سنجیدہ اور ہوش مندانہ حکمت عملی کی ضرورت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
محترم مولانا زاہد حسین رشیدی کا مضمون ’’الشریعہ‘‘ کے اسی شمارہ میں ماہنامہ ’’فقاہت‘‘ لاہور کے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے جو انہوں نے راقم الحروف کے ساتھ ایک ملاقات اور گفتگو کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے۔ اس میں انہوں نے جن اہم امور کی طرف توجہ دلائی ہے، ان کے بارے میں کچھ معروضات پیش کی جا رہی ہیں:
- علمی و فکری مباحثہ کو فروغ دینے اور علمی مسائل پر علمی انداز میں بات چیت کی ضرورت کا احساس دلانے کے لیے ’’الشریعہ‘‘ گزشتہ دو عشروں سے جو محنت کر رہا ہے، وہ چونکہ علماء کے حلقہ کی بات ہے، اس لیے میرا معمول ہے کہ عمومی مجالس میں اس پر گفتگو نہیں کرتا بلکہ اسے مفید بھی نہیں سمجھتا۔ البتہ اپنے اسباق کے دوران اور اہل علم کی مجالس میں حسبِ ضرورت اس کا تذکرہ کرتا ہوں اور متعلقہ سوالات کا جواب بھی دیتا ہوں۔ میری کوشش علماء، طلبہ، مدرسین اور اصحابِ فکر کو ان مسائل کی طرف توجہ دلانے کی ہوتی ہے جو امت مسلمہ کو کسی نہ کسی سطح پر درپیش ہیں مگر ہماری عدم توجہ کی وجہ سے دوسرے علمی حلقوں میں وہ پہلے زیر بحث آجاتے ہیں جن کے نتائجِ فکر سے ہمیں اختلاف ہوتا ہے۔ میرے خیال میں اس کے بعد مسئلہ کو زیر بحث بنانے سے بہتر ہے کہ ہم آغاز میں ہی اس مسئلہ کی طرف توجہ دیں اور اس کے بارے میں علمی اور سنجیدہ انداز میں اپنی رائے کا مناسب اظہار کردیں۔ اس کے بعد جس طرف سے جو رائے بھی آئے گی، اس کی حیثیت بہرحال ثانوی اور دفاعی ہوگی، جبکہ موجودہ طرز عمل میں ہماری رائے رد عمل تصور کی جاتی ہے اور ثانوی و دفاعی درجہ اختیار کرنے کے باعث پوری طرح موثر نہیں ہو پاتی۔
- خلافتِ راشدہ کے بارے میں میرا مشاہدہ اور تاثر یہ ہے کہ ہمارے ہاں اس کے صرف اعتقادی پہلو پر کسی حد تک بات کی جاتی ہے اور وہ اس جزوی دائرہ تک محدود رہتی ہے جس کا تعلق اہل تشیع کے ساتھ اختلاف و تنازع کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس سے ہٹ کر ہم خلافت اور خلافتِ راشدہ کے موضوع پر سرے سے بات ہی نہیں کرتے، حالانکہ ہماری عمومی دینی ضرورت یہ ہے جو آج کے عالمی سیاسی و تہذیبی تناظر میں اور زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ خلافتِ راشدہ کے نظام کی سیاسی بنیادوں، خلافتِ راشدہ کے معاشرتی ماحول، خلافتِ راشدہ کے معاشی اصولوں اور طریق کار، بیت المال، رفاہی ریاست، خلافتِ راشدہ کے دور میں معاشرہ کے مختلف طبقات کو حاصل ہونے والے مذہبی، سیاسی، معاشرتی اور معاشی حقوق، خلفائے راشدینؓ کے طرزِ حکومت اور ان کے طرزِ زندگی اور آج کے عالمی سیاسی، معاشرتی اور معاشی نظاموں کے ساتھ خلافتِ راشدہ کے نظام کے تقابل و تجزیہ پر کھل کر بات کی جائے۔
مجھے ذاتی طور پر جہاں مناسب محسوس ہوتا ہے، ان میں سے بعض امور پر گفتگو کرتا ہوں اور اس سلسلہ کے چند بیانات تحریری صورت میں شائع بھی ہو چکے ہیں لیکن جس سطح پر اور جن دائروں میں اس کام کی ضرورت ہے، ان میں کام کرنے کا حوصلہ، وسائل اور مصروفیات دونوں حوالوں سے اپنے اندر نہیں پاتا۔ اگر خلافت کے موضوع پر کام کرنے والی جماعتیں، بالخصوص اہل سنت کے عقائد و مفادات کے تحفظ کا دعویٰ رکھنے والے حلقے اس سلسلے میں کسی علمی و فکری محنت کے لیے سنجیدہ ہوں تو مجھے تعاون کر کے خوشی ہوگی اور میں اسے اپنے لیے باعث سعادت و نجات تصور کروں گا۔ - پاکستان میں اور اس سے بڑھ کر مشرق وسطیٰ میں سنی شیعہ تنازع جو صورت اختیار کرتا جا رہا ہے اور کشمکش کے جو دائرے تیزی کے ساتھ ابھرتے دکھائی دے رہے ہیں، وہ انتہائی پریشان کن ہیں اور مستقبل کاا نتہائی افسوسناک منظر پیش کر رہے ہیں۔ گیارہویں اور بارہویں صدی عیسوی کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے بہت سے حصوں میں فاطمی حکومت تاریخ کا اہم حصہ رہی ہے اور سولہویں صدی عیسوی کے آغاز میں مصر کے مملوک حکمرانوں کے خلاف عثمانی خلیفہ سلطان سلیم اولؒ کی جنگ کا تناظر بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ خلافت عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام مصطفی صیری رحمہ اللہ تعالیٰ نے مملوکوں کے خلاف سلطان سلیمؒ کی جنگ اور مصر پر ترکوں کے قبضہ کا پس منظر یہ بیان کیا ہے کہ مصر کے مملوک حکمرانوں کا رجحان ایران کی صفوی حکومت کی طرف بڑھتا جا رہا تھا اور صفوی حکمرانوں کی کوشش تھی کہ شیعی مذہب و عقائد کو قوت کے زور پر مصر کے ذریعے خلافت عثمانیہ کے علاقوں میں پھیلایا جائے۔ سلطان سلیمؒ نے اس کا راستہ روکنے کے لیے مصر پر قبضہ کر لیا اور مملوکوں کو راہ سے ہٹا دیا۔ اس دوران سلطان سلیمؒ اور صفویوں کے درمیان جو معاہدات ہوئے، ان کے بارے میں شیخ الاسلام مصطفی صیریؒ کا کہنا ہے کہ ان میں سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ، سیدنا حضرت عمر فاروقؓ اور سیدتنا حضرت عائشہؓ کی توہین سے باز رہنے کی شقیں بھی موجود تھیں۔
مجھے مستقبل قریب میں مشرق وسطیٰ کے بہت سے علاقوں میں یہ کشمکش پھر سے شروع ہوتی دکھائی دے رہی ہے جبکہ خلافت عثمانیہ اور سلطان سلیمؒ کا دور دور تک کوئی نشان نظر نہیں آتا۔ ان خدشات و خطرات کے سدِّباب کے لیے اگر کوئی کردار ادا کرنا ہے تو اس خطہ کی دینی قیادت نے کرنا ہے جسے سرے سے ان مسائل اور اس صورت حال کا ادراک ہی نہیں ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت و اہمیت کا کوئی احساس پایا جاتا ہے۔ اس محاذ پر ہماری جدوجہد اور محنت عوامی جذبات کو بھڑکانے، نعرے لگوانے، جلسوں میں دھواں دار تقریریں کرنے اور قیمتی کارکنوں کو قربان کرتے چلے جانے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور اسی طرزِ عمل کو ہم نے اپنی کامیابی اور نجات دونوں کا مدار قرار دے لیا ہے۔ معاملہ فہمی، مسائل کا ادراک، تدبر، حکمت اور حوصلہ کے ساتھ مسائل کو حل کرنے اور اپنی قوت کو محفوظ رکھتے ہوئے اس کے صحیح اور بر وقت استعمال کا ذوق اور صلاحیت ہم نے فریق ثانی کے لیے مختص کر دیے ہیں۔ میں سالہا سال سے متعلقہ حضرات سے گزارش کر رہا ہوں کہ اہلِ فکر و دانش کے باہم مل بیٹھنے کی ضرورت ہے، اس طرزِ عمل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، پورے خطے کی مجموعی صورتحال کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں مختلف ممالک میں کام کرنے والوں کے ساتھ رابطہ و مشاورت کی ضرورت ہے، عالمی استعماری قوتیں اس کشمکش کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کے لیے جس طرح مستعد و متحرک ہیں، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے اور جذباتیت و سطحیت سے ہٹ کر مضبوط علمی و فکری اساس پر جدوجہد کی نئی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، مگر جہاں خود اپنی ہی طے کردہ حکمت عملی اور پالیسیوں پر نظر ثانی کو کفر کا درجہ دیا جانے لگا ہو ، وہاں ان باتوں کو کون سنتا ہے اور ان پر کون توجہ دیتا ہے؟
بہرحال اگر کچھ ’’اصحابِ فکر و دانش‘‘ اس مقصد کے لیے مل بیٹھنے کو تیار ہوں تو علمی و فکری مشاورت کے دائرہ میں میری خدمات ہر وقت حاضر ہیں۔ دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت ہم سب کو صورت حال کا صحیح ادراک نصیب فرمائیں اور خلوص، حوصلہ اور حکمت کے ساتھ دینی جدوجہد کو آگے بڑھانے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
اصالتِ دین کی تلاش میں حدیث کا تاریخی کردار ۔ کائناتی تناظر میں ایک افقی و عمودی مطالعہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن
جب سے انسان نے اس کُرّہ ارض پر قدم رکھا ہے، تب سے گوناں گوں چیلنجزاسے دعوتِ مبارزت دیتے چلے آ رہے ہیں۔ ہتھیار ڈالنے کے بجائے ڈٹ جانے کی جبلّی صلاحیت نے انسان کو اس کارزارِ حیات میں فتوحات سے نوازا ہے۔ آج اکیسویں صدی میں کرہ ارض پر انسان کی موجودگی درحقیقت اپنے پیچھے انہی فتوحات کی عظیم الشان داستان لیے ہوئے ہے۔ اس دل گداز داستان میں کئی نشیب و فراز آئے ہیں، جن میں کہیں تسخیر فطرت کے جھلملاتے تاب ناک مناظر سے سابقہ پڑتا ہے اور کہیں انسان کی ذات (man-himself) سے وابستہ خصوصیات (properties-virtues) کے، مختلف آلات میں منتقل ہونے کے اندوہ ناک واقعات سامنے آتے ہیں۔
واقعہ یہ ہے کہ اپنی فتوحات و ترقیات کے جس مرحلے میں انسان نے چھاپہ خانہ (press) ایجاد کیا، اس وقت سے اس کا حافظہ آہستہ آہستہ کم زور ہوتا چلا گیا اور انسان نے ’’یاد‘‘ رکھنے کی اپنی خصوصیت (property of memory) غیر محسوس انداز میں چھاپے خانے کو منتقل (transfer) کرنا شروع کر دی۔ اس کے بعد کمپیوٹر آیا جو حافظے کو معدوم کرنے کے درپے ہے۔ انسانی فتوحات و ترقیات کی دیگر کئی اقسام بھی، انسان کی بعض امتیازی خصوصیات (distinctive virtues of man) کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہیں۔ جس کے نتیجے میں اس کی داخلی شخصیت مسلسل کھوکھلی ہوتی جا رہی ہے اور انسان، بحیثیت انسان اپنی شناخت کھوتا جا رہا ہے۔
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ کوئی بھی ترقی یا فتح اچانک حاصل نہیں ہو جاتی، بلکہ اس کے پیچھے(اصلاً) فاتحوں کی مخصوص ثقافت (cultural roots) کارفرما ہوتی ہے۔انسانی فتوحات کی تاریخ پر سرسری نظر ڈالنے سے عیاں ہوتا ہے کہ انسانی ذات (man-himself) سے وابستہ خصوصیات (properties-virtues) کو، مختلف آلات کی نذر کرنے والی ’فتوحات‘ زیادہ تر مغربیوں کے حصے میں آئی ہیں۔ اس کا ایک واضح مطلب یہ ہے کہ مغربیوں کے ہاں ذاتِ انسانی کی خصوصیات کو (انہیں explore کرنے کے نام پر) تج دے کر مختلف آلات میں منتقل کرنے کے طور طریقے (techniques)، مغربی ثقافت میں بنیاد لیے ہوئے ہیں۔ اسی لیے آج مغربی کرّے کا انسان نسبتاً زیادہ کھوکھلا ہے اور اس کا باطنی وجود، معدومیت کی آخری سرحدیں چھو رہاہے۔ مغرب کے مشہور نقاد ٹی۔ایس۔ایلیٹ نے شاعرانہ اظہار کو جذبات یا شخصیت کے اظہار کے بجائے ’’فرار‘‘ قرارد یتے ہوئے، غیر شعوری طور پراسی کھوکھلے پن کا اعتراف کیا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ جدید مغربی ادب، جدید انسان کو معدومیت کی اتھاہ گہرائی میں دھکیل رہا ہے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انسان کی فتوحات و ترقیات میں مسلم تہذیب نے بھی فراخ دلی سے حصہ لیا ہے۔ اس سلسلے میں یہ عظیم تہذیب ایک عظیم داستان کی حامل ہے۔ اس داستان کا یہ پہلو البتہ کافی حیرت انگیز ہے کہ چھاپے خانے اور کمپیوٹر جیسی ایجادات کے باوجود مسلم تہذیب کے ثقافتی رویے نے حفظِ قرآن کی روایت ترک نہیں کی۔ آج ہمارے اپنے دور میں قرآن مجید اربوں کی تعداد میں شائع ہو رہے ہیں، اور سی ڈیز ویڈیوز کے ذریعے قرات اور لہجے بھی پوری طرح محفوظ ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حفظِ قرآن کا مقصد (قرات اور لہجے سمیت) حفاظتِ قرآن ہے تو کیا وہ مقصد آج حفظ کے بغیر بخوبی پورا نہیں ہو رہا؟ کیا حفظ کی روایت کا انتقال (transformation) مطبوعہ قرآنی صحائف اور سی ڈیز ویڈیوز میں قابلِ اطمینان حد تک ہو نہیں گیا؟ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ مسلم ثقافت نے حفظِ قرآن کی ’’خوامخواہ کی مشقت‘‘ سے ابھی تک جان نہیں چھڑائی؟ بلکہ دیکھا جائے تو واقعاتی شواہد اس کے بالکل برعکس ملتے ہیں کہ حفظِ قرآن کی روایت سے وابستگی میں دن بدن مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
مذہبیت سے قطع نظر (کہ نماز تراویح میں حفاظ کی ضرورت باقی رہتی ہے) واقعہ یہ ہے کہ مسلم تہذیب کے ثقافتی رویے میں حفظِ قرآن کی روایت کی روزافزوں مقبولیت اپنی اصالت میں، ایک انسانی خصوصیت ’حافظے‘ (property of memory) سے دست برداری کے خلاف مزاحمت کی زندہ و جاوید علامت ہے۔ اس کا ایک واضح مطلب یہ ہے کہ مسلم ثقافت، ذاتِ انسانی (man-himself) سے وابستہ کسی بھی بنیادی خصوصیت (main virtue or property) کے کسی آلے میں انتقال (transformation) میں اگرچہ مزاحم نہیں ہوتی، لیکن اس خصوصیت کی ذاتِ انسانی سے وابستگی کی بابت بہت حساس اور چوکنا رہتی ہے۔ اس لیے ہمیں مسلم تہذیب میں (مثلاً)چھاپے خانے اگرچہ بکثرت ملتے ہیں، کمپیوٹر کے استعمالات کے کئی نمونے ملتے ہیں، لیکن اس کے متوازی ذاتِ انسانی کے حیاتیاتی اثبات (biological assertion of man as man) کے مضبوط ثقافتی رویے بھی پوری شان کے ساتھ ڈٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی انسانی خصوصیت جس شدت کے ساتھ کسی آلے میں منتقل ہو کر ہتھیار ڈال دیتی ہے، مسلم ثقافتی رویہ اس سے زیادہ شدت کے ساتھ اپنا رنگ دکھاتاہے اور آلے کی افادیت تسلیم کرنے کے باوجود انتقال شدہ انسانی خصوصیت (transformed human virtue-property) کو ذاتِ انسانی سے وابستہ و پیوستہ رکھتا ہے۔ لہٰذا یہاں یہ اخذ کرنا درست ہو گا کہ حفظِ قرآن کی روایت، ایک انتہائی بنیادی انسانی خصوصیت، یاد اور حافظے کے تسلسل سے عبارت ہے اور اس تسلسل کا امین مسلم ثقافتی رویہ یا مسلم اجتماعی لاشعور ہے۔
یہ حقیقت مسلم تہذیب کے علمی مسلمات میں سے ہے کہ صدیوں کی مسافت کے باوجود قرآن مجید فرقان حمید، حرف حرف لفظ لفظ محفوظ چلا آ رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود اٹھایا ہے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کو اللہ رب العزت نے تاریخ کے سپرد نہیں کیا۔ تاریخ سے ورائیت کے ضمن میں یہی جان لینا کفایت کر سکتا ہے کہ تکمیلِ قرآن کے بعد، اس کی نزولی ترتیب کو بدل دیا گیا تھا۔ آج دنیا میں نزولی ترتیب کے مطابق قرآن مجید کا ایک بھی مستند نسخہ موجود نہیں ہے۔ نزولی ترتیب ایک خاص زمانے اور خاص سیاق و سباق کی اہمیت اجاگر کرتی ہے۔ وہ خاص زمانہ ایک خاص (عربی) زبان کا حامل ہے اور خاص سیاق و سباق، شانِ نزول یا آیات کے نازل ہونے کے واقعاتی اسباب کی نشاندہی کرتے ہیں۔ نزولی ترتیب سے منسلک یہ دونوں پہلو(خاص زمانہ اور خاص سیاق) قرآن مجید کو تاریخ کا حصہ بنا دیتے ہیں کہ ان کی مدد کے بغیر قرآن کا درست فہم ( true understanding of Quran) حاصل نہیں ہو سکتا اور واقعہ یہ ہے کہ ان دونوں (خاص زمانہ اور خاص سیاق) تک رسائی تاریخی عمل کی تحلیل کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ لہٰذا نزولی ترتیب سے قرآن مجید کا اٹھا دیا جانا اسے نہ صرف مخصوص زمانے کی مخصوص (عربی) زبان سے ماورا کر دیتا ہے (کہ قرآن کی عربی، عربی مبین ہے) بلکہ نزول کے مخصوص اسباب سے ماورا کرتے ہوئے کسی بھی تاریخی عمل کی بھینٹ چڑھنے سے بچا لیتا ہے، کہ آخر کو اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ رب العالمین نے اٹھایا ہوا ہے۔
یہاں ضمناً ایک سنگین فروگزاشت کی طرف توجہ دلانا برمحل ہو گا کہ بعض مذہبی حلقے فہمِ قرآن کے لیے جاہلیہ شاعری اور شانِ نزول کو انتہائی درجے میں اہمیت دیتے ہیں جس کے نتیجے میں قرآن کا فہم ایک مخصوص دور کی عربی زبان اور ایک مخصوص دور کے سیاق و سباق کی نذر ہو کر اپنے پیچھے یہ سوال چھوڑ جاتا ہے کہ اللہ رب العزت نے نزولی ترتیب پر ہی قرآن پاک کو قائم کیوں نہیں رکھا؟ واقعہ یہ ہے کہ نزولی ترتیب سے قرآن مجید کا اٹھا دیا جانا اسے ان علائق(تاریخی جبر) سے بالاتر کر دیتا ہے۔ اگر مخصوص مذہبی حلقے اپنے موقف پر بضد قائم ہیں تو انہیں سب سے پہلے نزولی ترتیب کے مطابق قرآن مجید کا کوئی ایڈیشن متعارف کروانا چاہیے اور پھر اسے ہی رواج دینے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔
بحث کے اس مقام پر یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حدیث بھی قرآن مجید کے مانند تاریخ سے ماورا ہے؟ اس کا دیانت دارانہ جواب یہی ہے: نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے حدیث کا تعلق تاریخ سے ہے۔ تدوینِ حدیث کے جواز کو مدِنظر رکھا جائے تو نہایت صراحت سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سنتِ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب امت کے اجتماعی عمل سے رخصت ہوتی چلی گئی تو یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ وہ وقت شاید بہت قریب ہے جب سنتِ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کثیر حصہ ’’تعاملِ امت‘‘ کی نذر ہو جائے گا اور بعد کی مسلمان نسلوں کے لیے نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتِ مطہرہ سے فیض یاب ہونا تقریباً نا ممکن ہو جائے گا۔ اس لیے اصلاً، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے قرآنی حکم کے تتبع میں، تعاملِ امت کی کم زوری کااعتراف کرتے ہوئے امت کے حساس اذہان نے، سنتِ مطہرہ کے یکسر غائب ہونے کے متوقع سانحے کو بھانپتے ہوئے تدوینِ حدیث کی داغ بیل ڈال دی۔
واقعہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے واضح قرآنی احکامات، سنتِ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو اگرچہ ٹھوس جواز فراہم کرتے ہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت تک رسائی کے لیے کوئی متعین راہ واضح نہیں کرتے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟اس سلسلے میں اگر قرآنی اسلوب پیشِ نظر رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سنت تو کجا، انبیا کرام علیھم السلام کی اکثریت کے نام تک کا ذکر قرآن مجید میں نہیں کیا گیا (اگر انبیا علیہم السلام کی تعداد سوا لاکھ کے قریب مان لی جائے)۔ اور پھر جن انبیا کرام علیھم السلام کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے ان کی زندگی کے تمام حالات تفصیلاً بیان نہیں کیے گئے۔ قرآن مجید میں مذکور انبیا کرامؑ کے قصوں کا محتاط مطالعہ مترشح کرتا ہے کہ اللہ رب العزت نے انبیاکرام کے حالات میں سے انتہائی زیادہ اہمیت کے حامل محض ایسے واقعات بیان فرمائے ہیں جن کی حکمت کی تابانیاں دائمی اور آفاقی ہیں۔ اسی تسلسل اور رَو میں نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کے بھی چنیدہ واقعات قرآن مجید کی زینت بن چکے ہیں۔ اگر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کے نبوی پہلو کو دیکھا جائے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا، تو کہا جا سکتاہے کہ پورے کا پورا کلامِ پاک نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ۲۳برس(چالیس سے تریسٹھ) کی داستانِ حیات سمیٹے ہوئے ہے۔ اوپر کی سطروں میں جو سوال اٹھایا گیا کہ اطاعتِ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واضح قرآنی احکامات، سنتِ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو ٹھوس جواز فراہم کرنے کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت تک رسائی کی کوئی متعین راہ کیوں نہیں دکھاتے؟ کا جواب یہاں بظاہر یہ ملتاہے کہ پورے کا پورا قرآن مجید (ایک اعتبار سے) سنت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داستان ہی تو ہے اور یہ داستان تاریخ سے ماورا ہونے کے ناتے بہت معتبر بھی ہے۔
اگر قرآن مجید ہی (ایک اعتبار سے) نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے تو تعامل امت میں سنت کے کم زور پڑنے یا اٹھ جانے کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ امت کے اجتماعی عمل میں فہمِ قرآن کی نبوی روایت افراط و تفریط کا شکار ہو گئی۔ اس لیے حدیث (کے علم و فن) کی ضرورت ان معنوں میں سنت کی حفاظت کے لیے نہیں ہے جس طرح ہمارے مذہبی حلقوں میں عام طور پر سمجھ لی گئی ہے، بلکہ حدیث کی اصلاً ضرورت، فہمِ قرآن کی روایت کی درستی کے لیے ہے جو اپنے نتیجے کے لحاظ سے اگرچہ سنت کا اثبات چاہتی ہے لیکن اس سنت کا جو دائمی آفاقی اور تاریخ سے ماورا ہے (کہ قرآن مجید ہی (ایک اعتبار سے) نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے)۔
بحث کے اس مقام پر اب دیانت کا تقاضا ہے کہ یہ سوال اٹھایا جائے، کیا اللہ رب العزت نے تاریخ سے ماورا دائمی آفاقی سنت کو تاریخ (حدیث:علم و فن) کے سپرد کر دیا ہے؟ اس کا جواب ہے، جی ہاں۔ کیونکہ مسلم تاریخ کے جس مرحلے میں تعاملِ امت، سنتِ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم (یعنی فہمِ قرآن کی نبوی روایت) سے منحرف ہونا شروع ہوا، اس نازک مرحلے پر مسلم تہذیب کا اجتماعی لاشعور دو راہے پر کھڑا تھا کہ:
۱۔ تعاملِ امت کی کم زوری، جو کہ واقعاتی اور تکوینی اعتبارات سے درحقیقت منہ زوری تھی، کے سامنے ہتھیار ڈال دیے جائیں اور من مانی تشریحات و رسومات کے ماحول کو فروغ دیتے ہوئے قرآن کے نبوی فہم کو تاریخ کی نذر ہونے دیا جائے۔
۲۔ سنتِ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم سے انحراف پر مبنی تعاملِ امت کی منہ زوری کو نکیل ڈالی جائے اور تاریخی عمل کی مسلسل تحلیل کے ذریعے نبوی اعمال و اقوال کی جزئیات تک رسائی پاکر فہمِ قرآن کی روایت درست نہج پر لائی جائے۔
یہ حقیقت بھی مسلم تہذیب کے علمی مسلمات میں سے ہے کہ مسلم تہذیب کے اجتماعی لاشعور یا ثقافتی رویے نے اپنی تاریخ کے اس انتہائی نازک موڑ پر دوسری راہ کا انتخاب کیا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس راہ میں پھولوں کی وادیوں اور ستاروں کی کہکشاؤں سے واسطہ نہیں پڑے گا بلکہ دشت دشت سیاحی اور قدم قدم کانٹے بچھے ملیں گے۔
یہاں ایک بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان کی لاشعوری سطح(چاہے وہ اجتماعی ہو) کسی عمل کو ایسی سندِ جواز عطا کر سکتی ہے، جسے علمی گردانا جا سکے؟ ہماری رائے میں یہ نکتہ بحث طلب ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ تاریخی عمل کی مسلسل تحلیل کے ضمن میں حدیث (علم و فن) کی داغ بیل صرف اور صرف مسلم اجتماعی لاشعور کے حصے میں ہی نہیں آئی، بلکہ اس سلسلے میں اصلاً مسلم تہذیب کے ایسے اہلِ علم حضرات نے نہایت کلیدی کردار ادا کیا جن کا فہمِ قرآن تعاملِ امت کی منہ زوری کے مقابل، شعوری سطح پر نبوی روایت سے منسلک رہا۔ یہ اہلِ علم یہ سمجھنے میں بالکل درست تھے کہ قرآن مجید میں اطاعتِ رسول کا حکم (implied) ایک سندِجواز رکھتا ہے کہ اطاعت رسول کے لیے ’’درکاراقدامات‘‘ لازماً اٹھائے جائیں۔ جب تعامل امت کی کم زوری کے نتیجے میں اطاعتِ رسول(یا فہمِ قرآن کی نبوی روایت) صحیح معنوں میں ممکن نہ رہی تو اسی implied حکم کے تحت اہلِ علم حضرات نے حدیث کی تدوین کے قرآنی جواز کو ملحوظ رکھتے ہوئے فہمِ قرآن کی نبوی روایت کو افراط و تفریط سے بچانے کا اہتمام کیا اور عامۃالمسلمین کے لیے سنتِ تشریعی پر عمل کو ممکن بنایا۔ (اس بحث کا ایک مطلب یہ ہوا کہ ابتدائی چند صدیوں کے بعد تعاملِ امت اور سنتِ تشریعی آمنے سامنے کھڑے ہو گئے۔ لہٰذا تعاملِ امت کو حجت گرداننے والے اصالتِ دین کے نام پر جس چیز کو فروغ دینا چاہتے ہیں، وہ سنت سے منحرف فہمِ قرآن کی بگڑی روایت کے سوا اور کچھ نہیں)۔
بحث کے اس مقام پر قدرتی طور پر ایک سوال ابھرتا ہے کہ اگر جاہلیہ شاعری اور شانِ نزول کے تناظر میں قرآن فہمی کی کوئی کوشش، قرآن کو ورائیت کے بجائے تاریخ کا حصہ بنا دیتی ہے، تو پھر حدیث (علم و فن) کے تناظر میں فہمِ قرآن کی کوششوں پر یہ اصول کیوں لاگو نہیں ہوتا؟ کہ جاہلیہ شاعری کی دریافت کی طرح حدیث کی دریافت بھی تاریخی واردات کے ذریعے ہی ممکن ہو سکی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر دو میں ثقاہت اور فقاہت کے اعتبار سے بہت ہی بنیادی فرق پایا جاتا ہے:
۱۔ جاہلیہ شاعری اور حدیث تک رسائی میں تاریخی عمل کا کردار یکساں نہیں ہے۔ حدیث، تاریخ جانچنے کے کسی بھی معتبر پیمانے پر پورا اترتی ہے، جبکہ جاہلیہ شاعری کو یہ اعتبار حاصل نہیں۔
۲۔ جاہلیہ شاعری کے ذریعے قرآنی الفاظ کے معانی متعین کرنا، مخصوص قرآنی رنگ سے انحراف کے مترادف ہے۔ اس رو گردانی یا انحراف سے مراد یہ ہے کہ جاہلیہ شاعری جن اشخاص سے منسوب ہے ان کا قرآن مجید سے براہ راست کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ جبکہ حدیث کی نسبت نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے جن پر قرآن مجید نازل ہوا۔ اس لیے جب یہ ثابت ہو جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے یہی الفاظ نکلے ہیں تو قرآنی عربی (عربی مبین) کے معانی کے تعین میں یقیناًان سے مدد لی جا سکتی ہے بلکہ لازماً مدد لی جانی چاہیے۔ لہٰذا قرآن کو قرآن کے اپنے رنگ میں سمجھنے کی کوشش جاہلیہ شاعری کے بجائے حدیث کے ذریعے سے ہی ممکن ہے۔
۳۔ خالص لسانیاتی حوالے سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جاہلیہ شاعری میں برتی گئی عربی زبان یک دم وجود میں نہیں آ گئی تھی۔ یقیناً اس کی نوعیت بھی اسی طرح ارتقائی ہے جیسا کہ ہر زبان کی ہیت و ساخت میں اس کی ارتقائی نوعیت چھپی ہوتی ہے۔ اس لیے اس بابت دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ ہر زبان کے مانند جاہلیہ شاعری میں بھی اس کے الفاظ اور الفاظ کے معانی متعین کرنے میں اس کے پیچھے موجود ارتقا کا کردار نہایت کلیدی ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب جاہلیہ شاعری کے ذریعے قرآنی الفاظ کے معانی متعین کرنے کی کوشش کی جائے گی تو کیا جاہلیہ شاعری کا مخصوص پس منظر اس سارے عمل میں کسی بھی اعتبار سے اثر انداز نہیں ہوگا؟ جب کہ حدیث کے ساتھ معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک صفاتی نام امّی بھی ہے۔ اسی لیے حدیث میں برتی گئی زبان کا ویسا کوئی مخصوص پس منظر نہیں ہے جیسا کہ جاہلیہ شاعری کا ہے۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کے امّی ہونے کی نسبت سے، حدیث مبارک کو (قرآنی الفاظ کے معانی کے تعین میں)قرآنی پس منظر کا درجہ مل جاتا ہے۔
۴۔ جاہلی شاعری، تعیناتِ معانی کے عمل میں ایجابی نوعیت لیے ہوئے ہے۔ ایک تو یہ قرآنی رنگ اور قرآنی پس منظر سے باہر ہے اس پر مستزاد اس کی ایجابی نوعیت۔ اس لیے یہ فہمِ قرآن کی نبوی روایت سے قریب آنے کے بجائے الگ راہ اپنا لیتی ہے۔ جبکہ حدیث اپنی عمومیت کے دائرے میں سلبی نوعیت کی حامل ہے۔ جیسے یہ کہا جاتا ہے کہ خدا کیا ہے؟ اس کا تعین نہیں کیا جا سکتا، جبکہ خدا کیا نہیں ہے اس کو کسی نہ کسی درجے میں طے کیا جا سکتا ہے، بالکل اسی طرح حدیث اپنے سلبی اعتبار کے ساتھ فہمِ قرآن کی روایت کو کہ وہ ’’کیا نہیں ہو سکتی‘‘ کسی نہ کسی درجے میں طے کر دیتی ہے، جبکہ وہ ’’کیا ہو سکتی ہے‘‘ کو امکانی سطح پر مستور رکھتی ہے۔ اس طرح حدیث کی سلبی نوعیت ’’تحدیدی توسع‘‘ کی راہ دکھاتی ہے، کہ اس کے توسط سے فہمِ قرآن میں مخصوص حد بندی کے ساتھ پھیلاؤ کے ان گنت امکانات موجود ہیں، جنہیں زرخیز اذہان وجود میں ڈھال سکتے ہیں۔ فہمِ قرآن کے امکانی توسعات پر حدیث کی کتر بیونت کا عمل اسے (فہمِ قرآن کو) قرآنی رنگ (سنتِ تشریعی) سے دور نہیں جانے دیتا۔ ہمارے خیال میں جاہلیہ شاعری سے اس سارے عمل کی توقع رکھنا عبث ہے۔
مذکورہ بحث کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی کلاسیکل علمی روایت سمیت عصری جدت پسندی کی رسائی ابھی تک، حفظِ قرآن کی روایت اور علمِ حدیث کے داخلی تعلق تک نہیں ہو پائی۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ حفظِ قرآن کی روایت نے بنفسہٖ، یاد اور حافظے کی محافظت میں تاریخ سے پختہ و شعوری وابستگی کے لیے مسلمانوں کو وہ ٹھوس بنیاد فراہم کی ، جس کی ضرورت بعد ازاں سنت (جو ابتدائی صدیوں میں تعاملِ امت کی صورت میں موجود تھی) سے حدیث تک کے فیصلہ کن مرحلے میں مسلمانوں کو پیش آئی۔ اس لیے سنت سے حدیث تک کا سفر اتنا سادہ نہیں ہے جتنا سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ سفر محض سفر نہیں بلکہ رمز کی حامل ایک پوری داستان ہے۔ اس داستان کے باطن میں جھانکنے کی کبھی زحمت نہیں کی گئی۔ اس لیے کئی مذہبی حلقے، حدیث کے اصل مقام اور اس کی تشریعی حیثیت کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث کی وہ جہت جسے سنت سے تعبیر کیا جاتا ہے، حجت کی حامل اور تاریخ سے ماورا ہے۔ جبکہ حدیث کی وہ جہت جسے ’’علم و فن‘‘ کہا جاتا ہے، اپنی واقعیت کے اعتبار سے تاریخ کا حصہ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جدید دور میں بعض حلقے، علم و فن کو حجت قرار دینے پر مصر ہیں تو دوسری طرف بعض حلقے حدیث کی اس جہت کے ہی سرے سے منکر ہیں جو اپنی حقیقت میں سنت ہے اور حجت کی حامل ہے۔
ہمارے خیال میں علم و فن کی سطح پر حدیث کو پرکھتے وقت یہ نکتہ ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ قرآن مجید کی نزولی ترتیب کا بدل دیا جانا، اسے تاریخ سے ماورا کر دیتا ہے، جبکہ حدیث علم و فن کے اعتبار سے خالصاً تاریخ اور یادِ ماضی سے شعوری وابستگی کا دوسرا نام ہے۔ اوریہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مطالعہ تاریخ کا درست منہج، تاریخی واقعات کے پس منظراور تقدیم و تاخیر کی منطقی ترتیب سے کماحقہ آگاہی کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کے بغیر تاریخی عمل میں سے حقیقی صورتِ حال کے نِکھر کر سامنے آنے کے امکانات کم کم ہوتے ہیں۔
حدیث کی وہ جہت جسے ہم نے سنت سے تعبیر کیاہے، اصولی طور پر تشریعی ہونے کے باوجوداپنے تک رسائی اور اظہار کے لیے حدیث کی اس جہت کی مرہونِ منت ہے جسے علم و فن گردانا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جدید دور میں سنت تک رسائی تعاملِ امت کے بجائے حدیث کے’ علم و فن‘ کے ذریعے سے ہی ممکن ہے اور یہ علم و فن اپنی اپروچ میں تاریخی عمل کی مسلسل تحلیل کا تقاضا کرتا ہے۔ اندریں صورت، متونِ حدیث کے سیاق و سباق کے اطراف کی جانکاری اور ایک ہی موضوع پر مختلف احادیث کے متون میں موجود فرق کا زمانی و مکانی ادراک، تلاشِ سنت کے عمل کا ایک ناگزیر لازمہ ٹھہرتا ہے۔ ہماری رائے میں علمِ حدیث پر مسلمانوں کے کلاسیکل لٹریچر میں اس ناگزیر لازمے کو اس توجہ سے نہیں نوازا گیا جس کا یہ حقیقت میں مستحق ہے۔
بحث کے اختتام پر ایک بنیادی نکتہ تنقیح طلب رہ جاتا ہے کہ اگر سنتِ تشریعی (فہمِ قرآن کی نبوی روایت) تک رسائی حدیث (علم و فن) کے ذریعے ہی ممکن ہے تو کیا یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ چونکہ حدیث (علم و فن) اپنی حقیقت میں تاریخ ہے، اس لیے جدید دور میں فہمِ قرآن کی درستی، تاریخ کے باطن میں جھانکنے کا تقاضا کرتی ہے؟ جی ہاں! سچ یہی ہے۔ اسی لیے مسلم ثقافت نے ماضی میں حفظِ قرآن کی روایت سے شہ پا کر نہ صرف حدیث(علم و فن) کی داغ بیل ڈالی، بلکہ عصرِ حاضر میں جب بظاہر اس (حفظِ قرآن) کی ضرورت باقی نہیں رہی، اسے ذاتِ انسانی کی بنیادی خصوصیت (یاد) کے تحفظ کی غرض سے مزید پروان چڑھا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہر شعبہ زندگی میں ایسی ترقی یا فتح جو انسان کی ذات سے وابستہ کسی بنیادی خصوصیت پر حملہ آور ہوئی ہے، مسلم ثقافت نے اسے ہمیشہ counter کیا ہے۔ (شاید counter کرنے کا یہ عمل کہیں کہیں encounter تک جا پہنچا ہے جس کی وجہ سے جدید مادی ترقی میں مسلم تہذیب کا کردار ویسا نہیں ہے جیسا کم از کم ہونا چاہیے تھا)۔
بحث سمیٹتے ہوئے ہم گزارش کریں گے کہ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ انسان کی معلوم تاریخ (known history) میں تاریخ کو علمی بنیاد فراہم کرنے کا سہرا ایک مسلمان کے سر بندھاہے اور اسے تاریخ کا باوا آدم (founding father) گرداناگیاہے۔ جی ہاں! یہ ابنِ خلدون ہی ہے جس نے بڑی بوڑھیوں کے قصے کہانیوں والی تاریخ اور اس سے آنکھیں بند کر کے کی جانے والی وابستگی کے بجائے تجزیہ و استدلال پر مبنی شعوری وابستگی کو تاریخ قرار دیا۔ واقعہ یہ ہے کہ ’مقدمہ‘ کوئی مسلمان ہی تخلیق کر سکتا تھا، کیونکہ غیر مسلموں کی علمی روایت میں حفظِ قرآن اور حدیث کی طرز کا کوئی علم و فن نہیں پایا جاتا(اگرچہ یاد اور حافظے کو کم زور کرنے والے آلات؛ چھاپہ خانہ کمپیوٹر وغیرہ ضرور نظر آتے ہیں)۔ اس لیے حدیث (علم و فن) کی نوعیت کا غیر جانب دارانہ اور معروضی مطالعہ مترشح کرتا ہے کہ اس کی بنت و بافت کے پیچھے مسلم تہذیب کا ثقافتی رویہ یا مسلم اجتماعی لاشعور کارفرما ہے۔ لہٰذابلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ حدیث(علم و فن) بلا شبہ، مسلم تہذیب کی داخلی مضبوطی کا خارجی اظہار ہے اور تاریخی اعتبار سے اصالتِ دین کی تلاش میں اس کا کردار نہایت کلیدی ہے۔
سرمایہ دارانہ انفرادیت کا حال اور مقام (۲)
محمد زاہد صدیق مغل
جاوید اکبر انصاری / زاہد صدیق مغل
۲۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت (Capitalist Subjectivity)
اب ہم دیکھیں گے کہ سرمایہ دارانہ یعنی موجودہ مغربی تہذیب کا عام باشندہ عقائد اور حال کے فساد کا شکار ہے۔ پہلی صدی عیسوی کے آخر تک بیشتر عیسائیوں نے ان عقائد کے ایک حصے کو رد کردیا جنکی تبلیغ حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمائی اور جنہیں انکے حواریوںؓ نے قبول کیا تھا۔ دوسری سے چودھویں صدی عیسوی تک کی مغربی عیسائیت حضرت مسیح علیہ السلام اور یونانی افکار کا ایک مرکب بن گئی تھی۔ تحریک نشاۃ ثانیہ اور تحریک اصلاح مذہب (Renaissance and Reformation) نے مسیحی عقائد کو تقریباً مکمل طور پر رد کردیا اور یونانی عقائد و افکار کی ایک مسیحی تشریح پیش کی۔ انقلاب فرانس کے بعد اس ظاہری نمائشی عیسائی ملمع کاری کو بھی ترک کردیا گیا (۱۴) اور ہیوم جیسے فلسفیوں نے دہریت کے عقائد کی وکالت کی جو فی العمل یورپی عوام پر اثر انداز ہوئی۔ یورپی عوام کافر تو ہمیشہ سے تھے لیکن مسیحی تعلیمات کے زیر اثر قرون وسطی میں وہ بہیمیت اور دہریت سے قدرے محفوظ رہے اور ان میں عبدیت کا احساس موجود رہا گو کہ یہ احساس صرف مذہبی امور تک ہی محدود تھا۔ اٹھارویں صدی کے آخر تک یہ احساس نہایت مجروح ہوگیا اور ہیوم اور کانٹ کے فلسفوں نے عبدیت کو بے دخل کرکے آزادی یعنی بغاوت (۱۵) کو یورپی عوام کا اساسی عقیدہ اور احساس بنا دیا۔ یوں ایک عام یورپی کا حال اور مقام تبدیل ہوگیا۔ اس کی زندگی میں اضطرار (frustration / anxiety) نے اطمینان کی جگہ لے لی اور وہ عبدیت کے مقام سے گر کر مذہبی دائرے میں بھی خدا کا باغی بن گیا۔ اس مراجعت کی وجہ یہ تھی کہ ایک عام یورپی کانٹ اور ہیوم وغیرہ کے فلسفوں پر اسی طرح ایمان لے آیا جس طرح ایک عیسائی انجیل پر ایمان رکھتا ہے(۱۶)۔ واضح رہنا چاہئے کہ کانٹ اور ہیوم کے فلسفوں کے ما بعد الطبعیاتی مفروضے بھی ان کے احساسات پر نہ کہ کسی دماغی عقلیت کے فراہم کردہ شواہد اور دلائل پر قائم تھے۔
سرمایہ دارانہ شخصیت کی اساسی اقدار: آزادی، مساوات اور ترقی
الحاد پرستی پر مبنی مغربی فلسفے کے مرکزی دھارے یعنی تحریک تنویر (Enlightenment) کا کلیدی تصور "Humanity" ہے۔ "Humanity" کا ترجمہ ’’انسانیت‘‘ کرنا غلط ہے۔ ’’انسانیت‘‘ کا درست انگریزی ترجمہ "Mankind" ہے۔ یہی لفظ انسانی اجتماعیت کے لیے انگریزی زبان میں ۱۸ ویں صدی سے قبل رائج تھا۔ "Humanity" کا تصور ’’انسانیت‘‘ کے تصور کی رد ہے۔ Humanity انسانیت کے تصور کا ان معنوں میں رد ہے کہ human being عبدیت اور تخلیقیت کا اصولاً اور عملاً رد ہے۔ Kant کے مطابق human being کا بنیادی وصف اور اس کی اصل "autonomy" یعنی خود ارادیت اور خود تخلیقیت ہے۔ انسان اپنے رب کے ارادے کا مطیع ہوتا ہے جبکہ human being خود اپنا رب ہوتا ہے اور وہ جو چاہتا ہے اسے کر گزرنے کا مکلف سمجھتا ہے۔ چنانچہ تصور humanity نے جس قدر کو فرد کا مقصد وجود قرار دیا وہ تھا آزادی۔ آزادی کس سے ؟ خدا کی بندگی سے۔ آزادی کی طلب گار انفرادیت کیا چاہتی ہے؟ یہ کہ جو چاہنا چاہے چاہ سکنے اور اسے حاصل کرنے کا حق۔ آزادی کا مطلب ہے ارادہ انسانی کے اظہار کے ’حق‘ کو ’خیر‘ پر فوقیت دینا یعنی خیروشر کا تعین کرنے کا مساوی حق ہر انسان کو ہونا چاہئے ما ورائے اس سے کہ انسان اس حق کو استعمال کرکے اپنے لئے خیر وشر کا کونسا پیمانہ طے کرتا ہے کیونکہ اصل خیر یہی ہے کہ انسان خود خیر وشر طے کرنے کا مکلف و مجاز ہو ۔ چنانچہ فرد اپنی ترجیحات کی جو بھی ترتیب مرتب کرے گا وہی اسکے لئے خیر ہوگا۔ اگر ہنری پتے گننے کو اپنی زندگی کا مقصد بنالے تو یہی اسکے لئے خیر ہوگا، اگر ابرار گلوکار بننا چاہتا ہے تو یہی اسکا خیر ہوگا اور اگر عبداللہ مسجد کا امام بننا چاہتا ہے تو یہ اسکا خیر ہوگا۔ الغرض اصل بات یہ نہیں کہ وہ اپنی آزادی کو کس طرح استعمال کرتا ہے بلکہ اصل خیر یہ ہے کہ وہ اپنے لئے خیر وشر طے کرنے کا حق استعمال کرنے میں آزاد ہو۔ دوسرے لفظوں میں آزادی کا مطلب ہے choice of choice (جو چاہنا چاہوں چاہ سکنے کا حق)، یعنی کوئی عمل فی نفسہ اچھا یا برا نہیں اور نہ ہی ہیومن کے ارادے کے علاوہ کوئی ایسا پیمانہ ہے جسکے ذریعے کسی عمل یا شے کی قدر (value)متعین کی جاسکے، human being معیارات خیر وشر خود متعین کرتا ہے۔
Kant کے مطابق خیر و شر کے تعین کے لیے human being کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ کیا وہ عمل صفت آفاقیت (Universalisation) کا متحمل ہوسکتا ہے یا نہیں، یعنی کیا تمام افراد کو اس عمل کی اجازت دینے کے بعد بھی اس عمل کو کرنا ممکن ہوگا یا نہیں؟ اس اصول کے مطابق ایک فرد کا ہر وہ فعل اور خواہش قانوناًجائز ہے جسے وہ خواہشات میں ٹکراؤ پیدا کیے بغیر تمام انسانوں کو کرنے کی اجازت دینے پر تیار ہوسکتا ہے۔ کانٹ کے اصول کی طرح نظریہ افادیت (Utilitarianism) نے بھی قدر کے تعین کا ایک پیمانہ پیش کیا ہے اور وہ ہے شدت لذت (Intensity of Pleasure) ۔ مثلاً اگر ہنری زنا کرنے سے زیادہ اور کتاب پڑھنے سے کم لذت حاصل کرتا ہے تو وہ زنا کو بدرجہ کتاب زیادہ قدر دے گا لیکن اسے بش کا یہ حق تسلیم کرنا ہو گا کہ وہ کتاب پڑھنے سے حاصل شدہ لذت کو زنا سے حاصل شدہ لذت کے مقابلہ میں زیادہ قدر دے۔ تعین قدر کے ان دونوں تصورات میں human being آزاد ہے کہ وہ قدر کو اپنے ارادہ کے مطابق متعین کرے، لیکن قدر کا تعین اس طریقہ سے کیا جائے گا کہ ہر human beingکو قدر کا تعین اپنے ارادے کے مطابق کرنے کا اختیار حاصل ہو۔
واضح ہوا کہ Humanist تصورِ انفرادیت آزادی کے بعد جس قدر کو مرکزی اہمیت دیتی ہے وہ ہے مساوات (Equality) ، یعنی یہ ماننا کہ چونکہ ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لئے قدر کا جو پیمانہ چاہے طے کرلے، لہٰذا ہر شخص کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ دوسروں کے اس مساوی حق کو تسلیم کرے کہ وہ بھی اپنی زندگی میں خیر اور شر کا جو پیمانہ چاہیں طے کرلیں اور اس با ت کو مانے کہ خیر و شر کے تمام معیارات مساوی (Equal)ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر شخص کے تعین قدر کی ترتیب کو یکساں اہمیت دی جائے اور کسی بھی فرد کے معیار خیر وشر اور اقداری ترجیحات کی ترتیب کو کسی دوسرے کی ترتیب پر فوقیت نہیں دی جانی چاہئے۔ پس خود ارادیت اور خود تخلیقیت (autonomy) کا ہر human being یکساں مکلف ہے اور سرمایہ دارانہ شخصیت کی تعمیر کے لیے صرف آزادی کافی نہیں بلکہ مساوی آزادی (equal freedom) کوتسلیم کیا جانا ضروری ہے۔ معلوم ہوا کہ آزادی کچھ نہیں بلکہ یہ عدم محض (empty space OR nothingness) ہے، یعنی یہ صرف اس ’صلاحیت ‘ کا نام ہے جو مجھے میری ’ہر چاہت‘ حاصل کرسکنے کا مکلف بنا دے، ماورائے اس سے کہ وہ چاہت کیا ہے۔ ہیومن یا سرمایہ دارانہ انفرادیت کیا چاہتی ہے؟ یہ کہ ’میں جو چاہنا چاہوں چاہ سکنے کا حق ‘ (preference for preference itself) نہ کہ کوئی مخصوص چاہت ، کیونکہ جونہی میں کسی مخصوص چاہت کو اپنی ذات کا محور و مقصد بناتا ہوں آزادی ختم ہوجاتی ہے جسے یوں بیان کرتے ہیں کہ "his self can possess ends but cannot be constituted by them" ۔ جمہوریت سرمایہ دارانہ انفرادیت کے سیاسی اظہار کا نام ہے جسکا مقصد ایسی ریاستی صف بندی فراہم کرنا ہے جسکے ذریعے ہر شخص کے لئے یہ ممکن ہوسکے کہ وہ جو چاہنا چاہے چاہ سکنے اور اسے حاصل کرسکنے کا مکلف ہوجائے۔ البتہ مغربی تہذیب کا یہ دعوی کہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ’جو‘ چاہنا چاہے چاہ سکے ایک جھوٹا دعوی ہے کیونکہ فرد کو آزادی یعنی سرمایہ دارانہ نظام زندگی رد کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ میں اگر گوشت کھانا چاہتا ہوں تو چاہوں، ہمہ وقت کھیلنا چاہتا ہوں تو چاہوں، مگر میں ایسا کچھ نہیں چاہ سکتا جس سے اصول آزادی یعنی دوسروں کا اپنی چاہت چاہنے اور اسے حاصل کرنے کا حق سلب ہوجائے۔ مثلاً میں یہ نہیں چاہ سکتا کہ کسی شخص کو شرعی منکر (مثلاً زنا) سے روک دوں کیونکہ جونہی میں اپنی اس چاہت پر عمل کرتا ہوں اصول آزادی کی خلاف ورزی ہوگی اور جمہوری ریاست مجھے ایسا کرنے سے بذریعہ قوت روک دے گی (۱۷) ۔ چنانچہ فرد اپنے کسی مخصوص تصور خیر مثلاً اظہار مذہبیت پر ’بطور ایک حق‘ عمل تو کرسکتا ہے مگراسے دیگر تمام تصورات خیر پر غالب کرنے کا ارادہ نہیں کرسکتا کہ ایسا کرنا اصول آزادی کے خلاف ہے اور اگر اصول آزادی ہی رد کردیا گیا تو پھر میرا یہ حق کہ میں جو چاہنا چاہوں چاہ سکتا ہوں خود بخود فسخ ہوجائے گا۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں ہر فرد اپنی انسانیت ترک کرکے ہیومن بننے پر مجبور ہوتا ہے، وہ آزادی کے سواء اور کچھ نہیں چاہ سکتا۔ فرد کی ہر وہ خواہش قانوناً اور اخلاقاً ناجائز اور قابل تنسیخ ہے جو اصول اظہار آزادی کے خلاف ہویعنی جسکے نتیجے میں دوسروں کی آزادی چاہنے کی خواہش میں تحدید ہوتی ہو۔ مشہور لبرل مفکر Rawls کہتا ہے کہ مذہبی آزادی کو لبرلزم کے لئے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، وہ مذہبی نظریات جو لبرل آزادیوں (یعنی فرد کے تعیین خیر وشر کے حق) کا انکار کریں ان کو عملاً کچل دینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا امراض کو ختم کرنا ضروری ہے۔
مساوی آزادی کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ human being اپنے ارادے کو غیر human اشیاء پر مسلط کر کے انہیں اپنے ارادے کا تابع کرے (ان غیر human موجودات میں غیر human انسان اور فطری قوتیں دونوں شامل ہیں)۔ Human ارادے کے اس کائناتی تسلط کو progress یا ترقی کہتے ہیں جو سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی اور انفرادیت کی تیسری اہم قدر ہے۔ Progress کا ذریعہ سرمایہ کی بڑھوتری ہے۔ محمد مارماڈیوک پکتھالؒ نے سرمایہ کو تکاثر کے مماثل کہا ہے اور اپنے ترجمہ قرآن میں تکاثر کے انگریزی معنی "Rivalry in Wordly Increase" بیان فرمائے ہیں۔ سرمایہ میں بڑھوتری آزادی کے فروغ کی عملی شکل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص اپنے human ہونے کو تسلیم کرتا ہے تو وہ خواہشات کی زیا دہ سے زیادہ تکمیل (maximum satisfaction) کو مقصد حیات کے طور پر قبول کرتا ہے اور ارادہ انسانی کی یہی منتہا تکمیل ترقی کا جوہر ہے ۔ وہ سرمایہ کی بڑھوتری کو اپنی زندگی کے اولین مقصد کے طور پر قبول کرتا ہے کہ آزادی کا مطلب ہی سرمایہ کی بڑھوتری ہے اس کاکوئی دوسرا مطلب نہیں، جو شخص آزادی کا خواہاں ہے وہ لازماً اپنے ارادہ سے اقدار کی وہ ترتیب متعین کرے گا جس کے نتیجے میں اس کی آزادی میں اضافہ ہو کیونکہ سرمایہ ہی وہ شے ہے جو میری اس صلاحیت میں اضافے کو ممکن بناتا ہے کہ میں جو چاہنا چاہوں چاہ سکوں۔ ترقی درحقیقت وہ طریقہ ہے جسکے ذریعے آزادی اور مساوات کا اظہار ممکن ہوتا ہے، یعنی اگر کوئی معاشرہ آزادی اور مساوات کے اصول پر زندگی گزارنا چاہتا ہے تو وہ واحد طریقہ جسکے نتیجے میں ہر فرد اپنی خواہشات کی ترتیب طے کرنے اور اسے حاصل کرسکنے کا مکلف بن سکتا ہے ترقی یعنی سرمائے میں لامحدود اضافہ کرنے کی جدوجہد ہے۔ Rawls کہتا ہے کہ human being کی زندگی میں صرف چار مقاصد اصل خیر ہوتے ہیں، (ا) دولت، (۲) آمدنی، (۳) قوت اور (۴) اختیار۔ یہی اقدار خیر مطلق (absolute goods) ہیں اور ان میں اضافے کی جدوجہد ہی حاصل زندگی ہے۔ چنانچہ سرمائے میں لامحدود اضافے کے علاوہ اور کوئی ایسا مقصد ہے ہی نہیں جسے سرمایہ داری کے اندر تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہو۔ یہی وہ واحد شے ہے جو ہر تصور خیر کے پنپنے کے امکانات ممکن بنا تی ہے لہٰذا اصل خیر جس سے ہر ہیومن منسلک (committed) ہوتا ہے وہ سرمائے میں لامحدود اضافے کی خواہش ہے اور اسی کیلئے وہ اپنا تن من دھن سب کچھ وار دیتا ہے۔ ہر تصور خیر کے پنپنے کے مواقع میں اضافہ (maximization of opportunities)جمہوری ریاست کااصل مقصد (end in itself)ہوتا ہے ماورائے اس سے کہ وہ مواقع کس شے کے اظہار کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔ مواقع کے بدستور اضافے کے اس عمل کا اظہار ہمیشہ معاشی اعدادوشمار (economic indicators) کی کارکردگی کی صورت میں ناپا جاتا ہے جو یہ بتاتے ہیں کہ سرمائے میں اضافے کا مجموعی عمل کس رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ مواقع اور سرمائے کا اضافہ ہی ارادہ محض کے اظہار کا واحد ممکن اور جائز طریقہ ہے۔
سرمایہ دارانہ شخصیت (ہیومن بینگ) کا معیار عقلیت
جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا کہ دماغی عقلیت یعنی خرد مخصوص احساسات ہی کو بطور معیار عقل قبول کرتی ہے، سرمایہ دارانہ عقلیت کے نزدیک بھی عقلیت کا معیار آزادی سے ماخوذ شدہ احساسات ہیں۔ چنانچہ علم معاشیات فرد کو یہ باور کراتا ہے کہ وہ اپنی انفرادیت (یاآزادی) کا اظہار عمل صرف (Consumption) کے ذریعے کرتا ہے یعنی وہ جتنی اشیاء صرف (Consume) کرتا ہے اتنی ہی زیاد ہ خواہشات کی تسکین کر سکتا ہے اورایک صارف (Consumer) زیادہ سے زیادہ خواہشات کی تسکین تبھی کر سکتا ہے جب اس کے پاس زیادہ سے زیاد ہ اشیاء خریدنے کے لیے آمدنی (Income) ہو۔اسی طرح معاشیات کا مضمون یہ بھی کہتا ہے کہ human being کی خواہشات لامحدود (Infinite) ہونی چاہئیں اور وہ انہیں پورا کرنے کا مکلف بھی ہے۔ مگر چونکہ ان خواہشات کو پورا کرنے کے ذرائع لامحدود نہیں ہیں، لہٰذا زیادہ سے زیادہ خواہشات کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ فرد اپنے ذرائع کو اپنے وجود کی ممکنہ حد تک بڑھانے کی کوشش میں لگارہے اور ذرائع میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے کی اس خواہش ہی کو ماہرین معاشیات عقلیت (Rationality) کا معیار کہتے ہیں ، یعنی عقلمند شخص (Rational agent) وہی ہے جو سرمائے میں لامحدود اضافے کی خواہش رکھتا ہو۔ سرمایہ دارانہ عقلیت ہر human being سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو اس طرح مرتب کرے کہ ان کے حصول (realisation) کی جدوجہد سرمایہ کی بڑھوتری کے فروغ میں ممد اور معاون ہو۔ خواہشات کی ہر وہ ترتیب جو انسان کو سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل کا آلہ کار نہیں بناتی، اس عقلیت کے خلاف ہے یعنی irrational ہے۔ معلوم ہوا کہ سرمایہ دارنہ انفرادیت کا نفس جن دو بنیادی اقدار و احساسات سے مغلظ ہوتا ہے وہ حرص اور حسد ہیں۔ یعنی سرمایہ دارانہ معیارعقلیت کے مطابق فرد کو ہر وقت اپنا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ مادی ذرائع کے حصول کی خواہش اور کوشش کرتے رہنا چاہئے، نیز چونکہ سرمایہ دارانہ معاشرے میں ہر شخص لامحدود خواہشات کی تکمیل کیلئے محدود ذرائع کے حصول میں سرکرداں ہے لہٰذا حصول ذرائع کیلئے ہر فرد دوسرے شخص سے مسابقت میں مصروف رہے ۔ فرد کو محض زیادہ کی خواہش پر اکتفا نہیں کرناچاہئے بلکہ ’دوسرے سے زیادہ‘ کو اپنی جدوجہد کا محور بنانا چاہئے۔ اتنا ہی نہیں کہ افراد محض عمل تکاثر ( حسد) میں مصروف ہوں بلکہ وہ اس عمل سے بھی لذت حاصل کریں اور اس عمل کو بالذات مقصد اور عقلمندی کا تقاضا سمجھیں۔ حرص و حسد کا فروغ ہی سرمایہ دارانہ عقلیت کا اصل وظیفہ ہے اور انہی کا فروغ human being کے تمام فیصلوں کی بنیاد ہے ۔ جیسا کہ امام غزالی ؒ نے تہافۃ الفلاسفہ میں فرمایا کہ عقلیت کے کئی جاہلانہ تصورات ہیں، سرمایہ دارانہ عقلیت وہ جاہلانہ عقلیت ہے جو human being کے ارادہ محض (یعنی سرمایہ کی بڑھوتری) کو اصل الاصول اور اصل مقصد کے طور پر فرض (presume) کرتی ہے اور ہر عمل اور شے کی قدر اس فاسد اور باطل مقصد (یعنی سرمایہ کی بڑھوتری) کے حصول کے ذریعہ کی حیثیت کی بنیاد پر متعین کرتی ہے۔ مگر سرمایہ دارانہ عقلیت درحقیقت جہالت ہے جیسا کہ امام صاحبؒ فرماتے ہیں کہ عقلمندی تو خدا کا خوف ہے۔ حدیث شریف میں ارشاد ہوا راس الحکمۃ مخافۃ اللہ یعنی اللہ کا خوف دانش مندی کی بلند ترین چوٹی ہے۔
سرمایہ دارانہ شخصیت (ہیومن بینگ) کے تعلقات
دھیان رہے کہ آزادی کا مطلب ہے خود کفیل (autonomous or self-sufficient) ہو جانے کا دعوی کرنا (۱۸) یعنی تمام تعلقات کی نفی کرنا ۔ چونکہ سرمایہ دارانہ انفرادیت خواہشات کی تمام ترجیحات کو برابر تسلیم کرتی ہے نیز اسکے پاس خواہشات کی قدر متعین کرنے کا کوئی پیمانہ موجود نہیں، لہٰذا یہ محبت اور ذات میں شرکت کی نفی کرتی ہے۔ محبت کیلئے ضروری ہے کہ دوسرے کی خواہشات کو اپنا لیا جائے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب خواہشات میں ترجیح کا پیمانہ قائم کرنا ممکن ہو۔ تعلیمات انبیاء کے سواء نفس کے پاس ایسا کوئی پیمانہ و اصول موجود نہیں جسکی بنیاد پر وہ خواہشات کو جانچ سکے۔ آزادی کی پرستار انفرادیت غیر کو اپنا نہیں سکتی کیونکہ وہ وسیع سے وسیع تر احاطہ میں اپنی ربوبیت قائم کر نا چاہتی ہے۔ لہٰذا دوسرا فرد لازماً ’اسکا غیر ‘ ہے اور ان معنوں میں اسکا مدمقابل ہے کہ غیر کا وجود اس کی آزادی (جو چاہنا چاہے چاہ سکنے کی خواہش) کی تحدید کرتا ہے۔ بقول سارتر 'hell is other people' (Sartre) (یعنی جہنم کیا ہے، میرے علاوہ دوسرے لوگ ہی میری جہنم ہیں)۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت کے پاس اپنے جیسے دوسرے افراد کے ساتھ بسنے کیلئے تعلقات کے بجائے معاہدے (contract) کا تصور ہوتا ہے(۱۹) ۔ یہ انفرادیت خود اپنے آپ اور دوسروں کو ’مجرد فرد ‘ (ahistorical and asocial anonymous individual ) کے طور پر پہچانتی ہے نہ کہ ماں پاب، بھائی بہن، استاد شاگرد، میاں بیوی، پڑوسی وغیرہ کے ۔ اس فرد مجرد کے پاس پہچان (identity) کی اصل بنیاد ذاتی اغراض ہوتی ہیں، یعنی وہ یہ تصور کرتا ہے کہ میری طرح ہر فرد کے کچھ ذاتی مفادات ہیں اور ہمارے تعلقات کی بنیاد اور مقصد اپنے اپنے مفادات (self-interests)کا حصول ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے۔ ان اغراض کی تکمیل کیلئے وہ معاہدے پر مبنی تعلقات استوار کرتا ہے جنکی بنیاد اس کی اپنی اغراض (interests)ہوتی ہیں اور انہیں اغراض اور حقوق کے تحفظ کی خاطر وہ جدوجہد کرتا ہے۔ چنانچہ اس کی معاشرت میں ہر شخص اپنے مفادات کے تحفظ و حصول کیلئے اپنی اغراض کی بنیاد پر interest-groups (اغراض پر مبنی گروہ) بناتا ہے، مثلاً مارکیٹ کمیٹیاں، مزدور تنظیمیں، اساتذہ و طلبہ تنظیمیں، صارفین و تاجروں کی یونین، عورتوں اور بچوں کے حقوق کی تنظیمیں و دیگر این جی اوز وغیرہ اسکے اظہار کے مختلف طریقے ہیں جہاں تعلقات کی بنیاد صلہ رحمی یا محبت نہیں بلکہ انکی اغراض ہوتی ہیں۔ ذاتی اغراض کی ذہنیت (rationality) در حقیقت محبت کی نفی ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت دوسرے شخص سے صرف اسی وقت اور اتناہی تعلق قائم کرتی ہے جو اس کی اپنی اغراض پوری کرنے کا باعث بنیں۔ ایک مذہبی معاشرے میں استاد کا تعلق اپنے شاگرد سے باپ اور مربی کا ہوتا ہے،اس کے مقابلے میں مارکیٹ (یا سرمایہ دارانہ) سوسائٹی میں یہ تعلق ڈیمانڈر اور سپلائیر (demander and supplier) کا ہوتا ہے یعنی استاد محض ایک خاص قسم کی خدمت مہیا کرنے والا جبکہ طالب علم زر کی ایک مقررہ مقدار کے عوض اس خدمت کا طلب گار ہوتا ہے اور بس۔ شاگرد سے فیس لینے کے علاوہ استاد کو اس کی زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اور یہی حال شاگرد کا ہوتا ہے۔ ہر وہ تعلق جس کی بنیاد طلب ورسد (demand and supply)اور زر (money and finance)کی روح پر استوار نہ ہو سرمایہ دارانہ معاشرے میں لایعنی، مہمل، بے قدرو قیمت اور غیر عقلی (irrational)ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معیار عقلیت کے مطابق عقل مندی (rationality) اسی کا نام ہے کہ آپ ذاتی غرض کی بنیاد پر تعلق قائم کریں۔ معاہدات پر مبنی یہ معاشرت خاندان کو تباہ و برباد کردیتی ہے کیونکہ خاندان اور برادری کی بنیاد محبت و صلہ رحمی ہے نہ کہ ذاتی اغراض کی تکمیل۔ لازم تھا کہ ہم سرمایہ دارانہ معاشرے (سول سوسائٹی) کی خصوصیات پر مزید کچھ گفتگو کرتے کیونکہ یہی وہ معاشرت ہے جہاں سرمایہ دارانہ انفرادیت نشونما پاکر دوام اختیار کرتی ہے لیکن یہ بحث ہمارے موضوع سے براہ راست تعلق نہیں رکھتی۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ معاشرتی تعلقات اور صف بندی کی نوعیت کو سمجھنا نہایت اہم ہے کیونکہ یہ تعلقات وہ جال ہیں جن کے اندر شامل ہوکر فرد اپنی شناخت کرتا ہے کہ ’میں کون ہوں؟‘ معاشرتی تعلقات کی بنیاد پر فرد ایک خاص قسم کی اغراض اور شخصیت کو قبول کرلیتا ہے۔
سرمایہ دارانہ شخصیت (ہیومن بینگ) کے بنیادی احساسات
آزادی کے طلب گار مغربی فرد کا المیہ احساس کی کثافت ہے۔ اس کا قلب شہوت اور غضب کے احساسات سے مغلوب ہے اور یہی حال ان لوگوں کا ہے جو مغرب سے متاثر ہیں۔ اس پر اضطرار اور یاسیت (frustration and boredom) کی کیفیات بالعموم طاری رہتی ہیں۔ احساس محرومی اور تنہائی نے اسے ابدی طور پر گھیر لیا ہے۔ عیسائی تعلیمات کے مطابق اضطرار انسان کا وہ ابدی ورثہ ہے جو اسنے پہلے گناہ (original sin) کی وجہ سے اپنے اوپر مسلط کرلیا ہے۔ عیسائی مفکرین مثلاً کیرکگارڈ (Kirkegard) کے بقول آدمؑ جنت میں اپنی تنہائی کی وجہ سے اضطرار کا شکار ہوئے اور پہلا گناہ کر بیٹھے۔ لہٰذا تنہائی اور اضطرار کا احساس مقدم اور دائمی ہے اور ان احساسات سے دنیاوی زندگی میں نجات ناممکن ہے۔ مغربی دہریت بھی احساس اضطرار و تنہائی کا اقرار کرتی ہے۔ یہ دہریت فرد کو آزادی حاصل کرنے یعنی خدا (الصمد) بن جانے کی تلقین کرتی ہے۔ مگر آزادی کا مطلب ہی تعلقات کی نفی کرناہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ آزادی احساس تنہائی کا دوسرا نام ہے۔ انسان جتنا تنہا ہوگا اس کی آزادی اتنی بڑھے گی۔ چونکہ اضطرار اور یاسیت کی وجہ تنہائی ہے، اس لئے :
- جیسے جیسے آزادی بڑھے گی ویسے ویسے تنہائی بڑھے گی
- جیسے جیسے تنہائی بڑھے گی اضطرار اور یاسیت بڑھے گی اور انسان کا احساس محرومی اور اسکا غضب و شہوت قلب کو مسخر کرے گا
چنانچہ اضطرار مغربی انسان یعنی ہیومن کا اساسی احساس ہے اور مغربی مفکرین مثلاً ہائیڈیگر اور سارت وغیرہ کے نزدیک یہ انسان کی فطری کیفیت ہے۔ ہائیڈیگر کہتا ہے کہ ’اضطرار بالکل غیر معین ہے اور یہ عدم محض کی تلاش اور جستجو کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے‘۔ پھر آزادی کا حصول بھی ناممکن ہے جسکی چار بڑی وجوہات ہیں:
(۱) مغربی فرد وجود کی لامعنویت کا قائل ہے، وہ وجود کا واحد مقصد حصول آزادی قرار دیتا ہے اور چونکہ آزادی خود کچھ نہیں بلکہ عدم محض اور تعلقات کے عدم وجود کا نام ہے لہٰذا وجود کچھ حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ اسلئے اسکے نزدیک زندگی محض کھیل تماشا ہے جس میں معنویت انسانی خواہشات پیدا کرتی ہیں اور چونکہ ہر خواہش ان معنی میں لایعنی ہے کہ اس کی کوئی قدر نہیں لہٰذا وہ زندگی کو معنی دینے کیلئے اظہار ذات کے نت نئے طریقوں کی تلاش میں رہتا ہے (۲۰) ۔ مگر چونکہ آزادی عدم محض ہے، لہٰذا اسکا قلب لامعنویت اور اضطرار کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا رہتا ہے اور اسے کبھی اطمینان کی دولت نصیب نہیں ہوتی کیونکہ اطمینا ن تو کسی شے کے حصول اور اسپر راضی ہوجانے کے بعد نصیب ہوتا ہے اور اسکا واحد منبع ذکر الہی ہے جو انسان کو اسکے ابدی مقام کی مسلسل یا ددلاتا ہے
(۲) پھر کوئی شخص بھی اپنے جینیاتی (genetic)ورثہ اور اپنے تاریخی وقوع (historical situation) کو خود متعین نہیں کرسکتا۔ میں محمد صدیق کا بیٹا اور مرد ہونے پر مجبور ہوں۔ میں اپنے ارادے کے بغیر مجبوراً یکم دسمبر ۱۹۷۸ کو کراچی کے ایک مسلمان اور متوسط آمدنی کے گھرانے میں پیدا ہوگیا۔ نہ میں اپنا زمان و مکان خود متعین کرسکتا ہوں اور نہ اپنی صلاحیتیں خود منتخب کرسکتا ہوں۔ ان تمام مجبوریوں کے پیش نظر میری آزادی کس قدر محدود ہے
(۳) ان سب سے بڑھ کر آزادی کو محدود کرنے والی شے موت ہے کہ میں عنقریب اپنے کسی ارادے کے بغیر مرجاؤں گا، پھر آزادی کا کیا مطلب؟
(۴) اور پھر آزادی طلب کرنے کیلئے فرد کو آزادی یعنی سرمائے کا جبر قبول کرنا پڑتا ہے۔ آزادی (choice of choice) چاہنے کیلئے ضروری ہے کہ میں سرمائے کو چاہوں کہ یہی وہ شے ہے جو ہر تصور خیر کے پنپنے کے امکانات ممکن بنا تی ہے۔ لہٰذا اصل خیر جس سے ہر ہیومن کو منسلک (committed) ہونا پڑتا ہے وہ سرمائے میں لامحدود اضافہ کرنے کی خواہش ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے وضع کی جانے والی ادارتی صف بندی (institutionalization) کو اسے قبول اور برداشت کرنا پڑتا ہے۔ فرد اس دھوکے میں رہتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو خود اپنی مرضی سے معنی دے رہا ہے جبکہ حقیقتاً وہ اپنی خواہشات کو اسی طرح ترتیب دینے پر مجبور ہے جسکی مارکیٹ اسے اجازت دیتی اور مواقع فراہم کرتی ہے (اور مارکیٹ اخلاق رزیلہ ہی کے اظہار کے مواقع فراہِم کرتی ہے)
ان خیالات کو قبول کرکے جو بھی شخص آزادی کی جستجو میں ہے اپنی زندگی کو لایعنی بنا لیتا ہے۔ مشہور جرمن فلسفی ہائیڈیگر کہتا ہے کہ ’انسان اشیاء کو پاتا ہے انہیں تخلیق نہیں کرسکتا، وہ کائنات میں پھینک دیا جاتا ہے ‘ (we are thrown into the universe)۔ بقول سارت کون کس وقت کیوں کائنات میں پھینکا گیا یہ ہم نہیں جان سکتے اور چونکہ انسان کائنات میں پھینک دیا جاتا ہے، چونکہ وہ کائنات میں تنہا ہے، چونکہ اسکے وجود کو ایک دن ختم ہوجانا ہے، چونکہ وہ واقعیت (facticity) کی جکڑ بندیوں میں ازلی ابدی طور پر جکڑا ہوا ہے، چونکہ واقعیت کی جکڑ بندیاں صرف یہی نہیں کہ وہ اپنے جینیاتی ورثہ اور تاریخی وقوع کے بارے میں مجبور ہے بلکہ واقعیت اس بات کا بھی احاطہ کرتی ہے کہ وہ نیک ہے یا بد، جس طرح وہ جینیاتی اور تاریخی وقوع کے اعتبار سے مجبور ہے اسی طرح میلانات کی پاکیزگی یا کثافت کے اعتبار سے بھی مجبور ہے، لہٰذا نیکی اور بدی کے پیمانے بھی ازلی اور ابدی نہیں ہیں ۔ موت وجود کو ختم کردیتی ہے اور مغربی تصورات خیروشر انفرادی موت کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ اگر موت وجود کو ختم کردیتی ہے تو خیروشر کے ایسے پیمانے جو ذاتی اخلاقیات پر محیط ہوں پیش نہیں کئے جاسکتے، بالخصوص ان حالات میں جب فرد حصول آزادی کو مقدم رکھتا ہو۔ ہر وہ انفرادی فعل جائز ہوگا جس کے ذریعے موت کو موخر یا بھلایا جاسکے ۔ مغربی انفرادیت کے پاس خیر کا کوئی substantive (مثبت،منجمدیا حقیقی ) تصور سرے سے موجود ہی نہیں، کیونکہ جس آزادی کو وہ خیر اعلی گردانتا ہے اسکا مافیہ کچھ نہیں بلکہ وہ عدم محض ہے۔ یہاں خیر ’کوئی مخصوص چاہت ‘ نہیں بلکہ ’کسی بھی چاہت کو اختیار کرسکنے کا حق‘ ہے۔ دوسرے لفظوں میں مغربی تصور خیر درحقیقت عدم خیر (absence of any good) ، یعنی ہر خیر کی نفی کا نام ہے اور یہ عدم خیر ہی اسکے خیال میں خیر اعلی ہے۔ انہی معنی میں مغربی تصور خیر اصلاً شر محض (absolute evil)ہے کیونکہ شر درحقیقت عدم خیر ہی کا نام ہے اسکااپنا علیحدہ کوئی وجود نہیں۔ اسی لئے مارماڈیوک پکتھال فرمایا کرتے تھے کہ مغربی تہذیب در حقیقت تہذیب نہیں ’بربریت‘ (savagery) یعنی تہذیب کی ضد ہے، اور مغربی انفرادیت یعنی ہیومن درحقیقت ابلیس (۲۱) ہے۔
سرمایہ دارانہ شخصیت (ہیومن بینگ) کا تصور علم
معلوم ہوا کہ سرمایہ دارانہ انفرادیت حالت اضطرار میں اس لئے مبتلا ہے کیونکہ وہ شہوت و غضب کا شکار ہے۔ جس شے کو وہ مفروضے اور عقلمندی کے طور پر قبول کرتی ہے وہ آزادی یعنی ارادہ انسانی کی بالا دستی یا حصول لذات و غضب کو زندگی کا مقصد سمجھنا ہے۔ اس بیماری کی حالت میں جس شے کا علم وہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے وہ دنیا ہے۔ ادراک ذات کے امکان کو وہ سرے سے ناممکن سمجھتی ہے کیونکہ ادراک ذات کیلئے ضروری ہے کہ خواہشات میں ترجیح کا پیمانہ قائم کیا جائے جو اسکے لئے ممکن نہیں ہے۔ Rawls کہتا ہے کہ تم جو کچھ بھی چاہتے ہو وہ ٹھیک ہے یعنی اس بات کو حتمی سمجھو کہ انسان جو چاہتا ہے وہ اس کا مکلف ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ تم کہہ سکو کہ انسان کو کیا چاہنا چاہئے اور ہر انسان اس چاہنے کے حق میں برابر ہے۔ گویا یہ لاعلمی لازم جانو کہ ہمارے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے جو یہ بتائے کہ انسان جو چاہتا ہے اسے چاہنا چاہئے یا نہیں۔ پس جتنا زیادہ وہ دنیا پر تصرف کرتا ہے اتنی ہی زیادہ تسکین حاصل کرسکتا ہے۔ لہٰذا ایسا فرد جس شے کو علم سمجھتا ہے وہ دنیا کے بارے میں اس کی وہ اطلاع ہے جو اسکے کلیات (faculties) مثلاً حواس اسے فراہم کرتے ہیں۔ وہ اپنے رب کا باغی ہے اور سمجھتا ہے کہ علم اور معنی کا منبع اس کی ذات ہے۔ دنیا کے علاوہ ہر علم کا وہ انکاری ہے، مگر ہم اس کی معلومات کو علم نہیں مانتے کیونکہ جیسا کہ امام غزالیؒ نے فرمایاکہ علم تو خدا کا ڈر ہے یعنی جو معلومات خشیت پیدا کرے وہ علم ہے اور جو ایسا نہیں کرتی وہ جہالت ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء یعنی علم رکھنے والے ہی اللہ سے ڈرتے ہیں، معلوم ہوا کہ علم کا حاصل تقوی ہے ۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت کے پاس دنیا کی چیزوں کی اطلاعات بہت ہیں لیکن یہ اسے کوئی علم مہیا نہیں کرتیں۔ جو بھی اطلاعات اسے ملتی ہیں صرف ان چیزوں سے متعلق ہیں جو محسوسات سے تعلق رکھتی ہیں اور ظاہر ہے محض محسوسات کی بناء پر جو اطلاعات فراہم ہوتی ہیں انکی یہ حیثیت نہیں کہ فرد کے اندر خوف خدا پیدا کردیں ۔ خوف خدا پیدا ہونے کیلئے ضروری ہے کہ فرد ان تمام اطلاعات کا مشاہدہ کرنے کیلئے صحیح مقام (عبدیت) پر ہو، بصورت دیگر وہ اطلاعات اسے محض اس بات پر تقویت دیں گی کہ وہ ایک خدا ہے جو کہ اس کی قلبی بیماری ہے۔ گویا اس کے پاس اطلاعات تو ہیں لیکن چونکہ وہ مشاہدہ درست مقام سے نہیں کرتا، اسلئے اسکے پاس علم نہیں آتا بلکہ وہ ان تمام اطلاعات کو ترتیب دیکر اپنی لذات کی تسکین اور غلبے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن نے اس حقیقت سے یوں پردہ اٹھایا فاعرض عن من تولی عن ذکرنا ولم یرد الا الحیوۃ الدنیا ذالک مبلغہم من العلم (جو لوگ میرے ذکر سے منہ موڑتے ہیں اور صرف دنیاوی زندگی کے طالب ہیں ان سے اعراض کرو، ان کے علم کا مقصد و محور بس اتنا ہی ہے)۔ یاد رکھو کہ علم کی بنیاد ما بعد الطبعیات پر مبنی مفروضات ہوتے ہیں، جاننے کا عمل محض جاننے کیلئے نہیں بلکہ ’کسی لئے جاننا ‘ ہوتا ہے۔ یعنی جانناعالم و معلوم کے درمیان ایک تعلق کا نام ہے اور اس تعلق کی نوعیت عالم کے مقصد سے متعین ہوتی ہے ۔ اگر مقاصد جدا ہونگے تو جاننا بھی جدا ہوگا۔ میرے استاد اور باس کے مجھے جاننے میں جو فرق ہے وہ ان کے مقاصد کے فرق کی بناء پر ہے۔ میرے باس میری ذات کو بطور یونیورسٹی میں علم معاشیات کے مضامین پڑھانے والے ایک وجود کی حیثیت سے پہچانتے ہیں جبکہ میرے اساتذہ مجھے تحریکات اسلامی کے ایک کارکن کے طور پر پہچانتے ہیں کہ خدمت اسلام کے ضمن میں مجھ سے کیا کام لینا ممکن ہے۔ مغربی انفرادیت کے نزدیک جاننے کا مطلب رضا ئے الہی کے حصول کا طریقہ جان لینا نہیں بلکہ جاننے کا واحدجائز مقصد تصرف فی الارض و تسخیر کائنات یعنی ارادہ انسانی کو کائنات پر مسلط کرنا ہے کیونکہ اسکے نزدیک زندگی کے معنی ہی ارادہ انسانی کی تکمیل ہے۔ اسکا علم اس جاہلانہ ذہنیت و جنون کو پروان چڑھاتا ہے کہ عقل انسانی کو استعمال کر کے فطرت کے تمام رازوں سے پردہ اٹھا نا نیز انسانی ارادے کو خود اسکے اپنے سواء ہر بالا تر قوت سے آزاد کرنا عین ممکن ہے ۔ کانٹ کہتا ہے کہ انسانی ذات (self) کے اندر ایسا نظام (structure) اور ترتیب (order) موجود ہے جو انسانی تجربے کو ہئیت (form) اور معنی (meaning) فراہم کرتا ہے، ذات کے اس اندرونی نظام کے بغیر تجربہ ممکن نہیں ہوسکے گا۔ کائنات اپنے اندر کوئی معنی نہیں رکھتی، جب ذات کے اندر موجود نظام کو اس پر مسلط کیا جاتا ہے تو اس میں معنی پیدا ہوتے ہیں۔ کائنات کو ایک معقول کائنات کے طور پر سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اسے ذات کے نظام کے ذریعے سمجھا جائے، یعنی تعقل، معانی، ربط و ضبط، نظام زندگی ہر چیز کا منبع انسانی ذات ہے اور اس منبع نور کے علاوہ علم کا اور کوئی ذریعہ نہیں ۔ کانٹ کے نزدیک ذات کی اس صلاحیت پر ایمان لانے کے بعد ہم ایسے عمومی اصول وقوانین و ضع کرسکتے ہیں جو آفاقی ہوں، اسکے لئے کسی شریعت کی ضرورت نہیں۔ اسکے خیال میں انسانی نفس جانتا ہے اور جاننے کا ذریعہ ہے، مگر ذات خود اپنی حقیقت کے ادراک کے سوال پر مکمل خاموش ہے ۔ ہاں انسانی ذات کے نظام کو درست طریقے سے استعمال کرکے (جسے scientific methodکہتے ہیں) ایسا مثالی اور عادلانہ معاشرہ ترتیب دینا ممکن ہے جسے کانٹ Kingdom of Endsسے تعبیر کرتا ہے ، جہاں ریاست ہر فرد کا یہ اختیار تسلیم کرلے کہ وہ خود مختار (autonomous)اور قائم بالذات (self-determined)ہے، جہاں ہر شخص اس بات کا تعین کرسکے گا کہ وہ کیسی زندگی گزارے گا یعنی جہاں ہر شخص کیلئے خیر وشر کی تعیین اور اپنے ارادے کی تکمیل ممکن ہو سکے گی۔
سرمایہ دارانہ شخصیت (ہیومن بینگ) کی مختلف تعبیرات
انسان جب عبدیت کا انکارکرتا ہے تو خدا کہ جگہ یا تو اپنی ذات کو رکھتا ہے اور یا پھر اپنی نوع کو۔ یاد رکھو کہ سرمایہ دارانہ انفرادیت کے اظہار کی بعض تعبیرات انفرادی ہیں اور بعض اجتماعی۔ چنانچہ سرمایہ دارانہ انفرادیت کا اظہار بطور نوع کے دو بڑے نظریات ہیں، ایک اشتراکیت اوردوسرا قوم پرستی ۔ اسی طرح سرمایہ دارانہ انفرادیت کی خدائی بطور ذات کے بڑے نظریات لبرل ازم اور انارکزم (Anarchism)ہیں(۲۲) ۔ ان سب میں قدر مشترک یہ ہے کہ سب آزادی کے طلب گار اور خدا کے باغی ہیں جبکہ فرق کرنے والی شے آزادی کے حصول کا طریقہ ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت کی جو تفصیل اوپر بیان کی گئی وہ لبرل مفکرین اور قائدین کی فکر سے ماخوذ ہے۔ لبرل مفکرین فرداً فرداً ہر شخص کو الوہیت انسانی کا مکلف سمجھتے ہیں، یعنی انکے خیال میں یہ حق ہر ’فرد‘ کا ہے کہ وہ اپنی خواہشات کی جو ترتیب متعین کرنا چاہے کرے۔ یہ مفکرین فرد کو تاریخ اور معاشرے سے ماوراء وجود کی حیثیت سے پہچانتے ہیں اور الوہیت انسانی کے مقصد کے حصول کیلئے ذرائع پیداوار میں اضافے کو ہدف قرار دیکر انہیں مارکیٹ نظم کے تابع کردینا چاہتے ہیں کیونکہ یہی نظم انکے خیال میں فرد کی منتہا آزادی کا محافظ ہے۔ وہ جمہوری معاشرہ اور ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں کہ یہی معاشرتی و ریاستی تنظیم ا س بات کو ممکن بناتی ہے کہ فرد جو چاہنا چاہے چاہ سکے۔ اشتراکی اور قوم پرست سرمایہ داری کے مفکرین بھی تحریک تنویر کے ورثاء ہیں جن میں سب سے نمایاں نام Hegal, Marx اور Neitzshe وغیرہ کے ہیں۔ یہ تینوں بھی الوہیت آدم کے قائل ہیں اور ان کا مشن بھی انسان کو human being بنانا ہے۔ یہ بھی آزادی، مساوات اور ترقی کو اقدار کے طور پر قبول کرتے ہیں اور بڑھوتری سرمایہ کو ان مقاصد کے حصول کے ایک ناگزیر اور لازمی ذریعہ سمجھتے ہیں۔ قوم پرست اور اشتراکی سرمایہ داری کے فلاسفر ہیگل، مارکس اور نطشے humanity کو بحیثیت نوع الوہیت کا مکلف سمجھتے ہیں۔ لبرل مفکرین کے برخلاف یہ فلاسفہ کہتے ہیں کہ Human being انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی وجود کا اظہار ہے۔ Human being اپنی الوہیت کا اظہار تاریخی عمل میں کشمکش کے ذریعہ کرتی ہے۔ قوم پرست مثلاً نطشے کہتا ہے کہ یہ کشمکش مختلف اقوام کے درمیان ہوتی ہے جبکہ اشتراکی سرمایہ داری کے وکیل مثلاً مارکس اس کشمکش کو طبقاتی سمجھتے ہیں۔ اشتراکیوں کا خیال ہے کہ طبقاتی کشمکش کے ذریعے تاریخ کے آخری سرے پر ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے جہاں ہر خواہش کی تسکین ممکن ہوگی۔ ایسے معاشرے کے حصول کیلئے ذرائع پیداوار اور قوت کو استحصالی طبقے سے چھین کر مظلوم طبقے کے قبضے میں کرنے کی سعی لازم ہے اور یہی وہ جدوجہد ہے جسکے نتیجے میں وہ انفرادیت (specie being) پیدا ہوگی جو اشتراکی معاشرے کو قائم کرے گی۔ اس معاشرے میں اخلاقیات کی بحث لایعنی ہوگی کیونکہ وہاں مکمل آزادی ہوگی اور کسی فعل پر قدغن کا سوال نہیں ہوگا۔ انسان ہر اس چیز کی خواہش کرسکتا اور اس کی تکمیل کرسکتا ہوگا جسکی وہ خواہش کرنا چاہتا ہے۔ یہ سوال کہ انسا ن کو کس چیز کی خواہش کرنا چاہئے اشتراکی ، لبرل یا قوم پرست نقطہ نگاہ سے ایک ناقابل تفہیم سوال ہے۔ چونکہ ان تینوں نظریات کے مطابق حصول آزادی واحد مقصد حیات ہے اور چونکہ وہ انسان کو خدائی صفات کا مکلف گردانتے ہیں لہٰذا انکے نزدیک ہر شخص کو مساوی حق ہے کہ وہ جو چاہتا ہے چاہے۔ چونکہ خواہشات لا محدود ہیں لہٰذا اشتراکی، لبرل یا قوم پرست مثالی معاشرے کا کوئی واضح تصور ممکن نہیں۔ بقول نطشے وہ محض لامعنویت کی ابدیت (eternalisation of absurdity) ہے۔ قوم پرست فکر میں لامعنوی ابدیت کے حصول کیلئے ایک فوق البشر (super man) یا فوق البشر قومیت کی تعمیر ضروری ہے، ایک ایسی شخصیت یا قوم کا وجود جسکے پاس تمام کائناتی قوت مجتمع ہو اور جو خود خیروشر کی تخلیق کرے۔ الغرض دونوں قسم کے مفکرین کی رائے ہے کہ اس تاریخی کشمکش میں جو قوم یا طبقہ (class) غالب آتا ہے وہی human being کا اصل نمائندہ (representative) ہوتا ہے اور وہی اپنے ارادہ کے نفاذ کے ذریعہ الوہیت human being کا اظہار کرتا ہے۔ چنانچہ پوری human نسل کا فرض ہے کہ وہ اس غالب قوم یا طبقے کی اطاعت کرے۔ یہی غالب قوم یا طبقہ خیر اور شر کی تعبیر اور تنفیض کا حق دار ہے اور تمام human انفرادیتوں کو اسی غالب قومی یا طبقاتی انفرادیت میں ضم ہوجانا چاہیے۔ یہ غالب قومی یا طبقاتی انفرادیت ان تمام خصوصیات کی حامل ہوتی ہے جو لبرل مفکرین شخصی انفرادیت کے ضمن میں بیان کرتے ہیں۔ اس غالب قوم یا طبقے کا مقصد وجود آزادی اور ترقی کا حصول ہوتا۔ یہ غالب قوم یا طبقہ آزادی اور قوت کے اضافے کی تگ و دو میں انتہا درجہ کا حریص اور حاسد ہوتا ہے اور اپنی آزادی اور ترقی کے لیے سرمایہ کی بڑھوتری ہی کو اصل ذریعہ سمجھتا ہے ۔ وہ اپنی آزادی اور ترقی کے لیے لوٹ مار، قتل و غارت اور بدترین سفاکیت اور بہیمیت کو نہ صرف جائز بلکہ فرض عین گردانتا ہے کیونکہ اسی قتل و غارت، لوٹ مار اور دھوکہ اور فریب کے ذریعہ ہی اس کی آزادی اور ترقی ممکن ہوتی ہے اور اس طبقے اور قوم کا غلبہ ہی الوہیت ہیومن بینگ [human being] کا اظہار ہے حق صرف وہ ہے جو اس اظہار کو ممکن بناسکے(۲۳)۔ اشتراکی، قوم پرست اور لبرل نظریات کسی ابدی اخلاقیات کی نشاندہی نہیں کرسکتے۔ ان کا مقصد حصول آزادی ہے اور چونکہ آزادی کچھ نہیں صرف عبدیت اور دیگر تعلقات کی نفی ہے لہٰذا قدر کا اثبات کرنے سے قاصر ہے۔ قدر کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان یہ سوال اٹھاسکے کہ اسے کیا چاہنا چاہئے اور کیا نہیں، کیا اہم ہے اور کیا غیر اہم۔ ان نظریات میں اخلاقیات کی بنیاد صرف انسانی خواہشات ہیں۔ مگر یہ واضح ہے کہ نفس لوامہ خواہشات کو صرف احکام الہی کے سامنے تول کر ہی پرکھ سکتا ہے اور اگر احکامات الہی سے انکار کرکے انسان خدا بن بیٹھے تو روح اور نفس کا تعلق کمزور پڑ جاتا ہے اور نفس امارہ نفس لوامہ پر غالب آجاتا ہے۔ ہائیڈیگر کہتا ہے کہ مغربی علمی تناظر میں ’نفس لوامہ کی بحث صرف خاموشی ہے‘ (discourse of discriminatury self is pure silence)۔ وہ نفس جسکے احکام کی بنیاد خواہشات ہوں قدر کی پہچان اور علم و عرفان کے حصول سے قاصر رہتا ہے۔ قدر کا تعین صرف احکام الہی کی بنیاد پر ممکن ہے۔ امام غزالیؒ کا ارشاد ہے کہ علم خشیت الہی سے حاصل ہوتا ہے اور اسی خشیت کو پروان چڑھا کر مومن اپنے حال پر مطمئن اور مقام سے آگاہ ہوتا ہے۔ یہی آگاہی اسے بندگی کیلئے تیار کرتی ہے۔ صوفیاء کا مشہور قول ہے ’جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا‘۔ اپنے نفس کی حقیقت کی آگاہی انسان کو عبدیت پر راضی کرتی ہے۔ اب ہم مختصراً اس کام کی نوعیت بیان کرتے ہیں جسے اصلاح انفرادیت کے ضمن میں تحریکات اسلامی کو مد نظر رکھنا چاہئے۔
حواشی
۱۴۔ آزادی کی پرستار انفرادیت اظہار ذات کے تمام طریقوں کے سامنے پیش کی جانے والی ہر قسم کی رکاوٹوں (مذہبی، معاشرتی، ریاستی وغیرہ) کو ہٹا دینا چاہتی ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ یہ تمام رکاوٹیں یک جنبش ختم ہوجاتی ہیں بلکہ یہ تدریجی عمل ہوتا ہے جیسا کہ عیسائی تاریخ کے مطالعے سے واضح ہے کہ سب سے پہلے باغی انفرادیت کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے مذہب کی معتبر تاریخ کو ترک کرکے اصلاح و تعبیر مذہب کے نام پر نئے تقاضوں کی مذہب میں گنجائش پیدا کی جاتی ہے اور آہستہ آہستہ جب نفس پرست انفرادیت کے نفس امارہ کی خوب پرورش ہوجاتی ہے اور وہ منکرات کا رسیا ہوجاتا ہے تو وہ رہی سہی مذہبیت کا بھی انکاری ہوجاتا ہے۔ یہی حال موجودہ دور میں متجدیدین کا ہے کہ بجائے نفس پرست انسان کی تطہیر قلب کی فکر کرنے کے وہ نئے تقاضوں کی روشنی میں اسلام کی تشریحات کرکے فنون لطیفہ وغیرہ کا جواز فراہم کرنے میں مصروف ہیں
۱۵۔ آزادی کیلئے قرآنی اصطلاح بغی ہے جیسا کہ سورۃ نحل میں فرمایا ’ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایتاء ذی القربی وینہی عن الفحشاء والمنکر والبغی‘
۱۶۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت کے ورود میں انقلابات برطانیہ و فرانس ، استعماری دور میں ہونے والی لوٹ مار، عیسائی تعلیمات کی کمزوری اور عیسائی علماء کے نفاق وغیرہ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ تفصیلات کیلئے دیکھئے ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری کا مضمون ’عالم اسلام اور مغرب کی کشمکش: نئے تناظر میں‘ ، ماہنامہ ساحل شمارہ اگست ۲۰۰۶
۱۷۔ مجاہدین لال مسجد کے ساتھ ہونے والا سلوک اس کی واضح مثال ہے جہاں ریاست نے زنا کاری پھیلانے والے عناصر کی خبر لینے کے بجائے اصول آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے مجاہدین پر مظالم توڑ کر ہیومن رائٹس کا تحفظ کیا
۱۸۔ کانٹ کہتا ہے کہ انسان قائم بالذات (autonomous) ہے، وہ کہتا ہے کہ Enlightement کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان اپنی صمدیت (self-sufficiency) کو پہچانے اور ہر بیرونی سہارے کو رد کرے، جو ایسا نہیں مانتا وہ کم عقل (immature) ہے اور ہیومن کہلانے کا اہل نہیں
۱۹۔ سوشل سائنسز میں خلوص، محبت، صلہ رحمی، گناہ وغیرہ کی اصطلاحات کلیتاً غائب ہیں کیونکہ انکی جگہ ’عمرانی معاہدے ‘ کے تصور نے لے لی ہے
۲۰۔ فیشن کا مطلب ہے بے معنی کاموں میں معنی تلاش کرنا ۔ کیونکہ مغربی فرد وجود کی لامعنویت کا قائل ہوچکا لہٰذا وہ ہر اس طریقے سے اپنی خودی کا اظہار کرتا ہے جسے لوگ عام طور بے معنی سمجھتے ہیں۔ اس طرز عمل کی بین مثالیں اچھوتے لباس، داڑھی اور سر کے بالوں کے مختلف انداز، نت نئے کھیلوں کی ایجاد ، گانے بجانے کے بے ڈھنگ طریقوں، فنون لطیفہ کے فروغ وغیرہ کی شکل میں نظر آتی ہیں۔ الغرض خبط پن کے ہر طریقے کو ذات کے با معنی اظہار کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے
۲۱۔ انگریزی میں ابلیس کا لغوی معنی the frustrated one ہیں یعنی وہی کیفیت جسکا مغربی فرد شکار ہے
۲۲۔ سرمایہ داری کوئی نظریہ نہیں بلکہ نظام زندگی ہے جسکے مختلف نظریات اور تعبیرات (لبرلزم، قوم پرستی، اشتراکیت) ہیں۔ ہر تعبیر کی تفصیلات میں اختلاف ہے البتہ مقصد سب کے نزدیک یکساں ہے (یعنی انسانی ارادے کی بالادستی )۔ یہ اسی بات کا اظہار ہے کہ لبرل ممالک (مثلاً امریکہ یا یورپ) ہوں یا اشتراکی (مثلاً روس یاچین)، ہر جگہ اخلاق رزیلہ سے متصف ایک ہی جیسی انفرادیت پروان چڑھتی ہے نیز ہر جگہ یکساں نوعیت کی غلیظ معاشرت عام ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک معاشرے میں ولی اللہ ، عبادت گزار اور متقی پیدا ہوتے ہیں اور دوسری جگہ فساق و فجار۔ نہیں بلکہ ان میں سے جو بھی نظریہ کسی معاشرے پر غالب آیا وہاں بلا کسی استثناء خدا کی باغی اور جہنمی اعمال کرنے والی انفرادیت عام ہوئی
۲۳۔ قوم پرست اور اشتراکی سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کا نظام اقتدار (state) لبرل نظام اقتدار سے مختلف ہوتا ہے۔ اس نظامِ اقتدار میں غالب قوم یا طبقہ کی نمائندگی ایک رہبر (ہٹلر، اسٹالن) یا ایک پارٹی (نازی یا کمیونسٹ) کرتی ہے۔ اس فرد یا جماعت کا حق ہے کہ وہ خیر اور شر کی تعبیر و تشریح کرے جو اس کی آزادی اور ترقی کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو اور اس غالب فرد یا جماعت کا فائدہ ہی پوری قوم اور طبقہ کا فائدہ تصور کیا جاتا ہے۔ دیگر افراد کا فرض ہے کہ وہ اپنی انفرادیت، غالب پارٹی یا رہنما کی انفرادیت میں ضم کر دیں۔ اس عمل میں مہمیز دینے کے لیے چین میں ۱۹۶۶ء میں مشہور ثقافتی انقلاب (Cultural Revolution) برپا کیا گیا اور نازی جرمن اور سویت یونین کی ثقافتی پالیسی سوپرمین (Superman)، نیومین (New man)اور سوویٹ مین(Souvait man) کو وجود میں لانے کی کوشش کرتی رہی۔ لیکن تاریخ نے ثابت کر دیا جب سرمایہ کی بڑھوتری مقصد وجود کے طور پر اجتماعی سطح پر قبول کیا جاتا ہے تو بیشتر افراد کی زندگی فاسد اور رذیل رجحانات سے ملوث ہوجاتی ہے جس کا اظہار نظام اقتدار اور غالب قائد یا پارٹی کرتی ہے۔ لہٰذا قوم پرست یا اشتراکی انفرادیت کو عام آدمی ہیجانی ادوار کے علاوہ کبھی بھی قبول نہ کرسکا اور غالب قیادت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں ایک آدمی کی زندگی میں ہوس، حرص، شہوت رانی، دنیا پرستی، خود غرضی اور سفاکیت نے فروغ پایا اور اس کو اشتراکی اور قوم پرست نظام اقتدار کے فروغ اور استحکام کے لیے ریاستی استبداد کے ذریعہ عام آدمی کو مسلسل مجبور کرنا پڑا۔ جیسے جیسے ریاستی استبدادی گرفت ڈھیلی پڑی، عام آدمی نے اشتراکی نظام سے چھٹکارا حاصل کر کے بدترین اخلاقی رزائل کو اپنا لیا۔ لوٹ مار، جھوٹ، دھوکہ اور فریب، جنسی بے راہ روی اور فحاشی کا جو سیلاب مشرقی یورپ، روس اور چین کے ساحلی شہروں میں آیا ہوا ہے اس کی مثال تو یورپ اور امریکہ کے غلیظ ترین معاشرہ میں بھی نہیں ملتی۔ اس سے ثابت ہوا کہ اشتراکی یا قوم پرست انفرادیت کوئی علیحدہ چیز نہیں سرمایہ دارانہ انفرادیت وہ انفرادیت ہے جو:
- الوہیت human being کی طالب ہے
- جس کے احساسات اور خواہشات پر حرص اور حسد شہوت اور غضب حاوی ہوجاتے ہیں
- اور جو اپنی عقل کو ان ہی رذائل کے اظہار کے لیے بذریعہ بڑھوتری سرمایہ استعمال کرتی ہے
یہ انفرادیت شخصی بھی ہوسکتی ہے اور اجتماعی (قومی طبقاتی) بھی، دونوں صورتوں میں اس انفرادیت کو پنپنے کے لیے سرمایہ دارانہ معاشرت کی ضرورت ہوتی ہے۔
(جاری)
تعریفاتِ علوم کی ماہیت، مقصدیت اور اہمیت
مولانا محمد عبد اللہ شارق
آپ جانتے ہوں گے کہ کسی بھی علم کے آغاز میں اس کی’’ تعریف‘‘ (Definition) کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ تعریف عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’’تعارف ‘‘ کے ہیں۔ علم کی ’’تعریف‘‘ سے مقصود بھی علم کا ایک اجمالی تعارف ہوتا ہے تاکہ نو آموز طالبِ علم اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں نہ مارتا رہے بلکہ علم کے شروع کرنے سے پہلے ہی اس کے ذہن میں اس کا ایک ہلکا پھلکا سا خاکہ اور تاثر موجود رہے ۔ ’’تعریفات ‘‘ کو علوم کے دیباچہ اور ابتدائیہ کا حصہ بنانے سے اولاً یہی مقصود تھا ‘ مگر یہ مقصود رفتہ رفتہ دھندلاتا چلا گیا اور وہ تعریف جودراصل علم کے حصول کو آسان تر بنانے کے لیے تھی‘ بذاتِ خود ایک جنجال اور وبالِ جان بنتی چلی گئی۔ اس کا ذمہ دار وہ پرتکلف ‘مشکل پسند اور فلسفیانہ ذہن تھا جو بال کی کھال اتارنے کا عادی تھااور معاملات کو ان کے اصل اور فطری روپ میں لینے کی بجائے خواہ مخواہ مصنوعی رنگ دینے کا شوقین تھا۔
تعریف کا جامع اورمانع ہونا
ہوا کچھ یوں کہ تعریف کے اصول وضوابط میں ایک اصول یہ شامل کیا گیا کہ وہ ’’جامع ‘‘ اور ’’مانع‘‘ ہو۔ یعنی تعریف کے لیے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ وہ موضوعِ بحث علم کا جامع اور کامل تصور پیش کرے۔ ’’جامعیت‘‘ اور ’’مانعیت‘‘ د و لفظ ہیں اور دونوں الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں۔ کوئی بھی تعریف جو جامعیت اورمانعیت سے خالی ہو‘ اسکو ایک مکمل تعریف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جامعیت کے معنی ہیں کہ تعریف کے اندر ایسے الفاظ کا چناؤ کیا جائے جن سے علم کا کوئی جزو اور حصہ تعریف سے خارج نہ رہے۔ مانعیت کے معنی ہیں کہ تعریف کے اندر کوئی ایسا غیر ضروری اضافہ نہ کیا جائے کہ جس سے غیر متعلقہ چیزیں تعریف میں در آئیں اوروہ امور تعریف کا حصہ بننے لگیں جو در حقیقت متعلقہ علم سے خارج ہیں۔
مثال کے طور پر اگر’’علمِ دین‘‘ کی تعریف یوں کی جائے کہ ’’یہ کفار کے غیر اسلامی رویوں سے بحث کرتا ہے ‘‘ تویہ تعریف مکمل نہیں ہوگی اور جامع نہیں کہلا سکے گی کیونکہ علمِ دین میں خود مسلمانوں کی اعلی اور بلند پایہ صفات پر بھی پھر پور گفتگو کی جاتی ہے اور اس کا ذکر تعریف میں نہیں کیا گیا۔ اسی طرح اگر ’’علمِ دین‘‘ کی تعریف یوں کی جائے کہ ’’اس میں بنی نوع انسان کے مختلف افکار‘ رجحانات اور اندازہائے معاش ومعاشرت پر گفتگو کی جاتی ہے‘‘ تویہ تعریف مانع نہیں ہوگی اور ناواقف کے ذہن میں ’’علمِ دین‘‘ کا کوئی تسلی بخش تصور پیدا نہیں کرسکے گی کیونکہ علمِ دین انسانوں کی زیست اور معاشرت کے تمام متنوع پہلوؤں پر گفتگو نہیں کرتا( مثال کے طور پر یہ کہ بنگالی چاول زیادہ کیوں کھاتے ہیں؟ سندھی آگے سے کٹی ہوئی ٹوپی کیوں پہنتے ہیں ؟ ایران کے رہنے والے فارسی اور پاکستان کے رہنے والے اردو کیوں بولتے ہیں؟ یہ معاملات علمِ دین کے موضوع سے خارج ہیں) جبکہ مذکورہ بالا تعریف کے الفاظ انسانی زندگی کے تمام اختلافات اور تنوعات کو علمِ دین کا حصہ بنارہے ہیں۔ ہاں! اگر علمِ دین کی تعریف یہ کی جائے کہ ’’ یہ تمام انسانوں کو اپنے خود ساختہ اختلافات ترک کرواکے ایک خدائے واحد کی بندگی پر لانا چاہتا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ خدا کی طرف سے بھیجے گئے آداب وا حکام کے مطابق زندگی بسرکرنے کے اصول سکھاتا ہے ‘‘ تو یہ البتہ ایک جامع اور مانع تعریف کہلا سکتی ہے۔
تعریف کے نام پر مشکل پسندی
جامع اور مانع کا اصول فی نفسہ ایک سنہری اصول ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک ’’تعریف‘‘ ایک معتد بہ حد تک جامع اور مانع نہ ہو‘ کسی ناواقف کی تسلی کاسامان نہیں کرسکتی اورنہ ہی اس کے قلب ودماغ میں اس علم کا کوئی درست اور قابلِ اعتبار تصور قائم ہوسکتا ہے کیونکہ جامعیت اورمانعیت کے بغیر کسی تعریف میں امتیاز پیدا نہیں ہوسکتا جو اسے دیگر امور سے ممتاز کرے اور ظاہر ہے کہ جو تعریف ایک امر کو دیگر امور سے ممتاز نہ کرے ‘ وہ ’’تعریف ‘‘ کہلانے کی سرے سے حق دار نہیں‘ بعینہ ایسے ہی جیساکہ ایک ’’تعارف‘‘ اگر کسی شخص کی شخصیت کو واضح اور اجاگر نہ کرے تو وہ ’’تعارف‘‘ کہلانے کا حق دار نہیں۔ جامعیت اورمانعیت کا معاملہ اس حد تک تو درست تھا‘ پیچیدگی تب پیدا ہوئی کہ جب اس اصول کو ’’تعریف‘‘ کے لفظی اور منطقی آپریشن کا بہانہ بنا لیا گیا اور تعریفات کی جامعیت ومانعیت پر اعتراضات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ یوں وہ ’’تعریف ‘‘ جو علم کے حصول کو آسان تر بنانے کے لیے علم کے آغاز میں رکھی گئی تھی‘ بذاتِ خود طالبِ علم کے لیے ایک وبال اور عذابِ جان بن کر رہ گئی۔ جامعیت اورمانعیت کا اصول تعریف کو ایک اجمالی خاکہ اور ناواقف کے ذہن میں متعلقہ علم کا ایک سادہ سا تصور قائم کرنے کے قابل بنانے کے لیے وضع کیا گیا تھا۔ اب فرض کیجئے کہ اگر کوئی ’’تعریف‘‘ اپنا یہ ’’فریضہ‘‘ ادا کررہی ہے اور اجمالی تصور فراہم کرنے کی اہل ہے تو محض لفظوں کا کھیل پوراکرنے کے لیے اس تعریف کی جامعیت اور مانعیت پر بے بحاشا اعتراضات در اعتراضات کرتے جلے جانا حصولِ علم سے قبل طالبِ علم کے ذہن کو روشن کرنے بجائے الٹا تشویش اور تشتت میں مبتلا کریتا ہے ۔ کاش کہ ہمارے ’’ماہرینِ تعلیم ‘‘ اس امر کا ادراک کرسکتے۔ مقصد سے زیادہ مقصد کے نام پر بنائے گئے مصنوعی اصول وضوابط ہمارے ہاں اہمیت رکھتے ہیں۔دیگر المیوں کی طرح یہ بھی ہمارا ایک بڑا المیہ ہے۔
تعریفات کا لفظی آپریشن
ہم جب تک درسِ نظامی کے مروجہ تعلیمی نصاب کے مرحلہ سے گزر رہے تھے تو سمجھتے تھے کہ ’’تعریفاتِ علوم‘‘ کا یہ بکھیڑا صرف عربی مدارس کے اندر مرغوب اور مروج ہے‘ مگر جب عصری تعلیم کے لیے قدم بڑھایاتو وہاں بھی اسی صورتِ حال کا سامنا ہوا۔ مختلف موضوعاتی علوم کے آغاز میں مختلف تعریفات اور ان کے نقائص بیان کرتے کرتے پورا ایک باب ختم ہوجاتا ہے ۔ نجانے کس افادیت کو پیشِ نطر رکھ کر نو آموز کا ذہن شروع سے اس ’’چنین وچناں ‘‘ میں پھنسا دیا جاتا ہے جو اس کے لیے ترغیب کی بجائی تنفیر کا باعث بنتا ہے ۔ آپ معاشیات کو لیجئے !کلاسیکی تعریف‘نوکلاسیکی تعریف اور پروفیسر رابنز کی تعریف‘ پھر ہر تعریف کی الگ الگ کئی کئی:
(الف) ۔۔۔خصوصیات
(ب) ۔۔۔خوبیاں
(ج)۔۔۔ خامیاں
پھر ہرخصوصیت ‘خوبی اور خامی کا الگ الگ عنوان اور پھر اس کے ذیل میں اس کی تفصیل۔۔۔۔۔۔(۱)تعریف یا اجمالی تعارف کے نام پر اس طویل و عریض تفصیل کاایک طالبِ علم کو سوائے انتشارِ ذہنی کے کیا فائدہ ہے ؟ایک ذرا سے تدبر کی ضرورت ہے !
اسی طرح صحافت کو لیجئے !اس میں ابلاغ‘صحافت‘ خبر ‘فیچر‘ مضمون ‘کالم اور اداریہ سمیت کئی الفاظ کی دسیوں اور بعض اوقات بیسیوں تعریفات (جو مختلف ماہرین سے منقول ہیں)پڑھائی جاتی ہیں‘ مگر تقابلی جائزہ کے باوجود کوئی ایسی تعریف دریافت نہیں ہو پاتی جس پہ سب ماہرین مطمئن اور متفق ہوں یا جسے بے عیب قرار دیا جاسکے۔(۲)
عربی مدارس کے اندر یہ اسلوب اور زیادہ مقبول ہے ۔بعض اوقات کسی علم کی تعریف کا تعین کرتے ‘اس سلسلہ میں مختلف تعریفات کا لفظی آپریشن کر تے اور ان پر اعتراضات وارد کرتے کرتے مہینوں گزر جاتے ہیں‘ مگر پھر بھی منزل ہے کہ مل کے نہیں دیتی۔جی ہاں! مہینوں اور عشروں کے بحث ومباحثہ کے بعد بھی مطلوبہ علم کی کوئی پاک وصاف اور بے عیب تعریف دریافت نہیں ہو پاتی۔ مصاحبینِ علم ومطالعہ ’’تعریف‘‘ کے ضمن میں کھیلی جانے والی ’’اس لفظی شطرنج‘‘اور اس کی بے نتیجگی سے اچھی طرح واقف ہوں گے ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ بے نتیجہ بحث باقاعدہ اہتمام اور دینی خدمت کے نام پر بھر پور اہمیت کے ساتھ بچوں کو پڑھائی جاتی ہے۔’’التوضیح والتلویح‘‘ درسِ نظامی کی معروف اور انتہائی درجہ کی ایک دقیق کتاب ہے۔(۳) اس کتاب کے آغاز میں ’’اصول الفقہ ‘‘ کی کسی بے عیب تعریف کا تعین کرتے کرتے ’’۱۲‘‘ اور ’’۱۴‘‘ کے فونٹ میں ’’A-4‘‘سائز کے تقریباً ۱۸؍ صفحے سیاہ ہوگئے ۔(۴) پھر اسی پر بس نہیں۔’’التوضیح والتلویح‘‘ کاکوئی درسی اور نصابی نسخہ لے لیں۔کتاب کے اطرف پر چڑھا ہوا حاشیہ ( جو اصل کتاب سے بلا مبالغہ دس گنا بڑا ہے)وہ الگ دعوتِ مطالعہ دیتا ہے۔نیز التوضیح والتلویح کا ماہر استاد اسے سمجھا جاتا ہے جو صاحبِ کتاب کے اٹھائے گئے تنقیدی نکات واضح کرنے پر اکتفاء نہ کرے ‘ بلکہ ان پر کچھ اور اضافے بھی کرے۔ صاحبِ کتاب کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کے شرح وبسط کے ساتھ نہ صرف حواب دے بلکہ نئے سے نئے نکات پیش کرے(۵)(جو قارئین اس کتاب کو پڑھ ‘ پڑھا چکے ہیں‘ وہ اس بات کو علی وجہ البصیرہ سمجھ رہے ہوں گے) مگر اس غیر معمولی باربرداری کے باوجود بھی نتیجہ وہی دھات کے تین پات۔ اصول ‘ الفقہ اور اصول الفقہ کی کوئی بے عیب دریافت نہ ہوسکی۔ اس لغو اور لایعنی کھیل کے جو دینی مضرات ہیں اور اس میں ’’والذین ہم عن اللغو معرضون‘‘ (۶) اور ’’من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ‘‘ (۷)جیسی نصوص سے جو عملی انحراف ہے ‘ اس سب سے قطع نظر کرکے یہ دیکھ لیجئے کہ کیا تعلیمی نکتۂ نظر سے ایک طالبِ علم کے سامنے‘ علم کے آغاز میں ہی لفظی اکھاڑ پچھاڑ کا ایسا دنگل سجا لینا اس کی ذہنی تربیت اور علمی نشوونما کے لیے مفید ہے؟
تعریفاتِ علوم کی مقصدیت
تعریف کے نام پر یہ بے اعتدالی اور مشکل پسندی اس لیے رونما ہوئی کہ تعریف کی مقصدیت اور عرض وغایت نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ ’’تعریف‘‘ کا مقصد جیساکہ پہلے عرض کیا گیا ‘ طالبِ علم کے سامنے متعلقہ علم کا محض ایک اجمالی تعارف پیش کرنا اور اس کے ذہن میں علم کا ایک سرسری سا پیشگی خاکہ قائم کرنا تھا اور یہ مقصد کسی بھی تعریف کی بقدرِ ضرورت ہلکی پھلکی نو ک پلک سنوار کے پورا کیا جاسکتا ہے۔ بے عیب اورہر نقص سے پاک تعریف کی تلاش میں مفروضوں پہ مفروضے اور اعتراض پہ اعتراض ڈالتے چلے جانا اور ورقہا ورق سیاہ کردینا طالبِ علم کے لیے پیچیدگیاں پیدا کرتا اور سرے سے تعریف کے مقصد کو ہی فوت کردیتا ہے جو دراصل طالبِ علم کے لیے سہولت فراہم کرناتھا۔ تعریف کے مقصد کو سامنے رکھا جائے تو کسی پیچیدگی کی ضرورت نہیں رہتی ‘ اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی بھی مناسب تعریف کارآمد ثابت ہوسکتی ہے جو سادہ انداز میں طالبِ علم کے سامنے ’’متعلقہ علم‘‘ کے لبِ لباب کا ایک اجمالی نقشہ پیش کردے خواہ اس میں کچھ لفظی نقائص پائے جاتے ہوں‘ جیساکہ کسی شخص کا تعارف کراتے ہوئے انداز اختیار کیا جاتا ہے۔
تعریف کے عناصرِ ترکیبی
تعریف کبھی تو علم کے موضوع اور کبھی غرض وغایت سے مرکب ہوتی ہے۔ کسی بھی علم کا موضوع وہ اجزائے ترکیبی ہیں جو اس علم کے اندر زیرِ بحث آتے ہیں اور غرض وغایت دراصل اس فائدہ کو کہتے ہیں جو مطلوبہ علم حاصل کرلینے کے بعد طالبِ علم کو بطورِ نتیجہ حاصل ہوتا ہے اور جسے نصب العین بنا کر وہ اس علم کے حصول کی کوشش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر معاشیات کا بنیادی موضوع در اصل وہ اصول اوررویے ہیں جو معیشت کے لیے نفع بخش یا نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ جبکہ اس کی غرض وغایت نظامِ معیشت سے کما حقہ آگاہی حاصل کرنا ہے۔ ’’تعریف‘‘ در اصل موضوع یا غرض سے مرکب ہوتی ہے ۔ یہ الگ سے کوئی چیز نہیں ہے ۔مثال کے طور پر معاشیات کی تعریف اب دو انداز سے ہوسکتی ہے:
(الف)۔۔۔معاشیات ایک ایسا علم ہے کہ جس میں وہ اصول اور رویے زیرِ بحث آتے ہیں جو معیشت کے لیے نفع بخش یا نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
(ب)۔۔۔معاشیات ایک ایسا علم ہے جس سے مقصود نظامِ معیشت کی تہہ میں کارفرما اساسوں او رنفع بخش یا نقصان دہ اصولوں سے آگاہی حاصل کرنا ہے۔
’’مبادئ ثلاثہ‘‘ کی اصطلاح
بغور دیکھا جائے تو اِن دونوں کا حاصل ایک ہی ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ ’’موضوع‘‘ اور ’’غرض‘‘ دراصل ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں۔ فرق صرف اسلوب کا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ’’علمِ منطق‘‘ کو لے لیجئے ! اس کا موضوع ’’فکری ونظری خطاء سے محفوظ رکھنے والے اصول‘‘ ہیں اور اس کی غرض وغایت ’’فکری ونظری خطاء سے محفوظ رہنا‘‘ ہے۔ مگر اِن تینوں ( تعریف ‘ موضوع ‘ غرض وغایت) کو الگ الگ شمار کیا جاتا ہے اور عربی اصطلاح میں انہیں ’’مبادئ ثلاثہ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ اِن میں سے کوئی سا ایک بیان ہوجائے تو وہ باقی دو کی ضرورت سے مستغنی کردیتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں عصری مضامین کے آغاز میں صرف ’’تعریف‘‘ پر ہی اکتفاء کیا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خود تعریف کی افادیت اور مقصدیت کو بھی ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے تعریف کے نام پر مشکل پسندی اور مغلق گفتگو سے گریز کی جائے ۔
تعریف اور تجزیہ میں تمیز ضروری ہے
تعریفات کے الفاظ کا اختلاف بعض اوقات بے معنی ہوتا ہے اور بعض اوقات علم سے متعلق ماہرین کے متنوع زاویہ ہائے نگاہ کو بیان کرتا ہے۔ ایسا اختلاف جو ماہرینِ علم کی متنوع آراء کو واضح کرے‘ کار آمد اور لائقِ استفادہ ہوتا ہے جو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم فکری زاویوں کے اِس تنوع سے کماحقہ وہی آدمی مستفید ہوسکتا ہے جو کم از کم اس علم کی سدھ بدھ رکھتا ہے۔ایسا آدمی جو ابھی اس علم کے میدان میں نووارد ہے ‘ اسے شروع میں ہی ’’تعریف‘‘ کے نام پر اس مباحثہ میں الجھا دینا کہ کونسا مفکر اس علم کو کونسی نگاہ سے دیکھتا ہے اور کونسا ماہر کس زاویہ سے‘ یہ ہرگز مفید نہیں۔یہ بحث قابلِ حذف نہیں ‘ مگر اس کی جگہ کتاب کا پہلا یونٹ بھی ہرگز نہیں۔ علم کی تعریف اور مختلف مفکرین کے اس کے بارہ میں تجزیات اور سوچنے کے انداز سراسر دو مختلف چیزیں ہیں۔ انہیں گڈمڈ نہیں کیا جا سکتا۔ ’’تعریف‘‘ کا صحیح محل کتاب کا پہلا یونٹ اور مفکرین کے مختلف تجزیاتی زاویوں کا صحیح محل آخر ی یونٹ ہے۔ مثال کے طور پر ’’معاشیات‘‘ کی وہ تعریف جو سطورِ بالا میں ذکر کی گئی ہے‘ اس سے ملتی جلتی تعریف پہلے باب کی ضرورت کے لیے کافی وافی ہے۔ پھراس ضمن میں ایڈم سمتھ‘ الفریڈ مارشل اور ڈاکٹر رابنز کے خیالات(۸) در اصل اس طالبِ علم کے سامنے بیان ہونے چاہییں جوا س علم کے مندرجات پر کم از کم ایک نظر ڈال چکا ہے۔ ایسا طالبِ علم ہی ان ماہرانہ آراء کی حقیقت اور افادیت کو سمجھ سکتا ہے اور اس سلسلہ میں خود اپنی کوئی رائے قائم کرنے کا اہل بھی ہوسکتا ہے۔ بصورتِ دیگر اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والی بات ہے۔ علم پڑھائے بغیر طالبِ علم کو ان اختلافی آراء میں الجھا دینا ایسے ہے جیسے کسی آدمی کی آنکھوں پہ ٹیپ چسپاں کردی جائے اور اسے ہاتھی کے پاس کھڑا کرکے مجبور کیا جائے کہ ہاتھی کے بارہ میں مختلف فیل بانوں کے تبصرے اور تجزیے سن کر ہی ہاتھی کو سمجھنے کی کوشش کرے کہ وہ کیسے ہوتا ہے؟ جبکہ آسان طریقہ یہ تھا کہ اس آدمی کی آنکھیں کھول دی جاتیں اور وہ اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لیتا کہ ہاتھی کیاہوتا ہے! اس کے بعد لوگوں کی مختلف آراء کو علی وجہ البصیرہ سن بھی پاتا اور ان پہ کوئی رائے زنی بھی کرپاتا۔ صحافت کی مذکورہ بالا اصطلاحات کو لیجئے ! جتنا وقت تعریفات کے ذریعہ ان اصطلاحات کا مصداق سمجھتے سمجھتے صرف کیا جاتا ہے ‘ اس سے پانچ گنا کم وقت میں عملاً اِن اصطلاحات کا مصداق دکھا کر طالبِ علم کو زیادہ بہتر طور پر سمجھایا جاسکتا ہے کہ ابلاغ ‘ صحافت‘ خبر ‘ فیچر‘ کالم اداریہ اور مضمون کا مصداق کون سے امور ہیں؟ اسی طرح سے مثلا علمِ حدیث کو لیجئے ! اس کی تعریف پر بھی بہت الجھی ہوئی اور پیچیدہ بحث کی جاتی ہے ۔اگرچہ بعض حضرات پورا زور صرف کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان میں زیادہ بہتر تعریف کون سی ہے ! مگر حقیقت یہی ہے کہ وہ ترجیح دی گئی تعریف بھی کئی طرح کے اعتراضات سے خالی نہیں ہوتی۔ علمِ حدیث کا صحیح تعارف اور اس کی ہیئت کا درست علم طالبِ علم کو تب ہی ہوتا ہے جب وہ عملاً علمِ حدیث کی ایک دو کتابیں خود پڑھ اوردیکھ لیتا ہے۔ مختلف ماہرین کی تعریفوں کے درمیان محاکمہ دینے کے لیے گھنٹوں تک ہونے والا مباحثہ طالبِ علم کے ذہن کو الجھتا تو ہے ‘ اجالتا نہیں۔ تعریف کی ضرورت ’’تعریف‘‘ ہی سے پوری ہوسکتی ہے ‘ ماہرین کے طویل وعریض تجزیاتی مباحثوں اور محاکموں سے نہیں۔علم کو پڑھے بغیر اس کے بارہ میں ماہرین کے مختلف اندازے جتنی بھی شد ومد کے ساتھ بیان کیے جائیں‘ طالبِ علم کی تشنگی دور کرنے کی بجائے اسے اور بڑھاوا دیتے ہیں۔بالکل ایسے ہی جیسا کہ ساحلِ سمندر پہ بیٹھ کر پانی میں غوطہ لیے بغیرمحض تیراکی کے اصول سنتے رہنا‘سننے والے کو فکری انتشار میں مبتلا کردیتا ہے۔
(میں یہاں تک اپنا مضمون مکمل کرکے چھپنے کے لیے ’’الشریعہ ‘‘ کو بھیج چکا تھا‘ مگر بھائی عمار ناصر صاحب نے ازراہِ عنایت اطلاع دی کہ حافظ ابنِ تیمیہ نے بھی کتاب الرد علی المنطقیین میں اسی موضوع پر خامہ فرسائی فرمائی ہے۔ میں نے جب محولہ بالا کتاب کی طرف مراجعت کی تو زیرِ نظر مضمون میں اس کا حوالہ دینا مناسب محسوس ہوا۔ اسی غرض سے ذیل میں ایک پیراگراف کا اضافہ کیا جارہا ہے)۔
حافظ ابنِ تیمیہ کی تنقید
تعریف کو منطقی اصطلاح میں ’’حد‘‘ اور ’’رسم‘‘ کہا جاتا ہے۔ ’’حد‘‘ اور ’’رسم‘‘ دونوں دراصل تعریف کی دو اقسام ہیں۔ پھر ان میں سی ہر ایک قسم کو مزید دودو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان کی تفصیلات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے‘ صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ تعریف کے نام پر مشکل پسندی کا آئیڈیادراصل منطقیوں اور فلسفیوں کے زرخیز ذہن کی پیدا وار ہے اور وہی اس میں سب سے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔وہ نہ صرف علوم کو ‘ بلکہ ہر ایک چیز کو اس کی لفظی تعریف سے ناپتے ہیں اور ہر ہر امر اور شے کی لفظی تعریف ضروری سمجھتے ہیں۔حافظ ابنِ تیمیہ نے کتاب الرد علی المنطقیین میں جہاں منطقیوں اور منطق کے دیگر نقائص ومفاسد پر سیر حاصل بحث کی ہے‘ وہاں تعریف کے نام پر منطقیوں کے ہاں ہونے والی دنگل بازی پہ بھی خاصی گفتگو کی ہے۔ اس ضمن میں حافظ ابن تیمیہ نے منطقیوں کے دلائل کو رد کرنے کے لیے بعض دقیق مباحث بھی چھیڑے ہیں‘ جنہیں یہاں درج کرنا ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ اس میں جو باتیں عام استفادہ کی ہیں تو ان میں سے بھی بہت سی باتیں میں پہلے ہی اپنے مضمون میں اپنے طور پر تحریر کرچکا تھا‘ شیخ ابنِ تیمیہ کی کتاب میں بعینہ وہی باتیں دیکھ کر اس ’’اتفاقی مطابقت‘‘ پر قلبی مسرت ہوئی۔ فالحمدللہ علی ذلک!
شیخ ابنِ تیمیہ نے لکھا ہے کہ دینی علوم کے اندر ’’منطقی حدود وتعریفات‘‘ کے اس طرز اور اسلوب کو اپنانے والے سب سے پہلے فرد امام غزالی ہیں۔ [صفحہ ۵۶] انہی سے پھر یہ سلسلہ آگے چلا۔نیز انہوں نے امام غزالی ہی کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ ان کی رائے میں بھی کسی امر یا علم کی پاک وصاف اور بے عیب منطقی تعریف دریافت کرلینا انتہائی مشکل ہے۔[صفحہ ۶۱] حافظ ابنِ تیمیہ کے مطابق تعریف کے نام پر مشکل پسندی کی ابتداء منطقیوں سے ہوئی اور باقی سب علوم اور شعبوں میں یہ اسلوب اور طرز منطق سے ہی برآمد ہوکر آیا ہے۔انہوں نے مشہور نحوی ابن الانباری [وفات۳۲۸] کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ جب سے نحویوں نے منطقی تعریفات کے اسلوب کو اپنایا ہے تو دیگر اصطلاحات سے قطع نظر ‘ صرف ایک نحوی اصطلاح ’’اسم‘‘ کی تقریبا ستر تعریفات اب تک ان کی طرف سے سامنے آئی ہیں‘ مگر ان میں سے کوئی بھی تعریف بے عیب اور اعتراضات سے خالی نہیں۔ [صفحہ۵۰]اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بے عیب تعریف کی تلاش محض ایک کارِ لاحاصل ہے۔’’حدود وتعریفات‘‘ کی ضرورت واہمیت پر منطقیوں کے ہاں ضرورت سے زیادہ زور دیا جاتا ہے ‘ ابنِ تیمیہ نے بھی جواباً اس کی تردید کرتے ہوئے خاصی مبالغہ آمیزی اور دقت آفرینی سے کام لیا ہے جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ سرے سے تعریف کے قائل ہی نہیں اور اس کی اہمیت سے بالکل انکاری ہیں۔ تاہم یہ درست نہیں۔ ان کی اپنی تصنیفات میں بھی جابجا مختلف امور اور شرعی تصورات کی تعریفات ذکر کی گئی ہیں‘ حقیقت یہ ہے کہ وہ تعریف کو اجمالی تعارف کی حدتک تو مفید سمجھتے ہیں ‘ مگر تعریف کے نام پر ذہنی عیاشی کے لیے لڑائے جانے والے’’بوکاٹوں‘‘ کے شدید مخالف ہیں۔(۹)
حواشی
(۱) مثلا : علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ‘ اسلام آباد کی کتاب ’’معاشیات‘‘ برائے انٹرمیڈیٹ کا پہلا یونٹ ملاحظہ فرمائیں۔
(۲) مثلاً دیکھئے: ہنی ’’صحافت‘‘ برائے بی۔اے(پرچہ الف ‘پرچہ ب) ۔مطبوعہ: ہنی بکس ‘اردو بازار گلگشت‘ ملتان
(۳) یہ کتاب ایک متن ‘ ایک شرح اور ایک حاشیہ پر مشتمل ہے۔ متن کا نام ’’التنقیح‘‘ اور شرح کانام ’’التوضیح‘‘ ہے۔ ان دونوں کے ایک ہی مصنف بزرگ حنفی عالمِ دین‘ صدرالشریعہ قاضی عبیداللہ بن مسعود البخاری الحنفی (وفات:۷۴۷ھ) ہیں۔ انہوں نے اصولِ فقہ کے موضوع پر اولاً ’’التنقیح‘‘ تحریر کی اور بعد ازاں ’’التوضیح‘‘ کے نام سے ا س کی شرح بھی خود ہی لکھی۔ حاشیہ کا نام ’’التلویح‘‘ ہے اور اس کے مؤلف ‘ تاریخِ اسلام کے شہرہ آفاق معقولی اور امیر تیمور لنگ کے مقرب‘ علامہ سعدالدین مسعود بن عمرالتفتازانی (وفات: ۷۹۲)ہیں۔ متن ‘ شرح اور حاشیہ ‘تینوں کا مجموعہ ایک عرصہ سے بر صغیر کے عربی مدارس میں داخلِ نصاب ہے اور تینوں کی تدریس ایک ساتھ کی جاتی ہے ۔ تینوں کتابوں کا یہ مجموعہ ’’التوضیح والتلویح‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔
(۴) دیکھئے: التوضیح مع التلویح ‘ صفحہ نمبر ۱۵ تا صفحہ نمبر۳۲۔ مطبوعہ : قدیمی کتب خانہ ‘ کراچی
(۵) اسی طرزِ تدریس کا نتیجہ ہے کہ پورا سال اِس کتاب کے چند ابتدائی صفحات اور اصولِ فقہ کی چند ابتدائی اصطلاحات کی تعریفات پڑھتے پڑھتے ہی ختم ہوجاتا ہے اورکتاب کے اصل مباحث سرے سے پڑھنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔اس کا داخلِ نصاب حصہ کل کتاب کا تقریباً ساتواں(۷/۱) یا آٹھواں حصہ((۸/۱) بنتا ہے۔
(۶) سورۃ المؤمنون‘ آیت نمبر ۳۔ اس آیت میں مومنوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ لغو‘ بے فائدہ اور بے مقصد امور سے الگ رہیں!
(۷) جامع الترمذی ‘ حدیث نمبر ۲۳۱۷۔۔اس حدیث میں بھی یہی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ بے مقصد ‘ بے نتیجہ او ربے فائدہ باتوں‘ بحثوں اور کاموں میں الجھنا مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔
(۸) یہ تینوں نام ’’علمِ معاشیات واقتصادیات‘‘ کے نام ور اورعہد ساز مفکرین کے ہیں۔ ایڈم سمتھ کلاسیکی ‘ الفریڈ مارشل نیوکلاسیکی اور ڈاکٹر رابنزماڈرن اسکول آف تھاٹ کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ ایڈم سمتھ کے نزدیک حصولِ دولت اور صرفِ دولت‘ الفریڈمارشل کے نزدیک انسان کی معاشی سرگرمیاں اور رابنزکے نزدیک معاشی مسئلہ’’معاشیات‘‘ کا مرکزی نکتہ ہیں۔
(۹) کتاب الرد علی المنطقیین کے جو حوالے دیے گئے ہیں ‘ وہ مؤسسۃ الزیات کے مطبوعہ نسخہ کے مطابق ہیں۔
مولانا زاہد الراشدی کی مجلس میں
حافظ زاہد حسین رشیدی
مخدوم و محترم حضرت علامہ زاہد الراشدی زید مجدہم کے ساتھ عقیدت و محبت کا تعلق تو ہے ہی، علاوہ ازیں باہم رشتہ داری کی ایک ڈوری بھی بندھی ہے جو میرے لیے استفادہ کے مواقع پیدا کرتی رہتی ہے۔ حضرت المخدوم مدظلہ کے چھوٹے بھائی حضرت مولانا حافظ عبد الحق خان بشیر نقشبندی مدظلہ میرے ہم زلف ہیں۔ چنانچہ بعض مواقع پر اس واسطہ سے حضرت علامہ مدظلہ تک بے تکلف رسائی ممکن ہو جاتی ہے اور یہ طالب علم اظہار ما فی الضمیر کی جسارت کے ساتھ ساتھ آں محترم کی شفقتیں اور محبتیں بھی سمیٹتا ہے۔
عشاقِ زلف زندہ جاوید کیوں نہ ہوں
ہاتھ آگیا ہے سلسلہ عمرِ دراز کا
(عزیز نواب عبد العزیز خان)
۲۲ اپریل ۲۰۱۲ء، حضرت مولانا حافظ عبد الحق خان بشیر نقشبندی زید مجدہم کے بڑے فرزند، عزیز محترم مولانا احسن خدامی سلمہ کے ولیمہ اور دختر نیک اختر سلمہا کے نکاح و رخصتی کی تقریب میں حضرت علامہ راشدی حفظہ اللہ سے چند ایک پہلوؤں پر گفتگو ہوئی جو اس خیال سے قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے کہ شاید افادۂ عام کا باعث ثابت ہوں۔
(۱) رسمی علیک سلیک اور دریافت خیریت کے بعد حضرت مخدوم مدظلہ نے ہمارے دیرینہ دوست مولانا عبد الرحیم چاریاری مدظلہ کے بیٹے کی خیریت و دستیابی کے متعلق استفسار فرمایا جو گزشتہ چند ہفتوں سے لاپتہ ہے۔ (مولانا چاریاری صاحب کے اس بیٹے کا نام علی حیدر تھا جسے شہید بھی کر دیا گیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون) حضرت علامہ کے لہجے میں ہمدردی، اپنائیت اور تشویش نمایاں تھی۔ اظہارِ افسوس بھی کر رہے تھے اور دعائیں بھی۔ یاد رہے کہ مولانا چاریاری مدظلہ نے حضرت علامہ پر تنقید کرتے ہوئے ایک کتاب تیار کی اور اسے اپنے ادارہ کی طرف سے شائع کرتے ہوئے مزید ’’نوازشات‘‘ کا عزم ظاہر کیا۔ اپنے مخالفین کی بابت یہ طرزِ عمل یقیناًدل گردے کا کام ہے جو سنت نبویہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کا عملی نمونہ بھی ہے اور ہم چھوٹوں کے لیے بہترین سبق بھی ۔۔۔
(۲) حضرت مولانا راشدی مدظلہ الشریعہ اکادمی کے پلیٹ فارم سے تحمل و برداشت کے ساتھ مذہبی و ملکی ایشوز پر تبادلۂ خیال اور مباحثہ و مکالمہ کا جدید اسلوب متعارف کروا رہے ہیں جس کی افادیت بھی تسلیم ہے اور بعض منطقی نتائج پر تحفظات بھی ہیں۔ تاہم روایتی مذہبی حلقے میں اس کی پذیرائی نہ ہونے کے برابر ہے۔
راقم نے حضرت علامہ سے گزارش کی:
’’الشریعہ‘‘ سے جو اسلوب آپ متعارف کروا رہے ہیں، اس سے روایتی مذہبی حلقے کو ایک خاص قسم کی ’’وحشت‘‘ کیوں ہے؟ اور اس کے تدارک کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں؟‘‘
حضرت علامہ نے مخصوص مسکراہٹ کی آمیزش کے ساتھ فرمایا:
’’میری عادت یہی ہے کہ تقاریب میں کسی خاص عنوان کے تحت ہی گفتگو کرتا ہوں۔ لہٰذا ’’الشریعہ‘‘ کا اسلوب کبھی زیر بحث نہیں لاتا، البتہ نجی مجالس میں علماء کرام سے بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ اشکالات دور کرتا ہوں اور وہ مطمئن بھی ہوتے ہیں۔ تاہم اس کی بنیادی وجہ مطالعہ کی خوفناک حد تک کمی ہے۔ جب مطالعہ کا ذوق ہی نایاب ہے تو کہاں تقابلی مطالعہ اور کہاں سنجیدہ بحث و تمحیص؟‘‘
طالب علم نے رائے دی کہ آپ مختلف سیمینارز، کانفرنسز اور دستار فضیلت سمیت دیگر عوامی اور روایتی مذہبی حلقے کی تقاریب سے مخاطب ہوئے ہیں۔ آپ اپنی فکر کو یہاں زیر بحث لایا کریں تا کہ یہ ’’وحشت‘‘ دور ہو اور دلیل سے اختلاف رائے کا حوصلہ و جذبہ پروان چڑھ سکے۔
(۳) اہل تشیع اور اہل سنت والجماعت کے مابین جملہ نزاعی مسائل میں ایک اہم اور اصولی مسئلہ ’’امامت و خلافت‘‘ کا ہے جس پر جانبین کی طرف سے بہت کچھ رقم ہے۔ تاہم اس میدان میں کام کرنے والے سنی نوجوان بھی اس سے کم اہمیت کے حامل مسائل میں مصروفِ عمل ہیں اور ’’امامت و خلافت‘‘ کے عنوان پر وہ توجہ نہیں دے پاتے جو اس کا حق ہے۔ اس کی ایک وجہ شاید موجود لٹریچر کا قدرے مشکل اسلوبِ تحریر و استدلال ہے۔
حضرت علامہ راشدی مدظلہ نے جامعہ اسلامیہ کلفٹن کراچی کے فضلاء سے مسلسل تین روز ’’خلافت‘‘ کے عنوان پر خطاب کیا جس کی روئیداد روزنامہ اسلام ۳۰،۳۱ جنوری اور یکم فروری ۲۰۱۲ء میں ’’اسلامی خلافت ۔ دلیل و قانون کی حکمرانی‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔ بہت سے دوستوں کا خیال ہے کہ امامت و خلافت کے مسئلہ پر جس آسان اور عام فہم انداز میں یہ گفتگو کی گئی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ہمیں پہلی دفعہ اس مسئلہ کی اہمیت کا بھی ادراک ہوا اور یہ بھی علم میں آیا کہ اس پر اہل تشیع سے گفتگو یا اس عنوان پر عوام سے خطاب انتہائی آسان ہے۔ البتہ تشنگی برقرار ہے۔
راقم نے حضرت علامہ سے درخواست کی کہ اس موضوع پر تفصیلی مقالہ تحریر فرمائیں، خدا کرے کہ انہیں فرصت دستیاب ہو اور یہ اہم کام پایۂ تکمیل تک پہنچ سکے۔ اللّٰہم آمین۔
(۴) سنی، شیعہ کشمکش کے حوالہ سے مشرق وسطیٰ میں اہل تشیع کی سرگرمیوں اور پاکستان میں نصاب تعلیم میں تبدیلی سمیت دیگر معاملات میں اہل تشیع کی پیش قدمی اور اہل سنت کی زبوں حالی پر علامہ راشدی مدظلہ نے روزنامہ اسلام ۱۳؍ مارچ ۲۰۱۲ء میں ’’علیحدگی کے نتائج پر بھی غور کر لو‘‘ کے عنوان سے ایک کالم تحریر کیا تھا جس میں آں محترم نے انتہائی پتے کی بات تحریر فرمائی تھی:
’’اس موضوع پر سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ معروضی صورت حال اور مستقبل کے امکانات و خدشات کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور عقائدِ اہل سنت کے تحفظ، ناموسِ صحابہ کرامؓ کے تحفظ و دفاع اور اہلِ سنت کے حقوق و مفادات کی پاسداری کے لیے جذباتیت و سطحیت سے ہٹ کر اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے ارباب علم و دانش کو اعتماد میں لے کر جدوجہد کی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت و اہمیت اس حوالہ سے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عوامی بیداری کی مختلف لہروں میں سنی شیعہ کشمکش کی لہریں اب نمایاں ہوتی جا رہی ہیں۔‘‘
راقم نے اس ملاقات سے قبل بھی اسی کالم کے تناظر میں حضرت مخدوم مدظلہ کی خدمت میں عریضہ کے ذریعے گزارش کی تھی کہ بہت بہتر ہوگا اور بڑی خدمت کہ آپ اس میدان میں کام کرنے والوں کے لیے ’’کوئی ٹھوس حکمت عملی‘‘ تحریر فرما دیں جو اس حوالے سے جدوجہد کرنے والوں کے لیے راہ نمائی کا کام دے سکے۔ حضرت علامہ کے خیال میں یہ معاملہ فردِ واحد کے بجائے اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے مابین مشاورت سے حکمت عملی طے پانے کا تقاضا کرتا ہے۔ حضرت کے بقول میں نے بہت سے دوستوں سے بات کی ہے، میں معاونت اور مشاورت کے لیے تیار ہوں لیکن احباب کی طرف سے سنجیدگی نظر نہیں آرہی۔ آپ کوئی مجلس طے کر لیں اور اس موضوع سے لگاؤ رکھنے والے دوست بلا لیں، میں ہمہ وقت حاضر ہوں۔
راقم جو گھنٹی حضرت مخدوم کے گلے میں باندھنا چاہ رہا تھا، وہ میرے گلے باندھ دی گئی۔ کوشش ہوگی کہ آں محترم کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے اس حوالہ سے کوئی کردار ادا کر سکوں۔ وما توفیقی الا باللّٰہ العلی العظیم۔
(بشکریہ ماہنامہ ’’فقاہت‘‘ لاہور)
ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے ناقدانہ طرز فکر کا ایک مطالعہ
محمد عمار خان ناصر
(انجمن خدام القرآن لاہور کے زیر اہتمام ڈاکٹر اسرار احمد صاحب مرحوم کی یاد میں منعقد کردہ ’’سالانہ قرآنی محاضرات‘‘ (۲۰۱۱ء) میں پڑھا گیا۔)
بیسویں صدی میں مسلم قومی ریاستوں کے ظہور نے حیات اجتماعی کے دائرے میں مسلمان معاشروں کی تشکیل نو اور بالخصوص مذہب کے کردار کو اہل دانش کے ہاں غور وفکر اور بحث ومباحثہ کا ایک زندہ موضوع بنا دیا۔ اسلام چونکہ محض پوجا اور پرستش کا مذہب نہیں، بلکہ انسانی زندگی میں مخصوص اعتقادی واخلاقی اقدار اور متعین احکام وقوانین کی عمل داری کو بھی اپنا مقصد قرار دیتا ہے، اس لیے مذہب کے اجتماعی کردار کا سوال اپنے متنوع پہلوؤں کے ساتھ ان مفکرین کے غور وفکر اور مطالعہ وتحقیق کا موضوع بنا جو جدید تہذیبی رجحانات کے علی الرغم ریاست اور مذہب کے باہمی تعلق کو نہ صرف مضبوط دیکھنا چاہتے تھے، بلکہ ریاست کو خالص مذہبی ونظریاتی اساسات پر استوار کرنا چاہتے تھے۔ اس نوع کے اہل فکر کی جدوجہد اور خدمات کو درست تناظر میں دیکھنے کے لیے یہ نکتہ سامنے رہنا چاہیے کہ یہ سب حضرات بنیادی طور پر امت مسلمہ کے زوال کو موضوع بناتے ہیں جو مغرب کے تہذیبی اور سیاسی استیلا کے نتیجے میں عالم اسلام پر مسلط ہوا ہے اور جس نے بحیثیت مجموعی مسلمانوں کے انداز فکر، ترجیحات اور طرز زندگی کو ان خطوط سے بالکل مختلف خطوط پر استوار کر دیا ہے جس کی تعلیم ان کے دین نے دی ہے۔ کسی اجنبی تہذیب کے سامنے فکر واعتقاد اور تہذیب ومعاشرت کی سطح پر سر تسلیم خم کر دینا چونکہ خود داخلی سطح پر ایمان واعتقاد کی کمزوری اور فکری وعملی ترجیحات کی کجی کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے ان تمام اہل فکر کی توجہ فطری طور پر خود امت مسلمہ کے فکر وعمل کی اصلاح کی طرف مبذول ہوئی۔ اگرچہ ان سب کی فکری کاوشوں میں مغربی فکر وتہذیب کا حوالہ مسلسل پایا جاتا ہے اور اس کی فکری ونظریاتی اساسات کے تجزیہ وتنقید پر بھی انھوں نے بھرپور فکری توانائیاں صرف کی ہیں، تاہم اس ساری گفتگو کا مخاطب اصلاً مغربی ذہن نہیں، بلکہ مغربی انداز نظر کے اثرات کو قبول کرنے والے مسلمان ہی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہنا درست دکھائی دیتا ہے کہ ماضی قریب اور حال کی تمام احیائی تحریکیں، اپنے انداز نظر اور حکمت عملی کے تمام تر تنوع کے باوجود، امت مسلمہ کی عظمت رفتہ کی بازیابی کی کلید خود مسلمانوں کے فکر ونظر میں تبدیلی کو قرار دیتی ہیں۔
ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کا شمار ہمارے دور کے ان نامور اہل فکر میں ہوتا ہے جنھوں نے امت مسلمہ کو درپیش صورت حال، اس کے اسباب وعوامل اور اصلاح احوال کی حکمت عملی پر پوری آزادی، گہرائی اور originality کے ساتھ غور وفکر کیا اور ان کے غور وفکر نے جن نتائج تک انھیں پہنچایا، انھوں نے قدیم یا جدید او رروایتی یا غیر روایتی طبقات کی پسند یا ناپسند کا لحاظ کیے بغیر بلاخوف لومۃ لائم پوری جرات کے ساتھ ان کا اظہار بھی کیا۔ ان کے نتائج فکر سے یقیناًاختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اپنی حریت فکر اور آزادانہ انداز نظر کے لحاظ سے وہ بلاشبہ اقبال کے اس مصرعے کا مصداق تھے کہ: ’نے ابلہ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند‘۔ چنانچہ جہاں انھوں نے تہذیب مغرب کی فکری ونفسیاتی اساسات اور اس کے تباہ کن نتائج اور خاص طور پر مسلمان معاشروں میں اس تہذیب کے فکری وعملی اثرات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے طبقات کو اپنے ناقدانہ تجزیوں کا موضوع بنایا، وہاں خود ان طبقات کے انداز فکر کی تنقید میں بھی انھوں نے کوئی رعایت نہیں برتی جو مغرب زدہ طبقے کے بالمقابل اسلام اور امت مسلمہ کی سربلندی کا جذبہ اور مسلمانوں کے قومی مفاد سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ ایک صاحب فکر خود جس حلقہ فکر سے تعلق رکھتا ہو اور بحیثیت مجموعی اس طبقے کے احساسات وجذبات کی ترجمانی کرتا ہو، اس کے لیے خودتنقیدی کا یہ عمل بہت مشکل ہوتا ہے، چنانچہ سطحی سیاست کاروں کے برعکس جو عوامی جذبات واحساسات کو محض سیاسی کھیل تماشے کے لیے استعمال کرنا جانتے ہیں، خود تنقیدی کی یہ ذمہ داری سنجیدہ، دیانت دار اور حقیقی طور پر امت کے خیر خواہ اہل دانش ہی انجام دے سکتے ہیں۔ میرے نزدیک اس نوع کے اصحاب فکر کا سب سے بڑا کنٹری بیوشن جس کا تسلسل ان کے حلقہ فکر اور متوسلین کو ہر حال میں قائم رکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے، یہی ہے، کیونکہ ان کے انداز فکر کے اس حرکی پہلو کو نظر انداز کر کے اگر مخصوص نتائج فکر تک اپنے آپ کو محدود کر لیا جائے تو اسی سے وہ تقلیدی جمود وجود میں آتا ہے جس سے خود یہ اصحاب فکر زندگی بھر نبرد آزما رہے۔
اس تناظر میں، آج کی اس نشست میں، میں نے گفتگو کے لیے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب رحمہ اللہ کے فکر ونظر کے متنوع اور گوناگوں پہلووں میں سے اسی خاص پہلو کو منتخب کیا ہے۔ میں ڈاکٹر صاحب کی کی مختلف تحریروں اور خطابات سے جمع کیے گئے کچھ منتخب اقتباسات پیش کروں گا جن میں مذہبی یا نیم مذہبی انداز فکر کے چند مخصوص پہلوؤں کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ ان اقتباسات کا انتخاب اتفاق رائے یا تائید کے اصول پر نہیں کیا گیا، بلکہ اصل مقصد ڈاکٹر صاحب کے ناقدانہ زاویہ نظر کو واضح کرنا ہے جو میرے نزدیک اختلاف کی گنجائش کے باوجود فی نفسہ ایک نہایت قابل قدر اور قابل تقلید چیز ہے۔ یہ کام مختصر وقت میں بالکل سرسری انداز میں ہی کیا جا سکا ہے، تاہم امید ہے کہ پیش نظر نکتے کو واضح کرنے کے لیے کسی حد تک مفید ہوگا۔
اسلام میں عدل اجتماعی کا تصور اور روایتی فقہی انداز نظر
نفاذ اسلام کے ضمن میں قائد اعظم وعلامہ اقبال کے تصورات کے بالمقابل مذہبی طبقات کے تصور اسلام کی محدودیت کو واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے:
’’موسسین پاکستان اقبال اور جناح کے افکار میں تو زیادہ زور اسلام کے نظام اجتماعی پر تھا، یعنی اسلام کا سیاسی، اقتصادی اور سماجی نظام (System of Social Justice as given by Quran) لیکن تحریک پاکستان کی، علما ومشائخ نے جو حمایت کی تھی، ان کے پیش نظر یہ تھا کہ اس خطے میں اسلامی قوانین اور اسلامی شریعت نافذ کی جائے۔ ..... یہ دونوں پہلو سامنے رکھیے جو ایک دوسرے سے قدرے مختلف، لیکن درحقیقت لازم وملزوم ہیں۔ قائد اعظم اور علامہ اقبال دونوں کے نزدیک اسلام کا نظام اجتماعی تھا جو انسان کو عدل دیتا ہے، جبکہ علما ومشائخ کے نزدیک اسلامی قوانین وشریعت خصوصاً حدود وتعزیرات کا نفاذ تھا جو اس نظام کو سہارا دیتے ہیں۔‘‘ (پاکستان کے وجود کو لاحق خطرات وخدشات، ص ۱۸)
ڈاکٹرصاحب نے روایتی فقہی ذخیرے کے بعض مخصوص تصورات کو بھی اسی تناظر میں نقد وجرح کا موضوع بنایا ہے۔ مثال کے طو رپر مزارعت کو جائز قرار دیے جانے سے اسلام کے معاشی مقاصد پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جیسے جیسے ملوکیت اور جاگیرداری کی جڑیں زمین میں گہری اترتی گئیں، حالات کے جبر اور ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے عمل دخل کا ظہور ہوا اور امام ابوحنیفہ کے شاگرد رشید قاضی ابو یوسف نے ..... امام صاحب کے دوسرے شاگرد امام محمد کے اتفاق رائے کے ساتھ مزارعت پر کچھ شرائط عائد کر کے اس کے جائز ہونے کا فتویٰ بھی دے دیا۔ بعد میں وہ شرائط تو طاق نسیاں کے حوالے ہو گئیں اور پورے عالم اسلام میں ’’مزارعت‘‘ شیر مادر کی مانند حلال وطیب ہو گئی اور اس طرح شہنشاہیت اور جاگیرداری کو دوام واستحکام حاصل ہو گیا۔‘‘ (اسلام میں عدل اجتماعی کی اہمیت، ص ۴۲، ۴۳)
’’سو ڈیڑھ سو برس بعد جبکہ ملوکیت بھی اپنی پوری شان اور کروفر کے ساتھ جلوہ گر ہو چکی تھی اور ’’قرون مشہود لہا بالخیر‘‘ (یعنی وہ ادوار جن کے خیر کے حامل ہونے کی گواہی خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے) کا زمانہ بھی بیت چکا تھا، علماے اسلام اور فقہاے کرام کا حالات کے جبر سے متاثر ہو جانا ہرگز نہ بعید از قیاس ہے نہ ان کے لیے موجب توہین۔‘‘ (اسلام میں عدل اجتماعی کی اہمیت، ص ۴۶)
فقہ اسلامی کی تشکیل میں اس دور کے جو مخصوص تمدنی حالات اور ضروریات کارفرما رہی ہیں، اس کے پیش نظر ڈاکٹر صاحب نے فقہاے اسلام کے اخذ کردہ مخصوص نتائج فکر کی پابندی کے بجائے قرآن وسنت سے براہ راست اخذ واستنباط کی ضرورت واہمیت کو بھی بڑی تاکید سے واضح کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’ایسے اصحاب علم ودانش آگے بڑھیں جو کتاب وسنت کے نصوص کی پابندی کے عزم مصمم کے ساتھ ساتھ صرف سلف کی اجتہادی آرا کے مقلد جامد بن کر نہ رہ جائیں، بلکہ شریعت کے اصل مقاصد واہداف کو بھی پیش نظر رکھ سکیں اور جہد وجہاد کے جذبے سے سرشار ہونے کے ساتھ ساتھ قیاس واجتہاد اور اس کے ضمن میں مصالح مرسلہ اور مفاد عامہ کو بھی ملحوظ رکھ سکیں۔‘‘ (اسلام میں عدل اجتماعی کی اہمیت، ص ۲۹)
’’ایک مجلس کی تین یا تین سے بھی زائد طلاقوں کے ضمن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو ایک رعایت اور نرمی فرمایا کرتے تھے، اسے حضرت عمر نے مصلحت امت کے پیش نظر اپنے ایک اجتہادی فیصلہ سے ختم کر دیا تو اس پر تو اہل سنت کے چاروں مکاتب فقہ کا اس درجہ عزم بالجزم کے ساتھ اصرار ہے کہ کسی بھی صورت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رعایت کو دوبارہ جاری کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔‘‘ (اسلام میں عدل اجتماعی کی اہمیت، ص ۴۵)
احیائی تحریکوں کی یک رخی فکری ترجیحات
بیسویں صدی کی مسلم احیائی تحریکوں کے ہاں اسلام کو بطور ایک اجتماعی نظام کے نمایاں کرنے کی کوشش اس انداز سے ہوئی ہے کہ دین کا روحانی اور باطنی پہلو مقدم الذکر پہلو کا خادم اور تابع قرار پا کر بڑی حد تک دب گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس پہلو کی بجا طو رپر نشان دہی کی ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:
’’ذرا دقت نظر سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان تحریکوں کا مطالعہ اسلام اسی مغربی نقطہ نظر پر مبنی ہے جس میں روح پر مادے اور حیات اخروی پر حیات دنیوی کو فوقیت حاصل ہے۔ چنانچہ اسلام کے ان ماوراء الطبیعاتی اعتقادات کا اقرار تو ان کے یہاں موجود ہے جن کے مجموعے کا نام ایمان ہے، لیکن انھیں کچھ زیادہ درخور اعتنا اور لائق التفات نہیں سمجھا گیا اور نگاہیں کلیۃً اس ہدایت ورہنمائی پر مرکوز ہیں جو حیات دنیوی کے مختلف شعبوں کے لیے اسلام نے دی ہیں اور جن کے مجموعے کا نام ’اسلامی نظام زندگی‘ رکھا گیا ہے۔ ..... اسی نقطہ نظر کا کرشمہ ہے کہ دین اسٹیٹ (State) کا ہم معنی قرار پایا ہے اور عبادت، اطاعت کے مترادف ہو کر رہ گئی ہے۔ نماز کا یہ مقام کہ وہ معراج المومنین ہے، نگاہوں سے بالکل اوجھل ہے اور نفس انسانی کا اس سے ایسا انس کہ ’قرۃ عینی فی الصلوۃ‘ کی کیفیت پیدا ہو سکے، ناپید ہے۔ ..... زکوٰۃ کا یہ پہلو کہ یہ روح کی بالیدگی اور تزکیے کا ذریعہ ہے، اس قدر معروف نہیں جتنی اس کی یہ حیثیت کہ یہ اسلامی نظام معیشت کا اہم ستون ہے۔ روزہ کے بارے میں یہ تو خوب بیان کیا جاتا ہے کہ یہ ضبط نفس (Self control) کی مشق وریاضت ہے، لیکن اس کی اس حقیقت کا یا تو سرے سے ادراک ہی نہیں ہے یا اس کے بیان میں ’حجاب‘ محسوس ہوتا ہے کہ یہ روح کی تقویت کا سامان اور جسد حیوانی کی اس پر گرفت کو کمزور کرنے کا ذریعہ ہے۔ ....اسی طرح حج کے بارے میں یہ تو معلوم ہے کہ اس کے ذریعے ’’خدا پرستی کے محور پر ایک عالمگیر برادری‘‘ کی تنظیم ہوتی ہے، لیکن اس سے آگے اس کی روحانی برکات کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا! ..... کہنے میں تو اگرچہ یہ آیا کہ اسلام فلاح انسانی کا جامع پروگرام ہے جس میں فلاح اخروی اور فلاح دنیوی دونوں شامل ہیں، لیکن نگاہیں چونکہ فی الواقع صرف حیات دنیوی پر مرکوز ہیں، لہٰذا آخری تجزیے میں اسلام ایک ’‘سیاسی وعمرانی نظام‘‘ (Politico-Social System) بن کر رہ گیا۔ ..... اس اعتبار سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریکیں فی الواقع ’مذہبی‘ سے زیادہ ’سیاسی وعمرانی‘ اور ’دینی‘ سے زیادہ ’دنیوی‘ ہیں اور آخری تجزیے میں دوسری سیاسی ومعاشرتی تحریکوں سے صرف اس اعتبار سے مختلف ہیں کہ ان کے نزدیک سرمایہ دارانہ جمہوریت یا اشتراکیت بہتر نظام ہائے حیات ہیں اور ان کے نزدیک اسلام انسانی زندگی کے جملہ مسائل کو بہتر طور پر حل کرتا ہے۔ .... یہی سبب ہے کہ یہ تحریکیں بے لنگر کے جہازوں کے مانند ادھر ادھر بھٹک رہی ہیں اور ان کا حال اکثر وبیشتر اس مسافر کا سا ہے جسے نہ تو منزل ہی کا پتہ رہا اور نہ ہی یہ یاد رہا کہ سفر شروع کہاں سے کیا تھا۔‘‘ (نشاۃ ثانیہ ص ۱۱ تا ۱۷)
ڈاکٹر صاحب نے غلبہ دین کا مقصد حاصل کرنے کے لیے ان احیائی تحریکوں کی عجلت پسندانہ حکمت عملی پر بھی تنقید کی ہے۔ لکھتے ہیں:
’’بیسویں صدی عیسوی کی یہ اسلامی تحریکیں جو انڈونیشیا سے مصر تک متعددمسلمان مماک میں تقریباً ایک ہی وقت میں شروع ہوئیں، بہت سے پہلووں سے ایک دوسرے سے بہت مشابہ ہیں اور یہ کہنا بہت حد تک صحیح ہے کہ تقریباً ایک ہی تصور دین ان کی پشت پر کام کر رہا ہے اور ایک ہی جذبہ ان میں سرایت کیے ہوئے ہے۔ ..... یہ تحریکیں تقریباً ثلث صدی سے مختلف مسلمان ملکوں میں برسر عمل ہیں اور ملت اسلامی کی نوجوان نسل کا ایک خاصا قابل ذکر حصہ ان کے زیر اثر آیا ہے، لیکن عملاً ان میں سے کسی کو کوئی نمایاں کامیابی کہیں حاصل نہیں ہو سکی، بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تحریکیں اپنا وقت پورا کر چکی ہیں اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے خواب کی تعبیر کا وقت ابھی نہیں آیا۔ چنانچہ مصر میں اخوان المسلمون کا اندرون ملک تقریباً خاتمہ ہو چکا ہے اور اس کے باقیات الصالحات جلاوطنی کے عالم میں دول عرب کی باہمی آویزش کے سہارے جی رہے ہیں۔ رہی برصغیر کی تحریک اسلامی تو اس کا جزو اعظم پاکستانی سیاست کے نذر ہو چکا ہے اور اب اس کا مقام تحریک جمہوریت کی حاشیہ برداری سے زیادہ کچھ نہیں رہا۔
ان تحریکوں کی ناکامی کا سبب بظاہر تو یہ ہے کہ انھوں نے بے صبری سے کام لیا اور اپنے اپنے ملکوں میں سوچنے سمجھنے والے لوگوں کی معتد بہ تعداد کے ذہنوں کو بدلے بغیر سیاست کے میدان میں قدم رکھ دیا جس کے نتیجے میں قومی قیادتوں اور ’ترقی پسند‘ عناصر سے قبل ازوقت تصادم کی نوبت آ گئی، لیکن درحقیقت ان کی ناکامی براہ راست نتیجہ ہے ان کے تصور دین کی خامی اور مطالعہ اسلام کے نقص کا۔‘‘ (نشاۃ ثانیہ ص ۱۱ تا ۱۷)
ہندو مسلم منافرت کی تاریخی بنیادیں
برصغیر میں ہندو مسلم منافرت کا جو مسئلہ اس وقت اس پورے خطے کے امن واستحکام کے لیے ایک بہت بڑے چیلنج کی صورت اختیار کر چکا ہے، تاریخی بنیادوں پر اس کا تجزیہ کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے یک طرفہ طور پر ہندوؤں کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے خود مسلمانوں کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دی ہے، چنانچہ مسلمان بادشاہوں کے طرز حکومت کے حوالے سے فرماتے ہیں:
’’بدقسمتی سے ہمارے ملک کے بعض دانش وروں نے ہندوستان کے ہندووں اور مسلمانوں کے مابین نفرت کے ’’چلتے ہوئے جھکڑ‘‘ اور بد اعتمادی کی ’’اٹھتی ہوئی آندھی‘‘ کے ایک سبب کو اس درجہ اچھالا ہے اور اس شدت کے ساتھ تحریر وتقریر کا موضوع بنایا ہے کہ دوسرے جملہ عوامل نگاہوں سے بالکل اوجھل ہو کر رہ گئے۔ چنانچہ عوام کے اذہان میں اس پوری صورت حال کے واحد سبب کی حیثیت صرف ہندووں کی عمومی چھوت چھات، برہمنوں کے سامراجی مزاج اور بنیوں کی چاپلوسانہ عیاری کی ذہنیت کو حاصل ہو گئی ہے۔ چنانچہ ایک جانب یہ پہاڑ جیسی عظیم حقیقت نگاہوں سے اوجھل ہو گئی کہ ہندو معاشرہ صرف برہمنوں اور بنیوں ہی پر مشتمل نہیں ہے بلکہ اس میں راجپوت اور شودر بھی موجود ہیں جو اپنا اپنا جداگانہ مزاج رکھتے ہیں۔ مزید برآں خود برہمنوں اور بنیوں میں بھی ’’نہ ہر زن زن است ونہ ہر مرد مرد -- خدا پنج انگشت یکساں نہ کرد‘‘ کے مصداق ہر مزاج اور کردار کے لوگ موجود ہیں اور دوسری جانب ان دو اہم عوامل سے تو کامل ذہول ہو گیا جن میں سے ایک کا تعلق ماضی بعید اور خود مسلمانوں کے اپنے کردار سے ہے اور دوسرے کا ماضی قریب اور انگریزوں کے کردار سے!
ان میں سے مقدم الذکر سے صرف نظر اور غض بصر کا معاملہ تو
’’وابستہ میری یاد سے کچھ تلخیاں بھی تھیں
اچھا کیا جو مجھ کو فراموش کر دیا‘‘
کے عین مطابق ہے، اس لیے کہ اس تلخ حقیقت کا اعتراف بہت مشکل ہے کہ خود ہم مسلمانوں نے ہندوستان میں اپنی ’’ہزار سالہ‘‘ حکومت کے دوران اکثر وبیشتر وہی ’’اقوام غالب‘‘ والا کردار اختیار کیا تھا جس کا اوپر ذکر ہو چکا ہے اور نہ صرف یہ کہ اپنے ان فرائض کو تو سرے سے ادا ہی نہیں کیا تھا جو امت مسلمہ اور امت محمد (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) ہونے کی حیثیت سے ہم پر عائد ہوتے تھے ، یعنی اللہ کے پیغام کی دعوت وتبلیغ اور اسلام کے عادلانہ نظام زندگی اور دین حق کے نظام عدل وقسط کے قیام کے ذریعے خلق خدا پر اللہ کی رحمانیت ورحیمیت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمۃ للعالمینی کا عملی مظاہرہ اور اس طرح اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ہندوستان میں بسنے والوں پر اتمام حجت، بلکہ بہت سے حکمرانوں نے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ قائم رکھنے کے علاوہ ذاتی عیاشی اور بو الہوسی کے وہ جملہ انداز اختیار کیے جو ہمیشہ سے ملوکیت اور بادشاہی کے لوازم میں سے رہے ہیں اور ان سب کی بنا پر ہندوؤں میں عمومی طو رپر وہ انتقامی جذبہ موجود تھا جو سقوط ڈھاکہ کے حادثہ فاجعہ کے موقع پر ع ’’نکل جاتی ہے جس کے منہ سے سچی بات مستی میں‘‘ کے مطابق فتح مندی کی سرمستی میں پنڈت موتی لال نہرو جیسے وسیع المشرب انسان کی پوتی اور جواہر لال نہرو جیسے سیکولر اور سوشلسٹ مزاج کے حامل شخص کی بیٹی مسز اندرا گاندھی کے منہ سے نکلنے والے ان الفاظ سے ظاہر ہو گیا کہ ’’ہم نے اپنی ہزار سالہ شکست کا بدلہ چکا لیا ہے!‘‘ (پاک بھارت تعلقات، ص ۱۲،۱۴۳)
پاکستان اور ہندوستان کے باہمی تعلقات کی آئیڈیل صورت کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے دونوں سب سے بڑے علم برداروں، یعنی مصور ومفکر پاکستان علامہ اقبال اور معمار وموسس پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے تقسیم کے بعد کے حالات کے ضمن میں جو خواب دیکھے تھے، وہ اس صورت حال کے بالکل برعکس تھے۔ چنانچہ اس ضمن میں قائد اعظم نے تو صرف یہ کہنے پر اکتفا کی تھی کہ ’’بھارت اور پاکستان کے تعلقات ایسے ہی ہوں گے جیسے ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور کینیڈا کے مابین ہیں‘‘، لیکن علامہ اقبال نے تو اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے خطبہ الٰہ آباد (دسمبر ۱۹۳۰ء) میں یہاں تک فرما دیا تھا کہ ’’ہندوستان کے شمال مغرب میں واقع مسلم ریاست ہر نوع کی جارحیت کے مقابلے میں ہندوستان کے دفاع کا فریضہ بہترین طو رپر سرانجام دے گی، خواہ وہ جارحیت نظریات کی ہو خواہ ہتھیاروں کی۔‘‘ (پاک بھارت تعلقات، ص ۲۸)
پاک بھارت تعلقات اور مسئلہ کشمیر
ڈاکٹرصاحب نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اختیار کی جانے والی حکمت عملی پر بھی تنقید کی اور ہمارے ہاں پائے جانے والے غالب لیکن جذباتی طرز فکر کے برعکس مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جنگ کے راستہ کو عملاً غیر موثر اور غیر نتیجہ خیز قرار دیا۔ فرماتے ہیں:
’’سب سے پہلے جنگ کو لیجیے جس کی آج کل بار بار دہائی دی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ فی الواقع اور خصوصاً بحالات موجودہ کوئی قابل عمل حل ہے؟ کیا ہم جنگی صلاحیت کے اعتبار سے بھارت کے مقابلے میں آج کی نسبت ۱۹۶۵ء میں کہیں زیادہ بہتر حالت میں نہیں تھے؟ پھر اگر اس وقت کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی تو آج اس کی کتنی امید کی جا سکتی ہے؟
مسلمانان کشمیر پر بھارت کی ننگی جارحیت اور بے پناہ ظلم وبربریت کے خلاف پاکستان کی جانب سے کھلم کھلا اعلان جنگ صرف اس صورت میں ہو سکتا تھا کہ ہمیں اپنے موقف کے مبنی برحق وانصاف ہونے کے ساتھ ساتھ سورۂ آل عمران کی آیت ۱۶۰ کے ان الفاظ مبارکہ کے مطابق کہ: ان ینصرکم اللہ فلا غالب لکم یعنی ’’اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا!‘‘ اللہ تعالیٰ کی نصرت وتائید کا یقین بھی حاصل ہوتا، جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم سودی معیشت کے نظام کو جاری رکھنے کے باعث خود ہی اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ برسر جنگ ہیں، لہٰذا فرمان نبوی ’فانی یستجاب لذالک‘ یعنی ’’ایسے شخص کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے؟‘‘ کے مطابق ہمیں اللہ کی نصرت وتائید کی امید کیسے ہو سکتی ہے!بنا بریں لے دے کر سارا معاملہ صرف مادی اسباب ووسائل کی کمیت اورکیفیت کا رہ جاتا ہے جس کا تقابلی جائزہ اور موازنہ آئے دن اخبارات کی زینت بنتا رہتا ہے۔‘‘
’’رہا مسلمانان کشمیر کا سرفروشانہ اور بے مثال جہاد حریت تو اس کے ضمن میں بھی جذبات سے ہٹ کر عقل سے کام لینے کی ضرورت ہے کہ کسی کھلم کھلا اور ٹھوس بیرونی امداد کے بغیر آخر وہ اسے حکومت پاکستان کی صرف اخلاقی اور سفارتی مدد اور بعض نجی اداروں کی جانب سے چوری چھپے اور وہ بھی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے بقدر، امداد کے بل پر کب تک جاری رکھ سکیں گے؟ واقعہ یہ ہے کہ اس معاملے میں بھی بہت سے حلقوں، بالخصوص مذہبی گروہوں کی جانب سے عوام کو بہت بڑے بڑے مغالطے دیے جا رہے ہیں۔ چنانچہ اولاً جہاد افغانستان کا حوالہ دیا جاتا ہے، حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ اس معاملے میں ایک سپر پاور کی کھلم کھلا، اعلانیہ اور فیصلہ کن مالی اور جنگی مدد حاصل تھی (جس کی بہتی گنگا میں خود پاکستان کے بہت سے مقتدر افراد اور مذہبی جماعتوں نے خوب خوب ہاتھ دھوئے) لہٰذا کشمیر کے معاملے میں افغانستان کا حوالہ قیاس مع الفارق کی حیثیت رکھتا ہے۔ ‘‘ (پاک بھارت تعلقات، ص ۳۶، ۳۷، ۳۸)
جنرل ضیاء الحق صاحب کے دور میں کشمیر میں خفیہ دراندازی کی جو پالیسی شروع کی گئی اور جسے بعد میں حالات کے جبر کے تحت بڑی حد تک ترک کر دینا پڑا، ا س کے نتائج ومضمرات پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے:
’’جس جہاد کو ہم چودہ سال سے سپانسر کر رہے تھے اور اسے جہاد فی سبیل اللہ قرار دے رہے تھے، اس سے بھی ہم نے ہاتھ اٹھا لیا۔ اس کا رد عمل کشمیریوں میں یہ ہوا ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نے ہم سے دھوکہ کیا ہے، اس نے ہم کو مروایا ہے۔ میں جہاد کے نام پر کشمیر میں خفیہ مداخلت کا ہمیشہ سے مخالف تھا۔ اب میں بڑی تلخ بات کہہ رہا ہوں کہ پاکستان نے کشمیریوں سے ۱۹۶۵ء کا بدلہ لیا ہے۔ پاکستان نے ۱۹۶۵ء میں اپنے بہترین کمانڈوز کو اس توقع پر کشمیر میں داخل کر دیا تھاکہ کشمیری مسلمان مدد کریں گے، لیکن کشمیریوں نے کوئی حمایت نہیں کی اور وہ تقریباً سارے کے سارے شہید ہو گئے۔ اس کے برعکس یہ ہواکہ بھارت پلٹ کر لاہور پر حملہ آور ہو گیا اور ہماری ساری کوشش ناکام ہو گئی۔ کشمیریوں کے جہاد حریت میں اگرچہ پاکستان سے بھی بہت سوں نے وہاں جا کر جانیں دی ہیں، لیکن مصائب کا اصل پہاڑ تو کشمیریوں پر ٹوٹتا رہا ہے۔ عصمت دری تو ان کی عورتوں اور بیٹیوں کی ہوئی ہے، انھی کے گھروں کو مسمار کیا گیا ہے، انھی کی آبادیاں تھیں جو تھوک کے حساب سے جلا دی گئیں اور انھی کی دکانیں ختم ہوئی ہیں۔ میرے نزدیک پاکستان نے کشمیریوں سے گویا ۱۹۶۵ء کا بدلہ لیا ہے، جبکہ انھوں نے پاکستان کی حمایت نہیں کی تھی۔‘‘ (پاکستان کے وجود کو لاحق خطرات وخدشات، ص ۳۳)
جہاد فی سبیل اللہ کی اصطلاح کا غلط استعمال
عالم اسلام کے طول وعرض میں مغرب اور مغرب زدہ حکمران طبقات کے تسلط سے نجات حاصل کرنے کے لیے ’جہاد‘ کی اصطلاح اپنی اثر انگیزی اور عملی افادیت کی وجہ سے بڑے پیمانے پر استعمال کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب نے اس سے بھی اختلاف کیا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں:
’’ایک دوسری چیز جس نے میرے نزدیک جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور پھر اس کی وجہ سے اصل بدنامی مسلمانوں کے حصے میں آئی ہے، یہ مغالطہ ہے کہ مسلمان جب بھی جنگ کرے، وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ اس غلط فہمی کے بدترین نتائج نکلے اور اس نے جہاد فی سبیل اللہ کی اصطلاح کو بری طرح بدنام کیا۔ ظاہر بات ہے کہ ہمارے دور ملوکیت میں بادشاہ جو جنگیں کرتے تھے، ان کا محرک ان کی ہوس ملک گیری ہوتی تھی تاکہ بڑے سے بڑے محل بنا سکیں اور زیادہ سے زیادہ محصولات (Revenues) اکٹھے ہو سکیں، لیکن ان جنگوں کو بھی جہاد فی سبیل اللہ کہا گیا۔ ظاہر ہے اس کے نتیجے میں اس مقدس اصطلاح کو تو بدنام ہونا ہی تھا۔
اس ضمن میں تازہ ترین مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ اسی (بیسویں) صدی کے وسط یعنی پچاس کی دہائی میں الجزائر میں فرانس سے آزادی کی جنگ لڑی جا رہی تھی۔ حصول آزادی کے لیے مسلمانوں کی جنگ ایک جائز جنگ ہے، مگر آزادی کی ہر جنگ جہاد فی سبیل اللہ نہیں ہے، لیکن الجزائر کی اس جنگ آزادی کو جہاد فی سبیل اللہ کا نام دے دیا گیا۔ .....اس ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کا نتیجہ کیا نکلا؟ جب وہ جہاد کامیاب ہو گیا تو وہاں ایک سوشلسٹ ریاست وجود میں آ گئی۔ عجیب بات ہے کہ جو درخت آم کا تھا، اس پر برگ وبار کسی اور شے کے آ گئے۔ درحقیقت وہ جنگ آزادی تھی، جہاد حریت تھا، جہاد فی سبیل اللہ نہیں تھا۔ چنانچہ کامیابی کی صورت میں وہاں کے ایلیٹ طبقہ کے اذہان، فکر اور نظریات کے مطابق نظام بن گیا۔
یہی حال ہمارے پڑوسی ملک افغانستان میں ہوا۔ افغانستان میں جو جنگ لڑی گئی، وہ بھی بنیادی طور پر جہاد حریت یعنی آزادی کی جنگ تھی۔ اس میں اصل زور اس وقت آیا جب روسی افواج افغانستان میں داخل ہو گئیں۔ اس موقع پر تمام علماء بھی اٹھ کھڑے ہوئے، اس لیے کہ ہمارے فقہی تصورات کی رو سے بھی کسی مسلمان ملک پر کسی غیر مسلم حکومت کی فوجیں حملہ آور ہو جائیں تو پھر دفاع فرض عین ہو جاتا ہے، لہٰذا اس جذبے سے سرشار ہو کر پوری قوم اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے کھڑی ہو گئی۔ ہم نے اس پر بھی جہاد فی سبیل اللہ کا لیبل دے دیا اور دنیا بھر میں اس کا ایسا ڈنکا بجا کہ جذبہ شہادت سے سرشار نوجوان پوری دنیا سے کھنچ کر چلے آئے۔ میں سمجھتا ہوں ان کے دل میں وہی جہاد فی سبیل اللہ کا جذبہ تھا، لیکن اس کی اصل کیفیت اور نوعیت تو جہاد حریت کی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ روسی افواج افغانستان سے نکل گئیں اور آپس میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ جہاد فی سبیل اللہ کا یہ نتیجہ کبھی نہیں ہو سکتا۔‘‘ (جہاد فی سبیل اللہ، ص ۶، ۷)
پر تشدد حکمت عملی کے مضرات
یہ بات نہیں کہ ڈاکٹر صاحب دینی مقاصد کے لیے قوت، زور بازو اور مسلح جدوجہد کے جواز کے قائل نہیں۔ وہ نہ صرف اس کے قائل بلکہ داعی ہیں، یہاں تک کہ انھوں نے اہل سنت کے ہاں پائے جانے والے اس عمومی تصور سے بھی اختلاف کیا ہے کہ مسلمان حکمرانوں کے خلاف مسلح بغاوت کسی حال میں جائز نہیں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ وہ مسلح جدوجہد کی کامیابی کے لیے مطلوبہ شرائط اور خاص طور پر ایسے کسی بھی اقدام کے عملی نتائج کو ملحوظ رکھنے کو بھی ضروری قرار دیتے ہیں اور اسی تناظر میں انھوں نے موجودہ حالات میں اس طریقے کو اختیار کرنے والے عناصر کی تائید نہیں کی۔ فرماتے ہیں:
’’مسلمانوں کے ایک خاص طبقے میں ایک خیال پیدا ہوا کہ ہمارا بھی تو ایک نظام ہے۔ یہ انگریز کا لایا ہوا بھی ایک نظام تھا، فرانسیسیوں کا دیا ہوا نظام بھی ایک نظام تھا اور ہمارا بھی ایک نظام ہے، ہم کیوں نہ اس کو نافذ کر دیں۔ یہ اصل میں اس آزادی کا ایک ثمرہ تھا کہ مسلمانوں میں ایک خود آگاہی پیدا ہوئی اور انھوں نے اسلام کو بطور ایک دن کے سمجھا، لہٰذا احیائی تحریکیں ابھریں۔ انڈونیشیا میں مسجومی پارٹی، انڈوپاک میں جماعت اسلامی، ایران میں فدائین، عرب دنیا میں الاخوان المسلمون جیسی تحریکیں ابھریں۔ یہ ساری تحریکیں اس لیے اٹھیں کہ اسلام دین ہے اور دین اپنا غلبہ چاہتا ہے، ہمیں دین کو غالب کرنا ہے۔
لیکن بعض عوامل کی وجہ سے ان تحریکوں کو آج تک کہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ .... ان مسلمان تحریکوں نے طریق کار غلط اختیار کیا۔ دنیا میں اسلام ایک نظام کی حیثیت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے برپا کیا تھا اور یہ دوبارہ برپا ہو سکتا ہے تو صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق ہو سکتا ہے۔ انھوں نے سمجھا وہ تو آؤٹ آف ڈیٹ ہے، پرانا ہے، لہٰذا الیکشن میں حصہ لے کر اس سے اسلام نافذ کریں گے۔ اس میں ناکامی ہوئی تو گولی چلانی شروع کر دی کہ فلاں فلاں کو مار دو۔ چنانچہ سادات کو قتل کر دیا گیا، سادات گیا تو حسنی مبارک آ کر براجمان ہو گیا (چند روز قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا کہ میرا دم گھٹ رہا ہے، میں چاہتا ہوں کہ پرویز مشرف کو قتل کر دوں۔ میں نے کہا تمہارا دماغ خراب ہے؟ تم ایک پرویز کو قتل کرو گے، کوئی اور پرویز آ کر بیٹھ جائے گا، فائدہ کیا ہوگا؟) تو کہاں تبدیلی ہوئی ہے؟ فوجی حکومت کے ذریعے سے کوئی تبدیلی ہوئی ہے؟ اس اعتبار سے اس غلط طریق کار نے ان تحریکوں کو کہیں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ ..... دینی تحریکوں کا طریق کار غلط ہے۔ انھوں نے ballot یا bullet کا راستہ اختیار کیا۔ یہ دونوں راستے غلط ہیں اور یکساں غلط ہیں۔‘‘ (موجودہ حالات میں اسلام کا مستقبل، ص ۳۳، ۳۴، ۳۵)
’’آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ طریق انقلاب واضح ہو جائے۔ آج مسلمانوں میں جذبے کی کمی نہیں ہے۔ ہزاروں لوگ جانیں دے رہے ہیں۔ اپنے جسموں سے بم باندھ کر اپنے جسموں کو اڑا رہے ہیں۔ کشمیر کے اندر جو جذبہ ابھرا، اسے پوری دنیا نے دیکھ لیا۔ کشمیریوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ تو لڑنے والی قوم ہے ہی نہیں، اب اس کے اندر جان پیدا ہو چکی ہے۔ پاکستان سے جا کر کتنے لوگوں نے وہاں پر جام شہادت نوش کر لیا۔ لیکن اسلامی انقلاب کا طریق کار یہ نہیں ہے۔ اس سے کہیں کامیابی نہیں ہوگی۔ اس طریقے سے آپ صرف اپنا غصہ نکال سکتے ہیں۔ آپ نے جا کر افریقہ میں امریکہ کے دو سفارت خانوں کو بم سے اڑا دیا، اس سے امریکی تو دس پندرہ مرے، جبکہ ۲۰۰ وہاں کے لوکل افریقی مر گئے۔ فائدہ کیا ہوا؟ بس یہی کہ آپ نے اپنا غصہ نکال لیا۔ تو ان طریقوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘‘ (ص ۳۱)
’’اگر ہم مشتعل ہو کر اسلحہ اٹھائیں تو کس کے خلاف اٹھائیں گے؟ بری افواج یا ایئر فورس کے خلاف؟ کیا ہماری ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان میں دو مرتبہ ایئر فورس استعمال نہیں کی؟ کیا ایئر فورس کے ذریعے سے حافظ الاسد نے ایک دن میں ہزاروں اخوان ختم نہیں کر دیے تھے اور ان کا مرکز بمباری کر کے تباہ وبرباد نہیں کر دیا تھا؟ تو آج مقابلہ بہت غیر مساوی (unequal) ہے۔ .... جنگ اگرچہ جائز ہے، لیکن موجودہ حالات میں عملاً ممکن نہیں ہے۔ آج کے مسلمان حکمرانوں کے خلاف یک طرفہ جنگ ہی موزوں لائحہ عمل ہے۔‘‘(ص ۲۹، ۳۰)
ان چند اقتباسات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب مرحوم غلبہ اسلام کے مقصد کے ساتھ ایک والہانہ وابستگی رکھنے کے باوجود اس ضمن میں کی جانے والی جدوجہد پر نقد ونظر کی ضرورت سے نہ صرف واقف تھے بلکہ اس پورے عمل پر مسلسل ناقدانہ نظر رکھے ہوئے تھے۔ ان کے ہاں احیاے اسلام صرف ایک جذباتی خواہش کا عنوان نہیں جو ان تحریکوں کی غیر حکیمانہ ترجیحات سے صرف نظر کرنے پر آمادہ کر دے، بلکہ وہ سمجھتے تھے کہ اسلام کے احیا اور امت مسلمہ میں فکری انقلاب کی دعوت لے کر اٹھنے والی یہ تمام تحریکیں بہرحال انسانی بصیرت اور اجتہاد ہی کی مرہون منت ہیں اور نتیجتاً ان تمام کمزوریوں اور نقائص کی زد میں ہیں جن سے انسانی فکر کبھی کلی طور پر مبرا نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کی تحریکوں کے ہاں فکری وعملی ترجیحات کے لحاظ سے Trial and error کے انداز کا ایک ارتقا پایا جاتا ہے اور شاید یہ کہنا درست ہوگا کہ منزل تو دور کی بات ہے، ابھی تک ان کے ہاں جادۂ منزل کی تعیین کے حوالے بھی مجموعی اعتبار سے کوئی یکسوئی نہیں پائی جاتی۔ کہیں ہدف کی تعیین میں غلطی ہو گئی ہے، کہیں موثر حکمت عملی وضع کرنے میں کوتاہی فکر مانع ہو گئی ہے، کہیں طول مسافت نے صبر وحوصلہ کا دامن ہاتھ سے چھڑوا دیا ہے اور کہیں پڑاؤ کے مقامات کو منزل یا منزل کا متبادل سمجھ کر وہیں ڈیرہ ڈال لیا گیا ہے۔ اس صورت حال کا ایک لازمی تقاضا یہ بنتا ہے کہ خود ان احیائی تحریکوں کے انداز فکر، ترجیحات، حکمت عملی اور کارکردگی کو کڑی تنقید کی کسوٹی پر مسلسل پرکھا جاتا رہے اور اس قافلے کو سوے منزل رواں دواں رکھنے کے لیے فکر تازہ کی حدی کسی انقطاع کے بغیر سنائی جاتی رہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کر کے دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں۔ اب یہ ان کے قائم کردہ حلقہ فکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ پورے شعور، بصیرت اور استقامت کے ساتھ اس روایت کے تسلسل کو قائم رکھے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بعض دوسری اصلاحی واحیائی تحریکوں کی طرح ایک فکری کیمپ کے ساتھ وابستگی کا احساس رفتہ رفتہ اتنا غالب آ جائے کہ حریت فکر اور خود تنقیدی کی جگہ سکوت واغماض لے لیں اور نقائص اور کمزوریوں کی جرات مندانہ نشان دہی کی جگہ پردہ پوشی بلکہ بعض صورتوں میں حمیت جاہلیہ کا رویہ پروان چڑھنے لگے۔ اللہم انصر من نصر دینک واجعلنا منہم واخذل من خذل دینک ولا تجعلنا معہم۔ آمین
اسلامی تحریکوں کی کارکردگی / برما کے مسلمانوں کی حالت زار / شام کا بحران
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
پاکستان شریعت کونسل ایک فکری و علمی فورم ہے جس میں نفاذ شریعت کے شعبے میں انتخابی سیاست سے ہٹ کر فکری و نظریاتی حوالے سے باہمی تبادلہ خیالات ہوتا ہے اور جو بات سمجھ میں آئے، اس کا علمی و عوامی حلقوں میں جب موقع ملے، اظہار کر دیا جاتا ہے۔ اس بار مدرسہ تعلیم القرآن، لنگرکسی بھوربن، مری میں امیر مرکزیہ مولانا فداء الرحمن درخواستی کی زیر صدارت ۱۶۔۱۷ جون ۲۰۱۲ء کو منعقد ہونے والے دو روزہ اجلاس میں مختلف مسائل زیر بحث آئے جن میں دو امور زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور ان پر ہونے والی بحث کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
پہلا مسئلہ تو مسلم ممالک میں نفاذ اسلام کی تحریکوں کے طریق کار کے بارے میں ہے اور دوسرا پاکستان میں قومی اداروں میں جاری کشمکش کا ہے جس کا سنجیدگی سے جائزہ لیا گیا اور ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام نے باہمی مشاورت کے ساتھ ان پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔
مسلم ممالک میں نفاذِ اسلام کی تحریکوں کو ایک عرصے سے اس صورت حال کا سامنا ہے کہ جو تحریکیں عسکری انداز میں ہتھیار اٹھا کر نفاذِ شریعت کا پروگرام رکھتی ہیں، انہیں نہ صرف اپنے ملک کی فوجی قوت کا سامنا ہے بلکہ عالمی سطح پر انہیں دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف کردار کشی کی مہم چلائی جاتی ہے اور ایک طرح سے پوری دنیا ان کے خلاف یک آواز ہو جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف وہ تحریکیں ہیں جو سیاسی انداز میں نفاذِ اسلام کے مقصد کی طرف آگے بڑھتی ہیں، جمہوری راستہ اختیار کرتی ہیں، رائے عامہ اور ووٹ کو ذریعہ بناتی ہیں اور عدمِ تشدد کے اصول پر پُر امن سیاسی جدوجہد کرتی ہیں۔ ان کی عوامی ، سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے نتائج کو مسترد کر دیا جاتا ہے اور مقتدر قوتیں مختلف حیلوں سے ان کے مقابل آکر ان کا راستہ روک دیتی ہیں۔ ایک عرصے سے یہ کھیل جاری ہے جس کی وجہ سے سیاسی اور جمہوری عمل پر سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے اور ان حلقوں کو تقویت مل رہی ہے جو نفاذ اسلام کے لیے سیاسی اور جمہوری جدوجہد کو کارِ لاحاصل سمجھتے ہیں اور عسکری جدوجہد کو نفاذ شریعت کا واحد جائز طریق کار قرار دے کر اس کے لیے مسلسل محنت بلکہ پیش رفت کر رہے ہیں۔
جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہم نے قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک نفاذِ اسلام کے لیے پُر امن سیاسی اور جمہوری جدوجہد کو ہی صحیح سمجھا ہے، ہمیشہ اسی کی حمایت کی ہے اور اب بھی پاکستان یا کسی بھی مسلم ممالک کے اندر نفاذِ اسلام کے لیے ہتھیار اٹھانے کو ہم درست عمل نہیں سمجھتے۔ لیکن جمہوری اور سیاسی عمل کے جمہوری اور سیاسی نتائج کو جس بے دردی کے ساتھ کچلا جا رہا ہے، اس کے باعث ہمارے لیے اب سیاسی اور جمہوری عمل کی حمایت اور دفاع مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دو عشرے قبل الجزائر میں دینی جماعتوں کے اتحاد اسلامک سالویشن فرنٹ نے عوامی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مبینہ طور پر ۸۰ فی صد ووٹ حاصل کیے تو فوج سامنے آگئی، الیکشن کے نتائج کو مسترد کر دیا گیا اور دوسرے مرحلے کو منسوخ کر دیا گیا جس کے رد عمل میں بہت سے مذہبی حلقوں نے ہتھیار اٹھا لیے۔ اس ہتھیار اٹھانے کے مسئلے پر ان کے درمیان بھی اختلافات پیدا ہوگئے یا کر دیے گئے، ملک میں تکفیر یعنی ایک دوسرے کو کافر قرار دینے اور باہمی قتل و قتال کا بازار گرم ہوگیا جو کم و بیش دس سال جاری رہا اور اس میں مجموعی طور پر ایک لاکھ کے لگ بھگ افراد قتل ہوئے۔
گزشتہ دنوں کویت میں عام انتخابات کے دوران دینی جماعتوں کے اتحاد نے عوامی ووٹوں کے ذریعے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کی اور پارلیمنٹ کے ذریعے قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دیا گیا تو اسے بادشاہت کے اختیار سے مسترد کر دیا گیا، جبکہ مصر کی قومی اسمبلی میں اخوان المسلمین اور سلفی جماعتوں نے اکثریت حاصل کی تو سپریم کورٹ نے انتخابات کو غیر قانونی قرار دے کر عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیا۔ ادھر پاکستان کی صورت حال یہ ہے کہ دستوری طور پر قرآن و سنت کی بالادستی تسلیم کی گئی ہے، پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کا پابند قرار دیا گیا اور اسلام کو ریاستی مذہب تسلیم کیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود قرآن و سنت کے احکام و قوانین کو ملک میں نفاذ کا راستہ نہیں دیا جا رہا اور مقتدر قوتیں نہ صرف متحد ہو کر نفاذِ اسلام میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں بلکہ جو چند قوانین عوامی دباؤ کے باعث نافذ کرنا پڑے ہیں، حیلوں بہانوں سے انہیں بھی منسوخ یا کم از کم غیر موثر بنانے کی مہم ہر وقت جاری رہتی ہے۔
پاکستان شریعت کونسل کی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں اس بات کو محسوس کیا گیا کہ پاکستان کے مقتدر حلقوں کا ایجنڈا بھی (خاکم بدہن) یہی نظر آرہا ہے کہ نفاذِ اسلام کے جمہوری اور سیاسی راستوں کو مسدود کر کے ان کا اعتماد ختم کیا جائے اور الجزائر کی طرح پاکستان کے دینی حلقوں کو بھی تشدد، تکفیر اور خانہ جنگی کی دلدل کی طرف زبردستی دھکیلا جائے تاکہ الجزائر والا کھیل پاکستان میں بھی کھیلا جا سکے۔ اس لیے پاکستان شریعت کونسل نے اس صورت حال کو انتہائی تشویشناک اور اضطراب انگیز قرار دیتے ہوئے ملک کے تمام مکاتب فکر کے علمی حلقوں، دینی مراکز اور سیاسی قیادت سے اپیل کی ہے کہ وہ مستقبل کے ان خطرات و خدشات کے سدباب کے لیے باہمی مشاورت کے ساتھ قوم کی علمی و فکری رہنمائی کا اہتمام کریں۔
پاکستان میں داخلی طور پر قومی اداروں کے درمیان جاری کشمکش کے بارے میں پاکستان شریعت کونسل کی رائے ہے کہ یہ دستورِ پاکستان میں قرآن و سنت کی بالادستی کو عملاً نظر انداز کر دینے کا منطقی نتیجہ ہے کہ دستور نے جس کو بالادست اور بالاتر قرار دیا ہے، اس کی بالادستی کے سامنے سرنڈر ہونے کی بجائے قومی ادارے ایک دوسرے پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی فکر میں الجھے ہوئے ہیں۔ اگر قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ اور قرآن و سنت کی بالادستی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے قومی پالیسیوں کو اس دائرے میں مرتب کیا جاتا، خلفائے راشدین کے طرزِ حکومت کو اپنایا جاتا اور معاشرت و معیشت کی اسلامی روایات کو فروغ دیا جاتا تو نہ کرپشن کا عفریت کھڑا ہوتا، نہ طبقاتی کشمکش اور گروہی بالادستی کی جنگ کا مکروہ منظر دکھائی دیتا اور نہ ہی قومی اداروں میں بالاتری کی یہ کشمکش سامنے آتی۔ یہ سب کچھ پاکستان کے نظریاتی بنیادوں، اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ اور قرآن و سنت کی بالادستی سے انحراف اور روگردانی کا نتیجہ ہے اور آج بھی اس دلدل سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ قرآن و سنت کی بالادستی کو عملاً تسلیم کیا جائے اور خلافتِ راشدہ کی طرز کی فلاحی ریاست کو اپنی منزل قرار دے کر خلفائے راشدینؓ کے طرزِ حکومت کو اپنایا جائے۔
برما کے مسلمانوں کی حالت زار
برما جسے اب سرکاری طور پر ’’میانمار‘‘ کہا جاتا ہے، بدھ اکثریت کا ملک ہے جو بنگلہ دیش کے پڑوس میں واقع ہے اور طویل عرصہ تک متحدہ ہندوستان کا حصہ رہا ہے۔ برطانوی استعمار نے اسے ایک الگ ملک کی حیثیت دی تھی، جبکہ اراکان مسلم اکثریت کا علاقہ ہے جو صدیوں تک ایک آزاد مسلم ریاست کے طو رپر اس خطے کی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بنگلہ دیش کا ساحلی شہر چٹا گانگ بھی ایک زمانے میں اراکان میں شامل تھا مگر نوآبادیاتی دور میں برطانوی استعمار نے چٹا گانگ کو بنگال میں اور اراکان کو برما میں شامل کر دیا جس سے اراکان کا یہ علاقہ جو مسلم اکثریت کا خطہ ہے، بودھ اکثریت کے ملک برما کا حصہ بن گیا۔ تب سے اس علاقہ کے مسلمان بودھ اکثریت کے متعصبانہ رویے کے ساتھ ساتھ ریاستی جبر کا شکار بھی چلے آ رہے ہیں او ربہت سے مسلمان گروپ مسلم اکثریتی علاقہ ختم ہونے کے بعد اراکان کی آزادی جدوجہد میں بھی مصروف چلے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مسلم اکثریت کا علاقہ ہے او رماضی میں ایک آزاد ریاست رہا ہے، اس لیے آزادی اس کا حق ہے، لیکن عالمی سطح پر ان کے اس موقف اور مطالبہ کو توجہ حاصل نہیں ہو رہی، بلکہ ان پر ریاستی جبر اور بودھ انتہا پسندوں کے مظالم میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس سے قبل مختلف مراحل میں اس قسم کے جبر اور مظالم سے تنگ آ کر وہ اپنے پڑوسی ملک بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں پناہ لے چکے ہیں اور پاکستان میں بھی برمی مہاجرین کی ایک خاصی تعداد موجود ہے۔
انسانی حقوق کے عالمی ادارے خاموشی کے ساتھ اس سارے منظر کو دیکھ رہے ہیں اور مسلم ممالک بھی ’’ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم‘‘ کی تصویر بنے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ انھیں برما میں بسنے والے مسلمانوں کی طرف سے بھی وہ رسمی اور ظاہری حمایت حاصل نہیں ہے جس کی وہ ان سے توقع رکھتے ہیں۔ ان حوالوں سے اراکان کی صورت حال مقبوضہ کشمیر سے ملتی جلتی ہے۔ البتہ دو باتوں کا فرق ہے۔ ایک یہ کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو کسی نہ کسی درجے میں ووٹ دینے اور اقتدار میں برائے نام شرکت کا حق ہے، مگر اراکان کے مسلمانوں کو یہ سہولت میسر نہیں ہے اور دوسری یہ کہ مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کو پڑوسی مسلمان ملک پاکستان کی حمایت اور سرپرستی میسر ہے، جبکہ اراکان کا پڑوسی ملک بنگلہ دیش اراکانی مہاجرین کو پناہ دینے اور پناہ گزین کے طور پر ان کی امداد کرنے سے زیادہ اس سلسلے میں کسی مزید پیش رفت کے موڈ میں نہیں ہے جس سے اراکانی مسلمانوں کی بے بسی دوچند ہو گئی ہے۔
اس حوالے سے اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ اراکانی مسلمانوں کا یہ مسئلہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے، مسلم حکومتوں کو اس طرف متوجہ کیا جائے کہ وہ اس مسئلہ کے حل کے لیے موثر کردار ادا کریں اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو احساس دلایا جائے کہ اراکان کے مسلمانوں کا ’’ماگ‘‘ جیسی دہشت گرد فورسز کے مظالم کا شکار ہونا بھی انسانی حقوق کی پامالی کا مسئلہ ہے اور ان مظلوموں کو اس جبر وتشدد سے بچانا بھی انسانی حقوق کے تحفظ کا تقاضا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ عالمی سیکولر حلقوں کی امداد سے چلنے والی این جی اوز کو تو اس مسئلے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، لیکن کیا پاکستان اور بنگلہ دیش کی دینی جماعتیں بھی اس سلسلے میں کوئی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں؟
شام کا بحران
شام کا بحران دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے اور ان سطور کی اشاعت تک اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ شاید سامنے آ چکا ہو، مگر اب تک کی صورت حال کے پیش نظر یہ گزارش ہے کہ شام کی صورت حال کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ عرب ممالک میں آمر اور مطلق العنان حکمرانوں کے خلاف عوامی احتجاج کی لہر تیونس، لیبیا اور مصر کے بعد شام میں بھی اپنی جولانیاں دکھا رہی ہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر ہے جو بشار الاسد کی حکومت کے جبر اور تشدد کا شکار ہے اور سیکڑوں شامی شہری اس میں جاں بحق ہو چکے ہیں، لیکن اس کا ایک مذہبی پہلو ہے جس نے اس بحران کی شدت کو مزید دو آتشہ کر دیا ہے۔ وہ یہ کہ شام کے صدر بشار الاسد اور فوجی قیادت کی اکثریت کا تعلق نصیری فرقہ سے ہے جو اہل تشیع میں بھی انتہاپسند گروہ شمار ہوتا ہے اور جس کا عقیدہ یہ بتایا جاتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ خود خدا تھے جو انسانی شکل میں دنیا میں چند روز کے لیے تشریف لائے تھے۔ ہمیں اس سے غرض نہیں کہ ان کے عقائد کیا ہیں، البتہ ا س بحران کے تاریخی پس منظر کی وضاحت کے لیے یہ ذکر شاید نامناسب نہیں ہوگا کہ بشار الاسد کے والد حافظ الاسد کے دور حکومت میں بھی اب سے ربع صدی قبل یہ سانحہ پیش آیا تھا کہ اہل سنت کے مذہبی مرکز ’’حماۃ‘‘ کو ایک مرحلے میں بلڈوز کر دیا گیا تھا، کم وبیش دس ہزار علماء کرام اور کارکنوں نے اس سانحے میں جام شہادت نوش کیا تھا اور بہت سے علماء کرام جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گئے تھے جن میں ہمارے استاذ محترم الاستاذ عبد الفتاح ابو غدۃ رحمہ اللہ تعالیٰ بھی شامل ہیں جو اس وقت اخوان المسلمون شام کے رئیس تھے اور جلاوطن ہو کر سعودی عرب آ گئے تھے۔ اب بھی عوامی مظاہرین اور ان پر تشدد کرنے والی سرکاری فورسز کی تقسیم کا منظر یہی بیان کیا جاتا ہے اور گزشتہ روز جدہ میں ایئر پورٹ کے قریب مسجد عائشہؓ میں نماز مغرب کے دوران امام محترم سے شامی حکمرانوں کے خلاف ’’قنوت نازلہ‘‘ سن کر ہمیں اس پہلو کی شدت کا اندازہ ہوا۔ بہرحال ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے شامی بھائیوں کو اس بحران میں سرخ روئی اور کامیابی سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’تعلیقات فی تفسیر القرآن الکریم‘‘
مصنف: مولانا حمید الدین فراہیؒ
ترتیب: ڈاکٹر عبید اللہ فراہی
صفحات: جلد اوّل ۴۵۰، جلد دوم، ۵۱۴
ناشر: دائرہ حمیدیہ، مدرسہ الاصلاح، سرائے میر، اعظم گڑھ، یو۔پی، انڈیا
قرآن کریم فرقان حمید اپنے نزول کے وقت ہی سے امت کے عالی دماغ جہابذہ کی فکری تگ وتاز کا مرکز رہا ہے۔ حبر الامت ابن عباس سے لیکر اس وقت تک ان گنت طالبین قرآن نے اپنے نتائج فکر امت کے سامنے رکھے لیکن لا تنقضی عجائبہ کے مصداق
ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لو لوئے لالا
قرون متاخرہ میں برعظیم پاک وہند میں جو رجالِ دین پیدا ہوئے، انہوں نے بجا طور پر متقدمین کی یاد تازہ کر دی۔ انہی شخصیات میں ایک مولانا حمید الدین فراہی ہیں جنہوں نے عمر عزیز کا ایک طویل عرصہ یکسوئی کے ساتھ تدبر قرآن میں گزارا، اس کے مطالعہ کے براہ راست طریقہ کی استعداد بہم پہنچائی اور یوں بیسویں صدی کے تفسیری رجحانات میں فراہی سکول کی مساعی ایک روشن باب ہے۔ اس سکول کے طریقہ کار اور افکار ونظریات سے یقیناًاختلاف ہو سکتا ہے، لیکن خصوصاً قرآن فہمی کے سلسلہ میں اس کی جہود قابل قدر ہیں اور اس نے تدبر قرآن کے نئے آفاق وا کیے ہیں۔
مولانا فراہی نے قرآن کی تفسیر ’نظام القرآن‘ شروع کی تھی لیکن کچھ مختصر سورتوں اور سورہ بقرہ کی نامکمل تفسیر کے علاوہ وہ مزید نہ لکھ سکے اور یوں یہ عظیم کام (ان کے دیگر بہت سے کاموں کی طرح) تشنہ تکمیل رہ گیا۔ مولانا فراہی کی مذکورہ تفسیر کے علاوہ ان کا ایک قابل قدر کام یہ ہے کہ وہ تدبر قرآن کے دوران مصحف کے حاشیہ پر اپنے نتائج افکار، اشارات کی شکل میں نوٹ کرتے رہے ہیں۔ مولانا امین احسن اصلاحی جب پاکستان آئے تو یہ مصحف اپنے ساتھ لے آئے تھے اور ان کی اور باقی کام کی معاونت سے اپنی مشہور تفسیر ’تدبر قرآن‘ لکھی۔ مولانا فراہی کے مذکورہ حواشی ہنوز منتظر طباعت ہیں اور پاکستان میں فکر فراہی کے علمبردار ادارہ ’المورد‘ میں ان کی کمپوزنگ اور تحقیق و تعلیق کا کام ہو رہا ہے اور مستقبل قریب میں ان کی اشاعت کی امید ہے۔
مولانا فراہی کے دوسرے نامور شاگرد مولانا اختر احسن اصلاحی نے اسی مصحف کے حواشی کو اپنے قلم سے نقل کیا تھا۔ ’دائرہ حمیدیہ‘ (انڈیا) کے رفیق ڈاکٹر عبید اللہ فراہی نے ان کو مرتب کیا اور محمد امانت اللہ اصلاحی کی نظرثانی کے بعد یہ گزشتہ سال (۲۰۱۰ء) زیورِ طباعت سے آراستہ ہوئے۔ تاہم یہ کہنا ابھی از وقت ہوگا کہ یہ نقل کس حد تک مطابق اصل ہے جب تک مولانا فراہی کا وہ اصل نسخہ طبع نہ ہو جائے جس کا ذکر سطور بالا میں ہوا، کیونکہ ’المورد‘ کے بعض رفقاء سے یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ مولانا اختر احسن کے حواشی میں ان کے ذاتی نوٹس بھی ہیں جو انہوں نے مولانا فراہی کے دروس کے دوران قلمبند کیے تھے۔
مولانا فراہی کے ہاں چونکہ نظم قرآن کے تصور کو فہم قرآن میں کلیدی حیثیت حاصل ہے، اس لیے ان تعلیقات میں سورتوں کے داخلی نظم اور سورتوں کی باہم دگر مناسبات سے بھرپور تعرض کیا گیا ہے،سورۃ فاتحہ کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’فہذہ سورۃ الشکر و البقرہ سورۃ الإیمان‘ (۱/۱۰)
اس سورت کا موضوع ’شکر‘ اور بقرہ کا ’ایمان‘ ہے۔
سورۃ بقرہ کے تحت لکھا ہے:
سورۃ الایمان المطلوب وھو الإیمان ببعثۃ محمدﷺ فجمعت دلائلہا (۱/۱۴)
اس سورت کا موضوع وہ ایمان ہے جو مطلوب ہے اور وہ ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر ایمان چنانچہ یہ سورت اس کے دلائل کی جامع ہے۔
داخلی نظمِ سورت کے تعین کے لیے سورت کو مختلف پیراگرفوں میں تقسیم کی طرف اشارات بھی ملتے ہیں۔
سورۃ بقرہ کے تحت مرقوم ہے۔
(۱۔۱۵۱) تمہید الشرائع۔
(۱۵۲۔۲۸۶) الشرائع من الذکر۔۔۔ وادآء الأمانۃ۔ (۱/۴۴۔۲۵)
آیات ۱ سے ۱۵۱ شرعی احکام کی تمہید پر مشتمل ہے اور ۱۵۲ سے ۲۸۶ میں ان احکام (ذکر۔۔۔ ادا ء امانت) کی تفصیل ہے۔ یہ تعداد میں چالیس ہیں۔(۱/۲۵)
ان احکام اور ان کی تمہید کو سورت کے عمود (بعثت محمدیﷺ)سے بہت خوبصورت انداز میں یہ کہ کر مربوط کیا گیا ہے کہ یہ اصل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کا جواب ہے جس میں انہوں نے ایک رسول کی بعثت کا سوال کیا تھا جو لوگوں پر تلاوت آیات کرے، انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے(بقرہ: ۱۲۹) غور کیا جائے تو ان چالیس احکام میں ان امور کا احاطہ ہوتا نظر آتا ہے۔ سورہ بقرہ کی مذکورہ بالا عمومی تقسیم کے بعد اس کو مزید مختلف حصوں میں بھی موضوعات کی مناسبت سے تقسیم کیا گیا ہے۔
قرآن کریم کے بہت سے مفردات کے حوالہ سے مولانا فراہی کی رائے عام مفسرین سے ہٹ کر تھی اور ان کے معنی کی تعیین کے بارے میں وہ اپنی منفرد رائے رکھتے تھے جس کی بنیا دکلام عرب کے استعمالات پر تھی۔ اپنے اس نقطہ نظر کی وضاحت انہوں نے اپنی ناتمام تصنیف ’مفردات القرآن‘ میں کی ہے۔ ’’تعلیقات‘ میں بھی اس پہلو پر اشارات ملتے ہیں۔ مثلاً ’’قرآن کریم‘‘ میں ایک لفظ ہے: آلآء جس کا معنی تقریباً سبھی مفسرین نے نعمتوں سے کیا ہے۔ مولانا فراہی نے اس معنی کو لینے سے انکار کیا ہے، فرماتے ہیں: آلاَ اللّٰہ، شؤونہ العجیبۃ من لطفہ وبطشہٖ، وترجمتہ فی الفارسیۃ: ’کرشمۂ ایزدی‘ (۲/۳۰۳) ’’آلآء اللّٰہ سے مراد اللہ کی رحمت و عذاب کی وہ بوقلموں نیرنگیاں، ہیں جن کو فارسی میں ’کرشمۂ ایزدی‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔‘‘ اس معنی کو مراد لینے کے لئے انہوں نے کلام عرب سے اجدع ہمدانی کے ایک شعر کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور نعمتوں والے معنی کو مذکورہ معنی کا لازمی معنی قرار دیا ہے۔(۲/۳۰۴)
’تعلیقات‘ میں کئی جگہ پر کسی آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال اور مولانا فراہی کے ہاں راجح قول کی تعیین ملتی ہے۔ اس ترجیح کی بنیاد عام طور پر قرآن کے سیاق اس کے نظائر وشواہد اور کلام عرب پر ہوتی ہے۔
سورہ قلم میں ارشاد ہے: ’یوم یکشف عن ساق ویدعون الی السجود فلا یستطیعون‘ (القلم: ۴۲)
کشف ساق کی مولانا فراہی نے دو تاویلیں ذکر کی ہیں۔
اوّل: لوگوں کا روز محشر مقام وقوف کی طرف دوڑنا
دوم: نار جہنم کا اہل دوزخ کی پنڈلیوں کے گوشت کو جلا کر بھسم کر دینا کہ ہڈیاں ظاہر ہو جائیں۔
مولانا فراہی نے پہلی تاویل کو لیا ہے اور اس کی بنیاد سیاق اور ذوالرمہ کے ایک شعر پر رکھی ہے۔ (۲ /۳۷۔۳۷۸)
(آیات کی تاویل کے ضمن میں کہیں کہیں سابقہ مفسرین کی آراء کا رد بھی ملتا ہے۔(۲؍۳۲۹)
مولانا فراہی کی قرآنی بلاغت پر بہت گہری نظر تھی، اس مقصد کے لئے انہوں نے ’جمہرۃ البلاغہ‘ تصنیف کی، جس میں جرجانی اور سکاکی کے اسلوب بلاغت کو یونانی اصول بلاغت سے ماخوذ مان کر اس پر تنقید کی ہے۔ مولانا فراہی کے تفسیری افادات میں بلاغت قرآن سے جابجا تعرض کیا گیا ہے۔
نحوکے مسائل سے تعرض بھی جابجا دیکھنے میں آتا ہے۔(مثلاً دیکھئے :۲؍۳۳۰۔۳۳۲)
غرض کہ مولانا فراہی کے پیش نظر جتنے بھی اصول تفسیر ہیں ان سے ان تعلیقات میں استمداد کیا گیا ہے اور قرآن کے فہم کے لئے جو داخل اور خارجی وسائل ہیں ان سے بھرپور رہنمائی کی جھلک ان میں آگئی ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’تفسیر نظام القرآن‘ کے تشنہ وتکمیل رہ جانے کی جو کمی تھی ان تعلیقات نے بڑی حد تک اس کا مداوا کیا ہے۔
آخر میں ایک بات کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان حواشی کی اشاعت سے پہلے بظاہر یہ گمان ہوتا تھا کہ مولانا اصلاحی نے ’تدبر قرآن‘ میں جو نتیجہ فکر پیش کیا ہے اس میں بہت سے امور میں، جن میں ان کے سامنے مولانا فراہی کی طرف سے کوئی تحریری نمونہ موجود نہ تھا (مثلاً ان کی مطبوعہ تفسیر کے اجزاء میں مدنی سورتوں کے نظام (جو کہ سورتوں کی طوالت اور مضامین کے تنوع کی وجہ سے بہت پیچیدہ اور دشوار ہے) کا کوئی واضح خاکہ نہیں ملتا) یہ احساس ہوتا ہے کہ ان سورتوں میں نظام کی دریافت میں اصالت کا سہرا مولانا اصلاحی کے سر بندھتا ہے۔ ڈاکٹر مستنصرمیر کی کتاب "Coherence in the Quran"سے یہی تاثر ملتا ہے، لیکن ان تعلیقات کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ مولانا اصلاحی نے مدنی سورتوں کے نظام کی تعیین میں فقط فراہی اصول وکلیات پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ عملی تطبیق میں بھی حواشی کے ذخیرہ سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔ انہوں نے اگرچہ اس کی صراحت کہیں نہیں کی تاہم انہوں نے مقدمہ تفسیر میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ انہوں نے تمام عمر استاد کے سر سے ہی اپنا سر ملانے کی کوشش کی ہے۔ (اس مسئلہ کی مکمل تفصیل کے لیے ایاز احمد اصلاحی ؒ کا تصور نظم قرآن اور امام فراہیؒ (دیکھئے: مطبوعہ ششماہی علوم، خصوصی اشاعت، ’’قرآن علوم بیسویں صدی میں‘‘ سیمینار نمبر)
’دائرہ حمیدیہ‘ نے تعلیقات کو عرب دنیا کی کتابوں کے معیار پر طبع کیا ہے۔جلد بندی مضبوط اور کاغذ عمدہ ہے۔ پروف کو باریکی سے دیکھا گیا ہے جس کی وجہ سے مخطوط کی پہلی ہی اشاعت غلطیوں سے مبرا ہے۔ قرآنیات کا شغف رکھنے والوں کے لیے یہ ایک بہترین تحفہ ہے۔ پاکستان میں اس کو جناب سجاد الٰہی لاہور (0300-4682752) سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
(تبصرہ: سید متین احمد شاہ)
’’جہاد۔کلاسیکی وعصری تناظر میں‘‘ (ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی اشاعت خاص)
موجودہ عالمی حالات، بالخصوص امریکا کی سربراہی میں نیٹو افواج کے افغانستان پر حملہ کرنے کے بعد اسلام کا تصور جہاد علمی، تحقیقی اور دینی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ بقول مدیر الشریعہ برادر عزیز مولانا محمد عمار خان ناصر سلمہ اس بحث کے تین پہلو بہت نمایاں اور اہم ہیں:
۱۔ اسلام میں جہاد کا اصولی تصور اور اس کی وجہ جواز کیا ہے اور عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور عہد صحابہ رضی اللہ عنہم میں مسلمانوں نے جو جنگیں لڑیں، ان کی حقیقی نوعیت کیا تھی؟ امت مسلمہ کے لیے دنیا کی غیر مسلم قوموں کے ساتھ باہمی تعلقات کی اساس کیا ہے؟
۲۔ جہاد و قتال کی عملی شرائط اور اخلاقی حدود وقیود کیا ہیں؟ مسلمانوں کا کوئی بھی گروہ جہاد کا فیصلہ کر سکتا ہے یا یہ فیصلہ مسلم معاشرے کی اجتماعی دانش اور ارباب حل وعقد کو کرنا چاہیے؟
۳۔ موجودہ مسلم ریاستوں کی شرعی وقانونی حیثیت کیا ہے؟ اور ان ریاستوں میں قائم نظام اطاعت کی پابندی کس حد تک ضروری ہے؟ بالخصوص یہ کہ مسلم ریاستوں کا موجودہ سیاسی نظام اگر شریعت کی بالادستی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو رہا ہو اور پرامن ذرائع سے اس میں خاطر خواہ تبدیلی کے امکانات بظاہر دکھائی نہ دیتے ہوں تو اس صورت حال میں مسلح جدوجہد کے ذریعے ریاستی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کا کس حد تک جواز، امکان اور ضرورت ہے؟
’’الشریعہ‘‘ کی مذکورہ اشاعت خاص میں مذکورہ بالا نکات کے اہم ترین گوشوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ موضوع کی ضرورت، اہمیت، افادیت اور نزاکت کا لحاظ رکھتے ہوئے بلاشبہ یہ ایک گراں قدر، لائق تحسین اور قابل داد کاوش ہے۔ بالخصوص مولانا محمد یحییٰ نعمانی (لکھنؤ)، برادر عزیز محمد عمار خان ناصر، حضرت مولانا زاہد الراشدی، مولانا مفتی محمد زاہد، جناب زاہد صدیق مغل، جناب محمد رشید اور جناب محمد مشتاق احمد نے موضوع سے متعلق اہم سوالات کے جواب تحقیقی وعلمی انداز میں دیے ہیں۔
ہماری ناچیز رائے میں عوام میں سے اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے اس اشاعت کا مطالعہ ’’فرض کفایہ‘‘ ہے، لیکن اہل علم بالخصوص نوجوان فضلاء ومدرسین کے لیے اس کا مطالعہ ’’فرض عین‘‘ ہے۔ اس کے بغیر وہ خطے میں برپا جنگ کی حقیقت، نوعیت اور ضرورت کو نہیں سمجھ سکتے۔ الشریعہ اکیڈمی ’’جہاد‘‘ سے متعلق اس سنجیدہ علمی وتحقیقی کاوش پر مبارکبار کی مستحق ہے۔
(تبصرہ نگار: مولانا محمد ازہر۔ بشکریہ ماہنامہ ’’الخیر‘‘ ملتان)
گود سے گور تک ایک ہی نسخہ
حکیم محمد عمران مغل
طب مشرق میں جہاں اور بہت سی خوبیاں ہیں، وہاں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ کسی دواکی مقدار کو کئی گرام تک دیتے ہیں تو ایک خشخاش کے برابر مقدار بھی، جسے عرف عام میں ’’ککھ‘‘ کہا جاتا ہے۱ اثر کر جاتی ہے۔ یہ ’’ککھ‘‘ اصل میں کشتہ سازی کا فن ہے۔ ا س کا مطلب ہے کہ دوا کو حکمت کی رو سے اتنا لطیف اور باریک کیا جائے کہ ایک خشخاش کے برابر آپ کے خون میں شامل ہو کر آپ کو ہلا کر رکھ دے۔ اطبا نے دوا کے زہریلے اثرات کو محسوس کرتے ہوئے اور دودھ پیتے بچے کو بھی کھلانے کے لیے نہایت عقل مندی کا مظاہرہ کیا ہے اور ایسا طریقہ اختیار کیا ہے کہ تمام پیچیدہ امراض کو انسانی جسم کے کے نزدیک بھی نہ آنے دیا جائے اور گود سے گور تک ایک ہی نسخہ استعمال کیا جائے، جو مجرب بھی ہو اور سستا بھی۔ یہ عمل اختیار کرنے سے شوگر، گردوں کا فیل ہونا، کینسر، دل کا اٹیک، تھکاوٹ ، ہڈیوں کے امراض، وقت سے پہلے بڑھاپا، جگر کی خرابی، بلڈ پریشر، الغرض آج کے دور کے وہ تمام امراض جن سے ایک دنیا تڑپ رہی ہے اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہی ہے، یہ امراض انسان کے نزدیک بھی نہیں آئیں گے۔ ان شاء اللہ
آپ اب تک اس راز سے واقف نہ ہوں تو کسی بزرگ معالج سے دریافت فرما لیں کہ جونہی کسی کو گردے کے درد سے تکلیف ہوتی، پرانے اطباء اسے تانبے کا ایک ٹکڑا دیتے تھے کہ اسے منہ میں رکھ کر چوسو۔ تھوڑی دیر میں گردے کا درد آناً فاناً ختم ہو جاتا، اس لیے کہ گردے میں سارا تانبہ ہوتا ہے۔ اس عمل سے اولاد کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے۔
تانبے کے برتنوں کو ہفتہ وار قلعی کروائیں۔ پکاتے وقت چمچے یا کھونچہ خوب رگڑیں کہ قلعی کے ساتھ تانبہ بھی رگڑ کھا کر پکنے والی خوراک میں شامل ہوتا جائے ۔ کسی زمانے میں کانسی کے برتن یا تانبے کے برتن اسی لیے بنائے جاتے تھے کہ چمچے کی رگڑ سے تانبہ اور قلعی کھانے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس سے ساری زندگی گردوں کا فیل ہونا اور شوگر جیسی بیماری نہیں لگتی تھی۔ بھرت بھی انھی اشیا کے مجموعے سے بنتی تھی۔ آج یہ طریقہ ناپید کر دیا گیا ہے اور بلڈ پریشر اور دل کا دورہ عام ہو چکا ہے۔ پلاسٹک اور سلور کے برتن مذکورہ امراض کو جنم دے رہے ہیں۔
اگر گھر میں تانبے کے برتن نہ ہوں تو مٹی کے برتن استعمال کریں۔ اس سے بھی مذکورہ امراض سے ان شاء اللہ حفاظت رہے گی۔