جون ۲۰۱۲ء

امریکی فوجی اسکول کے نصاب میں اسلام کی کردار کشیمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مولانا محمد اسلم شیخوپوری کی شہادتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
میری علمی و مطالعاتی زندگیڈاکٹر صفدر محمود 
مولانا محمد اسلم شیخوپوریؒ / مختلف کلامی تعبیرات کی حقیقت اور ان سے استفادہ کی گنجائش / قربانی کے ایاممحمد عمار خان ناصر 
ہندوستان کی روایتی اسلامی فکر میں تاریخ اور قانونی معیاریت (۲)ڈاکٹر ابراہیم موسٰی 
سر سید احمد خان کی سیاسی فکر اور اس کے نتائج و اثرات ۔ ایک تنقیدی جائزہکے ایم اعظم 
سیمینار: ’’ائمہ و خطبا کی مشکلات، مسائل اور ذمہ داریاں‘‘ (۲)ادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 
نفسیاتی علاج کی اہمیتحکیم محمد عمران مغل 

امریکی فوجی اسکول کے نصاب میں اسلام کی کردار کشی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امریکی فوج کے اسکولوں میں اسلام کے بارے میں پڑھائے جانے والے ایک نصاب پر ان دنوں بحث جاری ہے۔اخباری رپورٹوں کے مطابق خود امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے اس نصاب کو قابل اعتراض قرار دیا ہے جبکہ پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ کورس کے بارے میں ان کی ویب سائٹ پر موجودہ نصاب اصلی ہے۔ ایک برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کسی امریکی فوجی کی شکایت سامنے آنے پر جنرل مارٹن نے اس کورس کا نوٹس لیا ہے اور اسے قابل اعتراض اور دوسرے مذاہب کے احترام کے بارے میں امریکی اقدار کے منافی قرار دے کر اس کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ مذکورہ کورس کے حوالے سے ان رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اس کورس کے ذریعے امریکی فوجیوں سے کہا جاتا ہے کہ اسلام میں اعتدال پسندی نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ ان کے مذہب کو اپنا دشمن تصور کریں۔ کورس میں یہ بھی درج ہے کہ امریکہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے اور یہ ممکن ہے کہ امریکہ مسلمانوں کے مقدس مقامات مکہ اور مدینہ کو (نعوذ باللہ) جوہری ہتھیاروں کے ذریعے تباہ کر دے۔
جنرل مارٹن ڈیمپسی کی طرف سے انکوائری کا کیا نتیجہ سامنے آتا ہے، اس کے بارے میں ہم کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، اس لیے کہ اس میں مسلمانوں کے غم وغصہ اور جذبات کو کم کرنے کی حکمت عملی کے تحت یقیناًلیپا پوتی سے کام لیا جائے گا اور وہی کچھ ہوگا جو اس قسم کی رپورٹوں میں عام طو رپر ہوا کرتا ہے۔ البتہ اس کورس کے بارے میں کچھ گزارشات پیش کرنے کی ضرورت بہرحال محسوس ہو رہی ہے۔
ہمیں اس کورس اور اس کے امریکی فوج کے اسکولوں میں پڑھائے جانے کے اس انکشاف پر کوئی تعجب نہیں ہوا، اس لیے کہ یہ نہ تو پہلی بار ہو رہا ہے اور نہ ہی امریکی جنرل کی طرف سے انکوائری کے آرڈر پر یہ سلسلہ رک جائے گا۔ یہ تو مغرب کی صدیوں سے چلی آنے والی پالیسی ہے جس کے سیکڑوں مظاہر ومشاہدات تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں اور مغرب کی تعلیم گاہوں میں پورے اہتمام کے ساتھ اس بات کی کوشش ہوتی آ رہی ہے کہ دنیا کے سامنے، خاص طو رپر مغربی دنیا کے سامنے اسلام او رمسلمانوں کی ایسی تصویر پیش کی جائے جو نفرت او رکراہت کا باعث بنے اور اسے دیکھنے والوں کے ذہن اسلام کے بارے میں کوئی مثبت رائے قائم کرنے کی پوزیشن میں نہ رہیں۔ 
چند سال قبل جب سربیا اور بوسنیا کا تنازع عالمی سطح پر زیر بحث تھا، ان دنوں کی بات ہے کہ برطانیہ کے شہر لیسٹر میں محترم پروفیسر خورشید احمد کے ادارے ’’اسلامک فاؤنڈیشن‘‘ نے اس سلسلے میں ایک سیمینار منعقد کیا جس میں برطانوی پارلیمنٹ کے ممبر جم مارشل نے بھی شرکت کی۔ میں ان دنوں وہیں تھا اور اس سیمینار میں شریک ہوا تھا۔ جم مارشل نے اس موقع پر بہت فکر انگیز گفتگو کی جس میں انھوں نے کہا کہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مغربی دنیا کے ذہنوں میں جوکنفیوژن پایا جاتا ہے، اس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ کنفیوژن یہ ہے کہ ہمارے ذہنوں میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ایک تصویر وہ ہے جو ان معلومات سے قائم ہوتی ہے جو ہمارے بڑے نسل در نسل ہمیں روایتی انداز میں فراہم کرتے آ رہے ہیں اور یہ بڑی خوف ناک تصویر ہے۔ دوسری تصویر وہ ہے جو تاریخ کے مطالعہ اور مستندمواد تک رسائی سے ہمارے ذہنوں میں تشکیل پاتی ہے۔ یہ پہلی تصویر سے یکسر مختلف ہے، مگر آج کے ان مسلمانوں کو دیکھ کر جو ہمارے ساتھ رہتے ہیں، جو تصویر ذہنوں میں بنتی ہے، وہ ان دونوں تصویروں سے مختلف ہے۔ جم مارشل نے اس کنفیوژن کاذکر کرتے ہوئے مسلمان دانش وروں سے کہا کہ وہ اس کنفیوژن کو دور کرنے کی کوشش کریں اور یہ کہ اگر اس کنفیوژن کو دور کیا جا سکے تو مغربی دنیا اسلام کی بات سننے کے لیے آج بھی تیا رہے۔
جم مارشل کی اس تقریر کا حوالہ ہم نے ا س لیے دیا کہ مغربی خاندانوں میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جو تاثرات اور احساسات نسل در نسل چلے آ رہے ہیں، وہ تاریخ کے مطالعہ اور موجودہ مسلمانوں کو دیکھ کر قائم ہونے والے احساسات اور تاثرات سے بالکل مختلف ہیں اور یہی تاثرات امریکی فوج کے اسکولوں میں پڑھائے جانے والے اس کورس کی بنیاد ہیں، اس لیے ہمیں اس پر افسوس ضرور ہے، مگر تعجب بالکل نہیں ہے، اس لیے کہ ایسا صدیوں سے ہو رہا ہے اور آج بھی مذہب سے لاتعلقی کے ٹائٹل اور سیکولرزم کے عنوان کے باوجود مغربی حکمرانوں کی مجبوری ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی کوئی ایسی تصویر دنیا کے سامنے نہ آنے دیں جو اسلام کے بارے میں مثبت سوچ پیدا ہونے کا ذریعہ بن سکے۔
کچھ عرصہ قبل جب پاکستان کے دینی مدارس کے خلاف مغربی دنیا کی پروپیگنڈا مہم عروج پر تھی، ان دنوں ایک دستاویزی فلم کا بہت شہرہ ہوا جو مختلف مغربی ممالک کے مقتدر حلقوں کو بطور خاص اہتمام کے ساتھ دکھائی گئی۔ میں نے بھی وہ فلم ان دنوں دیکھی تھی۔ اس میں پاکستان کے کسی بھی مکتب فکر کے کسی معیاری دینی مدرسے کا تذکرہ موجود نہیں تھا جو کم وبیش ملک کے ہر بڑے شہر میں پائے جاتے ہیں، بلکہ کسی دور دراز دیہات کے ایک مدرسے کو فوکس کیا گیا تھا جو کچھ بعید نہیں کہ اس مقصد کے لیے خاص طو رپر تیار کیا گیا ہو اور دینی مدرسے کے اندرونی ماحول کو انتہائی مکروہ انداز میں پیش کر کے نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی۔ مجھے یہ ’’دستاویزی فلم‘‘ دیکھنے کا موقع لندن میں ملا تھا اور فلم دکھانے کے بعد مجھ سے میرے تاثرات کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے عرض کیا تھا کہ میں بیسیوں نہیں بلکہ سیکڑوں ایسے مدارس کی نشان دہی کر سکتا ہوں جن میں سے ایک کو بھی اس دستاویزی فلم کا حصہ بنا لیا جائے تو وہ سارا تاثر خاک میں مل جاتا ہے جو اس فلم کی تیاری اور تشہیر کا مقصد دکھائی دیتا ہے۔
امریکی فوج کے اسکولوں میں مبینہ طور پر پڑھائے جانے والے اس کورس پر مختلف حلقوں کی طرف سے جو احتجاج جاری ہے، وہ ملی حمیت کا تقاضا ہے اور ہر مسلمان کو اپنے اپنے انداز میں اس احتجاج میں ضرور شریک ہونا چاہیے، لیکن اس سے کہیں زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کے ابلاغ کے وسیع تر ذرائع سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اسلام کی تعلیمات اور آج کے حالات میں قرآن وسنت اور خلافت راشدہ کے احکام وقوانین کی تطبیق کی قابل عمل صورتوں کو اجاگر کیا جائے۔ اپنی بات اپنے انداز میں کہنے اور اسے دنیا کے ہر کونے میں پہنچانے کی جو سہولتیں آج میسر ہیں، اس سے پہلے کبھی وہ ہماری دسترس میں نہیں تھیں، اس لیے مغرب کی علمی وفکری دھاندلی کے خلاف احتجاج اور غم وغصہ کے اظہار کے ساتھ ساتھ ہمارے علمی اداروں کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ آج کے عالمی حالات کے تناظر میں اور مستقبل کی فکری وعلمی ضروریات کے پیش نظر سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے۔

مولانا محمد اسلم شیخوپوری کی شہادت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ماہ کے دوران میں ملک کے تین معروف علما، مولانا نصیب خان، مولانا سید محمد محسن شاہ اور مولانا محمد اسلم شیخوپوری کو مختلف واقعات میں شہید کر دیا گیا۔ یہ سب حضرات ہمارے محترم تھے اور سب کی شہادت اور جدائی پر ہم غم زدہ ہیں، لیکن مولانا محمد اسلم شیخوپوری کی شہادت پر ہمارا صدمہ دوہرا ہے، اس لیے کہ وہ ہمارے ساتھی تھے اور انھوں نے طالب علمی کا ایک دور ہمارے درمیان گزارا ہے۔ 
مولانا محمد اسلم شیخوپوری نے دینی تعلیم کا آغاز باغبانپورہ لاہور میں ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد اسحاق قادری قدس اللہ سرہ العزیز کے ہاں کیا تھا جو شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ مولانا شیخوپوری نے صرف ونحو کی ابتدائی تعلیم ان سے حاصل کی اور ان کے بچوں کے ساتھ کچھ عرصہ ان کے گھر میں رہے۔ حضرت مولانا محمد اسحاق قادری کی اہلیہ محترمہ ان سے اپنے بچوں کی طرح پیار کرتی تھیں اور وہ بھی ان سے بہت مانوس تھے۔ مولانا محمد اسلم شیخوپوری نے درس نظامی کی تکمیل جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کی اور وہیں دورۂ حدیث کر کے فراغت حاصل کی۔ بعد میں وہ کراچی تشریف لے گئے اور غالباً جامعہ بنوری ٹاؤن کے دورۂ حدیث میں بھی شریک ہوئے۔ قرآن کریم کے درس کا ذوق انھوں نے اپنے دو بزرگ اساتذہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی سے پایا اور وہ اس کا مختلف مواقع پر تذکرہ بھی کرتے تھے۔ 
مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہید آج کے دو رمیں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی کی اس تعلیمی وفکری جدوجہد کا اہم کردار تھے جو حضرت شیخ الہند نے مالٹا کی قید سے رہائی کے بعد ہندوستان واپس پہنچنے پر شروع کی تھی کہ مسلمانوں میں اجتماعیت کے فروغ کی محنت کی جائے اور قرآنی تعلیمات عام مسلمانوں تک پہنچانے کی جدوجہد کی جائے۔ مولانا شیخوپوری نے قرآن کریم کے درس کے لیے جو اسلوب اختیار کیا، وہ آج کے نوجوان علماء کرام کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
مولانا انیس الرحمن درخواستی سے لے کر مولانا محمد اسلم شیخوپوری کی شہادت تک ہمارے جتنے بزرگ اور ساتھی شہید ہوئے ہیں، ان سب میں مشترک بات یہ تھی کہ وہ دین کے لیے ہمہ وقت متحرک تھے اور ان کے گرد علماء کرام کے ساتھ ساتھ عوام بھی جمع ہو رہے تھے۔ ان حضرات کی شہادت سے ہم غم زدہ ضرور ہیں، مگر مایوس قطعاً نہیں ہیں اور نہ ہی شہادتوں کا یہ سلسلہ ہمارے حوصلوں کو ناکام بنا سکتا ہے۔ یہ ہمارے بزرگوں کی جدوجہد ہے جو اپنی روایات کے مطابق آگے بڑھتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ تمام شہدا کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور ہم سب کو ان کا مشن جاری رکھنے کی توفیق سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین

میری علمی و مطالعاتی زندگی

ڈاکٹرصفدر محمود سے انٹرویو

ڈاکٹر صفدر محمود

انٹرویو نگار : عرفان احمد

گجرات کے ایک چھوٹے سے قصبے ڈنگہ سے میراتعلق ہے، جو کھاریاں رسول روڈ پر صدیوں سے واقع ہے، سندر داس ایک بہت بڑابزنس مین تھا اُس نے ڈنگہ میں بہت ہی شاندار بلڈنگ ہائی سکول کے لیے بنوائی تھی، اب یہ ہائر سکینڈری سکول ہے آٹھویں تک میری تعلیم وہاں ہوئی جس تعمیر ملت سکول رحیم یار خان سے میں نے میٹرک کیا وہ سکول بنیادی طورپر جماعت اسلامی کے اراکین کی زیر نگرانی چلتا تھا، اس سکول میں فکری نشوونما اور کردار سازی پربڑی توجہ دی جاتی تھی۔ امتحان سے زیادہ کردار سازی پرتوجہ ہوتی تھی فکری نشوونما پرزیادہ زورتھا اُس کے بعدگورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور بی اے آنرز کیا اورپھر ایم اے کیا اورپھرگورنمنٹ کالج لاہور میں ہی لیکچرار کی حیثیت سے تقرر ہوا جہاں سے میں نے (1967) میں CSS کا امتحان پاس کیا اور سول سروس میں چلا گیا۔ 
میں بچپن ہی سے Creative تھا ایک ایسا لڑکا جوتصورات اورتخیل کی دنیا میں رہتا ہو مجھے یادہے جب میں بہت چھوٹا بھی تھا تو عام طور پر تخیل میں گم سارہتا تھا جہاں تک مجھے یاد ہے میں چھٹی کلاس میں تھا میرے پاس کوئٹہ سے ایک ماہانہ رسالہ ’’زمانہ‘‘ آیاکرتا تھا مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے میری پہلی کہانی اس رسالے میں چھپی تھی پھرجب میں نویں، دسویں میں تھا اور میں رحیم یارخان میں پڑھتا تھا تولاہور سے نکلنے والے رسالہ’’ بچوں کی دنیا‘‘ میں میری چھوٹی موٹی کہانیاں کبھی کبھار چھپتی تھیں جس کی تصیح میرے استاد انیس احمد اعظمی صاحب کیا کرتے تھے میں اپنے اُستاد کو اپنی ہر تحریر دکھاتا تھا۔ انیس صاحب میری حوصلہ افزائی کرتے اور اس کو ٹھیک کر دیتے تھے اُس کے بعدگورنمنٹ کالج کے زمانے میں بھی مسلسل لکھتا رہا۔ ہمارے زمانے میں گورنمنٹ کالج کے میگزین راوی کا شمار اچھے پرچوں میں ہوتاتھا اورراوی سال میں تین دفعہ چھپا کرتا تھا اس طرح آپ اسے ایک طرح کاسہ ماہی رسالہ بھی کہہ سکتے ہیں جتناعرصہ میں گورنمنٹ کالج میں رہا شاید ہی کوئی ایسا راوی ہو جس میں میراکوئی مضمون یاافسانہ نہ چھپا ہو۔ انہی دنوں میں نے اخبارات اور رسائل میں تقریریں لکھنا شروع کیا، روزنامہ مشرق، نوائے وقت، ہفت روزہ قندیل اور اقدام میں بھی عام طور پر لکھا کرتا تھا اور نیم ادبی رسالوں کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی کے میگزین میں بھی میرے افسانے چھپتے رہتے تھے اسی دور میں میری ایک کہانی خوشتر گرامی کے رسالے بیسویں صدی میں چھپی جس کا ادبی حلقوں میں خاصا ذکر رہا۔ بیسویں صدی معیاری اور مقبول رسالہ تھا چنانچہ مجھے بہت سے خطوط موصول ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں ہر سال کانوکیشن کے موقع پر بہترین لکھاری کا ایوارڈ دیا جاتا ہے میں بی اے آنرز کا طالب علم تھا جب 1963میں مجھے بہترین لکھاری (اردو) اور طارق علی خان کو بہتری لکھاری (انگریزی) کے ایوارڈ ملے۔ بہترین لکھاری کا ایوارڈ کالج کا بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں طالب علم تھا تو میں نے نیو ہوسٹل سے ایک رسالے کا آغاز کیا جس کا نام ’’پطرس‘‘ ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ وہ رسالہ ابھی تک شائع ہو رہا ہے اور اس میں میرا نام پہلے ایڈیٹر کی حیثیت سے شامل ہوتا ہے۔ گویا گورنمنٹ کالج لاہور ککے دور میں ہی میں لکھنے پڑھنے میں خاصا مصروف ہو گیا۔ ریڈیو کے پروگراموں میں شرکت کرنے، یونی ورسٹی اور کالج میگزین اور اخبارات کی وجہ سے لاہور کے اخباری حلقوں میں میرا نام طالب علمی کے زمانے میں ہی مانوس ہو گیا تھا۔ 
دراصل کچھ لکھنے پڑھنے کی صلاحیت قدرت کی طرف سے ودیعت ہوتی ہے اور اگراچھا ماحول اورمناسب اساتذہ مل جائیں تووہ اس صلاحیت کی نشوونما کرکے پروان چڑھا دیتے ہیں اورآپ کی تربیت کرکے آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید اجاگرکردیتے ہیں ۔ میرے کردار پہ کسی حد تک اثرمیرے رحیم یارخاں کے سکول کے ایک استاد کاہے جن کانام انیس احمد اعظمی ہے یہ اعظم گڑھ (یوپی) کے رہنے والے تھے ۔جماعت اسلامی سے متاثر تھے اور جماعت پر تنقید بھی کرتے تھے میرے زمانے میں وہ تعمیر ملت سکول رحیم یار خان میں میرے استاد تھے وہ مجھے کتابیں دیاکرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ پڑھ کے مجھے بتاؤ کہ تم نے کیاپڑھا ہے، اس طرح بچپن سے ہی انہوں نے میرے اندر تاریخ کاشوق پیداکیا اورپھر یہ شوق زندگی بھر کے لیے میرا یہ ذوق بن گیااورمیرے مزاج کاحصہ بن گیا اُن کے نام سے میں نے ایک اپنی کتاب بھی منسوب کی ہے جس کانام ہے ’’پاکستان تاریخ و سیاست‘‘ اُس کے بعدجب میں گورنمنٹ کالج لاہور پہنچا توپروفیسر مرزا محمدمنور صاحب نے مجھ پرخاصی توجہ دی۔ اقبالیات اور تحریک پاکستان کے بارے میں میرے اندر ذوق و شوق پیداکیا اورپھر زندگی کے آخری دنوں تک میرااُن سے قلبی و ذہنی تعلق رہا جو میری زندگی کا بیش بہا اثاثہ ہے ان کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کو میں زندگی کے قیمتی لمحات سمجھتا ہوں۔ مرزا محمد منور بہت پڑھے لکھے اور درویش صفت کے انسان تھے عالم فاضل،عاشق رسولؐ، عاشق اقبال،عاشق قائداعظم تحریک پاکستان سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔اُنہوں نے مجھ پرتوجہ بھی دی اورخاص طور پر قائداعظم، اور تحریک پاکستان سے محبت کا ایک رشتہ قائم کردیا۔ محبت اورشوق کا یہ رشتہ قائم کرنے میں اُن کابنیادی کردار تھا۔ سکول اور کالج کی سطح پر جن استادوں نے مجھ پرتوجہ دی میں اُن کااحسان زندگی بھرنہیں بھولوں گا بعدازاں ان اساتذہ سے میرا تعلق دوستی کے رشتے میں ڈھل گیا۔ دوستی کا یہ رشتہ آج تک قائم ہے۔ 
طالب علمی کے زمانے میں ایک Rolling Stone کی مانند تھا لیکن آج واپس مڑکردیکھتاہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ بعض اوقات کچھ لوگ ہوتے ہیں جو کسی شعبہ یا مضمون سے وابستہ ہو جاتے ہیں اور یہ صرف اسی کا مطالعہ کرتے ہیں۔ کم ازکم ایم اے تک میری یہ کیفیت نہیں تھی جوبھی کتاب ملی وہ پڑھ لی مثلاً میرے اُستاد جن کامیں نے ابھی ذکر کیاانیس احمداعظمی صاحب انہوں نے مجھے 9th اور 10th میں جوکتابیں دیں اُن میں سب سے پہلی کتاب مولانا ابوالکلام کی غبارخاطر تھی اورمجھے آج تک یاد ہے کہ وہ کتاب میں نے ایک رات میں پڑھ ڈالی تھی شام کوبستر پہ لیٹ کرشروع کی اور ختم کرکے اٹھا ،اور اگلے دن اُن کوجاکر واپس کردی اس کتاب میں سے پڑھے ہوئے اشعار مجھے اب بھی یاد ہیں۔ پھرمیں نے افسانے بے پناہ پڑھے نقوش کے کئی افسانہ نمبرآئے جنہیں میں شوق سے پڑھتا رہا۔ راجندرسنگھ بیدی سے لے کر منٹو، کرشن چند، قرۃ العین، ہاجرہ مسرور، خدیجہ مستور، احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، ممتاز مفتی، شہاب سبھی کو اس دور میں پڑھا۔ بعد ازاں منشا یاد کے افسانوں سے متاثر ہوا اور صادق حسین، انتظار حسین کو شوق سے پڑھا۔ جدید شعراء میں فیض سے اسرار الحق مجاز، ساحر لدھیانوی،احمد ندیم قاسمی تک میں نے تقریباً سبھی شعرا کوپڑھا اوراُس زمانے تک جتنے دیوان فیض صاحب کے چھپ چکے تھے۔ تقریباً تین چارمجھے زبانی یاد تھے۔ کلام اقبال کا مجھے بے حد شوق تھا، میں ہوسٹل میں کمرہ بندکرکے کلام اقبال کو اونچی آواز سے اورذوق وشوق سے پڑھا کرتا تھا مطلب یہ کہ مطالعے کی حد تک شاعری بھی ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ ایم اے کرنے کے بعدجاکر مجھ پروہ اسٹیج آئی کہ میں نے تحریک پاکستان اور تاریخ پاکستان کواپنا اوڑھنا،بچھونا بنا لیا۔ Rolling Stone ہونے کی وجہ سے مجھے ایک فائدہ یہ ہوا کہ اگرچہ میں ساری زندگی باقاعدہ اردو ادب کا طالب علم نہیں رہا لیکن مجھے اردو لٹریچر سے تھوڑی سی شناسائی حاصل ہو گئی۔ اقبالیات کوبھی پڑھا دنیا جہان کی جوچیزیں مجھے ملتی گئیں میں پڑھتا گیا۔ جب میری اپنی اولاد جوان ہوئی اورمیں یونیورسٹی اورکالجوں میں جاتا رہا قائد اعظم یونی ورسٹی میں وزٹنگ پروفیسر رہا اور پھر ایک یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی رہا اس طرح میرا طالب علموں سے گہرا رابطہ رہا تو پتاچلا کہ آج کے طلبہ اپنے Subject کے علاوہ دنیا کی کوئی اور بات جانتے ہی نہیں تب مجھے محسوس ہوا ہمارے استادوں کی پالیسی ٹھیک تھی کہ ان کی بنیاد وسیع کرو۔ مثلاً میں نے قرآن حکیم کی تفسیر پڑھیں، سیرت النبیؐ پر چند ایک کتابیں پڑھیں مجھے یاد ہے کہ میٹرک کاامتحان دینے کے بعد ابوالکلام آزاد کی تفسیر ترجمان القرآن خاص طور پر پوری پڑھ ڈالی شبلی نعمانی اور سلیمان ندوی سے ہوتے ہوئے جتنے حضرات کی کتب سیرت النبیؐ پر مل سکیں میں نے پڑھیں ہمارے دور میں طلبہ کا مطالعہ Broad Base ہوتا تھا وہ صرف ایک مضمون ایک شعبہ تک محدود نہیں رہتے تھے بلکہ ہمہ جہتی اور متنوع موضوعات کا تھوڑا تھوڑا علم سبھی کے پاس ہوتا تھا علمی زندگی اور تحقیق کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد میں نے خاص طورپر اپنے لیے جو مضمون چنا وہ پاکستانیات ہے۔ 
پاکستانیات کوجب آپ چنتے ہیں توظاہر ہے آپ کوتحریک پاکستان بھی پڑھنی پڑتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قائداعظم اور اقبال کوبھی اُس حوالے سے پڑھنا پڑھتا ہے اورپاکستان کی تاریخ و سیاست اُس کومیں نے خاص طور پرتحریر اور مطالعہ کا موضوع بنایا۔ مجھے یادہے کہ میں نے 1964ء میں ایم اے کاامتحان دیا 1965ء میں ہمارا رزلٹ نکلا اوراُسی سال میں گورنمنٹ کالج لاہور میں لیکچررہوگیا اور 1965ء میں روزنامہ نوائے وقت لاہورمیں جواُس وقت مغربی پاکستان کاسب سے بڑااخبار ہواکرتا تھا انہوں نے بدھ کے دن پورا آدھا Editorial Page میرے لیے مخصوص کیاہوا تھا اور میں اس اخبار میں گاہے گاہے بازخواں کے نام سے تاریخ پاکستان کے مختلف پہلوؤں پر لکھا کرتاتھامیری عمر اُس وقت 22،23 برس تھی۔اُس کے بعدمیں نے پاکستانیات کواپناایک مستقل موضوع بنالیا اوراُس کوموضوع بنانے میں بھی ایک واقعہ کاخاص عمل دخل ہے ایم اے میں میرا Thesis تھا مسلم لیگ کا دورحکومت 1947ء سے لے کر 1954ء تک بعدازاں میں نے اس پر مزید محنت کی انڈیاآفس لائبریری میں بیٹھا واشنگٹن کے خفیہ پیپرز دیکھے، دنیاجہاں کا مواد کھنگال لینے کے بعد اس کی پُوری شکل ہی بدل گئی۔ اس کتاب میں زیادہ مواد طالب علمی کے دور کے بعد کاہے۔ مصیبت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تحقیق کے لیے کوئی سہولت نہیں ہے ۔ہم اب بھی اُس لحاظ سے1965 کے دورمیں ہیں، میں ایک دفعہ انڈیا آفس لائبریری میں بیٹھا تھاتومیں نے ایک اسسٹنٹ سے کہا کہ میں نے London Times اخبارکا مطالعہ کرنا ہے 1947ء سے لے کر 1954ء تک میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ پاکستانی سیاست کے بارے میں لندن ٹائمز میں کیا خبریں، تبصرے اور تجزیے چھپے۔ لائبریرین نے مجھے کہا کہ its very simple۔یہ انڈیکس پڑاہواہے ۔انڈیکس کھولیں کتابوں کی صورت میں لندن ٹائمز کا انڈیکس انہوں نے چھاپا ہوا ہے ہرسال کا انڈیکس نکالو۔ اُس میں پاکستان نکالو اُس میں Politics نکالو اور صفحہ نوٹ کرلو۔ اخبار کا ریکارڈ مائیکرو فلم پر موجود ہے جو پڑھنا چاہتے ہو پڑھ لو۔ اس طرح وہ کام میں نے تقریباً سات دن میں مکمل کرلیا جبکہ پاکستان میں جب میں نے اخبارات دیکھنا شروع کئے تو پاکستان ٹائمز سول ملٹری گزٹ نوائے وقت ، ڈھاکہ ٹائمز اور ڈان کی فائلیں پڑھنے میں کئی برس لگ گئے۔ ان اخبارات کا ایک ایک صفحہ مجھے پڑھنا پڑتا تھا اوراُس میں جومجھے میرے کام کا مواد ہوتا تھا وہ ہاتھ سے کاپی پرنوٹ کرتاتھا اور اُس کے نتیجے میں اتنا مواد اکٹھا ہواکہ ہمارے گھر میں رضائیوں والا صندوق میری کاپیوں اوررجسٹروں سے بھرگیا پاکستان میں Research کرنا گدھوں والا کام ہے آپ کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ آپ کام کیسے کریں گے اکانومسٹ لندن کاجوبڑامعتبر رسالہ ہے میں نے ایک دن میں سات سال کی فائل پڑھ لی۔ ریسرچ کے دوران میں پاکستان ٹائمز کی لائبریری میں زرد بلب کے نیچے بیٹھ کرمٹی سے بھرے ہوئے اخبارات کاایک ایک صفحہ اپنی انگلی سے الٹ کر پڑھتا تھا۔ پرانے اخبارات کی مٹی اور بو میری سانسوں کا حصہ بن جاتی تھی۔ وہاں میں نے گلے کی خرابی کا مستقل روگ پالا۔ 
میں نے پاکستانیات کواپنا اوڑھنا بچھونا اس لیے بنایا کہ پاکستان کی محبت میرے رگ و پے میں موجود تھی۔ جس زمانے میں میں تحقیق کے لیے پاکستان ٹائمز کی لائبریری میں کام کر رہا تھا اُسی زمانے میں آکسفورڈ کاایک طالب علم وہاں آیا ہواتھا جو Political Parties of pakistan کے عنوان پر Thesis لکھ رہاتھا۔ لائبریری میں صرف دو ہی تحقیق کرنے والے ہوتے تھے۔ ہماری آپس میں گپ شپ دوستی شروع ہوئی پھرمیں اُسے کھانے پہ لے گیا، بے تکلفی ہوگئی وہ آدمی آکسفورڈسے ڈاکٹریٹ کررہا تھا اور یونی ورسٹی والوں نے Material اکٹھا کرنے کے لیے اُسے پاکستان بھیجا تھا۔اس پروہ بڑا Extensive کام کررہا تھا ایک دن اُس نے باتوں باتوں میں مجھ سے پوچھا کہ کیاتم مجھے کوئی پاکستان میں ایک ایسی کتاب Suggest کرسکتے ہو جسے پڑھ کرمیں پاکستان کے تمام پہلوؤں سے آشنا ہوجاؤں تومیں بغلیں جھانکنے لگا۔اُس کے بعد مجھے بڑی شرم آئی کہ پاکستان بنے ہوئے 17برس گزرچکے ہیں ہم نے کوئی کام ہی نہیں کیاتوپھر میں نے فیصلہ کیا کہ میں صرف پاکستان پر کام کروں گا اس طرح میں کام میں لگارہا اورآج جوآٹھ ،دس کتابیں ہیں وہ پاکستان کے مختلف پہلوؤں پر ہیں تحریک پاکستان کامطالعہ ،قائداعظم اورعلامہ اقبال کامطالعہ اُس پس منظر کوسمجھنے کے لیے ضروری تھا چنانچہ میں نے اپنی حد تک ان موضوعات کو سمجھنے کی کوشش کی لیکن میرا مرکزومحور مطالعہ پاکستان ہی رہا۔
میں گزشتہ کئی سالوں سے کوئی تحقیقی کتاب نہیں لکھ سکا میری زندگی کا تجربہ یہ بتاتا ہے اور میرے استاد منور صاحب یہی کہا کرتے تھے کہ جس وقت جوتمہارا جی چاہ رہا ہے۔ وہ لکھو،اگر افسانہ لکھنے پر طبیعت مائل ہو تو افسانہ لکھو شعر کہنا چاہتے ہو تو شعر لکھو، طنز و مزاح لکھنے کو جی چاہتا ہے تو وہ لکھو، بہرحال وہ ایک طرح سے میری تربیت کرتے رہے اب کچھ عرصے سے میں اپنے آپ میں ہمت نہیں کر پاتا اور نہ ہی طبیعت راغب ہوتی ہے کہ میں جم کربیٹھ کرتحقیق کروںیا کوئی مستقل ریسرچ کروں جہاں تک مجھے یادپڑتا ہے کہ میری آخری تحقیقی کتاب 1980ء میں آئی اور اس کے کوئی 8دس سال کے وقفے کے بعدمیری کتاب Pakistan Political Roots and Deue...... منظر عام پر آئی یہ کتاب آکسفورڈ نے شائع کی ہے۔ اور تقریباً پوری دنیا میں پھیل گئی ہے میں دنیا کی جس بھی لائبریری میں جاتا ہوں وہاں اپنی کتابیں دیکھ کر مجھے اس بات کی خوشی ہوتی ہے مثلاً امریکہ کی میں تقریباً سب بڑی یونیورسٹیوں میں گیا ہوں کولمبیا۔برکلے میں نے امریکہ کی ہریونیورسٹی لائبریری میں اپنی کتابیں دیکھی ہیں اُن کے پاس کئی ایسی کتابیں بھی ہیں جن کی کاپی میرے پاس بھی نہیں ہے۔ میں برکلے یونی ورسٹی میں گیا تواُن کاایک طریقہ ہوتا ہے Welcome کرنے کاوہاں ایک پروفیسر Steven Poulis ہے جو ساؤتھ ایشین ڈیپارٹمنٹ کا وائس چےئرمین ہے۔اُس کے ساتھ ایک آدھ دن گپ شپ رہی اگلے دن اُس نے کہا کہ ہماری گریجوایٹ کلاسزز کوتین چار لیکچرزدوپھرایک دن اُس نے کہاکہ آؤ میں آپ کو لائبریری دکھاؤں وہ مجھے برکلے یورنیورسٹی کی سنٹرل لائبریری میں لے گیا۔ برکلے یونیورسٹی دنیا میں عالمی سطح کی ایک یونیورسٹی مانی جاتی ہے اُس نے لائبریرین سے میرا تعارف کرایا کہ یہ ڈاکٹرصفدر محمود ہیں پاکستان سے آئے ہیں توانہوں نے کہا Just wait اُس نے کمپیوٹرمیں میرانام انٹرکیا تومیری کتابوں کی لسٹ نکل آئی جو انہوں نے مجھے دے دی میرابیٹا آسٹن میں پڑھتا تھا تووہ کہتاہے کہ ایک دن مجھے پاکستان پرریسرچ کرنی تھی ریسرچ کرتے کرتے کہیں آپ کانام سامنے آگیا ۔کلک کیاتو آپ کی سب کتابیں میری لائبریری میں موجود تھیں مطلب یہ کہ میں جہاں بھی گیا مجھے میری کتابیں اُن لائبریریوں میں موجود ملیں یہی صورت میں نے جاپان میں بھی دیکھی لیکن اس کے بعد میں کالم نگاری کے چکر میں ایسا پھنسا کہ کتاب لکھنے کے لیے وقت ہی نہیں رہا۔ 
میں بڑی دیر تک سوچتا رہا کہ وہ کون سی ایسی کتاب ہو سکتی ہے جس نے مجھے بہت متاثرکیا ہو سچی بات تو یہ ہے کہ بہت سی کتابیں متاثربھی کرتی رہیں کچھ کتابیں اپنی گہری تحقیق کی وجہ سے یا کچھ کتابیں اپنے جذبوں اور اسلوب کی وجہ سے کچھ کتابیں اپنے مشاہدات، فکر اور تاریخی حقائق کی وجہ سے بھی متاثر کرتی رہیں۔ سیکھتا بھی رہا لیکن اگرآپ مجھے یہ کہیں کہ کوئی ایسی کتاب کانام بتائیں جس نے مجھے بہت زیادہ متاثرکیا ہو جس نے میرے ذہن پرمستقل اثرات چھوڑے ہوں وہ یاد نہیں پڑتی۔ میں علامہ اقبال سے بے حد متاثرہوں تھوڑابہت مولانامودودیؒ صاحب کوبھی پڑھا ہے۔ تحریک پاکستان اور قائد اعظم پراب تک جتنی اچھی کتابیں اندرون بیرون ملک چھپی ہیں تقریباً سبھی کومیں نے پڑھا اور کچھ میں جھانکا لیکن ایسی کوئی کتاب جس نے مجھے جھٹکا دیاہو یادنہیں پڑتی۔
ابتدامیں مجھے ابوالکلام آزاد کو استاد نے پڑھایا توظاہر ہے کہ ابوالکلام آزاد نے سکول کی عمر میں مجھے بہت متاثر کیا۔میٹرک کا امتحان دے کر چھٹیوں میں نسیم حجازی، پرم چند، منٹو اور دوسرے افسانہ نگاروں کو خوب پڑھا۔ ساتھ ہی ساتھ اقبال کی سوانح عمری پر اور سیرت النبیؐ پر بھی کتابیں پڑھتا رہا۔ 
میں ابتدامیں تو افسانے کاقاری تھا۔ یہ ایک لمبی فہرست ہے مثلاً قراۃ العین حیدر، راجندر سنگھ بیدی ،پریم چند کومیں نے میٹرک کے بعدپڑھا اس طرح منٹو، حاجرہ مسروراور خدیجہ مستور، احمدندیم قاسمی کوکالج کے دورمیں توجہ سے پڑھا۔ عصمت چغتائی کوبھی پڑھا لیکن ان افسانہ نگاروں میں مجھے جس شخص نے مجھے سب سے زیادہ متاثرکیا وہ سعادت حسن منٹوتھا۔لیکن ایک ایک افسانہ مجھے شاید سب کاہی یادہوگا۔مثلاً کرشن چند کا تائی اسیری، بیدی کا ایک طویل ’’اک چادر میلی سی‘‘ مجھے آج تک یادہے۔ احمدندیم قاسمی کا ایک افسانہ ’’سناٹا‘‘ اچھا لگا اشفاق احمد کا ’’گدڑیا‘‘ متاثر کر گیا لیکن اس دور میں جس افسانے نے متاثر کیا وہ تھا ’’اکھیاں میٹ کے سینا تکیا‘‘ میں یوں کہہ سکتا ہوں کہ جتنے افسانہ نگار قیام پاکستان سے لے کر 1970ء تک نمایاں ہوئے میں نے تقریباً ان سب کو پڑھا لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے سب کے افسانے پڑھے۔ 
شاعری میں اقبال نے فکری لحاظ سے بہت گہرا اثر ڈالا اورجدید شعرا میں فیض احمدفیض مجھے بہت پسند ہیں۔اسرار الحق مجازبہت پسند تھا، قاسمی صاحب کی شاعری کو بھی پڑھا ۔ قتیل شفائی اورساحر لدھیانوی کو بھی میں نے پڑھا اور خوب پڑھا نوجوانی میں ایک اسٹیج آتی ہے جب آپ کوساحر لدھیانوی بہت پسند ہوتا ہے ’’تلخیاں‘‘ ہم بڑے ذوق شوق سے پڑھا کرتے تھے لیکن جوشاعر میرے ساتھ ساری زندگی رہے وہ اقبال اورفیض ہیں اورجب سیاست کے حوالے سے پڑھتا ہوں توحبیب جالب بھی یاد آتا ہے۔
علاقائی زبانوں میں میں نے پنجابی میں صوفیانہ کلام پڑھا۔ میاں محمد بخش‘ سلطان باہو، بابا فرید اور بلھے شاہ شوق سے مطالعہ کیا اور ان سے خاصا متاثربھی ہوا ان صوفی شعراء کا بھی میرے مزاج پر گہرا اثرہے بابافرید اور سلطان باہوخاص طورپر۔ محسوس کرتاہوں کہ میرے لاشعور میں بلھے شاہ کے کلام کا بھی اثرہے میرے اندر روشنی کی ایک کرن پیداکرنے یابعداززندگی کوسمجھنے میں اور عشق مجازی یاعشق حقیقی کوسمجھنے میں ان کابہت اہم کردارہے۔ افسانوی ادب میں متاثر کرنے والا اشفاق احمدکاافسانہ گڈریا ہے جسے میں کبھی نہیں بھول سکا اُس میں ایک کردارتھا باؤجی ۔ اُس نے مجھے بہت متاثرکیا یہ اُن افسانوں میں سے ہے جنہوں نے میرے ذہن پر ٹیچر کی Dedication کے حوالے سے نقوش مرتب کیے۔ استاد کی Commitment کیاہونی چاہیے اس افسانے کو پڑھ کر سمجھ آتی ہے۔ 
گورنمنٹ کالج لاہور کے رسالے ’’راوی‘‘ کے صد سالہ اور ایک سو پچیس سالہ انتخابات کتابی صورت میں چھپ چکے ہیں۔ مجھے یہ اعزازحاصل ہے کہ طنزومزاح کے انتخاب میں بھی میرا مضمون شامل ہے اورافسانوں کے انتخاب میں بھی میراافسانہ شامل ہے۔ صد سالہ اور ایک سو پچیس سالہ انتخاب میں شامل ہونا ایک اعزاز ہے۔ 
طنزح ومزاح میں مشتاق احمد یوسفی کو پڑھا۔یلدرم کاایک مضمون مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ بہت اچھا لگا پھراُس کے بعدکرنل محمد خان کی جنگ آمد بجنگ آمد بہت اچھی لگتی ہے ۔ مشتاق یوسفی کی پہلی دوکتابیں چراغ تلے اور خاکم بدہن مجھے بہت اچھی لگیں ،شوکت تھانوی کالم نگاری کی حدتک ٹھیک تھے لیکن پطرس تو سرتاپا فطری مزاح ہے جو مجھے بے حد پسند ہے۔ پطرس کا مزاح کبھی باسی نہیں ہوتا۔ شفیق الرحمان صاحب کوبھی میں نے پڑھا کرنل محمد خان اورضمیر جعفری کے تو میں طویل عرصے تک ساتھ بھی رہا کسی زمانے میں کرنل محمدخان،ضمیر جعفری اورمیں نے مل کرراولپنڈی سے طنزومزاح کاایک بہت معیاری سہ ماہی رسالہ ’’اردو پنج‘‘ نکالتے تھے ’’اردو پنچ‘‘ میں اعلیٰ معیار کے مزاحیہ مضامین شامل ہواکرتے تھے کرنل محمدخان اپنے ذاتی تعلق کی بنیاد پرشفیق الرحمن سے اورمشتاق یوسفی سے اور باقی دوستوں سے بھی مضامین لینے میں کامیاب ہوجایا کرتے تھے طویل عرصے تک کرنل محمد خان ضمیر جعفری صفدر مسعود سلطان رشک اُس کے ایڈیٹررہے یہ رسالہ کئی برس تک چھپتا رہا۔ اُس زمانے میں اس کی دھوم تھی۔ شاعروں میں انور مسعود صاحب ہیں انعام الحق جاوید ہیں جو طنزیہ مزاحیہ شاعری کرتے ہیں مجھے پسند ہیں ضمیرجعفری صاحب کے بعض قطعات اوررباعیات زبان زدعام ہیں مجھے یاد بھی ہیں اور میں نے انہیں جعفری صاحب کی زبان سے سنا بھی ہے۔ 
کوئی ایک نہیں جس کا بہت اثر ہوا ہو میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ ہر لکھاری اپنے اپنے انداز کے مطابق کچھ نہ کچھ اثرات چھوڑتا چلاگیا۔
موجودہ کالم نگاروں میں مجھے جاویدچودھری، عطاالحق قاسمی اور عبدالقادر حسن پسندہیں باقی کالم نگاروں کے کالموں میں بھی روزانہ جھانکتا ہوں کہ یہ ایک مجبوری ہے عطاالحق قاسمی جب سیاست پرلکھتے ہیں تووہ مجھے اپیل نہیں کرتا۔ مجھے ان کا ادبی اور مزاحیہ کالم پسند آتا ہے۔ جب کہ جاوید چودھری کے کالم مجھے عام طورپراچھے لگتے ہیں۔ اخبارات میں تقریباً سارے ہی دیکھتا ہوں اورپھرانتخاب کرتاہوں کہ ان میں کن مضامین کوپڑھنا ہے۔
دوران سفربڑے لفظ کے پرنٹ والی کوئی ادبی کتاب اپنے ساتھ رکھتاہوں تاکہ عینک نہ لگانی پڑے،فلسفہ، ادب مذہبی کتاب زیادہ پسند آتی ہے زندگی میں کبھی کتاب کے بغیرمیں نے سفر نہیں کیا یہ الگ بات کہ بعض اوقات کتاب ساتھ تو رہی پڑھی نہ جا سکی۔ 
زمانہ طالب علمی میں حافظہ کی صورت یوں تھی کہ شعرپاس سے بھی گزرتا تومجھے یادہوجاتا تھا اب صورت یہ ہے کہ بعض شعرجومجھے بہت اچھے لگتے ہیںیاد نہیں رہتے۔منیرنیازی ،ناصرکاظمی کومیں بہت بڑاشاعر سمجھتا ہوں اب تک مجھے جتنے بھی شعریاد ہیں وہ تقریباً وہی ہیں جو جوانی تک میں نے پڑھے تھے، اب تو بعض اوقات کسی شعر کو لکھتے وقت تسلی کے لیے دیوان دیکھنا پڑتا ہے۔ جب سے میرا رجحان پاکستانیات کی طرف ہوا ہے اور یہ میرے قلب و ذہن کا حصہ بنا ہے۔ پاکستان کے بارے میں اکثر حوالے اور تاریخیں تقریباً 90فی صد یاد ہیں، چنانچہ اب شعرو شاعری اور ادب پیچھے رہ گئے ہیں اور صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ مجھے اپنے حافظہ سے یہ شکایت رہتی ہے کہ بہت سی چیزیں یادنہیں رہتیں۔ جوانی کے دور میں حفیظ جالندھری، پروفیسر منور، شورش کاشمیری، حمید جالندھری، مجیب الرحمن شامی، فتح محمد ملک، منور حسین یاد، صادق حسین، ڈاکٹر جمیل جالبی، داکٹر وحید قریشی، قیوم نظیر، اکرام رانا، محمد طفیل نقوش، ضمیر جعفری سے محفلیں رہتی تھیں لیکن وقت نے ان محفلوں کو ویران کر دیا۔ 
مطالعہ کے دوران نوٹس لینے کی عادت نہیں تھی۔ اب کچھ عرصے سے مجھے یہ شکایت شروع ہوئی ہے کہ میراحافظہ میراساتھ نہیں دیتا چنانچہ پچھلے سات آٹھ سال سے جو کتاب پڑھ رہا ہوتا ہوں اُس کے آخری Blank Page پر میں اپناانڈیکس بنانا شروع کردیتاہوں میں قلم سے لکھنا شروع کردیتا ہوں کہ فلاں صفحے پر یہ بات تحریر ہے یہ انڈکس سوالوں کے کام آتا ہے۔ 
ذاتی لائبریری میں کتابوں کی تعدادکبھی گنی نہیں ہے۔تقریباً 3چار سوکتابیں تو ایک لائبریری کو Donate کرچکا ہوں جن کے بارے میں میرا خیال تھا کہ اب ان کے حوالوں کی ضرورت نہیں رہی اور اب جومیرے پاس کتابیں ہیں یہ وہ کتابیں ہیں جومیرے مرنے کے بعدمیری اولاد کسی لائبریری کو Donate کر دے گی یا ردی میں بیچے گی لیکن نہیں میں اپنی لائبریری کو صدقہ جاریہ کے طور پر کسی لائبریری کے حوالے کروں گا تاکہ طلبہ اور ریسرچ سکالرز اس سے استفادہ کر سکیں۔ 
میرے بچے بچپن سے ہی میرے مطالعے میں شریک رہے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ میرے بچے چار میں سے تین ایسے ہیں جو ملکی معاملات میں بڑی گہری دل چسپی رکھتے ہیں چوتھا بچہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں گم ہو چکاہے۔ بچپن سے ان کے ساتھ میں باتیں Share کرتا رہا ہوں ان کوواقعات سناتا رہاہوں اور ان کے ذہنوں میں پاکستانیات کے نئے مستقل جگہ بناتا رہا ہوں۔ اُن میں ایک بیٹاتو اتنا Involve ہے کہ امریکہ میں رہنے کے باوجود بھی چاہتا ہے کہ پاکستانی سیاست میں کسی انقلابی پارٹی کوجوائن کرے۔ گزشتہ دنوں وہ تحریک انصاف کا سرگرم رکن تھا جو پیچھے ہٹ گیا۔ 
میراتجربہ یہ ہے کہ کتاب بڑی مہربان شے ہوتی ہے اس کوجوبھی اغواکرکے لے جائے یہ احتجاج نہیں کرتی یہ ایک دفعہ لائبریری سے نکل جائے تو عام طور پر واپس نہیں آتی میری کتابیں جولوگوں نے مستعارلیں وہ کبھی واپس نہیں کیں اوربعض دوست ایسے بھی ہیں جو وقتاً فوقتاً مجھے کہتے رہتے ہیں کہ تمہاری فلاں کتاب میں نے واپس کرنی ہے لیکن میرے بعض ایسے دوست بھی ہیں جن سے بعض اوقات میں نے کتاب لی اور اگر وہ کتاب میرے مضمون سے متعلق ہو تو میں کہہ دیتا ہوں کہ یہ تمہیں واپس نہیں ملے گی۔ 
مجھے تحریک پاکستان، قائد اعظم،اقبالیات اور پاکستان کی تاریخ وسیاست پرکتابوں کی تلاش رہتی ہے۔اُس میں بعض اوقات مجھے دقت اس لیے نہیں ہوتی کہ یہ ایسے موضوعات ہیں جن پر کتابیں پاکستانی مارکیٹ میں مل جاتی ہیں ورنہ امریکہ یا برطانیہ میں کسی دوست سے منگوالیتا ہوں۔تحریک پاکستان کے جذبے سے میری وابستگی کا یہ عالم ہے کہ میں جب حکومت پنجاب میں سیکرٹری اطلاعات و ثقافت (1986-89) تھا تو میں نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ تحریک پاکستان کے مجاہدوں، کارکنوں اور قائد اعظم کے سپاہیوں کی عزت افزائی اور پہچان کے لیے انہیں طلائی تمغے دینے اور ان کی دیکھ بھال کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ سلسلہ میں نے میاں نواز شریف کی سرپرستی میں 1987میں شروع کیا جس سے ملک بھر میں جوش و خروش پیدا ہوا۔ 1990 میں جناب غلام حیدر وائیں وزیر اعلیٰ بنے تو اسے ٹرسٹ کی حیثیت سے رجسٹر کروایا گیا اور وائیں صاحب نے اس ٹرسٹ کے لیے نہ ہی صرف عمارت تعمیر کروائی بلکہ فنڈز بھی دئیے۔ شکر الحمد للہ کہ سرکاری ملازمت کے دوران رزق حلال کھایا، اصولوں کی پاسداری کی اور حاکموں کی خوشامد سے دور رہا۔ اللہ کا شکر ہے کہ ذہن پر کسی زیادتی کا بوجھ نہیں اور سکون کی نیند سوتا ہوں۔ عمر بھر قومی و ملکی خدمت کو اولین ترجیح بنائے رکھا۔ نامور لکھاریوں کے ساتھ ساتھ صوفیا اور اولیا اکرام کی مجلسیں بھی نصیب ہوئیں۔ حکمرانوں سے لڑائیاں بھی ہوتی رہیں اور اس کی سزا بھی ملتی رہی لیکن میں نے ہمیشہ مشاہدہ اور تجربہ کیا کہ بچانے والا مارنے والے سے کہیں زیادہ طاقت ور ہے ورنہ جنرل ضیاء الحق، جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو میری تنقیدی تحریروں سے سیخ پا بھی رہے لیکن خواہش کے باوجود نوکری سے نہ نکال سکے کیوں کہ بچانے والا میرے ساتھ تھا۔ 
یہ ایک قدرتی بات ہے اس کوآپ ارتقائی عمل کہہ لیں جیسے جیسے آپ تحقیقی کتابیں پڑھتے ہیں اس سے آپ کی معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور آپ کے فہم و ادراک کی بھی تشکیل ہوتی ہے۔ بعض چیزوں کے بارے میں آپ کی رائے بہتر سے بہتر اوربعض چیزوں کے بارے میں آپ کے رائے بدل جاتی ہے مثلاً یہ ایک بڑی عجیب وغریب بات ہے اور میں اس کو کہہ دینامناسب سمجھتا ہوں۔اس بارے میں میری Controversies بھی چلتی رہتی ہیں۔مثلاً یہ کہ میں طویل عرصے تک قائداعظم کو مغربی طرز کی ماڈرن شخصیت سمجھتا رہا سیکولرقسم کی شخصیت لیکن بہت سی چیزیں پڑھنے اور مواد کے دریا میں اترنے کے بعد پتہ چلاکہ قائداعظم کے اندر ایک سچا مسلمان موجود تھا جس کی طرف ہماری نظربہت کم گئی ہے مجلس ترقی ادب نے قائداعظم کی تقاریر پرچارجلدیں شائع کی ہیں اگر آپ پڑھیں توآپ کواندازہ ہو گا کہ قائداعظم کی شخصیت کیاہے جب میں نے ان کی ذاتی زندگی کواندرسے جھانکا تومیری رائے ان کے بارے میں پہلے سے مزید بہترہوگئی ہے۔
ایسی کتابیں جن میں وطن عزیز پاکستان کے بارے میں مایوسی اورناامیدی پھیلائی گئی ہو وہ میری ناپسند کی فہرست میں آتی ہیں۔مثلاً طارق علی کی بعض کتابیں ایسی متعصب کتابیں جو 1971ء کی Tragedyکے بارے میں لکھی گئی ہیں۔ باقی مطالعہ کے لیے سیرۃ النبیؐ شبلی نعمانی اورسیدسلمان ندوی کی کتابیں مجھے بے حدپسند ہیں اورتفاسیرمیں تفہیم القرآن مجھے بہت پسند ہے۔ فلسفے اور سیاسیات اور پاکستانیات پر کتابیں شوق سے پڑھتا ہوں۔ دل میں ایک آواز تڑپتی رہتی ہے کہ مرنے سے قبل کوئی بڑی قومی خدمت کر جاؤں اور کسی ایسے صدقہ جاریہ کی بنیاد رکھ جاؤں جو بخشش اور روحانی بلندی کا ذریعہ بنے۔ اب تک اسی آرزو کی تکمیل کے لیے زندہ ہوں۔ دیکھئے خدا کو کیا منظور ہے کیوں کہ اس کی رضا کے بغیر ایسے کام نہیں ہو سکتے۔

مولانا محمد اسلم شیخوپوریؒ / مختلف کلامی تعبیرات کی حقیقت اور ان سے استفادہ کی گنجائش / قربانی کے ایام

محمد عمار خان ناصر

مولانا محمد اسلم شیخوپوریؒ

مولانا محمد اسلم شیخوپوری سے میرا پہلا تعارف ۔جو غائبانہ تھا اور آخر وقت تک بنیادی طور پر غائبانہ ہی رہا۔ ۹۰ء کی دہائی میں اپنے زمانہ طالب علمی کے اواخر میں ہوا جب ’’ندائے منبر ومحراب‘‘ کے عنوان سے ان کا سلسلہ خطبات منظر عام پر آنا شروع ہوا۔ مجھے تقریر وخطابت سے اور خاص طور پر اس کے مروجہ اسالیب سے طبعی طور پر کبھی مناسبت نہیں رہی، تاہم مولانا شیخوپوری کے سنجیدہ اور بامقصد انداز گفتگو کا ایک اچھا تاثر ذہن پر پڑنا یاد ہے۔ شاید اس زمانے میں اس سلسلے کی کچھ جلدیں بھی نظر سے گزری ہوں۔
۹۰ء کی دہائی میں ہی والد گرامی کے ساتھ پہلی مرتبہ کراچی جانا ہوا تو جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی کے دورے کے موقع پر مولانا شیخوپوری کی زیارت بھی ہوئی جو ان دنوں وہاں استاذ حدیث تھے اور غالباً صحیح مسلم کی تدریس کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا ’’مکتبہ حلیمیہ‘‘ کے نام سے کتابوں کی اشاعت کا بھی ایک چھوٹا سا نظم تھا اور وہ اپنی بعض مطبوعات وقتاً فوقتاً والد گرامی کی خدمت میں بھیجتے رہتے تھے۔ چند سال قبل والد گرامی ہی کی معیت میں کراچی کے ایک سفر میں ہم جامعۃ الرشید میں ٹھہرے اور مفتی ابو لبابہ شاہ منصور، مولانا سید عدنان کاکاخیل اور دیگر حضرات کی پرتکلف میزبانی کا لطف اٹھاتے رہے۔ حسن اتفاق سے ان دونوں مولانا شیخوپوری جامعۃ الرشید میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے تھے اور جامعہ ہی کے رہائشی کوارٹر میں مقیم تھے۔ ہمارے فاضل دوست مولانا احسان الحق تبسم بھی کئی سال سے یہیں تعلیم وتدریس میں مصروف ہیں۔ ایک موقع پر ان کی رہائش گاہ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں مولانا شیخوپوری سے بھی مختصر سلام دعا ہوئی جو (پیدائشی معذوری کے باعث) اس وقت وہیل چیئر پر مسجد کی طرف جا رہے تھے۔ 
ان دو مختصر ملاقاتوں کے علاوہ مولانا کے ساتھ کبھی تفصیلی ملاقات یا تبادلہ خیالات کا موقع میسر نہیں آیا، تاہم غائبانہ تعارف اور سلام وپیغام کا تعلق قائم تھا اور ایک آدھ دفعہ فون پر بھی ان سے بات ہوئی۔ دو تین سال قبل وہ خطبہ جمعہ کے لیے گوجرانوالہ میں کسی جگہ تشریف لائے تو ایک طالب علم کے ذریعے سے سلام بھیجا اور میرے مرتب کردہ خطبہ حجۃ الوداع کے متن کا نسخہ طلب فرمایا جو والد گرامی کے توضیحی محاضرات کے ساتھ الشریعہ اکادمی کی طرف سے شائع ہوا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ طبقہ علماء کی عام روایت کے برخلاف استحقاقاً نہیں بلکہ قیمتاً طلب فرمایا۔ 
مولانا کے مزاج اور طرز فکر میں ایک خاص بات یہ تھی کہ اکابر دیوبند کے منہج فکر سے پختہ وابستگی کے باوجود ان کے ہاں ’’مسلکیت‘‘ کا وہ سطحی انداز دکھائی نہیں دیتا تھا جس کا تناسب دیوبندی مکتب فکر میں اب خاصا بڑھتا جا رہا ہے، بلکہ طبقاتی ہمدردیاں حاصل کرنے کا سستا ترین نسخہ بنتا جا رہا ہے۔ مولانا شیخوپوری نے اپنی محنت کے لیے درس وتدریس اور عوامی اصلاح کا اور گزشتہ کئی سالوں سے درس قرآن اور مستقل اخباری کالم تحریر کرنے کا میدان منتخب کیا اور بڑے اعتدال اور توازن کے ساتھ دین کا پیغام مثبت انداز میں لوگوں تک پہنچاتے رہے۔
مولانا کے متوازن انداز فکر کا اندازہ دو مثالوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ چند سال قبل انھوں نے ’’درس صحیح مسلم‘‘ کے نام سے جناب مولانا محمد تقی عثمانی کی معروف عربی تصنیف ’’تکملہ فتح الملہم‘‘ کے مباحث کی اردو تلخیص مرتب کی۔ ہمارے ہاں مدارس میں درس حدیث عام طور پر فقہی معرکہ آرائیوں کا عنوان ہوتا ہے اور احناف ہوں یا اہل حدیث، اساتذہ کی تقاریر وتحقیقات کا مطمح نظر ہر حال میں احادیث کی رو سے اپنے فقہی مسلک کی ترجیح ثابت کرنا ہوتا ہے۔ مولانا تقی عثمانی کے ہاں یہ اسلوب نہیں ہے۔ مولانا کی درسی تقاریر کا مجموعہ ’’درس ترمذی‘‘ اس پہلو سے حدیث کے طلبہ کے لیے بہت مفید ہے اور خود میں نے زمانہ طالب علمی میں اس سے بے حد استفادہ کیا ہے۔ مولانا عثمانی کے ہاں وسعت ظرفی کے اس رجحان پر ’’ٹھیٹھ مسلکی‘‘ طبقوں میں زیادہ اطمینان نہیں پایا جاتا اور میں نے بعض حضرات کو یہ تک کہتے ہوئے سنا ہے کہ مولانا تقی عثمانی ’’مسلک کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ خیر، مولانا محمد اسلم شیخوپوری نے ’’درس صحیح مسلم‘‘ کے عنوان سے مولانا عثمانی کی تحقیقات کا ایک بڑا عمدہ اور جامع خلاصہ مرتب کیا تو اس کے مقدمے میں بڑی وضاحت سے لکھا کہ:
’’تکملہ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا خالص علمی اور تحقیقی انداز ہے جس میں مسلکی تعصب اور مناظرانہ حجت بازی کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔ الشیخ عثمانی مدظلہم نے کتاب کے مقدمہ میں اپنے والد ماجد مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع صاحب قدس سرہ کے حوالہ سے ایک جملہ لکھا ہے جو حقیقت میںآب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ انھوں نے طلباء کی ایک جماعت سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’تم اگر فقہی مذہب کے اعتبار سے حنفی بن جاؤ تو کوئی حرج نہیں، لیکن احادیث نبویہ کو حنفی بنانے کی کبھی کوشش نہ کرنا۔‘‘
حضرت مولف نے اپنے والد ماجد نور اللہ مرقدہ کی اس زریں نصیحت کو تکملہ کے ہر ہر باب میں ملحوظ رکھا ہے اور جہاں کہیں دلائل کے اعتبار سے کسی دوسرے امام کا مسلک قوی نظر آیا ہے توبلا چون وچرا اس کا اظہار کر دیا ہے اور اپنی حنفیت کو اظہار حق میں آڑے نہیں آنے دیا اور ایسا ایک دوجگہ نہیں، متعدد مسائل میں کیا ہے۔‘‘ (ص ۲۶)
مولانا کے علمی وتحقیقی مزاج اور فکری وسعت نظر کی دوسری مثال خود راقم الحروف کے خیالات ورجحانات سے تعلق رکھتی ہے۔ ۲۰۰۸ء میں ’’حدود وتعزیرات۔چند اہم مباحث‘‘ کے عنوان سے میری تصنیف منظر عام پر آئی تو میں نے بہت سے دوسرے اہل علم کے علاوہ مولانا شیخوپوری کو بھی اس کا ایک نسخہ بھجوایا۔ اس کتاب میں درج میرے بعض نتائج فکر کے حوالے سے بہت سے حضرات کے شدید رد عمل سے ’الشریعہ‘ کے قارئین بخوبی واقف ہیں۔ تاہم اس پوری فضا میں مولانا شیخوپوری کا تبصرہ حیرت انگیز طور پر بالکل مختلف تھا۔ انھوں نے کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد میرے نام ایک خط تحریر کیا جو ’الشریعہ‘ کے نومبر/دسمبر ۲۰۰۸ء کے شمارے میں چھپ چکا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس موقع پر اپنی تعریف کے پہلو سے نہیں، بلکہ مولانا مرحوم کے انداز نظر کی وسعت اور توازن کو واضح کرنے کے لیے اسے دوبارہ نقل کر دیا جائے۔ مولانا نے لکھا:
’’برادرم مولانا محمد عمار خان ناصر صاحب زید مجدہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کی وقیع اور قابل قدر علمی کاوش ’’حدود وتعزیرات‘‘ کے عنوان سے وصول ہوئی۔ اس کتاب کا ہر عنوان اور ہر صفحہ گواہی دیتا ہے کہ آپ نے اخذ واستنباط، محنت اور جستجو کا حق ادا کیا ہے۔ بڑا نازک موضوع تھا جس پر آپ نے قلم اٹھایا مگر مشکل مقامات سے جس طرح آپ دامن بچا کر نکلے ہیں، اس نے صغر سنی کے باوصف علمی حلقوں میں آپ کا قد بہت اونچا کر دیا ہے۔ ’’شاب شیخ‘‘ کی ترکیب بجا طو رپر آپ پر صادق آتی ہے۔ مخدوم ومحترم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم خوش نصیب ہیں کہ انھیں آپ جیسا ذہین وفطین اور مطالعہ کا شوقین فرزند عطا ہوا۔
یقیناًآپ کی تحقیق کے بعض نتائج سے اختلاف کیا جائے گا اور اختلاف کرنا بھی چاہیے کہ اختلاف رحمت ہے اور خوب سے خوب تر کو سامنے لانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اختلاف، اختلاف ہی رہے، ضد او رخلاف میں تبدیل نہ ہو جائے۔ امید ہے کہ آپ بھی دلائل کی بنیاد پر کیے جانے والے اختلاف کو خندہ پیشانی سے برداشت کریں گے اور اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ ظاہر نہیں کریں گے۔
دعا ہے کہ باری تعالیٰ شرور وفتن سے آپ کی حفاظت فرمائے اور آپ کے علم، قلم، زبان اور ذہنی صلاحیتوں سے امت مرحومہ کو بیش از بیش فائدہ پہنچے۔‘‘
مولانا نے میری تعریف میں جو الفاظ درج کیے ہیں، ان کی اہمیت میری نظر میں ثانوی ہے اور بدیہی طور پر وہ حقیقت واقعہ سے زیادہ مولانا کے حسن ظن اور علمی قدر افزائی کے جذبے کی غمازی کرتے ہیں، لیکن اس سے علمی وتحقیقی مباحث کے ضمن میں ان کا جو زاویہ نظر سامنے آتا ہے، وہ ان کے طبقے کے علما میں یقینی طو رپر ایک جنس نایاب ہے۔
مولانا محمد اسلم شیخوپوریؒ کا قتل اس سلسلہ کشت وخوں کی ایک تازہ کڑی ہے جو ہمارے ہاں مذہب، نسل اور قومیت کے نام پر ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔ کراچی میں یہ تمام عوامل یکجا ہیں، اس لیے یہ متعین کرنا مشکل ہے کہ مولانا کے قاتلوں کے نزدیک ان کا جرم سنی ہونا تھا یا دیوبندی یا پنجابی یا اعتدال پسند یا کچھ اور۔ پس منظر جو بھی ہو، نتیجہ بہرحال ایک ہی ہے کہ معاشرہ ایک جید، صاحب کردار، متوازن خیالات ورجحانات کے حامل اور نہایت موثر اور مثبت انداز میں دین کی دعوت وتبلیغ کا فریضہ انجام دینے والے ایک عالم دین سے محروم ہو گیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہم لاتحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ۔

مختلف کلامی تعبیرات کی حقیقت اور ان سے استفادہ کی گنجائش

ابو عثمان عمرو بن بحر بن محبوب الجاحظ (۱۶۳--۲۵۵ھ) دوسری/تیسری صدی ہجری کا ایک باکمال ادیب اور متکلم ہے۔ اس کا شمار معتزلہ کے ائمہ اور کبار میں ہوتا ہے، تاہم اس کی تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف نصوص کی اتباع اور عقل وقیاس کی رعایت کے مابین توازن کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے، بلکہ مختلف ذہنی وفکری سطحوں کی دینی ضروریات کے لحاظ سے اپنے اپنے دائرے میں معتزلہ اور متکلمین کے الگ الگ مناہج کی افادیت کا بھی معترف ہے، چنانچہ اس نے لکھا ہے کہ: لولا مکان المتکلمین لھلکت العوام من جمیع الامم ولولا مکان المعتزلۃ لھلکت العوام من جمیع النحل (کتاب الحیوان، ص ۷۵۲ وص ۷۹۳، طبع دار الکتاب العربی بیروت، ۲۰۰۸ء)۔ ’’اگر متکلمین نہ ہوتے تو تمام امتوں (یعنی مذاہب) سے تعلق رکھنے والے عوام (یعنی ان کا عقیدۂ وایمان) برباد ہو جاتا اور اگر معتزلہ نہ ہوتے تو (دائرۂ اسلام میں داخل) تمام مذہبی گروہ (یعنی ان کا عقیدۂ وایمان) تباہ ہو جاتا۔‘‘ جاحظ کی مراد یہ ہے کہ متکلمین کے ہاں نصوص سے قریب تر رہنے کے جس منہج کو ترجیح دی گئی ہے، اس میں عوام الناس کی ذہنی سطح کی زیادہ رعایت پائی جاتی ہے اور انھیں دین وایمان سے وابستہ رکھنے کے لیے یہی طریقہ مفید اور موثر ہے، لیکن ایک مختلف ذہنی سطح پر دینی حقائق پر غور وفکر سے مسلمانوں کے جو کلامی فرقے وجود میں آئے ہیں، ان کی تشفی متکلمین کے طریقے سے نہیں ہو سکتی اور ان کے لیے معتزلہ کا طریقہ ہی راہ نجات کا درجہ رکھتا ہے۔
کلامی نوعیت کے بیشتر اختلافات اور نزاعات کی اصل حقیقت یہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل علم دینی وعلمی مصالح کے تناظر میں بوقت ضرورت ایسی تعبیرات سے بھی استفادہ کرتے رہے ہیں جنھیں عام طو رپر ’اہل السنۃ‘ کے منہج سے ہٹا ہوا قرار دیا گیا ہے۔ مثال کے طو رپر قرآن مجید کے ’معجز‘ ہونے کا مطلب اہل سنت کے متکلمین کے نزدیک یہ ہے کہ یہ کلام اپنے اندر داخلی طور پر ایسے کمالات واوصاف رکھتا ہے کہ اس کی نظیر پیش کرنا کسی فرد بشر کے بس میں نہیں۔ اس کے برعکس معتزلہ کا مسلک یہ بیان کیا جاتا ہے کہ قرآن کے اعجاز کا تعلق داخلی اوصاف سے نہیں، بلکہ اس بات سے ہے کہ اگر کوئی انسان اس کی مثل کلام بنانے کی کوشش کرتا ہے تو فی نفسہ ممکن ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے اسے ایسا کرنے سے عاجز کر دیتے ہیں۔ امام رازی نے قرآن کی مختصر سورتوں میں اعجاز کا پہلو واضح کرتے ہوئے اسی تعبیر کی مدد لی ہے۔ ابن کثیرؒ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: 
وہذہ الطریقۃ وان لم تکن مرضیۃ لان القرآن فی نفسہ معجز لا یستطیع البشر معارضتہ کما قررنا الا انہا تصلح علی سبیل التنزل والمجادلۃ والمنافحۃ عن الحق (تفسیر ابن کثیر، البقرہ، آیت ۲۳، ۲۴)
’’اگرچہ یہ طریقہ پسندیدہ نہیں ہے، کیونکہ ہم واضح کر چکے ہیں کہ قرآن فی نفسہ معجز ہے اور انسانوں کے لیے اس کی نظیر پیش کرنا ممکن نہیں، تاہم برسبیل تنزل اور حق کا دفاع کرتے ہوئے اس طریقہ استدلال کو اختیار کرنا درست ہے۔‘‘ اسی طرح مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنے دروس ترمذی میں ایک جگہ فرمایا ہے کہ صفات باری تعالیٰ کے بارے میں سلف کا مسلک امرار علی الظاہر اور عدم تاویل تھا (بلکہ ایک خاص دور میں اسے راہ راست اور گمراہی کے مابین امتیاز کی حیثیت حاصل رہی ہے)، تاہم متاخرین نے تاویل کے طریقے کو عوام کی ذہنی سطح کے زیادہ قریب پاتے ہوئے مصلحت کی خاطر اسی مسلک کو اختیار کر لیا۔ 
مختلف ذہنی سطحوں اور ہر زمانہ کے خاص ذہنی معیارات کے لحاظ سے دینی حقائق ومسائل میں تعبیرات کا یہ تنوع اور اختلاف ہر دور کی دینی ضرورت رہا ہے اور رہے گا، اس لیے دینی علوم کے طلبہ اور اساتذہ کو ذمہ داری کے ساتھ یہ بات گہرائی میں جا کر سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ان کے ماحول میں ان کے ذہن وفکر کے لیے نامانوس جو دینی تعبیرات پیش کی جا رہی ہیں، ان میں سے کون سی فی الواقع کفر اور الحاد وزندقہ کے دائرے میں آتی ہیں اور کون سی ایسی ہیں جن کا اصل محرک دینی حقائق کو کسی خاص فکری وذہنی سطح کے لیے مانوس بنانا ہے اور جن سے ایک خاص دائرے میں استفادہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم

قربانی کے ایام

عید الاضحی کے موقع پر قربانی کے ایام کے ضمن میں جمہور فقہا کی رائے یہ ہے کہ یہ تین دنوں (یعنی دس، گیارہ اور بارہ ذی الحجہ ) میں ہی کی جا سکتی ہے، جبکہ چوتھے دن کی قربانی معتبر نہیں۔ امام مالک نے اس کی تائید میں سیدنا علی اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے اقوال نقل کیے ہیں (موطا، ۱۰۳۵، ۱۰۳۶) اور عام طور پر اس بحث میں انھی سے استدلال کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں امام ابن ابی شیبہ کی ’المصنف‘ کے مطالعہ کے دوران میں کتاب الحج میں ایک روایت نظر سے گزری جس میں یہی رائے زیادہ صریح الفاظ میں سیدنا عمر سے نقل کی گئی ہے۔ چونکہ ان کا یہ قول قربانی کے ابواب کے بجائے کتاب الحج میں ایک دوسرے مسئلے کے تحت ضمناً نقل ہوا ہے، اس لیے غالباً اہل علم کی اس طرف توجہ نہیں ہو سکی اور متداول علمی مآخذ میں مجھے اس بحث میں سیدنا عمر کے اس قول کا کوئی حوالہ دکھائی نہیں دیا۔ (البتہ برادرم مولانا عبد الجبار سلفی نے بتایا ہے کہ جناب علامہ خالد محمود نے اپنے کسی پرانے مضمون میں اس کا ذکر کیا ہے۔) یقیناًیہ ایک مسئلہ اجتہادی ہے اور کوئی واضح اور صریح نص نہ ہونے کی وجہ سے اس میں فقہا کے مابین اختلاف بھی واقع ہوا ہے، تاہم سیدنا عمر کا یہ قول ہمارے خیال میں ترجیحی دلائل میں ایک اہم دلیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ 
ماعز بن مالک یا مالک بن ماعز ثقفی کا بیان ہے کہ میرے والد اپنی اور اپنی اہلیہ اور بیٹی کی طرف سے قربانی کرنے کے لیے دو جانور ساتھ لے کر گئے جو ذی المجاز میں ان سے گم ہو گئے۔ جب یوم النحر آیا تو انھوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتائی۔ سیدنا عمر نے فرمایا کہ :
تربص الیوم وغدا وبعد غد فانما النحر فی ہذہ الثلاثۃ الایام (مصنف ابن ابی شیبہ، ۱۴۶۵۶) 
’’آج کا دن اور کل اور پرسوں کا دن انتظار کرو، کیونکہ قربانی انھی تین دنوں میں کی جاتی ہے۔ ‘‘

ہندوستان کی روایتی اسلامی فکر میں تاریخ اور قانونی معیاریت (۲)

ڈاکٹر ابراہیم موسٰی

ترجمہ: وارث مظہری
(قاری محمد طیب کے افکار کی روشنی میں اسلامی شریعت کا مطالعہ۔)

اجتہاد کی تشریحات

قاری طیب صاحب کی اجتہاد کی مجموعی تشریح میں تین متلازم عناصر ہیں: تقویٰ،علمیات اور تاریخ۔ ان تینوں زاویوں کو نظر انداز کرنے سے ان کے تصور اجتہاد کی غلط تفہیم اور ساتھ ہی ان چیزوں کے ان کے تصور کی تحریف ہو سکتی ہے۔ زمانۂ حال کے آزاد خیال تصور اجتہاد اوراخلاقیات کی تشریح و تعبیر میں مشکل ہی سے ایسی قواعد سازی یا قواعد کی تلاش کا سراغ ملے گا، جس کو تقویٰ اور فقیہ و عالم کے شخصی اخلاق کا پابند بنایا گیاہو۔ اس کے برعکس قاری صاحب نہ صرف اس زاویہ کو خاصی اہمیت دیتے ہیں بلکہ مذہبیات کی تعبیر کی اپنی گفتگو میں وہ اسے مرکزی مقام دیتے ہیں۔
آگے وہ اپنی گفتگومیں عالم تکوین میں نئی ایجادات و ممکنات کی تلاش کو بھی مرکزی خیال بناتے ہیں جوکتابِ فطرت ہے اور عالم تشریع بھی جوکہ کتابِ الٰہی ہے، اُسی کے مماثل ہے۔ پھراس مثلث کے تیسری ترکیبی جز پر یوں گفتگو کی گئی ہے کہ کیسے ہر انسانی قلب و روح پر الٰہی نقوش ظہور پذیر ہوتے ہیں جنہیں صوفیا لوحِ قلب سے موسوم کرتے ہیں۔(۳۸)

تقویٰ

قاری طیب صاحب بتاتے ہیں کہ وحی خدا کے فرستادوں کے لیے شخصی اوصاف کو شامل ہے اور اخلاقیات کا بڑاحصہ بقیہ انسانیت کو ان کے شخصی اوصاف سے ہی ملتا ہے۔اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے پیغمبروں نے خارجی و سائل سے تبھی کام لیا ہے جب داخلی طورپر ان کی شخصیتیں کامل اور پاکیزہ ہو گئیں اور روحانی طورپر بلند پیغمبروں کو واضح فائدے بھی ملے، کیونکہ لوگوں کو ان میں رشد و ہدایت کے رول ماڈل مل گئے۔ چونکہ خدا کے رسولوں کو روحانی اور اخلاقی کاملیت کا وہ درجہ ملا تھا جو عام لوگوں سے بہت ارفع تھا، لہٰذا انہیں اپنے پیرو کاروں کے لیے اخلاقی تعلیمات کا مفہوم بتانا آسان ہو گیا۔(۳۹)
دوسری طرف ان سے کم درجہ کے لوگ مثلاً علماء کو سب سے پہلے اخلاقی اور قانونی نظام کے ثانوی ضوابط اس علم کی روشنی میں تلاش کرنے پڑتے ہیں جوانہیں تعلیم و تحقیق کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے اور جب یہ طبقہ روحانی برکات اور تزکیۂ نفس و تصفیۂ قلب کے اعتبار سے ارتقاء کرتا ہے جیسے یہ تمام داخلی احوال جو احتسابِ نفس اور مراقبہ وغیرہ کی سخت محنت کے بعد حاصل ہوتے ہیں، وہ بھی بتدریج اخلاقی تعلیمات میں پنہاں اخلاقی اسباب اور تکوینی اسباب کے ابعاد دریافت کرنے لگتے ہیں۔ اس قسم کی روحانی تیاری ایسے علماء کو قیاسی ضابطے وضع کرنے اور اشباہ و نظائر کے صحیح اطلاق کے قابل بنا دیتی ہے۔انہیں اخلاص کا وہ درجہ ملتا ہے جس سے وہ اجتہاد کے اصول و ضوابط تلاش کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ ایمان و یقین اور علم و عمل سے نہ صرف ان کی ثقاہت بڑھتی ہے بلکہ رحمت خداوندی بھی ان پر مہربان ہوتی ہے۔(۴۰)یہاں قاری طیب صاحب اپنی تائید میں ایک حدیث بھی پیش کرتے ہیں کہ: من عمل بماعلم ورثہ اللہ علم ما لم یعلم’ جس نے اپنے علم پر عمل کیا تو اللہ تعالی اسے ایک ایسے علم کا وارث بناتا ہے جو اب تک اس کے پاس نہ تھا۔ (۴۱) متصوفانہ فقہی خطاب میں اخلاقی تشکیل کے لیے ایک لفظ جو اکثر استعمال ہوتا ہے وہ ذوق ہے جس کا لفظی مفہوم مزہ یا taste ہے، لیکن اصطلاحاً اس کا مفہوم ہے روحانی بصیرت اور الوہی اشیا کا علم۔ اس میں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ انسان کو اخلاقی و روحانی تربیت سے گزرنا ضروری ہے تاکہ وہ اخلاقی احساس کے تئیں ایک جمالیاتی حس کو ارتقا دے سکے جس کے ذریعے اسے باطنی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ یہ صلاحیت حاصل کر کے اب ایک فقیہ مزید علم حاصل کرتا ہے جس سے وہ ظاہری علم میں مطابقت دے سکے اور شریعت کے مجموعی مقصد یعنی سلامتی کے حصول کو پورا کرے۔
فقہاے مجتہدین جنھیں تقویٰ و پرہیزگاری کی یہ صفت ملی تھی اور انھوں نے قاری صاحب کے الفاظ میں، اس صلاحیت کو بہت بڑھا لیا تھا، انھیں اجازت تھی کہ وہ خود کو عطاکردہ علم لدنی کو کام میں لائیں۔ استدلال و قیاس کرتے وقت وہ فقہی حذر و احتیاط برتتے ہوئے اپنی اسی صلاحیت و موہبت کوکام میں لاتے تھے۔ شروع میں اس نظریہ کو پیش کرنے میں قاری صاحب بہت محتاط اسی وجہ سے تھے کہ اس سے وہ لوگ دور ہو جائیں گے جوان کے متصوفانہ خیال سے اتفاق نہیں رکھتے، پھر بھی قاری طیب صاحب متصوفانہ تقویٰ اور شرع کی اخلاقی ہدایات میں تطبیق دینے کی طرف بہت زیادہ مائل ہیں۔
متقی و پرہیزگار عالم کے اپنے قدسی علم کو استعمال کرنے کے پہلو کو واضح کرنے کے لیے وہ فقہ کے حنفی مکتبِ فکر کی طرف توجہ دلاتے ہیں جس کو عقلیت اور رائے کی طرف زیادہ مائل کہا جاتا رہا ہے۔ اس خیال سے اختلاف کرتے ہوئے انھوں نے اس پر نرم وشائستہ تنقیدیں کی ہیں۔ انھوں نے ناراضگی کے ساتھ کہا کہ محض وہ لوگ جو اخلاقیات کی پیچیدگیوں کو نہیں سمجھتے، وہی عالمانہ نظریات کو ’’ صرف مشابہت‘‘ قرار دینے کی جرأت کرتے ہیں یا ان کے پیروؤں کو ’’صاحب الرائے‘‘ کہنے کی جسارت کر سکتے ہیں۔حنفی مکتبِ فکر کے ناقدوں کی طرف سے یہ لفاظی اس لیے کی گئی کہ اس کے پیرو کاروں کو یہ الزام دیا جا سکے کہ وہ اصل شرعی مصادر سے کم اور عقلی رجحانات سے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
قاری صاحب شکایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو لوگ ایسی غلط تنقیدیں کرتے ہیں، وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ حقیقی فقیہ وہی ہو سکتا ہے جو عقلیت اور روحانیت دونوں کا امتزاج رکھتا ہو۔ یہ کہتے ہوئے واضح طورپر قاری صاحب کے ذہن میں سلفی مکتبِ فکر رہا ہے۔ انہوں نے بغیر کسی معذرت کے یوں اظہار خیال کیا ہے:
’’ فقیہ کبھی شاہد سے غائب کی طرف جاتا ہے جب کہ واضح جزئیہ سے اس کی مستور علت نکالتا ہے اور کبھی غائب سے شاہد کی طرف آتا ہے جبکہ کلیہ سے جزئیات کی طرف لوٹتا ہے اور یہ دونوں ایاب و ذہاب عوام اور عام علماء کی نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ اس لیے فقیہ مجتہد ان کی نگاہوں میں شریعت میں ذاتی رائے سے متصرف دکھائی دیتا ہے۔ کوئی نا سمجھی سے اسے از راہ طعن قیاس کہتا ہے اور کوئی صاحب الرائے وغیرہ، حالانکہ اس کی یہ رائے اور قیاس محض عقلی نہیں ہوتا اور نہ محض قوت فکر یہ کا ثمرہ ہوتا ہے کہ اُسے تصرف ذاتی کہا جائے، بلکہ اس ذوقی قوت کا ثمرہ ہوتا ہے جو شریعت ہی کے علم و مزاولت سے بطور تجربۂ صادق اُ س کے قلب میں من اللہ تعالیٰ القاء کی جاتی ہے۔ پس وہ تصرف خود شریعت ہی کا عینِ شریعت میں ہوتا ہے نہ کہ اس کا۔ مگر ہاں اس کا ظہور اسی کے ذریعہ ہوتا ہے جیسا کہ تمام شرائع سماویہ کا ظہور محض من اللہ ہے، مگر ہوتا ہے نبی کے ہی لسان و قلب پر۔اور یہ نہ طعن کی چیز ہے نہ حیرت و تعجب کی۔انبیا کے بعد امت میں محدَث بھی ہوتے ہیں جن کی خبر دی گئی، انبیاء کو لسان شریعت میں متکلم فرمایا گیا ہے اور غیر انبیا کو جو ان کشوف الٰہی اور علومِ تشریعی تک الہام کے ذریعہ پہنچائے جائیں اصطلاح شریعت میں محدَث کہا گیا ہے۔‘‘(۴۲)
شریعت کے اس صوفیانہ اورمتقیانہ تصور میں قاری صاحب علم کو الوہی اشراق سے وابستہ کر کے اسے بھی وحی کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ اگر کسی موقع پر متن کے ظاہری معنی میں علم لدنی تبدیلی کر دے تو قاری صاحب واضح طورپر اسے جواز دینے کا رجحان رکھتے ہیں۔ انہوں نے ایک حدیث بیان کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قرآن سات حرفوں (سبعۃ احرف )پر نازل ہوا ہے اور ہر آیت کاایک ظاہری معنی (ظہر) اور ایک باطنی معنی ( بطن) ہے۔ اور ہرحد کے لیے’’مطلع‘‘( جداگانہ طریقۂ اطلاع) ہے یعنی وہ متصوفانہ اور روحانی پہلو رکھتا ہے۔(۴۳)
یہاں تفسیری نکتہ ایک حقیقی منظر نامہ میں بدل جاتا ہے جہاں سے ہر چیز کامشاہدہ وضوح اور احساس کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔(۴۴) یہ بھی نوٹ کیا جانا چاہیے کہ فہم کی ایک مخصوص صفت بھی مجتہد کے ساتھ جڑی ہوئی ہے جو قاری طیب صاحب نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے لکھی ہے۔ فہم و استدلال کے ساتھ ہی ایک طرح الہام بھی مجتہد کے لیے ضروری ہے۔ جس کو الہامی بصیرت ہو، اُسے محدَث کہتے ہیں جسے فطرت نے اخلاق اور انسانیت کے لیے تسکین بخش تعلیم سے نوازا ہے۔(۴۵) 
مجتہد کے روحانیت اور مخصوص الہامی بصیرت سے متصف ہونے کا تصور صرف دیوبندی مکتب فکرکے ساتھ خاص نہیں، اگرچہ ان کے ہاں اس تصور کی زیادہ وضاحت ملتی ہے۔ چوتھی صدی ہجری کے فقیہ تقی الدین ابن تیمیہ نے بھی فہم و شعور کی تعریف کرتے ہوئے اسے روحانیت سے مربوط کیا ہے۔ (۴۶) روحانیت ایک تابناک چراغ ہے۔ شب تاریک میں ایک قندیل رہبانی ہے اور جس میں جتنی طاقت ور روشنی ہوگی اتنی ہی اس سے ماحول میں روشنی پھیلے گی۔ اسی طرح جن مومنین کو قلبی روشنی (الالہام القلبی) حاصل ہوتا ہے، وہ رہنما اصول نہ ملنے کی صورت میں بھی اپنے وجدان سے طے کر سکتے ہیں کہ سچائی کے ساتھ کیا چیز مطابقت رکھتی ہے جو قرآن کے مطابق بھی ہو؟
یہ وجدانی پیش قیاسی غلط اور باطل چیز کو رد کرنے کے سلسلے میں متنی بیانات(یعنی القول، العلم اور الظن) کے استناد کے متوازی ہے جنہیں ایک فقیہ اپنے کام میں استعمال کرتا ہے۔ پھر ابن تیمیہ محدث کی حیثیت رکھنے والے لوگوں کے فضائل بیان کرنے والی حدیثیں بیان کرتے ہیں۔ مثلاً حضرت عمرؓ بھی اُنہیں میں سے ایک ہیں۔ محدث کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ وہ الملہم المخاطب فی سرہ ہے(۴۷) یعنی ایسا شخص جس پر خدا کی طرف سے الہام ہو۔ خدا اس سے خطاب کرے۔

علمیات

قاری طیب صاحب ایک طرف تو مجتہد کی داخلی کاملیت اور تقویٰ کے مابین ،دوسری جانب علمیاتی اور استدلالی علوم کے مابین ایک واضح رابطہ دیکھتے ہیں۔ فی الحقیقت انھوں نے فقیہ کی روحانی معرفت اور روایتی و قیاسی علوم میں ایک جدلیاتی رشتہ استوار کرنے کی تجویز دی ہے۔ جس شخص کو بھی قیاس و استدلال سے دلچسپی ہو، اسے سب سے پہلے ’’روایت‘‘اور دینی علوم حاصل کرنے چاہئیں۔ دوسرے وہ درایت کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔(۴۸) 
علوم آلیہ ،مثلاً احادیث و آثار کی توثیق، متن کا استناد اور مختلف زمانوں میں ان کی روایت کے طریقے اور آخر میں ان کی تعبیر و تشریح، سب کے سب قاری صاحب کے نظریہ میں ، ایک بڑی خدائی اسکیم کا حصہ ہیں۔اگر وہ شخص جو تعلیم و تعلم اور روایت و تفسیر کے طریق کار سے وابستہ ہے، بزرگانہ فضائل سے محروم ہو تو یقینی طور پر وہ وحی کی ثقاہت کو مجروح کرے گا۔ شخصی تقویٰ ثقاہت کااشاریہ ہے اور معلومات کے مصادر کی کمی کو پورا کرتا ہے جو عمق اور وسعت اجتہاد کے لیے ضروری ہے۔ وہ کئی چیزوں سے متعلق ہے۔مثلاًمجتہد وحی کی تعبیر و تشریح میں اہم رول ادا کرتا ہے، پھر کتاب و سنت کی تعلیم کو احتیاط کے ساتھ قوم کو دیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں جو کام فقیہ کو کرنا ہے، وہ اسے تقدس و اعتبار بخشتا ہے۔ اس طرح فقیہ کے کاندھے پر جو ذمہ داری ہے، اسی لحاظ سے اس روایت کو آگے بڑھانے اور منتقل کرنے کے باعث اسے زبردست استناد بھی حاصل ہوتا ہے۔

تاریخ

قاری صاحب مجتہد کے کام کو ایک بڑے تاریخی فریم میں رکھتے ہیں۔ وہ مختلف حالات کو سمجھنے کے لیے انسانی اختلاف کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہاں اس میں فرق مراتب ہو سکتا ہے۔ پھر بھی ان کا احساس ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ جو زیادہ ذہین و فطین معلم ہو وہ بڑامجتہد بھی ہو: 
’’یہ امر بھی مخفی نہ رہنا چاہیے کہ اس تفاوت افہام کے سلسلہ میں ذہانت و نطانت کا ہر درجہ معتبر نہیں یعنی ہر فہیم مجتہدیا فقیہ نہیں کہلایا جائے گا بلکہ اس بارے میں فہم کا صرف وہی درجہ معتبر ہوگاجو معتد بہ ہو اور محض موہبت ربانی ہو، جو بطور علم لدنی قلبِ مجتہد میں القاء کیا گیا ہو۔ یعنی جس طرح کائنات خلق کے سلسلہ میں نہ ہر چھوٹے بڑے فہم کا آدمی موجد ہو سکتا ہے، باوجودیکہ ہر دور میں موجدوں کی بھرمار ہوتی ہے، بلکہ حق تعالیٰ کی حکمت جب کبھی تمدن کے کسی خاص پہلو میں ترقی دیکھنا پسند کرتی ہے تو قرنوں اور زمانوں میں چند مخصوص دماغ منتخب کر کے ان سے ایجاد کا کام لیتی ہے اور وہ تمدن کے ان گوشوں کو آراستہ کر دیتے ہیں جن کی زیبائش کی ضرورت تھی۔‘‘(۴۹)
قاری صاحب اپنے قاری کے ذہن میں اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں چھوڑتے کہ وہ تاریخ کے فہم کاایک خاص ادراک رکھتے ہیں۔ اس نکتہ کو مؤکد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: 
’’نہ ہر فہیم و ذہین مجتہد ہوسکتا ہے نہ ہر دور میں مجتہد پید ا ہوتے ہیں بلکہ حکمت ربانی تدین کے کسی مخفی گوشے کو نمایاں کرنا چاہتی ہے توخاص خاص ذہنیت کے افراد پید ا کرکے ان کے قلوب میں ذوق اجتہاد ڈالتی ہے اور وہ اپنے اس خاص وہبی ذوق سے تدین کے ان پہلووں کو واضح اور صاف کرکے اور گویا بال کی کھال نکال کر امت کے سامنے پیش کردیتے ہیں جن کے اظہارکی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ (۵۰) 
قاری صاحب کی تشریح دو محسوس اثر ڈالتی ہے۔ سب سے پہلے تو وہ یہ مان کر چلتے ہیں کہ انسانی امور میں غیب کا غیر محسوس ہاتھ کام کر رہاہے اور مخصوص وقتوں میں یہ ہاتھ مخصوص صلاحتیں، رجحانات اور ضرورتیں وضع کرتا ہے۔ یعنی ان کے خیال میں ایک خاص سماجی ارتقا کام کر رہا ہے۔ آدم اسمتھ کی غیر فطری بازگشت سے الگ، اس غیبی ہاتھ نے زندگی کے ہر مرحلہ میں مفاد عام کی چیزوں کو منضبط کیاہے اور ضروری چیزیں فراہم کی ہیں۔(۵۱) 
دوسرے پہلو میں قاری صاحب تاریخ کی تقسیم کی اہمیت کوظاہر کرتے ہیں۔ مسلم علما کی ہر نسل نے روایت کی تنقیح و توضیح میں مخصوص کردار ادا کیا۔ ان کے تصور کے مطابق ہر زمانہ کے لوگ مخصوص صلاحیت، مخصوص اوصاف اور کردار کے حامل ہوتے ہیں اور وہی غیبی ہاتھ ہر زمانہ میں ان کی دست گیری کرتا ہے۔ اسی وجہ سے محنت کی تقسیم مفاد عامہ اور زندگی کی ضرورتیں مادی ہوا کرتی ہیں۔
قاری طیب صاحب کے یہاں اسلام کے قانون اور اخلاقیات کی تشریح میں مادیت مرکزی مقام رکھتی ہے۔ وقت کا ایک خاص تصور ان کے فلسفۂ تاریخ کی بنیاد ہے۔ دوسرے الفاظ میں ان کا اصرار ہے کہ مختلف تاریخی زمانوں میں بنیادی عقلی اختلافات ہوتے ہیں اور ہر مخصوص زمانہ کے مخصوص اوصاف ہوتے ہیں۔ گویا وہ ہر زمانہ کو اس کا خاص ’’ڈی این اے‘‘ دیتے ہیں۔ اپنے وضع کردہ منظر نامے میں انھوں نے یہ فرض کیا ہے کہ ہر مخصوص قوم کو مخصوص زمانوں میں خاص احوال، امکانات اور صلاحیتیں عطا ہوتی ہیں جن سے وہ اپنے مختلف کام انجام دیتی ہے۔ کچھ وقتوں کے بعد ، جس کی انھوں نے کوئی تحدید نہیں کی، یہ صلاحتیں معدوم ہو جاتی ہیں اور اس کے زمانہ کے حسبِ حال اور صلاحتیں اور توانائیاں عطا کر دی جاتی ہیں۔
مثال کے طورپر و ہ یہ مانتے ہیں کہ شریعت کی روایت میں گزشتہ نسلوں نے کافی محنت کر دی ہے۔ خطابیات میں زبردست یاد داشت کو بہتر طریقہ پر استعمال کر لیا گیا جس سے عرب کے نوزائیدہ معاشرے کی سرگرمیوں کا ریکارڈ بعد والوں کے لیے محفوظ ہو گیا۔ اگر اس زمانہ میں غیر معمولی یاد داشت نہ ہوتی تو بہت ممکن تھا کہ اسلام کے بنیادی مصادر کا آزادانہ مطالعہ نہ کیا جا سکے، لیکن خدا کا کرنا تھا کہ کئی نسلوں تک یہ صلاحیتیں زبردست انداز میں رہیں، جن میں بعد میں انحطاط آیا، اس قسم کی ممتاز صفات تاریخ کے ایک خاص زمانہ تک ہی اپنی معنویت برقرار رکھتی ہیں۔
ارتقا کی اصطلاح کو استعمال کیے بغیر ہی قاری محمد طیب جوکچھ کہنا چاہتے ہیں بہت وضاحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ جب مخصوص صلاحیتیں مطلوب نہیں ہوتیں تو وہ سماجی ارتقا کے ساتھ ہی عموماً غائب ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح کا پیٹرن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے نقل و روایت اور تدوین میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تاریخی طورپر حدیث مصدقہ نقل و روایت اور ان کے بے شمار ثقہ راویوں کے سلسلہ کو کہتے ہیں۔ قاری صاحب کے خیال میں یہ علمی عمارت پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے۔ موجودہ زمانہ میں نقل و روایت کی نقد و تنقیح کی ضرورت بہت کم رہ گئی ہے؟ اس لیے کہ اس طرح کے کام کے لیے جو صلاحیت اور رجحان درکار ہے وہ اب نہیں پایا جاتا۔
اسی طرح شریعت کے وسیع خطوطِ کار کی درایت کا کام بھی ما قبل کی نسلیں انجام دے چکی ہیں۔ اس لیے بغیر حقیقی ضرورت اور وجہ جواز کے ان کاموں کو از سر نو کرنا ایک فضول کام ہوگا۔ حقیقت میں قاری صاحب اس سلسلہ میں ایک فطری دلیل پیش کرتے ہیں کہ انسان اب ارتقا پذیر ہو چکاہے اور عقیدہ کے اصیل بیانات کے فہم کی صلاحیتوں کا اظہار نہیں کرتا۔ مثال کے طورپر ابتدائی زمانہ کے مجتہدین نے فقہی واخلاقی نظام کے کلیات وضع کیے اور ان سے بے شمار حقائق حیات اور جزئیات نکالے۔ ممکن ہے ان کی اس بات پر زیادہ اطمینان نہ کیا جا سکے کہ اب اس طرح کے بڑے کام کی صلاحیت ہم میں نہیں ہے۔ انہوں نے مجرد مادی صلاحیتوں پر زور دیا اس میں یہ شک بڑھ جاتا ہے کہ گویا ڈائناسورس کی مانند مخصوص قسم کے کام اور صلاحیتیں اب ہم سے ’’ نیست و نابود‘‘ ہو چکی ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ قاری محمد طیب کے خیال میں نظریات، اعمال اور ضوابط پر اسی طرح غور و فکر کے ذریعہ جیسے قرون اول کے علما نے کیا، اجتہاد کرنابھی ایک بے کار کا عمل ہے۔ شروع کے مجتہدین نے پوری ذہانت کے ساتھ اصول و شرائع کی تفسیر و تشریح کا یہ کام انجام دے دیا ہے۔ ان کے خیال میں اس طرح کا کام پھر کرنے کا مطلب ہے ایک بے کار کام میں لگنا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہی فطری اصول ہے کہ جب ایک ہدف حاصل ہو جاتا ہے تو اس ہدف تک پہنچنے کے لیے ضروری توانائی بھی ختم ہوجاتی ہے۔(۵۲) حیرت کا مقام ہے کہ قاری طیب صاحب آج کے معلومات کے زمانہ کے بارے میں کیا کہتے جب سائنٹفک ایجادات و ترقیات نے نئے امکانات اور نئے مواقع کھول دیے ہیں جنہوں نے ماضی کے تمام تصورات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ کیااس انفارمیشن کے زمانہ کا اسلامی فکرکے ارتقا میں کوئی حصہ نہیں ہوگا؟ بنیادی طورپر ایک بالکل مختلف انداز میں کلاسیکل مسلم علما کے تصور سے جدا ہوگا؟
اگر قاری طیب صاحب کے خیالات کاتقابل انیسویں صدی کے تصورِ تاریخ سے کیا جائے جس میں ماضی کے تمام قدیم دینیاتی، ما بعد الطبعیاتی اور نظریاتی تصورات سے آزاد ہو کر ماضی کے مطالعہ کی خواہش پائی جاتی ہے تو ان کے خیالات کو بمشکل ہی اس تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ماضی کی نظریاتی فضا سے آزاد ہو کر اس کا مطالعہ توقع سے زیادہ چیلنج سے پُر ثابت ہوا۔ نظریہ کی تفہیم یوں کی گئی کہ وہ مخصوص ایمانیات اور ماضی کے معلومات کا ایک سیٹ ہے۔ طیب صاحب کی تھیوری نظریاتی پابندیوں سے آزاد نہ تھی، تاہم اس بارے میں وہ کوئی الگ تھیوری نہ تھی۔ تاریخی مطالعات بھی ،جیسے کہ ہائڈن وائٹ نے اشارہ کیا ہے، ایک پیچیدہ عقدہ کا شکار ہیں۔ (۵۳) ایک علم کے بطور تاریخ کو بھی ایک تھیوری کی ضرورت تھی۔ لیکن نظریہ میں دلچسپی لینے کا مطلب ہے کہ غیردلچسپ معلومات کے انبار کو بند کر دینا۔ اس مشکل کا حل ہسٹاریکل حقیقت کا تاریخی تناظر ہے۔ اس خیال نے تاریخیت کو دنیا میں وجود کے سماجی تشکل کی صورت دے دی ہے۔ تاریخیت نے دنیا میں ایک مخصوص سماجی تشکل کو بڑھایا ہے جس میں مادی تجربات کی کار فرمائی ہے ، مگر یہ تصور قاری طیب صاحب کے تصور سے یکسر مختلف ہے۔
رین ہارٹ کوسیلیک (Reinhart Koselleck) کے کام کی بنیاد پر ہائڈن وہائٹ تاریخی وقت اور فطری وقت کے ما بین ایک نقطۂ امتیاز کھینچنے میں کامیاب ہوئے۔ اس طرح وہائٹ کے نزدیک : تاریخ کے معنی کی تشریح ایک معاشرتی حقیقت کے بطور کی جا سکتی ہے جو تغیر پذیر ہے، لیکن اس طریقہ پر نہیں جس سے فطرت گزری ہے۔(۵۳) اس کے اختلاف ، تعدد معیار اور اجتہاد کے تباین الوان کے ذریعہ، اسی تعدد کے ساتھ وقت کی تاریخ وقت کی فطرت سے مختلف ہے۔لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ تاریخی، زمان انسانی عمل کے ذریعہ اور مقصدیت کے باعث متاثر ہو سکتاہے، فطری زمان نہیں ہو سکتا۔تاریخ بنائی اور بگاڑی جا سکتی ہے، اور یہ کہ تاریخی علم تصور کے مطابق ہوتا ہے بشرطیکہ سماجیات کے تصورات تجربات کو معتدل کریں اور مستقبل میں امید اور یقین کو جگائیں۔(۵۵) 
قاری صاحب کے اخلاقی فلسفہ میں مادیت کو جو مرکزیت حاصل ہے اس کو سمجھنے میں وائٹ کے خیالات سے مجھے کافی روشنی ملی، کیونکہ اگر قاری صاحب صاحب تاریخی زمان پر اتنا زیادہ زور دیتے ہیں تو اس لیے کہ انھوں نے مادیت کی جینیٹکس کو اسلام کی اخلاقی اور فقہی تاریخ میں مرتب کیا ہے۔ قاری طیب کے نظریہ میں افتراضی میلانات، احساسات سے لے کر روحانی توجیہات تک سب مختلف زمانوں میں بڑے پیمانہ پر مختلف ہوتے ہیں ۔ اگر یہ ماننے یا کہنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ قاری صاحب جان گوٹ فرائڈ وان ہرڈر(Johann Gottfried Von Herder) کے خیالات سے آگاہ تھے، تاہم پر اسرار طورپر اٹھارہویں صدی کے اس جرمن مفکر اور بیسویں صدی کے ہندوستانی عالم کے ما بین کسی قدر ہم آہنگی موجود ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں حضرات روایت کو اہمیت دیتے ہیں۔ ’’ہر ڈر‘‘ کا ایک اقتباس بھی اسی سے ہم آہنگ ہے۔ کانٹ(Kant) کے بارے میں لکھتے ہوئے ہرڈر نے لکھا ہے:
’’ حقیقت میں جو چیز بھی تغیر پذیر ہو وہ اپنے زمانہ میں اپنا ایک پیمانہ رکھتی ہے جو جاری رہتا ہے۔ دو دنیاوی چیزیں ایک زمانہ میں ایک ہی پیمانہ نہیں رکھ سکتیں..... لہٰذا (جرأت سے کہا جا سکتا ہے) کہ کائنات میں ایک مخصوص زمان میں بے شمار متعدد زمانے ہو سکتے ہیں۔‘‘(۵۶) 
جبکہ ہر ڈر کا مطلب زمان کے تعددی اور جزوی فطرت کا بیان تھا، پھر بھی اس نے ہر تغیر پذیر اشیا کو زمان سے جوڑ دیا ہے۔ ٹھیک اسی طرح قاری صاحب بھی کرتے ہیں کہ ان کے خیال میں بھی دو لمحے اور دو چیزیں بھی برابر اور یکساں نہیں ہوتیں۔ ہر ایک ممتاز ہوتی ہے۔ مادیت کا یہی تصور ہندوستانی فلسفی شاعر محمد اقبال نے بھی بیان کیا ہے۔
اپنے اس بیان کے دوران قاری محمد طیب نے تقریباً بے شعوری میں یہ بھی بتا دیا ہے کہ ایک مسلمہ روایت کیسے کام کرتی ہے۔ روایات فی الواقع بنیاد پرستی پر مبنی تنقید اور اعادہ کا شکار ہو سکتی ہیں اور اس اعادہ کو روکانہ جائے تو اس روایت کے معماروں نے جو بنیادی کام کیاہے، وہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہے اور اگر بنیادوں کو ہی متاثر ہونے دیا جائے تو یقیناًاس روایت کے استحکام کو نقصان پہنچے گا۔ قاری صاحب جدید مسلم مفکروں سے ناراضگی ظاہر کرتے اور اپنے مذکورہ خدشہ کا اظہار کرتے ہیں جواجتہاد کے دروازہ کو عقلی آزادی اور اسلام کی تشریحِ نو کے لیے کھولنا چاہتے ہیں۔وہ ان کا خاکہ اڑاتے ہوئے ایک وارننگ بھی دیتے ہیں کہ اجتہاد میں مصروف ہونے کا مطلب ہے کہ ماضی کے علما کے فکری ورثہ کو تباہ کرنا۔ اور اس سے بھی زیادہ خراب یہ کہ مسلمات کو برباد اور اسلام کی محرف شکل سامنے لانا ہے۔
ان کی شدید اخلاقی وابستگی کے ساتھ، ان سے اتفاق کیے بغیر، یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ کیوں قاری صاحب اپنے تصورِ روایت کو مخصوص و حدتوں میں فطرت سے ہم آہنگ (Naturalize)کرتے اور اسے مخصوص خصائص سے متصف قرار دیتے ہیں۔ فطری مادیت کو بیان کرنے کے بعد انہوں نے بعینہ وہی پیمانہ تاریخی مادیت کے لیے استعمال کیا ہے۔ زمانہ کی خصوصیت اور جو چیزیں اس میں پیش کی گئیں ، ان سے قاری صاحب فقہا ے مجتہدین کو ایک استثنائی رنگ میں پیش کرتے ہیں، کیونکہ ان کا زمانہ بے نظیر تھا جو غیب سے ظہور میں آیا، اور اس طرح کے حالات پھر کبھی پیش نہیں آئے۔ یہاں وہ اس’’فطری غلطی‘ میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ’’ کیاہے‘‘ سے ’’ کیا ہونا چاہیے‘‘ کو اخذ کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ چیزوں کوجس طرح انسان سمجھتا ہے، ویسے ہی انہیں ہونا چاہیے۔اس غلطی پر تعجب اس لیے نہیں کہ انہوں نے فطری زمان اور تاریخی زمان میں کوئی فرق نہیں کیا، دونوں کو یکساں قرار دے دیا۔ ان کے غور و فکر کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کچھ ذہنی کاوشیں اور سوالات ایسے ہوتے ہیں جن پر توجہ نہیں دی جانی چاہیے۔
اس طرح کے اجتہاد کی اگر ماضی میں کچھ نظیریں ملتی ہیں تو اب ان کو دہرایا جانا نہیں چاہیے۔ ایسا کیوں؟ ان نظائر کا اعادہ کیوں نہیں ہو سکتا؟ اس کا کوئی اطمینان بخش جواب قاری طیب کے پاس نہیں ہے۔ یہ بھی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ان کی تشریح علما کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے، جن کا کردار، اس صورت میں روایت کے شارحین کے بطور ناگزیر ہو جائے گا، یا یہ نہ بھی ہو تو کم از کم یہ کہا جا سکتاہے کہ انہوں نے اس بات کی کوشش کی کہ مدون فقہ کو جارحانہ اور بنیادووں کو ہلا ڈالنے والے سوالات سے بچایا جا سکے۔
قاری محمد طیب صاحبؒ نے اجتہاد کی صرف اس شکل کو روا رکھا ہے جسے وہ ’’ قرآن و سنت کے اسرار و مصالح کی جستجو اور دقائق کی تلاش‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں(۵۷) ۔ اس ضمن میں اجتہاد کا مطلب ہوگا ایسے ضوابط تشکیل دینا جن کے ذریعہ ہر زمانہ میں احکامات کا ایک معیار متعین کیا جا سکے اور مناسب اخلاقی اور قانونی فتوے دیے جا سکیں۔ اجتہاد کی دوسری قسم جس کی وہ اجازت دیتے ہیں، وہ ہے اسلام پر ہو رہے حملوں کا جواب دینا۔مدافعینِ اسلام کو نصوصِ شرع سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے جن میں قرآن و سنت کے ساتھ میں قدما کے اجتہادات بھی شامل ہیں، خاص طورپر وہ جنھیں مسلمہ روایت کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ یہاں انفرادی اجتہاد کو بڑھانے کے مقصد سے قاری محمد طیب دینیات میں جدت اور توافق کو بنظر استحسان دیکھتے ہیں اور اس طرح نئے جدت پسند اہم مسلم مفکرین مثلاً شبلی نعمانی اور محمد اقبال کے موقف کے وہ بہت قریب قریب پہنچ گئے ہیں۔(۵۸)

خلاصہ

قاری طیب صاحب مختلف علم کے ذریعہ مسلم معاشرہ کے اخلاقی دائرۂ عمل میں غیب کا ہاتھ کام کرتے دیکھتے ہیں۔ یوں تو ان کے بیانات میں ہر ڈر سے کئی مشابہتیں پائی جاتی ہیں پھر بھی یہ کہے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ ان کا بیان بھی معذرت خواہانہ ہے۔ قاری صاحب کے تصور میں مرکزی جگہ تاریخ کی ہے اور اس خیال کو قبول کیے بغیر ان کے تصورات کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے فطری زمان کو تاریخی زمان کے مترادف سمجھا ہے۔ ان کے نزدیک تاریخ زمان میں واقع ہوتی ہے اور فطری زمان اور تاریخی زمان بالکل ایک ہی چیز ہے۔انھوں نے دونوں کو مخلوط کر دیا ۔ انھوں نے جویہ خیال ظاہر کیا کہ تاریخ زمانہ کے ذریعہ ہی وقوع پذیر ہوتی ہے۔ یہ بات خود ایک جدید تصور ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ قاری صاحب کے اجتہاد کی تفہیم ان کے اور ان کی نسل کے ساتھ ہی قبر میں چلی جائے گی یا ان کے پیرو کار اسے مستقبل میں آگے بڑھانے کا کوئی لائحہ عمل ترتیب دیں گے، کم از کم سو سالوں کے لیے۔
ابن خلدون کے بارے میں لکھتے ہوئے بروس لار نس کہتے ہیں کہ پندرہویں صدی کے شمالی افریقہ کے اسکالر کی مختلف بات اس کی وہ دراکی تھی کہ وہ تصور کی دنیا میں اپنے ماحول سے آگے کی سوچ سکتا تھا اور معاصرین سے دور رہتے بھی ان سے متعلق تھا(۵۹)۔ اس تعبیر میں ’’مختلف ہونے‘‘ پر سارا زور ہے۔
قاری صاحب اور ان کے دیوبندی پیرو کار ایک مخصوص سماجی تصور کو عزیز رکھتے ہیں جسے میں نے یہاں پیش کرنے کی کوشش کی ہے، مجھے امید ہے کہ اس میں کامیاب ہوا ہوں۔اور یہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ کس زاویہ سے وہ کچھ سے جدا ہیں، تاہم کچھ معاصرین سے وابستہ بھی ہیں۔ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا قاری طیب صاحب اور ان کے پیرو مشرقی ایشیا میں ایک ایسے رجحان کی نمائندگی کرتے ہیں جو اجتہاد و تقلید کی مخلوط روایت پر مبنی ہے؟ اور اس طرح اصلاحِ مذہبی کا یہ رجحان مشرق وسطیٰ میں رائج جدید اصلاحی رجحانات اور طریقۂ کار سے ممتاز ہے؟ یا یہ بھی معذرت خواہانہ روایت پسندانہ دینیات کی ہی ایک قسم ہے جس کی معنویت پر آج سنجیدہ سوالات کھڑے ہو سکتے ہیں؟ میں فیصلہ کرنے میں جلد بازی سے کام لینا نہیں چاہتا۔ کیا ہم اسے ’’ روایت پسندانہ عجوبہ، سنکی ذہنیت، حسیت کہیں یا ذہانت‘‘۔ لارینس کا ایک بار پھر حوالہ دینا ان کی دلیل کی قوت سے انکار نہ ہوگا۔ (۶۰) لارینس کے خیال میں قاری طیب کی اس روحانیت آمیز روایت پسندی کو نہ صرف جدید مسلم تحریکیں چیلینج کر رہی ہیں بلکہ اسے انٹر نیٹ پر دستیاب عالمی سطح پر موجود مسلم اسکالروں سے بھی چیلنج کا سامنا ہے جو کہ ایک نیا ظاہرہ ہے(۶۱)۔لارینس لکھتے ہیں کہ: ’’انٹر نیٹ اس عہد میں اب اس سے زیادہ وسیع اختیارہو کر رہ گیا ہے جتنا کہ دو سو سال بلکہ دس سال پہلے تھا‘‘ اور اجتہاد جو صرف پہلے علما کا حق تھا، اب اس پر ’’ الیکٹرونک اجتہاد‘‘ کا تصرف ہے جو انٹر نیٹ کے ذریعہ ہو رہا ہے، جس میں عورتیں بھی شامل ہیں۔ جہاں آپ کی آواز بطور خاص سنی جا سکتی ہے۔ اس ’’ای میل اجتہاد‘‘ کا اثر کیا ہوگا یہ کہنا تو بڑا مشکل ہے تاہم کسی قدر تیقن کے ساتھ یہ پیش قیاسی کی جا سکتی ہے کہ انٹر نیٹ پر جو اجتہاد کیا جا رہاہے وہ زمانوں سے چلی آرہی مسلم روایت اور عمل پر ضرور اثر انداز ہوگا بالکل ایسے جیسے جدیدیت پسندوں کے دباؤ سے گزر کر یہ اجتہاد تبدیل ہوا ہے۔ ای میل اجتہاد کے کی حقیقت کے بارے میں ، ظاہر ہے قاری طیب صاحب اپنے وقت میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے چہ جائیکہ اس کا مقابلہ کرتے ۔
یہ واضح ہے کہ کم از کم اسلامی قدامت پسندی میں استدلالی روایت کا ایک رجحان اسلامی ہند میں ’’ اسلامی شریعت‘‘ یا قانون کو اس طورپر سمجھتا ہے کہ مادی احوال اور ہنگامی حالات کے لیے یہ نہیں ہے بلکہ یہ بہت قریب سے وجودیاتی یا موضوعی سوالوں سے وابستہ ہے۔ میری معلومات میں مشرقی ایشیا اور ایران کے روایتی اسکالرز اس روایت کی آخری علامت رہ گئے ہیں جہاں مذہبیت کے روحانی اور دینیاتی زاویوں کو بڑی احتیاط کے ساتھ قانونی خطاب کے ایک حصہ کے بطور اختیار کیا جاتا ہے۔ اوپر کی مثالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کس طرح قانون سازی کا عمل روحانیت سے گہرائی کے ساتھ پیوست ہے۔ یعنی ایک فقیہ اس تصور کے مطابق محض استدلالیت پر عامل نہیں ہوتا بلکہ وہ روحانیت اور تقویٰ سے بھی اثر پذیر ہوتا ہے۔
شیخ یعنی روحانی پیشوا کے رول کے سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے، عہد وسطیٰ کے ہندوستان میں، لارینس نے بھی مختصراً متقی فقہا کے کردار کو تقریباً اسی طرح ذکر کیا ہے جیسے قاری طیب کرتے ہیں کہ ’’ قوم میں مشائخ مخصوص زمانہ میں خدا کی مشیت کے ترجمان ہوتے ہیں۔ وہ قرآن اور سنت کی زندہ تقدیس ہوتے ہیں۔ وہ قصہ، کہانی، شعرو شاعری کے ذریعہ صحیح نکتۂ نظر اور حسن کردارپر زور دیتے ہیں۔ بعض اوقات روحانی مجاہدہ کی مشقت سے راحت دینے کے لیے بھی ان چیزوں کو کام میں لاتے ہیں۔ایک شیخ پرہیزگاری کا پیکر ہوتا ہے۔ علم و امید کی جوت جگاتاہے۔ وہ عبادت کرتا ہے ، تعلیم دیتا ہے اور تعلیم دیتا اور عبادت کرتا ہے‘‘(۶۲) ۔ مختصراً روحانی اور اخلاقی تشکیل روحانیت پسند فقہا کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے اور قانون سازی یا روزمرہ کی زندگی میں اخلاقی و روحانی قدروں کی رعایت بھی خدا کو اتنی ہی مطلوب ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ یہ کہنا زیادہ درست ہو سکتا ہے کہ قاری طیب صاحب کے خیال میں فقیہ قدرت کا آلہ کار ہے، اور اس معنی میں فقیہ کا رول پیغمبرانہ ہو جاتا ہے کیونکہ وہ وراثت نبوت کا حامل ہے اور خدائی الہام کا مخاطب (مُحدَث ) بھی۔

حوالہ جات وحواشی

۳۸۔ ایضاص، ۶۵ 
۳۹۔ ابوحامد محمد بن غزالی :کتاب التوحید والتوکل،احیاء علوم الدین(بیروت دارالکتب العلمیہ ۱۲۴۱ھ/۱۰۰۲ء)۴/۹۱۲ 
۴۰۔ طیب،ص،۲۵ 
۴۱۔ اخلاقیات میں باطنی یا سری علوم کے کردار کے لیے دیکھیے:محب اللہ ابن عبدالشکور،مسلم الثبوت فی اصول الفقہ۲/۱۰۴۔۲۰۴
۴۲۔ قاری طیب ص،۶۲ 
۴۳۔ ایضا ، ۷۲ 
۴۴۔ معطلہ کے بارے میں مطالعے کے لیے دیکھیے،
Louis Massignon/ Essay on the Origins of the Technical Language of Islamic Mysticism, trans. Benjamin Clark (Notre  Dame,Indiana:University of Notre Dame Press 1997) 95
۴۵۔ ۔پانوپٹیکن کا حوالہ فوکالٹ سے لیا گیا ہے جوجیرمی بنتھم کے ٹاور کا استعمال کیا ہے،جس سے جیل کے تمام قیدی اچھی طرح دیکھے جاسکتے تھے۔دیکھیے مائکل فوکالٹ: 
Discipline & Punish: The Birth of the Prison (trans.) Alan Sheridan (New York: Vintage Books, 1995),p.200
۴۶۔ قاری طیب ص، ۲۷ 
۴۷۔ تقی الدین احمد ابن تیمیہ ،ترتیب ،امیرالجزار اور انور الباز:معجم الفتاوی،( دار الوفاء۱۴۱۹ھ/ ۱۹۹۸منصورہ، مصر)۱۹/ ۲۹
۴۸۔ ایضا 
۴۹۔ قاری طیب ص، ۶۰ 
۵۰۔ ایضاص، ۴۰ 
۵۱۔ ایضا 
۵۲ ۔دلچسپ بات ہے کہ آدم اسمتھ نے ’’خفیہ ہاتھ‘‘ (invisible hand) کے لفظ کومختلف طریقوں سے استعمال کیا ہے۔ایک جگہ فلکیات کے تناظر میں تحقیر و مذمت کے معنی میں اس لفظ کو استعما ل کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ حتی کہ دورقدیم کے ناواقفوں نے بھی غیرمعمولی ترقیات کو مشتری کے خفیہ ہاتھ کی طرف منسوب نہیں کیا۔The Moral Sentiments میں اس کا استعمال خوشی کے ذرائع کی تقسیم کے حوالے سے ہواہے۔ اور In The Wealth of the Nations میں انہوں نے اس کا استعمال مفاد عامہ کے فروغ کے لیے کیاہے۔ دیکھیے: 
AdamSmith and D.D.Rapahel,Macfied,A.L.The Theory of Moral Sentiments (Indianapolis:Liberty Fund/Oxford Press,1984) p.184 esp.fn.7
۵۳۔ قاری طیب ص،۶۰ 
۵۴۔
 Hayden White, Foreword to Reinhart Koselleck, The Practice of Conceptual History: Timing History, Spacing Concepts (Stanford, CA: Stanford University Press, 2002), x.
۵۵۔
 Hayden White, Foreword to Ibid., xi. 
۵۶۔ ایضا 
۵۷۔
Reinhart Koselleck, Futures Past: On the Semantics of Historical Time, trans. Keith Tribe (Cambridge, Mass & London: The MIT Press,  1985), xxii. Also see Johann Gottfried Von Herder and Michael N. Forster (trans & ed.), Philosophical Writings (Cambridge:Cambridge  University Press,2002
۵۸۔ قاری طیب ص،۴۶
۵۹۔ دیکھیے: 
Mehr Afroz Murad, Intellectual Modernism of Shibli Nu`mani (Lahore: Institute of Islamic Culture, 1976); Muhammad Khalid Mas`ud, Iqbal146s Reconstruction of Ijtihad (Lahore: Iqbal Academy Pakistan, 2003).
۶۰۔
 Bruce B. Lawrence, "Introduction to the 2005 Edition," in The Muqaddimah, ed. Franz Rosenthal and N.J. Dawood (Princeton & Oxford: Princeton University Press, 2005),p. viii.
۶۱ ۔ایضا 
۶۲۔
Miriam Cooke and Bruce B. Lawrence, Introduction "In Muslim Networks from Hajj to Hip Hop".

سر سید احمد خان کی سیاسی فکر اور اس کے نتائج و اثرات ۔ ایک تنقیدی جائزہ

کے ایم اعظم

برصغیر ہند و پاکستان کے مسلمانوں کی صد سالہ سیاست (۵۳۸۱ء تا ۷۴۹۱ء) پر دو اشخاص مکمل طور پر چھائے ہوئے ہیں۔ ایک ہیں لارڈ تھامس میکالے (۰۰۸۱۔۹۵۸۱) اور دوسرے ہیں سر سید احمد خان (۷۱۸۱۔۸۹۸۱)۔ جب انگریز کانگریس کے ذریعے ہندوؤں پر غلبہ پانے میں ناکام رہ گئے تو اُن کی توجہ ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف مبذول ہو گئی۔ مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرنے میں سر سید احمد خان نے انگریزوں کا ہاتھ خوب بٹایا۔ انہوں نے مسلمانوں کو ہندوؤں کے اثر و رسوخ سے نکالنے کے لیے دو قومی نظریہ پیش کیا۔ سر سید احمد خان کے فلسفہ اور ان کی مسلسل جدوجہد نے ہندی مسلمانوں کو سیاسی آزادی تو دلوا دی مگر انہیں انگریزوں کا ذہنی غلام بنا دیا۔ اُنہوں نے یہ پروگرام ایسی مضبوط لائنوں پر استوار کیا کہ ہم آج تک فرنگیوں کی ذہنی غلامی سے نہ نکل پائے۔ 
لارڈ میکالے نے ہندوستان میں چار سال (۴۳۸۱ تا ۸۳۸۱) قیام کیا۔ اپنے اس قیام کے بعد جب وہ برطانیہ واپس پہنچا تو اُس نے ہاؤس آف لارڈز میں ۲ فروری ۵۳۸۱ء کو یہ تقریر کی:۔
’’میں نے ہندوستان کے شمال سے جنوب تک اور مشرق سے مغرب تک پالکی میں بیٹھ کر سفر کیا ہے۔ اس سفر کے دوران مجھے سارے ہندوستان میں نہ تو کوئی فقیر ملا اور نہ ہی کوئی چور۔ میں نے ہندوستان کے مال و دولت اور اس کے باشندوں کی بے پناہ قابلیت اور اعلیٰ اخلاق کا مشاہدہ کیا۔ میرے خیال میں ہم اس ملک کو کبھی بھی فتح نہ کر سکیں گے۔ اگر ہم نے اس ملک کو فتح کرنا ہے تو ہمیں اس کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑنا پڑے گا جو کہ اس کا روحانی اور ثقافتی ورثہ ہے۔ چنانچہ میرا مشورہ یہ ہو گا کہ ہم ان کے قدیم نظام تعلیم اور تمدن کو کلی طور پر بدل دیں۔ یہاں تک کہ ہندوستانی یہ محسوس کرنے لگیں کہ غیر ملکیوں کی ثقافت اور اُن کی انگریزی زبان ہماری ثقافت اور زبان سے بہتر ہے۔ اس طرح وہ اپنا وقار، عزت نفس اور ثقافت کو کھو دیں گے۔ جب یہ ہو گا تو ہم اُن کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ڈھال لیں گے اور وہ حقیقتاً ایک غلام قوم بن جائے گی۔‘‘
فرنگیوں کے اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سر سید احمد خان نے ایک بے مثل کردار ادا کیا جس کا اندازہ آپ اُن کے ان خیالات سے لگا سکتے ہیں۔ مندرجہ بالا لارڈ میکالے کی تقریر کے فقط ۴۳ سال بعد سر سید احمد خان علی گڑھ کی سائنٹیفک سوسائٹی کے سیکرٹری کو لنڈن سے اپنے خط مورخہ ۵۱ اکتوبر ۹۶۸۱ء میں رقمطراز ہیں:۔
’’انگریزوں کی خوشامد کئے بغیر، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہندوستان کے باشندے خواہ ان کا تعلق اونچے درجے سے ہو یا نچلے درجے سے، سوداگر اور چھوٹے دوکاندار، پڑھے لکھے اور اَن پڑھ جب اُن کا موازنہ انگریزوں سے اُن کی تعلیم، اخلاق اور حق گوئی میں کریں تو انگریزوں کی قابلیت اور وجاہت کے مقابلے میں ہندوستانیوں کی حالت ایسے ہے جیسے ایک گندے جانور کی۔‘‘ 
یقین نہیں آتا کہ ہندوستانی قوم صرف ۴۳ سال میں گندگی کے جوہڑ میں گر جائے گی۔ ۵۳۸۱ء میں تو لارڈ میکالے ہندوستانیوں کو ایک نہایت اعلیٰ و ارفع قوم گردانتا ہے جبکہ ہمارے اپنے ممدوح سر سید احمد خان ۹۶۸۱ء میں ان پر ذلت اور خواری کا لیبل لگا رہے ہیں۔ سر سید احمد نے اگر کوئی سیاسی سبق دیا تھا تو وہ یہ تھا کہ مسلمان ہند اپنی زبان اور عمل سے انگریز حکمرانوں کو یہ یقین دلا دیں کہ وہ اُن کی وفادار رعیت ہیں۔ سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو انگریزوں کے اطاعت کا سبق دیا۔ اُنہوں نے ہندی مسلمانوں کو نصیحت کی کہ وہ نوکریوں اور مراعات کے لیے انگریزوں سے التجا کریں، بطور حق نہ مانگیں، جیسے اُن کی زندگی کا مقصد بس ان قلیل مادی مراعات کے سوا اور کچھ بھی نہ ہو۔ سر سید کو انگریزوں اور انگریزی زبان سے اس قدر محبت تھی کہ وہ اپنے سب بچوں کے نام بھی انگریزوں کے ناموں پر رکھنا چاہتے تھے۔ اُن کو افسوس یہ تھا کہ وہ فقط اپنے ایک پوتے، سر راس مسعود، کو ہی انگریزی نام دے سکے۔ 
حکومت برطانیہ کے سرکاری ریکارڈ پر ایک نظر ڈالنے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ہندوستان میں انگریز حکمرانوں کی پالیسی ’’تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو‘‘ پر مبنی تھی۔ وزیر ہند‘ چارلس ووڈ گورنر جنرل‘ لارڈ ایلگلن کو رقمطراز ہیں کہ ’’ہندوستان میں ہماری طاقت کا راز ایک حصے کو دوسرے حصے سے لڑانے میں ہے۔ چنانچہ ہمیں اس حکمت عملی پر قائم رہنا چاہئے۔ تمہیں اپنا پورا زور اس بات پر لگا دینا چاہئے کہ ہندوستانیوں میں کوئی مشترکہ عوامی جذبہ نہ ابھرنے پائے۔‘‘ وزیر ہند جارج ہیملٹن گورنر جنرل لارڈ کرزن کو اپنے 26 مارچ 1886ء مراسلہ میں یہ مشورہ دیتے ہیں ’’کہ تعلیمی درسی کتب اس طرح سے ترتیب دی جائیں کہ وہ دونوں قوموں میں اختلافات کو اجاگر کریں‘‘۔ یہی انگریز حکمرانوں کا تاریخ ہند کو مسخ کرنے کا طریق کار تھا جس میں انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کو دو متحارب کیمپوں میں بانٹ دیا جن کے درمیان کوئی بھی شے مشترک نہ تھی۔ ان کی اسی تقسیم نے بعد میں دو قومی نظریہ کے لیے راستہ صاف کیا۔
یہودی نژاد وائسرائے ہند، لارڈ ریڈنگ وزیر ہند کو اپنے 21 ستمبر 1922ء کے مراسلہ میں رقمطراز ہیں کہ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مکمل تفرقہ ڈالنے میں قریب قریب کامیاب ہو گئے ہیں اور اس مقصد کو حاصل کرنے میں اُنہیں سر محمد شفیع کی بھرپور اعانت حاصل ہے، جو کہ ایک باوقار مسلمان ہیں۔ بے شک ہندو گماشتے بھی ایسی خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ بالآخر برطانوی استعمار اپنی سازش میں پوری طرح کامیاب ہو گیا۔ ہندو مسلم اتحاد قصہ پارینہ بن گیا۔ ہندو مسلم فسادات جگہ جگہ پھوٹ پڑے اور فرقہ وارانہ کشیدگیاں نفرت کے قالب میں ڈھل گئیں۔ بے شک ایک استعماری حکومت ایک محکوم ملک کے اندرونی اتحاد کی خواہشمند نہیں ہو سکتی۔
مقام حیرت ہے کہ کس طرح دس کروڑ جنگجو‘ جہادی مسلمانوں پر مشتمل قوم‘ جس نے آٹھ سو سال تک ہندوستان پر بلا خوف اور بلا شرکت غیرے حکومت کی تھی یکدم ایک خوفزدہ اقلیت میں تبدیل ہو کے رہ گئی۔ بے شک مسلمان ہندوستان میں ایک اقلیت تھے مگر وہ ایک کمزور اقلیت نہ تھے اور ہندوستان کے مارشل شمالی صوبہ جات میں اکثریت میں تھے اور ان کی حیثیت ہندوستانی فوج اور پولیس میں ریڑھ کی ہڈی کی سی تھی۔ کتنی درد ناک بات ہے کہ آج تک ہم سر سید احمد خان کی دی ہوئی عقلی و مادہ پرستانہ تعلیمات کو نہیں بھولے۔ یہ اُنہی کی تعلیمات کا ہی اثر تھا کہ ہم نے اپنی تحریک آزادی کی جدوجہد کی زمام بھی فرنگی پرست اشرافیہ کے طبقے کے حوالے کر دی‘ جو آج تک ہم پر مسلط ہیں اور ہم قیادت کی شمع اصحاب علم و فہم کے حوالے نہیں کر پائے۔
محترم ڈاکٹر اسرار احمد کے بقول ہندوؤں کی عددی اکثریت کا خوف ہی مطالبہ پاکستان کی بنیادی وجہ تھی‘ جبکہ اسلام کے نعروں کی ضروری مگر ثانوی حیثیت تھی۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا پاکستان کی بقا ہندوؤں کے خوف اور نفرت اور اسلام کے نعروں پر ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ آج کل نفاذ اسلام کے بلند بانگ نعرے بلند کرنے والے تقریباً سارے کے سارے علما قیام پاکستان کے مخالف تھے۔ سوال یہ سر اٹھاتا ہے کہ اگر ہندو کا خوف ہی تخلیق پاکستان کی بنیادی وجہ تھا تو پھر مسلمانوں کی ایک کمزور اقلیت کو ہندو اکثریت کے رحم و کرم پر چھوڑنا کہاں کی عقل مندی تھی۔ اسلام کی ابدی حکمت نفرت پر نہیں‘ عالمگیر اخوت انسانی اور محبت کی فراوانی پر مبنی ہے۔
یہی مقصود فطرت ہے‘ یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری‘ محبت کی فراوانی
(بانگ درا)
افغانستان میں وسیع علاقوں پر اتنا لمبا عرصہ قائم رہنے والے قتل و غارت اور دنگا و فساد کے بعد جب ۲۰۰۲ء میں کابل میں لوی60ہ جرگہ منعقد ہوا تو افغان قائدین نے یہ سوال اٹھایا کہ ہمارے ہیرو کون ہیں؟ بے شک ایک زندہ قوم کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ اُن کے ہیرو کون ہیں۔ جہاں تک ہمارا اپنا تعلق ہے ہم حقیقت کو پانے سے قاصر رہ جاتے ہیں کیونکہ ہمارا رویہ ظاہر پرستی اور گہرائی میں نہ جانے کا ہے۔ چنانچہ قومی سطح پر ہمیں اپنے ہیروز کا صحیح شعور نہیں ہوتا۔ سر سید احمد خان نے دو قومی نظریہ پر مسلمانوں کو اکٹھا کیا اور پھر ان کے نئے ملک کو چلانے کے لیے علی گڑھ کے ذریعے ایک بیوروکریسی کا بھی بندوبست کر دیا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے بیوروکریٹ عموماً سر سید احمد کے مداح ہیں جبکہ اسلام کی طرف مائل عوام انہیں اچھا نہیں سمجھتے۔
قومی اصلاح کے لیے ہمارے ہم وطنوں کے اٹھائے ہوئے پرعزم اقدام بار بار زمینی حقائق کی سنگلاخ چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو چکے ہیں۔موجودہ حالات میں ایک عام شہری کو شدید پریشانیوں کا سامنا ہے اور وہ بے بسی کے عالم میں کسی نجات دہندہ ، مہدی یامسیحا کے ظہور کا منتظر ہے۔ عسکری قیادت کی لائی ہوئی تبدیلیوں کا پراشتیاق استقبال کرنے کے بعد عوام ہر بار انقلاب کے ظہور سے ناامید ہو کر دل شکستگی اور نفسیاتی پژمردگی کاشکار ہورہے ہیں اور اب تو یہ خطرہ بھی لاحق ہوگیا ہے کہ کہیں وہ پاکستان سے ہی مایوس نہ ہو جائیں۔
ملک کے اکابرین اور دانشور استحکام پاکستان کے لیے متنوع انواع کی تجویزات اور لائحہ عمل تشکیل کر رہے ہیں۔ آج کل ان میں ایک ہیجانی کیفیت پائی جاتی ہے۔ شاید اس لیے کہ مسائل گمبھیر ہیں اور وقت بہت کم۔ بے شک ان کی یہ کوششیں قابل تحسین ہیں مگر ان سب میں ایک ہی کمی پائی جاتی ہے اور وہ ہے کہ ہمارے سب مصلحین کی توجہ فروعی مسائل اور زمینی مشکلات پر مرکوز رہتی ہے، جبکہ حقیقی مسائل پر کوئی توجہ صرف نہیں کی جاتی۔ شاید اس بنیادی غلطی کی وجہ سے قومی اصلاح کا کوئی لائحہ عمل متوقع نتائج برآمد کرنے سے قاصر رہ جاتا ہے۔ بقول حضرت سعدیؒ 
خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
ہماری قوم تعبیر کی دوبنیادی غلطیوں کی وجہ سے پریشان حال ہے اور اسے مسلسل کوشش کے باوجود قومی انحطاط کا کوئی حل نظر نہیں آرہا۔ پہلی تعبیر کی غلطی ہمارے ممدوح سر سید احمد خان سے ہوئی جب انہوں نے قوم رسول ہاشمی کی ترکیب کو اقوام مغرب پر قیاس کرکے اسے زوال سے نکالنے کا جو طریق کار مادہ پرستی ، ملازمتوں کے حصول اور انگریزوں کی رضا جوئی کی شکل میں پیش کیا وہ دور اندیشی اورتاریخ کے عمیق فہم پر مبنی نہ تھا۔
سرسید اور ان کے معاونین کی نیت پر شبہ نہیں کیاجاسکتا لیکن ان کی تحریک کامہلک نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانان ہند اپنے شاندار اور محترم ماضی سے آہستہ آہستہ دور ہوگئے ۔ سرسید احمد کی تعبیر کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے اسباب زوال کی بنیادی حقیقت ، وہن (یعنی دنیا کی محبت اور موت کا ڈر) کو نظر انداز کرکے قوم کی مادی منفعتوں کو مطلوب و مقصود بنالیا اور ان منفعتوں سے عارضی محرومی کو زوال کا حقیقی سبب جان لیا ۔ بے شک ایسے انداز فکر سے مستقل قومی فلا ح کی امید رکھنا خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ سرسید احمد اور ان کے رفقاء کی تربیت یافتہ نسل نے مسلمان ہند کی علمی ، فکری، روحانی اور تمدنی زندگی کی مقتدر روایات کو درخود اعتنا نہ سمجھا بلکہ مادی زندگی کی آسائشوں کو ملی زندگی کے اس قابل قدر تسلسل پر ترجیح دی۔ ان کے نزدیک بقول اکبر الہ آبادی زندگی کی معراج کلر کی کرنے ، ڈبل روٹی کھانے اور خوشی سے پھول جانے میں تھی۔
علی گڑھ نے حالی ، شبلی اورنذیر احمد جیسی نابغہ روزگار شخصیات تو کیا پیدا کرنی تھیں، وہ ان اکابرین کی قائم کردہ روایت کو آگے بڑھانے والے حضرات بھی وجود میں نہ لاسکا۔ ایک اجنبی زبان کے ذریعے تعلیم و تدریس کے فیصلے نے برصغیر کے باشندوں کو ذہنی مرعوبیت اور مغلوبیت کا شکار کرکے ان کی تربیت کے سلسلے میں بڑی حد تک منفی کردار ادا کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قوم کا ایک فعال حصہ اپنی شاندار تاریخی روایات سے بے تعلق اور متنفر ہوگیا۔ علی گڑھ تحریک کی ابتداء جس اصلاحی جوش وخروش اور ترقی کے ولولہ سے ہوئی تھی وہ آہستہ آہستہ ظاہری چمک دمک ، دنیوی کامیابی اور زمانہ سازی کے جذبے کے نیچے دبتا چلا گیا۔ علی گڑھ کی تربیت یافتہ نسل نے اسلام کو بھی انگریزی مصنفوں کی کتابوں کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے ایک ناقص فہمِ دین اور تصوف سے دشمنی ہی اُن کے حصے میں آئیں۔
قوم ابھی اس ضرب شدید سے سنبھلنے نہ پائی تھی کہ ہمارے دینی زعما نے تعبیر کی ایک دوسری دور رس غلطی کر دی۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں ہمارے آباؤاجداد اور سیاسی و دینی رہنماؤں پر مغربی ترقی و تسلط کا رعب اس قدر تھا کہ وہ اپنی سیاسی نجات کے لیے مغربی طریق کار کو اپنائے ہوئے تھے۔ وہ مغربی انداز فکر بالخصوص نظریہ آئیڈیالوجی سے بہت متاثر تھے‘ جس کے تحت افراد کی تھوڑی سی تعداد نے مختصر سے عرصے میں یورپ کے کئی ایک ملکوں پر اپنا تسلط قائم کر لیا تھا۔ یہ مغربی ترقی و تسلط کا اثر تھا کہ ہمارے سیاسی‘ علمی اور دینی زعما نے مغربی فکر کو تقریباً کلی طور پر اپنا لیا‘ یہاں تک کہ تاویل کے ذریعے قرآن کے ابدی پیغام کو بھی مغربی فکر کے ہم آہنگ کرنے کی مسلسل کوششیں کی گئیں۔ ان کے مغرب کی طرف فکری جھکاؤ نے ان کو آئیڈیالوجی کی اساس پر غلبہ اسلام کے تصور سے روشناس کروایا۔ یہ اسی سیکولر فکری روایت کا اثر ہے کہ ہمارے دینی زعما اب بھی سسٹم یا نظام کی بات کر رہے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ ایک مسلمان کے لیے اس کی باطنی اور ظاہری قوت کا راز تعلق باللہ میں ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اگر ان کے حکمرانوں کا اللہ کے ساتھ تعلق برحق تھا تو ہر قسم کے سیاسی نظاموں یا اداروں نے اچھے نتائج پیدا کئے اور جب کبھی یہ تعلق ماند پڑ گیا تو کوئی بھی ادارہ بشمول خلافت اچھے نتائج پیدا نہ کر سکا۔
مغرب کے سامراجی غلبہ کے تحت ہم نے زندگی کے ہر شعبہ میں مغربی انداز فکر کو اپنالیا ، جس کے تحت روحانی ترقی کو پس پشت ڈال کر ہم نے مادی ترقی کو ہی مطمح نظر بنالیا۔ اس نظریاتی تغیر (Ideological Shift) نے ہماری قومی زندگی پر بہت دور رس نتائج مرتب کئے۔ مثلًا یہ کہ غلبہ طاقت سے حاصل کیا جاسکتا ہے نہ کہ اخلاق سے۔ نتیجتاً ہماری قوم کی توجہ انسان سازی کے اسلامی طریق کار سے ہٹ کر مغربی نظریات، ابلاغیات (Mass Media) اور عوامی تحریکوں (Mass Movements) پر مرکوز ہوگئی او ر ہمارا مطمح نظر ووٹوں کا حصول جا ٹھہرا۔ شمع سے شمع جلانے کا قدیم فن ختم ہوگیا اور ہمارے دینی زعما اس سوئچ کی تلاش میں سرگرداں ہوگئے، جس کے دبانے سے ساری کی ساری بتیاں یک لخت جل اٹھیں۔ اس دنیاوی کشمکش میں و ہ اپنے اندر کی بتی بھی جلانا بھول گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے دینی زعما کو باہر کی دنیا تو نہ ملی مگر ان کے اندر کی دنیا برباد ہوکر رہ گئی۔ ہم ظاہری دنیا میں اتنا گم ہوئے کہ اندرکے انسان کو بھول گئے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ پچھلی صدی کے دوران غلبہ اسلام کے نام پر اٹھنے والی کوئی جماعت کسی بھی مسلمان ملک میں کیوں کامیاب نہیں ہوئی۔
ہمارے اکابرین کی اس فکری روش کانتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان کے مسلمان نظریاتی ، معاشرتی اور روحانی بحران کا شکار ہوگئے، جس سے ہم آزادی کے چونسٹھ سالوں بعد بھی نکل نہ پائے۔ شاید ہمارے دینی اکابرین کو تاریخ کا ایک ازلی سبق یاد نہیں رہا کہ وہ قومیں جو موت سے نہیں ڈرتیں، اللہ انہیں حکمران بنا دیتا ہے اور وہ قومیں جو موت سے ڈرتی ہیں انہیں محکوم۔ دراصل توحید ہی انسانوں کو صحیح معنوں میں آزاد کرتی ہے اور وہن ان کو غلام بنا دیتا ہے۔ جب تک ہم پاکستانی اپنے دلوں کو اس ازلی حق سے آشنا نہ کرلیں گے ، ہم ذہنی غلامی، حلقہ بگوشی، محتاجی، اور اطاعت غیر کے گورکھ دہندوں میں مقید رہیں گے۔ تعبیر کی ان دوبنیادی غلطیوں کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ جب تک ہم تعبیر کی ان دو بنیادی غلطیوں کی بھول بھلیوں سے نہیں نکلیں گے قومی سلامتی اور دینی فضیلت کا راستہ ہماری نظروں سے اوجھل رہے گا۔ 
پاکستان ایک شدید انحطاط کے دور سے گزر رہا ہے۔ یہ پاکستان کے زیریں طبقات ہی ہیں جو پاکستان سے محبت کرتے ہیں جبکہ بالائی طبقات عموماً اس کی لوٹ کھسوٹ میں مصروف رہتے ہیں۔ ہمارے اس وطن عزیز میں سیاسی قوت کو مال و زر سمیٹنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ دولت کو سیاسی قوت کے حصول کا ذریعہ بنایا جاتا ہے اور یہ دونوں یعنی سیاسی قوت اور دولت فلاح کی بجائے ظلم کا موجب بنتی ہیں۔ دولت مند اور با اثر افراد قانون شکنی کے باوجود قانون کے محافظ بنے رہتے ہیں۔ 
ہمارے پاکستانی ہم وطن گو اسلام ہی کو اپنے وطن کی اساس مانتے ہیں، مگر ہندوستان کی مسلم تاریخ سے تقریباً کلی طور پر بے بہرہ ہیں، بلکہ اس کے متعلق ناروا خیالات رکھتے ہیں، جبکہ چاہیے تو تھا یہ کہ وہ استحکام پاکستان کی بنیاد مسلم ہند کی تاریخ کے اعلیٰ شعور پر رکھتے۔ ایک طرف تو بقول علامہ اقبال ’’ شاید ہندوستان ہی ایک ایسا ملک ہے جس میں اسلام کی وحدت خیز قوت کا بہترین اظہار ہوا۔ ‘‘ (خطبہ الٰہ آباد) تو دوسری طرف مسلمان حکمران اتنے وسیع اور عریض ملک میں آٹھ سو سال پر محیط ایک ایسا کثیر النسل و عقیدہ معاشرہ (Plural Society) قائم رکھنے میں کامیاب ہوگئے، جس کی مثال تاریخ انسانی میں نہیں ملتی ۔مسلمانوں کی حکومت کے دو واضح اصول مذہبی آزادی اور معاشرتی انصاف تھے۔ ہندوستان میں اپنی کثیر التعداد رعایا کے ساتھ مسلمان حکمرانوں کا میل جول عدل و انصاف و رواداری اور مروت و شفقت پر مبنی تھا اور ہندو رعایا ان کی مداح اور قدر دان تھی بلکہ ان پر دل و جان سے فدا تھی ۔ اسلامی ریاست کی توسیع اور دفاع میں ہندو رعایا ہر وقت سینہ سپر رہتی اور مسلمان حکمرانوں سے انعام و اکرام پاتی۔ بقول پروفیسر تھامس آرنلڈ اسلام کی تبلیغ جو مسلمانوں کا اہم نصب العین تھا بزور شمشیر نہیں کی گئی تھی۔ تمدنی طور پر مسلمانوں نے ہندوستان کی تہذیب پر نمایاں اثرات مرتب کیے۔ بقول ڈاکٹر تارا چند ’’ یہ بلند مرتبہ لوگ تھے اور یقیناًان کے ساتھ کثیر تعداد میں کم شہرت یافتہ اہل دین تھے جو ہندوستان آئے اور جدوجہد کرتے رہے۔ ‘‘ ہندوستان کے مسلم دور میں ہندی مسلم معاشرہ نے ایک خوشنما شکل اختیار کرلی، جس کا دارومدار اخوت کی جہانگیری اور محبت کی فراوانی پر تھا۔ اس معاشرہ کی تشکیل میں مسلم سول سوسائٹی، جس کے روح رواں مسلمان عالم، فقیہ، فلسفی، صوفی، عارف، شاعر اور ہنر مند تھے، سب نے ایک مرکزی کردار ادا کیا۔ 
ہندوستان کی جنگ آزادی (۷۵۸۱ء) مغل بادشاہ کے پرچم کے نیچے مسلمانوں اور ہندوؤں نے یکجا ہوکر لڑی تھی۔ ۰۲۹۱ء تک ہندو مسلم آپس میں شیر و شکر تھے۔ اس دور میں قائد اعظم ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ مگر ۰۲۹۱ء کے بعد انگریز حکمرانوں نے انتشار، نفاق اور نفرت و حقارت کی خوب آبیاری کی اور ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے میں کامیاب ہوگئے۔ سر سید احمد خان شروع میں ہندو مسلم اتحاد کے زبردست پرچارک تھے مگر پھر اچانک اُنہوں نے ہندوؤں کی عددی اکثریت کا ہوا کھڑا کر دیا اور مسلمانوں کو خود اعتمادی سے محروم بنانے اور خوف و ہراس کا شکار کرنے پر کمر بستہ ہو گئے۔ سر سید احمد خان کو اس شے کا احساس نہ تھا کہ قوت کا دارومدار تعداد پر نہیں بلکہ کردار اور روحانی طاقت پر ہوتا ہے۔ جنگ آزادی کے جانثاروں کو مطعون ٹھہرانے والے بھی ہمارے ممدوح سرسید احمد خان ہی تھے۔ 
دور حاضر میں ان دو قوموں کے درمیان محبت اور نفرت کے دریا ساتھ ساتھ بہہ رہے ہیں۔ کسی فرد کے مطمح نظر کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ کس دریا کے کنارے پر کھڑا ہے۔ دراصل دو قومی نظریہ کی ضرورت ہمیں اس وقت ہوتی ہے جبکہ مسلمان تکثیر میں کمزور عنصر بن کے رہ جائیں اور ان کو یہ خطرہ لاحق ہوجائے کہ وہ اپنے دین کا تحفظ نہ کرپائیں گے یا پھر ان کا دین ان کا تحفظ نہ کرسکے گا۔ پاکستان میں غیر مسلموں کی تعداد فقط دو فیصد ہے، اس لیے اب ہم کو دو قومی نظریہ کی ضرورت نہیں۔ دو قومی نظریہ کے تناظر میں دراصل بات سمجھنے کی یہ ہے کہ مسئلہ زبان و نسل کا نہیں ہے۔ در حقیقت دو قومی نظریہ کی اصل اساس قرآن کریم مہیا کرتا ہے۔ قرآنِ کریم کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کی صورت میں دو نظریات حیات پیش کرتا ہے۔ کلمہ طیبہ کی مثال ایک ایسے صالح درخت کی ہے، جس کی جڑیں تو زمین کی گہرائی میں ہوں مگر شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہوں اور ہمہ وقت پھل سے لدی ہوئی ہوں۔ اس کے برعکس کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بدذات درخت کی سی ہے، جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا گیا ہو (۴۱:۴۲ تا ۷۲)۔ کلمہ طیبہ (توحید، رسالت اور آخرت) پر ایمان رکھنے والے لوگ، قوم حقہ، کہلاتے ہیں، جبکہ کلمہ خبیثہ (شرک، بے حیائی اور فحاشی) کے پیروکار، قوم باطلہ، قرار دیے جاتے ہیں۔ ان دو جماعتوں کو قرآنِ حمید حزب اللہ (۵:۶۵؛ ۸۵:۲۲) اور حزب الشیطان (۸۵:۹۱) بھی کہتا ہے۔ دراصل دو قومی نظریہ انہی دو قوموں کے درمیان خط تقسیم ہے۔ یہ ایسا خط ہے، جو باپ کو بیٹے سے اور بھائی کو بھائی سے متصادم کرادیتا ہے۔ اس دو قومی نظریہ کے سامنے تو وطن، زبان، جغرافیہ اور تاریخ حتی کہ حسب و نسب بھی ملیا میٹ ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ اس پیرائے میں ہمیں اپنے معاشرتی حالات کا بھی محاسبہ کرنا ہوگا کیونکہ قرآنِ کریم سرکشوں کو کبھی معاف نہیں کرتا، خواہ وہ انبیاء کے قریبی رشتے دار ہی کیوں نہ ہوں (ھود :۶۴)۔ 
ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ دو قومی نظریہ کی بنیاد وطن پرستی (Nationalism) پر ہے جسے علامہ اقبال مذہب کا کفن قرار دیتے ہیں۔ انسانی وحدت کا مغربی تصور مشترکہ زبان، نسل اور علاقہ پر مبنی ہے۔ جبکہ انسانی وحدت کا اسلامی تصور ایک مشترکہ مطمۂ نظر ہے۔ حضرت علامہ اقبال تا دم آخر دور حاضر کے تین فتنوں وطنی قومیت (Territorial Nationalism) دین و ریاست کی دوئی (Secularism) اور دہریانہ مادہ پرستی (Atheistic Materialism) کے خلاف برسر پیکار رہے۔ یہ تینوں فتنے ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ لادینیت ہی مادیت کی اساس ہے اور مادیت کا وطنی قومیت کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مادیت ہی سے غلبہ بالقوہ کا تصور ابھرتا ہے جو تشدد کو جنم دیتا ہے۔ یہ مادی انداز فکر ہی تھا جس کے باعث اللہ کی مخلوق پر پچھلی صدی میں دو خوفناک جنگیں مسلط کی گئیں۔ جب مادیت زیادہ قوت پکڑتی ہے تو وطن پرستی سے نسل پرستی اور قبیلہ پرستی کی طرف سفر کرتی ہے اور پھر اللہ کی زمین پر ہر طرف فساد برپا ہوجاتا ہے اور وہ عبادت گاہیں جن میں صبح و شام اللہ کا نام لیا جاتا ہے، تباہ و برباد ہوجاتی ہیں (البقرہ:۴۱۱)۔ 
جنگ و جدل سے مغلوب یورپ کے مقتدر دانشور اور مؤرخ آرنلڈ ٹائن بی (Arnold Toynbee ) نے ۲۵۹۱ء میں اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ مغربی وطن پرستی کی روایت عالم اسلام کے لیے ایک مشتبہ نعمت ہے۔ ان کے خیال میں عالم اسلام کے لیے یہ بہتر ہوتا کہ وہ مختلف مملکتوں میں بٹ جانے کی بجائے اسلام کی اخوت پر ایک علاقائی ریاست (خلافت) کی ترویج کرتے تو ان کا یہ عمل عالمی اخوت انسانی کے قیام کی طرف ایک مثبت قدم ہوتا، جس کی جوہری اسلحہ کے اس دور میں اشد ضرورت ہے۔ 
اسی پیرائے میں علامہ اقبال کی فکری کاوش اور قائد اعظم کی سیاسی جدوجہد ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک خطہ ارضی حاصل کرنے تک محدود نہ تھی بلکہ ان کا مطمح نظر اس خطہ زمین کے لیے اسلام کے آفاقی نصب العین کی طرف پیش قدمی تھا۔ مگر پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد اس طویل عرصے میں اسلام کی آفاقی نصب العین کی طرف پیش رفت تو درکنار، ہم اسلام کا مرحلہ بھی طے نہ کرپائے۔ آج تو حالات اس ڈگر کو پہنچ گئے ہیں کہ ملک میں دہشت گردی اور قتل و غارت کا بازار گرم ہے۔ مسجدیں تک محفوظ نہیں رہیں اور اسلام وحدت سازی کے اعتبار سے بے اثر ہوتا جارہا ہے۔ اگر وحدت خیز قوت کی حیثیت سے اسلام پاکستان ہی میں بے اثر رہ گیا تو دنیا میں انسانی اخوت کی ایک عالم گیر تحریک برپا کرنے میں کیا کردار ادا کرسکے گا۔؟ 
سر سید احمد خان کا مذہبی فکر کمزور تھا جبکہ دنیاوی فکر کے وہ بادشاہ تھے۔ سر سید احمد خان رُوح اور فرشتوں پر یقین نہ رکھتے تھے اور وحی کے متعلق اُن کا علم ناقص تھا۔ سر سید احمد خان مسلمانوں کے لیے ایک کامیاب ریاست کے خواہاں تھے۔ اُن کا مطمح نظر ایک اسلامی ریاست کا قیام نہ تھا۔ قائداعظم بھی مسلمانوں کے لیے ایک کامیاب ریاست قائم کرنا چاہتے تھے۔ قائداعظم کے لیے اسلام ایک بنیادی مسئلہ نہ تھا۔ قائداعظم پاکستان کے مسلمانوں کی ایک جدید، جمہوری اور فلاحی ریاست کے آرزومند تھے۔ ایک کٹر رجعت پسند، جہادی ریاست کا تصور ان کے ذہن میں نہ تھا۔ بہرحال قائداعظم ایک سیاست دان تھے اور انہوں نے موقعہ محل کے مطابق کئی باتیں کیں جو شاید ظاہراً متضاد نظر آئیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے اس موضوع پر تمام بیانات اور تقاریر کا تقابلی مطالعہ کر کے کوئی رائے قائم کی جائے۔ اس موقع پر قائداعظم کے قریبی ساتھی امیر محمد خان راجہ محمود آباد کا مضمون ’’چند یادیں‘‘ قابل غور ہے:۔ 
’’لمبی زندگی اور فکری پختگی سیاسی تحریکوں کے لیے بھی اتنی اہم ہے جتنی کہ انسانوں کے لیے۔ جس تیزی اور تندی کے ساتھ مسلم لیگ کو دس سال کے مختصر عرصہ میں پاکستان کے ہدف کی طرف بڑھنا پڑا اس میں تنظیم کی تطہیر نہ ہو سکی۔ مسلم لیگ کو اپنی تیز رفت کامیابی کی قیمت ادا کرنی پڑی۔ اس کی بینڈ گاڑی پر مختلف انواع کے لوگ سوار ہو گئے ان میں سے کچھ لوگ قدامت پسند تھے، جو لیگ کے ترقی پسند پروگرام میں رکاوٹ بنے۔ پھر اس میں جاگیردار اور سرمایہ دار بھی آ گھسے، جنہوں نے قدامت پسند لوگوں کے ہاتھ مضبوط کئے۔ لیگ کی تیز رفتار بینڈ گاڑی پر رجعت پسند لوگ بھی آن سوار ہوئے جن کی فکر ایام خلافت سے آگے نہ بڑھی تھی اور جن کے ذہن میں جدید ریاست کا کوئی تصور نہ تھا۔ ایک گروہ یونیورسٹی لیکچررز کا بھی تھا جو پاکستان میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کا خواہاں تھا۔ میں (راجہ محمودآباد) بھی اس گروہ سے متاثر تھا۔ میں نے اس سوچ کو اپنی تقاریر میں زور و شور کے ساتھ اجاگر کرنا شروع کر دیا۔ قائداعظم نے لیگ کے پلیٹ فارم سے ان خیالات کے ابلاغ کو پسند نہ فرمایا اور مجھے اس قسم کی تقاریر سے منع فرما دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ مجھے ان خیالات کے اظہار میں قائداعظم کی تائید حاصل ہے۔ میں خیالات کے اس اختلاف کی وجہ سے قائداعظم سے دور ہوتا چلا گیا۔ مگر اب جب میں پیچھے کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے اپنی غلطی کا شدت کے ساتھ احساس ہوتا ہے۔‘‘
پاکستان کے علماء اور دینی اکابرین چونسٹھ سال گزرنے کے بعد فیصلہ نہ کر پائے کہ اسلامی نظام ہے کیا؟ آج بھی اس موضوع پر کوئی محفل سجا لیں پھر دیکھیں ان کا آپس میں دست و گریباں ہو جانا۔ ہمارے علماء کو اس بات کا بھی کچھ شعور نہیں کہ فقہی نظام کی قانونی موشگافیاں اور ان کے پیدا کئے ہوئے مسائل یہودی طرز فکر کی نقل ہیں۔ 
ہماری خود پسندی، انائیت اور کج فہمی کا ماتم یہ ہے کہ ہم نے سمجھ رکھا ہے کہ اگر پاکستان میں یہ دین حق قائم نہ ہوا تو کہیں بھی نہیں ہو گا۔ یہ بات بھی کہ پاکستان بنایا ہی اسلامی نظام کے قیام کے لیے تھا، تاریخی طور پر مصدق نہیں ہے۔ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ‘‘ مسلم لیگ کا پالیسی بیان نہ تھا بلکہ اس زمانے میں سیالکوٹ کے ایک غیر معروف شاعر، اصغر سودائی کی ایک طویل نظم کا ٹیپ کا مصرعہ تھا۔ قیام پاکستان سے پہلے جب حضرت قائداعظم سے پوچھا گیا کہ آپ کے نئے ملک میں اسلام کا نقشہ کیا ہو گا؟ تو اس کے باوجود کہ وہ اسلام کے بنیادی اصولوں، حریت، اخوت اور مساوات سے کماحقہ آشنا تھے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو آپ کو مسجد کے لیے جگہ لے دی ہے۔ اب قیام پاکستان کے بعد اس کا فیصلہ آپ خود کریں کہ مسجد کا طرز تعمیر کیا ہو گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قائداعظم نے پاکستان کو ہمیشہ مسلمانوں کی ریاست کہا نہ کہ اسلامی ریاست۔ پاکستان کے عوام کی اکثریت بھی اسلامی ریاست کی نہیں، کامیاب ریاست کی خواہاں ہے۔ ویسے بھی ایک کامیاب ریاست بنائے بغیر اسلامی ریاست نہ بن پائے گی۔ 
اس مضمون کا مرکزی سوال یہ ہے کہ عالم اسلام میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے نام پر اٹھنے والی تحریکیں آخر کامیاب کیوں نہیں ہو رہیں؟ حالانکہ بقول ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی ہند و پاکستان میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے جدوجہد کے پہاڑ ضائع ہو گئے۔ اب جب کہ پاکستان میں مختلف رنگ کی اسلامی جماعتوں کے سالانہ اجتماعات میں تقریباً 40 لاکھ سرگرم کارکن جمع ہونے لگے ہیں تو وہی سوال پھر ابھر کے سامنے آتا ہے کہ اتنی بڑی اسلامی حرکت کے باوجود ہمارے اس وطن عزیز کے حالات سال بہ سال‘ ماہ بہ ماہ‘ دن بدن بدتر کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟ ہماری تبلیغ آخر اتنی بے اثر کیوں ہے؟ ہمارا جہاد رائیگاں کیوں جا رہا ہے؟ آخر کیا کمی ہے جس کی وجہ سے ہمارا مقتدر اسلامی مشن کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو رہا؟ اللہ جل جلالہ اور رسول عالی مرتبت ﷺ کے نام پر معرض وجود میں آنے والی اس مملکت خداداد میں خاتم الرسل ﷺ کا دین قیم آخر رائج کیوں نہیں ہو پا رہا؟ گزشتہ چونسٹھ سالوں میں کئی ایک بار نفاذ اسلام کی پرجوش تحریکیں اٹھیں مگر سب کی سب یا تو زمینی حقائق کی سنگلاخ چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گئیں یا پھر دینی اکابرین کے ذاتی مفادات کی نذر ہو گئیں۔ دوسرے الفاظ میں نفاذ اسلام کے بلند بانگ نعرے تو لوگوں نے بارہا سنے مگر نتیجہ کچھ بھی نہ دیکھا۔ ان حالات میں پاکستان میں ایک تشویشناک روش دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اور وہ ہے لوگوں کی اسلام سے روز بروز بڑھتی ہوئی بیزاری۔ جب اسلام عوام کے مسائل حل نہ کر پائے گا تو لوگوں کا اس کے بلند بانگ نعروں سے بیزار ہونا ایک قدرتی رد عمل ہو گا۔ دوسری طرف بے مروت‘ رجعت پسند اور متشدد اسلامی تحریکیں لوگوں کو دین سے قریب لانے کی بجائے دور کر رہی ہیں۔ صدیوں پر محیط ناکامیوں کے بعد مسلمان اپنے دین اور اپنے آپ سے بد دل اور ناامید ہو رہے ہیں۔ اس لیے انہیں کوئی تبدیلی کا آسان راستہ بھی بتائے تو وہ یقین نہیں کرتے اور ان کی توجہ آسانیوں کی بجائے مشکلات پر مرکوز رہتی ہے۔ 
پاکستان کو معرض وجود میں آئے چونسٹھ سال بیت چکے ہیں۔ اس طویل عرصے میں اسلام کے آفاقی نصب العین کی طرف پیش رفت تو درکنار‘ ہم نفاذ اسلام کا مرحلہ بھی نہ طے کر پائے۔ چنانچہ ہم دنیا کو یہ بتانے کے بھی قابل نہیں کہ اسلام‘ اقتصادی اور معاشرتی مسائل‘ جو آج کے انسان کو درپیش ہیں اس طرح حل کرتا ہے۔ عملی مثال کے نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی اسلام کے متعلق ہمارے بلند بانگ نعروں پر اعتبار نہیں کرتا۔ آج تو حالات اس ڈگر کو پہنچ گئے ہیں کہ ملک میں دہشت گردی اور قتل و غارت کا بازار گرم ہے۔ مسجدیں تک محفوظ نہیں رہیں اور اسلام وحدت سازی کے اعتبار سے بے اثر ہوتا جا رہا ہے۔ اگر وحدت خیز قوت کی حیثیت سے اسلام پاکستان میں ہی بے اثر رہ گیا تو دنیا میں انسانی اخوت کی ایک عالمگیر تحریک برپا کرنے میں کیا کردار اداکر سکے گا۔ عمومی طور پر قومیت اور مادیت سے مغلوب مسلمان اسلام کی آفاقیت کو صحیح تناظر میں دیکھنے سے قاصر ہیں اور انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ صحیح مسلمان بس ایک روایتی مسلمان ہوتا ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اس پس منظر میں انسان دوستی‘ احترام آدمیت اور ظلم کے خلاف جہاد کے اسلامی نظریات کا علم اب ان قوموں نے اٹھا لیا ہے جن کی وطنی قومیت اور دہریانہ مادہ پرستی نے دنیا میں ہر سو ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا تھا۔
ہمارے لیے غور و فکرکا ایک نہایت ہی اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ چلیں انگریزی زبان میں تعلیم یافتہ طبقہ کی ناقص تعلیم و تربیت کے لیے تو ہم انگریزوں کو مطعون قرار دے سکتے ہیں لیکن اگر ہمارے مشائخ اور علماء کا کردار ہی قابل ستائش نہ ہو تو اس کے لیے کسے ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔ اس سلسلے میں ایک غور طلب بات یہ ہے کہ مسلمان ہندوستان میں تقریباً آٹھ سو برس حکمران رہے۔ گو اس طویل دور میں ملک ہمہ وقت اسلام کی درخشاں ہستیوں سے فیض یاب رہا‘ مگر ان میں سے کسی ایک نے بھی کسی اسلامی جماعت کی داغ بیل نہ ڈالی اور نہ ہی سرفرازی اسلام کے لیے کوئی تحریک چلائی گئی مگر ان علماء‘ فقہا ء اور صوفیاء نے اپنے اخلاق‘ تقویٰ اور بے غرض ایثار کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ اتنا عرصہ گذر جانے کے بعد وہ آج بھی مسلمانوں کے دلوں کو گرماتی ہیں۔ ہمارے اسلامی اکابرین اسلام کے چلتے پھرتے نمونے ہونے چاہئیں۔ جب ہمارے علماء اور مشائخ ہی طاغوت کا شکار ہو جائیں گے‘ تو ان کے منہ سے دین کی بات دین کو بدنام کرنے کے مترادف ہو گی۔ جب تک کسی تحریک کی داعی قیادت کے کردار اعلیٰ اور ارفع نہ ہوں گے اور ان کی زندگیاں تحریک کے اغراض و مقاصد سے مطابقت نہیں رکھیں گی‘ تو اس وقت تک اس تحریک کی کامیابی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان کی اسلامی تحریکوں میں یہ روایت زور پکڑ گئی ہے کہ وہ بندکمروں میں بھی اپنی تعریف ہی کرتے ہیں اور اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کیونکہ وہ ظاہراً اسلامی کام ہی کر رہے ہیں اس لیے انہیں اللہ کی خوشنودی حاصل ہے‘ جیسے انصاف کا ترازو اللہ کے ہاتھ میں نہیں‘ ان کے اپنے ہاتھ میں ہو۔ زمینی حقائق تو یہ پتہ دے رہے ہیں کہ وہ اب تک رضوان اللہ کے حصول میں کامیاب نہیں ہوئے ورنہ جب اللہ کی خوشنودی حاصل ہو جائے تو کسی اور کی خوشنودی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
دراصل ہمارے علماء کی خود پرستانہ اور ذاتی مفادات کی طرف مائل تفسیریں اور فقہی ترجیحات موجودہ دور کے بڑے بت ہیں۔ دینی جماعتیں اور فرقے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول عالی مرتبت ﷺ سے زیادہ توجہ اپنے لیڈر یا امیر کو دیتے ہیں۔ ان کے اجتماعوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول عالی مقام ﷺ سے بڑھ کر ذکر ان کے اپنے حضرت یا مولانا کا ہوتا ہے۔ مختلف دینی جماعتوں اور تحریکوں کا یہ رویہ امت مسلمہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے۔ اور اصل میں یہی فساد کی جڑ ہے۔ ہر جماعت صرف اپنے آپ کو دین کا سچا محافظ خیال کرتی ہے اور ان جماعتوں کے کارکنوں کا خود ستائی و پارسائی کا مغرورانہ رویہ مسلم عوام کو اپنے دین سے دور کر رہا ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ یہ مولانا حضرات امت کو متحارب فرقوں میں بانٹ کر ان ہی میں تفرقہ ختم کرنے کے لیے روز بروز آپس میں ملتے بھی رہتے ہیں۔ شاید ہمارے ایسے ہی زعما کے لیے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے ان کو گمراہ کرنے کے لیے میری یہ کتاب ہی کافی ہے (سورۃ ال عمران:7 )۔ ان دینی زعما کا ایک اور المیہ یہ ہے کہ وہ جو کہتے ہیں‘ وہ کرتے نہیں (سورۃ الصف: 2) اور عوام سے جھوٹے وعدے فرما کے اپنے آپ کو اور اپنے دین کو بدنام کرتے ہیں۔ اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں وہ اہداف اور اسباب میں تمیز کرنے سے قاصر رہتے ہیں‘ مثلاً اس دور میں ان کی اولین توجہ ربا کے خاتمے پر مرکوز رہتی ہے حالانکہ ربا کا خاتمہ ان کئی طریقوں میں سے ایک ہے‘ جن کو ایک عدل و مساوات پر مبنی اسلامی معاشرہ کے قیام کے سلسلے میں بروئے کار لانا ہو گا۔ 
ہماری دینی جماعتوں نے پاکستان کو اس کے مقصود تک نہیں پہنچایا۔ اُن کا واحد کارنامہ قرارداد مقاصد ہے جس کی حیثیت کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے۔ دنیا میں اسلام کے مروجہ تین ماڈل کسی بھی صحیح الفکر مسلمان کو قبول نہیں ہیں اور یہ ماڈل ہیں: (۱) طالبان کا ماڈل (۲) ایران کا ماڈل اور (۳) سعودی عرب کا ماڈل۔ ترکی اور ملیشیا کے ماڈلز سیکولر ہیں، اسلامی نہیں۔ بہرحال اگر ہم اسلام کو رائج نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنے ملکوں میں کامیاب حکومتیں تو قائم کر لیں۔ 
اسلام کا مقصد ایک ایسا معاشرہ کی تشکیل ہے جس کے تحت انسان کو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کا خوف نہ رہے اور اللہ کے سوا اسے کسی اور کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی حاجت نہ ہو اور وہ جب حصول رزق کے لیے اپنے گھر سے نکلے تو اس کی اپنی اہلیت و قابلیت کے سوا کوئی اور رکاوٹ اس کے راستے میں حائل نہ ہو۔ اگر اس میں کوئی کمی من جانب اللہ ہو تو ریاست کا نظام احسان وہ کمی پوری کر دے۔ معاشرتی و معاشی نظام ایسا ہو کہ اسے تعلق باللہ کی نشو و نما کے لیے بھی فراغت مل جائے‘ جس کی برکت سے اس میں فقط اپنے حقوق کی بجائے‘ اپنے فرائض اور دوسروں کے حقوق کا شعور اجاگر ہو جائے۔
اسلام زمین کے ساتھ انسان کے تعلق کو اتنا اجاگر نہیں کرتا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا تعلق ماند پڑ جائے اور وہ دنیا کا ہی ہو کے رہ جائے۔ اسلام رنگ و نسل و زبان اور وطنیت کی نفی کر کے توحید کی بناء پر ایک روحانی الذہن قوم کی تشکیل کا خواہاں ہے۔ اسلام زمین اور خون کے رشتوں کی بجائے انسانی وحدت کو ایک مشترکہ نصب العین‘ عالمگیر اخوت انسانی اور احترام آدمیت کے اصولوں پر استوار کرنا چاہتا ہے۔ حدیث نبویؐ شریف ہے: ’’الخلق عیال اللہ‘‘۔
اسلامی نظام کے اہداف اور ہماری روزمرہ کی زندگی کے درمیان خلیج بہت ہی وسیع ہے۔ نظریاتی دینداری کے پیچھے بھاگتے ہوئے ہم مسلم ہندوستان کی شاندار تاریخ سے کٹ کر بے راہ رو ہو گئے ہیں۔ بنیاد پرست علماء ایسے متن پرست، کٹر اور مجرد اسلام کی تعلیم دیتے ہیں، جس کا کوئی تاریخی پس منظر نہیں۔ نظریاتی نعرہ بازی ہمارے جذبات کو ابھار دیتی ہے، جن کو ہمارا عمومی اخلاق سنبھال نہیں سکتا اور ہمارے نعرے تعمیر کی بجائے تخریب کا باعث بن جاتے ہیں۔
اسلام مادہ پرستی کی بجائے انسانی زندگی کی بنیاد روحانیت‘ تعلق باللہ اور تقویٰ پر رکھتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انسان پھلے پھولے تو زمین پر مگر اس کی جڑیں آسمان پر ہوں۔ اسلام کا مرکزی سوال یہ ہے کہ انسان کو زمین کی محبت اور مادہ پرستی سے کیسے آزاد کیا جائے؟ آج کے دور کی بے لگام مادہ پرستی کی وجہ سے انسان کے تین بنیادی تعلقات مسخ ہو کے رہ گئے ہیں اور یہ ہیں بندے اور اللہ کے درمیان تعلق‘ انسان اور انسان کے درمیان تعلق اور انسان اور ماحولیات کے درمیان تعلق۔ عموماً ہم ان حیات بخش تعلقات میں اپنے پورے من و تن کے ساتھ داخل نہیں ہوتے بلکہ اپنی ذات کی ایک کسر کے ساتھ ہی یہ مقدس رشتے استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہماری اس مجہول کوشش کی وجہ سے ہمارا اللہ کے ساتھ رشتہ جزوی‘ انسان کے ساتھ رشتہ مطلبی اور ماحول کے ساتھ استحصالی ہو کے رہ جاتا ہے۔

سیمینار: ’’ائمہ و خطبا کی مشکلات، مسائل اور ذمہ داریاں‘‘ (۲)

ادارہ

مولانا عبد الواحد رسول نگری 

(مدرس مدرسہ اشرف العلوم، گوجرانوالہ)
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، امابعد!
انتہائی لائق احترام علماء کرام، ائمہ کرام! آج کی اس مبارک نشست میں بڑے قیمتی بیانات آپ سماعت فرماچکے ہیں۔ عنوان ہے ’’ائمہ اورخطبا کی ذمہ داریاں اور مشکلات‘‘۔
محترم دوستو!امام اور خطیب کی ذ مہ داری سمجھنے سے پہلے ہمیں اس اہم نکتے کی طرف بھی توجہ دینی ہے کہ امام اور خطیب کا تعارف مسجد کی مناسبت سے ہوتاہے اوراس کی تمام تر ذمہ داریاں بھی مسجد کے عنوان سے ہیں۔خود مسجد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کیامقام رکھتی ہے اوراسلامی سوسائٹی میں کیامقام رکھتی ہے اوراسلامی سوسائٹی میں مسجد مسلمانوں کی کن کن ضروریات کو پوراکرسکتی ہے؟جب مسجد کی وہ حیثیت جس سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں، سامنے آئے گی تومسجد کی مناسبت سے امام اورخطیب کا بھی تعارف ہے، وہ بھی سامنے آئے گا۔ 
مسلمانوں کی چار اہم ترین ضروریات ہیں جومسجد سے پوری ہوتی ہیں۔ پہلی ضرورت یہ ہے کہ ہر مسلمان کو ایک عبادت گاہ چاہیے۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ ہرمسلمان کواسلامی زندگی گزارنے کے لیے ایک درس گاہ چاہیے جہاں سے وہ اپنی روزمرہ زندگی میں علمی طورپر رہنمائی لے سکے۔ تیسری چیز یہ ہ یکہ ہرمسلمان کو اپنے کردار، احوال اورقلب کی اصلاح کے لیے کوئی تربیت گاہ چاہیے اور چوتھی چیز مسلمانوں کے پاس ایک ایسا ادارہ ہو جہاں وہ باہم ملاقات کر سکیں، بہت قریب ہو کر ملیں، ایک دوسرے کو دیکھ سکیں، ایک دوسرے کے پاس بیٹھ سکیں،کھڑے ہوسکیں۔ یہ چار چیزیں مجموعی طور پر ہماری ضرورت ہیں۔ عبادت گاہ کا وجود، درس گاہ، تربیت گاہ، باہمی رابطے اورملاقات کاادارہ۔ غور کریں تومسجد کو اللہ پاک نے ان چیزوں کا مرکز بنایاہے اور مسجد کا امام وخطیب ان چاروں چیزوں کا نگران اور ذمہ دارہے۔ امام وخطیب کی ذمہ داریوں میں سب سے پہلی چیز اس حوالے سے کہ مسجد عبادت گاہ ہے، یہ شامل ہے کہ ہر وقت عبادت کا اہتمام کرے،لوگوں کو عبادت کی ادائیگی میں سہولیات فراہم کرے۔اوقات نماز ،اذان وغیرہ امام ان کو اپنی ذمہ داریوں میں لے۔یہ معنی نہیں کہ خود وہ اذانیں دے بلکہ یہ کہ بر وقت اذان ہورہی ہے، جماعت ہورہی ہے ،اس کا دھیان رکھے۔ ایسے ہی امام کی ذمہ داریوں میں عبادت کی ادائیگی کے وقت، نمازیوں پر دھیان رکھنا کہ ان کی صفیں درست ہیں، صفوں کے اندر کوئی خلل تو نہیں اور آج کل ایک اور چیز کی طرف توجہ دلانا بھی امام کی ذمہ داریوں میں آچکاہے۔ جب کوئی نمازی نماز کے لیے مسجد میں آتا ہے توتقریباً ہر نمازی کی جیب میں موبائل فون بھی ہوتاہے۔ اس بات کی طرف توجہ دلانی چاہیے کہ فون کو بند کر لیاجائے تاکہ عبادت کی ادائیگی میں کوئی خلل واقع نہ ہو ۔امام چونکہ عبادت کا نگران بھی ہے، اس کی ذمہ داریوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ عبادت کی ادائیگی میں نمازیوں کا لحاظ کرے۔ جیسے حدیث مبارکہ میں تخفیف قراء ت کا تذکرہ ہے کہ اس کے پیچھے نماز پڑھنے والوں میں ،بیمار ہیں ،مسافر ہیں، کمزور ہیں، ضعیف ہیں۔ امام صرف اپنے ذوق عبادت کوسامنے رکھ کر امامت نہ کرائے۔
یہ تو ذمہ داریاں ہیں جن کا تعلق اس بات سے ہے کہ مسجد عبادت گاہ ہے۔مسجد کا خطیب جمعہ کی خطابت کے لیے وقت مقررہ کاضرور لحاظ رکھے ۔ہماری کوتاہیوں میں سے ایک کوتاہی یہ بھی ہے کہ ہم جووقت لوگوں کوبتادیتے ہیں، اس وقت پر عبادت کا اہتمام نہیں کرتے ۔لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوجاتیں ہیں اور ہمارے دل میں بات آتی ہے کہ دومنٹ اوربات کرلیں، شاید لوگوں کے دل میں دین کی اورباتیں بھی آجائیں۔ میرے بھائیو! لوگ وقت مقررہ سے ایک سیکنڈ بھی اوپر ہو جائے تو اس کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ 
مسجد کا ایک تعارف اس حوالے سے ہے کہ مسجد مسلمانوں کی درس گاہ ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ کے مبارک ز مانہ میں مسجد نبوی میں مسلمانوں کی درس گاہ کاکردار ادا کیا گیا۔ آج بھی مسلمانوں کی بنیادی دینی تعلیم کی ضروریات مسجد ہی سے پوری ہورہی ہیں۔ مثلاً ہرمسلم گھرانے کی سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ ان کے بچے کم از کم ناظرہ توپڑھ سکیں، لہٰذا اسی بنیاد پر مسجد دیہات کی ہو یا شہر کی،کینٹ کی ہویا ڈیفنس کی، وہا ں اس بنیادی ضرورت کا ضرور اہتمام ہوتاہے ، لیکن اس سے آگے بڑھ کر روز مرہ زندگی کے تمام شعبہ جات میں دینی،علمی رہنمائی کی فراہمی بھی مسجد سے متعلق ہے۔ اگر کوئی شخص تجارت سے وابستہ ہے تو اس کی تجارت کے مسائل میں رہنمائی ،کوئی شخص زراعت سے وابستہ ہے تو اس کی اس میں رہنمائی، کوئی شخص کسب یعنی محنت مزدوری سے وابستہ ہے تو اس کی اس میں رہنمائی،پھرگھریلواحکام ومسائل طلاق، نکاح وغیرہ اور ا س کے علاوہ بے شمار مسائل ہیں۔ یہ سارے کے سارے مسائل مسجد کے منبر ومحراب سے پورے ہوں گے۔ بالخصوص آج کے زمانہ میں اس کی ضرورت اوربڑھ گئی ہے۔ جب مسجد منبر ومحراب سے یہ ضرورت پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی تو وہ ٹی وی چینلوں کی طرف رجوع کرنے لگے ہیں اورٹی وی چینلوں کے سامنے بیٹھے ہوئے دانش وروں سے اپنے خوابوں کی تعبیر پوچھنے لگے ہیں۔وہ اپنے استخارے، مسائل اور دیگر لغویات کے لیے امام وخطیب کی طرف رجوع کرنے کی بجائے کسی کی اور طرف کربیٹھے۔ وہ کیوں گئے؟ یہ ایک الگ عنوان ہے ۔ان میں ایک کوتاہی میری اورآپ کی ہے کہ ہمارا مطالعہ بہت قلیل ہے ۔ہم صحیح طریقے سے ان کی رہنمائی کرہی نہیں سکتے۔ آدمی نے روزہ رکھا ہے تو کن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتاہے، نماز پڑھ رہے ہیں تو دوران نماز میں کن چیزوں سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔اگر میں اورآپ یہ مسائل بتلانہیں سکتے توکم از کم بتلانے والوں کی ضرورت اوراہمیت توان کے دلوں میں بٹھاسکتے ہیں کہ بھائی آپ ان شعبوں میں لگے ہیں، اس شعبہ کے مسائل جاننے کے لیے آپ مدرسہ نصرت العلوم چلے جائیں، مظاہرالعلوم چلے جائیں، دارالعلوم چلے جائیں، کسی مدرسے کی طرف رجوع کریں۔
ایک کوتاہی ہماری یہ ہوتی ہے کہ ہمارا رویہ بہت سخت ہوتاہے۔ ایک نوجوان کے دل میں بہت سے سوالات کھڑے ہو سکتے ہیں۔ دین کے حوالے سے وہ غلط فہمی کا شکار ہوسکتاہے۔ کوئی زہریلا مواد اس کے دل میں اشکال پیدا کر سکتا ہے۔ وہ اشکال انتہائی سنگین ہوسکتاہے۔ اب اگر وہ اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوال کو امام کے سامنے عرض کرتا ہے تو فوراً ہماری طرف سے سخت ترین جملہ اس کی طرف جائے گا: توتودہریہ ہورہاہے، تو توبددین ہورہاہے ۔اس کو کچھ کہنے دیں، اس کی زبان کی بات دل پر آنے دیجیے۔ وہ آئے گی اور اس کی فکر اس کی سوچ کا اندازہ ہوگا توہم اس کی رہنمائی کریں گے۔
ایک اوربات اسی مناسبت سے کہ مسجددرس گاہ ہے اور لوگوں کی علمی رہنمائی کا مؤثر ادارہ ہے، یہ بھی عرض کردوں کہ ایک امام وخطیب یہ دیکھے کہ میری یہ مسجد آئینی،قانونی اوردستوری طور پر جس مسلک سے وابستہ ہے اوریہاں کے نمازی جس مسجد سے وابستہ ہیں، اگر ان نمازیوں کواپنے مسلک پر عمل کرتے ہوئے کوئی بات پوچھنے کی نوبت آجاتی ہے، مثلاً کوئی آدمی کسی دوسرے مسلک کی مسجد میں چلاگیا اور وہاں کسی نے کوئی بات ذہن میں ڈال دی تواس کی ٹھیک ٹھاک علمی رہنمائی کی جائے۔ مثال کے طور پر میں حنفی المسلک ہوں۔ میرے نمازی بھی حنفی المسلک ہیں۔ یہاں کوئی دوسرے مسلک کاآدمی آجائے تووہ اونچی آواز میں آمین کہہ دیتا ہے اورلوگ اس کو ڈانٹیں تو وہ دوچار حدیثیں سنا دیتا ہے۔ اب لوگ لامحالہ طور پر امام صاحب کی طرف رجوع کریں گے کہ یہ کیاکہہ رہاہے توامام صاحب کو ایسے میں کم از کم اپنے مسلک کی علمی بنیاد انتہائی مضبوط رکھنی چاہیے اوروہ خود بھی اس کے لیے تیار رہے ۔مسجد کے ساتھ ایک لائبریری کا انتظام بھی ہوناچاہیے۔
میرے بھائیو!باتیں تو بہت زیاد ہ ہیں۔ میں نے دوحیثیتوں کے حوالے سے بات کی ہے۔ایک تویہ کہ مسجد عبادت گاہ ہے،میری اس حوالے سے کیاذمہ داری ہے ۔دوسری مسجد درس گاہ ہے ،میری اس حوالے سے کیاذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کے اندر یہ شامل ہے کہ لوگ جو مسجد سے علم حاصل کریں گے، اس کے مختلف ددرجے ہیں۔ایک درجہ تو یہ ہے کہ باضابطہ وہ درس گاہ کے اندر آکر پڑھیں ۔یہ بہت محدود درجہ ہے ،بہت محدود لوگ آئیں گے ۔ترجمہ القرآن کی کلاس لگ گئی، بہت لوگ آئے ۔عام لوگوں کوزیادہ سے زیادہ علمی معلومات فراہم کرنے کے لیے درس قرآن اور درس حدیث کا انتظام ہوناچاہیے اورپھر اس سے بھی وسیع دائرہ ہے اوروہ جمعۃ المبارک ۔ہماری ترجمہ کلاس میں تھوڑے لوگ ہوں گے،جمعہ میں زیادہ ہوں گے۔ درس سے زیادہ لوگ جمعہ کے موقع پرآئیں گے ۔جمعہ کی نماز میں خطبہ میں ہمارا بیان مضبوط علمی بنیادوں پرہوناچاہیے۔کوئی وقت تھا کہ لمبی تقریر کرنے والے شخص کی خطابت کاچرچا اورشہر ت ہوتی تھی۔ ساری ساری رات تقریر چلتی تھی۔ آج معیار بدل چکاہے۔لوگوں کے پاس مختصر وقت ہے، اس مختصر وقت میں اپنی بات لوگوں کوسنائیں۔ ایک وقت تھا کہ ایک خطیب الفاظ کے انتہائی نادر نمونوں کا ذخیرہ رکھتاتھا۔ تقریرمیں ایک لفظ آگیا تو دوبارہ نہ آئے۔ لوگ اس کا معنی مفہوم سمجھنے کے لیے لغت کی کتابیں دیکھتے رہیں۔ لیکن آج یہ معیار بدل چکا ہے۔ انتہائی سادہ لب ولہجہ اورلوگوں کی سطح کے مطابق گفتگو کی جائے۔ لفظوں کی بادشاہت وہاں نہ ہوبلکہ جتنے گمراہ لوگ ہیں جنھوں نے لوگوں کوگمراہ کیا، انہوں نے طرز گفتگو انتہائی سادہ رکھاہے۔ طرز گفتگو خطیب کا انتہائی سادہ ہو۔ تیسری چیز یہ کہ کوئی وقت تھاکہ لوگوں کی معلومات کا مکمل مرکز وہ خطیب کی خطابت ہوتی تھی۔ مولاناصاحب نے جو بیان فرما دیا، وہی ان کا دین ہے اوروہی ان کی شریعت ہے۔لیکن معاف کرنا، آج لوگوں کی معلومات کے ذرائع بڑھ چکے ہیں۔آج کسی عنوان پر بات شروع کریں لو تو گ فوراً کہہ دیں گے کہ یہ بات میں نے فلاں جگہ پر پڑھی ہے۔ آج نیٹ کی سہولت ہرنوجوان کے پاس ہے ،کمپیوٹر،بڑی سے بڑی لائبریری ایک پرزے کے اندر جمع ہے اوروہ منٹوں میں اسے دیکھ لیتے ہیں، اس لیے میں اورآپ مجمع کے سامنے تقریر کرتے ہوئے انتہائی احتیاط سے کام لیں کہ لوگوں کی معلومات کا انحصار اب صرف میری خطابت پر نہیں بلکہ خارجی ذرائع پر ہے۔
تو خلاصہ یہ ہے کہ مسجد درس گاہ ہے، علم کا مرکز ہے ،خطیب اورامام کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی اس دائرے میں بھرپور رہنمائی کریں۔مسجد باہمی ملاقات اوررابطے کاادارہ ہے،امام یہاں کن کن طریقوں سے لوگوں سے رابطہ کرے، کیسے لوگوں کو جوڑے،یہ ان کی ذمہ داریاں ہیں اوران ذمہ داریوں کواداکرنے میں کیاذمہ داریاں ہیں، میرے خیال میں ان مشکلات کو تفصیل کے ساتھ لانا ضروری نہیں۔ واخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

مولانا عبدالرؤف فاروقی 

(مہتمم جامعہ اسلامیہ، کامونکی)
الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ۔
محترم علماء کرام اورمیری تمام برادری کے دوستو!آپ حضرات نے آج کے موضوع کی مناسبت سے بڑی فکر انگیز گفتگو علماء کرام سے سنی ہے۔ یہ بہت طویل موضوع ہے اوراس پر تقاریر نہیں، کئی دنوں تک بیٹھ کرتبادلہ خیال ہونا چاہیے۔ مشکلات سامنے آئیں، مسائل سامنے آئیں، ذمہ داریوں پرگفتگو ہو، مسائل ومشکلات کوحل کرنے کی تجاویز سامنے لائی جائیں۔ 
۱۹۷۳ء میں، میں باقاعدہ امامت کے مصلے پر کھڑا ہوا۔ جس مسجد میں مجھے امامت کی ذمہ داریاں سونپی گئی ،اس مسجد میں، میں واحد خدمت کرنے والا تھا یعنی غسل خانہ کی صفائی،وضوکی جگہ کودھونا ،موٹرچلانا،پانی کا انتظام کرنا، یہ سب میری ذمہ داریاں تھیں۔ پہلے پوری مسجد کی صفائی کرنا، صفیں درست کرنا،اذان کے ٹائم پر اذان دینا،پھر قراقلی ٹوپی پہن کر منبرپر کھڑے ہو جانا یابیٹھ جانا، میری ابتدا یہاں سے ہوئی۔ایک ڈیرے اور گاؤں کا امام ہے، اس کے مسائل کیا ہیں۔ ایک قصبے اور شہر کا امام ہے، اس کے مسائل کیا ہیں۔ پھر شہروں اور قصبوں میں ایک شخصی مسجد ہے کہ ایک شخص نے بنائی ہے، وہی اس کا منتظم ہے، وہی اس کا متولی ہے، اسی کا قاعدہ کلیہ چلتاہے، اس مسجد کے امام کے کیا مسائل ہیں۔ محلے کی مساجد کی منتظمہ ہے،محلے کی کمیٹی بنی ہوتی ہے جس میں کوئی دودھ بیچنے والا، سودی کاروبار کرنے والا، اس طرح کے لوگ اس کمیٹی کے منتظم اور صدر، نائب صدر، خزانچی وغیرہ ہوتے ہیں، وہاں کے امام کے مسائل کیا ہیں۔ پھر اوقاف کی سرکاری مساجد کے ائمہ ہیں، ان کے مسائل ہیں۔ بہت سی قسمیں ہیں اماموں کی۔
میری اپنے رائے یہ ہے کہ ذمہ داریاں توسب جگہ کی ایک جیسی ہیں۔ایک بڑے عالم کے پاس شیخ الحدیث کے پاس بہت سے اماموں کے مسائل آتے ہیں۔یہاں مولانا زاہدالراشدی صاحب تشریف فرماہیں، ان کے پاس بھی بہت سے ائمہ کے کیس، مقدمات آتے رہے،یہ نبھاتے رہے ۔ہم وکیل صفائی ہوتے ہیں اماموں کے۔ مولوی کی وکالت کرنا،اس کے اوپر لگے ہوئے الزامات کودھونایہ ہماری فطرت میں شامل ہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس سیمینار کے انعقادپر مولانا زاہدالراشدی صاحب مبارکبادکے مستحق ہیں،لیکن سیمینارکی بجائے اگر ایک جرگہ بنایاجاتااوروہاں پر دیہاتوں کے امہ کو بھی دعوت دی جاتی اوران سے بھی کہتے کہ تم اپنے مسائل بتاؤ، ہم اپنے بتاتے ہیں۔اس طرح ہم خیالات کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔ وقت کی بہت قلت ہے اورمسائل بہت زیادہ ہیں اوربہت سے مسائل جن سے ہمیں واسطہ پڑتاہے، اس پر بہت لمبے عرصے کے لیے گفتگو کی ضرورت ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ الشریعہ اکیڈمی کبھی اس کا بھی اہتمام کرے گی کہ ہم مل کر بیٹھیں گے اور آپس میں تبادلہ خیال کریں گے۔ مسائل ہرکسی کے مختلف ہیں۔ ہم جیسے لوگ مسائل میں گھرے ہوئے ہیں اور مولانا سمیع اللہ فراز جیسے لوگ ہم پر طنز کرسکتے ہیں کہ ہم یہ نہیں کرسکے، وہ نہیں کر سکے۔ جب ہم سب مل کر بیٹھیں گے، تبھی ہم لوگ مسائل کو حل کرسکیں گے۔
میں اپنی بات ختم کرتے ہوئے عرض کرتاہوں کہ ذ مہ داریوں کا انداز بالکل ایک ہے، امام اور خطیب کی ذمہ داریوں کا دائرہ متعین ہے کیونکہ امام اورخطیب روحانی باپ ہوتاہے اپنے تمام متوسلین کا ،اپنے نمازیوں کا اوراسے اپنے نمازیوں، مقتدیوں اوراپنے سامنے بیٹھ کر سننے والے لوگوں کے ساتھ بالکل باپ جیسی شفقت سے پیش آنا چاہیے۔ آپ دیکھیں، عیسائی اپنے مذہبی رہنماکو فادر کہتے ہیں یاپادری کہتے ہیں۔ پدر بھی فارسی میں باپ کو کہتے ہیں۔ جیسے وہ پادری نہ صرف اپنے مذہب کے لوگوں کے ساتھ بلکہ ہمارے مذہب کے غریب لوگوں،دیہات کے لوگوں اوربہت سے مجبور لوگوں کے ساتھ انتہائی شفقت کامعاملہ کرتاہے، حالانکہ ان کے پاس مذہب کی سچائی نہیں ہے، لیکن وہ پھر بھی اپنے اخلاقی رویے کی وجہ سے لوگوں میں مقبول ہوجاتاہے، اسی طرح ایک امام اورخطیب کولوگوں کے ساتھ شفقت کا معاملہ کرنا چاہیے۔
میںیہ سمجھتا ہوں کہ مسائل بہت ہیں، ذمہ داری کا دائرہ متعین ہے، لیکن حل ایک ہی ہے کہ ہرامام اور ہر خطیب انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء اور العلماء ورثۃ الانبیاء کانمونہ بن جائے۔ دین نبی کریم کی وراثت ہے، انبیا کی وراثت ہے اوردین صرف عبادات کے شعبے کانام نہیں ہے۔ امورسیاست،سیاست مدنی جسے ہم سیاسی امور کہتے ہیں جس سے ہم نے اپنے آپ کو بے دخل کرلیا ہے، یہ سب سرداردوعالم لی اللہ علیہ وسلم کی وراثت ہے اور امام اورخطیب کوجہاں عبادت اور سیاست دونوں میدانوں کاشہسوارہوناچا ہیے، وہاں خشیت الٰہی سے اس کا دل بھرا ہوا ہونا چاہیے۔ حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب تشریف فرماہیں، آپ حضرات اختلاف کر سکتے ہیں،آج سے پچیس تیس سال پہلے جب دیوبندی علما سیاست سے وابستہ تھے،ہرمسجد کا امام اورخطیب سیاسی ہوتا تھا۔ جمعیت علمااسلام اوپر سے لے کر نیچے تک مضبوط تھی۔ اس وقت مسائل کم ہوتے تھے ۔جس دن ہم نے پسپائی اختیار کی ہے،مسجدوں کاانتظام مقامی کمیٹیوں کے سپرد کر دیا ہے جس میں ایک بریلوی ہوتاہے، ایک غیر مقلد ہوتا ہے، ایک جماعت اسلامی کا، ایک پیپلزپارٹی کاآدمی ہوتاہے،ایک تحریک انصاف کا ہوتاہے ،یوں مختلف خیالات کے لوگوں کا مرکب یعنی مغلوبہ ساہوتاہے اورآپ جانتے ہیں کہ نتیجہ توبہرحال اقل اورارذل کے تابع ہوتاہے اوریہ کمیٹیا ں ایک سازش کے تحت بنی ہیں۔ جمعیت علماء اسلام نے، دیوبندی مولوی نے ۱۹۷۰ء کی دہائی میں یا اس سے پہلے یا اس کے بعد بہت سی قوتوں کو شکست دی اوراس بری طرح دی کہ وہ آج تک اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔سازش تیارہوئی کہ اس ملاکو کسی طرح پابند کر دیا جائے اورپابندکرنے کے لیے یہ سارانظام بنایاگیا۔ آج ہم خشیت الٰہی سے اتقوا اللہ حق تقاتہ  (اللہ سے ڈروجس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے) اورڈرنے کا حق کیاہے کہ صرف اللہ سے ڈرو، اس کے سوا کسی سے نہ ڈرو اور ہمار ا حق ہے تنقید کرناحکمرانوں پر ،ہمارا حق ہے تعاونوا علی البر والتقوی کی بنیاد پر سیاست کرنااورکسی کو کوئی حق نہیں ہے کہ اس ملک پر جواسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔اے این پی کوحق نہیں ہے ،پیپلز پارٹی کو،مسلم لیگ ن کو حق نہیں ہے کہ وہ سیاست کرے اس لیے کہ قرارداد پاکستا ن کی بنیاد پر اس کا قبلہ متعین ہے ۔اسلام اس کا ریاستی مذہب ہے توکون حق دارہے کہ وہ سیاست کرسکے؟ وہ صرف ملااورمولوی اورپیغمبردوعالم کاوارث ہے ۔اگر ہم اس پر آجائیں تومسائل ایک دم نہ سہی،ایک ایک کرکے حل ہوتے جائیں گے ۔میں اپنی گفتگو کا خلاصہ دولفظوں میں بیان کرتاہوں کہ ذمہ داریاں سب کی متعین ہیں،دائرہ واضح ہے،پیغمبر دوعالم اورصحابہ کرام ہمارے سامنے نمونہ ہیں۔ہم سب اللہ سے ڈرنے کانمونہ بن جائیں توان شاء اللہ مسائل حل ہوجائیں گے ،مشکلات ختم ہوجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مقام پر واپس آنے کی توفیق عطافرمائے۔واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ 

مولانا حافظ گلزاراحمد آزاد 

(جمعیت اہل سنت، گوجرانوالہ)
عنوان کے حوالے سے یہ پروگرام ایک الگ اورمنفرد سا پروگرام سے ہے۔عموماً ہمارے ہاں اس قسم کے موضوعات پر پروگرام نہیں ہوتے۔ذمہ دارریوں کے حوالے سے پہلی نشست میں، میں نے اور آپ نے بہت سی کام کی باتیں سنی ہیں۔اللہ عمل کی توفیق دے اورجن سے بچنا ہے،ان سے بچنے کی توفیق دے۔علماء کی ذمہ داریاں معاشرے کے حوالے سے، اسلامی سوسائٹی کے حوالے سے ،خطابت کے حوالے سے ،مسجد کے حوالے سے ہم نے پوری کرنی ہیں۔ علماء کے مسائل بھی بے پناہ ہیں۔ایک ایک مسئلہ آپ دیکھیں کہ اس میں سے کتنے مسائل نکلتے ہیں۔ کیاکیا مجبوریاں اور دشواریاں ہیں، آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ان مسائل کو یہاں بیان بھی کیاگیاہے، آگے ان کا حل تو وہ دور دور تک دکھائی نہیں دے رہاکہ ائمہ کے مسائل ہم کس حد تک حل کرپائیں گے یاواقعتا ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمارے پاس وسائل ہیں یاہم سنجیدہ کوشش کرنا چاہ رہے ہیں۔ابھی تواس بات کا بھی یقین نہیں آرہا، کیوں کہ مختلف عنوانات پر پروگرام ہوتے ہیں، سیمینار ہوتے ہیں اورکہتے ہیں کہ بھائی نیاپروگرام تھا بڑااچھا ہوا،لیکن عملی پیش رفت ہوتی نظر نہیں آتی۔ایک مزید رکاوٹ ہے کہ ہمارے ہاں ایسے منفی طرزعمل پر کسی کوتوڑنے کے لیے پروگرام ہوتے ہیں،لیکن مثبت اورمعیاری عنوانات پرمعاشرے کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے کوئی کام نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے میں الشریعہ اکادمی کے اراکین کو مبارکباد اورخراج تحسین پیش کرتاہوں کہ وہ ایسے پروگرام کے لیے بہت کوشش اورجدوجہد کررہے ہیں۔ ان شاء اللہ جیسے جیسے آگے چلتے جائیں گے، پیش رفت ہوتی جائے گی۔
ذمہ داریوں کے حوالے سے میں مختصرسابیان کروں گا کیوں کہ اتنا وقت نہیں ہے۔ ۷۰ء سے پہلے سے میں گوجرانوالہ میں ہوں اورجمعیت اہل سنت والجماعت سے منسلک ہوں اوریہ علما سے تعلق کی وجہ سے ہے۔میں آج بڑے اعتماد سے کہتا ہوں کہ ہمارے عام ائمہ کرام اور خطبا میں محلو ں کے اندر جن کو ہم عام زبان میں چھوٹے مولوی کہتے ہیں، جتنی قربانی ہمارے مسلک کے علمادیتے ہیں،آپ کو اتنی قربانی کہیں نہیں ملے گی۔جتنے مسائل کے اندر رہ کر وہ دین کا یہ سلسلہ چلا تے ہیں، آپ کو مثال ملنا مشکل ہوگا ۔جوں جوں آپ ان پر غورکرتے جائیں گے، آپ کو مسائل کھلتے ہوئے نظر آئیں گے ۔وجہ کیاہے کہ تین ہزار روپے امام صاحب لے رہے ہیں، اس کے آٹھ بچے ہیں، دو میاں بیوی ہیں، والدین بھی آگئے، وہ بھی ان کے پاس ہیں۔ اب بتائیں، یہ بجٹ کیسے بنایاجائے گا؟ ۳۵۰۰میں یہ مہینہ کیسے چلائے گا؟ ایک آدمی کا ناشتہ نہیں چلتا،لیکن یہ لے کر پھر کام کررہے ہیں اورکس طرح کام کررہے ہیں، یہ وہ جانتے ہیں یاان کا اللہ جانتا ہے۔کیونکہ ان کے ذہن کے اندر پیشہ نہیں، مشن ہے اور وہ یہ مشن لے کر چلتے ہیں۔ہمارے اکابر کا بھی یہ یہی ورثہ تھا کہ ایک جگہ بیٹھ کر بھوکے پیاسے رہو ،لیکن نئی نسل تک ورثہ پہنچا دو۔
یہاں وزیرآباد میں واقعہ پیش آیاکہ ایک پڑھی لکھی خاتون نے ایک قادیانی سے نکاح کرلیا۔ یہاں سے سب علما گاڑیاں بھر کر گئے۔یہاں کی انتظامیہ سے بھی بات ہوئی اور وہاں کی انتظامیہ سے بھی بات ہوئی، لیکن میں جاتے ہوئے راستے میں یہ سوچ رہاتھا کہ قادیانیوں کے خلاف بچے بچے کے دل میں نفرت ہے، پھر اس خاتون نے جوکافی پڑھی لکھی ہے، اس نے مرزائی کے ساتھ کیوں نکاح کرلیا؟ جب ہم وہاں پہنچے تومجھے پتہ چلاکہ اس پورے گاؤں میں ایک بھی مسجد علماء دیوبند کی نہیں ہے ۔میں سمجھ گیاکہ اگر ہمارا ایک چھوٹا سا ورکر بھی یہاں اصلاح کا کام کرتا تویہ سانحہ پیش نہ آتا۔اورکچھ ایسے علما ہمارے ضلع کے جو ان پڑھ تھے ،سادہ قرآن پاک پڑھا ہوا تھا، علاقہ کے اندر انہوں نے کام کیا۔ وہ اردومطالعہ کرتے رہے اورعلماسے جڑے رہے،پورے علاقے کا نقشہ ہی بدل گیا ۔ایک گاؤں نہیں، کئی گاؤں کے اندر یہ اثرپھیلتا چلا گیا۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلے ہمیں اپنے آپ کو بنانا چاہیے،جب اپنے آپ کو بنالیں گے توپورا معاشرہ بن جائے گا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر تشریف فرما ہیں، صحابہ کرام بھی بیٹھے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اب جو آدمی آئے گا، وہ جنتی ہوگا۔صحابہ کرام بہت متجسس ہوئے کہ وہ کون آدمی ہے ؟اتنے میں ایک آدمی آیا۔ تازہ وضو کیے ہوئے تھا،بائیں ہاتھ میں جوتیاں پکڑے ہوئے ہے، سلام کیا اور آکر بیٹھ گیا۔دوسرے دن پھر مجلس جمی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اب جو آدمی آئے گا، وہ جنتی ہے ۔صحابہ کرام پھر انتظار میں ،جستجو میں۔ وہی آدمی اسی حالت میں آیا۔ تیسرے دن پھر اسی طرح آپ نے فرمایا کہ ابھی جو آدمی آئے گا، وہ جنتی ہوگا۔ وہ آیا، اسی طرح سلام کیا اوربیٹھ گیا ۔عبداللہ بن عمروبن العاصؓ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ ارادہ کیا کہ آج میں ا س کے پیچھے جاتا ہوں ،پتہ کرتاہوں کہ یہ کون سا کام کرتاہے کہ اس کے بارے میں آقا نے فرمایا کہ یہ جنتی ہے۔چنانچہ میں اس کے پیچھے گیا۔ جب ان کے گھر کے پاس گئے تو اس آدمی نے محسوس کیا کہ میرے پیچھے کوئی ہے۔عبداللہ بن عمروالعاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے کہاکہ میں نے قسم کھائی ہے کہ میں تین دن اپنے گھر نہیں جاؤں گا۔مہربانی فرماکر مجھے اپنے گھر رہنے کی اجازت دو۔وہ آدمی کہنے لگا کہ ٹھیک ہے، رہ لو۔حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ میں رات کو جاگتا رہاکہ یہ آدمی کیاکرتاہے ۔اس آدمی نے عشاء کی نماز پڑھی،تھوڑا بہت پڑھا اور سو گیا،تہجد کے لیے اٹھا ہی نہیں،فجر کی نماز کے لیے اٹھا ۔میں تین دن رہا، لیکن ان تین دنوں میں اس نے کوئی منفرد کام نہیں کیا۔میں بڑا حیران ہوا کہ یہ ایسا کیاکام کرتاہے کہ آقا نے فرمایا کہ یہ جنتی ہے۔ میں نے اس آدمی کے سامنے ساری صورت حال بیان کی تواس نے کہا کہ سارامعاملہ تمہارے سامنے ہے۔میں بڑا مایوس ہوا، واپس جانے لگا تو اس آدمی نے کہا کہ اے اللہ کے بندے، میں کوئی اورکام تونہیں کرتا البتہ میرے دل میں کسی آدمی کے لیے کینہ یابغض نہیں ہے۔ شاید یہ عمل ہی خداپاک کو پسند آ گیا۔ حضرت عبداللہؓ کہنے لگے، میری آنکھیں کھل گئیں کہ واقعتا یہی وہ عمل ہوگا کہ جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جنت کی بشارت سنادی ہے۔
یہ توعام آدمی کے بارے میں ہے۔ اگرہم علما کے بارے میں سوء ظن رکھنا شروع کردیں، حسد اورکینہ شروع کر دیں،ایک جماعت دوسری جماعت سے حسد شروع کردے توبہتری آسکتی ہے؟ سب سے پہلے اگر ہم اپنے سینے کو صاف کریں، سب سے محبت کریں، جوسیاسی علماہیں،جوجہاد کاکام کرنے والے ہیں، جوتبلیغ کا کام کرنے والے ہیں، ان کو اپنے گھر کافرد سمجھیں،ان کو دل میں جگہ دیں توپھر ان شاء اللہ اس کارواں کو کوئی روک نہیں سکتا۔
مساجد کی کمیٹیوں کے بارے میں بات ہوئی۔ ہم بھی کمیٹیوں کے ماتحت کام کرتے ہیں ۔مولاناراشدی صاحب نے فرمایاہے کہ اگر امام طاقتور ہوتوکمیٹی بھاگ جاتی ہے اور اگرکمیٹی طاقتور ہوتوامام بھاگ جاتا ہے۔ مولانا کا تجربہ تویہ ہے۔ میں چالیس سال سے امام ہوں، میں سمجھتاہوں کہ امام طاقتور ہے۔مولانا شمس الدین صاحب کا جنازہ تھا ۔مولانا اعظم صاحب اہل حدیث مکتب فکر کے بڑے عالم ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ یار تم اچھے ہو، ہمیں توکمیٹیاں ہی چلنے نہیں دیتیں۔ یعنی ان کے ذہن میں یہ ہے کہ دیوبندی کمیٹیوں کا محتاج نہیں ہے۔یہ تو ہم ہی جانتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا بیتتی ہے۔ لیکن جو مخلص ہوکرچلے ،پیشہ نہ سمجھے، مشن سمجھ کر چلے گا، ایک دن آئے گا کہ کمیٹیاں ماتحت ہوجائیں گی ان شاء اللہ۔ میں تویہ کہتاہوں کہ یہ فیصلہ کرلو کہ کوئی مطالبہ نہیں کرنا، مجھے جودیناہے اللہ نے دیناہے۔کسی سے کوئی مطالبہ نہیں کرنا اوردوسرایہ فیصلہ کرلیں کہ یہ سمجھیں کہ مجھے حاجی صاحب نے رکھا ہواہے یاصدرصاحب نے رکھا ہوا ہے،بلکہ یہ سمجھیں کہ مجھے اللہ نے رکھا ہوا ہے۔جب یہ فیصلہ کرلیں گے تو ان شاء اللہ ،اللہ راہیں کھول دے گا۔
میرا چھوٹاسامحلہ ہے ،وہاں چھوٹی سے مسجد ہے۔ اس مسجدمیں، میں نے تقریر کی علامہ اقبال کے خلاف۔اس وقت میں طالب علم تھا اورنوائے وقت کے فرنٹ پیج پر خبرآتی تھی مولانا حسین احمدمدنی ؒ کے خلاف کہ یہ پاکستان کے لیے خطرہ ہیں۔مجھے غصہ آگیا ،میں نے جمعہ کاسارا خطبہ علامہ اقبال کے خلاف کیا کہ تم اس کی بات کرتے ہو کہ جس کے منہ پر ڈاڑھی بھی نہیں تھی ۔میں نے بہت کچھ کہہ دیا،لیکن آخر میں اللہ کے فضل سے میں نے کہا کہ علامہ اقبال اگر بنا ہے تواحمدعلی لاہوری ؒ کی نظر سے بناہے، علامہ انورشاہ کاشمیری ؒ کی نظر سے بناہے، عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی مجلس سے بنا ہے، اس وجہ سے ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔جمعہ پڑھانے کے بعد ہمارے سارے دیوبندی حضرات آگئے اورکہنے لگے کہ آپ صبح صبح چلے جائیں کہ سارا محلہ آپ کے خلاف ہو گیا ہے، گولیاں چل جائیں گی۔ میں نے کہا کہ صبح کیا جانا ہے، میں ابھی جاتا ہوں۔وہاں سے نکلاتونصرت العلوم چلاگیا۔ اس وقت میں وہاں پرزیرتعلیم تھا۔حضرات !تین دن گزرے تھے،اللہ کاکرم ایسا ہوا کہ جومیرے مخالف تھے،وہ آگئے اورکہنے لگے کہ لوگ کہتے ہیں کہ جب تک حافظ صاحب نہیں آئیں گے، نہ اذان ہوگی نہ نماز ہوگی۔آپ کی مہربانی واپس چلیں۔میں نے کہا کہ آپ صوفی عبدالحمید سواتی صاحب کے پاس آؤ،وہ جو فیصلہ کریں گے میں ماننے کو تیارہوں ۔چنانچہ وہ صوفی صاحب کے پاس آئے۔،صوفی صاحب نے بات سنی اورفرمانے لگے کہ جاؤ بیٹا، جاکر خدمت کرو۔یہ سب کچھ میرا کمال نہیں تھا ،یہ میں نے اپنے اکابر کے حوالے سے گفتگو کی تھی ۔اگر آج ہم سب اپنا ذہن مثبت بنا کرکام کریں گے توبہت سے مسائل کا حل ہوسکتا ہے۔
میں آخر میں بس دوباتیں کہتا ہوں کہ ہماری جتنی بھی جماعتیں ہیں، فکری ہیں،مذہبی ہیں ،سیاسی ہیں،سماجی ہیں، تبلیغی ہیں، سب کا احترام کرو،سب کاادب کرواوردوسری بات یہ ہے کہ اللہ کوحاضرناظرکرکے اپنے اکابر کے مشن کو آگے بڑھانے کی کوشش کرو۔اللہ ہم سب پر کرم فرمائے گا۔ واخردعواناان الحمدللہ رب العالمین۔

مولانا عبدالحق خان بشیر صاحب 

(حق چاریار اکیڈمی، گجرات)
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، امابعد!
معزز علماء کرام، قابل صداحترام بزرگو اور دوستو!
سب سے پہلے تومیں الشریعہ اکادمی کے منتظمین کومبارکباد پیش کرتاہوں کہ وہ آج کی عصری وسماجی ضروریات کے حوالے سے مختلف قسم کے سیمینار منعقد کرتے ہیں اوریہ آج کا پروگرام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔مجھے جوموضوع دیا گیا ہے، وہ ہے ’’خطبہ جمعہ کے لیے موضوع کا انتخاب اوراس کی تیاری‘‘۔مجھ سے پہلے میرے دوست مولانا گلزار احمد آزاد صاحب مساجد کی کمیٹیوں اور ائمہ وعلما کی مشکلات پربات کررہے تھے ۔اس حوالے سے والد محترم امام اہل سنت مولانا سرفرازخان صفدر ؒ دوباتیں ارشاد فرمایاکرتے تھے کہ مسجد کی کمیٹی کے اندر موجود سرمایہ دار چاہے اس کی پیشانی پر تہجد کے اور سجدوں کے نشانات اورمحراب پڑ جائے، وہ مولوی کے معاملے میں سرمایہ دار ہی ہے۔دوسری بات حضرت شیخ فرمایاکرتے تھے کہ اللہ رب العزت نے مولوی کولوگوں کی اصلاح کے لیے بھیجا ہے اور ہر مسجد میں ایک بابا مولوی کی اصلاح کے لیے ہوتا ہے۔شیخ فرمایاکرتے تھے کہ جومولوی اللہ کی رضا کے لیے اس بابے کو برداشت کرجائے اوراپنے مشن کو اس کی وجہ سے ترک نہ کرے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔محض اللہ کی رضا کے لیے اس بابے کو برداشت کرجائے۔
اب میں اپنے موضوع کی طرف واپس آتاہوں۔ خطابت ایک فن ہے جس کی ہردورمیں اہمیت رہی ہے اوراس فن نے معاشرے کے اندر انفرادی اوراجتماعی اصلاح میں بڑا کردار اداکیاہے۔اس فن سے تحریکیں اٹھی ہیں ،تحریکوں کو عروج ملاہے ،تحریکیں کامیاب ہوئی ہیں۔لیکن یہ فن اس وقت تک اہمیت کاحامل بھی رہاہے،اس کا ایک کردار بھی رہا ہے جب تک یہ فن سوسائٹی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے ۔جب یہ فن ایک سوسائٹی کی بجائے ایک خطیب کی ضرورت بن گیا،اس وقت سے یہ فن اپنی اہمیت کھوگیاہے ۔یہ فن دراصل سوسائٹی کی ضرورت کے لیے ہے، اس نے ہر دور کے اندرسوسائٹی کی اصلاح میں بنیادی کردار اداکیے ہیں۔آج ہمیں یہ شکوہ ہے کہ جمعہ کے موقع پر ہماری مساجد کے اندر نفری کم کیوں ہوگئی ہے یاجونفری ہے، وہ تقریر کے ٹائم کی بجائے خطبے کے ٹائم پر یانماز کے ٹائم پر کیوں آتی ہے۔ یہ شکوہ توہم کرتے ہیں،لیکن کیاکبھی ہم نے یہ سوچامنبرپربیٹھ کر ہم ان لوگوں کی ضرورت کو پوراکررہے ہیں؟سوسائٹی کے جو مسائل ہیں ،سماج کی جوضروریات ہیں ،کیاہم منبر پر بیٹھ کر ان ضروریات کو پورا کررہے ہیں؟ آج خطابت صرف اورصرف نقالی اور رٹے کا نام رہ گئی ہے اور میں بطورلطیفہ عرض کرتاہوں کہ ہمارے علاقے کے بڑے ممتاز خطیب ہیں،تقریر فرمارہے تھے اور میں ان کی تقریر سے اندازہ کررہاتھا کہ یہ تقریر حضرت مولانا عبدالشکور دین پوریؒ کی ہے۔ تقریر میں فرمارہے تھے کہ میں نے امیرشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے ملاقات کی۔ تقریر کے بعد کھانے پہ بیٹھے ہوئے تھے،میں نے ان سے پوچھا کہ حضرت آپ کا سن ولادت کیاہے؟ فرمانے لگے ۱۹۷۵ء۔ میں نے کہا کہ حضرت جس شخصیت کی ملاقات کے بارے میں آپ تقریر میں فرمارہے تھے، وہ اس سے پندرہ یاسولہ سال پہلے دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ یعنی کتاب کے اندر ایسے ہی لکھا تھا جس طرح وہ بیان فرمارہے تھے ۔یعنی رٹے کے اندر بھی اگر آدمی عقل سے کام لے تو کام چل سکتاہے۔میں یہ عرض کررہاہوں کہ ہمارے ہاں خطابت نقالی اور رٹے کا نام رہ گیاہے۔اگراپنے دورکاایک خطیب،اس کاانداز یہ ہے کہ وہ کرسی پرپاؤں رکھ کر تقریر کرتاہے توہم اس کی بھی نقالی کریں گے۔ تقریر بھی اسی کی نقل کریں گے،انداز بھی اسی کا نقل کریں گے ۔یہ چیز ہم میں آگئی ہے کہ ہم نے نقالی اوررٹا خطابت کے اندر گھسیڑ دیاہے۔اس وقت سے خطابت اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔
اگر ہم اس چیز کو محسوس کریں کہ سوسائٹی کی ضرورت ہم نے پوری کرنی ہے اور سوسائٹی کے تقاضے کیاہیں توہمیں سوسائٹی کے اندر رہنا ہوگا، سوسائٹی سے روابط رکھنے ہوں گے، سوسائٹی سے ان کی مشکلات اور ضروریات معلوم کرنی ہوں گی۔ ہمارے ہاں حالت کیاہے کہ گلیوں میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہوتا ہے اورمیں مسجد میں بیٹھ کر بریلویوں کا دھڑلہ، اہل حدیثوں کا دھڑلہ نکال رہا ہوتا ہوں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اس کی ضرورت نہیں، اپنے مقام پر اس کی بھی ضرورت ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آج پوری کی پوری قوم کراچی سے لے کر خیبر تک جس عنوان پر اکٹھی ہورہی ہے، مجھے اس کے لیے قوم کے اس تقاضے کو بھی پورا کرنا ہے۔ کشمیر کے بارے میں ہماراموقف کیاہے ،کشمیرکے ساتھ ہماری ہمدردی کی بنیاد کیا ہے،ان کے ساتھ ہمارا ربط وتعلق کیا ہے۔ ہمیں پبلک کے سامنے اس چیز کابھی اظہارکرناہے، لیکن نہیں۔ مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہناپڑ رہاہے کہ ہمارے ۹۰فیصد سے زائد خطیب سوسائٹی کی ضرورت کااحساس نہیں کرتے اورجب تک ہم سوسائٹی کی ضرورت کااحساس نہیں کریں گے، تب تک ہم صحیح عنوان کاانتخاب نہیں کر سکتے۔ 
ہمارے ہاں خطبا کاایک طبقہ تو وہ ہے جنہوں نے مہینوں کے حساب سے خطبات یادکرلیے ہیں۔یہ ربیع الاول کے ہیں، یہ ربیع الثانی کے ہیں، یہ ذوالقعدہ کے ہیں، یہ ذوالحجہ کے ہیں۔اگلاسال شروع ہوتاہے پھر وہی ترتیب شروع ہوجاتی ہے کہ پچھلے سال کی تقریر کس کو یاد ہے اور ایک طبقہ وہ ہے کہ جو سیاست کے اندر اس قدرگھس گئے ہیں کہ ان کے لیے ہفتے کی اخبارات کافی ہوتی ہیں۔ ہفتہ کی اخبارات سامنے رکھیں اور جمعہ پڑھادیا۔ یہ دونوں طرز درست نہیں ہیں۔ ہمیں پبلک کی ضرورت محسوس کر کے موضوع کا انتخاب کرناچاہیے ۔اس وقت سوسائٹی کے اندر حدوداللہ کا مسئلہ چل رہاہے۔ ہم نے پبلک کو سمجھاناہے کہ حدوداللہ کیاہیں،ان کا حکم کیا ہے۔ اگرسوسائٹی کے اندرناموس رسالت کا مسئلہ چل رہاہے ،توہمیں پبلک کو سمجھاناہے کہ اس کی ا ہمیت کیاہے۔اگرسوسائٹی کے اندرعورتوں کا دن، والدین کا دن، بچوں کا دن، مزدوری کا دن چل رہاہے توہمیں پبلک کو اسلام کے حوالے سے ان دنوں کی اہمیت کوبتاناہے۔لیکن اس طرف ہماری توجہ نہیں ہے۔ہماری سوسائٹی کے اندرنفرتیں بڑھتی جارہی ہیں،ہمیں اس بات کااحساس نہیں ہے کہ ہم سوسائٹی کی ان نفرتوں کو کیسے دور کریں۔ ہمارا پورے کاپوراخاندانی نظام بگڑ رہاہے ۔والدین اوراولاد کے درمیان، بھائی بھائی کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی ہورہی ہے،لیکن کیا کبھی ہم نے محسوس کیا کہ ہم منبر پر بیٹھ کر بھی ان نفرتوں کو دورکرنے کے لیے کوئی کردار اداکریں؟جب تک ہم ان ضروریات کو محسوس نہیں کرتے اس وقت تک ہم اپنافرض ادانہیں کرسکیں گے۔
سیدنا ابوبکرصدیقؓ کایوم وفات آتاہے ،ضرورت ہے کہ لوگوں کو بتاناچاہیے، لیکن کیاابوبکرصدیق ؓ کامقام اتناہی ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاونت کی ،ان کے ساتھ ہجرت کی، تمام جہادوں میں شریک رہے؟ کیایہ بتاناہماری ذمہ داری نہیں کہ ابوبکرصدیقؓ نے خلافت کا نظام کیسے چلایا؟حضرت عمر فاروقؓکی شخصیت کوبھی ایک ہی دائرے میں بندکردیاہے کہ کیسے انہوں نے اسلام قبول کیا، کیسے ہجرت کی،کیسے مدینہ منورہ میں رہے ،کیسے شہیدہوگئے۔درمیان میں جوان کا خلافت کادور ہے،اپنی خلافت کوچلانے کے لیے ان کی سیاست کانظام کیاتھا؟ عدالت کانظام کیاتھا؟ انہوں نے روم وایران کی پرانی تہذیبوں کے اندر سے کیسے ایک نئی تہذیب متعارف کرائی۔ کیایہ سب بتاناہماری ذمہ داری نہیں ہے؟ہم جب شخصیات کے حوالے سے بھی دیکھتے ہیں تو ہمارے عنوانات شخصیت کے ایک مخصوص حصے تک محدودہوتے ہیں۔ تومیں یہ عرض کرناچاہوں گا کہ جب تک ہم سوسائٹی کی ضرورت اورسوسائٹی کے مسائل کونہیں سمجھتے، اس وقت تک ہمارے لیے موضوع کا تعین اور اس تعین کے ساتھ اپنے فرض کواداکرناہمارے لیے ممکن نہیں ہوگا۔
دوسری چیزہے’’موضوع کی تیاری‘‘۔ میں انتہائی افسوس کے ساتھ عرض کروں گا کہ ہمارے ہاں مارکیٹ میں بکنے والے خطبات نے ہمارے نوجوانوں کے مطالعے کاذوق تباہ وبربادکردیاہے۔اپنی پسندکے ایک خطیب کے خطبات لیے،اس کو دیکھا اور جمعہ پڑھادیا ۔یہ سوچے بغیر کہ وہ خطیب کس ما حول میں بات کررہاتھا ۔ وہ تیس سال پہلے کے ماحول میں بات کررہا تھا اورمیں تیس سال بعد جب کہ ماحول بہت حد تک بدل چکاہے۔میں ماحول کی پروا کیے بغیر بیس، پچیس سال پہلے کے ماحول میں کی گئی تقریریں رٹ کر جمعہ پڑھا رہا ہوں۔ میرا ۱۹۸۵ء سے اپنا طرزیہ رہاہے اور اب تک یہی معمول ہے کہ میں جمعرات کادن باہرنہیں دیتا۔ ایک موضوع کاانتخاب کرتا ہوں۔ عشاء کی نماز سے لے کر فجرتک میں جمعہ کی تیاری کرتا ہوں۔سب سے پہلے میں موضوع کے مطابق آیات تلاش کرتاہوں،پھران آیات کے لیے میرے پاس جو دستیاب تفاسیر ہیں، انہیں دیکھتا ہوں۔ پھراس کے مطابق احادیث دیکھتاہوں،ان احادیث کی شروحات نکالتاہوں، پھرمیں اپنے مضمون کوترتیب دیتاہوں۔ ہمارے موضوع کا ایک پہلودین کے حوالے سے ہے۔ اگرہم نے اپنے اندرذوق مطالعہ کو برقراررکھا، جسے برقراررکھناچاہیے اورصرف مطبوعہ خطبات پر انحصار نہیں کیا توپھراس موضوع کے متعلق قرآن پاک کی آیات، ضروری نہیں کئی تفاسیر ہوں ،اگردوتفاسیربھی ہیں،یا ایک بھی ہے جیسے معارف القرآن ہے،جیسے تفسیر عثمانی ہے، اگر ایک تفسیرسے بھی ان آیات کی تشریح پڑھ کر ان سے متعلق احادیث اور جو ان کی شروحات دستیاب ہیں، ان کو دیکھ کر اگرتیاری کی جائے تومیں پورے وثوق سے کہتاہوں کہ اس سے ذوق مطالعہ بھی بڑھے گا اور ان شاء اللہ علم بھی بڑھے گا۔ اس کے علاوہ یہ کہ یہاں اگر کچھ سٹور ہوگا عقل اسی کے مطابق سپلائی کرے گی۔ یہاں اگر کچھ سٹور نہیں ہے توعقل کے آگے جوکچھ انسان بولتاچلاجائے گا۔ہمیں یہاں موضوع سے متعلق کچھ سٹورکرناہے ،پوری توجہ کے ساتھ اس کو ذہن میں بٹھاناہے۔
حضرت شیخ ؒ فرماتے تھے۔ مجھے یادہے، ۱۹۷۷ء کی تحریک مصطفی کے دوران شیخ نے میری تقریر سنی اورمجھے گھر بلا کر بڑے غصے سے کہا کہ کیاکر رہے تھے تم؟ یہ تقریرتھی؟ تقریرآستین چڑھانے کانام نہیں، تقریرمنہ سے تھوک نکالنے کا نام نہیں ہے۔ تقریرنام سے دوچیزوں کا۔ ایک یہ کہ جو تم کہہ رہے ہو، اس کے بارے میں تمہارا دل مطمئن ہے اورجوتم کہہ رہے ہو، وہ لوگوں کو سمجھ آرہاہے ۔اگر یہ دوچیزیں ہیں توتقریرتقریر ہے۔ تو موضوع کی تیاری کے لیے ضروری ہے کہ جوموضوع منتخب کیاہے، اس موضوع کے حوالے سے آیات قرآنیہ،ان کی تفاسیر ،احادیث اوران کی شروحات دیکھی جائیں۔ اگران کے اندرفقہی مسائل ہیں توان مسائل کو بھی دیکھ لیاجائے۔اگر بزرگوں کے مسائل بھی اس موضوع کے مطابق مل جائیں تونورعلی نورہے۔ اس کے اندر اورجان پیداہوجائے گی۔ اوراس کا ایک پہلوہے جو سماجی بھی ہوسکتاہے،سیاسی بھی ہوسکتاہے، تاریخی بھی ہوسکتاہے۔موضوع کے اندرجوسیاسی ،سماجی پہلوہیں، ان کے لیے بھی ہمیں قابل اعتماد مواد حاصل کرناہے اوروہ قابل اعتماد ذریعہ تلاش کرناہے جس سے مجھے ٹھیک مواد مل جائے۔ میں اس مقام پر یہ ضرور کہوں گا کہ اس کے لیے علما کا میڈیا کے ساتھ وابستہ رہنابہت ضروری ہے ۔میں یہ نہیں کہتا کہ الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ تعلق رکھو،لیکن اب ہمیں روزنامہ اسلام کے خول سے باہر نکلنا چاہیے اوراس خول سے باہر نکل کرآگے بڑھناہے۔ ہمیں صرف اسی پر انحصارنہیں کرناکہ صبح روزنامہ اسلام پڑھ لیا، بس کافی ہے۔ نہیں بلکہ ہمیں میڈیا کے ساتھ وابستہ ہوناہے اور میڈیا سے معلومات حاصل کرکے ہم نے اس موضوع پر جودینی پہلوکے ساتھ دوسرا پہلوہے،خواہ وہ سماجی ہے یا سیاسی ہے، اس کے لیے معلومات حاصل کرنی ہیں۔ اگر ہم ان چیزوں کا خیال رکھ سکیں تومیرا خیال ہے کہ ایک خطیب منبرپربیٹھ کراپنی منصبی ذمہ داری کو پوری طرح نبھاسکتاہے۔واٰخردعواناان الحمد للہ رب العالمین
(جاری)

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’جہاد ۔ کلاسیکی وعصری تناظر میں‘‘  (ماہنامہ الشریعہ کی خصوصی اشاعت)

ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ سے الشریعہ اکادمی کی طرف سے شائع ہونے والا ملک کا نامور ماہنامہ ہے جس کے رئیس التحریر جانشین امام اہل السنۃ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا زاہد الراشدی اور مدیر ان کے صاحبزادے ممتاز اسلامی اسکالر مولانا حافظ محمد عمار خان ناصر ہیں۔ بحث و مباحثہ کے پلیٹ فارم پر اس رسالہ نے اہل علم اور عوام الناس میں غیر معمولی شہرت حاصل کی ہے۔ جہاں بہت سے اہل علم و قلم اس کی پالیسی کو سراہتے ہیں،وہاں کچھ شدت پسند لوگ اسے ہدف تنقید بھی بناتے ہیں۔ بہر حال یہ ہر ایک کے اپنے اپنے ذوق کی بات ہے۔
ماہنامہ الشریعہ اس سے قبل بھی کئی اہم خصوصی اشاعتیں مختلف موضوعات پر منظر عام پر لاچکا ہے۔ یہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ جہاد کے موضوع پر کئی اہل علم و قلم کے مضامین، مقالات اور مذاکرات اس کتاب کا حصہ ہیں۔جہاد اسلام کا ایک اہم عمل ہے جو کبھی فرض عین اور کبھی فرض کفایہ ہوتا ہے۔ اس کے اصلی ڈھانچے پر ایمان رکھتے ہوئے غیر منصوص ضروریات اور طریقہ کار پر جب تک جہاد جاری رہے گا، اس کے لیے اجتہادی بحث و مباحثہ کی گنجائش بھی باقی رہے گی، لہٰذا یہ خاص اشاعت بھی بحث و مباحثہ کے حوالہ سے کوئی حرف آخر نہیں ہے، چنانچہ ابتدائیہ کے صفحہ ۱۲ پر مدیر صاحب نے بڑی صفائی کے ساتھ لکھ دیا ہے کہ ’’ان موضوعات پر ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات پر پہلے بھی بحث و مباحثہ ہوتا رہا ہے اور آئندہ بھی شاید کافی عرصے تک اس کو جاری رکھنے کی ضرورت محسوس کی جاتی رہے گی۔‘‘ نیز ’’یہ اشاعت خاص عصر حاضر کے ایک نہایت اہم اور حساس موضوع کے بہت سے علمی و عملی گوشوں کو واضح کرنے اور اس ضمن میں بحث و مباحثہ کے عمل کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گی۔‘‘ بلفظہ۔
اس خصوصی اشاعت میں (۱) اسلام کا تصور جہاد۔ چند توضیحات، (۲) جہاد۔ ایک مطالعہ، (۳) معاصر مسلم ریاستوں کے خلاف خروج کا مسئلہ، (۴) دستور پاکستان سے متعلق القاعدہ کے مؤقف پر ابحاث بطور خاص مذکور ہیں۔ ۶۶۲ صفحات پر مشتمل اس اشاعت کی کمپوزنگ،کاغذ و طباعت اور رنگین کارڈ کور معیاری ہے۔ قیمت۵۰۰ روپے، ناشر الشریعہ اکادمی ،ہاشمی کالونی کنگنی والا گوجرانوالہ۔علماء و طلباء اور عامۃ المسلمین سب ہی یکساں استفادہ کر سکتے ہیں۔
(تبصرہ: مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی، بشکریہ ماہنامہ ’’نصرۃ العلوم‘‘ گوجرانوالہ)

’’جرح وتعدیل‘‘

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت کے بیسیوں پہلوؤں پر صدیوں سے علمی وتحقیقی کام ہو رہا ہے، مگر ہنوز تشنہ ہے اور اس علمی اور تحقیقی محنت کے دائرہ میں توسع وتنوع کی مسلسل پیش رفت جاری ہے۔
ائمہ محدثین نے حدیث کی سند اور رواۃ کو پرکھنے کے لیے جرح وتعدیل کے جو ضابطے بنائے ہیں اور جن کی بنیاد پر روایت حدیث کا عظیم الشان علمی ڈھانچہ استوار ہے، وہ بیسیوں محدثین کے لکھے ہوئے ہزاروں بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ اوراق میں بکھرے ہوئے ہیں اور نئی نسل کے لیے اس بات کی ضرور ت محسوس ہو رہی ہے کہ ان قواعد وضوابط اور اصول ترجیح کو ان کے دیگر متعلقات کے ساتھ آج کی آسان زبان میں عام فہم اسلوب کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ علوم حدیث کے قدیم ذخیروں تک آج کے نوجوان علماء او رنئی نسل کی رسائی آسان ہو جائے۔
فاضل محترم جناب ڈاکٹر اقبال محمد محمد اسحاق حفظہ اللہ تعالیٰ نے ’’جرح وتعدیل‘‘ کے عنوان سے اپنی اس ضخیم کتاب میں اسی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے جو لائق داد ہے۔ انھوں نے جرح وتعدیل کے اصول وقواعد اوران سے متعلق دیگر ضرور ی معلومات کو اچھے انداز میں مرتب کر دیا ہے جو علم حدیث سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے افادیت کا حامل ہے۔ اگرچہ بعض مقامات پر ان کے مسلکی ذوق کی ترجیحات جھلکتی دکھائی دیتی ہیں جو ایک فطری سی بات ہے، لیکن مجموعی طو رپر ان کی یہ علمی کاوش وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کرتی ہے۔
یہ ضخیم کتاب مکتبہ قاسم العلوم، اردو بازار لاہور کی طرف سے شائع کی گئی ہے۔ (تبصرہ: ابو عمار زاہد الراشدی)

’’تحقیقات حدیث‘‘

حدیث اور علوم حدیث پر مشتمل ایک علمی وتحقیقی سہ ماہی مجلہ ’’تحقیقات حدیث‘‘ کا شمارہ ۳ (ستمبر ۲۰۱۱ء) اس وقت میرے سامنے ہے جو جامعہ خیر العلوم خیر پور ٹامیوالی کے شعبہ ’’زاویہ علم وتحقیق‘‘ کی طرف سے شائع ہو رہا ہے اور ہمارے فاضل دوست سید عزیز الرحمن صاحب اس کی ادارت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ مجلہ ’’نجیب الطرفین‘‘ ہے کہ اس کی نسبت ایک طرف جامعہ خیر العلوم ٹامے والی سے ہے جو ہمارے مخدوم ومحترم بزرگ اور اپنے وقت کے جید عالم دین ومفتی حضرت مولانا مفتی غلام قادر صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی یادگار اور صدقہ جاریہ ہے اور دوسری طرف یہ مجلہ ایک عارف باللہ اورمحقق بزرگ حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے خانوادہ سے منسوب ہے کہ ہمارے ممدوح سید عزیز الرحمن صاحب حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے پوتے ہیں۔
اس مجلہ میں علم وتحقیق کا ذوق اور اس کے ساتھ فکر وشعور کا امتزاج رکھنے والیوں کے لیے بھی تسکین کا سامان وافر مقدار میں موجود ہے جو ایک مستقل دعوت فکر کی حیثیت رکھتا ہے۔ حدیث اور علوم حدیث کے حوالے سے ہمارے ہاں روایت اور روایتی اسلوب کے دائرہ میں تو بحمد اللہ تعالیٰ خاصا کام ہو رہا ہے، لیکن درایت کا یہ پہلو کہ عصری اسلوب میں حدیث نبوی کو پیش کیا جائے اور عصر حاضر کے تناظر میں حدیث نبوی کی تطبیق کی راہیں تلاش کی جائیں، ہمارے تعلیمی وتدریسی دائروں میں ابھی تک پوری توجہ حاصل نہیں کر پا رہا۔ ’’تحقیقات حدیث‘‘ دینی وعلمی حلقوں کو اس ضرورت کی طرف توجہ دلانے کی ایک اچھی کوشش ہے جس پر مسرت واطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس کی ترقی، تسلسل اور کامیابی کے لیے بارگاہ ایزدی میں دست بدعا ہوں۔ آمین
(تبصرہ: ابو عمار زاہد الراشدی)

الشریعہ اکادمی کی لائبریری کے لیے موصول ہونے والے ہدیہ ہائے کتب

  • الکنز المتواری فی معادن لامع الدراری (صحیح بخاری پر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا سہارنپوریؒ کے تشریحی افادات) ۲۴ جلدیں (ہدیہ از جناب مولانا عبد الحفیظ مکی مدظلہ، سعودی عرب)
  • مشاہیر (مکتوبات) بنام مولانا سمیع الحق (۸ جلدیں) ہدیہ از جناب مولانا سمیع الحق زید مجدہم
  • طبقات القراء للذہبیؒ (۲ جلدیں) ہدیہ از جناب ڈاکٹر احمد خان صاحب، اسلام آباد
ادارہ ان گراں قدر کتب کا ہدیہ پیش کرنے پر مذکورہ تمام حضرات کا شکر گزار اور ان کے لیے دعا گو ہے۔ 

نفسیاتی علاج کی اہمیت

حکیم محمد عمران مغل

حکیم ابوبکر رازیؒ کی حذاقت کا یہ واقعہ کتب میں مرقوم ہے کہ حاکم وقت کا لڑکا ذہنی اور نفسیاتی امراض میں جکڑا گیا۔ آخری علاج رازیؒ نے ہی کیا۔ بادشاہ کا لڑکا اپنی ضد پر قائم تھا کہ میں گائے ہوں، مجھے ذبح کیا جائے۔ رازی نے چند منٹ میں اس کی نفسیاتی کیفیت کو سمجھ کر علاج کیا اور شہزادہ ٹھیک ہو گیا۔ رازی نے کہا کہ میں ابھی آپ کو ذبح کرتا ہوں، لیکن یہ تو بتائیں کہ آپ کے جسم پر نہ گوشت پوست اور چربی ہے اور نہ ہی خون ہے۔ ہڈیوں پر چھری کیسے چلے گی؟ اس لیے آپ کچھ کھا پی لیں تاکہ گوشت پیدا ہو۔ اتنی سی با ت پر شہزادے نے کھانا پینا شروع کر دیا اور اس کا ذہنی توازن ٹھیک ہو گیا۔
ہماری بود وباش اس سطح پر پہنچ چکی ہے اور اس میں اتنی تبدیلی آ چکی ہے کہ اگر کوئی معالج نفسیاتی طور پر ناکام ہے تو وہ جسمانی علاج قطعی طورپر نہیں کر سکتا۔ کچھ عرصہ قبل مجھے ایک متمول، دوبئی پلٹ مگر نہایت متقی وپرہیز گار خاتون کے علاج کے لیے بلایا گیا۔ سارا گھرانہ ڈاکٹروں پر مشتمل تھا۔ اس عورت کا بہنوئی لاہور کے بہت بڑے ہسپتال کا سربراہ تھا۔ پورا زور لگایا گیا، مگر مریضہ ٹھیک نہ ہو سکی۔ بیماری یہ تھی کہ مریضہ جو کچھ کھاتی، فوراً قے کے ذریعے خارج ہو جاتا۔ جون جولائی کا مہینہ تھا۔میری تشخیص اور تدبیر بھی غلط نکلی۔ میں صبح سے شام تک سوچتا رہا۔ مریضہ کی بڑی بہن بڑی تجربہ کار، متقی پرہیز گار ، نماز گائنا کالوجسٹ تھی۔ میں نے اپنی تشخیص کا رخ موڑا۔ گھر والوں سے عرض کیا کہ مجھے آخری کوشش پوری کرنے دیں۔ مغرب کے قریب اللہ نے میری مدد کی اور میں قے بند کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ میں نے علم نفسیات کی مدد سے بات آگے بڑھائی تو یہ راز کھلا کہ محترمہ کی ایک نہایت لائق بیٹی نے سارے خاندان کو نظر انداز کرتے ہوئے قانونی طور پر مجسٹریٹ صاحب کے روبرو ایک نوجوان سے شادی رچا لی ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ اس خاتون کے سامنے اس کی لکھی پڑھی خوبرو لڑکی کے ساتھ ایک نوجوان گزرتا تو اس کی حالت غیر ہو جاتی۔ گرمی کا موسم تھا۔ میں نے گرم موسم کا خیال کرتے ہوئے پودینہ کے عرق کی پوری بوتل منگوائی اور ایک ایک پیالی پلاتا گیا، مگر قے نہ رکی۔ آخر بوتل ختم ہونے کو آئی تو قدرت نے میری کوشش کو قبول کر لیا۔ محترمہ کی نہ صرف قے رک گئی بلکہ ساتھ ہی وہ نیند کی آغوش میں چلی گئیں۔
بات یہ تھی کہ ماں نہیں چاہتی تھی کہ وہ نوجوان اس کا داماد بنے، جبکہ لڑکی اسی لڑکے سے شادی کی خواہش مند تھی۔ اسی کشمکش میں وقت گزرتا گیا اور ماں کی حالت غیر ہوتی گئی۔ جونہی وہ اپنے داماد کو دیکھتی، اس کے اندرونی نظام نفسیاتی طو رپر شدید متاثر ہوتا اور کھایا پیا باہر آ جاتا۔ پودینے کے عرق نے سارے جسم کو ٹھنڈا کر دیا اور قے رک گئی۔ میں نے تھوڑی سی کوشش کر کے اپنی تشخیص کا رخ موڑا تو مسئلہ حل ہو گیا۔ پرانے اطبا نے نفسیات کے علم کے بول بوتے پر پیچیدہ امراض کا علاج کر کے سیکڑوں مریضوں کی جان بچائی ہے۔