دینی جدوجہد اور اس کی اخلاقیات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
آج میں اپنی ’’قادیانیت نوازی‘‘ کی داستان قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں جس کے الزام کا مجھے گزشتہ چار پانچ برسوں سے بعض دوستوں کی طرف سے سامنا ہے اور اب اس الزام کا ہدف ہونے میں عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر بھی میرے ساتھ شریک ہو گیا ہے۔
چند برس پہلے کی بات ہے، پسرور کے ایک سن رسیدہ بزرگ قاضی عطاء اللہ صاحب میرے پاس تشریف لائے۔ وہ ایک سابق قادیانی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، مگر نصف صدی قبل مسلمان ہو گئے تھے اور اب بحیثیت مسلمان زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اردو ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ انھوں نے قرآن کریم کے مختلف تراجم کو سامنے رکھ کر ترجمہ قرآن کریم کو منظوم شکل میں پیش کیا ہے اور ’’مفہوم القرآن‘‘ کے نام سے اسے شائع کر رہے ہیں۔ اس کا پہلا حصہ ان کے پاس تھا اور وہ اس پرمجھ سے تقریظ لکھوانا چاہتے تھے۔ میں ان سے براہ راست واقف نہیں تھا اور ان کے ساتھ سابق قادیانی ہونے کا لاحقہ بھی ان کی گفتگو سے میرے علم میں آ چکا تھا، اس لیے میں نے ان سے کتاب لے کر رکھ لی اور عرض کیا کہ چند روز کتاب دیکھنے کے بعد کچھ لکھ سکوں گا۔ اس قسم کے معاملات میں میرا معمول یہ ہے کہ مقامی علماء کرام سے رجوع کرتا ہوں اور ان کی جو رائے ہو، ا س پر عمل کرتا ہوں۔ بادشاہی مسجد پسرور کے خطیب حضرت مولانا مفتی رشید احمد پسروری ان دنوں حیات تھے اور میرے بزرگ دوستوں میں سے تھے۔ ان سے ایک جگہ ملاقات ہوئی اور میں نے قاضی عطاء اللہ صاحب کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا کہ قادیانی تھے، مگر اب صحیح العقیدہ مسلمان ہیں۔ اس پر میں نے اس کتاب کو چند جگہ سے دیکھا اور کچھ سطروں میں تقریظ لکھ دی جو انھوں نے کتاب کے اگلے ایڈیشن میں شامل کر دی۔
اس پر بعض دوستوں کی طرف سے اعتراض ہوا کہ میں نے ایک قادیانی کی تفسیر قرآن کریم پر تقریظ لکھ دی ہے۔ صرف اعتراض نہیں ہوا بلکہ ملک بھر میں اس کی خوب تشہیر کی گئی، چنانچہ مختلف شہروں سے مجھے فون آنے لگے، بلکہ عام حلقوں میں تقسیم کیے جانے والے ایک پمفلٹ میں اس اعتراض کا ذکر کیا گیا جس پر میں نے قاضی عطاء اللہ موصوف سے رابطہ کیا تو وہ ایک بڑی فائل لے کر میرے پاس آ گئے جو ان کے قادیانی ہونے کے اخباری پراپیگنڈا اور ان کی طرف سے جوابات پر مشتمل تھی اور ان کا ایک حلف نامہ بھی اس میں شامل تھا جس میں پوری وضاحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ وہ صحیح العقیدہ مسلمان ہیں اور قادیانی نہیں ہیں۔ اس حلف نامہ میں انھوں نے اپنے عقائد کا بھی دوٹوک انداز میں ذکر کیا ہے اور اس پر پسرور کے دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث مکاتب فکر کے معروف علماء کرام کی تصدیقات ہیں۔ اس کے بعد ایک موقع پر میں پسرور گیا تو مختلف علماء کرام سے براہ راست بھی اس مسئلے پر بات کی۔ انھوں نے پورے اطمینان کے ساتھ بتایا کہ قاضی صاحب موصوف پر قادیانی ہونے کا الزام غلط ہے اور وہ صحیح العقیدہ مسلمان ہیں۔ اس کے باوجود نہ صرف پراپیگنڈا مہم جاری رہی بلکہ مسلسل لابنگ بھی ہوتی رہی، چنانچہ ہمارے اپنے مدرسہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے دو بزرگ اساتذہ حضرت مولانا سید عبد المالک شاہ صاحب اور حضرت مولانا اللہ یار خان صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے اس کی تحریری وضاحت طلب کی اور تقاضا کیا کہ میں قاضی عطاء اللہ موصوف کی کتاب ’’مفہوم القرآن‘‘ پر اپنی تقریظ سے رجوع کا اعلان کروں۔ اس پر میں نے ایک بار پھر پسرور کے علماء کرام سے رابطہ کیا مگر صورت حال میں کوئی تبدیلی نہ پا کر تقریظ واپس لینے سے معذرت کر دی اور دونوں بزرگوں کو تحریری طو رپر اصل صورت حال اور اپنے موقف سے آگاہ کر دیا۔
میرا خیال تھا کہ ا س کے بعد یہ مہم ختم ہو جائے گی، مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا، البتہ اس کا رخ بدل گیا اور معترض دوستوں نے پنجاب حکومت کی طرف سے قائم کردہ ’’متحدہ علماء بورڈ‘‘ کو درخواست دی کہ یہ کتاب ایک قادیانی نے لکھی ہے اور اس میں قادیانی عقائد کا پرچار کیا گیا ہے، اس لیے اس پر پابندی لگائی جائے۔ متحدہ علماء بورڈ کے سربراہ حضرت مولانا پیر سید امین الحسنات شاہ صاحب آف بھیرہ شریف ہیں۔ وہ میر ے مہربان اور بزرگ دوستوں میں سے ہیں۔ انھوں نے کتاب پر میری تقریظ دیکھی تو چونک گئے کہ ایک قادیانی کی کتاب پر میری تقریظ کیسے ہو سکتی ہے؟ انھوں نے مہربانی فرما کر مجھ سے فون پر براہ راست رابطہ کر لیا۔ میں نے انھیں صورت حال سے آگاہ کیا اور گزارش کی کہ آپ جو مناسب سمجھیں، فیصلہ کریں، لیکن میری درخواست صرف اتنی ہے کہ اس سلسلے میں میرے پاس متعلقہ کاغذات کی ایک فائل ہے، اسے ایک نظر دیکھ لیں۔ اس کے بعد جو فیصلہ چاہیں، کر لیں۔ حضرت پیر صاحب محترم کے ارشاد پر میں نے وہ فائل انھیں بھجوا دی۔ اس کے بعد مجھے معلوم نہیں کہ انھوں نے کیا فیصلہ فرمایا۔
مگر بات یہاں بھی نہیں رکی اور پاکستان شریعت کونسل میں میرے قریب کے ساتھیوں سے رابطہ کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ وہ مجھے اپنے موقف پر نظر ثانی کے لیے کہیں۔ مولانا عبد الحق خان بشیر میرے حقیقی بھائی ہیں اور پنجاب شریعت کونسل کے امیر ہیں جبکہ لاہور باغبان پورہ کے مولانا قاری جمیل الرحمن اختر میرے حقیقی بھائیوں کی طرح ہیں اور مرکزی شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیں۔ دونوں حضرت میرے پا س الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں تشریف لائے اور اس مسئلے پر مجھ سے تفصیلی بات کی۔ میں نے گزارش کی کہ مجھے اپنے موقف پر اس قدر اصرار نہیں ہے کہ اس پر کسی کی بات نہ سنوں۔ آپ دونوں حضرات خود پسرور تشریف لے جائیں اور اپنے طور پر وہاں کے علماء کرام سے بات کر کے تحقیق کریں۔ اس کے بعد آپ دونوں حضرات جو بھی کہیں گے، میں اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہوں، چنانچہ یہ دونوں حضرات پسرور تشریف لے گئے اور اپنے طور پر صورت حال معلوم کی۔ واپسی پر انھوں نے جو رپورٹ پیش کی، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قاضی عطاء اللہ صاحب کو قادیانی قرار دینے کی بات تو درست نہیں ہے، البتہ ان کی اس کتاب کے بعض مندرجات پر اشکالات ہیں اور ان سے یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ان عبارات سے قادیانیوں کی بعض باتوں کی حمایت کا تاثر ملتا ہے۔ ان کی اگر وضاحت ہو جائے تو مناسب ہوگا۔ اس حوالے سے قاضی صاحب سے میری بات ا س سے قبل بھی ہو چکی تھی اور انھوں نے صاف طو رپر کہہ دیا تھا کہ وہ عالم دین نہیں ہیں اور نہ ہی انھوں نے قرآن کریم کا ازسرنو کوئی ترجمہ کیا ہے، بلکہ انھوں نے اردو تراجم کو سامنے رکھ کر قرآن کریم کے اردو ترجمہ کو منظوم شکل دی ہے، اس لیے علماء کرام جہاں بھی کوئی اشکال محسوس کریں، اس کی نشان دہی کر دیں۔ میں ا س عبارت کی اصلاح کر دوں گا، مگر مولانا عبد الحق خان بشیر اور مولانا قاری جمیل الرحمن اختر کی پسرور سے واپسی کے بعد میں نے دوبارہ قاضی عطاء اللہ صاحب سے رابطہ کیا اور وہ میرے پاس تشریف لائے۔ ان کا موقف اب بھی وہی تھا کہ علماء کرام کتاب کا مطالعہ کر کے نشان دہی کریں۔ جو عبارت بھی مشتبہ ہوگی، وہ اسے تبدیل کر دیں گے۔ چنانچہ اب وہ کتاب میں نے نظر ثانی اور تفصیلی مطالعہ کے لیے مولانا عبدالحق خان بشیر کو دے دی ہے اور ان کی ابتدائی رپورٹ یہ ہے کہ اس قسم کی کوئی واضح عبارت تو نظر نہیں آئی، البتہ بعض عبارات سے اشتباہ ہوتا ہے جن کی اصلاح کی ضرورت ہے۔
یہ تو میرے ’’قادیانی نواز‘‘ ہونے کی داستان ہے اور اب عزیزم عمار خان بھی اس الزام میں میرے ساتھ شریک ہو گیا ہے۔ عمار خان نے اسلامی نظریاتی کونسل کے رسالہ ’’اجتہاد‘‘ میں اجتہادی رویوں اور دینی تحریکات کی حکمت عملی کے حوالے سے ایک مضمون لکھا جو ’’اجتہاد‘‘ کے بعد ماہنامہ الشریعہ کے دسمبر ۲۰۱۰ء کے شمارہ میں بھی شامل ہوا۔ اس میں اس نے قادیانیوں کے بارے میں اختیار کی جانے والی حکمت عملی کے حوالے سے لکھا کہ:
’’اگر کسی معاشرے میں کشف والہام انفرادی دائرے سے اٹھ کر ایک باقاعدہ اداراتی صورت اختیار کر چکے ہوں، ان کی بنیاد پر شخصیات اور جماعتوں کے عند اللہ مقبول ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے کیے جاتے ہوں، لوگوں کو ان کی طرف دعوت جاتی اور ان کے ساتھ وابستہ ہونے والوں کو نجات کی بشارت دی جاتی ہو، القا والہام کی بنیاد پر مراقبہ وسلوک کے نظام مرتب کیے جاتے بلکہ سیاسی ومذہبی اختلافات میں بھی حق وباطل کی تفریق کرنا ایک عام چلن ہو، جہاں خواب اور بشارات کسی کے مامور من اللہ ہونے کا ایک مستند ذریعہ سمجھے جاتے ہوں، ایسی فضا میں اگر کوئی شخص ’’شبانی سے کلیمی دو قدم ہے‘‘ کا نعرۂ مستانہ بلند کر دے اور عام لوگ اس کے فریب میں مبتلا ہو کر اسے ایک ’’امتی نبی‘‘ مان لیں تو انھیں کس حد تک اس کا قصور وار ٹھہرایا جا سکتا اور راہ راست پر لانے کی ہمدردانہ کوشش کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے محض ان کا معاشرتی مقاطعہ کرنے اور قانونی اقدامات کے ذریعے سے انھیں مسلمانوں سے الگ کر دینے پر اکتفا کے طرز عمل کو کس حد تک اخلاق، حکمت اور دعوت دین کے تقاضوں کے مطابق قرار دیا جا سکتا ہے؟ ‘‘ (الشریعہ، دسمبر ۲۰۱۰، ص ۴۸)
عزیزم عمار کی اس عبارت پرملک کے مختلف دینی جرائد میں تبصرہ شائع ہوا ہے اور اس عبارت سے یہ مطلب اخذکیا گیا ہے کہ ’’امتی نبی‘‘ ہونا کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے اور قادیانیوں کے معاشرتی مقاطعہ اور ان کے خلاف قانونی اقدامات کا طرز عمل درست نہیں ہے، حالانکہ تھوڑے سے غور وخوض کے بعد یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ اس عبارت میں:
- تصوف میں مبالغہ آرائی کی بعض صورتوں پر طنز کیا گیا ہے جو خود میرے نزدیک بھی مناسب بات نہیں ہے۔ یہ بات اس سے بہتر اسلوب میں بھی کہی جا سکتی تھی۔
- اس طرز عمل کو عام مسلمانوں کے قادیانی فریب سے متاثر ہونے کا سبب قرار دیا گیا ہے اور
- فریب کاری سے متاثر ہونے والے سادہ لوح مسلمانوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انھیں ہمدردی کے ساتھ اس فریب سے نکالنے اور اسلام میں واپس لانے کی تدابیر اختیار کی جانی چاہییں۔
یہ مضمون الشریعہ کے دسمبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں شائع ہوا ہے، جبکہ اس سے قبل مارچ ۲۰۱۰ء کے شمارے میں مولانا مشتاق احمد چنیوٹی کی تصنیف ’’اقبالؒ اور قادیانیت‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے عمار خان اپنا یہی موقف ان الفاظ میں لکھ چکا ہے کہ:
’’انیسویں صدی کے آخر میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی ظلی نبوت کے عنوان سے برصغیر میں ایک نیا باب الفتن کھولا تو سادہ لوح عوام کو اس کے دجل وفریب سے آگاہ کرنے کے لیے اہل حق کو میدان میں آنا پڑا اور اہل علم نے علمی وتحقیقی اور مناظرانہ ومجادلانہ، ہر دو انداز میں پوری مستعدی سے قادیانی نبوت کی تاویلات وتحریفات کا پردہ چاک کیا۔ اہل دین کی کم وبیش پون صدی کی مسلسل جدوجہد قادیانی فرقے کو عالم اسلام میں قانونی اور آئینی سطح پر غیر مسلم قرار دینے پر منتج ہوئی۔ اس تحریک کی قیادت اور راہ نمائی بنیادی طور پر علما نے کی، تاہم اس کی کامیابی میں بہت سی ایسی شخصیات کا حصہ بھی کم نہیں جو روایتی مذہبی حلقے کی نمائندہ نہیں سمجھی جاتیں۔ ان شخصیات میں علامہ محمد اقبالؒ کا نام سرفہرست ہے۔
قادیانی گروہ نے اپنی معاشرتی حیثیت کو مستحکم کرنے کے لیے لوگوں کو مذہبی تاویلات اور گورکھ دھندوں میں الجھانے کے ساتھ ساتھ کئی سیاسی اور سماجی عوامل کا بھی سہارا لینے کی کوشش کی۔ برصغیر کی فضا مختلف مذہبی گروہوں کی طرف سے ایک دوسرے کی تکفیر کے واقعات سے مانوس تھی، جبکہ مرزا غلام احمد دعواے نبوت سے پہلے کئی سال تک ہندووں اور عیسائیوں کے مقابلے میں دفاع اسلام کے محاذ پر محنت کر کے اپنے حق میں ہمدردی کی فضا بڑے پیمانے پر پیدا کر چکے تھے، چنانچہ جب ان کے دعواے نبوت پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا تو ایک وقت تک ناواقف مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اسے روایتی مذہبی فتوے بازی ہی کا ایک نمونہ سمجھتی رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ نہ صرف انگریز سرکار بلکہ اسلام سے محض نسبت کا تعلق رکھنے والے نام نہاد لبرل طبقات کی ہمدردیاں بھی اس نوزائیدہ گروہ کو حاصل تھیں۔ اس تناظر میں علامہ اقبال جیسی قد آور اور معتبر ملی شخصیت کا قادیانی نبوت کے خلاف دو ٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا ان تمام طبقات پر مذہبی علما کے موقف کا وزن واضح کرنے میں بے حد موثر ثابت ہوا جو کسی بھی وجہ سے اس معاملے میں تردد یا دو ذہنی کا شکار تھے۔
زیر نظر کتابچہ میں مولانا مشتاق احمد چنیوٹی نے، جو اس موضوع کے متخصص ہیں، قادیانیت کے بارے میں علامہ محمد اقبال کی تحریروں، گفتگووں اور بیانات کا ایک مختصر مگر نمائندہ انتخاب جمع کر دیا ہے جو اس حوالے سے ان کے زاویہ نظر اور استدلال کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اقبال کے طرز استدلال کا ایک امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے مسلمانوں کا مقدمہ خالص کلامی بنیاد پر پیش کرنے کے بجائے پنے مخاطب طبقات کی ذہنی رعایت سے، اس عقیدے کی اہمیت کو سماجی اصولوں کی روشنی میں واضح کیا اور یہ بتایا کہ بحیثیت ایک گروہ کے مسلمانوں کے مذہبی تشخص کی بنیاد اسی عقیدے پر ہے اور اس کی حفاظت کے لیے یہ ان کا مذہبی، اخلاقی اور جمہوری حق ہے کہ کسی نئی نبوت پر ایمان لانے والے گروہ کو ان کا حصہ سمجھنے کے بجائے ایک نیا مذہبی گروہ قرار دے کر قانونی اعتبار سے ان سے الگ کر دیا جائے۔ (ص ۱۶، ۱۷)
اسی طرح انھوں نے قادیانی گروہ پر زندقہ وارتداد کے روایتی فقہی احکام (یعنی سزاے موت) جاری کرنے کے بجائے جدید جمہوری تناظر میں یہ تجویز کیا کہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کر لیا جائے اور پھر مسلمان ان کے بارے میں ویسے ہی مذہبی اور معاشرتی رواداری سے کام لیں گے جیسے وہ دوسرے مذاہب کے بارے میں لیتے ہیں۔ (ص ۱۱) یہ بات اس پہلو سے بہت اہم اور حکیمانہ تھی کہ قانونی تکفیر کے باوجود اس سے آگے چل کر ان ہزاروں لوگوں کے لیے اسلام کی طرف واپسی کا راستہ کھلا رہتا جو مختلف وجوہ سے قادیانیت کے پرفریب جال کا شکار ہو کر جادۂ حق سے بھٹک گئے، جبکہ موجودہ صورت حال میں مسلمان مناظرین کے اختیار کردہ لب ولہجہ اور طرز استدلال نیز قادیانیوں کی نئی نسل کا مسلمانوں کے ساتھ اختلاط بالکل مفقود ہونے کی وجہ سے یہ راستہ کم وبیش بند دکھائی دیتا ہے، چنانچہ مرزا طاہر احمد کے دست راست حسن محمود عودہ نے بیس سال قبل اپنے قبول اسلام کے موقع پر ایک انٹرویو میں قادیانی امت کے اپنی گمراہی پر قائم رہنے کا ایک بڑا سبب اس چیز کو قرار دیا تھا کہ ان کی مسلمان علما تک رسائی نہیں ہے اور قادیانی قیادت اس خلیج کو برقرار رکھنے میں ہی اپنا بھلا سمجھتی ہے۔ ‘‘
’الشریعہ‘ کے مارچ ۲۰۱۰ء کے شمارے میں شائع ہونے والے اس تفصیلی موقف پر نظر ڈالنے کے بعد دسمبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں شائع ہونے والے مضمون کے اس اجمالی اقتباس کو پھر سے ملاحظہ فرما لیا جائے کہ اس میں قادیانیوں کی حمایت کی گئی ہے یا ان کے فریب کا شکار ہونے والے سادہ لوح مسلمانوں کو فریب کے اس دائرے سے ہمدردی کے ساتھ نکال لانے کی بات کہی گئی ہے؟ ہم تو ان دوستوں سے صرف یہی عرض کر سکتے ہیں کہ
سخن فہمی عالم بالا معلوم شد
۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کی بات ہے۔ میں اس وقت کل جماعتی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گوجرانوالہ کا سیکرٹری تھا اور مرکزی جامع مسجد چونکہ تحریک کامرکز تھی، اس لیے تحریک کے تنظیمی اور دفتری معاملات کا انچارج بھی تھا۔ ضلع گوجرانوالہ کے ایک قصبے میں تحریک کے جلسے کاپروگرام تھا جس میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت کے لیے اے سی کو درخواست دے رکھی تھی۔ راقم الحروف تحریک ختم نبوت کے ایک اور راہ نما کے ساتھ اے سی گوجرانوالہ سے ملا کہ وہ اجازت دے دیں۔ انھوں نے حالات کی خرابی اور جھگڑے کے خدشے کے عنوان سے ٹال مٹول کرنا چاہی۔ میرے ساتھ جانے والے دوست نے اچانک ان سے کہہ دیا کہ آپ قادیانی تو نہیں ہیں؟ اے سی کچھ گھبرا سا گیا اور یہ کہہ کر منظوری کے دستخط کر دیے کہ مولوی صاحب! اتنا بڑا الزام مجھ پر نہ لگائیں اور جائیں، جا کر جلسہ کریں۔
اے سی کے دفتر سے باہر نکلے تو مولوی صاحب سے میں نے کہاکہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے کہا کہ اس کے بغیر وہ اجازت نہ دیتا۔ اس وقت تو میں نے بھی محسوس نہ کیا کہ ہم جس کام کے لیے گئے تھے، وہ ہو گیا تھا، لیکن بعد میں یہ بات آہستہ آہستہ کھلتی چلی گئی کہ ہم بسا اوقات اپنا کام نکلوانے کے لیے یا کوئی غصہ نکالنے کے لیے بھی کسی اچھے بھلے مسلمان کو قادیانی کہہ دینے سے گریز نہیں کرتے۔ اس کے بعد تحریکی زندگی میں بہت سے مراحل ایسے آئے کہ اچھے خاصے بزرگوں کی طرف سے بھی اسی قسم کے طرز عمل کا مشاہدہ کرنا پڑا۔
پنجاب کے سابق آئی جی پولیس احمد نسیم چودھری گکھڑ کے رہنے والے ہیں۔ میرے ذاتی دوستوں میں سے ہیں۔ انھوں نے قرآن کریم کی ابتدائی تعلیم ہمارے گھر میں ہماری والدہ محترمہ سے حاصل کی ہے اور ہمارے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز کے خاص عقیدت مندوں میں سے ہیں۔ ایک زمانے میں وہ ضلع جھنگ کے ایس ایس پی تھے۔ ایک روز حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمہ اللہ تعالیٰ گوجرانوالہ میرے پاس تشریف لائے اور باتوں باتوں میں فرمایا کہ ہمارے ضلع کا ایس ایس پی مرزائی ہے۔ میں نے چونک کر دریافت کیا کہ کیا ضلع جھنگ کا ایس ایس پی تبدیل ہو گیا ہے؟ فرمایا کہ نہیں، وہی احمد نسیم ہے۔ میں نے حیرت سے کہا کہ حضرت! آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ فرمانے لگے کہ میں نے تحقیق کر لی ہے، وہ قادیانی ہے اور اس کا نام بھی قادیانیوں والا ہے۔ مجھے سخت غصہ آیا۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت! آپ اسے نہیں، مجھے قادیانی کہہ رہے ہیں۔ مولانا چنیوٹی بھی چونکے اور فرمایا، کیا تم اسے جانتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ اچھی طرح جانتا ہوں۔ وہ میرا دوست ہے، بھائی ہے، کلاس فیلو ہے اور حضرت والد صاحب کے شاگردوں میں سے ہے۔ پھر میں نے مولانا چنیوٹی کو احمد نسیم چودھری کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بتایا تو بڑے پریشان ہوئے۔ قارئین کی معلومات کے لیے عرض کر رہا ہوں کہ جس زمانے میں احمد نسیم چودھری لاہور کے ایس ایس پی تھے، اخبارات میں ان کے خلاف بعض حلقوں کا بیان شائع ہوا تھاکہ لاہور کے ایس ایس پی نے لاہور کے تھانوں کی مساجد میں دیوبندی اماموں کی بھرمار کر دی ہے۔
مولانا چنیوٹی میری بات سن کر الجھن میں پڑ گئے اور فرمایا کہ مجھے اس کے ایک ڈی ایس پی نے بڑے وثوق کے ساتھ بتایا ہے کہ وہ قادیانی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ ا س بات کی تحقیق کریں کہ اس ڈی ایس پی نے ایسا کیوں کہا ہے؟ کچھ دنوں بعد مولانا چنیوٹی نے خود مجھے بتایا کہ تمہاری بات ٹھیک ہے۔ اس ڈی ایس پی کا کوئی کام ایس ایس پی نے نہیں کیا تھا اور ا س نے غصہ نکالنے کے لیے اس عنوان سے مجھے استعمال کرنا چاہا،مگر تم نے اچھا کیا کہ مجھے بروقت آگاہ کر دیااور میں اس سے بچ گیا۔ اس کے بعد میری درخواست پر احمد نسیم چودھری اور مولانا چنیوٹی کی باہم ملاقات ہوئی اور پھر ان کے درمیان بہت اچھے دوستانہ مراسم کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
مولانا چنیوٹی چونکہ اس محاذ کے جرنیل تھے اور ان کی بات کو اس حوالے سے سند سمجھا جاتا تھا، اس لیے بعض لوگ مولانا موصوف کی اس پوزیشن سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی ناروا کوشش کرتے تھے۔ اسی سلسلے کا ایک اور واقعہ یہ ہے کہ مولانا چنیوٹی کہیں جاتے ہوئے میرے پاس گوجرانوالہ میں رکے اور بریف کیس سے ایک فائل نکال کر مجھے دکھائی کہ گکھڑ کا ایک شخص غالباً بحرین کے پاکستانی سفارت خانے میں افسر ہے جس کے بارے میں وہاں سے بعض پاکستانیوں کے خطوط آئے ہیں جن کی ساہیوال کے ایک بڑی دینی جامعہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ شخص قادیانی ہے اوربحرین کے پاکستانیوں کو تنگ کر رہا ہے۔ چونکہ وہ گکھڑ کا رہنے والا ہے، اس لیے تمہارے ساتھ مشورہ کے لیے آیا ہوں۔ میں نے نام پوچھا تو بتایا کہ اس کا نام شعبان اپل ہے۔ میرے دونوں ہاتھ بے ساختہ کانوں تک چلے گئے کہ اس کا معاملہ بھی احمد نسیم چودھری کی طرح کا تھا۔ وہ ہمارا پڑوسی تھا۔ ہمارا بچپن اکٹھے گزرا۔ میں نے لکھنا پڑھنا اس کی ہمشیرہ سے سیکھا اور اس نے قرآن کریم میری والدہ مرحومہ سے پڑھا۔ اس کی والدہ اور میری والدہ آپس میں سہیلیاں بنی ہوئی تھیں اور ہم اس کی والدہ کو خالہ جی کہا کرتے تھے۔ آج بھی ان کی یاد آتی ہے تو اس دور کی حسین یادیں دل میں گدگدی کرنے لگتی ہیں۔ میں نے وہ فائل ایک نظر دیکھی اوریہ کہہ کر مولانا چنیوٹی کو واپس کر دی کہ اس نے کسی کا کام نہیں کیا ہوگا اور اس نے بدلہ لینے کے لیے یہ حرکت کر دی ہے۔ مولانا چنیوٹی بھی فرمانے لگے کہ اچھا ہوا، میں نے تم سے پوچھ لیا، ورنہ میں بحرین کی حکومت اور پاکستان کی حکومت دونوں کو باضابطہ خط لکھنے والا تھاکہ اس افسر کو بحرین کے پاکستانی سفارت خانے سے واپس کیا جائے۔
بعض واقعات تو اس سے بھی زیادہ خوف ناک ہیں جو میرے حافظے میں محفوظ ہیں، مگر ایک اور واقعہ عرض کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ایک دفعہ گوجرانوالہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں سرکردہ علماء کرام کا ڈویژنل سطح پر اجلاس تھا۔ اس میں ضلع سیالکوٹ کے ایک محترم بزرگ نے بڑے وثوق کے ساتھ اپنے خطاب میں کہا کہ پنجاب کا سیکرٹری تعلیم قادیانی ہے، اس کے بارے میں آواز اٹھانی چاہیے۔ اجلاس کے بعد میں نے ان سے علیحدگی میں پوچھا کہ کیا آپ کو یقین ہے اور آپ نے تحقیق کر لی ہے؟ انھوں نے بڑے اعتماد سے کہا کہ ہاں، وہ بہت پکا قادیانی ہے۔ ضیاء الحق مرحوم کا دور حکومت تھا اور ان کے ایک مشیر کے ساتھ جو تعلیم کے شعبہ ہی کے مشیر تھے، میری علیک سلیک تھی۔ کچھ دنوں کے بعد میرا اسلام آباد جانے کا پروگرام بن گیا اور میں نے طے کیا کہ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے اس مشیر سے اس سلسلے میں خود بات کروں گا۔ ان دنوں میرے ایک پرانے دوست پروفیسر افتخار احمد بھٹہ وفاقی وزارت تعلیم میں افسر تھے۔ پہلے میں نے ان سے مشورہ کرنا مناسب سمجھا اور خیال کیا کہ انھیں بھی ملاقات میں ساتھ لے جاؤں گا۔ انھوں نے میری بات سنی تو فرمایا کہ تم نے بہت اچھا کیا کہ مجھ سے بات کر لی، ورنہ بہت گڑبڑ ہو جاتی، اس لیے کہ جن صاحب کے پاس تم یہ شکایت لے کر جا رہے ہو، یہ ان صاحب کے داماد ہیں جن کی شکایت کرنے آئے ہو اور دونوں میں سے کوئی بھی قادیانی نہیں ہے۔ میرے کچھ اور کام بھی تھے، مگر پروفیسر افتخار احمد بھٹہ کی یہ بات سن کر میں اتنا کنفیوژ ہوا کہ میں نے سرے سے ان مشیر صاحب سے ملاقات کا ارادہ ہی ترک کر دیا اور واپس گوجرانوالہ چلا آیا۔
عقیدۂ ختم نبوت کے لیے جدوجہد کرنا عبادت ہے اور قادیانیوں کا ہر محاذ پر تعاقب کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے، لیکن ہر جدوجہد اور محاذ کی کچھ اخلاقیات بھی ہوتی ہیں۔ پھر ہمارا دین تو ’’دین اخلاق‘‘ کہلاتا ہے اور ہم ساری دنیا کے سامنے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے اخلاق عالیہ کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ کیا خود ہمارے لیے ان اخلاقیات کا لحاظ کرنا ضروری نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین
قومی ہم دردی اور ہم
مولانا محمد بدر عالم
لکڑی کا بنا ہواخوبصورت دروازہ گھرسے نکلتے وقت آپ کو الوداع کرتاہے اورگھر میں داخل ہوتے وقت آپ کا استقبال کرکے آپ کادل خوش کرتااوراپنی مضبوطی کا احساس دلاتا ہے ۔ایک دن اچانک جیسے ہی آپ دروازے پر ہاتھ رکھتے ہیں کسی ایک پٹ کا کوئی قبضہ اکھڑ جاتاہے ۔چوکھٹ کے کسی ایک بازوسے لکڑی کا چھلکا ادھڑ کر ہاتھ میں آجاتاہے۔ یہ کیا؟آپ ایک لمحے کے لیے سوچتے ہیں اورفوراہی آپ کو معلوم ہوجاتاہے کہ یہ دابۃ الارض(دیمک ) کی کارستانی ہے۔ ایسی چوکھٹ کا کیا فائدہ اسے تو تبدیل کرنا پڑے گا۔ پکانے کے لیے بڑے شوق سے آپ چنے یا سفید لوبیا لے کر آئے۔ دھونے کے لیے برتن میں ڈالا، مگر یہ کیا؟ اس کے آدھے سے زیادہ دانے تو اندر سے کھوکھلے ہیں۔یہ پکانے کے قابل نہیں رہے۔ چوکھٹ اوردانے دشمن کا شکار ہوگئے جواگرچہ باہر سے آیا، مگر اندر ہی اندرکام کرتے ہوئے اس نے انہیں داخلی طورپر کھوکھلاکردیا۔ امتوں اورقوموں کے عروج وزوال کی داستان بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ میرامحدودمطالعہ اورتجزیہ مجھے یہی بتاتاہے کہ اقوام کاعروج اورزوال دونوں اندر سے شروع ہوتے ہیں۔ داخلی عوامل ہی ان دونوں کا اصل سبب ہوتے ہیں۔جن خارجی اثرات کو ان کا سبب سمجھاجاتاہے، وہ دراصل ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے ہمارے یہاں ایک نعرہ لگایاجاتاہے :
گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو
خارجی اثرات صرف ایک دھکے کاکام کرتے ہیں۔ہم اپنی تباہی کے اسباب خارج میں ڈھونڈتے ہیں اورانہیں دور کرنے کی اپنی حد تک کوشش کرتے ہیں۔بنیاد مضبوط کیے بغیر ہی بلند وبالاعمارت کی تعمیر شروع کردیتے ہیں جو تکمیل سے پہلے ہی گرجاتی ہے۔جیسے معدے کا مزاج فاسد ہوجائے تو عمدہ سے عمدہ غذا بھی زہر بن جاتی ہے، اسی طرح اندرونی بیماریاں دور کیے بغیرخارجی کمزورری دور کرنے کی ہرکوشش بیماری کو بڑھاتی اورمسائل میں اضافہ ہی کرتی ہے۔ہمیں یہ یاد رکھناچاہیے کہ ہمارا دشمن ہم پر کسی ایک جہت سے حملہ آور نہیں ہے، بلکہ اس کا حملہ ہمہ جہت ہے ۔فکری حملہ، عسکری حملہ، سیاسی حملہ، معاشی حملہ ،معاشرتی حملہ، تعلیمی حملہ۔ پھر ان حملوں کے لیے مختلف ذرائع اختیار کرتاہے، اس لیے دفاع بھی ہمہ جہتی ہوگا۔ جو لوگ کسی ایک راستے کو اختیار کرتے اورپھر اسی کو حرف آخر قرار دے کر تما م لوگوں پر اس کی پابندی لازم کردیتے ہیں، وہ غلطی کرتے ہیں ۔صحیح معنوں میں یوں کہاجائے کہ وہ لوگوں کی نفسیات اوراختلاف طبائع کے برخلاف معاملہ کرتے ہیں جن پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ وہ چند معاملات مستثنیٰ ہیں جن میں رعایتیں موجودہیں، مگراختلاف طبائع کو اہمیت نہیں دی گئی۔ ہاں اتنا لازم ہے کہ دفاع اوراقدام سے پہلے ایک عمومی مضبوط بنیاد بنالی جائے جو ہر شعبے میں کام دے سکے ۔
معاشرہ افراد سے بنتاہے اورقوم معاشرے سے ہی تشکیل پاتی ہے ۔فرد کی تعمیر وتخریب ہی معاشرے کی تعمیر وتخریب کی بنیاد ہوتی ہے ۔فرد کی تعمیر اخلاق وکردار سے ہوتی ہے۔علم الاخلاق ایک باقاعدہ موضوع ہے جس کے اندر بہت سے اخلاق پر بحث کی جاتی ہے، مگر یہاں میرامقصود وہ تمام اخلاق اوران کا فلسفہ بیان کرنانہیں اگرچہ ان سے بالکل اجتناب بھی ممکن نہیں۔ میری مراد وہ چند اہم اخلاق ہیں جو معاشرے کو قوم اوربھیڑ کو فوج بناتے ہیں، جو اختلاف طبیعت، اختلاف نسل، اختلاف زبان وغیرہ کے باوجودپورے سماج کو ایک لڑی میں پرودیتے ہیں،جس کی ہر اینٹ دوسری کو مضبوط کرتی ہے،جس میں فرد حصار ذات سے بلند ہوکر کام کرتاہے۔جب اخلاق کو گھن لگ جاتاہے تو قوموں کی سطوت وشوکت کے بلند وبالامحل بھی پیوند خاک ہوجاتے ہیں اوران کی رفعت وعروج کے مضبوط دروازے بھی دیمک کا شکار ہوجاتے ہیں۔مضبوط اخلاقی کردار ہی میرے نزدیک وہ عمومی بنیاد ہے جو تمام شعبوں میں کام کرنے کے لیے ازحد ضروری ہے۔حضرت تھانوی کا ایک مقولہ کہیں پڑھاتھا کہ مجھے اگر امیر المومنین بنادیاجائے تودس سال تک کے لیے جہاد کا اعلان نہ کروں، بلکہ اس عرصے میں قوم کی اخلاقی تربیت کا کام کیا جائے۔الفاظ آگے پیچھے ہوگئے، مفہوم ایسا ہی تھا۔
جب معاشرے کے عام افرادمیں اخلاقی گراوٹ کے آثاررونما ہوں تو اس کا مطلب ہوتاہے کہ قوم کے اندر بیماری پیدا ہوچکی ہے جو علاج کا تقاضاتو کرتی ہے مگر ایسی بیماری ہے جو اطراف میں ہے ،اورجب قوم کا مقتدر طبقہ اس علت کا شکار ہوجائے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے اعضائے رئیسہ دل، دماغ، جگر پر بیماری کا حملہ ہوجائے۔جو افراد قوم کا مکھن اوربالائی سمجھتے جاتے ہوں، جب وہ خراب ہوں تویہ اس بات کی دلیل ہے کہ لسی اوردودھ میں اس پہلے شدید خرابی پیداہوچکی ہے۔ مسلم قوم بھی اخلاقی گراوٹ کے انہی داخلی عوامل کی وجہ سے روبہ زوال ہوئی۔ دیکھیے احادیث میں بھی اخلاقی بیماریوں ہی کو مسلم امہ کی مغلوبیت کا سبب بتایا۔ ایک معروف طویل حدیث میں ہے کہ ’’وہن‘‘ کی وجہ سے کافر اقوام مسلمانوں پر حملے کے لیے باہم اس طرح دعوت دیں گی جس طرح لوگوں کو دسترخوان کی طرف بلایا جاتاہے، حالاں کہ اس وقت مسلمان سمند ر کے جھاگ کے برابر ہوں گے۔ صحابہ نے ’’وہن‘‘ کی بابت دریافت کیا تو فرمایا: حب الدنیا و کراھیۃ الموت، دنیاکی محبت اورموت سے نفرت ۔ایک دوسری حدیث میں فرمایا: حب الدنیا راس کل خطیئۃ، دنیاکی محبت ہربرائی کی جڑہے ۔حب دنیاکو موت سے کراہت لازم ہے اورحب دنیاسے جو بنیادی خرابیاں پیداہوتی ہیں، وہ اخلاقی بیماریاں ہی ہیں ۔
جیساکہ پہلے ذکر کرچکاہوں کہ قوم کی ترقی کے لیے چند مخصوص اخلاق کی ضرورت ہوتی ہے۔ان اخلاق کو اپنے اندر پیداکرنے کے لیے اس درجے کی محنت کی ضرورت نہیں جو تصفیہ قلوب کے نام سے خانقاہوں میں ہوتی ہے، اگر چہ فی نفسہ اس محنت کی ضرورت واہمیت سے انکار نہیں بلکہ دیگر ذرائع کے ساتھ خانقاہی نظام کوان اہم اخلاقی صفات کے پیداکرنے اوران کے مطابق فردکی تربیت کرنے میں اہم کرداراداکرسکتاہے۔
جن اخلاق کی ہم بات کررہے ہیں، ان میں سے ایک بہت اہم خلق عصبیت ہے۔ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں اس کو تفصیل سے بیان کیاہے، اس کے مختلف مظاہر دکھائے ہیں اوراسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں عصبیت کی کارفرمائی کا جائزہ لیاہے۔ عصبیت اگر حد کے اندر رہے اورحق سے ناحق کی طرف جانے نہ پائے تو یہ ایک ایسی صفت ہے جس کی وجہ سے کوئی فرداپنی قوم کی آن،عزت ،آبرواوربقاکے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہوجاتاہے۔ وہ اپنی قوم کی خاطر ہرطرح کے ایثار اورقربانی سے کام لیتاہے۔عصبیت کے اندر ہی وہ صفت چھپی ہوتی ہے جو میرے اس مضمون کا موضوع ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ دیگر بہت سی قیمتی صفات کے ساتھ ساتھ اس صفت سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ قومی زندگی کو برتر بنانے والی صفات کے ساتھ اس پر بھی غیر مسلموں نے قبضہ کر لیا، حالاں کہ اس کے مختلف مظاہر کو اللہ، رسول نے دین کا درجہ دیاہے اوران کے ترک پر سخت وعیدیں ارشادفرمائی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم ان پر عمل پیرا ہوں تو صرف ہمارا، ہماری قوم کا اورہماری دنیا ہی کا فائدہ نہیں بلکہ ہماری آخرت کا فائدہ بھی ہے ۔یہودیوں کی زندگی،مشن اورکاز کے متعلق اردو میں بھی کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن کے مطالعے سے ایک بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ یہودی جیسا بھی ہو، جہاں بھی ہو، ہر جگہ اپنی قوم کے ساتھ مخلص ہے۔قوم کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے ہی ان کی عورتیں برضاورغبت دشمنوں کے بستروں کی زینت بننا گوارا کر لیتی ہیں۔ ہم اپنے ملک کی بیٹی کو مچھلی کی طرح خود پکڑ کر عیسائیوں کے حوالے کرتے ہیں اوروہ دوسرے ملک کا ہونے کے باوجود صرف عیسائی ہونے کی وجہ اپنے لوگوں کا ہر طرح سے تحفظ کرتے ہیں اوراپنے ملک کے دروازے ان کے لیے کھول دیتے ہیں۔اپنے ملک کے اندر شیعہ، اسماعیلی اورقادیانیوں کو دیکھ لیجیے،کیسے ان کے افراد ہرجگہ، غلط ہویادرست، اپنی کمیونٹی کو سپورٹ کرتے ہیں ،اورمیں تومبنی برحق عصبیت کی بات کررہاہوں
قومی ہم دردی نہ ہونے کی وجہ سے ہی تمام اسلامی ممالک کے حکمران یا مقتدر طبقہ امیر ترین ہے اوران کے عوام غریب ترین۔اسی وجہ سے وہ قومی وملکی مفادات کا سوداکرگذرنے سے دریغ نہیں کرتے کہ انہیں اپنی قوم سے ہم دردی ہونے کی بجائے اپنے مفادات سے محبت زیادہ ہوتی ہے۔ قومی ہم دردی نہ ہونے کی وجہ سے ہمارا معاشرہ دینے کے بجائے لینے کا معاشرہ بن گیا۔یہاں ہر شخص لٹیرا ہے،فرق صرف رسائی کا ہے ۔جس کی پہنچ جہاں تک ہے، وہ وہاں تک لوٹنے سے دریغ نہیں کرتا۔ ایک ٹریفک کانسٹیبل سوپچاس روپے رشوت لیتا ہے اورایک کسٹم آفیسر لاکھوں روپے۔ دونوں کا عمل ایک جیسا ہے، صرف اختیار کا فرق ہے ۔ہمارے حکمران بیرونی دوروں پر عوامی خزانے کے کروڑوں لٹادیتے ہیں اورایک عام آدمی ریل گاڑی پر بلاٹکٹ سفر کرکے انہی کی طرح قومی خزانے کونقصان پہنچاتاہے تو منشا کے اعتبار سے دونوں ہی ایک جیسے ہوئے۔ فرق یہی ہے کہ ایک کی رسائی وہاں تک ہے اوردوسرے کی یہاں تک۔آپ کیا سمجھتے ہیں، ایسے شخص کو اگر اقتدار مل جائے تووہ کیا قیامت ڈھائے گا؟ ہم سب، کیا عوام کیا حکمران، ذاتی مفاد کے محافظ اورقومی مفادات کے سوداگرہیں۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ مختلف ملتوں کے مذہبی تہوار اورایام آتے ہیں تو وہ اشیا کے نرخ کم کردیتے ہیں، حکومتیں لوگوں کو ہرممکن سہولت فراہم کرتی ہیں۔ گذشتہ دنوں مجھے ایک ایڈووکیٹ صاحب بتارہے تھے کہ میرے نواسے وغیرہ امریکہ میں ہوتے ہیں اورکئی چیزیں جو عام دنوں میں وہ نہیں خریدسکتے، ان کے لیے وہ کرسمس کا انتظار کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں رمضان آتاہے تو اشیا کے نرخ دوگنے سے زیادہ ہوجاتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی رمضان میں قیمتیں کم کرکے مسلمانوں کوسہولت دی جاتی ہے اورہم؟کیا یہ قومی ہمدردی ہے یا قوم دشمنی؟حج کے معاملے میں دیکھیں، ہندوستان میں بہت سی سہولتوں کے ساتھ کرایے پاکستان سے کم ہیں اورپاکستان میں جو کچھ ہوتاہے اورجو کچھ ہوا، وہ محتاج بیان نہیں ۔
قومی ہمدردی اورقوم دشمنی کے مختلف مظاہردیکھیں تو ان میں اصل الاصول ایک ہی بات نظر آئے گی: ذاتی مفادکو ترجیح دینا اورقوم یا فرد کے مفاد کو قربان کرنا۔ جو شخص قومی کا ہم درد ہوگا، وہ کسی موقعے پر بھی ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح نہیں دے گا۔وہ قربانی سے کام لے گا، ایثار کو اپنائے گااورذاتی مفادات کو قربان کرنا پڑا تو اس سے دریغ نہیں کرے گا۔ آپ خود سے سوال کیجیے، ذاتی فائدے پر قومی مفادات کو قربان کرنے والاقوم کا ہم درد ہے یا قوم کا دشمن؟دونوں مفادات میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے کے متعلق ہماری تاریخ میں بہت سی ’’روشن‘‘ مثالیں بکھری ہوئی ہیں۔ دور صحابہ میں اور دور تابعین میں ایسے کئی واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے زمانہ پیچھے کی طرف لوٹتارہا، توں توں یہ تناسب کم ہوتا گیا۔ شریف مکہ حسین بن علی نے قوم دشمنی میں اپنا آپ انگریزوں کے حوالے کردیااورسلطان عبدالحمیدنے قومی ہمدردی میں فلسطین یہودیوں کے حوالے کرنے سے انکارکردیا۔ میرجعفراورمیرصادق جیسے کردار قوم دشمنوں کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔یہی حال ہماراہے، ہم سراج الدولہ اورٹیپوکے راستے پر چلنے کے بجائے ’’میران‘‘ کی روش اختیار کیے ہوئے ہیں ۔
ایک صحابی نے اپنے اہل خانہ سمیت خود بھوکارہ کرمہمان کا اکرام کیا تو اللہ نے فرمایا: ویوثرون علی انفسہم ولوکان بہم خصاصۃ ومن یوق شح نفسہ فاولئک ہم المفلحون۔ یہ ہے مسلمان کی شان کہ وہ خود پر دسروں کو ترجیح دیتاہے۔اللہ فرماتاہے، کامیابی اس کو ملے گی جو شح نفس سے بری ہوگا۔ آہ، افسوس کہ ہم اسی مرض میں گرفتارہیں۔قومی ہم دردی کا سبق دیتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ الدین النصیحۃ، دین دوسروں کی بھلائی چاہنے کا نام ہے ۔اس کا معیار کیاہے ؟ اس کو دوسری جگہ حضورہی نے بیان فرمایا کہ تم میں کوئی شخص اس وقت تک کامل مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی وہی چیزپسند نہ کرے جو اپنے لیے پسندکرتاہے۔اس پر مجھے ایک صحابی کا اوردوسراامام ابوحنیفہ کا ایک ایک واقعہ یاد آرہاہے کہ بائع نے انہیں قیمت کم بتائی اور انہوں نے اس کی قیمت میں خودگراں قدراضافہ کر کے مہنگے داموں اس کا سامان خریدا، کیوں کہ ان کے نزدیک مال کی صحیح قیمت یہی تھی اورخیرخواہی کا تقاضاتھاکہ درست قیمت پر مال خریدکربائع کو فائدہ پہنچایاجائے۔ایک بزرگ کا قصہ ہے کہ وہ درزی کا کام کرتے تھے اورکھوٹے سکے جانتے بوجھتے اس نیت سے لے لیاکرتے تھے کہ دینے والایہ کھوٹے سکے کہیں دوسرے مسلمانوں کونہ دے دے ۔ میاں سید اصغر حسین دیوبندی کا واقعہ لکھاہے کہ ہمیشہ برسات میں اپنے مکان کی لپائی کراتے، مگروسعت رکھنے کے باوجود اسے پختہ نہ کروایا۔ دریافت کرنے پر جواب دیاکہ اردگرد تمام اہل محلہ کے مکان کچے ہیں، میں اگر اپنامکان پختہ کرالوں گا تو یہ احساس کمتری میں مبتلا ہو جائیں گے۔
کون سی چیز ہے جس میں ہم ملاوٹ نہیں کرتے؟ کیا اشیاے صرف، کیا ادویات ،کیا دوسری چیزیں۔ ملاوٹ کرنے والے قوم کے دشمن ہیں یا ہم درد؟ اورجانتے بوجھتے انہیں بیچنے والوں کے متعلق کیاخیال ہے؟پھر جن کی ناک کے نیچے یہ کام ہو رہے ہیں اوروہ رشوت لے کر ایسے لوگوں کو عوام کی زندگی، صحت اورپیسے سے کھیلنے کی اجازت دے دیتے ہیں، وہ کس ذیل میں داخل ہوں گے ؟ابھی ذکرکی گئی حدیث کوسامنے رکھ کر سوچیں کہ کیا وہ یہ ملاوٹ شدہ اشیا اپنی ذات کے لیے پسند کریں گے؟ایسے لوگوں کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے لفظوں میں فرمایا: من غش فلیس منا، جو ملاوٹ کرے اس کا ہم مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔
اللہ فرماتاہے: إِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُمْ أَن تُؤدُّواْ الأَمَانَاتِ إِلَی أَہْلِہَا (النساء :۵۸) بے شک اللہ تمہیں حکم دیتاہے کہ تم امانتیں ان کے سپردکروجو ان کے اہل ہوں۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذا وسد الامرالی غیر اھلہ فانتظر الساعۃ ، جب ذمہ داریاں نااہلوں کے حوالے کردی جائیں تو بس قیامت کا اانتظار کرو۔ہم کون سا کام میرٹ پر کرتے ہیں؟ کیا رشوت لے کراور سفارش کی وجہ سے ذمہ داریوں پر ان لوگوں کا تقرر نہیں کرتے جو ان مناصب کے اہل نہیں ہوتے؟ کیا یہ قوم دشمنی ہے یا ہم دردی ؟اس قوم دشمنی میں تین لوگ شامل ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو جانتے ہیں کہ ہم اس کے اہل نہیں، پھر بھی لوگوں کا حق مار کر اوپر چڑھ آتے ہیں۔ دوسرے وہ جو ان کی نااہلیت جانتے ہیں، پھر بھی ان کی شفارش کرتے ہیں۔ تیسرے وہ لوگ سب سے زیادہ مجرم ہیں جو اپنے فرض میں کوتاہی کر کے رشوت سفارش کی وجہ سے نااہل لوگوں کو عہدوں پر بٹھادیتے ہیں۔ مومن کی شان اللہ یہ بیان کرتا ہے: وَالَّذِیْنَ لَا یَشْہَدُونَ الزُّورَ (الفرقان: ۷۲) جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ کیا جو لوگ جعلی ڈگریوں کا کاروبار کرتے ہیں، وہ یہ جھوٹی گواہی نہیں دے رہے؟کیا وہ امانت نااہل لوگوں کے سپردکرکے قوم سے دشمنی نہیں کررہے؟پھر یہی جعلی ڈگری ہولڈر ان عہدوں تک پہنچ جاتاہے جن کا وہ اہل نہیں ہوتا ہے۔ مختلف اداروں کی جو درگت بن رہی ہے، اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ نااہل لوگ یہاں بیٹھ گئے ہیں۔ایسی ڈگریاں دینے والے،لینے والے اورایسے قوم دشمن جب کسی پوسٹ پر پہنچ جائیں تو ان کی مدح سرائی کرنے والے یہ سب قوم کے دشمن ہیں نہ کہ ہم درد۔ اسی طرح وہ لوگ جو کسی فن اورفیلڈ کے نہیں، اس کو جانتے نہیں، مگر خود کو اس کا ماہر ظاہر کرتے ہیں جیسے جعلی ڈاکٹر، عطائی حکیم، نیم ملا اوربناوٹی پیر، یہ سب دھوکہ باز کرپٹ اوردشمن قوم ہیں۔ مومن کا خلق تو یہ بیان ہوا کہ وہ سیدھاسادھا بھولابھالاہوتاہے: لا یخدع ولا یخدع، نہ دھوکا دیتاہے نہ دھوکا کھاتاہے۔ذاتی فائدے کے لیے قوم کو دھوکا دینے والاکیا قوم کا ہم درد ہوگا؟
جس معاشرے میں قومی ہم دردی کی صفت موجودہو، وہاں دوسروں کے کام آنے کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ ایسامعاشرہ ضرورت مندوں کی امداد کرتاہے، محتاجوں کوسہارادیتاہے ، یتیموں اورمسکینوں کی اعانت کرتاہے ،مصیبت زدہ افراد کا ساتھ دیتاہے، مزدورکو پوری اوربروقت اجرت دیتاہے۔ وہ دوسروں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرتا۔ حق اداکرتاہے، غصب نہیں کرتا۔ بھوکوں کوکھانا کھلاتاہے، ان کے منہ سے نوالے نہیں چھینتا۔ ننگوں کو کپڑے پہناتاہے ،ان کے تن بدن سے کپڑے نہیں اتارتا۔ کیا یہ سارے کا م وہ نہیں جن کا حکم ہمیں اللہ اوررسول نے دیا؟ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی ضرورت پوراکرنے میں لگ جاتاہے، اللہ اس کی ضرورت پوراکرنے میں لگ جاتاہے۔ٹوکیومیں ابھی جو زلزلہ آیا، اس میں وہاں کے لوگوں کے رویے کے متعلق ایک کالم نگار نے کسی جاپانی عورت کا واقعہ لکھا کہ ٹوکیوسٹیشن کے باہر جس کی چھوٹی سی ایک دکان تھی۔ اس نے اپنے لوگوں کی امداد کے لیے دکان کا سامان اس اعلان کے ساتھ باہر سجادیا کہ جس کے پا س پیسے ہیں، وہ دے کر لے جائے اورجس کے پاس نہیں، وہ اپنی ضرورت کی چیز ویسے ہی اٹھالے جائے۔ان غیر مسلموں کی قوم دوستی کے کئی واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے تہذیبی فضلے کو تو ہم نے اپنالیا ہے، مگران کی جو چند اعلیٰ اخلاقی صفات ہیں، ان سے منہ پھیرلیاہے۔ یہ صفات بھی وہ ہیں ان سے پہلے جن کا حکم ہمارے لیے خود ہمارے دین میں موجود ہے۔ ہماری قوم دوستی کاحال تویہ ہے کہ جہاں کہیں کوئی حادثہ ہو، اسے غنیمت سمجھتے ہوئے پہلے ان متاثرہ افراد کی جیبیں خالی کرتے ہیں، پھر انہیں طبی امداد دینے کا سوچتے ہیں۔ ادھر ہسپتالوں میں مسیحا جلادوں کاروپ دھار لیتے ہیں۔ زخمی تڑپیں،بچے بلکیں، مائیں سسکیں، بیمار چلائیں، لوگ ان مسیحاؤ ں کی غفلت پر روئیں، ان کی منت ترلے کریں، ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ہسپتالوں میں جن مریضوں کو ٹھڈے مارتے ہیں، وہی جب ان کے ذاتی کلینک پہ چلے جاتے ہیں توجی آیاں نوں کہہ کر انہیں سرآنکھوں پہ بٹھاتے ہیں۔ ۲۰۰۵ کے زلزلے کے بعدان علاقوں میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے جن میں لوگوں نے اپنے بھائیوں کی امداد کرنے کے بجائے انہیں لوٹنے میں دلچسپی لی،یہاں تک کہ عورتوں کی چوڑیاں بندے حاصل کرنے کے لیے جسم کے اعضا تک کاٹ لیے ۔ہمارامعاشرہ ایک خودغرض معاشرہ ہے اورخود غرض معاشرہ کبھی قوم کا ہم دردنہیں ہوسکتا۔
مولانا اشرف علی تھانوی ایک دفعہ ٹرین میں سفر کررہے تھے۔ ایک جنٹل مین بھی ساتھ ہی بیٹھے تھے۔ انہوں نے قصہ چھیڑدیاکہ اسلام میں کتوں کو کیوں برا سمجھا جاتا ہے، حالاں کہ اس میں یہ اور یہ خوبیاں ہیں ۔حضرت تھانوی نے شاید احادیث وغیرہ کے ذریعے سمجھایا، مگر وہ نہ سمجھا۔ آخرآپ نے فرمایا، بھئی بات یہ ہے کہ اس میں ایک خامی ایسی ہے جو تمام خوبیوں پر بھاری ہے ۔اس نے پوچھاکون سی ؟ آپ نے جواب دیا، اس کے اندر قومی ہم دردی نہیں ہوتی۔ دیکھو جہاں کہیں کسی کتے کو ایک ہڈی ملتی ہے، دوسرے کتے آموجود ہوتے ہیں اوراس سے چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہاں ایک کتادوسرے کودیکھتاہے، اس پر بھونکناشروع کردیتاہے ۔اس نے کہا، ہاں یہ بات توہے ۔غور کیجیے، اپنے اخلاق کی وجہ سے کہیں ہم بھی انہی سگان آوارہ کی صف میں شامل تو نہیں ہوگئے؟
مدارس میں تصنیف و تحقیق کی صورتحال
مولانا محمد وارث مظہری
کچھ دنوں قبل ہندوستان کے ایک مایہ ناز عالم وفقیہ اور متعدداہم کتابوں کے مصنف نے راقم الحروف سے گفتگو کے دوران مدارس میں تصنیف وتالیف اور علمی تحقیق کی صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان کے سب سے بڑے اور وسیع اثرات رکھنے والے مدرسے سے متعلق کہا کہ یہاں سے گزشتہ بیس پچیس سال کی مدت میں حقیقی معنوں میں صرف دو کتابیں شائع ہوئی ہیں۔اور انھوں نے ان کتابوں کا نام بتایا۔غور وفکر کا مقام ہے کہ جب نامی گرامی اور عظیم وراثت کے امین مدرسے کی یہ حالت ہے تو دوسرے مدارس سے ہم کس طرح کوئی بڑی امید قائم کر سکتے ہیں؟اگرچہ مدارس کی سطح پر صورت حال میں تنوع پایا جاتا ہے ۔چناں چہ کہیں ٹھہراؤ کی کیفیت ہے، بلکہ اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اور کہیں تحرک اور غور وتجزیے کی بنیاد پر تبدیلیوں کی چاپ سنائی دینے لگی ہے۔تاہم صورت حال پھر بھی بہت مایو س کن ہے۔نصاب سے قطع نظر جس پرعمومی طور پر انجماد کا پہلو غالب رہا ہے،دوسری حیثیتوں میں مدارس کی سر گرمیاں کافی نتیجہ خیز اورمؤثر رہی ہیں۔چناں چہ یہاں سے ایسے علما کی کھیپ کی کھیپ نکلی جس میں مصنفین،ادبا اورعلمی تحقیق کاروں کی بڑی تعداد شامل تھی۔انھوں نے اپنے پیچھے اہم علمی اثاثہ چھوڑا،جو موجودہ و آئندہ نسلوں کے لیے فکر وبصیرت کا سامان ہیں۔زیادہ پیچھے کی طرف نہ لوٹتے ہوئے آزادی کے بعددو تین دہائیوں تک علوم و افکا ر کے میدان میں سامنے آنے والی اور مدارس سے انتساب رکھنے والی شخصیات کی فہرست پر نظر ڈالی جائے تو وہ طویل ہونے کے ساتھ ساتھ کافی باوزن دکھائی دیتی ہے۔
لیکن آج کی صورت حال نہایت افسوس ناک ہے۔اکثرمدارس پر صرف نصابی سرگرمیاں حاوی ہیں۔غیر نصابی سر گرمیوں کا دائرہ نمایاں طور پر تقریر کی مشق تک محدود ہے۔نتیجے کے طور پر مدارس سے غالب تعداد میںیا تو مدرسین پیدا ہو رہے ہیں یا مقررین یا پھر اسی درس و تقریر کی مشق کرنے کرانے والے شارحین وتقریر نگار۔ان کے علاوہ ایک تعداد مسلکی اور گروہی چپقلش پر خامہ فرسائی کرنے والوں کی ہے۔دوسرے موضوعات کے لیے جو تعداد بچتی ہے وہ نہایت قلیل ہے اور اس میں بھی اقل وہ تعداد ہے جو سنجیدہ ،علمی اسلوب میں علمی تحقیق وتصنیف کا کام کر رہی ہو۔حیرت کی بات یہ ہے کہ کئی کئی دہائیوں سے حدیث،تفسیر اور فقہ کی بڑی بڑی کتابیں پڑھانے والی شخصیات، مدارس کی دنیا میں جن کے نام کا سکہ چلتا ہے،وہ بھی ابتدائی درسی کتابوں کی شرح و حاشیہ نگاری کوممتاز علمی وتصنیفی کام تصور کر بیٹھی ہیں۔ان کے ممتاز تلامذہ کا حلقہ انھیں یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ یہ’لاثانی‘اور’لافانی‘ کا م انھی کا خاصہ ہے۔اوریجنیلٹی،تخلیقی فکر اور تازہ کاری جو موجودہ علمی سرمایے میں اضافے کا باعث ہو اور جس سے قافلہ علم کوآگے بڑھنے کے لیے توانائی حاصل ہو،ایسا کام اب مدارس سے نکل کر جدید علمی دانش گاہوں،علمی اکیڈمیوں(اپنی محدودیتوں کے باوجود) میں اچھے اور بڑے پیمانے پر انجام پا رہا ہے۔نہ صرف ہندوستان میں بلکہ واضح طور پربر صغیر کے تینوں ممالک میں۔مثال کے طور پر تمام تر حلقے شاہ ولی اللہ سے اپنی نسبت قائم کر نے پر نازاں ہیں،لیکن مدارس کے حلقوں میں حجۃ اللہ البالغہ کے علاوہ، جو خال خال بعض جگہوں پر پائی جاسکے،بہ مشکل ہی کوئی اور کتاب پڑھی اور شائع کی جاتی ہے۔حالیہ مدت میں شاہ صاحب پر سیمینار علی گڑھ اور دہلی میں ہورہا ہے نہ کہ دیوبند ا ور ندوہ میں۔ اسی طرح مثال کے طور پر دہلی میں مکتبہ اسلامی، آئی او ایس اور اسلامی مرکز سے جس طرح کی علمی ،فکری اور تحقیقی کتابیں چھپ کرآئی ہیں ،مدارس سے وابستہ یا ان کے زیر اثر قائم نشریاتی اداروں کی فہرست میں ایسی کتابیں محض استثنا ہیں۔کتابوں کی اشاعت کے علاوہ یہی صورت حال مدارس سے شائع ہونے والے رسائل و مجلات کا ہے۔اداریہ سے لے کر اختتامیہ تک اکثر رسائل و مجلات محض عوام کے تیسرے اور چوتھے صف کے لوگوں کی دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔بالکل وہی کام جو مجلسی ملفوظات اور اسٹیج کی تقریروں سے لیا جا سکتا ہے،ان پرچوں سے لیاجاتا ہے۔بہر حال یہ ایک دل چسپ مطالعے کا موضوع ہے،ارشد امان اللہ نے اس موضوع (مدرسی صحافت) کا کسی قدر تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا ہے،جس کے نتائج سرائے ڈاٹ نیٹ کی سائٹ پر موجودہیں۔مدارس کے حلقوں سے جن موضوعات پر کتابیں چھپ رہی ہیں ان کے سرسری جائزے سے جو نقشہ سامنے آتا ہے وہ کچھ اس طرح ہے:
- درسیات و متعلقات درسیات
60-65 فیصد - دینیات: ( فتاوی و احکام، اصلاح و تبلیغ ، تذکرہ و سیرت)
15-17 فیصد - وعظ و تقریر، ملفوظات و مکتوبات
10-12 فیصد - مسلکی تنازعات ، تعویذات و عملیات
9-10 فیصد - علمی و تحقیقی کتابیں (بہ مشکل)
1 فیصد - متفرقات
3-4 فیصد
یہ جائزہ مدارس کے حلقوں خصوصاً دیوبند میں چھپنے والی کتابوں کی تمام بڑی اور اہم فہرستوں کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔ اس میں بعض چھوٹے موضوعات کو بڑے موضوعات جیسے تصوف کو ملفوظات و مکتوبات اور سیرت کو اصلاح و تبلیغ، لغات وغیرہ کو متعلقات درسیات میں شمارکر لیا گیا ہے۔ اس طرح باقی دوسرے موضوعات متفرقات کے ذیل میں ہیں۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہنی ضروری ہے کہ دیوبند دینی کتابوں کا ہندوستان میں سب سے بڑا مرکز ہے اور مدارس کے حلقوں کا نمائندہ ہے۔ ہندوستان کے کونے کونے میں یہاں سے دینی ، درسی کتابیں پہنچتی ہیں۔اگرچہ میرے خیال میں ہندوستان میں پھیلے مدارس کے اہم حلقوں: دارالعلوم ندوۃ العلماء ، مدرسۃ الاصلاح اور جامعۃ الفلاح، بریلوی مکتب فکر، اہل حدیث، اہل تشیع وغیرہ کی نشریات و مطبوعات کابھی جائزہ لیا جانا چاہیے ، تاکہ علمی و فکری سرگرمیوں اور اکیڈمک ارتقا کا زیادہ ہمہ گیری اور صحت کے ساتھ اندازہ ہو سکے۔
میری نظر میں اس صورت حال کے متعدد اسباب ہیں:
- بنیادی سبب مطمح نظر کی محدودیت ہے۔در اصل مدارس کے ارباب حل وعقد نے مدارس کے مقاصد کو محض چند امور تک محدود کر دیا ہے یعنی:روز مرہ کے مذہبی مسائل میں عوام کی رہنمائی اور روایتی حدود و قیود کے ساتھ اسلامی ثقافت کے مظہر کوسماجی سطح پر محفوظ و برقراررکھنے کی کوشش کرنا۔لیکن سوال یہ کہ اس کے لیے آٹھ سال کے عرصے میں دس سے زائد علوم کی تحصیل کی ضرورت کیا ہے؟ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے روز مرہ کے شرعی مسائل کی ضروری واقفیت کے ساتھ دو تین سال کی دینی تربیت کافی ہے۔علمائے دیوبند میں مولانا تھانوی کا نقطۂ نظر یہی تھا۔ ان کی نظر میں عالم ومحقق اور دینی مسائل کی واقفیت اور دینی تربیت رکھنے والوں کے مابین پائے جانے والے فرق کی حقیقت واضح تھی۔
- مدارس اوردوسرے فکری و علمی حلقوں کے درمیان کوئی باضابطہ رشتہ اور تال میل قائم نہ ہو سکا۔اس کے بر عکس دونوں اداروں میں چپقلش کی فضا قائم ہوگئی جس میں دونوں ہی اداروں کی کمزوریاں شامل ہیں۔ البتہ ارباب مدارس کی طرف سے دینی و دنیاوی علوم کے تصور نے اس تفریق اور دوری میں خصوصی کر دار ادا کیا۔
- مدارس مخصوص خانوادوں میں سمٹ کر رہ گئے یا دوسرے لفظوں میں ان پرمخصوص خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔یہ ام الامراض ہے جس نے مدارس کو مختلف حیثیتوں سے جن میں:مدارس میں جمہوریت کا فقدان،ان کے نظام اور سرگرمیوں پر کار وباریت کی چھاپ،ملازمین کا استحصال وغیرہ، اہم ہیں، کمزور و بے جان کر دیا۔’ اہتمام کی گدی نشینی ‘کر نے والوں نے نشر واشاعت کے حوالے سے اپنی ساری توجہ اپنے آبا واجداد کے کارناموں کواجاگر کرنے پر صرف کر دی۔چناں چہ انھی کی سوانح و تذکرے،خطبات وملفوظات،تصنیفات و تالیفات شائع ہونے لگیں اور انھی پر علمی نشستوں اور سیمیناروں کا انعقاد ہونے لگا۔
- نصاب کی محدودیت کی وجہ سے ہمارے علما مدارس کی چہار دیواری میں سمٹتے چلے گئے۔اس طرح سماجی تبدیلیوں سے بے خبری کے ساتھ علوم وافکار کے میدانوں میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سے وہ مکمل طور پر نا آشنا رہے۔
- محنت اور صلاحیت سے متصف لوگوں کے لیے معاشی مسائل ان کے پاؤوں کی زنجیر بن گئے۔بے صلاحیت مقررین اسٹیج کی تقریروں کے ذریعے اعزازیے اور تحائف وصول کرنے لگے تو ان لوگوں نے طلبہ کواپنی تدریس سے زیادہ اپنی مطبوعہ شروحات کی طرف متوجہ کیا اور اس طرح پہلے طبقے کی برابری کی کوشش کی۔اب حقیقی معنوں میں ان درسی کتابوں کی شروحات لکھنے والوں اور کتابوں کے ناشرین میں جیسے ایک دیدہ یا نادیدہ ساز باز کی کیفیت پائی جاتی ہے۔بعض نصابی کتابوں کی خامیاں پوری طرح ارباب حل و عقد کی نگاہوں میں واضح ہو جانے اور نئی کتب کی شکل میں بہتر سے بہتر متبادل آجانے کے باوجود وہ انھیں درس سے اس لیے خارج کر نے سے قاصر ہیں کہ وہ ان دونوں طبقات کے اعتراضات و تنقید کو برداشت نہیں کر سکتے۔مختلف صورتوں میں ان کو اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔
- مدارس میں یا تو سرے سے تصنیف و تحقیق کا کوئی شعبہ نہیں ہے یا اگر ہے تو اسے لائق وفاضل افراد مشکل سے میسر آتے ہیں۔اس کی وجہ مدارس کا وہ بند ماحول ہے جس میں تخلیقی فکر رکھنے والے اہل قلم کے لیے خود کو ایڈ جسٹ کر نا آسان نہیں ہوتا۔
- اس گراوٹ کی ایک وجہ فضلا ئے مدارس کی اکثریت کا ایک زبان (شمالی ہند کے تناظر میں اردو)پر انحصار اور عالمی مغربی زبانوں اور خود عربی سے عدم واقفیت ہے۔زبان کے تعلق سے عربی پوری طرح موجودہ علمی تقاضوں کے لیے کافی نہیں ہو سکتی تاہم اس سے ایک حد تک اس خلا کو پر کیا جا سکتا ہے جو اردو کے تعلق سے موجود ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عربی موجودہ دور میں اردو سے زیادہ ’جمہوری‘ اور ’سیکولر‘ہے۔ اردو بنیادی طور پرشمالی ہند کے مسلم معاشرے کی روحانی زبان ہو کر رہ گئی ہے۔آپ ایسی باتیں تلخ وترش تنقید برداشت کیے بغیرمشکل سے ہی لکھ سکتے ہیں،جواہل مدارس کے مزاج اور انداز کے مطابق نہ ہوں۔
- علمی تحقیق و تصنیف کابڑا اور وسیع کام صرف افراد کے ذاتی شوق و جذبے کی بنیاد پر ہی انجام نہیں دیا جا سکتا۔ زیادہ بہتر طورپروہ علمی پروجیکٹوں کی شکل میں انجام دیا جاتا ہے۔ ماضی میں امرا اور شاہوں کی عطیات نے بہت سی چھپی دبی صلاحیتوں کو ضخیم کتابوں کی شکل میں منتقل ہونے کا موقع دیا۔ آج مغربی دنیا میں اس مقصد کے لیے بڑے بڑے ادارے: کارنیگی فاؤنڈیشن ، فورڈ فاؤنڈیشن، فل برائٹ وغیرہ موجود ہیں جو علمی تحقیقی کاموں کو باضابطہ پروجیکٹوں کی شکل میں انجام دیے جانے کے لیے ضروری وسائل فراہم کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے اندر اس قسم کے ادارے تقریباً معدوم ہیں۔ مدارس کی بڑی تعداد کے لیے سالانہ بجٹ کی فراہمی ہی ایک مسئلہ ہوتی ہے۔ تاہم بڑے مدارس جن کا سالانہ بجٹ کروڑوں میں ہے، کم از کم اپنے فاضلین کو علمی پروجیکٹوں میں مصروف کرنے کے لیے بجٹ کا ایک حصہ مختص کر سکتے ہیں۔
مدارس کے حلقوں میں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق علمی دانشمندی ( اسکالر شپ) کے فروغ اور فاضلین مدارس اور علما میں اکیڈمک ریسرچ کا صحیح شعور بیدار کرنے کے لیے منصوبہ بند اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان اقدامات میں سے چند ضروری اور فوری اقدامات یہ ہیں:
- مدارس کے مجموعی ماحول کو اس طرح ترتیب دینا کہ مدارس کی نئی نسل کا صرف کتاب پڑھنے پڑھانے پر ہی انحصار نہ ہو اور وہ صرف اس کی ہی اہمیت سے واقف نہ ہو۔بلکہ یہ بات اس کے شعور کا حصہ بن سکے کہ مطالعہ کا مقصد محض علم کے دائرے کو وسیع کرنا اور ترقی دینا نہیں بلکہ فکر کے دائرے کو بھی وسیع کرنااور اسے ترقی دینا ہے۔
- علم کے لیے جس تجسس(Curiosity) اور تازہ کاری کے لیے جس تخلیقی فکر کی ضرورت ہے وہ حقیقت میں مدارس میں رائج نصاب سے حاصل نہیں ہوتی۔ مدارس کے نصاب میں سوشل اسٹڈیز اور زبان کی سطح پر خصوصی تبدیلی و اصلاح کی ضرورت ہے۔ مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی سے مدارس کو آسانی کے ساتھ وابستہ کیا جا سکتاہے، جدید تعلیمی پالیسی میں حکومت ہند کی اس طرف خصوصی توجہ ہے۔ اپنے بعض تحفظات کے ساتھ مدارس کو اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ تاکہ طالب علم کے مطالعہ و مشاہدے کا دائرہ وسیع ہو۔ زبان کے تعلق سے انگریزی کو باضابطہ نصاب کے اصل دھارے میں شامل کرنے اور ہر ہر طالب علم کے لیے کم و بیش میٹرک کی سطح تک کی انگریزی زبان کی واقفیت کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔ آج کی ضروریات اور تقاضوں کو کل کے اکابر و اسلاف سے مقابلہ (Compare)کر کے دیکھا نہیں جاسکتا۔
- دینی اور دنیاوی علوم کی تفریق کے خاتمے کے ساتھ مدارس کے نصاب میں ’’ قدیم صالح‘‘ اور ’’ جدید نافع‘‘ کے امتزاج و شمولیت سے جب تک مدارس کے نصاب میں توازن پیدا نہیں ہو جاتا، اس صورتحال میں کوئی خوشگوار تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی کی فکرکے مطابق ، مدارس کے فضلا کے لیے یونیورسٹیوں میں داخلے کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔ جنوبی ہند کے بہت سے اہم دینی ادارے اس کی نمایاں مثال ہیں۔
- تمام بڑے مدارس میں تحقیقی اکیڈمیاں اور مراکز قائم کی جائیں۔ بعض مدارس میں ایسے مراکز محض دکھاوے کے لیے ہیں۔ ان سے زیادہ سے زیادہ ادارے کے بانیان و اکابر کی یا ان سے متعلق ،اور دوسری صورت میں گروہی چپقلش پر مبنی مواد شائع کیے جاتے ہیں۔ اس طرح علم کی یہ آواز یا تو اپنی ہی چہار دیواری میں گونج کر رہ جاتی ہے یا پھر وہ اتنی بھونڈی ہوتی ہے کہ اس چہار دیواری سے باہر اس کو سننے والا اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیتا ہے۔
- اس مقصد کے حصول کے لیے غیر نصابی سرگرمیوں میں مختلف چیزوں پر توجہ اور ارتکازکی ضرورت ہے۔ جیسے: ماہرین اصحاب علم کے ذریعہ ہفتہ وار، پندرہ روزہ یا ماہانہ محاضرے کا پروگرام، تقریری مجالس کی طرح تحریری مقابلوں کا پروگرام، مختلف موضوعات پر اوپن ڈسکشن کا اہتمام و انتظام، ملک اور ملک سے باہر مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے اہم رسائل و مجلات کی کٹیلاگ سازی اور طلبہ کو ان کی فراہمی، مرکزی لائبریری میں ضروری بنیادی کتابوں کے ساتھ نئی شائع ہو کر منظر عام پر آنے والی کتابوں کا ذخیرہ جن سے طلبہ بہ آسانی اور بر وقت استفادہ کر سکیں۔ اس طرح طلبہ میں تحریری ذوق کو ابھارنے کے لیے سالانہ سطح پر طلبہ کی تحریری کوششوں پر انعامات دینے کے علاوہ ان پر بھی نمبرات دیے جانے چاہئیں اور انہیں سالانہ مارک شیٹ میں بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
- طلبہ کی تحریری و صحافتی تربیت کے لیے مدارس میں باضابطہ اس کے شعبے اور تربیتی مراکز (Training Centers) کھولنے کی ضرورت ہے۔
- دیواری رسائل کے علاوہ طلبہ کے لیے مختص با ضابطہ طبع ہونے والے رسائل بھی ہونے چاہئیں، جن میں ان کی تخلیقات شائع ہوں، پھر ان کی منتخب تحریروں کو کتابی شکل میں شائع کیا جانا چاہئے۔
- اخیر کے دو سالوں میں بالترتیب ہر سال میں کم از کم 50اور 100صفحات پر مشتمل تحقیقی مقالہ (dissertation) طلبہ سے لکھوایا جانا چاہیے اور ان پر حاصل ہونے والے نمبرات کو سالانہ امتحان کے مجموعی نمبرات میں شامل کیا جانا چاہیے۔
- تمام بڑے مدارس میں کم از کم سال میں ایک مرتبہ کسی اہم اجتماعی دلچسپی کے حامل موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا جانا چاہیے۔ اس میں اہم علما اور دانشوروں کے علاوہ قدیم با صلاحیت فضلا کو مدعو کیا جانا چاہیے تاکہ طلبہ کی نئی نسل ان سے سیکھ سکے اور ان کے نقش راہ کو اپنانے کی کوشش کر سکے۔
- ہمارے بڑے مدارس کا خاص طورپر عالم اسلام کی بڑی جامعات کے ساتھ باضابطہ ربط اور معادلہ ہونا چاہیے جس کے تحت یہاں کے طلبہ وہاں اور وہاں کے طلبہ یہاں آکر دونوں جگہوں کے تعلیمی نظام و نصاب سے اپنی ضرورت کے مطابق استفادہ کر سکیں۔ اس کے لیے ’’ عالم اسلام‘‘ کی قید بھی بے جا ہے۔ ہمیں با صلاحیت، منتخب ، پختہ اسلامی فکر رکھنے والے طلبہ کے لیے یہ رسک لینا چاہیے کہ انہیں ضروری تربیت کے بعد مغرب کی اعلیٰ دانش گاہوں کے مذہبی مطالعات کے شعبوں میں داخل کرایا جائے۔ البتہ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ ادارہ مستقل طورپر ان کے ساتھ ربط اور ان پر نگاہ رکھے اور انہیں ضروری تعاون فراہم کرے۔ اس بھٹی میں تپنے کے بعد وہ موجودہ عالمی تقاضوں کے مطابق زیادہ کار آمد ہو سکیں گے۔ جامعہ ازہر کا پیٹرن یہی ہے ازہر کی طرف سے بھیجے گئے ایسے اسلامی علم و ثقافت کے سفرا مغربی ممالک کی تاریک فضا میں اسلامی علم و ثقافت کو پروان چڑھانے میں مصروف ہیں۔ پچھلے دنوں ازہر کے ایسے کئی نمائندوں پر مغربی ملکوں میں حملے ہوئے لیکن اس کے جواب میں ازہر نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ وہ اپنے نمائندوں کو اسی طرح وہاں بھیجتی رہے گی۔ بلا شبہ یہ زیادہ بڑا اقدامی کام ہے جس کے لیے بہت زیادہ تیاری اور ہمت جٹانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ صورتحال تو یہ ہے کہ ہمارے بعض مرکزی ادارے مکہ و مدینہ کی علمی درسگاہوں سے بھی اس لیے معادلے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ وہاں جا کر فضلا کی حنفیت اور گروہی مسلکیت کی بند ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔ اس ذہنیت کا جس قدر بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔
یہ اور اس طرح کے اقدامات اور کوششوں کے ذریعہ مدارس کے اندر اسلامی اسکالر شپ کے گرتے ہوئے معیار کا علاج ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ مدارس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ان کی خود اطمینانی (self-sufficiency) کی یہ ذہنیت ہے کہ مدارس میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہی نہیں اعلیٰ معیار کے مطابق ہے۔ اس لیے ان سے اس سے اوپر کی توقع کرنا غلط اور بے جاہے۔ یہ ذہنیت علم میں اضافے اور فکر میں نمو کے لیے تجسس و اضطراب کی اسپرٹ کو ختم کر دیتی ہے۔
بہر حال مدارس میں علم و تحقیق کے معیار کی گراوٹ (slow down) وقتی نہیں ہے کہ اس کے علاج کے لیے کوئی فوری 'bail out' پروگرام یا پیکیج تیار کر لیا جائے۔ اس کے لیے مدارس کے پورے نصاب و نظام کے حقیقت پسندانہ اور معروضی جائزے کے ساتھ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ تبھی یہ مدارس عام درسگاہوں کی طرح محض پیشہ ورانہ انداز میں پڑھنے پڑھانے والے ادارے کی حیثیت سے اوپر اٹھ کرحقیقی معنوں میں علم و فضیلت (scholar ship)اور فکر و تحقیق کے اعلیٰ اور اساسی اداروں کی حیثیت سے موجودہ دور کی نمائندگی اور مسلم و غیر مسلم سماج پر اپنے اثرات قائم کر سکنے کے لائق ہو سکتے ہیں۔ ورنہ دوسری صورت میں بہر حال اقبال کی یہ شکایت اسی طرح باقی رہے گی کہ:
نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ
عصر حاضر میں غلبۂ اسلام کے لیے جہاد
اویس پاشا قرنی
’’اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو اپنی اصل کے اعتبار سے غلبہ چاہتا ہے‘‘۔ ماجرا کچھ یوں ہے کہ یہ فقرہ آج ایک خاص تصورِ دین کا عکاس ہے۔ اِس عبارت کو سمجھنے کے لیے گزشتہ صدی کے فکری رجحانات اور ان کے اظہار کے لیے وضع کردہ خاص محاورے اور اصطلاحات کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ نسل انسانی کے اجتماعی شعور نے جب اپنے گزشتہ مشاہدات و تجربات کی روشنی میں اپنی اجتماعیت کو ایک مربوط نظام کی شکل دینے کی کوشش کی اور اِس کی پشت پر افراط و تفریط پر مبنی خالص مادی نقطۂ نظر سے مختلف فکری استدلال بھی قائم کیے‘ تو بالکل فطری تقاضے کے طور پر مسلمان اہل علم نے دین اسلام کی’’ تعبیر ‘‘ وقت کے محاورے اور اصطلاح کو سامنے رکھتے ہوئے کی۔ یہ اِسی کا مظہر ہے کہ آج ہم اپنی روز مرہ کی زبان میں اِس جیسے کئی جملے استعمال کرتے ہیں کہ ’’ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے‘ اسلام کا معاشرتی نظام‘ سماجی نظام‘ معاشی نظام‘ سیاسی نظام وغیرہ‘‘۔اِس تعبیر کے ساتھ جو ایک خاص جذبہ کار فرما تھا اُسے خود شعوری یا احساسِ بیداری کہا جا سکتا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں میں یہ احساس عام ہوا کہ نظاموں کی اس کشاکش کے درمیان ‘ جبکہ ہر قوم اپنے افراط و تفریط پر مبنی مادی ‘ خدابے زار نظامِ حیات کو دوسروں پر مسلط کرنا چاہتی ہے‘ ہم بھی ایک نظامِ حیات کے دعوے دار ہیں‘ جس کی ترتیب و تدوین وحی و رسالت کے ہاتھوں ہوئی ہے اور اِسی پر عمل پیرا ہو کرہم نے اِس دنیا پر کئی صدیوں تک حکومت کی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اِسی فکری و نظری لہر کے نتیجے میں تمام بلادِاسلامیہ میں مختلف تحریکات غلبہ و اقامت دین یا اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کی آرزو کے ساتھ میدانِ عمل میں اُترتی ہیں۔ یہی وہ موقع ہے کہ جب اُمت مسلمہ کے فکری قائدین نے اِس قافلہ کو بھولا ہوا سبق یاد دلایا اور اس طرح احیاءِ اسلام کا عمل جاری ہوا ۔
ان احیائی تحریکوں میں ایک نئے عنصر کا ظہور ماضی قریب میں ہوا ہے۔ غلبہ و اقامت دین کے لیے کام کرنے والی ان تحریکات پر قریب قریب ایک صدی مکمل ہونے کو ہے مگر واقعاتی دنیا میں کوئی قابل ذکر تبدیلی رونمانہیں ہوئی ‘یعنی جو نتائج مطلوب تھے وہ حاصل نہیں ہوئے ‘اِلاّ یہ کہ کچھ صالحین مسلم معاشروں میں سے ان تحریکات کے عنوان سے مجتمع ہو گئے۔ان نتائج کے سامنے آنے پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنے کام پر ناقدانہ نگاہ ڈالتے اور خامیوں ‘کوتاہیوں کا ازالہ کرتے ہوئے مستقبل کے لیے خوداحتسابی کے ساتھ پرجوش انداز میں سرگرم عمل رہتے ۔مگر بدقسمتی سے انسان جلدباز واقع ہوا ہے ۔نیا منظر نامہ یوں مرتب ہوا کہ ان تحریکات کے کچھ پرجوش اور سرگرم عناصر اپنے گزشتہ سوچے سمجھے‘ معتدل اور محتاط طریقہ کارکے بارے میں نا امیدی اورشکوک وشبہات کا شکار ہو گئے ‘جیسا کہ فکری خلا کا کوئی وجود نہیں اور انسان کسی صحیح یا غلط استدلال کے اختیار کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ چنانچہ ان عناصر نے جلدبازی میں ایک نئی راہ اختیار کی جو کہ ہمہ گیر اسلامی تحریک کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہے۔اس ہنگامی صورت حال سے قبل عالمِ اسلام میں احیائی عمل کی ترتیب کچھ یوں تھی کہ پہلے دعوتِ ایمانِ حقیقی‘ تزکیۂ نفوس‘ تعلیم کتاب وحکمت‘ تربیت وتنظیم‘ پھر جہاد وقتال۔ جبکہ اس جدید استدلال میں بات تکفیر سے شروع ہوتی ہے اور مجہول الہدف‘ بے نتیجہ قتال کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس بے اصل استدلال کو شرعی نصوص سے بھی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان صفحات میں ہمارے پیش نظر اسی اشکال کا جائزہ لینا ہے ۔
اِس امر میں تو مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ چاہے معاملات ہو ںیا عبادات‘ معاشرت ہو یا سیاست و ریاست‘ عملی رہنمائی کا اصل ماخذ قرآن کریم اور رسول اللہﷺ اورخلفائے راشدینؓ کی سنت و سیرت ہے۔ جس طرح یہ اصول دیگر دینی تعلیمات کے لیے صحیح ہے اِسی طرح غلبہ و اقامتِ دین یا نصبِ امامت و خلافت کے طریقہ کار ‘ لائحہ عمل اور منہج انقلاب کے اخذ کرنے کا اولین و اہم ترین ذریعہ بھی سیرتِ رسول ﷺ ہے۔ (اس فرق کے ساتھ کہ عبادات یعنی تعبدی اُمور میں اصل ’’حرمت‘‘ ہے یہاں تک کہ اُس کی حلت ثابت ہو جائے اور معاملات میں اصل ’’اباحت ‘‘ہے یہاں تک کہ اُس کی حرمت ثابت ہوجائے۔) معلوم یہ ہوا کہ مصدر و ماخذ سے متعلق کوئی اختلاف نہیں‘ بلکہ یہ جو تنوع ہم تحریکوں کے طریقہ کار میں پاتے ہیں یہ اصلاً اُس کے فہم اور تعبیر و تشریح میں نقطۂ نظر کی صحت و ضعف کا ہے۔واضح رہے کہ جب ہم کسی فعل کے لیے کسی واقعہ سے نظیرلیتے ہیں یا قضیۂ اولیٰ کو قضیۂ ثانیہ پر قیاس کرتے ہیں تو اِس امر کی صحت و بطلان کا انحصار دو اساسات پر ہوتا ہے‘ جسے اصولیین کی زبان میں اصل اور فرع یا مقیس علیہ اورمقیس کہتے ہیں۔ جب تک ہر دو اجزاء کی مکمل معرفت ‘ اُن کے اوصاف و خواص‘ تعمیم و تخصیص ‘ اطلاق و تقیید سے واقفیت اور سبب و علت پر حکیمانہ نظر نہ ہو تو یہ استشہا د خطرہ سے خالی نہیں ہوتا۔
زیر نظر موضوع پر جب ہم اِس اصول کی روشنی میں غور کرتے ہیں تو تعقل کے اجزا یہ قرار پاتے ہیں:
(۱) منہج انقلاب اخذ کرنے کے نقطۂ نظر سے رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مطہرہ کامطالعہ ۔
(۲) موجودہ احوال و ظروف کا دقتِ نظر ی سے مطالعہ۔
جزوِ اول کی حیثیت اصل یا مقیس علیہ کی ہو گی اور جزوثانی فرع یا مقیس کہلائے گا ۔ اِس بات میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ دونوں اجزاء اپنی انفراد ی حیثیت میں مکمل توجہ کے مستحق ہیں ‘کوئی بھی جزو ثانوی درجہ کا نہیں ‘اس لیے کہ مطلوبہ مقاصد کا حصول صرف اُسی وقت ممکن ہے جب دونوں اجزاء کی صحیح معرفت ہو۔ یعنی سیرت کے مطالعے میں خاص معروضی نقطۂ نگاہ کو اپنایا گیا ہو جو کہ تخریج منہج کے لیے مطلوب ہے۔ اور اِسی طرح اپنے زمانہ کے مزاج ‘ تقاضے‘ دورِ نبویؐ کے مقابلہ میں رو نما ہونے والے فرق و تفاوت ‘ تمدنی و فکری ارتقاء اور دیگر قابل لحاظ امور کی صحیح صحیح تحقیق و تنقیح کر لی گئی ہو۔ فقہ کی اصطلاح میں پہلے جزو کو فقہ الاحکام اور دوسرے جزو کو فقہ الواقع سے تعبیر کیا جاتاہے اور ایک شخص کے لیے دونوں اجزا کی تحقیق لازم ہے، ورنہ وہ مقاصدِ شرعیہ کی من کل الوجوہ پاسداری نہیں کر سکتا۔
اِس کو عام فہم انداز میں اِس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ جیسے ایک کاریگر فرمے یا سانچے سے کوئی شے تیار کرتا ہے۔ اِس عمل کے دو اجزاء ہیں ‘ایک سانچہ اور دوسرا وہ مادّہ جس کو اُس سانچے میں رکھ کر مطلوبہ شے تیار کی جاتی ہے۔ کاریگر کا دونوں اجزاء سے اچھی طرح واقف ہونا یکساں طور پر ضروری ہے۔ اُسے فرمے یا سانچے کا استعمال بھی آتا ہو اور ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہو کہ جس مادہ کو سانچہ میں ڈالا جاتا ہے اُسے پگھلا کر استعمال کیا جاتا ہے یا کاٹ کر یا پیس کر۔ مطلوبہ شے کا حصول تبھی ممکن ہے کہ جب کار یگر دونوں اجزاء سے گہری واقفیت رکھتا ہو۔
اللہ عزوجل نے اپنے نبی حضرت محمدﷺ کو اظہارِ دین یا اقامت دین کے لیے جو منہج دے کر بھیجا وہ واضح طور پر دو مراحل میں منقسم ہے‘اور ہر دو مراحل اپنی نوعیت ‘اثرات اور تقاضوں کے اعتبار سے مختلف اور متضاد بھی ہیں ۔ اگر مکی دور میں نازل ہونے والی آیات پر ایک سر سری نگاہ ڈالی جائے تو کوئی مانع نہیں جو اِس تأثر کے اخذ کرنے سے ہمیں روکتا ہو کہ اُس دَور میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے اپنے نبیؐ‘ کوجو منہج اور طریقۂ کار دیا گیا تھا وہ دعوت اور تبلیغ ہی کا تھا جس میں ایک خاص درویشانہ رنگ غالب ہے۔ یہ دَور جہادو قتال سے یکسر خالی ہے۔ اور اگر کہیں آیات میں لفظ جہاد استعمال ہوا ہے تو اُس کے معنی کوشش اور جدوجہد کے ہیں نہ کہ جنگ و قتال کے۔ اُس دَور کی کیفیا ت کا مطالعہ کیا جائے توچند عناصر بہت واضح ہیں‘ جیسے یہ حکم کہ صبر کیے جاؤ ‘یعنی جو مصائب دعوت کے دوران پیش آئیں اُن پر صبر کی تلقین ہو رہی ہے۔ استقامت یعنی اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ ہر مصیبت کو جھیل جانے کا عزم پیدا کیا جا رہا ہے۔ برائی کا بدلہ اچھائی سے دیے جانے پر اُبھارا جا رہا ہے‘ تزکیۂ نفوس پر زور ہے‘ نماز اپنی ابتدائی شکل میں ہے اور اُس کی مشق کرائی جا رہی ہے۔ اخلاق کی تہذیب مطلوب ہے۔ حق بات کہنے پر جو ذہنی یا جسمانی اذیت پہنچے اُس پر کمالِ استقامت کی ترغیب اور اس کے نتیجے میں جنت کی خوشخبری دی جا رہی ہے۔ ایمان و تقویٰ میں درجۂ احسان کی جانب پیش قدمی کے لیے تحریض و تشویق ہے۔ سیرتِ نبویؐ کے اس مرحلہ میں مسلمانوں کی پوری جماعت کو اِس بات کی سخت تاکید تھی کہ ظلم کے جواب میں کوئی اقدام نہیں کرنا ۔ یعنی مار کھانا ہے مارنا نہیں ہے‘ جان دینا ہے جان لینا نہیں ہے۔ اِسی حکم کو بعد میں اِن الفاظ میں ظاہر کیا گیا:
( اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوْآ اَیْدِیَکُمْ ۔۔۔) (النساء :۷۷ )
’’کیا تم نے نہیں دیکھا اُن لوگوں کی طرف جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ بندھے رکھو۔۔۔؟‘‘
مکی دَور کے منہج کے بر عکس ہجرت کے بعد یعنی مدنی دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ مندرجہ بالا عناصر میں چند اور چیزوں کا اضافہ ہوتا ہے جس سے جد وجہد کا رنگ ہی بدل جاتا ہے۔ اب کفار کو نہ صرف اُن کے ظلم کا جواب دیا جا رہا ہے‘ بلکہ آگے بڑھ کر چیلنج بھی کیا جا رہا ہے۔ اُن سے دو بدو جنگ ہو رہی ہے‘ اُن کی گردنیں اُتاری جا رہی ہیں‘ کفار و مشرکین کو قیدی بنایا جا رہا ہے۔ جہاں معاہدہ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے وہاں عہد و میثاق ہو رہے ہیں ‘جہاں عارضی صلح درکار ہے وہاں امن و صلح کی بات چیت ہو رہی ہے۔ غرض اس اُبھرتی ہوئی طاقت کے لیے جس وقت جو عمل مناسب ہے وہ اختیار کیا جاتا ہے‘ یہاں تک کہ اللہ عزو جل نے اسلام کو شان و شوکت سے نواز دیا۔ ہر دو مراحل کے تقاضے یکسر مختلف ہیں۔ بظاہر یہ تضاد ہے مگر حکمت دین کو محلوظ رکھتے ہوئے اگر سیرت کے اِن اَدوار پر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان مراحل کے مابین نسبت تضاد کی نہیں بلکہ تدریج کی ہے۔ ایک مقدم ہے اور ایک مؤخر!
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو غلبہ و اقامت دین کے لیے جو منہج دے کر بھیجا وہ واضح طور پر دو مرحلوں پر منقسم ہے‘ جیسا کہ قرآن و سیرت کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے۔ ایک کو ہم مکی دَور کہتے ہیں اور ایک کو مدنی دَور۔ ان کے مابین اصل فرق یہ ہے کہ مکی دور میں مسلمانوں کی تعداد اور استعداد کم تھی‘ ان کی تربیت اور تزکیہ و تنظیم کا عمل جاری تھا اِس لیے رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ‘ کو حکم یہ تھا کہ اسلام کی دعوت اپنے قول و فعل سے دیتے رہیں۔ ایمان کی پختگی ‘گہرائی اور گیرائی کے لیے سعئ پیہم جاری تھی۔ اخلاق کی تہذیب‘اللہ کے ساتھ عبدیت کے تعلق کو مستحکم کرنے کی کوشش اور درجۂ احسان کا حصول اُس دَور میں اپنے عروج پر نظر آتا ہے ۔منہج کے اعتبار سے دیکھا جائے تو صبح وشام اُس مطلوبہ استعداد اور تعداد کو حاصل کرنے کے لیے دعوت کا عمل ہر قربانی اور ایثار کے جذبہ کے ساتھ انتہائی مستقل مزاجی اور بغیر کسی مدا ہنت کے جاری و ساری تھا۔ یہی وہ تشکیلی دَور ہے جس میں رسولِ خداﷺ نے وحئ الٰہی کی روشنی میں صحابہ کرامؓ ‘کی صورت میں وہ قوت و جمعیت فراہم کی جو کسی بھی نظام سے ٹکرانے یا بالفاظِ دیگر مسلح یا غیر مسلح اقدام کے لیے شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ مکی دور میں نبی اکرمﷺ اور ان کے صحابہؓ مشرکین کے مظالم کے جواب میں صبرو مصابرت کی روش پرگامزن ہیں اور اس کے بر عکس مدینے میں ایک ایسا وقت بھی آیاکہ ابو سفیان نے دربارِ نبویؐ میں دست بستہ حاضر ہو کر صلح کی درخواست کی لیکن نبی اکرمﷺ نے صلح نہیں کی۔ ظاہر ہے کہ یہ عمل وحئ الٰہی کی روشنی میں نبی اکرم ﷺ کی رہنمائی اور قیادت میں اختیار کیا گیا۔مکی دَور میں پوری جدوجہد پر ایک درویشانہ اور مظلومانہ رنگ غالب ہے جبکہ مدنی دور میں اقدامی اور جارحانہ روش دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے اور اس کے پیچھے کیا حکمت کار فرما ہے؟ تو جاننا چاہیے کہ اسلام نہ ہمیشہ امن اور صلح‘صبر اور در گزر کی تعلیم دیتا ہے اور نہ ہی ہر حال اور ہر جگہ جنگ و جدال اورجہاد و قتال پر اُبھارتا ہے۔ اسلام میں فی نفسہٖ نہ صلح مطلوب ہے نہ قتال ‘بلکہ یہ دونوں ایک خاص مقصد کے لیے حکمت عملی کے طور پر اختیار کیے جاتے ہیں‘ اور وہ خاص مقصد ہے اظہارِ دین حق‘ اقامت دین‘ قیامِ خلافت ‘ نصب امامت‘ اقامۃ الدولۃ الاسلامیہ‘ حکومت الٰہیہ کا قیام۔ غرض نام اور اندازِ تعبیر مختلف ہیں مگر ان سب سے ایک ہی حقیقت کا اظہار مطلوب ہے۔ امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ دہلویm نے اِس آیت کو سیرت النبیﷺ کا عمود قرار دیا ہے ‘یعنی یہی وہ نقطہ ہے جس کے گرد پوری تیئیس سالہ جدوجہد گردش کر رہی ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے:
(ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ) (التوبۃ:۳۳‘ الفتح:۲۸‘ الصف:۹)
’’وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا اپنے رسول کو الہدیٰ (کتابِ ہدایت )اور دین حق دے کر تا کہ غالب کر دے اُسے تمام نظام ہائے حیات پر‘‘ ۔
اس آیت مبارکہ میں نبی اکرمﷺ کا مقصد بعثت بیان ہوا ہے۔ اس نقطہ کو سمجھ لینے کے بعد سیرت کے ہر دو مراحل میں کوئی تضاد اور کوئی تعارض باقی نہیں رہتا۔ یعنی جب بھی جو طریقۂ کار غلبۂ دین کے لیے زیادہ مناسب تھا ہم دیکھتے ہیں کہ سیرت النبیؐ میں وہی طریقہ اختیار کیا گیا۔ جب تک مکہ میں رہے مسلمانوں کے پاس اِس قدر قوت نہ تھی کہ کفر کی حکمرانی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکتے اور اُس کی جگہ خدا کی حکمرانی قائم کرتے۔ اِس لیے اقدام نہ کیا بلکہ مسلسل تن دہی کے ساتھ قوت کی فراہمی میں کوشاں رہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہاں قوت سے مراد صرف عددی قوت نہیں بلکہ ایسی عددی قوت کی فراہمی مطلوب ہے جو ایمانِ حقیقی سے وافر حصہ رکھتے ہوں اور عمل صالح پر کاربند ہوں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جب مطلوبہ قوت فراہم ہوگئی تورسول اللہﷺ نے باطل کے خلاف اقدام کیا اور بھر پور کیا ۔بالآخر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسلام اور اہل ایمان کو غلبہ عطا فرمایا۔ دراصل یہ نقطہ حکمت دین سے متعلق ہے اور حکمت کی ایک تعریف یوں بھی کی گئی ہے: ’’وضع الشئ فی محلہ‘‘۔ یعنی ہر چیز کو اُس کے صحیح مقام پر رکھنا۔ اللہ ہمیں حکمت عطا فرمائے ۔ آمین!
کیا اب مکی منہج ( مرحلۂ دعوت) منسوخ ہے؟
جیسا کہ واضح کیا گیا ‘منہج نبوی ؐکے دو مراحل ہیں جن میں حالات کی رعایت سے مقدم و مؤخر کی نسبت ہے۔ اب مسئلہ یہ در پیش ہے کہ ہمارے زمانے کے بعض خاص ذہنی پس منظر رکھنے والے افراد جو انقلابِ اسلامی کے طریقہ کار جیسے اہم موضوع پر سنجیدہ علمی و عقلی غور و فکر کے لیے سرے سے تیار ہی نہیں اور مسلمانوں کی موجودہ صورتِ حال پر اس قدر انفعالی کیفیت کا شکار ہیں کہ بغیر کسی استدلال کے نری جذباتیت برتتے ہیں‘ اور جو منہج اُنہوں نے اپنایا ہوا ہے وہ اصلاً تو کوئی لائحہ عمل ہے ہی نہیں اِلاّیہ کہ اپنے غم و غصہ کا اظہار ہو یا کچھ انتقامی جذبات کی تسکین ہو‘ سر دست ہم اُن کے اِس دعویٰ بلادلیل کا جائزہ پیش کرنا چاہتے ہیں کہ کیا جہاد و قتال کی آیات کے نزول سے دعوت و تبلیغ کا منہج منسوخ ہو گیا ہے؟ وہ آیات جو مکی دَور میں ہاتھوں کو باندھے رکھنے اور برائی کا جواب اچھائی سے دینے ‘ مظالم پر صبر کرنے اور ظلم و جبر کے جواب میں مسلسل دعوت و تنظیم کو مزید بڑھانے کا مطالبہ کرتی ہیں ‘منسوخ ہو چکی ہیں اُن آیات سے جو مدنی دَور میں اذِن قتال اور پھر حکم قتال سے متعلق نازل کی گئیں؟ ہمیں اِس بات کا جائزہ لینا ہے کہ یہ دعویٰ کہاں تک صحیح ہے؟
ہمارے اِن نیک نیت مگر جذبات سے مغلوب بھائیوں کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ وہ خالص علمی بحث کو چٹکیوں میں اُڑا رہے ہیں جسے اہل علم نے علوم القرآن کی کتب میں خاص اہتمام کے ساتھ ناسخ و منسوخ کے عنوان کے تحت درج کیا ہے۔ دیکھنا چاہیے کہ اس ہوائی دعوے کی زد قرآن حکیم کی بیشتر محکم آیات پر پڑتی ہے جس کے بعد قرآن مجید کا ایک بڑا حصہ ہمیں مخاطب ہی نہیں کرتا۔ یہ قرآن حکیم جو ابدالآباد کے لیے اور بنی نوع انسا ن کے ہر مسئلہ کے لیے اپنے اندر رہنمائی سموئے ہوئے ہے ہم اُسے اپنے جذبات اور جوش و خروش کے ہاتھوں مجبور ہو کر اتنا محدود کر دیں کہ اُسے غلبۂ دین کی جدوجہد کے صرف ایک دَور کے ساتھ خاص کر دیں‘یہ قرآن پرظلم اور لوگوں کو گمراہ کرنے والی بات ہے!
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ اس دعوے کے متعلق اہل علم کیا فرماتے ہیں ۔
سب سے پہلے علامہ بدر الدین الزرکشیؒ کی ’البرہان فی علوم القرآن ‘کو لیتے ہیں جس پر یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ یہ موقف علماءِ سوء نے نائن الیون کے بعد مسلمانوں کو مغرب کی غلامی میں دینے کے لیے اختیار کیا ہے (کیونکہ علامہ کا تعلق ساتویں صدی ہجری سے ہے)۔ علامہؒ لکھتے ہیں:
فیما یقع فیہ النسخ: الجمہور علی أنہ لا یقع النسخ إلا فی الأمر والنہی وزاد بعضھم الأخبار وأطلق و قید ھا آخرون بالتی یراد بہا الأمرو النہی (۱)
’’ نسخ کہاں واقع ہوتا ہے؟ جمہور اہل علم کی رائے میں نسخ صرف امر و نہی میں واقع ہوتا ہے اور بعض نے اس پر اخبار (واقعہ کا تذکرہ) کا اضافہ کیا ہے ۔کچھ نے مطلق اخبار کہا ہے اور کچھ نے صرف اُن اخبار پر نسخ کا وقوع مانا ہے جن میں امر و نہی وارد ہوتے ہیں‘‘۔
ملا حظہ ہو کہ جن آیات کے نسخ کا دعویٰ کیا جاتا ہے وہ اصلاً تو شریعت سے متعلق نہیں بلکہ منہاج سے متعلق ہیں جس کے متعلق اوپر جمہور کا مسلک درج کیا گیا کہ اِس میں نسخ واقع ہی نہیں ہوتا۔ علامہ کی درج ذیل عبارت پر غور کیا جانا چاہیے جس میں انہوں نے براہِ راست ہمارے پیشِ نظر موضوع سے بحث کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
الثالث ما أمربہ لسبب ثم یزول السبب‘ کالأمر حین الضعف والقلۃ بالصبرو بالمغفرۃ للذین یرجون لقاء اللہ و نحوہ من عدم إیجاب الأمر بالمعروف والنہی عن المنکر والجہاد و نحوھا‘ ثم نسخہ إیجاب ذلک وھذا لیس بنسخ فی الحقیقۃ وإنما ھو نَسٌ‘ کما قال تعالیٰ : ’’أونُنْسِہَا‘‘ فالْمُنسَأ ھو الأمر بالقتال‘ إلی أن یقوی المسلون ‘ و فی حال الضعف یکون الحکم وجوب الصبر علی الأذی(۲)
’’تیسرا یہ کہ جو حکم دیا جائے کسی سبب کی وجہ سے ‘پھر وہ سبب نہ رہے ‘جیسا کہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا تھا کفار کے ظلم پر صبر کرنے اور در گزر کرنے کا ‘اُن مسلمانوں کو جو اللہ سے ملاقات کی امید رکھتے ہیں۔ اور اسی طرح(مکی دور میں) امربالمعروف اور نہی عن المنکر اور جہاد کے واجب نہ ہونے کا معاملہ ہے۔ پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا وجوبِ جہاد سے اور یہ درحقیقت نسخ نہیں بلکہ یہ بھلا دینا ہے( بایں معنی کہ وقتی طور پر اس کے مطابق عمل نہیں کیا جائے گا) جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اَوْنُنْسِہَا۔ تو وقتی طور جو بھلا دیا گیا وہ حکم قتال تھا یہاں تک کہ مسلمان قوت حاصل کر لیں ‘اور ضعف کی حالت میں واجب ہے کہ تکلیف پر صبر کیا جائے‘‘۔
یہ مشاہدہ ہے کہ نسخ کے دعوے دار اکثر ائمہ سلف کی اُن تفسیری آراء سے دلیل پکڑتے ہیں جو آیاتِ قتال کے ذیل میں ان جلیل القدر ہستیوں نے ظاہر فرمائی ہیں۔ اس کے صحیح محل اور مدعا کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بعض تابعین نے نُنْسِھَا کی تفسیر نؤخرھا (یعنی مؤخر کرتے ہیں) سے کی ہے۔( ابنِ کثیر ‘جلد اوّل‘ سورۃ البقرۃ‘آیت ۱۰۶)جیسا کہ امام ابن جریر طبری سورۃ الحج کی آیت ۳۹ (اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا) (اجازت دی گئی اُن لوگوں کو جن سے قتال کیا جاتا ہے (قتال کرنے کی) بسبب اس کے کہ اُن پر ظلم ہوا)کے تحت لکھتے ہیں:
وقال ابن زید کانوا قد أمروا بالصفح عن المشرکین‘ فأسلم رجال ذو ومنعۃ فقالوا یا رسول اللہ لو أذن اللہ لنا لأ نتصرنا من ھؤلاء الکلاب‘ فنزلت ھذہ الآیۃ ثم نسخ ذلک بالجہاد(۳)
’’ ہمیں مشرکین سے عدم تعارض کا حکم دیا گیا تھا‘ مگر پھر مقابلہ کی طاقت رکھنے والے لوگ بھی اسلام لے آئے تو ہم نے عرض کی اے اللہ کے رسولﷺ !اگر اللہ ہمیں اجازت دیتا تو ہم ان کتوں سے خوب بدلہ لیتے ۔تواِس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس نے عدم تعارض کے حکم کو منسوخ کر دیا‘‘۔
امام سیوطیؒ نے جہاد و قتال سے متعلق اُن تمام آیات کو جنہیں بطورِ ناسخ پیش کیا جاتا ہے‘ اپنی کتاب ’الاتقان فی علوم القرآن‘ میں نانسخ و منسوخ کی بحث کے تحت جمع کر دیا ہے۔ تفصیل کے لیے اس کتاب سے رجوع کیا جائے۔
یہ اور اس جیسے دیگر مقامات جو کتب تفسیر میں پائے جاتے ہیں ‘سے متعلق اس وضاحت کی ضرورت ہے کہ یہاں نسخ کے معنی وہ نہیں جو نسخ حقیقی کے ہیں‘ یعنی أن رفع الحکم بدلیل شرعی ولا یجوز امتثالہ أبدًا (دلیل شرعی کی بنیاد پر کسی حکم کا ختم ہو جانا اور پھر اس پر عمل نہ کرنا) بلکہ حکم کے فی الحال معطل اور مؤخر ہونے کے ہیں۔ اورا سی رائے کو امام جلال الدین سیوطیؒ نے اختیار کیا ہے۔
اس بارے میں علامہ زرکشیؒ کا قولِ فیصل درج ذیل ہے :
وبھذا التحقیق تبین ضعفُ ما لھج بہ کثیر من المفسرین فی الآیات الامرۃ بالتخفیف إنھا منسوخۃ بآیۃ السیف‘ ولیست کذلک بل ھی من المنسأ بمعنی أن کل أمر ورد یجب امتثالہ فی وقت ما لعلّۃ توجب ذلک الحکم‘ ثم ینتقل بانتقال تلک العلّۃ الی آخر‘ ولیس بنسخ إنما النسخ الازالۃ حتی لا یجوز امتثالہ ابدًا وإلی ھذا أشار الشافعی فی ’’الرسالۃ‘‘ إلی النہی عن ادّخار لحوم الأضاحی من أجل الرأفۃ‘ ثم ورد الإذن فیہ فلم یجعلہ منسوخا بل من باب زوال الحکم لزوال علّتہ وھو سبحانہ و تعالیٰ حکیم أنزل علی نبیہ ﷺ حین ضعفہ ما یلیق بتلک الحال رأفۃ ورحمۃ‘ إذ لو وجب لاؤرث حرجا و مشقۃ‘ فلما أعز اللّٰہ الاسلام وأظہرہ ونصرہ أنزل علیہ من الخطاب ما یکافی تلک الحالۃ من مطالبۃ الکفار بالاسلام أو بأداء الجزیۃ ان کانو أھل کتاب أو الاسلام أو القتل إن لم یکونوا أھل کتاب ویعود ھذان الحکمان‘ اعنی المسالمۃ عند الضعف والمسایفۃ عند القوۃ بعود سببھما‘ ولیس حکم المسایفۃ ناسخًا لحکم المسالمۃ بل کلٌّ منہما یجب امتثالہ فی وقتہٖ (۴)
’’اور اِس تحقیق سے وہ ضعف واضح ہو تا ہے جو بہت سے مفسرین کو لا حق ہوا اُن آیات کے بارے میں جن میں بہت زیادہ تخفیف کا حکم ہے(یعنی صبر و استقامت اور عفو ودرگزر کا حکم ہے) کہ یہ تمام آیات منسوخ ہیں آیۃ السیف سے۔جب کہ معاملہ ایسا نہیں ہے ‘بلکہ اوّل الذکر آیات منساء (مؤخرکردہ) کی قبیل سے ہیں‘ اس معنی میں کہ جو بھی حکم وارد ہوا ہے اُس کا پورا کرنا واجب ہے ایک خاص وقت میں جو علت ہے اُس حکم کے وجوب کی۔ پھر وجوب منتقل ہو جاتا ہے دوسرے حکم کی طرف علت کے منتقل ہونے کی وجہ سے۔ اور یہ ہر گز نسخ نہیں ہے‘ بلکہ نسخ تو وہ ہے جس پر ہمیشہ کے لیے عمل کرنا جائز نہ رہا ہو۔ امام شافعیؒ نے اپنی کتاب ’’الرسالہ‘‘ میں اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ: حدیث میں جو قربانی کے گوشت کو ذخیرہ کرنے سے منع کیا گیا (۵) تو وہ بسبب رأفت ہے ۔پھر ذخیرہ کرنے کی اجازت دے دی گئی تو یہ اجازت پہلے حکم کی ناسخ نہیں ہے‘ بلکہ اِس میں بھی وہی حکمت کار فرما ہے کہ علت کے زائل ہونے سے حکم بھی زائل ہو گیا۔اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ حکمت والے ہیں اِس لیے اپنے نبیﷺ پر حالت ضعف میں وہ احکام نازل فرمائے جو اُس حال کے مطابق تھے‘ نرمی برتتے ہوئے رحمت کے ساتھ۔ اگر شروع ہی سے قتال کے احکام واجب کر دیے جاتے تو اِس سے شدید حرج اور مشقت لازم آتی۔ پھر جب اللہ نے اسلام کو عزت ‘نصرت اور غلبہ سے سرفراز فرمایا تو آپﷺ پر وہ احکام نازل فرمائے جو اِس حال کے مطابق تھے۔ جیسے کفار سے اسلام کا مطالبہ (جزیرہ نمائے عرب کے کفار مراد ہیں) ورنہ اُن کا قتل کر دیا جانا ‘یا اگر اہل کتاب ہیں تو جزیہ کا مطالبہ۔یہ دونوں حکم واپس آ سکتے ہیں سبب کے لوٹنے سے ۔ یعنی امن(عدم جنگ) کا اختیار کرنا کمزوری کے وقت اور جنگ و قتال کا اختیار کرنا قوت و طاقت کے وقت ۔ اور ’حکم المسایفۃ‘ (قتال و جنگ کا حکم) ’حکم المسالمۃ‘ (امن و عدم جنگ کے حکم)کے لیے ناسخ نہیں‘ بلکہ اُن میں سے ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ اوقات میں عمل ہو گا‘‘۔
پس ثابت ہوا کہ نسخ کا دعویٰ مکی منہج یعنی منہج دعوت کے لیے کسی طور پر بھی ثابت نہیں۔ احوالِ واقعہ یعنی معروضی حالات کی نسبت سے معاملہ مقدم اور مؤخر کا ہے نہ کہ ناسخ و منسوخ کا ۔ نہ منہج دعوت منسوخ ہے اور نہ منہج جہاد (جیسا کہ اس کے برعکس اکثر متجددین کا زعمِ باطل ہے)۔ منہج جہاد و قتال بھی اپنی پوری شان و شوکت‘ جاہ و جلال ‘وقار وطمطراق کے ساتھ موجود ہے اور منہج جہاد و قتال کو ساقط یا منسوخ قرار دینے والا اور اِس پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے والا مغلوب ذہنیت کا حامل‘ حقائق کا منکر ‘ اسلام کی تکمیلی شان سے ناواقف اور مارِآستین ہے۔ مگر یہاں محل گفتگو یہ ہے کہ کون سا منہج کن حالات میں زیادہ مناسب للمطلوب ‘ مؤثر ‘ راجح‘ مقدم اور مقاصد شریعت کا زیادہ محافظ اور غلبہ و اقامت دین کے لیے مبنی برہدف ہے۔ واللّٰہ المُستعان!
ایک اشکال اور اُس کا حل
زیر نظر مضمون کا یہ بنیادی مقدمہ ہے کہ آج مسلمانوں میں کام کرنے والی تحریکاتِ اسلامیہ کے لیے رہنمائی کا اہم ترین ذریعہ نبی اکرم ﷺ کے مکی دور کا منہج ہے۔ ہمارے نزدیک یہی وہ بنیادی مقدمہ ہے جس کو تسلیم کر لینے سے اسلامی تحریکات جو غلبہ واقامت دین کے لیے مصروف کار ہیں ‘صحیح راہ پر گامزن رہیں گی اور منزل بہ منزل نفاذِ اسلام اور نظامِ خلافت سے قریب تر ہوتی چلی جائیں گی اور پھر اسلامی ریاست کے قیام کے بعد اُس کے تحت اور امامِ شرعی کی اقتدا میں کفار کے خلاف قتال کو منظم کرنے کا مرحلہ بھی آئے گا (اِن شاء اللہ)۔
اس استدلال پر ایک اعتراض یہ وارد کیا جاتا ہے کہ اگر آج جدوجہد کے لیے مکی دور کو نظیر ٹھہرایا جائے تو پھر وہ حلت و حرمت کی تفصیلات جو شریعت میں تدریجی مراحل سے گزرنے کے بعد اپنی حتمی شکل کو پہنچ چکی ہیں‘ درہم برہم ہو جائیں گی‘ شراب و سؤر کی حلت و حرمت کا سوال اُٹھ کھڑا ہو گا ۔ اِس اشکال کو ایک معترض کی زبانی سنیے! ہم عبارت نقل کیے دیتے ہیں:
’’جب جہاد کے حتمی احکامات نازل کیے جا چکے تو اب کسی کو یہ حق نہیں کہ موجودہ دور کو مکی دور کے مثل قرار دے کر جہاد کو معطل کر دے‘ کیونکہ اِس طرح تو آج شراب و سود کی عدم حرمت کا سوال بھی کھڑا ہو جائے گا کہ مکی دور میں یہ بھی حرام نہ تھے۔ جبکہ ہمارے سامنے اللہ کا یہ حکم موجود ہے :(اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلاَمَ دِیْنًا) (المائدۃ:۳) ’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر میں رضا مند ہو گیا‘‘۔
الغرض ہمارے لیے شریعت کے حتمی احکام ہی حجت ہیں۔
یہ اعتراض خلط مبحث کے سوا کچھ نہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی نظیر یا مثال کا سوفیصد انطباق نہیں ہوتا‘ بلکہ کسی نسبت سے اُس کا اطلاق ہوتا ہے اور کسی پہلو سے نہیں بھی ہوتا ۔ اُسوۂ حسنہ کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ حالات کی رعایت کے ساتھ عمل کرنا مقصود ہوتا ہے اور یہ عقل عام کی بات ہے جس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔
ارشا دِ باری تعالیٰ ہے:
(لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا) (المائدۃ:۴۸)
’’تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک شریعت دی اور ایک منہاج‘‘۔
اِس آیت میں دو غور طلب الفاظ وارد ہوئے ہیں‘ ایک شریعت اور دوسرا منہاج۔ آئیے دیکھتے ہیں لغت میں اس کے معنی کیا ہیں ‘ اِس آیت کی ماثور تفسیر کیا ہے اور سلف نے اِ س سے کیا مراد لی ہے۔ اِس نقطے کی تفہیم سے اِن شاء اللہ محولہ بالا اشکال کا جواب بھی حاصل ہو جائے گا۔
لفظ’’ الشِّرعۃ ‘‘ کے بارے میں علامہ آلوسی البغدادی ؒ لکھتے ہیں:
’الشِّرعۃ‘ بکسر الشین‘ و قرأ یحیی بن ثاب بفتحھا ’الشَّریعۃ‘ وھی فی الأصل الطریق الطاھر الذی یوصل منہ إلی الماء والمراد بھا الدین‘ واستعمالھا فیہ لکونہ سبب موصلا إلی ما ھو سبب للحیاۃ الأبدیۃ کما أن الماء سبب للحیاۃ الفانیۃ أو لأنہ طریق إلی العمل الذی یطھر العامل عن الأوساخ المعنویۃ کما أن الشریعۃ طریق إلی الماء الذی یطھر مستعملہ عن الأوساخ الحسیۃ(۶)
’’الشِّرعۃ شین کی زیرکے ساتھ ہے اور یحییٰ بن ثاب کی قرا ء ت میں زبر کے ساتھ ہے۔ اور اِس کے اصلی معنی ہیں ایسا صاف طاہر راستہ جو پانی تک پہنچتا ہو اور اِس سے مراد دین ہے‘ اور اِس کا آیت میں استعمال ان معنی میں کیا گیا ہے کہ دین سبب ہے حیاتِ ابدی کا جیسا کہ پانی سبب ہے حیاتِ فانی کا ۔یا یہ کہ یہ وہ راستہ ہے جو عامل کو ایسے عمل کی طرف لے کر جاتا ہے جو اُسے معنوی آلائشوں سے پاک کرتاہے‘ جیسا کہ شریعت اُس راستہ کو کہتے ہیں جو ایسے پانی کی طرف لے کر جاتا ہے کہ اُس کا استعمال کرنے والا حسی آلائشوں سے پاک ہو جاتا ہے‘‘۔
اب لفظ ’’منہاج‘‘ کے متعلق تفصیلات ملا حظہ ہوں:
’’مِنْہَاجًا‘‘ اسم آلہ مفردہے اور اس کا مطلب ہے کھلا ہوا راستہ‘ کشادہ راستہ‘ روش۔ نہج‘ منہج اور منہاج تینوں ہم معنی ہیں۔ نَہْجٌ باب فَتَحَ سے مصدر ہے اور مراد ہے راستہ کا کشادہ اور صاف ہونا اور اُس پر چلنا‘کپڑے کا پرانا ہونا ‘ کپڑے کو پرانا کرنا۔ اِس معنی میں باب سَمِعَ اور کَرُمَ سے بھی مستعمل ہے۔ انہاجٌ ’’لازم‘‘ بن کر بھی آتا ہے اور ’’متعدی‘‘ بھی ۔ یعنی اس کا مطلب کشادہ راستہ ہونا بھی ہے اور راستہ کشادہ کرنابھی ۔(۷)
ملاحظہ کیجیے کہ ائمہ سلف نے اس آیت کی تفسیر میں اِن الفاظ کے شرعی معنی کیا بیان کیے ہیں۔ امام ابن جریر طبری ؒ نے اس آیت کے ذیل میں کئی روایات جمع کی ہیں جن کے طرق مختلف ہیں مگر معنی میں اشتراک ہے۔ ہم یہاں ایک روایت نقل کرتے ہیں:
حدثنا ابن بشار ‘ قال ثنا عبدالرحمن بن مہدی ‘ قال ثنا مسعر عن ابی اسحاق عن التمیحی ‘ عن ابن عباس: لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا قَالَ سُنَّۃً وَ سَبِیْلًا(۸)
’’۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ آیت(لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا) سے مراد سنت (یعنی شرعی طریقہ و حکم) اور سبیل (یعنی اس شرعی حکم اور طریقے پر چلنے کا رستہ) ہے‘‘۔
معلوم ہوا کہ شریعت اور منہاج میں فرق ہے ۔یہ دونوں الفاظ الگ الگ مفاہیم کی ادائیگی کے لیے وارد ہوئے ہیں مگر یہ فرق ایک ہی حقیقت یعنی دین کے دو پہلوؤں کے اظہار کے اعتبار سے ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے اِ س آیت کے ذیل میں کافی و شافی کلام فرمایا ہے جس سے مدعا واضح ہوجاتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں:
و (الحقیقۃ) حقیقۃ الدین‘ دین ربّ العالمین ھی ما اتفق علیھا أنبیاء والمرسلون‘ وإن کان لکل منھم شرعۃ ومنہاج فالشرعۃ ھی الشریعۃ قال اللہ تعالیٰ: (ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْھَا وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ o اِنَّہُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئا ط وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍج وَاللّٰہُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ) (الجاثیۃ) ۔ (والمنہاج) ھو الطریق قال تعالیٰ: (وَاَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَی الطَّرِیْقَۃِ لَاَسْقَیْنَاہُمْ مَّآءً غَدَقًا لِّنَفْتِنَھُمْ فِیْہِ ط وَمَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہٖ یَسْلُکْہُ عَذَابًا صَعَدًا) (الجِنّ) فالشرعۃ بمنزلۃ الشریعۃ والمنہاج ھو الطریق الذین سلک فیہ والغایۃ المقصود ہی حقیقۃ الدین وھی عبادۃ اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ وھی حقیقۃ دین الاسلام (۹)
’’حقیقۃ سے مراد حقیقتِ دین ہے‘ یعنی اللہ ر بّ العالمین کا دین۔ یہ وہ دین ہے جو تمام انبیاء اور رسولوں fکے درمیان متفق چلا آ رہا ہے باوجود اِس کے کہ اُن سب کے لیے شریعت اور منہاج علیحدہ علیحدہ تھے۔ پس ’ الشرعۃ‘سے مرادشریعت ہے‘ جیسا کہ فرمانِ باری ہے:’’ پھر ہم نے رکھا آپ کوایک شریعت پر اس کام میں تو اسی کی پیروی کیجیے‘ اور ہرگز نادان لوگوں کی خواہشات کی پیرو ی مت کیجیے ۔ وہ کام نہ آئیں گے آپ کے اللہ کے سامنے کچھ بھی‘ اور بے شک ظالم تو ایک دوسرے کے دوست ہیں ‘اور اللہ دوست رکھتا ہے متقین کو‘‘۔اور’منہاج ‘ سے مراد ہے طریقہ کار‘ راستہ۔ جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے :’’اگر لوگ سیدھے طریقہ پر رہتے تو ہم اُنہیں پلاتے پانی بھر کر‘ تا کہ ہم اُن کو اس کے ذریعہ چانچیں ۔اور جو کوئی منہ موڑے اپنے ربّ کی یاد سے تو وہ اُس کو چلا دیتا ہے چڑھتے ہوئے عذاب میں‘‘۔پس شرعۃسے مراد شریعت ہے اور منہاج سے مراد وہ طریقہ کار ہے جس پر چل کر غایت مقصود حاصل کیا جاتا ہے جو کہ حقیقت دین ہے اور یہ حقیقت اصلاً اللہ وحدہ لاشریک کی بندگی کا نام ہے‘‘۔
اِسی طرح کئی اور مقامات پر امام ابن تیمیہؒ نے واضح کیا ہے کہ شریعت الگ ہے اور طریقہ کار الگ ہے۔ اور یہ تمام انبیاء ؑ کے لیے مختلف رہی ہیں‘ مگر دین کی حقیقت جو کہ عبادتِ ربّ واحد ہے ‘وہ تمام انبیاء اور رُسل ؑ کے ما بین متفق رہی ہے۔ شریعت بحث کرتی ہے حلا ل و حرام سے ‘جائز و ناجائز سے ‘اشیاءِ استعمال کے مستحب و مکروہ ہونے سے ‘جبکہ منہاج اُس طریقہ کار‘ اُس حکمت عملی‘ اُس راستہ اور منہج کو کہتے ہیں جس پر کار بند ہوکراللہ کی بندگی‘اظہارِ دین اور اعلا ءِ کلمۃ اللہ کی جدوجہد کی جاتی ہے۔ یہاں پہنچ کر بات واضح ہوجاتی ہے کہ آج اقامت دین کے لیے رسول اللہ ﷺ کے دیے گئے دو مراحل منہج میں سے کسی کے اختیار کرنے سے شریعت کے معطل ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بے شک شریعت مکمل ہو چکی ‘جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
(اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا)
یعنی آج منہج نبویؐ کے مرحلۂ دعوت پر عمل کرنے کے باوجود شریعت کے حلال و حرام پر کوئی فرق واقع نہیں ہو گا۔ آج ہمارے لیے شر یعت کے وہی احکام حجت ہیں جو تدریجی مراحل سے گزرنے کے بعد اپنی تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔ یہ بالکل دوسری بات ہے کہ آج شریعت کے بہت سے احکام پر ہمارے ہاں عمل نہیں۔ خاص طور پر شریعت اسلامی کا وہ حصہ جو ریاست سے متعلق ہے ۔ جیسے نفاذِ حدود ‘ نظامِ صلاۃ ‘ نظامِ زکوٰۃ ‘ کفار کے خلاف شرعی قتال یعنی جہاد فی سبیل اللہ کا قیام‘ امر بالمعروف ونہی عن المنکر بالید ‘ حرمتِ سود ‘ کفارسے جزیہ کامطالبہ وغیرہ ۔کوئی مانے یا نہ مانے تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج ہم اپنے ربّ کے ان احکام پر اجتماعی طور پر عمل کرنے سے عاجز ہیں۔ اس کا تدارک صرف اسی طرح ممکن ہے کہ ہم اس فرمانِ حقیقت بیان کی روشنی میں اسلامی ریاست کے قیام کی جدو جہد کریں۔ حضرت امام مالکؒ نے فرمایاتھاکہ: لَن یصلح آخر ھذہ الأمۃ الا بما صلح بہ أولھا، اور منہج انقلابِ نبویؐ کی رو سے جدوجہد کی ترتیب میں مکی دَور مقدم ہے اور اسی کا ثمر ریاست مدینہ کے نام سے معروف ہے۔
نصوص سے غلط استدلال
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ آج اصل اعتبار قرآن مجید سے استنباطِ احکام کے وقت عمومِ لفظی کا ہوگا نہ کہ سبب خصوصی کا ۔ العبرۃ بعموم اللفظ لا بخصوص السبب ۔مگر یہ قاعدہ احکامِ شریعت سے متعلق ہے نہ کہ استخراجِ منہج سے۔ استخراجِ منہج میں تواصل اعتبار ترتیب نزولی کا ہے اور یہ بات اتنی سامنے کی ہے کہ اس کے لیے دلائل دینے کی ضرورت نہیں۔
آج ایک خاص طرح کے لٹریچر میں جہاں بہت سے اصولی اور علمی خلط مبحث پائے جاتے ہیں، اُ ن میں سب سے خطرناک اور کثرت سے پائی جانے والی خامی نصوص کا بے موقع انطباق ہے۔ یعنی آیا تِ قرآنی ‘ احادیث نبویؐ ‘ فتاویٰ و اقوالِ سلف کو سیاق و سباق ‘ ظروف و احوال سے کاٹ کر یکسر بے محل پیش کیا جاتا ہے‘جو کہ نتیجہ ہے اُس حد سے بڑھی ہوئی جذباتیت‘ انتقامی جذبات اور عالم کفر کی طرف سے ڈھائے جانے والے مسلسل ظلم و جبر کا‘ جس کے نتیجہ میں ہمارے یہ بھائی موجودہ پستی کی کیفیت سے باہر آنے اور غلبۂ اسلام کے لیے منہج و طریقہ کار پر سنجیدہ غور و فکر کے لیے تیار ہی نہیں۔ اور زبانِ حال سے کہہ رہے ہوتے ہیں : ع
مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
میں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے!
اور :
نصیحتم چہ کنم ناصحاچہ میدانی
کہ من نہ معتقد مردِ عافیت جوییم
مگر یہ الزام درست نہیں ‘کیونکہ ہم مفاہمت یا عافیت جوئی کی تعلیم نہیں دے رہے ‘بلکہ احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کی نبوی حکمتِ عملی کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں۔
مفہوم اور مرادِ متکلم کے اخذ کرنے میں سیاق و سباق اور احوال و ظروف کی حد درجہ اہمیت ہے ۔ اس بات کا اندازہ ہم ایک سادہ سی مثال سے لگا سکتے ہیں۔ ایک شخص کہتا ہے ’’ پانی لاؤ‘‘۔ اب اگر وہ شخص یہ جملہ کھانے کی میز پر ادا کرے گا تو آپ اُس کو پانی کا ایک گلاس لا دیں گے۔ اگر یہی جملہ غسل خانے سے کوئی پکار کر کہے تو آپ بالٹی بھر پانی کا اہتمام کر یں گے اور اگر یہی جملہ کوئی وضو خانے میں کہے تو آپ اُسے پانی کا ایک ظرف فراہم کر دیں گے۔غور طلب بات یہ ہے کہ جملہ ایک ہی ہے مگر محل و مقام کے بدلنے سے تعمیل حکم میں کتنا فرق واقع ہوتا ہے! اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سیاق و سباق اور احوال و ظروف اور مزاج و لہجے کا متکلم کی مراد کو سمجھنے میں کتنا حصہ ہے۔
سیاق و سباق سے کاٹ کر نصوص کو پیش کرنے کے حوالے سے ہم ایک روایت کا تذکرہ کرتے ہیں ۔ عصر حاضر کے جہادی لٹریچر میں آپ کو بخاری و مسلم سے مروی یہ حدیث نبویؐ جابجا ملے گی:
((اَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوْفِ)) (صحیح مسلم)
’’ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے‘‘۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک روایت کا جزو ہے نہ کہ مکمل حدیث۔ اب آپ مکمل حدیث نبویؐ کا مطالعہ فرمائیں اور اندازہ لگائیں کہ سیاق و سباق کے ساتھ اِس حدیث کا کیا مفہوم ہے اور سیاق و سباق سے کاٹنے کے بعد اس کے معنی میں کیا فرق واقع ہوتا ہے۔ ارشادِ نبویؐ ہے:
((یَا اَیُّھَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْاَلُوا اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ‘ فَاِذَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاصْبِرُوْا وَاعْلَمُوْا اَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوْفِ)) (۱۰)
’’ اے لوگو! دشمن سے لڑنے کی آرزو نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو۔ پس جب لڑنے کی نوبت آہی جائے تو ڈٹ جاؤ(بھاگو نہیں) اور یہ جان رکھو کہ بہشت تلواروں کے سائے تلے ہے۔(یعنی شہید ہوتے ہی داخل جنت ہو گے)‘‘۔
اِس طرح کے لٹریچرکا ایک اور خاصہ یہ ہے کہ اِس میں ائمہ‘سلف کے فتاویٰ کو اُن کے پورے استدلال سے کاٹ کر الگ اور بے محل پیش کیا جاتا ہے‘ بغیر اِس پر غور کیے کہ صاحبِ فتویٰ نے یہ فتویٰ کن حالات میں اور کن امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے دیا تھا۔اِس لیے ضروری ہے کہ فتوے کی شرعی حیثیت اور اُن عوامل کو دیکھ لیا جائے جن کا ایک مفتی فتویٰ دیتے وقت لحاظ رکھتا ہے۔ اِس سے یہ بات صاف واضح ہوجاتی ہے کہ اسلاف میں سے کسی کے فتویٰ سے منہج کے لیے دلیل پکڑنا درست نہیں‘ کیونکہ منہج کا تعلق اپنے زمانے کے خاص حالات سے ہوتاہے۔ منہج کے تعین میں فیصلہ کن عامل کی حیثیت وقت کے عرف و عادت اور مصالح مرسلہ کو حاصل ہے۔اسی لیے اہل علم کے ہاں مشہور ہے کہ: من لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھلٌ۔کہ ’’جو شخص اہل زمانہ کو نہیں جانتا وہ جاہل ہے‘‘ ۔اور عالم کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ: ان یکون بصیرًا بزمانہ کہ وہ اپنے زمانے کی بصیرت رکھتا ہو۔علامہ شامی کا شعر ہے:
والعرف فی الشرع لہ اعتبار
لذا علیہ الحکم قد یدار
’’عرف کا شریعت میں اعتبار ہے ‘اس لیے کہ اِس پر حکم کا مدار رکھا جاتا ہے‘‘۔
دکتور عبدالکریم زیدان (استاذ الفقہ المقارن ‘ جامعہ صنعاء) نے اپنی شاہکار تألیف ’’اصول الدعوۃ‘‘ میں باب نظام الافتاء کے تحت اِس موضوع پر عمدہ بحث کی ہے‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ فتویٰ کا خاص تعلق احوال‘ امکنۃ‘ ازمنۃ‘ ظروف اور مستفتی کے حالات سے ہوتا ہے اور یہ فتویٰ اِن امور کے بدلنے سے بدلتا رہتا ہے ۔یعنی والفتویٰ قد تتغیر بتغیر المکان والزمان(۱۱) قواعد فقہ کی کتب میں یہ قاعدہ کلیہ مسلّمہ حیثیت کا حامل ہے کہ:
والحکم یدورمع العلۃ وجودًا و عدمًا۔ ’’حکم کا مدار وجوداً اور عدماً علت پر رہے گا‘‘۔
علامہ ابن عابدین الشامی ’’عقود رسم المفتٰی‘‘ میں رقم طراز ہیں:
إن کثیرًا من الاحکام التی نص علیہ المجتھد صاحب المذہب بناء علی ما کان فی عرضہ وزمانہ قد تغیرت بتغیر الازمان بسبب فساد اھل الزمان أو عموم الضرورۃ کما قد مناہ من افتاء المتأخرین (۱۲)
’’یقیناًبہت سے احکام جن کی تصریح صاحب مذہب مجتہد نے اپنے عرف اور اپنے زمانہ کے احوال پر بنیاد رکھتے ہوئے کی تھی وہ زمانہ کے بدلنے کی وجہ سے بدل جاتے ہیں اور یہ تبدیلی یا تو لوگوں میں بگاڑ پیدا ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے یا عمومی ضرورت کا لحاظ پیش نظر ہوتا ہے ‘جیسا کہ ہم متأخرین کے فتاویٰ کے ذیل میں پہلے بیان کر چکے ہیں ‘‘۔
ان تصریحات سے جہاں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ خاص حالات میں دیے گئے فتاویٰ سے منہج کے لیے آج استدلال کرنا درست نہیں ‘وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آج مسلم ممالک میں ہر جگہ ایک ہی منہج کو اختیار کرنا بھی ضروری نہیں۔ جیسا کہ بعض ممالک براہِ راست کافر اورغیر ملکی افواج سے اپنی حریت و آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ وہاں فوری ضرورت کے پیش نظر مرحلۂ دعوت کا التزام کارگر نہیں ہے۔
آخر میں ہم مولانا سید ابو الا علیٰ مودودیؒ کی وہ نصیحت نقل کر تے ہیں جو آپ نے بزبانِ عربی‘ عرب ممالک کے نوجوانوں کو حج کے موقع پر مکہ معظمہ میں ۱۳۸۲ھ میں فرمائی تھی۔ اس نصیحت کے ایک ایک حرف کو بغور پڑھنے کی ضرورت ہے ۔جب مولانا مرحوم نے یہ تقریر فرمائی تھی تو اُس وقت سے زیادہ شاید آج مسلمانوں کو اس رہنمائی کی ضرورت ہے ۔ہم اِس تقریر کا ایک جزو نقل کیے دیتے ہیں:
’’اِس سلسلے میں اسلامی تحریک کے کارکنوں کو میری آخری نصیحت یہ ہے کہ انہیں خفیہ تحریکیں چلانے اور اسلحہ کے ذریعہ سے انقلاب بر پا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے(۱۳) ۔ یہ بھی دراصل بے صبری اور جلد بازی کی ایک صورت ہے اور نتائج کے اعتبار سے دوسری صورتوں کی بہ نسبت زیادہ خراب ہے۔ ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی تحریک ہی کے ذریعہ بر پا ہوتا ہے۔ کھلے بندوں عام دعوت پھیلائیے‘ بڑے پیمانے پر اذہان اور افکار کی اصلاح کیجیے‘ لوگوں کے خیالات بدلیے‘ اخلاق کے ہتھیاروں سے دلوں کو مسخر کیجیے۔ اِس طرح بتدریج جو انقلاب بر پا ہو گا وہ ایسا پائیدار اور مستحکم ہو گا جسے مخالف طاقتوں کے ہوائی طوفان محو نہ کر سکیں گے۔ جلد بازی سے کام لے کر مصنوعی طریقوں سے اگر کوئی انقلاب رونما ہو بھی جائے تو جس راستے سے وہ آئے گا اسی راستے سے وہ مٹایا بھی جاسکے گا۔‘‘ (۱۴)
حوالہ جات
۱) البرھان فی علوم القرآن ۲/۳۳۔
۲) البرھان فی علوم القرآن ۲/۴۲۔
۳) الطبری ۱۸/۳۲۴۔
۴) البرھان فی علوم القرآن ۲/ ۴۲‘ ۴۳۔
۵) حدیث میںآتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے دیہاتی غرباء کی وجہ سے یہ حکم دیا تھا کہ : ((اِدَّخِرُوْا ثَلَاثًا ثُمَّ تَصَدَّقُوْا بِمَا بَقِیَ))’’تین دن کا گوشت ذخیرہ کر لو اور باقی گوشت صدقہ کر دو‘‘۔ اس کے بعد لوگوں نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ ! لوگوں نے تو اپنی قربانی سے مشکیزے بنا لیے ہیں اور اُن میں چربی کی چکناہٹ مل رہے ہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا پھر کیا ہوا؟ اس پر لوگوں نے آپﷺ کا گزشتہ حکم بیان کیا تو آپؐ نے فرمایا :((اِنَّمَا نَھَیْتُکُمْ مِنْ اَجَلِ الرَّاْفَۃِ فَکُلُوْا وَادَّخِرُوْا وَتَصَدَّقُوْا))’’میں نے تو صرف اُن آنے والے غربا ء کی سہولت کی وجہ سے تمہیں منع کیا تھا۔ اب تم کھاؤ ‘ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو‘‘۔ مسلم ۱۹۸۱۔ واحمد ۶/۵۱۔ وابوداوٗد ۲/۲۸۔ والنسائی ۸/۲۳۵۔
۶) تفسیر روح المعانی للعلامۃ شہاب الدین آلوسی البغدادی ص۱۵۳ج ۶ آیت ۴۸ سورۃ المائدۃ۔
۷) تاج العروس‘ لغات القرآن جلد پنجم ص ۴۶۴۔
۸) رقم : ۹۴۶۷ص ۳۳۶المجلد الرابع جامع البیان عن تاویل آی القرآن للام ابن جریر طبریؒ ۔
۹) مجموع الفتاوی للشیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ ۱۱/۲۱۸‘۲۱۹۔
۱۰) صحیح البخاری‘ کتاب الجھاد والسیر‘ باب کان النبیﷺ اذا لم یقاتل اول النھار آخر القتال۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الجھاد والسیر‘ باب کراھۃ تمنی لقاء العدو والامر بالصبر عند اللقاءِ۔
۱۱) اصول الدعوۃ لدکتور عبدالکریم زیدان‘ ص۱۲۹‘۱۸۰بیروت۔
۱۲) عقود رسم المفتی لابن عابدین الشامی ص۳۸۔
۱۳) ظاہر ہے یہ ہدایت مولانا نے آج کے خاص حالات کے حوالے سے فرمائی ہے ورنہ اسلام میں مسلح کارروائی چند شرائط کے ساتھ کوئی ممنوع شے نہیں۔ (مضمون نگار)
۱۴) ماخود از تفہیمات حصہ سوم سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ ’’ دُنیائے اسلام میں اسلامی تحریکات کے لیے طریق کار۔‘‘
تشدد، محاذآرائی، علیحدگی اور غلبہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن
تقسیم ہند سے تقریباً نوے برس قبل ۱۸۵۷ میں لڑی جانے والی جنگ آزادی کا اصل مقصد، اسلام کا نفاذ نہیں تھا بلکہ صرف اور صرف، اپنے علاقے سے غیر ملکیوں کو کھدیڑنا تھا۔ اس لیے اس جنگ میں متحدہ ہند کی تمام قوموں نے بلا تفریق مذہب و ملت، رنگ و نسل مقدور بھر حصہ لیا تھا۔ شاید اسی لیے اس واقعہ کی بابت یہ بحث تو ہوتی رہی کہ یہ جنگ ہے یا غدر۔ لیکن، یہ جہاد ہے یا نہیں؟ اس زاویے سے کوئی سنجیدہ بحث ہمارے علم کی حد تک کبھی نہیں چھڑی۔ جن لوگوں نے اسے ’جنگِ آزادی‘ قرار دیا اور جنہوں نے اسے ’غدر‘ گردانا، دونوں ہی اپنے اپنے موقف کے تاریخی اثرات سے پوری طرح آگاہ نہ تھے۔جنگِ آزادی کو غدر گرداننے والوں نے مسلمانوں کو انگریز حاکموں کے ظلم و استبداد سے بچانے کی اپنے تئیں کوشش کی۔ لیکن اس کوشش کے دوران میں انہوں نے (شاید نادانستہ طور پر) متحدہ ہند کی دیگر اقوام سے مسلمانوں کے فکری و معاشرتی فاصلے بہت بڑھا دیے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو دلہن کی دو آنکھوں کے مانند سمجھنے والے سر سید احمد خان مرحوم بھی ’بھینگی دلہن‘ پر فریفتہ ہو گئے۔ پھر تاریخ نے عجیب منظر دیکھا کہ متحدہ ہند کی وہ اقوام جو جنگِ آزادی میں ایک دوسرے کی پشتیبان تھیں، حالتِ امن میں دوبدو کھڑی ہو گئیں۔ مسلمان چونکہ سابق حکمران تھے، اس لیے اس عمل کے زیادہ ذمہ دار تھے۔ سرسید مرحوم جیسے بالغ نظر قائد کا متحدہ ہند کے مسلمانوں کے الگ تشخص پر بے جا زور اور اصرار اس امر کا آئینہ دار تھا کہ مسلم قائدین ’پر امن بقائے باہمی‘ جیسے آفاقی اصول کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے، اور اگر تسلیم کرتے ہیں تو ان قائدین میں اتنی صلاحیت موجود نہیں کہ اس اصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسلم تشخص اور مسلم شناخت کا تحفظ یقینی بنا سکیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ سرسید احمد خان کی وفات کے بعد جناح مرحوم اور اقبال رحمتہ اللہ علیہ بھی بہت با صلاحیت ثابت نہیں ہو سکے۔ ان دونوں عظیم قائدین کی تان بھی علیحدگی پسندی پر آ کے ٹوٹی۔
مذہب کی بنیاد پر قومی علیحدگی پسندی کا تاریخی واقعہ متحدہ ہند کے بجائے دنیا کے کسی چھوٹے سے علاقے میں رونما ہوتا تو اور بات تھی۔ لیکن متحدہ ہند ایک بر عظیم تھا جس کا اعتراف سرسید مرحوم نے بھی کیا تھا اور اسی اعتراف کی بنیاد پر انہوں نے متحدہ ہند میں ایک قوم کے بجائے زیادہ قوموں کے وجود پر اصرار کیا تھا۔ یوں سمجھئے کہ تقسیم سے قبل کا بر عظیم، ایک مِنی ورلڈ تھا، مِنی گلوب تھا۔ اس عالمِ صغیر (mini world) میں عالم کبیر(all the world over) کے مانند کئی نسلیں، کئی زبانیں، کئی ثقافتیں، کئی مذاہب موجود تھے۔ جس طرح عالمِ کبیر (عام پوری دنیا) میں کوئی ایک قوم، نسل مذہب زبان ثقافت وغیرہ کی بنیاد پر ایسی مہم جوئی کی جرات نہیں کرسکتی، جس کے نتیجے میں اسے یا باقی پوری دنیا کو (مثال کے طور پر) مریخ میں آباد ہونا پڑے، اسی طرح عالمِ صغیر (متحدہ ہند) میں کسی قوم کا اپنے تشخص پر اس انداز اور اس درجے کا اصرار، جس کے نتیجے میں اسے یا باقی مقامی اقوام کو سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑے، اس قوم میں پر امن بقائے باہمی جیسی زریں اقدار کی بے وقعتی کی، غمازی کرتا ہے۔ پاکستان کی خالق جماعت آل انڈیا مسلم لیگ نے مذہب کے نام پر متحدہ ہند کی دیگر اقوام سے جس سطح کی علیحدگی پسندی کو (تشخص و شناخت کے نارمل درجے سے بہت بڑھ کر) رواج دیا، اس کے لازمی نتیجے کے طور پر ’اسلام‘ کا ایسا ایڈیشن سامنے آیا جس میں کسی بھی ’دوسرے‘ کو برداشت کرنے کا حوصلہ باقی نہ رہا۔ خیال رہے اگر اسلام کے بجائے کوئی اور مذہب ہوتا اور اس کے قائدین مسلم لیگی طرزِ عمل جیسا طرزِ عمل اختیار کرتے تو اس مذہب کی بنیادی ساخت بھی تشدد، عدمِ برداشت اور علیحدگی پسندی سے اسی طرح متاثر ہوتی، جس طرح اسلام کی بنیادی ساخت متاثر ہوئی۔
متحدہ ہند کی مسلم لیگ کا علیحدگی پسندانہ رویہ، اس لیے قابلِ گرفت ہو جاتا ہے کہ اس عالمِ صغیر میں صرف مسلم قوم کے مفادات ہی غیر محفوظ نہ تھے، بلکہ بہت سی دیگر اقوام بھی اپنے معلق مفادات کے تحفظ کے لیے میدانِ عمل میں برسرپیکار تھیں۔ لیکن ان اقوام کی لیڈرشپ نے اپنے قومی مفادات کو اس انداز سے پیش نہیں کیا کہ عالمِ صغیر(متحدہ ہند) کے اجتماعی نظم اور اجتماعی مفاد سے شدید ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو جاتی۔ اندریں صورت نہ صرف مسلم لیگی قائدین کی یہ صلاحیت مشکوک ہو جاتی ہے کہ وہ مسلم شناخت کے اثبات کے ساتھ ساتھ دیگر اقوام کے مفادات سے ہم آہنگ طرزِ عمل کا مظاہرہ کر سکتے، بلکہ دین اسلام کی بابت بھی قدرتی طور پر سوالات پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں کہ اس میں ایسی تعلیمات موجود ہیں جو اس کے پیروکاروں کو ’دوسروں‘ کے ساتھ مل جل کر زندگی بسر کرنے سے روکتی ہیں۔ اس نوعیت کے سوالات کا جنم لینا اس لیے لازمی تھا، کیونکہ لیگی قیادت کے ذریعے سے مسلم قوم اپنے مذہب ہی کی بنیاد پر عالمِ صغیر (متحدہ ہند)کے اجتماعی نظم اور اجتماعی مفاد کو چیلنج کر رہی تھی۔ گردشِ ایام کے ساتھ دین اسلام کی بابت اس نوع کے سوالات بڑھتے گئے اور دیگر اقوام تحفظات کا شکار ہوتی گئیں۔
اقبالؒ کو اپنی ’خودی‘ کی علیحدگی پسندانہ ہیبت کا احساس ہو کہ نہ ہو، لیکن جناح مرحوم کو کسی نہ کسی درجے میں اس امر کا ادراک ضرور تھا کہ عالمِ صغیر (متحدہ ہند) کی وحدت و عظمت پر جس طرح مذہبیت کے تیشے سے وار کیے گئے ہیں، اس کے اثرات وار کرنے والوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ (کہ مریخ پر زندگی، زمینی زندگی کی طرح بہت قدرتی نہیں ہو سکتی)۔ اس مذہبیت کو اعتدال میں لانے کے لیے یا دوسروں لفظوں میں مریخ کی زندگی کو زمینی زندگی سے ممکن حد تک مماثل کرنے کے لیے، محمد علی جناح مرحوم نے اس سیکولر رویے کو رواج دینے کی کوشش کی، جس کی نفی کرتے ہوئے انہوں نے متحدہ ہند کے اجتماعی نظم اور اجتماعی مفاد کو بری طرح روند ڈالا تھا۔ جناح مرحوم پاکستان کو انتہائی چھوٹے پیمانے پر عالمِ کبیر (عام پوری دنیا)کے مانند بنانا چاہتے تھے جس میں ہر مذہب ہر نسل ہر زبان ہر ثقافت کے لوگ اپنے اپنے تشخص و شناخت کے اثبات کے ساتھ اجتماعی نظم و مفاد سے آہنگ زندگی بسر کر سکیں، لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ متحدہ ہند کے اجتماعی نظم و مفاد کے منافی جس مذہبیت کو جناح مرحوم نے پروان چڑھایا تھا، وہ درحقیقت مذہبیت سے زیادہ ایک انتہائی منفی رویہ تھا۔ خیال رہے کہ انسانی گروہوں میں یہ رویہ کبھی مذہب کی صورت میں کبھی نسل کی صورت میں کبھی زبان کی صورت میں اور کبھی ثقافت یا علاقائی شناخت کی صورت میں جلوہ گر ہوسکتا ہے۔ متحدہ ہند میں محمد علی جناح مرحوم اس منفی رویے کی مذہبی جہت سے ہائی جیک ہوئے، اور اسی منفی رویے کی لسانی، علاقائی اور ثقافتی جہت نے ۱۹۷۱ میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں ( متحدہ پاکستان کے اجتماعی نظم و مفاد کے منافی) وہی عمل دہرایا جو ۱۹۴۷ میں متحدہ ہند کے اجتماعی نظم و مفاد کے منافی خود جناح مرحوم سے سرزد ہوا تھا۔
بیسویں صدی کے دوسرے ربع کی متحدہ ہند کی سیاست پر نگاہ دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سی اقوام کے درمیان رہتے ہوئے تعاونِ باہمی اختیار کرنا اور اپنے گروہی مفادات ممکن حد تک حاصل کرتے رہنا، آسان کھیل نہ تھا۔ متحدہ ہند کی سیاست، فولادی اعصاب کا تقاضا کر رہی تھی۔ انہی دنوں آل انڈیا مسلم لیگ نے انڈین نیشنل کانگرس کی سیاست سے زِچ ہو کر ردِ عمل میں تحریکِ پاکستان کی داغ بیل ڈالی۔ مسلم لیگ نے علیحدگی کے غیر سیاسی طرزِ عمل سے غالب آنے کی ٹھان لی۔ اس لیے تحریکِ پاکستان اپنی اصل میں، (غیر سیاسی اور) سمجھوتہ نہ کر سکنے والی ذہنیت کی تحریک تھی۔ اس ذہنیت نے عدم برداشت کے ایسے رویے کی آبیاری کی، جس کے نزدیک کسی بھی’دوسرے‘ کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ چونکہ یہ ایک مکمل منفی رویہ تھا جسے قبولیتِ عامہ نہ مل سکتی تھی، اس لیے اس میں ’غلبے‘ کو نمایاں کیا گیا تاکہ مسلم قوم کی معتدبہ اکثریت غلبے کی خواہش سے مجبور ہوکر اس تحریک سے منسلک ہو جائے۔ اس طرح مذہبی جواز پر مبنی دو انتہا پسندانہ رویے ’علیحدگی اور غلبہ‘ متحدہ ہند کے مسلمانوں کی رگ رگ میں سما گئے۔ یہ بہت سامنے کی بات ہے کہ پیچیدہ سیاسی عمل سے جب کچھ حاصل کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو غلبے کی نفسیات سے دمڑی ہتھیانے کی کوشش ضرور کی جاتی ہے۔
مذکورہ نکات کی مجموعی معنویت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ عالمِ صغیر (متحدہ ہند) میں دین اسلام کے نام پر دیگر اقوام کے ساتھ مل جل کر نہ رہنے کے رویے نے مسلمانوں میں تشدد، علیحدگی اور غلبے کی نفسیات کو جنم دیا۔ المیہ یہ ہے کہ اس نوع کی اقدار، دین اسلام کی بھی پہچان بن گئیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد کی نسل نے اسی نوعیت کے نفسیاتی ماحول میں آنکھ کھولی۔ جس نسل کے آباو اجداد اور فکری قائدین نے ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں، متحدہ ہند کی سیاست کی حد تک، تشدد محاذآرائی علیحدگی اور غلبے سے اجتناب کیا تھا اور عالمِ صغیر میں پرامن بقائے باہمی کے اصول کو نہ صرف نظری طور پر تسلیم کیا تھا بلکہ قومی زندگی کے عملی احوال کا حصہ بھی بنایا ہوا تھا، وہ نسل تخلیقِ پاکستان کے بعد فکری طور پر یرغمال ہو گئی۔ آج پاکستان میں جن لوگوں پر تشدد، دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کا الزام لگایا جاتا ہے، ان کے فکری و نسلی رشتے درحقیقت ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کے ان حریت پسندوں سے جا ملتے ہیں جنہوں نے (ہند کی داخلی سیاست میں)تشدد کے بجائے صبر اختیار کیا، علیحدگی پسندانہ رجحانات کے بجائے ہجرت کی راہ اپنائی اور غلبے کی خواہش کو حدِ اعتدال میں رکھتے ہوئے نفسیاتی مسئلہ نہ بننے دیا۔
بحث کے اس مقام پر چند سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا دین اسلام میں علیحدگی پسندی کی کوئی گنجائش موجود ہے؟یا علیحدگی پسندی کی تطہیر کرتے ہوئے صرف ’ہجرت‘ کی گنجائش باقی رکھی گئی ہے؟ کیا عصری تناظر میں ہجرت کا مفہوم اتنا وسیع ہو سکتا ہے کہ اس کی سیاست کاری (politicization) کے ذریعے علیحدگی پسندی کو اس میں سمو دیا جائے؟ بنظرِ غائر معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام، علیحدگی پسندانہ جذبات اور ہجرت کے جواز میں واضح فرق قائم کرتا ہے۔ اگر کوئی قوم یا کسی قوم کے افراد اپنے آپ کو بہت مصائب کا شکار دیکھیں تو بجائے تشدد اور محاذ آرائی کے، انہیں ہجرت کی راہ اختیار کرنی چاہیے(ہجرتِ حبشہ اور ہجرتِ مدینہ کی مثال لے لیجیے)۔ متحدہ ہند کی مسلم قوم کے جس گروہ نے مصائب کی سنگینی بھانپتے ہوئے علیحدگی پسندی کی راہ اپنائی(خیال رہے کہ بعضوں کے نزدیک مسائل اتنے گھمبیر نہیں تھے)، اگر وہ دین اسلام کے تصورِ ہجرت کا گہرائی سے جائزہ لیتا تو آج مسلمان اور اسلام پوری دنیا میں اس طرح بدنام نہ ہوتے، علیحدگی پسند اور انتہا پسند نہ کہلاتے، بلکہ بیرونِ ہند علاقہ جات (مثلاًآسٹریلیا و کینیڈا و امریکہ) میں (ہجرتِ حبشہ و ہجرتِ مدینہ سے مماثل) اپنے مفاہمتی و تخلیقی طرزِ عمل سے نئی دنیا کی تشکیل میں بھر پور کردار ادا کرتے۔
ہمیں یہ تلخ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ اس وقت دنیا میں جو تحریکیں اسلام کے نام پر جاری ہیں، وہ اپنی اصل میں قومی تحریکیں ہیں۔ جس طرح متحدہ ہند میں قوم پرستوں کے مقابلے کے لیے آل انڈیا مسلم لیگ نے مسلم قوم پرستی کو استعمال کیا(اس استعمال کا ثبوت پاکستان کی پوری تاریخ ہے) اور لیگ نے کامیابی بھی حاصل کر لی، اسی طرح مختلف مسلم تحریکیں اسلام کو’آلہ کار‘ کے طور پر استعمال کرر ہی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم قوم پرستی، مسلمانوں کے اجتماعی ملی وجود کے ساتھ منسلک ہے جس کا اظہار ماضی میں خلافت کے ذریعے ہوتا تھا۔ اس وقت مسلم ملی وجود کے منظم اظہار کے لیے کوئی ادارہ موجود نہیں، او آئی سی ایامِ طفولیت میں ہے۔ منظم ملی وجود (جو مختلف قومیتوں کو ان کی شناخت کے اثبات کے ساتھ اپنے اندر سمو لیتا ہے)کے بعد ہی غالباً اسلام کے تصورِ جہاد کا عملی مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے جہاد کے بجائے خلافت جیسے ادارے کی بحالی کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ان گنت قوم پرست شناختوں کے علاوہ امت کا ملی وجود بھی دنیا کے سامنے آ سکے۔ کسی قسم کے ملی وجود کے بغیر ’جہاد‘ کرنا درحقیقت قومی مفادات کے لیے اسلام کو استعمال کرنا ہے جس سے ہمیں گریز کرنا چاہیے۔
یہاں یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کو غدر قرار دینے والے اور متحدہ ہند کی سیاست میں علیحدگی پسندانہ رجحانات لانے والے شناخت بھی کر لیے جائیں تو اس سے آج کے ماحول پر کیا کسی قسم کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ یا یہ محض ذہنی عیاشی اور خلط مبحث ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ اس بحث کی عصری معنویت اس لحاظ سے قابلِ غور ہے کہ پاکستان میں تشدد اور علیحدگی کی موجودہ لہروں کی جڑیں انہی تاریخی واقعات میں پیوست ہیں۔ آج کا پاکستان ۱۸۵۷ کی جنگِ آزادی کی حالت میں ہے۔ جس طرح ۱۸۵۷ میں نسلی مذہبی لسانی اور علاقائی تعصبات سے بالاتر ہو کر غیر ملکیوں کو اپنے علاقے سے کھدیڑنے کے لیے جنگ لڑی گئی تھی، اسی طرح تمام تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آج بھی غیر ملکیوں کو اپنے علاقے سے بھگانے کی اشد ضرورت ہے۔ زحمت میں رحمت کے مصداق، غیر ملکیوں کی مداخلت کی وجہ سے، کم از کم پاکستان کی حدود کے اندر اندر مختلف شناختوں کی حامل قومتیوں کو ’پر امن بقائے باہمی‘ کے اصول کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے۔ پاکستان کے اندر کسی قومیت کو سر سید احمد خان مرحوم کے مانند بھینگی دلہن پر فریفتہ نہیں ہونا چاہیے، اور نہ ہی جناح و اقبال کی طرح کسی کانگرسی رویے (آج کے ماحول میں فوج، بیوروکریسی، عدلیہ، اسٹیبلیشمنٹ یا کسی سیاسی و مذہبی اور علاقائی جماعت وغیرہ)سے زِچ ہو کر ردِ عمل میں (غیر سیاسی ہوتے ہوئے) ایسی علیحدگی پسندی میں پناہ ڈھونڈنی چاہیے جس کے نتیجے میں پاکستان کا اجتماعی نظم و مفاد تتر بتر ہو جائے(جیسا کہ ایک مرتبہ ۱۹۷۱ میں ہو چکا ہے )۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مثبت سمت میں گامزن ہونے کے لیے نام نہاد نظریاتی شناخت کے حامل آج کے پاکستان کی مذہبیت کو سیاسی پالیسیوں کی حد تک ایک مخصوص مفہوم میں سیکولر ازم کے سامنے جھکنا ہو گا کہ اسی سے نہ صرف فرقہ وارانہ کشیدگی اور مذہبی منافرت میں خاطر خواہ حد تک کمی آئے گی بلکہ نسلی، لسانی اور علاقائی تعصبات بھی حدِ اعتدال میں رہ پائیں گے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ ہمیں اسلام کی اس جہت پر توجہ مرکوز کرنی ہو گی جو اپنی اپروچ میں سیکولر ازم سے زیادہ سیکولر ہے، جو مسلم (مذہبی)شناخت کے اثبات کے ساتھ ساتھ دیگر شناختوں (غیر مسلم یا غیر مذہبی یعنی لسانی نسلی وغیرہ) کی اہمیت کو کھلے بندوں تسلیم کرتی ہے۔ یہ کام بہت مشکل نہیں کہ ہم اس سے قبل ۱۸۵۷ میں اسلام کے اس مفاہمتی و انقلابی پہلو کا عملی مظاہرہ کر چکے ہیں۔
خیال رہے کہ قومی زندگی میں اسلام کے مفاہمتی و انقلابی پہلو کے در آنے سے ’جہاد‘ پر بھی نظر ثانی کی ضرورت محسوس ہو گی۔ اگر ایک طرف نظریہ جہاد کا عملی مظاہرہ کیا جائے اور دوسری طرف اسلام کے سیکولر ازم سے زیادہ سیکولر پہلو کو اپنانے کی بھی کوشش کی جائے تو یہ اجتماع ضدین ہو گا جو محال ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب ہم مسلمان ملی اور قومی زندگی کے دائروں کو کماحقہ نہیں سمجھ پاتے تو نادانستگی میں قومی مفادات کے لیے اسلام کو استعمال کرنے کی غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں بدنامی اسلام کی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سوویت یونین کے خلاف کیے جانے والے ’جہاد‘ کو لے لیجیے اور ٹھنڈے دل سے ذرا غور کیجیے کہ کیا یہ صحیح معنوں میں اسلام کے تصورِ جہاد کے عین مطابق تھا؟ کیا ہمارے ملی وجود کو کوئی خطرہ لاحق تھا؟کیا ملی وجود کے ذریعے یہ جہاد کیا گیا؟ اگر یہ جہاد تھا تو اس کے دوران میں اور اس کے خاتمے کے بعد مختلف قوموں نے مسلم ہوتے ہوئے بھی اس جہاد میں قومی مفادات کو ترجیح کیوں دی؟ کیا سوویت یونین کے خلاف کی گئی اس عالمی جنگ میں جہاد کی پوری شرائط موجود تھیں؟ جس طرح مختلف عالمی طاقتوں نے اپنے اپنے مفادات کے لیے ہمیں مالی و فوجی امداد بہم پہنچائی اور سوویت یونین کے خاتمے کے بعد انہی طاقتوں نے اسی نام نہاد جہاد کے استحصال کے ذریعے پاکستان اور دین اسلام کے خلاف پوری دنیا میں مہم چلائی، اور پاکستان تو پاکستان، دین اسلام تک کو دہشت گرد مذہب قرار دیا، اس سے ہمیں کم از کم اب تو یہ سبق ضرور سیکھ لینا چاہیے کہ قومی زندگی کے ہنگامی معاملات میں اگر دین اسلام کو اسی طرح استعمال کیا جاتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب غیر مسلم قومیں تو اسلام کے نام سے بدکیں گی ہی، خود ہماری نئی نسل بھی دینی حریت کے معاملے میں دیوالیہ ہو جائے گی۔
حافظ صفوان محمد کے جواب میں
طلحہ احمد ثاقب
محب گرامی حافظ محمد صفوان نے ’’سماجی، ثقافتی اور سیاسی دباؤ اور دین کی غلط تعبیریں‘‘ کے زیر عنوان مضمون میں تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کا فریضہ بہت خوب صورتی سے سرانجام دیا ہے۔ اچانک چلتے چلتے وہ تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کو چھوڑ کر ہامز لامز بن گئے ہیں۔ انھوں نے ایک ماسٹر صاحب کا تذکرہ فرمایا ہے جو ان کو لے کر ایک مذہبی کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور لے گئے۔ پھر ان کی گزارش یا مطالبے پر انھیں بادشاہی مسجد لے گئے۔ انھوں نے مزار اقبال پر جانا چاہا تو اقبال کے بارے میں بڑی عجیب وغریب باتیں ان کے کانوں میں انڈیلیں۔ بقول ان کے ماسٹر صاحب ایک ایسی جماعت سے تعلق رکھتے تھے جو قیام پاکستان کے گناہ میں شریک نہ تھی۔ آگے چل کر انھوں نے چند اور باتیں کہی ہیں جو ترتیب وار درج ذیل ہیں:
۱۔ پاکستان اگر مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی کچھ جماعتوں کے مزاج اور توقعات کے مطابق نہیں بنا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟
۲۔ میں آج تک نہیں سمجھ پایا کہ سیاسی اختلاف رکھنے والا کلمہ گو کیسے کافر ہو سکتا ہے؟
۳۔ سید القوم سرسید احمد خان، مولانا حالی، سر آغا خان، ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح وغیرہ ہماری قومی وملی تاریخ کے ڈیڑھ ہزار سالہ سفر میں آنے والی تاب ناک کہکشاؤں میں سے چند بڑ ے نام ہیں۔
۴۔ یہ وہ مردان راہ رواں ہیں جو ستاروں کے لیے نشانات راہ ہیں اور جن کی مختلف جہتوں میں کی گئی سنجیدہ اور پیہم کوششوں سے مسلمانان ہند پر آزادی کا سورج طلوع ہوا۔ ان دور اندیش اور دردمند لوگوں نے ان شاطر انگریزوں کی بچھائی ہوئی بساط پر انھیں ہرا کر ہم درماندہ مسلمانوں کے لیے آزادی چھینی۔
۵۔ جن لوگوں نے جس جس دور میں اقبال شکنی، جناح شکنی یا سرسید شکنی کی ..... وہ آج کہاں کھڑے ہیں؟ ان کو آج جانتا کون ہے؟ یہ بڑے لوگ ..... کارواں ران ہوتے ہیں۔ جو ان کے ساتھ چلتا چلا جاتا ہے، منزل پا لیتا ہے۔ جو ان کے منہ کو آتا ہے، وہ کارواں سے ٹوٹ جاتا ہے۔
حافظ صفوان محمد چوہان کے ماسٹر صاحب نے اقبال کے بارے میں ناروا باتیں کہی تھیں، یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ ہونے والے جمعیۃ علماء ہند کے علما ہوں یا مجلس احرار اسلام کے کارکنان وراہ نما، کبھی کسی بزرگ نے علامہ اقبال کے بارے میں کوئی ناروا بات نہیں لکھی۔ اگر ایسی کوئی بات جناب چوہان کے علم میں ہو تو وہ ہمیں بھی بتا دیں۔ ہاں علامہ سے اختلاف کا حق ہر عہد کے سوچنے والے دماغ کو حاصل رہا ہے۔ اگر کسی بزرگ نے علامہ سے دلائل کی بنیاد پر اختلاف کیا تو یہ ان کا حق تھا۔ علامہ اقبال تو کیا، ان سے کہیں بڑے لوگوں سے اختلاف کیا گیا۔ حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام بخاری اور ان کے مقام ومرتبہ کے لوگوں سے اختلاف کیا گیا اور ہر کسی نے اس حق اختلاف کو تسلیم کیا۔ حافظ صفوان محمد چوہان یاد رکھیں، فیصلہ شخصیات کی بنیاد پر نہیں، دلائل کی بنیا دپر ہوتا ہے۔
اب ہم حافظ صاحب کے دعاوی کو نمبر وار دیکھتے ہیں اور ان پر اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔
ان کا یہ دعویٰ ہمیں تسلیم ہیں کہ سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے کلمہ گو کو کافر ٹھہرائے۔ اب یہ حافظ چوہان کی ذمہ داری ہے کہ وہ تاریخ سے یہ ثابت کریں کہ کس گروہ نے سیاسی اختلاف کی بنیاد پر دوسرے گروہ کو کافر ٹھہرایا۔ جمعیۃ علماء ہند کے علما نے یا مسلم لیگ کے کارکنوں نے؟ کس نے مخالف پر قاتلانہ حملے کیے او رکس نے مخالفین کے منہ پر تھوکنا اور ان کی پگڑیوں کو پاؤں تلے روندنا، روا سمجھا؟ آپ براہ کرم جمعیۃ علماء ہند کے لٹریچر سے صرف ایک جملہ نکال کر دکھا دیں کہ فلاں بزرگ نے فلاں وقت پر سیاسی اختلاف کی بنیاد پر فلاں کوکافر ٹھہرایا۔ اگر آپ مولانا مظہر علی اظہر کے ایک شعر کا حوالہ دیں تو یہ ناکافی ہوگا۔ مولانا موصوف کے اس شعر کی احرار کے لوگوں میں پذیرائی نہیں ہوئی تھی۔ علماء کرام کے خلاف لیگی کارکنوں نے جو سب وشتم کیا، اس کی تفصیل کے لیے آپ اس دور کے اخبارات دیکھ لیجیے۔ علما نے جو رویہ اپنایا، اس کے متعلق ایک مسلم لیگی غلام کبریا کی کتاب ’’آزادی سے پہلے مسلمانوں کا ذہنی رویہ‘‘ اور عبید الرحمن خان کی ’’مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا‘‘ پڑھ لیجیے۔
حافظ چوہان نے ایک سوال اٹھایا ہے کہ پاکستان اگر مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی کچھ جماعتوں کے مزاج اور توقعات کے مطابق نہیں بنا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں! آپ یقیناًکچھ بھی نہیں کر سکتے کہ خود کردہ را علاجے نیست۔ ویسے یہ بات آپ کے کان میں کہنے کی ہے کہ مذہب کے نام پر سیاست مسلم لیگ نے کی تھی۔ جمعیۃ علماء ہند تو کانگریس کے ساتھ تھی اور سیکولر سیاست کی قائل تھی۔ ہاں دین کے تحفظ کے معاملے میں وہ پوری طرح کمٹڈ جماعت تھی۔ مسلم لیگ کے اکابرین سیکولر زندگی گزارتے تھے اور خیر سے مذہب کے نام پر سیاست فرما رہے تھے۔ بعض مسلم لیگی اکابر نے یہ تاثر دیا تھا کہ پاکستان میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کی خلافت راشدہ کا احیا ہوگا۔ یہاں آئے تو ملک غلام محمد، سر ظفر اللہ اور جوگندر ناتھ منڈل براجمان نظر آئے۔ کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہاں عدل ہوگا، مگر یہاں قتل وغارت گری کا سلسلہ رہ رہ کر پھر شروع ہو جاتا ہے۔ ۱۹۷۱ء کے مشرقی پاکستان میں جو قتل عام ہوا، اس میں پاکستان کے بنانے کے گناہ میں شریک نہ ہونے والے لوگ کسی طرح بھی شریک نہیں تھے۔ اس میں دونوں طرف سے پاکستان بنانے والے لوگ تھے۔ ۱۹۷۱ء کے مشرقی پاکستان میں قتل عام، بلوچستان، سرحد اور کراچی میں ہونے والے فسادات، دھماکے، ٹارگٹ کلنگ واقعی علما کے مزاج اور توقعات کے خلاف ہیں۔ آپ اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کر سکتے۔
تیسر ے نمبرپر موصوف کا دعویٰ انھی کے لفظوں میں پیش کیا گیا ہے۔ میں یہ جملے لکھ کر کانپ اٹھا ہوں۔ میں سمجھا تھا کہ موصوف نے ڈیڑھ سو سال لکھا ہوگا، مگر یہاں تو ڈیڑھ ہزار سال ہیں جن میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا دور مبارک بھی شامل ہے۔ اس ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ امت میں آقاے دو جہاں اور آپ کے برگزیدہ وخدا رسیدہ صحابہ کرام تاریخ کے ڈیڑھ ہزار سال کے سفر میں تاب ناک کہکشائیں ہیں تو کیا میں اسی صف میں ان لوگوں کو شامل کرنے کو برداشت کر لوں جن کے نام حافظ چوہان کے قلم نے اگل دیے ہیں؟ اس حرکت کو اہل علم خفیف الحرکتی کہیں یا کچھ اور، میرا خیال ہے حافظ چوہان ڈیڑھ ہزار سال پر شرمندہ ہو کر تائب ہو جائیں تو بہتر ہے اور ڈیڑھ سو سال پر اکتفا کر لیں تو ان کی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوگا۔ ناموں کی اس فہرست میں سر آغا خان بھی شامل ہیں۔ سر آغا خاں نزاری فرقے کے آغا خانی گروپ کے پیشوا تھے۔ آپ کا عہدہ امام حاضر کا تھا۔ ان کے فرقے میں سجدہ حاضر امام کو کیا جاتا ہے، کیونکہ اس فرقے کے علم الکلام میں اللہ تعالیٰ حاضر امام میں معاذ اللہ حلول کر چکا ہے۔ وہاں کلمہ طیبہ یا روزہ نماز کا تذکرہ بھی نہیں۔ سرآغا خان نے کہا تھا کہ وہ شراب پیتے ہیں تو ان کے اندر نور اترتا ہے۔ موصوف ریس کے بھی شیدا تھے۔ اب امت کی تاریخ میں یہی کہکشاں رہ گئی ہے تو امت کے حال پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔
محترم حافظ صفوان محمد چوہان نے امت کو مختصر زمان ومکان میں قید کر دیا ہے۔ ان کا space پاکستان کی حدود کے اندر واقع ہے اور زمان کا معاملہ بھی یہ ہے کہ ڈیڑھ سو سالہ تاریخ کو ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ کا قائم مقام بنا لیا ہے۔ امت اگر پاکستان سے باہر بھی کہیں بستی ہے تو حافظ صفوان خود ہی غور فرمائیں کہ ان برگزیدہ لوگوں میں سے کتنے لوگ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے نزدیک بھی تاریخ کی کہکشاں ہیں۔ انھیں چھوڑیں، انھیں ہماری قیادت نے write off کر دیا تو ہمیں کیا پڑی کہ ان کی رائے کو ذرا سی بھی اہمیت دیں، اگرچہ ان کی تعداد ہم پاکستان کے مسلمانوں سے کافی زیادہ ہے۔ محترم حافظ صفوان صاحب بنگال کے مسلمانوں کی رائے کو بھی کچھ اہمیت دینا پسند کریں گے؟ وہ پاکستان کے باغی سہی، اسلام کے باغی تو قطعاً نہیں ہیں۔ ان مسلمانوں کی رائے میں حافظ صفوان کی ممدوح ہستیوں کی ہستی کیا ہے اورحیثیت کیا ہے؟
اب ذرا پاکستان میں بھی دیکھ لیں۔ ہم نے ایم کیو ایم کے حیدر عباس رضوی کو ٹی وی چینل پر یہ کہتے سنا ہے کہ وہ جی ایم سید اور ولی خان کے نظریہ قومیت کے ماننے والے ہیں۔ یہ دونوں لوگ پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے۔ صوبہ سرحد کے لوگ بھی مسلمان ہیں، ان کا نقطہ نظر بھی جان لیتے تو اچھا تھا۔ بلوچستان سے جو خبریں آ رہی ہیں، وہ بھی چوہان صاحب تک ضرور پہنچی ہوں گی۔ ذرا امت کا تصور کیجیے اور پھر سوچیے کہ سر آغا خان کو امت کے کتنے لوگ جانتے ہیں؟ وہ خود ہی بتائیں تو بہتر ہے۔امت کا سواد اعظم انھیں مسلمان مانتا ہے یا نہیں، یہ بھی انھیں معلوم ہوگا۔ ویسے وہ کلمہ گو کی تعریف میں نہیں آتے۔ ان کے زیر اطاعت جماعت خانوں میں نماز کی ابھی تک اجازت نہیں۔ ایک باغی گروہ ’’اسماعیلی نمازی کمیٹی‘‘ عدالت کے دروازے پر کھڑا یہ استدعا کر رہا ہے کہ انھیں جماعت خانوں میں نماز پڑھنے کی اجازت مرحمت ہو۔ وہاں ایک خاص کتاب پڑھی اور سنی جاتی ہے اور امام کی تصویر کو سجدہ کیا جاتا ہے۔
چوتھا نکتہ بہت دلچسپ ہے۔انھوں نے سرسید احمد خان، آغا خان او رمولانا حالی پر آزادی خواہی کی تہمت دھری ہے۔ ان اکابر نے ہمیشہ دعاکی تھی کہ سرکار انگلشیہ کا اقبال بلند ہو اور ان کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر سلامت رہے۔ حافظ چوہان کو یقین نہ آئے تو سرسید کے خطبات موجود ہیں، وہ ایک بار پڑھ لیں۔ اس سے انھیں دو فائدے ہوں گے۔ ایک تو قارئین ان کی طول نویسی سے بچ سکیں گے، دوسرے حافظ چوہان زیادہ بے خبر نہیں رہیں گے۔
پانچواں نکتہ بڑا دلچسپ ہے۔ انھوں نے سرسید شکنی، اقبال شکنی اور جناح شکنی کرنے والوں پر بہت تبرا کیا ہے۔ موصوف یہ بھول گئے کہ سرسید شکنی، اقبال شکنی اور جناح شکنی صرف انھی لوگوں نے کی ہے جو ان حضرات کے پیروکار ہونے کے دعوے دار ہیں۔ سرسید نے ہمیشہ یہ نصیحت کی کہ مسلمانوں کو سرکار انگریزی کا ہمیشہ وفادار رہنا چاہیے۔ انھوں نے کبھی بھولے سے بھی ایسا جملہ نہ کہا جو سرکار انگریزی کی رضا کے خلاف تھا۔ انھی کے مدرسے سے پڑھ کر نکلنے والے محمد علی جوہر دیوبند جا کر حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن کے ہم سفر ہوئے اور آزادی کے سفر پر چل دیے۔ اب رہی اقبال شکنی تو ان لوگوں نے کبھی اقبال کو مسترد نہیں کیا، ہاں ان سے علمی اختلاف ضرور کیا۔ رہی جناح شکنی تو اس کا آغاز ۱۴؍ اگست ۱۹۴۷ء کو اس مسلم لیگی قیادت نے کیا جو تقسیم کے نتیجے میں ہندوستان میں رہ گئی اور پاکستان نہ آ سکی۔ اس کی تفصیل دیکھنی ہو تو اعلیٰ مسلم لیگی قیادت کی یادداشتوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ جناح شکنی کا دوسرا دوربنگال میں شروع ہوا جب جناح صاحب نے کہا کہ پاکستان میں صرف اور صرف اردو ہی قومی زبان ہوگی۔ اس کا انجام ۱۶؍ دسمبر ۱۹۷۱ء کو ڈھاکا کے پلٹن میدان میں ہوا۔ پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ ہونے والے لوگ نہ پہلے دور میں شامل تھے نہ دوسرے دور میں۔ تیسرا دور سندھ میں ہوا جب کھوڑو نے جناح صاحب کی حکم عدولی کی، یہ دور ابھی جاری ہے۔ بہرحال ان تینوں ادوار میں جناح شکنی کا کام کرنے والے لوگ خود مسلم لیگ سے آئے ہیں، ان میں سے کسی کا تعلق نہ جمعیۃ علماء ہند سے ہے نہ احرار اسلام سے۔ اب جناح شکنی کرنے والے لوگ تاریخ میں کہاں جاتے ہیں؟ تاریخ میں گم ہوتے ہیں یا بنگلہ بندھو بنتے ہیں؟ بنگال کے جنرل عثمانی نے قیام پاکستان سے پہلے مسلم لیگی کارکن اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طالب علم کی حیثیت سے مولانا ابو الکلام آزاد سے جو بدتمیزی روا رکھی تھی، ۱۹۷۱ء میں اس سے زیادہ بدتمیزی جناب جناح کی تصویر سے روا رکھی۔
اب سرسید شکنی، اقبال شکنی اور جناح شکنی کرنے والوں میں محمد علی جوہر اور شیخ مجیب الرحمن کو کون جانتا ہے، یہ تو حافظ صفوان بھی بخوبی جانتے ہیں۔ علامہ اقبال کے مخالفین کی فہرست کا تذکرہ اس لیے گول کر دیتے ہیں کہ بات فرقہ واریت میں چلی جائے گی۔ ہاں حافظ صفوان اپنا پاسپورٹ دیکھیں اور سوچیں کہ ان کی قومیت مسلمان کی بجائے پاکستان لکھی ہوئی ہے، یعنی ان کی قوم وطن کی بنیاد پر ہے، مذہب کی بنیاد پر نہیں۔ یہ بات حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے کہی تھی تو گردن زدنی ٹھہرے تھے۔ اب جن لوگوں نے پاکستان کی قومیت مسلم کے بجائے پاکستانی ٹھہرائی ہے، انھوں نے بھی اقبال شکنی کا مظاہرہ کیا ہے یا حقیقت پسندی کا؟ اب حافظ چوہان اور جے سالک کی قومیت صرف جغرافیے کی بنیاد پر پاکستانی ٹھہری ہے۔ ویسے تو حافظ چوہان کو اپنے غیرمسلم بزرگوں سے کوئی ایسی نفرت نہیں، ورنہ وہ چوہان کیوں کر کہلواتے! ان کے تایا پروفیسر غلام رسول نے اسلام کی خاطر غیر اسلامی نسبتیں تج دی تھیں اور وہ انصاری کہلاتے تھے۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ حافظ چوہان خود اقبال شکنی کی راہ پر چلے دیے ہیں۔
جناب محمد عمار خان ناصر کی خدمت میں
پروفیسر خالد شبیر احمد
جناب محمد عمار خان ناصر صاحب کے بارے میں، میں کچھ نہیں جانتا نہ ہی ان کے علم وفضل کے خد وخال سے پوری طرح آگاہ ہوں کہ ان کا علم وفضل میں کیا مقام ومرتبہ ہے۔ البتہ ان کے والد محترم کی کئی تقریریں سننے کا اعزاز مجھے حاصل ہے اور میں ان کی علمی عظمت کا بھی قائل ہوں۔ جہاں تک ان کی خاندانی عظمت کا تعلق ہے، اسے تسلیم نہ کرنا بھی کوتاہی وکم نظری کے مترادف خیال کرتا ہوں۔
محمد عمار خان ناصر کے ایک مضمون پر مولانا عبد القیوم حقانی صاحب کا تنقیدی مضمون میری نظر سے گزرا جس میں انھوں نے جناب عمار خان ناصر کی اس تحریر پر گرفت کی ہے جو انھوں نے قادیانیوں کے بارے میں تحریر کی ہے۔ عمار خان ناصر تحریر فرماتے ہیں:
’’اگر کسی معاشرے میں کشف والہام انفرادی دائرے سے اٹھ کر ایک باقاعدہ اداراتی صورت اختیار کر چکے ہوں، ان کی بنیاد پر شخصیات اور جماعتوں کے عند اللہ مقبول ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے کیے جاتے ہوں، لوگوں کو ان کی طرف دعوت جاتی اور ان کے ساتھ وابستہ ہونے والوں کو نجات کی بشارت دی جاتی ہو، القا والہام کی بنیاد پر مراقبہ وسلوک کے نظام مرتب کیے جاتے بلکہ سیاسی ومذہبی اختلافات میں بھی حق وباطل کی تفریق کرنا ایک عام چلن ہو، جہاں خواب اور بشارات کسی کے مامور من اللہ ہونے کا ایک مستند ذریعہ سمجھے جاتے ہوں، ایسی فضا میں اگر کوئی شخص ’’شبانی سے کلیمی دو قدم ہے‘‘ کا نعرۂ مستانہ بلند کر دے اور لوگ اس کے فریب میں مبتلا ہو کر اسے ایک ’’امتی نبی‘‘ مان لیں تو انھیں کس حد تک قصور وار ٹھہرایا جا سکتا ہے اور راہ راست پر لانے کی ہمدردانہ کوشش کی بجائے ان کا معاشرتی مقاطعہ کرنے اور قانونی اقدامات کے ذریعے سے انھیں مسلمانوں سے الگ تھلگ کر دینے کو کس حد تک اخلاق، حکمت اور دعوت دین کے تقاضوں کے مطابق قرار دیا جا سکتا ہے؟‘‘
جناب محمد عمار خان ناصر کی مندرجہ بالا تحریر بظاہر بڑی بھولی بھالی، انتہائی مسکین اور عاجزانہ سی نظر آتی ہے، لیکن اگر اس کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور غور وفکر سے کام لیا جائے تو انتہائی خطرناک، گمراہ کن اور قابل مذمت بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بے چاری اللہ کی مخلوق ہماری غفلت کی وجہ سے ہم سے کٹ کر الگ ہو گئی، انھیں دعوت حق دے کر ساتھ ملانے کی کوشش ہی نہیں کی گئی اور ان کے نزدیک مسلمانوں کا یہ رویہ اخلاقی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ گویا ان کی نگاہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو امتی نبی مان لے تو اس بے چارے کا کیا قصور ہے کہ اسے ملت اسلامیہ سے الگ تھلگ کر دیا جائے؟ ان کی اس معصوم خواہش پر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ:
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
قادیانیوں کو دعوت حق دے کر اپنے ساتھ ملانے کی کوشش پر تو ہمیں اعتراض نہیں ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی بڑی شدت کے ساتھ یہ خواہش تھی کہ کوئی شخص ایسا نہ رہ جائے جو اسلام قبول کر کے ملت اسلامیہ کا فرد نہ بن جائے، بلکہ آپ کی یہ خواہش اس قدر شدید ہو گئی کہ آپ اس کے بارے میں متفکر رہنے لگے تو علما بیان کرتے ہیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے کہہ دیا تھا کہ آپ کا کام صرف اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دینا ہے۔ کوئی اسلام قبول کرتا ہے یا نہیں کرتا، اس بارے میں آپ متفکر نہ رہا کریں کہ اللہ کو ہی علم ہے کہ کس نے اسلام قبول کرنا ہے اور کسے نہیں کرنا۔ عمار ناصر کو بھی اسی انداز میں سوچنا چاہیے کہ یہی اسوۂ حسنہ کا تقاضا ہے۔
اس کا عملی ثبوت بھی ہمارے سامنے ہے کہ جن قادیانیوں نے اسلام قبول کرنا تھا، انھوں نے مشکل حالات میں بھی اسلام قبول کیا اور اسلام قبول کر لینے کے بعد رد قادیانیت کا دینی فریضہ زندگی بھر سرانجام دیتے رہے اور جنھوں نے اسلام قبول نہیں کرنا تھا، وہ آج تک قادیانی ہیں۔ عمار ناصر صاحب کو قادیانیوں پر اتنا ترس کیوں آ رہا ہے؟اس ترس اور اس خواہش کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟ عبد الرحمن مصری کی مثال سے بات اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے کہ عمر بھر مرزا بشیر الدین محمود کی خرمستیوں کے خلاف علم بغاوت تو بلند کرتا رہا، لیکن اسلام قبول نہیں کیا اور قادیانی مرا، جبکہ اس کے بیٹے حافظ بشیر احمد نے مرزائیت ترک کی، دہریت کی دہلیز تک پہنچا اور پھر اسلام قبول کر کے عمر بھر دینی خدمات سرانجام دیتا رہا۔ عمار ناصر صاحب کو اس بات کا کیوں علم نہیں کہ جسے دین اسلام قبول نہیں کرنا، ا س کے ساتھ خواہ آپ کتنا ہی مخلصانہ اور مہربانہ رویہ اختیار کرلیں، نتیجہ وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم کو وحی کے ذریعے بتا دیا ہے۔
پھر یہ بات بھی محل نظر ہے کہ ہم نے قادیانیوں کو اپنے سے الگ کیا ہے۔ ہم نے نہیں، انھوں نے اپنے آپ کو ہم سے علیحدہ کیا ہے جس کا ہم پر الزام سرے سے درست ہی نہیں ہے۔ تو پھر عمار ناصر صاحب کا یہ واویلا کس حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے؟ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ ان کی اپنی سوچ اور اپنی فکر ہے یا کہیں سے انھوں نے کسی خاص مقصد کے حصول کے لیے مستعار لی ہے اور اگر ایسا ہے تو یہ بات اسلام اور مسلمانوں کے لیے انتہائی خطرناک بات ہے۔ مرزا غلام احمد سے لے کر آج تک کوئی ایک ایسی بات اگر عمار ناصر صاحب کے علم میں ہو جس کو بنیاد بنا کر ہم مسلمان انھیں اپنے قریب لا کر دین اسلام کی دعوت دے سکیں تو وہ بتائیں۔ دعوت حق تو اسی وقت دی جائے گی جب دعوت حق کا ماحول باقی رہے گا۔ اگر دعوت حق دے کر انھیں قریب لانا اتنا ہی آسان ہوتا تو ہمارے بزرگ یہ کام کرنا جانتے تھے اور انھوں نے یہ کوشش بھی کی جو رائیگاں گئی۔ ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے۔ جب بات حد سے گزر جائے تو پھر اس کا دوسرا علاج کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ پھوڑا اگر کینسر بن جائے تو اسے جسم سے الگ کرنا ہی پڑتا ہے، ورنہ پورے جسم کے ختم ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ جو کچھ ملت اسلامیہ نے قادیانیوں کے ساتھ کیا، یہی علاج بہتر تھا اور جو کچھ قادیانیوں کے ساتھ ہوا، اس کی ذمہ داری مسلمانوں پر نہیں، قادیانیوں پر عائد ہوتی ہے۔ خود کردہ را علاجے نیست۔ قومی اسمبلی جس نے انھیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا، اس کی ساری کارروائی موجود ہے جو میری اس بات کی ایک بین دلیل ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ قادیانیوں نے مسلمانوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا اور کیوں اختیار کیا کہ کوئی ایسی قدر باقی نہ رہی جس کو بنیاد بنا کر ہم وہ کام کر سکتے جس کی خواہش نے عمار ناصر صاحب کی راتوں کی نیند اور دن کا چین ان سے چھین لیا ہے۔
اگر ان تمام باتوں کے باوجود عمار ناصر صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا ممکن تھا، لیکن کیا نہیں گیا تو پھر انھیں ہمارا مشورہ یہی ہے کہ اب وہ خود اس نیک کام کا آغاز کر دیں۔ انھیں کون روک رہا ہے؟ وہ قادیانیوں کے ساتھ معاشرتی، ثقافتی، سیاسی، معاشی تعلقات استوار کرنے کا آغاز کریں۔ کوئی ایسی تنظیم بنا لیں تو زیادہ منظم طریقے سے بھی یہ نیک کام ہو سکتا ہے، لیکن مجھے معلوم ہے کہ وہ یہ کام نہیں کر پائیں گے کہ کہہ دینا تو آسان ہوتا ہے، کر گزرنا مشکل ہے۔
عمار خان ناصر صاحب نے ماہنامہ ’’اجتہاد‘‘ کے صفحہ ۸ پر جن خیالات کا اظہار فرمایا ہے، وہ تو انتہائی قابل اعتراض ہیں جس میں انھوں نے قادیانیت کے خلاف امتناعی قوانین اور توہین رسالت کی سزا کو محض عوامی سطح پر پائے جانے والے جذبات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ اسے ’’یک رخے انداز فکر‘‘ کا نتیجہ بتایا ہے۔ میرے خیال میں جب وہ یہ انتہائی قابل اعتراض سطور تحریر کر رہے تھے تو وہ خود اسی جذباتی کیفیت میں مبتلا تھے جس کا وہ ہمیں طعنہ دے رہے ہیں۔ ان کو اس بات کا علم نہیں کہ ’’جذبہ‘‘ فی نفسہ کوئی بری بات نہیں بلکہ اچھی شے ہے۔ جذبات سے عاری انسان تو ان صفات کا سرے سے متحمل ہی نہیں ہو سکتا جو شخصیت کی تکمیل اور انسان کہلانے کے لیے ضروری اور لازمی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جذبہ مثبت ہے یا پھر منفی۔ یہ دونوں پہلو اگر ساتھ ساتھ رہیں تو جذبہ کار خیر کے لیے ایک تحریک پیدا کرتا ہے۔
آزادی کی مثال سے بات مزید واضح ہوتی ہے۔ آزادی کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک منفی اورایک مثبت۔ منفی پہلو میں ایک فرد کو کچھ کاموں سے روک دیا جاتا ہے اور مثبت پہلو کے ذریعے ایک فرد کو کچھ کاموں کی آزادی ہوتی ہے۔ اگر آزادی کا منفی پہلو نظر انداز کر دیا جائے تو آزادی مادر پدر آزادی میں تبدیل ہو جاتی ہے جس کانقصان پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی طرح اگر جذبہ صحیح جگہ پر صحیح کام کر رہا ہے تو پھر جذبہ مضر نہیں رہتا، کیونکہ اس کا مثبت پہلو منفی پہلو پر غالب رہتا ہے۔ ایسا جذبہ معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے اور اگر جذبہ غلط کاموں کا محرک بن جائے یعنی مثبت پہلو سے ہٹ کر منفی پہلو کو پیش نظر رکھے تو پھر جذبہ مضر ہے۔ اس لیے جناب عمار ناصر صاحب کو سوچنا چاہیے کہ اگر مسلمانوں کے جذبات نے انھیں صحیح کام کرنے پر آمادہ کیا ہے تو یہ کام کوئی غلط کام نہیں تھا جسے نشانہ تنقید بنایا جائے۔
حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اپنی کمان ابوجہل کے سر پر مار کر اسے زخمی کر دیا تھا تو وہاں پر بھی جذبہ ہی تھا جو اس کا محرک بنا اور اگر ابوجہل نے اپنے آخری وقت میں اپنا سر قلم کراتے ہوئے یہ کہا تھاکہ سر ذرا اوپر سے کاٹنا کہ سردار کا سر نیزے پر اونچا نظر آئے تو یہاں بھی جذبہ ہی ہے۔ اب دونوں جذبوں میں جو فرق ہے، وہ واضح ہے۔ اس لیے مسلمانوں نے قادیانیوں کے خلاف جو کچھ بھی کیا، وہ بھی جذبہ ہی ہے، لیکن یہ جذبہ مثبت ہے، منفی نہیں۔ یہ جذبہ حضرت حمزہؓ سے لیا گیا ہے، ابو جہل سے نہیں۔ یہ سب کچھ محض عوامی جذبات نہیں، بلکہ عالم اسلام اس بات کا معتقد ومعترف ہے کہ جو کچھ ہوا، ہونا چاہیے تھا اور قادیانیوں کو ان کی اصل جگہ پر لا کھڑا کرنا ضروری تھا۔ یہ ملت اسلامیہ کی ایک ایسی کامیابی ہے جس پر آنے والی نسلیں ہمیشہ فخر کرتی رہیں گی۔ اب کوئی دعواے نبوت کرے گا تو اسے پھلنے پھولنے کا وہ موقع میسر نہیں آئے گا جو مرزا غلام احمد قادیانی کو آیا۔ یوسف کذاب کی مثال آ پ کے سامنے ہے۔ یہ انھی امتناعی احکامات کا نتیجہ ہے کہ اب قادیانی اسلامی شعائر کو استعمال کر کے بھولے بھالے مسلمانوں کو گمراہ نہیں کر سکتے، اس لیے میری ان سے درخواست ہے کہ وہ ان بھولے بھالے قادیانیوں پر ترس کھانے کے بجائے ان بھولے بھالے مسلمانوں پر ترس کھانا شروع کریں جو قادیانیوں کی تخریب کاری سے اب بھی اس طرح محفوظ نہیں جس طرح ہونا چاہیے کہ اب بھی لالچ، دھوکا، فریب کے طریقوں سے قادیانی مسلمانوں کو اپنے چنگل میں پھنسا لیتے ہیں، اگرچہ امتناع قادیانیت آرڈیننس نے ان کے لیے یہ کام بہت مشکل کر دیا ہے کہ اب شکاری، شکاری کے لباس میں ہے، دین کے مبلغ کے لباس میں نہیں۔
قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کر کے بھی تبلیغ کر سکتے ہیں جیساکہ اس غیر اسلامی ریاست میں دوسرے مذاہب کے لوگ کر رہے ہیں۔ ان کو مسلمان بن کر یا مسلمان کہلا کر مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے دینا کس لحاظ یا کس پہلو سے درست ہے کہ آپ امتناعی قوانین کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ آخر میں ہم جناب عمار خان ناصر صاحب کو اپنے خیالات پر دوبارہ سوچنے کا مشورہ دیتے ہیں کہ ان کی یہ سوچ اکابرکی قربانیوں اور شہداے ختم نبوت کے خون سے غداری کے مترادف ہے جو ایک دینی گھرانے کو زیب نہیں دیتی۔
آپ نے اپنے رسالے میں بھی کسی کے ایک سوال کے جواب میں جو کچھ تحریر کیا ہے، وہ بھی آپ کے انھی خیالات وجذبات کا عکس ہے جن کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔ جواب کا وہ حصہ نذر قارئین ہے:
’’قادیانی قیادت اور ان کے تاویلاتی جال میں پھنس جانے والے عام سادہ لوح مسلمانوں کے مابین جو فرق حکمت دین کی رو سے ملحوظ رکھا جانا ضروری تھا، وہ نہیں رکھا گیا اور عام لوگوں کو ہمدردی اور خیر خواہی سے راہ راست پر واپس لانے کے داعیانہ جذبے پر نفرت اور مخاصمت کے جذبات نے زیادہ غلبہ پا لیا۔ میرے نزدیک قادیانی گروہ کو قانونی طور پر مسلمانوں سے الگ ایک غیر مسلم گروہ قرار دے دیے جانے سے امت مسلمہ کے تشخص اور اس کی اعتقادی حدود کی حفاظت کا مقصد پورا ہو جاتا ہے اور اس کے بعد مسلمانوں کے علما اور داعیوں کی محنت اور جدوجہد کا ہدف اصلاً یہ ہونا چاہیے کہ وہ دعوت کے ذریعے سے ان عام قادیانیوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کریں جن کے حوالے سے قادیانی قیادت کا مفاد بھی یہی ہے کہ وہ مسلمانوں سے الگ تھلگ اور اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ناواقف رہیں اور معلوم نہیں کن ضرورتوں یا مجبوریوں کے تحت ہماری مذہبی قیادت بھی انھیں مسلمانوں سے دور ہی رکھنے کو اپنی ساری جدوجہد کا ہدف بنائے ہوئے ہے۔ ‘‘
اس پر میں اب کیا تبصرہ کروں! انتہائی افسوس کے ساتھ یہ شعر ہی پیش خدمت ہے۔
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
مکاتیب
ادارہ
(۱)
محترم ومکرم جناب زاہدالراشدی صاحب زیدت معالیہ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
الشریعۃ بابت جولائی ۲۰۱۱ء میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری صاحب کے مضمون بعنوان ’’دعوت اللہ کا فریضہ اور ہمارے دینی ادارے‘‘ کی دوسری قسط کا مطالعہ کیا۔ اگرچہ پہلی قسط ابھی تک نظروں سے نہیں گزری، لیکن اسی قسط سے پہلی قسط کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ مولانا محترم کے اس مضمون کا خلاصہ یہ لگتا ہے کہ یہ اُمت دعوت ہے! یہ بات سو فیصدی سچ ہے، لیکن اس بات کو موجودہ عالمی تناظر میں جس انداز سے پیش کیا گیاہے، اُس سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیش کرنے والا نہ صرف جہاد کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کررہا ہے بلکہ اس کو اُمت کی تباہی اور بربادی کا سبب قرار دے رہا ہے۔ سو اس فکر سے ہمیں شدید اختلاف ہے۔ گودعوت اسلام کی توسیع میں اصل کا رگر قوت ہے، لیکن اسلام سمیت کوئی نظریہ اور موقف ایسا نہیں جس کو اپنے مخالفین سے مخالفت بلکہ تصادم کا خطرہ نہ ہو۔ اسلام کتنا ہی فطری اور اپنے ہی ضمیر کی آواز کیوں نہ ہو، لیکن انسانی نفسیات کا یہ مسلمہ تو ہر کسی کو معلوم ہے کہ معاشرے کے جن طبقات کے مقام ومرتبے اور مفادات پر اس کی زد پڑتی ہے، وہ نرے وعظوں اور اخلاقی اپیل سے اس کا راستہ روکنے سے ہر گز باز نہیں آئیں گے۔ کیا نبی کریم علیہ السلام سے بڑھ کر حکیم اور انسانیت کا خیر خواہ نسل آدم میں کوئی ہوگا؟ لیکن اُن کو بھی اسی ضرورت سے ہتھیار اٹھانے پڑے۔ پھر سخت حیرت ہے اُن لوگوں پر جو نبی علیہ السلام کا نام لیتے ہیں اور انھی کے طریقے پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور پھر بھی اسلام کی ایک ایسی ناقابل فہم اور ناقابل عمل تخیلاتی تعبیر پراصرار کررہے ہیں جو چودہ سو سالہ تاریخ میں اسلام کی کسی بھی مستند شخصیت کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی۔
دعوت اور جہاد دونوں اسلام کے اہم ترین ارکان ہیں اور سخت غلطی کر رہے ہیں وہ لوگ جو دعوت کی اہمیت کے بیان میں جہاد کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہاد نے ہمیشہ مسلمانوں کو عزت اور وقعت کا مقام دیا ہے۔ یہ ترک جہاد کا ثمرہ ہے کہ آج ملت اسلامیہ کے لیے کفر کی بدترین غلامی میں سانس لینا مشکل ہو رہا ہے۔ سخت حیرت ہے کہ جہلا نہیں، بڑے بڑے خبردار اور علما قسم کے لوگ اس مہم میں بری طرح جتے ہوئے ہیں کہ اسلام دعوت کا مذہب ہے، جہاد کا نہیں۔ کیا نبی علیہ السلام کی یہ حدیث بھی ان کے پیش نظر نہیں ہے کہ"الجھاد ماض الی یوم القیمۃ‘‘؟ کیا اس میں کسی بھی دور کا استثنا ہے؟ اگر نہیں ہے تو کیوں خواہ مخواہ کھینچ تان کر موجودہ دور کو اس سے نکال رہے ہیں؟ اور کیا یہ حدیث بھی کبھی کانوں سے نہیں ٹکرائی کہ ایک زمانہ آئے جب ’’قرا‘‘ قسم کے لوگ کہیں گے کہ یہ جہاد کا زمانہ نہیں۔ حضورعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب تم ایسی بات سنو تو سمجھ لو کہ وہی جہاد کا زمانہ ہے۔ کسی نے حضور علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا کوئی ایسا بھی ہوگا جو ایسی بات کہے گا؟ آپ نے فرمایا کہ ہا ں وہ شخص جس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو۔ قربان جاؤں اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ؐ کی پیشین گوئیوں کے کہ جو الفاظ آپ نے استعمال فرمائے، وہی الفاظ آج بڑے بڑے دینداروں کے منہ سے بعینہ نکل رہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ یہ جہاد کا زمانہ نہیں ہے۔
قرآن کی آیات اور روایات حدیث سے تو بصراحت جہاد کی سخت ضرورت واہمیت معلوم ہورہی ہے اور ایک دُنیا اچانک جہاد کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ کیا یہ اُس کفر کا ایک مظہر تو نہیں جو عالم اسلام کے چپے چپے میں دکھائی دے رہا ہے؟ عام طور پر کفر اور خصوصاً دورحاضر کا کفر کتنے طریقوں اور حیلوں بہانوں سے ہمارے ذہنوں میں ایسے افکار انڈیل رہا ہے جو اُس کی عالمی بالا دستی اور مسلمانوں کی پستی وتنزل کاسبب بن رہے ہیں اور ہم سب بالخصوص ہمارا دانشوراور روشن خیال طبقہ انہی خیالات کو نئے رنگ وروغن کے ساتھ اُمت مسلمہ میں پھیلا رہا ہے۔ یورپ خود تو خون کی ندیا ں بہارہا ہے اور ہمیں کہہ رہا ہے کہ نظریے کی خاطر ہتھیار اُٹھانا دہشت گردی ہے۔
میں قرآن وحدیث کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں۔ آج کل پشاور کے ایک مدرسے میں پڑھاتا ہوں۔ کسی زمانے میں مختلف رسائل میں تھوڑی بہت لکھنے کی عادت تھی، لیکن عرصہ ہوا یہ سلسلہ چھوٹ گیاہے ، لیکن جہاد کے خلاف اس عالمی مہم نے مجھے سخت بے قرار کردیا ہے۔ ہمارے ہاں تبلیغی جماعت کے ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ چل پھر رہے ہیں۔ ان لوگوں سے دین کے بارے میں بہت توقعات تھیں، لیکن اب یہ دیکھ کر سخت کوفت ہوتی ہے کہ یہ پوری جماعت جو مشرق اور مغرب میں پھیلی ہوئی ہے، اس کے اصاغرواکابر سب بلاتفریق جہاد کے خلاف کمر بستہ ہیں اور جہا د کو فساد باور کرارہے ہیں اور جرات اور بے باکی اس حد تک پہنچی ہے کہ چونکہ قرآن وحدیث سے جہاد کے مضمون کوکھر چا نہیں جاسکتا، سو وہ قرآن وحدیث کے حلقوں کو خاموش اور موقوف کرنے کی شعوری کوششوں میں ہمہ تن مصروف ہیں اور ان کے بارے میں بہت ناگفتنی باتیں بنا رہے ہیں ۔ مثلاً یہ کہ ہم تو جوڑ پیدا کر رہے ہیں اور قرآن توڑ پیدا کررہا ہے۔ آپ بتائیں، یہ کافرانہ باتیں نہیں ہیں؟ قرآن وحدیث کی جگہ تبلیغی نصاب اورفضائل اعمال کو رواج دے رہے ہیں اور جو صریح آیات واحادیث قتال کے بارے میں ہیں، اُن میں سخت مجرمانہ تحریف کرکے بستر اٹھانے پر فٹ کر رہے ہیں۔ قرآن وحدیث سے تھوڑی سی شناسائی رکھنے والا بھی ایمانداری سے کہے کہ یہ اسلام کی خدمت ہے یا کفر کی؟ انگریزوں نے مسلمانوں کے دلوں سے جہاد کا تصور محو کرنے کے لیے ایک جعلی نبوت تیار کی، لیکن وہ مہم کچھ زیادہ کا میاب نہیں ہوسکی۔ اب کی بار اُنہوں نے تیر صحیح نشانے پر مارا ہے۔ مسلمانوں کی ایک عالمی جماعت کو پتہ نہیں، کس طرح سے جہاد کے خلاف کھڑا کیا اور مشرق ومغرب کے ان گنت مسلمان دانشوروں کو اُن کی فکری اور علمی مدد اور نصرت پر لگا دیا۔ یقیناًیہ مہم کسی درجے میں کامیاب ہوگی۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اب جب کہ جہاد کی برکت سے کفر کی کمر ٹوٹنے والی ہے اور مسلمانوں کا دور عروج دستک دے رہا ہے، کافر اور ان کے ایجنٹ یا اسلام کے احمق ترین دوست پورے زورو شور سے جہاد کے خلاف صف بندی کیے ہوئے ہیں۔ آج جہاد کے خلاف مہم چلانا ایسا ہے جیسے مجاہدین اسلام کی پیٹھ میں پیچھے سے چھرا گونپنا۔
مجھے مولانا منصوری سے شخصی تعارف بالکل نہیں۔ آج سے چار پانچ سال پہلے اُن کا ایک مضمون ’الحق‘ اکوڑہ خٹک میں چھپا تھا۔ اُس کو میں نے پڑھا تھا۔ اُس میں اسلام کی احیائی تحریکوں کے خلاف مواد تھا۔ اُس وقت بھی اس مضمون پر شدید تحفظات پیدا ہوئے تھے اور آج پھر اسی فکر کو نئے انداز میں الشر یعہ میں پڑھا۔ اگرچہ اُن کے مضامین میں کام کی باتیں بھی ہوتی ہیں، لیکن اُن کے بنیادی فکر سے ہمیں شدید اختلاف ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ بقول اُن کے اگر اُمت نے ماضی میں دعوت کے کئی مواقع ضائع کرکے نقصان کیا ہے تو آج جہاد کا انکا رکرکے ملت کو اس سے کہیں بڑھ کر نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ آج اُمت کو جہاد کی ضرورت ہے۔ افغانستان اور دُنیا کے بعض دیگر ملکوں میں کفر واسلام کا معرکہ برپاہے۔ اللہ تعالیٰ نے کفر کی عظیم قوتوں اور بالخصوص حیرت انگیز ٹیکنالوجی کی طاقتوں کے توڑ کے لیے تاریخ انسانی کے سب سے زیادہ پر عزم اور پرجوش مجاہدین کو لا کھڑا کیا ہے۔ اب تمام مسلمانوں کو ان مجاہدین کی دامے درمے سخنے مدد کرنی چاہیے، نہ یہ کہ کفر کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دیں۔
الطاف الرحمن بنوی
اُستاد جامعہ امداد العلوم، پشاور صدر
(۲)
ماہنامہ الشریعہ جولائی ۲۰۱۱ء کے ص۱۱ تا ۲۵ پر روشن خیالی سے بھرپور ایک مضمون بعنوان ’’سماجی، ثقافتی اور سیاسی دباؤ اور دین کی غلط تعبیریں‘‘ شائع ہوا ہے جسے پڑھ کر خیال گزرا کہ مولانا وحید الدین خان، جناب ذاکر نائیک، جناب جاوید غامدی اور اسی قبیل کے روشن خیال، جدید مفکرین اور اسکالرز ہی کے تسلسل کا نام حافظ صفوان محمد چوہان ہے۔ مندرجہ بالا دینی اسکالرز سے اختلاف رائے کے باوجود ہمارے دل میں ان کا ادب و احترام ہے۔ ان کے تفرد و تجدد سے قطع نظر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے میدان کی قد آور شخصیات ہیں اور ان کی مثبت خدمات سے انکار کی کوئی صورت ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ حافظ صفوان کس بنیاد پر اپنا قد بڑھانے کے لیے یہ شگوفے چھوڑ رہے ہیں، یہ معاملہ ہماری فکرا ور سوچ سے ماورا ہے۔ گلاب جامن اور رس گلے میں جو زہر چھپا کر انہوں نے اس مضمون کے ذریعے عوام الناس کو دیا ہے، اس کے نتائج انتہائی بھیانک نکلیں گے۔ شراب کی بوتل پر زم زم کا لیبل چپکانا اور سور کے گوشت کو بکری کے گوشت سے تعبیر کرنا، یہ انداز بہت ہی خطرناک و المناک ہے۔
حافظ صفوان کا طریقہ بھی عجیب غریب ہے۔ کبھی تبلیغی جماعت کی آڑ لینا اور کبھی مجلس احرار اسلام کا نام لے کر اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرنا، چہرے پر ڈاڑھی سجا کر اور سر پر ٹوپی اوڑھ کر ڈاڑھی رکھنے اور ٹوپی پہننے والوں کا مذاق اڑانا، یہ تو مرزا غلام احمد قادیانی کے طرز فکر کو اپنانے جیسا فعل ہے۔ فکری و ذہنی انتشار کی عکاس یہ طویل تحریر پڑھ کر صفوان چوہان صاحب کے ژولیدہ فکر ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہا۔ تضادات کا مجموعہ یہ تحریر معلوم نہیں، انہوں نے کس ترنگ میں آ کر لکھی ہے۔ دینی مزاج، دینی ذوق اور دینی انداز فکر رکھنے والوں پر انہوں نے جو دست تطاول دراز کیا ہے، یہ ان کے چرغینہ پن پہ دلالت کرتا ہے۔ انہوں نے جس چترائی سے دینی حلقوں پہ ہاتھ صاف کیا ہے، اسے پڑھ کر ہم انگشت بدنداں رہ گئے کہ یہ وہی حافظ صفوان چوہان ہیں جو پروفیسر عابد صدیق مرحوم جیسے ولی اللہ کے بیٹے تھے، یہ وہی ہیں جو نواسۂ امیر شریعت، سیدذوالکفل بخاری شہید کے دوست تھے، یہ وہی ہیں جنہوں نے تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا، یہ وہی ہیں جنہوں نے ماہنامہ الاحرار کی خصوصی اشاعت میں رئیس المبلغین حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ پر مضمون لکھا تھا؟ یا یہ کوئی روشن خیال اور جدت پسند قسم کے کوئی صفوان چوہان ہیں۔ معلوم نہیں کس کو خوش کرنے کے لیے اور کس سے اشیرباد حاصل کرنے کی خاطر انہوں نے یہ طرز تحریر اپنایا ہے۔
عورتوں کا دکانداری کرنا، عورتوں کا مسجد میں آ کر نماز باجماعت میں شریک ہونا، اس کے دلائل دینا، اسلامی لباس کا تمسخر اڑانا، دینداری کو جہالت سے تعبیر کرنا، دینی و معاشرتی زرّیں اقدار کو دیرینہ اسلامی لطیفہ قرار دے کر ان کا مذاق اڑانا، برقعے اور پردے پہ تنقید، مساجد کو کمیونٹی سنٹرز سے تعبیر کرنا، تحریک آزادی کے نامور رہنماؤں پہ غصہ نکالنا ، سر سید احمد خان کو سیدالقوم، سر آغا خان کو قومی و ملی تاریخ کے ڈیڑھ ہزار سالہ سفر میں آنے والی کہکشاؤں میں سے ایک بڑا نام اور انہیں ستاروں کے لیے نشان راہ قرار دینا، اقبال شکنی، قائد اعظم شکنی اور سر سید شکنی کے نام پر اہل حق سے اظہارِ بے زاری، علمائے حق کے مقام، مرتبہ اور عزت و عظمت پہ تنقیدات، یہ سب آخر کیا ہے اور کس بات کی غمازی کر رہا ہے؟ تحریک آزادی کے نامور قائدین، جمعیت علماء ہند اور مجلس احرار اسلام کے جانفروش رہنماؤں کے متعلق یہ کہنا کہ وہ آج کہاں کھڑے ہیں، آج ان کی کیا عزت ہے، ان کو آج کون جانتا ہے، یہ گھناؤنا انداز اور یہ پھکڑ بازیاں کس مکروہ اور کثیف سوچ کی عکاس ہیں؟
حافظ صفوان چوہان صاحب! سید ذوالکفل بخاری شہید کوئی صدیوں پرانے بزرگ نہیں۔ اُن کی حادثاتی وفات کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ مرحوم نے عرصۂ حیات کسی گمنام مقام پر نہیں گزاراکہ اُنھیں آپ کے علاوہ کوئی جانتا نہ ہو۔ میرے خیال میں آپ اس سے اتفاق کریں گے کہ جتنے انسانوں سے آپ کو ساری زندگی میں ملاقات کا موقع ملا ہے، مرحوم کے صرف مستفیدین کا حلقہ ہی تعداد میں اس سے وسیع تر ہے۔ مرحوم ایک صالح نوجوان تھے، اسکول و کالج بلکہ کسی ماحول میں بھی وہ سر سے ٹوپی نہیں اتارتے تھے۔ ایک بار کلاس ٹیچر نے جب اس حوالہ سے سختی کی تو انہوں نے اپنا سیکشن تبدیل کرا لیا تھا، مگر سر سے ٹوپی اتارنا گوارا نہ کیا۔ آپ اپنا ہودہ و بے ہودہ ان کے نام منسوب کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو یہ واہیات ارشاد فرمانے ہی ہیں تو براہ کرم کسی اور کندھے کو تلاش کیجیے۔ الفاظ آپ کے، سوچ آپ کی اور منسوب کر رہے ہیں سید ذوالکفل بخاری شہید کی طرف! یہ دوست کشی اور محسن کشی کی انتہا ہے۔ کیا اس سے آپ کا انکار ممکن ہے کہ آپ اپنی تحریرات میں ان سے رہنمائی لیتے تھے اور آپ کی باگیں اُنھی کے ہاتھ میں تھیں؟ بلا شبہ اُن کے انتقال کے بعد آپ بے پیر ے ہو گئے ہیں۔
آپ کا یہ فرمانا کہ ’’پتلون کو ٹھیٹھ فرنگی لباس سمجھنا بھی راہ اعتدال سے ہٹ جانا ہے۔ حضرت عمر اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کی اسلامی فوج کے یونیفارم کی وضع یہی رہی ہے۔۔۔۔۔۔ٹائی کو صلیب سمجھنا بھی ایک دیرینہ اسلامی لطیفہ رہا ہے‘‘۔ آپ کے مضمون کی ہر سطر کا ہر لفظ شاہد عدل اور شاہد اہل ہے کہ نہ تو آپ کو مذہب کے بارے میں مطالعے کا موقع ملا ہے اورنہ ہی تاریخ سے آپ کو کچھ مس ہے۔ آپ تو نرے پروفیسرو ڈاکٹر ہیں، بلکہ اب تو اِس دال میں بھی کچھ کالا محسوس ہوتا ہے۔ اب آپ جس راہ اعتدال پہ قوم کو لانے کی سعی لاحاصل کر رہے ہیں، یہ کیا ہے؟ پرویز مشرف اور آپ کی سوچ میں کتنی مماثلت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
’’برقعے والی جھانپو کبوتری‘‘ یہ کیا اصطلاح ہے؟ یہ واہیات لفظ چیخ چیخ کر پکاررہاہے کہ آپ ہی کے دہن شریف سے نکلا ہے اور یہ اصطلاح پیش کر کے برقعہ اوڑھنے والی عورتوں کے لیے آپ کس نئے نام کو متعارف کر وا رہے ہیں؟ آپ کی اس تحریر کو پڑھ کر اگر کل کوئی منچلا کسی برقعہ پوش عورت کو ان الفاظ سے پکارے گا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ آپ ہی ہوں گے! آپ اپنے اس ارشاد گرامی پر بھی غور فرمائیں کہ ’’عورتوں کو برقعے میں اتنا چھپا ہوا نہیں ہونا چاہیے کہ انہیں پہچانا ہی نہ جا سکے‘‘ اور یہ بھی کیا طرفہ ارشاد ہوا ہے کہ ’’برقعے کا مقصد زینت کو چھپانا ہے نہ کہ عورت کی شناخت کو چھپانا‘‘ اور ساتھ ہی فتویٰ بھی دے دیا کہ ’’ شناخت کو چھپانا شرعاً اور قانوناً جرم ہے۔‘‘ شریعت اور قانون میںیہ در اندازی انتہائی واہیات ہے۔ جنابِ من! اپنی حیثیت کا تعین کر لیجیے۔آپ کے جُلسا سے سُنا ہے کہ آپ علم و جہل کے سیاق میں خود ہی بتایا کرتے ہیں کہ آپ کے تو بیٹے کا نام بھی عکرمہ ہے۔ ’’وطن کی محبت میرے ایمان کا حصہ ہے۔ یہ ایک حدیث پاک کے الفاظ ہیں۔‘‘ عربی کے اس مقولہ کو حدیث پاک کے الفاظ قرار دینے کی جرات عکرمہ کے ابو ہی کر سکتے ہیں۔ ’’پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ ہونے والی جماعت‘‘ کا طنز آپ نے کس جماعت پر کیا ہے اور اس جماعت کے ذمہ داران کے ساتھ آپ کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟
آخری التماس آپ سے یہ ہے کہ براہ کرم سید ذوالکفل بخاری شہید کے علوم و افکار کے وارث اور شارح آپ نہ بنیں، اپنے نظریات کے پرچار کے لیے ان کا نام استعمال نہ کریں، امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ کے علوم و افکار کے شارح پروفیسر محمد سرور بنے اور انہیں ایک متنازعہ شخصیت بنا دیا۔ اب آپ سید ذوالکفل بخاری شہید کے شارح بن کر براہ کرم انہیں متنازعہ نہ بنائیں۔وہ بہت محترم انسان تھے۔شہادت کے بعد تو اور زیادہ لائق احترام ہو گئے ہیں۔ آپ اگر ان کا احترام نہیں کر سکتے تو نہ کریں، لیکن ایسی واہیات اور مکروہ باتیں ان کی طرف منسوب کر کے ان کی روح مبارکہ کو اذیت تو نہ پہنچائیں اور اُن کے چاہنے والوں کی دل آزاری بھی نہ کریں۔ اسی میں آپ کا بھلا ہے۔
افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی
خوفِ فسادِ خلق سے ناگفتہ رہ گئے
محمد عکاشہ سرور۔ ہری پور
(۳)
ماہنامہ الشریعہ کے جولائی ۲۰۱۱ء کے شمارے میں ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان کا مضمون نظر سے گزرا۔ حافظ صفوان صاحب نے نماز، زکوٰۃ، حج، صدقہ، اعتکاف سے لے کر لباس، برقعہ، عدت، نکاح، تصویر، کرنسی کی قدر وقیمت اور قرض تک کئی موضوعات کا نہایت خوب صورتی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔ زندگی کے عملی احوال سے متعلق ایسے حساس موضوعات پر ایک ہی مضمون میں حق ادا کرنے کی کوشش بجاے خود قابل تحسین ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ صفوان صاحب نے اپنے مخصوص اسلوب بیان سے قارئین کے دل موہ لیے ہیں۔ ہمارے دوست ڈاکٹر اکرم ورک صاحب بتا رہے تھے کہ انھوں نے اس مضمون کی بنیاد پر اپنی مسجد میں چار دروس دیے ہیں۔ اسی طرح الشریعہ کے ایک او ر قاری نے فرمایا کہ جب سے انھوں نے ’الشریعہ‘ کا مطالعہ شروع کر رکھا ہے، اس وقت سے اب تک یہ مضمون انھیں بہترین مضمون معلوم ہوا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ حافظ صفوان صاحب کا یہ فرمانا بالکل بجا ہے کہ ہمارے معاشرے کے مخصوص طور اطوار نے دین کی غلط تعبیریں دین کے سر منڈھ دی ہیں۔ رمضان المبارک میں روزوں کی کیفیت کو ہی دیکھ لیجیے۔ شاید ہی کوئی مسلمان ہو جو کثرت مواقع کے باوجود چھپ چھپا کر کھا پی لیتا ہو۔ اسی طرح شاید ہی کوئی مسلمان ہو جس کے رویے میں کھانے پینے سے پرہیز کے علاوہ کوئی تبدیلی رونما ہوتی ہو۔ ہم یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جائے گا اور اللہ ناراض ہو جائے گا، لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ جھوٹ بولنے سے، بدنظری سے، بد عنوانی سے، لوٹ مار کرنے سے اور بدکلامی سے بھی روزہ، روزہ نہیں رہتا۔ یہاں بھی دین کی غلط تعبیر کام کر رہی ہے کہ اللہ روزے کے دوران میں کھانے پینے سے تو ناراض ہوتا ہے، لیکن دیگر کرداری امور سے اللہ کو کوئی سروکار نہیں، یعنی عملاً بس کھانے پینے سے پرہیز ہی حقیقی روزہ ہے۔ حافظ صفوان صاحب کے تتبع میں، میں بھی قارئین الشریعہ کے سامنے یہ سوال رکھنا چاہتا ہوں کہ روزہ اپنی اصل روح کے ساتھ ہمارے ہاں آخر کب جلوہ گر ہوگا؟
پروفیسر میاں انعام الرحمن
inaam1970@yahoo.com
(۴)
Brother Ammar Sahib, Assalaam-o-alaikum.
I have read with keen interest the letters of Brothers Izhar and Zahid Mughal. I really appreciate the efforts of Al-Sharia in accommodating different, even opposite, opinions. Arguments are always good, but discussions between various schools of thought are best. I think argument is to find who is right but discussion is to know what is right. Lets say this is the main objective of Al-Sharia. Therefore I cannot endorse what Brother Izhar said about not publishing the views which he thinks are not correct.
However I could not justify the remarks of Brother Zahid Mughal that other people do not understand about science and technology and he is the only person who has perceived the actual understanding of Western or even Greek Philosophy. His own opinion about Western Philosophy or Science may be true according to his knowledge but I have no right to say that he jumps in to draw wrong conclusion without studying basic issues of philosophy of science, theory of knowledge etc.
If I am not bracketed or blended with an Ignorant Muslim or a modern man whose science is the deity, I think distinction can be made between science and technology and their results without the West as a cultural value system, which Mr. Mughal failed or did not like to perceive. I do not wish to horn with anybody over this issue but I see my religion and science as compatible and wish to bring all scientific investigations within the realm of Islam. Rather let me put bluntly that Islam flourish more within a scientific atmosphere than in a closed and one-sided blind society.
I agree that the materialistic philosophy, which set the agenda and goals for Western science and technology, produced corrupted results due to evil intentions. However correct intentions as proffered by Islam would permit the proper use of science and technology. Therefore it is utmost necessary that Muslims should study and use modern science and other social sciences without which I am afraid our future is dark.
M. Anwar Abbasi
anwarabbasi@hotmail.com