دسمبر ۲۰۱۲ء

نفاذ اسلام کے سلسلے میں فکری کنفیوژن اور اعتدال کی راہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مذہبی تعلیم سے وابستہ چند فکری پہلومحمد عمار خان ناصر 
قائد اعظم یا طالبان، کس کا پاکستان؟ / قاضی صاحب پر حملہ / ریاست کے اندر ریاستخورشید احمد ندیم 
عالم اسلام کے معروضی حالات میں اصل مسئلہڈاکٹر قاری محمد طاہر 
نابالغی کا نکاح اور سیدہ عائشہؓ کی عمر ۔ چند نئے زاویے (۱)مولانا محمد عبد اللہ شارق 
.... اور کافری کیا ہے؟پروفیسر میاں انعام الرحمن 
ڈیلیٹڈ ۱ادارہ 
ڈیلیٹڈ ۲ادارہ 
’’مقالاتِ جاوید‘‘ پر ایک نظرڈاکٹر محمد شہباز منج 
ٹی بی ۔ ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھحکیم محمد عمران مغل 

نفاذ اسلام کے سلسلے میں فکری کنفیوژن اور اعتدال کی راہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ میں ۱۲؍ نومبر ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق:
’’القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کے چھوٹے بھائی محمد الظواہری نے کہا ہے کہ سینا میں اسلامی حکومت قائم کرنے کی خبریں گمراہ کن ہیں۔ ہماری جماعت دوسروں کو کافر قرار نہیں دیتی، اس لیے ہم پر تکفیری فرقے کے الزامات بے سروپا ہیں۔ ان اطلاعات میں بھی کوئی صداقت نہیں کہ ’’اسلامی جہاد‘‘ قاہرہ میں دہشت گرد بم حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ایسی خبریں اسلامی جہاد کے خلاف میڈیا میں ہونے والے منفی پراپیگنڈے کا حصہ ہیں۔ مصری میڈیا اور سیکورٹی اداروں کو سابق حکومت کی باقیات سے پاک کیا جائے۔ ’’اسلامی جہاد‘‘ اسلحے کے بجائے وعظ، کانفرنسوں اور کتابوں کے ذریعے اسلامی فہم پھیلانے میں مصروف ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ ہماری جماعت سیاست میں حصہ لینے کی متمنی نہیں، کیونکہ ہم جمہوریت کے نظریے پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم اس جمہوریت کے قائل ہیں جو انصاف، انسانی عظمت اور مساوات قائم کرنے میں معاون ہو۔ صرف ایسی جمہوریت ہی اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ہے۔‘‘
ڈاکٹر محمد الظواہری نے ایک ہی سانس میں اتنی باتیں کہہ دی ہیں کہ ان سب کو ایک دوسرے سے الگ کرنا اور ہر ایک پر تبصرہ کرنا مشکل سا ہو گیا ہے، لیکن اس سے اتنی بات ضرور واضح ہو جاتی ہے کہ نفاذ اسلام، جہاد اور جمہوریت کے حوالے سے اس طرح کی کنفیوژن کم وبیش پورے عالم اسلام میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے او رنفاذ اسلام کے خواہاں دینی حلقے ہر مسلم ملک میں اسی قسم کی ذہنی وفکری کشمکش سے دوچار ہیں جو ڈاکٹر محمد الظواہری کے مذکورہ بالا بیان کے بین السطور جھلک رہی ہے۔
نفاذ اسلام تو دنیا بھر کے اکثر مسلمانوں کی دلی خواہش ہے اور اس کے لیے بیسیوں ممالک میں کسی نہ کسی درجے میں محنت بھی ہو رہی ہے، لیکن بعض بنیادی امور پر ذہن واضح نہ ہونے کی وجہ سے اکثر مقامات پر یہ محنت اور جدوجہد وہ ثمرات نہیں دے رہی جن کی ان سے توقع کی جاتی ہے۔ ہمارے خیال میں اسلامی ریاست اور شرعی حکومت کے حوالے سے کام کرنے والے حلقوں کو چند مختلف دائروں میں تقسیم کر کے اس صورت حال کا زیادہ بہتر طو رپر تجزیہ کیا جا سکتا ہے:
  • مسلم ممالک کی قومی سیاست میں ایک طبقہ جو اس وقت سب سے زیادہ موثر، فعال اور با وسائل ہے، ان لوگوں پرمشتمل ہے جو مسلمان ہونے کے ناتے سے اسلام کا نام ضرور لیتے ہیں، لیکن ان کے ذہن میں اسلام کے ایک نظام ہونے کا کوئی تصور موجود نہیں ہے، بلکہ نفاذ اسلام یا کسی اسلامی قانون کی ترویج کے مطالبہ پر انھیں تعجب ہوتا ہے اور وہ اسے ’’بے وقت کی راگنی‘‘ سمجھتے ہیں۔ مسلم دنیا کے حکمران طبقات زیادہ تر ایسے ہی افراد پر مشتمل ہیں اور ایک اسلامی ریاست کی تشکیل یا کسی مسلمان ملک میں قرآن وسنت کے قوانین کے عملی نفاذ کی راہ میں وہ ایک مضبوط رکاوٹ ہیں۔
  • ایک طبقہ وہ ہے جو نفاذ اسلام کے عنوان سے گھبراتا تو نہیں، لیکن اس کے نزدیک اسلام صرف چند اسلامی عبادات وشعائر کا نام ہے اور وہ عبادات واخلاق کے دائرے سے ہٹ کر نفاذ کے درجے میں اسلامی قانون اور شریعت کے کسی ضابطے کو رو بہ عمل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ مسلم ممالک کی قومی سیاست میں ایسے افراد بھی بکثرت موجود ہیں اور بد قسمتی سے سیکولر حلقوں کے مقابلے میں ایسے لوگوں کو ہی اسلامی حلقے تصور کر کے عام مسلمان ان سے اس قسم کی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں جو پوری نہ ہونے پر مایوسی پھیلتی ہے۔
  • ایک طبقہ وہ ہے جو فی الواقع نفاذ اسلام کا خواہاں ہے اور یہ لوگ ملک کے دستور وقانون میں قرآن وسنت کی بالادستی اور اس پر عمل درآمد پر یقین رکھتے ہیں، لیکن اس کے لیے رائے عامہ کو ہموار کرنے، رولنگ کلاس کی ذہن سازی، نفاذ اسلام کے لیے ضروری رجال کار کی تیاری اور نفاذ اسلام کے سلسلے میں جدید ذہن کے اشکالات واعتراضات کا منطقی طور پر جواب دے کر اس کی تشفی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے جس کی وجہ سے انھیں کسی جگہ بھی کامیابی حاصل نہیں ہو رہی۔
  • ایک طبقہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو رائے عامہ، ووٹ اور سیاسی عمل کے ذریعے نفاذ اسلام کی جدوجہد کو ’’کارِ بے کاراں‘‘ سمجھتے ہیں۔ ان کی ایک بڑی تعداد اس سارے کام سے کنارہ کش ہو کر خود کو عبادت وریاضت میں مشغول رکھے ہوئے ہے اور نفاذ اسلام کے سارے کام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام مہدیؓ کے ظہور کے ساتھ متعلق سمجھ کر ان کے انتظار میں شب وروز مصروف ہے، جبکہ ان لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں جو ان ساری رکاوٹوں اور کوتاہیوں کے رد عمل میں جذباتیت کا شکار ہو کر ہتھیار بکف ہیں اور ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کے مصداق شہادتوں اور قربانیوں کو اس جدوجہد کا واحد راستہ سمجھے ہوئے ہیں۔
  • اسلامی نظام کی تعبیر وتشریح کے حوالے سے بھی اسی طرح کی کنفیوژن پائی جاتی ہے۔ بہت سے لوگ وہ ہیں جو جدید سیاسی اور معاشرتی نظریات وافکار کو بالکل مسترد کرتے ہوئے نفاذ اسلام کے عمل کو اب سے صدیوں قبل کے ڈھانچے اور اسٹرکچر کے ساتھ دوبارہ مسلم معاشرے میں لانا ضروری سمجھتے ہیں، حتیٰ کہ وہ اس ناگزیر فرق کو سمجھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں کہ آج کے دور میں نہ تو محض طاقت کو حق حکمرانی کا جواز قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی خاندانی تقدس ووجاہت کسی کے حق حکمرانی کی وجہ بن سکتا ہے، جبکہ آج کا دور حق حکمرانی کے حوالے سے خلافت راشدہ کے نکتہ آغاز کی طرف واپس جا چکا ہے کہ حق حکمرانی صرف اس کو حاصل ہوگا جسے عوام کے اعتماد وقبول کی سند حاصل ہوگی۔
  • نفاذ اسلام کے لیے ہتھیار اٹھانے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد ایسی ہے جو ان لوگوں کی تکفیر کو ضروری سمجھتی ہے جو ان کے تجویز کردہ نقشے اور طریق کار سے اتفاق نہ رکھنے کی وجہ سے ان کے خیال میں نفاذ اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہیں، ان کی جدوجہد میں کسی سطح پر مزاحم ہوتے ہیں یا ان کا اس طرح ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے جس طرح وہ چاہتے ہیں اور بات صرف تکفیر تک نہیں رکتی، بلکہ تکفیر کے بعد انھیں راستے سے ہٹا دینا بھی جہاد کا لازمی حصہ قرار پاتا ہے۔
  • مغربی فکر وفلسفہ کو بالکل مسترد کر دینے یا کلیتاً قبول کر لینے کی دو انتہاؤں کے درمیان ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو ’خذ ما صفا ودع ما کدر‘ کا قائل ہے، لیکن جدید سیاسی نظریات اور اسلام کے سیاسی نظام کے درمیان مطابقت وموافقت اور مخالفت وتفاوت کو واضح کرنے کے لیے جس علمی محنت اور جگر کاوی کی ضرورت ہے، وہ بالکل مفقود دکھائی دیتی ہے۔ 
اس تناظر اور پس منظر میں اپنے ان بزرگوں کی بصیرت وتدبر کی داد دینا پڑتی ہے جنھوں نے اسلام کے نام پر قائم ہونے والے نئے ملک پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ان سارے مسائل کا جائزہ لے کر اجتماعی اجتہاد کے ذریعے ایک متوازن راستہ اختیار کیا اور نفاذ اسلام کے لیے ’’قرارداد مقاصد‘‘ اور تمام مکاتب فکر کے ۳۱؍ سرکردہ علماء کرام کے مرتب کردہ بائیس متفقہ دستوری نکات کی صورت میں جامع، قابل عمل اور صحیح رخ طے کر دیا جس کی بنیاد ان نکات پر تھی کہ:
  • حق حکمرانی عوام کے اعتماد کی صورت میں حاصل ہوگا اور وہی حکومت کر سکیں گے جنھیں عوام اس مقصد کے لیے منتخب کریں گے۔
  • ریاست وحکومت اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ اور قرآن وسنت کی بالادستی کے تابع ہوگی۔
  • نفاذ اسلام کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے عسکریت کا راستہ اختیار کرنے سے مکمل گریز کیا جائے گا۔
  • نفاذ اسلام کے لیے قرآن وسنت اور امت کا اجماعی تعامل ہی بنیاد ہوگی جبکہ جدید ضروریات اور تقاضوں کو نظام کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کے لیے اجتہاد کے شرعی اصولوں سے کام لیا جائے گا۔
ہمارا خیال ہے کہ پاکستان کی دینی جماعتیں اور علمی مراکز اگر اپنے ان اجتماعی اصولوں کا صحیح پہرہ دیتے اور اجتماعی اجتہاد کے تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے دنیائے اسلام کی راہ نمائی کو اپنی ذمہ داری سمجھ لیتے تو شاید اس کنفیوژن کی نوبت نہ آتی جس کی جھلکیاں ڈاکٹر محمد الظواہری کے مذکورہ بالا بیان کے بین السطور نظر آرہی ہیں۔ ہمارے نزدیک اس کا صحیح راستہ آج بھی یہی ہے۔ خدا کرے کہ پاکستان کے دینی حلقے اور علمی مراکز اپنی اس ذمہ داری کا اب بھی سنجیدگی کے ساتھ احساس کر سکیں۔ آمین یا رب العالمین۔

مذہبی تعلیم سے وابستہ چند فکری پہلو

محمد عمار خان ناصر

پاکستان میں مختلف سطحوں پر مذہبی تعلیم کے موجودہ انتظام کے مثبت اور منفی پہلووں اوراس نظام میں بہتری کے امکانات کے حوالے سے متنوع زاویوں سے گفتگو کی جا سکتی ہے۔ اس تجزیے کا ایک اہم اور بنیادی پہلو ملک وقوم کی علمی وتعلیمی ضروریات اور مطلوبہ معیار کے تناظر میں موجودہ تعلیمی نظام کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے، تاہم اس پہلو کو کسی دوسرے موقع کے لیے موخر کرتے ہوئے اس نشست میں ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی کی موجودہ لہر کے تناظر میں، جس نے قوم کو درپیش ایک گہرے اور سنجیدہ بحران کو فکر ودانش کی سطح پر نمایاں کر دیا ہے، مذہبی تعلیم کے کردار کے حوالے سے چند گزارشات پیش کرنا چاہیں گے۔
ہمارے ہاں مذہبی تعلیم کا اہتمام عصری تعلیم کے سرکاری وغیر سرکاری اداروں میں بھی کیا جا رہا ہے اور دینی مدارس کے ایک مستقل اور خود مختار تعلیمی نظام کی صورت میں بھی۔ اس ضمن میں بنیادی اور موثر کردار بدیہی طور پر مدارس ادا کر رہے ہیں۔ جہاں تک ریاستی تعلیمی نظام اور اداروں کا تعلق ہے تو قومی پالیسی میں اگرچہ ایک تسلسل کے ساتھ اسلام اور اسلامی تعلیمات کو تعلیمی پالیسی کا مرکزی اور محوری نکتہ بتایا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے ناظرہ قرآن، ترجمہ قرآن اور اسلامیات کو مختلف سطحوں پر نصاب کے لازمی اجزا بھی قرار دیا گیا ہے، لیکن یہ طرز تعلیم بحیثیت مجموعی مذہب، ریاست، معاشرہ اور تہذیب کے باہمی تعلق کے ضمن میں نہایت بنیادی اور اہم سوالات کا کوئی واضح اور متعین جواب نہیں دیتا ، جبکہ فکر وشعور کی سطح پر ان سوالات کو موضوع بحث بنائے بغیر افراد اور معاشرے کو اسلامی رنگ میں ڈھالنے کا سوال عملی طور پر معلق رہ جاتا ہے۔ چنانچہ عصری نظام کے دائرے میں عملاً جو کچھ ہو رہا ہے، وہ یہ ہے کہ ناظرہ قرآن اور اسلامیات کی تعلیم کی صورت میں اسلام کے ساتھ وابستگی کا جذبہ طلبہ میں پیدا کر کے اسے شعوری فکر اور عملی رویوں میں ڈھالنے کا کام معاشرے میں موجود اور سرگرم مختلف مذہبی عناصر کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح عصری تعلیمی نظام بذات خود کوئی واضح تصور دینے کے بجائے محض ان مختلف، متنوع اور متضاد فکری رجحانات کے لیے خام مواد فراہم کرنے کی خدمت انجام دے رہا ہے۔ 
دوسری طرف دینی مدارس جس تعلیمی نظام کے تحت کام کر رہے ہیں، ا س کے ذریعے سے قرآن وسنت اور ان سے متعلقہ دینی علوم کی تعلیم کا کام اگر چہ ایک حد تک انجام پا رہا ہے، لیکن انگریزی زبان اور عصری علوم سے لاتعلقی، غلط تعلیمی ترجیحات اور قدامت پسند مذہبی سوچ سے بے لچک وابستگی کی بنا پر ان کا دائرۂ اثر نہایت محدود ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ عصر حاضر کے علمی وعملی تقاضوں سے بالکل بے خبر اپنی ہی دنیا میں مگن اور اپنے محدود دائرۂ ترجیحات میں اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ 
دینی مدارس میں تعلیم کے نظام کے ساتھ جو بڑے بڑے مسائل وابستہ ہیں، اختصار کے ساتھ انھیں چند نکات کی صورت میں گنوایا جا سکتا ہے۔ مثلاً:
۱۔ مذہب جن روحانی واخلاقی اقدار کی تعلیم دیتا ہے، موجودہ مذہبی نظام تعلیم عمومی طو رپر ان سے بالکل برعکس قدروں کے فروغ کا ذریعہ بن رہا ہے جن میں سب سے نمایاں چیز مذہبی فرقہ واریت ہے۔ مزید برآں تربیت کا سارا زور دین کے مظاہر پر صرف کیا جاتا ہے، جبکہ روحانی بالیدگی اور اخلاق وکردار کی بلندی پیدا کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔
۲۔ مذہبی تعلیم ایک ایسے ماحول میں فراہم کی جاتی ہے جو اپنے فیض یافتگان کو معاشرے کے زندہ مسائل کے ساتھ حرکی طو ر پر متعلق کرنے کے بجائے ان کے اور معاشرے کے مابین اجنبیت کی ایک خلیج حائل کر دیتا ہے اور طلبہ جب عملی کردار ادا کرنے کے لیے معاشرے سے متعلق ہوتے ہیں تو ان کے فکر اور حکمت عملی میں اصلاح کے ہمدردانہ اور داعیانہ جذبے کے بجائے شکوہ شکایت اور تنافر کا عنصر بالعموم زیادہ غالب ہوتا ہے۔
۳۔ مذہبی تعلیم کے نتیجے میں مطالعہ اور علم وتحقیق کا معیار مجموعی طو رپر ناقابل رشک ہے اور اس سے بھی زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس ماحول میں مطالعہ اور تحقیق کے موضوعات کا دائرہ نہایت محدود ہے اور امت مسلمہ کی وسیع تر کلاسیکی علمی روایت اور دور جدید کے علمی وفکری مباحث سے ایک عمومی آگاہی بھی اس نظام تعلیم کے اہداف میں شامل نہیں۔
۴۔ مذہبی تعلیم کے موجودہ نظام نے ریاستی نظام اور بین الاقوامی قانون کے ضمن میں دور جدید کی جوہری تبدیلیوں سے متعلق اجتہادی زاویہ نگاہ کو اپنے اہداف کا حصہ نہیں بنایا، چنانچہ اس حوالے سے کلاسیکی دور کے فقہی ذخیرے کو غیرتنقیدی انداز میں پڑھانا ان فکری ونظری ابہامات کی جڑ کی حیثیت رکھتا ہے جن سے اس وقت ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کا شرعی ونظریاتی جواز اخذ کیا جا رہا ہے۔
یہ آخری نکتہ ذرا توضیح کا طالب ہے۔ یہ بات درست ہے کہ دینی مدارس دہشت گردی کی تربیت نہیں دیتے اور نہ اس کے لیے فضا ہموار کرتے ہیں، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مدارس کا نظام تعلیم ایک خاص ماحول میں طلبہ کی ذہنی تربیت کر کے ان کے اور معاشرے کے دوسرے طبقات کے مابین اجنبیت کی دیوار کھڑی کر دیتا ہے، جدید معاشرت اور تمدن کے عملی تقاضوں سے روشناس کرانے کے بجائے قدیم فقہی سانچے کو ان کے سامنے معیار اور آئیڈیل کے طور پر پیش کرتا ہے اور حالات کے معروضی تناظر میں نفاذ اسلام کی حکمت عملی اور اس کے تقاضوں کا شعور دینے کے بجائے محض ایک جذباتی نعرہ ان کے ہاتھ میں تھما کر انھیں میدان عمل میں اتار دیتا ہے۔ یہ اسی ذہنی رجحان کا نتیجہ ہے کہ ۸۰ء کی دہائی میں افغان جنگ کے دور میں حالات وواقعات کی عملی پیچیدگیوں اور اس کشمکش میں عالمی ومقامی سیاست کے اہداف اور ترجیحات سے کلی طو رپر اغماض برتتے ہوئے مذہبی عناصر میں یہ خام امید پروان چڑھاتے ہوئے اس جنگ میں شریک ہونے کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ اس سے ’’جہاد‘‘ کا عمل زندہ ہو رہا ہے جو امت کی عظمت رفتہ کی بازیابی پر منتج ہوگا۔ گویا دینی مدارس ریاستی نظام کے خلاف انتہا پسندی کی براہ راست سوچ پیدا نہ کرنے کے باوجود اپنے فراہم کردہ ذہنی ماحول اور اپنے تحفظات، رجحانات اور پالیسیوں کے ذریعے سے لاشعوری طور پر وہ تمام فکری اور نفسیاتی لوازمات فراہم کر رہے تھے جس کے بعد اسے شدت پسندی اور دہشت گردی کا روپ دینے کے لیے بس کسی خارجی محرک، کسی استعمال کرنے والے ہاتھ اور ایک جرات رندانہ کی ضرورت تھی اور جب نسخے کے یہ سارے اجزا مکمل ہو گئے تو اس آئیڈیالوجی سے متاثر ذہنوں کا جہادی ’’کشتہ‘‘ تیار کرنے کی طرف متوجہ ہونا ایک ناگزیر نتیجہ تھا۔
اس ساری صورت حال کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کیجیے تو خرابی کی جڑ ایک ہی نکلے گی، یعنی ریاست کا مذہبی تعلیم اور فکری تربیت کا کوئی ایسا نظام وجود میں لانے کی ذمہ داری سے پہلو تہی برتنا جو قومی اور ملی ضروریات اور جدید سیاسی وسماجی ڈھانچے کے مطالبات ومقتضیات سے ہم آہنگ ہو۔ ریاستی نظام کی طرف سے معاشرے کو ایک متوازن مذہبی تعلیم فراہم کرنے کی ذمہ داری سے دست کش ہو جانے کے نتیجے میں مدارس کی صورت میں دینی تعلیم کے جداگانہ اور مرکزی تعلیمی دھارے سے الگ نظام کو ایک عملی ضر ورت کے طور پر ہمارے ہاں بالفعل قبول کر لیا گیا ہے جبکہ قومی سطح پر اس کے نقصانات اور مضمرات کا شاید اب بھی حقیقی معنوں میں اندازہ نہیں کیا جا رہا۔ اصولی طور پر ایک جامع قومی نظام تعلیم وضع کرنے کی ضرورت کا احساس خود دینی مدارس کے بعض نمایاں بزرگ دلا چکے ہیں، لیکن ایک مستقل سماجی طبقے کے طور پر مدارس اپنا تحفظ اسی میں محسوس کرتے ہیں کہ دینی اور دنیاوی تعلیم کی دوئی قائم رہے۔ مختلف حکومتیں بھی مضبوط قوت ارادی، ذہنی یکسوئی اور فکری وضوح کے فقدان کی وجہ سے اسی میں عافیت محسوس کرتی چلی آ رہی ہیں کہ یہ ذمہ داری اور بوجھ اپنے سر نہ لیا جائے۔ تاہم امر واقعہ یہ ہے کہ مذہبی انتہا پسندی اور ’طالبانائزیشن‘ کی صورت میں پوری قوم کو جس چیلنج کا سامنا ہے، اس کے پیش نظر اس طرز فکر پر نظر ثانی کی ضرورت جتنی اس وقت ہے، شاید پہلے کبھی نہیں تھی۔ 
مذہبی تعلیم کے نظام کی بہتری اور اصلاح کے ضمن میں ریاست کے کردار کے حوالے سے لبرل حلقوں کا ذہنی رجحان بھی غیر حقیقت پسندانہ اور اس ضمن کی رکاوٹوں میں سے ایک اہم رکاوٹ ہے۔ لبرل حلقوں کا عمومی زاویہ نگاہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ قومی نظام تعلیم میں مذہب کے عنصر کو کم سے کم جگہ دی جانی چاہیے تاکہ مذہبی سوچ کو تعلیم کے راستے سے نئی نسل کے ذہن اور فکر ورجحان پر زیادہ اثر انداز ہونے کا موقع نہ ملے۔ تاہم اب تک کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ یہ طرز فکر غیرمطلوب نتائج پیدا کرنے کا ذریعہ بنا ہے۔ اگر قوم کی علمی، تعلیمی اور روحانی ضروریات سے متعلق ایک بے حد اہم شعبہ بالکل صحیح خطوط پر استوار کرنے کے بعد کسی ایک مخصوص طبقے کے سپرد کر دیا جائے اور معاشرہ اور ریاست اس سے اپنے آپ کو بالکل لاتعلق کر لیں تو اس سے احتساب اور جواب دہی کا احساس ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور کچھ عرصے کے بعد جب وہ طبقہ اپنی سیاسی طاقت بھی پید اکر لے تو پھر اس کی اصلاح کے لیے کوئی موثر کردار ادا کرنا ریاست اور معاشرے کے لیے بے حد مشکل ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں دینی تعلیم کے نظام کے باب میں یہی ہوا ہے جو اس لحاظ سے زیادہ بگاڑ کا موجب بنا ہے کہ دینی تعلیم کا نظام سرے سے درست خطوط پر استوار ہی نہیں تھا اور نوآبادیاتی دور سے چلا آنے والا نظام نہایت بنیادی پہلووں سے اصلاح بلکہ تشکیل نو کا محتاج تھا۔ بدقسمتی سے اس اصلاح کے لیے مذہبی تعلیم کے نظام میں داخلی طو رپر کوئی خاص داعیہ موجود نہیں تھا۔ اس پر جب ریاست اور معاشرے نے بھی اس ضمن میں کوئی مثبت کردار ادا کرنے سے دست کشی اختیار کر لی تو ان خرابیوں نے اپنی جڑیں مزید مضبوط کر لیں اور اب پینسٹھ سال کے بعد کیفیت یہ ہے کہ مذہبی تعلیم کے نظام کی اصلاح کا عزم تو دور کی بات ہے، ریاست اور معاشرہ ابھی تک اس کا کوئی واضح نقشہ بھی ذہن میں نہیں رکھتے۔
آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی، مذہبی، فکری، معاشرتی اور تہذیبی الجھنوں کے تناظر میں مذہبی تعلیم کے بنیادی رخ کا ازسرنو تعین کیا جائے اور ایک بالکل نئے تعلیمی نظام کی داغ بیل ڈالی جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے سیاسی ومذہبی قیادت اور اہل دانش میں جس فکری یکسوئی اور ہمت وحوصلے کی ضرورت ہے، وہ اس وقت مفقود ہے اور قومی سطح پر سخت نظریاتی اور سیاسی تضادات کی وجہ سے مستقبل قریب میں بھی ایسے کسی جاندار اور موثر نظام تعلیم کا وضع کیا جانا ممکن دکھائی نہیں دیتا، لیکن پالیسی سازوں پر یہ بات بہرحال واضح رہنی چاہیے کہ قوم اور معاشرے کے نظریاتی تشخص اور اس کے وجود وبقا کا تحفظ اس کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے کم سے کم یہ اہتمام تو ضرور کیا جانا چاہیے کہ نظری سطح پر نظام تعلیم کے خلا اور مطلوبہ اصلاحات کو زیر بحث لاتے وقت حقیقی مسائل کی نشان دہی کی جاتی رہے تاکہ اصل مسئلہ نظروں کے سامنے رہے اور قومی دانش اس پر توجہ مرکوز کر کے ایک تدریج کے ساتھ اسے حل کرنے کی پوزیشن میں آ سکے۔
ہماری نظر میں اس سارے قضیے میں ریاست اور سول سوسائٹی میں سب سے بنیادی چیز جو پیدا کرنے کی ضرورت ہے، وہ فکری وضوح، احساس ذمہ داری اور اصلاح کا مخلصانہ عزم ہے۔ چنانچہ معاشرے کی تشکیل میں مذہب اور مذہبی تعلیم کی اہمیت کو پوری طرح تسلیم کرنے کے بعد پوری نیک نیتی، خلوص اور کھلے ذہن کے ساتھ ایک تدریج کے ساتھ حسب ذیل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے:
۱۔ مذہبی تعلیم کی ضروریات، معیارات اور اہداف کا ایک واضح نقشہ تیار کیا جائے جو ان روحانی، علمی وفکری اور معاشرتی ضروریات کی تکمیل کا ضامن ہو جو مذہب او رمذہبی تعلیم سے وابستہ ہیں۔
۲۔ ریاست اور سول سوسائٹی اس نقشے کے مطابق مذہبی تعلیم کے انتظام کو اپنی توجہ کا مرکز بنائیں۔ اس کے لیے سرکاری نظام تعلیم سے جو کام لیا جا سکتا ہے، اس کا بھی گہرائی سے جائزہ لے کر اقدامات تجویز کیے جائیں اور سول سوسائٹی جو کردار ادا کر سکتی ہے، اس پر بھی گہرا غور وخوض کیا جائے۔
۳۔ حکومت اور سول سوسائٹی کی طرف سے مذہبی تعلیم کے موجودہ نظام کے کار پردازان کو ایک مثبت اور تعمیری مکالمے میں شریک کیا جائے اور انھیں اپنے نظام میں مطلوب اصلاحات کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ 
مذہبی تعلیم کے موجودہ نظام کی اصلاح میں ریاست اور سول سوسائٹی اگر کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو اس حقیقت کو بنیادی نکتے کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستانی قوم اپنی روحانی واخلاقی اقدار، خاندانی ومعاشرتی زندگی کے اصول وضوابط اور اپنی اجتماعی زندگی کی تشکیل میں مذہب یعنی اسلام کو راہ نمائی کا بنیادی سرچشمہ اور ماخذ تصور کرتی ہے اور اسلام کی تعلیمات سے ہٹ کر کوئی دوسری چیز یہاں حیات اجتماعی کی تشکیل میں بنیادی حوالہ نہیں بن سکتی۔ ا س لحاظ سے مذہبی تعلیم کے مسئلے کو کسی ایک مخصوص طبقے کا نہیں، بلکہ ریاست اور معاشرے کی تعمیر وتشکیل سے دلچسپی رکھنے والے تمام سنجیدہ وفہمیدہ طبقات کے غور وفکر کا موضوع ہونا چاہیے اور تمام طبقات کو ایک مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ مذہبی تعلیم کے نظام کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ بنیادی ذہنی رویہ پیدا ہونے سے ہی وہ سنجیدگی، بصیرت اور عزم وحوصلہ پیدا ہوگا جو اس مقصد کے لیے درکار ہے۔ بصورت دیگر یہ معاملہ ایک طرف مذہبی طبقات اور دوسری طرف مذہبی نظام تعلیم کی اصلاح کی خواہش رکھنے والوں کے مابین ایک بے حاصل کشمکش کا عنوان بنا رہے گا جس میں واضح سوچ، خلوص اور عزم وحوصلہ مفقود ہونے کی وجہ سے ریاست اور سول سوسائٹی دن بدن اپنے مطالبات کا جواز کھوتے چلے جائیں گے اور مذہبی طبقات رفتہ رفتہ سماجی اور اخلاقی دباؤ سے آزاد ہوتے چلے جائیں گے۔

قائد اعظم یا طالبان، کس کا پاکستان؟ / قاضی صاحب پر حملہ / ریاست کے اندر ریاست

خورشید احمد ندیم

قائد اعظم کا تصورِ ریاست ایسا پامال موضوع ہے کہ اب اس پر قلم اُٹھانے کے لیے خود کو آمادہ کرنا پڑتا ہے۔ خیال ہوتا ہے جیسے آدمی پھر سے پہیہ ایجاد کر نے کی کوشش میں ہے۔ لوگ اس باب میں براہین وشواہد کے ساتھ کلام کرچکے۔ اس کے باوصف یہ تاثر ختم نہیں ہو رہا کہ قائد اعظم کے پیشِ نظر ایک سیکولر ریاست کاقیام تھا۔ ایم کیو ایم جب اسے ایک ریفرنڈم کا عنوان بنا رہی ہے تو اس کا مقدمہ بھی یہی ہے۔ اس نا قابل تردید شہادت کے باوجود کہ قائد نے تمام عمر سیکولرزم کالفظ استعمال نہیں کیا اور بارہا اپنے ارشادات میں واضح کیا کہ وہ اسلام کے اصولوں کو ریاست کی بنیاد بنانا چاہتے ہیں، آخر یہ تاثر ختم کیوں نہیں ہوتا؟ حسنِ ظن کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے جب میں نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی تو میں کچھ نتائج تک پہنچا ۔ آج ان نتائجِ فکرمیں آپ کو شریک کرنا چاہتا ہوں۔
یہ نقطہ نظر دراصل اہلِ مذہب کے تصورِ ریاست کا ردِ عمل ہے، جنہوں نے بعض تاریخی اسباب سے قائدِ اعظم کے تصورِ اسلام کو خود ساختہ معانی پہنا دیے ہیں۔ لوگ اس مفہوم اور معانی پر معترض ہیں۔ وہ جب قائداعظم کے تصورِ ریاست اور مذہبی طبقے کے پیش کردہ اسلامی ریاست کے تصورِ میں فرق نہیں کر پاتے تو قائد اعظم کو سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چونکہ یہ مقدمہ اصلاً کمزور ہے، اس لیے ان کو اس میں پناہ نہیں ملتی۔ یوں وہ خود ذہنی پراگندگی کا شکار ہوتے ہیں اور ساتھ معاشرے کو بھی الجھاتے ہیں۔ میں اس اجمال کی قدرے تفصیل کرتا ہوں۔
جہاں تاریخی اعتبار سے یہ ثابت ہے کہ قائد اعظم اور مسلم لیگ کے دوسرے راہنما اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک ریاست تشکیل دینا چاہتے تھے ، وہاں یہ بھی ثابت ہے کہ اس کاکو ئی واضح تصوران کے پاس نہیں تھا۔ان کویہ اعتماد تھاکہ اسلام اس معاملے میں ان کی رہنمائی کرے گا لیکن کیسے، اس کا کوئی شافی جواب ان کو ابھی تلاش کرنا تھا ۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی جیسے صاحبِ دانش نے بھی یہ لکھا ہے کہ ’’ اسلامی دستور کیا ہوتا ہے، اس سوال کو کوئی متعین جواب موجود نہیں تھا‘‘۔یہ بات مسلم لیگ کے ذمہ دارلوگوں پر پوری طرح واضح تھی ۔ ۱۹۳۹ء میں یو پی مسلم لیگ نے نواب محمد اسماعیل خان کی صدارت میں یہ تحریک منظور کی کہ علما کی ایک مجلس سے مفصل نظامِ حکومت مرتب کرایا جائے۔ اس کے نتیجے میں سر احمد سعیدخان چھتاری کی صدارت میں ایک کمیٹی بنی۔ اس کے سیکریٹری سید سلیمان ندوی تھے۔ انہوں نے بہت سے علما کو خطوط لکھے اور تجاویز مانگیں۔ صرف چار افراد نے دستوری خاکے تجویز کیے۔ مولانا عبدالماجد دریابادی، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، ڈاکٹر ذاکر حسین اور مولانا آزاد سبحانی۔ انہیں مولانا محمداسحاق سندیلوی نے مرتب کیا اور بعد میں اسے ’’ اسلام کا سیاسی نظام‘‘ کے عنوان سے شائع کیا گیا۔ مسلم لیگ نے اپنے تیسویں سالانہ اجلاس (۱۹۴۳ء) میں بھی ’’ مجلسِ تعمیرِ ملی‘‘ کی تجویز پیش کی گئی جو اسلامی ریاست کا خاکہ بنائے۔ یہ مجلس قائم ہی نہ ہو سکی۔ قیامِ پاکستان کے بعد نواب افتخار حسین ممدوٹ مغربی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بنے تو انہوں نے الہیاتِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کے لیے ایک شعبہ قائم کیا۔ محمد اسداس کے ناظم بنائے گئے جن کے نواب صاحب سے دیرینہ مراسم تھے۔ انہوں نے شب و روز کی محنت سے اسلامی دستور کا ایک خاکہ مرتب کیا جو مارچ ۱۹۴۸ء میں شائع ہوا۔یہ داستان بتاتی ہے کہ قائد اعظم اور مسلم لیگ کے قائدین اس باب میں سنجیدہ تھے کہ مسلمانوں کے لیے جو ریاست بنے، اس کے خدو خال کا تعین اسلامی تعلیمات کی روشنی ہو لیکن اس کی عملی صورت کے بارے میں وہ ابہام کا شکار تھے۔ یہ ابہام ۱۹۴۸ء تک مو جود تھا۔
ایسا کیوں نہیں ہو سکا ؟ اس کے بے شمار اسباب ہیں۔ محمد اسد مرحوم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ یہاں اس تفصیل کا موقع نہیں، محض ایک وجہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو خود محمد اسد نے بیا ن کی ہے۔ان کے مطابق، اُس وقت قوانینِ شریعت کا کوئی ایسا جامع ضابطہ(code) موجود ہی نہیں تھاجو قابلِ نفاذ ہو۔ ان پر یہ بھی واضح تھا کہ یہ کام روایتی علما کے بس کا نہیں ہے۔ یہی سبب تھا کہ انہوں نے اپنے ادارے کے ساتھ جن علما کو وابستہ کیا، وہ اس عہد میں اپنی روشن خیالی کے سبب ممتاز تھے، جیسے مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا جعفر شاہ پھلواری اور مظہرالدین صدیقی۔
مسلم لیگ کے متوازی مسلمانو ں کی ایک اور تحریک بھی منظم ہو رہی تھی۔ یہ جماعت اسلامی تھی۔ مسلم لیگ کے برخلاف اس کی قیادت ایک جید عالم کے ہاتھ میں تھی اوروہ اسلامی ریاست کے معا ملے میں کسی ابہام کا شکارنہیں تھے۔ مولانا مودودی نے جدید ریاست کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے دین کی تعبیر کی اور اس کے ساتھ اسلامی ریاست کی وضاحت کی۔ ان کے خیال میں اسلام ایک دین ہے اور اگر عصری لغت میں ’’ دین‘‘ کے قریب تر مفہوم رکھنے والا کوئی لفظ موجود تھا تو وہ ’’سٹیٹ‘‘ تھا۔ مسلم لیگ کے ابہام کے مقابلے میں جماعت اسلامی اس باب میں واضح تھی۔ وہ اسلامی ریاست کا مفہوم بتا رہی تھی۔ اس کو برپا کرنے کی حکمت عملی کو دو اور دو چار کی طرح بیان کر رہی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ جدید ریاستی اداروں کی اسلامی تشکیل کے باب میں بھی ایک نقطہ نظر رکھتی تھی۔
قیامِ پاکستان کے بعد مسلم لیگ کو جب ایک جدیدریاست کے قیام کا چیلنج درپیش ہوا تو اس کی اسلامی تشکیل کے لیے اس کے پاس کوئی متعین راستہ موجود نہیں تھا۔ یہ بات بھی اپنی جگہ اس پر اخلاقی دباؤ کا باعث تھی کہ وہ برصغیر کے مسلمانوں سے یہ وعدہ کر چکی تھی۔ قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی جماعت اسلامی اسلامی دستور کے نفاذ کا مطالبہ لے کر کھڑی ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ’’جرم‘‘ میں ’’اسلامی ریاست‘‘ میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ جماعت اسلامی نے ایک حد تک دوسرے علما کو بھی اپنا ہم نوا بنا لیا اور اس کے نتیجے میں علما کے بائیس نکات سامنے آ گئے۔ اسی دباؤ کے نتیجے میں ۱۹۴۹ء میں قراردادِ مقاصد بھی منظور ہو گئی۔ یوں مسلم لیگ دھیرے دھیرے اپنی کمزوری کے سبب پیچھے ہٹتی گئی اور جماعت اسلامی کے تصور اسلامی ریاست نے اس خلا کو بھر دیا جو مسلم لیگ کی فکری نا اہلی کے سبب موجود تھا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ علامہ اقبال کی فکر پسِ منظرمیں چلی گئی اور اسلامی ریاست کا وہ تصور غالب آ گیا جو مولانا مودودی کی فکر سے پھوٹی تھا۔ جماعت اسلامی نے اپنی ابلاغی صلاحیت سے یہ مقدمہ بھی قائم کر دیا کہ علامہ اقبا ل او قائد اعظم دراصل وہی اسلامی ریاست چاہتے تھے جس کا تصور جماعت اسلامی دے رہی ہے اور یوں تحریکِ پاکستان کے فکری وارث وہی ہے۔ مولانا طفیل محمد مرحوم نے اس ’’ یکسانیت‘‘ کو یوں بیان کیا کہ جماعت اسلامی اس کے سوا کیا ہے کہ مسلم لیگ کا اردو ترجمہ ہے۔
اب جو لوگ جماعت اسلامی یا اس کے خیالات کے مخالف ہیں، وہ اس تاریخی مغالطے کو شاید صحیح تناظر میں سمجھ نہیں پائے۔ وہ اس کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے کہ علامہ اقبال یا قائد اعظم کے تصور اسلامی ریاست کو واضح کرتے ہوئے، اسے جماعت اسلامی کے تصورِ ریاست سے مختلف ثابت کرتے۔ اپنے فکری افلاس کے سبب انہوں نے رد عمل میں قائد اعظم کو سیکولر ثابت کرنا چاہاکیونکہ وہ خود پاکستان کو اسی طرح دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات چونکہ خلافِ واقعہ تھی، اس لیے انہیں یہاں کوئی سایہ ء دیوارنہ مل سکا اور انہیں حقائق کی دھوپ کا سامنا کرنا پڑا۔
میرا تاثر یہ ہے کہ اگر اس تاریخی مغالطے کو دور کرتے ہوئے، یہ سمجھنے کی شعوری کوشش کی جائے کہ علامہ اقبال اور قائداعظم کے پیش نظراسلامی ریاست کا تصور کیا تھا تو شاید قائد اعظم کو سیکولر ثابت کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے۔ تاہم جو پاکستان کو سیکولر ریاست بنانا چاہتے ہیں، ان کے سامنے ایک راستہ ہے کہ وہ اپنے مطالبے کو قائد اعظم کی فکر سے آزاد کرتے ہوئے پیش کریں۔ اس پسِ منظر میں طالبان اور قائد اعظم کاتقابل بے معنی ہوگا۔ انہیں اس پر ریفرنڈم کرانا چاہیے کہ پاکستانی ریاست کے نظری خدو خال کا تعین اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہوگا یا سیکولر تصورات کی روشنی میں۔ تاریخ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ واقعات سے عبارت ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف نظریات کی بحث دلیل و استدلال کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہے۔ سیکولرزم کے علمبر دار اگر پاکستان کی نظری تشکیل کے سوال کو قائد اعظم سے آزاد کرتے ہوئے زیرِبحث لائیں گے تو انہیں آسانی ہوگی۔ پھر بحث عقلی اور فکری دائرے میں ہوگی، تاریخ کے دائرے میں نہیں۔ 

قاضی صاحب پر حملہ

قاضی حسین احمدصاحب کو اللہ نے محفوظ رکھا۔اطمینان کے گہرے احساس کے ساتھ میں نے یہ خبر سنی۔لیکن اس حادثے پرجب محترم قاضی صاحب کا پہلا ردِ عمل سامنے آیاتو مایوسی کی ایک لہر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔کیا پیش پا افتادہ حقائق پر ان کی نظر نہیں پڑی؟کیا ابھی وقت نہیںآیا کہ وہ اپنا سینہ لوگوں کے سامنے کھول دیں؟

یہ سوالات ذہن میں اس وقت بھی پیدا ہوئے تھے جب جی ایچ کیو پر حملہ ہوا۔جب کراچی اور کامرہ میں نیوی اور ایئر فورس ہدف بنی۔میں کسی ایسے صاحبِ بصیرت ،بلکہ صاحبِ بصارت کی توقع کر رہا تھا جو یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد پکار اُٹھے:
میں اگر سوختہ ساماں ہوں تو یہ روزِ سیاہ
خود دکھایا ہے مرے گھر کے چراغاں نے مجھے
افسوس کہ یہ خواہش کل پوری ہوئی نہ آج۔قاضی صاحب نے فرمایا: حملہ امریکا نے کرایا ہے۔وہ طالبان اور دینی جماعتوں میں فاصلے پیدا کرنا چاہتا ہے۔
امریکا کے خلاف ہمارا مضبوط مقدمہ ہے۔ ہمارا ہی نہیں‘ یہ عالم انسانیت کا مقدمہ ہے۔اس زمین پر بکھری ظلم کی ان گنت داستانیں خود ناطق اور امریکا کے خلاف گواہ ہیں۔ پھر پاکستان میں لوگ امریکا کے خلاف جو جذبات رکھتے ہیں‘ ہمیں ان کی خبر ہے۔امریکا کو سازش اور برائی کی ایک علامت ثابت کرنے کے لیے کسی مزید دلیل کی حاجت نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس حادثے کا بھی کیا امریکا سے براہ راست کوئی تعلق ہے؟
میرے نزدیک یہ مسلمان معاشروں کا ایک داخلی مسئلہ ہے۔سیاسی و تہذیبی مغلوبیت کے سبب ان میں اضطراب اور بے چینی ہے۔ وہ اس سے نکلنا چاہتے ہیں۔ ایک گروہ کے نزدیک اس کے تمام تر اسباب خارج میں ہیں۔ مسائل کی بنیاد امریکا ہے۔ وہ ہمیں زیر تسلط رکھنا چاہتا ہے۔ اس نے سازشوں کا جال بنااور پھر ہمیں اپنی اقتصادی و تہذیبی گرفت میں لے لیا ہے۔ مسلمان ممالک پر اس کے ایجنٹ مسلط ہیں اور ان سے نجات کے سوابہتری کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس نجات کے لیے جمہوریت اور انتخابات وغیرہ بھی دراصل امریکا اور مغرب کے تجاویز کردہ حل ہیں جن کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ اس لیے جو لوگ ان راہوں پر چل کر تبدیلی کا خواب دیکھتے ہیں‘ ان کی رائے قابل بھروسہ ہے نہ دیانت۔ نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ دین کے ماننے والوں کے مسلح جتھے بنائے جائیں اور وہ طاقت کے زور پر مسلمان ریاستوں کا انتظام سنبھال لیں۔ اتمامِ حجت کے لیے یہ گروہ حکمرانوں سے کہتاہے کہ وہ شریعت کے سامنے سرتسلیم خم کردیں۔ یہاں شریعت سے مراد وہی شریعت ہے جسے یہ گروہ شریعت کہتے ہیں۔ اگر حکمران یہ شرط قبول نہ کریں تو پھر ریاست کے خلاف ان کا اعلانِ جہاد ہے۔ اس معرکے میں جو ریاستی ادارہ‘ عام شہری‘ صحافی‘ عالم ،سیاست دان موجود نظام کا ساتھ دیتا ہے، غیر جانب دار رہتا ہے‘ وہ دراصل طاغوت کو مضبوط کرتا ہے‘ لہذا واجب القتل ہے۔ اس مقدمے میں عوام کہیں زیر بحث ہیں نہ ان کی رائے کی کوئی اہمیت ہے۔
دوسرے نقطہ نظر کے مطابق امریکی ومغربی تسلط کایہ بنیادی مقدمہ درست ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ مسلمانوں کو اس غلبے سے نجات حاصل کرنی چاہیے۔ تاہم اس کا راستہ مسلح جدوجہد نہیں ہے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ عوام کو ہم نوا بنایا جائے اور پھر ان کی تائید سے اقتدار تک پہنچا جائے۔ چونکہ انتخابات ہی ایک ایسا راستہ ہے جو عوامی رائے جاننے کا مستند ذریعہ ہے۔ اس لیے ہمیں اسی راستے سے تبدیلی کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ یہ نقطہ نظر اگرچہ مسلمان حکمرانوں کو طاغوت ہی کا ایجنٹ سمجھتا ہے لیکن ان کی بالفعل (defecto)حکومت کو تسلیم کرتا ہے۔ جماعت اسلامی‘ جمعیت علمائے اسلام وغیرہ اسی نقطہ نظر کی علمبردار ہیں۔ القاعدہ‘ تحریک طالبان پاکستان کا تعلق پہلے گروہ سے ہے۔
بنیادی مقدمہ ایک ہونے کے سبب دوسرا گروہ پہلے کی مخالفت نہیں کرتا۔ وہ اس حکمت عملی کو غلط کہتا ہے لیکن جب پہلا گروہ کسی کے ساتھ تصادم کی کیفیت میں ہوتا ہے تو جمہوریت پر یقین رکھنے والا گروہ اپنا سارا وزن پہلے گروہ کے پلڑے میں ڈال دیتا ہے۔پہلا گروہ اپنے نظریات میں زیادہ واضح اور حکمت عملی کے باب میں دواور دو چار کی طرح عمل کرنے کا قائل ہے۔ چونکہ وہ جمہوریت کو مغربی تہذیب ہی کا ایک مظہر سمجھتا ہے‘ اس لیے اس کے نزدیک اس کے علمبردار دراصل اسلام کے راستے کی رکاوٹ ہیں‘ قطع نظر اس کے کہ وہ کلمہ گو ہیں یا اسلام پسند۔ اس گروہ کے ہاں اس معاملے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ میں اپنے ایک کالم میں اس کا ذکر کرچکا کہ ایمن الظواہری صاحب نے اس حوالے سے کس طرح پاکستانی آئین اور ریاست کو غیر اسلامی قرار دیا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال حکیم اللہ محسود صاحب کی تازہ ترین وڈیو ہے جس میں انہوں نے قاضی حسین احمد صاحب کو جہاد فروش قرار دیا ہے اور جمہوریت کی حمایت پر ان کا کا رشتہ یہودی لابی سے جوڑا ہے۔
قاضی صاحب اور اس سے پہلے مولانا فضل الرحمن پر حملوں کے پس منظر میںیہی کش مکش کارفرما ہے۔ پہلا گروہ چونکہ مسلح جدوجہد کو بطور حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں‘ جس کا وہ شرعی اور اخلاقی جواز پیش کرتا ہے‘ اس لیے اس کے نزدیک افراد کا قتل کوئی معیوب بات ہے نہ انہونی۔خود قاضی حسین احمد صاحب اپنے ایک حالیہ مضمون میں اعتراف کرچکے کہ ان طالبان کے ہاتھوں جو لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ان کا تعلق جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام سے ہیں۔ میں نہیں جان سکا کہ اس واضح اعتراف کے باوجود انہوں نے یہ کیسے مناسب خیال کیا کہ اس خود کش حملے کو امریکا کے نامہ اعمال میں درج کرایا جائے۔
یہ موقع تھا کہ وہ اس قوم کے سامنے اپنا سینہ کھول دیتے۔ وہ قوم کی راہنمائی فرماتے کہ مسلمان سماج آج جس داخلی کشمکش سے گزررہے ہیں،ان پر حملہ دراصل اس کا شاخسانہ ہے۔ یہ تصادم صرف پاکستان میں نہیں ہے۔ جہاں جہاں دوسرا نقطہ نظر موجود ہے وہاں جمہوریت پر یقین رکھنے والے اسلام پسند بھی اس کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ مصر‘ شام‘ تیونیسیا اور انڈونیشیا میں اس تصادم کے بے شمار شواہد موجود ہیں۔ تیونیسیا میں موجودہ حکومت کے خلاف پہلے گروہ نے اعلان جہاد کردیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہاں راشد الغنوشی کی فکری قیادت میں تبدیلی آئی ہے جو اسلام پسند ہونے کے باوصف جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ مصرمیں آنے والے چند دنوں میں ہم یہی منظر دیکھنے والے ہیں۔ پاکستان میں اس کا آغاز ہوگیا ہے اور آئندہ عام انتخابات میں خدشہ یہ ہے کہ اس کے اور مظاہر بھی سامنے آئیں گے۔
کیا جمہوریت پر یقین رکھنے والی مذہبی جماعتوں پر یہ سب واضح نہیں ہے؟ میرا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا ذہن اس حوالے سے بالکل صاف ہے۔ جماعت اسلامی ابہام کا شکار ہے۔ اس کا اظہار خود کش حملے پر قاضی صاحب کے ردعمل سے ہورہا ہے۔ اس سے پہلے ملالہ پر حملے کو انہوں نے جس طرح متنازعہ بنایا اور اپنا وزن طالبان کے پلڑے میں ڈالا‘ اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔سید منور حسن سے جب قاضی صاحب کے بارے میں حکیم اللہ محسود کے تبصرے پر سوال ہوا تو فرمایا:’’یہ حکیم اللہ محسود کون ہے؟‘‘ میرا احساس ہے کہ ان جماعتوں کے پاس یہ آخری موقع ہے کہ شہادتِ حق کا فریضہ سرانجام دیں۔ وہ قوم پر واضح کریں کہ اسلام کے نفاذ کے دوراستے ہیں۔ ایک جمہوری اور ایک مسلح جدوجہد کے ذریعے۔ مسلمان سماج کو دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔بدقسمتی سے دفاعی اداروں کی طرح ایک ابہام مذہبی جماعتوں کے پاؤں کی زنجیر بنا ہوا ہے۔ دفاعی اداروں اور سیاسی مذہبی جماعتوں کو شاید پھر موقع نہ مل سکے۔ اب بھی انہوں نے اگر قوم کو سچ نہیں بتایا اور اس معاملے میں اپنی غلطیوں کا اعتراف نہ کیا تو اس کے بعد خاکم بدہن‘ شاید امید کا کوئی چراغ باقی نہ رہے۔

ریاست کے اندر ریاست

ریاست کے اندر ریاست قبول نہیں۔ مجھے وفاق المدارس کے مؤقف سے پورا اتفاق ہے۔ کسی سیاسی جماعت کو یہ حق نہیں کہ وہ مدارس کو نوٹس بھیجے اور ان سے کوائف طلب کرے۔ یہ اپنے دائرہ کار سے تجاوز ہے۔ تاہم ریاست کو یہ حق ہے کہ وہ معاشرتی اداروں کی تنظیم کرے۔ ظاہر ہے کہ اس میں مدارس و مساجد کی تنظیم بھی شامل ہے۔ اس ملک میں مذہب کے نام پر جس طرح انسانوں کی جان لینے کا رحجان پیدا ہوا ہے اور اس کی اعلانیہ وکالت ہو رہی ہے، سماجی امن کے لیے ناگزیر ہے کہ ریاست مذہبی اداروں کی تنظیم میں اپنا کردار ادا کرے۔

پاکستان کا استثنا ہے ورنہ ہر مسلمان ملک میں مذہبی سرگرمیوں کی تنظیم ریاست کرتی ہے۔ سعودی عرب، ایران، ترکی۔ ہر ملک میں مدرسہ اور مسجد کی تعمیر کے لیے ریاست کی اجازت ضروری ہے۔ ائمہ مساجد کا انتخاب بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سعودی عرب میں جمہوریت نہیں لیکن ترکی میں تو ہے۔ وہاں وزارت مذہبی امور کے اہتمام میں ’’دیانت‘‘ کا محکمہ قائم ہے۔ امام مسجد کے لیے ایک متعین معیار ہے۔ ایک سند یافتہ عالم ہی یہ استحقاق رکھتا ہے کہ وہ امامت کے منصب پر فائز ہو۔ مسجد میں اس کا قیام اہل محلہ کی صواب دید پر ہے۔ اگر لوگ شکایت کریں تو حکومت یہ حق رکھتی ہے کہ اسے معزول کر دے۔
تعلیمی ادارے کا قیام، مسجد کی تعمیر، فتویٰ کا اختیار، خلافت راشدہ میں بھی حکومت کے انصرام میں تھا۔ مسلمانوں کی روایت میں نماز جمعہ ہمیشہ مسلمانوں کا سیاسی اجتماع تھا۔ سربراہ حکومت دارالخلافہ میں اور اس کے مقرر کردہ عُمال دوسرے شہروں میں خطبہ دیا کرتے تھے۔ جب مسلمان اپنے سیاسی اقتدار سے محروم ہوئے اور ہمارے علما نے اپنی روایت کو زندہ رکھنے کا فیصلہ کیا تو محض نبابت کے تحت، جمعہ اور مسجد کا ادارہ ان کے پاس چلا گیا۔ ہندوستان میں انگریزوں کی آمد کے بعد اس پر علما کے مابین جو مباحث ہوئے، وہ کتابوں میں محفوظ ہیں۔ کہاں جمعہ کا اجتماع ہو سکتا ہے اور کہاں نہیں، فقہ کی ایک معروف بحث ہے۔ تین عشرہ پہلے تک یہاں یہ صورت حال رہی کہ دس بارہ گاؤں میں ایک آدھ ایسا تھا جہاں جمعہ کا اجتماع ہوتا تھا۔اپنے بچپن کی یہ یاد میرے حافظے سے محو نہیں ہوئی کہ ہمارے گاؤں میں جمعے کا اجتماع ہوتا تھا اور ارد گرد کے کم از کم چار گاؤں ایسے تھے جہاں سے لوگ نماز جمعہ کے لیے یہاں آیا کرتے تھے۔ گلی گلی جمعہ کے اجتماعات اصلاً مذہبی طبقے کی معاشی اور مسلکی ضروریات کی ضرورت ہے۔ ہماری روایت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
انگریزوں کے دور میں اس فیصلے کی حکمت واضح تھی۔ علما کا یہ فیصلہ اس عہد کے چیلنج کے پیش نظر درست تھا کہ روایت کو محفوظ بنایا جائے۔ مساجد اور دینی مدارس کا قیام اسی لیے تھا۔ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست پاکستان میں اس کا جواز ختم باقی نہیں رہا۔ لازم تھا کہ ریاست یہ ذمہ داری سنبھالتی اور معاشرے کی مذہبی ضروریات کا لحاظ رکھتے ہوئے کوئی انتظام کرتی۔ دو اسباب سے یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارا حکمران طبقہ دین سے دور ہوتا گیا اور وہ اس صلاحیت سے محروم ہو گیا کہ مذہبی پیش وابن سکے۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر جناب زرداری یا ان کی نیابت میں عبدالرحمان ملک صاحب دارالحکومت میں نماز جمعہ کی امامت فرمائیں تو کیا کیفیت ہوتی۔ یا شہباز شریف صاحب اور قائم علی شاہ صاحب لاہور اور کراچی میں اور رئیسانی صاحب کوئٹہ میں یہ فریضہ سر انجام دیں تو کیسے کیسے لطائف جنم لیں گے۔ دوسرا سبب یہ ہوا کہ مذہبی طبقے نے دین و دنیا کی ہم آہنگی سے یہ مراد لیا کہ سیاسی امامت بھی اہل مذہب کا کام ہے۔ یوں انہوں نے اپنی سیاسی ضروریات کے لیے مدرسے اور مسجد کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کی ٹھانی۔ گویا اہل اقتدار کی بے توفیقی کے سبب دینی تعلیم اور مساجد کے انصرام کے لیے ایک غیر ریاستی نظام وجود میں آیا۔ علما کا طبقہ معاشرتی ضرورت تو تھا، اس طبقے نے اپنے دائرے کو بڑھا لیا اور مدرسہ و مسجد کا کردار صرف مذہب تک محدود نہ رہ سکا۔ مسجد کو سیاسی تحریکوں اور کاموں کے لیے محاذ بنا دیا گیا۔
ایک المیہ یہ بھی ہوا کہ ریاست نے اپنے مقاصد کے لیے مدرسے اور محراب و ممبر کو استعمال کیا۔ اس کا نقطۂ آغاز اور نقطہ عروج ضیاء الحق صاحب کے دور تھا۔ یہ روایت بعد میں آنے والوں نے بھی قائم رکھی۔ محترم قاضی حسین احمد کی روایت کردہ جناب گل بدین حکمت یار کی اصطلاح مستعار لی جائے تو جب ’بی بی سی‘ کا اتحاد بنا تو انہی مدارس کے لوگ افغانستان میں ریاستی مقاصد کے لیے استعمال کیے گئے۔ آج اگر کوئی حکومت اس صورت حال کو بدلنا چاہتی ہے تو اسے مداخلت فی الدین کہا جاتا ہے اور ایسی ’’غیر اسلامی‘‘ حکومت کے خلاف تحریکیں اٹھا دی جاتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ جنرل مشرف جیسا لبرل حکمران دی بھی یہ جرات نہیں کرتا کہ مذہب کی تنظیم کو ریاست کے دائرے میں لے آئے۔
یہ حق یقیناًکسی سیاست جماعت کو نہیں کہ وہ مدارس کے کوائف جمع کرے لیکن ریاست کو ہے کہ وہ ان کی تنظیم کرے۔ ان کے قیام کو اگر نجی دائرے میں رہنا ہے تو اسے حکومتی ضوابط کے تحت لائے جس طرح عمومی تعلیم کے ادارے حکومت کے قوانین کے تحت قائم ہوتے ہیں۔ میرے علم کی حد تک دینی مدارس کے منتظمین کو بھی اس سے اختلاف نہیں۔ وزیر داخلہ کے ساتھ تنظیمات المدارس کا اتفاق ہو چکا لیکن حسب روایت اس پر بھی عمل نہیں ہو سکا۔ ایم کیو ایم کو بجائے خود کوئی اقدام کرنے کے، یہ مطالبہ کرنا چاہے کہ اس معاہدے کی پاس داری کی جا ئے اور اس باب میں ریاست اپنی ذمہ داری ادا کرے۔
دینی تعلیم اور مسجد ہماری سماجی ضرورت ہیں۔ یہ ریاست کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اکثریت کی دینی ضروریات کو پیش نظر رکھے۔ اس حوالے سے ریاست کی غفلت ضرب المثل ہے۔ میں اسلام آباد میں آج بھی دیکھتا ہوں کہ گرین بیلٹ پر مساجد تعمیر ہو رہی ہے۔ میری نظروں کے سامنے محض کچھ مہینوں میں چند اینٹیں ایک مکمل عمارت میں تبدیل ہو گئیں۔ اسلام آباد کی مرکزی سٹرک پر ایک ایک مدرسے کی عبارت میں دگنی توسیع ہو گئی۔ ریاست جب بروقت مداخلت نہیں کرتی تو بعد از خرابی بسیار جو قدم اٹھتا ہے، وہ تباہ کن ہوتا ہے۔ سوات میں فضل اللہ صاحب کی تحریک اور اسلام آباد میں لال مسجد کا سانحہ ریاست کی ایسی ناقابل تلافی غلطیوں کے مظاہر ہیں۔ سوات میں جب فضل اللہ صاحب نے ریڈیو پر اپنے خیالات کی ترویج کا آغاز کیا اور اپنے مرکز کی تعمیر شروع کی تو کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ ۲۰۰۷ء میں، میں جب سوات گیا تو مجھے دوستوں نے بتایا کہ وہ بارہ گھڑ سواروں کے ساتھ تلوار لٹکائے نماز جمعہ کی امامت کے لیے آتے ہیں اور کم و بیش پچاس ہزار کا اجتماع ہوتا ہے، ایسی غفلت کے مرتکب لوگوں کو ملالہ پر رونے کا کوئی حق نہیں۔
ریاست کے اندر ریاست نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بات مدارس، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں سمیت سب کے لیے قابل توجہ ہے۔

عالم اسلام کے معروضی حالات میں اصل مسئلہ

ڈاکٹر قاری محمد طاہر

مولانا زاہد الرشدی صاحب علم بھی ہیں اور صاحب فکر بھی اور اس کے ساتھ ساتھ صاحب قلم بھی ہیں اور صاحب لسان بھی۔ فکری راست روی کے حامل ہیں۔ ان تمام صفات کے ساتھ ساتھ ان میں فعالیت اور تحرک بھی موجود ہے۔ مولانا پچھلی دو دہائیوں سے ایک علمی و فکری ماہنامہ پابندی سے شائع کر رہے ہیں جس میں ’’کلمہ حق‘‘ کے عنوان سے کسی اچھوتے اور دلوں پر چھاتے ہوئے موضوع پر اظہار خیال کیا جاتا ہے جو قاری کو فکر کی نئی جہتیں عطا کرتا ہے اور صاحب علم کو کچھ کر گزرنے کی تحریک دے جاتا ہے۔ اسی ذیل میں اگست ۲۰۱۲ء کے الشریعہ میں انہوں نے ’’سنجیدہ اور ہوش مندانہ حکمت عملی کی ضرورت‘‘ کے عنوان سے اداریہ تحریر کیا ہے جو انتہائی فکر انگیز ہے۔ مذکورہ عنوان سے انہوں نے تین بنیادی باتوں کا تذکرہ کیا ہے:
۱۔ علمی و فکری موضوعات کے حوالے سے علماء کو دعوتِ فکر۔
۲۔ خلافت راشدہ کے بارے میں ردعمل۔
۳۔ مشرق وسطیٰ میں شیعہ سنی کشاکش کے ظاہری امکانات۔
یہ اداریہ انہوں نے مولانا زاہد حسین رشیدی کے ساتھ نجی گفتگو کے حوالے سے تحریر کیا ہے جس میں زیادہ تر بات چیت اہل تشیع اور اہل السنۃ کے مابین مسئلہ خلافت اور مسئلہ امامت کے بارے تک محدود تھی۔ زاہد الراشدی صاحب وسیع النظر اور وسیع المشرب ہیں۔ حالات کو عالمی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کی تحریر سے ہمیں تحریک ملی اور اصلی مسائل کی طرف توجہ دلانے کا حوصلہ ہوا۔ مولانا لکھتے ہیں کہ:
’’میری کوشش علماء، طلباء، مدرسین اور اصحاب فکر کو ان مسائل کی طرف توجہ دلانے کی ہوتی ہے جو امت مسلمہ کو کسی نہ کسی سطح پر درپیش ہوں، مگر ہماری عدم توجہ کی وجہ سے دوسرے علمی حلقوں میں وہ پہلے زیر بحث آجاتے ہیں جن کے نتائج فکر سے ہمیں اختلاف ہوتا ہے‘‘۔ 
مولانا نے اس حوالے سے عالم اسلام کے معروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض مسائل کا ذکر کیا ہے۔
علمی و فکری موضوعات پر اہل علم کو دعوت فکر دینے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔ اختلافات انسانی معاشرہ کا حصہ ہیں۔ ان کا حل تلاش کرنا بھی انسانی ضرورت ہے۔ مسائل کو ماضی کے تناظر میں اور محدود دائرہ میں رکھنا مناسب نہیں بلکہ عالم اسلام کے معروضی حالات کے وسیع تناظر میں دیکھنا ضروری ہے تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے صحیح سمت متعین کی جاسکے۔ نئی ایجادات، نئے ماحول نے مسائل میں بھی تنوع پیدا کر دیا ہے جس کی وجہ سے اس کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
اس حوالے سے ہماری رائے میں اس وقت پاکستان بلکہ عالم اسلام کا اہم ترین مسئلہ راست فکر اور راست عمل قیادت کی تلاش ہے۔ اس ضمن میں اہل علم، اہل فکر، صاحب الرائے اور صائب الرائے علماء کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ دنیا میں پھیلے ستاون اسلامی ممالک میں اسی چیز کا فقدان ہے اور مذکورہ قیادت کی تلاش کا واضح طریق کار بھی ہمارے ہاں موجود نہیں۔ اس مسئلے کی طرف گہری اور فوری توجہ نہ دی گئی تو عام مسلمان ہی نہیں بلکہ خواص بھی تشکیک و تذبذب کا شکار ہو سکتے ہیں اور اسلام کی جامعیت اور کاملیت سے ان کا اعتماد اٹھ سکتا ہے جس کی وجہ سے دین بیزار طبقے کو یہ کہنے کا موقع بھی مل سکتا ہے کہ اسلام دورِ حاضر کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا یا اسلام کے پاس اپنا کوئی سیاسی نظام موجود نہیں ہے۔ اگر جلد ہی اس گزارش پر توجہ نہ دی گئی اور علماء ، اہل فکر و دانش نے اسلام میں قیادت کی تلاش کا طریقہ وضع نہ کیا ’’تو طعنہ دیں گے بت کہ مسلم کا خدا کوئی نہیں‘‘ کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔ ہندوستان کی آن جہانی وزیراعظم اندرا گاندھی کے یہ الفاظ تاریخ کا حصہ ہیں ۔ انہوں نے پاکستان کی مقدس سرزمین ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں یہ بات علی اعلان کہی تھی کہ ’’پاکستان جس نظریہ کی بنیاد پر علیحدہ ہوا تھا، ہم نے وہ نظریہ بحر ہند میں غرق کر دیا ہے‘‘۔
دوسرا عنوان خلافتِ راشدہ کے بارے میں ردِعمل ہے۔ اس ضمن میں آپ کی رائے آپ ہی کے الفاظ میں یہ ہے:
’’خلافت راشدہ کے بارے میں میرا مشاہدہ اور تاثر یہ ہے کہ ہمارے ہاں اس کے صرف اعتقادی پہلو پر کسی حد تک بات کی جاتی ہے اور وہ اس جزوی دائرہ تک محدود رہتی ہے جس کا تعلق اہل تشیع کے ساتھ اختلاف و تنازع کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس سے ہٹ کر ہم خلافت اور خلافتِ راشدہ کے موضوع پر سرے سے بات ہی نہیں کرتے، حالانکہ ہماری عمومی دینی ضرورت یہ ہے جو آج کے عالمی سیاسی و تہذیبی تناظر میں اور زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ خلافتِ راشدہ کے نظام کی سیاسی بنیادوں، خلافتِ راشدہ کے معاشرتی ماحول، خلافتِ راشدہ کے معاشی اصولوں اور طریق کار، بیت المال، رفاہی ریاست، خلافتِ راشدہ کے دور میں معاشرہ کے مختلف طبقات کو حاصل ہونے والے مذہبی ، سیاسی، معاشرتی ا ور معاشی حقوق، خلفائے راشدینؓ کے طرزِ حکومت اور ان کے طرزِ زندگی اور آج کے عالمی سیاسی، معاشرتی اور معاشی نظاموں کے ساتھ خلافتِ راشدہ کے نظام کے تقابل و تجزیہ پر کھل کر بات کی جائے‘‘۔ 
مولانا کا تجزیہ اپنی جگہ وقعت رکھتا ہے، لیکن ہمارے نزدیک یہ مسئلہ بھی صالح قیادت اور اس کی تلاش کے واضح طریق کے فقدان ہی کا نتیجہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ زمانہ رسالت اور کتاب و سنت کو بنیاد بنا کر ایسی تحقیق کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ہم صالح اور باصلاحیت قیادت کی تلاش کی بنیادیں معلوم کریں۔ اس وقت پورا عالم اسلام سیاسی لحاظ سے جمہوریت ہی کو اپنا امام تصور کیے ہوئے ہے جبکہ جمہوریت قطعاً اسلامی طرز حکومت نہیں ہے، لیکن پوری دنیا میں جمہوریت کا پراپیگنڈا اس انداز سے کیا گیا ہے کہ ہمارے بڑے بڑے زعماء نے بھی جمہوریت ہی کو اسلامی طرزِ سیاست خیال کر لیا ہے اور بعض دینی جماعتوں نے تو اس کو اسلامی جمہوریت کا نام دے کر اس یہودی طرزِ سیاست کو مشرف باسلام کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس کی وجہ سے ہم اجتماعی طور پر اصل نظام حیات کو سرے سے بھلا بیٹھے ہیں اور پچھلے پینسٹھ برس سے مختلف اندھیروں میں بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ مفکر اسلام جناب علامہ اقبال کے افکار کا جائزہ لیجیے جو اس نظام کی مذمت میں ہمارے فکری امام ہیں۔ آپ کا فرمان ہے:
گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کارے شو
کہ از مغز دو صد خر فکر انسانے نمی آید
’’جمہوری طرز حکومت اور طرز سیاست سے دور بھاگو اور کسی پختہ کار یعنی نیک، متقی اور صالح قائد کو تلاش کرو اور اس کے غلام بن جاؤ کیونکہ دو سو گدھوں کی سوچ ایک انسان کی فکر کے برابر نہیں ہو سکتی۔ ‘‘
ایک جگہ آپ نے جمہوری نظام کو جبر و استبداد کا نظام قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں:
دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے آزادی کی ہے نیلم پری
تیسرے نکتہ ’’مستقبل قریب میں مشرق وسطیٰ کے اندر شیعہ سنی کشاکش کے ظاہری امکانات‘‘ کے ضمن میں مولانا کا کہنا ہے کہ:
’’مجھے (خاکم بدہن)مستقبل قریب میں مشرق وسطیٰ کے بہت سے علاقوں میں یہ کشمکش پھر سے شروع ہوتی دکھائی دے رہی ہے جبکہ خلافت عثمانیہ اور سلطان سلیمؒ کا دور دور تک نشان نظر نہیں آتا‘‘۔ 
اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ تینوں نکات دراصل نظام سیاست ہی سے تعلق رکھتے ہیں، چونکہ اس وقت پورے عالم اسلام نے جمہوریت ہی کو اپنا سیاسی قبلہ تصور کر لیا ہے اور ہمارے ہاں یہی ایک بہت بڑا خلا ہے جس نے یہ سارے مسائل پیدا کر رکھے ہیں۔ جب ہم اسلام کو مکمل نظام حیات مانتے ہیں تو پھر ہمارے ہاں تلاش قیادت کا واضح تصور کیوں نہیں ہے؟ اگر کہا جائے کہ واضح تصور تقویٰ اور بسطۃ فی العلم و الجسم کے حوالے سے قرآن دیتا ہے تو پھر اسی صفات کے حامل افراد کو تلاش کیسے کیا جائے؟ اس کا طریق کار ہمارے ہاں واضح نہیں اور یہی خلا ہمارے تمام مسائل کی جڑ ہے۔ اس معاملے میں ہماری کیفیت اس بھٹکے ہوئے مسافر کی سی ہے جو راستہ طے تو کر رہا ہے، تھک بھی رہا ہے، لیکن سمت منزل سے بے خبر ہے۔ قومِ بنی اسرائیل کی طرح سارا دن چلتے رہنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ہم تو اسی جگہ کھڑے ہیں جہاں سے سفر شروع کیا تھا۔ علامہ نے فرمایا:
منزل ہے کہاں تیری اے لالۂ صحرائی
بھٹکا ہوا راہی تو بھٹکا ہوا راہی میں
ہم گذشتہ چودہ سو برس سے اس لفظی بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ اسلام کا سیاسی نظام خلافت ہے یا امامت۔ یہ ایک لفظی بحث ہے، وگرنہ مقصد دونوں میں نیک صالح اور متقی اور صاحب کردار قیادت کو تلاش کرنا ہی ہے۔ اس میں کسی کو بھی اختلاف نہیں ہوسکتا۔ اس لیے لفظی مباحثہ کو چھوڑ کر اصل کی طرف رجوع کرنا، اصل اصول ہے۔ اہل تشیع یا اہل السنۃ دونوں کا مشترک ہدف بھی یہی ہے جس میں اختلاف کی گنجائش نہیں۔ جہاں تک لفظی بحث کا تعلق ہے تو علامہ اقبال کا فرمان ہے:
الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے
ہمیں اصل مسئلہ کو سمجھنا اور اس کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں ہمیں ان ادوار سے مدد مل سکتی ہے جب خلافت و راثت میں تبدیل نہیں ہوئی تھی اور تقویٰ، تدین، طہارت، عزت نفس، صدق و امانت ہی کو معیار قیادت خیال کیا جاتا تھا۔ اگر اس خلا کو پر کرنے میں ہم کامیاب ہو جائیں اور اجتہاد کے ذریعے تلاش قیادت کا واضح نظام مرتب کریں تو یہ عمل اس خلیج کو پاٹنے میں ممد و معاون ہوگا جو مختلف مکاتبِ فکر میں موجود ہے۔ ہمارے نزدیک سارے مسائل اسی خلا کے برگ و بار ہیں جو امت اسلامیہ میں اس وقت موجود ہیں۔ 

نابالغی کا نکاح اور سیدہ عائشہؓ کی عمر ۔ چند نئے زاویے (۱)

مولانا محمد عبد اللہ شارق

معاصر مفکرین ومحققین کے نزدیک حضرت عائشہؓ کی عمر کا مسئلہ کچھ زیادہ ہی اہمیت اختیارکرتا چلا جارہا ہے۔ ہماری نظر میں ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ کی عمر کو موضوعِ بحث بنانے کے تین مقاصد ہوسکتے ہیں:
1۔ کم سنی اور نابالغی کے نکاح کی شرعی حیثیت متعین کرنا۔
2۔ حضرت عائشہؓ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کو غیر اخلاقی ثابت کرکے آپ کی شخصیت کو داغ دار کرنا اور آپ کی حیثیت کو چیلنج کرنا۔
3۔ اس نکاح کو اخلاقی ثابت کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرنا۔

نابالغی کے نکاح کا شرعی تصور/ (پہلا مقصد):

جہاں تک کم سنی اور نابالغی کے نکاح کی شرعی حیثیت کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں دینی تعلیمات دیگر ذرائع ووقائع اور آثار واخبار سے بھی معلوم کی جاسکتی ہیں۔ نیز امت کی اجماعی روایات اور دین کی مطلق اخلاقی وروحانی تعلیمات سے بھی اس سلسلہ میں مدد لی جاسکتی ہے جبکہ مختلف معاشرتی وسماجی عوامل او رخارجی احوال کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کم عمری اور نابالغی کے نکاح کا شرعی حکم مقاصدِ شریعت کی روشنی میں مختلف مواقع او رعلاقوں کے لیے مختلف بھی ہوسکتا ہے۔ نابالغی کے نکاح کی شرعی حیثیت متعین کرنے کے لیے حضرت عائشہؓ کی عمر کا معاملہ ہمارے لیے راہ نمائی کا واحد ریعہ نہیں ہے کہ اسے ہی آراء وابحاث کی معرکہ اندازی کا میدان بنایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں امام بخاریؒ نے صحیح البخار ی میں نکاحِ عائشہ کی روایت کا ذکر کرکے اس سے استدلال کیا ہے کہ نابالغی کا نکاح درست ہے اور یہ کہ نابالغہ کا نکاح بالغ سے ہوسکتا ہے تو شارحینِ بخاری نے اس پر یہ تعریض کی کہ اس استدلال میں کوئی خاص فائدہ نہیں کیونکہ یہ مسئلہ اجماعی اور اتفاقی ہے۔ (فتح الباری جلد نمبر ۹، صفحہ نمبر ۱۵۴) فقہاء کا اجماع اس سلسلہ میں کوئی بھی رائے قائم کرنے کے لیے ہماری مدد کرتاہے۔
نیز نکاحِ عائشہ کے علاوہ کم از کم ایسے دو اور واقعات ہماری نظر سے گزرے ہیں جن میں واضح طور پر قرنِ اول کے اندر ہونے والے نابالغی کے نکاح کا ذکر ہے ۔ دیکھیے:
1۔ حضرت قدامہ بن مظعون صحابی نے حضرت زبیر کی نومولود لڑکی سے اسی دن نکاح پڑھایا جس دن وہ پیداہوئیں۔ (مرقاۃ، ملا علی قاری، جلد ۳، صفحہ ۴۱۷)
2۔ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام سلمہؓ کے کم سن لڑکے سلمہؓ کانکاح حضرت حمزہؓ کی نابالغ لڑکی سے کیا۔ (احکام القرآن، امامِ جصاص، جلد ۲، صفحہ ۵۵)
(بحوالہ:سیرتِ عائشہ معہ ضمیمہ’’ تحقیقِ عمرِ عائشہ‘‘ سید سلیمان ندویؒ، صفحہ۳۰۱ )
یہی وجہ ہے کہ امام شافعی لکھتے ہیں:
’’وزوج غیرواحد من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابنتہ صغیرۃ‘‘ [کتاب الأم، باب النکاح، جلد۸، صفحہ ۳۶۵]
یعنی ’’متعدد صحابہ کرام سے اپنی اولاد کا نابالغی میں نکاح کرنا ثابت ہے۔‘‘ 
کئی مفسرین نے تو اس سے بھی بڑھ کر یہ دعوی کیا کہ نابالغی کے نکاح کا اصولی جواز صرف روایات یا اجماعِ امت سے ہی نہیں، بلکہ قرآنِ مجید سے ثابت ہے۔امام ابوبکراحمد الرازی الجصاص بہت شدومد سے اس کے قائل ہیں۔ ان کا استدلال سورۃ النساء کی آیت نمبر۱۲۷ سے ہے جو یہ ہے: ’’وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنی۔۔۔‘‘اپنے استدلال کی بنیاد انہوں نے حضرت عائشہؓ اور حضرت ابنِ عباسؓ کے تفسیری اقوال پررکھی ہے اور اپنی تفسیر میں باقاعدہ اس کے لیے ’’باب تزویج الصغار‘‘ یعنی’’ نابالغوں کے نکاح‘‘ کا عنوان قائم کیا ہے۔ چار صفحوں پر محیط یہ تفصیلی گفتگوان کی تفسیر ’’احکام القرآن‘‘جلد۲ میں صفحہ ۷۵ سے ۸۰تک ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
مقصود یہ عرض کرنا ہے کہ نابالغی کے نکاح کی شرعی حیثیت متعین کرنے کے لیے ہمارے پاس نکاحِ سیدہ کا معاملہ راہ نمائی کا کوئی واحد ذریعہ نہیں، بلکہ اس سلسلہ میں دیگر کئی ذرائع بھی ہماری مدد اور راہ نمائی کے لیے موجود ہیں اور اس سلسلہ میں کسی ایک متعین فیصلہ تک پہنچنے کے لیے نکاحِ سیدہ کے علاوہ مسئلہ کے ان دیگر تمام متعلقات کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔چنانچہ اگر بالفرض نکاح کے وقت حضرت عائشہؓ کی بلوغت ثابت ہوجائے تو اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ کم عمری میں کیا گیا نکاح بالکل درست نہیں‘ اور اگر نکاح کے وقت ان کی کم سنی والی روایات ہی درست ہوں تو ضروری نہیں کہ دنیا کے ہر معاشرے اور سماج کے لیے کم سنی کے نکاح کا علی الاطلاق شرعی جواز اس سے ثابت ہوجائے۔
نابالغی کے نکاح کے بارہ میں فقہاء کی آراء کا خلاصہ یہ ہے کہ سلف وخلف اور بلادِ اسلامیہ کے جمیع فقہاء کے نزدیک یہ فی الجملہ جائز ہے(احکام القرآن، جصاص، جلد۲، صفحہ ۸۰۔۔فتح الباری جلد نمبر ۹، صفحہ نمبر ۱۵۴)مگر واضح رہے کہ یہ اجماع اجمالی حکم کی حدتک ہے اور فقہاء کا اجماع اکثروبیشتر بس اسی حدتک ہی ہوتا ہے، ذیلی جزئیات وتفصیلات سے اس کا تعلق نہیں ہوتا۔مثلاً نماز کو لیجئے، یہ بلاشبہ فرض ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے، مگر کون سی نماز،  کب اور کس ہیئت و کیفیت کے ساتھ کس معنی میں فرض ہے۔ اس میں فقہاء کے ہاں آراء کا جو تنوع او رتوسع پایا جاتا ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اسی طرح تصویر کے معاملہ کو لیجئے! اس میں شک نہیں کہ یہ حرام ہے اور اس میں بھی کسی فقیہ کا اختلاف نہیں، مگر کیا ہر قسم کی تصویر ہر موقع پر حرام ہے؟ظاہر ہے کہ نہیں! تقریباً ہر مجتہد اور فقیہ کے ہاں اس میں کچھ مستثنیات پائی جاتی ہیں جو تصویر ہونے کے باوجود جائز ہیں۔’’الشریعہ‘‘ کے لیے لکھے گئے اپنے ایک مضمون’’دھڑکَٹی تصویراور فقہِ حنفی‘‘(شمارہ جون 2011ء ) میں بھی ہم اس پہلو پر بات کر چکے ہیں۔اب نابالغی کے نکاح کی شرعی حیثیت کا معاملہ بھی ایسے ہی ہے۔ اگر چہ سب فقہاء کے ہاں یہ اصولی طور پر جائز ہے، مگر ایسا نہیں کہ ہر سماج، ہر خاندان، ہر فرد، ہرزمانہ اور ہر علاقہ کے لیے ہر فقیہ کے نزدیک کم سنی کے نکاح کا یہی حکم ہو۔ تقریباً ہر فقیہ نے کم سنی میں کیے جانے والے نکاح کو کئی طرح کی شرائط او رجکڑبندیوں کا پابند بنایا ہے اور اس کے علی الاطلاق شرعی جواز پر اجماع تو کجا، شاید کوئی ایک فقیہ بھی اس کا قائل نہیں ہے۔ ان شرائط اور قیودات کا ایک نمونہ ذیل میں ملاحظہ کیجئے: 
1۔ امام مالکؒ اور احمد بن جنبلؒ کے نزدیک نابالغ کا نکاح سوائے باپ کے کسی کے لیے کرانا جائز نہیں۔ کوئی اور کرادے تو وہ کالعدم تصور ہوگا۔
2۔ امام شافعی ؒ کے نزدیک اگرچہ دادا کو بھی اس کا اختیار حاصل ہے، لیکن اگر نابالغ کا چچا، بڑا بھائی یا کوئی اور ایسا کرنا چاہے تو اسے اس کی اجازت نہیں ہوگی۔
3۔ احناف کے نزدیک نابالغی کے کسی بھی نکاح میں دیکھا جائے گا کہ آیا ہر لحا ظ اور ہر پہلو سے نابالغ کے مصالح اور مفادات کو تحفظ دیا گیا ہے یا نہیں؟نکاح کرانے والا سرپرست اگر اپنی حماقت، بدتدبیری، کسی خارجی دباؤ، ذاتی مفاد یا کسی اور وجہ سے نابالغ کے مصالح اور مفادات کا تحفظ کرنے میں کوتاہی برت رہا ہے تو یہ نکاح شرعاً غیر نافذ ہوگا، خواہ وہ سرپرست باپ یا دادا ہی کیوں نہ ہو۔ان کے ہاں بنیادی ضابطہ یہ ہے : الولایۃ مقیدۃ بشرط النظر والشفقۃ۔
4۔ اگر نابالغ کے مصالح کا لحاظ کیا گیا، مگر نابالغ خود اس نکاح سے غیر مطمئن اور ناخوش ہے تو بالغ ہونے پر اسے حق حاصل ہے کہ اس نکاح کو فسخ کردے، اسے ’’خیارِ بلوغ‘‘ کہتے ہیں۔
5۔ نیز احناف کے نزدیک اگر سرپرست خوفِ خدا نہ رکھتا ہو، آخرت سے غافل ہواور معاصی کا ارتکاب بے باکی سے کرتا ہوتو ایسے سرپرست کو بھی نابالغ کے نکاح کرانے کا حق نہیں۔
6۔لڑکی کے ساتھ مباشرت اس وقت تک نہ کی جائے جب تک کہ اس میں مباشرت کی قابلیت پیدا نہ ہوجائے۔ یہ قابلیت ہر علاقہ کے موسم، اخلاق واقدار،  گفتار اور طرزِ بودوباش کے اعتبار سے مختلف اوقات میں پیدا ہوتی ہے۔ حضرت عائشہؓ کے ایک ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی نو سال کی عمر میں اس قابل ہوجاتی ہے۔ (ترمذی۔۱۱۰۹)ان کا یہ فرمان غالباً اپنے زمانہ، علاقہ اوراہلِ علاقہ کے تجربات کی بنیاد پر ہوگا۔(مذکورہ تمام شرائط متعلقہ فقہی کتابوں میں بآسانی تلاش کی جاسکتی ہیں)
7۔ اگر سرپرست غیر مسلم ہو تو خواہ وہ باپ ہی کیوں نہ ہو، فقہاء کا اتفاق ہے کہ اسے نابالغ اولاد کے نکاح کا حق نہیں۔ (احکام القرآن، جصاص، جلد۲، صفحہ ۷۸)
فقہاء کی طرف سے نابالغی کے نکاح پر عائد کی گئی مختلف اجتہادی شرائط کا یہ ایک ہلکا سانمونہ ہے۔ یہ چند شرائط اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ کم سنی کا نکاح فقہاء کے نزدیک علی الاطلاق جائز کبھی نہیں رہا ۔
فقہِ حنفی کی مایہ ناز کتاب ’’الہدایہ‘‘ میں ان اختلافی امور اور شرائط پر جتنی گفتگو کی گئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ احناف کے ساتھ ساتھ غیر حنفی فقہاء کا مطمحِ نظر بھی یہی ہے کہ بچے کے حقوق اور مستقبل کا تحفظ کسی طرح یقینی بنایا جائے۔انہوں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ نابالغی کے نکاح کا فی الجملہ شرعی جواز بھی دراصل بچہ کے ساتھ شریعت کی شفقت کی وجہ سے ہے۔اس کی تفصیل انہوں نے یوں بیان کی ہے کہ نکاح کے بہت سے مصالح عمدہ اور اچھے رشتہ کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں، جبکہ یہ رشتہ ہر وقت دستیاب نہیں ہوتا۔ سرپرست کو نابالغ کے نکاح کا اختیار اس لیے دیا گیا ہے کہ اگر نابالغی میں کوئی اچھا اور جوڑ کار شتہ مل رہا ہے تو اسے حاصل کرکے نابالغ کے مصالح کا بروقت تحفظ کیا جائے۔ ’’الہدایہ‘‘ کی اصل عبارت یہ ہے جس کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھنے کے قابل ہے: ’’ہو موافق للقیاس، لان النکاح یتضمن المصالح، ولا تتوفر الا بین المتکافئین عادۃ، ولایتفق الکفؤ فی کل زمان، فاثبتنا الولایۃ فی حالۃ الصغر احراز اللکفؤ‘‘ (الہدایہ، جلد۳، صفحہ ۳۳)’’یعنی سرپرست کو نابالغ کے نکاح کا اختیار دینا عقل اور مصلحت کے عین مطابق ہے، کیونکہ نکاح اپنے اندر کئی مصالح اور مقاصد رکھتا ہے۔ ان مصالح کی کماحقہ دستیابی اسی صورت میں ممکن ہوسکتی ہے کہ عقدِنکاح دو جوڑکے رشتوں میں ہو‘ مگر یہ جوڑ کا رشتہ ہر وقت ملتا نہیں۔سرپرست کو مذکورہ اختیار اس لیے دیا گیا کہ اگر نابالغ کے بچپن میں ایسا کوئی جوڑ کا رشتہ مل رہا ہے تو اسے محفوظ کر لیا جائے۔‘‘
سرپرست کو نابالغ کے نکاح کا اختیار دینے میں یہی حکمت، مصلحت اور ’’علۃ‘‘ مضمر ہے جس کی وجہ سے احناف نے اس ’’اختیار‘‘ اور ’’ولایت‘‘ کو ان بہت سی شرائط کا پابند بنایا ہے جن میں سے اکثر کا گذشتہ سطور میں ذکر ہوا ہے۔ ان شرائط کا سوائے اس کے کوئی فائدہ نہیں کہ نابالغ کے ساتھ شفقت کے تمام تقاضے پورے ہوں۔ کیونکہ سرپرست کو نابالغ کے نکاح کرانے کا اختیار محض اس لیے دیا گیا ہے کہ نابالغ کے مصالحِ شفقت کو یقینی بنایا جائے۔ اب اگر یہی اختیار کسی خاص ماحول، معاشرہ یا صورتِ حال میں اس کی حق تلفی کا ذریعہ بن جائے تو سرے سے اس اختیار کی وجہِ جواز ہی ختم ہوجاتی ہے۔ نابالغی کے نکاح کی یہ مذکورہ توجیہ تسلیم کر لی جائے تو نابالغی کے نکاح کا شرعی جواز دراصل اہلِ قرابت اور رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کے قرآنی حکم کا حصہ قرار پائے گا اور اس میں نابالغ کی حق تلفی کا کوئی شیبہ بھی باقی نہیں رہے گا۔ جصاصؒ نے امام ابنِ شبرمہؒ (تابعی) اور حاتم اصمؒ (حنفی فقیہ، صوفی بزرگ) سے نقل کیا ہے کہ وہ فقہاء کے تمام تر اجماع کے باوجود باپ اور دادا کو بھی نابالغ کے نکاح کرانے کا اختیار نہیں دیتے، شایدان کی یہ رائے ان کے ایسے ہی کسی مشاہدہ یا تجربہ کی بنیاد پر ہوگی کہ ان کے زما نہ وعلاقہ کے لوگ اس طرز کے نکاح میں نابالغ کے مصالح کی رعایت نہیں کرتے اور قرابت داروں کے ساتھ احسان کرنے کے قرآنی حکم کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں، ورنہ ان دو جلیل القدر بزرگوں کی طرف سے اس اجماعی معاملہ کی مخالفت کی کوئی وجہِ جواز نظر نہیں آتی۔ واللہ اعلم! 
اگر روایات کے برخلاف حضرت عائشہؓ کی عمر بڑھانے پر اس لیے قوتیں صرف کی جارہی ہیں کہ نابالغی کے نکاح کو ناجائز ثابت کیا جائے یا ان کی عمر گھٹانے پر اس لیے اصرار کیا جارہا ہے کہ یوں نابالغی کے نکاح کا جواز ثابت کیا جائے تو ہماری نظر میں یہ کوئی بہت مفید کوشش نہیں۔ اس کا اصولی جواز تو امت کے اجماع، عملی روایت اور دیگر آثار وروایات سے ہی ثابت ہے، جبکہ ہمارے حنفی فقہاء نے نابالغوں کے نکاح سے متعلق امت کی اجماعی روایت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے جواز کو جن متوازن اور متناسب شرائط کا پابند بنایا ہے، ان کے بعد نہ تو نابالغوں کی حق تلفی کا کوئی خدشہ باقی رہتا ہے اور نہ ہی اس مسئلہ پر زیروپوائنٹ سے غور وفکر شروع کرنے کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ ہم ثابت یہ کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ کم سنی اورنابالغی کے نکاح کی شرعی حیثیت متعین کرنے کے لیے حضرت عائشہؓ کے نکاح کا معاملہ ہماری راہ نمائی کے لیے کوئی حتمی، قطعی اور واحد ویکتا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے شریعت کے دیگر مآخذ، بنیادی اصول وضوابط، امت کی اجماعی روایت، جملہ آثاروروایات اور مقاصدِ شریعت کے ساتھ ساتھ ہر علاقہ، زمانہ اور معاشرہ کے مخصوص عرف، تعامل، تمدن اور نفسیات سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں اور دشواریوں کو بھی سامنے رکھنا ہوگااور فقہاءِ کرام کی اجتہادی مساعی سے بھی اس سلسلہ میں استفادہ کرنا ہوگا۔ تب ہی روحِ شریعت کے مطابق اس کے جواز یا عدمِ جواز کا کوئی درست نتیجہ اخذ کیا جاسکے گا۔

دوسرا مقصد:

یہ مقصد کسی غیر مسلم مستشرق کا ہوسکتا ہے جو نکاح ورخصتی کے وقت حضرت عائشہؓ کی کم عمری کو موضوع بنا کر اسے ایک غیر مہذب اورغیر اخلاقی فعل ثابت کرنا چاہتا ہے اور یوں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو داغ دار کرکے آپ کی نبوت ورسالت پر سوالیہ نشان کھڑے کرنا چاہتا ہے۔تاہم یہ مذموم مقصد کسی بھی مسلمان صاحبِ علم کا نہیں ہوسکتا۔

سیدہ عائشہؓ کے نکاح کی اخلاقی حیثیت(تیسرا مقصد):

جن مسلمان اور معاصر اہلِ علم کی نظر میں یہ مسئلہ اہمیت رکھتا ہے اور وہ اس پردادِ تحقیق دے رہے ہیں تو بالعموم ان کا مقصد شاید یہی رہا ہے کہ مستشرقین کے اعتراضات کے جوابات دے کر حضرت عائشہؓ کے نکاح ورخصتی کے معاملہ کو ہر لحاظ اور ہر پہلو سے ایک مہذب اور اخلاقی معاملہ ثابت کیا جائے۔ تاہم اس سلسلہ میں ان مسلمان اہلِ علم نے اپنی اپنی افتادِ طبع اور فکری رجحان کے تحت دو مختلف راستے اختیار کیے ہیں۔
بعض حضرات نے غیرمسلم مفکرین اور معترضین کے اس بنیادی مقدمہ کو تسلیم کیا ہے کہ چھ سال کی عمر میں نکاح اور نو سال کی عمر میں رخصتی واقعی ایک غیر اخلاقی فعل ہے، مگر پھر انہوں نے دعوی کیا ہے کہ حضرت عائشہؓ کی عمر نہ تو نکاح کے وقت چھ سال تھی اور نہ ہی رخصتی کے وقت نوسال، بلکہ بعض تاریخی روایات کی کڑیاں جوڑ کر انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ نکاح کے وقت ان کی عمر تقریباً پندرہ اور رخصتی کے وقت تقریباً اٹھارہ سال تھی۔اس سلسلہ میں انہوں نے بعض دورازکار قسم کی تاویلات کا سہارا لے کر حدیث وسیرت کے ذخیرہ میں پائی جانے والی ان تمام روایات کو مسترد کردیا ہے جن میں حضرت عائشہؓ کی کم عمری اور نابالغی کا ذکر ہے۔ اس اندازِ فکر میں مغربی مستشرقین کے اعتراضات سے غیر شعوری مرعوبیت کی ایک جھلک سی نظر آتی ہے۔
دوسری طرف بعض حضرات نے سرے سے معترضین کے اس مقدمہ کو ہی تسلیم نہیں کیا کہ چھ اور نوسال کی عمر میں نکاح ورخصتی کوئی معیوب بات ہے۔ اس لیے ان کے نزدیک ان صریح روایات میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں جن میں بوقتِ نکاح حضرت عائشہؓ کی نابالغی کا ذکر ہے۔ ہمارا نکتۂ نظر بھی یہی ہے۔اس نکتۂ نظر کے قائل مختلف حضرات نے اپنے اپنے انداز میں اس کو ثابت کیا ہے۔ معمولی اختلاف کے ساتھ اس سلسلہ میں ہمارے استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی چیز ہمیں بری لگتی ہے تو ضروری نہیں کہ فی الواقع بھی اس میں کوئی معیوب بات ہو۔ بنیادی اخلاقیات کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہئے، ظلم نہیں کرنا چاہئے،  گندگی نہیں پھیلانی چاہئے، دھوکہ نہیں دینا چاہئے، وغیرہ وغیرہ۔۔۔ان میں تو کسی کا اختلاف نہیں، لیکن بعض اوقات سماجی اور معاشرتی رویوں میں معمولی نوعیت کا ایسا اختلاف واقع ہوجاتا ہے کہ مثلا آپ اپنے ماحول کے زیرِ اثر کسی خاص رویے کو اپنے زاویہ سے دیکھتے او راسے ’’بے تکلفی‘‘ کا نام دیتے ہیں جبکہ دوسرا آدمی اپنے ماحول کے زیرِ اثراسے ایک اور زاویہ سے دیکھتا ہے اور اسے ’’بے مروتی‘‘ کا نام دیتا ہے۔آپ ایسی کئی مثالیں خود اپنے اردگرد کے ماحول میں تلاش کرسکتے ہیں۔یہ نہیں کہا جا رہا کہ تمام سماجی رویوں کی یہی نوعیت ہوتی ہے، بلکہ یہ کہ بعض خاص رویے اس طرز کے ہوتے ہیں۔اس نوعیت کے رویوں میں دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے سے پہلے خود اس کے زاویۂ نگاہ اور نیت وارادہ کے بارہ میں بھی معلومات کرلینی چاہئیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہم ناحق کسی پہ وہ الزامات عائد کرتے پھریں جو اس کے خواب وخیال میں بھی نہیں۔اگر ہم غور کریں تو مخصوص ماحول اور تمدن میں پرورش پانے والی یہ ہماری نفسیات اور ذہنی افتاد ہی ہوتی ہے جو کسی بات کو اچھا محسوس کرتی ہے تو ہم اسے اخلاقیات میں شامل کرلیتے ہیں اور اگر کوئی بات اسے بری محسوس ہوتی ہے تو ہم اسے اخلاقیات کے دائرہ سے خارج کردیتے ہیں۔چنانچہ کسی ایک ماحول اور معاشرہ کی ’’اخلاقیات‘‘ کو کسی دوسرے معاشرہ کے سر نہیں تھوپا جاسکتا۔ وجہ وہی کہ ایک سماج اور علاقہ کے لوگ جس معاملہ کو ایک زاویہ سے دیکھ رہے ہیں، عین ممکن ہے کہ دوسرے لوگ بعینہ اسی معاملہ کو ایک متضاد زاویہ سے دیکھ رہے ہوں۔ مثلایہی نابالغی کا نکاح لیجئے! جن حضرات کو اس پر اعتراض ہے، ان کے اعتراض کی بنیاد یقیناً یہی ہے کہ اس میں نابالغ کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اور اس کی مرضی کے بغیر اس پہ ایک فیصلہ مسلط کیا جارہا ہے، جبکہ دوسری طرف ہمارے فقہاء بعینہ اسی معاملہ کو یکسر متضاد زاویہ سے دیکھ رہے ہیں کہ نابالغی کے نکاح سے مقصود خود نابالغ کے مستقبل کوتعمیر کرنا اور تحفظ دینا ہے۔ اس کی تفصیل ’’الہدایہ‘‘ کے حوالہ سے گزر چکی ہے۔ اب اگر کسی علاقہ یا زمانہ کے لوگ اپنے سماجی رویوں کے تناظر میں سمجھتے ہیں کہ ان کے ہاں نابالغی کا نکاح نابالغ کی حق تلفی اور ’’ذوی القربی‘‘ (رشتہ داروں) کے ساتھ نیک سلوک کرنے کے قرآنی حکم کی خلاف ورزی کا ذریعہ بنے گا تو ٹھیک ہے، وہ اس سے اجتناب کریں، سطورِ بالا میں مذکور اس نکاح کی فقہی شرائط (خصوصاً حنفی شرائط) اور روحِ شریعت کا منشاء بھی یہی ہے۔ لیکن اس کی بنیاد پر انہیں اسلام میں اس نکاح کے اصولی جواز یا سیدہ عائشہؓ کے نکاح پر اعتراض کا کوئی حق نہیں کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ وہاں نابالغ کی حق تلفی کا کوئی شیبہ تک نہ ہو، جیساکہ حقائق سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے۔ 
اگر حضرت عائشہؓ کا نکاح چودہ سو برس قبل عرب کے قبائلی سماج میں ہوا تھا تو اس معاملہ کو اس زمانہ اورعلاقہ کے تناظر میں ہی رکھ کر دیکھنا چاہئے نہ کہ آج کی دنیا کے سماجی رویوں کے تناظرمیں۔عرب کی قدیم معاشرت کے بارہ میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس طرز کا نکاح نہ تو اس میں نامانوس تھا اور نہ ہی اسے کوئی غیر اخلاقی فعل سمجھا جاتا تھا۔ اس کا ایک بڑا ثبوت خود نکاحِ سیدہؓ کا معاملہ ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن خود ان کی حیاتِ طیبہ میں ہی کم نہیں تھے۔ مشرکین، یہود ونصاری اور منافقین کی آپ کے ایک ایک عمل پر نظر رہتی تھی اور وہ آپ پر اعتراض کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ آپ کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کے لیے انہوں نے باقاعدہ شعراء ’’پال‘‘ کے رکھے ہوئے تھے۔یہ ممکن نہیں کہ عرب معاشرت کی رو سے یا کسی بھی اور اعتبار سے وہ حضرت عائشہؓ کے نکاح کے معاملہ میں کوئی ادنی سا کم زور یا قابلِ گرفت پہلو پاتے اور اس پر خاموش رہتے۔ بلکہ تاریخ میں اس معاملہ پر مسلمانوں میں اور اہلِ کفر میں ہونے والا کوئی مکالمہ ضرور محفوظ ہوتا۔کتابوں میں یہ واقعات ملتے ہیں کہ طہارت سے متعلق باتیں سکھانے پر انہوں نے آپ کے خلاف زبان درازی کی۔(جامع الترمذی، حدیث ۱۶) منافقین نے غنیمت تقسیم کرنے کے معاملہ میںآپ پر ناانصافی کا الزام عائد کیا۔ (صحیح مسلم، حدیث ۱۰۶۳)خود ازواجِ مطہرات کے معاملہ میں خانۂ نبوت کو دو دفعہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک اس وقت کہ جب حضرت عائشہؓ پر تہمت باندھی گئی، یہ موقع ’’واقعۂ افک‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ دوسرا اس وقت کہ جب آپ نے عرب روایات کے برعکس اپنے منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہؓ کی مطلقہ بیوی سے نکاح فرمایا۔ ان دونوں موقعوں کی طرف قرآنِ مجید میں اشارہ کیا گیا ہے۔(سورۃ النور، آیت ۱۱۔ سورۃ الاحزاب، آیت ۳۷)سوال یہ ہے کہ بات بے بات منہ لگنے والوں نے حضرت عائشہ سے نکاح کے معاملہ پر انگشت نمائی کیوں نہ کی؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ عرب معاشرے میں کم عمری کے نکاح کو سرے سے کوئی معیوب کام ہی نہیں سمجھا جاتا تھا اور اس معاشرے میں پروان چڑھنے والی نفسیات اس واقعہ میں کوئی قابلِ گرفت پہلو تلاش نہیں کرپائی تھی۔ 
نیز کسی معاملہ کو مبنی بر انصاف یا خلافِ انصاف قرار دینے کے لیے اس معاملہ کے اصل اور داخلی فریقوں کی رائے سب سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ جب ہم اس زاویہ سے دیکھتے ہیں تو بھی ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ صاحبانِ معاملہ (حضرت ابوبکرؓ ۔حضرت عائشہؓ) کو نہ صرف اس پہ کوئی اعتراض نہیں تھا، بلکہ وہ اس پر بے حد مسرور اور اس کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ کی رخصتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائش پر نہیں، بلکہ خود حضرت ابوبکرؓ کی خواہش پر ہوئی جبکہ حضرت عائشہؓ کی نبی اکرم کے ساتھ گرویدگی کی حد تک جو محبت تھی، اسے کوئی ماں کا لال چیلنج نہیں کرسکتا۔ باقی رہی یہ بات کہ جب آنحضور نے حضرت ابوبکرؓ کو پیغامِ نکاح بھیجا تو انہیں اس پر تعجب کیوں ہوا اور انہوں نے یہ کیوں کہا کہ عائشہ تو آپ کی بھتیجی کے برابر ہیں؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا تعجب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہؓ کے عمر کے تفاوت کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ اس اسلامی اخوت اور برادرانہ رشتہ کی وجہ سے تھا جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ کے درمیان تھااور جس کی رو سے حضرت عائشہؓ آنحضور کے لیے بھتیجی یعنی بھائی کی بیٹی لگتی تھیں کیونکہ عربوں میں سگے بھائی کے ساتھ ساتھ منہ بولے بھائی کی بیٹی سے بھی شادی کو ناجائز سمجھاجاتا تھا۔چنانچہ اس پرآنحضور نے یہی وضاحت فرمائی کہ ابوبکر میرے دینی بھائی ہیں، حقیقی نہیں۔ صحیح البخاری کی روایت ہے: ’’عن عروۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم خطب عائشۃ الی ابی بکر، فقال لہ ابوبکر: انما انا اخوک، فقال لہ : انت اخی فی دین اللہ وکتابہ، وہی لی حلال‘‘ [حدیث نمبر۵۰۸۱] یعنی ’’جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکرؓ کے پاس عائشہؓ کے لیے پیغامِ نکاح بھیجا تو ابوبکرؓ کہنے لگے کہ میں تو آپ کا بھائی ہوں جس پر آنحضور نے ارشاد فرمایا کہ تم اللہ کے دین اورقرآن کی نسبت سے میرے بھائی ہو، اس لیے عائشہ میرے لیے حلال ہے۔‘‘

تہذیبی روایات کے اخلاقی جوازکی بحث:

مؤخر الذکر حضرات کا موقف بہت جان دار ہے، روایات سے بھی مطابقت رکھتا ہے اور امت کی اجماعی روایت کی بھی اس سے نفی نہیں ہوتی۔مگر اس میں صرف ایک دشواری یہ باقی رہ جاتی ہے کہ مسلمانوں کے دعوی کے مطابق آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں عدل وانصاف کا بول بالا کرنے، مظلوموں کی داد رسی،  غریبوں کی اشک شوئی، کم زوروں کے حقوق کو تحفظ دینے، باطل اور بے سروپارسومات وتوہمات کی بیخ کنی اورخلقِ عظیم کا عملی نمونہ پیش کرنے کے لیے تشریف لائے ہیں۔ آپ کی بعثت کا مقصد یہ نہیں کہ مختلف علاقوں اور معاشروں کی تہذیبی روایات کو اس لیے تحفظ دیا جائے کہ ان خاص علاقوں اور معاشروں میں یہ روایات معیوب نہیں سمجھی جاتیں یا اہل معاملہ کوان پر کوئی اعتراض نہیں۔ بلکہ آپ ڈنکے کی چوٹ پر حق کی آواز بلند کرنے اور کسی بھی علاقے میں رائج ناانصافی پر مبنی نظام اور رسومات وروایات پر خطِ تنسیخ پھیرنے کے لیے تشریف لائے ہیں۔ کئی رسومات ناانصافی یا توہم پرستی پر مبنی ہوتی ہیں، مگر اہلِ علاقہ اور صاحبانِ معاملہ کو ان پر اعتراض نہیں ہوتا اور ان کے کچھ اخلاقی جواز بھی انہوں نے گڑھ رکھے ہوتے ہیں ۔ اسلام ایسی رسومات وروایات کو قبول نہیں کرتا، بلکہ ان کے خلاف جہاد کرتا ہے۔ مثلااگرکسی علاقہ کے لوگ نہروں کو جاری رکھنے کے لیے ہر سال قرعہ انداز ی کے ساتھ کسی لڑکی کی بھینٹ دیتے ہوں یا کوئی توہم پرست اپنے پیر کے کہنے پر بیٹے کوبیٹے کی ہی اجازت اور رضامندی سے ذبح کردے تو کیا اسلام اسے اس وجہ سے قبول کرلے گا کہ اہل علاقہ اور صاحبانِ معاملہ کو اس پر اعتراض نہیں۔ خود عرب معاشرہ کی چند مثالیں ملاحظہ کیجئے: منہ بولے بیٹے کی بیوہ سے شادی کرنا معیوب بات سمجھا جاتا تھا، باپ کے وفات پانے کے بعد بیٹا اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیتا تھا، نومولود اور کم عمر کے ساتھ ساتھ ’’نامولود‘‘ یعنی پیٹ میں موجود حمل کے ساتھ نکاح کا رواج پایا جاتا تھا(سنن ابوداود، حدیث ۲۱۰۳)، مرد کو نکاح وطلاق کا لامحدود اختیار حاصل ہوتا تھا، میراث میں عورت کو حصہ نہیں دیا جاتا تھا،  قبائلی عصبیت عروج پر تھی، سرمایہ کی طرح پیسہ پر بھی نفع لینے کو وہ جائز سمجھتے تھے جسے ہم ربا اور سود کہتے ہیں، بیرونِ حرم سے آنے و الے حاجی کے لیے بیرونِ حرم سے لائی ہوئی چیز کھانا ناجائز سمجھتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اورعرب معاشرہ میں رائج اس طرح کی دیگر کئی رسومات وروایات کی برملا نفی کی اور انہیں محض اس لیے اپنے حال پر نہیں رہنے دیا کہ ہر علاقہ اورمعاشرہ کی اپنی اپنی روایات اور اخلاقیات ہوتی ہیں۔ ورنہ فی نفسہ اہلِ علاقہ اور صاحبانِ معاملہ کے پاس ان رسومات ورایات کے دلائل اوراخلاقی جواز بھی موجود تھے۔مثلاً:
  • لے پالک کی بیوی سے شادی کرنا گویا اپنی بیٹی کے ساتھ بیاہ رچانے کے ہم معنی تھا، اس لیے اسے معیوب سمجھتے تھے۔
  • سوتیلی ماں کے ساتھ بیاہ کرنے کو بڑی آسانی سے صلہ رحمی کانام دیا جاسکتا ہے اور سگی ماں نہ ہونے کی جہ سے اسے بیوی بنانے میں حرج محسوس نہیں کیا جاتا تھا۔ 
  • جیسے نابالغ کے ساتھ نکاح کرنے سے مقصود کسی گھرانے کے ساتھ گھریلو تعلقات قائم کرنا ہوتا تھا، ویسے حمل کے ساتھ نکاح کرنے کا بھی یہی مقصد ہوسکتا ہے۔
  • نکاح وطلاق کا لامحدود اختیار مرد کی سربراہی اور ذمہ داریوں کے پیشِ نظر تھا۔ اسلام نے بھی اگر چہ اس اختیار میں کمی ضرور کی مگر مساواتِ مردوزن کی بجائے مرد کو عورت کے مقابلہ میں چار بیویاں رکھنے (بشرطِ عدل) اور تین طلاقوں کا اختیار دیے رکھا۔
  • چونکہ گھریلو مالی کفالت کی تمام تر ذمہ داری مرد پر تھی اور عورت اس حوالہ سے برئ الذمہ ہوتی تھی، اس لیے میراث کا واحد حصہ دار بھی مرد ہوتا تھا۔چنانچہ اسلام بھی عورت کے مقابلہ میں مرد کو دوگنا دینے کی تعلیم دیتا ہے۔ 
  • قبائلی عصبیت کو ’’صلہ رحمی‘‘ کا نام دیا جاتا تھا۔ قبائلی عصبیت اور صلہ رحمی کا یہی تصور تھا جس نے عہدِ مکی میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور بہت سے صحابہ کرام ؓ کو خود کفار کی کئی دست درازیوں سے بچانے میں مدد دی، کیونکہ ان کے غیرمسلم رشتہ دار اپنی قبائلی عصبیت اور جذبۂ صلہ رحمی کے تحت ان کی حفاظت کے لیے آڑے آجاتے تھے۔ صرف ابوطالب کی مثال لیجئے! یہ غیرمسلم ہونے کے باوجود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حفاظتی دیوار بنے رہے۔ یہ صرف قبائلی عصبیت کی اسی روایت کی وجہ سے تھا۔
  • سود کا جواز جو غیر مسلم پیش کرتے تھے، وہ قرآن میں مذکور ہے: ’’انما البیع مثل الربو‘‘ [سورۃ البقرۃ، آیت ۲۷۵] یعنی اگر سرمایہ کو زائد رقم کے ساتھ فروخت کر کے نفع کمانا جائز ہے تو پیسہ کو کچھ عرصہ کے لیے قرض میں دے کر اس پر نفع وصول کرنا کیوں منع ہے؟
  • بیرونِ حرم کیِ چیز کھانے سے اس لیے منع کرتے تھے کہ ان کے نزدیک اس میں حرم کی بے ادبی ہے کہ حدودِ حرم میں آکر بیرونِ حرم کی غذا استعمال کی جائے۔
سو ان رسومات اور بظاہر بے ضرر روایات کو اسلام نے محض اس لیے قبول نہیں کرلیا کہ ان کے اخلاقی جواز اہلِ علاقہ کے پاس موجود ہیں اور ہر علاقہ و معاشرہ کی اپنی اخلاقیات ہوتی ہیں، بلکہ ان کے باطن میں چھپی ناانصافی، زر پرستی اور توہم پسندی کو بے نقاب کیا اور ان کے خلاف جہاد کیا۔
اس ساری گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ (بمطابق روایات) کم عمری میں کیے جانے والے حضرت عائشہؓ کے نکاح ورخصتی کے عمل کو محض اس لیے اخلاقی جواز نہیں بخشا جاسکتا کہ یہ عمل چودہ سو سال قبل عرب کی قدیم معاشرت میں ہوا اور ان کے معاشرے میں اس نوعیت کے نکاح کو معیوب نہیں سمجھا جاتا تھایا یہ کہ صاحبانِ معاملہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا، بلکہ اس کے نفع وضرر اور مثبت ومنفی تمام پہلوؤں پر غور ہونا چاہئے۔ اگر اس غور وفکر کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نابالغی کے نکاح میں نابالغ کی حق تلفی ہے تو نہ تو اسے شرعاً جائز کہا جائے او رنہ ہی نبی کی طرف اس ناانصافی کی نسبت کی جائے، بلکہ ان روایات میں توجیہ کرنی چاہئے جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس عمل کی نسبت کی گئی ہے۔ ایسے میں یہ طریقہ درست نہیں کہ قدیم عرب معاشرت کی اپنی اخلاقیات کا حوالہ دے کر اسے جائز ٹھہرایا جائے۔
مؤخر الذکر حضرات کے موقف میں پائی جانے والی دشواری کی تفصیل آپ نے پڑھ لی، اس دشواری کا ایک اصولی جواب یہ ہے کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم محسنِ انسانیت اور مصلحِ اعظم ہیں، مگر آپ کی اصل حیثیت مصلح سے بڑھ کر ایک نبی کی ہے۔ آپ کی تمام تر جدوجہد عقل نہیں، امرِ الہی کے تابع تھی۔ اگرلے پالک کی بیوہ سے نکاح نہ کرنے اور پیٹ میں موجود حمل سے نکاح کرنے کی رسم اور روایت خدا کو محبوب نہیں تھی تو خدا ہی کے حکم سے آپ نے ان روایات کی بیخ کنی کی اوردوسری طرف نابالغہ سے نکاح کرنے کی روایت اگراللہ کو ناپسند نہیں تھی تو آپ نے بھی اسے حسبِ سابق جائز ہی رہنے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن وسنت میں بھی جہاں ان رسومات وروایات کو موضوع بنایا گیا ہے، وہاں ذیلی نکتہ آفرینیوں کی بجائے اس بنیادی نکتہ پراصل زور دیا گیا ہے کہ اس فیصلہ کا اختیار اللہ جل مجدہ کے پاس ہے کہ وہ کسے حلال ٹھہراتا ہے اور کسے حرام،  کس معاملہ کو پسند کرتا ہے اور کسے ناپسند، اس کا فیصلہ آجانے کے بعد مؤمنوں کو روانہیں کہ بحث آرائیوں میں اپنا وقت ضائع کریں۔ مثال کے طور پر سود اور بیع کویکساں سمجھنے کے معاملہ پر اللہ رب العزۃ نے جو تبصرہ کیا ہے، وہ کچھ یوں ہے: ’’احل اللہ البیع وحرم الربوا‘‘[سورۃ البقرۃ، آیت ۲۷۵] یعنی ’’وہ کہتے ہیں کہ بیع اور سود ایک ہی طرح ہیں حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام ٹھہرا رکھا ہے۔‘‘
باقی اس میں شک نہیں کہ ’’عدل وانصاف کا قیام‘‘ مقاصدِ شریعت میں سے ایک عظیم الشان مقصد ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ جس دین نے انصاف کرنے والوں کو اللہ کا محبوب قرار دیا ہے، اس کی شریعت کسی ایسی رسم کو من وعن قبول کرلے جو ناانصافی پر مبنی ہو۔ کم عمری کے نکاح کامعاملہ ایسے ہی ہے۔ اس میں جو حکمت اور مصلحت مضمر ہے، وہ سراسر نابالغ کے حق میں جاتی ہے اور ذوی القربی (رشتہ داروں) کے ساتھ احسان کرنے کی قرآنی تعلیم کے مطابق نظر آتی ہے۔
(جاری)

.... اور کافری کیا ہے؟

پروفیسر میاں انعام الرحمن

الشریعہ ستمبر ۲۰۱۲ء میں ہمارے شائع شدہ مضمون ’’پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد: قرآنی نظریہ تاریخ کی روشنی میں ایک عمرانی مطالعہ‘‘ کی بابت محمد دین صاحب جوہر نے ( نومبر ۲۰۱۲ء کے شمارے میں) نہایت درد مندی سے اپنی فاضلانہ رائے کا اظہار کیا ہے۔ جوہر صاحب کی تنقیدی دفتری کافی موٹی ہے۔ آئندہ سطور میں نوع بہ نوع اس دفتری کا جائزہ لیا گیا ہے۔ 
۱۔ محترم جوہر صاحب کا پہلا اعتراض:
’’..... میں تو استدراک پر ہی معتکف ہوں اور ابھی تک یہ عقدہ نہیں کھلا کہ یہ کسی متداول اخبار کا تراشہ ہے یا کسی علمی مضمون کا تتمہ؟ ......... اس مضمون کے عنوان میں ’نفاذ‘ کا لفظ برتا گیا ہے۔ یہ لفظ استعمار آفریدہ تعلیم اور اس کے تحت فروغ پانے والے مستریانہ علم کی فضا میں جنم لینے اور پرورش پانے والے شعور کی گھٹی میں پڑا ہے اور اس کا اسم اعظم ہے۔‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۳۹)
جوہر صاحب غالباً cultural imperialism کی بات کر رہے ہیں۔ ہمیں اعتراف ہے کہ استعماریت کی یہ شاخ، متنوع جہات اور کثیر مقاصد کی حامل ہے۔ ایڈورڈ سید (۱۹۳۵ء ۔۔۲۰۰۳ء) وغیرہ نے استعماریت کے اس پہلو پر بہت وقیع مباحث اٹھائے ہیں۔ لیکن فی الحال ہم اس بحث میں الجھنے کی پوزیشن میں نہیں کہ لفظ ’’نفاذ‘‘ استعمار آفریدہ تعلیم کا دیا ہوا ہے یا نہیں، اور ہم جیسے استعمار زائیدہ شعور کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے یا نہیں، لیکن ایک بات نہایت عاجزی سے عرض کریں گے کہ ہمارے مضمون (الشریعہ ستمبر ۲۰۱۲) کا منشا اور مجموعی رجحان، نفاذ پر تنقید کے گرد ہی گھومتا ہے۔ لفظ’’ نفاذ‘‘ کی درگت بنانے سے پہلے اگرہمارے مضمون کے فقط اس جملے:
’’مسئلے کی اخلاقی و فکری اور جمالیاتی نوعیت، نفاذ (implementation) کی نہیں بلکہ نفوذ (penetration)کا تقاضا کرتی ہے۔‘‘ (الشریعہ ستمبر ۲۰۱۲: ص۵۳)
پر غور فرما لیا جاتا تو فاضل نقاد لفظ ’’نفاذ‘‘ کو بہ تکلف اسم اعظم بنانے کی زحمت سے یقیناً بچ جاتے۔ یہ جھمیلا انھیں ’’استدراک پر معتکف‘‘ ہونے کے سبب جھیلنا پڑا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ’’نفاذ‘‘ کے حوالے سے ہم نے اپنے مضمون میں جو نکات (الشریعہ ستمبر ۲۰۱۲: ص ۳۸، ۳۹، ۴۰) بین السطور بیان کیے تھے، انھی کی بعض پرتیں جوہر صاحب نے استعماری کیل کانٹوں سے کھولنے کی کوشش کی ہے، ملاحظہ کیجیے: 
’’نفاذ کی ہر گفتگو ایک ایسے اغماض سے شروع ہوتی ہے جس پر کسی بھی سطح کی علمی دیانت صاد کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ نفاذ کا مسئلہ براہ راست جس چیز سے جڑا ہوا ہے ، وہ طاقت یعنی سیاسی طاقت ہے۔ ....... نفاذ کی بحث کو سیاسی طاقت کے structure سے الگ کر کے اور سیاسی نظام میں طاقت روائی کی منہج سے آنکھیں چرا کر نظریے سے جوڑنے کی چابک دستانہ کوشش کرنا ایک گہرا علمی اغماض ہے جو اب ہمارے ہاں کتمان کے درجے کو پہنچا ہوا ہے ....... سیاسی طاقت اور نظریے سے اغماض برت کر نفاذ کی بحث چلانے کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہم اسلام کے نفاذ اور اشیائے خوردنی کے نرخوں کے نفاذ کو ایک ہی سطح پر رکھ کر دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۰)
یہاں ہمیں حفظِ ماتقدم کے طور پریہ اعتراف کر لینا چاہیے کہ اقتباس نقل کرنے میں ’’کتمانِ حق‘‘ سے کام لیا گیا ہے کہ صاحبِ مضمون کے استعماری کیل کانٹے مستور کر دیے ہیں۔ بہرحال! کتمان کا بہتان اپنی جگہ، لیکن جوہر صاحب کی کاوش کی داد نہ دینا بخیلی کے زمرے میں آئے گا،کہ انھوں نے سیاسی طاقت اور اس کے لوازمات وغیرہ پر خوب قلم اٹھایا ہے۔
۲۔ ہمارے ممدوح نقاد کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ:
’’...... مضمون نگار کی یہ یہ تحریر کس نوع علم سے تعلق رکھتی ہے؟ یہ ایک بدیہی اور متفقہ بات ہے کہ انسان کا عقلی شعور ہر تہذیب اور ہر عہد میں علم کے standard disciplines and discourses میں اپنی فعلیت کے حاصلات کی تشکیل کرتا ہے۔ اس کے بغیر علم کا کسی بھی طرح کا کوئی تصور سرے سے موجود یا ممکن ہی نہیں ہے۔ ورنہ ہر طرح کی بک بک جھک جھک علم ہی قرار پائے گیاور علم کا استدلالی اور جدلیاتی عمل ممکن نہیں رہے گا۔‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۰،۴۱)
جوہر صاحب نے اس اقتباس میں ایک ہی سانس میں دو متضاد باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ ایک طرف وہ standard disciplines and discourses کے موید و حامی ہیں اور دوسری طرف علم کے ’’استدلالی اور جدلیاتی عمل‘‘ کی وکالت بھی فرما رہے ہیں۔ ہماری ناقص رائے میں dialectic چبائے ہوئے نوالے سے استدلال کرنے کا نام نہیں، کہ اس کی سرشت میں settled paradigm کو چیلنج کرنا رکھا گیا ہے۔ فاضل نقاد نے standard disciplines and discourses جس مقام پر متمکن کر دیے ہیں، اگر وہ واقعی اس مقام کے حق دار قرار پائیں تو انسان کے عقلی شعور پر بمشکل علم کی دھول ہی باقی بچے گی۔
جوہر صاحب علم و حکمت کے موتی بکھیرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :
’’اگر ہم اپنے ماضی کی طرف دیکھیں یا موجودہ مغرب کو دیکھیں تو وہاں بھی علم کا بنیادی اسلوب standard disciplines and discourses میں ہی چلنے کا ہے۔ اسلامی تہذیب میں ظاہر ہونے والی علمی روایت سے آدمی کا ختلاف بھلے جو بھی ہو وہ اپنی جگہ، لیکن یہ روایت استناد اور استدلال کے جواز کے فرق کے ساتھ منقولی اور معقولی کی واضح تقسیم رکھتی تھی۔ یہ مضمون اصولِ تفسیر، تفسیرالقرآن، اصولِ فقہ، اصولِ حدیث، علمِ بلاغت، علمِ بیان وغیرہ کے زمرے سے نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی کلامی اور عرفانی کاوش ہے۔ دوسری طرف اس مضمون کا متداول اور عصری علوم میں شجرہ نسب تلاش کرنا بھی ممکن نہیں ہے، مثلاً فلسفہ، ما بعدالطبیعات، عمرانیات، معاشیات، تاریخ، آثاریات یا بشریات وغیرہ۔ ہمیں یہ معلوم کرنے میں دل چسپی ہے کہ قرآن پر جس hermeneutics کو آزمایا جا رہا ہے، وہ کدھر سے آئی ہے؟‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۱) 
ہم نہایت ادب سے گزارش کریں گے کہ علم و فن کا بحرِ بے کنار ہمیشہ سے taken for granted کسی مخصوص discourse یا discipline کا حامل نہیں ہوتا۔ جوہر صاحب اس نکتے پر ضرور غور فرمائیں کہ کوئی unarticulated intellectual discourse کیسے اور کب articulated ہو جاتا ہے؟ ان کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر تہذیب اور ہر عہد میں بنا بنایا گھڑا گھڑایا standard سامنے آ جاتا ہے۔ حالاں کہ ایسا ہونا محال ہے۔ جیسے کپاس خود بخود نہیں اگتی، اور اس سے کپڑا بھی خودبخود نہیں بنتا، اسی طرح standard disciplines and discourses خود بخود تشکیل نہیں پاتے۔ اپنی تشکیل سے پہلے، یاsettled paradigm میں ڈھلنے سے پہلے وہ لازماً کسیunsettled حالت میں ہوتے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جیسے ان کی unsettled حالت مستقل نہیں ہوتی، اسی طرح settled یا standard حالت بھی ہمیشگی کی حامل نہیں ہوتی، کہ علم کا جدلیاتی عمل، یعنی dialectic اسے چیلنج کرنے آن موجود ہوتا ہے۔ یہ dialectic اپنے آغاز میں عام طور پر unarticulated form میں ہوتا ہے۔
جوہر صاحب اسی نقطے کے ضمن میں یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ:
’’قیامِ علم کے تاریخی طور پر دو طریقے موجود رہے ہیں: ایک مذہبی استناد دوسرا عقلی استدلال۔ استعمار کے آغاز کے ساتھ ہی ایک نیا استناد اور جواز سامنے آیا جس کا تعلق عہدے سے ہے، یعنی سیاسی طاقت سے۔ اب غالب طور پر یہی استناد باقی رہ گیا ہے، یعنی علم کی قلم رو میں مذہبی استناد اور عقلی استدلال کم زور پڑ گیا ہے اور علم، طاقت کی ترجیحات کے مطابق تشکیل پا رہا ہے۔ ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ اس مضمون میں علم کے کس استدلال کو کام میں لایا گیاہے؟ اگرتو یہ کوئی ذہنی سفر نامہ ہے تو پھر اس کا جواز یقیناً موجود ہے، کیونکہ سیرِ عقائد و افکار میں اپنے مشاہدات تجربات اور پسند ناپسند کے اظہار کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ ایسی صورت میں اس کو نئی تعریف یا تعبیر کا نام دینا مناسب نہیں ہے۔ اور اگر یہ واقعی کوئی نئی تعریف یا تعبیر ہے تو اس کے علمی منہج کو articulate کرنا از بس ضروری ہے۔‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۱)
قابلِ غور بات ہے کہ جوہر صاحب نے قیامِ علم کے استعماری نوعیت کے ( تیسرے طریقے کو) نہ صرف قابلِ بیان سمجھا ہے، بلکہ اس کے غلبے کو بھی تسلیم کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تاریخی اور روایتی قسم کے standard disciplines and discourses کی موجودگی میں (تاریخی لحاظ سے ایک غیر موجود) استعماری استناد و جواز کیسے اور کیوں کر جگہ پا گیا؟ اگر یہ جگہ پا گیا ہے اور فی الواقعی پا گیا ہے تو کوئی تیسرا چوتھا ...... استناد و جواز کیسے راہ نہیں پا سکتا؟ 
ہم گزارش کریں گے کہ ہمارے مضمون میں برتا گیا طریقہ علم، مذہبی استناد اور عقلی استدلال کا امتزاج قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسا صرف بات کو قابلِ فہم بنانے کے لیے کہا جا رہا ہے ورنہ دانستہ ، کسی خاص طریقہ علم کو نہیں برتا گیا۔ اس لیے جوہر صاحب کی یہ بات بظاہر درست معلوم ہوتی ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ ایک ذہنی سفر نامہ ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی ذہنی سفر نامہ کسی newly articulated علمی منہج کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ اس کا پورا پورا امکان موجود ہے کیونکہ حقیقت میں یہ ذہنی سفر نامہ ہی ہوتا ہے جو settled paradigm سے باہر تانک جھانک کرتا ہے۔ لیکن settled paradigm سے باہر جھانکنے کی یہی صلاحیت اسے ان سہولتوں سے بھی محروم کر دیتی ہے جو settled paradigm کا خاصا شمار ہوتی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ذہنی اسفار کے standard disciplines and discourses یا settled paradigm میں ڈھلنے کا عمل چند برسوں یا عشروں پر محیط نہیں ہوتا بلکہ اس میں صدیاں صرف ہوتی ہیں اور کئی نسلوں کو خونِ جگر دے کر اسے سینچنا پڑتا ہے۔ جوہر صاحب اس سلسلے میں جس اشکال کا شکار ہوئے ہیں ہم بزبانِ غالبؔ بس یہ عرض کیے دیتے ہیں : ؂
بقدرِ شوق نہیں ظرفِ تنگ نائے غزل کچھ اور چاہیے وسعت میرے بیاں کے لیے
باقی رہی یہ بات کہ اگر ہمارا مضمون ذہنی سفر نامہ ہے تو ایسی صورت میں اس کو نئی تعریف یا تعبیر کا نام دینا مناسب نہیں ہے، تو ہم نہایت ادب سے عرض کریں گے کہ نہ تو مضمون کے عنوان میں اور نہ ہی مندرجات میں کوئی ایسی بات کہی گئی ہے، البتہ جوہر صاحب نے (نئی تعریف کی تلاش کو نئی تعریف گردانتے ہوئے) ہمارے سر منڈھ ضرور دیا ہے۔ اوپر مذکور اقتباس سے متصل سطروں میں، اَن کہی کو کہی بناتے ہوئے فاضل نقاد فرماتے ہیں کہ:
’’ہم جیسے عام مسلمانوں کے نزدیک حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پاک اور قرآن مجید کو نہ تو question کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی redefine کیا جا سکتا ہے۔‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲:ص۴۱)
ہمارے ممدوح نقاد کو علم ہونا چاہیے کہ نہ صرف اُن جیسے عام مسلمانوں بلکہ ہم جیسے خاص مسلمانوں کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ (یہ عام اور خاص کی تقسیم بھی خوب رہی، ...... خیر! جو مزاجِ یار میں آئے)۔ جوہر صاحب اگر مسلمانی کے دائرے میں ہی رہنے کی اجازت مرحمت فرمائیں تو گزارش کریں گے کہ question کرنے، redefine کرنے، اور ....... discover کرنے، re-understand کرنے میں بال برابر نہیں بلکہ زمین آسمان کا فرق ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ فاضل نقاد کی باریک بین نگاہوں سے یہ موٹا سا فرق پوشیدہ رہ گیا ہے۔ اب علم و ادب کی درس گاہوں اور صاحبانِ فکر کو اپنی خیر منانی چاہیے کہ قرآن و سنت کی discovery اور re-understanding کا مطلب ’’عام مسلمانوں کے نزدیک‘‘ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی پر question کرنا اور قرآن مجید کو redefine کرنا ہو گیا ہے۔
ہمارے مضمون کے مندرجات (اور الفاظ) سے جوہر صاحب کی طرح اور بھی کئی صاحبان کو یہ مغالطہ ہو سکتا ہے کہ ہم قرآن و سنت کو question کر رہے ہیں ، یا redefine کرنے کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ اس سلسلے میں گزارش ہے کہ ہم نے نہایت کھلے لفظوں میں اسلام کے قانونی ایڈیشن(یعنی ایک خاص دور کی پروردہ تعبیر) کو ضرور question کیا ہے کہ یہ ہم عصر ماحول یا موجودہ صورتِ حال کو address نہیں کر پا رہی، فتح یاب ہونا تو دور کی بات ہے۔ اس قانونی ایڈیشن کی ہم عصر صورتِ حال سے یہی لاتعلقی، قرآن و سنت کو ہم عصر صورتِ حال میں دیکھنے کا پوراپورا جوازفراہم کر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جیسے اسلام کا قانونی ایڈیشن، قرآن و سنت سے ماخوذ ہے، ایسے ہی قرآن و سنت سے ماخوذ ایک ایسے نئے ایڈیشن کی ازحد ضرورت ہے جو ہم عصر صورتِ حال کو address کر سکے اور اس پر فتح پا سکے۔ 
۳۔ جناب محمد دین جوہر کا تیسرا اعتراض ملاحظہ کیجیے:
’’صحابہ کرامؓ، ائمہ اربعہ اور ان کے بعد امت میں ظاہر ہونے والے علما کی طویل درخشندہ لڑی بہت محترم ہے۔ ہم اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کو معصوم عن الخطا نہیں سمجھتے، لیکن ہم بزرگوں کی عیب چینی کو دین اور ایمان دونوں کے لیے سنگین خطرہ سمجھتے ہیں۔ ہم علمائے سوء کے وجود سے انکار نہیں کرتے، لیکن اس کی آڑ میں علمائے حق کی نام نہاد ’فکری‘ مخالفت کو بڑی محرومی اور بد نصیبی خیال کرتے ہیں۔‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۱)
جوہر صاحب کے یہ الفاظ اگر ان کی کسی طبع زاد تحریر کا حصہ ہوتے تو اس سے اتفاق ممکن تھا۔ لیکن ان کے یہ الفاظ ایک خاص تناظر کے حامل ہیں اور وہ تناظر ہمارا مضمون ہے۔ موصوف کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم نے ہمیشہ کھلے بندوں بات کی ہے، کسی آڑ کی آڑ کبھی نہیں لی، اس لیے انھیں اپنے آپ کو ’’محروم اور بدنصیب‘‘ خیال کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ البتہ بزرگوں کی عیب چینی کو دین و ایمان کے لیے خطرہ ...... بلکہ سنگین خطرہ سمجھنے والی بات کافی دل چسپ ہے۔ سوال یہ ہے کہ بزرگوں کے تشکیل کردہ standard disciplines and discourses کو question کرنا اگر عیب چینی ہے اور پھر ایسی عیب چینی ہے جس سے دین و ایمان سنگین خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں تو پھر ............ کافری کیا ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ فاضل نقاد چون و چرا کی آڑ میں ما فی الضمیر (بتوں سے امیدیں)دابے بیٹھے ہیں۔
اسلام کی قانونی تعریف سے چمٹے ہوئے علما پر کسی قسم کی تنقید جوہر صاحب کو ایک آنکھ نہیں بھاتی:
’’ہمارے لیے یہ بات سمجھنا ازحد دشوار ہے کہ اسلام کی نئی تعریف متعین کرتے وقت ہمارے روایتی علما کی شامت کیوں آ جاتی ہے؟ آخر انھوں نے ایسی کیا خطا کر دی ہے کہ اسلام کی نئی تعریف پر نکلنے والا ہر مہم جو روایتی علما پر تیر اندازی اپنا اولین فرض سمجھتا ہے؟‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲:ص۴۱)
لطف کی بات یہ ہے کہ موصوف کے لیے جس بات کو سمجھنا از حد دشوار ہے، معجزانہ طور پر متصل سطروں میں ہی اسے سمجھ جاتے ہیں: 
’’یہ بات تو کہی جا سکتی ہے کہ ہمارے روایتی علما جدید تہذیب کی تفہیم اور تردید کے لیے کوئی علمی اور فکری اسلوب پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اس کی وجہ سے یقیناً بہت سے سنگین مسائل پیدا ہوئے ہیں، اور اس معاملے میں ہمیں بھی ان سے سخت شکایات ہیں۔‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲:ص۴۱،۴۲)
روایتی علما سے ان سخت شکایات کو اپنے تئیں ’’عیب چینی‘‘ کے الزام سے بری سمجھتے ہوئے فوراً سے پہلے پینترہ بدلتے ہیں اور فرماتے ہیں :
’’لیکن ہمارے علما، دین کے روایتی موقف کو باقی رکھے ہوئے ہیں اور اسی کا پرچار کرتے ہیں اور یہی اصل چیز ہے۔ ہمارے خیال میں روایتی علما اپنی تمام تر فروگزاشتوں اور تسامحات کے باوجود سر آنکھوں پر بٹھائے جانے کا قابل ہیں کہ وہ دین کے روایتی موقف اور تعلیم سے ارادتاً دست بردار ہونے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ اپنی معاشی اور ثقافتی ابتری اور سیاسی نکبت کے باوجود ہمارے علما ایک گہری شکست میں ہوتے ہوئے بھی دین میں کسی بنیادی رد و بدل پر تیار نہیں۔ یہ ان کا اس امت پر احسان ہے جس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲:ص۴۲)
یہاں پھر وہی بات ہے کہ اگر اس تحریر کا تناظر ہمارا مضمون نہ ہوتا تو جوہر صاحب کے نقطہ نظر سے اختلاف بہت مشکل ہو جاتا ۔ لیکن تحریر کا تناظر، وضاحت طلب کر رہا ہے کہ دین کے جس روایتی موقف کو اصل چیز قرار دیا جا رہا ہے، وہ کیا ہے؟ دین میں بنیادی رد و بدل پر تیار نہ ہونے سے کیا مراد ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ فاضل نقاد کی تحریر کا تناظر، جوابات بھی فراہم کر رہا ہے۔ دین کا وہ روایتی موقف جسے اصل چیز قرار دیا جا رہا ہے، وہ اسلام کا (خاص دور کا پروردہ) قانونی ایڈیشن ہے۔ اور دین میں بنیادی رد و بدل پر تیار نہ ہونے سے مراد بھی اسی قانونی ایڈیشن (فقہی تعبیرات) میں رد و بدل سے یکسر انکاری ہونا ہے۔ جوہر صاحب نے جس ’’گہری شکست‘‘ کا کنایہ استعمال کیا ہے، انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا خمیر اسی روایتی موقف سے اٹھا ہے۔ رہی بات معاشی اور ثقافتی ابتری اور سیاسی نکبت کی؟ تو وہ تو اس گہری شکست کے نتائج ہیں، اسباب نہیں۔ 
۴۔ فاضل نقاد کا چوتھا اعتراض دیکھیے:
’’اسلام کی نئی تعریف کے منصوبہ ساز دانش ور حضرات کا ایک نہایت اہم مسئلہ ہے کہ انھیں حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام سے عام مسلمانوں کے تعلق کا روایتی اسلوب پسند نہیں، بلکہ یہ انھیں بڑا outdated لگتا ہے۔ قرآن سے عام مسلمانوں کا تعلق صرف فہم تک محدود اور صرف ذہنی نہیں بلکہ وجودی ہے، اور یہ بھی دین کی نئی تعبیر والوں کو بہت دقیانوسی معلوم ہوتا ہے۔‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۲) 
جوہر صاحب کی روایتی اسلوب سے مراد اگر ’’دما دم مست قلندر‘‘ جیسے اسالیب ہیں جو ظاہر و باطن میں تضادات کے حامل اور بے عملی و منافقت کے شاہکار ہیں تو ان کی بات یقیناً درست ہے کہ ایسے اسالیب ہمیں outdated لگتے ہیں۔ جہاں تک عام مسلمانوں کے قرآن مجید کے ساتھ تعلق کا تعلق ہے تو جہاں یہ بات درست ہے کہ یہ تعلق صرف ذہنی نہیں بلکہ وجودی ہے، وہاں یہ بات بھی غلط نہیں ہے کہ یہ تعلق صرف وجودی نہیں بلکہ ذہنی بھی ہے۔ ہماری ناقص رائے میں ابتداً وجودی تعلق سے ذہنی تعلق کی رسم و راہ ہم وار ہوتی ہے اور پھر ذہنی تعلق کی استواری اور پختگی کے بعد نہایت اعلیٰ سطح کے وجودی تعلق کی تشکیل ہو جاتی ہے۔ اور انتہاً مومن ’’قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن‘‘ کا عملی نمونہ بن جاتاہے۔ 
۵۔ جوہر صاحب کا پانچواں اعتراض ملاحظہ کیجیے کہ کسی معجزے کی امید پر ایک ہارا ہوا مقدمہ پیش کر رہے ہیں: 
’’ دینی روایت (فقہی احکامات کی تفصیلات اور حدیث) سے رستگاری کے بعد آخر میں قرآن اپنی ظاہری ہیت میں باقی رہ جاتا ہے اور اس کے معانی پر تعبیراتی طبع آزمائی بہت آسان ہو جاتی ہے۔ نتیجے کے طور پر ہم جیسے روایت پسند اور عام مسلمانوں سے مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ وہ فقہ، حدیث اور دیگر روایتی علوم کو چھوڑ کر ان کے مہیا کردہ چیتھڑوں پر قناعت کر لیں۔ یہ مطالبہ عام مسلمان کے لیے بہت ہی بڑا اور نا قابلِ تصور ہے۔ 
....... جدید ذہن اپنی تعبیراتی مہمات میں فقہ کو کسی بھی صورت میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں:
’’اب جب کہ روایتی فقہ اپنی داخلی روح اور حقیقی جوہر سے محروم ہو چکی ہے، اس کے ظاہری ڈھانچے سے پیچھا چھڑائے بغیر نفاذِ اسلام سے حاصل ہونے والے حقیقی مقاصد تک رسائی ممکن نہیں ہے۔‘‘

فرد جرم اور فیصلہ دونوں قابلِ داد ہیں، جرح غائب ہے۔ بالکل یہی فرد جرم اور فیصلہ خود اسلام پر بھی اب بہت عام ہے، اس کا کوئی حل بھی مصنف تجویز فرمائیں۔ مسئلہ روح و جوہر وغیرہ کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ فقہ کے ڈھانچے سے کیسے جان چھڑائی جائے۔ اگر روح ہی کا مسئلہ ہے تو یہ دین سے فقہ میں پھر سے reintroduce کی جا سکتی ہے۔ لیکن شکر ہے کہ تاریخ نے داخلی روح اور حقیقی جوہر کو ختم کر دیا، اب ہماری ذمہ داری ڈھانچے کی تدفین ہے، کیونکہ یہی ہماری نئی تاریخی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنا دینی ذمہ داری سے زیادہ ضروری ہے۔ فاضل مصنف بھول گئے کہ قانون کی کوئی روح وغیرہ نہیں ہوتی اور اس کی حرکت طاقت سے اخذ ہوتی ہے۔‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۲،۴۴) 

جوہر صاحب کے اعتراض کی ساری تان ’’روایتی فقہ کے دفاع‘‘ پر آ کر ٹوٹتی ہے۔ ان کے خیال میں ’’عام مسلمان‘‘ اس علمی روایت کو چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس تصور نہ کر سکنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ عام مسلمانوں کے اذہان میں فقہ کو بطور فقہ نہیں بلکہ اسلام کے طور پر نقش کر دیا گیا ہے۔خود جوہر صاحب یہ فرما کر ’’فرد جرم اور فیصلہ دونوں قابلِ داد ہیں، جرح غائب ہے۔ بالکل یہی فرد جرم اور فیصلہ خود اسلام پر بھی اب بہت عام ہے، اس کا کوئی حل بھی مصنف تجویز فرمائیں‘‘ اسی مخصوص ذہن کی عکاسی اور نمائندگی کر رہے ہیں۔ ہماری رائے میں امت کے حساس اور بنیادی مسائل میں سے، روایتی فقہ کو ہی اسلام سمجھنے کا مسئلہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔
محمد دین صاحب جوہرجب یہ فرماتے ہیں کہ ’’ اگر روح ہی کا مسئلہ ہے تو یہ دین سے فقہ میں پھر سے reintroduce کی جا سکتی ہے‘‘ تو اگرچہ دین اور فقہ میں فرق باور کروا دیتے ہیں، لیکن ان کی اسی بات میں اعلیٰ درجے کی سادگی بھی جھلکتی ہے کیونکہ وہ ذہناً ، روایتی فقہ کو دین کے متوازی اہمیت دے رہے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر فقہ میں دینی روح reintroduce کی جا سکتی ہے تو دین کی بنیاد پر از سرِ نو (روایتی فقہ کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے) نئی فقہ کیوں تخلیق نہیں کی جا سکتی؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ فاضل نقاد اور بقول ان کے عام مسلمان روایتی فقہ کو ہی دین سمجھے بیٹھے ہیں۔ اس سلسلے میں جوہر صاحب کا یہ جملہ ’’ مسئلہ روح و جوہر وغیرہ کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ فقہ کے ڈھانچے سے کیسے جان چھڑائی جائے‘‘ ان کے ما فی الضمیر کی چغلی کھا رہا ہے۔ فاضل نقاد کے اس طنزیہ قول ’’لیکن شکر ہے کہ تاریخ نے داخلی روح اور حقیقی جوہر کو ختم کر دیا، اب ہماری ذمہ داری ڈھانچے کی تدفین ہے، کیونکہ یہی ہماری نئی تاریخی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنا دینی ذمہ داری سے زیادہ ضروری ہے۔‘‘ کی ہم تصحیح کیے دیتے ہیں کہ انھیں یہ تاریخی ذمہ داری پوری کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ظاہری ڈھانچے کی تدفین تو عرصہ ہوا ہو چکی ہے۔ ظاہری ڈھانچے سے پیچھا چھڑانے سے ہماری مراد ، درحقیقت اس مجاوری سے گلو خلاصی ہے جو اس ظاہری ڈھانچے کی تدفین کے بعد ہنوز جاری ہے۔
۶۔ جوہر صاحب اپنے چھٹے اعتراض میں، مستشرقین کی آڑ لیتے ہوئے تحریفِ قرآن کی کوشش منسوب کررہے ہیں۔ ذرا دیکھیے تو: 
’’...... اور پھر ’’عمومی عمرانی صورتِ حال‘‘ کا کیا مطلب ہے؟اور قرآن کی چھانٹی اس لیے کی جائے کہ وہ اس چیستاں سے مطابقت لیے ہوئے ہو؟ اور باقی قرآن؟ مصنف لفظی ہیر پھیر سے وہی بات کر رہے ہیں جو مغرب کے جدید دانش ور کھل کر کرتے ہیں کہ قرآن کی از سر نو editing ہونی چاہیے۔ ........ نقاب پوش نظریاتی مہرے بھی قرآن مجید کی تدوین جدید کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جس طرح شارع نے چھانٹی شدہ تاریخ کو قرآن بنا دیا اس طرح امت مسلمہ چھانٹی شدہ قرآن کو ایک بار پھر تاریخ بنا دے۔......... یہاں غور طلب یہ بات ہے کہ اگر قرآن چھانٹی[جس کے لیے جدید لفظ editing ہے۔ نہ جانے مصنف اس سے کیوں احتراز کر رہے ہیں] سے نہیں بچ سکتا تو حدیث کی کیا مجال ہے؟‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۳، ۴۵)
جوہر صاحب غالباً تجاہلِ عارفانہ سے کام نہیں لے رہے، اس لیے یقیناً انھیں مغالطہ ہوا ہے۔ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ نزولی ترتیب کے لحاظ سے دنیا میں قرآن پاک کا ایک بھی مستند نسخہ موجود نہیں ہے اور کبھی موجود نہیں رہا۔ اس لیے اس وقت ہمارے پاس موجود قرآن مجید نزولی ترتیب کے مطابق نہیں ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اگر اللہ رب العزت کو حتمی ترتیب(موجودہ ترتیب) ہی مقصود تھی تو قرآن اسی ترتیب کے مطابق نازل کیوں نہیں کیا گیا؟ یا پھر نزولی ترتیب ہی کو باقی کیوں نہیں رکھا گیا؟کیا یہ سوال اٹھانا جرم ہو گیا؟ اور اس کا مطلب یہ ہو گیا کہ ہم قرآن مجید کی editing کے خواہاں ہیں؟ بھائی میرے! ! ترتیب بدلنے کو اگر آپ editing کا نام دے رہے ہیں تو یہ ہم نے تو نہیں کی، البتہ اس میں مضمر حکمت تلاش کرنے کی طالب علمانہ کوشش ضرور کی ہے، جو آپ جیسوں کے نزدیک جسارت ٹھہر گئی ہے۔ اس جسارت پر پھر سے ایک نظر ڈالیے اور ہمارے مضمون کے باقی ماندہ مندرجات ذہن میں رکھتے ہوئے ہماری راہنمائی فرمائیے کہ ہم کہاں editing کے مرتکب ہوئے ہیں: 
’’اس بحث کا ایک قابلِ اعتنا پہلو یہ ہے کہ قرآن مجید کی ترتیبِ نزولی کے بدل دیے جانے پر صورتِ حال بدل جاتی ہے۔ اسوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی ترتیبِ نزولی کے باہمی تعلق کی حیثیت ’’تاریخ‘‘ کی ہو جاتی ہے۔ اب اس مخصوص عمرانی صورتِ حال کی حامل تاریخ میں سے نچوڑی عمل کے ذریعے سے حاصل شدہ تاریخ (gist of history)، جو کسی بھی عمرانی صورتِ حال کے موافق ہو سکے، اصولاً (قرآن کے داخل میں) محفوظ کر لی جانی چاہیے تھی۔ اور اسے محفوظ کر بھی لیا جاتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ جب تاریخی چھانٹی کا اطلاق کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں قرآن مجید کی نزولی ترتیب (مخصوص تاریخی تفصیلات اور علائق و قرائن سے اوپر اٹھ کر) بجائے خود چھانٹی شدہ تاریخ کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ جس سے قرآن کی دو حیثیتیں سامنے آتی ہیں:
۱۔ قرآن مجید کی حتمی ترتیب اس کے چھانٹی شدہ تاریخ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔
۲۔ یہی حتمی ترتیب کا حامل قرآن لوحِ محفوظ کی زینت ہے۔
قرآن مجید کی پہلی حیثیت ایک اعتبارسے اس امر کی علامت بن جاتی ہے کہ شارع نے تاریخ کی چھانٹی کا عمل قرآن کے داخل میں کر دکھایا ہے، اس لیے قرآن سے باہر خارج (روایات و احادیث وغیرہ) میں بھی تاریخی چھانٹی کا اطلاق، خود انسانوں کو کرنا چاہیے۔‘‘ (الشریعہ ستمبر۲۰۱۲:ص۴۹) 
جوہر صاحب کے درج ذیل اعتراض سے ان کا منشا سامنے آ جاتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
’’اسلام کی نئی تعریف اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسلام بطور دین کے ہر پہلو کو ازسر نو متعین نہ کر لیا جائے۔ اس کامقصد کسی دینی غایت تک پہنچنا نہیں ہے بلکہ عصری طاقت اور علم کے سامنے معافی تلافی کر کے جان بخشی کرانا ہے۔‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۳)
ہم گزارش کریں گے کہ اسلام کی نئی تعریف کے لیے اسلام بطور دین کے ہر پہلو کا از سرِ نو تعین بالکل ضروری نہیں ہے، لیکن ان پہلوؤں کا ازسرِ نو تعین انتہائی ناگزیر ہے جو قرآن و سنت کے علاوہ ہیں۔ مسئلہ وہی ہے کہ ہمارے فاضل نقاد قرآن و سنت کے علاوہ باقی ماندہ دینی روایت کو بھی اسی طرح حالتِ استقلال میں دیکھنے کے آرزو مند ہیں جو استقلال قرآن و سنت کو حاصل ہے۔ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ جب قرآن مجید ایمان والوں سے ایمان لانے کو کہتا ہے اور ایمان میں زیادتی (اضافے) کی بات کرتا ہے تو قرآن و سنت پر ایمان کی ایک موجود حالت کو از سرِ نو دیکھے بغیر کسی نئی اور اعلیٰ حالت تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے؟ ہمارے فاضل نقاد کیوں کہ standard disciplines and discourses کے حصار میں ہیں اس لیے انھیں ایمان میں اضافے کا یہ عمل قرآن و سنت کا از سرِ نو تعین دکھائی دیتا ہے۔ اگر موصوف کسی طور اس حصار کو توڑنے میں کام یاب ہو جائیں تو انھیں وہ دینی غایت بھی نظر آ جائے گی جس کا سوال جناب نے مذکور جملے میں اٹھایا ہے اور عصری طاقت و علم کے سامنے معافی تلافی کی نوبت بالکل نہیں آئے گی۔ 
۷۔ ساتویں اعتراض میں، اسلام کی نئی تعریف (کی تلاش کی کوشش) کو مہم جوئی گردانتے ہوئے جوہر صاحب ایک اوچھا وار کرتے ہیں:
’’(اسلام کی نئی تعریف کی)اس مہم جوئی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت و مقام کو نہایت غیر محسوس طریقے سے تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔ اسوہ کا نیا مفہوم ملاحظہ ہو:
’’مذکورہ بحث کے بین السطور یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت کے ’’اسوہ کامل‘‘ ہونے کا ایک درخشندہ پہلو، اپنے دور کی سماجی صورتِ حال اور اس سے منسلک مطالبوں کے مکمل ادارک پر محیط ہے۔‘‘
ذرا دیکھیے کہ مصنف نے ’’درخشندگی‘‘ کہاں ارزانی فرمائی ہے! اور پھر اسوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی ترتیب نزولی کے باہمی تعلق کی حیثیت ’’تاریخ‘‘ کی ہو جاتی ہے۔‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۳)
ہمارے ممدوح نے درخشندگی ، ارزانی فرمانے کا طنز تو کر دیا ہے، چلیے طنز کے بعد سہی!! لیکن ایک بار پھر اسے پڑھنے کی زحمت کر لیتے تو انھیں بخوبی علم ہو جاتا کہ ’’ایک درخشندہ پہلو‘‘ کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ درخشندگی کی جس ارزانی کی طرف جناب نے توجہ دلائی ہے وہ بہت عجیب و غریب ہے اور کم از کم ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔ کیا موصوف یہ باور کرانا چاہ رہے ہیں کہ وہ عظیم ہستی (صلی اللہ علیہ وسلم) جو ہر دور کے انسانوں کے لیے اسوہ کامل کی حیثیت رکھتی ہے، اس عظیم ہستی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنے دور کے سماج اور سماجی متقضیات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی؟ جوہر صاحب کا ’’اور پھر‘‘ علمی مباحث کی تاریخ میں یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔ اس ’’اور پھر‘‘ کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ نہ تو نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کا تعلق زمان و مکان سے تھا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید کا نزول کسی زمان و مکان میں ہوا۔ موصوف کی منطق مان لی جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کا مکی و مدنی دور، غزوات، معاہدات، وغیرہ وغیرہ تاریخ میں نہ ہونے کے سبب (نعوذ باللہ) مفروضہ قرار پاتے ہیں، جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ جوہر صاحب سے ہاتھ جوڑ کر مودبانہ گزارش ہے کہ اسلام اور پیغمبرِ اسلام کو دیو مالائی داستان نہ بنائیں، ...... کہ اسلام اور پیغمبرِ اسلام تاریخی حقیقت ہیں، انھیں تاریخی حقیقت ہی رہنے دیں۔ جہاں تک ہمارے جملے ’’اسوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی ترتیب نزولی کے باہمی تعلق کی حیثیت ’تاریخ‘ کی ہو جاتی ہے‘‘ کی معنویت کا تعلق ہے، جوہر صاحب مفروضات کے جوہڑ سے باہر نکل آئیں تو وہ ان پر خود بخود عیاں ہو جائے گی۔ 
۸۔ درج ذیل آٹھویں اعتراض میں محمد دین صاحب جوہر ایک لفظ ’’مطابقت‘‘ کی بابت اشکال کا شکار ہوئے ہیں: 
’’خدا خیر کرے۔ نچوڑی ہوئی یا غیر نچوڑی ہوئی، چھانٹی شدہ یا غیر چھانٹی شدہ تاریخ ہمیشہ اپنے جواز کے لیے ’’کسی عمرانی صورتِ حال‘‘ سے ’’مطابقت‘‘ کی بھیک ہی مانگتی ہے، ورنہ وہ تاریخ ہونے کے شرف سے سرفراز نہیں ہو سکتی۔ اللہ قرآن کو اس انجام سے محفوظ رکھے۔ قرآن مجید تاریخی اور عمرانی صورتِ حال پیدا کرتاہے، اس سے مطابقت تلاش نہیں کرتا۔ اگر مصنف اس مطابقت کی کچھ علمی تفصیلات بھی ارشاد فرما دیتے کہ متن قرآن اور صورتِ حال میں یہ کیسے اور کن شرائط پر قائم ہوتی ہے تو ان کا نظریہ واضح ہو جاتا۔‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۳)
محترم سے گزارش ہے کہ اگر قرآن تاریخی اور عمرانی صورتِ حال پیدا کرتا ہے تو پھر لازمی طور پر مسلمانوں کی موجودہ زبوں حالی کا ذمہ دار قرآن مجید ہی کو قرار دیا جانا چاہیے، ....... کہ وہی اس تاریخی و عمرانی صورتِ حال کو پیدا کر رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ قرآن مجید پر ایک بہتان ہے۔ اس لیے جب ہم قرآن مجید کی عمرانی فعلیت یا عمرانی صورتِ حال سے مطابقت کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد درحقیقت یہ ہے کہ عمرانی صورتِ حال کو کما حقہ سمجھا جائے، اس کے بعد مسائل کے موافق محکم قرآنی آیات سے استدلال کیاجائے، جس کے نتیجے میں وہ تاریخی و عمرانی صورتِ حال پیدا ہو گی جس کی طرف فاضل نقاد نے اشارہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ عمرانی صورتِ حال تغٖیر پذیر رہتی ہے، اس لیے اس پر ہر وقت نظر رکھے جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور قابلِ فہم بنانے کی بھی۔ اس کے بر عکس قرآن مجید ایک نا قابلِ تغیر حقیقت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آج ہماری کچھ کچھ (ذہنی نہیں، وجودی) نظر قرآن مجید پر تو ہے لیکن عصری عمرانی صورتِ حال ہماری گرفت سے کوسوں دور ہے۔ اسی لیے قرآن مجید تاریخی و عمرانی صورتِ حال پیدا نہیں کر رہا(بلکہ اس کا شکار ہو رہا ہے)۔ 
۹۔ محمد دین صاحب جوہر، معاشرے میں رائج فہمِ اسلام کے دفاع میں بہت سنجیدگی سے مورچہ زن ہیں۔ موصوف اپنے نویں اعتراض میں فرماتے ہیں: 
’’انبیا علیہم السلام کی بعثت کے بارے میں نیا عقیدہ ملاحظہ فرمائیں:
’’یعنی بنیادی طور پر صفاتِ امانت و دیانت کی بدولت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کا حق دار ٹھہرایا گیا اور قرآن کو پردہ غیب سے ظہور میں لایا گیا۔‘‘
نبی کی بعث کے اس نئے تاریخی معیار کے مضمرات سے مصنف خود ہی ڈر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ’’عام انسانوں کے لیے امانت و دیانت کی اس سطح تک پہنچنا محال ہے۔‘‘ یہ بھی فرما دیتے کہ ان کے تاریخی نظریے کے مطابق کیوں محال ہے؟ ’’ اس لیے عام انسان اپنی دیانت کے بل بوتے پر پردہ غیب سے تو قرآن ظہور میں نہیں لا سکتے۔‘‘ یہ نہیں بتایا کہ کیوں نہیں لا سکتے؟........ ہو سکتا ہے کسی نئے قرآن کی سبیل ممکن ہو جاتی اور سارا ٹنٹا ہی نکل جاتا،...... اس نئی تعریف کی کوشش میں اکابرینِ امت اور علمائے کرام کی عزت بھی جاتی رہی جن پر طعن اس پورے مضمون میں جا بجا بکھرے ہوئے ہیں۔‘‘ (الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۴)
ہم قطعی طور پر کسی ڈر الجھاؤ کا شکار نہیں ہیں لیکن خود فاضل نقاد اپنی تحریر کے بین السطور کہیں بشریت انبیا سے انکاری معلوم ہوتے ہیں کہ ان (انبیا ؑ )کی انسانوں میں تاریخی موجودگی پر بے معنی حیل و حجت کرتے ہیں اور کہیں عام انسانوں کو مقامِ نبوت پر کمندیں ڈالتے دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ حالاں کہ بہت صاف اور واضح بات ہے کہ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم صرف نور نہیں بلکہ بشر بھی ہیں۔ جب کہ عام انسان بشر ہونے کے سبب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے توسط سے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقامِ نور کا عرفان حاصل کرتے ہیں، خود نور نہیں ہو سکتے۔ واقعہ یہ ہے کہ فاضل نقاد کو اصل دکھ، اکابرینِ امت اور علمائے کرام کی عزت کی پامالی کا ہے جو بقول ان کے ہمارے مضمون میں جا بجا بکھری ہوئی ہے۔ ہم عرض کریں گے موصوف اپنے مضمون کے بین السطور، اکابرینِ امت کو جس مقام پر سرفراز کرنا چاہ رہے ہیں وہ ہمارے نزدیک اس لیے قابلِ گرفت ہے کہ قرآن مجید نے تاریخی واقعات کے بیان کے ضمن میں کئی انبیا کرام علیہم السلام کے نام تک نہیں لیے۔ جس کے پیچھے (ہمارے نزدیک) حکمت یہ پوشیدہ ہے کہ تاریخ کی تمام تر تفصیلات کا جاننا اور ان سے استفادہ کرنا ہر دور کے انسانوں کے لیے ضروری نہیں ہے۔ اسی حکمت کی اتباع میں ہم نے گزارش کی تھی کہ ہمیں بھی اپنی تاریخ کے اکابرین (اور مقابرین) کی چھانٹی کر لینی چاہیے۔ اس چھانٹی سے ان کی عزت و عصمت پر کوئی حرف نہیں آئے گا کہ قرآن مجید میں جن انبیا کے نام بھی نہیں آئے ان کی رسالت، وقار، احترام اور تکریم میں ذراہ برابر فرق نہیں آیا۔ پھر جس طرح اکابر (اور مقابر) پرستی کے جنون میں مبتلا ہو کر ہم خوامخواہ کی تاریخی جزئیات میں الجھ گئے ہیں، اس سلسلے میں بھی قصص القرآن کے اسالیب ہماری راہنمائی کرتے ہیں ....... کہ انبیا کرام علیھم السلام کے مذکور قصوں میں ان کی زندگیوں کی تمام تر تفصیلات کا احاطہ نہیں کیا گیا۔ اب اگر ہم نے یہ کہہ دیا کہ اس قرآنی اسلوب سے سیکھا جاناچاہیے تو کیا یہ کہنا جرم ہو گیا؟
۱۰۔ جوہر صاحب دسویں اعتراض میں فرماتے ہیں:
’’نفاذ، اطلاق، تطبیق وغیرہ کی دل دادگی بری نہیں، لیکن قرآن کو خلاصہ تاریخ کہہ کر اس کو عمرانی نظریہ قرار دینا بہت سنگین طور پر محل نظر ہے۔ یہاں یہ امر واضح ہونا چاہیے کہ یہاں تاریخ سے کیا مراد ہے؟ کیا انسان کی معلومہ تاریخ ہے جس کا شارع نے خلاصہ بنایا ہے؟ مستشرقین اور جدید مغرب کے اسکالر تو یہ الزام رکھتے ہیں کہ قرآن توریت اور بائبل کا خلاصہ ہے۔ چلو، اس الزام سے رست گاری کی کوئی سبیل نظر آئی اور اب یہ تاریخ کا خلاصہ ہو گیا۔ لیکن قرآن کے لیے یہ نیا اعزاز تو پرانے الزام سے بھی بدتر ہے۔
’’اس لیے ترتیب نزولی کا حامل قرآن تاریخ کے نچوڑ کے جلو میں عصری مطالبات کی تکمیل کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یعنی ایک لحاظ سے نزول قرآن کا یہ خاص پہلو صراحت کرتا ہے کہ تاریخ نہیں بلکہ چھانٹی شدہ تاریخ selected history سے ایک حد تک مدد لے کر عصری مسائل سے نمٹا جا سکتا ہے۔‘‘
اس اپروچ کے بعد قرآن کی ضرورت ویسے ہی ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ فاعل کے لیے قرآن اور عصری مسائل اب ایک ہی سطح کی چیز ہیں۔ عصری مسائل تو خود تاریخ کی پیداوار ہیں، اور تاریخی تجربے سے انسان ان کے حل میں لگا رہتا ہے۔ اسے اس کے حال پر چھوڑنے میں کیا مضائقہ ہے؟ اگر حق اور تاریخی تجربہ ایک ہی سطح کی چیزیں ہیں تو ہمیں اپنے دین کی خیر منانی چاہیے۔‘‘(الشریعہ نومبر ۲۰۱۲: ص۴۵)
فاضل نقاد کبھی قرآن کی editing کا الزام عائد کرتے ہیں اور کبھی قرآن کو خلاصہ تاریخ قراردینے کی بات ہمارے سر منڈھ دیتے ہیں۔ محترم کے اس نوع کے اعتراضات سے، فیضؔ یاد آ گئے:
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا 
وہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے
محترم!! قرآن کو خلاصہ تاریخ کہاں کہا گیا ہے؟ کیا محترم کے نزدیک ’’تاریخ کے نچوڑ کے جلو میں‘‘ اور ’’خلاصہ قرآن‘‘ کہنے میں کوئی فرق نہیں ہے؟ جوہر صاحب کی نیک نیتی پر کوئی شک کیے بغیر عرض کیے دیتے ہیں کہ غالباً وہ ’’چھانٹی شدہ تاریخ(selected history)‘‘ کے الفاظ سے اشکال کا شکار ہوئے ہیں۔ ذرا ہمارے مضمون کے الفاظ دیکھیے ’’ترتیبِ نزولی کا حامل قرآن تاریخ کے نچوڑ کے جلو میں عصری مطالبات کی تکمیل کرتا دکھائی دیتا ہے‘‘ اور اب بتایے کہ جب قرآن مجید نازل ہو رہا تھا تو کیا ما قبل تاریخ میں سے چنیدہ واقعات پیش نہیں کر رہا تھا؟ آخر قصص القرآن کس زمرے میں آتے ہیں؟ چلیے، تفہیم و ابلاغ کی خاطر یوں کہے دیتے ہیں کہ’’ترتیب نزولی کا حامل قرآن قصص القرآن کے جلو میں عصری مطالبات کی تکمیل کرتا دکھائی دیتا ہے۔‘‘ اگر فاضل نقاد قصص القرآن کی ایسی معنویت سے انکاری ہیں تو ان کے نزدیک یہ بچوں کو سنانے کے لیے محض قصے کہانیاں ہیں۔ پھر ہم نے کہا تھا کہ ’’یعنی ایک لحاظ سے نزول قرآن کا یہ خاص پہلو صراحت کرتا ہے کہ تاریخ نہیں بلکہ چھانٹی شدہ تاریخ selected history سے ایک حد تک مدد لے کر عصری مسائل سے نمٹا جا سکتا ہے۔‘‘ ان الفاظ پر بھی غور کرنے کی زحمت کر لی جائے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ تاریخ کی بات نہیں ہو رہی بلکہ چھانٹی شدہ تاریخ(بقول محترم نقاد، خلاصہ تاریخ) کی بات ہو رہی ہے جو کہ ما قبل تاریخ کا جوہر ہے، اور پھر اس سے بھی ’’ایک حد تک‘‘ مدد لے عصری مسائل سے نمٹنے کی بات ہو رہی ہے۔ کیا جوہر صاحب یہ خیال کرتے ہیں کہ قرآن کے قصص نے نزولِ قرآن کے دوران میں، مکی مدنی مسائل و معاملات کے حل میں ’’ایک حد تک‘‘ بھی مدد نہیں دی؟ کیا ان کے نزدیک اس اپروچ کے بعد واقعی قرآن کی ضرورت ویسے ہی ختم ہو جاتی ہے؟
جوہر صاحب نے یہ بھی خوب فرمایا ہے کہ ’’ عصری مسائل تو خود تاریخ کی پیداوار ہیں، اور تاریخی تجربے سے انسان ان کے حل میں لگا رہتا ہے۔ اسے اس کے حال پر چھوڑنے میں کیا مضائقہ ہے؟‘‘۔ بھلے آدمی! مضائقہ ہے۔ کیوں کہ نہ تو عصری مسائل، صریحاً تاریخ کی پیداوار ہیں اور نہ ہی ہر تجربہ ’’تاریخی تجربہ‘‘ بن پاتا ہے۔ قرآن مجید نے قصص القرآن وغیرہ کے ضمن میں، کسی تجربے کے تاریخی تجربے میں ڈھلنے کی شرائط و خصوصیات بیان کر دی ہیں۔ اس لیے جوہر صاحب کو اپنے دین کی خیر منانے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے کہ تاریخی تجربے کی قرآنی معنویت سے حق اور تاریخی تجربہ تقریباً ایک ہی سطح کی چیزیں ہو جاتی ہیں۔ 
۱۱۔ محمد دین صاحب جوہر کا گیارہواں اعتراض ملاحظہ کیجیے:
’’مغرب میں ظاہر ہونے والا جدید شعور استعمار آفریدہ جدید شعور کا پدری شعور ہے۔ ’پتا پہ گھوڑا‘ کے مصداق یہ دیسی جدید شعور اس کے کچھ ثقافتی خواص کا حامل ضرور ہے لیکن اس کا وارث شعور نہیں ہے۔ یہ شعور کسی ایسے مسئلے سے نبرد آزما ہی نہیں ہوا جس کا سامنا تہذیب مغرب میں ظاہر ہونے والے جدید شعور کو ہوا۔ ....... reason اس وقت تک اپنے کام کا آغاز نہیں کر سکتی جب تک انسانی شعور کی یہ طلب (intellect) پوری نہ ہو جائے۔ یہ طلب وہ خدا سے پوری کرے یا کسی بت سے، اس کے بغیر وہ اپنے کام کا آغاز کر ہی نہیں سکتا۔ ..... جدید شعور ماورا کے سوال ہی کو ختم کرنا چاہتا ہے۔‘‘(الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۶)
جوہر صاحب ایک ہی سانس میں کئی متضاد باتیں ارشاد فرما رہے ہیں۔ ایک طرف ’’استعمار آفریدہ جدید شعور‘‘ کو مغرب میں ظاہر ہونے والے جدید شعور کے کچھ ثقافتی خواص کا حامل قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف ’پتا پہ گھوڑا‘ کے مصداق اصرار کرتے ہیں کہ استعمار آفریدہ جدید دیسی شعور کو کسی بھی ایسے مسئلے سے نبرد آما نہیں ہونا پڑا، جس کا سامنا تہذیب مغرب میں ظاہر ہونے والے جدید شعور کو ہوا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دیسی شعور میں جدید مغربی شعور کے کچھ ثقافتی خواص کیسے در آئے؟ ظاہر ہے ’’کچھ ثقافتی خواص‘‘ لازمی طور پر اپنے پیچھے ’’کچھ مماثل مسائل‘‘ بھی رکھتے ہوں گے؟ کیا خیال ہے؟ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ عالم گیریت کی موجودہ فضا میں ’’کچھ ثقافتی خواص‘‘ اب زیادہ دیر تک ’’کچھ‘‘ نہیں رہیں گے اس لیے مماثل مسائل بھی ’’کچھ‘‘ کی تنگ نائے عبور کر لیں گے۔ رہی یہ بات کہ مغربی شعور intellect کی فطری طلب، بتوں سے پوری کر رہا ہے تو خیر سے ’’قدیم دیسی شعور‘‘ بھی تو بتوں سے ہی امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔ قدیم دیسی شعور کے پروردہ معاشرے میں بد دیانتی اور بے حیائی کا جو طوفانِ بد تمیزی برپا ہے کیا یہ ثابت کرنے کو کافی نہیں کہ اس کے ہاں ’’ماورا‘‘ کا سوال عملی طور پر گول ہو چکا ہے؟ 
۱۲۔ جوہر صاحب کا بارہواں اعتراض:
’’اس تناظر کا دعوی ہے کہ مذہب بھی تاریخ اور ثقافتی حالات یعنی صورتِ حال ہی کی پیداوار ہے، ماورا وغیرہ سب لغویات اور توہمات ہیں۔ دیسی اور کم جرات آزما جدید شعور کے نزدیک ’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ [تاریخی] صورتِ حال موجود نہ ہوتی تو قرآن مجید کا نزول نہ ہوتا۔‘‘ (بریکٹ میں لفظ راقم کا اضافہ ہے) نعوذ باللہ، اگر اللہ بھی اس تاریخ کے سامنے مجبور ہے تو ہماری کیا مجال کہ ہم نچوڑی تاریخ سے رہنمائی حاصل نہ کریں؟‘‘(الشریعہ نومبر۲۰۱۲:ص۴۶) 
جوہر صاحب کی بریکٹی اضافت سے ان کا منشا واضح ہوا ہے۔ ان کے خیال کے مطابق تاریخی صورتِ حال، کوئی بہت اہم صورتِ حال ہے جس کی عدم موجودگی میں (بقول ہمارے) قرآن نازل ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن ہماری مراد مخصوص صورتِ حال نہیں تھی (جسے جوہر صاحب تاریخی قرار دے رہے ہیں)، بلکہ اس سے ہماری غرض انسانوں کے باہمی میل ملاپ سے تشکیل پائی (کوئی بھی) معاشرتی صورت حال تھی۔ کیونکہ انسانوں کی غیر موجودگی (معاشرتی صورت حال کی عدم موجودگی) میں نزول قرآن کا جواز نہیں رہتا۔ کیا قرآن خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کی تصدیق نہیں کرتا؟ کیا قرآن نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک معاشرے (انسانوں) میں موجودگی کے دوران میں نازل نہیں ہوا؟ ....... تو کیا قرآن (شان نزول کے بغیر) مجرد حالت میں نازل ہوا ؟ واقعہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے بتدریج نزول کے پیچھے بھی یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ یہ ایک زندہ (تغیر پذیر) معاشرتی صورت حال کو address کرتے ہوئے ۲۳ برسوں کے دوران میں نازل ہوا۔ اس لیے جوہر صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تاریخ کے سامنے مجبور نہیں ہے لیکن اس کی حکمتِ بالغہ، انسانی صورتِ حال کاپورا لحاظ رکھتی ہے،....... کہ قرآن، بنیادی طور پر انسانوں کی ہدایت کے لیے ہی نازل کیا گیا ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کو تاریخ کے سامنے طاقت ور دکھلانے کے لیے۔ اگر اللہ تعالیٰ کو تاریخ کے مقابل طاقت ور دکھانا ہی مقصد ہوتا تو نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ہجرت نہ کرنی پڑتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب کی جماعت کھڑی نہ کرتے، بدر و خیبر کے معرکے برپا نہ کرتے۔ مسلمانوں کو غزوہ احد میں عارضی شکست نہ ہوتی، ان کا اتنا جانی نقصان نہ ہوتا، جنگ جمل نہ ہوتی، جنگ صفین سے بچاؤ کی کوئی صورت نکل آتی، اور واقعہ کربلا ہر گز رونما نہ ہوتا۔ 
اسی نکتے کے ضمن میں فاضل نقاد کا کہنا ہے :
’’ہم بات کو غلط رنگ نہیں دیتے، لیکن اب تو صاف ظاہر ہے کہ ’’متن قرآن سے کہیں بڑھ کر صورت حال اہم ہو جاتی ہے۔‘‘ یعنی تاریخ کی اہمیت اول ہے، وحی کی حیثیت ثانوی ہے۔‘‘(الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۶) 
جوہر صاحب کا فرمایا ہوا چونکہ مستند ہے اس لیے وہ بات کو غلط رنگ تو بالکل نہیں دے رہے، البتہ اول و ثانی کے الفاظ سے سنسنی ضرور پیدا کر رہے ہیں۔ محترم کی خدمت میں عرض ہے کہ قرآن جب یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حالت کبھی نہیں بدلی جو آپ اپنی حالت نہیں بدلتے، اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا آپ اپنی حالت نہ بدلنا، ایک صورت حال ظاہر نہیں کرتا؟ تو کیا یہاں [نعوذ باللہ] اللہ تعالیٰ مجبور و بے بس ہے؟ 
جوہر صاحب رقم طراز ہیں:
’’پھر وہ فرماتے ہیں کہ ’’متن قرآن نہیں، بلکہ حقیقت میں صورت حال کی اس مبنی بر صداقت تفہیم نے‘‘ سماجی صورت حال کو تبدیل کر دیا۔یہاں متن قرآن کی تفہیم غیر اہم ہو گئی۔ اہم تر یہ ہے کہ قرآن بھی اپنی معنویت ’’صورتِ حال کی مبنی بر صداقت تفہیم‘‘ سے اخذ کرتا ہے جو اس وقت کا شعور اپنی صلاحیت سے تاریخ سے نچوڑتا ہے۔‘‘(الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۶)
فاضل نقاد سے گزارش ہے کہ اگر متن سے سماجی صورتِ حال میں بدلاؤ سبھاؤ آ جاتا ہے تو فی زمانہ متن تو موجود ہے، آخر تبدیلی کیوں رونما نہیں ہو رہی؟ کیا گڑبڑ (نعوذ باللہ) متن میں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی متن کا فی نفسہٖ فہم کسی نہ کسی درجے میں موجود ہے لیکن صورتِ حال سے میل نہ کھانے کے باعث یہ فہم، مطلوب سماجی صورتِ حال پیدا نہیں کر رہا۔ اس لیے ’’صورتِ حال کی واقعیت‘‘ پر بہت گہری نظر ناگزیر ہو جاتی ہے تاکہ متن کا فہم نہ صرف بجائے خود نئی معنویت سمیت جلوہ گر ہو بلکہ نئی عمرانی صورتِ حال کی راہ بھی ہم وار کر سکے۔ 
اس نکتے کے ذیل میں جوہر صاحب نے عارفانہ طرزِ تکلم اختیار کیا ہے، ملاحظہ کیجیے:
’’........ صورتِ حال انسان کا مسئلہ ہے، وحی کامسئلہ نہیں ہے۔ جس طرح صورتِ حال انسان کو روند ڈالتی ہے، اسی طرح وحی اللہ کے رسول میں مجسم ہو کر تاریخی صورتِ حال کو ادھیڑ دیتی ہے اور نتیجتاً پیدا ہونے والی صورتِ حال ہرگز ہرگز مکرر ہرگز تاریخی نہیں ہوتی کیونکہ اس کی پیدائش کے اسباب تاریخی نہیں ہوتے، ماورائی ہوتے ہیں۔ اگر وحی متن بن رہی ہے تو ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک میں مجسم قرآن بن کر ارضی نمود میں ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ اپنی صورتِ حال کا کشکول لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہے۔ ........۔ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۷)
جوہر صاحب اس تضاد بیانی کی وضاحت فرما دیں کہ اگر صورتِ حال وحی کامسئلہ نہیں ہے تو پھر وحی اللہ کے رسول میں مجسم ہو کر تاریخی صورتِ حال کو ’’کیوں‘‘ ادھیڑ دیتی ہے؟ کوئی اور کام کیوں نہیں کرتی؟ رہی بات نتیجتاً پیدا ہونے والی تاریخی صور تِ حال کی؟؟ تو ان معنوں میں ہم نے کہیں بھی اسے تاریخی نہیں کہا، جو معانی جوہر صاحب اسے پہنا رہے ہیں۔ البتہ ہم نے یہ ضرور عرض کیا تھا کہ قرآن مجید کی نزولی ترتیب کے بدل دیے جانے کے بعد، اسوہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی ترتیب نزولی کے باہمی تعلق کی حیثیت ’’تاریخ‘‘ کی ہو جاتی ہے۔ 
جوہر صاحب اس داخلی تضاد کی بھی وضاحت فرما دیں کہ وحی متن بن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک میں مجسم قرآن بن کر ارضی نمود میں ہے تو ایک ہی بار میں مکمل صورت میں نازل کیوں نہیں کر دی گئی؟ (اگر اس کا تعلق صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک میں مجسم ہو کر ارضی نمود میں ڈھلنے سے ہے)۔ آخر اس میں کیا مضائقہ تھا کہ وحی ایک ہی بار میں مکمل صورت میں نازل کر دی جاتی اور اس کے بعد، تاریخ وقتاً فوقتاً صورتِ حال کے مطابق کشکول لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہوتی رہتی؟ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کیونکہ صورتِ حال وحی کا بھی مسئلہ ہے، اس لیے متن کی تنزیل لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتِ حال کو بھی پیشِ نظر رکھ کر کی گئی۔ تاریخ، صورتِ حال کا کشکول لے کر ایک لمحہ نہیں بلکہ ۲۳ برس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر رہی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذاتی اور بشری حیثیت میں صورتِ حال کا جواب نہیں دیتے رہے بلکہ جو جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا گیا وہی جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے پہنچاتے رہے۔ 
۱۳۔ جوہر صاحب تیرہویں اعتراض میں فرماتے ہیں:
’’یہ کلی تفہیم (۱) صداقت پر مبنی ہونی چاہیے، (۲)غیر جانب دار ہونی چاہیے، (۳)بالائے تعصب ہونی چاہیے، اور(۴)کلی ہونی چاہیے۔ اگر یہ مضمون علمی ہوتا تو مصنف اخلاقی شرائط گنوانے کے بجائے اس تفہیم کی علمی شرائط بیان فرماتے۔‘‘(الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۸)
جناب کی خدمت میں عرض ہے کہ علم، اخلاق کے بغیر علمِ محض ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں علمِ محض کے بجائے علمِ نافع کے حصول کی ترغیب دی گئی ہے اور علم، اخلاقی دلالتوں کے بغیر نافع کی سرحدوں میں داخل نہیں ہوتا۔ 
اسی نکتے کے ذیل میں موصوف لکھتے ہیں:
’’پھر ان شرائط کے ساتھ ہونے والی تفہیم تو انسانی نہیں ہو سکتی، (نعوذ باللہ) یہ تو اللہ ہی کر سکتا ہے۔ اور اگر یہ اللہ ہی نے کرنی ہے تو اسے تو کسی تفہیم کی ضرورت نہیں ہے، اگر ہے تو پھر وہ اللہ نہیں ہو سکتا۔‘‘ (الشریعہ نومبر۲۰۱۲:ص۴۸) 
جوہر صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ نزول کے وقت (اول درجے میں) یہ خدائی تفہیم ہی تھی۔ انھیں یہ اشکال، وجودی باری تعالیٰ کے صرف تنزیہی پہلو کو پیشِ نظر رکھنے سے ہوا ہے۔ تنزیہی پہلو اپنی انتہا میں (ذاتِ باری تعالیٰ کے ماسوا) جملہ حیات کے ساتھ خدائی تعلق کی نفی کرتا ہے، جس کی وجہ سے انسانی معاملات سے ’’ایک لاتعلق خدا‘‘ کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے ذاتِ باری تعالیٰ کی ایسی پہچان، جو انسان اور خدا میں قرب و تعلق پیدا کر سکے، تشبیہی پہلو کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر جوہر صاحب تنزیہ و تشبیہ کے امتزاج سے زیرِ بحث نکتے پر غور فرمائیں تو ان کا اشکال دور ہو جائے گا۔
فاضل نقاد نے اپنے تئیں بات کو قابلِ فہم بنانے کی غرض سے فرمایا ہے:
’’...... دوسرے فقرے میں صرف دو لفظی تصرف سے بات مزید صاف ہو جاتی ہے:’’اس لیے متن قرآن نہیں بلکہ حقیقت میں صورتِ حال کی اس مبنی بر صداقت تفہیم نے اس سماج کو قرآن پاک کی وہ معنویت عطا کی جس نے بعد ازاں اس صورتِ حال کو اپنے قابو میں کر لیا اور اسے بدل کر رکھ دیا۔‘‘ یہ اصل فقرہ ہے۔ اب دو لفظ تبدیل کرنے سے اصل بات سامنے آ جاتی ہے:’’اس لیے متن قرآن نہیں بلکہ حقیقت میں صورتِ حال کی اس مبنی بر صداقت تفہیم نے اس سماج کو [اور] قرآن پاک [کو]وہ معنویت عطا کی جس نے بعد ازاں اس صورتِ حال کو اپنے قابو میں کر لیا اور اسے بدل کر رکھ دیا۔‘‘ مسئلہ صرف یہ ہے کہ تاریخ کو وحی پر اور ذہن کو متن قرآن پر غالب رکھا جائے۔ یہ ایک ہی مسئلے کے دو رخ ہیں۔ سب لفظی کھینچ اور معنوی تان صرف اسی لیے ہے۔‘‘(الشریعہ نومبر۲۰۱۲: ص۴۸)
اس دو لفظی تصرف پر ہم بس یہی عرض کریں گے کہ جوہر صاحب نے ’’اور،کو‘‘ سے وہ کام لیا ہے جو کسی صاحب نے ایک نقطے سے لیا تھا اور محرم کو مجرم بنا ڈالا تھا۔ 
۱۴۔ محمد دین جوہر چودہویں اعتراض میں کہتے ہیں:
’’..... اس سارے کھلواڑ کی ضرورت آخر کیوں پڑتی ہے؟ غایت یہ ہے کہ مثلاً دیانت، امانت اور حیا جیسی اصطلاحات کی دینی معنویت کو anestheize اس لیے کیا گیا تاکہ اصل مقصد حاصل ہو سکے جو یہ ہے کہ:
’’سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حیا کے مذکور معنی میں وہ لوگ[یعنی اہلِ مغرب] با حیا نہیں ہیں؟ اور نتیجتاً دیانت دار نہیں ہیں؟‘‘
....... مطلب یہ ہے کہ ’مذکور معنی‘ میں یہی لوگ باحیا اور دیانت دار ہیں، کیونکہ مذکور معنی کی تلاش اسی مقصد ہی کے لیے تھی۔ اور ’مذکورمعنی‘ میں بیچارے مسلمان تو ہیں ہی بے حیا، بد دیانت اور ......۔‘‘(الشریعہ نومبر۲۰۱۲:ص۴۹)
جوہر صاحب کی آدھی بات درست ہے۔ جی ہاں! مذکور معنی میں مسلمان بے حیا اور بد دیانت ہیں۔ اس سلسلے میں ہم نے مضمون میں ایک دو مثالیں بھی پیش کی تھیں، لیکن جوہر صاحب پھر بھی ’مذکور معنی‘ کے بجائے ’اپنے معنی‘ پہناتے ہوئے بات کو غلط رخ پر لے گئے ہیں۔ جہاں تک دینی اصطلاحات کے استعمال کے پیچھے چھپے ’’اصل مقصد‘‘ کا تعلق ہے، تو موصوف اس لیے الزام لگانے سے نہیں بچ سکے کہ standard disciplines and discourses میں ہی ہر بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 
فاضل نقاد نہایت درد مندی سے رقم طراز ہیں:
’’وحی کی ہدایت کا فوکس اور مخاطب غالب طور پر انفس انسانی ہے۔ نظری علوم ہر تہذیب کے بنیادی اور اساسی تصور حیات کے ملازم ہوتے ہیں۔ ...... نظری علوم کی عدم موجودگی میں ہم اپنے تاریخی تجربے اور روز کے مشاہدے کی درست تعبیر پر بھی قادر نہیں رہے۔ اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ اسلام مغرب سے تہذیبی عینیت اور وجودی مفاہمت پیدا کر چکا ہے اور ہم اپنی مزاحمت کو اپنے انفس میں بھی جاری رکھنے کے وسائل سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس منظر نامے میں ضروری ہے کہ دین کا نئے علوم کی رو سے معائنہ کرنے سے پہلے دین کی رو سے نئے علوم کا محاکمہ کیا جائے۔‘‘(الشریعہ نومبر۲۰۱۲:ص۵۰)
جوہر صاحب ذرا غور فرما لیں کہ جہاں وحی کو چوم چاٹ کے بہت احترام سے الگ رکھ دینے کا رواج جڑ پکڑ لے، کیا وہاں کوئی ایسی دینی روح موجود ہو سکتی ہے جس کے توسط سے نئے علوم کا محاکمہ کیا جا سکے؟ جناب کے فرمان:’’ اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ اسلام مغرب سے تہذیبی عینیت اور وجودی مفاہمت پیدا کر چکا ہے اور ہم اپنی مزاحمت کو اپنے انفس میں بھی جاری رکھنے کے وسائل سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘ کا کیا مطلب برآمد ہوتا ہے؟ اگر وحی کی ہدایت کا فوکس غالب طور پر انفس انسانی ہے ،...... تو پھر وحی تو موجود ہے، اس کی موجودگی میں کن وسائل سے محروم ہوا جا رہا ہے؟ کیا جناب کا یہ نکتہ سابقہ نکات کی نفی نہیں کر رہا؟
اپنے تنقیدی مضمون کے آخری پیراگراف میں جوہر صاحب نے بعض مباحث کی جانب توجہ دلائی ہے۔ ان مباحث کے سرسری جائزے کے لیے بھی کئی صفحات درکار ہیں۔ ان کی اہمیت کے باوجود ہمارے لیے ممکن نہیں ہے کہ سرِ دست ان کا تفصیلی تجزیہ پیش کر سکیں۔ آخر میں ہم جوہر صاحب کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ انھوں نے ہمارے مضمون پر بے لاگ تنقیدی رائے کا اظہار فرمایا۔ ان کے اظہاریے میں دانستہ و نادانستہ کہیں کثافت در بھی آئی ہے تو پھر بھی لطافت لیے ہوئے ہے۔ امید ہے کثافت سے بھر پور اس جوابی اظہاریے کو وہ بھی لطافت پر محمول کریں گے۔

ڈیلیٹڈ ۱

ادارہ


ڈیلیٹڈ ۲

ادارہ


’’مقالاتِ جاوید‘‘ پر ایک نظر

ڈاکٹر محمد شہباز منج

فرزند اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال ملک کے معروف دانشور اور علمی وادبی حلقوں میں جانا پہچانا اور نمایاں نام ہیں۔ مختلف موضوعات پر آپ کی متعدد کتب اور مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ آپ کا عشق ہے کہ پاکستان ایسا دکھائی دے جیسا اقبال اور قائد اعظم کا خواب تھا، اسلام کی نشأۃ ثانیہ ہو ،ملتِ اسلامیہ کی عظمتِ رفتہ بحال ہو،فکر اقبال سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اہل اسلام جدید مغرب کے پیش کردہ سیاسی و معاشی افکار سے مرعوب ہونے کی بجائے قرآنی سیاسی و معاشی تصورات کو اپنائیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ قدامت پرستی اور تقلید سے نجات حاصل کریں۔ جدید مغربی تہذیب کی علمی و سائنسی ترقی اسلامی تہذیب کی علمی و سائنسی ترقی کا تسلسل ہے۔ لہٰذا اس کے اچھے پہلو اپنانے میں نہ صرف یہ کہ کو ئی حرج نہیں بلکہ اپنی عظمتِ رفتہ کی بحالی کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ اجتہاد اور فکر و فقہِ اسلامی کی تشکیلِ نو وقت کا ایسا تقاضا ہے جس سے صرفِ نظر اسلام اور اہل اسلام کی خودی کی موت ہے۔ ڈاکٹر صاحب اپنے بعض افکار کی بناپر روایت پسند طبقے اور بعض افکار کی بناپر ترقی پسند طبقے کا ہدفِ تنقید بھی بنے ہیں۔ ہر صاحبِ علم کو آپ کے افکار سے اختلاف کا حق ہے، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ اسلام، اہل اسلام،پاکستان اور اہل پاکستان کا گہرا درد رکھنے والے اور ان کے سچے بہی خواہ ہیں۔
یہاں ہمیں جاوید اقبا ل کی جس تحریر پر ایک نگاہ ڈالنا ہے، وہ محمد سہیل عمر اور طاہر حمید تنولی کی مرتب کردہ کتاب ’’مقالاتِ جاوید‘‘ہے۔ اقبال اکادمی لاہور کی طرف سے شائع کردہ ۴۳۲ صفحات پر مشتمل یہ کتاب ڈاکٹر جاوید اقبال کے مختلف اوقات میں مختلف موضوعات پر تحریر کردہ مقالات کا مجموعہ ہے۔یہ چار حصوں میں منقسم ۳۹ مقالات کی حامل ہے۔ پہلا حصہ’’ اسلام کی سیاسی فکر ‘‘کے عنوان سے ہے اور سات مقالات پر مشتمل ہے۔ پہلے مقالے میں مصنف نے ریاست کے اسلامی تصور کو واضح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلام میں مقتدرِ اعلیٰ اللہ تعالی کی ذات ہے۔ خلیفہ یا سربراہِِ ریاست امورِ ریاست کو احکام خداوندی کے مطابق مسلمانوں کی مشاورت سے چلانے کا پابند ہے۔ اسلام میں بادشاہت و ملوکیت کی کوئی گنجائش نہیں، بعض لوگوں کا بعض قرآنی آیات سے اس کے حق میں استدلال لایعنی ہے۔ خلیفہ یا سربراہِ ریاست کے انتخاب کا کوئی خاص طریقہ اسلام نے نہیں بتایا، لہٰذا حالات و ضروریات کے مطابق کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں مصنف سنت نبوی اور طریقۂ خلفائے راشدین سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضورؐ نے اپنے کسی صحابی کو پنا جانشین نامزد نہیں کیااور نہ ہی اس کے تقرر و عزل کا کوئی طریقہ تجویز کیا، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ خلفائے راشدین میں سے ہر ایک کی تقرری مختلف طریق سے عمل میں آئی جس میں حالات کے اختلاف اور سیاسی و سماجی نوعیت کی تبدیلیوں کا دخل حاصل تھا۔ ایک چیز البتہ ناقابلِ انکار ہے کہ خلیفہ کا تقررعوام کی مرضی و حمایت سے ہوتا تھا۔ قوم کو رائے دینے سے محروم نہیں رکھا گیا تھا اورا یک فقیہ کے مطابق کو تو عورت بھی جانشینی کی اہل تھی۔ انتخابِ سربراہ کے کسی خاص طریقے کے نہ ہونے کا ایک واضح ثبوت فقہا کے وہ استدلا لات بھی ہیں جو انہوں نے خلفائے راشدین کے بعد کے ادوار میں ان مختلف تبدیلیوں کوشرعی جواز فراہم کرنے کے لیے پیش کیے جو خلفائے راشدین کے طریق سے ہٹ کر عمل میں آئی تھیں۔ یہاں تک کہ غلبہ واستیلا کے ذریعے حکومت بھی اسلامی نقطہ نظر سے جا ئز تسلیم کر لی گئی، جیسا کہ غزالی ،الماوردی اور شاہ ولی اللہ وغیرہ کے افکار سے واضح ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد خلیفہ کے اختیارات کے منتخب اسمبلی کو منتقل کرنے کا استدلال پیش ہوا اور بالآخر ایساکر دیا گیا۔ بعد ازاں دیگر مسلم ریاستوں میں مجالسِ قانون ساز تشکیل پائیں اور انہیں اسلامی قوانین کے خلاف تصور نہ کیا گیا۔ سربراہ کے اکثریت کی حمایت سے منتخب ہونے اور سیاسی جماعتوں کا تصور بھی اسلام میں موجود ہے۔ بنا بریں اسلام جمہوریت کا مخالف نہیں۔ جمہوریت میں بہت سے نقائص ہو سکتے ہیں، لیکن فی زمانہ کوئی اور طریقِ حکومت اسلامی نقطۂ نظر کے اس سے زیادہ قریب نہیں۔
راقم الحروف یہاں اس استدلال سے اتفاق کرتے ہوئے یہ کہنا چاہے گا کہ جب ہر طرح کی حکومت کو شرعی جواز فراہم ہو سکتا ہے تو جدید جمہوریت کی مخالفت کیسے کی جا سکتی ہے! فقہا کے استدلالات کے طرز پرتوکتاب و سنت اور طریقِ خلفائے راشدین سے جدید مغربی جمہوریت تک بدرجہ اولیٰ جائز ثابت کی جا سکتی ہے کہ مرضئ عوام بہر حا ل غلبہ واستیلا کی نسبت اسلامی نقطہ نظر سے قریب تر ہے،چہ جائیکہ جمہوریت کے اس تصور پرشرعی تناطر میں چیں بہ جبیں ہواجائے جس میں مغربی جمہوریت کے نقائص سے بچنے پر زور دیا جاتا ہے۔
دوسرے مقالے میں’’ اسلامی ریاست علامہ اقبال کی نگاہ میں‘‘ کے عنوان کے تحت گفتگو ہے۔مصنف واضح کرتے ہیں کہ اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی ترقی میں مسلمانوں کا حصہ بدیہی ہے۔ لہٰذا اگر مسلمان مغربی تہذیب سے کچھ لیتے ہیں تو یہ اپنے تمدنی ارتقاکو جاری رکھنے کے لیے اپنے ہی علوم سے استفادہ متصور ہو گا۔ تاہم اس سلسلے میں اہل اسلام کو مقلدانہ نہیں بلکہ تنقیدی نگاہ کا حامل ہونا چاہیے۔ اقبال کے نزدیک اسلامی ریاست مغرب کی طرح دین و سیاست کی دوئی پر قائم نہیں ہو سکتی۔ مغرب میں لا دین ریاست کا تصور مادہ و روح کی بنیادی دوئی کے تصور پر استوار ہوا۔ اسلام زندگی کے روحانی ودنیوی دونوں پہلوؤں پر یکساں حاوی ہے، لہٰذا کوئی مسلم ریاست ’’لادین ریاست‘‘ نہیں ہو سکتی۔ تاہم کسی مسلم ریاست میں امورِ دینیہ کے الگ شعبہ کا قیام یورپ میں کلیسا اور ریاست کی ایک دوسرے سے علیحدگی کے مترادف نہیں ۔ 
مذکورہ استدلال عجیب محسوس ہوتا ہے۔ اگر دین وریاست الگ الگ نہیں تو امورِ دینیہ کا الگ شعبہ چہ معنی دارد! اس سے لامحالہ یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ریاست کے باقی امور، امورِ دینیہ نہیں ۔ہاں، یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کوئی شعبہ امورِ حج سے متعلق ہو، کوئی امربالمعروف ونہی عن المنکر سے متعلق، کوئی عدل و قضا سے متعلق ،کوئی مالیات اور کوئی نظم و نسق سے متعلق، و علیٰ ہذاالقیاس۔ یہ ایک انتظامی تقسیم ہوگی اور یہ سارے شعبے ’’دینی شعبے‘‘ ہی ہوں گے۔
اقبال کے خیال میں جمہوریت اسلام کی فطری سادگی کے قریب تر ہے۔ اسے قبول کیا جا چکا ہے اور اس کے تحت بننے والا سربراہِ ریاست خلیفہ و امام کا آئینی بدل ہے۔ انگریز نے۱۸۶۴ء میں منصبِ قضا کا خاتمہ کرکے اسلام کو مسلم عوام کی زندگیوں میں داخل رکھنے کی سبیل ختم کر دی۔ اب ملا کا دخل شروع ہوا جس نے مسلم عوام کو ان نظریات کی لپیٹ میں لے لیا جو اس کی خود ساختہ اسلامی تشریح پر مبنی تھے۔ اقبال کے نزدیک مسلمانوں کے زوال کی تین بڑی وجوہ تھیں : زوال پذیر بادشاہت ،ملائیت اور تصوف۔اقبال نے جدید تجربات کی روشنی میں اجتہاد پر زور دیااور قدیم فقہ پر نظرثانی کی اہمیت اجاگر کی۔ وہ علما میں کچھ ایسے افرادکی موجودگی کے خواہشمند تھے جو میانہ روی (Moderation) شعار کریں اور ’’دوام فی التغیر‘‘ کا فلسفہ ملحوظ خاطر رکھیں ۔لیکن ہوا یہ کہ علما نے انہیں مغرب زدہ سمجھا اور مغرب پرستوں نے رجعت پسند۔ ہمارے ہاں آج تک وہ میانہ روی پیدا نہ ہوسکی جس کے اقبال خواہشمند تھے۔
راقم کے خیال میں مغرب زدوں کے اقبال کورجعت پسند اور روایت پسندوں کے مغرب پرست سمجھنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی تحریروں میں دونوں طبقاتِ فکر کے لیے مسالہ موجود ہے ۔مجھے اکثر یہ خیال ہوتا ہے کہ اقبال اپنی شاعری میں بالعموم روایت پسند اور راسخ العقیدہ ہیں اور نثری تحریروں میں عموماً جدت پسند۔کبھی کبھی اس موضوع پر کچھ لکھنے کو جی چاہتا ہے، مگر ہنوز ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
تیسرا مقالہ ’’اقبال اورعصر جدید میں اسلامی ریاست کا تصور‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میں مصنف نے اقبال کے خطباتِ مدراس بعنوان: Reconstruction of Religious Thought in Islam کی روشنی میں عصر جدید میں اسلامی ریاست کے تصور پر گفتگوکی ہے ۔اس میں سب سے پہلے ان خطبات کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے اور ان پر علما کی تنقید کا ذکر کیا گیا ہے ۔مصنف لکھتے ہیں کہ سید سلیمان ندوی اور مولانا ابوالحسن علی ندوی ایسے علما کا کہنا ہے کہ یہ خطبات شائع نہ ہوتے تو اچھا تھا۔لیکن یہ کہنا بے جا ہے ،حق یہ ہے کہ ان خطبات کی اہمیت غیر معمولی ہے۔یہ اہل اسلام کو زندگی میں ہونے والے تغیر کو ملحوظ رکھتے ہوئے ترقی و عروج کے حصول پر آمادہ کرنے والے ہیں۔فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید اصلاحِ اسلام نہیں،اصلاحِ فکرِ اسلام ہے۔اقبال مسلمانوں کے زوال کی ذمہ دار ملائیت،تصوف اور ملوکیت کو سمجھتے ہیں،چنانچہ مسلمان سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں :اے کشتہ سلطانی و ملائی و پیری،لہٰذا وہ ان تینوں کی اصلاح پر زور دیتے ہیں۔مسلم معاشرے سے متعلق اقبال کے تین تصورات نہایت واضح ہیں۔ایک یہ کہ مسلم معاشرہ رنگ، نسل یا علاقے کے اشتراک کی بجائے اشتراکِ ایمان پر قائم ہو۔دوسرے یہ کہ اسلام کا تصور شوکت کے بغیر ممکن نہیں،یعنی اسلام غلبہ چاہتا ہے، مغلوبیت نہیں ۔تیسرے اس شوکت اور غلبے کا مظہر ،اور وہ ریاست ہے ۔اقبال مسلم معاشرے میں ہمہ پہلو تبدیلی کے آرزو مند تھے ۔خاص طور پر فقہِ اسلامی میں اصلاح کے۔پھر واضح کیا ہے کہ اسلامی ریاست کا اصول انتخاب ہے۔اقبال نے اپنے چھٹے خطبے میں اسلامی ریاست کے اصولوں پر بحث کی ہے ۔وہ جدیدیت کے ضمن میں Innovation کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور حضرت عمر کو مسلمانوں میں پہلا Innovator قرار دیتے ہیں جنہوں اسلامی قانون کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔اقبال بدعتِ حسنہ کے نہ صرف قائل تھے بلکہ اسے ضروری سمجھتے تھے اور مسلمانوں پر زور دیتے تھے کہ وہ اس ضمن میں حضرت عمر کی سی ذہنیت پیدا کریں۔ اقبال اتحادِ اسلامی ہی نہیں، اتحادِ انسانی کا تقاضا کرتے ہیں ۔ان کے یہاں رواداری یا روحانی جمہوریت کا تصور ہے ۔ ان کے نزدیک مسلم ریاست میں مسلمان اشتراکِ ایمانی اور غیر مسلم اشتراکِ وطنی کی بنا پر باہم مربوط ہوں گے۔ گویا اشتراکِ ایمانی اور اشتراکِ وطنی اتحا دِانسانیت کی بنیادیں ہیں۔
اقبال کا نظریہ ہے کہ ضرورت پڑنے پر قرآنی احکام کی توسیع یا تحدید کی جا سکتی ہے، جیسا کہ تاریخ میں ہو ا،اور یہ کام اجماع کی شکل میں مسلمانوں کے منتخب نمائندوں کو کرنا چاہیے۔ آگے چل کر واضح کیا ہے کہ سیکولر ریاست دراصل اسلامی ریاست ہے، باقی سب سیکولر ہونے کی جھوٹی دعویدار ہیں۔ سیکولر کا ترجمہ ’’لا دین‘‘ کرنا غلط ہے ۔سیکولر ریاست وہ ہے جس میں لوگوں کو مذہبی آزادی حاصل ہو، مذہب اور نگ ونسل وغیرہ کاکوئی امتیاز نہ ہو ،اور یہ چیزیں صرف اسلامی حکومت یقینی بناتی ہے۔ باقی کسی بھی جگہ دیکھ لیں، کوئی نہ کوئی امتیاز نظر آئے گا۔بنا بریں اگر صحیح معانی میں کوئی آئیڈیل سیکولر ریاست یا روحانی جمہوریت ہو سکتی ہے تو وہ اقبال کی تجویز کردہ جدید اسلامی ریاست ہے۔ معیشت سے متعلق اقبال کا تصور یہ ہے کہ یہ قرآن پر مبنی ہو ،نہ اشتراکی اور نہ سرمایہ دارانہ۔سیاسی گروہ بندیاں حضور کے فوراً بعد وجود میں آگئی تھیں: انصار، مہاجرین،بنوہاشم وغیرہ۔بہر حال اقبال نے جو تصور رِیاست دیا، ہم اس سے کوسوں دور اور دوسری تیسری صدی کے تقاضوں کے اسیر بنے ہوئے ہیں۔ہم نے سیاسی آزادی حاصل کر لی، لیکن ہمارے ذہن آزاد نہیں ہوئے، حالانکہ اقبال اپنے چھٹے خطبے کے آخر میں کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو اپنے آپ کو روحانی طور پر تمام دنیا سے زیادہ آزاد سمجھنا چاہیے کہ آئندہ کوئی وحی نازل نہیں ہونی۔
چوتھا مقالہ’’ اسلامی فلسفۂ سیاست اور اقبال ‘‘کے عنوان سے ہے جس میں مصنف نے واضح کیا ہے کہ حضرت علی کے دور سے شروع ہو کر ایک ہزار سال میں اسلامی فلسفہ سیاست پر جو کچھ لکھاگیا ہے، اس سے چار رجحانات سامنے آئے۔ ایک کے نمائندہ الماوردی ہیں جو وقتی سیاسی صورت حال کے پیش نظر اسلامی نظریۂ سیاست کی وضاحت کرتے اور سیاسی سلطنت اور زبردستی امیر بن جانے والوں کو اسلامی احکام کے نفاذ کی شرط پر شرعی جواز فراہم کرتے ہیں۔ دوسرے رجحان کے نمائندہ الفارابی ہیں جو تخیلی ریاست کا نقشہ پیش کرتے ہیں ۔تیسرے کے ابن باجہ ہیں جو وقتی سیاسی حقیقت سے مایوس وناامید اور متنفر ہو کر اور معاشرے سے قطع تعلق کر کے اسلام کے طریقِ حیات کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین کرتے ہیں۔ چوتھے رجحان کے نمائندہ ابن تیمیہ ہیں جو وقتی سیاسی حقیقت کو حکومت شرعیہ میں منتقل کرنے کی خاطر مسلسل جدو جہد کی ضرورت واہمیت پر زور دیتے ہیں۔اقبال میں یہ چاروں رجحانات پائے جاتے ہیں ۔
پانچواں مقالہ ’’مسلم قومیت کا اصول‘‘ ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اقبال احیائے اسلام کے شاعراور مفکر ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری کو احیائے اسلام کے لیے وقف کردیا تھا۔وہ مسلم ہند میں پہلے شخص ہیں جنہوں نے قومیتِ اسلام کا عقیدہ قبول کیا۔ ان کے نزدیک ہیومنزم(جذبۂ انسانیت )کی مغربی تحریک اسلامی اثرات کا نتیجہ تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ہیومنزم سائنسی ترقی کا ثمر ہے اور سائنسی ترقی اسلامی تمدن کی وسعت پذیری ہے۔ ان کے مطابق آج کے مسلمانوں کی جہالت کی حد یہ ہے کہ جو کچھ بڑی حد تک ان کے تمدن سے برآمد ہوا ہے، وہ اسے بالکل اجنبی سمجھتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی مسلم دانشور کو معلوم ہو کہ آئن سٹائن کے نظریے سے ملتے جلتے خیالات پر سائنٹفک اسلامی حلقوں میں سنجیدگی سے بحث ہوتی تھی تو ان کو اس کا موجودہ نظریہ بالکل اجنبی معلوم نہ ہو۔اقبال کو معلوم تھا کہ احیا سے متعلق ان کے افکار کی علما مخالفت کریں گے،لیکن ان کے نزدیک ان کا اظہار ضروری تھا۔
چھٹا مقالہ’’ اسلامی اتحاد کی اہمیت‘‘ ہے۔ اس میں مصنف نے لکھا ہے کہ اقبال نے مسلم مملکتوں کے سیاسی اشتراک پر زور دیا،اگر ان کے یہاں یکساں روحانی فضا قائم ہو تو۔حکومتی ڈھانچہ کی بنیاد جمہوری ہونی چاہیے اور سربراہِ ریاست کے اقتدار کی حدود مسلمانوں کی جماعت کی رضا مندی کے تابع ہونی چاہییں۔جمہوری روح برقرار رہے تو کوئی بھی نظام اختیار کیا جا سکتا ہے ،نظامِ خلافت وغیرہ کا قیام ضروری نہیں۔ معتزلہ کا یہی موقف تھا اوریہی درست ہے۔
ساتویں مقالے میں مصنف نے احیاے و تجدیدِ اسلام کے سلسلے میں برپا ہونے والی اٹھارویں صدی اور اس کے بعد کی تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بہت سے لوگ پید ہوئے جنہوں نے مختلف فلسفوں کے تحت احیاے اسلام کے لیے کام کیا۔ ان میں برصغیر کے سر سید ،روس کے مفتی عالم جان،ترکی کے نگہت پاشااور مصر کے مفتی عبدہ نے مغرب کے اچھے نظریات کو اسلام میں ضم کرنے پر زور دیا۔ جمال الدین افغانی نے مغربی قوت کے راز کو سمجھنے پر زور دیتے ہوئے اس کے مثبت عناصر کو اپنانے کی تلقین کی۔اسلام کا تصور طاقت کے بغیر نہیں اور آج کل طاقت سائنس و ٹیکنالوجی ہے، لہٰذا اس کا حصول ناگزیر ہے۔
کتاب کے دوسرے حصے ’’اقبالیات‘‘ کے دو حصے ہیں۔ ایک ’’شخصیات‘‘ اور دوسرا ’’ علمی مباحث‘‘ کے عنوان سے۔ شخصیات میں تین مقالے شامل ہیں۔ پہلے مقالے میں ’’اقبال ایک باپ کی حیثیت سے ‘‘کے عنوان سے گفتگو ہے۔ اس میں مختلف باتیں ہیں۔ جیسے اولاد کے لیے اقبال کی محبت میں ایک منفرد نوعیت کا ضبط تھا۔آپ بیٹے کی پیدائش کی دعا کے لیے حضرت مجدد کی درگا پر گئے تھے ۔جب شعر کی آمد ہوتی تو بعض اوقات رات کو سوئے ہوئے اٹھ جاتے اور علی بخش کو بلوا کر شعر لکھواتے ۔سست طبیعت تھے،میلے کپڑے کو دھلوانے کا بھی خیال نہ آتا ۔انگریزی لباس سے نفرت تھی۔مجھے شلوار قمیض اور اچکن پہننے کو کہتے۔ منیرہ اگر بالوں کو دوحصوں میں گوندھتی تو برا مانتے اور کہتے کہ یہ یہودیوں کاطریقہ ہے۔ دوسرے مقالے میں مصنف نے علامہ اقبال کے ایک نہایت ہی مخلص رفیق اور بہی خواہ چودھری محمد حسین ایم۔ اے کا تذکرہ کیا ہے۔ آپ وہ عظیم شخصیت ہیں جن سے اقبال کے مراسم اور اقبال فہمی کی گہرائی کا بیان ناممکن ہے۔علامہ کا کوئی شعر ایسا نہیں جو آپ کے ہاتھوں سے نہ گذرا ہو ، ان سے بہتر اقبال شناس شاید ہی کوئی پیدا ہو۔ علامہ نے مرض الوفات میں آپ ہی کو جاوید اور منیرہ کا گارڈین مقرر کیا۔ علامہ کے بعد آپ کا ان کی اولاد سے انتہائی مخلصانہ رویہ رہا۔ترقی پسند ادیبوں سے لگا نہ کھاتے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت کے دوران فحاشی و عریانیت کی بنا پر کئی ترقی پسند رسالے ضبط کروائے۔منٹو آپ سے سخت نالاں تھا۔ اس نے اپنے فحش افسانوں کے مجموعے کا انتساب آپ کے نام کر دیا تھا۔ مجھے نصب العین کا تعین کرکے لکھنے کی تلقین کرتے۔ غالب کو ناقابل معافی سمجھتے تھے کہ اس نے اسلام کی سر بلندی کے لیے انگشت تک نہ ہلائی۔ آخر میں مصنف نے اقبال کے سونپے ہوئے فرائض کی ادائیگی کے بعد چودھری صاحب کی اس دنیا سے رخصتی کا اور اقبال سے جا ملنے ،جس کا انہیں یقینِ کامل تھا،نہایت الم انگیز تذکرہ کیا ہے۔ اس تحریر سے چودھری صاحب اقبال کے واحد سچے عاشق لگتے ہیں۔تیسرے مقالے میں شورش کاشمیری کی اقبال شناسی کا تذکرہ ہے۔
دوسرے حصے ’’علمی مباحث ‘‘میں پہلا مقالہ ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور کی تصنیف ’’شاد اقبال‘‘ کے حوالے سے ہے جو اقبال اورمہاراجہ سر کشن پرشاد کے تعلقات اوران کے مابین ہونے والی خط وکتابت کی تفصیل پر مشتمل ہے۔ دوسرا مقالہ’’ حکیم الامت کے نام دوسراخط‘‘ کے عنوان سے ہے جس میں جاوید اقبال نے اپنے پدرِ محترم سے ان کے انتقال کے بعدپیداشدہ حالات کے تناظر میں اپنے قومی تشخص اور اسلامی ریاست کے بارے میں رہنمائی کی غرض سے ایک تمثیلی گفتگو کی ہے اورافکارِ اقبال کے حوالے سے بعض سوالات اٹھائے ہیں۔مثلاً انہوں نے لکھا ہے کہ اے پدر محترم! آپ کافلسفہ تھا کہ ر یاستیں اشتراکِ ایمانی کی بنا پر وجود میں آتی ہیں نہ کہ اشتراک علاقہ و وطن کی بنیاد پر۔ اس کے برعکس مولانا حسین احمد مدنی کاموقف تھا کہ قومیں اوطان ہی سے بنتی ہیں۔لہٰذابرصغیر کے مسلمانوں کی قومیت ہندی ہے، لیکن ملت کے اعتبار سے وہ مسلم ہیں۔ آپ کا کہنا تھا کہ قوم وملت کے ایک ہی معنی ہیں، لیکن دوسری طرف آپ متفرق مسلم قومی ریاستوں کے وجود کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ ایچ اے آرگب اس پر حیرت کا اظہار کرتا ہے کہ آپ علاقائی قومیت کے مخالف ہوتے ہوئے بھی برصغیر میں مسلمانوں کے علیحدہ وطن کی تحریک میں پیش پیش تھے۔ پھر قیامِ پاکستان کے بعدکی صورتِ حال میں بیشتر مواقع پر ہم نے عملاً ثابت کر دیا کہ ہم مسلم قوم کی بجائے پاکستانی قوم ہیں ۔مثلاً افغانستان کے مقابلے میں غیر مسلم ممالک سے اتحاد کر کے۔ جہاں تک اسلامی ریاست کا تعلق ہے ،اس کی کوئی حتمی شکل تاریخ میں نظر نہیں آتی۔ کیا یہ ایک ’’آئیڈیل ‘‘ہے؟کیا مسلم ممالک میں اسمبلیوں کا وجود اسلام کی اصل پاکیزگی کی طرف رجوع ہے؟ روحانی جمہوریت سے آپ کی کیا مراد ہے؟دین کی کون سی تشریح خیر اور کون سی شر ہے؟ علما ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے، قانون سازی میں رہنمائی کیسے کریں گے؟اگر پاکستانی اسمبلیاں اسلامی قانون سازی کرتی ہیں تو فقہ کا ایک نیا نیشنل مدرسہ وجود میں نہیں آجائے گا؟
اقبال کے نام دوسرے خط میں جاوید اقبال نے جو سوالات اٹھائے ہیں، وہ واقعی بڑے اہم ہیں اور ہر سنجیدہ فکر آدمی کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ راقم کومعاف کیا جائے تو وہ اس نوعیت کے اور سوالات بھی کرنا چاہے گا۔ مثلاً یہ کہ اقبال ایک طرف مغربی تہذیب اور جدت پسندی پر سخت تنقید کرتے ہیں اور دوسری طرف روایت پسندی کے بھی سخت ناقد ہیں۔ایک طرف تصوف اور صوفیا سے والہانہ عقیدت کا اظہار ہے اور دوسری طرف یہ خیال بھی ہے کہ تصوف مسلمانوں کے زوال ایک بنیادی وجہ ہے۔ کینٹویل اسمتھIslam in Modern History میں کہتا ہے کہ اقبال متضاد افکار کے حامل ہیں ۔وہ ایسے لبرل ہیں جو لبرلزم کو نشانہ تنقیئ بناتے ہیں اور ایسے صوفی ہیں جو صوفی ازم پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ یہ پڑھ کر ہمارے جیسے عقیدت مند یہ توجیہ کر کے اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دراصل اقبال اس راسخ الاعتقادی کے شاکی ہیں جو جمود کا شکا ر ہو اور ایسے تصوف کو خلافِ اسلام سمجھتے ہیں جو حرکت و عمل کا دشمن ہے۔ مگر یہ موضوع اتنا سادہ نہیں اور گہرے غور وفکر اور سنجیدہ تحقیق کا متقاضی ہے۔ لہٰذاچھا ہوتا اگر جاوید اقبال، اقبال کے جواب شکوہ کی طرح اس نوعیت کے سوالات کے جوابات بھی اقبال کی طرف سے دے دیتے کہ یہ کام کرنے کی اہلیت انہی جیسے چنیدہ لوگوں میں ہے۔ لیکن زیر نظر کتاب اس اہتمام سے یکسر خالی ہے۔
تیسرا مقالہ ’’اقبال کا تصورِ اجتماعیت‘‘ کے عنوان سے ہے۔ چوتھا مقالہ ’’اقبال کے مابعدالطبیعیاتی تصور میں اخلاقیات کا مقام‘‘ ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ جب قومیں جسمانی و روحانی انحطاط کا شکار ہو جاتی ہیں توان کے اخلاقی نظریے تنگ ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ملا برائیوں کے نام زیادہ جانتے ہیں اور اچھائیوں کے کم۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا ملا منفی عینیت اور منکریت میں پھنساہوا ہے۔ ایک طاقتور جسم میں ایک مضبوط عزم ہی اسلام کا اخلاقی نصب العین ہے۔ اسلامی کا سیاسی نصب العین جمہوریت کا قیام ہے۔ چوتھا مقالہ’’ اقبال کا تصورِ اجتھاد‘‘ اور پانچواں ’’اقبال کا نظرےۂ اجتہاد‘‘ ہے۔ ان میں واضح کیا گیا ہے کہ اقبال اجتہاد مطلق پر زور دیتے ہیں اور اجتہاد کا اختیار اسمبلی کود یتے ہیں۔ وہ ترکوں کے پارلیمنٹ کے قیام کے اجتہاد کو درست اور حقیقی سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک اسلام کی نمود ایک استقرائی فراست کی نمود تھی۔وہ سورہ رحمن کے الفاظ کل یوم ھو فی شان سے اپنی ساری حرکیات اخذ کرتے اور اسے قرآن کی روح قرار دیتے ہیں۔
چھٹا مقالہ ’’اقبال کے معاشی تصورات‘‘ پر ہے ۔ اس میں لکھاہے کہ اقبال نے بیسویں صدی میں مغرب سے درآمد شدہ نظریات کو ایسے ہی رد کیاجیسے بارہویں صدی میں غزالی نے یونانی تصورات کو رد کیاتھا۔ بعض لوگوں نے اقبال کو اشتراکیت کا حامی قرار دیا، حالانکہ اقبال سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں کو افراط و تفریط پر مبنی قرار دیتے تھے۔ ان کے نزدیک :طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی۔ وہ قرانی تصورِ معیشت کو اپنانے پر زور دیتے ہیں ۔ساتواں مقالہ ’’اقبا ل اور سیکولزم‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میں فکرِ اقبا ل کی روشنی میں سیکولرزم کو لادینیت پر محمول کرنے کوغلط رویہ قرار دیا ا ور واضح کیا گیا ہے کہ اس سے مذہبی معاملات میں غیر جانبداری مراد لینا چاہیے۔آٹھواں مقالہ’’ خطباتِ اقبال کی عصری معنویت‘‘ ہے جس میں جدید دنیا میں ترقی و کامیابی کے لیے اصولِ حرکت وتغیر کے تناظر میں خطباتِ اقبال کو نئی نسل کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل بتایا گیاہے ۔نویں مقالے میں اقبا ل کے ادبی مقام پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اقبال خود کو اسلامی شاعر کہتے تھے اور شاعری کوحیات بخش دیکھنا چاہتے تھے،ورنہ اسے موت خیال کرتے تھے۔دسواں مقالہ’’ نظریاتِ اقبال کی عملی اہمیت‘‘ پر ہے جس کی اہم بات یہ ہے کی اقبال نے اپنی تصنیف علم الاقتصاد میں غربت کے مسئلے کا ایک حل آبادی کو کنٹرول کرنا بتایا ہے۔
تیسرا حصہ ’’پاکستانیات ‘‘کے عنوان سے ہے ۔ اس کا پہلا مقالہ’’ میراثِ قائدِ اعظم اور نظریۂ پاکستان ‘‘ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان ان معانی میں اسلامی ہے کہ اس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر استوار کی گئی ہے جو عالمگیر ہیں اور تمام انسانیت پر ان کا اطلاق ہوتا ہے، ورنہ یہ سیکولر ریاست ہے۔ پاکستانی قومیت کی اساس اسلام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمان پہلے اسلام کی بنیادپر ایک قوم بنے، پھر پاکستان بنا۔ لہٰذا پاکستان نے کسی قوم کو جنم نہیں دیا، مسلم قوم نے پاکستان کو جنم دیا۔
قو میت کے قضیے میں راقم کی رائے میں اب اس بات پر اصرار درست نہیں کہ عملاً چونکہ آج کل اقوام علاقہ کی بنیاد پر مانی جاتی ہیں، لہٰذ مسلم قومیت کی بنیاد پر پاکستان کا مطالبہ یا قیام غلط تھا۔ بالفاظِ دیگر قومیت کے مذہبی یا وطنی تصور کو پاکستان حوالے سے منفرد تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ تاریخِ مسلمانانِ عالم میں اسلام کے نام پر الگ قوم بن کر الگ وطن تخلیق کرنے کی صرف دو ہی مثالیں ہیں:مدینہ کی اسلامی ریاست اور پاکستان۔
دوسرا مقالہ’’ نظریۂ پاکستان اور زمینی حقائق ‘‘ہے ۔ اس میں اس نوعیت کی باتیں ہیں: تحریکِ جہاد اور تحریکِ خلافت کی ناکامی کی وجہ وقت کے تقاضوں سے انحراف تھا،جبکہ تحریک پاکستان اس غلطی سے محفوظ رہنے کی بنا پر کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ قائد اعظم نے کہا کہ ان کی مسلم لیگ نے مسلمانوں کو تین منفی قوتوں؛ انگریز، ہندو اور مولوی سے نجات دلائی۔ اقبال قدیم وجدید کی بحث کو غیر ضروری سمجھتے تھے کہ قدیم کی تعمیر نو کر لی جائے تو وہ جدید ہو جاتا ہے۔اقبال کا تصورِ جدید قدیم سے ملحق ہے، لیکن انقلابی تصورِ جدید قدیم کو منہدم کرنا ہے۔ قائد اعظم پارلیمانی نظام کو اسلامی اصولوں کے منافی نہیں سمجھتے تھے۔ ضیاء الحق نے ایسا اسلام نافذ کیا جو بانیانِ پاکستان کے تصور کے خلاف تھا۔ 
تیسرامقالہ’’ نصب العین کا مسئلہ ‘‘ہے۔اس میں تعمیری ادب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ترقی پسندی کے نام پر تخریبی اور پاکستان مخالف لٹریچر کی تخلیق و اشاعت کے ذمہ داروں کو ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے۔ پاکستان میں کس قسم کا ادب مطلوب ہے ؟اس کی مثال کے لیے مصنف نے مشہور فرانسیسی ادیب موپساں کے ایک افسانے کا حوالہ دیا ہے جس میں ایک طوائف کے بھی اپنی قوم کے لیے بلند عزم کا اظہار ہوتا ہے۔احمد ندیم قاسمی سے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان سے بھی محبت کرتے ہیں اور فحش نگارترقی پسندوں سے بھی۔ مصنف نے زور دیا ہے کہ اسلامی فلاسفہ اور فقہا اوراہل مغرب کی سائنسی کتب کا اردو ترجمہ کیا جائے اور پاکستانی ادیب ان کا مطالعہ کریں اور اپنے لیے نصب العین کا تعین کریں۔
یہاں یہ عرض کرنا خالی از فائدہ نہ ہو گا کہ ترقی پسند یاادب برائے ادب اور بامقصد و تعمیری ادب اہل ادب کے یہاں ایک کافی ما بہ النزاع معاملہ ہے۔اسی بنا پر شاعروں اور ادیبوں کی عظمت کے معاملے میں آرا مختلف ہوتی ہیں۔ مثلاًترقی پسندوں کے نزدیک غالب اور فیض بڑے شاعر ہیں، لیکن تعمیری اور مقصدی ادب والوں کے نزدیک اقبال۔ تعمیری ادب بلا شبہ مطلوب ہے،اس کے لیے خشکی اور عدمِ عالمگیریت کا طعنہ قطعاً غیر مناسب اور سطحیت کا شاخسانہ ہے۔ رومانس کی ضرروری مقدار اس میں بھی شامل ہو سکتی ہے، یہ اول الذکر سے زیادہ آفاقی ہو سکتا ہے۔ لہٰذانسانیت نوازی کے نام پر اپنی قوم و ملت کی بد خواہی اوررومانس اور تسکینِ احساساتِ جمالیات و لطائف کے لیے فحش نگاری انسانی عظمت کے منافی کہی جانی چاہیے۔ 
تیسرا مقالہ’’ پاکستان۔منزل یا حصولِ منزل کا ذریعہ‘‘ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فکرِ اقبال کی روشنی میں پاکستان منزل نہیں بلکہ حصول منزل کا ذریعہ ٹھہرتا ہے۔ چوتھے مقالے میں ’’حصول پاکستان کے مقاصد میں ناکامی کی ذمہ داری‘‘ پر بات کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے کہ روٹی کے مسئلے کو اولیت ملنی چاہیے تھی، لیکن حالات نے دفاع کے مسئلے کو پہلی اہمیت دے دی۔ پانچویں مقالے’’ جوشِ عمل اور استحکام میں حیات ہے‘‘ میں تعلیمی اداروں میں رواداری، دوستی اور ہمدردی کو ان کی اصل پہچان باور کراتے ہوئے ،یہاں سے عنقا ہوجانے پر اظہار افسوس کیا گیا ہے۔چھٹے مقالے ’’پاکستان میں منصبِ قضا کااحیا‘‘میں اسلام کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کے لیے منصبِ قضا کی بحالی کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ ساتویں مقالے میں’’ پریس کی ذمہ داری‘‘ کے زیر عنوان اس حقیقت کو موکد کیا گیا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔ آٹھویں مقالے میں اسلامی ریاست کی پانچ شکلیں قرار دیتے ہوئے اسے سیکولر ریاست ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
حصہ چہارم ’’ادب‘‘ کے عنوان سے ہے جس میں چھ مقالات ہیں ۔پہلے مقالے میں اسلامی تہذیب کے فروغ میں اردو ادب کے حصے کا نمایاں ہونا ثابت کیا گیا ہے۔ دوسرے مقالے ’’ادب ،کلچر اور خرد افروزی‘‘ میں واضح کیا گیا ہے کہ حیات و کائنات کا اصل سرچشمہ روحانی ہے۔جدید سائنس نے دہریوں کے خیالات کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ تیسرے مقالے میں ’’بدلتی ہوئی دنیا میں ادب کا کردار‘‘ کے زیر عنوان آرٹ برائے آرٹ کے نعرے کو محض دھوکا قرار دیا گیا ہے۔ چوتھے مقالے ’’ادیب ۔قوم پرستی اور لا دینیت‘‘ میں ادیب کا فرض بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی ملت سے وفاداری کا دم بھرے۔ پانچویں مقالے میں ’’اپنا گریباں چاک ‘‘پر شریف کنجاہی کے نکیرانہ تبصرے کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ان کی پیش کردہ متعدد باتوں کو افسانہ قرار دیا گیا ہے۔چھٹے مقالے’’ تاریخ مجھ سے بات کر‘‘ میں تاریخ کی روشنی میں فلاحی ریاست کے اسلامی تصور کو سامنے لاتے ہوئے فکرِ اقبال کے مطابق پاکستانی ریاست کی استواری پر زور دیا اور کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اقبال کے تصور کے مطابق جدید جمہوری ،فلاحی ریاست قائم نہیں ہوئی۔
’’مقالات جاوید‘‘ بحیثیت مجموعی بلاشبہ نہایت وقیع اور فکر انگیز کتاب ہے جس کی اشاعت پر اقبال اکادمی مبارکباد کی مستحق ہے۔ اس سے نئے حالات کے تناظر میں اسلامی فکر و فلسفہ اورتصور رِیاست ومعیشت اور فکرِ اقبال کو سمجھنے کے کئی دریچے وا ہوئے ہیں۔تاہم اس میں متعدد نقائص بھی ہیں جن کو دور کرناناگزیر ہے۔ کتاب کی پروف خوانی میں سخت تساہل سے کا م لیا گیا ہے۔ کمپوزنگ کی غلطیاں جگہ جگہ دکھائی دیتی ہیں۔ مزید برآں کتاب میں اقبال اور جاوید اقبال کے خیالات مختلف مقالات میں بے طرح منتشرحالت میں ملتے ہیں۔ ان کی مناسب ترتیب و تہذیب کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر مقالے میں یہ خیالات عنوان کی ضروریات اور تقاضوں کو ملحوظ رکھے بغیر پیش کر دیے گئے ہیں۔ مختلف اوقات میں لکھے جانے والے مقالات میں تکرار تو ایک عام اور ناقابلِ گرفت بات ہے،لیکن عنوا ن کوئی ہو اور اس میں اکثر مواد کسی اور موضوع سے متعلق پیش کر دیا جائے، بہرحال خوش کن امر نہیں، خصوصاً ایک بڑے آدمی کے مقالات پر مشتمل اور ایک بڑے ادارے کی طرف سے شائع شدہ کتاب میں۔ 

ٹی بی ۔ ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ

حکیم محمد عمران مغل

ایک دس سالہ بچے کی روٹی تقریباً دس ماہ سے بالکل بند کر کے اسے دودھ یا اس قسم کی دیگر نرم اغذیہ پر لگا دیا گیا تھا۔ دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ شہر کے ایک مستند معالج کا حکم ہے کہ بچہ بالکل نحیف ہو چکا ہے، معدہ اور انٹریوں کے نازک امراض نے بچے کو ٹھوس غذا کھانے کا متحمل نہیں چھوڑا، اس لیے اسے ڈبل روٹی، دودھ، دلیا، ساگو دانہ وغیرہ دیا جائے۔ بچے کی والدہ نے بتایا کہ ہم پریشان ہیں۔ معالج نے کہا ہے کہ روٹی یا ایسی کوئی ٹھوس غذا کھلائی گئی تو بچے کی زندگی کا چراغ گل ہو سکتا ہے، لیکن بچہ چھپ چھپا کر روٹی کھا لیتا ہے۔ دس ماہ سے مسلسل نرم غذا کے ساتھ ادویہ بھی دی جا رہی ہیں، لیکن افاقہ کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ 
تحقیق کی گئی تو بچے کے خاندان میں ٹی بی کے اثرات پائے گئے۔ بچے کی ہڈیوں کی ساخت ٹی بی کی وجہ سے بدوضع ہو چکی تھی۔ اس کے والدین کو یقین نہ آیا، نہ کسی نے آگاہ کیا تھا۔ میرے ذہن میں حکیم سعید شہید کی بات گونجنے لگی کہ حکومت کہتی ہے کہ تعلیم تیس فی صد سے اوپر جا رہی ہے، جبکہ معاشرے میں بمشکل چھ فیصدی بھی تعلیم کا بڑھاوا نہیں ہے۔ ٹی بی کے متعلق بھی یہی مفروضہ پھیلایا گیا ہے کہ اس پر قابو پا لیا گیا ہے اور ٹی بی قابل علاج ہے۔ جو حضرات اس مرض میں مبتلا ہونے کے بعد صحت سے ہم کنار ہوئے، وہ بے شک موٹے تازہ نظر آ رہے ہیں، لیکن زندگی کا لطف انھیں حاصل نہیں۔ وہ دائمی تھکاوٹ اور نزلہ زکام کی گرفت میں ہیں۔
بہرحال میں نے کیلشیم، فولاد اور دیگر نمکیات کی کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے خمیرہ ابریشم حکیم ارشد والا، شربت فولاد، جوارش جالینوس، حب کبد نوشادری کا انتخاب کر کے بچے کی والدہ کو سمجھا دیا کہ ان ادویہ کو کب اور کیسے استعمال کرنا ہے۔ بچے کی انتڑیاں، معدہ اور جگر بالکل ریشم بنی ہوئی تھیں۔ میں نے کہا کہ میری موجودگی میں بچے کوپیٹ بھر کر روٹی کھلائیں۔ بچے نے پیٹ بھر کر روٹی کھائی۔ بعد میں بتائی گئی ترکیب سے ادویہ دی گئیں۔ رات کا کچھ حصہ بچے نے درد او ربے چینی سے گزارا۔ صبح میں نے دریافت کیا اور بتایا کہ دو چار دن یہی تکلیف رہے گی، لیکن پریشانی کی بات نہیں۔ چوتھے دن بچے نے بالکل نارمل زندگی گزارنا شروع کردی۔ ایک ہفتے کے بعد کچھ مزید ادویہ دی گئیں، خصوصاً اجمل دواخانہ کی تیار کردہ حب سرطان (کیکڑا)نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا۔ یہ دو سال پرانا واقعہ ہے۔ اب یہ بچہ موٹا تازہ ہے اور تعلیم حاصل کرنے میں خوب مگن ہے۔