل میں کئی انبیا علیھم السلام کے نام تک نہیں لیے۔ 
اہم بات یہ ہے کہ یہ دونوں تقاضے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ صورتِ حال کے مکمل ادراک سے، تاریخی جزئیات کی چھان پھٹک کے بعد معاصر صورتِ حال کے موافق تاریخی مواد الگ کرنے میں سہولت ہوتی ہے، اسی طرح تاریخی تفصیلات کی چھانٹی کے عمل سے معاصر صورتِ حال کا ادراک نہ صرف تاریخی شعور سے بہرہ مند ہوتا ہے بلکہ درست سمت میں بھی گامزن رہتا ہے۔ 
بہرحال! ان دو مطالبوں کی تکمیل کے بعد (منکشف) لوحِ محفوظ(حتمی ترتیب کے حامل قرآن) سے حسبِ منشا آیات لینے کامرحلہ آتا ہے۔ یہ مرحلہ اس اعتبار سے بہت حساس ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی مرضی کی آیت لے کر اس کا اطلاق کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے عملی طور پر ایسا کرنا ممکن نہیں ہو گا کیونکہ مذکورہ دو مطالبوں کی تکمیل بجائے خود، اس کی من چاہی مرضی میں رکاوٹ ثابت ہو گی،....... اس لیے اسلام کی نئی تعریف کی تلاش کے اس مرحلے پر موضوعیت (subjectivity) کو در آنے کا کم سے کم موقع ملے گا۔ 
(۱۸)
اہلِ علم کو اس نکتے پر غور کرنا چاہیے کہ نزولی ترتیب کا حامل قرآن خدا نے نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا، لیکن چونکہ یہ ایک خاص عمرانی صورتِ حال میں نازل ہوا، اور اس کے مخاطبین اسی صورتِ حال کے پروردہ تھے، اسی لیے اس پورے نزولی قرآن کو مخصوص صورتِ حال اور مخصوص مخاطبین تک محدود کرنے کے لیے، اور آنے والے زمانوں کو اس نزولی قرآن کے علائق و قرائن سے محفوظ رکھنے کے لیے پورے نزولی قرآن کی پوری ترتیب کو بدل دیا گیا۔ اب اہلِ علم کے غور کرنے کا مقام ہے کہ کیا ائمہ اربعہ یا دیگر فقہاو اصولیین کی اختراعات، (جو کہ مخصوص عمرانی صورتِ حال کی پیداوار اور اس کی مطابقت میں تھیں)اس نزولی قرآن سے بہت بڑھ کر ہیں کہ ہم انھیں ہمیشہ کے لیے ساتھ لیے پھریں؟ 
فی زمانہ ایک ایسا ٹھیٹھ مذہبی حلقہ بھی پایا جاتا ہے جس کے افراد جسمانی طور پر معاصر عمرانی صورتِ حال سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن ذہنی طور پر ابتدائے اسلام کے دور میں رہتے ہیں۔ انھیں بھی اس نکتے پر غور کرنا چاہیے کہ ابتدائے اسلام کے علائق و قرائن ایک خاص حکمت کے تحت ہی صرف اسی دور کے لیے مخصوص کیے گئے تھے(جیسا کہ اوپر کی سطور میں واضح ہو چکا)۔ اگر یہ لوگ اپنے موقف پر بضد قائم ہیں تو انھیں چاہیے کہ اولاً، ویسی ہی عمرانی صورتِ حال پیدا کریں، دوم ، اسی نبوی نزولی ترتیب کا دوبارہ اطلاق کرکے صورتِ حال کی اصلاح کریں۔ ہماری نظر میں یہ دونوں کام محال (impossible) ہیں۔ 
(۱۹) 
خلاصہ بحث یہ ہے کہ اسلام کی نئی تعریف کی تلاش کے لیے سب سے پہلے واقعی صورتِ حال کا ادراک درکار ہے۔ انسانی مسائل کی نشاندہی، مسائل کی نشاندہی میں ترجیحات وغیرہ۔ اس کے بعد ہمیں حتمی ترتیب کو (بتدریج) اپنے مخصوص احوال کے تناظر میں (نئی) نزولی ترتیب میں ڈھالناہے، جو عہدِنبوی ﷺ کی نزولی ترتیب سے کافی مختلف ہوسکتی ہے، اور ضروری نہیں یہ ترتیب مکمل بھی ہو۔ عجیب بات یہ ہے کہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں پورا قرآن مجید ایک ہی وقت میں نازل نہیں ہوا، یعنی نبوی نزولی ترتیب میں پورے کا پورے قرآن یک دم سامنے نہیں آیا۔ لیکن اب پورا قرآن موجود ہے اور ہم اسے پور ا ہی نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی مکمل قرآن لوح محفوظ میں (مستور) موجود تھا، اب وہی مستور لوح محفوظ ، حتمی ترتیب کی صورت میں ہمارے سامنے افشا ومنکشف ہے۔ حتمی ترتیب کا حامل یہ قرآن پاک اسی طرح پورا ہے جیسے نبوی عہد میں نزول کے دوران میں (مستور) لوحِ محفوظ میں پورا اور مکمل موجود تھا۔ پھر اسی پورے اور مکمل قرآن میں سے بتدریج اور صورتِ حال کے موافق آیات نازل ہوتی رہیں۔اب ہمیں بھی نزولِ قرآن کی حکمت کے اتباع میں، افشا لوحِ محفوظ(حتمی ترتیب کے حامل موجودہ قرآن) سے نئی نزولی ترتیب بنانی ہے۔ اب ہمیں بھی لوح محفوظ (حتمی ترتیب) سے نزولی ترتیب کی طرف آنا ہے،اب لوح محفوظ سے حسبِ منشا آیات لینے میں خدا اور جبریل ؑ کا کوئی کردار نہیں ہے کہ مشیتِ ایزدی کے تحت اہلِ علم کو یہ کام خود کرنا ہے۔ البتہ اس دوران میں نبوی نزولی ترتیب اور اس کے حاصلات کو ’’ماڈل‘‘ کے طور پر لینا ہے، کہ کہیں صورتِ حال پر غالب آنے کے بجائے الٹا اس کا شکار نہ ہو جائیں۔ 
(۲۰)
بحث کے اختتام کی طرف بڑھتے ہوئے ہم گزارش کریں گے کہ عصرِ حاضر میں (پاکستان جیسے ممالک میں) اسلام کے نفاذ کی جدوجہد کرنے والے، کسی نہ کسی درجے میں اپنے نام نہادمقاصد پا لینے کے باوجود، حقیقی مقاصد اس لیے حاصل نہیں کر پاتے، کیونکہ وہ اسلام کی ایک فرسودہ (out dated) قانونی تعریف سے چمٹے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ انھوں نے اپنی کوششوں کے بل بوتے پر اجتہاد کا دروازہ بند رکھا ہوا ہے اور امت کو بہت بڑے انتشار سے بچایا ہوا ہے۔ ہم اوپر کے مباحث میں دیکھ آئے ہیں کہ اجتہاد کے بند دروازے کے افسانے کے پیچھے ، اصلاً اخلاقی اقدار (امانت،حیا،دیانت) کے جنازے کا سانحہ، امت مسلمہ پر قیامتِ صغریٰ بن کر ڈھ چکا ہے۔ یہ سانحہ، اسلام کی نئی تعریف کی دریافت (اجتہاد) میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ 
اہلِ علم کو یہ نکتہ دھیان میں رکھنا چاہیے کہ نبوت ملنے سے پہلے نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفاتِ مبارکہ میں سے ’’امانت اور دیانت‘‘ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید ترین مخالفین بھی قائل اور معترف تھے۔ یہ دونوں صفات اگرچہ ذاتی ہیں، لیکن اپنے دائرہ کار کے لحاظ سے معاشرتی ہیں۔ مذکورہ مباحث کے تناظر میں ہم یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم ’’امانت و دیانت کی معراج‘‘ پر تھے، اسی لیے (پردہ غیب میں موجود) لوحِ محفوظ سے قرآن پاک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا۔ یعنی بنیادی طور پر صفاتِ امانت و دیانت کی بدولت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کا حق دار ٹھہرایا گیا، اور قرآن کو پردہ غیب سے ظہور میں لایا گیا۔ عام انسانوں کے لیے امانت و دیانت کی اس سطح تک پہنچنا محال ہے۔ اس لیے عام انسان اپنی دیانت کے بل بوتے پر پردہ غیب سے تو قرآن کو ظہور میں نہیں لا سکتے(اسی لیے اللہ رب العزت نے اپنی خاص رحمت (رحمت للعالمین ﷺ) کے ذریعے انسانوں کی یہ مشکل آسان کر دی ہے)، لیکن عام انسان دیانت کے خالصاً انسانی درجے کے ذریعے، پہلے سے ظہور میں آئے ہوئے قرآن کا(دوبارہ) انزال تو کر سکتے ہیں۔ مشیتِ الٰہی، انسانی دیانت سے اسی انزال کا مطالبہ کرتی ہے۔
اس لیے یہ توقع رکھنا غلط نہیں ہو گا کہ اسلام کی فرسودہ قانونی تعریف سے چمٹے رہنے کے بجائے اگر مسلمان قرآن کے تاریخی نظریے کی روشنی میں تاریخی شعور سے بہرہ مند ہو جائیں تو باحیا (modest) ہونے کے ناتے خداد داد صلاحیتوں کی امانت میں خیانت کے مرتکب نہیں ہوں گے، جس کے نتیجے میں ان کے لیے معاصر عمرانی صورتِ حال کے بھر پور ادراک کے بعد دیانت کے بل بوتے پر قرآن مجید کو زندہ مسائل کی مطابقت و موافقت میں لینا مشکل نہ رہے گا۔ آخر میں ہم گزارش کریں گے کہ نفاذِ اسلام کی جدوجہد کرنے والوں کو اس حقیقت سے واقف ہو جانا چاہیے کہ عصرِ حاضر میں اسلام کی تنفیذ کوئی قانونی قسم کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ حقیقت میں اخلاقی اور فکری نوعیت کا مسئلہ ہے۔ مسئلے کی اخلاقی و فکری اور جمالیاتی نوعیت، نفاذ (implementation) کی نہیں بلکہ نفوذ (penetration) کا تقاضا کرتی ہے۔ اس لیے اسلام کی قانونی تنفیذ کے پیچھے اپنی صلاحیتیں ضائع کرنے کے بجائے ان حضرات کو ’’تفقہ فی الدین‘‘ کی بلاغت پر اپنی عمریں کھپانی چاہییں۔ 

استدراک

پاکستان میں ریاستی اور معاشرتی سطح پر جس درجے کی بے حیائی بے ایمانی اور بددیانتی رواج پا چکی ہے، اسے دیکھتے ہوئے اصلاحِ احوال کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ ہم نے یہ مضمون رمضان المبارک میں تحریر کیا ہے۔ رمضان کے مبارک مہینے میں پاکستان کی مسلم اکثریتی آبادی کا ایک ایساطرزِ عمل مشاہدے میں آتا ہے جس سے بہتری کی آس لگ جاتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت روزہ رکھتی ہے اور ہم سمیت تقریباً سبھی لوگ بھوکاپیاسا رہنے ہی کو روزہ سمجھتے ہوئے کھانا پینا ترک دیتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم لوگ روزہ دار ہوتے ہوئے بھی باہمی معاملات میں اگرچہ بڑی ڈھٹائی سے ایک دوسرے کو ہاتھ کراتے ہیں لیکن خدا سے شرم کھاتے ہیں اور کثرتِ مواقع کے باوجود کھانے پینے سے مکمل پرہیز کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے اندر کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی درجے میں خدا سے ایسے تعلق کی خوبو موجود ہے جو ہمیں باور کراتی رہتی ہے کہ خدا دیکھ رہا ہے۔ اگر ہم سماجی و ریاستی فریضے کی انجام دہی میں بھی خدا پر ایمان اور اس کے دیکھنے کا یہ تصور لے آئیں تو نہ صرف باحیا ہو سکتے ہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کے دیانت دارانہ اظہار سے انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ 

ماہنامہ ’الشریعہ‘ اہل علم و ادب کی نظر میں

ادارہ

اہل علم وادب کے پیغامات اور تبصروں کا ایک انتخاب


’’میں روز اول ہی سے اس رسالے کا باقاعدہ قاری ہوں۔ آپ کی تحریروں اور مضامین میں جو اعتدال اور توازن ہوتا ہے، وہ گزشتہ کچھ عرصے سے کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ کی تحریریں ملک میں ایک متوازن اور معتدل مذہبی رویے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گی۔‘‘ 
(ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ، سابق صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد)

’’آپ نے ایک نئی طرح ڈالی ہے۔ باعث دلچسپی ہے۔ خدا کرے رفتہ رفتہ یہ تجربہ ایسے نہج میں ڈھل جائے کہ سوچ کی مثبت اور مفید تبدیلی کو راہ ملے۔ آپ کو ما شاء اللہ رفقائے قلم اچھے میسر آگئے ہیں۔ شاید نئی نہج ہی کی برکت ہے۔‘‘ 
(مولانا عتیق الرحمن سنبھلی، سرپرست ماہنامہ الفرقان، لکھنو)

’’آپ کا رسالہ ’الشریعہ‘ ایک مدت تک میری نظر سے گزرتا رہا۔ مسائل حاضرہ کو ان کے صحیح تناظر میں دیکھنے پر آپ کو مبارک باد دیتا ہوں۔‘‘ 
(ڈاکٹر رشید احمد جالندھری، سابق ڈائریکٹر ادارۂ ثقافت اسلامیہ، لاہور)

’’اپنے علمی اور دینی معیار کے اعتبار سے اور موضوعات کے تنوع کے لحاظ سے بلاشبہ ’الشریعہ‘ صف اول کا جریدہ ہے۔ .... ’الشریعہ‘ وہ واحد اردو جریدہ ہے جسے اول تا آخر پڑھتے ہوئے خوشی ہوتی ہے۔ ۔۔۔ اختلاف رائے کو رواداری کے ساتھ قبول کرنا، دوسرے کی رائے کو احترام کے ساتھ سننا، اگر اس سے اتفاق نہ ہو تو نہایت ہی احترام کے ساتھ اس سے اختلاف کا اظہار کرنا۔ یہ ایک ایسی خوشگوار اور ایسی حیرت انگیز روایت اس ادارے نے قائم کی ہے کہ آپ کو پورے پاکستان میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔‘‘ 
(ڈاکٹر ممتاز احمد، صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد)

’’الشریعہ شکریے اور مبارک باد کا مستحق ہے کہ اس نے اس لوٹ کھسوٹ کے دور میں بھی علمی مباحثے کا فورم مہیا کیا ہوا ہے جس کے نتیجے میں گراں قدر علمی تحقیقات سے استفادے کا موقع میسر آ جاتا ہے۔ ۔۔۔ ماہنامہ الشریعہ جس قدر اہم، وقیع، علمی اور تحقیقی مجلہ ہے، اس کے معیار، مقام، اثرات اور محبوبیت کا کارپردازان الشریعہ کو کماحقہ علم یا احساس نہیں‘‘ 
(ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی، سابق ڈین فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد)

’’الشریعہ‘‘ اتنا بڑا ماڈل ہے کہ ڈاکٹر ظفر الاسلام (مدیر ملی گزٹ، دہلی) نے مجھ سے کہا کہ ہمیں ’الشریعہ‘ جیسا فکری پرچہ انڈیا سے بھی نکالنا چاہیے۔‘‘ 
(مولانا محمد وارث مظہری، مدیر ’’ترجمان دار العلوم‘‘ دہلی)

’’میں الشریعہ کی تحریروں کا خاص توجہ سے مطالعہ کرتا ہوں۔ ایسا فکری جریدہ ہمارے ہاں انڈیا سے شائع نہیں ہوتا۔‘‘ 
(مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی، مدیر سہ ماہی ’’احوال وآثار‘‘ کاندھلہ، انڈیا)

’’الشریعہ کی پاکستان کے علمی حلقوں میں اپنے مخصوص اسلوب اور سنجیدہ تحریروں کے باعث امتیازی پہچان ہے۔ الشریعہ قدیم علمی مباحث کے بجائے امت کو درپیش زندہ مسائل میں راہنمائی کو فوقیت دیتا ہے۔ ...... ہماری دانست میں سنجیدہ علمی تحریروں سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے ’الشریعہ‘ کا انتخاب بالکل بجا ہے۔‘‘ 
(مولانا محمد ازہر، مدیر ماہنامہ ’’الخیر‘‘ ملتان)

’’الشریعہ کسی دوسرے درجے کے رسالے کا نام نہیں، بلکہ مبالغہ نہ ہو تو میں اسے پاکستان کے چند نمایاں ترین علمی جرائد میں شمار کروں گا۔‘‘
(آصف محمود ایڈووکیٹ، کالم نگار روزنامہ ’’آج کل‘‘)

’’میں ہر طرح کا لٹریچر اور ہر مکتبہ فکر کی کتابیں یکساں دلچسپی سے پڑھنے کا عادی ہوں، لیکن سچ پوچھیے تو میں آہستہ آہستہ ’’الشریعہ‘‘ کا مستقل قاری بن گیا۔ اس کی وجہ اس مجلے کا متوازن مزاج بھی تھا اور اس کا جواں سال ایڈیٹر محمد عمار ناصر خان بھی۔ اس مجلے میں مجھے پروفیسر شاہدہ قاضی کے عالمانہ مگر تلخ حقائق پر مبنی تحقیقی مضامین بھی پڑھنے کو ملے اوران پر پروفیسر انعام ورک کی تنقید بھی۔‘‘ 
(راجہ انور، دانش ور وصحافی)

’’الشریعہ میں ان کا تحریر کردہ اداریہ فکر ونظر کی بالیدگی کا بھی ذریعہ تھا اور عصر حاضر کی ضرورتوں اور تقاضوں کو سمجھنے اور ان کے لیے راہ عمل کی طرف راہنمائی بھی کرتا تھا۔‘‘ 
(مولانا صلاح الدین یوسف، دار السلام، لاہور)

’’ہر مہینے ’’الشریعہ‘‘ میں آپ کی نگارشات پڑھتا ہوں جو ہمیشہ فکر انگیز اور بصیرت آموز ہوتی ہیں۔ علمی گہرائی کے ساتھ ساتھ نقطہ نظر کی اعتدال پسندی اور تجزیے کی معروضیت ان نگارشات کو ہمارے دینی اور ذہنی ادب کا شاہکار بنا دیتی ہے۔‘‘
(قاضی جاوید، ڈائریکٹر ادارۂ ثقافت اسلامیہ لاہور)

’’الشریعہ‘ ایک ایسا پرچہ ہے جس کا انتظار رہتا ہے اور اس انتظار کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں سلگتے ہوئے دینی واجتماعی مسائل پر ’’سود وزیاں‘‘ سے بالاتر رہتے ہوئے بحث کی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔‘‘ 
(پروفیسر سلیم منصور خالد، ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘)

’’یہ محض زبانی الفاظ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ دینی رسالوں کے ایک جم غفیر میں مجھے یہ ہی رسالہ ایسا لگا کہ جسے میں اپنے پڑھے لکھے دوستوں میں پیش کر سکتا ہوں۔ ....انگریزی میں ایک محاورہ ہے: Food for thought۔ .....آپ کا رسالہ دراصل یہی ’ذہنی غذا‘ فراہم کر رہا ہے، اور واللہ یہ آج کی بہت ہی نایاب جنس ہے۔‘‘ 
(ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان)

’’آپ نے آزادانہ علمی بحث کے ذریعے مسائل کو سمجھنے کا بہترین طریقہ اختیار فرمایا ہے جو انتہائی قابل قدر ہے اور اس سے ایک دوسرے کو سمجھنے سمجھانے کا بہت اچھا فائدہ حاصل ہوا ہے۔‘‘ 
(محمد یونس قاسمی، ایڈیٹر ’’خلافت راشدہ‘‘)

’الشریعہ‘کا ہر صاحب دل ونظر قاری محسوس کر سکتا ہے کہ آپ جیسے صاحبانِ علم کا قلم نفرتوں کی بھسم کرتی ہوئی آگ پر محبتوں کی برکھا برسانے اور قومی وجود پر جگہ جگہ موجود زخموں پر پھاہے رکھنے کی اپنی سی کوشش میں مصروف ہے۔‘‘ 
(ڈاکٹر محمد شہباز منج، شعبہ اسلامیات، سرگودھا یونیورسٹی)

’’روایتی مذہبی میگزین یا رسالوں کے لیے تو کوئی گنجائش نہیں نکلتی، لیکن آپ کا ’الشریعہ‘ جب ہاتھوں میں آتا ہے تو نہ نہ کرتے ہوئے بھی محض ورق گردانی کے دوران اس کے بیشتر حصے پڑھتا چلا جاتا ہوں۔ یہ آپ کے میگزین کی خوبی یا دلچسپی ہے کہ چھٹتی نہیںیہ کافر منہ کو لگی ہوئی۔‘‘ 
(افضال ریحان، کالم نگار روزنامہ پاکستان، لاہور)

’’حالات حاضرہ اور بعض علمی نکات کے حل میں الشریعہ کا شاید ہی کوئی ثانی ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اس سعی کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین‘‘ 
(مولانا محمد فاروق کشمیری)

’’ماہنامہ الشریعہ ہر مہینے وصول ہو کر ہوا کا ایک تازہ جھونکا مہیا کرتا رہتا ہے۔ ..... الشریعہ جیسے جریدے میں اپنے نقطہ نظر کی اشاعت میں ایک فائدہ یہ بھی متوقع ہے کہ اسے تنقید اور بحث کی چھلنی سے گزرنے کا موقع مل جائے گا اور اس سے مختلف کوئی رائے ہوگی تو وہ بھی سامنے آ جائے گی۔ دیگر دینی جرائد میں یہ بات تقریباً ناپید ہے۔‘‘ 
(مولانا مفتی محمد زاہد، شیخ الحدیث جامعہ امدادیہ، فیصل آباد)

’’ماہنامہ ’الشریعہ‘ باقاعدگی سے فکر ونظر کی تازگی کے لیے موصول ہو رہا ہے۔ بظاہر مجلہ پچاس کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل ہوتا ہے، لیکن ان صفحات میں جو مواد ہوتا ہے، وہ نہایت قیمتی اور فکر انگیز ہوتا ہے۔ مجلہ کو جب تک اول تا آخر پڑھ نہ لیا جائے، چین نہیں آتا۔‘‘ 
(ڈاکٹر محمد عبد اللہ، شعبہ اسلامیات، جامعہ پنجاب)

’’ادارہ میں آنے والے جرائد ورسائل میں ایک ’الشریعہ‘ بھی ہے جسے بالاستیعاب پڑھتا ہوں اور اس کے مضامین سے استفادہ کرتا ہوں۔‘‘ 
(مولانا ارشاد الحق اثری، ادارۂ علوم اثریہ، فیصل آباد)

’’ماہنامہ الشریعہ ایک معیاری رسالہ ہے جس میں عصر حاضر کے اہم موضوعات، حالات وواقعات پر خوبصورت مواد پڑھنے کو ملتا ہے جو کہ ہمارے طلبا وطالبات، ریسرچرز اور اساتذہ کرام کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔ ‘‘ 
(رفعت رفیق، لائبریرین، شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ پنجاب)

’’دیگر اسلامی جرائد بھی موصول ہوتے ہیں، لیکن الشریعہ کا فکری رنگ ہی منفرد اور جداگانہ ہے۔ میں ہرشمارہ بڑی توجہ سے پڑھتاہوں اور کئی مرتبہ اس کے روشن خیالی اور شعور انسانیت پر مبنی فکر انگیز مضامین اپنے ہم خیال مسلم دوستوں کو بھی پڑھنے کے لیے دیتاہوں۔‘‘ 
(ڈاکٹر کنول فیروز، مسیحی راہنما)

’’یہ مختصر سا رسالہ علمی وادبی جرائد میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ مباحثہ ومکالمہ کے مضامین نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ ..... ماشاء اللہ دیکھا جائے تو الشریعہ میں سب کچھ ہی پڑھنے کے قابل ہے۔ ‘‘ 
(جاوید اختر بھٹی، ادیب ونقاد، ملتان)

’’ماہنامہ الشریعہ ۔۔۔ ملک کا نامور ماہنامہ ہے ۔۔۔ بحث و مباحثہ کے پلیٹ فارم پر اس رسالہ نے اہل علم اور عوام الناس میں غیر معمولی شہرت حاصل کی ہے۔‘‘ 
(مولانا محمد فیاض خان سواتی، ماہنامہ ’’نصرۃ العلوم‘‘، گوجرانوالہ)

’’اس علمی جریدے نے روز اول سے عمومی گروہ بندی اور فرقہ بندی سے اٹھ کر فکری حوالے سے ایسی ساکھ بنا لی ہے کہ یہ جریدہ ’’پڑھے جانے والے جرائد‘‘ میں سرفہرست ہے۔ اس کے مضامین میں تنوع کے ساتھ ساتھ اجتماعیت کا رنگ نمایاں ہے جو گہرائی اور گیرائی کے ساتھ لکھے جاتے ہیں ۔۔۔ اس علمی جریدہ نے مختلف حوالوں سے اپنی خصوصی اشاعتوں میں فکری رہنما کاکردار ادا کیا ہے۔‘‘
(مولانا عبد القیوم حقانی، ماہنامہ ’’القاسم‘‘ نوشہرہ)

’’جس علمی اور فکری تحریک کی ہمیں اس وقت ضرورت ہے، اس کے لیے ہمیں ایسی ہی کاوشیں درکار ہیں جو ذہنوں میں سوال اٹھائیں، سوچنے پر مجبور کریں اور منجمد ذہنوں کو جنبش دیں۔ یہ بات میں الشریعہ میں چھپنے والے مضامین میں موضوعات کے انتخاب، زاویہ ہائے بحث اور موجودہ حالات میں ان کے انطباق کے حوالے سے کہہ رہا ہوں۔‘‘ 
(صفدر سیال، ماہنامہ ’’تجزیات‘‘ اسلام آباد)

تن ہمہ داغ داغ شد ۔۔۔

حکیم محمد عمران مغل

ایک دبلے تلے اور نحیف نوجوان محمد احمد سے سر راہ ملاقات ہوئی۔ کہنے لگے کہ آپ سے ملاقات کا ارادہ تھا۔ میں وہیں رک کر ان کی داستان الم سننے لگا۔ کہنے گے کہ میں میاں چنوں کے علاقے اقبال نگر سے تعلق رکھتا ہوں۔ اب رزق کی تلاش میں ایک عرصے سے لاہور میں مقیم ہوں اور منوں ٹیکسٹائل مل لاہور میں بطور کیشئر خدمات انجام دے رہا ہوں۔ اگرچہ ملازمت تو شایان شان ہے، مگر کھانا اطمینان سے نصیب نہیں ہوتا، عموماً بازار سے کھانا پڑتا ہے۔ علاج کی تمام امکانی کوششیں رائیگاں جاتی نظر آتی ہیں۔ اپنے طور پر میں نے ہر بڑے معالج کی دکان پر دستک دی ہے۔ مل مالکان نے اپنی پوری کوشش کی ہے کہ میری سابقہ صحت لوٹ آئے۔ مجھے پوری اجازت تھی کہ جہاں سے چاہوں، جیسے چاہوں، مل کی رقم سے اپنا علاج کرا لوں، مگر اب تو معالجوں سے امید ٹوٹ گئی ہے۔ نوجوان نے بتایا کہ مل مالکان ان کی حسن کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ان کا علاج بیرون ملک سے کرانے کا سوچ رہے ہیں۔ 
نوجوان کی جسامت، رنگ، چال ڈھال سے بخوبی اندازہ ہو رہا تھا کہ اس کھنڈر کی عمارت کبھی عظیم تھی۔ ان کے ہر فعل سے کارکردگی کا مظاہرہ ہو رہا تھا۔ساتھ یہ بھی احساس ہو رہا تھا کہ ابھی زندگی کے کئی نازک لمحات سے انھوں نے گزرنا ہے اور ان کا دل ابھی سے زندگی سے اچاٹ ہو گیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ آخر تکلیف کیا ہے اور کتنے عرصے سے ہے؟ کہنے لگے کہ تمام جسم میں دردیں ہیں، خصوصا کھانا کھانے سے دردیں، قے او رمتلی ہونے لگتی ہے۔ کبھی بے حد اشتہا محسوس ہوتی ہے اور کبھی بھوک بالکل بند ہو جاتی ہے۔ کبھی قبض، کبھی پیچش۔ منہ سے مسلسل بدبو، سردرد اوربخار۔ گویا تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم۔ ادھر بیماریوں کی بھرمار، ادھر معالج لاچار۔
اس سے پہلے میرا بیماریوں کے ایسے چھتے سے واسطہ نہ پڑا تھا اور نہ میرے پاس کوئی تیر بہدف نسخہ تھا۔ صلاح مشورے کے بعد میں نے ان سے کہا کہ اللہ کے فضل سے علاج ہو جائے گا، بیرون ملک جانے کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔ میں نے بیماریوں کے بحر ظلمات میں اطبا کے مجربات سے مزین گھوڑے کو دوڑا دیا۔ نوجوان کو خطرناک ترین مرض السر (معدے کا پھوڑا) تھا اور کوڑی کا درد بھی۔ معدہ کے علاوہ پتہ، گردہ، انتڑیوں اور جگر کا ورم بھی عروج پر تھا۔ ایک ماہ کی تگ ودو کے بعد ایک تیر نشانے پر جا لگا اور اللہ نے مریض کو صحت عطا کر دی۔ 
ہو الشافی: دن میں تین بار ہر کھانے کے بعد ہمدرد دواخانہ کی قرحین اور سوسی، صبح وشام سادہ پانی سے استعمال کریں۔ بادی اشیاء سے مکمل پرہیز کامیاب علاج ہے۔ ایک ماہ کے بعد مریض ہشاش بشاش، تنو مند، چاق وچوبند ہوگا۔ 

شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

ادارہ

کیسی بخشش کا یہ سامان ہوا پھرتا ہے
شہرا سارا ہی پریشان ہوا پھرتا ہے

ایک بارود کی جیکٹ اور نعرۂ تکبیر
راستہ خلد کا آسان ہوا پھرتا ہے

کیسا عاشق ہے تیرے نام پہ قرباں ہے مگر
تیری ہر بات سے انجان ہوا پھرتا ہے

شب کو شیطان بھی مانگے ہے پناہیں جس سے
صبح وہ صاحب ایمان ہوا پھرتا ہے

ہم کو جکڑا ہے یہاں جبر کی زنجیروں نے
اب تو یہ شہر ہی زندان ہوا پھرتا ہے

جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

(شاعر: نامعلوم)