توہین رسالت، مغرب اور امت مسلمہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
توہین رسالت کا مسئلہ ایک حالیہ امریکی فلم کے حوالے سے ایک بار پھر پوری دنیا میں موضوع بحث ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اس سلسلہ میں اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں جو ان کے ایمان وعقیدت کا مظہر ہے اور اس حقیقت کا عالمی فورم پر ایک بار پھر بھرپور اظہار ہے کہ دنیا کا کوئی بھی مسلمان کسی بھی حوالے سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتا اور اس سلسلے میں دنیا کے ہر خطے کے مسلمانوں کے جذبات ایک جیسے ہیں۔
میں نے وہ فلم نہیں دیکھی، نہ دیکھنا چاہتا ہوں اور نہ ہی شاید دیکھ سکوں، اس لیے کہ ایک عام انسان کی توہین پر بھی میرے دل میں کچھ نہ کچھ کسک ضرور پیدا ہوتی ہے، کائنات کی سب سے محترم شخصیت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کا منظر کیسے دیکھ سکوں گا؟ میں نے سلمان رشدی کی بدنام زمانہ تصنیف ’’شیطانی آیات‘‘ بھی چند صفحات پر نظر ڈال کر چھوڑ دی تھی کہ اس سے آگے پڑھنے کی مجھ میں سکت نہیں تھی۔
اخبارات میں اس شرمناک فلم کے ہدایت کار نکولا سبیلی نکولا کا ایک بیان شائع ہوا ہے جس میں اس نے کہا کہ مسلمانوں میں برداشت اور حوصلہ نہیں ہے، انھیں اختلاف اور تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔ یہ بات مغرب کے بہت سے دانش ور عرصے سے کہتے آ رہے ہیں اور آج بھی یہ بات سب سے زیادہ زور دے کر کہی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کو اپنے اندر اختلاف اور تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔ میرا مغرب کے ان دانش وروں سے سوال ہے کہ اختلاف وتنقید اور اہانت وتحقیر میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ اور کیا اختلاف وتنقید کے نام پر ہم سے تمسخر واستہزا اور توہین وتحقیر کا حق تو نہیں مانگا جا رہا؟ جہاں تک اختلاف اور تنقید کا تعلق ہے، اس کو مسلمانوں سے زیادہ کس نے برداشت کیا ہے؟ مغرب کے مستشرقین صدیوں سے اسلام، قرآن کریم، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی تہذیب وکلچر کے خلاف مسلسل لکھتے آ رہے ہیں اور مغرب کی یونیورسٹیوں کی لائبریریاں اس قسم کی کتابوں اور مقالات سے بھری پڑی ہیں۔ مسلمانوں نے ہمیشہ ان کا جواب مقالات اور کتابوں کی صورت میں دلائل کے ساتھ دیا ہے اور اب بھی دلیل اور متانت کے ساتھ کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دلیل اور متانت کے ساتھ ہی دیا جا رہا ہے، لیکن تمسخر واستہزا اور توہین وتحقیر کو کسی دور میں بھی برداشت نہیں کیا گیا۔ وہ آج بھی برداشت نہیں ہے اور آئندہ بھی کبھی برداشت نہیں ہوگا۔
مسلمانوں میں اختلاف اور توہین کے درمیان فرق کا شعور بحمد اللہ قائم ہے اور وہ تنقید اور استہزا کے درمیان فاصلے کو بحمد اللہ اچھی طرح سمجھتے ہیں، البتہ مغرب نے یہ فاصلے ختم کر دیے ہیں۔ انھوں نے استہزا، تمسخر، توہین، تحقیر اور تذلیل کو بھی اختلاف اور تنقید کا عنوان دے رکھا ہے اور مسلمانوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اختلاف اور تنقید کو برداشت کرنے کے عنوان سے اسلام دشمنوں کو اس بات کی کھلی آزادی دے دیں کہ وہ قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت مسلمانوں کی کسی بھی محترم اور مقدس شخصیت کو استہزا وتمسخر اور توہین وتحقیر کا جب چاہیں، نشانہ بناتے رہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا اور کبھی نہیں ہوگا۔ نکولا سبیلی نکولا اور اس کے ہم نوا مغربی دانش ور اور میڈیا اس حقیقت کو جتنی جلدی سمجھ لیں، ان کے لیے بہتر ہوگا۔ اس کے بغیر مسلمانوں سے امن یا برداشت کے نام پر کوئی اپیل کارگر نہیں ہوگی، اس لیے کہ مسلمان کا خمیر ہی غیرت وحمیت کے مقدس پانی میں گوندھا گیا ہے۔
توہین رسالت پر مبنی امریکی فلم کے علاوہ پاکستان میں بھی رمشا مسیح کیس کے تناظر میں اس مسئلے کے مختلف پہلووں پر بحث وتمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے دو تین پہلو بہرحال ارباب فکر ودانش کی سنجیدہ توجہ کے مستحق ہیں۔
ایک یہ کہ اس عنوان سے بین الاقوامی سیکولر لابیاں مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے اور لابنگ کے لیے اس قسم کے کیسوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں اور خاص طور پر ورلڈ چرچ کونسل کی طرف سے آئندہ چند روز میں اس موضوع پر منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس سے قبل اس طرح کا ماحول بنایا جا رہا ہے کہ اس کانفرنس کو پاکستان میں توہین رسالت پر موت کی سزا کے قانون کو غیر موثر بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جا سکے۔ بین الاقوامی سیکولر لابیاں پاکستان کے اسلامی تشخص، پاکستان میں نافذ چند اسلامی احکام وقوانین اور خاص طور پر ناموس رسالت کے تحفظ اور قادیانیوں کی غیر اسلامی سرگرمیوں کی روک تھام کے قوانین کے درپے ہیں اور ان کی مسلسل کوشش ہے کہ ان قوانین کو ختم کرا دیا جائے یا کم از کم عملی طور پر غیر موثر بنا دیا جائے۔ یہ صورت حال ملک کے دینی حلقوں اور علمی مراکز کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
ہمارا عمومی مزاج یہ بن گیا ہے کہ اس قسم کے معاملات میں وقتی دباؤ کے تحت ہم اکٹھے ہو جاتے ہیں اور احتجاجی میدان میں کچھ نہ کچھ کر بھی دیتے ہیں جس کے فوائد وقتی طو رپر مل جاتے ہیں، لیکن اس بارے میں مستقل طو رپر کوئی پروگرام ہمارے ہاں نظر نہیں آ رہا جس سے ہم عالمی سیکولر لابیوں کی اس مہم کا سنجیدگی کے ساتھ مستقل طو رپر سامنا کر سکیں اور اس کے سد باب کا کوئی معقول راستہ تلاش کر سکیں۔ اگر مسلم حکومتیں اس سلسلے میں کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو دینی قوتوں کو ہی باہمی مشاورت کے ساتھ اس کا اہتمام کر لینا چاہیے۔
دوسری طرف یہ صورت حال بھی ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم لاکھ انکار کریں، مگر توہین رسالت کی سزا کے قانون کا مبینہ طو رپر غلط استعمال اس مسئلے پر ہماری پوزیشن کو مسلسل کمزور کرتا جا رہا ہے اور مسلکی تنازعات میں توہین رسالت کے قانون کی آڑ میں ہم خود اس قانون کو غیر موثر بنانے کا باعث بن رہے ہیں۔ دوسرے واقعات کو ایک طرف رکھیں، گوجرانوالہ میں تین ایسے واقعات خود میرے مشاہدے میں موجود ہیں جو ہمارے لیے جگ ہنسائی کا باعث بن چکے ہیں۔
چند سال قبل گرجاکھ میں ایک مسجد کے امام صاحب قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق تلف کرنے کے لیے جلا رہے تھے کہ ان کے ایک مسلکی مخالف نے دیکھ لیا اور شور مچا کر لوگوں کو جمع کر لیا۔ مولوی صاحب کو گرفتار کر لیا گیا، مقدمہ کا اندراج ہوا اور توہین قرآن کریم کے جرم پر انھیں سزا دلوانے کی مہم شروع ہو گئی۔ پولیس نے ہم سے رابطہ کیا تو خود میں نے لکھ کر دیا کہ قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق کو تلف کرنے کے لیے جلانے کی روایت موجود ہے اور فقہائے کرام نے بھی بعض صورتوں میں اجازت دی ہے، اس لیے اس عمل کو غیر محتاط اور ناپسندیدہ قرار دے کر اس پر سرزنش تو کی جا سکتی ہے، مگر اس پر توہین کی دفعات کا اطلاق درست نہیں ہے۔ اس پر اس غریب امام صاحب کی جان چھوٹی۔
پھر کچھ عرصہ کے بعد کھیالی میں ایک حافظ قرآن کو اسی طرح کے ایک عمل پر ان کے مخالف مسلک کے امام نے مسجد کا لاؤڈ اسپیکر کھول کر شور کر دیا اور لوگوں کو جمع کر کے اس قدر اشتعال دلایا کہ اس حافظ صاحب کو سڑک پر گھسیٹ پر تھانے لے جایا گیا اور اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس ساری کارروائی کے بعد بات کھلی کہ یہ اس کے خلاف مسلکی عناد کی وجہ سے کی گئی تھی۔
ابھی گزشتہ سال کھوکھرکی میں توہین رسالت کا ایک واقعہ سامنے آیا اور اس میں چند مسیحی افراد کو ملوث ظاہر کر کے ان کی گرفتاری کے لیے عوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ کمشنر گوجرانوالہ نے دانش مندی کی کہ فوری طور پر شہر کے سرکردہ علمائے کرام سے رابطہ کر لیا جنھوں نے بروقت مداخلت کر کے صورت حال کو کنٹرول کر لیا، ورنہ بہت کچھ ہو سکتا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ کارروائی کسی کاروباری رقابت میں چند لوگوں کو پھنسانے کے لیے کی گئی تھی، لیکن مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علمائے کرام نے مداخلت کر کے صورت حال کو زیادہ سنگین ہونے سے بچا لیا۔
یہ تین واقعات میرے شہر کے ہیں اور میرے چشم دید ہیں، اس لیے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ توہین رسالت کی سزا کے قانون کا غلط استعمال نہیں ہو رہا، بلکہ اس قسم کے مقدمات کی چھان بین کی جائے تو گزشتہ دس سال میں درج ہونے والے مقدمات کی تعداد بیسیوں میں ہوگی، اس لیے ہمیں تحفظ ناموس رسالت کے قانون کا مکمل دفاع اور تحفظ کرتے ہوئے اس کے دوسرے پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے اور کوئی معقول موقف اور طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
پروفیسر محسن عثمانی ندوی
ابھی کل کی بات ہے کہ امریکی اہانت آمیز فلم کے خلاف پورے عالم اسلام میں غیظ وغضب کے شرارے بلند ہونے لگے تھے۔ مظاہرین نے سفارت خانوں میں آگ لگا دی، سفارت کاروں کی زندگی کا چراغ گل کر دیا اور ابھی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ دنیا محو حیرت ہے، دنیا والوں کو اندازہ ہی نہیں کہ پیغمبر اسلام کے خلاف دریدہ دہنی اور ہرزہ سرائی مسلمان کے لیے کس قدر ناقابل برداشت ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ مسلمانوں کی وفاداری کس قدر ناقابل شکست ہے۔ مسلمان ناموس رسول کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔ اس محبت رسول کو نہ کوئی ختم کر سکتا ہے اور نہ اس خزانہ میں کوئی نقب لگا سکتا ہے۔ یہ محبت اس ذات کی ہے جو افضل البشر ہے اور جس کی حمد وثنا مالک حقیقی نے اپنی کتاب قرآن میں کی ہے اور جس کی تعظیم وتوقیر پچھلے انبیا نے اور تمام حکما اور دانشوروں نے کی ہے اور کرتے رہیں گے اور جس کی ذات مسلمانوں کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ دین اسلام نے تو کفار ومشرکین کے بتوں تک کی توہین سے منع کیا ہے۔ اس دین اسلام کے ماننے والے کسی بھی نبی اور رسول کی اہانت گوارا نہیں کرسکتے ہیں، چہ جائیکہ اس رسول کی اہانت کو گوارا کریں جو ختم الرسل اور مولائے کل اور دانائے سبل ہو ، جس کے لیے خدا اور اس کے فرشتے اور تمام اہل ایمان رات دن درود بھیجتے ہوں اور جس کی شان میں شاہ عبد العزیز محدث نے یہ شعر کہا تھا:
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
رسول کوئی بھی ہو، اس صفخہ ہستی پر وہ رب العالمین اور مالک کائنات کا سفیرہوتا ہے اور مالک کائنات کے سفیر کی بے حرمتی کی سزا قتل ہے اور اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے۔ امام ابن تیمیہ نے اس موضوع پر پوری کتاب السیف المسلول علیٰ شاتم الرسول کے نام سے لکھ دی ہے۔ مرتد اگر تائب ہوجائے تو وہ قابل معافی ہے، لیکن شاتم رسول کو رسول کے جانب سے معاف کرنے کا کسی کواختیار نہیں ہے۔ جو لوگ شاتم رسول کی سزائے قتل کا انکار کرتے ہیں، مغربی معاشرہ کا وائرس ان کے ذہنوں میں سرایت کرگیا ہے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ انگلستان میں بھی اہانت رسول کا قانون موجود ہے، لیکن یہ امتیازی قانون ہے اور صرف حضرت عیسیٰ کے ناموس کا تحفظ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سلمان رشدی جیسے لوگوں کو پیغمبر اسلام کے خلاف دریدہ دہنی کی کھلی اجازت ہے ۔
افسوس ہے کہ اس موقع پر آزادی اظہار کے حوالے غلط طور پر دیے جارہے ہیں۔ دوسروں کے مقدسات اور برگزیدہ پیغمبروں کی اہانت آزادی اظہار کے دائرہ میں نہیں آتی۔انگریزی کا مشہور محاورہ ہے کہ تمہاری آزادی وہاں ختم ہوجاتی ہے جہاں پڑوسی کی ناک شروع ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ آزادی یہ ہے کہ دوسروں کی آزادی میں خلل ڈالے بغیر اور دوسروں کو ایذ ا پہنچائے بغیر کوئی کام کیا جائے۔ کروڑوں انسانوں کے مقتدا کی اہانت کرنا اظہار کی آزادی نہیں ہے، یہ دوسروں کو ایذا پہنچانا ہے اور ان کے جذبات کو مجروح کرنا ہے، کیونکہ مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہوسکتا ہے اور ایک جان نہیں، ہزار جانوں کو قربان کرسکتا ہے۔ وہ رسول اللہ کی جوتیوں کی خاک کو بھی دنیا کے بڑے سے بڑے حکمران کے تاج سے افضل سمجھتا ہے۔
اظہار خیال کی آزادی عین اسلامی طریقہ ہے ۔ اسلام میں ہر شخص کو اظہار خیال کی آزادی دی گئی ہے جب تک کہ اس کا غلط استعمال نہ ہو اور خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی اس میں نہ ہو اور دوسروں کو ایذا نہ پہنچائی جائے۔ہر شخص کو اپنی پسند اور اپنے ضمیر کے مطابق عقیدہ رکھنے اور عبادت کرنے کی پوری آزادی اسلام میں حاصل ہے۔ اعلان کردیا گیا ہے: لا اکراہ فی الدین یعنی دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں ۔ اور صاف کہہ دیا گیا ہے: قد تبین الرشد من الغی فمن یکفر بالطاغوت ویومن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقی یعنی سچائی اور ہدابت کا راستہ گمراہی کے راستہ سے الگ ہو گیا ہے اور واضح ہو گیا ہے۔ اب جس کسی نے بدی اور طاغوت کا انکار کیا، اس نے مضبوط رسی کو پکڑ لیا۔ اسلام نے یہ موقف اس لیے اختیار کیا ہے کہ عقیدہ کا مسئلہ انسان کے ضمیر سے متعلق ہے۔ اس معاملہ میں کسی طرح کا دباؤ غلط اور نا مناسب ہے ۔ اسلام اظہار خیال کے بارے میں یہ موقف رکھتا ہے۔اس کے مقابلے میں عیسائیت کی تاریخ بتاتی ہے کہ مذہب ہی نہیں، سائنسی نظریات کے علم برداروں کو بھی زندہ نذر آتش کردیا جاتا تھا اور اظہار خیال کی کوئی آزادی کسی کو حاصل نہیں تھی۔دوسروں کو چھوڑیے، آج عیسائی دنیا یہ الزام مسلمانوں پر عائد کرتی ہے کہ اسلام میں اظہار خیال کی آزادی نہیں ۔ اردو کا ایک محاورہ ہے: سوپ تو سوپ وہ چھلنی بھی بولی جس میں بہتر چھاج۔
اسلام انسانوں کے درمیان مساوات کا قائل ہے۔ تمام بنی نوع انسان برابر ہیں۔ زبردستی کسی پر کوئی نظام حیات تھوپا نہیں جاسکتا۔ تمام انسان اللہ کی مخلوق ہیں اور اور سب آدم کی اولاد ہیں۔ صحیح راستہ کو سمجھنے اور اختیار کرنے کا حق سب کو یکساں طور حاصل ہے۔ سب مکرم اور قابل احترام ہیں: ولقد کرمنا بنی آدم اس لیے سب ایک دوسرے کے لیے قابل احترام ہیں۔ اسلام نے عالمی اخوت اور بھائی چارگی کا درس دیا ہے، ایک دوسرے پر ظلم، ایک دوسرے کی توہین اور ایذا رسانی کی اجازت نہیں ہے۔ عالمی امن کا یہ بنیادی اصول ہے جس کی اسلام تعلیم دیتا ہے ۔ بدامنی اور جنگ وجدال کی ابتدا اس وقت ہوتی ہے جب اصول شکنی ہوتی ہے اور ایک دوسرے کے مقدسات اور عقیدہ کی اہانت کی جاتی ہے۔ اسلام نے تمام پیغمبروں پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ مشرکین کے بتوں کو بھی برا کہنے سے روکا گیا ہے۔ اگر دنیا ان زریں اصولوں پر عمل کرنے لگے تو امن کا گہوارہ بن جائے۔ بد امنی وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں ان اصولوں کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ اسلام کے لغوی معنی ہی امن اور سلامتی کے ہیں اور اللہ کے ناموں میں ایک نام سلام بھی ہے۔ جو دین امن عالم کا نگہبان ہے، اس میں زور اور زبر دستی اور اظہار خیال پر پابندی کی گنجائش نہیں، بشرطیکہ یہ اظہار خیال کسی کی توہین اور تذلیل کے لیے نہ ہو ۔ اس زمانے میں لوگ اسلام اور اس کے مقدسات کی توہین کرتے ہیں اور مسلمانوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ ان میں تحمل اور برداشت نہیں ہے۔ انہیں اپنی غلطی نظر نہیں آتی، وہ مسلمانوں کے احتجاج پر معترض ہوتے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ کوئی شخص ان کے سامنے ان کے والدین کو گالی دے اور ان کے بزرگوں کے لیے نامناسب الفاظ استعمال کرے تو انہیں کیسا لگے گا؟ بدگوئی، تہمت، الزام تراشی کوئی شخص اپنی بہن ماں اور بیٹی تک کے بارے میں برداشت نہیں کرسکتا، پھر خیر البشر اور افضل الانبیاء کے بارے میں بد زبانی توہین اور جسارت کو کئی مسلمان کیسے برداشت کرسکتا ہے؟
اب سوال یہ ہے کہ اہانت اسلام یا اہانت رسول کے سلسلے میں ہمارا رد عمل کیا ہو نا چاہیے؟ کئی اسلامی ملکوں میں امریکی اور دیگر سفارت خانوں پر حملے ہوئے اور سفیروں کی جان گئی۔ کیا یہ طرز عمل اسلام اور تعلیمات اسلام کے مطابق ہے؟ ہمیں اس بارے میں بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنی چاہیے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنا چاہیے: قل اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول۔ مسلمان ہوتے ہوئے اس سے مفر نہیں کہ مسلمان سیرت رسول، اسوہ رسول اور آپ کے ہر فرمان اور قول کی بے چون وچرا اطاعت کرے۔ دنیا کے تمام مسلمانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اسلام میں سفیر اور سفارت کا احترام کیا گیا ہے۔ سفیر کی جان محترم ہے، اگر چہ وہ دشمن ملک ہی کا سفیر کیوں نہ ہو۔ سفیر کی جان ومال اور آبرو پر اور سفارتکاروں پر حملہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ مسیلمہ کذاب کے دو سفیر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے یہ بھی اقرار کر لیا کہ وہ اب مرتد ہو چکے ہیں تو آپ نے ان سے فرمایا کہ اگر تم قاصد اور سفیر نہ ہوتے تو تمہیں قتل کردیا جاتا، چنانچہ آپ نے ان کو واپس کردیا اور ان سے تعرض نہیں کیا۔ ’’ لولا ان الرسل لاتقتل لضربت اعناقکمتا (احمد وابو داود) حکم یہ ہے کہ کوئی سفیر اگر پیشگی امان لے کر حاضر نہ ہو اور کوئی سفارت کی دستاویز پیش نہ کرے اور صرف یہ اطلاع دے کہ وہ سفیر بن کر آیا ہے، تب بھی اس سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا :
فان دخل بغیر امان فان قال جئت رسولا فالقول قولہ لانہ تتعذر اقامۃ البینۃ علی ذلک ولم تزل تا تی من غیر بینۃ (المغنی ۹ ؍ ۲۸۱)
یعنی اگر دار الاسلام سے باہر کا کوئی شخص بلا امان داخل ہو جائے تو اس سے تحقیق کی جائے گی۔ اگر وہ کہے کہ میں سفیر یا قاصد بن کر آیا ہوں تو اس کے قول پر اعتبار کیا جائے گا، کیونکہ اس پر دلیل قائم کرنا دلیل اور بینہ قائم کرنا دشوار ہے اور سفراء ہمیشہ پیشگی اطلاع کے بغیر آمد ورفت کرتے تھے۔ ( بحوالہ قاموس الفقہ جلد چہارم )
اسلام میں سفارت کا ا حترام اس قدر ہے کہ جب قریش مکہ نے ابو رافع کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفیر بنا کر بھیجا اور ان کے دل میں ایمان میں جگمگا اٹھا اور انھوں نے یہ عرض کیا کہ وہ اب قریش کے پاس واپس نہیں جانا چاہتے اور ایک مسلمان کی حیثیت سے آپ کے پاس رہنا چاہتے ہیں تو آپ نے فرما کہ کہ میں عہد کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا اور تمہیں روک نہیں سکتا۔ ابھی تم وا پس جاؤ اور اگر واپس جانے کے بعد بھی تمہارے دل کی یہی کیفیت رہے تو ہمارے پاس واپس آجانا۔ ( احمد و ابو داؤد)
حکم یہ ہے کہ اگر کفار اپنے پاس مسلمانوں کو قتل کردیں، اس حال میں بھی ان کے قاصد کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ بخاری اور مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی کو امان اور پناہ دی اور پھر اس کو قتل کردیا تو میں اس شخص سے بری ہوں، خواہ وہ مقتول کافر ہی کیوں نہ ہو ۔ اسلام میں کسی کو امان دینے کے بعد امان کی رعایت کرنے اور اس کی خلاف ورزی نہ کرنے کا حکم ہے ۔ سفیر وہ ہوتا ہے جسے اسلامی حکومت کی پناہ حاصل ہوتی ہے، اس لیے اسلامی حکومتوں کی اور مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کا ہر حال میں خیال رکھیں۔ سفیر اور سفارت خانوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ تعدی اور ایذا رسانی سے مکمل پر ہیز کریں۔ اس لیے اس وقت اسلامی دنیا میں امریکہ میں اہانت رسول سے متعلق فلم کے خلاف بطور احتجاج سفارتوں پر حملہ اور سفیر کے قتل کے جو واقعات پیش آ ئے ہیں، وہ افسو ناک ہیں۔ اس رد عمل کو کسی اعتبار سے صحیح نہیں قرار دیا جاسکتا۔ یہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ اس بارے میں اسلامی تعلیمات کو بیان کریں اور عوام کے جوش وخروش کو صحیح اور درست سمت کی طرف موڑ نے کی کوشش کریں۔ محبت رسول میں حکم رسول کی خلاف ورزی کی اجازت کسی حال میں نہیں دی جاسکتی۔
سفارت خانوں پر حملے کے مسلم حکومتوں کے ذریعے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں پر یہ دباؤ ڈالنا چاہیے کہ ایسا قانون وضع کیا جائے جس کے ذریعے دنیا کے تمام مذاہب اور بانیان مذاہب اور مقدسات کا احترام ضروری ہو، ورنہ دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکے گا۔ مذاہب اور پیغمبران عالم کی توہین اور ان کے بارے میں بد گوئی اور بدکلامی آزادی رائے کے دائرہ میں ہرگز نہیں آتی، لیکن مسلمانوں کا اصل اور مثبت رد عمل یہ ہونا چاہیے کہ دنیا کے تمام ملکوں میں اور دنیا کی تمام زبانوں میں پیغمبر امن واخلاق کی تعلیمات کو مؤثر انداز میں پھیلایا جائے اور اس کے لیے تمام جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال کیا جائے۔ اس دنیا میں لاکھوں سعید روحیں اس کی منتظر ہیں کہ اسلام کا پیغام امن ان کے پاس پہنچے۔ یہ کام تعلیم یافتہ عوام وخواص سب کے کرنے کا ہے اور مسلم حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے۔ ہر مسلمان کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا اس نے اپنے غیر مسلم پڑوسی اور غیر مسلم دوست اور احباب تک اس سوغات نجات کو پہنچانے کی کوشش کی ہے ؟ دلوں کے بند دروازے پر دستک دینا اور اسلام کے لیے دلوں کو نرم کرنا اصل کام ہے جس کے لیے امت کو کھڑا ہونا ہے۔
وہ ادائے دلبری ہو یا نوائے عاشقانہ
جو دلوں کوفتح کرلے وہی فاتح زمانہ
اہانت اسلام کے واقعات اور مسلمانوں کا رد عمل
مولانا محمد یحیی نعمانی
ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے کہ اسلامی شریعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ہر قسم کے حالات کے لیے رہنمائی اور نمونہ موجود ہے۔ خصوصاً ایسے اجتماعی مسائل جن کا تعلق پوری امت سے اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلق جیسے نازک مسائل سے ہو، ان میں ہمارا دینی فرض ہے کہ اللہ ورسول کی رہنمائی کے بغیر ایک قدم بھی نہ بڑھائیں۔ موجودہ زمانے میں اسلام اور رسول اللہ کے ناموس مبارک کی توہین کے ملعون واقعات بھی اسی زمرہ کی چیز ہیں۔ اب کون سمجھ دار ہوگا جو مغرب کے مہذب، معقولیت پسند اور روشن خیال ہونے کی غلط فہمی میں مبتلا ہو، بے چارے نے اپنے چہرے پر پڑی ہر نقاب خود ہی نوچ کر پھینک دی ہے۔ نائن الیون کے بعد سے اس پر اسلام دشمنی کا جو ہسٹریا طاری ہے، وہ ہر فریب خوردہ کی آنکھیں کھول چکا ہے۔
مسلمان کے لیے اس کی سب سے قیمتی متاع اللہ اور رسول کی محبت اور دین کا احترام ہے۔ یہ بڑی قیمتی اور مبارک چیز ہے کہ ایک مسلمان اللہ کے رسول کی عزت کی خاطر جاں سپاری کرنا اپنے لیے بڑی سعادت کی بات سمجھتا ہے۔ اسی جذبے سے ا س کی زندگی میں رونق وحسن ہے، یہی اس کے ایمان کا محافظ اور یہی اس کے لیے ابدی سعادت اور جنت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ مسلمانوں کا مزاج رہا ہے کہ وہ ہر تکلیف اپنی جان پر برداشت کر سکتے ہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کانٹا چبھے، یہ ان کے لیے ناقابل برداشت بات ہے۔ پھر کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ رسول اللہ کے کارٹون بنائے جائیں، ان کی تضحیک کی جائے، معاذ اللہ ان پر سنگین اور گھناؤنی تہمتیں لگائی جائیں اور مسلمانوں کو سخت برا نہ لگے۔ یقیناًبرا لگنا، بلکہ شدید تکلیف واذیت محسوس کرنا فطری ہے۔ ایسا نہ ہو تو ایمان میں کمی ہے، لیکن اس تکلیف اور اذیت کے عالم میں کیا رد عمل ظاہر کرنا ہے؟ یہ خود اسی رسول سے سیکھنا اور اس کی سنت سے معلوم کرنا ہے جس نے صاف کہہ دیا تھا کہ مجھے ایسے ایمان والے مطلوب ہیں جو اپنے دل کی ہر خواہش کو میری ہدایات واحکام کے تابع کر دیں۔
رسول اللہ کے زمانے میں اہانت اسلام کی حرکتیں بھی واقع ہوتی ہیں اور توہین رسول کی لعنتیں بھی۔ آپ کو گالیاں بھی دی گئیں، یہاں تک کہ آپ کی پاکیزہ زوجہ مطہرہ ام المومنین حضرت عائشہؓ پر ملعون منافقین نے گھناؤنے الزام بھی لگائے۔ ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ آپ نے مختلف موقعوں پر کیا طرز عمل اختیار فرمایا اور قرآن حدیث نے مسلمانوں کو کیا کرنے کا حکم دیا؟
۱۔ اسلامی شریعت میں مجرم کو قانونی سزا دینے کا اختیار (Authority) باقاعدہ قائم حکومت کو ہے، لہٰذا ایسی حرکت کا مجرم اسلامی ریاست کا باشندہ ہوا تو آپ نے اس کو سخت سزا دی۔ یہ ایک مشہور یہودی مجرم کعب بن الاشرف کا واقعہ ہے۔
۲۔ لیکن عبد اللہ ابن ابی ابن سلول نے جب ایسی حرکت کی اور آپ نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اندازہ ہوا کہ اس سے فتنہ پیدا ہو جائے گا تو آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ (صحیح مسلم، کتاب التوبہ، باب فی حدیث الافک)
اسی شخص کی اسلامی ریاست کے خلاف ایک ایسی ہی خطرناک سازش اور فتنہ انگیز حرکت پر بعض صحابہ نے مشورہ دیا کہ اس کو قتل کی وہ سزا دی جائے جو قانونی طور پر مقرر ہے تو آپ نے فرمایا کہ نہیں، اس سے لوگوں کو ہم کو بدنام کرنے اور یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرا دیتے ہیں۔ (سنن ترمذی، تفسیر سورۂ منافقون)۔
آپ کے اس طرز عمل سے واضح راہنمائی ملتی ہے کہ اگر کسی ایسے مجرم کو سزا دینے سے فتنہ وخوں ریزی کا خطرہ ہو یا صورت حال ایسی ہو کہ اعدائے اسلام کو پروپیگنڈا اور بدنام کرنے کا موقع مل جائے گا اور اس پروپیگنڈے کے موثر اور کامیاب ہونے کا بھی اندیشہ ہو تو پھر ایسی حرکتوں پر اسلامی ریاست (قانونی اختیار ہونے کے باوجود) کوئی اقدام نہیں کرے گی۔
۳۔ اور اگر اہانت اسلام یا توہین رسول کے واقعات کا مجرم اسلامی ریاست سے باہر ہوتا تھا یا اس کو سزا دینا ممکن نہیں ہوتا تھا تو ایسی صورت میں آپ کا طرز عمل صرف اور صرف نظر انداز کر دینے اور صبر کرنے کا تھا اور یہی قرآن کا حکم تھا۔
مسلمان وہ امت ہیں جن کے پاس واضح رہنمائی اور خدائی احکام ہیں۔ قرآن نے مسلمانوں کو صاف آگاہ کیا تھا:
وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ أَشْرَکُوْا أَذًی کَثِیْراً وَإِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَإِنَّ ذَلِکَ مِنْ عَزْمِ الأُمُورِ (آل عمران:۱۸۶)
’’تم ان لوگوں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور مشرکین سے بہت سی دل دکھانے والی باتیں سنو گے، لیکن اگر تم صبر کرو گے او رتقویٰ پر قائم رہو گے تو یہ ہوگی مضبوطی اورہمت والی بات۔‘‘
یہ اہل کتاب مدینہ کی اسلامی ریاست میں رہتے تھے۔ مسلمان اس ریاست کا طاقتور اور مضبوط حصہ تھے، مگر دیکھیے قرآن کہہ رہا ہے کہ ایسی دل آزار حرکتوں کا جواب ہمت ودانش کے ساتھ اختیار کیا گیا صبر کا رویہ ہے اور اس کے ساتھ تقویٰ والی زندگی اور اس کی جدوجہد مسلمانوں کا اصل مشن ہے۔
عربوں کا میڈیا ان کی شاعری تھی۔ قصیدوں کے ذریعے جو ہجو کی جاتی تھی، برق رفتاری سے قبائل میں پھیل جاتی تھی۔ مکہ کے شعراء رسول اللہ کی ہجو کہتے تھے اور آپ کا نام بجائے ’’محمد‘‘ کے ’’مذمم‘‘ رکھتے تھے۔ محمد کے معنی ہیں قابل تعریف اور مذمم کے ’’قابل مذمت‘‘۔ آپ بڑی حکمت کے ساتھ صحابہ کرام کو دلاسہ دیتے اور فرماتے، دیکھو! اللہ ان کے سب وشتم سے مجھے کیسے بچا رہا ہے۔ وہ ’’مذمم‘‘ کو گالیاں دے رہے ہیں اور میں محمد ہوں۔ (بخاری)۔ یہ تھا رسول اللہ کا رد عمل۔ نہ اشتعال، نہ بے صبری، نہ اودھم کود۔
آزادئ اظہار مغرب کی محبوب شے ہے جس سے اس کو سب سے زیادہ عشق ہے۔ اس کی زد میں اگر عیسائیت بھی آتی ہے تو مغرب کو کچھ پروا نہیں ہوتی۔ وہاں حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کے حق میں ہر خباثت ہوتی ہے اور یہ بدنصیب وگمراہ قوم اس کو اس آزادئ اظہار کے نام پر روا رکھتی ہے۔
اہانت اسلام کے ان واقعات کے کیا مقاصد ہیں؟ یہ جاننے کے لیے زیادہ ذہانت کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سب ان شاطر تنظیموں اور لابیوں کی کارستانی ہے جو مغرب میں اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کی عام فضا پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ اہانت اسلام کی حرکتیں کرنے والے دیکھ رہے ہیں کہ ان حرکتوں کے ذریعے ان کا کام کتنی آسانی سے پورا ہو رہا ہے۔ ہر کچھ دنوں کے بعد وہ کوئی ایسی حرکت کر دیتے ہیں اور بس مسلمان جلوس نکال رہے ہیں، آگ لگا رہے ہیں، سفارت خانوں پر حملہ کر رہے ہیں اور اپنی ہی پولیس کی گولیاں اور لاٹھیاں کھا رہے ہیں اور اپنا اور اپنے بھائیوں کا خون بہا رہے ہیں او ربڑی آسانی کے ساتھ میڈیا کو یہ پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل رہا ہے کہ مسلمان بے انتہا جھگڑالو اور اندھا دھند تشدد کے خوگر ہیں۔
کیوں مسلمانوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ان احتجاجوں اور مظاہروں اور مذمتی بیانات سے توہین اسلام کے مرتکبوں کا کچھ بگڑنے والا نہیں؟ اور وہ عقل سے نہیں سمجھتے تو سالوں کے لگاتار تجربات ان کو سبق کیوں نہیں دیتے کہ آج تک کے ان کے ان احتجاجوں کا الٹا ہی اثر ہوا ہے۔ کیا آج تک کسی احتجاج نے اس سلسلے کو روکا ہے؟ اگر ہم ان حرکتوں کو قرآن وسنت کی تعلیم کے مطابق مطلق نظر انداز کر دیتے تو ان کارٹونوں اور فلموں کو کتنے لوگ دیکھتے؟ بس چند ہزار۔ مگر افسوس یہ ہماری نادانی ہے کہ ہم ان کو پوری دنیا میں شہرت دے دیتے ہیں۔ خدایا میری قوم کو عقل دے دے۔
مسلمان جتنا مشتعل ہوتے ہیں اور ان حرکتوں پر جتنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہیں، مغربی میڈیا اتنا خوش ہوتا ہے اور اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، بلکہ وہ ان واقعات کو بھی اسی احتجاج کے کھاتے میں ڈالتا ہے جو کسی طرح اس سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ ابھی تازہ امریکی فلم کے رد عمل میں مسلمانوں کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کی لہر چلی، مغربی میڈیا نے افغانستان میں ناٹو کے اڈے پر طالبان کے حملے کی خبر دی تو بے حیائی کے ساتھ یہ جھوٹ بولا کہ یہ حملہ فلم پر احتجاج میں کیا گیا۔ کابل میں ایک خود کش حملے میں حملہ آور مغربی ملکوں کے افراد مارے گئے تو بھی یہی کہا گیا کہ یہ فلم کا بدلہ لیا گیا ہے۔ غور کیا جائے تو اکیلی یہ بات ہی یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ یہ احتجاج ان مفسدوں اور دشمنوں کے کتنے کام کی چیز ہے۔ مگر افسوس مسلمانوں کے اندر عقل وشعور کی کتنی کمی ہے۔ ان کو جو دشمن جب چاہے، جس طرح چاہے، کھلونا بنا لے اور مزہ دیکھے۔
اہانت اور سب وشتم کرنے والے سے صرف نظر، کوئی مجبورانہ فیصلہ نہیں ہوتا، بلکہ اگر دانش مندی سے کیا جائے تو یہ ایک کامیاب حکمت عملی ہوتی ہے جو جھوٹے الزام کو دفن بھی کر دیتی ہے اور بدگو اور بد باطن دشمن کو انسانیت کی آنکھوں میں ذلیل بھی۔ اسی سے ہمدردیاں حاصل ہوتی ہیں اور اسی سے اسلام اور رسول اسلام کی عزت بھی بڑھتی ہے۔ اسی لیے قرآن نے اس کو ’’عزم الامور‘‘ یعنی مضبوطی اور ہمت کی بات کہا ہے۔
اگر مسلم عوام کی جذباتیت اور بے شعوری پر نہایت افسوس ہے تو اس سے کہیں زیادہ الم ناک واندوہناک یہ بات ہے کہ اکثر وبیشتر ایسے احتجاجی مظاہرے مسلم سیاسی گروہوں کی خالص خود غرضانہ سیاست کا موضوع بن گئے ہیں۔ رسول اللہ کے نام پر اور اسلام کی عزت کے نام پر بری طرح مفادات کی سیاست ہو رہی ہے۔ کیسے کہا جائے کہ عوام کی بے شعوری سے زیادہ مسلمانوں کے قائدین کی یہ بے غیرتی خطرناک ہے کہ وہ ناموس رسول پر بھی اپنی سیاسی دکان چمکانے سے نہیں چوکتے!
جس قوم کی قیادت ایسی ہو، وہ یقیناًاپنے عیار دشمنوں کے لیے سدا نرم چارہ ثابت ہوگی اور ہر داؤ میں چت ہوگی۔ قیادت کا تو کیا رونا کہ وہ تو ہماری بد قسمتی ہی بن گئی ہے، مگر حیرت کی انتہا نہیں کہ اس وقت علماء دین بھی سامنے نہیں آئے کہ یہ سب جو کچھ ہو رہا ہے، یہ سراسر حماقت اور الٹا دشمن کے مقاصد کو پورا کرنے والی بات ہے۔
فلم کا فتنہ
خورشید احمد ندیم
’’اہلِ کتاب !آؤ اس کلمے کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے‘‘۔
’’لبرل‘‘ڈیموکریٹس تو ممکن ہے غور نہ کریں لیکن ’’قدامت پرست‘‘ ریپبلکنز کیا آزادئ رائے کے اپنے تصورات پر نظرثانی کریں گے؟
یہ فتنہ کس نے اٹھایا ،تا دمِ تحریر متحقق نہیں ہوا۔لوگ ٹیری جونز کا نام لے رہے ہیں اور مصر کے بعض تارکینِ وطن قطبی مسیحیوں کا بھی۔بعض صیہونی یہودیوں کا ذکر بھی ہورہا ہے۔تاہم یہ واضح ہے کہ فتنہ امریکی سرزمین ہی سے اٹھا۔فتنہ سازوں نے ایک عالم کا چین لوٹ لیا۔ لیبیا میں امریکی سفیر کی جان بھی لے لی۔ غصہ اور احتجاج فطری ہے، تاہم بات وہی صحیح ہے جو بہادر شاہ ظفر نے کہی۔ طیش میں خوفِ خدا اور عیش میں یادِ خدا سے بے نیازی، ان کا شیوہ نہیں جو ایمان رکھتے اور خود کو پروردگار کے حضور میں جواب دہ سمجھتے ہیں۔
میرا تجزیہ یہ ہے کہ یہ بین المذاہب اختلافات یا تعصب کا شاخسانہ نہیں، وسیع ترتناظر میں اقدار کا جھگڑا ہے، دونظام ہائے فکر کا۔ ایک وہ جو خود کو الہامی روایت سے وابستہ کہتا ہے اور دوسرا وہ جو غیرالہامی روایت سے۔ اہلِ مذاہب میں سے ایک انتہاپسند اقلیت ٹیری جونز کی طرح دیا سلائی دکھاتی ہے اور یوں معرکہ برپا ہوجاتا ہے۔
انسانوں کے مابین غوروفکر کے دوہی ماخذ رہے ہیں۔آسمانی الہام یا پھر عقل وخرد۔ الہامی روایت میں عقل متروک نہیں ہے۔ تاہم اس روایت میں الہام یا وحی کو بطور ذریعۂ علم، عقل پر برتری ہے۔ اس کے برخلاف دوسری روایت میں انسانی عقل علم کا تنہا ماخذ ہے۔ ایک الہامی روایت ہے اور دوسری لبرل۔ الہامی روایت یہ ہے کہ اس عالم کا ایک پروردگار ہے اور وہی انسان کا بھی خالق ہے۔ ابن آدم کو زندگی کیسے گزارنی ہے، اس کا فیصلہ تو عالم کا پروردگار ہی کرے گا۔ اس کی ہدایت انبیا کی معرفت انسانوں تک پہنچی ہے۔ ’’انبیا‘‘ کا تصور مذاہب میں مختلف علیہ ہے، لیکن ہر مذہب خدا اور عام انسانوں کے درمیان ایک حوالے کو قبول کرتا ہے جو دراصل منشاء پروردگار کو جاننے کا ماخذ ہے۔ یہ زندگی کی ایک مابعدالطبیعیاتی تعبیر ہے۔ اس کے برخلاف لبرل ازم، فی الجملہ طبیعیات ہی پر یقین رکھتا ہے۔ یوں خالق، الہ،مذہب، بنی، الہام، روح جیسی اصطلاحیں اس کے لیے اجنبی ہیں۔جب اس کے نزدیک ان کا وجود ہی ثابت نہیں تو پھر کیسی عبادت اور کیسا تقدس؟ یوں زندگی کا الہامی تصور ان کے لیے غوروفکر اور استہزا کامحل ہے۔ اس کے مظاہر ہم دیکھتے ہیں جب خاکے بنتے اور ٹیری جونز جیسے فسادی الہامی کتابوں اور شخصیات سے کھلواڑ کرتے ہیں۔
ٹیری جونز کو مسیحی روایت نے مسترد کردیا ہے۔اس نے پہلی بار جب یہ حرکت کی تو اس کے بلاوے پر صرف چالیس افراد جمع ہوسکے۔ پاکستان کے مسیحیوں نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس کے خلاف احتجاج کیا۔ مذاہب کا اختلاف تو ہے اور رہے گا، لیکن مذہبی روایت میں انسانوں کا احترام بنیادی اصول ہے۔ اس روایت میں بھی بعض اوقات غیر ذمہ داری کا مظاہرہ ہوتا ہے جیسے کیتھولک کلیسا کے سابق پیشوا نے چند صدیاں پہلے کی ایک کتاب کا حوالہ دے کر ایک بحث اٹھادی تھی۔ تاہم اس وقت بھی اسے پذیرائی نہیں ملی۔ اب ویٹی کان کے علاقے میں مسجد قائم ہے اور مسلمانوں کا یہ حق تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ اپنی دینی روایت کے مطابق عبادت کرسکتے ہیں۔
میرے نزدیک آج مذہبی روایت کو فی نفسہ دوچیلنج درپیش ہیں۔ ایک لبرل ازم کا اور دوسرا انتہاپسندی کا۔ انتہاپسندی ہی دراصل لبرل ازم کے لیے راہ ہموار کرتی ہے جب انتہاپسند مذہب کا تعارف بن جاتے ہیں۔ آج ضرورت ہے کہ مذہبی روایت کو ماننے والے ان دو تصورات کے خلاف جمع ہوں۔ وہ چونکہ ایک نظامِ اقدار کو مانتے ہیں جس میں الہام کو بنیاد کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے وہ اپنے مشترکات کی بنیاد پر ایسا ضابطۂ اخلاق تشکیل دے سکتے ہیں جس میں ٹیری جونز جیسے لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔ دنیا کا امن آج ابراہیمی ادیان کے ماننے والوں سے وابستہ ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آج کے عالمی تنازعات میں، کشمیر کے استثناء کے ساتھ اسی روایت کے پیروکار نبردآزما ہیں۔ علی وجہ البصیرت، میری رائے یہی ہے کہ ان تنازعات کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ امریکا کو اسلام سے کچھ لینا دینا نہیں، الا یہ کہ اس عنوان سے کوئی تعبیر اس کے سامراجی عزائم میں حائل ہو۔ امریکا سامراج ہے اور سامراج کسی مزاحمت کو گوارا نہیں کرتا۔ کل اس کا ہدف سوویت یونین تھا، حالانکہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ آنے والے کل اس کا ہدف چین ہوگا اور ظاہر ہے کہ اس کا بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ طاقت کا کھیل ہے جسے کبھی ختم نہیں ہونا۔ اہلِ مذہب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی روایت کو اس کھیل سے الگ کرلیں۔
میرا احساس ہے کہ یہ معاملہ محض قرآن مجید یا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع کا نہیں ہے۔ لبرل ازم کے نزدیک سیدنا مسیحؑ یا سیدنا ابراہیمؑ بھی کسی تقدس کے مستحق نہیں۔ اس تصور میں تو ان شخصیات کی تاریخی حیثیت ہی مشتبہ ہے۔ اس لیے آج پھر ایک آوازبلند کرنے کی ضرورت ہے کہ ’’اے اہلِ کتاب! آؤ اس کلمہ کی طرف جو تمہارے اور ہمارے درمیان مشترک ہے‘‘۔ اگر مذہب کی نمائندہ شخصیات پر مشتمل ایک عالمی فورم وجود میں آجائے جسے حکومتوں کی تائید بھی میسر ہو تو ٹیری جونز جیسے اہلِ فساد کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔ یہ اگرچہ مشکل کام ہے کہ یورپ اور امریکا میں اس وقت غالب نقطہ نظر لبرل ازم ہے جو اپنے نظامِ اقدار کے تحت فرد کی بے قید آزادی کا قائل ہے۔ وہ آزادئ رائے کے نام پر ٹیری جونز جیسے لوگوں کو گوارا کرتا ہے۔ تاہم اب وقت آگیا ہے کہ آزادئ رائے اور دشنام طرازی میں فرق کو نمایاں کیا جائے۔ دنیا کو یہ باور کرایا جائے کہ تنقید اور گالی میں فرق ہے اور دنیا کا ہر مہذب آدمی چاہے کتنا ہی لبرل کیوں نہ ہو، اس فرق کو ملحوظ رکھتا ہے۔
سعودی عرب کے بادشاہ نے اس سمت میں ایک قدم اٹھایا ہے، انہوں نے اسپین میں اسی کام کے لیے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ ریاض میں اس مقصد کے لیے ایک ادارہ قائم کردیا گیا ہے۔ اس آغاز کو معنی خیز بنایا جاسکتا ہے۔ مسیحیوں کو یہ آسانی ہے کہ ان کا سواد اعظم ایک مذہبی مرکز کیتھولک چرچ کو قبول کرتا ہے۔ تاہم ان کے بہت سے فرقے اسے نہیں مانتے۔ مسلمان تو پیغمبر کے بعد کسی ایسی مرکزیت کے قائل نہیں البتہ ان کے مسالک کی نمائندہ شخصیات کو جمع کیا جاسکتا ہے۔
اپنا سفیر گنوانے کے بعد مجھے معلوم نہیں امریکیوں کا ردِ عمل کیا ہے، لیکن میرا احساس ہے کہ وہ اس پر سنجیدگی سے غور کریں گے کہ آزادئ رائے، کیا بے مہار آزادی کا نام ہونا چاہیے؟ کوئی مہذب آدمی تشدد کی حمایت نہیں کرتا۔ اس کو کسی صورت روا نہیں رکھا جانا چاہیے۔ پھر یہ بات بھی کسی اخلاقی نظام کے لیے قابل قبول نہیں کہ ایک مجرم کی سزا کسی دوسرے کو دی جائے۔ اسی طرح یہ بھی مذہب اور اخلاق کے خلاف ہے کہ ہر کوئی سرراہ عدالت لگائے۔ خود مدعی ہو، خود منصب اور خود ہی تنفیذ کا اختیار رکھتا ہو۔ پاکستان میں خالد جدون کا قصہ سامنے آیا تو قانون متحرک ہوگیا۔ امریکا میں ایسا قانون نہیں لیکن کیا ٹیری جونز جیسوں کو فساد فی الارض کا مجرم نہیں ٹھہرایا جاسکتا؟
جب تک امریکی میرا کالم نہیں پڑھتے، مجھے اپنے اہلِ وطن ہی سے ہم کلام ہونا ہے۔ مجھے بتانا ہے کہ فساد کا جواب فساد نہیں ہوتا۔ اس حادثے کو ہم اپنی دعوت کا عنوان بنا سکتے ہیں۔ پرامن احتجاج سے اور ایک ایسی تہذیب کے علمبردار کے طور پر جو انسانوں کا احترام کرتی ہے اور فساد کی مذمت کرتی ہے۔ ہم اپنے ہم وطن مسیحیوں کو یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ آپ کی جان ومال کا تحفظ ہمارے دین کا حصہ ہے اور یہ بات ہمیں اس عظیم المرتبت ہستی نے سکھائی جنہیں اللہ نے سارے جہانوں کے لیے رحمت بنایا، ٹیری جونز جیسے بدنصیب جن کی عظمت سے واقف نہیں۔
توہین رسالت کا مسئلہ اور ہماری حکمت عملی
مولانا وقار احمد
آج کل دنیا بھر میں ایک امریکی کی بنائی ہوئی فلم زیر بحث ہے جس میں مبینہ طور پر پیغمبر انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی شرمناک انداز میں توہین کی گئی ہے۔ مسلم دنیا کی طرف سے انتہائی غم اور غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں عوام کے ساتھ ساتھ حکومت نے بھی اس مسئلہ پر احتجاج کیا اور جمعہ ۱۲ ستمبر کو عام تعطیل کا اعلان کیا۔
گزشتہ دو دہائیوں سے یہ صورت حال مسلسل دیکھنے میں آ رہی ہے کہ آزادی رائے کے نام پر مسلم دنیا کے جذبات کو بعض خاص مقاصد کے لیے وقتاً فوقتاً مشتعل کیا جاتا ہے اور ان کارروائیوں کے پس منظر میں عالمی استعمار کے پیش نظرکئی اہم مقاصدہوتے ہیں۔ ان کے حصول کے لیے کبھی توہین قرآن کی جاتی ہے، کبھی پیغمبر انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور کبھی خود مسلم دنیا کے اندر سے مختلف مکاتب فکر کی مقدس شخصیات کی توہین کر کے ان کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کے واقعات کا حل کیا ہے؟ یہ کام کرنے والے تو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق اپنا کام کیے جا رہے ہیں۔ مسلم دنیا کو ان کی روک تھام اور دشمن کو بھر پور جواب دینے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہمیں اس کے لیے کیا رہنمائی ملتی ہے؟
احتجاج کے ذریعے جذبات کا اظہار ایک اچھا اور وقتی طور پر موثر طریقہ ہے، مگر یہ دائمی حل نہیں ہے۔ ہم پاکستان کی اندرونی صورت حال کو دیکھتے ہیں کہ یہاں تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد اس قسم کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جن کو بنیاد بنا کر عالمی برادری پاکستان میں موجود قانون توہین رسالت کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس پر مذہبی حلقوں کی جانب سے احتجاج اور مزاحمت کی جاتی ہے۔ بالآخر پاکستانی حکمرانوں کی وضاحت اور یقین دہانیوں کے بعد معاملہ عارضی طور پر ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور مذہبی حلقے فتح کے نقارے بجانے لگتے ہیں۔ کچھ ہی عرصے کے بعد پھر کوئی ایسا ہی واقعہ پیش آجاتا ہے اور دوبارہ ملک میں وہی بے چینی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔
عالمی سطح پر بھی یہی صورت حال ہے کہ مسلمانوں کے جذبات کو سامراج اپنے مقاصد کے لیے مختلف حیلوں بہانوں سے استعمال کرتا ہے۔ کبھی گوانتاناموبے میں قرآن حکیم کی توہین کے واقعے کو خود امریکی میڈیا پھیلاتا ہے اور پھر دیگر مقاصد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عراقی فدائیوں کا رخ بدل دیا جاتا ہے اور ان کو ان کے ٹھکانوں سے باہر نکالا جاتا ہے۔ کبھی شیعہ سنی اختلافات کی آڑ لے کر ان کی مقدس شخصیات کی توہین کا ارتکاب کروایا جاتا ہے اور اس طرح سے مسلم مزاحمتی قوت کو آپس میں ٹکرا دیا جاتا ہے۔
ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم رہنما اور ماہرین قانون و سیرت مل بیٹھ کر عالمی قانون کے تناظر میں اس مسئلہ کا کوئی حل نکالیں۔ ہمارے خیال میں اگر اس نوعیت کی جدوجہد کی جائے تو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کی روشنی میں اس مسئلہ کا مستقل حل نکل سکتا ہے اور آزادی رائے کی حدود مقرر کی جا سکتی ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی منشور میں جہاں آزادی رائے اور ابلاغ کا حق دیا گیا ہے، وہاں دفعہ نمبر ۳۰ میں اس کی حدود بھی مقرر کر دی گئی ہیں۔ ’’اس اعلان کی کسی چیز سے کوئی ایسی بات مراد نہیں لی جا سکتی جس سے ملک، گروہ یا شخص کو کسی ایسی سرگرمی میں مصروف ہونے یا کسی ایسے کام کو انجام دینے کا حق پیدا ہو جس کا منشا ان حقوق اورآزادیوں کی تخریب ہوجو یہاں پیش کی گئی ہیں۔‘‘ یہ شق واضح طور پر ایسی ہر سرگرمی کی ممانعت کرتی ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سبب بن سکے یا جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔
سی طرح کسی بھی شہری کی دل آزاری کی ممانعت خود اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور میں بیان کر دی گئی ہے۔ بہت سے مغربی ممالک میں توہین مسیح علیہ السلام پر سزا کا قانون موجود ہے۔ نبی انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین محض آزادی رائے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے دنیا کے سوا ارب سے زائد انسانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ یہ دنیا میں فساد اور بد امنی کے فروغ کا سبب ہے۔ یہ قبیح فعل تہذیبوں میں تصادم کی راہ کو ہموار کر رہا ہے۔ مزید یہ کہ انسانی حقوق کے عالمی منشور کی دفعہ نمبر ۲۱ میں ہر انسان کی عزت نفس کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے تو کیا کروڑوں انسانوں کے رہنما کی عزت نفس کی کوئی ضمانت نہیں ہے؟
یہ محض چند اشارات ہیں۔ دنیا بھر کے قوانین میں اس قسم کی دفعات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر اس مسئلہ پرعالمی سطح پر قانونی جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ اس کے بغیر محض فتووں اور جذبات کے اظہار سے مسئلہ کا کوئی حل نکلنے والا نہیں، سوائے اس کے کہ مذہبی رہنماؤں کو کچھ دن کی مصروفیت ہاتھ آ جائے گی۔
ہمارے سامنے سلمان رشدی کی مثال موجود ہے جس نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا اور انتہائی زہریلی کتاب لکھی۔ اس کے خلاف جب برطانیہ کی مسلم کمیونٹی نے قانونی جنگ شروع کی تو برطانیہ کی عام کمیونٹی اور سنجیدہ طبقہ مسلم کمیونٹی کے ساتھ تھا۔ پارلیمنٹ میں اس حوالے سے قرارداد پیش کرنے کی تیاریاں ہو رہی تھی کہ اس کتاب پر پابندی عائد کی جائے، کیونکہ اس میں برطانیہ کے ہزاروں شہریوں کی دل آزاری کی گئی ہے۔ برطانیہ کے بہت سے ممبران پارلیمنٹ اور سیاستدان بھی مسلم کمیونٹی کا ساتھ دے رہے تھے۔ اچانک خمینی صاحب اور مسلم دنیا کے بعض دوسرے رہنماؤں کی طرف سے سلمان رشدی کے واجب القتل ہونے کا فتویٰ آگیا۔ اس فتوے کا نتیجہ یہ ہوا کہ فتوے سے پہلے اسی مسئلہ پر مسلم کمیونٹی کے احتجاجی پروگراموں میں چند سو افراد بمشکل شرکت کرتے تھے، اب ان کی تعداد ہزاروں میں ہو گئی۔ فتوے سے پہلے مسلم کمیونٹی کو برطانوی معاشرے اور ممبران پارلیمنٹ کی حمایت حاصل تھی جبکہ سلمان رشدی کو کوئی تحفظ حاصل نہیں تھا۔ اب حمایت کا رخ بدل ہو گیا اور برطانوی گورنمنٹ نے اپنے ایک شہری کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے رشدی کو اپنی حفاظت میں لے لیا اور برطانوی معاشرے نے بھی اس فیصلہ کی حمایت کر دی۔ (تفصیل کے لیے اس جدوجہد اور اس کے انجام کی روداد مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کی کتاب میں پڑھیے جو ایک عرصہ سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور خود اس جدوجہد میں عملاً شریک تھے۔)
اس ضمن میں علما اور سنجیدہ مسلم قیادت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ایسی پالیسی اپنائیں جس سے مسئلہ کا مستقل اور پائیدار حل نکل سکے۔ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تاریخ اسلامی میں ہمیں اس کی متعدد مثالیں ملتی ہیں کہ ناموافق حالات میں زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مسائل کا حل نکالا گیا۔ سیرت نبوی پر نظر رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ یہود مدینہ ہجرت نبوی سے پہلے بھی اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں کس نوعیت کے جذبات رکھتے تھے اور کس کس طرح مشرکین مکہ کو سوالات سکھاتے تھے تاکہ کسی طرح سے نبی انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کو زچ کیا جائے، مگر ہجرت کے بعد یہ تمام چیزیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر ہوتے ہوئے بھی آپ نے ان کے معاملے میں حکیمانہ طرز عمل اختیار کیا اور معاہدات کے ذریعے سے ان کو اخلاقی اور قانونی شکست دی۔
ہمیں اس مسئلہ میں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہر مسئلے کو خالص مذہبی بنیادوں پر حل کرنے کی حکمت عملی کہاں تک کارگر ہوگی۔ یہاں عظیم انقلابی رہنما مولانا عبید اللہ سندھی کا ایک مقولہ نقل کرنا بے محل نہ ہوگا۔ خواجہ خان محمد صاحب سے منقول ہے کہ مولانا سندھی فرماتے تھے کہ
’’پاکستان بنا رہے ہو تو وہاں اسلام کا نام نہ لینا، ورنہ رکاوٹوں کے پہاڑ سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ جس طرح ہندو بظاہر سیکولر حکومت بنا رہے ہیں، مگر درحقیقت وہ ہندومت کے لیے کام کرتے ہیں، تم بھی پاکستان میں سیکولر حکومت بنا کر اسلام کی خدمت کرو گے تو کامیاب ہو گے۔‘‘ [بحوالہ ’’مولانا فضل الرحمن زعمائے امت کی نظر میں‘‘، ص ۶۰۱]
عصری تعلیم کے اسکولوں پر توجہ کی ضرورت
صادق رضا مصباحی
اگر میں یہ کہوں کہ اس وقت مدارس سے زیادہ مکاتب پر توجہ کی ضرورت ہے تو اس میں کسی کو کوئی حیرت نہیں ہو نی چاہیے۔کسی بھی بلندفکراورزمانہ شناس شخص سے یہ حقیقت مخفی نہیں ہے کہ زمانے کی رفتار کے آگے مدارس و مکاتب اپنی کوتاہ رفتاری کا شکوہ کر رہے ہیں۔ ہم نے بالعموم بلند بانگ دعوے تو بہت کیے مگر اس کے مطابق کا م پانچ فی صد بھی نہیں کیا۔ اس ضمن میں سیاسی لیڈران اور مذہبی قائدین دونوں ہی ذمے دار ہیں ۔ یہ بات یوں ہی نہیں کہی جا رہی ہے بلکہ اس کی پشت پر وہ تاریخی شہادتیں ہیں جن کا انکار سورج کو جھٹلا نے کے مترادف ہو گا۔
سائنس اور ٹکنا لوجی کے معاصررجحانات نے لوگوں کی سوچ اور فکر کا دھارا کچھ اس طرح موڑا ہے کہ اب وہ مادیت کے پجاری بن کررہ گئے ہیں۔اب ان کی فکر کا محور بس یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمایا جائے ،اعلیٰ سے اعلیٰ ملازمت(Job) حاصل کیا جائے، بھاری بھرکم تنخواہوں پر کام کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ سماجی عزت دونوں ہاتھوں سے بٹوری جائے۔ اس رحجان کانتیجہ یہ نکلا کہ وہ شعوری یاغیرشعوری طورپرمذہب بیزاروں کی صف میں کھڑے ہوگئے۔ ان کی دنیاتوانہیں تھوڑی سی مل گئی مگروہ دین سے اوردین ان سے دورہوتاگیا۔ہماری قوم کے بیشترافراداپنے بچوں کواعلیٰ سے اعلیٰ عصری تعلیم دلانے کے لیے انگلش میڈیم اسکو لو ں کا رخ کر رہے ہیں جہاں ان کی جیب بھی خالی ہو رہی ہے اور ان کے دین کا سودا بھی ہو رہا ہے۔ یہاں رک کرذراغورکریں کہ آخران لوگوں میں مذہب بیزاری کیوں پیدا ہوئی؟ دراصل اس دین بیزار ی کاماخذانھی دنیاپرست مذہبی قائدین کافکروعمل ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی ہمیں فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اکثرمسلمان چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اسلامی تعلیم وتربیت حاصل کریں، ان کے اندر اسلامی مزاج پیدا ہو اور ان کا اسلامی شعور پختہ ہو مگر اس شدید خواہش کے باوجود وہ اپنے بچوں کو اسلامی مکاتب اورمدارس میں نہیں بھیجتے۔ سبب یہی بے سمتی کے شکارمدارس ومکاتب اوران کے اکثرمنتظمین ہیں جو اسلام کا نعرہ توخوب بلندکرتے ہیں مگران کے افعال وکردارسے اس کی تصدیق ہوتی نظرنہیں آتی۔ تقریباًسبھی مدارس و مکاتب انھیں لکیروں پر چل رہے ہیں جو برسو ں سے بنی ہو ئی ہیں۔ اس سے ایک انچ اِدھر یا اُدھر خود کو ہٹانا بہت بڑا جرم تصور کرتے ہیں اور انتہا تو یہ ہے کہ اس کو مذہب اور دین کے نام سے جوڑا جاتا ہے۔گویا اس لکیر سے اِدھر اُدھر ہٹنے میں دین کا کوئی اہم ستون منہدم ہو اجا رہا ہو۔ زما نے کے تقاضے کچھ اورکہتے ہیں مگریہ مدارس (الاماشاء اللہ) ان مطالبات پرپورے نہیں اتر رہے ہیں۔ اس کے جونقصانات ہوئے اورہورہے ہیں، ان کااندازہ لگاناکوئی مشکل نہیں ہے۔
بر صغیر ہندو پاک میں مدارس کی اتنی کثرت ہے کہ ان کا شمار مشکل ترین امر ہے اور ان میں چند کو چھوڑ کر باقی کوئی بھی مدرسہ ایسانہیں ہے جوموجودہ چیلنجوں کے جواب اوردین کادفاع کرنے والے ماہر افرادتیارکررہاہو۔ اس لیے ان کے اکثر فار غین نہ دین کے مفاد میں ہیں اور نہ سماج کے۔صرف مساجد و مدارس تک ہی محدود رہنا اسلام کا نقطۂ نظر کبھی نہیں رہا ۔ ان کے سوا عشق کے امتحان اور بھی تو ہیں مگر یہ دین کی خدمت کا مرکزصرف مسجدوں اور مدرسوں کو سمجھتے ہیں ۔ اس کے آگے نہ ان کی نظریں دیکھ پاتی ہیں اور نہ ان کی فکرکا پرندہ وہاں تک پہنچتا ہے۔ ظاہر ہے جب پڑھانے والوں کی فکریں زر خیزنہیں ہوں گی تو پڑھنے والوں کی فکروں کو بال و پر کیسے عطا ہو ں گے۔ اگر مدارس اسی طرح چلتے رہے تو اسلام کے مطلوب افراد قوم کو کبھی میسر نہیں آسکیں گے۔
ایک اہم اورکھلی ہوئی حقیقت یہ بھی ہے کہ مدارس کے فارغین دس سالہ طویل کورس کرنے اور عمر کا ایک بڑا حصہ مدرسوں میں گزارلینے کے باوصف بالعموم روح دین سے غافل ہی رہتے ہیں۔ ظاہر ہے جب وہ دین کی گہرائیوں سے واقف نہیں ہو ں گے تو اسلام کاپیغام صحیح طورسے کیسے پہنچاسکیں گے۔مدارس بلاشبہہ دین کے قلعے ہیں مگرآج اسلام اورمسلمانو ں کے تعلق سے جواضطراب پیداہوچکاہے، اس کی واحدوجہ بھی یہی مدارس اوراس کے فارغین ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے سماج کا امیر اورمتوسط طبقہ مدارس کوچندہ تودے دیتاہے مگروہ اپنے بچوں کامستقبل ان مدرسوں کے سپرد نہیں کرتا۔
آنکڑے یہ بتاتے ہیں کہ دنیوی تعلیم یافتہ لوگ بڑے بڑے منصبوں پر فائز ہیں اور دینی تعلیم یافتہ ان کے دست نگر بننے پر مجبور۔ ہمارے یہاں لاکھوں تقریریں ہوتی ہیں اورکروڑوں تحریریں لکھی جاتی ہیں کہ اسلام کامل واکمل دین ہے۔ وہ ہرزمانے ،ہر فکر، ہر فلسفے اور ہر طرح کے لو گوں کے لیے ہے مگر کیا تقریر کرنے والوں اور تحریر لکھنے والوں نے اسے عملی طور پر ثابت کر کے دکھایا؟ عوام توعوام، خواص کی ایک بڑی اکثریت کے عمل نے نادانستہ طورپراسلام کو مسجد و مدرسے کے اندر محدود کر دیا ہے۔ مدارس کے اساتذہ اورمساجدکے ائمہ کے اندر معلوم نہیں اس تصورنے کیسے جڑپکڑلیا کہ مقتدیوں کو نماز پڑھانے اوردرسی کتابیں پڑھادینے سے ان کی ذمے داری پوری ہوگئی۔ ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ دین کاتصوربہت وسیع اورجامع ہے۔ ایک مذہبی قائدکی یہ دینی ذمے داری ہے کہ وہ امت مسلمہ کے ہرطرح کے مسائل کاحل پیش کرے اور دین ودنیاہرمعاملے میں ان کامقتدابنے مگر ہمار ے اکثرمدارس کے نصاب ونظام نے ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتو ں پر سوالیہ نشان لگادیاہے۔ حالانکہ اب ضرورت اس بات کی زیادہ ہے کہ مدارس میں طلبہ کودینی وتبلیغی تربیت دی جائے اورانہیں موجودہ چیلنجوں کے جواب کے لیے تیار کیا جائے۔
آئیے گہرائی میں اترکرغورکریں کہ مدارس سے زیادہ مکاتب پر توجہ کی ضرورت کیوں ہے؟اگرہم دیگراقوام وملل سے اپنا موازنہ کریں توہمیں معلوم ہوگاکہ ہمارے پاس اعلیٰ درجے کے مکاتب ہیں ہی نہیں۔استثنائی مثالوں کی بات الگ ہے۔ جب کہ دیگر قوموں کے اپنے اپنے نہایت اعلیٰ درجے کے ادارے ہیں۔ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ پوری دنیامیں سکھوں کی ایک الگ شناخت ہے ۔ابتدامیں ا ن کے پا س بھی اچھے تعلیمی ادارے نہیں تھے ۔ان کے بچے ہندوؤں اورعیسائیوں کے اداروں میں پڑھتے تھے مگرجب انہوں نے محسوس کیاکہ ان انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھ کر ان کے بچے اپنی شناخت اورمذہبی روایات سے دورہوتے جا رہے ہیں اوران کے دماغوں میں ایک الگ قسم کا کلچر پنپ رہاہے توانہوں نے خوداپنے ادارے قائم کرناشروع کیے جہاں ان کامذہب بھی محفوظ ہے اوروہ تعلیمی میدان بھی میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔آج عالم یہ ہے کہ پورے ملک میں ان کے پاس انتہائی معیاری درس گاہیں ہیں۔ کیا مسلمان ان سے سبق حاصل نہیں کرسکتے ؟ہمارے بچے غیروں کے اسکولوں میں جاکراپنے مذہب سے متنفرہورہے ہیں، اپنی مذہبی اور موروثی روایات کاگلاخودگھونٹ رہے ہیں اوراپنے اسلاف کی نشانیو ں کوہی منہدم کرنے کے درپے ہیں۔ ان انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھنے والے کتنے مسلم بچے ہیں جنہیں صحیح کلمہ بھی یادہے اورجودین کی بنیادی اورضروری باتو ں سے ہلکی سی بھی آشنائی رکھتے ہیں؟ ایسی صورت میں صرف ایک صورت باقی رہ جاتی ہے اور وہ ہے دین وعصر دونوں کے تقاضوں سے لیس اور دونوں کی ضرور تو ں پر مشتمل اداروں یا مکاتب کے قیام کی تیاری ۔ہماری نسل جس تیزی سے اپنے مذہب سے عملاً بیزار ہو تی جارہی ہے اور الحادیت سے اپنے دل ودماغ دونوں آلودہ کر رہی ہے، اس کا تقاضاہے کہ جلد از جلد اس طرف توجہ دی جائے ورنہ شاید بچی کھچی نسلوں کے ذہن و دماغ کی ڈور بھی ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ اس کے لیے ہمیں خود کو تیار کرنا ہوگااورانفرادی یااجتماعی طور پر کمر ہمت کسنی ہوگی کیوں کہ جن لوگوں کے ہاتھوں میں مکاتب کا نظام ہے، عموماً ان کے دماغ کے سوتے با لکل خشک ہیں اور ان کی فکروں کا قبلہ درست نہیں۔ اس لیے ان سے کوئی اچھی امید نہیں کی جاسکتی ۔اگرانھی پرتکیہ کیے بیٹھے رہے توکسی بڑی تبدیلی کاخواب شایدہی کبھی شرمندۂ تعبیرہو۔
ذراغور کریں کہ مدارس یا مکاتب میں ہماری قو م کے کتنے فی صد بچے پڑھنے آتے ہیں اور عصری علوم کی طرف کتنے فی صد بچے بھاگتے ہیں۔ یہ کوئی حیرت و تعجب کی بات نہیں کہ دونوں میں کئی گنا کا فرق ہے ۔مثال کے طور پر ہم اپنے ضلع پیلی بھیت کو ہی لے لیں۔ یہا ں دینی علوم کی طرف مائل ہو نے والوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ دو ہزار ہو گی اور عصری علوم کی طرف مائل ہو نے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچے گی۔ ہمارے ذمے دار ان مدا رس ، چندہ کرنے والے مولوی صاحبان اور چندہ کروانے والے کمیٹی کے افراد ان دو ہزار کے لیے ہر سال لاکھوں کروڑوں کا چندہ کرتے ہیں اور ان دو ہزار کو خدمت دین کے لیے تیارکرنے میں پورا زور صرف کر دیتے ہیں (یہ الگ با ت ہے کہ یہ مقصدصحیح طورپرپوراہوتاہے یا نہیں) مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ لاکھوں طلبہ جو کالجوں اور یو نیور سٹیوں میں زیرتعلیم ہیں اوراپنے دین کی قیمتی پونجی فروخت کر رہے ہیں،ان کاا یمان کیسے بچایاجائے اورانہیں دین کی طرف کیسے مائل کیاجائے ؟ کیاہمارے پاس ان لاکھوں طلبہ کودین سے قریب کرنے کے لیے کوئی جامع منصوبہ ہے ؟ہماری نظرمیں کیا یہ دین کا کام نہیں؟ کیا ہی اچھا ہو تا کہ ہم ان عصری تعلیم یافتگا ن کی زبان سے بھی دین کی باتیں سنتے۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ دینی تعلیم یافتہ فردکی بہ نسبت عصری تعلیم یافتہ کی باتیں ہماراسماج خاص طور امیر (Upper Class) اور متوسط (Middle Class) طبقہ بہت غورسے سنتاہے کیوں کہ عموماً یہ عصری تعلیم یافتگان بڑے بڑے عہدوں پرفائزہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی باتیں زیادہ اثراندازہوتی ہیں اورہمارے دینی تعلیم یافتہ حضرات مسجدو مدرسے آگے نہیں بڑھ پاتے اور معاشی طورپرکمزوربھی ہوتے ہیں، اس لیے ان کی باتیں بڑے حلقے تک نہیں پہنچ پاتیں۔ اس کے لیے صرف وہی کا م کرنا ہے جو اوپر تحریر کیا گیا یعنی انتہائی اعلیٰ معیارکے انگلش میڈیم اسکولوں کاقیام جہاں دین کی تعلیم بھی ٹھوس اور مضبوط بنیادوں پر ہو۔ داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر یہ قابل رشک ہوں اورمعیاری ہوں۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو آپ یقین جانیے کہ زیادہ نہیں، صرف بیس پچیس سال کے عرصے میں ملک کا تعلیمی اور معاشی منظر نامہ با لکل تبدیل ہو جائے گا۔ یہاں سے فارغ ہو کر ہمارے طلبہ اعلیٰ سطحی ملازمتوں اور حکومتی محکموں میں جائیں گے تو وہ صرف ایک آفیسر نہیں بلکہ ایک اچھے مسلمان اور ملک کے اچھے شہری بھی ہوں گے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کا عقیدہ و ایمان مضبوط ہوگا ۔انھیں گمراہ گر گمراہ نہ کر سکیں گے۔
ذراسوچیں کہ ہمارے مدارس و مکاتب کی طرف کون سا طبقۂ فکر متوجہ ہوتا ہے؟ تلخی کے یہ گھونٹ اپنے گلے کے نیچے اتارلیں کہ ہمارے یہاں۸۰؍فی صدغریب بچے پڑھنے آتے ہیں ۔اگر ان کے پاس عصری علوم حاصل کرنے کے لیے سرمایہ ہو تا تو یقین جانیے وہ کسی انگلش میڈیم اسکول اور یوینورسٹی کا ہی رخ کرتے۔
افسوس اس کا ہوتا ہے کہ مکاتب جن کی ازحدضرورت ہے، قائم نہیں ہو رہے ہیں بلکہ مدارس پہ مدارس قائم ہوتے جا رہے ہیں۔ حد یہ ہے کہ کمپٹیشن میں ایک ایک شہرمیں کئی کئی ادارے اورمدرسے کھل رہے ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر کمپٹیشن میں مدرسہ قائم ہوا تو وہاں بہتر تعلیم ہو تی، مگر ان کابھی حال نہایت ابتر ہے۔ میرے سامنے ایسی ایک نہیں، درجنوں مثالیں ہیں کہ کسی مدرس کا صدر المدرسین صاحب یا مہتمم صاحب سے کسی بات پرتنازع ہوا تو انھوں نے فوراً دوسرا مدرسہ قائم کر لیا اور چندے کا دھندہ شروع کر دیا۔اگر دین کی خدمت ہی کرنی ہے تو اچھے اور معیاری مکاتب کیوں نہیں قائم کیے جاتے؟آج کل مدرسہ قائم کرنا بہت آسان اور عام ہو گیا ہے ۔ کم پڑھے لکھے اور کم نظرمدرس کو پڑھانے کے لیے جدو جہد بھی نہیں کرنا پڑتی۔ کم پڑھے لکھے عوام انھیں مقتدا سمجھ کر انھیں حضرت حضرت کہہ کر پکارتے ہیں اور طلبہ دست بوسی کرتے ہیں۔ یہ حضرت اسی میں خوش ہو لیتے ہیں اور اسی کو مقصد زندگی اور کل دین سمجھ لیتے ہیں۔ جب اتنی عزت انھیں مفت میں مل رہی ہے تو وہ کیوں محنت کرنے لگیں؟
مدرسوں کی ریل پیل سے ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ حقدار لوگوں کو زکوٰۃ ،فطرے ،امداد کی رقم نہیں مل پاتی۔المیہ یہ ہے کہ مدارس اور مکاتب کا نظام عام طور پرایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو روح دین سے یکسر نابلد ہیں۔ دو چار موٹی موٹی باتیں جان لینے سے کوئی دین کاشناسانہیں بن جاتا۔ آج تعلیم گاہیں دولت کا انبار لگانے کاذریعہ بنتی جارہی ہیں۔ ذمے داران حکومت کی اسکیموں سے خوب خوب فیضیاب ہورہے ہیں مگراس حساب سے بچوں کو فیضیاب نہیں کررہے ہیں۔ پیسہ کماناکوئی بری بات نہیں، مگربری بات تب ہے جب مقصدصرف اورصرف پیسہ کماناہواوروہ بھی ناجائز طریقے سے اوردھوکہ دہی کے ساتھ جیسا کہ آج کل ایڈڈ مدارس میں ہو رہا ہے۔ مشاہدے کی مددسے یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اکثر مدارس یامکاتب کے ذمے داروں کوطلبہ کے مستقبل سے عملاًکوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔کیاوہ نہیں جانتے کہ ایک بچے سے کئی نسلوں کامستقبل وابستہ ہوتاہے؟ اگراس کامستقبل بربادہوگیا تواس کی نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ یہ بچے دین کے مستقبل ہیں ،سماج کے مستقبل ہیں اورہمارے ملک کے مستقبل ہیں۔ اگران کی زندگیو ں سے کھلواڑ کیا گیا تو یہ سب سے بڑاجرم ہوگا ۔ایسے لوگوں کوخداکی بارگاہ میں جواب دہی کے لیے تیاررہناچاہیے ۔
کبھی غورکیاکہ آخر عصری اداروں کے طلبہ سے لے کر بڑے بڑے اہل مناصب وعہدے داران تک اکثر مسلمان آج صرف قومیت اورنام کے مسلمانوں کیوں ہیں؟ مشرقی روایات سے بدک کرمغربی روایات کی طرف کیوں بھاگتے ہیں؟ اس کے پیچھے مغرب زدہ اورالحاد آمیز تعلیمی نصاب ونظام کلیدی رول ادا کررہا ہے۔ مسلمانوں کی نئی نسل زیادہ تر غیروں کے مکاتب میں تعلیم حاصل کرتی ہے۔ ان کی تعلیم وتربیت مغربی نظریات وروایات کے سایے میں ہوتی ہے۔ ان اداروں کے اساتذہ اسلام کے حوالے سے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ذہن وفکر میں منفی نظریات منتقل کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ اسلامی تعلیمات سے دوردوررہنے لگتے ہیں۔ یہ ادارے چونکہ ہر جہت سے اعلیٰ اور معیاری ہوتے ہیں، طلبہ کے بیٹھنے کااچھا انتظام،اچھے اساتذہ کے علاوہ یہاں ہروہ چیز میسرہوتی ہے جودورجدیدکی تعلیم گاہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں کے سارے لوگ اصول وضوابط کی زنجیرو ں میں جکڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ تعلیمی معیار نہایت بلند ہوتا ہے۔ یہاں کے طلبہ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہاں واقعی یہ کسی اسکول میں پڑھتے ہیں۔ ظاہرہے کہ کوئی مسلم بچہ ان عصری اداروں سے نکل کرعمل کے میدان میں قدم رکھے گاتووہ ملحد،مغرب زدہ،فیشن پرست اوراسلامی احکام سے ناآشنا بلکہ ان سے متنفرہوہی جائے گا۔ دوسری طرف ہمارے مکاتب نہایت خستہ حالت میں ہیں۔ نہ کوئی اچھاانتظام ہے اور نہ کوئی اچھی سہولت۔ نصابی کتابیں نہایت غیر معیاری ہوتی ہیں اور اساتذہ میں جذبۂ دینی کا فقدان نظرآتا ہے۔ یہاں عموماً ایسی کتابیں داخل نصاب ہیں جو مغرب زدہ مصنفین کی تحریرکردہ ہیں۔ گویا ہمارے مکاتب کے درودیوار سے بھی مغربی نظریات اور غیر اسلامی روایات کی صداے باز گشت سنائی دیتی ہے۔ یہاں صرف براے نام تعلیم ہے اور براے نام تربیت۔یہ حقیقت بھی ہرکسی کے مشاہدے میں ہے کہ ہمارے مکاتب کے طلبہ عموماًپراگندہ حالی، تہذیب وتمدن سے خالی اور علم وادب سے عاری ہونے کی تصویرپیش کرتے ہیں۔ ذمہ داران ان اسلامی مدارس میں بچوں کواسلام کے نام پرجمع کرتے ہیں مگراکثربچے بے چارے اسلام کی تعلیمات ہی سے ناآشنارہتے ہیں۔
یہ کتنابڑا المیہ ہے کہ ہماری نئی نسل ہمارے بزرگوں کے کارنامو ں سے قطعاً ناواقف ہوتی جارہی ہے۔ ان کو مغربی مفکرین اور فلمی اداکاروں وادا کاراؤں کے نام تو خوب معلوم ہوتے ہیں لیکن اپنے اسلاف کی حیات اوران کے کارنامے توبہت دورکی بات ہے ، چندبڑے بزرگوں کے ناموں کے علاوہ انہیں نہ اپنے اسلاف کے نام معلوم ہیں اور نہ دین کی اصلیت کی کچھ خبرہے اوراگرکچھ معلوم بھی ہے تووہ بھی بہت سطحی اورناقص ہے جوکسی ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کی بھی شایان شان نہیں ۔مثال کے طورپرہمارے اسلاف نے ہندوستان میں بے شمارکارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔بے شمار اولیاے کرام اور مجاہدین عظام ہیں جنہوں اسلام کاپیغام گھرگھرپہنچانے ،ملک کی تعمیر وترقی کرنے ، اسے امن وانصاف کا گہوارہ بنانے اور آزادی دلانے میں اپنی جانوں کی بازی لگائی ہے، لیکن آپ انصاف سے بتائیے کہ کیا نئی نسل ان کے کارناموں سے واقف ہے؟ نصاب میں ہمارے ہی مذہب اورہماری ہی روایات کوتنقیدکانشانہ بنایاجاتاہے ،ایسے ایسے لوگوں کو بڑھا بڑھا کر پیش کیا جارہا ہے جنہوں نے آزادیِ ہند کے حوالے سے کوئی بھی قابل قدر کام نہیں کیا ، جنہوں نے انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھوایا اور جن کی اسلام دشمنی اور وطن غداری بالکل مسلم ہے مگرچوں کہ یہ ساری باتیں ان کے نصاب میں شامل ہیں ا س لیے نئی نسل کاان کی قصیدہ خوانی کرنافطری ہے۔ مسلم مجاہدین کے کارناموں کو آج حرف غلط کی طرح مٹایا جاچکا ہے اور مزید کوششیں اب بھی جاری ہیں۔
اس تناظر میں یہ کہنا بالکل حق بجانب اور صد فی صد درست ہے کہ اس وقت مدارس سے زیادہ مکاتب پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ مدارس توکچھ معیاری ہیں بھی مگر ایک بھی مکتب ہماری نظر سے اب تک ایسا نہیں گزرا جو طلبہ کو صحیح تعلیم وتربیت دے رہا ہو ۔زمانے کا اقتضا یہی ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو، اس طرف توجہ دی جائے ورنہ ہمارا قافلہ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ خداراجلدی کیجیے۔اپنے بچوں کواپنے اسلاف سے دورمت ہونے دیجیے اوریہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ اگروہ ہماری روایات اوراسلاف کی حیات سے دور ہو گئے توآپ اپنی زندگی کی سب سے بڑی بازی ہارگئے۔ بدلیے اپنے آپ کو ورنہ زمانہ آپ کو بدل دے گا۔
ضرورت ہے کہ انٹرمیڈیٹ تک ایسا نصاب تشکیل دیا جائے جو ہماری تاریخی صداقتوں اوراسلامی احکام و روایات کی عظمتوں کو محیط ہو۔ ان نصابی کتابوں کو پڑھنے کے بعد طلبہ جب اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں تو ان کے ذہن وفکر میں اسلام وسنیت کا شاداب گلشن آباد ہو اور یہ باطل نظریے کے کبھی بھی اسیر نہ بن سکیں بلکہ جب بھی کبھی اسلامی نظریات پر حملہ ہو تو اس کا دفاع اپنے عصری اور اسلامی علوم کے مطا لعے کی روشنی میں کرسکیں اور اپنے ماتحت ملازمین ، دیگر لوگوں ، حلقۂ احباب اور اہل خاندان کے سامنے اسلام کی صحیح ترجمانی پر قادر ہوں۔ عہد حاضر میں جب کہ بیشتر مسلمان اپنے بچوں کو دینی مدارس کی طرف نہیں بھیج رہے ہیں، وہ صرف عصری اداروں ہی کا رخ کررہے ہیں جہاں سے ان کا معاشی مستقبل بھی وابستہ ہوتا ہے ۔ایسے حالات میں اپنی اپنی بساط بھر اعلیٰ اورمعیاری مکاتب کا قیام وقت کا جبری تقاضاہے کہ جہاں یہ لوگ غیروں کے ادارے چھوڑکراپنے بچوں کو داخل کرانے پرمجبورہوجائیں اوریہاں پڑھ کران کے ذہن وفکر میں اسلامیات کا رنگ اتنا پختہ اور گہرا ہوجائے کہ پھر مرتے دم تک کوئی اس رنگ کودھندلا نہ کرسکے۔ بالخصوص عقائد اتنے پختہ ہوں کہ کوئی فکری طوفان اس میں خراش نہ پیدا کرسکے۔
احکام شریعت بطور نعمت الٰہی / احتجاج وانتقام اور اسلامی اخلاقیات
محمد عمار خان ناصر
احکام شریعت بطور نعمت الٰہی
(کچھ عرصہ قبل ایک دینی مجلس میں شریعت کے ایک نعمت الٰہی ہونے کے عنوان سے گفتگو کی گئی تھی جسے ترتیب وتدوین کے بعد پیش کیا جا رہا ہے۔)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی خاتم المرسلین محمد و آلہ وصحبہ اجمعین۔ اما بعد!
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اپنی شریعت کے احکام بیان کرتے ہوئے اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ جو ہدایات احکام کی صورت میں، شرائع کی صورت میں مسلمانوں کو دی جا رہی ہیں، یہ درحقیقت اللہ تبارک وتعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں اور جیسے جیسے شرائع اور احکام کا یہ سلسلہ نازل ہوتا جا رہا ہے اور مسلمانوں کی شریعت پایہ تکمیل کو پہنچ رہی ہے، ویسے ویسے خدا کی نعمت بھی ان پر مکمل ہوتی جا رہی ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ یہ سارے احکام یک بارگی نازل نہیں ہوئے، بلکہ مدینہ منورہ آنے کے بعد جیسے جیسے مسلمانوں کا معاشرہ ایک خاص شکل اختیار کرتا چلا گیا، اسی کے لحاظ سے وقفے وقفے سے اللہ تعالیٰ اپنے احکام بھی ان کو عنایت فرماتے گئے۔ اپنے ان احکام کو اور قوانین کو اللہ نے اپنی نعمت سے تعبیر کیا ہے۔ چنانچہ سورۂ بقرہ میں قبلے کے احکام کے بیان میں فرمایا ہے کہ وَلأُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْْکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَہْتَدُونَ (البقرہ ۲:۱۵۰)۔ سورۂ مائدہ میں جہاں وضو اور تیمم کے احکام بیان فرماتے ہیں، وہاں بھی یہ تعبیر اختیار فرمائی ہے: وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (المائدہ ۶:۶) اور وہ آیت جس کے بارے میں بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ وہ نزول کے لحاظ سے قرآن مجید کی آخری آیت ہے، اس میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے: الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْناً۔
بنی اسرائیل کے ذکر میں جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے احسانات جتلائے ہیں، وہاں اُذْکُرُوا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ أَنْعَمْتُ عَلَیْْکُمْ (البقرہ ۲: ۴۰) فرمایا ہے۔ مجھے خیال ہوتا ہے کہ یہاں دوسری بہت سی نعمتیں بھی اس میں یقیناًشامل ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کا اشارہ خاص طور پر اس بات کی طرف دکھائی دیتا ہے کہ دنیا کی دوسری قوموں کو چھوڑ کر میں نے تمھیں اس کے لیے منتخب کیا کہ تمھیں اپنے احکام اور اپنی پسند وناپسند کی تفصیل بیان کرنے والی شریعت عطا فرمائی جو تمھاری پوری زندگی کو، زندگی کے ہر ہر شعبے کو ان اعلیٰ اخلاقیات پر اور ان اعلیٰ اصولوں پر استوار کر دیتی ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ کی نظر میں عدل کے لحاظ سے، انصاف کے لحاظ سے، روحانیت کے لحاظ سے زندگی کے پسندیدہ اصول اور ضابطے ہیں۔
شریعت کے نعمت الٰہی ہونے کا سب سے بنیادی اور اہم پہلو تو یہ ہے کہ یہ انسانی زندگی کے معاملات کو اللہ کی منشا اور اس کی مرضی کے مطابق منظم کرتی ہے۔ اللہ کی نظر میں انسانیت کا شرف کیا ہے؟ انسانیت کا اصل معیار کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو جو اخلاقی شعور دیا ہے اور اس کی فطرت میں اس کے بنیادی تصورات کو پیوست کر دیا ہے، انسان ان کے مطابق عمل کرے۔ فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا (الشمس ۹۱:۸)۔ نیکی اور بدی کا، اچھائی اور برائی کا بنیادی شعور انسان کی فطرت میں ودیعت کر دیا گیا ہے، البتہ اس اخلاقی احساس کا عملی ظہور کس شکل میں ہونا چاہیے؟ اس کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت انسان میں کامل نہیں ہے۔ شریعت اصل میں بنیادی اخلاقی شعور کے عملی تقاضوں کو معین کرنے میں اللہ کی طرف سے انسان کی مدد اور اس کی راہ نمائی ہے۔ ہر انسان یہ مانتا ہے، اپنے دل میں اس کا احساس رکھتا ہے کہ ظلم نہیں ہونا چاہیے، کسی کی حق تلفی نہیں ہونی چاہیے، لیکن کون سا کام ہے جو حق تلفی پر مبنی ہے اور کون سا نہیں ہے؟ اس میں بعض دفعہ انسان صحیح فیصلہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ انسان پر خواہشات کا بھی غلبہ ہے، اس پر تعصبات کا بھی غلبہ ہے اور یہ چیزیں مل کر انسان کی عقل کو متاثر کر لیتی ہیں۔ بڑے بڑے فلسفیوں کو اس کا قائل کر لیتی ہیں کہ فلاں چیز ظلم نہیں ہے، حالانکہ حقیقت میں، اللہ کی نظر میں وہ ظلم ہوتی ہے۔ تو اخلاقیات کا بنیادی شعور انسان کو حاصل ہے، لیکن ان اخلاقی تصورات کو عملاً کیسے روبعمل کرنا ہے؟ اس کے تقاضے جب عمل کی صورت میں ڈھلیں گے تو کیا شکل اختیار کریں گے؟ اس کو معین کرنے میں انسان کی عقل بہت سے مقامات پر اس کی راہ نمائی نہیں کرتی اور وہ افراط وتفریط کا شکار ہو جاتا ہے۔
خدا اپنی شریعت اسی لیے نازل کرتا ہے کہ زندگی کے جو بنیادی اور بڑے بڑے معاملات ہیں، کم سے کم ان میں انسان ٹھوکر نہ کھائے اور کسی اخلاقی اصول کا یا کسی اخلاقی تصور کا انسان کے عمل میں اور اس کے معاملات میں جو بالکل صحیح نتیجہ نکلنا چاہیے، وہ اس کے سامنے رکھ دیا جائے۔ باقی جو ضمنی چیزیں اور فروعی تفصیلات ہیں، وہ چھوڑ دی جاتی ہیں۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ شریعت کے تمام احکام اس پہلو سے انسان کی غیر معمولی مدد کرتے ہیں کہ وہ اخلاقی اصولوں کو عمل کی اور عملی ضابطوں کی شکل جب دے تو صحیح نتیجے پر پہنچے اور ان پر عمل کر کے وہ اپنی زندگی کے ظاہری معاملات کو بھی پاکیزہ بنائے اور جو اس کی اخلاقی اور روحانی شخصیت ہے، اس کا بھی تزکیہ کرے اور اس طرح اللہ کا قرب حاصل کر لے۔ ساری شریعت اصل میں عمل صالح کی تفصیل ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی خاص نعمت اور ایک خاص عنایت انسانیت پر کی گئی ہے۔
عمل صالح میں یہ جو روز مرہ زندگی کے معاملات ہیں، ان کا دائرہ بہت بڑا ہے۔ شریعت کے جو قوانین ہیں، ان کا دائرہ زندگی کے کم وبیش تمام معاملات تک پھیلا ہوا ہے۔ ان میں سے خاص طو رپر مرنے والے کے مال کی تقسیم سے متعلق جو احکامات ہیں، آج کی نشست میں ہم ان پر اس پہلو سے غور کرنے کی کوشش کریں گے کہ اللہ نے یہ جو ہدایات ہمیں دی ہیں، ان میں نعمت کے کون کون سے نمایاں پہلو موجود ہیں۔
آپ کو معلوم ہے کہ قرآن مجید جب نازل ہوا تو عرب معاشرے میں وراثت کی تقسیم کے معاملے میں جو عام قاعدہ چل رہا تھا اور جس کو عملاً مان بھی لیا گیا تھا، وہ یہ تھاکہ آدمی کے مرنے کے بعد اس کا مال اس کے اعزہ واقربا میں عام طو رپر تقسیم نہیں ہوتا تھا، بلکہ اس کے پس ماندگان میں اور اس کے خاندان میں جو آدمی بھی زیادہ با اثر ہوتا تھا، مختلف وجوہ سے جس کی بات زیادہ چلتی تھی، وہ مال سمیٹ کر بیٹھ جاتا تھا۔ جب طاقت ور لوگ اور با اثر لوگ ایک چیز کو سوسائٹی میں رواج دے دیتے ہیں تو وہ چاہے نا انصافی پر مبنی ہو، ظلم پر مبنی ہو، عملاً اس کو مان ہی لیا جاتا ہے اور ایک خاص طرح کا تحفظ اور جواز اس کو مل ہی جاتا ہے۔ تو جاہلی معاشرے کا جو عام منظر تھا، وہ یہی تھا۔ اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمانہ جاہلیت کے معاشرے کے اور مشرکین کی جو چوٹی کی قیادت ہے، اس کے جو اخلاقی جرائم قرآن میں بیان کیے ہیں اور خاص طور پر سورۂ فجر سے آگے جو تیسویں پارے کا نصف آخر ہے، اس میں یہ چیز نمایاں ہے۔ وراثت کے مال کو سمیٹ کر ہڑپ کر جانا اور مرنے والے کے چاہے یتیم بچے ہیں یا بچیاں ہوں جو اس مال کے زیادہ ضرورت مند ہیں اور اس مال پر زیادہ حق رکھتے ہیں، ان کو محروم کر دینا اور بجائے اس کے کہ یتیموں کے سر پر دست شفقت رکھا جائے، الٹا ان کے مال کو سمیٹ کر ہضم کر جانا یہ عرب معاشرے کا عام منظر تھا اور اس میں ان کی اعلیٰ ترین قیادت بھی شامل تھی جو صرف سیاسی قیادت نہیں تھی، بلکہ مذہب کے بھی وہ ٹھیکے دار تھے۔ قریش کوئی سیکولر مذہبی گروہ نہیں تھا۔ وہ خدا کے گھر کے پروہت تھے اور ان کے بڑے بڑے سردار خانہ کعبہ کے متولیوں میں شمار ہوتے تھے۔ قرآن نے ان کی سیرت کا اور ان کے کردار کا یہ پہلو خاص طو رپر نمایاں کیا ہے۔
گویا منظر یہ تھا کہ جو خاندان میں صاحب اثر ہے، صاحب رسوخ ہے، سارا مال وہ سمیٹ کر بیٹھ جاتا تھا اور مال کی تقسیم حق داروں میں نہیں ہوتی تھی، اعزہ واقربا میں نہیں ہوتی تھی۔ بالخصوص خواتین کے بارے میں تو عرب معاشرے میں جو تصورات رائج تھے، وہ آپ جانتے ہیں۔ قرآن مجید نے بھی ان کا ذکر کیا ہے۔ نہ صرف عرب معاشرہ بلکہ دنیا میں جتنے بھی ایسے معاشرے ہوئے ہیں جن کو خدا کی شریعت کی روشنی نہیں ملی اور جن کو خدا کی طرف سے احکام وہدایات کی نعمت نہیں ملی، ان سب کا یہی معاملہ رہا ہے۔ آپ دنیا بھر کی تاریخ کا مطالعہ کر لیں۔ قدیم ترین تہذیبیں جو اپنے وقت کی بڑی متمدن اور ترقی یافتہ تہذیبیں سمجھی جاتی ہیں، ان میں بھی یہ بات بطور ایک قانون اور بطور ایک مسلمہ کے مانی جاتی تھی کہ یہ جو معاشرتی حقوق ہیں، معاشرے میں رہتے ہوئے کسی فرد کو مال پر اختیار کے لحاظ سے، مال پر تصرف کے لحاظ سے اور ملکیت کے لحاظ سے جو حقوق حاصل ہونے چاہییں، عورتیں اس کی اہلیت نہیں رکھتیں۔ ان کے بارے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک کمزور، ضعیف، محتاج اور کمتر مخلوق ہے جس کی زندگی سر تا سر مردوں کی احتیاج پر مبنی ہے۔ یہ ان کی دست نگر ہے اور خود بیچاری کچھ بھی نہیں کر سکتی۔
انسان میں جو طاقت کا ایک شعور ہے، ظاہر ہے کہ وہ ایک خاص نفسیاتی احساس پیدا کرتا ہے۔ جب آدم علیہ السلام کو دنیا میں بھیجا گیا، اس وقت سے لے کر آج تک انسانی زندگی میں، انسانی معاشر ے کے قیام میں، معاشرے کی تشکیل میں اور معاشرے کو ترقی اور ارتقا کے ایک خاص نہج پر ڈھالنے میں اللہ نے جو مرد کو ایک جسمانی طاقت دی ہے، اس کا غیر معمولی کردار ہے۔ اگر خطروں سے نبرد آزما ہونے کی یہ طاقت جو اللہ نے مرد کو دی ہے اور یہ حوصلہ اور جرات نہ ہوتی تو معلوم نہیں یہ مخلوق اس زمین پر آباد بھی رہ سکتی یا نہیں۔ انسانی تمدن کے محققین بتاتے ہیں کہ ابتدا میں تو ساری زمین جنگلات سے بھری ہوئی تھی۔ یہاں شیر، چیتے اور درندے گھومتے پھرتے تھے۔ اس ماحول میں انسان نے اپنی اور اپنی نسل کی بقا اور تحفظ کے لیے جو جدوجہد کی، اس میں ظاہر ہے کہ مرد کی جسمانی طاقت کا بنیادی کردار ہے۔ قرآن مجید نے بھی یہ بات بیان کی ہے کہ مرد کو اللہ نے بعض پہلوؤں سے عورت پر فضیلت دی ہے جس میں نمایاں چیز یہ ہے کہ مرد کو جسمانی طاقت دی ہے، حوصلہ دیا ہے اور وہ تمام بنیادی ذمہ داریاں جن سے انسانی معاشرہ بنتا ہے،کم وبیش ان سب کا انحصار مرد کی طاقت اور جسمانی قوت پر ہے۔
اب عورت کی یہ جو خلقی کمزوری ہے، وہ ہر شخص کو دکھائی دیتی ہے۔ اس خلقی کمزوری کی بنا پر آپ دنیا کی تاریخ کا، دنیا کی تہذیبوں میں عورت کے مقام کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بڑے بڑے فلسفی، افلاطون اور ارسطو جیسے فلسفی باقاعدہ اس کو ایک فلسفے کے طو رپر بیان کرتے ہیں کہ عورت، مرد سے کم تر مخلوق ہے۔ وہ اس کو مرد کے ساتھ انسان ہونے میں تو شریک مانتے ہیں، لیکن کہتے ہیں کہ اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے اور اپنے مقام کے لحاظ سے اس کا مرد کے ساتھ کیا تقابل ہے اور اس کا یہ حق کیونکر بنتا ہے کہ وہ مرد کے ساتھ سماجی اور معاشرتی اور معاشی حقوق میں شریک ہونے کی بات کرے۔ یہ بات فلسفیانہ اور نظریاتی سطح پر دنیا میں کم وبیش ہر جگہ مانی جاتی تھی۔ قرآن جس عرب معاشرے میں نازل ہوا، اس میں بھی عورت کے لیے مال کاوارث بننے کا امکان تو دور کی بات ہے، وہ خود بطور وراثت کے آگے مرنے والے کے وارث کو منتقل ہو جاتی تھی۔ چنانچہ ایک آدمی نے اگر شادی کی ہوئی ہے اور وہ مر گیا ہے تو اس کے بعد اس کا بیٹا جو اس کی کسی دوسری بیوی سے پیدا ہوا ہے، وہ اپنے باپ کی منکوحہ کو باپ کی وراثت کے طور پر اپنے نکاح میں لے لیتا تھا۔ اس ماحول میں اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت نازل کی۔ مکی دور میں تو ظاہر ہے کہ اخلاقی تذکیر پر توجہ مرکوز رکھی گئی، قریش کو تنبیہ کی گئی اور ان کو توجہ دلائی گئی۔ عورتوں کے بارے میں جو ان کے تصورات تھے، ان کی اصلاح کی گئی اور پھر جب مسلمان مدینہ میں منظم ہونے لگے تو ان کا اپنا ایک خاندانی نظم وجود میں آنا شروع ہوا۔ ابتدا میں مہاجرین وانصار کی مواخات بھی ہوئی۔ بہت سے افراد کا آپس میں موالات کا تعلق بھی تھا۔ عرب معاشرے میں اس کے علاوہ بھی بعض تعلق ایسے تھے جن کی بنیاد پر وراثت ایک دوسرے کو دی جا سکتی تھی۔ یہ ایک عرصہ تک قائم رہے، پھر قرآن نے رفتہ رفتہ ان قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے اور بتدریج ان کی اصلاح کرتے ہوئے سورۂ نساء میں وراثت سے متعلق اپنے قوانین کو وہ آخری شکل دی جو آج ہم قرآن مجید کی آیات میں اور احادیث اور فقہ کی کتابوں میں پڑھتے ہیں۔
اب دیکھیں یہ اللہ کی نعمت ہے، اس لحاظ سے کہ یہ بات لوگوں سے منوانا کہ مرنے والے کے بعد اس کے مال میں اس کے سبھی اعزہ واقربا کا حق ہے جو اس کے ساتھ قریبی تعلق رکھتے ہیں، میرا خیال ہے کہ اگر اس کو انسانوں پر چھوڑ دیا جاتا تو یہ تسلیم کروانا کم وبیش ناممکن بات ہوتی۔ انسانوں میں ظلم اور استحصال کا جو مادہ ہے، وہ اپنے جواز کے لیے کئی طرح کے استدلالات گھڑ لیتا ہے۔ یہ بات سمجھانا کہ مرنے والے کے مال میں حق صرف طاقت ور او ربا رسوخ اور سربرآوردہ شخص کا نہیں، بلکہ دوسرے لوگ بھی اس میں شریک ہیں، آسان کام نہیں تھا۔ اس لیے کہ اس کے حق میں بڑے پریکٹیکل قسم کے استدلالات موجود تھے۔ دنیا میں عام طو رپر یہ سمجھا جاتا تھا کہ مرنے کے بعد مال پر حق اصلاً مرنے والے کی اولاد کا ہے۔ ماں باپ بوڑھے ہو چکے ہیں، ان کو خاص ضرورت نہیں۔ خواتین ویسے ہی معاشی ذمہ داری میں شریک نہیں۔ ان کی کفالت مردوں نے ہی کرنی ہے۔ بہن بھائیوں کا اپنا الگ خاندان ہے، گھر بار ہے۔ تو ان سب کا مال سے کیا واسطہ؟ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ باپ کے بعد گھر کی ذمہ داریاں اور معاملات بڑا بیٹا سنبھالتا ہے۔ چھوٹے بھائی بھی عام طور پر بڑے بھائی کے زیر سایہ ہی پرورش پاتے ہیں۔ یہ چیز بڑے بیٹے کو ایک خاص جگہ دے دیتی ہے اور دنیا کے معاشروں میں عملاً وراثت کا حق دار بڑا بیٹا ہی قرار پاتاہے۔ قرون وسطیٰ میں بہت سے مغربی ملکوں میں جب جاگیرداری کا نظام رائج تھا تو زمین کو تقسیم در تقسیم سے بچانے کے لیے اور بڑی بڑی جاگیروں کو محفوظ رکھنے کے لیے قانوناً وراثت کا حق صرف سب سے بڑی اولاد کے لیے تسلیم کیا جاتا تھا۔ انگریزی میں اس کے لیے Primogeniture کی قانونی اصطلاح استعمال ہوتی تھی کہ جو پہلی اولاد ہے، وراثت اسی کا حق ہے۔
اب یہ بات شریعت نے لوگوں کو بتائی اور سمجھائی اور صرف بتائی اور سمجھائی نہیں، صر ف مشورہ نہیں دیا، بلکہ اس کو ایک واجب الاتباع حکم قرار دے کر، فریضۃ من اللہ قرار دے کر ابدی طور پر قانون کا حصہ بنا دیا کہ مرنے والے کے مال میں اس کے ان تمام اعزہ واقربا کا حق ہے جن کے ساتھ اس کا قریبی نسبی یا صہری رشتہ ہے، اس میں ماں باپ بھی شریک ہیں، اس میں میاں بیوی بھی ایک دوسرے کے وارث ہیں، اس میں حالات کے لحاظ سے بہن بھائی بھی شریک ہیں اور اولاد میں صرف بیٹے نہیں، بلکہ بیٹیاں بھی وارث ہوں گی۔ اس تصریح سے قرآن نے سورۂ نساء کی آیت ۷ میں اس کو بیان کیا کہ لِّلرِّجَالِ نَصیِبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ، کہ ترکے میں مردوں کا بھی حق ہے۔ وَلِلنِّسَاءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ، اور عورتوں کا بھی حق ہے اور اس میں اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں کہ چھوڑا ہوا مال زیادہ ہے یاکم ہے۔ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ أَوْ کَثُرَ۔ چار روپے ہیں، تب تقسیم ہوں گے اور چار کروڑ ہیں، تب تقسیم ہوں گے۔ اب دیکھیں، قرآن کے اس اصول میں اور جو عام طور پر دنیا میں رواج چلتا رہا ہے، اس میں اخلاقی لحاظ سے اور رشتہ داروں کے باہمی تعلقات کی بنیاد پرجو حقوق بنتے ہیں، ان کے لحاظ سے، روحانیت کے لحاظ سے کتنا فرق ہے۔ قرآن کا یہ قانون اعلیٰ اخلاقیات پر مبنی ہے، صلہ رحمی اور رشتہ داری کے جو حقوق ہیں، ان کی پاس داری پر مبنی ہے اور اس کا لحاظ نہ رکھنے سے رشتہ داروں میں جو منافرت اور حسد اور بغض کے جذبات پیدا ہوتے ہیں، ان کا اس میں کس طرح مداوا ہے۔ اب شاید دنیا میں لوگ اس کی اہمیت محسوس نہیں کرتے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ قرآن نے جو بات کہی تھی، اس کے پھر دنیا کی تہذیبوں پر اثرات مرتب ہوئے اور حقوق کے حوالے سے انسانی تصورات میں دور رس تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت کی صورت میں دنیا کے سامنے جو یہ تصور رکھا، اس کے غیر معمولی اثرات ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اخلاقی لحاظ سے بھی اور عملی لحاظ ے بھی یہ خدا کی ایک نعمت ہے جو اس نے اپنی شریعت کی صورت میں انسانوں کو دی ہے۔
پھر ایک دوسرا پہلو ہے۔ مرنے والے کے مال میں یہ سارے رشتہ دار حق رکھتے ہیں، یہ بات تو واضح ہو گئی، سمجھ میں آ گئی، بتا دی گئی۔ اب اس سے آگے اس سے بھی اہم مسئلہ ہے۔ پہلی صورت میں ایک بد اخلاقی تو تھی، لیکن کم سے کم عملاً اس میں نزاع نہیں ہوتا تھا۔ یہ بات مانی ہوئی تھی کہ چلیں، جو بڑا بیٹا ہے یا جو خاندان کا بڑا ہے، وہی مال لے۔ جس کی لاٹھی ہے، اسی کی بھینس ہے۔ ٹھیک ہے، نزاع نہیں ہوتا تھا، جھگڑا نہیں ہوتا تھا۔ عام طور پر ایسے ہی ہوتا ہے کہ جو مظلوم طبقہ ہوتا ہے، وہ کچھ عرصے کے بعد ویسے ہی اپنی اس حیثیت کو قبول کر لیتا ہے۔ وہ تسلیم کر لیتا ہے کہ یہ ہمارا حق ہے ہی نہیں۔ اس کے ذہن سے اپنے حق کا تصور ہی محو ہو جاتا ہے۔
مجھے میرے ایک استاذ نے یہ واقعہ سنایا۔ یہ ایک مثال ہے، ورنہ آپ کو ہر جگہ ایسے واقعات مل جائیں گے۔ آپ کو معلوم ہے کہ گاؤں میں کچھ عرصہ پہلے تک رذیل اور شریف کا بہت شدید فرق ہوتا تھا۔ اب شاید کچھ فرق پڑ گیا ہو، لیکن بالکل ختم نہیں ہوا۔ میل ملاپ میں، اٹھنے بیٹھنے میں ہر اعتبار سے فرق کیا جاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہمارے گاؤں میں اس کا کوئی تصور نہیں تھا کہ کوئی ’’کمی‘‘ چارپائی پر میرے یا آپ کے ساتھ برابر بیٹھ سکے۔ میں ایک مرتبہ گاؤں گیا تو چارپائی پر بیٹھا ہوا تھا۔ گاؤں کا ایک کمی آیا، اس نے سلام کیا اور نیچے بیٹھ گیا۔ میں نے اسے پکڑ کر زبردستی کہا کہ میرے ساتھ اوپر چارپائی پر بیٹھو۔ وہ منع کرتا رہا، لیکن میں نے کہا کہ نہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اٹھو اور میرے ساتھ بیٹھو۔ وہ بے چارہ بیٹھ گیا۔ شاید اس نے بھی الامر فوق الادب سنا ہوگا۔ بعد میں اس نے تبصرہ کیا کہ دیکھو، یہ شہر سے پڑھ لکھ کر آ گیا ہے، اب میں اس کو کیا کہتا! تو جب آپ کسی آدمی کو، کسی طبقے کو عزت اور اکرام کے تصور سے محروم کر دیتے ہیں تو رفتہ رفتہ یہ چیز ان کے لاشعور میں داخل ہو جاتی ہے کہ ہاں، یہ ایسے ہی ہے اور ایسے ہی معاملات چلتے رہیں گے۔
خیر، میں عرض یہ کر رہا تھا کہ پہلے وراثت کے معاملے میں تنازع نہیں ہوتا تھا، لیکن جب قرآن نے یہ سمجھا دیا، بتا دیا کہ دوسرے رشتہ داروں کا بھی حق ہے تو اب اس کے بعد تو جھگڑا پڑے گا۔ اب جھگڑا یہ پڑے گاکہ کس کا کتنا حق ہے؟ یہ خدا کا بڑا فضل ہے کہ اس نے جھگڑے کا یہ راستہ کھولنے کے بعد اس کا حل بھی بتایا ہے اور قرآن میں اس نے خود اس سارے معاملے کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس نے اصول بھی واضح کیا ہے کہ مرنے والے کے مال میں سب کو حصہ کیوں ملنا چاہیے اور پھر تناسب بھی بتا دیا ہے کس رشتہ دار کو کس صورت میں کتنا ملنا چاہیے۔ اصول یہ بتایا کہ کسی کے مرنے کے بعد رشتہ داروں کو اس کا مال ملنے کی جو اخلاقی اساس ہے یا یہ سمجھیں کہ اس کی جو قانونی بنیاد ہے، وہ یہ ہے کہ انسان کو دنیا میں رہتے ہوئے اپنے مختلف قریبی رشتہ داروں سے فائدہ ملتا ہے۔ رشتہ داری کی ایک خاص منفعت ہوتی ہے جس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ مالی فائدہ ہی ہو۔ ماں باپ یا اولاد یا میاں بیوی یا بہن بھائی، یہ سب آپس میں رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور معاشرے میں رہتے ہوئے، زندگی میں ایک دوسرے کے کام آتے ہیں، ان کو ایک دوسرے سے نفع حاصل ہوتا ہے۔ قرآن یہ کہتا ہے کہ یہ جو رشتہ داروں کے مابین منفعت کا تعلق ہے، یہ اس کی بنیاد ہے کہ مرنے کے بعد اس کے مال میں ان سب کو حصہ ملے۔ اب کس رشتہ دار سے کتنی منفعت انسان کو ملتی ہے، اس کا فیصلہ کرنا انسان کے لیے ممکن نہیں اوریہ بات اگر اجتہاد پر چھوڑ دی جاتی تو مستقل طور پرنزاعات کا ایک باب کھلا رہتا۔ قرآن نے یہ فیصلہ کر دیا کہ لاَ تَدْرُونَ أَیُّہُمْ أَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعاً (النساء ۴:۱۱)۔ تم یہ طے نہیں کر سکتے کہ کون سا رشتہ دار دوسروں کے مقابلے میں زیادہ منفعت کا باعث ہے اور اس کو تمھارا مال زیادہ ملنا چاہیے۔ اللہ نے تمھاری اس کم علمی کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور جھگڑوں کاباب بند کرنے کے لیے یہ حصے بھی طے کر دیے ہیں۔ اب اس باب میں کوئی نزاع ممکن نہیں۔ بعض چھوٹی موٹی اجتہادی شکلوں میں اس نے اختلاف کی گنجائش چھوڑ دی ہے، لیکن جو نہایت قریبی رشتہ دار ہیں اور ان کے وراثت میں شریک ہونے کی جو بنیادی صورتیں ہیں جو دنیا میں عام طو رپر پیش آتی ہیں، وہ ایسی ہیں کہ ان میں قرآن کی بیان کردہ تقسیم کافی ہوتی ہے۔
اب آپ دیکھیں کہ اللہ نے شریعت کی صورت میں اپنی جو نعمت عطا کی ہے، اس کے متعلق ہمارا رویہ کیا ہے۔ ہم سے پہلے اللہ کی اس نعمت کی ناشکری یہود نے بھی کی تھی اور بدقسمتی سے آج ہم مسلمان بھی کر رہے ہیں۔ یہود نے بھی یہی رویہ اختیار کیا تھا کہ خداکی نعمت کے موجود ہوتے ہوئے، اللہ کی کتاب کے اپنے پاس موجود ہوتے ہوئے وہ فیصلے اپنی خواہشات اور سطحی مفادات کے تحت کرتے تھے۔ سورۂ مائدہ میں دیکھیں ،اللہ تعالیٰ نے شریعت موسوی کی شان کیسے بیان فرمائی ہے۔ فرمایا کہ ہم نے جو تورات نازل کی تھی، اس میں نور بھی تھا، اس میں ہدایت بھی تھی اور اللہ کے انبیاء اس کے مطابق فیصلہ کرتے رہے، بنی اسرائیل کے نیک لوگ اور علماء اس کے مطابق فیصلہ کرتے رہے، لیکن ان یہودی احبار ورہبان نے کیا وتیرہ اپنا رکھا ہے؟ یہ اپنے مفادات، دنیوی خواہشات اور سفلی اغراض کے تحت شریعت کے ہوتے ہوئے اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے، اس سے گریز کرتے ہیں۔
آج بدقسمتی سے ہم مسلمان بھی اس معاملے میں انھی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ آج ہمارے ہاں خدا کی شریعت کے معاملے میں عجیب وغریب رویے پیدا ہو گئے ہیں۔ کچھ ایسے طبقات پیدا ہو گئے ہیں جو شریعت سے صاف منحرف اور باغی ہیں اور وہ کھلم کھلا اس کو چیلنج کرتے ہیں کہ یہ تو ایک دقیانوسی دور کی تقسیم ہے جب عورتوں کو کمزور سمجھا جاتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ وراثت میں عورتوں کے حصے کم کیوں ہیں؟ ان کو بھی پورا حصہ ملنا چاہیے۔ یہ ایک باغیانہ رویہ ہمارے بعض طبقات کے ہاں شریعت کے حوالے سے پیدا ہو چکا ہے۔ اس محدود طبقے کو ایک طرف رکھ کر دیکھیں تو ہمارے ہاں بیشتر لوگ، خاص طو رپر جو عام مسلمان ہیں، وہ شریعت کا انکار تو نہیں کرتے، اس کے مقابلے میں کھڑے ہو کر چیلنج تو نہیں کرتے، لیکن آپ دیکھ لیں کہ شریعت کے قوانین پر عمل کے معاملے میں صورت حال کیا ہے۔ وراثت کے معاملے میں ہی دیکھ لیں۔ اس معاملے میں تو میرا خیال ہے کہ دین داروں اور غیر داروں میں بھی کوئی خاص فرق ڈھونڈنا مشکل ہے۔ خواتین کے معاملے میں عملاً یہ مان لیا گیا ہے اور بہت سے جذباتی ہتھکنڈے اور دباؤ استعمال کر کے خواتین کو بھی اس پر قائل کر لیا گیا ہے کہ وہ باپ یا ماں کے مرنے کے بعد وراثت میں اپنے حصے کا مطالبہ نہ کریں۔ کوئی بہن اگر حصہ مانگ لے تو یہ ناقابل معافی جرم ہے کہ وہ بھائیوں سے حصہ مانگتی ہے۔ دین دار لوگ ہیں تو انھوں نے بھی اس کے جواز کے لیے یہ راستہ نکالا ہوا ہے کہ بہنوں سے معاف کروا لیتے ہیں۔ بہت سے دین دار ہیں جو ایسا کروا لیتے ہیں تاکہ یہ کہہ سکیں کہ ہم نے بہنوں کی حق تلفی نہیں کی۔ بھئی، اگر بہن کو یہ منظر نظر آ رہا ہو کہ آج میں لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپے لے لوں گی اور اس کے بعد باقی ساری زندگی کے لیے میرے ساتھ تعلق ختم ہوجائے گا اور اگر رہے گا بھی تو بس برائے نام رہے گا تو اس نے تو معاف کرنا ہی ہے۔
ہمارے استاذ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ فرمایا کرتے تھے کہ ایسی زبانی کلامی معافی کا کوئی اعتبار نہیں، چاہے بہن دس دفعہ منہ سے کہہ دے یا لکھ کر دے دے کہ میں نے اپنا حق معاف کیا، کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ یہ حقیقت میں طیب خاطر سے معاف نہیں کیا گیا۔ وہ کہتے تھے کہ معافی وہ معتبر ہے کہ آپ بہن کو اس کا جو حصہ بنتا ہے، وہ الگ کر کے اس کے سپرد کریں۔ وہ بالفعل اس کی مالک بن جائے، اس کو اس میں تصرف کا حق حاصل ہو جائے اور پھر اس کے بعد وہ اپنی مرضی سے، کسی دباؤ کے بغیر اور کسی طعن وتشنیع یا قطع تعلق کے خوف کے بغیر یہ کہے کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں، میں اپنے بھائی کو دیتی ہوں تو وہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ لیکن جہاں کسی قسم کا کوئی دباؤ، کوئی خوف یا قطع تعلق کا کوئی اندیشہ شامل ہوگا تو اس معافی کا شریعت میں کوئی اعتبار نہیں، بلکہ بعض اکابر صحابہ وتابعین کے ایسے فیصلے موجود ہیں کہ اگر عورت شادی ہونے اور بچے کو جنم دینے سے پہلے اس طرح کا کوئی فیصلہ کرے تو وہ اسے قانوناً نافذ ہی نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ جلیل القدر تابعی عامر شعبی کہتے ہیں کہ قریش کی ایک لڑکی سے اس کے بھائی نے کہا کہ تم اپنے شوہر کے پاس جانے سے پہلے اپنی وہ میراث جو تمھیں اپنے والد کی طرف سے ملی ہے، مجھے ہبہ کر دو۔ لڑکی نے اس کی بات مان لی، لیکن پھر شادی ہو جانے کے بعد اس نے اپنی میراث دوبارہ مانگی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ اسے واپس دلوا دی اور قاضی شریح کو تاکید کی کہ جب تک عورت اپنے شوہر کے گھر میں جا کر ایک سال نہ گزار لے یا ایک بچے کو جنم نہ دے دے، اس وقت تک اس کی طرف سے ہبہ کے فیصلے کو نافذ نہ مانا جائے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ۲۱۹۱۴، ۲۱۹۱۶) اس فیصلے کے پیچھے بھی یہی حکمت دکھائی دیتی ہے کہ شادی سے پہلے لڑکی اپنے مال کے متعلق بہتر فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی اور مال کی اہمیت کا احساس اسے دراصل شوہر اور بچوں والی زندگی سے واسطہ پیش آنے کے بعد ہی ہوتا ہے، اس لیے وراثت میں اپنا حق معاف کرنے یا نہ کرنے کے ضمن میں اس کا فیصلہ بھی وہی معتبر ہوگا جو وہ اس صورت حال سے سابقہ پیش آنے کے بعد کرے گی۔
بہرحال ہمارے معاشرے میں عملاً یہی ہو رہا ہے اور خواتین کو ان کا حق نہیں ملتا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنی اس نعمت کی قدر کرنے، اس کے جو فوائد اور حکمتیں ہیں، ان کو سمجھنے کی اور ان پر عمل کرنے کی توفیق اور ان سے جو اخلاقی، روحانی، معاشرتی فوائد وبرکات حاصل ہو سکتے ہیں، ان سے بہرہ ور ہونے کی سعادت ہمیں نصیب فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
احتجاج وانتقام اور اسلامی اخلاقیات
غصہ، نفرت اور انتقام کے جذبات دوسرے تمام جذبات کی طرح انسانی فطرت میں پیوست ہیں اور ان کا اظہار انسانی زندگی کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ خدا کے پیغمبر جب انسان کو اپنے پیغام کا مخاطب بناتے اور انسانی شخصیت کی تعمیر وتہذیب کی بات کرتے ہیں تو ان فطری جذبات کی نفی نہیں کرتے اور نہ انھیں غیر فطری طو رپر دبا دینے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ انسان کو یہ بتاتے ہیں کہ ان جذبات کے اظہار کے جائز اور مشروع مواقع کون سے ہیں اور ان کا اظہار کرتے ہوئے انسان کو کون سے اخلاقی حدود کا پابند رہنا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جزیرۂ عرب میں مبعوث کیا گیا تو عرب معاشرہ غصے اور انتقام کے جذبات کے اظہار کے حوالے سے سنگین قسم کی ناہمواریوں اور بے اعتدالیوں کا شکار تھا۔ مثال کے طو رپر حریف قبائل کے مابین لڑائی او رکشمکش کی فضا میں یہ بات عام تھی کہ اگر ایک قبیلے کے آدمی نے دوسرے قبیلے کے کسی آدمی کو قتل کر دیا ہو تو مقتول کے ورثا کا یہ حق سمجھا جاتا تھا کہ وہ براہ راست قاتل تک رسائی حاصل نہ کر سکے تو وہ اس کے کسی قریبی عزیز اور یا پھر اس کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کو جہاں موقع ملے، قتل کر دے۔ یہ قصاص اور بدلے کا ایک مسلمہ قاعدہ تھا جس پر پورے عرب معاشرے میں عمل جاری تھا۔ یہ طریقہ نفسیاتی طو رپر اگرچہ باعث تسکین تھا اور اس سے مقتول کے ورثا کے جذبات بھی بڑی حد تک ٹھنڈے ہو جاتے تھے، لیکن ظاہر ہے کہ اخلاقی لحاظ سے اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ چنانچہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو انتقام اور بدلے کے اس جاہلانہ ضابطے کو قطعی طور پر حرام قرار دیا گیا اور حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب معاشرت کی اصلاح کے حوالے سے جہاں دوسرے بہت سے امور کا ذکر کیا، وہاں یہ بات بھی ارشاد فرمائی کہ :
لا یؤخذ الرجل بجریرۃ أخیہ ولا بجریرۃ أبیہ (طبرانی، المعجم الاوسط، ۴۱۶۶)
’’کسی شخص کو اس کے بھائی یا باپ کے جرم میں نہ پکڑا جائے۔‘‘
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے یہ بھی واضح فرمایا کہ عدل وانصاف اور معاشرتی اخلاقیات کی پاس داری صرف مسلمانوں کے باہمی معاملات میں نہیں، بلکہ غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات میں بھی ضروری ہے، یہاں تک کہ اگر کسی گروہ کا اجتماعی رویہ واضح طو رپر اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ عناد، دشمنی اور مخاصمت کا مظہر ہو، تب بھی مسلمانوں کی طرف سے ان کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے ہمیشہ شریعت کے بیان کردہ اخلاقی اصولوں کی پابندی کی جائے گی۔ سورۂ مائدہ کی آیت ۲ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (المائدہ۵: ۸)
’’ ایمان والو، اللہ کی خاطر عدل وانصاف کے گواہ بن کر کھڑے ہو جاؤ، اور ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کے ساتھ دشمنی تمھیں برانگیختہ کر کے ناانصافی پر آمادہ کردے۔ عدل پر قائم رہو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تمھارے اعمال کی پوری پوری خبر رکھنے والا ہے۔‘‘
سیرت نبوی اور سیرت صحابہ میں ہمیں اس اخلاقی ہدایت کی پاس داری کی نہایت روشن مثالیں ملتی ہیں۔ چنانچہ دیکھیے، عہد نبوی کے یہودیوں کے متعلق قرآن مجید نے یہ تصریح کی ہے کہ وہ ۔اہل ایمان کے ساتھ سب سے بڑھ کر دشمنی رکھنے والا گروہ ہیں۔ (سورۂ مائدہ، آیت ۸۲) اس کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی طرف سے ان کے ساتھ جس اعلیٰ درجے کا اخلاقی معاملہ کیا گیا، اس کا اندازہ درج ذیل دو واقعات سے لگایا جا سکتا ہے:
فتح خیبر کے بعد ایک موقع پر دو انصاری صحابی عبد اللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود خیبر کی طرف گئے اور اپنے اپنے کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ کچھ دیر کے بعد محیصہ نے عبد اللہ بن سہل کو اس حالت میں پایا کہ انھیں قتل کر دیا گیا تھا اور وہ خون میں لت پت ایک جگہ پڑے ہوئے تھے۔ چنانچہ عبد اللہ بن سہل کے ورثا اپنا مقدمہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اور یہود سے قصاص لینے کا مطالبہ کیا۔ آپ نے ان سے کہا کہ تم میں سے پچاس آدمی قسم اٹھالیں (کہ یہ قتل فلاں یہودی نے کیاہے) تو میں ملزم کو تمھارے حوالے کر دو ں گا۔ انصار نے کہا کہ ہمیں یہ بات پسند نہیں کہ قاتل کو دیکھے بغیر قسم اٹھالیں۔ آپ نے فرمایا کہ پھر یہودیوں سے کہتے ہیں کہ وہ تمھیں قسمیں دے دیں کہ وہ اس جرم سے لا تعلق ہیں، لیکن مقتول کے ورثا نے کہا کہ ہم ان کی قسموں پر کیونکر اعتبار کر سکتے ہیں؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقدمے کو نمٹانے کے لیے اس انصاری کی دیت بیت المال سے ادا کردی تاکہ اس کا خون رائیگاں نہ جائے۔ (بخاری، رقم ۳۰۰۲)
خیبر کا یہ سارا علاقہ یہودیوں کا تھا اور بدیہی طو رپر یہ کام انھی میں سے کسی کا تھا، بلکہ بعض روایات کے مطابق یہودیوں نے اس قضیے میں اس بات کی قسمیں دینے سے بھی انکار کر دیا تھا کہ ہمارا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہم قاتل کو جانتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو ان قرائن اور یہود کے سابقہ کردار کی روشنی میں اس کی ذمہ داری ان پر ڈال سکتے تھے، لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا اور وہی طریقہ اختیار فرمایا جس کی شریعت اور قانون اجازت دیتے تھے۔
خیبر کی فتح کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کے یہودیوں کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا کہ زمین مسلمانوں کے بیت المال کی ملکیت ہوگی، لیکن عملاً یہود کے تصرف میں رہے گی اور وہ اس کی فصل یہودیوں اور مسلمانوں کے کے مابین تقسیم ہوگی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن رواحہ کو وہاں بھیجا جنھوں نے وہاں کی فصل کا جائزہ لے کر مقدار کا اندازہ کیا اور پھر یہود سے کہا کہ:
’’اے قوم یہود، تم اللہ کی مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ مبغوض ہو۔ تم نے اللہ کے نبیوں کو قتل کیا اور اللہ کے خلاف جھوٹ کی نسبت کی۔ لیکن تمہارے ساتھ یہ نفرت مجھے اس پر آمادہ نہیں کرتی کہ میں تم پر کوئی زیادتی کروں۔ میں نے کھجوروں کا اندازہ بیس ہزار وسق لگایا ہے۔ اگر تمھیں منظور ہو تو ٹھیک ورنہ یہ محض میرا اندازہ ہے۔ یہود نے کہا: اسی انصاف کے سہارے تو زمین وآسمان قائم ہیں۔‘‘ (مسند احمد، رقم ۱۴۴۲۵)
یہی طرز عمل مسلمانوں نے مشرکین کے ساتھ بھی اختیار کیا۔ امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی خبیب انصاری اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ بعض مشرک کے قبائل کے ہاتھوں گرفتار ہو کر قریش مکہ کی قید میں پہنچ گئے جنھوں نے انھیں غزوۂ بدر میں حار ث بن عامر کو قتل کرنے کے بدلے میں قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جب مقررہ دن خبیب کو قتل کرنے کے لیے لوگ جمع ہوئے اور خبیب کو بھی اس کی اطلاع دے دی گئی تو انھوں نے شہادت پانے سے پہلے اپنے جسم کی صفائی کے لیے ان سے استرا مانگا۔ حارث بن عامر کی بیٹی بتاتی ہیں کہ میری بے دھیانی میں میرا ایک بچہ کھیلتا کھیلتا خبیب کے پاس جا پہنچا اور جب میری نظر پڑی تو استرا خبیب کے ہاتھ میں تھا اور میرا بچہ ان کی گود میں بیٹھا ہوا تھا۔ میں یہ منظر دیکھ کر گھبرا گئی جسے خبیب نے بھی بھانپ لیا اور مجھ سے کہا کہ کیا تم ڈر رہی ہو کہ میں اس بچے کو قتل کر دوں گا؟ نہیں، میں ایسا نہیں کر سکتا۔ (بخاری، رقم ۲۸۸۰)
یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ زمانہ مسلمانوں اور قریش کے مابین تعلقات کے تناؤ کے عروج کا زمانہ تھا اور جنگ بدر ابھی حال ہی میں رونما ہوئی تھی۔ مشرکین عرب، جیسا کہ معلوم ہے، اخلاقیات کی پاس داری کرنے والا کوئی گروہ نہیں تھے۔ وہ اسلام دشمنی میں توہین رسالت، بے گناہ لوگوں کی قتل وغارت اور خواتین کی بے حرمتی سمیت ان تمام شنیع جرائم کا بالفعل مرتکب تھے جو کوئی بھی گروہ کسی گروہ کے خلاف کر سکتا ہے۔ اس کے باوجود خبیب کی اخلاقیات نے اس کی اجازت نہیں دی کہ وہ ان کے ان جرائم اور خاص طو رپر اپنے قتل کا انتقام ایک معصوم بچے سے لیں اور اپنے جذبہ انتقام کو اس گھٹیا اور سفلی طریقے سے تسکین پہنچانے کا سامان کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی قوم کا نمائندہ بن کر آنے والے سفیروں کے بارے میں اس مسلمہ عالمی عرف کی بھی تائید وتصدیق فرمائی کہ انھیں جان کا تحفظ حاصل ہوتا ہے اور وہ جس قوم کی نمائندگی کر رہے ہیں، اس کے ساتھ کیسا ہی تنازع اور اختلاف کیوں نہ ہو، اس کے بھیجے ہوئے سفیروں پر کوئی دست درازی نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ مسیلمہ کے بھیجے ہوئے سفیروں نے جب مسیلمہ کے نبی ہونے پر اپنے ایمان کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر یہ ضابطہ نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا۔ (ابو داود، ۲۷۶۱)
اس ضمن میں کسریٰ کے بھیجے ہوئے قاصدوں کا واقعہ زیادہ قابل توجہ اور سبق آموز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے بعد جزیرۂ عرب کے گرد ونواح میں مختلف سلطنتوں کے سربراہوں کو اسلام قبول کرنے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سر اطاعت خم کر دینے کے پیغام پر مشتمل خطوط لکھے تو فارس کے بادشاہ یزدگرد نے آپ کے لیے سخت توہین آمیز کلمات استعمال کرتے ہوئے نہایت تحقیر کے ساتھ آپ کے خط کو پھاڑ دیا اور یمن میں اپنے گورنر باذان کو حکم بھیجا کہ حجاز میں جو مدعی نبوت پیدا ہوا ہے، اس کو گرفتار رکر کے میرے پاس بھیج دو۔ باذان نے کسریٰ کا یہ حکم تحریری طور پر اپنے دو قاصدوں کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج دیا۔ یہ قاصد کسریٰ کا حکم نامہ لے کر رسول اللہ کے پا س آئے تو آپ نے ان کے خلاف کوئی دار وگیر نہیں فرمائی اور صرف یہ کہہ کر ان کو واپس بھیج دیا کہ جا کر باذان کو بتا دو کہ گزشتہ رات اللہ نے کسریٰ کو قتل کر وا دیا ہے۔ (ابن کثیر، البدایہ والنہایہ ۲/۱۸۰)
آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم مغربی حکومتوں کی مسلم کش سیاسی پالیسیوں کا انتقام لینے کے لیے ان کے عام اور بے گناہ شہریوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اس پر یہ شرعی جواز بھی گھڑ رہے ہیں کہ چونکہ ان ممالک کے عوام اپنی حکومتوں کو ٹیکس ادا کرتے ہیں، اس لیے وہاں کے تمام شہری ’’مقاتلین‘‘ میں شمار ہوتے ہیں اور ان کو قتل کرنا جائز ہے۔یہی معاملہ امریکہ میں بننے والی کسی فلم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مختلف مسلم ممالک میں امریکی سفارت خانوں کو جلانے اور سفارتی عملے کو قتل کرنے کے حالیہ واقعات کا ہے اور فقہ وشریعت کے کسی بھی طالب علم کے لیے یہ بات بالکل ناقابل فہم ہے کہ بے لگام غصے اور اشتعال کی کیفیت میں اس طرح کے اقدامات کا کیا شرعی یا اخلاقی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟ کیا ہماری قیادت میں کوئی ایسا نہیں ہے جو غصے اور نفرت کے اس اظہار کو، جو حدود سے قطعی طور پر متجاوز ہے، غیرت کا خوب صورت عنوان دے کر اپنی عوامی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے بجائے اس نازک موقع پر حق کی گواہی دیتے ہوئے مسلمانوں کو شرعی اخلاقیات کی یاد دہانی کرائے اور سیرت نبوی وسیرت صحابہ کی روشن مثالوں کا حوالہ دے کر ان کے دلوں میں اس احساس کو بیدار کرنے کی کوشش کرے کہ:
تم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہے؟
غامدی صاحب کے ایک سوال کا جواب
حافظ زبیر علی زئی
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کی تجویز کس نے پیش کی تھی، اس کے بارے میں جاوید احمد غامدی صاحب نے لکھا ہے:
’’روایات بالکل واضح ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدہ کے نکاح کی تجویز ایک صحابیہ حضرت خولہ بنت حکیم نے پیش کی۔ اُنھی نے آپ کو توجہ دلائی کہ سیدہ خدیجہ کی رفاقت سے محرومی کے بعد آپ کی ضرورت ہے کہ آپ شادی کر لیں، یا رسول اللّٰہ، کانی اراک قد دخلتک خلۃ لفقد خدیجۃ... افلا اخطب علیک؟، (الطبقات الکبریٰ ، ابن سعد ۸/۵۷)
آپ کے پوچھنے پر اُنھی نے آپ کو بتایا کہ آپ چاہیں تو کنواری بھی ہے اور شوہر دیدہ بھی ۔ آپ نے پوچھا کہ کنواری کون ہے، تو اُنھی نے وضاحت کی کہ کنواری سے اُن کی مراد عائشہ بنت ابی بکر ہیں۔ (احمد بن حنبل ، رقم ۲۵۲۴۱)
بیوی کی ضرورت زن و شو کے تعلق کے لیے ہو سکتی ہے، دوستی اور رفاقت کے لیے ہو سکتی ہے، بچوں کی نگہداشت اور گھر بار کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ہو سکتی ہے۔
یہ تجویز اگر بقائمی ہوش و حواس پیش کی گئی تھی تو سوال یہ ہے کہ چھ سال کی ایک بچی ان میں سے کون سی ضرورت پوری کر سکتی تھی، کیا گھر بار کے معاملات سنبھال سکتی تھی؟ سیدہ کی عمر کے متعلق روایتوں کے بارے میں فیصلے کے لیے یہ قرائن میں سے ایک قرینہ نہیں، بلکہ ایک بنیادی سوال ہے۔ ‘‘ (ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ،جولائی ۲۰۱۲ء ص ۲۶)
عرض ہے کہ سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہئے کہ یہ ’’روایات‘‘ نہیں بلکہ صرف ایک حسن غریب روایت ہے جسے ابن سعد اور امام احمد بن حنبل (ج۶ص ۲۱۰۔۲۱۱، موسوعہ حدیثیہ ج۴۲ ص ۵۰۱۔ ۵۰۴ ح ۲۵۷۶۹) وغیرہما نے محمد بن عمرو (بن علقمہ اللیثی ) عن ابی سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف و یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب کی سند سے بیان کیا ہے۔
محمد بن عمرو بن علقمہ اللیثی رحمہ اللہ مختلف فیہ راوی، لیکن جمہور کی توثیق کی وجہ سے صدوق حسن الحدیث ہیں۔
روایت کے متصل یا مرسل ہونے کے بارے میں بھی اختلاف ہے ، حافظ ہیثمی نے اس روایت کے اکثر حصے کو مرسل قرار دیا ہے، جبکہ حافظ ابن حجر العسقلانی کے نزدیک اس کی سندحسن (یعنی متصل) ہے۔
(دیکھئے مجمع الزوائد ج۹ص ۲۲۵۔ ۲۲۶، فتح الباری ج۷ص ۲۲۵ تحت ح ۳۸۹۶)
ہمارے نزدیک حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی یہاں تحقیق راجح ہے اور یہ سند ’’حسن لذاتہ غریب ‘‘ہے۔
طبقات ابن سعد اور مسند احمد دونوں کتابوں میں اسی روایت کے متن میں صاف صاف لکھا ہوا ہے کہ ’’وعائشہ یومئذ بنت ست سنین‘‘ (اور اس دن عائشہ چھ سال کی بچی تھیں)۔
اس صریح عبارت کو چھپا کر غامدی صاحب نے خیانت کی ہے، لہٰذا ان پر یہ فرض ہے کہ وہ اس خیانت سے توبہ کا اعلان کریں اور ان کا اشارتاًیہ لکھ دینا کافی نہیں کہ ’’روایت کا یہ داخلی تضاد کس طرح دور کیا جائے گا؟ ‘‘ !
اگر یہ روایت متضاد ہے تو ضعیف کی اؓیک قسم ہوئی اور اس سے استدلال حجت نہ رہا، لہٰذا صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغیرہما کی حدیث کے مقابلے میں اسے پیش کرنا فضول ہے اور اگر یہ روایت حسن ہے تو صریح عبارت کے مقابلے میں غامدی صاحب کے خود تراشیدہ مفہوم کی کیا حیثیت ہے؟!
اصل بات یہ ہے کہ جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا فوت ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیحد پریشان رہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے تحت سیدہ خولہؓ نے آپ کو دو شادیاں کرنے کا مشورہ دیا، جسے آپ نے قبول فرما لیا۔
۱۔ سودہ رضی اللہ عنہا
۲۔ عائشہ رضی اللہ عنہا
بچیوں کی دیکھ بھال، رفاقت اور دوسرے اُمور کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ سے تین سال یا کچھ زیادہ عرصے پہلے ہی شادی کر لی اور اس کے کچھ عرصہ بعد سیدہ عائشہؓ سے نسبت طے پا گئی، یا نکاح ہو گیا اور ۲ ہجری میں رخصتی ہوئی۔ (نیز دیکھئے سیر اعلام النبلاء ۲/ ۲۶۵، ۱۳۵)
یہاں ایسی کسی بات کا نام نشان تک نہیں کہ سیدہ خولہ k نے سیدہ سودہ یا سیدہ عائشہؓ (یعنی دو میں سے کسی ایک ) سے نکاح کا مشورہ دیا تھا ، بلکہ انھوں نے دونوں سے شادی کا مشورہ دیا تھا۔
۱۔ ایک (سودہ رضی اللہ عنہا)سے فوراً تاکہ آپ کو رفاقت حاصل ہو جائے۔
۲۔ دوسری(عائشہ رضی اللہ عنہا) سے بعد میں تاکہ وہ آپ کی گھریلو زندگی اور علم کا بہت بڑا ذخیرہ یاد کر لیں اور دو ہزار سے زیادہ حدیثوں کا گلدستہ اُمت کے سامنے پیش کر دیں۔
یاد رہے کہ روایت میں ’’إن شئت بکرًا و إن شئت ثیبًا‘‘ کے الفا ظ ہیں، یعنی اگر آپ چاہیں تو ایک بکر (لڑکی) اور اگر آپ چاہیں تو ایک ثیب (شوہر دیدہ) اور یہ الفاظ ہر گز نہیں کہ ’’إن شئت بکرًا، أو إن شئت ثیبًا‘‘ یعنی اگر آپ چاہیں تو ایک لڑکی، یا اگر آپ چاہیں تو ایک شوہر دیدہ عورت ہے۔
یہاں او (یا) اختیاری نہیں بلکہ واؤ ہے، نیز اس روایت میں دونوں سے فوراً (اسی وقت) نکاح کی صراحت بھی ہر گز موجود نہیں۔
عربی میں بکر (الجاریۃ) اس لڑکی کو کہا جاتا ہے جس سے جماع نہ کیا گیا ہو۔ (دیکھیے: لسان العرب ج۴ص ۷۸ ب مادہ : بکر)
آخر میں عرض ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خود بتایا ہے کہ ان کا نکاح چھ یا سات سال کی عمر میں اور رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ یہ گواہی درج ذیل شاگردوں نے ان سے نقل فرمائی ہے:
۱۔ عروۃ بن الزبیر رحمہ اللہ ، جو سیدہ عائشہ کے بھانجے تھے۔ (صحیح بخاری: ۳۸۹۶، صحیح مسلم :۱۴۲۲)
۲۔ اسود بن یزید رحمہ اللہ (صحیح مسلم :۱۴۲۲)
۳۔ عبد اللہ بن صفوان رحمہ اللہ ( المستدرک للحاکم ۴/ ۱۰ ح ۶۷۳۰ وسندہ صحیح و صححہ الحاکم ووافقہ الذہبی)
۴۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رحمہ اللہ ( سنن النسائی ۶/ ۱۳۱ ح ۳۳۸۱ وسندہ حسن)
۵۔ یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب رحمہ اللہ ( مسند ابی یعلیٰ : ۴۶۷۳ وسندہ حسن)
درج ذیل تابعین کرام سے بھی اس مفہوم کے صریح اقوال ثابت ہیں:
۱۔ عروۃ بن الزبیر رحمہ اللہ ( صحیح بخاری : ۳۸۹۶، طبقات ابن سعد ۸/ ۶۰ وسندہ صحیح)
۲۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رحمہ اللہ ( مسند احمد ۶/ ۲۱۱ ح ۲۵۷۶۹ وسندہ حسن)
۳۔ یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب رحمہ اللہ (ایضاً وسندہ حسن)
۴۔ ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ (المعجم الکبیر للطبرانی ۲۳/۲۶ح ۶۲ وسندہ حسن)
۵۔ زہری رحمہ اللہ (طبقات ابن سعد ۸/۶۰ وھو حسن)
بلکہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس بارے میں لکھا ہے:
’’ما لا خلاف فیہ بین الناس‘‘ اور لوگوں میں اس بات میں کوئی اختلاف نہیں۔ (البدایہ والنہایہ ۳/ ۱۲۹، دوسرا نسخہ: ۳/۳۷۵)
کیا غامدی صاحب اور ان کے تمام حواری کسی صحیح یا حسن لذاتہ حدیث، صحیح و ثابت قولِ صحابی، صحیح و ثابت قولِ تابعی یا خیر القرون کے کسی ثقہ امام سے صراحتاً یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے وقت اُن کی عمر چھ سال یا سات سال نہیں تھی اور ان کی رخصتی کے وقت نو سال عمر نہیں تھی؟
صرف ایک صحیح و صریح حوالہ پیش کریں اور اگر نہ کر سکیں تو توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔
قارئین کرام کی خدمت میں بطورِ فائدہ عرض ہے کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ایک حدیث (خ ۳۸۹۵، م ۲۴۳۸) سے یہ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس نکاح کو اللہ کی طرف سے سمجھتے تھے۔
(۲۹/ رمضان ۱۴۳۳ھ بمطابق ۱۸/ اگست ۲۰۱۲ء)
آئیے تاریخ پڑھیں!
طلحہ احمد ثاقب
پاکستان کو قائم ہوئے پینسٹھ برس بیت گئے، مگر کیا مجال کہ فضا میں ہلکی سی تبدیلی بھی ہوئی ہو۔ وہی نعرے، وہی انداز استدلال، وہی جذباتیت، وہی مخالفین کے لیے سب وشتم وغیرہ۔ مسلم لیگی کارکنوں نے تو ۱۹۴۷ء میں نعرے بلند کیے، مضمون لکھے اور اپنے جذبوں کو زبان دی۔ پاکستان بن گیا تو وہ لوگ حکومتیں کرنے لگے، مخالف منہ چھپاتے پھرتے تھے۔ انھوں نے کبھی کسی مسلم لیگی پر تنقید کی یا حکومتی غلطیوں کی نشان دہی کی، وہیں اسے غدار، ملک دشمن، ہندو کا ایجنٹ وغیرہ کے خطاب عنایت کر دیے گئے۔ تحریک پاکستان کے کارکن تو اللہ کوپیارے ہو گئے، ان کی یادگار کارکنان تحریک پاکستان ٹرسٹ رہ گیا یا نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن۔ ایک دو بزرگ ابھی زندہ ہیں، مجید نظامی اور ڈاکٹر رفیق۔ اللہ تعالیٰ انھیں زندہ سلامت رکھے۔ ان کے دم سے ہماری تاریخ زندہ ہے۔
پاکستان بن گیا۔ اب نعرے بازی ختم کر کے سنجیدہ تجزیہ نگاری کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، مگر ابھی نعرے بازی کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ مسلم لیگی تو خیر ملک چلانے میں مصروف ہیں یا سیاست کرنے میں۔ تحریک پاکستان کی نعرے بازی ان دنوں جماعت اسلامی نے سنبھال رکھی ہے۔ ممکن ہے وہ ۱۹۴۷ء میں پاکستان کی مخالفت کا ازالہ کرنا چاہتے ہوں اور پاکستان کی حمایت میں نومسلموں والا جوش دکھا رہے ہوں۔ وجہ کچھ بھی ہو، ان لوگوں کا جوش وخروش دیدنی ہے۔ ان کی نعرہ بازی کے سامنے کارکنان تحریک پاکستان کے نعرے مدھم پڑتے محسوس ہوتے ہیں۔
پاکستان کے قیام کی مخالفت مولانا ابو الکلام آزاد نے کی تھی اور بلند آہنگی سے کی تھی۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے بھی پاکستان کی مخالفت کی تھی اور بساط بھر مخالفت کی تھی، مگر مولانا ابو الکلام نے قیام پاکستان کے بعد اپنے آپ کو ہندوستان میں بچ جانے والے مسلمانوں کی فلاح کے لیے وقف کر لیا تھا۔ انھوں نے تقسیم کے معاملے کو ماضی کا معاملہ قرار دے دیا، مگر مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے قیام پاکستان کے بعد ’’ترجمان القرآن‘‘ کے اداریے میں پاکستان کے قیام اور اس کی قیادت پر بھرپور تنقید کی۔ اب کچھ سالوں سے جماعت اسلامی کے لوگ قیام پاکستان اور بانی پاکستان کی حمایت میں بہت پرجوش ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے جذبوں کو سلامت رکھے اور سلامتی کا راستہ دکھائے، مگر انھیں چاہیے کہ جذبات کے اظہار کے ساتھ ساتھ تاریخ کو نہ بھولیں اور یاد رکھیں کہ قیام پاکستان کو مولانا ابو الکلام آزاد نے نہیں، ان کے اپنے فکری راہنما جناب قبلہ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے درندے کی پیدائش سے تعبیر کیا تھا۔
یہ ساری باتیں اس لیے یاد آئیں کہ جماعت اسلامی کے اخبار ’’جسارت‘‘ کے فرائیڈے اسپیشل میں جناب شاہنواز فاروقی کا مضمون بعنوان ’’قیام پاکستان: قائد اعظم کیوں صحیح تھے؟ مولانا ابو الکلام آزاد کیوں غلط تھے؟‘‘ شائع ہوا۔ جماعت اسلامی کے رسالے میں یہ مضمون شائع ہوا ہے، اس لیے ان سے مودبانہ گزارش ہے کہ براہ کرم یہ بھی لکھ دیں کہ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی صحیح تھے یا غلط؟ جناب فاروقی صرف مولانا ابو الکلام آزاد پر سنگ زنی کر رہے ہیں، مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کا ذکر بہت خوب صورتی سے گول کر گئے ہیں۔ جواباً فاروقی صاحب مولانا ابو الاعلیٰ کی ۱۹۳۸ء سے پہلے کی تحریریں پیش کریں گے۔ ہماری گزارش ہے کہ وہ ۱۹۳۸ء سے ۱۹۴۷ء تک کی مولانا ابو الاعلیٰ کی تحریریں دیکھیں اور پھر خوشی سے پیش کریں۔ ہم بسر وچشم قبول کریں گے۔
جناب فاروقی نے مضمون میں جو نقطہ نظر پیش کیا ہے، ہم اس حوالے سے کسی بحث میں الجھنا نہیں چاہتے۔ ہم صرف چند تاریخی غلطیوں کی نشان دہی کرنا چاہتے ہیں۔
جناب فاروقی نے فرمایا ہے:
’’اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کا سب سے بڑا تاریخی جرم یہ تھا کہ انھوں نے ہزاروں سال سے کروڑوں شودروں اور دلتوں کو حیوانوں سے بدتر زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو ہندو دھرم کے دائرے میں تھے۔‘‘
راقم الحروف کو جناب فاروقی کی اس بات سے کامل اتفاق ہے کہ اعلیٰ ذات کے ہندووں نے دلتوں کو حیوانوں سے بدتر زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا تھا، مگر اس بات سے اتفاق نہیں ہے کہ وہ ہندو دھرم کے دائرے میں تھے۔ اچھوت ہمیشہ سے ہندو دھرم کے دائرے سے باہر سمجھے گئے اور وہ دھرم کے بغیر زندگی بسر کرتے رہے۔ ہندوؤں نے انھیں اچھوت سمجھا اور ذات باہر ٹھہرایا۔ اعلیٰ ذات کے ہندوؤں نے ان پر ظلم کیا اور اچھوت سمجھ کر کیا۔ اب جناب محترم یہ بھی بتا دیں کہ مسلمانوں نے اچھوتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ مسلم معاشرے نے اچھوتوں کو مسلمان ہو جانے کے بعد بھی صرف مسجد میں قبول کیا، معاشرے میں قبول نہیں کیا۔ یہ بے چارے بالمیک کا بت پوجتے تھے یا بغیر مذہب کے جیون گزارتے تھے۔ ہندو انھیں مندر سے دور رکھتے تھے ، مسلمان بھی انھیں مسجد میں لانے کا کم ہی سوچتے تھے۔ اگر سوچا ہوتا تو ہندوستان میں اکثریت مسلمانوں کی ہوتی۔ راقم الحروف جناب فاروقی پر یہ بات واضح کرنا چاہتا ہے کہ شودر ہندو مت کا حصہ ہے، مگر دلت ادیواسی وغیرہ ہندو مت کا حصہ نہیں۔ دلت وہی ہیں جو پاکستان میں بھی چوڑھے چمار کہلاتے ہیں، حالانکہ وہ بیچارے اسلام قبول کر چکے ہیں، مگر اعلیٰ ذات کے مسلمان انھیں پست سطح سے اوپر اٹھنے نہیں دیتے۔ انھیں جناب فاروقی کے بڑے، اجلاف اور چھوٹی امت کے لوگ کہتے تھے۔ یہ الفاظ ظاہر ہے، اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی اختراع نہیں تھے۔
جناب شاہ نواز فاروقی فرماتے ہیں:
’’برصغیر کی ملت اسلامیہ شعوری سطح پر اس حقیقت سے آگاہ تھی کہ مستقبل کے ہندو حکمران اعلیٰ ذات کے ہندوؤں سے آئیں گے۔‘‘
یہ حقیقت بہرحال ادھوری حقیقت ہے۔ ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ایک ادنیٰ ذات کی اچھوت خاتون وزیر اعلیٰ ہے۔ بہار میں یادیو مسلمانوں کے تعاون سے حکمران ہے۔ بنگال میں کمیونسٹ، مسلمانوں کے تعاون سے حکومت کر رہے ہیں۔ گجرات میں فرقہ پرست نریندر مودی حکمران ہے، وہ بھی اتفاق سے تیلی ہے، اعلیٰ ذات کا ہندو نہیں۔ یہ باتیں صرف ریکارڈ کی درستی کے لیے عرض کی جا رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں اعلیٰ ذات کے ہندو اکثریت میں نہ کبھی تھے، نہ اب ہیں، نہ ہوں گے۔
جنا ب فاروقی نے ایک پیرا گراف میں ایسی باتیں ارشاد کی ہیں جنھیں پڑھ کر کسی بھی معتدل فکر شخص کا احساس زخمی ہو جاتا ہے۔۔ موصوف فرماتے ہیں:
’’سرحد میں سرحدی گاندھی چھائے ہوئے تھے اور ان کا کسی مسلم کافر سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ پنجاب ۱۹۴۶ء تک یونینسٹوں کے نرغے میں تھا اور ان کا بھی اسلام اور مسلمانوں کے کسی مفاد سے کوئی تعلق نہ تھا۔ بلوچستان پر سرداروں کی حکومت تھی اور انھیں اسلام اور مسلمانوں کے معاملات سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔‘‘
جناب شاہنواز فاروقی نے ایسی دو دھاری تلوار سے وار کیے ہیں کہ سب چھدے پڑے ہیں۔ یہ خالصتاً وہ ذہنیت ہے جو پاکستان میں بسنے والے لوگوں کی تذلیل سے بات شروع کرتی اور اردو بولنے والوں کی برتری ثابت کرتی ہے۔ جناب موصوف یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے تین صوبوں پر ان لوگوں کی حکومت تھی اور وہ لوگ یہاں کے عوام کے منتخب لیڈر تھے جن کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ گویا مسلمان اس جغرافیے سے باہر کسی اور صوبے میں آباد تھے۔ انھی سے مسلمان اور اسلام دوستی کا سرٹیفکیٹ لیے بغیر کوئی شخص کیونکر مسلمان بن سکتا ہے؟
جناب موصوف نے سرحدی گاندھی خان عبد الغفار خان کی توہین اس ڈھٹائی سے کی ہے کہ شرم آتی ہے۔ وہ قیام پاکستان کے مخالف تھے، وہ تقسیم کو نادرست مانتے تھے، وہ ابو الکلام آزاد کی طرح سمجھتے تھے کہ تقسیم کے بعد ہندوستانی مسلمان دوسرے بلکہ تیسرے درجے کے شہری ہو جائیں گے۔ مزید برآں وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ قیام پاکستان سے پاکستان میں بسنے والے مسلمان بھی سکھی نہ رہ سکیں گے۔ یہ ان کا نقطہ نظر تھا۔ کیا اس نقطہ نظر کے حامل مسلمان کو آپ مسلمانوں سے لاتعلق ثابت کر سکتے ہیں، جبکہ وہ ۱۹۴۶ء کے الیکشن میں بھی مسلم سیٹوں پر مسلمانوں کے ووٹوں سے منتخب ہوئے تھے؟ اس پر آپ کا ارشاد ہے کہ ’’ان کا کسی مسلم کافر سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔‘‘ آپ تاریخ پڑھیں اور پھر الزام لگائیں۔ ان کے سبھی ووٹر مسلم تھے اور ان کی پارٹی مسلم سیٹوں پر کامیاب ہوئی تھی۔
آنجناب نے یہ کہہ کر پنجاب کے مسلمانوں کا معاملہ صاف کر دیا ہے کہ ۱۹۴۶ء تک پنجاب پر یونینسٹوں کی حکومت تھی۔ یہ درست ہے، مگر اس وقت یونینسٹ پنجابی مسلمان اور اسلام کے مفاد کے لیے کام کر رہے تھے۔ اگر آپ تاریخ کا مطالعہ فرمائیں تو آپ کو معلوم ہو سکے گا کہ علامہ اقبال ۱۹۲۶ء میں پنجاب کونسل کے رکن منتخب ہو کر یونینیسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے تھے اور بہت بعد تک ان لوگوں سے قریب رہے جن کا تعلق یونینسٹ پارٹی سے تھا۔ آپ ۱۹۳۶ء میں مسٹر محمد علی جناح کے ساتھ شامل ہوئے، مگر ۱۹۳۸ء میں سر سکندر حیات مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور یوں یونینسٹ اور مسلم لیگ دونوں پارٹیاں یکجا ہو گئیں۔ ۱۹۴۵ء میں سر خضر حیات کو مسلم لیگ سے نکالا گیا۔ جناب فاروقی کے جملے سے صرف یونینسٹ پارٹی ہی ڈس کریڈٹ نہیں ہوتی، مسلم لیگ بھی ہو جاتی ہے۔ ۴۶۔۱۹۴۵ء کے الیکشن میں جو لوگ پنجاب میں مسلم لیگ کے امیدوار تھے، ان کی اکثریت یونینسٹوں سے آئی تھی۔ سردار شوکت حیات، ممتاز دولتانہ، فیروز خان نون یونینسٹ رہے اور پھر مسلم لیگی ہوئے۔ جناب فاروقی تنقید کرتے ہوئے ذرا تاریخ کے اوراق الٹ لیتے تو بہتر تھا۔
سر سکندر حیات کے دور میں Land Alienation ایکٹ پاس ہوا۔ پنجاب کے زمینداروں کے لیے یہ ایکٹ رحمت تھا۔ پنجاب کے چھوٹے بڑے زمیندار اب بھی سر سکندر حیات کی اس خدمت کو فراموش نہیں کر پائے۔ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ انھیں اسلام اور مسلمانوں کے مفاد سے کوئی تعلق نہیں تھا؟ آپ تاریخ کے اوراق الٹیے، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ سر سکندر حیات نے شاہی مسجد کی مرامت کرائی اور اسے قابل دید بنا کر قابل داد کارنامہ سرانجام دیا۔ اس سے پہلے اس کا فرش اکھڑا ہوا تھا۔ اس کے در ودیوار سکھ عہد کے ظلم کی داستان سنا رہے تھے۔ یہ مسجد رنجیت سنگھ کی مڑھی کے پاس ایک کھنڈر تھا۔ سر سکندر حیات نے اس کی عظمت کو بحال کرنے میں قابل فخر کارنامہ سرانجام دیا۔ اس پر یہ ارشاد کہ اسے اسلام اور مسلمانوں کے مفاد سے کوئی تعلق نہیں تھا! یونینسٹ پارٹی نے مسلمانوں کو ملازمتوں میں حصہ دلوایا اور ان کی تعلیم کے لیے بھی بری بھلی کوششیں ضرور کیں۔
اب رہا بلوچستان کے سرداروں کا معاملہ۔ سرداروں کو اسلام اور مسلمانوں سے کچھ لینا دینا نہیں تھا، یہ ارشاد ہے جناب شاہ نواز فاروقی کا۔ بلوچستان میں سرداروں کے سردار خان آف قلات تھے۔ ان کی ریاست قلات کا اسلام سے یہ لینا دینا تھا کہ وہاں ہمیشہ شریعت اسلامیہ کا قانون نافذ رہا۔ اس ریاست میں گواہ کے لیے بھی یہ شرط تھی کہ وہ مسلمان ہو۔ وہاں وزیر امور شرعیہ حضرت مولانا شمس الحق افغانی تھے۔ اس ریاست میں اس وقت تک شرعی قانون نافذ رہا جب تک کہ وہ خان آف قلات کے ’’زیر تسلط‘‘ رہی جنھیں اسلام اور مسلمانوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ یہ قوانین اس وقت ختم ہوئے جب یہ ریاست، پاکستان کا حصہ بن گئی۔ مزید برآں قلات کی اسمبلی میں علماء کے لیے بھی نشستیں مختص تھیں۔ مولانا عرض محمد رحمہ اللہ اس اسمبلی کے رکن تھے۔
راقم الحروف نے صرف تاریخ کا ریکارڈ درست رکھنے کے لیے یہ چند گزارشات پیش کی ہیں۔ جناب فاروقی سے گزارش ہے کہ وہ ایسے جاروبی بیان (Sweeping statements) دینے سے گریز کریں تو بہتر ہے اور تاریخ پر بات کرتے ہوئے تاریخ کے اوراق الٹ لیا کریں تو اس سے بہتوں کا بھلا ہوگا۔ جناب فاروقی کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ انھوں نے سرحدی گاندھی خان عبد الغفار خان، یونینسٹ پارٹی اور بلوچ سرداروں کو اسلام اور مسلمانوں سے لاتعلق کہہ کر مسلم لیگ کی تاریخ پر خط تنسیخ کھینچ دیا ہے، کیونکہ پاکستان میں باستثنائے چند یہی لوگ تھے جو مسلم لیگ کے جھنڈے تلے پاکستان پر حکمران رہے ۔ خان عبد الغفار خان کے بھائی ڈاکٹر عبد الجبار خان کو مسلم لیگ نے اعتماد کا ووٹ دیا۔ یونینسٹ پارٹی تو ساری کی ساری مسلم لیگ کا حصہ بن گئی۔ ایک خضر حیات ٹوانہ بچے تھے، ان کی پوتی نے مسلم لیگ میں آ کر یہ استثنا بھی ختم کر دیا۔ تاریخ ہماری خواہشوں کی غلام نہیں ہو سکتی۔ فاروقی صاحب! آئیے تاریخ پڑھیں۔
جماعتِ اسلامی کا داخلی نظم سیّد وصی مظہر ندویؒ کی نظر میں (۱)
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ
مولانا سید وصی مظہر ندویؒ کے منتخب مقالات ومکتوبات کا ایک مجموعہ ’’صریر خامہ‘‘ کے عنوان سے جناب محمد ارشد نے مرتب کر کے گزشتہ سال شائع کیا ہے۔ (صفحات:۶۳۷۔ ناشر: فکر و نظر پبلشنگ، ۴۳ ہائی بری سی آر، کچنر او این این ۲این ۳ پی ۶، کینیڈا۔ سب آفس حیدرآباد پاکستان)
مولانا سید وصی مظہر ندوی ۲۶ ستمبر ۱۹۲۴ء کو لکھنؤ میں پیدا اور ۲ جنوری ۲۰۰۶ء کو کینیڈا میں فوت ہوئے۔ زیر تبصرہ کتاب کے آخر پر مولانا سید وصی مظہر کا ایک خط تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان کے نام شامل ہے۔ اس خط میں انہوں نے اپنے بارے میں درج ذیل تعارفی سطور لکھیں:
’’میں تقریباً ۲۲ سال کی عمر میں جماعت اسلامی سے وابستہ ہو گیا تھا اور لکھنؤ کی شاخ میں جماعت کے خزانچی کے عہدے سے لے کر حیدر آباد شہر، ضلع اور ڈویژن کا امیر، صوبہ سندھ کا قیم (سیکریٹری) رہنے کے علاوہ تقریباً بیس سال تک مرکزی مجلس شوریٰ اور تقریباً تین سال مرکزی مجلس عاملہ کا رکن رہا۔ تیس سال جماعت اسلامی سے وابستہ رہنے کے بعد ۱۹۷۶ء میں جماعت اسلامی سے علحدگی کا حادثہ پیش آ گیا لیکن اس حادثے کی پرورش برسوں سے جاری تھی۔
۱۹۷۹ء تا ۱۹۸۳ء حیدرآباد میونسپل کار پوریشن کا منتخب مئیر رہا۔
۱۹۸۵ تا ۱۹۸۸ء قومی اسمبلی کا رکن رہا۔
مئی ۱۹۸۸ تا نومبر ۱۹۸۸ء وفاقی کابینہ میں وزیر رہا۔
مشرق اوسط کے اکثر ممالک کا بار بار سفر کیا۔ جناب محمد خان جونیجو کے ساتھ امریکہ، ترکی، جرمنی اور فرانس کے سفر کا موقع ملا۔
دینی، سیاسی اور دستوری موضوعات پر کئی کتابچے لکھ چکا ہوں۔
جنگ، نوائے وقت، خبریں، پاکستان، امت، جسارت، زندگی، فاران، ندائے خلافت وغیرہ میں مضامین شائع ہوتے رہے۔‘‘
کتاب پڑھ کر مولانا کے مزاج کا ناقدانہ پہلو سب سے نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ اس میں وہ بالکل بے لاگ اور صاف ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ وہ اپنے زیر مطالعہ آنے والے اخبارات و رسائل پر مورچہ لگائے رکھتے تھے۔ جہاں کہیں، جس کسی نے بھی ملی اقدار سے کچھ بھی ہٹ کر لکھا تو انہوں نے گرفت کرنا اپنا فرض سمجھا۔ اس میں انہوں نے کبھی کسی کے منصب اور یا کسی سے اپنے ذاتی تعلق کا لحاظ نہیں کیا۔ البتہ تحریر میں شائستگی اور احترام کا پورا لحاظ رکھا۔ اس وجہ سے ان کی تحریروں میں چبھن کم ہی محسوس ہوتی ہے۔ البتہ تنقید میں کوئی لاگ لپیٹ یا رو رعایت کہیں نظر نہیں آتی۔ ان کی عملی زندگی کا غالب حصہ (۱۹۴۶ تا ۱۹۷۶ء)جماعت سے وابستگی میں گزرا۔ ان کا کمالِ وابستگی یہ رہا کہ جماعتی سرگرمیوں میں پورے فعال رہنے کے باوجود انہوں نے اپنے ذہن و دماغ کو آزاد رکھا۔ جہاں کہیں اور جس پہلو سے بھی عدم اطمینان محسوس کیا، اس کا بر ملا اظہار کیا۔ اس بارے میں متعلقین کو سنجیدگی کے ساتھ اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ ہم اوپر کہہ چکے ہیں کہ ان کی تحریروں میں ناقدانہ پہلو غالب ہے اور ان کی بھر پور زندگی کا غالب حصہ جماعت کے ساتھ گزرا ہے۔ اس طرح ان کی محفوظ تحریروں کا سب سے زیادہ قابل قدر حصہ جماعت پر ان کے تحفظات پر مشتمل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب کے مرتب مولانا وصی مظہر کے ایک شاگرد رشید محمد ارشد ہیں۔ کتاب کے پیش لفظ کے صفحہ ’’ف‘‘ پر لکھتے ہیں:
’’اس منتخب مجموعہ میں خاکسار نے مولانا ندوی کے متعدد ایسے مضامین کو جن میں انہوں نے تحریک اسلامی سے اپنے اختلافات کے اسباب و وجوہات کی تفصیل بیان کی ہے، شامل نہیں کیا ہے۔ مولانا نے جماعت سے اپنی وابستگی اور پھر اس سے اختلاف و علیحدگی کی کہانی قلم بند کر رکھی تھی جسے وہ شائع بھی کرانا چاہتے تھے۔ البتہ مولانا کو ان کے بعض قدیم تحریکی رفقا خصوصاً ڈاکٹر اسرار احمد نے ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیاتھا۔ چنانچہ مولانا نے اس کہانی کو اپنی زندگی میں شائع نہیں کروایا۔ مرتب نے بھی ایسی تحریروں کی اشاعت کو مناسب خیال نہیں کیا۔‘‘
ہمارے نزدیک مرتب نے جماعت سے متعلقہ تحریروں کو زیر تبصرہ مجموعے میں شامل نہ کر کے مولانا مرحوم اور ان کی تحریروں کے ساتھ سب سے بڑا ظلم کیا ہے۔ مرتب خود لکھتے ہیں کہ مولانا اپنی ان تحریروں کو شائع کرانا چاہتے تھے۔ کچھ دوستوں کے روکنے کے باعث وہ ان کو اپنی زندگی میں شائع نہ کر اسکے۔ ان دوستوں میں ڈاکٹر اسرار احمد کا رویہ بڑا عجیب و غریب ہے۔ خود انہوں نے اپنے حافظے کو کرید کرید کر جماعت سے اختلاف پر مشتمل اپنی تحریروں کو مرتب کر کے پورے اہتمام سے بار بار شائع کیا مگر وصی مظہر صاحب کو ان کی اشاعت سے روکتے رہے۔ شاید وہ میدانِ نقد میں بھی اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے تھے۔ مرتب نے کہیں یہ نہیں لکھا کہ مولانا ندوی نے ان تحریروں کی اشاعت کا ارادہ ترک کیا ہو۔ حقیقت میں ان کی یہ تحریریں ان کا اصل اثاثہ ہیں۔ اس میں انہوں نے اپنے براہ راست مشاہدات اور تجربات کو جگہ دی۔ اپنے قلب و ضمیر کا کھل کر اظہار کیا۔ یہ تیس سال کی عملی زندگی کے مشاہدات اور ان کا حاصل ہی نہیں بلکہ پورے ایک دور کا تذکرہ ہے۔ اپنی تاریخ کا سامنا کرنے کے بجائے اس سے پہلو بچانے کا رجحان زندہ قوموں کے شایان شان نہیں ہوتا۔ زندہ قومیں اپنی تاریخ کے ہر پہلو اور ہر نقطہ نظر کو محفوظ رکھتی ہیں۔ ان پر بحث و نظر جاری رہتی ہے۔ وہ اس کی روشنی میں اپنی غلطیوں تک پہنچتی ہیں۔اس طرح غلطیوں کی درستی کا اہتمام ہوتا ہے۔ اس میں اختلافی نقطہ نظر کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ غلطیوں کا اندازہ اختلافی نقطہ نظر کے مطالعے ہی سے ہوتا ہے۔ کبھی قصائد سے غلطیوں کی تلاش نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے سید صاحب نے آزادی اظہار کو بطور حق تسلیم کرانے کے لیے اپنی تحریروں میں خاص طور پر زور دیا۔ انہوں نے جماعت کی ناکامی کا ایک اہم سبب اختلاف پر پابندی کو قرار دیا ہے۔ کتاب کے مرتب کے نام اپنے خط میں وہ لکھتے ہیں،
’’اسلامی تحریکوں کی ناکامی کے بہت سے اسباب میں سے ایک اہم سبب پالیسی اور پروگرام کی تشکیل میں آزادانہ بحث و گفتگو اور اظہار اختلاف پر پابندی ہے جس کی وجہ سے ہر تحریک one man show بن کر رہ جاتی ہے اور مسلمانوں کے مختلف افکار رکھنے والے مگر اسلام کے لیے مخلص لوگوں کو ساتھ لے کر نہیں چل سکتی۔‘‘ (صریر خامہ صفحہ ۶۱۲)
اس کے علاوہ، قاضی صاحب کے دور امارت میں جماعت سے علیحدہ ہو نے والے بزرگوں نے تحریک اسلامی قائم کی۔ تحریک کے قیم محمد جلیل خان کے نام اپنے خط مورخہ یکم دسمبر ۱۹۹۶ میں جناب ندوی نے لکھا،
’’کیا ہی اچھا ہو کہ آپ حضرات اپنی تنظیم میں حریت فکر و نظر اور اظہار رائے کی اس آزادی کا بھی اہتمام کر لیں جس کی ضمانت کتاب و سنت میں دی گئی ہے، بلکہ ہر شخص کا فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ تواصی بالحق کرتا رہے اور اولی الامر سے نزاع کی نوبت آجائے تو اس کا فیصلہ کتاب و سنت کی روشنی میں کر دیا جائے۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر کوئی ایسا واقعہ سیرت نبوی یا سیرت خلفائے راشدین میں ملا ہو جس میں کسی شخص کے اظہارِ اختلاف کی بنا پر اس کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہو تو براہ کرم اس سے مجھے مطلع فرمائیں:
کیا ہوازن و ثقیف سے حاصل شدہ مالِ غنیمت کی تقسیم پر اعتراض کرنے والے انصاریوں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی؟
کیا صلح حدیبیہ کی بعض شرائط پر اعتراض کرنے والوں کے خلاف کوئی تادیبی اقدام کیا گیا؟
کیا مسجد نبوی کے اندر بھرے مجمع میں فتنہ افک کی حمایت کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی؟
کیا حضرت خالد بن ولید کی اسلامی افواج کی سرہراہی سے معزولی پر بھرے مجمع میں تنقید کرنے والے، جس نے حضرت عمر کو خطاب کر کے کہا تھا کہ امیر المومنین آپ نے اللہ تعالی کی تلواروں میں سے ایک تلوار کو نیام میں ڈال دیا ہے‘‘کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی؟
جس حق کے لیے زندگی پر جناب وصی مظہر لڑتے رہے، مرتب نے ان کی تحریروں کو مرتب کرتے ہوئے ان کی ایسی تحریروں کو کتاب میں شامل نہ کرکے تاریخ کے ایک دور کے بیان میں انصاف نہیں کیا۔ ظاہر ہے کہ جناب ندوی کا پورا دور تاریخ کا حصہ ہو گیا ہے۔ تاریخ کی یہ امانت آئندہ نسئلوں کا حق ہے۔ یہ امانت ان کے سپرد کرنا ندوی صاحب جیسے زعما کے معنوی یا حقیقی ورثا کی ذمہ داری ہے۔
اس میں یہ پہلو بطور خاص ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ ناقدانہ ذوق، صلاحیت، ہمت اور جرات رکھنے والا آپ کو ہزار میں ایک بھی نہیں ملے گا۔پھر کتنا ظلم ہے اس طرح کی شے نایاب کے نوادرات کو بھی غائب کر دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ ان تحریروں کو شائع کیوں نہ کیا جائے۔ کیا جناب ندوی نے یہ تحریریں غبار خاطر کے طور پر لکھیں تھیں۔ نہیں ہر گز نہیں، غبار خاطر کا لحجہ تو ان کی کسی تحریر میں تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتا۔ ان کا شائستہ، نرم اور پیار بھرا اسلوب، دردمندی سے بھر پور ہے۔ انہوں نے تو اپنے دکھ کا اظہار کیا ہے۔دکھ دینے والے اس طرح کے اظہار کی کبھی اجازت دینے کو تیار نہیں تھے۔ مرحوم کی زندگی کے بعد بھی ان کے اظہار پر پابندی نافذ رہے،نعیم صدیقی کی زبان شعر میں،
جبر کے یہ نت نئے کرشمے، عقل کھڑی حیران دیکھتی ہے
جناب سید وصی مظہر صاحب کے ورثا کو اس جبر سے دستکش ہو جانا چاہیے۔ یہ جبر و غصب، جناب ندوی صاحب کے ساتھ، ان کے تحریکی ساتھیوں نے روا رکھا، ان کے ورثا کو مرحوم کے رفقا والا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ جناب ندوی صاحب کے بعد اس رویے سے حقیقی متاثرہ فریق آئندہ نسل ہے۔ میں نہیں جانتا کہ جناب ندوی صاحب کے ورثا میں سے جماعت اور تحریک کے ساتھ وابستگی کی کیا کیفیت ہے، اگر کوئی وابستہ ہے تو اس کا طرز عمل ناقدانہ ہے بھی یا نہیں۔ حلقے سے باہر رہ کر نقد و جائزہ میرے نقطہ نظر سے کچھ زیادہ اہم نہیں۔ اس میں زیادہ تر انداز تفریح کی نوعیت کا ہوتا ہے۔ البتہ جو شخص اندر رہ کر فعال و سرگرم رہا ہو اور اس نے نقد و نظر کا فرض بھی انجام دیا ہو تو اس کی موجود تحریریں بڑی اہم ہوں گی۔ وابستگی کی شرط پورا کرتے ہوئے نقد و جائزہ، وابستگی کے درجے کو بلند کر دیتی ہے۔
اگرچہ مولانا ندوی کی جماعتی موضوع پر اصل تحریروں کو زیر تبصرہ مجموعہ میں شامل نہیں کیا گیا مگر اس کے باوجود اس میں بہت سی تحریریں ایسی ہیں جن میں جماعت کے بارے میں، بھر پور ناقدانہ نقطہ نظر موجود ہے۔ ہم ان کی ایسی تحریروں کا جائزہ لیں گے۔ یہاں ہم ایک بار پھر اعادہ کریں گے کہ اس موضوع پر ان کی اصل تحریروں سے محروم کیے جانے کے بعد ہم مولانا کی تحریروں کے حوالے سے جو کچھ بھی لکھیں گے وہُ چھپائی ہوئی تحریروں کے سامنے آنے کے بعد قابل نظر ثانی ہوگا۔
اس مجموعہ میں ناقدانہ تحریروں میں، بعض مقامات پر عملی نقطہ نظر کے بجائے قیاسی اور تصوراتی نقطہ نظر پایا جاتا ہے۔ ان سے بظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ جناب ندوی علمی سطح کے لحاظ سے کافی بلندی سے بات کر رہے ہیں۔ مثلاً جماعتی نظام اور دستور پر گفتگو کے دوران ان سے ریاستی دستور کے اصول اخذ کرنے کا معاملہ، بہت دور از کار معلوم ہوتا ہے۔ اس میں بظاہر معقولیت نظر آتی ہے مگر عملی پہلو سے یہ دور کی کوڑی لانے جیسی کوشش ہے۔ جناب وصی مظہر کتاب کے صفحہ نمبر ۱۵۴ ۔ ۱۵۵ پر دستور کی دفعہ ۳۰ کی ذیلی شق(د)اور شوری ٰکی کارروائی کا ضابطہ ۵۲ کی شق (۵) درج کرتے ہیں:
’’جماعت کے اندر مستقل پارٹیاں اور بلاک بنانے سے محترز رہیں اور اگر مجلس شوریٰ یا جماعت میں کوئی شخص اس کی کوشش کرتا نظر آئے تو اس کی ہمت افزائی کرنے یا اس سے تغافل برتنے کے بجائے اس کی اصلاح کی کوشش کریں‘‘۔
شوریٰ کی کارروائی کے ضابطے ۲۵ کی شق ۵ کو حوالہ دیتے ہوئے جناب ندوی فرماتے ہیں:
’’پہلے سے نجویٰ کر کے مجلس شوریٰ کے اجلاسوں میں شریک ہونا اور ایسا طرز عمل اختیار کرنا جس سے جماعت میں دھڑے بندیاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہو‘‘
اس کے بعد جناب ندوی لکھتے ہیں:
’’ظاہر ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنی تنظیم کی مضبوطی کے لیے شوریٰ کے اندر مستقل پارٹیاں اور بلاک بنانے پر جو پابندی عائد کی ہے وہ پابندی مسلم امت کی وحدت و اتحاد اور اسلامی ریاست کے استحکام کے لیے لازم تصور کی جانی چاہیے کیونکہ جماعت کی وحدت اور استحکام سے زیادہ امت اور اسلامی ریاست کی وحدت اور استحکام ضروری ہے۔ چنانچہ جماعت اسلامی اگر اپنے دستور پر عمل کرتے ہوئے فی الواقع اسلامی ریاست بنانے میں کامیاب ہو جاتی تو وہ اسلامی ریاست کی شوریٰ میں بھی مستقل پارٹیوں اور بلاک قائم کرنے کی اجازت نہ دیتی اور اب گر جماعت اسلامی نے ملک کے دستور میں ایک سے زائد پارٹیوں کے نظام کو شامل رکھنے کو تسلیم کر لیا تو یہ خود اپنے موقف سے انحراف یا مصالحت و مداہنت کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
اس کے بعد وہ سیاسی پارٹیوں کے بارے میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کی پوری فہرست درج کر کے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ علماء نے جب بھی سنجیدہ غور و تحقیق کی ہے تو ہمیشہ ایک سے زائد سیاسی جماعتوں کی تشکیل کے تصور کے خلاف متفقہ فیصلہ دیا ہے۔
در اصل یہاں جماعت کے دستوری اور کارروائی شوریٰ کی شق پر تنقید کی ضرورت تھی۔ اس کے بر عکس جناب ندوی صاحب اس سے استدلال کرکے قومی اور امت کی سطح پر مختلف سیاسی جماعتوں کے عملی وجود پر معترض ہو رہے ہیں۔ یہ استدلال عملی طور پر قابل غور نہیں۔ حقیقت میں جماعت کے اندر رائے کی تشکیل اور ذہنی سرگرمی کو جس طرح کرب کیا گیا ہے یہ شقیں اس کے اہتمام کا بہت بڑا ثبوت ہیں۔ جماعت کا پورا تنظیمی ڈھانچہ اسی طرح تعمیر کیا گیا ہے کہ ذہنی سرگرمی مفلوج رہے۔ نظم کی جانب سے اختیار کی گئی پالیسیوں اور فیصلوں کو شوریٰ ہی نہیں ہر سطح پر قبولیت کے سوا کوئی دوسرا امکان مکمل طور پر مسدود کر دیا جائے۔ اس طرح کے ڈھانچے کو مستحکم اور منظم تنظیم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جناب ندوی حریت فکر اور اختلاف کے اظہار پر جماعت کے اندر موجود پابندیوں کی شکایت کرتے ہیں۔ جماعت کا انتخابی نظام بھی اسی طرح کا ہے کہ جہاں موجودہ صورت حال کو جاری رکھنے کا پورا اہتمام موجود ہے۔ جناب ندوی مرکزی شوریٰ کے حوالے سے یہ تو ضرور کہتے ہیں کہ اس میں زیادہ تر نفری امرائے اضلاع کی ہے۔ یہ کم و بیش نامزد لوگ ہوتے ہیں۔ یہ شوریٰ میں سنجیدہ مباحث کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔ لہذا شوریٰ میں تمام تر وقت معمول کی کارروائیوں میں صرف ہو جاتا ہے۔ اس میں حقیقی مباحث کو کبھی زیادہ اہمیت نہیں ملتی۔ نامزد لوگ اپنے مزاج کے طور پر اطاعت امر اور اطاعت نظم میں سوچ اور فکر کی آزادی کو کیسے برت سکتے ہیں۔ وہ تو ہاتھ کھڑے کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ خاص طور پر دستور میں جب اختلاف کے اظہار پر یکطرفہ پابندیاں لاگو ہوں اور اخراج کی تلوار ارکان کے سر پر لٹک رہی ہو۔ جناب ندوی کتاب کے صفحہ ۱۵۸ اور ۱۵۹ پر تحریر فرماتے ہیں:
’’جماعت اسلامی نے اپنی صفوں میں پیدا ہوجانے والے انتشار کو دور کرنے کے لیے اپنے دستور میں امیر جماعت اور مرکزی پالیسی سے اختلاف کرنے والوں کو جماعت میں رہنے کی اجازت با دل نخواستہ دے تو دی مگر ان اپر اظہار اختلاف کے تمام دروازے بند کر دیے۔ دستور کی متعلقہ دفعہ کے الفاظ یہ ہیں،
دفعہ نمبر ۹۳ (۱) انہیں ارکان جماعت کے اجتماعات میں اختلافِ خیال کے اظہار کا پورا حق حاصل ہو گا مگر اس غرض کے لیے پریس اور پبلک پلیٹ فارم کو ذریعہ بنانے کا حق نہ ہو گا اور یہ حق بھی نہ ہو گا کہ وہ فردااً فرداً ارکانِ جماعت میں نجویٰ کرتے پھریں۔‘‘
اس پابندی کے نتائج کے حوالے سے مولانا ارشاد فرماتے ہیں:
’’ان دونوں شقوں میں ارکان جماعت کو اختلاف رکھنے کی آزادی تو دی گئی ہے مگر اس اختلاف کو ختم کرنے یا اس سے بہتر نتائج حاصل کرنے کے بیشتر دروازے بند کر دئیے گئے اور جو دروازے کھلے ہیں ان کو بھی جماعت اسلامی کے اہل کاروں نے دستور کی غلط تعبیر و تشریح کرکے بند کر دیا ۔ ظاہر ہے ایک شخص کا اختلاف اسی وقت ختم ہو سکتا ہے جب وہ برابری کی سطح پر اپنے اختلاف کو دلائل کے ساتھ بیان کردے اور لوگ اسے پھر بھی نہ مانیں تو ایسا شخص یا تو اپنی رائے بدل لیتا ہے یا اکثریتی فیصلے کو صبر کے ساتھ قبول کر لیتا ہے۔ علاوہ ازیں اظہارِ اختلاف کی آزادی کا ایک بڑا فائدہ اور بھی ہوتا ہے کہ کسر و انکسار اور دو مختلف تجاویز پر غور کرنے کے نتیجے میں کوئی بہتر درمیانی راہ نکل آتی ہے۔ لیکن جب اظہار رائے کی برائے نام آزادی تو ہو مگر دوسرے لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانے کی تمام راہیں بند کر دی گئی ہوں تو اختلاف شدید ہونے کی صورت میں ایسے شخص کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ تنظیم ہی سے علیحدہ ہو جائے چنانچہ جماعت اسلامی سے جو اصحاب فکر و نظر وقتاً فوقتاً علیحدہ ہوتے رہے ہیں ان کی علیحدگی کی وجہ یہی ہے کہ ان کو اس بات کی کوئی توقع نہ تھی کہ وہ کبھی بھی دوسروں کو اپنا ہم نوا بنا سکیں گے لیکن اگر اظہار رائے کی کھلی آزادی ہوتی تو یہ اصحاب جماعت سے کبھی الگ نہ ہوتے، زیادہ سے زیادہ وہ کچھ لوگوں کو اپنا ہم خیال بنا لیتے اور ہو سکتا ہے کہ کسی مرحلے میں اکثریت ان کی ہمنوا ہو جاتی، اس سے جماعت کے نصب العین کو کوئی نقصان نہ پہنچتا بلکہ عام ارکان کی صلاحیت کو مہمیز ملتی اور دونوں قسم کی رائے رکھنے والے اپنی سرگرمیوں کو بڑھانے پر مجبور ہوتے۔ اس طرح جماعت اسلامی کی صفوں میں غیر فعال ارکان کی جو تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اس کا بڑھنا یکسر بند ہو جاتا۔‘‘
’’کسی اختلاف رکھنے والے کو پریس یا پبلک پلیٹ فارم استعمال کرنے کی اجازت نہیں جب کہ اکثریت کی پالیسی جماعت اور غیر جماعتی اخبار و رسائل، جلسوں اور اجتماعات میں مدلل انداز میں پیش کی جاتی رہے گی اور اختلاف رکھنے والا اس بارے میں لب کشائی کا مجاز نہ ہو گا۔‘‘
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کے دستور کے مطابق، پارٹی مسائل پر، پارٹی جرائد میں لکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔ بہر حال اس پابندی کا غیر فطری ہونا اس وقت واضح ہو گیا جب مولانا مودودی خود اس پابندی کو توڑنے پر مجبور ہوئے۔ میاں طفیل محمد امیر جماعت تھے اور پروفیسر غفور احمد نائب امیر۔ ایک زمانے میں انہوں نے جماعت کو دیگر جماعتوں میں مدغم کرنے کے عزم کا پریس میں اظہار کیا۔ اس پر مولانا مودودی کو مجبوراً پریس ہی کے ذریعے واضح کرنا پڑا کہ کسی عہدے دار بلکہ مجلس شوریٰ کوبھی یہ اختیار نہیں کہ وہ جماعت کو کسی دیگر جماعت میں مدغم کر سکے۔ اسی طرح قاضی حسین احمد کے زمانہ امارت میں جناب نعیم صدیقی نے بنام ’’دلبر‘‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی اور اسے پریس میں چھپوایا۔ اس نظم کو جماعت کا نوحہ کہا جاسکتا ہے، ایک مصرعے میں وہ اس حد تک چلے گئے،
تدبر کے تخت طاؤس پر مسلط اک غبی ہے
حالات کے جبر کے سامنے، اس طرح کی پابندیاں بے اثر ہو جاتی ہیں۔ بہر حال مولانا ندوی دیگر پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہ پابندی بھی ہے کہ اختلاف کا اظہار صرف اجتماعات ارکان میں کیا جائے فرداًفرداً لوگوں کو ہم خیال بنانے کی بھی اجازت نہیں۔‘‘
’’مرکزی شوری جو پالیسی ساز ادارہ ہے اس کے ارکان کو ہم خیال بنانے کی کوشس پر بھی پابندی ہے۔ حتیٰ کہ کوئی رکن شوری بھی دوسرے ارکان سے اختلافی موضوع پر گفتگو نہیں کر سکتا۔‘‘
’’اس پر مزید ستم یہ ہوا کہ جماعت کے مقامی، ضلعی اور صوبائی اہلکاروں نے دستوری اصطلاحات کو بغیر سمجھے ان کا ایک مفہوم خود متعین کر لیا اور اس مفہوم کی بنا پر انہوں نے اختلاف کرنے والوں کی گردنیں ناپنی شروع کریں۔‘‘
اس طرح اطاعت نظم میں غلو کی بسم اللہ ایسی ہوئی کہ اختلاف اور ذمہ داران کے احتساب کے تصورات محض زینتِ دستور بن کر رہ گئے۔ در اصل جماعتی نظم اور نظام کی تشکیل میں پائے جانے والے بنیادی تضادات نے نظام جماعت کو ایک تدریجی عمل کے تحت برباد کیا ہے جس کے بعض پہلو جناب ندوی صاحب نے محسوس کیے ہیں۔ ایک تضاد کا تو جناب ندوی صاحب کے حوالے سے ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں۔ یہ تضاد جماعت کے اندر گروہ بندی کی مکمل ممانعت اور پھر میدان سیاست میں ایک سے زائد سیاسی پارٹیوں میں عملی شرکت کے سلسلے میں بیان کیا گیا ہے۔ جماعتی نظام میں تشکیل کے وقت ہی سے بعض ایسے بنیادی تضادات رکھ دئیے گئے تھے جن کے نتائج سامنے آنے تک جماعتی نظام کا ڈھانچہ مکمل تباہی کا شکار ہو چکا تھا۔ البتہ اس تباہی کا احساس اور شعور کبھی پیدا نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ ڈھانچے میں جمود کا رسوخ تھا جو دن بدن طاقتور سے طاقت ور ہوتا گیا۔ جماعت کا پورا لٹریچر پڑھ جائے، مولانا موودودی کی تحریریں دیکھ لیں، قیام جماعت کے بعد اطاعت نظم پر بے انتہا زور دیا گیا ہے جب کہ اس کے مقابلے میں تنقید اور محاسبے پر زور بہت کم ہے اور عملی طور پر اس کا کوئی اہتمام نہیں تھا۔ دستور میں احتساب کا کوئی باقاعدہ ادارہ قائم نہیں کیا گیا۔ جب تک مولانا کی برابری کی سطح کے لوگ جماعت کے اندر موجود رہے تو احتساب ذمہ داران کا کچھ نہ کچھ کردار وہ لوگ ادا کرتے رہے مگر ان کے بعد احتساب و تنقید کے امکانات یکسر نا پید ہوتے گئے۔ اس کا اظہار جناب ندوی صاحب نے کھل کر کیا ہے۔ حقیقت میں مولانا امین احسن اصلاحی کے بعد جماعت کے اندر تنقید اور احتساب کا باب بند ہو گیا تھا۔ قاضی حسین احمد کے زمانے میں، احتساب امیر جماعت کے لیے جماعت میں سنجیدہ بزرگوں نے کوشش کی مگر قاضی صاحب نے احتساب کا سامنا کرنے کے بجائے استعفیٰ دے کر قائمقام امیر کے انتظام میں نئے انتخاب کا اہتمام کروایا اور خود دوبارہ منتخب ہو گئے۔ نتیجہ کیا ہوا قاضی صاحب پر دستور اور مرکزی شوری کے فیصلوں کی خلاف ورزی جیسے سنگین الزامات کی انکوائری کے لیے قائم کمیٹی دھری کی دھری رہ گئی۔ اس طرح احتساب کے لیے جتنا گردا اٹھایا گیا تھا وہ سب بیٹھ گیا۔ یہ روایت جماعت کی تاریخ میں پہلے سے موجود تھی۔ ۱۹۵۳ کے انتخابات میں ناکامی پر انکوائری کرنے والی کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد، مولانا مودودی نے جماعت کی امارت سے استعفیٰ دیا۔ پریس کے ذریعے اس کی وسیع تشہیر کی گئی۔ مولانا نے بار بار یہ واضح کیا کہ ان کا مستعفی ہونے کا فیصلہ قطعی ہے۔ وہ اسے واپس نہیں لیں گے۔ اس طرح سنسنی خیز ماحول پیدا کرکے ماچھی گوٹ میں اجتماع ارکان طلب کیا گیا۔ ان کے استعفیٰ کے متن کو دیکھا جائے تو اس سے پیدا ہونے والی سنسنی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ مولانا نے لکھا:
’’اور یہ بات واضح کیے دیتا ہوں کہ یہ استعفیٰ واپس لینے کے لیے پیش نہیں کیا جا رہا۔ میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ اب جماعت میں کوئی منصب بھی حتیٰ کہ مجلس شوریٰ کی رکنیت بھی قبول نہیں کروں گا۔‘‘ (طفیل نامہ صفحہ نمبر ۳۱۴)
اس اجتماع میں جو کچھ ہوا وہ تاریخ جماعت کا ایسا باب ہے جس پر پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ اس ستر پوشی کے لیے ۱۹۵۷ سے ۱۹۸۰ تک جماعت کی تاریخ کو ہی غائب کر دیا گیا۔ جماعت کی تاریخ، روداد جماعت اسلامی کے ناموں سے قیام جماعت سے تواتر سے جو سلسلہ جاری تھا اس میں تعطل پیدا کر دیا گیا۔
اب دیکھئیے کہ یہ کتنا بڑا تضاد ہے کہ جماعت کے اندر نظم کی اطاعت میں غلو کر کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو مکمل طور پر منجمد کر دیا جائے۔ اس کے بر عکس میدان سیاست میں درپیش جبر و آمریت کے خلاف آپ کو کم و بیش ہمیشہ بغاوت جیسی صورت حال اختیار کرنا پڑتی ہے۔ ۱۹۶۰ء سے لے کر جولائی ۱۹۷۷ء تک جماعت نے، ہر قائم حکومت کے خلاف کھل کر اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ ضیاء الحق کے دور تک آپوزیشن کا رول ادا کرتے کرتے جماعت اس قدر تھک چکی تھی کہ مزید اپوزیشن کا رول ادا کرنے کے بجائے جماعت اپنے تمام اصولوں کو ترک کر کے مارشل لا کی وردی اور چھڑی تلے مرکزی کابینہ میں شامل ہوئی اور اقتدار سے لذت اندوز ہونے کا رجحان جماعت میں اتنا طاقتور ہوا کہ آخر کار بلا واسطہ یا بالواسطہ جماعت کا کردار حکمران جماعت کے حاشیہ نشینوں میں ہی رہا۔ قربت اقتدار کے اس دور میں کیا کچھ ہوااس کی پوری ایک تاریخ ہے مگر اس پر بہت دیر تک پردہ پڑا رہے گا۔ ایم ایم اے کے دور میں فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ تو بہر حال تاریخ کے صفحات پر ایسا نقش ہوا ہے کہ اسے کوئی صاف نہیں کر سکتا۔
اطاعت شعار لوگوں میں اپوزیشن کی ہمت اور صلاحیت آخر کب تک باقی رہ سکتی ہے۔ اس کا جواب جماعت کی جد و جہد کا سرسری مطالعہ بڑے واضح انداز میں دے سکتا ہے۔
جماعت کے اندر اطاعت شعاری یا ذمہ داران کے احتساب، دونوں میں سے ایک ہی کا اہتمام ہو سکتا ہے اس میں توازن کا خواب یا وعظ تو ممکن ہے مگر اہتمام کسی طرح ممکن ہے اور نہ ہی ایسا کبھی ہوا۔ احتسابِ ذمہ داران کے خلاف سب سے بڑا تحفظ جماعت سے ارکان کے اخراج کا ضابطہ ہے۔ اگر اصولی طور پر دیکھا جائے تو ارکان کے اخراج کا یہ ضابطہ ہی شریعت کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ ایک طرف جماعت اسلامی کی رکنیت کو شرعی ضرورت کا درجہ دیا جاتا ہے، بقول جناب خرام مراد:
’’جماعتی زندگی ایک شرعی ضرورت ہے۔ مولانا مودودی کے نزدیک دعوت دین کا خلاصہ یہ ہے کہ نماز، روزہ، زکوات، جس طرح فرض ہے اسی طرح اقامت دین کی جد و جہد بھی اہل ایمان کے لیے ایک ضروری ذمہ داری ہے۔ یہ جد و جہد جماعتی زندگی کے بغیر نہیں ہو سکتی۔‘‘ (لمحات صفحہ نمبر ۱۸۷)
’’دستور اور روایت میں تادیبی کارروائی کی گنجائش کے باوجود، میں بنیادی طور پرکسی ساتھی کے خلاف انتہائی کارروائی کرنے کے خلاف ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ رکنیت کا جو تصور ہمارے ہاں ہے، وہ ہمیں ایسی کارروائی کی اجازت نہیں دیتا۔۔ ۔ آخر ایک اسلامی ریاست میں ہمیں معاشرے کی خرابیوں کو برداشت کرنا ہی پڑے گا اور انہیں ٹھیک رکھنے کے لیے تعلیم، تربیت اور تادیب کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے بہرحال ناپسندیدہ افراد کو ملک سے باہر تو نہیں نکالا جاسکتا۔ ریاست کے لیے ضروری ہو گا کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی اصلاح کرے۔۔ ۔ میں نے اپنی تحریکی زندگی میں جمعیت یا جماعت سے کسی فرد کا بھی اخراج نہیں کیا۔ میں لوگوں کو کھو دینے کا قائل نہیں۔‘‘ (لمحات صفحہ نمبر ۳۹۹۔ ۳۰۰)
کوئی شخص جماعت کا رکن بن جائے تو جماعت کا نظام اس کو سیدھا کرنے میں موثر اہتمام کرتا ہے۔ ایسا ماحول پیدا کیا جاسکتا ہے کہ وہ خود جماعت سے باہر ہو جائے۔ جیسا کہ مولانا مودودی کے دور میں مولانا اصلاحی کے استعفیٰ سے پہلے پیدا کیا گیا۔ اسی طرح کا ماحول قاضی حسین احمد نے نعیم صدیقی اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے ان کے احتساب کی کوشش پر بھی پیدا کیا تھا۔ اگرچہ اس طرح کا ماحول پیدا کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں ہو سکتامگر ذمہ داران جماعت کے ہاتھوں میں ارکان کے اخراج کا اختیار دے کر ارکان جماعت کے سروں پر ایسی تلوار لٹکا دی گئی ہے کہ اس کی موجودگی میں احتساب ذمہ داران کا کوئی امکان باقی نہیں رہ سکتا۔مولانا ندوی نے اختلاف کی بنیاد پر تادیبی کارروائی کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ اس بارے میں ہم ان کا طویل اقتباس اوپر درج کر چکے ہیں۔ ویسے بھی جماعت اسلامی کے ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت کا سٹیٹس حاصل کر لینے کے بعد، جماعت کی رکنیت تو ۱۹۷۳ء کے دستور کی آرٹیکل ۱۷ (۲) کے تحت بنیادی انسانی حق بن جاتا ہے۔ اس حق کی دستور مملکت نے تحفظ کی ضمانت دی ہے۔ اس طرح دستور جماعت میں درج اخراج کا ضابطہ مملکت کے دستور کے منافی محسوس ہوتا ہے۔ دستور کے متعلقہ آرٹیکل کے الفاظ یہ ہیں:
Every citizen, not being in the service of Pakistan shall have the right to form or be a member of a political party
’’ہر شہری جو پاکستان سرکار کی ملازمت میں نہ ہو، سیاسی جماعت کا رکن بننے کاحقدار ہے‘‘
دستور کے اس آرٹیکل کے پیش نظر جماعت میں رکن بنانے اور خارج کرنے کے ضابطے کو دستور پاکستان کے مطابق بنانا پڑے گا۔
(جاری)
مکاتیب
ادارہ
محترم المقام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب، رئیس التحریر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ السلام وبرکاتہ۔
مزاج گرامی بخیریت ہوں گے۔ آپ کے رسالہ الشریعہ کا دوسری دفعہ مطالعہ کا موقع ملا، بہت خوشی ہوئی۔ پہلے آپ کا نام جمعیۃ علماء اسلام کے رہنماؤں میں شمار ہوتا تھا، پھر معلوم نہیں کیا وجہ بنی اور آپ کی دوری ہوگئی اور آپ نے کوئی نئی پارٹی بنائی ہے؟ اور کوئی اکیڈمی بھی بنائی ہے اور یہ شمارہ بھی نکال رہے ہیں۔ میں ایک چھوٹا سا طالب علم ہوں، حقائق و واقعات کو جاننے کا شوق ہے۔ اسلام کے نظام کا غلبہ باقی ادیان پر اور نظام اسلام کے نفاذ کے سلسلہ کا ایک ادنیٰ سا سپاہی ہوں۔ اس سلسلہ میں اگر میری جان بھی نذر ہو جائے تو میں تیار ہوں۔ میرے بیوی بچے گھر بار مال و دولت سب اس پر قربان کرنے کو تیار ہوں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین
میں نے شمارہ ماہ ستمبر ۲۰۱۲ ء کے مطالعہ کے دوران میں مندرجہ ذیل اعتراضات محسوس کیے ہیں اور آپ کی تحریر کے مطابق: ’’اختلاف رائے کے موقع پر اختلاف کا اظہار کرنے کے باوجود عملاً وحدت اور اجتماعیت کو قائم رکھا جائے۔‘‘ (ٹائٹل الشریعہ ستمبر ۲۰۱۲ء)
(۱) کلمہ حق میں آپ نے انسانی حقوق کے زمرے میں کوئی واضح نظریہ پیش نہیں کیا، صرف اقوام متحدہ کی قرارداد اور اس کی آمریت و جابریت پر روشنی ڈالی ہے جبکہ آپ کو انسانی حقوق کے چارٹر کے حوالے سے انسانی حقوق واضح کرنے چاہیں تھے یا پھر عنوان ’’یو این او کی ریشہ دوانیاں‘‘ تحریر کرنا چاہیے تھا۔ عالم اسلام سے مسلمانوں کی حکومتیں مراد ہیں یا کسی ایک نظریہ پر قائم عالم اسلام؟ وہ عالم اسلام جو اکثریت میں امریکہ کا حامی اور اس کی تمام ظالمانہ کارروائیوں میں حصہ دار ہے جو وہ تمام عالم میں کرتا ہے؟ اسی کے کاسہ لیس ہیں اور ان کا آزادانہ کوئی کردار نہ انسانیت کے حوالے سے ہے اور نہ اسلام کے حوالے سے؟ آپ کون سے عالم اسلام کی بات کرتے ہیں؟ جو ظلم سہتے ہیں اور اف تک نہیں کرتے اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کا خون بہانے میں برابر کے شریک ہیں؟ انسانیت ان سے پناہ مانگتی ہے۔
(۲) دوسرا مضمون ہے: ’’شام لہو لہان اور عالم اسلام پر بے حسی طاری‘‘ از ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی۔ مضمون نگار نے یہ مضمون شام اور لیبیا کے حالات پر تحریر کیا ہے، جبکہ لیبیا پر باغیوں کا حملہ اور پھر کرنل قذافی کی شہادت اور اس کے پس منظر میں ساری امریکی کارروائی کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ باغیوں کی حمایت میں مضمون نگار لکھتا ہے کہ لیبیا میں انقلاب اس طرح نمودار ہوا، عوام نے اقتدار وقت کے خلاف ہتھیار اٹھائے اور محض چند مہینوں میں قذافی کا خاتمہ کر دیا۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مضمون نگار امریکی مفادات اور باغیوں کی زبان بول رہے ہیں۔ اسی طرح بشار الاسد کے خلاف تحریر کیا ہے کہ باغی بشار الاسد کا ساتھ چھوڑ کر انقلابیوں سے مل گئے ہیں۔ میں یہ سوچنے سے قاصر ہوں کہ عوامی حکومتوں کے خلاف بغاوت کرنے اور نظریاتی بنیادوں پر قائم عوامی حکومتوں کی مخالفت کرنے والے باغیوں کو، جن کی حمایت یورپ کر رہا ہے، مضمون نگار کس بنیاد پر انقلابی شمار کر رہے ہیں۔ ان کا نظریہ کیا ہے؟ کیا وہ شام اور لیبیا کے نظریاتی مخالف ہیں یا امریکی ایجنٹی کر رہے ہیں؟
یہ اس لیے تحریر کر رہا ہوں کہ کیا آپ کا نظریہ وہی ہے جو مضمون نگار نے اپنے مضمون میں تحریر کیا ہے یا اس کے برعکس جمعیۃ العلماء ہند کے واضح کردہ فلسفہ کے مطابق ہے؟
(۳) ’’منفی اقدار کے فروغ میں میڈیا کا کردار‘‘ از محمد رشید اور ’’خاطرات‘‘ از محمد عمار خان ناصر، دونوں اچھے مضامین ہیں۔ اس میں صرف تھوڑی سی وضاحت کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر فرقہ واریت اور علماء کے کردار پر زیادہ روشنی ڈالنی چاہیے تا کہ ملک سے فرقہ واریت کا خاتمہ ہو سکے اور زیادہ زور اقلیت کے حقوق پر دینا چاہیے۔ ایک ملک میں دونوں کو ایک درجہ کی شہریت حاصل ہونی چاہیے۔ یہی نظریہ جمعیۃ الہند کے اکابرین کا تھا، اس پر عمل کریں اور اس نظریہ کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے اور میڈیا کے منفی کردار کو زیادہ وضاحت سے تحریر کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشرہ میں جو بد امنی پھیلی ہوئی ہے، اس میں خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ حق کو حق کہو اور باطل کو باطل، سچ کو سچ تحریر کرو اور جھوٹ کو جھوٹ، ان کو ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط نہ کرو۔ یہی جہاد ہے، اس پر عمل کریں گے تو کامیابی ہوگی۔
(۴) ’’سرمایہ دارانہ انفرادیت کا حال اور مقام‘‘ از جاوید اکبر انصاری / زاہد صدیق مغل۔ انسان کی ترقی کا دارومدار اس کے نظام سے وابستہ ہے۔ مولانا عبید اللہ انورؒ فرماتے تھے کہ ہمارا نظام عبادت بھی نظام حکومت سے وابستہ ہے، اس کی تبدیلی کے بغیر نظام عبادت بھی قائم نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا پہلے اس کی تبدیلی کی کوششیں کی جائیں۔ (مجلس شیرانوالہ گیٹ لاہور)
مضمون نگار نے غیر جانبدار (لبرل) کی تردید کی ہے کہ انسانی یا مسلمان ہو سکتا ہے یا کافر، غیر جانبدار کیا ہوتا ہے؟ کیا مسلمان انسان نہیں ہے؟ مسلمان کی غیر فرقہ واریت پر مبنی سوچ اور نظریہ کو لبرل، غیر جانبدار کہا جاتا ہے۔
مسلمان کی ذاتی اصلاح کی بجائے نظام حکومت کی تبدیلی ضروری ہے۔ مسلمان کی کامیابی بھی جماعت سے وابستہ ہے۔ اہل حق کی جماعت نبی کریمؐ اور صحابہ کرامؓ کے نقش قدم پر چلتی ہے۔ لہٰذا اکابرین دیوبند نے فرد کی بجائے صالح نظام کے قیام پر زور دیا، کیونکہ ذاتی اصلاح سے تبدیلی نہیں آسکتی۔ ہاں، اگر نظام صالح نافذ ہے تو پھر انفرادی اصلاح پر توجہ اور کوششیں کی جائیں گی۔ اس مضمون کے ضمن میں سرمایہ دارانہ نظام کی برائیوں اور فرد پر اس کے اثرات پر بحث کرنی چاہیے تھی۔
(۵) مباحثہ و مکالمہ میں میاں انعام الرحمن کی تحریر ’’پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد‘‘ شائع ہوئی ہے۔ اس مضمون کے ضمن میں فاضل مضمون نگار نے بڑی محنت کی ہے۔ دس اوراق پر طویل مضمون اپنی جگہ تعریف کے لائق ہے۔ اس مضمون میں فاضل مضمون نگار نے بڑی اچھی بحث کی ہے۔ پاکستان میں نفاذ اسلام کی کوئی مخلصانہ جدوجہد نہیں کی گئی۔ مختلف عنوانات کے تحت تحریکیں ضرور چلائی گئیں جن کے پیچھے کوئی نہ کوئی ایجنسی ملوث رہی ہے۔ قومی اتحاد، متحدہ محاذ، ایم آر ڈی اور دیگر عوامی و جمہوری تحریکات، اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ سیاست دانوں کو مختلف حیلے بہانوں سے رقوم دی جاتی رہیں۔ سپریم کورٹ میں یہ رٹ چل رہی ہے اور منظر عام پر بہت سی ڈھکی چھپی باتیں ظاہر بھی ہوگئیں۔
اس مضمون میں زیادہ زور اسلام کی نئی تعریف، اجتہاد، دیانت داری، حیاء، علماء کرام کے طرز عمل، قانون اسلام، قرآن مجید کی ترتیب نزولی اور ترتیب نزولی کا فہم پر صرف کیا گیا ہے اور بے حیائی، بے ایمانی اور بد دیانتی کو مطمح نظر قرار دے کر مضمون کو ختم کیا گیا ہے۔ آخری فقرہ یہ ہے کہ:
’’اپنی صلاحیتوں کے دیانت دارانہ اظہار سے انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔‘‘
اگر آپ خود اس مضمون کا مطالعہ فرمائیں تو حقیقت کھل کر آپ کے سامنے آجائے گی کہ اس میں صرف چند ان باتوں پر زور دیا گیا ہے جن کا تبدیلی اور انقلاب سے کوئی تعلق نہیں۔ تبدیلی اور انقلاب کے لیے ایک نظریہ (ایمان) کی ضرورت ہے اور اس کے مطابق جماعت تیار کی جائے، اس کی تربیت اس نظریہ پر رکھی جائے اور پھر وہ جماعت لائحہ عمل تیار کرے گی کہ انقلاب کیسے برپا کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظریہ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے بیان کیا ہے جس کے نام پر آپ نے ایک ادارہ بھی قائم کیا ہوا ہے۔ انہوں نے ایک پورا فلسفہ اور پروگرام دیا ہے جو علماء کرام دیوبند طبقہ فکر خوب اچھی طرح جانتے ہیں۔ آپ کو اس کے متعلق بتلانا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا۔
ان سطور کے تحریر کرنے کا مقصد صرف تنقید نہیں بلکہ اصلاح احوال اور نظر ثانی مطلوب ہے کہ آپ جیسے جید عالم دین جن کی شہرت آسمان کی بلندیوں کو چھوتی ہے اور جو پاکستان نہیں، بلکہ بیرون پاکستان بھی مشہور و معروف ہیں، آپ کے جریدہ میں جو مضامین شائع ہوں، وہ اس نظریہ و فلسفہ کے مطابق ہوں جس سے واقعی معاشرہ میں تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے اور واقعی اس سے دشمن اسلام قوتیں خائف اور پریشان ہوں اور سامراج اس سے خوف کھائے، امریکہ اور اس کے اتحادی اس کے مخالف ہوں اور اس کو ختم کرنے کے درپے ہوں۔ حضرت شیخ الہندؒ جو آپ کے بھی امام ہیں اور تمام اولیاء اللہ برصغیر پاک و ہند کے امام ہیں، ان کے نام سے سامراج کانپتا تھا۔ حضرت مدنی جن کے نام سے اب بھی انگریز ڈرتا ہے۔ حضرت مفتی کفایت اللہ دہلویؒ ، حضرت امام عبید اللہ سندھیؒ ۔ تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ نبی اکرمؐ نے اخلاق اور مذہب کی تبدیلی کی وجہ غربت اور معاشی استحصال کو فرمایا۔ حضرت حفظ الرحمن سیوہارویؒ اخلاق کی بربادی کا سبب برے اقتصادی حالات کو بتلاتے ہیں۔ حضرت شاہ اسحاق دہلویؒ اخلاق اور جسم کی بربادی کا باعث معاشیات اور اقتصادیات کو قرار دیتے ہیں اور فاضل مضمون نگار، حیا کو زندہ کرنے سے انقلاب سے تعبیر کرتے ہیں۔ آپ خود اس پر غور فرمائیں، ان شاء اللہ امید ہے کہ آپ ان کے نقطہ نظر سے متفق نہ ہوں گے کیونکہ ذاتی اخلاقیات میں سدھار معاشرہ میں انقلاب کا سبب نہیں بن سکتا کیونکہ ان کے بگڑنے اور سدھرنے کا تعلق معاشیات کے ساتھ ہے اور آپ علم معاشیات کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
میری اس طویل تحریر کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اگر آپ کا نظریہ و فلسفہ اکابرین دیوبند کے مطابق ہے تو پھر اسی قسم کے مضامین اپنے رسالہ میں شائع کریں جن سے ان کے افکار و نظریات کی توسیع ہو اور ان کو فروغ حاصل ہو۔ اس قسم کے مضامین جن میں ان کے فلسفہ اور فکر کے برعکس تحریر کیا جا رہا ہو اور اس سے عوام الناس کو کوئی فائدہ نہ ہو اور ان کی کوئی ذہن سازی نہ ہو بلکہ اس سے برعکس ہو تو وہ ہمارے اکابرین کے پروگرام کے خلاف ہوگا۔ آپ اور ہمارے اکابرین ہمیشہ انگریز سامراج کے خلاف جنگیں کرتے رہے، پھانسی کی سزائیں ہوئیں، جلا وطن ہوئے، دربدر کیے گئے، قید کی سزائیں برداشت کی گئیں، جائیدادیں ختم کر دی گئیں، ان کا نام و نشان دنیا سے مٹانے کی ناکام اور ذلیل کوششیں کی گئیں، آپ کے اکابرین کی داڑھیوں پر شرابیں پھینکی گئیں، لیکن انہوں نے سامراج کی مخالفت نہ چھوڑی۔ آج ہم بڑے بڑے علماء کرام بن گئے، بڑی شان و شوکت مل گئی، نام، شہرت، دولت سب مل گیا لیکن افسوس بڑوں کا نام بیچ دیا، اس کو فروخت کر کے ادارے، یونیورسٹیاں اور مدارس ومساجد بنا لیں۔ ان کا نام زندہ نہیں رکھا، ان کے بتلائے ہوئے دشمن کو دوست اور دوست کو دشمن بنا لیا، ان کے پروگرام کو چھوڑ کر اپنا فلسفہ وفکر ایجاد کر لیا۔ آج ہم مودودی اور ڈاکٹر اسرار کی تعریفیں کر رہے ہیں اور ہماری زبان پر اور ہماری تحریر میں کبھی حضرت مدنیؒ ، حضرت شیخ الہندؒ ، حضرت سندھیؒ کا نام نہیں آیا۔ شیخ الہند کانفرنس، اسلام زندہ باد کانفرنس، دیوبندی زندہ باد کانفرنسیں بلاتے ہیں، ان کے نام پر پیسے کماتے ہیں اور ان کا پروگرام پیش نہیں کرتے۔
اگر آپ سچے ہیں، حق پرست ہیں اور علم دوست ہیں تو میرا یہ خط اپنے رسالہ میں من و عن شائع کریں اور اس کا جواب بھی ہو سکے تو مجھ جیسے ادنیٰ تاریخ و سیاست کے طالب علم کے نام تحریر کریں، خواہ وہ اپنے جریدہ ہی میں شائع کر دیں اور رسالہ کی کاپی اعزازی میرے پتہ پر ارسال فرما دیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمت و توفیق دے، حق پر چلنے اور اس پر استقامت فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
احقر شکیل احمد ساجد
مکان 2001 / 2002
کریمی سٹریٹ، بہاولنگر 62300
تین افسانے
محمد بلال
(۱)
گندے نالے میں اپنی پندرہ سالہ بیٹی ثمینہ کی نیم برہنہ لاش دیکھی تو چوکیدار شیر محمد کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ دو دنوں سے لاپتا بیٹی اس حالت میں ملے گی،اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ وہ دوسرے ہی لمحے بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔
جب شیر محمد کو ہوش آیا تو اس کی بیٹی کا پوسٹ مارٹم ہو چکا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ثمینہ کے ساتھ ایک سے زائد افراد نے زیادتی کی اور پھر ہاتھ پاؤں باندھ کر، منہ میں کپڑا ٹھونس کر اس کی شہ رگ کاٹ دی تھی۔
شیر محمد کو جب رپورٹ کی تفصیل معلوم ہوئی تو اس کی آنکھوں میں آنسو نہیںآئے بلکہ خون اتر آیا۔ شیر محمد کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ مجرموں کو کسی مشین میں ڈال کر ان کا خون نچوڑ دے، لیکن شیر محمد خود کیا کر سکتا تھا۔ وہ مجرموں کو پکڑنے کے لیے پولیس کے سامنے چلایا ۔ کھلی کچہری میں جا کر رویا لیکن کئی مہینے گزر گئے، مجرموں کا کوئی سراغ نہ ملا۔ شیر محمد کا خون کھول کھول کر ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس کی بیوی کے آنسو بہہ بہہ کر ختم ہو گئے۔
ایک رات شیر محمد لائبریری کے گیٹ کے پاس کھڑا اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا۔ لائبریری کے ہال میں سیمینار ہو رہا تھا۔ موضوع ’’سزائے موت‘‘ تھا۔ رات کی خاموشی کی وجہ سے تقریروں کی آواز شیر محمد کو بھی سنائی دے رہی تھی۔ تقریروں میں باربار مجرموں کا ذکر ہو رہا تھا۔ شیر محمد کا دھیان بار بار ثمینہ کے مجرموں کی طرف جا رہا تھا۔
ایک مقرر بول رہا تھا:
’’موت کی سزا ایک غیر انسانی سزا ہے۔ اس کو فوراً ختم کر دینا چاہیے۔ بہت سے ترقی یافتہ ممالک یہ کام کر چکے ہیں۔ دراصل سزائے موت جمہوری ثقافت کے منافی ہے۔ سزائے موت انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ سب سے بڑی ناانصافی عدالتوں میں ہو رہی ہے۔ مجرم جب کوئی جرم کرتا ہے تو وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہوتا، لیکن ایک عدالت اپنے پورے ہوش و حواس میں اسے قتل کراتی ہے۔ یہ بات یاد ر کھنی چاہیے کہ موت زندگی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہے۔ لیکن ہم لوگوں میں احساسِ زیاں ہے ہی نہیں۔‘‘
شیر محمد کے ذہن میں قصاص کا لفظ آیا۔۔۔ اس کے ساتھ ہی ثمینہ کا خیال ابھرا۔۔۔ اس کے اندر آتش فشاں کا لاوا پکنے لگا۔۔۔ اس کے سر کی نسیں پھٹنے لگیں۔
اُدھر وہ مقرر مسلسل بول رہا تھا:
’’مجرموں سے نفرت نہ کریں۔ ان کے مسائل سمجھیں۔ ان کی اصلاح کریں۔ مجرم بے چارہ کسی ذہنی اذیت یا کرب کا شکار ہوکر جرم کرتا ہے۔ اس لیے مجرم کی نفسیاتی حالت کوسمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔‘‘
اِدھر شیر محمد کی آنکھوں کے سامنے کبھی اپنی ثمینہ کی نیم برہنہ لاش آ رہی تھی اور کبھی اس کے مجرموں کے بھیانک سیاہ ہیولے رقص کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ شیر محمد کو ایسے محسوس ہوا جیسے وہ مقرر اس کی بیٹی کی لاش کی جانب پشت کر کے اس کے مجرموں کو گلے لگا رہا ہے۔ انھیں پیار کر رہا ہے ۔۔۔ شیر محمد کے جذبات اس کے قابو سے باہر ہو رہے تھے۔
اُدھر مقرر مسلسل مجرموں کی حمایت میں بول رہا تھا۔ اِدھر شیر محمد کے اندر پکتا ہوا لاوا پھٹ پڑا۔ وہ یکایک دانت پیستا ہوا ہال کے اندر داخل ہوا۔ اسٹیج پر چڑھا، اُس مقرر کو اس کی ٹائی سے پکڑ کر فرش پر گرایا اور اس کے پیٹ پر بیٹھ کر اسے بری طرح مارنے لگا۔ لوگوں نے شیر محمد کو پکڑ کر مقرر سے الگ کیا اور اسٹیج سے اتار دیا۔ مقرر جب فرش سے اپنے پھٹے ہوئے کپڑوں کے ساتھ اٹھا تو اس نے شیر محمد کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور’’درندے‘‘ کہتا ہوا مارنے کے لیے اس کی طرف بڑھا ،مگر لوگوں نے اسے پکڑ کر بے بس کر دیا۔ اس کے باوجود وہ آگ بگولہ ہو کر اچھل اچھل کر مسلسل چلا رہا تھا:
’’میں اس جانور کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ اس کو اتنی جرأت کیسے ہوئی۔۔۔ ایک گارڈ.....ایک شہری کمی کمین.....اورمیں.....چھوڑ دو مجھے۔۔۔ زندہ نہیں چھوڑوں گا اسے۔۔۔۔‘‘
(۲)
’’ان ملکوں کی سرکشی کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے جہاد ۔مسلمانو! اٹھو اور سمندروں میں، فضاؤں میں، زمین کے ہر خطے میں ان پر ٹوٹ پڑو۔ ظلم اس سطح تک پہنچ چکاہے کہ جہاد اب فرض ہو گیا۔ ان کے جدید اسلحے کی قوت سے نہ ڈرو، یہ یاد رکھو کہ:
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘
شیرعلی کی اس تقریر کے بعد جلسے کی فضا نعر وں سے گونج اٹھی۔لوگوں نے اس کو کندھوں پر اٹھا لیا۔بہت دیر تک زور دار تالیا ں بجنے کا سلسلہ جاری رہا۔
______________
وہ ایک بھیانک چیخ تھی جس نے شیرعلی کو آدھی رات کے وقت بیدار کر دیا۔ وہ ہڑ بڑا کراٹھا۔ سامنے پانچ مسلح ڈاکو کھڑے تھے۔ اس کی اہلیہ مسلسل چیخیں مار رہی تھی۔ تنگ آکر ایک ڈاکو نے اسے بالوں سے پکڑ کرایک طرف گرایا اور پستول اس کی کنپٹی پر رکھ دیا۔ اس کا جوان بیٹا یہ براداشت نہ کر سکا۔ وہ آگے بڑھ کر اس ڈاکو سے الجھنے لگا۔ شیرعلی نے اس کا بازو پکڑ لیا او ر ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے آہستگی سے کہا: ’’پپ پاگل مت بنو۔ ان سے لڑنا خخ خود کشی کرنا ہے۔‘‘
پھر وہ اپنی اہلیہ کی طرف متوجہ ہوا :’’بب بیگم! خاموش ہو جاؤ۔‘‘
اس کے بعد اس نے ڈاکو کی طرف رخ کیا:’’ اسے چھو ڑ دو ۔ تم جو چچ چاہتے ہو، وہ تمھیں مم مل جا ئے گا۔‘‘
ڈاکو نے اس کی اہلیہ کی کنپٹی سے پستول ہٹا لیا۔ شیر علی نے اپنی بیگم اور بیٹے کو سکون سے رہنے کا اشارہ کیا او ر کانپتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ الماری سے نقدی اور زیورات نکال کر ڈاکوؤں کے حوالے کر دیے۔
(۳)
شادی کے چند دنوں کے بعد جمیلہ میکے آئی تو اس کی بہنوں اور سہیلیوں نے پوچھا: ’’دولہا بھائی کیسے آدمی ہیں ؟‘‘
جمیلہ کے چہرے پر شرم کی لالی ابھری ۔وہ اپنی مسکراہٹ روکتے ہوئے بولی: ’’اچھے ہیں۔‘‘
پھر اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ اس کے چہرے کی لالی میں ہلکی سی سیاہی کی آمیزش ہوئی۔ اس نے برا سا منہ بنا کر کہا:
’’لیکن ہر وقت اپنی ماں کے مرید ہی بنے رہتے ہیں۔ ہر کام اس سے پوچھ کر کرتے ہیں۔میں نے کہا: گھر میں گیزر لگوا لیں تو بولے: ماں جی سے بات کروں گا۔ میں نے کہا: کسی پارک میں سیر کرنے چلیں تو بولے: ماں جی سے بات کرتے ہیں، اجازت ملی تو ضرور چلیں گے۔۔۔‘‘
ایک سہیلی بولی: ’’معلوم ہوتا ہے وہ اپنی ماں سے شدید محبت کرتے ہیں۔‘‘
جمیلہ نے اس سہیلی کو ترچھی نظر وں سے دیکھا۔ پھر اس کی ناک سے تیزی سے ’ہوں‘کی آواز نکلی اور اس نے اپنا سر جھٹک کر دوسری طرف کر لیا۔
دو سال کے بعد جمیلہ کے گھر لڑکا پیدا ہوا۔ لڑکا جوان ہو گیا۔ ادھر وقت نے جمیلہ کے خاوند پر کوئی اثر نہ کیا۔ اس کا اپنی ماں کے ساتھ تعلق اسی طرح قائم رہا۔ جمیلہ بھی ویسی کی ویسی ہی رہی۔ جب بھی وہ میکے جاتی یا اس کی کوئی سہیلی اسے ملنے آتی تو وہ اپنے شوہر کے اس کی ماں کے ساتھ تعلق پر ضرور شکایت کرتی۔ اسے سب سے زیادہ اس بات پر شکوہ رہتا تھا کہ وہ اپنی ساری تنخواہ اپنی ماں کے ہاتھ پر کیوں رکھ دیتے ہیں۔
وقت کا پہیا چلتا رہا۔ ایک دن جمیلہ کے لڑکے کی شادی ہو گئی۔ وہ لڑکا بچپن سے اپنی ماں کی شکایت سن رہا تھا۔ وہ بیوی کے حقوق کے معاملے میں بہت حساس ہو چکا تھا۔ چنانچہ وہ اپنی بیوی کا بہت خیال رکھتا تھا۔ وہ اسے بالکل اسی طرح چاہتا تھا جس طرح جمیلہ بیوی کی حیثیت سے چاہتی تھی کہ اسے چاہا جائے۔ ایک دفعہ اس کی بیوی نے اپنے کمرے میں اے سی لگوانے کی بات کی، اس نے اسی وقت ہامی بھر لی۔ وہ کبھی باہر کھانا کھانے کی خواہش ظاہر کرتی تو وہ ہنسی خوشی مان جاتا اور ماں سے اجازت لینے کی ضرورت محسوس نہ کرتا ....... حتی ٰکہ چند ماہ بعد اس نے تنخواہ بھی بیوی کو دینا شروع کر دی۔
وقت کا دریا اسی طرح بہتا رہا۔ ایک دن جمیلہ اپنے گھر کے صحن میں چہرہ لٹکا کر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کا لڑکا اپنی بیوی کے ساتھ باہر کھانا کھانے گیا ہوا تھا۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ معلوم ہوا جمیلہ کی ایک پرانی سہیلی اسے ملنے آئی ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے بڑی گرم جوشی سے ملیں۔ پھرگپ شپ شروع ہوئی۔ باتوں باتوں میں جمیلہ کے لڑکے کا ذکر آگیا۔ جمیلہ غمگین ہو گئی۔ اس کے ماتھے پر بہت سی شکنیں ابھر آئیں۔ وہ برا سا منہ بنا کر بولی:
’’وہ تو ہر وقت اپنی بیوی کا مرید ہی بنا رہتا ہے۔ اس کی ہر خواہش پوری کرتا ہے۔ تنخواہ بھی ساری اس کے ہاتھ پررکھ دیتا ہے۔‘‘
سہیلی نے کہا: ’’معلوم ہوتا ہے وہ اپنی بیوی سے بڑی محبت کرتا ہے۔‘‘
جمیلہ نے سہیلی کو ترچھی نظروں سے دیکھا۔ پھر اس کی ناک سے تیزی سے ’ہوں‘کی آواز نکلی اور اس نے اپنا سر جھٹک کر دوسری طرف کر لیا۔
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے تعلیمی وتربیتی پروگرام (۲۰۱۲ء)
ادارہ
الشریعہ اکادمی ہاشمی کالونی کنگنی والا گوجرانوالہ میں قرآن کریم حفظ و ناظرہ اور درس نظامی اولیٰ اور ثانیہ (مع میٹرک) کے مستقل تعلیمی سلسلوں کے علاوہ سال رواں کے لیے مندرجہ ذیل پروگرام طے کیا گیا ہے:
- مولانا زاہد الراشدی کاہفتہ وار درس ہر اتوار کو نماز مغرب کے بعد ہوگا۔
- ماہانہ فکری نشست ہر انگریزی ماہ کی آخری اتوار کو عصر تا مغرب ہوگی۔ اس سال کے لیے فکری نشستوں کا موضوع ’’علماء دیوبند کی دینی و سیاسی خدمات‘‘ طے کیا گیا ہے۔
- شہر کے دینی مدارس کے طلبہ کے لیے ’’انگلش بول چال کورس‘‘ ۱۰ نومبر تا ۱۳ ؍دسمبر ۲۰۱۲ء مرکزی جامع مسجد (شیرانوالہ باغ) میں منعقد کیا جائے گا، جبکہ عربی بول چال کا کورس کا انعقاد دینی مدارس کے سہ ماہی و شش ماہی امتحان کے درمیان کیا جائے گا۔
- ربیع الاول کے دوران میں دینی مدارس کے طلبہ کے درمیان سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر تحریری اور تقریری مقابلوں کا اہتمام کیا جائے گا۔
- اس سال کے دوران میں تین سیمینار منعقد ہوں گے۔ پہلا سیمینار ۱۵؍ اکتوبر بروز پیر بعد نماز مغرب ’’حفظ قرآن کریم کے طلبہ کی تربیت اور ذہن سازی‘‘ کے موضوع پر ہوگا جس میں ممتاز علماء کرام اور حفظ و تجوید کے ماہر اساتذہ اظہار خیال کریں گے۔ دوسرا سیمینار آئندہ ربیع الاول میں تحریری و تقریری مقابلہ کے موقع پر منعقد ہوگا جبکہ تیسرے سیمینار کا انعقاد شعبان المعظم میں سالانہ تقریب کے طور پر کیا جائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
- اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً علمی و فکری شخصیات کو مختلف حوالوں سے اظہار خیال کی دعوت دی جائے گی جس کا اعلان موقع پر کر دیا جائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔