میثاقِ امن
ادارہ
(۲۶ مارچ ۲۰۱۲ء کو اسلام آباد میں ORE (ادارۂ تعلیم و تحقیق Organization for Research and Education) کے اہتمام میں ’’اور ڈائیلاگ فورم‘‘ کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ممتاز علمی، مذہبی، فکری اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ فورم نے اپنے اجلاس میں متفقہ طور پر ایک ’’میثاقِ امن‘‘کی منظوری دی جسے اس کی عمومی افادیت کے پیش نظر یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)
امن آج پاکستان کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ امن کے بغیر معاشی خوش حالی ممکن ہے نہ سماجی ترقی۔ لہٰذا امن کو پہلی ترجیح بنائے بغیر اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ معاشی ترقی کا کوئی منصوبہ نتیجہ خیز ہو یا سماجی اصلاح کا کوئی ہدف قابل حصول ہو۔امن کے لیے جہاں حکومت و ریاست کی سطح پر بعض اقدامات لازم ہیں وہاں اس بات کی بھی اشد ضرورت ہے کہ معاشرتی سطح پر تبدیلی کی ایک مہم اُٹھائی جائے جو عدم تشدد، رواداری، بردباری اور مکالمے کے کلچر کو عام کرنے کا سبب بنے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ سول سوسائٹی کے تمام ادارے اور شعبے قیامِ امن کے لیے یکسو ہوں اور اپنا کردار کریں۔امن کے لیے معاشرتی وسماجی انصاف ضروری ہے۔ اس کے بغیر امن ممکن نہیں، اس لیے تمام طبقات سماجی انصاف کا ماحول پیداکرنے کے لیے جدوجہد کریں اور خلافت راشدہ کو اس سلسلے میں بنیاد بنایا جائے۔
’’اور ڈائیلاگ فورم‘‘ جو معاشرے کے مختلف طبقات کی نمائندہ شخصیات پر مشتمل ہے، اس مقصد کے لیے درج ذیل اقدامات تجویز کرتا ہے جن کے مخاطب تمام معاشرتی گروہ ہیں۔
اہلِ سیاست
۱۔ سیاسی جماعتیں ایک روادار معاشرے کے قیام کو اپنے منشور کا حصہ بنائیں۔
۲۔ وہ حکومت میں ہوں یا حزبِ اختلاف میں، ایک ایسے کلچر کے فروغ کے لیے کام کریں جو مکالمے، برداشت اور بردباری کی بنیادوں پر کھڑا ہو۔
۳۔ ٹی وی ٹاک شوز، اخباری بیانات اور جلسہ ہائے عام میں ایسے لہجے اور اسلوبِ کلام سے گریز کریں جو ایک روادار اور جمہوری معاشرتی اقدار سے متصادم ہو۔
۴۔ اختلاف کو شخصی کے بجائے نظری اور سیاسی مباحث تک محدود رکھیں۔
۵۔ سماجی سطح پر اپنے کارکنوں کو رواداری اور مختلف سیاسی گروہوں کے ساتھ میل جول کی تلقین کریں۔
۶۔ ایسا سیاسی نظام بنائیں جس میں مذکورہ بالا اصولوں کی روشنی میں کارکنوں کی سیاسی تربیت کی جائے۔
۷۔ سیاسی راہ نماؤں اور کارکنوں میں سیرت نبوی، خلافت راشدہ اور دیگر اسلامی واخلاقی تعلیمات کی روشنی میں اسلامی وفلاحی ریاست وحکومت کا شعوراجاگرکیا جائے اور فکری تربیت کا ماحول پیدا کیا جائے جو کہ ایک آئینی ضرورت ہے۔
۸۔ ریاستی اداروں اور ملک میں قانون پر عمل درآ مد کے لیے جد وجہد کی جائے گی۔
میڈیا
۱۔ ایسے بیانات، مضامین اور کالموں کی اشاعت سے گریز کیا جائے، جن سے مقصود دوسروں کی پگڑی اچھالنا ہو۔
۲۔ تحریروں کے قابلِ اشاعت ہونے کے لیے شائستگی و استدلال کو بنیادی لوازم قرار دیا جائے۔
۳۔ کسی خبر کو برائے اشاعت قرار دینے کے لیے ضروری قرار دیا جائے کہ اس کا مواد رواداری و باہمی احترام کی مسلمہ تعبیرات سے متصادم نہ ہو۔ نیز قومی ومعاشرتی افادیت یا نقصان کو بھی ترجیح کی وجوہ میں شامل کیا جائے اور اس کے لیے ضابطہ اخلاق طے کیا جائے۔
۴۔ ٹی وی ٹاک شوز میں صحت مندانہ تنقید اور مکالمہ کے آداب کو ملحوظ رکھا جائے۔
۵۔ جو سیاست دان اور راہنما، ان آداب کا لحاظ نہیں رکھتے، انہیں ٹاک شو میں بلانے سے گریز کیا جائے۔
۶۔ خبر میں سنسنی خیزی اور اشتعال سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
۷۔ میڈیا اپنی کمرشل ضرویات کے لیے ریٹنگ سے زیادہ پروگراموں کے موادکو بہتر بنانے پر توجہ دے گا۔ عوام کے ذوق اور اخلاق کی تعمیر کوبھی پیشِ نظر رکھا جائے گا۔
علماء
۱۔ علمی و فکری اختلاف کو فرقہ واریت کے فروغکا سبب بننے سے روکا جائے۔
۲۔ اختلاف کے آداب میں اسلاف کی روایت کو زندہ کیا جائے جو باہمی احترام سے عبارت ہے۔
۳۔ بین ا لمذاہب مکالمے کو رواج دیا جائے۔
۴۔ دوسرے مذاہب کی برگزیدہ شخصیات اور راہنماؤں کے احترام کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھا جائے۔
۵۔ ایک فرد کے جرم کو کسی گروہ یا اجتماع سے منسوب نہ کیاجائے۔
۶۔ مذہبی اختلاف کو اشتعال انگیز نہ بنایا جائے۔
۷۔ ایسے مقررین اور مضمون نگاروں کی حوصلہ شکنی کی جائے جو سماج میں اشتعال کو فروغ دیتے ہیں۔
۸۔ قانون، سماجی روایات اور دوسرے مذاہب کے احترام کو دینی مدارس کے نظامِ تعلیم و تربیت کا حصہ بنایا جائے۔
۹۔ علمی اسلوب اور شائستگی کی بنیاد پر فکری ارتقا کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
۱۰۔ مسجد اور دوسرے مذہبی اداروں کو سارے معاشرے کے لیے جائے امن قرار دیا جائے۔
۱۱۔ دینی مدارس، یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اساتذہ وطلبہ کے درمیان میل جول، باہمی مکالمہ ومباحثہ اور مفاہمت ومعاونت کے رجحانات کی حوصلہ افزائی کی جائے اور مشترکہ اجتماعات کا اہتمام کیا جائے۔
اہلِ علم و دانش
۱۔ معاشرتی سطح پر مکالمے اور برداشت کے کلچر کو فروغ دیا جائے۔
۲۔ تعلیمی اداروں میں مکالمے اور رواداری کے لیے بطورِ خاص کوشش کی جائے۔
۳۔ طالبِ علموں کی تربیت میں سماجی روایات کے احترام کو شامل کیا جائے۔
۴۔ ایسے نصاب اور تعلیمی ماحول کی تشکیل کے لیے کوششیں کی جائیں جو رواداری اور برداشت کو فروغ دیں۔
۵۔ طلبا اور اساتذہ کی تنظیموں میں روابط بڑھائے جائیں۔
۶۔ دینی اور عمومی تعلیم کے طلبا و طالبات کے مابین فاصلوں کو کم کرنے کی شعوری کوشش کی جائے۔
۷۔ نصابِ تعلیم کو علم اور انسان دوست بنایا جائے۔
۸۔ تعلیمی اداروں کے ماحول میں علم دوستی اور تحقیق کی مشرقی و مغربی روایات کو پیشِ نظر رکھا جائے۔
۹۔ تعلیمی پالیسی کی ترجیحات میں قرآن وسنت کی تعلیمات اور مسلمہ مسلم دانش وروں کے افکار کو بنیاد بنایا جائے۔
سماجی مصلحین
۱۔ معاشرتی تعمیرکی کاوشوں کو مقامی مذہبی و سماجی روایات سے ہم آہنگ بنایا جائے۔
۲۔ معاشرتی سطح پر موجود گروہ بندی کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔
۳۔ ایسی سرگرمیوں سے گریز کیا جائے،جن سے کسی گروہ کے خلاف نفرت اور اشتعال پیدا ہوتا ہو۔
۴۔ علما اور وکلا باہمی تنازعات کے حل میں ثالث کا کردار ادا کریں اور ثالثی کے نظام کو فروغ دینے کے لیے مربوط ومنظم محنت کی جائے۔
۵۔ جمہوریت، رواداری اور برداشت جیسی روایات سے غیر مشروط وابستگی کا مظاہرہ کیا جائے۔
۶۔ سماجی انصاف اور معاشی تفاوت کے خاتمے کے لیے مذہبی و سماجی اداروں کو مضبوط بنایا جائے۔
۷۔ خواتین، بچوں اور دوسرے محروم طبقات کے حقوق کے لیے کوششوں کو منظم کیا جائے اور باہمی تعاون کو بڑھایا جائے۔
۸۔ کرپشن، نا اہلی اور کام چوری کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے دیانت وامانت اور فرض شناسی کی اہمیت کو ہر سطح پر اور ہر شعبہ میں اجاگر کرنے کے لیے محنت کی جائے۔
’’اور ڈائیلاگ فورم‘‘ سے اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ معاشرے کے تمام نمائندہ طبقات کومذکورہ بالا مقاصد کی یاددہانی کرائی جاتی رہے اور ان کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے تاکہ ہم پاکستان کو ایک پر امن سماج دے سکیں۔جس میں سب کے بنیادی حقوق محفوظ ہوں اور کسی کے جان ، مال اور عزتِ نفس کو کوئی خطرہ درپیش نہ ہو ۔ یوں معاشی خوش حالی اور سماجی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔اﷲ تعالیٰ اس کارِ خیر میں ہماری معاونت کرے۔
فورم کے شرکاء:
۱۔ ڈاکٹر خالد مسعود،ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحقیقاتِ اسلامی،بین الاقوامی اسلامی یو نیورسٹی اسلام آباد
۲۔ مو لانا زاہد الراشدی، ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ
۳۔ مفتی عبدالقوی، مہتمم جامعہ عبیدیہ، ملتان
۴۔ وصی شاہ،شاعر، ادیب،کالم نگار،ڈرامہ نگار۔ لاہور
۵۔ بیرسٹر دانش افتخار،ایڈیٹر روزنامہ ’’اساس‘‘،راولپنڈی
۶۔ سلیم صافی، کالم نگار روزنامہ’’جنگ‘‘۔اینکر جیو ٹی وی چینل
۷۔ سید شاہد گیلانی، صدر راولپنڈی گروپ آف کالجز
۸۔ علامہ امین شہیدی،مجلس وحدت المسلمین،اسلام آباد
۹۔ رومانہ بشیر،کرسچین سٹڈی سنٹر،راولپنڈی
۱۰۔ قاسم شاہ ،مشیر وزیراعظم پاکستان
۱۱۔ محمد آصف محمود،ایڈووکیٹ
۱۲۔ خورشید احمد ندیم،چیئرمین ادارہ تعلیم وتحقیق
درج ذیل اراکین فورم اجلاس میں شریک نہ ہوسکے لیکن انہوں نے ’’میثاق امن‘‘ سے اتفاق کیا۔
۱۔ قمر زمان کائرہ،سیکرٹری اطلاعات پاکستان پیپلز پارٹی
۲۔ صدیق الفاروق، راہنما پاکستان مسلم لیگ(ن)
۳۔ مجیب الرحمن شامی، چیف ایڈیٹر روزنامہ ’’پاکستان‘‘لاہور
۴۔ ڈاکٹر محمد شکیل اوج، صدر شعبہ علوم اسلامیہ، کراچی یونیورسٹی
۵۔ بیرسٹر ظفر اللہ خان،قانون دان، اسلام آباد
مولانا قاضی حمیداللہ خان بھی رخصت ہوگئے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا قاضی حمیداللہ خانؒ کو آج (۱۹؍ اپریل، جمعرات کی) صبح شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد ان کے آبائی وطن چارسدہ کے لیے رخصت کیا تو کم وبیش گزشتہ نصف صدی کی تاریخ نگاہوں کے سامنے گھومنے لگی۔ قاضی صاحب شوگر کے مریض خاصے عرصے سے تھے۔ کچھ دنوں سے گردوں کا عارضہ بھی ہوگیا اور وہ گردوں کی مشینی صفائی کے مرحلہ سے گزار رہے تھے جس کے بعد جگر نے بھی متاثر ہونا شرو ع کردیا اور آج وہ ان تمام مراحل سے گزرکر اپنے خالق ومالک کے حضور پیش ہونے جارہے ہیں ۔ ان للہ مااخذ ولہ مااعطی ولکل شئی عندہ اجل مسمّیٰ، انا للہ واناالیہ راجعون۔
مولانا قاضی حمیداللہ خان رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ میری رفاقت کا عرصہ چارعشروں سے متجاوز ہے۔ میں ۱۹۷۰ء میں مرکزی جامع مسجد کے خطیب حضرت مولانا مفتی عبدالواحد قدس سرہ العزیز کی نیابت وخدمت کے لیے آیا تو مولانا حمیداللہ خان کو یہاں آئے ایک سال ہوچکا تھا۔ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک سال مدرسہ اشرف العلوم باغبانپورہ گوجرانوالہ میں مدرس رہے اور پھر ۱۹۶۸ء میں مرکزی جامع مسجد کے مدرسہ انوارالعلوم میں آگئے اور سال رواں کے آغاز تک کم وبیش پینتالیس برس تک مسلسل تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔وہ معقولات ومنقولات پر یکساں دسترس رکھتے تھے، مگر معقولات میں ان کی تدریس کی شدت زیادہ تھی اور دوردراز سے طلبہ ان سے درسی استفادہ کے لیے ذوق وشوق کے ساتھ جمع ہوتے تھے۔ ان کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جو پاکستان کے علاوہ بھارت، افغانستان، ایران، بنگلہ دیش اور وسطی ایشیا کے ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ان تھک مدرس تھے۔ ایک زمانہ میں وہ صبح کی نما زکے بعد پڑھانے بیٹھتے اور عشاء کے بعد تک مسلسل پڑھاتے رہتے۔ بیک وقت روزانہ بیس سے زائد اسباق پڑھاکر بھی وہ تازہ دم اور چاق وچوبند دکھائی دیتے۔ لیکن گوجرانوالہ اور گردونواح میں ان کی زیادہ مقبولیت وشہرت ان کے اس عوامی درس کی وجہ سے ہوئی جو وہ مغرب کی نماز کے بعد مرکزی جامع مسجد میں عوام الناس کے لیے دیتے تھے اور وہ اپنے دور میں شہر کا مقبول ترین عوامی درس شمار ہوتا تھا۔ مرکزی جامع مسجد میں ایک عرصہ تک یہ سلسلہ رہا ہے کہ صبح کی نماز کے بعد میرا درس ہوتا تھا جو نماز فجر کے معمول کے نمازیوں کے لیے ہوتا ہے اور اب تک بحمداﷲتعالیٰ جاری ہے، جبکہ مغرب کے بعد مولانا قاضی حمیداللہ خانؒ درس دیتے تھے جس کے لیے شہر اور گردنواح سے لوگ جوق درجوق آتے تھے اور بڑی محبت وعقیدت کے ساتھ ان کا درس سنتے تھے۔ اس درس کے ذریعے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہوئی ہے، لوگ دین سے جڑے ہوئے ہیں، ان میں نماز کی پابندی اور سنت نبوی کی پیروی کا ذوق پیدا ہوا ہے اور خیر کے کاموں کی رغبت بڑھی ہے۔قرآن وحدیث کے ساتھ ساتھ امام رازیؒ اور امام غزالیؒ کے ارشادات بھی ان کے مطالعہ کے دائرے میں رہتے تھے تو ان کی بات سامعین کے دلوں میں اترتی چلی جاتی تھی۔
میری ان کے ساتھ تدریسی رفاقت کم وبیش اٹھارہ بیس برس رہی ہے، مگرمیں صبح نماز کے بعد دو تین اسباق پڑھاکر فارغ ہوجاتا تھا اور وہ سارا دن پڑھاتے رہتے تھے اور ہر فن اور موضوع کی کتاب بلاتکان پڑھالیتے تھے۔ انہوں نے مدرسہ مظاہرالعلوم کے نام سے ایک الگ مدرسہ بھی بنایا اور دونوں مدرسوں میں ان کی تدریس کا سلسلہ آخر وقت تک جاری رہا۔ ۱۹۸۲ء تک جب تک حضرت مولانا مفتی عبدالواحدؒ حیات تھے، ہم دونوں کی حیثیت ان کے نائب ومعاون کی تھی۔ حضرت مفتی صاحب مہتمم اور خطیب تھے۔ قاضی صاحب مرحوم مدرسہ کے معاملات میں اور راقم الحروف مسجد کے معاملات میں ان کی نیابت کی خدمت سرانجام دیتے تھے۔ حضرت مفتی صاحب کی وفات کے بعد ہم دونوں نے باہمی مشورہ کے ساتھ اس تقسیم کار کو مستقل شکل دے دی اور پھر اس کے مطابق اب تک ہمارے معاملات چلتے آرہے ہیں۔ بہت سے مواقع پر اختلافات پیدا ہوتے رہے جو فطری بات ہے، لیکن اس انڈراسٹینڈنگ کا انہوں نے بھی پوری طرح احترام کیا، میں نے بھی حتی الوسع اس کی کوشش جاری رکھی اور ہمارے معاملات کا بھرم بحمداللہ قائم رہا۔
۱۹۷۵ء کے دوران جامع مسجد نور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں منعقد ہونے والے جمعیت علمائے اسلام کے ملک گیر ’’نظام شریعت کنونشن‘‘ میں حضرت مولانا مفتی محمود قدس سرہ العزیز نے پرائیویٹ شرعی عدالتوں کے قیام کا اعلان کیا اور اس کے لیے مختلف سطحوں پر ملک کے بہت سے حصوں میں قاضی مقرر کیے گئے تو مولانا قاضی حمیداللہ خان کو گوجرانوالہ کے لیے ضلعی قاضی مقرر کیا گیا جس کے بعد قاضی کا خطاب ان کے نام کا لازمی حصہ بن گیا ۔ورنہ اس سے قبل وہ مولانا حمیداللہ خان کے نام سے پکارے جاتے تھے، اس موقع پر بعض مقدمات بھی فیصلے کے لیے ان کے پاس آتے پھر قضاء کا یہ سلسلہ تو نہ چل سکا لیکن مولانا حمیداللہ خان کو مستقل طور پر قاضی حمیداللہ خانؒ کا مقام حاصل ہوگیا۔
قاضی صاحب مرحوم مزاجاً سیاسی نہیں تھے، لیکن جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ ہمیشہ وابستہ رہے، حتیٰ کہ جس زمانے میں جمعیت علمائے اسلام درخواستی گروپ اور فضل الرحمن گروپ کے نام سے دو دھڑوں میں تقسیم تھی، میں درخواستی گروپ میں سرگرم تھا، مگر قاضی صاحب فضل الرحمن گروپ کے سرکردہ حضرات میں شمار ہوتے تھے۔ اس طرح مرکزی جامع مسجد اور مدرسہ انوارالعلوم ،ان دونوں گروپوں کی باہمی کشمکش کا میدان تھا۔ ہماری کشمکش بھی چلتی تھی اور رفاقت بھی جاری تھی جبکہ مشترکہ کاموں میں اکٹھے کام بھی ہم کرلیتے تھے۔
متحدہ مجلس عمل کے قیام کے بعد جب جمعیت علمائے اسلام نے قاضی حمیداللہ خانؒ کو قومی اسمبلی کی شہری سیٹ کے لیے متحدہ مجلس عمل کا امیدوار بنانے کا اعلان کیا تو عوامی حلقوں نے انہیں خاصی پذیرائی بخشی اور وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے، اس میں مختلف مذہبی مکاتب فکر کے اتحاد کے ساتھ ساتھ قاضی صاحب کی شخصیت اور ان کے ان عوامی درسوں کا بھی بہت بڑا حصہ تھا جو وہ مرکزی جامع مسجد اور شہر کی دیگر بہت سی مساجد میں دیا کرتے تھے اور جن کی مقبولیت کا دائرہ بہت وسیع تھا۔
قومی اسمبلی کا رکن ہوتے ہوئے انہوں نے گوجرانوالہ میں ’’میراتھن ریس‘‘ کو روکنے کے لیے جو جرأت مندانہ کردار ادا کیا ،وہ ان کی دینی وقومی حمیت کے اظہار کے علاوہ گوجرانوالہ کے مذہبی ماحول اور دینی حلقوں کے جذبات کی ترجمانی بھی تھی جس پر ان حلقوں نے اطمینان کا سانس لیا اور قاضی صاحب موصوف کو خراج تحسین پیش کیا جو اسلامی روایات اور مشرقی ثقافت کے تحفظ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور مغربی وہندوثقافت کے مسلسل فروغ سے پریشان ہیں۔ آج مولانا قاضی حمیداللہ خان رحمہ اللہ تعالیٰ ہم سے رخصت ہوگئے ہیں مگر ان کی یادیں باقی ہیں اور گوجرانوالہ میں ان کی دینی وتعلیمی خدمات کے اثرات ایک عرصہ تک لوگوں کے دلوں میں ان کی یاد کو تازہ رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جواررحمت میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبرجمیل کی توفیق سے نوازیں آمین یا رب العالمین۔
ہندوستان کی روایتی اسلامی فکر میں تاریخ اور قانونی معیاریت (۱)
ڈاکٹر ابراہیم موسٰی
ترجمہ: وارث مظہری
(قاری محمد طیبؒ کے افکار کی روشنی میں اسلامی شریعت کا مطالعہ)
’’ایک زمانہ وہ تھا جب ہم یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم کون ہیں؟ لیکن اب ہم صرف ایک ایسے اداکار کی طرح ہیں جو صرف اپنے حصے کا مکالمہ دہرا دیتا ہے۔‘‘ (John M. Coetzee, Elizabeth Costello)
’’ ماضی بعید ان چیزوں میں سے ہے جو جہالت کو ثروت مند بنا سکتی ہے ۔ یہ مستقبل کے مقابلے میں اپنے اندر بے انتہا لچک رکھنے والی ہے او ر بہت زیادہ اہم ہے ۔ اس کے لیے ہمیں کم سے کم کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔یہی وہ معروف موسم ہے جسے تمام اساطیر کا تحفظ حاصل ہے۔‘‘ (Jorge Luis Borges,"I, a Jew": Selected New Fictions)
تعارف
کم و بیش دو صدیوں سے مسلم مفکرین اجتہاد کے نظریے کی وکالت و اشاعت کرتے رہے ہیں۔ (۱)اجتہاد کی کوئی سادہ تعریف آسان نہیں ہے اس لیے کہ اب اس کے معنی میں بہت کچھ فرق آگیا ہے۔ وہ اب اپنے لفظی معنوں میں مستعمل نہیں ہوتا(۲)۔ اس کی ایک تعریف علمی اور دانش ورانہ کد و کاوش (Intellectual effort) سے بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے تاریخی پہلوؤں کو سامنے رکھیں تو اس کے بہت سے معنی سامنے آتے ہیں۔ اسلامی فکرو قانون کی یہ اصطلاح مسلمانوں کی ہیئتِ اجتماعیہ کی سطح پر صدیوں پر پھیلی مسلمانوں کی سماجی و سیاسی جد و جہد کی عکاسی کرتی ہے۔ ابتدائے اسلام میں جبکہ یہ لفظ اصطلاح کے طورپر رائج نہیں ہوا تھا ، اس کا ایک معنی ’’ معلوم رائے‘‘(informed opinion) تھا۔ چنانچہ حضرت معاذ بن جبلؓ سے یمن روانہ ہوتے وقت پیغمبر اسلام(ﷺ) نے پوچھا تھااکہ اگر تم کو کتاب و سنت میں کوئی شرعی حکم نہ ملے تو تم کیا کروگے ؟تو انہوں نے جواب میں کہا تھا کہ:’’ أجتہد براءي ولا آلو ( میں اپنی مقدور بھر کوشش کروں گا)۔(۳)‘‘ فقہی مذاہب کی تشکیل کے مرحلے میں فقہائے مجتہدین کی ایسی کوششوں کو اجتہاد سے تعبیر کیا گیا جو کسی شرعی حکم کے استنباط کے لیے کتاب و سنت کی واضح دلیل نہ ہونے کی بنیاد پر قیاس کا استعمال کرتے ہوئے کی جائیں۔(۴) آگے چل کر اہل سنت کے یہاں اجتہاد کو انہی فقہائے مجتہدین کے ساتھ خاص کر دیا گیا اور ان کی تقلید پر اتفاق کر لیا گیا۔ اصول فقہ کی روشنی میں مستند فقہی احکام متقدمین فقہا کی ابتدائی آرا کے ساتھ وابستہ ہو کر رہ گئے اور مختلف فقہا کی تقلید پر لوگوں نے اتفاق کر لیا(۵) مزید برآں چند مخصوص صورتوں میں ہی اجتہاد کی اجازت دی گئی اور اس کے لیے مجتہد کے اندر بہت سی مختلف شرطوں کے پائے جانے کو ضروری قرار دیا گیا۔(۶)
نئے مسلم مفکرین خواہ وہ روایت پسند ہوں یا جدت پسند، احیائیت پسند ہوں یا تکمیلیت پسند (maximalist)ان کی نظر میں اجتہاد کے مختلف معنی اور حیثیتیں ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اجتہاد وہ بنیادی دوا ہے جس سے مسلمانوں کے تمام تر امراض کا کافی و شافی علاج ممکن ہے۔ اجتہاد کی وکالت کرنے والے ایک اسکالر یا نظریہ ساز زور دے کر یہ بات کہتے ہیں کہ اجتہاد کے باب میں ماضی کی روایت یا عمل سے چپک کر رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ حقیقت میں اجتہاد کی خشک اور بے لچک بحثوں میں دانش و معرفت کے مختلف نکتہائے نظر کا سراغ ملتا ہے۔ یہ نکتہائے نظر ایک طرف دانشورانہ اور تہذیبی نشاۃ ثانیہ کے حامی اور روایت کا مکمل انکار نہ کرتے ہوئے حریت فکر و نظر کی بھی خواہش اپنے اندر پاتے ہیں۔ دوسری طرف وہ فقہ و تشریع کے باب میں دانش ورانہ مساوات پسندی کی بھی وکالت کرتے ہیں۔ یہ بات بکثرت سامنے آتی ہے کہ جو لوگ اجتہاد کی موقوفیت کے شاکی ہیں وہ تاریخ کو اس کے لیے مورد الزام ٹھہراتے ہیں ۔ ایسی تاریخ جو مسلمانوں کے سیاسی و علمی اور فکری زوال سے عبارت ہے ۔ ان کے خیال میں اگر اجتہاد کا عمل جاری ہو جائے تو ان حوادث سے پہنچنے والے نقصانات کی بالکل معجزانہ انداز میں تلافی ہو سکتی ہے۔(۷)
اکثر اصلاح پسند ،مسلمانو ں کے افسوس ناک مسائل کے لیے بعض روایتی اصول و قانونی معیارات کو الزامات کی بنیاد بناتے ہیں۔ تاہم یہ حقیقت اہم ہے کہ یہ مصلحین بھی اس تعلق سے کوئی بہت زیادہ نئی چیز کا اضافہ نہیں کر پاتے۔ اس تعلق سے سب سے قابل غور اور اہم بات یہ ہے کہ یہ اصلاح پسند بھی اپنی نظریاتی عمارت انہی روایتی اور علمیاتی بنیادوں پر کھڑی کرتے ہیں جن پر ان کے پیش رو عہد وسطیٰ کے مفکرین نے اپنے نظریات کی عمارت کھڑی کی تھی۔ اس علمی اثاثے کی تقدیس و احترام کے رویے کو انہوں نے اختیار کیا۔ ایسے اصلاح پسند بہت کم ہیں جنہوں نے ’’اجتہادی نشاۃ ثانیہ ‘‘کے تعلق سے دانشورانہ روایت کی صحیح تحقیق و دریافت اور نصوص کی تفہیم کے ضابطوں اور مسلم طرز فکر کی از سر نو تعمیر کی کوشش کی ہو۔ اس اعتبار سے ایک شخص یہ بات یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ نئے علم کے حصول کے ایک مضبوط عہد اور تحقیق کے بغیر اس تعلق سے کی جانے والی کوششیں محض بے سود اور بے نتیجہ ہیں۔
’’ بروس لارینس‘‘(Bruce Lawrence)نے اسلام کے نئے مظاہر سے متعلق کیے گئے اپنے مطالعے میں اس نظریے کو بخوبی ثابت کر دکھایا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جدید اسلامی مطالعات سے متعلق کام کرنے والوں میں سے بعض لوگوں نے بجائے اس کے کہ وہ اسلام کے فقہی اثاثے کی صحیح طورپر چھان پھٹک کریں، انہوں نے چاہا کہ اس کے ایک بڑے حصّے کو اٹھا کر پھینک دیا جائے۔ انتہا پسندی کے شکاربعض لوگوں نے کوشش کی کہ و ہ شریعت کے ان پہلوؤں کو اس سے علاحدہ کر دینے میں کامیاب ہو جائیں جن سے عہد وسطیٰ کے فقہا نے شریعت کو گراں بار کر دیا تھا۔(۸) وہ مزید لکھتے ہیں کہ بعض مسلم احیائیت پسندوں نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ ان شرعی احکامات میں وسعت لانے کی کوشش کریں جن میں اجتہاد کے ذریعہ وسعت کی گنجائش و اجازت نکل سکتی تھی۔ اس کے بجائے انہوں نے شرعی احکام کو اُسی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی جو بالکل بے لچک تھی۔( ۹)ا بہت سے اصلاح پسندوں نے مقاصد شریعت کے نظریے کو بنیادی حل کے طورپر پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس کا مطلب یہ بتایا گیا کہ اسلامی قانون یا شریعت کا مقصد پانچ چیزوں کے تحفظ کو یقینی بناناہے: حفظِ جان، حفظ عقل، حفظ نسل، حفظ مال اور حفظ دین۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہیں کہ اجتہاد یا ناکام اجتہاد کے حق میں یا تو اعتدال پسندوں کے مختلف گروپوں کی طرف سے آوازیں بلند ہوئیں جیسے مشرق وسطیٰ میں اخوان المسلمین اور جنوبی ایشیا میں جماعت اسلامی یا بعض ریڈیکل گروپ کی طرف سے جیسے القاعدہ۔
لارینس کی رائے میں، جنھوں نے سنّی روایت پسندوں کی قانون سے زیادہ تصوف پر لکھی گئی تحریروں کا تحقیقی مطالعہ کیا ہے، اجتہاد سے دامن کشی کے باوجود اس روایت پسند گروہ کی نظر میں وہ اپنی محدود شکل و صورت میں مطلوب تھا۔ اگر چہ ان کا نظریۂ اجتہاد ان اصلاح پسندوں کے اجتہاد مطلق کے نظریے سے بالکلیہ مختلف تھا ، جنہوں نے اسلامی قانون کی ایک رواں اور سیدھی سادی تعبیر پیش کی۔ قانون کی یہ شکل اپنی اساسیات کی تشکیل میں ایک پالیسی دستاویز کی مانند زیادہ تھی بہ نسبت دلیل و حجت پر مبنی معقول روایت کے۔ اجتہاد مطلق یا اجتہاد غیر مقید اور اسلامی قانون کی سیدھی سادی یہ تعبیر اپنے نتیجے کے اعتبار سے ہندوستان کے ان روایت پسندوں کی فکر کے مطابق نہیں تھی جو تصوف کے چشتیہ سلسلے سے منسلک تھے۔ کارل ارنسٹ(Carl Ernest)کے اشتراک سے لارینس نے ہندوسان میں چشتی فکر کے بنیادی ماخذ کی تلاش و تحقیق کا فریضہ انجام دیا(۱۰)۔ اگر چہ ان دونوں حضرات نے تفصیل اور دقت رسی کے ساتھ چشتیہ سلسلے کے روحانی نظریات کا جائزہ لینے کی کوشش کی تاہم انہوں نے تصوف کے ما بعد الطبیعاتی نظریات اور شریعت کے پیچیدہ مباحث کے درمیان موجود ربط کو اپنے غور و فکر کا مرکز نہیں بنایا۔ خاص طورپر ایک فقیہ کے اندر پائی جانے والی ایسی قابلیت اور روحانی بنیاد، جس پر وہ اجتہادی کوششوں کے ذریعہ شرعی حکم کا استنباط کرتا ہے۔ اس تعلق سے دلچسپ بات یہ ہے کہ بر صغیر ہند کے چشتی صوفیوں کے ذریعہ اٹھائے گئے فقہ واجتہاد کے مباحث کو تو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جبکہ تصوف سے متعلق انہی کے نظریات و خیالات کی تحسین کی جاتی ہے۔
میں مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ایک شاگرد مولانا قاری محمدطیبؒ صاحب کو اس موضوع (اجتہاد کے عمل میں روحانیت کا مرکزی کردار) تعلق سے بنیاد بنا کر اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ اس امید کے ساتھ کہ میرے اس مطالعہ سے موضوع کے دوسرے رخ پر روشنی پڑ سکے گی اور اس سے لارینس اور کارل ارنیسٹ کے فقہ سے متعلق مطالعے میں تصوف وروحانیت کی مرکزیت کا پہلو زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آسکے گا۔ قاری طیب صاحبؒ نے اسلامی قانون اور روحانیت سے تعلق رکھنے والے پیچیدہ مباحث پر اجتہاد و تقلید کے حوالے سے روشنی ڈالی ہے۔ اپنی تمام تر پیچیدگیوں کے ساتھ ، اسلامی معاشرے میں پائے جانے والے ان روایت پسند ناقدین اور ان کے خیالات کو سمجھنے کے لیے تصوف اور اسلامی قانون کے فکری مباحث کے درمیان تداخل پرزور ڈالنا ضروری نہیں ہے۔ جنوبی ایشیا کے بعض چشتی صوفیا کی نظر میں تصوف فقہ کے مقصد و معنی کو مزید گہرائی اور گیرائی عطا کرتا ہے۔ لیکن جہاں تک فقہ کی بات ہے تو وہ تصوف کے جوش وحیویت کو محدود کر دیتی ہے۔ میں اسی کے ساتھ یہ بات پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اجتہاد کی حمایت یا مخالفت میں کی جانے والی بحثیں تاریخ کی مادی یا عارضی صورت حال اور فرداور اجتماع سے متعلق مخصوص نظریات پر پردہ ڈال دیتی ہیں۔
قاری محمد طیب صاحب ( وفات: ۱۹۸۳)نے اپنے مقالے ’’ اجتہاد و تقلید‘‘ میں جو ۱۹۶۰کے اواخر یا۱۹۷۰کے اوائل میں لکھا گیا تھا، اجتہاد کے تعلق سے تجدد پسندوں، اصلاح پسندوں یا احیائیت کے علمبرداروں کی عام روش سے ہٹ کر نیا رخ اختیار کیا ہے۔ اگرچہ قاری محمد طیب صاحبؒ کی عالمانہ اور مفکرانہ حیثیت سے ہندو پاک کے مدارس کی دنیا سے باہر کے کم ہی لوگ واقف ہیں، تاہم روایتی بزرگی اور حنفی دیوبندی مسلک کے تعلق سے ان کی شخصیت امتیازی حیثیت کی حامل ہے۔ وہ تقریباً پانچ دہائیوں تک دارالعلوم دیوبند کے مسند اہتمام پر متمکن رہے اور انہیں اپنے حلقے میں زبردست دینی عظمت حاصل رہی۔
اجتہاد اور تقلید
اسلامی قانون یا فقہ کے تعلق سے اجتہاد و تقلیدمیں قاری طیب صاحب نے حضرت شاہ ولی اللہؒ (وفات:۱۷۶۲) کی پیروی کی۔ چنانچہ انھوں نے شاہ ولی اللہ کی طرح قانون اور ما بعد الطبیعات کی بحث کو تقریباً ایسی چیز کے ساتھملادیاجو قانون و اخلاقیات کے تاریخی و عمرانی فلسفے سے قریب تر ہے۔ اسلامی قانون ،جسے مذہب میں اخلاقی فلسفہ کا عنوان دیا جاتا ہے، کو موضوع بحث بناتے ہوئے ایسے غیر ایجابی عناصرپر کم ہی توجہ دی گئی ہے جن پر عموماً قانونیات سے متعلق تحریروں میں توجہ دی جاتی ہے۔ اکثر قانون یا فقہ سے متعلق تحریروں کو جن کی زبان ما بعد الطبیعات اور تصوف کی زبان سے ہم آہنگ ہوتی ہے، روحانیات کے مطالعے کے عنوان سے الگ حیثیت دیتے ہوئے انہیں مذہبی مطالعے کے خانے میں ڈال دیا جاتاہے۔ اس طرح اسلامی قانون کے ساتھ ان کا رشتہ منقطع ہو جاتا ہے۔ حقیقت میں، جیسا کہ بابر جوہانسن (Baber Johansen)نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے، قانونی اثباتیت نے اسلامیفقہ کا مطالعہ کرنے والی اہم عرب مسلم شخصیات کے ذریعے ایک نئی قسم کی راسخ العقیدگی اور معیاریت کی اساس کی شکل اختیار کر لی ہے۔(۱۱)
اپنے مقالے میں قاری محمد طیب صاحب نے اجتہاد اور فقہ کی تشکیل کے بعد کے مرحلے میں اس کے استعمال پر روشنی ڈالی ہے۔ علاوہ ازیں اس بات سے بھی بحث کی ہے کہ تقلید کے ساتھ کس طرح تعامل کیا جائے؟(۱۲)
انہوں نے اس پہلو کو واضح کیا کہ بعض فقہابعض شخصی فقہی رایوں سے شدت کے ساتھ وابستہ رہے اور انہوں نے فقہا کی رایوں کی اس طرح پیروی کی جیسے وہ خدا کی طرف سے نازل کردہ قانون ہے۔(۱۳)
ان کی نظر میں فقہی مذاہب اجتہادی کوششو ں کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں اور اجتہاد سے متعلق قاری محمد طیب صاحب کے افکار و نظریات کو انیسویں اور بیسویں صدی میں مختلف اسلامی ممالک میں اجتہادکے بارے میں جاری بحثوں سے تقابل کی بنیاد پر زیادہ بہتر طورپر سمجھا اور پرکھا جا سکتا ہے۔ انیسویں صدی کے اختتام پر مشرق وسطیٰ میں اجتہاد کو عمل میں لائے جانے کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ ہندوستان میں قرآن کی حدیث سے مطابقت کی کوششوں میں اہل حدیث تحریک سب سے پیش پیش رہی ہے۔ اہل حدیث مستقل طورپر کتاب وسنت کے صحیح احکام تک رسائی کے لیے اجتہاد کو مسلمانوں پر فرض تصور کرتے ہیں۔ اس جماعت نے اصلاح پسندانہ ذہنیت کے تحت فقہی مکاتب فکر کی تشکیل کے نقطۂ نظر سے اختلاف کیا ، لیکن حقیقت میں اس کا اصلاحی نظریہ ملک و ملت کی تعمیر اور سماجی بدلاؤ کے بجائے قدامت پسندانہ انداز میں محض بعض مذہبی رسوم و اشکال کی اصلاح پر مرکوز رہا۔ ہندوستانی اہل حدیث رائج فقہی مکاتب کے بجائے زیادہ تر محمد بن علی الشوکانی ، احمد محمد شاکر اورسعودی عرب کے سلفی علما کے افکار و نظریات سے قریب رہے(۱۴)۔ ہندوستان کے متجددین بھی اجتہاد کے زبردست حامی تھے ۔ وہ اس سلسلے میں شاہ ولی اللہ دہلوی اور ان کے بعد ڈاکٹر علامہ اقبال کے افکار و نظریات کو اپنے تجدد پسندانہ مقاصد کے تعلق سے نمونہ اور مثال تصور کرتے تھے۔
بر صغیر ہند کے حنفی علما کی اس دوران اپنے مکتب فقہ سے وابستگی پوری طرح باقی رہی۔ انہوں نے اپنے مکتب فقہ کی معتبریت اور استناد کا کھل کر دفاع کیا۔ دیوبندی اور بریلوی علما باہم شدید مخاصمت کے باوجود یہ سمجھتے رہے کہ فقہ حنفی اسلامی شریعت کی رہنمائی کے تعلق سے ان کی ضروریات کی بخوبی تکمیل کرتی ہے۔ اسی طرح برطانوی حکومت کی طرف سے جو چیلنجز لوگوں کو در پیش ہیں وہ ان کا جواب دینے کی بھی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔(۱۵)
مشرق وسطیٰ کے ممالک کے علما میں اصلاح و تجدد کے تعلق سے جو جوش و خروش پایا جاتا تھا، اس سے ہندوستان کے علما کیوں محروم رہے؟ اس کی مختلف وجوہات ہیں۔ ایک اہم وجہ ان علما کا فقہ کے باب میں اجتہاد کی روش پر قدغن لگانا ہے۔ یہ صرف مغربی قانونی ضابطوں کے مقابلے میں حنفی فقہ کی برتری کا ان کا اعتقادہی نہیں بلکہ عرب ممالک میں اجتہاد کی تائید میں بلند ہونے والی آوازوں کے متوقع نتائج کو دیکھ کران کا یقین اجتہاد کی نفی میں پختہ ہو چلا تھا۔ ہندوستانی علما نے محسوس کیا کہ تدریجاً غیر شعوری طورپر اجتہاد کی وکالت کرنے والے عرب علما بھی جدید طرز حیات کی اخلاقیات کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہوئے سیکولر کاری کے آگے گھٹنے ٹیک رہے ہیں۔(۱۶) روایتی حنفی علما کی نظر میں عرب علما کی مذکورہ صورت حال اجتہاد پسند خیمے کا انتہائی خطرناک پہلو ہے۔ مزید برآں خطرے کی بات یہ تھی کہ یہ اجتہاد کا حامی گروہ اجتہاد کی بنیاد پر تہذیبی نشاۃ ثانیہ کا شدید خواہاں تھا۔طبعی طورپر نشاۃ ثانیہ کے بلند بانگ نعروں میں اجتہاد کی ضرورت پر زور دینے والی وہ آوازیں بھی شامل تھیں جن پر نیشنلزم اور سوشلسٹ رجحانات کی چھاپ تھی۔ اگرچہ مشرق وسطیٰ کے بہت سے روایتی علما سیاست و تہذیب کے حوالے سے اجتہاد کی حمایت میں ہونے والی بحث و گفتگو میں شریک رہے تاہم جنوبی ایشیا کے علما نے اس سے اپنی دوری بنائے رکھی۔
جنوبی ایشیا کے حنفی علما نے اجتہادی کوششوں کی مزاحمت کیوں کی؟ اس کی شاید ایک نفسیاتی وجہ بھی تھی۔ اگر یہ علما اجتہاد کی راہ اختیار کرتے تو یہ ان کی طرف سے اپنی حریف جماعت ، جماعت اہل حدیث جو بہر حال جدیدیت سے خائف نہیں تھی، کے آگے گھٹنا ٹیک دینے اور یہ ان کے نکتۂ نظر کو قبول کر لینے کا اشاریہ ہوتا۔ دارالعلوم دیوبند کے وجود و بقا کے اسباب میں سے ایک سبب جماعت اہل حدیث کی طرف سے احناف کو لاحق چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونا بھی تھا۔ علمائے اہل حدیث احناف کے اس تعلق سے شدید ناقد تھے کہ وہ کتاب و سنت سے تازہ کاری کی روح کے ساتھ براہ راست استفادے پر تقلید و روایت پسندی کے رجحان کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس اعتبار سے قاری محمد طیب صاحب روایتی طرز کے ایک تقلید پسند عالم تھے۔ وہ اس رجحان کے خلاف تھے کہ اجتہاد کی بنا پر خود سے فقہی احکام کا استنباط کیا جائے۔ انہوں نے جدیدیت پسندوں اور سلفی علما کے اس رویے کو ناپسند ٹھہرایا کہ وہ اس پہلو پر زیادہ توجہ نہیں دیتے کہ استنباطِ قانون کا حق و اختیار کس کو حاصل ہے اور کس کو نہیں؟ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہ انہوں نے روایتی علمی طریق کار کو نظر انداز کر کے نیا طریق کار اختیار کر لیا ہے،انھوں نے ان دونوں طبقے کے لوگوں کو اس پہلو سے شدید ترین تنقیدوں کا نشانہ بنا یا کہ وہ اجتہاد کے علم بردار تو ہیں لیکن اس کی صلاحیتوں سے قطعی بے بہرہ ہیں۔(۱۷) ان کی نظر میں کتاب و سنت کی بصیرت رکھنے والی علمائے دیوبند کی جماعت شریعت کے تعلق سے عقلی اور ما بعد الطبیعاتی پہلوؤں سے پوری طرح واقف و آگاہ تھی۔ قاری صاحب کی نظر میں کسی بھی مستنبط شرعی حکم کے لیے ضروری ہے کہ وہ کلیت اور تعقل کے مفہوم سے مربوط ہو اور ان دونوں کے درمیان ما بعد الطبیعاتی رشتہ قائم ہو۔(۱۸)یہ نظریہ اس عام اور غالب مسلم علمیاتی فکر سے متغائرہے جواسلامی نصوص کی مربوط و منظم تشریح سے پہلو بچائے ہوئے عقل عام کے اصولوں کی بنیاد پر کتاب و سنت کے مطالعے کی روشنی میں اخذ کردہ خالص شرعی احکام کو ہی مکمل معتبریت اور استناد فراہم کرتا ہے۔ قاری محمد طیب صاحب تحریر فرماتے ہیں:
’’ ہر علم جزئی میں ایک علم کلّی ہوتا ہے ۔ اور ہر علم کلی میں حکمت و مصلحت کلیہ پوشیدہ ہوتی ہے، پھر ہر مصلحت کا تعلق کسی نہ کسی شانِ کمال سے ہوتا ہے پھر ہر شانِ کمال کسی نہ کسی صفت الٰہی سے مربوط ہوتی ہے۔‘‘(۱۹)
قاری صاحب نے جو زبان اجتہاد سے متعلق اپنے نظریات کی وضاحت کے لیے استعمال کی ہے اس میں کلّیت اور عقل و حکمت کے الفاظ کا استعمال اور ان کو فقہ، اخلاقیات اور ’ مصلحت عامہ‘ سے مربوط کرکے قاری صاحب کی توجہ ما بعد الطبیعاتی امور کی طرف مبذول کی گئی ہے۔ اسی طرح انہوں نے احسان اور تقویٰ کے مفہوم کا مخصوص طورپر استعمال کرتے ہوئے صفات الٰہیہ کی کاملیت و اکملیت کے حوالے سے انسانی نفسیات کی تشریح کی گئی ہے۔
قانون سے متعلق اس پیچیدہ اومختلف سطح اور ابعاد رکھنے والے اس نکتۂ نظر کو جنوب ایشیائی اسلامی فکر کے بعض حلقوں میں اب بھی مقبولیت حاصل ہے۔ اس خطے میں روایتی حنفی علما اور اسکالرس کا گروہ بلا تامل کائناتی تناظر میں فقہی احکام و ضوابط کے متعلق گفتگو کرتا ہے۔ یہ رجحان دیوبندی اور بریلوی دونوں مکتب فکر کے علما میں نظر آتا ہے۔ علم و دانش کے ان حلقوں میں قانون کے مباحث میں ما بعد الطبیعات ، کلام اور تصوف کی بھرپور آمیزش شامل ہوتی ہے۔(۲۰)
ماورائیت ، حکایت اور تاریخ
اجتہاد سے متعلق قاری طیب صاحبؒ کے بیانات میں تاریخ سے متعلق ان کا نظریہ غیر محسوس طورپر در آیا ہے ، جو ہماری توجہات کا زیادہ مستحق ہے۔ تاریخ سے متعلق ان کا نظریہ مختلف پہلوؤں سے قصہ. (historia)سے مشابہ ہے جس کے مطابق، ان کے تعبیری نمونوں سے متعلق ان کے بیانات سے نہایت اہم سوالات ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ یہ تاریخ وار مرتب تاریخ کے بالمقابل ایک بیانیہ تاریخ کے مشابہ ہے۔ ہیڈن وہائٹ(Hayden White) کہتے ہیں:
’’ بیانیہ تاریخ ، تاریخی واقعات کو ڈرامائی اور تاریخی عمل کو نادر شکل میں ڈھال دیتی ہے جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ بیانیہ تاریخ جن حقائق سے تعامل کرتی ہے ان کا نظم و اسلوب سماجی و سائنٹفک تاریخ کے حقائق سے کافی مختلف ہوتا ہے۔‘‘(۲۱)
بیان سے جو حقائق منکشف ہو کر سامنے آئے انہوں نے تاریخ کو کونیات بلکہ شاید مفروضات کے ساتھ وابستہ کرنے کا کام انجام دیا۔ چنانچہ موضوعیت سے مکمل وابستگی کے ساتھ حقائق کو واشگاف کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ، جیسا کہ ’’ ہرمن ہیس(Hermann Hess) Glass Bead Gameمیں لکھتے ہیں: ہمیں اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ تاریخ سے متعلق تحریریں ادبیات کے ضمن میں ہی آتی ہیں۔(۲۲) وہ مزید بصیرت کے ساتھ کہتے ہیں:’’ تاریخ کا تیسرا بعد ہمیشہ مفروضات ہی ہوتے ہیں۔‘‘
قاری طیب صاحبؒ کی بیانیہ تاریخ کے شاعرانہ اور عاقلانہ(poetic and noetic) دونوں پہلو ان کے فلسفۂ فقہ کی خبر دیتے ہیں۔ ان کے مباحثے میں دو اصطلاحیں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ مستعمل ہوتی ہیں: تکوین اور تشریع ۔تکوین سے مراد خلق کائنات اور تشریع سے قانون سازی مراد ہے۔ مسلم ماہرین دینیات یا فقہاء نے مادہ سے اشکال و صور کے پیدا ہونے کا نظریہ قائم کیاہے۔(۲۳) دوسرے لفظوں میں یہ بعض مادوں کی موجودگی تھی جو وجود کے لبادے میں ظاہر ہوئی یا ایک با اختیار ہستی کے منشا اور علم سے اس کا ظہور ہوا۔(۲۴) جس طرح تدریجی طورپرتکوین کا عمل مکمل ہوا۔ اسی طرح تشریع بھی ان کی صفات الٰہیہ سے وابستہ رہی جو ایک ماڈل کے طور پر تاریخ میں تدریجیت کے آغاز کا پیش خیمہ بنی۔
تدریجیت کے خد و خال’’ ربوبیت‘‘ کے اوصاف سے ظہور پذیر ہوئے ہیں۔ ربوبیت تدریجی طورپر پرورش اور دیکھ بھال کا نام ہے۔(۲۵) ۔ دوسرے لفظوں میں اسلامی قانون تاریخ کے مختلف مراحل میں تشکیل پذیر ہوا اور مادی اور انسانی کوششوں کے دائرے میں ظاہر ہوا۔ اس طرح کائناتی اور تشریعی دونوں نظاموں کا تعلق وقت سے ہے۔ کائنات کی تخلیق پر اس لیے زیادہ زور دیا گیا تاکہ ایک منظم کائنات کے ارتقا میں وقت کی اہمیت کی نشان دہی کی جا سکے نہ کہ تخلیق کے محدود نظریے کی۔
قاری صاحب نے اپنے افکار کی تشکیل مختلف مطابقتوں اور مشابہتوں(homologies)کو سامنے رکھ کر کی ہے۔’’ ریمونڈ ولیمس‘‘ (RaymondWilliams) کے خیا ل میں مشابہت کا تعلق اصل اور ارتقا سے ہے اور یہ قیاسanalogy) )سے مختلف ہے۔(۲۶) قاری طیب صاحب کے مطابق، تکوین اور تشریع کے عمل کے درمیان ایک مطابقت پائی جاتی ہے اور یہ مطابقت تکوین اور تشریع سے ہٹ کر کائنات اورموجودات میں جو مماثلت پائی جاتی ہے، اس کے تعلق کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے بعد قاری صاحبؒ دوبارہ اس مماثلت کی طرف رخ کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں فطری طورپر ایک شخص خدا کے کام اور کلام کا شاہد ہوتا ہے۔ وہ اس طرح کہ خدا کے عمل کا ادراک کرکے انسان عمل تخلیق کی حقیقت سے آشنا ہوتا ہے اور خدا کے الفاظ کی تصدیق کر کے وہ وحی کے عمل کی حقیقت سے آشنا ہوتاہے۔ انھوں نے کتاب فطرت اور کتاب اللہ کے درمیان جو متوازی نسبت قائم کی ہے اس کی وضاحت کی مزید ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔(۲۷) قاری صاحب کے نزدیک فطرت پر مبنی کائنات اور وحی کی بنیاد پر تشریع ایک دوسرے سے ہم آہنگ اور اپنے وجود میں ایک ہی کلیے کا حصہ ہیں۔
ایک طرف تکوین اور دوسری طرف تشریع کی شروعات ایک ہی وقت میں عمل میں آئی ہے، یہ دونوں دو کائناتی عوالم( عالم الخلق والامر) کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ اصطلاح قرآن سے لی گئی ہے جو ایک ایسے دائرے کی ضرورت پر زور دیتی ہے جہاں امور کائنات اور امور تشریع ایک دوسرے کے ساتھ گھلے ملے نظر آتے ہیں۔ قاری صاحب کی نظر میںآغاز کائنات پر ایک بیان سے روشنی پڑتی ہے۔ انہوں نے قرآن کے بیان سے یہ مطلب اخذ کیا ہے کہ ایک کائناتی دن ایک ہزار زمینی دن کے برابر ہے۔ ابراہیمی مذاہب کے معروف مافوق الادراک تفصیل کے مطابق، کائنات کی تخلیق کل چھ دنوں میں عمل میں آئی ہے۔ اگرچہ مختلف مفسرین کے نظریے کے مطابق، تخلیق کا عمل ہمیشہ سے پُراسرار اور مبہم رہا ہے(۲۸)۔ قاری طیب صاحب کی ایک بڑی ناکامی اور کمزوری کی بات ان کی بھونڈی حرفیت پسندی ہے جو اسلامی نظریۂ ارتقا کا ایک دھندلا اور نہایت موہوم خاکہ پیش کرتی ہے۔ اس نظریے کے تحت یہ دعوا سامنے آتا ہے کہ ہماری یہ دنیا6000سالوں میں بن کر تیار ہوئی ہے(۲۹)۔ اس تعلق سے انہوں نے روایتی تفسیری تعبیرات کو بھی نظر انداز کر دیا۔ روایتی مفسرین میں سے بعضوں نے وحی میں موجود کونیاتی اشاروں اور حوالوں کی تجربی نوعیت سے متعلق کچھ بھی تخمینہ لگانے یا کہنے سے گریز کیا(۳۰)۔اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں آفرینش پر مبنی تخلیق کائنات سے متعلق پیش کردہ وہ نظریات جواب نا قابل اعتبار ٹھہرائے جا چکے ہیں؛ کے قبیل کی بھی بعض چیزیں قاری طیب صاحب کے یہاں راہ پا گئیں۔ تقریباً دو صدی پیشتر بائبل کے علم توارث کی روشنی میں یہ بات کہی گئی کہ زمین کی عمر چھ ہزار سال ہے جبکہ قاری طیب صاحب کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام محمد(ﷺ) کی پیدائش بنی نوع انسان کے پہلے فرد ( حضرت آدم علیہ السلام) کے اس دنیا میں آنے کے ٹھیک چھ ہزار سال بعد ہوئی ہے(۳۱)۔ قاری طیب صاحب کی فکر میں پائی جانے والی اس طرح کی کمزوریوں کے باوجود میرے خیال میں ان کی فکر کا اکثر حصّہ قابل قبول ٹھہرتا ہے۔ جس طرح کونیاتی نظام کا ظہور تاریخی یا فطری وقت کے مطابق ہوا، اسی طرح تشریعی نظام بھی فطری زمانے کے مطابق رونما ہوا۔ اس طرح ان دونوں میں با ضابطہ مطابقت بالکل واضح تھی: کائنات کی تاریخ کے مختلف مراحل میں جس طرح کائنات کی پرتیں نکلیں، اس کے رازہائے سربستہ منکشف ہوئے، اسی طرح طویل انسانی اعمال و تجربات کے ذریعے بتدریج شریعت کی تشکیل ہوئی اور وہ محمد (ﷺ) کے توسط سے تکمیل کو پہنچی ہے۔ کونی اور ارضی زمانے کے درمیان بھی ایک رابطہ موجود تھا۔ مولانا قاری طیب صاحب لکھتے ہیں کہ چھ ہزار سال کے عرصے کے دوران تکوین کائنات اور تشریع سے تعلق رکھنے والے امور کمال کو پہنچ گئے۔ آگے جو کچھ انھوں نے لکھا ہے اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ان کی نظر میں کائنات اور موجودات کائنات کے درمیان تعلق ایسا ہی ہے جیسے جسمانی اور معاشرتی ارتقا کے نمایاں خد و خال کے درمیان۔ اگرچہ ایک شخص ان کے اس عمل میں صرف ہونے والے زمانے کے تخمینے کو مسترد کر سکتا ہے (۳۲)۔
تکوینی اور تشریعی عمل میں جو اشتراک تھا وہ نہایت گہرائی کے ساتھ غیر متبدل اور کائناتی اصولوں اور ضابطوں سے تعلق رکھتا ہے۔ قاری طیب صاحب جس کو نیات کی بات کرتے ہیں وہ بہت سی کلیات سے مرکب ہے۔ ارسطو اور ابن سینا کے حوالے سے وہ عناصر اربعہ : آب، خاک، آتش اور ہوا کو کلیات قرار دیتے ہیں جن سے مزید دوسری کلیات پیدا ہوئیں جیسے: اپنے نظام مدارج کے اعتبار سے جمادات، حیوانات اور نباتات۔(۳۳)
اسی طرح سائنٹفک قانون سازی کے میدان میں مذہب کے مبادی اور کلیات بھی کچھ ضوابط،قوانین ، نظریات اور اقدار پر مبنی ہیں۔ قاری طیب صاحب کی تطبیق میں تکوینی اور تشریعی بیانات کس طرح فٹ بیٹھتے ہیں؟ حقیقت میں غیر متبدل اورمستحکم کلیات کے ذریعہ ان میں توافق پیدا کیا گیا ہے - قاری طیب صاحب کے مثبت فریم ورک میں عمومات پر تاکید محض کلیدی عنصر ہی نہیں بلکہ خصائص بھی عمومات کا اثر رکھتے ہیں جب انہیں مربوط طرز میں پیش کیا جائے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ آیات و احادیث میں جس قدر بھی جزئی احکام مذکور ہوئے ہیں، جو زید، عمر و بکر کی طرح پھیلے ہوئے ہیں ان کی تشکیل وہ اصول وکلیات اور علل و اسرار کرتے ہیں جوان جزئیات میں مستور ہوتے ہیں کہ ہر جزئی میں ایک علم کلی ہوتا ہے اور ہر علم کلی میں حکمت و مصلحتِ کلیہ پوشیدہ ہوتی ہے۔ پھر ہر مصلحت کا تعلق کسی نہ کسی شان کمال سے ہوتا ہے۔ پھر ہرشان کمال کسی نہ کسی صفتِ الٰہی سے مربوط ہوتی ہے۔‘‘(۳۴)
لیکن کلی کامطلب یہ نہیں کہ ایک جامد نظام غالب ہے۔قاری صاحب کہتے ہیں: جب کوئی فطرت اور نظام تکوین کاجائزہ لیتاہے، تو یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ نئے عجائب اور اسرار کا انکشاف ہو۔فطرت کے مخفی خزانوں کی تحقیق نے تہذیب کے لیے لا انتہا ایجادات پیش کر دی ہیں۔ تشریعی قانون کی معرفت آدمی کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ تکوین، اس کے قوانین، ضوابط اور اقدار کے پوشیدہ اسرار اور خفیہ معارف تک رسائی حاصل کر سکے۔ ان استدلالی آلات کو استعمال کرنے سے انسان - قاری صاحب کے خیال میں- نئے ثانوی خیالات ، لطافتیں، نکات، حقائق اور تدین کے نئے معانی پیدا کر سکتاہے۔(۳۵)
’’جیسے کہ سائنسی اکتشاف ہمارے تکوینی علم میں اضافہ کرتاہے ۔ ویسے ہی اجتہاد سے ہمیں تشریع کے دقائق کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔‘‘
وہ کہتے ہیں:
’’ جس طرح تکوین کے ان منظم اور مرتب مادوں اور علوی و سفلی ذخیروں سے بواسطہ فکر و تدبر نئے نئے عجائبات کاانکشاف کیا جا سکتاہے اور ان کی چھپی ہوئی طاقتوں کا سراغ لگا کر تمدن کے نئے نئے کارنامے دنیا کو دکھائے جا سکتے ہیں جن کی کوئی حد نہیں کہ لاتنقضی غرائبہ۔ اسی طرح تشریع کے منظم احکام و مسائل اور قواعد وکلیات کے مخفی علوم و اسرار کا پتہ لگا کر ان سے تدین کے نئے فروعی مسائل ، لطائف و ظرائف اور حقائق و معارف پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ اس تکوینی انکشاف کانام ایجاد ہے اور تشریعی استخراج کا نام اجتہاد ہے، نہ ایجاد کی کوئی حد ہے نہ اجتہاد کی۔ یہ الگ بات ہے کہ جیسے ایجادات ہر زمانہ کی ذہنیت اور ضرورت کے مطابق ہوتی ہیں اور فطرتا موجدوں کی طبیعتیں ان ہی ایجادوں کی طرف چلتی ہیں جن کی زمانہ کو ضرورت ہوتی ہے اور جب وہ ضرورت ختم ہو جاتی ہے تو طبائع کی یہ دوڑ بھی ختم ہو جاتی ہے، آگے صرف ان ایجادات سے فائدہ اٹھانا رہ جاتا ہے، ایسے ہی اجتہادات کا رنگ بھی ہر دور کی علمی ذہنیت اور وقت کے تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے مجتہدوں کے قلوب فطرتا چلتے ہی اس استخراج کی طرف ہیں جس کی اس قرن کو ضرورت ہوتی ہے۔اس تکمیل ضرورت کے بعداجتہاد کا وہ دور نہیں لوٹتا جو آچکتاہے، اب صرف اس سے نفع اٹھانے کا موقع باقی رہ جاتا ہے۔‘‘(۳۶)
قاری محمدطیب کی اجتہا د کے جواز میں یہ بلند آہنگ گفتگو قانون اور اخلاقی فلسفہ پر مبنی ہے۔ ان کے خیال میں اجتہاد اور تقلید دونوں ہی شریعت میں مطلوب ہیں (۳۷) لہٰذا دونوں میں سے صرف کسی ایک پر زور دینا درست نہ ہوگا۔ صرف اجتہاد کو ہی مرکز توجہ بنانے سے تقلید کو نقصان پہنچے گا۔اس کے بجائے دونوں ہی کے مثبت پہلوؤں کو آگے بڑھا یاجائے۔اجتہاد و تقلید دونوں ہی اصطلاحات مجازی کے طورپر اقتدار اور تخلیق کے ایک پورے نظام سے متعلق ہیں اور دونوں جبھی مؤثرہوں گے جب دونوں پر مخصوص نظام میں عمل درآمد ہو۔ قطع نظراس سے کہ وہ نظام مذہبی ہو یا سیکولر۔ اس نظام کا کردار زیادہ اہم ہے نہ کہ اس کی شکل۔ یہ نہ جبری ہو اور نہ جامد۔ قاری محمد طیب کے خیال میں یہ نظام مجموعی طورپر مؤثر ہوگا ٹکڑوں میں نہیں۔
(جاری)
حواشی و حوالہ جات:
۱۔ اجتہاد متعدد المعنی اصطلاح ہے ۔اس لیے اس کا کئی طرح سے ترجمہ ہوسکتاہے۔اس مقالے میں اس کا ترجمہ ان معنوں میں کیا گیاہے:خود اختیار کردہ اور مستقل فکر،مستقل فقہی توجیہ،خود توثیق کردہ اصول اور فقہی صوابدید وغیرہ۔
۲۔ اس اصطلاح سے متعلق ایک بحث کے لیے دیکھیے:
Gayatri Chakravorty Spivak, A Critique of Postcolonial Reason (Cambridge, Mass & London: Harvard University Press, 1999), 331. Also see the Oxford English Dictionary, s.v. 145 catachresis.146
۳۔ ابوحامد محمد بن محمد الغزالی:المستصفی من علم الاصول،ترتیب:سلیمان الاشقر(بیروت مؤسسہ الرسالہ ۱۴۱۷ھ/۱۹۹۷)، ۲/۱۶۴۔
۴۔ محمد ابن ادریس الشافعی :الرسالہ ترتیب :احمد محمد شاکر(بیروت،المکتبہ العلمیہ ،تاریخ مذکور نہیں)، ص، ۷۰۵۔۴۱۵۔
۵۔ مجتہد مطلق اور مجتہد منتسب کی بحث کے لیے دیکھیے:
۶۔ دیکھیے:
Wael B. ed. Hallaq, Islamic Law and Society: Issues and Problems, Vol. 3, No. 2, vol. 3 (1996) Also Mohammad Fadel, "The Social Logic of Taqlid and the Rise of the Mukhatasar," Islamic Law and Society 3, no. 2 (1996), Sherman A. Jackson, "Taqlid, Legal Scaffolding and the Scope of Legal Injunctions in Post-Formative Theory Mutlaq and `amm in the Jurisprudence of Shihab Al-Din Al- Qarafi," Islamic Law and Society 3, no. 2 (1996).
۷۔ابوالحسن علی ندوی: Islam and the World( Lacknow,Islamic Research Academy) 1980 ۔اس طرح کے مختلف نظریات پر محمد عابد جابری نے تبصرہ کیا ہے۔نحن والتراث)بیروت االمرکزالثقافی العربی ۱۹۹۳ (خاص طور پر دیکھیے ص،۱۱۔۷۲
۸۔
Bruce B. Lawrence, Defenders of God: The Fundamentalist Revolt against the Modern Age (San Francisco: Harper & Row, 1989; reprint, Columbia: University of South Carolina Press, 1995),p. 214
۹۔ایضا ص:215
۱۰۔
Carl W. Ernst and Bruce B. Lawrence, Sufi Martyrs of Love: The Chishti Order in South Asia and Beyond (New York: Palgrave Macmillan, 2002), p.118-125
۱۱-
Johansen Baber:Contingency in a Sacred Law:Legal and Ethical Norms in the Muslim Fiqh,ed.Ruud Peters and Bernard Weiss,Studies in Islamic Law and Society,Vol.7(Leiden,Koln:Brill,1999
۱۲۔ میں اس بات سے واقف ہوں کہ بعض لوگ تقلید کاترجمہ’’نقل‘‘((imitation کرتے ہیں ۔میں نے اس کا ترجمہ اتباع یا کسی چیز پر کاربند ہونے کے معنی میں مجا زا کیا ہے۔
۱۳۔ قاری محمدطیب :اجتہاد اور تقلید (لاہو ر ادارہ اسلامیات ۸۷۹۱)ص،۶
۱۴۔ ایضا
۱۵۔ حنفی علما نے فقہ پر نظرثانی کی تحریک کا بہت زیادہ اثر قبول نہیں کیا ۔ہوسکتا ہے اس کی دوسری وجوہات بھی ہوں۔حنفی فقہی روایت کو دو واقعات سے بہت زیادہ تحریک اور تقویت ملی۔یہ دونوں واقعات نسبتا کم مدت کے اندر اندر پیش آئے اور ان کے حنفی فقہی روایت پر زبردست اثرات مرتب ہوئے۔ایک ہندوستان میں اورنگ زیب عالم گیرکی سرپرستی میں فتاوی عالمگیری (جسے فتاوی ہندیہ سے بھی موسوم کیا جاتاہے)کی ترتیب دوسرے ترکی میں عثمانی حکومت کے تحت مجلۃ الاحکام العدلیہ کا مرتب کیا جانا۔اس کی ترتیب وزیر انصاف احمد جودت پاشا کی نگرانی اور سرپرستی میں عمل میں آئی۔حنفی فقہ میں کی جانے والی اس اصلاحی کوشش کے اثرات ہندوستان میں وسط ایشیا کے راستے سے اور عالم عربی میں عرب حنفی علما کے ترکوں سے تعامل کے ذریعے وہاں پہنچے۔مجلہ الاحکام العدلیہ کے کام کو آگے بڑھانے میں سب سے اہم کردار علاء الدین محمد بن محمد ابن عابدین(وفات:۶۰۳۱/۹۸۸۱ ( کا ہے۔علاء الدین مشہور عالم وفقیہ محمد امین عابدین(۲۵۲۱ھ/ ۶۳۸۱ء)کے بیٹے تھے۔جن کی لکھی ہوئی کتاب:رد المحتار علی درالمختار بیسیویں صدی کی حنفی فقہ کی اہم ترین کتاب شمار ہوتی ہے۔نوجوان علاء الدین نے اپنے والد کی انسائکلو پیڈیائی نوعیت کی مذکورہ کتاب کے بعض ادھورے حصے کی نہ صرف تکمیل کی بلکہ جودت پاشا نگرانی میں جو کمیٹی اسلامی قانون کی تدوین نو کر رہی تھی اس کے رکن کے طور پر انہوں نے استنبول میں تین سال قیام بھی کیا۔ہندو پاک کے روایتی حنفی علما کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ فقہ کوقانون کے بجائے اخلاق کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔یہ بات اس تناظرمیں مختلف اور اہم ہے کہ مشرق وسطی کے فقہی حلقوں میں کچھ عرصے تک علما فقہ کو قانون کا درجہ دیتے رہے ہیں۔
۱۶۔ منیر غلام فرید:
Legal Reform in Muslim World The Anatomy of a Scholarly Dispute in the 19th and Early 20th Centuries on the Usage of Ijtehad as a Legal Tool(SanFrancisco&and London:Austin & Winfield,1996
۱۷ ۔مثال کے طورپر دیکھیے کہ یٰسین اختر مصباحی ،جو بریلوی فرقے کے اہم عالم ہیں،کس شدت کے ساتھ تنقید کرتے ہیں کہ انہوں نے ترقی کے نام پر اسلامی احکام پر عمل آور ی کو رجعت پسندی کے خانے میں ڈا ل کر ہر اسلامی حکم کو پس پشت ڈالنا شروع کردیا ہے۔مایوسی کے ساتھ وہ اشتراکیت،سوشلزم اور عرب قومیت کے عربوں پر اثرات کا ذکر کرتے ہیں ۔ ا حمد رضا بریلوی کی کتاب :جد الممتار علی رد المحتار جلد ۱،ص:۶(طبع حیدر آباد ،المطبع العزیزیہ ۲۸۹۱) کا تعارف جو مولانا مصباحی نے کلمات المجمع اکیڈمی کے نوٹ کے طور پر تحریر کیاہے۔
۱۸۔ قاری طیب :۳۶
۱۹۔ ایضا ۹۳۔۴۴:
۲۰۔ ایضا:۸۱
۲۱۔ مولانا احمد رضا خان کی تحریر وں میں یہ بات بھی وضاحت کے ساتھ ملتی ہے۔
۲۲ ۔
Hayden White, The Content of the Form, 44.
۲۳۔
Hermann Hesse,The Glass Bead Game(New York:Picador,1990 ,P,48-
۲۴۔ سمیح دوغائیم:موسوعۃ مصطلحات علم الکلام الاسلامی ،۲ جلدیں(بیروت ،مکتبہ لبنان، ۱/۷۹۳۔۷۷۹۱) ص،۴۳۲۔ التفتازانی۔تفتازانی کی کتاب ہندوپاک کے مدارس میں پڑھائی جاتی ہے۔ قاری طیب صاحب کادارالعلوم دیوبند بھی اس میں شامل ہے۔تفتازانی تکوین کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ یہ ایسا نظریہ ہے جوفعل،خلق ،تخلیق،ایجاد ،احداث اور اختراع وغیرہ پر دلالت کرتاہے۔اور یہ سب خدا کی صفات ہیں۔دیکھیے :سعد الدین مسعود بن عمر التفتازانی: شرح العقائد النسفیہ فی اصول الدین وعلم الکلام،مرتب کلاؤڈی سلامہ(دمشق وزارۃ الثقافۃ والارشاد القومی۱۹۳۷)ص،۶۲ یا دوسرے لفظوں میں یہ اضافی نسبتیں ہیں جیسا کہ ایک شارح نے لکھا ہے۔دیکھیے:عبد العزیز پر ہاروی ،النبراس شرح شرح العقائد،)بندیال شریف ،سرگودھا ،شاہ عبد الحق اکیڈ می۷۹۳۱ / ۷۷۹۱)ص،۴۳۲۔
۲۵ ۔محمد اعلی تھانوی ، موسوعۃ کشاف اصطلاحات الفنون والعلوم ترتیب:رفیق العجم۲جلدیں(بیروت ،مکتبہ لبنان،۶۹۹۱)۱/۵۰۵ و۵۸
تھانوی کہتے ہیں کہ وسط ایشیا کا ماتریدی مکتب فکر یہ نظریہ رکھتا ہے کہ تکوین خداکی ازلی صفت ہے۔یعنی ایک ایسا وجود جو مستقل طور پر ماضی میں قائم ودائم رہا ہے۔پارتھوی اس کی یہ تشریح کرتے ہیں کہ ماتریدی تکوین کو صفت مؤثرہ تصور کرتے ہیں اور اس کو کئی نام دیتے ہیں جس کا تعلق مختلف نوع کے افعال سے ہے،دیکھیے،پارتھوی:ص:۵۳۲
۲۶ ۔قاری طیب :ایضا ص۹
۲۷۔
( Oxford: Oxford University Raymond Willi a m s / Marxism and Literature, Press/1986) p.105
۲۸۔قاری طیب صاحب نے مختلف اعتبارات سے پاکستانی مصنف غلام جیلانی برق کے اس خیال کی شدت کے ساتھ تنقیدکی ہے کہ کتاب اللہ سے زیادہ اہمیت کتاب فطرت کو حاصل ہے۔دیکھیے،قاری طیب ،نظریہ دو قرآن پرایک نظر (دیوبند ،اعظمی بک ڈپو۲۰۰۶)
۲۹ ۔ کائنات کی تخلیق سے متعلق قرآنی حوالوں کی تشریح وتوضیح بارے میں پائے جانے والے مختلف قدیم و جدید نظریات اور اس سے متعلق معذرت خواہیوں کے لیے دیکھیے: محمد رشید رضا:تفسیر القرآن الحکیم الشہیر بتفسیرالمنار ،(بیروت ،دارالمعرفہ ،تاریخ مذکورنہیں)،: ص،۴۴۴۔۴۵۴
۳۰ ۔قاری محمد طیب اپنی بات کے ثبوت میں مسلم مؤرخین کا حوالہ دیتے ہیں،جن میں ابن جریر طبری بھی شامل ہیں۔طبری کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام محمد ﷺکے پاس وحی حضرت آدم کی تخلیق کے تقریبا چھ ہزار سال کے بعد آئی۔وہ قرآن(الاعراف:۵۴)کا حوالہ دیتے ہیں جو زمین و آسمان کی تخلیق سے متعلق ہے اور اس کو قرآن کی سورہ الحج :۴۷ سے متعلق کرتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ آخرت کا ایک سال زمین کے ایک ہزار سال کے برابرہے۔
۳۱۔ الحافظ امداد الدین ابوالفدا اسماعیل ابن کثیر و محمد علی الصابونی (مرتب) مختصر تفسیر ابن کثیر،(بیروت، دارالقرآن الکریم ، ۲/۵۲(۲۰۴۱/ھ۱۸۹۱ء)
۳۲۔ دیکھیے
H.Allen Orr:AReligon for Darwinians? The New York Review of Books/16, Aug.2007,P.33
۳۳ ۔ قاری طیب ص،۲۱
۳۴۔ ایضا۔مزید دیکھیے :
Aristotle'' Metaphysics''in The Basic Works of Aristotle ed.Rechard McKeon(New York:The Modern Library,2001)697 Seyyed Hossein Nasr/An Introduction to Cosmological Doctrines(Bath:Thames & and Hudson/1978
۳۵۔ قاری طیب ،
۳۶۔ ایضاً،ص،۱۳
۳۷۔ ایضاً
استاذ گرامی حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ / مرزا غلام احمد کے دعاوی اور قادیانیوں کی تکفیر
محمد عمار خان ناصر
(’’خاطرات‘‘ کے عنوان سے ایک سلسلہ شذرات کا آغاز کافی عرصے سے ذہن میں تھا جس میں مختلف علمی، فکری، فقہی، معاشرتی وتہذیبی اور مشاہداتی موضوعات کے حوالے سے، جو راقم الحروف کے زیر غور رہتے ہیں، اپنے طالب علمانہ نتائج فکر کو مختصر تحریروں کی صورت میں قارئین کے سامنے پیش کرنا مقصود ہے۔ زیر نظر شمارے سے اس سلسلے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ کوشش کی جائے گی کہ اس عنوان سے کچھ نہ کچھ معروضات تسلسل کے ساتھ پیش کی جاتی رہیں۔ واللہ الموفق۔ عمار ناصر)
استاذ گرامی حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ
مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ کم وبیش نصف صدی تک درس وتدریس اور دعوت وتبلیغ کی سرگرمیوں سے بھرپور زندگی بسر کرنے کے بعد گزشتہ دنوں دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
والد گرامی نے جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں مولانا مفتی عبد الواحد مرحوم کی نیابت میں خطابت کا سلسلہ ۱۹۷۰ء میں شروع کیا۔ اس وقت تک والد گرامی، والدہ محترمہ کے ہمراہ گکھڑ میں دادا محترم شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز صفدرؒ کے ساتھ انھی کے گھر میں سکونت پذیر تھے۔ غالباً ۱۹۷۹ء میں ہمارا گھرانہ گوجرانوالہ میں منتقل ہوا تو میں اس وقت تقریباً چار سال کا تھا اور نئی جگہ منتقل ہونے کی کچھ نہ کچھ جھلکیاں میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔ اس کے بعد سے قاضی صاحب کی وفات تک تیس سے زائد سال کا عرصہ میں نے جامع مسجد شیرانوالہ باغ اور مدرسہ انوار العلوم کے اسی ماحول میں بسرکیا ہے جس میں قاضی حمید اللہ خان درس وتدریس کی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ یوں بحمد اللہ مجھے ان کی شخصیت ومزاج کو بہت قریب سے دیکھنے اور ان کے روز مرہ معمولات کا مشاہدہ کرنے کے مواقع مسلسل حاصل رہے ہیں۔
ابتدا ہی سے انھیں دن کے اوقات میں مدرسہ انوار العلوم کے طلبہ کو اپنے بلند آہنگ میں اسباق پڑھاتے اور مغرب کی نماز کے بعد عوام الناس کو درس قرآن دیتے ہوئے دیکھنا ہر روز کا معمول تھا۔ ۱۹۸۵ء تک میں جامع مسجد میں حفظ قرآن کا طالب علم تھا اور مغرب کی نماز کے فوراً بعد طلبہ سب لوگوں کے ساتھ قاضی صاحب کے درس قرآن میں شریک ہوتے اور پھر اپنی کلاس میں بیٹھتے تھے۔ وعظ وتبلیغ میں قاضی صاحب کے سادہ، موثر اور دل نشیں انداز بیان کا گہرا نقش اسی وقت سے دل ودماغ پر ثبت ہے۔
دینی علوم اور خاص طو رپر درس نظامی میں شامل معقولات کے میدان میں قاضی صاحب کی تدریسی مہارت کا تاثر بھی اسی زمانے سے ذہن میں قائم ہے۔ مجھے یاد ہے کہ اس زمانے میں ہمارے چچا محترم مولانا رشید الحق خان عابد، جو اس وقت مدرسہ نصرۃ العلوم میں زیر تعلیم تھے، عصر کے بعد قاضی صاحب سے معقولات کے کچھ اسباق، غالباً حمد اللہ وغیرہ پڑھنے کے لیے آیا کرتے تھے۔ میں نے ۱۹۸۶ء میں مدرسہ انوار العلوم میں ہی درس نظامی کے اسباق کا آغاز کیا۔ قاضی صاحب ابتدائی درجات کی کتابیں نہیں پڑھاتے تھے، اس لیے ان سے تلمذ اور استفادہ کا موقع ۱۹۸۹ء میں ملا اور درجہ رابعہ میں ہم نے ان سے ملا جامی کی شرح کافیہ پڑھی۔ قاضی صاحب درس وتدریس کا غیر معمولی ذوق بھی رکھتے تھے اور شوق بھی اور معمول کے اسباق کے علاوہ طلبہ کی فرمائش پر انھیں کوئی بھی کتاب پڑھانے کے لیے فوراً آمادہ ہو جاتے تھے۔ چنانچہ شرح ملا جامی کے ساتھ ساتھ انھوں نے اسی طرح کی فرمائش پر ہماری جماعت کے طلبہ کو رسالہ ایساغوجی اور تلخیص المفتاح کا متن بھی پڑھایا۔
درس نظامی کی تعلیم کے دوران میں مجھے درسی کتب کو زیادہ محنت اور لگن سے پڑھنے کی کوئی خاص رغبت اپنے اندر محسوس نہیں ہوتی تھی اور اس کے بجائے (مدارس کی خاص اصطلاح میں) ’’خارجی‘‘ کتابیں پڑھنے کا رجحان زیادہ غالب تھا۔ اسی دور میں بعض اسباب سے مجھے بائبل اور مسیحیت سے متعلق مناظرانہ موضوعات کے مطالعہ سے دلچسپی پیدا ہو گئی تھی اور اس حوالے سے کتابیں جمع کرنے اور مطالعہ کرنے کے علاوہ مبتدیانہ نوعیت کی مشق قلم کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا۔ تاہم قاضی صاحب کی طرف سے ’’صلائے عام‘‘ کا رویہ دیکھتے ہوئے شرح جامی کے سال کے اختتام پر میں نے چھٹیوں میں ان سے فرمائش کی کہ میں کافیہ پر رضی استراباذی کی مشہور شرح بھی آپ سے سبقاً پڑھنا چاہتا ہوں۔ قاضی صاحب نے فوراً ہامی بھر لی، لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ ایک شرط پر پڑھاؤں گا اور وہ یہ کہ دینی علوم کی تحصیل سے فارغ ہونے کے بعد ادھر ادھر کا کوئی مشغلہ اپنانے کے بجائے مدرسے میں بیٹھ کر طلبہ کو پڑھاؤ گے۔ میں نے وعدہ کر لیا اور پھر قاضی صاحب نے ایسی غیر معمولی شفقت فرمائی کہ مجھے اپنے پاس طلب کرنے کے بجائے وہ بذات خود روزانہ عصر کے بعد جامع مسجد تشریف لاتے رہے اور میں اور میرے ساتھ چند ایک دوسرے طلبہ جامع مسجد کے صحن میں ان سے رضی کی شرح کافیہ کا درس لیتے رہے۔ کتاب کا نسخہ ایک ہی میسر تھا جو میں نے حضرت مولانا مفتی عبد الواحد مرحوم کے پوتے جناب مولانا رشید احمد علوی صاحب سے مستعار لیا تھا، لیکن یہ نسخہ میرے ہی پاس تھا، جبکہ قاضی صاحب روزانہ سبق سے متصل پہلے اسی نسخے سے تیاری کر کے ہمیں سبق پڑھاتے تھے۔ یاد پڑتا ہے کہ رجب اور شعبان کی چھٹیوں میں ہم نے غالباً غیر منصرف کی بحث تک کتاب کا ابتدائی حصہ پڑھا اور پھر رمضان کی آمد کے ساتھ یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔
قاضی صاحب کا اسلوب درس دیگر اساتذہ سے اس لحاظ سے مختلف تھا کہ وہ طلبہ کو کتاب کے مطالب حل کر کے لانے کا نہیں کہتے تھے ، حتیٰ کہ عام طور پر ان کے سبق میں طلبہ سے کتاب کی عبارت پڑھوانے کا طریقہ بھی رائج نہیں تھا۔ وہ خود ہی کتاب کی عبارت پڑھتے جاتے اور اپنے مخصوص اسلوب میں مطالب کی توضیح کرتے جاتے تھے۔ ساتھ ساتھ چٹکلوں اور طلبہ کے ساتھ مزاح کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا۔ طلبہ کو مختلف القاب دینا ان کے التفات کا ایک خاص انداز تھا۔ کسی طالب علم کو وہ ’’فارابی‘‘، کسی کو ’’ارسطو‘‘ اور کسی کو ’’تبلیغی‘‘ کا لقب دیتے تھے اور کتاب کے مطالب سمجھانے کے لیے کوئی مثال دیتے ہوئے عام طور پر سامنے موجود طلبہ میں سے ہی کسی پر اسے منطبق کر کے دکھاتے تھے۔
دوران سبق کے علاوہ بھی وہ ہمیشہ بڑی محبت اور اپنائیت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک موقع پر جب والد گرامی بیرون ملک کے سفر پر گئے اور زیادہ عرصے کے لیے وہاں ٹھہر گئے تو ان کی غیر موجودگی میں قاضی صاحب کچھ دنوں کے وقفے سے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے ساتھ بازار لے جاتے اور پھل کی دوکان سے تازہ موسمی پھلوں کا لفافہ خوب بھر کر مجھے دے دیتے تھے کہ یہ گھر لے جاؤ۔ قاضی صاحب کے بچوں کا ہمارے گھر آنا جانا رہتا تھا، بلکہ ان کی تین چار بچیاں بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہمارے ہاں والدہ محترمہ کے پاس ہی آیا کرتی تھیں۔ خوش طبعی اور سادگی قاضی صاحب کے مزاج کا حصہ تھی۔ ہمیشہ صاف ستھرا سفید لباس زیب تن فرماتے تھے اور باریک سیاہ دھاریوں والا ایک رومال ان کے کندھے پر یا ان کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔
مجھے اپنے گھر کے ماحول تک محدود رہنے اور سفر سے طبعاً گریزاں ہونے کی وجہ سے اپنے دور کے بہت کم بزرگوں اور اہل علم کی زیارت وملاقات کا موقع ملا ہے، تاہم جن بزرگوں کو دیکھنے اور کسی بھی حوالے سے ان کی شفقتوں اور عنایتوں سے کچھ بہرہ پانے کی سعادت حاصل ہوئی ہے، وہ بحمد اللہ کسی محرومی کا احساس نہیں ہونے دیتی۔ ان بزرگوں کی محبت اور شفقت کی یاد ہمیشہ دل میں تازہ رہتی اور دل کو تازہ رکھتی ہے۔ قاضی حمید اللہ خان صاحبؒ سمیت ان میں سے بیشتر بزرگ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے اور ان کے ساتھ تعلق اور نسبت کو ہمارے لیے دنیا وآخرت میں سعادت ونجات کا ذریعہ بنا دے۔ جو بزرگ بقید حیات ہیں، اللہ تعالیٰ صحت، عافیت اور سلامتی کے ساتھ ان کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھے اور اس چند روزہ زندگی کی ہر قسم کی آزمائشوں اور آفات سے ہم سب کو محفوظ رکھتے ہوئے آخرت میں بلا استحقاق اپنے ابدی انعام واکرام کا حق دار بنا دے۔ آمین
مرزا غلام احمد کے دعاوی اور قادیانیوں کی تکفیر
جناب مولانا وحید الدین خان نے اپنی بعض حالیہ تحریروں میں مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت کے حوالے سے اس پرانی بحث کو ایک بار پھر چھیڑنے کی کوشش کی ہے کہ مرزا صاحب نے فی الواقع اصطلاحی مفہوم میں اپنے لیے نبوت کے منصب کا دعویٰ کیا تھا یا نہیں، البتہ انھوں نے اس ضمن میں صرف مرزا صاحب کے بعض بیانات پر انحصار کرتے ہوئے گزشتہ ایک صدی کے حالات وواقعات اور اس بحث کے حوالے سے رونما ہونے والے فکری وعملی ارتقا کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ مرزا صاحب کی تحریروں میں اس حوالے سے جو مختلف ومتضاد بیانات ملتے ہیں، ان کے پیش نظر خود ان کے معتقدین ان کی وفات کے بعد لاہوری اور قادیانی گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور اس موضوع پر ان کے مابین مناظرانہ بحثوں کا سلسلہ بھی چلتا رہا ہے۔ تاہم اس داخلی نزاع میں جو گروہ عملاً جماعت احمدیہ کی ایک بڑی اکثریت کو اپنے ساتھ وابستہ کرنے اور جماعت کی قیادت کا منصب سنبھالنے میں کامیاب رہا، وہ قادیانی گروہ ہے اور اس گروہ کے قائدین مختلف مواقع پر ایک تسلسل کے ساتھ اپنا یہ موقف دوٹوک انداز میں واضح کر چکے ہیں کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو خالص اصطلاحی مفہوم میں خدا کا ایک واجب الاطاعت پیغمبر تسلیم کرتے اور ان پر ایمان نہ لانے والوں کو دائرۂ اسلام سے خارج تصور کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دنیا سے چلے جانے کے بعد جماعت احمدیہ کے کفر واسلام کا فیصلہ کرنے میں خود مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی تحریریں اور ان میں دکھائی دینے والے مختلف وجوہ اور احتمالات زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ اس کا مدار عقلی ومنطقی طور پر قادیانی جماعت کے موقف پر ہونا چاہیے کہ وہ مرزا صاحب کو کیا حیثیت دیتی ہے اور اسی کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا جانا چاہیے کہ جماعت احمدیہ سے وابستہ حضرات مسلمان ہیں یا نہیں۔ فرض کر لیجیے کہ مرزا صاحب نے حقیقتاً نبوت کا دعویٰ نہیں کیا، لیکن جماعت احمدیہ کے لوگ بہرحال انھیں نبی قرار دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں بنیادی اہمیت مرزا صاحب کے بیانات کی نہیں، بلکہ قادیانی جماعت کے اعتقاد کی ہے۔ لاہوری گروہ کے بارے میں، البتہ، یہ سوال ہو سکتا تھا کہ انھیں کس طرف شمار کیا جائے ا ور بعض اہل علم، مثلاً مولانا مودویؒ ابتداءً ا ان کی تکفیر میں کچھ تردد کا شکار رہے ہیں، لیکن ۱۹۷۴ء میں آئینی فیصلے کے موقع پر انھوں نے قادیانی ولاہوری، دونوں گروہوں کی تکفیر کے حوالے سے کیے جانے والے متفقہ فیصلے میں شرکت اور اس کی تائید کی ہے۔
مرزا غلام احمد اور ان کے معتقدین کی تکفیر کے ضمن میں ایک اور بحث کا ذکر بھی موقع کی مناسبت سے یہاں کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مرزا صاحب کی طرف سے وحی کے نزول اور منصب نبوت عطا کیے جانے کے دعووں کے سامنے آنے کے بعد علماء کی غالب اکثریت نے ابتداء ہی سے یہ واضح موقف اختیار کر لیا تھا کہ جماعت احمدیہ سے وابستہ حضرات اسلام کے ایک اساسی عقیدہ یعنی عقیدۂ ختم نبوت کے انکار کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ تاہم علما کے معروف حلقے میں دو شخصیتیں ۔مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور مولانا عبد الماجد دریابادیؒ ۔ ایسی تھیں جنھوں نے اس فیصلے پر تحفظات ظاہر کیے۔ جہاں تک عقیدۂ ختم نبوت کے اسلام کا ایک اساسی عقیدہ ہونے اور اس کے انکار کے فی نفسہ کفر ہونے کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ اس میں کسی باشعور عام مسلمان کو بھی کوئی شبہہ نہیں ہو سکتا، چہ جائیکہ کوئی عالم دین اس ضمن میں کسی شک وشبہہ کا شکار ہو۔ اسی طرح ایک مدعی نبوت کی حیثیت سے خود مرزا غلام احمد کے کفر وارتداد میں بھی بدیہی طو رپر کسی تردد کی گنجائش نہیں تھی۔ مذکورہ اہل علم کے تحفظات کا تعلق دراصل بطور ایک گروہ کے پوری جماعت احمدیہ کے بارے میں ’تکفیر‘ کی حکمت عملی اختیار کرنے سے تھا اور وہ بعض پہلووں سے اس جماعت میں شامل ہو جانے والے عام اور سادہ مسلمانوں کو ’تاویل‘ کی رعایت دیتے ہوئے کفر کے فتوے سے بچانے کی طرف میلان رکھتے تھے۔ (اس ضمن میں مولانا سندھیؒ کے خیالات پروفیسر محمد سرور مرحوم کے مرتب کردہ ’’افادات وملفوظات‘‘ میں دیکھے جا سکتے ہیں، جبکہ مولانا دریابادیؒ کے حوالے سے اس مناقشے پر نظر ڈال لینا مناسب ہوگا جو چند سال قبل ماہنامہ ’’الحق‘‘ اکوڑہ خٹک کے صفحات پر مولانا مدرار اللہ مدرارؒ اور جناب طالب الہاشمیؒ کے مابین جاری رہا ہے۔)
مولانا عبد الماجد دریابادیؒ نے مسلمان فرقوں کی تکفیر کے حوالے سے چند سوالات اپنے شیخ مولانا اشرف علی تھانویؒ کے سامنے پیش کیے تو لکھا کہ:
’’میرا دل تو قادیانیوں کی طرف سے ہمیشہ تاویل ہی تلاش کرتا رہتا ہے۔‘‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے جواب میں مولانا تھانوی نے انھیں توبہ کی تلقین کرنے یا سطحی درجے کا مولویانہ ومفتیانہ رویہ اپناتے ہوئے ایمان اور نکاح کے ٹوٹ جانے کا فتویٰ صادر کرنے کے بجائے صرف اس قدر فرمایا کہ:
’’یہ غایت شفقت ہے، لیکن اس شفقت کا انجام سیدھے سادے مسلمانوں کے حق میں ’’عدم شفقت‘‘ ہے، وہ اچھی طرح ان کا شکار ہوا کریں گے۔‘‘
یہ تفصیلی سوال وجواب امداد الفتاویٰ جلد چہارم، ص ۵۸۴ تا ۵۸۷ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
مذہبیات کے ایک طالب علم کے طور پر راقم الحروف کافی عرصہ تک اس نقطہ نظر کی طرف جھکاؤ محسوس کرتا رہا ہے اور میری کچھ عرصہ قبل کی بعض تحریروں میں بھی اس کی جھلک قارئین کو دکھائی دے گی۔ البتہ، جیسا کہ واضح ہے، اشکال عقیدۂ ختم نبوت کے دین کا ایک اصولی اور اساسی عقیدہ ہونے یا خود مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر و ارتداد میں نہیں، بلکہ صرف اور صرف ان عام قادیانیوں سے متعلق تھا جو لاعلمی، ناواقفیت اور جہالت کی بنا پر قادیانی تاویلات کے جال میں گرفتار ہو کر اس ڈر سے مرزا صاحب پر ایمان لانے کو اپنی نجات کے لیے ضروری خیال کر بیٹھے ہوں کہ ان کا شمار کہیں خدا کے ایک فرستادہ کا انکار کر کے جہنم کی آگ کا مستحق بن جانے والوں میں نہ ہو جائے۔
بہرحال کافی غور وخوض اور معاملے کے جملہ نظری وعملی پہلووں کا جائزہ لینے کے بعد مجھ پر یہ واضح ہوا کہ اس باب میں علما کا عمومی موقف ہی اسلام کے نظام عقائد اور دیگر دینی وشرعی مصالح کے تحفظ کے پہلو سے اقرب الی الصواب ہے اور اگر دین وشریعت کا مزاج کسی بھی معاملے میں نظری پہلووں سے زیادہ عملی نتائج واثرات کو زیادہ وزن دینے کا ہے تو پھر مرزا صاحب کی نبوت پر ایمان رکھنے بلکہ ان کی ذات سے کسی بھی نوعیت کا مذہبی اعتقاد وابستہ کرنے والوں کی بلا تفریق تکفیر ہی عام مسلمانوں کو اس فتنے سے محفوظ رکھنے کے لیے مفید اور موثر ہو سکتی ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے مولانا دریابادی کے اشکال کے جواب میں اسی پہلو کو واضح فرمایا ہے۔ قادیانی گروہ چونکہ ایک نئی نبوت پر ایمان کو کفر وایمان کا معیار قرار دے کر تبلیغی مہم شروع کر چکا اور اسلام کے لبادے میں سادہ لوح عوام کو کفر وضلالت کے ایک نئے فتنے میں مبتلا کرنے کے لیے سرگرم عمل ہو چکا تھا، اس لیے عقیدۂ ختم نبوت کی قطعی اور اساسی اہمیت کو واضح کرنے اور اسلام کے نظام عقائد کو اس طرح کی کسی بھی رخنہ اندازی سے محفوظ رکھنے کے لیے علما نے بجا طو رپر اسی بات کو مناسب سمجھا کہ اس فرقہ نوپید کو مسلمانوں کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کرنے کا موقع دینے سے پہلے ہی اسے جسد امت سے بالکل کاٹ دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس تناظر میں قادیانی گروہ کے خواص اور عوام میں کوئی فرق کرنا نہ صرف یہ کہ عملی طور پر ممکن نہیں تھا، بلکہ اس سے عوام الناس کو اس گروہ کے اعتقادی شر سے بچانے کا وہ مقصد بھی بالکل فوت ہو جاتا جس کے پیش نظر تکفیر کا یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔
مذکورہ وجوہ سے میرے نزدیک قادیانیوں کو من حیث المجموع قانونی اعتبار سے کافر قرار دینے کا فیصلہ تو بالکل درست اور دینی وشرعی مصالح کے مطابق ہے، تاہم یہ نکتہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ عام مسلمانوں میں سے جو لوگ لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے قادیانی تاویلات کے فریب کا شکار ہو چکے ہیں، ان کے ساتھ نفرت و مخاصمت اور سماجی مقاطعہ کا رویہ درست نہیں، بلکہ وہ اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ ایک داعیا نہ ہمدردی کے ساتھ انھیں مسلمانوں کے قریب تر کرنے اور ان کے لیے اسلام کے صحیح عقائد سے متعارف ہونے کے مواقع پیدا کیے جائیں، اس لیے کہ دعوت دین کا کام لوگوں کو حق اور اہل حق سے دور رکھنے کا نہیں، بلکہ راہ حق سے بھٹک جانے والے لوگوں تک پہنچ کر انھیں حق کے قریب لانے کی جدوجہد کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
مولوی انتقام لیتا رہے گا
نجم ولی خان
شاد باغ میں ایک قاری نے بارہ سالہ بچے کو اتنا مارا کہ وہ مر ہی گیا اور یہ ایک ہی جگہ ہونے والا ایک ہی واقعہ نہیں‘ ہمارے بہت سارے ’’عالم دین‘‘ اس کے لیے بدنام ہیں اور اس بدنامی کو بڑھانے میں ہمارے ہی معاشرے کے دین سے بے زار طبقے نے بھی بڑا کردار ادا کیا ہے۔ مگر کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی کہ وہ ’’مولوی‘‘ جسے معاشرے میں عزت‘ وقار کا حامل ہی نہیں، اعلیٰ اخلاقی اقدار کا علم بردار بھی ہونا چاہیے، اس کا یہ رویہ کیوں ہے؟ وہ اپنے مدرسوں میں بچوں کو زنجیروں سے باندھ کر کیوں رکھتا ہے؟ جب وہ سبق پڑھا رہا ہوتا ہے تو اس کے پاس ایک موٹا ڈنڈا کیوں ہوتا ہے جس کے استعمال میں بھی اسے کچھ عار نہیں؟ شاد باغ والے واقعے میں قاری کا نام بھی محمد جمیل اور بچے کا نام بھی محمد جمیل۔ بچے کو پیٹ میں ڈنڈے اور ٹھڈے مارے گئے اور وہ بارہ دن تک کرب و اذیت کا شکار رہنے کے بعد دم توڑ گیا۔ میں جب کسی عالم دین سے بات کرتا ہوں تو وہ اس رویے کی حمایت کرتا نظر نہیں آتا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ علامہ سرفراز نعیمی شہید کے ساتھ جامعہ نعیمیہ کے صحن میں ان کی شہادت سے قریباً ایک سال پہلے ایک محفل سجائی گئی تھی۔ میرے پیش نظر دو سوال تھے کہ ہم بچوں کو مدرسوں میں کیا ماحول دے رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان مدرسوں سے فارغ التحصیل بچے ملک و قوم کو کیا لوٹا رہے ہیں؟ اس وقت دہشت گردی کا دور دورہ تھا اور کچھ عرصہ بعد جب ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے دہشت گردی کے خلاف متفقہ فتویٰ جاری کیا تو ان کو بھی انھی کے مدرسے میں نماز جمعہ کے بعد بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ میں سرفراز نعیمی شہید جیسے مجاہد کی بات نہیں کرتا جو میرے پروگرام میں بھی آیا کرتے تھے تو ان کے پاس ایک پرانی سی موٹر سائیکل ہوا کرتی تھی اور ایک آدھ مرتبہ تو اس کے خراب ہونے کی وجہ سے پروگرام میں تاخیر بھی ہوئی۔ وہ خود کش حملہ آور بھی تو کسی مدرسے سے آیا ہوگا جہاں اسے بتایا گیا ہوگا کہ سرفراز نعیمی نام کا ایک شخص اپنی مسجد اور مدرسے میں بیٹھ کر ’’جہاد‘‘ کی مخالفت کر رہا ہے جو اللہ کے حکم کی مخالفت ہے اور اسلامی معاشرے کے قیام اور اس جدوجہد کی بقا ہی اس میں ہے کہ سرفراز نعیمی کو مار دیا جائے۔ مارنے والے کو یقینی طور پر بتایا گیا ہوگا کہ جیسے ہی وہ ’’جہاد کے اس منکر‘‘ کو فنا کرتے ہوئے شہید ہوگا، اسے آبِ کوثر سے لبالب بھرا پیالہ پلایا جائے گا اور جنت کی حوریں بانہیں پھیلائے اس کی منتظر ہوں گی۔ اساتذہ کرام اپنی تعلیم اور افکار کے ذریعے بچوں کے ذہنوں پر اسی طرح اثر انداز ہوتے ہیں، مگر ہم جن کو استاد بنا رہے ہوتے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ وہ کہاں سے آتے ہیں؟ ہم مولوی نامی جس مشین سے اپنے بچوں کی اسلام سازی کرواتے ہیں، وہ مشین کس خام مال سے اور کس فیکٹری سے تیار ہوتی ہے؟ اس پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔ علمائے کرام مجھے بتاتے ہیں کہ پاکستان میں دینی تعلیمی اداروں یعنی مدرسوں کے انتظام و انصرام کے لیے پانچ ادارے کام کر رہے ہیں۔ ان میں دیوبندی وفاق المدارس، بریلوی تنظیم المدارس، اہل حدیث وفاق المدارس، شیعہ وفاق المدارس اور جماعت اسلامی کا وفاق المدارس شامل ہیں۔ ان اداروں سے الحاق رکھنے والے مدرسوں میں تعلیم و تدریس کے لیے باقاعدہ قواعد و ضوابط بنائے گئے ہیں۔ اس کے باوجود سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں ایسے مدارس موجود ہیں جن کا کسی بھی مکتبہ فکر کے ادارے سے باقاعدہ الحاق نہیں۔
کیا یہ امر ایک حقیقت نہیں کہ اگر آپ ایک کھاتے کماتے شخص ہیں تو آپ نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ آپ اپنے لخت جگر کو مولوی، امام مسجد، قاری یا عالم دین بنائیں گے؟ آپ اور آپ کی اہلیہ نے ہمیشہ بچوں کے لیے انجینئر، پائلٹ، ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھے اور دکھائے ہوں گے۔ ہمارے پاس اس وقت مساجد کے اماموں کی صورت میں علمائے کرام کی جو کھیپ موجود ہے، وہ ایسے دور میں تیار ہوئی ہے جب اُن بچوں ہی کو مدرسوں میں بھیجا جاتا تھا جو اسکولوں میں نہ چل سکیں یا جن کے والدین کے اتنے مالی وسائل نہ ہوں کہ وہ اپنے بچوں کے کھانے اور کپڑوں کے انتظام کے ساتھ ساتھ تعلیمی اخراجات بھی برداشت کر سکیں۔ یہ مدرسے بچوں کو دینی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کے تمام تر اخراجات بھی اٹھاتے ہیں جنہیں زکوٰۃ و صدقات سے پورا کیا جاتا ہے۔ میں نے تو دیہات بارے یہاں تک سنا ہے کہ وہاں بچوں کو ایک بالٹی دے کر نکال دیاجاتا تھا۔ یہ بچے ہر گھر جاتے اور ہر گھر سے پکا ہوا سالن اس بالٹی میں اکٹھا ہی ڈلوا کر لے آتے اور وہی ان کا کھانا ہوتا۔ ان بچوں کو زکوٰۃ و صدقات اکٹھے کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا اور اُن کو درس و تدریس کے ایسے طریقے سے عالم بنایا جاتا جس میں والدین محاورتاً ہی نہیں بلکہ واقعتاً اپنی زبان میں مولوی صاحب کو کہہ کر آتے کہ ہمارا یہ بچہ بہت شرارتی ہے، پڑھتا لکھتا بالکل نہیں۔ بس اس کو پڑھا دیں، اس کی ہڈیاں ہماری اور کھال آپ کی، یعنی پھینٹی لگانے کی کھلی ڈلی اجازت وہاں باپ دے کر آتا۔ میں سوچتا ہوں کہ ایسے بچوں کی نفسیات کیا ہوتی ہوگی جو مانگے کا کھاتے اور پہنتے، پیار نہیں مار کے فلسفے کے تحت تعلیم حاصل کرتے تھے؟ گویا معاشرے کا سب سے باعزت طبقہ تیار کرنے کے لیے ہمارے پاس جو خام مال آتا ہے، وہ سب سے کم درجے کا ہوتا ہے۔ ہم اس خام مال کو تیاری کے دوران بدترین حالات فراہم کرتے ہیں اور جب پروڈکشن سامنے آجاتی ہے تو ہم اس سے توقع کرتے ہیں کہ سب سے زیادہ بہتر اخلاق اور سماجی رویوں کی علم بردار بن جائے۔
اس طریقہ کار کے تحت بنے ہوئے مولویوں کے سامنے معاشرے کے دیگر لوگوں کی طرح سب سے بڑا مقصد تو روزگار کا حصول ہوتا ہے اور ہماری مساجد کے اماموں کی بہت بڑی اکثریت اب بھی دو ہزار سے سات آٹھ ہزار ماہانہ تک ’’تنخواہ‘‘ وصول کر رہی ہے جو اس وقت کسی مزدور کی کم سے کم تنخواہ کے برابر بھی نہیں ہے، مگر وہ مولوی اس کے جواب میں سمجھتا ہے کہ اس کی ڈیوٹی بہت زیادہ ہے۔ وہ اس تنخواہ کے لیے فجر سے عشاء تک اللہ کے نہیں، بلکہ مسجد کمیٹی اور نمازیوں کے سامنے حاضر ہوتا ہے۔ اس کے لیے چھٹی بہت مشکل ہے۔ اس کا اوورٹائم اور بونس یہی ہے کہ وہ بچوں کو پڑھا لے اور مسجد میں ویسے بھی پڑھانے کا بالعموم کچھ ادا نہیں کیا جاتا۔ گھر کی ٹیوشن سے پھر کچھ مل جاتا ہے یا پھر وہ ختم پڑھانے جاتا ہے تو کھانا، کپڑوں کا جوڑا اور دو چار سو روپے خدمت کا وصول پا لیتا ہے۔ ایک ایسا مولوی تیار ہوتا ہے جس نے مسجد ہی سنبھالنی ہوتی ہے۔ وہ بے وسیلہ اور بے مایہ ہونے کی وجہ سے بالعموم کوئی کاروبار بھی نہیں کرپاتا اور میرے جیسے عام مسلمان کی نظر میں وہ نماز اور قرآن پڑھانے کے پیسے لے کر قرآن کے اس حکم کی بھی خلاف ورزی کر رہا ہوتا ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کو تھوڑے داموں فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ وہ جس طرح مولوی بنتا، جس طرح اپنی مولویت نبھاتا ہے، وہ خود جانتا ہے یا اس کا رب جانتا ہے، مگر ہم اسے دھلے ہوئے سفید کپڑوں میں ملبوس نیکی کی تلقین کرتا ہوا ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ معاشرہ اس کے دامن میں پرورش سے تعلیم اور تعلیم سے جوانی تک کانٹے ہی کانٹے ڈال کر امید رکھتا ہے کہ وہ ہمارے بچوں کو پھول پیش کرے۔ ایسا کیسے ممکن ہے؟ وہ انسان ہے۔ جائیں کسی ماہر نفسیات سے پوچھیں کہ اس کے ذہن میں کیسے کیسے جوار بھاٹے اٹھتے ہوں گے۔ وہ عام نوجوانوں کی طرح سوسائٹی کو گالیاں بھی نہیں دے پاتا کہ اس کی تربیت ایسی نہیں ہوتی۔ ہاں، کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی تیز ذہن کا بچہ مولوی بن جائے تو پیر بھی بن جاتا ہے اور وسائل اکٹھے کر کے بڑی بڑی گاڑیاں اور بڑی بڑی جائیدادیں بھی بنا لیتا ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو دین کی تعلیم دینی ہے تو پھر تعلیم دینے والوں کے حالات بہتر بنانے کے بارے بھی سوچنا ہوگا۔ محکمہ اوقاف اس سلسلے میں کچھ کردار ادا کر رہا ہے اور میں نے اپنے علاقے میں اوقاف کی ایسی مسجد بھی دیکھی ہے جہاں پارک، لائبریری، انٹرنیٹ وغیرہ کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، مگر مجموعی طور پر علمائے کرام کو آپس میں سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ وہ ایک مولوی کو تیار کرنے کا عمل کتنا بہتر بنا سکتے ہیں۔ میں چاہے اس مولوی کے خلاف جتنا بھی بول لوں، میرا ایمان ہے کہ اسی نے میرے اسلام کو لے کر آگے جانا ہے، دور حاضر میں اسی نے مجھے نجات کا راستہ دکھانا ہے، مگر کوئی ہے جو معاشرے کی تلچھٹ کو نہیں بلکہ ’’بالائی‘‘ کو عالم دین بناتے ہوئے باعزت تعلیم اور روزگار کا مستقل نظام بنا دے، ورنہ یہ مولوی ہمارے بچوں سے معاشرے کی دی ہوئی محرومیوں کا انتقام لیتا رہے گا۔
(شہرِ یاراں ۔ روزنامہ پاکستان، ۲۴ اپریل ۲۰۱۲ء)
وہ کام جو اقبال ادھورے چھوڑ گئے
ڈاکٹر جاوید اقبال
(یہ مقالہ اقبال اکادمی لاہور اور یونیورسٹی آف گجرات کے زیر انتظام ۱۵؍ نومبر ۲۰۱۱ء کو ’’ریاست وحکومت: اقبال اور عصری مسائل‘‘ کے عنوان پر یونیورسٹی آف گجرات میں منعقدہ سیمینار کے لیے لکھا گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی خواہش پر اسے عمومی مباحثہ کے لیے ’الشریعہ‘ کے صفحات میں شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)
بعض اہم موضوعات پر علامہ اقبال نے شعر یا نثر میں کچھ نہ کچھ تحریر کرنے کے منصوبے تو بنائے مگر زندگی نے وفا نہ کی، اس لیے اُن کی تکمیل نہ ہو سکی۔ مثلاً مہاراجہ کشن پرشاد کو خط میں ’’بھگوت گیتا‘‘ کا اردو اشعار میں ترجمہ کرنے کے ارادے کا ذکر کرتے ہیں۔صوفی غلام مصطفی تبسم کو خط میں انگریزی میں ایسی کتاب لکھنے کا ذکر کرتے ہیں جس کا عنوان ہوگا ’’اسلام میرے نقطۂ نگاہ سے‘‘ نذیر نیازی فرماتے ہیں کہ حادثہ کربلا پر ہومرکے ’’اوڈیسے‘‘کی طرز پر ایک طویل نظم لکھنا چاہتے تھے۔ جاوید نامہ میں اضافی ارواح سے ملاقاتوں کے بارے میں لکھنے کا سوچتے تھے۔ انگریزی میں ایک غیر معروف پیغمبر کی کتاب تحریر کرنے کا منصوبہ تھا۔
آخری ایام میں نواب بھوپال سے وعدہ کیا کہ ’’اجتہاد کی تاریخ و ارتقا‘‘ کے موضوع پر کتاب لکھیں گے۔ اس سلسلے میں میاں محمدشفیع(م ۔ش) سے انگریزی میں کچھ ابتدائی نوٹس بھی لکھوائے گئے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے نام خط محررہ ۲۸؍مئی ۱۹۳۷ء میں فلاحی ریاست کے قرآنی تصور کا حوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اصل سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کی غریت کا مسئلہ کیسے حل کیا جائے؟
خوش قسمتی سے اسلامی قانون کے نفاذ اور جدید نظریات کی روشنی میں اُس کی آئندہ ارتقاء میں حل موجود ہے۔ اسلامی قانون کے طویل اور محتاط مطالعہ سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر یہ ضابطۂ قانون صحیح طور پر سمجھ کر نافذ کر دیا جائے تو ہر ایک کے لیے کم از کم زندہ رہنے کا حق محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن قانونِ شریعت کا نفاذ اور ارتقاء اس سر زمین میں ناممکن ہے جب تک کہ آزاد مسلم ریاست یا ریاستیں وجود میں نہ لائی جائیں۔ اسلام کے لیے ’’سوشل ڈیماکریسی‘‘ کو کسی مناسب شکل میں جو اسلامی قانون کے اصولوں کے مطابق ہو، قبول کر لینا’’ انقلاب‘‘ نہیں بلکہ اسلام کی اصل پاکیزگی کی طرف واپس جانا ہے۔‘‘
ان منصوبوں میں بعض تو ادبی نوعیت کے ہیں، بعض کا تعلق فلسفہ، مابعد الطبیعیات یا دینیات سے ہے اور بعض خالصتاً عنقریب وجود میں آنے والی مسلم ریاست(پاکستان) کی عملی ، سیاسی اور معاشی ضروریات سے متعلق ہیں۔ مثلاً ہم کہہ سکتے ہیں کہ بھگوت گیتا کا اردو ترجمہ، حادثہ کربلا پر ہومر کے اوڈیسے کی طرز پر نظم لکھنا یا جاوید نامہ میں اضافی ارواح شامل کرنا، ایسے ادبی منصوبے تھے جو شاعر کے تخیلی سمندر میں مضطرب لہروں کی طرح ابھرے اور ڈوب گئے، لیکن باقی منصوبوں کے بارے میں ایسا گمان کرنا درست نہ ہوگا ۔ ’’اسلام میرے نقطہ نگاہ سے‘‘ یا ’’ایک غیر معروف پیغمبر کی کتاب‘‘ جیسی کتب تحریر کرنے کا اگر اُنھیں موقع مل جاتا تو تخلیقی سوچ کے اعتبار سے وہ خطبات اسلامی فکر کی تشکیل نو کی توسیع ہوتیں۔ اسی طرح ’’اجتہاد کی تاریخ و ارتقا‘‘ اور ’’فلاحی ریاست کا قرآنی تصور‘‘ کے موضوعات پر اگر وہ کتب تحریر کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو اُن کے افکار مسلمانان پاکستان کی مزید فکری رہبری کا باعث بن سکتے تھے۔
خطبات تشکیل نو کن کے لیے تحریر کیے گئے؟ علامہ اقبال فرماتے ہیں:
’’ان لیکچروں کے مخاطب زیادہ تر وہ مسلمان ہیں جو مغربی فلسفہ سے متاثر ہیں اور اس بات کے خواہش مند ہیں کہ فلسفہ اسلام کو فلسفہ جدید کے الفاظ میں بیان کیا جائے اور اگر پرانے خیالات میں خامیاں ہیں تو اُن کو رفع کیا جائے۔‘‘
جب یہ لیکچر علی گڑھ یونی ورسٹی کے طلبہ نے سنے تو صدر شعبۂ فلسفہ ڈاکٹر سید ظفر الحسن نے علامہ اقبال سے کہا:
’’جناب والا! آپ نے اسلام میں فلسفہ دین کی تشکیل نو کی بنیاد رکھ دی۔ مسلمانوں کی موجودہ اور آئندہ نسلیں اس کے لیے آپ کی ممنونِ احسان ہیں۔ آپ کی فکر افزا مثال اور لوگوں کی بھی ہمت بندھائے گی۔‘‘
خطبات کے ایک مبصر سلیم احمد تحریر کرتے ہیں:
’’اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کا چیلنج ایک نئی الٰہیات کی تشکیل کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اقبال کی نئی الٰہیات کی کوشش کا حقیقی مقصد مغربی اور اسلامی تہذیب کے درمیان مشترکہ عناصر کی جستجو ہے۔ اگر ہمیں مغربی تہذیب کو قبول کرنا ہے یا اسے اپنے اندر جذب کرکے فائدہ اٹھانا ہے تو ہمیں مغربی اور اسلامی تہذیب کی روح میں اتر کر اُن کی ہم آہنگی کو الٰہیاتی بنیادوں پر ثابت کرنا پڑے گا۔تشکیل جدید ان ہی معنوں میں ایک زبر دست کارنامہ ہے جسے جدید اسلام کی بائبل کہنا چاہیے۔‘‘
یہ سب اپنی جگہ درست۔ حقیقت یہی ہے کہ خطبات علامہ اقبال کی ایسی تصنیف ہے جسے علماء نے اگر پڑھنے کی کوشش کی تو اُسے ناپسند فرمایا۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے تو صاف کہہ دیا کہ یہ کتاب اگر نہ لکھی جاتی تو بہترہوتا۔ جہاں تک مسلمانوں کی ’’مغرب زدہ‘‘ نئی نسل کا تعلق ہے ، انھوں نے خطبات کو ، جس توجہ کے وہ مستحق تھے، نہیں دی۔ پس علامہ اقبال کی ’’فکر افزائی‘‘ اوروں کی ہمت نہ بندھا سکی۔
خطبات کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ اُنھیں تحریر کرنے کی کئی وجوہ تھیں۔پہلی یہ کہ علامہ اقبال کو احساس تھا کہ دنیائے اسلام ہر طور پر مغرب کی طرف جھکتی چلی جا رہی ہے۔ وہ اس تحریک کے مخالف نہ تھے کیونکہ یورپی تہذیب عقل و دانش کے اعتبار سے اُنھی نظریات کی ترقی یافتہ صورت پیش کرتی ہے جن پر اسلام کی تمدنی تاریخ کے مختلف ادوار میں غور و فکر کیا گیا۔ دوسرے الفاظ میں وہ یورپی تہذیب کو ایک طرح سے اسلامی تہذیب ہی کی توسیع خیال کرتے تھے۔ اور مسلمانوں کی نئی نسل کے اس مطالبے کو جائز سمجھتے تھے کہ اسلامی عقائد اور نظریۂ حیات کا ایک بار پھر جائزہ لے کر ایسی نئی تعبیر یا تشریح کی ضرورت ہے جو وقت کے جدید تقاضوں سے مطابقت رکھتی ہو۔ اُنھیں خدشہ صرف اس بات کا تھا کہ مادہ پرست یورپی کلچر کی ظاہری چمک دمک ہمیں اتنا متاثر نہ کر دے کہ ہم اس کلچر کے حقیقی باطن تک پہنچ سکنے کے قابل نہ رہیں۔
دوسری وجہ یہ تھی کہ بقول اقبال انسان مختلف قسم کے رشتوں کے ذریعے خدا اور کائنات سے جڑا ہوا ہے۔ لہٰذا مطالعۂ فطرت یا سائنسی تحقیق بھی اپنی طرح کی عبادت ہے۔ وہ مسلمانوں کی نئی نسل کی توجہ سائنسی علوم کی طرف مبذول کرنے کی خاطر اُن پر واضح کرنا چاہتے تھے کہ اسلام روحانی دنیا کے ساتھ مادی دنیا کو بطور حقیقت تسلیم کرتا ہے اور انسان کو مشاہداتی یا تجربی علوم کی تحصیل سے تسخیر کائنات کی دعوت دیتا ہے۔
تیسری وجہ یہ تھی کہ علامہ اقبال کے نزدیک روحانی (یا مذہبی) تجربہ بھی ایک نوع کا علم ہے جسے دیگر علوم کی طرح حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے خطبات میں فکری نقطۂ نگاہ سے اسلام کو بطور ارفع مذہب پیش کیا اور بعض آیات کی تعبیر سے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مابعد الطبیعیات ، طبیعیات یا مادے اور زمان و مکاں سے متعلق فکری یا تجربی علوم کے نئے انکشافات کی تصدیق قرآن سے کی جا سکتی ہے۔
خطبات کا مطالعہ مختلف جہتوں سے کیا جا سکتا ہے اور اُنھیں تحریر کرنے کی اور وجوہ بھی بیان کی جا سکتی ہیں۔ جس طرح پہلے کہا جا چکا ہے ، اگر علامہ اقبال ’’ اسلام میرے نقطہ نگاہ سے‘‘ یا ’’ایک غیر معروف پیغمبر کی کتاب ‘‘ لکھنے میں کامیاب ہو جاتے تو یقیناًوہ خطبات تشکیل نو کی توسیع ہوتیں۔ لیکن اس حقیقت سے انکار کرنا مشکل ہے کہ یہ کام صرف علامہ اقبال خود ہی انجام دے سکتے تھے۔ اس میدان میں اُن کی ’’فکر افزا‘‘ مثال نے پہلے کسی کی ہمت نہ بندھائی تو اب کیا بندھائے گی۔
اب علامہ اقبال کے ’’اجتہاد کی تاریخ و ارتقا‘‘ کے موضوع پر کتاب لکھنے کے ارادے کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ’’اجتہاد‘‘ کے مطالبے میں علامہ اقبال نے پہل نہیں کی ۔ برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی و تمدنی زوال و انتشار کے عالم میں دراصل شاہ ولی اللہ نے اس مسئلے کو اٹھایا اور اپنے وضع کردہ فقہی اصول’’ تلفیق‘‘ کے تحت اہل سنت والجماعت فرقے کو اُن کے چار مدرسہ ہائے فقہ (حنفی ، شافعی، مالکی، حنبلی) میں سے ہر کسی معاملے میں سب سے سہل راہ اختیار کرنے کی تلقین کی ۔ یہ صحیح معنوں میں اجتہاد تو نہ تھا، مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ سنیوں کے چاروں فقہی مذاہب کے علماء ایک دوسرے پر کفرکے فتوے صادر کرتے رہے۔ شاید اسی بنا پر بعد میں سر سید احمد خان نے ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں نے اگر’’تقلید‘‘ کو نہ چھوڑا تو برصغیر میں اسلام کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ علامہ اقبال نے ۱۹۲۴ء میں جب ’’اجتہاد‘‘ کے موضوع پر اپنا پہلا خطبہ دیا تو اُن پر کفر کے فتوے لگے تھے۔ بعد ازاں اسی خطبے کو بہتر صورت میں خطباتِ تشکیل نو میں شامل کیا گیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ علامہ اقبال کے ’’اجتہادِ مطلق‘‘ پر اصرار کے اسباب کیا تھے؟
علامہ اقبال نے مسلمانوں کے عالمی دینی ، سیاسی ، تہذیبی، معاشرتی زوال کی جو وجوہ بیان کی ہیں اُن میں نمایاں تین ہیں: ملوکیت، ملائیت اور خانقاہیت۔ اُن کے خیال میں اسلام کا ’’نزول‘‘ اس وقت ہوا جب انسان کی عقلِ استقرائی بالغ ہو چکی تھی اور اُسے نبیوں، مذہبی پیشواؤں اور بادشاہوں جیسے سہاروں کی ضرورت نہ رہی تھی۔ اسلام نے اعلان کیا کہ نبوت ختم ہو گئی۔ اسلام میں پرانے مذاہب کی مانند کسی قسم کی پاپائیت یا مذہبی پیشوائیت کا وجود نہیں۔ مسلمانوں نے ابتدا ہی میں ساسانی اور رومن سلطنتوں کا خاتمہ کرکے ثابت کر دیا کہ ملوکیت کا تعلق عہدِ جاہلیت سے تھا۔ پس بقول علامہ اقبال اسلام کا پیغام سلطانیِ جمہور کا قیام ہے اور یہ کہ اب شعور کی بلوغت کے سبب انسان وحی اور اُس کے احکام کی تعبیر و تشریح خود کر سکتا ہے اور اُس کی بقا اسی میں ہے کہ کرتارہے۔
علامہ اقبال ’’اجتہاد مطلق‘‘ پر اس لیے بھی زور دیتے ہیں کہ اُن کے مطابق اسلام مسلمانوں کو ’’ثبات فی التغیر‘‘کے اصول پر زندگی گزارنے کی تلقین کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ قرآنی احکام جو عبادات سے متعلق ہیں اُن میں کسی ردو بدل کی گنجائش نہیں، انھیں ثبات حاصل ہے۔ لیکن جن احکام کا تعلق ’’معاملات‘‘ سے ہے وہ اصولِ تغیر کے تحت ہیں اور وقت کے جدید تقاضوں کے مطابق اُن میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ اسی سبب علامہ اقبال کی رائے میں ’’اجتہاد‘‘ بطور عمل اسلام کی ابتدا ہی کے ساتھ جاری ہو گیا تھا۔ علامہ اقبال ’’اجتہاد‘‘ کی تعریف ’’اصولِ حرکت‘‘کے طور پر کرتے ہیں۔ اس بنا پر فرماتے ہیں کہ جو اجتہادات ماضی میں کیے گئے وہ اپنے اپنے زمانوں کے مطابق درست تھے۔ مگر وہ حال کی ضروریات کے مطابق صحیح قرار نہیں دیے جا سکتے۔ جو کوئی بھی اجتہاد کی تاریخ اور ارتقا کے موضوع پر مستند کتاب لکھنے کا اہل ہو گا، وہ اپنے وقت کا مجدد قرار پائے گا۔ یہ بھی فرماتے ہیں کہ شاید یہ ایک شخص کاکام نہ ہو بلکہ اسے انجام دینے کے لیے فقہاء کا ایک بورڈ قائم کرنا پڑے۔ اور اُس کی تکمیل کے لیے خاصی مدت لگے۔
اگر سوال کیا جائے کہ علامہ اقبال کی سوچ کا ’’عطر ‘‘ کیا ہے؟ تو اس کا جواب اُن کے جاوید نامہ کے اُن چند اشعار سے دیا جا سکتا ہے، جب وہ خدائے اسلام کے حضور میں کھڑے ہیں اور خدا وند تعالیٰ کے منہ ہی سے کہلواتے ہیں:
ہر کہ او را قوتِ تخلیق نیست
پیش ما جز کافر و زندیق نیست
از جمالِ ما نصیبِ خود نبرد
از نخیلِ زندگانی بر نخورد
(ہر وہ جو تخلیقی سوچ کی قوت نہیں رکھتا، ہمارے نزدیک اصل کا فر اور منافق ہے۔ اُس نے ہمارے جمال میں سے اپنا نصیب حاصل نہیں کیا اور وہ زندگانی کے درخت کا پھل کھانے سے محروم رہا۔)
علامہ اقبال کو اس المیے کا بخوبی احساس تھا کہ تحریکِ پاکستان سے پیشتر برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی تحریکیں، یعنی تحریک (وہابی) مجاہدین اور اُس کے بعد تحریک خلافت، جو اسلام کے نام پر چلیں، اس لیے نا کام ہوئیں کہ اُن کے پیچھے سوچ ’’تقلیدی ‘‘تھی۔ تحریکِ پاکستان بھی اسلام ہی کے نام پر چلی، لیکن اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی، اس لیے کہ اُس کے پیچھے سوچ ’’اجتہادی ‘‘ تھی۔علامہ اقبال نے ’’علاقائی قومیت‘‘ کے مغربی تصور کو ’’اسلامی یا مسلم قومیت‘‘ کے تصور کے طور پر پیش کیا۔ یعنی اگر مشترک علاقہ، زبان یا نسل کی بنیاد پر انسانوں کا گروہ ایک قوم بن سکتا ہے تو مشترک روحانی مطمحِ نظر کی بنیاد پر مسلمان ایک قوم کیوں نہیں کہلا سکتے؟۱۹۳۰ء میں خطبہ الٰہ آباد میں علامہ اقبال نے’’ مسلم قومیت‘‘کے اسی اصول کی بنیاد پر علیحدہ ’’ریاست‘‘کا مطالبہ کیا۔ اُس سے پیشتر ۱۹۳۰ء میں وہ اپنا خطبہ ’’اجتہاد بطور اصولِ حرکت ‘‘ دے چکے تھے۔ وفات سے چند روز قبل اسی موضوع پر علامہ اقبال کا مناظرہ دیوبند کے مولانا حسین احمد مدنی کے ساتھ ہوا۔ مولانا کا موقف تھا کہ برصغیر کے مسلمان قوم کے اعتبار سے ہندوستانی ہیں مگر ملت کے اعتبار سے مسلمان۔ علامہ اقبال نے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مسلمانوں کے نزدیک ’’قوم و ملت‘‘ میں کوئی امتیاز نہیں، دونوں کے ایک ہی معانی ہیں۔ پس بالآخر اسی اجتہادی سوچ کے نتیجے میں برصغیر کے مسلم اکثریتی صوبوں نے پاکستان کو وجود میں لا کر سیاسی و تہذیبی آزادی حاصل کی۔
اگر پاکستان اجتہادی سوچ کا نتیجہ ہے تو اسلامی قانون سازی کے معاملے میں اجتہاد ہی کے ذریعے زندہ رہ سکتا ہے۔ اسی بنا پر علامہ اقبال آئین کے تحت جمہوری طور پر منتخب پارلیمنٹ(اجماع یا شوریٰ) کو اجتہاد کا حق دیتے ہیں۔ اُن کے نزدیک آئندہ کے مجتہد وہ قانونی ماہرین یا وکلاء ہونے چاہییں جنھوں نے ’’اسلامی فقہ‘‘ اور ’’جدید جو رسپروڈنس‘‘ کے تقابلی مطالعہ کے موضوع پر اعلیٰ تربیت حاصل کی ہو۔ ایسے قانونی ماہرین کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر قانون ساز ادارے یعنی پارلیمنٹ کے رکن بن سکتے ہیں اور اسلامی قانون سازی میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ برصغیرمیں مسلمانوں نے تقریباً آٹھ سو سال حکومت کی ۔ اس دوران بادشاہوں نے قلعے بنائے تو اپنی حفاظت کے لیے، محل بنائے تو اپنی عیش و عشرت کے لیے ، مقبرے بنائے تو اس لیے کہ یاد رکھے جائیں اور مساجد تعمیر کرائیں تاکہ اللہ تعالیٰ اُن کے گناہ معاف کر دے۔ لیکن نہ کوئی دار العدل کی عمارت نظر آئے گی نہ دارالعلم کی۔ بادشاہوں کی تاریخ کتب سے ہم اتنا جانتے ہیں کہ فیروز تغلق کے زمانے میں آئین فیروز شاہی لاگو ہوا یا اورنگ زیب کے عہد میں فتاویٰ عالمگیری کی روشنی میں انصاف کیا جاتا تھا۔ ایسی کتب جن سے معلوم ہو سکے کہ اس دوران عدل گستری کے لیے نافذ قوانین کی نوعیت کیا تھی؟ اسی طرح ایسی کتب موجود نہیں جو اس دوران ہمیں اپنی تہذیبی ارتقا کے بارے میں معلومات فراہم کر سکیں۔ یعنی کیا اس مسلم دور کے ہندوستانی مدرسوں نے علم الکلام، فلسفہ یا تجربی علوم میں کوئی اہم یا قابلِ ذکر ہستیاں پیدا کیں؟ اگر علامہ اقبال قیام پاکستان کے بعد زندہ رہتے تو ایسے سب میدانوں میں تحقیق کی ضرورت پر زور دیتے۔
اب قائد اعظم کے نام علامہ اقبال کے خط میں ’’فلاحی ریاست کے قرآنی تصور‘‘ کے بارے میں غور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ علامہ اقبال نے اس موضوع پر کوئی مستند مقالہ یا خطبہ تو تحریر نہیں کیا۔ شعر و نثر میں چند اشارے موجود ہیں۔ البتہ وہ مارکسنرم، کمیونزم یا اشتراکیت کے اتنے ہی خلاف تھے جتنے کیپیٹلزم، سرمایہ داری یا جاگیرداری کے۔ اُن کے خیال میں انسانی بہبود یا فلاح کا ہر وہ نظام جو روحانیت سے عاری ہو، انسان کے لیے صحیح سکون و اطمینان کا باعث نہیں بن سکتا۔ شاید اسی بنا پر انھوں نے خطبات میں شامل اپنے خطبہ ’’اجتہاد‘‘ میں فرمایا کہ اسلام کا اصل مقصد ’’روحانی‘‘ جمہوریت کا قیام ہے۔ علاوہ اس کے پیش گوئی کی تھی کہ سویٹ روس میں کمیونزم بطور نظام ختم ہو جائے گا، جو بالآخر درست ثابت ہوئی۔ مغربی تہذیب کے روحانیت سے عاری سرمایہ دارانہ نظام کے استبداد کے بارے میں بھی وہ سمجھتے تھے کہ شاخِ نارک پر بنا یہ آشیانہ نا پائیدار ہو گا۔ علامہ اقبال کی تحریروں سے ظاہر ہے کہ وہ سرمایہ اور محنت کے درمیان توازن کو اسلامی نظامِ معیشت قرار دیتے ہوئے اُسے ’’اقتصاد‘‘ کا نام دیتے ہیں یعنی درمیانے طبقے کی فلاحی ریاست ۔بہرحال یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ اگرچہ علامہ اقبال نے ابتدائی زمانہ میں ’’پولیٹکل اکانومی‘‘ پر کتابچہ تحریر کیا اور قیام انگلستان کے دوران ’’اکانومکس‘‘ کی کلاسوں میں بھی شریک ہوتے رہے، وہ صحیح معنوں میں تربیت یافتہ اکانومسٹ یا اقتصادیات کے ماہر نہ تھے۔
۱۹۲۶ء میں علامہ اقبال پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ اُس زمانہ میں ’’انڈسٹری‘‘ کے میدان میں تو مسلمانوں کی کوئی خاص اہمیت نہ تھی۔ البتہ ’’جاگیرداری‘‘ کا مسئلہ تھا۔ لہٰذا اس موضوع پر کونسل میں اُن کی تقریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خدا کو زمین کا مالک سمجھتے تھے۔ یعنی اُن کے نزدیک چار بنیادی عنصر جن سے کائنات تشکیل کی گئی۔ آگ ، پانی، ہوا اور زمین، سب خدا کی ملکیت ہیں۔ لہٰذا انسان اصولی طور پر زمین کا مالک نہیں، محض ’’ٹرسٹی‘‘ہے تاکہ اُس کے ذریعے روزی کما سکے۔ اس اصول کا اطلاق وہ ’’کراؤن ‘‘ یا ’’سٹیٹ‘‘ پر بھی کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ ’’کراؤن‘‘ (اسٹیٹ) کے تصرف میں جو اراضی ہے وہ آسان قسطوں پر بے زمین کاشتکاروں میں بانٹ دی جائے۔ نیز جاگیردار کے پاس اتنی اراضی رہنے دی جائے جو وہ خود کاشت کرتا ہو۔ گویاعلامہ اقبال جاگیردار کے ’’ٹیننٹ‘‘ سے ’’بٹائی‘‘ (مخابرہ )لینے کے بھی خلاف تھے۔ اسی طرح اُس زمانہ میں بڑے زمینداروں پر ’’ایگریکلچرل‘‘ ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کی جو ٹیکس عشر اور زکاۃ کی وصولی کے علاوہ تھا ۔ علامہ اقبال مسلم جاگیرداروں پر اسلامی قانونِ وراثت کے سختی کے ساتھ اطلاق سے بھی سمجھتے تھے کہ یوں چند نسلیں گزرنے کے بعد جاگیرداری کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ ان باتوں سے ظاہر ہے کہ علامہ اقبال ’’لینڈ ریفارم‘‘ کے بارے میں مخصوص نظریہ رکھتے تھے۔
تاریخی نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو مسلم معاشرہ کی معیشت کی بنیادیں دراصل ابتدا ہی سے ’’فیوڈل‘‘ (جاگیرداری) نظام پر قائم ہونے کی بجائے ’’مرکنٹائیل‘‘ (تجارتی) نظام پر قائم تھیں۔ اسی لیے اسلامی فقہ میں ’’مال ‘‘ سے مراد ’’سرمایہ‘‘ (ولتھ) بھی ہے اور ’’اراضی‘‘ (اسٹیٹ)بھی ۔ نیز تجارت کے ذریعے پیداوار بڑھانا یا منافع کمانا اخلاقی طور پر عمدہ اسلامی خصائل سمجھے جاتے تھے۔ ’’تجارتی معیشت’’ (مارکیٹ اکانومی)کے لیے ’’سرمایہ‘‘ کی فراہمی کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ اس لیے اگرچہ اسلامی قانون کے مطابق ربوٰ حرام ہے ، لیکن ایسے لین دین کو مختلف ’’حیلوں‘‘ کے ذریعے جاری رکھا گیا ۔ بقول ناصر خسرو گیارھویں صدی اصفہان میں’’تبادلہ سرمایہ‘‘ (منی ایکسچینج) کی خاطر دوسو کے قریب کاروباری ادارے موجود تھے یہی کاروبار کرتے تھے ۔ علامہ اقبال معاشرہ میں ’’سرمایہ‘‘ (کیپٹل) کی قوت کو بالکل ختم کرنا نہیں چاہتے بلکہ ’’مارکیٹ اکانومی‘‘ کے فروغ کے لیے اس کی موجودگی کو اہم خیال کرتے ہیں۔ اسی سبب مولانا شبلی کی طرح بنک کے سود کو ’’منافع‘‘ قرار دیتے ہیں کیوں کہ اس میں استحصال کا ویسا امکان نہیں جو ربوٰ کی وصولی میں ہے۔
پرانے زمانے کی اسلامی ریاست کی آمدنی کے ذرائع مختصراً یہ تھے : ذمیوں سے ’’جزیہ‘‘ اور اگر اراضی کے مالک ہوں تو ’’خراج‘‘ کی وصولی ۔ غینمہ۔ مسلمانوں سے ، اگر اراضی کے مالک ہوں تو ’’عشر‘‘ اور اُس کے علاوہ ’’ زکاۃ‘‘ کی وصولی (اگر رضاکارانہ طور پر ادا نہ کی گئی ہو تو)۔ ریاست کو ’’تجارتی معیشت‘‘ کے ذریعے منافع پر مختلف نوعیت کے ٹکسوں کی آمدنی بھی ہوتی تھی۔ معاشیات کے بارے میں تحریر کرنے والوں میں امام ابو یوسف کی کتاب الخراج معروف ہے۔مگر ابن خلدون ، البیرونی ، ابن تیمیہ، ناصر طوسی، ابن مسکویہ اور اخوان الصفا نے بھی اپنی کتاب میں ایسے مسائل پر بحث کی ہے۔
جہاں تک انسان کے بنیادی حقوق کا تعلق ہے، قرآن کی سورۃ طٰہٰ آیات ۱۱۸،۱۱۹ میں اللہ تعالیٰ آدم سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں: اے آدم، تمہارے لیے یہاں انتظام ہے۔ نہ بھوکے ننگے رہو گے، نہ گرمی تمھیں ستائے گی۔‘‘ ان آیات کے ساتھ اگر ترمذی کی بیان کردہ حدیث پڑھی جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد کیا: آدم کے بیٹے کے تین حقوق ہیں، رہنے کو مکان، ننگاپن چھپانے کو کپڑا اور کھانے پینے کو روٹی اور پانی‘‘ تو اسلامی فلاحی ریاست کے ارباب بست و کشاد پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر شہری کو یہ سہولتیں فراہم کریں۔ اور اب تو اُن میں دو مزید حقوق، یعنی بلا معاوضہ تعلیم اور مفت طبی امداد کا اضافہ ہو گیا ہے۔ یہاں یہ بتا دینا مناسب ہے کہ علامہ اقبال خاندانی منصوبہ بندی کے اس طرح قائل تھے کہ اگر بیوی اولاد پیدا نہ کرنا چاہے تو خاوند اُسے مجبور نہیں کر سکتا۔
علامہ اقبال جب قائد اعظم کو اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ اسلامی قانون کے طویل مطالعے سے وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس کی ’’جدید نظریات‘‘ کی روشنی میں ارتقا کے ذریعے قابل قبول’’سوشل ڈیماکریسی‘‘ قائم کی جا سکتی ہے، تو سوال پیدا ہوتا ہے: وہ اپنے اس دعویٰ کی بنیاد کن قرآنی آیات پر استوار کرتے ہیں، عین ممکن ہے انھوں نے فلاحی ریاست کے قرآنی تصور کی بنیاد سورۃ البقرہ آیت ۲۱۹ اور سورۃ الذاریات آیت ۱۹ پر رکھی ہو۔ سورۃ البقرہ آیت ۲۱۹ میں حکم ہے : ’’پوچھتے ہیں اللہ کی راہ میں کیا خرچ کیا جائے ؟ قل العفو (کہو جو ضرورت سے زاید ہے)!!‘‘اس ضمن میں علامہ اقبال کے اشعار قابل غور ہیں:
قرآں میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدّت کردار
جو حرف ’’قل العفو‘‘ میں پوشیدہ ہے اب تک
اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار
’’قل العفو‘‘کے بارے میں ’’تقلیدی‘‘ سوچ تو یہی ہے کہ انسان رضا کارانہ طور پر جو اپنی ضرورت سے زاید یا فالتو سمجھے خدا کی راہ میں دے دے۔ مگر ’’جدت کردار‘‘ سے علامہ اقبال کی کیا مراد ہے؟ کیا یہ طے کرنے کے لیے کہ ضرورت سے زاید یا فالتو کیا ہے، ریاست کی مداخلت ضروری ہے؟ سورۃ الذاریات آیت ۱۹ میں ارشادہوتا ہے ’’دولت مندوں کے مال میں ناداروں اور محروموں کا حصہ ہے۔‘‘ کیا علامہ اقبال کے نزدیک اس حصے کا تعین کرنے کی خاطر بھی ریاست کی مداخلت ضروری ہے؟ علامہ اقبال کے ارشادات سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے بنیادی حقوق کے قرآنی تصور اور دولت مندوں کی ذمہ داری سے متعلق قرآنی احکام کے تحت ’’روحانی‘‘ بنیادوں پر قائم ’’سوشل ڈیماکریسی‘‘ یا ’’اسلامی فلاحی ریاست ‘‘ وجود میں لائی جا سکتی ہے۔
بہر حال خصوصی طور پر ’’اجتہاد کی تاریخ و ارتقا‘‘ اور ’’فلاحی ریاست کا قرآنی تصور‘‘ کے موضوعات پر کتب تحریر کرنا ایسے کام تھے جو علامہ اقبال تو ادھورے چھوڑ گئے مگر علامہ اقبال کے نام پر قائم سرکاری یا غیر سرکاری ادارے انجام دے سکتے ہیں۔ یہی امید ہمیں اس ادارے سے رکھنی چاہیے جو میاں اقبال صلاح الدین اور اُن کے رفقاء نے علامہ اقبال کے نام پر قائم کیا ہے۔ شاید ’’اجتہاد کی تاریخ و ارتقا‘‘ پر کوئی مستند کتاب تحریر کرنے کی خاطر علماء و فقہاء کا بورڈ قائم کرنے کی ضرورت پڑے ۔ اسی طرح ’’فلاحی ریاست کا قرآنی تصور‘‘کے موضوع پر کچھ تحریر کرنے کی خاطر ماہرین اقتصادیات کی خدمات حاصل کرنی پڑیں۔ علامہ اقبال احیائے اسلام کے شاعر ہیں۔ انھوں نے فرما رکھا ہے کہ وہ ’’حرف آخر ‘‘ نہیں ۔ اگر اُن کا شروع کردہ عملِ احیا واقعی جاری ہے تو بقول اُن کے، اُن کے پیش کردہ نظریات سے بہتر نظریات سامنے آ سکتے ہیں۔ ضرورت صرف اُن کے اس شعر کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ہے:
ہر کہ او را قوّت تخلیق نیست
پیشِ ما جز کافر و زندیق نیست
شیخ ایمن الظواہری پر حافظ عمار ناصر کی تنقید کا محاکمہ
محمد عادل فاروقی
(جہاد کے موضوع پر الشریعہ کی اشاعت خاص (مارچ ۲۰۱۲ء) میں جناب ایمن الظواہری کی تصنیف ’’الصبح والقندیل‘‘ پر شائع ہونے والی، راقم الحروف کی تنقید کے جواب میں درج ذیل تحریر ہمیں ای میل کے ذریعے سے موصول ہوئی ہے جسے من وعن قارئین کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ میں اس کے جواب میں کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ قارئین خصوصی اشاعت میں میری اصل تحریر اور زیر نظر تنقید کا خود موازنہ کر سکتے ہیں۔ مدیر)
الشریعہ کی اشاعت خاص (جہاد: کلاسیکی اور عصری تناظر میں) میں حافظ عمار ناصر کا مضمون پڑھنے کے بعد قلب و ذہن کی عجیب کیفیت ہے کہ خیر القرون کے ایک تابعیؒ اور شر قروں کی طرف محو سفر زمانے کی ایک کافرہ نے بیک وقت فکر و خیال کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔ اہل علم کے بقول پیغمبرانہ اسلوب بیان رکھنے والے مشہور تابعی بزرگ شیخ حسن بصریؒ نے ایک بار فرمایا: ’’ ما لی اریٰ رجالا و لا اریٰ عقولا‘‘ (الحسن البصری، ابن جوزی ،ص ۶۹) کیا معاملہ ہے کہ مجھے آدمی تو نظر آتے ہیں مگر عقلیں نایاب ہیں۔یاد رہے کہ شیخ ؒ یہ سب کچھ خیر القرون ہی میں فرما رہے ہیں اور وہ زمانہ عہد حاضر کے دانش گرد ’’علماء‘‘ سے ابھی محفوظ تھا۔ دوسری بات واشنگٹن پوسٹ کی خاتون صحافی ، اپلینا بائیٹ کی ہے جس نے کفار کی کڑی حفاظت میں رہنے والے خود ساختہ ’’شیخ الاسلام‘‘ ڈاکٹر طاہر القادری کی کتاب ’’ دہشت گردی اور فتنہ خوارج‘‘ کے چھپنے پر ایک تبصرہ کیا تھا جو پسپائی کو مکالمہ اور بے حمیتی کو برداشت کی دل موہ لینے والی اصطلاحات کا جامہ پہنانے والوں کی اوقات واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ وہ کہتی ہے: ’’ کیا وجہ ہے ہے کہ عالم اسلام سے اتنی زیادہ تعداد میں دہشت گردی کے خلاف فتاویٰ آنے کے باوجود یہ ختم کیوں نہیں ہو رہی؟ وجہ یہی ہے کہ ابھی تک عالم اسلام میں سے ایسے لوگوں نے اس کے خلاف باقاعدہ فتویٰ نہیں دیا جو حکومتوں اور دنیا سے دور ہوں۔‘‘ یہی بات اس خاتون کے علاوہ کئی دوسرے مغربی’’ دانش ور‘‘ مختلف پیرایہ ہاے اظہار میں کر چکے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جس بات کو کافر سمجھ گیا ہے، وہ بات ہمارے ہاں کے عمار ناصر ایسے ان ’’اجل صاحبان علم و فضل‘‘ کو سمجھ نہیں آرہی۔
اس مضمون پر بقیہ بحث کرنے سے قبل اسی شمارے کے سو (۱۰۰) سے زائد صفحات پر پھیلے PIPS کے اس مذاکرے کے بارے میں تھوڑی سی بات ہو جائے جس کے تانے بانے امریکی این جی اوز کے واسطے سے ہوتے ہوئے کہیں اور جا ملتے ہیں۔ ابھی حالیہ اخباری رپورٹ کے مطابق امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جیتنے کے لیے پاکستان میں میڈیا کو اپنے حق میں کرنے کی خاطر۶۲ ملین ڈالر مختص کیے ہیں۔ (روزنامہ جنگ، کالم نصرت مرزا) اس سے چند ماہ قبل کی وہ خبر بھی ذہن میں تازہ کیجیے جس کے مطابق طالبان کے خلاف مہم چلانے کے لیے بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والے ’’سنی اتحاد کونسل‘‘ کو ایک دفعہ کی ادائیگی میں ۳۶۰۰۰ ڈالرسے کچھ اوپرکے فنڈز دینے کا تذکرہ کیا تھا جس پر اس کونسل نے پہلے امریکہ پر ہتک عزت کا دعو یٰ دائر کرنے کی بڑ ہانکی اور بعد میں اپنے چند عہدے داروں کو اس حرکت پر ’’فارغ‘‘ کر کے ’’ گونگلووں سے مٹی جھاڑ دی‘‘اور خود کو کوثر و تسنیم میں دُھلے صدق و صفا کا پیکر قرار دے دیا۔ اسی طرح اس سے بھی چند ہفتے قبل کی وہ خبر بھی دُہرا لیجیے جس کے مطابق پچھلے سال مئی میں شیخ اسامہ بن لادن ؒ کی شہادت کے بعد امریکی سفارت خانے نے پاکستان میں ایک خصوصی سیل قائم کیا جو شیخ ؒ کی شہادت کے بعد القاعدہ کو ایک آخری دھچکہ لگانے کے لیے کام کرے گا۔ اس سیل میں ’’علماء‘‘ بھی معاونت کے لیے موجود ہوں گے اور یہ سیل سٹکر اور پمفلٹ سے لے کر فلم تک بنائے گا جو اسی طالبان مخالف مہم کا حصہ ہے۔
رازی اور کشاف کے نکات و معارف پردسترس اورعبور رکھنے کے زعم میں مبتلا صاحب مضمون بھول گئے کہ اقبال ؒ کیا کہہ گئے تھے:
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف
عالمانہ شان تو دور کی بات، موصوف کے طرز استدلال میں دیانت، فکر یااخلاق و مروت کی پرچھائی تک بھی نہیں ملتی۔ غامدی فکر کے اس پرچارک کی جہادی تفہیم و تشریح اُسی کاوش اور مہم کا تتمہ ہے جوجہاد مخالفت میں اس بر صغیر میں کوئی ڈیڑھ صدی قبل ۱۸۵۷ء کے جہاد کے بعد شروع کی گئی تھی۔ راقم صد کوشش کے باوجود مجبور ہے کہ اِس بازاری زبان کا جواب اِس سے ملتے جلتے محاورے میں ہی دے، کیوں کہ اصول ہے کہ ’’لوگوں سے ان کی عقلی سطح کے مطابق کلام کرنا چاہیے‘‘ اور ’’نزلوا الناس منازلہم‘‘ یعنی لوگو ں کو ان کے مقام کے مطابق عزت دو۔
عمار ناصر نے علمی اور تاریخی ہر دو سطح پر بد دیانتی سے کام لیا ہے۔ علمی حوالے سے اس طرح کہ شیخ ایمن الظواہری مدظلہ العالی کی کتاب میں جن دلائل کاتذکرہ کیا گیا ہے اور بحث کو جس منطقی انداز میں انھوں نے سمیٹا ہے، اس کو نہ تو درست انداز میں ذکر کیا ہے اور نہ ہی ان ابحاث کا ’’مزعومہ رد‘‘ اس گراں قدر تحریر کے شایاں کیا ہے۔ جناب کی یہ کاوش شاعری کے عنفوانِ شباب کی منزلیں طے کرتے اس نوجوان شاعر جیسی ہی ہے جس نے متنبی کی ہجو کہی تھی تا کہ مشہور ہو جائے۔ دلائل کے معاملے میں ہر تہی دست کی طرح، مرتب اور مسکت دلائل نہ ہونے کی وجہ سے، جناب نے اپنے مخاطب دیوبندی حلقے (جو موصوف کے غامدی فکر کے مناد اور نقیب ہونے، دلائل کے Academic Framework میں اکابرکے فہم دین سے کئی بڑے اور بنیادی انحرافات اور ’’نادر تحقیقات‘‘ کی وجہ سے ان سے سخت نالاں ہے) کو جذباتی انداز میں قائل کرنے کی کوشش کی ہے، مثلاً: ’’ظواہری کی اس تنقید کو درست مانا جائے تو اس کی زد میں براہ راست پاکستان کی وہ چوٹی کی مذہبی قیادت آتی ہے جو دستور سازی کے مختلف مراحل میں شریک رہی۔‘‘ (ص ۶۲۵)‘‘ حالانکہ کتاب کے مصنف نے ان حضرات کی نیتوں پر کوئی طعن نہیں کیا، بلکہ اس بات کابرملا اظہار کیا ہے کہ جدید دستوری ضابطوں کے مفاسد ان اکابرین امت کے دور میں ابھی واضح انداز میں ظاہر نہیں ہوئے تھے، اِس لیے ہم اُن حضرات کے بارے میں کوئی بات نہیں کریں گے ۔
القاعدہ کے جمہوریت کو کفریہ قرار دینے کو جبر و تشدد کا رد عمل (ص ۶۱۵) قرار دینے کی بد دیانتی کرتے وقت عمار ناصر یہ بھول گئے کہ اس نظام کے ابتدائی سطح ہی کے مفاسد کو دیکھتے ہوئے اکابر کااس بارے میں کیا موقف رہا ہے۔ ہم زیادہ طوالت میں نہیں جاتے اور عہد حاضر کے نامور محقق علامہ خالد محمود صاحب کی رائے پر ہی اکتفا کرتے ہیں جو خود بھی یورپ میں رہ چکے ہیں اورعمار ناصر اُن پر جبر و اکراہ کے رد عمل کی وجہ سے ایسی رائے دینے کا طعن بھی نہیں کر سکتے۔ ایک سوال کے جواب میں لندن سے چھپنے والی اپنی کتاب ’’عبقات‘‘ میں علامہ جمہوریت کے متعلق لکھتے ہیں۔’’اسے صحیح سمجھنا اور حق جاننا کفر ہے۔‘‘ (ص ۴۲۰)
جہاد اور مجاہدین سے بغض و عناد کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ شیخ ایمن الظواہری مد ظلہ العالی کی شریعت کی تفہیم و تشریح کے متعلق موصوف انتہائی تمسخرانہ انداز اپناتے ہیں۔ مثلاً شیخ کی رائے کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے پوری بصیرت کے لفظ کو تمسخرانہ انداز میں واوین میں لکھتے ہیں۔ ملاحظہ ہو: ’’ظواہری دستور پاکستان کے مطالعے کے بعد ’’پوری بصیرت‘‘ کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔۔۔‘‘(۶۱۵) جبکہ پرویز مشرف، جس کے بارے میں اپنی نجی محفلو ں میں اکثر مفتیان کرام مرتد ہونے کا فتویٰ لگاتے ہیں، سے نمک حلالی کا ثبوت دیتے ہوئے انتہائی مثبت اسلوب اپناتے ہیں۔ مضمون نگار لکھتے ہیں: ’’تاہم جنرل مشرف چونکہ پوری دیانت داری اور ذہنی یکسوئی کے ساتھ یہ فیصلہ کر چکے تھے‘‘ (ص، ۶۱۶)۔ اس سے چند سطور بعدعمار ناصر کی شرعی زبان پڑھیں اور سر دھنیں:
’’ ایک مخصوص صورت حال کے تناظر میں بڑی حد تک حالات کے جبر کے تحت اختیار کی جانے والی ناروا حکومتی پالیسیوں کو اس بات کے لیے مناسب جواز تسلیم نہیں کیا کہ پورے ریاستی نظام کی رٹ کو چیلنج کر دیا جائے۔‘‘ (ص، ۶۱۶)
دین میں مسلمات کی حیثیت رکھنے والے مسائل سے رو گردانی کی جائے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اولاد عرب مسلمان بھایؤں، بہنوں اوربیٹیوں کو کفار کے ہاتھوں بیچ دیا جائے، صرف ابتدائی ایک ہی سال میں ہمسایہ مسلمان بھائیوں پر ۵۸۰۰ ہزار فضائی حملوں کے لیے پاکستانی ہوائی اڈے فراہم کر دیے جائیں، روزانہ اسلحہ، گولہ بارود اور خوراک سے لدے ۴۰۰ کنٹینروں کو باحفاظت افغانستان پہنچایا جائے، امریکہ سے لڑنے کی خواہش رکھنے والے مجاہدین سے اپنے عقوبت خانوں کو بھر دیا جائے اور ان تمام جرائم کے ارتکاب پرعمار ناصر کے قلم سے فتویٰ نکلے تو صرف’’ ناروا حکومتی پالیسی‘‘ ، جیسے ٹی وی پر بیٹھے کسی نام نہاد ’’غیر جانبدار‘‘ مبصر نے تبصرہ کیا! اپنے پیسے لیے اور گھر کی راہ لی! باقی امت جانے اور دین کا محافظ رب خود جانے۔
یہ ہے بنی اسرائیل کے علماء سے پوری پوری مشابہت رکھنے والے عمار ناصر کا فہم دین اور اعلان حق کہ ’’ طاقت وروں کے اور دین اور کمزوروں کے لیے اور دین‘‘!
شیخ ایمن الظواہری مد ظلہ العالی نے سنت کے مطابق نیکی کے درجات پر قیاس کرتے ہوئے اسلامیانِ پاکستان سے کم از کم سطح پر یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اگر مجاہدین کی مدد و نصرت نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے خلاف برسر جنگ امریکی آلہ کاروں کے ہاتھ مضبوط نہ کریں اور مجاہدین کی مخالفت سے اپنے آپ کو روکے رکھیں کیوں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ ولسم نے امت کو نیکی کی درجہ بندی کی ایسی ہی تربیت دی ہے۔ آپ نے فرمایا: ہر مسلمان پر صدقہ واجب ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول، اگر اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ نے فرما:یا وہ اپنے ہاتھوں سے کام کرے، پھر اپنی ذات کو بھی فائدہ دے اور صدقہ بھی کرے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے گزارش کی ! اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو تو کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: وہ ضرورت مند مصیبت زدہ کی مدد کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اگر وہ یہ بھی نہ کر سکتا ہو؟ آپ نے فرمایا: تو وہ نیکی کا حکم دے۔ صحابہ کرام رضی اللہ نے عرض کی: اگر اس سے یہ بھی نہ ہو سکے تو؟آپ نے فرمایا: وہ برائی سے باز رہے اور کسی کو تکلیف نہ دے، یہی اس کے لیے صدقہ ہے۔‘‘ (بخاری: ۱۴۴۵، مسلم : ۵۵؍۱۰۰۸) مگر عمار ناصر کے احمقانہ اور سفیہانہ طرز استنباط نے سنت سے اس حد درجہ تمسک سے بھی ’’تحفظ ذات کے جذبے‘‘ (ص ۶۱۶) کا نکتہ نکالا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
دستورِ پاکستان کے بارے میں احتمالات کی بات کرتے ہوئے بھی عجیب نکات بیان کیے گئے ہیں۔ ’’احتمال‘‘ اور ’’یقین‘‘ کا فرق عمار ناصر جیسے تیرہ فکر فقہیوں کو معلوم ہو گا۔ اگر کسی شخص میں ننانوے احتمال کفر کے ہوں تو اس پر کفر میں توقف کیا جاسکتا ہے، کیوں کہ محتمل تو متعد د معانی و وجوہ کا مورد ہو سکتا ہے، لیکن اس قول کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ننانوے احتمال ایمان کے ہوں اور ایک یقینی کفر ہو تووہ پھر بھی مومن رہے گایا ننانوے یقینی کفر کو صاحب فتویٰ پوری محنت صرف کر کے احتمال بنائے گا۔ سوال یہ کہ حکومت و افواج پاکستان کا امریکیوں کو اڈے دینااور انٹیلی جنس مدد فراہم کرنا یقین ہے یا احتمال؟ مسلماتوں کو گرفتار کر کے صلیبیوں کے ہاتھ فروخت کرنا یقینی ہے یا محض احتمال؟افواج پاکستان کا لال مسجد میں فاسفورس بموں سے خواتین کو بے دردی سے شہید کرنا، مسجد کو تباہ کرنا اور اس سب پر جارج بش کا تحسین کرنا، یہ محض احتمال ہی ہے؟ اسی طرح قیام پاکستان سے آج تک حکومتوں کے نظم معیشت کو سود پر چلانااور اس پر اصرار کرنا محض احتمال ہی ہے اور یہ ابھی تک یقین نہیں بنا؟ شرعی حدود کا پاکستانی آئین کے تحت غیر آئینی ہو کر ابھی تک نافذ نہ ہونا ابھی تک احتمال ہی ہے؟ مانعین زکوٰۃ جن پر اجماع صحابہؓ کے تحت کفر کا فتویٰ لگا اور صحابہؓ نے ا ن کے خلاف قتال کر کے ان کی عورتوں کو لونڈیاں بنایا، ان میں تو ایمان کے احتمالات نہیں بلکہ یقینیات موجود تھے۔ کیا وہ شہادتین کے منکر تھے؟ کیا وہ صلوٰۃکے منکر تھے؟ کیا وہ زکوٰۃ کو ایک تاویل کے ساتھ دینے سے مانع نہیں تھے کہ: خذ من اموالھم کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تھااور آپؓ خلیفۃ الرسول کی حیثیت سے نہیں لے سکتے تو اس کو صحابہؓ نے احتمالِ ایمان نہیں سمجھا! مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھی شہادتین کا اقرار کرتے تھے مسلمانوں کے سب شعار پر کاربند تھے تو کیا صحابہؓ نے اس سے احتمال ایمان اخذ کیا؟
جنابِ عمارناصر نے جس طرح جعل سازی کر کے تدریج کا اصول بنانے کی کوشش کی ہے، اگر با لفرض محا ل مان بھی لیا جائے تو پھر بھی یہ اصول نسلی مسلمانوں پر کیسے منطبق ہو گا جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کفر سے اسلام کی طرف آنے والوں کو یہ رخصتِ وقتی دے رہے ہیں۔ یہ تو قیاس مع الفارق ہے ۔ تدریج کے اس منہج کے ضمن میں حضرت بشیر السدوسیؓ والی وہ حدیث یاد رکھیں جب قبول اسلام کے وقت انھوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ’’جہاد اور صدقے‘‘ کی رخصت چاہی کہ میں یہ نہیں کر سکتا تو آپ نے فرمایا کہ ’’ بشیر پھر جنت میں کیسے جاؤ گے‘‘ تو نبی کے اس جاں نثار نے فورا ان دونوں باتوں کو بھی قبول کر لیا۔ دوسرا یہ کہ تدریج کا بھی کوئی انتہائی وقت ہوتا ہے یا صدیوں تدریج جاری رہتی ہے؟ جس طرح طاہر القادری کے نزدیک ابھی تقریبا ۱۷۵۰ سال تک ظہور مہدی نہیں ہونا۔ قیام پاکستان سے لے کر آج چونسٹھ سال تک تدریج زور و شور سے جاری ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان سود کو جاری رکھنے کے لیے فیڈرل شریعت کورٹ کے خلاف Stay لے چکی ہے، لیکن تدریج کا جن بوتل میں بند ہونے کو تیار نہیں۔ تیسرا یہ کہ کیا جناب عمار ناصر اس مذہب کی روشنی میں آج عمومی نسلی مسلمانوں کو شراب، زنا ، اور ترکِ صلوٰۃ و زکوٰۃ کی اجازت دیں گے کیوں کہ معاشرے کی مکمل تبدیلی کے باعث کئی’’دانش وروں‘‘ کا نوجوانوں کے لیے یہ مشورہ ہے؟
حاکم خان کیس میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ دستور کی اسلام کے مطابق شق اور اسلام کے خلاف شق مساوی درجہ رکھتی ہیں اور ایک دوسرے کو کالعدم نہیں کر سکتیں۔ شیخ ایمن الظواہری مد ظلہ العالی نے بالکل بجا طور پر سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو کفر قرار دیا ہے۔ عمار ناصر کو شیخ کے اس استدلال کا کوئی جواب نہیں سوجھا! شاید شیطان نے وحی نہ کی ہو! اس لیے اس کے رد میں جو لکھا ہے، اس کے جواب میں یہی کہنا کافی ہے کہ ’’عقل نئیں تے موجاں ای موجاں‘‘۔ جناب خود اس تعبیر کے بارے میں لکھ بھی رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کی یہ تعبیر موثر ہے (ص ۶۲۲) مگر بے ضمیری کا چسکا لگا ہو تو صریح نصوص کا انکا ر بھی آسان ہو جاتا ہے ا ور نقطہ نظر کے بالکل واضح خلا ف دلیل بھی سمجھ نہیں آتی۔
شیخ ایمن الظواہری مد ظلہ العالی کی کتاب میں اختصار کی وجہ سے ہو سکتا ہے، بعض مقامات پرکسی کوکوئی اشکال پیدا ہو، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ تنظیم القاعدہ کی دوسری کتب اور لٹریچر کو بھی سامنے رکھاجائے تا کہ مسئلے کا پورا حل سمجھ میں آئے۔ عمار ناصر نے بد دیانتی کا ارتکاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ چونکہ مقصود پاکستان کے شہریوں کے سامنے شریعت کی بالا دستی قائم کرنے کا کوئی متبادل لائحہ عمل پیش کرنا نہیں‘‘ (ص ۶۱۶) حالانکہ القاعدہ پورا اور مکمل شرعی حل پیش کرتی ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کے مواد کا مکمل مطالعہ کیا جائے۔ حضرت امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد دامت برکاتہم العالیہ کے عہد امارت میں جب ایک امریکی جاسوس کو سزائے موت سنائی گئی تو انگریز صحافی نے متعلقہ حکومتی اہلکار سے پوچھا کہ آپ نے جدید طرز کا کوئی مقدمہ نہیں چلایا تو انھوں نے جو جواب دیا، وہ مسائل فقہیہ کی جدیداصول اجتہاد پر تدوین نو کرنے اور تجدد پسند لائحہ عمل پیش کرنے کی ضرورت پر زور دینے والے عمار ناصر کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ انھوں نے فرمایا: ’’ ہماری کتبِ فقہ کے اندر صدیوں پہلے مقدمات چلائے اور فیصلے سنائے جا چکے، ہمیں تو بس ایک ایسا خطہ درکار تھا جہاں ہم ان کو نافذ کر دیں‘‘۔
حرم کے نام پر کھانے والوں کے لیے یقیناًاسلامی مقدسات اہم نہیں ہیں اور نہ ہی دین۔ تاریخی حقائق کے سلسلے میں بد دیانتی کرتے ہوئے عمار ناصر افغانستان پر حملے کے محرکات کا تذکرہ کرتے ہوئے اس بات کو گول کر گئے (ص، ۶۲۵) کہ شیخ اسامہ ؒ اور امریکہ کے درمیان جنگ کب اور کیوں شروع ہوئی۔ یہ غلطی ہمارے ہاں کے کئی دوسرے ’’اسکالرز‘‘ اور بعض مخلص اہل علم بھی کرتے ہیں اور بیچارے صحافی سلیم شہزاد کو بھی ایک ٹی وی پروگرام میں ایسا ہی سچ بولنے پر موت کی سزا سنا دی گئی۔ اس نے بھی یہی کہا تھا کہ ’’ یہ جنگ پاکستانی فوج نے شروع کی ہے۔ القاعدہ نے تو مجبوراً فوج کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہیں، لہٰذا اب جنگ بندی میں بھی پہل فوج ہی کو کرنی پڑے گی‘‘
اب ہم اشارتاً آتے ہیں شیخ اسامہ ؒ کے مجاہدین کے خلاف پاکستانی فوج کی اقدامی جنگی تاریخ کی طرف!
- جب صومالیہ کے مسلمانوں کی نصرت کا فریضہ ادا کرتے ہوئے شیخ اسامہؒ کے مجاہدین نے امریکی فوج کو گھیرے میں لیا اور خوب عسکری نقصان پہنچایا تو امریکی فوج کو باحفاظت فرار کروانے کی ساری خدمت امن فوج میں شامل پاکستانی دستوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر انجام دی، مجاہدین نے صبر کر لیا اورپاکستانی فوج کو کچھ نہ کہا!
- ۱۹۹۶ میں شیخ اسامہ ؒ پر افغانستا ن میں امریکی کمانڈوز نے حملہ کیا۔ ہیلی کاپٹر کراچی کے ساحل پر کھڑے امریکی بحری بیڑے سے اڑے، مجاہدین نے صبر کر لیا اورپاکستانی فوج کو کچھ نہ کہا!
- ۱۹۹۸ میں شیخ اسامہ ؒ کے مرکز پر افغانستان میں امریکی کروز میزائلوں سے حملہ ہوا، میزائل کراچی کے ساحل پر کھڑے امریکی بحری بیڑے سے داغے گئے (جہانگیر کرامت سے امریکی سٹاپ اوور لینے کا معاملہ اخبارات کی زینت بھی بنا)، مجاہدین نے صبر کر لیا اورپاکستانی فوج کو کچھ نہ کہا!
- سقوط قندھار کے بعد آزاد قبائل کی پناہ میں آنے والے مجاہدین کو بچوں، بہنوں، ماؤں اور بیٹیوں سمیت پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر دیا گیا، مجاہدین نے صبر کر لیا اورپاکستانی فوج کو کچھ نہ کہا!
- اس کے بعدمکمل چار برس تک ایجنسیاں اور پولیس کتوں کی طرح مجاہدین کا پاکستان کے طول و عرض میں پیچھا کرتی اور پکڑتی بیچتی رہی، شیخ ابو زبیدہ (اللہ ان کو گونٹا نامو سے رہائی نصیب فرمائے) کو گرفتا ر کرنے کا واقعہ تو اخبارات میں بھی آیا کہ جب ان کے سامنے امریکی سے پہلے پاکستانی اہلکارآیا تو انھوں نے یہ کہ کر اپنی بندوق پھینک دی کہ کاش میرے سامنے کوئی امریکی ہوتا۔ اب بھی مجاہدین نے صبر کر لیا اور پاکستانی فوج کو کچھ نہ کہا!
- قبائل میں آپریشن اور پاکستانی فوج کی زمینی جاسوسی کی مددسے امریکی ڈرون حملے شروع ہوگئے ، مجاہدین نے صبر کر لیا اور پاکستانی فوج کو کچھ نہ کہا!
- قبائلی علاقوں کے آپریشن کے خلاف،جامعہ حفصہؓ اور لال مسجدکے علماء نے اللہ کے سامنے جواب دہی کے خوف اور شرعی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے جب اس آپریشن کے حرام ہونے کا فتویٰ دیا تو اس جرم پرپاکستانی فوج اور اس کے سربراہ پرویز مشرف نے عمار ناصر کے فہم دین کے مطابق پوری دیانت داری سے عبرت ناک سزا دینے کے لیے حملہ کر کے مسلمانو ں کے جان و مال اور عزت و آبرو کے ساتھ ساتھ شعار دینی مسجدو مدرسہ کی حرمت کو بھی پامال کر دیا تو اب مجاہدین کا صبر جواب دے گیا ۔ اب مجاہدین نے اس کفریہ نظم مملکت کے خلاف’’شریعت یا شہادت‘‘ کے مقصد کے تحت جدوجہد کا آغاز کر دیا ۔
لیکن یہ سب کچھ تو اس کی آنکھیں کھولنے کے لیے ہے جو دیدہ بینا رکھے! جو بنی اسرائیل کی بالشت بالشت پیروی سے باز رہے! جو اپنے اندرحق کو حق کہنے کی جرات رکھے! اور ایک اللہ کو جواب دہی کا خوف دل میں رکھتا ہو!
سب نے ملائے ہاتھ یہاں تیرگی کے ساتھ
کتنا بڑا مذاق ہوا روشنی کے ساتھ
’’عافیہ‘‘ ۔ ایک تنقیدی جائزہ
محمد رشید
عالم اسلام کی بیٹی۔۔۔عافیہ صدیقی کی مظلومیت، بے بسی،لاچاری اور اذیت ناک قید پر جتنا بھی دکھ اور افسوس کیاجائے، کم ہے۔ عافیہ کے ساتھ انسانیت سوز سلوک انسانی سماج اورتہذیب کے منہ پر ابلیس کا ایک زوردار تھپڑ ہے۔ یہ اکیسویں صدی کے بھیانک ترین انسانی المیوں میں سے ایک ہے۔ پاکستانی قوم کی ایک نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ امریکہ کے وحشیانہ اور حیوانی سلوک کا اصل محرک کون سی بات بنی؟ عافیہ صدیقی کی زندگی، نظریات اورموومنٹ کی تفصیلات کیا رہی ہیں؟ یہ اور اس قسم کے دوسرے سوالات ہر اس پڑھے لکھے انسان کے ذہن میں اٹھتے ہیں جو اکیسویں صدی کے بھیانک ترین المیوں میں سے اس خونچکاں المیے کے لیے اپنے دل میں درد اور سینے میں چبھن محسوس کرتا ہے۔
اکیسویں صدی کے فرعون اعظم کے بھیانک ترین مظالم اوراذیتوں کی خبروں نے عالم اسلام کے بچے بچے کے دل میں عافیہ صدیقی کے لیے بے پناہ ہمدردی اور رحم پیدا کردیا، اسے ایک ہیرو کا درجہ دے دیاکہ آخر اس مظلوم لڑکی میں کوئی تو ایسی خوبی اور طاقت تھی کہ جس سے اکیسویں صدی کافرعون اعظم بھی خوفزدہ ہوگیا۔ ظالم ہمیشہ بزدل ہوتا ہے۔ تمام دنیا نے امریکی بزدلی اور نامردی کا یہ تماشا دیکھا کہ اس نے ایک کمزورعورت پر اپنی وحشیانہ طاقت کا زور آزمایا، لیکن اپنی تمام تروحشیانہ تعذیبوں اورحیوانی سلوک کے باوجود اس کمزور اور ناتواں عورت کا حوصلہ اور ایمان توڑنے میں ناکام رہے۔ اکیسویں صدی کی اس مظلوم ترین عورت کے مقابل اپنے آپ کو لاکر وقت کی سپر پاورنے ثابت کردیا کہ اس کا زور صرف نہتے، بے بس اور مجبورلوگوں پر چلتا ہے۔ یہ ظلم کرکے درحقیقت امریکہ نے تمام عالم کے لوگوں میں اور خود امریکی سماج کے شائستہ لوگوں میں اپنے خلاف بدترین نفرت اور حقارت کے بیج بوئے ہیں۔
اس مختصر سی تمہید کے بعد اب ہم اس موضوع پر شائع ہونے والی ایک کتاب ’’عافیہ‘‘پر اپنی حقیر رائے کااظہار کرنا چاہتے ہیں۔ ہفت روزہ ضرب مومن میں تسلسل کے ساتھ اس کتاب کا اشتہار بڑے تزک و احتشام کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔ اشتہار سے متاثر ہوکر ہم نے کتاب خریدنے کا سوچا۔بُک سینٹرجاکر کتاب کے فہرست مضامین دیکھے تو بڑے متاثر ہوئے کہ کتاب واقعتا عافیہ صدیقی کی زندگی کے تفصیلی اور تحقیقی حالات پر مشتمل ہوگی، کیونکہ اشتہارمذکور میں موضوع سے متعلق بہت سے حقائق آشکارا ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، لیکن کتاب پڑھ کر ہمیں مایوسی ہوئی کہ ہم اخباروں کے ذریعے سے اپنی محترم بہن عافیہ صدیقی کے بارے میں جو کچھ جان چکے تھے، اس ضخیم کتاب نے ان معلومات میں کوئی قابل ذکراضافہ نہیں کیا۔
مصنف نے کتاب ناول کے انداز میں لکھنے کی کوشش کی ہے، لیکن ہمیں نہایت افسوس سے عرض کرنا پڑرہا ہے کہ وہ نہ ہی ناول کے انداز کو نبھا سکے ہیں اور نہ ہی تحقیقی رپورٹ کا انداز اپنا سکے ہیں۔ کتاب میں بہت کچھ ہے۔۔۔معلومات ہیں۔۔۔ نصائح ہیں۔۔۔ خوبصورت اور کردار ساز احادیث کا بیان ہے۔۔۔کئی معلومات ہیں۔۔۔لیکن ہمیں پھر افسوس سے عرض کرنا پڑرہا ہے کہ یہ سب کچھ لکھنے کے لیے ’’عافیہ صدیقی ‘‘ کا عنوان نامناسب ہی نہیں، بڑی حد تک غیر متعلق بھی ہے۔ اگر بہت ہی رعایت کی جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ کتاب میں 10فیصدتذکرہ عافیہ صدیقی کاہے اور باقی 90 فیصد مصنف کی دیگر معلومات اور مطالعہ کو زبردستی ’’عافیہ ‘‘ کے عنوان کے تحت تحریر کردیاگیا ہے۔جس ادارہ سے مصنف کا تعلق ہے، ہم اس ادارہ سے عقیدتمندانہ تعلق رکھتے ہیں، لیکن تمام تر عقیدتمندی اور خوش گمانی کے باوجود ہمارا خیال ہے کہ مصنف نے اپنی متنوع معلومات کوقارئین تک پہنچانے کے لیے 21ویں صدی کے فرعون اعظم کے مظالم کا شکار جدید دورکی اس مظلوم ترین محترم خاتون کے نام’’عافیہ‘‘ کا عنوان اختیار کرکے عدل اور دیانت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اخباری کالموں کے طرز پر مبنی تبصروں،رپورٹوں اوراظہار خیال کے لیے امت کی اس مظلوم ترین بیٹی کے نام کا عنوان ایک نامناسب طرزعمل ہے۔ کتاب پڑھنے کے بعد جب ہم ضرب مومن میں شائع ہونے والے اشتہارکے اس دعویٰ ’’ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی زندگی پر پہلی تفصیلی کتاب جس میں بہت سے حقائق آشکارہوتے ہیں‘‘کو دیکھتے ہیں تو اس میں ہمیں حقیقت بیانی کی بجائے اشتہاربازی نظرآتی ہے۔
ایک ناول پڑھنے والے کو یہ کتاب ایک substandard صنف کا ناول لگتا ہے جس کی وجہ سے وہ بہت جلد کتاب میں اپنی دلچسپی کھودیتا ہے۔۔۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے شوقین قاری کویہ کتاب عافیہ صدیقی کی زندگی کے حقیقی رخ،نظریات اورمقاصدکی مستندتفصیلات سے عاری محسوس ہوتی ہے۔۔۔عافیہ صدیقی کی زندگی کی مستند معلومات اور تفصیلات کی کمی کو سطحی تبصروں اور سطحی جذبات کے اظہار سے پوری کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مصنف اسلام سے اور مسلمانوں سے محبت کرتے ہیں، نوجوان ہیں، عالم دین ہیں،سلیس زبان میں مافی الضمیر کا اظہار کرنا جانتے ہیں۔۔۔ان کی یہ ساری خوبیاں ہمارے دل میں ان کے لیے احترام کو جگہ دیتی ہیں۔لیکن ان کی باتوں میں جس چیز کی ہم نے بے حد کمی اور فقدان کو محسوس کیا، وہ ہے تحقیقی انداز۔ہم دست بستہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے مغرب نے ہمیں پچھاڑدیا ہے۔ہم اپنی تمام تر خوش عقیدتوں،خوش فہمیوں اورمذہب پسندیوں کے باوجود اسلام اور عقل کے لوازمات یعنی تحقیق پسندی کی جان جوکھوں سے چونکہ دوربھاگتے ہیں، اس لیے دین اور دنیا دونوں میں شدید ترین زوال سے دوچار ہیں۔میں اپنے محترم دوست جناب انورغازی سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میرے محترم! آپ کے پاس اگرکسی موضوع پر صرف دس پندرہ صفحات کا مواد ہے اور آپ اسے کھینچ تان کر چار سو صفحوں پر پھیلانا چاہتے ہیں تویہ نہ صرف ایک غیر علمی اورغیر سنجیدہ وطرزعمل ہے بلکہ اپنا اور قارئین کا وقت ضائع کرنے کے مترادف بھی ہے۔ ہمیں جہاں مصنف محترم کے مطالعہ میں پھیلاؤ پرخوشی ہوئی، وہاں ان کے مطالعہ میں گہرائی اوررسوخ کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔سطحی تجزیوں،سطحی معلومات اور سطحی تبصروں سے مارکیٹ میں تو شاید جگہ بن جاتی ہو، یہ چیزیں عوامی نعروں اور عوامی تقریروں کی طرح تو شاید عوام میں پذیرائی حاصل کرلیتی ہوں، لیکن یہ چیز ٹھوس تعمیری کام میں قطعاً مفید ثابت نہیں ہوتی۔
مصنف محترم نے جہاں امت کی ایک نہایت مظلوم بیٹی پر اسلام دشمن درندوں کے ظلم و ستم پرآنسوبہائے ہیں، وہاں اسلامی اسکالر ہونے کے ناطے ان کا فرض بنتا تھا کہ وہ نہایت نصح اور خیرخواہی سے قارئین پر واضح کرتے کہ ایک مسلم خاتون کا اپنے وطن سے ہزاروں میل دوردجالی تہذیب کے نمائندہ ملک میں تعلیم کی غرض سے سفرکرکے جانا اور حیاسوز معاشرے میں مخلوط تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنا اسلام کے نزدیک ایک ناپسندیدہ اورناجائز عمل ہے۔ اسلام ایک مسلمان کے لیے ایمان کے بعد اہم ترین قدریااثاثہ آبروکی حفاظت کوقرار دیتا ہے۔لہٰذا ایسی کسی تعلیم کی اسلام قطعاً اجازت نہیں دیتا جس کے حصول میںآبروکو خطرات لاحق ہوں۔اسلام اور دجالی تہذیب کا یہ وہ بنیادی فرق ہے کہ اسلام کے نزدیک تو آبروکی حفاظت اس کے اہم ترین مذہبی ومعاشرتی اقدار میں سے ہے جبکہ مغربی دجالی تہذیب ومعاشرت کی نمایاں پہچان اور امتیازی شان ہی آبروکی حفاظت کے تمام فکری وعملی عوامل کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔لہٰذا ہماری مظلوم بہن عافیہ صدیقی کے خونچکاں المیہ کے بعد عالم اسلام کے مسلمانوں کو جو اہم ترین فیصلہ کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ وہ کبھی بھی کسی بھی صورت میں اپنی عصمت مآب بیٹیوں کو تعلیم کے مقدس نام پر مغرب کے ناپاک دجالی معاشرے میں نہیں بھیجیں گے بلکہ اپنے ہی ملکوں میں خواتین کے لیے اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے قائم کریں گے۔ اسے ایک اصول اور پالیسی کے طور پر تمام اسلامی ممالک کو اختیار کرنے کی دعوت دینی چاہیے۔
مصنف محترم نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ارفع کریم کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے کہ دونوں قوم میں تعلیمی انقلاب لانے کی متمنی تھیں۔خاص طور پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں یہ انکشاف کیاگیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا نصاب تشکیل دیاتھا جس کے نتیجے میں صرف دس سال میں قوم میں تعلیمی انقلاب لایاجاسکتا تھا۔ہمیں اس دعویٰ میں ایک جھول محسوس ہورہا ہے کہ اگر ایسا کوئی تعلیمی نصاب واقعتا ہماری محترم ومظلوم بہن نے تشکیل دیاتھا تواسے منظرعام پر لانا چاہیے۔خاص طور پردین و ملت کا درد رکھنے والے افراد اوراداروں کو یہ نصاب بحث کے لیے پیش کیاجانا چاہیے۔اس نصاب کی تفصیلات کی عدم دستیابی اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ یہ محض مصنف کادعویٰ ہے جس کے ثبوت کے لیے کوئی تحریری مواداور شہادت موجود نہیں ہے۔تعلیم کے میدان میں بحیثیت قوم ہم جس دردناک ترین اور بھیانک ترین دور سے گزررہے ہیں،ان حالات میں قوم میں تعلیم کے احیاکاایسا صالح منصوبہ قوم کی امانت بن جاتا ہے جس کا منظر عام پر لاناازبس ضروری ہوجاتا ہے۔
امید ہے کہ ہماری ان چندگستاخانہ گذارشات کو ایک ادنیٰ خیرخواہ کی خیرخواہی کے طور پر لیا جائے گا اور جن نکات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ان پرضرور غور فرمایاجائے گا۔
سیمینار: ’’ائمہ و خطبا کی مشکلات، مسائل اور ذمہ داریاں‘‘ (۱)
ادارہ
(الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام سیمینار)
ڈاکٹر حافظ سمیع اللہ فراز
(خطیب جامع مسجد ٹی بلاک، DHA، لاہور)
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد
محترم علماء کرام اورحاضرین محترم!
الشریعہ اکیڈمی اپنی روایات کو برقراررکھتے ہوئے اس اہم ترین مذہبی اورمعاشرتی مسئلہ پر سیمینار منعقد کرانے پرمبارکباد کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے منتظمین کو اور معاونین کو اجرعظیم سے نوازے۔
مجھ سے ایک ہفتہ قبل میرے بھائی محترم عمار خان ناصر نے ارشاد فرمایا کہ آپ جس جگہ پرخطابت کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں،وہ سوسائٹی اوروہ علاقہ باقی علاقوں سے کئی لحاظ سے منفرد ہے۔ لامحالہ وہاں کے مذہبی مسائل یاوہاں کی مساجد کا ماحول،اس کا جو آپ تجربہ رکھتے ہیں، وہ ہمارے حاضرین کے ساتھ، امہ اورخطباکے ساتھ شیئر کریں تاکہ کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملے اور جو ائمہ کی ذمہ داریاں ہیں،عملی بنیادوں پر اس کا کوئی حل بھی ہمارے سامنے آئے۔ چنانچہ ا س حوالے سے میں اپنی معروضات کو دوحصوں میں تقسیم کرتاہوں۔ پہلایہ کہ جس ادارے میں، میں خطابت کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہاہوں، اس کا نظم ونسق کیاہے ۔جب میں تفصیل سے بیان کروں گاتو یقینی طور پر بہت سی چیزیں عام سوسائٹی سے ہٹ کر وہاں نظر آئیں گی اور جوہمارے منتظمین حضرات ہیں، ان کے لیے بھی بہت سے اصول ان تفصیلات کے اندر موجود ہیں۔ دوسری چیز جوآج کی نشست کاعنوان ہے، وہ ہے ائمہ حضرات کی مشکلات۔ بہرحال ان مشکلات اور ان کے حل کی طرف بھی ہم کچھ توجہ دیں گے۔
حضرات محترم!
(DHA) لاہور (ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی) یہ پاکستان آرمی کے ماتحت ایک بااختیار ادارہ ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد اپنے رہائشیوں کوعالمی سطح کی رہائشی سہولیات فراہم کرنا ہے،لیکن ظاہر بات ہے کہ مسلم سوسائٹی کے اندر کوئی بھی کالونی، کوئی بھی رہائشی ادارہ بنے گا تومساجد تومسلم معاشرے کاایک اہم حصہ ہیں چنانچہ اپنے قیام سے لے کرآج تک گزشتہ پچیس برسوں سے ہمارے ہاں ڈی ایچ اے (DHA) لاہور میں مساجد کا ایک منظم ااورمستحکم شعبہ ہے جو اپنے رہائشی خواتین وحضرات کی دینی اورروحانی ضروریات کوپوراکررہاہے۔ اس وقت ہمارے ہاں کل ستائیس مساجد تعمیر ہوچکی ہیں جن میں سے چار جامع یعنی بڑی مساجد ہیں اورباقی تئیس سیکٹر یعنی محلے کی مساجد ہیں۔ تفصیلات اور خصوصیات میں عرض کرتاہوں۔
ایک چیز جس کی بنیادپر (DHA) کا پورے کا پورامذہبی ماحول کھڑاہے اورشعبہ مساجد کام کررہاہے، وہ ایک جملہ ہے: ’’مسجد تمام مسلمانوں کے لیے ہے‘‘۔ ہمارے ہاں جو روایتی کلچر ہے مساجد کا، اس سے ذرا ہٹ کر ہمارے ہاں ہر مسجد ہرمسلمان کے لیے ہے۔ مثلاً ہمارے ہاں مساجد کے نام متعین نہیں ہیں۔ جامع مسجد رضوی قادری نہیں ہے، جامع مسجد حنفی مدنی نہیں ہے، کسی مسجد کا کوئی نام نہیں ہے۔ہمارے ہاں مساجد منسوب ہیں محلے یاسیکٹر کے ساتھ، مثلاً جامع مسجد فیز ۱، جامع مسجد فیز ۲، جامع مسجد سیکٹر۔ یوں ہمارے ہاں کسی مسجد کا کوئی نام نہیں ہے، اس لیے کہ ہمارے لوگ پہلے سے ہی تقسیم شدہ ہیں۔ جونہی کسی علاقے میں کوئی نئی مسجد بنتی ہے، وہ لوگوں کے درمیان اجتماعیت کی بجائے ایک اور تقسیم کی بنیاد رکھتی ہے،چنانچہ یہ وحدت امت کا ایک عالمی تصور ہم نے وہاں رائج کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسجد تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ جن کو ہم مسلمان یعنی اہل سنت والجماعت کہتے ہیں، سب کو مسجد میں داخلہ کی اجازت ہے۔ اسی طرح ہمارے ہاں جو ائمہ اورخطبا کاتقرر ہوتا ہے، وہ بھی روایتی طرز سے ذراہٹ کر ہوتا ہے۔ عام طور پر ائمہ وخطبا کا تقرر کسی ذاتی تعلق یاکسی کی سفارش پر یاجو وہاں کی منتظمہ کمیٹی ہوتی ہے، اس کی صواب دید ہے کہ وہ جس مولوی کا چرچا سنیں یا اس کی خصوصیات ان کے سامنے ہوں، اس کو وہاں پر متعین کرتے ہیں۔ (DHA) لاہور میں ایک باقاعدہ پروسیجر ہے،پوراایک نظم ہے ائمہ اورخطبا کی بھرتی کے لیے۔ مثلاً ہمارے ہاں جتنی جگہیں خالی ہوتی ہیں یاجتنے افراد ہمیں مطلوب ہوتے ہیں، ان کے لیے مشہور اخبار میں اشتہار دیے جاتے ہیں۔ اشتہار دیکھ کر جودرخواستیں ہمارے پاس موصول ہوتی ہیں، ان درخواستوں کا جائزہ لیاجاتاہے، سندات چیک کی جاتی ہیں،ان کے وفاقوں اوران کی یونیورسٹیوں سے ان کی سندیں چیک ہوتی ہیں۔ پھر جو امیدوار اہل قرار پاتے ہیں،جوشخص مسلسل آٹھ سال کا درس نظامی پڑھ کر نہیں آیا، اس کے اندر وہ علمی پختگی ہوہی نہیں سکتی، اس کے مقابلہ میں جوآٹھ سال پڑھتا رہا، آٹھ سال کا درس نظامی اوراس کے علاوہ کسی بھی یونیورسٹی سے ایم اے کی سند ہونا کسی بھی مضمون میں ایم اے کاہونا ضروری ہے، جبکہ موذن اورخادم کے لیے میٹرک اورحفظ وتجوید، یہ اس کے لیے لازم ہے ،چنانچہ جب درخواستیں ہمارے پاس آجاتی ہیں توپھر ان امیدواران کوہم تحریری امتحان کے لیے لکھ دیتے ہیں کہ فلاں دن آپ کا تحریری امتحان ہوگا۔یہ تحریری امتحان دورۂ حدیث اورایم اے کو ملا کر بنایاجا تا ہے، وہ آسان نہیں ہوتا۔ جوقابل علماء کرام ہوتے ہیں، وہ ہی اس میں کچھ نمبر حاصل کرپا تے ہیں، ور نہ اکثریت علماء کرام کی جوگزر کرآئے ہوتے ہیں، وہ ہمارا ٹیسٹ پاس نہیں کر پاتے۔
اس تحریری امتحان کوپاس کرلینے کے بعد وہیں پر اسی نشست کے بعد حفظ وتجوید کاامتحان ہوتا ہے۔ ہمارے ہی ڈیفنس کے جومستند علماء کرام ہیں، وہ تجوید اور حفظ کا امتحان لیتے ہیں۔ ان دومرحلوں میں جوحضرات پاس ہوتے ہیں، ان حضرات کی لسٹ عصر کے وقت دفتر کی طرف سے آویزاں کردی جاتی ہے اوراس سے اگلے روز ان دونوں مرحلوں سے پاس شدہ امیدواران کوہم انٹرویوکے لیے بلاتے ہیں ۔ اس انٹرویو پینل میں تین حاضر سروس فوجی آفیسر ہوتے ہیں اور د وعلماء کرام ۔ ان پانچ لوگوں کا بورڈ ہوتاہے جوایک ایک کرکے ان کا انٹرویو کرتاہے۔ ان کی علمی، فنی، شخصی قابلیت دیکھتے ہیں۔ اگر وہ اپنے انٹرویوپینل یا ان حضرات کو مطمئن کردیں تواس کے بعد ان کا انتخاب ہوجاتا ہے، لیکن وہ انتخاب مشروط ہوتا ہے کہ ہمارے ادارے کے جوایڈ منسٹریٹر جوبریگیڈیئر صاحب ہیں اور وہ بھی دینی ذہن والے ہوتے ہیں، آخری مرحلے پر وہ انٹرویو کرتے ہیں۔ کسی بھی مرحلے پر کوئی کمی محسوس کی جائے تواس امیدوار کاانتخاب منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ اس پورے پروسیجر میں کہیں بھی کوئی رشوت نہیں لی جاتی، کہیں پر کوئی سفارش یا ذاتی تعلق کام نہیں آتا، حتیٰ کہ جو پیپر تحریری طور پر لیے جاتے ہیں، ان پر بھی رول نمبر لکھاجاتاہے، نام نہیں لکھا جاتا اوراس وقت جو تمام علماء کرام ڈیوٹی پرموجود ہوتے ہیں، ان کو اپنا موبائل فون اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یوں اس پورے نظام اوراس پوری ترتیب کے بعد جو علماء کرام ہمارے پاس منتخب ہوکرآتے ہیں، وہ الحمد للہ ہرلحاظ سے قابل ہوتے ہیں۔
اب جب کسی کا انتخاب ہوجاتاہے توان ائمہ وخطبا کو ان کے فرائض منصبی تحریری طور پر لکھ کر دیے جاتے ہیں کہ امام صاحب! آپ نے یہ یہ کام کرنے ہیں۔ بائیس نکات ہیں جن کی پا بندی ہرامام وخطیب کے لیے لازمی ہے۔مثلاً اس کے اندر سب سے بنیادی چیز جس کو بہت حساسیت کامعاملہ قرار دیاجاتا ہے، وہ یہ ہے کہ مسجد میں غیر فرقہ وارانہ ماحول کو قائم کرنا، کسی بھی قسم کی جانبداری یاکسی بھی لحاظ سے مسلکی وابستگی کا اظہار، خاص قسم کا عمامہ یاخاص قسم کے کلمات جن سے فرقہ واریت یاجانبداری جھلکتی ہو، اس پر پابندی ہے۔ اس کے فوائد میں عرض کرتا ہوں۔ میں الحمد للہ نصرت العلوم سے فارغ ہوں، میری ساری تعلیم وہاں سے ہے ،مولانا زاہدالراشدی صاحب خصوصی شفقت فرماتے ہیں۔ میرا ساراگھرانہ الحمدللہ علماء دیوبند سے وابستہ ہے اورانہی سے وابستگی کو ہم اپنی سعادت سمجھتے ہیں، لیکن حالا ت اورماحول کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں جوروایتی ہمارا ماحول ہے جہاں پر پہلے ہم رہے ہیں اورجودوسرا ماحول ہے جہاں پر جاکر ہم نے یہ دیکھا کہ کسی مسلکی وابستگی کوعوام الناس کے سامنے ظاہر نہ کیاجائے تو اس کے زیاد ہ فوائد ہوتے ہیں۔ اس کی مثال میں عرض کرتاہوں۔ ائمہ مساجد کو جوفرائض منصبی دیے جاتے ہیں، ان میں سب سے مقدم چیز یہ ہوتی ہے کہ آپ مسجد کے غیر فرقہ وارانہ ماحول کوبرقرار رکھیں، نماز پنجگانہ کی آپ امامت کرائیں ۔اسی طرح نماز عیدین، تراویح، جمعۃ المبارک کے خطبات آپ دیں گے اورمساجد کے انتظام، ان کی صفائی کی نگرانی اور نمازی حضرات کے ساتھ مثالی اخلاقی رویہ رکھیں اورصبر وتحمل کاہر وقت اظہار،پاک و صاف اورشرعی لباس ہر وقت زیب تن رکھنا، نکاح وغمی کی تقریبات جومحلے کے اندر ہوں، ان کے اندر شرکت کرنا ،یہ امام و خطیب کے فرائض منصبی تحریری طور پر ہمارے ہاں دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے ہاں (DHA)لاہور میں جوجمعہ کے خطبات ہوتے ہیں یاجوعیدین کے خطبات ہوتے ہیں، وہ بھی ایک باقاعدہ ترتیب کے بعد ایک نظم کے بعد Deliver ہوتے ہیں اور عوام الناس کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں جس کا انتظام شاید ہی کہیں ہوتاہو۔ مثلاً قمری سال کے آخری مہینے میں پانچ علماء کرام پر مشتمل ایک کمیٹی بنادی جاتی ہے۔ وہ کمیٹی باقی تمام علماء کرام سے تجاویز لیتی ہے کہ اگر آپ کو خطبہ لکھنے کوکہاجائے توآپ کاتحقیقی دلچسپی کا عنوان کیاہے؟ان سے تجاویز لے کر ہر سال کے ۵۴ خطبات ،عیدین سمیت محرم شروع ہونے سے پہلے ترتیب دیے جاتے ہیں۔ ان کے عنوانات اوران کے مرتب کرنے والے حضرات ،اس کی ایک فہرست بنادی جاتی ہے اوروہ فہرست تمام ائمہ میں تقسیم کردی جاتی ہے۔ ہر خطیب صاحب سال میں تقریباً تین خطبے لکھتے ہیں، بعض کے حصے میں دوآتے ہیں۔ لکھنا خطیب صاحب نے ہے، وہ اپنی تحقیق کرنے لائبریری میں جائیں،کتابیں کھنگالیں، جہاں سے بھی تیار کریں۔ وہ خطبہ لکھنا کیسے ہے؟ اس کا بھی فارمیٹ یااس کا انداز وہ ائمہ کرام کوپہلے سے تقسیم کر دیا جاتا ہے ۔لکھائی کا اتنا سائز ہو،اتنی لائنیں ہوں،اتنے صفحے ہوں، وہ سب کے علم میں ہوتاہے۔
خطیب صاحب نے جب خطبہ ترتیب دے دیا تووہ اپنی مرکزی مسجد کے خطیب اعلیٰ کے پاس جائیں گے۔ مثلاً ہمارے ڈیفنس کے اندرآبادپانچ فیز ہیں اورہر فیز کے اندر کئی سیکٹر، کئی محلے ہیں۔ میں فیز ٹو کانگران ہوں اورمیرے ماتحت آٹھ مساجد ہیں۔ ان آٹھ مساجد کے خطیب صاحب اپناخطبہ تیار کر کے میرے پاس آتے ہیں۔ میں اس کو اپنی نظرسے یعنی اصلاح سے بھرپور تنقیدی نظر سے دیکھوں گا اورجہاں پر کوئی کمی دیکھوں یا کوئی قابل اصلاح چیز دیکھوں، وہیں پر لکھ دیا۔اگر زیاد ہ تبدیلی ہے توخطیب صاحب سے کہاجائے گا کہ اس کویوں کر کے لائیں۔ اگرگزارا ہے تو پھر میں اپنے تاثرات لکھ کر جوڈائریکٹر دینی امور ہیں، ان کے پاس بھیج دوں گا۔ہمارے جوڈائریکٹر دینی امور ہیں، وہ الحمدللہ جامعہ بنوری ٹاؤن سے فارغ ہیں اورساتھ ساتھ آرمی سے بریگیڈیئر فارغ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دونوں شانیں دی ہیں۔ انتہائی علمی شخصیت ہیں۔ وہ ا س کو دیکھیں گے اورپھر اس پورے نظم سے گزرنے کے بعد ستائیس مساجد کے علماء کرام کے پاس اس کی فوٹوکاپی پہنچ جائے گی۔ خطبہ deliver ہونے سے ،اس جمعہ سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے خطیب صاحب اس کو اپنے طور پر پڑھیں گے ۔ہمارے ہاں ہرہفتے تمام خطباء کرام کے تقریباً دواجلاس ہوتے ہیں اورہراجلاس کے اندر شعبہ مساجد کا تمام عملہ موجود ہوتا ہے۔ خطیب صاحب (تمام خطبا) ہفتے میں سوموار کے روز آتے ہیں۔ نوسے لے کر ساڑھے دس تک ہماری میٹنگ ہوتی ہے۔اس میں ہر خطبہ لفظ بلفظ پڑھاجاتا ہے۔ اس کو پڑھنے کے بعد تمام علماء کرام جہاں بھی مناسب سمجھیں، تجویز دے سکتے ہیں کہ یہاں پر یہ ہوناچاہیے یا ا س فقہی مسئلے کے اندر یہ تفصیلات ہیں، اس کو یوں ہوناچاہیے۔ ڈائریکٹر دینی امور تمام علماء کرام کی موجودگی میں اگروہ رائے درست ہوتواس کو بھی ساتھ درج کردیاجاتاہے۔ یوں سوموارکے دن اس خطبے کاصحیح طورپر تنقیدی جائزہ ہوتا ہے۔
جمعرات کے دن نوسے لے کے ساڑھے دس تک دوسری بار تمام علماء کرام اسی جگہ اکٹھے ہوتے ہیں اورایک خطیب صاحب اورایک مؤذن صاحب اس خطبہ کو اسی طرح بیان کرتے ہیں جس طرح انہوں نے کل جمعہ کولوگوں کے سامنے بیان کرنا ہوتا ہے۔ہمارے ہاں پچیس سے تیس منٹ کا جمعہ کاخطبہ ہوتا ہے اور وہ پورا وقت ان کو دیاجاتاہے۔ وہ بیان کرتے ہیں، اس کے بعد جوسامعین علماء کرام بیٹھے ہیں، ان کو کہاجاتا ہے کہ آپ ان کے خطبہ پر تبصر ہ کیجیے۔انہوں نے کہاں پر تلفظ کی غلطی کی ہے، کہاں پر ان کے بیان میں زور نہیں رہااورکس چیز کو کیسے بیان ہوناچاہیے تھا۔ تمام علماء کرام کوفری ہینڈ ہے کہ وہ آزادانہ طور پر اپنا تبصرہ دے سکیں اور الحمدللہ ہمارے علماء کرام اسے وسعت قلبی کے ساتھ سنتے ہیں۔ یوں جہاں پر ہمارے جمعہ کاخطبہ پورے ہفتہ کے دوران تیار ہورہاہے، وہیں پر تمام خطباء کرام ستائیس خطبا، پانچ نائب خطبا ہمارے ہاں تقریباً ۶۵افرادکے قریب مساجد کا عملہ ہے، ان لوگوں نے جہاں ہفتے میں دوبار ایک دوسرے کو ملنا ہے، جہاں پر خطبہ کی تیاری ہورہی ہے، وہیں پر ان کا آپس کاجو ربط وتعلق ہے، وہ پروان چڑھ رہاہے۔
ہمارے ہاں ڈیفنس کے اندر چار سال کے اندر چار بڑے اجتماع ہوتے ہیں۔جمعہ اورعیدین کے علاوہ ،مثلاً ہرمہینے ایک اصلاحی بیان ہوتاہے۔اس اصلاحی بیان میں جواصلاحی عنوانات ہوتے ہیں عوام کے فائدے کے لیے ان کو منتخب کیاجاتاہے کہ ایک عام آدمی کامسئلہ کیاہے۔ ایک عام آدمی کو مسجد کے آداب کاپتہ ہوناچاہیے ،ایک عام آدمی کو اپنی دکان،اپنے دفتر میں بیٹھے ہوئے اپنی تجارت میں کن اسلامی اصولوں کاخیال رکھناچاہیے،یعنی ہمارے جو معاشرتی مسائل ہیں، ہم ان کو فوکس کرتے ہیں اورہر مہینے میں ایسی مجلس قائم ہوتی ہے اوراس کی ترتیب بھی سال کے شروع میں طے کردی جاتی ہے کہ یہ علماء کرام ان عنوانات پر فلاں مسجد میں خطاب فرمائیں گے اورہمارا یہ دورانیہ مغرب سے عشا تک ہوتا ہے ۔یہ کچھ خصوصیات ہیں جومیں نے آپ حضرات کے سامنے عرض کیں۔ ہمارے ہاں جونظم ونسق چل رہا ہے، اس کی وجہ سے لاہور کی اکثر رہائشی کالونیوں نے ہم سے رابطہ کیا،مثلاً گرین سٹی ،بحریہ ٹاؤن ،پیراگاؤن سٹی ، لیک سٹی وغیرہ یہ بڑے بڑے رہائشی منصوبے ہیں جنہوں نے ہمارا پورے کا پورا مساجد کا نظام اٹھاکر اپنی مساجد میں نافذ کر دیا ہے۔ میں آپ سے یہ عرض کرر ہاہوں کہ ہم جو دینی طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں،ہمیں فرقہ واریت اوراس تقسیم کی سنگینی کا شاید اتنا احساس نہ ہو جتنا کہ ایک عام آدمی کو ہے یاجوخصوصی طورپر شہروں میں آباد ہیں یاجواچھی کالونیوں کے اندررہنے والے ہیں وہ جس قدر حساس ہوتے ہیں ۔وہ چاہتے ہیں کہ ہم مولوی کی لڑائی میں نہ پڑیں۔ چنانچہ وہ شروع سے ہی اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہم کوئی ایسا نظام یہاں پر نافذکریں کہ جوکسی بھی قسم کی فرقہ واریت اور مسلکی تعصب سے پاک ہو۔
یہ تفصیل تومیں نے عمار ناصر صاحب کے حکم پر عرض کردی کہ شاید بہت ساری قابل تقلید چیزیں اوراصول ہیں، وہ علما اخذ کرسکیں۔اب جو ہماری آج کی نشست کا عنوان ہے اورمیری گفتگو کا جودوسرا حصہ ہے، وہ یہ ہے کہ جوہمارے دیگر علاقے یادیگر شہر ہیں، وہاں جوموجود مساجد ہیں، ان کے ائمہ کے کون کون سے مسائل اورمشکلات ہیں اور ان کا حل کیاہے جس کے لیے ہماری یہ آج کی نشست منعقد کی گئی ہے۔ ائمہ اورخطبا کے چھوٹے بڑے تمام مسائل کوتقسیم کیاجائے تووہ تین طرح کے ہیں۔
۱۔سب سے پہلے مولوی صاحب کا انتظامی مسئلہ ہے۔
۲۔دوسرے امام صاحب معاشی طور پر پریشان ہیں۔
۳۔تیسرے جو ائمہ اور خطباکومسائل درپیش ہیں، وہ علمی مسئلے ہیں۔
ائمہ اور خطباکے جتنے مسائل ہیں، وہ ان تین اقسام کے اندر آجاتے ہیں۔
اب میںآپ کو جہاں کی بات سنا رہاہوں، وہاں ایک بااختیار اتھارٹی ہے ،ایک ادارہ ہے جوفوجیوں کے تحت چلتاہے اورفوجی اپنی بات منوانا جانتے ہیں۔ ان کے پاس ایک ایسا نظم ہے کہ ہر ایک کو اس کے اندر چلنا پڑتاہے۔ میں یہاں پر یہ عرض کروں گا کہ انتظامی طور پر سب سے بڑی ضرورت ہے خود احتسابی کی۔ امام نے خود کو ٹھیک رکھناہے۔ عام آبادیوں میں تقرر جیسا کہ میں عرض کیاکہ کسی ذاتی تعلق کی وجہ سے ہوتاہے، کسی کمیٹی کو کوئی صاحب پسند ہوتے ہیں یاکسی کی شہرت سنی ہوتی ہے، ان کو بلالیتے ہیں کہ آپ ہمارے ہاں خدمت سرانجام دیںیااس طرح کے ذرائع سے کسی کا تقرر کسی کی مسجد میں ہوتاہے اوردیکھنے میں یہ آیاہے کہ اکثر ائمہ حضرات اپنی کمیٹی سے یامنتظم فرد سے نالاں نظر آتے ہیں۔ ہرچند کہ تمام کمیٹیاں ایسی نہیں ہیں، کچھ لوگ ہیں، لیکن بہرحال یہ شکایات موجود ہیں۔ اب کمیٹی کو امام صاحب سے یہ شکایت ہے کہ امام صاحب اپنے فرائض منصبی سے غفلت برت رہے ہیں۔ امام صاحب کو کمیٹی سے شکایت ہے کہ ان کو جواختیارات ہیں، وہ ان کا ناجائز استعمال کررہے ہیں۔ یوں دونوں کی شکایت ایک دوسرے سے ہے اورمیں یہ عر ض کروں کہ دونوں کی شکایت ایک دوسرے سے بجا ہے۔امام صاحب بھی اپنے فرائض منصبی سے غفلت برتتے ہیں، الاماشاء اللہ اورکمیٹی والے بھی اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں، الا ماشاء اللہ۔ اس کامناسب حل جو میں سمجھتاہوں، وہ یہ ہے کہ جب بھی کسی امام اورخطیب صاحب کا تقرر ہونے لگے تو کمیٹی کے ذمہ دار افراد کے ساتھ بیٹھ کر اپنے فرائض منصبی اوران کے اختیارات ان دونوں چیزوں کو تحریری صورت میں لایاجائے۔امام صاحب اپنے فرائض منصبی بھی ان سے لکھوا لیں اور ان کے اختیارات بھی ان سے لکھوا ئیں۔ پھر اس کے بعد اپنے فرائض منصبی کی پاسداری کی جائے اوراس کے بعد جن کو اختیارات ہیں، ان کو بھی پتہ ہوگا کہ ان کے اختیارات کہاں تک ہیں اورکہاں تک نہیں ہیں۔ یہ ہوتاہے کہ کچھ عرصہ بعد امام صاحب سے شکایات بڑھتی ہیں توکمیٹی کی طرف سے کہاجاتاہے کہ آپ یہ نہیں کرتے، آپ یہ نہیں کرتے ۔جب ایک چیز لکھی ہوئی ہوگی کہ امام صاحب کو یہ کرناہے اوریہ نہیں کرناتو امام اسی پابندی کے اندر رہ کر اپنی مصروفیات ترتیب دیں گے۔اپنے فرائض منصبی کے علاوہ وہ اسکول میں جاکربھی پڑھائیں، اپنی دکان میں بھی جاکر بیٹھیں، کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہوگا، اس لیے کہ امام صاحب اپنے فرائض منصبی کو پورا کر رہے ہیں۔
دوسرے قسم کے معاشی مسائل، یہ انتہائی سنگین مسائل ہیں۔ اب تنخواہ کاکم ہوناہرمولوی صاحب کویہ شکایت ہے۔ اس تنخواہ کی کمی کو پوراکرنے کے لیے کسی اسکول یااکیڈمی کوجوائن کرنا، بھئی بچوں کاپیٹ بھی پالناہے، گھر کاسرکل بھی چلانا ہے، پانچ چھ ہزار جومسجد والے دے رہے ہیں، اس میں خرچ پورانہیں ہورہا۔ لامحالہ طورپر وہ دوسری سرگرمیوں کومنتخب کرے گا اوران میں مشغول ہوگا۔ اب ان معاشی مصروفیات کی وجہ سے اس کے فرائض منصبی میں سستی آتی ہے توپھر کمیٹی کے ساتھ اختلافات اورنتیجہ امام صاحب کی رخصتی۔
میرے محترم علماء کرام!اگر ہم معاشیات کے اصول کو دیکھیں تومعاشیات میں کسی چیز کی ویلیو بڑھانے کے لیے دو کام کیے جاتے ہیں۔ پہلاکام یہ طلب اوررسد یعنی ڈیمانڈ اورسپلائی کے اندر قدرتی ایک ربط ہوتا ہے۔ اس میں آپ بہت زیادہ فرق ڈال دیں تو قیمت گر جاتی ہے۔سادہ مثال ہے کہ چینی مارکیٹ میں نہ ہوتو وہ بہت زیادہ مہنگی ہوگی اورجب مارکیٹ میں بہتات ہوگی توچینی سستی ہوگی۔ اب یاتو علماء کرام مارکیٹ میں آنا یامسجدوں میں آنا بند ہوجائیں یا شارٹ ہو جائیں کہ مدارس سے کوئی ایسی کھیپ نہیں کہ مسجدیں خالی پڑی ہیں توپھر علماکی مانگ میں اضافہ ہوگا۔ یہ ہونہیں سکتا۔ الحمدللہ ہمارے ہاں علماء کرام کی بہتات ہے اوریہ ہمارے معاشر ے پر اللہ کا فضل ہے۔اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہم علماء کرام کی سپلائی روک دیں ۔دوسرا اصول مارکیٹ کا یہ ہے کہ جوچیز ہم مارکیٹ میں دے رہے ہیں، اس کا معیار اور کوالٹی ہم بہتر کردیں کہ خریدنے والا کہے کہ یہ چیزاگر مجھے دس ہزارروپے میں بھی لینی پڑے گی تو میں لوں گا۔ جوامام اورخطیب معاشرے کے اندر عملی میدان میں آرہے ہیں، ان کا معیار اورکوالٹی اتنی اعلیٰ ہو کہ کمیٹی والے افراد اور دوسرے لوگ یہ کہیں کہ اگر یہ امام صاحب بیس ہزار بھی مانگیں تو ہم ان کی علمی،شخصی اورذاتی قابلیت کی وجہ سے ان کو تیس ہزار دینے کو بھی تیار ہیں۔ یہ دوہی راستے ہیں اپنی مانگ بڑھانے کے۔ پہلاحرام ہے اوردوسرا شریعت نے ہمارے لیے جائز کیاہے کہ ہم علماء کرام اور خطباء کرام اپنی مانگ میں خود اضافہ کریں۔ اپنی علمی، شخصی، اخلاقی قابلیت لوگوں کو مجبور کردے کہ وہ ہم کو منہ مانگے دام دیں۔ پھر ہی ہمارے معاشی مسائل حل ہوں گے۔ اس کے لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے ہاں تقریباً سترفیصد علماء کرام جو ائمہ اورخطبا کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، میں معذرت کے ساتھ یہ عرض کروں گا کہ وہ حادثاتی طور پر امام یاخطیب بنتے ہیں۔ حالات ان کو امام یا خطیب بنادیتے ہیں، اس لیے کہ وہ کہیں جانہیں سکتے ،کہیں وہ پڑھا نہیں سکتے اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔ساری زندگی دین پڑھا ہے، اب ظا ہر ہے کہ دین کی ہی خدمت کریں گے۰ ان ائمہ وخطبا کوچاہیے کہ جیسے ہمارے اکابر نے ہماری رہنمائی کے لیے لٹریچر لکھ دیاہے جیسے حضرت تھانوی کا مکمل لٹریچر، اسی طرح حکیم الاسلام مولاناقاری محمد طیب قاسمی کے خطبات، ہمارے بزرگ مولانا عبدالرؤف چشتی صاحب، انہوں نے بڑی پیاری کتاب لکھی ہے ’’خطیب اورخطابت‘‘، وہ اپنے مطالعے میں رکھیں۔ اس طرح کے لٹریچر جو فنی طور پر ہماری مدد کرسکتے ہیں، وہ اپنے مطالعے میں رکھیں۔ یوں ہماری مانگ اورہماری قدر میں اضافہ ہوگا۔
تیسرے نمبر پر ہمارے علمی مسائل ہیں۔ ہمارے اکثر علما اور خطبا فارغ التحصیل علماکرام جن میں، میں بھی شامل ہوں، ہم جب مدارس سے نکلتے ہیں تو اپنے مطالعہ اورعلمی ترقی کووہیں پر روک دیتے ہیں اور روایتی طرز کے چند خطبات، کتابیں اور کیسٹیں جو ہماری مرکز نظر ہوتی ہیں، ان کو دیکھ کر ہم اپنے جمعہ کے خطبات تیار کر لیتے ہیں اور اس وقت ہم جہاں پر رہ رہے ہیں، اس دور کے کیامسائل ہیں؟عام آدمی کو کون کون سا مسئلہ درپیش ہے؟ وبائیں پھیل رہی ہیں، ڈینگی آرہاہے، یہ تو حقائق ہیں۔ ہمارے ہاں مساجد میں عبادات پر توبہت بات ہوتی ہے، ہونی بھی چاہیے، لیکن معاملات، عقائد، شخصی تعمیر، اخلاقی کردار سازی، نکاح، طلاق، بیوع فاسدہ، خلع اور دیگر فقہی مسائل یہ شاید علماء کرام کے خطبات میں یہ چیزیں شامل نہیں ہوتیں جو ایک المیہ ہے اورشاید یہی وجہ ہے کہ عوام الناس کو وہ رہنمائی بھی نہیں ملتی جس کے وہ خواہش مند ہوتے ہیں۔
میں یہ سمجھتاہوں کہ ان تینوں مسائل کے حوالے سے جو میں نے تجاویز پیش کی ہیں اپنے علم کی روشنی میں،اگر ہم اپنے انتظامی مسائل کودور کرنے کے لیے کمیٹی کے ساتھ باتیں تحریر کرلیں تووہ تجاویز ہم کو یقینی طور پر فائدہ دے سکتی ہیں۔ معاشی حوالے سے اپنی قابلیت میں اضافہ کریں اورعلمی حوالے سے اپنے خطبات کے اندر اپنے دروس کے اندر جدت لے کرآئیں اورجوایک عام آدمی کے مسائل ہیں، ان کو قرآن و سنت کی روشنی میں لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ اس کے علاوہ ایک آخری بات جو علماکرام کو تجویز ہے کہ ہمارے ہاں وسائل کم ہو سکتے ہیں۔ اگر ایک علاقے کے علماء کرام کا آپس میں ربط ہو، ہفتہ میں ایک بار یا مہینے میں ایک بار کھانے کے بہانے یا کسی اورمجلس کے بہانے علماء کرام ایک دوسرے کو ملیں، اپنے مقامی مسائل دوسرے بااعتماد ہم خیال لوگوں کے ساتھ شیئر کریں کہ میری انتظامیہ میرے لیے یہ مسئلے پیداکرتی ہے ،جب علماکرام سے رابطہ ہوگا اور مشورے میں برکت ہوگی توبہت سارے مسائل کا حل آپ کو اپنے گھر سے ملے گا۔ممکن ہے کہ دوسرے صاحب ان مسائل سے گزر چکے ہوں،اس لیے ضروری ہے کہ علماء کرام کاآپس کاربط وتعلق ہی مضبوط بنیادوں پرہو ، ٹانگیں کھینچنے یاحسد کی بنیاد پر نہ ہو،بلکہ اصلاحی ہمارے تعلقات ہونے چاہییں۔امید ہے کہ میری ان گزارشات کو آپ نے برداشت بھی کیاہوگا اورکچھ ان میں یقینی طور پر ہمیں رہنمائی کی باتیں بھی ملی ہوں گی۔اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ و ہ پوری زندگی دین مبین کے لیے دین کی استقامت اورتمام مسائل کے حل کے لیے ہمیں وسائل عطافرمائیں۔واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ۔
مولانا مفتی فخرالدین عثمانی
(مدرس مدرسہ اشرف العلوم، گوجرانوالہ)
نحمد ہ ونصلی علی رسولہ الکریم، امابعد!
میرے بھائیواورمیرے دوستو !
آپ نے بڑا علمی، تفصیلی اور معلوماتی بیان سنا ہے۔ چونکہ ہم لوگ یہاں پر جمع ہیں، اپنے اپنے تجربات کی روشنی میں تذکرہ کرناہے۔ کوئی مسجد کا امام ہے اور کوئی خطیب ہے، مسجد کے ساتھ تعلق ہے، مسائل ہیں اورکچھ کوتاہیاں ہیں۔ بڑی مفید باتیں سامنے آئی ہیں۔ میں اپنے ذہن میں کچھ باتیں سوچ کرآیاتھا، ان کا تذکرہ کروں گا۔ چونکہ انتظامیہ یہاں موجود نہیں ہے، ائمہ وخطباموجود ہیں، اس لحاظ سے میں اسی پہلوپر تھوڑے وقت کے اندر اپنی گزارشات پیش کروں گا۔
سب سے پہلی بات جس کے بارے میں، میں عرض کرناچاہ رہا ہوں، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ ائمہ وخطبا جو ہیں، وہ نبیوں کے وارث ہی ہیں۔ انبیاکی کیاذمہ داریاں ہوتی تھیں؟ انبیاء کرام کن کن شعبوں میں کام کرتے تھے؟ آج ہم نے ایک شعبہ لے لیا، نماز کا، عبادت کا شعبہ لے لیا۔ ائمہ وخطبا کی ایک بڑی کوتاہی کی بات یہ ہے کہ جن کا کسی کالج، اسکول، مدرسے کے ساتھ تعلق نہیں ہے، نماز فجر کے بعد بہت دیر تک سوتے رہتے ہیں۔ گیارہ بارہ بجے سے پہلے ان کو اٹھنا نہیں ہے۔ وہاں لکھاہے کہ آپ نماز کے وقت خطیب صاحب سے مل سکتے ہیں، یعنی نمازسے پہلے ملنے کا کوئی ٹائم نہیں ہے۔ میرے بھائی!یہ بڑی کوتاہی کی بات ہے۔ علماء کرام انبیاء کے وارث ہیں اورانبیاء کے ہاں اس طرح کا سسٹم نہیں تھا کہ فلاں وقت ملاقات ہے اور فلاں وقت نہیں ہے۔ اپنے اوقات کے بارے میں محاسبہ کریں۔ اوقات ایک بڑاسرمایہ ہیں اوراس وقت کو برباد کردینا سمجھداری کی بات نہیں ہے۔ سونے جاگنے کے بارے میں ایک نظم بنایا جائے۔
جس طرح میرے بھائی نے کہا کہ ریٹ بڑھاناہے تو اپنامعیار بڑھاؤ، معیار بڑھے گا توریٹ بڑھے گا۔ سونے سے معیار نہیں بڑھتا۔ جومعیار بڑھاتے ہیں، وہ راتوں کو جاگتے ہیں اورمحنت کرتے ہیں، اس لیے میں آپ سے گزارش کروں گا اوراپنے آپ سے بھی کہوں گا کہ لمبا سونا دن کے وقت یہ شایان شان نہیں ہے، کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ خطبااور ائمہ حضرات کااپنے ساتھیوں کے ساتھ خلط ملط ہو جانا، دکھ درد کا ساتھی بن جانا، وہ مقتدی حضرات ائمہ اورخطبا کے بارے میں یہ سمجھیں کہ ہمارے خیر خواہ ہیں، یہ ہمیں بہتر رائے دینے والے مشیر ہیں۔اس طرح ان کے ساتھ خلط ملط ہوجانا ضروری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرز زندگی سے کیاپتہ چلتا ہے؟ حضرات صحابہ کرام اسی طرح آپ کے ساتھ خلط ملط تھے، اپنے گھریلو مسائل اسی طرح آپ کے ساتھ شیئر کرتے تھے، اپنے مسائل گھر میں حل کرنے کی کوشش کرتے تھے اورجب وہ گھر میں حل نہیں ہوتے تووہ آپ کے سامنے ان کو پیش کرتے تھے۔
مجھے واقعہ یاد ہے کہ ایک صاحب نے آپ کے سامنے اپنے بیٹے کی شکایت کی کہ بیٹے کی شادی کی ہے، وہ رات بھر نفل پڑھتاہے اوردن میں روزے رکھتاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا۔ مسلم شریف میں تفصیل ہے۔ آپ نے اس سے کہا کہ بہترین روزہ وہ ہے جوحضرت داؤد علیہ السلام رکھتے تھے اورپھر آپ کا یہ فرماناکہ ان لنفسک علیک حقا وان لزوجک علیک حقا۔ تفصیل کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔آج ہمارے پاس کسی مقتدی کی بات آجائے گی، وہ تذکرہ کردے گا اور پھر ہم نے چوراہے میں محلے میں اس کا اشتہار لگا دینا ہے۔ آج ہمارے مقتدی کو اعتماد نہیں ہے۔ وہ یہ سمجھتاہے کہ اگر میں نے اپنے گھر کی بات خطیب صاحب سے کردی تووہ دوسری محفل میں جولوگ ہوں گے، ان کے سامنے تذکرہ کردیں گے کہ فلاں صاحب ایسے ہیں اور ان کے گھر کامسئلہ یا ان کے گھر کی بات ایسے ہے۔
امامت کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ میں نے ایک جگہ حدیث پڑھی ہے، حوالہ مجھے ابھی یاد نہیں ہے کہ آپ کا ارشاد ہے کہ جتنے مقتدی نماز پڑھیں گے، ان ساروں کاثواب امام کو ملے گا ۔مقتدی کو اپنی اپنی نماز کا ثواب ملے گا۔بڑا درجہ ہے، جیسے بھائی نے حدیث پڑھی ہے: الامام ضامن کہ امام ذمہ دارہے اور ذمہ داری کا تقاضایہ ہے کہ جو ذمہ داری ہے، اس کو پوراکرے ۔میری اورآپ کی کوتاہی یہ ہے کہ اگر نماز کا وقت دوبجے ہے توامام صاحب دوبجے پہنچ جائیں گے۔ کسی کی کیا جرات کہ پوچھ لے کہ امام صاحب، ظہر کی سنتیں بھی ادا کی ہیں یانہیں کیں؟ اور پھر اس کے بعد مقتدی ابھی سنتوں میں مگن ہیں تو امام صاحب نے چھلانگ لگانی ہے، سائیکل پکڑنی ہے اور ٹیوشن سنٹر پہنچ جاناہے۔ میرے بھائی! یہ بھاگ دوڑ کی نماز، اس کے اندر وہ خشوع وخضوع نہیں رہتا۔ مجھے اپنے استاد کی بات یاد ہے کہ وہ زمانہ تھا کہ جب نفلوں کے لیے بہترین جگہ گھر تھی۔ آج جو پرفتن دور ہے، اس کے لیے بہترین جگہ مسجد ہے۔ امام صاحب کوچاہیے کہ پہلے کے نوافل بھی اور بعد کے نوافل بھی بلکہ سنت مؤکدہ سمیت پوری نماز مسجد کے اندر پڑھے۔ عام ائمہ کے بارے میں مقتدیوں کا یہ خیال ہے کہ یہ سنتیں اور نوافل ادا نہیں کرتے۔غلط فہمیوں سے اپنے مقتدیوں کو بچانا یہ بھی ذمہ داری ہے۔
پھر حلال اورحرام کے مسائل ہیں، ان کے بارے میں معلومات لینااور ان معلومات کو اپنے مقتدیوں کے ساتھ شیئر کرنایہ ذمہ داری ہے۔ ہمارے مقتدیوں کا ان کے بارے میں ذہن نہیں ہے کہ یہ حلال ہے یاحرام ہے۔ جہاں میں امامت کراتاہوں، وہاں ہمارے ایک دوست ہیں اور سرکاری محکمے میں ہیں اورایسے محکمے میں جہاں پر بڑا مال جمع کیا جا سکتا ہے، لیکن ایک پائی انہوں نے حرام کی نہیں لی ہے۔بڑا صاف زمانہ اور بڑی حلال کمائی کو انہوں نے جمع کیاہے۔
دوسرا یہ ہے کہ امام حضرات کے لیے چاہیے کہ اذان ہو تو وہ مسجد میں ہوں۔ میں رمضان المبارک میں چند نمازیں پڑھاتا ہوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب امام مقتدیوں سے پہلے جاتا ہے، خشو ع وخضوع سے سنتیں ونوافل پہلے ادا کرتاہے تو اس نماز کا لطف اورمزہ ہی کچھ اورہے۔ مجھے خود بھی اور مقتدیوں کو الگ مزہ آتاہے ۔جب بھاگ دوڑ کے ساتھ آدمی پہنچتاہے اور نماز اداکرتاہے اورپھر بھاگ دوڑ میں لگا رہتاہے تو اس میں نماز کا مزہ بھی نہیں آتا، نہ امام کو آتاہے اورنہ مقتدیوں کو آتاہے۔میراخیال ہے اور میں اس میں اپنی کوتاہی سمجھتاہوں اور یہ سمجھتاہوں کہ مجھے اس بارے میں کوشش کرنی چاہیے کہ جب نماز پڑھانی ہے اور اذان ہوتواذان کے قریب قریب آدمی مسجد میں چلا جائے۔ اب ہوتا کیاہے کہ خادم صاحب کہیں مسجد میں نہیں ہیں۔ امام کہتاہے کہ میں نے نماز پڑھانی ہے۔ پنکھے چلتے ہیں، نہیں چلتے، صفیں سیدھی ہیں، نہیں سیدھی، مسجد کی موٹر چلی ہے نہیں چلی، وہ کہتاہے کہ یہ کام خادم کا ہے۔ نہیں، میرے بھائی! مسجد میں جتنے لوگ ہیں، سب خادم ہیں۔ خطیب ہو، امام ہو، خادم ہو، یہ سارے خادم ہیں۔ جو منصب کے لحاظ سے بڑا ہے، اس کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں۔ جو لوگوں کے کہنے سے پہلے جومسجد کی ضرورت ہے، اس کا خیال رکھے۔ پنکھا چلانا ہے، موٹر چلانی ہے یا صفیں درست کرنی ہیں، ان سب چیزوں کا خیال رکھے اورجوبعد والے نوافل ہیں، ان کا بھی اہتمام کرے۔ اگر کوئی مقتدی کسی وقت کوئی کڑوی بات کہہ دے تو یہ مزاج کاجیسا بھی ہو، اس کی بات کو بردباری کے ساتھ برداشت کرے، اس لیے کہ یہ امام کی ذمہ داریوں کے اندر ہے۔ اگر لوگوں کا معاملہ یارویہ اس کے ساتھ اچھا نہ بھی ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے مقتدیوں کے معاملہ اچھے طریقے کے ساتھ اخلاقی پہلوؤں کو اوراخلاقی قدروں کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کے ساتھ معاملہ کرے۔
جس طر ح کہ مولاناصاحب نے کہا کہ غمی، خوشی کے جومعاملات ہیں، ان کے اندر شرکت کرنی چاہیے، لیکن خوشی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسٹیج کے ایک طرف مرد بیٹھے ہیں اور ایک طرف عورتیں بیٹھی ہیں ۔ معاف فرمانا، لاہور کینٹ میں ایک ہی جگہ عورتیں بھی موجود ہیں اور مرد بھی۔ ہمارے خطیب صاحب نے کہا تھا لاہور سے آئے تھے کہ خوشی میں شامل ہونا۔امامت اور خطابت کے کچھ تقاضے ایسے بھی ہیں کہ ایسے خوشیوں کے موقع پر ہم کو اپنے آپ کو بچانا ہوگا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ مجھے بھی اور سب کو بھی جو ضامن کی ذمہ داری بنتی ہے، وہ احسن طریقے سے پوری کرنے کی توفیق عطافرمائے۔
جوامام صاحب ہیں، و ہ تو نماز میں پہنچ جائیں گے ۔اب جس جگہ پر ایک امام اور ایک خطیب ہے، آپ دیکھیں گے کہ خطیب صاحب سب سے آخر والی صف کے اندر ہوں گے، کیونکہ انہوں نے نماز نہیں پڑھانی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم پر اوربھی ذمہ داریاں ہیں۔ سب سے آخری صف میں خطیب صاحب اورمفتی صاحب ہو ں گے، اس لیے کہ انہوں نے امامت نہیں کرانی۔ یہ ہماری کوتاہیاں ہیں اورہمیں ا ن کوتاہیوں کا محاسبہ کرناچاہیے۔ ہمارے معاشرتی معاملات بڑے غلط ہیں۔ کہیں عزیزداری ہے اور کہیں رشتہ داری ہے، اگر کہیں کسی کے ساتھ اختلاف ہے تو ایسے اڑ گئے کہ کوئی لچک نہیں ہے۔ کسی کو سمجھانایاسمجھنا تو اپنے دنیاوی لحاظ سے معاملات ہیں۔ ایک مولوی کو سمجھانااورایک مولوی کو سمجھنا بڑامشکل مرحلہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علماء نبیوں کے وارث ہیں۔ آپ بہترین معلم تھے، آپ بڑے مہربان اور رحیم تھے۔ آپ نے وہ واقعہ توسنا ہوگا کہ مسجد میں کسی نے پیشاب کر دیا تو آپ نے نہ مارا نہ پیٹااورنہ ہی اس کو ڈانٹا اور نہ ہی سختی کی، بلکہ پیار اور محبت کے ساتھ اسے سمجھا دیا اورمسجد کی صفائی کرا دی۔ اسی طرح جو مسجد کے مسائل ہیں، ان کو احسن طریقے سے پوراکریں۔مختلف مزاج کے لوگ ہیں۔ جن کی کہیں نہیں چلتی، وہ مسجد میں اپنی چلانے کی کوشش کرتے ہیں ۔احسن طریقے کے ساتھ ان کی جنگ اوران کے فتنے سے اپنے دامن کوبچاکراپنے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اس کو بڑ ی عبادت سمجھ کر اور بڑی ذمہ داری سمجھ کر ادا کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کوتاہیوں کی اصلاح کرنے کی توفیق عطافرمائے اوران ذمہ داریوں کو قبول ومنظور فرمائے۔
(جاری)
ایک فالج زدہ نو مسلم کا واقعہ
حکیم محمد عمران مغل
لاہور میں بھاٹی چوک انتہائی پر رونق اور تاریخی جگہ ہے جہاں دلچسپ واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ سامنے ہی حضرت علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کا مرقد ہے جہاں فاتحہ خوانی کے لیے ہر وقت عوام وخواص کا جمگھٹا لگا رہتا ہے۔ سفید پوش، درویش اور بد اندیش ہر ایک نے یہاں اپنی حاضری لگانی ہوتی ہے۔ ایک دن میں جونہی بھاٹی چوک کے وسط میں پہنچا تو بیچ چوراہے کے ایک نوجوان نے مجھے روک لیا جیسے وہ برسوں سے مجھے جانتا ہو۔ کہنے لگا کہ یہ عورت میری بیوی ہے جس کے سہارے میں چل پھر رہا ہوں۔ اس کی حالت بتا رہی تھی کہ اس پر فالج کا دردناک حملہ ہو چکا ہے۔ بتانے لگاکہ میں ایک عرصہ سے عیسائیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو چکا ہوں۔ میری کس مپرسی دیکھ کر ایک دردمند مسلمان نے کوٹھا پنڈ (ملحق ماڈل ٹاؤن) میں ایک فلیٹ میرے نام الاٹ کر دیا ہے۔ بعض دیگر مسلمان بھائیوں نے میرا وظیفہ بھی مقرر کیا ہے، مگر اللہ کی طرف سے آزمائش میں گرفتار ہو چکا ہوں۔ ہر طرح کے علاج معالجہ کے باوجود فالج کا اژدہا مجھے نگلتا جا رہا ہے۔ کسی صاحب نے آپ کی نشان دہی کی ہے۔ اگر آپ میرے حالات پر نظر کرم فرمائیں تو ممنون ہوں گا۔ میں نے عرض کیا کہ :
رومی نہیں، حافظ نہیں، اقبال نہیں ہیں
کچھ آپ سے بہتر تو بہرحال نہیں ہیں
کس نے میری نشان دہی کر دی؟ لیکن نومسلم کی لجاجت حد سے بڑھتی جا رہی تھی، جبکہ میرے پاس اس کی خواہش کی تکمیل کا کوئی حیلہ نہ تھا۔ اس کی نوجوان بیوی کہنے لگی کہ آپ اس وقت ہمارے آخری مسیحا اور وسیلہ ہیں، ہمیں مایوس نہ کریں۔ میں نے سوچا کہ بھیجنے والا یقیناًمجھے جانتا ہوگا۔ اس وقت میری جیب کے ساتھ ذہن بھی خالی تھا، لیکن اس نومسلم جوڑے کو خالی ہاتھ بھیجنا بھی مناسب نہ تھا۔ چند قدم کے فاصلے پر عبد اللہ جہانیاں والے رحمۃ اللہ علیہ کے ہر دلعزیز فرزند ارجمند جناب حکیم عبد الوحید سلیمانی کے دواخانہ پر نظر پڑی جن سے ایک عرصہ سے میری شناسائی تھی۔ میں نے حکیم صاحب کے کتب خانہ کی کوئی کتاب نہیں چھوڑی جس کا میں نے مفت مطالعہ نہ کیا ہو، لیکن انھوں نے میرے حالات دیکھ کر کبھی ماتھے پر شکن نہیں ڈالی۔ ان کی فیاضی کی انتہا تھی کہ ایک موقع پر مجھے پیشاب میں کالے رنگ کے لاتعداد چھلکے آنے لگے تو میری داستان سن کر وہ گھبرا گئے اور کہا کہ آپ کو پتہ نہیں کہ آپ کس مرض میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ فوراً بے قراری کے ساتھ انھوں نے ایک نہایت قیمتی نسخہ مرحمت فرمایا۔ اس قسم کی بے بہا خوبیاں جہانیاں کا خاندان اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔
خیر، حکیم صاحب کے دوا خانے پرنظر پڑتے ہی جان چھڑانے کی ایک ترکیب سوجھ گئی۔ میں نے کاغذ کے ایک پرزے پر لکھا کہ یہ نومسلم نوجوان آپ کی توجہ کا مستحق ہے۔ اگر آپ نے فیاضی کا مظاہرہ کیا تو بہت ممکن ہے کہ آپ کے ہاتھوں اس نومسلم جوڑے کی دنیا سنوار جائے۔ نیچے میں نے اپنا نام لکھ دیا۔ چٹ اس نومسلم کو دی کہ یہ سامنے حکیم صاحب بیٹھے ہیں، جا کر ان کو دے دیں۔ ساتھ ہی میں نے اپنی سمجھ کے مطابق ریٹھے کا نسخہ بھی بتا دیا۔ میری خواہش تھی کہ کسی بھی آبرومندانہ طریقے سے میری جان چھوٹ جائے اور کچھ نہ کچھ ان کے درد کا بھی مداوا ہو جائے۔ غالباً چار ماہ کے بعد اچانک اسی نوجوان مسلم جوڑے سے سر راہ ملاقات ہو گئی۔ میں نے حال احوال پوچھا تو کہنے لگا کہ ہاتھ ملائیں۔ میں نے ہاتھ ملایا تو کہنے لگا کہ اب ہاتھ چھڑائیں۔ میں واقعی اس کی گرفت سے اپنا پنجہ نہ چھڑا سکا۔ کہنے لگا کہ آپ کے ردی کے کاغذ پر لکھے گئے رقعے نے میری دنیا بدل دی۔ میں آپ کا رقعہ لے کر حکیم سلیمانی صاحب کے پاس گیا تو انھوں نے فوراً ایک چھوٹا سا لفافہ روپوں سے بھر کر کچھ ادویہ بھی مرحمت فرمائیں اور ساتھ ہی آپ کے نسخے کی تائید وتصدیق فرمائی اور کہا کہ میرے ساتھ رابطے میں رہیں۔ جب تک مرض ختم نہیں ہوتا، دوا برابر لیتے رہیں، مگر ایک ہی بار کے بعد پھر ضرورت محسوس نہ ہوئی۔
حکیم صاحب نے میرے ایک معمولی کاغذ کے پرزے کو اتنی پذیرائی بخشی کہ میں شرم کے مارے آج تک ان کا شکریہ بھی ادا نہیں کر سکا۔