اپریل ۲۰۱۲ء

حکیم الاسلام قاری محمد طیبؒ ۔ چند تاثراتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
’’کچھ تو سمجھے خدا کرے کوئی‘‘ (۲)مولانا محمد بدر عالم 
میری علمی و مطالعاتی زندگیڈاکٹر طاہر مسعود 
رخصتی کے وقت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمرمحمد عمار خان ناصر 
مکاتیبادارہ 
سیمینار: ’’سرکاری تعلیمی اداروں میں قرآن مجید کی تعلیم‘‘ادارہ 
صحت کی بحالی کے لیے کم خرچ بالا نشیں عاداتحکیم محمد عمران مغل 

حکیم الاسلام قاری محمد طیبؒ ۔ چند تاثرات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قدس اللہ سرہ العزیز کی زیارت میں نے طالب علمی کے دور میں پہلی بار کی۔ سن یاد نہیں، لیکن اتنا ذہن میں ہے کہ انار کلی لاہور میں جلسہ عام تھا ،میرا بچپن اورلڑکپن کا درمیان کا زمانہ تھا،والد محترم شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم جلسہ سننے کے لیے گوجرانوالہ سے لاہورگئے تو مجھے ساتھ لے گئے۔ انار کلی بازار میں بہت بڑا اجتماع تھا اور حضرت قاری صاحب نورّ اللہ مرقدہ نے اس سے خطاب فرمایا۔ خطاب کے مشتملات ذہن میں نہیں ہیں اورنہ ہی میں اس وقت عمر کے اس مرحلہ میں تھا کہ تقریر کے موضوع اور مواد کو ذہن میں محفوظ کرسکتا، البتہ حضرت قاری صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کا چہرہ، جلسے کا ماحول اور اسٹیج کی بعض جھلکیاں اب بھی ذہن کی سکرین پر جھلملا رہی ہیں۔اس کے بعد یاد نہیں کہ کتنی بار دیکھا اور کہاں کہاں زیارت سے فیض یاب ہوا، مگر دو مواقع کی یاد ذہن میں ایسے تازہ ہے جیسے کل کی بات ہو۔ 
میرا بیعت کا تعلق شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری قدس اللہ سرہ اللہ العزیز کے فرزند وجانشین حضرت مولانا عبیداللہ انور صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سے تھا اورحضرت سے جماعتی تعلق بھی گہرا تھا کہ وہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ذمہ دار راہ نماؤں میں سے تھے اور میں جمعیۃ کا اس دور میں فعال کارکن تھا۔ اس دوہرے تعلق کی وجہ سے شیرانوالہ لاہور میں اکثر آنا جانا رہتاتھابلکہ زیادہ تر وقت وہیں گزرتاتھا۔ حضرت حکیم الاسلام جب بھی لاہور تشریف لاتے، حضرت مولانا عبیداللہ انورؒ کی خواہش اور کوشش ہوتی کہ وہ شیرانوالہ میں بھی جلوہ افروز ہوں اور کئی بار حضرت حکیم الاسلام تشریف بھی لائے۔ ایک موقع پر ایک مخصوص سی نشست میں حضرت حکیم الاسلام تشریف فرماہوئے اور پاکستان کے معروف سیاستدان نواب زادہ نصر اللہ خان مرحوم بھی شریک مجلس تھے۔ نواب زادہ صاحب متحدہ ہندوستان کے دور میں آل انڈیا مجلس احرار الاسلام کے سیکرٹری جنرل رہے ہیں۔ علماء دیوبند سے نہ صرف متاثر تھے بلکہ مسلکا متصلب دیوبندی اور فرائض وواجبات کے پابند شب زندہ دار بزرگ تھے۔ اس محفل کی تیسری بڑی شخصیت حضرت مولانا عبیداللہ انور ؒ کی تھی جومیزبان تھے اورجہاں تک مجھے یاد پڑتاہے، خطیب اسلام حضرت مولانا محمد اجمل خان ؒ بھی موجود تھے۔ ان بزرگوں کے درمیاں دیوبند اورعلماء دیوبند کے حوالہ سے جو گفتگو ہوئی اور جس انداز میں انہوں نے باہمی محبت کے ساتھ پرانی یادیں تازہ کیں، اس کا منظر ابھی تک ذہن میں نقش ہے۔ یہ حضرات گفتگو فرمارہے تھے اورہم ان کی باتوں کی خوشبو سے دل ودماغ کو معطر کررہے تھے۔
حضرت حکیم الاسلام ؒ کی زیارت کا ایک او ر منظر جو ذہن میں ابھی تک تازہ ہے، دارالعلوم دیوبند کے صدسالہ اجلاس کے حوالہ سے ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کی قیادت میں صد سالہ اجلاس میں جانے والے قافلہ میں میرا نام بھی شامل تھا، لیکن میں قافلہ کے ساتھ سفر نہ کر سکا تھا۔قافلہ کی روانگی کے بعد دوسرے دن سفر کے لیے نکلا اور واہگہ سے سرحد کراس کرکے انبالہ،دہلی اور سہارنپور سے ہوتاہوا جب دیوبند پہنچا تو صد سالہ اجلاس کی آخری نشست جاری تھی اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قدس اللہ سرہ العزیز اختتامی خطاب فرمارہے تھے۔ عجیب منظر تھا، چاروں طرف لاکھوں مسلمانوں بلکہ علماء کرام کا ہجوم تھا اورحضرت قاری صاحبؒ صد سالہ اجلاس کی شاندار کامیابی پر سراپا تشکر بنے الوداعی کلمات ارشاد فرمارہے تھے۔
یہ تو چند مناظر وہ ہیں جو آنکھوں دیکھے ہیں اور جو میری زندگی کے بہترین لمحات میں سے ہیں۔ اس سے ہٹ کر غائبانہ ملاقاتوں اور حضرت قاری صاحب کی تحریرات وخطبات سے استفادہ کے مواقع کو شمار کرنا تو کجا میں اندازے سے بھی ان تصوراتی او ر فکری ملاقاتوں کی تعداد بیان نہیں کرسکتا۔ میری ولادت تقسیم ہند سے ایک سال بعد کی ہے۔ اس لیے تقسیم ہند سے قبل ہمارے اکابر کے درمیان مختلف حوالوں سے تقسیم کے جو دائرے سننے اور پڑھنے میں آتے ہیں، وہ میری ولادت سے پہلے کے ہیں، لیکن اس دور کے واقعات پڑھتا اور سنتاہوں تو کبھی کبھی ذہن میںآتاہے کہ اگر میں اس دور میں ہوتاتو اپنی ذہنی افتاد اور انداز فکرکے حوالے سے اسی کیمپ میں ہوتا جسے معروف معنوں میں ’’مدنی گروپ‘‘ کہا جاتا ہے اور جس کی نسبت شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ سے ہے، لیکن اس فکری وابستگی اور جانبداری کے باوجود حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ نور اللہ مرقدہ اور ان کے رفقا کے بارے میں عقیدت، محبت، احترا م، قلبی وابستگی او ر استفادہ کے حوالہ سے دل کے کسی کونے میں کوئی ایسی بات بحمد اللہ تعالیٰ محسوس نہیں کرتا جسے فرق سے تعبیر کیا جا سکتاہو اور بلاشبہ ان بزرگوں میں سے میری عقیدت ومحبت کا سب سے بڑا مرکز حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی قدس اللہ سرہ العزیز کی ذات گرامی رہی ہے اور اس کی کچھ وجوہ ہیں جن کا اظہار ضروری خیال کرتاہوں۔
سب سے پہلی اور بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے خاندان سے ہیں اور ان کے پوتے ہیں۔ میں نسبتوں کے حوالے سے بہت خوش عقیدہ شخص ہوں اور نسبتوں کی برکات پر نہ صرف یقین رکھتاہوں، بلکہ جب اور جہاں موقع ملے، ان سے استفادہ کی کوشش بھی کرتاہوں۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی ؒ اور قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی دو عظیم شخصیات کو جنوبی ایشیا کی مسلم تاریخ میں ایک ایسے سنگم کی حیثیت حاصل ہے جنہوں نے ۱۹۵۷ء کے بعد مسلم جنوبی ایشیا کا رشتہ ۱۹۵۷ء سے پہلے کے مسلم جنوبی ایشیا کے ساتھ برقرار رکھنے میں فیصلہ کن کردار اداکیا اور یہ ان کی اجتہادی بصیرت اور مومنانہ فراست کا ثمرہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے طول وعرض میں ہر طرف نہ صرف قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں شب وروز گونج رہی ہیں، بلکہ۱۸۵۷ء سے پہلے کی مسلم تہذیب اور معاشرت کا عملی نمونہ پوری آب وتاب کے ساتھ ہر جگہ موجود ہے اور مغرب کی مادہ پرستانہ تہذیب وتقافت کی انتہائی طاقت ور اور طوفانی یلغار جنوبی ایشیا میں غلبہ پانے میں اگر کسی طبقہ اور ادارہ سے خوف اور رکاوٹ محسوس ہورہی ہے تو وہ یہی مولانا نانوتویؒ اور مولانا گنگوہی ؒ کا قافلہ ہے جو کفرو الحاد کی تہذیب کے سامنے سد سکندری بنا ہوا ہے۔ 
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب نور اللہ مرقدہ کے ساتھ میری محبت وعقیدت کی دوسری بڑی وجہ دارالعلوم دیوبند اور اس قافلہ حق کے لیے ان کی طویل او ر مسلسل خدمات ہیں جن میں کوئی دوسری شخصیت ان کی مثل نہیں ہے۔ ان کے طویل دور اہتمام میں دارا لعلوم دیوبند نے جو ترقی کی اور وسعت وتنوع کے جن دائروں سے یہ ازہر ایشیا متعارف ہوا، وہ علمی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے اور نہ صرف خاندان قاسمیؒ بلکہ قافلہ رشیدؒ وقاسمؒ کے لیے باعث فخر واعزاز ہے۔ انہوں نے اپنے عظیم دادا کے ورثہ کو نہ صرف قائم رکھابلکہ اس میں بیش بہا اضافہ کرکے اسے تاریخ میں زندہ جاوید بنا دیا اور تاریخ کے اوراق میں جب بھی دارالعلوم دیوبند کا تذکرہ ہوگا، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب رحمہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بغیر کبھی مکمل نہیں ہوسکے گا۔
حضرت قاری صاحب کے ساتھ میری عقیدت ومحبت کی تیسری اور سب سے بڑی وجہ ان کا علمی مقام اور متکلمانہ شان ہے۔ وہ علم کا پہاڑ اور معلومات کا سمندر تو تھے ہی، مگر اس علم کے اظہار اور ابلاغ کے لیے ان کا انداز واسلوب ایسا حکیمانہ اور فطری تھا کہ ان کو سننے اور پڑھنے والا افادہ اور استفادہ کے اس سفر میں خود کو ان کے قدم بہ قدم چلتا ہوا محسوس کرتاتھا۔ میں ایک طالب علم کے طور پر دیوبندی مکتب فکر میں تین بزرگوں کو سب سے بڑا متکلم سمجھتا ہوں۔ (۱) حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ ، (۲) حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ، (۳) حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ ، مگر اس ترتیب کے ساتھ کہ حضرت نانوتوی ؒ اہل علم کی اوپر کی سطح کے لیے متکلم تھے۔ اس سے نچلے درجہ کے اہل علم کے لیے بھی ان سے استفادہ آسان کام نہیں تھا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے علوم قاسمی کی قد رے تسہیل کرکے اس سے عام اہل علم کو استفادہ کا موقع فراہم کیا جبکہ حضرت مولانا قاری محمد طیب ؒ نے اس دائرے کو مزید وسعت دی اور عام اہل علم اور طلبہ کے ساتھ جدید پڑھے لکھے لوگوں کو بھی اس میں شامل کرلیا۔ میں اس حوالے سے جنوبی ایشیا کے عوامی خطبا میں سے دو شخصیتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوں کہ مشکل سے مشکل علمی مسئلہ کو پبلک اجتماع میں ایسے سادہ اور فطری لہجے میں بیان کرتے تھے کہ سننے والوں میں سے شاید ہی کوئی استفادہ سے محروم رہتاہو۔ ان میں پہلا نمبر حکیم الامت حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کا ہے جبکہ میرے مطالعہ ومشاہدہ کے مطابق اس فن کے دوسرے امام ہمارے پاکستان کے معروف احراری خطیب حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ تھے۔ انہیں بھی ا للہ تعالیٰ نے اس فن سے نوازاتھا کہ مشکل ترین علمی مسئلہ کو عام فہم انداز میں اس سادگی اور بے تکلفی کے ساتھ بیان کرجاتے تھے کہ کسی ان پڑھ دیہاتی کو بھی اسے سمجھنے میں دشواری پیش نہیں آتی تھی۔
علم کلا م دین کے اہم ترین شعبوں میں سے ہے اور اسلامی عقائد واحکام کی تشریح ووضاحت کے لیے اپنے دور کے اسلوب بیان، اصطلاحات، زبان اور لوگوں کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے ہر شخص اورطبقہ کی ذہنی سطح کے مطابق گفتگو کرنا دین کا اہم تقاضا ہے۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے اسی ہتھیار کا کامیابی کے ساتھ استعمال کرکے اپنے دور میں اسلامی عقائد کے خلاف مسیحیت اور آریہ سماج کے طوفانی حملوں کو ناکام بنایاتھا اور اپنے معاصرین میں اسلام کی برتری کے ساتھ ساتھ اپنی علمی وجاہت اورتفوق کا پرچم بلند کیا تھا۔ آج دین کی اہم ضروریات کا یہ پہلو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے اورہم آج کی دنیا میں اپنے ایک صدی پہلے کے علمی اسلوب اور اصطلاحات کے ذریعے دین سمجھانے کے درپے ہیں جس سے افہام وتفہیم کا ماحول بننے کی بجائے الجھاؤ اور کنفیوژن میں اضافہ ہورہاہے۔ میری طالب علمانہ رائے میں حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور حکیم الاسلام قاری محمد طیب قاسمیؒ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہتر ذریعہ یہ ہے کہ اسلام کی دعوت وتبلیغ اور دینی احکام وقوانین کی تشریح میں ان کے اسلوب کا احیا کیا جائے اور وقت کے تقاضوں، اسلوب، اصطلاحات اور نفسیات کا ادراک کرتے ہوئے پورے شعور وحکمت کے ساتھ آج کے دور میں اسلام کو درپیش فکری اور علمی چیلنجز کا سامنا کیا جائے۔

’’کچھ تو سمجھے خدا کرے کوئی‘‘ (۲)

مولانا محمد بدر عالم

(افتراق و تفریق کا فکری، نفسیاتی اور سماجی تجزیہ۔)

۱۱۔ دیگر مذاہب کے اثرات

خارجی اثرات نے بھی بہتوں کو گمراہ کیا۔ اسلام جزیرہ عرب سے باہر نکلاتو بجلی کی سی رفتار سے بڑھنے لگا۔ غیر اقوام ومذاہب کے لوگ جو غلط عقائد پر اپنی عمریں گذار چکے تھے۔ ترک مذہب کرکے داخل اسلام ہوئے تولاشعوری طور پر سابقہ اثرات بھی ہمراہ لائے کئی مسائل جو ان کے دماغی سانچے میں ماقبل اثرات کی وجہ سے درست نہ بیٹھے تو انہوں نے ان کی نئی تعبیر پیش کردی۔ انہی لوگوں سے مسلمانوں کااختلاط ہواتو ان کے عقائد ورسوم کا بہت کچھ اثر ان مسلمانوں نے بھی قبول کیا جو لاعلم یاکم علم تھے۔ ایسے ہی اثرات اس وقت بھی مرتب ہوئے جب غیر اقوام کی کتابیں مسلمانوں کے مطالعے میں آئیں۔جن لوگوں کو علم میں رسوخ حاصل تھا انہوں نے صحیح کو غلط سے تمیز کرلیاجو رسوخ فی العلم سے بے بہرہ تھے غیر محسوس طور پر ان کے دماغ ان کی سمیت سے متاثر ہوتے گئے۔ یہی زہر منہ کے راستے باہر کو اْبلااور جہاں جہاں اس کے چھینٹے پڑے وہاں وہاں کی فضا مسموم ہوتی گئی۔متحدہ ہندوستان میں غالب ہونے کے باوجود مسلمانوں نے ہندوؤں کے بہت کچھ اثرات قبول کیے۔ اس عہد میں کئی فتنے اٹھے جو اسلام اور ہندومت کے ملغوبہ تھے۔ برطانوی راج کے دوران نیچریت اور دہریت کے اثرات نے مسلمانوں میں راہ پائی اورفتنہ وفرقہ کا بازار گرم کیے رکھا۔ہندوانہ عقائد ونظریات کی چھاپ توتقریباً تمام ہی معاشرے پر ہے۔ مگر انگریزی تعلیم یافتہ کے عقائد پر مستشرقوں کا بھی بہت بڑا اثر ہے۔ ان کاجائزہ لے کر اس حقیقت کا بخوبی مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ 

۱۲۔ سیاسی اختلاف 

سیاسی وانتظامی امور میں اختلاف بھی فرقہ بندی کا سبب بنا۔ ابتداء میں وجہ اختلاف سیاست تھی۔زور پیدا کرنے کیلئے ان پر مذہبی رنگ چڑھایاگیااورآخر کار یہ اختلاف فرقہ بندی میں ڈھل گیا۔

۱۳۔ دقت پسندی

بعض طبائع فطرتاً دقت پسند ہوتی ہیں۔ بال کی کھال اتارنے والی۔دقت پسندی حدِ اعتدال میں رہے تو خوبی ہے۔ اس سے مسئلے کا ہر پہلو نکھر جاتاہے۔ معمولی جزئیات تک بھی روشن ہوجاتی ہیں۔ فقہی قانون سارے کا سارا اور فقہ حنفی خاص طور پر دقت نظر کی بہترین مثال ہے۔ جب ایک قدم آگے بڑھا کر یہ حد ودِ عقائد میں پہنچتی ہے تو سارا کھیل بگڑ جاتاہے۔ عقائد پر اس طرح ایمان لانا ہی سلامتی ہے جس طرح وہ قرآن وسنت میں وارد ہوئے۔ یہی ایمان بالغیب کا لطف ہے۔دقت پسندطبیعت جزئیات سمیت انہیں حلقۂ عقل میں لانے کی کوشش کرتی ہے جو کہ ممکن نہیں اس لیے جو دام عقل میں آئے وہ عقیدہ بن جاتاہے جو باہر رہے اسے رد کردیاجاتاہے۔ پھر چونکہ فہم اور قوتِ ادراک ہر ایک کی یکساں نہیں اس لیے نتائج میں لازماً اختلاف پیداہوتاہے۔

۱۴۔ ذوقِ اختلاف

ذوق میں افراد باہم دگر مختلف ہوتے ہیں۔ کبھی ایک کا ذوق ایک چیز کو پسند کرتاہے اور ایک کی طبیعت دوسری چیز کو۔ان کے معتقدین تک یہ ذوق اس طرح پہنچتاہے کہ وہ اس کو دین کی ایسی اصل قرار دے دیتے ہیں جس سے انحراف گناہ ہو۔ یوں نوبت اختلاف سے تفریق تک پہنچتی ہے۔

۱۵۔ غلو

اس کا مطلب ہے احکام کی درجہ بندی میں طبعی شدت کی وجہ سے ردو بدل کرنا۔ مندوب کو فرض اور مکروہ کو حرام بنادینا۔ غلو کے زیادہ تر مظاہر زہد وتقشف کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔ بر بنائے احتیاط ،سداً للذرائع یا کسی دوسری وجہ سے لوگ مستحب کے ساتھ واجب کا مکروہ کے ساتھ حرام کا معاملہ کرتے ہیں۔ مگراس کا عقیدہ نہیں رکھتے۔ بعد کے لوگ سب سے قطع نظر کرتے ہوئے اس عادت کو عقیدہ بنالیتے ہیں۔غلو جس طرح فرقہ بندی کا سبب ہے، اسی طرح فرقہ واریت کا بھی اہم عنصر ہے۔ غلو کو شدت پسندی سے تعبیر کیاجاسکتاہے اگرچہ دونوں میں قدرے فرق ہے۔ غلو پسند آدمی وہ ہوتاہے جو مستحب کے ساتھ فرض اور مکروہ کے ساتھ حرام کااعتقاد رکھے،غیرلازم کو لازم بنادے اورشدت پسند جو ہرمعاملہ انتہائی نظر سے دیکھے۔ غالی آدمی جس سے اختلاف کرے وہ اختلاف بڑھ تو سکتاہے کم ہونا بہت مشکل ہے۔ فرقہ واریت مٹانے کے لیے نرمی اور اعتدال بہت ضروری ہے جن کا غالی آدمی میں قحط اور فقدان ہے۔غلو کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ جاہل لوگ پیشوا بن جاتے ہیں جو کہ احکام کے شرعی مقام سے ناآشنا ہوتے ہیں اوربمطابق حدیث خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اوردوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ان غالی اورمتشددلوگوں کا عمل دیکھ کرعوام یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عمل اسی طرح ہی شارع کی مرضی اورحکم شرعی ہے۔ 
غلو اجتہاد ی وانتظامی امور میں اختلاف آراء کوتفریق تک پہنچادیتاہے۔ یہی تفریق پھراس وقت نفرت وعداوت میں بدل جاتی ہے جب کوئی فریق اپنی رائے اورسوچ کوحرف آخر اوردوسرے فریق کی رائے کو بہرحال غلط سمجھتے ہوئے اس پرجدال ومخاصمت کا راستہ اختیار کرتاا ور دوسرے فریق کے خلاف پیالی میں طوفان کھڑاکردیتاہیاس کی مثال میں سپاہ صحابہ اورجے یوآئی کا اختلاف پیش کیاجاسکتاہے۔

۱۶۔ شدت پسندی

شدت پسندی فرقہ واریت کا جزو اعظم اور رکنِ رکین ہے۔ شدت پسندی کیاہے؟ یہی کہ جو مقام نرمی کا مقنضی ہے وہاں سختی کی جائے۔جہاں جتنے سخت ردِ عمل کی ضرورت ہے اس سے بڑھ کر سختی کی جائے۔ ہر معاملہ انتہائی نظر سے دیکھاجائے۔ شدت قول وعمل سے جھلکتی ہے اورقلب ونظرسے ٹپکتی ہے۔ زبان سے سخت الفاظ استعمال کرنااور حکم عائد کرنے میں سختی کرناشدت پسندی کی وجہ سے ہوتاہے۔نماز روزہ حج زکوآ کی طرح کفر ،فسق ،الحاد زندقہ ،ارتداداوربدعت بھی اسلام کے احکام ہیں جن کے مخصوص ومتعین معنی ہیں۔ان کے استعما ل کے مخصوص مواقع ہیں جنہیں استعمال کرنے میں حدود کا خیال کرنا بہت ضروری ہے۔ اکثرلوگ ان حدود کا خیال نہیں کرتے۔ان میں تساہل برتنا بھی اگرچہ درست نہیں مگر تشدد اختیار کرنا اس سے بڑافتنہ ہے۔مولانا گنگوہی ؒ نے کسی موقع پرفرمایا تھا اوربالکل بجافرمایاتھاکہ تشدد سے اصلاح نہیں ہوتی۔بدعت کو بدعت نہ کہنا اگرغلطی ہے توغیربدعت کو بدعت بنادینا بھی بہت غلط ہے۔عام طور پر ہوتایہ ہے کہ فاسق کے ساتھ کافر کا اورمبتدع کے ساتھ مرتدکا سلوک کیا جاتاہے مثلاً جن باتوں سے کفر لازم نہیں آتا ان پر بھی پکا ٹھکا کافر بنادینا یا مثلاً جو لوگ امام کے پیچھے قراء ت فاتحہ کے قائل نہیں یارفع یدین نہیں کرتے، ان کی نمازیں فاسد ہونے کاحکم لگادینا یا مثلاً جو گیارہوں بارھویں کرتے اور محفل میلاد مناتے ہیں، انہیں مشرک کہنااور جو اس کے قائل نہیں، انہیں گستاخ رسول اور منکراولیاء کہنا شدت پسندی کی مثالیں ہیں۔اعتدال بہترین راستہ ہے مگرافسوس کہ معدودے چندلوگوں کے سوا کوئی بھی اس پر کاربندنہیں رہتا۔بالخصوص وہ دوگروہ جن کی باہمی چپقلش جاری ہو، وہ فتویٰ بازی میں حد سے گزرجاتے ہیں۔ مثلاً مسئلہ سماع موتی اورتوسل بالذوات الصالحہ وغیرہ میں ایک دوسرے کے خلاف جو زبان استعمال کی جاتی ہے اس کے کیا ہی کہنے۔یہ تو کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ غایت شدت پر مبنی درج ذیل فتویٰ ملاحظہ کریں۔
’’ایسے ہی وہابی، قادیانی، دیوبندی، نیچری، چکڑالوی جملہ مرتدین ہیں کہ ان کے مرد یاعورت کاتمام جہان میں جس سے نکاح ہوگا مسلم ہو یا کافر اصلی یا مرتد(اور)انسان ہو یا حیوان محض باطل اور زنا خالص ہوگااور اولاد ولدالزنا۔‘‘ (ملفوظات ص۵۰۱،ج۲)
سختی و شدت کاوفور اور کلام کا لہجہ دیکھئے۔ یوں کہنے سے بھی مطلب حاصل ہوجاتا کہ نیچری چکڑالوی وغیرہ مرتد ہیں، ان کا کسی کے ساتھ اور کسی کا ان کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ لیکن افسوس کہ شدت وغضب میں مفتی صاحب حد سے گذر کر یوں فرمانے لگے کہ جانوروں کے ساتھ بھی ان کا نکاح جائز نہیں۔ ایسی شدت سے اللہ بچائے۔ غور کرنے کی بات ہے، کیا انسان کاجانور سے نکاح اسلام یا کسی بھی آسمانی شریعت میں جائز ہے ؟بہرحال ہمیں شدت پسندی کاایک نمونہ دکھانا مقصود تھا۔ ایسے ہی رخصت کے پہلو کو ساقط کردینا مخالف کی وضاحت کو یااس کی مراد اور تاویلِ کو اگرچہ صحیح بھی ہو قبول نہ کرنا، حتی الوسع مسلمانوں کوکافر بنانے کی کوشش کرنا شدت پسند طبیعتوں کو بہت مرغوب ہے۔ شدت کااظہار زبان اور تحریر کے علاوہ عمل سے بھی ہوتاہے۔ شدت پسند لوگ اختلافی مسائل حل کرنے کے لیے بھی مخالف سے مل بیٹھنے کو تیار نہیں ہوتے۔ دلائل کے بجائے تحکم اور ماردھاڑ کارویہ اختیار کرتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کو ابھارتے ہیں کہ وہ مخالفین سے مقاطعہ بلکہ ان کو قتل کردیں۔ انہیں اگر طاقت مل جائے تو گناہ گار اور بے گناہ پر یکساں استعمال کرتے ہیں۔ اختلاف رائے کوبرداشت نہیں کرتے۔ شدت پسندی مزاج، غیض وغضب یا کسی سازش کا نتیجہ ہوسکتی ہے وجہ جو بھی ہو فرقہ واریت پھیلانے میں اس کا اہم ترین کردار ہے۔

۱۷۔ تعصب

تعصب ایک بری عادت ہیجو افتراق وتفریق کا سبب بنتی ہے۔اس کا مطلب ہے غلط ہونے کے باوجود اپنی بات کی پچ کرنایا ناحق اپنی قوم ومسلک کا دفاع کرنا جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ مخالف کے حق پر ہونے کے باوجود اس کی تردید کی جاتی ہے اور قبول حق سے اباکیاجاتاہے۔ یہ جاہلی عصبیت آج بھی فرقوں میں زور وشور سے پائی جاتی ہے۔ دوسروں کو اگرچہ وہ صحیح ہوں گھٹانے کی اور خود کو اگرچہ کسی مسئلے میں غلط ہوں بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے اور خدانخواستہ مخالف سے کوئی غلطی ہوجائے تو پھر تو بہ ہی بھلی ،آسمان سر پر اٹھالیاجاتاہے یوں باور کرایاجاتاہے گویا اس کے سوا کبھی کسی نے غلطی نہیں کی اور یہ غلطی تو اتنی بڑی ہے کہ اس کی تلافی کی کوئی صورت ہی نہیں۔غیروں کے یہ خوردہ گراپنی غلطیوں کو مٹانے چھپانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ اس پر بات بڑھتی ہے اور فرقہ واریت جنم لینا شروع کردیتی ہے۔

۱۸۔ حسد

حسد بھی فرقہ واریت کا مخفی سبب بن جاتاہے۔ خصوصاً اس شخص کے لیے جو کسی مسلک کا پیشوا ومقتدا ہوکہ وہ اندرونی زہر فرقہ واریت کے راستے باہر نکالتاہے۔

۱۹۔ ذرائع ابلاغ تک رسائی

یہ ذرائع فرقہ واریت پیدا نہیں کرتے ہاں اس تندورکو گرم کرنے میں استعمال ضرور ہوتے ہیں۔ کب؟جب متشدد، متعصب ،غالی، بدخلق، حاسد، بدفہم اور سازشی عناصر ان تک رسائی حاصل کرلیں۔ اصل کتاب میں انسانی ذہن پر میڈیا کی کارفرمائی اور تسخیری قوت کی کرشمہ سازیاں قدرے بیان ہوچکی ہیں۔ یہ ایک طاقت ہے جو مذکورہ کردار کے حامل لوگوں کے ہاتھ میں ہوتو صاعقہ آسمانی سے زیادہ خطرناک اور ایٹم بم سے زیادہ دھماکہ خیز ثابت ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے مذموم مقاصد کا حصول ممکن بنایا جاتاہے۔یادرہے کہ ذرائع رسل ورسائل اور محراب ومنبر بھی میڈیا کا حصہ ہیں۔

۲۰۔ حساسیت

فرقہ واریت میں اس کا بھی ایک کردار ہے۔ ہوتایہ ہے کہ جب دوآدمی باہم اختلاف کرتے ہیں توقطع نظر اس سے کہ کون صحیح اور کون غلط ہے ،دونوں کی الگ شکل اور ایک نیا تشخص پیداہوجاتاہے۔ دونوں میں سے ہر ایک اضطراری طور پر چاہتاہے کہ کہیں کسی موقع پر اس کا یہ تشخص مجروح نہ ہونے پائے کیونکہ یہ تشخص مجروح ہونے کی صورت میں اس کے اندر یہ احساس پیدا ہوتاہے کہ میرے مخالف کی پوزیشن اپ ہوگئی ہے اوریہ ’’غلط‘‘ آدمی یاگروہ بالادست ہوکر سامنے آرہاہے۔میںیا میراگروہ دب گیاہے، ہوسکتاہے لوگ اس طرف نہ جھک پڑیں۔خاص طور پر اس وقت جب دونوں میں سے کسی ایک کی طرف سے یہ اختلاف عوام تک پہنچ جائے تواس وقت یہ احساس شدید تر ہو جاتا ہے۔ ہر فریق احقاق اور لوگوں کو گمراہی سے بچانے کے گرداب میں غوطے کھانے لگتاہے۔ چنانچہ اس وقت کبھی اختیاری اور کبھی اضطراری طور پر اس تشخص کو برقرار اور نمایاں کرنے کی کوشش کرتاہے۔ مثلاً جا و بیجا اس کو بیان کرنا، اس پر کتب ورسائل تالیف کرناوکروانا اس پر شدت اختیار کرنا۔ مخالف کی تقریر، جلسہ واجتماع کو برداشت نہ کرنا، جواب اور جواب الجواب ضروری سمجھنا، پمفلٹ اور ہینڈبل شائع کرنا، مخالف اوراس کے حلقے سے ہر تعلق منقطع کرلینا، اس کی ہر بات کو اسی اختلاف کی طرف مشیر سمجھنا۔ اس حساسیت میں یہاں تک اضافہ ہوتاہے کہ پھر اس اختلاف کے حوالے سے کوئی چیز برداشت نہیں ہوتی۔ رفتہ رفتہ وہ اسی تشخص سے معروف ہوجاتاہے۔ یہی صورت تفریق میں بھی پیش آتی ہے اوراس وقت بھی جب کوئی شخص کسی ایسے مسئلے کے خلاف آواز بلند کرتاہے جو مروج ہو مگر ثابت نہ ہو۔ اس کے ذہن میں ہروقت یہی بات گردش کرتی رہتی ہے کہ ہر شخص کے دل میں اتنی حقیقت کیسے اتاردی جائے کہ وہ اس سے روگردانی نہ کرسکے۔حساسیت کا مطلب کسی چیز کی قدر جواز کوبھی ممنوع قراردینا بل کہ اس کے اسباب بعیدہ کو بھی حکم میں اس کے ساتھ نتھی کرنا ہے۔
حساسیت زدہ افراد اس ضرب المثل پر عمل کرتے ہیں :
نہ رہے بانس نہ بجے بانسری
یا اس شعر پر عمل پیرا ہوتے ہیں 
مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو
کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا
یاد رہے کہ بطورسد ذرائع کے کسی چیز پر پابندی عائد کرنا امردیگر اور خارج از بحث ہے۔سد ذرائع کا مطلب کسی امر ممنوع تک پہنچنے کے جو ذرائع ہیں انہیں مسدود کردینا۔مثلااصل حرمت شراب استعمال کرنے کی ہے۔یہ ممنوع ہے جس تک پہنچانے کے دیگر کئی ذرائع کو بھی حکم میں اسی کے ساتھ نتھی کرتے ہوئے حرام قرار دے دیاگیا۔مثلاً شراب بنانا بھی حرام ،شراب بیچنا بھی حرام ،شراب لاد کر لیجانا بھی حرام ،یہ تما م کام کرنے والے بھی گنہ گار اورمرتکب حرام۔مگر ایسا نہیں کہ اس سے بچنے کے لیے انگور ،کھجور ،گندم یا جو کی کاشت کو ناجائز کہا گیا ہو،یا سرکہ اور نبیذ بنانا بھی حرام قرار دیاگیاہو۔سلسلہ شراب میں جو امور ممنوع ہیں ان تمام میں شراب بالفعل موجو د ہے۔

۲۱۔ مضبوط مرکز یا خلافت کا نہ ہونا

یہ تفریق کی اہم وجہ ہے جب خلافت باقی تھی اورمضبوط مرکز مسلمانوں کو حاصل تھا اس وقت یہ تفریق نہیں تھی جو آج کل دکھائی دیتی ہے اورجو تھی وہ بھی اندر ہی اندر تھی اس پر مرکزیت کا پردہ پڑاہواتھا۔کیوں کہ خلافت کا حکم اوررعب ایک حد سے آگے نہیں بڑھنے دیتاتھا۔دین کی اشاعت اورحفاظت کے تمام انتظامات خلافت کی ذمہ داری تھی۔خلفاء کے حکم پر قتال ہوتا،تبلیغ ہوتی ،تعلیم وتدریس ہوتی اورانہی کی طرف سے فتوی دینے نہ دینے کااختیارملتا۔قانون اسلامی تھا،فیصلے اس کے مطابق ہوتے۔جو گروہ تفریق کے ذریعے ملت کومتفرق کرنے کی کوشش کرتااس کی مناسب سرکوبی کی جاتی۔ علماء ،خانقاہوں اورمدارس کے انتظام کی اکثرخلافت ہی کفیل ہوتی۔دشمنوں پر حملہ کرکے زمین فتح کی جاتی سیاسی طورپر وہاں تسلط حاصل کیا جاتااس کے بعد علماء وصوفیاء آگے آتے جو وہاں کے لوگوں میں اسلام کا بیج بوتے اگرکوئی عالم یا صوفی کسی ایسے علاقے میں چلاجاتاجہاں اسلامی حکومت نہ ہوتی تب بھی زیادہ خطرہ اس لیے محسوس نہ ہوتاکہ پیچھے ایک مضبوط حکومت کی پشت پناہی ہوتی۔یہ بات صرف خلافت سے مختص نہ تھی بلکہ جو سلاطین اسلام خلافت کے ماتحت ہوتے وہ بھی اس سب کا خیال کرتے۔ان کے اٹھتے ہی مسلمان تسبیح کے دانوں کی طرح بکھری اورکئی جماعتوں میں منقسم ہوگئے۔
کچھ وہ تھے جنہوں نے اس سب کو گویاتقدیر کا لکھا سمجھ کرقبول کرلیااورہاتھ پرہاتھ رکھ کر بیٹھ گئے، کچھ وہ تھے جنہوں نے ان حالات کا مطالعہ کیا اورزوال وادبار سے نکلنے کی سوچی ہر ایک کا مطالعہ اورفہم اسے ایک سبب کی طرف لے گیا۔ایسے لوگ بھی تھے اوراب تک بھی ہیں جنہوں نے سوچی سمجھی منصوبہ بندی سے کوئی کام نہیں کیا بلکہ حالات کے دھارے پر بہتے رہے اورحالات کاجو تقاضا سامنے دکھائی دیا، اس کے مطابق کام کرگزرے۔مثلاً بعض لوگوں نے اشاعت اسلام سے حفاظت اسلام کو مقدم سمجھا اورکوشش کی کہ مسلمانوں کی تہذیب وتمدن محفوظ رہے۔ اس کی خاطر انہوں نے دینی تعلیم وتعلم کو اہمیت دی ،کچھ نے عصری تعلیم اورمغربی تمدن کو ضروری قراردیا اوراس کے حصول کی کوششوں میں لگ گئے۔ یہ دونوں الگ الگ گروپ بن گئے۔کسی نے تزکیہ نفس کی کمی کو سبب جانا اوراس میں لگ گئے اور یوں خانقاہی لوگوں اورگدی نشینوں کا ایک الگ گروہ وجود میںآگیا۔بعض نے معاشرے پر نظر دوڑائی اورمعاشرتی دینی تنز ل کودیکھتے ہوئے اصلاحی جماعتوں کی نیواٹھائی۔یہ اصلاحی کوششیں کرنے والے ایک علیحدہ جماعت میں بٹ گئے۔ ان جماعتوں میں سے بعض نے اصلاح عقائدکواہمیت دی بعض نے اصلاح اعمال کو اوران میں سے ہرایک الگ الگ جاعتوں میں بٹتاچلاگیا۔پھر یہ مصلحین بھی دوطرح کے تھے، متشدداورمتساہل۔ اس لحاظ سے بھی گروپ بندی ہوئی۔فرقہ بندی کے جواسباب میں پہلے بیان کرچکا ہوں خلافت کی کمزوری اورخاتمے سے وہ نمایاں ہوگئے۔برساتی مینڈکوں کی طرح نت نئے نظریات جنم لینے لگے۔بعض نے ان کا ازالہ مقدم سمجھا اوروہ ان کے ابطا ل میں لگ کرایک جماعت بن گئے۔بعض نے سیاسی زیردستی کومسائل کی جڑ سمجھا اوروہ سیاسی بالادستی حاصل کرنے کے لیے متوجہ ہوئے۔یہ بھی تین طرح کے تھے۔ ایک، فاتح قوم کی عادات وتہذیب اپنانے والے جن کا اوپر ذکر ہوچکاہے۔ دوم، سیاسی اورقانونی جدجہد کرنے والے۔ سوم، جہاد وقتال کو ذریعہ بنانے والے۔ہرایک مستقل گروہ بن کر سامنے آیا۔
ہرگروہ نے اپنی پوری طاقت اس کام میں لگادی جو وہ کررہاتھا۔کہیں کہیں انہوں نے تھوڑابہت ایک دوسرے کا ساتھ بھی دیا یا اپنے شعبے کے ساتھ دوسرے شعبے کا کام بھی کیا مگر وہ وقتی اورثانوی تھا۔چوں کہ تمام شعبے ہی دین کے تھے اس لیے ہرشعبے سے متعلق تاکیدات وفضائل بھی قرآن وسنت میں موجود تھے۔اسلاف میں ان کے مطابق عمل کرنے والے بزرگوں کی زندگیاں بھی سامنے تھیں اورلوگوں کو اس کی ترغیب دینے کے لیے ان کی اشاعت بھی ضروری تھی۔اس لیے نتیجہ یہ نکلاکہ ہر ایک اپنے شعبے ہی کو مداردین جاننے لگا۔مگریہ رفتہ رفتہ ہوا۔ابتدامیں چوں کہ مخصوص جماعتی سانچہ مضبوط نہیں تھااسلئے دوسرے شعبوں کی تحقیرومذمت بھی نہیں تھی۔آہستہ آہستہ کام آگے بڑھا۔ ایک ہی رخ پر مسلسل کوشش کرنے سے دماغ پر دین کا ایک خاص سانچہ مسلط ہوگیاجس سے اپنے شعبے کے تفوق اوردوسرے شعبے کی حقارت نے جنم لیا۔اسی طرح جب انہوں نے اپنے کام کے فوائدکو دیکھا تو ان کی نظر انہی پرگڑگئی اوران جزوی فوائد ہی کو وہ کل دین کا فائدہ سمجھنے لگ گئے۔اوراس کے بالمقابل جو نقصان تھا وہ انہیں نظر نہ آیا یا قابل التفات نہ ٹہرا۔ پھرچوں کہ ہرایک کی کوشش یہ تھی کہ اسے زیادہ سے زیادہ کام کرنے والے ملیں مگر ہر شخص کی ذہنی اپچ ایک جیسی نہیں بل کہ جداجداہوتی ہے، اس لیے مثلاً دس جماعتیں اگر کام کررہی ہیں ایک یا دوتین افراد اپنی اپچ کے اعتبار سے ایک کی طرف آئیں گے اور 7،8،یا 9افراد دوسری جماعتوں کی طرف جائیں گے۔یہ ایک نقصان تھا اوراس ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے بھی ضروری تھاکہ دوسرے شعبے کی حقارت اوراپنے تفوق کا مسئلہ اٹھایاجائے۔
دین کے مخصوص سانچے نے جماعتوں کی دوسری نسل پر زیادہ اورتیسری نسل پر بہت زیادہ غلبہ پالیا۔ایک انتہاپر جانے کا جو عمل پہلی نسل سے شروع ہوا تھا وہ تیسری پر جاکرمکمل ہوگیااورجماعتیں بالکل ایک دوسرے سے دور ہو گئیں۔ مثلاً دیکھیے جمعیت علماء ہند کی پہلی نسل حضرت شیخ الہند ،حکیم اجمل اورڈاکٹرانصاری اوردوسری نسل حضرت مدنی، حضرت مفتی کفایت اللہ، حضرت شبیراحمد عثمانی اورمولاناظفراحمد صاحب وغیر ہ اورتیسری نسل مولانا مفتی محمود ،مولانا غلام غوث ہزاروی اورمولاناعبدالحق اورمولانااحتشام الحق تھانوی وغیرہ۔تبلیغی جماعت کی پہلے نسل حضرت مولانا الیاس کاندھلوی کا اپنا زمانہ دوسری نسل حضرت جی کا دور اوراس کے بعدسے تیسری نسل مولاناانعام الحسن، مولانا محمد عمر پالن پوری اور موجودہ تبلیغی علماء۔ سپاہ صحابہ کی پہلی نسل مولانا حق نواز جھنگوی، مولاناایثارالقاسمی، دوسری نسل مولانا ضیاء الرحمن فاروقی، مولانااعظم طارق اورتیسری نسل اب موجودہ قیادت۔اگر آ پ غوروفکر سے کام لیں تو جماعتوں کی مخصوص نفسیات اورسانچے پر کام ایک مستقل موضوع ہوسکتا ہے۔ 
افتراق وتفریق کے یہ اسباب تھے جو میرے ناقص مطالعے میں آئے اورمیں نے انہیں صفحہ قرطاس پر منتقل کر دیا۔ یادرہے کہ تفرقہ ہمیشہ عداوت کے ساتھ ہوتاہے اور اختلاف دیانت کے ساتھ معرض وجود میں آتاہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اختلاف رونما ہوتارہتا تھامگر تفرقہ اورتفریق نہیں پیداہوتی تھی۔ خلاف ہوتاتھا، مخالفت نہیں ہوتی تھی۔ افتراق وتفریق کے کئی دیگرعلمی اسباب بھی ہوتے ہیں جن سے میں نے تعرض نہیں کیا۔مثلاً اختلاف تاویل وتفسیر یا ضعیف روایات، شاذو مرجوح اقوال کو مداربنانا۔ جزئی کو کلی اوراصول فکر بنالینا ،منشائے کلام کونہ سمجھنااور ناسخ ومنسو خ کی معرفت نہ رکھنا وغیرہ۔
افتراق وتفریق کے نتائج:افتراق وتفریق دراصل اپنے بھیانک نتائج کی وجہ سے ہی زیادہ خطرناک ہیں۔ غورکرنے سے ان کے تین بڑے خطر ناک نتائج سامنے آتے ہیں :

۱۔  دوسروں کی تحقیر و مذمت

افتراق وتفریق سے صرف دوسری جماعتوں اورگروہوں کی حقارت اورمذمت ہی پیدا نہیں ہوتی بلکہ کبھی بات اس سے آگے بڑھ کر دین کے دوسرے شعبوں تک پہنچ جاتی ہے اورجو شخص جس شعبے میں کام کر رہا ہے، وہ اپنے جماعتی تفوق کی نفسیات میں باقی شعبوں کو حقیر سمجھنے لگتاہے اورظاہر ہے کہ یہ کتنی خطرناک سوچ ہے۔ دوسری جماعت یا گروہ کی حقارت ومذمت کرنا بدخلقی کے زمرہ میں آتاہے۔ فرقہ بندی میں تو چلو کسی درجے میں اس کی گنجائش ہو سکتی ہے کہ جب ایک فرقہ کسی کے نزدیک دین کا مخالف ہے تو اسے فوقیت کیسے دی جائے اوراس کی تعریف کیسے کی جائے مگر تفریق میں تو اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ فرقہ بندی ،فرقہ واریت اورتفریق کے تمام اسباب کو اگر سمیٹاجائے تو انہیں دو لفظوں میں بیان کیا جاسکتاہے: اخلاقی کمزوری اور سازشیں۔ تہذیب وشائستگی سے عاری افراد فرقہ واریت پھیلانے اور تفریق پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گوکہ اس اخلاقی نقص کا شکار عوام اور علماء دونوں ہی ہوتے ہیں مگر عوام کے ذہنوں میں یہ ناشائستگی اور بدتہذیبی ان لوگوں کی طرف سے اترتی ہے ،جو پیشوائی کا شرف رکھتے اور محراب ومنبر کی زینت ہوتے ہیں۔ ہرفرقے اورگروہ میں ایسے علما وزعما موجود ہوتے ہیں جو احقاقِ حق کے نام پر مسلمہ تہذیب وشائستگی کا جنازہ نکال دیتے ہیں، فرقہ واریت کی آگ بھڑکاتے ہیں اورقوم کو تفریق در تفریق کے پاٹوں میں پھنسا دیتے ہیں۔
افسوس کہ جن حضرات کو علم کی شرافت اور بزرگی حاصل ہے وہ اپنے عمل سے اس شرافت کو بٹہ لگاتے ہیں۔ ٹھیک ہے کوئی فرقہ کسی کی نظر میں تارک قرآن وسنت ہوتوہومگر خود کو تو وہ عامل بالکتاب والسنۃ اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا عاشق صادق ہی سمجھتا ہے اور تعجب ہے کہ خود ہی اس بھرم کو توڑ دیتاہے۔ قرآن وسنت کا علم رکھنے والے انہی کے نام پر کیسے ان کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ قرآن کہتاہے:
لایجرمنکم شنآن قوم علی ان لاتعدلوا اعدلوا
’’کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس پر آمادہ نہ کردے کہ تم عدل نہ کرو(خبردار) عدل سے کام لینا۔‘‘
اور فرمایا:
لاتنابزوا بالالقاب بئس لاسم الفسوق بعد الایمان۔
’’ایک دوسرے کو برے نا موں سے نہ پکارو،ایمان کے بعد فسق کا نام ہی براہے۔‘‘
یہاں تک ارشاد ہوتاہے:
لاتسبواالذین یدعون من دون اللہ فیسبو اللہ عدواً بغیر علم
’’(کفار ومشرک) اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں۔انہیں گالی نہ دو(کیونکہ) پھر دشمنی کرتے ہوئے لاعلمی سے وہ (حقیقی معبود)اللہ کو گالی دیں گے۔‘‘
اورفرمایا:
ادع الی سبیل ربک بالحکم والموغط الحسنہ وجادلم بالتی ھی احسن 
’’اپنے پروردگار کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلااور(اگر ان سے بحث ومناظرہ کی نوبت آجائے تو) اچھے طریقے سے ان سے بحث کر۔‘‘
اور کہتا ہے :
لاتستوی الحسنہ ولا السیءۃ ادفع بالتی ھی احسن
’’نیکی اوربرائی برابر نہیں برائی کو اچھے طریقے سے دورکرو۔‘‘
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ
’’یقیناًتمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘
رسول خدا نے پتھروں کے جواب میں کیا طرزِ اختیار کیا۔آپ کو برے ناموں سے پکارا گیاآپ نے جواب میں کیسا ردِ عمل دیا؟تعجب کی بات ہے کچھ حضرات دوسروں کے بزرگوں کو یہ کہہ کر برابھلا کہتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں کو پہلے انہوں نے برا کہا ہم ردِ عمل میں ایسا کررہے ہیں۔ گویا مخالف اگر بھونکا ہے تو جواب میں ہم بھی بھونکیں گے۔ پھر دونوں میں فرق کیارہا ؟ادب مانع نہ ہوتا تو میں کھل کر اس پر کلام کرتا۔ فرقہ واریت کا نتیجہ کیاہوتاہے؟مولانا طارق جمیل صاحب بیان فرمارہے تھے کہ میں ایک سلسلے میں کسی کے گھر گیا۔ وہاں دیگر لوگ بھی موجود تھے۔ ایک بوڑھے بزرگ سے مصافحہ کرنا چاہا تو اس نے ہاتھ پیچھے کرلیے کہ تم وہابی ہو۔ فرقہ واریت کا اثر یہ ہے کہ تبلیغی جماعت بریلویوں کی مسجد میں چلی جائے تو وہ انہیں نکالتے ہی نہیں، مسجد بھی دھوتے ہیں۔
فرقہ واریت اورتفریق کے نتیجے میں مطلع ابرآلود اور فضا مکدرہوجاتی ہے۔ فرقوں اورجماعتوں میں باہم سر پھٹول رہتی ہے۔ایک دوسرے کے خلاف دھواں دھارتقریریں ہوتی ہیں۔ بیانات داغے جاتے ہیں ،رسالے لکھے جاتے ہیں، کتابیں تالیف ہوتی ہیں۔ اس کو اسلام کی بہت بڑی خدمت تصور کیاجاتاہے۔ یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ اگر کوئی مقرر مخالف فرقے کے لیے نرمی سے کام لے یا تہذیب کے دائرے میں رہ کر تقریر کرے تو کہاجاتاہے کہ اس نے اچھی تقریر نہیں کی، دوبارہ اسے بلانے سے توبہ کرلی جاتی ہے۔ قدروقیمت اسی خطیب کی ہوتی ہے جو مخالف کو خوب للکارے، اس کا کچا چٹھا کھولے اور بہت سی ناگفتنی کام میں لائے۔ معلوم نہیں یہ کون سا اسلام ہے جس کی بنیاد مسلمانوں کو مخالف سمجھنے اوران کی تحقیر ومذمت کرنے پر ہے۔ فرقہ پرست لوگ دلوں کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کااور کافروں کو مسلمان کرنے کی بجائے مسلمانوں کو کافر بنانے کاکام کرتے ہیں۔ میں نے چند ایسے حالات میں اپنے بعض شدت پسند حضرات سے کہا کہ خیر سے آپ نے احقاقِ حق کر لیا مخالف کو مع شئی زائد جواب دے دیا۔ وہ وہاں، آپ یہاں خوش مگرآپ کی اس روش سے ضد وعناد اور نفرت توپید اہوتی ہے اصلاح نہیں ہوتی۔ اگر وہ غلط ہیں تو ان کی اصلاح آپ کی ذمہ داری ہے اس کیلئے آپ نے کیا سوچا؟مجھے کوئی خوش کن جواب نہیں ملا۔
اس شدت پسندی کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ لوگ ان سے کٹنے لگتے ہیں۔ وہی چند لوگ ان کے ساتھ رہ جاتے ہیں جو پوری طرح ان کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوں۔ ان کا مقصد بھی یہ نہیں ہوتا کہ دوسروں کی اصلاح ہو۔ بس اتنا کافی ہوتا ہے کہ ’’اپنوں‘‘میں سے کوئی کٹ کر ادھر نہ چلاجائے ،اس لیے خوب خوب دوسرے کی مذمت کرتے ہیں اوراتنی زیادہ گویا کہ اس مخالف سے بڑادشمن اسلام کوئی ہے ہی نہیں ۔ملک کی عمومی دینی فضا دیکھیں بے دینی کی لہر بڑھتی جارہی ہے۔ گناہوں کا سیلاب امڈا چلا آرہاہے۔ کل تک جو برائیاں بڑے شہروں کاخاصہ سمجھی جاتی تھیں۔ آج چھوٹے چھوٹے دیہات تک پہنچ چکی ہیں۔ ہر آنے والا دن اس میں اضافہ کررہاہے۔ ایک آدمی سنورتا ہے تو دس بگڑتے ہیں اور یہ اس ملک میں ہورہاہے جہاں مدارس کاجال بچھا ہواہے۔ علماء کی کثرت ہے۔ لاکھوں طلباء دینی تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔ ہر محلے میں مسجد موجود ہے۔ اس سب کے باوجود ایساہورہاہے آخر کیوں؟اگر گذشتہ معروضات آپ کے ذہن میں ہیں تو جواب کچھ مشکل نہیں۔ میں سمجھتاہوں گنتی کے چند اہل حق علماء کی مساعی نہ ہوتیں تو یہ دینی فضا بھی نظر نہ آتی۔ افتراق وتفریق کے زہرسے مسموم ایسے زعماء کے جلسوں کاآپ جائز لیں تو معلوم ہوگا کہ 98 فیصد وہی لوگ ہیں جو مسلکاً ،ذہناً اور مزاجاً ان سے ہم آہنگی رکھتے ہیں۔2فیصد وہ ہیں جو ہم مسلک ہیں ہم آہنگ نہیں یا غیر جانبدار ہیں۔ مخالف تو شاید ہزار میں سے ایک ہو۔98فیصد میں سے بھی 85,80فیصد وہ جومدارس سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی طلباء ومدرسین۔ اس پر بھی طرہّ یہ کہ ہم سے بڑا خدمت گارِ اسلام شاید کوئی نہیں۔
فرقہ واریت اورتفریق ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے۔ فرقہ پرستی کرنے والیاورتفریق کی خلیج پیداکرنے والے دنیا آخرت میں مستحق سزا ہیں۔ آخرت کا جو نقصان ہے وہ تو ہے ہی دنیا کا نقصان یہ کہ کفر کو کھل کھیلنے کاموقع ملتاہے۔ ان کی جو صلاحیتیں کفر کو مٹانے اوراسلام کی اشاعت وحفاظت میں صرف ہونی چاہئیں، وہ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف لگ جاتی ہیں۔باہمی چپقلش سے ان کی قوت کمزور ہوتی ہے اور یہ کمزوری بالواسطہ یا بلاواسطہ کفر کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اصل کتاب میں یہ واضح کیاجاچکاتھا کہ مسلمانوں میں دین سے تعلق رکھنے والا طبقہ ہی عالمی کفر اور مسلمان نما منافقوں کااصل حریف ہے۔ یہ کفار ومنافقین ان کااتفاق کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔
یہاں یہ بات یادرکھنے کی ہے کہ فرقہ بندی ہو یا فرقہ واریت وتفریق، اس کا الزام کسی صورت اس گروہ یا شخص کو نہیں دیاجاسکتا جو حق پر ہونے کے ساتھ ساتھ اعتدال سے باہر قدم نہیں رکھتااور جن اسباب افتراق وفرقہ واریت کا پہلے ذکر کیاجاچکاہے ان میں مبتلا نہیں ہوتا۔ کیونکہ حق کے ساتھ وابستگی اصل ہے اوراصل پر قائم رہنے والا محمود ہی ہے، مجرم وہ ہے جو حق سے گریزاں ہے۔ گرچہ اپنے زعم میں وہ یہ سمجھتا ہوکہ میں حق پرہوں۔مطلب یہ ہوا کہ حق سے کٹنے والا فرقہ واریت میں مبتلا نہ ہوتب بھی ترک حق کی وجہ سے بلحاظ اصل مذموم اور حق پر ڈٹنے والے میں اگر فرقہ واریت باتفریق میں سے کوئی سبب پایاجائے تب بھی بلحاظ اصل وہ محمود ہے اس کاجرم اگر ہے تو فرعی ہے۔

۲۔ عصبیت یاتعصب

تفریق کا دوسرا بڑانقصان جاہلی بدبودارعصبیت کا پیداہوجاناہے۔جیساکہ میں نے کہا کہ ابتدامیں تو ایسی بات نہیں ہوتی مگر جیسے جیسے جماعتی سانچہ مضبوط ہوتاجاتاہے ویسے ویسے اپنی برتری اوردوسرے کی کمتری کے جراثیم بھی پیداہونا شروع ہوجاتے ہیں اوربرتری کمتری کے اسی احسا س سے عصبیت جنم لیتی ہے۔تفریق کا مارا ہوا ذہن اپنے گروہ کی شان میں قصیدے پڑھتا اوردوسروں کی ہجو کرتاہے۔خود کو آگے بڑھاتا اوردوسروں کو گراتا ہے۔ اپنے گروہ کی خامیوں غلطیوں کو چھپاتااوران کا دفاع کرتاہے جب کہ دوسروں پرکیچڑ اچھالتاہے۔اپنی غلطیوں کی پچ کی جاتی ہے اوردوسروں کی خامیوں کواچھالاجاتاہے۔اسی کی مانی جاتی ہے جو اپنے شعبے ،گروہ اورجماعت سے تعلق رکھتاہے دوسرے کی بات اگر حق ودرست بھی ہو تو اسے تسلیم نہیں کیا جاتا۔اگر دوجماعتوں میں کسی موقع پرتعاون ہوجائیتو ان میں سے ہرایک خود کونمایاں کرنے کی کوشش کرتی ہے۔جھنڈوں کے ذریعے ،بینروں کے ذریعے، نعروں کے ذریعے ،وقت کی تقدیم وتاخیر کے ذریعے۔کسی دوسری جماعت کے صحیح اوردرست کام میں شرکت سے محض اس لیے گریز کیا جاتاہے کہ جماعتی طور پر اس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا۔حق کو یاکم از کم افضلیت کو اپنی تحریک اورجماعت میں منحصر سمجھ لیا جاتاہے۔جس کا لازمی نتیجہ یہی ہوتاہے کہ دوسروں کی حقارت دل میں پیداہوجاتی ہے یا کم سے کم اس کام کی واقعی وقعت دل میں نہیں رہتی۔کبھی اس عصبیت میں اتنی شدت پیداہوجاتی ہے کہ محض اپنے جماعتی تعصب میں دوسروں کے صحیح کام کی مخالفت کی جاتی ہے۔
اس میں کسی گروہ ،مسلک اورجماعت کا استثنا ء نہیں۔خود دیوبندی حلقوں میں بیسیوں جماعتیں ہیں جو کہ آپس میں ایک دوسرے سے لگانہیں رکھتیں۔ جے یوآئی ف اورجے یوآئی س کی دھڑے بندی ،خدام اہل سنت کا ہر کام میں الگ تشخص کوئی پردے کی بات نہیں ،مرکزی جے یوآئی تھانوی گروپ گو کہ صرف رسالوں کتابوں میں رہ گیا مگر تھانوی حضرات کی طرف سے ابھی تک اس مخالفت کا سلسلہ جاری ہے۔تحفظ ختم نبوت کا سٹیج جو باہمی اتفاق کا ایک فورم تھا، اول تو وہ بھی تین چار حصوں میں تقسیم ہوگئی، پھر اس میں بھی جزوی اختلافات نے راہ پالی۔ جے یوآئی اورسپاہ صحابہ کی عصبیت ڈھکی چھپی نہیں ،تبلیغیوں اورمجاہدوں کی باہمی مخالفت کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ مجاہدین کی تنظیمیں بے شمار اورہرایک دوسرے کی مخالف۔بعض بزرگوں کی کوششوں سے ان کو متحد کیا گیا حرکۃ الانصار کے نام سے مگر چند ہی سال بعد وہ کارتوس سے نکلے ہوئے چھروں کی طرح پھٹے اوروہ گند اڑایاکہ الامان والحفیظ۔ اب تو خیرسارے ہی کیموفلاج ہوچکے ہیں ۔اشاعۃ التوحید والسنۃ کی اپنی ہی ایک الگ مسجد ہے، نہ ہم کسی کے نہ ہماراکوئی۔ جے یوآئی اوریہ ہمہ وقت ایک دوسرے سے روٹھے ہی رہتے ہیں۔پہلے اس کے قائدین تحفظ ختم نبوت کے فورم پر نظر آتے تھے۔ اب نہیں معلوم نہیں یہ ختم نبوت والوں کی تنگ نظری ہے یا اشاعت والوں کی سختی کہ دونوں کے درمیان فاصلے پیداہوگئے۔حیاتیوں مماتیوں کی چپقلش ،مخاصمت ،مخالفت اورعصبیت بھی ظاہر وباہر ہے۔ اب تو یہ حال ہوگیا کہ علماء کو حیاتی مماتی میں تولنا شروع کر دیا گیا۔ وہ کہتے ہیں یہ دیوبندی نہیں، یہ کہتے ہیں وہ دیوبندی نہیں۔ بقیہ جماعتوں کاحال بھی یہی ہے۔دین سے متعلق لوگوں اوراہل حق ہونے کا دعواکرنے والوں کا یہ حال ہے تو قیاس کیا جاسکتاہے کہ ان لوگوں اورجماعتوں کا حال کیا ہوگاجو دین سے بے بہرہ ہیں۔جولوگ اپنے بھائیوں کے ساتھ بھی مل بیٹھنے کوتیار نہیں ان کی بات سننے سمجھنے کے لیے آمادہ نہیں بلکہ ان کے صحیح کو بھی غلط بناکر دکھانے والے ہیں وہ کوئی بڑاکام کرسکیں گے ؟کیا انقلاب کا ہراول بن سکیں گے؟ کیا امت کی ناؤ کنارے پر لگاسکیں گے؟
ہرعلاقے یامسجد کے مولوی صاحب اس عصبیت کو بڑھاتے اوراس کی بنیاد پر دوسروں کی مخالفت کا بازارگرم کیے رکھتے ہیں۔سیاسی میدان میں مولوی صاحب امت کے اجتماعی یا قومی اورعالمی مفادکو سامنے رکھنے کے بجائے مقامی جماعتی مفادکوسامنے رکھ کر فیصلے کرتے ہیں اوراس بنیاد پر علاقے کے بے دین جاگیر داراورملک کی سپورٹ کریں گے مگر جے یوآئی کا کوئی امید وار ہوا تو اسے ووٹ نہیں دیں گے۔کسی علاقے میں ف گروپ کا امیدوارکھڑاہوتوس گروپ بھی اپناامید وار کھڑا کرے گا اگر چہ اس کی شکست یقینی ہو۔اسی طرح اس کے برعکس بھی ہوجاتا ہے۔
جماعتوں کے لیڈر سٹیج پر آکر کبھی بصد ادب واحترام دوسروں کی شکایت کرتے ہیں ،کبھی رمز واشارے سے کام لیتے ہیں ان کے سٹیج پرکیے جانے والے اشارے کنائے اورتعریضات وشکایات کارکنوں تک پہنچ کرکھلم کھلادشمنی اورمخالفت کا روپ دھارلیتے ہیں۔ عصبیت دوچند ہوجاتی ہے،عمل کا میدان محدودہوتاہے اورقوت اپنوں کے خلاف صرف ہوناشروع ہوجاتی ہے۔یہاں مولانافضل الرحمن صاحب کو داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔میں نے ان کی تقاریرسنیں ،اخباری بیانات پڑھے انٹرویوسنے۔ کبھی کہیں انہوں نے حلقہ دیوبندکے علماء اورجماعتوں کے بارے میں علانیہ کوئی منفی بات نہیں کی، یہاں تک کہ اشارے کنایے میں بھی نہیں۔ان کی تقریراس قسم کی تمام ہزلیات سے پاک ہوتی ہے۔دیگر اورعلماء بھی ہوں گے، اس مزاج اورطبیعت کے میں اس سے انکار نہیں کرتا، مگر میری معلومات میں ابھی تک ان کے علاوہ کوئی نہیں آیا۔

۳۔ قوت کی تقسیم

یہ تفریق کا تیسرابڑااوراہم نتیجہ ہے جو پہلے دونتائج پر متفرع ہے۔یہی پہلوسب سے زیادہ خطرناک ہے۔کسی کام کے مختلف شعبے اگر کسی نظم کے تحت تقسیم کردیے جائیں تووہ ایک دوسرے کے ممد ومعاون ثابت ہوتے اورباہم دگر شعبوں کو تقویت پہنچاتے ہیں ۔ایک نظم میں پروئے ہوئے ہونے کی وجہ سے قوت بظاہر تقسیم ہونے کے باوجود مجتمع ہوتی ہے۔مگر تفریق میں ایسا نہیں ہوتا۔وہاں کسی مافوق نظم کے بغیر ہر ایک اپنا شعبہ سنبھالتا ہے اور کوشش دوسرے کو مضبوط کرنے کے بجائے یہ ہوتی ہے کہ باقی شعبے ختم ہوجائیں اوریہی جاری رہے۔ یا اس کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے۔یا یہ سوچ پیداہوجاتی ہے کہ دیگر شعبوں کا کام چوں کہ خاص اہمیت کا حامل نہیں اوران شعبوں میں کام کرنے والے بھی کارآمد نہیں، اس لیے ہم وہ بھی اوریہ بھی کام کریں گے۔ایسے لوگ بجائے اپنے شعبے پرتوجہ دینے کے دوسرے شعبوں کو سدھارنے کا کام سرانجام دینے لگتے ہیں۔ یا یہ ہوتاہے کہ ایک ہی شعبے میں کئی کئی ٹیمیں الگ الگ نظم کے ساتھ گھس آتی ہیں۔ ان کے دو اصول ہوتے ہیں ایک یہ کہ دیگر شعبوں کا کام کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ جو ہم کررہے ہیں، وہ سب سے اعلیٰ ہے۔ دوسرایہ کہ اس شعبے میں کام کرنے والے دیگر لوگ صحیح کام نہیں کررہے اورہمارا کام سب سے بہتر ہے۔ اس سے ٹکراؤپیداہوتاہے۔اپنا کام کرنے کے بجائے ایک شعبے میں کام کرنے والے دوسرے افراد ہدف بن جاتے ہیں۔ رفیق وہ ہوتے ہیں جو انہی کے نظم کے تحت کام کریں اوردشمن وہ سمجھے جاتے ہیں جو اس نظم سے ہٹ کرکام کریں۔
یہ بات ایک مثال سے سمجھیے: فوج ایک بڑاادارہ ہے جس کا اصل کام ملکی سرحدوں کی حفاظت ہے۔اس ادارہ میں مزید کئی شعبے اورپھر ان کی بھی ذیلی تقسیم ہے جو اس ادارے کو صحیح طورپرچلانے کے لیے بہت ضروری ہے۔لوگوں کو فوج کی طرف راغب کرنا۔ان کو بھرتی کرنا۔ان کی تربیت کا بندبست کرنا۔ان کے کھانے پینے رہنے سہنے علاج معالجے اورکپڑے لتے کا بندوبست کرنا۔ہرایک کا اورہرچیز کا مکمل ریکارڈ رکھنا۔اسلحہ خریدنا۔اس کو چالوحالت میں رکھنا اس کے لحاظ سے فوج کو تقسیم کرنا۔ہرایک ان میں فوج کا شعبہ اوراس کے لیے لازمی ہے۔ہرایک کی اپنی حدود اورذمہ داریاں ہیں ۔یہ سب مل کرفوج کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ غنیم کا مقابلہ کرسکے۔اس سارے عمل میں جس طرح ایک ڈاکٹرکا حصہ ہے اسی طرح ایک دھوبی کا بھی۔جس طرح ایک انجینئر کی ضرورت ہے اسی طرح ایک درزی اورنائی کی بھی۔جس طرح ایک کلرک اس میں شریک ہے ویسے ہی ایک خریداری کرنے والابھی۔جس طرح رسد پہنچانے والے ہیں اسی طرح بالفعل لڑنے والے بھی۔ایک شعبے کے لوگ اگر دوسرے میں دخل اندازی شروع کردیں تو تنظیم پارہ پارہ ہوجائے۔ایک حصہ یہ سمجھنا شروع کردے کہ ہم ہی ہم ہیں اورکسی کا کوئی کردار نہیں تو ادارہ زمیں بوس ہوجائے۔
تفریق کے نتیجے میں یہی صورت حال پیداہوتی ہے۔دین کے مختلف شعبے ہیں ہرشخص جو کام کررہاہے وہ اپنی حدود اورذمہ داری کا احسا س کرے۔دوسرے شعبوں کی تنقیص اوران میں دخل اندازی نہ کرے۔بلکہ اس بات کو دوسرے کام کرنے والے مسلمان بھائیوں کا احسان سمجھے کہ یہ کام بھی بحیثیت مسلم میرے کرنے کا تھا مگرایک آدمی ہرطرف پورانہیں ہوسکتا۔ شکر ہے کہ یہ طرف خالی نہ رہی اورانہوں نے اسے سنبھال لیاہے۔اگرایسا ہوگیاتو ہرشعبہ دوسرے کا معاون ومددگاربن کراسلام کی عمارت کوبلند اور مضبوط کردے گا۔

میری علمی و مطالعاتی زندگی

ڈاکٹر طاہر مسعود سے انٹرویو

ڈاکٹر طاہر مسعود

انٹرویو نگار : عرفان احمد

میں 1957ء میں سابق مشرقی پاکستان کے شہرراج شاہی میں پیداہوا۔ میرے والد صاحب کتابوں کے تاجر تھے۔ راج شاہی میں اُن کی کتابوں کی تقریباً تین دکانیں تھیں۔ میں نے جب سکول جانا شروع کیاتو میرے راستے میں ہی ہماری کتابوں کی دکان تھی۔ اُس کانام اُردو لابئریری تھا تو میں سکول کی واپسی پراُس دکان میں ٹھہرتا تھا۔ اُس کے پچھلے حصے میں ایک میز پر کتابیں رکھی ہوتی تھیں۔ اُس پربیٹھ جاتا تھا اورکتابیں نکال کے اُن کامطالعہ کرتارہتا تھا۔ تواُس زمانے میں وہاں رسائل بھی آتے تھے،اخبارات بھی آتے تھے۔ اردو ڈائجسٹ کی بڑی شہرت تھی۔ اُس کامطالعہ کرتا تھا۔ پھروہ ادبی رسائل جن میں نقوش وغیرہ اس طرح کے رسائل وغیرہ آتے تھے، اُن کابھی مطالعہ کیاکرتا تھا۔اردو کاجوداستانی ادب ہے جیسے طلسم ہوشرباوغیرہ تواُن کامطالعہ میں نے اُسی لائبریری میں کیا تھا۔ گھنٹوں بیٹھا رہتا تھا وہاں پہ، تو اُس سے یہ ہواکہ میری اردو بہت اچھی ہوگئی۔ اسکول میں بعض اوقات یہ ہوتا تھا کہ جب میں نویں جماعت میں تھا تودسویں جماعت میں طالب علموں کوشرمندہ کرنے کے لیے اردو کے استاد نے کسی لفظ کے معنی پوچھنے ہوتے تھے تووہ مجھے بلاتے تھے۔ مجھے بُلاکے پوچھتے تھے کہ بتاؤ ان کو۔ تو اُسی اسکول سے میں نے میٹرک کیا۔ پھر جب وہاں ہنگامے شروع ہوئے توجولائی 1971ء میں ہی ہمارا گھر نذرآتش کردیا گیا۔ بڑی مشکل سے ہماری جان بچی۔ 1971ء میں ہم کراچی آگئے۔ یہاں جامعہ ملیہ کالج سے جو ڈاکٹر محمود حسین صاحب کاقائم کردہ تھا، انٹرمیڈیٹ کیا اورپھر اُس کے بعدمیں نے آنرزاور ایم اے کی تعلیم جامعہ کراچی سے حاصل کی ۔
ہمارے والدین مہاجرتھے۔ میرے دادا ڈاکخانہ میں ملازم تھے۔ ویسے مجھے گلہ ہی رہا کہ سکول کے زمانے میں مجھے کوئی ایسا استاد نہیں ملاجومجھے پڑھنے لکھنے کی طرف لائے۔ یہ جوکچھ میں نے پڑھا، اپنے شوق سے، کتابوں کے ملنے کی وجہ سے۔ چونکہ گھرمیں کتابیں آتی تھیں، رسائل آتے تھے تواُن کامطالعہ کیا کرتاتھا۔
کالج میں ہمارے ایک پروفیسر تھے وحید اﷲ نظمی صاحب جوسیاسیات کے استاد تھے اورایک پروفیسر عطاء اﷲ حسینی صاحب جواسلامک اسٹڈیز کے استاد تھے۔ ان اساتذہ سے میں کافی متاثر رہا۔ یہ وسیع المطالعہ لوگ تھے۔ ان کے پاس لائبریری بھی اچھی تھی۔ عطاء اﷲ حسینی کالج میں ہی رہائش پذیر تھے۔ میں اُن کے گھرجایاکرتا تھا۔ اُن کے گھرمیں ایک اچھی خاصی لائبریری تھی۔ کتابیں بڑی ترتیب اور سلیقے سے سجی ہوتی تھیں۔ میں اُن سے کتابیں لیتا تھا۔ باقاعدگی سے جایاکرتا تھا، کیونکہ کالج میں اُس زمانے میں ہنگامے بہت زیادہ ہوتے تھے تومیں اُس وقت لائبریری چلاجایاکرتا تھا اورلائبریری میں بیٹھ کر وہاں کتابیں پڑھا کرتا تھا۔
میرا رجحان زیادہ تر ادب کی طرف تھا اورمیری مطالعاتی زندگی کی ابتدا بھی ادب ہی سے ہوئی تھی۔ اُس میں خاص طور پرافسانے (Short stories)۔ ناولوں کا بھی بڑا مطالعہ کیا، مثال کے طور پر کرشن، منٹو، بیدی کے افسانے۔ پھربعد میں آگے چل کر قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین کی کہانیوں نے مجھے بہت Inspire کیا۔ اسکول کے زمانے میں، میں نے لکھنا شروع کردیا۔ ایک واقعہ ہے جس کی یاد اب بھی مجھے شرمندہ کرتی ہے۔ لکھنے کاشوق مجھے اسکول کے زمانے سے ہی تھا، لیکن یہ نہیں سمجھ آتا تھا کہ کیا لکھو ں توایک بہت پرانا رسالہ مجھے اپنی لائبریری سے ملاتو اُس میں ایک کہانی مجھے بہت پسند آئی تووہ کہانی نکال کر میں نے ایک رسالہ نکلتا تھا ’’نقاد‘‘، اُسے بھیج دی۔ وہ کہانی اس رسالے نے بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کی۔ نقادمیں پہلے احمد ندیم قاسمی کاافسانہ تھا، پھرمیری کہانی تھی۔ اب جب چھپ کر رسالہ آیا تومجھے اندیشہ پیداہوا کہ جس رسالے سے میں نے بھیجا ہے، اب اگرکسی کی نظر اس پرپڑگئی توکیا ہوگا اوراگر میری چوری پکڑی گئی تومیراحشر کیاہوگا؟ میں اسکول میں آٹھویں جماعت کاطالب علم تھا۔ اُس زمانے میں میری بڑی واہ واہ ہوگئی کہ اس کاافسانہ چھپا ہے تومیں نے اُس رسالے کوجس سے افسانہ نقل کیاتھا، اُس کوجلا دیا، لیکن اس سے میرے اندر ایک شرمندگی، ایک غلطی کااحساس پیداہوا کہ میں نے یہ غلط کیا ہے اورسوچا کہ مجھے خود لکھنا چاہیے تھا ۔
پھر میں نے ایک کہانی لکھی۔ اسی ادارے سے ایک اوررسالہ نکلتا تھا ’’آداب عرض‘‘ جس میں سچی کہانیاں چھپتی تھیں۔ اُس میں کہانی لکھ کر بھیجی۔ ہمارے پڑوس میں ہی ایک Love affair ہوا تھا۔ اُس میں کچھ واقعات وغیرہ ایسے تھے جومجھ تک پہنچے تومیں نے اُس کوایک افسانوی پیرایے کارنگ دے دیا اور ’’آداب عرض‘‘ میں ارسال کیا۔ اُس سے میرے اندر اعتماد پیداہوا کہ میں خود بھی لکھ سکتا ہوں۔ پھراُس کے بعد میں نے خود لکھنا شروع کیا۔ 
اُسی زمانے میں کچھ شاعری پڑھنی شروع کی۔ شاعری پڑھنے کے سلسلے میں واقعہ یہ ہوا کہ میرے چھوٹے چچا تھے جومیڈیکل کی تعلیم حاصل کررہے تھے۔ اُن کے پاس ایک چھوٹی سی الماری تھی، اُن میں کتابیں وغیرہ رکھی ہوئی تھیں۔ ایک دن میں اُن کی غیرموجودگی میں اُس الماری کوکھول کروہ کتابیں دیکھ رہا تھا تو اُس میں ایک شعری مجموعہ مجھے ملا ’’تلخیاں‘‘ ساحر لدھیانوی کا۔ اُسے جومیں نے پڑھا تومیرے توہوش اڑگئے۔ نظم غزل کے ہرشعر پر میں نہال ہوگیا۔ تواُس سے مجھے کچھ شعر کہنے کاشوق ہوا۔ پھرمیں نے کچھ شعرکہنے شروع کیے اوروہاں ایک شاعر تھے، اُن سے اصلاح بھی لی۔ میں نے مشاعروں میں غزلیں وغیرہ بھی پڑھنی شروع کیں۔ اُس زمانے میں ایک رسالہ نکلتا تھا ’’چاند‘‘ اُس میں شاعری کی پیروڈی چھپتی تھی تواُس طرح کی پیرڈوی میں نے بھی لکھ کربھیجی۔ اس طرح سے لکھنے لکھانے کاشوق پروان چڑھا۔
زمانہ طالب علمی میں مجھے قرۃ العین حیدر کے دوناولوں نے بہت متاثر کیا۔ اُن میں ایک ’’آخر شب کے ہم سفر‘‘اور دوسرا ’’آگ کادریا‘‘ ہیں۔ اسی طرح میں ’’اُداس نسلیں‘‘ سے بھی بہتُ متاثر ہوا اورایک عزیز احمدکاناول ’’کیسی بلندی کیسی پستی‘‘، کرشن چندر کاناول ’’شکست‘‘، اس طرح کے ناول تومیں نے بہت پڑھے، لیکن قرۃ العین حیدرسے میں بہت متاثرہوا۔ ’’اداس نسلیں‘‘ کے بارے میں کچھ نقادوں کاخیال ہے کہ عبداﷲ حسین نے کردارنقل کیے ہیں قرۃ العین حیدر کے ناولوں سے، جبکہ عبداﷲ حسین کاکہنا ہے کہ وہ قرۃالعین حیدر کو قابل ذکر ناول نگار نہیں سمجھتے۔ لکھنے والا کسی سے متاثر ہوسکتا ہے، مثلاً انتظار حسین نے یہ لکھا کہ میں کرشن چندر سے بہت متاثر تھا اور انہی کے انداز میں لکھنے کی کوشش کیاکرتا تھا توہر لکھنے والے اپنے عہد کے لکھنے والے سے متاثر توہوتا ہے۔ ’’اداس نسلیں‘‘ عبداﷲ حسین کاپہلا ناول تھا۔ اب اُن کے اوربھی بہت سے ناول آئے ہیں، اب وہ اُس کے اثرات سے نکل آئے ہیں۔ اردو کے اگردس اچھے ناول چنے جائیں تو پہلا ناول ’’آگ کادریا‘‘ ہے۔ بعض لوگوں نے امراؤجان ادا کو اچھا ناول قراردیاہے۔پہلے دس میں عزیز احمد کے ناول، منشی پریم چند، خدیجہ مستورکاناول ’’آنگن‘‘ بھی آئیں گے۔ فضل احمدکریم فضلی نے ایک ناول’’ خون جگر ہونے تک‘‘ لکھا تھا۔ انہوں نے دوناول لکھے۔ ایک ’’سحرہونے تک‘‘، ایک ناول مشرقی پاکستان کے پس منظر میں، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں جوتنقید لکھی گئی ہے، اُس میں اس کاذکر ذرا کم کم ملتا ہے۔ حیرت ہے کہ نقادوں نے اُن کونظرانداز کیا۔ 
اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ ہمارے ہاں لکھنے والوں نے تکنیک باہر سے لی ہے۔ مثلاً کرشن کے جوافسانے ہیں مثلاً ’’دوفرلانگ لمبی سٹرک’’ ہے، ’’زندگی کے موڑ پہ‘‘، ’’بالکونی‘‘ اس طرح کے جوافسانے ہیں، وہ بالکل نئی تکنیک میں لکھے گئے ہیں، اس لیے اُن افسانوں نے بہت چونکا یا اورپڑھنے والے اور ادبی حلقے بہت متاثر ہوئے۔ وجہ یہ ہے کہ کرشن کامطالعہ مغربی ادب کابہت اچھا تھا۔ مغربی فکشن کاانہوں نے بہت مطالعہ کیا تھا۔ یہ ناول ،افسانہ یہ ساری اصناف ہی دراصل مغرب سے آئی ہیں۔ شعور کی رو کاذکر کیاجاتا ہے۔ قرۃ العین حیدر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ورجینیا وولف کے زیر اثر شعور کی رو کی تکنیک میں کہانیاں لکھیں، لیکن قرۃ العین حیدر اس سے انکار کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے جب یہ لکھا، تب میں نے ورجینیا وولف کونہیں پڑھا تھا اوراپنے طور پرمیں نے یہ چیزیں لکھی تھیں۔ اس حد تک ٹھیک ہے کہ بعض تکنیکیں مغرب سے آئی ہیں، لیکن یہ کہ سارے کاساراسرقہ ہے،یہ غلط ہے۔ یہ طبع زاد افسانے ہیں، اُن کے موضوعات، اُن کے کردار یہ ساری کی ساری اپنی ہے۔ 
’’تلخیاں‘‘ کی نظمیں مجھے زبانی یادہوگئیں ۔اس کے بعدمیں نے غالب کوسکول کے زمانے ہی پڑھا، لیکن جدیدشاعروں میں جس نے مجھے متاثر کیا، اُن میں منیر نیازی ہیں۔ منیرنیازی کاشعری مجموعہ ’’جنگل میں دھنک‘‘ جو ہے، اُس میں مجھے اک ایسی جھلک نظرآئی کہ جس کے تناظر میں مجھے دنیا بڑی منفرد نظرآئی۔ میں نے ان کے دوسرے شعری مجموعے بھی پڑھے، لیکن ظاہر سی بات ہے، اس سے میں یہ تونہیں کہتا کہ وہ فیض سے بڑے شاعر ہیں، اس لیے کہ فیض کے نام میں زیادہ کشش اور زیادہ تاثیر ہے اوروہ منیرنیازی سے بڑے شاعر ہیں، لیکن وہ شعرا جوہمارے عہد میں تھے، زندہ تھے اورلکھ رہے تھے، اُن میں سے منیرنیازی میں زیادہ طاقت، اُن کی سوچ میں زیادہ انفرادیت نظرآئی۔ ناصرکاظمی کے کلام نے بھی متاثر کیا، احمدمشتاق کی بعض غزلیں بہت اچھی ہیں، لیکن زیادہ تردلچسپی مغربی فکشن سے، افسانے سے اور ناولوں سے رہی۔ ’’راجہ گدھ‘‘ پرمیں نے ایک مضمون بھی لکھا، اس ناول نے مجھے بہت متاثر کیا۔ جب میں نے اس کامطالعہ کیاتومیں کئی دنوں تک بہت ہی Depression کاشکار رہا۔ اُن کے کردار مجھے Haunt کرتے رہے۔ میں نے ’’راجہ گدھ‘‘ اپنے تحریر کردہ مضمون میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ راجہ گدھ میں جو فلسفہ بیان کیا گیا ہے، وہ سارے کا سارا اشفاق احمد کا فلسفہ ہے۔ مصنفہ تو اس کی بانو قدسیہ ہیں۔ جیسے رزق کاجوفلسفہ ہے، رزق حرام کا جوفلسفہ بیان کیا گیا ہے، اشفاق احمد نے بعض مذاکروں میں جن خیالات کااظہار کیا تھا، وہ سب کے سب وہی ہیں۔ گویا یہ ناول اشفاق احمد صاحب کے فیض تربیت کانتیجہ ہے۔
کالج لائف تک تومیں ادبی مطالعہ ہی کرتا رہا۔ اُس زمانے میں کتابوں سے دلچسپی بہت زیادہ تھی۔ اُس زمانے میں پیسے بھی نہیں ہواکرتے تھے، کتابیں خریدنے کا بڑامسئلہ رہتا تھا۔ یہاں ایک دکان ہواکرتی تھی ’’کتاب محل‘‘، اس دکان کے مالک قسطوں پرکتابیں دیاکرتے تھے۔ ان سے میں کتابیں خریدتا رہتا تھا کیونکہ مشرقی پاکستان سے کراچی آنے کے بعدمعاشی حالات بڑ ے خراب ہوگئے تھے۔ والد صاحب کاانتقال ہوگیا تھا اورجودوست احباب تھے، وہ بھی اسی طرح معاشی تنگی کاشکار تھے۔ کتابوں کے مطالعے میں ادب کے بعد فلسفے کی کچھ کتابوں سے دلچسپی رہی۔ فلسفہ مجھے ہمیشہ بہت مشکل لگا۔ فلسفیانہ مسائل پر میری گرفت کبھی بھی نہیں ہوسکی اورنفسیات پربھی کتابیں پڑھتا رہا۔ تاریخ پرکتابیں پڑھتا رہا۔ دراصل میرا منظم مطالعہ کبھی نہیں رہا۔ جو جو چیزیں ہاتھ لگتی گئیں، پڑھتا رہا۔
زمانہ طالب علمی میں جس دینی اسکالر نے متاثر کیا، وہ مولانامودودی صاحب تھے۔ اُن کی کتابیں میں نے پڑھیں۔ اُن میں جیسے ’’خلافت وملوکیت‘‘ ہے۔ بعد میں دوسری کتابیں پڑھ کر مجھے محسوس ہوا کہ ’’خلافت وملوکیت‘‘ میں احتیاط کادامن چھوڑ دیا گیاہے اور بہت سی چیزوں کوجس طرح رقم کیا گیا ہے، اگرنہ کرتے توزیادہ بہتر تھا۔ اُس کے علاوہ اُن کی دوسری کتابیں جیسے ’’سود‘‘ ہے، ’’معاشیات اسلام‘‘ ہے، ’’اسلام اورجدید معاشی نظریات‘‘ ہے اور ’’پردہ‘‘ ہے، وہ ساری کی ساری کتابیں میں نے پڑھیں۔ ان کتابوں نے میرے خیالات کو، میری فکرکو مذہب کی طرف موڑنے میں بڑا اہم کردار اداکیا اور پھر آگے چل کرمیں نے جب اُن کی تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ پڑھی تواُس سے میرے اندرایک انقلاب آیا اوریہ داڑھی جو آپ دیکھ رہے ہیں اورنمازکی پابندی، اس میں ’’تفہیم القرآن‘‘ کابہت اہم کردار ہے۔ اس کے پڑھنے سے پہلے دل میں یونہی ایک خیال سا آیاکہ کتابیں بہت پڑھتا رہتا ہوں، لیکن اگرقیامت کے دن اﷲ مجھ سے سوال کرے گا کہ ایک کتاب میں نے بھی تمہارے لیے اتاری تھی، تونے اُسے پڑھا کیوں نہیں تواس کا میرے پاس کیا جواب ہوگا؟ اس خیال کے بعد میں نے سوچا کہ مجھے ’’تفہیم القرآن‘‘ کامطالعہ کرنا چاہیے، قرآن کوسمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ توتفہیم کا ایک کمال تواُس کاترجمہ ہی ہے جسے انہوں نے قرآن حکیم کی ترجمانی کہا ہے۔ اُس ترجمے کوپڑھنے کے دوران مجھ پریہ کیفیت طاری ہوگئی تھی کہ میں اسے پڑھتا جاتا تھا اور روتا جاتا تھا۔ تفہیم القرآن کوکہوں گا کہ میری زندگی کارخ بدلنے میں اس نے بڑا اہم کردار اداکیا۔
’’تفہیم القران‘‘ سے میرے اندر ذوق پیداہوا کہ میں دوسری تفاسیر کوبھی پڑھوں اورپھر میں نے ’’تفسیر عثمانی‘‘، مفتی محمدشفیع صاحب کی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘، مولانا امین احسن اصلاحی کی ’’تدبر قرآن‘‘ پڑھیں۔ اس طرح قرآن فہمی کاذوق مولانا مودودی صاحب کی تفہیم القرآن سے پیدا ہوا اورپھرمیرا مطالعہ دینی کتابوں کی طرف مڑگیا اور میں نے دینی کتابیں پڑھیں۔ شکیب ارسلان کی ’’اسباب زوال امت‘‘، امیر علی کی ’’روح اسلام‘‘ اور دوسری بہت سی دینی کتابیں پڑھیں۔ پھر مجھ میں تصوف کا ذوق پیدا ہوا تو میں نے تصوف پر بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ اس میں خاص طور پر مولانا اشرف علی تھانوی کے مواعظ اور دیگر کتابیں شامل ہیں۔ جدید ذہنوں کو متاثر کرنے میں مولانا مودودی کی تحریریں اور قلم بہت متاثرکن ثابت ہوتا ہے،لیکن دین کی اصل تفہیم میں اوردین کے لحاظ سے اعمال کی تربیت میں اور تزکیہ نفس کے عمل میں مولانا کی تحریریں اتنی موثر ثابت نہیں ہوتیں جتنی مولانا اشرف علی تھانوی اور مفتی محمدشفیع صاحب کی تحریریں ثابت ہوتی ہیں۔
سیرت کے حوالے سے شبلی نعمانی اورعلامہ سیدسلیمان ندوی کی جو کتاب ہے، میرے خیال میں شاید اس سے زیادہ اچھی سیرت عربی میں بھی نہ لکھی گئی ہو۔ سیرت پرایک کتاب جومجھے بہت اچھی لگی، مولانا وحیدالدین کی ایک کتاب ہے’’ پیغمبر انقلاب‘‘۔ سیرت پر چھوٹی سی کتاب ہے جس میں انہوں نے حضورؐ کی حیات طیبہ کوبہت اچھے طریقے سے قلم بند کیا ہے۔ ’’محسن انسانیت‘‘ کوبھی پڑھا ہے۔ 
ادب میں روسی افسانوی اور ناولوں نے مجھے بہت متاثر کیا۔ خاص طور پر ٹامسٹائی، دوستوفیسکی، گورکی، گوگول وغیرہ کی کتابیں زمانہ طالب علمی میں ہی پڑھ ڈالی تھیں۔ طنز ومزاح میں پطرس سے لے کر ابن انشا تک، یوسفی، کرنل محمد خان تک سب کی تحریر یں میری نظروں سے گزری ہیں، لیکن سچی بات یہ ہے کہ پطرس کے بعد اگرکسی نے مجھے متاثر کیاتو ابن انشانے کیا۔یوسفی صاحب کی لوگ بہت تعریف کرتے اوربہت متاثر ہوتے ہیں۔ اُن کے جملے بڑے quote کیے جاتے ہیں، لیکن یوسفی صاحب کاجومزاح ہے، وہ مجھے بڑی محنت کے بعد بنایاہوا مزاح لگتا ہے۔ جملہ تراشنے میں وہ بڑی محنت کرتے ہیں،سوچتے ہیں اورسوچ کرمزاحیہ جملہ وضع کرتے ہیں، لیکن ابن انشاء کے اندر بڑی برجستگی ہے اور ان کا مزاح بہت بے ساختہ مزاح ہے۔ ’’اردو کی آخری کتاب‘‘ دیکھ لیں یاجو اُن کے کالموں کامجموعہ ہے ’’خمار گندم‘‘ یا ’’آپ سے کیا پردہ‘‘ وغیرہ، اُن میں جوبات ہے، زبان و بیان کے اعتبار سے بھی اور مزاح کے اعتبار سے جوبے ساختہ مسکراہٹ ہے، وہ کسی اور میں نظر نہیں آئی۔
کالموں میں ابن انشا کے کالم مجھے بہت پسند آئے اورعطاء الحق قاسمی کے کالموں کی پہلی کتاب ’’روزن دیوار سے‘‘ مجھے بہت اچھی لگی۔عبدالقادر حسن کا کالموں کا جو مجموعہ ہے، ’’غیر سیاسی باتیں‘‘ وہ بھی اچھا ہے۔ جاوید چودھری کے کالم بھی بہت اچھے ہوتے ہیں۔ ادب کے میدان میں قرۃ العین حیدرکاہی نام لوں گا اور اُس کے بعد انتظار حسین صاحب کا۔ عجیب بات یہ ہے کہ ان دونوں مصنفوں کے موضوعات کافی حدتک ملتے جلتے ہیں۔ جیسے ہجر ت کامسئلہ یااخلاقی اقدار کامسئلہ، لوگوں کے رویوں کے بدلنے کامسئلہ ہے۔
بہت سی کتب نے اپنے اپنے وقت میں مجھ پراثرات مرتب کیے۔ ’’خداکی بستی‘‘ بھی بہت اچھی لگی، یہ شوکت صدیقی کا ناول ہے۔ شوکت صدیقی ہمارے بڑے اہم ناول نگار ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ ’’کیمیاگر‘‘ میں جو پہلی کہانی ہے، وہ بہت طاقت ور اور متاثر کر دینے والی ہے۔ 
صبح فجرنمازکے بعد اخبارات کامطالعہ کرتاہوں۔ گھر میں توتین اخبارات کا مطالعہ کرتاہوں، لیکن اپنے شعبے کی لائبریری میں جاکر کچھ دوسرے اخبارات کودیکھتا ہوں، مثلاً جیسے نوائے وقت،Nation وغیرہ میرے گھر آتا ہے، جنگ اورایکسپریس ڈیپارٹمنٹ کی لائبریری میں جاکر دیکھتا ہوں۔ 
دوران سفر ہمیشہ ہی ہلکے پھلکے لٹریچر کامطالعہ کرتا ہوں۔ خاص طورپرافسانے یاسفرنامے میں نے پڑھے ہیں اور مجھے بہت اچھے بھی لگے ہیں۔ ’’دھنک پرقدم‘‘، ’’سات سمندر پار‘‘ وغیرہ۔ آپ بیتی اورسوانح عمریاں بھی پڑھی ہیں۔ آب بیتیوں میں سررضا علی کا ’’اعمال نامہ‘‘ بہت اچھی لگی۔ ابھی حال میں ہی میں نے انتظار حسین کی یادداشتیں ’’چراغوں کا دھواں‘‘ بھی مجھے پسند آئی اور آپ بیتیوں میں خواجہ حسن نظامی کی آپ بیتی مجھے اس لیے اچھی لگی کیونکہ اُس میں بڑی سچائی ملتی ہے۔ اپنے بارے میں انہوں نے لکھا ہے کہ میں بڑامنافق آدمی ہوں۔ اُس سچائی نے مجھے متاثرکیا۔ ایسی آپ بیتیاں ذراکم لکھی گئی ہیں جس میں اپنے آپ کو Expose کیا گیا ہو۔ اس سلسلے میں روسو کی آپ بیتی ’’اعترافات‘‘ کی بڑی شہرت ہے۔ پھر یہ روایت بھی چل نکلی کہ آپ بیتی میں آدمی اپنے بارے میں سچ بولے، جیسے کشور ناہیدنے آپ بیتی لکھی ہے ’’بری عورت کی کتھا‘‘۔ اُس میں اُس نے اپنے بارے میں اوراپنے معاصرین کے بارے میں بہت زیادہ صاف گوئی کامظاہرہ کیا ہے۔ مختارمسعود کی کتاب ’’آواز دوست‘‘ بہت پسند آئی۔ اُس میں ایسی نثر لکھی گئی تھی جوہمارے ہاں کم لکھی جاتی ہے۔ اُن کی کتاب ’’لوح ایام‘‘ بھی بڑی اچھی کتاب ہے، انقلاب ایران پر بڑی موثر کتاب ہے۔ شیخ منظور الہٰی کی ’’درِ دل کشا‘‘ بھی بہت اچھی کتاب ہے۔
مطالعہ کاایک طریقہ یہ ہے کہ آپ اگرسنجیدہ تحریروں کایاعلمی تحریروں کامطالعہ کرتے ہیں تواُس کاطریقہ یہ ہے کہ آپ باقاعدہ نوٹس لیں یعنی منظم مطالعہ تواسی کوکہتے ہیں۔ میں جب علمی مطالعہ کرتاہوں تو ضرورت محسوس کرتاہوں، نوٹس وغیرہ لے لیتا ہوں، اس لیے کہ پڑھنے کے بعدساری چیزوں کوذہن میں رکھنا بہت مشکل ہوتاہے اورپھر اُس کے لیے ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ میں دوبارہ اُن کوپڑھوں۔ مثلاً علامہ اقبال کے بارے میں، میں نے پڑھا کہ ابن عربی کی کتاب کاتیرہ مرتبہ انہوں نے مطالعہ کیا۔ شمس الرحمان فارقی صاحب نے کہیں لکھا کہ بعض چیزیں میں چارچار ،پانچ پانچ مرتبہ پڑھتا ہوں ۔اُس کی وجہ غالباً یہی ہے کہ تفہیم کی خاطر اورحافظے میں محفوظ رکھنے کے لیے علمی کتابوں کالوگ کئی بارمطالعہ کرتے تھے۔ نہرو نے اندراگاندھی کوجوخطوط لکھے ہیں، اُن میں انہوں نے لکھا ہے کہ مطالعہ کے بعد اگروہ آپ کے ذہن میں محفوظ نہیں رہتا تویہ ایسے ہی ہے جیسے گھاس کھودنا۔
قرۃ العین حیدر کوپڑھنے کے بعدمیری بہت تمنا تھی کہ اُن سے ملوں۔ چنانچہ 1993ء میں جب ہندوستان گیا توگوکہ میرا یہ علمی سفرتھا، میں اپنے PhD کے مطالعے کے لیے گیا تھا یعنی اپنے تحقیقی مقالے ’’اردوصحافت انیسویں صدی میں‘‘ کی تحقیق کے سلسلے میں گیا تووہاں ایک سیمینار میں بھی شرکت کی، لیکن بعد میں، میں نے اُسے اپنے علمی سفرمیں تبدیل کرلیا۔ نہ گھوما پھرا اور نہ کسی سے ملاقات کی، بس لائبریروں کی خاک چھانتا پھرا۔ ہندوستان کے پانچ چھ شہر گھومے یعنی کلکتہ میں، لکھنو میں گھوما۔ اُس میں دو چیزیں میں نے اپنی خواہش سے کیں۔ ایک توتاج محل دیکھا اور دوسرا قرۃالعین حیدرسے ملاقات کی۔ ابوالکلام قاسمی جواردو کے بہت اچھے نقاد ہیں، اس ملاقات میں میرے ہمراہ تھے۔ وہ مجھے قرۃ العین سے ملوانے کے لیے اُن کے فلیٹ میں لے گئے جہاں میں نے اپنی محبوب مصنفہ سے ملاقات کی۔ 
میری بہت دیرینہ خواہش رہی کہ میں اپنے بچوں کے اندربھی مطالعے کاذوق پیداکروں چنانچہ اُن کوکتابیں خریدکردینے کاسلسلہ شروع کیا، لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ٹیلی ویژن اورکمپیوٹر دوچیزوں کی وجہ سے مجھے اس کوشش میں ناکامی کاسامنا کرنا پڑا اورمیرے بچے ٹیلی ویژن اورکمپیوٹرمیں جتنی دلچسپی لیتے ہیں، اتنی غیرنصابی کتابوں میں دلچسپی نہیں لیتے۔ مثلاً جب میرے بچے چھوٹے تھے تومیں انہیں کہانیاں پڑھ کرسنایا کرتاتھا اورجب وہ بڑے ہوگئے اورمیں نے اُن کوکہانیاں اورکتابیں دیں اورتلقین کی کہ بھئی ان کوپڑھو توانہوں نے ان کوپڑھنے کے بجائے ٹیلی ویژن دیکھنے کوترجیح دی اوراس کا مجھے بڑا قلق ہے کہ میں اپنے بچوں کے اندر وہ ذوق مطالعہ پیدانہیں کرسکا۔ میری لائبریری میں تقریباً 4 یا 5 ہزارکتابیں ہوں گی اوراب مسئلہ کتابوں کورکھنے کا ہے۔ جگہ نہیں ہے گھر میں، اس وجہ سے بڑے اختلاف رہتے ہیں۔ بیگم کہتی ہیں کہ گھر میں جگہ نہیں ہے اورآپ کتابوں پہ کتابیں لائے جاتے ہیں۔ رکھیں گے کہاں؟ اس وجہ سے نئی کتابوں کاراستہ رُک گیا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ میں جومیرا کمرہ ہے، اُس میں بھی میرے پاس اچھی خاصی کتابیں ہیں۔ 
میں نے محسوس کیاہے کہ کتاب دیکھتے ہی آدمی کاذوق مطالعہ بیدار ہوجاتاہے اور پھر وہ کتاب فوراً طلب کرلیتا ہے اورکتاب ایسی چیز ہے کہ جسے تقاضا کیے بغیر لوگ بہت کم لوٹاتے ہیں اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ اگر کتابوں کی واپسی کاتقاضا کریں تو برامان جاتے ہیں۔ کسی اورچیز کومانگنے میں تو شاید تکلف ہوتا ہو، لیکن کتاب مانگنے میں کوئی تکلف نہیں کرتا۔ میں اپنے کتب خانے کی طرف یہاں آنے والوں کوذراکم ہی لے جاتاہوں کیونکہ ان میں سے جب کوئی کتاب مانگتا ہے تودل پہ چھری سی چل جاتی ہے، کیونکہ یہ یقین ہوتا ہے کہ کتاب واپس نہیں آئے گی۔ میرے کتب خانے سے بہت اچھی اچھی کتابیں چوری ہوئی ہیں۔ مثلاً جب میں دلی گیا تھا تووہاں سے خشونت سنگھ کاناول ’’دلی‘‘ لے کر آیا تھا انگریزی ورژن۔ اس طرح کافکا کی کتابوں کا ایک ترجمہ لے کر آیا تھا۔ اسی طرح منیر مسعود کی کہانیوں کا مجموعہ، وہ سب کتابیں مجھے یادہیں، لیکن وہ میرے کمرے سے غائب ہوگئی ہیں۔ 
ادبی مطالعے کی ایک اہمیت یہ ہے کہ اس سے زبان سے آشنائی پیداہوتی ہے اور انسان زبان کے مختلف اسالیب کے بارے میں سیکھتا ہے اور دوسری بات یہ کہ چیزوں کودیکھنے کے Perspective میں تبدیلی آتی ہے کہ چیزوں کوکس رنگ میں دیکھنا چاہیے، چیزوں کو کس طرح محسوس کرنا چاہیے۔ بہترانسان بننے میں ادبی مطالعہ بہت اہمیت کاحامل ہے۔ ادبی مطالعہ نہ ہوتو انسان کی شخصیت ادھورے پن کا شکار ہو جاتی ہے جب کہ ادبی مطالعے سے آدمی باطنی طورپر بہت Rich ہوتا ہے، بہت زیادہ Cultural Behaviour اُس کے اندر پیداہوتا ہے۔ اُس کے اندر شائستگی آتی ہے اور نتیجتاً وہ بہتر انسان بنتا ہے اور اس کے لیے ادب کامطالعہ کرنا بہت ضروری ہے اور آج جتنی بے چینی اور سفاکی آپ کونظرآتی ہے، جوایک بے روح مادیت پسندی نظرآتی ہے، اُس کی وجہ بھی میراخیال یہی ہے کہ لوگ ادب کامطالعہ نہیں کرتے یا پھر ادب سے اُن کا رشتہ کمزور پڑ گیا ہے۔ 
ابھی چند دنوں پہلے کی بات ہے کہ ساقی فارقی صاحب کی کتاب آئی ’’آپ بیتی پاپ بیتی‘‘ اسے پڑھ کرمجھے بہت غصہ آیا، بڑی کراہت محسوس ہوئی اورایک احساس ہواکہ کیاکوئی آدمی اس طرح کی بھی باتیں لکھ سکتاہے۔
باقی زندگی کے لیے تفاسیر اورسیرت کی کتابیں لوں گا۔فوری طور پر کوئی نام ذہن میں نہیں آرہے ہیں۔

رخصتی کے وقت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر

محمد عمار خان ناصر

حدیث وسیرت کی روایات میں بیان ہوا ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھے سال تھی، جبکہ ان کی رخصتی اس کے تین سال بعد مدینہ منورہ میں ہوئی۔ حدیث وسیرت کے کلاسیکی اہل علم کے ہاں اسی بات پر اتفاق چلا آ رہا ہے، تاہم دور جدید میں بعض اہل علم نے متعدد پہلووں سے ان روایات پر شبہات وارد کیے ہیں اور ان کے تاریخی وواقعاتی استناد کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس ضمن میں ان حضرات کی تحریروں سے اس زاویہ نظر کا بنیادی محرک تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر مستشرقین کے اعتراض کی بنیاد کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو اس کم سنی میں ام المومنین کے ساتھ آپ کے نکاح کو ایک غیر اخلاقی فعل کے طور پر پیش کرتے ہیں، تاہم متعلقہ روایات کو ناقابل قبول ثابت کرنے کے لیے ان حضرات کی طرف سے متعدد علمی نکات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ یہ بحث ایک عرصے سے جاری ہے اور زیر بحث روایات کی تائید یا تردید کے ضمن میں متعدد اہل قلم کی نگارشات سامنے آ چکی ہیں، تاہم بعض پہلووں سے یہ بحث کسی قدر تشنہ محسوس ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں ہم زیر نظر سطور میں اس بحث کے مختلف پہلووں کے حوالے سے اپنا طالب علمانہ نقطہ نظر واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔

روایات کی اسنادی حیثیت 

سب سے پہلا اور اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ محدثانہ معیار کے لحاظ سے زیر بحث روایات کا مقام ومرتبہ اور حیثیت کیا ہے؟ اس حوالے سے متعدد ناقدین نے جس نکتے کو بہت نمایاں طور پر بلکہ استدلال کے مرکزی نکتے کے طور پر پیش کیا ہے، وہ یہ ہے کہ اس مضمون کی روایات کے مرکزی راوی کی حیثیت ہشام بن عروہ کو حاصل ہے جو محدثین کی تصریح کے مطابق مدینہ منورہ سے بصرہ چلے جانے کے بعد آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے اور چونکہ ان سے زیر بحث روایات کو نقل کرنے والے تمام راوی اہل بصرہ میں سے ہیں، جبکہ ان کے مدنی تلامذہ میں سے کسی نے یہ روایت نقل نہیں کی، اس لیے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت انھوں نے اپنے اختلاط کے دور میں بصرہ میں بیان کی تھی اور یہ چیز ان کے بیان کو قابل اعتماد نہیں رہنے دیتی۔
واقعہ یہ ہے کہ یہ نکتہ جس قدر زور وشور سے اٹھایا گیا ہے، علمی وتاریخی لحاظ سے اتنا ہی کمزور اور بے بنیاد ہے، اس لیے کہ حدیث وسیرت کی کتب میں اس مضمون کی روایات کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح اور رخصتی کے وقت ام المومنین کی عمر بالترتیب چھے اور نو سال ہونے کی بات خود ام المومنین سے ایک درجن کے قریب الگ الگ سندوں سے مروی ہے اور ام المومنین کے متعدد شاگردوں نے یہ روایت ان سے مختلف الفاظ میں اجمالاً یا تفصیلاً نقل کی ہے۔ ان رواۃ کی تفصیل حسب ذیل ہے:
۱۔ عروہ بن زبیر 
ان سے اس روایت کو ان کے درج ذیل چار شاگردوں نے نقل کیا ہے:
الف۔ ہشام بن عروہ (بخاری، ۳۶۸۱۔ مسلم، ۱۴۲۲)
ب۔ ابن شہاب زہری (مسلم، ۱۴۲۲)
ج۔ ابو الزناد (المعجم الاوسط، ۶۹۵۷)
د۔ عبد اللہ بن عروۃ (معرفۃ الثقات، ۲۳۴۳)
گویا عروہ بن زبیر سے اس روایت کو نقل کرنے میں ہشام متفرد نہیں ہیں، بلکہ ان کے تین متابع بھی موجود ہیں جن میں حدیث وسنت کے جلیل القدر امام، ابن شہاب زہری بھی شامل ہیں۔
۲۔ اسود بن یزید (مسلم، ۱۴۲۲)
۳۔ عبد اللہ بن صفوان (مستدرک حاکم، ۶۷۳۰)
۴۔ عبد اللہ ابن ابی ملیکۃ (سنن النسائی الکبریٰ، ۵۳۶۵)
۵۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن (سنن النسائی، ۳۳۷۹)
۶۔ قاسم بن محمد (الآحاد والمثانی ۳۰۰۷۔ طبرانی، المعجم الکبیر ۲۳/۲۲)
۷۔ عبد الملک بن عمیر (طبرانی، المعجم الکبیر ۲۳/۲۹)
۸۔ عبد الرحمن بن محمد بن زید بن جدعان (طبرانی، المعجم الکبیر ۲۳/۳۱)
۹۔ یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب (مسند احمد، ۲۵۸۱۰۔ مسند ابی یعلیٰ، ۴۶۷۳۔ مسند اسحاق بن راہویہ، ۱۱۶۴)
۱۰۔ عمرۃ بنت عبد الرحمن (ابن سعد، الطبقات الکبریٰ ۸/۵۸)
۱۱۔ ابو عبیدۃ (سنن النسائی الکبریٰ، ۵۳۶۹)
اس کے ساتھ اگر ذخیرۂ حدیث وسیرت کی ان روایات کو بھی شامل کر لیا جائے جن میں ام المومنین عائشہ کا واسطہ موجود نہیں اور بعض دوسرے صحابہ یا تابعین نے یہی مضمون بیان کیا ہے تو اس بات کا تاریخی ثبوت مزید یقینی ہو جاتا ہے۔ یہ روایات درج ذیل ہیں:
۱۲۔ ابو عبیدۃ عن عبد اللہ بن مسعود (ابن ماجہ، رقم ۱۸۷۷)
۱۳۔ ابو اسحاق عن مصعب بن سعد (الطبقات الکبریٰ ۸/۶۰)
۱۴۔ یزید بن جابر عن ابیہ (مستدرک، ۶۷۱۴)
۱۵۔ ابوعبیدہ عن جابر بن زید (مسند الربیع، ۵۲۲، ۷۴۱)
۱۶۔ حبیب مولیٰ عروۃ (مستدرک، ۶۷۱۶)
۱۷۔ جعفر بن برقان عن الزہری (الطبقات الکبریٰ ۸/۶۱)
۱۸۔ سعید بن ابی عروبۃ عن قتادۃ (طبرانی، المعجم الکبیر، ۲۳/۱۹)
یہ ڈیڑھ درجن روایات بنتی ہیں اور ہشام بن عروہ کا نام ان میں سے صرف ایک سند یعنی عروہ بن زبیر کی سند میں آتا ہے، جبکہ باقی تمام سندوں سے ان کا سرے سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے، اس لیے یہ نکتہ کہ بوقت رخصتی ام المومنین کی عمر نو سال ہونے کی بات اکیلے ہشام بن عروہ نے اپنے اختلاط کے دور میں بیان کی ہے، علمی لحاظ سے بالکل ناقابل التفات ہے۔

مخالف تاریخی قرائن ودلائل

بحث کی تکمیل کے لیے ان تاریخی استدلالات کا ایک جائزہ لینا بھی ضروری ہے جو اس دعوے کے حق میں پیش کیے گئے ہیں کہ ام المومنین کی عمر اس موقع پر نو سال سے کہیں زیادہ تھی اور یہ کہ وہ اس وقت اٹھارہ یا انیس سال کی نوجوان لڑکی تھیں۔ اس نوعیت کے استدلالات کا ایک جامع خلاصہ مولانا حبیب الرحمن کاندھلویؒ نے اپنے رسالہ ’’تحقیق عمر عائشہ‘‘ میں بیان کر دیا ہے، اس لیے سہولت کی غرض سے ہم نے نقد وتبصرہ کے لیے انھی کی تحریر کو بنیاد بنایا ہے۔ 
مولانا کاندھلویؒ نے اس ضمن میں کل چوبیس دلیلیں بیان کی ہیں۔ ان میں سے بیشتر تو اس قیاس پر مبنی ہیں کہ مختلف روایات میں ام المومنین کا اور ان کے مختلف ذمہ داریاں انجام دینے کا ذکر جس انداز سے ہوا ہے، ان سے ایک نوعمر بچی کا نہیں بلکہ ایک جوان لڑکی کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ مثلاً یہ کہ:
  • جب حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد خولہ بنت حکیم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نکاح کی ترغیب دی تو آپ کے پوچھنے پر انھوں نے کہا کہ میرے ذہن میں دو رشتے ہیں۔ ایک کنواری لڑکی یعنی عائشہ ہے اور دوسری ایک شوہر دیدہ خاتون یعنی سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا۔
  • ہجرت کے بعد جب ام المومنین کے اہل خانہ نئی آب وہوا کے موافق نہ ہونے کی وجہ سے بیمار ہو گئے تو وہ ان کی تیمار داری کرتی رہیں۔
  • وہ غزوۂ احد میں، (بلکہ مولانا کاندھلوی کی تحقیق کے مطابق غزوۂ بدر میں بھی) شریک ہوئیں اور خواتین کے ساتھ مل کر زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی رہیں، جبکہ اسی غزوے میں چودہ سال کے لڑکوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرکت کی اجازت نہیں دی تھی۔
  • ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ وہ اسامہ بن زید کی ناک پونچھ دیں یا ان کے زخم سے خون صاف کر دیں۔
معمولی غور سے واضح ہو جاتا ہے کہ مذکورہ امور کو اس دعوے کے حق میں تائیدی قرائن کے طور پر اسی وقت پیش کیا جا سکتا ہے جب کسی دوسری صریح اور مضبوط دلیل سے بنیادی مقدمہ ثابت ہو جائے۔ اس کے بغیر مذکورہ تمام قرائن ایک کمزور اور بالواسطہ استنباط سے زیادہ درجہ نہیں رکھتے اور ان کی بنیاد پر خود ام المومنین کے واضح اور صریح بیان کو علمی طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا کے پیش کردہ بعض استدلالات ایسے مفروضات پر مبنی ہیں جن کا اپنا ثبوت تاریخی لحاظ سے یقینی نہیں۔ مثلاً ام المومنین سے روایت ہے کہ جب مکہ مکرمہ میں سورۂ قمر کی آیت: ’بل الساعۃ موعدہم والساعۃ ادہی وامر‘ اتری تو میں ایک لڑکی تھی اور کھیلتی پھرتی تھی۔ (بخاری، ۴۵۹۵) اس سورہ کی پہلی آیت میں شق قمر کے معجزے کا ذکر ہوا ہے جو مکی دور نبوت میں رونما ہوا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس معجزے کے ظہور کے وقت ام المومنین کی عمر اتنی تھی کہ وہ کھیلتی پھرتی تھیں اور انھیں اس بات کا بھی شعور تھا کہ قرآن کی فلاں آیت نازل ہوئی ہے۔ چونکہ سورہ کے داخلی اسلوب سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ساری سورہ یک بارگی نازل ہوئی ہوگی، اس لیے اگر متعین طور پر معلوم ہو جائے کہ شق القمر کا معجزہ کس سن میں رونما ہوا تھا تو ام المومنین کا مذکورہ بیان کسی حد تک قرینہ بن سکتا ہے، تاہم ذخیرۂ سیرت میں اس معجزے کے زمانہ ظہور کی تعیین سے متعلق کوئی قابل وثوق قرائن موجود نہیں۔ 
اردو کے سیرت نگاروں میں سے مولانا مودودی نے اس واقعے کو ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے کا واقعہ قرار دیا ہے۔ (تفہیم القرآن، ۵/۲۲۹) تاہم انھوں نے ان قرائن یا دلائل کا ذکر نہیں کیا جن سے انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ اس کے برخلاف سید سلیمان ندوی کی رائے یہ ہے کہ یہ واقعہ ہجرت مدینہ سے کچھ ہی پہلے کا ہے ۔ (سیرت النبی ۳/۱۷۰) فرض کیجیے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پانچ سال قبل کا ہے تو بھی اس وقت ام المومنین کی عمر معروف روایت کے مطابق تین سال بنتی ہے اور ایک غیر معمولی طور پر ذہین وفطین بچی کو اس عمر میں سنی ہوئی ایک آیت کا یاد رہ جانا کوئی بعید از امکان بات نہیں۔
یہاں مولانا کاندھلوی نے جو کچھ لکھا ہے، وہ بظاہر ناقابل فہم ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ’’شق قمر کا واقعہ ہجرت سے پانچ سال قبل کا ہے۔ مفسرین کا بیان ہے کہ یہ سورت سن ۴ نبوی میں نازل ہوئی۔‘‘ (ص ۱۸) یہ دونوں باتیں باہم متضاد ہیں۔ اگر شق قمر کا واقعہ ہجرت سے پانچ سال قبل رونما ہوا ہو تو یہ ۸ نبوی کا سن بنتا ہے، چنانچہ سورۃ القمر کا نزول بھی اس کے بعد ہی ماننا چاہیے۔ واقعہ اگر ۸ نبوی کا ہے تو سورۃ ۴ نبوی میں کیونکر نازل ہو سکتی ہے؟ 
اسی طرز استدلال کی ایک اور مثال دیکھیے:
ایک روایت میں ام المومنین یہ بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تو انھیں صورت حال کا پورا شعور تھا۔ (بخاری، ۴۶۴) اس بیان کو کسی دلیل کے بغیر ۵ نبوی میں (جو عام روایت کے مطابق ام المومنین کا سن ولادت بھی ہے) کی جانے والی اجتماعی ہجرت حبشہ پر محمول کیا گیا ہے، حالانکہ حبشہ کی طرف اجتماعی ہجرت اس کے بعد یعنی ۷ نبوی میں بھی ہوئی، جبکہ سیدنا صدیق اکبر کے ارادۂ ہجرت کے بارے میں محدثین کا خیال یہ ہے کہ وہ شعب ابی طالب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے محصور کیے جانے کے بعد ۷ یا ۸ نبوی کاواقعہ ہے، (فتح الباری ۷/۲۳۲) بلکہ بعض ارباب سیرت نے اسے ہجرت مدینہ کے بالکل قریب ۱۳ نبوی کا واقعہ قرار دیا ہے۔ (السیرۃ الحلبیۃ، ۳/۴۹۹۔ تاریخ الخمیس، ۳/۳۱۹) ظاہر ہے کہ ان مختلف احتمالات کی موجودگی میں یقینی طورپر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ام المومنین کی روایت میں حبشہ کی طرف جس ارادۂ ہجرت کا ذکر ہے، وہ ۵ نبوی ہی کی ہجرت حبشہ ہے۔
مولانا کے پیش کردہ بعض استدلالات بالکل سوء فہم پرمبنی ہیں۔ مثال کے طور پر طبری نے سیدنا ابوبکر کے نکاحوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انھوں نے زمانہ جاہلیت میں دو نکاح کیے تھے۔ ایک قتیلہ بنت عبد العزیٰ سے جن سے عبد اللہ اور اسماء پیدا ہوئیں اور دوسرا ام رومان سے جن سے عائشہ اور عبد الرحمن پیدا ہوئے۔ اس موقع پر طبری نے لکھا ہے:
فکل ہولاء الاربعۃ من اولادہ ولدوا من زوجتیہ اللتین سمیناہما فی الجاہلیۃ وتزوج فی الاسلام اسماء بنت عمیس (تاریخ طبری ۲/۳۵۱)
’’ان کے یہ چاروں بچے ان کی زمانہ جاہلیت کی دو بیویوں سے پیدا ہوئے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے، جبکہ اسلام کی حالت میں انھوں نے اسماء بنت عمیس سے نکاح کیا۔‘‘
یہاں ’فی الجاہلیۃ‘ کا تعلق ’زوجتیہ‘ سے ہے اور مراد ہے وہ دو بیویاں جن سے سیدنا ابوبکر نے زمانہ جاہلیت میں نکاح کیا تھا، لیکن اس کا تعلق ’ولدوا‘ سے جوڑتے ہوئے مطلب یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ یہ چاروں بچے زمانہ جاہلیت میں پیدا ہوئے تھے۔
بعض دلیلوں میں روایات سے صریحاً کھینچ تان کر، بلکہ ان کے اصل مدعا کے بالکل برعکس نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر ام المومنین کا یہ بیان منقول ہے کہ:
لم اعقل ابوی الا وہمایدینان الدین ولم یمر علینا یوم الا یاتینا فیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طرفی النہار بکرۃ وعشیۃ (بخاری، ۴۶۴)
’’مجھے اپنے والدین کے بارے میں شعور ہوا تو وہ اس دین کو اختیار کیے ہوئے تھے اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور شام کو ہمارے ہاں تشریف نہ لاتے ہوں۔‘‘
ام المومنین کی مراد یہ ہے کہ بدو شعور سے ہی انھوں نے اپنے والدین کو اسلام پر قائم دیکھا۔ اسلوب سے واضح ہے کہ بعثت نبوی اور ان کے والدین کے اسلام کو قبول کرنے کا واقعہ ان کے شعور کی عمر سے پہلے ہو چکا تھا، چنانچہ اپنے شعور کی ابتدا سے ہی انھوں نے جو کیفیت دیکھی، وہ یہ تھی کہ والدین اسلام پر قائم تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر روز صبح اور شام کے اوقات میں ان کے گھر آیا کرتے تھے۔ لیکن اس روایت سے جو نتیجہ نکالا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ ’’اس حدیث میں برملا یہ دعویٰ فرما رہی ہیں کہ بعثت نبوی کے وقت میں صاحب عقل وہوش تھی اور یہ جو کچھ پیش آتا رہا، میری نظروں کے سامنے ہوتا رہا۔‘‘ (حبیب الرحمن کاندھلوی، ’’تحقیق عمر عائشہ‘‘، ص ۳۱) یہ بدیہی طور پر اپنے ذہنی مفروضات کو روایت کے الفاظ میں پڑھنے کی ایک افسوس ناک مثال ہے۔
مولانا کی پیش کردہ ایک اور دلیل میں بھی غالباً سوء فہم ہی کارفرما ہے۔ انھوں نے طبری کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مکی عہد میں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ کیا تو یہ چاہا کہ اپنی بیٹی عائشہ کو، جن کی نسبت اس سے پہلے جبیر بن مطعم کے ساتھ طے ہو چکی تھی، رخصت کر دیں۔ انھوں نے اس سلسلے میں مطعم بن عدی اور ان کی اہلیہ سے بات کی تو انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ تمھاری بیٹی ہمارے بیٹے کو بھی بے دین بنا دے گی۔ مولانا نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ام المومنین اس وقت کوئی چھوٹی بچی نہیں، بلکہ جوان اور رخصتی کے قابل تھیں۔ 
تاہم مولانا نے سیدنا ابوبکر اور مطعم بن عدی کے مکالمے کا واقعہ جس تناظر میں بیان کیا ہے، طبری میں وہ اس سے بالکل مختلف سیاق میں نقل ہوا ہے۔ وہاں نہ تو سیدنا ابوبکر کے ارادۂ ہجرت کا ذکر ہے اور نہ ام المومنین کو رخصت کر کے جبیر بن معطم کے گھر بھیج دینے کے حقیقی ارادے کا۔ طبری نے یہ واقعہ یوں نقل کیا ہے کہ جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد خولہ بنت حکیم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر سیدنا ابوبکر سے سیدہ عائشہ کے رشتے کے لیے بات کی تو ان کی والدہ ام رومان نے کہا کہ عائشہ کے رشتے کی بات مطعم بن عدی اپنے بیٹے کے لیے کر چکے ہیں اور ابوبکر وعدہ کر کے اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔ اس پر سیدنا ابوبکر ام المومنین کی رخصتی کے ارادے سے نہیں، جیسا کہ مولانا کاندھلوی نے بیان کیا ہے، بلکہ اپنے وعدے کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کے لیے مطعم بن عدی اور ان کی بیوی کے پاس گئے اور اس موقع پر جو گفتگو ہوئی، اس میں مطعم اور ان کی اہلیہ نے یہ کہا کہ اگر ہم تمھاری بیٹی کے ساتھ اپنے بیٹے کی شادی کر دیں گے تو وہ اسے بھی بے دین بنا دے گی۔ (طبری، ۲/۲۱۲)
معلوم نہیں مولانا نے اس واقعے کو سیدنا ابوبکر کے حبشہ کی طرف ہجرت کے ارادے سے کیسے جوڑ دیا اور پھر یہ نتیجہ کیسے اخذکر لیا کہ وہ واقعی اس موقع پر ام المومنین کو رخصت کر کے جبیر بن مطعم کے گھر بھیجنا چاہتے تھے۔ 
مولانا نے عربی زبان وادب اور تاریخ وانساب میں ام المومنین کی مہارت کو بھی اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ رخصتی کے وقت ان کی عمر نو سال نہیں ہو سکتی۔ ان کا فرمانا ہے کہ ’’مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشاغل مکہ کی زندگی سے بالکل مختلف تھے۔ یہاں قرآن، صوم وصلوٰۃ کے مسائل اور ملکی مہمات پیش نظر رہتیں۔ یہاں کا ماحول یہی تھا۔ اس ماحول کا انساب، تاریخ، شعر وشاعری سے کوئی دورکا واسطہ نہ تھا۔ ....... لہٰذا یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ام المومنین نکاح سے قبل عاقلہ اور بالغہ تھیں۔ انھوں نے یہ تمام فنون اپنے والد سے حاصل کیے۔‘‘ (ص ۴۹، ۵۰)
یہ ایک عجیب وغریب استدلال ہے۔ اس وقت کے عرب تمدن میں مذکورہ علوم سکھانے کے لیے کوئی باقاعدہ تعلیمی یا تحقیقی ادارے قائم نہیں تھے جن سے وابستگی علمی وتحقیقی مہارت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہو۔ یہ چیزیں خدادا د فہم وفراست کے ساتھ ساتھ ارد گردکے ماحول اور شخصیات سے ہی سیکھی جاتی تھیں اور ام المومنین کو اس کے مواقع شادی کے بعد بھی پوری طرح میسر تھے۔ اپنے والد کے ساتھ بھی ان کا رابطہ تھا اور مدینہ میں موجود مہاجرین اورانصار کی خواتین، بلکہ یہودی عورتیں بھی ان سے ملنے کے لیے آتی رہتی تھیں۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ شعر وشاعری نہ سہی، تاریخ وانساب کا علم بہرحال سیکھ سکتی تھیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت قرآن اور صوم وصلوٰۃ ہی کی باتیں نہیں کرتے رہتے تھے، بلکہ مجلس کی مناسبت سے ہر طرح کے موضوع پر گفتگو میں شریک ہوتے تھے اور مختلف امور سے متعلق آپ کی معلومات پر بسا اوقات صحابہ بھی حیرت زدہ رہ جاتے تھے۔
تاریخی اعتبار سے مولانا کی پیش کردہ صرف دو دلیلیں ایسی ہیں جن میں کھینچا تانی اور تکلف کا عنصر نہیں پایا جاتا اور جو کسی حد تک قابل توجہ ہیں۔
ایک یہ کہ مورخ ابن اسحاق نے، جن کا بیان ابن ہشام نے بھی نقل کیا ہے، اپنی سیرت میں عہد مکی میں ان حضرات کا ذکر کرتے ہوئے جنھوں نے بعثت نبوی کے بعد بالکل ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا، دوسرے بہت سے افرادکے ساتھ سیدنا ابوبکر کی صاحب زادیوں سیدہ اسماء اور سیدہ عائشہ کا بھی نام درج کیا ہے اور لکھا ہے کہ عائشہ اس وقت چھوٹی عمر کی تھیں۔ (سیرۃ ابن اسحاق ۲/۱۲۴۔ سیرت ابن ہشام ۲/۹۲)
بظاہر اس بیان سے مولانا کا یہ نتیجہ اخذ کرنا درست ہے کہ ’’ابن ہشام کی تصریح کے مطابق ..... ام المومنین حضرت عائشہؓ حضرت عمرؓ کے اسلام لانے سے کافی قبل سن ۱ نبوت میں مشرف بااسلام ہو چکی تھیں۔‘‘ (تحقیق عمر عائشہ، ص ۳۵) تاہم ابن اسحاق کے اس بیان کو ام المومنین کے اپنے بیان کی تردید کے لیے بنیاد بنانا اس لیے درست نہیں کہ اول تو ابن اسحاق نے اپنے اس بیان کا کوئی ماخذ نہیں بتایا۔ یہ یا تو ان تک پہنچی ہوئی کوئی ایسی اطلاع ہے جس کی سند معلوم نہیں اور یا پھر محض سبقت قلم ہے۔ دوسرے امکان کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ ابن اسحاق اور ان کے شاگرد ابن ہشام، دونوں نے سیدہ عائشہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کا ذکر کرتے ہوئے ام المومنین کا وہی معروف بیان نقل کیا ہے جس میں وہ بتاتی ہیں کہ ان کا نکاح چھے سال کی عمر میں جبکہ رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ (سیرۃ ابن اسحاق، ۵/۲۳۹۔ سیرت ابن ہشام، ۶/۵۷)
دوسرا استدلال جسے اس معاملے میں بظاہر نتیجہ خیز کہا جا سکتا ہے اور اسی وجہ سے اسے اس نقطہ نظر کے کم وبیش سبھی حاملین نے بیان کیا ہے، یہ ہے کہ ام المومنین کی ہمشیرہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے متعلق یہ معلوم ہے کہ ان کی وفات ۷۳ھ میں عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چند دن بعد ہوئی تھی۔ اس ضمن میں تاریخی روایات میں دو مزید باتیں ملتی ہیں۔ ایک ان کے بیٹے عروہ بن زبیر کا یہ بیان کہ وفات کے وقت سیدہ اسماء کی عمر سو سال تھی (ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق ۶۹/۲۲) اور دوسرے، ابن ابی الزناد کا یہ بیان کہ اسماء، ام المومنین عائشہ سے عمر میں دس سال بڑی تھیں۔ (ابن عبد البر، الاستیعاب ۲/۶۱۶۔ بیہقی، السنن الکبریٰ ۱۱۹۲۷۔ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق ۶۹/۱۰) ان دونوں بیانات کو ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہجرت کے موقع پر سیدہ اسماء کی عمر ۲۷ سال تھی اور چونکہ وہ ام المومنین عائشہ سے دس سال بڑی تھیں، اس لیے ہجرت کے موقع پر ام المومنین کی عمر ۱۷ سال ہونی چاہیے۔
یہ دلیل اس ضمن میں پیش کی گئی سب دلیلوں میں زیادہ قوی اور متاثر کن ہے، تاہم ہمارے خیال میں دو وجوہ اسے فیصلہ کن قرار دینے میں مانع ہیں۔ 
ایک یہ کہ مذکورہ نتیجہ عروہ بن زبیر اور ابن ابی الزناد، دونوں کے بیانات کو درست مان کر باہم ملائے بغیر نکالنا ممکن نہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ان میں سے عروہ بن زبیر تو سیدہ اسماء کا بیٹا ہونے کی حیثیت سے گھر کے آدمی ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ ان کے بیان پر اعتماد نہ کیا جائے، لیکن ابن ابی الزناد کے بیان کی حیثیت یہ نہیں ہے۔ وہ تبع تابعی ہیں، یعنی ام المومنین کے ہم عصر نہیں۔ اس کے اس بیان کا ماخذ بالکل معلوم نہیں اور عین ممکن ہے کہ یہ محض ان کا اندازہ یا کوئی سنی سنائی بات ہو۔ پھر ابن عبد البر نے ان کے بیان کے الفاظ یہ نقل کیے ہیں کہ ’کانت اکبر من عائشۃ بعشر سنین او نحوہا‘۔ (الاستیعاب ۲/۶۱۶) اس کا مطلب یہ ہے کہ متعین طور پر دس سال کے فرق کو وہ بھی جزم کے ساتھ بیان نہیں کر رہے۔ غالباً ذہبی نے اسی بات کے پیش نظر یہ لکھا ہے کہ:
کانت اسن من عائشۃ ببضع عشرۃ سنۃ (سیر اعلام النبلاء ۲/۲۸۸)
’’اسماء، عائشہ سے تیرہ تا انیس سال بڑی تھیں۔‘‘
دوسری بات یہ کہ عروہ بن زبیر نے جس سیاق میں اپنی والدہ کی عمر سو سال ہونے کی بات کہی ہے، اس سے یہ قوی تاثر ملتا ہے کہ ان کا مقصد متعین طور پر (Exactly) ان کی عمر بتانا نہیں، بلکہ دراصل ان کے بڑھاپے کو نمایاں کرنا ہے۔ عروہ کا بیان ہے:
کانت اسماء وقد بلغت ماءۃ سنۃ ولم یقع لہا سن (تاریخ مدینۃ دمشق ۶۹/۲۷)
’’اسماء کی عمر سو سال کو پہنچ گئی تھی، پھر بھی ان کا کوئی دانت نہیں گرا تھا۔‘‘
تاریخ وسیرت کی روایات میں کسور کا اعتبار نہ کرتے ہوئے پوری دہائیوں کے لحاظ سے تاریخیں اور عمریں بیان کر دینے کا اسلوب عام ہے، اس لیے اگر ۷۳ھ میں وفات کے وقت ان کی عمر چرانوے یا پچانوے سال بھی ہو تو زبان کے عام اسلوب کے مطابق اس کو سو سال سے تعبیر کر دینے میں کوئی مانع نہیں۔ خاص طور پر جب گفتگو کا سیاق سیدہ اسماء کے بڑھاپے کو نمایاں کرنے کا تقاضا کر رہا ہو تو ایسے موقع پر مبالغے کے اسلوب میں یہ کہہ دینا کہ ’’سو سال کی عمر میں بھی ان کے دانت بالکل سلامت تھے‘‘ ہرگز اس کا متحمل نہیں ہے کہ اس کی بنیاد پر سیدہ اسماء کی عمر متعین طور پر پورے سو سال قرار دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ مورخین بھی اس نتیجے کو ماننے پر متفق نہیں ہیں اور علامہ ذہبی نے ابن ابی الزناد کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ:
فان کان ما ذکرہ ابن ابی الزناد صحیحا من ان اسماء تکبر عائشۃ بعشر سنوات فہذا یعنی ان اسماء ماتت عن عمر ۹۱ سنۃ (تاریخ الاسلام ۵/۳۵۴۔ نیز دیکھیے سیر اعلام النبلاء ۳/۳۸۰)
’’اگر ابن ابی الزناد کا یہ بیان درست ہے کہ اسماء، عائشہ سے دس سال بڑی تھیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا انتقال اکانوے سال کی عمر میں ہوا۔‘‘
فرض کر لیں کہ نکاح کے وقت اپنی عمر کے بارے میں خود ام المومنین کے اپنے صریح اور مستند بیان کو چھوڑ دوسرے افراد کی عمر اور تاریخ وفات سے ان کی عمر متعین کرنے کی علمی طور پر گنجائش ہے۔ اس صورت میں سوال یہ سامنے آتا ہے کہ تاریخی کتابوں میں صرف سیدہ اسماء کی عمر اور سن وفات مذکور نہیں، بلکہ سیدہ عائشہ کی عمر اور سن وفات بھی ذکر کی گئی ہے۔ ان کے سن وفات کے متعلق ۵۶ھ، ۵۷ھ، ۵۸ھ اور ۵۹ھ کے مختلف اقوال موجود ہیں، تاہم عام طور پر مورخین نے ۵۸ھ کے قول کو قبول کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تاریخ وسیرت کی کتابو ں میں اس کی بھی تصریح ہے کہ وفات کے وقت ام المومنین کی عمر ۶۶ برس تھی۔ (الطبقات الکبریٰ، ۸/۷۸۔ تاریخ مدینۃ دمشق ۳/۲۰۳۔ المنتظم ۵/۳۰۳) ۶۶ میں سے ۵۸ برس نکال دیے جائیں تو ہجرت مدینہ کے وقت ان کی عمر ۸ سال بنتی ہے جو ام المومنین کے اس بیان کے عین مطابق ہے کہ ان کی رخصتی ہجرت مدینہ کے بعد نو سال کی عمر میں ہوئی تھی۔

کم سنی کی شادی کی اخلاقی حیثیت

جہاں تک اس اشکال کا تعلق ہے کہ نو سال کی کم سن بچی کے ساتھ نکاح کرنا اخلاقی طور پر ایک معیوب بات لگتی ہے تو یہ اشکال دراصل معاشرت اور تمدن کے تغیر اور تہذیب وثقافت کے اختلاف کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ یہ سامنے کی بات ہے کہ اگرچہ انسانی نفسیات میں حاسہ اخلاقی (Moral Sense) کا وجود اور بنیادی اخلاقی تصورات کا شعور تمام انسانوں کے مابین ایک مشترک چیز ہے، لیکن کسی مخصوص معاملے پر اخلاقی اصولوں کا انطباق کرتے ہوئے اسے اخلاقی یا غیر اخلاقی قرار دینے میں انسانوں کے زاویہ نظر اختلاف ہو سکتا ہے اور اس ضمن میں کسی بھی تہذیب یا معاشرت کے اپنے مخصوص تجربات، ماحول اور عرف ورواج کا بھی خاصا دخل ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ عین ممکن ہے کہ ایک معاشرت میں ایک چیز اخلاقی طور پر بالکل درست سمجھی جاتی ہو، جبکہ کوئی دوسرا معاشرہ بعینہ اسی چیز کو غیر اخلاقی تصور کرتا ہو۔ مثال کے طور پر ہندو معاشرے میں صدیوں تک ’ستی‘ کی رسم رائج رہی ہے اور اس کا باقاعدہ اخلاقی اور مذہبی جواز پیش کیا جاتا تھا، لیکن اسلامی تصورات کی رو سے اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسی طرح اسلام میں مختلف معاشرتی جرائم کا ارتکاب کرنے والے مجرموں پر ہاتھ کاٹنے، کوڑے مارنے اور سنگسار کرنے جیسی سزائیں نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ جدید مغربی تہذیب ان سزاؤں کو غیر انسانی اور وحشیانہ سزائیں قرار دیتی ہے۔ یہی معاملہ بہت سے ایسے امور کا ہے جنھیں مغربی تہذیب میں اخلاقی لحاظ سے بالکل درست سمجھا جاتا ہے، لیکن دنیا کے دوسرے معاشرے اور خاص طور پر مسلمان معاشرے اپنی مذہبی واخلاقی روایات کی روشنی میں انھیں جائز تسلیم نہیں کرتے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حاسہ اخلاقی اور بنیادی اخلاقی تصورات کے سارے انسانوں کے مابین مشترک ہونے کے باوجود ان کے عملی انطباق میں اختلاف ہو سکتا ہے اور عملاً ایسا اختلاف دنیا میں موجود ہے۔ ایسی صورت میں یہ طے کرنے کے لیے کہ کسی مخصوص معاملے میں کسی فرد یا گروہ کا کوئی عمل اخلاقیات کے دائرے کے اندر تھا یا اس سے متجاوز، اس بنیادی نکتے کو ملحوظ رکھنا بے حد اہم ہے کہ جس معاشرے اور ماحول میں اس عمل کو انجام دیا گیا، وہاں اس کی اخلاقی حیثیت کیا سمجھی جاتی تھی اور عمومی طور پر لوگ اس کو کس نظر سے دیکھتے تھے۔ کسی بھی شخص کو دانستہ بد اخلاقی کا مرتکب قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود اپنے معاشرتی تصورات کی رو سے اسے ایک غیر اخلاقی عمل سمجھتا ہو اور اس کے باوجود اس نے اس کا ارتکاب کیا ہو۔ کسی دوسرے معاشرتی ماحول سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے تصورات اور عادات کے لحاظ سے اس پر اچنبھا بھی محسوس کر سکتے ہیں اور اسے غیر اخلاقی بھی قرار دے سکتے ہیں، لیکن یہ محض ان کے اپنے احساس کا بیان ہوگا جسے ایک آفاقی معیار کی حیثیت دینا بعض صورتوں میں خود بہت سے اخلاقی اصولوں کو مجروح کیے بغیر ممکن نہیں۔
کم سنی کی شادی کے متعلق جدید ذہن کا منفی تاثر بھی ہمارے نزدیک اسی نوعیت کی چیز ہے۔ متعدد وجوہ سے، جن میں جدید طبی تحقیقات اور ناگوار معاشرتی تجربات زیادہ اہم ہیں، جدید ذہن کم سنی میں لڑکی کی شادی سے ایک طرح کا توحش محسوس کرتا ہے جو ایک مخصوص تناظر میں بجا اور قابل فہم بھی ہے، تاہم عہد نبوی کی عرب معاشرت میں نو سال کی عمر میں لڑکی کی رخصتی کوئی عجیب اور خاص طور پر کوئی غیر اخلاقی معاملہ ہرگز نہیں سمجھی جاتی تھی۔ یہ بات اول تو اسی سے واضح ہے کہ ام المومنین کو رخصت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دینے کی پیش کش خود ام المومنین کے والد سیدنا ابوبکر نے کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا تھا۔ اس پر کسی بھی طرف سے کوئی منفی رد عمل سامنے نہیں آیا، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اور آپ کے ایک ایک عمل پر نہ صرف مشرکین اور یہود ونصاریٰ بلکہ خود مسلمانوں کی صف میں شامل منافقین کے گروہ کی بھی خاص طور پر نظر تھی اور وہ آپ کی شخصیت کو اخلاقی طور پر مجروح کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ام المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ کے نکاح کو اس درجے میں منفی پراپیگنڈے کا موضوع بنایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو سورۃ الاحزاب میں باقاعدہ اس مسئلے کی نوعیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نکاح کی غرض وغایت اور حکمت واضح فرمانا پڑی۔ اس کے برعکس ام المومنین عائشہ کے ساتھ نکاح کے حوالے سے اس قسم کے کسی اعتراض کا کوئی ذکر حدیث وسیرت کی روایات میں نہیں ملتا۔ 
پھر عرب معاشرت کے عرف اور ماحول کے لحاظ سے نو سال کی عمر میں لڑکی کے قابل نکاح ہونے پر مزید روشنی اس بات سے پڑتی ہے کہ خود ام المومنین سے باقاعدہ یہ فقہی فتویٰ منقول ہے کہ جب لڑکی نو سال کی عمر کو پہنچ جائے تو وہ ’عورت‘ ہوتی ہے۔ (ترمذی، ۱۱۰۹۔ بیہقی، السنن الکبریٰ ، ۱۴۲۵) مزید برآں اسی زمانے میں صرف خاندان قریش میں کم سے کم دو مثالیں ایسی ملتی ہیں جن میں اس عمر میں لڑکیوں کی رخصتی کر دی گئی۔ 
پہلا واقعہ سیدنا علی کی دختر سیدہ ام کلثوم کا ہے جن کا نکاح صغر سنی میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فرمائش پر ان کے ساتھ کیا گیا۔ نکاح کے وقت ان کی متعین عمر کا ذکر تو ہمیں کسی روایت میں نہیں ملا، تاہم یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ سیدنا عمر کی فرمائش پر سیدنا علی نے ابتداءً ان کے سامنے یہ عذر پیش کیا کہ ام کلثوم کی عمر ابھی بہت کم ہے، لیکن سیدنا عمر نے کہا کہ میں یہ نکاح محض نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے ساتھ رشتہ جوڑنے کے لیے کرنا چاہتا ہوں جس پر سیدنا علی نے رضامندی ظاہر کر دی۔ (بیہقی، السنن الکبریٰ، ۱۳۱۷۲)
دوسرا واقعہ امیر المومنین معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہند کا ہے جن کا نکاح عبد اللہ بن عامر بن کریز کے ساتھ کیا گیا اور نو سال کی عمر میں ان کی رخصتی کر دی گئی۔ (ابن عساکر، تاریخ دمشق ۷۰/۱۸۸)
مذکورہ بحث کا حاصل یہ ہے کہ جن معاملات میں شریعت نے وجوب اور فرضیت کے درجے میں کسی بات کا حکم نہیں دیا، ان میں کسی بھی معاشرت اور ثقافت کی مخصوص حساسیتوں کو ملحوظ رکھنا یقیناًحکمت ومصلحت کا تقاضا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو ایک مطلق معیار مان کر دوسرے معاشروں اور خاص طور پر عہد نبوی کی مسلم معاشرت بلکہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں اور اقدامات کو بھی اس پر پرکھنا شروع کر دیا جائے۔ چنانچہ جس طرح عہد نبوی کی بعض مثالوں کی بنیاد پر اس بات پر اصرار کرنا درست نہیں کہ ہر دور اور ہر معاشرے میں کم سنی کی شادیوں کو لازماً جائز رکھا جائے اور اس ضمن میں عملی حالات اور تجربات سے جو مفاسد سامنے آئے ہیں، انھیں بھی ملحوظ نہ رکھا جائے، اسی طرح یہ طرز فکر بھی درست نہیں کہ جدید معاشرتی تصورات کو معیار مان کر عہد نبوی وعہد صحابہ کی معاشرت کو ان پر پرکھنا شروع کر دیا جائے اور ہر اس بات کی نفی کا طریقہ اختیار کر لیا جائے جو ثقافت، تمدن اور طرز معاشرت کے فرق کی وجہ سے آج کے جدید ذہن کو اجنبی اور غیر مانوس محسوس ہوتی ہے۔
یہاں یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ اگرچہ نو سال کی عمر میں کسی لڑکی کی رخصتی عہد نبوی کی عرب معاشرت کے لحاظ سے کوئی قابل اعتراض بات نہیں تھی اور عملاً بھی ایسا کوئی اعتراض اس نکاح کے حوالے سے نہیں کیا گیا، لیکن یہ بات بہرحال مسلم ہے کہ اس عہد میں لڑکیوں کی رخصتی عام طورپر اتنی کم عمر میں نہیں کی جاتی تھی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ام المومنین کے معاملے میں عام رواج سے ہٹ کر اس نوعمری میں نکاح اور پھر رخصتی کا طریقہ اختیار کیا گیا؟
یہ ایک اہم سوال ہے اور اس کے جواب پر غور کیا جائے تو معاملے کے بہت سے اہم پہلووں کو درست تناظر میں سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس ضمن میں ایک بنیادی نکتہ تو یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ کم عمری میں ام المومنین عائشہ کی رخصتی اصلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش یا مطالبے پر نہیں، بلکہ خود ام المومنین کے اہل خانہ کی خواہش پر ہوئی تھی۔ جہاں تک ام المومنین کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام نکاح کو قبول کرنے کا تعلق ہے تو سیدنا ابوبکرکے زاویہ نظر سے یہ فیصلہ اس لیے قابل فہم تھا کہ نکاح کا پیغام کسی عام آدمی کی طرف سے نہیں، بلکہ اللہ کے پیغمبر کی طرف سے آیا تھا جنھیں وہ اپنی جان ومال اور دنیا کے ہر رشتے سے زیادہ عزیز رکھتے تھے، چنانچہ بدیہی طور پر ان کا احساس یہی ہونا چاہیے تھا کہ اگر ان کی بیٹی خدا کے پیغمبر کے گھر میں چلی جائے تو نہ صرف بیٹی کے لیے بلکہ خود سیدنا ابوبکر اور ان کے پورے خاندان کے لیے بھی اس سے بڑا شرف اور اعزاز کوئی نہیں ہو سکتا۔ نکاح کے وقت سیدہ عائشہ کی کم عمری کی وجہ سے فوری رخصتی نہیں ہو سکتی تھی اور ممکن ہے، عام حالات میں ام المومنین کی رخصتی کے لیے بھی اسی عمر کا انتظار کیا جاتا جس میں عام طور پر اہل عرب میں لڑکیوں کو رخصت کیا جاتا تھا، تاہم اسی دوران میں ہجرت مدینہ کا مرحلہ آ گیا۔ مدینہ میں اگرچہ ام المومنین سودہ بنت زمعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں تھیں، لیکن غالباً ان کے عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے سیدنا ابوبکر کے اہل خانہ کی توجہ اس طرف گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کو آباد کرنے کے لیے عائشہ کی رخصتی جتنی جلدی ہو سکے، کر دی جانی چاہیے۔ چنانچہ ام المومنین کے اپنے بیان کے مطابق ان کی والدہ انھیں رخصتی سے پہلے اس ارادے سے عمدہ اور جسم کو بھر دینے والی خوراک کھلایا کرتی تھیں کہ انھیں رخصت کر کے رسول اللہ کے گھر بھیجا جا سکے۔ (ابن ماجہ، رقم ۳۳۲۴)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زاویہ نظر سے دیکھیے تو اس فیصلے کی ایک نمایاں وجہ تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ آپ سیدنا ابوبکر کے ساتھ اپنے تعلق کو مزید مستحکم بنانا اور دوستی کے اس تعلق کو ایک مضبوط خاندانی رشتے میں بدل دینا چاہتے تھے۔ یہ معلوم ہے کہ قبائلی معاشرت میں اس طرح کے رشتے سماجی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور انھیں دو گھرانوں اور قبیلوں کے مابین تعلقات کے استوار کرنے اور انھیں مضبوط تر کرنے میں بے حد موثر ذریعے کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریب ترین ساتھیوں یعنی خلفاے راشدین کے ساتھ تعلق اور وابستگی کے اظہار اور اسے مضبوط تر بنانے کے لیے ان کے ساتھ صہری رشتے قائم کرنے کا طریقہ اختیار فرمایا۔ سیدنا عمر کی بیٹی حفصہ بیوہ ہوئیں تو عدت گزرنے پر آپ نے ان کے لیے نکاح کا پیغام بھیج دیا۔ سیدنا عثمان کے نکاح میں یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیاں، زینب اور ام کلثوم دیں اور سیدنا علی کے ساتھ اپنی بیٹی فاطمہ کا نکاح فرمایا۔ 
ام المومنین عائشہ کے ساتھ نکاح میں بھی سیدنا ابوبکر کے ساتھ تعلق کو صہری رشتے کی صورت دینے کی اس خواہش کا، کار فرما ہونا عین قرین قیاس ہے۔ اس مقصد کے لیے ام المومنین کی بڑی بہن سیدہ اسماء کا انتخاب بھی ممکن تھا، تاہم قرائن سے واضح ہوتا ہے کہ سیدہ خدیجہ کی وفات کے بعد جب نئے نکاح کا معاملہ زیر غور آیا تو اس وقت تک سیدہ اسماء کا یا تو زبیر بن العوام کے ساتھ باقاعدہ نکاح ہو چکا تھا یا کم سے کم نسبت ضرور طے ہو چکی تھی۔ چنانچہ ابن حجر کی تحقیق کے مطابق ہجرت کے پہلے سال انھوں نے اس حالت میں مکہ سے مدینہ کا سفر کیا کہ وہ حاملہ تھیں اور مدینہ پہنچتے ہی انھوں نے عبد اللہ بن زبیر کو جنم دیا جو مدینہ میں مہاجرین کے ہاں پیدا ہونے والے پہلے بچے تھے۔ (بخاری، رقم ۳۶۹۷) ظاہر ہے کہ یہ اسی وقت ممکن ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی عہد میں ہی ان کا نکاح زبیر بن العوام سے ہو چکا ہو۔ اس کی مزید تائید اس سے ہوتی ہے کہ جب سیدہ خدیجہ کی وفات کے بعد خولہ بنت حکیم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا ابوبکر کی بیٹی کے ساتھ نکاح کی تجویز پیش کی تو سیدہ اسماء کے بجائے سیدہ عائشہ کا نام لیا، (مستدرک حاکم، رقم ۲۷۰۴) حالانکہ اگر سیدہ اسماء اس وقت زبیر کے نکاح میں نہ ہوتیں یا ان کی نسبت نہ طے ہوئی ہوتی تو فطری طور پر خولہ کو انھی کا نام لینا چاہیے تھا۔
اس سارے معاملے میں ایک خاص پہلو سے منشاے خداوندی بھی شامل تھی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ایک موقع پر ام المومنین عائشہ کو بتایا کہ مجھے دو مرتبہ خواب میں تم ریشم کے ایک کپڑے میں لپٹی ہوئی پیش کی گئیں اور مجھ سے کہا گیا کہ کپڑا ہٹا کر دیکھیے، یہ آپ کی بیوی ہے۔ میں نے کپڑا ہٹایا تو وہ تم تھیں۔ میں نے کہا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اس کو شرمندۂ تعبیر بھی کر دے گا۔ (بخاری، رقم ۳۶۸۲)اس لحاظ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ام المومنین سے نکاح کا فیصلہ کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن میں اللہ کی ایک منشاکو رو بعمل کرنے کا پہلو بھی یقیناًموجود تھا۔ 
سورۂ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے تفصیل سے واضح فرمایا ہے کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں ایک طرف چند اعلیٰ دینی واخلاقی اوصاف اور دوسری طرف دین کو سیکھنے اور سکھانے کی صلاحیت اور جذبہ مطلوب ہے۔ ان دونوں پہلووں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ کے طور پر ام المومنین عائشہ کا انتخاب اللہ تعالیٰ کی منشا اور اس کے بتائے ہوئے معیار کے عین مطابق دکھائی دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں ام المومنین کا جو مقام تھا، وہ احادیث میں کثرت سے بیان ہوا ہے۔ آپ کی وفا ت کے بعد ام المومنین کو اپنے علم وفضل، خداداد فراست اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت وتربیت کی بدولت امت کی دینی وعلمی راہ نمائی کے دائرے میں بلند مقام حاصل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی روایت اور علمی وفقہی مسائل کی وضاحت کے ضمن میں انھوں نے غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ خاص طور پر رسول اللہ کی دوسری ازواج مطہرات کے تقابل میں دیکھا جائے تو علم دین کے حوالے سے امت کو جتنا فیض سیدہ عائشہ کی ذات سے پہنچا ہے، وہ دوسری کسی زوجہ کے حصے میں نہیں آیا۔
ہمارے خیال میں معاملے کے مذکورہ تمام پہلووں کو پیش نظر رکھا جائے تو نہ صرف یہ کہ اس سوال کا جواب مل جاتا ہے کہ ام المومنین کی رخصتی کے سلسلے میں عرب کے عام رواج سے ہٹ کر کیوں معاملہ کیا گیا، بلکہ یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ام المومنین کے ساتھ نکاح میں جن بلند تر دینی مصالح کی رعایت پیش نظر تھی، وہ نکاح اور رخصتی کے حوالے سے عام رواج کی پابندی سے کہیں زیادہ اہم تھے۔
مذکورہ امور کے ساتھ ساتھ اگر دو مزید نکتوں کو بھی ملحوظ رکھا جائے تو ہمارے خیال میں جدید ذہن کو اس الجھن سے نکلنے میں مدد مل سکتی ہے جس میں وہ گرفتار ہے: 
ایک یہ کہ روایات میں بظاہر جو بات بیان ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ نو سال کی عمر میں سیدہ عائشہ کو رخصت کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر بھیج دیا گیا اور اس کے بعد سے وہ بیوی کی حیثیت سے آپ کے ہاں مقیم رہیں۔ ام المومنین کے اسلوب بیان اور عمومی قیاس کا تقاضا یہی بنتا ہے کہ ام المومنین اس وقت جسمانی طور پر بلوغت کو پہنچ چکی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصتی کے وقت سے ہی تعلقات زن وشو قائم کر لیے تھے۔ تاہم اگر یہ فرض کیا جائے کہ ام المومنین اس وقت بلوغت کو نہیں پہنچی تھیں اور جسمانی طور پر تعلقات زن وشو قائم کرنا مناسب نہیں تھا تو پھر یہ قیاس کرنے میں نہ صرف یہ کہ علمی وعقلی طور پر کوئی مانع نہیں، بلکہ یہ فرض کرنا علم وعقل کا عین تقاضا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جسمانی تعلق قائم کرنے کے لیے یقیناًمناسب وقت کا انتظار فرمایا ہوگا۔ جب آپ ام المومنین کی کم سنی کا لحاظ کرتے ہوئے اس بات کا اہتمام فرماتے تھے کہ ان کو اپنی عمر کے مطابق دل بہلانے کے لیے کھلونے میسر ہوں (مسلم، ۱۴۲۲۔ الطبقات الکبریٰ، ۸/۶۲) اور ان کی ہم عمر سہیلیاں ان کے ساتھ آ کر کھیلیں (بخاری، ۵۷۷۹) بلکہ ام المومنین کی دلداری کے لیے آپ خود انھیں مسجد نبوی میں ہونے والے کھیل تماشوں کو دیکھنے کی دعوت دیتے اور خود بھی دیر تک ان کے ساتھ کھڑے رہتے تھے (بخاری، ۴۸۹۴) تو یہ کیسے گمان کیا جا سکتا ہے کہ آپ نے ام المومنین کے ساتھ تعلقات زن وشو کو کسی بھی پہلو سے اور خاص طور پر کم سنی کی وجہ سے نامناسب محسوس کرنے کے باوجود اس پر اصرار کیا ہوگا؟ 
ان معاملات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حساسیت کی کیفیت یہ تھی کہ جب بنو کندہ کے سردار نعمان بن ابی الجون نے آپ سے خود فرمائش کر کے اپنی بیوہ بیٹی امیمہ کا نکاح آپ سے کر دیا اور وہ اپنے قبیلے سے رخصت ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ کے طور پر مدینہ منورہ پہنچ گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب تشریف لے گئے تو یہ محسوس کر کے کہ اسے آپ کا قرب پسند نہیں، آپ نہ صرف فوراً پیچھے ہٹ گئے ، بلکہ اسے فوری طور پر نکاح سے آزاد کر کے واپس اس کے اہل خانہ کے پاس بھجوا دیا۔ (بخاری، ۴۹۵۵۔ مسند احمد، ۱۶۱۰۵) زیر بحث مسئلے میں بھی اس نکتے کے حوالے سے کوئی قیاس کرتے ہوئے کہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصتی کے فوراً بعد تعلقات زن وشو قائم کر لیے ہوں گے، آپ کی شخصیت کے اس مسلمہ پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کہ کسی بھی شخصیت اور اس کے کسی بھی عمل کے بارے میں رائے قائم کرتے ہوئے اس شخصیت کے عمومی مزاج، اخلاق وکردار اور رجحانات کو ملحوظ رکھنا دنیا کا ایک مسلمہ اصول ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسی نوعیت کے امور کے پیش نظر یہ فرمایا تھاکہ:
اذا حدثتکم عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فظنوا برسول اللہ الذی ہو اہناہ واہداہ واتقاہ (ابن ماجہ، ۱۹، ۲۰)
’’جب میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات بتاؤں تو (اس کا مفہوم متعین کرتے ہوئے) رسول اللہ کے بارے میں ایسا گمان رکھو جو زیادہ خوش گوار، زیادہ راستی اور زیادہ تقویٰ پر مبنی ہو۔‘‘
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ام المومنین کے ساتھ صغر سنی کے نکاح میں جدید ذہن کو جتنی بھی ’’قباحتیں‘‘ دکھائی دیتی ہیں، وہ سب ام المومنین کے سامنے بھی تھیں، بلکہ وہ تو خود صاحب معاملہ تھیں۔ یہ رشتہ ام المومنین سے پوچھ کر طے نہیں کیا گیا تھا اور نہ رخصتی کے وقت ہی ان کا عندیہ معلوم کیا گیا۔ یہ عمر جس میں ان کے کندھے پر خانگی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا گیا، ان کے کھیلنے کودنے کی عمر تھی اور فرض کر لیجیے کہ وہ جسمانی طور پر بھی بلوغت کو نہیں پہنچی تھیں۔ ان کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر میں پینتالیس سال کا فرق تھا جو عام طور پر میاں بیوی کے مابین جذباتی موافقت کے پیدا ہونے میں مانع ہوتا ہے۔ ان سب باتوں کی بڑی اہمیت ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ان سب باتوں کے حوالے سے ام المومنین کا رد عمل کیا تھا اور خود ان کے اپنے تاثرات اور احساسات کیا تھے؟ یہ اس معاملے کا سب سے اہم اور بنیادی سوال ہے جسے غیر مسلم معترضین بھی کلی طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں اور ان کے اعتراضات کے زیر اثر خود مسلمانوں کا جدید ذہن بھی اس نکتے پر توجہ نہیں دے رہا۔ 
اگر تو خود صاحب معاملہ کا تاثر اور احساس یہ تھا کہ اس کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے اور اس کے حقوق اور جذبات واحساسات مجروح ہوئے ہیں تو مذکورہ تمام اعتراضات بے حد وزنی بن جاتے ہیں، لیکن ذخیرۂ حدیث سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جذباتی وابستگی اور محبت کی جو کیفیت ام المومنین عائشہ کے ہاں دکھائی دیتی ہے، اسے کسی مبالغے کے بغیر میاں بیوی کی باہمی محبت کے ایک آئیڈیل نمونے کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المومنین کے جذباتی تعلق کا حال یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اپنی مرحوم اہلیہ سیدہ خدیجہ کا ذکر سن کر بھی وہ رقابت کے جذبات محسوس کرتی تھیں اور وہ بعض اوقات محبت اور ناز میں یہ کہہ کر آپ کو ٹوک بھی دیا کرتی تھیں کہ اللہ نے آپ کو اس سے اچھی بیوی عطا کر دی ہے، پھر آپ کیوں ایک بڑھیا کا ذکر کرتے رہتے ہیں؟ (بخاری، ۳۶۱۰) وہ اپنی باری کی رات میں اندھیرے میں ٹٹول ٹٹول کر دیکھتی رہتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ہی موجود ہیں یا کہیں اور چلے گئے ہیں ، بلکہ ایک موقع پر وہ رات کے اندھیرے میں تلاش کرتے کرتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قبرستان جا پہنچی تھیں جہاں آپ اہل ایمان کے لیے دعا اور استغفار میں مصروف تھے۔ (مسلم، ۴۸۶، ۹۷۴) ایک موقع پر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم کے مطابق اپنی تمام ازواج کو یہ اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو آپ سے علیحدگی کا فیصلہ کر سکتی ہیں اور ام المومنین عائشہ کو یہ اختیار دیتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ فیصلہ کرتے ہوئے جلدی نہ کرنا، بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کر لینا تو ام المومنین نے یہ کہہ کر اسی وقت یہ اختیار واپس کر دیا تھا کہ: ’افیک یا رسول اللہ استشیر ابوی؟‘ (مسلم، ۱۴۷۸) ’’یارسول اللہ، کیا میں آپ سے متعلق اپنے ماں باپ سے مشورہ کروں گی؟‘‘ وہ ان خواتین کے متعلق جو اپنے آپ کو نکاح کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیتی تھیں، یہ کہا کرتی تھیں کہ کیا کسی عورت کو اپنے آپ کو کسی مرد کے سامنے پیش کرتے ہوئے شرم محسوس نہیں ہوتی؟ پھر جب قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی خواتین کو اپنے نکاح میں لے لینے کی باقاعدہ اجازت دے دی گئی تویہ ام المومنین ہی تھیں جنھوں نے یہ تبصرہ کیا کہ ’ما اری ربک الا یسارع فی ہواک‘ (بخاری، ۴۵۱۰، ۴۸۲۳) ’’آپ کا رب آپ کی خواہش کو پورا کرنے میں بڑی جلدی دکھاتا ہے۔‘‘
اس تعلق پر ام المومنین کو جو ناز تھا، اس کا اظہار وہ ایک خاص پیرایے میں کیا کرتی تھیں۔ فرماتی تھیں کہ:
اعطیت سبعا لم یعطہا نساء النبی صلی اللہ علیہ وسلم: کنت من احب الناس الیہ نفسا واحب الناس الیہ ابا، وتزوجنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکرا ولم یتزوج بکرا غیری، وکان جبریل ینزل علیہ بالوحی وانا معہ فی لحاف ولم یفعل ذلک لغیری، وکان لی یومین ولیلتین وکان لنساء ہ یوم ولیلۃ، وانزل فی عذر من السماء کاد ان یہلک بی فئام من الناس، وقبض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین سحری ونحری (طبرانی، المعجم الکبیر ۲۳/۳۰)
’’مجھے سات ایسے اعزاز حاصل ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری ازواج کو حاصل نہیں: میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب تھی، میرے والد سے آپ سب سے بڑھ کر محبت رکھتے تھے، آپ نے میرے علاوہ کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں کیا، جبریل اس حالت میں بھی آپ پر وحی لے کر نازل ہو جاتے تھے کہ میں آپ کے ساتھ ایک ہی لحاف میں ہوتی تھی جبکہ میرے علاوہ کسی اور کے ساتھ یہ معاملہ نہیں کیا گیا، آپ میرے پاس دو دن اور دو راتیں قیام کرتے تھے (کیونکہ حضرت سودہ نے اپنی باری بھی حضرت عائشہ کو دے دی تھی) جبکہ باقی ازواج کے لیے ایک دن اور ایک رات تھی، مجھ پر لگائے گئے الزام کی صفائی آسمان سے نازل ہوئی جس کی وجہ سے کچھ گروہ میرے بارے میں (بد گمانی کا شکار ہو کر) ہلاکت کے قریب جا پہنچے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال اس کیفیت میں ہوا کہ آپ (کا سر مبارک) میرے سینے اور گردن کے درمیان رکھا ہوا تھا۔‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق کے حوالے سے ام المومنین رضی اللہ عنہا کے ان جذبات واحساسات کو پیش نظر رکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ انسانی حقوق، عدل وانصاف اور اخلاقیات کی خلاف ورزی کا اصل اعتراض نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر نہیں بلکہ خود معترضین پر وارد ہوتا ہے جو شوہر اور بیوی کی ایک دوسرے کے ساتھ اس درجے کی محبت اور جذباتی وابستگی کو وزن دینے کے بجائے، جو رشتہ نکاح میں اصل چیز ہے، اپنے محدود اور ناقص اخلاقی پیمانوں سے اس رشتے کی قدر وقیمت متعین کرنا چاہتے ہیں۔
مذکورہ بحث کا حاصل یہ ہے کہ رخصتی کے وقت ام المومنین رضی اللہ عنہا کی عمر کے متعلق تاریخی طور پر وہی بات مستند ہے جو عام طور پر مانی جاتی ہے۔ اس مضمون کی روایات پر جو اعتراضات کیے گئے ہیں، نہ تو ان میں علمی طور پر کوئی وزن ہے اور نہ وہ دلائل ہی لائق اعتنا ہیں جو ام المومنین کی عمر کو تاریخی طورپر اس سے زیادہ ثابت کرنے کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ رخصتی کے وقت ان کی عمر نو سال ہونے کی روایات خود ام المومنین سے اتنی کثرت سے مروی ہیں کہ ان کے مقابلے میں پیش کیے گئے تاریخی قیاسات یا بعض مبہم ومحتمل بیانات کوئی وقعت ہی نہیں رکھتے۔ جن اہل علم نے اس ضمن میں متبادل تحقیق پیش کرنے کی کوشش کی ہے، ان کا جذبہ محرکہ بے حد قابل قدر ہے، تاہم علم وعقل اور دیانت وانصاف کا تقاضا یہی ہے کہ تاریخی حقائق کو اسی طرح تسلیم کر کے جس طرح وہ واقع میں رونما ہوئے، انھیں سمجھنے کی کوشش کی جائے، نہ یہ کہ ایک مخصوص تاثر کے تحت کمزور اور واہی استدلالات کا سہارا لے کر انھیں جھٹلانے کی سعی شروع کر دی جائے۔ ہذا ما عندی والعلم عند اللہ۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
۹ ربیع الاول، ۲ فروری ۲۰۱۲
بخدمت محترم مولانا زاہد الراشدی زید مجدہم
محترم مولانا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔
آپ کو یہ جان کر یقیناًخوشی ہوگی کہ وہ شخص جس کے لیے آپ نے قارئین الشریعہ سے دعائے صحت کی درخواست کی تھی، وہ بالآخر اتنا صحت مند ہو ہی گیا کہ مایوسی کے ساتھ ہندوستان جا کر پھر لندن لوٹ آیا ہے۔ آپ ہی نے سب سے پہلے خاکسار کے لیے دعائے صحت کی درخواست کی تھی، سو آپ ہی کو سب سے پہلے بہتری کی اطلاع دے رہا ہوں۔ ڈیڑھ سال سے قلم ہاتھ میں نہیں لیا تھا۔ اسی کا اثر ہے کہ حروف صاف نہیں بن رہے۔ بالفاظ دیگر لکھنا بھول گیا ہوں۔ کمپیوٹر کی وجہ سے لکھنے کی عادت چھوٹ بھی گئی تھی۔
ایک ہفتہ ہوا یہاں آیا ہوں۔ سال گزشتہ کے کچھ شمارے مع جنوری ۲۰۱۲ء کے شمارے کے رضی سلمہ سے نکلوائے اور سب ہی پڑھ ڈالے۔ ماشاء اللہ فورم میں گرما گرمی بہت بڑھ رہی ہے۔ مگر جس بات پر لکھے بغیر رہا نہیں جا رہا، وہ تو آپ کی ’’علمی او رمطالعاتی زندگی‘‘ ہے اور جو لکھے بغیر رہا نہیں جا رہا، وہ صرف یہ ہے کہ اپنے مولانا تو بڑے چھپے رستم نکلے۔ اس بندے کو دعائیں جس نے ساری کتاب زندگی کھلوا کے رکھ دی۔ والسلام
میاں عمار صاحب کو سلام دیں۔
ممنون کرم
(مولانا) عتیق الرحمن (سنبھلی)
(۲)
برادرم ۔۔۔ صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
آپ کا بے حد شکریہ کہ آپ نے بڑی دلچسپی اور بھرپور تنقیدی نظر سے میری معروضات کا مطالعہ کیا اور تنقیح طلب نکات کی تعیین فرمائی۔ آپ کے سوالات کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر آئندہ سطور میں پیش کر رہا ہوں۔
۱۔ میرے خیال میں جسمانی بلوغت اور ذہنی پختگی میں فرق کرنے اور ہر عمر کے طبعی فطری رجحانات کو مناسب وزن دینے کی ضرورت ہے۔ تعلقات زن وشو کے لیے اخلاقی طور پر جس بات کا لحاظ ضروری دکھائی دیتا ہے، وہ یہ ہے کہ لڑکی جسمانی طور پر اس کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین کے ساتھ نو سال کی عمر میں یہ تعلق قائم کیا تو یقیناًاس کو ملحوظ رکھا ہوگا، بلکہ ان سے بھی پہلے خود ام المومنین کے والدین کے سامنے یہ نکتہ لازماً رہا ہوگا جنھوں نے نکاح کے بعد تین سال تک اسی بات کے پیش نظر انھیں رخصت نہیں کیا اور پھر مدینہ منورہ آنے کے ایک سال بعد خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی رخصتی کی پیش کش کی۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس عمر میں کھیل کود کے ساتھ طبعی دلچسپی ہی سرے سے باقی نہ رہے۔ اس چیز کا تعلق بلوغت سے نہیں اور ہم جانتے ہیں کہ بلوغت کے بعد بھی لڑکپن کی عمر میں ایسی دلچسپیاں خاصی دیر تک برقرار رہتی ہیں۔ ام المومنین کا یہ ارشاد بھی جسمانی بلوغت کے تناظر ہی میں ہے کہ ’’نو سال کی عمر میں لڑکی کو ’’عورت‘‘ سمجھا جائے‘‘۔
۲۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المومنین کی جذباتی وابستگی کا نکتہ میں نے مذکورہ بنیادی نکتے کے بعد اس کی مزید تائید کے طور پر پیش کیا ہے۔ بنیادی بات یہی ہے کہ نو سال کی عمر میں اگر ام المومنین کی رخصتی کو ان کے والدین اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کیا تو ان کی جسمانی صلاحیت کو دیکھ کر ہی کیا۔ اس کی مزید تائید اس سے ہوتی ہے کہ ام المومنین سے اس معاملے سے متعلق کوئی منفی تاثر منقول نہیں، بلکہ وہ اس بات پر فخر کیا کرتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک وہی ہیں جن کے ساتھ آپ نے کنوارے پن کی حالت میں نکاح کیا۔ 
آپ نے جو مثال دی ہے، وہ صورت حال کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے بڑی مفید ہے۔ اگر کوئی بہت عظیم المرتبت شخص میری رقم چرا لے اور اس کے باوجود میں اس کی شخصی عظمت کی وجہ سے اس پر برا نہ مانوں اور دیگر وجوہ سے اس سے میری محبت قائم رہے تو یقیناًاس سے رقم چرانے کا اخلاقی جواز ثابت نہیں ہوتا، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ میں اس بات پر فخر کروں کہ اس نے میری رقم چرائی ہے یا اس بات کی خواہش کروں کہ وہ صرف میری ہی رقم چرایا کرے اور اگر میرے علاوہ وہ شخصیت کسی اور کی رقم بھی چراتی ہو تو میں اس پر رقیبانہ جذبات محسوس کروں۔ اگر میں ایسا کروں تو یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ جس چیز کو لوگ بظاہر چوری کا عمل سمجھ رہے ہیں، وہ چوری نہیں ہے بلکہ اس کی نوعیت اس سے بہت مختلف ہے جسے صحیح تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
۳۔ نو سال کی عمر میں نکاح کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ عہد نبوت میں اس کا عام رواج تھا۔ میں نے صرف یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر لڑکی میں اس عمر میں جسمانی بلوغت کی علامات ظاہر ہوجائیں تو اس وقت کی سماجی اخلاقیات کے لحاظ سے یہ کوئی غیر اخلاقی عمل نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس کے لیے بہت زیادہ مثالوں کا پایا جانا شاید ضروری نہیں۔ ممکن ہے اس کا عام رواج نہ ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص معاملے میں دوسرے بہت سے وجوہ اور مصالح کے پیش نظر اسے اختیار کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھا گیا ہو۔ اس ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی ضروریات کے علاوہ ام المومنین عائشہ کے لیے آپ کی صحبت میں علم دین میں رسوخ حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنا خاص طور پر اہم ہیں۔ یہ بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ اس معاملے میں خود اللہ تعالیٰ کی منشا بھی شامل تھی جسے مکہ مکرمہ میں ایک خواب کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر کیا گیا تھا۔
۴۔ ہشام بن عروہ کے یہ روایت مدینہ میں بیان نہ کرنے کا نکتہ اس تناظر میں بالکل غیر اہم ہو جاتا ہے کہ اس روایت کا مدار ان پر نہیں ہے۔ انھوں نے یہ روایت عروہ بن زبیر سے نقل کی ہے اور عروہ سے اسی روایت کو ان کے علاوہ بھی تین راویوں نے نقل کیا ہے۔ ممکن ہے، ہشام نے مدینہ میں بھی یہ روایت بیان کی ہو، لیکن کتابوں میں نقل نہ ہو سکی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ مدینہ میں ام المومنین سے اس بات کو نقل کرنے والے دوسرے بہت سے اصحاب کی موجودگی کی وجہ سے ہشام کو وہاں یہ روایت بیان کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی ہو۔ بہرحال جو بھی صورت ہو، ام المومنین کی طرف اس بیان کی نسبت میں ہشام کا واسطہ بالکل غیر اہم ہے۔
۵۔ یہ بات کہ عروہ بن زبیر کے علاوہ اس روایت کی باقی سندیں قوی نہیں، محض ایک فنی نکتہ ہے جو اگر محدثانہ تحقیق کے لحاظ سے بظاہر درست ہو (جس کے متعلق میں سردست کچھ نہیں کہہ سکتا) تو بھی تاریخی ثبوت کے اصولوں کے لحاظ سے زیادہ قابل توجہ نہیں ہے۔ کسی روایت کی مختلف سندوں میں، جن کی تعداد زیربحث معاملے میں ایک درجن ہے، ہر سند کے کسی نہ کسی راوی میں کوئی خرابی دکھا کر محدود ’’فنی‘‘ مفہوم میں توتنقید کی جا سکتی ہے، لیکن یہ با ور کرنا بے حد مشکل ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں راویوں نے محض ایک بے اصل بات ام المومنین کی طرف منسوب کر دی ہے۔
۶۔ سورۂ قمر کے نزول کے وقت ام المومنین ایک ’’جاریہ‘‘ تھیں ، یہ بات تو درست ہے، لیکن سورۂ قمر کا نزول کب ہوا؟ یہ بات متعین طو رپر معلوم نہیں۔ عربی میں لفظ ’’جاریۃ‘‘ صرف نوجوان لڑکی کے لیے نہیں، بلکہ چھوٹی عمر کی بچی کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور روایت میں ام المومنین کے الفاظ : کنت جاریۃ العب (میں ایک لڑکی تھی اور کھیلتی پھرتی تھی) اس کا قرینہ ہیں کہ یہاں نوجوان لڑکی نہیں، بلکہ بچی ہی مراد ہے۔
۷۔ سیدہ فاطمہ کے سن ولادت اور ان کی اور سیدہ عائشہ کی عمر کے باہمی فرق سے متعلق بھی حتمی طور پر کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔مورخین کے قیاسات اس ضمن میں مختلف ہیں۔ ابن حجر کے نزدیک اگر یہ فرق پانچ سال کا تھا تو ذہبی نے آٹھ سال بیان کیا ہے۔ (سیر اعلام النبلاء ۳/۴۲۹) پھر یہ کہ ابن اثیر کے بیان کے مطابق ۲ ہجری میں سیدنا علی کے ساتھ نکاح کے وقت سیدہ فاطمہ کی عمر پندرہ سال پانچ ماہ تھی۔ (اسد الغابہ ۷/۲۱۶) اگر ابن حجر کا بیان درست مانا جائے تو بھی ام المومنین کی عمر سیدہ فاطمہ کے نکاح کے وقت دس سوا دس سال سے زیادہ نہیں بنتی۔ ان کا سن ولادت ۵ قبل نبوت ہونے کی بات بھی یقینی نہیں۔ ابن عبد البر اور حاکم کی تحقیق یہ ہے کہ وہ بعثت نبوی کے پہلے سال پیدا ہوئیں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر اکتالیس سال تھی۔ (الاستیعاب ۴/۳۷۴۔ المستدرک ۳/۱۷۶) ظاہر ہے کہ ام المومنین کے اپنے صریح بیان کو چھوڑ کر اس طرح کے مشتبہ تاریخی معاملات سے ان کی عمر متعین کرنے کی کوشش علمی طور پر درست نہیں ہو سکتی۔
۸۔ جنگ احد میں ام المومنین کی شرکت سے استدلال دو وجوہ سے درست معلوم نہیں ہوتا۔ ایک تو یہ کہ وہ وہاں لڑائی میں شریک ہونے کے لیے نہیں، بلکہ دوسری خواتین کے ساتھ زخمیوں کی دیکھ بھال وغیرہ کے لیے گئی تھیں، اس لیے پندرہ سال سے کم عمر کے مردوں کو، جو ظاہر ہے کہ لڑائی کے لیے جانا چاہتے تھے، اگر اس غزوے میں ساتھ نہیں لے جایا گیا تو اس ضابطے کا اطلاق خواتین پر کسی طرح نہیں ہوتا۔ دوسری یہ کہ اس جنگ میں شرکت کے لیے پندرہ سال کی عمر کی قید نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیان نہیں فرمائی جس سے کوئی عمومی ضابطہ اخذ کیا جا سکے۔ دراصل عبد اللہ بن عمرؓ نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب نوجوان لڑکوں کو پیش کیا گیا جو جنگ میں شریک ہونا چاہتے تھے تو آپ نے ان میں سے بعض کو اجازت دے دی جبکہ ابن عمر کو اجازت نہیں دی۔ اب یہ ابن عمر کا اپنا بیان ہے کہ اس وقت میری عمر چودہ سال تھی۔ اس سے یہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجازت نہ دینے کی وجہ بھی ان کا چودہ سال کا ہونا تھا۔ 
۹۔ سیدہ اسماء کی عمر سے جو استدلال کیا گیا ہے، وہ میری نظر میں دو وجہ سے کمزور ہے۔ ایک تو یہ کہ تاریخی ثبوت کے لحاظ سے اسے ام المومنین کے اپنے بیان پر، جو ان سے درجن بھر راویوں نے نقل کیا ہے، ترجیح نہیں دی جا سکتی، خاص طور پر اس لیے کہ سیدہ اسماء کی عمر بوقت وفات سو سال ہونے کی بات ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے نقل کی ہے، جبکہ عروہ ہی نے ام المومنین کا یہ بیان بھی نقل کیا ہے کہ رخصتی کے وقت ان کی عمر نو سال تھی۔ دوسری یہ کہ اس استدلال کی صحت کا سارا مدار اس بات پر ہے کہ عروہ کے بیان میں سو سال سے مراد متعین طور پر سو سال اور ابن ابی الزناد کے بیان میں دس سال سے مراد متعین طور پر دس سال ہی ہوں، جبکہ عمروں کے بیان میں اہل عرب کا عام اسلوب اسے حتمی طور پر قبول کرنے سے مانع ہے۔ یہ محض ایک اندازہ نہیں، بلکہ حدیث وسیرت کی روایات میں یہ اسلوب عام ہے۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کے متعلق مستند ترین روایات میں اس کی واضح مثالیں موجود ہیں۔
امید ہے کہ مذکورہ توضیحات کسی حد تک مفید ہوں گی۔ بے حد شکریہ
محمد عمار خان ناصر
(۳)
محترم مدیر، ماہنامہ’’ الشریعہ‘‘ 
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
آپ کے مؤقر مجلہ ماہنامہ ’’ الشریعہ‘‘ میں ’’ معارف اسلامی‘‘ کی جانب سے ڈاکٹر محمود احمد غازی کی یادمیں خصوصی اشاعت پر محترم قاری محمد طاہر صاحب کا تبصرہ پڑھنے کا موقع ملا۔تبصرہ پڑھ کر اس لحاظ سے دلی خوشی محسوس ہوئی کہ ہمارے ہاں الحمدللہ اب بھی ایسے اہل علم حضرات موجود ہیں جو نہ صرف یہ کہ مضامین و مقالات کو پڑھتے ہیں بلکہ بہت غور و خوص کے ساتھ پڑھتے ہیں اورمقالات پر اپنی Observation بھی دیتے ہیں ۔راقم الحروف چونکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے کلیہ علوم اسلامیہ کے شعبہ تدریس و تحقیق سے منسلک ہے اور مذکور ہ خصوصی اشاعت کے تمام مراحل سے براہ راست آگاہی رکھتا ہے، اس لیے قاری صاحب کے تبصرہ پر چند معروضات آپ کے مؤقر مجلہ کی وساطت سے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔
(۱) تبصرہ نگار نے ڈاکٹر چشتی صاحب کے تاثرات میں درج علامہ اقبال کے شعر کے دوسرے مصرعہ پر بحث کی ہے اور اسے شعری اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے، حالانکہ بقول چشتی صاحب یہ مصرعہ علامہ اقبالؒ ہی سے منقول ہے اور ڈاکٹر چشتی صاحب کے مرشد محترم شیخ طفیل احمد فاروقی اس روایت کو زیادہ پسند فرماتے تھے اور ادب کے مایہ ناز شاعر غلام محمد شمسی ؒ کے پاس علامہ اقبال کے غیر مطبوعہ کلام کا جو مخطوط تھا اس میں علامہ کا یہ شعر اسی ترمیم کے ساتھ درج تھا۔ مناسب ہوتا اگر قاری صاحب تبصرہ کرنے سے پہلے چشتی صاحب سے رابطہ کر لیتے اور اس شعر کے بارے میں صحیح صورتحال قارئین کو بتا دیتے ۔
(۲) تبصرہ نگار نے ڈاکٹر ثناء اللہ حسین کے مقالے کے بارے میں لکھا ہے کہ ایک ہی عنوان سے دو مرتبہ لکھا گیا ہے، حالانکہ ایسی بات نہیں ہے ۔معارف اسلامی کو اچھی طرح پڑھ لیں۔ یہ مقالہ ایک ہی عنوان سے دو بار کہیں بھی نظر نہیں آئے گا۔ تفسیر کے موضوع پر ڈاکٹر عبد الحمید خان عباسی نے مستقل مقالہ لکھا ہے اور ثناء اللہ حسین نے جو معلومات جمع کی ہیں، وہ بالکل مختلف ہیں۔ دونوں مقالات میں کسی پہلو سے تکرار نہیں ۔مناسب ہوتا کہ تبصرہ نگار ایسی رائے دینے سے پہلے دونوں مقالات کو اچھی طرح سے پڑھ لیتا۔
(۳) تبصرہ نگار نے حدیث اور فقہ کے ضمن میں مقالات کا تذکرہ نہیں کیا ،حالانکہ یہ سارے مقالات ڈاکٹر محمود غازی کے مطبوعہ محاضرات پر مبنی ہیں اور ان میں مقالہ نگار حضرات نے بڑی محنت اور عرق ریزی کے ساتھ مواد جمع کیا ہے۔ مناسب ہوتا کہ تبصرہ میں ڈاکٹر تاج الدین الازہری، ڈاکٹر عبد الغفار بخاری،ڈاکٹر غلام یوسف اور ڈاکٹر شہزاد اقبال شام کی کاوش کو بھی شامل کر لیا جاتا۔ یہ سب وہ حضرات ہیں جنہوں نے ڈاکٹر غازی صاحب کی رفاقت میں طویل عرصہ تک علمی سفر کیااور جنہیں ڈاکٹر غازی صاحب کے ساتھ محض ظاہری اور سطحی نہیں بلکہ عقیدت و ارادت کا رشتہ ہے۔
(۴) مطبوعہ تبصرہ میں حصہ عربی کے مقالات کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے ۔حالانکہ عربی کے دونوں مقالات نمایاں حیثیت کے حامل ہیں۔ ڈاکٹر عصمت اللہ صاحب نے فنی اعتبار سے ڈاکٹرغازی ؒ کا تعارف پیش کیا ہے اور ڈاکٹر فضل اللہ نے ڈاکٹر غازی صاحب کے عربی زبان و ادب پر عبور کے اس پہلو کو اجاگر کیا ہے جس سے عام طور پر ہمارے ہاں لوگ واقفیت نہیں رکھتے ۔
(۵) خصوصی اشاعت کے حصہ انگریزی کے بارے میں قاری صاحب لکھتے ہیں کہ یہاں محض تکرار ہے اور اردو مقالات کا ترجمہ دیا گیا ہے،حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اصل میں قاری صاحب نے اردو اور عربی مقالات کے Abstracts کو دیکھ کر اس طرح کہا ہے۔ Abstractsکے بعد انگریزی میں تین مقالات شامل کیے گئے ہیں۔ پہلا مقالہ ڈاکٹر محمد الغزالی صاحب ہے جس کا عنوان My Brothaer ,Mahmood Ahmad Ghaziہے۔ اس آرٹیکل میں ڈاکٹر غزالی صاحب نے محض اپنے تاثرات نہیں بلکہ اپنے دل کے جذبات مرتب کیے ہیں اور بڑی خوبصورتی کے ساتھ مرتب کئے ہیں ۔اگر یوں کہا جائے کہ یہ آرٹیکل اس خصوصی اشاعت کی جان ہے تو بے جا نہ ہو گا۔
دوسرا آرٹیکل ڈاکٹر محمود احمد غازی کے خطاب پر مبنی ہے۔ یہ خطاب ڈاکٹر غازی ؒ نےU.K میں ایک خصوصی موقع پر کیا تھا جس میں علوم دینیہ کے مراکز اور مدارس اور خاص طور پر بر صغیر میں علوم اسلامی کی ترویج اور اشاعت پر بحث کی گئی ہے۔ یہ خطاب اپنے موضوع پر ایک شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے اور اس خصوصی اشاعت کی قدرو قیمت میں اس نے نمایاں اضافہ کیا ہے ۔تیسرا آرٹیکل داکٹر جنید ندوی کا ہے جس کا تعلق ڈاکٹر غازی ؒ کی کتاب"The Life & Work of the Prophet of Islam,"V.1 by Mahmood Ahmad ghazi: A Reading ہے۔ ڈاکٹر جنید ندوی نے اس کتاب پر بہت جامع اور وقیع تبصرہ کیا ہے ۔اور اس کے اہم پہلوؤں کو اجاگرکرنے کی کوشش کی ہے۔
یہ چند معروضات محض اس لیے آپ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں تا کہ محترم قاری طاہر کے تبصرہ میں جو پہلو رہ گئے ہیں، وہ ماہنامہ الشریعہ کے قارئین کے سامنے آ سکیں اور بعض اہم نکات کی وضاحت ہو سکے ۔
ڈاکٹر ثناء اللہ حسین 
لیکچرر شعبہ قرآن و تفسیر 
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد
(۴)
محترم جناب عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی بخیر!
’’ماہنامہ الشریعہ‘‘نے جدید انداز میں بحث ومباحثہ اور مکالمہ کے ذریعہ دین کو سمجھنے اور سمجھانے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا، وہ بہت اچھا تھا مگر اب اس میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہوتے جارہے ہیں جو جھوٹ اور دجل وفریب کا سہارا لے کر اسلام دشمن قوتوں کوخوش کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام اور اسلامی شخصیات کو نشانہ تنقید بنارہے ہیں جو قطعاًدرست نہیں۔ مجھے مخدوم محترم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ اور آنجناب کی نیت پر بالکل بھی شک نہیں، مگر آپ سے دانستہ یا نادانستہ یہ سہو ضرور ہورہا ہے کہ آپ اس مؤقر جریدے میں بعض دفعہ ایسے لوگوں کو جگہ دیتے ہیں جو اپنی بے تکی لفاظی کے ذریعے ’’الشریعہ ‘‘کے صفحات سیاہ کرنے کے سواکوئی خدمت سرانجام نہیں دے رہے۔امید کرتا ہوں کہ آپ اس سلسلہ میں غور فرمائیں گے۔
ماہ فروری کے ماہنامہ الشریعہ میں مکاتیب کے عنوان سے ایک مکتوب کے جواب میںآپ کی تحریر پڑھ کر جہاں آپ کے افکار ونظریات سے آگاہی ہوئی، وہیں دکھ بھی ہوا جس کا شاید فون پر بھی آپ سے اظہار کیا تھا۔آپ اپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق تو یقیناًرکھتے ہیں، مگرآپ کو اپنی رائے کے اظہار کے ساتھ ساتھ کسی کی بلکہ ان لوگوں ( جنہیں امت کے مقتدر حلقوں کی تائید وسرپرستی حاصل ہے )کی جدوجہد کو شرارت کا نام دینے یا انہیں فسادی قرار دینے کاکوئی حق حاصل نہیں ہے۔ گذشتہ چند شماروں میں مسئلہ تکفیر کی بحث میں اہل تشیع کی تکفیر کے متعلق آپ کی امام ابن تیمیہؒ کے حوالے سے پیش کردہ باتوں سے مجھے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ میرے نزدیک وہ تمام کی تمام باتیں درست ہیں، مگر ان تمام باتوں سے کسی صورت یہ ثابت نہیں ہوتا کہ روافض کی تکفیر نہ کی جائے بلکہ ان کی نسبت اسلام کا خیال رکھا جائے۔ ماہ دسمبر کے شمارے میں آپ نے اپنی کسی مجلس میں کی جانے والی اپنی گفتگو کو تحریری صورت میں پیش کیا ہے جس میں آپ یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ امام ابن تیمیہؒ کا مؤقف یہ ہے کہ کسی کلمہ گومسلمان کے کفریہ عقائد یا مستلزم کفر عقائد کی بناپر اس کی تکفیر نہ کی جائے بلکہ اس کی نسبت اسلام کو ترجیح دی جائے۔آپ کا یہ فرمان بالکل بجا اور حضرت امام ابن تیمیہؒ کا نقطہ نظر بھی بالکل درست، مگر اس کے باوجود امام ابن تیمیہؒ روافض کی تکفیر کے قائل ہیں۔ایک ہے، امام ابن تیمیہ ؒ کے مؤقف کو آپ کا سمجھنا اور پھر اپنی سمجھ کے مطابق اس کا من پسند مطلب نکالنا اور ایک ہے امام ابن تیمیہ کا مؤقف جس کی وضاحت انہوں نے خود کھل کر بیان فرمادی ہے جو آپ کی رائے کے بالکل برعکس ہے۔اب آپ ہی بتائیں کہ آپ کی رائے کو درست سمجھا جائے یا امام ابن تیمیہؒ کے مؤقف کو درست سمجھا جائے جبکہ آپ اس مسئلہ میں جابجا امام ابن تیمیہؒ کے مؤقف کودرست قرار دیتے ہیں۔ انتہائی اختصار کے ساتھ میں یہاں صرف دوعبارتیں پیش کررہا ہوں جن سے امام ابن تیمیہ کے مؤقف کی وضاحت ہوجاتی ہے۔
امام ابن تیمیہ ؒ نے اپنی تصنیف الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں دوعنوان قائم کیے ہیں جنکی عبارتیں پیش خدمت ہیں ۔ان عنوانات کے تحت وہ بہت ساری عبارتیں ایسی لائے ہیں جن سے آپ کے مؤقف کی تردید ہوجاتی ہے۔ 
پہلا عنوان یہ ہے: وقد قطع طائفۃ من الفقہاء من اہل الکوفۃوغیرہم بقتل من سب الصحابۃ وکفر الرافضۃ۔ (الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول ص ۴۱۲)
ترجمہ: ’’اہل کوفہ ودیگر فقہا نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو گالیاں دینے والے کے قتل اور روافض کی تکفیر کو یقینی قرار دیا ہے۔‘‘
دوسرا عنوان کچھ یوں ہے: صرح جماعات من اصحابنا بکفر الخوارج المعتقدین البراءۃ من علی وعثمان وبکفر الرافضۃ المعتقدین لسب جمیع الصحابۃ الذین کفروا الصحابۃ وفسقوھم وسبوھم۔ (الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول ص۴۱۳ )
ترجمہ: ’’علماء کی بہت ساری جماعتوں نے خوارج کے کفر کی تصریح کی ہے جو حضرت عثمان وحضرت علی رضی اللہ عنہماسے برأت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اسی طرح روافض کے کفر کی تصریح کی ہے جو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالیاں دینے کا عقیدہ رکھتے ہیں جنہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تکفیر کی ہے،انہیں فاسق قرار دیا ہے اور انکو گالیاں دی ہیں۔ ‘‘
آپ نے اپنی تحریر میں اہل تشیع کے کفر پر اجماع نہ ہونے کی بھی بات کی ہے بلکہ اجماع ہونا ناممکن قرار دیا ہے۔اس کے متعلق صرف ایک حوالہ پیش خدمت ہے امید ہے کہ یہی کافی ہوگا۔حضرت ملا علی قاری ؒ فرماتے ہیں کہ قلت وھذا فی غیر حق الرافضۃ فی زماننا فانہم یعتقدون کفر اکثر الصحابۃ فضلاً عن سائر اہل السنہ والجماعۃ کفرۃ بالاجماع بلانزاع۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج۹ص۱۳۷
ترجمہ:میں کہتا ہوں یہ بات ان رافضیوں کے بارے میں ہے جو ہمارے زمانے کے نہیں ہیں(ملا علی قاریؒ کے زمانے سے پہلے کے رافضی) کیونکہ جو ہمارے زمانے کے رافضی ہیں وہ اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم کی تکفیر کا عقیدہ رکھتے ہیں چہ جائیکہ وہ تمام اہل سنت والجماعت کو کافر کہیں ۔بس یہ بالاجماع کافر ہیں بغیر کسی اختلاف کے۔
اب یہ فیصلہ آپ خود کرسکتے ہیں کہ اجماع ممکن ہے یا ناممکن ۔تاہم میں سمجھتا ہوں کہ اس عنوان پر قدرے تفصیل کے ساتھ بات کرنے کی ضرورت ہے جس کا یہ خط متحمل نہیں ہوسکتا۔ آپ اگراس عنوان پر کوئی تحریری مکالمہ یا مباحثہ کروالیں اور فریقین کے نقطہ نظر سے آگاہی کا موقع دیں تو پھر اپنی معروضات بھی پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔
محمد یونس قاسمی
جہانیاں، خانیوال
(۵)
محترم عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم
آپ کو خط لکھ کر زحمت اس لیے دے رہا ہوں کہ ماہ فروری کے ’الشریعہ‘ کے کلمہ حق سے اصولی طور پر سارے مضمون سے اس خاکسار کو اختلاف ہے، مگر الاتقان فی علوم القرآن سے جو روایت سیدنا علی کے حوالے سے بیان کی گئی ہے، اہل حدیث تو اسے پیش کرتے ہی تھے، مگر آپ لوگوں نے اسے پیش کر کے قرآن کریم سے اپنی بے خبری کا بھی ثبوت دیا اور یوں قران پر بھی بہتان لازم آیا اور علی رضی اللہ عنہ کے ذمے بھی ایک جھوٹی بات لگا دی:
’’علی رضی اللہ عنہ نے جب ابن عباس کو خوارج سے گفتگو کے لیے بھیجا تو اسی خدشے کے پیش نظر ان سے فرمایا تھا: ۔۔۔ ’’ان کے پاس جاؤ اور ان سے بحث کرو، لیکن ان کے سامنے قرآن کریم سے استدلال نہ کرنا، اس لیے کہ قرآن کریم کے الفاظ میں مختلف معانی کا احتمال ہوتا ہے، بلکہ ان کے ساتھ سنت کے حوالے سے گفتگو کرنا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے کہا کہ اے امیر المومنین، میں قرآن کریم کو ان سے زیادہ جاننے والا ہوں۔ یہ تو ہمارے گھروں میں اترا ہے (یعنی قرآن کریم کے حوالے سے گفتگو میں بھی وہ مجھ پر غالب نہیں آ سکتے)۔ حضرت علی نے فرمایا کہ تم ٹھیک کہہ رہے ہو، لیکن قرآن کریم احتمالات کا حامل ہے۔ تم ایک مطلب بیان کرو گے تو وہ دوسرا مطلب نکال لیں گے۔ تم ان کے ساتھ سنن کی بنیاد پر بحث کرنا، کیونکہ ان سے بھاگنے کی راہ انھیں نہیں ملے سکے گی۔‘‘
قرآن میں ہرگز احتمالات نہیں، بلکہ برعکس طو رپر قرآن تو اپنے مبین ہونے کا دعوے دار ہے۔ دیکھیں: (۱) حم والکتاب المبین، (الزخرف آیت ۱،۲) ’’قسم ہے اس واضح کتاب کی‘‘۔ یہ حتمی طور پر فیصلہ کن ہے۔ (۲) انہ لقول فصل۔ (الطارق آیت ۸۶) ’’بے شک یہ قرآن دوٹوک فیصلہ کرنے والا کلام ہے۔‘‘ (۳) لا یاتیہ الباطل من بین یدینہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید (حم السجدۃ آیت ۴۲) ’’اس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا، نہ اس کے آگے سے اور نہ اس کے پیچھے سے۔ یہ ہے نازل کردہ حکمتوں والے خوبیوں والے اللہ کی طرف سے۔‘‘
لا ریب، یہ روایت کسی دشمن قرآن نے وضع کر کے سیدنا علی اور قرآن پر الزام لگایا ہے۔ صحیح مسلم کے مقدمہ میں ابن عباس سے اسی قسم کی روایات کے بارے میں یہ بات موجود ہے کہ ’’علی رضی اللہ عنہ ایسے فیصلے ہرگز نہیں کہہ سکتے۔‘‘ یہ روایت قرآن کی بے شمار آیات کے خلاف ہے اور آپ تو اصول حدیث مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ خلاف قرآن کوئی روایت قبول نہیں ہوتی۔ ابن الصلاح، خطیب اور ابن تیمیہ کی اصول حدیث کی عبارات تو آپ کو ازبر ہوں گی۔ 
آپ کو پہلے بھی ایک خط پروفیسر اکرم ورک کے حوالے سے لکھا تھا جس میں آں محترم نے قرآن کو اپنی تشریح وتاویل کے لیے حدیث وسنت کا محتاج لکھا تھا، مگر میرے خط کا جواب نہ آں محترم نے دیا اور نہ ہی آپ نے۔ اس خاکسار کی رائے میں یہ جملہ اور اس بات الاتقان کے حوالے سے علی رضی اللہ عنہ کی جو روایت پیش کی گئی ہے، توہین وتنقیص قرآن پر مبنی ہیں۔ اللہ ہمیں غلطی سے توبہ کی توفیق بخشیں۔ آمین
محمد امتیاز عثمانی، راولپنڈی
(۶)
بخدمت گرامی قدر مخدوم العلماء حضرت علامہ زاہد الراشدی مدظلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟
آپ کی وساطت سے چند امور الشریعہ کے قارئین کرام اور دیگر متعلقہ حلقوں کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ 
(۱) احقر جمعیت علماء اسلام کا ایک کارکن ہے، لیکن غیر متحرک ہے۔ غیر متحرک ہونے کی وجہ غیر معقول قسم کی گروپ بازی ہے جو کہ سراسر ذاتیات پر مبنی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور امر پر بھی بہت دل دکھتا ہے۔ وہ یہ کہ آج تک جمعیت علمائے اسلام کا مستقل بنیادوں پر کوئی مرکزی دفتر نہیں ہے، نہ ہی ماہنامہ ’’ترجمان اسلام‘‘ کا مکمل ریکارڈ دستیاب ہے۔ ہر دو گروپوں کے قائدین کے پاس بھی شاید ہی مکمل ریکارڈ اور دیگر دستاویزات موجود ہوں۔ المیہ بر المیہ یہ ہے کہ قائدین جمعیت جو کہ قائدین انقلاب کہلاتے ہیں، آج تک جمعیت علمائے اسلام کی مستند اور مکمل تاریخ بھی نہیں لکھوا سکے۔ 
الجمعیۃ راولپنڈی کے تازہ خاص نمبر میں مولانا فضل الرحمن صاحب کے جلسہ کراچی کی مکمل رپورٹ پڑھ رہا تھا اور یہ سو چ رہا تھاکہ مضمون نگار حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کے ناقدین کو تلخ وتند جوابات دینے پر جو صلاحیتیں صرف کر رہے ہیں، کاش کہ وہ جمعیت کی تاریخ لکھنے پر صرف کرتے تو بہت فائدہ ہوتا۔ قائد جمعیت کا ذاتی دفاع مستحسن ہے، لیکن جمعیت کی تاریخ لکھنا اس سے زیادہ اہم امر ہے۔ قائدین جمعیت ملک گیر جلسوں پر جو کثیر رقوم خرچ کرتے ہیں، اگر وہ رقوم بچا کر مرکزی دفتر قائم کرنے کا اہتمام کر لیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ ایسا دفتر جس میں ریسرچ اسکالرز کے لیے جمعیت کی تاریخ کے متعلق کتب ورسائل موجود ہیں، دیگر لوازمات موجود ہوں، بہت ضروری ہے۔ اسی طرح جمعیت کے متعلق علمی وتحقیقی کام کی تڑپ رکھنے والوں کے لیے ایک یا زیادہ ایسی ویب سائٹس کا قیام ضروری ہے جس میں تمام رسائل، کتب اور دیگر ضروری امور موجود ہوں۔ 
بہت سے حلقوں کا یہ بجا شکوہ ہے کہ جمعیت کے ضلعی، صوبائی اور مرکزی عہدیداروں سے ملنا ایک مصیبت برداشت کرنے سے کم نہیں۔ یہ حضرات عوام کو قریب نہیں آنے دیتے۔ انقلاب کیا آئے گا؟
احقر کا انداز تحریر شاید گستاخانہ قرار پائے، متعلقہ تمام قائدین وکارکنان سے معذرت خواہ ہوں۔ یہ ایک دکھی دل کی آواز ہے۔ کاش کہ متعلقہ اکابر اور حلقوں تک پہنچ سکے اور وہ اس پر عمل کر سکیں۔
(۲) دو ماہ پہلے الشریعہ میں دینی مدارس کے اساتذہ کرام کے مسائل پر ایک خط چھپا تھا۔ حیران ہوں کہ اس بحث کو کسی نے آگے نہیں بڑھایا، حالانکہ اس کی سخت ضرورت ہے۔ المیہ یہ ہے کہ مہتمم حضرات، مدرسین کے حوالے سے ماضی کا پچاس سالہ ماحول اور اپنے لیے پچاس سال بعد کا ماحول فرض کر لیتے ہیں۔ مدرسین کی ایک بڑی تعداد چار پانچ ہزار روپے تنخواہ پر گزارہ کر رہی ہے۔ بیسیوں مدارس ایسے ہیں جہاں مدرسین کے لیے مساجد کی امامت وخطابت شجر ممنوعہ ہے۔ مدرسہ کی مختلف نظامتیں، نگرانیاں اور نگرانوں کی نگرانی، عجیب ماحول ہے۔ محتاط الفاظ استعمال کرنا سخت مشکل ہے۔ مدرسین چار پانچ ہزار میں کیسے گزارہ کرتے ہیں؟ عقل مند کے لیے ان کی مشکلات کو جاننا مشکل نہیں۔
اساتذہ کے لیے دو دو کمروں کے مختصر کوارٹر جہاں صحن سرے سے مفقود ہے، موسم گرما اور لوڈ شیڈنگ میں ان اساتذہ کے اہل خانہ کیسے زندگی گزاریں گے؟ متعلقہ مہتمم کو احساس نہیں۔ ایک مہتمم صاحب نے اساتذہ کی میٹنگ میں فرمایا کہ اب ہمارے پاس کافی فنڈز جمع ہیں، سوچ رہے ہیں کہ سال دو سال بعد تنخواہیں بڑھا دی جائیں۔ اساتذہ کی سالانہ ترقی سو دو سو روپے اور مہنگائی اس سے کئی گنا زائد ہے۔ مہتمم صاحبان اوران کی اولاد کے لیے بے شمار سہولیات، صواب دیدی فنڈز ہیں اور اساتذہ کے لیے مقررہ تنخواہ سے ایک روپیہ بھی زائد نہیں۔ بعض مدارس میں مدرسہ کے ناظم مالیات مہتمم کے اختیارات استعمال کرتے یں۔ سالانہ ترقی لگانے نہ لگانے میں وہ اپنی پسند اور ناپسند مقدم رکھتے ہیں۔ بیس بیس سال تدریس کرنے والوں اور نئے بھرتی ہونے والے مدرسین کی تنخواہیں کئی مدرسوں میں برابر ہیں۔ مہتمم حضرات کی مرضی کا نام اصول ہے۔
پنجاب کے غالباً پچاس فی صد مدارس میں اساتذہ کو بندۂ بے دام کی حیثیت دی جاتی ہے۔ صبح کی اذان سے لے کر رات گئے تک بے چاروں کے لیے مصروفیت ہی مصروفیت ہے۔ اضافی کاموں کا معمولی معاوضہ ملتا ہے اور بعض مدارس میں ملتا ہی نہیں اور نوکری کا عدم تحفظ اس پر مستزاد ہے۔ یہ وہ احوال ہیں جو بندہ کے مشاہدہ میں آئے یا معتبر ذرائع سے سنے۔ جزئیات کا احاطہ کرنا دشوار ہے۔ 
احقر عمومی حالات عرض کر رہا ہے۔ ان واقعات کو کسی خاص مدرسہ یا مہتمم پر منطبق نہ کیا جائے اور بدگمانی نہ کی جائے۔ بعض مہتمم حضرات اپنے مدرسین کی کامیابی اور ہر دل عزیزی برداشت نہیں کر سکتے اور ان کی ناکامی کے اسباب مہیا کرتے ہیں۔ کیا وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے اکابرین ان حالات پر غور فرمائیں گے؟ اکابرین سے دست بستہ گزارش ہے کہ وہ اس صورت حال کا ادراک کریں اور احقر کی رائے یہ ہے کہ مذکورہ حالات صر ف کسی خاص مسلک کے مدارس کے ساتھ خاص نہیں۔ تمام مسالک کے بیسیوں مدارس یکساں صورت حال سے دوچار ہیں۔ 
(۳) گزشتہ ایک صدی سے امت مسلمہ کے زوال پر محققین کی طبع آزمائی بلکہ زور آزمائی جاری ہے۔ کسی کو اس زوال کا سبب یہ نظر آتا ہے کہ قرآن مجید کی صداقت مشکوک ہے۔ کسی کے ہاں احادیث مشکوک ہیں۔ کوئی فقہ وفقہا کی کاوشوں سے نالاں ہے۔ کسی کے نزدیک متکلمین کی کاوشیں اس تباہی کا سبب ہیں۔ ایک عجیب طوفان برپا ہے۔ نئے نئے محققین ہیں، نئی نئی تحقیقات ہیں۔ حال ہی میں ’’ادراک زوال امت‘‘ کے نام سے انڈیا سے دو ضخیم جلدیں منظر عام پر آئی ہیں۔ موصوف کی محنت اپنی جگہ، کئی جگہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کا اپنا ذہن صاف نہیں۔ حقائق کا پورا علم نہیں رکھتے، وہ مثبت امور کو بھی منفی انداز سے لیتے ہیں۔
احقر یہ کہنا چاہتا ہے کہ ہمارے مسلک کے موجودہ اکابر میں آپ، علامہ ڈاکٹر خالد محمود اور حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ اس لائق ہیں کہ اپنے انداز میں قلم اٹھائیں اور زوال امت کی مستند تاریخ لکھ دیں کہ امت مسلمہ قرن اول سے دور حاضر تک کن فکری، معاشی، معاشرتی، سیاسی بحرانوں، المیوں اور طوفانوں سے دوچار ہوئی۔ یہ تجزیہ مستند انداز میں لکھا جانا بہت ضروری ہے جو کہ آپ حضرات ہی لکھ سکتے ہیں۔ دور حاضر میں دو قسم کے مصنفین بکثرت پائے جاتے ہیں۔ ایک قینچی مار مصنفین جو اپنے دماغ سے ایک سطر بھی نہیں لکھ سکتے اور دوسرے وہ حضرات جن کا مطالعہ وسیع مگر سطحی ہے۔ اس میں گہرائی، اعتدال اور سلامت فکر نہیں ہے۔ زیادہ تر لوگ وہ ہیں جو ایک نتیجہ ذہن میں مرتب کر کے اس کے مطابق حقائق کو ڈھال لیتے ہیں۔ آپ اور دیگر دونوں بزرگوں پر سب حضرات کو اعتماد ہے۔ اگر لکھنے کی فرصت نہ ہو تو مختلف فورموں پر سلسلہ وار خطبات کی ایک سیریز ریکارڈ کروا دیں جنھیں بعد میں کتابی صورت دی جا سکے۔ آپ سمیت تینوں شخصیات سے گزارش ہے کہ وہ اس موضوع کی اہمیت کو محسوس کریں اور نوجوان نسل کی راہنمائی فرمائیں۔ 
یہ موضوع اس لیے بھی اہم ہے کہ ایک مخصوص بہت منظم طریقے سے پھیلائی جا رہی ہے اور اس فکر کے حاملین کے ہاں ان کی اسلامی تعبیر کے علاوہ باقی سب گمراہی اور کفر ہے۔ ان جذباتی عناصر کے سامنے بند باندھنا بھی بہت ضروری ہے۔ ایک مجلس میں ایک صاحب کی گفتگو سنی۔ وہ فرما رہے تھے کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی فکر بھی غلط تھی، مولانا راشدی اور مولانا محمد تقی عثمانی بھی غلط کہتے ہیں۔ ایک دو اور اصحاب کے نام لیے کہ وہ بھی غلط ہیں اورع : مستند ہے میرا فرمایا ہوا۔ اس جارحانہ انداز سے احقر کو بہت صدمہ پہنچا۔ اکابر پر سے اعتماد ختم کرنے کی تحریک بہت سے اپنے کہلانے والے بھی چلا رہے ہیں۔ اس تحریک کے بھیانک نتائج نکلیں گے۔ شاید سردست اندازہ نہ ہو سکے۔
(۴) الشریعہ کے ذریعے کچھ عرصہ پہلے آپ سے بھی گزارش کر چکا ہوں۔ آپ سے، حضرت عثمانی صاحب سے، مختلف یونیورسٹیوں، کالجوں میں چھپے ہوئے اصحاب فضل وکمال سے گزارش ہے کہ جدید علم کلام پر قلم اٹھانا بہت ضروری ہے۔ اسلام سے لگاؤ رکھنے والا جدید تعلیم یافتہ طبق بہت سی علمی الجھنوں اور تشنگیوں کا شکار ہے۔ وہ آپ جیسے اصحاب فضل وکمال کی طرف ترسی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں، لیکن سب بزرگوں کی اپنی اپنی مصروفیات، ترجیحات اور مسائل ہیں۔ سوال بارش کے پہلے قطرے کا ہے جس کے لیے کوئی بزرگ جرات نہیں کر رہا۔ اگر کسی ایک بزرگ نے پہل کر دی تو سلسلہ چل نکلے گا۔
حضرت امام اہل سنتؒ نے راقم کے نام اپنے ایک مکتوب گرامی میں لکھا تھاکہ میرے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی لکھنا چاہیے۔ غلطی کس سے نہیں ہو تی، طبع اول کی کوتاہی طبع ثانی میں دور ہو جائے گی۔ ان کا یہ فرمان قصداً لکھا ہے تاکہ اہل علم لکھنے کے لیے ذہن بنا سکیں۔ مذکورہ تین اکابرین کے ساتھ مفتی ابولبابہ شاہ منصور مدظلہ کا نام لکھنا بھول گیا۔ ان کے پاس وسائل بھی ہیں، افرادی قوت بھی اور کتب خانہ بھی میسر ہے۔ الشریعہ کے واسطے سے ان سے بھی توجہ کی درخواست ہے۔
حضرت شیخ الحدیث کی تصوف پر کتاب لکھنے کی وصیت آپ محاضرات کی صورت میں پوری کر دیں۔ان محاضرات کو کتابی صورت دے دی جائے۔ ہمت تو آپ نے ہی کرنی ہے۔ حضرت تھانویؒ مریدوں کو فرماتے تھے کہ سستی کا علاج چستی ہے۔ 
مشتاق احمد عفی عنہ
ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد، چنیوٹ
۲ مارچ ۲۰۱۲ء

سیمینار: ’’سرکاری تعلیمی اداروں میں قرآن مجید کی تعلیم‘‘

ادارہ

(الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ایک روزہ سیمینار)

پنجاب اسمبلی نے ۸ مارچ ۲۰۱۲ء کو محترمہ عاصمہ ممدوٹ کی پیش کردہ ایک قرارداد متفقہ طور پر پاس کی ہے جس میں قرآن کریم کی تعلیم وتدریس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ:
  • سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب تعلیم میں قرآن کریم کو نصابی کتاب کے طو رپر شامل کیا جائے۔
  • مکمل قرآن کریم ترجمہ سمیت پڑھایا جائے۔
  • اس کے لیے حکومت کی طرف سے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں۔
  • قرآن وحدیث کی تعلیم وتدریس کو تعلیمی اداروں میں یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
یہ اگرچہ ایک قرارداد ہے جس کی حیثیت صرف سفارش کی ہے، اس کے باوجود اس حوالے سے یہ خوش آئند ہے اور اسے منظور کرنے پر تمام ارکان اسمبلی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ یہ قرآن کریم کے ساتھ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی منتخب اسمبلی کی طرف سے تعلق کا اظہار ہے اور اس سے پاکستان کی نظریاتی اسلامی شناخت ایک بار پھر جمہوری انداز میں سامنے آئی ہے۔
اس سلسلے میں ۲۲  مارچ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت معروف ماہر تعلیم اور المشرق سائنس کالج گوجرانوالہ کے سربراہ ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی نے کی اور اس میں الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے علاوہ مختلف تعلیمی شعبوں سے تعلق رکھنے والے حضرات نے شرکت کی۔ اجلاس میں پنجاب اسمبلی کی مذکورہ قراردادکی روشنی میں قرآن وحدیث کی تعلیم کے حوالے سے موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور اس قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے پیش کرنے والی خاتون رکن اسمبلی محترمہ عاصمہ ممدوٹ اور منظور کرنے والے تمام ارکان اسمبلی کو مبارک باد دی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ اس خواہش کا اظہار کیا گیا کہ قرارداد کے بعد اس سلسلے میں کوئی باقاعدہ بل بھی اسمبلی میں اسی طرح پیش ہو کر متفقہ طور پر منظور ہونا چاہیے تاکہ محض سفارش کی بجائے باضابطہ قانون سازی کے ذریعے ارکان اسمبلی کی اس خواہش کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
اجلاس میں اس امر کو لمحہ فکریہ سے تعبیر کیا گیا کہ قیام پاکستان کو پینسٹھ برس گزر جانے کے باوجود ابھی ہم اس مرحلے میں ہیں کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی اسمبلی صرف یہ سوچ رہی ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم ہمارے تعلیمی اداروں میں کسی حد تک ہونی چاہیے اور ترجمہ کے ساتھ ہونی چاہیے اور حکومت کو اس کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے چاہییں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سرکاری تعلیمی نظام میں اس وقت بھی ناظرہ قرآن کریم کی تعلیم مڈل تک ضروری ہے اور اس کے لیے امتحان میں نمبر بھی مختص کیے گئے ہیں، لیکن عملاً ا س کا کوئی اہتمام موجود نہیں ہے۔ نہ تو قومی تعلیمی پالیسی کے تحت جاری ہونے والی ہدایات میں اس سلسلے میں کوئی راہ نمائی ہوتی ہے، نہ ہی سرکاری تعلیمی اداروں کے سربراہ اور اساتذہ اس کی طرف توجہ دیتے ہیں اور نہ ہی قرآن کریم کی تعلیم اور امتحان کا کوئی اہتمام ہوتا ہے، بلکہ اکثر اداروں میں تعلیم اور امتحان کے بغیر ہی قرآن کریم کے نمبر امتحانی پرچوں پر لگا دیے جاتے ہیں اور اسے دوسرے مضامین کے امتحانات میں طلبہ کے نمبروں کی کمی کو پورا کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک اسکول ٹیچر نے سیمینار کے دوران بتایا کہ انھوں نے ایک کلاس کے امتحان میں قرآن کریم کا باقاعدہ امتحان لے کر طلبہ کو ان کی حیثیت کے مطابق نمبر دے تو اسکول کے دوسرے اساتذہ نے ان سے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ نے طلبہ پر ظلم کیا ہے، اس لیے کہ یہی نمبر تو طلبہ کے دوسرے مضامین میں نمبروں کی کمی کو پورا کرتے ہیں اور امتحان میں ان کے پاس ہونے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
اجلاس میں اس صورت حال کو محکمہ تعلیم، تعلیمی اداروں کے سربراہوں اور ایسا کرنے والے اساتذہ کی غفلت اور بے پروائی قرار دے کر سخت افسوس کا اظہار کیا گیا اور اس کی تلافی کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ ایک تجویز میں کہا گیا کہ قومی تعلیمی پالیسی کے تحت دی جانے والی ہدایات میں یہ ہدایت شامل کی جائے کہ سرکاری نصاب کے مطابق قرآن کریم کی تعلیم وتدریس اور امتحان کو تعلیمی اداروں میں یقینی بنایا جائے اور جس طرح ڈینگی کے بارے میں باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے، اسی طرح قرآن کریم کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے مہم چلائی جائے۔ ایک تجویز یہ پیش کی گئی کہ مڈل یا میٹرک کی سند کو قرآن کریم کی تعلیم کے ساتھ مشروط کیا جائے اور قرآن کریم ناظرہ کا باقاعدہ امتحان لینے کے بعد سند جاری کی جائے، البتہ اس سے غیر مسلم طلبہ کو مستثنیٰ قرار دیا جا سکتا ہے۔ 
ایک تجویز اس سلسلے میں یہ سامنے آئی کہ اس سلسلے میں اساتذہ کے تربیتی کورسز کا اہتمام کیا جائے جن میں اساتذہ کو قرآن کریم کی تعلیم کی اہمیت وضرورت کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ ان کی عملی راہ نمائی اور ٹریننگ کا انتظام کیا جائے۔ ایک تجویز یہ پیش کی گئی کہ ہر اسکول میں پہلا پیریڈ قرآن کریم کے لیے مخصوص کیا جائے جس میں قرآن کریم کے ساتھ ساتھ نماز اور ضروریات دین کی تعلیم کو ضروری قرار دیا جائے اور متعلقہ استاذ کو ہدایت کی جائے کہ وہ محض وقت گزاری کی بجائے سنجیدگی اور دلچسپی کے ساتھ یہ تعلیم دے۔
اجلاس میں اس صورت حال کا جائزہ لیا گیا کہ یہ تو قرآن کریم کی تعلیم کے اس حصے کی بات ہے جو آج بھی تعلیمی نصاب ونظام کا حصہ ہے، مگر محکمہ تعلیم اور اساتذہ، دونوں کی کوتاہی کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، جبکہ پنجاب اسمبلی کی قرارداد میں مکمل قرآن کریم باترجمہ کی بات کی گئی ہے اور قرآن وحدیث کی ضروری تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب قرآن بورڈ کا کردار بھی زیر بحث آیا جو حکومت پنجاب کی طرف سے باقاعدہ طور پر قائم ہے اور مختلف حوالوں سے متحرک ہے۔ سیمینار میں طے پایا کہ پنجاب قرآن بورڈ سے رابطہ کر کے اسے اس طرف توجہ دلائی جائے کہ وہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں قرآن کریم کی تعلیم وتدریس کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لے جو مبینہ طور پر انتہائی افسوس ناک ہے اور جس کی اصلاح کے لیے خاصی محنت کی ضرورت ہے۔ پنجاب قرآن بورڈ سے یہ گزارش کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا کہ وہ اس افسوس ناک صورت حال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے کر اس سلسلے میں پائی جانے والی کوتاہیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے ان کی اصلاح کے لیے جامع رپورٹ مرتب کرے اور سرکاری تعلیمی اداروں میں قرآن وحدیث کی تعلیم وتدریس کی باقاعدہ نگرانی کا نظام وضع کرے۔ پنجاب قرآن بورڈ سے یہ استدعا کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا کہ وہ پنجاب اسمبلی کی مذکورہ قرارداد پر عمل درآمد کو اپنے باقاعدہ پروگرام میں شامل کرے اور اسے قانونی بل کے طور پر اسمبلی میں پیش کرانے اور منظور کرانے کے لیے لابنگ اور بریفنگ کا کردار ادا کرے۔
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ نئی نسل کو قرآن وسنت کی تعلیمات سے روشناس کرانا دستوری طو رپر بھی حکومت کی ذمہ داری ہے اور شرعی حوالے سے بھی ایک مسلمان حکومت کی ذمہ داریوں میں یہ شامل ہے کہ وہ عام شہریوں کی دینی تعلیم وتربیت کا اہتما م کرے۔ مسلم شریف کی ایک روایت کے مطابق امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ایک خطبہ جمعہ میں مسلم حکام کی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مختلف شہروں اور علاقوں میں انھوں نے جن حکام کو مقرر کیا ہے، ان کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ ’’لیعلمہم دینہم وسنۃ نبیہم‘‘، وہ لوگوں کو ان کے دین کی تعلیم دیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تعلیم کا اہتما م کریں، لیکن ہمارے ہاں اس سلسلے میں مسلسل کوتاہی سے کام لیا جا رہا ہے اور حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کے سربراہ اور اساتذہ بھی اس کوتاہی میں شریک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نئی نسل میں اخلاقی بے راہ روی اور فکری انتشار بڑھتا جا رہا ہے اور سیکولر لابیاں اور غیر ملکی فنڈز سے چلنے والی این جی اوز ہماری نئی نسل کی قرآن وسنت کی تعلیمات سے بے خبری کی آڑ میں اپنے گمراہ کن ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں، اس لیے حکومتی اداروں کو توجہ دلانے کے ساتھ ساتھ ہم سب کی اپنی اپنی جگہ بھی یہ ذمہ داری ہے کہ نئی نسل کو قرآن وسنت کی تعلیمات سے روشناس کرانے کے لیے کردار ادا کریں اور نور کے علم کے ساتھ جہالت اور جاہلیت دونوں کا موثر مقابلہ کریں۔

الشریعہ اکادمی کی لائبریری کے لیے ’’مسند احمد‘‘ کا ہدیہ

گزشتہ دنوں جامعہ لاہور الاسلامیہ کے سربراہ جناب مولانا حافظ عبد الرحمن مدنی اور ان کے دست راست جناب ڈاکٹر حافظ حسن مدنی نے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی لائبریری کے لیے ’’المحصل لمسند الامام احمد بن حنبل‘‘ کا وقیع علمی ہدیہ عنایت کیا۔ یہ جناب عبداللہ بن ابراہیم بن عثمان القرعاوی کی گراں قدر علمی کاوش ہے جس میں علم حدیث کے عظیم ذخیرہ مسند احمد بن حنبل کی تمام روایات کو موضوعاتی ترتیب سے جمع کیا گیا ہے اور یوں حدیث کے اس انسائیکلو پیڈیا سے استفادہ کو علم حدیث کے طلبہ کے لیے بہت آسان بنا دیا گیا ہے۔ ۲۵ جلدوں پر مشتمل یہ مجموعہ ریاض، سعودی عرب کے اشاعتی ادارے دار العاصمۃ کی طرف سے شائع کیا گیا ہے۔ 

صحت کی بحالی کے لیے کم خرچ بالا نشیں عادات

حکیم محمد عمران مغل

گزشتہ اشاعت کو اکثر قارئین کرام نے حد سے سوا پسند فرمایا جس کا مجھے اندازہ نہ تھا۔ میں نے اسی موضوع پر مزید عرض کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ اکثر قارئین کرام منتظر ہیں کہ میں علم کے سمندر سے کون سا قیمتی موتی ان کے لیے نکال کر لاتا ہوں۔ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ماہنامہ الشریعہ میں زیب داستاں کے لیے کوئی بات اب تک نہیں لکھی کہ یہ پرچہ قارئین کو فرش سے عرش پر لے جاتا ہے۔ ملک کا ذی وقار طبقہ اس کا منتظر رہتا ہے۔ علماء کرام کی اکثریت اس سے نہ صرف مانوس ہے بلکہ اسے اپنے علم میں اضافہ کا باعث سمجھتی ہے۔
یہی اضافہ ایک متقی پرہیز گار عالم دین کو مانسہرہ سے کھینچ لایا۔ دوا دارو کے بعد بات آگے بڑھی تو فرمانے لگے کہ بحر ہند کے بہت ہی قیمتی موتی کی نشان دہی کرتا ہوں۔ اسے نکال کر اس کی تراش خراش کر کے طب اسلامی کی انگوٹھی میں نصب کریں۔ پھر دیکھیں کہ اس کی کرنیں کہاں تک پہنچتی ہیں۔ اس موتی کے نام سے میں واقف تھا، لیکن کام سے اب واقفیت ہوئی۔ یہ موتی عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیت استاذ العلماء مولانا غلام رسول خان صاحب مرحوم ومغفور تھے۔ اللہ ان پر کروڑہا برکات نازل کرے۔ جامعہ اشرفیہ لاہور میں علوم وفنون کے دریا بہا گئے۔ مانسہرہ کے مولوی صاحب فرما رہے تھے کہ (۱) حضرات دوران اسباق فضول گفتگو نہ فرماتے تھے، صرف تبسم سے کام چلاتے تھے۔ (۲) خور ونوش کی کوئی چیز پسند نہ ہوتی تو اسے کبھی ہاتھ نہ لگاتے۔ (۳) صبح شام نظم وضبط کے ساتھ سیر فرماتے۔ حکیم آفتاب قریشی مرحوم نے ایک بار انٹرویو میں فرمایا کہ میں نے حضرت سے صحت کا راز اور لمبی عمر پانے کی حکمت عملی پوچھی تو فرمانے لگے کہ گرمی ہو یا سردی، خزاں ہو یا بہار یا برف باری، میری سیر میں ناغہ نہیں ہوتا۔ (۴) ہر کھانے کے ساتھ دہی ضرور کھاتے تھے۔ (۵) برف کے استعمال سے واقف نہ تھے۔ (۶) پسینہ آتا تو پنکھے کا استعمال نہ فرماتے تھے۔
میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ چین کے لوگ کھانے کے ساتھ معمولاً گرم پانی پیتے ہیں۔ ہم نے صبح سے شام تک ٹھنڈی بوتلیں پی پی کر اپنے جگر اور گردوں کو خراب کر کے رکھ دیا ہے۔ ہمارے ملک کے مایہ ناز حکیم جناب صابر ملتانی کی تحقیقات حرف آخر ہیں۔ قوم کی بدحالی اور امراض کی بھرمار سے سخت بدظن ہو کر دنیا سے منہ موڑ لیا۔ ان کی ایک کتاب ’’تحقیقات امراض‘‘ موتیوں سے بھرپور ہے۔ اس کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔ آپ اپنے اکثر امراض کو سمجھ کر ان کا سہل الحصول علاج کر سکیں گے۔ فریز میں یخ بستہ اشیائے خور ونوش بھی امراض کا باعث ہیں۔ میری ان گزارشات کامقصد یہ ہے کہ آپ اپنے خون پسینے کی کمائی سے صحت نہیں خرید سکتے تو بیماریاں بھی نہ خریدیں۔