رائے کی اہلیت اور بحث و مباحثہ کی آزادی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا حافظ زاہد حسین رشیدی ہمارے فاضل دوست ہیں اور مخدومنا المکرم حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاندانی تعلق کے باعث وہ ہمارے لیے قابل احترام بھی ہیں۔ ہمارے ایک اور فاضل دوست مولانا حافظ عبد الوحید اشرفی کی زیر ادارت شائع ہونے والے جریدہ ماہنامہ ’’فقاہت‘‘ لاہور کے دسمبر ۲۰۱۱ء کے شمارے میں، جو احناف کی ترجمانی کرنے والا ایک سنجیدہ فکری وعلمی جریدہ ہے، مولانا حافظ زاہد حسین رشیدی نے اپنے ایک مضمون میں ’’الشریعہ‘‘ کی کھلے علمی مباحثہ کی پالیسی کوموضوع بنایا ہے اور اس سلسلے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے جس پر ہم ان کے بے حد شکر گزار ہیں اور ان کا مضمون ’’فقاہت‘‘ کے شکریہ کے ساتھ ’’الشریعہ‘‘ کے زیر نظر شمارے میں شائع کر رہے ہیں۔
انھوں نے جن تحفظات کا اظہار کیا ہے، ہمیں ان سب سے اختلاف نہیں ہے اور ان میں سے بعض خدشات وتحفظات ہمارے بھی پیش نظر ہیں جن کا انھوں نے درد دل کے ساتھ ذکر کیا ہے، لیکن ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہم صرف تحفظات کے دائرے میں محصور رہنے کو درست نہیں سمجھتے، بلکہ ان ضروریات پر بھی ہماری نظر ہے جو آج کے معروضی حالات میں اہل علم سے سنجیدہ توجہ کا تقاضا کر رہی ہیں۔ تحفظات اور ضروریات کے دائرے ہر دور میں الگ الگ رہے ہیں اور دونوں کے تقاضوں کو سامنے رکھنے والوں کا ذوق اور طرز عمل بھی ہمیشہ ایک دوسرے سے مختلف رہا ہے۔ اگر ماضی کی علمی ودینی تاریخ کو اس پہلو سے دیکھا جائے تو کوئی دور بھی اس کشمکش سے خالی نظر نہیں آتا۔
مثال کے طور پر کوئی واقعہ پیش آئے بغیر محض مسئلہ کی کوئی صورت فرض کر کے اس پر حکم لگانا، جسے ’’فقہ فرضی‘‘ کہا جاتا ہے، صحابہ کرام اور تابعین کبار کے دور میں پسندیدہ بات نہیں سمجھی جاتی تھی، حتیٰ کہ ایک بار حضرت امام ابوحنیفہؒ نے حضرت قتادہ سے کوئی مسئلہ پوچھا تو انھوں نے دریافت کیا کہ کیا ایسی کوئی صورت پیش آئی ہے؟ جواب میں امام ابوحنیفہ نے کہا کہ ایسی صورت پیش تو نہیں آئی تو حضرت قتادہ نے فرمایا کہ:
’’مجھ سے ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو ابھی واقع ہی نہیں ہوئیں۔‘‘ (بحوالہ امام ابوحنیفہ کی سیاسی زندگی ص ۲۳۵، از مولانا مناظر احسن گیلانی)
جبکہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ نے اس ’’فقہ فرضی‘‘ کے لیے باقاعدہ علمی مجلس قائم کر کے محض مفروضہ صورتوں پر ۸۰ہزار سے زائد احکام ومسائل مرتب کیے جو آج تک فقہ حنفی کی علمی اساس ہیں۔
اسی طرح صحابہ کرام اور کبار تابعین کے دور میں عقائد کے باب میں عقلی بحثوں کو ناپسند کیا جاتا تھا اور اسے عقائد خراب کرنے اور عقائد میں شکوک پیدا کرنے کی کوشش تصور کیا جاتا تھا، حتیٰ کہ میں نے کسی جگہ حضرت امام ابو یوسف کا یہ فتویٰ پڑھا ہے جس کا حوالہ اس وقت میرے ذہن میں نہیں ہے کہ عقائد میں عقلی بحثیں کرنے والے متکلم کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے، لیکن بعد میں وقت کی ضروریات نے یہ ماحول پیدا کر دیا کہ عقائد کی بحثیں ہی معقولات کے حوالے سے ہونے لگیں، اس کو باقاعدہ علم کلام کا نام دیا گیا اور اسی عنوان سے یہ ہمارے ہاں مستقل پڑھایا جاتا ہے۔
ہم ’’تحفظات‘‘ اور ’’ضروریات‘‘ کے دونوں دائروں کو ضروری سمجھتے ہیں۔ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ دونوں کا متوازن اظہار ہوتے رہنے سے ہی اعتدال کا راستہ ملے گا، اسی لیے ہم علمی مباحثہ کو ضروری خیال کرتے ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے ذہن میں علمی مباحثہ کا تصور وہی ہے جس کے تحت حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ نے انفرادی اجتہاد کی بجائے اجتماعی اور مشاورتی اجتہاد کا راستہ اختیار کیا تھا اور اس کے لیے کھلے علمی مباحثہ کو ضروری خیال کیا تھا۔ اس کا خاکہ مولانا مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ:
’’اجتماعی مساعی اسی وقت باور آور ہوتی ہیں جب ضبط ونظم کے تحت ان کو انجام دیا جائے۔ امامؒ پر جہاں یہ راز واضح ہو چکا تھا، اسی کے ساتھ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ مجلس کے تمام اراکین کو جب تک کامل آزادی اپنے خیالات کے اظہار میں نہیں دی جائے گی، اجتماع کا جومقصد ہے وہ پورا نہیں ہو سکتا۔ آزادی کے اس دائرے کو امامؒ نے کتنی وسعت دے رکھی تھی ؟ اس کا اندازہ اسی واقعے سے ہو سکتا ہے جس کو امامؒ کے مختلف سوانح نگاروں نے نقل کیا ہے۔ الجرجانی کہتے ہیں کہ میں امام کی مجلس میں حاضر تھا کہ ایک نوجوان جو اسی حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا، امام سے اس نے کوئی سوال کیا جس کا امامؒ نے جواب دیا، لیکن جوان کو میں نے دیکھا کہ جواب سننے کے ساتھ ہی بے تحاشہ اور امام کو مخاطب کر کے ’اخطات‘ (آپ نے غلطی کی ہے) کہہ رہا ہے۔ جرجانی کہتے ہیں کہ جوان کے اس طرز گفتگو کو دیکھ کر میں تو حیران ہو گیا اور حلقہ والوں کی طرف خطاب کر کے میں نے کہا کہ
’’بڑے تعجب کی بات ہے کہ استاذ (شیخ) کے احترام کا تم لوگ بالکل لحاظ نہیں کرتے۔‘‘
جرجانی ابھی اپنی نصیحت کو پوری بھی نہیں کر پائے تھے کہ وہ سن رہے تھے کہ خود امام ابوحنیفہؒ فرما رہے ہیں کہ
دعہم فانی قد عودتہم ذلک من نفسی
’’تم ان لوگوں کوچھوڑ دو، میں نے خود ہی اس طرز کلام کا ان کو عادی بنایا ہے۔‘‘
جس سے معلوم ہوا کہ اس آزادی کا قصداً وارادتاً امام نے اپنی مجلس کے اراکین کو کہیے یا تلامذہ کو، عادی بنا رکھا تھا اور یہ جان کر بنا رکھا تھا کہ جومقصد ہے، اس آزادی کے بغیر وہ حاصل نہیں ہو سکتا۔‘‘ (امام ابوحنیفہ کی سیاسی زندگی، ص ۲۳۸)
اس کے ساتھ ہی برادرم مولانا حافظ زاہد حسین رشیدی صاحب کے ارشادات کے تناظر میں یہ بات عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں رائے، اجتہاد اور فتویٰ کے دائروں کوخلط ملط کر دیا گیا ہے اور ہم ان سب کے بارے میں یکساں لہجے میں بات کرنے کے عادی ہو گئے ہیں، حالانکہ ان تینوں کے الگ الگ دائرے اور الگ الگ احکام ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر رائے کو اجتہاد تصور کیا جائے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر اجتہادی قول کو مفتیٰ بہ قرار دے دیا جائے۔ کوئی مجتہد اپنے کسی غور طلب مسئلہ کے کسی ایک پہلو کے بارے میں کسی متعلقہ شخص سے رائے لیتا ہے جو صاحب علم نہیں ہے اور اس کی رائے کو اپنے اجتہاد کی بنیاد بھی بنا لیتا ہے۔ اب اس شخص کی رائے اجتہاد کا درجہ نہیں رکھتی، مگر اجتہادی عمل کا حصہ بن گئی ہے۔ اسی طرح ہمارے ہاں فقہاء کرام کے مفتیٰ بہ اقوال اور غیر مفتیٰ بہ اقوال کا واضح فرق موجود ہے، لیکن ان میں سے کسی کے اجتہاد ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے ان تینوں میں فرق قائم رکھنا ضروری ہے اور اس بنیاد پر ان تینوں کے معیارات بھی الگ الگ ہی ہوں گے۔
ہم نے ’’عمومی مباحثہ‘‘ میں ہر شخص کے لیے رائے کے حق کی بات ضرور کی ہے، لیکن جہاں علمی مباحثہ کی بات ہوئی ہے، وہاں ہم نے ان نوجوان اہل علم کا حوالہ دیا ہے جو اصحاب علم ہیں او رمطالعہ کی وسعت رکھتے ہیں۔ ہم نے ان کے لیے نہ اجتہاد کا حق مانگا ہے اور نہ ہی انھیں فتویٰ کی اتھارٹی دینے کی بات کی ہے۔ صرف اتنی درخواست کی ہے کہ اگر وہ نوجوان اہل علم جو علمی استعداد رکھتے ہیں اور دینی لٹریچر کے ساتھ ساتھ آج کے حالات وضروریات پر بھی نظر رکھتے ہیں، انھیں رائے کے حق سے محروم نہ کیجیے۔جو وہ محسوس کرتے ہیں، اس کے اظہار کا انھیں حق دیجیے اور پھر انھیں فتووں اور طعن وتشنیع کا نشانہ بنانے کی بجائے دلیل کے ساتھ اور محبت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کیجیے کہ دین کے ساتھ ساتھ اخلاقیات اور معروضی حالات کا بھی یہی تقاضا ہے۔
مولانا حافظ زاہد حسین رشیدی کے مضمون کا تفصیلی تجزیہ کرنے کی بجائے سردست چند اصولی باتوں پر اکتفا کر رہا ہوں۔ اگر ا س کے بعد ضرورت باقی رہی تو یہ خدمت بھی کسی مناسب موقع پر انجام دی جا سکتی ہے۔
مولانا معین الدین لکھویؒ اور دیگر اہل حدیث اکابر
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ کی وفات صرف اہل حدیث حضرات کے لیے باعث رنج وصدمہ نہیں، بلکہ پاکستان کے اسلامی تشخص کے تحفظ اور ملک میں نفاذ شریعت کی جدوجہد سے تعلق رکھنے والا ہر مسلمان اور ہر پاکستان ان کی جدائی سے غم زدہ ہے۔ جن بزرگ اہل حدیث علماے کرام کے ساتھ میرا عقیدت اور نیاز مندی کا تعلق رہا ہے، ان میں حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ بھی شامل ہیں۔ میں نے جب اردو لکھنا پڑھنا شروع کی تو بالکل ابتدا میں جو چند کتابیں میرے مطالعہ میں آئیں، ان میں آغا شورش کاشمیری مرحوم کی ’’خطبات احرار‘‘ بھی تھی۔ میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ احرار کے باقاعدہ کارکن رہے ہیں، اس لیے گھر اور ارد گرد کے ماحول میں احرار اور احرار راہنماؤں کا تذکرہ عام رہتا تھا۔ اسی پس منظر میں ’’خطبات احرار‘‘ کے مطالعہ کا موقع ملا۔ اس میں مولانا سید محمد داؤد غزنوی کا نام پہلی بار پڑھا اور عقیدت کا رشتہ جڑ گیا۔ مولانا غزنویؒ کی زیارت مجھے یاد نہیں، لیکن ان کے ساتھ عقیدت ومحبت کا رشتہ تب سے استوار ہے۔
ان کے بعد مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کی شخصیت نے بطور اہل حدیث اور بزرگ عالم دین میرے دل میں جگہ بنائی۔ صدر ایوب خان مرحوم نے ۱۹۶۲ء میں مارشل لا اٹھایا تو گوجرانوالہ میں پہلا سیاسی جلسہ میاں افتخار الدین مرحوم کی یاد میں ہوا جس کی صدارت مولانا محمد اسماعیل سلفی نے کی اور اس سے دیگر مقررین کے علاوہ آغا شورش کاشمیری اور شیخ حسام الدین نے بھی خطاب کیا۔ یہ میری زندگی کا پہلا سیاسی جلسہ تھا جس میں بطور سامع شرکت کی اور مولانا محمد اسماعیل سلفی کی زیارت سب سے پہلے اس جلسے میں کی۔ اس کے بعد مختلف جلسوں میں انھیں سنا۔ ایک بار ارادہ کر کے ان کے پیچھے جمعہ پڑھا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں، جہاں میں زیر تعلیم تھا، ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ پابندی سے آتا تھا اور میں اس کا اس وقت سے باقاعدہ قاری ہوں۔ اس میں مولانا محمد اسماعیل سلفی کے ارشادات اور سرگرمیاں پڑھنے کو ملتیں۔ ایک بار اپنے بزرگ مولانا مفتی عبد الواحد صاحبؒ کا کوئی پیغام لے کر میں ان کے پاس گیا۔ مولانا محمد اسماعیل سلفی کا معمول تھا کہ عصر کی نماز کے بعد اردو بازار میں اسکول بک ڈپو پر تھوڑی دیر کے لیے بیٹھتے تھے۔ وہاں کرسی پر بیٹھے ہوئے مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کا سراپا ابھی تک ذہن کی اسکرین پر موجود ہے۔
اسکول بک ڈپو بھی ایک اہل حدیث عالم دین مولانا حافظ محمد یوسف گکھڑوی مرحوم کا تھا جو گکھڑ کی مسجد توحید گنج کے خطیب وامام تھے اور اردو بازار گوجرانوالہ میں اسکول بک ڈپو کے نام سے کتابوں اور اسٹیشنری کی دکان کرتے تھے۔ میرا تعلق بھی گکھڑ سے ہے۔ بچپن میں ان کے گھر میں بھی ہمارا آنا جانا رہتا تھا اور ان کے بچے بھی ہمارے گھر میں آیا کرتے تھے۔ جماعت مجاہدین کے ساتھ ان کا تعلق تھا۔ وہ کشمیر اور قبائل کے مجاہدین کی وقتاً فوقتاً مدد کرتے تھے اور آتے جاتے بھی رہتے تھے۔ کافی عرصے کے بعد سردار محمد عبد القیوم خان نے ایک ملاقات میں ان کا تذکرہ کیا تو مجھے بھی بہت سی باتیں یاد آ گئیں اور ہم کافی دیر تک حافظ محمد یوسف گکھڑوی اور ان کی جہادی سرگرمیوں کی باتیں کرتے رہے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتیؒ کے ہمراہ حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کے جنازے میں بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی جو مولانا حافظ محمد یوسف گکھڑوی نے پڑھائی تھی۔
مولانا محمد اسماعیل سلفی کے بعد اس فہرست میں تیسرے بزرگ اہل حدیث عالم دین مولانا عبد الغفار حسن تھے۔ ان کے ساتھ میری پہلی ملاقات فیصل آباد میں مولانا حکیم عبد الرحیم اشرف کے گھر میں ہوئی جہاں میں کبھی کبھی جایا کرتا تھا اور وہ بھی بہت شفقت فرمایا کرتے تھے۔ میں نے تین بزرگوں کا اپنی زندگی میں معمول دیکھا ہے کہ وہ رات کو سویا نہیں کرتے تھے۔ ان کی محفلیں رات گئے آباد ہوتی تھیں اور صبح اشراق سے فارغ ہو کر دوپہر تک ان کا سونے کا معمول تھا۔ ان میں حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ اور حضرت مولانا سید حامد میاںؒ کے علاوہ مولانا حکیم عبد الرحیم اشرفؒ بھی تھے۔ بعض دفعہ ایسا ہوا کہ میں فیصل آباد میں کسی جلسے سے خطاب کرنے کے لیے گیا اور نصف شب کے لگ بھگ خطاب سے فارغ ہو۔ اسٹیج سے اترا تو دیکھا کہ حکیم عبد الرحیم اشرف صاحب کی گاڑی کھڑی ہے۔ ان کو کہیں سے میری آمد کا پتہ چل جاتا تھا اور وہ گاڑی بھیج دیتے تھے کہ میں ان کے ہاں سے ہو کر واپس جاؤں۔ وہاں حاضری ہوتی تو محفل خوب گرم ہوتی اور صبح سحری کے وقت ہی وہاں سے واپسی کی گنجائش نکلتی۔
مولانا عبد الغفار حسن نے مجھے بتایا کہ وہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران جیل میں والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے ساتھی رہے ہیں تو تعلق ومحبت میں اور اضافہ ہو گیا۔ وہ مجھے ہمیشہ شفقت سے نوازتے اور مجھے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر سکون ملتا تھا۔ ۱۹۸۷ء میں شریعت بل کی تحریک کے لیے پیش پیش حضرات میں میرا نام بھی ہے۔ اس دوران بعض دوستوں کی غلط فہمی سے فقہ حنفی اور اہل حدیث کشمکش کے حوالے سے بحث چھڑ گئی اور ایک معروف اہل حدیث جریدے میں شریعت بل کے پس منظر میں فقہ حنفی کے خلاف تند وتیز مضمون شائع ہوا۔ مولانا عبدالغفار حسن کو خدشہ ہوا کہ میں اس کا جواب دوں گا تو بحث بڑھ جائے گی اور خواہ مخواہ تلخی میں اضافہ ہوگا۔ اس خدشے کے پیش نظر انھوں نے مجھے بطور خاص پیغام بھجوایا کہ اس کے جواب میں آپ کچھ بھی نہ لکھیں، میں خود اس کی وضاحت کروں گا۔ میں نے ان کے حکم کی تعمیل میں خاموشی اختیار کر لی اور مولانا عبد الغفار حسنؒ نے اسی جریدے کے اگلے شمارے میں ایک مضمون کے ذریعے لوگوں کو سمجھا دیا کہ یہ حنفی اہل حدیث مسئلہ نہیں، بلکہ قرآن وسنت کا نفاذ اور شریعت کی بالادستی امت کا اجتماعی مسئلہ ہے جسے فرقہ وارانہ تناظر میں دیکھنا درست نہیں ہے۔
ایک اور اہل حدیث عالم دین مولانا حکیم عبد الرحمن آزادؒ کے ساتھ مجھے کم وبیش دو عشروں تک تحریک ختم نبوت کے لیے اکٹھے کام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ ڈویژن کے امیر تھے۔ تحریک ختم نبوت کے لیے اس دوران میں جب بھی کوئی مشترکہ فورم تشکیل پایا، میں حکیم صاحب کی ٹیم کا حصہ رہا۔ اکٹھے تحریکی جدوجہد کا کئی بار حظ اٹھایا اور مل جل کر دینی جدوجہد میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔
حضرت مولانا معین الدین لکھوی بھی اسی صف کے بزرگ تھے۔ ۱۹۸۷ء کی تحریک شریعت بل اور نفاذ شریعت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ متحدہ شریعت محاذ کے سرگرم کارکن کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔ وہ حالات سے باخبر اور وقت کے تقاضوں سے آشنا بزرگ تھے۔ جچی تلی گفتگو کرتے تھے اور اجتماعی معاملات میں دینی موقف کی بھرپور ترجمانی کرتے تھے۔ ان کی خدمت میں بھی کئی بار حاضری کا موقع ملا اور ہر بار شفقت اور دعاؤں سے فیض یاب ہوا۔ جامعہ محمدیہ اوکاڑہ میں بھی ایک بار ان سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو بہت خوش ہوئے اور بہت سے معاملات میں مشاورت ہوئی۔ ان کا ایک جملہ بہت یاد آتا ہے جو خود انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ ایک جگہ کسی جذباتی دوست نے ان سے سرمحفل سوال کر دیا کہ شریعت بل کے نام سے فقہ حنفی تو نافذ نہیں ہوجائے گی؟ انھوں نے اس کا جواب دیا کہ اگر ہو بھی گئی تو کیا؟ ’’فقہ فرنگی‘‘ سے بہتر ہوگی۔
حضرت مولانا عبد القادر روپڑیؒ اہل حدیث علماے کرام میں بڑے مناظر تھے اور حنفیوں کے ساتھ مناظروں میں ان کا نام سرفہرست ہوتا تھا، مگر میرے ساتھ ان کا معاملہ بھی ہمیشہ شفقت کا رہا۔ ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی میں ان کے ساتھ رفاقت رہی۔ ایک بار ان سے ملاقات کے لیے دال گراں چوک کے اہل حدیث مرکز میں حاضر ہوا تو بڑی محبت سے ملے اور فرمایاکہ ’’تم اچھی باتیں کیا کرتے ہو، کبھی کبھی آ جایا کرو۔‘‘
حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ کی وفات کی خبر پڑھ کر بزرگ اہل حدیث علماے کرام کے ساتھ اپنے تعلقات کی بہت سی باتیں ذہن میں تازہ ہو گئی ہیں جن میں سے چند ایک کا میں نے تذکرہ کر دیا ہے، لیکن اپنے دو بے تکلف دوستوں اور ساتھیوں علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ اور مولانا سید حبیب الرحمن شاہ بخاریؒ کا نام میں نے عمداً اس فہرست میں شامل نہیں کیا اور کسی دوسرے مناسب موقع کے لیے چھوڑ دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ مولانا معین الدین لکھویؒ سمیت ان سب بزرگوں کی مغفرت فرمائے اور ان کی حسنات کو قبول کرتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔ آمین
میرزا عبدالرحیمؒ کے نام مجدد الف ثانیؒ کے خطوط
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک
شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانیؒ (۹۷۱۔۱۰۳۴ھ / 1624-1563ء) نے ’’اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ‘‘ کے اصول کے مطابق جن سیاسی شخصیات کو خاص طور پر خطوط صادر فرمائے اور ان کی اصلاح کی راہ سے بادشاہ، امرا اوردیگر عمائدین حکومت کی اصلاح کا قصد فرمایا ،ان میں ایک بڑا نام میرزا عبدالرحیم خانِ خاناں کا ہے ۔ حضرت مجددؒ کے طرزِ عمل سے ہمیں یہ راہنمائی ملتی ہے کہ داعی کا ایک اہم ہدف یہ ہونا چاہیے کہ وہ معاشرے میں صاحبانِ اقتدار میں سے سلیم الفطرت انسانوں کی کھوج میں خصوصی محنت کرے ،کیونکہ ایسے لوگوں کو تھوڑی سی محنت سے جادۂ مستقیم پر گامزن کیا جاسکتا ہے ،اور پھر ان کی وساطت سے دیگر لوگوں کی اصلاح کچھ مشکل نہیں رہتی ۔
حضرت مجدد الف ثانی ؒ قدس سرہ العزیز نے میرزا عبدالرحیم خانخاناں ؒ کے نام تیرہ مکتوب ارسال فرمائے جن کی تفصیل یہ ہے: دفتراوّل میں مکتوب نمبر: ۲۳ - ۶۷ - ۶۸ - ۶۹ - ۷۰ - ۱۹۱ - ۱۹۸ - ۲۱۴ - ۲۳۲ - ۲۶۸ اور دفتر دوم میں مکتوب نمبر: ۸ - ۶۲ - ۶۶۔ زیر نظر سطور میں حضرت مجددؒ کے ان خطوط کے دعوت، معاشرتی اور سیاسی پہلووں پر قدرے روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔
موضوع پر براہِ راست گفتگو سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مکتوب الیہ کا مختصر تعارف قارئین کی خدمت میں پیش کردیا جائے ۔
میرزا عبدالرحیم خا نِ خاناں ؒ کے والد کا نام میرزا بیرم خاں تھا جوشہنشاہ ہمایوں کا سپہ سالارِ اعظم ،سلطنت مغلیہ کا زبر دست وفادار اور بازوئے شمشیر زن تھا ۔میرزا عبدالرحیم خا نِ خاناں ؒ بیرم خان کے ہاں ۱۴ صفر المظفر ۹۶۴ھ بمطابق ۱۵۵۶ء بروز جمعرات لاہور میں امیر جمال خاں میواتی کی صاحبزادی کے بطن سے متولّد ہوئے ۔ ابھی چار برس کی عمر تھی کہ آپ کے والد کو گجرات کے قریب پٹن شہر میں ۹۶۸ھ میں قتل کردیا گیا۔ وارثوں نے آپ کو آگرہ منتقل کر دیا جہاں آپ شاہی ماحول میں پرورش پاتے رہے۔ ذرا ہوش سنبھالی تو تعلیمی سلسلے کا آغاز کیا ۔ اپنے وقت کے نامور علما و فضلا، خاص کر علامہ فتح اللہ شیرازی، قاضی نظام الدّین بدخشی، مولانا محمد امین اندجانی، حکیم علی گیلانی رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے علوم ظاہری و باطنی و فوائد کثیرہ حاصل کیے۔ گجرات کے معروف بزرگ شیخ وجیہ الدین ؒ بن شیخ نصر اللہ علوی ؒ سے روحانی طریقہ اخذ کیا۔
امیر کبیر محمد شمس الدین غزنویؒ کی صاحبزادی سے نکاح کیا۔ مغل بادشاہ اکبر کے دورِ حکومت میں اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہے۔ گجرات، سندھ اور دکن کے بعض علاقے آپ کے ہاتھوں فتح ہوئے۔ اکبر نے آپ کو خا نِ خاناں (امیر الامرا) کا لقب دیا ۔اکبر نے اپنے بیٹے جہانگیر کی تعلیم و تربیت کے لیے آپ کو ۹۷۲ھ میں اپنے پاس رکھ لیا ۔ ایک متبحراور قابلِ اعتماد عالم ہونے کے ساتھ ساتھ آپ عربی، فارسی، ترکی، ہندی اور سندھی لغات کے بھی زبردست ماہر تھے۔ انھوں نے ۹۹۷ھ میں’’ تزک بابری ‘‘ کا ترکی سے فارسی میں ترجمہ کیا۔ اپنے دور میں صاحب القلم والسّیف کے لقب سے مشہور ہوئے۔ اپنے دور میں آپ جیسا متنوّع الصّفات اور جامع الفضائل شخص شاید ہی کوئی ہو۔ ۱۰۲۶ھ میں دہلی میں انتقال فرمایا اور مقبرہ ہمایوں کے برابر مدفون ہوئے۔(مآ ثر الاُ مراء، نزہۃالخواطر، ۵؍۳۰۴)
خطوط کی دعوتی اہمیت
دورِ حاضر میں جب اسلامی تحریکات کے مقاصد اور پس منظر پر بات کی جاتی ہے تو جوسوالات خاص طور پر اربابِ علم و دانش کے ہاں زیر بحث آتے ہیں، ان میں سے ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی تحریکات کا اصل ہدف معاشرتی اصلاح ہے یا اسلامی ریاست کا قیام؟حضرت مجدد ؒ کی دعوتی اور تحریکی زندگی کے مطالعے سے جو چیز نکھر کر ہمارے سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ ایک داعی کا اصل ہدف اصلاحِ معاشرہ ہے۔ حصولِ اقتدار اورنظمِ اجتماعی اس کے دعوتی مشن کا ہدف نہیں بلکہ نتیجہ ہے ۔میرزا عبدالرحیم خا نِ خاناں ؒ کے نام حضرت مجدد ؒ کے خطوط کو ان کے اسی وژن کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ ذیل کی سطور میں ہم اپنے قارئین کی توجہ چند ایسے ہی نکات کی طرف مبذول کروائیں گے۔
سماجی تبدیلی کے لیے دعوت کا مرکزی ہدف طبقۂ عوام ہے یا اشرافیہ؟ یعنی تبدیلی اوپر سے نیچے کی طرف سفر کرتی ہے یا نیچے سے اوپر کی طرف ؟ یہ سوال جس قدر اہم ہے، اسی قدر سنجیدہ تجزیے کا متقاضی بھی ہے ۔ دورِ حاضر میں بہت سی اسلامی تحریکوں کی تگ و دو اور طرزِ عمل کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اوراسی پس منظر میں ان کے اثرات و نتائج کی وسعت کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ حضرت مجددؒ کی تحریکِ دعوت کو اس پہلو سے دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ آپؒ نے ایک طرف تو طبقۂ عوام کی تعلیم و تربیت اور اصلاحِ احوال کی طرف بھر پور توجہ فرمائی اور دوسری طرف کرسئ اقتدار کی بجائے امرا اور اشرافیہ کو اپنی دعوت کا ہدف بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپؒ کی کوششوں کے نتیجے میں معاشرے کے سرکردہ لوگوں نے اپنی دینی دلچسپیوں کا اظہار کیا تو عوام نے اپنے دینی مزاج کی وجہ سے ان کے طرزِ عمل کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اس پر اپنی مسرت اور شادمانی کا اظہار بھی کیا۔
دعوتِ دین میں مدعو کے لیے خیر خواہی اور دل سوزی شرطِ اوّل ہے۔داعی کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ وہ مدعو کے دل پر دستک دے اور نہ صرف اس کی عزت نفس کا پوری طرح لحاظ رکھے، بلکہ اس کے ہر اچھے عمل پر اس کی حوصلہ افزائی بھی کرے، اور پھر جہاں ضرورت ہو اس کی اخلاقی تربیت سے بھی صرفِ نظر نہ کرے۔
اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز اربابِ بست وکشاد خاص قسم کے پروٹوکول (Protocol) کے عادی ہوتے ہیں اور یہ پروٹوکول ان کی نفسیات میں رچ بس کر ان کی عادت سے بڑھ کر فطرت کا حصہ بن جاتا ہے۔ ایک داعی کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اپنے مدعو اور مخاطَب کی نفسیات اور پس منظر (Back Ground)کا پوری طرح لحاظ رکھے۔ حضرت مجددؒ کے خطوط میں ہمیں اس اسلوب کی جھلکیاں جگہ جگہ ملتی ہیں۔ مثلاً آ پؒ اپنے خطوط کا آغاز کسی نہ کسی دعائیہ جملہ سے فرماتے ہیں۔ ایک خط میں خانِ خاناںؒ کواپنی دعاوؤں سے نوازنے کے ساتھ ساتھ ان کے کمالات کا اعتراف ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں ایسی قیل و قال سے نجات دے جو حال سے خالی ہے اور اس علم سے نجات عطا فرمائے جو عمل سے محروم ہے۔ .......اے ظہورِ کمالات کے لائق برادرِ عزیز !اللہ تعالیٰ تمہیں قوت سے فعل کی طرف لائے، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے ، تو اس شخص پر افسوس جس نے اس میں کچھ نہ بویا اور زمین استعداد کو خالی رکھا اور تخمِ اعمال کو ضائع کردیا۔‘‘ (مکتوبات: دفتر اول ،حصہ اوّل ،مکتوب نمبر:۲۳)
ایک مکتوب میں حضرت مجددؒ ،خانِ خاناں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایسی کتب کے مطالعہ سے احتراز کرنا چاہیے جو صوفیا کے مکشوفات و الہامات پر مبنی ہوں، کیونکہ ہر قاری کے کیے اصل حقائق تک آسانی سے رسائی ممکن نہیں ۔اس کیے اربابِ اختیار کو فتوحاتِ مکیہ (ابن عربیؒ ) کی بجائے فتوحاتِ مدنیہ ( احادیثِ نبویہ) کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ آپ مکتوب الیہ کو دعا دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’فتوحاتِ مکیہ مفتاح فتوحاتِ مدنیہ باد‘‘۔( فتوحاتِ مکیہ، فتوحاتِ مدینہ کی کلید ہو۔)(مکتوبات: دفتر اول ،حصہ سوم ،مکتوب نمبر:۱۹۸)
سلاطین، امرا اور حکوتی عہدہ داروں کا احتساب اور ان کو نصیحت کرنا جان جوکھوں کا کام ہے ، لیکن یہ کام جس قدر مشکل ہے، اسی قدر ضروری بھی ہے، اس لیے کہ عوام الناس معاشرے کے سرکردہ افراداور ان کے طرزِ عمل سے نہ صرف براہِ راست متأثر ہوتے ہیں بلکہ ان کو نمونۂ عمل (Role Modle)بھی بنا لیتے ہیں ۔اس لیے ایک داعی کوہر طرح کے تحفظات سے بلند ہو کر بڑی حکمت کے ساتھ یہ فریضہ انجام دینا چاہیے،کیونکہ اعلیٰ منصب پر فائزکسی ایک انسان کی اصلاح کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے بہت سارے انسانوں کی اصلاح کا سامان کرلیا ہے۔ حضرت مجدد ؒ نے دعوت کے اس اسلوب کو جس حکمت کے ساتھ برتا ہے، وہ داعیانِ اسلام کے لیے خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ میرزا عبدالرحیم خا نِ خاناں ؒ صاحبِ ثروت اور سلطنت مغلیہ کے رکنِ رکین ہونے کے باوصف اہل اللہ اور درویشوں کے خدمت گاروں میں تھے، مگر ان کے اندازِ تحریر سے تحکم اور تکبر کی بو آتی تھی ۔ حضرت مجدد ؒ ایک مکتوب میں ان کو تواضع اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’یہ ٹھیک ہے کہ آپ نے فقرا کی بہت خدمت کی ہے ،لیکن اس کے ساتھ ہی فقرا کے آداب کا لحاظ بھی بہت ضروری ہے،تاکہ اس پر ثمرہ اور نتیجہ برآمد ہو۔اور اس کے بغیر تو خار دار درخت پر ہاتھ پھیرنے والی بات ہے ، یعنی کچھ فائدہ نہیں ہے۔ ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے متقی لوگ تکلف سے بری ہیں اور متکبروں کے ساتھ تکبر کرنا بھی ایک قسم کا صدقہ اور نیکی ہے ۔حضرت خواجہ نقشبند ؒ کو ایک شخص نے متکبر کہا تو انھوں نے فرمایا: میرا تکبر خدا کہ لیے ہے۔
اس گروہِ فقرا کو ذلیل خیال نہ کریں، کیونکہ حدیث نبوی ہے: ’’رُبَّ اَشْعَثَ مَدْفُوْعِِ بِالْاَبْوَابِ لَوْ اَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَآبَرَّہٗ‘‘ (بہت سے پراگندہ بال،گردآ لود،دروازوں سے دھکیلے جانے والے (باطن میں ایسا بلند مقام رکھتے ہیں )کہ اگر اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کی قسم پوری کرتا ہے ۔)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگرچہ یہ باتیں تلخی نما ہیں، لیکن آپ کی خوشامد اور چاپلوسی کرنے والے بہت ہیں ،آپ اسی پر اکتفا کریں ۔فقرا سے آشنائی اور ملاقات سے مقصود یہ ہے کہ انسان اپنے پوشیدہ عیوب اور مخفی کمینی حرکات سے واقف اور مطلع ہو ۔یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس طرح کی باتوں سے آزار اور تکلیف دینا مقصود نہیں ، بلکہ یہ باتیں خیر خواہی اور دلسوزی کے طور پر ہیں ۔‘‘ (مکتوبات، دفتر اول ،حصہ دوم ،مکتوب نمبر:۶۸)
تکبر در اصل ایک روحانی اور اخلاقی مرض ہے جس کا علاج تواضع اور انکسار ہی سے ممکن ہے ۔ تواضع، غربا کا اظہارِ حال اور امرا کے لیے باعثِ کمال ہے ۔شیخ سعدی فرماتے ہیں:
تواضع زگردن فرازاں نکو ست
گداگر تواضع کند خوئے اوست
حضرت مجددؒ کی پر سوز نصیحت کے جو اثرات مکتوب الیہ پر مرتب ہوئے، اس کی نشان دہی حضرت مجددؒ کے ایک دوسرے مکتوب سے ہوتی ہے۔ جب خانِ خاناں ؒ نے اس پرخلوص نصیحت کے نتیجے میں تواضع اختیار کرتے ہوئے اپنے رویے کو بالکل تبدیل کر لیا تو حضرت مجدد ؒ نے اپنے ایک خط میں ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے تحریر فرمایا:
’’چونکہ آپ نے فقرا کے آداب کا لحاظ رکھا ہے اور باتوں میں تواضع اختیار کی ہے،۔اس کے مطابق: مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہٗ اللّٰہُ، (جو اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے ۔اللہ اسے بلندی اور رفعت اختیار کرتا ہے ۔) امید ہے آپ کا یہ عجز و تواضع آپ کی دینی و دنیوی رفعت کا سبب بنے۔‘‘ (مکتوبات: دفتر اول ،حصہ دوم ،مکتوب نمبر:۶۹)
شیطان کے بڑے جالوں میں سے ایک جال یہ ہے کہ وہ امورِ شرعیہ کے بارے میں انسان کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈال کر اسے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کبھی تو یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ اسلامی احکام خلافِ عقل ہیں، عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں اور ان پر عمل کرنا ہر انسان کے بس کی با ت نہیں ہے ۔حضرت مجدد ؒ نے خانِ خاناں ؒ کے نام ایک تفصیلی خط اس مضمون کا صادر فرمایا کہ امور شرعیہ میں پوری آسانی اور سہولت کا لحاظ رکھا گیا ہے اور مقیم و مسافر ،مریض و تندرست اورمردو زن دونوں کے دائرہ کار اور نفسیات کے مطابق تعلیمات دی گئی ہیں ۔اب اس اہتمام کے بعد بھی جو شخص عمل نہ کرے وہ حقیقتِ ایمان سے محروم ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: مکتوبات، دفتر اول ، حصہ سوم،مکتوب نمبر:۱۹۱)
اس میں کیا شک ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہونے کے ساتھ ساتھ دین عقل بھی ہے، لیکن کون سی عقل معیارِ حق ہوگی؟ یہ ایک اہم سوال ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ عقل ایک ایساکمزور اور بے بس راہنما ہے جس کو انسانی خواہشات اور جذبات نے ہمیشہ اپنا تابع مہمل بنا کر رکھا ہے اور عقل نے ہمیشہ انسانی جذبات و خواہشات کے حق میں دلائل تراشے ہیں اور خواہشاتِ نفس اور جذباتی رویوں کو عقلی رویے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ عقل جج نہیں، وکیل ہے ۔ جیسا مقدمہ اسے دیا جائے گا، اسی کے مطابق وہ وکالت کرے گی ۔ یہ ایک ایسی دو دھاری تلوارہے جو دونوں طرف چلتی ہے۔ اس سے جس طرح دینی حقائق کو ثابت کیا جاسکتا ہے، اسی طرح باطل بھی کیا جاسکتاہے۔ یہ وکیل کی وکالت و ذہانت پر موقوف ہے کہ وہ مقدمہ کے کس پہلو کی تائید یاتردید کرنا چاہتاہے۔ اس لیے ہرشخص کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنی عقل کا ترازو لے کر آگے بڑھے اور احکامِ شرعیہ کے حق و باطل ہونے کا فیصلہ کرنے بیٹھ جائے۔معیارِ حق عقل نہیں بلکہ وحی ہے۔ اس لیے ایک مکتوب میں حضرت مجددؒ ، خانِ خاناں کے نام تحریر فرماتے ہیں:
’’ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ تمام احکامِ شرعیہ کو عقلی پیمانے پر ناپے اور دلائلِ عقلیہ کے مطابق کردے ، وہ شانِ نبوت کا منکر ہے اور اس کے ساتھ کلام کرنا کم عقلی و بے وقوفی ہے۔‘‘ (مکتوبات، دفتر اول ، حصہ سوم ،مکتوب نمبر:۱۱۴)
عقل پرستی کا مرض ہر دور میں رہا ہے۔ مغربی فکر و فلسفے کے زیر اثر یہ دورِ حاضر کا بڑا فتنہ ہے۔ اسلام عقل کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے اور تفکر فی الخلق پر زور دیتاہے۔ اسلام کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ اگر کسی حکم کی حکمت وقتی طور پر انسان کی سمجھ میں نہ بھی آئے، تب بھی وہ اس پر پختہ ایمان اور یقین رکھے ۔ورنہ ایسے شخص کا ایمان اپنی عقل پر ہو گا نہ کہ نبوت و رسالت پر ۔ اسی پس منظر میں شیخ مجددؒ نے اسلامی حدود و تعزیرات اوراسلامی احکام کو عقل کے ترازو میں تولنے والے شخص کو شانِ نبوت کا منکر قرار دیاہے۔ گویا دین یہ ہے کہ:
عقل قربان کن پیشِ مصطفی
خطوط کی معاشرتی اہمیت
دورِ حاضر میں داعیانِ اسلام کی دعوت کے غیر مؤثر ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کا افرادِ معاشرہ کے ساتھ براہِ راست تعلق نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے ہاں طبقۂ عوام کے مسائل سے آگاہی حاصل کرنا اور پھر ان کے حل کی عملی کوشش، دعوتِ دین کے دائرہ سے قطعی باہر سمجھی جارہی ہے۔ یہ طرزِ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہاجِ دعوت سے بہت بڑا انحراف ہے۔سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوقِ خدا سے محبت اور خدمتِ خلق دعوتِ دین کے سب سے کار گر ہتھیار ہیں۔ پہلی وحی کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو آپ ؐ کے اضطراب کو دیکھتے ہوئے حضرت خدیجہؓ نے آپؐ کو ان الفاظ میں تسلی دی:
’’کَلَّا وَاللّٰہِ لَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبَداً اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتُحْمِلُ الْکَلَّ وَتُکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ‘‘ (بخاری، باب بدء الوحی)
’’ہرگز نہیں! اللہ کی قسم، اللہ آپؐ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا ۔آپؐ صلہ رحمی کرتے ہیں، لوگوں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں،ناداروں کی خبر گیری کرتے ہیں اور مصائب میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں ۔‘‘
حضرت خدیجہؓ کے یہ الفاظ قبل از اعلانِ نبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا بڑا خوبصورت اور جامع بیان ہیں جس سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ خدمتِ خلق پہلے ہے اور دعوتِ دین بعد میں ۔اس وقت عیسائی مبلغین اور مشنریز پوری دنیا میں خدمتِ خلق کے نام پر اپنے باطل نظریات کے پرچار میں مصروف ہیں ۔غور کیا جائے تو بر صغیر میں صوفیاء کرام ؒ نے بلا امتیازِ رنگ و نسل و مذہب لوگوں کی خدمت کو اپنا شعار بنایا اور لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ٹھہرے ۔خانقاہی نظام میں لنگر کا تصور اس اسلوبِ دعوت کی خوبصورت مثال ہے ۔
حضرت مجدد ؒ کے دعوتی منہج میں بھی اس اسلوب کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔نہ صرف ذاتی حیثیت میں آپ نے مخلوقِ خدا کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا بلکہ اصحابِ ثروت کو بھی اس طرف توجہ دلائی ۔ہم ان سطور میں صرف چند مثالیں پیش کرنے پر ہی اکتفا کریں گے جن سے واضح ہوتا ہے کہ ایک طرف اگر شیخِ مجددؒ کی اپنے ارادت مندوں کی روحانی ترقی پر گہری نظرتھی تو دوسری طرف وہ ان کے روز مرہ زندگی کے مسائل سے بھی پوری آگہی رکھتے تھے ۔ حضرت مجددؒ ،خا نِ خاناں ؒ کے نام اپنے ایک مکتوب میں ایک ضرورت مند کی سفارش کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’سیادت مآب سید ابراہیم آپ کے بلند آستانہ سے قدیمی تعلق و نسبت رکھتا ہے اور آپ کے دعاگووں میں شامل ہے۔ آپ کے ذمہ کرم پر لازم ہے کہ اس کی دستگیری فرمائیں تاکہ اس فقر اور بڑھاپے کے وقت اپنے اہل و عیال میں فراغت اور سکون سے اپنا وقت گزاریں اور آپ کے دونوں جہان کی سلامتی کی دعامیں مشغول رہیں۔ (مکتوبات، دفتر اول ،حصہ دوم ،مکتوب نمبر:۶۹)
حضرت مجددؒ ایک دوسرے مکتوب میں رقمطراز ہیں:
’’میاں شیخ عبد المومن بزرگ زادہ ہیں اور تحصیل علم سے فارغ ہو کر طریقۂ صوفیا کا سلوک فرماتے ہیں اور سلوک کے ضمن میں عجیب و غریب احوال مشاہدہ کرتے ہیں ۔ضرورتِ انسانی از قسم اہل و عیال ان کو حیران وبے اختیار ناچار کردیتی ہے ۔اس فقیر نے ناچار گی اور پریشا نی کو دور کرنے کے لئے آپ کی جناب کی طرف ان کی رہنمائی کی ہے۔ ’’مَنْ دَقّ بَابَ الْکَرِیْمِ انْفَتَحَ‘‘ جس نے کریم کا دروازہ کھٹکھٹایا وہ کشادہ حال ہو گیا ۔ (مکتوبات، دفتر اول،حصہ چہارم ،مکتوب نمبر:۲۳۲)
حضرت مجددؒ ایک اور مکتوب میں خانِ خاناں کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرنے کے بعد ایک حاجت مند کی سفارش بایں الفاظ فرماتے ہیں:
’’دو ضروری اور اہم کام بے اختیار آپ کو تکلیف دینے کا باعث بنے ہیں ۔ایک رنج و آزار کاگمان رفع کرنے کا اظہار،بلکہ آپ سے اور اخلاص کا ہونا ۔اور دوسرا ایک محتاج آدمی کی طرف اشارہ جو فضیلت اور نیکی سے آراستہ ہے اورمعرفت اور شہود سے مزین ہے ،جو نسب کے لحاظ سے کریم اور حسب کے اعتبار سے شریف ہے ۔‘‘(مکتوبات، دفتر اول ،حصہ دوم ،مکتوب نمبر:۶۷)
خطوط کی سیاسی اہمیت
میرزا عبدالرحیم خا نِ خاناں ؒ سیاسی اعتبار سے معمولی آدمی نہ تھے۔ نہ صرف اپنی خاندانی خدمات کی وجہ سے بادشاہ پر ان کے گہرے اثرات تھے، بلکہ اپنی فطری بہادری، بلند فکری، علما و صوفیا سے محبت اور فقرا و مساکین کی دادرسی کی وجہ سے ہرطبقہ میں مقبولیت کی اس سطح پر تھے جس سے زیادہ کا سوچا بھی نہیں جاسکتا، لیکن اس کے باوجود حضرت مجدد ؒ نے ان کی طرف جو خطوط صادر فرمائے، ان میں اس بات کا ادنیٰ سا شائبہ بھی نہیں ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہو کہ آپ ؒ خانِ خاناں کی اس حیثیت سے اقتدار یا ذاتی منفعت کے خواہاں ہوں۔حضرت مجددؒ نے جس انداز میں اپنے ذاتی طرزِ عمل سے اقتدار سے لاتعلقی کا اظہار فرمایا، اس نے حکمران طبقے، امرا اور اشرافیہ میں آپ کی دعوت کے نفوذمیں اہم کردار ادا کیا۔ غور کیا جائے تو شیخ مجدد ؒ کے خطوط کا مرکزی نقطہ مکتوب الیہ کی اصلاح اورپھر ان کی وساطت سے دربار ی امرا اور دیگرمتعلقین کی اصلاح ہی تھی ۔آپؒ نے اس مقصد کے لیے ایسا اسلوب اختیار فرمایا کہ مکتوب الیہ کی نظر میں دنیا کا حقیر ہو نا پوری طرح واضح ہو جائے اور اس کی وساطت سے دوسرے امرا کی اصلاح اور ان کے دلوں میں اسلامی احکام کی حرمت و عزت کے تصور کو پختہ کیا جائے ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مجددؒ کی اخلاص و للہیت پر مبنی ان کوششوں کے نتیجے میں ایک موقع پر میرزا عبدالرحیم خا نِ خاناں ؒ گورنری کا عہدہ چھوڑنے پر تیار ہوگئے۔ خانِ خاناں ؒ کی شخصی وجاہت، مقام ومرتبہ اور عہدہ و اقتدار کے باوجود حضرت مجددؒ نے احقاقِ حق میں کبھی مداہنت، چشم پوشی یا مصلحت کوشی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔ ایک موقع پر خانِ خاناں ؒ کو واضح اور دو ٹوک انداز میں تحریر فرمایا:
’’نجات کا راستہ اہل سنت وجماعت کی متابعت ہے۔ (اللہ تعالیٰ اس گروہ کو اور زیادہ کرے ) اقوال میں بھی،افعال میں بھی اور احوال و فروع میں بھی،کیونکہ نجات پانے والا فرقہ صرف یہی ہے ۔باقی تمام فرقے زوال اور ہلاکت کے کنارے کھڑے ہیں ۔آج کسی کے علم میں یہ بات آئے یا نہ آئے، لیکن کل (قیامت ) کو ہر ایک جان لے گا،مگر اس وقت جاننا بے سود ہوگا۔‘‘ (مکتوبات، دفتر اول ، حصہ دوم ،مکتوب نمبر:۶۹)
حضرت مجدد ؒ نے ہمیشہ یہ کوشش فرمائی کہ خانِ خاناں کی شخصی حیثیت سے فائدہ اُٹھا کر دربارِ شاہی سے وابستہ دیگر لوگوں کی اصلاح کی کوشش کی جائے ۔حضرت مجددؒ نے اپنے ایک مکتوب میں میرزا عبدالرحیم خا نِ خاناں ؒ کو اس طرف توجہ دلائی کہ آپ کے ایک فاضل شاعر دوست کے بارے معلوم ہوا ہے کہ انھوں اپنا لقب ’’کفری‘‘ اختیار کر رکھا ہے جو کہ کسی مسلمان کے شایانِ شان نہیں ۔ پھر آپ ؒ نے خا نِ خاناں ؒ کو تحریر فرمایا کہ اس شاعر کو میری طرف سے پیغام پہنچادیں کہ اس طرح کا کافرانہ تخلص بدل کر کوئی ایسا اسلامی لقب اختیار کریں جو جامع برکات ہو ۔ (ملاحظہ ہو: مکتوبات، دفتر اول ، حصہ دوم ،مکتوب نمبر:۲۳)
خلاصۂ کلام یہ کہ خانِ خاناں کے نام حضرت مجددؒ کے مکتوبات سے جو نکات نکھر کر سامنے آتے ہیں، وہ یہ ہیں کہ ایک داعی اپنے مشن میں اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب اس کی کوششیں اخلاص پر مبنی ہوں اوریہ کہ دنیوی فوائد سے بے رغبتی داعی کے پیغام کو طبقۂ امرا میں مقبول بنادیتی ہے ۔نیز حضرت مجددؒ کے زیر مطالعہ خطوط سے یہ چیز بھی سامنے آتی ہے کہ ایک داعی کا صرف یہی کام نہیں کہ وہ لوگوں کی روحانی ترقی پر نظر رکھے بلکہ اسے لوگوں کے دکھ درد میں بھی شریک ہونا چاہیے اور ان کے ساتھ اس طرح گھل مل کر رہنا چاہیے کہ ان کے سماجی مسائل اس کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکیں۔ اگر وہ لوگوں کی براہِ راست مدد کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو تو اصحابِ خیرکو ان کے مسائل کی طرف متوجہ کرے۔ اس انداز سے وہ لوگوں کے دل میں جگہ بنا سکتا ہے اور آسانی کے ساتھ دلوں کی زمین کو دعوت کے بیج کی تخم ریزی کے لیے ہموار کر سکتا ہے ۔
’’حیات سدید‘‘ کے چند ناسدید پہلو (۳)
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ
یہ کہنا کہ ’’علامہ کا مطمح نظر دارالاسلام میں فقہ اسلامی کی تدوین نو تھا، جب کہ حضرت مولانا فقیہ نہیں تھے۔ ویسے بھی انہیں اس کام میں دلچسپی نہ تھی۔ بعد کے واقعات نے ثابت کیا۔‘‘ (حیات سدید صفحہ نمبر ۱۷۳) مولانا مودودی اور اقبال دونوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ اقبال نے بہر حال مولانا کو اس کام کی ابتدائی تیاری کے لیے دارالاسلام منتقل ہونے کے لیے کہا تھا۔ وہ اس انتخاب کے لیے موزوں نہیں تھے تو مطلب یہ ہوا کہ اقبال کا انتخاب غلط تھا۔ مولانا مودودی اپنے خط نمبر ۹ مورخہ ۲۶۔مارچ ۱۹۳۷ء بنام چوہدری نیاز علی میں حیات سدید کے صفحہ نمبر ۴۹۹، ۵۰۰ پر لکھتے ہیں:
’’ہم خالص قرآن کی بنیاد پراسلام کی نشاتِ جدیدہ (Renaissance) چاہتے ہیں۔ قرآن کی اسپرٹ اور اسلام کے اصول ہمارے نزدیک غیر متبدل ہیں۔ مگر افکار اور معلومات کی ترتیب اور عملی زندگی کے احوال پر اس روح اور ان اصولوں کا انطباق ہمیشہ احوال کے تغیر اور علم کی ترقی کے ساتھ ساتھ بدلنا ضروری ہے۔ متقدمین اسلام اس چیز کو سمجھتے تھے۔ انہوں نے اپنے زمانے میں عملاً اس کو برتا، مگر متاخرین یہ سمجھے کہ اصول اور اسپرٹ کی طرح ان کا انطباق بھی غیر متبدل ہے۔ اس چیز نے وہ جمود پیدا کیا جو سات سو برس سے ہمارے علوم اور ہمارے قوانین حیات پر طاری ہے، موجودہ دور میں مسلمانوں کے ایک گروہ نے اس جمود کو توڑنا چاہا مگر انہوں نے نشات جدیدہ پیدا کرنی چاہی، وہ اسلام کی نشات جدیدہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ روح قرآنی اور اصول اسلامی سے بے بہرہ ہیں۔ ان کی فکر و نظر اسلامی نہیں ہے۔ اس لیے وہ نہ مسلمان کی حیثیت سے سوچ سکتے ہیں اور نہ اسلامی طریق پر معلومات کو مرتب کر سکتے ہیں، نہ زندگی کے معاملات کو مسلمان کی نظر سے دیکھ سکتے ہیں۔
ہمارا راستہ متاخرین اور متقدمین دونوں سے الگ ہے۔ ہمیں ایک طرف روح قرآنی کو ٹھیک ٹھیک اپنے اندر جذب کرنا اور اپنی قوت فکر و نظر کو اصول اسلامی سے پوری طرح متحد کرنا ہے۔
دوسری طرف علم کی ان ترقیات اور احوال کے ان تغیرات کا پورا پورا جائزہ لینا ہے جو گذشتہ سات آٹھ سو برس کی مدت میں ہوئی اور تیسری طرف صحیح اسلامی طریق پر افکار و معلومات کو مرتب اور قوانینِ حیات کو مدون کرنا ہے تاکہ اسلام پھر سے بالفعل ایک Dynamic force بن جائے اور دنیا میں مقتدی اور امام بن کر رہے۔
یہ ایک Herceulean task ہے۔ اول تو ہم اس کو اس طرح شروع کر رہے ہیں کہ ہم سے پہلے کوئی اس کے نشاناتِ راہ چھوڑ کر نہیں گیا۔ ہمیں خود ہی اپنی منزل مقصود کو پیش نظر رکھ کر راستہ بنانا اور اس پر چلنا ہے۔ دوسرے یہ اتنا بڑا کام ہے کہ میری اور آپ جیسے سینکڑوں آدمیوں کی پوری پوری زندگیاں بھی اس کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اگر ہم یہ امید کریں کہ ہماری زندگی ہی میں اس کے پورے نتائج سامنے آ جائیں گے تو یہ غلط امید ہو گی۔یہ کھجور کا درخت لگانا ہے۔ جو اس کو بوتا ہے، وہ اس کے پھل نہیں توڑ سکتا۔ ہم اس درخت کو لگائیں گے اور اپنے خون جگر سے اس کو سینچ کر چلے جائیں گے۔ ہمارے بعد وہ دوسری نسل آئے گی اور شاید وہ بھی اس کے پھلوں سے پوری طرح لذت آشنا نہ ہو سکے گی۔ کم از کم دو تین پشتیں اس کے پورے نتائج ظاہر ہونے کے لیے درکار ہیں۔ لہٰذا ہمیں نتائج کے لیے بے صبر نہ ہونا چاہیے۔
ہمارا کام یہ ہے کہ عمارت کا نقشہ ٹھیک ٹھیک (جیسا ٹھیک کہ ہم بنا سکتے ہیں)بنا دیں اور اس کی بنیادیں اٹھا کر نئی آنے والی نسل کو تعمیر کا کام جاری رکھنے کے لیے تیار کر دیں۔ اس سے زیادہ غالباً ہم کچھ نہ کر سکیں گے۔‘‘
مولانا مودودی کا خط بنام سید نذیر نیازی تحریر ہذا کے آخر پر ضمیمہ کے طور پر شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ خط مورخہ مورخہ ۲۶ جولائی ۱۹۳۷ء کو لکھا گیا۔ اس کی آخری سطور درج ذیل ہیں:
’’علامہ کے ساتھ عمرانیات اسلامی کی تشکیل جدید میں حصہ لینا میرے لیے موجب سعادت ہے۔ میں ہر ممکن خدمت کے لیے حاضر ہوں۔ مگر اس سلسلے میں کسی مالی معاوضہ کی مجھے ضرورت نہیں۔‘‘
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مولانا کو اس کام سے دلچسپی نہیں تھی، مولانا کے بعد کے کام سے مصنف کی بات کی تصدیق نہیں، تردید ہوتی ہے۔ خاص طورپر رسائل و مسائل کو دیکھ کر ماننا پڑے گا کہ مولانا فقہی اپچ رکھتے تھے۔ پھر ان کی کتاب حقوق الزوجین، عائلی قوانین پر تدوین جدید کی جانب بڑی اہم چیز ہے۔ البتہ یہ بات میں تسلیم کرتا ہوں کہ فقہ کی تدوین جدید کا کام مولانا کی اپنی ترجیحات میں اولیت نہیں رکھتا تھا، لیکن اس بات سے بھی انکار کسی کے لیے بھی ممکن نہیں کہ مولانا جس کام کا بیڑہ اٹھا لیں، اسے پورا کر کے دم لیتے تھے۔ ان میں ہر کام کی صلاحیت موجود تھی۔ فقہ کی تدوین کے لیے اقبال کی رہنمائی اور شرکت سے اگر یہ کام شروع ہو جاتا تو لازمی طور پر تکمیل کو پہنچتا۔ علامہ اقبال کی وفات کی وجہ سے کام کی ابتدا ہی نہ ہو سکی تو پھر اس کا الزام مولانا پر تو نہیں آ سکتا۔
یہ کہنا کہ مولانا اقبال کی بیمار پرسی کے لیے آئے اور نہ ہی شریکِ جنازہ ہوئے، یہاں تک لکھا گیا کہ انہوں نے تعزیت کرنا تک گوارا نہ کیا، بیمار پرسی اور جنازے میں شرکت سے گریز کی بات کرنے والوں کو احساس نہیں کہ مولانا حیدرآباد سے اجڑ کر ایک نئی جگہ پر اقبال کے دیے ہوئے تیاری کے مرحلے میں پھنسے ہوئے تھے جس سے فارغ ہو کر علامہ کے حضور حاضری کا مکمل پروگرام رکھتے تھے۔ جسے کبھی نقل مکانی کا تجربہ ہو، وہ ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔ باقی رہی تعزیت نہ کرنے کی بات تو اس کے لیے مولانا کا سید نذیر نیازی کے نام مفصل خط کئی جگہوں پر چھپ چکا ہے۔ ہم اسے اس مضمون کے آخر پر بطور ضمیمہ شامل کر رہے ہیں۔
مجید نظامی نے مولانا پر قیام پاکستان کی مخالفت کی پرانی فرد جرم کاحوالہ دے کر سیاستِ وطن کو ان کے بس سے نکالنے کی بات فرمائی ہے۔ مجید نظامی کا مشورہ ایسا ہی ہے جیسا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب افتخار حسین ممڈوٹ کا تھا۔ اگست ۱۹۴۷ء کے آخر پر مولانا مودودی دارالاسلام پٹھانکوٹ سے ہجرت کر کے لاہور پہنچے تھے۔ گرداسپور کی صورت حال کو قریب سے دیکھ کر آئے تھے۔ سخت ہیجان کا شکار تھے۔ ایک دو روز بعد ممڈوٹ صاحب سے ملے۔ ان سے کہا کہ :
’’صرف ایک بٹالین فوج کو حرکت دے کر مشرقی پنجاب سے کشمیر جانے والا راستہ بند کیا جا سکتا ہے۔‘‘
اقتدار کے نشے سے سرشار وزیر اعلیٰ کا جواب تھا:
’’مولوی صاحب، آپ اپنا کام کیجیے اور ہمیں اپنا کام کرنے دیجیے۔‘‘ (ترجمان القرآن اشاعت خاص مئی ۲۰۰۴ء ، مضمون ہارون الرشید صفحہ نمبر ۱۳۰)
اسی قسم کا مشورہ مولانا مودودی کو ایوب خان نے بھی دیا۔ مصیبت یہ ہے کہ ہر بوالہوس، حسن پرستی شعار کر لیتا ہے اور ہر دوسرے کو اس سے باز رکھنے پر اصرار کرتا ہے۔ بہر حال مجید نظامی صاحب کی جانب سے قیام پاکستان کی مخالفت کی پرانی فرد پر تو ہم فی الحال تفصیل سے کچھ کہنے کے بجائے صرف مولانا کی اس زمانے کی تحریروں سے ایک دو اقتباس درج کریں گے:
’’مسلمان ہونے کی حیثیت سے میری نگاہ میں اس سوال کی کوئی اہمیت نہیں کہ ہندوستان ایک ملک رہے یا دس ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے۔ تمام روئے زمین (فی الحقیقت) ایک ملک ہے۔ انسان نے اس کو ہزاروں حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ یہ اب تک کی تقسیم اگر جائز تھی تو آئندہ مزید تقسیم ہو جائے گی تو کیا بگڑ جائے گا۔ اس بت کے ٹوٹنے پرتڑپے وہ جو اسے معبود سمجھتا ہے۔ مجھے اگر یہاں ایک مربع میل رقبہ بھی ایسا مل جائے جس میں انسان پر انسان کے سوا کسی کی حاکمیت نہ ہو تو میں اس کے ایک ذرہِ خاک کو تمام ہندوستان سے زیادہ قیمتی سمجھوں گا۔‘‘ (ترجمان القرآن جنوری ۱۹۴۰ء)
اس کے علاوہ یہ بات بھی اہم ہے کہ تقسیم ہند کے لیے مسلم لیگ کی قرار داد، لاہور میں ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کو منظور ہوئی۔ اس سے بھی دو سال پہلے مولانا مودودی نے تقسیم کے لیے جو فارمولا پیش کیا ، اس کی پوری تفصیل یہاں درج کرنے کی ضرورت نہیں۔ بہت سے غیر متعصب مسلم لیگی مصنفین نے اپنی تحریروں میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ یہاں ان تجاویز کا کچھ حصہ درج کیا جاتا ہے۔
’’جن جن علاقوں میں جس قوم کی اکثریت ہے، وہاں ان کی آزاد ریاستیں قائم کر دی جائیں اور یہ آزاد ریاستیں مل کر ایک کینفیڈریشن بنا لیں۔ اگر یہ تجویز بھی قابل قبول نہ سمجھی جائے تو ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کر لیا جائے جو مسلم انڈیا اور ہندو انڈیا پر مشتمل ہو اور باہم اتفاق کے ساتھ ایک مدت مقرر میں امن اور صلح صفائی کے ساتھ ہندو مسلم انڈیا سے ہندو انڈیا منتقل ہو جائیں اور ہندو انڈیا سے مسلمان مسلم انڈیا میں منتقل ہو جائیں اور دونوں طرف انہیں اپنی جائیدادیں بیچنے اور تبادلہ کرنے کے پورے مواقع بہم پہنچائے جائیں۔‘‘ (ترجمان القرآن اکتوبر تا دسمبر ۱۹۳۸ء)
مسئلہ قومیت پر مولا نا مودودی کی تحریریں اتنی جان دار اور موثر تھیں کہ پختہ کانگرسی ذہن بھی ہل جاتے تھے۔ ایک مثال محض حوالے کے لیے درج کی جاتی ہے، اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔ مولانا محمد چراغ اپنے انٹرویو میں اس کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’ایک بار جواہر لال نہرو گوجرانوالہ بڑے ریلوے اسٹیشن پر تقریر کے لیے آئے۔ میں اور میرے دوست مولانا محمد اسماعیل سلفی (ہم دونوں اس وقت کانگریسی تھے) تقریر سننے جا رہے تھے۔ مولانا مودودی کی تحریروں کے تذکرے پر مولانا اسماعیل صاحب فرمانے لگے ’’مودودی نے کانگریس سے ہمارا وضو تو توڑ دیا۔‘‘ (ترجمان القرآن اشاعت خاص مئی ۲۰۰۴ء صفحہ نمبر ۷۱)
دو قومی نظریہ پر مولانا مودودی کی تحریروں سے متاثرین میں خان آف قلات کے علاوہ کئی دیگر بلوچ رہنما بھی شامل تھے۔ نوابزادہ جہانگیر شاہ جوگیزئی نے اپنے مضمون ’’حضرت مولانا مودودی‘‘ میں لکھا:
’’پاکستان کی تحریک شروع ہوئی تو دو قومی نظریہ ایک نعرہ بن گیا، مگر اس کی علمی و عقلی توجیہات کسی کے پیش نظر نہ تھیں۔ مسلم لیگی قیادت بھی محض جذباتی نعروں میں بہے چلے جا رہی تھی۔ میرے والد محترم نواب محمد خان جوگیزئی مرحوم بلوچستان سے پہلی دستوریہ ہند کے واحدرکن تھے، جن کے ووٹ سے بلوچستان، پاکستان میں شامل ہوا۔ میں نے پاکستان کے حق میں انہیں جس قدر ہموار کیا اور جن جن دلائل سے کام لیا، علم و عقل کاسارا سلحہ مولانا مودودی کی کتب سیاسی کش مکش سے لایا تھا۔ اسی طرح مولانا کی کتاب مسئلہ قومیت نے بھی وہ کام کیا جو ایک تحریک کر سکتی تھی۔ ‘‘ (ترجمان القرآن اشاعت خاص اکتوبر ۲۰۰۳ء صفحہ نمبر ۲۴۲ بحوالہ ہفت روزہ چٹان لاہور ۱۳۔اکتوبر ۱۹۸۰ء صفحہ ۳۲)
اس کے علاوہ حیاتِ سدید میں مسئلہ قومیت اور مولانا مودودی کے دیگر مضامین کی دارالاسلام اور دیگر مسلم لیگی حلقوں کی جانب سے وسیع اشاعت اور تقسیم، ان مضامین کے موثر ہونے کا ثبوت ہے۔ اس کا کریڈٹ مولانا مودودی کو مجید نظامی کے مشورے کی صورت ہی میں ملنا تھا تو مولانا نے مشورہ پر کوئی تیوری نہیں چڑھائی۔ وجہ یہ ہے کہ مولانا اس طرح کا مزاج ہی نہیں رکھتے تھے، لیکن بات جب مشورہ سے بڑھ کر ایک کتاب کے پیش لفظ کی صورت میں آ جائے تو اس کا نوٹس لینا ضروری ہو جاتا ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود اگر جناب مجید نظامی یہی کہیں کہ مولانا نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی تو اس پرانی بحث پر مزید صفحے سیاہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ جناب نظامی کے نقطہ نظر کو مان لیا جائے تو قیام پاکستان سے اختلاف کرنے والوں پر پاکستانی سیاست میں داخلہ، شروع سے ہی ممنوع قرار دے دینا چاہیے تھا۔ ایسے لوگوں کو مملکت میں دوسرے درجے کے شہری بن کر رکھا جانا لازم تھا۔ مسلم لیگ کے بس میں ہوتا تو قرارداد مقاصد اور دستور پاکستان میں ایسے لوگوں کے لیے سیاست پاکستان شجر ممنوعہ قرار دے دی جاتی۔ سیاستِ پاکستان فوجی اور سول بیوروکریسی اور مسلم لیگ کے کھوٹے سکوں کے لیے چوپٹ رہتی۔
مسلم لیگ کیا ہے، قائد کا فرمان تو واضح ہے مگر مسلم لیگ کی تو پوری تاریخ ناقابل فہم ہے۔ ایک واضح منزل رکھنے کے بعد بھی اس کا گروپوں کی شکل پر اصرار، جمہوریت کی خوبی کے طور پر تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ اسے جمہوری ادا تو اس صورت میں کہہ سکتے ہیں جب یہ ایک پلیٹ فارم پر رہے۔ مسلم لیگ کے نام کو اتنا تقدس حاصل رہا کہ ہر ایک نے اسے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ دوسرے انداز میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ ایسی ماں ہے جس کی کثیر العیالی کی انتہا یہ ہے کہ سرخ پوشوں، کمیونسٹوں، خدائی خدمت گزاروں، احرار، جماعت اسلامی اور کانگریس کے سوا پاکستان کی تمام جماعتوں نے مسلم لیگ کی کوکھ سے ہی سے جنم لیا۔ مسلم لیگ کا کمال ولادت یہ ہے کہ قرارِ حمل کے بعد بعض اوقات، ولادت فوراً ہی ہو جاتی ہے۔ ایسے بھی ہوا کہ جو کل تک قائد کو گالیاں دیتے تھے، وہ مسلم لیگ کی نظر عنایت سے مزار قائد پر فاتحہ پڑھنے پہنچ گئے۔ ذکر کو بار محسوس نہ کیا جائے تو جناب رفیق تاڑر کی بات اس لیے کروں گا کہ وہ ہماری بار کے ممبر رہے، سارا دن بار میں بیٹھ کر قائد علیہ الرحمہ کو گالیاں دینے کے سوا ان کا کوئی شغل نہیں تھا، لیکن ان کی عمر بھر کے دشنام جب لیگیائے گئے تو وہ مسلم لیگ کے کھاتے سے صدر مملکت ہو گئے۔
ہمارے ضلع کے مسلم لیگ کے سب سے بڑے مامے، ایوب خان کی مسلم لیگ میں تھے۔ مادر ملت نے ایوب کے مقابلے پر صدارتی الیکشن ہارا تو جلوس کی قیادت کر رہے تھے۔ اس جلوس میں کتیا کے گلے میں مادر ملت کی تصویر لٹکا کر اسے جوتے مارتے ہوئے پوچھا جاتا تھا کہ ’’پھر الیکشن لڑو گی؟‘‘ پاکستانی سیاست تو ایسے ہی لوگوں کے بس کی ہے۔
ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں کہ سید شریف الدین پیرزادہ مادر ملت کی موت کو غیر طبعی اور قتل قرار دیتے ہیں، مگر ہمیشہ مقتدر حلقوں کے مشیر کی اعلیٰ ترین منصب پررہنے کے باوجود رپورٹ ابتدائی (ایف آئی آر) بھی درج کرانے کی جرات نہیں کر سکے۔ ایوب خان اور سید مشرف کی رفاقت بلکہ چاکری کرنے والے مسلم لیگی قرار پائیں تو پھر کوئی بھی غیر مسلم لیگی نہیں ہو سکتا۔ ملک غلام محمد، ایوب اور اسکندر مرزا کی سازشوں سے ادھر ایک کابینہ ٹوٹ کر نئی بنتی تو پرانی کابینہ کے اکثر وزرا نئی کابینہ میں بدستور موجود رہے۔ ایسا بھی ہوا کہ اسمبلی گھر بھیج دی گئی مگر وزیر اعظم اسی طرح اپنے منصب پر قائم رہے۔ سادہ دل لوگوں کو گمراہ کرنے کی انتہا یہ ہے کہ مولوی تمیزالدین کیس میں ایک ایسا شخص بھی مسؤل علیہ تھا جو ۱۹۵۶ء کے دستورکے خالق اور ایوب خان کے خلاف تحریکِ جمہوریت میں سرخیل لیڈر رہا۔ ۱۹۶۵ء کی جنگ کے بعد، اعلان تاشقند کے نتیجہ میں ہونے والے رد عمل پر نیشنل کانفرنس اسی لیڈر کے گھر پر منعقد ہوئی۔
بعد ازاں کے مسلم لیگیوں نے کیا کچھ کیا؟ ملکی خزانہ خالی کر دیا اور اپنی تجوریاں بھریں۔ ملک غریب اور رؤسا امیر سے امیر ہوتے گئے۔سید المشرفین کے دور میں تو ’’پاکستان فار سیل‘‘ کے اشتہار عام ہوئے۔ شہریوں کے جسم و جاں، ماؤں بہنوں اور بیٹیوں تک کو بیچ ڈالا گیا۔ کہاں تک بیان کیا جائے! اگر سیاستِ پاکستان کو بس میں لانے کے لیے اس طرح کے لچھن اختیار کرنے لازم ہیں تو واقعتا مولانا مودودی کے لیے مجید نظامی کا مشورہ صحیح تھا۔ یہی مشورہ مولانا مودودی کو فیلڈ مارشل ایوب خان نے بھی لاہور کے گورنر ہاؤس میں ملاقات کے وقت دیاتھا۔ ایوب خان کے الفاظ یہ تھے کہ:
’’مولانا گندی سیاست میں حصہ لینے سے آپ کے اجلے دامن پر داغ لگ جاتے ہیں۔ آپ دین کی خدمت کریں، ہم ہر طرح تعاون کریں گے۔ گندی سیاست سے اپنے آپ کو بچائیں‘‘۔
مولانا نے بر جستہ جواب دیا تھا کہ :
’’سیاست کی گندگی کو صاف کرتے کرتے اگر میرا دامن گل بھی جائے تو یہ مہنگا سودا نہیں۔ تطہیر و صفائی کا یہ کام، بہرصورت جاری رکھوں گا۔‘‘
قرب اقبال کے ’’قصے‘‘ اور تحریک پاکستان کی ’’مخالفت‘‘
معذرت کے ساتھ ہم ایک بار پھر پیش لفظ کی جانب لوٹتے ہیں۔ اس میں مجید نظامی نے کہا کہ اقبال اور مولانامودودی کے قرب کے قصے گھڑے گئے۔ مولانا مودودی نے کبھی اقبال سے قرب کا دعویٰ نہیں کیا۔ وہ اقبال کے مداح تھے۔ انہوں نے اقبال سے صرف دو ملاقاتوں کی بات کی ہے۔ ان ملاقاتوں کو انہوں نے ابتدائی نوعیت کی بتایا ہے۔ لاہور آمد کے لیے جنابِ نیاز علی خان نے اصرار کیا تو وہ ان کے ہمراہ اقبال سے ملے۔ اس سے ان کو اندازہ ہوا کہ اقبال ان کی تحریروں سے واقف ہیں۔ یقینی طور پر اس دور کے مولانا کے تجزیے معروف و عام تھے۔ خاص طور پر مسئلہ قومیت پر مولانا کی تحریریں مسلم لیگی حلقوں کا فکری اور علمی اسلحہ ثابت ہوا۔ یہاں ہم نوائے وقت ہی کے دیرینہ اور مستقل کالم نویس جناب میم شین ( محمدشفیع ) کے الفاظ حیات سدید ہی سے نقل کریں گے۔ کتاب کے صفحہ نمبر ۱۸۰ پر ان کے حوالے سے تحریر ہے کہ:
’’حقیقت یہ ہے کہ پورے ہندوستان میں نظریہ وطنی قومیت کے خلاف قلمی جہاد کرنے میں مولانا مودودی سے زیادہ کسی اور شخص نے علامہ اقبال کا ساتھ نہیں دیا۔‘‘
اب رہا یہ سوال کہ مولانا اور اقبال کے قرب کے قصے گڑھے گئے، اس بارے میں مولانا نے جو تفصیلات بیان کی ہیں، وہ اس قدر ہیں۔ ۳۰۔ مارچ ۱۹۵۱ء کو ایک خط میں انہوں نے تحریر کیا:
’’ ڈاکٹر اقبال مرحوم سے میرے تعلقات کوئی بہت وسیع تو نہ تھے، البتہ قلبی حیثیت سے گہرے ضرور تھے۔ میں جب حیدرآباد سے رسالہ ترجمان القرآن نکالا کرتا تھا، اس زمانے میں مجھے خبر تک نہ تھی کہ ڈاکٹر صاحب مجھ سے واقف ہیں، مگر بعد میں معلوم ہو کہ وہ برابر اس رسالہ کو منگوا کر میرے مضامین دلچسپی کے ساتھ پڑھوا کر سنتے رہتے تھے۔ مجھے پہلی مرتبہ ان کی دلچسپی کا علم اس وقت ہو جب ۱۹۳۷ء کے آغاز میں ان کا عنایت نامہ مجھے ملا جس میں انہوں نے اس خواہش کا اظہار فرمایا تھا کہ میں حیدرآباد چھوڑ کر پنجاب چلا آؤں اور لاہور میں رہ کر فقہ اسلامی کی تدوین جدید میں ان کے ساتھ تعاون کروں۔ اس کے بعد کچھ مراسلت شروع ہوئی اور ۳۷ء کے آخر میں لاہور آکر دو تین مرتبہ ان سے ملا۔ ان ملاقاتوں میں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میری اور ان کی بہت پرانی واقفیت ہے اور ہم ایک دوسرے کے دل سے بہت قریب ہیں۔ یہاں میرے اور ان کے درمیان یہ بات طے ہو گئی کہ میں پنجاب منتقل ہو جاؤں اور پٹھان کوٹ کے قریب اس وقف کی عمارات میں جس کا نام ہم نے بالاتفاق ’’دارالاسلام ‘‘تجویز کیا تھا، ایک ادارہ قائم کروں جہاں دینی تحقیقات اور تربیت کا کام کیا جائے۔ انہوں نے مجھ سے وعدہ فرمایا کہ میرے وہاں منتقل ہو جانے کے بعد وہ بھی ہر سال چند مہینے وہاں آکر قیام فرمایا کریں گے۔ چنانچہ اس قرار داد کے مطابق میں نے حیدرآباد جا کر ہجرت کی تیاریاں شروع کر دیں اور مارچ ۳۸ء میں نقل مقام کر کے دارالاسلام پہنچ گیا مگر افسوس کہ مرحوم کی زندگی کے وہ آخری ایام تھے۔ دوسرے ہی مہینے ان کا انتقال ہو گیا اور میں اس کام کے لئے تنہا رہ گیا جسے ان کے ساتھ مل کر کرنا چاہتا تھا۔
یہ میرے اور ان کے تعلقات کی مختصر داستان ہے۔ رحمۃ اللہ علیہ۔‘‘ (اقبال اور مودودی صفحہ۷۵، ۷۶ مرتبہ ابو راشد فاروقی مطبوعہ مکتبہ تعمیر انسانیت لاہور سال اشاعت ۱۹۸۰ء )
اقبال اور مولانا مودودی کے تعلق کی جملہ حدود مولانا مودودی نے بیان کر دی ہیں۔ ان پر کچھ کہا جائے تو جناب مجید نظامی حق بجانب ہوں گے، مگر غیر متعین انداز میں وہ یہ کہہ دیں کہ اقبال اور مودودی کے قرب کے قصے گڑھے گئے، اور کس نے گڑھے، کیسے اور کہاں کہاں اور کیوں؟ اس کی وہ کوئی وضاحت نہ کریں اور تان اس بات پر ٹوٹے کہ وہ میدان سیاست میں کیوں بر سر عمل ہوئے، یہ طرز عمل عجیب ہے۔
اپنی بات میں زور پیدا کرنے کے لیے جناب مجید نظامی ارشاد فرماتے ہیں کہ مولا نا مودودی، قیام پاکستان کے حق میں نہ تھے۔ ان کا پیش لفظ میں یہ بھی کہنا کے اس کے نا قابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ کچھ اس کتاب میں شامل کیے گئے ہیں۔ پوری کتاب میں زبانی روایات کے سوا کوئی بات اس پہلو سے شامل نہیں، جب کہ مولانا کی تحریریں بڑی واضح ہیں۔ ہم اوپر ان کا حوالہ دے چکے ہیں۔ ہم نے ابتدائی رسائل کا حوالہ دیا ہے۔ حیات سدید کے مصنف اور پیش لفاظ حوالوں کی تصدیق کر سکتے ہیں، بلکہ مجھے یقین ہے وہ ان حوالوں سے کسی طور بے خبر نہیں ہو سکتے۔ تقریب رونمائی میں مجید نظامی نے خود یہ فرمایا کہ:
’’جب میں طالب علم تھا تو ترجمان القرآن کا باقاعدہ قاری تھا‘‘۔
یہی وجہ ہے کہ کتاب کی تقریب رونمائی میں جناب مجید نظامی نے جو تقریر فرمائی، اس میں انہوں نے اپنے پیش لفظی جملوں کی ’’تعبیر‘‘ کرتے ہوئے ذرا مختلف صورت اختیار کی۔ ان کی تقریر کی نوائے وقتی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ ارشاد فرمایا:
’’الیکشن میں جماعت اسلامی کی غیر جانبد داری قیام پاکستان کی مخالفت تھی۔ ان انتخابات میں جماعت اسلامی کا یہ کہناتھا کہ ہم ان انتخابات میں غیر جانبد دار رہیں گے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ غیر جانب داری، قیام پاکستان کی مخالفت تھی، کیونکہ آپ کے اگر چند ووٹ بھی فیصلہ کن ہوتے اوروہ پاکستان کے خلاف ہوتے تو پاکستان ہرگز نہ بنتا۔‘‘ (نوائے وقت، ۱۴؍اکتوبر ۲۰۱۰ء)
غیر جانب داری کو مخالفت سمجھنا جناب مجید نظامی کی صواب دید ہے، لیکن جماعت کی غیر جانب داری ثابت تو کی جائے۔ جماعت نے اس بارے میں کوئی قرار داد منظور کی؟ کوئی بیان جاری کیا؟ مولانا مودودی کی تحریروں نے تو واضح طور پر تقسیم ہند کی حمایت کی۔ سلہٹ اور صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کے موقع پر جماعت کے ارکان کو پاکستان کے حق میں ووٹ دینے کی واضح ہدایت جاری کی گئی۔ ۱۹۴۶ء کے انتخابات میں جماعت نے بائیکاٹ کا اعلان تو نہیں کیا۔ جماعت کے ارکان نے، انفرادی طورپر، اپنی صوابدید پر مسلم لیگی امیدواروں کی حمایت کی۔ اس امر پر دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ قیام پاکستان سے پہلے تک جماعت، عملی سیاست میں داخل نہیں ہوئی تھی۔ جماعت کے قائد علمی اور فکری کام کرتے رہے۔ جماعت کا حجم بے حد مختصر تھا۔ عملی سیاست میں شرکت اس وقت تک اس کے بس میں نہیں تھی۔ فکری کام بھی جماعت کی سطح پر نہیں تھا۔ یہ تو محض مولانا کی صحافیانہ حیثیت سے تھا۔ اس پہلو کو سامنے رکھا جائے تو پھر کسی بحث کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس موضوع پر بار بار بحث ہوتی رہی ہے۔ یہ بحث بھی اب تو تاریخ کا حصہ ہو گئی ہے۔البتہ صحافیانہ حیثیت سے مولانا نے جو کچھ لکھا، وہ کسی مینڈیٹ کے تحت نہیں تھا۔ ان کا ذہن اور قلم آزاد تھا۔ انہوں نے کانگریس اور جمعیت علمائے ہند پر بھر پور تنقید کی۔ اس تنقید کو آج بھی کم از کم دیوبند سے وابستہ لوگ معاف نہیں کر سکتے۔ اسی طرح مولانا نے اس وقت کی مسلم لیگ پر بھی تنقید میں کوئی رو رعایت نہیں کی تھی۔ اس تنقید کو دیکھا جائے تو یہ مولانا کے انفرادی خدشات تھے۔ ان کو جماعت کے کھاتے ہیں نہیں ڈالا جاسکتا۔ جماعت کی کوئی قرارداد یا بیان ان کی تائید میں نہیں آیا۔ اس تنقید کو قلم اور فکر کی آزادی کے طور تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ اس کا جائزہ لینا مقصود ہو توحالات کے تناظر ملحوظ رکھنا پڑے گا۔
متحدہ وطنی قومیت کے خلاف مولانا کے فکری کام کا حوالہ دیے بغیر کوئی بات کرنا ممکن نہیں۔ بد قسمتی یہ ہوئی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے مختلف مسلم لیگی اڈیشنز حکمران چلے آرہے ہیں۔ ان سب کا ایک ایک لمحہ، قیام پاکستان سے قبل، مولا نا نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا ان کی اپنے عملی سے متواتر تصدیق کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ان حکمرانوں کو اپنے طرز عمل کی اصلاح پر کوئی آمادہ نہیں کر سکتا۔ مولانا کی دور اندیشی کی داد دینے کے بجائے ان کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ بہر حال یہ ہر ایک کا ظرف ہے۔ کسی پر اظہار میں کوئی قدغن نہیں ۔ ہم نے بھی جو کچھ عرض کیا ہے، یہ قلم اور سوچ کی آزادی کے تحت ہی کیا ہے۔ اس آزادی کے لیے پاکستان میں جتنی طویل اور کٹھن جد و جہد کی گئی ہے، مجید نظامی اور حمید نظامی سے زیادہ کون واقف ہو گا۔ علامہ اقبال اور قائد اعظم کے وارثوں نے اس آزادی کو سلب کرنے کے لیے کیا کچھ نہ کیا، مگر کوئی ہم سے ہماری آزادی چھیننے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ہم مجید نظامی سے بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ وہ حالات کے پورے تناطر میں جو کچھ بھی کہیں گے، وہ مناسب طور پر لیا جائے گا۔ اس ملک میں مسلم لیگ کی لاٹھی لے کر چلنے والے اندھوں کے علاوہ دیدہ و بینا لوگ بھی رہتے ہیں۔ ان کے ہاں نوائے وقت کی ہمیشہ سے قدر موجود ہے اور موجود رہے گی۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ ادارہ قائد اور علامہ کی متعین کردہ راہ پر گامزن چلا آرہا ہے۔ اس کے سربراہ کسی بڑے سے بڑے فرعون کو بھی خاطر میں نہیں لائے۔ کسی سے کوئی غرض نہیں رکھی۔ اقتدار کی غلام گردشوں میں نوائے وقت کے چیف کا کبھی گزر نہیں رہا مگر ان کو مسلم لیگ سے پہلی محبت اب بھی ہے۔ اس محبت پر کسی کو اعتراض نہیں ہو گا، شرط یہ ہے کہ وہ خواہ مخواہ کسی کو اپنا رقیب نہ بنائیں۔
جناب مجید نظامی کو گلہ ہے کہ ’’جماعت اسلامی آج اگر مولانا (مودودی )کو تحریک پاکستان کا رہنما اور پاکستان بنانے والوں میں تیسری شخصیت قرار دے تو یہ حقائق کو مسخ کرنے کی دانستہ کوشش ہے جس سے جماعتیوں کے سینے میں تو کچھ ٹھنڈ پڑ جاتی ہو لیکن یہ قوم کو گمراہ کرنے کی ایک لا یعنی کوشش ہے۔‘‘ گلہ کرتے ہوئے جذباتی ہو جانا کسی درجے میں جائز ہو گا مگر جناب مجید نظامی واضح تو کریں کہ جماعت اسلامی نے کب مولانا مودودی کو تحریک پاکستان کا رہنما قرار دیا ہے؟ کسی شخص نے انفرادی طور پر ایسی کوئی بات کہی ہو تو اسے جماعت کے کھاتے میں ڈالنا زیادتی ہو گی۔البتہ یہ بات واضح ہے کہ تحریک پاکستان اور پاکستان میں پہلے اور دوسرے کی درجہ بندی میں اختلاف کی گنجائش تو رکھی جاسکتی ہے۔ کوئی اگر لیاقت علی خان کو تیسری شخصیت کہے تو دولتانہ اور عبدالمنعم خان کو بھی چوتھے اور پانچوے درجے میں لکھا جائے گا، لیکن اگر کوئی مولوی تمیزالدین اور سید حسین شہید سہر وردی کو دوسرے اور تیسرے درجے میں رکھے تو اس پر اعتراض کی کتنی گنجائش ہو گی، اس کی صراحت، تحریک کارکنان پاکستان کے کار پرداز کے طور پر جناب مجید نظامی کے ذمے ہے۔
اوپر ہم نے حیات سدید میں غیر سوانحی مواد شامل کرنے پر شدید اعتراض کیا ہے۔ البتہ ہم یہ اعتراف کریں گے کہ کتاب میں دارالاسلام کے ابتدائی پروجیکٹ اور اس کی مختلف مجوزہ صورتیں روایت کی گئی ہیں، ان پر خطوط میں بڑی مفید بحث کی گئی ہے۔ الشریعہ اور اس کے قارئین کے دینی مدارس کی اصلاح کے پہلو سے ذوق وجہ سے دلچسپی کا باعث ہے۔ یہ پروجیکٹ بروئے کار تو نہ آسکے مگر یہ مباحث آج بھی دینی مدارس کی اصلاح کے حوالے سے چشم کشا ہیں۔ خاص طور پر جھنگ کی اسلامی یونیورسٹی کی اسکیم، مولانا عبدالباری، امیر الدین قدوائی کے خطوط بڑے اہم ہیں۔کتاب کا یہ حصہ اثاثی حیثیت رکھتا ہے۔
ضمیمہ اول: خط نمبر ۱، مولانا مودودیؒ بنام سید نذیر نیازیؒ
’’۱۷۔جمادی الاول ۵۶ھ، (۲۶ جولائی ۱۹۳۷ء)
محترمی و مکرمی، السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عنایت نامہ ملا۔ میں بہت شکر گذار ہوں کہ آپ نے بہت صفائی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔ میں بھی چند باتیں اسی بے تکلفی کے ساتھ عرض کیے دیتا ہوں۔
میں نے اپنی زندگی کے لیے چند اصول، ایک خاص نصب العین کے ساتھ مقرر کر لیے ہیں اور خد اکے فضل سے میرے اندر اتنی استقامت موجود ہے کہ میں سخت سے سخت مشکلات میں بھی اپنے نصب العین سے ہٹنا اور اپنے اصولوں میں ترمیم کرنا گوارانہیں کرتا۔ اس وقت میں جن مشکلات میں مبتلا ہوں، وہ تمام تر میری اپنی عاید کی ہوئی پابندیوں کی وجہ سے ہیں، ورنہ یہ طوفانِ مصائب آج دور ہو سکتا ہے۔ میں نے اپنے اوپر جو پابندیاں عاید کی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ میں کسی سے اپنی ذات کے لیے کوئی مالی مدد نہ لوں گا۔ دوسری یہ ہے کہ قومی و مذہبی خدمت کے سلسلہ میں کوئی معاوضہ لینے کا خیال بھی نہ کروں گا اور تیسری یہ ہے کہ ایسی منفعت کے لالچ میں اپنے آپ کو گرفتار نہ ہونے دوں گا جو مجھ کو دین و ملت کے مفاد کے لیے اپنی صواب دید کے مطابق آزادانہ کام کرنے سے روکتی ہو۔ (چند پابندیاں اور بھی ہیں مگر وہ زیر بحث معاملات سے غیر متعلق ہیں)۔ اب آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ جو صورتیں آپ نے بیان فرمائی ہیں، انہیں قبول کرنا میرے لیے کس قدر مشکل ہے۔ میں اپنی ذات کے لیے سو روپے کیا معنی، ایک پیسے کی بھی مدد نہیں چاہتا۔ اپنے ذاتی مصارف کے لیے میں نے ایک تجارتی کام شروع کر رکھا ہے۔ اسی کو میں لاہور میں بھی کر سکتا ہوں۔ شاہی مسجد کی امامت میرے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے۔ اس سے بہتر موقع کام کرنے کا اور کیا ہو سکتا ہے، مگر معاوضہ لے کر امامت کرنا، میرے نزدیک ناجائز نہیں تو سخت مکروہ ضرور ہے۔ مسلمانوں میں چار سو برس تک یہ مسئلہ متفق علیہ رہا کہ نماز کی امامت اور قرآن کی تعلیم کا معاوضہ لینا جائز نہیں۔ بعد میں حالات کی خرابی نے اس کو جائز کرا دیا اور اس وقت سے یہ دونوں منصب ذلیل اور بے روح ہو گئے ہیں۔ اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ اس لیے معاوضہ لے کر امامت کرنے کا تو خیال بھی نہیں کر سکتا۔ ہاں اگر بلا معاوضہ یہ خدمت میرے سپرد کی جائے تو دل و جان سے اس کے لیے حاضر ہوں۔ رہی سیاست سے کنارہ کشی تو اس کے لیے میں قطعاً تیار نہیں ہوں۔ میں نے کسی فوری جذبے کے تحت سیاسیات کی طرف قدم نہیں بڑھایا بلکہ خوب سوچ سمجھ کر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اب مجھے گوشہ عزلت سے نکل کر کچھ کرنا چاہیے۔ مسلمان اس وقت سخت خطرے میں مبتلا ہیں۔ جن سے صحیح رہنمائی کی امید نہ تھی، انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ جن سے تمام تر امیدیں وابستہ تھیں، آج وہ بھی غلط رہنمائی کر رہے ہیں۔ کانگریس تحریک کے فروغ نے مسلمانوں کے کیمپ میں عام بھگدڑ بر پا کردی ہے۔ روزانہ desertion کی خبریں دھڑا دھڑ چلی آ رہی ہیں۔ جواہر لال کی امت عوام میں تیزی کے ساتھ اپنا اثر پھیلا رہی ہے۔ جھانسی کے انتخاب نے ظاہر کر دیا کہ مسلمانوں کی رائے عام کس حد تک متاثر ہو چکی ہے اور اب کانگریس اور غیر کانگریس کے درمیان کتنا تھوڑا margin رہ گیا ہے۔ مسلمان لیڈروں کے بیانات اور اسلامی جرائد کے مضامین پڑھنے سے اندازہ ہو رہا ہے کہ کس قدر کم آدمی ہیں جو اسلامی ہند کی صحیح پوزیشن کو سمجھتے ہیں اور جن کے سامنے راہ راست بالکل واضح ہے۔ ایسی حالت میں آپ غور کیجیے کہ جو چند گنے چنے آدمی ایسے باقی رہ گئے ہیں، ان میں سے بھی ایک شخص کا اپنے اوپر ملازمت کی پابندی عائد کرلینا اور وہ بھی ڈیڑھ دو سوروپے کی آمدنی کے لئے کیونکر جائز ہو سکتا ہے۔ اگر میں اس کو جائز سمجھ لوں تو مجھے لاہور جانے کی کیا ضرورت ہے! جامعہ عثمانیہ میں چار سوروپے کی جگہ مجھے اس وقت مل رہی ہے، اس کو کیوں نہ قبول کر لوں؟ میں جس غرض کے لیے لاہور کا رخ کرنا چاہتا ہوں، وہ صرف یہ ہے کہ میرے نزدیک اسلامی ہند کا فیصلہ (جو اب قریب ہی آ گیا ہے) شمال کے تینوں صوبوں کی طاقت پر منحصر ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس ’’دارالاسلام‘‘ کے قلب میں جا کر بیٹھوں اور دیکھوں کہ وہاں اسلام کی قوت کو بڑھانے اور اس سے کام لینے کی کون سے مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔ یہاں سے میں کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔ وہاں پہنچ کر مواقع تلاش کروں گا اور جو موقع بھی مجھ کو ملے گا، اس سے فائدہ اٹھاؤں گا۔ میں اس قسم کے استفادہ کے لیے اپنے دل و دماغ اور دست و پا کو بالکل آزاد رکھنا چاہتا ہوں اور کسی قیمت پر بھی ایسی کوئی پابندی قبول نہیں کر سکتا جو دین و ملت کی خدمت کے کسی موقع سے فائدہ اٹھانے میں مانع ہو۔
امید ہے کہ آپ میرے نقطہ نظر کو اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے۔ میں نے جن مشکلات کا اپنے پچھلے خط میں ذکر کیا تھا، ان کی تفصیل یہ ہے کہ ترجمان القرآن کا ماہوار خرچ تقریبا تین سو روپے ہے۔ پبلک میں اتنے خریدار نہیں کہ رسالہ کے مصارف ان کے چندہ سے چلائے جاسکیں۔ نظام گورنمنٹ ۲۷۵ پرچے خریدتی ہے۔ اسی کی بدولت یہ چل رہا ہے۔ اگر میں لاہور منتقل ہو جاؤں تو اغلب ہے کہ نظام گورنمنٹ کی خریداری بند ہو جائے گی۔ اس صورت میں مجھ پر اپنے ذاتی مصارف کے ساتھ پرچے کے مالی نقصان کا بار بھی پڑ جائے گا اور اس کو سنبھالنا میرے لیے تقریباً محال ہو گا۔ اس مشکل کا حل صرف یہ ہو سکتا ہے کہ پنجاب میںآپ حضرات اپنے ذرائع سے کام لے کر ترجمان القرآن کی توسیع اشاعت کے لیے کوشش فرمائیں۔ اگر مجھے یہ توقع ہو کہ پانچ سو تک خریدار ہو سکتے ہیں تو میں رسالے کی طرف سے مطمئن ہو جاؤں گا۔ میں رسالہ سے کچھ لینا نہیں چاہتا، مگر مجھ میں اتنی استطاعت بھی نہیں کہ اس کو کچھ دے سکوں۔
علامہ اقبال کے ساتھ ’’عمرانیاتِ اسلامی کی تشکیل جدید‘‘ میں حصہ لینا میرے لیے موجب سعادت ہے۔ میں ہر ممکن خدمت کے لیے حاضر ہوں۔ مگر اس سلسلے میں کسی مالی معاوضہ کی مجھے ضرورت نہیں۔
خاکسار ۔ ابوالاعلی‘‘
خط کی اصل کاپی سید نذیر نیازی کے کاغذات میں ہے۔
ضمیمہ نمبر ۲ : خط نمبر ۲، مولانا مودودیؒ بنام سید نذیر نیازیؒ
’’مورخہ ۲ جمادی الاخری ۵۶ھ
محترمی و مکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عنایت نامہ مورخہ ۲۔اگست وصول ہوا۔ جیسا کہ آپ نے تحریر فرمایا ہے، میں عزیمت اور توکل ہی سے کام لے کر ہجرت کروں گا۔ لاہور کو اپنا آئندہ مستقر بنانے کا فیصلہ کر چکا ہوں۔ محض چند عملی مشکلات ہیں جن کو حل کرنے کی تدبیر میں کچھ مدت صرف ہو گی۔ یہاں سے اپنا سامان منتقل کرنے اور اپنے مالی واجبات ادا کرنے کے لیے مجھے کافی روپے کی ضرورت ہے۔ ایک ہزار سے زیادہ کا قرض ترجمان القران پر ہے۔ اس کو ادا کرنا ہے۔ پھر اپنا سامان منتقل کرنے اور اپنے تجارتی کاروبار کو یہاں ختم کر کے لاہور میں از سر نو جاری کرنے کے لیے بھی تقریباً ایک ہزار روپے کی ضرورت ہے۔ اس غرض کے لیے میں اپنی زمین اور اپنا ناقابل انتقال اناث البیت فروخت کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ تین چار مہینہ میں یہ سب مراحل طے ہو جائیں گے۔ اس دوران میں ایک مرتبہ لاہور حاضر ہو کر دیکھ لوں گا کہ مجھے وہاں قیام کرنے کے لیے کیا بند و بست کرنا ہے۔ آئندہ رجب کے آخر میں سفر کا ارادہ ہے۔ چار پانچ روز دھلی ٹھہر کر غالباً ختم رجب یا آخر شعبان میں لاہور پہنچوں گا۔ اس موقع پر ان شاء اللہ یہ بھی طے ہو جائے گا کہ قادیانیت کے متعلق مجھے کیا لکھنا چاہیے۔ میں نے اب تک در حقیقت اس موضوع پر زیادہ مطالعہ بھی نہیں کیا ہے۔ جو کچھ معلومات حاصل ہوئی ہیں، ان کا ماخذ محض برنی صاحب کی کتاب ہے مگر کوئی تحقیقی چیز لکھنے کے لیے وہ کافی نہیں ہے۔ لاہور میں جو حضرات قادیانیت پر وسیع معلومات رکھتے ہوں، ان سے مشورہ کر کے مواد فراہم کر لوں گا۔
خاکسار۔ ابوالاعلیٰ‘‘
ضمیمہ نمبر ۳: خط سید نذیر نیازیؒ بنام مولانا مودودیؒ
’’۱۸۔اپریل ۳۸ء
مکرمی۔ السلام علیکم۔
امید ہے آپ بفضلہ تعالی خیر و عافیت سے ہوں گے۔ کچھ دن ہوئے سید محمد شاہ صاحب سے معلوم ہوا تھا کہ آپ جمال پور تشریف لے آئے ہیں اور عنقریب لاہور بھی آئیں گے۔ اس وقت سے برابر آپ کا انتظار ہے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ اگر آپ کا ارادہ فی الواقعہ لاہور آنے کا ہے تو جلدی تشریف لائیے تاکہ ملاقات ہو جائے۔ اپنی طرف سے یہ گزارش ہے کہ ڈاکٹر صاحب قبلہ کی حالت نہایت اندیش ناک ہے۔ ایک لمحے کا بھی بھروسہ نہیں مگر اس بات کو صرف اپنی ذات تک محدود رکھیے گا۔ کسی سے ذکر نہ کیجیے گا۔ لہٰذا بہتر یہی ہو گا کہ آپ جس قدر ہو سکے، جلدی تشریف لے آئیں۔ ڈاکٹر صاحب کی صحت کے لیے دعا فرمائیے۔
آپ کا مخلص۔ نیازی‘‘
ضمیمہ نمبر ۴: پروجیکٹ دارالاسلام، شائع کردہ غلام احمد پرویز
بورڈ آف ٹرسٹیز
(۱) میاں نظام الدین صاحب رئیس اعظم لاہور
(۲) خاں صاحب شیخ محمد نصیب ، بیرسٹر گوداسپور
(۳) خاں صاحب چوہدری نیاز علی خاں جمال پور
(۴) خاں صاحب چوہدری رحمت علی صاحب ڈپٹی کلکٹر انہار
(۵) خاں بہادر مولوی فتح الدین صاحب ایم بی ای، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت
(۶) مولانا محمد اسد صاحب (لیو پولڈ۔ نومسلم)
(۷) مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، مدیر ترجمان القرآن
ٹرسٹ کے خارجی انتظامات میں عمارات، باغ، مزروعہ اراضی موجود ہے۔ سکونتی مکانات میں کئی متاہل حضرات کی رہائش کی جگہ ہے۔ یہ کوارٹرز نہایت عمدہ تیار ہوئے ہیں۔ دارالاقامہ میں کم و بیش پچیس طلبہ کی رہائش کا سامان موجود ہے۔ دارالمطالعہ ایک وسیع ہال کی شکل میں ہے۔ لائبریری بھی ابتدائی ضرورت کے لیے کافی ہے۔ تجویز یہ ہے کہ ایک یا دو ایسے ’’مرد مسلمان‘‘ یہاں مستقل طور پر قیام پذیر ہوں جو قلب و دماغ اور علم و عمل کے اعتبار سے صحیح معنوں میں مسلمان ہوں۔ ایک طرف مشرقی اور مغربی علوم میں ماہر ہوں اور دوسری طرف ان کی عملی زندگی ایک مرد مجاہد کی زندگی ہو۔ وہ دارالاسلام ان کی ضروریات کا کفیل ہو گا۔
(۱) اس کے بعد ایسے طلبہ کو یہاں رہنے کے کیے منتخب کیا جائے جو یا توانگریزی تعلیم میں بہرہ وافر رکھتے ہوں (مثلاً گریجوایٹ ہوں) اور یا دینی مدارس مثل دیو بند وغیرہ کے فارغ التحصیل ہوں۔ ان طلبہ کو جانچ لیا جائے کہ وہ ذکاوت و ذہانت سنجیدگی و متانت اور حسن اخلاق کے اعتبار سے اس قابل ہیں کہ انہیں دارالاسلام میں رکھا جائے۔ عربی دان طلبہ علوم مغرب کا سبق پڑھیں۔ انگریزی خواں طلبہ مشرقی علوم کی تحصیل کریں اور اس کے ساتھ دونوں گروہ ،ایک یا ایک سے زیادہ معلم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کے خالص دینِ فطرت کا درس لیں اور دورِ حاضر کے انقلابات سے روشناس ہوں۔ اندازہ ہے کہ اس میں کم و بیش دو تین برس کا عرصہ صرف ہو گا۔ اس دوران طلبا کے خورد و نوش کی کفالت بھی دارالاسلام کے ذمہ ہو گی۔
(۲) دینی علوم کے ساتھ ساتھ دارالاسلام میں دیال باغ آگرہ کے نمونہ پر ایک صنعتی ادارہ کھول دیا جائے جس میں مختلف دستکاریوں کی تعلیم کا انتظام ہو تاکہ جب یہ طالب علم دارالاسلام سے مبلغ بن کر نکلیں تو دنیا میں آزادی سے رزقِ حلال کما سکیں۔ ان کا مقصد زندگی تبلیغ ہو گا۔ ایسی تبلیغ نہیں جو آج کل کے پیشہ ور مبلغین کے ذریعے ننگ اسلام بن رہی ہے بلکہ اس قسم کی تبلیغ جس کی درخشندہ مثالیں ہمیں عہد صحابہ میں ملتی ہیں۔ دارالاسلام سے نکل کر یہ طالب علم مختلف مقامات پر اسلامی مراکز قائم کریں گے اور قوم میں صحیح اسلامی اجتماعیت اور مرکزیت کی روح پھونکیں۔ شروع شروع میں جامع مسجد اور بعد میں عام مساجد کے ائمہ بھی اسی زمرہ سے مقرر کیے جائیں گے۔ یہ طالب علم جہاں بھی رہیں، اپنا تعلق مستقل طور پر مرکز دارالاسلام سے وابستہ رکھیں گے۔
(۳) موسم گرما میں کالجوں میں تعطیلات ہوتی ہیں۔ اس زمانہ میں طالب علم بالعموم پر سکون مقامات کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ دارالاسلام دامن کوہسار (سلسلہ ہمالیہ) میں ایک بہت بڑی نہر کے کنارے واقع ہے۔ شور و شغب سے دور پر فضا ماحول اور اس کے ساتھ ہی عہد حاضرہ کی سہولتوں مثلاً ریل، موٹر، بجلی اور ڈاکخانہ سے بہرہ یاب، بشرطیکہ وہ احکام شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس دوران میں یہ بھی انتظام کیا جائے کہ دارالاسلام میں مختلف اکابر ملت کے لیکچروں کاسلسلہ شروع ہو اور یوں دو تین ماہ کے عرصہ میں متعدد لیکیچر مختلف اسلامی موضوعات پر ہو جایا کریں۔ ان خطبات کے لیے ہندوستان اوربیرون ہند سے ممتاز زعمائے امت کو دعوت دی جائے۔
(۴) جو طلبہ مستقل دارالاسلام میں قیام پذیر ہوں انہیں تحریر و تقریر کی بھی مشق کرائی جائے۔ دوران طالب علمی میں ان سے مختلف مضامین لکھائے جائیں اور مختلف تقاریب پر اجتماعات منعقد کر کے ان سے تقاریر کرائی جائیں۔
یہ مختصراً دارالاسلام کے مقاصد کا خاکہاگر اس میں اللہ تعالی کے فضل وکرم سے کامیابی ہو جائے تو پھر یہ چیز بھی پیش نظر ہے کہ اس میں پانچ سال کے بچوں کو داخل کیا جائے اور اخیر تک ان کی تعلیم و تربیت اسی اسلامی ماحول میں ہو۔ اس خاکہ کو عملی نظام بنانے کے لیے ہم ہندوستان کے تمام دردمند مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حسب ذیل طریقوں سے ہماری معاونت فرمائیں۔
(۱)سکیم میں جہاں جہاں ترمیم و تنسیخ کی ضرورت محسوس کریں، اس سے ہمیں مطلع فرمائیں۔
(۲) اگرآپ اس اسکیم کے اصول سے متفق ہوں تو پھر فرمائیے کہ آپ کس حد تک اس میں عملاً شریک ہو سکتے ہیں۔ کم سے کم ادارہ کی رکنیت یا معاونت قبول فرمائیں جس کا چندہ سالانہ صرف دو روپیہ اور پانچ روپیہ علی الترتیب ہوگا۔
(۳) جن صفات کے معلمین کا ذکر کیا جا چکا ہے، ان کی تلاش میں ہماری رہنمائی فرمائیے یعنی اگر آپ کی نگاہ میں ایسے حضرات موجود ہوں تو ہمیں ان سے مطلع فرمایا جائے اور انہیں اس سکیم سے متعارف کرایاجائے۔ ہم چاہتے تو یہ ہیں کہ کوئی ایک ہستی ایسی مل جائے جو ان تمام صفات کی جامع ہو (یعنی بیک وقت مشرق و مغرب کے علوم پردستگاہ رکھے اور اس کی زندگی عملی لحاظ سے صحیح اسلامی زندگی ہو) لیکن اگر دونوں علوم ایک جگہ نہ مل سکیں تو پھر مجبوراً دو حضرات کا انتخاب کر لیا جائے۔
(۴) جو طالب علم میں قیام پذیرہونا چاہیں، وہ اپنے ارادے سے ہمیں مطلع کریں۔
(۵) ابتدائی اخراجات کے لیے عطیات اور مستقل خرچ کے لیے مستقل امداد فرمائیں۔ واضح رہے کہ دارالاسلام چونکہ باقاعدہ رجسٹری شدہ ہے، اس لیے اس کاحساب کتاب باقاعدہ رکھا جاتا ہے نیز ٹرسٹیوں کی فہرست سے آپ اندازہ فرما لیا ہو گا کہ یہ حضرات ہیں جن کی دیانت بفضلہ ہر قسم کے شبہ سے بالا تر ہے۔
(۶) دارالاسلام کے صنعتی شعبے میںآپ کیا اور کس قسم کی مدد کرسکتے ہیں؟ نیز آپ کے پیش نظر اس کی بابت کیاعملی تجاویز ہیں۔
(حیات سدید صفحہ نمبر ۱۵۹، ۱۶۰ بحوالہ طلوع اسلام اگست ۱۹۳۹ء )
جامع مسجد نور کی تاسیس کا پس منظر
الحاج ظفر علی ڈار
روزنامہ اسلام کے ایک ذیلی رسالہ ’’بچوں کا اسلام‘‘ کے شمارہ نمبر ۴۹۵، مورخہ ۱۸؍ دسمبر ۲۰۱۱ء میں محمد معاذ نامی ایک صاحب کا مراسلہ بعنوان چھپڑ والی مسجد شائع ہوا ہے۔ مراسلہ نگار نے اپنی غلط اور گمراہ کن معلومات کی بنیاد پر، جو اس نے اپنے والد مسمی سیف الرحمن قاسم سے شنید کی ہیں، اس مسجد کی تاسیس کا سہرا اپنے پردادا کے سر باندھا ہے۔ چونکہ معاذ صاحب کی یہ تحریر بڑی غلط فہمیوں کو جنم دینے کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے راقم الحروف نے اس مسجد کی تاسیس کے بارے میں درست حقائق کو معرض تحریر میں لانا ضروری سمجھا تاکہ تاریخ کا ریکارڈ درست رہے۔
اس مسجد کی تعمیر کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ اس مسجد کے جنوب میں سڑک کی دوسری جانب دو مساجد موجود تھیں جن میں سے ایک مسجد میں مولانا عبد القیوم ہزاروی صاحب امام وخطیب تھے اور دوسری، دائرے والی مسجد میں مولانا محمد یوسف ہزاروی امام تھے۔ اس زمانے میں یہ سارا علاقہ بریلوی حضرات کی اکثریت سے آباد تھا۔ یہ دونوں حضرات یعنی مولانا عبد القیوم صاحب اور مولانا محمد یوسف صاحب، مفتی عبد الواحد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آئے اور اس علاقے میں مولانا غلام اللہ خان رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر کرانے کی اجازت مانگی۔ مفتی صاحب مرحوم نے ان دونوں حضرات کو ہدایت کی کہ یہ علاقہ ابھی مولانا غلام اللہ صاحب کی تقریر کا متحمل نہیں ہے، اس لیے ابھی وہ لوگوں کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کریں، چنانچہ مفتی صاحب نے ان کو انکار کر دیا۔
بدقسمتی سے دوسرے سال انھوں نے مفتی صاحب مرحوم سے رابطہ کیے بغیر ہی مولانا غلام اللہ خان صاحب کی تقریر کا پروگرام بنا لیا۔ مولانا غلام اللہ کی تقریر ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ بریلوی حضرات نے ان ہر دو علما کا سامان مسجد سے نکال کر باہر پھینک دیا۔ یہ دونوں حضرات رات ہی کو مفتی عبد الواحد صاحب مرحوم کے پاس آئے اور ساری روداد سنائی۔ مفتی صاحب نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ان کو بہت ملامت کی کہ انھوں نے بلاوجہ ان مساجد کو ضائع کر دیا۔ بہرحال جس جگہ پر اب مسجد نور آباد ہے، یہاں ایک بہت بڑا چھپڑ تھا جو کہ میونسپل کمیٹی کے زیر انتظام وانصرام تھا۔ مفتی صاحب مرحوم نے وہ ساری رات کرب کے ساتھ گزاری۔ صبح کی نماز کے بعد مفتی صاحب مرحوم نے راقم الحروف کو اس اندوہ ناک صورت حال سے آگاہ کیا اور فیصلہ کیا کہ اگر ہمیں میونسپل کمیٹی سے اس چھپڑ میں مٹی ڈال کر مسجد کی تعمیر کی اجازت مل جائے تو ہماری اس محرومی کا مداوا ہو جائے گا۔
مفتی صاحب نے شیخ عاشق حسین صاحب کو، جو اس وقت میونسپل کمشنر تھے، بلایا اور اپنے ارادہ کا اظہار کیا اور ان سے حکماً کہا کہ وہ کل تک میونسپل کمیٹی سے اس مسجد کی تعمیر کا اجازت نامہ لے کر دیں۔ اللہ تعالیٰ شیخ عاشق حسین صاحب مرحوم ومغفور کو اپنی شان کے مطابق جزائے خیر عطا فرمائیں کہ انھوں نے اگلے دن ۱۲ بجے کے قریب اجازت نامہ حاصل کر کے مفتی صاحب کے سپرد کر دیا۔ اس دن مفتی صاحب اپنے گاؤں پنڈی گھیب جا رہے تھے۔ وہاں سے واپسی پر انھوں نے حاجی علم دین صاحب اور دوسرے ہم نوا حضرات کو ترغیب دی کہ وہ اس چھپڑ میں ایک طرف مٹی دلوا دیں۔ چنانچہ انھوں نے مفتی صاحب کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مٹی ڈلوانے کاکام شروع کر دیا اور تھوڑے ہی دنوں میں مسجد تعمیر کر دی۔ صوفی عبد الحمید صاحب علیہ الرحمۃ اس زمانے میں نوشہرہ روڈ پر طبابت کی دکان کرتے تھے۔ کافی بعد میں مفتی صاحب کے ایما پر ہی صوفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ یہاں تشریف لے آئے۔
اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ بجز مفتی صاحب مرحوم کے اس جگہ پر مسجد تعمیر کرنا کسی کے تصور میں بھی نہیں تھا۔ یہ امر واقعہ ہے کہ مفتی صاحب کی اس رات کی بے چینی اور کرب وغم اور بارگاہ الٰہی میں گریہ وزاری اللہ رب العزت کو پسند آ گئی اور مولانا عبد القیوم صاحب اور مولانا محمد یوسف سے لوگوں نے جو بدسلوکی کی تھی، اس کے بدلے میں اتنی عظیم الشان مسجد اور ادارہ کو اللہ نے وجود بخشا۔ یقینی طور پر یہ مفتی عبدالواحد صاحب کے اعمال صالحہ میں سے ایک بہت بڑا عمل بطور صدقہ جاریہ وجود پذیر ہوا۔ اللہ کی بارگاہ صمدیت میں التجا ہے کہ وہ اس مسجد اور ادارہ کو لحظہ بہ لحظہ ترقی عطا فرمائے۔
علمی و اجتہادی مسائل میں رائے کا اختیار
حافظ زاہد حسین رشیدی
ماہنامہ ’الشریعہ‘ نے جہاں کچھ عرصہ سے دینی جرائد میں مقبولیت حاصل کی ہے، وہیں اس کے علمی واجتہادی مسائل میں مباحثے نے بیسیوں Side Effects اثرات کے خدشات کو جنم دیا ہے جن کا اظہار بعض مقتدر شخصیات کرتی رہتی ہیں اور ’الشریعہ‘ کے صفحات پر ان کو جگہ دی جاتی ہے۔
ہماری ناقص رائے میں علمی مباحثے کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے ضروری سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اہم اور نازک ترین مسائل میں اپنی رائے پیش کرنے کا اختیار کسے حاصل ہے؟ ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر ہمارے مخدوم بزرگ حضرت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ رائے دینے کی اہلیت اور نااہلیت کے حوالے سے کسی اصول وضوابط اور معیاریت کو نظر انداز کرتے ہوئے ہر شخص کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ اپنی رائے قائم کرے اور اس کا اظہار کرے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ:
’’جہاں تک علمی اور اجتہادی مسائل پر کھلے مباحثے کے بارے میں ہمارے طرز عمل پر آپ کے تحفظات ہیں، میں اسے آپ کا حق سمجھتا ہوں مگر عمومی مباحثے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ہر شخص کو رائے کا حق حاصل ہو۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا آیا ہے کہ کسی مسئلے پر کسی کو رائے دینے سے نہیں روکا گیا۔‘‘ (ماہنامہ الشریعہ، نومبر ۲۰۱۱ء، ص ۵۲)
علمی واجتہادی مسائل پر کھلے مباحثے میں ہر عام وخاص کو رائے پیش کرنے کا حق دینا امت میں خیر القرون سے مجتہد ومقلد کی تقسیم کو منہدم کرنے کے مترادف ہے۔ جب ہر شخص صاحب الرائے ہے تو ہر شخص صاحب علم اور اپنے اجتہاد میں آزاد ہوگا۔ کیا ہمارے مخدوم بزرگ کی یہ وسعت ظرفی غیر مقلد دوستوں کے لیے کارآمد ثابت نہ ہوگی جنھیں ہم حسب ذیل آیات سنا کر ہر وناکس کے ہاتھ میں تحقیق کی غرض سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ باور کراتے ہیں کہ اہل علم کا فریضہ راہ دکھانا اور علم وفن سے ناآشنا لوگوں کا کام ان کی پیروی کرنا ہے؟
(۱) فَاسْأَلُواْ أَہْلَ الذِّکْرِ إِن کُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ (سورۃ الانبیاء، آیت ۷)
’’سو پوچھ لو یاد رکھنے والوں سے اگر تم نہیں جانتے ہو۔‘‘ (ترجمہ حضرت شیخ الہند)
مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے تفسیر قرطبی کے حوالے سے لکھا ہے ’’اس آیت سے معلوم ہوا کہ جاہل آدمی جس کو احکام شریعت معلوم نہ ہوں، اس پر عالم کی تقلید واجب ہے کہ عالم سے دریافت کر کے اس کے مطابق عمل کرے۔‘‘ (معارف القرآن، جلد ۶، ص ۱۷۱)
(۲) وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِیَنفِرُواْ کَآفَّۃً فَلَوْلاَ نَفَرَ مِن کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُواْ فِیْ الدِّیْنِ وَلِیُنذِرُواْ قَوْمَہُمْ إِذَا رَجَعُواْ إِلَیْْہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُونَ (سورۃ التوبۃ، آیت ۱۲۲)
’’اور ایسے تو نہیں مسلمان کہ کوچ کریں سارے، سو کیوں نہ نکلا ہر فرقہ میں ان کا ایک حصہ تاکہ سمجھ پیدا کریں دین میں اور تاکہ خبر پہنچائیں اپنی قوم کو جب کہ لوٹ کر آئیں ان کی طرف تاکہ وہ بچتے رہیں۔‘‘ (ترجمہ حضرت شیخ الہند)
حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ آیت مذکورہ کے حوالے سے حسب ذیل نکات بیان کرتے ہیں:
’’الف) سب لوگ طلب علم کے لیے اپنے گھروں سے نہ نکل جائیں، بلکہ تھوڑے سے جایا کریں اور وہ علم حاصل کر کے قوم کو فائدہ پہنچائیں یعنی ان کو تعلیم دیں اور ان کو وعظ وتلقین کریں۔
ب) جاننا چاہیے کہ فقاہت فی الدین کا درجہ مطلق علم سے بالاتر ہے۔ علم کے معانی جاننے کے ہیں اور فقاہت کے معنی لغت میں سمجھ اور فہم کے ہیں۔ فقیہ لغت اور شریعت کے اعتبار سے اس شخص کو کہتے ہیں جو شریعت کے حقائق اور دقائق کو اور اس کے ظہر اور بطن کو سمجھتا ہے۔ محض الفاظ یاد کر لینے کا نام فقاہت نہیں۔
ث) اطاعت کا دار ومدار معانی پر ہے۔ محض الفاظ یاد کر لینے سے فریضہ اطاعت ادا نہیں ہو سکتا۔ اصل عالم وہ ہے جو شریعت کے معانی اورمقاصد کو سمجھتا ہو، کما قال تعالیٰ: وَتِلْکَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونَ (سورۃ الحشر، آیت ۲۱)
ج) بہرحال اس آیت سے طلب علم دین اور تفقہ فی الدین کی کمال فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عالموں پر بے علموں کو عذاب الٰہی سے ڈرانا فرض ہے اور بے علموں پر عالموں کی تقلید فرض ہے۔ ناقص پر کامل کی تقلید عقلاً فرض ہے۔ جو شخص درجہ اجتہاد کو نہ پہنچا ہو، اس پر کسی مجتہد کامل کی تقلید فرض ہے۔‘‘ (معارف القرآن، جلد ۳، ص ۴۲۴)
مذکورہ بالا آیات او ر ان کی تشریح میں حضرات اکابر کے ارشادات پر گہری نظر ڈالیے، کیا ا س کے بعد بھی ہمارے قابل قدر اور صاحب نظر بزرگ کے اس توسع اور رائے دینے کے حوالے سے اذن عام کی گنجائش نکلتی ہے؟ ہمارے بزرگ کا یہ کہنا کہ ’’عمومی مباحثے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ہر شخص کو رائے کا حق حاصل ہو‘‘ کس قدر سنگین اثرات کا باعث اور سلف بیزار طبقے کے لیے کتنا سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ کاش کہ حضرت علامہ مدظلہ اس پہلو پر بھی توجہ فرمائیں۔
اجتہادی مسائل میں رائے دینے کے لیے شرائط
ہر فن کی طرح فن اجتہاد بھی اصول وضوابط رکھتا ہے۔ ماہرین فن نے اجتہاد کے لیے متعدد شرائط بیان کی ہیں۔ چند ایک حضرت علامہ ڈاکٹر خالدمحمود صاحب مدظلہ نے بھی نقل کی ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:
’’اجتہاد کرنے کا حق ہر کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔ اہل اجتہاد وہی ہیں جن میں اجتہاد کی یہ شرائط موجود ہوں:
۱) عربی زبان کا پورا علم ہونا۔
۲) قرآن وحدیث کا پورا علم ہونا۔
۳) آیات احکام اور احادیث احکام پر خصوصی نظر ہونا۔
۴) پہلے جو اجتہاد (مثلاً خلفاے راشدین ودیگر فقہاء صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین) ہو چکے ہیں، ان پر نظر ہونا۔
۵) اجتہاد کے اصول وضوابط کا پورا علم ہونا۔‘‘ (آثار التشریع جلد ۲، ص ۱۲۱)
کیا ہر شخص کو ان شرائط کا حامل قرار دیا جا سکتا ہے؟ نہیں اور یقیناًنہیں تو پھر رائے کی آزادی چہ معنی دارد؟
پورا وثوق ہے کہ ہم زیر نظر سطور سے حضرت مخدوم مدظلہ کے علم ودانش میں رتی بھر اضافہ کر رہے ہیں نہ کسی طور انھیں اپنی رائے بدلنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ یقیناًہماری گزارشات کی دھول وہ چٹکیوں میں اڑا سکتے ہیں اور اپنے طرز عمل کی بیسیوں حکمتیں بیان کر سکتے ہیں۔ باوجود اس کے، لکھنے کا حوصلہ اور یہ قلم درازی کی خطا اس لیے سرزد ہوئی کہ وہ بھی تو بس یہی چاہتے ہیں کہ حجابات دور ہوں اور جمود ٹوٹے۔ آزادئ اظہار رائے کے حوالے سے ذہن کی سکرین پر چند ایک سوال نمودار ہو رہے ہیں۔ انھی پر طوطی کی آواز کو بند کیا جاتا ہے، اس خواہش کے ساتھ کہ نقار خانے میں اسے چندلمحوں کے لیے سنا جائے۔
۱) کیا ہر شخص صاحب الرائے ہے؟
۲) کیا رائے اور اجتہاد کے لیے کہیں کوئی معیار ، اصول وضوابط ذکر نہیں؟
۳) کیا رائے کی آزادی امت کی وحدت اور جوڑ کا باعث بنے گی یا مزید انتشار وافتراق کا؟
۴) کیا بزرگان دین پر اعتماد اور مسلک حق پر تصلب جیسی روایات اس رائے کی آزادی سے دم توڑ نہیں جائیں گی؟
۵) کیا آج کے نووارد علما اپنے اکابر کے موقف واجتہادات کے حوالے سے تذبذب کا شکار نہ ہوں گے۔
۶) مختلف آرا کے بعد فیصلہ کن رائے یعنی مفتیٰ بہ قول بھی تو ضروری ہے، کیونکہ آرا سے مقصود حق تک پہنچنا ہے نہ کہ علمی ابحاث کو ذہنی آسودگی کا باعث بنانا۔ کیا ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں مختلف آرا کے بعد فیصلہ کن رائے بھی بیان کی جاتی ہے؟ اور اس کے لیے کسی اتھارٹی کا تعین کیا گیا ہے؟
(بشکریہ ماہنامہ ’فقاہت‘ لاہور)
مکاتیب
ادارہ
(ا)
محترمی جناب محمد عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم
آپ کا مقالہ ’’خروج‘‘ مجھے سہیل عمر صاحب ڈائریکٹر اقبال ایکاڈیمی نے بھیجا ہے جو میں نے بڑے شوق سے پڑھا۔ جب آپ نے اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار یونیورسٹی آف گجرات کے منعقدہ سیمینار پر کیا تھا تو میں موجود نہ تھا۔ اسی طرح میں نے بھی وہاں لکچر ’’وہ کام جو اقبال ادھورے چھوڑ گئے‘‘ کے موضوع پر دیا تھا جو اب ایک مقالے کی صورت میں تحریر کر دیا گیا ہے۔ شاید سہیل عمر صاحب اس کا پرنٹ آپ کو ارسال کریں۔ مناسب سمجھیں تو ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں شائع کر سکتے ہیں۔ ’الشریعہ‘ مجھے باقاعدہ ملتا ہے۔ ’’توہین رسالت‘‘ کے موضوع پر آپ کے جرات مندانہ خیالات قابل تعریف ہی نہیں، فقہی اصول کے عین مطابق ہیں۔
خصوصی طو رپر تصنیف وتالیف کے بعض ایسے کام جو حضرت علامہ نہ کر سکے، میں سمجھتا ہوں، ان کی وفات کے بعد، کر سکنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ مثلاً وہ ’’اجتہاد کی تاریخ وارتقا‘‘ کے موضوع پر کتاب لکھنا چاہتے تھے۔ ’’فلاحی ریاست کے قرآنی تصور‘‘ کی بنیاد پر بعد میں وجود میں آنے والے پاکستان میں ’’سوشل ڈیما کریسی‘‘ قائم کرنے کا خواب دیکھتے تھے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ حضرت علامہ کے ایسے ارادوں کی تشہیر سے تخلیقی سوچ رکھنے والے اہل علم کو دعوت دی جائے کہ ان کی تکمیل کے ذریعے مسلمانوں کی تہذیبی احیاء کے عمل کو جاری رکھیں؟
خیر اندیش
(جسٹس (ر) ڈاکٹر) جاوید اقبال
(۲)
محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الشریعہ کے دسمبر 2011 کے شمار ے میں ’’ الشریعہ‘‘ کی پالیسی پر ایک دفعہ پھر آپ کی تحریر سامنے آئی ۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، اپنی اس پالیسی کو آپ نے بتکرار بیان کیا ہے ۔ چند سال قبل میری نظر آپ کے رسالے پرپڑی تو اسی پالیسی نے مجھے ’’الشریعہ‘‘ کا خریدار بنا دیا ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ مجھے باقی تمام رسائل و جرائد سے بڑھ کر ’’الشریعہ‘‘ کا انتظار رہتا ہے ۔ میں نے جماعتِ اسلامی آزاد کشمیر کے زعما کے نام یہ رسالہ جاری کروا دیا اور ہم سب کی یہ رائے ہے کہ تمام علمی رسائل میں اس کا پلڑا سب پر بھاری نظر آتا ہے۔
میری نظر سے ’’البرہان ‘‘ بھی گزرتا رہتا ہے ۔ مجھے یقیناًیہ حق نہیں پہنچتا کہ ’’البرہان ‘‘ کے متعلق آپ کے رسالے میں کچھ لکھوں، تاہم اتنا عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ زیر نظر بحث مضمون میں مجھے آپ کے ارشادات سے سو فیصد اتفاق ہے۔ جناب جاوید احمد غامدی صاحب ہوں یا کوئی اور صاحب، ان کے خیالات سے اتفاق بھی کیا جاسکتاہے اور اختلاف بھی، مگر ہمیں کوئی حق نہیں کہ لوگوں کے ایمان کا فیصلہ کرتے پھریں۔
آپ ’’الشریعہ ‘‘ کی موجودہ پالیسی کو جاری رکھیے تاہم احتیاط کے ساتھ! کلمہ حق کی آخری دو سطور میں مذکور آپ کے ارادے سے مکمل اتفاق ہے، تاہم اسلوب مختلف ہوتا تو آپ کی شخصیت اور عمومی طرزِ تخاطب کے مطابق ہوتا ۔
محمد انور عباسی ۔ اسلام آباد
anwarabbasi@hotmail.com
(۳)
محترم و مکرم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘
اللہ کی ذات سے امید کرتا ہوں کہ آپ، بھائی عمار ناصر صاحب اور جملہ متعلقینِ الشریعہ بخیر و عافیت ہوں گے۔
بحمداللہ مجھے یہاں اپنا دینی یا دنیوی تعارف کرانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن تحدیث بالنعمہ کے طور پر دینی تعارف کی صرف اِس جہت کو ذکر کرنا چاہوں گا کہ ایک بار ایک تبلیغی سفر میں مولانا محمد سرفراز خاں صفدر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور تین دن درسِ حدیث میں شرکت کی اور حضرت سے سندِ حدیث عطا ہوئی۔ میرے ساتھ جماعت میں نکلے ہوئے کئی علماءِ کرام کو بھی یہ نعمت ارزاں ہوئی۔ یہ میرے لیے رہتی دنیا تک سامانِ فخر اور نجاتِ اخروی کا ایک ظاہری سبب ہے۔ حضرت نے بوقت رخصت مجھے سینے سے لگاکر بھینچا تھا جس کی گرمی کا احساس آج بھی اپنے اندر پاتا ہوں اور اِس گرمی کو نجات کے باطنی اسباب میں سے ایک جانتا ہوں۔
بھائی عمار ناصر صاحب کی مجھ ناکارہ سے محبت کے پیچھے کچھ ایسے ہی معاملات ہیں۔ اُنھوں نے ایک بار میرے پاس لاہور تشریف لاکر مجھے عزت بخشی تھی۔ تب سے میں حیرت ناک طور پر اُن کی تربیت میں بھی موقع موقع پر ایسی باتیں دیکھتا ہوں جیسی مجھے میرے والد پروفیسر عابد صدیق صاحب رحمۃ اللہ علیہ میں اولاد کی تربیت کے حوالے سے ملی ہیں۔ میرے والد صاحب نے مجھے کبھی ڈاڑھی رکھنے تک کا نہیں کہا اور نہ کسی جماعت (مثال کے طور پر کہہ لیجیے کہ تبلیغی جماعت) کے لیے کام کرنے کو کہا۔ بس ماحول کچھ ایسا بنادیا کہ ایک طرف تو اللہ کا نام لینے والے سب لوگوں کے لیے محبت اور اکرام دل میں جاگزیں کرنے کی سعی کی اور دوسری طرف ایسے علما کی خدمت میں لے جایا کیے کہ ایک واضح دینی رخ بنتا چلا گیا۔ اللہ والوں میں اٹھنا بیٹھنا اُن کے ہاں کچھ ایسے وفور سے تھا کہ حیرت ہوتی ہے۔ مثلاً یہی کہ میں لاہور میں پیدا ہوا اور میرے کان میں اذان مولانا خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے دلوائی۔ زکریا یونیورسٹی میں ایم ایس سی کمپیوٹر سائنس کے زمانے میں ایک بار میں نے اباجان کے سامنے قاضی حسین احمد صاحب کے بارے میں کچھ ہلکی باتیں کیں (وجہ؟ اُن دنوں اسلامی فرنٹ اور ’’ظالمو! قاضی آرہا ہے‘‘ کا نعرہ بہت لگ رہا تھا) تو اباجان نے نہایت تحمل سے میری لترو سن کر ٹھنڈا سانس بھرا اور امی جان سے کہا کہ چائے بنائیں، مجھے صفوان سے علیحدگی میں کچھ باتیں کرنی ہیں۔ اُنھوں نے میری ایک لمبی کلاس لی جس میں یہ بات بھی فرمائی کہ اللہ کا نام لینے والے ہر ایک کی قدر کیا کرو۔ تم دیکھو گے کہ کچھ عرصے کے بعد اللہ کا محض نام لینے والے لوگ بھی عام نہیں ملیں گے۔ یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم غیر مسلموں کو مسلمان کیا کرتے تھے اور ہمارے اکثر لوگ مسلمانوں کو غیر مسلم بنانے کا کام کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ تم نے قاضی صاحب کی غیبت کی ہے۔ اُنھیں خط لکھ کر معافی مانگو، اور مجھ کھڑکتے ہوئے راجپوت سے اُنھوں نے یہ کرواکے چھوڑا۔
یہ ذکر کرتا چلوں کہ اُن کی غیرتِ دینی کا عالم یہ تھا کہ میری والدہ کے سگے ماموؤں سے، جو لاہور کے مالدار ترین اور نامی گرامی قادیانی ہیں، نہ تو ہم کبھی ملے ہیں اور نہ اُنھیں ہمارے ہاں آنے کی اجازت تھی۔ اُن سے یہ مقاطعہ اباجان کی شادی (۲۳؍ مارچ ۱۹۶۷ء) کی بنیادی شرط تھا اور آج کوئی پینتالیس برس ہونے کو آئے ہیں، یہ مقاطعہ برقرار ہے، بلکہ اباجان کی وفات (۷؍ دسمبر ۲۰۰۰ء) کے گیارہ سال بعد بھی برقرار ہے۔ الغرض، اباجان نے انتہائی بیدار مغزی سے مجھے مختلف دینی نظاموں میں اترنے اور باقاعدہ عملی کام کرنے کے مواقع فراہم کیے تاکہ کوئی حسرت یا کوئی لاعلمی نہ رہ جائے، اور پھر رفتہ رفتہ میرے گرد ایسے لوگوں کا اکٹھ کردیا (بلکہ صاف تر الفاظ میں، مجھے ایسے لوگوں کے باقاعدہ ’’سپرد‘‘ کیا) جس طرف کا میرا اپنا رجحان بنا۔ اور بحمداللہ میں پوری طمانیتِ قلب اور فکری یکسوئی سے ایک طرف کو ہولیا، اِس بنیادی بات کے کامل استحضار کے ساتھ کہ جن لوگوں میں کفر کی ننانوے وجوہ بھی جمع ہوں اور محض ایک وجہ اسلام کی ہو، وہ بھی مسلمان ہیں اور یہ کہ مسلمانوں کو خوامخواہ کافر کافر کہہ کہہ کر دُر دُر کرنے کی بجائے اُن کی وجہِ انتشارِ فکر اور گم کردہ راہی کو دور کرنے کی پیہم کوشش میں لگے رہنا چاہیے۔ یہی تربیت ہے جس کی وجہ سے میں باطل کی تعریف اپنی خواہشِ نفس سے متعین نہیں کرتا، کہ بزعمِ خود کسی کو باطل قرار دے کر لٹھ لیے اُس کے پیچھے ہولوں اور اُسے اسلام کے دائرے سے باہر نکالنے تک چین سے نہ بیٹھوں۔ واللہ میں کسی کلمہ گو کو کافر نہیں سمجھتا اور اپنی تربیت کی وجہ سے مسلمانوں میں موجود کمیوں کا ذمہ دار دل کی انتہائی گہرائی سے اپنے آپ کو جانتا ہوں کہ اے کاش کبھی لگ کر محنت کی ہوتی تو مسلمان اسلام کی خیروں سے محروم کیوں ہوتے۔
بھائی عمار ناصر نے مجھے (یہاں سے آگے لفظ ’’مجھے‘‘ سے میرا پورا طبقہ مراد لیا جاسکتا ہے) ہر موقع پر نہایت محبت سے ڈیل کیا ہے۔ میرے سمیت بے شمار لوگ ہیں جو اُن سے اپنے تحفظات پورے طور پر بیان کرسکتے ہیں۔ یہ بات آپ کے علم میں ہے کہ مذہبی طبقہ کے لوگوں کی ایک مختصر جمعیت تو قوسِ لمن الملک الیوم بجاتے بجاتے اپنے علم و تقویٰ میں اِتنا آگے بڑھ گئی ہے کہ ہمارا اپناؤ (ہمیں own کرنا) یا ہماری علمی و فکری رہنمائی تو الگ رہی، مجھ جیسے عوام کو محض منہ کھولنے کا حق دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ جب ہماری سنی ہی نہ جائے گی تو ہمارا ذہن سامنے کیسے آئے گا؟ اور جب ہمیں کہنے کی اجازت نہیں ہے تو ہم پر فتویٰ کس بات کا؟ کیا فتویٰ اِسی کھڑپینچی اور لٹھ ماری کا نام ہے؟ کیا ہم پر (یا کسی پر) فتویٰ تھوپا جاسکتا ہے؟ ہم لوگوں پر امت مسلمہ کے بے انتہا وسائل خرچ ہوئے ہیں: وطن عزیز نے ہماری اعلیٰ ترین معیار کی عصری تعلیم کے لیے اپنے وسائل نچھاور کیے ہیں اور آپ جیسے علماءِ کرام اپنا سرمایۂ دعا و توجہ اور گریۂ نیم شبی ہم پر لٹاتے رہتے ہیں۔ ہم لوگ معمارانِ وطن کے اور آپ حضرات کے پروردگان ہیں۔ اور جو بندوں کے احسانات کا شکر ادا نہیں کرسکتا، وہ اللہ کا شکر بھی کیوں کر ادا کرتا ہوگا! ہم سمجھتے ہیں کہ آج کے زندہ مسائل کا حل مذہب کو بطورِ افیون یا بطورِ ڈانگ استعمال کرانا نہیں ہے بلکہ پورے نواحی مطالعے اور پوری تیاری کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر برابری کی بنیاد پر مکالمہ ہے۔ اور یہ مسلمانوں کا اجتماعی شعور اور جینئس ہی ہوگا جو اجماعِ امت کی راہ ہموار کرے گا۔ اب یہ بھائی عمار صاحب ہیں جن کے سامنے ہم خود کو بہت ایزی محسوس کرتے ہیں اور اِس راستے واسطے سے ہماری باتیں آپ حضرات کے سامنے آتی رہتی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ ہمارا محاورہ (Idiom) سمجھتے ہیں اور ہمیں اِسی کرنسی میں جواب دیتے ہیں۔ چنانچہ مکالمہ ہوتا ہے اور پورے زور و شور سے ہوتا ہے۔ الشریعہ میں ہونے والی علمی بحثوں پر ایک نظر ڈالیے تو معلوم ہوتا ہے کہ، ایک آدھ استثنا کے ساتھ، متانت اور سنجیدہ کلامی کی مقدار زیادہ رہی ہے۔ آپ لوگوں نے مسلمان کے مسلمان سے اختلاف کو اسلام کا اختلاف نہ سمجھا، نہ بنایا اور نہ بنانے دیا۔ واللہ اختلافِ امت کا رحمت ہونا مجھ جیسے کورے لوگوں کو بھی سمجھ میں آگیا۔ یہ الشریعہ کا کریڈٹ ہے۔
مذہبی بحث کا نتیجہ ہمیشہ شرمناک رہا ہے۔ (مثالیں کیا دوں کہ امت مسلمہ کی مذہبی بحثوں کی پوری تاریخ علی العموم اِنہی گندے کپڑوں کی لانڈری رہی ہے)۔ الشریعہ شاید مذہبی دنیا کا واحد فورم ہے جہاں بحث کے بعد بھی دل پھٹتے نہیں ہیں۔ ہمارے دل سے دعا نکلتی ہے اُس بندۂ خدا کے لیے جس نے وقت کی نبض کا بالکل درست مطالعہ کیا اور الشریعہ کی موجودہ پالیسی کی صورت میں درست تر علاج تجویز کیا۔ محمد اظہار الحق صاحب نے بالکل درست فرمایا ہے کہ اِس سب کا کریڈٹ صرف آپ کو جاتا ہے اور یہ آپ کی عین دور اندیشی اور ایک طرح سے مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ کی ’’آدمی تیار کرنے‘‘ کی پالیسی پر چلنا ہے کہ آپ نے بھائی عمار صاحب کو فرنٹ مین رکھا ہے۔ اگر آپ ہمیں اِس واسطے کی بجائے بلاواسطہ بات کرنے پر لائیں گے تو صاف عرض کرتا ہوں کہ ہم بہت سے ایسے حجابات کا شکار ہوجائیں گے جن میں امت مسلمہ کا تعلیم یافتہ نوجوان اور مقتدر طبقہ عام طور سے پہلے ہی لپٹا ہوا ہے۔ ہمارے لیے آپ سے (مراد طبقۂ علما سے) بلاواسطہ ملاقات کا مطمح نظر صرف حصولِ دعا و برکت ہوتا ہے نہ کہ گفتگو، اور بحمداللہ ہم خوش نصیب ہیں کہ بھائی عمار صاحب سے بلاتکلف گپ شپ کرلیتے ہیں۔ جس اطمینان اور بے تکلفی سے میں آپ سے اپنے جی میں آئی کہہ سکتا ہوں یا جس محاورے میں میں بھائی عمار صاحب سے بات کرسکتا ہوں، عام اہل علم یا اہل دین سے نہیں کرسکتا۔ میں اپنے پورے طبقہ (جدید عصری تعلیم + جدید ترین اور عالمی انڈسٹری + بیوروکریسی) کی نمائندگی کرتے ہوئے آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ للہ ایسے کسی دباؤ میں مت آئیے اور اللہ نے ہم لوگوں کو جو یہ فورم مہیا کیا ہے، اُسے کسی بھی قسم کی Churchiness کی بھینٹ مت چڑھائیے۔
کسی کو الشریعہ پیش کرتے ہوئے ہم بصمیمِ قلب یہ کہہ سکتے ہیں کہ مذہبی ماہناموں میں کہیں اسلام فی نفسہٖ بھی پایا جاتا ہے، ورنہ یہ ماہنامے ایک مدرسے کے ساختہ (بلکہ پسند فرمودہ) اسلام یا ایک فرقے کی کسی شاخ کے چھوٹے سے ٹھنٹھ سے زیادہ کوئی اوقات نہیں رکھتے۔ الا ماشاء اللہ۔ یہ ذہن کہ ایک ذرا سے اختلاف کی وجہ سے آدمی ہی فارغ کردیا جائے، اُس بچگانہ سوچ کا مظہر ہے جو مثلاً مخصوص مذہبی خیالات رکھنے والے کسی سکول ماسٹر کو ٹرانسفر کرا دینے یا اُس کا ٹرانسفر رکوا دینے والوں کی ہوتی ہے۔ کیا کسی دوسری جگہ ٹرانسفر ہونے سے مذہبی لگاوٹ میں کمی آجاتی ہے؟ یا جو آدمی ایک جگہ پر ’’کافر‘‘ ہے، وہ دوسرے اسکول میں ٹرانسفر ہونے سے ’’مسلمان‘‘ ہوجایا کرتا ہے؟ نیز یہ بھی توجہ میں رہے کہ کسی مسلک کا پیرو ہونے کا مطلب اُس مسلک سے منسوب فرسودیات کو بھی اٹھائے اٹھائے پھرنا ہے، ایک احمقانہ تر خیال ہے۔ دنیا بہت آگے نکل گئی ہے۔ لوگ جواب مانگتے ہیں، ایسا جواب جس سے نری عقل کو نہ سہی، فہمِ عامہ کو تو اطمینان ہو۔ راقم کی نگاہ میں اللہ نے مسلکِ دیوبند کو قبولِ عام اِسی لیے دیا کہ اِس کے بڑوں میں وسعتِ نظری تھی، اِتنی کہ اپنے دیے ہوئے فتاویٰ سے علی الاعلان رجوع تک کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ حاشا مجھے کسی کی ہیٹی مطلوب نہیں، لیکن اپنے محدود مطالعے کی حد تک میں دیوبند کے اِس مسلک پر صرف الشریعہ کو پاتا ہوں (افسوس کہ اِس مسلک کو میں علما کے ایک بڑے طبقے کے موجودہ طرزِ عمل کی بنیاد پر ’’ٹھیٹھ‘‘ مسلک نہیں کہہ سکتا؛ دیوبند کا قدیم ٹھیٹھ مسلک البتہ یہی رہا ہے) اور یہ اِسی مسلک پر چلنے کی برکت ہے کہ حکومتوں کے آنے جانے سے یا سیاسی درجۂ حرارت کے اونچاؤ نِچاؤ سے الشریعہ کی پالیسی نہیں بدلتی۔ اللہ کے غیر کے اِس شدید تاثر سے شاید ہی کوئی مذہبی جریدہ بچا ہوا ہو، بلکہ مجھے کہنے دیجیے کہ کئی مذہبی پرچوں کی پالیسی کو چندہ دینے والوں کے ساتھ ساتھ بدلتا دیکھنے کا تو میں خود بھی گواہ ہوں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں عورت کی حکمرانی کے پانی میں مدھانی چلانے والے مذہبی جریدوں کو اُن کے سر پر دوپٹہ آنے سے آرام آگیا تھا۔ اور یہ تو ابھی کل کی بات ہے کہ محترمہ کے قتل پر سبھی جریدوں نے ماتمی باجے بجاتے ہوئے اتحاد بین المسلمین چمپیئن شپ ٹرافی میں حصہ لیا تھا تاکہ آنے والے سیاسی منظر نامے میں کلین بولڈ نہ ہوجائیں۔ یہ یقینًا دور رس نتائج رکھنے والا ایک اندوہناک قومی سانحہ تھا، لیکن الشریعہ نے اُس وقت اِس وقتی حادثے پر ایک باوقار رسمی تحریر کے سوا کچھ نہ لکھا تھا۔ وجہ یہ کہ الشریعہ کے پاس ایک سوچی سمجھی پالیسی تھی (اور ہے) جب کہ اکثر جریدوں کے پاس ہمیشہ کی طرح صرف جذبہ ہی جذبہ تھا (جو روز افزوں ہے)۔
یہاں تک کی بات بھائی عمار صاحب کی الشریعہ سے متعلق عمومی خیریت اور موزونی کے بارے میں تھی۔ رہی بات اُن ’’اعتراضات‘‘ کی جن کا ذکر ہوا ہے، جن میں سرِ فہرست ’’غامدیت‘‘ نامی ایک ہوّے کا ہے، یہ بالکل اُس مسلمان والی بات ہے جسے خود کلمہ نہیں آتا تھا اور ایک ہندو کے سینے پر چڑھ کے اُسے کلمہ پڑھنے کو کہہ رہا تھا۔ جس طرح ہر مفکر کے کچھ تفردات ہوتے ہیں، اُسی طرح غامدی صاحب کے بھی ہیں جن سے اُن کا ’’کفر‘‘ بہرحال ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اگر فکر کی بنیاد پر مفکر کے تفردات نہ ہوں تو وہ مفکر کہلائے ہی کیوں؟ ایسے شخص کو تو بلحاظِ تعریف محقق کہنا چاہیے۔ اور اگر تفردات رکھنا فتنہ ہے تو خاکم بدہن ایک آدھ ماہ میں ’’فتنۂ عماریت‘‘ بھی اشاعت کا دن دیکھ سکتی ہے کیوں کہ آج قلم ٹوتھ پِک سے بھی کم قیمت پر بکتا ہے۔ بھائی عمار صاحب کی براہین میں کئی جگہ پر فکرِ تازہ کے ایسے نظائر ہیں جنھیں اُن حلقوں میں یقیناًتسلیم نہیں کیا جائے گا جو علمی اعتبار سے ابھی اُس دور میں جیتے ہیں جب گلیلیو نے زمین کو پکڑ کر سورج کے گرد گھمانا شروع نہیں کیا تھا۔ مثلًا دیکھیے! DNA ٹسٹ اور الٹرا سونو گرافی کے نتائج عام ہونے سے پہلے کی تمام تفاسیر میں یعلم ما فی الارحام کی شرح میں کیے گئے دعووں کا باطل ہوجانا خدانخواستہ قرآنِ پاک کی کسی آیت کا باطل ہونا نہیں ہے بلکہ اِس سے ہمارے مفسرین قرآن کے مبلغِ علم پر علم انسانی ہونے کی مہر لگی ہے۔ اِن علما کا تقویٰ طہارت اور اپنے دور کے علوم اور اُن کے نتائج تحقیق پر مناسب دسترس سر آنکھوں پر، لیکن اللہ کے کلام کی طرح بندے کی لکھی ہوئی تفسیر بھی اگر قیامت تک کے لیے ناقابلِ تردید یا اصلاح کی ضرورت سے بے نیاز ہوتی تو بندہ بھی تو خدا ہوگیا تھا نا! لہٰذا اِس موضوع پر آج کسی بڑے سے بڑے قدیم متقی و عالم مفسر سے اختلاف نہ کیا جانا حماقت ہوگی۔
میں کمپیوٹر سائنس کا آدمی ہوں۔ ذرا میرے سامنے کوئی اِن پیج کے ٹائپسٹ کو ماہرِ کمپیوٹر تو کہے، میں اُسے گھر تک چھوڑ کے آؤں گا۔ یہ پیروکارانِ اسلام ہی کی سادہ خوئی و خیالی ہے کہ بالکل نان ٹیکنیکل لوگوں کے تفسیرِ قرآن کے نام پر کیے گئے تخمین و ظن کو پہلے تو متن الٰہی (Divine Writ) کے برابر کا درجہ دے دیتے ہیں اور پھر جب الٹی پڑتی ہے تو کھینچ تان کر وحیِ الٰہی کو اپنے مطلب کے معنی پہناتے پھرتے ہیں۔ یہ بھی کیامذاق ہے کہ جس شخص کو حیاتیاتی سائنس کی الف سے بے نہیں آتی، اُس کی لگائی ہوئی گپ کو اور جس کا دوربین استعمال کرنے کا تجربہ ضعف بصارت کی وجہ سے اخبار کو محدب عدسہ کی مدد سے پڑھنے تک محدود ہے، اُس کی تفسیر قرآن میں سماویات کے بارے میں کیے گئے دعووں کو شرحِ کلامِ الٰہی کا درجہ دیا جائے اور پھر جب اِن مزعومہ شارحین کی ہانکی ہوئی بودی ثابت ہو تو تاویل اینڈ سنز کمپنی لمیٹڈ کھول لی جائے۔ پانچ روپے کی پھکی سے ننانوے امراضِ خبیثہ کا شافی علاج کرنے والے ایسے ملا بقل بطوروں سے اللہ ہی امت کی حفاظت فرمائے۔ میں واضح الفاظ میں عرض کرتا ہوں کہ میرے اِن جملوں میں ہدف خدانخواستہ تقویٰ طہارت یا علماءِ سلف نہیں ہیں بلکہ اندھی تقلید اور بزرگوں کے فرامین کو وحیِ الٰہی کا درجہ دے دینے کا عمومی رویہ ہے۔
نئی ٹیکنالوجی کی کچھ تعلیم کی وجہ سے میں پورے استحضار کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وقت گزرے گا تو اِن شاء اللہ براہین کے بارے میں علمی رائے رکھنے والوں اور صحافیانہ رائے رکھنے والوں کا فرق گھوڑے اور گدھے کے سوار کے فرق کی طرح خود ظاہر ہوجائے گا۔ اِس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اِس میں جو بھی بات کی گئی ہے، اُس میں نتائجِ تحقیق کا اظہار تو ملتا ہے، لیکن مبلغِ علم کا اِدّعا نہیں ملتا۔ اور اگر اِس میں درج کردہ باتوں میں سے کوئی بات تحقیقِ مزید سے غلط ثابت ہوگئی تو زمانہ اُس کو اِس لیے قبول نہیں کرے گا کہ مستند ہے مصنف براہین کا فرمایا ہوا۔ مصنف براہین مزاجاً خود بھی ایسی بے سوادی سے اِن شاء اللہ مامون ہے۔ اصلاح کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ ہاں! کچھ باتوں خصوصًا عصمت صحابہؓ پر بھائی عمار صاحب کے کچھ جملوں کے ذیلی مطالب پر طالب علمانہ تحفظات مجھے بھی ہیں اور یہ ہونے بھی چاہییں کیونکہ میرا زمانۂ طالب علمی ابھی ختم نہیں ہوا (اور اللہ نہ کرے کبھی ایسا ہو! اگر میری سیکھنے کی نیت صادق ہوئی تو اللہ مجھ پر طلبِ علم کا دروازہ بند نہیں کرے گا)۔ گنتی کے اِن چند جملوں کے مطالب پر کوئی دورائی نہیں، لیکن اِنھیں recast کیا جانا بہتر ہوتا۔ البتہ اِن کی وجہ سے میں بھائی عمار ناصر کو جے سالک سے نہیں ملاؤں گا، کبھی نہیں! یہ میری گھریلو تربیت ہی کے خلاف نہیں بلکہ بنیادی اسلامی حقوق، احترامِ انسانیت، میری جماعتی تربیت نیز اسلام کی کافروں تک سے رواداری کے ظاہر بظاہر اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ اللہ ہمیں مسلمان کی بوجہِ اسلام قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ نعمت مانگنے سے ملتی ہے۔
بات کو سمیٹتا ہوں۔ عرض ہے کہ میں کچھ ایسے لوگوں سے بھی رابطے میں ہوں جو الشریعہ کی کھلی گفتگو کی پالیسی پر صرف تحفظات نہیں رکھتے بلکہ اُن کا انداز کچھ ایسا ہوتا ہے گویا آپ نے اُنھیں اپنا پالیسی ڈویلپمنٹ کنسلٹنٹ یا تھنک ٹینک مقرر کیا ہوا ہے یا آپ کی اور الشریعہ کی ’’اصلاح‘‘ کے لیے وہ مامورین من اللہ ہیں۔ اُنھیں شدید دکھ ہے کہ الشریعہ اُن کی خواہشات کے مطابق نہیں چھپتا۔ سارے جہان کا درد چونکہ اُن کے جگر میں ہے، لہٰذا جہاں وہ صدام حسین، کرنل قذافی اور خادمِ حرمین جلالۃ الملک شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کو مشورے سپلائی کرتے رہتے ہیں، وہیں جب قومی مسائل کے درد کا دورہ پڑتا ہے تو فی سبیل اللہ، بلکہ فی سبیل الشریعہ، ون سونّے مشورے دیتے ہیں۔ سو باتوں کی ایک بات، اِس قسم کے خدائی خدمتگار ’’عوامی بھائیوں‘‘ کے کہے میں نہیں آنا چاہیے۔ میرے ایک عزیز دوست حضرت جی مولانا محمد یوسف علیہ الرحمہ کا ملفوظ سناتے تھے کہ میرے تبلیغ والے کچھ ساتھیوں میں اللہ نے عقل کی جگہ بھی اخلاص بھر دیا ہے۔ سو یہ ایسے ہی مخلصین ہیں۔ اِن کے اخلاص میں شبہ نہیں، لیکن اِن کے عقل سے پیدل ہونے میں بھی کوئی شک نہیں۔
حافظ صفوان محمد چوہان
hafiz.safwan@gmail.com
(۴)
مولانا محمد عمار خان ناصر صاحب مدظلہ
السلام و علیکم و رحمۃ اللہ۔ امید ہے خیریت سے ہوں گے۔
آپ کا گرامی نامہ ملا۔ بہت مشکور ہوں کہ آپ نے اس مسئلے کو سمجھنے میں میری رہنمائی فرمائی۔ اللہ رب العزت حضرت امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی لحد کو اپنی بے پناہ رحمتوں اور لامحدود انعامات سے بھر دے، انہوں نے اپنی بے پناہ علمی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر امت مسلمہ کی اس دور میں بھی رہنمائی فرمائی اور یقیناًیہ ان کی حقانیت کی دلیل ہے کہ آج بھی ہم جیسے لوگ ان کے نظریات و افکار کو اپنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ آج کے اس دور میں جب لوگوں میں سطحی ذہنیت عام ہو چکی ہے، بہت کم افراد مسئلے کی گہرائی میں جا کر اس کی روح کو پانے کی کوشش کرتے ہیں اور بدقسمتی سے وہ لوگ جو کسی نہ کسی دین کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، اپنے مقصد اور اپنے موقف سے مطابقت رکھنے والی رائے عوام الناس کو بتاتے ہیں اور اس کے برعکس آرا کو چھپا کر ایک عامی آدمی کے ذہن کو اس حد تک پہنچادیتے ہیں جہاں وہ اپنی رائے کے خلاف کسی بھی رائے کو سننے و سمجھنے کو تیار بھی نہیں ہوتا۔
اسی طرح کا مسئلہ یہاں بھی موجود ہے۔ آپ کے گرامی نامہ سے میں مکمل اتفاق کرتا ہوں اور اسی طرح کا مزاج بھی رکھتا ہوں، لیکن بات وہیں آجاتی ہے کہ ابن تیمیہ کے جو نظریات و افکار ہیں، وہ یقیناًوہی ہیں جو آپ نے بیان کیے ہیں کہ ’’ ہم نے اس کی نسبت والے پہلو کو قبول کرنا ہے اور اگر اس کے کسی قول یا فعل میں شبہ وتاویل ہے تو اس کو رعایت بھی دینی ہے‘‘۔ مگر ان چیزوں کا لحاظ حضرت نے اپنے فتوے میں کیوں اختیار نہیں فرمایا جو انہوں نے روافض کے خلاف دیا؟ حالانکہ شیعہ حضرات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی نسبت کا اظہار بھی کرتے ہیں، ان کو آخری رسول بھی مانتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو وہ اس معاملے میں متشدد بھی ہیں کہ وہ اہل بیت کے متعلق جس قسم کے عقائد رکھتے ہیں، ہم وہ نہیں رکھتے۔ مثلاً یہ کہ ائمہ معصوم ہیں اور ان کا مقام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کائنات میں سب سے بلند ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ان سب عقائد و نظریات کا سبب نسبت رسول ہی بنا کہ وہ خاندان رسول سے تعلق رکھتے ہیں اور دوسرا پہلو بھی ہے کہ وہ اپنے ہر عقیدے میں کسی نہ کسی شبہہ اور تاویل کا سہارا لیتے ہیں ۔
دوسری بات یہ کہ تاویلات کا دائرہ کس حد تک ہے؟ شیعہ حضرات تحریف قرآن کے عقیدے کو اس بات پر محمول کرتے ہیں کہ ہمارے ائمہ نے اس قرآن کی تصدیق کر دی ہے اور یہ وہی قرآن ہے جو لوح محفوظ میں موجود تھا اور منزل من اللہ ہے، مگرجو لوگ تحریف کے قائل ہیں، عقلی طور پر ایک حد تک وہ درست بھی ہیں کہ قرآن کو جس انداز میں جمع کیا گیا، اس میں تحریف کے بہت احتمال ہیں۔ مثال کے طور پر ایک شخص کو مسجد نبوی کے دروازے پر بٹھا دیا گیا اور منادی کروا دی گئی کی جس شخص کے پاس قرآن کا کوئی حصہ بھی موجود ہے، وہ دو گواہ لے کر آئے۔ اب اگر کسی کے پاس کوئی حصہ موجود ہو، پر گواہ نہ ہو تو وہ حصہ جمع ہونے سے رہ گیا۔ اس بات سے ان کا صحابہ سے بغض واضح نظر آرہا ہے۔ مزید ان کی کتابوں میں کچھ اس طرح کی تحریر بھی پائی جاتی ہے کہ حضرت علی نے بھی قرآن کو جمع فرمایا تھا اور وہ شان نزول کے عین مطابق تھا، لیکن اس قرآن اور حضرت علی کے جمع کردہ قرآن میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں۔ تاہم ایسا عقیدہ رکھنے والے تحریف کے قائل شیعہ گروہ پر کوئی حکم نہیں لگاتے۔ ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ اس بارے میں بھی رہنمائی مل جائے کہ کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ ہمارے اماموں کا درجہ انبیا سے بلند ہے ما سوائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے، اگر ہم اس پر کوئی حکم لگائیں تو وہ بے شمار حوالے سنی حضرات اوراہل تصوف کی کتابوں کے دیتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں آپ بھی غیر نبی کا مقام نبی کے برابر اور کہیں اس سے بلند بتاتے ہیں۔امید ہے اس معاملے میں اصلاح فرمائیں گے۔
ایک اہم بات مفتیان کرام کے طرز عمل سے تعلق رکھتی ہے۔ اس پہلو کو بھی عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے علما و مفتیان عظام اس مسئلے کو حل کرسکیں۔ اگر یہ جوں کا توں رہا تو کئی مسائل پیدا کرے گا جس میں سب سے سنگین یہ ہے کہ عوام الناس کا علما پر اعتماد اٹھ جائے گا ۔یا تو ان سابقہ فتووں پر نظر ثانی کی جائے اور کوئی متفقہ طرزعمل اختیار کیا جائے تاکہ علما کے قول و فعل میں کوئی تعارض نہ رہے اور عوام الناس کو لزو می اور التزامی کا فرق بتایا جائے، جیسے قومی اسمبلی میں مرزا ناصر پر جرح کے دوران جب اس نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ لوگ بھی ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں اور فتوے بھی موجود ہیں تو اس کے جواب میں مفکر اسلام مفتی محمود رحمہ اللہ نے کفر لزومی اور التزامی کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسلمانوں کے فرقوں کا مابین جو کفر کے فتوے ہیں، وہ کفر لزومی کو بیان کرتے ہیں، جبکہ قادیانیت پر کفر کا فتویٰ کفر التزامی کے اعتبار سے ہے۔ ااسی طرح آج بھی اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ان مسائل کو کو عوام کو سامنے لا کر ان کی زہنی الجھنوں کو حل کیا جا سکے۔ اس طرح عوام الناس کے علما پر اعتماد میں اضافہ بھی ہوگااور دینی ماحول بھی صحیح سمت میں ترقی کرے گا۔
میری پے درپے معروضات کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ جواب در جواب اور لاحاصل گفتگو ہوتی رہے۔ امید ہے حسب سابق رہنمائی فرماتے رہیں گے۔ شکریہ!
حافظ محمد فرقان انصاری
۲۴ نومبر ۲۰۱۱
(۵)
مکرمی حافظ محمد فرقان انصاری صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ نے مسئلے کی تنقیح کے ضمن میں جو مزید سوالات اٹھائے ہیں، وہ بہت مفید ہیں۔ اس حوالے سے میری گزارشات حسب ذیل ہیں:
۱۔ میرے علم کے مطابق ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہیں بھی روافض کے کفر کی بات اس مفہوم میں نہیں کہی کہ وہ ان کو قانونی طور پر مسلمانوں سے الگ، کفار کا ایک گروہ سمجھتے ہیں اور ان پر کفار کے قانونی احکام جاری کرنا چاہتے ہیں۔ ہاں، روافض کے بعض نظریات کے کفر ہونے کی انھوں نے جابجا صراحت کی ہے۔ ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں، اس لیے کہ کسی بات کے فی نفسہ کفر ہونے اور اس کے قائل کو قانونی اعتبار سے کافر قرار دینے میں بہت فرق ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ابن تیمیہ نے بعض مقامات پر یہ لکھا ہے کہ روافض کا مذہب یہود ونصاریٰ کے مذہب سے بھی زیادہ برا ہے، لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہود ونصاریٰ کو روافض سے بہتر کہنا درست ہے تو انھوں نے جواب میں لکھا کہ:
کل من کان مومنا بما جاء بہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فہو خیر من کل من کفر بہ وان کان فی المومن بذلک نوع من البدعۃ، سواء اکانت بدعۃ الخوارج والشیعۃ والمرجئۃ والقدریۃ او غیرہم فان الیہود والنصاری کفار کفرا معلوما بالاضطرار من دین الاسلام والمبتدع اذا کان یحسب انہ موافق للرسول صلی اللہ علیہ وسلم لا مخالف لہ لم یکن کافرا بہ ولو قدر انہ یکفر فلیس کفرہ مثل کفر من کذب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم (مجموع الفتاویٰ ۳۵/۲۰۱)
’’ہر وہ آدمی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین پر ایمان رکھتا ہے، وہ ہر اس شخص سے بہتر ہے جو آپ کا انکار کرتا ہے، چاہے اس ایمان رکھنے ولے میں کسی قسم کی کوئی بدعت پائی جاتی ہو اور چاہے وہ بدعت خوارج کی ہو یا شیعہ اور مرجۂ اور قدریہ کی یا کسی اور گروہ کی۔ یہود ونصاریٰ تو بالکل واضح طور پر کافر ہیں اور اسلام کے منکر ہیں، جبکہ مبتدع جب یہ سمجھتا ہے کہ اس کا عقیدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے مطابق ہے نہ کہ اس کے خلاف تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کا منکر نہیں۔ فرض کر لیا جائے کہ وہ منکر ہے تو بھی اس کا انکار بہرحال اس شخص کے انکارجیسا نہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتا ہے۔‘‘
۲۔ اہل تشیع عمومی طور پر اپنے بعض اکابر علما کے موقف سے اتفاق نہیں رکھتے جو تحریف قرآن کے قائل ہیں، تاہم وہ ان حضرات کی تکفیر بھی نہیں کرتے۔ اس کی وجہ میرے خیال میں یہ ہے کہ اس نوعیت کے فتوے شخصیات کے مقام ومرتبہ کو نظر انداز کر کے نہیں لگائے جا سکتے۔ جو حضرات تحریف کے قائل ہیں، وہ اہل تشیع کے صف اول کے اکابر اہل علم ہیں جن کے علمی مقام ومرتبہ کے پیش نظران کی تکفیر کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے اہل سنت کے ہاں معوذتین کو قرآن مجید کا حصہ تسلیم نہ کرنے پر نہ صرف یہ کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ پر کوئی فتویٰ نہیں لگایا گیا، بلکہ فتاویٰ عالمگیری (جلد ۲، ص ۲۶۷) میں تصریح ہے کہ آج بھی اگر کوئی شخص ابن مسعود کے موقف سے استناد کرتے ہوئے معوذتین کے قرآن ہونے کا انکار کرے تو راجح قول یہی ہے کہ اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔
۳۔ میرے نزدیک اس معاملے میں سب سے بنیادی بات یہ دیکھنے کی ہے کہ اہل تشیع کے نظریات پر تنقید اور ان کے کفریہ ہونے کی تصریحات کے باوجود چودہ صدیوں میں آج تک کہیں بھی ان کو قانونی سطح پر مسلمانوں سے الگ کر کے ان پر کفار کے احکام جاری نہیں کیے گئے، خاص طور پر حج جیسے رکن اسلام کی ادائیگی میں وہ شروع سے اب تک شریک چلے آ رہے ہیں اور کسی نے بھی، حتیٰ کہ ان کے کفر کے فتوے دینے والے مفتیوں نے بھی، آج تک حرمین شریفین کے ارباب حل وعقد سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ اہل تشیع کے وہاں جانے پر پابندی لگائی جائے۔ عبادات او ر عام معاشرتی معاملات کی حد تک یہ کسی بھی شخص یا گروہ کا اجتہادی حق ہے کہ وہ اہل تشیع کے ساتھ صحیح العقیدہ مسلمانوں سے مختلف معاملہ کرے اور میرے فہم کے مطابق ان کی تکفیر کے فتوے بھی بنیادی طو رپر اسی دائرے کو سامنے رکھ کر دیے گئے ہیں، لیکن بحیثیت مجموعی امت کی سطح پر یا کسی بھی مسلمان ملک میں ملکی قانون کے دائرے میں انھیں کافر قرار دینے کی بات میرے نزدیک عقل وفہم اور حکمت وبصیرت سے بالکلیہ محروم ہونے کی علامت ہے اور ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم نے بالکل بجا طور پر اسے عالم اسلام میں ایک ’’ٹائم بم‘‘ رکھ دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔
۴۔ جہاں تک مفتیان کرام کے فتووں کا تعلق ہے تو اصل خرابی یہ ہے کہ ہمارے ہاں دینی وعلمی مواقف بھی اب اصولی علمی ضوابط کی پابندی کرنے کے بجائے سیاسی حالات سے متاثر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور بڑی بڑی معتبر شخصیات اور دار الافتاء بھی اب کسی مسئلے کی دینی وشرعی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے یہ دیکھنے لگے ہیں کہ ہوا کا رخ کیا ہے اور کس قسم کی بات اس مخصوص حلقے کے عوامی جذبات سے زیادہ ہم آہنگ ہے جس کی وہ ترجمانی کرنا چاہتے ہیں۔ حالات وواقعات پر نظر رکھنے والا ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اہل تشیع کے خلاف تکفیری فتوے جس فضا میں جمع کیے گئے، اس میں ایران کے شیعہ انقلاب پر سنی دنیا کے سیاسی خدشات وتحفظات کا اظہار بنیادی محرک کی حیثیت رکھتا ہے اور ایرانی انقلاب کے متوقع سیاسی اثرات کا سامنا سیاسی تناظر میں اور سیاسی میدان میں کرنے کے بجائے اس جنگ میں کفر اور اسلام کی بحث کو ایک موثر مذہبی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہی صورت حال توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے حالیہ بحث میں بھی سامنے آئی اور اس سے پہلے جہاد اور خروج وغیرہ کی بحثوں میں بھی مسلسل یہی روش دیکھنے کو مل رہی ہے۔
یہ رجحان میرے نزدیک مذہبی وعلمی شخصیات اور اداروں کی آرا کی وقعت اور اعتبار کے لیے، جو ان کی اصل قوت ہے، بے حد خطر ناک ہے۔ علمی رائے ایک امانت ہوتی ہے جسے کسی قسم کا سیاسی یا عوامی دباؤ قبول کیے اور کسی قسم کے تعصب کا شکار ہوئے بغیر بالکل بے لاگ طریقے سے بیان کرنا اہل علم کی ذمہ داری ہے۔ اس وقت اصل ضرورت مذہبی اداروں میں علمی اخلاقیات کی پابندی کا احساس پیدا کرنے کی ہے۔ اگر اہل علم اسی طرح مخصوص گروہی رجحانات یا عوامی جذبات کے یرغمال بنتے چلے گئے تو دینی راہنمائی کامنصب رفتہ رفتہ لوگوں کے جذبات ورجحانات کا تابع مہمل بن کر رہ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ضمیر کے مطابق بلا خوف لومۃ لائم حق بات سمجھنے اور حق بات کہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد عمار خان ناصر
۱۶؍ دسمبر ۲۰۱۱ء
(۶)
حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ روزنامہ اسلام کا قاری ہوں۔ آپ کے مضامین پڑھ کر بے حد خوشی ہوتی ہے۔ اکثر آپ کے کالم ایسے ہوتے ہیں کہ کسی نہ کسی حوالے سے ہم ان باتوں پر آپس میں تبصرہ کر چکے ہوتے ہیں اور تمنا ہوتی ہے کہ کوئی اس پر بات کرے۔ آپ کے کالم کی صورت میں ہماری ترجمانی ہو جاتی ہے۔ آپ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔
آپ بخوبی جانتے ہیں کہ کراچی ایک بین الاقوامی شہر ہے اور اس شہر نے ہر طبقے کی خدمت کی ہے۔ دینی حوالے سے علما اور قرا کی بہت بڑی جماعت نے یہاں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ جماعت تقریباً غربا کی تھی جس نے بے سروسامانی کے عالم میں قرآن وحدیث کی تعلیمات کوعام کیا، مگر اب صورت حال یہ ہوتی جا رہی ہے کہ اہل علم کا بہت بڑا طبقہ درس وتدریس کوچھوڑ کر امور تجارت، خصوصاً رکشا ٹیکسی چلانے کی طرف راغب ہو رہا ہے۔ اس وقت بعض ایسے بہترین مدرسین جو قوم کے نونہالوں کی تعلیم وتربیت کے لیے بہترین سرمایہ ہیں اور جنھوں نے کئی سال خدمت کی ہے، وہ رکشے چلا رہے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر دل خون کے آنسووں سے تر ہو جاتا ہے کہ آخر یہ کیوں ہو رہا ہے؟ جب معلومات لیتا ہوں تو ایک بڑی دل خراش داستان سننے کو ملتی ہے۔
کراچی جیسے شہر میں مدرس کی تنخواہ چار ہزار سے لے کر آٹھ ہزار تک ہے۔صبح سے شام تک کی پابندی، مکان کا کرایہ، بلوں کی ادائیگی، بیوی بچوں اور بوڑھے والدین کے اخراجات، خوشی غمی کے معاملات، یہ ساری چیزیں اس کے ساتھ ہیں۔ تھکا ہارا مدرس عصر سے رات گئے تک محلوں میں گھوم پھر کر ٹیوشن پڑھا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔ روزانہ چوبیس میں سے اٹھارہ گھنٹے کام کرتا ہے۔ کچھ عرصے کے بعد صحت بھی متاثر ہو جاتی ہے، مہنگائی کی وجہ سے ذہنی پریشانی اس کی عمر کو کم کر دیتی ہے۔
پھر بد نصیبی کی بات ہے کہ ایک آدمی نے بیس سال تک ایک ادارے میں خدمت انجام دی، ادارہ کے قواعد وضوابط کی معمولی خلاف ورزی یا بد گمانی یا مہتمم اور ناظم کی اولاد کی حرکات کی وجہ سے اس کو تذلیل کر کے ادارہ سے چلتا کر دیا جاتا ہے۔ اب یہ بڑھاپے میں قدم رکھنے والا کہاں جائے اور کیا کرے؟ دنیا کی ہر کمپنی یا ادارے میں کام کرنے والے کی جتنی سروس زیادہ ہوتی جاتی ہے، اتنی ہی اس کی مراعات بڑھائی جاتی ہیں۔آخر میں اس کچھ دے دلا کر بقیہ زندگی کے لیے بھکاری نہیں بنایا جاتا۔ کمی کوتاہی ہر شخص میں ہو سکتی ہے، لیکن تربیت کے فقدان کی وجہ سے اہل علم کی قدر دانی کی ہمارے ہاں بہت کمی ہے۔
آپ مدارس کے لیے ایسے نظام اور قوانین کی بات اٹھائیں اور وفاق المدارس اس کا کوئی ضابطہ تیار کرے، ورنہ خدا نخواستہ دینی اداروں میں اچھے مدرسین ناپید ہو جائیں گے اور نااہل لوگ مسلط ہو جائیں گے۔اب جتنے لوگ تدریس چھوڑ کر بغاوت کر رہے ہیں، کیا ان کے اعمال واخلاق اور کردار ڈرائیوری کر کے اچھے رہیں گے؟ کیا یہ اتنی بڑی جماعت اپنی اولاد کو حافظ قرآن بنائے گی اور آنے والی نسل کی صحیح دینی تربیت کر سکے گی؟ بہت مشکل ہے۔
آپ جب کراچی آئیں تو روڈ پر کھڑے ہو کر خود مشاہدہ کر لیں، آپ کو خوب اندازہ ہو جائے گا۔ ساتھ ہی ارباب مدارس کو بھی متوجہ کریں۔ بعض مقامات پر ادارہ کے طلبہ واساتذہ کا کھانا دیکھنے کو بھی جی نہیں چاہتا اور صاحب اہتمام کے بچے قورمے کھا رہے ہوتے ہیں۔ آپ ان معاملات کو مجھ سے بہت بہتر سمجھتے ہیں۔ یہ ایک طالب علم کی تحریر ہے جو اپنی آواز کو آپ جیسے بے لوث عالم دین تک پہنچانا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اور تمام اکابر کی دینی کاوشوں کو قبول فرمائے۔ آمین
عبد الغفور فاروقی
ناظم الامور جامعہ مریم للبنات، کراچی
(۷)
برادرمحترم مولانا محمد عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم۔ مزاج گرامی؟
چند ماہ سے دیکھ رہا ہوں کہ الشریعہ کا معیار بلند سے بلند تر ہو رہا ہے۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔باقی آپ ہوں یا دیگر اہل علم، کسی کی رائے کو حرف آخر قرار دینا ممکن نہیں ہے۔ توہین رسالت کی سزا پر جاری مباحثہ کا ٹھوس انداز میں کوئی علمی فائدہ محسوس نہیں ہوتا، سوائے اس کے کہ ایک دوسرے کی آرا کا علم ہو جائے۔ شاید آپ کی نظر میں مزید فوائد بھی ہوں۔
ماضی میں بعض اوقات الشریعہ اور دیگر جرائد میں درج مباحث کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا رہا ہے کہ قسطنطنیہ کا اسلامی فوجوں نے محاصرہ کر رکھا ہے اور علماے نصاریٰ اس موضوع پر مناظرہ کر رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آخری غذا میں جو روٹی کھائی تھی، وہ خمیری تھی یا غیر خمیری؟ واللہ العظیم، احقر کوبعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ وہ دور واپس آ رہا ہے یا بالفاظ دیگر وہ رجحانات دوبارہ زندہ ہو رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ تاثر غلط ہو۔
مسائل نظری میں الجھ گیا ہے خطیب
سطحی ونظری مباحث میں الجھنا اب صرف اہل قلم واہل علم کے ساتھ خاص نہیں رہا۔ ہمارے سیاست دان اس کارواں کا ہراول دستہ ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر جس طرح سیاست دان اور ان کے حواری دیانت اور سچائی کا خون کرتے نظر آتے ہیں، کسی سے مخفی نہیں۔ اسلام اور وطن سے محبت دب کر رہ گئی ہے۔ ایک دوسرے کی مٹی پلید کرنے کا ذوق غالب ہے اور اس ذوق کی تسکین کے لیے وہ وہ کارنامے انجام دیے جاتے ہیں کہ جھوٹ اور دیانت اگر مجسم صورت اختیار کر لیں تو خوشی سے جھوم اٹھیں، بلکہ مسرت کی شدت سے بے ہوش ہو جائیں۔
برادر محترم! الشریعہ کے واسطے سے اپنے ایک درد دل میں قارئین کو شریک کرنا چاہتا ہوں۔ دور حاضر میں بے اعتدالی ہر طبقہ میں ہر اعتبار سے سرایت کر گئی ہے۔ اس کی کچھ نشان دہی محترم مولانا محمد عیسیٰ منصوری صاحب نے فرمائی ہے۔ مولانا راشدی صاحب بھی دو کالم لکھ چکے ہیں۔ احقر بھی ایک پہلو سے کوتاہیوں کی نشان دہی کرنا چاہتا ہے۔
دور حاضر کا ایک سنگین مسئلہ اپنی پسندیدہ شخصیات کے لیے القاب کا بے دھڑک استعمال ہے۔ مفکر اسلام اور خطیب پاکستان تو عام القاب ہیں، اب یہ سلسلہ بہت آگے بڑھ گیا ہے۔ مولانا چنیوٹی مرحوم کو ’’سفیر ختم نبوت‘‘ کا لقب آغا شورش کاشمیریؒ نے دیا تھا اور وہ بجا طور پر اس کے حق دار بھی تھے۔ اب تین چار اور حضرات کو یہ لقب دیا جا رہا ہے۔ اللہ اعلم، ان میں سے کون اس لقب سے زیادہ مشہور ہوتا ہے۔ محبوب العلماء والصلحاء پہلے حضرت پیر ذو الفقار احمد صاحب نقشبندی کا لقب تھا اور وہ اس کے حق دار ہیں۔ اب اس لقب کے دعوے دار اور بھی ہیں۔ شیخ القرآن، جانشین شاہ اسماعیل شہیدؒ ، جانشین امام ابن تیمیہؒ ، غزالی زماں، بوے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، شاہین اسلام، شہزادۂ اہل سنت، شہنشاہ خطابت وغیرہ القاب احقر نے خود اشتہارات میں پڑھے ہیں۔ ایک دفعہ ’’جانشین امیر شریعت‘‘ کے لقب پر قلمی جنگ چھڑ گئی تھی جو کہ بہرحال ناپسندیدہ تھی۔ شیعہ مسلک کے ذاکر حضرات کے القاب اور بھی مضحکہ خیز قسم کے ہوتے ہیں، جیسے بحر المصائب، ام المصائب، مجمع المصائب وغیرہ۔
احقر جب دیکھتا ہے کہ اعلیٰ القاب کسی چھوٹی شخصیت کو دیے جا رہے ہیں تو حیرانی اور صدمے کی شدید کیفیت سے دوچار ہو جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک بے تکلف دوست کو فون پر کہا کہ القابات تیزی سے تقسیم ہو رہے ہیں، آپ بھی اپنے لیے کوئی لقب پسند کرلیں، ورنہ محروم رہ جائیں گے۔ استاذ محترم شیخ الحدیث مولانا نذیر احمد صاحب مرحوم (بانی جامعہ اسلامیہ امدادیہ، فیصل آباد) کا فرمان بھی یاد آ رہا ہے ۔ فرمایا کہ ’’میں نے کسی اشتہار میں دیکھا کہ خطیب صاحب کے ساتھ پانچ سات لقب لکھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا، اتنے تکلف کی کیا ضرور ت تھی! سیدھا نبی لکھ دیتے۔‘‘
بعض مسالک کے حضرات القابات سے نوازنے میں بہت تیز ہیں اور دوسرے مسالک پر سبقت لے گئے ہیں۔ بارہا معتبر ذرائع سے یہ بات سنی گئی ہے کہ بعض خطیب اپنا نام چھوٹے سائز میں لکھا جانے پر ناراض ہو جاتے ہیں۔ بعض خطیب جلسہ کے منتظمین کو اپنے القاب خود لکھ کر دیتے ہیں۔ خطبا کا اپنے ساتھ پانچ سات مفت خوروں کو لے کر جانا تو اتنا عام ہو گیا ہے کہ منتظمین اسے وبائے عام سمجھ کر خاموش ہو رہتے ہیں۔
حضرت امام غزالیؒ نے فرمایا تھاکہ افسوس کہ طبیب ہی مریض بن گئے، عام لوگوں کا علاج کون کرے گا؟ (تبلیغ دین) کاش ہم سب اجتماعی وانفرادی طور پر میانہ روی سیکھ سکیں۔ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔
مشتاق احمد چنیوٹی
ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد، چنیوٹ
(۸)
محترم ومکرم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بندہ عرصہ گیارہ سال سے الشریعہ کا ایک ادنیٰ قاری ہے۔ میرے پاس اس کے علاوہ بھی بہت سے مجلات آتے ہیں۔ بندہ دینی جرائد کا ایک خاموش قاری ہے۔ آج تک کسی رسالہ کو خط نہیں لکھا۔ آج پہلی دفعہ خط لکھ رہا ہوں۔
وجہ یہ ہے کہ بلاشبہ الشریعہ دینی حلقوں کاایک آزاد فورم ہے، لیکن ایک بات میں ذاتی طور پر محسوس کرتا ہوں کہ بعض اوقات اس رسالے میں دفاع صحابہ واہل بیت کے محاذ پر ایک نمایاں اور قابل ذکر کردار ادا کرنے والی جماعت کے موقف کا بہت سختی کے ساتھ رد کیا جاتا ہے، جیسا کہ دسمبر ۲۰۱۱ء کے شمارے میں مولانا عمار خان صاحب نے امام ابن تیمیہ کا فتویٰ نقل کیا ہے کہ بدعتی کے پیچھے نماز جائز ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کہ شیعہ صرف بدعتی ہے یا کافر بھی ہو سکتا ہے؟ آیا ایک شیعہ قرآن کا منکر ہو کر، صحابہ کا دشمن ہو کر، عائشہ صدیقہ پر تبرا کر کے، امامت کو نبوت سے بلند منصب مان کر اور اذان، کلمہ اور نماز بدل کر بھی صرف بدعتی ہوگا، جبکہ اس پر امت کے اکابرین کے، کفرکے فتاویٰ موجود ہیں؟
سپاہ صحابہ کے طریقہ کار پر تحفظات ہو سکتے ہیں اور کسی کے بھی طریقہ کار پر ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی ہر بات کو باقاعدہ رد کرنا اور ہر بات کو غلط کہنا شاید انصاف نہ ہو اور صرف انھی کے خلاف ہر دفعہ رسالے میں لکھنا شاید مناسب نہ ہو۔ وہ تو پہلے ہی مظلوم ہیں اور اپنوں اور غیروں کے نشانوں پر ہیں۔ اس محاذ پر ان کی اتنی قربانیاں ہیں کہ شاید کوئی دوسری جماعت اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔ اس جماعت کو صحابہ کے ساتھ ایمانی تعلق بھی ہے اور انھوں نے جانوں کے نذرانے پیش کر کے اس کو ثابت بھی کیا ہے۔ تحریکوں کے اندر جذباتی لوگ بھی ہوتے ہیں جو بعض اوقات جذبات میں بزرگوں کی شان میں نامناسب بات بھی کہہ جاتے ہیں جو کہ غلط ہے، لیکن یہ سبھی جماعتوں میں ہے۔ صرف سپاہ صحابہ میں نہیں۔ بعض اوقات ایسی باتیں اپنے مشن کے ساتھ محبت کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
الشریعہ کے اسی شمارے میں آپ نے برادرم مولانا عمار ناصر صاحب کے بارے میں فرمایا ہے کہ ’’میں نے اسے اس گھنے جنگل میں تنہا اور بے سہارا بھی نہیں چھوڑ رکھا کہ جس کا جی چاہے، اس پر غرانے کی مشق شروع کر دے۔‘‘ اب اس عبارت میں ’’غرانے‘‘ کا لفظ آپ نے لکھا ہے۔ غراتا کون ہے؟ اس کی وضاحت بھی آپ ہی فرمائیں گے، کیونکہ مجھے تو اس لفظ کا استعمال برادرم عمار کے اوپر تنقید کرنے والوں کے لیے عجیب لگا ہے۔ اگر عمار صاحب بے سہارا اور تنہا نہیں ہیں تو کیا صحابہ، امہات المومنین اور قرآن ہی بے سہارا ہیں کہ جو چاہے، ان پر زبان دراز کرتا رہے اور جواب میں اس پر کفر کا فتویٰ نہ لگے اور اس کو اسلام سے خارج نہ کہا جائے اور صرف بدعتی کہہ دیا جائے؟
مختار احمد فاروقی
جامعہ حنفیہ تعلیم القرآن، شکر گڑھ
شش ماہی ’’معارف اسلامی‘‘ (خصوصی اشاعت بیاد ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ)
ڈاکٹر قاری محمد طاہر
ڈاکٹر محمود احمد غازی بڑی علمی شخصیت تھے۔ علمی حلقوں میں ان کا بڑا نام ہے۔ انہوں نے بہت زیادہ عمر نہیں پائی، لیکن ماہ و سال کی قلیل مدت میں انہوں نے بڑا نام کمایا۔ بہت اہم علمی آثار ورثہ کے طور پر چھوڑے جو اہل علم کے لیے روشنی کا سامان مہیا کرتے رہیں گے اور آپ کے خوان سے ہم علم کے موتی چنتے رہیں گے۔ آپ کا انتقال ۲۶ ستمبر ۲۰۱۰ء میں ہوا۔ آپ کا انتقال علمی دنیا کابہت بڑا نقصان ہے جس کی تلافی کا امکان مستقل قریب میں دور دور تک نظر نہیں آتا۔
آپ کے انتقال پر بہت سے رسائل نے اہم مضامین شائع کیے۔ ’’معارف اسلامی‘‘ اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے جو ’’معارف اسلامی‘‘ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کلیہ علوم اسلامیہ کا علمی و تحقیقی رسالہ ہے۔ اس سے قبل آپ کی ذات کے حوالے سے گوجرانوالہ کا ماہنامہ ’الشریعہ‘ ایک وقیع نمبر پیش کر چکا ہے۔ تعلیمی اداروں میں شائع ہونے والے مجلات کی روایت کے مطابق مجلہ کے سرپرست علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں جبکہ مدیر مسؤل ڈاکٹر علی اصغر چشتی ہیں۔ مجلس مشاورت میں یونیورسٹی کے گیارہ پروفیسر حضرات کے نام موجود ہیں۔ مدیر مسؤل اور مدیر کو شامل کرکے یہ تعداد تیرہ ہو جاتی ہے۔ پھر مجلس مشاورت میں نو پروفیسر حضرات کے نام مستزاد ہیں جن کا تعلق پشاور سے لے کر قاہرہ اور امریکہ کی یونیورسٹیز کے ساتھ ہے۔ اس طرح کل ملا کر ۲۱ سے زائد پروفیسر حضرات اس مجلہ کو چلا رہے ہیں۔
کسی کتاب یا مجلہ کے مقام و مرتبہ کا اندازہ اس کے مباحث اور مواد سے لگایا جاتا ہے۔ محض ناموں کی کثرت کسی رسالہ کو بڑا نہیں بناتی۔ اگر اہل علم حضرات میں تختیاں لکھنے اور لگوانے کا شوق پروان چڑھ جائے تو قلمکار اور سیاست کار ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں اور قلم کاری اور سیاست کاری کے فاصلے سمٹ بھی جاتے ہیں۔
جن مقالہ نگار حضرات کی تحقیقات کو اس شمارہ میں شامل کیا گیا ان کی تعداد انیس (۱۹) ہے۔ جس میں تیرہ مقالات اردو میں ہیں، تین مقالات عربی میں اور تین انگریزی زبان میں ہیں۔ پہلے مقالے کاعنوان پروفیسر ڈاکٹر محمود احمد غازی شخصیت اور خدمات کے عنوان سے ہے جو ڈاکٹر اصغر علی چشتی کا تحریر کردہ ہے۔ آپ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ڈین کلیہ عربی و علوم اسلامیہ ہیں۔ آپ نے مقالے کا آغاز علامہ اقبال کے ایک شعرسے کیا ہے۔ شعر اس طرح لکھا ہے:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
چمن میں تب کہیں ہوتا ہے جاکر دیدہ ور پیدا
مقالہ نگار فاضل و عالم ہیں۔ ان سے تو یہ سہو ممکن نہیں تاہم مسودہ کمپوز کرنے والے اور پھر اس کو پڑ ھنے والے کا سہو ہو سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک کمپوز کرنے والے اور پروف خواں کا سہو قرار دینا بھی مناسب نہیں۔ کیونکہ برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر ۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے سہو کتابوں میں انہونی بات نہیں تاہم کتاب کے آغاز ہی میں اتنی بڑی غلطی کتاب کی قدروقیمت پر پہلی ہی نظر میں منفی اثرات لاتی ہے۔ بعض حضرات شعری اوزان کو اہمیت نہیں دیتے۔ ان کے نزدیک اصل مقصود بات کی تفہیم ہے۔ بات سمجھ میں آجائے تو اوزان کی پابندی شاید اہمیت کھو دیتی ہے۔
شعر می گویم بہ از آب حیات
من نہ دانم فاعلاتٌ فاعلاتٌ فاعلات
سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔
دوسرے مضمون کا عنوان ’’بیابان کی شب تاریک میں قندیل‘‘ ہے۔ یہ مضمون مرحوم غازی صاحب کی بیٹی نائلہ غازی کے قلم سے ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب کا مطالعہ ایک والد کی حیثیت سے کیا اور ان کی زندگی کے ان گوشوں کو وا کیا جو عام لوگوں کی نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔ یہ مضمون بڑا جاندار ہے جس سے اولاد کے ساتھ محبت اور ان کی تربیت کے انداز کا پتہ چلتا ہے۔ نیز ان کی گھریلو زندگی کے پہلوؤں کے بارے میں روشنی ملتی ہے۔
’’علوم القرآن کی نئی جہات ڈاکٹر محمود احمد غازی کی محاضرات قرآنی کے تناظر میں‘‘ یہ مضمون ڈاکٹر ثناء اﷲ کا لکھا ہوا ہے جو ایک ہی عنوان سے دو مرتبہ تحریر کیا گیا۔ معلومات اگرچہ بہتر ہیں، تاہم تحصیل حاصل کا پہلو غالب ہے۔
’’دینی مدارس کا نظام و نصاب ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار سے استفادہ‘‘ کے عنوان سے لکھا گیا۔ یہ مضمون ڈاکٹر شاہ معین الدین ہاشمی کے قلم سے ہے۔ یہ مضمون جاندار ہے، محنت سے لکھا گیا ہے۔ اس مضمون میں ڈاکٹر صاحب کی اس پختہ رائے کا علم ہوتا ہے جو وہ دینی مدارس اور دینی مدارس میں پڑھائے جانے والے علوم کے بارے میں رکھتے تھے اور برملا اس کا اظہار بھی فرمایا کرتے تھے۔
اسی طرح ڈاکٹر جنید احمد ہاشمی کا مضمون ’’محکمات عالم قرآنی: اقبالیات میں ایک وقیع اضافہ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ ’’محکمات عالم قرآنی‘‘ ڈاکٹر غازی کی کتاب ہے جس پر مضمون نگار نے اچھی بحث کی ہے۔
اگلا مقالہ ’’افکار مجدد الف ثانی ؒ کے ڈاکٹر غازی پر اثرات‘‘ کے عنوان سے ہے جس کے لکھنے والے ڈاکٹر ہمایوں عباس شمس ہیں۔ مقالہ نگار کے پی ایچ ڈی مقالے کا عنوان بھی غالباً یہی تھا۔ انہوں نے ڈاکٹر غازی کی بعض تحریروں سے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت مجددؒ سے ڈاکٹر غازی متاثر ہی نہیں بلکہ مستنیر بھی تھے۔
سات مضامین ڈاکٹر صاحب کی کتب کے حوالے سے لکھے گئے ہیں جو اسلام آباد کے ڈاکٹر حضرات کی مساعی جمیلہ کا نچوڑ ہیں۔ ان مضامین سے معارف اسلامی کی اس خصوصی اشاعت کی ضخامت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
معارف اسلامی کی اس خصوصی اشاعت میں سب سے زیادہ جاذب نظر مضمون ڈاکٹر محمد سجاد صاحب کا ہے جس کا عنوان ’’مکاتیب ڈاکٹر محمد حمید اﷲ بنام ڈاکٹر محمود احمد غازی‘‘ ہے۔ آغاز میں انہوں نے ڈاکٹر حمید اﷲ مرحوم کے اور ڈاکٹر محمود احمد غازی کے مختصر احوال کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ڈاکٹر حمید اﷲ صاحب کے خطوط کی عبارات درج کی ہیں۔ یہ خطوط تعداد میں ۱۳۶ ہیں۔ یہ بات مسلم ہے کہ اہل علم کے خطوط بھی علمی ہوتے ہیں، خواہ ذاتی نوعیت ہی کے کیوں نہ ہوں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر حمید اﷲ مرحوم کے یہ خطوط انتہائی اہم ہیں۔ ہر خط علمی اعتبار سے کسی نئی جہت کا پتہ دیتا ہے۔ یہ تمام خطوط مستقل علمی تحقیق کا موضوع ہیں۔ معارف اسلامی کی مذکورہ خصوصی اشاعت میں یہ مضمون مرکزی حیثیت رکھتا ہے جس نے معارف اسلامی کے اس خاص شمارے کی قدر و منزلت میں خوب اضافہ کیا ہے۔
ڈاکٹر حمید اﷲ مرحوم کے مذکورہ خطوط ڈاکٹر غازیؒ نے خود ترتیب کے ساتھ مرتب فرما لیے تھے۔ ڈاکٹر محمد سجاد صاحب کے مطابق انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے حکم پر ان خطوط کی پروف خوانی کی۔ ڈاکٹر صاحب ان خطوط پر حواشی لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن زندگی نے وفا نہ کی۔ یہ منصوبہ ادھورا رہ گیا۔ ممکن ہے، کوئی صاحب علم آگے بڑھے اور ادھورا منصوبہ پورا کرسکے۔ ان خطوط میں پہلا خط ۷ ربیع الاوّل ۱۳۹۴ھ کا ہے۔ آخری خط ۲۶ دسمبر ۱۹۹۴ء کا ہے، جبکہ بقیہ دس خطوط پر تاریخ کا اندارج نہیں ہے۔ ان تمام خطوط میں ہر خط اپنی جگہ اہم ہے۔ ان خطوط کے مندرجات پر مزید تحقیقی کام کی بہت زیادہ گنجائش ہے جن سے علم و آگہی کے بڑے اہم مستور گوشے وا ہوسکتے ہیں۔
معارف اسلامی کے حصہ عربی میں تین مضامین شامل ہیں۔ پہلے مضمون میں ڈاکٹر عصمت اﷲ صاحب نے ڈاکٹر غازی صاحب کے احوال و آثار کا تذکرہ کیا ہے۔ دوسرے مضمون میں ڈاکٹر فضل اﷲ صاحب نے غازی صاحب کی عربی تصانیف کے اسلوب پر بحث کی ہے، جبکہ تیسرا مضمون ڈاکٹر محمد علی غوری کا ہے جس کا عنوان القانون الدوولی الاسلامی ہے۔
انگریزی زبان کے مضامین تقریباً اردو زبان میں لکھے گئے مضامین ہی کا انگریزی Version ہیں۔ مذکورہ خصوصی اشاعت میں مقالہ نگار حضرات کا تعارف بھی دیا گیا ہے جو اچھی روایت ہے۔ اس تعارف میں ان کے دیگر علمی آثار کا تذکرہ بھی شامل کر دیا جائے تو مزید بہتر ہوتا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی شاید بے محل نہ ہو کہ آغاز میں معارف اسلامی میں مقالہ کی اشاعت سے متعلق قواعد کے عنوان سے کچھ اصول دیے گئے ہیں۔ ان میں ایک شرط یہ بھی لکھی گئی ہے کہ مقالہ کسی اور جگہ شائع شدہ یا کسی اور جگہ اشاعت کے لیے نہ دیا گیا ہو۔ یہ شرط افشائے علم اور تعمیم علم کے منافی ہے جبکہ علم کو محدود کرنا اہل علم کے ہاں مذموم عمل ہے۔
مجموعی لحاظ سے معارف اسلامی کی خصوصی اشاعت ایک اچھا اضافہ ہے جس سے اہل علم مستقل استفادہ کرتے رہیں گے۔
توہین رسالت کا مسئلہ ۔ چند اہم سوالات کا جائزہ
تالیف: محمد عمار خان ناصر
سن اشاعت: مارچ ۲۰۱۱ء
ناشر: مکتبہ امام اہل سنت، جامع مسجد شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
توہین رسالت کا مسئلہ انتہائی اہم بھی ہے اور انتہائی نازک بھی۔ ایمان کی معمولی رمق رکھنے والا ہر مسلمان اس معاملے میں حساس ہے۔ ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے۔
دردل مسلم مقام مصطفی است
آبروئے ما زنام مصطفی است
ماضی قریب میں پاکستان میں پیش آنے والے بعض واقعات نے اس مسئلہ کی اہمیت کو اور بھی اجاگر کر دیا ہے۔ اس موضوع پر اہل علم میں علمی بحثیں بھی سامنے آئیں۔ نام نہاد دانشوروں نے ٹی وی پر اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔ اس خالص علمی اور اعتقادی مسئلہ کو جذباتی رنگ دے کر خاص طبقے کو مطعون کرنے میں بھی کسر نہ چھوڑی۔
زیر تبصرہ کتابچہ اسی موضوع پر ہے۔ محمد عمار ناصر نوعمر قلم کار ہیں اور علمی دسترس بھی رکھتے ہیں۔ ایک علمی ماہنامے کے ایڈیٹر ہیں۔ جدید و قدیم علوم پر ان کی گہری نظر ہے۔ انہوں نے اپنی اس تصنیف کو سات بنیادی عنوانات پر تقسیم کیا ہے۔ جو اس طرح ہیں:
۱۔ بنیادی سوالات
۲۔ اسلامی ریاست کی ذمہ داری
۳۔ توہین رسالت کی شرعی سزا
۴۔ امام ابن تیمیہ کے مؤقف کا جائزہ
۵۔ فقہائے احناف کا نقطۂ نظر
۶۔ حکمت و مصلحت کے چند اہم پہلو
۷۔ سزا کے نفاذ کا اختیار
آخر میں ضمیمہ کے طور پر بعض اہم سوالات پر مراسلت بھی شامل ہے۔
توہین رسالت کے حوالے سے تین بنیادی نظریات ہیں۔ ایک نظریہ سیکولر یا لبرل ذہن رکھنے والوں کا ہے۔ وہ آزادی افکار کا سہارا لیتے ہیں اور توہین رسالت کرنے والے کے بارے میں کسی سزا کے قائل نہیں۔ ان کے ہاں فکری آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ لہٰذا کوئی طاقت اس آزادی میں مداخلت کا حق نہیں رکھتی۔
دوسرا نظریہ یہ ہے کہ توہین رسالت انتہائی برا فعل ہے، لیکن اس کا ارتکاب کرنے والوں کے ساتھ فاعفوا واصفحوا سے کام لینا چاہیے۔ ان کے نزدیک رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رحمت کا پہلو غالب ہے۔
تیسرا نظریہ یہ ہے کہ اس جرم کا مرتکب شخص سخت سے سخت سزا کے مستوجب ہے جس میں موت تک کی سزا بھی شامل ہے۔
موصوف نے ان تمام پہلوؤں پر قدیم اکابر فقہاء اور علماء کی آراء کا جائزہ لیا ہے اور ان کی تحریروں سے نتائج اخذ کیے ہیں۔ علمی لحاظ سے مذکورہ کتاب نہایت اہمیت کی حامل ہے اور اس موضوع پر جانکاری حاصل کرنے والوں کے لیے معلومات کا ذخیرہ ہے جس سے اس مسئلہ کو سمجھنے میں خاطر خواہ مدد ملتی ہے۔
’’اطراف‘‘
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(میاں انعام الرحمن کے مجموعہ مقالات ’’اطراف‘‘ کے پیش لفظ کے طور پر لکھا گیا۔)
پروفیسر میاں انعام الرحمن ہمارے عزیز ساتھیوں میں سے ہیں۔ ان کا تعلق ایک علمی خاندان سے ہے۔ ان کے دادا محترم حضرت مولانا ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی قدس اللہ سرہ العزیز علماء لدھیانہ کے معروف خانوادہ کے بزرگ تھے اور رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نور اللہ مرقدہ کے ساتھ قریبی تعلق داری بھی رکھتے تھے۔ مولانا عبد اللہ لدھیانویؒ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے شاگرد تھے۔ قیام پاکستان کے موقع پر لدھیانہ سے ہجرت کر کے گوجرانوالہ آئے اور دار العلوم نعمانیہ کے نام سے مدرسہ قائم کر کے تدریس میں مصروف ہو گئے۔ میرا ان کے ساتھ نیازمندانہ تعلق رہا ہے۔ وہ جمعہ ہمیشہ مرکزی جامع مسجد میں پڑھتے تھے اور حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ غلطیوں پر ٹوکابھی کرتے تھے۔ ان کے فرزند حضرت مولانا عبد الواسع لدھیانویؒ آل انڈیا مجلس احرار اسلام کے سرگرم راہ نماؤں میں شمار ہوتے تھے جبکہ ان کے سب سے چھوٹے فرزند مولانا علامہ محمد احمد لدھیانویؒ کے ساتھ کئی عشروں تک میری جماعتی رفاقت رہی ہے۔ علامہ صاحب نے ایک عرصہ تک جمعیۃ علماء اسلام گوجرانوالہ کے سیکرٹری جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دیے ہیں اور وہ علماء لدھیانہ کی روایات کو تازہ رکھتے تھے۔
میاں انعام الرحمن کو میں بچپن سے جانتا ہوں اور اس دور سے انھیں دیکھ رہا ہوں جب وہ اسکول میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ علماء لدھیانہ کی حریت پسندی، اپنی بات کا بے باک اظہار اور لگی لپٹی رکھے بغیر اپنی رائے کو پیش کرنے کا مزاج علماء کرام کے اس خاندان سے قریبی تعلق رکھنے والوں پر مخفی نہیں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ خاندان کے اس مزاج اور روایت نے میاں انعام الرحمن کی شخصیت اور ذوق کی تشکیل میں سب سے زیادہ حصہ ڈالا ہے۔ وہ پابند صوم وصلوٰۃ ہیں، وضع قطع میں خاندانی روایات کے دائرے کو قائم رکھے ہوئے ہیں، شرعی احکام وضوابط کی پابندی کرتے ہیں، علماء کرام کا احترام کرتے ہیں اور بزرگوں کی بات مان لینے کے خوگر ہیں، البتہ اپنی سوچ اور اس کے اظہار میں قدرے آزاد ہیں۔ بات ذرا مشکل اسلوب میں کرتے ہیں جو اکثر عام قاری کے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہے۔ وسیع تر مطالعہ اور اس کی بنیاد پر مختلف مسائل کا تیکھے انداز میں تجزیہ ان کا خصوصی ذوق ہے اور بہت سی باتیں ایسی کہہ جاتے ہیں جن سے اتفاق بظاہر مشکل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود وہ ہمارے ساتھی ہیں، الشریعہ اکادمی کی ورکنگ ٹیم کا حصہ ہیں اور وقتاً فوقتاً مختلف مسائل پر لکھتے رہتے ہیں جو ’الشریعہ‘ میں شائع ہوتا رہتا ہے۔
میری ایک ’’کمزوری‘‘ سے سب احباب واقف ہیں کہ میں آج کے حالات کے تناظر میں قدیم وجدید لٹریچر کا مطالعہ کرنے والے اور اپنے اس متنوع اور وسیع مطالعہ کی بنیاد پر مسائل کا تجزیہ کرنے والے اصحاب قلم کو ڈانٹنے اور ٹوکنے کا قائل نہیں ہوں، بلکہ حکمت عملی کے ساتھ ان کا ذہنی رخ موڑنے کی کوشش کو ترجیح دیتا ہوں اور یہ کوشش موقع ومحل کی مناسبت سے خود بھی کرتا ہوں۔ مجھے میاں انعام الرحمن کی بہت سے باتوں سے اختلاف ہوتا ہے اور ان کے مضامین کے زیر نظر مجموعہ کی بہت سی باتوں سے بھی مجھے اختلاف ہے، لیکن بحمد اللہ تعالیٰ میرے ذہن میں اختلاف اور بغاوت کے درمیان فرق کا نکتہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ کوئی صاحب فکر اور صاحب علم اگر ہمارے دینی اور علمی ڈھانچے کو چیلنج نہیں کرتا اور بغاوت کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے اس کے اندر رہتے ہوئے کسی بات سے اختلاف کرتا ہے تو میں اسے خواہ مخواہ بغاوت سمجھنے یا زبردستی بغاوت کی طرف دھکیلنے کے رویے کو مناسب نہیں سمجھتا اور افہام وتفہیم (بالواسطہ یا بلا واسطہ) کے لہجے میں صحیح بات کی طرف توجہ دلانے کو زیادہ مفید طرز عمل تصور کرتا ہوں۔ میرے اس رویے سے بہت سے بزرگوں کو اختلاف ہوگا جو ان کا حق ہے، لیکن میرا طرز عمل بہرحال یہی ہے۔ اسی پر آئندہ بھی کاربند رہنے کا عزم رکھتا ہوں اور قدیم وجدید لٹریچر پرنظر رکھنے والی آج کی نسل کی راہ نمائی کے لیے اسی کو بہتر سمجھتا ہوں۔
میاں انعام الرحمن کے مضامین کا مجموعہ آپ کے سامنے ہے۔ اس کے مطالعہ کے دوران بہت سی باتوں میں آپ کو اجنبیت محسوس ہوگی، مگر میری درخواست ہے کہ اسے اس ذہن سے نہ پڑھیں کہ دین کی کوئی نئی تعبیر سامنے آ رہی ہے، بلکہ اس رخ سے دیکھیں کہ آج کے وہ اصحاب دانش جو دین کے ساتھ بنیادی وابستگی رکھتے ہیں اور روایت سے منحرف نہیں ہونا چاہتے، وہ کس انداز سے سوچتے ہیں، اس نئی سوچ کے ساتھ ہم آہنگی یا اختلاف کے مواقع کہاں کہاں ہیں اور ہم نے ایسی سوچ رکھنے والے حضرات کے ساتھ گفتگو اور مکالمہ کے لیے کون سا ایسا رخ اختیار کرنا ہے جو ان کے لیے بھی نفع بخش ہو اور ہم بھی افراط وتفریط کا شکار ہوئے بغیر اس کی افادیت کے دائرے کو وسیع کر سکیں۔
میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت میاں انعام الرحمن کی اس کاوش کو ان مسائل پر بہتر مکالمے کا ذریعہ بنائیں اور ہم سب کو فکر ونظر کی سلامتی کے ساتھ دین اور دنیا دونوں کو بہتر سے بہتر بنانے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
سیمینار: ’’ریاست و حکومت: علامہ اقبال اور عصری مسائل‘‘
ادارہ
(یونیورسٹی آف گجرات اور اقبال اکادمی پاکستان کے اشتراک سے قومی سیمینار۔)
عصر حاضر کے عالمِ اسلام میں جن مفکرین کے نام سرِ فہرست آتے ہیں ان میں علامہ محمد اقبال کو مقامِ نام آوری اور مسندِ امتیاز و افتخار حاصل ہے ۔ لطافتِ خیال اور وسعت فکر میں ان کو اپنے عہد کی عظیم شخصیتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے جس مہم کا آغاز کیا اور جس تصور کی عملی تشکیل کی اس میں شاعرانہ حسن تخیل، فلسفیانہ ژرف نگاہی، مجاہدانہ روح اور قوت ارادی ان کے شریک کار رہی۔ ان کی نظم و نثر کا ہر پہلو ان کے جلوۂ ذہانت اور بصیرت حکیمانہ کا آئینہ دار ہے۔ حضرت اقبال کا فلسفہ اور شاعری بہت سے ارباب دانش کا موضوع فکر بنا لیکن ان کے منظرِفکر و بصیرت کے مختلف گوشوں میں سے جن میں سیاسیات، مذہبیات، اخلاقیات اور الٰہیات شامل ہیں۔ اقبال کے سیاسی نظریات کا چہرہ تاحال حجاب آفریں اور متضاد تصورات کے بے ربط امتزاج کے تاریک غبار میں پنہاں ہے جو ان کے نظام فکر سے وابستہ کر دیئے گئے ہیں۔ بلا شبہ علامہ اقبال کے سیاسی تصورات کے مفہوم و افادیت کا ابھی تک واقعیت پسندی کے ساتھ اس حد تک جائزہ نہیں لیا گیا جہاں تک اس کی اہمیت کا اقتضا ہے ۔
اسی تناظر میں یوم اقبال کے ضمن میں جامعہ گجرات نے فکر اقبال کے عصری تقاضوں کے حوالے سے ’’قومی دانشگاہ‘‘ کی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے اقبال اکادمی پاکستان کے اشتراک سے 15 نومبر کو فکر انگیز قومی سیمینار بعنوان ’’ریاست و حکومت: اقبال اور عصری مسائل‘‘ کا انعقاد ممکن بنایا۔ میزبانی رئیس الجامعہ گجرات ڈاکٹر محمد نظام الدین نے کی جبکہ فرزند اقبال جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال نے صدارت کی۔ ڈائریکٹر اقبال اکادمی پاکستان ڈاکٹر محمد سہیل عمر، لمزسے ڈاکٹر اعجاز اکرم، ممتاز کالم نگار، دانشور و اینکرخورشید ندیم، اقبال اکادمی کے ڈاکٹر طاہر حمید تنولی اور مدیر ماہنامہ الشریعہ، محمد عمار خان ناصر نے پر مغزمقالات پیش کیے۔
ڈاکٹر محمد نظام الدین نے سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ افکار اقبال کو سمجھنے کے لیے یہ بنیادی بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ وہ تاریخ اسلام کے ایسے موڑ پر ابھر کر سامنے آئے جب امت مسلمہ بحیثیت مجموعی صدیوں کی غلامی ، محکومی اور علمی و عملی جمود و انحطاط کے بعد پھر ایک آزاد قوم بن کر ابھرنے والی تھی اور سامراجی، شہنشاہی اور نو آبادیاتی طاقتوں کے چنگل سے نکل کر ایک آزاد قوم کی طرح اپنے مستقبل کے تعمیر کی ذمہ داریاں سنبھالنے کا مشکل چیلنج اس کے سامنے تھا۔ ایسے جمود زدہ اور زوال زدہ سماج میں ایک جرات مند راہبر و مفکر کی ضرورت تھی یہ راہنما علامہ اقبال کی صورت میں ابھر کر سامنے آیا۔ اقبال نے بالخصوص خطبات میں اپنے عہد کے اہم سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی، یہ سوال کوئی نئے نہیں تھے۔ تاریخ کئی بار ان کے جواب دے چکی تھی لیکن مذہبی فلسفے کا ہر زمانے کی علمی سطح سے تعلق ہوتا ہے۔ جب وہ سطح بدل جاتی ہے تو ان کی عصری قدر و قیمت بھی ختم ہو جاتی ہے، لہٰذا یہ ضروری نہیں کہ ہم اقبال کے پیش کردہ جوابات سے مطمئن ہو کر بیٹھے رہیں۔ اقبال کو ہم اسی طریقے سے حیاتِ نو دے سکتے ہیں جس طرح انہوں نے اپنے اسلاف کے افکار و خیالات کا تنقیدی محاکمہ کیا تھا ۔ صرف پھولوں کی چادر چڑھانے سے اقبال کو زندہ نہیں رکھا جاسکتا۔شیخ الجامعہ نے مقالہ نگاروں اور حاضرین کو خوش آمدید کہتے ہوئے شرکت پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
فرزندِ اقبال جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ یونیورسٹی آف گجرات کا عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نظام تعلیم و تدریس دیکھ کر جی خوش ہو گیا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ گجرات جیسے دور دراز علاقے میں ایسی دانش گاہ قومی اور عصری چیلنجوں کو قبول کر کے ان سے عہدہ برآہ ہونے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے ہوئے۔ جسٹس جاوید اقبال نے اقبال اور فلاحی ریاست کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اقبال کے نامکمل کام مکمل کیے جائیں۔ اقبال فکر قرآن کے حوالے سے تحقیقی کام کے خواہشمند تھے مگر زندگی میں اس پر تحریری کام نہ کر سکے۔ اسی طرح وہ اجتہاد پر کام کے خواہشمند تھے ۔ اقبال کو رخصت ہوئے ۷۳ سال ہو گئے، ہم وہیں کھڑے ہیں ۔علامہ اقبال نے امام غزالی کے بعد ایک ہزار سال میں پہلی مرتبہ واضح کیا کہ تین منفی طاقتیں ہیں جن کے خلاف جہاد کی ضرورت ہے ۔ مطلق العنان ملوکیت، ملائیت او ر تصوف۔ ان کے خلاف جہادکے ذریعے ہی مسلم معاشرہ وجود میں لایا جاسکتا ہے ۔
ڈاکٹر جاوید اقبال نے مزید کہا کہ صحیح معنوں میں کوئی آئیڈیل سیکولر ریاست یا روحانی جمہوریت ہی فلاحی ریاست ہو سکتی ہے ہے جو دوسرے مذاہب کا احترام کرے تو وہ صرف اقبال کی تجویزہ کردہ جدید فلاحی اسلامی ریاست ہے ۔ اقبال سوشلزم اور کمیونزم کے بھی اتنے ہی خلاف تھے جتنے سرمایہ دارانہ نظام کے کیونکہ وہ اسلامی فلاحی ریاست کے تصور میں یقین رکھتے تھے۔ پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کے اجتہاد کی تخلیق ہے۔ یہ روایتی اسلامی تحریکوں کا نتیجہ نہیں تھا۔ پاکستان کو فکر اقبال کے تناظر میں چلانے کے لیے بھی اجتہادی سوچ کی ضرورت ہے ۔ ہماری قوم نے سیاسی آزادی تو حاصل کر لی ہے، لیکن ذہنی طور پر وہ ابھی تک مغلوب ہے۔ ہم نے اپنے آپ کو ابھی تک دوسری اور تیسری صدی کے تقاضوں اور ضروریات کا غلام بنا رکھا ہے ۔ اقبال اور فلاحی ریاست وہ موضوع ہے جس پر ہمیں چودہ اگست ۱۹۴۷ء کے فوراً بعد ہی غور کرنا چاہیے تھا تاکہ ہم جدید اسلامی ریاست کو قائم کر کے اس کے سیاسی و تہذیبی ارتقاء کے لیے راہ ہموار کر سکتے۔
LUMS کے ڈاکٹر اعجاز اکرم نے ’’فکر اقبال کا پس منظر اور مسلم سیاسی فکر ‘‘کے عنوان سے مقالے میں کہا کہ علامہ اقبال نے فکر اسلامی کو اپنے عصری تقاضوں کی روشنی میں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ۔اقبال عصری تقاضوں کو اسلام کے ماضی سے رشتہ توڑ کر نہیں بلکہ اس رشتے کو اور بھی مضبوط کر کے پورا کرنا چاہتے تھے، اس لیے فکر اقبال کو سمجھنے کے لیے خود فکر اسلامی کے اس تاریخی ارتقا کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے جو وحی و رسالت کی ساتویں صدی سے چل کر اقبال کی بیسویں صدی تک پہنچتا ہے ۔ یہ بہت طویل اور پیچیدہ سفر ہے گذشتہ پندرہ سو سالوں میں اسلامی فکر مختلف اور متنوع ادوار سے گزری ہے۔
ڈاکٹر محمد سہیل عمر نے ’’مسلم سیاسی فکر اور اقبال کا تصور اجتہاد ‘‘ کے موضوع پر کہا کہ اسلامی تاریخ کے دور جدید میں اقبال ان بلند پایہ اہل بصیرت میں شامل ہیں جو مذہب و سیاست میں اجتہاد کی حمایت کرتے ہیں ۔اقبال کے خیال میں اسلام کا تصورِ حیات جامد نہیں بلکہ متحرک ہے ۔ مسلمانوں کے زوال و انحطاط کا اہم سبب ہی یہ ہے کہ مسلمانوں کی قوت فکر بصیرت و اجتہاد سے محروم ہو گئی ۔ تاہم اجتہاد کا دروازہ کبھی بند نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی بند کر سکتا ہے ۔ اقبال کے خیال میں اجتہاد حسن تغیر اور حرکت ارتقا کا وسیلہ ہے۔
خورشید احمد ندیم نے ’’جمہوریت اور فکر اقبال ‘‘کے موضوع پر سیر حاصل مقالے میں کہا کہ اقبال اور جمہوریت دونوں کے بارے میں ایک چیز مشترک ہے کہ دونوں کے بارے میں ہمارا علم تا حال ادھورا ہے ۔ علامہ اقبال لبرل ڈیمو کریسی کی بجائے روحانی جمہوریت کی بات کرتے ہیں ۔ اقبال پوری کائنات کی روحانی تعبیر و تشکیل کرنا چاہتے ہیں، وہ کائنات کی مابعد الطبعیاتی تعبیر کرنا چاہتے ہیں۔ مغربی جمہوریت معیشت کی مادری ضروریات کی کوکھ سے جنم لیتی ہے ، جبکہ روحانی جمہوریت کی اساس کہیں اور جاتی ہے ۔ ہمیں جمہوریت کی بھی تعبیر نو کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے جمہوری نظام کی ضرورت ہے جو ظاہر میں مغربی طریقہ ہی ہو مگر اس کی روح روحانی ہو۔
ڈاکٹر طاہر حمید تنولی نے ’’اقبال کا تصور ریاست و حکومت‘‘ کے موضوع پر جامع مقالہ پیش کیا اور کہاکہ اقبال حقیقت میں احیائے اسلام کے شاعر و مفکر ہیں، اس لیے ان کے ذہنی و فکری ارتقا کو تحریک احیائے اسلام کی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے ۔ صرف برصغیر میں مسلم ریاست کے قیام سے ان کے خواب کی تکمیل نہیں ہوئی۔ وہ تمدن اسلامی کے احیا کے شاعر تھے ۔ بلاشبہ علامہ اقبال کا تصور ریاست و حکومت روحانی جمہوریت اور اجتہاد کے گرد گھومتا ہے ۔
محمد عمار خان ناصر نے ’’خروج کے کلاسیکل اور معاصر موقف، فکر اقبال کے تناظر میں ‘‘ ایک مشکل موضوع کو عام فہم بناتے ہوئے کہاکہ اقبال مسلم ریاست میں اسلامی قانون کی تعبیر و تشریح کے حق کو مذہبی علماء تک محدود رکھنے کے بجائے جدید قانون اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین کو شریک کرنے کے قائل ہیں ۔انہوں نے تھیاکریسی کے تصور کی مکمل نفی کرتے ہوئے اجتہاد کا حق مسلمانوں کی منتخب پارلیمنٹ کو دینے اور پارلیمنٹ کی راہنمائی کے لیے مذہبی علما کو اس کا حصہ بنانے کی تجویز پیش کی جسے پاکستان میں عملی طور پر اختیار کیاگیا۔ ریاست و حکومت سے متعلق عصری مسائل پر غور کرتے ہوئے فکر اقبال کے تناظر میں خروج پر بحث فروعی اور اطلاقی ہے ۔ ایسی فروعی فقہی بحثیں فکر اقبال کا موضوع نہ رہیں تاہم گہری نظر سے دیکھا جائے تو خروج کے موضوع سے اقبال کا تعلق واضح دکھائی دیتا ہے ۔خروج کے معاملے کے تمام فریقین اگر فکر اقبال سے راہنمائی لیتے ہوئے اپنے رویوں اور طرز عمل پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس کر لیں تو پاکستان اور پاکستانی قوم کو اس بحران سے نکالا جاسکتا ہے ۔ اس کے لیے تمام گروہوں میں مثبت ڈائیلاگ کو فروغ دینا ہماری ذمہ داری ہے ۔
علامہ اقبال کی سیاسی فکر کے حوالے سے منعقدہ اس سیمینار میں مقالہ نگاروں نے جامع اور تنقیدی خیالات کا بھرپور اظہار کیا ۔ بلاشبہ آج پاکستان ایسے ہی متغیر دور سے گزر رہا ہے جو ترکی میں ۱۹۲۴ء میں اختتام پذیر ہوا ۔ پاکستان کے روایت پسند حلقوں نے اپنے پیش رو ترک علماء کی طرح اسلامی تعلیمات کو روایتی فقہ کے نفاد کے مترادف قرار دے رکھا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ جب تک معاشرہ صنعتی طور پر ترقی کر کے جاگیردارانہ اور استعماری تسلط سے نجات حاصل نہیں کر لیتا اور جب تک مذہبی علوم کی تدریس جدید علوم کی روشنی میں نئے سرے سے نہیں دی جاتی یہ بحث جاری رہے گی ۔ کسی بھی زندہ معاشرے میں جوابات کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی جتنی ان سوالات کی جو عالمانہ جرات و بصیرت سے جنم لیں ۔ اس سیمینار میں سنجیدہ اور شعوری بیداری کے حامل سوالات اٹھائے گئے ۔ اقبال کی فکر کے متحرک تصور کو ابھارنے میں یونیورسٹی آف گجرات اور اس کی وژنری قیادت نے فعال کردار ادا کیا جس کو تمام مقررین ، حاضرین اور دانشوروں نے سراہا اور امید کی کہ جامعہ گجرات میں افکار تازہ کا جھونکا قومی فکر و ترقی میں بہار کی نوید ثابت ہو گا ۔
(رپورٹ: شیخ عبد الرشید)
اخبار و آثار
ادارہ
مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی پاکستان تشریف آوری
برطانیہ کے ممتاز عالم دین، دانش ور اور اسکالر اور ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری گزشتہ ماہ رائے ونڈ کے عالمی تبلیغی اجتماع کے موقع پر پاکستان تشریف لائے اور رائے ونڈ کے علاوہ لاہور، کراچی، فیصل آباد، سرگودھا، ڈھڈیاں شریف، گوجرانوالہ اور دیگر مقامات کا دورہ کیا۔ انھوں نے عالم اسلام کے علمی وفکری مسائل پر مختلف اجتماعات سے خطاب کیا اور سرکردہ علماء کرام کے ساتھ مشاورت کی۔ مولانا منصوری ۲۷؍ نومبر کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں تشریف لائے اور ماہانہ فکری نشست میں تفصیلی اظہار خیال فرمایا۔ ان کا خطاب الشریعہ کی ویب سائٹ www.alsharia.org پر ’’تقاریر وبیانات‘‘ کے سیکشن میں دیکھا جا سکتا ہے۔
مولانا منصوری نے الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر اور ورلڈ اسلامک فورم کے سرپرست مولانا زاہد الراشدی سے فورم کی سرگرمیوں کے حوالے سے تبادلہ خیالات کیا اور الشریعہ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر حافظ محمد عمار خان ناصر اور دیگر اساتذہ کے ساتھ ملاقات کے دوران اکادمی کی سرگرمیوں پر اطمینان اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے انھیں مزید منظم اورمربوط بنانے پر زور دیا۔ ورلڈ اسلامک فورم پاکستان کے رابطہ سیکرٹری اور پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ عربی کے استاذ پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد اور حضرت سید نفیس شاہ الحسینی رحمہ اللہ تعالیٰ کے خادم خاص بھائی رضوان نفیس بھی ان کے ہمراہ تھے۔ مولانا منصوری کم وبیش دو ہفتے پاکستان میں قیام کے بعد ۵؍ دسمبر کو ممبئی روانہ ہو گئے۔
دعوۃ اکادمی اسلام آباد سے علماء کرام کی آمد
دعوہ اکادمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں زیر تربیت پچاس کے لگ بھگ علماء کرام کی ایک کلاس نے، جو مسلح افواج کے مختلف شعبوں کے خطبا پر مشتمل تھی، ۳۰؍ نومبر کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کا دورہ کیا اور الشریعہ اکادمی کی لائبریری اور دیگر شعبوں کا معائنہ کرنے کے علاوہ ایک خصوصی نشست میں بھی شرکت کی جس کا ان علماء کرام کی آمد پر بطور خاص اہتمام کیا گیا۔ الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کلاس کے نگران ڈاکٹر طاہر صدیق کی فرمائش پر ’’عصر حاضر کی علمی وفکری ضروریات‘‘ کے موضوع پر تفصیلی خطاب کیا۔ خطباء کرام نے اکادمی کے اساتذہ سے مختلف امور پر تبادلہ خیالات کیا اور الشریعہ اکادمی کے پروگراموں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
کم وبیش تین گھنٹے اکادمی میں گزارنے کے بعد علماء کرام کا وفد جامعہ عربیہ گوجرانوالہ، جامعہ شاہ ولی اللہ اٹاوہ اور جامعہ اسلامی کامونکی کے دورے پر روانہ ہو گیا اور ان دو اداروں میں تھوڑی تھوڑی دیر گزارنے کے بعد انھوں نے مولانا زاہد الراشدی کے ہمراہ سادھوکی میں کیتھولک مسیحی ادارہ ’’بیت المومنین‘‘ کا بھی دورہ کیا۔
حفظ قرآن کی تکمیل کی تقریب
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے شعبہ حفظ کے طالب علم محمد طلحہ کا حفظ قرآن کریم مکمل ہونے پر اس کا آخری سبق ۱۴؍ دسمبر کو مغرب کی نماز کے بعد منعقد ہونے والی تقریب میں اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی اور دیگر اساتذہ نے سنا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہ نما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ انھوں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قرآن کریم کی تلاوت اورحفظ کے فضائل بیان کیے اور فرمایا کہ قرآن کریم کا سینے میں محفوظ ہو جانا کسی بھی مسلمان کے لیے دنیا اور آخرت کی کامیابیوں اور سعادتوں کا ذریعہ ہے، لیکن حفظ کر لینے کے ساتھ ساتھ اسے محفوظ رکھنا اور مسلسل پڑھتے رہنا بھی ضروری ہے۔
مولانا زاہد الراشدی نے حافظ محمد طلحہ، اس کے اساتذہ اور اہل خاندان کومبارک باد دی اور تقریب کے اختتام پر حافظ محمد طلحہ اور اکادمی کی کامیابی وترقی کے لیے دعا کی گئی۔
مولانا زاہد الراشدی کا دورۂ امریکہ
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے عید الاضحی کی تعطیلات کے دوران ۸ سے ۱۹؍ نومبر تک دار العلوم جمیکا نیو یارک کے مہتمم مولانا محمد یامین کی دعوت پر نیو یارک کا دورہ کیا اور دار العلوم میں اساتذہ وطلبہ کی کم وبیش ایک درجن تربیتی نشستوں سے مختلف عنوانات پر خطاب کرنے کے علاوہ مکی مسجد بروک لین، بخاری مسجد اور دیگر مساجد میں عوامی دینی اجتماعات سے بھی خطاب کیا، جبکہ ۲۰؍ نومبر کو وہ پروگرام کے مطابق گوجرانوالہ واپس پہنچ گئے۔