اکابر علماء دیوبند کی علمی دیانت اور فقہی توسع
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
اکابر علماء دیوبند کی خصوصیات اور امتیازات میں جہاں دین کے تمام شعبوں میں ان کی خدمات کی جامعیت ہے کہ انھوں نے وقت کی ضروریات اور امت کے معروضی مسائل کو سامنے رکھ کر دین کے ہر شعبہ میں محنت کی ہے، وہاں علمی دیانت اور فقہی توسع بھی ان کے امتیازات کا اہم حصہ ہے۔ انھوں نے جس موقف کو علمی طور پر درست سمجھا ہے، کسی گروہی عصبیت میں پڑے بغیر اس کی حمایت کی ہے اور مسلمانوں کی اجتماعی ضروریات کے حوالے سے جہاں بھی فقہی احکام میں توسع اختیار کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے، انھوں نے اس سے گریز نہیں کیا۔
علماء دیوبند کو بحمد اللہ تعالیٰ اہل سنت او رحنفیت کی علمی اور شعوری ترجمانی کا شرف حاصل ہے جس کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جاتا ہے اور ان کے علمی تعارف کی حیثیت رکھتا ہے۔ اکابر علماء دیوبند کو ایک طرف فقہ کی اہمیت وضرورت سے انکار کی صورت حال کا سامنا تھا اور دوسری طرف ان کا واسطہ اس فقہی جمود سے تھا جس میں جزئیات وفروعات کو بھی کفر واسلام کا مدار سمجھ لیا جاتا تھا۔ علماء دیوبند نے ان دونوں کے درمیان اعتدال وتوازن کا راستہ اختیار کیا اور اہل السنۃ اور احناف کے تاریخی علمی تسلسل کے ساتھ اپنا رشتہ قائم رکھا۔
اس بات پر چند واقعاتی شہادتیں قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں جس سے اکابر علماء دیوبند کے اعتدال، توازن، توسع اور علمی دیانت کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
امام الطائفہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی قدس اللہ سرہ العزیز اور مولانا احمد رضا خانؒ اپنے دور کی دو بڑی شخصیات ہیں جن کی طرف دیوبندیت اور بریلویت کی علمی روایت منسوب ہے اور عقائد واحکام دونوں میں ان دو شخصیات کی تعبیرات وتشریحات پر ان دو اہم مسلکی گروہوں کے علمی تشخص کا مدار ہے۔ ان کے دور میں ایک مسئلہ پیش آیا کہ ایک سید لڑکی نے جو عاقلہ بالغہ تھی، ایک ایسے شخص سے نکاح کر لیا جس نے خود کو سید ظاہر کیا اور حلف اٹھا کر اس کا یقین دلایا، مگر نکاح کے بعد ظاہر ہو گیا کہ وہ سید نہیں ہے۔ اس پر لڑکی کے اولیا کو اعتراض ہوا کہ یہ بات ان کے لیے معاشرے میں باعث عار ہے، اس لیے وہ اس نکاح کو قبول نہیں کرتے۔سوال یہ ہوا کہ لڑکے کی طرف سے دھوکہ دینے کے بعد اولیا کے اعتراض کی صورت میں اس نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور اگر نکاح فسخ کیا جائے تو اس کی عملی صورت کیا ہوگی؟
اس سوال کے جواب میں مفتی محمد عبد الرحمن برسانی صاحب نے لکھا کہ:
’’صورت مذکورہ میں ہندہ کو اور اولیا کو اختیار فسخ کا ہے۔ اس زمانہ میں اگرچہ قاضی نہیں ہے، جب بھی شہر کے مفتی سے حکم لے کر فسخ کر سکتا ہے کہ قائم مقام قاضی کا مفتی ہے۔‘‘
جبکہ مولانا احمد رضا خانؒ نے اس کا جواب یہ دیا کہ:
’’یہاں جبکہ وہ کفو نہیں اور ولی کو دھوکہ دیا گیا، دونوں امر سے کچھ متحقق نہیں ہوا۔ نکاح باطل محض رہا۔بعد ظہور حال زید کی قسم اور تحریر سب مہمل ہے۔‘‘
مگر یہ استفتاء اور اس کے جوابات حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کی خدمت میں پیش کیے گئے تو انھوں نے یہ جواب تحریر فرمایا کہ:
’’صورت مندرجہ میں اولیا کو حق فسخ نکاح کا ہے اور وہ کسی حاکم یا قاضی مسلمان سے رجوع کریں کہ وہ فسخ کرے۔ مفتی کو حنفیہ کے نزدیک بغیر تحکیم طرفین اختیار فسخ نہیں ہے۔‘‘
اس پر حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ اور حضرت مولانا محمد منفعت علیؒ کے بھی دستخط ہیں۔ یہ سب فتاویٰ جب دار العلوم دیوبند کے اس وقت کے صدر مفتی حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن دیوبندیؒ کے سامنے رکھے گئے تو انھوں نے اس پر تحریر فرمایا کہ: ’’جواب مجیب اول صحیح ہے۔ اولیا کو اختیار فسخ نکاح ہے۔‘‘
یہ علمی دیانت کی بات ہے کہ حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن دیوبندیؒ کو خود اپنے مشائخ اور اساتذہ کی راے پر اطمینان نہیں ہوا تو انھوں نے دوسرے فریق کے موقف کی حمایت کر دی اورمزید دیانت کی بات یہ ہے کہ جب فتاویٰ رشیدیہ مرتب کیا گیا تو اس میں یہ سارے جوابات من وعن شامل کر دیے گئے اور اب بھی یہ سوال وجواب ’’فتاویٰ رشیدیہ‘‘ کا حصہ ہیں۔
میں نے جب یہ فتویٰ پڑھا تو میرے ذہن میں حضرت امام بخاریؒ کے ایک واقعہ کی یاد تازہ ہو گئی جو کسی زمانے میں حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی قدس اللہ سرہ العزیز کی کتاب ’’قواعد علوم الحدیث‘‘ کے حاشیہ میں حضرت الاستاذ عبد الفتاح ابو غدہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے قلم سے نظر سے گزرا تھا۔ اس کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے معتزلہ کے مقابلے میں اہل سنت کی ترجمانی کرتے ہوئے ’’القرآن کلام اللہ غیر مخلوق‘‘ کے عقیدہ پر سختیاں برداشت کی تھیں اور قید اور کوڑوں کی سزائیں جھیلی تھیں، مگر ان کے بعد بعض حنابلہ نے اس عقیدہ کی تعبیر وتشریح میں غلو اختیار کرتے ہوئے یہ کہنا شروع کر دیا کہ قرآن کریم کے جو الفاظ ہماری زبانوں پر تلاوت میں آتے ہیں، یہ بھی مخلوق نہیں ہیں تو حضرت امام بخاریؒ نے اس سے اختلاف کیا اور فرمایا کہ ’’لفظی بالقرآن مخلوق‘‘۔ اس پر حضرت امام بخاریؒ کے استاذ محترم امام محمد بن یحییٰ نیساپوریؒ نے امام بخاریؒ کے گمراہ ہونے کا فتویٰ دے دیا اور فرمایا کہ:
’’من زعم لفظی بالقرآن مخلوق فہو مبتدع ولا یجالس ولا یکلم ومن ذہب بعد ہذا الی محمد بن اسماعیل البخاری فاتہموہ فانہ لایحضر مجلسہ الا من کان علی مذہبہ‘‘
’’جو شخص یہ کہتا ہے کہ ’’لفظی بالقرآن مخلوق‘‘ وہ بدعتی ہے۔ اس کی مجلس میں نہ بیٹھا جائے اور اس سے کلام نہ کیا جائے اور جو شخص اس کے بعد محمد بن اسماعیل بخاریؒ کی مجلس میں جائے، اسے متہم سمجھا جائے، کیونکہ اس کی مجلس میں وہی جاتا ہے جواس کے مذہب پر ہوتا ہے۔‘‘
حضرت امام بخاریؒ نے بھی اپنے استاذ حضرت امام محمد بن یحییٰ ذہلیؒ کے شہر میں اپنا حلقہ درس قائم کیا تھا، مگر جب امام ذہلیؒ نے یہ فتویٰ صادر کر دیا: ’’لا یساکننی محمد بن اسماعیل فی البلد‘‘ کہ محمد بن اسماعیل اس شہر میں میرے ساتھ نہ رہے تو امام بخاریؒ کو نیشاپور چھوڑنا پڑا اور وہ اپنے وطن بخارا چلے گئے جہاں کے گورنر خالد کے ساتھ ان کا اختلاف ہو گیا اور وہ وہاں سے بھی نکل گئے او رمسافرت کی حالت میں ’’خرتنگ‘‘ کے مقام پر یہ دعا کرنے کے بعد وفات پا گئے کہ ’’اللہم ضاقت علی الارض بما رحبت فاقبضنی الیک‘‘، یا اللہ، یہ زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود مجھ پر تنگ پڑ گئی ہے، اس لیے اب مجھے اپنے پاس بلا لے۔‘‘ مجھے علماء کرام کے ایک وفد کے ساتھ خرتنگ جانے اور امام بخاریؒ کی قبر پر فاتحہ خوانی کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ فالحمد للہ علی ذالک۔
اس واقعہ کے حوالے سے عام طور پر میں دو باتیں عرض کیا کرتا ہوں۔ ایک یہ کہ اہل سنت کے ہاں عقائد میں بھی تعبیرات وتشریحات کے تنوع اور توسع کی یہ کیفیت ہے کہ امام ذہلی اور ان کے متبعین الفاظ قرآن کے مخلوق ہونے کو ’’القرآن کلام اللہ غیر مخلوق‘‘ کے عقیدے کے خلاف اور بدعت قرار دے ہیں، جبکہ امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ کو ’’لفظی بالقرآن مخلوق‘‘ کہنے پر نیشاپور سے جلاوطن ہونا پڑا ہے، مگر اس کے باوجود دونوں طبقوں اور ان کے نمائندہ بزرگوں کو اہل سنت کے مسلمہ اماموں کا درجہ حاصل ہے اور امت دونوں کے ساتھ نسبت پر فخر کرتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ الاستاذ ابو غدہؒ نے اس کے ساتھ یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ امام بخاری نے اپنے استاذ محترم امام ذہلیؒ کے اس سخت رویے اور ان کی طرف سے گمراہی کے فتوے اور جلا وطنی کے حکم کے باوجود ان سے روایت ترک نہیں کی اور بخاری شریف میں ان سے تیس کے لگ بھگ روایات درج کی ہیں۔ یہ علمی دیانت ہے جو ہمارے پرانے اسلاف کی روایات کا حصہ ہے اور اکابر علماء دیوبند نے اس کا تسلسل قائم رکھا ہے۔
اس سلسلے میں دوسرا واقعہ یہ ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ میں نے مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحد قدس اللہ سرہ العزیز کے معاون اور نائب کے طور پر ذمہ داریاں ۱۹۷۰ء میں سنبھالی تھیں، لیکن اس سے قبل بھی ان کی غیر موجودگی میں جامع مسجد میں جمعہ پڑھانے کا متعدد بار اعزاز حاصل ہو چکا تھا۔ یہاں میں نے اپنے عمومی ماحول سے ایک مختلف بات یہ دیکھی کہ جمعہ کی اذان ثانی مسجد کے اندر خطب کے سامنے لاؤڈ اسپیکر پر نہیں دی جاتی، بلکہ مسجد کی حدود سے باہر امام کے سامنے حوض پر کھڑے ہو کر بغیر لاؤڈ اسپیکر کے دی جاتی ہے، جبکہ گکھڑ میں حضرت والد محترمؒ اور مدرسہ نصرۃ العلوم میں حضرت صوفی صاحبؒ کا معمول یہ تھا کہ موذن جمعہ کی اذان ثانی لاؤڈ اسپیکر پر امام صاحب کے سامنے کھڑے ہو کر دیتا تھا۔
مجھے اس پر الجھن ہوئی تو میں نے حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ سے دریافت کیا۔ انھوں نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک جمعہ کی اذان ثانی مسجد کی حدود سے باہر دینا بہتر ہے اور ہم اسی پر عمل کرتے ہیں۔ مسجد کے صحن کے آخر میں جو حوض ہے، وہ مسجد کا حصہ نہیں ہے، اس لیے ہم اعتکاف کرنے والوں کو وہاں تک جانے سے منع کرتے ہیں اور ہمارا موذن جمعہ کی اذان ثانی حوض پر امام کے سامنے کھڑے ہو کر دیتا ہے۔ میں نے اس کے بعد مزید اس مسئلہ کی کرید کی ضرورت محسوس نہیں کی، اس لیے کہ اس قسم کے جزوی اور فروعی مسائل میں میرا ذوق او رمعمول یہ ہے کہ جہاں کسی ذمہ دار بزرگ کے فتویٰ پر عمل ہو رہا ہو، میں وہاں اسی پر عمل کرتا ہوں اور اسے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔
حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ہمارے اکابرمیں سے تھے، والد محترم حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدرؒ کے استاذ تھے اور میں نے کئی بار حضرت والد محترمؒ کو بعض مسائل میں ان سے رجوع کرتے دیکھ رکھا تھا، اس لیے میں بھی کم وبیش بیالیس سال سے ان کے فتویٰ پر عمل کرتا آ رہا ہوں اور اب بھی اس پر کسی نظر ثانی کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، لیکن اس کا پس منظر کافی عرصہ کے بعد اس وقت میر ے علم میں آیا جب حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ العالی کی کتاب ’’مطالعہ بریلویت‘‘ سامنے آئی جس میں انھوں نے اس مسئلے کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ یہ فتویٰ دراصل مولانا احمد رضا خان کا تھاکہ جمعہ کی اذان ثانی مسجد کے اندر نہیں بلکہ مسجد کی حدود سے باہر ہونی چاہیے۔ اس مسئلہ پر مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کا اپنے بہت سے معاصر علماء کرام سے تحریری مباحثہ بھی ہوتا رہا اور ان کے معاصر علماء کرام نے، جن میں دیوبندی اور بریلوی دونوں شامل ہیں، ان کے اس فتویٰ سے اتفاق نہیں کیا تھا، مگر ہمارے ہاں مرکزی جامع گوجرانوالہ میں جمعہ کی اذان ثانی مسجد کی حدود سے باہر حوض پر دیے جانے کا معمول چلا آ رہا ہے۔
تیسری بات اس حوالے سے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ مزارعت یعنی بٹائی کا مسئلہ ائمہ احناف میں مختلف فیہ رہا ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ اسے جائز نہیں سمجھتے اور صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ نے اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ مفتیٰ بہ قول ہر دو ر میں صاحبین کے قول کو قرار دیا جاتا رہا ہے او ر آج بھی احناف کے ہاں اسی فتویٰ پر عمل جاری ہے، لیکن پاکستان میں جب بڑی زمین داریوں اور جاگیرداریوں کو عوامی مفادات اور ضروریات کے لیے کنٹرول کرنے کا مسئلہ چلا تو ۷۰ء میں علماء دیوبند کی سب سے بڑی جماعت جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے یہ موقف اختیار کیا کہ حضرت امام ابوحنیفہؒ کا قول اگرچہ مفتیٰ بہ نہیں ہے، لیکن امت کی اجتماعی ضرورت اور مفاد کے لیے اس مرجوح فتویٰ پر عمل کی ضرورت پڑ جائے تو ایسا بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس موقف کا تذکرہ جمعیۃ علماء اسلام کے ۱۹۷۰ء کے انتخابی منشور میں موجود ہے اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے مختلف مواقع پر اس کی وضاحت فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت مفتی صاحب کے سوانح نگار مولانا ڈاکٹر عبد الحکیم اکبری کی تصنیف ’’مولانا مفتی محمود کی علمی، دینی وسیاسی خدمات‘‘ (صفحہ ۵۰۰) سے اس سلسلے میں ایک اقتباس یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔
حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ نے کراچی میں علما کی مجلس کا ذکر کرتے ہوئے اس میں بیان کردہ حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے موقف کا یوں تذکرہ فرمایا ہے:
’’مزارعت کا مسئلہ زیر بحث آیا تو حضرت مفتی صاحبؒ نے بڑی فاضلانہ تقریر فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اس زمانہ میں مزارعت کی وجہ سے بڑے بڑے فتنے پیدا ہوئے ہیں۔ ہاریوں کو زمیندار غلام سمجھتے ہیں اور چونکہ مسئلہ اختلافی ہے، ائمہ کبار میں سے حضرت امام ابوحنیفہؒ اس کے خلاف ہیں، اس لیے ان کے قول پر فتویٰ دیتے ہوئے اگر مزارعت کی ممانعت کر دی جائے اور مالکان زمین سے کہا جائے کہ وہ ملازم رکھ کر کاشت کرائیں یا خود کاشت کریں تو کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘
یہ سب باتیں عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اکابر علماء دیوبند کا طرز عمل جزئیات وفروعات پر اڑے رہنے اورچند مخصوص فتاویٰ پر جمود اختیار کرنے کا نہیں رہا، بلکہ حالات وزمانہ کے تقاضوں اور امت کی معروضی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے پوری علمی دیانت،اعتدال اور فقہی توسع کے ساتھ امت کے لیے سہولتیں پیدا کرنے اور اصول کے دائرے میں رہتے ہوئے حالات کی ضروریات کو ایڈجسٹ کرنے کا رہا ہے اور آج بھی اکابر علماء دیوبند کی یہی روایت ہم سب کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
مشترکہ دینی تحریکات اور حضرت امام اہل سنتؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
تحریک ختم نبوت، تحریک تحفظ ناموس رسالت اور تحریک نفاذ شریعت کے لیے مشترکہ دینی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت پر ہمارے بعض دوستوں کو اعتراض ہے۔ یہ اعتراض ان کا حق ہے اور اس کے لیے کسی بھی سطح پر کام کرنا بھی ان کا حق ہے۔ اسی طرح اعتراض کو قبول نہ کرنا ہمارا بھی حق ہے جس کے بارے میں ہم نے مختلف مواقع پر اپنے موقف کا تفصیل کے ساتھ اظہار کیا ہے اور ضرورت کے مطابق آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
اس سلسلے میں ہمارے والد گرامی امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کا نام کثرت سے استعمال کیا جا رہا ہے جو محل نظر ہے اور اس حوالے سے حضرت امام اہل سنتؒ کی زندگی کے چند اہم مراحل کی طرف توجہ دلانا مناسب معلوم ہوتا ہے:
- قیام پاکستان سے قبل حضرت امام اہل سنتؒ مجلس احرار اسلام کے باقاعدہ کارکن رہے ہیں اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اس دور میں آل انڈیا مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری جنرل معروف شیعہ عالم دین مولانا مظہر علی اظہر تھے۔
- قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں حضرت امام اہل سنتؒ شریک رہے ہیں اور متعدد جلوسوں کی قیادت کی ہے بلکہ ازخود گرفتاری دے کر کم وبیش نو ماہ جیل میں رہے ہیں۔ اس تحریک کی قیادت میں اہل تشیع شریک تھے۔
- ۱۹۵۱ء میں علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی صدارت میں تمام مکاتب فکر کے اکابر ۳۱؍ علماء کرام کے طے کردہ ۲۲ متفقہ دستوری نکات کی حضرت امام اہل سنت نے ہمیشہ حمایت کی ہے اور وہ ملک میں ان کے نفاذ کا مسلسل مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ان ۲۲ نکات کی ترتیب وتدوین میں بھی اکابر شیعہ علما شریک تھے۔
- ۱۹۷۷ء میں نظام مصطفی کے نفاذ کی تحریک میں حضرت امام اہل سنت نے بھرپور کردار ادا کردار ادا کیا ہے، عوامی جلوسوں کی قیادت کرتے رہے ہیں اور ایک جلوس کی قیادت کر کے ازخود گرفتاری پیش کی ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنے فرزند مولانا عبد الحق خان بشیرکے ہمراہ ایک ماہ تک ڈسٹرکٹ جیل گوجرانوالہ میں قیدرہے ہیں۔ اس تحریک کی قیادت میں بھی اہل تشیع شریک تھے۔
- ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں امام اہل سنتؒ نے حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں بھرپور کردار ادا کیا ہے اور اس تحریک کی مرکزی مجلس عمل میں اہل تشیع شریک تھے۔
- مشترکہ دینی وسیاسی تحریکات میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی شمولیت کے مسئلہ پر اختلاف کے باعث حضرت مولانا قاضی مظہر حسین رحمہ اللہ تعالیٰ، حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ اور ان کے رفقا نے جمعیۃ سے الگ ہو کر جب تحریک خدام اہل سنت قائم کی تو حضرت امام اہل سنت نے اپنے ان بزرگ دوستوں کے تمام تر احترام اور ان کی دینی خدمات کے بھرپور اعتراف کے باوجود ان کا ساتھ نہیں دیا اور اس کے بعد بھی جمعیۃ علماء اسلام کے پلیٹ فارم پر مشترکہ دینی تحریکات میں انھوں نے ہمیشہ حصہ لیا ہے۔
- حضرت امام اہل سنتؒ کی علالت کے دور میں جب متحدہ مجلس عمل تشکیل پائی تو انھوں نے عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی کھل کر حمایت کی اور اپنے ساتھیوں کو اس میں کام کرنے کی ہدایت کی، جبکہ متحدہ مجلس عمل کی قیادت میں اہل تشیع موجود تھے اور اپنے حلقہ سے حضرت امام اہل سنتؒ نے قومی اسمبلی کے لیے متحدہ مجلس عمل کے جس امیدوار جناب قدرت اللہ بٹ کی حمایت کی، ان کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے بلکہ وہ اس وقت جماعت اسلامی ضلع گوجرانوالہ کے امیر تھے۔
متحدہ مجلس عمل کے قیام کی تائید اور حمایت اس حوالے سے بطور خاص قابل توجہ ہے کہ بعض حضرات یہ استدلال پیش کر رہے ہیں کہ حضرت امام اہل سنت نے ’’ارشاد الشیعہ‘‘ تصنیف کر کے دینی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت کے حوالے سے اپنے سابقہ موقف سے رجوع کر لیا تھا، حالانکہ ارشاد الشیعہ کا سن تصنیف ۱۹۸۷ء ہے جبکہ متحدہ مجلس عمل کا قیام ان کی عمر کے آخری دور میں جنرل پرویزمشرف کے زمانے میں ہوا تھا۔
مذکورہ تفصیلات کی روشنی میں اپنے ان دوستوں سے میری گزارش ہے کہ وہ دینی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت پر اپنے اعتراض کا حق ضرور استعمال کریں اور اس کے لیے جائز حدود میں مہم بھی چلائیں،لیکن مشترکہ دینی تحریکات کی حد تک اس سلسلے میں امام اہل سنتؒ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا نام استعمال نہ کریں، اس لیے کہ امام اہل سنتؒ خود زندگی بھر ایسی تحریکات کا حصہ رہے ہیں۔
قومی سلامتی۔ نئے حقائق، نئے تقاضے
سلیم صافی
عید الفطر کے موقع پر طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر مجاہد اور حزب اسلامی کے امیر گلبدین حکمت یار کے جاری کردہ تفصیلی پیغامات نظروں کے سامنے ہیں۔ اس طرح کے مواقع پر ان کے یہ پیغامات دراصل پالیسی بیانات ہوتے ہیں جن میں افغان قضیے کے تمام پہلووں کا احاطہ ہو چکا ہوتا ہے۔ اب کی بار دونوں کے پیغامات کا لب ولہجہ ماضی کے لب ولہجے سے بہت مختلف اور بنیادی سوچ بڑی حد تک یکساں ہے۔ دونوں کے پیغامات میں کسی بھی شکل میں افغانستان کے اندر غیر ملکی افواج یا پھر ان کے اڈوں کی موجودگی کو ناقابل برداشت قرار دیا گیا ہے۔ جہاں غیر ملکیوں کے بارے میں لہجہ بے لچک اور سخت ہے، وہاں کرزئی حکومت پر ماضی کے برعکس کوئی تبرا نہیں بھیجا گیا ہے۔
ملا محمد عمر نے اپنے پیغام میں پہلی بار نیا پیغام دیا ہے کہ غیر ملکیوں کے نکلنے کے بعد سوویت یونین کے انخلا کے بعد کی غلطیوں کو نہیں دہرایا جائے گا۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان تمام افغانوں کا ملک ہے اور نئے نظام میں تمام طبقات کو سمونے کی کوشش کی جائے گی۔ افغانستان کے قدرتی وسائل او رمعدنی وسائل کے تذکرے کے بعد انھوں نے ان سے استفادہ کرنے اور غربت وبدحالی کو نشانہ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے جبکہ دنیا اور پڑوسی ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کی بات کی گئی ہے۔ انھوں نے اپنے پیروکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ نظم وضبط کا مظاہرہ اور غیر متحارب انسانوں کو دکھ پہنچانے سے گریز کریں۔ گلبدین حکمت یار تو دو قدم آگے بڑھ کر مجاہدین پر زور دیتے ہیں کہ وہ سرکاری حکام، اساتذہ، ججوں، علما، انجینئروں، ڈاکٹروں، صحافیوں اور غیر متحارب لوگوں کو مارنے سے گریز کریں اور یہ تک کہہ گئے کہ مساجد، مدارس، اسکولوں، ہسپتالوں، دفتروں اور پبلک مقامات پر دھماکے کرنے والے دشمن کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
مذکورہ دونوں افغان رہنماؤں نے پڑوسی ممالک اور بالخصوص پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں کی ہے، لیکن ان پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کی خاطر افغانوں کے خلاف سازش کا حصہ نہ بنیں۔ ان پیغامات میں چھپا پیغام، جہاں تک میں سمجھا ہوں، یہ ہے کہ طالبان اور حکمت یار کی طرف سے کابل اور اسلام آباد کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ امریکی اثر سے آزاد ہو کر غیر ملکی افواج کے انخلا میں تعاون کریں تو وہ ماضی کی طرح صرف ایک طبقے کی حکومت قائم کرنے پر اصرار نہیں کریں گے۔ حکمت یار تو خیر پہلے سے ہی انتخابات اور وسیع البنیاد حکومت کا ذکر کیا کرتے تھے، لیکن اب طالبان کی طرف سے بھی یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے رویے کو نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی برادری اور خطے کے ممالک کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔
ملا محمد عمر نے اس پیغام میں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا بھی اعتراف کیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کی ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے ہونے والے مذاکرات کو امریکیوں نے قضیے کے حل کے لیے باقاعدہ مذاکرات کی شکل میں پیش کیا۔ انھوں نے مزید وضاحت کی ہے کہ صرف قیدیوں کے تبادلے کے جزوی مسئلے پر ہونے والے مذاکرات کسی صورت قضیے کے حل کا ذریعہ نہیں بن سکتے۔ میری ذاتی معلومات کے مطابق طالبان رہنما طیب آغا گزشتہ ماہ تک امریکی رابطے میں تھے، لیکن اب طالبان نے یہ سلسلہ مکمل طو رپر ختم کر دیا ہے اور طیب آغا چند روز قبل ایک خلیجی ملک سے پراسرار طور پر غائب ہو گئے، حالانکہ امریکی ان کا انتظار کرتے رہ گئے۔
گویا طالبان اب امریکہ کے ساتھ براہ راست معاملہ کرنے کی بجائے افغان اور پاکستان حکومتوں کے ساتھ مکالمے کا عندیہ دے رہے ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ اس کے لیے اپنے آپ کو بااختیار ثابت کرنا اور فضا سازگار بنانا ان حکومتوں کا کام ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ کابل اور اسلام آباد مزید قریب آئیں، وہ امریکہ اور طالبان سے متعلق ایک ہی راستہ اپنا لیں اور خطے سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور طالبان یا پھر حزب اسلامی کے ساتھ مفاہمت کے لیے ایک مشترکہ اور قابل عمل فارمولا سامنے لائیں۔ یقیناًیہ یکسر ایک نئی صورت حال ہے اور پاکستانی پالیسی سازوں کو اس کے تناظر میں اپنی پالیسی ازسرنو مرتب کرنی چاہیے۔
(بشکریہ روزنامہ جنگ، ۶ ستمبر ۲۰۱۱ء)
ہم ۔ دنیا بھر کے تنازعات کے امپورٹر!
مولانا مفتی محمد زاہد
عالمِ عرب میں اس وقت جو عوامی تحریکیں چل رہی ہیں، وہ جہاں پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہیں، وہیں پاکستان سمیت عالم اسلام کی ان سے دلچسپی ایک فطری امر ہے۔ تاہم ان تحریکوں نے خلیجی ریاستوں میں پہنچ کر کسی قدر فرقہ وارانہ رنگ بھی اختیار کرلیاہے یا یہ رنگ انہیں دے دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر اس مسئلے کے حوالے سے کسی قدر کشیدگی کا عنصر بھی آرہا ہے۔ پہلے تو بحرین اور سعودی عرب کے بعض واقعات یا مسائل کی وجہ سے ایک فریق نے سعودی عرب کے فرماں روا خاندان کے خلاف نفرت آمیز بینرز لگانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کے جواب میں دوسرے فریق نے نہ صرف یہ کہ سعودی حکومت اور نظام کی حمایت میں بلکہ ایک مخصوص فرقے اور پاکستان کے ایک ہمسایہ ملک کے خلاف ایک مہم شروع کردی۔ مئی کے مہینے میں پاکستان میں جو سنگین واقعات رونما ہوئے، ان کے نتیجے وقتی طور پر تو یہ مسئلہ دب گیا ہے، لیکن اخبارات کے اندرونی صفحات کی بعض چھوٹی چھوٹی سرخیوں سے، جنہیں بعض اوقات نظر انداز کرنا آسان یا مناسب نہیں ہوتا، یہ خدشہ پیدا ہورہاہے کہ کہیں یہ سلسلہ دوبارہ نہ چل نکلے۔ مجھے خود اس مسئلے کے بارے میں کسی موقف کی حمایت یا مخالفت میں تو کچھ عرض نہیں کرنا، البتہ مسئلے کی نوعیت اپنے ملک کے عمومی رویے، جس کا تعلق فریقین کے ساتھ ہے، کے بارے میں کچھ عرض کرنا ہے ۔
اس مسئلے کے اہم فریق ایران اور سعودی عرب سمیت خلیج کی بعض دولت مند سنی ریاستیں ہیں۔ دونوں فریقوں کے حوالے سے مسئلے کے کچھ تو بین الاقوامی پہلوہیں اور کچھ کا تعلق ان ملکوں کے اندرونی حالات سے ہے۔ ایران جس خطے میں واقع ہے، وہاں دنیا کی ایک عظیم سلطنت یعنی کسریٰ کی سلطنت یا ساسانی سلطنت قائم رہی ہے۔ اس سلطنت کا اردگرد کے علاقوں پر اثر ورسوخ بھی رہاہے۔ خصوصاً خلیج کی متعدد ریاستوں کے علاقے تاریخی طور پر اس سلطنت کے زیرِ اثر رہے ہیں۔ ایران کی قومی نفسیات میں یہ بات اب بھی جاگزیں ہے، اس کے اثرات ظاہر ہے کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ اتفاق ہے کہ موجودہ ایران کی آبادی کا بڑا حصہ اہل تشیع سے تعلق رکھتاہے اور شیعیت ہی ایران کا سرکاری مذہب یا فرقہ ہے۔ لیکن ایرانی نفسیات کے مذکورہ پہلو کو فرقہ وارانہ کی بجائے اس کے قومی یا نسلی تناظر میں دیکھنا شاید زیادہ مناسب ہو۔ چنانچہ ایران ایک سیکولر سٹیٹ بھی بن جاتاہے، تب بھی بظاہر یہ بات اس کی سائیکی کا کسی نہ کسی طرح حصہ رہے گی کہ وہ اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے ساسانی سلطنت جیسی عظیم سلطنت قائم کی تھی جو خلیج کے بیشتر حصوں پر اپنا اثر ورسوخ رکھتی تھی۔ یہی پہلو ایران کے حوالے سے عرب ریاستوں میں خطرے کا احساس پیدا کرتاہے۔ خاص طور پر جبکہ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی ملالی جائے کہ عرب خلیجی ریاستوں کے مقابلے میں معاشی اعتبار سے کمزور ہونے کے باوجود فوجی طاقت اور سائنس وٹیکنالوجی میں ایران ان ریاستوں سے کہیں فائق ہے۔ فوجی اور سائنسی طور پر مضبوط ایران کا ایک قومی احساسِ تفاخر اور عربوں کا اسے اپنے لیے خطرہ محسوس کرنا موجودہ مسائل کی ایک وجہ ہے۔
اگر اس مسئلے کے داخلی پہلو کو دیکھیں تو ایران اگرچہ ایک جمہوریہ کہلاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی انقلاب کے بعدسے وہ ایک مذہبی ریاست ہے ،بلکہ شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ ایک طرح سے تھیوکریسی کی حامل ریاست بھی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران میں بڑی تعداد میں وہ طبقہ بھی موجود ہے جو موجودہ سیٹ اپ یا نظام سے خوش نہیں ہے اور وہ ایران میں زیادہ شخصی آزادیوں کااور ایک خاص فرقے ہی کے مذہبی طبقات کے ریاستی امور میں گہرے اثر ورسوخ میں کمی کا خواہاں ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اصلاح پسند کہلاتے ہیں اور بظاہر وہاں کی غیر شیعہ آبادی کی ہمدردیاں بھی اصلاح پسندوں ہی کو حاصل ہوں گی۔ اصلاح پسندوں کی طاقت کا اندازہ صدر احمدی نژاد کے دوسرے انتہائی متنازعہ انتخابات سے لگایا جاسکتاہے۔ وہی ایران جو بعض دیگر ملکوں میں جمہوریت اور شخصی حقوق کی بات کرتاہے، خود اس میں حکومت کے خلاف بات کرنے والوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے، اس کی تفصیل یہاں ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایران میں خود ایک منتخب صدر مذہبی اشرافیہ کے سامنے کتنا بے بس ہے، اس کا اندازہ گذشتہ ہفتوں کے واقعات سے بخوبی لگایا جاسکتاہے اور اس سے پتا چلتاہے کہ وہاں کتنی جمہوریت ہے اور کتنی تھیوکریسی۔ ظاہر ہے اس ساری صورتِ حال پر وہاں کے عوام نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگلے انتخابات میں وہ اپنا کوئی بھی فیصلہ دے سکتے ہیں۔ جو عوام رضا شاہی بادشاہت ختم کرسکتے ہیں، وہ کسی وقت آیت اللہی بادشاہت بھی ختم کرسکتے ہیں۔ حاصل یہ کہ ایران کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کے لیے اندورنی حقیقی عوامی خطرہ موجودہے، ایسے میں خطے میں فرقہ وارانہ تناؤ کی فضا اس اسٹیبلشمنٹ کے لیے بہت ساز گار ہے۔ اس سے وہ اپنے ملک کے اکثریتی فرقے کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجاتی ہے کہ ان کے ہم مذہب لوگوں کو شدید خطرات لاحق ہیں اور موجودہ سیٹ اپ ان خطرات میں اس فرقے کی بھر پور مدد کررہاہے۔ اس طرح سے اصل اندرونی مسئلے سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانے میں اسٹیبلشمنٹ کو سہولت ہوجاتی ہے۔
اندرونی حالات کے اعتبار سے تقریباً یہی معاملہ عرب ملکوں کاہے۔طویل عرصے سے ان ملکوں میں شخصی حکومتوں کی موجودگی کی وجہ سے وہاں شخصی آزادیوں کی صورتِ حال ناقابلِ رشک ہے۔ ایک عرصے تک تو دولت کی فراوانی اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر کام چلتا رہا، لیکن جدید ترین ذرائعِ ابلاغ و مواصلات اور نئی نسل کے باہر کی دنیا سے رابطے اور تأثر کے نتیجے میں بالخصوص بغیر تیل کے عرب ملکوں کی حالیہ عوامی تحریکات نے تیل والے عرب ملکوں کے نوجوانوں کے ذہن میں بھی ایک نئی بیداری پیداکی ہے جسے زیادہ عرصے تک شاید نظر انداز نہ کیا جاسکے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب میں عورت کے ڈرائیونگ کرنے پر پابندی ہے۔ پچھلے دنوں ایک خاتون نے جو یقیناسعودی عرب سے باہر کسی ملک میں رہی ہوگی اور وہیں سے ڈرائیونگ سیکھی ہوگی، خود کار ڈرائیو کرکے اس کی ویڈیوکو یوٹیوب پر اپ لوڈ کردیا جس پر اس کے خلاف باقاعدہ مقدمہ قائم ہوا۔ مقدمے میں ذکر کردہ جرائم میں ملک کو بدنام کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔ اس کے بعد یہ خبر آئی ہے کہ کچھ خواتین نے ایک اور وقت متعین کرکے یہی کام کیاہے۔ اب ان کے خلاف کیا ہوگا ، یہ معلوم نہیں، لیکن ظاہر ہے کہ سعودی نظام کب تک نئی نسل کو یہ باور کرائے گا کہ عورت کا ڈرائیونگ کرنا خلافِ اسلام ہے؟ سعودی عرب نے جو فہم دین دوسروں ملکوں کو سپلائی کیا ہے، اس کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ کسی کے اجتہاد یا استنباط کو ماننے کی بجائے خود قرآن وحدیث سے حکمِ شرعی جاننا چاہیے۔ اب ظاہر ہے کہ نوجوان نسل یہ پوچھے گی کہ عورت گاڑی نہیں چلاسکتی، یہ کون سی آیت یا حدیث میں آتاہے؟ یہ تو محض ایک مثال ہے، وگرنہ شخصی آزادیوں پر قدغنوں اور دینی امور پر ایک خاص طبقے کی اجارہ داری پر بہت کچھ کہا جاسکتاہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ عرب ممالک میں شخصی آزادیوں کے حوالے سے موجودہ نظام سے اکتاہٹ پیدا ہونا یہ حقیقی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کا ایک آسان راستہ وہاں کی اسٹیبلشمنٹ کے پاس یہ ہے کہ کسی بیرونی خطرے کا ہوا کھڑا رہے۔ اس کے لیے موجودہ شیعہ سنی یا عرب ایران تناؤ کافی کار آمد ہوسکتاہے۔ چنانچہ چند ہفتے پہلے راقم الحروف نے حرمین شریفین کی حاضری کے موقع پر اس کے اثرات محسوس کیے۔ پہلی حاضریوں کے موقع پر عموماً وہاں پر موجود پاکستانیوں کی زبان پر مواطن (سعودی شہری) اور اجنبی کے درمیان روا رکھی جانے والی تمیز ہوتی تھی اور اس حوالے سے وہ کافی شکوہ کناں نظر آتے تھے، لیکن اس دفعہ کم از کم دینی ذہن رکھنے والے پاکستانیوں کی زبان پر شیعہ خطرے کی بات تھی جس کا مطلب یہ ہوا کہ تناؤ کی اس صورتِ حال نے ان کے لیے حقوق کے مسئلے کو پس پشت ڈال دیاہے۔ ظاہر ہے کہ یہ صورتِ حال کسی بھی ملک کے حکمران سیٹ اپ کے لیے آئیڈیل ہوتی ہے۔حا صل یہ کہ موجودہ تناؤ کی کیفیت ایران اور تیل والے عرب ملکوں دونوں کی اسٹیبلشمنٹ کے لیے اندرونی مسائل کے حوالے سے سود مندہے۔
یہاں جو بات اصل میں عرض کرنا مقصود ہے، وہ یہ ہے کہ بنیادی طور پر یہ مسئلہ ان ملکوں کے اندرونی مسائل کا ساخشانہ ہے یا بعض علاقائی مسائل کا۔ ایک پاکستانی کو کسی بھی وجہ سے ان میں سے ایک فریق سے ہمدردی بھی ہوسکتی ہے، اس حوالے سے وہ اظہار رائے بھی کرسکتاہے، لیکن بہر حال بنیادی طور پر یہ پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے۔ ماضی کے تجربات کے پیش نظر جس چیز کا خطرہ ہے اور جس حوالے سے احتیاط کی ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ کہیں یہ جنگ پاکستان کی سرزمین پر منتقل نہ ہوجائے۔ ایرانی ہوں یا عرب، وہاں کے شیعہ ہوں یا سنی، انہیں اپنے معاملات میں کسی پاکستانی شیعہ یا سنی کی مدد یا اس کے جلسے جلوس کی ضرورت نہیں ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے ان کے اپنے ’طریقے‘ ہیں جنہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ویسے بھی پاکستان کی سرزمین پر پہلے ہی اتنے مسائل اور اتنے تنازعات موجود ہیں کہ ہم مزید کسی تنازعہ کو درآمد کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
ایک صاحب سے، جو اس سارے معاملے کو شیعہ سنی تناظر ہی میں دیکھ رہے تھے، میں نے کہا کہ اگر واقعی یہ سنی شیعہ مسئلہ ہے تو سعودی عرب جیسے ملکوں کو چاہیے کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈیا جیسے ملکوں سے آئے ہوئے مسلمانوں کو، خاص طورپر جو بیسیوں سالوں سے وہاں مقیم ہیں، جلد از جلد اپنے ہاں کی شہریت دے دیں کیونکہ ان کی بڑی اکثریت سنی ہے، اس لیے اس سے وہاں سنیوں کو تقویت حاصل ہوگی۔ حرمین کا صدیوں سے یہ کردار رہا ہے کہ جو لوگ مشاہیر اہل علم سے ان کے اوطان میں جاکر استفادہ نہیں کرسکتے تھے، حج وعمرہ ایسے علما سے ایسے لوگوں کے استفادے کا پڑا اہم ذریعہ ہوتا تھا۔ اب موجودہ نظام میں نہ صرف یہ کہ حرمین کا صدیوں کا یہ کردار نہیں رہا بلکہ ا س کی شدت سے حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔ مخصوص سوچ کے حامل لوگوں کے علاوہ، خواہ وہ کتنا بھی بڑا عالم ہو، اس سے سرسری ملاقات، زیارت یا محض مصافحہ کرنے والوں کی کچھ تعداد ہوجائے تو وہاں کے ادارے چوکنا ہوجاتے ہیں۔ پہلے بھی یہ صورتِ حال تھی، لیکن اس دفعہ کی حاضری میں راقم الحروف نے اس حوالے سے مشاہیر اہل علم کوپہلے سے کہیں محتاط پایا کہ حتی الامکان میل ملاقات سے گریز کیا جائے۔ خواہ یہ بات ایران اور سعودی عرب دونوں کو حامیوں کو کڑوی لگے، لیکن حقیقت بہر حال یہی ہے کہ ایران اپنے انقلاب کو اسلامی انقلاب کہتا ہے، لیکن عملاً وہاں اسلام کی نہیں، ایک مخصوص فرقے کی حکومت ہے۔ اسی طرح سعودی عرب لاکھ اپنے ہاں مکمل شریعت نافذ کرنے کا دعویٰ کرے، وہاں شریعت کی نہیں، اسلام اور شریعت کے حوالے سے محض ایک سوچ کی حکمرانی ہے۔
ایک عرصے سے پاکستانی معاشرہ دنیا بھر کے تنازعات کا بہت بڑا امپور ٹر بنا ہوا ہے۔ ہمارے دو پڑوسی ملکوں میں الگ الگ وقتوں میں انقلاب آئے، ان دونوں کو خالص اسلامی اور مثالی انقلاب قرار دے کر پاکستان میں در آمد کرنے کی کوشش یا بات کی گئی۔ اسّی کی دہائی میں ایران عراق یا ایران عرب جنگ شروع ہوئی۔ یہ جنگ ایران عراق سرحد پر اتنی شدت سے نہیں لڑی گئی جتنی پاکستان کے گلی محلوں میں لڑی گئی۔ ان دو ملکوں کی سرحد پر جنگ ختم ہونے کے باوجود بھی ہمارے ہاں یہ لڑائی جاری رہی اور اس میں اتنی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا جو محتاجِ بیان نہیں۔ امریکا نے عرب دنیا میں اپنے بعض مہروں کے ذریعے ایسے حالات پیدا کیے جنہیں بہانہ بہا کر اس نے خطے میں اپنی فوجیں اتارنے کا فیصلہ کیا۔ سعودی عرب سمیت بعض عرب ملکوں نے اپنی کئی مجبوریوں کی وجہ سے امریکی فوجوں کو اڈے دیے، یہ اس خطے میں امریکا کے حسی وجود(physical existence) کی سب سے پہلی شکل تھی۔ اس پر ایک سعودی مجاہد اسامہ بن لادن ؒ نے صدائے احتجاج بلند کی اور بجا طور پر کہا کہ اگر محض صدام کے خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکی فوجوں کو اڈے دیے گئے ہیں تو اس مسئلے کے کئی متبادل حل بھی موجود ہیں۔ لیکن اس کی ایک نہ سنی گئی ، بلکہ اس کے شاہی خاندان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ اسامہ کا اصل درد جزیرۂ عرب سے امریکی فوجوں کو نکالنا تھا، لیکن یہ وہاں کے شاہی نظام کا کرشمہ تھا کہ امریکیوں کی بجائے خود اسے جزیرۂ عرب سے نکل کر اور جزیرۂ عرب سے غیر مسلم فوجوں کے نکالنے کا مشن لے کر در بدر ہونا پڑا۔ دوسری طرف مصرمیں جمال عبد الناصر اور اس کے ’خلفا‘ کے ہاتھوں الاخوان المسلمون اور دیگر اسلام پسندوں کو جس وحشیانہ سلوک کا سامنا کرنا پڑا، اس کے ردِ عمل میں ایک تکفیری سوچ وجود میں آئی۔ اس سوچ کی خود مصر میں دال نہ گلی اور خود اخوانیوں نے پر امن جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے کو ترجیح دی اور آج انہیں اپنی بروقت درست پالیسیاں اختیار کرنے پر فخر اور خوشی ہے، اس لیے کہ مصر میں آنے والی تبدیلی میں، جس کی تائید القاعدہ بھی کرتی ہے، اخوان کا بڑا حصہ ہے۔ لیکن سعودی عرب اور مصر میں پیدا ہونے والی اس سوچ اور آئیڈیالوجی کو، جسے اپنی سرزمین میں خاص جگہ نہیں ملی، ہمارے خطے نے بخوشی در آمدکرلیا اور یہ دیکھنے کی بھی زحمت گوار ا نہیں کی کہ اس آئیڈیالوجی کا ہماری اپنے برصغیر کی دینی جدو جہد کی روایت اور سوچ سے کتنا تعلق ہے۔ جزیرۂ عرب سے امریکیوں کے انخلا کا مشن درمیاں میں رہ گیا اور بات پتا نہیں کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ سعودی عرب اور مصر جہاں سے یہ سوچ اور شخصیات آئیں، آج وہ ملک اطمینان سے بیٹھے ہیں اور ہم سب کچھ بھگت رہے ہیں۔ ہم چونکہ ہر کوالٹی کے مال کے امپور ٹر ہیں، اس لیے آج جو لوگ اسامہ کو ایک ہیرو قرار دے کر ان کی شہادت پر احتجاج کررہے ہیں، وہی لوگ اسامہ کی بات نہ ماننے والے، اسے سعودی عرب کی شہریت سے محروم کرنے والے، اس کے اثاثے منجمد کرنے والے اور آخر میں اس کی لاش تک کو وصول کرنے سے انکار کرنے والے نظام کے حق میں بھی جلسے جلوس کررہے ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ بھی ہمارے ہیروزہیں جو موجودہ مسلمانوں حکومتوں کے خلاف خروج تک کو جائز کہتے ہیں اور اس نظام کے بھی حامی نظر آتے ہیں جو اپنے علما سے یہ کہلواتا ہے کہ کسی حکومت کے خلاف پر امن مظاہر ہ کرنا بھی گناہ ہے۔ دونوں باتوں میں تضاد سہی، لیکن ہیں تو دونوں امپورٹڈ اور ہم ٹھہرے امپورٹڈ مال کے سب سے بڑے قدر دان اور خریدار۔
ہمارے اربابِ علم ودانش حضرات کے لیے یہ بات سوچنے اور ہمارے نوجوانوں کے ایک طبقے کو سمجھانے کی ہے کہ کب تک ہم دنیا بھر کے تنازعات کو اپنے ہاں درآمد کرتے رہیں گے؟ کیا خود اپنے پاس بجلی ، گیس وغیرہ کی طرح تنازعات کی بھی قلت ہوگئی ہے کہ ہم نے سوچا کہ اگر ہم کہیں سے بجلی اور گیس درآمد نہیں کرپارہے تو کم از کم تنازعات درآمد کرکے اس خلا کو تو پورا کرلیں تاکہ بجلی اور گیس وغیرہ کی قلت سے تنگ آئے ہوئے لوگوں کو اپنا ابال نکالنے کا کوئی ذریعہ توملے! تفنن بر طرف، واقعی ہمارے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ بے تحاشا در آمد کی اس پالیسی نے ہمارے ملک کو کس حد تک پہنچا دیا ہے۔ کیااس ملک کی اس ناگفتہ بہ حالت کے اثراتِ بد دینی تعلیم ودعوت پر نہیں پڑیں گے؟
(بشکریہ ماہنامہ قیام، اسلام آباد)
’’حیات سدید‘‘ کے چند ناسدید پہلو (۱)
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ
(ہمارا تبصرہ کتاب ’’حیات سدید‘‘ پر ہے، زیر بحث شخصیت پر نہیں۔ کتاب میں زیر بحث شخصیت کا ہمیں پورا احترام ہے۔ البتہ سوانحی کتاب کے عنوان اور پھر اس پر تبصرہ کے لیے ہمارے عنوان سے شبہہ ہو سکتا ہے کہ ہم چوہدری نیاز علی کی حیات سے نا سدید پہلو پیش کر رہے ہیں۔ خاکم بدہن ایسا کیسے ممکن ہے۔البتہ کتاب کے مولف نے کتاب میں جو ناسدید سمت اختیار کی ہے، ہم نے اس پر گرفت کی ہلکی سی کوشش کی ہے۔ متوقع شبہہ کے ازالے کے لیے شروع ہی میں وضاحت لکھ دی ہے۔ مصنف)
ابتدائیہ
حیات سدید چوہدری نیاز علی خان کی سوانح ہے۔ یہ کتاب، حال ہی میں نشریات، ۴۰۔اردو بازار لاہور نے شائع کی ہے۔ ضخامت ۵۸۳ صفحات ہے۔ کتاب دیدہ زیب اور کافی معیاری کاغذ اور روز مرہ استعمال سے موٹے خط میں کمپوز کرائی گئی ہے۔ کتابت کی غلطیاں بھی کم ہیں۔ اس طرح یہ کتاب، مقامی مارکیٹ میں کافی غیر مقامی نظر آتی ہے۔ البتہ اگر اس میں مفصل اشاریہ شامل کر دیا جاتا تو یہ بین الاقوامی معیار کی برابری کرتی۔
کتاب کو تالیف کرنے والے کے ایم اعظم صاحب ہیں۔ یہ حضرت، جناب چوہدری نیاز علی خان مرحوم کے فرزندانِ ارجمندان میں سے ہیں۔ تالیف میں جناب نیاز علی مرحوم کی عظمت وعزیمت ، اپنے حقیقی امیج کے ساتھ سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مولف اس کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ اس پر کلام کرنا ہمارا ذمہ نہیں۔ البتہ اتنا کہنے میں کچھ حرج نہیں کہ ہمارے لیے تو اس کتاب سے چوہدری صاحب کی شخصیت کا مثبت تاثر اور بھی گہرا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اتنا عرض کر دینا لازم ہے کہ کتاب کے مصنف نے کتاب کی ترتیب اس طرح سے کی ہے کہ اس سے بحیثیت مجموعی سید مودودی کا امیج مجروح ہو۔ انہوں نے اس بات کا بھی خیال نہیں کیا کہ سید مودودی کا ان کے والد محترم انتہائی احترام کرتے تھے۔ وہ ان کو دارالاسلام (پٹھانکوٹ، بھارت)میں آنے کے لیے آمادہ کرنے کے کیے دوتین سال تک اصرار کرتے رہے۔ ان کے دل میں ان کی اس وجہ سے بھی قدر تھی کہ مولانا مودودی کے سوا کسی نے ان کے ہاں قیام کی دعوت قبول نہیں کی۔ کوئی بھی اپنی مجبوریوں سے نکلنے پر آمادہ نہ ہوا۔ فقط مولانا مودودی ہی تھے جو چوہدری نیاز علی خان کے خلوص سے مجبور ہوئے۔ انہوں نے اپنی ہر مجبوری پر قابو پایا اور کشتیاں جلا کر دارالاسلام پہنچے۔ یہ بد قسمتی ہی کہیے کہ قریباً آٹھ مہینے دارالاسلام میں قیام کے دوران صورت حال ایسی پیدا ہو گئی کہ دونوں بزرگوں نے تمام امور باقاعدہ طے اور بے باق کیے۔ معاملات میں کوئی امر طے طلب نہ چھوڑا۔ اس کے بعد مولانا لاہور سدھار گئے۔ مولانا مودودی کی آٹھ ماہ میں یہ دوسری نقل مکانی تھی۔ پہلی حیدرآباد دکن سے پٹھانکوٹ، دوسری پٹھانکوٹ سے لاہور۔
مولانا اس صورت حال میں کس ذہنی اذیت سے گذرے ہوں گے، اس کا اندازہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ مگر مولانا مودودی بہت بلند عزم شخص تھے۔ انہوں نے اس دورِ اذیت کے حوالے سے کبھی چوہدری نیاز علی خان سے اپنے اختلافات پر ایک جملہ بھی نہیں کہا۔ اس خاموشی کی وجہ مولانا کا مستحکم مزاج تھا۔ وہ وقتی حادثات سے متاثر نہیں ہوتے تھے۔ ہوں بھی تو ان کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ علاوہ ازیں چوہدری نیاز علی خان کے خلوص کا بھی تقاضا تھا کہ اس اختلاف کو لوگوں میں پھیلا کر دو نہایت مخلص بزرگ اپنے آپ کے بارے میں منفی تاثر کو عام کرنے کا سبب نہ بنیں۔ اس کے علاوہ یہ وقتی علیحدگی تھی۔ بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ اس اختلاف کے بعد بھی چوہدری نیاز علی، محض اپنے خلوص کی بنا پر مولانا کو واپس دارالاسلام لانے کے لیے پیچھا کرتے رہے اور آخر کار مولانا دوبارہ دارالاسلام آ گئے ۔ پھر مولانا قیام پاکستان تک چوہدری نیاز علی خان کے ساتھ دارالاسلام میں مقیم رہے۔ ان کے ما بین اس بار مکمل ہم آہنگی اور باہم مفاہمت قائم ہو چکی تھی۔ تقسیم ہند تک مولانا دارالاسلام میں قیام پذیر رہے۔ مولانا مودودی اور چوہدری نیاز علی خان نے، دارالاسلام سے اکٹھے ہی ہجرت کی۔ مولانا لاہور منتقل ہو گئے اور چوہدری نیاز علی خان دارالاسلام کے پاکستانی ایڈیشن کی جستجو میں مصروف ہوگئے۔ پہلی نقل مکانی جن اختلافات کے تحت ہوئی، ان کی کوئی اہمیت دوبارہ دارالاسلام میں منتقلی کے بعد باقی نہیں رہتی۔ سید مودودی اور چوہدری نیاز علی نے ان اختلافات کو اپنے سینوں میں مستور رکھا۔ مصنف کے لیے اپنے والد کے دوست اور مہمان کے طور پر مولانا مودودی کا احترام واجب تھا مگر جس باب کی پردہ داری مصنف کے والد اور سید مودودی نے پورے اہتمام سے کی، مصنف نے پوری کوشش سے ان اختلافات کو پون صدی گزرنے کے بعد سامنے لانے کی جستجو کی ہے۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ اس کی ضرورت تھی اور نہ ہی کوئی اہمیت۔ یہ سب کچھ کیسے کیا گیا، کتاب کے طائرانہ نظر ڈالنے سے اندازہ ہو جاتا ہے، ہم اس بارے میں تفصیل سے پہلے پیش لفظ کو لیں گے۔
جناب مجید نظامی کا پیش لفظ
یہ پیش لفظ جناب مجید نظامی کی طرف سے ہے۔ وہ کتاب کے صفحہ نمبر ۱۴ پر لکھتے ہیں:
’’مولانا مودودی کی علامہ اقبال سے قربت کے قصے گھڑے گئے تھے حالانکہ چوہدری نیاز علی خان کے وقفِ دارالاسلام میں علامہ اقبال نے جامعہ الازہر سے ایک عالم بھجوانے کی درخواست کی۔ درخواست کو بوجوہ پذیرائی نہ ملی تو علامہ نے چوہدری غلام احمد پرویز سے دارالاسلام کے امور سنبھالنے کو کہا، ان کو قائد اعظم نے اجازت نہ دی۔ علامہ کی سب سے پہلی ترجیح تو علامہ اسد تھے، ان کے آڑے ان کی مصروفیات آ گئیں۔ آخر میں چوہدری نیاز علی خان نے مولانا مودودی کا نام دیا تو علامہ نے اتفاق کیا۔ علامہ نے مولانا مودودی کو ملا قرار دیا تھا جو بادشاہی مسجد کی امامت کے لیے موزوں ہیں۔ تاہم مولانا کے علامہ کے بارے میں کبھی اچھے خیالات اور جذبات ہوا کرتے تھے پھر دھوپ اور سائے کی طرح بدلتے رہے۔
’’مولانا مودودی قیام پاکستان کے حق میں نہیں تھے، اس کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ بہت سے اس کتاب میں درج کر دیے گئے ہیں۔ جماعت اسلامی آج اگر مولانا کو تحریک پاکستان کا رہنما اور پاکستان بنانے والی تیسری شخصیت قرار دے تو یہ حقائق کو مسخ کرنے کی دانستہ کوشش ہے، جس سے شاید جماعتیوں کے سینے میں کچھ ٹھنڈ پڑ جاتی ہو لیکن یہ قوم کو گمراہ کرنے کی ایک لا یعنی کوشش ہے۔ ایک مرتبہ مولانا مودودی سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا ، آپ نے پاکستان کی مخالفت کی۔ اب کہتے ہیں سیاست یوں کریں (اور یوں نہ کریں)۔ آپ کو سیاسی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں پہنچتا۔ جماعت کے لیے میرا آج بھی یہی مشورہ ہے کہ وہ فلاحی اور رفاہی کام کرے، سیاست اس کے بس کا روگ نہیں۔ کتاب کے مصنف نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا ہے۔ تاہم قاری پر اپنی رائے مسلط کرنے کے بجائے، فیصلہ اس کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے۔‘‘
مجید نظامی ہمارے لیے انتہائی محترم ہیں۔ وہ صاحبِ رائے شخص ہیں۔ رائے کے اظہار میں ہمیشہ بلند آہنگ واقع ہوئے ہیں۔ بڑے سے بڑے مقتدر کے سامنے انہوں نے اس کا بر ملا اظہار کیا ہے۔ یہ ان کی ایسی خوبی ہے جو کم از کم آج کل تو بالکل نایاب ہو گئی ہے۔ انہوں نے جو کچھ فرمایا، ان کی رائے ہے۔ مگر یہ رائے اب مولانا سے نجی ملاقات میں اظہار سے آگے نکل کر ایک کتاب کے پیش لفظ کا حصہ بننے کے بعد، پبلک حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ لہٰذا اس کا سنجیدہ جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ ہم جب یہ دیکھتے ہیں کہ سیاست پاکستان میں قیام پاکستان سے اختلاف ہی نہیں بلکہ کسی معاملے میں اختلاف کو برداشت تک نہیں کیا جاتا۔ مولانا مودودی کی جانب سے قیامِ پاکستان کی مخالفت اور اس بنا پر مجید نظامی صاحب کے کہنے کے مطابق سیاست سے باز رہنے کے مشورے کے بارے میں تو ہم بعد میں عرض کریں گے، البتہ سیاستِ پاکستان میں عدم روا داری اور عدم برداشت کے رویوں کی شروعات کو سامنے لائیں گے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ ان شروعات پر مملکت کی تعمیر جس رخ پر چلی گئی ہے، اس کا اندازہ ہو سکے۔ اس سے اس مسئلے کی نزاکت کا بھی اندازہ ہوسکے گا۔
البتہ شروع ہی میں یہ عرض کر دینا لازم ہے کہ مسلم لیگ پاکستان کی منہ بولی ماں بنتی ہے۔ اپنی اس حیثیت میں وہ پاکستان کی واحد وارث چلی آ رہی ہے۔ مسلم لیگ کی یہ حیثیت، پاکستان کے خالق جماعت، کی وجہ سے عمومی طور پر تسلیم کی گئی ہے، البتہ ایک محدود نقطہ نظر اس حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ مسلم لیگ کو خلاق پاکستان یا خالقہ پاکستان ہونے کے باوجو، داپنی اہلیت ثابت کرنا پڑے گی۔ اگر یہ اپنی اہلیت، کار کردگی سے، ثابت نہ کر سکی تو اس کے دعوے کا حقیقی جواز ختم اور اس کی حیثیت غصب میں بدل جائے گی۔ یہی بات سید حسین شہید سہر وردی کا منشا تھا۔ اس کے نتیجے میں سہروردی کے ساتھ کیاہوا، ان کی خدمات کو کس طرح گہنایا گیا، یہ ذمہ دارانِ مسلم لیگ پر ایک لمبی فرد جرم ہے۔ اتنا تو سوال کیا جا سکتا ہے کہ سہر وردی صاحب ۱۹۳۶ء کے بنگال اسمبلی کے انتخابات میں دو نشستوں سے منتخب ہوئے جب کہ خواجہ ناظم الدین اپنی نشست ہا ر گئے۔ سہر وردی نے ایک نشست خالی کی اور اس نشست سے خواجہ ناظم الدین کو منتخب کرایا۔ سہر وردی متحدہ بنگال کے پارلیمانی قائد اور وزیر اعلی منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان تک وہ اس منصب پر فائز رہے۔ بنگال تقسیم ہوا اور پاکستان بنا تو انہوں نے اس منصب کا چارج ہندی بنگال کے پارلیمانی قائد کو منتقل کیا ۔ پاکستان بنا تو سہروردی نے ہندی بنگال سے پاکستانی بنگال آنا چاہا تو خواجہ ناظم الدین نے ان پر پاکستانی بنگال آنے پر پابندی لگا دی۔ ان واقعات کی تفصیلات کے لیے سید حسین شہید سہروردی کی یادداشتوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ یادداشتیں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے ۲۰۰۹ء میں چھپی ہیں۔
خواجہ ناظم الدین کی طرح لیاقت علی خان بھی مسلم لیگ میں مرد ثانی کے مرتبے پر رہے۔ ان کا رویہ بھی جناب سہروردی کے بارے میں اسی قسم کا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ ناظم الدین کی جانب سے سہروردی کو بنگال میں داخلے سے روکنا اپنے طور پر نہ ہو وزیر اعظم لیاقت علی خان کے اشارے پر ہو۔ وجہ یہ ہے کہ ناظم الدین اپنی طبیعت کے لحاظ سے اس طرح کا فیصلہ خود نہیں کر سکتے تھے۔ البتہ مولاے اعلیٰ کی بات کو ٹالنے کی ان میں ہمت نہیں تھی۔ بعد ازاں حسین شہید سہروردی کی قیام پاکستان کے لیے خدمات کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ ان پر غداری کا الزام تک لگایا گیا ۔ ایوب خان تک معاملات پہنچتے پہنچتے تو زیادہ ہی بگڑ چکے تھے۔ ایوب خان خوشامد اور سازش کی بیساکھیوں پر چل کر اقتدار کو غصب کرنے میں کامیاب ہوئے، مگر وہ خلا میں رہ رہے تھے۔ لیاقت اور ناظم الدین بہر حال ایک سیاسی پس منظر رکھتے تھے۔ ایوب خان ایسے پس منظر سے یکسر محروم تھے۔ ان کے پاس تو سہر وردی سے گلو خلاصی کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔ تفصیلات کا موقع نہیں۔ ہم یہاں جناب مجید نظامی کی ایک گفتگو کا مختصر اقتباس درج کر کے بات بڑھائیں گے:
’’مجید نظامی کہتے ہیں کہ ہماری تاریخ میں ایسی اموات پر سوالیہ نشان موجود ہیں۔ ۔ ۔ ایسی اموات کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کون کس طرح موت کے تاریک راستوں کا حصہ بن گیا۔ پاکستان کے ایک سابق وزیر اعظم سید حسین شہید سہروردی بیروت میں مارے گئے۔ پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان راولپنڈی کے جلسے میں مارے گئے اور ان کے قاتل سید اکبر کو پولیس پہرے میں مار دیا گیا۔ بانی پاکستان قائد اعظم گورنر جنرل کی حیثیت سے شدید علالت کے باعث کوئٹہ سے کراچی آ رہے تھے تو وزیر اعظم لیاقت علی خان انہیں ریسیو کرنے نہیں آئے، جو ایمبولینس ان کے لیے بھیجی گئی تھی ائیر کنڈیشنر کے بغیر تھی اور اس کا انجن راستے میں فیل ہو گیا وہ سڑک کے کنارے کھڑی رہ گئی۔ اسی طرح ضیا الحق ہوا میں مارے گئے، جس حادثہ میں امریکہ کا سفیر بھی مارا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ ضیا الحق کیس میں جنرل اسلم بیگ زندہ ہیں مگر وہ روشنی نہیں ڈالتے۔ ۔ ۔ لہذا اس قسم کی اموات پسِ پردہ اندھیروں میں چلی جاتی ہیں۔ ۔ ۔ مادر ملت کو کس نے مارا۔ یہ ابھی تک راز ہی ہے لیکن گذشتہ روزایک پیر پختہ کار پیرزادہ شریف الدین صاحب کا بیان نظر سے گزرا کہ محترمہ کو ان کے پشتو سپیکنگ ملازم نے ڈنڈوں سے مارا تھا۔‘‘ (’’جب تک زندہ ہوں، مجید نظامی کی کہانی ‘‘ مرتبہ عائشہ مسعود، شائع کردہ فیکٹ پبلیکیشنز اسلام آباد صفحہ نمبر ۶۶)
سہر وردی کو پاکستانی سیاست میں پابند کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ تحریک پاکستان میں ان کی خدمات لیاقت علی اور ناظم الدین سے بہر حال زیادہ تھیں۔ لیاقت علی کو تو قائد اعظم کا دست راست ہونے کا edge حاصل تھا۔ سہر وردی کا سیاسی کردار بظاہر بنگال تک محدود تھا مگر حقیقت میں وہ مسلم لیگ میں بر صغیر کی سطح کے قائد تھے۔ تحریک پاکستان میں ان کی خدمات تاریخ کا حصہ ہو گئی ہیں۔ اس کے باجود ان کو سیاست پاکستان سے باہر نکالنے کے لیے جو کچھ کیا گیا وہ پا کستان کی سیاست کے مزاج کی تشکیل میں بنیادی کجی کی وجہ سے ہی تھا۔ ہمیں شک پڑتا ہے کہ حیات سدید کے پیش لفظ میں مجید نظامی کی مندرجہ بالا سطور کا کچھ تعلق اس کجی سے بھی ہے۔ اگرچہ مجید نظامی کسی کے حریف نہیں۔ جب کہ لیاقت علی خان تو واضح طور پر سہر وردی مرحوم کے حریف تھے۔
اس کجی کو اختیار کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔ عوامی سطح پر اور صلاحیت کے اعتبار سے طاقت ور حریف کو نیچا دکھانے کے لیے، اس طرح کے منفی حربے اس لیے اختیار کیے جاتے ہیں کہ اپنی مرضی کی پالیسیاں اختیار کی جائیں۔ ایسی پالیسیاں جن کا پبلک کی سطح پر جواز پیش کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ آئیے دیکھیں لیاقت علی خان نے اس مملکت خدا داد کے ساتھ کیا کیا۔ ان کا سب سے بڑا ’’کارنامہ ‘‘ ایوب خان کو سپاہ پاکستان کا سربراہ مقرر کرنا تھا۔ ایوب خان نہایت حریص شخص تھا۔ قائد اعظم اس کو بے حد نا پسند کرتے تھے اور اسے فوج سے فارغ کر دینا چاہتے تھے۔ وہ مہاجرین کی پر امن اور محفوظ منتقلی میں اپنی ذمہ داریوں سے بے پرواہ رہا۔ اس کے باوجود لیاقت علی خان کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس میں ایوب خان کا خوشامدی رویہ بار آور ہو کر رہا۔ یہ تقرری میرٹ کے خلاف تھی۔ اس کے نتائج سے آج تک ملک نہیں نکل سکا۔ تاریخ پاکستان کی تمام تر سیاہی اسی ایک خلاف میرٹ فیصلے سے شروع ہوئی۔
جناب لیاقت جھرلو انتخابات کے موجد ہوئے۔ خارجہ پالیسی میں امریکی غلامی کے بیج بونے کا کریڈٹ بھی جناب لیاقت علی خان ہی کو جاتا ہے۔ کشمیر میں یکم جنوری ۱۹۴۹ء کو جنگ بندی قبول کرنے کے بعد،کشمیر محاذ پر لڑنے والے بہادر افسروں کو چن چن کر عتاب کا نشانہ بنایا گیا۔ پنڈی سازش کیس بظاہر ایک ڈرامہ معلوم ہوتا ہے۔ پھر جماعت کی سیادت اور حکومت کی سربراہی کو اپنی ذات میں جمع کرنے کی بدعت بھی جناب لیاقت علی نے ایجاد کی۔ ان کو مزید خدمات کا موقع نہ ملا اور شہید ہو گئے۔
اس مرحلہ پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مملکت پاکستان کی سیاست کی یہی ادائیں، صف اول کے زعمائے پاکستان کے شایان شان تھیں۔ یہ نازک ادائیں کیا کوئی مستحکم سیاسی ماحول تشکیل دے سکتی تھیں۔اس پس منظر میں ہم جناب مجید نظامی سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ ان کا جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کو یہ مشورہ کہ وہ سیاست سے باز رہیں، اس لیے کہ وہ قیام پاکستان کے مخالف رہے ہیں۔ اس میں معقولیت کا کون ساپہلوہے۔
مولانا مودودی اور جماعت اسلامی نے قیام پاکستان کی مخالفت کی یا نہیں کی۔ اگر کی بھی تو وہ کسطرح اور قدر۔ اس کی نوعیت کیا تھی۔ اس کی تفصیل ہم بعد کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ قیام پاکستان کی مخالفت کی بنیاد پر پاکستانی شہریوں کے سیاسی حقوق کا تعین ہو گا۔ قائد اعظم تو اس پہلو سے مسلم اور غیر مسلم تک کے امتیاز کو بھی خاطر میں نہیں لانا چاہتے تھے۔ ترقی پسند حلقے قائد کی تقریر کو اپنے مفاد میں تروڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے اسے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں پر کلہاڑے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ہمارا منشا یہ تو نہیں ہو سکتا۔ البتہ مسلمانوں اور پاکستانی شہریوں کے حقوق کے بارے میں قیام پاکستان کی حمایت یا مخالفت کی بنیاد پر فیصلہ کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ ہم دیکھیں گے قائد اس بارے میں کیا فرماتے ہیں۔
قائد کے رہنما اصول
قائد اعظم نے ۱۱۔ اگست ۱۹۴۷ء کو دستور ساز اسمبلی سے اپنے صدارتی خطبہ میں ارشاد فرمایا:
’’مجھے معلوم ہے کہ ہم میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ہندوستان کی تقسیم سے متفق نہیں ہیں اور بنگال و پنجاب کی تقسیم پر اعتراض کرتے ہیں ۔ لیکن اب جب کہ سب کچھ ہو چکا ہے اور اسے قطعیت حاصل ہونے کے بعد قبول کر لیا گیا ہے۔ ہم سب اس کے پابند ہیں۔ اب ہمارا فرض ہے کہ ہم تقسیم کے اس معاہدے پر ایمان داری اور با وقار طریقے سے عمل کریں۔ تقسیم بہر صورت ہونا تھی۔ ہندوستان اور پاکستان، دونوں طرف ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو اس سے متفق نہ ہوں۔ جو اسے پسند نہ کریں۔ مگر میرے خیال میں مسئلے کا کوئی اور حل ممکن نہیں تھا۔ مجھے یقین ہے کہ تاریخ کا فیصلہ تقسیم کے حق میں ہو گا۔ لیکن یہ تجربہ سے واضح ہو گا۔ یہ واضح ہے متحدہ ہندوستان کا کوئی تصور عملی طور پر ممکن نہیں تھا۔ میرے فہم میں اس پر اصرار کا نتیجہ مکمل تباہی ہوتا۔ میری رائے درست ہو سکتی ہے اور غلط بھی۔ اس کے لیے ہمیں تاریخ کے فیصلہ کا انتظار کرنا ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ اگر ہم اس عظیم مملکت پاکستان کو خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں عوام الناس خاص طور غریب لوگوں کی بھلائی کے لیے یکسوئی سے کام کرنا ہو گا۔ اگر ہم ماضی کو فراموش کر کے باہم تعاون کے جذبے سے کام کریں گے۔ اس بات سے کوئی واسطہ نہ رکھیں کہ کوئی آپ سے کیا تعلق رکھتا ہے۔ کسی کا کون سا رنگ ہے۔ ذات کیا ہے اور وہ کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمیں اول و آخر یہ دیکھنا ہو کہ وہ مملکت کا شہری ہے۔ وہ برابر کے حقوق اور مراعات کا حق دار ہے۔ ایسی صورت میں ہماری ترقی اپنے عروج پر ہی نہیں بلکہ اس کی ایک انتہا کے بعد دوسری انتہا سامنے ہو گی۔ ۔ آپ مکمل طور پر آزاد ہیں۔ اپنے مندروں، مسجدوں اور دیگر عبادت خانوں میں جانے کے لیے پوری طرح آزاد ہیں۔ کسی پر کوئی روک ٹوک نہیں ہو گی۔ ۔ ۔ اب میرا خیال یہ ہے کہ ہمیں اس مثالی صورت حال کو سامنے رکھنا چاہیے۔ وقت کے ساتھ کوئی شخص بھی مذہبی بنیاد پر تعصب نہیں برتے گا۔ کوئی متعصب ہندو رہے گا اور نہ متعصب اور تنگ نظر مسلمان۔ میرا منشا یہ نہیں کہ میں مذہبی حوالے یہ بات کر رہا ہوں۔ مذہب تو ہر ایک کا شخصی معاملہ ہے۔ میرا منشا سیاسی لحاظ سے مملکت کے ایک شہری کے طور پر ہے۔ جہاں میرا تعلق ہے میں ہمیشہ بے لاگ انصاف پر کار بند رہوں گا۔ کسی تعصب، وابستگی کے بغیر۔ کامل عدل اور غیر جانب داری میرا طریقہ ہو گا۔‘‘ (Jinnah Speeches as Governor General 1947-48 page 8-10)
کیا مجید نظامی سے یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ قائد اعظم کے اس واضح فرمان کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کبھی اقتدار کے ایوانوں کے لطف اٹھا آئے ہوتے تو ہم ان کی بات کا نوٹس ہی نہ لیتے۔ ایک صاحب کردار اور عظیم صحافی کے طور پر، ان کے پیش لفظ سے مجھے سخت مایوسی ہوئی ہے۔ ایک عظیم شخصیت کی سوانح کا پیش لفظ لکھتے ہوئے جناب نظامی کا یہ اندازِ تحریر، نرم سے نرم الفاظ میں غیر ذمہ دارانہ ہے۔ در اصل سوچنے کا یہی انداز ہے جس نے ہمارے ہاں سیاسی ماحول اور کلچر کی تعمیر کی ہے۔ ایسی تعمیر میں خرابی کی یہی صورت مضمر ہے۔ اب تو یہ تعمیر اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے۔ اب عمارت بوسیدہ ہوچکی ہے اور اس نے گرنا شروع کر دیا ہے۔ مگر کتنے بڑے نقصان اور تباہی و ہلاکت کے بعد، اس کا قصہ بیان کرنے لگیں تو قلم تھک جائے گا۔ قرطاس ختم ہو جائے گا اور لکھنے والے کی ہمت جواب دے جائے گی۔ ایک دو برس کی بات نہیں، زائد از نصف صدی کا معاملہ ہے۔
اجارہ دارانہ رجحان
تحریک پاکستان میں شرکت کی بنیاد پر اجارہ داری کا رجحان، شاید قائد زندہ رہتے تو رواج نہیں پا سکتا تھا۔ اگر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کے طور پر تقرری میں سب سے بڑی آبادی کے نمائندے کے طور پر حسین شہید سہر وردی کو جگہ دی جاتی تو یقینی طور پر پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔ لیاقت علی کی تقرری کن حالات میں ہوئی۔ کون سی مصلحتیں اس کا محرک ہوئیں، پردہ تاریخ میں مستور ہیں۔ اس کے بعد اجارہ دارانہ کردار پوری طرح چھا گئے۔ جناب لیاقت علی خان اپنے پونے چار سالہ وزارت عظمے کے دور میں ان رجحانات کو اتنا مستحکم کر گئے کہ بعد میں ان کو کوئی چیلنج کرنے والا سامنے ہی نہ آیا، آیا بھی تو کسی نے اس کو اہمیت ہی نہ دی۔ نتیجہ کیا نکلا ؟
یاران بزم !صبح ِ وطن سی عزیز شے
کیوں کر ہوئی ہے شام غریباں نہ پوچھئے
ہم تفصیل میں نہیں جانا چاہتے، مشیر کاظمی کا نوحہ درج کر دیتے ہیں۔ یہ نوحہ یوم اقبال پر یونیورسٹی سینٹ ہال میں، میں نے خود بھرے مجمع میں سنا۔ وہ بھی رو رہے تھے اور مجمع بھی رو رو کر نڈھال ہو رہا تھا:
پھول لے کر گیا، آیا روتا ہوا، بات ایسی ہے کہنے کا یارا نہیں
قبر سے آ رہی تھی صدا، یہ چمن مجھ کو آدھا گوارا نہیں
قبر پر قوم ساری تھی نوحہ کناں، آنکھ سے آبگینے تھے پھوٹے ہوئے
چند ہاتھوں میں گلشن کی تصویر تھی، چند ہاتھوں میں آئینے ٹوٹے ہوئے
سب کے دل چور، سب ہی مجبور تھے، بیکسی وہ کہ تابِ نظارا نہیں
شہرِ ماتم تھا اقبال کا مقبرہ، تھے عدم کے مسافر بھی آئے ہوئے
خوں میں لت پت کھڑے تھے لیاقت علی، روحِ قائد بھی تھی سر جھکائے ہوئے
کہہ رہے تھے سبھی، کیا غضب ہو گیا، یہ تصور تو ہرگز ہمارانہیں
سرنگوں قبر پہ تھا منارِ وطن، کہہ رہا تھا کہ اے تاجدارِ وطن
آج کے نوجواں کو بھلا کیا خبر، کیسے قائم ہوا یہ حصارِ وطن
جس کی خاطر کٹے قوم کے مرد و زن، ان کی تصویر ہے، یہ منارا نہیں
کچھ اسیرانِ گلشن تھے حاضر وہاں، کچھ سیاسی مہاشے بھی موجود تھے
چاند تارے کے پرچم میں لپٹے ہوئے، چاند تاروں کے لاشے بھی موجود تھے
میرا ہنسنا تو پہلے ہی اک جرم تھا، میرا رونا بھی ان کو گوارا نہیں
کیا فسانہ کہوں ماضی و حال کا، شیر تھا ایک میں، ارضِ بنگال کا
شرق سے غرب تک میری پرواز تھی، ایک شاہیں تھا میں ذہنِ اقبال کا
ایک بازو پہ اڑتا ہوں میں آج کل، دوسرا دشمنوں کو گوارا نہیں
اس چمن کے تھے بلبل ستائے ہوئے،اس چمن کے بھی بلبل ستائے ہوئے
آج شاخ و شجر، رنگ بوئے چمن، باغبانوں سے ہیں خوف کھائے ہوئے
وہ نہ زندوں میں ہیں اور نہ مردوں میں ہیں، ایسی موجیں ہیں جن کا کنارا نہیں
وہ جو تصویر مجھ کو دکھائی گئی، میرے خونِ جگر سے بنائی گئی
قوم کی ماؤں بہنوں کی جو آبرو، میرے خون جگر سے سجائی گئی
موڑ دو آبرو، یا وہ تصویر دو، ہم کو حصوں میں بٹنا گوارا نہیں
یقین کیجیے، اگر مشیر کاظمی لاہور میں علامہ اقبال کی قبر کے بعد، یہی پھول لے کر، کراچی میں قائد کے مزار پر بھی جاتے تو یہی صدا آتی اور یہی نوحہ بلند ہوتا۔ میں یہاں تک کہوں گا کہ اگر وہ حمید نظامی، چوہدری نیاز علی یا مولانا مودودی کی نشان ہاے خاک پر جا کر یہ نوحہ پڑھتے تو یقینی طور پر یہی صدائیں آتیں۔ لیکن یہی پھول لے کر اگر مشیر کاظمی تو کیا، کوئی بھی لیاقت علی خان، شیخ مجیب الرحمان، ممتاز محمد دولتانہ، ذوالفقار علی بھٹو، ایوب خان، یحییٰ خان اور ضیاء الحق جیسے وارثان اقتدار کی قبر پر جاتے تو کوئی صدا بلند ہوتی؟ ہوتی تو وہ یہی ہوتی یا اس سے مختلف ہوتی؟ اجارہ دارانہ رجحانات کا نتیجہ یہاں تک پہنچا کہ دور مشرف میں ماؤں بہنوں اور نوخیز پھولوں تک کو فروخت کر دیا گیا۔
اس کے تذکرے کی تفصیل سے بچتے ہوئے عافیہ صدیقی کی امریکی عدالت کے چوراسی سال کی سزائے قید پر لکھی ہوئی ایک نظم نقل کر کے حیات سدید کی طرف آتا ہوں۔ یہ نظم ایک غیر معروف شاعر، ناصر بشیر کے احساساتِ خونچکاں ہیں۔ مصرِ عِ اول نظم کا عنوان ہے،
میرے منصف نے عجب فیصلہ لکھا ہے مرا
ایک میں ہی نہیں، حیران زمانہ ہے مرا
شہر والو! مجھے حیرت سے نہ دیکھو ایسے
یہ مرے اشک نہیں، خونِ تمنا ہے مرا
روح یہ پوچھتی پھرتی ہے گلی کوچوں میں
مجھ کو بتلاؤ! بدن کتنے میں بیچا ہے مرا؟
دیکھتی رہتی ہوں ،بیٹھی در و دیوارِ قفس
دل رہا ہونے کی امید پہ ہنستا ہے مرا
آج بھی قفل پڑا ہے، درِزنداں پہ وہی
آج بھی دل ، کسی آہٹ کو ترستا ہے مرا
موج در موج مری پیاس بڑھی جاتی ہے
یہ الگ بات ،مری آنکھ میں دریا ہے مرا
ہیں میرے اہل وطن میرے لیے محو دعا
کس بلندی پہ ،مقدر کا ستارہ ہے مرا
سرخ رو ہو کے کبھی، اپنے وطن آؤں گی
میں ہوں سچائی، مرے ساتھ زمانہ ہے مرا
حیاتِ سدید میں جنابِ مجید نظامی کے پیشِ لفظ میں درج، جملوں کو دیکھ کر ہم نے ابتدائی تاثر کے طور پر جو کچھ عرض کیا ہے، اس سے آگے ذرا اس پیش لفظ پر کھل کر گفتگو کی ضرور ت ہے۔ البتہ اتنا شروع ہی میں عرض کر دیتا ہوں کہ یہ حیات سدید ہے کتابِ سدید نہیں۔ استاذی و عزیزم پروفیسر سلیم منصور خالد اس کتاب کی تقریب رونمائی میں مولف کی تقریر کے حوالے سے قولِ سدید کی تلاش میں خواہ مخواہ سر گرداں ہوئے(نوائے وقت ۱۴۔تا ۱۶ نومبر ۲۰۱۰)۔ کتاب میں مرحوم و مغفور چوہدری نیاز علی خان کے حوالے سے خطوط اور دیگر دستاویزات تو قولِ سدید کا صحاح ہیں مگر جناب مولف نے جہاں کہیں خود سے کچھ لکھا ہے یا اس میں دوسروں کی جو تحریریں، بھرتی کی صورت میں جمع کی ہیں وہ خالص کھوٹ ہے۔ اگرچہ جناب مجید نظامی پیش لفظ میں یہی فرماتے ہیں کہ کے ایم اعظم صاحب نے ’’دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی‘‘ کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کتاب کو بغور پڑھنے کا کسی کے پاس وقت ہو تو پتہ چلتا ہے کہ دودھ اور پانی کو الگ الگ کرتے ہوئے جناب کے ایم اعظم صاحب نے خود کتنا پانی شامل کیا اور یہ پانی شامل کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ پانی جوہڑ سے لے رہے ہیں یا نہر سے۔
جناب کے ایم اعظم کی صوابدید ہے۔ ہم اس صورت حال کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ کہیں گے کہ چوہدری نیاز علی مرحوم نے اپنی عمر بھر کی کمائی سے، جمال پور ضلع پٹھانکوٹ (بھارت) میں دارالاسلام تعمیر کیا۔ متحدہ ہند کی تقسیم کے موقعہ پر، دارالاسلام کے موسس و واقف، اس ٹرسٹ کو پٹھانکوٹ میں چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ پاکستان آ کربھی دارالاسلام کے تصور نے ان کو بے چین رکھا۔ چنانچہ انہوں نے اس کا دوسرا ایڈیشن تعمیر کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ ان کوششوں میں انہوں نے سرکار مدار میں اپنے استوار رابطے آزمائے۔ سرخ فیتے کو ناپنے میں ہر ممکن جادہ پیمائی کرتے ہوئے، انہوں نے ’’کوہ کن‘‘ جیسے مراحل سر کیے۔ تب جا کر اس تصوراتی نقشے میں عملی رنگ دکھائی دینے لگا۔ وہ دارالاسلام اول (پٹھانکوٹ) میں سید مودودی اور ان کے کچھ ساتھیوں کو اقامت پر مائل کر چکے تھے مگردارالاسلام دوئم (جوہر آباد) میں اقامت کے لیے، کوئی نمایاں شخص ان کی دستبرد میں نہ آ سکا۔ اس مقصد کے لیے تگ و دو میں انہوں نے کوئی کمی نہ چھوڑی۔
خوابوں کی عملی تعبیر بے نتیجہ ہونے پر جب کسی مشنری شخص کے قلب و ذہن، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں تو زندگی موت سے زیادہ بد تر اور مایوسی کا شکار ہوجاتی ہے۔ چودھری نیاز علی خان کو تو ان مراحل سے پار ہوتے ہوئے قبر کے لیے دو گز جگہ تو نصیب ہو گئی۔ یہ ان کی خوش نصیبی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی قبر کو ان کی اولاد نے بے نشان کر دیا۔ اس کا گلا جناب کے ایم اعظم صاحب نے کتاب میں بھی کیا ہے۔ وہ یہ گلا کس سے کر رہے ہیں، مولانا مودودی سے، جماعت اسلامی سے یا اپنے برادر بزرگ سے یا اپنے آپ سے، اس بارے میں مصنف نے چپ سادھ لی ہے۔ حالانکہ اس پہلو سے ان کو اپنے والد کے جائز وارث ہونے کے ناطے سے کتاب میں سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت تھی۔
آئندہ صفحات میں ہم ’’حیاتِ سدید‘‘ پر تفصیل سے گفتگو کریں گے۔
(جاری)
علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھیؒ (۱۹۲۳ء۔۲۰۰۵ء)
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
صدیاں ہوتی ہیں، وقت کے ایک عظیم عالم (ابن تیمیہؒ ) کی وفات پر دمشق کے میناروں سے آواز بلند ہو ئی تھی: الصلاۃ علی ترجمان القرآن (ترجمان قرآن کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی)۔ ۲۴؍ جنوری ۲۰۰۵ء کو ہندوستان کو بھی حق تھا کہ اس کے گوشہ گوشہ سے بھی یہی آواز بلند ہوتی کہ وقت کے ابن تیمیہ، ترجمان قرآن وسنت، محدث عصر علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھیؒ نے اسی دن دنیا کو خیر باد کہا۔ ان کی وفات پر ایک عظیم علمی روایت کا خاتمہ ہوا۔ یہ کو ئی معمولی حادثہ نہ تھا کہ اس پریوں ہی گزر جایاجائے، لیکن مسلمانان ہند اپنے علمی وفکری زوال وانحطاط کے جس مقام پر ہیں، وہاں یہ کوئی تعجب کی بات نہ تھی کہ کسی کو پتہ نہیں چلاکہ کیا ہوگیا۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ ہم ایک عہد فراموش دور میں جی رہے ہیں جہاں پرہر چیز کو بھلا دیاجاتاہے، تاہم عوام تو عوام، علما ، ارباب مدارس، اسلامی تحریکوں اور اسلامی علوم کے طلبہ کا ایسے گوہر نایاب اور متاع بے بہا کے بارے میں تجاہل، تغافل اور ناآشنائی کا یہ رویہ جس کا ایک عمومی مشاہدہ کیا گیا، ایک ملی المیہ اور ہماری علمی تاریخ کے ایک عبرت ناک باب سے کم نہیں۔ خصوصاً ایسے دور میں جہاں درباری مدعیان علم اور مختلف فرقوں، جماعتوں ، تنظیموں اور اداروں کے قائدین پر زور سیمینار ہوتے ہیں اور اخباری شہرت رکھنے والے ہما وشما پر خصوصی گوشے اور نمبرات شائع کیے جاتے ہیں!!
خاندان :عہد اسلامی میں شمالی ہند میں جو لوگ مسلمان ہوئے تھے، ان میں برہمنوں وراجپوتوں اور گوجروں سے نکلی ہوئی بہت سی برادریاں بھی ہیں۔ انھی میں ایک چودھری برادری بھی ہے جن کاآبائی پیشہ کاشتکاری ہے ۔موضع توڑی ضلع غازی آباد میں سکونت پذیر اسی برادری کے ایک متوسط درجہ کے خاندان میں آپ کی ولادت ہوئی تھی۔ آپ کے دادا ایک نیک دل اور سیدھے سادے دیندار کسان تھے جنہوں نے خود تو معمولی دینی تعلیم پائی تھی لیکن اپنے بچوں کو اچھی دینی و قرآنی تعلیم سے آراستہ دیکھنے کی بڑی تمنا اور آرزو تھی ۔والد حافظ بشیر احمد علاقہ کے انتہائی جید حافظ وقاری تھے جن کے حفظ کا دور دور تک شہرہ تھا۔ والدہ زبیدہ خاتون بھی نہایت عابدہ زاہدہ خاتون تھیں۔ اوپر کے شجرہ کے بارے میں کوئی زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ نہ خودمولانا نے کہیں تذکرہ کیا اور نہ وہ شجروں اور نسبتوں وغیرہ کے وہ قائل تھے کہ بقول امام الہند مولاناابو الکلام آزادؒ :
’’اسلا م نے ساری نسبتوں اور ا متیازوں کو مٹا کر صرف اپنی ایک نسبت نوع انسانی کو عطا کی اور اس نسبت سے بڑھ کر اور کون سی نسبت ہوسکتی ہے جس کی ایک مسلمان کو تلاش ہو؟ انسان کے لیے معیار شرف جوہر ذاتی اور خود حاصل کردہ علم وعمل ہے نہ کہ اسلاف کی روایت یا رینہ اور نسب فروشی کا غرور باطل ۔ہم کو ایسا ہونا چاہیے کہ ہمارے نسب سے ہمارے خاندان کے شرف رفتہ کے محتاج ہوں! ارباب ہمت نے ہمیشہ اپنی راہ خود نکالی ہے۔‘‘ (تذکرہ صفحہ ۲۶)
تعلیم و تربیت
مولانا شبیر احمد ازہر نے کم سنی میں ہی قرآن پاک حفظ کرلیا تھااور ۱۷،۱۸سال کی عمرمیں ہی علوم دینیہ کے اکتساب سے فارغ ہوگئے تھے۔ اس وقت کے مروجہ درس نظامی کے پورے کورس، جو ۱۲سال کو محیط ہوتا تھا، کی تکمیل انھوں نے صرف ۵سال میں کرلی تھی۔ ان کے خاص استاد مولانا شاہ اختر خان امروہوی تھے جن کے خاص استاد کانام بھی شبیر احمد تھا اورجو شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی کے شاگرد بھی تھے۔ شاہ اختر خان ؒ نے ان کو پورا قرآن صرفی و نحوی ترکیب کے ساتھ پڑھایا اور حدیث و فقہ کی منتخب کتابیں خصوصی طور پر پڑھائیں۔اپنے اس شاگرد پر ان کی خصوصی نظر عنایت تھی۔وہ اپنے اور شاگرد دونوں کی مناسبت سے کہا کرتے کہ’’ شبیر سے لیا اور شبیر کو دے دیا‘‘۔ مروجہ علوم کی تکمیل شاہ اختر خان صاحب سے کرنے کے بعد انھی کی ایما پر جامعہ تعلیم الدین ڈھا بیل گجرات تدریس کے لیے جانا ہوا۔ وہا ں انتہائی کم عمر ی کے باوجو د اونچے درجوں کی کتابیں پڑھائیں۔ کچھ عرصہ بعد شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ ہندوستان آئے اور دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث وصدر مدرس بنائے گئے تو استاد کے اشار ہ پر ڈھابیل سے لوٹے اور دیوبند سے دورۂ حدیث کیا۔ وہاں خاص اساتذہ میں شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہویؒ ، مولانا فخرالحسنؒ اور حضرت مدنیؒ تھے۔
تدریسی خدمات
دیوبند سے سندفضیلت کے حصول کے بعد آپ نے مختلف مدارس اور اداروں میں علوم اسلامیہ کی تعلیم وتدریس کا آغاز کیا اور تقریباً ۷۵سال کی عمر ہونے تک ہندوستان کے بڑے اور اہم مدارس میں تدریس کی خدمات انجام دیں۔ ۳۰ سال سے زائد عرصہ تک صحیح بخاری پڑھائی۔ ان مدراس اور اداروں میں جامعہ تعلیم الدین ڈھابیل، جامعہ ندوۃ العلماء لکھنؤ، جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ، مدرسۃ الاصلاح سرائے میراعظم گڑھ، ریاض العلوم دہلی، جامعہ امدادیہ مراد آباد ،نورالاسلام صدرمیرٹھ، جامعہ ندوۃ السنہ کیرالا اور جامعۃ الصالحات رامپور، مدرسہ عربیہ چلہ امروہہ اور دوسرے بہتیرے مدارس اور ادارے شامل ہیں۔ علوم اسلامیہ، قرآن وحدیث، تفسیر، اصول، فقہ، اصول فقہ، فلسفہ ومنطق اور ادب عربی، بلاغت اور علم عروض میں بھی زبردست تبحر حاصل تھا۔ ساتھ ہی طب یونانی، بنوٹ، گھڑسواری وشمشیر زنی میں بھی انھیں مہارت وحذاقت تامہ حاصل تھی۔ یادداشت اور قوت استحضار اتنی تھی کہ جو چیزیں ۵۰، ۶۰ سال پہلے پڑھی تھیں، وہ بلا کتاب دیکھے پڑھادیا کرتے تھے۔ ابتدائی درجوں کی تمام کتابیں انھوں نے خود راقم کو پڑھائیں، چنانچہ ان کے اس کمال کا خوب تجربہ ہوا۔ یوں تو تمام علوم کا استحضار تھا لیکن علو م قرآن اور علوم سنت سے خصوصی شغف تھا۔ یہی دونوں زندگی بھر اوڑھنا بچھونا رہے۔
علمی خدمات
اردو عربی اور فارسی لکھنے اور بولنے کی زبردست صلاحیت تھی۔ عربی واردو بے حد روانی سے اور بے تکان لکھتے چلے جاتے۔ انھوں نے زندگی کے آخری دن تک لکھا۔ ان کے گہربار قلم سے کتاب وسنت کے علوم سے متعلق درج ذیل شاہ کار کتابیں نکلیں:
۱۔ تفسیر مفتاح القرآن مکمل اردو جس کے سورۂ آل عمران تک صرف ۶؍اجزائابھی تک طبع ہوئے ہیں، باقی مسودات کی شکل میں ہیں۔اس تفسیر کی سب سے بڑی خصوصیت تفسیری روایات پر تحقیقی کلام ہے۔
۲۔ الکلم الطیب(قرآنی ڈکشنری)۔ اس سے قبل میرٹھ کے مولاناقاضی زین العابدین مرحوم کے ساتھ ایک ’’قاموس القرآن‘‘ کوئی ۶۰ برس پہلے بھی ترتیب دیاتھا۔
۳۔ مفتاح القرآن (عربی) سورۃ فاتحہ طبع ہوئی، آل عمران تک غیر مطبوعہ ہے۔
۴۔ کلمات المثانی (مفردات القرآن)ناتمام
۵۔ قرآن کی حجتیں۔ (وفات کے وقت تک اس پرکام کررہے تھے)
۶۔ تحفۃ القاری بشرح صحیح البخاری عربی، مکمل (۱۹جلدیں)
۷۔ شرح مسند احمد بن حنبل اردو (۱۶جلدیں)
۸۔اقوم المسالک شرح مؤطا مالک (اردو ۶جلد، ناتمام)
۹۔ بخاری کا تحقیقی مطالعہ (بعض احادیث کی تحقیق وتنقید) ۳؍اجزا
۱۰۔ صحیح مسلم کا تحقیقی مطالعہ (۳؍اجزا) ناتمام
۱۱۔ تحقیق مشاجرات صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین وواقعہ حرہ۔
۱۲۔ حدیث الافک العظیم (اردو میں تفسیر سورۂ نور کے نام سے طبع ہوئی) عربی غیر مطبوع ہے۔
۱۳۔ احادیث دجال کا تحقیقی مطالعہ (ظہور مہدی، خروج دجال اور نزول مسیح کی تحقیق)
۱۴۔ حدوداللہ (تاوفات زیر تصنیف تھی)۔
شخصی احوال و اوصاف
نوخیزی ونوجوانی کی عمر بڑے جوش وولولہ کی اور مجاہدانہ تھی۔ صحت نہایت قابل رشک، گھڑسواری، شمشیر زنی اور بنوٹ کے ماہرتھے اور شکار کھیلا کرتے۔ ۱۹۴۷ء کے مسلم کش فسادات میں (بطور خاص جب گڑھ مکتیسور جل رہاتھا) انھوں نے اپنی قوت بازو، جرأت وشجاعت اور ہمت سے کئی مسلم لڑکیوں کو شرپسند ہندوؤں اور سکھوں کے ہاتھ سے بچایا تھااور ان کے چنگل سے چھڑا کر لائے۔ اس کی پوری داستان اپنے ایک ناول غم میں رقم کی تھی (جو افسوس کہ ضائع ہوگیا)۔ اسی طرح انہوں نے عربی کے ایک تاریخی ناول واسلاماہ کا اردو ترجمہ بھی کیا تھا لیکن وہ بھی چھپ نہیں سکا۔
۱۷سال کی عمر میں ہی موضع ٹیالہ (غازی آباد) میں شادی ہوگئی اور چار برس بعد پہلی بچی عمارہ کی آمد ہوئیجو اب حجن آپا عمارہ کہلاتی ہیں۔دوسری بچی کی پیدائش میں اہلیہ کا انتقال ہوگیا تو میرٹھ کے موضع رائدھنہ میں ان کے ماموں چودھری توصیف احمد کی دختر نیک اختر نفیسہ بیگم (میری والدہ محترمہ)سے شادی ہوئی ۔ مولانا کے بقیہ لڑکے لڑکیاں انھیں کے بطن سے تولد ہوئی ہیں جن میں ہم پانچ بھائی اور چار بہنیں ہیں۔
علمی امتیازات و خصائص
علوم عربیہ واسلامےۃ میں تبحر کے ساتھ ہی علامہ اردو، فارسی وعربی کے ایک بڑے شاعر بھی تھے۔ انھوں نے جو مختصر دیوان چھوڑا ہے، اس میں اردو کے علامہ فارسی کی بھی بعض غزلیں ہیں۔ فن عروض کے امام تھے۔ اسی طرح نحو وصرف میں بھی بے نظیر مہارت پائی تھی۔ عام طور پر عربی مدارس میں ابتداکے کئی سال نحو صرف کی تعلیم میں ضائع کیے جاتے ہیں۔ علامہ کا طریقہ تعلیم انتہائی آسان، شگفتہ اور عملی تھا۔ محض ایک سال میں کتابوں کے بجائے کاپیوں پر قواعدو مثالیں لکھوا کر وہ صرف ونحو کی ضروری تعلیم دے دیا کرتے۔ اپنے بہت سے تلامذہ کو انھوں نے اسی طرح تعلیم دی۔ خود راقم نے ان سے ایک سال پڑھ کر عربی چہارم میں داخلہ لے لیاتھا۔
علامہ میرٹھی کی ایک بڑی علمی خصوصیت، جوانھیں معاصرین واقران سے ممتاز کرتی ہے، وہ علوم اسلامیہ اور بطور خاص قرآن وحدیث کا وسیع مطالعہ تھا اور وہ بھی اول درجے کے مصادر ومراجع سے۔ انھوں نے کبھی دوسرے او ر تیسرے درجہ کی کتابوں کو ہاتھ نہیں لگایا۔ علوم قرآن سے متعلق ہمیشہ متقدمین کی نمایندہ اور بلند پایہ کتابیں اور تفسیریں ان کے زیر مطالعہ رہیں۔ ابن جریر طبریؒ ، ابن کثیرؒ ، بیضاویؒ ، رازؒ ی وزمخشریؒ اور ابو حیان الاندلسیؒ کا مطالعہ کرتے اور مؤخرالذکر کو زیادہ پسند کرتے۔ شاہان دہلی (شاہ عبد القادؒ ر وشاہ رفیع الدینؒ ) کے ترجمے انھیں پسند تھے۔ نیز اردو کے سبھی متداول تراجم وتفاسیر کو دیکھا تھا، لیکن سبھی کے بارے میں ناقدانہ رائے رکھتے تھے۔
حدیث کے باب میں، صحاح ستہ اور دیگر امہات کتب پر گہری نگاہ تھی، رجال کے دفتر از برتھے۔ مؤطا، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابوداؤد، ابن ماجہ، داری، مسند احمد وبیہقی فتح الباری و تہذیب التہذیب وغیرہ مسلسل مطالعہ میں رہیں۔ ساتھ ہی معاصرین کی چیزیں بھی دیکھتے رہتے۔ شرح مسند احمد بن حنبل کی تصنیف شروع کی تو مولانا عبداللہ رحمانی مبارک پوریؒ شارح مشکوٰۃ اور علامہ حبیب الرحمن اعظمیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اوران سے استفادہ کیا۔ بخاری پر انتہائی گہری نظر تھی۔ اس کی جلالت قدر کے بارے میں خود لکھتے ہیں: ’’کتاب اللہ قرآن کریم کے بعدصحیح بخاری کے علاوہ مجھے کسی کتاب میں دلکشی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ میرا چالیس سالہ مستقل احساس ہے۔‘‘ (میرامطالعہ، ص ۱۹۰، مرکزی مکتبہ اسلامی )
فقہ میں بھی یہی حال تھا۔ بطور خاص فقہ حنفی کے امہات کا گہرا استحضار تھا، اس لیے بدا ےۃ المجتہد سے خوش نہ تھے کہ صاحب بداےۃ نے حنفی نقطہ نظر پیش کرنے میں غلطیاں کی ہیں۔ اسی طرح متاخرین ومعاصرین علما کی چیزیں ان کے نزدیک غیر معیاری تھیں۔ علم فقہ پر زبردست گرفت اور مجتہدانہ نظر کے باوجود ان کی دلچسپی اصل میدان قرآن وحدیث اور ان سے متعلقہ علوم تھے جس کو اپنے ایک شعر میں یوں تعبیر کیا ہے:
جز کلام یار ہر تقریر بار گوش ہے
جز رخ جاناں کوئی منظر نہیں بھاتا مجھے
علمی زندگی کے تین دور
راقم کے خیال میں علامہ کی علمی زندگی کوتین ادوار میں بانٹا جاسکتا ہے۔ پہلے دور میں وہ فقہاے حنفیہ کے خوشہ چیں ہیں، لیکن نصوص کے راست مطالعہ و تحقیق اور تطبیق وترجیح کے بعد اگر دوسرے نتیجہ پر پہنچے ہیں تو پورے اعتماد اور جرأت کے ساتھ ان سے اختلاف بھی کرتے ہیں اور دوسرے مسالک کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کی ’’اقوم المسالک الی مؤطا امام مالک‘‘ اس کی بین مثال ہے، البتہ حدیث کے مسلسل ومطالعہ وتحقیق نے انھیں تقلید جامدسے دور کردیا اور کہا جاسکتا ہے کہ انھوں نے سلفیت یا عدم تقلید کی طرف قدم بڑھائے۔ رفع الیدین، طلاق ثلاثہ اور عبادا ت کے زیادہ تر نزاعی مسائل میں اخیر تک ان کی رائے محدثین کے مسلک سے قریب تررہی ہے۔ انھوں نے خبر واحد کی ظنیت کے بارے میں فقہا کے نظریہ کا علمی تعاقب کیا۔ (ملاحظہ ہو رسالہ: تقریب المأ مول فی حدیث الرسول بر نہاےۃ التحقیق شرح مند ابو بکر صدیقی صفحہ ۱۹تا۷۵) اخیر تک ان یہی قطعی تحقیق تھی کہ خبر واحد اگر صحیح ثابت ہے تو قطعی الدلالت ہوتی ہے۔ یہ زندگی کا دوسرا دور تھا۔ تیسرا دور وہ ہے جب انھوں نے علوم حدیث پر بے مثال تبحر حاصل کر لیا، علم الرجال کا وسیع مطالعہ کیا اور قرآن پاک کے مسلسل تحقیقی مطالعہ وتدبر نے فکر ونظر میں زبردست بصیرت پیدا کر دی تھی۔ اب انھوں نے روایت ودرایت کے لحاظ سے ذخیرۂ حدیث پر گہری نظر ڈالی، ایک ایک حدیث کو پرکھا، جانچا، مثالب کو تایا، مطاعن کو دیکھا حتی کہ خود اس فن پر ایک سند اور مرجع بن گئے۔
نقد حدیث
کتب حدیث میں حدیث کی سب سے اہم کتاب صحیح بخاری کو انھوں نے سب سے زیادہ پڑھا اور پڑھایا۔ قرآن کے بعد یہی کتاب انھیں سب سے زیادہ محبوب تھی، لیکن اس کے سلسلہ میں علما کا جو ایک غیر علمی اور خالص اندھی تقلید کا رویہ ہے کہ ’’ بخاری میں جو کچھ ہے، وہ سب صحیح ہے اور اِس پر تنقید نہیں کی جاسکتی‘‘ اس سے انھیں ذرا بھی اتفاق نہ تھا۔ بخاری و مسلم کی علمی عظمت وجلالت قدر کے پورے اعتراف کے باوجود ان کی سوچی سمجھی اور تحقیقی رائے یہ تھی کہ ان میں بھی متعدد کمزور اور غلط روایتیں جگہ پا گئی ہیں۔اس رائے کا انہوں نے نہایت جرات سے اظہار بھی کیا، چنانچہ اپنی ’’تحفۃ القاری‘‘ میں تفصیل سے ان روایات پر محدثانہ کلام کیاہے اور ان تحقیقات کا خلاصہ ’’بخاری کا مطالعہ‘‘ (۳؍اجزا) میں اردو زبان میں پیش کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں نام نہاد اجماع یا جمہور کے اتفاق کی انہوں نے کوئی پروا نہیں کی اور اسی وجہ سے بعض علمی طور پر کوتاہ قداور متعصب اہل حدیث علما، علامہ کو بھی منکرین حدیث کی صف میں لے جاکر کھڑاکرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ ایسے ہی کم ظرفوں اور کم علموں کے لیے کہا گیا ہے کہ شعرمن بمدرسہ کے برد۔
زندگی کے تیسرے دور میں علامہ کا حاصل مطالعہ یہ تھا کہ اکثر اختلافی مسائل میں فقہاے امصار میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کی فقہی بصیرت وامامت بدر جہا فائق ہے۔ ان کی رائے محدثین کے مسلک کے مقابلہ میں زیادہ لائق ترجیح ہے۔ اخیر کی تحریروں میں یہ رجحان صاف محسوس کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فقہاے حنفیہ کی تقلید جامد کرنے لگے تھے، بلکہ متعدد مسائل میں ان سے اختلاف کیاہے۔
ذوق اجتہاد
کتاب وسنت کے مسلسل تحقیقی مطالعہ نے ان کے اندر اجتہادی بصیرت پیداکی۔ انھوں نے متعدد مسائل میں جمہور سے کھلا ہوا اختلاف کیا۔ قرأت سبعہ کا مسئلہ، اجماع کا ثبوت، نسخ کا مسئلہ، تحویل قبلہ، واقعہ افک، خبر واحد کی قطعیت کا مسئلہ اور اس کے علاوہ سیکڑوں احادیث اور آیات کی تشریح و توضیح میں وہ جمہورسے بالکل الگ رائے رکھتے ہیں اوران کا جرأت کے ساتھ اظہار بھی کیاہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ متاخرین میں ان کے تفردات سب سے زیادہ ہیں تو غالباً بے جانہ ہوگا نہ اس میں کوئی مبالغہ ہوگا۔ یہ تفردات یا اجتہادی رائیں دراصل ان کی دراکی، وسعت مطالعہ، تخلیقی ذہن، فکری شادابی، حاضر دماغی،علوم کے استحضار اور اعتماد ذاتی کی پیداوار ہیں۔
مسائل کے سلسلہ میں ان کی نظر جزئیات سے زیادہ کلیات پر رہتی تھی۔ فقہی نقطہ نظر میں وسعت تھی۔ ہر حال میں کسی ایک مسلک کی تقلید و تنقید کو ضروری خیال نہیں کرتے تھے۔ علمی اختلاف و تحقیق ان کی نظر میں علما کی متوارث چیز تھی۔ چنانچہ انھوں نے محدثین کی رایوں اور فقہا کے اجتہاد ات سے خوب خوب اختلاف کیا ہے۔ فقہا حدود سے محدود معنی لیتے ہیں۔ علامہ نے اس کو پوری شریعت کے مترادف قراردیا ہے اور اسی تصورپر ان کی کتاب حدود اللہ مبنی ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشاجرات کے سلسلہ میں ان کی رائے جمہور سے الگ ہے۔ مروان، یزید اور حجاج بن یوسف ثقفی کے بارے میں بھی ان کی تحقیق الگ تھی۔ وہ ان حضرات کے اقدامات کو کسی حد تک جواز کی حد میں داخل سمجھتے تھے۔شیعیت کو وہ اسلام کا سب سے بڑا داخلی انحراف سمجھتے تھے ۔ مولانا مودودیؒ کی کتاب خلافت وملوکیت سے مطمئن نہ تھے بلکہ ا س مسئلہ میں ان کا نقطۂ نظر ٹھیک وہی تھا جوامام ابن تیمیہؒ اور صاحب العواصم من القواصم قاضی ابن العربیؒ کا ہے۔ِ
شیدائے قرآن
علامہ کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وقت کی بڑی قدر کرتے تھے، ضیاع وقت سے انھیں بڑی نفرت تھی۔ سفر میں ہوں، حضر میں، شہر میں ہوں یا گاؤں میں، بس ہر وقت مطالعہ غوروفکر، ہر وقت کچھ نہ کچھ تحریر۔ لائٹ موجود ہے تو بہتر، نہ آرہی ہو تو لالٹین کی روشنی کام آئے گی۔ سفر میں زیادہ وقت تلاوت قرآن میں گزارتے، مجلسوں اور جلسوں جلوسوں سے حتی کہ لوگوں کے زیادہ خلا ملا سے بھی وحشت ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث اور قرآنیات پر اتنے بڑے بڑے کام انجام دے دیے جو بڑی بڑی اکیڈمیوں اور اداروں کے کرنے کے ہیں۔ ٹرین سے سفر کررہے ہیں یا بس سے کہیں جارہے ہیں تو بے تکی اور فضول باتوں کی بجائے قرآن پاک کی تلاوت کررہے ہیں۔ ان کی تلاوت قرآن نری تلاوت نہیں، تدبر کی تلاوت ہوتی تھی۔ قرآن کا ترجمہ اور تفسیر مستقل پڑھتے رہتے تھے۔ تلاوت کے دوران اکثر آنکھوں سے آنسو ٹپکتے۔ یہی نمازمیں قراء ت کے وقت ہوتاتھا۔قرآن ان کے لیے اصل مصدر و مرجع تھا۔ تمام علوم اسلامیہ میں وہ قرآن ہی کوحکم بناتے اور اسی کی طرف رجوع کرتے تھے۔
نمازوں کے بعد دیر تک مسنون اور اذکار کا اہتمام ہمیشہ رہا۔ جہاں رہتے اور جس کمرے میں بیٹھتے، وہ صبح سے شام تک قال اللہ وقال الرسول کے ترانوں اور تلاوت قرآن کے زمزموں سے گونجاکرتی۔ ان کی نوجوانی کے ایام میں ذرائع مواصلات محدود تھے۔ اس وقت گھوڑے سے یا پیدل سفر کرتے اور دوران سفر بڑی سے بڑی مسافت تلاوت قرآن میں طے کرلیتے۔ ہر رمضان المبارک میں کئی کئی قرآن ختم کرتے۔ طریقہ یہ ہوتا کہ عشا کے بعد تراویح میں الگ قرآن پڑھتے، تہجد میں الگ۔ دن کو حافظ عبدالخالق صاحب (رادھنہ گاوں کی جامع مسجد کے امام اور ہمارے حفظ قرآن کے استاد) کو مستقل کئی کئی پارے سنایا کرتے۔ زندگی کے آخری ایام تک حافظہ قابل رشک رہا۔ قرآن انتہائی پختہ یادرہا اور اسی شان سے اس کی تلاوت جاری رہی حتی کہ وفات کے وقت بھی قرآن کی تلاوت دیر تک کرتے رہے تھے۔
شخصیت پرستی سے اجتناب
راقم نے اپنے شعور کے بعدتقریباً ۲۰ سالوں سے انھیں مسلسل دیکھا اور برتاہے۔ مسلمانوں میں شخصیت پرستی ایک مرض کی طرح پھیل گئی ہے۔ مختلف مکاتب فکر، فقہی مسالک، جماعتیں اور تنظیمیں وغیرہ مختلف شخصیتوں کی اسیر ہیں اور انھی کی عینک سے دین کو دیکھتی اور سمجھتی اور سمجھاتی ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول کو سبھی نے پس پشت ڈال رکھا ہے کہ انظر الی ما قال ولا تنظر الی من قال (یہ دیکھو کہ کیا کہا، یہ نہ دیکھو کہ کس نہ کہا) لیکن والد صاحب رحمہ اللہ علیہ کے متعلق یہ عاجز پورے وثوق سے کہہ سکتا ہے کہ شخصیت پرستی کے مرضی سے اللہ نے انھیں پورے طور پر محفوظ رکھا تھا۔ ماضی کی طرح اس صدی میں بڑی بڑی شخصیات ہوئی ہیں، لیکن والد صاحب علوم میں رسوخ کے اس درجہ پر تھے کہ ماضی وحال کی کسی بڑی سے بڑی شخصیت سے انھیں مرعوب نہیں دیکھا۔
اپنے اساتذہ کا ذکر احترام سے کرتے، لیکن دواستادوں مولانا اختر شاہ خانؒ امروہوی اور مولانا حسین احمد مدنیؒ کا تذکرہ بڑے ہی احترام کے ساتھ کرتے۔ انھی دونوں سے زیادہ متأثر بھی رہے۔ ماضی قریب کے علما میں مولاناحمیدالدین فراہیؒ سے بہت مسائل میں اختلاف کے باوجود ان کا ذکر بلند کلمات میں کرتے کہ بر صغیر میں قرآن پر براہ راست غور وفکر اور اکتساب کی مبارک فضا کا آغاز انھی سے ہوا اس چیز کو بہت بڑا کارنامہ قرار دیتے تھے۔ قدیم مفسرین میں ابو حیان اندلسیؒ کو زیادہ پسند کرتے اور طالبان قرآن کو اس کے مطالعہ کا مشورہ دیتے۔ قرآن سے امت کی دوری کا بڑا سبب اسرائیلیات کے رواج، تصوف کی خرافات کے ساتھ واعظوں کی داستان گوئی اور راویان حدیث کی روایت بازی کو قرار دیتے تھے۔ ماضی کے علما وائمہ میں سب سے زیادہ قائل امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے تھے بلکہ یہ تک فرماتے کہ امامت کے حقیقی مصداق صرف ابو حنیفہؒ ہیں۔ تاہم متاخرین حنفیہ پر خوب تنقیدیں بھی کی ہیں۔
شان قلندری
علامہ ایک مفلوک الحال گھرانہ میں پلے بڑھے، لیکن ابتدا ہی سے غیرت ، توکل ، خودداری اور قلندری کی شان تھی جس میں زندگی بھر فرق نہیں آنے دیا۔ جب نئے نئے پڑھ کر وطن واپس آئے تو بعض رشتہ داروں اور احباب کے کہنے پر للیانہ گاؤں میں ایک مدرسہ ازہر العلوم کھولا۔ کچھ عرصہ بعد ایک مسودہ (بیان اللسان) میرٹھ کے قاضی زین العابدینؒ کو فروخت کرکے ۱۹۵۰ء میں حج کے لیے تشریف لے گئے۔ کلمہ حق کہنے اور غلط کوغلط بتانے میں انتہائی بے باکی اور جرأت کی دولت سے مالا مال تھے۔ اسی دوران علماء دیوبند کا ایک حلقہ اور ان کے مسترشدین مولانا مودودی اور جماعت اسلامی پر ناروا قسم کی تنقیدیں کرنے اور گمراہ پروپیگنڈے میں مشغول تھے، لیکن مولانا نے نہ صرف یہ کہ اپنے استاد وں اور مشائخ سے اس معاملہ میں کھل کر اختلاف کیابلکہ بہت سی چیزوں میں پوری جرأت وقوت کے ساتھ جماعت اور مولانا مودودیؒ کی حمایت کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ علاقہ کے بعض فتنہ بازمولویوں اور پیروں نے عوام کو ان کے خلاف بھڑکادیا اور انھیں’’مودودیا‘‘ مشہور کردیا۔ لوگوں نے مدرسہ کا تعاون چھوڑدیا۔ حج سے واپس آنے کے بعد اس صورت حال کا سامنا ہواتو مدرسہ کو خیر باد کہہ کر پھر سے درس وتدریس اختیار کرلی۔ حیدرآباد گئے، وہاں کریم نگر میں جماعت اسلامی کی نگرانی میں دارالہدیٰ کھولا گیا جس کے پہلے استادآپ ہی تھے۔ وہیں جماعت سے باقاعدہ وابستگی ہوئی اور رکن بنے، لیکن خالص علمی افتاد طبع ہونے اور فکری اختلاف کی بنا پر جلدہی اس تحریک کے جھمیلوں سے نکل آئے۔ اس کے بعد مولانا مجیب اللہ ندوی ؒ صاحب کے ساتھ مل کر جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ کی بنا وتکوین میں بھی حصہ لیا۔
زندگی بھر مدارس اسلامیہ میں قلیل تنخواہ پر علوم اسلامیہ کی خدمت کی۔ کبھی سرمایہ داروں اور ثروت مندوں کا رخ نہیں کیا۔ کبھی جماعتوں، تنظیموں اور ملی اداروں کے ارباب حل وعقد کی جبہ سائی اور کفش برد اری کا تصور بھی حاشیہ خیال میں نہیں آیا۔ کتابیں لکھتے رہے، الماریوں میں مسوادات کی شکل میں جمع ہوتی رہیں، لیکن یہ نہیں ہوا کہ کسی کی جھوٹی خوشامد یا جھوٹی تنقید کرکے اپنی تحریر چھپوانے کا سامان کریں، چنانچہ مولانا اسعد مدنیؒ صدر جمعیت علماء ہند (جو شیخ زادہ بھی ہیں) کی اس پیشکش کو ٹھکرا دیا کہ تفسیر میں مودودی ؒ صاحب پر تنقید کی جائے تو طباعت کے مصارف ہم اٹھائیں گے۔ جماعت اسلامی حلقہ آندھرا پردیش کا وفد یہ تجویز لے کر آیا کہ اپنی تفسیر سے مولانا مودودیؒ پر تنقیدیں نکال دیں تو وہ اس کی اشاعت میں تعاون کریں گے، اس وفد کو بھی لوٹا دیا، مگر عدل وانصاف، امانت ودیانت اور علمی وقاروغیر ت پر آنچ نہ آنے دی۔ مدارس کے ارباب اہتمام سے بھی اکثر تصادم ہوجاتا۔ وہ چاہتے کہ آپ ٹھیک تقلیدی مزاج کے ساتھ ہی کام کریں، لیکن علامہ شان قلندری وبے نیازی کے ساتھ بڑے بڑوں کو خاطر میں نہیں لاتے، نہ مرعوب ہوتے نہ اپنی کسی رائے سے دست بردار ہوتے۔ معاصرین میں یہ شان بے نیازی ان کا امتیاز تھی۔
تزکیہ و احسان
علامہ میرٹھیؒ کے اساتذہ وشیوخ میں بیعت واردات کی مستحکم روایت ہے، لیکن تحقیقی ذہن، شخصیت پرستی سے نفور اور قرآن سے شغف، یہ ان کی شخصیت کے عناصر ترکیبی تھے، اس لیے جہاں تک راقم کو معلوم ہے، وہ کسی حلقہ ارادت سے وابستہ سکہ بند صوفی نہ تھے۔ البتہ ان کے جن احوال ومقامات کا مشاہدہ ۲۰ سالوں سے ہوتا رہا ہے، ان کو سامنے رکھ کر بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ ذات نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عشق، تقویٰ وپرہیز گاری، انابت اور رجوع الی اللہ کی جو کیفیت ان کو حاصل تھی، وہ موجودہ دور کے مروجہ حلقائے طریقت ومشیخت کے لوگوں کو شایدنصیب ہوتی ہو۔
تزکیہ وسلوک ’’ہو ہو‘‘ کرنے یا الااللہ کی بے روح ضربیں لگانے، بزرگوں کے عرس اور ان کے مزاروں پر چلہ کشی کا نام نہیں، وہ تو دراصل عرفان ذات، جذبہ وشوق اور خدا کے لیے جذبات محبت سے عبارت ہے۔ اس کے لیے جذبہ شکر اور والہانہ عقیدت سے ہی سلوک کا جوہر تیار ہوتاہے۔ محبت کا اعلیٰ درجہ وہ ہے جو بندہ کو اپنے خالق ومالک اور پالن ہار سے ہوتی ہے اور اس محبت کے بغیر تو ایمان بھی معتبر نہیں۔ کسی شخص کے ظاہری احوال اور کاموں کو دیکھ کر اگر اس کے باطن کے بارے میں رائے قائم کرنا درست ہو تو مبالغہ کہا جاسکتاہے کہ حب مال، حب جاہ اور تنگ دلی سے ان کے قلب کو صاف کردیاگیا تھا اور وہ ان شاء اللہ ومن یوق شح نفسہ فاولئک ہم المفلحوں (جو لوگ نفس کی تنگی سے بچا دیے گئے، وہی کامیاب ہیں۔تغابن:۱۶) کے خاص مصداقوں میں سے ہوں گے۔ ان کے چہرہ سے پاکیزگی جھلکتی اور پیشانی سے نور کی بارش ہوتی تھی۔
حادثہ وفات
ڈیڑھ سال قبل نماز کو جاتے ہوئے راستہ میں گرگئے تھے۔ دوچار دن تو کچھ معلوم نہ ہوا، پھر دائیں ٹانگ میں درد محسوس ہوا جو بڑھتا ہی چلا گیا۔ جانچ کرانے پر معلوم ہوا کہ معمولی سا فریکچر ہے۔ علاج ہوا لیکن فائدہ نہ ہوا تو ڈاکٹروں نے آپریشن تجویز کیا۔ آپریشن ہوا۔ اس کے بعد توقع تھی کہ ٹانگ ٹھیک ہوجائے گی، لیکن آپریشن سے بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑا اور ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ والامعاملہ ہوگیا ۔ اس بیماری میں تقریباً چودہ مہینے بستر پر رہے۔ حوائج ضروریہ بھی بستر پر کرائے جارہے تھے۔ اس کے باوجودلکھنے پڑھنے کا کام جاری تھا۔ قرآن کریم کی تلاوت وتدبر کے معمول میں کوئی کمی نہیں آئی۔
۴؍جنوری ۲۰۰۵ء کو یکایک ایک حادثہ پیش آیا کہ آپ کے دوسر ے صاحبزادے (میرے برادر مکرم) جناب مولانا انظارالحقؒ صاحب (بانی مدرسہ ازہر العلوم رادھنہ) اچانک علی الصباح حرکت قلب بند ہوجانے سے وفات پاگئے۔ انہوں نے عمر عزیز کی صرف ۴۲ بہاریں دیکھیں۔ یہ تمام اولاد میں آپ کو سب سے زیادہ عزیز تھے۔ شروع سے آخر تک تعلیم بھی آپ نے ہی دی تھی۔ اس حادثہ فاجعہ نے زیادہ صدمہ پہنچایا۔ عید کے دوسرے دن طبیعت ناساز ہوئی تھی۔ قرآن پڑھواکر سنا، افاقہ ہوگیا۔ تیسرے دن بھی طبیعت خراب ہوگئی۔ پھر سورہ یس پڑھوا کر سنی، طبیعت بحال ہوگئی۔ ۲۴؍جنوی کو اچھی دھو پ نکلی تھی۔ سارے دن دھوپ میں بیٹھے ہشاش بشاش تھے۔ ’’قرآن کی حجتیں‘‘ پڑھوا کر سنی۔ پھر لکھنے میں مشغول ہوگئے۔ دوپہر میں مجھے طلب کرکے اپنے مسودات دکھائے۔ اپنا ذخیرۂ کتب، صحاح اور ان کی شرحیں، تفسیر مفتاح القرآن اور تحفۃ القاری شرح صحیح بخاری کے مسودے خود اٹھ کر اور الماریوں کے پاس جا جا کر دیکھے۔ کون کہہ سکتا تھا کہ یہ ان کی آخری زیارت ہے۔ یہ کتابیں ہی کل زندگی کا سرمایہ تھیں۔ مغرب کے بعد لوگ ملاقات کے لیے آتے رہے، عشا کی نماز پڑھ کر روز مرہ کے اور ادووظائف پڑھے۔ پھر کچھ دیر کے لیے سوگئے اور اچھی نیند سوئے۔ تقریباً ساڑھے بارہ بجے آنکھ کھلی تو وضوکرکے تلاوت قرآن شروع کی اور ایک گھنٹہ تک کرتے رہے۔ پھر بڑے بھائی سے مدرسہ ازہرالعلوم کے بارے میں باتیں کیں ۔ دو بجے سے بعد تکلیف شروع ہوئی۔ دوا وغیرہ لی۔ مقامی ڈاکٹر کو بلایاگیا۔ اس نے انجیکشن لگائے۔ اس کے بس دو تین منٹ بعد ہی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ پورے قصبہ میں صف ماتم بچھ گئی۔ آفتاب علم غروب ہوا، وقت کا امام الحدیث چلا گیا۔
جا چکی خاموش ہو کر شمع ہوئے آسماں
عالم بالا میں پایا ہے سراغ آرزو
(ازہرؔ )
متعدد علمی مجلات اور تحقیقی رسالوں نے آپ کی وفات پر تعزیتی نوٹ اور شذرے شائع کیے جن میں البعث الاسلامی ندوۃالعلماء لکھنؤ، الرشاداعظم گڑھ، ماہنامہ ترجمان جدید دارالعلوم (دہلی) اور اردوبک ریویو خاص ہیں۔
میری علمی و مطالعاتی زندگی
پروفیسر عبد القدیر سلیم سے انٹرویو
پروفیسر عبد القدیر سلیم
انٹرویو نگار : عرفان احمد
انٹرویو: عرفان احمد/ عبدالرؤف
اللہ کے فضل وکرم سے میری پیدائش ایک دین دار،علمی گھرانے میں ہوئی۔والد محمد سلیم عبد اللہ ؒروایتی دین دار یا مولوی نہیں تھے۔ ان کاتعلق غازی پورسے تھا اوروہ میرے دادامرحوم کے ساتھ وہاں سے ہجرت کرکے غیر منقسم ہندوستان کے صوبے سی پی (Central province) کے شہرامراؤتی میں بس گئے تھے۔ یہاں اکثریت ہندؤوں کی تھی، مسلمانوں کی آبادی ۴فی صد کے لگ بھگ تھی۔ہندوستان کی زبان مراٹھی تھی،لیکن مسلمان جنوبی ہند/حیدرآباد دکن جیسی اُردو بولتے تھے۔تاہم ہمارے گھرانے پریوپی کی اُردو ہی کے اثرات رہے اور ہماری مقامی اُردو سے کچھ مختلف رہی۔ میرے ننھیال کے بزرگ قاضی تھے اوردہلی سے یہاں آکربس گئے تھے۔
میرے والد رحمتہ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم امراؤتی ہی میں حاصل کی،پھرانہوں نے مولوی محمدشفیع مرحوم (اورینٹل کالج لاہور) سے خط وکتابت کی اوراُنہیں اس کالج میں داخلہ مل گیا۔ مولوی محمدشفیع صاحب نے کہا کہ سی پی سے آکر یہاں داخلہ لینے والے آپ پہلے طالب علم ہیں۔ وہاں اُنہیں ہاسٹل میں بھی داخلہ دیادیاگیا۔وہاں سے والدصاحب نے فارسی میں فاضل کی سندلی۔ امراؤتی میں انہیں نارمل سکول (ٹیچرز ٹریننگ سکول)میں مُعلم ادبیات کی حیثیت سے ملازمت مل گئی۔ انہوں نے اُردو کی درسی کتابیں (’’نئی کتاب‘‘) لکھیں جونول کشور پریس لکھنو سے شائع ہوئیں۔ان کے علاوہ ’’اُردو کیسے پڑھائیں؟‘‘ اور مختلف موضوعات پرمنتخب قرآنی آیات کامجموعہ البینات شائع کیا۔ وہ اپنے ادارے کے تعلیمی مُجلے ’’بہارستان‘‘ کے مدیربھی تھے۔ یہاں انہوں نے ’’ادارہ قرآنیہ‘‘بھی قائم کیاتھا جوقرآنی احکام وآیات سے متعلق ذکریٰ کے عنوان سے چھوٹے چھوٹے رسائل بھی شائع کرتاتھا۔اس ادارے کاایک کتب خانہ بھی تھا۔
مطالعہ کاشوق مجھے والدین سے ورثہ میں ملا تھا۔ والدصاحب جن جرائد کودیکھتے تھے، اُن میں جامعہ (دہلی)، معارف (اعظم گڑھ)، ترجمان القرآن (حیدرآباددکن /لاہور)، ہمایوں (لاہور)، اورینٹل کالج میگزین (لاہور)، نگار (لکھنو) اور صدق/صدق جدید شامل تھے۔ والدہ صاحبہ اوربڑی بہن کے لیے’’عصمت‘‘، ’’تہذیب نسواں‘‘ آتے تھے۔ راشد الخیری، مولوی ڈپٹی نذیر احمد اور خواجہ حسن نظامی کی تحریروں سے میرا تعارف لڑکپن ہی میں ہوگیا تھا۔ اپنی خالہ جان سے ’’عذرا‘‘(She) اور’’عذراکی واپسی‘‘ کی داستانیں کئی دن قسطوں میں سنیں۔ نہ صرف گھرکا ماحول مطالعے میں ممدومعاون تھا،بلکہ جن مدارس میں، میں نے تعلیم پائی،وہاں بھی اچھے کتب خانے دیکھے۔نارمل سکول کی لائبریری سے منسلک میرے والد مرحوم کاکمرہ تھا۔وہاں کتابیں دیکھنے کھولنے اوراُلٹ پلٹ کرنے پرکوئی پابندی نہ تھی۔ گھرمیں بھی والد مرحوم کی اچھی خاصی نجی لائبیریری تھی۔تقسیم کے بعدہم اس ذخیرے کاایک مختصر ساحصہ ہی ساتھ لا سکے۔ باقی کتابیں جہاں رکھوائی گئی تھیں کہ حالات بہترہوں گے تومنگوالیں گے۔ فسادیوں کی لُوٹ مارمیں ضائع ہو گئیں۔
مطالعہ کاشوق چوں کہ بچپن سے تھا،اس لیے کسی خاص موضوع کوہدف بناکرنہیں پڑھا۔ جو کتاب سامنے آئی، اُلٹ پُلٹ کردیکھی اورجہاں تک دلچسپی ہوئی، مزہ آیا، پڑھنے لگے ورنہ رکھ دی۔’’تذکرہ غوثیہ‘‘سے لے کر’’الف لیلہ‘‘ تک لڑکپن ہی میں پڑھ ڈالیں(والدہ صاحبہ نے میرے ہاتھ میں ’’الف لیلہ ولیلہ‘‘دیکھی توکہا، کہاں سے یہ واہیات کتاب لے آئے ہو؟ابامرحوم نے کہا، پڑھنے دو۔
مطالعہ کے ضمن میں میراکوئی مخصوص موضوع نہ تھا۔تاریخ وسوانح سے لے کر دینیات ،سیاسیات،ادب(تنقید) شاعری،ناول،افسانے،غرض ہرطرح کارطب ویابس پڑھنے کی کوشش کی کچھ سمجھ میں آتا تھا اورکچھ نہیں۔شایدیہی وجہ ہے کہ پہلے ایم۔اے کے لیے میں نے ایک بہت ہی معمولی مضمون کے لیے’’تخصیص‘‘کی، فلسفہ جومابعد الطبعیات کے علاوہ اورکون سے علوم ہیں،جنہیں پھلانگنے کی کوشش نہیں کرتا؟
(Philosopher are the spectators of all time and all existence)
ایک طویل علالت کی وجہ ’’اُردو ہائی سکول‘‘امراؤتی میں آٹھویں جماعت ہی سے میرا رسمی تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا تھا، لیکن پڑھائی کاسلسلہ نہ رُکا۔قرآن مجید توگھرپرمولوی صاحب آکرپڑھاجاتے تھے ،والدصاحب نے قرآن مجیدکاترجمہ پڑھایا۔اُ ن کاخیال تھاکہ اُردو جاننے والوں کے لیے قرآنی عربی کوسمجھ لینا زیادہ مشکل نہیں۔ عربی زبان کے بہت سے الفاظ جوقرآن مجید میں ہیں، اُسی مفہوم یاملتے جلتے مفہوم میں اُردو میں بھی مستعمل ہیں (حمد، اللہ، رب، عالم/عالمین ایسے سینکڑوں الفاظ)۔ تھوڑے ہی الفاظ ایسے ہیں جن سے اُردو داں قطعاً ناآشنا ہوں گے۔ عربی کے تھوڑے سے قواعد زبان سے آشناکرکے کسی طالب قرآن کوآسانی سے مضامین ومفاہیم قرآن تک لے جایا جا سکتا ہے۔ اس طرح انہوں نے نہ صرف مجھے بلکہ بہت سے شائقین کوقرآن کریم کی تعلیم دی اور اسی اُصول پر ’’مصباح القرآن‘‘ مرتب کی جوزیرطبع ہے۔ یہ نہ صرف ایک منفرد قرآنی لُغت ہے،بلکہ قرآنی/عربی گرامرکی ایک ایسی کتاب ہے جس سے استفادہ کرکے اُردو دان قرآن کے مطالب تک خودآسانی سے پہنچ سکتے ہیں، یعنی قرآن کاخود ترجمہ سمجھ اور کرسکتے ہیں۔
تقسیم ملک کے کچھ عرصے بعدہمیں’’آزاد‘‘ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آناپڑا۔والد صاحب نے وقت سے پہلے ہی پنشن لے لی تھی۔یہاں ہم اپنے عزیزوں کے ساتھ ایک فلیٹ میں منتقل ہوگئے۔والد صاحب نے کراچی کے’’دہلی پنجاب نیشنل ہائی سکول‘‘ میں میٹرک میں داخل کرادیا۔یہ ایک نجی تعلیمی ادارہ تھا۔مالکان جوپڑھے لکھے اور ہمدرد استاد بھی تھے، دہلی سے تعلق رکھتے تھے اورپنجاب میں میٹرک کے طلبہ کوتیارکرتے تھے۔طلبہ پر اساتذہ کی شفقت ومحنت مثالی تھی۔ سکول میں طلبہ کی نشست فرشی تھی۔دریاں صاف ستھری ہوتی تھیں۔اُوپرٹین کی چھت تھی۔سکول میرے گھرسے کوئی ۵میل دُور ہوگا۔پیدل جاتے تھے اورراستے میں جیومیٹری کی تھیوریز دُہراتے اوردوسرے سبق یادکرتے جاتے تھے۔ آج دیکھتا ہوں کہ بچے ایک آدھ کلومیٹرکے لیے بھی بس کے بغیرسفرنہیں کرتے۔
جتنی محنت اوریکسوئی سے پڑھائی کی، شایدپھرنصیب نہ ہوئی۔ لاہورجاکرامتحان دیا۔سکول مالکان ساتھ گئے، انہوں نے طلبہ کے ٹھہرنے کے لیے ایک سکول میں انتظام کیاتھا۔ رات کووہ’’کوچنگ‘‘کرتے اورصبح کوہم طلبہ امتحان دینے جاتے۔ میٹرک میں میری فرسٹ ڈویژن آئی۔اس میں بڑا دخل مشفق اساتذہ اورسکول کے منتظمین کاتھا۔آج چاروں طرف نظرڈالتا ہوں توایسے نجی تعلیمی ادارے نظرنہیں آتے۔سرکاری سکول بدنام ہوگئے ہیں کہ ان میں پڑھائی نہیں ہوتی، اساتذہ دلچسپی نہیں لیتے۔اُنہیں اپنی کوچنگ/ٹیوشن میں زیادہ دلچسپی ہے یااپنا کوئی دوسرا کاروبار ہے جو ان کے اوقات اورمحنت کا بہتر مصرف ہے۔ ہرطرف پرائیویٹ سکولوں اورکوچنگ سینٹروں کی بھرمارہے۔اچھے اور معیاری سکول غریب توکیامتوسط طبقے کی پہنچ سے بھی دورہیں۔
میٹرک کے بعدسندھ مسلم کالج کراچی میں داخلہ لیا۔ معاشیات،شہریت اورعربی میرے مضمون تھے۔یہاں بھی اساتذہ اچھے اورمحنتی تھے۔ میٹرک اورانٹرمیڈیٹ کے امتحان بھی جامعہ کراچی لیا کرتی تھی،ابھی ان کے لیے بورڈ وجودمیں نہیں آئے تھے۔ انٹرمیں بھی میں نے فرسٹ ڈویژن میں کیا اورپہلی پوزیشن لی۔اس زمانے کاایک واقعہ میرے دل پرنقش ہے۔ ہماری مالی حالت بہت اچھی نہ تھی۔ سال کی ۱۴۴؍ روپے فیس بھی ایک بڑی رقم محسوس ہوتی تھی۔ کالج میں داخلے کے کچھ دن بعدنوٹس بورڈ پراطلاع دیکھی کہ فیس کی معافی یانصف فیس کے لیے درخواست کے فارم دفترسے لیے جاسکتے ہیں۔میں نے ایسافارم لیا، اسے پرکیا۔ایک جگہ والد کے دستخط ہونے تھے۔ابامرحوم کے پاس لے گیا۔ پوچھا، کاہے کافارم ہے؟میں نے کہا، فیس کی معافی کے لیے درخواست ہے۔فرمایا، ہم نے تمہیں کالج میں داخل کرایا تواخراجات کااندازہ کر لیا تھا۔ ہم فیس معاف نہیں کروائیں گے۔ یہ رقم کسی حقیقی مستحق کے کام آئے گی۔
بی۔اے میں میرے اختیاری مضامین معاشیات اور فلسفہ تھے۔فلسفہ میں ایک پرچہ’’نفسیات‘‘کابھی ہوتا تھا جسے پروفیسر فضل الرحمن پڑھاتے تھے۔ وہ عرصے تک انگلستان میں رہے تھے اورسنہرے بالوں اورنیلی آنکھوں سے یورپین معلوم ہوتے تھے۔ سائیکل پرکالج آتے۔اس زمانے میں اساتذہ بسوں اورسائیکلوں ہی پرکالج آتے تھے۔دوسراپرچہ ’’اخلاقیات‘‘ پروفیسر جمیلہ خاتون پڑھاتی تھیں۔بعدمیں انہوں نے اقبال پرتحقیقی مقالہ لکھا اورپی ۔ایچ ۔ڈی کی سندلی۔ اسلامیات جولازمی مضمون تھا، مولانا یحییٰ ندوی جیسے قابل استادپڑھاتے تھے۔ یہیں میری ملاقات اوردوستی ظفراسحق انصاری، منظور احمد، خورشید احمد، خرم جاہ مراد، محمد مسلم سجاد، سیدمحمد یاسین اوربہت سے دوستوں سے ہوئی۔ ظفراسحق کے والدصاحب،مولاناظفراحمدانصاری کے ہاں اکثرآناجانارہتا تھا۔وہیں ماہرالقادری مرحوم اوربہت سے دوسرے لوگوں سے تعارف ہوا۔سندھ مسلم کالج ہمارے گھرسے کوئی ڈھائی میل دورتھا۔پیدل ہی آناجانا رہتا تھا۔
جامعہ کراچی میں ایم۔اے شعبہ فلسفہ میں داخلہ لیا۔ ڈاکٹر محمد محمود احمد (ایم۔ایم۔احمد) صدر شعبہ تھے۔ اساتذہ میں طیب حسین انصاری اورانیس احمدصاحب کے علاوہ مولانا فضل الرحمن (اسلامک مشن) اورفادر ریمنڈ (سینٹ پیڑکس، نفسیات) سے پڑھنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔جامعہ کراچی کی اپنی کوئی عمارت نہیں تھی۔پرنس اسٹریٹ (ڈاؤ میڈیکل کالج/سول ہسپتال) کے قریب رنچھوڑ لین کی کچھ متروکہ عمارتوں میں جامعہ کے مختلف شعبے اور دفاتر تھے۔ وائس چانسلر اے۔بی۔اے۔حلیم (اباحلیم) بھی یہیں بیٹھتے تھے۔ اساتذہ اورانتظامیہ کے افراد میں بڑی سادگی تھی۔ ہمارے صدر شعبہ تانگے/گھوڑاگاڑی میں کینٹ اسٹیشن کے قریب اپنی رہائش گاہ سے جامعہ آتے اوراسی طرح واپسی ہوتی۔ اکثرشیروانی اور ترکی/رومی ٹوپی میں ہوتے۔ کبھی کبھی سوٹ یاآکسفورڈ کا بلیزر بھی پہن کرآتے۔وہ وائس چانسلر پروفیسراے بی حلیم کے بھانجے تھے اوردونوں ایک ہی متروکہ (دو منزلہ) عمارت میں رہائش پذیرتھے۔لیکچرر بننے کے بعد بھی اکثرڈاکٹرصاحب کے گھر جانا ہوتا تھا۔ گاندھی گارڈن کے قریب جہاں ہمارا فلیٹ تھا، وہاں سے پیدل ہی آمدورفت ہوتی تھی۔ ناظم آبادمنتقل ہوگئے توصدرتک بس میں اوروہاں سے پیدل اپنے استاد کے گھرجاتے تھے۔
ایم۔اے کرنے کے فوراً بعدہی مجھے عثمانیہ کالج میں فلسفہ پڑھانے کے لیے ملازمت مل گئی۔ ایک دن والدہ صاحبہ نے اخبارمیں اشتہاردیکھا توکہا، سرکاری کالج میں لیکچرر شپ کے لیے درخواست کیوں نہیں دے دیتے؟میں سندھ کی نظامت تعلیم (سعید منزل، بندروڈ) گیا۔ ڈائریکٹر نظامانی صاحب سے ملا،اللہ انہیں جنت نصیب کریں۔بڑی محبت سے ملے اورجلدہی مجھے تقرری کا خط مل گیا۔اس زمانے میں ’’رسمیات‘‘ نہ ہونے کے برابر تھیں۔ اس طرح گورنمنٹ کالج نواب شاہ میں میری پہلی (سرکاری) تقرری ہوئی۔ اس کے بعدسندھ کے کئی کالجوں میں تدریس کے لیے جانا ہوا۔ میرامشاہدہ تھا کہ سندھ کے سرکاری کالجوں کے کتب خانے بڑے معیاری ہوتے تھے۔ نہ صرف کتابیں بلکہ ملکی اور غیرملکی جرائدکی خریداری عام بات تھی۔ کتب خانوں کے لیے بڑی رقوم رکھی جاتی تھیں اورانگریزی اوراُردوکتابوں کی خریداری کوئی مسئلہ نہیں تھی۔ بدقسمتی سے یہ بات اب ماضی کی داستان ہے۔
اللہ کافضل وکرم ہی ہے کہ میرابچپن لڑکپن اورموجودہ عمرکوکتابوں کا ماحول میں میسر ہوا۔لڑکپن میں عرب شاعرمتنبی کا ایک شعر پڑھا تھا کہ دنیا میں نشست کے لیے برق رفتار گھوڑے کی پیٹھ سے بہترکوئی جگہ نہیں اورزمانے میں بہترین دوست کتاب ہے۔ مختلف ادوار میں میری پسندیدہ کتابوں میں الف لیلہ، قصرصحرا (عظیم بیگ)، صنوبرکے سائے، میری ناتمام محبت (حجاب امتیازعلی)، فسانہ آزاد (رتن ناتھ سرشار)، واردات، دودھ کی قیمت (منشی پریم چند)، میرے بھی صنم خانے، آگ کادریا (قرۃ العین حیدر)، Portait of a lady (ہنری جیمز)، آرتھرکائن ڈائل (شرلاک ہومز والے) کی ساری کتابیں، جیمرمچنر کی اور ابن صفی کی ساری کتابیں،ایم اسلم اورسیم حجازی کے ناول، پطرس بخاری، قدرت اللہ شہاب، مختار مسعود، ممتاز مفتی، اشفاق احمد کی کہانیاں نوجوانی میں پڑھیں۔ انگریزی میں رسائل میں Reader's Digest اور پھر بعد میں New week میرے پسندیدہ رسائل تھے۔ بعد میں Economist سے تعارف ہواورمیرا خیال ہے کہ ہفت روزوں میں یہ بہت اچھا رسالہ ہے۔
میرا زیادہ ترمطالعہ اُردواورانگریزی زبانوں میں ہے۔ابتدامیں کچھ کلاسیکی عربی ادب سے شناسائی ضرورتھی۔اس کے علاوہ فارسی کی بھی کچھ ابتدائی کتابوں کا مطالعہ کیاتھا۔میراخیال ہے کہ اچھی اُردوکے لیے عربی اورفارسی سے آشنائی بھی ضروری ہے۔بدقسمتی سے آج تعلیم کی شاہراہ (Mainstream) ہیں۔ میں ان دونوں زبانوں سے بے اعتنائی برتی جارہی ہے،لیکن وہ معیاری/علمی اُردو سے نابلدہوگئے ہیں،اور نہ صرف یہ کہ وہ پچھلی (بیسویں) صدی کے اُردوعلمی ورثے سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔بلکہ سنجیدہ علمی افکارکواپنی’’قومی‘‘سرکاری زبان میں اظہارکے قابل بھی ہیں رہے۔
سنجیدہ ادب میں جن مصنفین اورتحریروں نے مجھے متاثرکیا،ان میں شیخ احمدسرہندی(مکتوبات اوردوسرے رسائل) شاہ ولی اللہ کی بعض تحریریں، مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی،مولانا ابوالکلام آزاد،مولانا عبدالماجد دریابادی، مولانا جعفرپھلواری، مولوی محمدعلی لاہوری(خصوصاً سیرۃ پر اُن کی تصنیف)۔ اُن کی تفسیرکے بعض افکارسے مجھے اختلاف ہے جہاں وہ سیداورجدیدیت سے متاثر محسوس ہوتے ہیں۔ ڈاکٹرحمیداﷲ(خصوصاً عہدنبوی میں نظام حکمرانی اور خطبات بہاولپور)، شبلی اورسیدسلیمان ندوی کی سیرت النبی۔تفاسیرمیں مولانا سیدابواعلیٰ مودودی کاایک منفردمقام ہے۔ ان کی تفہیم القرآن بلاشبہ تفسیری ادب میں ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔تاہم ایک طویل دورانیے میں تکمیل پذیر ہونے کی وجہ سے بعض مقامات پروہ اپنی ابتدائی انقلابی فکرسے ہٹے ہوئے نظرآتے ہیں۔
مطالعہ فلسفہ کے ابتدائی دورمیں، میں اقبال کے خطبات سے بھی متاثرتھا، لیکن بعدمیں زیادہ مطالعہ سے اُن کی ’’نثری فکر‘‘ کی کمزوریاں بھی نظرآئیں، خصوصاً اُن کے بعض اجتہادات جن کو آج اقبال کی اصل اسلامی فکراوراُن کی ’’روشن خیالی‘‘ کے ثبوت کے طورپرپیش کیاجاتا ہے جب کہ ’’جدیدترکی‘‘ کی جمہوریت سے اُن کی اثرپذیری کوبعض لوگ مرعوبیت کانام بھی دے سکتے ہیں، جب کہ یہ اُن کی حقیقی فکرنہ تھی۔ اپنے شعر میں توعلامہ نصیحت فرماتے ہیں:
گریز از طرز جمہوری غلامے پختہ کارے شو
کہ از مغز دو صد خر فکر انسانے نمی آید
اس طرح اوربھی کئی باتیں ہیں۔ اور مسائل پراُن کے اجتہاد نیم پختہ ہی محسوس ہوتے ہیں، تاہم شعرمیں اُن کی فکراکثر’’الہامی‘‘محسوس ہوتی ہے اور خیال ہوتا ہے کہ ’’آفاقی دانش‘‘ جو ایک ماورائی تصور ہے، اپنے اظہارکے لیے کسی کواپنا ذریعہ (medium) بنا لیتی ہے، چاہے وہ شخص اپنی عمومی ذہانت اورزندگی میں اُس معیار، افتاد اور کردار کا نہ ہو جیساکہ وہ اپنے کلام میں نظرآتاہے۔ بقول غالب:
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب! صریرخانہ نوائے سروش ہے
لڑکپن میں دیوان حماسہ، متنبی اورمقامات بدیع الزمان ہمدانی اوراسی طرح کے عربی ادب کے کچھ حصے پڑھے تھے۔ فارسی میں گلستاں بوستاں اورکچھ غالب کا کلام(فارسی) پڑھا۔ وہ کتابیں جوعموماًمیرے بسترہوتی ہیں، کلیات اقبال اور دیوان غالب ہیں۔ ہندوستان میں جہاں ہمارے لیے کتابیں آسانی سے دست یاب نہ تھیں، والدصاحب نے اقبال کی ’’اسرارخودی‘‘ کی اچھے کاغذ کی ایک مجلد کاپی مجھے دی اورفرمایاکہ اس کتاب کونقل کرلو (فوٹوکاپی اس زمانے میں نہیں ہوتی تھی)۔ کچھ صفحات ابانے لکھے اوربیشترمیں نے، اس طرح اقبال کے فارسی کلام کی کچھ شدبد لڑکپن ہی میں ہو گئی تھی۔ ’’اسرار خودی‘‘ کاوالدصاحب نے اُردومیں ترجمہ کیا تھا۔ یہ اور’’رموزِخودی‘‘دونوں مجھے بے حدپسند ہیں۔ اقبال کی نظموں میں ’’شکوہ‘‘ اور جواب شکوہ‘‘، ’’مسجد قرطبہ‘‘ اور ’’سوزوساز‘‘، ’’طلوع اسلام‘‘ پسند ہیں۔ میرے خیال میں فکروفن کویکجا کر کے دیکھا جائے تو محمد اقبال دنیاکے سب سے بڑے شاعر ہیں، کم ازکم اُردو اور انگریزی شاعری میں جس کا کچھ میں نے مطالعہ کیا ہے۔ غالب، ذوق، داغ اور میرکی کچھ غزلیں (کلیات میرکودیکھ کر مایوسی ہوئی) اور نئے شعرا میں فیض احمد فیض (جوش کے ہاں الفاظ کا شکوہ اورجادو زیادہ ہے)۔ انگریزی شاعری عموماً پھیکی اورطفلانہ محسوس ہوتی ہے۔ شیکسپےئرکے کئی ڈرامے پڑھے، لیکن اس کاجولیس سیریز مجھے اچھالگا۔
حالی کی مسدس مدوجزراسلام، اس کاکافی حصہ بچپن میں زبانی یادتھا۔خصوصا یہ نعتیہ اشعار
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی برلانے والا
میرے خیال میں اُردو کی بہترین نعتیہ شاعری میں شمارکیے جانے کے لائق ہیں۔
اپنے فکری تضادات کا مجھے اعتراف ہے۔ ایک طرف توروایتی علما میں مولانا اشرف علی تھانوی، (ان کی’’ بہشتی زیور‘‘ ہمارے ہاں جہیز میں ضرور دی جاتی تھی اور میراخیال تھاکہ اس طرح کی کوئی کتاب یا اس کا کوئی نظرثانی شدہ/ترمیم شدہ ایڈیشن اب بھی اس مقصدکے لیے کارآمد ہوگا) پسند تھے اور دوسری طرف سرسید، ابوالکلام آزاد،مولانا مودودی، شبلی نعمانی، سیدسلیمان ندوی، گاندھی جی (تلاش حق)، علی شریعتی (On the Sociology of Islam, Hagerism) کارل مارکس، میکس ویبرجیسے مفکراور مصنف۔
مفکرین میں مجھے سقراط/افلاطون اور کانٹ نے متاثر کیا۔سقراط کی زندگی اورتعلیمات (اگراس میں سے افلاطون کے حشو وزوائد نکال دیے جائیں) پیغمبروں کی سی نظرآتی ہے۔کانٹ کے فلسفہ اخلاق کی اسلامی تعلیمات سے کافی مماثلت ہے۔ ان کے علاوہ جارج برکلے کی تصوریت پڑھنے میں مزاآتاتھا،اگرچہ میں نے اس کی’’نتائجیت‘‘کے فلسفے سے کبھی کلی طور پراتفاق نہیں کیا۔کارل مارکس اوراینجلزکے فلسفے کی تمام ترجزئیات سے مجھے اتفاق نہیں، لیکن میں انہیں عظیم (اور مخلص) فلاسفروں میں شمارکرتا ہوں۔میں نے مارکس کی Capital کی پہلی جلد اورکئی دوسری تحریریں پڑھیں اوراُن سے متاثرہوا۔عصری مفکرین میں سی۔ڈبلیو،ملزکی تحریروں میں گہرائی اورسچائی محسوس کی۔کمرہ جماعت میں ایک دفعہ رُشدی کی The Satanic Verses کا ذکر آیا۔ میں نے نہیں پڑھی تھی۔ایک طالبہ نے مجھے پڑھنے کو دی۔ غصہ تو کیا آتا، سچ تویہ ہے کہ یہ کتاب مجھ سے پوری پڑھی ہی نہیں گئی۔نہایت غیردلچسپ اور غیر معقول لگی۔مجھے نہیں معلوم کہ اس کی ایک طرح کی شہرت اور’’پذیرائی‘‘ کیوں ہوئی۔
جوکتابیں اورتحریریں مجھے اچھی لگتی ہیں، میں چاہتاہوں کہ دوسرے بھی انہیں پڑھیں۔ اس کے لیے میں اکثروہ کتابیں، تحریریں اپنے عزیزوں اورحلقہ احباب میں دیتا ہوں یا انہیں متعارف کراتا ہوں۔ اگرتحریرچھوٹی ہو تواس کی تصویریں نقل دے دیتا ہوں۔ کتابیں تحفتاً بھی دیتا رہتا ہوں۔ ایک عرصے سے شادی اورخوشی کے دوسرے مواقع پر میں قرآن مجید (خصوصاً مولانا مودودی کی ’’ترجمانی‘‘ کے ساتھ) ہدیہ کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ اب وہ CDs بھی تحفے میں دیتا ہوں جن میں قرآت قرآن مجیدکے ساتھ ساتھ مولانا کی تفسیر ’’تفہیم‘‘ ہے۔
میری تعلیم کا آغاز تو ہندوستان میں میرے والدمرحوم کی اُردواوراسلامیات کی کتابوں سے ہواتھا جواس وقت وہاں سکولوں میں مروج تھیں۔ میری خوش قسمتی اوراعزازتھاکہ پاکستان میں آکریہاں درسیات کی تدوین اورتالیف میں، میں نے ان کے ساتھ کچھ کام کیا۔حقیقت تویہ ہے کہ میں اُن کی فکراورفہم دین اوراسلوب زندگی سے سب سے زیادہ متاثرہوا۔ شیخ احمدسرہندیؒ سے اُنہی نے مجھے متعارف کرایا تھا اوراُن کی فکرپرکام کرنے کوآمادہ کیاتھا۔اُن کے دوست اورمیرے بزرگ ڈاکٹرغلام مصطفی خاںؒ نے مجھے حضرت مجددکے ’’مکتوبات‘‘کا مشہورامرتسرایڈیشن اوران کی کئی فارسی تحریریں دیں۔ کچھ کتابیں اس سلسلے کے ایک اوربزرگ حاجی محمداعلیٰ نے بھی عنایت کیں۔ میرے دوست خالد اسحق ایڈووکیٹ مرحوم نے مجھے اپنانہایت قیمتی اوربہت منظم کتب خانہ استعمال کرنے کی کھلی اجازت دی تھی اور میرے لیے ایک گوشہ مخصوص کرادیا تھا جہاں میں نے اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے کی نوک پلک درست کی اوراسے تکمیل کو پہنچایا۔ خالد اسحق صاحب میرے خیال میں پاکستان یاشاید آج کی دنیا میں(خدابخش لائبریری) ٹپنہ کے استثنا کے ساتھ، جومیں نے نہیں دیکھی، سب سے بڑی نجی لائبریری رکھتے تھے۔ان کی خواہش تھی کہ یہ کتب خانہ کراچی ہی میں رہے اوریہاں لوگ اس سے مستفید ہوں، مگر ان کی وفات کے بعد(اُن کے قریبی دوست سعیدصاحب کی کوششوں کے علی الرغم) اُن کے بچوں کی مرضی سے کتابوں کایہ قیمتی ذخیرہ لاہورکے ایک تعلیمی ادارے کی تحویل میں چلا گیا۔
میرے پاس کتابوں کاکوئی بڑاذخیرہ تونہیں۔والدمرحوم کی وہ کتابیں ہیں جوہندوستان سے یہاں آسکیں۔چند سومیری کتابیں ہوں گی۔ ان میں شبلی،سیدسلیمان ندوی،مولانا مودودیؒ کی کتابیں،فلسفہ تاریخ اورمتفرق موضوعات پر کتابیں اور جرائد، دائرہ معارف اسلامیہ جیسی کتابیں شامل ہیں، لیکن اب کتابوں کو سنبھالنا مشکل ہوتاجارہاہے۔
میں عاریتاً کتابیں صرف ’’معتبر‘‘لوگوں ہی کو دیتا ہوں۔ تاہم محسوس ہوتاہے کہ میرے علم وایماکے بغیربھی بعض ’’شائقین‘‘ کتابیں لے جاتے ہیں اورواپس نہیں کرتے۔اس کاعلم اُس وقت ہوتا ہے جب اُس کتاب کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ ’’غائب پائی جاتی‘‘ہے۔ میری لکھی ہوئی بعض کتابیں بھی اب میرے پاس نہیں۔ ایک اہم کتاب جس کا اب بدل شاید نہ مل سکے، ’’تفہیم القرآن‘‘ (مولانا مودودی) کے پہلے ایڈیشن کی وہ پہلی جلد ہے جس پرخودمولانامودودیؒ اور پبلشر قمرالدین صاحب کے دستخط تھے۔ ایک صاحب ’’درس‘‘کے لیے گئے اورپھرواپس نہ آئی۔
معالعہ کے لیے کوئی مخصوص اوقات نہیں۔ جب بھی موقع مل جائے اورجو موزوں کتاب دست یاب ہو، پڑھ لیتا ہوں، لیکن رات سونے سے پہلے (بعض اوقات دیر تک)پڑھنے کی عادت ہے۔دن میں پڑھنے کی نشست عموماً میز، کرسی پراوررات میں بھی اس طرح یالیٹ کرمطالعہ کرتاہوں۔
عام تعلیم یافتہ افرادکے لیے میرامشورہ یہ ہے کہ وہ رات میں یادن کے فرائض میں سے جوقت وہ نکال سکیں، مطالعے کی عادت ڈالیں۔اخبارات اورہنگامی،وقتی تحریروں اورٹی وی پرزیادہ وقت صرف نہ کریں،اپنے محلے یا سہولت کے مقام پرکوئی کتب خانہ تلاش کریں جہاں کتابیں عاریتاً مل سکتی ہوں۔پرانی یااپنی کتاب کوتختہ مشق نہ بنائیں۔ اس پرکچھ لکھنے یانشان لگانے سے پرہیزکریں۔میں نے بعض اچھے کتب خانوں کی قیمتی کتابوں کودیکھا ہے کہ ان میں بعض ’’قارئین‘‘نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے۔اپنی قیمتی آرا درج کی ہیں اوربعض ظالموں نے ورق پھاڑ لیے یابلیڈ سے تراش لیے ہیں۔یہ بہت افسوس ناک ہے۔اخبارکابل کم کرکے کچھ رقم کتابوں پرصرف کریں۔ تفریحی ادب میں پہلے ہمارے کلاسیکی ادب کوپڑھنے کی کوشش کریں۔ ساتھ ہی سنجیدہ علمی تحریروں کے لیے بھی وقت نکالیں۔ ادب عالیہ سے غیرمحسوس طورپر ہماری فکری رہ نمائی ہوتی ہے اوربالواسطہ طورپروہ ہمارے اخلاق وعادات پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ہمارے رویوں کی تراش خراش کرتاہے اوراعلیٰ آفاق اقدارتک سہولت کے راستے لے جاتا ہے، جب کہ گھٹیا ’’بازاری ادب‘‘ فکشن، نثر اورشعر غیرمحسوس طریقے سے ہمیں ’’اسفل‘‘کے گڑھوں میں اُتارتاچلاجاتاہے اوراگراُس کی چاٹ پڑجائے توپھراس کے اثرات عام زندگی اوررویوں میں بھی نظرآنے لگتے ہیں۔
ایک عام قاری کے لیے ایک زمانے میں انگریزی میں کلاسیکی ادب (اور دوسری کتابیں) ’’پیپربیک‘‘ میں بہت ارزاں مل جاتی تھیں۔ پاکستان میں بھی بعض اشاعتی اداروں نے یہ سلسلہ شروع کیا تھا، لیکن محسوس ہوتاہے کہ اب ایسا نہیں ہو رہا۔ اچھی کتابوں کے ارزاں ایڈیشن دست یاب ہوں گے توطلبہ اورعام لوگوں تک اُن کی رسائی ہوگی۔ اچھے غیرملکی ادب اورسنجیدہ علمی کتابوں کے تراجم کوبھی فروغ دینا چاہیے۔اس سلسلے میں جاپانی قابل تقلید ہیں۔وہاں کتابیں نہ صرف ارزاں ہیں بلکہ قابل ذکرکتابوں کے تراجم حیرت انگیزسرعت کے ساتھ بازارمیں آجاتے ہیں اوردلچسپی رکھنے والے افرادکوغیرملکی زبانوں سے محرومی کااحساس نہیں ہوتا۔ تقسیم ہند سے پہلے مرحوم حیدرآباددکن کی ریاست میں سرکاری سرپرستی میں جو دارالترجمہ قائم تھا، اس نے اُردو جاننے والوں کی وہ خدمت کی جس کی نظیرنہیں ملتی۔افسوس کہ پاکستان کی قومی زبان قرار دینے کے باوجود ہم اس کاعشرعشیربھی نہ کرسکے۔جامعہ کراچی کے شعبہ تصنیف وتالیف وترجمہ میں بھی زیادہ کام نہیں ہورہا۔یوں محسوس ہوتاہے کہ شعوری(غیرشعوری)طورپرہم اُردو کوختم کررہے ہیں۔ رسم الخط بدل کرانگریزی حروف میں اُردولکھی جارہی ہے۔ درسیات میں اعلیٰ جماعتوں کے لیے اُردو کتابیں دست یاب نہیں۔ انگلش میڈیم سکولوں کافروغ ہے اوراُردوصرف بول چال کی زبان بنتی جارہی ہے۔اچھے تعلیمی اداروں اور جامعات کے بچے اورنوجوان بھی اُردوکی علمی یاشعری زبان کوسمجھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ (یہ لطیفہ نہیں واقعہ ہے کہ ایک مشہوراعلیٰ تعلیمی ادارے کے ذہین اورصاحب ذوق نوجوان کومیں نے ’’بال جبریل ‘‘پڑھنے کے لیے کہا تووہ حیران تھا کہ حضرت جبریل کے’’مُوئے مبارک‘‘ کوایک کتاب کاعنوان کس طرح بنایا جاسکتا ہے؟)
میں کوشش کررہا ہوں کہ سکولوں اورکالجوں کے طلبہ کے لیے آٹھویں جماعت اورآگے کے لیے کچھ ایسی کتابوں کا انتخاب کروں جوہرجماعت میں (لازمی اوراختیاری مضامین کی کتابوں کے علاوہ) اُنہیں مہیاکی جائیں اورانہیں لازماً پڑھائی جائیں۔ اس طرح وہ نہ صرف اُردوزبان کے معیاری ادب سے آشنا ہوں گے، بلکہ اُنہیں اپنی اصل ثقافت، زبان اورتہذیب سے بھی موانست ہوگی۔ بدقسمتی سے آج بیشتراعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم نوجوان اوراساتذہ بھی اُردو اور اُردو ادب سے اتنے ہی واقف ہیں جتنا انہوں نے اپنی درسی کتاب میں پڑھ لیاہے۔اس کے علاوہ انہیں نہیں معلوم کہ ڈپٹی نذیراحمدکون تھے اور مرزا فرحت اللہ بیگ کون۔پنڈت رتن ناتھ سرشارکون تھے اورمیاں آزاداورخوجی صاحب کون ہیں۔ نانی عشوکون تھیں اورمرزا ظاہرداربیگ کون؟اپنے کلاسیکی ادب (اور نتیجتاً ثقافتی ورثے اوراقدار سے کٹ کر جو نئی نسل وجود میں آرہی ہے، اس کے ناخوش گوار اثرات بظاہرتوکچھ ابھی دیکھنے میں آرہے ہیں، لیکن میراخیال ہے کہ آئندہ اس کے بڑے نقصان ہوں گے کہ اس طرح ایسی قوم وجود میں آجائے گی جس کی نہ اپنی زبان ہوگی نہ اپنی ثقافت نہ اپناذخیرۂ اقدارنہ خیروشرکے لیے اپنا کوئی پیمانہ۔
قرآن کریم کے علاوہ تین کتابیں کون سی ہوں گی جومیں اپنے پاس رکھنا چاہوں گا؟یہ بہت مشکل سوال ہے۔ ہزاروں خواہشیں (یہاں کتابیں پڑھیے) ایسی کہ ہرخواہش .......۔ بہرحال میراخیال ہے کہ موطاامام مالک، سیرۃ النبی شبلی اور کلیات اقبال (اُردو وفارسی) ایسی تین کتابیں ہو سکتی ہیں۔ ایک کتاب کی اور اجازت ہو جائے! Dialogues of Plato۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ افلاطون کے بعدبیشترفلسفہ اسی پرتبصرہ وتنقید ہے۔
کھنچیں میر تجھ ہی سے یہ خواریاں
محمد اظہار الحق
(۱)
یہ ریاست ہاے متحدہ امریکہ کے شمال کا ایک شہر تھا جہاں اسے ملازمت ملی۔ ہجرت کر کے آنے کے بعد تارکین وطن کے سامنے یوں بھی امکانات کم ہی ہوتے ہیں۔ جہاں بھی روزگار مل جائے، وہیں سے آغاز کرنا پڑتا ہے۔ چند ہفتوں کے اندر ہی اسے احساس ہو گیا کہ پاکستانیوں کی تعداد وہاں کم ہے، بہت ہی کم۔ اور ان میں سے بھی زیادہ تر وہ قادیانی تھے جو مذہبی بنیادوں پر پناہ (Asylum) لے کر آباد ہوئے تھے۔ اس کے سامنے دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ وہ ان کا مقاطعہ کرے، کسی تقریب میں جائے نہ ان سے میل ملاپ کرے۔ دوسرا یہ کہ وہ ان لوگوں سے ملے اور جہاں، جب بھی موقع ہو، بات چیت کرے۔ اس نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ وہ تقاریب میں جاتا، دعوتوں میں شریک ہوتا اور تفریحی پروگراموں میں شرکت کرتا۔ نماز کا وقت ہوتا تو وہ الگ نماز پڑھتا۔ یوں بھی ہوتا کہ وہ لوگ اپنی نام نہاد جماعت کرانے لگتے تو اسے دوسرے کمرے میں الگ سے جاے نماز خود ہی بچھا دیتے۔
چند ماہ ہی گزرے تھے کہ ایک دن اسے ایک ٹیلی فون آیا۔ دوسری طرف ایک قادیانی نوجوان تھا۔ یہ تقاریب میں اسے ملتا رہتا تھا۔ اس نے اس کے گھر آنے کی اجازت چاہی۔ وقت مقرر کیا گیا۔ وہ نوجوان آیا، کئی گھنٹے گفتگو کرتا رہا۔ جاتے وقت اس نے پاکستان کے دو معروف علما کے ای میل ایڈریس جاننا چاہے اور یہ بھی کہا کہ اس کی اس ملاقات کا ذکر اس کی کمیونٹی کے کسی فرد سے نہ کیا جائے۔
چند ہفتوں کے بعد نوجوان پھر اس کے پاس آیا۔ اب کے نشست طویل تر تھی۔ اس دفعہ اس نے قادیانیت کے بارے میں گفتگو کی۔ اس کے خیالات اپنی کمیونٹی اور اپنے مذہب کے بارے میں ’’غیر روایتی‘‘ تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے پہلی بار یہ موقع میسر آیا ہے کہ ایک پڑھے لکھے اور مذہب کا علم رکھنے والے ایسے شخص سے گفتگو کر سکے جو اس کے مذہب سے تعلق نہیں رکھتا۔ چند ملاقاتیں اور ہوئیں جن میں نوجوان سے کھل کر گفتگو ہوئی۔ آخر کار اس نے خالص دلائل کی بنیاد پر اقرار کیا کہ وہ مرزا غلام احمد کو نبی نہیں تسلیم کرتا۔
یہ ایک سچا واقعہ ہے اور اس کے بیان میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کی گئی۔ اس کے لکھنے کا سبب ماہنامہ ’الشریعہ‘ کا ستمبر ۲۰۱۱ء کا ایشو بنا ہے۔ اس پرچے میں کچھ مضامین اور خطوط ایسے ہیں جنھیں پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ پاکستان میں مذہب کے نام لیوا کس دنیا میں رہ رہے ہیں، ان کے رویے کیسے ہیں اور وہ اختلاف راے کا سامنا کرنے کے بجائے کس قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں!
سچی بات یہ ہے کہ جب پاکستان کی قانون ساز اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا تو اس کے بعد اس سلسلے میں ایک نیا دور شروع ہونا چاہیے تھا۔ یہ دور سختی کا، مار دھاڑ کا، چیخ پکار کا اور لعن طعن کا نہیں، بلکہ ترغیب، تحریص اور تبلیغ کا ہونا چاہیے تھا۔ بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قادیانی پاکستان سے بھاگنے لگ گئے۔ آج وہ پوری دنیا میں پھیل چکے ہیں۔ گھٹن اور خوف کے ماحول کی بنیاد پر انھیں ہر جگہ پناہ (Asylum) مل رہی ہے۔ ان ملکوں میں چونکہ مذہبی آزادی ہے، اس لیے ان کی سرگرمیاں روز افزوں ہیں۔ سرکاری سطح پر فنڈ بھی مل جاتے ہیں، ان کے عبادت خانے بن رہے ہیں، اجتماع ہو رہے ہیں اور وہ پوری آزادی اور یکسوئی سے اپنے عقائد کا پرچار کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ نئے آنے والے ’’پناہ گزینوں‘‘ (Asylum Seekers) کے لیے مدد اور رہنمائی کے مرکز کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔
اقلیت قرار دلوانے کے بعد پاکستان کے ان حلقوں کو جو قادیانیت کا تعاقب کر رہے تھے، اپنا کردار اور انداز بدل لینا چاہیے تھا۔ جو لوگ بیرون ملک رہ رہے ہیں یا رہے ہیں یا انھیں زیادہ سفر کرنے کے مواقع ملے ہیں اور انھوں نے قادیانیوں کے اندر جھانک کر دیکھا ہے، وہ جانتے ہیں کہ قادیانی، بالخصوص ان کی نئی نسل، دو حوالوں سے جراحت پذیر (Vulnerable) اور اثر پذیر (Susceptible) ہے۔ ایک یہ کہ انھیں قادیانی عقائد کی تفصیل نہیں بتائی جاتی۔ اکثریت کو معلوم ہی نہیں کہ مرزا غلام احمد نے اپنے نہ ماننے والوں کو کافر قرار دیا ہے۔ اس بے علمی پر تعجب اس لیے نہیں ہونا چاہیے کہ قادیانی جماعت ایک ایسا بند گروہ (Cult) ہے جس کا باہر کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ آمریت کایہ عالم ہے کہ ’’ارکان‘‘ کی زندگی کے ذاتی پہلو بھی باقاعدہ ’’اوپر‘‘ سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال ورجینیا میں چالیس قادیانیوں کو جماعت سے اس بنا پر خارج کر دیا گیا کہ انھوں نے کسی شادی کی تقریب کے دوران رقص کی محفل میں شرکت کر لی تھی۔ قادیانیوں کی نئی نسل اس حقیقت کو ہضم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ان کے نبی کو نبی نہ ماننے والے کافر ہیں۔ بالخصوص جو قادیانی نوجوان مغربی ملکوں کی آزاد اور انفرادی آزادی سے بھرپور فضا میں سانس لے رہے ہیں، ان کا رویہ اس ضمن میں قادیانیوں کی اس نسل سے بالکل مختلف ہے جو قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لندن میں بیٹھی اس گروہ کی ہیئت مقتدرہ حقائق کو نئی نسل سے چھپانے کی اور نئی نسل کو بے خبر رکھنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ دوسرے یہ کہ قادیانیوں کا خاندانی نظام مربوط اور مضبوط برادری سسٹم پر قائم ہے۔ قادیانیت سے تائب ہونے والے شخص کے لیے، بالخصوص ایک نوجوان شخص کے لیے، اس مضبوط خاندانی نظام اور برادری کے جال سے نکلنا ازحدمشکل ہے۔
ان دونوں پہلووں کو سامنے رکھ کر ضرورت اس بات کی تھی کہ تبلیغ کے حوالے سے ایسی پالیسی بنائی جاتی کہ ایک طرف تو قادیانیوں کی نئی نسل کو اصلیت سے آگاہ کیا جاتا اور انھیں مطلع کیا جاتا کہ ان کے نام نہاد نبی نے مسلمانوں کے لیے کیا کچھ کہا ہے اورکون سی زبان استعمال کی ہے اور دوسری طرف ایسے ادارے بنائے جاتے جو قادیانیت سے تائب ہونے والے لوگوں کو سماجی اور مالی سہارا دیتے اور انھیں برادری کو خیر باد کہنے کا حوصلہ ہوتا۔ یہ سارا مسئلہ جوش سے زیادہ ہوش کا متقاضی تھا۔ قادیانیت کے عقائد غیر منطقی ہیں اور ان کی بنیاد اس قدر کمزور ہے کہ اگر ختم نبوت کے محافظین اور مجاہدین قادیانیوں کی نئی نسل کو قریب لانے کی کوشش کرتے تو یہ گروہ برف کی طرح پگھلنا شروع ہو جاتا، لیکن سختی، شور وغوغا، حکمت اور تدبر کی کمی اور مار دھاڑ نے ایک طرف تو ان کی نئی نسل پر منفی رد عمل طاری کر کے اسے اس بے بنیاد مذہب پر پختہ کر دیا اور دوسری طرف ان پر نوکریوں اور دیگر حقوق کے دروازے بند کر کے ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ یوں کُبّے کو لات لگی اور پاکستان سے باہر کی دنیا میں ان کے وارے نیارے ہو گئے۔ یہ بالکل اسی طرح ہوا جیسے شہر سے باہر، مجرا کرنے والوں کی الگ تھلگ بستی پر صالحین ڈنڈے اور سوٹے لے کر پل پڑیں اور مجرا کرنے والی طوائفیں بھاگ کر محلوں اور گلی کوچوں میں ٹھکانے بنا لیں جہاں انھیں پہچاننا ممکن ہو نہ نکالنا۔
اس ضمن میں اصل مقصدیہ ہونا چاہیے تھاکہ دامے درمے سخنے قادیانیوں کو واپس اسلام کی طرف لایا جائے، لیکن بدقسمتی سے مکمل مقاطعہ کی پالیسی اپنائی گئی۔ سارا زور Non-issues (غیر اہم معاملات) پر دیا گیا۔ مثلاً گزشتہ سال جب لاہور میں قادیانیوں کی عبادت گاہ پر بم کا دھماکہ ہوا جس میں ستر افراد ہلاک ہوئے تو میاں نواز شریف نے ایک سیاسی بیان میں کہا کہ قادیانی ہمارے بھائی ہیں۔ نواز شریف کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا، لیکن اگر انھوں نے سیاست دان ہونے کے حوالے سے کہہ دیا تو یہ ایسا مسئلہ نہیں تھا جس پر ہنگامہ برپا کر کے وقت اور وسائل ضائع کیے جاتے۔ تقسیم سے پہلے جب مسلمان، ہندو اور سکھ اکٹھے رہتے تھے تو بھائی بہن کے الفاظ کا استعمال عام تھا۔ مسلمان بچے ہندو اور سکھ خواتین کو محلوں اور گلیوں میں خالہ کہتے تھے، سہیلیاں بہنیں بنی ہوئی تھیں اور ہندو اور سکھ بابے مسلمان بچوں کو بیٹا کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ کبھی کسی نے نہیں کہا تھاکہ اسلام پر آنچ آ رہی ہے۔
ان سطور کے لکھنے والے کو یقین ہے کہ ہمارے عقاب (Hawks) اس پر شدید گرفت کریں گے اور لکھنے والے کے پرخچے اڑا دیے جائیں گے، لیکن اس کے باجود حقیقت یہی ہے کہ یہ نان ایشوز ہیں۔ان معاملات پر طوفان کھڑا کر کے ہم اسلام کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔
یہاں ایک لطیفہ نما واقعہ یاد آ رہا ہے۔ ہمارے سینئر دوست او رمعروف سفر نامہ نگار جناب مستنصر حسین تارڑ نے بیجنگ کے ایک ریستوران کا حال لکھا کہ ان کے چینی رہنما نے، جو اردو بولنے پر دسترس رکھتا تھا، ایک خاص ڈش کھانے سے منع کیا کہ یہ گدھے کا گوشت ہے۔ تارڑ صاحب نے کہاکہ وہ فلاں فلاں اصحاب تو کھا رہے ہیں۔ اس پرچینی گائیڈ نے جواب دیا کہ ہاں، وہ کھا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ گدھے ہی کا گوشت ہے۔ غیر اہم معاملات کے دفاع میں شور قیامت بھی برپا کر دیا جائے تو پھر بھی وہ غیر اہم ہی رہیں گے۔
اس پس منظر میں الشریعہ کے مدیر محمد عمار خان ناصر کی وہ سطور دیکھیے جن پر الشریعہ کے ستمبر کے شمارے میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے:
’’قادیانی قیادت اور ان کے تاویلاتی جال میں پھنس جانے والے عام سادہ لوح مسلمانوں کے مابین جو فرق حکمت دین کی رو سے ملحوظ رکھا جانا ضروری تھا، وہ نہیں رکھا گیا اور عام لوگوں کو ہمدردی اور خیر خواہی سے راہ راست پر واپس لانے کے داعیانہ جذبے پر نفرت اور مخاصمت کے جذبات نے زیادہ غلبہ پا لیا۔ میرے نزدیک قادیانی گروہ کو قانونی طور پر مسلمانوں سے الگ ایک غیر مسلم گروہ قرار دے دیے جانے سے امت مسلمہ کے تشخص اور اس کی اعتقادی حدود کی حفاظت کا مقصد پورا ہو جاتا ہے اور اس کے بعد مسلمانوں کے علما اور داعیوں کی محنت اور جدوجہد کا ہدف اصلاً یہ ہونا چاہیے کہ وہ دعوت کے ذریعے سے ان عام قادیانیوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کریں جن کے حوالے سے قادیانی قیادت کا مفاد بھی یہی ہے کہ وہ مسلمانوں سے الگ تھلگ اور اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ناواقف رہیں اور معلوم نہیں کن ضرورتوں یا مجبوریوں کے تحت ہماری مذہبی قیادت بھی انھیں مسلمانوں سے دور ہی رکھنے کو اپنی ساری جدوجہد کا ہدف بنائے ہوئے ہے۔ ‘‘
اس تحریر میں کون سی چیز خلاف اسلام ہے یا قادیانیوں کے حق میں ہے جس کی بنیاد پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے؟ اس افسوس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے!
(۲)
ستمبر ہی کے شمارے میں مولانا زاہد الراشدی کا مضمون ’’دینی جدوجہد اور اس کی اخلاقیات‘‘ ہماری اوپر لکھی ہوئی گزارشات کی تصدیق کر رہا ہے۔ قادیانیت کے ضمن میں تیر وہاں برسائے جا رہے ہیں جہاں ہدف نہیں ہے۔ یہ رویہ Don Quixote کی یاد دلاتا ہے جو ہوا میں تلواریں لہرانے والا ہیرو تھا۔ قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو جانے والے شخص کو قادیانی کہنا اور پھر اس پر اصرار کرنا، اور مولانا منظور احمد چنیوٹی جیسے انتہائی سینئر اور بزرگ عالم دین کا محض سنی سنائی بات پر مسلمان افسروں کو قادیانی قرار دینا اس حقیقت کا غماز ہے کہ ہمارے علماء کرام اس ضمن میں ایک ایسی انتہا پر جا پہنچے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام سے صریحاً متحارب ہے۔
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِن جَاءَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَیَّنُوا أَن تُصِیْبُوا قَوْماً بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوا عَلَی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِیْنَ (الحجرات ۴۹:۶)
’’اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔‘‘
رہی بلیک میلنگ کہ اپنا کام نکلوانے کے لیے مسلمان کو قادیانی کہہ دینا، جیساکہ ایک مولوی صاحب نے مولانا زاہد الراشدی کی موجودگی میں کیا، تویہ بہت سے پیشہ ور مولوی حضرات کا معمول ہے۔ مرکزی اور صوبائی دار الحکومت میں باقاعدہ ایسے گروپ بنے ہوئے ہیں جو جمعے کے خطبے کی دھمکی دے کر بیوروکریسی سے کام نکلواتے ہیں اور کام نہ ہونے کی صورت میں منبر ومحراب اور آلہ مکبر الصوت سمیت ساری سہولتیں جو دین حق پھیلانے کے لیے عوام کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل کی گئی ہیں، ’’مجرم‘‘ کو ’’سزا‘‘ دینے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ چند دلچسپ واقعات اس فقیر کے علم میں بھی ہیں۔
(۳)
ستمبر کے ’الشریعہ‘ میں خاصے کی چیز ایک خط ہے جو حافظ صفوان محمد کے مضمون ’’سماجی، ثقافتی اور سیاسی دباؤ اور دین کی غلط تعبیریں‘‘ (الشریعہ، جولائی ۲۰۱۱ء) کے جواب میں لکھا گیا ہے۔ اس خط کے چند فقرے ملاحظہ کیجیے:
’’حافظ صفوان کس بنیاد پر اپنا قد بڑھانے کے لیے یہ شگوفے چھوڑ رہے ہیں۔‘‘
’’شراب کی بوتل پر زم زم کا لیبل چپکانا اور سور کے گوشت کوبکری کے گوشت سے تعبیر کرنا .......‘‘
’’..... یہ تو مرزا غلام احمد قادیانی کے طرز فکر کو اپنانے جیسا فعل ہے۔‘‘
’’فکری وذہنی انتشار کی عکاس یہ طویل تحریر پڑھ کر صفوان چوہان صاحب کے ژولیدہ فکر ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہا۔‘‘
’’..... انھوں نے جو دست تطاول درازکیا ہے، یہ ان کے چرغینہ پن پہ دلالت کرتا ہے۔‘‘
’’انھوں نے جس چترائی سے دینی حلقوں پہ ہاتھ صاف کیا ہے۔‘‘
’’یہ گھناؤنا انداز اور یہ پھکڑ بازیاں کس مکروہ اور کثیف سوچ کی عکاس ہیں۔‘‘
’’آپ اپنا ہودہ و بے ہودہ ان کے نام منسوب کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو یہ واہیات ارشاد فرمانے ہی ہیں تو براہ کرم کسی اور کندھے کو تلاش کیجیے۔ الفاظ آپ کے، سوچ آپ کی اور منسوب کر رہے ہیں سید ذوالکفل بخاری شہید کی طرف! یہ دوست کشی اور محسن کشی کی انتہا ہے۔‘‘
’’آپ کے مضمون کی ہر سطر کا ہر لفظ شاہد عدل اور شاہد اہل ہے کہ نہ تو آپ کو مذہب کے بارے میں مطالعے کا موقع ملا ہے اورنہ ہی تاریخ سے آپ کو کچھ مس ہے۔‘‘
’’آپ تو نرے پروفیسرو ڈاکٹر ہیں، بلکہ اب تو اِس دال میں بھی کچھ کالا محسوس ہوتا ہے۔‘‘
’’پرویز مشرف اور آپ کی سوچ میں کتنی مماثلت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔‘‘
’’یہ واہیات لفظ چیخ چیخ کر پکاررہاہے کہ آپ ہی کے دہن شریف سے نکلا ہے۔‘‘
’’شریعت اور قانون میںیہ در اندازی انتہائی واہیات ہے۔‘‘
جنابِ من! اپنی حیثیت کا تعین کر لیجیے۔
’’ایسی واہیات اور مکروہ باتیں ان کی طرف منسوب کر کے ان کی روح مبارکہ کو اذیت تو نہ پہنچائیں۔‘‘
اگر شمار کرنے میں غلطی نہیں ہوئی تو اس خط میں واہیات کا لفظ چار مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ہمیں نہیں معلوم کہ جس خط میں دلیل ایک بھی نہیں دی گئی اور واہیات، سور کا گوشت، چرغینہ پن، چترائی، پھکڑ بازیاں، ہودہ وبے ہودہ جیسے الفاظ بار بار استعمال کیے گئے ہیں، اس کی اشاعت ایک دینی پرچے میں کیوں ضروری تھی اور اس کے شائع نہ ہونے سے کون سی صحافتی اقدار مجروح ہو رہی تھیں، لیکن اس سے قطع نظر، اس خط میں حافظ صفوان محمد پر ایک انتہائی سنجیدہ الزام لگایا گیا ہے۔ مکتوب نگار نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ’’اپنا ہودہ وبے ہودہ‘‘ اور ’’واہیات اور مکروہ باتیں‘‘ سید ذو الکفل بخاری مرحوم کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ امکانات دو ہی ہیں۔ اگر مکتوب نگار سچا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حافظ صفوان محمد نے دروغ گوئی سے کام لیا ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو مکتوب نگار نے حافظ صاحب پر بہتان باندھا ہے۔
مکتوب نگار کو میں نہیں جانتا۔ہاں حافظ صفوان محمد مجھے ہمیشہ ایک نیک اور پرہیزگار انسان لگے ہیں۔ تاہم سید ذوالکفل بخاری مرحوم اس گنہ گار کے بھی دوست تھے۔ میں ملتان جب بھی گیا، ان سے ضرور ملاقات ہوئی۔ میرے اعزاز میں انھوں نے اپنے گھر چند بار دوستوں کو جمع کر کے ملاقات کو تقریب کی شکل بھی دی۔ کئی بار ملنے ہوٹل یا گیسٹ ہاؤس تشریف لائے تو مشہور شاعر خالد مسعود خان بھی ان کے ساتھ تھے۔
۲۰۰۹ء کے وسط میں، میں ایک تقریب کے سلسلے میں جدہ گیا۔ مکہ مکرمہ پہنچا تو شاہ صاحب میرے منتظر تھے۔جتنی دیر میں عمرہ میں مصروف رہا، وہ حرم ہی میں رہے۔ بعد میں انھوں نے کے ایف سی سے مجھے کھانا کھلایا۔ہم دیر تک باتیں کرتے رہے۔ حرم سے نکل رہے تھے تو معروف شاعر انور مسعود بھی مل گئے۔ وہ سید ذو الکفل بخاری سے ان کے نانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم کے بارے میں گفتگو کرتے رہے۔ ذو الکفل نے عطاء اللہ شاہ بخاری کا وہ لازوال فقرہ سنایا جو انھوں نے علی گڑھ میں تقریر کرتے ہوئے اردوے معلی میں فرمایا تھا: ’’برس دن گزرے ......‘‘۔ افسوس کہ مجھے فقرے کا آخری حصہ یاد نہیں رہا۔ انور مسعود اس پر بہت دیر تک سر دھنتے رہے۔ میں سہ پہر کو جدہ واپس چلا گیا۔ اسی شام یا اگلی شام شاہ صاحب خاص طور پر میری حوصلہ افزائی کے لیے جدہ تشریف لائے اور تقریب میں شرکت کی۔ اس شام کی ایک یادگار تصویر بھی ہے جس میں ذو الکفل کے ساتھ میں، افتخار عارف اور مختار علی کھڑے ہیں۔ مختار علی خطاط اور شاعر ہیں اور ملتان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے شاہ صاحب کے ساتھ خصوصی مراسم رکھتے تھے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے، یہ تصویر مختار علی نے فیس بک پر بھی لگائے رکھی۔
جو بات میں عرض کرنا چاہتا ہوں، یہ ہے کہ ۲۰۰۹ء کے اوائل میں سید ذو الکفل بخاری مرحوم اسلام آباد تشریف لائے تو ایک رات میرے ہاں قیام فرمایا۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو اسی شام معروف صحافی ہارون الرشید بھی تشریف لائے اور کافی دیر محفل برپا رہی۔غالباً دوسرے دن صبح انھوں نے باتوں باتوں میں اپنے کسی دوست یا عقیدت مند کا ذکر کیا جو ایک ملازمت اس لیے قبول نہیں کر رہے تھے کہ اس میں کوٹ پتلون پہننا پڑتا تھا۔ شاہ صاحب نے مجھے بتایا کہ انھوں نے ان صاحب کو تلقین کی کہ وہ یہ ملازمت ضرور کریں۔ ظاہر ہے،مجھے ان کا ارشاد لفظ بہ لفظ یاد نہیں، لیکن جو کچھ انھوں نے کہا، اس کا واضح مطلب یہ تھاکہ کوٹ پتلون پہنناکوئی غیر اسلامی حرکت نہیں۔
حافظ صفوان محمد پر عورتوں کی دکانداری کرنے، عورتوں کے مسجد میں آ کر نماز باجماعت میں شریک ہونے اور ’’اسلامی‘‘ لباس کے ’’تمسخر اڑانے‘‘ کے حوالے سے اعتراض ہوا ہے، اگرچہ دلیل کوئی نہیں دی گئی۔اس میں دلچسپ ترین مسئلہ لباس یا اسلامی لباس کا ہے۔ اسلامی لباس کی آج تک کوئی تعریف نہیں کی جا سکی۔رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جو لوگ اسلام قبول کرتے تھے، وہ وہی لباس پہننا جاری رکھتے تھے جو قبول اسلام سے پہلے پہنتے تھے۔ آپ نے لباس کے بنیادی اصول، ستر کے لحاظ سے مقرر فرمائے، لیکن کسی لباس کی تخصیص نہیں فرمائی۔ اس ضمن میں مولانا محمد منظو رنعمانی ؒ نے بہت دل نشین پیرایے میں وضاحت کی ہے۔
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لباس کے بارے میں ان حدود واحکام کی پابندی کے ساتھ جو مذکورہ بالا احادیث* سے معلوم ہو چکے ہیں، اسی طرح کے کپڑے پہنتے تھے جس طرح اور جس وضع کے کپڑوں کا اس زمانے میں آپ کے علاقے اور آپ کی قوم میں رواج تھا۔ آپ تہبند باندھتے تھے،چادر اوڑھتے تھے،کرتا پہنتے تھے، عمامہ اور ٹوپی بھی زیب سر فرماتے تھے اور یہ کپڑے اکثر وبیشتر معمولی سوتی قسم کے ہوتے تھے۔ کبھی کبھی دوسرے ملکوں اور دوسرے علاقوں کے بنے ہوئے ایسے بڑھیا کپڑے بھی پہن لیتے تھے جن پر ریشمی حاشیہ یا نقش ونگار بنے ہوتے تھے۔ اسی طرح کبھی کبھی بہت خوش نمایمنی چادریں بھی زیب تن فرماتے تھے جو اس زمانے کے خوش پوشوں کا لباس تھا۔ اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ زبانی ارشادات وہدایات کے علاوہ آپ نے امت کو اپنے طرز عمل سے بھی یہی تعلیم دی کہ کھانے پینے کی طرح لباس کے بارے میں بھی وسعت ہے۔ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود کی پابندی کے ساتھ ہر طرح کا معمولی یا قیمتی لباس پہنا جا سکتا ہے اور یہ کہ ہر علاقے او رہر زمانے کے لوگوں کو اجازت ہے کہ وہ شرعی حدود واحکام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنا علاقائی وقومی پسندیدہ لباس استعمال کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے ان اصحاب صلاح وتقویٰ نے بھی جن کی زندگی میں اتباع سنت کا حد درجہ اہتمام تھا، یہ ضروری نہیں سمجھا کہ بس وہی لباس استعمال کریں جو رسول اللہ استعمال فرماتے تھے۔ دراصل لباس ایسی چیز ہے کہ تمدن کے ارتقا کے ساتھ اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور ہوتی رہے گی۔ اس طرح علاقوں کی جغرافیائی خصوصیات اور بعض دوسری چیزیں بھی لباس کی وضع قطع اور نوعیت پر اثر انداز ہوتی ہیں، اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ساری دنیا کے لوگوں کا لباس یکساں ہو یا کسی قوم یا کسی علاقے کا لباس ہمیشہ ایک ہی رہے۔ اس لیے شریعت نے کسی خاص قسم اور خاص وضع کے لباس کا پابند نہیں کیا ہے۔ ہاں، ایسے اصولی احکام دیے گئے ہیں جن کی ہر زمانے میں ہر جگہ بہ سہولت پابندی کی جا سکتی ہے۔‘‘ (معارف الحدیث، حصہ ششیم، صفحہ ۴۲۴)
ہمارے علماء کرام جو لباس زیب تن فرماتے ہیں، وہ اس علاقے کا یعنی برصغیر اور افغانستان کا لباس ہے۔ مشرقی بھارت، بنگلہ دیش ، ملایشیا اور انڈونیشیا کے مسلمان جو لنگی (تہمند) باندھتے ہیں، برما کے غیر مسلم بھی وہی پہنتے ہیں بلکہ یہی لنگی برما کا قومی لباس ہے۔ اس سلسلے میں بعض لوگوں کا اصرار کہ پتلون پہننا ناجائز یا غیر اسلامی لباس ہے، سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر الاسکا یا نیوزی لینڈ کا کوئی باشندہ اسلام قبول کرے تو کیا وہ پتلون پہننا چھوڑ دے؟ اور اگر ایسا کرے تو وہ کون سا لباس پہنے؟ وہ لباس جو عرب علما پہنتے ہیں؟ یا وہ جو افغانستان یا پاکستان کے علما پہنتے ہیں؟ یا وہ جو بنگلہ دیش کے یا ملایشیا کے علماء کرام پہنتے ہیں؟ دوسری طرف حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رومی جبہ پہنا جس کی آستینیں تنگ تھیں۔ حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ سے روایت ہے، انھوں نے طیلسان کا بنا ہوا ایک کسروانی جبہ نکال کر دکھایا۔ اس کا گریبان ریشمی دیباج سے بنوایا گیا تھا اور دونوں چاکوں کے کناروں پر بھی دیباج لگا ہوا تھا۔ حضرت اسماءؓ نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ مبارک ہے۔ یہ میری بہن عائشہ صدیقہؓ کے پاس تھا۔ جب ان کا انتقال ہوا تو میں نے لے لیا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کو زیب تن فرمایا کرتے تھے اور اب ہم اس کو مریضوں کے لیے دھوتے ہیں اور اس سے شفا حاصل کرتے ہیں۔
دین کے نام پر لوگوں پر ایسی پابندیاں عائد کرنا جن کا حکم اللہ نے دیا نہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے، ایسا رویہ ہے جسے نرم ترین الفاظ میں بھی غلط ہی کہا جا سکتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ملک کے ایک کثیر الاشاعت روزنامے میں ایک معروف عالم دین ہر جمعہ کے روز سوالات کے جوابات دیا کرتے تھے۔ ایک بار کسی نے میز کرسی پر بیٹھ کر کھانا کھانے کے حوالے سے سوال پوچھا۔ مولانا نے جواب میں اسے بدعت قرار دیا کہ اللہ کے رسول کے زمانے میں عرب میں میز کرسی کا وجود ہی نہیں تھا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت صوفہ سیٹ، فوم والے بیڈ، ایئر کنڈیشنر، ہوائی جہاز، ٹیلی ویژن، موبائل فون اور لاؤڈ اسپیکر کا وجود بھی نہیں تھا۔کار،بجلی اور گیس بھی نہیں تھی۔ پھر صرف میز کرسی پر بیٹھ کر کھانا کھانا ہی کیوں بدعت ہو؟ میر تقی میر نے یہ شعر کہتے وقت ضرور کانوں کو ہاتھ لگایا ہوگا۔
کھنچیں میر تجھ ہی سے یہ خواریاں
نہ بھائی ہماری تو قدرت نہیں
حواشی
* یہ احادیث ان موضوعات کے بارے میں ہیں: عورتوں کے لیے زیادہ باریک لباس کی ممانعت، لباس میں تفاخر اور نمائش کی ممانعت، مردوں کے لیے ریشم اور سونے کی اور شوخ سرخ رنگ کی ممانعت، مردوں کو زنانہ اور عورتوں کو مردانہ لباس کی ممانعت۔
چند بزرگ علماء کا انتقال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
گزشتہ دنوں چند محترم دوست اور بزرگ علمائے کرام انتقال کر گئے جن کی جدائی کا صدمہ ہمارے دینی وعلمی حلقوں میں مسلسل محسوس کیا جارہا ہے۔
- شیخ الحدیث حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا انتقال ملک کے علمی ودینی حلقوں کے لیے صدمہ ورنج کا باعث بنا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے والد محترم حضرت مولانا قاضی نور محمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ ہمارے اکابر بزرگوں میں سے تھے جنھوں نے پون صدی قبل گوجرانوالہ میں توحید وسنت کے پرچار اور علماء دیوبند کے مسلک کے فروغ وتعارف میں کلیدی کردار ادا کیا۔ حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ صاحبؒ نے ۸۰ برس سے زیادہ عمر پائی اور زندگی بھر دینی علوم کی تدریس وترویج میں مصروف رہے۔ ۱۹۷۷ء میں انھوں نے قلعہ دیدار سنگھ کے حلقہ سے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی طرف سے پاکستان قومی اتحاد کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے الیکشن میں بھی حصہ لیا۔ وہ دینی تحریکات میں ہمیشہ سرگرم رہے اور ان کے ہزاروں تلامذہ ملک کے مختلف حصوں میں دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اللہ رب العزت انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں اور پس ماندگان اور سوگواروں کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
- حضرت مولانا محمد الطافؒ جمعیۃ علماء اسلام کے بزرگ راہ نماؤں میں سے تھے جن کا گزشتہ دنوں حافظ آباد میں انتقال ہو گیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق وادی سکیسر کے گاؤں کوٹلی سے تھا۔وہ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فاضل تھے اورحضرت السید مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے شاگرد تھے۔ ۱۹۶۱ء میں حافظ آباد آئے، مرکزی جامع مسجد قدیم کی خطابت سنبھالی اور مدرسہ اشرفیہ قرآنیہ میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ وہ جید عالم دین، بے باک خطیب، تجربہ کار مدرس اورمنجھے ہوئے سیاسی راہ نما تھے۔ انھوں نے حضرت درخواستی، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی، حضرت مولانا مفتی محمود اور حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے ساتھ مسلسل جماعتی محنت کی اور اس کے بعد مولانا فضل الرحمن کے ساتھ پورے عزم واستقامت کے ساتھ وابستہ رہے۔ انتہائی نیک، خدا ترس اور حق گو بزرگ تھے۔ طویل علالت کے بعد ۸۰ برس کے لگ بھگ عمر میں انھوں نے وفات پائی۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دیں۔ آمین یا رب العالمین۔
- مولانا سید عبدالمالک شاہ میرے بہت پرانے دوست اور ساتھی تھے، جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں استاذ الحدیث تھے اور جمعیت علماء اسلام کے سرگرم راہ نماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ان کا تعلق مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود کے گاؤں سے تھا اور وہ مفتی صاحب کے معتمد کارکنوں میں سے تھے۔ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے تعلیم حاصل کی اور اسی دور میں جمعیت طلباء اسلام اور جمعیت علماء اسلام کی تحریکی سرگرمیوں کا حصہ بن گئے۔ حضرت والد محترم اور حضرت صوفی صاحب کے ساتھ گہری محبت وعقیدت رکھتے تھے۔ میرا ان کے ساتھ پہلا تعارف غالباً ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران ہوا اور پھر یہ تحریکی رفاقت زندگی بھر جاری رہی۔ جمعیت علماء اسلام میں ہم نے ایک عرصے تک اکٹھے کام کیا، حتی کہ جب حضرت مفتی صاحب کی وفات کے بعد جمعیت علماء اسلام دو حصوں میں بٹی تو ہم دونوں ایک دوسرے کے مخالف کیمپوں میں تھے، مگر باہمی روابط، دوستی اور تعاون میں اس دور میں بھی کوئی فرق نہیں آیا۔وہ ان دنوں مدرسہ انوار العلوم میں مدرس تھے اور میں مرکزی جامع مسجد کا خطیب ہوں۔ وہ اپنے کیمپ کے لیے متحرک تھے اور میں اپنے کیمپ کے لیے متحرک تھا۔ وہ ایم آر ڈی میں تھے اور میں اس کا شدید مخالف تھا، لیکن اس باہمی محاذ آرائی کے دور میں بھی متعدد بار ایسا ہوا کہ پولیس ان کی تلاش میں ہوتی اور وہ میرے دفتر کے عقبی کمرے میں پناہ گزین ہوتے تھے۔
۱۹۷۵ء میں مسجد نور گوجرانوالہ کو محکمہ اوقاف کی تحویل میں دیے جانے کے فیصلے کے خلاف عوامی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا تو اس تحریک کو منظم کرنے اور مربوط طورپر چلانے میں مولانا سید عبدالمالک شاہ، ڈاکٹر غلام محمد، نوید انور نوید ایڈووکیٹ مرحوم، صوفی رستم علی قادر اور علامہ محمد احمد لدھیانوی سب سے زیادہ متحرک رہے۔ انھی کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں تحریک کامیاب ہوئی اور حکومت کو مسجد نور اور مدرسہ نصرۃ العلوم کو تحویل میں لینے کا نوٹیفکیشن واپس لینا پڑا۔ اس لحاظ سے شاہ صاحب مدرسہ نصرۃ العلوم کے محسن بھی تھے کہ ان کی شبانہ روز محنت اس مسجد ومدرسے کی آزادی کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بنی۔
وہ گزشتہ کم وبیش پندرہ سال سے جامعہ نصرۃ العلوم کے استاذ تھے اور دورۂ حدیث میں عام طورپر مسلم شریف ان کے زیر درس رہتی تھی، جبکہ علوم وفنون کی دیگر کتابیں بھی انہوں نے مسلسل پڑھائیں اور ایک محنتی اور کامیاب مدرس کے طورپر شہرت حاصل کی۔ جمعیت علماء اسلام اور مولانافضل الرحمن کے ساتھ ان کا تعلق اور وفاداری قابل ذکر، بلکہ قابل رشک تھی۔ مشکل ترین حالات میں بھی انہوں نے یہ ساتھ نبھایا اور خوب نبھایا۔ وہ ایک عرصے سے بیمار تھے، شوگر کی وجہ سے ان کے ایک پاؤں کا انگوٹھا چند سال قبل کاٹنا پڑا تھا، مگر اس موذی مرض نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ گزشتہ دنوں ڈاکٹروں نے ان کی ایک ٹانگ کاٹ دی اور اس کا علاج چل رہا تھا کہ معدے نے کام چھوڑ دیا۔ حوصلہ مند آدمی تھے، بیماری اور معذوری کے باوجود جماعتی اور مسلکی کاموں میں ہمیشہ متحرک رہے۔
بیماری کے ایام میں انہوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ ان کا جنازہ مولانا فضل الرحمن پڑھائیں اور کوشش کی جائے کہ انہیں قبر کے لیے گوجرانوالہ کے بڑے قبرستان میں حضرت مولاناصوفی عبدالحمید سواتی کے قریب جگہ مل جائے۔ مولانا فضل الرحمن تو انتہائی کوشش کے باوجود جنازے تک نہ پہنچ سکے اور نمازہ جنازہ حضرت حافظ ناصر الدین خاکوانی مدظلہ نے جامعہ نصرۃ العلوم میں رات کے دس بجے پڑھائی، البتہ قبر کی جگہ انہیں حسب خواہش حضرت صوفی صاحب کے قدموں میں اور اپنے پرانے ساتھی مولانا اللہ یار خان کے پہلو میں مل گئی۔ جنازے میں مولانا عبدالغفور حیدری شریک ہوئے، جبکہ مولانا فضل الرحمن اگلے روز صبح تعزیت کے لیے تشریف لائے، اللہ تعالیٰ حضرت شاہ صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں اور ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطافرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ - مولانا میاں عبدالرحمن کا تعلق بالاکوٹ کے علاقے سے تھا۔ ان کے والد محترم حضرت مولانا محمد ابراہیم نے لاہور کے معروف بازار انارکلی میں ڈیرہ لگایا اور عمر بھر وہاں حق کی آواز بلند کرتے رہے۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری اور حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی سے خصوصی تعلق رکھتے تھے اور جمعیت علماء اسلام کے سرگرم راہ نماؤں میں سے تھے۔ ان کے مزاج میں حق گوئی دبدبہ ہر شخص محسوس کرتا تھا اور ان کے ہاتھ میں لاٹھی ہوتی تھی، جس کی وجہ سے ان کا لقب بھی مولانا محمد ابراہیم ڈنڈے والے پڑگیا تھا۔ انارکلی بازار کی مسجد کے دروازے پر ایک چھوٹی سی دکان میں، جسے دکان کہنا بھی شاید مبالغہ ہو، شہد کا ہلکا پھلکا کاروبار کرتے تھے اور عزت وآبرو کے ساتھ حق گوئی کا پرچم بلند رکھتے تھے۔ مولانا میاں عبدالرحمن ان کے فرزند اور جانشین تھے اور انہی کے اوصاف اور روایات کے امین تھے۔ جامعہ مدینہ کریم پارک سے تعلیم حاصل کی، حضرت مولانا سید حامد میاں اور حضرت مولانا عبیداللہ انورسے ارادت کا گہرا تعلق تھا اور جمعیت علماء اسلام کی دینی وسیاسی جدوجہد ان کی ہمیشہ جولان گاہ رہی۔ مجھے باپ بیٹا دونوں کی شفقت ومحبت ہمیشہ حاصل رہی اور خصوصی دعاؤں کے ساتھ جماعتی کاموں میں سرپرستی اور معاونت سے بھی بہرہ ور فرماتے تھے۔ لاہور کے دینی اجتماعات میں اکثر وبیشتر ان سے ملاقات ہوتی تھی اور وہ اپنے مسلک کے تمام حلقوں کو یکساں طورپر نوازتے تھے۔ ا نہیں لاہور کے دینی حلقوں میں دینی تحریکات کے سرپرست کے طورپر پہچانا جاتا تھا اور وہ ہر دینی تحریک اور مسلکی جدوجہد میں پیش پیش نظر آتے تھے۔
گزشتہ جمعرات کو ایک سفر کے دوران یہ اطلاع ملی مولانا میاں عبدالرحمن مانسہرہ میں ایک دینی اجتماع میں شرکت کے بعد واپس جاتے ہوئے ٹریفک حادثہ کا شکار ہوکر شہید ہوگئے ہیں۔ ایک مشفق دوست اور مخلص جماعتی ومسلکی راہ نما کی اچانک اور حادثاتی وفات پر بے حد صدمہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین، یا رب العالمین۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
بخدمت حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
الشریعہ کے اکتوبر ۲۰۱۱ کے شمارے میں ’’توہین رسالت کی سزا پر جاری مباحثہ ۔ چند گزارشات‘‘ کے عنوان کے تحت آپ نے مجلہ صفدر شمارہ ۶ میں شائع شدہ میرے تبصرے پر بھی کچھ اظہار خیال کیا ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ کم از کم میرے مضمون کو بالکل نہیں سمجھ پائے۔
’’توہین رسالت کا مسئلہ‘‘ کے نام سے عمار خان صاحب نے ایک کتاب لکھی جس میں انھوں نے اپنا موقف یہ ظاہر کیا کہ توہین رسالت کے جاری کردہ قانون کو جو کہ سزاے موت ہے، جب ذمی پرمنطبق کریں تو وہ قانون فقہ اسلامی سے مطابقت نہیں رکھتا اور حکمت ومصلحت کے بھی خلاف ہے، کیونکہ قتل ایک تو انتہائی درجے کی سزا ہے جو صرف اس وقت لاگو ہو سکتی ہے جب توہین رسالت کا مرتکب ذمی اس سے کسی طرح باز نہ آئے اور اعلانیہ اس کو اپنی روش بنا لے اور اس کی وجہ سے پورے ملک میں ہلچل مچ جائے۔ جب تک ذمی اس انتہا کو نہ پہنچے، اس کی سزا کے بارے میں فقہاے اسلام کے مابین اختلاف راے ہے۔ جمہور فقہا کہتے ہیں کہ اس جرم کی سزا ہر حال میں یہ ہے کہ مجرم کو قتل کیا جائے، جبکہ علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ کے بیان کے مطابق فقہاے احناف کا رجحان یہ ہے کہ عام حالات میں اس جرم پر سزاے موت دینے کے بجائے ایسی تعزیری سزا پر اکتفا کیا جائے جو مجرم کو آئندہ اس جرم کے ارتکاب سے روکنے میں موثر ہو۔
اپنے تبصرے میں، میں نے عمار خان صاحب کے نقلی وعقلی استدلال کا رد کیا اور واضح کیا کہ گستاخ ذمی کے بارے میں فقہاے احناف کا موقف بیان کرنے میں علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ کو ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی عبارت سے مغالطہ لگا ہے اور یہ کہ فقہاے احناف کا وہ موقف نہیں ہے جو عمار خان صاحب نے سمجھا ہے، بلکہ حنفیہ میں سے امام محمد رحمہ اللہ اور متاخرین کا موقف یہ ہے کہ ذمی اگر توہین رسالت کرے تو اس کی سزاے موت دو میں سے صرف ایک شرط کے ساتھ مشروط ہے، یعنی توہین یا تو اعلانیہ کی ہو یا خفیہ کی ہو تو وہ ایک دفعہ کے تکرار کے ساتھ پھر ہو۔ علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ کی دوسرے مقام پر بعض عبارات سے بھی ہماری اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ مثلاً رد المحتار میں ہے:
قولہ (وسب النبی) ای اذا لم یعلن فلو اعلن بشتمہ او اعتادہ قتل ولو امراۃ وبہ یفتی (ج ۶ ص ۳۳۴)
قولہ (وبہ افتی شیخنا) ای بالقتل تعزیرا کما قدمناہ عنہ وینبغی تقییدہ بما اذا ظہر انہ معتادہ کما قیدہ بہ فی المعروضات او بما اذا اعلن بہ کما یاتی (ج ۶ ص ۳۳۴، طبع دار المعرفہ بیروت)
اپنے تبصرے کے شروع ہی میں، میں نے واضح کر دیا تھا کہ :
’’ذمی یعنی مسلمان ملک کا کافر شہری اگر توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ عمار خان صاحب نے اسی سے متعلق یہ کتاب لکھی ہے۔ اگر کوئی مسلمان توہین رسالت کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ اس سوال سے متعلق انھوں نے اس کتاب میں کوئی بحث نہیں کی۔‘‘
حاصل یہ ہے کہ عمار خان صاحب نے ذمی کے توہین رسالت کرنے پر اپنی کتاب لکھ کر شائع کی اور میرا تبصرہ اسی کتاب پر تھا، اس لیے میرا تبصرہ بھی ذمی سے متعلق ہے۔ مسلمان توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو اس میں مجھے علامہ شامی رحمہ اللہ کے موقف سے اتفاق ہے، لیکن مسلمان کے مسئلہ سے نہ تو عمار خان صاحب نے تعرض کیا ہے اور نہ ہی میں نے کیا ہے، لیکن جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب، آپ نے اکتوبر ۲۰۱۱ء کے الشریعہ میں جو اپنی چند گزارشات لکھی ہیں، وہ صرف اور صرف توہین رسالت کرنے والے مسلمان سے متعلق ہیں۔ مثلاً آپ نے لکھا ہے:
’’پہلی گزارش یہ ہے کہ مسلمان کہلانے والے لعین شاتم رسول کے لیے توبہ کی گنجائش کے مسئلہ پر علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے اب سے پونے دو سو برس قبل خلافت عثمانیہ کے دور میں یہ موقف اختیار کیا تھا....‘‘ الخ
پھر مسلمان شاتم ہی کے بارے میں آپ نے تائید کے طور پر لکھا:
’’۱۔ امام ابویوسف رحمہ اللہ نے کتاب الخراج ص ۱۸۲ میں لکھا ہے کہ جو مسلمان جناب رسول اکرم کی شان اقدس میں گستاخی کرے ..... ۲۔ اسی طرح امام طحاوی نے بھی مختصر الطحاوی ص ۲۶۲ میں یہی موقف بیان کیا ہے کہ ہمارے نزدیک ایسا شخص مرتد ہے..... الخ (اور مرتد وہی ہوتا ہے جو پہلے مسلمان ہو۔ عبدالواحد) ۳۔ امام ابن قیم نے زاد المعاد ج ۵ ص ۶۰ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بھی یہی موقف ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ: ایما مسلم سب اللہ و رسولہ .... (یعنی جو مسلمان اللہ اور اس کے رسول کو سب وشتم کرے۔‘‘
آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ علامہ شامی رحمہ اللہ نے اپنے مضمون ’’تنبیہ الولاۃ والحکام‘‘ میں مسلمان شاتم رسول کے لیے علیحدہ فصل قائم کی ہے اور ذمی شاتم رسول کے لیے مستقل علیحدہ فصل قائم کی ہے۔
امید ہے کہ آپ اپنی گزارشات پر نظر ثانی کریں گے۔
نوٹ: آپ ہمارے قابل احترام بزرگ ہیں اور آپ اس بات کو بخوبی جانتے ہوں گے کہ دین ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ تم دیکھو، دین کی بات کس سے لے رہے ہو۔ اسی طرح یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ جو شخص نااہل ہو، خواہ وہ عام آدمی ہو یا پروفیسر ہو یا کم علم یا ناقص علم عالم ہو، وہ اگر قرآن پاک کے بارے میں کچھ کہے اور اتفاق سے وہ بات درست ہو، تب بھی اس نے غلطی کی۔ ہاں یہ بات ہے کہ اگر کسی کو کوئی اشکال پیش آتا ہے تو اس کا حل بتانا علماء سے مطلوب ہے۔ اس کے باوجود آپ شرعی احکام میں اور قرآن وحدیث کے بارے میں آزادانہ بحث ومباحثہ کے حق میں ہیں جس میں اس کی کوئی تمیز نہیں کہ رائے دینے والا واقعہ اہل ہے یا نہیں اور اس کا تو ہم آپ سے مطالبہ ہی نہیں کرتے کہ آپ بتائیں کہ اب تک الشریعہ کے آزاد بحث ومباحثہ سے کتنے لوگوں نے ہدایت حاصل کی ہے، کیونکہ جن کے سامنے یہی نہ ہو کہ حق کیا ہے اور حقانیت کیا کا کیا معیار ہے، وہ حق کو کیا سمجھیں گے۔ ہم آپ کی روش سے دل گرفتہ ہیں۔ کیا ہمارے لیے آپ کی طرف سے مایوسی اور حسرت وافسوس ہی مقدر ہے؟ والی اللہ المشتکی۔
[مولانا مفتی] عبد الواحد
دار الافتاء جامعہ مدنیہ، لاہور
20-10-2011
(۲)
محترمی حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب زید مجدکم
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟
یاد فرمائی کا تہہ دل سے شکریہ!
- توہین رسالت کے مرتکب مسلمان اور ذمی کے مابین فرق کے ضمن میں آپ کی وضاحت مفید ہے اور اس سے قارئین کو آپ کا موقف سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
جہاں تک آپ کے اس ارشاد کا تعلق ہے کہ میں نے ذمی کی طرف سے توہین رسالت کے شرعی حکم پر اپنی گزارشات میں کچھ عرض نہیں کیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے مسئلہ کے مختلف پہلووں پر بحث نہیں کی، بلکہ اس پر اظہار خیال کرنے والے حضرات کے رویوں پر بات کی ہے جس پر مثال کے طو رپر میں نے مسئلہ کے صرف ایک پہلو کا ذکر کیا ہے اورمیرے خیال میں رویوں کو زیر بحث لانے کے لیے ایک مثال بھی کافی ہوتی ہے۔ میرا اصل موضوع مباحثہ میں حصہ لینے والوں کا طرز استدلال اور ان کے رویے ہیں جن پر میں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور میں نے مجموعی طور پر جن تحفظات کا اظہار کیا ہے، ان پر کسی نظر ثانی کی ضرورت محسوس کیے بغیر اب بھی قائم ہوں۔ - عمار خان کی کتاب پر آپ نے جو تبصرہ فرمایا ہے، آپ نے اپنے نقطہ نظر کے اظہار کا جائز حق استعمال کیا ہے جس پر مجھے کوئی اشکال نہیں ہے، بلکہ میں نے اس مضمون میں آپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو اس سے قبل ایک عریضہ میں عمار خان کے مضامین پر علمی نقد کے حوالے سے آپ کا الگ طور پر بھی شکریہ ادا کر چکا ہوں اور میں یہ چاہوں گا کہ آپ کی یہ بزرگانہ شفقت آئندہ بھی قائم رہے۔
- جہاں تک علمی واجتہادی مسائل پر کھلے مباحثہ کے بارے میں ہمارے طرز عمل پر آپ کے تحفظات ہیں، میں اسے آپ کا حق سمجھتا ہوں، مگر عمومی مباحثہ کامطلب یہی ہوتا ہے کہ ہر شخص کو راے کا حق حاصل ہو۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا آیا ہے کہ کسی مسئلے پر کسی کو راے دینے سے روکا نہیں کیا گیا۔ ہاں، دلیل اور استدلال کی بنیاد پر کسی کی بات جمہور اہل علم کے ہاں قبولیت پا گئی ہے تو اسے علمی دنیا میں جگہ مل گئی ہے اور اگر جمہور اہل علم کے ہاں اسے قبولیت نہیں ملی تو وہ تاریخ کی نذر ہو گئی ہے۔ ہمارے علمی اور فقہی ذخیرے میں آ پ کو ہزاروں نہیں تو سیکڑوں ایسی آرا ضرور ملیں گی جن کا اظہار ہوا ہے اور وہ جمہور اہل علم میں قبولیت کا درجہ حاصل نہیں کر سکیں۔ میری طالب علمانہ راے میں کسی راے کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا دائرہ الگ ہے اور کسی کو راے کا حق دینے یا نہ دینے کا دائرہ اس سے مختلف ہے۔ دونوں دائروں میں اگر اہل علم بھی فرق نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا؟
- کون راے دینے کا اہل ہے اور کون اس کا اہل نہیں ہے؟ اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہ مجھے اپنے پاس رکھنا چاہیے اور نہ آپ کو اس پر اصرار کرنا چاہیے ۔مجھے اس بات سے اتفاق نہیں ہے کہ ہمارے دار الافتاء یہ منصب بھی سنبھال لیں کہ افراد کے بارے میں ڈگریاں جاری کرنا شروع کر دیں کہ کون راے کا اہل ہے اور کون نہیں۔
اصول کی بات اپنی جگہ پر بالکل درست ہے کہ ہمارے اسلاف نے راے دینے کی اہلیت اور راے کو قبول کرنے کے معیارات واضح کر دیے ہیں۔ ان کی بنیاد پر کسی کی راے کو قبول کرنے اور کسی کی بات کو رد کر دینے کا اختیار اب تک عمومی علمی ماحول کے پاس رہا ہے۔ جو شخص عمومی علمی ودینی ماحول میں قابل قبول قرار پایا ہے، اسی کی اہلیت تسلیم کی گئی ہے اور جسے جمہور اہل علم نے نظر انداز کر دیا ہے، وہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔ ماضی میں آپ کو بیسیوں حضرات ایسے ملیں گے جن پر شدید نقد وجرح کی گئی ہے اور فتوے بھی صادر کیے گئے ہیں، مگر انھیں علمی مباحثہ کے میدان سے نکالا نہیں جا سکا، جبکہ ایسے حضرات بھی کم نہیں ہیں جن کا ذکر صرف تاریخ کے ایک دو صفحات تک محدود ہے۔
اس لیے میری درخواست ہے کہ کسی شخص کے یا کسی رائے کے قابل قبول ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ جمہور اہل علم اور عمومی علمی ماحول کے پاس ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہے، اس لیے کہ ان فیصلوں کا اصل فورم وہی ہے۔
میں ایک بار پھر آپ کی توجہ فرمائی پر شکر گزار ہوں، آئندہ بھی اس کی توقع رکھتا ہوں اور اگر وہ کھلے دل کے ساتھ ’’دل گرفتگی‘‘ کے بغیر ہو تو یقیناًزیادہ لطف دے گی۔ شکریہ
ابو عمار زاہد الراشدی
۲۱؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء
الشریعہ اکادمی میں تعزیتی نشست
ادارہ
۱۵ اکتوبر کو الشریعہ اکادمی میں مولانا سید عبد المالک شاہؒ ، مولانا میاں عبدالرحمنؒ اور مولانا قاری خلیل احمد نعمانی ؒ کی وفات پر ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے کی اور اس سے مولانا مفتی محمد اویس، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی اور الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے خطاب کیا، جبکہ شہر کے علماء کرام اور دینی مدارس کے اساتذہ وطلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے مرحومین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سید عبد المالک شاہؒ ان مجاہد علما میں سے تھے جو معاشرہ میں حق کی آواز بلند کیے رکھتے ہیں اور اس کے لیے مسلسل محنت کرتے ہیں۔ شاہ صاحب مرحوم نے تدریس وخطابت کے ساتھ ساتھ بھرپور جماعتی وتحریکی زندگی گزاری ہے اور وہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کے معتمد ساتھیوں میں سے تھے۔ انھوں نے دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں تعلیم حاصل کی اور ان کے سبق اور کمرے کے ساتھیوں میں مولانا فضل الرحمن اور مولانا عبد الحکیم اکبری بھی تھے۔
مفتی صاحب نے فرمایا کہ معاشرہ میں حق کی آواز بلند ہوتی رہے اور منکرات کے خلاف روک ٹوک کانظام قائم رہے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی رکا رہتا ہے اور اگر باطل اور منکرات کا فروغ عام ہو اور کوئی روک ٹوک نہ ہو تو پوری قوم پر خدا کا عذاب نازل ہوتا ہے، اس لیے وہ علماء کرام قوم کے محسنین ہیں جو حق کے اظہار اور باطل کے خلاف احتجاج میں مصروف رہتے ہیں اور مولانا سید عبد المالک شاہؒ بھی ایسے ہی علماء کرام میں سے تھے۔
مولانا میاں عبد الرحمنؒ کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کے والد محترم حضرت مولانا محمد ابراہیمؒ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری کے خصوصی مریدین میں سے تھے اور حق گو عالم دین تھے جن کے رعب ودبدبہ کی وجہ سے انھیں ڈنڈے والے مولانا کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ مولانا میاں عبد الرحمنؒ اپنے والد گرامی کے صحیح جانشین تھے۔ دینی درد رکھنے والے حق گو عالم دین اور دینی تحریکات میں بھرپور حصہ لینے والے متحرک کارکن تھے۔
مفتی صاحب نے مولانا قاری خلیل احمد نعمانی مرحوم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے محترم بزرگ حضرت مولانا منظور احمد نعمانی آف ظاہر پیر ضلع رحیم یار خان کے فرزند تھے۔ ایک عرصہ سے گوجرانوالہ میں مقیم تھے اور جامعہ اسلامیہ میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے تھے کہ گزشتہ دنوں وہ اچانک بیمار ہوئے اور آناً فاناً دنیا سے رخصت ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ایک صالح اور مخلص عالم دین تھے اور اکابر علماء کرام کے ساتھ مسلسل تعلق اور عقیدت رکھتے تھے۔
مولانا حافظ گلزار احمد آزاد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سید عبد المالک شاہؒ کے ساتھ ان کی تحریکی اور مسلکی رفاقت رہی ہے۔ وہ مسلکی کاموں میں ہمیشہ خوش دلی کے ساتھ تعاون کرتے تھے اور دینی ومسلکی معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ چھوٹے موٹے خلا تو پیدا ہوتے رہتے ہیں، لیکن مولانا سید عبد المالک شاہؒ کی وفات پر شہر میں دینی جدوجہد اور مسلکی خدمات کے حوالے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے ان کے ساتھی کافی عرصے تک محسوس کرتے رہیں گے۔
مولانا مفتی محمد اویس نے اپنے خطاب میں ایک واقعہ سنایا اورکہا کہ اس واقعہ کے بعد ان کے دل میں احساس پیدا ہوا کہ مولانا سید عبد المالک شاہؒ کتنے بڑے بزرگ تھے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ وہ ایک بار گوجرانوالہ کے تبلیغی مرکز میں امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کی تشریف آوری پر انھیں گکھڑ واپس چھوڑنے کے لیے جا رہے تھے کہ شیرانوالہ باغ کے قریب ٹریفک کے ہجوم کی وجہ سے گاڑی آہستہ ہو گئی۔ اتنے میں سامنے دیکھا کہ مولانا سید عبد المالک شاہؒ آ رہے ہیں۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ڈرائیور سے کہہ کر گاڑی رکوائی اور گاڑی سے اتر کر سڑک پر شاہ صاحبؒ سے ملاقات کی۔ مجھے اس وقت احساس ہوا کہ شاہ صاحبؒ کے علم، خلوص اور سید ہونے کی وجہ سے حضرت شیخؒ نے ان کا یہ اکرام فرمایا ہے اور شاہ صاحبؒ ہمارے بزرگوں کے معتمد ساتھیوں میں سے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں شاہ صاحبؒ کی جس بات نے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ ان کی سادگی اور تواضع تھی۔وہ ہمارے پاس المشرق سائنس کالج میں کئی بار تشریف لائے۔ ان کی بچیاں ہمارے پاس تعلیم حاصل کرتی تھیں، لیکن وہ جب بھی آئے، سادگی اور تواضع کے ساتھ بات کی اور کبھی اپنے علم اور بزرگی کا رعب جمانے کی کوشش نہیں کی اور میں ان کے اس طرز عمل سے بہت متاثر ہوا کہ اہل حق اور بزرگوں کا طرز عمل ہمیشہ ایسا ہی رہا ہے۔
ڈاکٹر عبد الماجد نے اس موقع پر ایک تجویز پیش کی کہ کچھ اصحاب خیر کو آپس میں مل کر کوئی ایسا مستقل فنڈ قائم کرنا چاہیے جس سے وفات پا جانے والے علماء کرام کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کی جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ وہ یہ تجویز ایک تلخ تجربہ کے بعد پیش کر رہے ہیں کہ ایک عالم کسی دینی جدوجہد میں گرفتار ہو گئے اور کئی ماہ تک جیل میں رہے۔ میں نے ان کی مسجد کی انتظامیہ سے دریافت کیا کہ کیا آپ لوگ مولانا صاحب کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کر رہے ہیں اور ان کو کوئی خرچہ دے رہے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ ہم تو ان کے گھر میں کوئی خرچہ نہیں دے رہے، اس لیے کہ وہ مسجد کی تو کوئی ڈیوٹی نہیں دے رہے۔ ڈاکٹر مشرقی نے کہا کہ ایسا عام طور پر ہوتا ہے کہ جب کوئی عالم دین کسی مصیبت کا شکار ہو جاتا ہے یا وفات پا جاتا ہے تو اس کے بعد اس کے خاندان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، اس لیے میری تجویز ہے کہ ایسا کوئی فنڈ مستقل طور پر قائم ہونا چاہیے۔
مولانا زاہد الراشدی نے اپنی گفتگو میں مولانا سید عبد المالک شاہ، میاں عبدالرحمن اور قاری خلیل احمد نعمانی کی دینی خدمات کا مختصر تذکرہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ملکی حالات کے بارے میں مولانا سید عبدالمالک شاہ کی فکر مندی کا حال یہ تھا کہ بیماری کے دنوں میں، جبکہ شوگر کی وجہ سے ان کا ایک پاؤں کاٹا جا چکا تھا، میں ان کی عیادت کے لیے گیا تو میں ان سے ان کی طبیعت کے متعلق پوچھتا اور وہ مجھ سے مختلف قومی اور ملی مسائل سے متعلق دریافت کرتے رہے۔ انھوں نے مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے بتایا کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ شدید علالت کی اس کیفیت میں شاہ صاحب جمعیت کی کسی میٹنگ میں شریک ہوں گے، لیکن وہ ہر میٹنگ میں سب سے پہلے موجود ہوتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ایسے دوستوں کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عبد الماجد المشرقی کی تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
تقریب کا اختتام مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کی پرسوز دعا پر ہوا اور تینوں مرحومین کی مغفرت وبلندئ درجات کے ساتھ ساتھ ان کے پس ماندگان ومتوسلین کے لیے صبر جمیل کی توفیق کی دعا کی گئی۔ اللہم آمین
اگر جسم کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے!
حکیم محمد عمران مغل
دیگر ملکوں کی طرح ہمارے ملک کے بڑے شہر بھی حادثات کی زد میں آ چکے ہیں۔ لڑائی مار کٹائی، دنگا فساد اور کسی اونچی جگہ سے گرنے کے علاوہ ٹریفک کے حادثات بھی بے تحاشا بڑھتے جا رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو آبادی اور ٹریفک دونوں بے ہنگم ہو چکے ہیں جس سے عام آدمی کا بازاروں میں حفاظت سے چلنا دشوار ہو چکا ہے۔ کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں حادثہ پیش آ ہی جاتا ہے۔ پھر ہماری مصروفیات اور دوڑ دھوپ میں مزید تیزی آ رہی ہے۔ ہر شخص، کیا مرد کیا عورت، آگے دوڑ پیچھے چھوڑ کی راہ پر گامزن ہے۔ کراچی کی طرح لاہور میں بھی آبادی کا دریا چاروں طرف بہہ نکلا ہے جو سنبھلنے میں نہیں آ رہا۔
گئے وقتوں میں اچھرہ، لاہور کا ایک پرسکون، مہذب اور دل آویز گاؤں ہوتا تھا۔ اسی نسبت سے لاہور کے ماتھے پر علم وادب کا ایک لازوال جھومر لٹکایا گیا جس کی چمک برصغیر سے نکل کر عرب وعجم تک پہنچی۔ یوں علم کے متوالے یہاں کھنچے چلے آئے۔ یہ جھومر جامعہ فتحیہ المعروف جٹاں والی مسجد کے نام سے آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔ جب لاہور کے دینی مدارس کا ذکر آتا ہے تو جٹاں والی مسجد کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ اسی شہرت کو سن کر سوات کے ایک دینی گھرانے کا طالب علم جنید یہاں آیا۔ فارغ ہونے کے بعد وہ مدرس سے ناظم بن گیا اور اپنی محنت سے جامعہ فتحیہ کو چار چاند لگا دیے۔ ایک دن وہ سائیکل پر سوار فیروز پور روڈ پر پہنچا تو مخالف سمت سے ایک گاڑی دھاڑتی ہوئی آئی اور آناً فاناً اسے کچل کر رکھ دیا۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ
دنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چل
بے چارے جنید کی دنیا اندھیر ہو گئی۔ مالکان مدرسہ نے اس کا قیمتی سے قیمتی علاج کروانے کے لیے تجوریوں کے منہ کھول دیے، مگر افاقہ نہ ہوا اور چارپائی پر پڑے کراہتے رہنا اس کا مقدر دکھائی دینے لگا۔ جب مجھے معائنہ کے لیے بلایا گیا تو سارے جسم میں پیپ پڑ چکی تھی۔ میں نے کہا کہ علاج کے ساتھ سخت پرہیز نہ کیا گیا تو صورت حال بگڑ سکتی ہے۔ سب سے پہلے پیپ کو خشک کرنے کے لیے رسکپور مدبر ایک چاول کے برابر کیپسول میں ڈال کر ناشتے کے بعد دودھ سے دیا۔ ساتھ چھ دیسی انڈوں کی زردی سے تیل کشید کر کے اس میں میتھی اتنی رگڑی کہ مرہم بن گئی۔ اس مرہم کے ساتھ ٹوٹی ہوئی ہڈیوں پر پٹی باندھی گئی۔ چار دن کے بعد نئی پٹی باندھی۔ ساتھ صبح شام ایک ایک چاول سلاجیت کھانے کے بعد دی جاتی رہی۔ مزید برآں معجون فلاسفہ بڑی چمچ دوبار، صبح شام حب ازاراقی، کیلشیم کی کمی کے لیے خمیرہ مروارید صبح شام دیا جاتا رہا۔ دو ماہ کے علاج کے بعد جنید صاحب نے دیوار کے سہارے چلنا شروع کر دیا اور پھر چل سو چل۔
بو علی سینا رحمۃ اللہ علیہ اور جگرانوی خاندان نے علم نجوم سیکھنے کی بہت تاکید کی ہے۔ بو علی سینا تو فرماتے ہیں کہ جب تک میں نے علم نجوم نہیں سیکھا، مکمل حکیم نہیں بن سکا۔ آج ہمارے ہاں حکیموں کے لیے اردو زبان میں معمولی مضمون لکھنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ ان بزرگوں نے حکیم کے لیے علم نجوم، علم جفر، پامسٹری، علم قیافہ اور علم نقوش کا جاننا ضروری قرار دیا ہے۔ یہ سارے نکات کاش البرنی نے وضاحت سے سمجھائے ہیں۔ ان کو ہم تک پہنچانے میں کاش البرنی خاندان نے کافی تکالیف اٹھائی ہیں۔ اس لیے میں نے ان کو شہید علم لکھا ہے۔ ان علوم کے بازاری حاملین نے آج اودھم مچا رکھا ہے۔ اگر کاش البرنی کی کتابوں کا مطالعہ کر لیا جائے تو برنی صاحب کی شخصیت کا نکھار کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔