نومبر ۲۰۱۲ء

عمل تدریس میں استاد کا کردارمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
ملالہ یوسف زئی پر حملہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اے عاشقانِ رسول، تم پر سلام !مولانا عتیق الرحمن سنبھلی 
احترام انسانیت اور امت مسلمہ کے لیے راہ عملغلام حیدر 
سیدہ عائشہؓ سے نکاح کے لیے خولہ بنت حکیمؓ کی تجویزمحمد عمار خان ناصر 
جماعتِ اسلامی کا داخلی نظم سیّد وصی مظہر ندویؒ کی نظر میں (۲)چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ 
اسلام کی نئی تعریف؟محمد دین جوہر 
مولانا سعید احمد رائے پوریؒ / مولانا مفتی محمد اویسؒمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
برطانیہ میں طب اسلامی کا تذکرہحکیم محمد عمران مغل 

عمل تدریس میں استاد کا کردار

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد ایک آزاد، غیر سیاسی، علمی و تحقیقی ادارہ ہے جو ملکی، بین الاقوامی اور اسلامی دنیا سے متعلق پالیسیوں پر تحقیق اور مکالمے کا اہتمام کرتا ہے۔ ۲۸ ستمبر ۲۰۱۱ء کو آئی پی ایس میں ’’عمل تدریس میں استاد کا کردار‘‘ کے موضوع پر ایک علمی مجلس کا انعقاد کیا گیا جس میں مولانا مفتی غلام الرحمن، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا مفتی محمد زاہد نے اس موضوع پر گفتگو کی۔ مولانا راشدی کی گفتگو کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)

سب سے پہلے تو آئی پی ایس کا شکریہ ادا کروں گا کہ آج کی اس تقریب میں حاضری کا اور کچھ سننے سنانے کا موقع فراہم کیا۔ اللہ تعالیٰ ہماری حاضری قبول فرمائے، مقصد کی باتیں کہنے اور سننے کی توفیق عطا فرمائے، دین اور حق کی جو بات سمجھ میں آئے اللہ تعالیٰ اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ اس کے بعد آئی پی ایس کو دو باتوں پر مبارک باد پیش کرنا چاہوں گا۔ ایک تو کام کے تسلسل پر جو ہمارے ہاں عام طور پر نہیں ہوتا، بالخصوص فکری کاموں میں۔ ہمارا جو دائرہ ہے، اس میں فکر سازی اور ذہن سازی کے کام کی حیثیت ثانوی بھی نہیں بلکہ ثالثی درجے میں کہیں ہوتی ہے۔ حالانکہ جو کام فکری ادارے یا تھنک ٹینکس کرتے ہیں، یہ بنیادی کام ہے اور اسی پر قوموں کے مستقبل کے پروگرام استوار ہوتے ہیں۔ یہ تسلسل قابل مبارک باد ہے۔ یہ ایک عرصہ سے لگے ہوئے ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں اور مجھے بھی ایک عرصہ سے ان کے ہاں حاضری کا موقع ملتا رہتا ہے۔ دوسرا اِس نئی جگہ پر آنے کی مبارک باد دینا چاہوں گا، اللہ تعالیٰ نے ایک اچھی اور کشادہ جگہ عطا فرمائی ہے جہاں کام زیادہ وسعت اور زیادہ تنوع کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ 
مجھ سے کہا یہ گیا ہے کہ اپنے تدریسی تجربات، مشاہدات اور تاثرات پیش کروں۔ پہلے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ مجھے بھی ایک چھوٹا سا مدرس ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور میرا تدریسی تجربہ تقریباً ۴۵ سال پر محیط ہے، الحمد للہ۔ چوں کہ میں نے ایک تدریسی گھرانے میں ہوش سنبھالا تھا، اس لیے معلمی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ تحدیث نعمت کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ میں نے جس گھرانے میں ہو ش سنبھالا، میری والدہ صاحبہ خود استانی اور معلمہ تھیں۔ قرآن کریم پڑھاتی تھیں، ترجمہ، حفظ، تفسیر اور اس زمانے میں بہشتی زیور بھی پڑھاتی تھیں اور یہ بھی تحدیث نعمت کے طور پر عرض کروں گا کہ سابق صدر جناب رفیق تارڑ صاحب میری والدہ اور والد محترمؒ کے شاگرد ہیں۔ تدریسی ماحول مجھے گھر سے، ماں کی گود سے ملا ہے۔ والد محترم حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہی کیا! وہ تو برصغیر کی سطح کے بڑے مدرسین میں سے ہیں۔ ان کا اپنا تدریسی دورانیہ کوئی ساٹھ سال سے زائد رہا ہے، انھوں نے ساٹھ سال دینی علوم کی تدریس کی ہے۔ میرے لیے مشکل بات اس لیے نہیں تھی کہ ماحول ہی وہ تھا، تربیت ہی وہ تھی، ذوق ہی وہ تھا، ہر وقت اردگرد پڑھنے پڑھانے والوں کا ہجوم رہتا تھا۔ 
میں نے تدریسی زندگی کا آغاز طالب علمی کے زمانے ہی میں کر دیا تھا، شاید موقوف علیہ سے بھی پہلے۔ اس زمانے میں درجات کی تقسیم یہ ثالثہ، رابعہ وغیرہ کے عنوان سے نہیں ہوتی تھی۔ موقوف علیہ ہوتا تھا، کافیہ کا سال ہوتا تھا، جامی کا سال ہوتا تھا، اس حوالے سے ہم متعارف ہوتے تھے۔ شاید موقوف علیہ سے بھی پہلے کا سال تھا کہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے دو تین طلبہ نے مجھ سے کہا کہ آپ ہمیں ’’مالا بدمنہ‘‘ پڑھائیں۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے، پڑھا دوں گا۔ تو سب سے پہلی کتاب جو میں نے پڑھائی، وہ ہے ’’مالا بد منہ‘‘۔ تین طلبہ تھے اور اسے ہم نے باقاعدہ کلاس کی صورت میں چلایا۔ یہ میری تدریسی زندگی کا آغاز تھا۔ میری تدریسی زندگی ۱۹۷۰ء میں باقاعدہ شروع ہوئی ہے۔ ۱۹۷۰ء سے ۱۹۹۰ء تک بیس سال میں نے مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ میں پڑھایا جو کہ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے ساتھ گوجرانوالہ کا سب سے قدیمی مدرسہ ہے۔ یہ ۱۹۲۶ء میں قائم ہوا تھا اور میرے والد محترم اور چچا محترم حضرت صوفی صاحب دونوں نے بنیادی تعلیم وہیں حاصل کی۔ یہاں بیس سال مجھے تدریس کا موقع ملا، لیکن وہ تدریس ایسی تھی کہ میں ایک طرف تو جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم ترین حضرات میں سے تھا، میری صبح کہیں ہوتی تھی، دوپہر کہیں، شام کہیں اور رات کہیں ہوتی تھی۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ سب سے زیادہ متحرک تھا، لیکن متحرک ترین لوگوں میں سے تھا، الحمد للہ۔ ملک کے بیشتر حصوں میں میرا آنا جانا ہوتا تھا۔ جماعتی سرگرمیاں، سیاسی، تنظیمی سرگرمیاں، معرکہ آرائی، تحریکیں، گرفتاریاں سب کچھ ساتھ ساتھ چلتا تھا۔ تحریکی اور سیاسی سرگرمیوں کے لحاظ سے یہ میرا کلائمیکس کا دور تھا، یعنی ۱۹۷۰ء سے ۱۹۹۰ء تک۔ 
اس حوالے سے میں دو تین باتیں عرض کرنا چاہوں گا۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؓ میرے والد بھی تھے، شیخ بھی تھے، استاد بھی تھے، مربی بھی تھے، سب کچھ وہی تھے۔ ان کے ساتھ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ میرے چچا تھے، استاد تھے، مربی تھے۔ اس دور میں اتنی متنوع اور وسیع سیاسی سرگرمیاں ہوتی تھیں۔ میرا ذوق شروع ہی سے یہ ہے کہ میں تقریباً تمام مکاتب فکر سے رابطہ رکھتا تھا اور رابطہ رکھتا ہوں، اس درجے کا کہ اگر کبھی ضرورت پڑے تو ہم اکٹھے چل سکیں۔ یہ رابطہ میرا طالب علمی کے زمانے میں تھا کہ کسی دینی تحریک میں ہمیں اکٹھا چلنا پڑے تو حجاب نہ ہو کہ وہ کون ہے ، میں کون ہوں۔ اسے آپ میرا ذوق کہہ لیجیے، چالیس پینتالیس سال سے یہ میرا معمول ہے۔ 

نوجوانوں کی سرپرستی اور رہنمائی

مجھے یہ خدشہ ہوتا تھا کہ میرے والد محترم جس ماحول کے بزرگ ہیں، شاید میری یہ وسیع سرگرمیاں ان کے لیے قابل قبول نہ ہوں۔ لیکن انہوں نے جماعتی، اتحادی، تحریکی یا سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے کبھی کچھ نہیں کہا۔ ہاں، البتہ دو باتوں کی مجھ پر ہمیشہ پابندی رکھی اور ان باتوں پر وہ ڈانٹتے بھی تھے۔ ایک انہیں اس بات کی فکر ہوتی تھی کہ اس نے قرآن کریم حفظ کیا ہوا ہے، رمضان میں سنا رہا ہے یا نہیں سنا رہا؟ ماہ رجب میں ہی مجھ سے پوچھنا شروع کر دیتے تھے کہ کہاں سنا رہے ہو، کیا تیاری کر رہے ہو، کتنی منزل پڑھتے ہو؟ رمضان میں بلا کر پوچھتے تھے کہ کتنے پارے ہوگئے، کتنی غلطیاں روز آتی ہیں، سناتے کس کو ہو، دور کس سے کرتے ہو؟ دوسرا ان کا اصرار ہوتا تھا کہ تم جو مرضی کرو، لیکن دو چار کتابیں لازمی پڑھانی ہیں۔ سچی بات ہے کہ پہلے دس سال میں نے مجبوری سے پڑھایا۔ ڈر ہوتا تھا کہ والد صاحب ڈانٹیں گے، پوچھیں گے ۔رمضان کے بعد شوال میں ہی بلا لیا کرتے تھے اور پوچھتے تھے کیا پڑھا رہے ہو، کتنے سبق ہیں، کیا مطالعہ کرتے ہو؟ وہ تو پرانے مدرس تھے، اس لیے سبق کے بارے میں پوچھتے تھے کہ فلاں جگہ کیسے حل کی تھی، فلاں موقع طلبہ کو کیسے سمجھایا تھا؟ الحمد للہ مجھے یہ نگرانی حاصل رہی ہے۔ 

ذوق پیدا کرنا

پہلے دس سال تک میں تقریباً یہ سمجھتا رہا کہ میں مجبوراً پڑھا رہا ہوں، لیکن آہستہ آہستہ ذوق بنتا گیا اور الحمد للہ آج یہ ذوق ہے کہ اگر دو چار سبق نہ پڑھاؤں تو دن گزرتا نہیں ہے۔ یہ ان کی مہربانی تھی۔ پہلے پہلے غصہ آتا تھا کہ میں سیاسی لیڈر ہوں، اخبارات میں میرے مضامین چھپتے ہیں اور میرے بیانات آتے ہیں، جبکہ والد صاحب مجھ پر سختی کرتے ہیں کہ تم نے اصول الشاشی ضرور پڑھانی ہے، نور الانوار ضرور پڑھانی ہے اور ہدایہ ضرور پڑھانی ہے۔ میں اپنے مدرس دوستوں سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ والد صاحب کا جبر کہہ لیجیے یا کچھ اور کہ آہستہ آہستہ اپنا ذوق بن گیا کہ میں نے ایک عرصہ اس طرح گزارا کہ دوسری سرگرمیوں کے باوجود تدریس ضرور کی۔ البتہ میں نے ایک سہولت یہ لے رکھی تھی کہ سبق اپنی مرضی کے لیتا تھا، تین یا چار، اور اپنی مرضی کے وقت پر پڑھاتا تھا۔ اپنی سرگرمیوں کے ساتھ مجھے اسباق کو ایڈجسٹ کرنا ہوتا تھا۔ بیس سال تک میرا یہ معمول رہا ہے کہ جامع مسجد میں فجر کی نماز پڑھاتا تھا (اب بھی پڑھاتا ہوں، درس دیتا ہوں) اور پھر مصلے پر تین چار سبق پڑھاتا تھا اور نماز کے ڈیڑھ گھنٹے دو گھنٹے کے بعد فارغ ہو جاتا تھا۔ پھر میں آزاد ہوتا تھا کہ کبھی مردان جا رہا ہوں تو کبھی پشاور۔ کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ ساری رات سفر کر کے سحری کے وقت واپس آتا تھا، نماز سے ایک گھنٹہ پہلے مطالعہ کرتا تھا، نماز کے بعد پڑھاتا تھا۔ پھر اگر سونا ہے تو سو گیا، ورنہ بس پر جا کر سوار ہوگیا اور وہیں سو گیا۔ یہ میرا تقریباً بیس سال تک معمول رہا، اس زمانے میں میری نیند اکثر بس میں ہی پوری ہوتی تھی۔
یہاں ایک لطیفے کی بات یاد آگئی۔ ایک دن حضرت والد صاحب پوچھتے ہیں کہ خدا کے بندے! تم سوتے کہاں ہو؟ آج اخبار میں پڑھتے ہیں کہ کوئٹہ بیٹھا ہوا ہے، کل پڑھتے ہیں کراچی میں ہے، پرسوں پشاور میں ہے، ترسوں میر پور میں ہے، اور سبق بھی پڑھاتے ہو، آخر سوتے کدھر ہو؟ میں نے کہا جی بس سو جاتا ہوں۔ اس زمانے میں میری حالت یہ تھی کہ تین چار گھنٹے بس میں سونا میرے لیے کوئی مشکل بات نہیں تھی، اب بس میں نیند نہیں آتی۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ والد صاحب کے ساتھ گوجرانوالہ سے ایک بارات پر جانا پڑ گیا۔ والد صاحب کے بہت قریبی تعلق والے دوست تھے اور انہوں نے مجبور کیا کہ آپ بیٹے کی بارات پر چلیں۔ چنیوٹ سے آگے لالیاں جانا تھا۔ بڑی ویگن تھی۔ ویگن میں باپ بیٹا دونوں کو ایک ساتھ سیٹ مل گئی۔ میں جب گوجرانوالہ سے نکلا تو مجھے اتنا یاد ہے کہ قلعہ دیدار سنگھ شاید گزرا تھا، اس کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں کہاں کہاں سے گزرے۔ تقریباً تین گھنٹے کے بعد جب چنیوٹ پہنچے تو ظہر کی نماز کا وقت تھا۔ والد صاحب نے مجھے کندھے سے پکڑ کر کہا کہ ’’اٹھو! نماز پڑھو۔ مجھے پتہ چل گیا ہے کہ کہاں سوتے ہو۔‘‘ تو بیس سال میرا یہ معمول تھا اور میرا اختیار ہوتا تھا کہ میں اپنی مرضی کے اسباق لوں گا اور دوسرا یہ کہ وقت میری مرضی کا ہوگا کہ کچھ بھی ہو، صبح کی نماز کے بعد ڈیڑھ دو گھنٹے میں، میں نے سبق پڑھا کر فارغ ہو جانا ہے، اور الحمد للہ میں نے اس کو نبھایا ہے۔ 
میرا زیادہ تر تدریسی ذوق تھا فقہ، اصول فقہ ، صرف اور ادب کا۔ میرے زیادہ تر اسباق جن کتابوں میں سے ہوتے تھے، ان میں نور الانوار، اصول الشاشی، حسامی، ہدایہ ، کنز اور صرف کی کتابیں شامل تھیں اور (عربی ادب کی کتاب) حماسہ تو میری پکی کتاب تھی۔ الحمد للہ آج بھی میرا ذوق یہ ہے کہ والد صاحب کی تربیت اور سختی کی وجہ سے میری دیگر سرگرمیوں کے باوجود پچھلے پورے سال میں میری صرف تین چھٹیاں تھیں، حالانکہ اٹھارہ چھٹیوں کی مدرسے کی طرف سے اجازت ہے۔ مدرسے کے قواعد و ضوابط میں ہے کہ اٹھارہ اتفاقی چھٹیاں استاد کا بنیادی حق ہے۔ پچھلے سال میں نے صرف تین استعمال کیں اور اس سال اللہ کرے وہ بھی نہ ہوں۔ تو والد صاحب کا سبق یہ ہوتا تھا کہ بھئی، ناغہ نہیں کرنا۔ وہ تو چھٹی کو گناہِ کبیرہ سے بھی آگے کی کوئی شے سمجھتے تھے۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ والد صاحب کی چھٹی ہو۔ سوائے سخت بیماری کے کوئی چھٹی نہیں ہوتی تھی۔ ایک تو میں نے مشاہدات اور تجربات میں حضرت والد صاحب سے سیکھا اور پھر اپنا ذوق بن گیا ہے کہ چھٹی نہ ہو، تن آسانی نہ ہو۔ یہ میری کوشش ہوتی ہے اور میں الحمد للہ کامیاب بھی ہوتا ہوں اس کوشش میں۔ میرا خیال ہے کہ کوشش اور ارادہ ہو تو ہر کام ہو جاتا ہے، جب ارادہ ڈھیلا پڑ جائے تو پھر کچھ بھی نہیں ہوتا۔ 
یہ تھا میرا تدریسی زندگی کا بیس سال کا معمول۔ پھر اس کے بعد کچھ مسائل اس نوعیت کے پیدا ہوگئے کہ تدریسی عمل میں ۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۸ء تک آٹھ سال کا ناغہ پڑ گیا۔ پھر ۱۹۹۸ء میں حضرت صوفی صاحبؒ (چچا محترم) نے فرمایا کہ مدرسہ نصرۃ العلوم میں ایک دو سبق پڑھا دیا کرو تو میں نے وہاں موطا امام مالک اور سنن نسائی پڑھانا شروع کی۔ اس طرح ۱۴ سال مجھے نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث کے اسباق پڑھاتے ہوئے ہوگئے ہیں۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی معذوری کے بعد سے ترجمہ قرآن کریم، بخاری شریف، طحاوی شریف اور حجۃ اللہ البالغہ کے اسباق میرے پاس ہوتے تھے۔ 

سبق کے لیے خصوصی تیاری

اس دوران جو باتیں میں نے محسوس کی ہیں، وہ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ والد محترم کو میں نے دیکھا کہ انہوں نے بخاری شریف میرے خیال سے چالیس بار سے زیادہ مرتبہ پڑھائی ہوگی، لیکن اس کے باوجود آخری دور میں بھی ان کو دیکھا ہے کہ رات کو مطالعہ ضرور کرتے تھے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم دو چار مرتبہ پڑھا کر ایک کتاب سے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ یار پڑھائی ہوئی ہے، کوئی مسئلہ نہیں، پڑھا لیں گے۔ صبح دیکھی جائے گی، کیا ہوتا ہے۔ لیکن والد محترم مطالعہ لازمی کیا کرتے تھے۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ قرآن کریم کا ترجمہ اور بخاری شریف کا حاشیہ دیکھ رہے ہیں ۔میں نے کہا کہ آپ کو مطالعے کی کیا ضرورت ہے؟ کہنے لگے کہ میں اپنا تجربہ بتاتا ہوں کہ جتنی دفعہ دیکھا ہے، کوئی نیا نکتہ سامنے آیا ہے، کوئی نہ کوئی نئی بات ذہن میں آئی ہے۔ الحمد للہ میرا ذوق بھی یہی ہے کہ حتی الوسع ان روایات کو نبھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں عرض کر رہا تھا کہ ایک تو وہ سبق کے ناغے کو گناہ سمجھتے تھے، دوسری بات مطالعے کے بغیر سبق پڑھانے کو بھی وہ تقریباً گناہ ہی سمجھتے تھے۔ اس معاملہ میں جتنا اہتمام میں نے ان کا دیکھا ہے، حیران کن ہے۔ 
تیسری بات جو ہم نے ان میں دیکھی، وہ ہے وقت کی پابندی۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ چھ بجے کے بجائے چھ بج کر ایک منٹ پر آئیں۔ پانچ بج کر انسٹھ منٹ ہو سکتے ہیں لیکن، چھ بج کر ایک منٹ نہیں ہو سکتا۔ بارہا میں نے تجربہ کیا ہے۔ ہمارے علاقے میں دو آدمیوں کے بارے میں یہ محاورہ مشہور تھا کہ ان کو دیکھ کر لوگ گھڑیاں درست کرتے ہیں۔ ایک مولانا ظفر علی خانؒ جو کہ وزیر آباد کے تھے، ان کی وقت کی پابندی ضرب المثل تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ مولانا ظفر علی خان کی سرگرمیاں دیکھ کر ہم گھڑی درست کرتے ہیں اور کہتے تھے کہ گھڑی غلط ہو سکتی ہے لیکن ظفر علی خان غلط نہیں ہو سکتے۔ اور دوسرے ہیں والد مرحوم۔ جو وقت کہا ہے، اسی وقت پر پہنچنا ہے۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ خود وقت سے آگے پیچھے ہو جائیں یا کسی اور کو ہونے دیں۔ 

امانت اور دیانت کی مثال

میں ان کے تجربات اور اپنے مشاہدات و تاثرات عرض کر رہا ہوں۔ والد صاحب کا ایک معمول اور بھی تھا جو میں اپنے اساتذہ بھائیوں سے ذکر کرنا چاہوں گا۔ پرانے بزرگوں کی جو بات ہم نے دیکھی کہ کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا کہ مدرسے کی کوئی چیز مدرسے کے کام کے علاوہ کہیں اور استعمال ہو سکے۔ تقریباً ربع صدی تک ان کا معمول رہا ہے کہ گکھڑ سے گوجرانوالہ ٹرین یا بس پر آتے تھے۔ ایک میل چلنا، پھر گاڑی میں بیٹھنا، پھر گاڑی سے اتر کر آگے ایک میل پیدل چلنا، تقریباً تیس سال یہ معمول رہا۔ آخری عمر میں مدرسہ والوں نے فیصلہ کیا کہ گاڑی لے لیتے ہیں جو گھر سے لے آیا کرے اور شام کو گھر چھوڑ آیا کرے۔ گکھڑ سے گوجرانوالہ جاتے وقت گاڑی میں جگہ ہوتی تو ہم بھی ساتھ بیٹھ جاتے تھے۔ گاڑی جی ٹی روڈ پر گوندلانوالہ چوک سے گھنٹہ گھر کی طرف مڑ جاتی تھی، جبکہ میرا جی ٹی روڈ پر اس سے اگلا سٹاپ شیرانوالہ باغ ہوتا تھا، چنانچہ وہ مجھے چوک پر ہی اتار دیتے کہ یہاں اتر جاؤ۔ یہ آپ کے ابا کی نہیں، مدرسے کی گاڑی ہے۔ اہلیہ اور بچے ساتھ ہوتے، تب بھی اتار دیتے تھے کہ یہاں سے رکشے میں بیٹھ کر جائیں۔ 

تدریس میں سادگی اور ترتیب

ایک بات اور میں نے دیکھی والد صاحب کے طریق تدریس میں۔ والد صاحب سے زیادہ فقہی مباحث کون کرتا ہوگا، اعتقادی مباحث، فقہی مباحث اور شوافع، مالکیہ، حنابلہ اور حنفیہ کی اختلافی بحثیں ان سے زیادہ کون کرتا ہوگا، لیکن ایسا وہ صرف ایک کتاب میں کرتے تھے۔ ساری بحثیں صرف ترمذی میں کرتے اور بخاری شریف اتنی سادہ پڑھاتے تھے کہ آپ اس سے زیادہ سادگی کا تصور نہیں کر سکتے۔ ترجمۃ الباب، ایک آدھ مسئلہ اور اگر کوئی متعلقہ بات ہو تو کہہ دیتے تھے، ورنہ آگے بڑھ جاتے اور کہتے تھے کہ حدیث کو حدیث کے طور پر پڑھو، بطور خاص بخاری شریف کو، مباحث کسی اور کتاب میں کر لیں۔ 
ان کا ایک دورانیہ طے ہوتا تھا، پورے سال کا ایک توازن ہوتا تھا، ایک ترتیب اور متعین مقدار کے حساب سے چلتے تھے۔ اور الحمد للہ میرا ذوق بھی کچھ تھوڑا بہت یہی ہے۔ میں تو ویسے بھی جھگڑے والا (یعنی فقہی اختلافی مسائل میں پڑنے والا) آدمی نہیں ہوں، تطبیق و توفیق کی دنیا کا آدمی ہوں، لیکن پھر بھی اختلافی بحثیں ضرورت کے مطابق کرتا ہوں۔ چونکہ بخاری شریف اور طحاوی دونوں میرے پاس ہوتی ہیں، اس لیے جب سال کے شروع میں اسباق کا آغاز ہوتا ہے تو میں طلبہ سے ایک بات کہہ دیا کرتا ہوں کہ جھگڑے سارے طحاوی میں کریں گے اور تسلی سے کریں گے۔ بخاری میں میری جانب سے آپ کو صرف تین باتیں ملیں گی: نفس حدیث، ترجمۃ الباب سے تعلق اور آج کا کوئی مسئلہ اس سے متعلق ہے تو وہ۔ بس اس سے زیادہ آپ کو بخاری میں کچھ نہیں ملے گا۔ یہ بات میں پہلے دن سے ہی بتا دیتا ہوں کہ میری کوشش یہ ہوگی کہ آپ نفس حدیث سمجھ جائیں اور حالات حاضرہ پر اس کی تطبیق سمجھ لیں۔ 

وقت کی منصوبہ بندی

ہمارے ہاں ہوتا یہ ہے کہ ابتدا میں تو سارا وقت لگ جاتا ہے چند ابواب پر، پھر باقی کتاب سے ایسے گزرتے ہیں جیسے گزر ہی گئے ہیں۔ طلبہ کو اکثر ابواب کا نفس مضمون بھی سمجھ میں نہیں آتا اور اب اکثر جگہوں پر یہ عادت سی بن گئی ہے۔ ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ پہلی سہ ماہی تک استاد بھی سمجھتا ہے اور شاگرد بھی، دوسری سہ ماہی میں استاد سمجھتا ہے لیکن شاگرد نہیں سمجھتا، اور ششماہی کے بعد نہ استاد سمجھتا ہے اور نہ شاگرد۔ یعنی نہ استاد کو پتہ ہوتا کہ میں کیا پڑھا رہا ہوں اور نہ شاگرد کو پتہ ہوتا ہے کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں۔ والد صاحب اس پر ناراض ہوتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ غیر ضروری بحث میں نہ پڑیں، نصاب کی کتاب پوری پڑھائیں اور اچھے طریقے سے پڑھائیں۔ بحثیں دوسری کتابوں میں کر لیں، یہاں نفس حدیث پڑھا دیں اور اگر کوئی متعلقہ بات ہے تو وہ کر دیں۔ 

دین کا جامع تصور

ایک طالب علمانہ بات میں کہنا چاہوں گا کہ بخاری شریف کا جو مکمل نام ہے یعنی ’’الجامع الصحیح المسند المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و سننہ وایامہ‘‘ اس نام کے پہلے لفظ یعنی ’’الجامع‘‘ کا ترجمہ جو ہمارے متقدمین کرتے آئے ہیں، وہ درست ہے کہ یہ تمام علوم کی جامع کتاب ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہی لکھا ہے، لیکن ایک طالب علمانہ ترجمہ میں بھی کیا کرتا ہوں۔ الجامع کا ترجمہ آج کے حوالے سے یہ ہے کہ ہمارا دعویٰ ہے کہ اسلام جامع مذہب ہے، مکمل نظام حیات اور دستوری زندگی ہے، زندگی کے تمام انفرادی و اجتماعی شعبوں میں رہنمائی کرتا ہے۔ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ ان کو آنکھوں سے دیکھنا ہو تو بخاری شریف کی فہرست پڑھ لیں۔ ایک نظر ڈالنے سے اسلام کی جامعیت آپ کے سامنے آجائے گی۔ ایک دفعہ نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ زندگی کا کون سا مسئلہ ایسا ہے جسے ٹچ نہیں کیا گیا، جس کے بارے میں حدیث یا قرآنی آیت نہ دی ہو۔ معاشرے کی عملی زندگی سے تعلق رکھنے والا کون سا مسئلہ ہے جو اس میں نہیں ہے۔ میں اس ’’الجامع‘‘ کا یہ ترجمہ کیا کرتا ہوں کہ اسلام کی جامعیت کا اظہار بخاری شریف میں ہے۔ طلبہ کو بخاری اس انداز سے پڑھانی چاہیے کہ طلبہ کے سامنے کم از کم اسلام کے اجتماعی نظام کا ایک تصور اور خاکہ آجائے اور انہیں معلوم ہو جائے کہ اسلام میں کیا کچھ ہے۔ معاملات اور زندگی کے متعلقہ شعبوں کے ابواب تو ہمارے سامنے سے ایسے ہی گزر جاتے ہیں، حالانکہ میری طالب علمانہ رائے کے مطابق آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم قرآن کریم اور احادیث نبویہؐ کو آج کے عالمی تناظر اور عالمی ماحول میں ایک سسٹم اور نظام زندگی کے طور پر طلبہ کو پڑھائیں تا کہ آنے والا دور جو کہ فکری لحاظ سے پریشان کن ہے، اس دور میں ہمارے طلبہ اسلام کی صحیح نمائندگی کر سکیں۔ 

لوگوں کی ذہنی سطح کے مطابق گفتگو

ایک اور تجربہ آپ کے سامنے لانا چاہتا ہوں جس کے لیے ایک واقعہ عرض کروں گا جس میں سوچنے کا پہلو ہے۔ ہمارے زمانے میں تحریری امتحان نہیں ہوا کرتا تھا، زبانی امتحان ہوتا تھا۔ ۱۹۷۰ء میں ہمارا بخاری شریف کا امتحان ہو رہا تھا۔ ہمارے ایک بزرگ ہوتے تھے حضرت مولانا بشیر احمد پسروریؒ ، بڑے عالم دین تھے، وہ امتحان لینے آئے۔ چودہ طلبہ کی کلاس تھی۔ ان کی ایک بات بہت پسند آئی۔ ہمیں بٹھایا اور کہا کہ فلاں صفحہ کھولیں اور یہ عبارت پڑھیں۔ بلوچستان کے مولانا شمس الدین شہید آپ کے ذہن میں ہوں گے ، وہ میرے دورے کے ساتھی تھے۔ انہوں نے ایک حدیث کی عبارت پڑھی۔ پھر مولانا پسروریؒ نے مجھ سے کہا کہ میں تم سے اس کے مباحث نہیں پوچھوں گا کہ اس میں مسئلہ کیا بیان ہوا ہے اور یہ کہ شوافع و حنابلہ اس مسئلہ پر کیا رائے رکھتے ہیں، اس لیے کہ یہ سب تم نے رٹا ہوا ہے۔ میرا سوال تم سے یہ ہے کہ یہ حدیث آپ کو پنجاب کے دور دراز گاؤں میں اَن پڑھ لوگوں کے سامنے بیان کرنی ہے، کیسے کرو گے، ان کو یہ حدیث کیسے سمجھاؤ گے؟ طلبہ میں مجھ سے سینئر لوگ موجود تھے، لیکن وہاں میرا داؤ لگ گیا۔ میں نے کہا، حضرت میں یہ کروں گا۔ پھر میں نے ٹھیٹھ پنجابی میں اس حدیث پر سات منٹ تقریر کی اور اعلیٰ نمبروں کا مستحق ٹھہرا، حالانکہ کلاس میں مجھ سے زیادہ لائق حضرات موجود تھے۔ 
یعنی یہ بھی ضروریات میں سے ہے کہ دیہاتی اور اَن پڑھ لوگوں کے سامنے ان کے لہجے اور ضرورت کے مطابق قرآن و حدیث پہنچانے کا فن آتا ہو، کیونکہ درس گاہ میں کیے جانے والے مباحث میں اور عوام کے سامنے قرآن و حدیث پیش کرنے میں بہت فرق ہے۔ اس پر بھی مجھے ایک لطیفہ کی بات یاد آگئی۔ میرے بزرگ پھوپھی زاد بھائی تھے،فوت ہوگئے ہیں، اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے، آمین۔ میں چھوٹا طالب علم تھا، وہ ذرا سینئر تھے۔ وہ کہیں جمعہ پڑھایا کرتے تھے۔ ایک دن وہ مجھے ساتھ لے گئے اور جمعہ پڑھانے کے بعد مجھ سے کہتے ہیں کہ میں نے کیسی تقریر کی ہے؟ میں نے کہا، بیڑا غرق کر دیا ہے۔ کہتے ہیں میں ساری رات تقریر رٹتا رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا کہ آپ نے یہ کیا ہے کہ کل مولانا قاضی محمد اسلمؒ سے ملّا حسن کا جو سبق پڑھا تھا، وہ آج جمعہ کے خطبہ میں دہرا دیا ہے کہ یہ لا بشرط شئی ہے اور یہ بشرط شئی ہے، بشرط لا شئی ہے۔ یہ قضیہ شرطیہ ہے، اور یہ قضیہ سالبہ ہے۔ ان غریبوں کو کیا پتہ کہ قضیہ شرطیہ کیا ہوتا ہے اور بشرط شئی کیا ہوتا ہے؟ 
ہماری ذمہ داری ہے کہ طلبہ میں یہ ذوق پیدا کریں کہ وہ عام لوگوں سے بھی بات کر سکیں۔ اس کو فریکوینسی سیٹ کرنا کہتے ہیں۔ ہماری آپس کی فریکوینسی تو سیٹ ہوتی ہے، لیکن پبلک کے ساتھ ہماری فریکونسی سیٹ نہیں ہوتی۔ میں اپنا چالیس پینتالیس سال کا تجربہ آپ سے ذکر کرتا ہوں کہ ہم عام لوگوں کے ذہن کے مطابق بات نہیں کرتے جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی نمازیوں کے ساتھ، متعلقین کے ساتھ جو مسائل پیدا ہوتے ہیں، ان میں سے پچانوے فیصد ایسے ہیں جو فریکوینسی سیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ہم کسی اور لہجے میں بات کر رہے ہوتے ہیں اور وہ کسی اور لہجے میں کر رہا ہوتا ہے، جبکہ بات دونوں ٹھیک کر رہے ہوتے ہیں، لیکن ہم باہمی اتفاق نہیں کر پاتے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ یہ بھی استاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شاگردوں اور تلامذہ میں اس بات کا ذوق پیدا کریں کہ وہ عام آدمی سے ان کے لہجے میں بات کر سکیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے الفوز الکبیر میں یہ بحث کی ہے کہ عام انسان سے بات کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے عام انداز استعمال کیا ہے اور عام آدمی کی نفسیات کے مطابق بات کی ہے۔ مکھیوں، مچھروں اور مکڑی کی مثالوں سے بات کی ہے، یعنی عام آدمی کی ذہنی سطح کا لحاظ کر کے بات کی ہے۔ ہمیں بھی عام آدمی کے لیول پر آنا سیکھنا چاہیے اور اپنے شاگردوں کو سکھانا چاہیے۔ آج کے حالات میں یہ بہت زیادہ ضروری ہے، آج کی صورتحال کیا ہے، میں بطور ایک امام اور مدرس کے بات کر رہا ہوں کہ اس بات کی تبدیلی ہمیں محسوس کرنی چاہیے جو ہم نہیں کر رہے۔ 

حالات زمانہ سے آگاہی

آج سے پچاس سال پہلے لوگوں کے لیے دین کی معلومات کا ذریعہ صرف ہم ہوتے تھے۔ جو معلومات ہم نے دے دیں اور جو فیصلہ ہم نے کر دیا، وہی اس فرد کی معلومات اور فیصلہ ہے۔ اب عام آدمی کے پاس ہمارے علاوہ بھی معلومات حاصل کرنے کے ذرائع موجود ہیں۔ غلط ہیں یا صحیح، میں اس بحث میں نہیں پڑتا۔ جو نوجوان رات کو انٹرنیٹ پر بیٹھتا ہے، وہ صرف ہم پر انحصار نہیں کرتا کہ مولوی صاحب نے کیا بتایا ہے، بلکہ وہ تلاش کرتا ہے کہ متعلقہ آیتیں اور حدیثیں کون کون سی ہیں۔ آج اور آج سے چالیس پچاس سال پہلے کے عام آدمی میں جو فرق ہے، اسے نظر انداز نہ کیجیے۔ پہلے عام آدمی کے پاس دین کی معلومات کے لیے واحد ذریعہ ہم تھے، اب صورت حال یہ ہے کہ اس کے پاس ہمارے علاوہ بھی معلومات حاصل کرنے کے ذرائع موجود ہیں، اخبارات ہیں، میگزین ہیں، ٹی وی چینل ہیں، انٹرنیٹ ہے۔ تو جب وہ ہم سے بات کرتا ہے تو وہ صرف ہماری معلومات پر بنیاد رکھ کر بات نہیں کرتا بلکہ وسیع معلومات کی بنیاد پر سوال کرتا ہے، اس لیے جب ہم اسے محدود دائرے میں رہ کر جواب دیتے ہیں تو اسے وہ جواب مطمئن نہیں کر پاتا۔ 
یہ تبدیلی ہمیں محسوس کرنی چاہیے۔ رات کو اس نے چینل دیکھا، پروگرام میں کسی دانش ور نے کوئی بات کر دی تو اس نے آکر مجھ سے پوچھنا ہے کہ مولوی صاحب، فلاں نے یہ بات کہی تھی۔ اس پر میرا رویہ یہ ہوتا ہے کہ یا تو میں ڈانٹ دیتا ہوں کہ فضول پروگرام مت دیکھا کرو۔ اب وہ میرے کہنے سے تو باز نہیں آئے گا، دوسری رات وہ دو پروگرام مزید دیکھے گا اور پھر مجھ سے کوئی مسئلہ پوچھنے آجائے گا۔ اب جبکہ میرے پاس اس حوالے سے معلومات مکمل نہیں تو میں یہ کہنا توہین سمجھتا ہوں کہ بیٹا، کل میں تیاری کر کے بتاؤں گا۔ میں اسے ادھورا سا جواب دوں گا اور ساتھ ڈانٹ دوں گا، بہر صورت وہ کنفیوژ ہوگا۔ اس کا نتیجہ جو نکلے گا، وہ میرے نزدیک آج کے دور کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ مولوی کا علمی مقام اور اس کی دینی ثقاہت سوسائٹی میں مجروح ہوگی اور ہو رہی ہے ۔ لوگ یہ کہتے ہیں کہ مولوی صاحب کو تو دین کا کچھ پتہ نہیں ہے اور یہی حال عام معلومات کا ہے۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بطور خطیب یا مدرس ہمیں اپنا جنرل نالج اور عمومی مطالعہ اس قدر بڑھانا ہوگا کہ ہم تمام متعلقہ معلومات کا احاطہ کر کے بات کو صحیح تناظر میں پہچان سکیں۔ ہمیں اس قابل ہونا چاہیے کہ کلاس میں طلبہ کو بتا سکیں کہ یہ صورت حال آج یوں ہے، کل یوں تھی، حالات میں یا مسئلہ میں یہ تبدیلی واقع ہوئی ہے تاکہ انہیں یہ معلوم کرنے کے لیے کسی اور کے پاس نہ جانا پڑے۔ طالب علم کو وہ بتائیں جو اس کی ضرورت ہے، لیکن خود اپنے مطالعے میں وسعت اور تنوع پیدا کرنا ہماری ذمہ داری ہے، ورنہ ہم نہ طالب علم کو مطمئن کر پائیں گے اور نہ بطور خطیب اپنے سننے والے کو۔ اور اگر ہم مطمئن نہ کر پائے تو ہماری ثقاہت مجروح ہوگی اور اگر یہ مجروح ہوگی تو دین کو نقصان ہوگا۔ 

نئی نسل کی تیاری

اور آخر میں ایک بات کہہ کر اپنی بات ختم کروں گا۔ میں جب اپنی برادری (اساتذہ) سے بات کرتا ہوں تو دیوان حماسہ کا ایک شعر ضرور سنایا کرتا ہوں۔ دیوان حماسہ میں ایک شاعر کا ذکر ہے کہ وہ جوان ہوا، قبیلے والوں نے کھلایا پلایا، لیکن لڑنا نہیں سکھایا۔ دشمن داری تھی، لڑائی ہوئی تو مار کھائی ۔ اس پر اب وہ قبیلے والوں کو کوس رہا ہے۔ کہتا ہے ؂
فھلا أعدونی لمثلی تفاقدوا
إذ الخصم أبزی مائل الرأس أنکب
وھلا أعدونی لمثلی تفاقدوا
وفی الأرض مبثوث شجاع وعقرب
اپنے قبیلے کو کوس رہا ہے کہ جب ان کو پتہ تھا کہ میری دشمن داری بڑے متکبر آدمی سے ہے تو انہوں نے مجھے تربیت کیوں نہیں دی؟ جب انہیں پتہ تھا کہ زمین پر بچھو اور سانپ بکھرے پڑے ہیں تو مجھے بتایا کیوں نہیں، ان سے بچنے کا طریقہ کیوں نہیں سکھایا؟ اس میں اساتذہ کے لیے پیغام ہے کہ آج دنیا میں نظریاتی، ثقافتی، علمی اور فکری لحاظ سے شکوک و شبہات کا جو جنگل آباد ہے اور فکری انتشار، تہذیبی خلفشار اور ثقافتی یلغار کا جو دائرہ پھیل رہا ہے، اس سے اپنے طالب علم کو آگاہ کرنا، اس کو مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر میں بحیثیت استاد آج کے علمی ماحول اور اس کے خطرات کو محسوس نہیں کروں گا اور اپنے طلبہ کو مدرسہ سے باہر جانے کے بعد جو صورت حال پیش آئے گی، اس سے آگاہ نہیں کروں گا تو وہ پھر میرے بارے میں یہی شعر دہرائے گا اور اسی لہجے میں مجھے کوسے گا۔ 
بس یہی میرا پیغام ہے اپنے لیے بھی، آپ کے لیے بھی۔ دنیا کے حالات کو محسوس کریں، علمی، فکری، ایمانی اور تہذیبی دنیا میں مستقبل کے خطرات کو محسوس کریں اور اپنے طلبہ کو اپنے نصاب کے دائرے میں ان سے آگاہ کریں۔ استاد سب کچھ کر لیتا ہے، استاد کے لیے کتاب نہیں بلکہ اس کا ذوق اہم ہے۔ کوئی بھی کتاب ہو، استاد کا فہم اصل اہمیت رکھتا ہے۔ اس بات کو سامنے رکھیں کہ آج ہماری ذمہ داری کیا ہے اور ہمارے زیر تعلیم جو پود ہے، اس کو مستقبل میں کیا صورت حال پیش آنے والی ہے، اس کے لیے میں نے انہیں کیسے تیار کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

ملالہ یوسف زئی پر حملہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ کی مذمت اور اس کے لیے دعائے صحت کی اپیل میں پوری قوم کے ساتھ میں بھی شریک ہوں۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں نماز جمعہ کے اجتماع کے موقع پر ہم نے اس وحشیانہ حملہ کی مذمت کی اور ملالہ کے لیے اجتماعی طور پر دعائے صحت بھی کی، البتہ ذرائع ابلاغ میں اس واقعے پر اس قدر اچانک اور شدت کے ساتھ دھول اڑا دی گئی کہ کسی کو وقتی طور پر کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہوا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے۔ اس دوران بعض دوستوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے یہی عرض کیا کہ کچھ غبار بیٹھ جانے دو، پھر اندازہ ہو جائے گا کہ اس المناک واقعہ کا پس منظر، تہہ منظر اور پیش منظر کیا ہے۔ 
فسوف تری اذا انکشف الغبار
أفرس تحت رجلک أم حمار
ترجمہ: عنقریب جب غبار چھٹ جائے گا تو تم خود دیکھ لو گے کہ جس جانور پر تم سوار ہو وہ گھوڑا ہے یا گدھا ہے۔ 
ہمارا ماتھا اسی وقت ٹھنک گیا تھا جب ہم نے دیکھا کہ ملالہ جس حملے میں زخمی ہوئی ہیں، اسی حملے میں ان کے ساتھ اسی سکول کی دو اور طالبات شازیہ اور کائنات بھی زخمی ہوئی ہیں، لیکن کوریج اور پروٹوکول دونوں حوالوں سے شازیہ اور کائنات اس سلوک کی مستحق قرار نہیں پائیں جو ان کی ایک زخمی ساتھی کو ملا۔ حالانکہ وہ دونوں بھی سوات کی رہنے والی تھیں، اسی سکول کی طالبات تھیں، قوم کی بچیاں تھیں، ایک ہی حملہ میں ملالہ کے ساتھ زخمی ہوئی تھیں اور ان کے جسم سے خارج ہونے والا خون بھی سرخ رنگ کا ہی تھا۔ ڈرون حملوں میں شہید اور زخمی ہونے والے معصوم پاکستانیوں کو ایک طرف رہنے دیں تو بھی یہ بات سمجھ میں آنے والی نہیں ہے کہ ملالہ، کائنات اور شازیہ میں آخر کیا فرق ہے جس نے ان کے درمیان زمین و آسمان جیسا بعد پیدا کر دیا ہے۔ 
میں اس بات سے پوری طرح متفق ہوں کہ ملالہ کے طرز عمل سے اختلاف رکھنے والوں کو خواہ وہ کوئی بھی ہوں، اس کی جان لینے کا حق نہیں ہے اور نہ ہی وہ اپنے اختلافات یا نفرت کے اظہار کے لیے قانون کو ہاتھ میں لینے کا کوئی جواز رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کی یہ حرکت انتہائی قابل مذمت ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ شازیہ اور کائنات کے ساتھ تو انہیں بظاہر کوئی اختلاف بھی نہیں تھا اور نہ ہی ان کی کوئی ایسی سرگرمیاں نظر آرہی تھیں جو حملہ آوروں کے لیے اس درجہ قابل اعتراض ہوں، وہ ان کی جان کے کیوں درپے ہوگئے؟ اس لیے میرے نزدیک ملالہ پر قاتلانہ حملہ شدید جرم ہے، لیکن شازیہ اور کائنات کی جان لینے کی کوشش اس سے بھی کہیں زیادہ سنگین جرم بنتی ہے اور بین الاقوامی لابیوں، میڈیا اور حکمران حلقوں کی طرف سے ان دو مظلوم بچیوں کو نظر انداز کر دینا اور کئی روز تک مسلسل نظر انداز کیے رکھنا جن شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے، وہ غبار چھٹنے اور دھول بیٹھ جانے کے ساتھ اب ایک ایک کر کے سامنے آرہے ہیں اور مزید کچھ دنوں تک مطلع مزید صاف ہو جائے گا۔ 
آج علماء کرام سے تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کی صرف مذمت نہ کریں بلکہ عملی طور پر آگے بڑھ کر انہیں اس قسم کی کارروائیوں سے روکنے کا کردار ادا کریں، میں بھی اسی لہجے میں کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے حکمران ڈرون حملوں کی صرف مذمت نہ کریں بلکہ انہیں روکنے اور اپنے شہریوں کی جان بچانے کے لیے عملی اقدام کریں، لیکن اس مرحلہ میں ایک اور بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی رولنگ کلاس اگر اس بات کی یقین دہانی کرا دے کہ وہ نفاذ اسلام کے لیے پارلیمنٹ کی طرف سے کیے گئے جمہوری فیصلوں پر عمل در آمد میں رکاوٹ نہیں بنیں گے اور اس سلسلے میں اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کریں گے تو پاکستانی طالبان کو راہ راست پر لانے کے لیے تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کو ایک فورم پر جمع کرنے کی ذمہ داری میں قبول کرتا ہوں، اس لیے کہ تالی ہمیشہ دو ہاتھوں سے بجتی ہے اور ایک ہاتھ سے بجنے والا صرف تھپڑ ہی کہلاتا ہے۔

اے عاشقانِ رسول، تم پر سلام !

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

لیکن یہ عشق اپنے خاص آداب رکھتا ہے ؂
عشق ہے پیارے کھیل نہیں ہے
عشق ہے کارِ شیشہ وآہن
مؤمن آزاد نہیں ،کہ جو جی میں سمائے اس پر عمل پیرا ہو جائے۔ اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر معاملہ میں اُسوۂ و طرزِ عمل چھوڑا ہے۔ اہانت کے معاملے بھی پے بہ پے آپ کی زندگی آئے۔ مکی زندگی ہی میں نہیں ،مدنی زندگی میں بھی، اور آپ ؐکے اور آپ کے اصحابؓ کے لیے بنیادی طور پر یہ ہدایتِ ربانی رہنما رہی:
’’تم بالضرور آزمائے جاؤگے اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں، اور کتنی ہی دل آزار باتیں بھی تمہیں سننی پڑیں گی اہلِ کتاب اور مشرکین سے ، اور اس کے مقابلہ میں اگر تم نے صبر اور تقوے کی روش سے کام لیا تو یہ یقیناًعزم و ہمت کی بات ہے۔‘‘ (سورہ اٰلِ عمران ۳؍۱۸۶) 
امکان ہو تو بدلہ لینے اور سزا دینے کا جواز اس آیت سے بھی نکل رہا ہے۔ لیکن ترجیح اسی کو مل رہی ہے کہ نظر اندازکیا جائے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوۂ مبارکہ اسی کے مطابق رہا۔ اور یہ اس لیے کہ آپ کے لائے ہوئے دین کی مصلحت وہاںیہی تھی۔اوراس مصلحت سے بڑھ کر کو کوئی چیز ظاہر ہے کہ آپ کو عزیز نہیں ہو سکتی تھی۔اس معاملہ میں مصلحت بینی کی حد یہ ہے کہ سردارِ منافقین عبداللہ بن اُبیّ جس کی شرارتوں اور سازشوں سے آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو شاید ہی مدنی زندگی کے کسی دن میں چین رہا ہو ،مگر اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت آپ اس کے ساتھ حسنِ سلوک میں دیکھتے تھے تو اپنی ذاتِ پاک کے احساس سے بلند و بالاتر ہونے کا حال یہ رہا کہ اس کی موت پر آپ نے قمیصِ مبارک اس کے کفن کے لیے دی، اس کے منہ میں اپنا لعابِ دہن برائے برکت ٹپکایا اور نمازِ جنازہ ،جو دعائے مغفرت کے ہم معنیٰ ہے ، اس کے باوجود پڑھائی کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا ارشاد نازل ہو چکا تھا کہ ’’ ان منافقین کے لیے تم اے نبی مغفرت مانگو یا نہ مانگو، اگر تم ستر(۷۰)بار بھی ان کے لیے مغفرت مانگو بھی تب اللہ انھیں ہرگز نہ بخشے گا ۔‘‘(التّوبہ ۹؍۸۰) حضرت عمرؓ نے، جو شدت کے مزاج میں معروف تھے، قرآن کی آیت آپؐ کو یاد بھی دلائی، تو فرمادیا کہ مجھے اللہ نے منع نہیں کیا ہے مجھ پر چھوڑ دیا ہے کہ کروں یا نہ کروں۔ اوراگر مجھے یقین ہوتا کہ ستر دفعہ سے زیادہ میں مغفرت ہو جائے گی تب میں زیادہ بھی کرتا۔ (گویا جانتے تھے کہ مغفرت نہیں ہونی )یہ ہے اس ذاتِ گرامی کا اسوۂ مبارکہ جس کے عشق کی بات یہاں گفتگو میں ہے۔اس شخص نے کئی بار واجب القتل ہونے کے کام کیے، بعض مرتبہ تو لوگوں کو یقین ہوگیا کہ قتل کا حکم صادر ہوگا۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام اور امتِ مسلمہ کی مصلحت اسی میں دیکھی کہ درگذر سے کام لیا جائے۔کیا شان اس پیغمبرِ اعظم کی رفعت و عظمت کی ہے۔ اللّٰھُم صلِّ و سلِّمْ علیٰ عبدکِ و نبِیِّکَ صلوٰۃً وّسلامًا دائمینِ متلازمَینِ الیٰ یومِ الدین۔
پس جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوۂ حسنہ ہمارے سامنے ہے تو دشمنانِ انسانیت کی طرف سے جب بھی آپ کی اہانت کی کوئی صورت رونما ہو، جیسا کہ ادھر چند سال سے فرزندانِ مغرب نے اس ملعون عمل کا بیڑا اُٹھا رکھا ہے، تو ہمارا غم و غصہ تو ایمان کی علامت ہے ۔لیکن ردِ عمل میں ہمیں اسلام اور ملتِ اسلام کی مصلحت دیکھنی ہے اگر ہم مؤمن اور واقعی ’’عاشقِ رسول‘‘ ہیں۔نہیں تو ہم صرف اپنے نفس کو تسکین دینے والے ہوں گے، اورنامِ عشق کو رسوا کرنے والے۔ 
ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ایک نوجوان نے ڈنمارک میں حبِّ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے اپنی جان کو کھلے خطرہ میں ڈال کر وہاں کے ایک ملعون فلم ڈائریکٹر ؐکا کام تمام کردیا۔ لیکن اس کا بھی کوئی اثر شیطان کے لشکر پر نہیں ہوا ہے، چہ جائیکہ ہمارے محض مظاہرے اور نعرے۔ آئے دن کسی مغربی ملک میں ایک ملعون اُٹھ رہا ہے اور اپنے سے پہلے والے سے بڑھ کر خباثت کی داد اپنے ہم وطنوں سے چاہ رہا ہے۔تو کیا اپنے ردِ عمل کی یہ بے اثری دیکھتے ہوئے بھی یہ بجا ہوگا کہ اپنے غم و غصہ کے اظہار کے لیے یہ بے اثر طریقے مسلسل آزما تے رہنے کو ہم تقاضائے عشقِ رسول سمجھتے رہیں؟یہ تو ملتِ اسلام کی بے بسی کا اظہار اور شیاطین کی ہمت افزائی ہے کہ وہ کچھ بھی کریں یہ چاردانگِ عالم میں پھیلی ہوئی امت اپنا سینہ پیٹ کر رہ جانے سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتی۔
آخر ہمیں کیوں کر اپنی اس شرمناک کمزوری کا رہ رہ کر اظہار کرناپسند ہے؟ کہیں ہم اپنے اس احتجاجی عمل کو اس کے مؤثر ہونے نہ ہونے سے قطعِ نظر بجائے خود ایک کارِثواب تو نہیں سمجھ رہے ہیں ؟ خدا نخواستہ اگرایسا ہے، تو پھرہم نے نہ حضور سید الرُسل کے مرتبہ و منزلت کو سمجھا اور نہ آپ کی غلامی میں پوشیدہ عزت کو جانا۔ ہم آپ کے نام پربے بسی کا اظہار کرتے مظاہروں اور جلوسوں کو کارِ ثواب سمجھ رہے ہیں! تفو برتو اے چرخِ گرداں تفو! 
تو پھر ہم کیا کریں؟ یہ ایک مشکل سوال ہے،راقم اپنی سمجھ کے مطابق جواب عرض کرتا ہے جو ایک تجربہ کا نتیجہ ہے ،دوسرے حضرات بھی غور کریں۔ بر طانیہ میں کم لوگ ہوں گے جنھیں رشدی کی کتاب کے خلاف ’’اسلامک ڈیفنس کونسل‘‘ کی سرگرم جد و جہد یاد نہ ہو ۔ راقم نے بھی اس کونسل کے کنوینر کی حیثیت سے اس سلسلہ میں اپنی پوری استطاعت بھر حصہ لینے کو عزت و سعادت سمجھا۔ کونسل نے اپنی جدو جہد کے سلسہ میں کتاب کے پبلیشر پینگوئن کے آفس کو نشانہ بنا کر ایک عوامی مارچ بھی طے کیا تھا ۔۲۸؍جنوری ۱۹۸۹ءء کایہ مارچ، جس میں پورے ملک سے ۲۰۔۲۵ہزار فرزندانِ اسلام نے آپ سے آپ شرکت کی، اس کی شکل اپنے روایتی احتجاج کی بے ثمری کو یاد کرتے ہوئے نیز مغرب کی ایک نئی دنیا کاخیال کرکے اپنے برّصغیر کے روایتی مظاہروں سے بالکل مختلف تجویز کی گئی تھی ۔ اس میں نعرہ زنی اور اظہارِ غیظ و غضب کے بجائے پلے کارڈز کے ذریعہ اپنی جذباتی تکلیف کا اظہار کر کے گویا برطانوی پبلک سے ہمنوائی کی اخلاقی اپیل تھی۔خیال تھا کہ شاید کچھ شریف روحیں ہماری ہم نوائی کو سامنے آئیں اور کتاب کے ناشر اور حکومت پر کچھ دباؤ پڑ سکے۔
ہمارے اس طرزِ احتجاج کی تحسین تو بیشک ہوئی ،(خاص کر اس لیے کہ دوہفتے پہلے انگلینڈ کے ایک شہر میں اس کے بالکل برعکس کتاب سوزی کی صورت میں احتجاج کا آتشیں واقعہ ہو چکا تھا) لیکن جو مقصود تھا وہ حاصل نہیں ہوا۔ بات وہیں کی وہیں رہی۔اور پھر دوہفتہ بعد آیت اللہ خمینی صاحب نے جو مصنف اور ناشرین کے قتل کا فتویٰ صادر کیا تو وہی حکومت جو انسانیت اور تہذیب و اخلاق کے ناتے ہماری اخلاقی اپیل سے کوئی اثر لینے کو تیار نہ ہوئی وہ رشدی کے تحفظ میں ایسی سرگرم ہوئی جیسے اس ملعون تصنیف میں وہ اس کا ایجنٹ ہو۔ا س تجربہ کے بعد سے ذہن بن گیا کہ یہ مغربی دنیا بالکل الگ ذہن و مزاج کی حامل ہے۔ اسے تو ہم بس کبھی طاقت نصیب ہو تب ہی اپنے احساسات کا احساس کراسکتے ہیں۔چنانچہ اس ایک واقعہ کے بعد اب امریکہ ،اسامہ اور طالبان کے قضئے سے تواس شرارت کی لائن ہی لگ گئی ہے۔ اور ہر شرارت پہلی والی کو پیچھے چھوڑ ے جارہی ہے۔ چنانچہ یہ تازہ فلم والی خباثت ،جیسا کہ لوگ بتاتے ہیں ،خباثت کی ساری ہی حدوں کو پار کرگئی ہے۔اور کہیں کی بھی حکومت ہماری شکایت اور آہ و فغاں پر نوٹس لینے کو تیار نہیں ہے ۔مسلم حکومتوں کے اتحاد(او۔آئی۔سی) کی جانب سے۱۹۹۹ء سے اقوامِ متحدہ میں کوشش ہورہی ہے کہ ’’آزادئ اظہار‘‘ کے اس ننگِ انسانیت مغربی کلچر کو کچھ حدود و قیود کا پابند کیا جائے۔لیکن مغربی حکومتیں کسی طرح اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے رہیں(اس المیہ کا بڑا تفصیلی بیان ۲۵؍ ستمبر کے ’’دی نیوز‘‘ میں سابق پاکستانی سفیر محترمہ ملیحہ لودھی کے قلم سے نکلا ہوا موجود ہے)۔
یہ بالکل ایک صاف پاگل پن کیا مغرب میں حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لائے ہوئے دین سے نفرت پیدا کرنے کے لائحۂ عمل کے طور پر اختیار کیاگیاہے؟ جی نہیں۔ اس کام کے لیے پاگل پن کی ضرورت نہیں تھی نہ وہ مفیدہے۔ یہ ’’پاگل پن‘‘ اگر کوئی مقصد رکھتا ہے ۔اور یقینًا رکھتا ہے۔تو وہ عالمِ اسلام میں نشأۃِ ثانیہ کے اٹھتے ہوئے آثار سے خوف زدہ ہوکر اس کا راستہ روکنا ہے۔اس کا آغاز امریکہ نے 9/11 کے حوالہ سے ’’دہشت پسندی کے خلاف جنگ‘‘ (War on Terrerism) کا نام دے کر کیا ، جسے بارہواں سال چل رہا ہے،اور جس کے ذریعہ وہ تمام قوتیں جنگی اسلحہ سے تباہ کردینے کی مہم جاری ہے جنھیں امریکہ اس نشأتی لہر کا بازوئے شمشیر زن سمجھ رہاہے۔پھر اس آغاز کے چند سال بعد یہ اشتعال انگیز فلموں اور کارٹونوں کا سلسلہ اسی مہم کا دوسرا پارٹ ہے جس نے مسلم دنیا میں اشتعال انگیزی کا ایک مستقل سلسلہ قائم کردیا ہے ۔ ایک حرکت پر بات ٹھنڈی پڑتی ہے تو دووسری برآمد ۔ جس کے نتیجہ میں ہمارے یہاں وہ تک ہو رہا ہے جو جمعۃ المبارک ۲۰ ؍ستمبر کو پاکستان کے شہروں میں بصد رنج و قلق دیکھا گیا۔یعنی ایک طرف اپنے ہاتھوں سے ملک کو ملینوں بلینوں کا نقصان ، دوسری طرف اپنی پولیس کے ہاتھوں اپنی ہی بیسیوں لاشیں گرنا۔اورپھر حکومت اور عوام کے درمیان جو دوری و بے اعتمادی ہمارے یہاں یونہی عام ہے، اس میں مزید تناؤ کا اضافہ ۔ ایسے حالات میں نشأۃِ ثانیہ کا کہاں گذر؟ مزید ایک نتیجہ اس اشتعال انگیزی کا یہ ہے کہ نوجوانوں میں مغرب ،بالخصوص امریکہ ،کے خلاف جو کچھ بھی ممکن ہو کر گزرنے کا جذبہ بالکل قدرتی طور سے پیدا ہو تا ہے۔ اور امریکہ کی نظر میں گویا نئے ’’دہشت گرد‘‘ پیدا ہوتے ہیں جن کا تعاقب اس کی ذمہ داری۔
کیا اس صورتِ حال کا تقاضہ یہ نہیں کہ ہم شدید جذباتی اذیّت کے باوجود مغرب کی ان اشتعال انگیزیوں کانوٹس لینا اسی طرح بند کردیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمومی اُسوۂ مبارکہ میں ہم دیکھتے ہیں؟جب ہم ان شیاطین کا کچھ کر نہ سکیں توکیا اسلام اور ملت کے نقطۂ نظر سے یہ بات زیادہ آبرومندانہ نہیں ہے کہ سورۂ اٰلِ عمران کی اوپر گزری آیت( ’’اور بالضرور تمہاری آزمائش اپنے مالوں اور جانوں میں ہونی ہے اور ضرور ایسا ہو گا کہ تم کو اہلِ کتاب اور مشرکین سے بڑی اذیَّتیں پہنچیں۔اور اس کا مقابلہ تم نے ا گر صبر اور تقوے کی روش سے کیا تو یقیناًیہ عزم و ہمت کی بات ہوگی۔‘‘ ) پر عمل کیا جائے؟ اورغور کیجیے تویہ قرآنی ہدایت دراصل ایسے ہی حالات کے لیے ہے جن سے ہم گزر رہے ہیں۔ یہی واحد صور ت ان حالات میں ہے کہ اس شیطانی سلسلہ کا تار ٹوٹے۔مغربی حکومتوں سے اس با ت کی توقع کہ وہ آپ کے درد کو سمجھیں، بدقماشوں کو لگام دینے کے لیے کسی عالمی قانون کی منظوری پر راضی ہوں، جس کے لیے او۔آئی ۔سی کی طرف سے کوششیں ہیں،اس توقع کی کیا گنجائش اس صورتِ حال میں ہے کہ یہ حکومتیں تو پاکستان کے قانونِ تحفظِ حرمتِ رسولؐ کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں۔ جو لوگ آپ کے اپنے ملکوں میں بھی آپ کے حُرُمات و مقدّسات کی بے حرمتی کی آزادی کے لیے بضد ہیں، کیا ان سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ اپنے یہاں تحفظ نافذکریں گے؟
اس دن کے لیے انتظار اس دن کا کیجیے جب ہم آپ اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسولِ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضیات پر ڈھال کر اسلام کا گزراہوا دور واپس دیکھنے کے لائق ہو جائیں ۔اور وہ دور عشقِ رسول کے جھنڈے اُٹھانے اور حتجاج کرنے سے نہیں ،اللہ و رسول ؐ کی مرضیات کے آگے بصد شوق سر جھکانے سے آئے گا۔ جو بلاشبہ اس وقت ہمارا حال نہیں ہے۔اِلّا یہ کہ ہم جانتے نہ ہوں یا اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہوں۔۔۔اور اگر اس بات کی شرح درکار ہو توایک پیرِ دانا کی حکایت سن لیجیے:
گذشتہ صدی کے ہمارے نا مور علماء میں سے مولانا سید مناظر احسن گیلانی (م۔۱۹۷۵ء) جن کو علم کے ساتھ اللہ نے عشقِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم کی دولت سے بھی خوب خوب نوازا تھا، دارالعلوم دیوبند میں اپنی طالبعلمی کے احوال لکھتے ہوئے اپنے استاذ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ (م ۱۹۲۰ء) کے درس کا ایک واقعہ سناتے ہیں:
’’بخار ی شر یف کا سبق ہو رہا تھا۔ مشہور حدیث گذری کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک اس کے مال، بال بچے اور سارے انسانوں سے زیادہ میں اس کے لیے محبوب نہ ہو جاؤں۔ فقیر نے عرض کیا کہ’’ بحمد اللہ عام مسلمان بھی سرکارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق محبت کی اس دولت سے سرفراز ہیں، جس کی دلیل یہ ہے کہ ماں باپ کی توہین کوتو ایک حد تک مسلمان برداشت کر لیتا ہے۔۔۔۔۔لیکن رسالتمأب صلی اللہ علیہ وسلم کی ہلکی سی سبکی بھی مسلمانوں کو اس حد تک مشتعل کردیتی ہے کہ ہوش حواس کھو بیٹھتے ہیں آئے دن کا مشاہدہ ہے کہ جان پر لوگ کھیل گئے ہیں۔‘‘ یہ سن کر حضرت نے فرمایا:ہوتا بے شک یہی ہے جو تم نے کہا۔ لیکن کیوں ہوتا ہے؟ تہ تک تمھاری نظر نہیں پہونچی، محبت کا اقتضا ء یہ ہے کہ محبوب کی مرضی کے آگے ہر چیز قربان کی جائے ،لیکن عام مسلمانوں کا جو برتاؤ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضئ مبارک کے ساتھ ہے وہ بھی ہمارے تمھارے سامنے ہے۔پیغمبرؐ نے ہم سے کیا چاہا تھا اور ہم کیا کر رہے ہیں، اس سے کون ناواقف ہے،پھر سبکی آپ کی جو مسلمانوں کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے اس کی وجہ محبت تو نہیں ہو سکتی۔ ‘‘ 
خاکسار نے عرض کیا کہ تو آپ ہی فرمائیں، اس کی صحیح وجہ کیا ہے؟نفسیاتِ انسانی کے اس مبصرِ حاذق نے فرمایاکہ’’ سوچوگے تو درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سبکی میں اپنی سبکی کا غیر شعوری احساس پوشیدہ ہو تا ہے۔ مسلمانوں کی خودی اور انا مجروح ہوتی ہے۔ہم جسے اپنا پیغمبر اور رسول مانتے ہیں تم اس کی اہانت نہیں کر سکتے۔چوٹ درحقیقت اپنی اسی ’’انانیت‘‘ پر پڑتی ہے لیکن مغالطہ ہو تا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے ان کو انتقام پر آمادہ کیا ہے۔ نفس کا یہ دھوکہ ہے۔۔۔۔۔۔محبوب کی مرضی کی جسے پرواہ نہ ہو،اذان ہورہی ہے اور لایعنی اور لاحاصل گپوں سے بھی جو اپنے آپ کو جدا کرکے مؤذن کی پکار پر نہیں دوڑتا،اسے انصاف سے کام لینا چاہئے کہ محبت کا دعویٰ اس کے منہ پہ کس حد تک پھبتا ہے۔ ‘‘ (احاطۂ دارالعلوم میں بیتے ہوئے دن ، صفحہ۱۵۳۔۱۵۴)
اللٰھُمّ اِھْدِنَا الصِّراطَ المستقیم صراطَ الَّذینَ اَنْعَمتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضّالین۔ اٰمین۔

احترام انسانیت اور امت مسلمہ کے لیے راہ عمل

غلام حیدر

اس کرہ ارض پر بسنے والے سات ارب سے زائد انسانوں(۱)میں مسلمانوں کی تعداد دو ارب سے متجاوز ہے۔ (۲) اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود مسلمان معتوب ہیں۔ اور دنیا کی امامت و قیادت سے بیدخل کردئیے گئے ہیں۔ اس کی وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو اللہ رب العزت نے یہ منصب عطا کیا ہے کہ وہ پوری انسانیت کی رہنمائی کریں اور لوگوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر روشنی دکھائیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 
کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ (۳)
"تم ایک بہترین امت ہو تمہیں لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو"
آج صورتحال یہ ہے کہ مسلمان خود جہالت کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اور روشنی ہے کہ دور دور تک نظر نہیں آرہی ۔ 
سب سے پہلے اسلام کی اصل تعلیمات کو سمجھ کر ان پر عمل کرنا ہوگا اور پھر انسانیت کو ان تعلیمات کی برکات سے آگاہ کرنا ہوگا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
"انما مثلي و مثل امتي کمثل رجل استو قد نارا فجعلت الدواب والفراش یقعن فیھا وانا آخذ بحجزکم وانتم تقحمون فیھا" (۴)
’’میری اور میری امت کی حالت اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی ہو اور مختلف جانور اور پروانے اس میں گرنے کے لیے دوڑتے چلے آرہے ہوں۔ میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ رہا ہوں اور تم اس میں گرنے پر اصرار کررہے ہو۔‘‘
جو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی اس تمثیل کو ذہن میں رکھتے ہوں اور یہ جانتے ہوں کہ وہ آگ بھڑک رہی ہے جس میں دنیا کی قومیں سر کے بل گر رہی ہیں کہ جن کو کمر سے پکڑ پکڑ کر بچانا ہماری ذمہ داری ہے، وہ آخر اس جذبے سے کیسے خالی ہو سکتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو ہمیں لوگوں کو اس آگ میں گرنے سے بچانا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اخرجت للناس کہا ہے یعنی اسے لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے۔ 
آج کی دنیا اسلام اور مسلمانو ں کے بارے میں غلط فہمیوں اور شکوک و شبھات کا شکار ہے۔ یہ غلط فہمیاں اور شکوک و شبہات ختم کرنے یا کم کرنے میں مسلمان ناکام ہو ئے ہیں جس کی وجہ سے سات ارب سے زائد انسان دلدل میں پھنستے جا رہے ہیں۔ احترام انسانیت دور حاضر کا نہ صرف ایک اہم مسئلہ ہے بلکہ ایک چیلنج بن گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تکریم انسانیت کے بارے میں اسلام کی تعلیمات کو سمجھا جائے تاکہ دنیا امن و سکون کا گہوارہ بن سکے۔ 
اسلام امن و سلامتی کا دین ہے اور دوسروں کو بھی امن و عافیت کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتا ہے ۔ اسلام کے دین امن و سلامتی ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بھیجے ہوئے دین کے لیے نام ہی "اسلام"پسند کیا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْناً (۵) 
’’اور تمہارے لیے اسلام کو (بطور) دین (یعنی مکمل نظام حیات کی حیثیت سے) پسند کرلیا۔‘‘
لفظ اسلام سَلَمَ یا سَلِمَ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی امن و سلامتی اور خیر و عافیت کے ہیں ۔ اسلام اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے سراسر امن ہے۔ گویا امن و سلامتی کا معنی لفظ اسلام کے اندر ہی موجود ہے ۔ لہذا اپنے معنی کے اعتبار سے ہی اسلام ایک ایسا دین ہے جو خود بھی سراپا سلامتی ہے اور دوسروں کو بھی امن و سلامتی ، محبت و رواداری، اعتدال و توازن اور صبرو تحمل کی تعلیم دیتا ہے۔ 
قرآن و حدیث میں اگر مسلم اور مومن کی تعریف تلاش کی جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک مسلمان صرف وہ شخص ہے جو تمام انسانیت کے لیے پیکر امن و سلامتی ہو اور مومن بھی وہی شخص ہے جو امن و آشتی ، تحمل و برداشت ، بقاء باہمی اور احترام آدمیت جیسے اوصاف سے متصف ہو۔ یعنی اجتماعی سطح سے لے کر انفرادی سطح تک ہر کوئی اس سے محفوظ و مامون ہو۔
اسلام انسانوں کے احترام کا درس دیتا ہے اور ان کی عزت، جان اور مال کو محترم سمجھتا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدۃ میں ارشاد فرمایا:
مَن قَتَلَ نَفْساً بِغَیْْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِیْ الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعاً (۶) 
’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کرڈالااور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘‘
مندرجہ بالا آیت میں مسلم اور غیر مسلم کی تخصیص کے بغیر انسانی جان کی قدرو قیمت بیان کی گئی ہے۔ 
سید ابو الا علیٰ مودودی (م:۱۹۷۹ء)اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ 
’’دنیا میں نوع انسانی کی زندگی کا بقا منحصر ہے اس پر کہ ہر انسان کے دل میں دوسرے انسانوں کی جان کا احترام موجود ہو اور ہر ایک دوسرے کی زندگی کے بقا و تحفظ میں مدد گار بننے کا جذبہ رکھتا ہو۔ جو شخص ناحق کسی کی جان لیتا ہے و ہ صرف ایک ہی فرد پر ظلم نہیں کرتا بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ اس کا دل حیات انسانی کے احترام سے اور ہمدردی نوع کے جذبہ سے خالی ہے ،لہٰذا وہ پوری انسانیت کا دشمن ہے، کیونکہ اس کے اندر وہ صفت پائی جاتی ہے جو اگر تمام افراد انسانی میں پائی جائے تو پوری نوع کا خاتمہ ہو جائے ۔اس کے برعکس جو شخص انسان کی زندگی کے قیام میں مدد کرتا ہے وہ در حقیقت انسانیت کا حامی ہے۔ کیونکہ اس میں وہ صفت پائی جاتی ہے جس پر انسانیت کے بقا کا انحصار ہے۔‘‘ (۷)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر پوری نسل انسانی کو عزت ، جان او رمال کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: 
"فان دماء کم واموالکم واعراضکم علیکم حرام، کحرمۃ یومکم ھذا،فی بلد کم ھذا، فی شھرکم ھذا" (۸) 
’’بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں (مقرر کی گئی) ہے۔‘‘
لہٰذا کسی بھی انسان کو ناحق قتل کرنا ، اس کا مال لوٹنا اور اس کی عزت پر حملہ کرنا یا اس کی تذلیل کرنا دوسروں پر حرام ہے۔ 
اسلام قومی اور بین الاقوامی معاملات میں امن ورواداری کا درس دیتا ہے۔ 
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کئی مواقع پر غیر مسلموں کے نمائندے آئے، لیکن آپ نے ہمیشہ ان سے خود بھی حسن سلوک فرمایا اور صحابہ کرام کو بھی یہی تعلیم دی، حتیٰ کہ نبوت کے جھوٹے دعویدار مسیلمہ کذاب کے نمائندے آئے جنہوں نے صریحاً اعتراف ارتداد کیا تھا لیکن آپ ان کے سفارتکار ہونے کے باعث ان سے حسن سلوک سے پیش آئے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:
انی کنت عند رسول اللہ ﷺ جالسا اذا دخل ھذا (عبداللہ بن نواحۃ) ورجل وافد ین من عند مسیلمۃ ۔ فقال لھما رسول اللہ ﷺ : اتشھدان انی رسول اللہ ؟ فقالا لہ: نشھد ان مسیلمۃ رسول اللہ ، فقال: امنت باللہ ورسلہ ، لوکنت قاتلا وفداً لقتلتکما (۹) 
’’میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا جب یہ شخص (عبداللہ بن نواحہ) اور ایک اور آدمی مسیلمہ (کذاب) کی طرف سے سفارت کاربن کرآئے تو انہیں حضور اکرم نے فرمایا: کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ انہوں نے( اپنے کفر و ارتداد پر اصرار کرتے ہوئے ) کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ (معاذ اللہ) اللہ کا رسول ہے ۔ حضورا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (کمال برداشت اور تحمل کی مثال قائم فرماتے ہوئے ارشاد)فرمایا: میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ اگر میں سفارت کاروں کو قتل کرنے والا ہوتا تو تم دونوں کو قتل کردیتا ۔‘‘
غور کیجئے کہ بار گاہ رسالت مآب میں مسیلمہ کذاب کے پیرو کاروں کے اعلانیہ کفر و ارتداد کے باوجود تحمل سے کام لیا گیا، کسی قسم کی سزا نہیں دی گئی، نہ ہی انہیں قید کیا گیا اور نہ ہی انہیں قتل کرنے کا حکم فرمایا گیا۔ صرف اس لیے کہ وہ سفارت کار تھے۔ 
اسلام میں غیر مسلموں کے مذہبی رہنماؤں کے قتل کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔ 
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ایک روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بہت اہم ہیں جو کہ آپ لشکر روانہ کرتے وقت فرماتے تھے: 
"لا تغد روا ولا تغلوا، ولا تمثلوا ، ولا تقتلواالوالدان، ولا اصحاب الصوامع (۱۰) 
"غداری نہ کرنا، دھوکہ نہ دینا، نعشوں کی بے حرمتی نہ کرنا اور بچوں اورپادریوں کو قتل نہ کرنا"
اسلام نے دوسروں کا مال لوٹنا حرام قرار دیا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: 
وَلاَ تَأْکُلُواْ أَمْوَالَکُم بَیْْنَکُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُواْ بِہَا إِلَی الْحُکَّامِ لِتَأْکُلُواْ فَرِیْقاً مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (۱۱) 
"اور تم ایک دوسرے کے مال آپس میں ناحق نہ کھایا کرو اور نہ مال کو (بطور رشوت) حاکموں تک پہنچایا کرو کہ یوں لوگوں کے مال کا کچھ حصّہ تم (بھی) ناجائز طریقے سے کھاسکو حالانکہ تمہارے علم میں ہو (کہ یہ گناہ ہے) "
حضور اکرم ﷺ نے بھی دوسروں کے مال کولوٹنا حرام قرار دیا ہے۔ 
فان دماء کم واموالکم علیکم حرام (۱۲) 
’’بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر حرام ہیں۔‘‘
غیر مسلم شہریوں کی جانوں کی طرح ان کے اموال کی حفاظت بھی اسلامی ریاست پر لازم ہے۔ امام ابو یوسف(م:۱۸۲ھ) نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کے معاہدے کی یہ شق نقل کی ہے: 
ولنجران و حاشیتھا جواراللہ و ذمۃ محمد النبی رسول اللہﷺ، علی اموالھم وانفسھم وارضھم و ملتھم، و غائبھم و شاھد ھم، وعشیر تھم و بیعھم، وکل ماتحت ایدیھم من قلیل او کثیر (۱۳)
"اللہ اور اللہ کے رسول محمد ﷺ اہل نجران اور ان کے حلیفوں کے لیے ان کے مالوں، ان کی جانوں ، ان کی زمینوں، ان کے دین، ان کے غیر موجود و موجود افراد، ان کے خاندان کے افراد ، ان کی عبادت گاہوں اور جو کچھ بھی ان کے ہاتھوں میں ہے، تھوڑا یا زیادہ، ہر شے کی حفاظت کے ضامن اور ذمہ دار ہیں"
اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کا اس قدر اہتمام کیا گیا ہے کہ ان کے اموال کی حفاظت اتنی ہی ضروری ہے جتنی مسلمانوں کے اموال کی حتیٰ کہ اگر کوئی مسلمان ان کی شراب یا خنزیر کو تلف کردے تو اس پر جرمانہ لازم آئے گا۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب 'ردالمحتار'میں علامہ ابن عابدین شامی (م: ۱۲۵۲ھ) لکھتے ہیں :
فان اراقہ رجل اوقتل خنزیرہ ضمن (۱۴) 
پھر اگر کوئی شخص اس (زمی) کی شراب بہادے یا اس کا خنزیر قتل کردے تو وہ ضمان دے گا۔ 
امام ابن قدامہ حنبلی (م: ۶۲۰ھ) نے کہا ہے کہ غیر مسلم شہری کا مال چوری کرنے والے پر اسی طرح حد عائد ہوگی جس طرح مسلمان کا مال چوری کرنے والے پر ہوتی ہے ۔ان کے الفاظ اس طرح ہیں۔ 
ویقطع المسلم بسرقۃ مال المسلم والذمی (۱۵)
علامہ ابن حزم (م:۴۵۶ھ) بیان کرتے ہیں: 
ولم یات نھی قط عن قطع یدمن سرق مال کافر ذمی (۱۶)
"جس شخص نے کسی کافر ذمی کا مال چوری کیا اس کا ہاتھ کاٹنے کی نفی کہیں وارد نہیں ہوئی"
اسلام میں جیسے مسلمان کی عزت وآبرو کی تذلیل حرام ہے ویسے ہی غیر مسلم شہری کی عزت کو پامال کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ 
ایک دفعہ گورنر مصر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے ایک غیر مسلم کو ناحق سزادی ۔ خلیفہ وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس جب اس کی شکایت کی گئی تو انہوں نے سر عام گورنر مصر کے بیٹے کو اس غیر مسلم مصری سے سزا دلوائی اور یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: 
مذ کم تعبدتم الناس وقد ولد تھم امھاتھم احرار؟ (۱۷) 
"تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام سمجھ لیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟ "
آیات قرآنی، احادیث مبارکہ، صحابہ کرام اور فقہائے امت کے اقوال کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کو یہ حق حاصل نہیں کہ کسی غیر مسلم شہری کو محض اس کے غیر مسلم ہونے کی بنا پر قتل کردے یا اس کا مال لوٹے یا اس کی عزت پا مال کرے یا اس کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچائے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمادیا کہ:
من قتل معاہداً فی غیر کنھہ حرم اللہ علیہ الجنۃ (۱۸)
’’جس نے معاہد کو بلاوجہ قتل کیا اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی۔‘‘
اسلام نے جہاں غیر مسلموں کی تکریم کا درس دیا ہے وہیں ایک مسلمان کی عزت، جان اور مال کا احترام کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مومن کی حرمت کو کعبے کی حرمت سے زیادہ محترم قرار دیا ہے۔ امام ابن ماجہ(م:۲۷۳ھ) سے مروی حدیث مبارکہ ملاحظہ ہو: 
حدثنا عبداللہ بن عمرو قال: رأیت رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم یطوف بالکعبۃ و یقول: مااطیبک واطیب ریحک، ما اعظمک واعظم حرمتک، والذی نفس محمد بیدہ، لحرمۃ المومن اعظم عنداللہ حرمۃ منک، مالہ ودمہ وان نظن بہ الا خیراً (۱۹)
’’حضرت عبداللہ بن عمرو نے ہم سے بیان کیاکہ انہوں نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: (اے کعبہ) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے تو کتنا عظیم المرتبت ہے او رتیری حرمت کتنی زیادہ ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! مومن کے جان و مال کی حرمت اللہ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے۔ ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہیے۔‘‘
مندرجہ بالا حدیث مبارکہ ایک مومن کے جان و مال کی قدرو قیمت کوواضح کررہی ہے۔ آتشیں اسلحہ سے لوگوں کو قتل کرنا تو بہت بڑا اقدام ہے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل اسلام کو اپنے مسلمان بھائی کی طرف اسلحہ سے محض اشارہ کرنے والے کو بھی ملعون و مردود قرار دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: 
من اشار الی اخیہ بحدیدۃ فان الملا لکۃ تلعنہ حتی یدعہ، وان کان اخاہ لابیہ وامہ (۲۰)
"جو شخص اپنے بھائی کی طر ف ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ اس اشارہ کو ترک نہیں کرتا خواہ وہ اس کا حقیقی بھائی ( ہی کیوں نہ ) ہو"
زبان سے دوسرے مسلمانوں کو اذیت پہنچانے سے منع کیا گیا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 
وَلَا یَغْتَب بَّعْضُکُم بَعْضاً (۲۱)
’’اور تم میں سے ایک دوسرے کی غیبت نہ کرے۔‘‘
آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ (۲۲)
’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘
اگر مسلمانوں اور غیر مسلموں کی جنگ ہو رہی ہو اور دوران جنگ ایک غیر مسلم کلمہ پڑھ لے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ مسلمانوں کو یہ بدگمانی کرنے کی اجازت نہیں ہے کہ اس کافر نے جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا ہے۔ 
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ کریں جس میں حضرت اسامۃ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
بعثنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الی الحرقۃ ، فصبحنا القوم فھزمنا ھم والحقت انا ورجل من الا نصار رجلا منھم، فلما غشینا ہ قال : لا الہ الا اللّٰہ، فکف الانصاری، فطعنتہ برمحی حتی قتلتہ، فلما قدمنا بلغ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال : یا اسامۃ، اقتلتہ بعد ما قال: لا الہ الا اللّٰہ؟ قلت: کان متعوذاً، فما زال یکررھاحتی تمنیت انی لم اکن اسلمت قبل ذالک الیوم (۲۳) 
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہاد کے لیے مقام حرقہ کی طرف روانہ کیا۔ ہم صبح وہا ں پہنچے اور( شدیدلڑائی کے بعد) انہیں شکست دے دی ۔میں نے اور ایک انصاری صحابی نے مل کراس قبیلہ کے ایک شخص کو گھیر لیا ،جب ہم اس پر غالب آگئے تو اس نے کہا: لاالہ الا اللّٰہ۔ انصاری تو( اس کی زبان سے کلمہ سن )کر الگ ہو گیا لیکن میں نے نیزہ ما رکر اسے ہلا ک کر ڈالا ۔جب ہم واپس آئے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس واقعہ کی خبر ہو چکی تھی۔ آپ نے فر مایا : اے اسامہ: تم نے اسے کلمہ پڑ ھنے کے با و جو د قتل کیا ؟میں نے عر ض کیا :اس نے جا ن بچانے کے لیے کلمہ پڑ ھا تھا ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم با ر بار یہ کلمات دہرا رہے تھے اور میں افسو س کر رہا تھا کہ کا ش آج سے پہلے میں اسلام نہ لایا ہو تا۔‘‘
پر امن شہر یو ں اور بے گناہ مسلما نو ں کا قتل عام کرنے والے مسلمانوں کو اس فرمان ر سول پر ضرور غورکر نا چاہیے کہ جب حالت جنگ میں مو ت کے ڈر سے کلمہ پڑھے والے دشمن کو بھی اما ن حاصل ہے تو کلمہ گو بے گناہ مسلما نو ں کو قتل کر نا کتنا بڑا جرم ہو گا؟ 
جو لو گ مسلمانوں کے قتل میں کسی بھی قسم کی معاونت کر تے ہیں، ان کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا :
من اعان علی قتل مو من بشطر کلمۃ ، لقی اللہ عزوجل ، مکتو ب بین عینیہ:آیس من رحمۃ اللہ (۲۴)
’’جس شخص نے چند کلما ت کے ذریعے بھی کسی مو من کے قتل میں کسی کی مدد کی تو وہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملے گا کہ اس کی آنکھو ں کے در میان پیشانی پر لکھاہو گا:آیس من رحمۃ اللہ (اللہ تعالی کی رحمت سے ما یو س شخص)۔‘‘
محولہ بالاحقائق اس حقیقت کو واضح کر رہے ہیں کہ اسلام میں انسانی جا ن ،مال اور عزت کو بے حد احترام دیا گیا ہے۔ خواہ یہ جان ، مال اور عزت مسلما نوں کی ہو خواہ غیر مسلم کی ۔یہ بد قسمتی ہے کہ امت مسلمہ اسلام کی اصل تعلیما ت سے دور ہو تی جا رہی ہے ۔دہشت گر دی ، قتل و غار ت اور عدم بر داشت کے جذبات پر وان چڑ ھ رہے ہیں ۔جن کی وجہ سے عالمی دنیا میں مسلمانو ں کاوقاررو ز بروز گر تا جا رہا ہے ۔اگر امت مسلمہ اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کر نا چاہتی ہے تو اسے انسانی جا ن ، مال اور عزت کا احترام کر نا ہو گا۔نیزدرج ذیل امور کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ 
۱۔ اسلام ہماری شناخت اور تشخص ہے۔ ہمیں یہ بات دنیا کو بتاتے ہوئے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ دنیا کودو ٹوک انداز میں بتانا ہوگا کہ ہم اول و آخر اپنے رب کے مطیع ہیں۔ احساس کمتری کوختم کرنا ہوگا۔ 
۲۔ تعلیم اور تحقیق کے میدا ن میں امت مسلمہ زوال کا شکار ہے۔روزنامہ جنگ ، لاہور کی ۲۴اپریل ۲۰۱۲ء کی درج ذیل رپورٹ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے: 
’’برطانیہ و امریکہ کی درسگاہیں 10بہترین جامعات قرار پائیں جبکہ ان میں کوئی مسلم ملک شامل نہیں۔ کیمبرج معمولی فرق سے پہلی معیاری یونیورسٹی قرار پائی۔ ہارورڈ کا دوسرا نمبر ہے۔ ۴۰۰ بہترین جامعات میں پاکستان کا کوئی ادارہ شامل نہیں۔ اسلامی ملکوں میں ۵۸۰ اور صرف بھارت میں ۵۸۳ یونیورسٹیاں ہیں۔ ایشیا میں چین ، کوریا، بھارت جامعات پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ امریکی جریدے ’’یوایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ‘‘ نے یہ درجہ بندی تعلیم اور کیرئیر پر تحقیق کرنے والے بین الاقوامی ادارے کوئیک کیورلی سیمونٹنگ سے کرائی ہے۔‘‘ (۲۵) 
حصول ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں میں رائج نظام تعلیم میں مثبت تبدیلیاں لائی جائیں تاکہ اسلامی معاشرے میں اعلیٰ جدید تعلیم یافتہ ماہرین تیار ہوں جو نئی ایجادات کی قدرت رکھتے ہوں۔ 
۳۔ اسلامی دنیا وسائل سے مالا مال ہے۔ یہ خزانے امت کے میدانوں اور پہاڑوں میں، اس کی وادیوں اور صحراؤں میں، اس کے سمندروں اور دریاؤں میں بکھرے پڑے ہیں۔ ہماری جغرافیائی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال میں لایا جائے۔ 
۴۔ ترقی کے حصول کے لیے معاشرتی ظلم و زیادتیوں کو ختم کرنا ہوگا۔ 
۵۔ خواتین کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے انہیں صحیح مقام و مرتبہ دیا جائے۔ خواتین کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ خواتین معاشرے کا عدد ی لحاظ سے نصف حصہ ہیں۔ گھر اور معاشرے پر ان کے براہ راست مثبت یا منفی ہر دو طرح سے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مسلمان مردوں کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کے ساتھ ان کے اولین فریضے کی ادائیگی میں معاونت کریں جو گھر کی نگہداشت ، خاوند کا خیال او رنسل انسانی کی تربیت کرنے کے اعلیٰ اعمال پر مشتمل ہے۔ اس میں دو رائے نہیں (جنہوں نے تجربات کرنے تھے ، کرلیے پھر بھی یہی نتیجہ نکلا) کہ خواتین سے یہ مقام کوئی اور نہیں لے سکتا اور نہ ہی اسے درست انداز سے ادا ہی کرسکتا ہے۔ لہٰذا خواتین کے ساتھ بھر پور تعاون کیا جانا چاہیے تاکہ وہ اچھی بیوی، بہترین ماں اور مفید شہری ثابت ہو سکیں۔ 
ہمیں ضرورت و مجبوری میں ان کے کام کرنے کے حق کو بھی تسلیم کرنا چاہیے ۔ اگر خود انہیں یا ان کے افراد خاندان کو ان کی معاونت کی ضرورت ہو تو وہ باہر جا کر کام کرسکتی ہیں جیسے کہ حضرت شعیب علیہ اسلام کے واقعے سے راہنمائی ملتی ہے جب کہ وہ بوڑھے تھے اور ان کی بیٹیاں بکریوں کو پانی پلانے کے لیے لے جاتی تھیں۔ علاوہ ازیں اگر معاشرے کو ان کے کام کی ضرورت ہوجیسے کہ عورتوں کا بچیوں کو تعلیم دینا ، عورتوں کا عورتوں کے علاج کے لیے تربیت لینا وغیرہ جیسے امور تو ان میں خواتین کو کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے ۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اگر خواتین کو درست مقام حاصل ہوگا تو خاندان خوش وخرم رہے گا اور زندگی پر سکون بسر ہوگی۔ 
۶۔ اتفاق و اتحاد کو فروغ دینا ہوگا۔کٹی پھٹی اور بکھری امت کا کوئی مستقبل نہیں۔ کبھی یہ ایک تھی ، اب مختلف اقوام کا مجموعہ بن چکی ہے جو الگ الگ گروہوں کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ یہ گروہ محض متفرق مجموعہ ہی نہیں ہیں بلکہ بار بار عملاً ایک دوسرے سے دست و گریبان ہو جاتے ہیں اور اس طرح خود ہی ایک دوسرے کے غیظ و غضب کاشکار ہوتے رہتے ہیں۔جبکہ موجودہ دور میں مختلف الخیال اقوام پرانے اختلافات ، نسلی امتیازات، مذہبی لڑائیاں اور علاقائی جھگڑے کم سے کم کرنے پر کمربستہ ہیں۔ ہم اس وقت تک عالمی سازشوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے جب تک اتفاق اور اتحاد کو فروغ نہ دیں۔ 
مندرجہ بالا نکات کو پیش نظر رکھ کر ہم بحیثیت امت ترقی کرسکتے ہیں ہم مادی، روحانی، تہذیبی، بشری ہر نوع کے خزانوں سے مالا مال ہیں۔ عین ممکن ہے کہ اکیسویں صدی میں ہم اپنی عظمت رفتہ کو پا کر پھر شوکت و رفعت کو بحال کرسکیں۔ دنیا کو اسلام کی طرف راغب کرنے کا سب سے بہتر راستہ یہ ہے کہ ہم اسلام پر عمل کرنے والے بن جائیں۔ جہاں تک غیروں کی سازشوں کا تعلق ہے تو ہمارے لیے قرآن رہنمائی کررہا ہے:
ادْعُ إِلِی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُم بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ (۲۶)
’’پکارو اپنے رب کے راستے کی طر ف حکمت کے ساتھ اور موعظہ حسنہ کے ساتھ اور ان (کج بحثوں) سے مجادلہ کرو اس طور پر جو بہت عمدہ ہو۔‘‘
اسلامی ملکوں کے سربراہان اور عوام کے لیے ضروری ہے کہ قول و فعل کے تضاد سے اپنے آپ کو بچائیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا۔ آپ نے زیر زمین کار روائیوں سے ہمیشہ اجتناب کیا اور وعدوں کو ایفا کرنے کا درس دیا۔ دنیا کی قیادت انہی کو ملتی ہے جو کردار اور علم و تحقیق میں نمونہ بنتے ہیں۔ ہمیں سورۃ الا حزاب کی اس آیت پر عمل کرنا چاہیے:
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (۲۷)
"یقیناًتمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘

حوالہ جات 

1- www.worldometers.info/world-population
2- Muslimpopulation.com/world
۳۔ اٰل عمران ،۳/۱۱۰
۴۔ الترمذی ، ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ (م: ۲۷۹ھ)، جامع الترمذی، ابواب الامثال عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،باب ماجا ء (فی)مثل ابن آدم واجلہ وأملہ، حدیث نمبر۲۸۷۴،ص:۶۴۶، دارالسلام للنشر والتوزیع، الریاض ، ۱۴۲۰ھ
۵۔ المائدۃ ،۵/۳
۶۔ المائدۃ ، ۵/۳۲
۷۔ مودودی، سیدابو الا علی (م:۱۹۷۹ء)، تفہیم القرآن، ج:۱، ص: ۴۶۴،ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، ۱۹۹۱ ء
۸۔ بخاری ، محمد بن اسماعیل (م:۲۵۶ھ)، الجامع الصحیح ، کتاب الحج ، باب الخطبۃ ایام منیٰ، حدیث نمبر۱۷۳۹، ص:۲۸۰،دارالسلام للنشر والتوزیع، الریاض،۱۴۱۹ھ
۹۔ الدارمی،ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمن(م:۲۵۵ھ)،سنن الدارمی ، باب فنی النھی عن قتل الرسل، ج:۲،حدیث نمبر ۲۵۰۳،ص:۳۰۷، دارالکتاب العربی ، بیر وت ، ۱۴۱۷ھ
۱۰۔ احمدبن حنبل(م:۲۴۱ھ)،المسند،ج:۱،حدیث نمبر ۲۷۳۱،ص:۳۹۱،نشرالسنۃ،ملتان،۱۴۲۱ھ
۱۱۔ البقرۃ ،۲/۱۸۸
۱۲۔ بخاری ، محمد بن اسماعیل (م:۲۵۶ھ)، الجامع الصحیح ،کتاب الحج،باب الخطبۃ ایام منیٰ ، حدیث نمبر ۱۷۴۱،ص:۲۸۱،داراالسلام للنشر والتوز یع،الریا ض ،۱۴۱۹ھ
۱۳۔ ابو یو سف ،یعقوب بن ابراہیم (م:۱۸۲)، کتاب الخراج،ص:۷۲،دارالمعرفۃ للبطاعۃ والنشر ، بیروت، لبنان ،سن ندارد
۱۴۔ ابن عابدین شامی،محمد بن امین(م:۱۲۵۲ھ)،ردالمحتار علی الدرالمختار شر ح تنویرالابصار،کتاب الغصب، المجلدالتاسع،ص:۳۰۴،دارالکتب العلمیہ، بیروت ،لبنان،۱۴۲۴ھ
۱۵۔ ابن قدامۃ ،ابو محمد عبداللہ بن احمد بن محمد (م:۶۲۰ھ)،المغنی،کتاب الحدود، باب القطع فی السر قۃ ، الجز ء الثانی عشر، ص : ۳۱۵، دارالحدیث ، القاھرۃ،۱۴۲۵ھ
۱۶۔ ابن حزم ، ابو محمد علی بن احمد بن سعید (م : ۴۵۶ھ)،المحلّٰی شر ح المجلّٰی ، ج:۱۳،ص:۱۷۷،داراحیا التراث العربی،بیروت،لبنان،۱۴۱۸ھ۔
۱۷۔ الہندی،علاء الدین علی المتقی بن حسام الدین (م:۹۷۵ھ)،کتاب الفضائل/فضائل الصحابہ،الجز الثانی عشر، حدیث نمبر۳۶۰۰۵، ص:۲۹۴،دارالکتب العلمیۃ،بیروت،لبنان،۱۴۲۴ھ
۱۸۔ الدارمی،ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمن(م:۲۵۵ھ)،سنن الدارمی ،باب فی النھی عن قتل المعاھد ،ج:۲، حدیث نمبر۲۴۰۹، ص:۶۸۵، دارالقلم ، دمشق، ۱۴۱۷ھ
۱۹۔ ابن ماجہ، ابو عبداللہ محمد بن یذید (م:۲۷۳ھ)،السنن، ابواب الفتن، باب حرمۃ دم المو من ومالہ ، حدیث نمبر۳۹۳۲،ص،۵۶۴، دارالسلام للنشر و التوزیع ، الریاض ، ۱۴۲۰ھ
۲۰۔ مسلم بن حجاج (م:۲۶۱ھ)، جامع الصحیح، کتاب البروالصلۃ والآداب ، باب النھی عن اشارۃ بالسلاح الی مسلم ، حدیث نمبر۶۶۶۶، ص:۱۱۴۲ ، دارالسلام للنشر والتوزیع، الریاض، ۱۴۱۹ھ 
۲۱۔ الحجرات، ۴۹/۱۲
۲۲۔ بخاری ، محمد بن اسماعیل (م:۲۵۶ھ)، الجامع الصحیح ، کتاب الایمان ، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ، حدیث نمبر۱۰ ، ص: ۵،دارالسلام للنشر والتوزیع، الریاض ، ۱۴۱۹ھ 
۲۳۔ ایضاً، کتاب المغازی، باب بعث النبی صلی اللہ علیہ وسلم اسامۃ بن زید الی الحرقات من جھینۃ، حدیث نمبر۴۲۶۹، ص: ۷۲۲، دارالسلام للنشر والتوزیع، الریاض ، ۱۴۱۹ھ 
۲۴۔ ابن ماجہ، ابو عبداللہ محمد بن یذید (م:۲۷۳ھ)،السنن، ابواب الدیات، باب التغلیظ فی قتل مسلم ظلماً ، حدیث نمبر۲۶۲۰، ص: ۳۷۶ ، دارالسلام للنشر و التوزیع، الریاض، ۱۴۲۰ھ
۲۵۔ روزنامہ جنگ ،لاہور ، ۲۴ اپریل، ۲۰۱۲ء، ص:۱۲
۲۶۔ ا لنحل ، ۱۶/ ۱۲۵
۲۷۔ الاحزاب ، ۳۳/۲۱

سیدہ عائشہؓ سے نکاح کے لیے خولہ بنت حکیمؓ کی تجویز

محمد عمار خان ناصر

نکاح کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بالغ ہونے کے حق میں بعض اہل علم نے جو مختلف قرائن پیش کیے ہیں، ان میں سے زیادہ تر پر ہم اپنے اصل مضمون (الشریعہ، اپریل ۲۰۱۲ء) میں تبصرہ کر چکے ہیں۔ اسی نوعیت کا ایک اور قرینہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ روایات کے مطابق سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنہائی کے پیش نظر آپ کو نیا نکاح کرنے کی تجویز خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا نے دی تھی اور انھی نے اس ضمن میں سیدہ سودہ بنت زمعہ اور سیدہ عائشہ کے نام آپ کے سامنے پیش کیے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ام المومنین اس وقت عمر کے اس حصے میں تھیں کہ فوری طور پر ان کا نکاح کر کے رخصتی کی جا سکتی تھی، ورنہ خولہ بنت حکیم کا ذہن ان کی طرف کیوں متوجہ ہوتا!
یہ استدلال اس مفروضے پر مبنی ہے کہ خولہ بنت حکیم نے سیدہ عائشہ سے نکاح کی تجویز علی الفور رخصتی کے ارادے سے دی تھی اور بظاہر اس مفروضے کو اس بات سے تقویت ملتی ہے کہ روایت کے مطابق اس تجویز کا محرک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ خدیجہ کی رفاقت سے محروم ہوجانا بنا تھا۔ تاہم روایت کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ مفروضہ زیادہ وزنی دکھائی نہیں دیتا۔ اگر تو یہ مانا جائے کہ خولہ بنت حکیم نے سیدہ عائشہ سے نکاح کی تجویز سودہ بنت زمعہ کے متبادل کے طور پر دی تھی اور ان کا منشا یہ تھا کہ آپ ان میں سے کسی ایک سے نکاح کر لیں تو پھر زیر بحث استدلال میں ایک وزن پیدا ہو جاتا ہے، لیکن اگر اس کے برعکس یہ امکان مانا جائے کہ خولہ نے درحقیقت بیک وقت دو نکاحوں کی تجویز دی تھی تو پھر اس استدلال کا وزن ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ اس صورت میں یہ کہنا بالکل قرین قیاس ہے کہ خولہ کے ذہن میں یہ تجویز دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فوری خانگی ضروریات بھی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کی آئندہ کی خانگی زندگی کے مصالح کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا صدیق اکبر کے باہمی تعلقات کو ایک نئے رشتے کی شکل دینا بھی ان کے پیش نظر تھا، چنانچہ انھوں نے پہلے مقصد کے تحت سیدہ سودہ کے ساتھ جبکہ دوسرے مقصد کے تحت سیدہ عائشہ کے ساتھ نکاح کا مشورہ آپ کے سامنے پیش کیا۔ روایت میں بیان ہو ا ہے کہ خولہ بنت حکیم نے سیدہ عائشہ کا ذکر کرتے ہوئے ’بنت احب خلق اللہ الیک‘ یعنی ’’لوگوں میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب شخص کی بیٹی‘‘ کے الفاظ استعمال کیے جس سے صاف واضح ہے کہ خولہ کی اس تجویز کے محرکات میں دونوں حضرات کے باہمی تعلقات میں مزید مضبوطی پیدا کرنا بھی تھا اور وہ اسی تعلق کا حوالہ دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس تجویز کو قبول کرنے کی اپیل کر رہی تھیں۔
اگرچہ روایت میں خولہ بنت حکیم کی تجویز کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے کہ ’ان شئت بکرا وان شئت ثیبا‘ (مسند احمد، رقم ۲۵۸۱۰) یعنی آپ چاہیں تو کنواری سے نکاح کر لیں اور چاہیں تو شوہر دیدہ سے، لیکن دو واقعاتی قرینے یہ بتاتے ہیں کہ یہ تجویز دراصل بیک وقت دونوں سے نکاح کرنے کی تھی، جبکہ فوری رخصتی صرف سیدہ سودہ کی مطلوب تھی۔ پہلا قرینہ تو یہ ہے کہ اسی روایت کے مطابق خولہ بنت حکیم کی تجویز سننے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سودہ یا عائشہ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے بجائے خولہ سے کہا کہ جاؤ اور ان دونوں کے ساتھ میرے رشتے کی بات کرو: فاذہبی فاذکریہما علی (مسند احمد، ۲۵۹۱۰)۔ چنانچہ خولہ گئیں اور ان دونوں گھرانوں سے بات کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دیا جس کے نتیجے میں دونوں امہات المومنین کے ساتھ آپ کا نکاح ہو گیا۔ دوسرا قرینہ یہ ہے کہ دونوں خواتین سے نکاح کے بعد سیدہ سودہ تو فوری طور پر رخصت ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آ گئیں، جبکہ سیدہ عائشہ کی رخصتی کو موخر کر دیا گیا اور ان کی رخصتی ہجرت مدینہ کے بعد عمل میں آئی۔ 
اس تفصیل کی روشنی میں اگر اس نکاح سے متعلق جملہ روایات کو پیش نظر رکھا جائے تو واقعات کی ترتیب یوں بنتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ عائشہ کے ساتھ نکاح کی اطلاع اور اس کے منشاے الٰہی ہونے کا اشارہ ایک خواب کی صورت میں پہلے سے کر دیا گیا تھا۔ سیدہ خدیجہ کی وفات کے بعد خولہ بنت حکیم نے آپ کے مستقبل کے خانگی مصالح اور سیدنا ابوبکر کے ساتھ آپ کے نہایت قریبی تعلقات کے پیش نظر آپ کو یہ مشورہ دیا کہ وہ سودہ بنت زمعہ کے ساتھ ساتھ سیدہ عائشہ سے بھی نکاح کر لیں۔ سابقہ خوابی اشارے اور تجویز میں مضمر متنوع مصالح کو دیکھتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجویز کو قبول فرما لیا۔ سیدنا ابوبکر کے ذہن میں اس وقت تک یہ خیال نہیں آیا تھا جس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ وہ سیدہ عائشہ کا رشتہ جبیر بن مطعم کے ساتھ طے کر چکے تھے اور دوسری یہ کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے رشتہ اخوت کو حقیقی اور نسبی اخوت کا درجہ دیتے تھے اور ان کے خیال میں ان کی بیٹی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح نہیں ہو سکتا تھا۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس خیال کی اصلاح فرما دی اور کہا کہ ہمارا رشتہ اسلام میں اخوت کا رشتہ ہے جو تمھاری بیٹی کے میرے نکاح میں آنے سے مانع نہیں۔ یوں یہ نکاح منشائے الٰہی کی تکمیل کے علاوہ عرب معاشرت کی سماجی روایات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خانگی ودینی مصالح کے لحاظ سے بھی پوری طرح قابل فہم ہے۔

جماعتِ اسلامی کا داخلی نظم سیّد وصی مظہر ندویؒ کی نظر میں (۲)

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

کوئی بھی جماعتی نظام حرکت و جمود دونوں کو سمو نہیں سکتا۔ یہ دونوں باہم متضاد ہیں۔ نظام حرکت کو فروغ دینے والا ہو گا تو اس میں جمود کی کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔ اگر نظام کی بنیادوں میں جمود پیدا کرنے والے محرکات کو شامل کیا گیا تو پھر حرکت کے تمام امکانات ختم اور جمود روز بروز مستحکم ہو گا۔ جناب ندوی صاحب نے بہت سے پہلوؤں سے جماعت کے اندر جمود کے محرکات کا جائزہ لیا ہے مگر ان کی نظر جمود کے زیادہ گہرے اسباب تک نہیں پہنچی۔ انہوں نے جماعت کے اندر قیادت سازی کے نظام کو جماعتی استحکام کا سبب قرار دیا ہے۔ حالانکہ یہی نظام مکمل جمود تک پہنچا دینے کا باعث ہوا ہے۔ جدید دور میں جس طرح جمہوریت کثیر جماعتی نظام کے بغیر چلائی نہیں جاسکتی، جس طرح نظام عدل وکالت کے ادارے کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا اسی طرح امیدواری کے بغیر انتخابی نظام کا کوئی تصور ممکن نہیں۔ مزید براں قیادت کا بار بار منتخب ہونے پر پابندی لازمی ہے۔ ان دو پہلوؤں سے ہٹ کر جو نظام جماعت میں قائم کیا گیا اس کا نتیجہ جمود کے سوا کچھ ہوا ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ امید واری کی نفی کے حق میں جو استدلال کیا گیا ہے اس کی کوئی شرعی بنیاد نہیں۔ قرآن میں حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف سے مصر کا وزیر خزانہ بنائے جانے کی خواہش اور درخواست کا ذکر موجود ہے۔ علاوہ ازیں انسانی شخصیت کا یہ نفسیاتی پہلو ہے کہ اس میں دولت، جنس اور اقتدار کے حصول کا جذبہ قدرت نے ودیعت کیا ہے، اسے ضابطوں میں مقید کر کے بے قید ہونے سے تو روکا جاسکتا ہے مگر اس کی یکسر نفی نہیں کی جاسکتی۔ منصب کی خواہش کرنا کسی طرح ناجائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ مناصب پر فائز لوگ اپنی حیثیت اور کارکردگی کے لحاظ سے انتخاب یا استصواب کے موقعہ پر باقی تمام لوگوں پر فائق اور نمایاں ہوتے ہیں۔ رائے دہندہ کے سامنے لا محالہ صاحب منصب کو چھوڑکو ووٹ دینے کی بہت ٹھوس وجوہ ہونا چاہیے۔ پھر اہل مناصب کے لیے بلا واسطہ یا بالواسطہ کنویسنگ کیلیے اشارے اور کنائے بھی کافی ہوں گے۔ جب احتساب کمزور ہو جائے تو کسی بھی بے قاعدگی کو روکنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ یہاں تک کہ قاضی حسین احمد نے اپنے خلاف جماعت کے بزرگوں کی جانب سے الزامات کی بوچھاڑ کے بعد استعفیٰ دے کر نئے انتخاب کا اہتما م کرایا تو ان کا تحریری استعفیٰ دراصل نئے سرے سے اعتماد کا ووٹ دینے کی اپیل تھی۔ طفیل نامہ میں میاں طفیل محمد نے قاضی حسین احمد کے استعفے کا متن درج کیا ہے۔ اس میں قاضی صاحب کے یہ الفاظ موجود ہیں،
’’میرے خلاف مسلسل محاذ آرائی اور یکطرفہ الزام تراشی نے یہ بات ناگزیر بنا دی ہے کہ میں اب خود ارکان جماعت سے براہ راست رجوع کروں تاکہ یہ معلوم کر سکوں کہ مجھے اب بھی پہلے کی طرح ان کا اعتماد حاصل ہے یا یہ کہ وہ اماارت میں تبدیلی کے خواہش مند ہیں۔‘‘
اس لیے میں نے طویل غور و فکر کے بعد اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں امارت کی ذمہ داری سے مستعفی ہوکر ارکان جماعت کو یہ موقع دوں کہ وہ اس بارے میں اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ (طفیل نامہ صفحہ ۳۱۱)
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے میاں طفیل محمد صاحب نے امیر جماعت کے اس انتخاب کو ڈھونگ قرار دیا، وہ فرماتے ہیں: 
’’حقیقت یہ ہے کہ امیر جماعت کا یہ انتخاب انتخاب نہیں ڈھونگ تھا۔ اگر یہ استعفیٰ تھا تو اس پر یہ رقم کرنے کا کیا جواز تھا کہ ارکان جماعت فیصلہ کریں کہ مجھے اب بھی ان کا اعتماد حاصل ہے کہ نہیں۔ یہ تو صریح طور پر منصب امارت کے لیے اپنی امیدواری کا اعلان تھا۔۔ ۔ قاضی صاحب نے تو ارکان سے اپنے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کر دی ۔ یہ دستور کی رو سے انہیں امارت کے لیے نا اہل بنا دیتی ہیں۔‘‘ (ایضاً صفحہ نمبر ۳۱۲)
مجموعی طور پر جماعتی تصورات سے آزاد ہو کراس نظام انتخاب کو دیکھا جائے تو یہ واضح ہے کہ انتخابات سے پہلے اہل مناصب کی کاردگی کے باقاعدہ اور موثر جائزے کا بھی کوئی اہتمام نہ ہو، کسی دوسرے کو ان کے خلاف مہم چلانے کی بھی اجازت نہ ہو، کوئی امید وار بھی نہ بن سکے تو نتیجہ صرف اور صرف ایک ہی ہو گا کہ مناصب پر فائز لوگ تواتر کے ساتھ منتخب ہوتے جائیں گے۔ انتخاب یا استصواب کے موقعہ پر ارکان جماعت میں ذہنی تن آسانی استوار ہو جائے گی۔ وہ رائے استعمال کرنے سے پہلے اپنے ذہن کو استعمال کرنے کے بجائے منصب پر فائز لوگوں کے حق میں رائے دینے کو ترجیح دیں گے۔ شوریٰ کے انتخاب کے موقعہ پر ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ارکان پوچھتے ہیں کہ پہلے کون لوگ شوریٰ میں موجود ہیں۔ ان کے نام معلوم کر کے وہ فوری طور پر انہی کو ووٹ دے دیتے ہیں۔ ہمارے نقطہ نظر سے جماعتی نظام انتخاب کسی طرح انتخابی نظام نہیں۔ 
اس مرحلہ پر ہم جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر جناب خرم مراد کے مشاہدات کا حوالہ انتہائی بر موقع خیال کرتے ہیں:
’’انتخاب سے ایک روز پہلے میں دفترگیا، وہاں پر لاہور کے مضافات سے ایک نا خواندہ رکن آئے پرچہ رائے دہندگی لیتے ہوئے بلا تکلف ناظم دفتر سے پوچھا کہ آج کل کون امیر ہے؟۔ ناظم دفترنے کہا شاہ صاحب (اسعدگیلانی) ہیں۔ کہنے لگے بس ان کے نام کے آگے نشان لگا دیں۔ انہوں نے وہاں نشان لگا دیا۔‘‘(لمحات ۴۲۸۔۴۲۹)
جناب خرم صاحب مرکزی ناظم مالیات شیخ فقیر حسین صاحب کے حوالے سے لمحات کے صفحہ ۴۲۷ پر لکھتے ہیں، 
’’اصل میں تو جماعت کے اندر سنگل کینی ڈیچر سسٹم (یک امیدواری نظام) ہے۔ ان کی بات سن کر میں ایک دم چونکا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟۔ کہنے لگے دیکھئے جو آدمی پہلے سے امیر ہے وہ فرد تو ایک امید وار ہے ہی اور باقی کوئی امیدوار اخلاقی اور دستوری طور پر اس کے مقابلے میں کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اسے لیے الا ما شا ء اللہ کوئی دوسرا منتخب بھی نہیں ہوتا۔ ‘‘
ہم کمیونسٹ ممالک اور پارٹیوں میں یک امیدواری نظام پر ہمیشہ اعتراض کرتے رہے۔ ان کے الیکشنز کو ہم ایک ایسی دوڑ سے تعبیر کرتے رہے جس میں ایک ہی گھوڑا حصہ لیتا ہے، اس کے باوجود اپنے ہاں ہمارا اہتمام قابل غور ہے۔
لمحات کے صفحہ نمبر ۴۲۸ پرجناب خرم مراد نے لکھا:
’’امریکہ جیسے جمہوری ملک میں جہاں (باقاعدہ امیدوار الیکشن لڑتا ہے) پڑھے لکھے رائے دہندگان موجود ہیں، وہاں بھی اگر پہلے سے منتخب صدر دوسری مرتبہ امیدواربن جائے تو ان میں سے شاید ہی کوئی ہارا ہو۔ دو سال میں دوسری ٹرم کے لیے ہارنے والے صدر شاید پانچ چھ ہیں۔ 
جب وہاں یہ حال تھا تو ظاہر ہے کہ ہمارے ہاں اس کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، جہاں پر لوگ مروت، احترام اور وضع داری کے باعث کچھ بہت زیادہ غور و فکر بھی نہیں کرتے۔‘‘
جناب خرم لمحات کے صفحہ نمبر ۲۸۱ پر تحریر کرتے ہیں:
’’مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ گذشتہ دس برس کے دوران میں نے پاکستان میں یہ دیکھا ہے کہ لوگ عام طور پر ذمہ داری سے نہ از خود سبک دوش ہوتے ہیں نہ دوسروں کے لیے جگہ چھوڑنے پر تیار ہوتے ہیں، اگرچہ اپنی صحت، اہلیت، قوت کار اور صلاحیت کی کمی وجہ سے بھی جماعت کو نہ چلا سکتے ہوں۔ یہ رویہ اس وقت بھی بر قرار رہتا ہے، جب ان کے علم میں بات آ جاتی ہے کہ بالائی نظم ان کے کام سے مطمئن نہیں ہے، یا پھر ان سے بہتر کسی آدمی کو لانا چاہتا ہے۔ ایسی صورت میں وضع داری، صحیح اسپرٹ اور اسلامی روایات کا تقاضا ہے کہ ایسے لوگ خود ان افراد کے لیے جگہ خالی کرنے کی پیش کش کردیں، افسوس کہ ایسا نہیں ہوتا۔‘‘
اس سب کچھ کے باوجود اگر اسے انتخابی نظام مان بھی لیا جائے تو صوبائی امرا سے لے کر مقامی امرا تک کا تقرر کیا جاتا ہے۔ 
جناب خرم مراد لمحات کے صفحہ ۲۸۱ پر مزید لکھتے ہیں:
’’جماعت اسلامی میں باہم مشورے سے وحدانی نظام اختیار کیا گیا ہے، جس میں بیشتر مناصب، امیر جماعت کے اعتماد کی بنیاد پر لوگوں کے سپرد کیے جاتے ہیں۔‘‘
دستور میں تقرر میں ارکان کی رائے کو قبول کرنے کی ہدایت کی گئی ہے مگر اس میں استثنائی اختیار دے کر خالص نامزدگی کا دروازہ کھول دیا گیا۔ یہ دروازہ اب ایسا چوپٹ ہو گیا ہے کہ ان سطحوں پر عملاً نامزدگی کو رواج مل چکا ہے۔ اس کے لیے اگر کسی مقام پر تبدیلی کی نظمِ بالا ضرورت محسوس کرے تو انتخاب سے مہینہ دو پہلے اصل ذمہ دار کو ہٹا کر قائم مقام کا تقرر کر دیا جاتا ہے، یہ تقرر، قائم مقام کے انتخاب کے لیے راہ ہموار کر دیتا ہے۔ اس نظامِِ انتخاب کے جامد ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ امرائے اضلاع کے مناصب پر، قریب قریب ہر امیر ضلع کم و بیش متواتر تیس تیس سال تک فائز رہا۔ مرکزی شوریٰ کے سامنے بار بار کے انتخاب پر پابندی کی دستوری ترمیم بائیس سال زیر التوا رہی۔ اس کے بعد اسے منظور کیا گیا۔ اتنی دیر میں جامد انتخابی نظام اپنا کام کر چکا تھا۔
مرکزی سطح کو ہی لے لیجیے، جماعت ۱۹۴۱ء کو قائم ہوئی۔ قیام کے ساتھ ہی سید مودودی رحمہ اللہ امیر جماعت منتخب ہوئے۔ وہ ۱۹۷۲ء تک امیر جماعت رہے۔ پھر باقاعدہ انتخاب کے موقعہ پر انہوں نے اپنی کمزوری صحت کی بنا پر معذرت کی تو میاں طفیل محمد امیر جماعت منتخب ہوئے۔ اگر مولانا معذرت نہ کرتے تو وہ زندگی کی آخری سانس تک منتخب ہوتے رہتے۔ ان کا پہلا انتخاب بھی اپنی روح کے اعتبار سے انتخاب نہیں تھا۔ وہ داعی کی حیثیت سے میز بان تھے۔ مولانا مودودی کی تجویز پر نظام جماعت ایسا مان لیا گیا جس کی رو سے کوئی امیدوار نہیں ہو سکتا تھا۔ تین چار روز کے تاسیسی اجتماع میں مولانا چھائے رہے۔ دستور کا مسودہ ان کا مرتب کردہ تھا۔ انہوں نے خود ہی اسے پیش کیا۔ یہ مسودہ منظور کر لیا گیا۔ اس ماحول میں انتخاب امیر کے لیے ان ہی پر ہر ایک کی نظر تھی۔ متبادل امیدوار ہو نہیں سکتا تھا۔ اس طرح مولانا امیر منتخب ہو گئے۔
انتخابی نظام کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ ایک متعینہ مدت کے بعد مختلف صلاحیتوں کے لوگوں میں سے کسی نہ کسی کو قیادت کا موقع مل جاتا ہے۔ اس طرح مختلف صلاحیت کے لوگوں کو اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ چنانچہ ہر کوئی جماعت میں اپنی دلچسپی بر قرار رکھ سکتا ہے۔ لوگ باہر نکلنے کے راستے کی جانب نہیں دیکھتے۔ لیکن یہاں جماعت کا نظام ایسا متشکل ہوا کہ سید علیہ الرحمہ کے برابری کے کسی شخص کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا کوئی امکان نہ تھا۔ اس وجہ سے سید کے ہم مرتبہ لوگ جماعت کی تشکیل کے ایک دو سال بعد ہی جماعت سے دور ہو گئے۔ جماعت کی تشکیل کے موقعہ پر جتنا زبردست ٹیلنٹ جمع ہوا تھا، وہ چھٹ گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۹۷۲ء میں جب سید علیہ الرحمہ کی توانائیاں جواب دے گئیں اور وہ جماعت کی امارت ترک کرنے پر مجبور ہوگئے۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابی معرکے میں سب سے پہلا انتخابی جلسہ لاہور کے موچی دروازے کے باہر ہوا۔ مولانا مودودی نے بمشکل چالیس منٹ خطاب کیا اور پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ جھٹک کر بے بسی کے عالم میں کہا کہ ان کی طاقتیں جواب دے گئی ہیں۔ وہ اپنی تقریر جاری نہیں رکھ سکتے۔ اس طرح انہوں نے اپنی تقریر ادھوری چھوڑ دی۔ یہ ان کی زندگی کا پہلا واقعہ تھا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے تقریر کو مکمل کیا۔ کبھی ادھوری تقریر نہیں کی۔ ۱۹۶۴ء کے صدارتی معرکے میں ایوب خان اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح امیدوار تھے۔ جماعت مادر ملت کی حمایت کر رہی تھی۔ موچی دروازے سے باہر انہوں نے اڑھائی گھنٹے خطاب کیا۔ ان کی یہ طویل تقریر، ایوب خان کے دور حکومت کا مکمل اور جامع جائزہ تھا۔
تسلسل اور تواتر کو فروغ دینے والے نظام جماعت میں قیادت کا خلا لازماً پیدا ہوتا ہے۔ ۱۹۷۲ء میں جب مولانا نے معذوری ظاہر کی تو اس منصب کو سنبھالنے والا کوئی صاحبِ صلاحیت شخص، جماعت کے اندر موجود ہی نہیں تھا۔ چارو نا چار جناب میاں طفیل محمد کو یہ بار گراں اٹھانا پڑا۔ محترم میاں صاحب کی سید مرحوم کے قیم کے طور پر خدمات درجہ کمال کی ہیں، مگر امارت جماعت کے منصب پر ان کا فائز ہونا بہر حال خانہ پری سے زیادہ نہیں تھا۔ اس انتخاب کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ میاں صاحب تیس سال قیم رہ کر حقیقت میں ایگزاسٹ ہو چکے تھے۔ ایک ایگزاسٹ شخص سے کسی بڑی کارکردگی کی توقع مشکل ہوتی ہے۔ بہر حال میاں طفیل صاحب ۱۹۸۷ء تک کام کرتے رہے۔ پھر انہوں نے بھی خرابی صحت کی بنا پر باقاعدہ انتخاب کے موقع پر ارکان سے معذرت کرتے ہوئے ان کو منتخب نہ کرنے کی اپیل کی۔ اس کے نتیجہ میں قاضی حسین احمد منتخب ہوئے۔ وہ بھی پچھلے انتخابات کے موقع تک کام کرتے رہے۔ اس موقع پر انہوں نے بھی خرابی صحت کی بنا پر معذرت کی تو سید منور حسن منتخب ہوئے۔ اگر میاں طفیل محمد اور قاضی حسین احمد معذرت نہ کرتے تو وہ تواتر سے منتخب ہوتے رہے۔ قاضی حسین احمد نے اس وقت معذرت کی جب وہ تین بائی پاس آپریشنوں سے گزر چکے تھے۔
انتخابی عمل قیادت میں تبدیلی کا ضامن ہوتا ہے۔ ہم نے اوپر کی مثالیں دے کر واضح کر دیا ہے کہ جماعت کا نظام تبدیلی کی نفی کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حقیقت میں یہاں انتخابی نظام کی نفی کی گئی ہے۔ ایسا نظام اختیار کیا گیا جو بظاہر انتخابی نظام نظر آتا ہے مگر حقیقت میں وہ تسلسل برقرار رکھنے کا بڑا گہرا نظام ہے۔
جماعتی نظامِ انتخاب کی جناب وصی مظہر بڑی تعریف کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ جماعتی تنظیم کے استحکام کا باعث ہوا۔ جسے استحکام کہا گیا ہے، وہ جمود ہے۔ نظام جماعت کو، جمود اپنی ایک انتہا کے بعد دوسری انتہا تک لے گیا، مگر کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ یہاں متبادل قیادت کا مکمل فقدان رہا۔ ایگزاسٹ ہونے سے پہلے کسی صاحب منصب نے منصب نہ چھوڑا۔ برابر کی حیثیت رکھنے والے اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام کرنے کے امکانات نہ پاکر جماعت سے الگ ہو گئے۔
اس جامد نظام کے کئی منفی نتائج نکلے۔ اگر جماعت میں ہر سطح پر باقاعدہ انتخابی نظام اختیار کیاجاتا تو ذمہ داران کا احتساب زیادہ موثر ہوتا، کارکنوں کی سیاسی تربیت ہوتی، جماعت اپنی راہ و منزل سے کبھی نہ ہٹ سکتی۔ جماعت ان فوائد سے اپنے نظام کی وجہ سے محروم رہی۔ انتخاب کے مرحلے میں ارباب مناصب کی کار کردگی زیر بحث آتی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ دیگر امید وار انتخاب جیتنے کی صورت میں کارکردگی میں بہتری کی صورتیں تجویز کرتے۔ ارکان ان پر غور کرتی۔ سوچ اور فکر کو راہ ملتی۔ عمل میں سرگرمی پیدا ہوتی۔ تبدیلی کی صورت میں نئے آنے والے ذہنی طور پر تیار ہو کر مناصب سنبھالتے۔ اگر تبدیلی نہ آتی تو بھی پہلے سے کام کرنے والے اپنی کار کردگی میں بہتری لانے کی کوشش کرتے۔ محدود مدت تک منصب پر رہنے کے نتیجہ میں اصحاب منصب اپنی صلاحیتوں کو زیادہ اچھے اور فعال تر انداز میں استعمال کرتے۔
جماعتی نظام انتخابی ہوتا تو امید وار بننے، رائے دہندگان کا اعتماد حاصل کرنے کی عملی تربیت ملتی۔ وہ کارکن جسے جماعت کے اندر امیدوار بننے کی اجازت نہ ہو، انتخابی مہم دور کی بات، ذمہ داران کی کارکردگی پر اظہار کرنے کی اجازت نہ ہو، ایسے کارکنوں سے کیسے توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ سیاسی اور انتخابی میدان میں موثر ہو سکیں گے۔وہ امیدوار بننے اور ووٹ مانگنے سے شرمائیں گے۔ ان کو لوگوں کی ذہنی اور مزاجی سطح تک اترنا اور سمجھناکتنا مشکل ہو گا۔
جماعت کے اپنی راہ و منزل سے ہٹنے کا حادثہ کبھی پیش نہ آتا۔ وجہ یہ ہے کہ انتخابی نظام احتساب کے عمل کو زیادہ طاقت ور بنا دیتا۔ یہ امر ماننا ہی پڑے گاکہ جماعت پٹڑی سے اتری۔ نعیم صدیقی اور میاں طفیل محمد صاحب نے واضح طور پر قاضی صاحب کے دورِ امارت میں یہ قرار دیا۔ زندہ اور توانا تنظیم کبھی مقاصد سے ہٹ جانے کا راستہ نہیں دے سکتی۔ جامد نظام کے نتیجہ میں امرا ئے جماعت کے قویٰ ہی مضمحل نہ ہوئے بلکہ پورا جماعتی نظام مضمحل ہو گیا۔ چنانچہ لوگ جماعت کو پٹری سے اتار کر دوسری لائن پر لے گئے مگر کوئی روکنے اور ٹوکنے والا نہ تھا۔
جماعتی نظام میں دوسری خرابی یہ ہوئی کہ مالی لحاظ سے جماعت کی امانت و دیانت اور حسابات کے اپڈیٹ ہونے کی ساکھ مکمل طور پر بر باد ہوگئی۔ نتیجہ کے طور پر جماعت کی قیادت کاروباری لوگوں کے ہاتھوں میں آگئی اور جماعت میں مشنری رجحانات کمزور ہو گئے اور کاروباری داعیے توانا ہوتے گئے۔ منصورہ شریف اب مشن سے زیادہ بین الاقوامی سطح کا ٹریڈ سنٹر بن گیا۔ یہاں ارباب جماعت کے حوالے سے ملک اور دیگر ممالک میں اقتصادی مواقع کا بنیادی نیٹ ورک قائم ہو گیا۔ اقتصادی دوڑ میں ہر کوئی آگے جانے کے لیے پر تول رہا ہے۔ تحریک کدھر جا رہی ہے، پٹڑی سے اتر رہی ہے،اس کا سفر رک گیا ، اس کی کسی کو کوئی پروا نہ رہی۔ اس صورت حال کی جناب وصی مظہر نے دبی زبان میں نشان دہی کی ہے۔ انہوں نے کتاب کے صفحہ نمبر ۱۹۲۔۱۹۳۔۱۹۴ پر بیت المال اور خفیہ ذرائع آمدنی کے تحت لکھا ہے:
’’جماعت اسلامی اس دور میں عام اعانت یا جماعت کے باہر کے لوگوں سے چندہ مانگنے کو نا پسند کرتی تھی۔ وہ صرف ایسے لوگوں سے مالی اعانت قبول کرتی تھی جن کے ذرائع آمدن مشتنبہ نہ ہوں اور جماعت کے نصب العین اور مقاصد سے بھی اتفاق رکھتے ہوں، لیکن قیام پاکستان کے بعد جب جماعت اسلامی کو جلد از جلد سیاسی خلا پر کرنے کے لیے، وسیع رابطہ عوام کے لیے بڑے پیمانے پر چندہ وصول کرنا شروع کر دیا گیا۔ اس کی وجہ سے چار بڑے نقصانات ہوئے:
حلال ذرائع سے آنے والی آمدنی کی برکت ختم ہو گئی۔ جماعت کے ارکان اور رہنما بیت المال کے خرچ میں کفایت شعار اور محتاط نہ رہے۔ بے ایمانی اب بھی خدا کے فضل سے در نہ آئی تھی، مگر تھرڈ کلاس میں سفر کے بجائے اعلیٰ درجوں میں یا ہوائی جہاز سے سفر ہونے لگا، اجتماعات میں کھانے اور رہائش کا معیار بلند ہوتا گیا وغیرہ وغیرہ۔
دوسرا نقصان یہ ہوا کہ ان سرمایہ داروں اور زمینداروں کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو گیا جن سے اعانت لی جاتی تھی۔ چنانچہ ان کے ناجائز ذرائع آمدنی کے سلسلہ میں بھی مداہنت سے کام لیا جانے لگا اور جماعت کی پالیسیوں پر ان لوگوں کے اثر انداز ہونے کا دروازہ کھل گیا۔
خفیہ ذرائع: ان ذرائع سے جماعت کے امیر یا اہم افراد کو معقول آمدنی ہونے لگی، لیکن عام ارکان جماعت کو یہ معلوم نہ ہوتا تھا کہ یہ آمدنی کہاں سے آرہی ہے، کتنی آرہی ہے اور کہاں خرچ ہو رہی ہے۔ اس آمدنی میں مولانا کی کتابوں کے ترجموں کی رائلٹی اور عرب حکمرانوں کی جانب سے ان کی وسیع پیمانے پر مفت تقسیم کے لیے خرید اور عرب شیوخ کی بھاری اعانتیں بھی شامل ہو گئیں۔ اسلامی فرنٹ کی پروپیگنڈا مہم پر اٹھنے والے اخراجات اور آمدنی کے ذرائع کے بارے میں عام ارکان تو درکنار، ارکان شوریٰ کو بھی ٹھیک ٹھیک معلوم نہ ہوگا۔ 
میں اس پورے معاملے میں کسی کو بد دیانت نہیں ٹھہرانا چاہتا، لیکن اس طرح بد دیانتی نہ سہی، بد گمانی کے دروازے کھلنے لگے اور ایمانداری کو زیادہ آزمائش میں ڈالنے کا نتیجہ اکثر خطرناک نکلتا ہے۔
پھر یہ بھی ہوا کہ جماعت کے بااثر لوگوں نے اپنی اولاد اور اہل خاندان کو عرب ممالک سے ملنے والے تعلیمی وظائف پر بھیج کر ان کی تعلیم اور روزگار کا اہتمام بھی کر ڈالااور عام ارکان کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی، حالانکہ اس قسم کے وظائف سے استفادے کے لیے جماعت کے اندر جوانوں کا عام مقابلہ کرانا چاہیے تھا۔ 
میں اپنی ان سطور سے نہ کسی پر الزام لگانا چاہتا ہوں نہ کسی کو مطعون کرنا چاہتا ہوں۔ بس دل درد مند کے ساتھ چند گزارشات پیش کر دی گئی ہیں۔‘‘
یہاں جناب سید مولانا وصی مظہر ندوی سب کچھ کہنے کے بعد بھی مداہنت کی تصویر بنے نظر آتے ہیں۔ در اصل جماعت کے نظام تربیت اور سخت ڈسپلن سے ترتیب پانے والا مزاج، اظہار میں پوری طرح آزادنہیں ہو سکتا ۔ جامد نظام سے سخت بر گشتہ شخص بھی حسنِ ظن کی اس بیماری سے جان نہ چھڑا سکا جو اس نظام کے اندر باقاعدہ شرعی حوالوں سے پالی گئی ہے۔ یہاں ہم سوال اٹھائیں گے کہ مولانا وصی مظہر صاحب نے جن حقائق کو سپاٹ طریقے سے پیش کر دیا ہے، کیا اس کے بعد ان پر حسن ظن کے ردے چڑھانا لازم تھا؟ کیا جماعت سے علیحدگی کے بعد بھی وہ اس مداہنت کے پابند تھے؟ یہ حال تو جناب ندوی صاحب جیسے صاحب نظر کا ہے اور جن کی بینائی ہی اس جامد نظام نے چھین لی ہو، وہ کیا کرسکتے ہیں؟
انتخابی شکست کے اسباب کی نشاندہی میں بھی جناب ندوی صاحب نے کافی تفصیلی بحث کی ہے، مگر لگتا ہے کہ اس میں بھی وہ جماعتی ماحول سے آزاد ہو کر صورت حال پر غور نہیں کر سکے۔ انہوں نے ان اسباب کے ذکر میں عجلت پسندی کو پہلا سبب قرار دیا۔ دوسرا سبب انہوں نے خود بیان کرتے ہوئے آزادانہ مشاورت کے فقدان کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ مشاورت کے دوران میں رائے بعض بزرگوں کی عقیدت میں بلا سوچے سمجھے دے دی جاتی ہے۔
انہوں نے ۱۹۵۳ء کے انتخابات کی جائزہ رپورٹ اور فروری ۱۹۷۲ء کی مرکزی مجلس شوریٰ کی قرار داد کے حوالے سے تفصیلات مہیا کی ہیں۔ جائزہ رپورٹ کے مندرجات کے بارے میں تو جناب ندوی صاحب نے تفصیل سے گریز کیا ہے۔ یہ گریز ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔ لگتا ہے کہ جماعت سے غیر مطمئن ہو کر باہر آکر بھی ان کے پاؤں میں جامد نظام کی پہنائی ہوئی بیڑیاں اپنا کام دکھاتی رہیں۔ در اصل اس نظام نے جو ذہن مرتب کیے وہ مکمل آزادی کے ساتھ سوچنے کی صلاحیت سے محروم نظر آتے ہیں۔ اس پہلو سے ہم یہ نہیں سمجھ سکے کہ جنابِ ندوی اس بنیادی حقیقت تک کیوں نہیں پہنچ سکے کہ جماعت کی جملہ سرگرمیوں کا محور استحصالی دوڑ میں شرکت کرکے اپنی بساط کی حد تک حصہ رسدی وصول کرنے کے سوا کچھ نہیں رہا۔ استحصال سے لوگوں کو چھٹکارا دلانے کا جماعت کے پاس کوئی لائحہ عمل ہی نہیں۔ بعض قومی اور عقیدے کے روایتی مسائل کے علاوہ لوگوں کی حقیقی پریشانیوں میں کوئی کردار ادا کیے بغیر آپ سیاسی میدان میں کس طرح پیش رفت کر سکتے ہیں۔ ہم نے تو وہ بد قسمت مناظر بھی دیکھے ہیں کہ لوگ آٹے اور چینی کے لیے، روزہ رکھ کر قطاروں میں کھڑے جانیں دے رہے تھے اور جماعت کے ذمہ داران پورے ملک میں بڑے بڑے ہوٹلوں اور شادی ہالوں میں افطار پارٹیاں منعقد کر رہے تھے۔ شاید ایسی ہی صورت کے بیان کے لیے جناب خرم مراد نے یہ لکھا ہے کہ ہماری دنیا لوگوں سے الگ ہے۔ ہم اپنی دنیا میں مست ہیں اور لوگ اپنی بے بسیوں کا شکار ہیں۔
جماعت نے لوگوں کو درپیش مسائل میں کبھی کوئی ترجیحات مرتب کی ہیں اور نہ ہی ان پر عملی جد و جہد کا سنجیدہ پروگرام بنایا ہے۔ جب بھی یہ بات کہی جائے تو جماعت کے لوگ یہی کہتے ہیں کہ اس طرح کی ترجیحات تو بر سر اقتدار آنے والی جماعتوں نے بھی مرتب نہیں کیں۔ مگر جماعتی حلقے یہ نہیں سوچتے کہ غالب جماعتوں کی کامیابی کے ذرائع جماعت سے بہت مختلف ہیں۔ جماعت کو یہ ذرائع تو حاصل ہی نہیں ہوسکتے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر نذیراحمد شہید کی مثال ایک استثنا ہے۔ انہوں نے مقامی سطح پر سول انتظامیہ پر زبردست گرفت قائم کر کے مظلوم عوام کو جو حوصلہ اور تحفظ دیا، وہ اپنے برگ و بار دے کر رہا۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابی معرکے میں، پیپلز پارٹی پنجاب اور سندھ میں سیلاب کی طرح پھیل گئی۔ ضلع ڈیرہ غازی خان میں ڈاکٹر نذیر کا کمال تھا کہ پیپلز پارٹی پورے ضلع میں ناکام رہی۔ وہ قومی یا صوبائی اسمبلی کی کوئی نشست بھی حاصل نہ کر سکی۔ قومی اسمبلی کا رکن بننے کے بعد، ڈاکٹر نذیر شہید نے اپنے اندازِ جد و جہد کو پورے ملک میں پھیلانے کے لیے عوام کی سطح پر آکر کام شروع گیا تو جماعت کی قیادت پریشان ہو گئی۔ ڈاکٹر نذیر احمد کو جماعت نے پابند کرنا چاہا مگر ایسا عملاً ممکن نہ تھا۔ ’’وہ جماعت کو ایک ایسی راہ پر لے کر چل پڑے جس پر جماعت چلنا نہیں چاہتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو جلد سنبھال لیا وگرنہ جماعت کسی بڑی آزمائش میں مبتلا ہو جاتی۔‘‘ (یہ امیر جماعت اسلامی ملتان شیخ عبدالمالک کی گفتگو کے الفاظ ہیں)۔ ڈاکٹر نذیر شہید کر دیے گئے۔ کتاب زیر تبصرہ میں مولانا وصی مظہر نے اس پہلو کی جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ جماعت کی انتخابی شکست کے جائزے میں ڈاکٹر نذیر کی جد و جہد کا ذکرنہ آئے عجیب و غریب بات ہے۔ جماعت تو شکست کے اسباب معلوم کرنا چاہتی ہے اور نہ ان کو دور کرنے کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔ حیرت یہ ہے کہ جناب وصی مظہر کی موجودہ کتاب بھی ڈاکٹر صاحب کے ذکر سے خالی ہے۔ در اصل جناب ندوی انتخابی نتائج سے مایوس ہو کر دیگر ذرائع کی جانب مائل ہو گئے تھے۔ اس بارے میں انہوں نے مولانا مودودی کے بعض تائیدی حوالے دیے۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے بعد جب لوگوں نے لکھ لکھ کر مرکز میں انبار لگا دیے تو جماعت نے ان تحریروں کے جائزے کے لیے ایک کمیٹی بنائی۔ کمیٹی نے فروری ۱۹۷۲ء کو رپورٹ دی جس پر ایک قرار داد مرتب کر کے مرکزی مجلس شوریٰ میں پیش ہوئی۔ جناب ندوی کی روایت کے مطابق شوریٰ میں قرار داد مولانا مودودی نے خود پیش کی۔ اس موقع پر مولانا مودودی علیہ الرحمہ نے جو تقریر کی، اس کی روایت جناب ندوی کے الفاظ میں اس طرح ہے، مگر یہ واضح رہے کہ جماعت نے جماعتی حلقے مولانا مودودی کے انتخاب کے علاوہ کسی دیگر طریقہ کار کی جانب مائل ہونے سے انکار کرتے ہیں۔ اس بارے میں جناب ندوی کے حوالوں کی بنیاد پر کوئی نتیجہ اخذ کرنا تو اتنا آسان نہیں مگر ان کے حوالے بہر حال اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ایک مولانا مودودی کے مرکزی مجلس شوریٰ سے خطاب مورخہ ۲۸ نومبر ۱۹۷۵ء کا حوالہ دیا ہے۔ صریر خامہ کے صفحہ نمبر ۱۶۹ پر ایک خط پر ان الفاظ میں درج ہے:
’’تباہی کا اصل سبب بالغ رائے دہی ہے۔ میں خود بالغ رائے دہی کے لیے دلائل دیتا رہا ہوں، لیکن تجربے سے معلوم ہوا کہ یہ سب غلط ہے۔ یہ ملت کی قسمت کو جاہلوں کے حوالے کرنا ہے۔ رائے دہی کے لیے تعلیم وغیرہ کی کوئی کم سے کم شرط عائد کی جاسکتی ہے۔ قوم کے دو طبقے ہیں: ایک تعلیم یافتہ طبقہ اور یہی طبقہ در اصل کرم فرما طبقہ ہے، یہی ملک کو چلاتا ہے۔ تعلیم یافتہ طبقہ دو حصوں میں منقسم ہے: ایک دنیا دار اور ایک دین دار۔ ان میں سے دین دار طبقے کی اکثریت اگرچہ ہمارے ساتھ نہیں، لیکن سنجیدہ لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔ دنیا دار طبقے کی بڑی اکثریت ہمارے ساتھ ہے اور یہ طبقہ آہستہ آہستہ ہمارے بارے میں یکسو ہوتا جا رہا ہے۔ عوام الناس کی اکثریت کے باوجود ملک کی زمام کار اسی طبقے کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ان کے مقابلے میں عوام الناس کا یہ حال ہے کہ وہ بہت جلد دھوکہ میں آ جاتے ہیں اور دھوکہ دینے والے لوگ بہت موجود ہیں، لہٰذا انتخابات کے ذریعے کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں، کیونکہ اولاً بھٹو صاحب آمریت کے لیے ہر داؤ استعمال کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ عام لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں، اس لیے وہ ایسے انتظامات کر رہے ہیں کہ اگر صد فیصد رائے بھی ان کے خلاف ہو تو بھی نتیجہ صد فیصد ان کے حق میں نکلے۔ (مارچ ۱۹۷۷ء کے انتخابات میں مولانا مودودی کی یہ پیشین گوئی سچ ثابت ہوئی)۔ عوام صرف اپوزیشن کے لیے اسمبلی میں ارکان بھیجنے کی ضرورت نہیں سمجھتے، وہ صرف اس کو ووٹ دینے کی ہمت کریں گے جس کے متعلق ان کو یقین ہو کہ وہ بھٹو کو Replace کر سکتا ہے، لیکن بھٹو صاحب عوام کو یقین دلا دیں گے کہ تم مجھ کو ہٹا نہیں سکتے۔ اس حالت میں عوام صرف طاقتور کے ساتھ ہوتے ہیں۔ کام کرنے کا صحیح طریقہ صرف یہ ہے کہ ہم ذہین طبقے کے اندر اپنا کام تیزی سے کرتے چلے جائیں تا آنکہ آمر پلپلا ہو جائے اور کرفرما طبقے میں سے کوئی نمبر ۲ اس کی جگہ لے سکے۔ اس وقت ذہین طبقے میں ہماری دعوت پوری طرح گھرکر چکی ہوگی۔‘‘
جناب ندوی کے مطابق قرار داد میں دیگر کئی امور کے علاوہ یہ کہا گیا کہ :
’’جماعت اسلامی سیاسی مہمات میں شرکت نہ کرے اور ہر مسئلہ پر صرف قرار دادوں کی صورت میں اپنی رائے ظاہر کرے۔‘‘ 
’’حکومت سے براہ راست تصادم سے بچتے ہوئے دعوتی اور تنظیمی کاموں پر توجہ دے۔‘‘ (صریر خامہ صفحہ نمبر ۱۷۲)
قرار داد بلا کسی بحث کے منظور ہوئی، لیکن اس کا جو حشر ہوا، اس کا ذکر کرتے ہوئے جناب ندوی لکھتے ہیں:
’’شوریٰ میں بحث نہ ہونے کی وجہ سے ارکان شوریٰ پر نئی پالیسی اور قرار داد کے مضمرات واضح نہ ہو سکے۔ بالخصوص محترم میاں طفیل محمد پر جو قائم مقام امیر کی حیثیت سے اس وقت تک کام کر رہے تھے اور کسی وجہ سے مجلس عاملہ کی بحثوں میں شریک نہ تھے، انہوں نے نہ پالیسی کو سمجھا نہ اس قرار داد کو، حتیٰ کہ دوسرے ہی دن کے اجلاس میں انہوں نے شوریٰ کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ ملک کا نیا دستور بن رہا ہے، اس لیے شوریٰ وہ کم از کم نکات طے کر دے جن کو ہم دستو رمیں شامل کرانا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ جماعت ان نکات کے لیے مہم شروع کردے۔ چنانچہ مولانا مودودی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ ہم نے کل یہی تو طے کیا ہے کہ ہم کسی قسم کی مہم نہ چلائیں گے۔ دستور ساز اسمبلی میں اسٹیئرنگ کمیٹی کے ذریعہ جو اسلامی دفعات شامل کی جاسکتی ہوں، ان کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے، سر دست کسی عوامی مہم کی ضرورت نہیں۔ لیکن جماعت اسلامی پر قابو یافتہ افراد کو یہ قرارداد ایک آنکھ نہ بھائی، چنانچہ انہوں نے اولاً تو اس قرارداد کو تین ماہ تک چھپنے ہی نہ دیا اور اس عرصے میں بتدریج حکومت سے محاذ آرائی شروع کر دی۔‘‘ (صریر خامہ صفحہ ۱۷۲)
بہر صورت جناب ندوی صاحب کی صریر خامہ میں شامل تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی قرار داد پر عمل درآمد کا مسئلہ ان کو جماعت سے باہر لے گیا۔ قرارداد کا منشا، سیاسی جد و جہد کو low profile کی سطح پر لے جانا تھا مگر جماعت کی قیادت اس کے لیے تیار نہ تھی۔ وہ مولانا مودودی اور شوریٰ کو بائی پاس کرنے پر شعوری یا غیر شعوری طور پر تلی ہوئی تھی۔ جناب سید وصی مظہر اس صورت حال میں احتجاج کرتے رہے۔ انہوں نے مورخہ ۳؍اپریل ۱۹۷۲ء، ۹ ؍جون ۱۹۷۲ء کو میاں طفیل محمد صاحب کے نام خطوط لکھے۔ ان خطوط کے بعض حصے صریر خامہ میں شامل ہیں۔ ۹ جون ۱۹۷۲ء کے خط میں مولانا مودودی کی شوریٰ سے خطاب کے کچھ مزید جملے درج کیے ہیں:
’’موجودہ حالات میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف تحریک چلانے میں پیش پیش رہنے کا نتیجہ وہی ہو گا جو ایوب خان کے خلاف جد و جہد میں پیش پیش رہنے کا نکل چکاہے یعنی دکھ سہیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں۔ مذکورہ بالا حالت میں صحیح طریقہ وہی تھا جو مرکزی مجلس شوریٰ نے طے کیا تھا کہ سیاسی حریف کی حیثیت کو حتی الوسع ہلکا کیا جائے اور داعیانہ رنگ اختیار کر کے ملک کے باثر طبقات، طلبہ، اساتذہ، وکلا، مزدور، کسان، کارخانے دار، زمیندار وغیرہ میں منظم دعوتی کام کے ذریعہ یا کسی دوسرے مناسب حال وسیلے سے اسلامی نظام برپا کیا جائے۔‘‘
جناب وصی مظہر صاحب کے احتجاج کو کسی نے نوٹ نہ کیایہاں تک کہ خطوط کے جواب تک نہ دیے گئے۔ انہوں نے ارکان کے اجتماع میں بات کرنا چاہی تو رکن شوریٰ ہونے کی وجہ سے اجازت نہ دی گئی۔ انہوں نے شوریٰ سے استعفا دے دیا تو اسے قبول نہ کیا گیا اور شوری ٰمیں موقع ملا تو کہا گیا کہ اجتماع ارکان میں یہی طے ہوا ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود عملی طور پر پرنالہ وہیں رہا۔ میاں (طفیل) صاحب سے ملاقات کی درخواست کی گئی مگر اس کا کوئی موقع نہ دیا گیا۔ اس کے بعد، جناب ندوی جماعت کے اندر رہنے کی کوئی صورت نہ دیکھتے ہوئے باہر کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔
بہر حال انتخابی شکست کے اسباب کے بارے میں یہ امر اپنی جگہ قطعی ہے کہ جماعت عوامی سطح تک کبھی پہنچی ہی نہیں۔ قومی سطح پر جماعت کچھ نہ کچھ امیج بنانے میں کامیاب ہوئی، مگر مقامی سطح پر تو میدان ہمیشہ کی طرح خالی رہا۔ حالانکہ تبدیلی کا موثر عمل تو مقامی سطح ہی سے شروع ہوتا ہے۔ در اصل جماعت ایشوز پر سیاست کا کوئی لائحہ عمل مرتب ہی نہیں کر سکی۔ جماعت دوسروں کی ترجیحات کا پیچھا کرتی رہی ہے۔ اس بارے میں جس سیاسی اور اجتہادی بصیرت کی ضرورت ہے، جماعت کی قیادت میں اس کا ہمیشہ سے مکمل فقدان رہا ہے۔ جماعت کی پوری سیاسی جد و جہد کا بغور جائزہ لیا جائے تو واقعات سے یہی ثابت ہوتا ہے۔ آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے مقاصد کے لیے اتحادی سیاست میں شرکت جماعتی تشخص کی تباہی کا باعث ہوا۔ ان اعلیٰ مقاصد کے لیے اتحاد کیے بغیر بھی دیگر سیاسی جماعتوں سے تعاون کی راہیں تلاش کرنا ممکن تھیں، مگر ہمارے لیے یہی بہت غنیمت تھا کہ جماعت کی قیادت کو دیگر جماعتیں ساتھ شریک کر لیں۔ یہ در اصل جماعت کی مضبوط تنظیم کا کم از کم معاوضہ تھا۔ اس کے لیے نفع و نقصان کی بیلینس شیٹ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پہلو کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو اس کی وجوہات موجود ہیں، مگر انتخابی اتحاد کی راہ پر چلنا سیاسی خو دکشی سے کسی طرح کم نہیں ۔
اس طویل بحث کا خلاصہ یہ ہوا کہ ’’صریرخامہ‘‘ میں جس قدر تحریریں جماعت پر نقد سے متعلق شامل کی گئی ہیں، وہ قابل توجہ ہیں۔ جناب سید وصی مظہر ندوی نے ان میں جو نتائج مرتب کیے ہیں، ان سے اتفاق و اختلاف کی گنجائش ہے، لیکن ان کی پیش کردہ معلومات ان کے اپنے مشاہدات اور تجربات ہیں۔ یہ کافی مواد کی حامل ہیں۔ اس کی بنیاد پر تحقیق کرنے والوں کو کافی مدد مل سکتی ہے۔ اس پر ۱۹۷۶ء تک کے حالات کے حوالے موجود ہیں۔ اس طرح کی ان کی دیگر تحریروں کو اگر شائع کر دیا جائے تو امید بندھتی ہے کہ یہ بڑی مفید ہوں گی۔ جماعت میں اوپر کی سطح کا کوئی دوسرا شخص ایسا نہیں جس نے کھل کر اور براہ راست انداز میں کلام کیا ہو۔ بہر صورت اس کتاب کو مواد اور موضوع کے لحاظ سے اہمیت دی جانی چاہیے۔

اسلام کی نئی تعریف؟

محمد دین جوہر

میاں انعام الرحمن صاحب نے الشریعہ کے ستمبر ۲۱۰۲ء کے شمارے میں ’’پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدو جہد‘‘ کے عنوان سے ایک طویل مضمون تحریر کیا ہے۔ ذیل کی گزارشات اسی ضمن میں پیش کی جار ہی ہیں۔ ہم میاں صاحب کے اس مضمون کا ایک تجزیہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہیں گے، لیکن تمہید ہی میں یہ عرض کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمیں ا س مضمون کے مشمولات سے نہایت بنیادی نوعیت کااختلاف ہے، کیونکہ قلب ہدایت تک نظریے کی جارحانہ رسائی کو ہم کوئی مستحسن اقدام نہیں سمجھتے۔ اگر خود نظریہ اپنے اظہار کا کوئی علمی اسلوب رکھتا ہو تو اس سے گفتگو میں آسانی ہو جاتی ہے، یہاں تو کیا تکوین اور کیا تاریخ، اور کیا صورت حال اور کیا وحی، سب ایک دوسرے سے اس طرح الجھے ہوئے ہیں کہ تفہیم سربگریباں ہے۔ ان گزارشات کی ضرورت کو بھی میں ابتدا ہی میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس مضمون میں نظری اور نظریاتی کاوش کے سوتے جہاں سے پھوٹ کر تعبیر بن رہے ہیں ، وہ سوتے یا تو بالکل ہی .. unarticulated .. ہیں، یا ان کی ..articulation.. بہت ہی خفیف ہے۔ ہم اپنی کوشش کو زیادہ تر ان کی ..articulation.. پر مرکوز رکھیں گے۔ اس تجزیے کے آخر میں استعمار آفریدہ جدید شعور کے علمی پیچ و تاب کی طرف کچھ اشارات کرنے کی ضرور جسارت کریں گے تاکہ عصر حاضر میں اس کے اسلوب فعلیت کو متعین کرنے کی طرف پیش رفت کو ممکن بنایا جا سکے۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مضمون کا عنوان ’’نفاذ اسلام‘‘ کو اجاگر کرتا ہے، لیکن نفس مضمون میں ’’نفاذ‘‘ ضمنی حیثیت اختیار کر جاتا ہے اور صاحب مضمون ’’اسلام کی نئی تعریف‘‘ کی طرف بہت دور نکل جاتے ہیں، اس قدر دور کہ لوٹ کے ہی نہیں آتے، بس ایک استدراک چھوڑ جاتے ہیں۔ میں تو استدراک ہی پر معتکف ہوں اور ابھی تک یہ عقدہ نہیں کھلا کہ یہ کسی متداول اخبار کا تراشہ ہے یا کسی علمی مضمون کا تتمہ؟ اس ادھیڑ بن میں یہ بھی پتہ نہیں چل رہا کہ ’’اسلام کی نئی تعریف ‘‘ پر دین کی عمارت کہاں استوار ہوئی یا پرانے دین کے ملبے پر نئی تعریف کا علم کہاں بلند ہوا؟ 
اس مضمون کے عنوان میں ’’نفاذ‘‘ کا لفظ برتا گیا ہے۔ یہ لفظ استعمار آفریدہ تعلیم اور اس کے تحت فروغ پانے والے مستریانہ علم کی فضا میں جنم لینے اور پرورش پانے والے شعور کی گھٹی میں پڑا ہے اور اس کا اسم اعظم ہے۔ بعد ازاں، استشراق نے اس شعور کی گود گیر ی مکمل کر کے بہت محنت اور لگن سے اس کی رضاعت کی ذمہ داریوں کو نبھایا ہے۔ پھر نفاذ کا تصور استعماری صدیوں میں پیدا ہونے والے ہمارے زیادہ تر جعلی اور جدید مذہبی علم کا محور بھی ہے۔ نفاذ کی ہر گفتگو ایک ایسے اغماض سے شروع ہوتی ہے جس پر کسی بھی سطح کی علمی دیانت صاد کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ نفاذ کا مسئلہ براہ راست جس چیز سے جڑا ہوا ہے، وہ طاقت یعنی سیاسی طاقت ہے، نظر (theory) یا نظریہ (ideology) یا مذہب نہیں ہے۔ نفاذ کا نظریے یا مذہب سے تعلق براہِ سیاسی طاقت ہے براہ راست نہیں ہے۔ نفاذ کی بحث ثانوی، ضمنی، ذیلی اور تحتانی ہے۔ بنیادی بحث یہ ہے کہ قائم شدہ عصری سیاسی طاقت کا.. structure ..کیا ہے؟ اس سیاسی طاقت کا مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی ..structure.. کس نے تشکیل دیا ہے؟ جدید عصری سیاسی طاقت کا اسٹرکچر کن اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لیے بنایا گیا ہے؟ پھر سیاسی طاقت کی عصری تشکیل عالمگیر سطح پر کیا منہاج رکھتی ہے اور اس کی ساخت روایتی سیاسی طاقت کی ساخت سے کس طرح مختلف ہے؟ سیاسی طاقت کس تاریخ کی کوکھ سے برآمد ہورہی ہے او راس تاریخ کی حرکیات کی تفہیم کے لیے کون سے نظری علوم اور علمی طریقہ ہائے کار فراہم ہیں؟ نفاذ کی بحث کو سیاسی طاقت کے ..structure.. سے الگ کر کے، اور سیاسی نظام میں طاقت روائی کی منہج سے آنکھیں چرا کر نظریے سے جوڑنے کی چابک دستانہ کوشش کرنا ایک گہرا علمی اغماض ہے جو اب ہمارے ہاں کتمان کے درجے کو پہنچا ہوا ہے۔ اگر قانون اور نفاذ کی بحث ہمیں فوری طور پرمتداول سیاسی طاقت کے تجزیے کی طر ف نہیں لے جاتی تو ہمیں اپنی فکر کرنے کی ضرورت ہے ، کسی نا زائیدہ فکر کے امکانات کی پڑتال بعد میں بھی ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ہمیں یہ بات ہر گز نہیں بھولنی چاہیے کہ جدید سیاسی طاقت اپنی تشکیل ..(constitution) ..اور ترسیل.. (deployment).. میں ما فوق الفطرت اثر انگیزی، اثر اندازی اور سفاکی حاصل کر چکی ہے۔ ایسی صورت حال میں جدید سیاسی طاقت نظریے کی سترپوشی کے بغیر فرمانروائی کا تصور بھی نہیں کر سکتی اور نظریہ ..(ideology).. ہی جدید سیاسی طاقت کی جوازکاری.. (legitmization) .. کا سب سے بنیادی، مؤثر اور طاقتورٹول ہے۔ لہٰذا علمی دیانت ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنے ہاں اور عالمگیر سطح پر قائم سیاسی طاقت کے ..structure.. کا مطالعہ متداول علوم میں رہ کر کریں ، اور اس کے منتہائی نتائج پر غور کر نے کے بعد سیاسی طاقت اور نفاذ کے باہمی مسئلے کو حل کریں۔ یہاں ہمیں اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ طاقت کی بحث نظریے کے خلا میں آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔ پھر نظریے اور مذہب پر جو بحوث چل رہی ہیں ان میں شریک ہو کر ہمیں نظریے اور مذہب کا تعلق طے کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی طاقت اور نظریے سے اغماض برت کو نفاذ کی بحث چلانے کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہم اسلام کے نفاذاور اشیائے خوردنی کے نرخوں کے نفاذ کو ایک ۔ہی سطح پر رکھ کر دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور جب جدید علم اور جدید طاقت کا تجزیہ موجود نہ ہو، تو جدید اور بے سروپا نظریا ت کے محاصرے میں مذہبی متون ایک ٹول بن جاتے ہیں۔ 
ایک بات جس کا معلوم ہونا ضروری ہے کہ فاضل مضمون نگار کی یہ تحریر کس نوع علم سے تعلق رکھتی ہے؟ یہ ایک بدیہی اور متفقہ بات ہے کہ انسان کا عقلی شعور ہر تہذیب اور ہر عہد میں علم کے ..standard disciplines and discourses.. میں اپنی فعلیت کے حاصلات کی تشکیل کرتا ہے۔ اس کے بغیر علم کا کسی بھی طرح کا کوئی تصور سرے سے موجود یا ممکن ہی نہیں ہے۔ ورنہ ہر طرح کی بک بک جھک جھک علم ہی قرار پائے گی اور علم کا استدلالی اور جدلیاتی عمل ممکن نہیں رہے گا۔ ہمار ے ہاں تو غدر مچا ہوا ہے اور موج لگی ہوئی ہے۔ لیکن اگر ہم اپنے ماضی کی طرف دیکھیں یا موجودہ مغرب کو دیکھیں تو وہاں بھی علم کا بنیادی اسلوب ..standard.disciplines.and discourses ..میں ہی چلنے کا ہے۔ اسلامی تہذیب میں ظاہر ہونے والی علمی روایت سے آدمی کا اختلاف بھلے جو بھی ہو وہ اپنی جگہ، لیکن یہ روایت استناد اور استدلال کے جواز کے فرق کے ساتھ منقولی اور معقولی کی واضح تقسیم رکھتی تھی۔ یہ مضمون اصول تفسیر، تفسیر القرآن، اصول فقہ، اصول حدیث ، علم بلاغت ، علم بیان وغیرہ کے زمرے سے نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی کلامی اور عرفانی کاوش ہے۔ دوسری طرف اس مضمون کا متداول اور عصری علوم میں شجرہ نسب تلاش کرنا بھی ممکن نہیں ہے، مثلاً فلسفہ، مابعد الطبیعات ، عمرانیات، معاشیات، تاریخ ، آثاریات یا بشریات وغیرہ۔ ہمیں یہ معلوم کرنے میں بہت دلچسپی ہے کہ قرآن پر جس ..hermeneutics..کو آزمایا جا رہا ہے وہ کدھر سے آئی ہے؟ اور وہ ہے کیا؟ اور جن خیالات کو قرآن کے نظریۂ تاریخ کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے، ان کی واضح تفصیل کیا ہے؟ اور ان کی قرآن کریم، نظریہ سازی کے طریقۂ کار کی شرائط، تاریخ نگاری اور اصول تاریخ سے کیا نسبت اور کیا تعلق ہے؟
قیام علم کے تاریخی طور پر دو طریقے موجود رہے ہیں: ایک مذہبی استناد اور دوسرے عقلی استدلال۔ استعمار کے آغاز کے ساتھ ہی ایک نیا استناد اور جواز سامنے آیا جس کا تعلق عہدے سے ہے، یعنی سیاسی طاقت سے۔ اب غالب طور پر یہی استناد باقی رہ گیا ہے، یعنی علم کی قلم رو میں مذہبی استناد اور عقلی استدلال کمزور پڑ گیا ہے اور علم طاقت کی ترجیحات کے مطابق تشکیل پا رہا ہے۔ ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ اس مضمون میں علم کے کس استدلال کو کام میں لایا گیا ہے؟اگر تو یہ کوئی ذہنی سفرنامہ ہے تو پھر اس کا جواز یقیناًموجود ہ ہے کیونکہ سیر عقائد و افکار میں اپنے مشاہدات، تجربات اور پسند ناپسند کے اظہار کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ ایسی صورت میں اس کو نئی تعریف یا تعبیر کا نام دینا مناسب نہیں ہے۔ اور اگر یہ واقعی کوئی نئی تعریف یا تعبیر ہے تو اس کی علمی منہج کو ..articulate.. کرنا ازبس ضروری ہے۔ 
ہم جیسے عام مسلمانوں کے نزدیک حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پاک اور قرآن مجیدکو نہ تو ..question.. کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ..redefine.. کیا جا سکتا ہے۔ صحابۂ کرامؓ، ائمہ اربعہ اور ان کے بعد امت میں ظاہر ہونے والے علما کی طویل درخشندہ لڑی بہت محترم ہے۔ ہم اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلمکے علاوہ کسی کو معصوم عن الخطا نہیں سمجھتے، لیکن ہم بزرگوں کی عیب چینی کو دین اور ایمان دونوں کے لیے سنگین خطرہ سمجھتے ہیں۔ ہم علمائے سوء کے وجود سے انکار نہیں کرتے، لیکن اس کی آڑ میں علمائے حق کی نام نہاد ’فکری ‘مخالفت کو بڑی محرومی اور بدنصیبی خیال کرتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ بات سمجھنا از حد دشوار ہے کہ اسلام کی نئی تعریف متعین کرتے وقت ہمارے روایتی علما کی شامت کیوں آ جاتی ہے؟ آخر انہوں نے ایسی کیا خطا کر دی ہے کہ اسلام کی نئی تعریف پر نکلنے والا ہر مہم جو روایتی علما پر تیر اندازی اپنا اولین فرض سمجھتا ہے؟ جدیدیت پسند دانشوروں اور نام نہادمتجددین نے دین اور اس امت مرحومہ پر جو احسانات فرمائے ہیں، ہم ان کی گوشہ وار تفصیل سے بھی باخبر ہیں۔ یہ بات تو کہی جا سکتی ہے کہ ہمارے روایتی علما جدید تہذیب کی تفہیم اور تردید کے لیے کوئی علمی اور فکری اسلوب پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اس کی وجہ سے یقیناًبہت سے سنگین مسائل پیدا ہوئے ہیں، اور اس معاملے میں ہمیں بھی ان سے سخت شکایات ہیں۔ لیکن ہمارے علما دین کے روایتی موقف کو باقی رکھے ہوئے ہیں اور اسی کا پرچار کرتے ہیں اور یہی اصل چیز ہے۔ ہمارے خیال میں روایتی علما اپنی تمام تر فروگزاشتوں اور تسامحات کے باوجود سرآنکھوں پر بٹھائے جانے کے قابل ہیں کہ وہ دین کے روایتی موقف اور تعلیم سے ارادتاً دستبردار ہونے کے لیے ہر گز تیار نہیں۔ اپنی معاشی اور ثقافتی ابتری اور سیاسی نکبت کے باوجود ہمارے علما ایک گہری شکست میں ہوتے ہوئے بھی دین میں کسی بنیادی رد و بدل پر تیار نہیں۔ یہ ان کا اس امت پر احسان ہے جس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔ 
اسلام کی نئی تعریف کے منصوبہ ساز دانشور حضرات کا ایک نہایت اہم مسئلہ ہے کہ انہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عام مسلمانوں کے تعلق کا روایتی اسلوب پسند نہیں، بلکہ یہ انہیں بڑا ..outdated.. لگتا ہے، قرآن سے عام مسلمانوں کا تعلق صرف فہم تک محدود اورصرف ذہنی نہیں بلکہ وجودی ہے،اور یہ بھی دین کی نئی تعبیر والوں کو بہت دقیانوسی معلوم ہوتا ہے۔ پھر فقہی احکامات کی تفصیلات بھی غیر ضروری معلوم ہوتی ہیں، اور حدیث کا بیان بھی نامکمل محسوس ہوتا ہے۔ ایسی صورت حال میں وہ بڑی احتیاط سے دین سے جڑی ہوئی چیزوں کو منقطع کرنا شروع کرتے ہیں ۔ دینی روایت سے رستگاری کے بعد آخر میں قرآن اپنی ظاہری ہیئت میں باقی رہ جاتاہے اور اس کے معانی پر تعبیراتی طبع آزمائی بہت آسان ہو جاتی ہے۔ نتیجے کے طور پر ہم جیسے روایت پسند اور عام مسلمانوں سے مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ وہ فقہ، حدیث اور دیگر روایتی علوم کو چھوڑ کر ان کے مہیا کردہ چیتھڑوں پر قناعت کر لیں۔ یہ مطالبہ عام مسلمان کے لیے بہت ہی بڑا اور ناقابل تصور ہے۔
اب تین اقتباس ایک تسلسل میں ملاحظہ فرمائیے:
’’ (۱)..اس مطالعے کے دوران میں ایک اساسی نکتہ دھیان میں رکھنا بہت ضروری ہے کہ کتاب اور صاحب کتاب کی اس نوع کی تفصیلات ، قرآنی نظریۂ تاریخ کی روشنی میں کھنگال لینی چاہئیں۔ یعنی ان تفصیلات میں ترجیحی طور پر ان امور کوزیر بحث لانا چاہیے جو کسی بھی عمومی عمرانی صورت حال سے مطابقت رکھے ہوئے ہوں۔ ایک لحاظ سے یہ وہی کام ہے جو شارع نے خود نزول قرآن کے وقت ، ما قبل تاریخ کی چھانٹی اور نچوڑ کی صورت میں کیا تھا، اب اس کام کی ذمہ داری امت مسلمہ کے کندھوں پر ڈال دی گئی ہے۔ ۔۔۔
(۲).. اب مخصوص عمرانی صورت حال کی حامل تاریخ میں نچوڑی عمل کے ذریعے سے حاصل شدہ تاریخ ..(....gist of history) .. جو کسی بھی عمرانی صورت حال کے موافق ہو سکے، اصولاً (قرآن کے داخل میں) محفوظ کر لی جانی چاہیے تھی ، اور اسے محفوظ کر بھی لیا جاتا ہے۔۔۔۔
(۳).. قرآن مجید کی پہلی حیثیت اس اعتبار سے اس امر کی علامت بن جاتی ہے کہ شارع نے تاریخ کی چھانٹی کا عمل قرآن کے داخل میں کر دکھایا ہے۔‘‘ 
یہاں صرف ایک بات رہ گئی ہے کہ شارع کو شاباش نہیں دی کہ اس نے اپنا ..homework.. مکمل کر کے بہت اچھی ..assignment.. تیار کی ہے۔ اور پھر ’’عمومی عمرانی صورت حال‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ اور قرآن کی چھانٹی اس لیے کی جائے کہ وہ اس چیستاں سے مطابقت لیے ہو ئے ہو؟ اور باقی قرآن؟ مصنف لفظی ہیر پھیر سے وہی بات کر رہے ہیں جو مغرب کے جدید دانشور کھل کر کرتے ہیں کہ قرآن کی از سر نو ..editing.. ہونی چاہیے۔ یہاں عمرانی صورت حال، چھانٹی شدہ تاریخ، قرآن میں موجود نچوڑی تاریخ، صورت کی کلی تفہیم، ترتیب نزولی اور ترتیب حتمی کی الل ٹپ بحث، وغیرہ وغیرہ کے نقاب پوش نظریاتی مہرے بھی قرآن مجید کی تدوین جدید کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جس طرح شارع نے چھانٹی شدہ تاریخ کو قرآن بنا دیا اس طرح امت مسلمہ چھانٹی شدہ قرآن کو ایک بار پھر تاریخ بنا دے۔ 
اسلام کی نئی تعریف اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسلام بطور دین کے ہر پہلو کو از سر نو متعین نہ کر لیا جائے۔ اس کا مقصد کسی دینی غایت تک پہنچنا نہیں ہے بلکہ عصری طاقت اور علم کے سامنے معافی تلافی کرکے جان بخشی کرانا ہے۔ اس مہم جوئی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت و مقام کو نہایت غیر محسوس طریقے سے تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔ اسوہ کا نیا مفہوم ملاحظہ ہو:
’’مذکورہ بحث کے بین السطور یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت کے ’’اسوہ کامل‘‘ ہونے کا ایک درخشندہ پہلو، اپنے دور کی سماجی صورت حال اور اس سے منسلک مطالبوں کے مکمل ادراک پر محیط ہے۔‘‘ 
ذرا دیکھیے کہ مصنف نے ’’درخشندگی‘‘ کہاں ارزانی فرمائی ہے! اور پھر ’’اسوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم واور قرآن مجید کی ترتیب نزولی کے باہمی تعلق کی حیثیت ’’تاریخ‘‘ کی ہو جاتی ہے۔‘‘ اگر دین کی نئی تعبیر کے بین السطوری ایجنڈے کی مکمل ..articulation.. ہو جائے تو اصل صورت حال واضح ہو جائے گی، لیکن اہل نظر اس سے خوب واقف ہیں کہ دین کا کوئی پہلو اس بین السطوری شب خون سے بچ نہیں سکتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک کا تاریخ، تقدیر اور تکوین سے کیا تعلق ہے؟ ہم اس بحث میں پڑے بغیر یہ عرض کریں گے کہ جہاں ’’اسوہ کامل‘‘ نعوذ باللہ تاریخ کی گرد بن کے بھی زیب داستان کے لیے ’’کامل‘‘ ہی رہا، وہاں بیچارے قرآن پر کرم گستری بھی ملاحظہ ہو: 
’’لیکن قرآن اپنی اس حیثیت میں ، کہ یہ نچوڑی ہوئی چھانٹی شدہ تاریخ ہے، اپنے جواز کے لیے کسی عمرانی صورت حال سے مطابقت کا مطالبہ کرتا ہے۔‘‘ 
خدا خیر کرے۔ نچوڑی ہوئی یا غیر نچوڑی ہوئی ، چھانٹی شدہ یا غیر چھانٹی شدہ تاریخ ہمیشہ اپنے جواز کے لیے ’’کسی عمرانی صورت حال‘‘ سے ’’مطابقت‘‘ کی بھیک ہی مانگتی ہے، ورنہ وہ تاریخ ہونے کے شرف سے سرفراز نہیں ہو سکتی۔ اللہ قرآن کو اس انجام سے محفوظ رکھے۔ قرآن مجید تاریخی اور عمرانی صورت حال پیدا کرتا ہے، اس سے مطابقت تلاش نہیں کرتا۔ اگر مصنف اس مطابقت کی کچھ علمی تفصیلات بھی ارشاد فرما دیتے کہ متن قرآن اور صورت حال میں یہ کیسے اور کن شرائط پر قائم ہوتی ہے تو ان کا نظریہ واضح ہو جاتا۔
اس مضمون میں فاضل مصنف نے جدیدریاست کے جو معنی فراہم کیے ہیں:[کہیں وہ (اکثریتی قانونی مسلمان)اس غلط فہمی میں تو مبتلا نہیں کہ ریاست ، افراد سے بالکل الگ تھلگ ..(isolated)..کوئی مافوق الفطرت ہستی ہے؟ حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ریاست تو افراد کے مجموعہ کا نام ہے اور یہ افراد کے ایسے مجموعی منشا..(collective will).. کی نمائندگی کرتی ہے جو افراد معاشرہ میں فرد فرد بکھری ہوئی ہوتی ہے۔]، اس کے بعد ہم بہت سے ایسے خیالات پر گفتگو کو مفید خیال نہیں کرتے جہاں انہوں نے جدید اصطلاحات کو ..deploy.. کیا ہے، کیونکہ جو کام وہ دینی اصطلاحات کے ساتھ کررہے ہیں، وہی حشر یہاں جدید علمی اصطلاحات کا بھی ہورہا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے بارے میں نیا عقیدہ ملاحظہ فرمائیں: 
’’یعنی بنیادی طور پر صفاتِ امانت اور دیانت کی بدولت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کا حق دار ٹھہرایا گیااور قرآن کو پردۂ غیب سے ظہور میں لایا گیا۔‘‘ 
نبی کی بعثت کے اس نئے تاریخی معیار کے مضمرات سے مصنف خود ہی ڈر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ’’عام انسانوں کے لیے امانت و دیانت کی اس سطح تک پہنچنا بہت محال ہے۔‘‘ یہ بھی فرما دیتے کہ ان کے نئے تاریخی نظریے کے مطابق کیوں محال ہے؟ ’’اس لیے عام انسان اپنی دیانت کے بل بوتے پر پردۂ غیب سے تو قرآن ظہور میں نہیں لا سکتے۔‘‘ یہ نہیں بتایا کہ کیوں نہیں لا سکتے؟ ان کے ’’قرآنی نظریۂ تاریخ‘‘ کی روشنی میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے تھا، کیونکہ جدید انسان تو اب خلاؤں اور سیاروں سے پتہ نہیں کیا کیا سنگ و خشت اٹھا کے لا رہا ہے، تاریخ اور عمرانیات کے ساتھ ساتھ جدید سائنس کو ..enlist.. کرنے سے شاید کوئی نیاقرآن بھی ہاتھ لگ جاتا۔ ’’تاریخ‘‘ اور ’’عمرانیات‘‘ کے سرکس میں تو بہت کچھ چلتا ہے اور مصنف کو بھی چاہیے تھا کہ اپنے نئے تاریخی اور عمرانی معیار کی پاسداری میں کچھ لوگوں کو اس کا موقع ضرور دیتے۔ ہو سکتا ہے کسی نئے قرآن کی سبیل ممکن ہو جاتی اور سارا ٹنٹاہی نکل جاتا اور جدید ذہن نے قرآن کو جس طرح تختہ مشق بنایا ہوا ہے، اس مشقت ہی سے جان چھوٹ جاتی! اس نئی تعریف کی کوشش میں اکابرین امت اور علمائے کرام کی عزت بھی جاتی رہی جن پر طعن اس پورے مضمون میں جا بجا بکھرے ہوئے ہیں۔ 
جدید ذہن اپنی تعبیراتی مہمات میں فقہ کو کسی بھی صورت میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں: 
’’اب جب کہ روایتی فقہ اپنی داخلی روح اور حقیقی جوہر سے محروم ہو چکی ہے، اس کے ظاہری ڈھانچے سے پیچھا چھڑائے بغیر نفاذ اسلام سے حاصل ہونے والے حقیقی مقاصد تک رسائی ممکن نہیں ہے۔‘‘ 
فرد جرم اور فیصلہ دونوں قابل داد ہیں، جرح غائب ہے۔ بالکل یہی فرد جرم اور فیصلہ خود اسلام پر بھی اب بہت عام ہے ، اس کا کوئی حل بھی مصنف تجویز فرمائیں۔ مسئلہ روح و جوہر وغیرہ کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ فقہ کے ڈھانچے سے کیسے جان چھڑائی جائے۔ اگر روح ہی کا مسئلہ ہے تو یہ دین سے فقہ میں پھر سے ..reintroduce.. کی جا سکتی ہے۔ لیکن شکر ہے کہ تاریخ نے داخلی روح اور حقیقی جوہر کو ختم کر دیا ، اب ہماری ذمہ داری ڈھانچے کی تدفین ہے، کیونکہ یہی ہماری نئی تاریخی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنا دینی ذمہ داری سے زیادہ ضروری ہے۔ فاضل مصنف بھول گئے کہ قانون کی کوئی روح وغیرہ نہیں ہوتی اور اس کی حرکت طاقت سے اخذ ہوتی ہے۔ پھر حدیث کا بھی کوئی بندوبست ہونا چاہیے کیونکہ 
’’واقعہ یہ ہے کہ محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم نے کتاب اور صاحب کتاب کی تفصیلات جمع کرنے میں اگرچہ تساہل نہیں برتا، لیکن ابھی تک ان تفصیلات کی چھانٹی قرآنی نظریہ تاریخ کی روشنی میں قابل اطمینان حد تک نہیں ہونے پائی۔‘‘ 
یہ تاریخی ’’اگرچہ‘‘ ائمہ محدثین پر سب سے بڑے احسان کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، لیکن جدید محدثین کو اس قرآنی نظریہ تاریخ کی خدمت گزاری میں بھرتی ہو کر اطمینان رسائی کے لیے مستعد ہونے کی فوری ضرورت ہے۔ یہاں غور طلب یہ بات ہے کہ اگر قرآن چھانٹی [جس کے لیے جدید لفظ ..editing.. ہے۔ نہ جانے مصنف اس سے کیوں احتراز کررہے ہیں۔] سے نہیں بچ سکتا تو حدیث کی کیا مجال ہے ؟ 
فاضل مصنف نے مضمون میں ’’قرآنی نظریۂ تاریخ‘‘ کا اطلاق پورے دین پر کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں نفاذ اسلام کا مسئلہ اسلام پر ایک نظریے کے نفاذکی کاروائی میں تبدیل ہو جاتاہے۔ نفاذ، اطلاق، تطبیق وغیرہ کی دلدادگی بری نہیں، لیکن قرآن کو خلاصۂ تاریخ کہہ کر اس کو عمرانی نظریہ قرار دینا بہت سنگین طور پر محل نظر ہے۔ یہاں یہ امر واضح ہونا چاہیے کہ یہاں تاریخ سے کیا مراد ہے؟ کیا انسان کی معلومہ تاریخ ہے جس کا شارع نے خلاصہ بنایا ہے؟ مستشرقین اور جدید مغرب کے اسکالر تو یہ الزام رکھتے ہیں کہ قرآن توریت اور بائبل کا خلاصہ ہے۔ چلو، اس الزام سے رستگاری کی کوئی سبیل نظر آئی اور اب یہ تاریخ کا خلاصہ ہو گیا۔ لیکن قرآن کے لیے یہ نیا اعزاز تو پرانے الزام سے بھی بدتر ہے۔
’’ اس لیے ترتیب نزولی کا حامل قرآن تاریخ کے نچوڑ کے جلو میں عصری مطالبات کی تکمیل کرتا دکھائی دیتا ہے۔یعنی ایک لحاظ سے نزول قرآن کا یہ خاص پہلو صراحت کرتا ہے کہ کہ تاریخ نہیں بلکہ چھانٹی شدہ تاریخ ..(selected history ).. سے ایک حد تک مدد لے کر عصری مسائل سے نمٹا جا سکتاہے۔‘‘ 
اس اپروچ کے بعد قرآن کی ضرورت ویسے ہی ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ فاعل کے لیے قرآن اور عصری مسائل اب ایک ہی سطح کی چیز ہیں۔ عصری مسائل تو خود تاریخ کی پیداوار ہیں، اور تاریخی تجربے سے انسان ان کے حل میں لگا رہتا ہے۔ اسے اس کے حال پر چھوڑنے میں کیا مضائقہ ہے؟ اگرحق اور تاریخی تجربہ ایک ہی سطح کی چیزیں ہیں تو ہمیں اپنے دین کی خیر منانی چاہیے۔ مصنف کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اصل نظریات کی ..articulation.. کے بغیر ان کا اطلاق کیا ہے۔ ابھی تاریخ کا مسئلہ حل نہیں ہوا تھا کہ چھانٹی شدہ تاریخ کا نیا مسئلہ نمودار ہو گیا۔ اور انہوں نے تاریخ کا نچوڑ تیار کرنے کے نسخے کا اظہار اپنے تجاہل عارفانہ میں قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ شاید مریض کی حالت ابتر ہے، اس لیے نچوڑ پلانے کی جلدی ہے۔ اب ہمارے جدید دینی مطب سے یہی کچھ ہاتھ آتا ہے ، اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ 
فاضل مصنف کا عمرانی مطالعہ اب ایک نئی تفہیمی منزل پر پڑاؤ ڈالتا ہے۔ ہم گفتگو کی خاطر پورا اقتباس درج کرنا چاہیں گے: 
’’ اب ذرا توقف کرکے غور کیجیے کہ اصلاً کوئی نہ کوئی ’’صورت حال ‘‘ ہی آیات کے نزول کا سبب بنتی رہی۔اس سارے عمل میں سے صورت حال کو خارج کر دیا جائے تو نزول آیات کا جواز..(rationale).. ختم ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صورت حال موجود نہ ہوتی تو قرآن مجید کابھی نزول نہ ہوتا۔ اگر بات کو غلط رنگ نہ دیا جائے تو ہمیں کہنے دیجیے کہ اس تناظر میں متن قرآن ..(text. .of Quran)..سے کہیں بڑھ کر صورت حال.. (the given situation).. اہم ہو جاتی ہے۔ متن قرآن تو لوح محفوظ میں پہلے سے موجود تھا۔ اس کے بتدریج نزول کی اہمیت یہی ہے کہ اسے اس صورت حال کی مطابقت میں نازل کیا گیا۔ صورت حال نے اس مجرد شکل میں اپنے سر نہیں لیا۔ یہاں نکتے کی بات یہ ہے کہ متن قرآن اور صورت حال میں مطابقت کی بنیادی شرط اس صورت حال کی صداقت پر مبنی غیر جانبدارانہ بالائے تعصب کلی تفہیم تھی۔ اس لیے متن قرآن نہیں بلکہ حقیقت میں صورت حال کی اس مبنی بر صداقت تفہیم نے اس سماج کو قرآن پاک کی وہ معنویت عطا کی جس نے بعد ازاں اس صورت حال کو اپنے قابو میں کر لیا اور اسے بدل کر رکھ دیا۔‘‘ 
محولہ بالا پیراگراف نہایت اہم ہے اور مصنف کے مافی الضمیر کو بہت بہتر انداز میں منعکس کرتا ہے۔ دین میں کارفرما جدید شعور کا ایک اہم مسئلہ روایتی معاشرے میں اس کے اپنے تاریخی تجربے سے پیدا ہونے والا خوف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مذہب کی بابت اپنے اساسی تعبیری قضایا کا بہت واضح اظہار نہیں کرتا۔ لیکن اب تو عصری تاریخ کا ہر قدم ان کے رخ اور حمایت میں ہے، اس لیے انہیں ذرا جرأت سے کام لینا چاہیے اور اپنی اساسی فکر کا کھل کر اظہار کرنا چاہیے۔ گزارش یہ ہے کہ مغرب میں ظاہر ہونے والا جدید شعور استعمار آفریدہ جدید شعور کا پدری شعور ہے۔ ’پتا پہ گھوڑا‘ کے مصداق یہ دیسی جدیدشعور اس کے کچھ ثقافتی خواص کا حامل ضرور ہے لیکن اس کا وارث شعور نہیں ہے۔یہ شعور کسی ایسے مسئلے سے نبردآزما ہی نہیں ہوا جس کا سامنا تہذیب مغرب میں ظاہر ہونے والے جدید شعور کو ہوا۔ مختصراً یہ کہ مذہب کے حتمی انکار کے بعد مغربی شعور کو ایک بہت بڑا مسئلہ درپیش ہوا جس کا تعلق ..origin..سے ہے، کائنات، حیات اور شعور کے ..origin.. کا۔ انیسویں صدی میں یہ مسئلہ گھمسان کا سماں رکھتا ہے۔ یہ سوال علمی یا عقلی نہیں ہے۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ انسانی شعور اپنی اس طلب کو پورا کیے بغیر ..functional.. نہیں ہو سکتا۔ یہ ..reason.. کے دائرہ کار سے متعلق نہیں ہے، یہ اعلیٰ شعور یعنی ..intellect.. کی فطری طلب ہے اور ..reason..اس وقت تک اپنے کام کا آغاز نہیں کر سکتی جب تک انسانی شعور کی یہ طلب پوری نہ ہو جائے۔ یہ طلب وہ خدا سے پوری کرے یا کسی بت سے، اس کے بغیر وہ اپنے کام کا آغاز کر ہی نہیں سکتا۔ جدید مغربی شعور نے اس کا حل یہ نکالا کہ ہر چیز کا ..origin..تاریخ ..(history)..، ثقافت یعنی کلچر، ..آثاریات.. (archaeology).. اور استخوانی زمانیات ..(palaentology).. میں تلاش کیا جائے، اور ماورا کے سوال اور امکان ہی کو ختم کر دیا جائے کیونکہ عقل اسے ماننے کے لیے تیار ہی نہیں، کیونکہ جدید شعور ماورا کے سوال ہی کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ بعد میں یہ تصور مذہب کے تاریخی اور ثقافتی منشا ..(origin).. کی صورت میں مذہبی مطالعات میں سامنے آیا اور آج تک قائم ہے۔ 
اس تناظر کا دعویٰ یہ ہے کہ مذہب بھی تاریخ اور ثقافتی حالات یعنی صورت حال ہی کی پیداوار ہے ، ماورا وغیرہ سب لغویات اور توہمات ہیں۔ دیسی اور کم جرأت آزما جدید شعور کے نزدیک ’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ [تاریخی] صورت حال موجود نہ ہوتی تو قرآن مجید کا نزول نہ ہوتا۔‘‘(بریکٹ میں لفظ راقم کا اضافہ ہے۔) نعوذباللہ، اگر اللہ بھی اس تاریخ کے سامنے مجبور ہے تو ہماری کیا مجال کہ ہم نچوڑی تاریخ سے رہنمائی حاصل نہ کریں؟ ہم بات کو غلط رنگ نہیں دیتے، لیکن اب تو صاف ظاہر ہے کہ ’’متن قرآن سے کہیں بڑھ کر صورت حال اہم ہو جاتی ہے۔‘‘ یعنی تاریخ کی اہمیت اول ہے ، وحی کی حیثیت ثانوی ہے۔ پھر وہ فرماتے ہیں کہ ’’متن قرآن نہیں، بلکہ حقیقت میں صورت حال کی اس مبنی پر صداقت تفہیم نے‘‘ سماجی صورت حال کو تبدیل کر دیا۔ یہاں متن قرآن کی تفہیم غیر اہم ہو گئی۔ اہم تر یہ ہے کہ قرآن بھی اپنی معنویت ’’صورت حال کی مبنی بر صداقت تفہیم‘‘ سے اخذ کرتا ہے جو اس وقت کا شعور اپنی صلاحیت سے تاریخ سے نچوڑتا ہے۔ اب تو بات صاف ہو گئی۔ لیکن صدر اول میں یہ کارہائے نمایاں کس کس نے کب سرانجام دیے ، اگر مصنف ان کا نام بھی ارزانی فرما دیتے تو آج تاریخ کے محاصرے میں آئے ہوئے مسلمانوں کا بہت بھلا ہو جاتا۔ اب تو تاریخ کی تفہیم بھی وہیں سے آ رہی ہے جن کے قبضے میں تاریخ ہے۔ قرآن تو گیا نہ جانے اب ہماری تاریخی صورت حال کی تفہیم کا کیا ہوگا؟ دراصل ’’صورت حال‘‘ شان نزول کا جدید ترجمہ ہے۔ شان نزول کی اہمیت تو ہمارے علما ہی بہتر بتا سکتے ہیں، لیکن صورت حال بنتے ہی اسے تاریخ ہڑپ کر لیتی ہے۔ 
’’صورت حال‘‘ کی بابت مصنف کی مزعومہ ’’کلی تفہیم‘‘ بھی محل نظر ہے۔ حیرت ہے کہ کوئی تفہیم کلی بھی ہو سکتی ہے۔ صورت حال کی تفہیم لابدی نظری ہو گی، لہٰذایہ اعتباری اور کسری ہی ہو گی۔ علم تصور سازی کے اصول اور ادراک کے اصول کو متعین کیے بغیر قائم نہیں ہو سکتا۔ قیام علم کی شرط اول امتیاز اور حصر ہے۔ صورت حال سے میرا خیال ہے کہ مصنف ..human situation.. .مراد لے رہے ہیں، اور کہیں بھی..human condition.. مراد نہیں لے رہے، کیونکہ ان دونوں کے معنوی احتمالات مختلف ہیں۔ انگریزی کا ایک مشہور ناول نگارجان فاؤلز ..situation.. ہی کو خدا قرار دیتا ہے، کیونکہ یہ بقول اس کے انسان پر اسی طرح غالب اورقادر ہے جس طرح کوئی مفروضہ خدا ہو سکتاہے۔ تاریخی صورت حال لحظہ لحظہ انسانی ارادے اور تقدیر کی نمود ہے۔ صورت حال انسان کا مسئلہ ہے، وحی کا مسئلہ نہیں ہے۔ جس طرح صورت حال انسان کو روند ڈالتی ہے، اسی طرح وحی اللہ کے رسول میں مجسم ہو کر تاریخی صورت حال کو ادھیڑ دیتی ہے اور نتیجتاً پیدا ہونے والی صورت حال ہر گز ہر گزمکرر ہر گز تاریخی نہیں ہوتی کیونکہ اس کی پیدائش کے اسباب تاریخی نہیں ہوتے، ماورائی ہوتے ہیں۔ اگر وحی متن بن رہی ہے تو ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک میں مجسم قرآن بن کر ارضی نمود میں ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ اپنی صورت حال کا کشکول لے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہے۔ آپ ہی نے اس صورت حال کو معنویت عطا کرنی ہے ، آپ نے اس سے کوئی تفہیم تھوڑی اخذ کرنی ہے۔ اسی بارگاہ سے جب تاریخ کو تقدس اور استناد حاصل ہوتا ہے تو یہ روایت بن جاتی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ حضور حق میں علم گستاخی اور مرضی بغاوت بن جاتی ہے۔اس لیے کہ علم اور مرضی تاریخ ہی کے مظاہر ہیں۔ اس کا علاج عمل صالح ہے جو تاریخ کی نفی ہے اور حضور حق رہتے ہوئے میں علم اور ارادے کی ..synthesis.. ہے۔ حضور حق میں کسی کے ذہن کی کیا مجال کہ وہ صورت حال کی کلی تفہیم حاصل کرتا پھرے، تاریخ کی گرد کو چھانا کرے، اور ارادے کی کیا مجال کہ تفہیم کو رہنما بنا کر صورت حال کو قابو میں کرتا پھرے۔ 
یہاں ہم ’’صورت حال‘‘ کی جدید نظری بحث سے دانستہ احتراز کرتے ہوئے یہ گزارشات پیش کر رہے ہیں، لیکن محولہ بالا پیراگراف میں دو فقرے تو درجۂ کمال کو پہنچے ہوئے ہیں۔ ان کا اعادہ تجزیے کے لیے ضروری ہے۔پہلا فقرہ یہ ہے: ’’یہاں نکتے کی بات یہ ہے کہ متن قرآن اور صورت حال میں مطابقت کی بنیادی شرط اس صورت حال کی صداقت پر مبنی غیر جانبدارانہ بالائے تعصب کلی تفہیم تھی۔‘‘ اب اس میں تین چیزوں کا ذکر ہے جو اصل مقصد کے لیے درکار ہے:
۱: متن قرآن
۲: صورت حال
۳: کلی تفہیم
یہ کلی تفہیم(۱) صداقت پر مبنی ہونی چاہیے،(۲) غیر جانبدارانہ ہونی چاہیے،(۳)بالائے تعصب ہونی چاہیے، اور (۴) کلی ہونی چاہیے۔ اگر یہ مضمون علمی ہوتا تو مصنف اخلاقی شرائط گنوانے کے بجائے اس تفہیم کی علمی شرائط بیان فرماتے۔ پھران شرائط کے ساتھ ہونے والی تفہیم تو انسانی نہیں ہو سکتی ، (نعوذ باللہ) یہ تو اللہ ہی کر سکتا ہے۔اور اگر یہ اللہ ہی نے کرنی ہے تو اسے تو کسی تفہیم کی ضرورت نہیں ہے، اگر ہے تو پھر وہ اللہ نہیں ہو سکتا۔ اگر نعوذ باللہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کرنی ہے تو چلیے تفہیم تو ہو گئی، اب قرآن لوح محفوظ سے نکلوانے کا مسئلہ درپیش ہو گا، اس کا کیا حل ہے؟ اگر نعوذ باللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صورت حال کی کلی تفہیم تو کر لی تو اب جبرئیل علیہ السلام کی ذمہ داری دوہری ہو گئی کہ ادھر سے ’’کلی تفہیم‘‘ لے کے جا رہے ہیں اور ادھر سے ’’لوح محفوظ سے قرآن‘‘ نکلوا کے لا رہے ہیں۔صورت حال علت اور نزول قرآن معلول ہو گیا۔ ہم تو تاریخ کے قرآن پر غلبے پر نوحہ کناں تھے ، یہاں تو تاریخ ملائے اعلیٰ تک کارفرما دکھائی دیتی ہے۔ نعوذ باللہ ایسے میں یہ جاننا بہت دلچسپ ہو گا کہ اللہ کی مصروفیت کیا رہی ہو گی؟ یہ معاملہ بھی اس نئی الٰہیات میں مذکور ہونا چاہیے تھا۔ فاضل مصنف کے مضمون سے متبادر ہوتا ہے کہ یہ سارا معاملہ ’’خودکار‘‘ رہا ہوگا۔ ہم سے تو ابھی اس کلی تفہیم کا مسئلہ ہی حل نہیں ہو پا رہا، مطابقت کی کیا مدح سرائی کریں گے۔ ہم نے اس ذہن کا ذکر یہاں احتیاطاً نہیں چھیڑا جو اس ہفت خواں کو طے کرے گا، کیونکہ فاضل مصنف نے اس تفہیم کے ابھی صرف اخلاقی اصول متعین فرمائے ہیں، اس تفہیم کی تصوراتی اور ادراکی شرائط کا ذکر نہیں کیا۔ اگر وہ بھی ہو جاتا تو شاید بات کسی سرے لگ جاتی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ صورت حال، عقل ، تفہیم اور متن کا آپسی تعلق کیا ہوتا ہے؟ اور اس تعلق کو طے کیے بغیر یہاں اس کی تطبیق کا کیااخلاقی یا علمی جواز ہے؟ دوسر ے فقرے میں صرف دو لفظی تصرف سے بات مزید صاف ہو جاتی ہے: ’’اس لیے متن قرآن نہیں بلکہ حقیقت میں صورت حال کی اس مبنی بر صداقت تفہیم نے اس سماج کو قرآن پاک کی وہ معنویت عطا کی جس نے بعد ازاں اس صورت حال کو اپنے قابو میں کر لیا اور اسے بدل کر رکھ دیا۔‘‘ یہ اصل فقرہ ہے۔ اب دو لفظ تبدیل کرنے سے اصل بات سامنے آ جاتی ہے: ’’اس لیے متن قرآن نہیں بلکہ حقیقت میں صورت حال کی اس مبنی بر صداقت تفہیم نے اس سماج کو[اور] قرآن پاک [کو] وہ معنویت عطا کی جس نے بعد ازاں اس صورت حال کو اپنے قابو میں کر لیا اور اسے بدل کر رکھ دیا۔‘‘ مسئلہ صرف یہ ہے کہ تاریخ کو وحی پر اور ذہن کو متن قرآن پر غالب رکھا جائے۔ یہ ایک ہی مسئلے کے دو رخ ہیں۔ سب لفظی کھینچ اور معنوی تان صرف اسی لیے ہے۔ 
اس مضمون میں سامنے آنے والی نظرسازی..(theorization).. میں ہمارے لیے یہ مسئلہ تو اپنی جگہ ہے کہ جناب مصنف نے دینی اصطلاحات کی داخلی معنویت کو بدلنے کی کوشش کی ہے ، وہاں اس سے بھی سنگین ترمسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے جدید اصطلاحات کو نیا پیرہن دے کر حریم ہدایت میں ان کے فاتحانہ داخلے کی راہ ہموار کی ہے۔ 
اب ہم آخر میں کچھ گزارشات جدید شعوراور اس کے علمی پیچ و تاب[یہ امام رازیؒ کے پیچ وتاب کی قبیل سے نہیں ہے۔] کے بارے میں پیش کرنا چاہیں گے۔ اس جدید شعور سے وہ ذہن مراد نہیں ہے جو مغرب میں ظاہر ہوا، بلکہ وہ شعور مراد ہے جس کی تولید اور تنویم اسلامی جغرافیہ میں استعمار اور استشراق نے کی ہے۔ یہ استعمار زائیدہ اور استشراق پروردہ شعور ہے۔ اس کے حاصلات قطعی غیر اہم ہیں، اورگزشتہ دوصدیوں میں اس کے حاصلات کے سامنے کوڑی ایک خزانہ ہے۔ اہم تر اس کی ساخت یعنی اس کے احوال ہیں۔ مذکورہ مضمون میں اسلام کی نئی تعریف متعین کرنے کی کوشش اس شعور کی کلاسیک مثال ہے۔ لیکن نئی تعریف کی منزل روایت اور اس کے تمام تر محتویات کو بلڈوز کیے بغیر حاصل ہونے والی نہیں۔ جیسا کہ ہم اس مضمون میں دیکھتے ہیں کہ فاضل مصنف نئی تعریف کے خدوخال بھی واضح نہیں کر پائے اور تھوڑی سی نئی ..space.. پیدا کرنے کی خاطر انہیں دین کی ہیئت اور پوری معنوی کائنات پر تیشہ چلانا پڑا۔ انہوں نے تہذیب لفظ کے سارے آداب ، حرمت معنی کی ہر رہ گزر اور منقولہ اور جدید علوم کے سارے سنگ میل بدل دیے، پھربھی نئی تعریف کی منزل التوا میں ہے۔ اس سارے کھلواڑ کی ضرورت آخر کیوں پڑتی ہے؟ غایت یہ ہے کہ مثلاً دیانت ، امانت اور حیا جیسی اصطلاحات کی دینی معنویت کو ..anesthetize.. اس لیے کیا گیا تاکہ اصل مقصد حاصل ہو سکے جو یہ ہے کہ:
’’سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حیا کے مذکور معنی میں وہ لوگ [یعنی اہل مغرب] باحیا نہیں ہیں؟ اور نتیجتاً دیانت دار نہیں ہیں؟‘‘
یہاں’ حیا‘ کی جگہ دین کی کوئی اصطلاح یا کوئی تعلیم رکھ کر ’مذکور معنی‘ کا کلبوت چڑھا دیں تو اصل بات سامنے آ جاتی ہے۔ محولہ فقرے کا مطلب یہ ہے کہ ’مذکور معنی‘ میں یہی لوگ باحیااور دیانت دار ہیں، کیونکہ مذکور معنی کی تلاش اسی مقصد ہی کے لیے تھی۔ اور’مذکور معنی‘ میں بیچارے مسلمان تو ہیں ہی بے حیا، بدیانت اور بے غیرت کیونکہ ابھی اپنی بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کیساتھ بدکاری کرنا ان کا شعار نہیں ہے۔ اگرمسلمان حیا اور دیانت کے مغربی معیار پر فائز ہو جائیں گے تو پھر شاید یہ بھی مہذب کہلا سکیں۔ ہمارے خیال میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ جدید شعور جب دین کے روبرو درپے تعبیر آتا ہے تو اس کا مقصد محض اور محض مغربی طاقت، مغربی علم اور جدید انسان کی نفسی ترجیحات کو ..accommodate .. کرنا ہوتا ہے، کیونکہ جدید شعور کے لیے مغرب بیک وقت ایک ..ideal .. بھی ہے اور ..norm.. بھی، اور استعمار کے زیر اثر یہ اس شعور کے تشکیلی عناصر ہیں۔ دین کی الوہی جہت کو ایک فکری ..ideal.. بنانا اور دین کے ہر شعار کو مغربی..norm.. کے تابع کرنا جدید شعور کی سب سے بڑی آرزو ہے۔جدید شعور کا ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ خود اس کی تولید و تنویم جس اساس اور مبادی پر ہوئی ہے، وہ ان کا فکری تجزیہ کرنے اور ان کی ..articulation.. کے لیے تیار نہیں ہے۔ اور جب اس کے پیدا کردہ جعلی ..discourses.. کے مضمرات کو ..articulate.. کیا جاتا ہے تو نوبت خراب ہو جاتی ہے۔ 
ہمارے خیال میں تہذیب جدید اپنے استعماری ورژن میں جب ہم پر غالب آئی تو اس سے ایک نہایت سنگین تاریخی صورت حال پیدا ہو گئی۔ اس سنگین صورت حال کا اظہار ہماری تاریخ کے ہر سنگ میل پر مل جاتاہے۔اگر اکبر الہ آبادی اور اقبال کو بیک نظر دیکھیں تو ان کے ہاں اس کا ..fullest.expression.. موجود ہے۔ مغرب کے روبرو ہماری مزاحمت کا اسلوب یا تو سیاسی رہا ہے یا جمالیاتی۔ ہمارا سیاسی ارادہ اور جمالیاتی شعور ہماری مذہبی روایت میں تشکیل پانے والے اخلاقی شعور کا پروردہ ہے۔ ہمارے اخلاقی شعور کے کمزور ہوتے ہی دونوں طرح کی مزاحمت بھی کمزور پڑ گئی۔ اس میں سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے ہاں نظری علوم پیدا ہی نہیں ہو سکے جن کی طرف اقبال نے اپنی ’تشکیل جدید‘ میں پیشرفت کی ناکام کوشش کی تھی۔ دنیا ، تاریخ اور معاشرے کو سمجھنے کے لیے ، یعنی آفاق کی تفہیم کے لیے نظری علوم از بس ضروری ہیں۔ وحی کی ہدایت کا فوکس اور مخاطب غالب طور پر انفس انسانی ہے۔ نظری علوم ہر تہذیب کے بنیادی اور اساسی تصور حیات کے ملازم ہوتے ہیں۔ ہماری خوش فہمی یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے اساسی بیان سے نمود لانے اور نمو لینے والے نظری اور مستریانہ علوم اسلامی تہذیب کی بڑی خدمت بجا لائیں گے۔ یہ ہمارے انہدام شعور کی آخری منزل ہے، کیونکہ نظری علوم کی عدم موجودگی میں ہم اپنے تاریخی تجربے اور روز کے مشاہدے کی درست تعبیر پر بھی قادر نہیں رہے۔ اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ اسلام مغرب سے تہذیبی عینیت اور وجودی مفاہمت پید اکر چکا ہے اور ہم اپنی مزاحمت کو اپنے انفس میں بھی جاری رکھنے کے وسائل سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس منظرنامے میں ضروری ہے کہ دین کا نئے علوم کی روسے معائنہ کرنے سے پہلے دین کی رو سے نئے علوم کا محاکمہ کیا جائے۔ اب دین ہمارے سرکا تاج نہیں رہا، ہمارے پاؤں کی زنجیر بن گئی ہے۔جدید شعور کے سارے ہتھکنڈے اس زنجیر سے پیچھا چھڑانے کے لیے ہیں۔ ہم نے نئے نظری علوم کے گھوڑے جس طرح دین پر تعبیراتی مہم جوئی کے لیے روانہ کیے ہوئے ہیں ، اس سے زیادہ شدو مد سے ہم دینی متون پڑھ کر اس بات کا ادعا کرتے ہیں کہ مغرب کی ترقی کا ہر ٹیکنالوجیائی اور ادارہ جاتی ثمر دین کے عین مطابق ہے، کیونکہ انہوں نے یہ سارا کچھ اسلام ہی سے لیا ہے۔ ہمیں فکر اس بات کی ہوتی ہے کہ مغرب کی کوئی چیز، سوائے چند ایک اخلاقی افعال کے، دین کی رو سے غلط ثابت نہ ہوجائے۔ہمارے ہاں نئی تعلیم اور کلچر کا پروردہ شعور نفس دین پر نئی تعبیرات کی پیشقدمی جاری رکھے ہوئے ہے اور روایتی تعلیم میں پروردہ شعور مغرب کے تقریباً ہر پہلو کو دین کی سند جواز دینے کے لیے تڑپتا رہتا ہے۔ جدید آدمی یہ کام معاشرے میں روشن خیال اور دانشور بننے کے لیے کرتا ہے، اور کچھ مولوی حضرات کو بھی روشن خیالی کے ہم قدم رہنے کی فکر ہوتی ہے۔ اللہ ہمیں اس ملی بھگت سے محفوظ رکھے۔
آخر میں ہم میاں صاحب سے گزارش کریں گے کہ ’نفاذاسلام‘ وغیرہ کا بورڈ لگائے بغیر وہ ہمیں یہ بتائیں کہ قرآن کا نظریۂ تاریخ کیا ہے؟ اس میں ہمارا التماس ان سے یہ ہے کہ ان کی بحث متداول ..discourses.. کی شرائط پر ہوئی چاہیے۔ ہم یہ مطالبہ ہر گز نہیں کر رہے کہ وہ ان ..discourses.. کے نتائج کو قبول کرنے کے پابند ہیں، ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ جس استدلال سے نظری علوم قائم ہوتے ہیں، اسی سے منہدم بھی ہوتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ وہ مذہب کو ایک طرف رکھ کر ہمیں یہی بتا دیں کہ نظریۂ تاریخ ہوتا کیا ہے؟ اور اس کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ تاریخ سے کیا مراد ہے؟ کیا کوئی نظریہ علمی بھی ہوتا ہے یا محضwill to truth کا اظہار ہوتا ہے؟ وہ تھیوری اور آئیڈیالوجی میں فرق کس طرح سے قائم کرتے ہیں؟ کیا وحی اور تاریخ کے باہمی تعلق کو زیر بحث لائے بغیرقرآن کو نچوڑی تاریخ کہنا اور پھر اسی کو قرآن کا نظریۂ تاریخ قرار دینا جائز ہے؟ پھر انہیں یہ بھی واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ علم کی جدید بحث میں وحی کی کیا گنجائش نکلتی ہے؟ ہمارا خیال ہے، اللہ نے انہیں جتنے علمی وسائل عطا کیے ہیں وہ یہ کام کر سکتے ہیں۔اس سے ہمیں رائے تبدیل کرنے اور درست موقف اختیار کرنے میں آسانی ہوگی۔

مولانا سعید احمد رائے پوریؒ / مولانا مفتی محمد اویسؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا سعید احمد رائے پوریؒ کے ساتھ میرا رابطہ سب سے پہلے ۱۹۶۷ء میں ہوا جب دینی مدارس اور کالجوں کے طلبہ پر مشتمل ایک مشترکہ طالب علم تنظیم ’’جمعیت طلباء اسلام پاکستان‘‘ کے نام سے وجود میں آئی۔ سرگودھا اور لاہور کے ساتھ ساتھ گوجرانوالہ بھی اس تنظیم کی سرگرمیوں کے ابتدائی مراکز میں سے تھا۔ گوجرانوالہ میں ہمارے ایک استاذ محترم مولانا عزیز الرحمنؒ ، میاں محمد عارف اور راقم الحروف اس کے لیے متحرک تھے جبکہ مولانا سعید احمد رائے پوریؒ جمعیۃ طلباء اسلام کی تنظیم و توسیع کے لیے مسلسل سرگرم عمل تھے۔ حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ اور حضرت سید نفیس شاہ صاحبؒ کے ساتھ وہ بھی جے ٹی آئی کے سرپرست کے طور پر متعارف تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جے ٹی آئی کو شہر شہر اور قصبہ قصبہ منظم کرنے اور طلبہ کی ذہن سازی میں ان کا کردار سب سے زیادہ نمایاں رہا۔ ہمارا یہ رابطہ اور اشتراک کار جمعیۃ طلباء اسلام کے بعد جمعیۃ علماء اسلام میں بھی سالہا سال تک جاری رہا اور ہم نے متعدد دینی تحریکات میں اکٹھے کام کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس طرح کم و بیش ایک عشرہ تک فکری، سیاسی اور تحریکی رفاقت کے بعد جب جمعیۃ طلباء اسلام دو حصوں میں بٹ گئی تو ہم دو الگ الگ کیمپوں میں شمار ہونے لگے، لیکن باہمی ملاقاتوں اور تبادلۂ خیالات کا سلسلہ چلتا رہا۔ بعض مسائل پر اختلاف رائے کے باوجود ہماری دوستی اور باہمی احترام و مودّت میں کوئی فرق نہ آیا۔ حتیٰ کہ گزشتہ سال کے دوران وہ گوجرانوالہ میں اپنے عقیدت مندوں کے پاس ایک دو روز کے لیے تشریف لائے تو میں نے ان سے ملاقات کی اور تھوڑی دیر کے لیے الشریعہ اکادمی تشریف لانے کی درخواست کی۔ جمعیۃ اہل سنت ضلع گوجرانوالہ کے ضلعی صدر حاجی عثمان عمر ہاشمی بھی اس ملاقات میں میرے ساتھ تھے، حضرت مولانا رائے پوریؒ ، مولانا مفتی عبد الخالق آزاد اور دیگر احباب کے ہمراہ اکادمی میں تشریف لائے، ایک مختصر سی نشست ہوئی جس میں مولانا مفتی عبد الخالق آزاد نے گفتگو کی اور پھر دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوگئی۔ مولانا رائے پوریؒ کے ساتھ یہ ملاقات آخری ثابت ہوئی اور پھر ان کی زندگی میں ان سے ملاقات کا کوئی موقع نہ بن سکا۔ 
جماعتی ، تنظیمی اور تحریکی تعارف سے ہٹ کر ان کا اصل تعارف رائے پوری کی خانقاہ رحیمیہ کے حوالہ سے تھا کہ وہ خانقاہ رائے پور شریف کے مسند نشین حضرت مولانا عبد العزیز رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرزند اور رفیق کار تھے۔ رائے پوری کی خانقاہ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں روحانی اور فکری اثر و رسوخ رکھنے والی خانقاہوں میں ایک نمایاں مرکز کی حیثیت رکھتی ہے اور تحریک آزادی میں اس کا مستقل کردار ہے۔ حضرت شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ ، شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے شاگرد اور ان کے رفقائق کار میں سے تھے، حضرت شیخ الہندؒ نے تحریک آزادی کے لیے جو تانا بانا بنا تھا، حضرت شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ اس نظم کے اہم رکن تھے اور مالٹا کی اسارت سے رہائی کے بعد حضرت شیخ الہندؒ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ضعف و علالت کے باوجود تحریک آزادی کو نیا رنگ دینے کی جو طرح ڈالی تھی، رائے پور کی خانقاہ کا اس میں بھی حصہ ہے، حضرت شیخ الہندؒ نے تشدد اور عسکریت کی پالیسی کو خیرباد کہہ کر عدم تشدد کو اپنی نئی جدوجہد کی اساس بنایا اور سیاسی و فکری تربیت سازی کو برصغیر میں علماء حق کی جدوجہد کے نئے دور کا سب سے بڑا ہتھیار قرار دیا۔ حضرت شیخ الہندؒ نے قرآنی تعلیمات کے عام سطح پر فروغ، مختلف طبقات اور علمی حلقوں کے درمیان اختلاف کو کم کرنے اور دینی مدارس اور یونیورسٹیوں کے فضلا و طلبہ کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کو اپنی جدوجہد کے اہم اہداف بتایا اور پھرا س رُخ پر جب کام شروع ہوا تو مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے دہلی میں نظارت قرآنیہ کے عنوان سے فکری تربیتی مرکز کی بنیاد رکھی جو حالات زمانہ کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی متعدد فکری مراکز کی شکل اختیار کر گئی۔ اس پروگرام کے مطابق علماء اور کالجوں کے فضلاء کی ذہن سازی میں جہاں بہت سے دیگر اکابر علماء کرام کی محنت تاریخ کا حصہ ہے، وہاں رائے پور کی خانقاہ رحیمیہ کے مسند نشین حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کی شخصیت بھی ایک نمایاں حصہ رکھتی ہے۔ یہ اللہ والے بظاہر متحرک نظر نہیں آتے اور سٹیج پر خطابت کے جوہر نہیں دکھاتے، لیکن ان کی خاموشی، مجالس، قلب و ذہن کی کیفیات کو اپنے سانچے میں ڈھالنے کے لیے اکسیر کا کام دیتی ہیں، ماضی قریب میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمہ اللہ تعالیٰ آف کندیاں شریف کے بارے میں بعض لوگ کہتے تھے کہ وہ بولتے نہیں ہیں اور کسی عمومی مجلس میں خطاب نہیں کرتے لیکن تحریک ختم نبوت کے سب سے بڑے قائد شمار ہوتے ہیں۔ میں ان سے عرض کیا کرتا تھا کہ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کی خاموشی بڑے بڑے خطباء کی خطابت پر بھاری ہے اور ان کی خاموش مجالس بڑی بڑی کانفرنسوں سے زیادہ اثر رکھتی ہیں۔ حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کی زیارت کا شرف مجھے حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ان کی کسی مجلس سے فیض یاب ہو سکا ہوں لیکن مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ ان کی مجالس کا رنگ کیسا ہوتا ہوگا اور ان کی توجہات اور چھوٹے چھوٹے جملے کس طرح ذہن و قلب کی دنیا کو بدل دیتے ہوں گے۔
حضرت شاہ عبد القادر ائے پوریؒ کے ملفوظات اور مجالس کا تذکرہ پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زمانے کی نبض پر ان کا ہاتھ تھا اور وہ اخلاقی اور روحانی بیماریوں کا علاج کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عقیدت مندوں کی سیاسی اور فکری صحت کا بھی لحاظ رکھتے تھے، وہ اپنے دور کے سیاسی اتار چڑھاؤ پر مسلسل نظر رکھتے تھے اور امت کی خاموش مگر موثر راہ نمائی سے کسی وقت بھی غافل نہیں رہے۔ حضرت شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ اور حضرت شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کا تذکرہ میں نے کتابوں میں پڑھا ہے اور کچھ انہیں دیکھنے والوں سے سنا ہے لیکن حضرت مولانا عبد العزیز رائے پوریؒ کی زیارت و مجلس سے کئی بار فیض یاب ہوا ہوں اور ان کے روحانی فیض سے حظ اٹھایا ہے، ان کی خدمت میں جب حاضری ہوتی تو ان کے فرزند و جانشین مولانا سعید احمد رائے پوریؒ سے بھی ملاقات ہوتی تھی، مختلف مسائل پر تبادلہ خیال ہوتا تھا اور اختلاف رائے کے باوجود تبادلۂ خیالات کا یہ سلسلہ جاری رہتا تھا۔ 
مجھ سے متعدد دوستوں نے ان کی زندگی میں ہمارے باہمی اختلاف رائے کے بارے میں پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ اس اختلاف کا عقیدت و مسلک سے تعلق نہیں تھا بلکہ بعض سیاسی، معاشی اور تحریکی مسائل کی تعبیرات و تشریحات میں ہمارا زاویۂ نگاہ مختلف تھا جو اب بھی مختلف ہے لیکن یہ نظری اور فکری اختلاف ہے، مسلکی اختلافات اور نظری و فکری اختلافات کے الگ الگ دائروں کا فرق اب زیادہ تر ملحوظ نہیں رہا اور جس طرح ہم نے فقہی معاملات میں حق، باطل، خطاء و صواب اور اولیٰ و غیر اولیٰ کے دائروں کو گڈ مڈ کر رکھا ہے اسی طرح فکری اور اعتقادی دائروں کا فرق بھی ہماری نظروں سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔
بہرحال حضرت مولانا سعید احمد رائے پوریؒ ہجری لحاظ سے کم و بیش نوے برس اس جہان رنگ و بو میں گزار کر خالق حقیقی کے حضور پیش ہو چکے ہیں اور ان کے رفقاء کار خصوصاً ان کے جانشین مولانا مفتی عبد الخالق آزاد ان کے قائم کردہ روحانی و فکری مرکز جامعہ رحیمیہ میں ان کی جدوجہد اور مشن کی مرکزیت کو قائم رکھنے کی سعی میں مصروف ہیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت حضرت مولانا سعید احمد رائے پوریؒ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور ان کے پسماندگان، رفقاء اور متوسلین کو حوصلہ و استقامت کے ساتھ ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

مولانا مفتی محمد اویسؒ 

گزشتہ روز گوجرانوالہ کے ایک بزرگ عالم دین اور دار العلوم گوجرانوالہ کے بانی و مہتمم مولانا مفتی محمد اویس انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کافی دنوں سے علیل اور صاحب فراش تھے، دو چار روز سے گفتگو بھی نہیں کر پا رہے تھے، منگل کو صبح نماز کے بعد موبائیل فون کے میسج چیک کیے تو ان میں غم کی یہ خبر بھی تھی کہ مولانا مفتی محمد اویس صاحب رات دو بجے انتقال کر گئے ہیں۔ مفتی محمد اویس کا خاندان تقسیم ہند کے موقع پر کرنال سے ہجرت کر کے سندھ کے ضلع سانگھڑ میں کوٹ بسّی کے مقام پر آبسا تھا۔ مفتی محمد اویس صاحب کی ولادت منشی خان مرحوم کے گھر میں ۱۹۵۵ء کے دوران ہوئی۔ انہوں نے درس نظامی کی زیادہ تر تعلیم جامعہ حسینیہ شہداد پور میں حاصل کی، دورۂ حدیث جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں حضرت مولانا مفتی محمد ولی حسن قدس اللہ سرہ العزیز کے دور میں کیا۔ پھر جامعہ حسینیہ شہداد پور میں کچھ عرصہ تک تدریسی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ تبلیغی جماعت کے ساتھ زیادہ تعلق تھا اور دعوت و تبلیغ کی سرگرمیوں میں اکثر شریک رہتے تھے بلکہ تعلیم و تدریس اور دعوت و اصلاح کا ذوق بھی کم و بیش وہی رکھتے تھے، انہوں نے تجوید میں سبعہ عشرہ تک تعلیم ساہیوال میں حضرت مولانا قاری محمد عبد اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے حاصل کی اور زندگی بھر مختلف قراء ات میں قرآن کریم کی تلاوت، سماع اور طلبہ میں اس کی ترغیب کا ذوق انہوں نے تازہ رکھا۔ ان کے خاندان کا کچھ حصہ ضلع شیخوپورہ میں کوٹ پنڈی داس میں بھی آباد ہے اور وہاں دینی خدمات سر انجام دینے والے ہمارے ساتھی مولانا مفتی زین العابدین مفتی محمد اویس صاحب کے بھتیجے ہیں۔ 
میرا اُن سے تعارف اس دور میں ہوا جب وہ گوجرانوالہ کے تبلیغی مرکز میں قائم ہونے والے دینی مدرسہ میں استاذ کی حیثیت سے تشریف لائے اور پھر یہ تعارف رفتہ رفتہ باہمی محبت و اعتماد کی شکل اختیار کرتا چلا گیا۔ گوجرانوالہ کے تبلیغی مرکز کا یہ دینی مدرسہ اس کے بعد ایمن آباد شہر کے ساتھ واہنڈو روڈ پر منتقل ہوا تو مفتی صاحب صدر مدرس کے طور پر وہاں منتقل ہوگئے اور کافی عرصہ تک تدریسی خدمات سر انجام دیتے رہے، اس مدرسہ کا نظام ہمارے محترم اور بزرگ دوست شیخ ممتاز احمد صاحب اور ان کے لائق فرزند مولانا شیخ امتیاز احمد (فاضل بنوری ٹاؤن) چلا رہے ہیں، کچھ عرصہ کے بعد مفتی محمد اویس صاحب نے گوجرانوالہ میں جی ٹی روڈ پر جلیل ٹاؤن کے عقب میں ایک وسیع رقبہ میں دار العلوم گوجرانوالہ کے نام سے ایک دینی درس گاہ کا آغاز کیا جس میں بہت سے مخلص اور مخیر دوست ان کے معاون اور دست بازو بنے۔ مجھے ایمن آباد کے دار العلوم مکیہ اور جلیل ٹاؤن کے دار العلوم میں متعدد بار حاضری کا موقع ملا ہے اور مولانا مفتی محمد اویسؒ اور ان کے رفقاء کا تدریسی، تربیتی اور انتظامی ذوق ہمیشہ خوشی اور حوصلہ کا باعث بنا ہے۔ طلبہ کی تعلیمی، اخلاقی، تبلیغی اور اصلاحی تربیت کے ساتھ حسن انتظام ان کا خصوصی امتیاز تھا۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خصوصی عقیدت و محبت رکھتے تھے اور اسی نسبت سے انہوں نے مجھے دار العلوم گوجرانوالہ کے سرپرست کی حیثیت دے رکھی تھی، مختلف مواقع پر کسی نہ کسی بہانے یاد کرتے اور مجھے بھی حاضر ہو کر خوشی ہوتی۔ چند روز قبل حاجی عثمان عمر ہاشمی صاحب کے ہمراہ بیمار پرسی کے لیے حاضری ہوئی تو تھوڑی بہت بات کر لیتے تھے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ گفتگو کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے، میں ایک آدھ روز میں دوبارہ بیمار پرسی کے لیے حاضری کا سوچ رہا تھا کہ ان کی وفات کی خبر آگئی۔ 
وہ بہت اچھے مدرس تھے، دار العلوم میں دورۂ حدیث تک تعلیم ہوتی اور بخاری شریف ان کے زیر درس رہتی تھی۔ قراء ات کا خاص ذوق رکھتے تھے اور جب بھی کوئی پروگرام ہوتا، اپنے طلبہ سے مختلف قرأتوں میں قرآن کریم کے مختلف حصوں کی تلاوت کراتے اور سامعین کے ساتھ ہم بھی محظوظ ہوتے۔ وہ واپڈا ٹاؤن کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب بھی تھے اور ہزاروں لوگ ان کے وعظ و نصیحت سے فیض یاب ہوتے تھے۔
ان کے جنازے میں حاضری ہوئی تو ہمارے محترم بزرگ حضرت مولانا نعیم اللہ صاحب مہتمم مدرسہ اشرف العلوم نے ارشاد فرمایا کہ مفتی صاحبؒ کے خاندان والوں اور دار العلوم کے اساتذہ کی خواہش ہے کہ جنازہ آپ پڑھائیں اور ان کے فرزند مولانا محمد ادریس کی جانشینی کا اعلان کر کے دستار بندی بھی کرا دیں۔ چنانچہ یہ دونوں سعادتیں میں نے حاصل کیں جبکہ دستار بندی میں مولانا نعیم اللہ، مولانا عبد الغفار خان اور دوسرے متعدد بزرگ بھی میرے ساتھ شریک تھے۔
نماز جنازہ کے بعد انہیں دار العلوم گوجرانوالہ کے قریب ہی ایک عام قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا، نماز جنازہ سے قبل میں نے اپنی مختصر گفتگو میں یہ عرض کیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد بیسیوں بار پڑھا اور پڑھایا ہے لیکن کچھ عرصہ سے ہم اس کا عملی منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ارشاد نبویؐ یہ ہے کہ قیامت سے قبل اللہ تعالیٰ علم کو دنیا سے اس طرح اٹھا لیں گے کہ اہل علم دنیا سے اٹھتے چلے جائیں گے اور ان کے ساتھ ان کا علم بھی اٹھتا جائے گا، گوجرانوالہ میں چند برسوں سے ہم یہی منظر دیکھ رہے ہیں، ہمارے شیخین کریمین حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ تو رخصت ہوئے ہی تھے، ان کے ساتھ تھوڑے تھوڑے وقفہ سے مولانا اللہ یار خانؒ ، مولانا سید عبد المالک شاہؒ ، مولانا قاضی عصمت اللہؒ ، مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ اور اب مولانا مفتی محمد اویسؒ بھی ہم سے جدا ہوگئے ہیں اور ہم رفع علم کا یہ کربناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اب سب بزرگوں کی مغفرت فرمائیں اور ہم سب کو ان بزرگوں کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔ 

چند دینی کارکنان

اس کے ساتھ دو تین اور تعزیتیں بھی ضروری سمجھتا ہوں، ہمارا عام طور پر مزاج بن گیا ہے کہ وفات پانے والے بڑے بزرگوں کو تو کسی نہ کسی طرح یاد کر لیتے ہیں لیکن کارکنوں کا تذکرہ نہیں ہوتا۔ تحریک آزادی اور تحریک ختم نبوت کے بزرگ تحریکی شاعر سائیں محمد حیات پسروری رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک پنجابی نظم میں اس صورت حال کو اس طرح تعبیر کیا تھا کہ مکان کی خوبصورتی اور مضبوطی میں دیواروں اور چھت کو تو ہر شخص دیکھتا ہے لیکن جو اینٹیں روڑے بن کر بنیادوں میں کوٹ دی جاتی ہیں ان کا کوئی نام تک نہیں لیتا، حالانکہ عمارت کی اصل مضبوطی انہی سے ہوتی ہے، یہی حالت ہمارے عام کارکنوں کی ہوتی ہے اور میں خود بھی اس دائرے سے باہر نہیں ہوں۔ گزشتہ دنوں گوجرانوالہ کے تین پرانے جماعتی اور تحریکی کارکن وفات پا گئے ہیں اور میری محرومی یہ ہے کہ اپنی مصروفیات کی وجہ سے ان کے جنازوں میں بھی شریک نہیں ہو سکا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ 
مولانا عبد السمیع نگینویؒ ہمارے بہت پرانے ساتھی تھے، رسول پورہ کی مسجد صدیقیہ میں اس دور میں امامت کے فرائض سر انجام دیتے تھے جب وہ جمعیۃ علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریکی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز شمار ہوتی تھی، انہوں نے متعدد تحریکات میں ہمارے ساتھ شب و روز کام کیا، بعد میں تبلیغی جماعت میں زیادہ قت دینے لگے اور کچھ عرصہ رائے ونڈ مرکز میں بھی رہے۔ 
محمد اشرف صاحب جو بابا محمد اشرف کے نام سے معروف تھے اور ہم انہیں اشرف ہمدانی کے نام سے یاد کرتے تھے، جمعیۃ علماء اسلام نے جب گوجرانوالہ میں ’’انصار الاسلام‘‘ کے نام سے رضا کار تحریک منظم کی تو وہ حضرت مولانا مفتی عبد الواحد رحمہ اللہ تعالیٰ کی سرپرستی اور سالار قاسم خان مرحوم کی شبانہ روز محنت کا ثمرہ تھا۔ اس دور میں گوجرانوالہ کے شہریوں نے متعدد بار انصار الاسلام کے رضا کاروں کو سڑکوں پر منظم مارچ کرتے دیکھا ہے۔ محمد اشرف خان مرحوم بھی اس کے سرگرم سالاروں میں سے تھے۔ اکتوبر ۱۹۷۵ء کے دوران جامع مسجد نور مدرسہ نصرۃ العلوم میں منعقد ہونے والے کل پاکستان نظام شریعت کنونشن کا وہ منظر بہت سے شہریوں کو یاد ہوگا جب قاسم خان مرحوم کی قیادت میں سینکڑوں باوردی رضا کاروں نے شہر کی سڑکوں کا مارچ کیا تھا اور کنونشن کے سٹیج پر حضرت درخواستیؒ ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور دیگر اکابر کو سلامی پیش کی تھی۔
محمد اشرف صاحب بھی ہمارے پرانے ساتھی تھے، انہیں ہم سیٹھ اشرف کے نام سے پکارتے تھے، تحریکی کارکن تھے، ختم نبوت کا دفتر ان کا اکثر بسیرا رہتا تھا، تحریک احیاء سنت کے عنوان سے مختلف تقریبات کا اہتمام کرتے رہتے تھے اور دینی تحریکات میں سرگرمی کے ساتھ شریک ہوتے تھے، ان کا فرزند قاری محمد ابوبکر مدنی ایک اچھا نعت خواں اور مداح رسولؐ اور مختلف دینی محافل کی زینت ہوتا ہے۔ یہ تینوں ساتھی گزشتہ تھوڑے سے عرصہ میں وقفہ وقفہ سے وفات پا گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ ان کی دینی خدمات کو قبولیت سے نوازیں اور ان کے پس ماندگان کو ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق دیں۔ آمین یا رب العالمین۔

برطانیہ میں طب اسلامی کا تذکرہ

حکیم محمد عمران مغل

ایک پاکستانی نژاد مذہبی گھرانہ کافی عرصے سے لندن میں دائمی حقوق کے ساتھ آرام وسکون کی زندگی گزار رہا ہے۔ یہ گھرانہ جس کے سربراہ ظفر احمد انصاری صاحب ہیں، میرپور آزاد کشمیر سے اٹھ کر برطانیہ کے پر رونق شہر برمنگھم میں جا بسا ہے۔ ایک دن رات کے سناٹے میں میرے موبائل پر ان کافون آیا۔ فرمانے لگے کہ ماہنامہ الشریعہ دیکھا ہے اور برطانیہ سے آپ سے مخاطب ہوں۔ آپ کے ’‘امراض وعلاج‘‘ کے کالم سے یہاں کے لوگ خوب خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ میرے خاندان میں بھی امراض معدہ اور خونی امراض کی کثرت ہے۔ میں نے کہا کہ اپنے کسی ایسے رشتہ دار کو میرے پاس بھیجیں جو آپ کے خاندان کا مکمل تجزیہ کر سکے۔ کہنے لگے کہ میرا چھوٹا بھائی چھٹیاں گزارنے کے لیے پاکستان آیا ہوا ہے، وہ آپ کے پاس آ جائے گا۔
کچھ دنوں کے بعد ان کے بھائی آئے اور میں نے ان سے معلومات لیں اور چھان پھٹک کر تسلی کر لی۔ ان کے ہاتھ ظفر احمد صاحب کے ایک ماہ کی دوا برطانیہ بھیج دی گئی۔ میں نے ان سے کہہ دیا تھا کہ اس کے علاوہ کسی علاج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ غالباً اڑھائی تین ماہ کے بعد رات کے سناٹے میں انھوں نے دوبارہ موبائل پر رابطہ کیا اور اطلاع دی کہ اللہ تعالیٰ نے بہت کم عرصے میں مجھے شفا سے ہم کنار کر دیا ہے۔ ساتھ ہی حیرانی سے استفسار کرنے لگے کہ مجھے بیماری کچھ اور تھی، لیکن آپ نے دوا کچھ اور بھیج دی۔ میں نے جواباً کہا کہ اسی لیے تو چند دنوں میں کئی سال کی تکالیف ختم ہو گئی ہیں۔ الحمد للہ میں نے ٹامک ٹوئیاں مارنے اور ٹوٹکے سیکھنے کے بجائے طب کا فن سیکھنے میں عمر گزاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میری بھیجی ہوئی دوا سے نہ صرف معدہ اور خون کے امراض ختم ہو گئے، بلکہ موٹاپا، چربی کی زیادتی، چھپاکی، خارش، بواسیر، بد ہضمی کو بھی بیخ وبن سے اکھاڑ دیا گیا۔
اصل میں معدہ کے امراض کا علاج کرتے ہوئے کئی دوسرے عوامل کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ میں نے انھیں رسوت، ریٹھے اور کٹھ غولیائی دھرکونے، عشبہ وغیرہ کا نسخہ بنا کر دیا تھا جو اندھیرے میں بھی تیر بہدف ثابت ہوا۔ ظفر احمد صاحب کے علاج سے مجھے خوشی ہے کہ بحر الکاہل میں کسی کو بحر ہند کے پانی کی ضرورت پیش آئی۔