حدیث و سنت اور جدید تشکیکی ذہن
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(ڈاکٹر محمد اکرم ورک کی کتاب ’’متون حدیث پر جدید ذہن کے اشکالات: ایک تحقیقی جائزہ‘‘ کے پیش لفظ کے طور پر لکھا گیا۔)
نحمدہ تبارک وتعالیٰ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم وعلی آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم کی اطاعت واتباع کو بھی دین کا تقاضا قرار دیا گیا ہے اور متعدد آیات قرآنی کے ذریعے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حیثیت کو واضح کیا گیا ہے کہ وہ صرف قاصد اور پیغام بر نہیں ہیں، بلکہ مطاع، اسوہ اور متبَع بھی ہیں اور جس طرح قرآن کریم کے احکامات وارشادات کی اطاعت لازم ہے، اسی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم کے ارشادات واعمال اوراحکام وہدایات کی اتباع اور پیروی بھی ضروری ہے، جیسا کہ سورۂ آل عمران کی آیت ۳۲ میں فرمایا گیا ہے کہ:
قُلْ أَطِیْعُواْ اللّٰہَ وَالرَّسُولَ فإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْکَافِرِیْنَ۔
’’آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ پس اگر وہ پھر گئے تو بے شک اللہ تعالیٰ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘
اس کے ساتھ ہی قرآن کریم کے فہم اور آیات قرآنی میں اللہ تعالیٰ کی منشا ومراد کے تعین کے لیے بھی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی معیار اور اتھارٹی قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ سورۃ النساء کی آیت ۸۰ میں ارشاد ربانی ہے کہ:
مَّنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰہَ وَمَن تَوَلَّی فَمَا أَرْسَلْنَاکَ عَلَیْْہِمْ حَفِیْظاً۔
’’جو رسول اللہ کی اطاعت کرتا ہے، پس تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو پھر گیا، پس ہم نے آپ کو ان پر ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تین واضح حیثیتیں ہیں:
۱۔ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام وارشادات کو نسل انسانی تک پہنچانے والے ہیں۔
۲۔ اللہ تعالیٰ کے احکام وفرمودات کے شارح اور ان کی وضاحت کی اتھارٹی ہیں۔
۳۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی ایک مطاع اور اسوہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں اور ان کے وصال کے بعد بھی حضرات صحابہ کرام کا معمول یہ تھا کہ :
- جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو وحی بیان کرتے، صحابہ کرامؓ بلا تامل اس پر ایمان لے آتے اور اسے حکم خداوندی تسلیم کرتے تھے۔
- جس وحی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کا حصہ قرار دیتے، وہ قرآن کریم میں شامل کر لی جاتی اور جسے قرآن کریم کا حصہ بتائے بغیر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے ارشاد یا حکم کے طور پر بیان فرماتے، وہ ’’حدیث قدسی‘‘ قرار پاتی۔
- قرآن کریم کی کسی آیت یا جملے کے معنی ومفہوم کے بار ے میں کسی قسم کا اشکال پیدا ہوتا تو حضرات صحابہ کرامؓ اس کی وضاحت کے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی رجوع کرتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وضاحت کے لیے جو بھی ارشاد فرما دیتے، وہی اس آیت کریمہ کی حتمی تشریح سمجھی جاتی تھی۔ اس کے بیسیوں شواہد حدیث وتاریخ کے ریکارڈ پر محفوظ وموجود ہیں۔
- حتیٰ کہ کسی موقع پر خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول یا عمل قرآن کریم کی کسی آیت کے ظاہری مفہوم سے متعارض محسوس ہوتا تو اس کی وضاحت بھی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی مانگی جاتی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وضاحت میں جو کچھ فرما دیتے، وہی قرآن کریم کی منشا سمجھی جاتی، جیسا کہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق ام المومنین حضرت عائشہؓ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ ’من حوسب عذب‘، جس کا حساب لیا گیا، اسے عذاب دیا جائے گا، جبکہ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ جس کا ’’حساب یسیر‘‘ ہو، وہ خوش خوش اپنے گھر والوں کے پاس پلٹے گا۔ بظاہر یہ قرآن کریم کے ارشاد اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں تعارض بنتا ہے، لیکن اس تعارض کا سوال جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا اور جو بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرما دی، وہی قرآن کریم کا منشا قرار پائی۔
یہی وجہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرات صحابہ کرامؓ کا یہی تعامل رہا کہ وہ قرآن کریم کے ساتھ ساتھ سنت وحدیث کو بھی دین کی مستقل دلیل اور ماخذ سمجھتے تھے اور عقائد واحکام دونوں میں قرآن کریم کی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور حدیث سے بھی استدلال کرتے تھے، جیسا کہ امام بیہقی السنن الکبریٰ (ج ۱، ص ۱۱۴) میں حضرت میمون بن مہران کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ:
ان ابابکر رضی اللہ عنہ کان یقضی بکتاب اللہ، فان لم یجد قضی بسنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فان لم یجد سال المسلمین، فان اخبروہ بقضاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضی بہ، فان اعیاہ ذالک دعا رؤوس المسلمین وعلماء ہم، فان اجتمع رایہم علی الامر قضی بہ۔
’’جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین اور خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا معمول یہ تھا کہ کوئی مسئلہ پیش آتا تو قرآن کریم کے مطابق فیصلہ کرتے تھے۔ اگر قرآن کریم میں اس کا حل نہ پاتے تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فیصلہ ان کے علم میں ہوتا تو اس کے مطابق فیصلہ کرتے اور اگر ان کے علم میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فیصلہ نہ ہوتا تو صحابہ کرامؓ سے دریافت کرتے اور وہ انھیں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فیصلہ بتا دیتے تو اس کے مطابق فیصلہ کرتے اور اگر تمام تر کوشش کے باوجود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد نہ ملتا تو علماء کرام اور بڑے لوگوں کو جمع کر کے ان سے مشاورت کرتے اور جس بات پر ان کا اتفاق ہو جاتا، اس کے مطابق فیصلہ فرما دیتے۔‘‘
اسی طرح مسلم شریف کی روایت کے مطابق حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے تقدیر کے عقیدہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ تقدیر کا عقیدہ نہ رکھنے والوں سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے اور دلیل کے طور پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کا حوالہ دیا جس میں آپ نے ایمان کی وضاحت کرتے ہوئے ’ان تؤمن بالقدر‘ کو اس میں شامل کیا ہے۔
اس سے واضح ہے کہ حضرات صحابہ کرام کے ہاں عقائد واحکام، دونوں معاملات میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وحدیث مستقل دلیل سمجھی جاتی تھی اور قرآن کریم کی طرح حدیث وسنت سے بھی بطور ماخذ استدلال کیا جاتا تھا۔
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پورے دور میں ان کا اجماعی تعامل یہی رہا ہے، لیکن جب خوارج ومعتزلہ جیسے گروہوں کو اپنے خود ساختہ عقائد ونظریات کے لیے قرآن کریم کی تعبیر نو کی ضرورت پیش آئی تو اس کی راہ میں ’’حدیث وسنت‘‘ کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہوئے اس کے انکار یا اسے کمزو اور غیر معتبر قرار دینے کے راستے تلاش کیے گئے۔ ظاہر بات ہے کہ سنت وحدیث اور تعامل صحابہ کرام کی موجودگی میں قرآن کریم کی کوئی نئی تعبیر وتشریح ممکن ہی نہیں ہے اور اسی وجہ سے خوارج ومعتزلہ بلکہ ان کے بعد اس راہ پرچلنے والے ہر گروہ کو ہر دور میں اس کی ضرررت پیش آتی رہی ہے کہ وہ حدیث وسنت اور تعامل صحابہ کرامؓکی اہمیت وضرورت سے انکار کریں اور ان کی حجیت کو مشکوک ومتنازعہ بتا کر قرآن کریم کی من مانی تعبیر وتشریح کی راہ نکالیں، جیسا کہ آج کے ’’متجددین‘‘ کا طریق واردات بھی یہی ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جب حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کو خوارج کے ساتھ گفتگو کے لیے بھیجا تو اسی خدشے کے پیش نظر ان سے فرمایا تھا کہ:
اذہب الیہم فخاصمہم، ولا تحاجہم بالقرآن فانہ ذو وجوہ ولکن خاصمہم بالسنۃ .... قال لہ: یا امیر المومنین فانا اعلم بکتاب اللہ منہم، فی بیوتنا نزل، قال: صدقت ولکن القرآن حمال ذو وجوہ، تقول ویقولون، ولکن خاصمہم بالسنن، فانہم لن یجدوا عنہا محیصا (الاتقان فی علوم القرآن، ج ۱، ص ۴۱۰)
’’ان کے پاس جاؤ اور ان سے بحث کرو، لیکن ان کے سامنے قرآن کریم سے استدلال نہ کرنا، اس لیے کہ قرآن کریم کے الفاظ میں مختلف معانی کا احتمال ہوتا ہے، بلکہ ان کے ساتھ سنت کے حوالے سے گفتگو کرنا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے کہا کہ اے امیر المومنین، میں قرآن کریم کو ان سے زیادہ جاننے والا ہوں۔ یہ تو ہمارے گھروں میں اترا ہے (یعنی قرآن کریم کے حوالے سے گفتگو میں بھی وہ مجھ پر غالب نہیں آ سکتے)۔ حضرت علی نے فرمایا کہ تم ٹھیک کہہ رہے ہو، لیکن قرآن کریم احتمالات کا حامل ہے۔ تم ایک مطلب بیان کرو گے تو وہ دوسرا مطلب نکال لیں گے۔ تم ان کے ساتھ سنن کی بنیاد پر بحث کرنا، کیونکہ ان سے بھاگنے کی راہ انھیں نہیں ملے سکے گی۔‘‘
حضرت علیؓ کے ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ سنت رسول سے ہٹ کر اگر قرآن کریم سے براہ راست استدلال کرو گے تو الفاظ اور جملوں میں مختلف معانی کے احتمالات کی وجہ سے وہ اس سے کوئی بھی استدلال کر سکیں گے۔ اس کے برعکس سنت رسول کو بنیاد بناؤ گے تو وہ ان احتمالات سے اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکیں گے اور قرآن کریم کے ایک متعین مفہوم کا انھیں سامنا ہوگا۔
ظاہر بات ہے کہ کسی بھی کلام کے الفاظ، جملوں اور محاوروں میں مختلف معانی کا احتمال موجود ہوتا ہے اور یہ فطری بات ہے، اس لیے ان احتمالات میں سے کسی ایک معنی کی تعیین کے لیے کسی اتھارٹی کی ضرورت ہوتی ہے جو مختلف معنوں اور احتمالات میں سے ایک کا تعین کر دے۔ قرآن کریم کے حوالے سے یہ اتھارٹی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے، اس لیے حضرت علیؓ نے عبد اللہ بن عباسؓ سے فرمایا کہ تم سنت رسول کی بنیاد پر گفتگو کرنا تاکہ وہ قرآن کریم کے ظاہری احتمالات سے غلط فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اس کی مثال موجودہ دور میں ایسے ہے جیسے ملک کے دستور کی کسی بھی دفعہ میں عام طور پر ایک سے زیادہ تعبیروں کی گنجائش ہوتی ہے اور آئینی ماہرین ان گنجائشوں کے حوالے سے دستوری دفعات کی مختلف تعبیرات پیش کرتے رہتے ہیں، لیکن اس کے لیے حتمی اتھارٹی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کو سمجھا جاتا ہے اور باقاعدہ اتھارٹی کی طرف سے کی جانے والی تعبیر ہی دستورکی حتمی تعبیر وتشریح قرار پاتی ہے۔
صحابہ کرام کے آخری دور اور اس کے بعد کے قریبی ادوار میں قرآن وسنت کی تعبیر وتشریح کے حوالے سے معتزلہ، خوارج اور ان جیسے دیگر گروہوں نے امت کے اجماعی موقف سے الگ راستے اختیار کیے جنھیں ایک حد تک ظاہر پرستی اور عقل پرستی کی دو انتہائیں قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ اہل سنت کا موقف ان دو انتہاؤں کے درمیان اعتدال، توازن اور حقیقت پسندی پر مبنی چلا آ رہا ہے مگر مغرب کی ’’تحریک استشراق‘‘ نے مسلمانوں کے لیے جو علمی وفکری سوالات پیدا کیے، ان کی جڑ بھی بالآخر اسی طریق واردات میں جا کر پیوست ہو گئی جو معتزلہ اور خوارج نے اختیار کیا تھا کہ قرآن کریم کو سنت رسول، تعامل صحابہ کرامؓ اور امت کے جمہوری تسلسل سے الگ کر دیا جائے تاکہ اس کی من مانی تشریح آسان ہو جائے۔
’’استشراق‘‘ کی فکری اور علمی تحریک کے دو مراحل تاریخ ہمارے سامنے پیش کرتی ہے۔ اس کا آغاز تو تیرھویں صدی عیسوی میں اس وقت ہوا جب تاتاریوں نے ۱۲۵۸ھ میں بغداد کو پامال کرنے کے صرف دو سال بعد ۱۲۶۰ھ میں عین جالوت میں سلطان المظفرؒ کی سربراہی میں کمانڈر ظاہر بیبرس کے ہاتھوں خوف ناک شکست کھا کر ہمیشہ کے لیے پسپائی اختیار کر لی اور اس کے بعد صلیبی جنگوں میں بھی صلیبی قوتوں کو پے در پے شکستوں نے بد حواس کر دیا، حتیٰ کہ وہ ۱۲۹۱ھ میں سلطان الملک الاشرفؒ کے ہاتھوں عکہ کی آخری اور فیصلہ کن شکست سے دوچار ہوئے تو صلیبیوں کی مذہبی قیادت کو دو باتوں نے سخت پریشان کر دیا۔ ایک یہ کہ اگر تاتاریوں نے مسلمانوں کا مذہب قبول کر لیا تو مسلمانوں کی قوت کئی گنا بڑھ جائے گی اور دوسرا یہ کہ پوپ اربن ثانی کی شروع کردہ صلیبی جنگوں کے عبرت ناک خاتمہ کے بعد مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اب کون سی مسیحی قوت سامنے آ سکے گی؟
چنانچہ اس دور کے معروف مسیحی مبلغ ریمنڈس للس (Reymundus Lullus) نے، جس نے تیونس اور یگر علاقوں میں نصف صدی تک مسیحی دعوت کے لیے مشنری خدمات سرانجام دیں، ان خدشات کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ:
’’اگر نسطوری عیسائیوں کو اپنی صف (کیتھولک) میں شریک کر لیا جائے اور تاتاریوں کو عیسائی بنا لیا جائے تو سارے سراسین (مسلمان) بآسانی تباہ کیے جا سکتے ہیں، لیکن خوف یہ بھی ہے کہ اگر ان تاتاریوں نے ترغیب یا تحریص کے باعث شریعت محمدیہ تسلیم کر لی تو پھر عالم عیسائیت کے لیے شدید خطرہ پیدا ہو جائے گا۔‘‘ (بحوالہ ’’اسلام، پیغمبر اسلام اور مستشرقین کا انداز فکر‘‘ از ڈاکٹر عبد القادر جیلانی، ص ۱۶۹)
یہ خوف بالآخر سامنے آ گیا اور تاتاریوں نے نہ صرف یہ کہ اسلام قبول کر لیا بلکہ وہ اسلام کا بازوئے شمشیر زن بن گئے تو عسکری میدان جنگ سے مکمل مایوس ہو کر مسلمانوں کو مسیحیت کی دعوت دینے اور ان کے ساتھ علمی وفکری مباحثوں کا راستہ اختیار کیا گیا جس کے لیے ریمنڈس للس نے کلیسا کو دعوت دی کہ
’’علوم شرقیہ کے مطالعہ کو روحانی صلیبی جنگ کے طور پر استعمال کیا جائے۔‘‘
چنانچہ ریمنڈس للس نے تیونس کو اپنی روحانی صلیبی جنگ کا میدان بنایا، علوم شرقیہ کے مطالعہ کے مدارس قائم کیے، مسلم علما کے ساتھ مناظروں کا بازار گرم کیا اور نصف صدی کی مسلسل تگ ودو کے بعد تیونس میں ہی قتل ہو کر اس مشن کے لیے اپنی جان بھی دے دی۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: Philip Schaff, "History of the Christian Church", vol. 5, p. 433-437)
اس کے ساتھ ایک اور مسیحی دانش ور بیکن کو بھی اسی فکر کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ یہ دونوں مسیحیت کے عمومی علمی اور دینی ماحول کو تو اپنی طرف متوجہ نہ کر سکے لیکن علوم شرقیہ کے مطالعہ کی استشراقی تحریک کی بنیاد فراہم کر گئے اور ’’روحانی صلیبی جنگ‘‘ کے عنوان سے اس کا ہدف بھی انھوں نے طے کر دیا۔ البتہ سولھویں صدی عیسوی میں، جو بائبل کی تعبیر وتشریح میں پاپاے روم کی اتھارٹی بلکہ اجارہ داری کو مارٹن لوتھر کی طرف سے چیلنج کیے جانے کی صدی ہے اور پروٹسٹنٹ فرقے کا دور آغاز ہے، تحریک استشراق نے نئی کروٹ لی اور اسے یہ امکان دکھائی دینے لگا کہ اگر مسیحیت میں اصلاح علوم اور مذہبی ڈھانچے کی ری کنسٹرکشن کے ذریعے سے قدیم مذہبی روایات سے بغاوت ہو سکتی ہے تو مسلمانوں میں اس تجربے کو دہرانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں اور یہ بغاوت اگر کامیاب ہو گئی تو مسلمانوں کو ان کے علمی ماضی سے کاٹ کر نئے سانچے میں ڈھالا جا سکتا ہے اور عسکری میدان کی شکست کو فکری میدان کی فتح میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
تاریخی ترتیب کے لحاظ سے ہمیں نظر آتا ہے کہ مارٹن لوتھر کی وفات کے بعد اگلی نصف صدی کے اندر ہندوستان کے مغل بادشاہ اکبر نے ’’دین الٰہی‘‘ کے نام سے جو نیا دینی ڈھانچہ قوت کے زور پر متعارف کرانے کی ناکام کوشش کی، وہ اسی طرح کی ری کنسٹرکشن کا نمونہ تھا جسے مارٹن لوتھر اور ا س کے قائم کردہ پروٹسٹنٹ فرقہ نے یورپ میں کامیابی کے ساتھ عملی وجود دے دیا تھا، لیکن اسلام کی مضبوط علمی روایت کے سامنے اکبر باشاہ کی قوت اور اقتدار کا زور نہ چل سکا اور اکبر بادشاہ کے منظر سے ہٹتے ہی ’’دین الٰہی‘‘ کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔
یہ ایک الگ بحث طلب نکتہ ہے کہ جس مقصد میں مارٹن لوتھر کو یورپ میں کامیابی حاصل ہو گئی، اس میں اکبر بادشاہ کو ہندوستان میں کامیابی کیوں حاصل نہ ہو سکی، جبکہ مارٹن لوتھر ایک عام مذہبی راہ نما تھا اور اکبر بادشاہ ہندوستان کا سب سے باجبروت بادشاہ متصور ہوتا تھا، لیکن اس وقت ہمارا یہ موضوع نہیں ہے، کیونکہ ہم تحریک استشراق کے اس نئے دور کی بات کر رہے ہیں جس میں یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ مسلمانوں کو اب مناظروں اور مباحثوں میں زیر کرنے کی کوشش میں وقت ضائع کرنے کی بجائے مسلمانوں کے اندر کوئی ایسی تحریک پیدا کر دی جائے جو ایک ہزار سے چلی آنے والی مذہبی اتھارٹی کو مشکوک بنا دے اور مسیحیت کی طرح اسلام میں بھی اصلاح علوم اور دین کی تشکیل نو کا ذہن پیداکر دیا جائے جس کا ایک مشاہداتی منظر ہم نے ہندوستان پر برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے تسلط واقتدار کے بعد اس ملک کے نئے نظام تعلیم کی بنیاد رکھنے والے برطانوی دانش ور لارڈ میکالے کے اس تاریخی مقولے کی صورت میں دیکھا کہ میں نے ایک ایسا نظام تعلیم ترتیب دیا ہے جس سے گزر کر مسلمان اگر مسیحی نہیں ہوگا تو مسلمان بھی نہیں رہے گا۔
تحریک استشراق کا ہدف یہی تھا اور اب بھی یہی ہے۔ بلاشبہ مستشرقین نے علوم اسلامیہ کے مطالعہ وتحقیق میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں اور علمی حوالے سے ان خدمات کا اعتراف نہ کرنا، نا انصافی اور بخل ہوگا، لیکن مقاصد کے اعتبار سے مستشرقین کی علمی خدمات اور لارڈ میکالے کے تعلیمی منصوبے میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا، البتہ نتائج وثمرات کے معاملے میں اکبر بادشاہ کی طرح انھیں بھی مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو پا رہے اور نہ صرف برصغیر پاک وہند بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی فیصلہ کن اکثریت اپنی قومی مذہبی روایت اور علمی تسلسل کے ساتھ اس طرح جڑی ہوئی ہے جس طرح آج سے دو صدیاں پہلے تھی اور مسلمانوں کے اعتقادی اور علمی قلعے میں شگاف ڈالنے کی مغربی کوششوں کا نتیجہ خود مغرب کو اپنا سر پھوڑنے کے سوا اب بھی کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔
البتہ اس ضمن میں مستشرقین کے اٹھائے ہوئے مختلف اعتراضات سے بعض مسلمان اہل دانش یقیناًمتاثر ہوئے ہیں اور انھوں نے اپنے خیال کے مطابق اسلام اور پیغمبر اسلام کو جدید مغربی ذہن کے اعتراضات سے بچانے کا آسان نسخہ یہ تجویز کیا ہے کہ ذخیرۂ حدیث میں ایسے اعتراضات کی بنیاد بننے والی احادیث کا ہی سرے سے انکار کر دیا جائے۔ گزشتہ دنوں بعض اصحاب قلم نے اخبارات میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے وقت ان کی عمر کی بحث چھیڑی اور کہا کہ ہمیں احادیث کی وہ تمام روایات مستردکر دینی چاہییں جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے بارے میں آج کی دنیا، بالخصوص مغرب کے اعتراضات کا باعث بنتی ہیں اور چونکہ مغرب کم سنی کی شادی کو قابل اعتراض سمجھتا ہے، اس لیے بخاری شریف کی وہ روایت ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہونی چاہیے جس میں بتایا گیا ہے کہ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر چھے سال اور رخصتی کے وقت نو سال تھی۔
جہاں تک اس جذبے کا تعلق ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر مغرب کے اعتراضات کا محققانہ جواب دینا ضروری ہے، یہ انتہائی قابل قدر ہے۔ اسی طرح نکاح اور رخصتی کے وقت ام المومنین حضرت عائشہؓ کی عمر کے بارے میں یہ بحث ایک عرصے سے جاری ہے اور بحث وتحقیق کی حد تک اس میں کوئی اشکال کی بات بھی نہیں ہے۔ ہر مورخ اور محقق کا حق ہے کہ روایات کی بنیاد پر اپنی تحقیق کے مطابق کوئی رائے قائم کرے اور اس کا اظہار بھی کرے۔ اس نوعیت کے سیکڑوں مسائل امت کے اہل علم میں مختلف فیہ چلے آ رہے ہیں اور ان پر بحث وتمحیص کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ آئندہ بھی قیامت تک ان مباحث کا دروازہ کھلا ہے، البتہ بحث کا یہ پہلو کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے بارے میں مغرب کے اعتراضات اور طعن وتشنیع کا جواب دینے کے لیے ہم اپنی ہی روایات اور علمی اثاثے کی اکھاڑ پچھاڑ میں لگ جائیں، بہرحال قابل توجہ ہے اور ہمارے خیال میں ایسے مسائل میں اپنے علمی ذخیرے کے درپے ہونے سے پہلے ہمیں اس بات کا جائزہ لے لینا چاہیے کہ مغرب کے اعتراضات کی فکری اساس کیا ہے اور اس طعن وتشنیع کی اپنی علمی حیثیت کیا ہے جس کی بنیاد پر اسلام کی تعلیمات یا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو مورد طعن قرار دیا جا رہا ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ مغرب کے اٹھائے ہوئے مطاعن واعتراضات کی علمی حیثیت کا تجزیہ کیا جائے اور ہر مغربی اعتراض کو درست تسلیم کرنے کی بجائے اس کی خامی کو واضح کرنے کی کوشش کی جائے، مگر ہمارا المیہ ہے کہ علامہ محمد اقبالؒ کے بعد مغربی فلسفہ وثقافت کا اس سطح پر ناقدانہ جائزہ لینے والا اور کوئی مفکر سامنے نہیں آیا اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ خود اقبال کا نام لینے والے اس معاملے میں اقبال کی راہ پر چلنے کی بجائے مغربی فلسفہ وثقافت کی نام نہاد علمی برتری کے سامنے سر بسجود دکھائی دے رہے ہیں۔
بہرحال مستشرقین کی ایک بڑی تعداد نے اپنی علمی وفکری جدوجہد کا ہدف مسلمانوں کے علمی ماضی بالخصوص حدیث نبوی اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کو قرار دے رکھا ہے اور اس کے لیے مسلسل علمی، تحقیقی اور مطالعاتی کام جاری ہے، لیکن مسلم علما نے مغربی یورپ کی مسیحی مذہبی قیادت کی طرح سرنڈر کر دینے کی بجائے علمی اور تحقیقی میدان میں پوری جرات کے ساتھ اس کا سامنا کیا ہے اور تحقیق واستدلال کی قوت سے اس کا راستہ روکنے میں مجموعی طور پر وہ کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ حدیث وسنت کی حجیت واہمیت کے انکار کی وجہ ہمارے نزدیک وہی ہے جس کا ہم نے سطور بالا میں تذکرہ کیا ہے اور اسی لیے مستشرقین کی طرف سے اس پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے، مگر مسلم علما کی کاوشیں انتہائی قابل قدر ہیں کہ انھوں نے مسلم امہ کی اکثریت کو حدیث وسنت کے بارے میں شکوک وشبہات کا شکار ہونے سے عالم اسباب میں بچا رکھا ہے اور چند محدود حلقوں کے علاوہ حدیث وسنت کے بارے میں امت مسلمہ اپنے قدیم موقف اور روایت پر بحمد اللہ تعالیٰ پوری دل جمعی کے ساتھ قائم ہے۔
حدیث وسنت کے بارے میں مستشرقین اور ان کے زیر اثر بعض مسلمان اہل دانش کی طرف سے اٹھائے جانے والے سوالات اور شکوک وشبہات پر ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر محمد اکرم ورک نے بھی قلم اٹھایا ہے جو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ایک عرصہ سے ہمارے رفیق کار ہیں اور علمی، تحقیقی اور فکری سرگرمیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ انھوں نے جس محنت، نکتہ رسی اور گہرائی کے ساتھ ان سوالات اور شکوک وشبہات کا تجزیہ کیا ہے اور ان کے جوابات دیے ہیں، اس پر وہ داد کے مستحق ہیں اور ان کی یہ علمی کاوش یقیناًبہت سے نوجوان اہل علم کے لیے راہ نمائی کا باعث بنے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس خدمت کو قبولیت سے نوازیں اور دونوں جہانوں میں ثمرات وبرکات سے بہرہ ور فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
نفاذِ شریعت کے رہنما اصولوں کے حوالے سے ۵۵ علماء کرام کے متفقہ ۱۵ نکات
ادارہ
(۲۴ ستمبر ۲۰۱۱ء کو لاہور میں ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کے زیر اہتمام منعقدہ ’’اتحاد امت کانفرنس‘‘ کا مشترکہ اعلامیہ۔)
چونکہ اسلامی تعلیمات کا یہ تقاضا ہے کہ مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزار یں اور پاکستان اسی لیے بنایا گیا تھا کہ یہ اسلام کا قلعہ اور تجربہ گاہ بنے لہٰذا 1951ء میں سارے دینی مکاتب فکر کے معتمد علیہ 31علماء کرام نے عصر حاضر میں ریاست و حکومت کے اسلامی کردار کے حوالے سے جو 22نکات تیار کیے تھے انہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو ٹھوس بنیادیں فراہم کیں اور ان کی روشنی میں پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کے حوالے سے کئی دستور ی انتظامات بھی کر دیے گئے لیکن ان میں سے اکثر زینت قرطاس بنے ہوئے ہیں اور ان پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ مزید برآں کچھ اور دستوری خلا بھی سامنے آئے ہیں جو پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں چنانچہ نفاذ شریعت کے حوالے سے حکومتی تساہل پسندی کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان کے شمال مغربی سرحدی قبائلی علاقوں کے بعض عناصر نے بزورِ قوت شریعت کی من مانی تعبیرات کو نافذ کرنے کے لیے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔ اس مسلح جدوجہد کے شرکاء نے ایک طرح سے حکومتی رٹ کو چیلنج کر دیا جب کہ اس صورت حال کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دہشت گردی کے ساتھ نتھی کر کے افواج پاکستان کو اس مسلح جدوجہد کے شرکاء کے سامنے لا کھڑا کیا اور یو ں دونوں طرف سے ایک دوسرے کے ہاتھوں مسلمانوں کا ہی خون بہہ رہا ہے حالانکہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ان سرگرمیوں کی پشت پناہی بھی خود امریکہ ، بھارت اور اسرائیل ہی کررہے ہیں۔ پاکستان کے دیگر پُر امن علاقے بھی اس جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں ہیں تقریباً تمام بڑے شہروں میں آئے دن دہشتگردی اور خود کش حملوں کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں جن میں اب تک ہزاروں معصوم شہری اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علماء کرام ایک مرتبہ پھر مل بیٹھیں اور باہمی غوروفکر اور اتفاق رائے سے ان اُمور کی نشاندہی کر دیں جن کی وجہ سے پاکستان ابھی تک ایک مکمل اسلامی ریاست نہیں بن سکا اور نہ ہی یہاں نفاذ شریعت کاکام پایۂ تکمیل تک پہنچ سکا ہے۔ تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علماء کرام کی یہ کوشش اس مرحلہ پر اس لیے ناگزیر ہے کہ ان کی اس کو شش سے ہی نہ صرف ان اسباب کی نشاندہی ہو گی جو نفاذ شریعت کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں بلکہ نفاذ شریعت کے لیے متفقہ رہنما اصولوں کے ذریعے وہ سمت اور راستہ بھی متعین ہو جائے گا جس پر چل کر یہ منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔ دراصل نفاذ شریعت کی منزل کا حصول ہی اس بات کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے کہ آئندہ پاکستان کے کسی علاقے سے نفاذ شریعت کے نام پر مسلح جارحیت کا ارتکاب اور حکومتی رٹ کو چیلنج نہ کیا جا سکے۔ چنانچہ اس حوالے سے تجویز کیے گئے اقدامات پیش خدمت ہیں :
۱۔ ہمارے حکمرانوں کی یہ شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ فرد کو بھی شریعت پر عمل کے قابل بنائیں اور معاشرے اور ریاست کو بھی شریعت کے مطابق چلائیں۔ دینی عناصر کا بھی فرض ہے کہ وہ دعوت و اصلاح اور تبلیغ و تذکیر کے ذریعے فرد کی بھی تربیت کریں، حکمرانوں پر بھی دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی دینی ذمہ داریاں پوری کریں اور جہاں تک قانون اجازت دے خود بھی نفاذِ شریعت کے لیے ضروری اقدامات کریں۔اسی طرح ہر مسلمان کی یہ ذاتی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرے۔
۲۔ یہ کہ پاکستان میں نفاذِ شریعت کی بنیاد ۱۹۵۱ء میں سارے مکاتب فکر کے علماء کرام کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کردہ ۲۲ نکات ہیں اور موجودہ دستاویز کے ۱۵ نکات کی حیثیت بھی ان کی تفریع اور تشریح کی ہے۔
۳۔ یہ کہ پاکستان میں شریعت کا نفاذ پر امن جدوجہد کے ذریعے ہونا چاہیے کیونکہ یہی اسلامی تعلیمات اوردستور پاکستان کا مشترکہ تقاضا ہے اور عملاً بھی اس کے امکانات موجود ہیں ۔ نیز شریعت کا نفاذ سارے دینی مکاتب فکر کی طرف سے منظورشدہ متفقہ راہنما اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے ( یہ۱۵ نکات اس قرارداد کا حصہ ہیں)اور کسی گروہ یا جماعت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی کا اسلام سارے معاشرے پرقوت سے ٹھو نس دے۔
۴۔ دستور پاکستان کے قابل نفاذ حصے میں بصراحت یہ لکھا جائے کہ قرآن و سنت مسلمانوں کا سپریم لاء ہے اوراس تصریح سے متصادم قوانین کو منسوخ کر دیا جائے۔یہ دستوری انتظام بھی کیا جائے کہ عدلیہ کی طرف سے دستور کی کوئی ایسی تعبیر معتبر نہ ہو گی جو کتاب وسنت کے خلاف ہو اور دستور کی کسی بھی شق اور مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے کسی بھی فیصلے کو کتاب وسنت کے خلاف ہونے کی صورت میں اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکے۔ نیز ان دستوری دفعات کو دستور میں بنیادی اور ناقابل تنسیخ دفعات قرار دیا جائے۔ آئین توڑنے سے متعلق دفعہ 6Aاور عوامی نمائندوں کی اہلیت سے متعلق دفعات 63,62کو مؤثر اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایاجائے۔ کسی بھی ریاستی یا حکومتی عہدیدارکی قانون سے بالاتر حیثیت اور استثنا پر مبنی دستوری شقوں کا خاتمہ کیا جائے ۔
وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعت اپیلنٹ پنج کے جج صاحبان کو دیگر اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان کی طرح باقاعدہ جج کی حیثیت دی جائے اور ان کے سٹیٹس اور شرائط تقرری وملازمت کو دوسری اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان کے سٹیٹس اور شرائط تقرری و ملازمت کے برابر لایا جائے ۔بعض قوانین کو وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار سے مستثنیٰ قرار دینے کے فیصلوں پر نظر ثانی کی جائے اور وفاقی شرعی عدالت کو ملک کے کسی بھی قانون پر نظر ثانی کا اختیاردیا جائے ۔وفاقی شرعی عدالت اور شریعت اپیلنٹ بنچ کو آئینی طور پر پا بند کیا جائے کہ وہ مناسب وقت (Time frame)کے اندر شریعت پٹیشنوں اور شریعت اپیلوں کا فیصلہ کر دیں۔وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کی طرح صوبائی، ضلعی اور تحصیل سطح کی عدالتوں میں بھی علماء ججوں کا تقررکیا جائے اور آئین میں جہاں قرآن و سنت کے بالا تر قانون ہونے کا ذکر ہے وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شارع ہونے کا ذکر بھی کیا جائے۔ حکومت اسلامی نظریاتی کونسل میں تمام مکاتب فکر کے جید علماء بطور رکن نامزد کرے۔ ہر مکتبہ فکر اپنا نمائندہ اپنے حلقوں سے مشاورت کے بعد تجویز کرے۔ نفاذِ شریعت کے حوالے سے جن نکات پر ارکان کی اکثریت کا اتفاق ہوجائے حکومت چھ ماہ کے اندر اسے قانون بنا کر پاس کرنے کی پابند ہو۔
۵۔ پاکستان کے قانونی ڈھا نچے میں پہلے سے موجود اسلامی قوانین پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا جائے اور اسلامی عقوبات کے نفاذ کے ساتھ ساتھ مؤثر اصلاحی کو ششیں بھی کی جائیں ۔
۶۔ اسلامی اصول و اقدار کے مطابق عوام کو بنیادی ضروریات وسہولیات زندگی مثلاً روٹی ، کپڑا ، مکان ، علاج معالجہ اور تعلیم فراہم کرنے، غربت و جہالت کے خاتمے اور عوامی مشکلات و مصائب دور کرنے اورپاکستانی عوام کو دنیا میں عزت اور وقار کی زندگی گزارنے کے قابل بنانے کو اولین ریاستی ترجیح بنایا جائے ۔
۷۔ موجودہ سیاسی نظام کی اسلامی تعلیمات کے مطابق اصلاح کی جائے مثلاً عوامی نمائندگی میں سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کی حوصلہ شکنی اور غریب اور متوسط طبقے کی نمائندگی کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹھوس عملی اقدامات کیے جائیں نمائندگی کے لیے شرعی شہادت کی اہلیت کو لازمی شرط قرار دیاجائے۔ متناسب نمائندگی کا طریقہ اپنایا جائے ۔ علاقائی ، نسلی، لسانی اور مسلکی تعصبات کی بنیاد پر قائم ہونے والی سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی جائے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے مناسب پالیسیاں اور ادارے بنائے جائیں
۸۔ تعلیمی نظام کی اسلامی تناظر میں اصلاح کے لیے قومی تعلیمی پالیسی اور نصابات کو اسلامی اور قومی سوچ کے فروغ کے لیے تشکیل دیا جائے جس سے یکساں نظام تعلیم کی حوصلہ افزائی اور طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ ہو ، اساتذہ کی نظریاتی تربیت کی جائے اور تعلیمی اداروں کا ماحول بہتر بنایا جائے۔ مخلوط تعلیم ختم کی جائے اور مغربی لباس کی پابندی اور امور تعلیم میں مغرب کی اندھی نقالی کی روش ختم کی جائے۔تعلیم کا معیاربلند کیا جائے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو قومی نصاب اپنانے کا پابند بنانے اور ان کی نگرانی کا مؤثر نظام وضع کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے ۔ تعمیر سیرت اور کردار سازی کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ تعلیم سے ثنویت کا خاتمہ کیا جائے۔ دینی مدارس کے نظام کو مزید مؤثر و مفید بنانے اور اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ضروری قدامات کیے جائیں تا کہ بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ ملے اور فرقہ واریت میں کمی واقع ہو دینی مدارس کی ڈگریوں کو تسلیم کیا جائے۔ تعلیم کے لیے وافر فنڈز مہیا کیے جائیں۔ملک میں کم ازکم میٹرک تک لازمی مفت تعلیم رائج کی جائے اور چائلڈ لیبر کا خاتمہ کیا جائے۔
۹۔ ذرائع ابلاغ کی اصلاح کی جائے۔ اسلامی تناظر میں نئی ثقافتی پالیسی وضع کی جائے جس میں فحاشی و عریانی کو فروغ دینے والے مغربی و بھارتی ملحدانہ فکرو تہذیب کے اثرات و رجحانات کو رد کر دیا جائے ۔ صحافیوں کے لیے ضابطۂ اخلاق تیار کیا جائے اور ان کی نظریاتی تربیت کی جائے۔ پرائیویٹ چینلز اور کیبل آپریٹرز کی مؤثر نگرانی کی جائے۔ اسلام اور پاکستان کے نظریاتی تشخص کے خلاف پروگراموں پر پابندی ہونی چاہیے بلکہ تعمیری انداز میں عوام کے اخلاق سدھارنے اور انہیں اسلامی تعلیمات پر عمل کی ترغیب دینے والے پروگرام پیش کیے جائیں اور صاف ستھری تفریح مہیا کی جائے۔
۱۰۔ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے اور افلاس اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے ٹھوس عملی اقدامات کیے جائیں جیسے جاگیر داری اور سرمایہ دارانہ رجحانات کی حوصلہ شکنی کرنا، شعبہ زراعت میں ضروری اصلاحات کو اولین حکومتی ترجیح بنانا، تقسیم دولت کے نظام کو منصفانہ بنانااور اس کا بہاؤ امیروں سے غریبوں کی طرف موڑنا۔ بیرونی قرضوں اور درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنا اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرنا۔ معاشی خود کفالت کے لیے جدو جہد کرنا اور عالمی معاشی اداروں کی گرفت سے معیشت کو نکالنا۔ سود اور اسراف پر پابندی اور سادگی کو رواج دینا۔ٹیکسز اور محاصل کے نظام کو مؤثر بنایا جائے اور بینکوں کو پابند کیا جائے کہ وہ بڑے قرضوں کے اجراء کے ساتھ ساتھ مائیکروکریڈٹ کا بھی اجراء کریں تا کہ غریب اور ضرورت مند لوگ ان بلاسودقرضوں کے ذریعے اپنی معاشی حالت بہتر کر سکیں نیز قرضوں کو بطور سیاسی رشوت دینے پر قانونی پابندی عائد کی جائے۔ زکوٰۃ اور عشر کی وصولی اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ دستور پاکستان کے آرٹیکل ۳۸ میں درج عوام کی معاشی اور معاشرتی فلاح وبہبود کے متعلقہ اُمور کی تکمیل کے لیے حکومت خود اور نجی شعبے کے اشتراک سے فوری طور پر ٹھوس قدامات کرے ۔ لوٹ مار سے حاصل کردہ اور بیرون ملک بینکوں میں جمع خطیر رقوم کی وطن واپسی کو یقینی بنایا جائے ۔
۱۱۔ عدلیہ کی بالفعل آزادی کو یقینی بنایا جائے اور اسے انتظامیہ سے الگ کیا جائے۔ اسلامی تناظر میں نظام عدل کی اصلاح کے لیے قانون کی تعلیم، ججوں ، وکیلوں، پولیس اور جیل سٹاف کے کردار کو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ انصاف سستا اور فوری ہونا چاہیے۔
۱۲۔ امن و امان کی بحالی اور لوگوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو ان مقاصد کے حصول کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانا چاہیے۔
۱۳۔ خارجہ پالیسی کو متوازن بنایا جائے۔ تمام عالمی طاقتوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے جائیں اور اپنی قومی خود مختاری کا تحفظ کیا جائے۔ اپنے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ مسلمانان عالم کے رشتہ اخوت واتحاد کو قوی تر کرنے کے لیے او آئی سی کو فعال بنانے میں پاکستان اپنا کردار ادا کرے ۔
۱۴۔ افواج میں روح جہاد پیدا کرنے کے لیے سپاہیوں اور افسروں کی دینی تعلیم و تربیت کا اہتمام ہونا چاہیے۔ بنیادی فوجی تربیت ہر مسلم نوجوان کے لیے لازمی ہونی چاہیے ۔ فوجی افسروں کی اس غرض سے خصوصی تربیت کی جائے کہ ان کا فرض ملک کا دفاع ہے نہ کہ حکومت چلانا۔ بیوروکریسی کی تربیت بھی اسلامی تناظر میں ہونی چاہیے تاکہ ان کے ذہنوں میں یہ راسخ ہوجائے کہ وہ عوام کے خادم ہیں حکمران نہیں۔
۱۵۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لیے ایک آزاد اور طاقتور ریاستی ادارہ قائم کیا جائے جو ملک میں اسلامی معروفات اور نیکیوں کے فروغ اور منکرات و برائیوں کے خاتمے کے لیے کام کرے اور معاشرے میں ایسا ماحول پیدا کرے جس میں نیکی پر عمل آسان اور برائی پر عمل مشکل ہوجائے اور شعائر اسلامی کا احیاء و اعلاء ہواوردستور کے آرٹیکل 31میں جن امور کا ذکر کیا گیا ہے ان پرمؤثر عمل در آمد ہو سکے ۔ دفاع اسلام خصوصاً اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات کے ازالے اور مسلمانوں و غیر مسلموں تک مؤثر انداز میں دین پہنچانے کے لیے بھی حکومت پاکستان کو فنڈز مختص کرنے چاہئیں اور وسیع الاطراف کوششیں بروئے کار لانی چاہئیں۔
شرکائے کانفرنس
شرکاء ’اتحاد امت کانفرنس‘ ۲۴ ستمبر ۲۰۱۱ء جنہوں نے قراردادوں کی منظوری پر دستخط کیے:
ہم ملی مجلس شرعی کے تیار کردہ نفاذِ شریعت کے ۱۵ رہنما اصولوں اور نکات کی حمایت کرتے ہیں جو علماء کرام کے ۲۲ متفقہ نکات کی روشنی میں تیار کیے گئے ہیں :
1۔ مولانامفتی محمد خان قادری (مہتمم جامعہ اسلامیہ، لاہور)
2۔ پیر عبدالخالق قادر ی (صدر مرکزی جماعت اہل سنت پاکستان )
3۔ علامہ احمد علی قصوری (امیر مرکز اہل سنت، لاہور)
4۔ صاحبزادہ علامہ محب اللہ نوری (مہتمم جامعہ حنفیہ فریدیہ بصیر پور، اوکاڑہ)
5۔ علامہ قاری محمد زوار بہادر (ناظم اعلیٰ، جمعیت علماء پاکستان، لاہور )
6۔ مولانا حافظ غلام حیدر خادمی (مہتم جامعہ رحمانیہ رضویہ، سیالکوٹ )
7۔ مولانا مفتی شیر محمد خان (صدر دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ، بھیرہ [ضلع سرگودھا])
8۔ علامہ حسان الحیدری (حیدر آباد ، سندھ)
9۔ مولانا راغب حسین نعیمی (مہتمم جامعہ نعیمیہ، لاہور)
10۔ مولانا خان محمد قادری (مہتمم جامعہ محمدیہ غوثیہ، داتانگر، لاہور)
11۔ مولانا محمد خلیل الرحمن قادری (ناظم اعلیٰ جامعہ اسلامیہ ، لاہور)
12۔ علامہ محمد شہزاد مجددی (سربراہ دارالاخلا ص ۔ مرکز تحقیق، لاہور)
13۔ علامہ محمد بوستان قادری (شیخ الحدیث دارالعلوم محمدیہ غوثیہ، بھیرہ [ضلع سرگودھا])
14 ۔ سید منور حسن (امیر جماعت اسلامی پاکستان، منصورہ، لاہور)
15۔ مولانا عبدالمالک (صدر رابطہ المدارس الاسلامیہ، منصورہ لاہور)
16۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ (ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی، منصورہ لاہور)
17۔ ڈاکٹر سید وسیم اختر (امیر جماعت اسلامی پنجاب، لاہور)
18۔ مولانا سید محمود الفاروقی (ناظم تعلیمات رابطہ المدارس الاسلامیہ، لاہور)
19۔ مولانامحمد ایوب بیگ (ناظم نشر و اشاعت تنظیم اسلامی پاکستان، لاہور)
20۔ مولاناڈاکٹر محمد امین (ڈین صفاء اسلامک سنٹر، لاہور )
21۔ مولانا محمد حنیف جالندھری (ناظم اعلیٰ، وفاق المدارس العربیہ، ملتان )
22۔ مولانا مفتی رفیق احمد (دارالافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ، علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی)
23۔ مولانا حافظ فضل الرحیم (نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ، لاہور)
24۔ مولانا زاہد الراشدی (ڈائریکٹر الشریعہ اکیڈمی، گوجرانوالہ)
25۔ مولانا عبدالرؤف فاروقی (ناظم اعلیٰ جمعیت علماء اسلام، لاہور)
26۔ مولانامحمد امجد خان (ناظم اطلاعات جمعیت علماء اسلام ۔ لاہور)
27۔ مولانامفتی محمد طاہر مسعود (مہتمم جامعہ مفتاح العلوم، سرگودھا)
28۔ مولانا مفتی محمد طیب (مہتمم جامعہ اسلامیہ امدادیہ،فیصل آباد)
29۔ مولانا ڈاکٹر قاری احمد میاں تھانوی (نائب مہتمم دارالعلوم الاسلامیہ ، لاہور)
30۔ مولانا اللہ وسایا (عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت، ملتان)
31۔ مولانا مفتی محمد گلزار احمد قاسمی (مہتمم جامعہ قاسمیہ، گوجرانوالہ)
32۔ مولاناقاری محمد طیب (مہتمم جامعہ حنفیہ بورے والا، وہاڑی)
33۔ مولانا رشید میاں (مہتمم جامعہ مدنیہ،کریم پارک، لاہور)
34۔ مولانا محمد یوسف خان (مہتمم مدرسۃ الفیصل للبنات،ماڈل ٹاؤن، لاہور)
35۔ مولانا عزیر الرحمن ثانی (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ،لاہور)
36۔ مولانا رضوان نفیس (خانقاہ سید احمد شہید ، لاہور)
37۔ مولانا قاری جمیل الرحمن اختر (مہتمم جامعہ حنفیہ قادریہ، لاہور)
38۔ مولانا حافظ محمد نعمان (مہتمم جامعہ الخیر جوہر ٹاؤن، لاہور)
39۔ مولانا قاری ثناء اللہ (امیر جمعیت علماء اسلام لاہور)
40۔ پروفیسر مولانا ساجد میر (امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان، لاہور)
41۔ پروفیسر حافظ محمد سعید (امیر جماعت الدعوۃ پاکستان، لاہور)
42۔ مولانا حافظ عبدالغفار روپڑی (امیر جماعت اہل حدیث پاکستان، لاہور)
43۔ مولانا عبید اللہ عفیف (امیر جمعیت اہلحدیث پاکستان، لاہور)
44۔ مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری (ناظم اعلیٰ متحدہ جمعیت اہلحدیث پاکستان)
45۔ مولانا حافظ عبدالوہاب روپڑی (نائب امیر جماعت اہلحدیث پاکستان)
46۔ مولانا محمد شریف خان چنگوانی (نائب امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان)
47۔ پروفیسرمحمد حماد لکھوی (خطیب جامع مسجد مبارک اہلحدیث، اسلامیہ کالج ، لاہور)
48۔ مولانا ڈاکٹر حسن مدنی (نائب مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ[رحمانیہ] لاہور)
49۔ مولانا امیر حمزہ (کنوینر تحریکِ حرمتِ رسول[جماعۃ الدعوۃ]۔ لاہور)
50۔ مولانا قاری شیخ محمد یعقوب (جماعۃ الدعوۃ ، لاہور)
51۔ مولانا رانا نصر اللہ (امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث لاہور)
52۔ محمد زاہد ہاشمی الازہری (ناظم اعلیٰ جماعت غرباء اہلحدیث، پنجاب)
53۔ علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر (مہتمم ادارہ منہاج الحسین ، لاہور)
54۔ علامہ حافظ کاظم رضا نقوی (تحریک اسلامی، اسلام آباد)
55۔ مولانا سید محمد مہدی (جامعہ المنتظر ، لاہور)
دنیائے اسلام پر استشرقی اثرات ۔ ایک جائزہ (۲)
ڈاکٹر محمد شہباز منج
مفسرین اور ان کے متبعین
عالم اسلام میں تفسیر قرآن کے باب میں بھی استشراقی اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔بہت سے مسلم اہل تفسیر نے اپنی تعبیراتِ قرآنی کو استشراقی نتائج فکر سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ان معروف اہل تفسیر کے بہت سے عقیدت مندوں اور متبعین نے بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور وہی طرز تفسیر اپناتے ہوئے استشراقی تصورات سے تطابق کی سعی کی ہے۔ اس سلسلہ میں دنیائے اسلام کے دو نمایاں ترین افراد یعنی مفتی محمد عبدہ اور سر سید احمد خاں اور ان کے متبعین اور حلقہ فکر کے لوگوں کے تفسیری نکات کا مختصر تذکرہ ضروری آگہی کے لیے کفایت کرے گا۔
عالم عرب میں تجددکا علم بلند کرنے والوں میں سب سے نمایاں نام مفتی محمد عبدہ کا ہے اوریہ کہنا بجا ہے کہ وہاں تجدد پسند مکتب خیال کا وجود ہی ان کا مرہون منت ہے۔ ۶۶ انہوں نے جدید تصورات سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے قرآنی آیات میں تاویلی امکانات کو نہایت وسیع کر دیا۔ ان کے نزدیک جنات سے جراثیم یا مائیکروب۶۷اور آدم سے ہر نسل کا الگ مورث اعلیٰ ۶۸مراد لینے میں کچھ مذائقہ نہیں۔ وہ سورہ العصر کی آیت ۳ کی تفسیر میں’صالحات‘ کے تصور کو آفاقیت کا رنگ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ صرف حاملانِ شریعت تک ہی محدود نہیں بلکہ ان اقوام تک بھی ممتد ہے جن میں پیغمبر نہیںآئے اور یہی وہ چیز ہے جسے قرآن ’معروف‘سے تعبیر کرتا ہے۔ ۶۹گویا صالح ہونے کے لیے مسلمان ہونا ضروری نہیں۔ مفتی صاحب نے سورہ الفیل میں لشکر ابرہہ کی تباہی کے خارق عادت واقعہ کو عقلیت پسندوں کے لیے قابل قبول بنانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عین ممکن ہے کہ جن سنگریزوں سے لشکر ابرہہ کی تباہی ہوئی وہ زہریلی خشک مٹی کے ہوں اور ہوا کے ذریعہ یہ مٹی اڑ کر پرندوں کے پاؤں سے چمٹ گئی ہواور پھر جب یہ مٹی لشکر کے افراد پر گری ہو تو ان کے مساموں داخل ہو کر آبلے ڈال دیے ہوں اور یوں اعضائے جسمانی سے گوشت جھڑنے لگا ہو۔۷۰ مفتی محمد عبدہ کے نظریات بقول Malcolm H. Kerrآئندہ آنے والے اعتذاری مکتبہ خیال کے افراد کے لیے بنیاد کاکام دینے لگے۔۷۱ مصنف مذکور نے حاشیہ میں تصریح کی ہے کہ مفتی کے عقائد وتصورات کو بعد ازاں ان کے شاگردمکمل لادینیت اور سیکولرازم کی طرف لے گئے ۔ ۷۲
مفتی صاحب کے ایک نامور شاگرد محمد رشید رضاہیں۔ان کا کہنا ہے کہ قرآن بنیادی طور پرایک روحانی کتاب ہے جس میں دنیوی امور سے متعلق بہت کم احکام ملتے ہیں۔ زیادہ تر اختیارات’اولی الامر‘ کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام بہبودعامہ کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کیا کرتے تھے۔ گو بعض اوقات ان کے فیصلے سنت کے خلاف بھی ہوتے۔گویا ان کا عقیدہ یہ تھا کہ شرعی تفصیلات کی بجا آوری ضروری نہیں اور بنیادی مصلحت فلاح عامہ کی رعایت ہے۔۷۳ رشید رضا کے نزدیک احادیث بھی بحیثیت مجموعی قابل اعتنا نہیں بلکہ صرف وہی احادیث قابل قبول ہیں جو عملی نوعیت کی ہیں اور جن پرامت مسلمہ میں مسلسل عمل کا ثبوت ملتا ہے۔۷۴ معجزات سے متعلق رشید رضا کی رائے تھی کہ اب معجزات کا زمانہ گزر گیا۔یہ اس وقت کا قصہ ہیں جب انسانیت ابھی عہد طفولیت میں تھی۔ اسلام کی آمد کے ساتھ ہی انسان ذہنی بلوغ کے زمانے میں داخل ہو گیا اور معجزات کا زمانہ جاتا رہا۔ ان کے معجزات و خوارق کو عقلی رنگ دینے کی ایک مثال یہ ہے کہ وہ سورہ یوسف کی آیت ۹۴کی تفسیر میں خوشبوئے یوسف کے معجزانہ تصور کو قابل التفات نہ سمجھتے ہوئے موقف اختیار کرتے ہیں کہ صاف اور سیدھی سی بات ہے کہ یہ کوئی جنت کی خوشبو نہ تھی بلکہ قمیض کی یہ بو یوسف کے جسم کی بو تھی جیسی کہ بالعموم ہوتی ہے۔۷۵
مفتی محمد عبدہ کے ایک اور شاگرد قاسم امین نے آزادئ نسواں کا علم بلند کرتے ہوئے حجاب کے خاتمے اور یورپی اخلاقیات کو اپنانے کی دعوت دی ۔ ان کے مطابق مغرب کی اخلاقیات کو اپنائے بغیر وہاں کی سائنس کو اپنانے کا کچھ فائدہ نہیں۔۷۶قاسم امین نے دعوی کیا کہ بے پردگی کی دعوت میں دین اسلام سے کوئی مخالفت نہیں پائی جاتی ۔ان کا کہنا تھا کہ شریعت کے وہ احکام جو مروجہ عادات و معاملات پر مبنی ہیں ان میں حالات زمانہ کے مطابق تغیر و تبدل کیا جا سکتا ہے۔۷۷ وہ مغربی عورتوں کو اپنی خواتین کے لیے بطور نمونہ پیش کرتے ہوئے ان کی تقلید کی دعوت دیتے ہیں۔۷۸ مفتی محمد عبدہ کہ ایک اور معروف شاگرد علی عبدالرزاق ہیں۔ وہ دین و دنیا کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام کے تمام احکام مذہبی ضابطہ پر مشتمل ہیں جن کا تعلق تمام تر عبادت الہٰی اورنوع انسانی کی مذہبی فلاح و بہبود سے ہے ۔ جہاں تک شہری قوانین کا تعلق ہے وہ انسان کی صوابدید پر چھوڑ دیے گئے ہیں اور مذہب کو ان سے کوئی سروکار نہیں۔دنیاوی انتظام وانصرام کی خاطر خدا نے یہی کافی سمجھا کہ ہمیں ذہن و دماغ عطا کر دیے۔۷۹ مفتی کے دبستان فکر کے افراد میں سے محمد رفیق صدقی اور شیخ طنطاوی جوہری نے قرآن کو موجودہ سائنس سے ہم آہنگ کرنے کے لیے آیات قرآنی کی نہایت عجیب وغریب تاویلات کی ہیں ۔۸۰
قرآن کی جس طرز کی متجددانہ تعبیر کی بنیاد عالم عرب میں مفتی محمد عبدہ نے رکھی تھی ،برصغیر میں اس طرز کی متجددانہ تفسیر قرآن کے بانی سر سید احمد خاں ہیں۔اہل مغرب اور مستشرقین سے تاثر کے نقطہ نظر سے سر سید عبدہ سے بہت آگے نظر آتے ہیں۔انہوں نے قرآنی بیانات کو جدید تصورات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے متفق علیہ تفسیری اصولوں کو بالکل نظر انداز کر دیا۔ان کی’ تفسیر القرآن ‘میں،بقول سید عبداللہ، روایات سے بغاوت اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی نظر آتی ہے۔۸۱ انہوں نے ورک آف گاڈ اور ورڈ آف گاڈ کی مطابقت کا اصول پیش کیااور پھر قرآن میں کسی معجزہ یا خوارق کے تذکرہ کے روایتی تصور کویکسر مسترد کر دیا۔ ان کے نزدیک قرآن اور دیگر کتب سماوی میں معجزات کا جو ذکر ہے وہ تمثیلی و استعاراتی یا افسانوی رنگ لیے ہوئے ہے۔ڈاکٹر ٹرول کے مطابق سر سید کو انکار معجزات کی راہ دکھانے میں معجزاتی عناصر پر ولیم میور کی تنقید نے نمایاں حصہ لیا۔میور کی تقلید میں سر سید اس بات کے قائل ہوگئے کہ حضور کی پیدائش سے متعلق بیان کیے جانے والے معجزات سب شاعرانہ تخلیق ہیں۔ ۸۲ سر سید نے سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت کی تفسیر میں حضور کے معراج جسمانی سے متعلق تمام احادیث کو ناقابل اعتبار اور ان کے بیان کو خلاف قانون قدرت قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’واقعات خلاف قانون فطرت کے وقوع کا ثبوت اگر گواہان روایت بھی گواہی دیں تو محالات سے ہے‘‘ اور اس کے بعد تفصیلی بحث کرکے معراج رسول ؐ کوخواب میں پیش آنے والا رویاثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔۸۳یہ صرف ایک مثال ہے ورنہ وہ قرآن میں کہیں بھی معجزہ مذکور ماننے سے انکاری ہیں۔اس سلسلہ میں بنی اسرائیل کے عبور دریااور موسیؑ ٰ وعیسیؑ ٰ کے دیگر معجزات کی بھی انہوں نے عجیب وغریب اور دور از کار تاویلات کی ہیں۔۸۴ان کا کہنا ہے کہ حضور کے پاس کوئی معجزہ نہ تھا اور حضورؐ کے پاس کوئی معجزہ نہ ہونے سے ضمناً یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انبیائے سابقین میں سے بھی کسی کے پاس کوئی معجزہ نہ تھا۔جن واقعات کو لوگ معروف معنوں میں معجزات کہتے ہیں وہ در حقیقت معجزات نہ تھے بلکہ قانون فطرت کے مطابق وقوع پذیر ہونے والے واقعات تھے۔۸۵
سرسید کے نزدیک نبوت ایک فطری چیز ہے۔خدا اور پیغمبر میں بجز اس ملکہ نبوت کے جس کو ناموس اکبر یا جبریل اعظم کہا جاتا ہے،کوئی ایلچی یاپیغام پہنچانے والا نہیں ہوتا۔جس طرح تمام ملکات انسانی کسی محرک کے پیش نظر اپنا کام کرتے ہیں اسی طرح ملکہ نبوت بھی کسی مخصوص امرکے پیش نظر فعال ہو جاتا ہے۔۸۶وہ جس طرح جبرئیل کو ملکہ نبوت کہہ کر جبرئیل کے خارجی وجود سے انکار کرتے ہیں ایسے ہی تمام ملائکہ ،شیطان اور جنات کا بھی خارجی وجود تسلیم نہیں کرتے۔ ۸۷ تخلیق و ہبوط آدم سے متعلق آیات کو ڈاروینی ارتقائیت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے آدم کے شخصی وجود سے انکار کرتے ہوئے بڑے زور دار الفاظ میں کہا’’آدم کے لفظ سے وہ ذات خاص مراد نہیں جس کو عوام اور مسجد کا ملا باوا آدم کہتے ہیں۔ بلکہ اس سے مراد نوع انسانی ہے۔‘‘۸۸ سرسید حدیث، اجماع اور قیاس وغیرہ کو اصول دین میں شامل نہیں سمجھتے ۔ انہوں نے بقول مولانا حالی اپنے جدید علم کلام کا موضوع اور اسلام کا حقیقی مصداق صرف قرآن مجید کو قرار دیا اور اس کے سوا تمام مجموعہ احادیث کو اس دلیل سے کہ ان میں کوئی حدیث مثل قرآن کے قطعی الثبوت نہیں اور تمام علماء ومفسرین کے اقوال وآراء اور تمام فقہاء ومجتہدین کے قیاسات واجتہادات کواس بنا پر کہ ان کے جوابدہ خود علماء ومفسرین اور فقہاء و مجتہدین ہیں نہ کہ اسلام،اپنی بحث سے خارج کر دیا۔۸۹
سر سید کے چنداہم معاصرہم خیالوں اور متبعین میں مولوی چراغ علی،ممتاز علی اور سید امیر علی شامل ہیں ۔مولوی چراغ علی کا کہنا ہے قرآن کو کوئی مخصوص ضابطہ حیات یا سماجی و سیاسی قوانین عطا نہیں کرتا ۔اس کا تعلق محض فرد کی زندگی کے اخلاقی پہلو سے ہے۔آنحضورؐ نے کوئی سماجی و قانونی ضابطہ مرتب کیانہ ایسا کرنے کا حکم دیا۔اس کے برعکس مسلمانوں کو ایسے نظام قائم کرنے کی اجازت دے دی گئی جو ان کے گرد وپیش ہونے والی سیاسی اور معاشرتی تبدیلیوں سے وقت کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگی پیدا کر سکیں۔ کلاسیکی اسلامی قانون بنیادی طور پر شریعت نہیں بلکہ وہ رواجی قانون ہے جس کے اندر ایام جاہلیت کے عربی اداروں کے باقی ماندہ اجزا و عناصر یا وہ احادیث شامل ہیں جو اکثر جعلی ہیں اور غلط طور پر پیغمبر اسلام کی طرف منسوب کر دی گئی ہیں۔۹۰ فقہااسلامی قانون کے سلسلہ میں مقصود قرآنی کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے قرآن کی روح کو شرعی عمل سے دبا دیا اور وہ ابتدائی مشرقی روایاتی رسمیں جاری کر دیں جنہیں قرآن درحقیقت مذموم قرار دے چکا تھا۔ ۹۱
سرسید کے ایک اور معاصر پیرو ممتاز علی ہیں۔ممتاز علی نے عورتوں کی آزادی کے مسئلہ کو خصوصیت سے موضوع بحث بنایا۔وہ ان روایتی دلائل کو سختی سے مسترد کرتے ہیں جن کے مطابق مرد جسمانی طور پرزیادہ مضبوط،زیادہ دانش مند،نسبتاً کم جذباتی اور کم توہم پرست ہوتا ہے اور اس بنا پر وہ خدا کے خلیفہ اور نائب ہونے کا اعزاز رکھتا ہے اور کتب سماوی اس کوعورت کے برعکس متعدد شادیاں کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔وہ مرد اور عورت کی مکمل مساوات کے قائل ہیں بلکہ وہ عورت کی مرد پر فوقیت کے حامی ہیں۔ ان کے نزدیک سورہ النساء کی آیت ۳۴میں قوامون اور فضل کے الفاظ کے تناظر میں عورت کے مقابلہ میں مرد کے تفوق کی کلاسیکی تاویلات قرآن کی صحیح ترجمان ہونے کی بجائے ان ادوار کے مروجہ قوانین کی آئینہ دار ہیں۔آیت کا مفہوم یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ عورتیں ان مردوں پر فوقیت رکھتی ہیں جو ان کے لیے کام کرتے ہیں۔ ۹۲ممتاز علی کے خیال میں حوا کے مقابلہ میںآدم کی تخلیقی اولیت اوراستحقاقی فوقیت یہودی اور عیسائی عقیدہ ہے نہ کہ قرآنی۔تعدد ازواج کو قرآن نے شرطِ عدل کے ذریعہ ناممکن العمل بنا کر منسوخ کر دیا ہے۔۹۳عورت کی آزادی سے معاشرے کے اخلاقی معیارات کے ڈھیلے ہو جانے کے خطرہ کا واویلا کیا جاتاہے حالانکہ خدا نے عورت کو آزاد اور مساوی درجہ پر پیدا کیا ہے۔بد اخلاقی کا تعلق عورت کی آزادی کی بجائے مرد کے مسخ شدہ جذبات سے ہے۔عورت اور مرد کی علیحدگی کے عادی معاشروں کو مخلوط معاشروں کے اخلاقی معیارات پر پورا اترنے کے لیے وقت چاہیے۔۹۴
سرسید کے ایک اورنامور معاصر ہم خیال سید امیر علی ہیں۔یہ مولانا حالی کے مطابق مغربی اہل الرائے سے اسلام کی عذر خواہیوں اورتوضیحات میں اور اسلامی معاشرتی اور مذہبی خیالات کی از سر نو تعمیر اور جدید خیالات کی ترویج میں سرسید احمد خاں کے پیرو تھے۔۹۵ ان کی مشہور تصنیفThe Spirit of Islam نے صرف مغرب ہی میں قبولیت عامہ حاصل نہیں کی بلکہ برصغیراورمصر کے مغربی تعلیم یافتہ مسلمانوں پر بھی گہرے اثرات ڈالے۔۹۶سید امیر علی نے اپنی اسلامی تعبیرات میں استشراقی اور مغربی تصورات سے ہم آہنگی کی جا بجا کوشش کی ہے ۔ فرشتوں اور شیطان کاخارجی وجود اور حشر جسمانی کوتسلیم کرنے سے بچنے کے لیے انہوں نے ان چیزوں سے متعلق قرآنی بیانات کوبلا جھجک شاعرانہ اسلوب بیان اور حضور ؐ کے دینی شعورکے درجۂ کمال سے پہلے کے اور زرتشتی و تلمودی الاصل تصورات سے تعبیر کیا ہے۔سورہ الانفال کی آیت ۹میں بیان کردہ واقعہ کو اسلوب بیان کی ساحری اور شاعرانہ بلاغت سے تعبیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ فرشتوں کے خدا کی طرف سے جنگ کرنے کے تصور میں جو شاعرانہ عنصر ہے اس کے نقش و نگار کو قرآن میں موئے قلم کی جن سادہ جنبشوں سے ابھارا گیا ہے وہ خوبصورتی اور بلاغت میں زبور کی بلیغ ترین عبارتوں کا مقابلہ کرتی ہے اور دونوں میں ایک ہی طرح کی شعریت ہے‘‘۔۹۷ملائکہ ایک داخلی تصور ہے۔جن چیزوں کو آج ہم قوانین فطرت کہتے ہیں پرانے لوگ انہی کو فرشتے یعنی آسمانی کار پرداز خیال کرتے تھے۔ شیطان سے متعلق حضورؐ کے اقوال کا تجزیہ کریں تو بھی ایک موضوعی تصور سامنے آتا ہے جسے آپؐ نے اپنے پیروکاروں کے فہم کے مطابق الفاظ کا جامہ پہنایا۔۹۸ بعض لوگوں کا یہ خیال کہ رسول عربی نے اپنے ماننے والوں سے حسی لذات کی جنت اور عیش وعشرت کے مختلف مدارج کو وعدہ کیا،جہالت اور تعصب کا نتیجہ ہے ۔اس میں شک نہیں کہ درمیانی دور کی سورتوں میں،جب کہ معلم اسلام نے ابھی شعور دینی کا درجۂ کمال حاصل نہیں کیا تھااور جب کہ اس بات کی ضرورت تھی کہ عقبی اور جزا وسزا کے تصورات کو ایسے الفاظ کا جامہ پہنایا جائے جو سیدھے سادھے بادیہ نشینوں کی سمجھ میں آ سکیں۔ جنت و جہنم کے واقعیت نما نقشے،جو زرتشتیوں،صابیوں اور تلمودی یہودیوں کی پادر ہوا قیاس آرائیوں پر مبنی تھے،پڑھنے والے کی توجہ ضمنی حاشیہ آرائیوں کے طور پر اپنی طرف کھینچتے ہیں۔لیکن ان کے بعد قرآن کا جوہر خالص آتا ہے یعنی کمال عجزومحبت سے خدا کی عبادت۔حوریں زرتشتی نژاد ہیں۔اسی طرح جنت بھی زرتشتی الاصل ہے البتہ جہنم عذاب الیم کے مقام کی حیثیت سے ایک تلمودی تخلیق ہے۔ان کے واقعیت نما مناظر کی بنا پر یہ سمجھنا کہ حضور ؐاور آپ کے پیروکار ان کو واقعی مبنی بر حسیت سمجھتے تھے ،محض ایک افترا ہے۔۹۹
تعدد ازوج کے حوالے سے سید امیر علی کی رائے ہے کہ یہ مطلق العنان بادشاہوں کے زمانے کی یاد گار ہے جسے ہمارے ترقی یافتہ دور میں بجا طور پر ایک خرابی سمجھا جاتا ہے۔قرآن نے فی نفسہ اس کی ممانعت کر دی ہے۔ترقی یافتہ مسلم جماعتوں میں رفتہ رفتہ یہ تصور پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ یہ چیز تعلیمات محمدی کے بھی اسی قدر منافی ہے جس قدر جدید تمدن و ترقی کے۔ لہٰذا یورپ کو اس سلسلہ میں قدیم مسلم فقہا کی من مانیوں اور مصلحت کوشیوں پر نہیں جانا چاہیے بلکہ جدید اسلام کا تحمل وہمدردی سے مشاہدہ کرنا چاہیے جس میں قدما پرستی کے بندھنوں سے چھٹکارا حاصل کیا جارہا ہے۔۱۰۰
ذراآگے چل کر سر سید کے مکتبہ خیال سے متعلق دو نمایاں نام محمد علی لاہوری اور غلام احمد پرویز ہیں۔محمد علی لاہوری نے مولانا ابوالحسن علی ندوی کے بقول سرسید کے لٹریچر اور ان کے تفسیر قرآن کے اسلوب کو پورے طور پر جذب کرلیا تھا۔۱۰۱وہ اپنی تفسیر میں مختلف مسائل سے متعلق اسی طرح کی تشریحات پیش کرتے ہیں جو جدید نظریات ومعلومات سے متصادم نہ ہوں۔معجزات وخوارق کا انکار کرتے ہوئے ان کی عقلی تاویلات کرتے ہیں۔مثلاً بنی اسرائیل کے عبور دریا سے متعلق سرسید کا جوار بھاٹے والاانداز استدلال اپناتے ہوئے اسے ایک عام واقعہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔۱۰۲ موسیؑ ٰ کو بارہ چشمے معجزانہ طور پر نہیں بلکہ ایلیم کے ایک پہاڑ سے ملے تھے۔۱۰۳ سورۃ البقرہ کی آیت ۷۲اور۷۳ کے حوالے سے عام مفسرین یہ خیال کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص نے اپنے چچا کو پوشیدہ طور پر قتل کر دیا تھا اوراس کا راز جانے کے لیے گائے ذبح کرکے اس کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم سے لگانے کے لیے کہا گیا تھاحالانکہ یہ معمولی واقعہ نہیں ۔اس میں حضرت عیسیؑ ٰ کے قتل کی طرف اشارہ ہے۔ بعضھا کی ضمیر فعل قتل کی طرف جاتی ہے یعنی بعض قتل سے اس کو مار دو یا فعل قتل اس پر پورا وارد نہ ہونے دو۔۱۰۴ مسیح تین گھنٹے صلیب پر رہے مگر وفات نہیں پائی ۔بعد ازاں طبعی عمرپوری کر کے وفات پائی۔۱۰۵ مسیح کے کشمیرآنے اوربعد از وفات وہاں دفن ہونے کے شواہد موجود ہیں۔۱۰۶ حضرت مسیح پیدا بھی معجزانہ طور پر نہیں بلکہ مریم اور یوسف کے صنفی تعلق سے عام بچوں کی طرح ہوئے تھے۔۱۰۷ سورہ آل عمران کی آیت ۴۹ میں حضرت عیسیؑ ٰ کے تخلیق طیر سے استعارۃً ایسے لوگ مراد ہیں جوزمیں اور زمینی چیزوں سے اوپر اٹھ کر خدا کی طرف پرواز کر سکیں۔اور احیائے موتی سے روحانی مردوں کا احیا مراد ہے کیونکہ جسمانی طور پر مر جانے والوں کا اس دنیا میں دوبارہ آنا قرآن کی اصولی تعلیم کے خلاف ہے۔۱۰۸ حضرت سلیمان کے حوالے سے علمنا منطق الطیر سے پرندوں کی بولیاں جاننا نہیں بلکہ پرندوں کی نامہ بری مراد ہے۔نملہ کوئی چیونٹی نہیں بلکہ وادی نملہ کی باسی قوم تھی۔ ہدہد پرندہ نہیں بلکہ سلیمان کے محکمہ خبر رسانی کا آدمی تھا۔عفریت من الجن قوی الجثہ انسان تھا۔سلیمان کی ماتحتی میں کام کرنے والے جن ان غیر قوموں کے لوگ تھے جنہوں نے بنی اسرائیل کی ماتحتی کا جوا اٹھایا ہوا تھا۔۱۰۹
غلام احمدپرویزمغربی فکرسے تاثر اور سر سید کے زاویہ فکر کو اختیار کرکے مخصوص تناظر میں اسے مزید وسعت دینے میں خاصے نمایاں ہیں۔پروفیسر عزیز احمد نے انہیں سرسید سے لے کر لمحہ موجود تک کے تمام جدید پسندوں میں مغربی نقطہ نظر کے سب سے زیادہ قریب قرار دیا ہے۔۱۱۰ حدیث کی حجیت وثقاہت کے حوالے سے انہوں جس طرح استشراقی فکر سے ہم آہنگی اختیار کی اس کا مختصر ذکر اوپر گزر چکا ہے ۔لیکن یہ صرف ایک پہلوتھا۔ انہوں نے نہایت وسیع پیمانے پر مغربی نتائج فکر سے تطابق کی کوشش کی ہے ۔اس سلسلہ میں ان کے یہ الفاظ قابل ملاحظہ ہیں کہ’’میں نے انسانی فکر کی اڑھائی ہزار سالہ کدو کاوش کا مطالعہ قرآن کی روشنی میں کیا(یا قرآن کا مطالعہ اس فکر کی روشنی میں کیا )تو قرآن کا ایک ایک دعوی زندہ حقیت بن کر میرے سامنے آگیا۔‘‘۱۱۱ مذکورہ تناظر میں پرویز نے متعددموضوعات پر کلام کیا ہے۔ جدیدمغرب میں چونکہ کائنات کے عام مشاہد قوانین میں کسی بھی طرح کی ماورائی مداخلت (جس سے خدا کا قادرمطلق ہونا ثابت ہوتا ہے) کوجہالت ووہم پرستی قرار گیا تھا۱۱۲ چنانچہ پرویز صاحب بھی ایسے تصور کو غلط سمجھتے ہیں جس میں خدا کو اختیار مطلق حاصل ہواور وہ کسی قاعدے اور ضابطے کا پابند نہ ہو۔قرآنی الفاظ: کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃ۱۱۳کی تشریح میں پابندی و اختیار کے حوالے سے خدااور بندے کی مختلف حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بندے پر جو پابندی لگائی گئی ہے وہ اس کے خلاف کر سکتا ہے جب کہ خدا نے اپنے اوپر جو پابندی لگائی ہے وہ اس کے برعکس نہیں کرتا۔’’اس اعتبارسے دیکھئے توانسان صاحبِ اختیار رہتا ہے اورخدا’’مجبور‘‘۔‘‘۱۱۴
رسول اللہؐ کوپرویزصاحب نے اپنی تعبیراتِ قرآنی میں نظام حکومت اور مرکزی اتھارٹی کا ہم معنی قرار دیا ہے۔ ایک جگہ لکھا ہے’’حالانکہ نظام سے وابستگی اور اطاعت کا تقاضا ہے کہ ایسی باتوں کو رسول (مرکزی اتھارٹی)یا اپنے افسران تک پہنچایا جائے۔‘‘۱۱۵ ملائکہ ان کے نزدیک فطرت کی قوتیں ہیں۔ قصہ آدم میں ملائکہ کا آدم کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا جو ذکر ہے، اس سے مراد در حقیقت فطرت کی قوتوں کابنی نوع انسان کے لیے مسخر کیا جانا ہے۔۱۱۶ شیطان کوئی موجود فی الخارج ہستی یا شخصیت نہیں بلکہ انسان کے اپنے فیصلوں،ارادوں اور جذبات سے عبارت ہے۔۱۱۷جنات سے قرآن کی مرادجنگلی، صحرائی اور خانہ بدوش انسان ہیں۔۱۱۸ جہنم قرآن کی رو سے کسی گڑھے یا ایسے مقام کا نام نہیں جس میں آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں اور مجرموں کو اس میں جھونک دیا جائے ۔بلکہ دراصل یہ انسا ن ہی کے قلب سوزاں کی کیفیت اور اعمال بد کے نتیجے میں اس کے اندر پیدا ہو جانے والے اضطرابِ پیہم اور کربِ مسلسل کا نام ہے۔۱۱۹ جنت ایسی مثالوں سے عبارت ہے جو قرآن کے اولیں مخاطب عربوں کے لیے متاثر کن تھیں۔گھنے باغات جن میں صاف شفاف چشمے ہوں اور ان کا ٹھنڈا پانی چاروں طرف بہہ رہا ہو،درخت پھلوں سے لدے،دودھ اور شہد کی ایسی افراط کہ گویا ان کی نہریں بہہ رہی ہوں،اعلی درجے کے قالین اور صوفے بچھے ہوئے محلات، جن میں حریر واطلس کے پردے آویزاں،بلوریں آفتابے،چاندی سونے کے ظروف،لطیف گوشت، خوش ذائقہ مشروبات،ہم مزاج ،ہم رنگ،یک آہنگ احباب کی محفلیں۔تپتے ہوئے صحرا ؤں کے باسی عربوں کی زندگی ظاہر ہے اسی طرح کی مثالوں سے سجائی جا سکتی تھی۔۱۲۰ انسان اشرف المخلوقات نہیں۔۱۲۱ آدم سے کوئی خاص انسان یا بشر مراد نہیں۔ قصہ آدم خودنوع انسانی کی سر گذشت ہے۔۱۲۲ معجزہ قانون فطرت کے خلاف ہے اور قرآن کی رو سے کوئی واقعہ خلاف قانون فطرت رونما نہیں ہو سکتا۔ بنا بریں معجزات کا وجود بروئے قرآن غلط ہے۔۱۲۳
چوری کی سزاہاتھ کاٹناایک انتہائی سزا ہے جس کے عملی اطلاق کاموقع قریب قریب نا ممکن ہے اور قطع ید سے در حقیقت مرادایسا طریق اختیار کرنا ہے کہ چور چوری سے باز آ جائیں۔۱۲۴ تعدد ازواج ایسی شرائط سے مشروط ہے کہ یہ قریباً ناممکن العمل ہو کر رہ جاتا ہے۔۱۲۵ قرآن نے دراصل ایک وقت میں ایک ہی بیوی کا اصول مقرر کیا ہے۔ اگر کسی وقت بیوی سے نباہ کی صورت نہ رہے توقرآن کی رو سے اس کی موجودگی میں دوسری بیوی کی اجازت نہیں ہاں البتہ اس کی جگہ دوسری بیوی لائی جا سکتی ہے۔ وَاِنْ اَرَدْتُّمُْ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ ۱۲۶ کا مفہوم یہ ہے کہ ’’اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانا چا ہو تو اس کے لیے پہلی بیوی سے معاہدۂ نکاح فسخ کرو . ‘‘ ۱۲۷معیشت کے مسئلے کا حل مارکسی فکر میں پنہاں ہے۔۱۲۸ رزق کا معاملہ خدا نے اپنے ہاتھ میں نہیں رکھا۔ یہ مذہبی پیشوائیت کی فریب کاری ہے جو عوام کو اس غلط عقیدہ کی افیون دے کر نظامِ سرمایہ داری کی جڑ یں مضبوط کرتی رہتی ہے ۔ صاحبِ اقتدار گروہ وسائلِ پیداوار اپنی ملکیت میں لے لیتا ہے اور پھر دوسرے انسانوں کو روٹی کا محتاج بنا کر ان سے اپنا ہر حکم منواتا ہے ۔ جب بھو کے انسان اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں تو مذہبی پیشوائیت انہیں یہ کہہ کر سلا دیتی ہے کہ رزق کی تقسیم خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے وہ جسے چا ہتا ہے امیر بنا دیتا جسے چاہتا ہے غریب رکھتا ہے جسے چاہتا رزقِ فراواں عطا کر دیتا ہے جسے چاہتا ہے بھو کا رکھتا ہے کوئی انسان اس فرق کو مٹانہیں سکتا ۔۱۲۹
مرزا غلام احمد قادیانی سے متعلق بھی یہ کہنا بے جا نہیں کہ انہوں نے سر سید احمد خاں اور ان کے مدرسہ فکر سے شہ حاصل کی۔شیخ محمد اکرام کے مطابق مولوی چراغ علی سے مرزا کی خط و کتابت تھی اور جہاد سے متعلق وہ مولوی صاحب کے ہم خیال تھے۔اسی طرح حضرت عیسیؑ ٰ کے متعلق انہوں نے سر سید کے خیالات کی پیروی کی۔۱۳۰ نئی نبوت کی گنجائش بھی اہل تجدد نے فراہم کر دی تھی ۔بنا بریں یہ بات ناقابل فہم نہیں کہ مرزاقادیانی نے اس سلسلہ میں انہی کے خیالات سے استفادہ کیا۔تاہم قادیانیت کے ظہور میں نوآبادیاتی نظام اورانگریزوں کا کردار غیر معمولی ہے۔مرزا کا عقیدہ تھا کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک کا تعلق خدا سے ہے اوردوسرے کا امن امان قائم کرنے والی حکومت سے۔امن امان قائم کرنے والی حکومت چونکہ اس وقت حکومت برطانیہ ہے لہذا اس سے سر کشی اسلام سے سرکشی کے مترادف ہے۔ان میں انگریز پرستی کا جذبہ اس قدر شدید تھا کہ وہ اس معاملے میں اپنے مخالفین کو احمق ونادان بلکہ حرامی اور بد کارقرار دیتے تھے۔۱۳۱
نتیجہ بحث
اوپر کی بحث سے یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ مستشرقین نے اہل اسلام کواپنے دین سے متعلق شکوک شبہات میں مبتلا کرنے ، تجدد و مغربیت اختیار کرنے اورعہد نو کے تقاضوں کی دہائی دے کر اسلام کوجدید مغربی نقطہ نظر سے ہم آہنگ کرنے پر مائل کرنے کی بساط بھر کوشش کی ہے۔ ان کی یہ کوشش بے نتیجہ نہیں رہی ۔ ان کی فکر نے عالم اسلام میں بہت سے لوگوں کے عقل وشعور اور روح وبدن میں نفوذ حاصل کر لیا۔مسلمانوں میں ایسے بہت سے افراد سامنے آنے لگے جنہوں نے اپنی قوموں کو لفظ و معنی اور حقیقت وشکل ہر اعتبار سے مغربی سانچے میں ڈھلنے کی دعوت دی۔اسلامی ا حکامات وتعلیمات سے بیزاری پیدا ہونے لگی یا ان کی ایسی تعبیرات پیش کی جانے لگیں جو مغربی معیارات سے زیادہ سے زیادہ مطابقت رکھتی ہوں۔یہ لوگ اسلامی عقائد واحکام میں سے ہر اس عقیدہ و حکم کو تاویل کی سان پر چڑھانے یابدل ڈالنے میں مصروف ہوگئے جواپنی اصلی شکل میں جدید مغربی یامغرب سے متاثرذہن کے لیے قابل قبول دکھائی نہ دیا۔یوں بقول کینٹول سمتھ یہ معذرت خواہ نہ صرف اپنے بلکہ بہت سے دیگر مسلمانوں کے ایمان و یقین میں انتشار وتزلزل کا سبب بنے۔۱۳۲ ڈاکٹر رفیع الدین نے تجدد پسندوں کی خواہشِ اجتہادکی حقیقت واضح کرتے ہوئے صحیح کہا ہے کہ ان کی یہ خواہش بالعموم ان کی اسلام سے محبت کا نتیجہ ہونے کی بجائے الٹا اس سے بیزاری اوردیگر افکار و نظریات سے محبت کا ثمر ہے۔ اجتہاد کی اس خواہش کا مقصد اسلام کی بنیادی وحقیقی باتوں کی دریافت ووضاحت نہیں بلکہ اسے دیگر نظریات کے قریب تر لانا ہے تا کہ ان نظریات کے حامل اور دلدادگان کو مطمئن کیا جا سکے۔یہ شریعت کے اندر سے فطری ارتقاء کے نتیجہ میں سامنے آنے والا اصلی اجتہاد نہیں بلکہ امکانی حد تک اسلام میں اپنے پسندیدہ دیگر افکار وخیالات کے دخول اور شریعت کے تکملہ کی سعی ہے۔ ۱۳۳
حوالہ جات وحواشی
۶۶۔ چارلس سی آدم،حوالہ مذکور،ص۳۹۸۔
۶۷۔ ایضاً،ص۱۹۹۔۲۰۰۔
۶۸۔ ایضاً،ص۲۰۱۔۲۰۲۔
۶۹۔ مفتی محمد عبدہ،تفسیر سورہ العصر،قاہرہ،۱۹۲۶،ص۱۹۔
۷۰۔ وہی مصنف، تفسیر جز عم،مطبع مصر،۱۳۴۱ھ،ص۱۵۸۔
71. Kerr, Malcolm H, Islamic Reforms: The Political and Legal theories of Muhammad Abduh and Rashid Rida, Cambridge, University press, 1961, p.105.
72. Ibid. p. 106.
۷۳۔ رشید رضا،تفسیر المنار،جلد ششیم،قاہرہ،۱۳۷۵ھ،ص۵۶۲۔
۷۴۔ وہی مصنف،تفسیر المنار،جلد دوم،۱۳۶۷ھ،ص۳۰۔
۷۵۔ وہی مصنف ،تفسیر سورہ یوسف، قاہرہ، ۱۹۳۶ھ،ص۱۲۰،تفسیر المنار،جلد اول، قاہرہ،۱۳۷۳ھ،ص۳۱۵۔
76. Hourani, Albert, Arabic Thought in the Liberal age, Oxford University press, 1962, pp. 168-169.
۷۷۔ قاسم امین ،تحریر المرأۃ ،قاہرہ،۱۸۹۹ء،ص۱۶۹۔
۷۸۔ وہی مصنف ، المرأۃ الجدیدہ،قاہرہ،۱۹۰۰ء،ص۱۸۵۔۱۸۶۔
۷۹۔ علی عبد الرزاق،الاسلام واصول الحکم ،قاہرہ ، ۱۹۲۵ء،ص۸۴۔۸۵۔
۸۰۔ مثال کے طور پر دیکھیے:طنطاوی جوہری، الجواہر فی تفسیر القرآن،جلد اول،بیروت،۱۹۹۱ء،ص۱۶۱۔۲۳۴، چارلس سی آدم، حوالہ مذکور ، ص ۳۴۸،۳۴۹،۳۵۵۔
۸۱۔ سید عبداللہ،سرسید احمد خاں اور ان کے ناموررفقا کی اردونثر کا فنی و فکری جائزہ،اسلام آباد ،مقتدرہ قومی زبان، ۱۹۹۴ء ،ص۳۰۔۳۲۔
۸۲۔ ٹرول،ڈاکٹرسی ڈبلیو،سر سید احمد خاں:فکراسلامی کی تعبیر نو(مترجمین ،ڈاکٹر قاضی افضل حسین اور محمداکرام چغتائی)،لاہور ، القمر انٹر پرائزز،۱۹۹۸ء، ۲۰۶۔۲۰۷۔
۸۳۔ تفسیر القرآن مع اصول تفسیر،لاہور،دوست ایسوسی ایٹس،۱۹۹۵ء،ص۱۰۷۵۔۱۱۹۷۔
۸۴۔ ایضاً،ص۱۴۷۔۱۶۲،۳۹۹،۴۱۳،۴۲۶۔۴۲۷۔
۸۵۔ ایضاً،ص۵۸۰۔
۸۶۔ ایضاً،ص۹۰۔۹۶،۵۶۵۔۵۷۸۔
۸۷۔ ایضاً،ص۱۰۶۔۱۰۸،۱۱۷،۶۱۳۔۶۲۵۔
۸۸۔ ایضاً،ص۱۲۴۔
۸۹۔ حالی،مولانا الطاف حسین،حیات جاوید،لاہور،ھجرہ انٹر نیشنل،۱۹۸۴ء،حصہ اول،ص۲۳۱۔
90. Chriragh Ali, The proposed political, legal and social reforms in the Ottoman Empire and other Muhammdan States, Bombay, 1883, pp.10-12.
91. Ibid.pp.112-113.
۹۲۔ ممتاز علی ،حقوق نسواں،لاہور،۱۸۹۸ء،ص۵۔۷۔
۹۳۔ ایضاً،ص۷۔۳۷۔
۹۴۔ ایضاً،ص۴۴۔۹۴۔
۹۵۔ حالی، مولانا الطاف حسین،حیات جاوید،حوالہ مذکور،ص۱۶۳۔
۹۶۔ احمد امین،زعماء الاصلاح فی العصر الحدیث، قاہرہ، ۱۹۴۸ء،ص۱۳۹۔۱۴۵۔
۹۷۔ امیر علی،سید ،روح اسلام(مترجم،محمد ہادی حسین)،لاہور ،ادارہ ثقافت اسلامیہ،۱۹۹۲ء،ص۱۵۲۔
۹۸۔ ایضاً،ص۱۵۳۔۱۵۴۔
۹۹۔ ایضاً،ص۳۲۶۔
۱۰۰۔ ایضاً،ص۳۵۸،۳۶۸،۳۷۰،۳۷۱۔
۱۰۱۔ ابوالحسن علی ندوی،مولانا،قادیانیت:مطالعہ و جائزہ،کراچی،مجلس نشریات اسلام،۱۹۸۱ء،ص۱۸۰۔
۱۰۲۔ محمد علی لاہوری،بیان القرآن،لاہور،احمدیہ انجمن اشاعت اسلام،جلداول۱۳۷۷ھ،ص۶۲،جلددوم،ص۱۲۴۴، جلد سوم،۱۳۴۲ھ،ص۱۳۹۱۔۱۳۹۲۔
۱۰۳۔ ایضاً،جلداول،ص۶۹۔۷۰۔
۱۰۴۔ ایضاً،ص۷۸۔۷۹۔
۱۰۵۔ ایضاً،ص۳۳۱۔۳۳۲،۳۳۴،۳۹۹،۵۷۵۔۵۷۶،جلددوم،ص۷۳۸،۱۲۶۲۔
۱۰۶۔ ایضاً،جلداول،ص۳۱۰،جلددوم،ص۱۳۲۳۔
۱۰۷۔ ایضاً،جلداول،ص۳۱۴۔۳۱۵۔
۱۰۸۔ ایضاً،ص۳۲۰۔۳۲۶۔
۱۰۹۔ ایضاً،جلدسوم،۱۴۰۸۔۱۵۳۶۔جلددوم،ص۱۲۷۸۔
۱۱۰۔ عزیز احمد،پروفیسر،برصغیر میں اسلامی جدیدیت(مترجم ،ڈاکٹر جمیل جالبی)،لاہور،ادارہ ثقافت اسلامیہ، ۱۹۸۹ء،ص۳۲۲۔۳۲۳۔
۱۱۱۔ پرویز، غلام احمد،انسان نے کیا سوچا،لاہور،طلوع اسلام ٹرسٹ،۱۹۹۱ء،ص۱۵۔
112. Longman,Green & co;Pub.by,Supernatural Relegion, London, 1874,Vol.II.p.480.
۱۱۳۔ الانعام۶:۱۲۔
۱۱۴۔ پرویز ،غلام احمد ، مطالب الفرقان ،لاہور ،طلوع اسلام ٹرسٹ ،جلد پنجم ،ص۱۲۔
۱۱۵۔ ایضاً ، جلد چہارم ،ص۳۸۴۔
۱۱۶۔ ایضاً ،جلد دوم،ص۶۷۔۷۰۔
۱۱۷۔ ایضاً،ص۵۰۔۵۲۔
۱۱۸۔ ایضاً،ص۴۱۔۴۲۔
۱۱۹۔ ایضاً،جلد اول،ص۳۲۷۔۳۲۸۔
۱۲۰۔ ایضاً،ص۳۳۳۔۳۳۴۔
۱۲۱۔ ایضاً،جلددوم،ص۴۱۔
۱۲۲۔ ایضاً،ص۶۲۔
۱۲۳۔ ایضاً،جلد چہارم،ص۹۳۔
۱۲۴۔ ایضاً ،ص۵۰۳۔۵۱۰۔
۱۲۵۔ ایضاً ،جلد سوم ، ص۳۴۸۔
۱۲۶۔ النساء۴:۲۰۔
۱۲۷۔ پرویز ،غلام احمد ،مطالب الفرقان ،جلد سوم ، ص۳۴۶۔
۱۲۸۔ ایضاً ،جلد اول ،ص۱۱۵۔۱۱۶۔۱۳۲۔
۱۲۹۔ ایضاً، ص۱۰۷۔
۱۳۰۔ محمد اکرام ،شیخ،موجِ کوثر،لاہور،ادارہ ثقافت اسلامیہ،۱۹۹۲ء،ص۱۷۸۔
۱۳۱۔ قاضی جاوید، سرسید سے اقبال تک،لاہور ،تخلیقات،۱۹۹۸ء،ص۹۳۔
132. Smith, Wilfred Cantwell, Op.Cit.p.122.
133. Rafi-ud-din,Dr,"The task of Islamic Research",The Pakistan times, Lahore,August 2, 1963.
’’کچھ تو سمجھے خدا کرے کوئی‘‘ (۱)
مولانا محمد بدر عالم
(افتراق وتفریق کا فکری، نفسیاتی اور سماجی تجزیہ۔)
امت مسلمہ اس وقت گوناگوں مسائل کا شکار ہے۔ عالمی کفر نے ہر طرف سے اس کو شکنجے میں کس لیاہے۔ ہم معاشی طور پر خدایانِ مغرب کے محتاج اور عسکری طور پر ان کفار کے دست نگر ہیں۔ ہم ان کے سیاسی قیدی اور تہذیبی غلام ہیں۔ جمہوری نظام ہماری آنکھوں کا تارا اور بے دین معاشرت ہمارے سروں کا تاج ہے۔ حالات دِل فگار ہیں۔ ملت کا اجتماعی ڈھانچہ بالکل ٹوٹ چکاہے۔ معدودے چند افراد کے سوا جو امت کی ڈوبتی ناؤ بچانے کی کوشش کررہے ہیں، بہت بڑی اکثریت صرف اپنے مفادات کی سوداگر ہے۔ مفکروں کی دانش بانجھ اور فکر مردہ ہوچکی ہے۔ حکمران اگر کاسہ لیس اور عیارہیں تو سیاستدان ٹوڈی اور مکار ہیں۔ عدالتیں انصاف بیچتی ہیں اور صحافی حرمتِ قلم کا بیوپار کرتے ہیں۔ شعرا اگر کلام کے جادوگر ہیں تو خطبا لفظوں کے بازی گرہیں۔ غریب کادامن زرسے اور امیر کا دل ضمیر سے خالی ہے۔ مزدور کی محنت زربن کر کار خانہ دار کی تجوری میں اترجاتی ہے اور حالات کے جبر سے نکلنے والی اس کی کراہیں دھواں بن کر کارخانے کی چمنیوں سے نکلتی جاتی ہیں۔ کافروں کے ٹکڑوں پر پلنے والے چند بے ضمیروں نے پوری امت کو ان کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ حالات بد سے بدتر اور زوال مزید سے مزید تر ہوجارہاہے۔
امت حالات کے ایسے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔ حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ اللہ کی اس زمین پر خونِ مسلم سے ارزاں اور کوئی چیز نہیں۔ تڑپتے جسم، بھڑکتے وجود، بے گوروکفن لاشیں، لٹے سہاگ،پٹی عصمتیں، اجڑے دیار، ویران بستیاں، مظلوموں کی فریادیں، بندوقوں کے قہقہے، گولیوں کی مسکراہٹیں، بارود کی بارش، اِس سمت سے اْس سمت تک مسلمان کا لہو۔ کیایہی ملت کا مقدر اوراس کا نصیب ہے؟ یہ دلدوز حالات دیکھ کر آنکھیں خون آلود ہو جاتی ہیں او رسوچ سوچ کر کنپٹیاں سلگتی ہیں۔ دماغ پھٹتا ہے اور ہر درد مند دل پریشان اور غمگین ہو جاتا ہے۔
جس طبقے سے ناخدائی کی امید کی جاسکتی تھی، وہ باہم دست وگریباں ہے۔اس کی صلاحیتیں کسی اور کام پرصرف ہو رہی ہیں۔ بہت سے دوسرے افراد کی طرح راقم بھی اس پر سوچتا رہتا ہے کہ امت کے اس زوال وادبار کا سبب کیاہے؟ ہم دوبارہ عروج کس طرح حاصل کرسکتے ہیں؟قیادت کا فخراور سیادت کا شرف جو ہمارااثاثہ تھا، کس طرح واپس لیاجاسکتاہے؟ یہ مسئلہ امت کے لیے رستا ہوا ناسور اور سلگتا ہوا انگارہ ہے۔ ہر دردمند مسلمان کا دل اس کی ٹیس سے تڑپتا اوراس کی تپش سے جلتاہے۔ اس مسئلے پر بات کرنا گھاؤ پر نشتر لگانا اور سانپ کے ڈسے ہوئے کو اَک کا دودھ پلانا ہے۔ گمان تو اچھا رکھناچاہیے، مگر پھر بھی اس مضمون سے ہو سکتاہے کسی قباکے بخیے ادھڑجائیں، کسی عمامے کے پیچ کھل جائیں، کوئی گریباں چاک ہوجائے، اس لیے تیوریوں کا چڑھنا، پیشانیوں کا شکن آلود ہوجانااورزبانوں کا میرے حق میں بے لگام ہوجاناممکن ہے، لیکن ستائش کی تمنااورصلے کی پروا کیے بغیر اس بات کااظہار کرناخود پر فرض اورامت کا قرض سمجھتا ہوں جو میرے نزدیک حق ودرست ہے۔
اس وقت امت کو جن مسائل کا سامناہے، ان میں ’’فرقہ واریت‘‘ کا مسئلہ اہم ترین ہے۔بہت سے لوگ اسے امت کے زوال کا سبب سمجھتے ہیں۔ اس سے کلی طورپر تو میں اتفاق نہیں کرتا، البتہ یہ یقین ضرور رکھتاہوں کہ عروجِ امت کے راستے میں یہ ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ فرقہ واریت کے علاوہ اور ایک چیز بھی ہے جو نتائج کے لحاظ سے اگرچہ اس سے کم مہلک نہیں، مگراس کی طرف بہت کم لوگوں کی نظر اٹھتی ہے۔ جو اس کی طرف توجہ کرتے ہیں، وہ بھی اس کی سنگینی کو مکمل طور پر محسوس نہیں کرپاتے۔ نوعیت کے لحاظ سے یہ فرقہ واریت ہی کی فرع اور شاخ ہے۔ اس کانام ہم ’’تفریق‘‘ رکھتے ہیں۔
زوال کے اس دور میں عروج سے ہمکنار ہونے کے لیے مختلف النوع کوششیں ہورہی ہیں، لیکن کوئی کوشش بارآور اور کوئی سعی مشکور ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی وجہ کیاہے؟اکثریت نتائج میں اس ناکامی کو امریکہ اوراس کی سازشوں کے کھاتے میں ڈال کر یا دوسرے مخالفین کے سر منڈھ کر خودبری الذمہ ہوجاتی ہے۔اخلاق اس حد تک بگڑ گئے ہیں کہ ہر شخص خود کو ’’مصلح‘‘ اور مخالف کو ’’مفسد‘‘ سمجھتا ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو دوسروں کو الزام دینے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسے لوگ یقیناًآٹے میں نمک کے برابر ہوں گے جو حالات کا صحیح اور حقیقت پسندانہ تجزیہ کرتے ہوں، جو یہ سمجھتے ہوں کہ نتائج میں ناکامی کی ایک اہم ترین داخلی وجہ ایک طبقے، فرقے اور مسلک میں جماعت بندی، گروپ بندی اور پارٹی بازی یا ’’تفریق‘‘ ہے۔ کوئی فرقہ امت کے مجموعی دھارے سے الگ ہوتاہے اور کچھ ہی عرصے بعد کئی ٹکڑیوں میں بٹ جاتا ہے۔
یہ چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں اور جماعتیں نکبت اور ادبار سے نکلنے کی بساط بھر کوشش کرتی ہیں، مگر’’تفریق‘‘ ان کی کوششوں پر مٹی ڈال دیتی ہے، کیونکہ ہرایک جماعت دوسری جماعت کی کوششوں کو سبوتاژ کر دیتی ہے۔ ہر ایک کی سمت علیحدہ اور فکر جدا ہوتی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جس نے بھی ڈیڑھ اینٹ کی اپنی الگ مسجد بنارکھی ہے، خود کو ملت کا خیر خواہ سمجھتاہے اور دوسرے فریق کو ملت کا بدخواہ گردانتا ہے۔ زبان سے گونہ کہے، مگر اس کا عمل یہ چغلی کھاتاہے کہ جو کام وہ کر رہا ہے، وہی کام ملت کے لیے سب سے اہم اورسب سے زیادہ ضروری ہے۔ اس لیے اصل کام بس اسی کا ہے۔ اڑھائی ٹٹو لے کر ایک شخص اپنی جماعت بنا لیتاہے اور خو د کو’’الجماعہ‘‘ کا مصداق، امت کا سواد اعظم اور ما انا علیہ و اصحابی کا سچا پیروکار سمجھے لگتاہے۔ ہر میدان میں تفریق نے ملت کی قوتوں کو منتشر اور تتر بتر کردیاہے۔ میری نظر میں تفریق، فرقہ واریت سے بھی بڑھ کر ملت کے لیے سم قاتل ہے۔ اس سے وہی نقصان ہورہاہے جو سیاسی میدان میں مرکزیت یعنی خلافت کے خاتمے کی وجہ سے ہوا۔
جمہوریت کے بجائے خلافت کا تصور دے کر اسلام نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو ایک لڑی اورایک وحدت میں پرو دیا۔ پوری دنیا کے مسلمان ایک قوم قرار پائے۔ خلافت کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی تاکیدی احکام ارشاد فرمائے۔ یہاں تک بھی فرمایا کہ ایک کی موجودگی میں دوسرا داعئ خلافت ہوتو اسے قتل کردو۔ آپ کے اس مبارک ارشاد کے علی الرغم امت کو جلد ہی دو خلیفوں کی اطاعت کا طوق اپنے گلے میں ڈالنا پڑا۔ وجوہات کچھ بھی ہوں، بہرحال جس چیز کا سدباب حضورؐ نے اس ارشاد میں کیا تھا یعنی مرکزیت ختم نہ ہو، امت اس پر عمل پیرانہ ہو سکی۔ شاید اسی ارشاد کی خلاف ورزی کا نتیجہ تھا کہ خلافت تو خلافت، اندلس سے مسلمانوں ہی کا بیج ختم ہوگیا۔
خلافت مسلمانوں کاایک مرکز تھی،دینی بھی سیاسی بھی۔اس سے وابستگی عبادت تھی۔ رفتہ رفتہ ایک خاص وجہ سے یہ مرکز کمزور ہونا شروع ہوا۔ یہ وجہ وہی تھی جو ہمارے زوال وادبار کی اصل اور جڑ ہے۔ مرکزی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر کئی علاقوں میں مختلف چھوٹی بڑی خود مختار امارتیں اور بادشاہتیں قائم ہوگئیں۔ اپنی تمام ترخود مختاری کے باوجود یہ امرا اس لحاظ سے دربارِ خلافت کے ماتحت ہی تھے کہ اپنی حکومت کو قانونی بنانے کے لیے دربارِ خلافت سے ان کا سند جواز حاصل کرنا ضروری تھا۔ گو اس وقت بھی مسلمان مختلف خطوں اور ملکوں میں تقسیم تھے، لیکن ملکی وطنی عصبیت نہیں تھی۔ملک تھے، سرحدیں تھیں، اس حوالے سے شناخت بھی تھی، مگر قانون تقریباً یکساں تھا۔ نیشنلٹی اور شہریت کسی خاص ملک اور علاقے تک محدود نہیں تھی۔ ہر مسلمان ہر خطے میں یکساں شہری حقوق کاحقدار سمجھا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ عہدوں اور مناصب کی تجویز میں بھی یہ جغرافیائی اختلاف حائل نہ تھا۔ کوئی شخص خواہ کسی علاقے سے تعلق رکھتا ہوں، کسی بھی حکومت کے زیر سایہ ذمہ داری حاصل کر سکتا تھا، بشرطیکہ اس کا اہل ہوتا۔ یہودنصاریٰ نے سازشیں کرکے اور کچھ ناعاقبت اندیش مسلمانوں نے اس مقصد میں ان کا آلۂ کاربن کراس مرکزیت کو ختم کردیا۔ یہ لڑی ٹوٹتے ہی مسلمانوں کی وہ سیاسی وحدت ختم ہوگئی جس نے انھیں ایک قوم بنا رکھا تھا۔
’’تمام دنیا کے مسلمان ایک قو م ہیں‘‘، مذہبی حمیت کے جذبات سے لبریز یہ ایک کھوکھلی بات ہے جو کبھی کبھی محراب ومنبر سے سنائی دیاکرتی ہے یا ایک سیاسی نعرہ ہے جس کے ذریعے عوام کے دینی جذبات سے کھیلا جاتاہے جو ابھی تک یہ سمجھتے ہیں کہ قوم ملک ووطن سے نہیں بلکہ دین ومذہب سے بنتی ہے، جبکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ جدید قومیت کی تشکیل میں دین ومذہب کا بنیادی عنصر عملاً ختم کر دیا گیا ہے اوراس کی جگہ ملک ووطن نے لے لی ہے۔ مولانا حسین احمدمدنی کے ایک بیان کی غلط رپورٹنگ پر طوفان اٹھا دینے والے مصور پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ کوشاید علم نہیں تھا کہ جدید نظریۂ قومیت کو بتمام وکمال قبول کرنے والی کھیپ میں وہ لوگ بھی شامل ہوں گے جو ان کے خوشہ چین اوران کے خواب میں تعبیر کا رنگ بھرنے والے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ ہوگا کہ خودان ہی کے کلام سے استشہاد کرتے ہوئے اسے صحیح ودرست قرار دیاجائے گا اور شاید وہ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ۱۹۳۰ء میں انہوں نے جوخواب دیکھاہے، اس کی تعبیر عنقریب اسی نظریے کو بنیادی فراہم کرنے والی ہے جس کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے فرمایاتھا:
سرود بر سر منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبر زمقام محمد عربی است
اور یہ کہ :
اِن تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
ملت کا جو پیراہن ہے وہ اس کا کفن ہے
اپنی کئی داخلی کمزوریوں کے باوجود خلافت نے اس طرح تمام دنیا کے مسلمانوں کو اپنے سایے میں لے رکھاتھا جیسے مرغی اپنے بچوں کو پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے۔ اب مسلمان تسبیح کے بکھرے ہوئے دانے ہیں۔ سیاسی میدان میں ان کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں اور جماعتیں ہیں۔ یہ ٹکڑیاں اور جماعتیں ملک کہلاتی ہیں۔ ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ مسلمانوں کے ستاون ٹکڑے جو آزادی اور خودمختاری کے کھلونے سے کھیل رہے ہیں۔ حالات سازگار اور ہواموافق ہو تو ہر ٹکڑا اسی طرح مزید کئی ٹکڑوں میں بٹنے کے لیے تیار ہے جیسے ملت فرقوں میں بٹتی ہے اور فرقے مزید کئی ٹکڑیوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ فرقہ وارانہ تقسیم نے مسلمانوں کو وہ نقصان نہیں پہنچایا جو سیاسی اختلافات اور تفریق سے ہوا اور ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کی طاقت تقسیم ہوچکی ہے۔ اپنا ملک، اپنا وطن ان کی شناخت اور پہچان بن گیاہے۔ ملکی عصبیت دلوں میں راسخ ہو چکی ہے۔ ملکی مفاد، ملی مفاد سے مقدم ہوچکاہے۔ ہر ملک اپنے جغرافیائی اور مقامی حالات کے مطابق اپنی پالیسیاں بناتاہے تاکہ اسے تحفظ وترقی حاصل ہو، چاہے ان کے نتیجے میں دوسرے مسلمان ملکوں کا شیرازہ بکھر جائے۔ ہندوستان اور وہاں کے مسلمانوں کی پالیسی پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے تو پاکستان کی ہندوستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے لیے۔ یہی ملکی اوروطن عصبیت تھی جس کے پیش نظر خونخوار ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ لگا کر افغانستان کے مسلمانوں کی پشت میں خنجر گھونپا۔ یہ عصبیت طبیعتوں میں اتنی زیادہ رچ بس چکی ہے کہ مولانا صاحب بھی یوں دعا فرماتے ہیں ’’اے اللہ! عالم اسلام کی عموماً اور ملک پاکستان کی خصوصاً حفاظت فرما‘‘۔
مرکزیت کے خاتمے اور ملکوں کی بندربانٹ نے مسلمانوں کا شیرازہ بکھیر دیا۔ مثال کے طور پر برصغیر پاک وہند میں ستر کروڑ ہندو ایک جگہ جمع ہوگئے اور لگ بھگ اتنے ہی مسلمان چارحصوں میں تقسیم ہوگئے۔ہر حصے کے تقاضے اور مفادات دوسرے سے جدا اور الگ۔ اگر اتنا ہوتا، تب بھی بہت غنیمت تھا کہ حالات کے جبر نے گو بھائیوں کو جدا کر دیا ہے، مگر ان کے دل ایک دوسرے کے لیے دھڑکتے اور ملاپ ووصال کے لیے تڑپتے ہیں۔ بات اس سے کہیں آگے بڑھ گئی۔ تقسیم کے ساتھ ہی ملکی اور لسانی عصبیتوں نے سراٹھانا شروع کردیا۔ پاکستانی، ایرانی، ترکی، مصری، عربی اور عجمی عصبیتوں کے ساتھ ہی پنجابی، سندھی، بلوچی، مہاجر، مقامی، پختون، فارسی بان وغیرہ عصبیتوں نے بھی جنم لینا شروع کیا۔ ایک شناخت ’’مسلمان‘‘ چھوڑ کر جب جغرافیائی، مقامی اور لسانی شناخت پر اصرار کیا گیا تو پے در پے عصبیتوں کا دروازہ کھل گیا۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ خلافت ختم کرنے کے لیے انگریزوں نے پہلے عرب نیشنل ازم کی پری تخلیق کی جس کے لازمی نتیجے میں تُرک عصبیت نے جنم لیا۔ عرب دشمنی اسلام دشمنی میں ڈھل گئی اور ترکی سے خلافت کے ساتھ ساتھ شعائر دین یہاں تک کہ عربی رسم الخط کو بھی دیس نکالا مل گیا۔ آج ملکی وطنی اور لسانی عصبیتوں میں گھرے ہوئے مسلمان ممالک اوران میں بسنے والے مسلمان ترقی اور عروج کے لیے اس شخص کی مانند غوطے لگارہے ہیں جسے چار اندام سے جکڑ کر سمندر میں ڈال دیاگیاہو۔ غلبے اور عروج کے راستے ان پر کھل بھی کیسے سکتے ہیں جبکہ ان کی فکر منتشر اور سوچ متفرق ہے۔ ان کے رستے جدا اور سمتیں علیحدہ ہیں۔ وطنی عصبیتیں اور ملکی مفادات سب سے پہلے کاجادو سر چڑ ھ کر بول رہاہے۔ قرآن یہودیوں کی بابت بیان کرتاہے: تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعاً وَقُلُوبُہُمْ شَتَّی ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُونَ (الحشر ۵۹: ۱۴)ور مسلمانوں کے صرف دِل ہی متفرق نہیں، ظاہر بھی بکھرا ہواہے۔
مذہبی فرقہ واریت یقیناًایک المیہ اور ہمارا کمزور پہلوہے، لیکن اسلامی سطوت وشوکت توڑنے میں سیاسی فرقہ واریت یا تفریق کاکردار سب سے اہم ہے۔ مذہبی فرقہ واریت کی بنیاد پر سر پھٹول ہوجاتی ہے، لوگ باہم دست وگریباں ہوجاتے ہیں، مگر سیاسی مقاصد میں اختلاف سے ایسی جنگوں کی نوبت آتی ہے کہ ہزاروں لاکھوں آدمی اس کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ان اختلافات نے سلطنتوں کی سلطنتیں مٹادیں۔ اپنی تاریخ اٹھا کر دیکھو، فرقہ واریت کی بنیاد پر جنگ کے اکادکا واقعے ملیں گے، لیکن سیاسی فرقہ واریت پر مبنی جنگ وجدل کاایک طویل سلسلہ نظر آئے گا۔
بات سمجھنے کے لیے مندرجہ ذیل باتوں کا مختصر طور پر جاننا ہمارے لیے ضروری ہے:
(1)فرقہ کسے کہتے ہیں؟
(2)فرقہ بندی اوراس کے اسباب کیا ہیں؟
(3)فرقہ واریت اوراس کے اسباب کیا ہیں ؟
(4)تفریق اوراس کی وجوہ علل کیا ہیں؟
(5)افتراق وتفریق کے نقصانات ومضمرات کیاہیں؟
(6)اصل کام کیاہے اور کیسے کرنا ہے؟
فرقے کی بنیاد سے واقفیت کے بعد ہی ہم فرقہ واریت سے آگاہ ہوسکیں گے۔ اتنا ہی نہیں، اسی کے ساتھ وہ غلط فہمی بھی زائل ہوجائے گی جو بہت سے لوگوں کے ذہن میں پائی جاتی ہے اور جس کی وجہ سے وہ امت کے ان طبقات کو بھی فرقہ شمار کرتے ہیں جو کہ اصلاً فرقہ نہیں یعنی حنفی مالکی شافعی وغیرہ۔
فرقہ بندی، اصل اور بنیاد سے فی الجملہ علیحدگی ہے۔ بنیاد بالکل ہی علیحدہ ہو جائے تو فرقہ، فرقہ نہیں رہتا، کفر بن جاتا ہے۔ فرقہ نام ہے ایسی جماعت کا جو گمراہ ہو، مگر کافر نہ ہو۔ ایک ہی بنیاد یااس بنیاد کے احاطے میں جوعمارات بھی تعمیر ہوں گی، وہ ایک ہی عمارت ،کوٹھی، مکان یا قلعہ شمار کی جائیں گی۔ ہر اس عمارت کو الگ اور مستقل شمار کیاجاتا ہے جس کی بنیاد الگ ہو۔ اصول وعقائد ہماری دینی بنیادہیں۔ جوگروہ اصول وعقائد میں اختلاف کرکے اپنے اعتقادات کی نئی عمارت بنائے گا، وہ ایک فرقہ شمار کیاجائے گا۔ اس کے مقابلے میں جو اصل اور بنیاد سے جدانہیں ہوا، وہ تقابل وتمایز کی بناپر فرقہ کہاجاتا ہے، ورنہ وہ فرقہ نہیں۔
اس سے واضح ہواکہ فرقہ اصول وعقائدمیں اختلاف کرنے سے بنتاہے نہ کہ اختلاف اعمال سے۔ ہاںیہ ضرور ہے کہ فروعی اعمال میں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنالینا قابل مذمت ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کا نام میں نے تفریق رکھا ہے، اسی نے ہماری قومی وملی یک جہتی کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ یاد رکھیں کہ جوفرقہ اصل سے جتنا زیادہ اختلاف کرے گا، وہ اتنا ہی اس سے دور ہوگا۔ مثلاً معتزلہ، قدریہ،جبریہ وغیرہ اصل سے اختلاف کر کے ایک مستقل فرقے کی صورت میں اہل حق کے سامنے آئے، مگران کا اختلاف ایسا نہ تھا کہ انہیں کافر قرار دے دیا جاتا، اس لیے بہرحال وہ مسلمان ہیں گو کہ ان کے گمراہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ان کے مقابلے میں مرزا غلام احمد قادیانی اورمحمد علی باب وغیرہ نے اصل سے ایسا اختلاف کیا کہ دائرہ اسلام سے ہی باہر ہوگئے، لہٰذا انہیں ایک مسلمان فرقہ کہنا درست نہیں، گو کہ اپنا مرکز اطاعت جداکرلینے کے بعد بھی وہ خود کو مسلمانوں میں داخل رکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔
جس طرح اسلام کے کچھ ایسے اصو ل ہیں جن سے اختلاف دائرۂ اسلام ہی سے نکال باہر کرتاہے اور کچھ ایسے جن سے اختلاف گمراہی کا سبب توہوتاہے، مگر کفر کا باعث نہیں، اسی طرح ہر فرقے کے کچھ ایسے اصول ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر اس کا قیام ہوتاہے اوران میں اختلاف کرنا فرد کو اس فرقے کی حد سے ہی خارج کر دیتا ہے، اور کچھ نظریات ایسے ہوتے ہیں جو اس کے الگ تشخص کو پروان چڑھاتے ہیں جن میں اختلاف سے تفریق تو ہو جاتی ہے، مگر اختلاف کرنے والا اس فرقے کی حد سے خارج نہیں ہوتا۔ جو جماعت اصول وفروع میں آج تک جادۂ حق سے منحرف نہیں ہوئی اور پہلے کی طرح برابر چلی آ رہی ہے، وہ ہے اہل سنت والجماعت۔
ہبوط آدم کے بعد کئی قرن تک لوگ اسی راہ پر چلتے رہے جو آدم علیہ السلام کی وساطت سے انہیں ملی تھی۔ جب اختلاف پیدا ہوا تو نوح علیہ السلام کونئے احکام دیے گئے، وہ دین نوح کہلایا۔اسی طرح سلسلہ چلتارہا۔احکام آتے رہے اور نبی کے نام سے دین موسوم ہوتارہا۔اسی کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ ’’ہم گروہ انبیاء علاتی بھائی ہیں، ہمارادین واحد اور شرائع مختلف ہیں۔‘‘ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک مدت تک معاملہ راستی پر چلتا رہا۔ درمیا ن میں اختلاف ہوئے، مگران میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جو کہ بنیاد سے علیحدگی پر مبنی ہو اور نہ ان کی بنیاد پر صحابہ نے تفریق ہی پیدا ہونے دی۔ حضرات صحابہ کرام کے اختلافات معروف ہیں۔ یہاں تک کہ امت میں وہ پہلااختلاف رونماہوا جو کہ بنیاد سے فی الجملہ علیحدگی پر مبنی تھا۔ اس کے بعد اسی طرح کے اختلافات بڑھتے گئے۔ جو گروہ اصل سے نہ کٹا اور بنیاد سے جڑا رہا، وہ ان اختلاف کرنے والوں کے مقابلے میں اہل سنت والجماعت کہلایا۔ اس سے کٹنے والے مختلف ناموں سے موسوم ہوئے، مثلاً شیعہ، خوارج، قدریہ، جبریہ، مرجۂ اور معتزلہ وغیرہ۔ اہل سنت والجماعت کی تعبیر چند احادیث سے لی گئی جن میں سے ایک ما اناعلیہ و اصحابی بھی ہے۔
یہاں سے عقائد میں دو تقسیمیں پیدا ہوئیں۔ ایک، وہ عقائد جن کا ثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعی یقینی اور متواتر ہے، انہیں ضروریات دین کا نام دیا گیا۔ ان میں سے کسی ایک کا انکار بھی کفر ہے۔ دوم، وہ عقائد جن کا ثبوت اس درجہ قطعی نہیں، لہٰذا ان کا انکار گو کفر نہ ہو، ضلالت اورگمراہی بہر حا ل ہے۔ انہیں ضروریات اہل سنت کا نام دیا گیا۔ رہا یہ سوال کہ انہیں ضروریات اہل سنت کیوں کہتے ہیں؟ تواس کا جواب یہ ہے کہ ان عقائد میں اہل سنت چونکہ راستی پر رہے اور ان کے مقابل گروہوں نے ان عقائد میں حق سے انحراف کیا، اس لیے ان کی اوراہل سنت کی نسبت سے یہ ضروریات اہل سنت سے موسوم ہوگئے۔
چودہ سو سال کی اس طویل مسافت میں کئی فرقے پیدا ہوئے اور جلد یا بدیر یادگاروں میں تبدیل ہوگئے۔آج کے ماحول میں بھی فرقے موجود ہیں اور بظاہر بہت زیادہ نظر آتے ہیں، مگر انہیں ان کی اصلوں کے تحت داخل کیا جائے تو معدودے چند رہ جاتے ہیں۔ مثلاً اہل تشیع کے فرقے، یہ حضرات پہلے اپنی اصل سے جداہوئے، پھرگروہ درگروہ کئی شاخوں میں بٹ گئے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ اورشاہ عبدالعزیزؒ نے ان کی شاخیں ۲۷ تک شمارکی ہے۔اگرچہ یہ شمار میں کافی ہیں، مگریہ سب اپنی ایک ہی اصل شیعہ کے تحت جمع ہوجاتے ہیں۔ ان سب کااصل الاصول تفضیل علی کرم اللہ وجہہ کا عقیدہ ہے۔ ان میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے آپ کو حضرت عثمانؓ پر فضیلت دی،کچھ وہ ہیں جنہوں نے شیخین کریمین پر،کچھ نے اس کے ساتھ خلافت بلافصل کا قول بھی کیا، بعض نے معاذاللہ چار کے سوا تما م صحابہ کے مرتد ہو جانے کا عقیدہ رکھا، کچھ نے اسی کے ساتھ تحریف قرآن کا عقیدہ اپنایا۔ حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی اور ظاہری اہل سنت ہی کی شاخیں ہیں، فرقے نہیں ہیں۔حیاتی مماتی، دونوں کی ایک اصل ہے، دیوبندی ہونا۔ دیوبندی اور بریلوی، دونوں کی ایک اصل ہے، حنفی ہونا۔اہل حدیث کی تمام جماعتیں ایک اصل، ترک تقلید پر اکٹھی ہیں۔ اسی اصل میں نیچری ، مودودی اور غامدی بھی شامل ہیں۔ ترک تقلید اہل ظاہر کا مسلک ہے اور اہل ظاہر، اہل سنت میں داخل ہیں۔ مگر یادرہے کہ بعض گروہ کسی اعتبار سے اہل سنت میں داخل ہوتے ہیں توکسی دوسرے پہلوکی بناپر اہل سنت سے خارج بھی ہو جاتے ہیں یا کر دیے جاتے ہیں۔ مثلاً بریلوی، دیوبندیوں کے نزدیک حنفی ہونے کے لحاظ سے اہل سنت میں داخل ہوتے ہیں تو اس کے کئی مسلمات کا انکار کرنے کی وجہ سے خارج بھی ہیں اوردیوبندی، بریلویوں کے ہاں اسلام سے ہی خارج ہیں۔ اہل حدیث ان دونوں کو سنی ماننے کے لیے تیارنہیں۔ بعض فرقے وہ ہیں جنہیں تغلیباً اسلامی فرقوں میں شامل کیا جاتاہے، درحقیقت وہ اس سے خارج ہیں۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ فرقہ سے مراد وہ جماعت ہے جو ضروریات اہل سنت میں اختلاف کرے۔ اسی کو دوسرے معنوں میں کہا جاتاہے کہ جو اہل سنت والجماعت سے کٹتاہے، وہ اگرچہ مسلمان ہے، مگر گمراہ ہے۔
فرقہ کے بعد دوسری اہم چیز جس کا ہمارے دور میں بہت چرچاہے، فرقہ واریت ہے۔ یہ لفظ کافی بدنام ہوچکاہے اور اس کی حقیقت جانے بغیربالخصوص علما کو بدنام کرنے کے لیے بہت سے لوگ یہ لفظ بے محل استعمال کرتے ہیں، یہاں تک کہ اپنے موقف کی صحت اور مخالف کی تغلیط پر کوئی مدلل علمی گفتگو کرے تو ایسی گفتگوکوبھی فرقہ واریت اورقابل مذمت سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اپنے موقف کو ثابت کرنا اور دلائل سے دوسرے کی غلطی واضح کرنا، ہر ایک کا حق ہے۔ یہ فرقہ واریت نہیں، وہ تو اس سے جدا ایک اور ہی شے ہے۔
فرقہ واریت اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اظہارِحق یا ابطال باطل کانام نہیں بلکہ مخالف فرقے کے حق میں عدل وانصاف اور حدود و تہذیب کے دائرے سے باہر نکل جانے کا نام ہے۔ باہمی جدل ومنازعت اور دوسرے کو زک پہنچانے کی کوشش فرقہ واریت ہے۔ دامنِ عدل و انصاف چھوڑ دینے کامطلب ہے مخالف سے تعصب برتنا، اس کے کلام کو غلط معنی پر محمول کرنا، وہ عقائد اس کے سرمنڈھنا جو اس کے نہیں، اس پر الزامات عائد کرنا۔ حدود سے باہر نکلنے کا مطلب ہے اختلاف میں غلو سے کام لینا، اسے اپنے مقام پر نہ رکھنااور معمولی اختلاف کو بھی کفر اسلام کااختلاف بنادینا۔ حلقہ تہذیب سے باہر نکلنے کا مطلب ہے مخالف کو گالیاں دینا، طعن وتشنیع اور تضحیک واستہزا سے کام لینا،نام بگاڑنا، غیر سنجیدہ اور غیر علمی انداز اختیار کرنا، بڑھکیں لگانا، لوگوں کے جذبات ابھارنا کہ وہ نہ صرف اس سے نفرت ہی کریں بلکہ مرنے مارنے پر آمادہ ہوجائیں۔ علمی اختلاف کو بازاری اختلاف بنادینا، اس کے اکابر اور بزرگوں پر سب وشتم کرنا۔ فرقہ واریت کی آگ نفسیاتی پیچیدگی اور اخلاقی کمزوری سے بھڑکتی ہے۔ اس کی جڑ سیاست کاپانی اور سازش کی کھاد ملنے سے خوب برگ وبار لاتی ہے۔
تیسری اہم چیز تفریق ہے جو کہ اپنے نتائج کے لحاظ سے بہت سنگین ہے، مگر لوگ اسے درخور اعتنا نہیں جانتے۔فرقہ بندی اورفرقہ واریت کے بارے میں ایک جان کاری کے بعد تفریق کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں رہا۔ فکر، مذہب، عقیدہ، نظریہ اور مسلک کی یکسانی کے باوجود الگ الگ گروہوں، گروپوں، جماعتوں اور دھڑوں میں اس طرح تقسیم ہو جانا کہ ایک گروہ کا انتخاب دوسرے کی لغویت، حقارت اور تنفر ونقصان پر مبنی ہو، تفریق کہلاتاہے۔یاد رہے کہ تفریق صرف مذہبی نہیں ہوتی بلکہ فی زمانہ ہمارے ہرشعبے میں، وہ دینی ہو خواہ دنیاوی،تفریق درتفریق کا ایک سلسلہ موجودہے۔ایک ہی شعبے کے لوگ چھوٹے چھوٹے گروہوں اور جماعتوں میں منقسم ہیں جو دلوں میں ایک دوسرے کے لیے شدید کدورت اورنفرت رکھتے ہیں اور اسی کے ساتھ حق وراستی کو اپنی ذات میں منحصر کرتے ہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیے کہ کیسے سنی یا شیعہ آپس میں ایک دوسرے کو مرتے مارتے رہے،حنبلیوں اورشافعیوں نے کیسے ایک دوسرے کے گلے کاٹے۔
پھرجیسے مذہبی فرقہ بندی سے زیادہ سیاسی فرقہ بندی نے امت کو نقصان دیا، اسی طرح مذہبی تفریق سے زیادہ سیاسی تفریق نے امت کانقصان کیا اور کر رہی ہے۔ جونسبت مذہبی افتراق وتفریق میں ہے، وہی نسبت سیاسی افتراق وتفریق میں بھی ہے اور نقصان اس کا زیادہ ہے۔ سیاسی افتراق کا مطلب ہے دوایسے بالمقابل گروہ بن جاناجن کا نسب علیحدہ ہے، مثلاً بنوامیہ اور بنوعباس۔ یا نظریہ علیحدہ ہے، مثلاً مختاربن عبیدثقفی اورابن زیاد۔ یا قوم علیحدہ ہے، مثلاً سلجوقی وعباسی اور ہندوستان میں خلجی، تغلق، غلاماں اور مغل۔ یا مذہب علیحدہ ہے، مثلاً مصرکے فاطمیین اورزنگی وایوبی یا آل بویہ وبنوعباس یا قاچاری وصفوری اورمغل۔ یاصرف حصول حکومت کا جذبہ ہے، مثلاً تیمور وبایزیدیا بابر وخاندان غلاماں یا عرب وترک یا ترک خلافت پسند اورترک جدت پسند۔ تفریق کا مطلب ہے ہم نسب،ہم قوم،ہم مذہب یا ہم فکر ہونے کے باوجود باہم مخالفت کرنا، مثلاً علویوں وعباسیوں کی چپقلش یا عباسیوںیا خاندان غزنوی کی باہم سرپھٹول یا آخری دور میں شاہان مغلیہ کی باہمی لڑائیاں یا جمعیت علماء ہند کی تفریق یا مسلم لیگ کی تفریق در تفریق یا جے یوآئی کی تفریق وغیرہ۔
اس تفصیل کی روشنی میں اگرہم غورکریں گے تو تفریق، فرقوں سے زیادہ نظر آئے گی۔
پاکستان کی حدتک اگرجائزہ لیا جائے تو تفریق در تفریق کا ایک لمبا سلسلہ نظر آتا ہے۔ ہر ہر مسلک کی کئی کئی دینی جماعتیں، پھر ہر جماعت کے کئی کئی حصے اور ہر حصہ دوسرے سے الگ مستقل جماعت۔ کئی سیاسی جماعتیں، خواہ مذہبی ہوں خواہ غیرمذہبی اور اکثر جماعتوں کے کئی کئی جائز وناجائز بچے ایک دوسرے کے راستے میں روڑے اٹکاتے، دوسرے کو ملک دشمن اور غدار قرار دیتے اور اپنے لیے فری ہینڈ کے طالب نظرآتے ہیں۔ یہاںیہ بات ایک دفعہ پھر دہرا دوں کہ تفریق کا مطلب محض اختلاف رائے نہیں ہوتا، بلکہ اس کی بنیاد پر اس طرح جماعت بندی، جتھ بندی، گروہ بندی اور پارٹی بازی کرنا کہ کچھ لوگ اکٹھ کرکے اپنا الگ تشخص بنائیں، لوگوں کو دوسروں سے کاٹیں اوراپنی طرف بلائیں، تفریق کہلاتا ہے۔ اس طرح ہر جماعت دوسرے کی ٹانگ کھینچتی اور اسے نیچا دکھا کر خود جگہ بنانے کی فکر میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان کسی ایک نکتے یا فکر پر اکٹھے نہیں ہوتے۔
ایک دوسرے رخ سے اس کا مطالعہ کریں تو بھی صورت حال خاصی مایوس کن اور دگر گوں نظر آتی ہے۔ وہ یہ کہ جو لوگ باہمی اتحاد کے لیے کوشاں ہیں، وہ خود کئی ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ کسی ایک مسلک کے لوگ جو اس کی تفریق پاٹنے کے لیے کوشش کرتے ہیں، ان میں سے بھی ہر ایک کی سمت فکر ونظر عام طور پر جدا جدا ہوتی ہے۔ ویسے کہنے کو تو ہر ایک یہی کہتاہے کہ اتحاد ہونا چاہیے۔ ان مد عیان اتحاد واتفاق کی کوششیں باہم مربوط نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ ابھی تک وہ یہی طے نہیں کرسکے کہ اتحاد کا لائحہ عمل کیا ہواوراس کے نکات کیا ہوں۔
سیاسی جماعتوں کی اکثریت پہلے نمبر پر ذاتی مفاد کی سیاست کرتی ہے اور ثانوی طور پر ملکی وقومی مفاد کو پیش نظر رکھا جاتاہے وبس۔ بین الاقوامی طور پر مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرونا ان کا مطمح نظرہی نہیں۔ چندایک افراد یا معمولی طائفے ہیں جو اس طرح کی سوچ رکھتے اور اس کے لیے کوشش بھی کرتے ہیں، مگرافسوس کہ وہ مسلک سے بالاتر ہو کر نہیں سوچ سکتے، کیونکہ مسلکی تشخص کو نمایاں کرنا بھی ایک نفسیاتی مجبوری ہوتی ہے، یہاں تک کہ اتحاد امت یا اشاعت وحفاظت اسلام وغیرہ کے لیے ان کی یا ان کے ہم مسلک افراد وجماعتوں کی جو کوششیں ہوتی ہیں، وہ بھی بالآخر مسلکی فخر کا روپ دھار لیتی ہیں اور جو بے چارہ اس تشخص سے بالاتر ہو کر کام کرے، وہ اپنے اورپرائے دونوں کی نظروں میں مطعون ہو جاتا ہے۔ پھر یہود ونصاریٰ کی سازشوں کے تحت جنم لینے والی ملکی تقسیم بھی ان کے کام کومحدود کر دیتی ہے۔ وہ ملکی سیاست کے بھنور اور ملکی حالات کے گرداب میں مبتلا رہتے ہیں اور ان مصنوعی سرحدوں کے احاطے سے باہر نہیں نکل سکتے۔ وجہ یہی ہے کہ ملکی مفاد مقدم رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ یہ توایک بالکل فطری بات ہے کہ جب بھی آپ ایک سے دوسری جماعت یا فورم تشکیل کریں گے جن کی جنس ایک ہی ہو تو کسی بھی وقت ان دونوں کے مفاد میں ٹکراؤ پیدا ہو جائے گا۔ یعنی ہوسکتاہے کہ ایسے کسی فورم کی تشکیل کے بعد ایسا کوئی معاملہ سامنے آجائے جس پر عمل درآمد اگرچہ عالمی طور پر مسلمانوں کے لیے فائد ہ مند ہو، مگر کسی ایک ملک کے نقصان کا سبب ہوتو کون اس کوقبول کرے گا؟ ملکی قوانین اور مفادات سے بالاترہوکر کام کرنا چاہیں تو ریاست سے ٹکر لینا پڑتی ہے۔ ان پرکئی طرح کی پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں اور گاہے ریاست کے باغی بھی قرار دے دیے جاتے ہیں۔ ہزاراختلافات کے باوجود اسامہ کا اصل جرم یہی تھاکہ اس نے عرب ممالک سے امریکی اڈے اٹھانے کی بات کی تھی۔ مآل کار اس کی شہریت ہی منسوخ کر دی گئی۔ پوری مسلم دنیا میں ریاستوں اور ملکوں کا انتظام جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، نرم سے نرم الفاظ میں یہی کہا جاسکتاہے کہ وہ عیسائیوں اور یہودیوں کے سامنے ڈٹ کرکھڑے ہونے کی طاقت نہیں رکھتے۔
فرقہ، فرقہ واریت اور تفریق کے بارے میں جان کاری کے بعد ان کے اسباب کا جاننا بھی ضروری ہے تاکہ بقدر استطاعت ان کا تدارک کیا جا سکے۔ اسلام نے ہمیں اعتصام بحبل اللہ کا حکم دیا۔ حبل کی ایک تفسیرالطاعۃ والجماعۃ سے بھی کی گئی ہے۔ الطاعۃ یعنی خروج اور بغاوت نہ کرنا اور الجماعۃ یعنی جماعت میں رہنا، تفرقہ نہ کرنا۔خلاف اطاعت سے سیاسی تفریق وانتشارنے جنم لیااور خلاف جماعت سے مذہبی فرقہ بندی پیدا ہوئی۔ فرقہ بندی، فرقہ واریت اور تفریق، ان تینوں کے اسباب تقریباً ایک جیسے ہیں جو کہ خلاف اطاعت وجماعت میں اجمالاً مذکور ہیں، مگر ان کے تفصیلی عوامل کو جمع کرنا خاصا دشوار اور محنت طلب کام ہے۔ یہ مختصر تحریر ان تفصیلات کی متحمل بھی نہیں ہوسکتی۔ سرسری تلاش وفکر سے جو باتیں برقِ بیتاب کی طرح ذہن کی فضا میں مچل رہی ہیں، انھی کو بیان کرنے پر اکتفا کرتاہوں۔اکثر تو اسباب یکساں ہی ہیں، مگر کہیں کوئی منفرد ہے تو اس کا ذکر بھی اسی ذیل میں کیا جائے گا۔
۱۔ عقل پر بے حد اعتماد
یہ فرقہ بندی کی ایک اہم وجہ ہے۔ مسلمان کاکام یہ ہے کہ شریعت کے سامنے منقار عقل کو زیر پر رکھے۔ پیش شریعت عقل کا سپر انداز ہوکر رہنا اس کی خوبی ہے، مگر کئی فرقے ایسے ہیں جن کے بانیوں نے عقل پر بے جا اعتماد کیا۔ نصوصِ قرآن وسنت کے سامنے صحابہ واسلاف کی مانند سر تسلیم خم کرنے کی بجائے عقلی گھوڑے دوڑائے اور عقل نارسا نے جس طرف ان کی راہ نمائی کی، جمہور امت کا راستہ چھوڑ کر اسی طرف چل دیے۔ یوں ایک نیا فرقہ وجود میں آگیا۔ گویا قرآن وسنت کے بجائے انہوں نے عقل کو معیار بنایا اور اس کے ذریعے سے صحیح وسقیم کو جانچتے اور حسن وقبح کو پرکھتے رہے۔خود کو عقل کل سمجھنے سے ہی تفریق بھی پیداہوتی ہے۔
۲۔ خودرائی
یہ بھی عقل پر اعتماد ہی کی ایک خاص صورت ہے۔ خودرائی میں گرفتار لوگوں نے باب عقائد میں اسلاف کے فہم دین کو معتبر نہ سمجھا یا اس کا اعتبار کرتے ہوئے مزید تحقیق وجستجو سے کام لیا تو نتیجہ فہم سلف یا ظاہر قرآن وسنت کے خلاف نکلا۔ بجائے اس کے کہ وہ نتائج پر نظر ثانی کرتے، انہوں نے اپنی رائے کو معتبرسمجھ کر اسلاف کی تحقیق ونتیجے کو رد کر دیا۔ یہی خودرائی پھر کسی نئے فرقے کے قیام کا سبب بن گئی۔ اس مرض کا شکار افراد تفریق کا ذریعہ بھی بنتے ہیں، اگر ان کی رائے نہیں مانی جاتی تو اجتماعی یاجماعتی رائے کے سامنے سرجھکانے کے بجائے اپنی مسجد الگ بنا لیتے ہیں۔ خودرائی کا مریض اپنی ہی رائے کودرست اورحق بجانب سمجھتا ہے جس کاتقاضا مخالف رائے کی بے وقعتی اور تردید ہے۔ اب دونوں طرف سے ایک دوسرے کی تردید کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے۔ ان میں سے ایک یقیناًحق پر ہوتاہے، کیونکہ بابِ عقائدمیں حق ایک ہی ہوتاہے۔ ایک اپنی رائے کی ہٹ کرتاہے اور دوسرا احقاق حق کا فریضہ ادا کرتاہے۔ یہ بات بھی فرقہ واریت کا سبب بن جاتی ہے۔
۳۔ علمی غرور
کوئی مسئلہ، کوئی عقیدہ سمجھنے میں کسی سے خطا ہوئی مگر حق واضح ہوجانے کے باوجود علمی غرور کی وجہ سے خطا پر اڑا رہا اور اسی خطا کو برحق ثابت کرنے کے لیے پورا زور صرف کر دیا۔ یہ خطا اس کے پیروکاروں کے لیے عقیدہ بن گئی اور ایک نیا فرقہ سامنے آگیا۔ علمی پندار میں مبتلا افراد اپنے سوا کسی کی بات کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے اور تفریق اور فرقہ واریت کا سبب بنتے ہیں۔
۴۔ حب مال و جاہ
کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے مال وجاہ کی طلب میں عمداً راہِ حق سے انحراف کیا۔ عموماً یہ لوگ امرا کے حاشیہ نشین اور سلاطین کے خوشہ چین ہوتے۔ مال ومنصب کے حصول وبقا کے لیے انہوں نے کبھی ان کی غلط باتوں کو شریعت کی سند بخشی اور کبھی از خود فتوے دیے۔ بعدازاں جادۂ حق سے یہ انحراف کسی فرقے کا پیش خیمہ یا تفریق کا سبب بن گیا۔ محب مال اورجاہ پسند آدمی ہمیشہ فرقہ واریت کی بھٹی دہکانے میں لگا رہتا ہے، کیونکہ یہ آگ جتنی زیادہ بھڑکتی ہے، اس کے مال وجاہ میں اتنا ہی اضافہ ہوتاجاتاہے۔ ایسا آدمی اس بات کوبرادشت نہیں کرتاکہ کسی معاملے میں اس کو پیچھے رکھا جائے۔ جب تک اس کی نمبرایک حیثیت برقرار رہتی ہے، وہ ساتھ چلتارہتاہے اور جہاں کہیں اس میں فر ق آتاہے، وہیں وہ اپنا راستہ الگ کر لیتا ہے۔ محب مال وجاہ ان دونوں کی محبت میں حق کو ٹھکراتا اور باطل کو بڑھاتا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے حق قبول کیایا مخالف کو نہ روکاتو یہ چیزیں مجھ سے چھن جائیں گی۔ پیٹ اور دماغ کی خاطر وہ حق اور اہل حق کی مخالفت شروع کرتاہے اور اس میں آخری حد تک جانے سے بھی گریز نہیں کرتا تاکہ اس کے دائر ۂ اختیار وحکومت سے ان کا بیج تک نکل جائے۔ ضد اور استقامت کاتصادم فرقہ واریت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
۵۔ سوء فہم
کچھ لوگ ایسے تھے جن کے ظرف تنگ اور عقل گینڈے کی کھال جیسی موٹی تھی۔ ان کا فہم تبخیر سے مغلوب اور خیال پر جنون کا اثر تھا۔ فہم کی خرابی کی وجہ سے بڑے خلوص کے ساتھ انہوں نے کبھی غلط کو صحیح سمجھ لیااور کبھی صحیح کو غلط استعمال کیا۔ ان کے فکروفہم میں خرابی کی روش نے کسی نئے فرقے کو جنم دیا۔ انہوں نے ہمیشہ پوست کو مغز سمجھا۔ کبھی تو انہوں نے مرغے کی ایک ٹانگ پکڑ کر ایک نص کی آڑ میں تمام نصوص کو رد کردیا، کبھی ظاہر وباطن کی تفریق پیداکی اور کبھی قید شریعت کو لغو قرار دے دیا۔ یہ کم فہمی عقائد میں ہوئی تو فرقہ پیداہوا اوردیگر معاملات میں ہوئی تو تفریق پیدا ہوئی۔ جن کے فہم میں کمزوری ہو، وہ مخالف کے کلام کا غلط مطلب لے لیتے ہیں۔ اس کی مراد کچھ ہوتی ہے اوریہ الگ مراد تخلیق کر لیتے ہیں۔ ایسے آدمی کو جب مناسب جگہ مل جائے جہاں سے وہ اپنی بات دوسروں کو پہنچا سکتاہے، خواہ تقریر ہو خواہ تحریر تو پھر اس کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ تحریر وتقریرسے یہ دوسروں کے لیے دلوں میں نفرت انڈیلتا اور فرقہ واریت میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ فہم کی یہ خرابی ایک اورپہلو سے بھی اپنا اثر دکھاتی ہے۔ لوگ عموماً ایک کی بات دوسرے کو جا لگاتے ہیں۔ سیا ق وسباق سے کاٹ کر یا غلط مفہوم کا چولا پہنا کر ایک کی بات دوسرے تک پہنچائی جاتی ہے۔ کچھ شریر طبع لوگ شر پھیلانے کے لیے اور بعض خرابی فہم کی بنا پر خطاً ایسا کرتے ہیں۔ طرفہ یہ کہ یہ اپنے مسلکی رؤسا کے مقرب اور ان کے نزدیک ثقہ ہوتے ہیں، اس لیے بلاتامل ان کی بات تسلیم کرلی جاتی ہے، حالانکہ ثقاہت وعلو فہم میں تلازم نہیں۔ کانوں کے کچے زعما تحقیق کیے بغیر ان غلط اطلاعات کو لے اڑتے اور فرقہ واریت کی بھٹی دہکانا شروع کر دیتے ہیں۔
۶۔ متشابہات کی پیروی
قرآ ن وسنت میں اکثر تومحکمات ہیں، مگر کچھ متشابہات بھی ہیں۔ متشابہات سے وہ چیزیں مراد ہیں جن کی مراد عقلِ نارساکی گرفت میں نہیں آسکتی، اس لیے ان پراسی طرح ایمان لانے کاتقاضا کیاگیا ہے جیسی کہ وہ ہیں۔ ان کی مراد کے درپے ہونا زیغ قلب اور فتنہ پروری کے سو اکچھ نہیں۔ بعض فتنہ پسند طبائع نے آخری حد تک ان کی حقیقت پانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں وہ جادۂ حق سے بھٹک گئے اور حقیقت کھوجتے ہوئے خود بھول بھلیاں میں کھوگئے۔
۷۔ تحقیق پسندی
خوگر تحقیق ہونا کوئی عیب کی بات نہیں، مگر نشتر تحقیق سے جب اسلام کا جگر چاک کرکے
خودرائی کی پیوندکاری کی جائے تو تضییع اوقات کے علاوہ افتراق کا عفریت جنم لیتاہے۔ امت کا ایک متوارث فہم دین ہے جو اسلاف سے اس نے نسل در نسل حاصل کیاہے۔ تحقیق پسند طبیعتوں کو یہ بات کھلتی ہے کہ اسے من وعن قبول کر لیا جائے اور بالخصوص کوئی بات ان کے عقلی فریم میں ٹھیک نہ بیٹھ سکے تو بس قیامت ہے۔ اپنے قصور فہم اور نقص تحقیق کا اعتراف کرنے کے بجائے اس کے درپے ہوجاتے ہیں کہ اسلاف سے جو کچھ ہمیں ملاہے، اس میں کیڑے نکالے جائیں۔ ہر کیڑا ایک نیافرقہ ہوتاہے۔ ہمارے اس دور میں تحقیق وجستجو کی یہ ہوا بہت زیادہ چل رہی ہے۔ اسلاف اور ان کے علوم وتحقیق کے لیے متاثر کن اور قابل احترام الفاظ استعمال کرکے بڑے سائنٹفک انداز میں مسلمات امت کو رد کرتے ہوئے نئی ناقص تحقیق مارکیٹ میں لائی جاتی ہے اور غیر محسوس طریقے سے صراط مستقیم سے لوگوں کو بھٹکایا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ ایک الگ فرقہ بن جاتاہے۔
۸۔ سازش
کئی فرقے سازشوں کی کوکھ سے نکلے۔ پہلے یہودی سازشوں نے سراٹھایا، پھر مجوسیت وزردشتیت نے برگ وبار نکالے۔ ازاں بعد نصرانیت بھی ان کے قدم سے قدم ملا کر چلنے لگی۔ تاریخ اسلام میں پہلے تفرقے کی بنیاد ہی سازش پر رکھی گئی تھی۔ قدیم ایرانی سرزمین میں فتنوں کی خوب گرم بازاری رہی۔ ان میں سے کچھ تو ایسے تھے جنہوں نے کھلم کھلا زندقہ والحاد کی راہ اپنائی، کچھ نیمے دروں نیمے بروں کا مصداق رہے۔ بعض اہل حق کے قریب نظر آئے اورکچھ کفر کے قریب جا پہنچے۔ مسلمانوں کی وحدت توڑنے کے لیے ان اقوام نے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے مہرے آگے بڑھائے جنہوں نے بابِ عقائد میں بالخصوص من مانے تصرفات کرکے لوگوں کاراستہ جمہور امت سے کاٹ دیا۔ یہ سازشی عناصر آج تک کام کررہے ہیں۔
فرقہ واریت پیداکرنے کے لیے بھی سازشوں کو کام میں لایاجاتاہے۔ اسلامی تاریخ میں فرقہ بندی وفرقہ واریت ہر دو کے لیے سازشوں کا سراغ ملتاہے۔ ہمارے زمانے میں ہشت پہلو سازشیں نہایت کثرت سے کی جاتی ہیں۔ ان کا تانا بانااس طرح بناجاتاہے کہ اس کا شکارہونے والایہ محسوس ہی نہیں کرسکتاکہ وہ کسی سازش کا شکار ہوا ہے۔اپنی جگہ وہ اپنے عمل کودین کی بڑی خدمت سمجھتا ہے۔ سازشیں فرقہ بندی اور فرقہ واریت کا اہم عنصر ہیں۔ سازشی عناصر نے صرف فرقے ہی کھڑے نہیں کیے، بلکہ امت کو فرقہ واریت اور اس سے بھی زیادہ تفریق میں مبتلا رکھا۔ باطل پسند قوتوں نے اپنے اہم مذموم مقاصد اکثر وبیشتر سازشوں ہی کے ذریعے حاصل کیے۔ پھر فہم وفراست کی کمی، جذباتی پن، تعصب اورایک پہلو کو سامنے رکھ کر باقی پہلوؤ ں سے غفلت کی نفسیات نے سازشوں کو پنپنے کے زیادہ مواقع فراہم کیے۔
عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ کسی سازش کا شکار ہوکر اس الاؤ میں مزید ایندھن ڈالنے والے سادہ لوح کسی سازش کے وجود سے بے خبر ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے صرف یہ پہلوہوتاہے کہ بالمقابل باطل کھڑاہے جسے مٹانا اس وقت ہر فرض سے اہم فرض ہے۔ کبھی سازش کا ادراک کرنے کے باوجود بوجوہ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ کبھی اس کا تانا بانا انتہائی چابک دستی سے بن کر ایسے حالات پیدا کردیے جاتے ہیں کہ ان حالات میں رد عمل کا اظہار کرو، تب بھی اور نہ کرو، تب بھی نقصان ہوتاہے۔ یہی وہ مقام ہوتاہے جہاں تفریق پیداہوتی ہے۔ ایک فریق ردعمل کا مظاہرہ ضروری سمجھتاہے اور دوسرا چاہتاہے کہ مطلق پروا نہ کی جائے۔ایک انہی حالات کو اصل سمجھ کر اس کے مطابق اس پر توجہ دیتاہے اور دوسرا انہیں کسی دوسرے بڑے مسئلے کی فرع گردانتے ہوئے اس کے مطابق کارروائی کرتاہے۔یہاں دوفریقوں کے راستے الگ ہو جاتے ہیں۔ ہر آنے والے نکتے پر ان کا آپس میں فاصلہ بڑھتارہتاہے۔اس خاص مسئلے میں ایک کے اندر سختی ہوتی ہے اوردوسرے کے اندر نرمی۔ایک پرتشدد یا لاقانونیت کا راستہ اختیارکرتاہے، دوسراعدم تشدد یا قانونی چارہ جوئی کا۔
خیر، حالات کے اعتبار سے دیکھا جا سکتا ہے کہ ان حالات میں کون ساموزوں اور بحیثیت مجموعی مفید ہے، البتہ ہمارے یہاں یہ ذہن بن چکاہے کہ اسلام اور اظہار حق کا نام لے کر جو شخص جتنا زیادہ لاقانونیت کا مظاہرہ کرے، غلو اور تشدد کو اختیار کرے، وہ اتنا بڑا مجاہد اور اسلام کا بطل جلیل ہے، چاہے اس کے نتیجے میں اپنی طاقت کو گنوا دیا جائے، لاشوں کے تحفے ملیں، فتنہ وفساد بڑھ جائے، دشمن چوکنا ہو جائے اور بدامنی پھیل جائے۔ اس کے برعکس جو شخص پرامن رہے، قانون کی حد میں رہ کر کام کرے، حد اعتدال سے باہر نہ نکلے، وہ بزدل اور گنہ گار ہے۔ یہ بالکل غلط ہے۔ اس تصور نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے۔ میرے خیال میں فی نفسہ لاقانونیت باعث ثواب ہے نہ قانون کی پاسداری، بلکہ یہ دونوں شریعت کے تابع ہیں اوراس کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً غیرمسلم مسلمانوں کے ملک پر قبضہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے تو اس کے خلاف عسکری جدو جہد کرنا فرض ہے، طاقت کم ہے یا زیادہ۔اگر اس کے ملک پر حملہ کرنا ہے تو پھر طاقت کی فراہمی ضروری ہے۔ اگر وہ قبضہ مکمل کرچکا ہے تودو صورتیں ہیں۔ اگر طاقت ہے تو اس کے آئین وحکومت سے بغاوت جائز ہے۔ اگر طاقت نہیں اوروہ دین اسلام پر عمل کرنے کی اجازت دیتاہے تو وہاں رہنا جائز ہے۔ اگر ایسا بھی نہیں تو ہجرت فرض ہے۔ اگر غیر مسلم ملک میں اس کی اجازت سے مقیم ہیں تو یہ ایک معاہدہ ہے جس کے تحت اس کا قانون توڑنا درست نہیں۔ مسلمان ملک کا قانون غیر اسلامی ہے اور اس میں تبدیلی کا آئینی راستہ موجود ہے تو اس کے مطابق اس کو بدلنے کی کو شش کرنا فرض ہے۔ اگر ایسا کوئی راستہ نہیں تو تبدیلی کی کوشش حصول قوت کے بعد لازم ہے اور عوام کو دین پر عمل کی اجازت ہے تو وہاں رہنا جائز ہے۔ مسلم ملک کا قانون اسلامی ہے تواس کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ ہاں، اگر کوئی شق غیر اسلامی ہو تو اس صورت میں یہ طے کرنا ہوگاکہ قانون شکنی کرنی ہے یا اس کی پاسداری۔ مگر افسوس کہ ایسے مراحل میں ان تما م باتوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بجائے جذبات کو کام میں لایا جاتاہے اور خفتہ جذبات کے اظہارکو احقاق حق کا خوبصورت نام دے دیا جاتا ہے۔
ہندوستان میں تقسیم سے پہلے انگریز حکمران تھے جن کا مشہور زمانہ اصول تھا ’’لڑاؤ اور حکومت کرو۔‘‘اس اصول کو کام میں لاتے ہوئے انہوں نے سیاسی طور پر ہندؤوں، مرہٹوں اور سکھوں کو مسلمانوں سے، پھر مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے سے لڑایا جس کے نتیجے میں ہندو، مرہٹے ، سکھ اور مسلمان چار الگ الگ قوتوں میں تقسیم ہوگئے۔ اس تفریق کا اثر یہ ہواکہ مسلمانوں کو چومکھی لڑائی لڑنی پڑی۔ ہندؤوں سے، مرہٹوں سے،انگریزوں سے اوراپنے مسلمان بھائیوں سے۔ پھر جو مسلمان ان کے بالمقابل تھے، سازشیں کرکے ان کے اندر سے بندے توڑے جیسا کہ سراج الدولہ، ٹیپو سلطان اور بہادر شاہ ظفر کے ساتھ ہوا۔ یہ توسیاسی تفریق تھی جو انگریزوں نے پیداکی۔ خالص مذہبی میدان میں بھی انہوں نے مسلمانوں کو کئی حصوں میں بانٹا۔ سیداحمد شہید اوران کے رفقا تو ۱۷۳۱ء میں شہیدہو گئے، مگران کی تحریک جاری رہی۔ ان لوگوں نے انگریزوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔ عام مسلمانوں سے ان کا رشتہ کاٹنے کے لیے انگریزوں نے بعض علماء سو ء کو ساتھ ملایا اوران کی وساطت سے انہیں وہابی مشہورکرادیا۔اسی طبقے نے آگے چل کرعلماے دیوبند کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی اور ۵۰ سال محنت کرکے امت کو دیوبندی بریلوی فرقوں میں بانٹ دیا۔ اسی دورمیں غیر مقلدین نے برگ وبار نکالے جو کہ انگریزوں کے پشتی بان رہے۔ قادیانیت کا پودا انگریزوں نے کاشت کیا۔
علماء دیوبندکی نمائند ہ تنظیم جمعیت علما ء ہند بھرپور طریقے سے انگریزوں کے خلاف غیر مسلح جدوجہد کر رہی تھی۔ شومئی قسمت کہ جب اتحاد کی سخت ضرورت تھی، اسی وقت یہ قوت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ معلوم نہیں اس کے پس پردہ سازش کارفرما تھی یا حالات کی روشنی میں محض اختلاف رائے تھا جس نے علماء کی قوت تقسیم کرکے دوالگ الگ سمتوں میں لگا دی۔ ایک وقت تھا جب پنجاب میں بالخصوص احراریوں کا طوطی بول رہاتھا، یہاں تک کہ ۱۹۳۵ء میں مسجد شہید گنج کا قضیہ تازہ ہوا۔ اس موقع پر بعض ناعاقبت اندیش یا سازشیوں کے آلہ کار زعمائے ملت آگے آئے اورانہوں نے حالات کی تاروں سے احراریوں کے لیے ایساپھندا تیار کیا کہ اگراحراری اس میں گھستے، تب تو مارے ہی جاتے، نہ گھستے، تب بھی بساط سیاست پر انہیں شہ مات ہوگئی۔
۱۹۷۹ء میں خمینی صاحب کا انقلاب، ایران میں نمودارہوا۔ اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے۔ ،خمینی صاحب سے مذہبی رشتہ رکھنے والوں کے دلوں کا زہر زبانوں سے ٹپکنے لگا۔ یہاں بھی ایسے ہی انقلاب کی تیاریاں ہونے لگیں۔ اسی کی پشت پناہی سے شیعہ سنی نصاب کی علیحدگی عمل میں آئی۔ شیعہ سنی منافرت پہلے سے موجود تھی اور علماء اس پر کام بھی کر رہے تھے، مگر انقلاب کی آمد نے اس منافرت میں شدت پیدا کر د ی۔ اب دوہی راستے تھے۔ ایک یہ کہ کچھ پروا نہ کی جائے اورجو جس کام میں لگا ہے، لگا رہے۔ بظاہر تو یہ رویہ اس فتنے کو بڑھانے والی بات تھی، مگراس کے نتائج اہل سنت کے حق میں دور رس ہوتے۔ دوسرا راستہ یہ تھاکہ اس پر ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی جائے۔ اس کی بھی دو صورتیں تھیں۔ ایک جارحانہ، دوسری مدافعانہ۔ جارحانہ راستہ قانون شکنی کا راستہ تھا اور وہ تمام باتیں اس کے لیے لازم تھیں جو قانون شکنی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ جن حضرات نے اس کا بیڑا اٹھایا، انہوں نے جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ ایک تو یہ کہ وہ خود گرم مزاج تھے اور سیاسی سست روی سے ان کی شناسائی نہیں تھی۔ دوم، حالات بھی ایسے بن رہے تھے جو فوری شدید ردعمل کا تقاضا کرتے تھے۔ تیسرایہ کہ انھی کے علاقوں میں صحابہ کرام کے خلاف دریدہ دہنی عروج پر تھی۔ چنانچہ یہ تحریک شروع ہوئی اوربہت کم وقت میں نہ صرف یہ کہ مقبول ہوئی بلکہ تمام حدیں بھی عبور کر گئی۔ ایسی تحریکیں ہمیشہ ساون کی گھٹا، سیلاب کا ریلااورآندھی کا جھکڑ ہوتی ہیں۔ دھواں دھار برستی اور ختم ہو جاتی ہیں۔ جتنی تیزی سے یہ تحریک ابھری، اتنی ہی تیزی سے سمٹ بھی گئی۔ جذبات کا مد بہت جلد سیاست کے جزر کا شکار ہو گیا۔ کثیر تعداد میں جید علماء کرام اور سرفروش کارکنوں کے شہید لاشے اٹھانے کے بعد اس نے اپنا سلوگن ہی تبدیل کر دیا۔ یہ تحریک گو کہ چند موڑ کاٹ کر وہیں آکر رک گئی جہاں دور اندیش نظریں پہلے ہی اسے دیکھ رہی تھیں، مگر کم از کم دیوبندیوں کی قوت اس سے کئی حصوں میں ضرور تقسیم ہوگئی، کیوں کہ ایک بڑاگروہ کسی صورت اس طرح کے اقدامات کے حق میں نہ تھا۔ ایک ہی جیسے حالات میں دو گروہوں نے ایک دوسرے کے الٹ رائے قائم کی اوریہ اختلاف رائے بالآخر تفریق پر منتج ہوا۔ رہے دشمنان صحابہ تو وہ آج پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔
۲۰۰۷ء میں لال مسجد اورجامعہ حفصہ کے حوالے سے سازش کی گئی اورایسے حالات پیداکردیے گیے کہ اگر علماء اس تحریک کا حصہ بن جاتے، تب بھی نقصان اٹھاتے اورنہ دیتے، تب بھی مطعون ہوتے۔چنانچہ ایساہی ہوا۔ جن علما ء نے یہ تحریک اٹھائی، انہوں نے بھی سیکڑوں بچیوں اور جوانوں کے ساتھ جام شہادت نوش کیا اور جنہوں نے مصالحت اور سدھار کی کوشش کی، وہ بھی مطعون ہوئے اورجن علما نے محتاط ردعمل کا مظاہرہ کیا، وہ بھی مجرم قرار پائے بلکہ وفاق المدارس کے ٹوٹنے یا بٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اس کا جو کچھ نتیجہ ہوتا، وہ ظاہر ہے۔
۹۔ تطرف
فرقہ بندی کی یہ بھی ایک اہم وجہ ہے۔ ایک بات لوگوں کی نظر سے گزرتی ہے، وہ اسے پڑھتے بولتے اور سنتے رہتے ہیں، مگر ان کے لیے اس میں ایسا کوئی سوال نہیں ہوتا جو عقدۂ لاینحل بن جائے۔ مگر اچانک کسی کے دماغ میں شیطان سرنگ بنا لیتاہے۔ شک کے کانٹے اگنے لگتے ہیں۔ ایک چیز جو ہزاروں کے لیے بد یہی تھی، اس کے لیے نظری بن جاتی ہے۔ جو دوسروں کے لیے حقیقت تھی، اس کے لیے مجاز ہوجاتی ہے۔ وہ ایک سوال جو اس کے دماغ میں جنم لیتاہے، اس کے لیے سب کچھ بن جاتا ہے۔ تفویض کا راستہ وہ اختیار نہیں کرتااور جوابات اسے مطمئن نہیں کرتے۔ بالآخر اسے ایک حل سوجھ جاتاہے جو اسے مطمئن کر دیتا ہے۔ وہ زوروشور سے اس کی تشہیر وتبلیغ کرتاہے۔ اگرچہ وہ مزعومہ حل ایک جواب دے کر ہزاروں سوال کھڑے کردے، مگر اسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں رہتا۔ بجائے اس کے کہ وہ اس حل پر نظر ثانی کرے، خود اسی کو اصل قرار دے کر باقی تمام مسائل کو اس کے تابع مہمل بنا دیتا ہے۔ ہر مسئلے اور ہر سوال کو وہ اسی کی عینک لگا کر دیکھتا ہے۔ آہستہ آہستہ ایک نیا عقیدہ، نئی تفسیر وجود میں آنے لگتی ہے جو قرآن وسنت کے مجموعی مزاج سے بہت حد تک علیحدہ ہوتی ہے۔ ایک نیا فرقہ پیداہوجاتاہے جو دراصل اس کے بانی مبانی کے تطرف اور انتہا پسند طبیعت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ اگر انتہا پر ہوتا ہے تواس کے مقابلے میں آنے والے متطرفین دوسری انتہا پر پہنچ کر ایک نیا فرقہ، نئی جماعت اور نئی پارٹی تشکیل دے دیتے ہیں۔
۱۰۔ کم علمی
علم میں کمی بھی سبب بن جاتی ہے نئے فرقے کا، خصوصاً اس وقت جب کم علمی چھپانے کے لیے اس بات کا اظہار کیا جائے کہ وہ بہت زیادہ جانتا ہے۔ جب کم علمی کے ساتھ ساتھ انسان احساس برتری کے مرض کا شکار ہو، اس حالت میں وہ اپنی ہی کہے گااوراپنی ہی سنائے گا۔ چنانچہ تاریخ سے بعض ایسے لوگوں کے بارے میں یہ شہادت ملتی ہے کہ اپنی کم علمی بلکہ لاعلمی کے باوجود انہوں نے کسی مسئلے پر اپنی رائے کو حرف آخر سمجھتے ہوئے اس کااظہار کیااوارانجام کار ایک فرقے کے بانی ہونے کا تمغہ لے کر رخصت ہوئے۔
(جاری)
جامع مسجد نور کی تاسیس کا پس منظر
مفسر قرآنؒ کے بیانات کی روشنی میں
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی
تمہید
۱۹۵۲ء میں جامع مسجد نور المعروف چھپڑ والی مسجد کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس کی ابتدائی تعمیر میں بہت سے لوگوں نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق حصہ لیا۔ ہر طبقہ اور ہر برادری کے لوگ شریک تھے۔ ہم ان سب کے لیے دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت انھیں اپنے شایان شان اجر عطا فرمائے، آمین یا الٰہ العالمین۔ لیکن اس کے ساتھ ہر ذی شعور اور حالات سے باخبر آدمی یہ بھی جانتا ہے کہ جامع مسجد نور کی تاسیس کا مرکزی کردار ولی کامل، مفسر قرآن،محدث کبیر حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی نور اللہ مرقدہ فاضل دیوبند تھے۔ گزشتہ ماہ پاکستان کے دو معروف اخبار وجرائد میں کچھ مضامین ایسے طبع ہوئے جن میں اس بات کی نفی کی گئی۔ ان مضامین کی بہت سی بے سروپا باتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے بنیادی طو رپر صرف دو باتوں کی طرف قارئین کرام کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ ان مضمون نگار حضرات کے مضامین کا خلاصہ یہ تھا کہ:
(۱) مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی ؒ جامع مسجد نور کے بانی نہیں تھے۔
(۲) وہ تو اس جگہ کافی دیر کے بعد تشریف لائے تھے۔
اس موضوع پر گو تاریخی دستاویزات کے حوالے سے تفصیلی کلام بھی کیا جا سکتا ہے، تاہم سردست میں اپنی طرف سے کچھ لکھنے کی بجائے صاحب معاملہ، مفسر قرآنؒ کے بیانات وتحریرات کے چند اقتباسات نقل کر رہا ہوں۔ ان اقتباسات میں کچھ سابقے اور لاحقے بھی ساتھ ہی شامل رہنے دیے ہیں تاکہ ان کے ضمن میں مفسر قرآنؒ کی یاد بھی تازہ ہو جائے۔
احب الصالحین ولست منہم
لعل اللہ یرزقنی صلاحا
جامع مسجد نور کا پس منظر
پاکستان کے معروف صحافی عبد السلام ملک نے ۱۹۷۶ء میں مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی سے ایک طویل انٹرویو لیا تھا جو ہفت روزہ چٹان لاہور میں بعنوان ’’حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ سے عبدالسلام ملک کا انٹرویو‘‘ کے عنوان سے طبع ہوا تھا۔ اس میں جامع مسجد نور کی تاسیس وتعمیر کے بارے میں انھوں نے مفسر قرآنؒ سے کچھ یوں پوچھا:
’’میں نے بات کاٹنے کی گستاخی کرتے ہوئے عرض کیا کہ یہ تفصیل تو بعد میں بھی معلوم ہو جائے گی۔ دراصل میں آپ کی مسجد اور مدرسہ کی تعمیری وسعت دیکھ کر بڑا متاثر ہوا ہوں کہ اس دور پرآشوب میں بھی ایسا ممکن ہے! لہٰذا ازراہ نوازش مسجد او رمدرسہ کی تعمیر کی ابتدا سے بات شروع کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ میرے اس خلجان کے اظہار پر وہ کچھ زیرلب مسکرائے اور فرمایا:
’’مسلک دیوبند سے تعلق رکھنے والے حضرات نے محسوس کیا (اور غالباً یہ ۱۹۵۰ء کی بات ہے) [یہ ملک صاحب کا تجزیہ ہے۔ اصل تاریخ ۱۹۵۲ء ہے۔ فیاض] کہ اس علاقہ میں چونکہ ان کی کوئی مسجد نہیں، لہٰذا اردگرد کی ہم مسلک آبادی کے لیے ایک مسجد اگر تعمیر ہو جائے تو ان کے لیے یاد اللہ اور ادائیگی فرض نماز وجمعہ میں آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے چند صاحب دل اور صاحب ایمان لوگوں نے باہم مل کر اس کا بیڑا اٹھایا۔ سب سے پہلا مسئلہ زمین کے حصول کا تھا۔ شہروں میںآبادی کے سیلاب کے پیش نظر یہ ایک پہلی لیکن بہت بڑی دقت تھی۔ چپہ چپہ زمین استعمال میں آ چکی تھی۔ جس جگہ اب موجودہ مسجد دیکھ رہے ہیں، یہاں گئے وقتوں کا ایک پرانا جوہڑ تھا جس کا متعفن پانی مچھروں او رمکھیوں کی ایک مستقل پرورش گاہ تھا۔ ہم نے اسی کے حصول کے لیے متعلقہ ڈی سی گوجرانوالہ سے رابطہ قائم کیا۔ وہ ایک نیک دل انسان تھے۔ انھوں نے فوراً اجازت دے دی۔ اب اس جوہڑ کی بھرتی کا مسئلہ تھا۔ یقین کریں اسے عام شہر کی سطح زمین تک بھرنے میں ایک لاکھ روپیہ صرف ہوا۔ جب یہ بھر چکا تو محکمہ آباد کاری بھی آن موجود ہوا، چنانچہ اس کی پیمائش کے بعد محکمہ نے جو قیمت مقرر کی، اس کی ادائیگی کا اہتمام بھی اللہ پاک نے ہی کر دیا۔ پھر مسجد کی بتدریج تعمیر شروع ہوئی جو کسی خاص یا قابل ذکر دقت کے بغیر پایہ تکمیل کو پہنچ گئی۔‘‘ (ہفت روزہ چٹان، ۱۲؍ جولائی ۱۹۷۶ء)
جامع مسجد نور کی بنیاد اور اپیل
۱۹۷۵ء میں جامع مسجد نور میں ہزاروں لوگوں کے مجمع سے جمعہ کا خطاب فرماتے ہوئے مفسر قرآنؒ نے فرمایا:
’’تاہم مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اس مسجد کی بنیاد اللہ کے فضل سے میں نے اپنے ہاتھوں سے رکھی۔ میں ان تین چار آدمیوں میں سے ایک ہوں جنھوں نے اللہ کا نام لے کر اس کام کابیڑا اٹھایا۔ اس کے بعد میں نے ہر موقع پر لوگوں سے درخواست کی ہے کہ اس مسجد کی تعمیر میں اپنی حلال اور طیب کمائی لگاؤ، حرام اور سودی مال سے اس خانہ خدا کی تعمیر نہ کرنا۔ کیوں بھائی! میں کہتا رہا ہوں یا نہیں؟ (بالکل کہتے رہے ہیں)۔‘‘ (خطبات سواتی ج ۳ ص ۳۰۸، تحریک جامع مسجد نور ص ۴۷)
جامع مسجد نور میں درس قرآن وحدیث کا آغاز
مفسر قرآن ۱۹۹۳ء میں اپنے قلم سے تحریر فرماتے ہیں:
’’احقر نے ۱۹۵۲ء ماہ جولائی میں جامع مسجد نور میں بعد نماز صبح درس قرآن کریم شروع کیا۔ کچھ عرصہ بعد طریق یہ طے کیا کہ ہفتہ، اتوار، سوموار، منگل، ہفتہ میں چار دن قرآن کریم کا درس اور بدھ، جمعرات دو دن حدیث شریف کا درس شروع کیا۔‘‘ (پیش لفظ ’’دروس الحدیث‘‘ ج ۱ ص ۹)
جامع مسجد نور میں خطابت کا آغاز
مفسر قرآن ۱۹۹۴ء میں تحریر فرماتے ہیں:
’’حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی ؒ حافظ القرآن والحدیث، شیخ التفسیر وشیخ الحدیث۔ مولانا کا نام پہلے طلباء سے سنتے رہتے تھے۔ پہلی دفعہ ۱۹۶۰ء میں اتفاق سے صدر ایوب مرحوم کا زمانہ تھا۔ احقر چونکہ ۱۹۵۲ء سے جامع مسجد نور میں اس کی ابتدا سے خطابت کے فرائض انجام دے رہا تھا اور ساتھ ہی مدرسہ نصرۃ العلوم کے اہتمام کی ذمہ داری بھی احقر ہی کے سپرد تھی، ایسا اتفاق ہوا کہ احقر کے جمعے کی تقریر پر تین مہینے کی زبان بندی کے احکامات جاری ہوئے گوجرانوالہ کی انتظامیہ کی طرف سے۔ احباب کے مشورے کے بعد یہ طے پایا کہ اس دوران احقر اگر یہاں ہی گوجرانوالہ میں رہا تو ممکن ہے کہ تقریر وغیرہ کے سلسلہ میں احباب کے لیے مزید پریشانی کا باعث نہ ہو۔ تو مناسب سمجھا کہ احقر یہ تین مہینے گوجرانوالہ سے باہر ہی کہیں گزار دے۔ پھر یہ خیال ہوا کہ خانپور کٹورہ، ضلع رحیم یار خان بہاول پور چلا جائے، چونکہ شعبان اور رمضان کے دو مہینوں میں مولانا درخواستی کے پاس تفسیر وترجمہ میں شرکت کر لی جائے۔‘‘ (الاکابر، ص ۳۲۶)
مدرسہ نصرۃ العلوم کا بالکل ابتدائی تعارفی پمفلٹ
مفسر قرآن نے مدرسہ کا بالکل ابتدائی تعارف پمفلٹ ۱۹۵۲ء میں تحریر فرمایا جس کا عنوان تھا ’’ہمارا تعلیمی وتبلیغی لائحہ عمل‘‘۔ یہ پمفلٹ سارے شہر بلکہ ملک کے طول وعرض میں تقسیم ہوا تھا۔ اس کے صفحہ ۱۹ پر تحریر فرماتے ہیں:
’’تعلیمی وتبلیغی کوششیں اس وقت جتنی بھی ہو رہی ہیں، وہ وقت کے لحاظ سے بہت محدود ہیں۔ ان تمام خامیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلہ کی بالکل ابتدائی کوشش یہ ہے کہ ہم نے محض اللہ تعالیٰ کے توکل واعتماد پر ایک مدرسہ (مدرسہ نصرۃ العلوم) کی بنیاد شہر گوجرانوالہ محلہ فاروق گنج (گورونانک پورہ) جامع مسجد نور متصل گھنٹہ گھر کے ساتھ رکھی ہے۔ تعلیم وتعلم سے اتصال رکھنے والے حضرات اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کام کافی مشکل ہے۔ اس دشوار کام کو چلانے کے لیے بڑی محنت وسعی کی ضرورت ہے۔ مدرسہ کی عمارت، درس گاہیں، طلباء کی رہائش کے لیے کمروں کا انتظام، کتب خانہ اور دارالمطالعہ اور اساتذہ کا بندوبست، یہ تمام سلسلہ ایک شخص کے بس کا کام نہیں۔ تمام مسلمانوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ ہم ہر اس مسلمان سے توقع رکھتے ہیں جو تعلیم وتبلیغ کی اہمیت اور علم کی نشر واشاعت کی ضرورت سے باخبر ہے کہ اس کار خیر میں حصہ لے کر اجر وثواب حاصل کرے اور آئندہ نسلوں سے دعاے خیر کی توقع رکھے اور اپنی اخروی نجات کا سامان پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا، انسانیت کی فلاح، مسلم قوم کا بقا اسی میں ہے۔‘‘ (مقالات سواتی، ص ۴۳۴)
جامع مسجد نور کے ابتدائی دور کے چند واقعات
(۱) ’’مدرسہ نصرۃ العلوم اور جامع مسجد نور کی تعبیر کے ابتدائی دور ۱۹۵۲ء میں ایک دفعہ احقر لاہور حضرت [امام الاولیاء شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ] کی خدمت میں حاضر ہوا۔ دہلی دروازہ سے شیرانوالہ گیٹ کی طرف جا رہا تھا کہ راستہ میں مرحوم مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی بھی آ گئے۔ میں نے کہا کہ کہاں جا رہے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ حضرت لاہوریؒ کی خدمت میں جانا ہے۔ میں نے کہا، یہ تو بہت اچھا ہوا۔ میں نے حضرت کو گوجرانوالہ جانے کی دعوت دینی ہے۔ آپ بھی تائید کریں گے تو بہت اچھا ہوگا۔ جب حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مدعا عرض کیا تو حضرت نے فرمایا کہ اس وقت نہیں جاؤں گا اور میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ حضرت سے قاضی صاحب مرحوم جب الگ ہوئے تو مجھ سے فرمایا کہ آپ نے کوئی جماعت بنانی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت، دین کی خدمت اور علماء دیوبند کے مسلک کی تائید مطلوب ہے۔ [ان دنوں میں گوجرانوالہ میں ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسی جماعت کے بارے میں سوچ رہے تھے جس میں جدید تعلیم یافتہ اور قدیم تعلیم یافتہ حضرات، دونوں برابر تعداد میں شریک ہوں۔] بہرحال اس وقت حضرت نے گوجرانوالہ آنے سے انکار کر دیا، لیکن کچھ عرصہ بعد حضرت گوجرانوالہ تشریف لائے اور خود بخود مدرسہ نصرۃ العلوم اور جامع مسجد نور تشریف لائے۔ ظہر کی نماز کے بعد درس دیا۔ اس وقت حضرت نے سلوک وتصوف اور اصلاح نفس پر وعظ فرمایا اور اپنی ہستی کو مٹانے کے لیے یہ مصرعہ بار بار دہرا رہے تھے:
ساقی مجھے خاکِ بے جان کر دے
پھر جامع مسجد نور کے محراب والے حصے میں بڑی دیر تک دعا فرماتے رہے۔ انھی دنوں کی بات ہے جب کہ حضرت بقید حیات تھے، ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت لاہوریؒ جامع مسجد نور میں تشریف لائے اور مسجد کے شمالی حصہ میں مدرسہ کے باورچی خانہ کے مقام پر [ابھی تک باورچی خانہ کی عمارت نہ بنی تھی] نیچے ریت بچھی ہوئی ہے۔ آپ کے ہاتھ میں عصا مبارک ہے اور کھدر کا لباس زیب تن ہے۔ میں نے لکڑی کے بنے ہوئے کھڑاؤں آپ کے پاؤں مبارک کے نیچے رکھ دیے۔ آپ نے انھیں پہن لیا اور باورچی خانہ کے حصہ میں پہنچ کر پھر واپس تشریف لے گئے۔‘‘ (الاکابر، ص ۲۷۹)
(۲) ’’نصرۃ العلوم کا ابتدائی دور تھا۔ میں نے دو دفعہ خواب میں حضرت حاجی امداد اللہ (مہاجر مکیؒ ) کو دیکھا۔ ایک دفعہ اس طرح کہ آپ گھوڑے پر سوار ہیں اور آپ کے ہاتھ میں نیزا پکڑا ہوا ہے۔ سر مبارک پر پگڑی باندھی ہوئی ہے۔ گلے پر، سر پر لمبے لمبے بال ہیں جو تقریباً کان سے نیچے اتر رہے ہیں اور سر کے بال بھی سفید ہیں، لیکن آپ کی داڑھی مبارک بالکل نہیں۔ آپ کوسج (کھودے) معلوم ہوتے ہیں۔ (واللہ اعلم)‘‘
(۳) ’’دوسری دفعہ حضرت حاجی امداد اللہؒ کو اس طرح خواب میں دیکھا کہ آپ اسی طرح کمیت گھوڑے پر سوار ہیں اور ہاتھ میں نیزا پکڑا ہوا ہے۔ سر مبارک پر دھاری دار لنگی، کلے پر باندھی ہوئی ہے۔ سر کے بال اسی طرح لمبے لمبے ہیں، البتہ داڑھی مبارک چار انگل سے زیادہ ہے، لیکن داڑھی مہندی سے رنگی ہوئی ہے۔ (واللہ اعلم)‘‘ (ماہنامہ نصرۃ العلوم کی خصوصی اشاعت بیاد مفسر قرآن، ص ۱۷۹)
شیخ الاسلام حضرت مدنی ؒ کے نام خط
اپنے استاد، پیر ومرشد شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے نام اپنے ایک دستی بھیجے گئے خط میں مدرسہ کی تاسیس کی تاریخ بیان فرماتے ہیں:
’’بخدمت اقدس سیدی ومرشدی حضرت (مولانا سید حسین احمد) مدنی
اطال اللہ حیاتکم وافاض علینا من برکاتکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت والا، امید ہے کہ بخیر وعافیت ہوں گے۔ چند گزارشات عرض کرنے کی گستاخی کر رہا ہوں۔ اگرچہ آپ کے قیمتی وقت کا خیال کرتے ہوئے یہ مناسب نہ تھا، لیکن مجبوری۔ عرض ہے کہ حضور والا نے بوقت بیعت تسبیحات ستہ اور پاس انفاس کی تلقین فرمائی تھی۔ تسبیحات ستہ تو اکثر ادا کرتا رہتا ہوں، لیکن پاس انفاس کا سلسلہ پابندی سے نہیں جاری رکھ سکا۔ دیگر عرض ہے کہ دماغ میں اکثر خیالات فاسدہ کا ہجوم رہتا ہے، ان کے رفع کرنے کے لیے کچھ ارشاد فرمائیں۔ طبیعت کی بے چینی اور پریشانی اور کچھ قرض ہو گیا ہے، اس سے نجات پانے کے لیے دعا فرمائیں۔
نیز گزارش ہے کہ یہاں گوجرانوالہ میں عرصہ پانچ سال سے [۱۳۷۲ھ بمطابق ۱۹۵۲ء۔ فیاض] ہم لوگوں نے ایک مدرسہ بنام ’’مدرسہ نصرۃ العلوم‘‘ جاری کیا ہے جس میں حضرت مولانا قاضی شمس الدین صاحب اور مولانا سرفراز خان صاحب اور تین اور مدرس تعلیم دیتے ہیں اور ۴۰ کے قریب بیرونی طلباء ہیں اور سوا سو کے قریب مقامی بچے جو ناظرہ قرآن کریم اور حفظ وتجوید قرآن کریم میں مصروف ہیں جن کے لیے ایک حافظ وقاری اور ایک ناظرہ پڑھانے والے ہیں۔ ۸ طالب علم اس وقت دورۂ حدیث شریف پڑھ رہے ہیں۔
حضرت والا سے عرض ہے کہ مدرسہ کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا فرمائیں۔ میر غلام حسین صاحب حالات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ امید ہے کہ اس گستاخی پر معاف فرمائیں گے۔
والسلام
یوم عاشوراء، ۱۰ محرم الحرام ۱۳۷۶ھ
احقر عبد الحمید سواتی ہزاروی
خادم مدرسہ نصرۃ العلوم وخطیب مسجد نور
متصل گھنٹہ گھر شہر، گوجرانوالہ (مغربی پاکستان)‘‘
اس خط کا جواب حضرت مدنی نے دیا تھا۔ ان کے خط کا اصل عکس ماہنامہ نصرۃ العلوم کی خصوصی اشاعت ’’مفسر قرآن نمبر‘‘ کے صفحہ ۸۴۴ پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اللہم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ۔ آمین
مکاتیب
ادارہ
(۱)
جناب برادرم مولانا محمد عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے۔
ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کا ایک شمارہ ایک ساتھی کے پاس سے لے کر دیکھا۔ اس میں ایک ساتھی کے نام مکتوب میں آپ نے اپنا نظریہ بیان کیا۔ خلاصہ یہ معلوم ہوا کہ ابھی تک اثنا عشریہ شیعہ کے کفر پر اجماع امت نہیں ہوا، اس سلسلے میں تحقیق جاری ہے۔ بندہ نے مناسب سمجھا کہ اس تحقیقی عدالت میں وہ دلائل بھی پیش کر دوں جو گزشتہ صدی میں حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحبؒ نے ایک تحقیقی دستاویز تیار کر کے حضر ت مولانا ایوب جان بنوریؒ کی خدمت میں بجھوائی تھی۔
حضرت مولانا محمد ایوب جان بنوریؒ نے حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحبؒ کی خدمت میں ستمبر ۱۹۹۴ء میں ایک مکتوب بھیجا کہ اثنا عشریہ شیعہ کے کفریہ اور گمراہ کن عقائد کی دستاویز تیار کر کے بھیجیں تاکہ بڑے پڑھے لکھے طبقہ کو ان کے عقائد سے خبردار کر کے عوام اہل سنت کو اس فتنہ کی لپیٹ میں آنے سے بچایا جا سکے۔ ممکن ہے، وہ دستاویز آپ کی نظر سے نہ گزری ہو، اس لیے اس کی ایک کاپی ارسال خدمت ہے۔ امید ہے کہ آپ بغور مطالعہ کے بعد اپنی رائے سے مطلع فرمائیں گے۔
(مولانا) عبد الوحید حنفی
مدنی جامع مسجد۔ چکوال
(۲)
مکرمی مولانا عبد الوحید حنفی صاحب زید مجدکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
آنجناب کا عنایت نامہ اورمرسلہ کتب موصول ہوئیں۔ بے حد شکریہ!
اہل تشیع کے بارے میں میرے موقف کی آپ نے جو تعبیر کی ہے، وہ درست نہیں۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ چونکہ ابھی ان کے عقائد کی تحقیق ہو رہی ہے اور ابھی اجماع نہیں ہوا، اس لیے ان کی تکفیر نہیں کرنی چاہیے۔ اہل تشیع کے مخصوص عقائد ہمیشہ سے معلوم ومعروف ہیں۔ اس کے باوجود ان کی تکفیر پر نہ کبھی اجماع ہوا ہے، نہ ایسا کوئی اجماع ممکن ہے اور نہ یہ تکفیر فقہ وشریعت کے اصولوں اور امت مسلمہ کے اجتماعی مصالح کے لحاظ سے کوئی مطلوب یا مناسب رویہ ہے۔ ہاں، ان کے مخصوص نظریات کی شناعت اور قباحت کو ضرور واضح کرتے رہنا چاہیے اور صحیح العقیدہ عوام الناس کو ان کے اعتقادی شر سے محفوظ رکھنے کے لیے جن معاملات میں باہمی اختلاط سے روکنا ممکن اور قرین مصلحت ہو، وہاں اس کی تلقین بھی کرنی چاہیے۔ البتہ بحیثیت مجموعی وہ ہمیشہ امت مسلمہ کا حصہ سمجھے جاتے رہے ہیں اور سمجھے جاتے رہیں گے۔ نسبت اسلام کا احترام اور امت کے عملی مصالح، دونوں کا تقاضا یہ ہے کہ اس تفریق کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ جو حضرات آنکھیں بند کر کے ایک مخصوص ذہنی رَو میں انھیں امت سے کاٹ دینے کا تصور رکھتے ہیں، وہ فساد اور انتشار پھیلانے اور امت کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے سوا کوئی خدمت انجام نہیں دے رہے۔
آپ نے حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب علیہ الرحمۃ کا مرتب کردہ جو رسالہ ازراہ عنایت بھیجا ، وہ میں نے دیکھ لیا ہے اور اس سے پہلے بھی اس موضوع پر ان کی بعض تحریریں نظر سے گزر چکی ہیں۔ اہل تشیع کے حوالے سے یہی موقف ہمارے بزرگ، شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا بھی تھا، تاہم میرے علم کی حد تک یہ دونوں بزرگ اہل تشیع کی تکفیر کی بات اصولی اورنظری طور پر اور عوام کو ان کے فتنے سے محفوظ رکھنے کی حد تک کرنے پر عمل پیرا تھے۔ اس کی بنیاد پر کوئی تکفیری مہم چلانے یا اہل تشیع کو قادیانیوں کی طرح ہر سطح پر امت مسلمہ سے الگ کر دینے کے موقف یا تحریک کی، میرے علم کی حد تک، انھوں نے تائید نہیں کی۔ میں ذاتی طور پر اس مسئلے میں امام ابن تیمیہؒ وغیرہ کی رائے کو درست سمجھتا ہوں جو نظری واصولی تکفیر کے بھی قائل نہیں۔ تاہم جو حضرات نظری تکفیر کے قائل ہیں، ان کے لیے متوازن اور بہتر اسوہ وہی ہے جو اس معاملے میں حضرت قاضی صاحبؒ اور حضرت شیخ الحدیثؒ نے اختیار فرمایا۔
ہذا ما عندی والعلم عند اللہ۔
محمد عمار خان ناصر
۲۴؍ جنوری ۲۰۱۲ء
(۳)
محترم ومکرم جناب مختار احمد فاروقی صاحب
السلام و علیکم و رحمۃاللہ
امید ہے خیریت سے ہوں گے۔
آپ نے اپنے خط بنام مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ میں کچھ ایسی باتیں کی ہیں جو میری اس تحریر کی محرک بنی ہیں۔ امید ہے، آپ میری معروضات پر سنجیدگی سے غور فرمائیں گے۔
۱۔ ہر عام و خاص کو بخوبی علم ہے کہ ’الشریعہ‘ ایک ایسا فورم ہے جہاں ہر شخص کھلے دل کے ساتھ اپنے علم و استعداد کے مطابق مہذب انداز اختیار کرتے ہوئے اپنا موقف پیش کرسکتا ہے۔ جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ اس مجلہ میں خاص طور پر آپ کی جماعت یعنی سپاہ صحابہ کی ہر بات کو رد کیا جاتا ہے تو یہ بات درست نہیں۔ اس فورم پر ہر اس ایشو پر گفتگو ہوتی ہے جس کے متعلق ہمارے معاشرے میں کوئی اشکال پایا جاتا ہو۔ جہاں تک آپ کی جماعت سپاہ صحابہ کا تعلق ہے تو اس کی پالیسی ا ور طرز عمل بھی کافی نزاعی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الشریعہ کے صفحات میں آپ کی جماعت اکثر موضوع سخن رہی ہے۔
۲۔ آپ کی جماعت کی اکثریت سطحی فکر و عمل کے افرد پر مشتمل ہے۔ اس بات کا اندازہ آپ کے خط سے بھی ہوا کہ فتویٰ امام ابن تیمیہ نے دیا اور آنجناب کی گرفت میں بے چارے عمار خان ناصرآگئے۔ یہ سوال تو ابن تیمیہ سے ہونا چاہیے تھا کہ آیا رافضی صرف بدعتی ہیں یا تحریف قرآن اور صحابہ کرام و امہات المومنین کی شان میں تبرا جیسے جرم کے ارتکاب کی وجہ سے کافر بھی ہیں! امام ابن تیمیہ شیعوں کے تمام عقائد سے بخوبی آگاہ تھے اور اسی بنا پر انہوں نے مختلف مواقع پر اس قسم کے فتوے بھی دیے۔ اگر آپ احقر اور مولانا عمار خان ناصر صاحب مد ظلہ کی گفتگو جو دسمبر اور جنوری میں شائع ہوئی، منصفانہ مزاج اختیار کرتے ہوئے تسلی سے پڑھیں تو آپ کے لیے بات سمجھنا آسان ہوگا ۔
۳۔ کچھ لوگوں کاخیال ہے کہ آپ حضرات کاصرف طریقہ درست نہیں اور شیعیت کے خلاف آپ کا جو موقف ہے، وہ درست ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے طرز عمل کے ساتھ ساتھ آپ کا موقف بھی درست نہیں۔ یقیناًآپ جواباً فتووں کی بات کریں گے کہ کافی مفتیان کرام کے ان کے خلاف فتوے موجود ہیں ۔یہ بات درست ہے کہ علماء نے اپنے فرض منصبی کو بجا لاتے ہوئے ہر دور میں باطل فرقوں کا مقابلہ مختلف زاویوں سے اس کے نتائج کو سامنے رکھ کر کیا۔ شیعیت پر جو کفر کے فتوے ہیں، وہ بھی شیعیت کو روکنے کا ایک زاویہ ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ وہ موثر رہا یا نہیں؟ اور ہر دور میں اختلاف بھی رہا۔ کچھ تکفیر کے قائل تھے تو کچھ عدم تکفیر کے، لیکن کسی بھی موقع پر شیعیت کو روکنے کے لیے نہ تو ان کو اجتماعی معاملات سے الگ رکھا گیا اور نہ ہی کوئی منظم صورت اختیار کر کے ایک تحریکی انداز میں ان کے خلاف صف آرائی کی گئی۔
آپ سے بہتر کون جانتا ہوگا کہ حضرت حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے بھی شیعہ اثنا عشری کے خلاف فتوے جمع کیے، لیکن انہوں نہ تو ان فتووں کی بنیاد پر کوئی تنظیم بنائی اور نہ ہی ان فتووں کو گلی بازاروں میں لہرا کر ایک عام آدمی کو فتوے کی زبان فراہم کی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ عام آدمی کو فتوے کی حیثیت اور صورت کا اندازہ نہیں اور اس کو کیا خبر کہ تحدیدی فتویٰ کس کو کہتے ہیں اور قانونی اور اجتماعی اعتبار سے فتویٰ کی کیا حیثیت ہے۔ ہمارے دور میں بھی خمینی انقلاب کے بعد ایک تکفیری مہم شروع ہوئی۔ علما نے اس کا راستہ روکنے کے لیے اسی صورت کا انتخاب کیا اور ایک حد تک کامیاب بھی ہوئے، لیکن آپ حضرات نے ان فتووں کو بنیاد بنا کر ایک جماعتی صورت اختیار کر لی۔ ہرذی علم جانتا ہے کہ آپ کی جماعت کی بنیاد میں کسی بھی مفتی یا اکابر کی تائید شامل نہیں جس نے فتویٰ دیاہو اور نہ بعد میں آپ کو کسی مفتی نے اس بات کی اجازت دی کہ یہ ہمارے فتوے ہیں، آپ ان کو گلی بازاروں اور چوک چوراہوں میں پیش کریں اور نہ ہی کسی مفتی نے یہ کہا کہ آپ میدان میں اتریں اور نعرہ لگائیں ’’کافر کافر‘‘، میں آپ کے ساتھ ہوں۔ یہ حقائق اس بات پر دال ہیں کہ علما نے جو فتوے دیے، ان کا دائرہ اور حیثیت کچھ اور تھی۔
۴۔ جہاں تک عظمت صحابہ کے دفاع اور شان صحابہؓ بیان کرنے کا تعلق ہے، یقیناًیہ ایک مبارک عمل ہے اورفرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم: فمن احبہم فبحبی احبہم ومن ابغضہم فببغضی ابغضہم کے عین مطابق ہے، لیکن جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے محبت کا درس دیا، وہیں ان کی اہانت و گستاخی کرنے والے کے لیے وعید بھی سنائی اور امت کو اس کے ساتھ برتاؤ کا طریقہ بھی سمجھایا۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اذا رایتم الذین یسبون اصحابی فقولوا لعنۃ اللہ علیٰ شرکم‘‘ یعنی جب دیکھو ان لوگوں کو جو براکہتے ہوں ہمارے اصحاب کو تو کہو کہ اللہ کی لعنت ہے تمہارے شر پر۔ (ازنقل روایت مع ترجمہ فتویٰ عزیز ی کامل، ص۳۵۶)
اس فرمان سے بالکل واضح ہے کہ صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کا مرتکب لعنت کا مستحق ہے اور یہ گناہ کبیرہ ہے تو کیوں نہ آپ کا موقف بھی عین فرمودات حضرت محمد کا پرتو ہوتا! پر ایسا نہ ہوا، حداعتدال سے تجاوز کیا گیاجس کے یقیناًاثرات مثبت سامنے نہیں آنے تھے۔ مزید یہ کہ فقہاء کرام اور جمہورعلماء کا بھی مفتیٰ بہ قول یہی ہی کہ سبِّ صحابہ کفر نہیں، فسق ہے۔میں حضرت مفتی عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ کا صرف ایک حوالہ پیش کرنا چاہوں گا۔ وہ فرماتے ہیں کہ بعض روافض کی بعض باتیں بدعت ہیں، کفر نہیں ہیں جیسے ان کا یہ کہنا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ حضرات شیخینؓ سے افضل ہیں اور بعض حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مخالف (جیسے حضرت عائشہ صدیقہؓ اور حضرت امیر معاویہؓ )پر لعنت کو واجب لکھتے ہیں تو یہ اور ان کے مشابہ تمام امور بدعت ہیں، کفر نہیں کیونکہ یہ تاویل کے بعد کیے جاتے ہیں۔ بحرالعلوم مولانا عبدالعلی ؒ شرح مسلم الثبوت میں لکھتے ہیں:
الصحیح عند الحنفیہ ان الروافض لیسوا بکفار والوجہ فیہ ان تدینہم او دفعہم فی ما دفعوا زعما منہم انہم علی الدین المحمدی وان کا ن زعمہم ہٰذا باطلاً وما کذبوا محمدا صلی اللہ علیہ وسلم فہم غیر ملتزمین للکفر والتزام الکفر کفر دون لزومہ۔
یعنی حنفیہ ؒ کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ روافض کافر نہیں ہیں، کیونکہ وہ جو دین رکھتے ہیں اور جو کچھ کرتے ہیں، یہ سمجھ کر کرتے ہیں کہ یہی دین محمدی ہے۔ اگر چہ ان کا یہ خیال غلط ہو، لیکن وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (اپنے نزدیک) نہیں جھٹلاتے، پس کفرکو اپنے سر نہیں لیتے اور کفر کو لازم لے لینا کفر ہے نہ کہ اس کا لازم آنا۔ ( مجموعۃ الفتاویٰ، جلددوئم ص ۲۳۵، کتاب الحظر والاباحۃ)
اس طرح کے اقوال اس موضوع پر اور بھی کافی علما کے موجود ہیں اور ایسے اقوال و آرا کی موجودگی میں آپ حضرات کو کس نے اتنی شدت پسندی اختیار کرنے پر مجبور کیا کہ معاملہ قتل و قتال پر منتج ہوا اور ابھی تک جاری ہے ۔ جب شریعت میں دونوں چیزیں یعنی حب صحابہ اور گستاخی صحابہ نتائج اور انجام کے اعتبار سے بالکل واضح ہیں تو کیوں نہ اس معاملے میں جذبات کے تقاضوں کے بجائے شریعت کے تقاضوں پر عمل کیا گیا!
آخر میں میری آپ سے درخواست ہے کہ ابھی بھی وقت ہے اور تمام دینی جماعتیں بھی آپ سے یہی تقاضا کرتی چلی آرہی ہیں کہ براہ کرم اپنے فکر و عمل کی تبدیلی پر غور کریں اور حقیقت پسندی سے ماضی کی پالیسیوں کا بھی تجزیہ کریں۔ یہ بات واضح ہے کہ اس راستے میں آپ کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک درجن سے زائد قائدین کی شہادت کے علاوہ بے شمار افراد اس کشمکش میں داعی اجل کو لبیک کہہ چکے ہیں۔ یقیناًان کے اخلاص کے بارے میں حسن ظن رکھنا چاہیے اور بغیر کسی شبہ کے وہ قابل تحسین ہیں، لیکن کیا اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی گستاخی صحابہ میں کمی آئی ہے یا اس میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا آرہا ہے؟ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ آپ کے گڑھ جھنگ میں حضرت عثمانؓ کی شان میں بے ادبی جیسا دلخراش واقعہ بھی رونما ہوا۔
ایک طرف آپ ہیں جو حب صحابہ کا دعویٰ کیے اس راستے میں جانیں قربان کرتے چلے آرہے ہیں تو دوسری طرف شیعہ ہیں جو حب آل رسول کے دعوے میں اپنی جانیں قربان کیے چلے آرہے ہیں۔ یہ کب تک چلے گا ؟ براہ کرم آپ گستاخی صحابہ جیسی مذموم حرکت کو روکنے میں سنجیدگی کا راستہ اختیار کریں اور یہ کفریہ نعروں کو ترک کریں اور شیعوں کو قانونی اور اجتماعی معاملات میں امت کا حصہ سمجھیں۔ انفرادی معاملات میں آپ کو کلی اختیار ہے کہ آپ اس کے برعکس معاملہ رکھیں۔ یقیناًاس طرح کے اقدامات ایک دوسرے کو قریب لانے میں مدد گار ثابت ہوں گے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ شیعوں میں کچھ سنجیدہ طبقہ ہے جو سب و شتم کو صحیح نہیں سمجھتااور اس حوالے سے ماضی میں آپ کی اور ان کی باہمی کی کوششوں کی مثالیں بھی ملی یکجہتی کونسل، متحدہ علماء بورڈ وغیرہ کی صورت میں موجود ہیں۔ ایسے فورمز کو دوبارہ فعال کرنے کا مطالبہ بھی شیعوں کی طرف سے ہوتا رہتا ہے۔ ایسے ہی انداز کو اختیار کرتے ہوئے کوئی ایسی حکمت عملی ترتیب دیں جو اہانت اصحاب رسول کو مستقل طور پر روکنے میں کار گر ثابت ہو اور ہم سب من حیث القوم اصحاب رسول کی بے ادبی جیسے واقعات کو روکنے میں یک آواز ہوں۔
مجھے حیرت ہوتی ہے جب کوئی آپ سے اس طرح کا مطالبہ کرتا ہے تو آپ یہ کہتے ہیں کہ اس طرح کرنے سے ہمارے قائدین جنہوں نے شہادتوں کا نذرانہ اس راہ میں پیش کیا، وہ غلط قرار پائیں گے۔ یقیناًان حضرات کے اخلاص میں کسی کو شک نہیں، پر ایک تجربہ ہمارے سامنے موجود ہے کہ اس فکر و عمل سے امت کو فائدہ نہیں ہو رہا اور وہ انسان تھے، معصوم نہیں تھے جن سے غلطی کا صادر ہونا محال ہو۔ حسن ظن اختیار کرتے ہوئے ان کی اس خطا کو اجتہادی خطا بھی قرار دیا جا سکتا ہے جو یقیناًان کے شرف میں عدم خلل کا باعث ہو گا۔امید ہے، غور فرمائیں گے۔
اک طرز تغافل ہے سو وہ تم کو مبارک
اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
حافظ محمد فرقان انصاری
ٹنڈو آدم
(۴)
بخدمت گرامی قدر مولانا زاہد الراشدی صاحب
خیریت موجود، عافیت مطلوب۔
جنوری کا شمارہ ملا اور ایک ہی نشست میں پڑھنے کی من جانب اللہ توفیق مل گئی۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔
محترم مولانا زاہد حسین رشیدی کے مضمون کی توضیح آنجناب کے قلم سے پسند آئی، تاہم مزید تسلی درکار ہے۔ آپ نے فرمایا ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں رائے، اجتہاد اور فتویٰ کو خلط ملط کر دیا گیا ہے، جبکہ تینوں کے دائرۂ کار الگ الگ ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس عنوان کو ذرا وسعت دے دی جائے، کیونکہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ پوری قوم کو بغیر کسی معیار کے ’’اصحاب الرائے‘‘ کا درجہ دینا چاہتے ہیں۔
جب ہر شخص مجتہد اور مفتی نہیں بن سکتا تو پھر ہر شخص صاحب الرائے کیسے بن سکتا ہے؟ راقم کا خیال ہے کہ ’’اظہار‘‘ اور ’’رائے‘‘ کے لطیف فرق کو بھی واضح کر دینا چاہیے۔ اظہار مافی الضمیر کا حق تو سب کو ہے، مگر رائے دینے کے لیے حدود وقیود ضروری نہیں۔ یہاں تو کہنے والے کو خود پتہ نہیں ہوتا کہ میں رائے دے رہا ہوں، فتویٰ دے رہا ہوں یا اپنا اجتہاد پیش کر رہا ہوں۔ قرآن وسنت کے قطعی اور اعتقادی مسائل میں کسی کی رائے کی رائی کے برابر بھی کوئی وقعت نہیں ہے، البتہ وہ فروعی مسائل اجتہادیہ جن میں کتب وسنت کی نصوص ساکت یا مبہم ہیں، ان کے متعلق رائے ضرور ہونی چاہیے، مگر رائے کا انداز ایسا نہ ہو کہ کسی فرد یا طبقے کی دل شکنی ہو۔ معذرت کے ساتھ جسارت کروں گا کہ ’’الشریعہ‘‘ میں بعض حضرات رائے کی آڑ میں نفرتوں کے بیج بو رہے ہیں۔ معاشرے کی کسی بھی خامی اور کوتاہی کو وہ اہل مذہب کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں اور پھر ’’مولویت‘‘ کی پگڑیوں کے بل کھول کھول کر اپنا ستر ڈھانپنے کی لاحاصل مشق شروع کر دیتے ہیں۔ اس لیے ازراہ کرم بدگمانی اور بد زبانی کو بھی رائے کا نام نہ دیا جائے۔
راقم کے نزدیک عصر حاضر کا ایک بڑا المیہ ’’مفتی ازم‘‘ ہے۔ فی زمانہ ہر عنوان پر کام کرنے والے فتوے کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ تحقیقی یا دعوتی مزاج اپنا بوریا بستر گول کر گیا ہے۔ راقم نے حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کی ’’تحفہ اثنا عشریہ‘‘ بالاستیعاب اور ایک سے زائد مرتبہ پڑھی، مگر صفحہ اول سے لے کر صفحہ آخر تک کہیں فتوے کی زبان نہیں ہے۔ اردو لٹریچر میں علماء اہل سنت کی بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں۔ قائد اہل سنت مولانا قاضی مظہر حسینؒ نے ساری زندگی رد پر کام کیا ہے، مگر راقم کا دعویٰ ہے کہ کہیں بھی ان کا تقویٰ، فتوے کی زد میں نہیں آیا۔ مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے معتدل اور متوازن مزاج کو آنجناب سے بڑھ کر بھلا کون جانتا ہوگا؟ اس لیے مخدوم من! آپ ’’فتوے‘‘ کا تو ذکر ہی چھوڑ دیں، ’’اجتہاد‘‘، ’’اظہار‘‘ اور ’’رائے‘‘ کو ذرا کھول کر پیش فرما دیں کہ اظہاریہ میں اسلوب کیا ہونا چاہیے؟ رائے دینے یا کسی کی رائے سننے کے لیے ضابطہ اخلاق کیا ہے؟ اور مجتہد کے اوصاف یا اجتہاد کی شرائط کیا ہیں؟ اسی طرح رائے دے کر جو فارغ ہو جائے، وہ تو صاحب رائے ہوگا، لیکن جو رائے کو مسلط کرنے کی کوشش کرے، اسے کون سا نام دیا جائے گا؟ براہ کرم اس پر سیر حاصل بحث ہو جائے تو بھلا ہوگا۔
جامع مسجد نور کے تاریخی پس منظر پر لکھے گئے مضمون نے بہت متاثر کیا۔ حیات سدید کے ’’ناسدید‘‘ پہلو بھی قیمتی سودا ہے۔ حافظ صفوان صاحب کا مکتوب پڑھ کر بڑا متحیر ہوا کہ کیڑوں کی خوراک بننے والا انسان بھی تعلی وکبر کا اتنا مریض ہو سکتا ہے؟ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حافظ عبد الجبار سلفی
ملتان روڈ، لاہور
مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقیؒ
مولانا جمیل الرحمٰن فاروقی
علم وعمل کے پیکر، خلوص ووفا کے مجسم، محقق ومحدث، مصنف وادیب، داعی ومبلغ، دینی اور عصری علوم کے شناور مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی کا ندھلویؒ ۳۰ دسمبر ۲۰۰۱ء بروز جمعہ اپنے متعلقین کو حیرت زدہ چھوڑ کردار فانی سے دارالبقا کی طرف کوچ کرگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جانا تو سب کو ہے،اس سفر پر مسافر روز جاتے ہیں مگر ڈاکٹر صاحب اتنا اچانک چلے گئے کہ یقین نہیں آرہا۔
ڈاکٹر صاحب کو بظاہر کوئی بیماری اور عارضہ لاحق نہ تھا۔ ۶۹ سال کی عمر میں بھی تندرست وتوانا اور قابل رشک صحت تھی۔ اس روز سج دھج کر جمعۃ المبارک کی ادائیگی کے لیے پا بہ رکاب تھے۔ ان کے چھوٹے بیٹے کی شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ مکان کی دوسری منزل کی تعمیر کا کام حال ہی میں مکمل ہوا تھا۔ گھر والوں سے کہا کہ ’’جمعۃ المبارک کے بعد سب مل کر نئے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کرلینا۔ میں درس قرآن سے اس کا افتتاح کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ یہ جملے حضرت کی زبان پر تھے کہ وقت موعود آپہنچا۔ ۵ دسمبر ۱۹۴۳ء سے ۳۰دسمبر ۲۰۱۱ء تک کا سفر پورا ہوااور حرکت قلب بند ہوگئی۔ پاکیزہ روح عالم بالا کو پرواز کرگئی اور ان کا معطر جسد خاکی آخرت کی پہلی منزل میں جاسکون پذیر ہوا۔
مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی مرحوم ’’صدیقی‘‘ نسبتوں کے امین اور خاندان کاندھلہ کے روشن ستارے تھے جن کی علمی، تحقیقی اور تبلیغی خدمات کا زمانہ معترف ہے۔ ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی، مفتی اشفاق الرحمن کاندھلویؒ کے صاحبزادے اور ’’سیرت المصطفیٰ‘‘ کے مصنف مولانا ادریس کاندھلویؒ کے بھانجے تھے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم کے تین بھائی مولانا حبیب الرحمن صدیقی کاندھلوی، مولانا حامد الرحمن صدیقی کاندھلوی اور مولانا عبدالرحمن صدیقی کاندھلوی بھی جید عالم اور محقق ومدرس تھے۔ اس عظیم خاندان کے متعلق بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ: ایں خانہ ہمہ آفتاب است۔
مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی کی تعلیمی، تدریسی، تصنیفی اور عملی زندگی کا جائزہ پیش کیا جائے تو وہ جہد مسلسل سے عبارت نظر آتی ہے۔ مولانا کے والد گرامی مفتی اشفاق الرحمن کاندھلوی دارالعلوم اسلامیہ ٹنڈو الٰہ یار کے ابتدائی دور کے بڑے اساتذہ میں تھے۔ ادارے کے مہتمم مولانا احتشام الحق تھانویؒ کی مستقل رہائش کراچی میں ہونے کے سبب مفتی اشفاق الرحمن کاندھلوی دارالعلوم اسلامیہ ٹنڈو الٰہ یار کے قائم مقام مہتمم کے منصب پر بھی فائز رہے۔
ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی نے درس نظامی کی تکمیل اپنے والد کے زیر سایہ ٹنڈو الٰہ یار میں کی۔درس نظامی کے بعد محدث العصر مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے پاس جامعہ بنوری ٹاؤن میں تخصص فی الحدیث کیا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن میں داخلے کا واقعہ سناتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے ایک مجلس میں بتایا کہ جب ٹنڈو الٰہ یار سے حضرت بنوریؒ کے پاس حاضر ہوا تو حضرت نے پوچھا کہ کس درجے میں داخلہ لینا ہے اور کیا پڑھنا ہے؟ میں نے حضرت بنوریؒ سے عرض کیا کہ حضرت! کسی درجے یا کتاب کا انتخاب تو نہیں کیا، مگر استاذ کا انتخاب کرکے آیا ہوں۔ میرے والدصاحب نے آپ کے پاس یہ کہہ کر بھیجا ہے کہ اگر کچھ بننا چاہتے ہو تو حضرت بنوریؒ کے پاس تھوڑا وقت گزار لو۔ فرمایا کہ میرے اس جواب سے حضرت بنوریؒ بہت خوش ہوئے اور خصوصی شفقت وتربیت کا شرف بخشا۔
ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی مرحوم حضرت مولانا محمد یوسف بنوری قدس سرہ سے بہت متاثر تھے۔ تخصصات کے طلبہ کو دوران لیکچر اکثر ان کے انداز تربیت کا حوالہ دیتے اور اسی نہج پر تربیت کرتے تھے۔ زباں دانی کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے فرماتے کہ یہ طرز ہمارے حضرت بنوریؒ کا تھا کہ وہ تخصصات کے شرکا کو عربی سکھانے کے لیے مصر سے اساتذہ کو بلاتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک موقع پر اپنے متعلق بتایا کہ میں نے حضرت بنوریؒ کے حکم پر صرف تین ماہ میں انگلش سیکھی اور اردو میں مضمون نویسی کی مشق بھی حضرت بنوریؒ کے زیر نگرانی کی ہے۔
ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی نے سندھ یونیورسٹی جام شورو سے امتیازی نمبروں میں ایم اے کیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ مولانا محمد ادریس کاندھلوی کے مخطوطہ الفیۃ العراقی کی شرح منحۃ المغیث تحریر کرکے پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ (یہ کتاب حال ہی میں بیروت سے شائع ہوئی ہے)۔
ڈاکٹر صاحب نے عملی زندگی کا آغاز مرکز التحقیق دیال سنگھ لائبریری لاہور سے کیا۔ یہاں کے علمی ماحول میں تحقیقی کتابیں لکھیں اور اہم ترین عنوانات پر مقالے تحریر کیے۔ ان کے بہترین تحقیقی کاموں، عمدہ تحریروں، علمی تعمق اور فکری گہرائی وگیرائی کے سبب جنرل ضیاء الحق کے دور میں ڈاکٹر صاحب کو ۱۹۷۹ء میں وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد کا ریسرچ ایڈوائزر بنا دیا گیا۔ وفاقی شرعی عدالتوں کا قیام ۱۹۷۸ء میں عمل میں آیا تھا۔ تحقیق وریسرچ کے کام کی شروعات تھیں اور اسلامی قوانین اور دستور کے مسودات اور متن کی تیاری جیسے حساس امور طے پارہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب اس ٹیم کے اہم فرد تھے جنہوں نے وفاقی شرعی عدالت میں تحقیق کا کام سرانجام دیا۔ دوران درس تلامذہ سے فرمایا کرتے تھے کہ وفاقی شرعی عدالت میں بہت سے قوانین کے مسودے اور آئین کی متعدد شقوں کا متن تحریر کرنے کا اعزاز اللہ تعالیٰ نے میرے قلم کو عطا فرمایا ہے۔ ۱۹۷۹ء تا ۱۹۹۵ء وفاقی شرعی عدالت میں خدمات سرانجام دیں۔ اس دوران بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں لیکچر بھی دیتے رہے اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں ایم فل کے شعبے کے سپروائزر بھی رہے۔
۱۹۹۵ء میں برونائی دارالسلام کی اسلامی یونیورسٹی کے اصرار پر برونائی تشریف لے گئے جہاں ۲۰۰۶ء تک یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامی کے نگران کے طور پر خداداد صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔برونائی دارالسلام سے واپسی پر کراچی میں مستقل سکونت اختیار کرلی اور جامعہ دارالعلوم کراچی کے شعبہ تخصص فی الدعوۃ والارشاد کے مسؤل کے طور پر تادم رحلت تحقیقی وتدریسی کاموں میں مشغول رہے۔ دارالعلوم کراچی کے شعبہ تخصص فی الدعوۃ کا جامع نصاب ترتیب دیا اور شرکا پر خوب محنت کی۔ اس دوسالہ نصاب کو پاکستان کی بڑی جامعات میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ اب تک متعدد بڑے دینی ادارے تخصص فی الدعوۃ والارشاد کا اجرا کرکے اس نصاب کو شروع کر چکے ہیں۔مجلس صوت الاسلام کلفٹن کے تحت ’’تربیت علماء کورس‘‘ میں بھی یہی نصاب پڑھایا جارہا ہے جس کی مکمل نگرانی بھی ڈاکٹر صاحب کیا کرتے تھے اور ہفتے میں دو دن شام کے اوقات میں ’’دعوت دین اور تقابل ادیان کے اسباق بھی خود پڑھاتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب جہاں دیدہ شخصیت اور جامع المعقول والمنقول تھے۔ اصول حدیث، اصول فقہ، تاریخ، ادب، علم الکلام، فلسفہ، قانون اور ادیان پر مہارت تامہ رکھتے تھے۔ وہ تخصص کرنے والے اپنے شاگردوں کو فکر ونظر کی کشمکش کے اس دور میں افکار شاہ ولی اللہ کے عمیق مطالعے اور ان کی طرز میں کام کی ترغیب دیتے تھے۔ وہ مغربی تہذیب وفلسفے کے زبردست ناقد تھے۔ ان دنوں اس موضوع پر تحقیقی کام کررہے تھے اور ’’اسلام اور انتہا پسندی‘ مشرق کا مقدمہ مغرب کی عدالت میں‘‘ کے نام سے کتاب تحریر کررہے تھے جس پر کافی کام ہوچکا تھا۔ اس میں ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’موجودہ مغربی تہذیب وفلسفہ دراصل یونانی تہذیب وفلسفے اور رومن تہذیب کا چربہ ہے جو دیگر تہذیبوں کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ کچھ افرادِ کار تیار ہوکر دلیل اور ڈائیلاگ کی قوت سے مغربی تہذیب کی یلغار کا مقابلہ کریں اور اس کے تار وپود بکھیر دیں۔ اگر دلیل کی قوت سے مغربی تہذیب کا رد شروع ہوگیا تو مغربی تہذیب چند سال میں دنیا کے نقشے سے حرف غلط کی طرح مٹ جائے گی‘‘۔
ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی مرحوم اردو، عربی اور انگلش کے باقاعدہ ادیب تھے۔ ان تینوں زبانوں میں دو درجن سے زائد علمی وتحقیقی کتابیں تحریر فرمائی ہیں۔
وہ مرنجاں مرنج شخصیت تھے۔ جو ان سے ایک بار ملاقات کرلیتا تو بار بار ملنے کو جی چاہتا تھا، ان سے آخری ملاقات ان کے سفر آخرت پر روانہ ہونے سے دو دن قبل 27دسمبر کو ایک تقریب میں ہوئی۔ یہ تقریب نوجوان فضلاء کرام کیلئے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کے طور پر منعقد تھی جس نشست میں ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی نے خطاب کیا، اس کے مہمان خصوصی مولانا ڈاکٹر سید سلمان ندوی تھے اور اس نشست کا موضوع ’’عصری تحدیات اور علماء کرام کی ذمے داریاں ‘‘ تھا۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم نے اس عنوان پر اس قدر جامع خطاب کیا کہ مہمان خصوصی سمیت سب خطبا نے کہا کہ ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی نے ہمارے کہنے کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔
ڈاکٹر صاحب قحط الرجال کے اس دور میں علما وطلبا اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھنے والے طبقے کے لیے فکری اثاثہ تھے۔شفیق رہبر اور ہمہ وقت دستیاب ایک انمول خزانہ تھے۔ ان کی اچانک جدائی پر ان کے صاحبزادگان نعیم الرحمن صدیقی‘ انیس الرحمن صدیقی‘ رضاء الرحمن صدیقی‘ رضی الرحمن صدیقی اور دیگر اہل خانہ ہی نہیں بلکہ ہزاروں شاگرد اور عقیدت مند سوگوار ہیں۔ ہزاروں طلبا وعلما کو اس بات پر فخر ہے کہ انہوں نے مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی جیسے عظیم استاذ کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیے ہیں۔
مہتمم جامعہ نصرۃ العلوم کا الشریعہ اکادمی کی لائبریری کیلئے گرانقدر عطیہ
ادارہ
گزشتہ دنوں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے مہتمم جناب مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی نے مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمۃ اللہ علیہ کے ایصال ثواب کے لیے ان کے ذاتی ذخیرۂ کتب سے حضرت صوفی صاحب کے زیر مطالعہ رہنے والی عربی، اردو اور انگریزی کتب کا ایک گراں قدر عطیہ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی لائبریری کے لیے عنایت فرمایا جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
- ترجمہ ’’معجز نما حمائل شریف‘‘
- فارسی ترجمہ قرآن شاہ ولی اللہؒ (۳ مختلف نسخے)
- ترجمہ قرآن شاہ عبد القادرؒ
- ترجمہ قرآن ڈپٹی نذیر احمدؒ
- ترجمہ قرآن مولانا فتح محمد
- انوار التبیان (قاضی شمس الدینؒ )
- تفسیر جمل (۴ جلدیں)
- مسوی/مصفی شرح موطا (۲ جلدیں)
- تفسیر الکشاف (۴ جلدیں)
- بیان القرآن کلاں (۴ جلدیں)
- تفسیر حقانی کلاں (۳ جلدیں)
- احکام القرآن للجصاص (۳ جلدیں)
- انگریزی ترجمہ قرآن محمد اسدؒ
- انگریزی ترجمہ قرآن پکتھال
- انگریزی ترجمہ قرآن عبد اللہ یوسف علیؒ
- انگریزی ترجمہ قرآن عبد الحمید صدیقی ؒ (۱۱؍ اجزا)
- البیان والتبیین للجاحظ (۳ جلدیں)
- مجمع الامثال للمیدانی (۲ جلدیں)
- الشوقیات (۴ حصے)
- کتاب الامالی لابی علی القالی (۳ جلدیں)
- کتاب سیبویہ مع شرح السیرافی (۴ جلدیں)
- ازالۃ الخفاء فی خلافۃ الخلفاء
- ادب الکاتب لابن قتیبہ
- مثنوی مع شرح بحر العلوم (۳ جلدیں)
- مثنوی مولانا روم (۲ جلدیں)
- فتح الملہم شرح صحیح مسلم (۳ جلدیں)
- تفسیر حسینی (۲ جلدیں)
- تفسیر ماجدی (۳ جلدیں)
- کیمیائے سعادت
- بیاض کبیر
- کتاب الادویہ
- التبیان فی علوم القرآن للصابونی
- مختار الصحاح
- المنجد فی الادب والعلوم
- احسن الکلام (قدیم اشاعت)
- رسالہ تراویح
- عمدۃ الاثاث
- ازالۃ الریب
- آنکھوں کی ٹھنڈک
- مباحث کتاب الایمان صحیح مسلم
- النجم السعد فی مباحث اما بعد
- کلام مقدس (کیتھولک) اردو
- ابطال التندید
- تحقیق الحق (پیر مہر علی شاہؒ صاحب گولڑوی)
- سیر الاولیاء
- بہجۃ الدعوۃ والتبلیغ
- نخبۃ اللآلی شرح بدء الامالی
- شرح بوستان
- فتح اللہ بخصائص اسم اللہ
- المنتخبات من المکتوبات
- فتاویٰ عزیزی (فارسی)
- کشف المحجوب (فارسی)
- سیف چشتیائی (پیر مہر علی شاہؒ صاحب گولڑوی)
- جواہر التوحید
- مرآۃ العاشقین
- الطاف القدس
- الفتح الرحمانی
- دیوان الحماسہ
- اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ (۴ جلدیں)
- السراج المنیر شرح الجامع الصغیر (۳ جلدیں)
- مثنوی معنوی مولانا روم (۶ جلدیں)
- Dictionary of the Jewish Religion
- The Talmudic Anthology
- Learn Talmud
- Holy Bible - King James Version
اکادمی کی مجلس منتظمہ اس گراں قدر عطیے پر اظہار تشکر کے ساتھ دعاگو ہے کہ ان بلند پایہ علمی کتابوں سے علما وطلبہ کا استفادہ حضرت صوفی صاحبؒ اور ان کے اہل خانہ کے لیے صدقہ جاریہ اور رفع درجات کا ذریعہ ثابت ہو۔ آمین
سادہ خوراک اور انسانی صحت
حکیم محمد عمران مغل
ہر ذی روح کی بقا کے لیے جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہے، وہ ہے تازہ ہوا اور بے رنگ، بے بو ، بے ذائقہ پانی۔ یہ دونوں نعمتیں ہر ایک کی دسترس میں دے دی گئی ہیں۔ جب جی چاہے، بغیر مشقت اور اخراجات کے ان سے فائدہ اٹھائیے۔ دیگر اشیا تقریباً سب ضمنی ہیں جن کے تصرف میں دن رات اضافہ کیا جا رہا ہے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھوک یہ ہے کہ پانی میں نمک گھول کر اس سے جتنی روٹی کھائی جا سکے، بس۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ جس آدمی کی آمدن جتنی زیادہ ہے، اس کا دستر خوان بھی اتنا ہی وسیع ہے جو بالآخر اسے وقت سے پہلے قبرستان پہنچا دیتا ہے۔ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مجھے اپنی امت کی غربت کا اتنا ڈر نہیں ہے جتنا اس کی امارت کا ہے۔ آج معاشرے میں پھیلی ہوئی ہر گمراہی اور برائی کے پیچھے امارت ہی ہے۔ مشروبات ہوں یا خوراک یا بود وباش،تاحد نگاہ ان کی وسعت پھیلتی جا رہی ہے اور خوب سے خوب تر کی تلاش میں نہ ختم ہونے والا سفر شروع ہو چکا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے پاکستان کے بعض علاقوں کے متعلق یہ مشاہدہ کیا گیا کہ انتہائی غریب ہونے کے باوجود وہ نہایت صحت مند زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اسباب معلوم کرنے کے لیے ان علاقوں میں ماہرین بھیجے گئے جنھوں نے وہاں کے لوگوں خوراک اور بود وباش کا مشاہدہ کرنا شروع کیا۔ آخر میں رپورٹ تیار کی گئی تو اس میں بتایا گیا کہ یہ لوگ سخت سردی میں ضروری حفاظت کے باوجود ٹھٹھرتے رہتے ہیں، لیکن دہی اور باسی لسی سے کھانا کھاتے ہیں۔ دہی کے بغیر انھیں کوئی غذا مرغوب نہیں، جبکہ باہر شدت سے برف باری جاری تھی۔ محترم ولی خان مرحوم کے والد باچا خان مرحوم کی خوراک میں ساری زندگی دہی شامل رہا۔ دہی کے استعمال سے نہ صرف عمر بڑھتی ہے بلکہ آج کے دور کی بدترین اور جان لیوا بیماری بلڈ پریشر سے بھی جان چھوٹ جاتی ہے۔ جب تک معاشرہ چاٹی کی لسی استعمال کرتا رہا، یہ امراض دبے رہے۔
موجودہ صدی کی بین الاقوامی شخصیت حکیم محمد سعید شہید رحمۃ اللہ علیہ جب طب اسلامی کے ترجمان کے طور پر اقوام متحدہ کی کسی کانفرنس میں تشریف لے گئے تو مہمانوں کوچائے پیش کی گئی۔ حکیم صاحب نے فرمایا کہ میں تو آج تک چائے کے ذائقے سے ہی ناآشنا ہوں۔ اس کے برعکس اپنے معاشرے کا حال دیکھیں، صبح سویرے آب حیات کی طرح اس کے جام کے جام لنڈھائے جاتے ہیں۔ یہ نشے کی طرح معاشرے کو اپنی گرفت میں لے چکا ہے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ ایک خاص غذا کی جگہ آپ کو کوئی دوسری غذا دی جائے اور آپ کھانے سے انکار کر دیں تو یہ بھی نشہ ہے۔
الغرض اسلام سادہ مذہب ہے، ہمیں سادگی کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے ترازو میں ہمارا معاشرہ تولا جائے تو اکثریت کسی نہ کسی نشے میں گرفتار نظر آتی ہے جس سے قوت مدافعت ختم ہوتی جا رہی ہے اور معاشرہ طرح طرح کے امراض میں جکڑا جا رہا ہے۔ سادگی کے فوائد پر مزید گفتگو ان شاء اللہ آئندہ نشستوں میں پیش کروں گا۔