نوجوان علماء کرام کی تربیت: ضرورت اور تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(مجلس صوت الاسلام کراچی کے زیر اہتمام ۲۸۔۲۹۔۳۰ مئی ۲۰۱۲ء کو میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ’’علماء امن کنونشن‘‘ کی ایک نشست میں گفتگو۔)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔
مجھے سب سے پہلے آج کے اس کنونشن کو اسلام آباد کے ایک اعلیٰ ہوٹل میں منعقد کرنے کے بارے میں کچھ عرض کرنا ہے جسے بعض حلقوں میں تعجب کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، مگر میں چونکہ ہر بات کو اس کے مثبت اور رجائی پہلو سے دیکھنے کا عادی ہوں، اس لیے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں اس میں افادیت کاایک بڑا پہلو دیکھ رہا ہوں کہ دینی تعلیم اور ذوق کو معاشرہ کے اعلیٰ طبقات میں فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے اور دین کا علم اور پیغام ان طبقوں تک پہنچانے کے لیے ان کے معیار اور نفسیات کے مطابق ان تک رسائی وقت کا اہم تقاضا ہے۔ قرآن کریم نے مال و دولت کے بارے میں فرمایا ہے کہ کی لا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم کہ دولت کی گردش صرف مالداروں تک محدود نہیں رہنی چاہیے، اور زکوٰۃ کا فلسفہ یہ ہے کہ وہ سوسائٹی میں دولت کی گردش کو اوپر سے نیچے لاتی ہے جس سے غریب اور محروم طبقات بھی دولت کے ثمرات سے مستفید ہوتے ہیں۔ اس کی روشنی میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ علم کی گردش بھی صرف فقراء اور غرباء تک محدود نہیں رہنی چاہیے اور اسے سوسائٹی کے اعلیٰ طبقات تک بھی پہنچنا چاہیے۔
ایک دور میں ہماری یہ ضرورت تھی کہ دین و علم کی محنت کو نچلی سطح پر لایا جائے تاکہ انہیں زمانہ کی دست برد سے بچایا جا سکے اور اگلی نسلوں تک پہنچنے کے لیے دین و علم کی حفاظت کی جا سکے۔ یہ جبر کا دور تھا اور دینی علوم و روایات کے خلاف برطانوی استعمار کی یلغار کا دور تھا جس میں دین و علم کی حفاظت اور ضرورت کے لیے ہمارے اکابر اس کی محنت کو انتہائی نچلی سطح پر لے گئے تا کہ اسے خطرہ نہ سمجھا جائے اور مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ؒ کے بقول ہمارے بزرگوں نے دین و علم کی محنت کو چٹائیوں اور تپائیوں تک محدود کر کے اسے کمیوفلاج کر دیا اور راڈار کی رینج سے نیچے لے گئے جس کی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ مگر آج کا دور اس سے مختلف ہے، آج دین و علم کی اس محنت کو نچلے طبقوں میں بدستور جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ معاشرہ کے بالائی طبقات تک لے جانے کی بھی ضرورت ہے اور ان طبقوں کو علم و دین کے ساتھ مانوس کرنے کی ضرورت ہے جو ملک میں حکمرانی کر رہے ہیں، لیکن دین اور دینی علم سے بے بہرہ ہیں۔ اگر ہم ان طبقات کو دین اور اس کے علوم کے ساتھ مانوس کر سکیں تو یہ اسلام کی بڑی خدمت ہوگی اور وقت کی ایک اہم ضرورت کی تکمیل ہوگی۔ ظاہر بات ہے کہ ان لوگوں تک دین کی بات اور علم پہنچانے کے لیے ان کے پاس اسی سطح پر جانا ضروری ہے جہاں وہ بات سننے کے عادی ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں مجلس صوت الاسلام کراچی کی یہ محنت قابل تعریف ہے اور ہم سب کو اس سے تعاون کرنا چاہیے۔
اس کے بعد میں اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں کہ نوجوان علماء کی تعلیم و تربیت کی آج کے دور میں ضروریات اور تقاضے کیا ہیں؟ میں اسے مختلف دائروں میں تقسیم کروں گا۔
سب سے پہلا دائرہ تکمیل کا ہے کہ ایک فارغ التحصیل عالم دین نے جو کچھ دینی مدارس میں پڑھا ہے، اس کی تکمیل کی جائے اور جو خامیاں اور کمزوریاں دوران تعلیم رہ گئی ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ ہمارے ہاں پرانے دور میں تکمیل کے نام سے فراغت کے بعد مزید تعلیم کا یہ ذوق اور نظام موجود رہا ہے کہ فارغ التحصیل علماء کرام درس نظامی کی رسمی تعلیم کے بعد کسی صاحب فن کے پاس کچھ عرصہ رہتے تھے اور فنون میں مزید تعلیم حاصل کرتے تھے جسے تکمیل ہی کہا جاتا تھا، اب بھی بعض علاقوں میں یہ روایت موجود ہے۔ خود ہمارے ہاں مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ میں حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ کی ’’دورۂ تکمیل‘‘ کے نام سے مستقل کلاس ہوتی تھی جس میں فنون کی تدریس ہوتی تھی اور معقولات پر بطور خاص توجہ دی جاتی تھی۔
اس کے بعد ’’تخصصات‘‘ کا دائرہ ہے کہ کسی خاص علم یا فن سے دل چسپی اور اس کا ذوق رکھنے والے فضلاء اس فن کے ماہرین کے پاس جاتے تھے اور مختلف سطحوں پر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ان میں دورۂ تفسیر قرآن کریم، دورۂ صرف و نحو اور دورۂ میراث کے حلقے بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
یہ دونوں دائرے آج بھی مختلف شکلوں میں موجود ہیں اور سینکڑوں اصحابِ ذوق ان دائروں میں محنت کر رہے ہیں، لیکن ان کی افادیت میں اضافہ کے لیے ان کی درجہ بندی اور ترجیحات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں جس طرح یونیورسٹیوں میں ایم فل اور پی ۔یچ ڈی کے درجات ہیں اور اس کے ساتھ ہی اساتذہ کی تربیت کے مختلف کورسز ہیں، دینی مدارس میں اسی طرز کی درجہ بندی ضروری ہے۔ اگر تکمیل کو ایم فل اور تخصص کو پی۔ایچ ڈی کی طرح منظم کیا جائے، اس کے ساتھ بی ایڈ اور ایم ایڈ قسم کے کورس اساتذہ کی فکری و عملی تربیت کے لیے مرتب کر کے ان کا اجرا کیا جائے اور ان کے نصابات میں آج کی ضروریات اور تقاضوں کو متوازن انداز میں ایڈجسٹ کر لیا جائے تو تکمیل اور تخصص کے ان حلقوں کو با مقصد اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے اور ان کی افادیت میں کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
نوجوان علماء کرام کی تعلیم و تربیت کا تیسرا دائرہ میرے خیال میں ’’تحسین‘‘ کا ہے جس کا مطلب میرے نزدیک وہ ’’احسان‘‘ ہے جس کا ذکر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں موجود ہے اور جس سے حضرات صوفیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ ’’سلوک و احسان‘‘ کے نظام کے لیے راہ نمائی حاصل کرتے ہیں، یعنی دین اعمال پر پختگی کے ساتھ ساتھ ان میں مزید حسن پیدا کرنا اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ قلوب کو منور کرنا ہے جو ایک عالم دین کی صلاحیتوں کو جِلا دیتا ہے اور اخلاق و آداب میں عمدگی پیدا کرتا ہے۔ میں عام طور پر نوجوان علماء کرام کو مشورہ دیا کرتا ہوں کہ وہ کسی شیخ کامل کے ساتھ روحانی تربیت کا عملی تعلق قائم کریں اور ان کی باقاعدہ صحبت اختیار کریں یا کم از کم تبلیغی جماعت کے ساتھ کچھ وقت لگائیں جس سے ان کی عبادات اور دینی معمولات میں باقاعدگی پیدا ہوگی، کارکن کی سطح پر کام کرنے کا ذوق بیدار ہوگا۔ یہ باتیں آج ہم میں نہیں ہیں لیکن آج کے دور میں دین کی صحیح محنت کے لیے ضروری ہیں۔
اس سلسلہ میں چوتھا دائرہ میرے نزدیک تطبیق کا ہے کہ جو کچھ پڑھا ہے سوسائٹی میں اس پر عملدر آمد کی صورتیں ہمارے ذہن میں واضح ہوں، ہم قرآن کریم کی کوئی آیت پڑھ رہے ہوتے ہیں، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کر رہے ہوتے ہیں، حتیٰ کہ فقہ کا کوئی جزئیہ زیر بحث ہوتا ہے مگر آج کے عمومی حالات میں اس کی ضرورت کہاں ہے اور اس کی تطبیق کی موجودہ صورت کیا ہے؟ یہ بالکل ہمارے ذہن میں نہیں ہوتا، ہم اگر تطبیق کی بات کرتے بھی ہیں تو جس فقیہ اور مجتہد کا بیان کردہ جزئیہ ہمارے پیش نظر ہوتا ہے، اسی کے دور کے حالات کاتناظر بھی ہمارے سامنے ہوتا ہے اورا س بات کی طرف ہمارا ذہن نہیں جاتا کہ عرف و تعامل کی تبدیلی سے تطبیق کی صورتیں بدل جاتی ہیں۔ اور یہ بات قطعی طور پر ضروری نہیں ہے کہ مثلاً صاحبِ ہدایہ نے اپنے دور کے حالات کے تناظر میں اور اس دور کے عرف و تعامل کی روشنی میں کوئی جزئیہ تحریر کیا ہے تو وہ آج کے دور میں بھی اسی طرح فٹ ہو اور آج کے حالات سے بھی اسی طرح مطابقت رکھتا ہو۔
اس کے لیے سوسائٹی کے عمومی ماحول سے واقفیت، عرف و تعامل سے آگاہی اور لوگوں کی نفسیات و روایات سے شناسائی ناگزیر ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے جس کی طرف ہماری سرے سے توجہ نہیں ہے، بلکہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم نے حالات سے بے خبر رہنے کو کمال کی بات سمجھ رکھا ہے اور مسائل و مشکلات سے بے خبری کو ہم نے ان کا حل قرار دے لیا ہے، ہمارے ہاں علم اور بزرگی کا ایک بڑا معیار یہ بن گیا ہے کہ اردگرد کے حالات کی کچھ خبر نہ ہو اور دنیا میں کیا ہو رہا ہے، اس سے کوئی دل چسپی نہ ہو، یہ طرز عمل درست نہیں ہے، اسے تبدیل کرنا ہوگا اور خاص طور پر فارغ التحصیل ہونے والے علماء کرام میں یہ ذوق پیدا کرنا ہوگا کہ وہ نہ صرف اپنے ملک کے بلکہ عالمی حالات سے بھی با خبر رہیں، دنیا اور معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھیں، قرآن و سنت، فقہ اسلامی اور تاریخ اسلامی کے ذخیرے سے استفادہ کرتے ہوئے خود کو فکری و عملی طور پر تیار رکھیں۔
نوجوان علماء اور فضلاء کی تعلیم و تربیت کا پانچواں دائرہ میرے خیال میں ان کی فکری تربیت اور ذہن سازی کا ہے جس کا ہمارے ہاں کوئی بامقصد اور منظم اہتمام موجود نہیں ہے، آج کی دنیا افکار و خیالات کے عروج کی دنیا ہے ، اور افکار و خیالات کی اشاعت اور فروغ میں جدید میڈیا نے جو ہمہ گیری اور وسعت پیدا کی ہے اس نے ہماری ذمہ داریوں میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا ہے، فکر و فلسفہ کی عالمی تحریکات، ان کے اہداف، ان کے طریق کار اور عالم اسلام پر ان کے مثبت و منفی اثرات پر نظر رکھنا، اور منفی خیالات کا توڑ تلاش کرکے متاثرہ لوگوں پر متبادل افکار و خیالات پہنچانا علمی و فکری محنت کا ایک مستقل دائرہ ہے جو ہماری توجہ کی رینج میں نہیں ہے، اور پریشان کن بات یہ ہے کہ ہم نے عقائد اور افکار و نظریات کو ایک ہی دائرہ کی چیز سمجھ رکھا ہے حالانکہ عقائد اور ان کی تعبیرات کی سطح اور دائرہ الگ ہے اور افکار و نظریات کی دنیا اس سے بالکل مختلف ہے مگر ہم کسی نئے فکر و نظریہ کا جواب فکر و نظریہ کی صورت میں دینے اور علمی و منطقی طور پر اس کی کمزوری واضح کرنے کی بجائے ہر بات کا رَد فتویٰ کی زبان میں دینے کے عادی ہوگئے ہیں جس سے کنفیوژن بڑھتا جا رہا ہے۔ عقیدہ کی بنیاد وحی پر ہے جبکہ فکر و نظریہ کا تعلق عقل سے ہے اور عقل کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ افکار و نظریات میں رد و بدل ہوتے رہنا ایک فطری بات ہے۔ اس لیے جو فکر و نظریہ وحی سے صریح متصادم نہ ہو اسے غلط عقیدہ قرار دے کر رد کر دینا قرین قیاس نہیں ہے، لیکن میں اس بحث کو مزید آگے بڑھانے کی بجائے اصولی طور پر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے مدارس کے فضلاء میں سے جو علماء اس کی اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں انہیں آج کے مروجہ نظریات و افکار اور فلسفہ و ثقافت سے آگاہی حاصل کرنا اور دور حاضر کی فکری و تہذیبی کشمکش سے روشناس کرا کے انہیں اسلام کے فطری نظام اور ثقافت و تمدن کی علمی زبان میں ترجمانی کے لیے تیار کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
حضرات محترم! میں نے آج کے حالات اور ضروریات کے تناظر میں دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے علماء کرام کی تعلیم و تربیت کے چند ناگزیر تقاضوں کا ذکر کیا ہے، اس سلسلہ میں ’’مجلس صوت الاسلام کراچی‘‘ کی محنت میرے نزدیک انتہائی مفید اور بروقت ہے اور میں اس پروگرام میں مسلسل شریک رکھنے پر مجلس صوت الاسلام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کی ترقی و کامیابی اور ثمرات و نتائج کے ساتھ بارگاہِ ایزدی میں اس کے لیے قبولیت و رضا کے لیے بھی تہہ دل سے دعا گو ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔
’’مشاہیر بنام مولانا سمیع الحق‘‘
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا سمیع الحق صاحب باہمت اور صاحبِ عزیمت بزرگ ہیں کہ اس بڑھاپے میں مختلف امراض وعوارض کے باجود چومکھی جنگ لڑ رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں اس انداز سے دینی وقومی خدمات میں مصروف ہیں کہ کسی شعبہ میں بھی انہیں صفِ اول میں جگہ نہ دینا ناانصافی ہوگی۔ دارالعلوم حقانیہ کے اہتمام وتدریس کے ساتھ ساتھ امریکی ڈرون حملوں اور نیٹو سپلائی کی ممکنہ بحالی کے خلاف عوامی محاذ کی عملی قیادت کررہے ہیں جس میں انہیں ملک کے طول وعرض میں مسلسل عوامی جلسوں اور دوروں کا سامنا ہے، جبکہ قلمی محاذ پر رائے عامہ کی راہ نمائی اور دینی جدوجہد کی تاریخ کو نئی نسل کے لیے محفوظ کرنے میں بھی وہ اسی درجہ میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ اور خود اپنے نام مشاہیر کے خطوط کو آٹھ ضخیم جلدوں میں جمع کرکے جو عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے، اسے دیکھ کر میں خود تحیر وتعجب کے ساتھ خوشیوں کے سمندر کی گہرائی میں ڈبکیاں کھا رہا ہوں۔ بحمداللہ تعالیٰ میرا شمار بھی بے ہمت لوگوں میں نہیں ہوتا، مگر مولانا سمیع الحق کی ہمت کی بلندی پر نظر ڈالنے کے لیے باربار ٹوپی سنبھالنا پڑرہی ہے۔
گزشتہ روز میں نے جب اس کتاب پر بلکہ کتابوں کے اس مجموعہ پر نظر ڈالی تو میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ سارے کام کاج چھوڑکر اسی کے سامنے دوزانو بیٹھ جانا چاہیے۔ تاریخ میرے مطالعے کا پسندیدہ موضوع ہے اور اس میں سے اہل حق کی جدوجہد اور خدمات کی تاریخ کے دائرے میں کچھ نہ کچھ کارروائی میں بھی وقتاً فوقتاً ڈالتا رہتا ہوں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق اور ان کے فرزند دل بند مولانا سمیع الحق کے نام وقت کے مشاہیر کے خطوط جن میں سیاست دان، حکمران، علمائے کرام، مشایخ عظام، اربابِ فکر ودانش، مفکرین ومدبرین، وکلاء، صحافی اور دیگر طبقات کی سرکردہ شخصیات شامل ہیں، تاریخ کا ذوق رکھنے والے اسکالروں اور میرے جیسے طلبہ کے لیے اتنا قیمتی اثاثہ ہیں کہ اس کی قدر وقیمت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
خدا جانے اس کے تفصیلی مطالعہ کا وقت کب ملتا ہے، جو بظاہر شوال المکرم کی تعطیلات سے پہلے بہت مشکل دکھائی دے رہا ہے، مگر اس کے سرسری تعارف کے لیے میں نے سردست اس کی پہلی جلد کا انتخاب کیا ہے جو شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق کے نام ان کے معاصر مشاہیر کے خطوط پر مشتمل ہے اور دینی جدوجہد کے ایک پورے دور کا احاطہ کرتی ہے۔’’مشاہیر‘‘ کے عنوان سے آٹھ ضخیم جلدوں پر مشتمل اس کتاب کی عمومی ترتیب یہ ہے کہ پہلی جلد شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ کے نام خطوط کے لیے مخصوص ہے، جلد دوم سے جلد پنجم تک حروف تہجی کے لحاظ سے مشاہیر کے مولانا سمیع الحق کے نام خطوط کی چار جلدیں ہیں، جلد ششم افغانستان کے جہاد کے دوران کی اہم رپورٹوں اور جہادی راہ نماؤں کے خطوط اور سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہے، جلد ہفتم میں بیرونی ملکوں کے مشاہیر کے خطوط شامل کیے گئے ہیں، جبکہ جلد ہشتم ضمیمہ جات، اضافات اور توضیحات کو سمیٹے ہوئے ہے۔
حضرت مولانا عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ کے نام مشاہیر کے خطوط کے لیے مخصوص پہلی جلد پونے سات سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل ہے۔ ان مشاہیر کی فہرست پر میں نے اس خیال سے نظرڈالی کہ اس کالم میں تذکرہ کے لیے ان میں سے چند زیادہ اہم بزرگوں کے ناموں کا انتخاب کرسکوں، مگر مجھے اس میں کامیابی نہیں ہوئی کہ کوئی نام بھی ایسا نہیں ہے جسے اہمیت کے خانہ نمبر دو میں رکھا جاسکے، البتہ اس حوالے سے مولانا سمیع الحق کا بے حد شکرگزار ہوں کہ حضرت شیخ الحدیث کے نام راقم الحروف کے تین خطوط شامل کرکے ان کے اس نیازمند وعقیدت مند کو بھی ’’خریداران یوسف‘‘ کی اس فہرست میں شریک کرلیا ہے جو میرے لیے اعزاز وافتخار کی بات ہے۔
حضرت مولانا عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ کا شمار پاکستان ہی نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا کی ان عظیم شخصیتوں میں ہوتا ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ وسطی ایشیا میں علوم دینیہ کی ترویج واشاعت اور اسلامی اقدار وروایات کے تحفظ وفروغ کا ذریعہ بنیں۔ تعلیمی اور تہذیبی حوالے سے مولانا عبدالحق کی دینی، علمی، تدریسی اور فکری خدمات جنوبی ایشیا اور اس کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا میں دینی جدوجہد کی اساس کی حیثیت رکھتی ہیں اور افغانستان کو دیکھا جائے تو اس کی پشت پر مولانا عبدالحق کی شخصیت پوری آب وتاب کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہے جو بظاہر ایک منحنی سا وجود رکھتے تھے، لیکن علم وفضل اور عزم وہمت کے اس کوہِ گراں کے ساتھ کمیونزم کے فلسفہ ونظام نے سر پٹخ پٹخ کر اپنا حلیہ بگاڑلیا اور آج کا مورخ یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ جہاد افغانستان کی علمی، فکری اور دینی اساس مولانا عبدالحق کی شخصیت اور ان کی نگرانی میں کام کرنے والا تعلیمی ادارہ دارالعلوم حقانیہ ہے جس کے اثرات افغانستان اور وسطی ایشیا کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ہیں۔
’’جہاد افغانستان‘‘ کی علمی وفکری آبیاری میں ہمارے بہت سے بزرگوں کا حصہ ہے، مگر میں تاریخ کے ایک طالب علم اور اس جدوجہد کے ایک شعوری کارکن کے طور پر تین شخصیات کو ان سب کا سرخیل سمجھتا ہوں، ان میں سے سب سے پہلا نام حضرت مولانا عبدالحق کا ہے اور ان کے بعد جہاد افغانستان کے علمی وفکری سرپرستوں میں میرے خیال میں حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی اور مولانا مفتی محمود کا نام آتا ہے جنہوں نے نہ صرف پاکستان کے علماء وطلبہ کو جہاد افغانستان کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا، افغان مجاہدین کی سیاسی واخلاقی پشت پناہی کی، جہاد افغانستان کے خلاف مختلف اطراف سے اٹھائے جانے والے شکوک واعتراضات کا جواب دیا اور جہاد افغانستان کی ہر لحاظ سے پشتیبانی کی۔
حضرت مولانا عبدالحق کی خدمات کو میں ایک اور حوالہ سے بھی تاریخ کا اہم حصہ شمار کرتا ہوں، وہ پاکستان میں نفاذاسلام کی دستوری جدوجہد کا باب ہے۔ پاکستان کی دستورساز اسمبلیوں میں شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کے بعد جس شخصیت نے دستور سازی میں سب سے زیادہ سنجیدہ کردار ادا کیا ہے اور دستورسازی کے تمام مراحل میں پوری توجہ اور تیاری کے ساتھ محنت کی ہے، وہ حضرت مولانا عبدالحق ہیں۔ 73ء کے دستور کی تیاری کے مرحلہ میں حضرت مولانا مفتی محمود قائدحزب اختلاف تھے اور حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا صدرالشہید، مولانا نعمت اللہ، مولانا عبدالحکیم، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا محمد ذاکر، مولانا ظفراحمد انصاری اور بہت سے دیگر بزرگوں نے اس دستور کو زیادہ سے زیادہ اسلامی بنانے کے لیے محنت کی، مگر دستورساز اسمبلی کی کارروائی کا مطالعہ کیا جائے اور دستورسازی کے مختلف مراحل پر نظرڈالی جائے تو حضرت مولانا عبدالحق کے جداگانہ اور امتیازی کردار کا تذکرہ بہرحال ضروری ہوجاتا ہے۔ حضرت مولانا عبدالحق ہمارے ملی اور قومی محسنین میں سے ہیں اور ان کے نام ان کے معاصر مشاہیر کے یہ خطوط ان کی جدوجہد اور خدمات کے مختلف پہلوؤں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ میں ان خطوط کی اشاعت پر مولانا سمیع الحق کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ دینی جدوجہد اور تاریخ کا ذوق رکھنے والے حضرات اس سے بھرپور استفادہ کریں گے۔
سال ۲۰۱۲ء اور دنیا کی تباہی کے مفروضے
مولانا محمد عبد اللہ شارق
بعض لوگ اس خوف میں مبتلا ہیں کہ 2012ء میں کچھ ہونے والا ہے۔ کچھ لوگو ں کو اس سال قیامت واقع ہوتی نظر آرہی ہے۔ بعض لوگوں کو دجال کی چاپ قریب سنائی دے رہی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سال بدی کی قوتوں کا امام’’ امریکا‘‘ قدرتی آفات وبلیات کی خوف ناک لپیٹ میں آکر سمندر برد ہوجائے گا۔ بعضوں کا خیال ہے کہ رواں سال ’’اسرائیل‘‘ صفحۂ ہستی سے مٹ جانے والا ہے۔ مغربی معاشرے اس حوالہ سے کچھ یادہ ہی خوف میں مبتلا ہیں۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس خوف کا اصل بخار مغربی معاشرہ کو ہی چڑھا ہوا ہے۔ان کے بعض حلقوں میں یہ بات عقیدہ کی حد تک راسخ ہوچکی ہے کہ 2012ء کے دوران یہ دنیا مختلف موسمیاتی یا ماورائی تبدیلیوں کا شکار ہوکر ٹوٹ پھوٹ جائے گی اور یوں اس زمین پہ زندگی اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔ مغرب کے کئی مفکر اور اسکالرزاس نکتۂ نظر کے پرزور حامی ہیں۔ اس حوالہ سے جس تاریخ کا خصوصی طور پر ذکر کیا جاتا ہے‘ وہ 21؍ دسمبر 2012ء ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ساٹھ ہزار ویب سائٹس ایسی ہیں جہاں اس تاریخ کے بارہ میں پیشین گوئیوں پر مبنی مواد موجود ہے۔ ان میں سے بعض ویب سائٹس پر باقاعدہ ڈاؤن کاؤنٹر لگے ہوئے ہیں جن کے ذریعہ ہر لمحہ بتایا جارہا ہے کہ دنیا کس طرح لمحہ بہ لمحہ اپنے خاتمہ کی طرف محوِ سر ہے اور اس کے خاتمہ میں مزید کتنے لمحات باقی ہیں۔ اس کے علاوہ اس موضوع پر مغرب میں بے شمار کتابیں بھی لکھی جاچکی ہیں۔ مشرق میں یہ خوف مغرب سے ہی برآمد ہوکر آیا ہے۔
دلائل اور حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس موضوع پر قلم اٹھانے والے لکھاریوں کے دعوی کے مطابق اہلِ دنیا کا یہ خوف بلاوجہ نہیں۔ ان کے مطابق اس بات کے کئی ماورائی اور سائنسی ثبوت موجود ہیں کہ 2012ء میں دنیا کے اندر کچھ غیر معمولی تغیرات اور تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں۔ ذیل میں ہم ان شواہد کا ایک جائزہ لیتے ہیں اور ان پہ رائے زنی کی کوشش بھی کرتے ہیں کہ آیا واقعی ان کی بنیاد پر 2012ء سے ڈرنا اور خوف کھانا درست ہے؟؟
ماورائی شواہد کے ضمن میں مختلف مذاہب کی مذہبی روایات ذکر کی جاتی ہیں‘ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان مذہبی روایات میں سے بعض کے اندر تو سرے سے کوئی ایسا اشارہ ہی نہیں ملتا جس معلوم ہو کہ بنی نوع انسان کو 2012ء سے ڈرنے کی ضرورت ہے‘ بلکہ اس کے برعکس ان پیشین گوئیوں میں (مجمل الفاظ کے اندر) یہ خوش خبری اور نوید نظرآتی ہے کہ 2012 ء میں حق اور سچائی کا آفتاب طلوع ہونے والا ہے۔ مثلاً ہندومت کی روایات کے مطابق 2012ء سے حق اور صداقت کے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔ بدھ مت کے بعض راہبوں کے مطابق ’’بدھا‘‘ کی پیشین گوئی کی روسے2012ء میں ایک سنہری دور (golden age) شروع ہونے والا ہے۔ تاہم یہودی اور عیسائی روایات کے مطابق اگرچہ 2012ء کے دوران یا اس سے پہلے دنیا کے اندر قتل وغارت ‘ خوں ریزی اور فتنہ وفساد کے کچھ واقعات رونما ہوں گے‘ مگر ان میں بھی انجامِ کار حق کے پیروکار صاف بچ جائیں گے اور منکرینِ حق پر عذابِ الہی نازل ہوگا۔ یوں اپنی اپنی روایات کی روشنی میں عیسائیوں اور یہودیوں کو بھی 2012ء سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے ہی عقیدہ کے مطابق خدا کے محبوب اور لاڈلے ہیں اور ان کی اپنی روایات کے مطابق خدا اس سال اپنے فرماں برداروں کو ’’فتحِ مبین‘‘ عطا فرمائے گا۔ نہ جانے پھر مغرب اور خصوصاً امریکا میں ایسی فرمز کیوں روز بروز مقبول ہوتی جارہی ہیں جو 21؍دسمبر 2012ء کی تباہی سے بچنے کے لیے زیرِ زمین پناہ گاہیں تیار کرکے فروخت کرتی ہیں اور نہ جانے انہیں خریدار کہاں سے میسر آجاتے ہیں!رہ گئے مسلمان تو دوسرے مذاہب کی روایات پر ان کا سرے سے ایمان ہی نہیں اور ان کا اپنا مذہب اس حوالہ سے بالکل خاموش ہے۔ لہذا ان کا 2012ء سے ڈرنااور گھبرانا تو بالکل ہی کوئی معنی نہیں رکھتا۔
سائنسی انکشافات اور شواہد کے ضمن میں جن امور کا ذکر کیا جاتا ہے‘ ان میں بھی کوئی ایسا نہیں جسے اطمینان بخش ‘ حتمی اور قطعی کہا جا سکے ۔ اس سلسلہ میں مایان قوم کے کیلنڈر اور امریکی خلائی ادارے ناسا کی تحقیق کا بطورِ خاص ذکر کیا جاتا ہے۔ مایان قوم کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ یہ سائنسی اعتبار سے ایک انتہائی ترقی یافتہ قوم تھی۔ 2000قبل مسیح سے 250ء کے درمیان ان کا زیادہ عروج رہا۔ اس قوم نے شمسی اورقمری کیلنڈر کے علاوہ ایک کیلنڈر ’’ورلڈ ٹائم کیلنڈر‘‘ کے نام سے تیار کیا تھا۔ یہ کیلنڈر 5126 سالوں پر مشتمل تھا۔ یہ کیلنڈر مختلف سائنسی خصوصیات کا حامل تھا جو انہوں نے اپنے کائناتی مشاہدہ کی روشنی میں تیار کیا تھا۔ یہ کیلنڈر31؍اگست3114 قبل مسیح سے شروع ہوکر اب 21؍دسمبر 2012ء کو ختم ہورہا ہے۔ان کا دعوی تھا کہ 21؍دسمبر 2012ء کے بعد ہمیں اندھیرا نظر آرہا ہے۔یعنی انہوں نے دعوی کیا کہ مذکورہ تاریخ کو دنیاکی عمر مکمل ہوجائے گی۔ جو لوگ 2012ء میں دنیا کی تباہی پر مصر ہیں‘ ان کی ایک بڑی لیل یہی کیلنڈر ہے۔ ان لوگوں کا دعوی ہے کہ مایان قوم نے گذشتہ ادوار کے لیے جو پیشین گوئیاں کی تھیں‘ ان میں بھی اکثردرست ثابت ہوئی تھیں۔ موجودہ دور میں سائنسی علوم سے وابستہ بعض مغربی مفکرین جب محض اس بنیاد پر مایان کیلنڈر کو تسلیم کرنے پر اصرار کرتے ہیں کہ ماضی میں بھی مایان قوم کی بعض پیشین گوئیاں درست ثابت ہوئی تھیں تو ان پہ حیرت ہوتی ہے۔ مایان قوم کا مذکورہ کیلنڈر ایک ایسے دور میں تیار ہوا جب سائنس ظن اور تخمین کے دور سے گزر رہی تھی۔[ضمناً جان لیجئے کہ سائنس کو اپنے تاریخی ارتقاء کے اعتبار سے تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے:(۱)ظن وتخمین کا دور۔ اس دور میں کوئی بھی سائنسی نکتۂ نظر محض ظن وتخمین او راٹکل پچو کی بنیاد پر قائم کیا جاتا تھا۔(۲)تجربہ کا دور۔ جب سائنس کی باگ ڈور مسلمانوں کے ہاتھ آئی تو اب کسی بھی سائنسی نکتۂ نظر کے ثبوت کے لیے تجربہ شرط قرار پایا۔ (۳)مشاہدہ کا دور۔ جب سائنس کی زمامِ کار مغرب کے ہاتھ آئی تو اب کسی بھی سائنسی دعوی کے لیے مشاہدہ ضروری ٹھہرا۔] اب جبکہ مشاہدہ اور مائیکرو اسکوپ کا دور ہے ‘ اس دور کے اندر پتھر کے دور میں بنائے گئے کیلنڈر کا حوالہ دینا اور محض اس بنیاد پر کہ اس قوم کی بہت سی سابقہ تحقیقات درست تھیں‘ اتنا بڑا دعوی کرنا کہ 2012ء میں دنیا مکمل طورپر تباہ ہوجائے گی‘ چہ معنی دارد؟اگر واقعی ایسا کچھ ہونے والاہے تو آخر وہ ایسا کون سا ذریعہ تھا جس کی مدد سے مایان قوم کوتو ہزاروں سال پہلے پیدا ہوکر 2012ء میں واقع ہونے والے اس عظیم حادثہ کی معلومات حاصل ہوگئیں جبکہ عہدِ جدید 2012ء میں داخل ہوکر اپنی تمام تر حشرسامانیوں کے باوجود سر پہ آپہنچنے والی اس قیامت کے بارہ میں بالکل بے خبر ہے۔اگر کسی کی دس باتوں میں سے چار باتیں درست ثابت ہوجائیں تو ضروری نہیں کہ باقی چھ بھی درست ہی ہوں۔تجربہ اور مشاہدہ کی بات کرنے والے مغربی مفکر (جو خدا کا انکار بھی محض اس لیے کرتے ہیں کہ وہ نظر نہیں آتا) نہ جانے ان میں بعض کو مایان قوم کے حوالہ سے عقیدت کا ایساکیا ہیضہ ہوا ہے کہ اپنے ان سب اصولوں کو بھول گئے ہیں اور مایان قوم کے کیلنڈر پرمن وعن ایمان لے آنا ضروری خیال کرتے ہیں۔
سائنسی شواہد کے ضمن میں جو دوسرا ’’معتبر نام‘‘ لیا جاتا ہے‘ وہ امریکی خلائی ادارے ’’ناسا‘‘ کا ہے۔ اس سلسلہ میں ’’ناسا‘‘ کی طرف بہت کچھ منسوب کیا جاتا ہے‘ مگر میں نے خود’’ناسا‘‘ کی ویب سائٹ پر اس حوالہ سے جو کچھ دیکھا‘ اس کی ایک جھلک آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ:
Nothing bad will happen to the Earth in 2012. Our planet has been getting along just fine for more than 4 billion years, and credible scientists worldwide know of no threat associated with 2012.
’’2012ء میں دنیا کے اندر کوئی برا واقعہ پیش نہیں آئے گا۔ ہمارا سیارہ چار ارب سال سے زیادہ عرصہ کے لیے بالکل فٹ فاٹ ہے۔ معتبر سائنس دان 2012ء میں پوری دنیا کو لاحق کسی بھی خطرہ کے بارہ میں کچھ نہیں جانتے۔‘‘
یہ اقتباس اور 2012ء کے بے بنیاد خوف سے متعلق دیگرتمام تفصیلات NASA کی سرکاری ویب سائٹ پر ملاحظہ کرنے کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں:
http://www.nasa.gov/topics/earth/features/2012.html
ایک مسلمان کا ایمان ہے کہ یہ دنیا تباہ ہونے کے لیے بنی ہے اور ایک دن تباہ ہوکر ہی رہے گی۔ ایک صاحبِ ایمان کے نزدیک اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اس تباہی کا مقررہ وقت معلوم کیا جائے ‘ یہ تباہی تو کسی بھی وقت آسکتی ہے‘ عین اس وقت بھی کہ جب ’’ناسا‘‘ والے بالکل مطمئن اوربے خوف بیٹھے ہوں کہ ابھی چار ارب سال تک تو اس دنیا کے تباہ ہونے کے کوئی امکانات نہیں! کیونکہ یہ تباہی ناسا والوں کی نہیں ‘ اللہ کی اجازت اور مرضی سے آنی ہے جو بحر وبر کا بادشاہ اور بلا شرکتِ غیرے مالک ہے۔ اس کے ایک ہی اشارہ سے ہوائیں‘ پہاڑ‘ سمندر‘ ستارے‘ زلزلے‘ وبائیں‘ سیلاب‘ آفتیں اور سینکڑوں قسم کی بلائیں پلک جھپکتے میں اس دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر تہس نہس کرسکتی ہیں۔ایک مسلمان کی نگاہ میں اصل مسئلہ یہ ہونا چاہئے کہ میں نے تباہی کے اس دن کے لیے کیا تیاری کی جب ماں بیٹے کو بھول جائے گی اور اولاد والدین کو۔آسمان پھٹ پڑے گا‘ زمین میں خوف ناک زلزلے ہوں گے‘ ایسی خوف ناک اور ہیبت ناک آندھیاں چلیں گی کہ پہاڑ روئی کے گالے بن جائیں گے‘قبریں شق ہونے لگیں گی اور اندر سے مردے نکل رہے ہوں گے‘ ستارے بکھرتے ہوئے نظر آئیں گے‘سمندروں میں آگ بھڑک اٹھے گی ‘ صورِ اسرافیل کی دہشت ناک آواز کانوں کے پردے پھاڑ رہی ہوگی اور دہشت ووحشت کے اس عالم میں چھ فٹ کے انسان کو اپنی اوقات یاد آجائے گی۔تب بدحواسی اور وحشت زدگی کی حالت میں اس کی آنکھیں تن جائیں گیاور وہ سوچنے پہ مجبور ہوجائے گا کہ کیا اس نے آج کے دن کے لیے کوئی نیکیاں ذخیرہ کی تھیں یا لہو ولعب اور شغل ومستی کے اندر ہی اپنی ساری زندگی برباد کرآیا ہے۔ایک طرف شرمندگی‘افسردگی اور خوف زدگی کی خوف ناک تصویریں ہوں گی‘ جن کی کتاب ان کے بائیں ہاتھ میں پکڑائی جائے گی۔ ان کے چہرے ہیبت ناک حدتک سیاہ اور تاریک پڑجائیں گے۔ دوسری طرف کچھ کھلکھلاتے اور مسکراتے چہرے ہوں گے‘ جن کے دائیں ہاتھ میں ان کا اعمال نامہ پکڑایا جائے گا۔ خوشی اور مسرت ان کے انگ انگ سے ٹپک رہی ہوگی اور لوگ ان کو رشک بھری نگاہوں سے دیکھیں گے۔ ان کا بس نہیں چل رہا ہوگا کہ کس طرح خوشی سے چھلانگیں لگائیں اور سب محشر والوں کو بتائیں کہ انہیں کتنی بڑی کامیابی کا پروانہ مل گیا ہے۔ جب نفسانفسی کا عالم ہوگا‘ زمین دہکتا توا بن جائے گی‘ دنیا میں گزری زندگی کے پل پل کا حساب ہوگا‘ شعلے اگلتی جہنم سامنے ہوگی‘ پل صراط بڑوں بڑوں کا پتہ پانی کردے گی‘ میزانِ اعمال کے پاس عجیب مناظر ہوں گے۔ اس دن صرف وہی بچ پائے گا جسے خدا کی رحمت اپنی آغوش میں لے لے گی۔ اس رحمت کو متوجہ کرنے اور اپنا مقدر سنوارنے کا آج بہت انمول موقع اس زندگی کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔
یہ سب لفاظی نہیں‘ حقائق ہیں کیونکہ اس سب کی خبر ہمیں اس کائنات کے رب اعلی اور اس کے سچے رسول نے دی ہے ۔ جب یہ سب منظر سامنے ہوں گے تو آنکھیں حیرت اورخوف کے مارے پھٹ جائیں گی۔کیا مسلمان سچے اللہ اورسچے رسول کی ان خبروں اور تنبیہوں کو بھول گئے ہیں کہ اب مچھروں اور ڈنگروں پہ تحقیق کرنے والے سائنس دانوں سے پوچھ کر فیصلہ کریں گے کہ انہیں کس وقت ا ور کس چیز سے ڈرنا چاہئے!!! یہ جہاں تو آنی جانی چیز ہے ‘ اس نے آج نہیں تو کل مٹ ہی جانا ہے۔ یہ جی لگانے کی جگہ نہیں‘ مٹ جانا اس کا مقدر ہے۔ خدا کے فیصلے نہ مایان کیلنڈر کے پابند ہیں‘ اور نہ ہی ناسا والوں کے اٹکل پچوؤں کے۔ ہمیں 21؍ دسمبر 2012ء سے نہیں‘ ہر لمحہ اور ہر آن خدا کی گرفت سے اور اس موت سے ڈرنا چاہئے جو کسی بھی وقت ‘ کسی بھی حال میں ہماری آنکھوں کو بے نور کرسکتی ہے۔ 21؍ دسمبر سے ڈرنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ فرض کیجئے کہ دنیا کی تباہی کا یہ وقت صحیح بھی ہو تو کیا ضروری ہے کہ میں 21؍دسمبر تک زندہ رہوں؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ میں اس سے پہلے ہی اس دنیا کو چھوڑ جاؤں؟اور فرض کیجئے کہ اگر 21؍ دسمبر کو کچھ بھی غیرمعمولی واقعہ پیش نہیں آتا او ریہ دن خیروعافیت سے گزر جاتا ہے تواس میں میرے لیے خوشی کی کیا بات ہے؟ کیا میں اس کے بعد موت کے چنگل سے بچ جاؤں گا؟؟ اور اگر 21؍ دسمبر کو سب کے ساتھ ہی مرنا میرے مقدر میں لکھا ہے تو اس میں اضافی پریشانی کی کیا بات ہے ؟مرنا تو ایک دن تھا ہی ‘ اکیلے نہ سہی ‘ سب کے ساتھ سہی ۔ہمیں ہر جہت اور ہر پہلو سے اللہ کے رنگ میں رنگ جانا چاہئے اور ہر اس چیز سے ڈرنا چاہئے جس سے اس مالک الملک نے ہمیں ڈرایا ہے۔ یہی ڈرنے کی اصل باتیں ہیں۔ باقی سب خرافات ہیں۔ ان سے ڈرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ افسوس کہ جس امت نے دوسروں کو یہ الوہی اور ملکوتی سبق پڑھانا تھا‘ وہ خود غیروں کی خرافات امپورٹ کرنے میں لگی ہوئی ہے اور اپنا سبق بھول گئی ہے۔
(بشکریہ روزنامہ اسلام)
سرمایہ دارانہ انفرادیت کا حال اور مقام (۱)
محمد زاہد صدیق مغل
ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری
اس مضمون کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی تفہیم کے لیے چند مطلوب بنیادی مباحث کو مربوط انداز میں پیش کرنا ہے۔ سرمایہ داری یا کسی بھی نظام زندگی پر بحث کرتے وقت مفکرین کا نقطہ ماسکہ اجتماعی زندگی اور اسکے لوازمات کی تشریح و تنقیح رہتی ہے اور وہ انفرادیت جو ان تمام اجتماعی معاملات کو جنم دیتی ہے نظروں سے اوجھل رہتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی زندگی فرد کے تعلقات کے مجموعے کے سواء اور کچھ بھی نہیں (۱)۔ انسانی زندگی ایک مربوط عمل ہے۔ انسان کی سوچ، عمل اور تعلقات میں گہرا ربط ہے۔ عمل اور تعلقات سوچ کے اظہار کا ذریعہ ہیں۔ سوچ کی بنیاد احساس ہے۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ان معنوں میں ہے کہ وہ لامحالہ اپنی انفرادی حیثیت میں یہ فیصلہ کرتا ہے کہ خیر اور شر کیا ہیں؟ اس دنیا میں اس کا مقام کیا ہے؟ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اور ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اس کو کیسے اعمال و افعال اختیار اور کیسے تعلقات استوار کرنے چاہئیں؟ اسی بنیادی انفرادی ذمہ داری کا یہ اظہار ہے کہ ہر شخص اپنی انفرادی موت سے دو چار ہوتا ہے اور اس کو انفرادی طور پر اپنی قبر میں اپنے اعمال کا جواب دینا ہوتا ہے۔ اپنی انفرادیت کے تعین کے لیے ہر شخص اس سوال کا جواب دینے پر مجبور ہے کہ ’میں کون ہوں؟‘ آج کل کے زمانہ میں اس سوال کے دو جوابات مقبول ہیں: (۱) میں مسلمان ہوں ، (۲) میں آزاد ہوں۔ ان میں سے جو جواب بھی دیا جائے گا وہ ہر چند قبل از احساس اور قبل از فکر پر مبنی مفروضات پر منحصر ہوتا ہے۔ اسی چیز کو ’’ایمان‘‘ کہتے ہیں۔ ایمان دلیل اور وجدان پر منحصر نہیں، دلیل اور وجدان ایمان پر منحصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت نظام الدین اولیا ؒ کسی شخص کے ایمان لانے کو معجزہ کہا کرتے تھے (آپ کے دست مبارک پر ہزاروں لوگ ایمان لائے)۔ کوئی شخص محض اپنے احساسات یا اپنی سوچ کی بناء پر ایمان نہیں لاتا۔ نہایت عظیم مفکر ین اور روحانی پیشوا مثلاً ارسطو، گاندھی، ووکانندا، کانٹ، آئن اسٹائن وغیرہ ایمان نہیں لائے کیونکہ ایمان کی دولت اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم کے نتیجے میں ملتی ہے۔
امام غزالیؒ المنقذ من الضلال میں فرماتے ہیں کہ علوم شرعی و عقلی کی تفتیش میں جن علوم میں میں نے مہارت حاصل کی اور جن طریقوں کو میں نے اختیار کیا ان سب سے میرے دل میں اللہ کی ربوبیت، نبوت اور یوم آخرت پر ایمان بیٹھ گیا۔ ایمان کے یہ تینوں اصول کسی دلیل خاص سے میرے دل میں راسخ نہیں ہوئے تھے بلکہ ایسے اسباب اور قرائن اور تجربوں سے راسخ ہوئے تھے جن کی تفصیل احاطہ حصر میں نہیں آسکتی۔ مزید فرماتے ہیں کہ جس شخص نے یہ گمان کیا کہ کشف حقیقت مجرد دلائل پر موقوف ہے تو اسنے اللہ کی وسیع رحمت کو نہایت تنگ سمجھا۔ احساس اور فکر کی بنیاد ایمان پر ہوتی ہے۔ اسی چیز کو صوفیاء تصورِ حال سے تعبیر کرتے ہیں۔ جو شخص اسلام پر ایمان لایا اس کے احساسات اور افکار اسی کے ایمان کا پر تو ہوتے ہیں اور اعمال و تعلقات اپنے احساس اور تفکرات ہی کا اظہار ہیں۔ چنانچہ اجتماعی تعلقات فرد کے مخصوص احساسات کا مظہر ہوتے ہیں اورانکا اظہار معاشرے اور ریاست کی دو سطحوں پر ہوتا ہے۔ معاشرہ ان تعلقات کے اجتماع کو کہتے ہیں جو افراد بغیر جبر و اکراہ اپنی انفرادیت کے اظہار کے لیے قائم کرتے ہیں اور چونکہ انفرادیت کا تعین مختلف ہے، کچھ لوگ مسلمان ہیں اور کچھ کافر لہٰذا معاشرے بھی مختلف النوع ہوتے ہیں۔ معاشرہ رضاکارانہ (voluntary) صف بندی سے وقوع پذیر ہوتا ہے یعنی معاشرے میں مختلف ادارے وجود میں آتے ہیں، مثلاً خاندان، مسجد، بازار، محلہ، قبیلہ، برادریاں، مدرسہ، مدینہ، نظامِ شفع وغیرہ۔ ان اداروں کے قیام کی بنیاد تاریخی روایات کا تسلسل ہوتاہے اور ہر ادارہ معاشرتی تسلسل کا مظہر ہوتا ہے۔ وہ انہی اقدار کی غمازی کرتا ہے جو قدیم زمانے سے معتبر تسلیم کیے جاتے ہیں، لیکن جیسے جیسے ان اقدار میں تبدیلی آتی ہے معاشرتی ادارتی تنظیم بھی تغیر پذیر ہو تی ہے۔ مثلاً مسلم معاشرے میں خانقاہی نظام تقریباً مکمل طور پر معطل ہوگیا ہے، بالخصوص بازار کی زندگی پر خانقاہ کا اثر تقریباً ختم ہوگیا اور اس کی جگہ Chamber of Commerce نے لے لی ہے۔ اسی طرح یورپی معاشرے میں خاندان اور برادری کا ادارہ ناپید ہوتا جا رہا ہے اور اس کی جگہ Cohabitation اور NGOs نے لے لی ہے اور اسی کی مماثل تبدیلیاں عبادت و محافل ذکر ونعت کی جگہ Entertainment industry اور فنون لطیفہ وغیرہ کا فروغ ہے۔
اس نوعیت کی تبدیلیاں جبر کی بنیاد پر وقوع پذیر نہیں ہوتیں۔ کراچی اور لاہور کے تاجروں نے بہ رضا و رغبت بغیر کسی جبر کے خانقا ہوں سے اپنے قدیم تعلقات آہستہ آہستہ منقطع کرلئے ہیں۔ نیویارک کا نوجوان زنا کو نکاح پر ترجیح دیتا ہے کوئی اس کو زنا کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ معاشرتی تغیر (Social Change) کے عمل کی بنیاد اقدار کی تبدیلی ہے جبر نہیں ہے(۲)۔ ہر معاشرے کو ایک نظامِ جبر کی ضرورت ہے، اس نظامِ جبر کوریاست کہتے ہیں۔ ریاست سے مراد افراد کے جبری تعلقات کا مجموعہ ہے اور ریاست معاشرتی اقدار کی بنیاد پر جائز و ناجائز حلال اور حرام کے ان تصورات اور پیمانوں کو نافذ العمل بناتی ہے جن کو معاشرتی سطح پر مقبولیت حاصل ہے یا جن کو معاشرہ برداشت کرنے پر آمادہ ہے۔ ریاست محض نظامِ جبر نہیں بلکہ اقتدار کا وہ نظامِ جبر ہے جس کو عام مقبولیت یا عام برداشت حاصل ہو۔ ریاست مقبول اور برداشت کی جانے والی معاشرتی اقدار کو نافذ العمل بنانے کے لیے جبری صف بندی عمل میں لاتی ہے۔
اس گفتگو سے واضح ہوا کہ انسانی حیات کا اظہار تین سطحوں پر ہوتا ہے:
(۱) انفرادی سطح پر جہاں فرد اپنی ایمانیات کا تعین کرتا ہے اور ان ایمانیات کی بنیاد پر اپنے حال اور مقام کا تعین کرتا ہے۔
(۲) معاشرتی سطح پر جہاں ان اقدار کے فروغ کے لیے جو افراد نے غیر اکراہی طور پر اختیار کی ہیں انکے لئے غیر اکراہی یا رضاکارانہ صف بندی عمل میں لاتے ہیں ۔
(۳) ریاستی سطح پر جہاں جبری مقبول عام یا عام طور پر برداشت کیے جانے والے اقدار کو قانون اور قوت کے ذریعہ نافذ العمل بنایا جاتا ہے ۔
ان تینوں سطحوں کے ارتباط کو ’نظامِ زندگی‘ کہتے ہیں یا اسے ’تہذیب‘ بھی کہا جاسکتا ہے۔ ہر تہذیب ایک مخصوص انفرادیت، ایک مخصوص معاشرت اور ایک مخصوص ریاست کو فروغ دیتی ہے، اور ہم انفرادیت، معاشرت اور ریاست کو الگ الگ خانوں کے طور پر تصور نہیں کرسکتے (۳)۔ ایک خاص انفرادیت ایک مخصوص معاشرت اور مخصوص ریاست ہی میں پنپ سکتی ہے، غیر مسلم معاشرے اور ریاست میں اسلامی انفرادیت عام نہیں ہوسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام نے بلا ضرورت شرعی غیر مسلم علاقوں میں سکونت اختیار کرنے سے منع فرمایاہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہئے کہ سرمایہ داری محض کسی ’معاشی نظرئیے ‘ کا ہی نام نہیں، بلکہ ایک نظام زندگی ہے جس کا ایک خاص تصور فرد،معاشرہ اور ریاست ہے اور یہ تینوں تصورات باہم مربوط ہیں جو مل کر مذہب سے متصادم تہذیب وجود میں لاتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ عقلیت اور سرمایہ دارانہ عمل معاشی جدوجہد تک محدود نہیں رہ سکتے، آج دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں سرمایہ دارانہ معیشت ترقی کررہی ہو لیکن خاندان تباہ نہ ہو رہے ہوں،زنا عام نہ ہو رہا ہو، ادب اور ثقافت دھوکہ ،غلیظ ترین اور فحش ترین رجحانات کی عکاسی نہ کر رہا ہو، استبداد، ظلم اور جعل سازی عام نہ ہو ۔ سرمایہ داری سے ہماری مراد وہ نظم زندگی ہے جہاں عقلیت اور فیصلوں کی بنیاد آزادی (یعنی حرص و حسد) کا فروغ ہو۔ چنانچہ سرمایہ داری :
- فرد کو انسان (عبد) سے ہیومن بینگ (Human being) بنا دیتی ہے ۔
- معاشرے کو مذہبی معاشرت سے سول سوسائٹی میں تبدیل کردیتی ہے ۔
- ریاست کو خلافت سے ریپبلک (Republic) بنادیتی ہے ۔
سرمایہ داری کی مکمل تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ ہم سرمایہ دارانہ تصور انفرادیت، معاشرت و ریاست تینوں کا جائزہ لیں۔ البتہ اس مضمون میں ہمارا ہدف صرف تصور انفرادیت کی تفصیل بیان کرنا ہے۔ تصور انفرادیت کی بحث اس لئے اہمیت کی حامل ہے کہ قیام دین کی جدوجہد میں بنیادی حیثیت فرد کی ہے، یعنی ہم فرداً فرداً ہر شخص کو اس کا وہ عہد یاد دلانا چاہتے ہیں جو اس کی روح نے اللہ تعالی سے کیا تھا کہ ’تو ہی ہمارا رب ہے‘(۴)۔ یہ دعوت ہر شخص کی اصلاح اور اسے جنت کا مستحق بنانے کی دعوت ہے۔ ہماری دعوت کی بنیاد یہی ہے کہ دنیا کا ہر شخص اس بات کا مستحق ہے کہ ہم کوشش کریں کہ وہ جنت میں جائے۔ انہی معنی میں اسلامی تحریکات ایک روحانی دعوت دیتی ہیں اور انکی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ دعوت دینے اور قبول کرنے والوں کے حال و میلانات اور قلبی کیفیات تبدیل ہوجائیں۔ اس مضمون میں ہماری کوشش ہوگی کہ اس انفرادیت و شخصیت کے خدوخال بیان کریں جس کے تعلقات کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ نظم اجتماعی نمو پزیر ہوتا ہے۔ تصور انفرادیت کی تفہیم کے ضمن یاد رکھنا چاہئے کہ تعیین انفرادیت کی بنیاد احساس پر قائم ہوتی ہے اور یہی بنیادی نکتہ سمجھنے سے تصوف کی ضرورت و اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ اس مرکزی بحث کے بعد ہم سرمایہ دارانہ شخصیت کا حال بیان کریں گے اور پھر تعمیر شخصیت کے ضمن میں اصلاح اسلامی کے کام کی نوعیت کو بیان کریں گے۔ وما توفیقی الا باللہ
۱۔ تعیین و تعمیر انفرادیت میں احساس کی اہمیت
تعمیر شخصیت میں احساس (feelings)کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ مغربی معاشرتی علوم اور فلسفہ احساس کی عقلی اور مادی تشریح اور تعبیر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ اسی نہج علم کی پیروی کرتے ہوئے ماہرین نفسیات نے احساس کے عقلی و مادی تجزئیے کے لیے متعدد سائنسی طریقے مرتب کیے ہیں۔ مغربی علوم کا مرکزی دھارا (۵) احساس سے بالاتر ہو کر حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کا دعوی کرتا ہے اور احساس کو علم کا ذریعہ تصور نہیں کرتا بلکہ اس کے مطابق احساسات اور میلانات عقلی تحقیق اور جستجو کو منفی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ اسی لئے مغربی عقلیت و علمیت یہ عمومی دعوی کرتی ہے کہ تمام ایمانیات، احساسات و جذبات سے اوپر اٹھ کر ہی انسان حقیقت کا معروضی (objective)مطالعہ اور مشاہدہ کرسکتا ہے (۶) ۔ اس کے برعکس علوم اسلامی میں احساس کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔ احساس کا سرچشمہ قلب ہے اور آقائے دوعالمﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’جان لو کہ انسانی جسم میں خون کا ایک لوتھڑا ہے کہ وہ اگر درست ہوجائے تو سارا جسم درست ہوجائے اور اگر فساد کا شکار ہوجائے تو سارا جسم فساد کا شکار ہوجائے، آگاہ رہو کہ وہ قلب ہے‘‘ (متفق علیہ)۔ اسلامی عقلیت قلب کی فوقیت کو تسلیم کرتی ہے۔ قرآن مجید حضورﷺ کے قلب پر اتارا گیا اور صحابہ رضوان اللہ اجمعین کے قلوب میں محفوظ رہا۔ یاد رہنا چاہئے اسلامی دعوت بنیادی طور پر قلب کو مخاطب کرتی ہے اور اسی لئے اہل دل ہی دعوت اسلامی کے فطری امام ہیں ۔ امام غزالیؒ نے فرمایا: ’معرفت کی صلاحیت و استعداد قلب کو عطا کی گئی ہے اور اوامرو نواہی کا مخاطب قلب ہے‘۔ امام صاحبؒ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں کہ قلب سے مراد ایک روحانی لطیفہ ہے جسکا جسمانی قلب سے تعلق ہے اور یہی لطیفہ مدرک (یعنی ادراک کرنے والا) بھی ہے اور عالم بھی۔ یہاں ہم یہ دکھانے کی کوشش کریں گے کہ احساسات کیونکر حصول علم اور تعمیر انفرادیت میں بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں نیز یہ کہ عقلیت دماغی (Reason of the mind) یعنی خرد درحقیقت قلبی عقلیت (Reason of the heart) کے تابع ہے۔
قلب و عقل کے اس تعلق کو سمجھنے کے لیے جاننا چاہئے کہ احساسات عقل سے ما قبل ہوتے ہیں اور انکے بغیر دماغی عقل فیصلہ کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ ایک شخص کسی موذی حیوان مثلاً شیر کے سامنے جو بھی رویہ اختیار کرتا ہے وہ مخصوص احساسات کا اظہار ہوتا ہے۔ مثلاً عقل شیر سے بچنے کی کوئی تدبیر تب سجھاتی ہے کہ جب فرد کے نفس میں خوف کی کیفیت پیدا ہو، لڑنے کا طریقہ کار تب سکھاتی ہے جب نفس میں بہادری کا احساس اجاگر ہو وغیرہ۔ الغرض اگر احساسات کو فرد سے منہا کردیا جائے تو اس کی زندگی انتشار کا شکار ہوکررہ جائے گی اور وہ کبھی یہ فیصلہ نہ کرسکے گا کہ مخصوص حالات میں اسے کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ چنانچہ احساسات فرد کے لیے یہ فیصلہ کرنا ممکن بناتے ہیں کہ مخصوص حالات میں لامتناہی ممکنہ افعال میں سے دماغی عقل کو کن افعال کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہاں سے یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ دماغی عقل قلبی عقل کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتی ہے (۷) ۔ درحقیقت احساسات ہی وہ شے ہیں جسے دماغی عقل بطور ’معیار عقل ‘ پہچانتی ہے، دوسرے لفظوں میں احساسات بذات خود معقول یا غیر معقول ہوتے ہیں۔ درج ذیل دو مثالوں پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوسکے گی:
(۱) کسی روز تین بجے زید کے ساتھ آپکی ملاقات ہونا طے ہے۔ فرض کریں آپ تین منٹ تاخیر سے پہنچنے پر معذرت پیش کرتے ہیں مگر زید آگ بگولہ ہوکر آپ پر بری طرح برس پڑتا ہے اور آپ کو غیر ذمہ دار اور سخت سست کہتا ہے
(۲) زید کو فون آتا ہے کہ اس کے والد سخت زخمی حالت میں ہسپتا ل لائے گئے ہیں اور اس وقت وہ ICU میں داخل ہیں۔ فرض کریں زید کہتا ہے ’اوہو، آج تو مجھے کرکٹ میچ دیکھنے جانا تھا، چلو اب ہسپتال ہی چلتے ہیں‘
دونوں مثالوں میں زید کے رویے کو ’غیر معقولیت ‘ سے تعبیر کیا جائے گا۔ پہلی مثال میں اس کا رویہ غیر معقول ہے کیونکہ اسنے ’مطلوبہ مقدار سے زیادہ‘ جذبات کا اظہار کیا جبکہ دوسری مثال میں ’مطلوبہ مقدار سے کم ‘ ۔ دونوں صورتوں میں اس کا رویہ معقول تب کہا جائے گا جب وہ ’ مناسب مقدار میں مناسب جذبے ‘ کا اظہار کرے۔ دوسرے لفظوں میں کسی مخصوص حالات میں جس رویے کو معقول کہا جاتا ہے وہ مخصوص احساسات یعنی قلبی عقلیت کا ہی اظہار ہوتا ہے۔
اب یہ جاننا چاہئے کہ عقل اور قلب جس طریقے سے کسی چیز کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں ان میں بنیادی نوعیت کا فرق ہے اور دعوت کے کام کو سمجھنے کے لیے ان دونوں کا فرق سمجھنا نہایت اہم ہے۔ احساس قلبی عقلیت کے اظہار کا ذریعہ ہے اور یہ حقیقت کے مکمل ، فوری اور بلاواسطہ ادراک کا وسیلہ ہیں۔ خرد مشاہدے (observation)کے ذریعے علم حاصل کرتی ہے جبکہ قلب و احساس کا ذریعہ علم شرکت (participation)ہے۔ قلب کسی چیز کا علم اسے اپنا کر حاصل کرتا ہے۔ مشاہدے میں کوشش یہ ہوتی ہے کہ مشاہد (observer)خود کو مشہود (observed) سے جتنا دور کرسکے اتنا بہتر ہے، نیز مشاہد اور مشہود کے درمیان جتنے تعلقات ہیں ان سے صرف نظر کیا جا سکے۔ اس کے برعکس احساسات کے ذریعے جو علم حاصل ہوتا ہے اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ مشاہد و مشہود ایک دوسرے کے درمیان کس قسم کا تعلق قائم کرپاتے ہیں اور کس قدر ایک دوسرے کے وجود میں شرکت اختیار کرسکتے ہیں۔ مشاہد حقیقت کو ایک خارجی شے (reality as an external observer) کے طور پر پہچاننے کی کوشش کرتا ہے جبکہ احساس کے ذریعے ہم کسی شے میں شرکت کرکے اس کی حقیقت کا ادراک حاصل کرتے ہیں۔ مشاہدے کے ذریعے کسی شے کی حقیقت کی وہ داخلی بصیرت (insight) حاصل نہیں ہوسکتی جو اسمیں شرکت کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ ایک ہی شے کے بارے میں ہمارا ادراک حقیقت شرکت سے پہلے اور بعد یکسر مختلف ہوا کرتا ہے۔ کسی اجنبی شخص کی موت کا معنی موت کی اس حقیقت سے یکسر مختلف ہواکرتا ہے کہ جب کوئی اپنا عزیز فوت ہوتا ہے جسکی وجہ صرف یہ ہے کہ اپنے عزیز رشتہ دار کی ہستی میں ہم احساس محبت کے ذریعے شرکت کرتے ہیں۔ ایک شخص کسی قریبی عزیز کے مر نے کے بعد کس کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے اس کا ادراک بطور مشاہد ممکن نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لیے اس کی ذات میں شرکت کرنا ضروری ہے۔ گویا کسی کیفیت میں مبتلا ہونے سے پہلے اور اس میں شرکت کے بعد ہم دو مختلف چیزوں کا ادراک حاصل کرتے ہیں اور یہ تبدیلی در حقیقت ہمارے ان احساسات کی مرہون منت ہوتی ہے جسکے ذریعے ہم اس شے سے اپنا تعلق قائم کرتے ہیں۔ جب ہم کسی کو دیکھتے ہیں تو ہم مشاہدہ کرتے ہیں لیکن جب ہم کسی کے لیے محسوس کرتے ہیں تو ہم اس کا مشاہدہ نہیں کرتے بلکہ ہم اس سے یا تو محبت کرتے ہیں یا نفرت کرتے ہیں۔ اگر ہم لاتعلق ہیں تو کسی کے لیے محسوس نہیں کرتے بلکہ صرف مشاہدہوتے ہیں۔ جذبات کے ذریعے کلی مشاہدہ صرف ان معنوں میں نہیں ہوتا کہ ہم اس کو سمجھ لیتے ہیں بلکہ اس چیز سے ہمیں اپنا تعلق سمجھ میں آجاتا ہے اور وہ ہماری ہستی کو مکمل کرنے میں ایک اہم جزو کی حیثیت حاصل کرلیتی ہے۔ چنانچہ احساسات یہ طے کرتے ہیں کہ مخصوص حالات میں ہم خود کو کیسے پاتے ہیں (how do we find ourselves in a given situation) اور کسی شے کے بارے میں میری بصیرت کا انحصار اسی شے پر ہے کہ اس شے کے ساتھ میں خود کو کیسا پاتا ہوں یعنی میرا اس کے ساتھ کیسا تعلق ہے۔ جب ہم کسی کے لیے محسوس کرتے ہیں تو من و تو کے فاصلے عبور ہوتے ہیں اور ہمارے اور اس کے درمیان تعلق قائم ہوکر ایک ہستی (shared-subjectivity) وجود میں آتی ہے جس میں وہ اور ہم بیک وقت شریک ہوتے ہیں اور اس شرکت کی بنیاد پر ہم ایک دوسرے کو جانتے اور پہچانتے ہیں۔ علمیاتی (epistemologically) طور پر وہ علم جو شرکت کی بنیاد پر حاصل ہوتا ہے وہ اس علم سے بالکل مختلف ہے جو ہم مشاہدے کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ شرکت کے ذریعے حاصل کردہ علم مقدم اور بنیادی ہے۔
چنانچہ عقلیت قلبی اور خرد میں یہی بنیادی فرق ہے۔ خرد آہستہ آہستہ ، قدم بقدم ، جزواً جزواً حقیقت کا ادراک حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ اطلاع اور مشاہدے کی بنیاد پر بتدریج معلومات کو جمع کرکے ان سے منطقی نتائج اخذ کرتی ہے اور اپنی اس کوشش میں کلی حقیقت کو اجزاء میں تحلیل کرکے سمجھنے کی نامکمل سعی کرتی ہے۔ اس کے برعکس احساس کے ذریعے ان بنیادی معروضات کا براہ راست اور کلی مشاہدہ ممکن ہوپاتا ہے جو دماغی عقلیت کی رسائی سے پرے ہیں۔ جس شخص کے احساسات پاک ہوں گے اس کا حال درست ہوگا اور جس کا حال درست ہوگا وہ ان ماورائی حقائق تک وجدانی (intuitive) رسائی حاصل کرسکتا ہے جو یا تو خرد کی دسترس سے کلیتاً باہر ہیں یا ان کے قریب پہنچنے کے لیے دماغی عقلی مباحث نہایت پیچیدہ اور عمیق ہیں اور مکمل تیقن کے ساتھ کبھی ان ما بعدالطبعیاتی حقائق کا اثبات نہیں کرسکتے۔ مثلاً خدا کے وجود کی کوئی بھی ایسی دلیل نہیں جسکو دماغی عقلیت کی بنیاد پر رد نہ کیا جاسکتاہو۔ اس کے برعکس جس وقت نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کے سامنے دعوت پیش کی تو آپؓ نے اسے یوں قبول کیا گویا وہ اس کے منتظر تھے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی آپؓ کی قلبی کیفیت نہایت پاکیزہ تھی۔ صدیق اکبرؓ نے جن احساسات کی بنیاد پر اپنی دماغی عقل کو استعمال کیا وہ انکی قلبی طہارت کے غماز ہیں اور ابوجہل نے جن جذبات کی بنیاد پر حضور پر نورﷺ کی دعوت کو مٹانے کے لیے اپنی دماغی عقلیت کو استعمال کیا وہ اس کی قلبی کثافت کے عکاس ہیں۔ قبل از اسلام بیشتر صحابہؓ اسی حال میں تھے جس میں ابوجہل تھا لیکن صحابہؓ کے حال بدل گئے مگر ابوجہل کی قلبی کیفیات نہ بدلیں، اس کی دماغی عقلیت اس کے کافر دل کے تابع رہی تاآنکہ وہ جہنم واصل ہوگیا۔ یہ بات اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ لوگ ایمان دل میں تبدیلی کی وجہ سے لاتے ہیں۔ حضرت نظام الدین اولیاء ؒ فرمایا کرتے کہ جب کوئی شخص صدق دل سے ایمان لاتا ہے تو معجزہ رونما ہوتا ہے (۸)۔ چونکہ ایمان دل کے بدلنے کا متقاضی ہے اس لئے احساسات کو پاک کرنا اور اس کے ذریعے لوگوں کے حال کو بدلنا دعوت اسلامی کا کام کرنے والوں کے لیے اشد ضروری ہے۔ حال یعنی احساسات کی دستگی کے بغیر دماغی عقلیت کو اسلامی خطوط پر پروان چڑھانا ناممکن ہے۔
احساس کو سمجھنے کے لیے تعلق کا استوار کرنا لازم ہے۔ مادی تغیرات کا مشاہدہ صرف خارج سے ممکن ہے جیسے ایک ڈاکٹر ایک مریض کے جسم کا مطالعہ کرتا ہے۔ ڈاکٹر مریض کے جذبات و احساسات سے جتنا دور اور لاتعلق ہوگا اس کی تشخیص اتنی ہی سائنسی اور معروضی سمجھی جاتی ہے (۹)۔ لیکن اگر ڈاکٹر مریض کے احساسات کو سمجھنا چاہتا ہے تو خارجی مشاہدہ کافی نہ ہوگا، اسے مریض سے ہمدردی اور انسیت کا ایک ایسا تعلق پیدا کرنا ہوگا جسکے نتیجے میں ڈاکٹر مریض کی زندگی پر اثر انداز ہونے کے قابل ہوجائے گا۔ جن ہستیوں میں ایسے تعلقات قائم ہوجاتے ہیں وہ ایک دوسرے کے وجود میں شرکت کرلیتی ہیں۔ دماغی عقلیت محض اجسام کا مشاہدہ کرسکتی ہے، اس کے ذریعے کسی کے احساسات کا ادراک ممکن نہیں ہے۔ احساسات کے ادراک کے لیے غیر کو اپنانا ہوگا اور انہیں سمجھنے کے لیے خارجی سطح سے اوپر اٹھ کر روحانی تعلقات استوار کرنا ہوں گے۔ اس روحانی تعلق کو محبت کہتے ہیں جسکا مطلب غیر کی ذات کو اسطرح اپنا لینا ہے کہ اس کی خوشی و غم اپنے وجود کا حصہ بن جائے۔ محبت کرنے والوں کے وجود بلاشبہ جدا ہوتے ہیں لیکن وہ ایک دوسرے کے وجود میں شرکت اختیار کرکے مشترکہ ہستی قائم کرتے ہیں (۱۰) ۔ خارجی مشاہدے کے ذریعے احساسات کا ادراک ممکن نہیں اس کے لئے شرکت ناگزیر ہے جسکی بنیاد یا محبت ہوتی ہے اور یا نفرت۔ نفرت کرنے والا شاہد مشہود کے وجود کو تباہ کرتا ہے جبکہ محبت کرنے والا شاہد اسے نمو بخشتا ہے۔ احساسات کے ذریعے حقائق کا داخلی مطالعہ ممکن ہوپاتا ہے اور ہم حقائق تک رسائی وجود میں شریک ہوکر حاصل کرتے ہیں۔ اسی کیفیت کو قرآن مجید میں ’ادخلوا‘ (۱۱) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی اسلام کو محض خارجی طور پر سمجھنا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لئے اسلام میں داخل ہونا ضروری ہے۔ اسلام میں داخل ہونے کے لیے انسان کے افعال اور احساسات (یعنی حال) وہ ہونے چاہئیں جو اسکو کائنات کے اساسی حقائق تک رسائی کے قابل بناسکیں۔ اگر وہ احساسات پیدا نہ ہوں تو سالہا سال کے مطالعے اور مشاہدے کے باوجود فرد محض اسلام کا مداح بن سکے گا لیکن اس میں داخل نہ ہوسکے گا، جیسا کہ دور حاضر میں مسلمانوں کی عظیم اکثریت کا حال ہے کہ وہ اسلام کو پسند تو کرتے ہیں اور اس کے حق میں عقلی دلائل بھی دیتے ہیں مگر اسمیں داخل نہیں ہوتے۔
پس واضح رہنا چاہئے کہ احساس کی پرورش کے لیے تعلقات کا قیام و تسلسل نہایت ضروری ہے۔ تصوف سے فیض کسی شیخ کی توجہ اور تصرف فی الذات کے بغیر ممکن نہیں ہے، جب تک پیر ومرید اپنی ذاتی انفرادیت کوبرقرار رکھتے ہوئے وجود میں شریک نہ ہوں وہ احساسات مرتب نہیں ہو سکتے جو تصوف کو دخول اسلام کا ذریعہ بنادیں (۱۲) ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ افراد جو صوفی تعلیمات و کردار کا محض خارجی مطالعہ کرتے ہیں اور انکو محسوس نہیں کرتے انکے ذریعے اسلام میں داخل نہیں ہوپاتے۔ امام غزالیؒ المنقذ من الضلال میں فرماتے ہیں کہ طریقہ تصوف کی خاص الخاص باتیں سیکھنے سے نہیں آسکتیں بلکہ وہ درجہ حال و تبدیلی صفات سے پیدا ہوتی ہیں۔ کس قدر فرق ہے ان دوشخصوں میں جن میں سے ایک صحت و شکم سیری اور ان کے اسباب و شرائط کو جانتا ہے اور دوسرا فی الواقع تندرست اور شکم سیر ہے۔ جو شخص صحت مند ہے تعریف صحت اور اس کے علم سے ناواقف ہے وہ خود حالت صحت میں ہے لیکن اسے علم نہیں، دوسرا شخص صحت مند نہیں ہے مگر وہ اسباب صحت سے خوب واقف ہے۔ طبیب حالت مرض میں گو تعریف صحت ، اس کے اسباب اور اس کی دوائیں جانتا ہے مگر صحت سے محروم ہے۔ اسی طرح اس بات میں کہ تجھے حقیقت زہد اور اس کے شرائط و اسباب کا علم حاصل ہو جائے اور اس بات میں کہ تیرا حال عین زہد بن جائے اور نفس دنیا سے ذہول ہوجائے بہت فرق ہے۔ غرض صوفیاء صاحب حال ہوتے ہیں نہ کہ صاحب قال۔
اب تک کی بحث سے یہ نکتہ واضح ہوجانا چاہئے کہ ادراک حقیقت میں انسان کے احساسات یعنی اس کے حال کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ احساس اسی چیز کا نام ہے کہ ہم خود کو اس دنیا میں کس حال میں پاتے ہیں (۱۳) ۔ ’تمہارا حال کیا ہے؟‘ کا معنی یہی ہے کہ تمہارے احساسات کی کیفیت کیا ہے، تم کن خواہشات کے قابو میں ہووغیرہ ۔ احساسات کائنات میں شرکت کا ذریعہ ہیں، اور جس طریقے سے ہم کائنات میں شریک ہوتے ہیں وہ اس بات پر منحصر نہیں ہے کہ ہمارا مشاہدہ کیا ہے بلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہمارا حال کیا ہے۔ ایک مسلمان اور سائنسدان کے نزدیک زلزلے کی معنویت میں جوفرق ہے وہ انکے مشاہدے کے نہیں بلکہ حال میں فرق کی بناء پر ہوتا ہے (مسلمان کو زلزلہ خدائی عذاب یا تنبیہ دکھائی دیتا ہے جبکہ سائنسدان کو انسانی آزادی کی حد، مسلمان کی عقلیت زلزلے سے توبہ و اصلاح کا سبق سیکھتی ہے جبکہ سائنسدان کی عقلیت زلزلہ پروف گھر بنانے کا)۔ چنانچہ حال اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ اس کائنات کے بارے میں ہماری بنیادی بصیرت (insight)کیا ہے۔ گویا حال ہمارے احساسات کی خاص ترتیب اور کیفیت (quality) کا آئینہ دار ہوتا ہے، جس قسم کی ہماری کیفیات اور احساس ہوں گے ویسا ہی ہمارا حال ہوگا۔ چونکہ مومن، کافر اور فاسق کے نفوس کی حالت جدا جدا ہوگی اس لئے انکا حال یعنی دنیا سے انکا تعلق بھی جدا ہوگا۔
۱۔ مومن اطمینان کی حالت میں ہوگا، وہ اپنے رب کے تمام فیصلوں سے راضی ہوگا اور اس کی رضا کی جستجو میں ہوگا۔ وہ صابر اور شاکر ہوگا ۔
۲۔ کافر اضطراب کی حالت میں ہوگا۔ وہ خود کو قدرت کے جبر سے مغلوب تصور کرے گا۔ وہ شہوت اور غضب کے ذریعے اس قدرتی نظام میں فساد پھیلاکر اپنی خدائی قائم کرنے کی پیہم جستجو کرے گا ۔
۳۔ فاسق گو مگو کی کیفیت میں ہوگا۔ اس پر کبھی ایمانی جذبات غالب ہوں گے اور کبھی کافرانہ۔ اگر کافر یا فاسق کو مومن کی توجہ میسر آجائے اور وہ انکے ساتھ گہرے تعلقات استوار کرے (یعنی انکی ذات میں تصرف کرے) تو عین ممکن ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے انکا حال بدل جائے ۔
جس طرح ان تینوں کے حال میں فرق ہے اسی طرح انکے مقام بھی مختلف ہیں:
۱۔ مومن کا مقام عبدیت کاہے۔ مومن کو اللہ نے خلافت فی الارض سے سرفراز فرمایا ہے ۔
۲۔ کافر کا مقام باغی و سرکش کا ہے۔ وہ زمین میں فتنہ و فساد برپا کرتا اور اسے قائم رکھتا ہے ۔
۳۔ فاسق ایک گستاخ اور حکم ٹالنے والا ملازم ہے۔ وہ اللہ کو اپنا مالک تصور کرتا ہے اور اپنی عبدیت کا انکار نہیں کرتا لیکن مالک کے حکم کو بجا لانے سے جی چراتا ہے اور گاہے بگاہے اپنے نفس کی بندگی بھی کرتا ہے ۔
واضح ہوا کہ مومن و کافر اپنے زمانی و مکانی حال اور مقام کو احساس کی بنیاد پر متعین کرتے ہیں۔ مغربی عقلیت کا یہ دعوی کہ مابعد الطبعیاتی حقائق تک خرد کے ذریعے رسائی حاصل کی جاسکتی ہے ایک باطل اور جھوٹا دعوی ہے۔ مغربی فلسفے کے پاس ایسی کوئی دلیل اور سائنس کے پاس ایساکوئی مشاہدہ موجود نہیں جس کی بنیاد پر وجہ تخلیق کائنات اور کائنات میں انسان کے مقام کا تعین کیا جا سکے۔ ادراک حقیقت کا واحد معتبر ذریعہ تعلیمات انبیاء پر ایمان لانا اور ان کے مطابق احساسات کی تطہیر کرنا ہے جس کے بعد ہی ان حقائق تک رسائی ممکن ہوسکتی ہے۔
حواشی
* مضمون میں ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری صاحب کے مضامین ’حال و مقام‘ ، ’فرد، معاشرہ و ریاست‘ اور ’عالم اسلام اور مغرب کی کشمکش: نئے تناظر میں‘‘ سے جا بجا مدد لی گئی ہے اور ان کے اقتباسات نقل کیے گئے ہیں ۔
۱۔ اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ معاشرتی تعلقات بھی احساسات پر اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ ان تعلقات کے نتیجے میں فرد اپنی ذات کا ادراک کرلیتا ہے کہ وہ کون ہے اور اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے ۔
۲۔ یہ بات بھی دھیان میں رہے کہ ریاست اپنے جبر کے ذریعے مخصوص اقداری تبدیلی کو ممکن اور سہل بنا دیتی ہے ۔
۳۔ جو لوگ انسانی زندگی کی کلیت کو سمجھنے سے قاصر رہے انہوں نے مذہبی تعلیمات کو اصل اور اضافی کے خانوں میں بانٹ کر یہ کہا کہ وہ تعلیمات جنکا تعلق فرد کی ذاتی زندگی سے ہے وہی شریعت کا اصل مدعا ہیں، باقی رہیں اجتماعی تعلیمات تو انکی حیثیت اضافی اعمال کی ہے نیز انکے قیام کا فرد سے کوئی لازمی مطالبہ نہیں۔ اس فلسفے کے تحت انہوں نے فریضہ اقامت دین کو سرے سے ساقط ٹھرا دیا اور یہ دعوے کیے کہ ’اسلام مکمل بندگی کا نام ہے نہ کہ مکمل نظام کا‘۔ نجانے انسانی زندگی کے مکمل نظام کو خدائی اطاعت کا پابند بنائے بغیر مکمل بندگی اختیار کرسکنے کا کون سا طریقہ ممکن ہے؟
۴۔ قرآنی آیت ’انا ربکم الاعلی قالوا بلی‘ کی طرف اشارہ ہے ۔
۵۔ مغربی فلسفے کے مرکزی دھارے سے مرادفکر تنویر (Enlightenment) ہے جسکا آغاز سترہویں صدی میں ڈیکارٹ سے ہوا اور جسے لاک، ہیوم، کانٹ، ہیگل اور مارکس وغیرہ نے مرتب کیا ۔ مغربی فکر کا دوسرا دھارا تحریک رومانویت (Romanticism)تھی جسے تحریک تنویر کے مقابلے میں خاطر خواہ کامیابی نہ ہوسکی ۔
۶۔ یہ تصور سب سے زیادہ وضاحت کے ساتھ کانٹ نے پیش کیا ۔
۷۔ ہیوم کا مشہور قول ہے کہ 'Reason is the slave of passions'
۸۔ معجزہ وہ چیز ہے جس کی توجیہہ دماغی عقلیت کے لیے ناممکن ہو۔ چونکہ نو مسلم کے قلب میں تغیر واقع ہوتا ہے اور قلبی تغیر کی وجوہات دماغی عقلیت کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں اس لئے ایک معجزہ ہوتی ہیں ۔
۹۔ یہاں یاد رکھنا چاہئے گو سائنس میں یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ سائنسی طریقہ علم (scientific method) سے حاصل کردہ علم محض دماغی عقلیت کا مظہر ہوتاہے اور جو شخصی خصوصیات سے ماوراء ہوتا ہے مگر یہ دعوی غلط ہے کیونکہ سائنٹفک میتھڈ بذات خود مخصوص (سرمایہ دارانہ ) انفرادیت ہی کا اظہار ہے۔ سائنسی مشاہدے کے لیے سائنسی تناظر اختیار کرنا لازم ہے بصورت دیگر سائنسی مشاہدہ ممکن نہیں ہوتا۔ سائنٹفک میتھڈ ان معنی میں اور بھی زیادہ خطرناک ہے کہ یہ شخصیت کو بھی جامد (fix) کردیتا ہے اور ہر وہ شخص جو اس طریقہ علم کو اختیار کرتا ہے لازماً اس مخصوص انفرادیت میں ڈھل جاتا ہے ۔
۱۰۔ وجود اور ہستی میں فرق کرنا لازم ہے۔ وجود اللہ تعالی کی نعمت ہے جو اس نے ہر فرد کو عطا فرمائی۔ وجود ہر شخص کا جدا ہے اور اس کی انفرادیت قائم رکھنا نہایت ضروری ہے ، اسی لئے شریعت پر عمل ہر حال میں لازم ہے۔ ہستی تعلقات کے اس مجموعے کا نام ہے جس کے ذریعے انسان دوسرے افراد سے، کائنات سے اور خدا سے اپنے تعلق کو سمجھتا بھی ہے اور قائم بھی رکھتا ہے۔ ہستی کو قائم کرنے کا بنیادی ذریعہ ذکر یعنی یاد ہے اور اسی وجہ سے ذکر اللہ کی اہمیت بیان فرمائی گئی ہے ۔
۱۱۔ سورۃ آل عمران کی آیت ادخلوا فی السلم کافۃ کی طرف اشارہ ہے ۔
۱۲۔ تصور شیخ کی بحث اور اس کی اہمیت کو اس تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے ۔
۱۳۔ حال ظاہری اعمال و قلبی کیفیات دونوں کے مجموعے کا نام ہے ۔
(جاری)
نفاذ شریعت کی حکمت عملی: ایک فکری مباحثے کی ضرورت / مورث کی زندگی میں کسی وارث کی اپنے حصے سے دست برداری / ایک غزل کے چند اشعار
محمد عمار خان ناصر
نفاذ شریعت کی حکمت عملی: ایک فکری مباحثے کی ضرورت
۲۰۰۹ء میں جن دنوں سرحد حکومت اور سوات کی تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے مابین ’’نظام عدل ریگولیشن‘‘ کے نفاذ کی بات چل رہی تھی، مجھے ۱۰ اور ۱۱ مارچ کے دو دن پشاور ہائی کورٹ کی طرف سے بھیجے جانے والے ایک وفد کے ہمراہ، جس میں دو درجن کے قریب سول اور سیشن جج صاحبان کے علاوہ ہائی کورٹ کے ذمہ دار افسران بھی شامل تھے، سوات کے شہر مینگورہ میں گزارنے کا موقع ملا۔ مجھے بتایا گیا کہ سرحد حکومت اور مولانا صوفی محمد کے مابین سوات میں امن وامان کے قیام اور شرعی نظام عدل کے نفاذ کے سلسلے میں جو معاہدہ ہوا ہے، اس پر عمل درآمد کے لیے ججوں کی ایک دو روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد کی جا رہی ہے جس میں دوسرے مقررین کے علاوہ، مجھے بھی حدود وتعزیرات کے اہم پہلووں پر گفتگو کرنا ہوگی۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ اس ورک شاپ میں ججوں کے علاوہ علاقے کے علما اور خود مولانا صوفی محمد اور تحریک نفاذ شریعت محمدی کے راہنما بھی شریک ہوں گے، جبکہ اسلام کے نظام قضا کے مختلف پہلووں پر نصف درجن سے زائد ماہرین دو روز تک لیکچر دیں گے۔ میرے لیے اس سفر میں دلچسپی کا پہلو ایک تو یہ تھا کہ اس طرح مجھے حدود وتعزیرات اور اسلام کے نظام قضا سے متعلق بعض اجتہاد طلب امورپر اپنے نتائج فکر، جس کی تفصیل میں نے اپنی کتاب ’’حدود وتعزیرات۔ چند اہم مباحث‘‘ میں بیان کی ہے، قضا کے شعبے سے عملی طور پر متعلق جج صاحبان اور ان کے علاوہ تحریک نفاذ شریعت محمدی کے طرز فکر کے علما کے سامنے پیش کرنے اور ان کا رد عمل جاننے کا موقع ملے گا اور دوسرا یہ کہ اس طرح اس علاقے کی صورت حال کو زیادہ قریب سے اور ایک بہتر سطح پر زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھنے کا موقع ملے گا، چنانچہ میں نے طبیعت کی ناسازی اور سفر کے ممکنہ خطرات کے باوجود، ابتداءً تردد ظاہر کرنے کے بعد، اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ ان دنوں میں سوات کی طرف زمینی سفر چونکہ زیادہ محفوظ تصور نہیں کیا جا رہا تھا، اس لیے ہمیں پشاور سے مینگورہ لے جانے اور پھر وہاں سے واپس لانے کے لیے پاک فضائیہ کے ہیلی کاپٹرز کی مدد حاصل کی گئی اور یوں مجھے زندگی میں پہلی مرتبہ ہیلی کاپٹر کے سفر کا بھی تجربہ ہوا۔
اس سفر میں بعض رفقاے سفر کے ساتھ تبادلہ خیال کے نتیجے میں علاقے کی صورت حال اور اس کی پیچیدگیوں کا تو کسی حد تک یقیناًاندازہ ہوا، تاہم سفر کا جو اصل مقصد بتایا گیا تھا، اس کے حوالے سے ارباب اقتدار کے غیر سنجیدہ اور غیر حکیمانہ طرز عمل کا براہ راست مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ دو درجن کے قریب افراد پر مشتمل یہ وفد سوات لے جانے کا مقصد سرے سے نہ تو کسی شرعی نظام قضا کی تربیت دینا تھا اور نہ اس نظام کے نفاذ کے سلسلے میں کوئی عملی پیش رفت کرنا، چنانچہ دو دن مینگورہ ایک ہوٹل میں گپ شپ کرنے اور دوسرے دن ڈیڑھ دو گھنٹے کے لیے ایک رسمی سی نشست کے انعقاد کے علاوہ اس موضوع پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ یہ سارا تکلف صرف مولانا صوفی محمد کو مطمئن کرنے کے لیے کیا گیا تھا کہ ان کے ساتھ نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کا جو معاہدہ کیا گیا ہے، حکومت اس سلسلے میں عملی اقدامات کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے ججوں کی ٹریننگ شروع کر دی گئی ہے۔
مولانا صوفی محمد سوات میں نظام عدل کے قیام کا جو نقشہ ذہن میں رکھتے تھے، اس میں دستور پاکستان کی پابندی قبول کرنے اور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو اعلیٰ عدالتی اتھارٹی تسلیم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ان کا مطالبہ مملکت کے دستور اور مروجہ نظام سے بالکل ہٹ کر ایک متوازی نظام عدل کے قیام کا تھا۔ سرحد حکومت سوات کے طالبان کی طرف سے اٹھائی گئی نفاذ شریعت کی پرتشدد تحریک کا راستہ روکنا چاہتی تھی اور اس مقصد کے لیے اسے مولانا صوفی محمد کے تعاون کی ضرورت تھی، لیکن ظاہر ہے کہ آئین کے حدود سے ماورا اس نوعیت کا کوئی قانونی انتظام اس کے لیے ممکن ہی نہیں تھا۔ اس بنیادی الجھن کو درست طریقے سے سلجھانے کے بجائے، جو ظاہر ہے کہ ہنگامی نوعیت کی سطحی کوششوں سے نہیں ہو سکتا تھا، صوفی محمد کو ابہام میں رکھ کر کام چلانے اور سیاسی انداز میں ’’وقت گزارو‘‘ قسم کے اقدامات کرنے کی کوششیں کی گئیں جو ظاہر ہے کہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکیں اور پھر انگریزی محاورے کے مطابق: The rest is history۔
میری اس سے پہلے بھی یہ سوچی سمجھی رائے تھی اور اس سارے معاملے سے بھی اس کی تائید ہوئی کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی وعدالتی نظام کے خلاف مذہبی استدلال کی بنیاد پر عدم اعتماد کی موجودہ پر تشدد تحریک سے نبرد آزما ہونے کے لیے سیاسی وعسکری اقدامات سے کہیں زیادہ ضرورت ایک عمومی فکری ونظریاتی مباحثے کی ہے جس میں موجودہ نظام کی خامیوں، قباحتوں اور منافقتوں کا بھی بے باک تجزیہ کیا جائے اور اس کی اصلاح کی درست اور موثر حکمت عملی کے بنیادی اصول، اہداف، خط وخال اور عملی حدود بھی علمی وفکری بنیادوں پر ازسر نو طے کیے جائیں۔ قیام پاکستان کے بعد یہاں کی اعلیٰ سطحی مذہبی قیادت نے نفاذ اسلام کے ضمن میں اپنی جدوجہد کو جمہوری سیاسی دائرے میں محدود رکھنے کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا اور جو بنیادی طور پر بالکل صائب اور درست تھا، بہت سے اسباب وعوامل اور خاص طور پر جہاد، اسلامی حکومت اور امارت وخلافت کے ایک مخصوص تصور کے فروغ نے اس فیصلے کو فکری واخلاقی بنیادوں پر چیلنج کر دیا ہے۔ اس ذہنی وفکری لہر نے جو سوالات اٹھا دیے ہیں، حالات کا رخ بتا رہا ہے کہ پاکستان کے اہل علم زیادہ دیر تک ان سے صرف نظر کرنے کے متحمل نہیں ہو سکیں گے اور جلد یا بدیر انھیں واضح فکری بنیادوں پر ان سوالات کے حوالے سے اپنا متعین جواب قوم کے سامنے رکھنا ہوگا۔ اب تک مختلف مواقع پر اس حوالے سے جو کچھ کہا گیا ہے، وہ محض یہاں کی جمہوریت پسند مذہبی قوتوں کے ’’موقف‘‘ کا بیان ہے جس کا ان طبقات کی نظر میں کوئی وزن نہیں جو عسکریت کے راستے کو اختیار کر چکے ہیں یا اس کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔ یہ فکری معرکہ کسی قسم کے انفرادی یا اجتماعی فتوے جاری کرنے یا وقتاً فوقتاً قراردادوں کی صورت میں اپنا موقف بیان کر دینے سے کسی انجام تک نہیں پہنچے گا۔ اس کے لیے مباحثہ ومکالمہ کے ایک عمومی، وسیع اور ہمہ جہت عمل کا آغاز کرنا ضروری ہے جس میں بحث کے تمام فریقوں کو اپنا موقف اور استدلال واضح کرنے کا آزادانہ موقع دیا جائے اور استدلال کی قوت ہی یہ فیصلہ کرے کہ کس کی بات میں کتنا وزن ہے۔ کیا ہمارے اکابر علما، اہل فکر ودانش اور مذہبی سیاسی قائدین وقت کی اس اہم ترین ضرورت پر توجہ مرکوز کرنے کی زحمت گوارا فرمائیں گے؟
مورث کی زندگی میں کسی وارث کی اپنے حصے سے دست برداری
ہمارے ہاں عام فقہی تصور یہ ہے کہ مرنے والے کی وفات سے پہلے کسی وارث کا وراثت میں سے اپنے حصے کو چھوڑ دینے کا کوئی اعتبار نہیں اور یہ کہ اگر کوئی وارث مرنے والے کی زندگی میں اپنے حق سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کر لے تو بھی مورث کی وفات کے بعد وہ اپنا حصہ وصول کر سکتا ہے۔ اس کی بنیاد اس قانونی نکتے پر ہے کہ وارث کا حق مورث کے مال سے دراصل متعلق ہی اس وقت ہوتا ہے جب مورث مر جائے، اس لیے کسی مال کے ساتھ حق متعلق ہونے سے پہلے اس سے دست بردار ہونے کا کوئی اعتبار نہیں۔ خالص قانونی نقطہ نظر سے اس استدلال میں وزن دکھائی دیتا ہے، تاہم اس کے مقابلے میں دیگر اہم تر شرعی وسماجی مصالح یہ تقاضا کرتے ہیں کہ مورث کی زندگی میں کیے جانے والے اس نوعیت کے انتظامات اور تصرفات کو قانونی وزن دیا جائے۔ اس تناظر میں سیدنا عثمان کا درج ذیل اثر بڑی اہمیت کا حامل ہے:
شعبی نے نقل کیا ہے کہ ام البنین بنت عیینہ بن حصن، عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی۔ جب باغیوں کی طرف سے ان کامحاصرہ کیا گیا تو عثمان نے اسے طلاق دے دی۔ انھوں نے اسے پیغام بھیج کر اس سے اپنی وراثت میں سے اسے ملنے والا آٹھواں حصہ خریدنے کی کوشش کی تھی، لیکن اس نے انکار کر دیا جس پر سیدنا عثمان نے اسے طلاق دے دی۔ جب سیدنا عثمان کو شہید کر دیا گیا تو ام البنین علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انھیں یہ واقعہ بتایا۔ علی نے کہا کہ عثمان نے اسے چھوڑے رکھا، یہاں تک کہ جب موت کے قریب پہنچ گئے تو اسے طلاق دے دی! چنانچہ علی نے ام البنین کو ان کا وارث قرار دیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ۱۹۳۸۱)
وراثت کا حصہ خریدنے سے مراد یہ ہے کہ عثمان یہ چاہتے تھے کہ ام البنین معاوضہ لے کر اپنے اس حصے سے دست بردار ہو جائے جو ان کی وفات کے بعد ام البنین کو ان کی بیوی ہونے کی حیثیت سے ان کی وراثت میں سے ملنا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مورث کی وفات سے پہلے ورثا میں سے کسی کے، اپنے حصے سے دست بردار ہو جانے کو درست اور مورث کی وفات کے بعد قانوناً نافذ العمل سمجھتے تھے اور اسی لیے انھوں نے اپنی بیوی کو معاوضہ دے کر اپنی وراثت میں سے ملنے والے حصے سے دست بردار کرنے کی کوشش کی تھی۔ ہمارے معاشرے میں وراثت کی تقسیم کے معاملے میں لوگوں کو جن چند در چند پیچیدگیوں سے سابقہ پیش آتا ہے، ان میں سے بہت سی الجھنوں کا تعلق اس نکتے سے بھی ہے کہ مورث کے لیے بسا اوقات اپنی زندگی میں عملاً مال کی تقسیم کرنا ممکن نہیں ہوتا، جبکہ اپنی وفات کے بعد پیدا ہونے والے نزاعات کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر وہ اپنی زندگی میں ورثا کے مابین ان کی رضامندی سے کوئی تصفیہ کرنا چاہے جو اس کی وفات کے بعد موثر ہو تو اسے اس کی وفات کے بعد فقہی طور پر موثر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس ضمن میں اگر سیدنا عثمان کے مذکور اثر کی روشنی میں مناسب فقہی اجتہاد کیا جا سکے تو ہمارے خیال میں یہ اسلام کے قانون وراثت کی روح اور اس کے مقاصد کے عین مطابق ہوگا۔
ایک غزل کے چند اشعار
شعر وشاعری سے لگاؤ اور کسی حد تک، تک بندی کی مشق زبان وادب سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی شخص کے لیے ایک معمول کی بات ہے۔ شاعری کو ایک مستقل مشغلے کے طو رپر اختیار کرنے کے لیے جس قسم کا مزاج، افتاد طبع اور ذہنی یکسوئی درکار ہے، وہ تو مجھے نصیب نہیں۔ البتہ طبیعت موزوں ہونے پر کبھی کبھی غزل کے انداز میں دو چار اشعار جوڑ لینے کی مشق زمانہ طالب علمی سے چلی آ رہی ہے۔ چند ماہ قبل اسی طرح دو تین شعر موزوں ہوئے تو میں نے بے تکلفی کا رشتہ رکھنے والے چند حضرات کو بھی بھیج دیے۔ بزرگوارم جناب احمد جاوید صاحب (ڈپٹی ڈائریکٹر اقبال اکادمی، لاہور) ان حضرات میں سے ہیں جو عمر اور علم وفضل میں اپنی بزرگی کے باوجود مشفقانہ توجہ اور محبت سے نوازتے ہیں۔ انھوں نے یہ اشعار دیکھے تو اسی وزن اور قافیے میں فی البدیہ چند اشعار مزید عنایت فرما دیے۔ تبادلہ اشعار چونکہ SMSکے ذریعے سے ہوا تھا اور احمد جاوید صاحب کی افتاد طبع کے لحاظ سے یقین ہے کہ انھوں نے اپنے ان اشعار کو کہیں محفوظ کرنے کا اہتمام نہیں کیا ہوگا، اس لیے حفاظت کی غرض سے انھیں یہاں درج کر رہا ہوں۔ قارئین اس سے یہ بھی اندازہ کر سکیں گے کہ ٹاٹ میں مخمل کا پیوند کیسے لگایا جاتا ہے۔
میرے اشعار:
سفر کیسا، کہاں منزل! غبارِ راہ ہے جس سے
الجھنے کا تکلف بس دلِ ناشاد کرتا ہے
نہ ہونے سے کبھی جن کے یہ محرومِ محبت ہے
مرا دل اُن ملاقاتوں کو اکثر یاد کرتا ہے
’’بھروسہ کر نہیں سکتا غلاموں کی بصیرت پر‘‘
وہی کرتا ہوں جو ایک بندۂ آزاد کرتا ہے
اضافہ از احمد جاوید صاحب:
جو معنی آفرینی اور سخن ایجاد کرتا ہے
مری کج مج بیانی پر بھی دیکھو صاد کرتا ہے
ہو جس کی خامشی ظرف آشنائے قلزمِ معنی
وہی ویرانہ صوت وصدا آباد کرتا ہے
جنوں قلب وخرد پر ملتفت ہوتا ہے جب ناصر
اِسے مجذوب، اُس کو صاحب ارشاد کرتا ہے
سیدہ عائشہ کی عمر
جاوید احمد غامدی
عام طور پر مانا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکاح کے وقت ام المومنین سیدہ عائشہ کی عمر چھ سال تھی۔ یہ نکاح سیدہ خدیجہ کی وفات کے بعد مکہ میں ہوا تھا۔ اُن کی رخصتی اِس کے تین سال بعد مدینہ میں ہوئی۔حدیث و سیرت کی کتابوں میں اُن کے بارے میں یہی بات بیان ہوئی ہے۔ اِس سلسلہ کی روایات بخاری و مسلم میں بھی ہیں اور حدیث کی بعض دوسری کتابوں میں بھی۔ اِس میں شبہ نہیں کہ دیہاتی اور قبائلی تمدن کی بعض ضرورتوں کے تحت اِس طرح کے نکاح ہوتے رہے ہیں۔ اِس کی مثالیں خود ہمارے معاشرے سے پیش کی جا سکتی ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ بنیادی اخلاقیات سے جو سماجی رویے وجود میں آتے ہیں ،وہ مختلف معاشروں میں اُن کے احوال وتجربات کی بنیاد پر مختلف ہو سکتے ہیں اور اُن میں سے کسی ایک کو معیار بنا کر دوسرے کی اخلاقی حیثیت متعین نہیں کی جا سکتی۔ یہ سب باتیں تسلیم کی جا سکتی ہیں، مگر اِس نکاح کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ اِس کے بارے میں جوسوال ہر صاحب نظر کے ذہن میں خلجان پیدا کرتا ہے، وہ یہ ہے کہ اِس نکاح کی ضرورت کیوں پیش آئی اور جو ضرورت آج تھی، اُسے پورا کرنے کے لیے ایک ایسا اقدام کیوں کیا گیا جس سے وہ کئی سال کے بعد بھی پوری نہیں ہو سکتی تھی؟اِس طرح کے نکاح ہو جاتے ہیں، اِس کو ماننے میں تامل نہیں ہے، مگر بغیر کسی ضرورت کے اور آج کی ضرورت کو برسوں کے بعد پورا کرنے کے لیے بھی ہو جاتے ہیں، یہ ماننا آسان نہیں ہے۔
سیدہ کے نکاح کی تجویز اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پیش کی گئی ہوتی تو ہم کہہ سکتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ایما سے ہوا ۔ سیدہ نے جو کردار آپ کی زندگی میں ادا کیا اور علم و حکمت کا جو خزانہ اُن کی ذات والا صفات سے امت کو حاصل ہوا، وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔ چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ اُنھیں اِسی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص کر لیا جائے۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ آپ نے یہ نکاح اپنی دعوت کی مصلحت سے کیا۔ سیدہ کے والد آپ کے شب و روز کے ساتھی تھے۔ قبائلی زندگی میں رشتے ناتے تعلقات کی مضبوطی میں غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں۔ آپ نے مناسب سمجھا کہ اپنے ایک رفیق خاص کے ساتھ یہ رشتہ بھی قائم کر لیا جائے تاکہ دوستی اور محبت کا تعلق مضبوط تر ہو جائے۔
اِسی طرح نکاح کی تجویز اگر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف سے پیش کی گئی ہوتی تو کہا جا سکتا تھا کہ وہ اپنے لیے، اپنی بیٹی اور اپنے خاندان کے لیے اِس شرف و اعزاز کے متمنی تھے کہ جس ہستی کو وہ خدا کا پیغمبر مانتے ہیں، اُس کے ساتھ اُنھیں صہری تعلق کی نسبت بھی حاصل ہو جائے۔ سیدہ اسما کی شادی کے موقع پر اُن کا دھیان اِس طرف نہیں گیا۔ اُن کے بعد یہی ایک بیٹی تھی جس کے ذریعے سے وہ یہ شرف و اعزاز حاصل کر سکتے تھے۔ چنانچہ اُنھوں نے نکاح کی تجویز پیش کی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عزیز دوست کی دل داری کے خیال سے قبول کر لیا۔
لیکن ہم جانتے ہیں کہ اِن میں سے کوئی بات بھی نہیں ہوئی ۔ سیدہ کے بارے میں اگر کسی رؤیا کی بنا پر اِس طرح کا کوئی خیال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں رہا بھی ہو تو آپ نے ہرگز اِس کا اظہار نہیں کیا۔ حدیث و سیرت کا ذخیرہ آپ کی طرف سے اِس نوعیت کے کسی ایما، اشارے یا تجویز سے بالکل خالی ہے۔ صدیق رضی اللہ عنہ کا معاملہ بھی یہی ہے۔ وہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تعلق قائم کرنا چاہتے تو سیدہ کا رشتہ مطعم بن عدی کے بیٹے سے کیوں طے کرتے؟ روایتیں بتاتی ہیں کہ اِس تجویز سے پہلے وہ یہ کر چکے تھے۔ پھر یہی نہیں، اُن کے بارے میں تو بیان کیا گیا ہے کہ جب یہ تجویز اُن کے سامنے آئی تو اُنھیں تعجب ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے بچوں کے لیے چچا کی طرح ہیں، اِس رشتے کے ساتھ نکاح کی تجویز کس طرح پیش کی جا سکتی ہے؟ اُن کے الفاظ ہیں: ’ھل تصلح لہ ، انما ھی ابنۃ اخیہ‘ (احمد بن حنبل، رقم ۲۵۲۴۱) کیا وہ اُن کے لیے جائز ہے؟ وہ تو اُن کے بھائی کی بیٹی ہے۔
روایات بالکل واضح ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدہ کے نکاح کی تجویز ایک صحابیہ حضرت خولہ بنت حکیم نے پیش کی۔ اُنھی نے آپ کو توجہ دلائی کہ سیدہ خدیجہ کی رفاقت سے محرومی کے بعد آپ کی ضرورت ہے کہ آپ شادی کر لیں، ’یا رسول اللّٰہ ، کانی اراک قد دخلتک خلۃ لفقد خدیجۃ...افلا اخطب علیک؟‘(الطبقات الکبریٰ، ابن سعد ۸/ ۵۷) آپ کے پوچھنے پراُنھی نے آپ کو بتایا کہ آپ چاہیں تو کنواری بھی ہے اور شوہر دیدہ بھی۔ آپ نے پوچھا کہ کنواری کون ہے، تو اُنھی نے وضاحت کی کہ کنواری سے اُن کی مراد عائشہ بنت ابی بکر ہیں۔ (احمد بن حنبل، رقم ۲۵۲۴۱) بیوی کی ضرورت زن و شو کے تعلق کے لیے ہو سکتی ہے، دوستی اور رفاقت کے لیے ہو سکتی ہے، بچوں کی نگہداشت اور گھر بار کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ہو سکتی ہے۔ یہ تجویز اگر بقائمی ہوش و حواس پیش کی گئی تھی تو سوال یہ ہے کہ چھ سال کی ایک بچی اِن میں سے کون سی ضرورت پوری کر سکتی تھی؟ کیا اُس سے زن و شو کا تعلق قائم کیا جا سکتا تھا؟ کیا اُس سے بیوی کی رفاقت میسر ہو سکتی تھی؟ کیا وہ بچوں کی نگہداشت کر سکتی تھی؟ کیا گھر بار کے معاملات سنبھال سکتی تھی؟ سیدہ کی عمر سے متعلق روایتوں کے بارے میں فیصلے کے لیے یہ قرائن میں سے ایک قرینہ نہیں، بلکہ بنیادی سوال ہے۔ کیا عقل باور کر سکتی ہے کہ جو ضرورت آج ہے، اُس کو پورا کرنے کے لیے ایک ایسی تجویز پیش کی جائے جس کے نتیجے میں وہ برسوں کے بعد بھی پوری نہیں ہو سکتی ؟ ابن خلدون نے بالکل درست لکھا ہے کہ تاریخی واقعات کی روایت میں اصلی اہمیت امکان وقوع کی ہے۔ یہ محض اِس بنیاد پر قبول نہیں کیے جا سکتے کہ اِن کی سند میں فلاں اور فلاں ہے اور یہ متعدد طریقوں سے نقل کیے گئے ہیں۔ (مقدمہ ابن خلدون، ۷ ۳)
اِس وقت جو اہل علم اِس موضوع پر داد تحقیق دے رہے ہیں، اُنھیں سب سے پہلے اِس سوال کا جواب دینا چاہیے۔ اُنھیں بتانا چاہیے کہ روایت کا یہ داخلی تضاد کس طرح دور کیا جائے گا؟ اور اگر دور نہیں کیا جا سکتا تو علم و عقل یہ تقاضا کیوں نہیں کرتے کہ چھ سال کی عمر میں نکاح کی روایت کو محل نظر ٹھیرایا جائے اوراُن اہل علم کی راے پر بھی غور کر لیا جائے جو یہ کہتے ہیں کہ ’بنت ست‘ کے بعد ’بعد العشر‘ کا مفہوم سیدہ کی گفتگو میں مقدر تھا جسے راویوں نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی؟ اِس سوال سے تعرض کیے بغیر جو تحقیق بھی پیش کی جائے گی، وہ کسی صاحب نظر کے لیے ہرگز لائق التفات نہیں ہو سکتی۔
(بشکریہ ماہنامہ ’’اشراق‘‘ لاہور)
اسلامی سیاسی فکر ۔ جدید اسلامی فکر کے تناظر میں
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
(یہ مقالہ 28-29 اپریل 2012ء کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہ سیاسیات اور اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکے اشتراک سے ’’اسلام کا تصور سیاست‘‘ پر منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار میں پیش کیا گیا۔)
عصر حاضر میں جس طرح قرآن ،حدیث فقہ جیسے خالص اسلامی علوم پر زبردست کام ہواہے۔ اوربیش بہاتحقیقات منظرعام پر آئی ہیں ۔اسی طرح علوم اسلامیہ کے دوسرے میدانوں میں بھی علماء اورارباب فکرونظرنے بہترین کاوشیں کی ہیں۔چنانچہ اسلام کی سیاسی فکرپر بھی بہت کچھ لکھاگیاہے فقہ وافتاء کے مباحث اورفتاوی کے ضمن میں بھی سیاسی مباحث سے تعرض کیاگیاہے(1) اورخاص اسلامی سیاست پر لکھی گئی تحریروں میں بھی۔بعض اصحاب فکرنے قدماء کی کئی رایوں سے اختلاف کا اظہاربھی کیاہے اوربعض نے اکثروبیشتران کے خیالات کی ترجمانی پر اکتفاکیاہے بعض نے ان پر کچھ اضافے بھی کیے ہیں ۔اس مقالہ میں یہ جائزہ لیاجائے گاکہ حالیہ زمانہ بیسویں صدی کے ربع اخیراوراکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں جدیداسلامی فکرکے تناظرمیں اسلام کے سیاسی فکرمیں کیااضافہ ہواہے کون سے نئے مباحث زیرغورآئے ہیں اورکن نئی رائیو ں کا اظہارکیاگیاہے ۔
آج جب اس پہلوسے مطالعہ وتحقیق کی جائے کہ اسلامی سیاسی فکرمیں کیاکچھ نیاہواہے تو سب سے پہلے فقہ الاقلیات(2) اورفقہ الواقع (3)سے اعتناء کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔کہ اسلامی سیاسی فکرپرنئے لکھنے والوں(4)نے موجودہ دوراوراس کے سیاسی واجتماعی رجحانات کو سامنے رکھاہے اور مسلم اقلیتوں اوران کے مسائل وایشوزسے بھی بحث کی ہے۔کیونکہ مسلم اقلیتیں دنیاکی کل مسلم آبادی کا چالیس فیصدبتائی جاتی ہیں ( 5) لہٰذااسلامی سیاست پر گفتگومیں اتنی بڑی تعدادکو نظرانداز نہیں کیاجاسکتااورخاص طورپر جب بعض ممالک میں یہ اقلیتیں نظام حکومت میں برابرکی شریک بھی ہوں جیسے کہ ہمارے ملک ہندوستان میں ہے ۔
چونکہ اسلامی سیاسی فکر کے مطالعہ سے یہ محسوس ہوتاہے کہ قرآنی آیات یااحادیث نبویہ جو سیاست سے متعلق کلام کرتی ہیں وہ صرف اصولیات پر گفتگوکرتی ہیں،جزئیات اورتفصیلات سے نہیں ،اس لیے بیشترلوگوں کارجحان یہ ہے کہ شرعی حدودمیں رہتے ہوئے اور الاصل فی الاشیاء الاباحۃ کے قاعدہ فقہیہ سے استفادہ کرتے ہوئے تمدنی وسیاسی مسائل کی جزئیات وتفاصیل میں ہم آزادہوں گے اورانسانی تجربات اورافکارسے اس سلسلہ میں فائدہ اٹھایاجا سکے گا۔
اسلامی سیاست پر لکھنے والے موجودہ مصنفین ومفکرین نے واضح طورپر لکھاہے کہ اسلامی سیاسی فکرمیں اصولی احکام یہ ہیں کہ:
۱۔ حاکمیت مطلقہ یاsovereigntyصرف خداکی ہے نہ کسی بادشاہ کی ہے اورنہ جمہورکی ۔اسلام میں مذہب زندگی کا ایک ضمیمہ نہیں بلکہ پوری زندگی پر حاوی ہے۔وہ خدااوربندے کے تعلق کے علاوہ انسان اورانسان کے تعلق سے بحث کرتاہے ،ساتھ ہی انسان اورکائنات سے تعامل سے بھی بحث کرتاہے ۔ اورحاکمیت الٰہ کا لازمی تقاضہ رسول اللہﷺ کی اطاعت بھی ہے۔
۲۔دوسرایہ کہ مسلمانوں کے باہمی معاملات شوری اورنمائندگی پر مبنی ہوں گے
۳۔تمام شہریوں کے بنیادی وشخصی انسانی حقوق اورحریتوں کی حفاظت کی جائے گی جن میں حریت دین وعقیدہ اورحریت فکروعمل بھی داخل ہیں۔ان اصولوں کے دائرہ میں رہتے ہوئے دوسرے نظامہائے سیاست سے تمدنی ،تیکنیکی اورانتظامی امورمیں استفادہ کیاجاسکتاہے اس بارے میں صاحب زادہ ساجدالرحمن صدیقی کہتے ہیں:’’مثال کے طورپر اسلام میں شوری اورنمائندگی کا اصول موجودہے مگراس شوری کے وجودمیں لانے کی کوئی محسوس ومخصوص صورت متعین نہیں کی گئی ہے۔امیرالمومنین کو امورحکومت طے کرنے کے لیے مشورہ کا حکم ہے ۔اب وہ حصول مشورہ کے لیے کیاطریقہ اختیارکرے ،قومی اسمبلی ہو،سینیٹ ہویاان جیساکوئی ادارہ اسلام اس سے بحث نہیں کرتا ۔(6) لہٰذاجمہوریت وڈیموکریسی سے اس ضمن میں فائدہ اٹھایاجاسکتاہے ۔اور انتم اعلم بامور دنیاکم (مسلم :حدیث نمبر6127)کی نص اس سلسلہ میں رہنمااصول بن سکتی ہے جس سے یہ مستنبط ہوتاہے کہ تمدنی وانتظامی امورکی جزئیات وتفاصیل میں شرع انسانی تجربہ وعقل کو آزادچھوڑناچاہتی ہے۔
اسی طرح موجودہ زمانے میں بنیادی حقوق اورانسانی آزادیوں کے تحفظ پر بڑازوردیاجاتاہے ،اسلام نے بھی اصولی طورپر انسانی جان ومال کے احترام ،عقیدہ فکرکی آزادی کی ضمانت دی ہے لہذااس معاملہ میں اسلام مغرب کے ساتھ ہے ۔جمہوری نظام میں نظری طورپر کئی خرابیاں موجودہیں ،ان خرابیوں سے دامن بچاتے ہوئے اس کی اچھائیوں کو اختیارکرنے میں کوئی حرج نہیں۔بعض لوگ الفاظ کے پیچ وخم میں الجھتے ہیں اورجمہوریت وسیکولرازم سے ہرحال میں بڑا انقباض محسوس کرتے ہیں اوربعض تو ان کو مطلقا کفروشرک قراردینے سے بھی نہیں چوکتے ،لیکن ایک فقیہ کی رائے میں : ’’ الدولۃ الاسلامیۃ دولۃ شوریۃ تتوافق مع جوھر الدیمو قراطیۃ ‘‘۔(7) اس بنیادپر اسلام کی سیاسی فکر کو حرکی اورڈائنامک کہاجاسکتاہے۔
۴۔عدل وانصاف : ارشاد باری تعالی ٰہے : اعدلوا ہو اقرب الی التقوی (انصاف کیاکرو،یہی پرہیز گاری کی بات ہے ۔ المائدہ :8) ساجدالرحمن صدیقی کے لفظوں میں’’اب یہ انصاف مہیاکرنے کے لیے کون سا نظام ترتیب دیاجائے ،عدالتوں کے کتنے درجے مقررکیے جائیس اسلام کو ان تفاصیل سے بحث نہیں ،اس کا تقاضاتو حصول انصاف کا ہے ذرائع سے کوئی سروکارنہیں (8)
ان اصولی احکام کے دائرہ میں رہتے ہوئے جزئیات وتفاصیل میں اسلامی سیاست دوسرے وضعی نظامہائے سیاست سے بہت سے امورمیں استفادہ کرسکتی ہے ۔مثال کے طورپر ووٹنگ اور انتخاب کے طریقۂ کارسے کام لیاجاسکتاہے ۔یہ دونوں ایسے طریقے ہیں جن سے ابجابی اورمنفی دونوں دائروں میں کام لیاجاسکتاہے ۔اس طریقہ سے اچھا حکمراں اور اچھے نمائندے اقتدارمیں لائے جاسکتے ہیں تو ان کی غلطیوں اورنقصان سے بچنے کے لیے ان کو اسی طریقہ سے کام لے کر ہٹایابھی جاسکتاہے ۔مسیحیت میں پوپ (مذہبی رہنما)کو خداکا براہ راست نمائندہ سمجھاجاتااورحکمرانوں سے بالاتراتھارٹی ماناجاتاتھا۔اسلام میں نہ صرف یہ کہ ایساکوئی ادارہ تجویز نہیں کیاگیابلکہ اس تصورکی نفی کی گئی ۔مفتی محمدزاہداس سلسلہ میں اپنی رائے یوں دیتے ہیں: ’’اب فرض کریں کہ منصب اقتدارپر جولوگ فائز ہیں وہ اگراپنے فرائض ٹھیک سے ادانہیں کرتے ہیں تو ان کے عزل ونصب کی جو چندصورتیں ممکن ہوسکتی ہیں وہ یہ ہیں۔ (۱)حکمرانوں کے اوپرکوئی بالاتراتھارٹی ہوجوکہ اس کام کوکرسکے ۔ایساادارہ آئڈیل اسلامی تصورسیاست میں خلافت کا ہے ۔خلیفہ یہ کام کرسکتاہے مگرموجودہ صورت حال میں عالم اسلامی میں نہ تو خلافت کا ادارہ قائم ہے اورنہ مستقبل قریب میں اس کاکوئی امکان دکھائی دیتاہے ۔(۲) حکمراں خود معزول ہوجائے اوررضاکارانہ اپنے اقتدارکو کسی دوسرے کو منتقل کردے ،یہ صورت بھی بظاہربہت rare ہے ۔(۳) ایک شکل یہ ہے کہ خودرعایاکو اپنے حکمرانوں کو معزول کرنے کا اختیارحاصل ہو۔اسلام کے مزاج اوراس کے تعلیم کردہ سیاسی تصورات سے یہی صورت زیادہ ہم آہنگ ہے۔موجودہ دورمیں جمہوریت کے انتخابی سسٹم اوراورووٹنگ سے اس سلسلہ میں فائدہ اٹھایاجاسکتاہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاستی قوت کے بالمقابل جن اجتماعی اداروں کی ضرورت ہوتی ہے وہ پہلے عوام کو دستیاب نہیں ہواکرتے تھے اب تمدنی وتہذیبی احوال کے بدل جانے سے ان اداروں سے کام لیناعوام کے لیے بھی ممکن ہے ۔ماضی میں اقتدارمیں تبدیلی لانے کے لیے عوام کو تلوارہاتھ میں لینے کی ضرورت ہواکرتی تھی اب وہ کام تلوارکی بجائے ووٹنگ سے لیاجاسکتاہے ۔آج انتخابی نظام نے یہ ممکن بنادیاہے کہ بغیرقوت استعمال کیے ان کو الیکشنی طریقہ کارکے ذریعہ بدل دیاجائے۔(9)
مسلم اصحاب فکر میں کئی لوگوں نے پارلیمنٹ اورجمہوریت کے سلسلہ میں منفی خیالات کا اظہارکیاہے ۔مثال کے طورپر ڈاکٹرمستفیض احمدعلوی رقم طرازہیں: ’’ایک جمہوری طرز حکومت میں قوم کے تمام اجتماعی فیصلے عوام الناس کی خواہشات کے مطابق اوران کی مرضی کے تابع ہوناضروری ہیں ،قرآن وسنت اوراسلامی تاریخ سے جمہوریت کے اس تصورکے حق میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔قرآن نے اکثریت کی حکمرانی کا کوئی ذکرنہیں کیابلکہ اکثریت کے بے سوچے سمجھے فیصلہ کو بطوراصول تمدن اپنانے سے سختی سے روک دیاہے۔(10)
البتہ آگے چل کر علوی یہ بھی کہتے ہیں کہ :’’قرآن حکیم حکمرانی کے کسی ایک ماڈل آئڈیل یالازم قرارنہیں دیتااوریہ اس کے ابدی وآفاقی ہونے کا ایک مظہربھی ہے ۔کیونکہ ماڈلmodelاورسسٹمsystemزمان ومکان کی حدودکے پابندہیں۔ان کی شکلیں زمانے کے حالات اورسیاسی وسماجی تبدیلیوں کے ساتھ تبدیل ہوسکتی ہیں۔ لہٰذا طرز حکومت جوبھی اپنایاجائے ،پیمانہ یہ ہے کہ انسانوں پر حکمرانی خداخوفی ،انصاف اورانسانیت کی بھلائی پر مبنی ہونی چاہیے‘‘۔ (11)
تاہم بعض حضرات نے اس سلسلہ میں تھوڑی تفصیل کی ہے جیساکہ آگے ذکرکیاجائے گا۔ ڈاکٹر اسرار احمد جو عصرحاضرمیں نظام خلافت کے سب سے پرجوش داعی رہے ہیں، وہ مختلف مروجہ نطامہائے سیاست اور ان کی ظاہری صورتوں کے بارے میں کہتے ہیں : ’’خلافت کا نظام صدارتی نظام سے قریب ترہے ۔۔۔میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ پارلیمانی اور صدارتی دونوں نظام جائزہیں،وحدانی unitary نظام وفاقی federalنظام اورکنفیڈرل confederalسب جائز ہیں ۔۔۔دنیامیں کئی سیاسی نظام چل رہے ہیں وحدانی صدارتی وفاقی صدارتی،وفاقی صدارتی (جیسے امریکہ میں ہے )کنفیڈرل صدارتی،پھرپارلمانی ،وفاقی پارلیمانی اورکنفیڈرل پارلیمانی یہ چھ کے چھ جائزہیں‘‘۔(12)
اسلامی سیاست کے جدیدمباحث کے سلسلہ میں ناگزیرہے کہ عصرحاضرکے دومخصوص اورمقبول عام سیاسی تصورات سیکولرازم اورجمہوریت سے بھی بحث کی جائے جن کی ہندوستان کے تناظرمیں گفتگومیں خاص اہمیت بھی ہے۔ عبدالحق انصاری نے اس پر تھوڑی سی تفصیل دی ہے جس کی یہاں پرتلخیص کی جارہی ہے : ’’سیکولرازم کا لفظ دو سیاق میں بولاجاتاہے ۔ایک سیاق میں وہ زندگی کے بارے میں ایک مخصوص نقطۂ نظر کا نام ہے ۔جس کے مطابق انسانی زندگی کے ذاتی اورنجی حصہ میں مذہب یاالہامی ہدایات کو ماناجاسکتاہے ۔اجتماعی امورمیں تمام فیصلے انسانوں کو عقل وتجربہ کی روشنی میں انجام دینے چاہییں نہ کہ کسی آسمانی کتاب کی روشنی میں۔دوسرے سیاق میں سیکولرازم ریاست کا ایک اساسی تصورہے ۔نظری طورپر سیکولرریاست اجتماعی امورمیں مذہب کا دخل نہیں مانتی ،مگراس کے تفصیلی انطباق میں دنیامیں تین طرح کی ریاستیں ہیں: (۱) مذہب مخالف جیسی کہ کمیونسٹ ریاستیں(۲)مذہب فرینڈلی (فردکی نجی زندگی کی حدتک ) (۳) مختلف مذاہب کے لیے غیرجانبدار،ہندوستان آخرکے دونوں معنوں کے لحاظ سے ایک سیکولرریاست ہے ۔
جمہوریت کا اطلاق بھی تین معنوں میں ہوتاہے ۔(۱) وہ ریاست جس میں حاکمیت (Sovereignty) کاحقدارریاست کے جمہورکو ماناجاتاہے ۔اورجہاں قانون کا مآخذکوئی خاندان ،طبقہ یافردنہیں ہوتا۔(۲) وہ طرز حکمرانی جس میں حکومت عوام کے منتخب نمائندوں کی ہوتی ہے ۔موروثی طورپر کسی خانوادہ کی یامخصوص طبقہ اورافراد کی نہیں ۔جمہوریت میں منتخب نمائندوں کا احتساب کرنے اوران کو بدل دینے کا اختیاربھی رہتاہے ۔(۳) جمہوریت کچھ قدروں کا نام بھی ہے ۔جس میں فکروخیال کی آزادی ،عقیدہ ومذہب کی آزادی ،بنیادی حقوق کا تحفظ ،قانون کی بالادستی، ہر ایک کے لیے ترقی کے یکساں مواقع وغیر ہ شامل ہیں ۔اس طرح پہلے معنی میں تو جمہوریت اوراسلامی ریاست میں کھلاتصادم ہے ۔کیونکہ اسلامی طرزحکومت میں حاکمیت جمہورکی نہیں بلکہ اللہ تعالی کی ہوتی ہے اورقانون کا مآخذ جمہور نہیں بلکہ کتاب وسنت ہوتے ہیں۔البتہ دوسرے دونوں معنوں کے اعتبارسے اسلام اورجمہوریت میں کوئی تصادم نہیں اوران آج کی جمہوریت اوراسلامی حکومت میں کوئی فرق نہیں اوراسی مناسبت سے اسلامی حکومت کو بھی اسلامی جمہوریت کہہ دیاجاتاہے۔ (13)
یہاں یہ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ سیکولرازم کا یہ تصورکہ ریاستی واجتماعی معاملات سے مذہب واہل مذہب کو مکمل طورپر بے دخل اوردین وسیاست کو جداسمجھاجائے ایک گمراہی ہے اوراسلام میں نظری طوراس کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ وہ اس کو عملی طورپر انگیز تو کرسکتاہے مگراس سے راضی نہیں ہوسکتا۔لیکن سیکولرزم کی یہ تعبیرکہ ’’ریاست تمام مذاہب کے ساتھ یکساں سلوک کرے گی اورخوداس کا کوئی مذہب نہ ہوگااوروہ کسی مذہب کے لیے جانب دارنہ ہوگی ‘‘ نہ صرف یہ کہ قابل قبول ہے بلکہ غیرمسلم اکثریتی ممالک مثلاہندوستان ،میں مسلمانوں کو اس کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ۔
پارلیمنٹ
قرآن کریم میں قدیم قوموں اوربادشاہوں کے بیان میں کئی جگہوں پر ملاء قوم کا ذکرآیاہے ۔جس سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ دورقدیم سے ہی سربراہ حکومت کے نظام مملکت کو چلانے کے ذمہ دارافراد کا ایک ادارہ موجودرہاہے ۔ایرا ن میں اس کا نام مجلس بزرگاں اوریونان میں ہیلیایامجلس پنج صدکے نام سے اس کے وجودکا ثبوت ملتاہے ۔(14)
سرزمین عرب میں مکہ کی شہری ریاست میں اس کو دارالندوہ کہاجاتاتھا۔جدیدجمہوریت نے تھوڑے سے تغیرکے ساتھ یونان کے اسی روایتی ایوان کو پارلیمنٹ یاایوان نمائندگان کی شکل دیدی ہے ۔یوروپ میں اس ادارہ کا ارتقاء بارہویں اورتیرہویں صدیوں میں ارتقاء کوپہنچااوربیسویں صدی میں اس کو پوری دنیامیں پذیرائی مل گئی۔(15) پارلیمنٹ کے بارے میں بعض اہل فکرنے یہ رائے دی ہے :’’پارلیمنٹ کے حوالہ سے ایک اہم پہلوجوجدیدجمہوریت کی بنیادوں میں سے ہے اوراسلامی اصول سیاست سے مطابقت رکھتاہے ،وہ نظام شورائیت ہے ۔پارلیمنٹ یانمائندہ اسمبلی بحث وتمحیص کے نتیجہ میں عوام الناس یارعایاکے لیے بہترسے بہترفیصلہ ،ان کے عوامی نمائندوں کی آراء کی بنیادپر کرتی ہے ۔یہ پہلواسلامی اصول سے مطابقت رکھتاہے ،کیونکہ اہل اسلام کے امورمشاورت کے ساتھ طے پانے کو پسندیدہ قراردیاگیاہے‘‘۔(16)
علامہ یوسف القرضاوی نے خیال ظاہرکیاہے کہ اسلامی سیاسی فکرپر ابھی عصرحاضرکے تناظرمیں بہت کام کیاجاناباقی ہے اوراس سلسلہ میں اجتہادوتجدیدفکرکی ضرورت ہے (17) اصل میں جب اسلامی فقہ کی تدوین شروع ہوئی تو اس وقت عالم اسلام وقت کاسپرپاورتھا اورپوری اسلامی ریاست ایک خلیفہ کے ماتحت تھا یاکم ازکم نظری طورپر ایک خلیفہ کی اتھارٹی کو چیلنج نہ کیاجارہاتھا اورمسلم سلاطین اس کی وفاداری کا دم بھرتے تھے ،ایسے ماحول میں فقہاء اسلام نے جوسیاسی اصول مدون کیے یامسلم مفکرین سیاست نے جو تحریریں چھوڑیں وہ زیادہ تر نظری باتوں پر مشتمل ہیں اورعصرحاضرکے نت نئے مسائل کا ان میں کوئی مرتب حل نہیں پایاجاتاہے ۔مثلااس سوال کا مدون اسلامی فقہ یااسلامی سیاسی فکرجوجواب دیتی ہے کہ اگرکوئی غیرمسلم ریاست جومسلمانوں کے خلاف جارحیت کی مرتکب نہیں ہوتی تو اسلامی ریاست کے تعلقات اس کے ساتھ بھی محاربہ پرمبنی ہوں گے یامسالمہ پر ،وہ بہت زیادہ relevantنہیں۔کہ فقہاء کی اکثریت بظاہرپہلی رائے کی حامل ہے جوموجودہ حالات میں قابل عمل نہیں۔مستشرقین اوران کے ہم نوا بعض مسلمان اسکالر وں کے نزدیک اسلامی فقہ تمام تر اسلام کی حکمرانی کی فضاء میں پروان چڑھی ۔اسی وجہ سے وہ مسلمانوں کو اس صورت حال کے بارے میں تو تفصیلی رہنمائی دیتی ہے،جب وہ حاکم ہوں،لیکن جب مسلمان خود محکومی کی حالت میں ہوںیا محکومی سے مشابہ حالت ہویا تھوڑے بہت وہ خود بھی اقتدار میں شریک ہوں جیسے کہ ہندوستان میں ہے،تو ایسی صورت حال کے لیے مدون فقہ اسلامی رہنمائی دینے سے قاصر ہے۔
بلاشبہ اس دعویٰ میں صحت کا کچھ نہ کچھ عنصر موجود ہے اوردارالاسلام اور دارالحرب کی قدیم فقہی بحثیں اس صورت حال کو مزید الجھا دیتی ہیں۔تاہم ہماری بنیادی غلطی اس معاملہ میں یہ ہے کہ ہم ساری رہنمائی لکھی لکھائی شکل میں فقہ قدیم کی کتابوں میں ڈھونڈنا چاہتے ہیں جب کہ فقہ اسلامی(مدون)سے باہر اور بھی اسلامی علوم ہیں جن میں رہنمائی کا وافر سامان موجو دہے۔اس لیے عبدالحمید ابو سلیمان اس نکتہ پر بجا طورپر زور دیتے ہیں کہ فقہ اسلامی اورسیربذات خود شریعت نہیں،وہ اس کا صرف ایک جزء ہے۔ (18)
ہمارا مدعا یہ ہے کہ مدون فقہ سے باہر سیرت نبوی،سیرت صحابہ اوربعد کی اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کا غیروں سے تعامل،ان سب سے استفادہ کرنے او رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو شاید وہ سوال سرے سے کھڑاہی نہ ہو جس کی نسبت مستشرقین وغیرہ کی طرف کی گئی ہے۔
اس نکتہ کی مزید وضاحت محموداحمدغازی نے کی ہے ’’کہ مسلم اقلیتیں ہر دور میں پائی جاتی رہی ہیں۔حتی کہ عہد نبوی اور عہد راشدی میں بھی اور خلافت راشدہ کے بعد کے زمانے میں بھی۔چنانچہ نبیﷺ کے زمانہ میں بھی مسلم اقلیت تھی۔(19)۔ حبشہ میں مسلم اقلیت تھی اس کے علاوہ صلح حدیبیہ کے بعد حضرت ابوبصیرؓ کے ساتھیوں نے سرحد شام پر ایک اقلیت تشکیل دے لی تھی جو مدینہ کے Jurisdictionسے باہر تھی۔عہد راشدی میں معبر،مالابار اور سیلون (سری لنکا)جیسے دوردراز کے علاقوں میں مسلمان مبلغین اورتاجر آباد ہوگئے تھے اور مسلم اقلیتیں وجود میں آگئی تھیں۔(20)۔ ایسے میں دیکھنا یہ چاہیے کہ ان مسلم اقلیتوں کا اپنے اپنے متعلقہ معاشروں کے ساتھ کیا تعامل رہا۔ پھر اس تعامل کو سامنے رکھ کر ہم آج کے لیے نئی اسلامی سیاسی فکرکی تشکیل کرسکتے ہیں۔چنانچہ ایک بھی مثال ایسی اسلامی تاریخ میں نہیں ملتی کہ حبشہ یا مکہ مکرمہ (فتح مکہ سے پہلے)اورعہد راشدی میں معبر ،سری لنکا اورساحل اندلس کی چھوٹی چھوٹی مسلم اقلیتوں کو اس کا مکلف ٹھہرایا گیا ہو کہ وہ اسلام کے اجتماعی قوانین (فوجداری)اورحدود وتعزیرات و غیرہ اپنے اپنے علاقہ میں نافذ کریں۔ہاں ان کے لیے نماز ،روزہ،زکوٰۃ،حج، نکاح و طلاق،وراثت،وصیت،حجاب اورحلال و حرام وغیرہ ،احکام کی بجاآوری کو ضروری قراردیاگیا۔اسلام کے اجتماعی قوانین مثلاً فوجداری قانون حدود وغیرہ کے نفاذ کے لیے اسلامی حکومت کا ہونا ضروری شرط ہے۔جہاں یہ شرط پائی جائے گی وہاں مسلمان ان کا نفاذکریں گے اورجہاںیہ شرط نہ پائی جائے گی وہاں وہ ان پر عمل درآمد کے مکلف ہی نہ ہوں گے۔‘‘
غازی نے مزیدلکھاہے : ’’زکوٰۃ اسی وقت واجب ہوگی جب آدمی صاحب نصاب ہو،رمضان کے روز ے رمضان میں ہی رکھے جائیں گے شوال میں نہیں۔شریعت نے کسی کو اس کا مکلف نہیں کیا کہ وہ زکوٰۃ اداکرنے کی خاطر پہلے دولت اکٹھی کر کے صاحب نصاب بنے اورپھر زکوٰہ ادا کرے۔
اس سے واضح ہوتاہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ چونکہ اسلامی حکومت کے بغیر بہت سے اسلامی احکام پر عمل نہیں کیا جا سکتا ،لہٰذا ان احکام پر عمل کے لئے اسلامی حکومت قائم کرنی چاہیے ،وہ نہایت لچر بودی اور الٹی بات کہہ رہے ہیں، ایک ایسی بات جو 14سو سال پہلے کسی فقیہ کے ذہن میں نہیں آئی ۔مثلاً وراثت کے احکام پر عمل کرنے کا مقتضا کسی فقیہ نے یہ نہیں سمجھا کہ آدمی کو کوشش کرکے مرنے سے قبل دولت جمع کر جانی چاہیے تاکہ اولاد کو وراثت کے ااحکام پر عمل کرنے کا موقع ملے۔ہر فقیہ و عالم نے صرف یہ سمجھاکہ مرنے والا اگر کچھ دولت چھوڑکر مرتاہے تو اس ترکہ کو اسلامی وراثت کے مطابق تقسیم کیاجائے۔اور اگر کچھ نہیں چھوڑ تا ہے تو احکام و وراثت پر عمل کا کوئی مطلب نہیں بنتا۔(21)
پروفیسرنجات اللہ صدیقی کی رائے یہ ہے کہ آج مسلم ریاست میں مسلم اورغیرمسلم شہریوں کے مابین تفریق کرناممکن نہ ہوگابلکہ تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنامناسب ہوگا (22) کیونکہ تفریق کی صورت میں جن ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے آوازاٹھانااوران کے لیے یکساں سلوک کا مطالبہ کرناہمارے لیے کیسے ممکن ہوگا؟(23) اسی طرح پاکستان کے ممتاز اسلامی عالم ومحقق عمار خان ناصرنے جزیہ کی تفہیم جدیدکی کوشش کی ہے اور اس ضمن میں ماضی وحال کے کئی فقہاء کے حوالے دیے ہیں۔(24)
اس کے علاوہ مطلقاً تبدیلئ مذہب کی سزاقتل قراردینے کوموجودہ دورمیں آزادی رائے کے خلاف سمجھاجاتاہے، اس پربھی اسلامی سیاسی فکرمیں نئی آراء کا اظہارکیاگیاہے اوران کی تائیدبعض علماء سلف کے اقوال سے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ مولاناعنایت اللہ سبحانی اوروحیدالدین خاں اس سلسلہ میں سلف سے متوارث تشریح سے اختلاف کرتے ہیں۔ 25) )
برصغیرکے علماء نے سیاسی فکرمیں حرکیت اوراجتہادکا ثبوت دیاہے ۔چنانچہ 1917کے لگ بھگ جمعیہ علماء ہندنے باقاعدہ یہ فیصلہ کیاکہ اب آزادی کی لڑائی عسکریت کے بجائے سیاسی میدان میں لڑی جائے گی ۔حالانکہ انہی سرفروش علماء کا گروہ تھا جس نے 1857سے لے کربالاکوٹ اورشاملی کے میدانوں میں اپناگرم گرم خون جہادکے لیے پیش کیاتھااورانگریز نے دہلی پر قبضہ کرکے ہزارہاعلماء کوپھانسی پر لٹکایاتھاان کا جرم یہی تھاکہ غیرملکی استعمارکی غلامی ان کو کسی حال میں قبول نہ تھی۔مگراب انہوں نے گاندھی جی کے عدم تشددکے فلسفہ کو قبول کرلیاجس کو وہ ایک حدتک اسلامی تعلیمات سے غیرمتصادم اوروقت کا تقاضاسمجھتے تھے۔جمعیۃ علماء ہندکے ناظم اعلی اورمؤرخ مولانامحمدمیاں نے اس تبدیلی کے حق میں تفصیلی دلائل دیے ہیں(26)
انہوں نے یہاں تک کہاکہ عدم تشددپر مبنی طریقہ کاربھی جہادہی ایک شکل ہے بلکہ جہادکی افضل شکل ہے ۔(27) توسیاسی میدان میں عالمی سطح پر جوتبدیلیاں آئی ہیں ان کے پیش نظراجتہادسے کام لے کرآج بھی بعض اسلا ف کرام سے منقول بعض سیاسی رایوں پر نظرثانی کی جاسکتی ہے اورکی جارہی ہے۔مثال کے طورپر غیراسلامی ملک کی شہریت، ایسے ممالک کے سول اداروں سے استفادہ ،ان میں سرکاری نوکریاں اورفوجی ملازمتیں اوران میں قائم غیراسلامی نظام کے تحت ہونے والے الیکشنوں اورانتخابات میں امیدواربننا،ووٹ دینااوراسمبلی یاپارلیمان کا رکن بننا،ایسی حکومتوں میں وزارت ،عدلیہ اوربیوروکریسی میں اعلی عہدے اورمناصب قبول کرناوغیرہ اسیے مسائل ہیں جن پر موجودہ دورکے فقہاء یوسف القرضاوی ،وہبہ الزحیلی ،طٰہٰ جابرعلوانی وغیرہم نے اپنی رائیں دی ہیں۔اہل علم بجاطورپر اس خیال کا اظہارکرتے رہے ہیں : ’’چونکہ انسانی معاشرہ تغیرپذیرہوتااورہمیشہ نت نئی تبدیلیوں سے دوچاررہتاہے جس کے پیش نظراسلامی شریعت میں پیش آمدہ مسائل سے نبردآزماہونے کے لیے رہنمااصول موجودہیں۔اس لیے ’’ عصری حالات اورتقاضوں کے پیش نظربعض فقہی مسائل کی ازسرنوتعبیروتاویل کی ضرورت ہے ‘‘۔ (28)
انہی مسائل میں ذمہ ،دارالحرب ودارالاسلام کی تقسیم ہے کہ یہ تقسیمات دائمی نہیں ہیں۔وہ فقط ایک دورکی عملی ضرورت کا اظہارتھیں ۔اس وقت وہ ایک زمینی حقیقت ،ایک امرواقع کی تعبیرتھی ،آج وہ حالات نہیں ہیں ،وہ کل کا عرف تھا جو آج بدل چکاہے لہذاعلامہ یوسف القرضاوی یہ دعوت دیتے ہیں کہ غیرمسلمین کے مسائل پر(پھرسے ) غورکیاجاناچاہیے۔ (29) نجات اللہ صدیقی کے مطابق ’’اہم چیز اس بات کا شعورہے کہ نئے حالات ایک نئے موقف کا تقاضاکرتے ہیں‘‘۔ (30) آج کئی مفکرین اورفقہاء کی تلقین ہے کہ ’’مغربی ممالک کے مسلمان ان ملکوں کے شہری بن کرشہریت کے تمام حقوق سے فائدہ اٹھائیں اورشہریت کے تمام فرائض اداکریں۔(31)
طارق رمضان نے شہریت سے وابستہ فرائض کی ادائیگی کو ،جن میں سب کے ساتھ مل کرعدل وانصاف کے لیے جدوجہدسرفہرست ہے ایک دینی تقاضاقراردیاہے ۔(32) احمدصدقی دجانی نے بھی اسی طرح کی رائے کا اظہارکیاہے ۔(33) راشدغنوشی نے اقلیتی مسلمانوں کے لیے اپنے ملک کے نظام حکومت سے کنارہ کشی کرنے اورحالات بدلنے کے انتظارکے رویہ کو غلط قراردے کراس بات پر زوردیاہے کہ ’’ایسے لوگوں کے لیے بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ سیکولرجمہوری جماعتوں کے ساتھ مل کرایک ایسے سیکولرنظام کے قیام کے لیے جدوجہدکریں جس میں انسانی حقوق کا احترام کیاجائے ۔جن حقوق میں کہ وہ ضروری مصالح شامل ہیں جن کے تحفظ کے لیے اسلام آیاہے مثلا جان ،عقل ،مال ،آزادی اورخوددین ،جس میں اس سوسائٹیوں میں مسلمانوں کے عقیدہ ،مذہبی شعائراورپرسنل لاز کا تحفظ شامل سمجھاجاتاہے(34) اس سے بھی آگے بڑھ کر وہ اس کو مقاصدشریعت کی روشنی میں واجب قراردیتے ہیں۔’’جن حالات میں ایک جمہوری اسلامی نظام کا قیام ناممکن ہوان حالات میں ایک ایسے سیکولرجمہوری نظام کے قیام کی کوششوں میں حصہ لینے سے کیسے باز رہاجاسکتاہے ؟ ابن خلدون کے الفاظ میں (35) اگرشرع کی حکمرانی ناممکن ہوتو عقل کی حکمرانی قائم کی جائے ۔اشتراک عمل سے دوری ہرگز مناسب نہیں بلکہ واجب شرعی ہے کہ مسلمان ایسے نظام کے قیا م کی کوششوں میں انفرادی اوراجتماعی طورسے شرکت کریں ۔(36)
آج دارالاسلام اوردارالکفریادارالحرب کی بحث اس لیے بھی irrelevant معلوم ہوتی ہے کہ سرحدوں کے فاصلے سمٹ گئے ہیں ،گلوبلائزیشن اورنئی انفارمیشن ٹیکنالوجی نے جغرافیائی حدود کو بے معنی بنادیاہے ۔اس کے علاوہ تلخ حقیقت ہے کہ اسلام اورمسلمانوں کوبعض مسلم ملکو ں سے کہیں زیادہ آزادی تو غیرمسلم ممالک میں حاصل ہے ۔عبدالرحمن مومن لکھتے ہیں’’: عام طورپر یہ سمجھاجاتاہے کہ اسلامی ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کو اپنے دینی شعائرپر عمل پیراہونے کی پوری آزادی حاصل ہے جبکہ غیراسلامی ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کو اپنی دینی وتہذیبی شناخت قائم رکھنے میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔یہ بات علی الاطلاق صحیح نہیں ہے ۔بیشترمغربی ممالک میں مسلمان لڑکیاں برقعہ اورحجاب کے ساتھ درس گاہوں اورجامعات میں تعلیم حاصل کرتی ہیں جبکہ ترکی جیسے اسلامی ملک میں جامعات اورسرکاری دفتروں میں خواتین کے حجاب اوربرقعہ پہننے پر پابندی عائدہے ۔ہندوستان کی مسلم خواتین کو جو آئینی حقوق ومراعات حاصل ہیں ان سے عرب ممالک کی خواتین محروم ہیں’’۔(37)
عالم اسلام کا مطلوبہ کردار
اس سلسلہ میں بعض اہل فکرنے یہ رایے ظاہرکی ہے : ’’عام حالات میں عالم اسلام کی ضرورت ہے کہ اس کے ہاں’’خلافت اسلامیہ‘‘کا معیاری نظام ہو،جس سے آج کی سیکولرروایت کے برعکس حکومت وسیاست کے پلیٹ فارم سے دنیائے انسانیت کی نسبت سے اسلام کی رحمت وبرکت کا اظہارہوسکے۔جب کہ حقیقی داخلی مفادات کا تحفظ بھی اس مبنی برعدل اسلامی حکومتوں کے نظام سے وابستہ ہے ۔اس روشنی میں پھیلے ہوئے عالم اسلام میں آج کی اکثروبیشترقابل اصلاح مسلمان حکومتیں متحدہ خلافت کے مطلوبہ نظام پر متفق نہ بھی ہوسکیں تو ان کی کم سے کم ضرورت ہے کہ موجودہ اقوام متحدہ اوراس کے اس جیسے دوسرے سیکولرذیلی فورموں کے جال سے نکل کراصولی اسلامی حکومت پر مبنی مؤثراورکارگروفاق کے نظام سے اپنے کو منسلک کریں ‘‘۔(38)
جزیہ
سلطان احمداصلاحی سوال کرتے ہیں:’’دوسراسوال یہ ہے کہ مسلمان نہ ہونے کی صورت میں کیاغیرمسلم انسانیت کو زیرکرکے اسے جزیہ کا پابنداوراسلامی حکومت کا تابع فرمان بناناضروری ہے جیساکہ ماضی میں اسلام نہ لانے کی صورت میں اسلامی ریاست کے غیرمسلم عوام کے لیے اس کی پابندی تھی ۔۔۔جہاں تک جزیہ کا سوال ہے تواس سلسلہ میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس کا مطلب کسی طرح اسلام کے زیرسایہ غیرمسلم عوام کی تحقیروتذلیل نہیں تھی ۔۔۔دوسرامسئلہ اس زیادہ اہم اورنئے حالات میں نئی رائے بنانے کا تقاضاکرتاہے ۔اسلام کی دعوت کے باوجودغیرمسلموں سے جنگ شروع کرکے ان کو جذیہ کے دائرہ میں لانایہ رائے پرانے عرف کے مطابق تھی ،آج کے دورمیں اس کے سلسلہ میں نئی رائے بنانے کی ضرورت ہے ۔مولانااصلاحی کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’اول یہ موجودہ عالم اسلام اپنی کمزوریوں کے ساتھ اس کا اہل نہیں کہ کسی ملک کو بزورطاقت فتح کرکے وہاں کے غیرمسلموں پر جذیہ نافذکرسکے ۔دوسرے عہدحاضرکی دوررس تبدیلیوں کے پس منظرمیں جس کی تفصیل اوپرگزری ،دین پسند،اہل اورمثالی عالم اسلام کے لیے بھی ماضی کے انداز کی عسکری یوروش ویلغارکو بمشکل ہی قرآن وسنت اورمطلوبہ دینی مصلحت کے مطابق قراردیاجاسکتاہے۔ (39)
ماضی میں کسی خطے اورعلاقے کے حکمراں طبقہ کی قوت وشوکت کو توڑے بغیراس کی قلمرومیں اپنی بات کہنے اوراپناپیغام پہنچانے کا کوئی موقع نہ تھا۔۔۔جس کی ضرورت سے ریاست کی مالی ذمہ داریوں میں حصہ داری کی مجبوری سے اس کے غیرمسلم شہریوں کے لیے جذیہ کو گواراکیاگیا۔۔۔آج کے بدلے ہوئے حالات میں دعوت اسلامی کے مقصدسے جب فوج کشی ضروری نہیں رہی تو ہرحال میں دنیاکے غیرمسلموں سے جزیہ لینابھی ضروری نہیں باقی رہتا( 40)
صلح
اسلام کے قانون بین الاقوام کا اصل الاصول صلح ہے ۔جیساکہ قرآن کہتاہے والصلح خیر ( اورصلح خوب چیز ہے :(النساء: 128 ) اس کے علاوہ سورہ انفال میں فرمایا :اوراگریہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں توتم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤاورخداپربھروسہ رکھو،کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتااورجانتاہے۔( 61) اسی پر پوری سیرت نبوی کے واقعات شاہدعدل ہیں۔پھرایساکیوں ہے کہ موجودہ دورکے مسلمان مصفین اوراسلامی مفکرین کے استثناء کے ساتھ پوری اسلامی تاریخ میں غیرمسلموں سے تعلقات کی اصل نسبت صلح نہیں بلکہ جنگ اورمسالمہ وموادعہ نہیں بلکہ محاربہ دکھائی دیتی ہے؟ جہادپر ایک نئے لکھنے والے اس سوال کا جواب یوں دیتے ہیں: ’’ اس کا سبب اس زمانہ کا تمدن اوربین الاقوامی اورسیاسی صورت حال تھی اوراس زمانہ کے لیے یہی شرعی حکم تھا ۔اصل میں اس زمانہ میں دنیامیں کہیں بھی مستقل صلح کا کوئی تصورنہیں تھا۔عملاہی نہیں نظری طورپر بھی ریاستوں کے درمیان ایسی دائمی صلح سیاسی اوراخلاقی فکرکے لیے اجنبی چیز تھی ۔۔۔ قدیم زمانہ میں ریاستیں واضح طورپرکوئی نہ کوئی مذہب رکھتی تھیں بلکہ ہرریاست تعصب کی حدتک مذہبی تصورات پر قائم ہوتی تھی اوراِس کااُس دورمیں کوئی تصورہی نہ تھاکہ کوئی غیرمسلم حکومت اپنے زیراقتدارعلاقوں میں اللہ کے بندوں کو اس کے دین کی طرف بلانے کے لیے امکانات کھلے چھوڑدے ۔یہ بات اُس وقت بالکل ناقابل تصورتھی ۔۔۔ لہٰذااُس صلح کا لازمی نتیجہ یہی نکلناتھاکہ امت اِس پورے خطہ کے بارے میں صبرکرلے اوروہاں کے انسانوں کو اللہ کی عبادت کی طرف بلانے اوراس کی بندگی کے راستہ پر چلانے کی جدوجہدنہ کرنے کو منظورکرلے ۔ظاہرہے کہ امت مسلمہ کے لیے اِس صورت حال کو مستقل طورپر تسلیم کرنے کی کسی طرح اجازت نہیں دی جاسکتی ۔یہ بات امت مسلمہ کے لیے اپنے فرض منصبی کے خلاف ہے ۔اس لیے علماء امت نے اس زمانہ میں بجاطورپر یہ خیال ظاہرکیاکہ صلح برائے مصلحت اورعارضی طورپر ہی کی جائے ۔۔۔لیکن اس صورت حال سے الگ کرکے اس مسئلہ میں غورکریں تو قرآن کی یہ بات اپنی جگہ قائم رہتی ہے کہ ۔۔۔اسلام کے قانون بین الاقوام میں اصل صلح ہی ہے۔(41)
ذمہ ،اہل ذمہ اورجزیہ
ذمہ اورجزیہ کے بارے میں صحیح اورراجح قول یہ ہے کہ وہ حقوق شہریت سے بالکل متصادم نہیں،نہ ان سے ہرگز بھی یہ مرادہے کہ اہل ذمہ اورجزیہ دینے والوں کا درجہ گھٹاکران کو ریاست کے ثانوی درجہ کے شہری قراردیاجائے یاان کی تحقیروتذلیل مطلوب ہے۔جن روایتوں سے ایساعندیہ ملتاہے وہ سب کمزوروضعیف ہیں (42 )
اصل میں جزیہ ایک نظام محاصل تھا جو ایرانیوں کے ہاں رائج تھا ۔اسلامی ریاست کے غیرمسلم شہریوں پر اِس کو بطورریاستی ٹیکس کے نافذکیاجاتاتھا۔جس کا سبب یہ تھا کہ ریاست ہی ان کے تحفظ کی پابندتھی اورجو غیرمسلم اسلامی ریاست کی جنگی خدمت انجام دیتے تھے ان سے یہ ساقط ہوجاتاتھا۔اورمسلمانوں سے زکوۃ وصدقات کی صورت میں جزیہ سے کہیں زیادہ بھاری ٹیکس لیے جاتے تھے ۔چونکہ زکوۃ ایک دینی فریضہ اورمالی عبادت ہے اس لیے غیرمسلموں سے نہیں لی جاسکتی تھی ۔اس لیے اسلامی ریاست کے غیرمسلم شہریوں پر زکوۃ سے کافی ہلکاٹیکس جزیہ نافذکیاگیا۔(43)
تاہم لفظ جزیہ اورذمہ کے بارے میں حضرت عمرؓکا اسوہ موجودہے جس سے گویایہ اصول طے فرمادیاکہ غیرمسلم شہری جزیہ اورذمہ وغیرہ اصطلاحات ترددوتوحش کا شکارہو ں تو ان ناموں پر اصرارکرناکوئی ضروری نہیں (44) مزیدبرآں جدیددورکے فقہاء اورعلماء مثلامصطفی سباعی ،علامہ یوسف القرضاوی ،عبدالکریم زیدان ،وہبہ الزحیلی ،اورمصطفی الزحیلی اس کے قائل ہیں کہ آج کی مسلم ریاستو ں میں جزیہ نافذ نہیں کیاجائے گا(45)اس کے علاوہ برصغیرکے متعدد علماء ومفکرین بھی یہی رائے رکھتے ہیں(46)
صلح پسندغیراسلامی ریاست کے خلاف اقدام نہیں ہوگا
اگرچہ فقہاء کی اکثریت اِس بات کی قائل ہے کہ اسلامی ریاست کے واقعات غیرمسلم ریاست سے محاربہ پر مبنی ہوں گے ۔مگرترک اوراہل حبشہ کے بارے میں حدیث میں اقدام کرنے سے منع کیاگیاہے ۔فرمایا: اترکو الحبشۃ ماودعوکم واترکو الترک ماترکوکم (ابوداؤ کتاب الملاحم ،باب فی النھی عن تھییج الترک والحبشۃ ) اس حدیث کو نقل کرکے مولاناجلال الدین عمری لکھتے ہیں: ’’اس حدیث میں صاف کہاگیاہے کہ جب تک یہ ریاستیں اسلامی ریاست کے معاملات میں دخل انداز نہیں ہورہی ہیں اوراس سے الگ تھلگ اورکنارہ کش ہیں ان سے محاذآرائی کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا‘‘۔ انہوں نے ا س سے یہ نتیجہ بھی نکالاہے کہ جوقوم جنگ نہ کرے اس سے جنگ نہ کی جائے گی اورپرامن ملکوں کے ساتھ اسلامی ریاست خواہ مخواہ کی کشمکش مول نہ لے گی ۔( 47)
ڈاکٹرمحموداحمدغازی واضح کرتے ہیں کہ مسلم اقلیتوں کے فکری مسائل کی جڑ میں ۔دوسری چیزوں کے ساتھ ۔یہ بھی ہے کہ ان کے ایک بڑے طبقہ کو تحدیدی طورپر یہ معلوم نہیں کہ ان کی دینی ذمہ داریاں کیا اورکس حد تک ہیں؟اسلام ان سے،ان کے حالات کے مطابق ،کس چیز کامطالبہ کرتاہے؟کیونکہ مسلمانوں کی ایک خاصی بڑی تعداداس کنفیوژن میں مبتلاہے کہ تمام مسلمانوں کے فرائض وواجبات یکساں ہیں۔بعض لوگ اس کنفیوژن میں خود بھی مبتلا ہیں اور دوسروں کو بھی کررہے ہیں کہ اقلیتی مسلمانوں کے فرائض بھی وہی ہیں جو اکثریتی ممالک کے مسلمانوں کے ہیں۔
حالانکہ اکثرمسلم علماء وفقہاء کے نزدیک اکثریتی ممالک کے مسلمانوں کے فرائض میں یہ بھی ہے کہ وہ اسلامی شریعت کے نفاذ کی کوشش کریں اوراسلامی نظام قائم لریں۔مگریہی فریضہ ان کے نزدیک مسلم اقلیتوں پر لازم نہیں ہوتا۔اب اگرکوئی قرآن وسنت کے عمومی نصوص کے حوالے سے جنوبی افریقہ یا امریکہ و انگلینڈکے اقلیتی مسلمانوں کو ان ممالک کے نظام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑاہونے کی تبلیغ کرے جن کی تعداد 10فیصد یا اس سے بھی کم ہے- تو اس کانتیجہ اس کے سوا کیا نکلے گا کہ یہ حکومتیں مسلمانوں کے وجود کو ہی ختم کرنے کی کوشش کریں۔یہ محض مفروضہ نہیں حقیقتاً ایسا ہو چکا ہے۔ترینداد میں بالکل ایسی ہی صورت حال پیش آئی تھی۔(48)چنانچہ مسلم اقلیتوں کے لائحہ عمل کے سلسلہ میں ڈاکٹرمحموداحم غازی کے نزدیک یہ سمجھنا بہت بہت ضروری ہے کہ مسلمان اقلیتوں کی نہ یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کے قائم شدہ نظام کو بدل کر وہاں اسلامی حکومت قائم کردیں اور نہ ہی عملاً ان کے لیے ممکن ہے۔اللہ کی شریعت نے یہ ذمہ داری ایک بااختیار و آزاد اسلامی ملک یا خطہ (دارالاسلام)کے باشندوں پر ڈالی ہے ۔غیر مسلم اکثریتی ممالک میں بسنے والے مسلمانوں پر نہیں ہے۔قاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ اس با ت کویوں تعبیرکیاکرتے تھے کہ ’’عذرانفرادی بھی ہوتاہے اوراجتماعی بھی ہوتاہے ‘‘۔
اس مقالہ کے اختتام پرہم عبدالحمیداحمدابوسلیمان کے یہ الفاظ نقل کرتے ہیں جو اس پوری بحث کا ماحصل بھی ہیں: ’’بین الاقوامی تعلقات کے سلسلہ میں اپنے اصولوں ،اقداراوراہداف کے اعتبارسے اسلام آج بھی مکمل طورسے قابل عمل ہے اورکامیاب وتعمیری خارجہ تعلقات کی رہنمائی کی صلاحیت رکھتاہے۔بشرطیہ مسلمان ان جامع اورہمہ گیراصولوں اوراہداف کی پابندی کریں۔انہیں اسلام کے دوراول سے متعلق اپنے فہم کو ازسرنومرتب کرنااوراس کے مطابق مربوط طریقہ پر بین الاقوامی تعلقات کا تجربی اسلامی مطالعہ کرناچاہیے۔اسی صورت میں مسلم مفکرین اورسیاسی مدبرین اپنی امت ،بحیثیت مجموعی انسانیت اوراسلام کی خدمت کے لیے متبادل کامیاب روش عمل کا حقیقی تعین کرسکیں گے ۔(49)
اسی طرح نئی اسلامی سیاسی فکرکی تشکیل میں ہمیں اسلامی نظریۂ کائنات یااسلامک ورلڈ ویوکو سامنے رکھنا ہوگا۔ کیونکہ اسلامی نظریۂ کائنات کے حوالہ سے ہی نئی اسلامی سیاسی فکرکی تشکیل کی جاسکتی ہے ۔
حواشی وحوالہ جات
1۔ مثال کے طورپر ملاحظہ ہوحافظ سعداللہ مدیرمنہاج لاہورکا مقالہ ، غیرمسلم حکومت کی اطاعت اورا س کے ساتھ تعلق کے حدودوضوابط فکرونظر جنوری ۔مارچ 2009،ادارہ تحقیقات اسلامی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
2۔ فقہ الاقلیات کا تصوربالکل نیانہیں ہے ۔ماضی کے فقہی ذخیرہ میں نئے پیش آمدہ مسائل ومعاملات سے متعلق فقہی احکام الحوادث والنوازل کے تحت ذکرکیا۔بقول عبدالرحمن مومن بعض فقہاء نے فقہ الضرورۃ اورفقۃ النوازل کی اصطلاحات بھی استعمال کی ہیں۔ اس لیے فقہ الاقلیات کو فقہ النوازل کی ایک نوع قراردیاجاسکتاہے ۔اگرچہ آج فقہ الاقلیات مغربی ممالک میں رہائش پذیریاان سے قریبی ربط رکھنے والے علماء نے یہ اصطلاح وضع کی ہے ان علماء وفقہاء میں ڈاکٹرطٰہٰ جابرعلوانی ،علامہ یوسف القرضاوی سرفہرست ہیں علوانی کا اصرارہے کہ فقہ الاقلیات کو ایک خودمختارفقہ سمجھناچاہیے۔
3۔ اپنے حالات کو صحیح طورپر سمجھ کر دینی ذمہ داریوں کا تعین ہی فقہ الواقع ہے۔اس سلسلہ میں ملاحظہ ہودکتورطٰہٰ جابرعلوانی، مفاھیم محوریۃ حول المنہج والمنہجیۃ دارالسلام، قاہرہ مصر2003)
4۔ یہاں اسلامی سیاسیات پر لکھنے والوں سے ہماری مرادوہ مصنفین ہیں جن کا نقطہ نظراسلامی ہے۔
5۔ ملاحظہ ہو غطریف شہباز ندوی ،ہندوستان میں مسلم اقلیتوں کے مسائل ،مطالعات شمارہ نمبر16،اقلیات نمبراپریل 2012انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹواسٹڈیز نئی دہلی
6۔ ملاحظہ ہواسلامی معاشرہ کی تشکیل ،صاحب زادہ ساجدالرحمن صدیقی صفحہ217)
7۔ د یوسف القرضاوی ،الدولۃ الاسلامیۃ انٹرنیٹ سے ماخوذ)
8۔ دیکھیں،اسلامی معاشرہ کی تشکیل ،صاحب زادہ ساجدالرحمن صدیقی صفحہ 221)
9۔ دیکھیں جہادپر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ پاکستان کی خصوصی اشاعت (مارچ ۱۲۰۲) ۔
10۔ ملاحظہ ہوفکرونظر،اپریل ۔جون 2008شمارہ 4ادارہ تحقیقات اسلامی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد)
11۔ ایضاً۔
12۔ دیکھیں ڈاکٹراسراراحمد، پاکستان میں نظام خلافت ،امکانات خدوخال اوراس کے قیام کاطریقہ کار صفحہ 36)
13۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو،ڈاکٹرعبدالحق انصاری ،سیکولرازم ،جمہوریت اورانتخابات صفحہ 6-7)
14۔ ملاحظہ ہوفکرونظر،اپریل ۔جون 2008شمارہ 4ادارہ تحقیقات اسلامی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد)
15۔ ایضا
16۔ ایضاصفحہ ۳۷
17۔ ملاحظہ ہوکتاب الدین والسیاسۃ ،نیٹ پردستیاب ہے ،خاص طورپر باب الاقلیات الاسلامیۃ والسیاسۃ۔
18۔ ملاحظہ عبدالحمیداحمدابوسلیمان ،اسلام اوربین الاقوامی تعلقات منظراورپس منظر ،ترجمہ عبدالحی فلاحی قاضی پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرزنئی دہلی 13،صفحہ 42)
19۔ اسلام کا قانون بین الاقوام(خطبات بھاولپور 2)،ڈاکٹرمحموداحمدغازی ،دعوہ اکیڈمی اسلام آباد-13باب مسلم اقلیت جدید لادین ریاستوں میں۔ خاص کر صفحات509,510,511,512اور513ملاحظہ ہو۔
20۔ ایضا
21۔ ایضا
22۔ ملاحظہ ہونجات اللہ صدیقی ،اسلام ،معاشیات اورادب ،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی صفحہ419
23۔ ایضا صفحۃ 420
24۔ ملاحظہ ہوجہادپران کا مبسوط مقالہ مشمولہ الشریعہ کی جہادپر خصوصی اشاعت (مارچ ۲۰۱۲) ۔
25۔ ملاحظہ ہو عنایت اللہ سبحانی تبدیلی مذہب اوراسلام ،ادارہ احیاء دین بلریاگنج ،جنوری 2002اوروحیدالدین خاں ،شتم رسول کا مسئلہ ،مکتبہ الرسالہ نئی دہلی
26۔ ملاحظہ ہومولانامحمدمیاں،علماء ہندکا شاندارماضی مکتبہ رشیدیہ کراچی 1986جلدپنچم ،با ب نہم بعنوان ،حصول آزادی کے لیے پروگرام : لائحہ عمل کی تبدیلی
27۔ ماہنامہ الشریعہ (خصوصی اشاعت برجہاد)مارچ 2012شریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ پاکستان ،صفحہ 587
28۔ ملاحظہ ہوپروفیسرعبدالرحمن مومن ،عمرانیات فقہ اسلامی اورمسلم اقلیتیں مطالعات ج4،شمارہ4،اکتوبر تا دسمبر2009انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹواسٹڈیز نئی دہلی
29۔ بحوالہ پروفیسرنجات اللہ صدیقی ،مقاصدشریعت ،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی صفحہ191۔
30۔ ایضا 191۔
31۔ ایضا 182۔
32۔ ایضا 182۔
33۔ ایضا 182۔
34۔ ایضا صفحہ 186۔
35۔ بحوالہ نجات اللہ صدیقی ،مقاصدشریعت ،صفحہ186
36۔ پروفیسرنجات اللہ صدیقی ،مقاصدشریعت، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی صفحہ 186۔
37۔ ملاحظہ ہوپروفیسرعبدالرحمن مومن ،عمرانیات فقہ اسلامی اورمسلم اقلیتیں مطالعات ج4،شمارہ4،اکتوبر تا دسمبر2009انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹواسٹڈیز نئی دہلی
38۔ مسلمان اقلیتوں کا مطلوبہ کردار سلطان احمداصلاحی فکروآگہی بھورمؤتکیہ کلاں اعظم گڑھ یوپی طبع دوم (2002ء)ص 44۔
39۔ مسلمان اقلیتوں کا مطلوبہ کردار سلطان احمداصلاحی فکروآگہی بھورمؤتکیہ کلاں اعظم گڑھ یوپی طبع دوم (2002ء) صفحہ 59۔ نظام خلافت کے احیا ء کے سلسلہ میں اس سے مماثل رایوں کا اظہاراسلام کے بین الاقوامی قوانین کے دوبڑے ماہروں ڈاکٹرمحمدحمیداللہؒ اورڈاکٹرمحموداحمدغازی ؒ نے بھی کیاہے ۔(ملاحظہ ہو،غطریف شہبازندوی ،ڈاکٹرمحمدحمیداللہ ،مجددعلوم سیرت ،2003فاؤنڈیشن فاراسلامک اسٹڈیز ،نئی دہلی ،صفحہ77 ،اوراسلام کا قانون بین الاقوام خطبات بہاولپور(2)، ڈاکٹرمحموداحمدغازی ،دعوہ اکیڈمی اسلام آباد،آخری باب ۔
40۔ ملاحظہ ہووہی مصدرصفحہ (61)
41۔ یحیٰ نعمانی ،جہادکیاہے ،صفحہ134-135۔
42۔ ایضا صفحہ 262-268
43۔ تفصیل ملاحظہ ہو،جہادکیاہے صفحہ ۰۷۲تا۵۷۲،یحیٰ نعمانی ،المعہدالعالی للدراسات الاسلامیہ لکھنؤجولائی 2011۔
44۔ نفس مصدر صفحہ274۔
45۔ نفس مصدرصفحہ 274۔
46۔ نفس مصداورر دیکھیں سلطان احمداصلاحی ،مسلم اقلیتو ں کا کردار، صفخہ 180-181 جزیہ کے بارے میں کلاسیکل موقف اور حالیہ موقف کے بارے میں دیکھیں، عمار خان ناصر، ’’جہاد۔ایک مطالعہ‘‘، ماہنامہ الشریعہ (خصوصی اشاعت برجہاد) مارچ 2012، شریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ پاکستان ،صفحہ288 تا 293 ۔
47۔ ملاحظہ ہو،سیدجلال الدین عمری ،غیرمسلموں سے تعلقات اوران کے حقوق ،صفحہ 280،ادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی علی گڑھ ستمبر1998
48۔ ٹرینڈاڈجزا ئرغرب الہند میں ایک چھوٹا ساملک ہے اور چند جزائرپر مشتمل ہے ۔وہاں مسلمانوں کا تناسب تقریباً 16.15فیصد ہے۔لیکن اقلیت میں ہونے کے باوجود کچھ عرصہ پہلے ان کو اتنا اثر رسوخ حاصل تھا کہ اس ملک کا صدر ،پارلیمنٹ کا اسپیکر اورعدالت کا چیف جسٹس مسلمان تھے۔یعنی تین بڑے بڑے عہدے ان کے پاس تھے صرف وزیر اعظم عیسائی اکثریت میں سے ہوتا تھا۔اب یہ ہوا کہ بیرون ملک سے کچھ پر جوش مگر کم علم مبلغ وہاں پہنچے اور انہوں نے نادانی میں اس طرح کی تقریریں کیں کہ جنگ بدر میں313مسلمانوں نے بے سرو سامانی میں سارے عرب کے مشرکین کو چیلنج دیاتھااورعظیم الشان فتح حاصل کی تھی۔ لہذا جہاں بھی313مسلمان ہوں ان کا فرض بنتاہے کہ وہ کفر کو چیلنج دیں اوراسلامی نظام قائم کریں۔ان کی پرجوش تقریروں سے متاثر ہوکر کم پڑھے لکھے اور سادہ لوح مگرجوشیلی طبیعت کے مالک کالے مسلمان جوش و خروش سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اسلامی انقلاب لانے کا اعلان کردیا۔ملک میں توڑ پھوڑ مچائی،پارلیمنٹ میں گھس گئے ،غیر مسلموں کی املاک کو آگ لگائی۔ ان کے لیڈروں نے ٹیلی ویژن اورریڈیو اسٹیشن پر قبضہ کر کے وہاں نفاذ اسلام کا اعلان کردیا۔نتیجہ کیا نکلا؟فوج نے زبردست کارروائی کی ،پارلیمنٹ ،ریڈیو اسٹیشن اورٹیلی ویژن کو ان سے چھڑایا ،ہزاروں لوگوں کو گرفتار کر لیا،اسلامی نظام تو کیا قائم ہوتا،مسلمانوں سے تمام کلیدی عہدے اورمراعات چھین لی گئیں۔دعوت و تبلیغ پر پابندی لگی۔غیر مسلموں سے خیر سگالی کے سارے تعلقات ختم،اچھے تاثرات یکایک برے اثرات میں بدل گئے۔یہ بے تدبیری اسی لیے ہوئی کہ وہ غریب مبلغین فقہ الواقع کا ادراک نہ رکھتے تھے۔ان کے جوش جنون نے اسلام کا راستہ مسدود کر کے رکھ دیا جس کو اب تک غیر مسلم دشمن بھی نہ کرسکے تھے۔ ملاحظہ ہواسلام کا قانون بین الاقوام(خطبات بھاولپور 2)،ڈاکٹرمحموداحمدغازی ،دعوہ اکیڈمی اسلام آباد
49۔ عبد الحمید احمد ابو سلیمان، اسلام اور بین الاقوامی تعلقات منظر اور پس منظر، ترجمہ عبدالحی فلاحی قاضی پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز نئی دہلی ۳۱، صفحہ 282)
’’ائمہ وخطبا کی مشکلات، مسائل اور ذمہ داریاں‘‘ (۳)
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام سیمینار
ادارہ
ٰمولانا مفتی محمد طیب
(مہتمم جامعہ امدادیہ، فیصل آباد)
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، امابعد! فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔
جناب صدرمکرم، علماء کرام اور معززحاضرین !
جس موضوع پہ یہ سیمیناررکھاگیاہے، یہ موضوع انتہائی اہم بھی ہے اور انتہائی مشکل بھی۔مساجد کے متعلق مسائل بھی بہت ہیں اورضروریات بھی بے شمار ہیں۔لیکن اس موضوع پر ہمارا کوئی اجتماعی فورم نہیں ہے کہ اس پرہم اکٹھے ہو کران مسائل کوسوچیں اور غورکریں۔ ضرورت کااحساس ہے لیکن ساتھ مشکلات کودیکھ کرہم پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ہمارے فیصل آباد میں جمعیت المدارس ہے۔ ایک موقع پر مفتی زین العابدین ؒ کے خلاف حکومت نے کوئی ایکشن لیا تھا، اس کے ردعمل میں یہ بنی اورپھر بنی رہی اورالحمدللہ اس کے کافی فوائد بھی حاصل ہوئے۔ گزشتہ سال مولاناضیاء القاسمیؒ کے مدرسے پر حملہ ہوا اور اس کے ردعمل میں علمااس پلیٹ فارم پرجمع ہوئے ۔اس سے پہلے قادیانیت کے موضوع پرجمع ہوئے اورقادیانیوں کی جوفیصل آباد میں ریشہ دوانیاں تھیں، ان کو پسپا ہوناپڑا۔جمعیت المدارس کے لیے جب علماجمع ہوتے ہیں تو وہاں پر ہمارے پرانے بزرگ ہیں، قاری عبداللہ صاحب عالم بھی ہیں ،قاری بھی ہیں۔وہ ہرنشست میں کہتے ہیں کہ مساجد کے بڑے مسائل ہیں، آپ نے مدارس کے موضوع پر توکمیٹی بنالی، لیکن مساجد کے بھی بہت مسائل ہیں۔ لیکن فیصل آباد کے علما نے اس موضوع پر سوچنے کی ابھی ہمت نہیں کی، کیونکہ مسائل ہی اتنے پیچیدہ ہیں۔ اسی طرح وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کاجوآخری اجلاس کراچی میں ہوا، وہاں ایجنڈے میں ایک چیز وفاق المساجد بھی تھی کہ مساجد کا بھی ایک وفاق بنناچاہیے توبات اسی پر آکرختم ہوئی کہ یہ ایسامشکل موضوع ہے کہ اس کو نبھانابہت مشکل ہے۔ زیادہ سے زیاد ہ یہ کیاجاسکتا ہے ائمہ اور خطباکی تربیت کا کوئی نہ کوئی نظام بنادیاجائے۔
واقعتایہ موضوع اہم بھی ہے اور مشکل بھی۔ اس لیے کہ مساجد اسلامی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی مثال رکھتی ہے اورانبیاء کرام نے اپنے کام کی بنیاد مسجد کو بنایاہے اورجس طرح مسجد کی اہمیت ہے، اس سے زیادہ مسجدمیں بیٹھنے والے عالم کی اہمیت ہے۔سب سے پہلی مسجد بیت اللہ کی ہے اور اس کی اہمیت قرآن پاک نے خود بیان کی ہے اور اللہ نے اس کی تعمیر انبیاکرام سے کرائی اوراس کی شان یہ بتائی کہ ھدی للعالمین ہے ۔لیکن اس مسجد کی تعمیر کے بعد ابراہیم ؑ کوجس چیز کی ضرورت محسوس ہوئی، وہ یہ ہے کہ اس مسجد کو آباد کرنے کے لیے رسول ہوناچاہیے ،کتاب ہونی چاہیے،مدرسہ ہوناچاہیے اوریہ بیت اللہ کی جوعالمی حیثیت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک نمایاں نہیں ہوئی۔مکہ معظمہ شرک کامرکز تھا۔ رسول اللہ کی بعثت اورآپ کی اکیس سالہ جدوجہد کے بعد پھرمکہ فتح ہوااورمکہ کی وہ حیثیت (ھدی للعالمین) جوقرآن پاک نے بیان فرمائی و ہ بحال ہوئی اورقیامت تک بحال رہے گی۔تومسجد جہاں اہم ہے، وہاں مسجد کا ٖخطیب اورمسجد کا امام بھی بہت زیادہ اہم ہے۔
آج مسجدوں کے جومسائل ہیں، ان میں ایک مسئلہ تویہ ہے کہ اس وقت زیادہ مدارس علمادیوبند کے ہیں اورپھر طلبا کی تعدادبھی علمادیوبند کی زیادہ ہے تواس کا اثریہ ہوناچاہیے کہ ان کی مساجد بھی زیادہ ہوں، لیکن مساجد ان کی زیادہ کیوں نہیں ہیں؟ اس کی وجہ کیاہے؟ فیصل آباد میں ایک مرتبہ علما بیٹھے تھے تواس پر غورہوناشروع ہوا۔فرمانے لگے کہ جونئی کالونیاں بنتی ہیں توشروع میں ایک دومکان بنتے ہیں اوروہ ایک دومکینوں کی بات نہیں ہوتی کہ وہ مسجد کو آباد کرسکیں اور دیوبندی عالم یہ چاہتاہے کہ مجھے مسجد بھی ملے اورمکان بھی ملے، تب آکرمیں کام شروع کروں گا۔ ہمارے ملک کے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مسجد کا پلاٹ چاہیے اور لاؤڈ سپیکر چاہیے اور اس کے بعد سارا کچھ خود بخود ہو جائے گاتواس مجاہدے کے لیے اہل حق تیارنہیں ہیں اور جو لوگ تیارہیں، وہ ان حالات میں آکرپلاٹ پر قبضہ کرلیتے ہیں اور ان کا کام چل جاتاہے۔ اس لیے ان کی مساجد زیادہ ہیں ہماری نہیں ہیں۔ایک وجہ تویہ ہے۔
دوسرایہ ہے کہ دیہاتوں میں کام بہت کم ہے۔ دیہاتوں میں جومساجد ہیں، ان کا حال بہت خراب ہے۔ مساجد موجود ہیں، لیکن دیہات کے لوگوں کو کلمہ ٹھیک نہیں آتا، قرآن پاک صحیح نہیں آتا۔دیہات میں جیسے دنیاوی اعتبار سے جہالت ہے، وہاں دینی اعتبار سے بھی جہالت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مدارس میں شہری زندگی میں رہ کر پڑھتے ہیں اور لوٹ کر دوبارہ دیہات کی زندگی میں جانا نہیں چاہتے۔علماتوہمارے کافی فارغ ہورہے ہیں، لیکن دیہات میں نہیں جاتے۔ اس کی وجہ سے آج بھی دیہات میں شرک ہے، بدعات ہیں، رسومات ہیں۔ وہ سب اس وجہ سے ہیں کہ ہم دیہات میں پہنچتے نہیں ہیں۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ شہری زندگی میں ہم مساجدمیں بیٹھے ہیں، لیکن مساجد میں بیٹھ کر لوگوں کو ہم دین نہیں سکھارہے۔لوگوں کو قرآن شریف پڑھانا، فقہی مسائل سمجھانا، دین کے سارے معاملات سمجھانا، پورے طورپردین کے موضوع پر ہماری مساجدجو میں محنت ہونی چاہیے، وہ ہماری مساجد میں نہیں ہے۔باقی ہمارے بھی مسائل ہیں۔ تنخواہ کم ہے،ملتاکم ہے، گزارا نہیں ہوتا۔اس کا حل توہمارے اختیارمیں نہیں ہے، لیکن دین کا کام کرنا، دین کی محنت کرنا، جس مسجد میں ایک عالم بیٹھ جائے، اس کا گھر گھر قرآ ن وسنت کی روشنی پہنچانا، یہ سب کچھ اگر ایک عالم صحیح معنی میں ارادہ کر لے تووہ کام کرسکتاہے۔ لیکن ہمارا کام جمعہ کے خطبہ اورپانچ وقت کی نمازتک محدودہوتاہے۔ ہمارے اکابر نے قرآن پا ک کادرس دیاہے، لیکن آج بیشتر مساجدمیں درس قرآن نہیں ہورہا۔آپ مشکوٰۃ شریف لے کر، ریاض الصالحین لے کر حدیث کادرس دیناشروع کریں تولوگوں کو بہت سی دین کی معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔ لیکن اگر مساجد کاسروے کریں توپتہ چلتاہے کہ بہت سی مساجد ہیں کہ جن میں درس حدیث کاکام نہیں ہورہا۔ آپ فقہی مسائل کی کلاس لگاسکتے ہیں، لیکن فقہی مسائل لوگوں کو بتائے نہیں جا رہے۔ مساجد میں درس قرآن پاک ،درس حدیث ،فقہی مسائل ،ناظرہ قرآن پاک، یہ وہ بنیادی کام ہیں جو آج ہماری شہری مساجد میں جہاں پر ہم موجود ہیں، نہیں ہورہے۔
ایک کمی یہ ہے کہ بعض موضوعات کو ہم دوسرے فرقوں کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ مثلاً اہل بیت ہیں، حضرت حسینؓ ہیں کہ ان کے متعلق گفتگو یا تو شیعہ کریں گے یابریلوی کریں گے ۔ہمارے موضوعات میں یہ شامل نہیں ہے۔ ہمارے بزرگان دین میں بعض ایسے ہیں کہ ان کاکردار بہت اونچاہے۔ مثلاً عبدالقادرجیلانی ؒ ،خواجہ معین الدین اجمیری ؒ ہیں اوریہ بڑے بڑے اکابر ہیں توان کے ایام ولادت یاایام وفات آتے ہیں توباقاعدہ پورے ہفتے منائے جاتے ہیں اور اس موضوع پر کلام کیاجاتاہے، لیکن ہم ان موضوعات کوچھوڑ دیتے ہیں تونتیجہ یہ نکلتاہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ علماء دیوبند ابل بیت کا نام بھی نہیں لیتے اور اولیاء اللہ کا نام بھی نہیں لیتے۔مجھے یہاں آکر باتیں سن کر بہت فائدہ ہوا اورمیں بیٹھے یہ تمناکررہاتھاکہ کاش میں صبح کی نشست میں بھی موجود ہوتا، آپ نے بھی استفادہ کیاہے مجھے بھی فائدہ حاصل ہو جاتا۔
مولانا فرمارہے تھے کہ حالات حاضرہ کے متعلق بات کرنی چاہیے۔ حالات حاضرہ کے متعلق بات کرنے کے لیے ایک تو میڈیا کے ساتھ تعلق رکھنے کی ضرورت ہے،دوسرا اگر خطبات دیکھیں تواپنے قریب کے ان بزرگوں کے جن کے ہاتھ امت کی نبض پر ہیں۔اس سے ہمارے خطبات میں جان پیداہوسکتی ہے ۔ہمارے موجودہ دور کے بزرگوں میں ایک بڑانام ہے مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم کا، ان کے خطبات ہیں اورہمارے بزرگ مولانازا ہدالراشدی صاحب کے بھی خطبات ہیں۔ ہمارے ماضی قریب کے بزرگوں میں مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ اورمولانا قاری محمد طیب صاحب، یہ وہ بزرگ تھے کہ جومعاشرے سے بے خبر نہیں تھے،امت کی نبض پر ان کے ہاتھ تھے۔ ان کی کتابوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرناچاہیے۔
میری آخری گزارش یہ ہے کہ آپ نے ایک بہت اہم اور مشکل موضوع کوچھیڑا ہے۔میری تمناہے کہ گوجرانوالہ اس موضوع پر امامت کا کردار اداکرے،اس موضوع کو آگے بڑھائے اور اس موضوع پر اکٹھے ہونے کی روایت ڈالے۔اس کا طریقہ یہ ہوسکتاہے کہ جوبڑے بڑے ادارے ہیں، وہ پروگرام کی میزبا نی کو بانٹ لیں کہ اس مہینے فلاں ادارے میں پروگرام ہوگا، دومہینے بعد دوسرے میں،پھر تیسرے میں۔ اس طرح علما بھی اکٹھے ہوں گے اورموضوع بھی آگے بڑھے گا۔ رفتہ رفتہ صورتحال بھی نکھر جائے گی اورلائحہ عمل بھی سامنے آجائے گا۔ یہ چند بکھری باتیں تھیں جومیں نے آپ حضرات کے سامنے پیش کی ہیں۔
اس کے علاوہ حضرت فرمارہے تھے کہ تجربات بھی بیان کرنے ہیں توتجربات حضرت کے زیادہ ہیں، ان کی زندگی بھی زیادہ مسجد میں گزری ہے۔حضرت امام اہل سنت کی تو ساری زندگی مسجدمیں گزری ہے اور وہ ہمارے لیے ایک نمونہ بھی ہے کہ شیخ الحدیث کی مسند پر بیٹھے اورمسجد کی خدمت بھی کرے ،امامت بھی کرے، یہ دونوں باتیں جمع ہوجانا بڑی بات ہے۔میں اپنا تھوڑا سا تجربہ بیان کر دیتا ہوں ۔کراچی میں ۸۲ء میں، میں نے تخصص کیا تھامفتی رشید صاحب ؒ کے پاس۔اس سے پہلے بنوری ٹاؤن میں دورہ کیاتھا۔ ایک دن میں دوپہر کوبنوری ٹاؤن آیا توحضرت مفتی ولی حسن صاحب نے فرمایا کہ کچھ لوگ بیٹھے ہیں، یہ لیاری کے علاقے کے ہیں ،آگرہ تاج کالونی کی جامع مسجد ہے تو یہ اس کے لیے خطیب چاہتے ہیں۔ آپ وہاں چلے جائیں ۔یہ وہ مسجد تھی جہاں سیدعبدالمجید ندیم صاحب نے خطابت کاآغاز کیاتھا اوراس کے بعد بھی اسی معیار کے خطیب وہاں رہ چکے تھے اورمجھے اب بھی خطابت نہیں آتی۔میں چلا گیا۔ شروع میں تو بڑی تنگی پیش آئی کہ وہ جس انداز کی خطابت تھی، وہ مجھے آتی نہیں تھی بلکہ ایک صاحب (مجھ سے پہلے جمعیت اشاعۃ التوحید والسنۃ کے ایک خطیب وہاں رہ چکے تھے) مجھے کہنے لگے کہ یہاں توحید بیان ہواکرے ۔میں نے کہا کہ ٹھیک ہے، میں بیان کروں گا۔
میں نے درس قرآن شروع کیا اوراز خود لوگوں کو ناظرہ قرآن پاک پڑھانا شروع کیا،کسی اور کے ذمے نہیں لگایا اورپھر ناظرہ قرآن والوں میں سے ایک جماعت نکالی جن کو بہشتی زیورپڑھانا شرو ع کیا۔ تقریباً چرپانچ مہینے میں وہاں رہا، اس کے بعد میرا تخصص ختم ہوگیا اورمیں فیصل آباد واپس آگیا اورماضی قریب تک وہ لوگ یہ ہی کہتے رہے کہ آپ جب بھی کراچی آئیں تو یہ مسجد حاضر ہے۔ جب میں وہاں گیاتھا، وہاں پر فقہ کے مسائل اوردوسرے مسائل بہت محنت سے سکھائے اوراس کی وجہ سے بڑی تبدیلی آئی۔اس علاقے میں جماعت اسلامی بہت مضبوط تھی۔ انہوں نے میری مخالفت شروع کردی۔ ایک آدمی نے پوچھا کہ کیوں مخالفت کرتے ہو؟ ان کا قصور کیاہے؟ کہنے لگے کہ انہوں نے ہمارے انداز سے کام کرنا شروع کردیاہے، اورکوئی بات نہیں ہے تومیں آپ کو یہ ہی پیغام دینا چاہتاہوں کہ آپ جس مسجد میں بیٹھے ہیں، وہاں کے لوگوں کواپنا ہم خیال بنائیں، ان کو اپنا شاگرد بنائیں ۔دیہاتوں کی طرف رخ کرنے کی بہت ضرورت ہے، ادھر بہت کمی ہے ۔ اللہ تعالی میری اور آپ کی حاضری کو قبول ومنظور فرمائے۔واخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
مولاناعبدالخبیر آزاد
(امام وخطیب بادشاہی مسجد، لاہور)
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
بہت ہی خوبصورت عنوان پر آج کی اس نشست کا الشریعہ اکیڈمی کی طرف سے انعقاد کیاگیا ہے۔ اس کے انعقادپر میں حضرت شیخ الحدیث کامشکور ہوں کہ یہ پروگرام آج کی ضرورت ہے بلکہ جیسا کہ مولانا فاروقی صاحب کہہ رہے تھے کہ ایک بڑے میدان میں اس پروگرام کوہونا چاہیے اور ان شاء اللہ ہم راشدی صاحب کی سرپرستی میں پنجاب کی سطح پر اورپورے پاکستان کی سطح پر اس عنوان پرپروگرام کروائیں گے۔
یقیناامام کے بہت سے مسائل ہیں۔ یقیناًآج چھوٹی جگہ کے امام کو بھی مسائل درپیش ہیں اوربڑی جگہ کا امام ہے تو مسئلہ اس کو بھی درپیش ہے، مگر بات وہی آجاتی ہے جوحضرت استاذالحدیث نے فرمائی ہے کہ امام کو طاقتور بننا ہے، امام کو مضبوط بنناہے۔ آج کل معاشرے کے اندر سب سے زیادہ بگاڑ پیداکرنے والی وہاں کی کمیٹی ہے اورآپ کو یہ بات بتاکرمیں خوشی محسوس کروں گا کہ بادشاہی مسجد لاہور میں آج تک ہم نے کوئی کمیٹی بنانے نہیں دی ہے۔ چاہے وہ اوقاف کی مسجد ہے، لیکن ہم نے آج تک وہاں نہ توکوئی کمیٹی بننے دی ہے اور نہ ہی ضرورت محسوس کی ہے۔ باقی اوقاف کی مساجد میں کمیٹیاں ہوتی ہیں۔ ہمارے والد صاحب حضرت مولانا عبد القادر آزاد صاحب ؒ بھی کمیٹی نہ بنانے کے حق میں تھے۔جومسائل امام کے لیے پیداکیے جاتے ہیں، وہ سب سے زیادہ مسجد کی کمیٹی پیداکرتی ہے۔
امام معاشرے میں عزت وقدرکانام ہے۔ وہی لوگ جو امام سے قرآن وحدیث سنتے ہیں،وہ اس کے پیروکار ہوتے ہیں۔ میں یہ سمجھتاہوں کہ امام کو مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔ امام کی کیا حیثیت ہے؟ کیا مقام ہے، کیا بلندی ہے؟ اور اس کو کس منصب پر فائز کیا گیا ہے؟ مگر آج معاشرے نے اس امام کو بگاڑ کررکھ دیاہے اورمعاشرے نے اس کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک دیہات کاامام ہے ،اس کو سال میں چالیس بوریاں گندم کی اور بیس بوریاں چاول کی دینی ہیں۔ اب اسی کو اکٹھا کرنے کے لیے لگادیا اوراس کے لیے اتنا بڑامسئلہ پیداکردیا کہ یہ مانگتارہے گا توگھر چلے گا اورپھر امام کو اس چیز پر لگادیاکہ روٹی گھر سے آئے گی تو یہ کھائے گا اورجب کھائے گا توہم اس پر حکمرانی بھی کرسکتے ہیں تویہ بہت سی چیزیں ہیں جواکٹھی ہوجاتی ہیں۔
اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ چاہے وہ مسجد پرائیویٹ ہو، چاہے گورنمنٹ کی ہو، ہم مضبوطی کے ساتھ، طاقت کے ساتھ اوراپنے اس بل بوتے پر کہ ہم نے جو علم سیکھاہے، اس علم کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے فرائض منصبی انجام دیں۔ ہمارے جو پہلے علما تھے، انہوں نے محنت کی اوراتنی محنت کی کہ وہاں پر کوئی بات کرنے والا نہیں تھا۔ سچی بات ہے کہ ابتدا میں ہمارے علمانے جتنی محنتیں کیں، آج وہ ہم نہیں کررہے۔ہم کوشش کرتے ہیں کہ کچھ نمازیں پڑھائیں، کچھ نہ پڑھائیں۔ چلے گئے، اپنے دوسرے کاموں کاپوراکیااور ان چیزوں کوایک طرف رکھ دیا۔ آج لوگ کیوں اس طرح کے نہیں بن رہے ہیں جیسا کہ ہمارے اسلاف یا ہمارے بزرگان دین جب کوئی بات کرتے تھے تو وہ بات لوگوں کے دلوں پراثرکرتی تھی اور لوگ جوق درجوق مسجدوں میں آتے تھے۔ مسجدیںآبادہوتی تھیں، مگرآج مسجدیں خالی ہوتی جارہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جوامام نے کام کرناتھا، وہ بھی اس میں بخل کررہا ہے۔
میں ہندوستان گیا۔ وہاں گول مسجد دہلی کے خطیب مولانا الیاس صاحب نے ایک تنظیم بنائی ہے، تنظیم ائمہ مساجد۔ وہ اسی لیے بنائی ہے کہ ائمہ کرام کے مسائل پر غورکیاجائے اورجہاں پرکوئی مسئلہ ہو، اس کو حل کیاجائے۔ میں تووہاں سے یہ سوچ کرآیاتھا کہ جس طرح ہم دوسرے امورپرکام کررہے ہیں، ہمیں اس موضوع پر بھی کام کرناچاہیے۔ جب سے درسوں کا سلسلہ ختم ہواہے، لوگ بھی دور ہوناشروع ہوگئے ہیں، دور بھی ایسے ہوئے ہیں کہ مساجد میں آنا تک بند کردیا ہے۔ امام کے ساتھ جوتعلق تھا، و ہ نماز پڑھنے تک رہ گیاہے۔ درس دینے کاسلسلہ اورذہن سازی کاسلسلہ ختم ہو گیا ہے۔ اب محفل قراء ت یامحفل نعت کا سلسلہ رہ گیا۔پہلے جلسے ہوتے تھے تو حضرت امیر شریعت بات کررہے ہیں، باقی علما بات کررہے ہیں،ان کی بات دلوں پر اثر کرتی تھی۔ اس طرح ذہن سازی ہوتی تھی، اسی طرح ہمارے علما نے کام کیا۔ آج ہر امام کو چاہیے کہ وہ اس ضرورت کو محسوس کرے اوریقیناًجب وہ اس طرح کے کام اپنی مسجد میں کرے گا تو لوگ بھی بنیں گے۔ اسی طرح عقائد بھی سمجھائے جاسکتے ہیں ۔اگر کمیٹیاں محفل میں بیٹھیں گی تو ان پربھی اثر ہوگا۔ جب ان کے عقائد درست ہوں گے تووہ امام کے پیچھے ہوں گے اورامام ان کے آگے ہوگا۔ جس طرح عیسائیوں میں فادرکو رہبر ورہنما سمجھا جاتا ہے، سکھوں میں گرو کو رہبر ورہنما سمجھا جاتا ہے، ہندوؤں میں پنڈت کو رہبر ورہنما سمجھا جاتا ہے، اسی طرح امام کودین اسلام نے اور حضرت محمدرسول اللہ کی امت میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ امام کو بھی اپنے کام پورے کرنے چاہییں۔
امام کے ہوتے ہوئے ان کمیٹیوں کی بھی کیاضرورت ہے؟ ان کو ختم کرناچاہیے اورامام کو خود آگے بڑھنا چاہیے۔ نمازیں امام نے پڑھانی ہیں، خطیب امام ہے، سب کچھ امام نے کرناہے جبکہ کمیٹی کا چیئرمین کوئی چوہدری ہوتاہے، کوئی جٹ ہوتا ہے، کوئی ارائیں ہوتاہے۔ وہ کمیٹی کا صدر بننے کے لیے تیارہوجاتے ہیں، پھر وہ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اس کی بجائے یوں ہونا چاہیے کہ ڈویژنل سطح پرجوکمیٹیاں ہیں، ان کے چیئرمین بھی امام ہوں۔یہ اتناآسان کام تو نہیں ہے، لیکن جب امام خودچیئرمین ہوگاتومسائل سارے اسی کے پاس آئیں گے۔
پھر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے اپنے ہی لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریباں ہو جاتے ہیں۔ ہمیں جوبھی مسئلہ پیش آتاہے، وہ اپنوں کی وجہ سے آتا ہے ۔آج ان سب مسائل کوبھی درست کرناہے۔ جیسے حضرت نے فرمایا کہ ملک ٹوٹ گئے،وہ اسی وجہ سے ٹوٹے کہ اتحاد باقی نہیں رہ سکا کہ لوگ اپنی پلاننگ میں کامیاب ہوتے۔ آج بھی یہ ہے کہ ہم اپنی جنگ مسلک کے ساتھ لڑ رہے ہیں اورہمارے ہی لوگوں کو تیارکیا جا رہا ہے۔ ہمارے مسائل اپنے مفادات تک ہیں، مسلک کی مسلک جانے۔ جن کی وجہ سے ہمیں عزت ملی ہے، اگر ہم نے اس کی پہرہ داری نہیں کرنی توپھر میرے اور آپ کے اس مسلک پرکھڑے ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔الحمد للہ اپنے والد صاحب کی دعاؤں سے اور ان حضرات کی سرپرستی سے میرے پاس کوئی بھی آدمی مسئلہ لے کرآجائے کہ ہمارا یہ مسئلہ ہے، آپ حل کروائیں تومیں الحمدللہ اس کے ساتھ ڈی آئی جی کے پاس جاتاہوں۔ کمشنر کے پاس جاتاہوں۔ اگرلا ہور کانہیں تومیں فون پر بات کرتا ہوں اورپھر اس مسئلے کوہم ختم کراتے ہیں۔ کتنی ہی مساجد ہیں جن کے مسائل ہیں۔ ہم نے اس کو اسی لیول پر ختم کیا اورآج وہاں پر اسی طرح نظام اور سلسلے چل رہے ہیں۔
بائیس مسجدوں کے مسائل آئے۔ حضرت مولانا فاروقی صاحب اورحضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب جانتے ہیں۔ وہ بھی اسی مجلس میں شامل تھے۔ حکومت پنجاب کی طرف سے کہاگیاکہ یہ بائیس مساجد مزارات کے ساتھ منسلک ہیں۔چونکہ مزارات بریلویوں کے ہیں، لہٰذا یہ مساجد بریلویوں کودے دی جائیں۔ اس کے بارے میں نوٹیفیکیشن جاری ہوگیاتھا۔ میں حج سے واپس آیا تو اس مسئلے کو دیکھا۔ ایک ایک عالم کے پاس میں گیااورکچھ سے فون پر بات کی اوریہ تحریک چلائی کہ ہم ایک مسجد بھی ان کے پاس نہیں جانے دیں گے اور اللہ کا فضل ہے کہ اللہ نے اس میں اپنی غیبی مدد کے ساتھ کامیابی عطا کی۔ میاں صاحب خود کہنے لگے کہ جو آرڈر میں نے دے دیے، وہ ٹھیک ہیں۔ باقیوں پر پھر بات کرلیں گے۔ مولاناقاری حنیف جالندھری صاحب نے کہا کہ باقیوں پرنہیں، اسی پربات ہوگی۔ اس مسئلے کو لے کر میں چلا اور تقریباً پورے پنجاب کے علماء کرام کو لا کر میاں صاحب کے سامنے بٹھا دیااوران کو قائل کیاکہ یہ مسئلہ جوآپ کو بتایا گیا ہے، وہ غلط ہے۔ محکمہ اوقاف بننے سے پہلے اورقیام پاکستان کے بعدسے یہ مساجد علمادیوبندکے پاس ہیں اور یہ مزارات بھی دس پندرہ سال پہلے کے بزرگوں کے نہیں ہیں بلکہ سوڈیڑھ سوسال پہلے فوت ہونے والے بزرگوں کے ہیں اوراس وقت تو یہ مسلکوں کی بات بھی نہیں تھی، لہٰذا جس مسلک کے بھی علماء کرام آتے رہے، ان کے ساتھ یہ مزارات بھی منسلک رہے۔ پھر ہم نے وہ لسٹ بھی ان کو دی۔
ایسے ایسے مسائل ہیں جو ہم کو وہاں بیٹھ کر حل کرنے پڑتے ہیں۔ اس کی وجہ سے مصائب بھی آتے ہیں کہ یہ لوگ ہرکام میں شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، اس کا کوئی حل کیا جائے۔جب حل نظر نہیں آتا توکوشش کرتے ہیں کہ ان میں سے دوچار آدمی لے لیے جائیں جومفاد پرست ہوں، ان کو لے کر ان کو پیچھے کردیاجائے،مگر ہوناوہی ہوتاہے جو حکم ربی ہے، جوفیصلہ اللہ کی طرف سے ہے۔ میں نے یہ مشاہدہ کیاہے کہ جو فیصلہ رب کر چکا ہے، اس کے فیصلے میں کوئی کسی قسم کی دخل اندازی نہیں کرسکتا۔ یہ نہیں کہ آپ کمیٹیوں کو جاکر فارغ کردیں یا ان کا سر پھاڑ دیں بلکہ آپ حکمت عملی کے ساتھ، ہمت کے ساتھ ماحول بنائیں، ان شاء اللہ اس ماحول کی وجہ سے ایک وقت آئے گا کہ لوگ آپ کے ماتحت ہو جائیں گے۔
لاہورمیں بادامی باغ کی مسجد کا مسئلہ آیا۔ وہاں ہرروز لڑائی ہوتی تھی۔ ایک گھر تھاجودوسرے مسلک کا تھا، وہ تنگ کر رہا تھا، لڑائی کی طرف بات جارہی تھی۔میں نے ان سے کہاکہ لڑائی نہیں کرنی۔ ایک دن وہ وہاں جلوس لے آئے۔ ہمارے بھی سینکڑوں بندے وہاں جمع ہوگئے۔ دوتین مرتبہ انہوں نے وہاں پرجلوس بٹھائے۔ ،تبلیغی جماعت کی مسجد تھی اور ہم سے وابستہ تھی،ان کے امیر اس بات کوبرداشت نہ کرسکے۔ ان کو ادھر ہی ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ ادھر ہی فوت ہوگئے۔ اب پرچہ اس آدمی پر بھی ہوا اورآنے والوں سب پرہوا۔ وہ دیوار بھی بنی اورمسجد بھی بن رہی ہے۔ ہمارے ایک ساتھی کی قربانی توہوگئی، مگر الحمد للہ وہ ناکام اوربرباد ہوئے، کامیابی اللہ نے ہمیں دی۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک دفعہ پہلے والد صاحب بادشاہی مسجد لاہور میں القاری الکبیر حضرت باسط صاحب کو لائے۔ بادشاہی مسجد میں ایک جم غفیر تھا۔ لوگ حیران تھے کہ اتنا ہجوم ہے توبعض لوگوں نے کچھ کو شرارت کے لیے بھیجا۔ شرارت ہوئی، پھر مقدمات کاسلسلہ، پھر تحریک، تحریک میں یہ سب حضرات موجود تھے۔ آپ میں سے بھی کچھ گئے ہوں گے جنہوں نے ماریں کھائیں۔ اللہ نے ہمیں وہاں پر بھی فتح نصیب فرمائی۔
اللہ کاشکر ہے کہ آج پوری دنیا میں مسلک دیوبند کی ترجمانی کر رہے ہیں اور دنیا کا کوئی کونا ایسا نہیں ہے جہاں پر مسلک دیوبند کا فرزند کام نہ کررہاہو اورہرجگہ ائمہ اور خطباکام کرہے ہیں۔ تھوڑی اپنی ناچاقیاں ہیں، ان کوختم کردیں اورنچلی سطح پرہمیں ضرورت ہے کہ ان کوختم کردیں۔ صحابہ کرام کے دلوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی تعلیم تھی جس کی وجہ سے وہ آپس میں پیار اورمحبت سے رہتے تھے، اس لیے اللہ نے قرآن پاک میں رحماء بینہم کہا کہ آپس میں پیار محبت سے رہتے ہیں۔ جب محبت کے ساتھ قافلے چلتے ہیں تو اللہ کی طرف سے فتح ونصرت کے باب کھلتے ہیں۔ میرااورآپ کا وقار اس سے وابستہ ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعاہے کہ ہم معاشرے میں ایک ایسا امام پیدا کریں کہ وہ اس معاشرے کے مسائل درست کرسکے اوراسی کی آج معاشرے کو ضرورت ہے۔ یہ سب کچھ مدارس سکھا رہے ہیں، استاداوراکابر سکھا رہے ہیں۔ جب ان کو مان کرچلیں گے توعزتیں بھی ہیں، رفعتیں بھی ہیں، وقار اور بلندیاں بھی ہیں اورحق کا بول بالابھی ہوگا۔
ابھی چند دن پہلے جرمنی کے شہر میونخ میں ایک کانفرنس ہوئی جس میں اسی (۸۰) ممالک سے لوگ آئے۔ وہاں پر جب میرا نام لیا گیا کہ سید عبدالخبیرآزاد امام بادشاہی مسجد لاہور آپ سے خطاب کریں گے تومیں نے وہاں پر وہ سارے مسائل بیان کیے جودنیا کے لیے چیلنج ہیں۔میں نے کہاکہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ دہشت گرد پیداہوگئے ہیں، کبھی آپ نے سوچاکہ اس کے اسباب کیاہیں؟ آپ لوگ دوسرے ملکو ں پر قبضے کرکے اوروہاں کے لوگوں کو تہس نہس کرکے،حملے کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ آپ وہاں پرامن قائم کررہے ہیں تویہ غلط ہے۔ اگرآپ چاہتے ہیں کہ دنیامیں امن قائم ہو تو جنگوں کے ساتھ نہیں بلکہ ڈائیلاگ کے ساتھ ان مسائل کاحل نکالنا ہوگا۔ ہم پھر ہی دنیا میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اسلام امن پسند اورمحبت کوپھیلانے والا مذہب ہے اورآج ہمیں اپنے دین کے مطابق اپنے اپنے دین میں رہتے ہوئے اپناکام کرناہے۔ اور بھی بہت کچھ بیان کیا تو یقین جانیں، تقریباً پندرہ منٹ تک لوگ تالیاں بجاتے رہے۔ تقریباً ہرمذہب کے لوگ وہاں موجود تھے۔
ہمارے والد کوامام السلاطین کالقب ملا۔ آپ دیکھیں کہ جب اللہ قدرومنزلت بڑھانے پرآتاہے توبادشاہوں کا بھی امام بنادیتاہے۔ کراچی میں تمام بادشاہ پیچھے کھڑے تھے، وہ آگے کھڑے تھے۔ ایک جوڑااسی کو دیکھ رہاتھا تواس نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ شکل وصورت اچھی ہے۔ وہ یہ سمجھے کہ شاید کوئی بادشاہ ہے تو پتہ چلاکہ نہیں، یہ ایک فقیر درویش ہے جو ان کی امامت کرا رہاہے۔ وہ جوڑاغیرمسلم تھا۔ ادھر ہی اس نے کلمہ پڑھا اوراسلام قبول کرلیاتوجب قدرومنزلت بڑھتی ہے تودنیا کے اندر ڈنکا بجتاہے۔ آج الحمدللہ علماء دیوبند ڈنکا بجارہے ہیں اوران شاء اللہ قیامت تک بجاتے رہیں گے۔ اللہ تبارک وتعالی مجھے آپ کو عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔
میں ایک دفعہ پھر مولانا زاہدالراشدی صاحب کا اوران کے صاحبزادہ صاحب کا شکریہ اداکرتاہوں کہ انہوں نے اتنے خوبصورت موضوع پر یہ نشست منعقد کی۔ ہمیں کام کرنا ہے، بلکہ ہم علما کی مشاورت کے ساتھ اس کام کو آگے بڑھائیں گے بلکہ ہرسطح پر، ہرڈویژن پر ایسی کمیٹیاں بنائی جائیں گی جوامام کی قدرومنزلت کواجاگر کریں گی۔ ہمیں چاہیے کہ جوکوتاہیاں ہیں، ہم ان کو ختم کریں۔ جب ہم متحد ہوجائیں گے تویہ سب لوگ ہمارے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں۔ یہ بہت کمزورلوگ ہیں۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطافرمائے۔ واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
مولانا زاہدالراشدی
(ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ)
سب سے پہلے تومیں مفتی صاحب کا شکریہ اداکرتاہوں کہ انہوں نے اپنے تاثرات ،مشاہدات اور تجربات سے مستفید فرمایا۔دوتین باتوں کے ساتھ میں بھی اس میں شرکت کرناچاہوں گا ۔تجربات توبہت ہیں، لیکن مشاہدات کی بات کروں گا۔
آج کل ہمارا بڑا مسئلہ ایک یہ ہے جودن بدن بڑھتا جارہاہے،خطبا کے لیے بطور خاص، کہ لوگ بالکل خطبہ کے وقت آتے ہیں،خطبہ سنتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اورچلے جاتے ہیں۔ہماری گفتگو سے سامعین کو زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی۔ اکثر مساجد میں یہی ہوتاہے۔ اس کی ایک وجہ میں عرض کرتاہوں۔آج سے دس پندرہ سال پہلے جنگ اخبار برطانیہ میں ایک نوجوان کا مراسلہ شائع ہوا ۔ اس نے لکھاکہ اب ہم نے یہاں مساجد میں جانا کم کردیاہے،کیوں کہ اس کی تین وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تویہ کہ خطیب صاحب جس موضوع پر گفتگوکررہے ہوتے ہیں، وہ ہماری دلچسپی کے موضوع نہیں ہیں۔ ہماری ضرورت کے مسائل اورہیں۔ حلال وحرام کے مسائل ،معاشرت، نکاح ،طلاق کے مسائل ہیں اوروہ کسی اور موضوع پر گفتگو کر رہے ہوتے ہیں، اس لیے جو وہ کہہ رہے ہیں ان سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔دوسری وجہ یہ ہے کہ جس زبان میں و ہ بات کررہے ہوتے ہیں، وہ ہمیں سمجھ نہیں آتی۔ان کی زبان اورہے اورہماری زبان اور ہے۔ یہ ادھر کامسئلہ ہے کہ نئی نسل زبان کو نہیں جانتی۔ اور تیسری وجہ یہ ہے کہ ہم تو مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے جاتے ہیں اور تقریباً ہر نماز کے بعد کوئی صاحب اٹھتے ہیں اور اپیل کرنے لگتے ہیں یادامن پھیلادیتے ہیں توہم چندہ دینے تونہیں جاتے، مسجد میں نماز پڑھنے جاتے ہیں۔ ہرنماز کے بعد تو ہم چندہ نہیں دے سکتے ۔یہ تین وجوہا ت اس نے اپنے مراسلہ میں لکھی تھیں۔
ایک اور مشاہدہ عرض کرتاہوں۔ برمنگھم میں ختم نبوت کانفرنس ہوتی ہے۔ وہاں گرمیوں میں صبح نوبجے سے لے کر شام آٹھ بجے تک وقت ہوتاہے۔ایک مرتبہ وہاں کانفرنس ہوئی۔ میں نے بھی وہاں تقریباً بیس ،پچیس منٹ بات کی۔ ہمارے پنجاب کے جسٹس نذیرغازی بریلوی مکتب فکرسے تعلق رکھتے ہیں،لیکن ختم نبوت میں ہمیشہ ساتھ رہے ہیں۔ اس وقت وہ پنجاب کے ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل تھے،انہوں نے بھی وہاں تقریر کی۔ شام کو نودس گھنٹے کی کانفرنس کے بعد جب عصر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوکرنکل رہے تھے تو ایک نوجوان نے مجھے پکڑ لیاکہ مولوی صاحب میری بات سنیں ۔ ہم صبح سے آئے ہیں، ثواب کی نیت سے آئے ہیں، ثواب کی نیت سے بیٹھے ہیں،سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ آپ لوگوں نے کیا کہا ہے۔ کچھ آپ کی بات سمجھ میں آئی ہے اورکچھ نذیرصاحب کی تقریر سمجھ میں آئی ہے، باقی ہمیں کچھ پتہ نہیں چلا کہ آپ ہمیں کیاپیغام دینا چا ہتے ہیں۔
آج کی اصطلاحات،آج کے اسلوب ،آج کی نفسیات بالکل مختلف ہیں۔آج سے پچا س سال پہلے کے اسلوب سے زبا ن بدل گئی ہے،معیار بدل گیاہے ،محاورے بدل گئے ہیں ،نفسیات بدل گئی ہیں۔بات سمجھانے کے لیے عرض کرتا ہوں۔ہمارے بڑے مفکرین میں گزرے ہیں مولانا ابوالکلام آزاد۔ ان کی تقریر ،ان کی خطابت اپنے دور کی پرشکوہ خطابت تھی،اپنے دورمیں معیاری سمجھی جاتی تھی ۔آج اگر ان کے لہجے میں بات کریں تولوگ کہتے ہیں کہ مولانا صاحب کوئی وظیفہ پڑھ رہے ہیں۔ ایک لطیفہ بھی ہے اس کے بارے میں،پتہ نہیں لوگوں نے خود گھڑا ہے یاواقعی سچ ہے۔ کہتے ہیں کچھ لوگ مولانا صاحب کے پاس آئے ،انہوں نے بات پوچھی،کوئی سوال پوچھا۔ مولانا صاحب نے اپنے اندازمیں کوئی جواب دیا جس میں آد ھی فارسی ،آدھی عربی تھی۔آج سے پچاس سال پہلے کی گفتگو تھی ،مشکل محاورے ،مشکل باتیں۔ اس زما نے میں جتنی مشکل گفتگو ہوتی تھی ،جتنے مشکل کوئی محاورے بولتا تھا، وہ اتناہی بڑا خطیب ہوتا تھا۔ مولانا صاحب نے ان دیہاتیوں کو اپنی زبان میں جواب دیا توچوہدری اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ چلو بھئی چلتے ہیں،کیوں کہ مولانا صاحب تو اس وقت کوئی وظیفہ کررہے ہیں۔ تو آج کی زبان وہ نہیں ہے۔ آج تو آپ سادہ لہجے میں بات کریں گے۔
آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے گفتگو کا معیار یہ تھا کہ آپ نے عشا کی نماز کے بعد گفتگو شروع کی ہے اور،صبح فجر ہوگئی ہے۔ لوگوں کو پتہ نہیں چلا ٹائم کا،لوگ آرام سے بیٹھے سن رہے ہیں۔ اب آپ آدھے گھنٹے سے زیادہ بات کریں گے تولوگ کہیں کہ یہ کیا بور کر رہا ہے۔ مولوی صاحب بس وی کرو۔ سادہ لہجوں میں مختصر وقت میں آپ اپنی بات سمجھا سکتے ہیںیانہیں سمجھا سکتے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ نے مجھے خطابت پر لیکچر دیاتھا،اس کا صرف ایک جملہ میں عرض کروں گا۔ مولانا فرمایا کہ ’’مولوی صاحب خطیب کینوں کہندے نیں؟ جے سامنے بیٹھے بندے تیری گل سمجھ دے نیں تے توں خطیب ایں، نہیں تے گھٹا تے سواہ ایں۔‘‘ آج خطابت یہ نہیں ہے کہ مولوی صاحب تقریر کرکے جائیں تولوگ کہیں کہ واہ واہ بہت زبردست تقریرکی ہے ۔کیاکہاتھا؟پتہ نہیں ہے۔
ہمیں یہ محسوس کرناچاہیے کہ ہمارے ساتھ لوگوں کے انس کی کمی کے اسباب کیاہیں ۔ایک وجہ تویہ ہے کہ ہم لوگوں لوگوں کے مانوس لہجے میں بات نہیں کرتے ،لوگوں کی نفسیات کے مطابق بات نہیں کرتے۔ ہماری خطابت وہی پرانی، مناظرانہ، مجادلانہ، طعن وتشنیع، بازوکس لینا، ہماری خطابت آج سے تیس سال پہلے والے سنٹر پر کھڑی ہے اوراب جو خطابت کے میدان میں تبدیلی آئی ہے، وہ ہم نے محسوس نہیں کی ہے، اس کو اپنایانہیں ہے ۔آج کی زبان اورتحریر دونوں سادہ ہیں۔ جتنی سادہ اورمختصر آپ بات کریں گے، اتنے بڑے آپ خطیب ہیں۔دوسری بات جومیں عرض کرنا چاہتا ہوں ،یہ بات میں اکثر کہاکرتاہوں کہ اب عام پڑھے لکھے لوگوں کے پاس بھی معلومات کاذریعہ میں یا آپ نہیں ہیں۔ آج سے تیس،چالیس سال پہلے معلومات کا ذریعہ ہم ہی تھے۔پڑھا لکھا آدمی بھی ہماری دی ہوئی معلومات کو ٹھیک سمجھ لیتا تھا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ جھوٹی یاسچی، میرے علاوہ اورلوگوں کے پاس معلومات کے ذرائع بھی ہیں۔ کوئی انٹر نیٹ پر بیٹھا ہے، کوئی اخبارات پڑھتا ہے،میگزین پڑھتاہے ،چینل پروگرام دیکھتاہے۔ میں غلط یا صحیح کی بات نہیں کر رہا، لیکن اس کی معلومات کا دائرہ ہم سے وسیع ہے۔ آج کے اس میڈیا کے پھیلاؤ نے ایک عام آدمی کو معلومات کی بہت سی کھڑکیاں دے دی ہیں۔ وہ اپنی میز پر بیٹھے بیٹھے ایک بٹن کلک کرتا ہے، ایک طرح کی معلومات لے لیتا ہے۔ دوسرابٹن کلک کرتاہے، دوسری طرح کی معلومات لے لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ آپ سے مسئلہ پوچھتا ہے۔ ہمیں اپنے قارئین کو مطمئن کرنے کے لیے اپنی معلومات کا دائرہ وسیع کرناپڑے گا۔ہمیں معلومات کے ساتھ محاکمہ بھی کرنا پڑے گا۔عام آدمی صرف معلومات پرفیصلہ کرے گا۔یہ ہمارا کام ہے کہ ہمارے پاس جومعلومات ہیں، ہم اس پر ٹھیک فیصلہ کریں کہ یہ ٹھیک اوریہ دلیل شرعی کی بات ہے اوریہ ٹھیک نہیں ہے۔ ہم یہ کام نہیں کررہے ہیں۔ نہ لوگوں کی ذہنی سطح پرآرہے ہیں، نہ ہماری معلومات کا دائرہ وسیع ہے۔ ہم تو بہت سی جگہوں پر خارجی مطالعہ کو ویسے بھی حرام سمجھتے ہیں۔
ایک دفعہ ایک مسئلہ پر میں معلومات لے رہا تھا۔ ایک کتاب تھی جوایک دینی مسئلے پر تھی اورکسی پروفیسر کی لکھی ہوئی تھی۔ایک صاحب مجھے دیکھ کر پریشان ہوگئے کہ مولوی صاحب! آپ یہ کتابیں پڑھتے ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں بھئی پڑھتاہوں۔ معلومات توجہاں سے بھی ملیں، لے لینی چاہییں۔ دیکھیں، لوگ ہمارے پاس کس لیے آتے ہیں؟ دینی معلومات لینے کے لیے۔ خطبے یاجمعے کیوں سنتے ہیں،درس کیوں سنتے ہیں؟ اگر وہی بات اس کو رات کوکسی چینل میں مجھ سے اچھے لہجے میں مل جائے تووہ میرے پاس کیوں آئے گا؟ میں اسلوب کی ،لہجے کی بات کررہاہوں۔ وہ بات مجھ سے اچھے لہجے میں نے رات کو کسی چینل میں سنی ہے تووہ میری بات سنے گا یا چینل کی بات سنے گا ؟ وہ کہے گا کہ وہی بات رات انہوں نے بڑی اچھی کی تھی۔ بات صرف اسلوب کی ہوتی ہے ،لہجے کی ہوتی ہے ،شائستگی کی ہوتی ہے۔ جو بات میں لڑائی کے انداز میں کررہاہوں، وہ رات چینل میں بیٹھا ہوا کوئی آدمی بڑی محبت کے انداز میں کررہاہوتاہے توسننے والے کو وہ بات پسند آجاتی ہے کہ اس نے کتنی اچھی بات کی ہے۔
تومیں یہ عرض کررہاہوں کہ حالات کے رخ پر جوتبدیلیاں ہیں ،ان کو محسوس کرناچاہیے ۔حالات کے مطابق ڈھلنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں اپنا موقف ،اپنا مذہب یااپنا عقیدہ چھوڑ دوں۔ نہیں،بلکہ اپنے لہجے کو،اسلوب کو،اپنی گفتگو کے انداز کو، تحریر کے انداز کو آج کے حالات کے مطابق اپنانا ہوگا ۔ہم لوگ درس نظامی میں بڑے شوق سے مقامات حریری اورمقامات ہمدانی پڑھتے ہیں۔ آج اس زبان میں آپ خطبہ دیں گے ؟وہ ہزار سال پہلے کی زبان ہے،اس دور کی زبان سے واقفیت کی اپنی افادیت ہے۔ لیکن آج اگر حریری کا کوئی خطبہ آپ نقل کر لیں تولوگ کہیں گے کہ مولوی صاحب وظیفہ کررہے ہیں۔ آج کا اسلوب اختیار کریں ، لوگوں کی ذہنی سطح سمجھیں۔ لوگوں کے ہم سے دور ہونے کا ایک بڑاسبب یہ بھی ہے جومیں نے بیان کیاہے۔
میں آخر میں یہ کہوں گاکہ جوکچھ علماء کرام نے تجاویز پیش کیں ہیں، ہم ان کو مرتب کرکے شائع کریں گے اور یہ سیمینار ہمارا آخری سیمینار نہیں ہے،ان شاء اللہ جب تک ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے ،ہم یہ سیمینار چلاتے رہیں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ مجھے ،آپ کو عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ یہ ایک جامع رپورٹ آئے گی کہ امہ اور خطباکے مسائل کیاہیں اوران کا حل کیاہے ۔میں آخر میں سب حضرات کا بہت شکریہ اداکرتاہوں اورخداحافظ کہتاہوں۔
تعارف و تبصرہ
ادارہ
ماہنامہ ’الشریعہ‘ کی خصوصی اشاعت بعنوان ’’جہاد ۔ کلاسیکی وعصری تناظر میں‘‘
گوجرانوالہ سے شائع ہونے والا ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ ممتاز عالم دین، محقق ومصنف اور جامعہ نصرۃ العلوم کے شیخ الحدیث حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب کی زیر سرپرستی گزشتہ تیئس سال سے شائع ہو رہا ہے۔ ایک عرصہ تک خود علامہ راشدی صاحب اس کی ادارت کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں اور اب یہ علمی جریدہ ان کے جواں سال صاحبزادے محمد عمار خان ناصر کی زیر ادارت شائع ہو رہا ہے۔ اس علمی جریدے نے روز اول سے عمومی گروہ بندی اور فرقہ بندی سے اٹھ کر فکری حوالے سے ایسی ساکھ بنا لی ہے کہ یہ جریدہ ’’پڑھے جانے والے جرائد‘‘ میں سرفہرست ہے۔ اس کے مضامین تنوع کے ساتھ ساتھ اجتماعیت کا رنگ نمایاں ہے جو گہرائی اور گیرائی کے ساتھ لکھے جاتے ہیں اور شائع کرنے سے پہلے ان کے مندرجات پر ادارتی ٹیم ان مضامین پر خاصا غور وفکر بھی کرتی ہے۔
’’الشریعہ‘‘ کی ادارتی ٹیم کالج ومدرسہ کے اہل علم وقلم پر مشتمل ہے جو علامہ راشدی صاحب کے فکر ودانش کا پتہ دیتی ہے۔ اگرچہ جناب عمار خان ناصر کے بعض تفردات پر علمی حلقوں میں اضطراب پایا جاتا ہے، ’’القاسم‘‘ میں بھی ان کے تفردات پر گرفت کی گئی ہے، مگر جہاں تک اس جریدہ کے مضامین کی ندرت کا تعلق ہے، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس علمی جریدہ نے مختلف حوالوں سے اپنی خصوصی اشاعتوں میں فکری رہنما کاکردار ادا کیا ہے۔
زیر نظر خصوصی اشاعت جہاد اور خروج کے عنوان پر ترتیب دی گئی ہے۔ جہاد کے موضوع پر مولانا محمد یحییٰ نعمانی (مدیر الفرقان، لکھنؤ) اور محمد عمار خان ناصر کے طویل مضامین بڑے معرکے کے ہیں۔ دونوں حضرات نے اپنے اپنے انداز میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کے مخصوص فلسفہ جہاد (الجہاد فی الاسلام) کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے اور ان کے نقطہ نظر نے اس موضوع پر تحقیق ومطالعہ کی نئی راہیں متعین کی ہیں۔ محمد رشید نے مولانا وحید الدین خان دہلوی کے فلسفہ امن، جو درحقیقت انگریزی عہد کے فلسفہ عدم تشدد کا تسلسل ہے، کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔
خصوصی اشاعت کا دوسرا موضوع یا حصہ ’’عہد حاضر کی مسلم ریاستوں کی شرعی حیثیت اور مسئلہ خروج‘‘ کے موضوع پر ہے۔ مولانا زاہد الراشدی نے اسلام آباد کے ایک ادارے ’’پاکستان مرکز برائے مطالعات امن‘‘ (PIPS) کے تحت ایک سیمینار کی روداد قلم بند کی ہے۔ ایک مضمون معروف حریت پسند راہنما الشیخ ایمن الظواہری کی کتاب کے بعض اقتباسات پر مشتمل ہے۔ شیخ الظواہری نے اس کتاب میں پاکستان کوایک غیر اسلامی ریاست قرار دیا ہے، جبکہ محمد عمار خان ناصر نے شیخ کے خیالات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ مفتی محمد زاہد اور محمد مشتاق احمد نے ’’مسئلہ تکفیر اور خروج‘‘ پر بحث کی ہے۔
یہ خصوصی اشاعت ۶۶۰ صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی قیمت ۵۰۰ روپے ہے اور حافظ محمد طاہر، انچارج شعبہ ترسیل سے رابطہ نمبر 0306-6426001 سے براہ راست رابطہ کر کے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
(تبصرہ: مولانا عبد القیوم حقانی۔ بشکریہ ماہنامہ ’’القاسم‘‘ خالق آباد، نوشہرہ)
’’خطبہ حجۃ الوداع‘‘ اور ’’اسلام اور انسانی حقوق‘‘
گزشتہ دنوں میں ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ کے تازہ شمارے کے ساتھ الشریعہ اکادمی کی طرف سے دو کتابیں بھی موصول ہوئیں۔ پہلی کتاب کا عنوان ہے ’’خطبہ حجۃ الوداع: اسلامی تعلیمات کا عالمی منشور‘‘ اور دوسری کتاب ہے ’’اسلام اور انسانی حقوق: اقوام متحدہ کے عالمی منشور کے تناظر میں‘‘۔ یہ دونوں کتابیں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ نے اکتوبر ۲۰۱۱ء میں طبع کی ہیں۔ بظاہر یہ دو کتابیں ہیں اور انھیں طبع بھی الگ الگ کیا گیا ہے، لیکن فی الحقیقت یہ دونوں کتابیں ایک ہی سلسلے کی مربوط کڑیاں ہیں اور ہر ایک، دوسری کے بغیر ناتمام تصور ہوتی ہے۔
یہ دونوں خوب صورت اور عمدہ کتابیں معروف صاحب قلم وصاحب بصیرت شخصیت مولانا زاہد الراشدی کے محاضرات ہیں جو حجۃ الوداع کے موقع پر ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لبوں سے سرزد ہونے والے مبارک ومسعود کلمات یعنی خطبہ حجۃ الوداع کی روشنی میں دیے گئے ہیں، لیکن اس کے اصل مخاطب عصر حاضر کے وہ لوگ ہیں جو اقوام متحدہ کے ۱۰؍ دسمبر ۱۹۴۸ء کو جاری کیے گئے عالمی منشور کی تیس دفعات کے سحر میں مبتلا ہیں۔
ان کتابوں کے مولف کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں تحریر، تدریس اور تقریر کے تینوں شعبوں پر بہت ہی گہری اور عمدہ دسترس عطا فرمائی ہے۔ ان کا قدیم اور جدید کتب کا مطالعہ اور قدیم اور جدید دور کا مشاہدہ قابل رشک ہے۔ پھر جیسے حضرت داؤد علیہ السلام کے ہاتھ میں لوہا موم ہو جاتا ہے، اسی طرح ان کے سامنے قدیم اور جدید مسائل وموضوعات یوں نرم اور موم ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے علم سے ان کا ایک ایک پرت کھولتے جاتے ہیں اور ان کے قلب وذہن پر مضامین اور افکار کا ورود ہوتا رہتا ہے۔ وہ بیک وقت اپنے عظیم والد، امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر کے مسند نشین ہیں اور وسری طرف علم وادب کی دنیا میں اور اپنے حکمت وتدبر میں امام العصر شاہ ولی اللہ دہلوی اور دوسرے اسلاف وعلماء کی یادگار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے قلب ونظر اور ان کے قلم میں مزید زور وحکمت پیدا فرمائے۔
مولانا راشدی کو اللہ تعالیٰ نے جن ا نعامات سے خصوصی طو رپر نوازا ہے، ان میں سے ایک انعام قدیم اور جدید علوم کا مطالعہ اور ان کا تجزیہ وتبصرہ بھی ہے۔ یہ دونوں کتب حقیقت میں اسی امر کا مظہر اتم ہیں۔
حجۃ الوداع کے حوا لے سے شائع کی جانے والی کتاب ان کے ان دروس او رخطبات کا مجموعہ ہے جو ۳؍ ستمبر سے ۹؍ ستمبر ۲۰۰۷ء تک مسلسل پانچ روز خطبہ حجۃ الوداع کے موضوع پر دار الہدیٰ، اسپرنگ فیلڈ، ورجینیا (واشنگٹن) میں دیے گئے اور جسے مولانا کے چھوٹے صاحب زادے ناصر الدین خان عامر نے آڈیو ریکارڈنگ کی مدد سے تحریر کا جامہ پہنایا اور اس پر مولانا کے بڑے صاحب زادے حافظ محمد عمار خان ناصر نے کچھ اضافے کیے۔
عام طو رپر واعظوں کے وعظ میں رنگ محفل جمانے کے لیے رطب ویابس ہر قسم کی باتیںآ جاتی ہیں اور عصر حاضر میں خطبات، مواعظ اور ارشادات وغیرہ کی صورت میں مختلف علماء وخطباء کی مجالس وعظ وارشاد کے جو مجموعے دیکھنے اور مطالعہ کرنے کو ملتے ہیں، ان سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ واقعی بیان اور شے ہے اور تصنیف وتالیف اور شے ہے، لیکن مولانا راشدی کے امتیازات میں سے ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ ان کا ’’وعظ وخطبہ‘‘ بھی ایسے ہی ہوتا ہے جیسے کہ ان کی تحریر وتصنیف اور ان کی تحریر وتصنیف ویسے ہی شگفتہ اور دلچسپی کے رنگ لیے ہوتی ہے جیسے کہ ان کی تقریر اور ان کا بیان۔
اس مجموعے میں مولانا نے خطبہ حجۃ الوداع پر بڑی عمدہ نظر ڈالی ہے اور اس کا موازنہ اقوام متحدہ کے ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو جاری کیے جانے والے عالمی منشور اور اس کی دفعات سے کیا ہے جس سے جدید قوانین اور جدید معاشروں میں رونما ہونے والی حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں اور جدید سائنس کی روشنی میں آنے کے باوجود مغربی معاشرے کے چہرے کی بوقلمونی پر ان کی نظر کی گہرائی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
مولانا نے ان دونوں کتابوں میں اسلامی نقطہ نظر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مغربی معاشرے کا تضاد بھی پیش کیا ہے، چنانچہ مغربی معاشرے کی بنیاد جن افکار پر اٹھائی گئی ہے، ان میں ایک نمایاں فکر فلسفہ کذب وافترا بھی ہے۔ اس فلسفے کے تحت مغربی دانش ور اتنی ڈھٹائی اور اتنی صفائی سے جھوٹ بولتے ہیں کہ ان کے جھوٹ پر سچ کا گمان ہونے لگتا ہے۔ مولانا نے بڑی مہارت کے ساتھ مغربی دنیا کا یہ بھیانک روپ دنیا کو دکھایا ہے۔ مولانا کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے یہ تمام باتیں مغرب میں بیٹھ کر کہی ہیں اور مغرب کو دوغلے پن اور منافقت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ایک جگہ مولانا امریکہ کے ’’حقوق انسانی‘‘ کے علمبردار ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’امریکہ میں رہنے والے افریقی نسل کے لوگوں کو ۱۹۶۴ء تک ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا۔ کونڈولیزا رائس امریکہ کی وزیر خارجہ رہی ہے۔ ۔۔۔ ا س عورت کا باپ ان لوگوں میں شامل تھا جنھوں نے ووٹ کا حق لینے کے لیے امریکہ میں عدالتی جنگ لڑی۔ اس کے باپ کو ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا، اس لیے کہ وہ افریقی النسل کالا تھا ۔۔۔ میں یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ اس بات کو ابھی آدھی صدی بھی نہیں گزری اور اب یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے غلامی ختم کی ہے۔‘‘ (اسلام اور انسانی حقوق، ص ۷۱)
مولانا نے اس کتاب میں نہ صرف اقوام متحدہ کے منشور کے طور پر جاری ہونے والے تیس نکات کے متن کا اردو ترجمہ شامل کیا ہے بلکہ اس کی اہم دفعات کا حجۃ الوداع کے خطبے میں شامل حقوق انسانی کے ساتھ موازنہ اور تقابل بھی کیا ہے اور جگہ جگہ مغربی لوگوں، خصوصاً مذہبی پادریوں کے ساتھ اپنی گفتگو کو بھی دہرایا ہے جس میں انھوں نے مغربی معاشرے میں مذہبی اقدار کی تباہی کا اعتراف کیا ہے اور ایک پادری نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ لوگ تو ہمار ی یعنی مسلمانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
حقوق انسانی اور اس جدید فکر کا مطالعہ مولانا کی خصوصیت ہے، چنانچہ انھوں نے خود ایک مقام پر لکھا ہے کہ وہ گزشتہ ربع صدی سے اس عنوان پر مسلسل بول اور لکھ رہے ہیں۔ (اسلام اور انسانی حقوق، ص ۸) یہ پختہ کاری ان کی تحریر کی ہر سطر میں نظر آتی ہے اور اسلام اور اسلام کے عطا کردہ حقوق اوران کی تاریخ پر ان کی بڑی گہری نظر ہے۔ اس طرح وہ تقابلی حقوق پر بڑی مستند شخصیت تصور ہوتے ہیں۔
ہمارے دینی مدارس میں جو نصاب تعلیم پندرہویں صدی؍ اکیسویں صدی میں پڑھا جا رہا ہے، اس میں آج بھی اشاعرہ، ماتریدیہ، معتزلہ، خوارج اور مرجۂ وغیرہ فرقوں کا تو ذکر ہے، مگر عہد حاضر کے جدید مسائل خصوصاً حقوق انسانی جیسا اہم ترین معاملہ، جس کے بغیر اقوام متحدہ کسی بھی ریاست کو رکنیت دینے کے لیے تیار نہیں ہے، اس کے متعلق واجبی سا علم بھی نہیں پڑھایا جاتا۔ اسی طرح عہد حاضر کے معتزلہ یعنی منکرین حدیث اور نام نہاد اہل قرآن، حتیٰ کہ قادیانیت، عیسائیت اور قرامطہ کی جدید شکل آغا خانیت کے متعلق بھی مکمل طو رپر خاموشی روا رکھی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب طلبہ دینی مدارس سے نکل کر معاشرے میں جاتے ہیں تو اپنے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے میں بری طرح ناکام ہو جاتے ہیں۔
میرے نزدیک یہ دونوں کتابیں، خصوصاً ’’اسلام اور انسانی حقوق‘‘ کو جدید دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہونا چاہیے۔ اگر ارباب وفاق کو اس کے اردو میں ہونے پر اعتراض ہو تو اسے عربی کا جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح یہ کتابیں خصوصی طور پر جدید پڑھے لکھے طبقوں کو بھی ضرور پڑھنی چاہییں اور جامعہ پنجاب سمیت تمام جامعات کے ’’مطالعہ علوم اسلامیہ‘‘ میں اسے Recommended Books میں شامل کیا جانا چاہیے۔
آخر میں ایک طالب علمانہ سی خواہش کا اظہار بھی مناسب ہوگا۔ وہ یہ کہ جب اس کتاب کا اگلا ایڈیشن آئے تو اس میں خطبہ حجۃ الوداع کی روشنی میں مسلمانوں کے طرز عمل کا بھی ایک جائزہ لے لیا جائے کہ ہم نے اپنی تاریخ میں کس حد تک اس خطبے اور اس کی دفعات پر عمل کیا اور ہم نے مساوات انسانی کے اس عالمی منشور کی کہاں کہاں اور کس کس طرح خلاف ورزی کی اور اسلام کی منشا کے خلاف کس طرح لونڈی غلاموں کا غلط اور ناجائز استعمال کیا اور ابھی تک ہمارے معاشرے میں غلامی کی کون کون سی صورتیں رائج ہیں اور یہ کہ ہمیں اپنی تاریخ میں اس کے کیا کیا نقصانات اٹھانا پڑے۔
مختصراً یہ کہ یہ دونوں کتابیں اپنے موضوع پر ’’بنیادی کتب‘‘ میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی تمام تحریروں سے عالم اسلام میں استفادہ کو عام فرمائے۔
(تبصرہ:ڈاکٹر محمود الحسن عارف)
خاموش قاتل کا خاموش علاج
حکیم محمد عمران مغل
ہائی بلڈ پریشر اس قدر عام ہو چکا ہے کہ ادھر اس کا حملہ ہوا، ادھر مریض کو خاموشی سے میٹھی نیند سلا دیا۔ اس لیے اس کا نام عموماً خاموش قاتل مناسب سمجھا گیا ہے۔ اس مرض کو اپنے ہاں مہمان بنانے میں ہماری طرز بود وباش، خود غرضی، بے رخی، لاابالی پن، لالچ، بغض وعناد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان میں لالچ میری دانست میں سرفہرست ہے۔
مجھے نہایت کم عمری میں حضرت استاذ الاساتذہ جناب مولانا سرفرا زخان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں جاننے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ جب معلومات میں اضافہ ہوا تو حضرت صوفی صاحب المعروف سواتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ملنے کا شوق پیدا ہوا۔ آخر ایک دن میں گوجرانوالہ ان کی خدمت میں آپہنچا۔ پہلی بار استاذ عبد الحمید سواتی رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی۔ ان کی گفتگو اور برتاؤ سے ظاہر ہو رہا تھا کہ میرے بارے میں اچھا تصور رکھتے ہیں۔ مجھے تو بس اتنا پتہ تھا کہ وہ ایک دینی مدرس ہیں۔ بہرحال خوب کھل کر باتیں ہوئیں۔ فرمانے لگے کہ میں آپ کی تحریریں پڑھتا رہتا ہوں۔ مجھے ہائی بلڈ پریشر کا سستا مگر تیر بہدف نسخہ بتائیں جو بارہ ماہ ملک کے ہر حصے میں مل بھی سکے اور آپ نے استعمال بھی کیا ہو۔میں نے عرض کیا کہ یہ تو میرے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور نسخہ سستا بھی ہے اور اتنا موثر بھی کہ بلڈ پریشر کا مریض خدا نخواستہ آخری دموں پر ہو تو بھی پہلی خوراک سے چند منٹوں میں اٹھ بیٹھتا ہے۔
دو بڑے چمچ تربوز کے بیجوں کے چھلکے سمیت کسی بھی طریقے سے رگڑ لیں۔ بعد میں تھوڑا پانی ملا کر پھر رگڑیں۔ پھر اسے چھان کر دن میں دو تین بار پانی میں ملا کر پی لیں۔ میٹھا شامل کر سکتے ہیں۔ ان شاء اللہ کسی دوسرے علاج کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہی نسخہ میں نے چند سال قبل ایک مریض کو فون پر بتایا تھا جو اسلام آباد کے ایک چوٹی کے ہسپتال میں بی پی کے ماہرین کے زیر علاج تھا اور آخری دموں پر تھا۔ میں نے فون پر یہی ہدایات دیں تو رات کو ہی ہسپتال کو خیرباد کہہ کر وہ گھر آ گیا تھا۔
ایک اور نسخہ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ ان شاء اللہ تا زیست بلڈ پریشر آپ کو نہ ستائے گا:
انار دانہ، ادرک، پودینہ اور لہسن ہم وزن کی چٹنی بنا لیں۔ روٹی کا پہلا لقمہ اس چٹنی کے ساتھ کھائیں۔ پھر جتنی طلب ہو، کھانا کھا لیں، مگر آخری لقمہ پھر اسی چٹنی کا ہو۔ اللہ کے فضل سے آپ کا یہ عمل آپ کو ساری زندگی خاموش قاتل سے بچا کر رکھے گا اور تین چار ماہ کے لگا تار استعمال سے آپ کے کئی جسمانی روگ خصوصاً امراض دل، گردہ وجگر وغیرہ بھی ختم ہوجائیں گے۔
یاد رکھیں اس مرض میں پرہیز کو بڑا دخل ہے۔ نصف علاج تو گویا پرہیز ہی ہے۔ آلو گوبھی، چاول، پراٹھا، حلوائی اور بیکری کی تمام اشیاء، برف، چینی یا بوتلیں بالکل نہ پییں۔ ایک پرہیز بہت ضروری ہے اور وہ مرغی کا گوشت۔ انڈہ تو بالکل نہ لیں۔ بازار کی خور ونوش کی تقریباً ہر چیز میں کیمیکل کی ملاوٹ ہے جس سے کئی امراض جنم لے رہے ہیں۔ خصوصاً پھلوں کودھوئے بغیر کھانے کی غلطی قطعاً نہ کریں کہ ان پر سپرے کیا جانے والا مادہ کئی بیماریوں کا منبع ہے۔