توہین رسالت کی سزا پر جاری مباحثہ ۔ چند گزارشات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
توہین رسالت پر موت کی سزا کے بارے میں امت میں عمومی طور پر یہ اتفاق تو پایا جاتا ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے لعین وشقی شخص کی سزاموت ہی ہے، مگر اس کی فقہی اور عملی صورتوں پر فقہاے امت میں اختلاف ہر دور میں موجود رہا ہے کہ مسلمان کہلانے والے گستاخ رسول کو موت کی یہ سزا مستقل حد کی صورت میں دی جائے گی یا ارتداد کے جرم میں اسے یہ سزا ملے گی اور اس کے لیے توبہ کی سہولت وگنجائش موجود ہے یا نہیں؟ اسی طرح غیر مسلم گستاخ رسول کو یہ سزا تعزیر کے طور پر دی جائے گی یا اس کی فقہی نوعیت کچھ اور ہوگی اور ایک ذمی کا عہد اس قبیح جرم کے ارتکاب کے بعد قائم رہ جاتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے؟ ان اختلافی صورتوں پر ہمارے دور کے علماے کرام کے درمیان بھی بحث وتمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف دینی جرائد میں ان عنوانات پر تحقیقی مضامین شائع ہو رہے ہیں۔
’’الشریعہ‘‘ کے آغاز سے ہی ہمارا یہ ذوق اور موقف چلا آ رہا ہے کہ اس نوعیت کے مسائل پر علمی مباحثہ کھلے دل کے ساتھ ہونا چاہیے اور کسی مسئلہ کے تمام پہلو اہل علم کے سامنے رہنے چاہییں تاکہ انھیں راے قائم کرنے میں آسانی ہو۔ ’’الشریعہ‘‘ خود اس قسم کے مباحثوں کا مستقل فورم ہے جس پر ہمیں بعض حلقوں کی طرف سے طعن واعتراض بلکہ بعض مواقع پر طنز واستہزا کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر اس کے باوجود ہم ایسے مسائل پر کھلے علمی وتحقیقی مباحثہ کو ضروری سمجھتے ہیں اور اس کا سلسلہ جاری رکھنے کے موقف وعزم پر قائم ہیں۔
مذکورہ مسئلہ پر ملک کے جن اہل علم نے سنجیدگی سے قلم اٹھایا ہے، ان میں دیگر علماء کرام کے علاوہ مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی، مولانا عبد القدوس خان قارن، مولانا مفتی ڈاکٹر عبد الواحد، مولانا مفتی محمد زاہد، علامہ خلیل الرحمن قادری، ڈاکٹر حافظ حسن مدنی، پروفیسر مشتاق احمد اور حافظ محمد عمار خان ناصر بطور خاص قابل ذکر ہیں اور ہم ان سب حضرات کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے ایک علمی مباحثہ کو آگے بڑھانے کی طرف توجہ دی اور اس میں حصہ لیا، البتہ اس مباحثہ کے حوالے سے راقم الحروف کے کچھ ذاتی تحفظات ہیں جن کی طرف ارباب علم ودانش کو توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔
پہلی گزارش یہ ہے کہ مسلمان کہلانے والے لعین شاتم رسول کے لیے توبہ کی گنجائش کے مسئلہ پر علامہ ابن عابدین شامیؒ نے اب سے پونے دو سو برس قبل خلافت عثمانیہ کے دور میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ چونکہ ارتداد ہے اور کسی بھی مرتد کے لیے توبہ کی گنجائش ہوتی ہے، اس لیے اسے ارتداد کے احکام کے تحت توبہ کا موقع ملنا چاہیے اور متقدمین حنفی فقہا کا موقف بھی ابن عابدین شامیؒ کے بقول یہی ہے۔ حالیہ مباحثہ میں ہمارے ایک فاضل دوست نے اسے علامہ شامی کا ’’تسامح‘‘ قرار دیا ہے اور دوسرے فاضل دوست نے اسے ’’مغالطہ‘‘ کہہ کر علامہ شامی کے موقف کو پس منظر میں لے جانے کی کوشش کی ہے۔
راقم الحروف کے نزدیک یہ بات درست نہیں ہے، اس لیے کہ علامہ شامیؒ نے یہ بات چلتے چلتے کسی جگہ سرسری انداز میں نہیں کی، بلکہ اسے مستقل موضوع بحث بنا کر اس پر کلام کیا ہے اور اس پر تفصیلی دلائل پیش کیے ہیں۔ مثلاً انھوں نے ’’شرح عقود رسم المفتی‘‘ میں لکھا ہے کہ بعض مسائل عام طور پر احناف کے موقف کے طور پر مشہور ہو گئے ہیں، حالانکہ وہ احناف کا موقف نہیں ہیں۔ ان میں علامہ شامی نے یہ مسئلہ بھی ذکر کیا ہے کہ مشہور یہ ہے کہ احناف کے ہاں شاتم رسول کے لیے توبہ کی گنجائش نہیں ہے، مگر صحیح بات یہ ہے کہ احناف اسے ارتداد سمجھتے ہیں اور مرتد کے لیے توبہ کی گنجائش موجود ہے۔ پھر علامہ شامی نے اپنی کتاب ’’العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ‘‘ میں یہ مسئلہ بیان کیا اور اس پر اس وقت کے مفتی حمص علامہ عبد الستار آفندیؒ نے کچھ اشکالات پیش کیے تو ان کے جواب میں علامہ شامیؒ نے ’’تنبیہ الولاۃ والحکام‘‘ کے نام سے مستقل رسالہ لکھا جس میں انھوں نے پوری وضاحت اور دلائل کے ساتھ یہ موقف پیش کیا ہے۔ یہ بات بطور خاص قابل توجہ ہے کہ علامہ شامیؒ نے، جو خلافت عثمانیہ کے دور میں احناف کے سب سے بڑے ترجمان اور مفتی تھے، حتیٰ کہ گزشتہ ڈیڑھ صدی سے ہمارے ہاں پاکستان، بنگلہ دیش، برما اور بھارت پر مشتمل پورے خطے میں حنفی مفتیان کرام (دیوبندی اور بریلوی دونوں) کے فتاویٰ کا سب سے قریبی اور بڑا ماخذ وہی چلے آ رہے ہیں، انھوں نے یہ رسالہ ’’تنبیہ الولاۃ والحکام‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خلافت عثمانیہ کے حکام سے مخاطب ہیں اور قانون سازی اور حکومتی پالیسی کے حوالے سے ان کی راہ نمائی کر رہے ہیں۔
علامہ شامی نے اپنے موقف کی حمایت میں جو تفصیلی دلائل دیے ہیں، وہ اس رسالہ میں پڑھے جا سکتے ہیں، مگر ہم اس سلسلے میں تفصیلات میں جانے کی بجائے صرف دو تین حوالوں کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ شامی اپنے موقف میں تنہا نہیں ہیں، بلکہ بعض اکابر ائمہ احناف کی صریح حمایت بھی انھیں حاصل ہے۔ مثلاً امام ابو یوسفؒ نے کتاب الخراج ص ۱۸۲ میں لکھا ہے کہ جو مسلمان جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرے، وہ کافر ہو جاتا ہے اور اس کی بیوی اس سے بائن ہو جاتی ہے، فان تاب والا قتل، اگر وہ توبہ کر لے تو فبہا، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے۔ اسی طرح امام طحاوی نے بھی مختصر الطحاوی ص ۲۶۲ میں یہی موقف بیان کیا ہے کہ ہمارے نزدیک ایسا شخص مرتد ہے اور اس پر مرتد کے تمام احکام لاگو ہوں گے، جبکہ امام طحاوی ص ۲۵۸ پر مرتد کے احکام بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’فان تاب والا قتل‘، اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسے قتل کیا جائے گا۔
یہ تو ائمہ احناف ہیں اور اگر اس سے ذرا پیچھے اور اوپر کی طرف نظر ڈالیں تو امام القیم نے زاد المعاد ج ۵ ص ۶۰ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بھی یہی موقف ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ:
ایما مسلم سب اللہ ورسولہ او سب احدا من الانبیاء فقد کذب برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہی ردۃ یستتاب فان رجع والا قتل
مجھے اس پر اصرار نہیں ہے کہ آپ یہ موقف ضرور قبول کر یں۔ آپ کو اس سے اختلاف کا حق ہے۔ اگر آپ دوسرے فقہاے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے دلائل پر اطمینان رکھتے ہیں تو اسے ترجیح دیں، لیکن ابن عابدینؒ کے موقف کو، جس پر انھوں نے تفصیلی دلائل دیے ہیں اور جس میں انھیں امام ابو یوسفؒ ، امام طحاویؒ اور سب سے بڑھ کر حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی صریح حمایت حاصل ہے، اسے ابن عابدین کا تسامح یا مغالطہ قرار دے کر اس کی علمی اہمیت کو کم کرنے کا آپ کو بہرحال حق حاصل نہیں ہے۔
دوسری گزارش یہ ہے کہ ہمارے ایک انتہائی عزیز فاضل نے ابن عابدین شامی کے اس موقف کی حمایت کو ’’حنفیت کے نام پر غامدیت کی ترجمانی‘‘ کے عنوان سے تعبیر کیا ہے جو خلاف واقعہ اور علمی دیانت کے خلاف ہے۔ جہاں تک جاوید احمد غامدی صاحب کا تعلق ہے، میں خود ان کے ناقدین میں سے ہوں۔ ان کے طرز استدلال واستنباط اور ان کے بعض نتائج فکر دونوں سے میں نے اختلاف کیا ہے اور اس پر نقد کیا ہے۔ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ، روزنامہ اوصاف اسلام آباد اور روزنامہ پاکستان لاہور میں اس سلسلے میں میرے ایک درجن کے لگ بھگ مضامین شائع ہو چکے ہیں جو کتابی مجموعہ کی صورت میں الگ بھی طبع ہوئے ہیں، لیکن زیر بحث مسئلہ میں ’’غامدیت‘‘ کے حوالے سے گفتگو قطعی طور پر غیر متعلق ہے اور میں یہ بات نہیں سمجھ پایا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس، امام ابو یوسف، امام طحاوی اور ابن عابدین شامی کے موقف کو ’’غامدیت‘‘ قرار دینے سے ان بزرگوں کے موقف کا استخفاف مقصود ہے یا غامدی صاحب کو یہ کہہ کر حوصلہ دلایا جا رہا ہے کہ وہ پریشان نہ ہوں، ان کا اختیار کردہ موقف اس قدر موثر بلکہ موثر بہ ماضی ہے کہ ان کی ولادت سے ایک ہزار سال پہلے کے ائمہ بھی ان کی حمایت کر کے گئے ہیں۔
غامدی صاحب کا جو موقف ماضی کے مسلمہ اہل علم سے مختلف ہے یا شریعت کے مسلمہ اصولوں کے منافی ہے، اس پر ضرور تنقید کیجیے۔ میں خود ان کے اور ان کے رفقاے فکر کے مختلف مضامین پر نقد کر چکا ہوں، لیکن اگر وہ ماضی کے مسلمہ اہل علم کی کسی بات کو اپنے موقف کے طور پر پیش کرتے ہیں تو اسے ’’غامدیت‘‘ سے تعبیر کرنا علمی اور اخلاقی دونوں حوالوں سے محل نظر ہے۔ میں اس لہجے میں بات کرنے کا عادی نہیں ہوں، لیکن اگر یہ لہجہ ضروری سمجھ لیا گیا ہے تو میں اسے ’’غامدیت کے طعنے کی آڑ میں ائمہ احناف کے موقف کا استخفاف‘‘ قرار دینے کو ترجیح دوں گا جو بہرحال کسی صاحب علم کے شایان شان نہیں ہے۔
تیسری گزارش یہ کرنا چاہوں گا کہ اختلاف راے کے مختلف دائرے ہیں اور ہر دائرے کے الگ الگ احکام ہیں۔ مثلاً (۱) تکفیر (۲) تضلیل (۳) تفسیق (۴) تجہیل (۵) تخطۂ اور (۶) ترجیح کے مستقل دائرے ہیں جن کے الگ الگ تقاضے اہل علم کے ہاں مسلم ہیں اور ہر دور میں ان کا احترام کیا جاتا رہا ہے، مگر ہم نے ان مختلف دائروں کو اس طرح آپس میں گڈمڈ کر رکھا ہے کہ کچھ پلے نہیں پڑتا کہ کون صاحب کس دائرے کی بات کر رہے ہیں اور بسا اوقات
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
کی کیفیت نظر آنے لگتی ہے۔ بات راجح ومرجوح کی ہوتی ہے اور ہم ناسخ ومنسوخ کے لہجے میں بات کر رہے ہوتے ہیں، زیر بحث مسئلہ تعبیر وتشریح کا ہوتا ہے مگر ہم تکفیر وتضلیل کے ہتھیار اٹھا کر اس کا تیا پانچہ کرنا شروع کر دیتے ہیں اور صورت مسئلہ صواب وخطا کے دائرے کی ہوتی ہے، مگر اسے حق وباطل کا معرکہ بنائے بغیر ہماری تسلی نہیں ہوتی۔ مثلاً شاتم رسول کے لیے توبہ کی گنجائش کے زیر بحث مسئلہ کو لیجیے۔ اگر اس میں متاخرین فقہا ے احناف رحمہم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو بھی لے لیا جائے کہ توبہ کی گنجائش نہیں ہے اور شاتم رسول کو ہر صورت میں قتل ہی کیا جائے گا، بلکہ اس کے ساتھ حضرت امام محمد کی طرف منسوب ایک قول بھی شامل کر لیا جائے تو بھی زیادہ سے زیادہ بات یہ ہوگی کہ احناف کے ہاں یہ راجح ومرجوح کا مسئلہ قرار پائے گا اور فقہاے زمانہ کے لیے دونوں طرف کی گنجائش موجود ہوگی کہ وہ اپنے دور کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق ان میں سے کسی ایک کو اختیار کر لیں، لیکن ہمارے ہاں یہ بحث کفر واسلام کے معرکہ کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے اور اختلاف کرنے والوں کے لیے ہمارے پاس لادینیت اور گمراہی سے کم کوئی فتویٰ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ کوئی بھی بات جس درجہ اور سطح کی ہو، اسے اسی دائرے میں رکھا جائے تو اس کا حسن اور وزن دونوں ہر صاحب نظر کو محسوس ہوتے ہیں، لیکن اگر طعن وتشنیع اور الزام تراشی کے تیز مسالوں کے ساتھ اسے چٹخارہ دار بنانے کی کوشش کی جائے تو اس کا حسن اور وزن، دونوں ان چٹخاروں میں گم ہو کر رہ جاتے ہیں۔
چوتھے نمبر پر یہ عرض ہے کہ مجھے محترم ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب کے اس ارشاد سے ایک حد تک اتفاق ہے کہ جب جمہوری اصولوں کے مطابق ایک مسلمان ملک کے مسلمان باشندوں کو اپنے مذہبی جذبات کے تحفظ کے لیے قانون بنانے کا حق حاصل ہے اور مذہبی حقوق کی خلاف ورزی کو جرم قرار دے کر اس کے سدباب کے لیے ان کا، سزاے موت مقرر کرنا ہر لحاظ سے جمہوری اصولوں کے مطابق ہے اور اس سزا کی شرعی بنیادیں بھی موجود ہیں اور حالات میں کوئی ایسی تبدیلی بھی نہیں آئی جو خود کسی ترمیم کا تقاضا کرتی ہو اور نہ ملک کے مذہبی وابستگی رکھنے والوں کی طرف سے کسی ترمیم کا مطالبہ ہوا ہے تو پھر الگ تحقیق لانے کی کیا ضرورت ہے، جبکہ ملک کے جمہور مسلمانوں کو اس تحقیق کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ تو حسب حال قانون بنا چکے ہیں اور اس پر وہ مطمئن بھی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب موصوف کے اس ارشاد کی فی الجملہ تائید کرتے ہوئے گزار ش ہے کہ میرے نزدیک اس مسئلے پر غور وخوض اور بحث کا اصل دائرہ یہی ہے کیونکہ یہ مسئلہ حق وباطل کا نہیں، بلکہ ترجیحات کا ہے او رشرعی دلائل کے تقابل کا نہیں، بلکہ حکمت عملی کا ہے، کیونکہ فقہاے کرام دونوں طرف موجود ہیں اور دلائل بھی دونوں کے پاس وافر ہیں۔ اصل غور طلب بات یہ ہے کہ آج کے دور میں تحفظ ناموس رسالت کی معروضی کشمکش اور مصلحت عامہ کی صورت حال کیا ہے؟ اس لیے اس بات پر بحث کی ضرورت ہے کہ امت مسلمہ کی موجودہ صورت حال، آج کے عالمی تناظر میں حق وباطل کے عالمی معرکہ، تحفظ ناموس رسالت کے ناگزیر تقاضوں اور مغرب کی فکری وثقافتی یلغار کا راستہ روکنے کے لیے آج کے حالات میں کون سا موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے؟
دونوں میں سے جو موقف بھی آپ اختیار کریں گے، وہ شرعی موقف ہی ہوگا کیونکہ فقہاے کرام کے علمی وفقہی اختلافات میں حسن وکمال کا ایک خوب صورت پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ وقت کے تقاضوں اور حالات کی ضروریات کے مطابق آپ کے پاس گنجائش موجود رہتی ہے کہ آپ مصلحت عامہ اور ملی مفاد کی خاطر ان میں سے کوئی موقف بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ اس لیے اپنے ہی بزرگوں اور اسلاف میں سے کسی کے اختیار کردہ موقف کو باطل ثابت کرنے کی بے محل بحثوں میں الجھے رہنے کی بجائے اپنی علمی صلاحیتیں اور توانائیاں یہ واضح کرنے پر صرف کریں کہ آج جس انداز میں مغرب کی ثقافتی یلغار ہماری دینی اقدار اور ملی روایات کو پامال کرنے میں مصروف ہے، توہین رسالت کا مسئلہ نارمل صورت حال میں رہنے کی بجائے مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلنے کی عالمی مہم کی صورت اختیار کر گیا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ مسلمانوں کی بے لچک جذباتی وابستگی کو جس شرم ناک طریقے سے چیلنج کیا جا رہا ہے، اس کا منطقی تقاضا یہ ہے کہ گستاخ رسول کی سزا کو سخت سے سخت کیا جائے اور اس معاملہ میں کوئی لچک روا نہ رکھی جائے، جبکہ بہت سے فقہا کے ہاں حکومت وقت کو سیاستاً حد سے بھی زیادہ سخت اور سنگین سزا مقرر کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس سادہ اور واضح استدلال کے ہوتے ہوئے توہین رسالت پر سزاے موت کے حوالے سے غیر ضروری فقہی اور فنی مباحث میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا باقی رہ جاتی ہے؟
توہین رسالت کی سزا: ایک اجتہادی و اختلافی مسئلہ
مولانا حافظ صلاح الدین یوسف
(۱۹۸۷ء تا ۱۹۹۰ء میں وفاقی شرعی عدالت میں توہین رسالت کی سزا پر بحث کے دوران میں عدالت کے فاضل مشیر جناب مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صاحب نے عدالت کے سامنے جو بیان دیا، اس کا ایک حصہ محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ کی کتاب ’’ناموس رسول اور قانون توہین رسالت‘‘ کے شکریے کے ساتھ یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔ مدیر)
جہاں تک اس مسئلے میں مذاہب کے اختلاف کا معاملہ ہے، اس سلسلے میں عرض ہے کہ جمہور کا مسلک تو وہی ہے جس کا اثبات ابن تیمیہ نے ’’الصارم المسلول‘‘ میں کیا ہے، تاہم اس میں کچھ اختلاف بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ راقم نے بھی اپنے مقالے میں اول الذکر نقطہ نظر کو زیادہ اہمیت دی ہے، لیکن کل کی بحث سن کر احساس ہوا کہ علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ اسے بھی بیان کیا جائے کیونکہ اس دوسرے نقطہ نظر کا تقریباً انکار کر دیا گیا ہے۔
یہ اختلاف فقہاے احناف کا ہے جن کا مذہب یہ ہے کہ سب رسول کا مرتکب اگر مسلمان ہے تو اسے توبہ کا موقع دیا جائے گا اور اگر ذمی ہے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ سب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نقض عہد نہیں ہوگا۔ (اس کے لیے ملاحظہ ہو ہدایہ، کتاب السیر، باب الجزیہ۔ فتح القدیر لابن الہمام، باب مذکور۔ الصارم المسلول ص ۳۰۲-۳۱۳۔ احکام اہل الذمۃ لابن القیم، ج ۲، ص ۸۱۰۔ المحلیٰ، آخری جلد، مسئلہ ۱۳۱۲، باب حکم من سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ فتح الباری، کتاب استتابۃ المرتدین، باب ۴، ص ۳۰۸، مطبوعہ مصطفی بابی الحلبی، ۱۹۵۹ء۔ عبارت فتح الباری: ان کان ذمیا عزر وان کان مسلما فہی ردتہ۔ نیل الاوطار ج ۷، آخری باب، طبع منیریہ مصر)
صحیح بخاری سے حنفی مذہب کی تائید
دلچسپ بات یہ ہے کہ حنفی مذہب میں ذمی کے بارے میں جو کہا گیا ہے کہ اسے قتل نہیں کیا جائے گا، اس کا اثبات ہدایہ میں علامہ ابن الہمام نے صحیح بخاری کی ان روایات سے کیا ہے جن میں آتا ہے کہ یہودی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو السلام علیک کہنے کی بجائے السام علیک کہتے اور انھی احادیث [سے] امام بخاری نے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر کسی مسلمان یا ذمی نے سب رسول کا ارتکاب صراحتاً نہیں بلکہ تعریضاً کیا ہے تو اس کا کیا حکم ہے۔ اس باب سے امام بخاری اور فقہاے احناف نے یہ استدلال کیا ہے کہ سب رسول اگر صراحتاً نہیں، تعریضاً ہے تو اس کا مرتکب واجب القتل نہیں ہے۔ یہ مسلک دلائل کی رو سے کیسا ہے؟ اس پر بحث کی جا سکتی ہے، لیکن اس کا انکار علمی دیانت کے منافی ہے۔
جب اس مسئلے میں اختلاف ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بہت سے لوگوں نے اس کو اتفاقی مسئلہ کیوں لکھا ہے، جیسا کہ امام شوکانی کے حوالے سے بھی گزر چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسئلہ جب زیادہ اہمیت کا حامل ہو تو اسے زیادہ سے زیادہ اتفاقی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، حتیٰ کہ بعض دفعہ اختلافی نقطہ نظر کو بالکل نظر انداز کر کے اتفاق واجماع کا دعویٰ کر دیا جاتا ہے اور جزوی اختلافات کا ذکر نہیں کیا جاتا، جیساکہ متعدد مثالیں اس کی کتب فقہ سے پیش کی جا سکتی ہیں۔ اور بعض دفعہ کسی فعل کی شناعت وقباحت کو زیادہ سے زیادہ بیان کرنے کے لیے بھی ایسا کیا جاتا ہے۔ سب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شناعت وقباحت تو محتاج بیان ہی نہیں۔ اسی کیفیت کو نمایاں کرنے کے لیے اختلاف کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں جن علما نے یہ لکھا ہے کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو توبہ کا موقع دیے بغیر قتل کر دیا جائے، اگر اس کو محمول کر لیا جائے اس شخص پر جو کنایتاً نہیں بلکہ سب صریح کا ارتکاب کرتا ہے، جس میں ظاہر ہے کہ اس کی نیت بالکل واضح ہے، اس لیے ایسے شخص کو من غیر استتابۃ قتل کر دیا جائے اور اس کے برعکس صورتوں میں توبہ کا موقع دیا جائے، یہ تطبیق کی ایسی صورت ہے کہ جس سے متعارض دلائل میں توافق وتطابق ہو جاتا ہے، کیونکہ راقم اب تک کی پوری بحث کی سماعت میں شریک رہا ہے اور وہ دیکھتا آ رہا ہے کہ متعارض دلائل کی رو سے فاضل عدالت کے ذہن میں ایک اشکال چلا آ رہا ہے جسے پورے زور بیان کے باوجود دور نہیں کیا جا سکا ہے اور وہ اشکال یہی ہے کہ بعض آیات وواقعات حدیث سے توبہ کا موقع دینے کا جواز نکلتا ہے اور بعض سے ا س کے برعکس ثبوت مہیا ہوتا ہے۔ تو کیوں نہ ان احادیث کو جن میں من غیر استتابۃ قتل کا ذکر ہے، سب صریح پر یا بار بار اس کا اعادہ کرنے والے پر محمول کر لیا جائے اور جن احادیث میں تعریضاً سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قتل کا حکم نہیں دیا گیا، وہاں دیگر دلائل شرعیہ کے اقتضا کے مطابق قصد ونیت کو بھی دیکھا جائے کہ ’انما الاعمال بالنیات‘ سے ٹکراؤ نہ رہے اور صفائی کا بھی پورا موقع دیا جائے اور محض واہمے اور مفروضے پر سزا سے اجتناب کیا جائے کہ یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ ادرء وا الحدود عن المسلمین ما استطعتم فان وجدتم للمسلم مخرجا فخلوا سبیلہ فان الامام ان یخطئ فی العفو خیر من ان یخطئ فی العقوبۃ (عن عائشۃ، الجامع الصغیر للسیوطی مع شرح فتاویٰ، ج ۱، ص ۲۱، طبع مصر، ۱۹۵۴ء، صححہ الحافظ السیوطی)
پاکستان کا قانون توہین رسالت اور فقہ حنفی
مولانا مفتی محمد زاہد
توہینِ رسالت کے قانون کو ختم یا اس میں تبدیلی کرنے کی جو کوشش نظر آرہی تھی اور جس کے پیچھے ایک خاص لابی بھی موجود تھی جو ہمیشہ پاکستانی عوام کے احساسات وجذبات کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہے، یہ کوشش تو دینی جماعتوں کے باہمی اتحاد اور عوام کو متحرک کرنے کی صلاحیت دکھانے سے دم توڑ گئی ہے۔ اس پر یقیناًیہ جماعتیں اور عوام تبریک کے مستحق ہیں۔ اس مسئلے پر گرما گرمی کے دوران میں نے ایک نجی مجلس میں یہ بات عرض کی کہ موجودہ ماحول سے قطع نظر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ۱۹۵ سی کے متعدد پہلو علمی وفقہی لحاظ سے غور کے متقاضی ہیں، نارمل حالات میں علما کو ان پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اس پر ایک طالب علم نے سوال کیا کہ کیا نارمل حالات میں علما کو غور کی فرصت ملے گی؟ یہ سوال میرے ذہن کے ساتھ چپک کر رہ گیا ہے اور ابھی تک میرے دماغ میں گدگدی کر رہا ہے۔ دوسری طرف اس مسئلے پر عوامی اجتماعات میں جو طرزِ گفتگو اختیار کیا گیا یا کرنا پڑا، اس کی وجہ سے یہ تاثر عام ہو گیا ہے کہ یہ قانون ہماری قانون کی کتاب پر جس انداز سے موجود ہے، اسی طرح سے یہ اجماعی اور قطعی ہے جس میں کسی پہلو میں نہ تو فقہا کے درمیاں کوئی اختلاف موجود ہے اور نہ ہی کسی اختلاف کی گنجائش۔ عامۃ الناس سے لے کر اچھے خاصے پڑھے لکھوں تک بہت سے لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں، جبکہ کسی شرعی مسئلے کی درست حیثیت واضح کرنا اہل علم کی ذمہ داری ہے ۔ اس لیے خیال ہوا کہ فقہی عبارات اور اصطلاحات سے بوجھل کیے بغیر عام قاری کے لیے کم از کم فقہ حنفی کی پوزیشن اس مسئلے پر واضح کردی جائے جس پر یہاں کے مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت عمل پیرا ہے۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ فقہ حنفی میں کیا شاتمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا موت ہے اور یہی متعین سزا ہے تو جواب اثبات میں ہوگا ۔ لیکن دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ اس سزا کی فقہ حنفی میں نوعیت کیا ہے؟ یہ سوال بھی کم اہم نہیں ہے ، اس لیے کہ یہ سزا کہاں لاگو ہوگی اور کہاں نہیں، اس کا فیصلہ اسی سوال کے جواب سے ہوگا۔ فقہِ حنفی کے ایک طالب علم کے لیے یہ بات واضح ہے کہ یہ متعین سزا در حقیقت ارتداد کی سزاہے۔ یہی وجہ ہے کہ حنفی کتب میں اس سزا کا تذکرہ عموماً کتاب الحدود کی بجائے کتاب الجہاد کے باب المرتد میں ملتاہے۔ فقہ حنفی سے واقفیت رکھنے والے کے لیے یہ بات حوالہ جات کی محتاج نہیں ۔ سزا کی نوعیت کے اس تعین کے بعد اس پر چند اثرات خود بخود مرتب ہو جاتے ہیں اور ان اثرات کی تصریح بھی فقہ حنفی کی کتب میں موجود ہے، لیکن چونکہ یہ سطور ایک عام قاری کو مد نظر رکھ کرلکھی جارہی ہیں، اس لیے یہاں عبارات پیش کرنے سے گریز کیا جارہاہے۔ ( اہلِ علم کے لیے الشریعہ گوجرانوالہ میں مارچ ۲۰۱۱ء میں شائع ہونے والے مولانا مفتی محمد عیسیٰ صاحب گورمانی اور جناب پروفیسر مشتاق احمد صاحب کے مضامین کا مطالعہ مفید ہوگا)۔
(۱) جب یہ طے ہوگیا کہ یہ سزا ارتداد کے زمرے میں آتی ہے تو یہ بات بھی خود بخود طے ہوجاتی ہے کہ اس سزا کا اطلاق اسی شخص پر ہوگا جو پہلے سے مسلمان ہو۔ جو پہلے سے ہی غیر مسلم ہو، وہ ظاہر ہے کہ مرتد نہیں کہلا سکتا، اس متعین سزا کا اطلاق اس پر نہیں ہوگا۔ غیر مسلم اگر ایسا فعل کرتا ہے تو اس کے ساتھ کیا جائے گا، اس کا جواب ہم آگے چل کر ذکر کریں گے۔
(۲) چونکہ یہ سزا ارتداد کے طور پر دی جارہی ہے، اس لیے جس بات پر یہ سزا دی جائے، اس میں ان تمام احتیاطوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوگا جو فقہا کے نزدیک کسی شخص کو کافر اور مرتد قرار دینے کے لیے ضروری ہیں۔
(۳) مرتد کے بارے میں فقہ حنفی کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اگر وہ توبہ کرلے تو اس کی توبہ نہ صرف یہ کہ قبول کی جاتی ہے بلکہ قاضی کی یہ ذمہ داری ہے کہ اسے توبہ کی تلقین کرنے کا انتظام کرے اور اسے اس کا موقع دے۔
ہمارے ہاں جلسے جلوسوں میں جوشِ خطابت میں یہ بات کثرت سے کہی گئی ہے کہ اس جرم کی کوئی توبہ نہیں اور کسی انسان کو توبہ کی بنیاد پر یہ سزا معاف کرنے کا اختیار نہیں اور یہ کہ یہ بات امت میں ہمیشہ سے مسلمہ چلی آرہی ہے، جبکہ توبہ قبول نہ کرنے کا نقطۂ نظر بعض فقہا نے اختیار ضرور کیا ہے، لیکن فقہ حنفی کا یہ نقطۂ نظر ہر گز نہیں ہے۔ علامہ ابن عابدین شامی ؒ کی شخصیت سے فقہ حنفی کا کوئی بھی طالب علم ناواقف نہیں ہوسکتا ۔ ان کی کتابوں سے حنفی اہل افتا کے ہاں سب سے زیادہ استفادہ کیا جاتاہے۔ انہوں نے اپنی متعدد کتب میں مسئلے کے اس پہلو پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ اہلِ علم ان کی کتاب رد المحتار کے باب أحکام المرتدین اور توہین رسالت کے مسئلے پر ان کے مشہور رسالے ’’ تنبیہ الولاۃ والحکام‘‘ ( جو مجموعہ رسائل ابن عابدین میں شامل ہے) کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔
نویں صدی ہجری کے ایک حنفی عالم البزازیؒ (وفات: ۸۲۷ھ) نے سب سے پہلے یہ بات لکھی کہ اگر کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو نے کے بعد سچے دل سے توبہ کرلیتا ہے اور آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کا وعدہ کرتاہے، تب بھی اس کی سزا معاف نہیں ہو گی۔ بزازی کے بعد آنے والے بعض حضرات نے بھی ان کی یہ بات اسی طرح سے نقل کر دی، لیکن علامہ شامی ؒ نے البزازی کی اس بات پر شدید رد کیاہے اور یہ بتایا ہے کہ ان سے پہلے فقہ حنفی کا نقطۂ نظر، خواہ وہ کسی حنفی عالم نے بیان کیا ہو یا غیر حنفی نے، سب نے یہی بتایا ہے کہ فقہ حنفی کے مطابق شاتم رسول کی توبہ قابل قبول ہے۔ فقہ شافعی کا نقطۂ نظر بھی حنفیہ کے قریب قریب ہے۔ فقہ مالکی اور فقہ حنبلی میں بھی ایک ایک قول یہی ملتاہے۔ اہل علم مسئلے کی علمی تفصیل تو مذکورہ حوالوں میں دیکھ سکتے ہیں، البتہ یہاں امام ابوحنیفہؒ کے براہِ راست شاگرد امام ابو یوسف ؒ کی عبارت کا ترجمہ ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتاہے۔ وہ فرماتے ہیں:
’’جو مسلمان مرد بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہے ، آپ کی تکذیب کرے ، آپ کی عیب جوئی کرے یا آپ کی تنقیص کرے تو اس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا۔ اس کی بیوی اس سے جدا ہوجائے گی ۔ اگر وہ توبہ کرلے تو ٹھیک وگرنہ اسے قتل کردیا جائے گا۔ یہی حکم عورت کاہے، تاہم امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک عورت کو (توبہ نہ کرنے کے باوجود بھی ) قتل نہیں کیا جائے گا۔‘‘ ( کتاب الخراج ص۱۸۲ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی)
یاد رہے کہ کتاب الخراج در حقیقت امام ابو یوسف کا خلیفہ ہاورن الرشید کے نام خط ہے، اس لیے اس میں جو کچھ وہ تحریر فرمارہے ہیں، اس کی مخاطب ریاست ہے۔
بہر حال شاتمِ رسول کی توبہ قبول نہ ہونے کا قول بزازیؒ سے پہلے حنفیہ میں سے کسی نے ذکر نہیں کیا۔ گویا نویں صدی ہجری تک فقہ حنفی میں اس بات کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔ پھر بزازی ؒ نے جو کچھ لکھا ہے، اس کے بارے میں علامہ شامی نے تفصیل سے ثابت فرمایا ہے کہ یہ کوئی باقاعدہ ان کی رائے نہیں ہے بلکہ انہیں بعض عبارات کے سمجھنے میں شدید غلطی ہوگئی ہے۔ تاہم فقہ حنفی ہی کی معروف کتاب ’’الدر المختار‘‘ ( ج۴ص ۲۳۶) میں یہ ذکر کیا ہے کہ ۹۴۴ھ میں یہ امرِ سلطانی جاری ہوا تھا کہ اگر مجرم کی توبہ سچی معلوم ہو، پھر تو حنفیہ کے مذہب پر عمل کرتے ہوئے توبہ قبول کرلی جائے اور سزاے موت کی بجائے قید وغیرہ تعزیری سزا پر اکتفا کیا جائے اور اگر ایسا شخص ہو جس سے خیر کی کوئی توقع نہ ہو ، توبہ محض بہانہ ہو (جس کا پتا اس جرم کے تکرار سے بھی چل سکتاہے) تو فقہ حنفی کے علاوہ بعض دیگر فقہا کے قول پر عمل کرتے ہوئے اس کی توبہ قبول نہ کی جائے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ۱۹۹۰ء میں اس مسئلے پر وفاقی شرعی عدالت کے معروف فیصلے، جس کی روشنی ہی میں پارلیمنٹ نے اس جرم پر عمرقید کی سزا کو حذف کرکے صرف سزائے موت کو برقرار رکھا تھا، میں بھی اس بات کی صراحت ہے کہ عدالت میں پیش ہونے والے متعدد اہل علم نے بھی یہی موقف اختیار کیا تھا کہ اس قانون میں توبہ کا موقع ملنا چاہیے۔ ان علما میں دیوبندی مکتبِ فکر سے دارالعلوم کراچی کے شیخ الحدیث مولانا سبحان محمودؒ ، بریلوی مکتب فکر کے معروف عالم مفتی غلام سرور قادریؒ اور معروف اہلِ حدیث عالم حافظ صلاح الدین یوسف قابلِ ذکر ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ شرعی عدالت کے فیصلے میں جو بحث کی گئی ہے، اس بحث کی پوری جھلک کورٹ آرڈر اور اس کی روشنی میں ہونے والی قانون سازی میں نظر نہیں آتی۔ بہتر ہوتا کہ اس وقت یہ مسئلہ اپیل کے لیے سپریم کے شریعت بنچ میں چلاجاتا جہاں اس وقت مفتی محمد تقی عثمانی اور پیر کرم شاہ ؒ جیسے جید علما موجود تھے۔ اس وقت وفاقی حکومت کی طرف سے اپیل کی بھی گئی تھی، لیکن اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے یہ اپیل واپس لینے کا حکم دیا اور یہ کہا کہ اس جرم کی سزا اگر موت سے بڑھ کر کوئی ہوتی تووہ تجویز کی جاتی۔ نواز شریف صاحب کا جذبہ قابلِ قدر، لیکن بہر حال وہ باقاعدہ عالم دین نہیں ہیں۔ جناب اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ صاحب نے ایک کتابچے میں لکھا ہے کہ انہوں نے اس وقت وزیرِ اعظم کو پیغام بھیجا تھا کہ یہ اپیل واپس لی جائے ’’وگرنہ مسلمانوں کے جذبات اس حکومت کے خلاف بھی مشتعل ہو جائیں گے‘‘۔ اسماعیل قریشی صاحب ہمارے لیے بہت ہی محترم ہیں، خاص طور پر ان کا جذبہ عشق رسول سب کے لیے مشعلِ راہ ہے، لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ کسی شرعی مسئلے کو ماہرینِ شریعت پر مشتمل آئینی فورم پر اس لیے پیش کیا جاتا ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں مزید غور کرلیا جائے تو اس میں جذبات مشتعل ہونے والی کون سی بات تھی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اس مسئلے میں شروع ہی سے صرف ایک نقطہ نظر کو جو کہ یہاں کی اکثریتی فقہ سے بھی مطابقت نہیں رکھتا، ایمان اور عقیدے کا درجہ دے دیاگیا تھا۔ یاد رہے کہ مذکورہ فیصلہ صادر کرنے والے وفاقی شرعی عدالت کے بنچ میں کوئی باقاعدہ عالم دین شامل نہیں تھے ، جبکہ سپریم کورٹ کے شریعت پنج میں مذکورہ دو جید عالم موجود تھے۔
(۴) چوتھا نتیجہ سزا ئے موت کی مذکورہ فقہی نوعیت کا یہ ہوگا کہ امام ابو حنیفہ ؒ کے مذہب کے مطابق اس قانون کے تحت عورت کو سزائے موت نہیں دی جائے گی، جیسا کہ امام ابو یوسف کی عبارت میں گزرا ۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ امام ابویوسفؒ کی مذکورہ تصریح عمومی طور پر مرتد ہ کے بارے میں نہیں ہے بلکہ خاص طور پر شاتمہ رسول کے بارے میں ہے۔
اب تک کی گفتگوکا حاصل یہ ہے کہ فقہ حنفی کی رو سے شاتمِ رسول کے سزائے موت متعین ہے بشرطیکہ جس سے جرم سرزد ہواہے، وہ مسلمان مرد ہو اور توبہ کرنے کے لیے تیار نہ ہو اور جرم کی نوعیت ایسی ہو کہ اسے بلاشک وشبہ ارتداد میں داخل کیا جاسکے۔ اگر کسی مجرم میں ان میں کوئی شرط مفقود ہو، مثلاً توہین کرنے والا غیر مسلم ہو یا ملزمہ عورت ہو توکیا اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے ؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ایک مسلمان معاشرے اور ملک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک انتہائی سنگین برائی ہے اور اسلامی ریاست کے فرائض میں برائیوں کی روک تھام بھی شامل ہے اور برائیوں کی روک تھام کے لیے سزا پر مشتمل قوانین بھی ناگزیر ہوتے ہیں۔ مذکورہ شرائط مفقود ہونے کی صورت میں شرعی طور پر کوئی متعین سزا تو موجود نہیں ہے، ایسے موقع پر تعزیری سزا سے کام لیا جاتاہے۔ تعزیری سزا سے مراد وہ سزا ہے جو شریعت نے از خود متعین نہیں کی ہوتی، اس کے بارے ریاست یا ریاستی اداروں کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ جرم اور مجرم کی نوعیت دیکھ کر اور حالات اور مصالح کو سامنے رکھ کر جو سزا مناسب سمجھیں، تجویز کرسکتے ہیں۔ناگزیر حالات میں بطور تعزیر سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے، بلکہ جہاں جرم کی نوعیت شدید ہو، وہاں سزائے موت ملنی چاہیے۔ مثلاً وہ علانیہ طور پر بار بار اس جرم کا ارتکاب کرتاہے یا جرم کے انداز میں ڈھٹائی اور سرکشی واضح طور پر نظر آرہی ہے۔
اس پر بحث ہوسکتی ہے کہ موجودہ حالات میں فقہ حنفی کے نقطۂ نظر کو اختیار کرنا زیادہ مناسب ہوگا یا کسی اور رائے کو۔ موجودہ قانون فقہ حنفی کی بجائے بنیادی طور پر ابن تیمیہؒ کی رائے کی نمائندگی کرتاہے۔ وہ بھی ایک قابلِ احترام رائے ہے، لیکن جس مسئلے میں فقہ حنفی کا اختلاف موجود ہو، اسے مسلمہ اور اجماعی مسئلے کے طور پر پیش کرنا بہر حال ایک دینی مسئلے کی غلط تصویر دکھاناہے۔ تاہم یہ بات طے شدہ ہے کہ ایک اسلامی ملک میں توہین رسالت جیسا سنگین جرم کسی بھی صورت قابل برداشت نہیں ہے ۔ اس کی روک تھام کے لیے قانون تو ضرور ہو، تاہم اس قانون کی تفصیلات پر دلائل شرعیہ کی روشنی میں غور ہوسکتا ہے ۔اہلِ علم سے یہ درخواست ہے کہ مسئلے کے تمام پہلوؤں کو اور ملک کی معروضی صورتِ حال کو سامنے رکھ کر سنجیدہ غور کا سلسلہ شروع کریں اور بجائے اس کے کہ کوئی موقع دیکھ کر حکومت کوئی لسٹم پسٹم ترمیم لے آئے اور دینی حلقوں کے ساتھ اسی طرح کا ہاتھ ہوجائے جیسا ۲۰۰۷ء میں حدود کے مسئلے پر ہوا تھا، علما کے لیے مناسب ہوگا کہ مختلف طبقات کے جائز تحفظات کو سامنے رکھ کر از خود قرآن وسنت کی روشنی میں کوئی قانونی پیکیج پیش کر دیں۔
جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا، یہاں دلائل کی تفصیل میں جانا مقصود نہیں ہے ۔ تاہم اختصار کے ساتھ اتنا عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلے میں عہدِ رسالت کے جن واقعات کا حوالہ دیا جاتا ہے، ان میں کچھ لوگ تو ایسے تھے جن کا اسلامی ریاست کا شہری ہونا ہی ثابت نہیں ہے۔ بعض تو محارب ( بر سرِ پیکار ) تھے۔ بعض کے اس جرم کے علاوہ اور بھی کئی جرائم تھے اور یہ بات تو اکثر وبیشتر واقعات میں ہے کہ ان سے یہ جرم ایک آدھ مرتبہ صادر نہیں ہوا تھا، بلکہ بار بار اور عادت کے طور پر انہوں نے یہ وطیرہ اپنایا ہوا تھا۔ اس جرم پر سیاسۃً یا تعزیراً سزائے موت کے سلسلے میں متعدد فقہاء حنفیہ نے اسی صورتِ حال یعنی عادت اور تکرار کا ذکر کیاہے۔ اس سلسلے میں صرف ابوداود کی ایک روایت کی مثال دینا مناسب ہوگا جس کا ہمارے ہاں عام تقریروں میں بکثرت حوالہ دیا گیاہے۔ اس واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک صحابی نے اپنی باندی کو اس وجہ سے قتل کردیا تھا کہ وہ آنحضرتصلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی مرتکب ہوئی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ لیکن اسی واقعے میں یہ بھی مذکور ہے کہ وہ باندی بار بار ایساکررہی تھی کہ اور اس صحابی نے اسے کئی بار سمجھا بجھایا بھی، لیکن پھر بھی وہ باز نہیں آئی ۔ اس سے یہ بات بھی نکل رہی ہے کہ اس مسئلے میں سمجھانے بجھانے کا بھی کوئی خانہ موجود ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ نہیں فرمایا کہ اتنی مرتبہ سمجھانے بجھانے میں کیوں لگے رہے، تمہیں تو پہلی مرتبہ اسے سزائے قتل دلوانے کی فکر کرنی چاہیے تھی، کیونکہ اس طرح کی بات ایک دفعہ منہ سے نکلنے کے بعد سزائے موت کے علاوہ کوئی پہلو زیر غور آہی نہیں سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم عہد رسالت کے توہین رسالت کے واقعات کو جب اس انداز پیش کرتے ہیں جس سے یہ تاثر ابھرتاہے کہ ابن خطل جیسے کچھ لوگوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کستاخی کے چند لفظ نکلے تو محض اتنے پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا سخت ایکشن لیا کہ خواہ وہ کتنی معافیاں مانگ لے، اس کے لیے آپ نے معافی کی کوئی گنجائش نہیں رکھی اور غلافِ کعبہ پکڑے ہوئے ہوں، تب بھی انہیں قتل کرنے کا حکم دیا( کیونکہ ابن خطل جیسے لوگوں کے دیگر جرائم اور شرانگیزیوں کا ہم تذکرہ کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ ہماری خطابتوں کے سیاق وسباق سے عام سیدھا سادہ آدمی یہی تصور کرتا ہے کہ یہ لوگ آسیہ مسیح جتنے ہی مجرم ہوں گے۔) جب اس انداز سے ہم ان واقعات کو پیش کررہے ہوتے ہیں تو مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ کیا ہم واقعی رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کی درست تصویر کشی کررہے ہیں اور کیا ہم آپ کی سیرتِ مبارکہ کی خدمت کررہے ہیں؟ یہ سب کچھ جذبۂ محبت میں اور نیک نیتی سے سہی، لیکن غیرشعوری طور پر اپنے نتائج کے اعتبار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مغرب کے ملعون کارٹون سازوں کے مقاصدکی تو اس سے تائید نہیں ہو رہی اور ہم کہیں یہ تأثر تو پیدا نہیں کر رہے کہ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ ألف مرۃ، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے تھے کہ ایک دفعہ بھی جب کوئی ان کے خلاف بات کہہ دیتا تھا تو اسے کسی قیمت پر معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ ہمارے طرزِ عمل کے بارے میں ممکن ہے، میرا یہ احساس درست نہ ہو، تاہم غور کے لیے یہ سوال اہل علم وفکر کی خدمت میں پیش کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوا۔ اگر کوئی صاحب اس نا کارہ کی غلطی پر تنبیہ فرمائیں گے تو خوشی ہوگی۔
میری علمی و مطالعاتی زندگی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(جناب عرفان احمد، مدیر ماہنامہ ’’نواے کسان‘‘ لاہور کے مرتب کردہ سوال نامہ کے جوابات۔)
۱۔ کچھ ذاتی حالات زندگی کے بارے میں آگاہ فرمائیں۔
ہمارا تعلق ضلع مانسہرہ، ہزارہ میںآباد سواتی خاندان سے ہے جس کے آبا و اجداد کسی زمانے میں سوات سے نقل مکانی کر کے ہزارہ میں آباد ہوگئے تھے۔ ہمارے دادا نور احمد خان مرحوم شنکیاری سے آگے کڑمنگ بالا کے قریب چیڑاں ڈھکی میں رہتے تھے اور زمینداری کرتے تھے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر ؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کی نو عمری میں ان کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔ والدہ کا بھی انتقال ہو چکا تھا۔ یہ دونوں حضرات دینی تعلیم کی طرف آگئے۔ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے مدرسہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر پنجاب کے مختلف مدارس، بالخصوص مدرسہ انوار العلوم، مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں درس نظامی کا بڑا حصہ پڑھا۔ ۱۹۴۱ ۔۱۹۴۲ء میں دار العلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر ؒ دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ کے ممتاز تلامذہ میں سے تھے۔ وہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث رہے ہیں اور کم و بیش ساٹھ سال تک تدریسی خدمات سر انجام دی ہیں۔ دیوبندی مسلک کے علمی ترجمان سمجھے جاتے تھے اور کم و بیش پچاس کے لگ بھگ کتابوں کے مصنف تھے۔
میری ولادت ۱۹۴۸ء میں ۲۸؍اکتوبر کو ہوئی۔ میری والدہ محترمہ کا تعلق راجپوت خاندان سے تھا اور ہمارے نانا مرحوم مولوی محمد اکبر صاحب گوجرانوالہ میں ریلوے اسٹیشن کے قریب تالاب دیوی والا، رام بستی کی ایک مسجد کے امام تھے۔ ان کا تعلق راجپوت جنجوعہ برادری سے بتایا جاتا ہے۔ میں نے قرآن مجید گکھڑ کے مدرسہ تجوید القرآن میں مختلف اساتذہ سے حفظ کیا جس میں سب سے آخری اور بڑے استاد قاری محمد انور صاحب ہیں جو کہ آج کل مدینہ منورہ میں تحفیظ القرآن کے استاد ہیں۔ ۲۰ ؍اکتوبر ۱۹۶۰ء کو میرا حفظ مکمل ہونے پر گکھڑ کی جامع مسجد میں جو تقریب ہوئی، اس میں حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی، حضرت مولانا قاری فضل کریم اور حضرت مولانا قاری محمد حسن شاہ صاحب نے شرکت فرمائی تھی اور میں نے آخری سبق ان بزرگوں کو سنایا تھا۔ درس نظامی کے بڑے حصہ کی تعلیم میں نے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حاصل کی اور میرے اساتذہ میں حضرت والد محترم اور حضرت عم مکرم کے علاوہ حضرت مولانا عبدالقیوم ہزاروی مدظلہ، حضرت مولانا قاضی محمد اسلم صاحب، حضرت مولانا قاضی عزیز اللہ صاحب اور حضرت مولانا جمال احمد بنوی مظاہری بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ ۱۹۷۰ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم سے میں نے فراغت حاصل کی۔
دوران زمانہ طالب علمی مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحبؒ کی معاونت کے لیے بطور نائب خطیب میرا تقرر ہو چکا تھا، جبکہ اس سے قبل کم و بیش دو سال تک گتہ مل راہوالی کی کالونی کی مسجد میں خطابت کے فرائض سر انجام دیتا رہا تھا۔ ۱۹۸۲ء میں مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی وفات کے بعد مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے مستقل خطیب کی حیثیت سے میں نے ذمہ داری سنبھال لی تھی جوکہ بحمد اللہ تعالیٰ اب تک حسب استطاعت نباہ رہا ہوں۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے مدرسہ انوار العلوم میں ہی ۱۹۷۰ء سے ۱۹۹۰ء تک درس نظامی کی تدریس کے فرائض سر انجام دیتا رہا ہوں، جبکہ گزشتہ دس گیارہ سال سے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تدریسی خدمات میرے سپرد ہیں اور والد محترم کے بعد صدارت تدریس اور نظامت تعلیمات کی ذمہ داری بھی میرے ناتواں کندھوں پر ہے۔
صحافتی زندگی میں طالب علمی کے دوران ۱۹۶۵ء میں روزنامہ ’’وفاق‘‘ لاہور کے نامہ نگار کی حیثیت سے داخل ہوا۔ ۶۵ء کی پاک بھارت جنگ میں گکھڑ پر بھارتی فضائیہ کی بمباری کے حوالہ سے پہلا فیچر لکھا اور شہری دفاع کے رضاکار کے طور پر خدمات بھی سر انجام دیں۔اس کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے آرگن ہفت روزہ ’’ترجمان اسلام‘‘ لاہور کے ساتھ تعلق رہا اور متعدد بار کئی برس تک ایڈیٹر کے طور پر بھی فرائض سر انجام دیے۔ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ اسلام آباد اور روزنامہ ’’اوصاف‘‘ اسلام آباد میں کئی سال مستقل کالم نگار کے طور پر وابستہ رہا اور ’’نوائے قلم‘‘ کے نام سے ہفتہ وار کالم لکھتا رہا۔ اب یہ کالم روزنامہ ’’پاکستان‘‘ لاہور میں لکھ رہا ہوں جبکہ روزنامہ ’’اسلام‘‘ میں بھی ’’نوائے حق‘‘ کے عنوان سے ہفتہ وار کالم لکھتا ہوں۔ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ترجمان ماہنامہ ’’نصرۃ العلوم‘‘ کا اداریہ بھی کئی برسوں سے تحریر کر رہا ہوں۔
بیرون ملک ختم نبوت کانفرنسوں اور ورلڈ اسلامک فورم کی سرگرمیوں کے علاوہ دیگر تعلیمی، دعوتی اور مطالعاتی مقاصد کے لیے کئی ممالک میں جانا ہوا، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، جنوبی افریقہ، بھارت، بنگلہ دیش، ایران، افغانستان، ازبکستان، ترکی، ہانگ کانگ، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور کینیا شامل ہیں۔ مدرسہ نصرۃ العلوم کی سالانہ تعطیلات کے دوران شعبان المعظم اور اس کے ساتھ رمضان المبارک کا کچھ حصہ برطانیہ اور امریکہ میں تعلیمی سرگرمیوں میں مصروفیت رہتی ہے اور متعدد دینی اداروں سے مشاورت اور معاونت کا تعلق ہے۔
سیاسی و تحریکی ذوق طالب علمی کے دور سے چلا آرہا ہے۔ جمعیت طلباء اسلام پاکستان کو منظم کرنے میں حصہ لیا۔ گکھڑ میں انجمن نوجوانان اسلام کے نام سے نوجوانوں کی تنظیم بنائی اور جمعیت علمائے اسلام میں بتدریج شہر، ضلع، صوبہ اور مرکز کی سطح پر سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے فرائض سر انجام دینے کاموقع ملا۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے میرا انتخاب حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی تجویز پر ۱۹۷۵ء میں ہوا اور پھر ان کی وفات تک ان کی معاون ٹیم کے ایک متحرک رکن کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔ ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت میں عملی حصہ لینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت میں مرکزی مجلس عمل کے سیکرٹری اطلاعات کے طور پر کام کیا۔ ۱۹۷۷ء میں پاکستان قومی اتحاد قائم ہوا تو اس کی دستور ساز اور منشور ساز کمیٹیوں اور پارلیمانی بورڈ میں جمعیت کی نمائندگی کی۔ پنجاب کا قومی اتحاد کا نائب صدر اور پھر سیکرٹری جنرل رہا۔ ۱۹۸۸ء میں اسلامی جمہوری اتحاد قائم ہوا تو اس میں بھی دستور ساز اور منشور ساز کمیٹیوں میں جمعیت علماء اسلام (درخواستی گروپ) کی نمائندگی کی اور صوبائی نائب صدر رہا۔ ۱۹۹۰ ء میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے منصب سے مستعفی ہو کر عملی سیاست سے کنارہ کش ہوگیا۔
تحریک ختم نبوت ، تحریک نظام مصطفی، گوجرانوالہ میں مسجد نور کو محکمہ اوقاف سے واگزار کرانے کی تحریک اور دیگر متعدد تحریکات میں حصہ لینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ بھٹو دور میں کئی بار جیل یاترا کی۔ مسجد نور کی تحریک میں کم و بیش چار ماہ اور تحریک نظام مصطفی میں ایک ماہ جیل کاٹی۔ اس کے علاوہ بھی متعدد بار تھوڑی تھوڑی مدت کے لیے جیل جانے کا موقع ملا۔
سیاسی طور پر جمعیت علماء اسلام پاکستان سے وابستہ رہا۔ کم و بیش پچیس برس تک صوبائی اور مرکزی سطح پر مختلف عہدوں پر متحرک کردار ادا کیا ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے رفیق کار اور اسسٹنٹ کے طور پر سالہا سال خدمات سر انجام دینے کا موقع ملا۔ اب ایک عام کارکن کے طور پر جمعیت علماء اسلام کے ساتھ شریک ہوں جبکہ انتخابی سیاسی سے ہٹ کر فکری اور علمی حوالہ سے اسلامائزیشن کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل کے طور پر کام کر رہا ہوں جس کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی آف کراچی ہیں۔
گزشتہ عشرہ کے اوائل میں لندن میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری اور مفتی برکت اللہ صاحب کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر ایک فکری اور علمی فورم ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کے نام سے قائم کیا جو کہ علمی اور فکری میدان میں عصر حاضر کے تقاضوں کا احساس اجاگر کرنے میں مصروف ہے اور اس کی سرگرمیوں کا دائرہ برطانیہ، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے دیگر شرکا و معاونین میں ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم ، ڈاکٹر سلمان ندوی الحسینی اور مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ شامل رہے ہیں۔
۱۹۸۹ء میں الشریعہ اکادمی قائم کی جس کا مقصد دعوت اسلام اور دینی تعلیم کے حوالے سے عصری تقاضوں کو اجاگر کرنا اور ان کی طرف دینی حلقوں کو توجہ دلانا تھا۔ یہاں ہم دینی تعلیم کے ساتھ عصری تقاضوں کے امتزاج کا تجربہ کر رہے ہیں اور اس ضمن میں مختلف کورسز ہر سال ہوتے ہیں۔ اکتوبر ۱۹۸۹ء سے ماہنامہ ’الشریعہ‘ باقاعدگی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے جو اسلام اور ملت اسلامیہ کو درپیش معروضی مسائل کے حوالے سے اپنی بساط کے مطابق خدمت کر رہا ہے اور علمی حلقوں میں بحمد اللہ تعالیٰ اسے توجہ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ الشریعہ اکادمی کی باقاعدہ بلڈنگ ہاشمی کالونی، کنگنی والا، گوجرانوالہ میں تعمیر کی گئی ہے جس میں مسجد اور لائبریری بھی شامل ہے اور اس میں سال بھر فکری اور تعلیمی سرگرمیاں جاری رہتی ہے۔ دینی مدارس اور اسکول وکالج کے طلبہ کے لیے سال میں انگریزی بول چال، عربی بول چال، کمپیوٹر ٹریننگ وغیرہ کے مختصر دورانیے کے مختلف کورسز ہوتے ہیں اور علمی وفکری عنوانات پر محاضرات، سیمینارز اور ورک شاپس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
۲۔ آپ کے اندر ذوق مطالعہ کب نمایاں طور پر پیدا ہوا؟ آغاز کیسے ہوا؟ اس کی نشوونما کس طرح ہوئی؟ خاندانی نظام تربیت کا اثر کہاں تک ہوا؟
کتاب کے ساتھ میرا تعارف بحمد اللہ تعالیٰ بہت پرانا ہے اور اس دور سے ہے جبکہ میں کتاب کے مفہوم اور مقصد تک سے آشنا نہیں تھا۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کا گھر میں زیادہ تر وقت لکھنے پڑھنے میں گزرتا تھا اور ان کے اردگرد الماریوں میں کتابیں ہی کتابیں ہوتی تھیں۔ اس لیے کتاب کے چہرہ سے شناسائی تو تب سے ہے جب میں نے اردگرد کی چیزوں کو دیکھنا اور ان میں الگ الگ فرق کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس کے بعد کتاب سے دوسرے مرحلے کا تعارف اس وقت ہوا جب میں نے دو چار حرف پڑھ لیے اور کم از کم کتاب کا نام پڑھ سکتا تھا۔ والد صاحب ایک چارپائی پر بیٹھ کر لکھا کرتے تھے اور حوالہ کے لیے کوئی کتاب دیکھنے کی ضرورت ہوتی تو خود اٹھ کر متعلقہ الماری سے وہ کتاب لے لیا کرتے تھے، مگر جب میں اور میری بڑی ہمشیرہ الفاظ کی شناخت کے قابل ہوگئے تو پھر اس کام میں ہماری شرکت بھی ہوگئی، اس حد تک کہ ہم میں سے کوئی موجود ہوتا تو والد صاحب کو کتاب کے لیے خود الماری تک نہیں جانا پڑتا تھا بلکہ وہ ہمیں آواز دیتے کہ فلاں کتاب کی فلاں جلد نکال لاؤ اور ہم میں سے کوئی یہ خدمت سر انجام دے دیتا۔ ابتدا میں والد صاحب کو ہمیں یہ بتانا پڑتا تھا کہ فلاں الماری کے فلاں خانے میں اس نام کی کتاب ہے، اس کی اتنے نمبر کی جلد نکال لاؤ۔ بعد میں کتابوں سے ہمارا تعارف گہرا ہوگیا تو وہ صرف کتاب اور جلد نمبر کا کہتے اور ہم کتاب نکال لاتے اور اس کے لیے بسا اوقات ہم دونوں بہن بھائیوں میں مقابلہ بھی ہوتا کہ کون پہلے کتاب نکال کر لاتا ہے۔ اس وقت کی جن کتابوں کے نام ابھی تک ذہن کے نقشے میں محفوظ ہیں، ان میں السنن الکبریٰ، لسان المیزان، تذکرۃ الحفاظ، تہذیب التہذیب، تاریخ بغداد اور نیل الاوطار بطور خاص قابل ذکر ہیں جو علمِ حدیث اور اسماءِ رجال کی کتابیں ہیں اور یہ حضرت والد صاحب کے خصوصی ذوق کے علوم ہیں۔ ان کتابوں کے نام، ٹائٹل اور جلدیں بچپن میں ہی ذہن پر نقش ہوگئی تھیں اور یہ نقش ابھی تک اس طرح تازہ ہیں جیسے آج ہی ان کتابوں کو دیکھا ہو۔
پھر ایک قدم اور آگے بڑھا اور کتابوں کو خود پڑھنے کی منزل آگئی۔ اس کے لیے میں گکھڑ کے ایک مرحوم بزرگ ماسٹر بشیر احمد صاحب کشمیری کا ممنون احسان ہوں کہ ان کی بدولت کتاب کے مطالعہ کی حدود میں قدم رکھا۔ ماسٹر بشیر احمد کشمیریؒ پرائمری سکول کے ٹیچر تھے اور حضرت والد محترم کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔ ان کے خاندان سے ہمارا گہرا خاندانی تعلق تھا۔ انہیں ہم چاچا جی کہا کرتے تھے اور وہ بھی ہم سے بھتیجوں جیسا تعلق رکھتے تھے۔ ان کی والدہ محترمہ کو ہم بے جی کہتے تھے اور ان کی ہمشیرگان ہماری پھوپھیاں کہلاتی تھیں۔ انہی میں سے ایک پھوپھی اب میرے چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس قارن کی خوش دامن ہیں۔ والد محترم کو جب کسی جلسہ یا دوسرے کام کی وجہ سے رات گھر سے باہر رہنا پڑتا تو بے جی اس روز ہمارے ہاں رات گزارتی تھیں اور ہمیں چھوٹی چھوٹی کہانیاں سنایا کرتی تھیں جس کی وجہ سے ہم بہت خوش ہوتے تھے اور ہمیں ایسی رات کا انتظار رہتا تھا۔
ماسٹر بشیر احمد صاحب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کے شیدائی اور احرار کے سرگرم کارکن تھے۔ وہ حضرت شاہ جی ؒ کی گکھڑ تشریف آوری اور جلسہ سے خطاب کا واقعہ اکثر سنایا کرتے تھے اور میرے بارے میں بتایا کرتے تھے کہ میں بالکل گود کا بچہ تھا اور مجھے حضرت شاہ جی ؒ نے گود میں اٹھایا تھا، اس لیے مجھ سے اگر کوئی دوست پوچھتا ہے کہ کیا تم نے امیر شریعتؒ کی زیارت کی ہے تو میں کہا کرتا ہوں کہ مجھے تو یا دنہیں ہے، البتہ شاہ جیؒ نے مجھے دیکھا ہے۔ ماسٹر صاحب کے ہاں ہفت روزہ خدام الدین، ترجمان اسلام، ماہنامہ تبصرہ، ہفت روزہ پیام اسلام، ہفت روزہ چٹان اور دیگر دینی جرائد آیا کرتے تھے۔ میں ان جرائد سے انہی کے ہاں متعارف ہوا اور وہیں سے رسالے پڑھنے کی عادت شروع ہوئی۔ حضرت والد صاحب کے پاس دہلی سے ماہنامہ برہان، ملتان سے ماہنامہ الصدیق، چوکیرہ (سرگودھا) سے ماہنامہ الفاروق اور فیصل آباد (تب لائل پور) سے ہفتہ روزہ پاکستانی آیا کرتے تھے جو میری نظر سے گزرا کرتے تھے۔ جامع مسجد بوہڑ والی گکھڑ کے حجرہ کی الماری میں ایک چھوٹی سی لائبریری تھی جس کے انچارج ماسٹر صاحب مرحوم تھے۔ اس میں زیادہ تر احرار راہ نماؤں کی کتابیں تھیں۔ وہیں سے میں نے وہ کتابیں لیں جو میری زندگی میں مطالعہ کی سب سے پہلی کتابیں ہیں۔ چودھری افضل حق مرحوم کی کتاب ’’زندگی‘‘ اور ’’تاریخ احرار‘‘ مولانا مظہر علی اظہر کی ’’دنیا کی بساط سیاست‘‘ اور آغا شورش کاشمیری کی ’’خطبات احرار‘‘ پہلی کتابیں ہیں جن کا میں نے باقاعدہ مطالعہ کیا۔ کچھ سمجھ میں آئیں اور اکثر حصے ذہن کے اوپر سے ہی گزر گئے، لیکن بہرحال میں نے اپنی مطالعاتی بلکہ فکری زندگی کا آغاز ان کتابوں سے کیا۔
ہماری والدہ مرحومہ گوجرانوالہ سے تھیں۔ شیرانوالہ باغ کے سامنے ریلوے پھاٹک سے دوسری طرف واقع پولیس تھانے کے عقب میں رام بستی نامی محلہ کی مسجد میں ہمارے نانا مرحوم مولوی محمد اکبر صاحب امام مسجد تھے جو راجپوت جنجوعہ برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ بڑے باذوق بزرگ تھے۔ قرآن کریم معروف لہجے میں اور اچھے انداز میں پڑھا کرتے تھے جو اس زمانہ میں بہت کمیاب تھے۔ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے، لیکن میں نے بہت سے معیاری علمی جرائد ان کے ہاں سے ڈاک میں باقاعدہ آتے دیکھے جن میں الفرقان، النجم، برہان، خدام الدین اور دروس قرآن جیسے رسالے بھی شامل تھے۔ وہ ان کا مطالعہ کرتے اور اہتمام سے ان کی جلدیں بنواتے تھے۔
اس کے بعد جب ۶۳ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں داخل ہوا اور مدرسہ کے دار الاقامہ میں ایک آزاد طالب علم کی حیثیت سے نئی زندگی کا آغاز کیا تو میں نے اس آزادی کا خوب خوب فائدہ اٹھایا۔ گھومنا، پھرنا، جلسے سننا، لائبریری تلاش کرنا، رسالے ڈھونڈنا، کتابیں مہیا کرنا اور ان کا مطالعہ کرنا میرے روز مرہ معمولات میں شامل ہوگیا تھا۔ درسی کتابوں کے ساتھ میرا تعلق اتنا ہی تھا کہ سبق میں حاضر ہوتا تھا اور واجبی سے مطالعہ و تکرار کے ساتھ سبق کو کسی حد تک قابو میں رکھنے کی کوشش بھی بسا اوقات کر لیتا تھا، لیکن اس کے علاوہ میری مصروفیات کا دائرہ پھیل چکا تھا اور اس میں شب و روز کی کوئی قید باقی نہیں رہ گئی تھی۔ اس دور میں مدرسہ نصرۃ العلوم کے کتب خانے کے علاوہ عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمہ اللہ تعالیٰ کی ذاتی لائبریری میری دسترس میں تھی اور چوک نیائیں میں اہل حدیث دوستوں کا ’’اسلامی دار المطالعہ‘‘ میری جولان گاہ میں شامل تھا جہاں میں اکثر عصر کے بعد جاتا، دینی جرائد اور رسالوں پر نظر ڈالتا اور مطالعہ کے لیے کوئی نہ کوئی کتاب وہاں سے لے آتا۔ طالب علمی کے دور میں سب سے زیادہ استفادہ میں نے ان تین لائبریریوں سے کیا ہے۔
کتاب کے ساتھ تعارف کا اس سے اگلا مرحلہ میرے طالب علمی کے آخری دور میں شروع ہوا۔ یہ ۱۹۶۵ ء کی جنگ کے بعد کے دور کی بات ہے۔ گوجرانوالہ ریلوے اسٹیشن کے سامنے جہاں آج کل سفینہ مارکیٹ ہے، ان دنوں یہاں خیام ہوٹل ہوا کرتا تھا جہاں ہر اتوار کی شام کو ’’مجلس فکر و نظر‘‘ کے زیر اہتمام ایک فکری نشست جمتی تھی۔ ارشد میر ایڈووکیٹ مرحوم اس مجلس کے سیکرٹری تھے۔ ان سے اسی محفل میں تعارف ہوا جو بڑھتے بڑھتے بے تکلفانہ اور برادرانہ دوستی تک جا پہنچا۔ اس ادبی محفل میں کوئی نہ کوئی مقالہ ہوتا اور ایک آدھ نظم یا غزل ہوتی جس پر تنقید کا میدان گرم ہوتا اور ارباب شعر و ادب اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے۔ پروفیسر اسرار احمد سہاروی، سید سبط الحسن ضیغم، ایزد مسعود ایڈووکیٹ، پروفیسر عبد اللہ جمال، پروفیسر افتخار ملک مرحوم، پروفیسر محمد صادق، پروفیسر رفیق چودھری، اثر لدھیانوی مرحوم اور ارشد میر ایڈووکیٹ مرحوم اس مجلس کے سرکردہ ارکان تھے۔ میں بھی ہفتہ وار ادبی نشست میں جاتا تھا اور ایک خاموش سامع کی حیثیت سے شریک ہوتا تھا۔ ایک روز اگلی محفل کا پروگرام طے ہو رہا تھا لیکن کوئی صاحب مقالہ کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے۔ میں نے جب یہ کیفیت دیکھی تو کہا کہ اگر اجازت ہو تو اگلی محفل میں مضمون میں پڑھ دوں؟ دوستوں نے میری طرف دیکھا تو میری ہیئت کذائی دیکھ کر تذبذب کا شکار ہوگئے اور ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ تھوڑی خاموشی کے بعد ارشد میر صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کس موضوع پر مضمون پڑھیں گے؟ میں نے جواب دیا کہ ’’فلپ کے ہٹی کی کتاب ’’عرب اور اسلام‘‘ پر ایک تنقیدی نظر‘‘۔ ہٹی کی اس کتاب کا ترجمہ انہی دنوں آیا تھا اور میں نے تازہ تازہ پڑھ کر اس کی بہت سی باتوں کو نشان زد کر رکھا تھا۔ اس لیے میرا خیال تھا کہ میں اگلے اتوار تک کتاب کے بارے میں اپنے تاثرات کو قلم بند کر لوں گا مگر میرا یہ کہنا ایک دھماکہ ثابت ہوا۔ میری پہلی بات ہی بعض دوستوں کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ دوسری بات نے تو ان کے چہروں کی کیفیات کو یک لخت تبدیل کر دیا اور مجھے بعض چہروں پر خندۂ استہزا کی جھلک صاف دکھائی دینے لگی، مگر میں اپنے موقف پر قائم رہا جس پر ارشد میر صاحب نے اگلی محفل میں میرے مضمون کا اعلان کر دیا۔
میں نے اپنے مضمون کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک حصے میں ان واقعاتی غلطیوں کی نشان دہی کی جو ہٹی سے تاریخی طور پر چند واقعات کو بیان کرنے میں ہوگئی تھی اور ان کی تعداد دس سے زیادہ تھی۔ دوسرے حصے میں اس اصولی بحث پر کچھ گزارشات پیش کیں کہ ہٹی اور دیگر مستشرقین اسلام کو ایک تحریک (Movement) کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ اسلام تحریک نہیں بلکہ دین ہے اور پھر اس کے ساتھ ہی تحریک اور دین کے فرق کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا۔ اس مضمون کا پہلا حصہ ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور میں اس دور میں شائع ہوگیا تھا مگر دوسرے حصے کے بارے میں ترجمان اسلام کے مدیر محترم ڈاکٹر احمد حسین صاحب کمال مرحوم نے مجھے بتایا کہ وہ کہیں گم ہوگیا ہے۔ بد قسمتی سے میرے پاس اس کی کاپی نہیں تھی اور مزید بد قسمتی یہ کہ اس کے بعد اس حصے کو لکھنے کی کئی بار کوشش کر چکا ہوں، مگر ابھی تک اس معیار پر نہیں لکھ پا رہا۔ کسی کتاب کے پوسٹ مارٹم اور آپریشن کے حوالے سے یہ میرا پہلا مضمون تھا جو میں نے ’’مجلس فکر و نظر‘‘ کی ہفتہ وار ادبی نشست میں پڑھا جسے بے حد پسند کیا گیا اور اس کے بعد مجلس میں میری شمولیت نے خاموش سامع کے بجائے متحرک رکن کی شکل اختیار کر لی، بلکہ ایک موقع پر ’’اسلام میں اجتہاد کا تصور‘‘ کے عنوان پر مجھ سے مضمون پڑھنے کی فرمائش کی گئی جس پر میں نے بڑی محنت سے ایک مقالہ مرتب کر کے پڑھا۔ یہ نشست پروفیسر اسرار احمد سہارویؒ کی صدارت میں تھی اور شیخ ایزد مسعودنے میرے مقالہ پر اپنی تنقید میں اس کی بعض خامیوں کی نشان دہی کی۔ بعد میں اسی مجلس کے ایک محترم دوست نے وہ مقالہ مجھ سے مطالعہ کے لیے لیا مگر ان کی وفات ہوگئی اور وہ مضمون پھر دستیاب نہ ہو سکا۔
۳۔کون سی شخصیتیں تھیں جنہوں نے آپ کے ذوق مطالعہ کو مہمیز کیا اور اس سفر میں آپ کی رہنمائی کی؟ آپ کے مطالعہ کے مختلف ادوار کیا رہے؟ پسندیدہ موضوعات، ذوق میں ارتقائی تبدیلیاں؟
حضرت والد محترم کے علاوہ چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی اور ماسٹر بشیر احمد صاحب کشمیریؒ بنیادی شخصیات ہیں جنہوں نے مجھے مطالعہ کی طرف راغب کیا، مختلف موضوعات پر کتابیں مہیا کرتے رہے اور میرے مطالعہ کی حوصلہ افزائی اور نگرانی کرتے رہے۔ لکھنے پڑھنے کی عادت طالب علمی کے زمانہ میں ہی تھی۔ مضامین لکھنا، خبریں بنانا اور اخبارات میں پہنچانا اور پھر ان کی اشاعت پر خوش ہونا اسی دور سے مزاج کا حصہ بن گیا تھا۔ اس میں گوجرانوالہ کے معروف صحافی صاحبزادہ سید جمیل الحسن مظلوم مرحوم اور راشد بزمی مرحوم کی حوصلہ افزائی کا بہت دخل رہا ہے۔ اس زمانہ میں پاکستان کے قومی اخبارات میں نسیم حجازی مرحوم کا روزنامہ ’’کوہستان‘‘ خاصی اہمیت کا حامل ہوتا تھا۔ ایک بار میرا ایک مضمون روزنامہ کوہستان میں ادارتی صفحہ پر شائع ہوا جس نے میرا دماغ خراب کر دیا اور میں نے دماغ کی اس خرابی میں ایک تعلیمی سال ضائع کر دیا۔ یہ ۱۹۶۵ء کی بات ہے۔ میرے مضامین ہفت روزہ ترجمان اسلام میں شائع ہوتے تھے اور میں روزنامہ وفاق لاہور کا باقاعدہ نامہ نگار بن گیا تھا۔ ’’کوہستان‘‘ کے ادارتی صفحے پر مضمون کی اشاعت نے میرے ذہن میں یہ بات پیدا کر دی کہ میرا اصل میدان صحافت ہے، اس لیے تعلیم و تعلم میں میری توجہ کم ہوتی چلی گئی۔ حضرت والد صاحب نے یہ دیکھ کر مجھے مدرسہ سے اٹھا کر گکھڑ میں گھر لے آئے اور وہاں اپنی نگرانی میں تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ اسی زمانے میں گکھڑ کے مدرسہ میں استاذ حضرت مولانا غلام علی صاحبؒ سے میں نے فصول اکبری اور گلستان کا کچھ حصہ پڑھا اور حضرت مولانا قاری عبد الحلیم سواتی مدظلہ سے قرآن کریم کے کچھ حصے کی مشق کی۔ حضرت والد صاحب کا انداز سختی کا ہوتا تھا اور سختی کے سارے حربے وہ اختیار کرتے تھے جس سے میں بے بسی کے عالم میں ایک روبوٹ کی طرح تعمیل حکم تو کر لیا کرتا تھا مگر سوچ سمجھ کے دروازے اکثر بند ہی رہتے تھے، اس لیے یہ سختی مجھ پر کچھ زیادہ اثر انداز نہ ہو سکی۔
اس دوران ایک روز گوجرانوالہ میں مدرسہ نصرۃ العلوم میں آیا تو چچا محترم حضرت صوفی عبد الحمید سواتی صاحب ؒ نے پاس بٹھا کر مجھے بڑی شفقت سے سمجھایا اور ان کی یہ بات میرے دل و دماغ میں نقش ہوگئی کہ بیٹا! صحافت اور خطابت لوگوں تک کوئی بات پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ یہ ضرور آدمی کے پاس ہونا چاہیے، لیکن پہنچانے کے لیے کوئی چیز بھی پاس موجود ہونی چاہیے۔ اگر اپنے پاس کچھ ہوگا تو دوسروں تک پہنچاؤ گے اور اگر اپنا سینہ علم سے خالی ہوگا تو دوسروں کو کیا دو گے؟ ٹونٹی کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، وہی چیز باہر نکالے گی جو ٹینکی میں ہوگی اور اگر ٹینکی میں کچھ نہیں ہوگا تو ’’شاں شاں‘‘ کرے گی۔ حضرت صوفی صاحب ؒ کے اس محبت بھرے لہجے اور ’’شاں شاں‘‘ کی مثال نے ایک لمحے میں دل و دماغ کا کانٹا بدل دیا اور یہ جملے اب بھی میرے کانوں میں ’’شاں شاں‘‘ کرتے رہتے ہیں۔
میرے مطالعہ کاآغاز ’’زندگی‘‘ اور ’’تاریخ احرار‘‘ سے ہوا۔ پھر تاریخی ناولوں کی طرف ذہن مڑ گیا اور نسیم حجازی اور محمد اسلم مرحوم کا مطالعہ کرنے لگا۔ ساتھ ساتھ ہفت روزہ خدام الدین ، ہفت روزہ چٹان اور ہفت روزہ ترجمان اسلام میرے مستقل مطالعہ میں شامل ہوگئے۔ اخبارات بھی شوق سے پڑھتا تھا اور طالب علمی کے زمانے میں نوائے وقت، کوہستان اور امروز میرے روز مرہ مطالعہ کا حصہ ہوتے تھے۔ طالب علمی کے دور میں مطالعہ کے لیے مجھے جس نوعیت کی کوئی کتاب یا رسالہ میسر آجاتا، سمجھ میں آتا یا نہ آتا، میں اس پر ایک نظر ڈالنے کی کوشش ضرور کرتا۔ البتہ ترجیحات میں بالترتیب مزاحیہ تحریریں، تاریخی ناول اور جاسوسی ادب سر فہرست رہے اور اب بھی اختیاری مطالعہ میں حتی الامکان ترجیحات کی یہ ترتیب قائم رہتی ہے۔ مگر یہ بات تفریحی مطالعہ کی ہے یعنی فارغ وقت گزارنے کے لیے ذہن کو دیگر مصروفیات سے فارغ کرنے کے لیے اور تھوڑی بہت ذہنی آسودگی حاصل کرنے کے لیے، ورنہ عملی و فکری ضرورت کے لیے میرے مطالعہ کی ترجیحات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو چکی ہیں اور اب حدیث نبوی اور اس سے متعلقہ علوم و فنون، تاریخ اور حقائق و واقعات کا پس منظر، اقوام و افکار کا تقابلی مطالعہ اسی ترتیب کے ساتھ میری دلچسپی کے موضوعات ہیں۔
شعر و شاعری بھی میرے مطالعہ کا اہم موضوع رہی ہے اور کسی حد تک اب بھی ہے۔ ایک دور میں دیوان حافظؒ اور دیوان غالب میرے سرہانے کے نیچے مستقل پڑے رہتے تھے۔ دیوان حافظ ؒ کے بہت سے اشعار سمجھ میں نہیں آتے تھے اس لیے میں نے مترجم دیوان رکھا ہوا تھا اور اس کی مدد سے ضروری باتیں سمجھ لیا کرتا تھا۔ عربی ادب میں دیوان حماسہ مطالعہ اور تدریس دونوں کے لیے پسندیدہ کتاب ہے اور مصر کے قومی شاعر شوقیؒ کی کوئی چیز مل جائے تو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ شعر گوئی میں کامیابی حاصل نہیں کر سکا، البتہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ، حضرت والد محترم ؒ اور حضرت چچا محترم ؒ کی وفات پر اپنے جذبات غم منظوم طور پر پیش کیے جو چھپ چکے ہیں اور دوستوں میں پسند کیے گئے ہیں۔
اردو ناول کی شاید ہی کوئی صنف میں نے چھوڑی ہو۔ جاسوسی، تاریخی اور رومانوی ہر قسم کے ناول میں نے پڑھے ہیں ا ور سیکڑوں ناول پڑھ ڈالے ہیں۔ نسیم حجازی سے لے کر ابن صفی تک کوئی ناول نگار میرے دائرے سے باہر نہیں رہا۔ جاسوسی ادب میں ابن صفی اور اکرم الٰہ آبادی میرے سب سے زیادہ پسندیدہ مصنف تھے اور جاسوسی کرداروں میں کرنل فریدی کو زیادہ پسند کرتا تھا۔ ادبی جرائد میں چٹان، اردو ڈائجسٹ، سیارہ ڈائجسٹ، حکایت اور قومی ڈائجسٹ اور علامت سالہا سال تک میرے مطالعہ کا حصہ رہے ہیں۔ معاشرتی، جاسوسی اور تاریخی افسانے بھی بہت پڑھے ہیں اور اب بھی میسر ہوں تو ضرور پڑھتا ہوں۔ کسی رسالہ کے مطالعہ کا آغاز عام طو رپر لطائف کے صفحہ سے ہوتا ہے۔
طالب علمی کے دور میں تعلیم کچھ آگے بڑھی تو حدیث نبوی ؐ کے مطالعہ کی طرف رجحان بڑھتا گیا۔ تاریخ، سیرت اور حدیث نبوی کی کتابیں میرے مطالعہ میں اولین ترجیح تھیں اور اب بھی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ رومانوی ناول اور طنز و مزاح بھی مطالعہ میں میرے پسندیدہ موضوعات رہے۔ اخبارات کے مزاحیہ کالموں میں شوکت تھانوی، ابراہیم جلیس اور احمد ندیم قاسمی کے کالم شوق سے پڑھتا تھا۔ ان موضوعات پر سیکڑوں کتابیں نظر سے گزری ہوں گی۔ اب جس مطالعہ کا تعلق درس و تدریس اور میری عملی زندگی سے ہے، وہ تو کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس سے ہٹ کر تاریخی موضوعات، حدیث نبوی اور اس سے متعلقہ مباحث اور عالمی حالات کے سیاسی تجزیے اہتمام کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں، مگر اب وقت کم ملتا ہے اور جوں جوں ’’فرصتے و کتابے و گوشہ چمنے‘‘ کا ذوق بڑھتا جا رہا ہے، اسی رفتار سے مصروفیات میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ خواہش بتدریج حسرت میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔
میرے لکھنے پڑھنے کے ذوق کو دونوں بزرگوں یعنی والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر ؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کی عملی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ طالب علمی کے زمانے میں حضرت والد صاحبؒ نے فاتحہ خلف الامام پر اپنی ضخیم کتاب ’’احسن الکلام‘‘ کی تلخیص مجھ سے اپنی نگرانی میں کرائی جو ’’اطیب الکلام‘‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ اس پر دو تین صفحات کا پیش لفظ میں نے خود تحریر کیا جو کتابچہ میں موجود ہے اور مجھے یاد ہے کہ میرے لکھے ہوئے پیش لفظ میں حضرت والد صاحب نے صرف ایک جملہ کی اصلاح کی تھی۔ میں نے ایک جگہ ’’بیک بندش چشم‘‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی جسے انہوں نے ’’چشم زدن‘‘ کے محاورہ سے بدل دیا۔ اس کا علاوہ انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی جس پر مجھے بے حد خوشی ہوئی اور میری خود اعتمادی میں اضافہ ہوا۔ حضرت صوفی صاحب ؒ نے اپنی تصنیف ’’فیوضات حسینی‘‘ کی تسوید و ترتیب کے کام میں مجھے شریک کیا اور اس کا بیشتر حصہ حضرت صوفی صاحبؒ کی نگرانی میں ان کی ہدایات کے مطابق میں نے مرتب کیا، جس پر مجھے انہوں نے پارکر کا ایک خوبصورت قلم انعام میں دیا۔ دونوں بزرگوں کی یہ خواہش اور کوشش رہی کہ میں ان کے تصنیف و تحقیق کے کام میں معاون اور دست راست بنوں مگر کسی شخص کے لیے اپنے ’’خون کا گروپ‘‘ خود اختیار کرنے کی سہولت اللہ تعالیٰ نے نہیں رکھی اور میرے خون کے جراثیم قدرے مختلف تھے، اس لیے اس فطری تنوع نے میری تحریر و تقریر کا میدان کسی حد تک ان سے مختلف کر دیا۔ جمعیت طلبائے اسلام اور جمعیت علمائے اسلام کے پلیٹ فارم پر سیاسی سرگرمیوں میں متحرک ہو جانے کے بعد میرے فکر و نظر کا زاویہ قدرے مختلف ہو چکا تھا اور میرے لکھنے پڑھنے کے موضوعات میں اسلامی نظام کی اہمیت و ضرورت، مغربی فلسفہ و ثقافت کی یلغار، اسلام پر مغرب کی طرف سے کی جانب سے کیے جانے والے اعتراضات و شبہات ، آج کے عالمی تناظر میں اسلامی احکام و قوانین کی تشریح، اسلامائزیشن کے علمی و فکری تقاضے، نفاذ اسلام کے حوالے سے دینی حلقوں کی ضروریات اور ذمہ داریاں، اسلام دشمن لابیوں کی نشان دہی اور تعاقب اور ان حوالوں سے طلبہ، دینی کارکنوں اور باشعور نوجوانوں کی راہ نمائی اور تیاری کو اولین ترجیح کا درجہ حاصل ہوگیا۔ چنانچہ گزشتہ پینتالیس برس سے انہی موضوعات پر مسلسل لکھتا چلا آرہا ہوں۔ بحمد اللہ تعالیٰ ہزاروں مضامین ان عنوانات پر شائع ہو چکے ہیں جن کا انتخاب الشریعہ اکادمی کی ویب سائٹ www.alsharia.org کے مقالات ومضامین کے سیکشن میں موجود ہے۔ کچھ اہم موضوعات پر چند کتابی مجموعے بھی الشریعہ اکادمی نے شائع کیے ہیں۔
۴۔ آپ اُردو کے علاوہ اور کن زبانوں میں مطالعہ کرتے ہیں؟ انگریزی، عربی، فارسی، ہندی، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، دیگر زبانیں؟
اردو میرے مطالعہ کا اصل دائرہ ہے۔ عربی میری تدریس کا حصہ ہے، اس لیے زیادہ تر مطالعہ انہی دو زبانوں میں ہوتا ہے۔ فارسی سے معمولی شدبد ہے۔ کتابی فارسی تھوڑی بہت سمجھ لیتا ہوں، اس لیے بوقت ضرورت اور بقدر ضرورت اس کے مطالعہ کا موقع بھی مل جاتا ہے۔ پنجابی میری مادری زبان ہے، مگر پڑھنے کا موقع کم ہی ملتا ہے۔ اگر کوئی چیز مل جائے تو شوق پورا کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہوں۔ اس کے سوا کوئی زبان نہیں جانتا اور ضروری امور میں تراجم کے ذریعے مقصد پورا کر لیتا ہوں۔
۵۔ آپ کے پسندیدہ مصنفین؟ آپ کی پسندیدہ کتابیں؟ آپ کے پسندیدہ رسائل؟ پسندیدہ افسانہ نگار؟ کالم نگار؟ پسندیدہ مزاح نویس؟ طنز نگار؟
پسندیدہ مصنفین میں مولانا ابو الحسن علی ندویؒ ، چودھری افضل حقؒ ، مولانا مودودیؒ ، مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ ور مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ سر فہرست ہیں۔ حدیث نبوی، تاریخ اور سیاسی تجزیہ کی کوئی بھی قابل فہم کتاب میرے نزدیک قابل ترجیح ہوتی ہے۔ کالم نگاروں میں ارشاد احمد حقانی مرحوم، احسان بی اے مرحوم، جاوید چودھری، منو بھائی اور حامد میر کو زیادہ پڑھا ہے اور مزاح نگاروں میں شوکت تھانویؒ ، احمد ندیم قاسمیؒ اور ابراہیم جلیس کو پڑھتا رہا ہوں اور اب یونس بٹ کو پڑھ لیتا ہوں۔
۶۔ آپ اپنی دنیائے مطالعہ میں کس ایک مصنف کو بلند ترین مقام پر رکھتے ہیں جس کا آپ کی ذہنی نشوونما پر سب سے زیادہ اثر پڑا ہو؟ (خصوصاً اردو لکھنے والوں میں سے؟)
علمی و تحقیقی دنیا میں متقدمین میں امام محمدؒ ، امام بخاریؒ ، ابن تیمیہؒ ، شاہ ولی اللہؒ جبکہ دور حاضر میں والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر ،ؒ عم مکرم مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ ، مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ اور الاستاذ وہبہ زحیلی اور فکری دنیا میں علامہ اقبالؒ ، مولانا ابوالحسن علی ندویؒ اور چودھری افضل حق نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔
۷۔ کن کن اخبارات و رسائل کا روزانہ مطالعہ کرتے ہیں اور اس میں کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟
کسی زمانے میں چار پانچ اخبارات کا روزانہ بالاستیعاب مطالعہ کیا کرتا تھا۔ اب وقت نہیں ملتا، اس لیے معمول یہ ہے کہ نوائے وقت، ایکسپریس، پاکستان اور اسلام پر ایک سرسری نظر ڈال کر دلچسپی کی خبر اور کالم تفصیل سے پڑھ لیتا ہوں۔ ’الشریعہ‘ کے تبادلے میں درجنوں جرائد آتے ہیں۔ ان سب کو ایک نظر ضرور دیکھتا ہوں۔ فہرست پر نظر ڈال کر اگر کوئی مضمون دلچسپی یا ضرورت کا ہو تو وہ رسالہ مطالعہ کے لیے الگ کر لیتا ہوں اور اگر موقع مل جائے تو مطالعہ بھی کر لیتا ہوں، ورنہ اس طرح الگ کیے ہوئے رسالے اور کتابیں مہینوں پڑی رہتی ہیں۔
۸۔ کیا دورانِ سفر میں بھی مطالعہ کرتے ہیں؟ اور کس طرح کی کتابوں کا انتخاب کرتے ہیں؟
دورانِ سفر پہلے مطالعہ کر لیا کرتا تھا، اب نہیں ہوتا۔ مگر کوئی اخبار یا کتاب ضروری پڑھنی ہو تو اپنے اوپر تھوڑا جبر کر لیا کرتا ہوں۔ کسی سیمینار یا کانفرنس میں گفتگو کے لیے کوئی عنوان میں خود طے کروں یا میرے ذمہ لگ جائے تو خواہش یہ ہوتی ہے کہ باقاعدہ تیاری کروں، مگر اکثر اس کا موقع نہیں ملتا۔ وقتی طور پر انتہائی ضروری مطالعہ پر قناعت کرنا پڑتی ہے اور عام طور پر زبانی گفتگو کے بعد اسے قلم بند کرنے کی عادت سی بن گئی ہے۔
۹۔ عام طور پر مطالعہ کے اوقات کیا ہوتے ہیں؟ پروگرام کس طرح چلتا ہے، نشست کس طرح کی پسند کرتے ہیں، رفتار مطالعہ کیا ہوتی ہے؟
اب کوئی وقت متعین نہیں ہے۔ مصروفیات میں جو وقت بھی نکل آئے، اخبارات و جرائد پر نظر ڈال لیتا ہوں۔ تکیہ کے ساتھ فرشی نشست کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔ عام طور پر سیدھا بیٹھ کر پڑھتا ہوں۔ تھکاوٹ ہو تو نیم دراز ہو جاتا ہوں، لیکن لیٹ کر پڑھنے کی عادت نہیں ہے۔
۱۰۔ آپ کا حافظہ آپ کی وُسعتِ مطالعہ کا کہاں تک ساتھ دیتا ہے، کیا پڑھی گئی کتب کے نام، مضامین، مصنف، پوری طرح یاد رہتے ہیں؟
ضرورت اور دلچسپی کی بات اجمالاً یاد رہتی ہے اور بوقت ضرورت مراجعت میں فائدہ دیتی ہے، لیکن زیادہ تر باتیں ذہن سے عام طور پر محو ہو جاتی ہیں۔ دوبارہ کہیں دیکھنے پر یاد آتا ہے کہ پہلے بھی یہ بات کہیں پڑھی ہے۔ کسی لائبریری میں جاؤں تو ایک سرسری نظر سب کتابوں پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہوں تا کہ کوئی نئی کتاب آئی ہو تو معلوم ہو جائے اور کبھی کسی حوالہ سے کسی کتاب کی ضرورت محسوس ہو تو ذہن میں عام طور پر یہ بات محفوظ رہتی ہے کہ یہ کتاب فلاں لائبریری میں دیکھی تھی۔
۱۱۔ تنہائی اور خاموشی آپ کے مطالعہ کے لیے ضروری ہے، یا آپ ہجوم اور شور و شغب میں بھی پڑھ لیتے ہیں؟
مطالعہ کے لیے تنہائی کی کوشش کرتا ہوں۔ بوقت ضرورت شور و شغب میں بھی کام چل جاتا ہے۔ ایک مرحوم دوست مولانا سعید الرحمن علوی میرے لیے ہمیشہ قابل رشک رہے ہیں جو مجلس میں بیٹھے ہوئے گپ شپ بھی کرتے تھے، مطالعہ بھی چلتا تھا اور ساتھ ساتھ لکھتے بھی رہتے تھے اور ان میں سے کوئی بات دوسری پر اثر انداز نہیں ہوتی تھی۔ ویسے گھر والے کہتے ہیں کہ آپ کے ہاتھ میں کتاب یا رسالہ ہو تو آپ کو ارد گرد کا ہوش نہیں رہتا۔
۱۲۔ کیا مطالعہ کے دوران آپ کتاب پر نشان لگاتے ہیں؟ یا آپ الگ نوٹ کر لیتے ہیں؟ کبھی خلاصہ لکھنے کا شوق رہا؟
کتاب پر نشان لگانے سے گریز کرتا ہوں اور کوئی بات پسند یا ضرورت کی ہو تو نوٹ بک پر درج کر لیتا ہوں۔ کسی کتاب پر حاشیہ لکھنے کا معمول بھی نہیں ہے، البتہ ضروری حوالہ یا عبارت نوٹ بک پر محفوظ کر لیتا ہوں۔ اس قسم کے نوٹس دو تین مختصر کاپیوں میں موجود ہیں جو کبھی کبھی پھر سے دیکھتا رہتا ہوں۔
۱۳۔ آپ اپنے مطالعہ ، حاصلِ مطالعہ اور ذوقِ مطالعہ میں کیا اپنے گھر کے لوگوں خصوصاً بچوں کو بھی حصہ دار بناتے ہیں؟ بچوں کی تربیت ذوق کے لیے آپ کے تجربات کیا ہیں؟
بچوں کو کتاب کی طرف متوجہ کرتا ہوں اور ان کے مطلب یا ذہنی سطح کی کوئی کتاب نظر آجائے تو مہیا کرتا ہوں اور انہیں مطالعہ کرتے دیکھ کر خوش ہوتا ہوں۔
۱۴۔ کیا آپ کی ذاتی لائبریری ہے؟ اس کا حدود اربعہ کیا ہے؟ اس میں اہم ترین کتابیں کون سی ہیں؟ کچھ خاص کتابوں کو حاصل کرنے کے لیے اگر آپ کو کوئی خاص معرکہ سر کرنا پڑا ہو تو درج فرمائیے؟ نمایاں شخصیتوں کی طرف سے ہدیہ میں آئی ہوئی کتابیں کون کون سی ہیں؟
زندگی میں اپنے جیب خرچ اور کمائی کا ایک بڑا حصہ میں نے کتاب پر صرف کیا ہے۔ ذاتی اور گھریلو اخراجات کے بعد سفر، کتاب، اسٹیشنری و ڈاک میری کمائی کے اہم ترین مصارف رہتے ہیں۔ مجھے جب بھی اپنے اخراجات میں کوئی گنجائش ملی ہے (بسا اوقات اس کے بغیر بھی) تو میری رقم کے مصارف میں یہی تین چیزیں شامل رہی ہیں اور اب بھی یہی صورت حال ہے۔ میں نے زندگی میں جتنی کتابیں خریدی ہیں، اگر سب میرے پاس موجود ہوتیں تو انہیں سنبھالنے کے لیے ایک اچھی خاصی لائبریری درکار ہوتی، مگر میرے ساتھ المیہ یہ رہا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک کتاب خریدنے میں جس قدر ’’فضول خرچ‘‘ تھا، اسی طرح کتاب دینے میں بھی فراخ دل رہا ہوں۔ مجھ سے جس دوست نے بھی کسی ضرورت کے لیے کوئی کتاب مانگی ہے، میں انکار نہیں کر سکا اور اس طرح دی ہوئی کتابوں میں شاید ہی چند کتابیں مجھے واپس ملی ہوں، ورنہ اکثر کتابیں دوستوں ہی کے کام آرہی ہیں۔ یہ ’’واردات‘‘ میرے ساتھ انفرادی کے علاوہ اجتماعی بھی ہوئی ہے اور کئی بار ہوئی ہے۔ ۱۹۶۵ء کی بات ہے کہ گکھڑ میں ’’انجمن نوجوانان اسلام‘‘ قائم ہوئی جس کے بانیوں میں میرا نام بھی شامل ہے۔ اس انجمن نے عوامی خدمت کے لیے ’’دار المطالعہ‘‘ قائم کیا تو میں نے اپنی زیادہ تر کتابیں وہاں دے دیں کہ عمومی استفادہ ہوگا اور محفوظ بھی رہیں گی، مگر دو چار سال کے بعد انجمن بکھری تو کتابوں کا بھی کچھ پتہ نہ چل سکا کہ کہاں گئیں۔
اس کے بعد گوجرانوالہ میں اسلامیہ کالج روڈ پر کچھ نوجوانوں نے ’’انصار الاسلام لائبریری‘‘ کے نام سے ایک دینی دار المطالعہ قائم کیا تو اس وقت جمع ہونے والی کتابوں کا بڑا حصہ ان کی نذر کر دیا۔ یہ دار المطالعہ آٹھ دس سال چلتا رہا اور اب اس کا بھی کوئی سراغ موجود نہیں ہے۔ اس کے کافی عرصہ بعد شاہ ولی اللہ یونیورسٹی وجود میں آئی اور اس میں لائبریری قائم کی گئی تو میں نے ایک بار پھر کتابوں کی چھانٹی کی اور اچھا خاصا ذخیرہ شاہ ولی اللہ یونی ورسٹی کی لائبریری میں منتقل کر دیا، مگر یونیورسٹی کا سلسلہ تعلیم چند سال بعد منقطع ہوگیا تو لائبریری بھی بند ہوگئی۔ خدا جانے کوئی کتاب اب وہاں موجود ہے یا نہیں۔ اب میری ساری توجہ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی لائبریری کی طرف مبذول ہے اور کوشش کر رہا ہوں کہ ایک اچھی سی لائبریری اصحاب ذوق کو میسر آجائے۔ اس کارِ خیر میں عزیزم محمد عمار خان ناصر سلمہ بھی میرے ساتھ شریک ہے جو کتابی ذوق سے بخوبی بہرہ ور ہے اور لکھنے پڑھنے کے سوا اس کی کوئی اور دلچسپی نہیں ہے۔ اس کا بڑا بیٹا طلال خان بھی کتابوں اور رسالوں میں ہی غرق رہتا ہے، حتیٰ کہ کھانا بھی ماشاء اللہ اس کیفیت میں کھاتا ہے کہ کتاب یا رسالہ اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور پاس بیٹھی ماں یا دادی اس کے منہ میں لقمے ڈالتی رہتی ہے۔ اللہ پاک نظر بد سے بچائیں۔ مجھے اور عمار میں سے جس کو بھی کوئی کتاب میسر آجائے اور وہ ہماری وقتی یا ذاتی ضرورت کے دائرہ کی نہ ہو تو الشریعہ اکادمی کی لائبریری کی نذر ہو جاتی ہے۔ ’’الشریعہ اکادمی‘‘ کی لائبریری کو بہت چھوٹی ہونے کے باوجود شہر کی اہم لائبریریوں میں بحمد اللہ تعالیٰ شمار کیا جا سکتا ہے۔
بعض کتابوں کے حصول میں غیر معمولی صورت حال سے بھی واسطہ پڑا۔ میری طالب علمی کے زمانے میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے ایک شاگرد مولانا محمد صدیق ولی اللہی وقتاً فوقتاً آیا کرتے تھے۔ مجذوب طرز کے بزرگ تھے، مگر کتاب کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے اور کوئی نہ کوئی نادر کتاب ان کے تھیلے میں موجود ہوتی تھی۔ ایک دفعہ میں نے ان کے پاس ہندوستان کی زمینوں کی شرعی حیثیت کے بارے میں مولانا محمد اعلیٰ تھانوی کا رسالہ دیکھ لیا جو ان دنوں نایاب تھا۔ مجھے اس کی تلاش تھی۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ چند روز کے لیے مرحمت فرما دیں، میں نقل کر لوں گا۔ انھوں نے انکار کر دیا۔ میں نے گزارش کی کہ رات آپ نے یہیں رہنا ہے، اس لیے ایک رات کے لیے دے دیں، صبح واپس کر دوں گا۔ انھوں نے وہ رسالہ مجھے اس شرط پر دے دیا۔ میں نے رات بھر جاگ کر وہ رسالہ نقل کر لیا اور صبح کو انھیں واپس کر دیا۔
صدر ضیاء الحق مرحوم کے دور میں اسلامی نظریاتی کونسل نے سود کی حرمت اور اس کے متبادل شرعی نظام کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی تھی۔ ان دنوں اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹوں کی اشاعت پر پابندی ہوا کرتی تھی۔ مجھے اس رپورٹ کی تلاش تھی اور معمول کے ذرائع سے دستیاب نہیں ہو رہی تھی، البتہ قومی اسمبلی کے ارکان میں وہ تقسیم کی گئی تھی۔ میں ایک دن بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ایک رکن سے، جو اب مرحوم ہو چکے ہیں، ملنے کے لیے ایم این اے ہاسٹل میں ان کے کمرے میں گی تو وہ رپورٹ ان کی میز پر پڑی دیکھی۔ میرا جی للچایا اور میں نے ان جانے سے انداز میں ان سے پوچھا کہ یہ کون سی کتاب ہے؟ انھوں نے بھی اسی انجانے سے لہجے میں کہا کہ پتہ نہیں، کوئی صاحب دے گئے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کی ضرورت کی تو نہیں، کیا میں لے لوں؟ انھوں نے اثبات میں سر ہلایا تو میں نے وہ کتاب اٹھا کر اپنے بیگ میں رکھ لی۔ اس رپورٹ کے اس طرح اچانک حصول پر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ میں وہ کیفیت بیان نہیں کر سکتا۔ میں نے اسے محفوظ کر لیا کہ برطانیہ کے سفر کے دوران فراغت سے مطالعہ کر لوں گا، مگر ساؤتھال لندن کی ابوبکر مسجد میں ورلڈ اسلامک فورم کی ایک میٹنگ میں انڈیا کے محقق عالم دین حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ ہمارے ساتھ شریک تھے۔ میں نے کسی ضرورت کے تحت اپنا بیگ ان کے سامنے کھولا تو ان کی نظر اس رپورٹ پر پڑ گئی۔ انھوں نے مجھ سے مانگ لی اور فرمایا کہ میں تو ایک عرصہ سے اس کی تلاش میں تھا۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے بھی بڑی مشکل سے حاصل کی ہے۔ انھوں نے یہ فرما کر بے تکلفی کے ساتھ وہ رپورٹ اپنے بیگ میں رکھ لی کہ مجھے اس کی سخت ضرورت ہے، تم کوئی اور نسخہ تلاش کر لینا۔ مجھے کتاب کھو جانے کا افسوس تو ہوا، مگر اس سے کہیں زیادہ خوشی ہوئی کہ وہ رپورٹ مجھ سے زیادہ اہل اور مستحق بزرگ کے پاس پہنچ گئی۔
لندن ہی میں ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا مفتی برکت اللہ کی ذاتی لائبریری میں ایک کتاب میری نظر سے گزری جو ایک عرب محقق الاستاذ عبد الحلیم ابو شقہ ؒ نے ’’تحریر المراۃ فی عصر الرسالۃ‘‘ کے عنوان سے چار جلدوں میں لکھی ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں عورتوں کو حاصل ہونے والی آزادیوں کے بارے میں انتہائی مستند مواد جمع کر دیا ہے۔ انسانی حقوق اور خاص طو رپر عورتوں کے حقوق میر ے مطالعہ اور گفتگو کا ہمیشہ سے اہم موضوع رہے ہیں، اس لیے یہ کتاب میری دلچسپی اور ضرورت کی تھی۔ میں نے مولانا مفتی برکت اللہ کے ساتھ وہی کیا جو میرے ساتھ مولانا مجاہد الاسلام قاسمی نے کیا تھا۔ مفتی برکت اللہ صاحب کے نہ نہ کرتے بھی میں نے وہ کتاب اپنے بیگ میں رکھ لی اور ان سے کہا کہ آپ دوسرا نسخہ منگوا لیں، یہ میں لے جا رہا ہوں۔ یہ نسخہ الشریعہ اکادمی کی لائبریری میں موجود ہے۔ اس کتاب کا مکمل اردو ترجمہ اب اسلامی نظریاتی کونسل نے اسلام آباد سے شائع کر دیا ہے، جبکہ ایک جلد میں اس کی تلخیص بھی ’’عورت عہد رسالت میں‘‘ کے عنوان سے لاہور کے ایک اشاعتی ادارے نے شائع کی ہے۔
یہودیوں کی ایک اہم کتاب ’’تالمود‘‘ ہے جس کا وہ عام طو رپر مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل مجھے اس کی تلاش تھی کہ ا س کا اردو یا عربی ترجمہ مل جائے تو یہ معلوم کر لوں کہ مواد کس نوعیت کا ہے۔ مختلف دوستوں سے پوچھتا رہا مگر کچھ پتہ نہ چلا۔ برطانیہ میں ایک کتاب شناس دوست سے ذکر کیا تو انھوں نے بتایا کہ ’تالمود‘‘ کے منتخب حصوں کا اردو ترجمہ تو آپ کے گوجرانوالہ سے شائع ہوا ہے۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ انھوں نے اپنی لائبریری سے وہ کتاب نکال کر مجھے دکھائی تو اس پر ناشر کے طور پر ’’بیت المومنین سادھوکی گوجرانوالہ‘‘ لکھا تھا۔ واپسی پر میں نے سادھوکی کے قریب جی ٹی روڈ پر واقع جامعہ اسلامیہ کے مہتمم مولانا عبد الرؤف فاروقی کو بتایا تو انھیں بھی حیرانی ہوئی۔ہم دونوں سادھوکی کے ریلوے پھاٹک کے ساتھ واقع ادارہ ’’بیت المومنین‘‘ پہنچے تو دیکھا کہ وہ کیتھولک مسیحیوں کا ایک عالمی سطح کا معیاری اشاعتی ادارہ ہے جہاں سے ویٹی کن سٹی کی مطبوعات کے معیاری اردو تراجم شائع ہوتے ہیں۔ عجیب اتفاق کی بات یہ ہوئی کہ اس وقت جو انچارج پادری صاحب وہاں موجود تھے، ان کا تعلق بھی ہمارے آبائی شہر گکھڑ سے تھا۔ انھوں نے ہمیں پہچان لیا، خوب آؤ بھگت کی اور تالمود کے اردو ترجمے کے علاوہ کیتھولک بائبل اور چند دیگر کتابیں بھی ہمیں ہدیے کے طو رپر پیش کیں۔
آج کل مطلب کی کسی کتاب کے حصول کے لیے مجھے عام طو رپر تین ذرائع میسر ہیں۔ کسی صاحب علم دوست کے ہاں جاتا ہوں تو ان کی لائبریری پر ایک نظر ضرور ڈالتا ہوں۔ کوئی نئی کتاب دلچسپی کی نظر میں آئے تو اس کا نام اور مصنف وناشر کا تعارف ذہن نشین کر لیتا ہوں اور بعد میں موقع ملے تو حاصل کرنے کی کوشش بھی کرتا ہوں۔ ہمارے دوستوں میں ایک کتاب دوست اور کتاب شناس ساتھی شبیر احمد میواتی ہیں۔ اچھی کتابوں کی تلاش، ان کا حصول اور متعلقہ دوستوں تک انھیں پہنچانا (اگرچہ بعض اوقات اس کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے) میواتی صاحب کا خصوصی مشغلہ ہے۔ ہمارے ہاں اکثر آتے رہتے ہیں اور ہر مرتبہ ان کی زنبیل میں نئی اور پرانی کتابوں کا ایک اچھا انتخاب موجود ہوتا ہے۔ ان میں سے کوئی کتاب میرے مطلب کی ہو تو وہ دے دیتے ہیں یا میں مانگ لیتا ہوں، ورنہ مطالعہ کے لیے تو رکھ ہی لیتا ہوں جو زیادہ تر واپس بھی کر دیتا ہوں۔ ہمارے ایک اور دوست محمد رفیق صاحب ہیں۔ نادر عربی کتابوں کی خرید وفروخت ان کا مشغلہ ہے۔ کبھی کبھی آتے ہیں تو ان کا تھیلا کھلوا کر دیکھتا ہوں۔ کوئی دلچسپی یا ضرورت کی کتاب جیب کی گنجائش کے دائرے میں ہو تو خرید لیتا ہوں یا عمار سے کہتا ہوں کہ الشریعہ اکادمی کے فنڈ میں گنجائش ہو تو لائبریری کے لیے خرید لو۔ بصورت دیگر کتاب خاموشی کے ساتھ واپس کر دیتا ہوں۔
۱۵۔ کتابیں مستعار دینے اور لینے کے متعلق آپ کے تجربات کیا ہیں اور اس معاملے میں آپ کا نظریہ و مسلک کیا ہے؟ کیا کچھ واقعات ایسے ہیں کہ بعض اہم کتابوں سے آپ ہاتھ دھو بیٹھے ہوں؟
اس بارے میں بہت تلخ تجربہ رکھتا ہوں۔ بہت سی کتابیں ضائع کر چکا ہوں۔ ایک اہم کتاب جو مجھ سے کسی صاحب نے مطالعہ کے لیے لی، کئی برس بعد مجھے ایک فٹ پاتھ پر کتابیں بیچنے والے سے دوبارہ خریدنی پڑی۔ حتی کہ فلپ کی ہٹی کی جس کتاب کا میں سطور بالا میں ذکر کر چکا ہوں، اس پر میرے لکھے ہوئے نوٹس بھی موجود تھے، وہ اور قاضی عیاضؒ کی ’’الشفاء‘‘ جو ایک دوست نے مجھ سے مطالعہ کے لیے لی تھیں، یہ دونوں ذاتی کتابیں میں نے فٹ پاتھ سے دوبارہ خریدیں۔
۱۶۔ کیا مطالعہ سے عمر کے ساتھ ساتھ کوئی ذہنی، فکری تبدیلی پیدا ہوئی؟
مطالعہ کے ارتقا سے فکر و ذہن کا ارتقا ایک فطری امر ہے۔ میں بھی اس تجربہ سے دو چار ہوا ہوں۔ بہت سی باتیں جن پر ابتدائی دور میں لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتے تھے، اب ہلکی پھلکی معلوم ہوتی ہیں اور مطالعہ نے رفتہ رفتہ فکر میں توسع اور تنوع پیدا کیا ہے۔ خاص طور پر یہ کہ آج کے حالات میں آزادانہ بحث و مباحثہ کے بغیر کسی بھی مسئلے میں منطقی نتیجے تک پہنچنا ممکن نہیں ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ اور تعلیمی مراکز نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مختلف اطراف سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی جو مہم شروع کر رکھی ہے، اس کے اثرات سے نئی نسل کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمارا روایتی اسلوب کافی نہیں ہے۔ ماضی نے اپنا علمی خزانہ کتابوں اور سی ڈیز کی شکل میں اگل دیا ہے اور آج کوئی بھی ذی استعداد اور با صلاحیت نوجوان اپنے چودہ سو سالہ علمی ماضی کے کسی بھی حصہ کے بارے میں معلومات حاصل کر نا چاہے یا کسی بھی طبقے کا موقف اور دلائل معلوم کرنا چاہے تو اسے اس کے بھرپور مواقع اور وسائل ہر وقت میسر ہیں۔ اس ماحول میں یہ کوشش کرنا کہ نوجوان اہل علم صرف ہمارے مہیا کردہ علم اور معلومات پر قناعت کریں اور علم اور معلومات کے دیگر ذرائع سے آنکھیں اور کان بند کر لیں ، نہ صرف یہ کہ ممکن نہیں بلکہ فطرت کے بھی منافی ہے۔ اس لیے آج کے دور میں ہماری ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے اور یہ بات ہمارے فرائض میں شامل ہو جاتی ہے کہ مطالعہ اور تحقیق کے اس سمندر سے نئی نسل کو روکنے کی بجائے خود بھی اس میں گھسیں اور ان متنوع اور مختلف الجہات ذرائع معلومات میں حق کی تلاش یا حق کے دائرے کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی راہ نمائی کریں۔ چنانچہ علم و فکر کی دنیا میں میرا ذوق روکنے یا باز رکھنے کا نہیں بلکہ سمجھانے اور صحیح نتیجے تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن مدد کرنے کا ہے۔ کسی دوست کو یہ طریقہ پسند ہو یا نہ ہو، لیکن میں اسی کو صحیح سمجھتا ہوں۔ اس کے لیے بحث و مباحثہ ضروری ہے، مسائل کا تجزیہ و تنقیح اور دلائل کی روشنی میں ان کا خالص علمی انداز میں تلاش کرنا ضروری ہے۔ ایک عرصہ تک میرا بھی یہ ذوق اور ذہن رہا ہے کہ تحقیق کا دائرہ صرف یہ ہوتا ہے کہ جو بات ہم اپنے ذہن میں پہلے سے طے کر چکے ہیں، اسے کسی نہ کسی طرح ثابت کر دیا جائے۔ مگر رفتہ رفتہ یہ بات ذہن میں راسخ ہوتی گئی کہ خود اپنی بات کو دلائل اور حقائق کے معیار پر پرکھنا بھی تحقیق کا اہم ہدف ہوتا ہے ۔ بہت سے مسائل میں اکابر اہل علم کا رجوع الی الحق بالخصوص حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی طرف سے اس کا باقاعدہ اہتمام میرے ذوق میں اس تبدیلی کا باعث بنا۔
۱۷۔ اگر آپ کسی ایسی جگہ پر ہوں جہاں آپ باقی دنیا سے کٹ گئے ہوں اور آپ کو باقی زندگی کے لیے (قرآن مجید کے علاوہ) صرف تین کتابوں کے انتخاب کا موقع دیا جائے تو کن کتابوں کا انتخاب کریں گے؟
اللہ نہ کرے ایسی کوئی صورت پیش آئے، لیکن اگر خدانخواستہ کوئی ایسی صورت پیش آجائے تو قرآن کریم کے علاوہ احادیث نبویہ کے کسی اچھے سے مجموعہ، تاریخی واقعات کی کوئی ضخیم کتاب اور دیوان سنگھ مفتون کی ’’ناقابل فراموش‘‘ کا تقاضا کروں گا۔
۱۸۔ کیا کبھی کسی تحریر کے مطالعے سے منفی احساس بھی ہوا، مایوسی یا غصے کی کیفیت؟
قرآن کریم، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظام اور بڑی دینی شخصیات کا کہیں توہین و تمسخر کے انداز میں ذکر ہو تو غصہ آتا ہے اور وہیں مطالعہ چھوڑ دیتا ہوں۔ اختلاف رائے کا حق بلا جھجھک استعمال کرتا ہوں اور بلا تأمل دوسروں کو اختلاف رائے کا حق دیتا ہوں۔ سنجیدہ علمی اختلاف کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتا ہوں، مگر توہین، استہزا اور تمسخر میرے لیے ہمیشہ ناقابل برداشت رہا ہے اور استحقار واستخفاف کا لہجہ کسی بھی شخصیت کے بارے میں اختیار کیا جائے، مجھے اچھا نہیں لگتا۔ قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تنقید واعتراضات پر مشتمل پنڈت دیانند سرسوتی کی کتاب ’’ستیارتھ پرکاش‘‘ کے چودھویں باب کا کئی بار مطالعہ کیا ہے اور اب بھی ضرورت پڑنے پر اسے دیکھتا ہوں، مگر راج پال کی بدنام زمانہ کتاب ’’رنگیلا رسول‘‘ کو پڑھنے کا اپنے اندر کبھی حوصلہ نہیں پایا۔
۱۹۔ کچھ ایسے مصنفین جن کو ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا ہو، ملاقات میں کامیاب ہوئے، ملنے کے بعد تاثرات؟
اقبال اور چودھری افضل حق تو میری ولادت سے پہلے ہی فوت ہو گئے تھے، البتہ مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ اور الاستاذ وہبہ زحیلی سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کی زیارت پہلی بار ۱۹۸۴ء کے دوران مکہ مکرمہ میں کی جہاں وہ مولانا محمد منظور نعمانیؒ کے ہمراہ غالباً رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ ان دونوں بزرگوں کے ساتھ بیٹھنے اور گفتگو کی سعادت حاصل کرنے کے علاوہ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کو اپنے بازوؤں کے حصار میں بیت اللہ شریف کا طواف کرانے کا شرف بھی حاصل کیا۔ مولانا ندویؒ سے بعد میں میرا بیعت کا تعلق قائم ہوا اور انہوں نے تحریری طور پر اپنی تمام اسناد کے ساتھ روایت حدیث نبوی ؐ کی اجازت کے شرف سے بھی نوازا۔ فالحمد للہ علیٰ ذلک۔ امریکی مصنف ’’ڈیل کارینگی‘‘ بھی میرے پسندیدہ مصنفین میں سے ہیں مگر ملاقات کا موقع نہیں مل سکا ، شاید وہ بھی میری ہوش کی عمر سے پہلے ہی دنیا چھوڑ چکے ہوں۔ نسیم حجازی مرحوم سے ملاقات کر کے خوشی ہوئی۔ مولانا مودودیؒ سے ملاقات کا موقع نہیں مل سکا۔ مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ کے ساتھ برطانیہ میں گزرے ہوئے چند دن میری زندگی کے یادگار ایام میں سے ہیں۔ مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ کے ساتھ ملاقات بھی خوشی کا باعث بنی، جبکہ ڈاکٹر حمید اللہؒ کی زیارت وملاقات کی زندگی بھر حسرت رہی۔
مکاتیب
ادارہ
محترم ومکرم جناب مدیر صاحب، ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ
السلام علیکم! امید ہے کہ جناب مع الخیر ہوں گے۔
میں گزشتہ کچھ سالوں سے جناب کے موقر جریدے کا ایک ادنیٰ قاری ہوں۔ ا س میں شائع ہونے والی اکثر تحریریں بہت اچھی ہوتی ہیں اور مختلف موضوعات پر دینی تناظر میں گفتگو کو آگے بڑھانے میں معاون ہوتی ہیں۔ اگرچہ دل بہت چاہتا ہے کہ ’’الشریعہ‘‘ میں شائع ہونے والی تحریروں کا اسلوب علمی ہوتا اور ان کی فکری سطح بھی کچھ بلند ہوتی، لیکن آپ جو کچھ کر رہے ہیں، اس کی میرے دل میں بہت عزت ہے کہ ہمارے آج کے تہذیبی ویرانے میں ’’الشریعہ‘‘ ایک توشہ خاص ہے۔
آپ کے جریدے میں جولائی اور اگست کے شماروں میں ایک مضمون ’’تنقیدی جائزہ یا ہجو گوئی‘‘ از جناب محمد رشید صاحب دو قسطوں میں شائع ہوا ہے جس میں انھوں نے جناب میاں انعام الرحمن کے مضمون پر بڑی سخت گرفت کی ہے۔ میں اسی حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں، لیکن اس سے پہلے کچھ اعترافات کرتا چلوں تو مناسب ہوگا۔
میں جناب میاں انعام الرحمن اور جناب محمد رشید میں سے کسی سے ذاتی طور پر واقف نہیں ہوں۔ میں اپنی معروضات کو صرف اسی مضمون پر اٹھانا چاہ رہا ہوں۔ دوسرے یہ کہ میں ڈاکٹر محمود غازی مرحوم کے لیے بہت نیک جذبات رکھتا ہوں، اگرچہ میں ذاتی طو رپر ان سے واقف نہیں تھا۔ میرے حلقہ احباب میں کچھ لوگ ان کے بارے میں بہت حسن ظن رکھتے ہیں، اس میں سے کچھ حصہ مجھے بھی نصیب ہوا ہے۔ وہ بہت متقی اور نیک آدمی تھے۔ اللہ انھیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔ ان کی نیکی کی خبر پر یقین کے بعد میں نے ان کی چند تحریروں کو دیکھا، لیکن ان میں سے مجھے کوئی بھی کام کی نہیں لگی، لیکن الحمد للہ ان کے بارے میں اچھے جذبات میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ میں تقویٰ اور علم کو نہ مساوی سمجھتا ہوں نہ لازم وملزوم جانتا ہوں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ تقویٰ ضروری چیز ہے اور مدار نجات ہے، جبکہ علم کو یہ حیثیت بھی حاصل نہیں ہے۔ لہٰذا ڈاکٹر غازی مرحوم کا تقویٰ اللہ کے ہاں ان شاء اللہ مقبول ہوگا اور ان کے علم میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہے تو یہ کوئی ایسی گھبرانے کی یا سیخ پا ہونے کی بات بھی نہیں ہے۔ چلیں، اگلی نسل میں اس پر بات آگے بڑھے گی تو ان موضوعات کے زیادہ بہتر اور قابل توجہ پہلو سامنے آئیں گے جن پر ڈاکٹر صاحب کی نظر نہیں گئی تھی۔ اس میں تو کوئی حرج کی بات نہیں۔ ڈاکٹر غازی مرحو م کے تقویٰ اور علم میں خلط مبحث پیدا کرنا، امت کے لیے ان کی دردمندی کو فراموش کرنا، امت مسلمہ کی علمی ضروریات کو پورا کرنے میں ان کی نیک نیتی پر شک کرنا یا یہ سمجھ لینا کہ ان کی کوششوں سے یہ علمی ضروریات کسی درجے میں پوری ہو گئی ہیں، میرے خیال میں مناسب نہیں ہے۔ ہم ڈاکٹر غازی مرحوم یا کسی بھی دین دار آدمی کے تقویٰ کو زیر بحث لا کر اپنی عاقبت کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔
ان گزارشات کے بعد میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے جناب محمد رشید کے اس رویے کی بالکل سمجھ نہیں آئی جو انھوں نے جناب میاں انعام الرحمن کے حوالے سے ظاہر کیا ہے۔ اگر ہم نے اپنے علما کے نظری، فکری اور علمی افلاس کو دین ہی کا کوئی حصہ سمجھ رکھا ہے تو پھر یہ رویہ بالکل درست ہے اور عین ایمان ہے۔ مجھے علما کے دینی علم میں کوئی کلام نہیں ہے۔ اگر وہ کتابیں یاد کر کے کچھ چیزوں کو دہراتے رہتے ہیں تو یہ ان کا علم نہیں قرار پائے گا۔ صرف یہی کہیں گے کہ معلومات ان کی اچھی ہیں۔ مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ جیسے علما عصر حاضر میں ہمارے لیے اللہ کی بڑی نعمتوں کاظہور تھا، لیکن تقسیم کے بعد ہمارے علما اور مذہبی طبقے نے عوام کے حقوق اور مفادات پر استعماری سرمایے، استعماری علم اور استعماری سیاست سے جس جس طرح کی سودے بازی کی ہے، وہ بھلا کس سے اوجھل ہے؟ میرا خیال ہے کہ اب ہمارے معاشرے میں جو آدمی علما سے علم کا مطالبہ کرے یا مسلمانوں کے لیے کسی طرح کے اخلاقی لوازم کی بات کرے، اس کی سرکوبی کا مستقل بندوبست ہونا چاہیے۔ ا س مطالبے کے غیر دینی ہونے کو بھی اب سے نمایاں کرنے کی ضرورت ہے کہ ہر طرح کی دینی تعبیرات کو ایک سازگار فضا میسر آ سکے اور ایسی ہر صورت حال کے خاتمے کی محکم تدابیر ہونی چاہییں جس سے مسلمانوں میں علمی گفتگو کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہو۔ اس سے ہماری مجموعی insecurity کو ختم کرنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔
اب جناب میاں انعام الرحمن کی جس پہلی ہی بات پر جناب محمد رشید نے اتنے سخت رد عمل کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے بارے میں یہی عرض کر سکتا ہوں کہ یہ ہمارے علما کا اور دینی ڈسکورس میں بات کرنے والوں کا عمومی رویہ ہے۔ اب اس میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر غازی مرحوم جو علمی زاد راہ لے کر عصر حاضر پر گفتگو کرنے نکلے، وہ ان کے پاس نہیں ہے۔ اس سے ان کی نیک نیتی اور تقوے پر کوئی حرف نہیں آتا۔ اگر وہ کچھ چیزوں کا سرے سے ہی کوئی علم نہیں رکھتے تو اس میں کوئی حرج والی بات کہاں ہے؟ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ حدیث سے یقیناًواقف ہیں، لیکن جس طرح اس کی تطبیق کر رہے ہیں، وہ قطعی غیر علمی ہے۔ اس میں کیا قیامت آ گئی؟ اس سے مسلمانوں کا بھلا ہی ہوا کہ وہ کوشش جاری رکھیں گے اور اس کی بہتر تطبیق کا راستہ نکالنے کی کوشش کریں گے جو علمی طو رپر قابل دفاع ہو۔ میرا خیال ہے کہ نظری اور فکری امو رپر فقہی ذہن سے فتویٰ لگانا ہمارے ہاں مذہبی علم کی معراج ہے، لیکن بدلے ہوئے عصری حالات میں اس میں بہت سے خطرات پوشیدہ ہیں۔ نظری اور فکری افلاس کو فقہی احکامات کی گوشہ وار تفصیل بیان کرنے سے پر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر جناب میاں انعام الرحمن نے دو مستثنیات کیساتھ ایک سخت بات کہی ہے تو وہ بالکل جائز ہے۔ ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے اور اس کے تدارک کی کوئی سبیل نکالنی چاہیے۔
یہ مولانا صاحب تو چلیے، نظام معاش پر فقہی معلومات اور عصری بے خبری میں کچھ کلام کرنے نکلے ہیں۔ تعلیم ہمارے لیے کیا کچھ اہمیت نہیں رکھتی! لارڈ میکالے کے جس نظام تعلیم پر، جس نے ہماری عصری شعور کی بہت گہرائی میں تشکیل کی ہے اور ہمارے شعورکی پوری ساخت ہی کو غیر انسانی، غیر فطری اور غیر دینی بنیادوں پر استوار کیا ہے اور علما کا کام بھی یہی تعلیم تھا تو اس پر کوئی ایک علمی فقرہ بھی پچھلے تقریباً دو صد سالوں میں لکھا گیا ہے؟ میں یہاں سیاسی نعرے بازی کا ذکر نہیں کر رہا۔ وہ تو بہت ہوئی ہے کہ لارڈ میکالے فلاں، لارڈ میکالے ڈھماں۔ میں نے متداول مدارس کے نظام کا بہت گہرا مطالعہ کیا ہے اور اللہ سے ڈر کے عرض کر رہا ہوں کہ ہمارے یہ علما قیامت کے دن اسی میں دھرے جائیں گے۔ اللہ معاف کر دے تو اور بات ہے، وہ غفور رحیم ہے۔ ہمارے علما کو جدید تعلیم اور جدید عہد میں دی جانے والی کسی بھی طرح کی تعلیم کی کوئی ابجدی واقفیت بھی نہیں ہے۔ دین دار ہونا اور چیز ہے، تعلیم دینا، بھلے وہ دینی ہو یا غیر دینی، اور بات ہے۔ اگر بظاہر کوئی اچھے دینی ادارے نظر بھی آ رہے ہیں تو سب ریس اور نقل پر قائم ہو رہے ہیں اور مغربی تعلیم کی دین کے آنگن میں پیش رفت کے نئے سنگ میل ہیں۔ تعلیم کی آڑ میں سب سیاست بازی ہے۔ ہمارے علما تعلیم کے نہ انسانی پہلووں سے باخبر ہیں نہ اس کے فنی پہلووں سے آگاہ ہیں اور جدید تعلیم کے نظری اور فکری پہلووں کی تو موجودگی کی بھی ان کو خبر نہیں ہے۔ اب ’’دینی تعلیم‘‘ کی ترکیب ہی ایسی ہے کہ عام آدمی سہم جاتا ہے کہ اگر کوئی بات کہہ دی تو کہیں ایمان ہی سے نہ فارغ کر دیا جائے۔ میں یہاں نورانی قاعدے کے مولف مولانا نور محمدؒ خلد آشیانی کے چند فقرات لکھ رہا ہوں۔ غور فرمائیے گا:
’’جب تک اتنی مشق نہ ہوجائے، آگے نہ پڑھائیں۔ ورنہ وہی مثل صادق آئے گی، آگا دوڑ پیچھا چوڑ۔ اگر کوشش اور محنت سے پڑھا نہیں سکتے تو ناحق بچوں کی عمر اور استعداد برباد نہ کریں۔ اس کا گناہ چوری اور راہزنی سے بھی بدتر ہے، کیونکہ مال واسباب پھر بھی مل سکتا ہے، لیکن گزری ہوئی عمر واپس نہیں آ سکتی اور بگڑی ہوئی استعداد درست نہیں ہوتی۔‘‘
جناب محمد رشید صاحب نے یہ ثابت کرنے میں بہت زور لگایا ہے کہ ڈاکٹر غازی صاحب قارونی نظام کے سخت مخالف تھے اور انھوں نے جو پیرا گراف حوالہ قرطاس کیے ہیں، ان سے تویہ پتہ چلتا ہے کہ ہمارا دین قارونی نظام کے بہت خلاف ہے۔ ہم یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب بھی ہوں گے، کیونکہ دین اسی کا مطالبہ کرتا ہے اور وہ بہت دین دار آدمی تھے۔ لیکن قارونی نظام کا کوئی فہم ڈاکٹر صاحب کی محولہ تحریروں میں موجود نہیں ہے۔ اگر قارونی نظام کی دشمنی کے دینی مطالبات کسی علمی فہم میں بھی تبدیل نہیں ہوتے تو یہ بہرحال سوچنے کی بات ہے۔ اگر ہم یہ بھی فرض کر لیں کہ ڈاکٹر صاحب دین کی مراد پر قائم ہو گئے تھے تو ہمیں یہ بھی تسلیم ہے اور حسن ظن بھی یہی ہے، لیکن اس بات کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ دین کی روحانی اور اخلاقی اقدار کو سمجھنے کے لیے کسی علم کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو فطری ہیں۔ اور پھر اس اصرار کی کیا گنجائش ہے کہ ان اقدار کو ماننے والا ازخود نظری اور فکری مطالبات اور مرادات تک رسائی بھی حاصل کر لیتا ہے؟ یعنی ایک متقی آدمی صاحب علم بھی ازخود بن جاتا ہے اور تقویٰ ازخود سیاسی اور علمی سیادت میں بھی بدل جاتا ہے؟ انھی خوش فہمیوں میں ہمارے علما اس امت کو عصر حاضر کے ظلمت خانوں میں لے کر پہنچے ہیں جہاں اب خود انھیں بھی کوئی راستہ سجھائی نہیں د ے رہا، اگرچہ واویلا اس کے برعکس مچایا جا رہا ہے۔ اور اب چاروں طرف تہذیب مغرب کو، ا س کے چند بالکل اسلام مخالف پہلووں کے علاوہ، justify کرنے کا شدید ترین داعیہ بھی ہمارے دینی طبقے ہی سے ابھر رہا ہے۔
مدیر صاحب! اب بازی ہمارے ہاتھ سے آخرکار مکمل نکل گئی ہے، کیونکہ علما نے سیاست بازی میں بڑا وقت ضائع کیا ہے اور اپنے اصل کام یعنی دین کے علمی دفاع سے بہت سخت نوعیت کی غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اب علما کو دین اور نفس دین کی فکر نہیں ہے، ان کو اب اپنی فکر لگ گئی ہے اور یہ سب اسی کے اظہارات ہیں۔ کیا یہ طرفہ تماشا نہیں کہ کچھ جدید تعلیم یافتہ لوگ جو دین کا درد بھی رکھتے ہیں، اب مغرب کے خلاف دفاعی پوزیشن لیے ہوئے ہیں اور علما اپنی تحریروں میں صبح شام وہ مقامات اور اقوال نکال نکال کر دکھا رہے ہیں جن سے مغرب کو جواز ملتا ہے؟ تقسیم کے بعد، چند ایک حق پرست علما کو چھوڑ کر، ہمارے وہ کون سے علما ہیں جنھوں نے آمریت اور استعمار کے در پر جبیں سائی نہیں کی ہے، جنھوں نے تیرہ آشام تعلیم اور علم کو اپنے فتاویٰ سے جواز نہیں بخشا ہے، جنھوں نے ظلم، جبر اور استبداد کو مذہبی جواز دے کر سیاسی اسلام کو عوام کے حقوق کے خلاف استعمال نہیں کیا ہے؟
ڈاکٹر صاحب کے جو بھی اقتباسات جناب محمد رشید نے درج فرمائے ہیں، وہ بہت اچھے ہیں۔ ان کے مشمولات سے بھلا کس کو اختلاف ہو سکتا ہے؟ لیکن یہ بڑی صحافیانہ سی باتیں ہیں جو عام سیاسی مجلوں میں آئے دن چھپتی رہتی ہیں۔ ان میں کوئی نظری، فکری یا علمی بات نہیں ہے۔ اگر یہ بات جناب میاں انعام الرحمن نے بھی کہہ دی ہے تو کیا قیامت آ گئی ہے؟ اگر ڈاکٹر صاحب مغرب پر تنقید کر رہے ہیں تویہ بھی اچھی بات ہے اور ان کی یہ تنقید بھی درست ہے اور اس کا تناظر اخلاقی اور سیاسی ہے اور یہ ہمارے کچھ طبقات میں متداول بھی ہے۔ لیکن یہ عام سی باتیں ہیں جو ہم صبح شام اپنے ارد گرد سنتے رہتے ہیں۔ ان باتوں کے لیے وہ عند اللہ ماجور بھی ضرور ہوں گے، لیکن یہ شور مچانا کہ ڈاکٹر صاحب نے کوئی علمی بات بیان فرمائی ہے، یہ انصاف کے خلاف ہے۔ اورجناب انعام کی تحریر میں مجھے تو کوئی ایسی بات نظر نہیں آئی جس سے ڈاکٹر صاحب کی ذاتی تنقیص کا کوئی پہلو سامنے آتا ہو۔
اخلاقی وعظ نگاری کو پچھلے دو سو سال سے لکھتے پڑھتے، ہم اسی کو اب علم پر بھی محمول کرتے ہیں۔ میں نے تو بڑی کوشش کی ہے کہ وہ بات ہاتھ لگے جس پر رد عمل میں جناب محمد رشید صاحب نے ہر اخلاقی حد عبور کی ہے، سوائے اس بات کے کہ جس شخصیت کے ساتھ ’’مولانا‘‘ ]ایک زمانہ تھا جب انگریزی میں ’’ڈاکٹر‘‘ کا اصل مفہوم مولانا ہی تھا[ لگا ہو، اس کے خیالات پر بات کرنے سے احتراز کرنی چاہیے، بس ایمان لے آنا چاہیے۔ مجھے تو یہی محسوس ہوا کہ اخلاقیات جس طرح ہمارے انفرادی اور اجتماعی عمل سے خارج ہو گئی ہے، اسی طرح دین کی گفتگو سے بھی بالکل غیرمتعلق ہو چکی ہے۔ بد کلامی، پوچ گوئی، اتہام، الزام بازی اور بد تہذیبی کیا کوئی نیک عمل بن جاتا ہے اگر میں اس کے ساتھ ’’دینی‘‘ کا لفظ اضافہ کر دوں؟ عصر حاضر میں دائرۂ کفر واسلام کمزو رپڑ جانے پر اب دینی گفتگو میں گالم گلوچ کی نئی اہمیت سامنے آ رہی ہے۔ جناب انعام صاحب نے تو کوئی بداخلاقی نہیں کی۔ ہاں، علمی اختلاف کیا ہے، بھلے اس کی بنیاد خود رائی ہی کیوں نہ ہو اور ا ن کا انداز ادعائی ہی کیوں نہ ہو، لیکن جواب کیا آ رہا ہے؟ ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے۔ اگر جناب انعام صاحب اپنے کو ’’علامہ‘‘ سمجھتے ہیں تو اس پر جناب رشید صاحب کا اعتراض اس وقت قابل فہم ہو سکتا تھا اگر وہ آج کل ’’مولانا‘‘ بننے کے معیارات کا جائزہ بھی تھوڑی سی دیانت سے لکھ دیتے۔
یہ تو بے چارے اس آدمی کا حشر ہوا جس نے خود کو پروفیسر کہنے کی جسارت کر لی۔ مجھے تو مدیر صاحب! آپ کی خیریت نیک مطلوب ہے، بلکہ محبت میں تو اکثر یہ کہہ جاتا ہوں کہ ’’میں عمار ناصر خان کی خیریت نیک مطلوب چاہتا ہوں‘‘ جب مذہبی طبقے اور مولانا حضرات کے تبصرے آپ کے بارے میں سنتا ہوں۔ ہمارے مذہبی طبقے کو اب کوئی نوشتہ دیوار بھی نظر نہیں آتا۔ خدا خیر کرے!
محمد دین جوہر، صادق آباد
پرامن اور متوازن معاشرے کے قیام میں علماء کا کردار
ادارہ
(۲۲، ۲۳ جون ۲۰۱۱ء کو پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اسلام آباد کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں اہل علم ودانش کی گفتگو کے منتخب اقتباسات۔)
مولانا محمد خان شیرانی
(چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان )
آج حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ جب دنیا عقل اور دلیل کی بات کرتی ہے، وہاں پر ہم جو ان اداروں کے تعلیم یافتہ ہیں، فتویٰ کی بات کرتے ہیں، حالانکہ فتویٰ اور دلیل میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ .... تمام علماء کرام کو معلوم ہے کہ نبوت کا راستہ بند ہو چکا ہے۔ اب کوئی انسان معصوم نہیں کہلا سکتا کہ اس کی کسی بھی رائے میں کوئی جھول نہ ہو۔ اور نبی ہی وہ شخصیت ہوتی ہے جو معصوم اور واجب الاطاعت ہے۔ آج کے زمانے میں اگرکوئی بہت بڑا عالم ہو گا تو وہ مجتہد بنے گا اور مجتہد مصیب بھی ہوسکتا ہے اور مخطی بھی اور وہ واجب الاطاعت نہیں ہے۔ ہر مجتہد کا اپنے اجتہاد پر عمل کرنا واجب ہے، لیکن اجتہاد کو تحمیل کرنا اس کا حق نہیں۔ اس حوالے سے قانونِ فقہ میں دو اصول بیان کیے گئے ہیں۔ وہ یہ کہ اگر کوئی عمل سر زد ہو جائے اور اس عمل کے لیے قرآن و سنت میں نصِ صریح موجود نہ ہو تو پھر اس حکم کی تلاش کے لیے جو عمل کیا جاتاہے، اس کو اجتہاد کہتے ہیں۔ ...... ایک اجتہاد کسی دوسرے اجتہادکا راستہ نہیں روک سکتا ۔یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں اس حکم کی تلاش میں ہوں، آپ سب آرام کرو اور نہ کوئی مجتہد اپنے اجتہاد کو دوسروں پر تحمیل کر سکتا ہے۔ دلیل کی بنیاد پر اگر کوئی اس کا قائل ہو گا تو ساتھ دے گا، قائل نہیں ہو گا توساتھ نہیں دے گا۔ ...... لہٰذانہ کوئی مجتہد اپنے اجتہاد کو تحمیل کر سکتا ہے اور نہ کوئی متحری اپنے تجربہ کوتحمیل کر سکتا ہے۔ جب یہ پتہ ہو تو پھر اجتہاد عمل کے لیے ہوگا اوراگر علم کو عمل کے لیے حاصل کیا جائے تو عمل کے میدان میں جھگڑا نہیں ہے۔ جھگڑا تحمیل میں آتا ہے ،جب ہر عالم اپنے علم کو دوسروں پر مسلط کرنا چاہے جوکہ علم اور نہ ہی مذہب کا تقاضا ہے۔
ڈاکٹر خالد ظہیر
(ڈین فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز، یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب، لاہور)
ہمارا عقیدہ ہے کہ اس دنیا کو نہ امریکہ، نہ اسرائیل اور نہ بھارت چلا رہا ہے بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ کی ذات چلا رہی ہے۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ اغیار ہمارے خلاف سازش کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں، لیکن اس سے زیادہ درست بات یہ ہے کہ ہم اپنی تباہی و بربادی کے خود ذمہ دار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کاخالق و مالک ہے۔ وہ کسی امریکہ یا کسی اسرائیل کو قطعاً یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ اس کائنات کی تباہی و بربادی کی خواہش کریں۔ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ ایک جانب اس کے ماننے والے پر خلوص طریقے سے اس کے دین کو اختیار کیے ہوئے ہوں اور دوسری جانب کچھ مخالفین سازشیں کریں اور پھر وہ ان سازشوں میں کامیاب بھی ہو جائیں۔آپ سب جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پاک کے نزول سے پہلے امت مسلمہ بنی اسرائیل تھی اور وہ اللہ کی کتاب اوراس کے پیغام کے حامل تھے۔ ان کی اخلاقی و دینی گمراہی کے حوالے سے اللہ تبارک تعالیٰ سورۃ بنی اسرائیل میں فرماتا ہے: ’’ ہم نے تم پر مسلط کیے اپنے بندے، انہوں نے تمہارے گھر تہس نہس کر دیے،تمہارے شہروں کو برباد کر دیا۔‘‘ اس وجہ سے میں یہ گزارش کروں گا کہ میں سب سے زیادہ فکر مند اس بات پر ہوں کہ ہم میں وہ کیاخرابیاں اور کیاکمزوریاں درآئی ہیں کہ ہمارا رب ہم سے ناراض ہے اور ہم اس کی تائید اور نصرت سے محروم ہو گئے ہیں اور اغیار کی سازشوں کا مقابلہ نہیں کر پا رہے۔ ......
پرامن اور متوازن معاشرے کے قیام کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم جمعہ کے خطبے، امامت اور مسجد کے بارے میں اس سنت کو زندہ کریں کہ ان کا انتظام مسلمان حکومت کی ذمہ داری ہو۔ جمعہ کا خطبہ حکمران دیں اور وہی امامت کروائیں اور ممکن ہو تو بقیہ نمازوں کی بھی امامت کروائیں۔ حکمران جہاں مناسب چاہیں، اپنی نیابت میں علما کو اس ذمہ داری کے لیے منتخب کر سکتے ہیں۔ اللہ کے دین کے اس خوبصورت طریقے کے اجرا کے نتیجے میں ایک جانب حکمرانوں کا دین اور مسجد سے تعلق قائم ہوگا اور عوام الناس کے سامنے مستقل جوابدہی کی خوبی پیدا ہو گی تو دوسری جانب جمعہ کے خطبات اور مسجدیں فرقہ وارانہ جھگڑوں کا پلیٹ فارم بننے سے آزاد ہو جائیں گی اور دھیرے دھیرے معاشرے سے غیر متوازن سوچ ختم ہو جائے گی۔ اس تبدیلی کا بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ حکومت کے فیصلے کے نتیجے میں علما کی مسجد میں تعیناتی ان کو مسجد کمیٹی کے اثرو رسوخ سے آزاد کروا کے حکومت کا ملازم بنادے گی اور وہ حکومت کے ملازمین کی مراعات کے حقدار بھی بن جائیں گے۔ مسجدوں میں علما کو یہ موقع ملے گا کہ وہ حکومت کی مرضی کے مطابق نماز کے اوقات کا تعین کریں اور عوام الناس کو دین کی تعلیم دیں۔مساجد کے معاملے میں اس اسلامی طریقے سے متوازن سوچ خود بخود پروان چڑھے گی۔ مسجدیں کبھی فرقہ واریت کے لیے استعمال نہیں ہوں گی اور نہ ہی کوئی گروہ عام آدمی کو دین کے نام پر تشدد اوربدامنی کی طرف ابھار سکے گا ۔علما کو اس تبدیلی کے برپا کرنے میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ ان کی زبان سے دین کا یہ اہم تقاضا مطالبہ کی صورت میں سامنے آئے گا تو اس کے پورے ہونے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔.....
میں نے جب اپنا یہ نقطہ نظر کسی اور پلیٹ فارم پر پیش کیا تو مجھے ایک صاحب نے ایک سوال کیا کہ جب آپ حکمرانوں کو خطبہ اور امامت کا حق دیتے ہیں اور اگر حکمران کوئی خاتون ہو توپھر کیا ہو گا؟ میں نے کہا، اگر ہمارے ہاں یہ قانون بن جائے اور اس کے بعد مسلمان جانتے بھی ہوں کہ مسلمانوں کا حکمران امامت بھی کرتا ہے اور خطبہ بھی دیتا ہے تو پھر وہ مسلمان ایک عورت کو حکمران کیونکر بنائیں گے! پہلے مسلمانوں کی تربیت کی جائے کہ وہ اپنے دین کو سمجھیں اور اس کی غیرت اپنے اندر پیدا کریں۔ اگر آپ اور میں اصولی طور پر متفق ہوں کہ ایک آئیڈیل اسلامی معاشرے میں ایسا ہی ہونا چاہیے تو ہم اپنے اس دینی فہم کو بغیر کسی رکاوٹ کے بیان کریں۔ ہاں آپ کا اور میرا نفاذ میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں حکمرانوں میں بھی بہتری پیدا ہو سکتی ہے۔اگرآپ محسوس کرتے ہیں کہ اس سے بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے تو اس پرالگ بحث ہو سکتی ہے، لیکن ہم دین کے اصول کو اصول کے طور پر بیان کریں اور لوگوں کو یہ بتائیں کہ اس طرح ہم آئیڈیل کی طرف جائیں گے تو پھر اس کے نفاذ پر گفتگو ہوگی۔....
مولانا قاری محمد حنیف جالندھری
(جنرل سیکرٹری وفاق المدارس العربیہ پاکستان)
علاقا،ئی ملکی اور گھر کے معاملات میں جب تک ہماری پالیسیاں دوغلی ہوں گی تو ہم ایک متوازن اور مثالی معاشرہ قائم نہیں کر سکتے۔ اگر میں اپنے مسائل کو اپنے مسلک کی نگاہ سے دیکھوں گا تو میں کبھی اپنے مسائل حل نہیں کر سکوں گا۔ میرے مسلک کا کوئی بندہ خواہ وہ کوئی غلط بات کرے، میں اس کی تاویل کروں اور دوسرے مسلک کا کوئی بندہ صحیح بات بھی کرے تو میں تردید کردوں، جب تک ہمارے تاویل و تردید کے پیمانے حقائق کی بنیاد پر نہیں ہوں گے اورہم مسلک کی بنیاد سے بالاتر نہیں ہوں گے تو اس وقت تک ہم اپنی ذمہ داریوں سے انصاف نہیں کر سکتے۔ ہم جب تک اپنے آپ کو فریق کی نظر سے دیکھیں گے تو ہم اپنا کردار ادا نہیں کر سکتے۔ جس دن ہم عملی طور پر ایک دوسرے کے رفیق بننے کا فیصلہ کرلیں گے تو اس وقت ہم پرامن اور متوازن معاشرہ قائم کرلیں گے۔......
ہم سب علماء بارہابیع فاسد پڑھتے پڑھاتے ہیں ۔ خریدوفروخت کے کتنے ہی معاملات ہیں جن کو شریعت ناجائز قرار دیتی ہے۔ اس کی وجہ کیا ہوتی ہے کہ کوئی ایسی شرط لگا دی جائے جس سے کل عاقدین میں جھگڑا ہو سکتا ہے۔ تو اسلام کہتا ہے ایسی خریدوفروخت اور لین دین بھی نہ کرو جو تمہارے درمیان نزاع کا سبب بن جائے۔ ..... مثال کے طور پر ایک فریق کہتا ہے کہ یہ چیز تم مجھے اب دے دو ،میں پیسے تمہیں بعد میں دوں گا اور یہ نہیں بتاتا کہ کس دن دے گا تو یہ جہالت جو ادائیگی ثمن کی ہے، کل کو جھگڑے کا سبب بن سکتی ہے۔ بعدازاں وہ کہے گا کہ پھر دے دینے سے میری مراد کل یا پرسوں دے دیناوغیرہ تھی، جبکہ دوسرا فریق کہتا ہے کہ میری مراد تو ایک سال تھی۔ میں نے تو سوچا تھا کہ جب میری گندم آئے گی،تب دوں گا تو اسلام ایسی شرط جو فریقین کے درمیان جھگڑے کا سبب بنے، اس ذریعے کو بھی بند کر دیتا ہے۔ اس طرح اسلام میں حقوق وفرائض کا جو تصور ہے، وہ یہ ہے کہ حقوق دینے کا خیال کرو، حقوق لینے کا خیال نہ کرو۔ جبکہ آج کی دنیا کے فکر اور فلسفے کہتے ہیں کہ دوسروں کے حقوق پورے کرو نہ کرو، اپنے حقوق کے لیے میدان میں آ جاؤ۔ علما کے منبرومحراب کی ذمہ داری سب سے بڑی ہے اور پھر جب ہم علماء انبیاء کے وارث ہیں تو انبیاء تو انسان کو اللہ سے اور انسان کو انسان سے ملانے کے لیے آتے ہیں اور وہ ایسا انسانی رشتوں کی بنیاد پر کرتے ہیں تو علما کی ذمہ داری بھی انسان کو اللہ سے اور انسان کو انسان سے ملانے کی ہے،توڑنے کی نہیں بلکہ جوڑنے کی ہے۔
ڈاکٹر قبلہ ایاز
(ڈائریکٹر شیخ زاید اسلامک سنٹر، پشاور)
اس وقت دنیا میں دو لابیاں فعال ہیں، ایک پیس لابی اور دوسری وارلابی ۔ وار لابی افغانستان میں بھی ہے اور خیبرپختونخوا و قبائلی علاقوں میں بھی ہے، پاکستان میں بھی ہے اور امریکہ اور یورپ میں بھی۔جبکہ اسی طرح پیس لابی بھی دنیا کے تمام خطوں میں موجود ہے ۔اب ہم نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں وار لابی کا حصہ بننا ہے یا پیس لابی کا۔ وار لابی وہ ہے جو اس خطے میں جنگ جاری رکھنا چاہتی ہے اور پیس لابی وہ ہے جو اس مسئلے کا حل چاہتی ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، اوباما پیس لابی کا جبکہ امریکی فوج وار لابی کا حصہ ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس جنگ کو جاری رکھا جائے۔ اوباما کی یہ خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طرح افغانستان سے نکلا جائے، چنانچہ پیس لابی وہاں بھی موجود ہے۔ ہمارے یہاں بھی وار لابی اور پیس لابی فعال ہے۔ جنگ کی بہت بڑی معیشت ہے جس کا حجم اربوں کھربوں روپے ہے جس سے امریکہ میں بھی لوگ کما رہے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان میں بھی معاشی فوائد حاصل کررہے ہیں۔جب تک وار لابی معاشی ثمرات حاصل کرتی رہے گی، وہ کبھی یہ نہیں چاہے گی کہ اس جنگ کا خاتمہ ہو۔ علمائے کرام اور ہمارا دینی طبقہ لاشعوری طور پر وار لابی کے اہداف کا شکار بن جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پیس لابی کا حصہ بن جائیں۔ علمائے کرام کے اندر اس قدر استطاعت ہے کہ اگر وہ پیس لابی کا حصہ بن جائیں تو افغانستان کی جنگ ختم ہو سکتی ہے۔
خطے کی موجودہ صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علمائے کرام کو اپنا کردار ادا کرنے کے لیے میدان میں آنا چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ وہ طالبان کو سمجھائیں۔ خیبرپختونخوا میں کچھ ایسے علما ہیں جو طالبان کو سمجھا سکتے ہیں کہ موجودہ بین الاقوامی حالات کے تناظر میں افغانستان میں آپ نے قومی مفاہمت کی حکومت بنانی ہے اور اس میں وہ تمام لوگ شامل ہوں جن کا افغانستان کی سرزمین سے تعلق ہو۔ یہ چیز اسلام کے آئین کے تقاضے کے عین مطابق ہے۔ یہ حقائق کی دنیا ہے، خواہشات کی دنیا نہیں کہ اب ایسا ممکن نہیں کہ افغانستان میں جو دیگر فریق ہیں، آپ انہیں افغانستان کی سیاست سے بے دخل کرکے حکومت بنائیں۔ کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اس کا حل مذاکرات کے ذریعے نہ ہو اور اگر مذاکرات کے ذریعے حل نہ ہوا تو میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ پورا خطہ امریکہ کے نکلنے کے بعد خانہ جنگی کی صورت اختیار کر جائے گا اور خون کا ایک بہت بڑا دریا اس خطے میں بہے گا، لیکن اگر مذاکراتی عمل کے نتیجے میں اس کا حل نکل آئے جس کی ایک صورت موجود ہے اور علمائے کرام کو اللہ تعالیٰ نے موقع دیا ہے کہ وہ آگے آئیں اوراپنا کردار ادا کریں۔ اس وقت علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ مل کر بیٹھیں اور سوچیں کہ افغانستان کا بعد از امریکہ کیا حل ممکن ہوسکتا ہے۔ ......
خو اہشات کی دنیا مختلف ہے، لیکن حقا ئق مختلف ہیں ، مثلا جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم کا فیصلہ بھی مذاکرات پر ہی ہو ااور افغانستا ن کا مسئلہ بھی میز پر ہی حل ہونا ہے۔ اگر یہ طے نہیں ہو ا تو اس علا قے کے سیاسی طا لب علم کی حیثیت سے میں کہہ سکتا ہو ں کہ بہت بڑا نقصان ہو گا۔ ان حالات میں دو طرح کے گروہ فعال ہیں۔ ایک گروہ چا ہتا ہے کہ امریکہ کو اسی طر ح سے بھگا دیا جا ئے جیسا کہ روس کو بھگایا گیا تھا اور دوسرا گر وپ یہ کہتا ہے کہ مذاکراتی عمل کے ذریعے معاملات کو حل کیا جا ئے۔ اب ظا ہر ہے کہ مذ اکرات کے لیے کسی نہ کسی کو درمیان میں آ نا ہے اور ہم اقوام متحدہ سے لا کھ شکایت کر یں، لیکن جس طر ح میں نے گزارش کی کہ حقا ئق کی دنیا الگ ہے، کوئی بھی بڑے سے بڑا بین الاقوامی معاملہ طے کرنا ہو تو وہ اقوام متحدہ کے بغیر طے نہیں ہو سکتا۔ امر یکہ اس میں خفت اور سبکی محسوس کرے گا، لیکن اگر اقوا م متحدہ ایک نمائندہ منتخب کرے جس طر ح کسی زما نے میں روس کے مسئلے کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کے نمائندے آتے رہے ہیں۔ میں نے تجو یز پیش کی تھی کہ اگر اس نمائندے کا تعلق تر کی یا ملا ئیشیا سے ہو تو وہ زیا دہ مفیدثابت ہو گا کیونکہ تر کی پر طا لبا ن کا بھی اعتما د ہے اور ترکی نیٹو کا حصہ بھی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کو بھی تر کی پر بہت اعتما د ہے۔ اب خیبرپختونخوا اور فاٹا میں کچھ ایسے علما ہیں جو طا لبا ن کے ساتھ مذ اکر ات کر سکتے ہیں اور وہ طا لبا ن کو اس بات کے لیے آمادہ کر سکتے ہیں کہ وہ مذاکراتی عمل کے ذریعے اپنی مزاحمت کو جاری رکھیں، کیونکہ جب تک افغانستا ن میں تما م فریقوں کو نمائندگی نہیں دی جاتی اور قومی مفا ہمت کی حکو مت قائم نہیں ہوتی توعالمی سطح پر اس طر ح کی حکو مت کو قبو ل نہیں کیا جائے گا۔ ....
معا شرتی علو م میں آپ نے قرائن کو دیکھنا ہو تا ہے اور معاشرے کا مطالعہ کرنا ہوتا ہے اوریہ دیکھنا ہوتا ہے کہ معاشرے کس طر ح چلتے ہیں۔ امریکی معاشرہ اور سماج کس طر ح چلتا ہے ، اس حوالے سے امر یکہ میں لا بنگ کا بڑ ا اہم کردار ہے۔ جس طرح ہم یہاں ایم پی اے یا ایم این اے کو رشوت دیتے ہیں، اسی طر ح کی رشوت ادھر بھی ہو تی ہے لیکن اس کو رشوت نہیں، لا بنگ کہا جا تا ہے۔ مثلا ہم جنس پرستوں کی لابی ہے۔ ہم جنس پر ستوں کی لابنگ ایک بڑا گروپ’ کا کس‘ کرتاہے۔ امریکہ میں ایک نظام قائم ہے۔ آپ یہ نہ کہیں کہ امریکہ کی فو ج پا کستان کی طر ح ہے۔ میں آپ کو بتاؤ ں کہ کسی حد تک ایسا ہی ہے اوروہاں پر فو ج کے اپنے مفاد ات ہیں جو کہ وار لابی کی ہم نوا ہے۔اس کی ایک مثال میں آپ کو دیتا ہوں کہ سکیورٹی گیٹس جو کبھی صدر اور وزیر اعظم کے لیے استعمال ہوتے تھے، اب ہر جگہ ان کو نصب کیا جاتا ہیں۔ ان سکیورٹی گیٹس کی فروخت سے حاصل ہونے والا منا فع وار لا بی کو جا تا ہے۔ وار لا بی یہ سکیورٹی گیٹس فروخت کرتی ہے۔
اسی طرح وار لا بی قبا ئل میں بھی کا م کر تی ہے۔ وہاں ہونے والی اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کے پس پردہ وار لابی ملوث ہوتی ہے، جیسا کہ ہما ر ے ایک وائس چا نسلرکو اغوا کیا گیا اور انہیں دس کر وڑ تاوان ادا کرکے رہا کروایا گیا۔ وار لابی کی طرح جنگی معیشت (وار اکانومی) بھی ہے جو اپنا کا م کر تی ہے۔ افغا نستا ن میں واراکانومی ہے اور افیون کی کا شت کا معا وضہ حا مد کر زئی کا بھا ئی وصول کرتا ہے۔ اس کا فائدہ اسی میں ہے کہ جنگ جا ری رہے۔ دنیا میں ایک بہت بڑی وار لا بی کا م کر رہی ہے، بد قسمتی سے ہمیں اس کا ادراک نہیں ہے۔ اب ہمیں یہ فیصلہ کر نا ہے کہ ہمیں وار لا بی کا ساتھ دینا ہے یا پیس لا بی کا۔ اور پیس لا بی کا حصہ بننا بہت مشکل کا م ہے اور وار لابی کا حصہ بننا بہت آ سا ن ۔وار لابی کا حصہ بن کر آپ ہیر و بھی بن جا تے ہیں اور آپ کا بڑا استقبال بھی ہو تا ہے اورآ پ کو پھو ل بھی پہنا ئے جا تے ہیں ، لیکن پیس لا بی کا حصہ بننے سے بہت سی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ہما ری عورتیں بیو ہ بن رہی ہیں اور نوجوان شہید ہو رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں ضرورت ہے کہ ہم پیس لا بی کا حصہ بنیں۔
مولانا محمد یٰسین ظفر
(ناظم اعلیٰ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان)
دعوتِ دین کے لیے پرامن ماحول ہی سازگار ہوتا ہے۔ جس قدر امن ہوگا، اتنی ہی دعوت زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے گی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں دعوت کا آغاز کیا تو کفار کا جیسا بھی رویہ رہا، مگر آپ نے امن کے لیے ہی اپنی جدوجہد جاری رکھی اور کبھی بدامنی پیدا نہیں ہونے دی۔ اللہ رب العزت نے قریش مکہ کو بھی اسی لئے مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اس رب کے گھر کی عبادت کروجو بھوک سے تمہیں کھلاتا ہے اور خوف سے امن دلاتا ہے‘‘۔
خوف ایک ایسی کیفیت ہے کہ اس میں انسان کچھ بھی نہیں کرپاتا۔ گھبراہٹ اور خوف میں وہ کوئی بھی خطرناک قسم کا قدم اٹھا سکتا ہے، لہٰذا دعوت تبلیغ میں انبیا اور علما کے کردار کے لیے امن کا ہونا ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شعب ابی طالب میں جانا پسند فرمالیا تھا، لیکن مکہ کا ماحول خراب نہیں ہونے دیا ۔اسی طرح آپ نے اپنے اصحاب کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی، لیکن مکہ میں بدامنی پیدا نہیں ہونے دی، حتیٰ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔اس لیے کہ خیر کے تمام سرچشمے امن سے پھوٹتے ہیں۔ کوئی بھی زندگی ہو، وہ امن سے ہے اور امن ہے تو زندگی ہے۔ اگر امن ہے تو خوشحالی ہے اوردعوت و تبلیغ بھی ممکن ہے ۔سیرت نبوی اور تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں تو اس میں ہمیں متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اسلام کافروغ اور دعوت و تبلیغ حالتِ امن میں ہی ہوئی، نہ کہ جنگ و جدل اور فساد کے حالات میں ممکن ہوئی۔
میں دو مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جن میں سے ایک صلح حدیبیہ کا ایک اہم ترین واقعہ ہے جو ۶ ہجری میں ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعثت سے لے کر صلح حدیبیہ تک امن کے لیے بہت زیادہ تکالیف اٹھائیں۔ جنگ و جدل بھی ہو ا، لیکن اتنے لوگ مسلمان نہیں ہوئے اور پھر جب آپ نے صلح حدیبیہ میں کفار سے دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا تو مسلمانوں کو امن و سکون میسر آیا۔ پھر آپ نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور لوگوں تک اسلام کی دعوت پہنچائی۔ امن کے ماحول کے باعث لوگوں کو موقع ملا کہ وہ اسلام پر غور و فکر کر سکیں۔ انہوں نے اس دعوت پر لبیک کہا اور نتیجہ یہ ہوا کہ دو سال بعد جب مکہ والوں نے معاہدے کو ختم کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ تشریف لے گئے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثارصرف پندرہ سو تھے، لیکن دو سالوں بعد جب آپ دوبارہ مکہ تشریف لے گئے تو یہ تعداد دس ہزار تک پہنچ جاتی ہے، یعنی دو برسوں میں مسلمانوں کی تعداد میں جتنا اضافہ ہوا،وہ سترہ سالوں میں نہیں ہو سکا۔
امن کی کیفیت میں جو کام ہوتا ہے، وہ سکون و اطمینان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح آپ دیکھتے ہیں کہ جب افریقہ کی فتح ہوئی تو ایک بربری قبیلہ جو مسلمانوں کی دعوت کو قبول نہیں کرتا تھا،بلکہ ہمیشہ برسرِ پیکار رہتا تو اس وقت مصر کے گورنر عبدالعزیز بن عبدالملک نے موسیٰ کو اس علاقے کا عامل اور لشکر کا امیر مقرر کر دیا۔ انہوں نے بڑی بصیرت کے ساتھ پہلے ان علاقوں میں امن قائم کیا اور پھر داعی اور مبلغین کو وہاں بھیجا جنہوں نے وہاں جاکر لوگوں کو اسلام کی دعوت سے روشناس کیا اور اسلام کی تہذیب سے آگاہ کیا ور امن کے چند مہینوں میں بہت سے لوگوں نے اس دعوت کو قبول کیا اور وہی بربری قبائل جو مسلمانوں کے مقابل تھے، اب ان کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ اسی طرح انڈونیشیا اور ملائشیا میں اسلام جنگ و جدل کے ذریعے نہیں پہنچا بلکہ وہاں تاجر اور علما پرامن ماحول میں گئے اور اسلام کی تعلیمات کو پیش کیااور یہ تمام لوگ حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے ۔میرا استدلال صرف اتنا ہے کہ امن کے ماحول میں جتناکام ہو سکتا ہے، وہ کسی اور حالت میں نہیں ہوسکتا ۔علما کا بنیادی کام دعوت و تبلیغ ہے، اس لیے ان کی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ امن کے ماحول کو سازگار بنائیں اور بدامنی کا خاتمہ کریں اور امن کو فروغ دے کر اپنی تبلیغ کو لوگوں تک پہنچائیں۔
ڈاکٹر أبوالحسن شاہ
(دار العلوم غوثیہ محمدیہ، بھیرہ شریف)
پرامن معاشرے کے قیام کی راہ میں حائل وہ رکاوٹیں جو مذہبی نوعیت کی ہیں، ان کو دور کرنے کے لیے علمائے کرام پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں۔ مسلک کی تقسیم کی وجہ سے معاشرے میں بدامنی کی جو فضا پیدا ہوتی ہے، اس کے سدباب کے لیے ضروری ہے کہ علمائے کرام دوسرے مسالک کے وجود کو برداشت کرنے کے لیے وسعت ظرفی کا مظاہرہ کریں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہر مسلک نے اپنے افکار و نظریات پر ہی قائم رہنا ہے، لیکن دوسرے مسلک کے ساتھ لاکھ اختلافات کے باوجود یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ان کاو جود ایک حقیقت ہے۔ اس حوالے سے بدامنی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب تقریر و تحریر میں بے اعتدالی قائم ہو جائے ۔ تکفیر اور قتل کے فتوؤں کی نوعیت بہت ہی سنگین ہے۔ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور دوسرے مکاتبِ فکر کے اکابرین کو برا بھلا کہنے سے بھی بدامنی جنم لیتی ہے۔ اس کے خاتمے لیے ضروری ہے کہ کوئی بھی مسلک اپنے سچا ہونے کی دلیل اس کو نہ سمجھے کہ دوسروں کا اس کے نقطۂ نظر سے متفق ہونا ضروری ہے ۔پہلی چیز تو یہ ہے کہ تحریرو تقریر میں اعتد ال اور احتیاط سے کام لیا جائے تاکہ پرامن معاشرے کا قیام ممکن ہوسکے ۔مسلک کی تقسیم کی وجہ سے بدامنی کی صورت قائم ہونے کا دوسرا سبب طریقۂ تدریس و تقریر ہے۔ ہر مسلک کا مدرس و خطیب اپنی تقریر و تحریر میں طلبہ کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کرتا ہے کہ و ہی سچا ہے،باقی سب جھوٹے ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس طرزِ عمل سے معاشرے میں نفرت جنم لیتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ اور سامعین کے ساتھ ساتھ علماء کرام اپنے ذہنی افق کو وسعت دیں۔
قرآن و سنت کے دلائل کو اپنے مسلک کے مطابق کرنے کی بجائے اپنے مسلک کو قرآن و سنت کے تابع اور طلبا و سامعین کواختلاف رائے برداشت کرنے کا خوگر بنایا جائے۔ سامعین سے میری مراد مساجد میں خطبا کی تقاریر سننے والے لوگ ہیں۔یہ خطبا اپنے سامعین کو بتائیں کہ اختلاف رائے ہر جگہ ممکن ہے ،لیکن جارحیت پر اتر آنا مستحسن نہیں۔ اسی طرح علمائے کرام مسلک کی تعلیم دینے کی بجائے دین اسلام کی تعلیم کو عام کریں۔ اگر ان باتوں پر اختلاف رائے کیا جائے جو کہ ضروریات دین میں سے ہیں ،جیسا کہ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم، عظمت صحابہؓ، احترام اہل بیت و صالحین، تو معاشرے سے بدامنی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ بزرگانِ دین کے بارے میں نازیبا کلمات کسی صورت میں برداشت نہیں ہوسکتے ، لہٰذاامن کے قیام کے لیے ان ہستیوں کا احترام ضروری ہے۔
مولانا عمار خان ناصر
(ڈپٹی ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ کے دین کی دعوت و تبلیغ اور لوگوں کے اخلاق و کردار کو بہتربنانے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں امن کا قیام اور وہ عناصر جن کے درمیان روایتی پس منظر میں تصادم کی صورتیں موجود تھیں یا جہاں معاشرے میں تصادم اور خون ریزی کا خطرہ موجود تھا، تو یہ صورت حال بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ کا موضوع تھا۔ خاص طور پر مدینہ طیبہ میں اس کے تین اہم پہلو سامنے آتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خو داپنی ذاتِ گرامی کو اس حوالے سے بہترین نمونے کے طور پر پیش کیا کہ آپ کی ذاتِ گرامی سے ایسی کوئی بات صادر نہ ہو جس سے کسی کو تکلیف ہو، دکھ ہو یا اس سے ایسا اشتعال پیدا ہو جو معاشرے کا امن خراب کرنے کا سبب بنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو کبھی دکھ یا تکلیف نہیں پہنچائی، نہ زبان سے اور نہ ہی ہاتھ سے۔ جن لوگوں نے حضور کو اذیت پہنچائی توآپ نے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ نے کبھی اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ جب مدینہ طیبہ میں آپ کو ایک ریاست کے حاکم کی حیثیت حاصل ہوئی تو آپ نے بہت سے مواقع پر جب منافقین یہود و نصاریٰ نے آپ کی ذات کو طعن و تشنیع اور توہین کا نشانہ بنایا، تو آپ نے اس طرح کے واقعات سے صرفِ نظر کیا اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا تاکہ بات آگے بڑھ کر تصادم کی شکل اختیار نہ کرے۔ اس طرح کے واقعات سیرتِ طیبہ میں معروف ہیں۔ علما منصب نبوت کے وارث ہیں۔ اگرچہ انہیں نبوت منتقل نہیں ہوئی، لیکن نبوت کے منصب کی جو شان ہے، یعنی اس کے جو روحانی اور دعوتی پہلو ہیں،وہ یقیناًمنتقل ہوئے ہیں۔ علمائے کرام بھی اپنے شخصی کردار سے اس کا نمونہ پیش کریں، تاکہ ان کی ذات معاشرے اور ماحول میں امن کا پیغام پھیلانے کا ذریعہ بنے ۔ان سے کوئی ایسی بات صادر نہ ہو جس سے معاشرے میں امن خراب ہو۔
دوسری چیز جو سیرت نبوی میں نمایاں نظر آتی ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جو بھی تنازعات اور مسائل موجود تھے، آپ نے انہیں حل کرنے کی کوشش کو اپنا مقصد بنایا۔ روایات میں بیان ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کے اردگرد جو مختلف قبائل تھے، وہاں تشریف لے جاتے تھے۔ آپ کے ان قبائل میں جانے کا سبب یہ بیان کیا جاتاہے کہ آپ ان قبائل میں مختلف خاندانوں کے آپس کے تنازعات کا تصفیہ کرواتے تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حال میں کہ آپ کے پاس قانونی اختیار بھی تھا اور آپ اللہ کے پیغمبر بھی تھے، اس موقع پر آپ نے جو غیر معمولی اعلانات اور فیصلے کیے، ان میں سے ایک تاریخی نوعیت کا فیصلہ یہ بھی تھا کہ آپ نے عرب قبائل میں چلے آرہے تنازعات کا خاتمہ کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ آج کے بعد ماضی کے قصاص کے کسی مقدمے کو زیربحث نہیں لایا جائے گا۔
تیسری اہم چیز یہ ہے کہ معاشرے کے جن عناصرکے مابین مختلف جگہوں پر تصادم کا امکان موجود تھا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی پوری نظر رکھی اور اس بات کا اہتمام کیا کہ اپنے تشریف لے جانے سے پہلے لوگوں کو ان مقامات کے حوالے سے آگاہ کردیں کہ میرے جانے کے بعد یہاں یہ صورتحال پیدا ہوگی اور اس میں تم نے یہ رویہ اختیار کرنا ہے۔ حدیث میں تین بڑی معروف مثالیں ہیں ۔ پہلی یہ کہ آپ کو احساس تھاکہ میرے بعد حکمرانی کے حوالے سے انصار اور مہاجرین میں کشمکش کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے تو آپ نے اپنی زندگی میں اس کو موضوع بنایا اور انصار کی ذہن سازی کی اور انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ تمہاری بڑی قربانیاں اور خدمات ہیں، لیکن پورے عرب پر حکومت کرنے کے لیے قریش ہی زیادہ موزوں ہیں، چنانچہ تمہیں نظر انداز کیا جائے گا اور تم پر دوسرے لوگوں کو ترجیح دی جائے گی۔ تمہیں اس کا اجر آخرت میں ملے گا۔ پھرآپ نے حکمرانوں کی طرف سے ظلم و زیادتی اور اس کے ردِعمل میں لوگوں میں جو اشتعال پیدا ہوسکتا ہے، اس پر بھی روشنی ڈالی اور لوگوں کو بتایا کہ میرے بعد لازماً ایسے حکمران آئیں گے جو ظلم و ستم روا رکھیں گے اور ناانصافی کریں گے۔ آپ نے عوام کو بہت واضح ہدایات دیں کہ جب تک حکمران کفر بواح کے درجے پر جا کر کسی حرکت کا ارتکاب نہ کریں تو تمہیں ان کا ظلم برداشت کرنا ہے اور ان کے خلاف کسی قسم کی جارحیت نہیں کرنی اورتم نے ہر حال میں حق گوئی کرنی ہے۔ تیسری چیزیہ کہ عرب قبائل میں جوکشمکش چلی آرہی تھی، آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اس کو بھی عنوان بنایا اور فرمایا کہ ’’یہ نہ ہو کہ میرے بعد تم دوبارہ اس کفر کی حالت میں چلے جاؤ جس میں لوگ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے تھے۔‘‘
یہ تین پہلو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے سامنے آتے ہیں۔ علما کا بھی یہ معیاری کردار بنتا ہے کہ معاشرے میں امن و امان کی بات کی جائے تو یہ مطلوب بھی ہے اور ان سے اس کی بجا طور پر توقع بھی کی جانی چاہیے کہ وہ ان تین پہلوؤں سے اپنے معاشرے کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور اور فعال کردار ادا کریں۔ اس موضوع پر الگ بحث ہونی چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں طبقہ علما معروضی حالات میں اپنا کردار ادا کیوں نہیں کرتا اور وہ کیا وجوہ ہیں کہ علما کا طبقہ ایسے چند افراد سے، جن کی وجہ سے فرقہ واریت پھیل رہی ہے، ان سے برأت کا اظہار کیوں نہیں کر رہا؟ یہ درست ہے کہ سارے لوگ ایسے نہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جو چند لوگ یہ کام کرتے ہیں، ان سے خود کو الگ کرنے کی ذمہ داری علما پر عائد ہوتی ہے جو وہ پوری نہیں کر رہے اور ایک سطح ایسی بھی آتی ہے کہ اس طبقے کی نمائندگی کا شرف ہی اس محدود طبقے کو حاصل ہو جاتا ہے، جبکہ دوسرے سنجیدہ، باکردار اور مہذب لوگوں کو نمائندہ ہی نہیں سمجھاجاتا۔
مجھے میرے والد گرامی مولانا زاہد الراشدی نے یہ واقعہ سنایا کہ بچپن میں ان کے ہاں ایک جلسہ تھا تو والد صاحب، جن کی عمر اس وقت دس گیارہ سال تھی، کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کو بھی تقریر کرنے کا موقع دیا گیا۔ہمارے دادا مولانا سرفراز خان صفدر بھی دوسرے علما کے ہمراہ وہاں تشریف فرما تھے۔والد گرامی بتاتے ہیں کہ میں نے قادیانیت کے موضوع پر تقریر کی تو غیرت ایمانی میں آکر مرزا غلام احمدقادیانی کو گالی دے دی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہمارے دادا فوراً پیچھے سے اٹھ کر آئے اور انہوں نے مجھے گردن سے پکڑ کر پیچھے کیا اور میری جگہ پر کھڑے ہوگئے اور باقاعدہ معذرت کی اور کہا کہ یہ بچہ ہے اور نا سمجھ ہے۔ اس نے غلط بات کہہ دی ہے۔ اسے گالی نہیں دینی چاہیے تھی۔ میرے خیال میں جب تک یہ کردارہر طبقہ کے علما ادا نہیں کرتے، اس وقت تک یہ ذمہ داری درست طور پر ادا نہیں ہوسکتی ۔ جب تک ہم دیانت داری اور خلوصِ نیت کے ساتھ اس حوالے سے اقدامات نہیں کریں گے تو اس وقت تک ہم خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔
ڈاکٹر خالد مسعود
(سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، پاکستان)
علمائے کرام کا کردار محض رہنما کا ہی نہیں، بلکہ دینی زندگی کی عملی مثال کے طور پر بھی ان کا کردار ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ اسلامی معاشرے کا ضمیر بھی ہیں ،چنانچہ یہ علما کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اسلام کے بارے میں نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں جو غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں، ان کا نہ صرف جو اب دیں، بلکہ اس پربھی غور کریں کہ صورت حال کو اس نہج تک پہنچانے میں مذہبی طبقہ بلاواسطہ یا بالواسطہ کس حد تک ذمہ دار ہے۔ اگر ذمہ دار ہے تو اس کا حل کیاہے؟ ..... اس سلسلے میں خاص طورپر دو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک تو یہ کہ ہماری سیاسی، سماجی، معاشی فکر میں کچھ ابہامات موجود ہیں جنہیں دور نہ کیا گیا تو صورت حال خاصی حد تک اسی طرح رہے گی۔ یہ ابہامات تحریک پاکستان سے شروع ہوئے اور اب تک موجود ہیں۔ دوسرا ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس وقت کچھ ایسی چیزیں ہیں جن پر توجہ نہ دی گئی تو بالواسطہ طور پر اس سے معاشرہ غلط رخ اختیارکرسکتاہے۔ سب سے پہلا مسئلہ قانون اور اس کی حکمرانی سے متعلق ہے۔ بہت ہی جسارت سے عرض کررہا ہوں کہ مذہبی طبقہ کی طرف سے سوالات پیدا کیے گئے جن کی وجہ سے لوگوں میں ابہام اور مشکل پیدا ہوئی۔ علما کا یہ کہنا ہے کہ وہ قانون جو حکومت بناتی ہے ، مذہبی حوالے سے اس قانون پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے۔کچھ قوانین واجب الاطاعت ہیں اور کچھ نہیں۔ علما کی جانب سے قانون کی اس تفریق سے لوگوں کے ذہنوں میں خلجان اور ابہام پیدا ہوتاہے اور جب تک ہم اس مسئلے کا واضح حل پیش نہیں کریں گے تو یہ مسئلہ اسی طرح برقرار رہے گا۔ میرا خیال ہے کہ یہ اشارہ کافی ہے۔
دوسری چیز جو مذہبی طبقے سے منسوب کی جاتی ہے ، وہ مذہبی طبقے کی جانب سے قانون کو ہاتھ میں لینے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جس کے لیے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے نام بھی لیے جاتے ہیں۔ بہر حال یہ ایک الگ بحث ہے، لیکن اگر کوئی خرابی ہے اور کوئی کام دین، شریعت یا فقہ کے خلاف ہورہا ہے تو اس پر از خود سزا دینا اور بغیر قانونی کارروائی کے ایکشن لینا کس حد تک درست ہے، اس حوالے سے مذہبی طبقے کو عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا ہوگا۔ تیسری چیز ملک میں معروف عدالتی نظام ہے، اس کے علاوہ جرگے، پنچایت اور دیگر سماجی ڈھانچوں میں فتویٰ نویسی بھی ایک عدالتی ڈھانچے کو ظاہر کرتی ہے، کیونکہ اس میں لوگ مختلف علمائے کرام اور مفتیان عظام سے رہنمائی چاہتے ہیں تو اس فتویٰ کی حیثیت بھی ایک فیصلے کی بن جاتی ہے جس کی وجہ سے بہت سارے ابہام پیدا ہوتے ہیں۔
دوسرا پہلو جس پر سماجی حوالے سے بہت بات ہوئی، وہ ہمارے معاشرے میں پنپنے والے عدم برداشت کے رویے ہیں جس پر بہت سے علما نے بات کی۔ میں کھل کر یہ بات کرنا چاہتا ہوں کے مدرسے توکسی مجبوری کی بنا پر کسی ایک مسلک سے منسلک تھے، لیکن مساجد بھی مختلف مسالک سے منسلک ہوئیں اور اس کی وجہ سے معاشرے میں دین و مذہب کے نام پر عدم برداشت کے رویے فروغ پائے۔ یہ بھی قابل غور ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ معاشی ہے۔ معاشی مسائل میں جو عام رجحان ہے، وہ حکومت کی طرف سے عائد کردہ ٹیکس اور جو دینی ادائیگی ہے، مثال کے طور پر زکوٰۃ، ان میں فرق ہے کہ اگر ایک آدمی زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو اس کو ٹیکس نہیں دینا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ علما نے اس بارے میں فتویٰ جاری کیا ہے لیکن عوام میں اس بارے میں ابہام پایا جاتا ہے۔ اسی طرح رشوت کے بارے میں بھی ابہام ہے۔ مثال کے طور پر مختلف فتادیٰ میں ہے کہ اگر مجبوری میں کوئی جائز کام نکل نہ رہا ہو تو اس میں رشوت دیناجائز ہے تو اس سے بھی ایک طرح سے ابہام پیدا ہوتا ہے۔جس وقت ہم جاگیرداروں اور زمین داروں کی بات کرتے ہیں تو علما کا قیامِ پاکستان سے پہلے عمومی رجحان یہ تھاکہ حکومت اگر معاشرے کی ضرورتوں کے لیے زرعی اصلاحات نافذکرنا چاہے تو اس کی اجازت ہے، لیکن جب پاکستان میں زرعی اصلاحات کی گئیں تو پھر شخصی ملکیت پر بھی ہمارے ہاں اختلافات پیدا ہوئے اوراس پر لوگوں نے کتابیں لکھ ڈالیں اور بعض مواقع پر عدالتوں میں رجوع کرکے حکومت کو کہا گیا کہ یہ حکومت کے اختیار میں نہیں کہ وہ یہ ملکیت اپنے اختیار میں لے تو کبھی ہم شخصی ملکیت کو اس قدر فوقیت دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ہم وڈیروں، زمین داروں اور جاگیرداروں کے نظام کے خلاف بھی بات کرتے ہیں۔
تعلیمی مسائل پربھی بہت گفتگو ہوئی۔ اختلاف رائے ہماری روایات کاقابل فخر حصہ ہے۔ اختلاف رائے سے ہی بات آگے بڑھتی ہے اور ہمارے ہاں علما کے اختلاف کو ہمیشہ اہمیت دی گئی ہے۔ہمارے مدارس میں پہلے تمام علما اور مذاہب کے کلامی اور فقہی اختلافات کو دلائل کے ساتھ پڑھایا جاتا تھا اور اس کے بعد اپنے مسلک کی بات کی جاتی تھی، لیکن شاید اب نصاب کو مختصر کرتے ہوئے دلائل کا حصہ کم کر دیاگیا ہے، جس کی وجہ سے مسلکی اختلافات بڑھ گئے ہیں اوربعض اوقات ہم تعصب کی حد تک اپنے مسلک کے قائل ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے طلبہ میں تحقیق کرنے اور آگے بڑھنے کار جحان نہ ہونے کے برابر ہے۔یہ سب باتیں جو میں نے کی ہیں، ان میں کچھ میرے اپنے مشاہدات اور اندازے ہیں، جبکہ علما پرلکھی جانے والی کتابوں میں ان میں سے بھی بہت کچھ اخذ کیا گیا ہے۔ ان میں سے بہت سارے عوامل ایسے ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں بدامنی پیدا ہوتی ہے۔
مولانا مفتی محمد زاہد
(شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ امدادیہ، فیصل آباد)
جہاں تک سنی مدارس ہیں، مثال کے طورپر بریلوی، اہل حدیث اوردیوبندی وغیرہ، ان میں دوسرے مکاتب فکر کی رائے کا ذکرہوتاہوگا اور دلائل بھی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ ’ہدایہ‘ دیکھ لیں جس میں ائمہ أربعہ کے مؤقف دلائل کے ساتھ موجود ہیں۔ ہمارے ہاں جو مسئلہ پیدا ہورہا ہے، وہ یہ کہ پاکستان کے تناظر میں جو مسالک ہیں، ان میں دوسرے کے مسلک کا درست تعارف نہیں کروایا جاتا۔ مثال کے طور میں ایک دیوبندی ہوں تو ایک بریلوی یا شیعہ کا میرے بارے میں تصور ہے کہ میرا یہ عقیدہ ہوگا۔ ہو سکتا ہے حقیقت میں ایسا نہ ہو۔ ایک بریلوی کے بارے میں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی اور کو بھی خدا مانتے ہیں۔ میرا تصور یہ ہے اور میں اپنے طالب علموں کو بھی ان کے بارے میں یہی بتاتا ہوں، لیکن حقیقت میں ان کا نقطہ نظر یہ نہ ہو۔ اہل تشیع ہو سکتا ہے ہمارے بارے میں یہ بتاتے ہوں کہ ان کی اہل بیتؓ کے ساتھ وہ عقیدت نہیں جو ہونی چاہیے اور ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو اہل تشیع کے بارے میں یہ بتاتے ہوں کہ وہ قرآن کو نہیں مانتے یا فلاں فرائض پر عمل نہیں کرتے، لیکن ہو سکتا ہے یہ تاثر حقیقت کے خلاف ہو اور ان کے ہاں بھی یہ چیزیں نہ ہوں جس طرح ہم اپنے لوگوں کو ان سے متعارف کروا رہے ہوتے ہیں۔
مشترکہ نصاب کی بات ہورہی تھی۔ اس کی تشکیل بہت زیادہ مشکل ہے،لیکن کوئی ایسا کتابچہ جس میں تمام مکاتب فکر کے بنیادی نظریات خود ان کی تعلیمات کی روشنی میں بیان کیے گئے ہوں، ہونا چاہیے اور وہ شامل نصاب کیا جاسکتا ہے، کیونکہ کسی بھی مکتبہ فکر کو اپنا عقیدہ بیان کرنے کا اختیار حاصل ہے اور وہ خود بتائیں کہ ان کا عقیدہ کیا ہے ۔مجھے یہ اختیار نہیں کہ میں ان کے بارے میں بتاؤں کہ ان کا عقیدہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں اتحاد تنظیمات المدارس کوئی ایسا قدم اٹھائے کہ ایسا کوئی مشترکہ مواد تیار ہو جائے جس میں تمام مکاتب فکر کی بنیادی چیزیں ہوں اور وہ بنیادی مسائل بھی زیربحث آجائیں جن پر ان مسالک کا اختلاف ہے تاکہ ایک دوسرے کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔ ایک دوسرے کے مکتبہ فکر کا تعارف اگر درست طور پر معلوم ہو جائے، اگرچہ دلائل نہ بھی ہوں تو مسئلہ کافی حد تک حل ہو جائے گا۔
مولانا مفتی منیب الرحمان
(چیئرمین رؤیت ہلال کمیٹی، صدر تنظیم المدارس پاکستان)
اس وقت ملک کاسب سے بڑا مسئلہ جس سے ہم دوچار ہیں، وہ عمودی اور افقی اور گہرائی اور گیرائی کے اعتبار سے ہمارے معاشرے میں نفوذ کرچکا ہے اور یہ بڑا گھمبیرمسئلہ ہے۔ اس کی مثال ایک ٹیومر یا کینسر کی نہیں کہ آپ ایک عضو کاٹ دیں اور اس کا علاج کر لیں تو جسم دوبارہ صحت مند ہوجائے گا۔ اس کی مثال شوگر، بلڈ پریشر اور بخار کی ہے جو کسی وقت بھی جسم کے کسی حصے کومتاثر کر سکتا ہے اور جسم کا کوئی حصہ بھی اس سے محفوظ نہیں۔ اسی طرح یہاں اپنے آپ کو کوئی محفوظ تصور نہیں کر سکتا، حتیٰ کہ ہمارے وہ حساس دفاعی ادارے بھی محفوظ نہیں جنہوں نے قوم کا دفاع کرنا ہے۔ یہ مسئلہ ہمہ گیر اور خطرناک حد تک آگے بڑھ چکا ہے۔
اس مسئلہ کے اسباب کودو طرح کے اندازِ فکر کے تحت زیرِبحث لایا جاتا ہے۔ ایک تو وہ جس کا ابتدا میں ڈاکٹر فرید پراچہ نے ذکر کیا اور عالمی طاقتوں کو اس کا ذمہ دار قرار دیاجن میں اسرائیل، انڈیا، امریکہ ، یورپ، یہود و ہنوداور استعمار شامل ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سرگرم ہیں اور ان عوامل کا ذکر کرنا چاہیے، لیکن اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ ہمیں آگ سے نکالنا ان کی ذمہ داری ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان کی بقا و سالمیت کی ذمہ داری ہماری نہیں، کسی اور کی ہے جو کہ اپنا کام صحیح طو رپر نہیں کر رہا، لہٰذا اس کی مذمت اور ملامت کرو اور اس کے خلاف نعرے لگاؤ اور تحریک چلاؤ۔ میرے خیال میں پہلی اصابت رائے یہ ہے کہ ہم ادراک کریں کہ یہ ذمہ داری ہماری ہے اور اس کا امریکہ، یورپ اور یہود و ہنود سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور جب تک ہم اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں کا اعتراف نہیں کریں گے اور ان مسائل کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھیں گے، کسی اور پر ذمہ داری ڈال کر ہم اپنے گھر کو نہ تو بچا سکتے ہیں اور نہ دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں۔ اس لیے میرا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ اگر ہم امریکہ یا یہود و ہنود کو جواب دینا چاہتے ہیں توہم اپنے ملک کو متحد ، پرامن اور منظم کرکے جواب دیں کہ یہ ہمارے مخالفین کی سازشیں تھیں اور ان کے تدارک کے لیے ہم نے یہ اقدامات کیے۔ حال ہی میں ترکی کی نشاۃِ ثانیہ ہمارے سامنے ایک بڑی مثال ہے۔ اس وقت ترکی کی کرنسی پچپن پاکستانی روپوں کے برابر ہے اور ترکی دنیا کی پندرہویں یا سترہویں بڑی معیشت ہے۔ وہاں امن و استحکام قائم ہوا ہے اور ترقی ہور ہی ہے۔ ہمیں بھی قوم کی نشاۃ اور استحکام کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر ہم نے دوسروں کو ذمہ دار قرار دینے کی روش برقرار رکھی تو پھر ہم اس پستی سے کبھی نہیں نکل پائیں گے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے ہاں کئی طرح کے جبر ہیں، داخلی جبر ہیں جبکہ خارجی جبر تو اپنی جگہ موجود ہیں۔ جیسا کہ آپ لوگ امریکہ یا کسی اور قوت کی ڈکٹیشن کا ذکر کرتے ہیں، داخلی جبر بھی بہت سارے ہیں، اور ہر مکتبۂ فکر کا اپنا بھی ایک جبر ہے۔ کوئی اس کو آسان نہ سمجھے۔ ہم پشاور میں ایک میٹنگ میں شریک تھے ، اُس وقت پشاور میں تواتر کے ساتھ خودکش حملے ہو رہے تھے تو میٹنگ میں ذکر آیا کہ خودکش حملوں کے بارے میں بھی بات کر لی جائے تو انہوں نے کہا کہ آپ اسلام آبا دمیں بیٹھ کر اس کے بارے میں بات کرسکتے ہیں، لیکن ہم یہاں پشاور میں بیٹھ کر ایسی کوئی بات نہیں کرسکتے۔ یہ ایک زمینی حقیقت ہے۔ میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ جب پشاور کے بازاروں میں دھماکے ہوتے ہیں تو کیا یہاں کے خطبا جمعہ کے خطبات میں ان کا ذکر کرتے ہیں؟ تو وہ کہنے لگے کہ بالکل ذکر نہیں کرتے، جیسا کہ یہاں سرے سے کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔ اگر کوئی ذکر کرتا بھی ہے تو یہ کہے گا کہ امریکہ یہ کر رہا ہے یا بھارت یہ کر رہا ہے تو یہ بھی جبر کی ایک صورت ہے تو جب تک ہم اس جبر کا مل کر مقابلہ نہیں کریں گے اور اگر کوئی سچ کراچی میں نہ بولا جاسکے یا لاہور، اسلام آباد یا پشاور میں نہ بولا جاسکے تو جب تک ہم ہر جگہ سچ بولنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے ، ہم کامل اصلاح نہیں کرسکتے۔ .....
ایک طبقہ وہ ہے جس نے اس بات کو ایمان اور عقیدے کا درجہ بنا لیا ہے کہ چونکہ اب حکومت امریکہ کی غلام ہے ، لہٰذا اس ملک کے سارے ادارے، عوام، مارکیٹیں، بازار، مساجد اور مزارات، جس کو مرضی چاہیں نشانہ بنا دیں کہ نہ مرنے والے کو پتہ ہوتا ہے کہ اسے کس سبب سے مارا گیا اور نہ مارنے والے کو۔ اس مسئلہ کو ہم سب مل کر اتفاق رائے سے حل کرسکتے ہیں، لیکن اس کے لیے تمام بڑے اور اکابر علما کو سامنے آنا ہوگا اور ایک سے زائد مرتبہ حجت شرعی کو تمام کرنا پڑے گا، کیونکہ بعض لوگ حالات کے جبر کی وجہ سے یہ سیاسی بیان دیتے ہیں کہ ہاں یہ خود کش حملے حرام ہیں، یہ بات حرام ہے اور یہ بات حرام، مگر چونکہ یہ ڈرون حملے ہورہے ہیں اور چونکہ امریکہ یہ کررہا ہے اورحکمران یہ کروا رہے ہیں تو ردِعمل میں خودکش حملے ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ حلال بھی ہیں اور حرام بھی ۔ ان کے بارے میں ہمیں کھل کر بات کرنا ہوگی۔ ان کے بارے میں، میں نے ایک بزرگ سے پوچھا تو انہوں نے کہا، دیکھیں جی! یہاں بہت سے عناصرسرگرم ہیں اور باہر کی ایجنسیاں بھی فعال ہیں اور اس مقصد کے لیے باہر سے پیسہ بھی آ رہاہے۔ میں نے کہا کہ میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ امریکہ، اسرائیل یا ہنود کروا رہے ہیں، وہ تو کفرہی پھیلائیں گے ،اسلام تو نہیں پھیلائیں گے۔ پھر ہمیں اس کے بارے میں دو ٹوک بات کرنے سے ایک لمحہ بھی اجتناب نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ہمارے سامنے ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے اور اس کو مل کر عبور کرنے کی ضرورت ہے۔.....
میں کہنا چاہتا ہوں کہ خرابی کہاں سے پیدا ہوئی۔ مسالک بھی موجود تھے اور حتیٰ کے ایک دوسرے کے خلاف فتاویٰ تک بھی موجود تھے۔ کبھی کسی کو ددھکے دے دیے ،کسی کو تھپڑ مار دیا اور کبھی ایسا ہوا کہ لاٹھی کا استعمال کیا گیا ہو، لیکن اس وقت ہم جس صورتحال سے دو چار ہیں، وہ یہ ہے کہ دلیل اور استدلال کی طاقت کے استعمال کرنے کی بجائے اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے اسلحے کی طاقت کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسلحے اور گولی نے دلیل کی جگہ لے لی اور یہ ہماری بربادی کا سبب ہے۔ آپ مناظرے کریں، دلیل و استدلال سے کریں، دلیل سے اپنی بات لکھیں لیکن جب تک مذہبی طبقات میں اسلحہ موجود ہے اور ہم اس سے نجات حاصل نہیں کریں گے تو معاشرے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
اہل مغرب اور امریکہ والے یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت مدارس میں جو نصاب پڑھایا جارہا ہے، اس میں ایسا کوئی مسئلہ ہے کہ جو معاشرے میں بدمعاش، غنڈے اور دہشت گرد پیدا کرتا ہے۔ہم ان کو یہ بات باور کروا چکے ہیں کہ یہ نصاب دو سو سال سے پڑھایا جارہا ہے تودو سو سال سے بدمعاش اور دہشت گرد پیدا نہیں ہورہے تھے۔ تحریک پاکستان میں کوئی دہشت گردی نہیں ہوئی اور نہ ہی اس کے بعد ہوئی۔اصل میں یہ جہادِ افغانستان کا تسلسل ہے ۔ہم اپنی خرابیوں کی ذمہ داری اوروں پر ڈال دیں گے، لیکن جب سوویت یونین کی فتح ہوئی تو ہم نے کہا کہ یہ ہماری فتح ہے۔ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اس میں جو سرمایہ لگا ، وہ کسی اور کا تھا اور مقاصد بھی کسی اور کے تھے، لیکن ہم سارا کریڈٹ لینے کے لیے تیار ہیں۔
اگر ہم نے اس ملک میں امن لانا ہے تو ملک کو اسلحے سے پاک کرنا ہوگا، بحث و مباحثے کے لیے دلیل کی زبان کو استعمال کیا جائے اور دلیل کا راستہ اختیار کیا جائے۔جس ٹریک پر ہم چل پڑے ہیں، اگر اس سے پلٹ کر واپس نہیں آئیں گے تو ہمارے معاشرے میں سکون نہیں آسکتا۔ میں آپ کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ جو طبقات اب تک مار کھا رہے ہیں اور جن کے پاس اس وقت اسلحے کی تکنیک و وسائل نہیں، وہ بھی سوچتے ہیں کہ شاید ہمارے پاس جو آخری چارۂ کار ہے، وہ یہی رہ جائے گا، لیکن اللہ نہ کرے کہ وہ وقت آئے ۔ اس اسلحہ کوفروغ دینے میں اہل اقتدار کا بہت بڑا دخل ہے۔ لوگ اپنے ملوک کے دین پر ہوتے ہیں اوران کے کلچر کو ہی اپناتے ہیں ۔ہم لوگ جو پرامن ہیں اور اپنے صاحب اقتدار لوگوں سے رجوع کرنا چاہیں تو ہمیں کوئی جواب نہیں آئے گا، لیکن جو مسلح گروہ ہیں اور جن کے پاس اسلحہ ہے، انہیں فوراً رسپانس مل جائے گا اور ان کی بات بھی سنی جائے گی اور ان کو ملاقات کا وقت بھی دیاجائے گا ۔ہمارے حکمران بزدل ہیں اور بزدل لوگ امانتوں کی حفاظت نہیں کرسکتے۔ اگر اس ملک کو بچانا ہے تو ایک ہی راستہ ہے کہ ایک طویل المدت قومی ایجنڈا بنایا جائے اور پوری قوم اس کی پشت پر کھڑی ہو اور اس ایجنڈے کو جماعتی، گروہی مفادات اور اپنے اقتدار کو طول دینے اور سیاسی مشہوری کا ذریعہ نہ بنایا جائے ،کیوں کہ اگر یہ ملک ہے تو یہ حکمران ہیں اور وہ ہم پر حکمرانی کرنے کے لیے موجود ہوں گے اور اگر ملک نہیں ہوگا تو پھرکچھ نہیں رہے گا۔
سیمینار: ’’ائمہ وخطبا کی ذمہ داریاں اور مسائل ومشکلات‘‘
ادارہ
۱۶ رمضان المبارک کو الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ میں ’’ائمہ وخطبا کی ذمہ داریاں اور ان کو درپیش مشکلات‘‘ کے عنوان سے ایک فکری نشست اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کی صدارت میں منعقد ہوئی اور اس میں علاقے کے ائمہ مساجداور خطبا کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ ہم آج اپنی طرف سے کچھ عرض نہیں کریں گے، بلکہ ان ائمہ وخطبا کی بات ان کی زبانی سننا چاہیں گے، جو مختلف جامعات کے فضلا ہیں اور کسی نہ کسی مسجد میں امامت یا خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں کہ انہیں دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایک مسجد میں امامت وخطابت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے کیامشکلات پیش آئی ہیں اور ان کے ذہن میں ان مسائل کا حل کیا ہے؟ چنانچہ مختلف حضرات نے اس سلسلے میں جو کچھ کہا، اس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل مولانا محمد اویس نے کہا کہ مدارس کے فضلاء کو سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش ہوتا ہے کہ مسجدیا مدرسے میں دی جانے والی تنخواہ میں گزارا نہیں ہوتا۔ مثلاً چھ سات ہزار روپے میں اپنا خرچہ، گھر کا خرچہ، مکان کا کرایہ، بجلی وگیس کا بل اور دیگر ضروری اخراجات کسی طرح بھی پورے نہیں ہوتے، جس کے لیے انہیں متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑتے ہیں اور وہ بطورخطیب وامام یا مدرس اپنے فرائض دل جمعی کے ساتھ سرانجام نہیں دے سکتے، جبکہ ان کے لیے دوسری بڑی الجھن یہ ہوتی ہے کہ انہیں مدرسہ ومسجد میں اپنی ملازمت کا کوئی تحفظ حاصل نہیں ہوتا اور مہتمم صاحب یا کمیٹی کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں، جو کسی بھی وقت ان کی چھٹی کراسکتے ہیں، اس لیے یہ ضروری ہے کہ دینی مدارس میں طلبہ کو عصری تعلیم دی جائے یا کوئی ہنر ضرور سکھایا جائے تاکہ وہ معاشی مشکلات پر کسی حد تک قابو پاسکیں۔ جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے فاضل مولانا عبدالوحید صاحب نے کہا کہ ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ اربابِ مدارس فضلا کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، مدارس کی بلڈنگیں تو شایان شان بن جاتی ہیں، مگر مدرسین کی تنخواہوں اور دیگر سہولیات کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی۔
جامعہ فاروقیہ کراچی کے فاضل مولانا ابوبکر نے کہا کہ دینی مدارس میں ہمیں جو تربیت ہوتی ہے، وہ بہت عمدہ اور بہترین ہوتی ہے، جس کا احساس ہمیں اسکولوں اور دیگر اداروں میں جاکر ہوتا ہے۔ ہمیں صبر، برداشت، توکل اور قناعت کی تعلیم ملتی ہے اور شرافت اور دین داری کا ذوق پیدا ہوتا ہے، البتہ معاشرے میں جاکر اپنے مسائل سے نمٹنے کے لیے دینی مدارس میں طلبہ کو کوئی نہ کوئی ہنر ضرور سکھایا جائے تاکہ ان کا انحصار صرف مسجد کی تنخواہ اور کمیٹی کے رویے پر نہ ہو اور وہ متبادل ذریعہ معاش رکھنے کی وجہ سے آزادی اوروقار کے ساتھ دینی خدمات سرانجام دے سکیں۔
جامعہ دارالعلوم کراچی کے فاضل مولانا محمد عامر نے کہا کہ ہمارے مدارس میں ابتداہی سے طلبہ کی ذہن سازی ہونی چاہیے اور ان کے ذہن میں یہ بات ڈالنی چاہیے کہ انہیں معاشرے کی راہ نمائی کے لیے تیار کیا جارہا ہے تاکہ وہ اس کے مطابق پڑھیں اور اس کے تقاضوں کے مطابق ان کا ذہن ترقی کرتا چلا جائے۔ اسی طرح اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہمارے پاس معاشرے کا شایدصرف دو فیصد طبقہ آتا ہے، جبکہ باقی اٹھانوے فیصد کے لیے دینی تعلیم کا ہمارے ہاں کوئی منظم اور مربوط نظام موجود نہیں ہے، پھر یہ بھی ہے کہ اگر کوئی فاضل کسی اور شعبے میں چلاجاتا ہے تو اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اس کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ دینی تقاضوں سے ہٹ گیا ہے، حالانکہ ہمیں خود طلبہ کی ایک تعداد کو دوسرے شعبوں کے لیے تیار کرنا چاہیے اور پالیسی کے تحت انہیں وہاں بھیجنا چاہیے۔
مولانا منیراحمد نے کہاکہ مدارس کے فضلا میں سے ذی استعداد حضرات ہی مدارس میں تدریس کا منصب حاصل کرپاتے ہیں، جبکہ ان کی تعداد بہت کم ہوتی ہے اور دوسرے درجے کے فضلا جو کثیر تعداد میں ہوتے ہیں، انہیں دوسرے شعبوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں ان کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ وہاں کام کرنے کے لیے نہ ان کے پاس وہاں کی بنیادی تعلیم ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی تربیت ہوتی ہے، پھر ماحول مختلف ہونے اور وہاں کی تعلیم ضروری حد تک نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اسکولوں، کالجوں میں دوسرے درجے کا استاذ سمجھا جاتا ہے اور وہ بسااوقات احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں، اس لیے اس کی منصوبہ بندی دینی مدارس کی تعلیم کے دوران ہی ہونی چاہیے کہ طلبہ کی جس اکثریت کو دوسرے شعبوں میں ہی جاناہے، انہیں وہاں کی بنیادی تعلیم اور وہاں کے ماحول سے آگاہی فراہم کی جائے اور انہیں اس کے لیے تیار کیا جائے۔
مولانا عاطف نے کہا کہ ہماری دینی جماعتوں کا شدت پسندانہ رویہ اور ایک دوسرے کی تحقیر وتنقیص بھی مساجد کے ماحول میں ہمارے لیے مشکلات کا باعث بنتی ہے۔ مسجد کے نمازی اور کمیٹی کے ارکان اکثر بے علم ہوتے ہیں اور ان کے ردعمل کا شکار امام وخطیب کو بننا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ائمہ وخطباء کا آپس میں کوئی ایسا رابطہ نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی ایسا فورم موجود ہے کہ وہ جائز معاملات میں ایک دوسرے کی سپورٹ کرسکیں، جس کی وجہ سے ہرمسجد کا امام وخطیب تنہائی کا شکار رہتا ہے اوراسے اپنے نمازیوں اور کمیٹی کے جائز یا ناجائز مطالبات سے خود ہی نمٹنا پڑتا ہے۔
جامعہ دارالعلوم کراچی کیفاضل مولانا حافظ محمد رشید نے کہا کہ مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے فضلا میں سے ہر ایک کا جذبہ یہی ہوتا ہے کہ وہ معاشرے میں جاکر دین کی خدمت کرے گا لیکن عملی میدان میں جاکر اسے جن مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہر شخص ان کا سامنا نہیں کرسکتا۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو پیٹ پر پتھر باندھ کر دین کی خدمت کرسکیں اور مسائل ومشکلات کا سامنا نہ کرپانے والے حضرات جب دوسرے ذرائع اختیار کرتے ہیں تو انہیں بے دینی کے طعنوں کا شکار بنایا جاتا ہے، اس طرزعمل کی بھی اصلاح ہونی چاہیے۔
جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل مولانا وقاراحمد نے کہا کہ ہمارے اکابر بالخصوص حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی اور شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسن دیوبندی نے تعلیمی میدان میں جس وسعت اور ہمہ گیری کا تصور دیا تھا، ہم اس کو بھول گئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں پورے معاشرے کو سمیٹنے کے حوالے سے ان بزرگوں کا جو وژن تھا، اسے دوبارہ واپس لایا جائے، میرے خیال میں اس کے ساتھ ساتھ یہ مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے۔
جامعہ غوثیہ بھیرہ کے فاضل اور الشریعہ اکادمی کے رفیق پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک نے کہا کہ دینی مدارس کے فضلا کو دوسرے قومی شعبوں میں بطور پالیسی بھجوانے کی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے نصاب تعلیم میں دینی تعلیم کو بنیادی حیثیت دیتے ہوئے عصری تقاضوں کو ضرورت کے مطابق ایڈجسٹ کیا جانا چاہیے۔ مولانا حکیم عبدالرحمن نے کہا کہ علمائے کرام کو اپنے پاس کوئی ایسا ہنر ضرور رکھنا چاہیے تاکہ وہ کمیٹیوں کے رحم وکرم پر نہ رہیں اور آزادی کے ساتھ مسجد ومدرسہ کی خدمت کرسکیں۔
۱۸؍ ستمبر کو ’’ائمہ وخطباء کی ذمہ داریاں اور ان کی مشکلات ومسائل‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جو صبح ساڑھے دس بجے شروع ہوکر چار بجے تک جاری رہا۔ اس کی ایک نشست کی صدارت الحاج عثمان عمرہاشمی نے اور دوسری نشست کی صدارت مولانا زاہد الراشدی نے کی اور مولانا سیدعبدالخبیر آزاد خطیب بادشاہی مسجد لاہور اور مولانا مفتی محمد طیب مہتمم جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد بالترتیب پہلی اور دوسری نشست کے مہمان خصوصی تھے، جبکہ خطاب کرنے والوں میں مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا عبدالحق خان بشیر، مولانا مفتی فخرالدین عثمانی، مولانا عبدالواحد رسول نگری، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، مولانا حافظ محمد رشید اور ڈاکٹر حافظ سمیع اللہ فراز شامل تھے۔
مولانامفتی محمد طیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ مساجد اور ائمہ مساجد کے مسائل کے حل کے لیے باہمی رابطہ واجتماع کا کوئی فورم موجود نہیں ہے، حالانکہ مسائل بھی بہت ہیں اور مشکلات بھی کافی ہیں، مگر باہمی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کی مشکلات سے ہی آگاہ نہیں ہوپاتے۔ ان مسائل میں مساجد کے مسائل بھی ہیں اور ائمہ وخطباء کے مسائل بھی ہیں، جبکہ ہر جگہ کے مسائل ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور مسائل میں ہماری ذمہ داریوں کا سوال بھی شامل ہے اور ہماری مشکلات بھی ان مسائل کا حصہ ہیں لیکن میرا خیال یہ ہے کہ اگر ہم اپنی ذمہ داری کی طرف پوری توجہ دیں تو مشکلات پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے، مثلاً ہم امامت وخطابت کو ڈیوٹی سمجھتے ہوئے اسی حد تک محدود نہ رہیں، بلکہ مسجد کے فورم سے فائدہ اٹھاکر درس وتدریس، نمازیوں کی ذہن سازی اور نوجوانوں کو تعلیم وتعلم کے ذریعہ قریب کرنے کی کوشش کریں۔ اس سے دینی فائدہ ہونے کے ساتھ ساتھ مسجد کے ماحول میں ہمارا اعتماد بھی قائم ہوگا، مگر یہ سارا کام مشنری جذبہ کے ساتھ اور رضاکارانہ انداز میں ہونا چاہیے، اس کے بے شمار فوائد ہیں۔
مولانا عبدالرؤف فاروقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر سطح کے ائمہ مساجد کے مسائل الگ ہیں۔ دیہات کی مساجد کے مسائل اور ہیں، شہروں کی مساجد کے مسائل مختلف ہیں۔ کمیٹیوں کے تحت چلنے والی مساجد کے ائمہ وخطباء دیگر نوعیت کی مشکلات سے دوچار ہیں، جبکہ خود مسجد بناکر چلانے والے علمائے کرام اور ائمہ کی مشکلات اس سے الگ نوعیت کی ہیں۔ اسی طرح محکمہ اوقاف کی مساجد کے اماموں کے مسائل اور قسم کے ہیں اور فوج یا دیگر سرکاری اداروں کی مساجد کے ائمہ وخطبا کو اس سے الگ نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان سب کے تفصیلی جائزہ کی ضرورت ہے۔ الشریعہ اکادمی اس مسئلہ پر مباحثہ کا آغاز کرنے پر مبارک باد کی مستحق ہے لیکن یہ صرف ایک سیمینار کی بات نہیں ہے، اس کے لیے مستقل ورک کی ضرورت ہے تاکہ مسائل کا احساس اجاگر کرکے ان کے حل کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ مولانا فاروقی نے کہا ہمارے بہت سے ائمہ وخطباء اب سے کچھ عرصہ قبل سیاسی ودینی تحریکات میں پیش پیش ہوتے تھے، جس کی وجہ سے مقامی ماحول اور انتظامیہ کے حوالے سے ان کا رعب ودبدبہ ہوتا تھا، مگر اب غالب اکثریت نے سیاسی عمل، دینی تحریکات اور معاشرتی میل جول سے کنارہ کشی اختیار کررکھی ہے، جس کی وجہ سے وہ تنہائی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔
مولانا عبدالحق خان بشیر نے اپنے خطاب میں اس ضرورت پر زور دیا کہ خطیب کو جمعہ کے خطبہ کے لیے تیاری کرنی چاہیے اور مستند معلومات کی بنیاد پر گفتگو کرنی چاہیے، اس لیے کہ تیاری اور مستند معلومات کے بغیر کی جانے والی گفتگو ادھوری رہ جاتی ہے، جس کے اثرات منفی ہوتے ہیں اور آج کے دور میں عام لوگوں کے لیے صرف ان خطبائے کرام کے خطبات کشش کا باعث بنتے ہیں، جو باقاعدہ تیاری کرتے ہیں اور سنی سنائی باتوں پر گزارہ کرنے کی بجائے علمی اور معلوماتی مواد اپنے بیان میں پیش کرتے ہیں۔ خطیب کو معاشرتی ضرورتوں کا بھی خیال کرنا ہوگا، مثال کے طور پر ملک میں یوم کشمیر منایا جارہا ہے تو خطیب کو اس کے بارے میں بھی بات کرنی چاہیے اور غیرمتعلقہ موضوعات پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح خطیب کو چاہیے کہ وہ اپنے سامعین کو دینی معلومات مہیا کرنے اور احکام ومسائل سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ دینی شخصیات اور اپنے بزرگوں سے بھی متعارف کرائے، جس کے لیے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین، بزرگان دین اور بالخصوص اکابرعلمائے دیوبند کا کوئی نہ کوئی واقعہ یا ارشاد موقع محل کی مناسبت سے اپنے خطبات میں ضرور شامل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مطبوعہ خطبات کے مجموعوں نے ہمارے خطباء کے اندر مطالعہ کا ذوق ختم کردیا ہے، جس کا بہت نقصان ہورہا ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
مولانا عبدالخبیر آزاد نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں باہمی رابطہ اور مشاورت کو فروغ دینا چاہیے اور ایک دوسرے کی مشکلات میں ساتھ دینا چاہیے۔ اسی طرح ہمیں اپنے ہم مسلک لوگوں اور نمازیوں کی مشکلات میں بھی حصہ دار بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلاف جب بات کرتے تھے، ان کی بات کا اثر ہوتا تھا، اس لیے کہ وہ صاحبِ کردار ہوتے تھے اور ان کی نیکی اور تقویٰ پر لوگوں کا اعتماد ہوتا تھا، آج یہ ماحول کم ہوتا جارہا ہے، ہمیں اپنے معمولات، طرزعمل اور کردار کو بہتر بنانا ہوگا، تبھی ہماری باتوں میں اثر ہوگا اور خاص طو رپر مسلکی معاملات میں حمیت سے کام لینا چاہیے اور مناسب طریقہ سے مسلک اور اہل مسلک کا دفاع کرنا چاہیے۔
مولانا مفتی فخرالدین عثمانی نے کہا کہ ہمارے خطباء کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو حلال وحرام کے مسائل سے بھی آگاہ کریں اور موقع محل کی مناسبت کو سامنے رکھتے ہوئے ضروری مسائل کو عوام کے سامنے بیان کریں، انہوں نے کہا کہ دینی احکام پر عمل اور نیکی اور تقویٰ کے معاملہ میں ہمیں لوگوں کے سامنے عملی نمونہ بننا چاہیے۔
مولانا عبدالواحد رسول نگری نے کہا کہ ہمارے خطباء کو وقت اور لوگوں کے مزاج کی تبدیلی کا احساس کرنا چاہیے، ایک وقت تھا جب لمبی لمبی تقریریں پسند کی جاتی تھیں اور مشکل جملوں اور محاوروں میں گفتگو کو کمال سمجھا جاتا تھا، اب یہ صورت حال نہیں ہے، آپ سادہ الفاظ میں اور مختصر وقت میں اپنی بات کو سمجھا سکیں تو یہی خطابت کا کمال ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی محسوس کی جانی چاہیے کہ لوگوں کی ضرورت اور دل چسپی کے مسائل اگر ہم بیان نہیں کریں گے تو وہ ٹی وی چینلز سے اور دیگر ذرائع سے رجوع کریں گے اور اگر وہی مسائل ہم اچھے انداز میں ان کو سمجھا دیں تو انہیں ادھر جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی، مگر ہمارے ہاں ان ضروریات کا خیال عام طور پر نہیں رکھا جاتا۔
مولانا حافظ گلزاراحمد آزاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں خلوص اور مشن کو اپنی محنت کی بنیاد بنانا چاہیے اور قناعت، صبر اور بے نیازی سے کام لینا چاہیے، اس کے ہمیشہ اچھے اثرات سامنے آتے ہیں اور صبر وحوصلہ کا پھل ہمیشہ میٹھا نکلتا ہے۔
ایک نسخہ، بادکے چوراسی امراض کے لیے
حکیم محمد عمران مغل
حضرت کاش البرنی شہید علم رحمۃ اللہ علیہ نے پیر الٰہی بخش کالونی کراچی میں ماہنامہ ’’روحانی دنیا‘‘ کا پودا لگایا تھا جو آج تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس درخت کے پھل پھول سے مسلم وغیر مسلم، ہر طبیعت کے خواتین وحضرات اپنے اپنے مزاج کے مطابق لطف اندوز ہو رہے ہیں۔کہنے کو تو روحانی دنیا ہے، مگر روحانیت کے ساتھ کبھی طبی علاج پر بھی قیمتی مواد بہم پہنچاتے تھے۔ پھر امام بونی رحمۃ اللہ علیہ اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے مجرب عملیات وتعویذات کا ایک نایاب ذخیرہ اس میں ہوتا ہے۔ امام غزالیؒ کے علم الحروف کے ایسے ایسے عملیات پیش کیے کہ لندن میں بیٹھے پی ایچ ڈی حضرات بھی بڑے شوق سے یہ عملیات کرتے تھے۔ فرماتے تھے کہ امام غزالیؒ کا یہ علم کرامات سے تعلق رکھتا ہے اور چوبیس گھنٹوں میں لازماً نتیجہ خیز ہوتا ہے۔ الحمد للہ جب پرچہ کی قیمت آٹھ آنے ہوا کرتی تھی، تب سے اب تک میں اس کا قاری ہوں۔ علم الحروف کے وہ اعمال جن کا تعلق شفاے امراض سے ہے، وہ حکما ومعالجین کرام کے لیے در بے بہا ہیں۔ الغرض علم الحروف ایک مکمل سائنس ہے۔ ادویہ اس کے سامنے ہیچ ہیں۔
کاش البرنی کا خاندان روحانیت کے سمندر میں کافی گہرائی تک غوطہ زن دکھائی دیتا ہے۔ آج کی نشست میں ان کا علم طب پر ایک نایاب عمل پیش کرتا ہوں۔ اس علم کے بارے میں اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ میری معلومات میں نہ آتا تو ساری زندگی ٹھوکریں ہی کھاتا رہتا۔ یہ وہ نسخہ ہے کہ عام لوگوں کو ا س کا علم نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں عامل کامل اور معالج سادہ لوح لوگوں سے لاکھوں روپے بٹور رہے ہیں۔ جو بھی آیا، اسے کہہ دیا کہ آپ پر جادو کیا گیا ہے اور بیمار بے چارہ گھر کی ساری جمع پونجی ان کے قدموں میں نچھاور کر دیتا ہے، مگر اس کے جادو کا علاج کبھی مکمل نہیں ہوتا۔ دراصل ریح والی بادی کا مکمل علاج نہ ہونے سے مریض یہ سمجھ لیتا ہے کہ مجھ پر کسی نے جادو کر دیا ہے، مگر آپ ایک ہفتہ یہ نسخہ ایسے سحر زدہ مریض پر استعمال کریں تو وہ اقرار کرے گا کہ میرا جادو ختم ہو گیا ہے۔ باد سے ایسے ایسے امراض پیدا ہو رہے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ فالج بھی باد سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ یہ نسخہ غیر مذہب کے کسی معالج کی پرانی کتاب سے ترجمہ کر کے پیش کیا گیا ہے جو کئی سو سال پرانا ہے۔ میں نے ایک ہفتہ استعمال کیا تو اپنے آپ کو یوں ہلکا پھلکا محسوس کیا جیسے میں جسم کے بغیر چل پھر رہا ہوں۔ الغرض اس کے استعمال سے جسم کے چوراسی امراض اور دردیں ٹھیک ہو جاتی ہیں۔
ہو الشافی: سونٹھ، سہاگہ، کالا نمک، ہینگ، یہ سب اجزا ہم وزن لے کر کوٹ لیں۔ سہانجنہ کے پانی سے سیاہ مرچ کے برابر گولی تیار کر کے کھانے کے بعد سادہ پانی سے کھا لیں۔ دیکھیں جادو کیسے ختم ہوتا ہے۔ اصل نسخہ کی عبارت یوں ہے:
سونٹھ سہاگہ سونچل گاندھی
وچ سہانجنہ گولی باندھی
سونچل، کالے نمک کو اور گاندھی، ہینگ کو کہتے ہیں۔ کاش البرنی رحمۃ اللہ علیہ کی اس محنت پر بہت کچھ لکھنا باقی ہے۔ یار زندہ صحبت باقی، ان شاء اللہ۔