مئی ۲۰۱۱ء

دین کے مختلف شعبوں میں تقسیم کار کی اہمیتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
فکری و سیاسی اختلافات میں الزام تراشی کا رویہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دعوت الی اللہ کا فریضہ اور ہمارے دینی ادارے (۱)مولانا محمد عیسٰی منصوری 
کرکٹ اور گروہی نرگسیتپروفیسر ابن حسن 
تاریخ کی درستی: بھٹو سے فیض تکچوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ 
مذہبی فرقہ واریت کا سیاسی ظہورخورشید احمد ندیم 
شیعہ سنی مفاہمت کی ضرورت و اہمیتمولانا محمد وارث مظہری 
قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مکاتیبمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
’’موجودہ عالمی استعماری صورتِ حال اور فیض کی شاعری‘‘پروفیسر میاں انعام الرحمن 
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں حفظ قرآن کریم اور ترجمہ وعربی زبان کی کلاسزادارہ 
ہیپا ٹائٹس کی تباہ کاریاںحکیم محمد عمران مغل 

دین کے مختلف شعبوں میں تقسیم کار کی اہمیت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تبلیغی جماعت ہمارے اس دور میں دین کی دعوت، عام مسلمان کو دین کی طرف واپس لانے اور اصلاح وارشاد کی تجدیدی تحریک ہے جس کا آغاز شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسن دیوبندی کے ماےۂ ناز شاگرد حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی کے ہاتھوں ہوا اور یہ ان کے خلوص وللہیت کا ثمرہ ہے کہ کم وبیش دنیا کا کوئی حصہ بھی دعوت وتبلیغ کی اس مبارک جدوجہد کی تگ وتاز سے خالی نہیں ہے۔ اس جدوجہد کا بنیادی ہدف عام مسلمان کو مسجد کے ساتھ جوڑنا اور عمومی سطح پر دینی ماحول کو زندہ کرنا ہے جس کے اثرات وثمرات دن بدن پھیلتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی گزشتہ صدی کی ان تجدیدی شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے دین کے مختلف شعبوں کو اپنی جدوجہد کا میدان بنایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل وعنایات سے اپنی پرخلوص محنت کے ساتھ پورے ماحول کو بدل دیا۔ کچھ عرصہ پہلے ایک مجلس میں تبلیغی جماعت کی خصوصیات وامتیازات پر گفتگو ہورہی تھی۔ میں نے عرض کیا کہ میرے نزدیک حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے اپنے کام کو ایک شعبے میں محصور رکھا اور دوسرے شعبوں میں کام کرنے والوں سے تعرض نہیں کیا۔ گزشتہ دوصدیوں میں بہت سے مفکرین سامنے آئے اور کسی نہ کسی کام کی دعوت کو لے کر اٹھے۔ اگر وہ اسی کام کی دعوت اور اس کے فروغ تک خودکو محدود رکھتے تو شاید انہیں مخالفت کا سامنا نہ کرنا پڑتا، مگر انہوں نے بیک وقت داعی، متکلم، مناظر اور مفتی بننا بھی ضروری سمجھا جس سے ان کا کام نہ صرف خلفشار کا شکار ہوا، بلکہ وہ خود بھی متنازع حیثیت اختیار کرتے چلے گئے، لیکن یہ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی کی بصیرت وفراست تھی کہ انہوں نے دعوت وتبلیغ اور اصلاح وارشاد کے اس کام کو چھ نکات میں سمویا اور اپنی جدوجہد کو اسی دائرے میں محدود کردیا، جبکہ عقائد کی تعبیرات اور احکام ومسائل کے بارے میں وہ یہی کہتے رہے کہ ’’محلے کے مولوی صاحب سے دریافت کریں‘‘۔ میری طالب علمانہ رائے میں یہ بہت بڑی حکمت کی بات تھی۔
دین کے کاموں کی، مختلف شعبوں میں تقسیم فطری ہے اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور سے چلی آرہی ہے۔ حدیث کی روایت کا اہتمام کرنے والے صحابہ کرام اپنا الگ امتیاز رکھتے تھے، قرآن کریم کی تفسیر وتاویل میں امتیازی شخصیات الگ نظر آتی ہیں، فقہ واستنباط کا ذوق رکھنے والی شخصیات دوسروں سے ممتاز دکھائی دیتی ہیں، کچھ صحابہ کرام فتنوں سے آگاہی اور ان کی نشان دہی کے میدان میں جداگانہ ذوق کے حامل رہے ہیں، بعض ممتاز صحابہ کرام کا قرآن کریم کے حفظ وقرأت میں الگ سے نام لیا جاتا ہے، جرنیل صحابہ کرام کا امتیاز بھی موجود ہے اور سیاست وانتظام میں معروف صحابہ کرام کو بھی الگ سے گنا جاسکتا ہے، البتہ اس دور میں یہ بات نمایاں تھی کہ کسی شعبہ میں دین کے کام نے ’’حزبیت‘‘ کا رنگ اختیار نہیں کیا تھا اور اپنے اپنے شعبہ میں کام کرتے ہوئے دوسرے شعبوں میں تعاون واشتراک کا بھرپور جذبہ ہر سطح پر کارفرما تھا اور اس لیے یہ تقسیم کار اپنے فطری دائرہ میں محدود تھا اور اس کے ثمرات سے امت نے بڑے عرصہ تک استفادہ کیا۔
بعض دوستوں کو یہ اعتراض ہے کہ دین کے فلاں فلاں کام تبلیغی جماعت والے نہیں کرتے اور انہوں نے دین کو ایک محدود دائرے میں بند کردیا ہے۔ مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے، اس لیے کہ تبلیغی جماعت نے دین کو محدود نہیں کیا، بلکہ اپنی جدوجہد کے دائرے کو محدود کیا ہے جو تقسیم کار کے فطری اصول کے مطابق ہے اور حکمت ودانش کا تقاضا ہے۔ تبلیغی جماعت والے بنیادی طور پر دوتین کام کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ ایک عام مسلمان کو جس کا مسجد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، گھیرگھار کے مسجد کے ماحول میں لے آتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ جس شخص کا مولوی صاحب کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے، اسے بہلاپھسلاکر مولوی صاحب کے پیچھے نماز میں کھڑا کردیتے ہیں اور تیسرا یہ کہ چند روز کے لیے اسے اپنے ساتھ چلاکر دین کی بنیادی باتیں، جن میں عقائد، احکام اور اخلاقیات شامل ہیں، سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تینوں کام وہ کررہے ہیں اور جس عمومی سطح پر وہ کام کرتے ہیں، کوئی اورادارہ نہیں کررہا۔ ہمارے پاس مساجد ومدارس میں جو لوگ چل کر آتے ہیں، ہماری محنت انہی تک محدود رہتی ہے، مگر تبلیغی جماعت والے چل کر لوگوں کے پاس جاتے ہیں اور انہیں دین کے ماحول میں آنے کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ مسجد ومدرسہ کی آبادی بڑھانے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اگر ان دوستوں کے کام کو اسی سطح پر محدود رکھتے ہوئے اس سے اگلا کام خود کریں کہ ان کے بھرتی کیے ہوئے لوگوں کی دین کے دیگر شعبوں میں تعلیم وتربیت کا اہتمام کریں اور یہ طے کرلیں کہ بھرتی کا کام ان کا ہے اور اس سے اگلا کام ہمارا ہے تو میرے خیال میں کوئی شکایت باقی نہیں رہے گی، مگر بدقسمتی سے ہماری اس طرف اجتماعی طور پر توجہ نہیں ہے جس سے دھیرے دھیرے ’’حزبیت‘‘ کا ماحول پیدا ہورہا ہے۔
دین کے مختلف شعبوں میں ہونے والا کام جب تک حزبیت (جماعتی گروہ بندی)سے بچتے ہوئے باہمی تعاون واشتراک کے ماحول میں ہوتا رہے گا، اس کے ثمرات ونتائج مثبت رہیں گے، لیکن جب اس میں تقسیم کار کی بجائے حزبیت کا رجحان غالب ہوگا تو وہ شکایات ضرور پیدا ہوں گی جن کا مختلف حلقوں کی طرف سے اظہار شروع ہوگیا ہے، اس لیے کہ حزبیت کا خاصہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ: ’’کل حزب بما لدیہم فرحون‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ جب کوئی گروہ ’’حزب‘‘ بن جائے گا تو صرف اپنا کام ہی اسے اچھا لگے گا اور دوسرے کسی گروہ کے کام کو اچھا کہنا اس کے لیے مشکل ہوگا۔ ہمارے آج کے دور کی سب سے بڑی الجھن یہی ہے کہ دین کے مختلف شعبوں میں کی جانے والی محنت تقسیم کار کی بجائے حزبیت کا رنگ اختیار کرتی جارہی ہے اور یہ صرف تبلیغی جماعت کے حوالے سے نہیں، بلکہ دوسرے بہت سے دینی شعبوں میں کام کرنے والے گروہوں کے جذباتی کارکنوں کی نفسیات بھی یہی ہے کہ انہیں صرف اپنا کام اچھا لگتا ہے، وہ اسی کام کے تقاضوں کو دین کے مجموعی ماحول کا تقاضا قرار دینے لگتے ہیں اور دوسرے کسی شعبے کے دینی کام کی اگر وہ نفی نہ بھی کریں تو اس کا تذکرہ ایسے انداز میں کریں گے، جیسے اس کام کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔
تبلیغی جماعت کے کام میں ایک اور بات بھی مشاہدہ میں آئی ہے کہ جہاں علمائے کرام اس کام میں شریک ہیں اور ان کی راہ نمائی میں کام ہورہا ہے، وہاں کی صورت حال اور ہے اور جہاں علمائے کرام اس کام سے الگ تھلگ ہیں، وہاں کی صورت حال اس سے بالکل مختلف ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ سارے علمائے کرام اس کام کے لیے وقف ہوجائیں اور اپنے اصل کام کو حرج میں ڈال دیں، بلکہ تعلیم وتدریس اور امامت وخطابت کا حرج کرکے کسی بھی دوسرے دینی کام کے ساتھ خود کو مختص کرلینا ویسے بھی دین کے مفاد کے خلاف بات ہوگی۔ دین کے کسی شعبے میں اس شعبہ کے دوستوں سے تعاون کرنے کا مطلب اپنے دینی کام کو کمزور کرنا نہیں، بلکہ باہمی تعاون کی ایسی فضا پید اکرنا ہے جس سے دونوں ایک دوسرے کے لیے تقویت کا باعث بنیں، اس لیے میری علمائے کرام سے ہمیشہ یہ گزارش رہتی ہے کہ اپنے کام کو پوری طرح سرانجام دیتے ہوئے اس میں کوئی کمزوری لائے بغیر تبلیغی جماعت کے ساتھ اس درجہ کا تعلق ضرور قائم رکھیں کہ وقتاً فوقتاً اس میں تھوڑا بہت وقت لگاتے رہیں تاکہ باہمی ربط وتعلق موجود رہے اور ہم سب ایک دوسرے کو کمزوریوں سے آگاہ کرتے ہوئے باہمی خوبیوں سے استفادہ کر سکیں۔ خود میرا معمول سالہاسال سے یہ ہے کہ سال میں ایک سہ روزہ پابندی کے ساتھ تبلیغی جماعت میں ان کے نظم کے مطابق لگاتا ہوں جو عام طورپر عیدالاضحی کی تعطیلات میں ہوتا ہے اور یہ دکھاوے کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ تبلیغی جماعت کا علمائے کرام کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کی نیت کے علاوہ خود بھی اس ماحول سے بحمداﷲ استفادہ کرتا ہوں اور دینی فوائد محسوس کرتا ہوں۔ 
والدگرامی حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدر کا ذوق ومعمول بھی یہی تھا کہ وہ تبلیغی جماعت کے کام کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور اسے بنیادی طور پر دین کا کام سمجھتے ہوئے سراہتے بھی تھے، البتہ کچھ تحفظات بھی رکھتے تھے جن کا اظہار انہوں نے کبھی عمومی ماحول میں نہیں کیا، بلکہ تبلیغی جماعت کے بزرگوں سے ان تحفظات پر بوقت ضرورت بات کی اور اسے اسی سطح پر رکھا ہے۔ حضرت والدگرامی کے ساتھ میں بھی ایک خادم کے طور پر اکابر علمائے کرام کے اس وفد میں شریک تھا جس میں مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ ، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی مدظلہ، مولانا حسن جان شہید، مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہید، مولانا سعیداحمدجلال پوری شہید، مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید اور غالباً مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم بھی شامل تھے۔ ان بزرگوں نے رائے ونڈ کے سالانہ اجتماع کے موقع پر بھارت سے تشریف لانے والے سرکردہ تبلیغی بزرگوں سے ملاقات کرکے انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا اور ان بزرگوں نے ان تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے اصلاح احوال کی کوشش کا وعدہ کیا تھا۔ اس واقعہ کے تذکرہ کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے بزرگوں کا طریق کار یہ تھا کہ کسی بھی دینی کام میں اگر کام کرنے والوں سے کچھ شکایات ہیں تو انہیں شکایات کے درجہ میں ہی رکھا جائے۔ ہمارے اکابر کی احتیاط کا اس سے اندازہ کرلیا جائے کہ اپنی گفتگو میں انہوں نے پاکستان کے تبلیغی بزرگوں کو بھی شامل نہیں کیا تھا کہ بات محدود سے محدود رہے، مگر اس سب کچھ کے باوجود تبلیغی جماعت کا کام دین کا کام ہے، ہمارا اپنا کام ہے اور دین کی دعوت وتبلیغ کے ساتھ عام مسلمان کی اصلاح وارشاد کا کام ہے جس کے ساتھ تعاون دین کے تقاضوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

فکری و سیاسی اختلافات میں الزام تراشی کا رویہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مجھے اندازہ نہیں تھا کہ حامد میر صاحب اس حد تک بھی جا سکتے ہیں کہ ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر کی یادداشتوں کا سہارا لے کر حضرت مولانا عبید اللہ انور رحمہ اللہ تعالیٰ جیسے درویش صفت بزرگ پر ایک سیاسی تحریک میں غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ ساز باز کا الزام عائد کر دیں گے۔ 
حامد میر صاحب سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں، مطالعہ وتحقیق اور تجزیہ کی دنیا کے آدمی ہیں، البتہ مطالعہ وتحقیق کو کسی بھی موقع پر اپنے ڈھب پر ڈھال لینے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں، اسی لیے جب وہ کوئی بات خود سے کہنا چاہتے ہیں تو انھیں کوئی نہ کوئی حوالہ مل جاتا ہے اور وہ یہ تحقیق کیے بغیر کہ یہ حوالہ سند کی دنیا میں کیا درجہ رکھتا ہے اور درایت میں اس کی کیا حیثیت ہے، اس کی بنیاد پر اپنی بات کہہ جاتے ہیں۔ انھوں نے بھٹو مرحوم کی پھانسی کے کیس کو ’’ری اوپن‘‘ کیے جانے کی درخواست پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک حالیہ کالم میں ۱۹۷۷ء کی تحریک مصطفی کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ تحریک بھٹو مرحوم کے خلاف امریکہ کے کہنے پر چلائی گئی تھی اور اس میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ او رمولانا عبید اللہ انورؒ کے ساتھ لاہور کے برطانوی قونصل جنرل کا مسلسل رابطہ تھا۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کون سی تحریک کس کے کہنے پر چلائی گئی تھی، اس کا دائرہ بہت وسیع ہے اور جنوبی ایشیا کی کوئی سیاسی تحریک بھی ایسی نہیں ہے جس کے بارے میں یہ نہ کہا گیا ہو کہ وہ فلاں قوت کے اشارے پر چلائی گئی تھی، حتیٰ کہ تحریک پاکستان کے بارے میں خان عبد الولی خان مرحوم اور لاہور ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ جناب محمد نورالحق قریشی کے پیش کردہ بھاری بھرکم حوالہ جات پر اعتماد کیا جائے او رحامد میر صاحب کے طرز استدلال کو اختیار کیا جائے تو اس کے پیچھے بھی امریکہ اور برطانیہ کے سیاسی مقاصد اور ایجنڈے کی جھلک صاف نظر آنے لگتی ہے۔ 
یہ بات ہمارے سیاسی کلچر کا حصہ بن گئی ہے کہ ہم اپنے سوا کسی اور کو کوئی سیاسی موقف طے کرنے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور جس سے ہمیں اختلاف ہوتا ہے، اس کی دیانت پر اعتماد کرنے کی بجائے اس کے ڈانڈے کسی نہ کسی دشمن کے ساتھ ملا دینے میں نفسیاتی تسکین محسوس کرتے ہیں۔ چند سال پہلے کی بات ہے کہ اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک سیمینار میں ملک کے ایک معروف دانش ور نے بعض معاشی مسائل کے حوالے سے چند معروف علما کے موقف پر یہ کہہ کر تنقید کی کہ انھوں نے فلاں قوت سے پیسے لے کر یہ موقف اختیار کیا ہے۔ میں بھی وہاں موجود تھا۔ میں نے اپنے خطاب میں گزارش کی کہ جب ہمارے ملک کی اعلیٰ سطح پر پائی جانے والی دانش کا یہ حال ہے کہ بعض حضرات خود سے اختلاف رکھنے والوں کو کسی دوسرے کا ایجنٹ بتائے بغیر اپنا موقف پیش کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے تو ایک غریب اور عام شخص کا کیا حال ہوگا؟ ہم میں یہ حوصلہ اور اخلاقی جرات ہی نہیں رہی کہ ہم کسی دوسرے کے موقف اور رائے کو اس کا حق سمجھتے ہوئے اس کی دیانت پر اعتماد کریں اور یہ کہہ کر اس سے اختلاف کریں کہ اس نے اپنی صواب دید اور دیانت کے مطابق جو موقف خلوص کے ساتھ اختیار کیا ہے، ہمیں اس سے اتفاق نہیں ہے اور اس پر کوئی الزام عائد کیے بغیر ہم دلیل کے ساتھ اس اختلاف کا اظہار کر رہے ہیں۔
اہل علم کے ہاں راوی اور روایت کا درجہ دیکھنے کے ساتھ ساتھ درایت کو بھی روایت کے قبول یا عدم قبول کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ حامد میر صاحب نے اس واقعہ میں جن صاحب کو بطور راوی پیش کیا ہے، ان کا اخلاقی حدود اربعہ کیا ہے؟ مگر میں حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کو جانتا ہوں اور اتنا قریب سے جانتا ہوں کہ شاید ہی ان کا کوئی اور رفیق کار اس درجے میں اس بات کا دعویٰ کر سکے۔ وہ اس مزاج کے بزرگ ہی نہیں تھے۔ یہ بات کسی لطیفے سے کم نہیں ہے کہ مولانا عبید اللہ انور کے ساتھ کسی سفارت کار کے مسلسل رابطے تھے، اس لیے کہ وہ تو گوشہ نشین اور خلوت پسند قسم کے بزرگ تھے۔ بالخصوص ایوبی آمریت کے خلاف لاہور میں ایک احتجاجی جلوس کی قیادت کے دوران پولیس کے لاٹھی چارج سے ان کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہونے کے بعد سے وہ معذور بھی ہو گئے تھے اور ان کا زیادہ تر وقت اپنے گھر کے بالا خانے میں گزرتا تھا ہاں وہ مطالعہ اور ذکر الٰہی میں شب وروز مصروف رہتے تھے۔ ہم چند لوگ جو ان کے قریب ترین ساتھی شمار ہوتے تھے، کسی اشد ضرورت کے بغیر انھیں ملاقات اور تشریف آوری کی زحمت نہیں دیا کرتے تھے اور وہ کئی کئی دن اپنے خاص مریدوں اور ساتھیوں کو بھی میسر نہیں آتے تھے۔ ان کے گھر کے زیر سایہ مدرسہ قاسم العلوم میں جمعیۃ علماء اسلام کے اہم اجلاس ہوتے تھے اور ہمیں ان سے دریافت کرنا پڑتا تھا کہ وہ اجلاس میں شریک ہونے کی پوزیشن میں ہیںیا نہیں؟ ان کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ایک غیر ملکی سفارت کار کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور سیاسی تحریک کو مخصوص رخ پر چلانے کے لیے کوئی متحرک کردار ادا کر رہے تھے، لطیفہ اور ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے؟
حامد میر صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اپنی ’’سیاسی چاند ماری‘‘ کا شوق ضرور پورا کریں کہ آج کل سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ کالم نویسوں کے پاس بھی اس کے سوا کوئی مشغلہ باقی نہیں رہا، لیکن کم از کم ایسے بزرگوں کو تو معاف کر دیا کریں کہ جن کی شرافت، دیانت اور ثقاہت کے سہارے ہمارے معاشرے میں ان مقدس الفاظ کا کچھ نہ کچھ بھرم قائم ہے۔ کیا وہ اس رہے سہے بھرم کو بھی ختم کر دینے کی خواہش رکھتے ہیں؟

دعوت الی اللہ کا فریضہ اور ہمارے دینی ادارے (۱)

مولانا محمد عیسٰی منصوری

دعوت

اسلام کی روح اورطاقت: حضرات انبیا کا بنیادی اور اصل کام دعوت الی اللہ یعنی انسانوں کو اللہ کی طرف بلانا تھا۔ وہ انسانوں کو اللہ کا تعارف کرواتے، اللہ کی عظمت وبڑائی دلوں میں اتارتے، ان میں آخرت کی فکر پیدا کر کے ان کا رخ دنیا سے آخرت کی طرف موڑتے اور انہیں اللہ کے لیے مرنا اور جینا سکھاکراللہ والا بنادیتے۔ نبیوں کا طریقہ براہ راست انسانوں تک پہنچ کر انہیں ایمان واسلام پہنچاناتھا۔ انبیاء علیہم السلام دین کے دوسرے کام تعلیم وتعلم، تزکیۂ نفس، ذکروتلاوت، صدقہ وخیرات، دعوت کے ضمن میں اور تابع کرکے انجام دیتے تھے۔ ان کی پوری زندگی اور زندگی کے ہر دن اور ہرلمحے کا بنیادی کا م دعوت ہی تھا۔ خاتم النبیین اور آپ کے صحابہؓ کازندگی بھریہی اصل مشغلہ تھا، البتہ کبھی کبھی دعوت کی راہ کی رکاوٹ دور کرنے کے لیے قتال کی بھی نوبت آجاتی تھی۔ دعوت کی بدولت ہجرت کے بعد دس سال میں روزانہ ۲۷۴ میل کے حساب سے اسلام پھیلتا گیا۔ آپ ؐکی وفات تک کم وبیش دس لاکھ مربع میل کا علاقہ اسلام کے زیرنگیں آگیاتھا۔ آپ کے بعد چالیس سال کی مختصر سی مدت میں تقریباً ۶۵ لاکھ مربع میل علاقہ پر اسلام کی عمل داری قائم ہوگئی، یعنی اس دور کے تین معلوم براعظموں (ایشیا، افریقہ اوریورپ کے بڑے حصہ) پر جسے آج مسلم ورلڈ یا عالم اسلام کہاجاتاہے۔ یہ درحقیقت پیغمبراسلامؐ اور آپ ؐکے صحابہ کرامؓکی دعوت کا پھل ہے۔ بعدکے ادوار میں مسلمان تدریجاً دعوت سے دور ہوتے گئے، اگرچہ بعد کے ادوار میں بھی کسی نہ کسی درجہ میں اسلام کی اشاعت ہوتی رہی اور اس اشاعت اسلام میں دیگر عوامل نے بھی تھوڑا بہت کردار ادا کیا، لیکن دعوت اور غیردعوت کے ادوار میں اشاعت اسلام میں نمایاں فرق یہ رہا کہ جن خطوں اور علاقوں میں دعوت کے ذریعہ اسلام پہنچا، وہ آج تک ایمان پر قائم اور پوری طرح محفوظ ہیں اور جن خطوں میں عسکری فتوحات یا دیگر عوامل سے اسلام پھیلا، عسکری قوت کے کمزور پڑنے کے ساتھ وہاں دوبارہ کفرکی عمل داری قائم ہوگئی۔
دین کے اجتہادی شعبے اصل (دعوت)کے ساتھ ہی پورا فائدہ دیں گے :بعدکے ادوار میں دعوت کے بجائے دین کے دیگر اجتہادی شعبوں کی طرف توجہ مرکوز ہوجانے کی وجہ سے ایک طرف نئے نئے خطوں اور علاقوں میں اسلام کی اشاعت کی رفتار سست وکمزور ہوتی گئی، دوسری طرف خود مسلمانوں میں ایمانی وعملی ضعف وکمزوری درآئی جس کی وجہ سے طرح طرح کے اعتقادی وفکری فتنوں وگمراہیوں نے جنم لیا حتیٰ کہ آج یہ حالت ہوگئی کہ اگر مسلمان کہلانے والوں کو قرآن وسنت کی کسوٹی پر پرکھاجائے تو انہیں مسلمان کہنا مشکل ہوگا۔ دین کے دیگر شعبے جب تک اصل کام (دعوت) کے ضمن میں چلتے رہے، ان میں ترقیات، فوائد اور خیروبرکت رہی اور جب اصل (دعوت)کی جگہ دین کی اجتہادی شکلوں، تعلیم وتعلم، درس وتدریس، تصوف وتزکیہ، تذکیر وتبلیغ نے لے لی یعنی دعوت کے بجائے اجتہادی شعبے ہی رہ گئے تو ان میں رسمیت آکر طرح طرح کی خرابیاں پیداہونے لگیں، کیونکہ صرف دعوت ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعہ داعی کا ربط وتعلق ایک طرف براہ راست اللہ سے اور درسری طرف لوگوں سے استوار رہتاہے۔ جب تک یہ تعلق قائم رہے، کفر اور باطل طاقتیں اپنی سازشوں اور کوششوں میں کامیاب نہیں ہوپاتیں۔ حضرت امام مالک ؒ کا قول مشہور ہے کہ اولین دور یعنی دور نبوت میں امت کی صلاح وفلاح، ترقی وکامیابی جس طریقہ پر ہوئی، آخری دور میں بھی اور (درمیان میں بھی) اسی راہ (دعوت) سے ہوگی۔

حق وباطل کی جنگ میں سنت الٰہی

حق وباطل کی جنگ میں یہ ہمیشہ سے اللہ کی سنت رہی ہے کہ باطل کو مادّی وسائل واسباب نہایت فراوانی سے دیے جاتے ہیں اور ان کے مقابلے کے لیے حضرات انبیاء علیہم السلام کوجو اسباب اور سازوسامان عطا کیا جاتا ہے، وہ ہے’’دعوت اور دعا‘‘ یعنی دن کو، جان کھپاکر لوگوں کو اللہ کی بات پہنچانا اور رات کو اللہ کے سامنے آہ وزاری اور دعا میں مشغول رہنا۔ دعوت کی بدولت داعی کے ساتھ اللہ کی خاص نصرت وطاقت شامل حال ہوجاتی ہے، ایسی طاقت جس کا مقابلہ کوئی دنیوی طاقت نہیں کر سکتی۔ گویا دعوت کا عمل دنیا میں بھی غلبہ وکامرانی کی شاہ کلید اور گہری حکمت ہے۔ داعی کسی قوم وملک کو دعوت دے کر گویا اسے اس سے بے انتہا بڑی قوت وطاقت سے بھڑا یعنی ٹکرا دیتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر وہ قوم وملک یامطیع (مسلمان) ہو جاتا ہے یا خداکا غیبی نظام اس کے خلاف پڑ کر اسے تباہ کردیتاہے، چنانچہ دور نبوت میں بھی یہی ہوا۔ اُس وقت دنیا پر عملاً دو سپر پاورز کی عمل داری قائم تھی۔ ایک رومن امپائر اور دوسری پرشین امپائر۔ اگر صحابہ کرامؓ ان دونوں سُپر پاورز کے مقا بلے کا مادّی سازوسامان، اسلحہ واسباب اکٹھا کرتے تو شاید صدیوں تک ان کے مقابلے کے اسباب ووسائل جمع نہ کر پاتے۔ صحابہ کرامؓ نے کامیابی کی مختصر راہ اختیار فرمائی، یعنی ان کو اللہ کی طرف دعوت دی۔ انکار کرنے پر اللہ کی غیبی طاقت ونظام ان کے خلاف ہو گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گنتی کے چند سالوں میں صدیوں سے جمی جمائی دونوں عظیم سلطنتیں اس طرح مٹ گئیں جیسے نمک پانی میں تحلیل ہوکر ختم ہو جاتا ہے۔ آج ان دونوں سپرپاورز کی سرزمین ہی اصل دارالاسلام ہے۔

ملت اسلامیہ کے لیے واحد راہ عمل صرف دعوت ہے

غورکیاجائے تو آج کے دور میں بھی ملت اسلامیہ اور عالمی کفریہ طاقتوں کے مابین طاقت اسباب ،وسائل کاتقریباً وہی تناسب ہے جوآج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے تھا، بلکہ جدید سائنسی وٹکنالوجی ترقی نے اسلام اور کفر کے درمیان طاقت کے تناسب میں فرق کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اگر دور نبوت میں طاقت کا تناسب ایک اور دس کا تھا تو اب ایک اور ہزار کا ہو گیا ہے۔ مثلاً غزوۂ بدر میں صرف تعداد کا فرق تھا۔ ایک طرف تین سو تیرہ ہیں، دوسری طرف گیارہ سو، مگر دونوں کے پاس دستی ہتھیار تھے۔ اب جدید سائنس نے الیکٹرونک اسلحہ دے کر ایک فرد کو اس قابل بنادیاہے کہ وہ ایک بٹن دباکرپورے ملک کو تباہ کرسکتاہے،اس لیے اب ملت اسلامیہ کے لیے غلبہ وکامرانی حاصل کرنے کی صرف ایک ہی راہ باقی رہ گئی ہے جو دور نبوت میں تھی، یعنی دعوت الیٰ اللہ۔ اشاعت اسلام کی پوری تاریخ دعوت کی تاریخ ہے۔ مسلمانوں نے گزشتہ چودہ سو سالہ دور میں مراکش سے انڈونیشیا تک جو کچھ حاصل کیا، وہ دعوت ہی کی بدولت حاصل کیا اور جو کھویا، دعوت میں کوتاہی سے کھویا۔ آج دنیا بھرمیں مسلمانوں کو جو سزامل رہی ہے، وہ درحقیقت دعوت چھوڑنے کی سزاہے کہ ہم نے لوگوں کو ان کی امانت یعنی ایمان واسلام ان تک نہیں پہنچایا ،اس لیے ہم اللہ اور انسانیت دونوں کے مجرم بن گئے۔

ملت اسلامیہ کے تین دور

حضرت جی مولانا یوسفؒ نے ۱۹۶۳ء میں تقریباً تین گھنٹے دعوت کی تاریخ پر ایک تقریر فرمائی (جو بندہ نے حضرت کے سامنے بیٹھ کر قلم بند کی تھی، جلدہی ان شاء اللہ شائع کرنے کا ارادہ ہے۔) اس میں حضرت ؒ نے ملت کے تین دور بتائے۔ پہلادور جس میں دعوت اصل اور محور کے درجہ میں تھی، علم وذکر ضمن میں تھے۔ اس دور میں کس طرح آناً فاناً دنیا میں اسلام پھیلا۔ پھر خلفائے راشدین کے بعد جو بر سر اقتدار طبقہ تھا، وہ دعوت چھوڑکر عیش وعشرت میں پڑگیا تو مخلصین نے علم کو اصل اور محور بنا کر سارے مجاہدے، مشقتیں اور تکالیف جو پہلے دور میں دعوت کی خاطر برداشت کیے جاتے تھے، دوسرے دور میں علم کی خاطر یعنی حدیث ،تفسیر، سیرت اور دیگر دینی علوم کے محفوظ کرنے کی خاطر اختیار کیے۔ اس دوسرے دور میں علم اصل اور محور تھا، دعوت وجہاد اور ذکر ضمن میں تھا۔ جیسے حضرت عبداللہ بن مبارک سال میں چھ ماہ درس حدیث دیتے اور چھ ماہ جہاد کرتے تھے۔ ذکر بھی تھا، مگر اصل محور کے درجے میں بنیادی توجہ علم پر یعنی احادیث جمع کرنے، سیرت ومغازی وتفسیرکے محفوظ کرنے اورمسائل استنباط کرنے وغیرہ وغیرہ پر تھی۔ جب اہل علم میں بگاڑ آگیا، علماء بادشاہوں کے قرب اور دنیوی عہدوں ومناصب کے حصول اور مال اور متاعِ دنیا جمع کرنے میں لگ گئے تو مخلصین نے اللہ کے ذکر کے ذریعہ تزکیۂ قلوب، اخلاص اور تعلق مع اللہ پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کر دی۔ اس طرح تیسرا دور شروع ہو ا۔ اس تیسرے دور میں علم بھی تھا، دعوت بھی تھی ، مگر اصل اور محور کے درجہ میں ذکر تھا۔ حضرت نظام الدین اولیاء نے اپنے آخری دور میں سات سو مبلغین دعوت کے لیے جنوبی ہند روانہ کیے، مگر اس تیسرے دور میں محور اور اصل کے درجے میں ذکر الٰہی تھا۔
پھر حضرت ؒ نے تفصیل سے ان تینوں ادوار کا فرق بیان فرمایا۔ مثلاً پہلے دور میں کفاراورخدا کے دشمنوں کو کثرت سے ہدایت مل رہی ہے، اسلام تیزی سے ملکوں اور قوموں میں داخل ہورہاہے، کٹڑ سے کٹڑ اسلام کے دشمن ایمان لارہے ہیں۔ دوسرے دور میں عباسی خلیفہ حضرت سفیان ثوریؒ کا معتقد ہے، ان کے خط کو احترام میں آنکھوں سے لگاتاہے، سرپر رکھتاہے، بوسہ دیتاہے، مگر ان کی لکھی ہوئی باتوں پر عمل نہیں کرتا۔ حضرت ؒ نے فرمایا کہ قیامت تک امت پر ان تین ادوار میں سے کوئی نہ کوئی دور رہے گا۔ جب محور اور اصل دعوت ہوگی تو پہلے دور کی برکتیں فوائد وثمرات ملیں گے اور جب ذکر محور ہو گا تو تیسرے دور کے فوائد وبرکات حاصل ہوں گے۔ حضرت ؒ نے یہ مفصل تقریر خیر القرونِ قرنی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم کی تشریح وتفہیم کے ذیل میں فرمائی تھی۔

دعوت ہر مسلمان کا اصل کام اور فریضہ

اسلام ایک دعوتی دین ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے: ’’کہہ دیجیے، یہ میراراستہ ہے کہ میں اللہ کی طرف بلاتاہوں بصیرت کے ساتھ اور میرے متبعین کا بھی‘‘ (القرآن) پیغمبر اسلام نے اس امت کی تربیت دعوت ہی کے راستہ سے فرمائی۔ ہر شخص کلمہ پڑھتے ہی دعوت کے کام میں لگ جاتاتھا۔ حجۃ الوداع کے آخری پیغام میں آپؐ نے قیامت تک کے مسلمانوں کی ڈیوٹی لگا دی کہ اب تم کو رہتی دنیا تک میرا پیغام انسانیت کے ہر ہر فرد تک پہنچاناہے۔ پوری انسانیت آپ کی امت قرار دی گئی، امت اجابت یا امت دعوت۔ جیسے باپ آخری وقت میں اپنے بیٹے کو وصیت کر جائے کہ میری میراث دوسرے بیٹے تک بھی پہنچادینا، لیکن وہ بیٹا ساری وراثت اپنے ہی پاس رکھ لے، دوسرے بھائی تک نہ پہنچائے تو وہ باپ کا بھی مجرم ہوگا اور دوسرا بیٹا (غیر مسلم) بھی اس کا دشمن بنے گا۔ آج ساری دنیا کو ہم سے یہی دشمنی ہے کہ ہم نے ان کا حق مارا ہے، ان کا ورثہ (ایمان واسلام ان تک نہیں پہنچایا)۔ غرض ایک مسلمان کا اصل کا م اور زندگی کا مشن دعوت ہی ہے، اس کے بغیر نہ وہ کا مل مسلمان بن سکتاہے اور نہ دنیا میں اسلام فاتح وغالب رہ سکتاہے۔ رہا جہاد تو وہ نام ہے دین پھیلانے میں اپنی ساری قوت وتوانائی حتیٰ کہ جان تک قربان دینے کا۔ جہاد، دعوت ہی کاآخری مرحلہ ہے، یعنی جب طاقت وقوت سے دعوت کو روکا جائے تو طاقت ہی سے وہ رکاوٹ دور کردی جائے۔ موجودہ دور میں دشمنان اسلام بالخصوص مغرب کی صہیونی وصلیبی قوتوں نے ایک طر ف ابلاغ کے تما م وسائل پر جن کے ذریعے انسانوں کے دلوں تک رسائی حاصل کی جاتی ہے، اور دوسری طرف اسلحہ وطاقت کے تما م وسائل پر مکمل قبضہ وکنٹرول کر کے جہاد کے خلاف شرانگیز پروپیگنڈا کر رکھا ہے اور مغرب سے مرعوب ومتأثر ہمارے بالائی طبقات، حکمراں، فوج اور جدید تعلیم یافتہ طبقے نے بھی لفظ جہاد کو طعنہ بلکہ گالی بنادیا ہے۔ یہ لوگ ہر جگہ جہاد سے برأت کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔ سارا قرآن جہاد کی اہمیت وفضیلت سے بھراپڑا ہے، لیکن اسلام کا مقصود قتال نہیں، دعوت ہے۔ قتال ناگزیر حالات میں مجبوراً سرجن کے آپریشن کی طرح آخری آپشن کے درجہ میں ہے۔

ایمان ونفاق کے درمیان فرق کرنے والی چیز دعوت و جہاد ہی ہے

ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ایمان ونفاق کے درمیان امتیاز، دین پھیلانے کی جدوجہد (دعوت وجہاد) سے ہی قائم ہوتا ہے۔ دور نبوت کے منافقین نمازو روزہ، ذکر وتلاوت، صدقہ وخیرات سب کچھ کرتے تھے،امتیاز دعوت وجہاد کے موقع پر ہی ہوتا تھا۔ آخری غزوہ تبوک میں تیس ہزار صحابہ کرام شریک ہوئے، صرف تین نہ جاسکے۔ اس پر ان کے ساتھ توبہ قبول ہونے تک معاشرتی طور پر کا فروں اور منافقوں جیسا برتاؤ ہوا۔ اس سے پتہ چلتاہے کہ نبی آخرالزماںؐ کے امتی کے لیے دین پھیلانے کی جد وجہد یعنی دعوت کے بغیر صرف دین پر چلنا ہرگز کافی نہیں۔ بقول عصرحاضر کے ایک داعی کے آج دین پھیلانے کے لیے لوگوں میں مارے مارے پھرنا فضیلت اور ثواب کی چیز ہے۔ وہ وقت (ظہور مہدی) قریب ہے جب یہ دور نبوت کی طرح فرض وواجب ہوگا، دین کی خاطر نہ نکلنے والے کو منافق وکافر قرار دیا جا ئے گا۔ قرآن کاارشاد ہے: کامل مؤمنین صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ پراور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، پھر ذراشک نہیں کیا، پھر اپنی جان ومال سے اللہ کی راہ میں کو شش وجہاد کیا۔ صرف یہی لو گ (ایمان کے دعوے)میں سچے ہیں۔‘‘ (سورۂ حجرات آیت ۱۵) 

ہمارے تمام مصائب اور مشکلات کا اصل سبب

آج دنیا کے ہر ملک میں ہمارے جتنے بھی مسائل ہیں مثلاً تعلیم میں پچھڑجانا، اقتصادی پسماندگی، سیاسی بے حیثیتی، ہر طرح کی ناانصافی، ہولناک مظالم، نسل کشی (دیکھا جائے تو دنیا بھر کی دجالی طاقتوں نے ہر ملک میں اسپین کی تاریخ دہرانے کی تیاری کر لی ہے) ،یہ ہولناک حالات ومصائب اصل مرض نہیں، مرض کی علامت ہیں۔ ہمارا اصل مرض یہ ہے کہ ہم نے اللہ سے اپنا رشتہ توڑلیا اور دین کو پھیلانا چھوڑدیا جس کی وجہ سے ہم انسانیت کے خیر خواہ بننے کے بجائے حریف بن گئے۔ آج ہم دنیا بھر میں اپنی مظلومیت کا رونا رو رہے ہیں کہ فلسطین میں ہمارے ساتھ یہ ظلم ہو رہا ہے، عراق وافغانستان میں یہ ظلم ہو رہا ہے، کشمیر وفلپائن میں یہ ظلم ہو رہا ہے۔ ہم اپنی اور دنیا کے انسانوں کی نظر میں مظلوم ہیں اور دوسرے لوگ ظالم، لیکن کبھی کبھی میں سوچتاہوں کہ دنیا کے انسانوں تک ان کی امانت (ایمان واسلام) نہ پہنچانے کی وجہ سے اصل ظالم ہم ہی ہیں کہ ہم نے ان کا حق ماراہے، باپ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم) کی امانت اس کے دوسرے بیٹے تک نہیں پہنچائی۔ اللہ اور رسول ؐنے انسانیت تک پہنچانے کے لیے ہمیں جو ذمہ داری وامانت سونپی تھی، ہم نے خیانت کی، ذمہ داری پوری نہیں کی۔ ایمان واسلام وہ دولت ہے جس کے بغیر دنیا کا ہر فرد بشر ہمیشہ ہمیش کے لیے ہلاکت میں پڑجائے گا۔ ہم انسانیت کے حق میں اتنے بے رحم وظالم ثابت ہوئے کہ ان بے چاروں کو دائمی ہلاکت وبربادی سے بچانے کی ذرافکر نہ کی، اپنی دنیا بنانے میں مگن رہے تو اللہ نے اس جرم کی پاداش میں انہی لوگوں کے ذریعہ ہماری دنیا کو جہنم بنادیا۔
دنیامیں اسلام کی اشاعت کس طرح ہوئی؟ دنیامیں اسلام دینی اداروں سے نہیں، دعوت سے پھیلاہے، مثلاً بر صغیر کے مغربی حصہ (پاکستان) میں زیادہ تر اسلام کی اشاعت اس دور میں ہوئی جب مسلمانوں میں کسی حد تک دعوت کا جذبہ موجود تھا، یعنی محمد بن قاسمؒ اور ان کے بعد کا دور، چنانچہ تاریخ فرشتہ میں ہندوستان میں پہلی مسلم سلطنت کی بنیاد رکھنے والے سلطان شہاب الدین غوری کا خط نقل کیا ہے جو انہوں نے شمالی ہند کے سب سے طاقتور حکمراں پِرتھوی راج کو لکھاتھا کہ تم سرحد، سندھ، پنجاب، بلوچستان میرے حوالہ کر دوتومیں دہلی واجمیر پر حملہ نہیں کروں گا اور اپنے مطالبے کے حق میں یہ دلیل دی تھی کہ یہ علاقہ مسلم اکثریت کا علاقہ ہے۔ اسی طرح بنگال (بنگلہ دیش) پر سات سو سالہ مسلم حکمرانی کے دورمیں مسلمانوں کی تعداد ۱۵؍۲۰فیصد سے زیادہ نہیں بڑھ سکی تھی، لیکن انگریز کے عین دور شباب میں حضرت سید احمد شہید بریلوی ؒ کے خلیفہ مولاناکرامت اللہ جونپوری ؒ نے دعوت کا کام کرکے بنگال میں تقریباً ایک کروڑ لوگوں کو مسلمان بنایا۔ اس سے معلوم ہواکہ پاکستان کی اصل بنیاد بھی دعوت ہے نہ کہ دوقومی نظریہ۔ آج پاکستان اسی تضاد کے نتائج بھگت رہاہے کہ قائد اعظم نے دوقومی نظریہ (اسلام وکفرکی تفریق) کی بنیاد پر پاکستان بنایا اور بننے کے بعد اپنی ساری توانائی اور توجہ ایک قومی نظریہ (اسلام وکفر کی برابری) کے مطابق ڈھالنے پر لگا دی۔ یا د رکھیے !دعوت سے ہی دار کفردارالاسلام بنتاہے، نہ کہ کسی نظریہ سے۔

نازک حالات میں دعوت ہی نے ملت اسلامیہ کو سنبھالا

ہماری تاریخ کا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ جب کبھی ملت پر نازک وقت آیا، اس وقت دین کے دوسرے شعبے یااپنی ادارے وجامعات کام نہیں آئے بلکہ دعوت ہی کے ذریعے حالات بدلے۔ مثلاً چھٹی صدی ہجری میں تاتاریوں کی یلغار کے وقت دینی اداروں، جامعات ،علما ومشائخ کی کمی نہیں تھی۔ صحرائے گوبی سے اٹھنے والی آندھی (تاتاری) نے عالم اسلام کو اس بری طرح تاراج وتباہ کیا کہ سمجھا جانے لگا، گویا اب اسلام کا خاتمہ ہے۔ ایسے نازک حالات میں اللہ کے چند مخلص بندوں نے خاموشی سے ان جنگجووجنگلی فاتحین کے دلوں پر دستک دی، انہیں اللہ کی طرف بلایا، ان تک ایمان پہنچایا جس کے نتیجہ میں حالات نے ایک دم اسلام کے حق میں اس طرح پلٹا کھایا جس کا کوئی تصور نہیں کرسکتا تھا۔ بقول برطانوی پروفیسر اور علامہ اقبال کے استاذ آرنلڈ کے، جہاں مسلمانوں کی تلوار اور سارے وسائل ناکام ہوگئے، وہاں بے لوث دعوت نے مسلمانوں کی تاریخ بدل کر رکھ دی اور فاتحین کی پوری نسل من حیث القوم اسلام کی آغوش میں آکر صدیوں تک کے لیے اسلام کی سب سے بڑی علمبردار اور محافظ بن گئی۔ اسی طرح ہندوستان میں دسویں صدی ہجری میں اسلام پر نازک وقت آیا جب برہمنوں کی ایک گہری سازش کے نتیجہ میں مغل امپائر کی سب سے زیادہ بلند حوصلہ اور طاقتور شخصیت اکبراعظم کودین الٰہی کے نام سے اسلام کے مقابلے پر لاکھڑاکیا گیا۔ وہ وقت برصغیر میں اسلام کے لیے نازک ترین وقت تھا۔ اللہ کے ایک مخلص بندہ (حضرت مجدد الف ثانیؒ ) کی خاموش دعوت نے ایسے حالات بدلے کہ اکبر اعظم کے تخت پر چوتھی پشت میں ایک ایسی شخصیت (اورنگزیب عالمگیر) جلوہ افروز ہوئی جنہیں عرب دنیاکے ممتاز عالم دین اور مفکر شیخ علی طنطاوی نے چھٹا خلیفہ راشد قرار دیا۔ اس عظیم انقلاب کا سہرا حضرت مجدد الف ثانی کی دعوت، خاص طور پر تحریر ی دعوت (مکتوبات) کے سر ہے۔ آپ نے اپنی تحریری دعوت کے ذریعے اکبر کے ارکان سلطنت وامراے دربار کے دلوں پر براہ راست دستک دی ۔ یہ آپ کی دعوتی کڑھن وکوشش کا کرشمہ تھا کہ اکبر کے اراکین سلطنت وامرا نے اس عظیم فتنہ کو اکبر کے شاہی محل میں دفن کردیا۔ غرض دعوت ہی سے ہر دور کے مسائل حل ہوئے۔

تمام مسائل کے حل کا نبوی طریقہ

یہاں سرسری نظر اس پرڈالیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسائل کو کس طرح حل فرمایا۔ ہجرت مدینہ کے وقت ایک طرف لٹے پٹے مہاجر تھے جو اللہ کے لیے اپناسب کچھ چھوڑ کر اور صرف جان بچاکر مدینہ پہنچے تھے۔ دوسری طرف مدینہ کے کاشتکار (انصار) تھے جن کا بال بال یہودیوں کے سودی قرضے میں جکڑا ہوا تھا۔ آپ ؐنے مدینہ پہنچ کر چارکام کیے: 
(۱)اللہ کی عبادت اور تعلیم وتربیت کے لیے مسجد کی بنیاد رکھی۔
(۲) بے وسائل آنے والے مہاجرین کی آبادکاری کے لیے ایک مقامی (انصاری) اور ایک پردیسی (مہاجر)کے درمیان مواخات کے عنوان سے مضبوط رشتہ قائم کرکے ان پناہ گزین کے سارے مسائل ایک لمحہ میں حل فرمادیے۔
(۳) چاروں طرف خوف وہراس کا عالم تھا، مٹھی بھر مسلمان دنیابھر کے کفر کے درمیان گھرے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی فضا ختم کرنے اور امن قائم کرنے کی خاطرمدینہ منورہ کے یہودیوں اورقبائل سے اپنے اپنے مذہب، شریعت اور معاشرت پر رہتے ہوئے مدینہ کے دفاع میں شرکت کرنے اور باہمی رواداری کے ساتھ رہنے اور آپسی مناقشات اور اختلاف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو تسلیم کرنے پر معاہدہ فرمایا جسے میثاق مدینہ کہا جاتا ہے اور جو دنیاکا پہلاتحریری دستورہے۔ اسی طرح مدینہ کے اطراف میں کئی کئی سومیل کا سفر فرماکر مختلف قبائل سے معاہدے فرمائے۔ کسی سے اس شرط پر معاہدہ ہواکہ جب مسلمانوں کے قافلے (عسکری وتجارتی) ان کے علاقوں سے گزریں تو ان کو اپنامہمان بنائیں۔ بعض سے اس شرط پر معاہدہ ہواکہ ان کے علاقہ سے اسلام کے دشمن گزریں تو ان کی مکمل اطلاع فراہم کریں، وغیرہ وغیرہ۔
(۴) اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری توجہ مسلمانوں کی تعلیم وتربیت پر مرکوز فرمائی۔ مسجد نبوی صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ مدرسہ، یونیورسٹی، خانقاہ، تربیت گاہ بھی تھی۔ مختلف اوقات میں تعلیم اور ذکر کے حلقے لگتے، پھر لوگ اپنے گھروں میں جاکر عورتوں اور بچوں کو تعلیم دیتے اور تربیت کرتے۔ غزوہ بدر کے موقع پر اہل مکہ کے ان قیدیوں کے لیے جو لکھناپڑھنا جانتے تھے، آپ نے رہائی کا یہ فدیہ مقرر کیا کہ دس مسلمان بچو ں کولکھنا پڑھنا سکھا دیں تو آزاد ہیں۔ سوچنے کی بات ہے جو قیدی اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے جذبہ سے آئے تھے، انہوں نے دین (قرآن وسنت) کی تعلیم دی ہوگی؟ بلکہ اس دور کی عصری تعلیم ہی دی ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی ایسی تعلیم وتربیت فرمائی کہ ہرصحابی رہتی دنیا تک کے لیے اعلیٰ آئیڈیل ونمونہ بن گیا۔ تاریخ شہادت پیش کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت یافتہ (صحابہ کرامؓ) جماعت نے وقت آنے پر اُس دور کے ہر سیاسی، انتظامی، عسکری، معاشی مسئلے میں اور ہر ہر علم وفن میں کامل مہارت کا ثبوت دیا۔ ان میں ہر شخص داعی تھا۔ وہ دنیا کے جس خطے میں بھی پہنچا، وہاں کے لوگوں کو اسلام اورایمان پہنچاکر ان کا معلم اور مقتدا بنا۔ گنتی کے چند صحابہ کے بارے میں کہاجاسکتاہے کہ وہ متخصص فی القرآن یا فی الفقہ یا فی القرأت تھے، لیکن صحابہ کرامؓ کی زندگی کا بغور مطالعہ بتاتاہے کہ ہر صحابئ رسول متخصص فی الدعوت تھا۔ وہ جہاں بھی گیا، ہزاروں لاکھوں کو اسلام اور ایمان کی دولت سے سرفرازکرگیا۔ اگرمسلمان داعی نہ ہوتو اس کا ایمان اور اسلام اتنا کمزور ہوگا کہ وہ نامساعد حالات کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔
داعی کی مثال ایک تاجر کی سی ہے۔ جس طرح تاجر اپنا مال بیچنے کے لیے گاہک کی ہرطرح کی بدتہذیبی، سختی اور بداخلاقی برداشت کرکے نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آتاہے، اسی طرح داعی بھی مدعوین کی ہر طر ح کی سختی، درشتی اور بداخلاقی کو نظر انداز کرکے اخلاق کریمانہ اور ہمدردی سے اپنی بات پہنچاتاہے۔ تاجر ہر وقت گاہک کے پسندوناپسند، مزاج ونفسیات، رضا وخوشی اور دلجوئی کی فکر میں رہتاہے۔ اگر تاجر دیکھتا ہے کہ گاہک اس کی دکان میں نہیں آرہاہے تو وہ یہ نہیں کہتاکہ میری بلاسے، اگر خریدنا ہوگا تو خود آئے گا، بلکہ وہ گاہک کی پسند کے مطابق دکان کواور خودکوڈھالتاہے۔ اگر کسی جگہ دکان نہیں چل رہی تو سوچتاہے شاید عملہ نا اہل ہے ، عملہ بدلتا ہے۔ پھربھی نہ چلے تو سوچتاہے شاید دکان کا ڈیکوریشن اور فرنیچر (سجاوٹ) گاہک کو ترغیب دلانے میں ناکام ہے۔ وہ ڈیکوریشن بدلتاہے۔ پھربھی گاہک نہ آئے تو سوچتاہے کہ شاید اس جگہ کپڑے کے بجائے اناج کی دکان چلے گی۔ دکان کا سامان بدلتاہے اور کبھی دکان کی جگہ ہی تبدیل کر دیتاہے۔ اپنے مال کی ایڈوٹائزنگ کے لیے جدید تشہیری طریقہ اختیار کرتاہے، نہایت صبر وتحمل اور بردباری سے محنت کیے جاتاہے، یہاں تک کہ دکان چل پڑتی ہے۔ افسوس! ہمارا ذہن ودماغ تجارت میں تو نت نئے تجربات کی تلاش میں سرگرداں رہتاہے، لیکن جب دعوت یاانسانیت تک دین وایمان پہنچانے کا مرحلہ سامنے آتاہے تو اکابر اکابر اور اسلاف اسلاف کے نا م پر صدیوں پرانے اسلوب، زبان ولہجہ،طریقۂ کار ہی دہراتے ہیں۔ ہم کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ہمارا دعوت دینے کاطریقۂ کار مخاطب کی ذہنی سطح ،مزاج ونفسیات ،زبان واسلوب کے مطابق ہے یا نہیں؟ہم خود کو دھوکہ میں رکھتے ہیں کہ آخر ت میں ہمارے نامۂ اعمال میں اتنے کروڑ اتنے ارب نیکیاں جمع ہو رہی ہیں ،خواہ ہم اپنے طرز عمل اور بداخلاقی سے لوگوں کو اسلام ایمان سے بدظن ومتوحش ومتنفر ہی کررہے ہوں۔

دعوت کی عظمت اورداعی کے اوصاف

دعوت درحقیقت ایمان(اللہ کو ماننے )کی ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جو شخص بھی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوتا تھا، اسے اسی وقت ایمان کی دعوت کا فریضہ سونپ دیتے۔ صدیق اکبرؓ نے ایمان لاتے ہی ایمان کی دعوت دینی شروع کی اور محنت کرکے اسی دن کی شام تک چھ نئے لوگوں کو ایمان پر لے آئے جن میں کئی عشرۂ مبشرہ میں سے بنے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے ایمان قبول کرتے ہی حرم میں پہنچ کر علانیہ اپنے ایمان کا اعلان کیا اور ایمان کی دعوت دی۔ اسلام کے سب سے بڑے دشمن ابو جہل کے بیٹے حضرت عکرمہؓ نے جب ایمان قبول کیا تو کلمہ شہادت کے اقرار کے بعدحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قل اشہد اللہ واشہد من حضر انی مسلمٌ مجاہد مہاجر  (حیاۃ الصحابہ) میں اللہ کو اور حاضرین کو گواہ بناکر کہتاہوں کہ میں مسلمان مجاہد اور مہاجر ہوں، یعنی میں نہ صرف مسلمان ہوا بلکہ ایمان پھیلانے کی محنت کرنے والا اور اایمان واسلام کی خاطر سب کچھ چھوڑ نے والا (قربانی کرنے والاہوں) یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر شخص کو مسلمان بنانے کے ساتھ ہی داعی اور دعوت کے لیے سب کچھ قربان کرنے والا بھی بنادیتے تھے۔ یہی اصل کار نبوت، طریق نبوت اور سنت نبوی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جو شخص بھی ایمان لاتا، اسے اسی کے قبیلہ اور قوم میں ایمان کاداعی بناکر روانہ فرماتے۔ اس طرح بہت سارے افراد کی دعوت پر ان کا پورا قبیلہ یا قبیلہ کے بہت سے افراد مسلمان ہوجاتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظاہری چیزوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے، مثلاً عرب کے قبائل کا لباس تقریباً یکساں ہوتا تھا۔ نام بھی تقریباً سارے صحابہ کے اسلام سے پہلے کے ہیں۔ ہاں اگر کسی کے نام میں شرک کی بو آتی یا اس کے کوئی نامناستب معنی ہوتے تو اسے آپ تبدیل فرمادیا کرتے تھے، لیکن آج مثلاً کوئی یہودی یا عیسائی شخص میرے پا س آکر مسلمان ہوتو میں اس میں ایمانی صفات پیدا کرنے یا داعی بنانے کے بجائے ظاہر پر زیادہ توجہ دوں گا۔ سب سے پہلے نام بدلوں گا، پھر اس کا لباس، حتیٰ کہ ٹوپی عمامہ پہناکر اس کو اس کے اپنے معاشرے سے کاٹ دوں گا۔ اب وہ اس قابل نہیں رہے گا کہ اپنے معاشرے میں جاکر دین کی دعوت دے سکے۔ اس مسئلہ پر بھی غورکرنے کی ضرورت ہے۔ 
ہر داعی گویا براہ راست اللہ کی طرف سے پیغامبر ہوتاہے، اس لیے وہ خداکے نمائندے کی حیثیت سے بلند سطح سے بات کرتاہے۔ داعی کے لیے یہ بلند ترین مرتبہ حاصل ہونے کے لیے تین باتیں ضروری ہیں۔ پہلی یہ کہ ہر وقت خداکی عظمت، بڑائی اور کبریائی کااستحضار ہو۔ ہر نبی کا پہلا بول ہی اللہ اکبر رہا۔ اگر چہ قرآن کی پہلی آیت پڑھنے کے متعلق نازل ہوئی مگر پڑھایا کیا؟ اللہ کی عظمت اور دعوت پڑھائی، چنانچہ اس کے بعد جو آیت نازل ہوئی، وہ ہے: یا یھا المدثر قم فانذر وربک فکبر، اے گدڑی میں لپٹے ہوئے! اٹھیے اور اللہ کی بڑائی بیان کیجیے۔ 
دوسری بات داعی کی نظروں میں دنیا کی بے ثباتی اور بے حیثیتی ہے۔ فرمایا کہ اگر ساری دنیا کی حیثیت اور قیمت اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی توکسی منکر خداکو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ دیا جاتا۔ داعی کے دل میں دنیا کی بے حیثیتی کا بیٹھنا نہایت ضروری ہے، ورنہ اس کی دعوت بے جان ہوگی۔ ایک بار بندہ حکومت مراکش کی دعوت پر داربیضہ (Casa Blanka) اسلامی دعوت کا نفرنس میں شرکت کے لیے جا رہا تھا۔ ہوائی جہاز میں میری سیٹ کے ساتھ ایک نوجوان کی سیٹ تھی۔ جب جہاز نے اُڑان بھری اور زمین سے بارہ چودہ ہزار فٹ بلند ہو ا اور میں نے کھڑکی سے نیچے دیکھاتو لندن شہر کی بڑی بڑی شاہراہیں ایسے نظر آئیں گویا کسی نے کالی لکیر کھینچ دی ہو اور لندن کی عظیم الشان بڑی بڑی عمارتیں جنہیں دیکھ کر دل مرعوب ہوتا تھا اور دل میں ان کی عظمت اور شان وشوکت بیٹھتی تھی، ایسی حقیر، معمولی اور چھوٹی چھوٹی نظر آرہی تھیں گویا کسی نے سگریٹ یا ماچس کی بہت سی ڈبیاں ایک دوسرے پر رکھ دی ہوں۔ میں نے اس نوجوان سے کہا کہ ذرانیچے دیکھیے، لندن شہر اور اس کی شاندار عمارتیں کتنی حقیر اور بے حیثیت نظر آرہی ہیں۔ سبب یہ ہے کہ ہم محض جسمانی طور پر زمین سے چند ہزار فٹ اُوپر آگئے۔ اگر خداہمیں روحانی سربلندی نصیب فرمادے تو دنیا کی ان چیزوں کی کیا حیثیت باقی رہ جائے گی! 
تیسری چیز داعی کا اپنے دعوت کے معاملے میں بے لوث ہوناہے کہ وہ اپنی کوششوں اور قربانیوں پر مخلوق اور انسانوں سے کچھ نہیں چاہتا۔ ہرنبی کی بنیاد یہی ہوتی تھی، ما اسئلکم علیہ من اجر، ان اجری الا علی رب العٰلمین، اے لوگو! ہمیں تم سے کچھ نہیں چاہیے۔ ہمیں جو چاہیے، اللہ سے لیں گے۔ یہ تین صفات داعی کو نہایت ممتاز حیثیت عطاکر دیتی ہیں اور بلند ترین مقام پر فائز کردیتی ہیں۔ پھر اللہ اپنی غیبی طاقت اس کے ساتھ کردیتاہے۔ وہ اللہ کا محبوب ہوتاہے۔ ظاہرہے جو اللہ کے بندوں کا رشتہ اللہ سے جوڑ رہا ہو، اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ پیارا کون ہو سکتا ہے! ظاہر ہے پھر اس کا مقام یہ ہوتاہے کہ ایک سپرپاور (سلطنت ایران) کا فرمانرواداعی (پیغمبراسلام)کے دعوت کے خط کو چاک کردیتاہے تو داعی فرماتاہے کہ اس نے ہمارا دعوت نامہ نہیں، اپنا ملک چاک کرکے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور یہ منظر دنیادیکھتی ہے کہ چندہی سالوں میں اس کی عظیم سلطنت پارہ پا رہ ہوکر نیست نابود ہوجاتی ہے۔

ذہنوں پر سیاست کے غلبہ کے مضمرات

ہم سے ایک بڑی غلطی عصر حاضر میں یہ ہورہی ہے کہ ہمارا ذہن داعیانہ کے بجائے سیاسی بن گیاہے۔ گزشتہ صدی میں عالم اسلام پر مغرب کے سیاسی غلبے کے ردعمل کے طور پر ہمارے بعض مفکرین کو یہ مغالطہ ہواکہ مسلمانوں میں باطل (مغربی تمدن، فکروفلسفہ اور کمیونزم) یورپ وروس کے سیاسی تفوق وغلبہ کے سبب پھیل رہاہے۔ اگر ہمارے پاس بھی مستحکم سیاسی حکومت ہوتی تو ہم اسی طرح اسلام پھیلاتے۔ اس طرح ان کا ذہن دعوت کے بجائے سیاست، ایمان وعمل کے بجائے ریاست کے حصول کی طرف لگ گیا۔ اسلام کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کبھی ریاست وحکومت یاسیاسی طاقت سے نہیں پھیلا بلکہ اکثر سیاسی شکست اور حکومتی عدم استحکام کے زمانے میں تیزی سے پھیلاہے۔ مثلاًتاتاریوں کی یلغار عالم اسلام کے لیے قیامت سے کم نہیں تھی۔ تاتاری لشکروں نے پورے عالم اسلام کو تہہ وبالا کردیاتھا، ہر شہرلاشوں سے پٹاپڑا تھا، ہرجگہ مسلمانوں کے سروں کو کاٹ کر اونچے اونچے منارے سجائے گئے تھے۔ تمام مؤرخین اسلام کے خاتمے کی پیشین گوئی کررہے تھے۔ ایسے مایوس کن حالات میں اللہ کے کچھ بندوں نے انھی سفاک قاتلوں (تاتاریوں)کو دعوت دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایک دن میں ان کے لاکھوں گھرانے مسلمان ہوئے اور پوری تاتاری قوم من حیث القوم حلقہ بگوشِ اسلام ہوگئی۔ غرض اس سیاسی عدم استحکام کے دور میں اس طرح اسلام پھیلاکہ تاریخ میں اس کی نظیر نہ پانچ سو سال پہلے ملتی ہے نہ پانچ سو سال بعد تک۔ آج پھر دنیا بھر میں مسلمانوں کی پسپائی، شکست، کم ہمتی،ذلت وغلامی کا وہی سماں ہے جو تاتاریوں کے حملے کے وقت تھا۔ آج اسلام کے خلاف شرانگیز پروپیگنڈے نے ہر مسلمان کو مجرم بناکر رکھ دیاہے۔ اس کے باوجود آج پھر دنیامیں اسی طرح اسلام پھیل رہاہے جیسا تاتاریوں کے یلغار کے بعد پھیلا تھا۔ خاص طور پر مغرب (امریکہ، یورپ) میں اس تیزی وسرعت کے ساتھ اسلام پھیل رہاہے کہ اس نے عالمی کفر کے سرغنوں کو حیران وپریشان کردیا ہے ،جبکہ ہمارے پاس دنیا بھر میں دعوت کا کوئی خاص نظم ہے نہ کوشش، لوگ ازخود ذاتی مطالعہ وتفکر سے یاکتابیں پڑھ کر اسلام کی طرف آرہے ہیں۔ اگر ہم دعوت کے فریضہ پر کھڑے ہوجائیں تو آج پھر تاتاریوں کے دور کی طرح یورپ، امریکہ اور دنیا بھر میں حیران کن نتائج سامنے آسکتے ہیں اور تاتاریوں کی طرح اسلام کو دنیا سے مٹانے کا جذبہ رکھنے والی اقوام ، اسلام کی پاسبان بن سکتی ہیں۔

اشاعت اسلام کی راہ میں سب سے بڑ ی رکاوٹ

عصر حاضر میں ہمارے بعض مفکرین کی تحریروں کے سبب ہمارے ذہنوں پر دعوت کے بجائے سیاست سوار ہوگئی ہے۔ اس سیاسی ذہن نے انسانیت کے متعلق ہمارا نقطۂ نظر تبدیل کردیاہے اور ہمیں اقوام عالم کا حریف بنا دیا ہے۔ ہم نے خود کو محتسب اقوام یادنیا بھر کی قوموں کے لیے خدائی فوجدار سمجھ لیاہے، جبکہ قرآن وحدیث کی روسے اقوام عالم کے لیے ہماری پوزیشن ناصح وامین یعنی اقوام عالم تک ایمان واسلام کی امانت بلاکم وکاست پہنچانے والے اور انسانیت کے سچے بہی خواہ اور خیر خواہ کی ہے۔ جیسے کوئی سچا ڈاکٹر خیر خواہی کی حد تک اپنے مریض کا خدمت گار ہوتاہے، اسی طرح داعی انسانیت کا سب سے بڑا خیر خواہ وخادم ہوتاہے۔ حضرت مدنی ؒ فرمایا کرتے تھے کہ حضرات انبیاء ؑ سیاسی نظام قائم کرنے کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کو جہنم سے بچانے کے لیے مبعوث ہوتے تھے۔ ان کا حال اس بات کا ساہوتا تھا جس کا اکلوتا لڑکا آگ کے شعلہ میں گرا چاہتاہو اور وہ بے قرار ہو کر ہر حال میں اسے بچانے کی کوشش کررہاہو۔ دعوت انسانیت کی خیر خواہ بناتی ہے اور سیاست نفرت پیداکرتی ہے۔ حضرت مدنی ؒ سمجھتے تھے کہ دوقومی نظریے سے برصغیر میں نفرت کا وہ طوفان اٹھے گا کہ برصغیر کی اقوام میں اسلام کی اشاعت دشوار تر ہوجائے گی۔ دوقومی نظریہ کی تفریق ونفرت سے پہلے صرف کلکتہ کی مسجد ناخدامیں روزانہ تقریباً سوآدمی آکر مسلمان ہوتے تھے،اسلام خاموشی سے آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنارہاتھا۔ اس سیاسی نفرت نے ہندوکو متحدومستحکم کرکے برہمن کے شکنجے کو پورے بھارت پر مضبوط کردیا، برہمن جس کی ہزار ہا سال سے عالمی طور پر کوئی حیثیت نہیں تھی، وہ آج ایک عالمی طاقت بن گیا ہے، حتیٰ کہ وہ عالمی صہیونی وصلیبی طاقتوں سے مل کر اسلام کو دنیا سے مٹانے کا منصوبہ بنارہاہے۔ سیاست نے برصغیر میں ہندو کو عظیم طاقت بنادیا، ورنہ مذہب کے اعتبار سے اس سے زیادہ بودا اور کمزور کوئی مذہب نہیں تھا۔ غرض عصرحاضرمیں اسلام کی اشاعت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی تعصبات ونفرت ہے۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے اپنی کتاب ’’ڈسکوری آف انڈیا‘‘ میں لکھاہے کہ ہندوستان میں مذہب کی تبدیلی پر اگر کوئی اعتراض کرتاہے تو وہ سیاسی سبب سے ہوتاہے نہ کہ مذہبی سبب سے۔

دعوت کی بنیادی ضرورت

دعوت کے لیے بنیادی ضرورت حالات کا نارمل رکھناہے۔ قرآن نے حالات کو پرامن نارمل رکھنے کے لیے جگہ جگہ صبر اور اعراض کی تعلیم دی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کشید گی کم کرنے اور باہمی حالات کو نارمل بنانے کی خاطر حدیبیہ کے موقع پر کفار مکہ کی انتہائی غلط قسم کی اشتعال انگیز یک طرفہ شرائط بھی منظور فرمالی تھیں جس کے نتیجہ میں وہ صلح نامہ فتح مبین بن گیا۔ قرآن وسیرت سے ہمیں یہی سبق ملتاہے کہ ہر قوم پر عمل وکردار اور دعوت کے ذریعہ اتمام حجت کیاجائے۔ ان تمام مراحل کے بعد آخری مرحلہ قتال کا آتاہے ۔ آج ہم دعوت چھوڑکر ایک جامد نسلی گروہ بن کر رہ گئے ہیں، جیسے کسی گڑھے میں پانی ٹھہر کر آہستہ آہستہ متعفن بدبودار اور گندا ہو جاتا ہے۔ جب تک اس میں نیاپانی شامل ہوتارہے، وہ چشمہ صافی رہتاہے۔ ضرورت ہے کہ اسلام کے چشمہ صافی میں ہرزمانہ میں ہرآن نیاخون شامل ہوتارہے تاکہ کثافت دور ہوتی رہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کے علمبردار اور اس کے پھیلانے والے ہر دور میں نومسلم ہی رہے ہیں۔ حضرات صحابہ کرامؓ بھی نو مسلم تھے اور ساتویں صدی ہجری کے تاتاری (اتراک بھی) اور بیسویں صدی کے تبلیغ جماعت کے میواتی بھی ایک طرح کے نو مسلم تھے۔ جس طرح تیرہویں صدی عیسوی کے تاتاریوں نے سمرقند سے حلب تک تما م عالم اسلام کی مساجد تباہ کرکے کھنڈر بنادی تھیں، پھر دعوت کی بر کت سے انہی کی اولاد نے ان تما م مساجد کو نہ صرف تعمیر کیا بلکہ سجدوں سے آباد بھی کیا،آج بھی ہماری تمام مشکلات اور مصائب کا حل صرف ایک ہے۔ وہ ہے حالات کو معتدل رکھ کر اقوام عالم سے الجھے بغیر ان کو اسلام اورایمان کی دعوت دی جائے۔ جس طرح حضرت یونس علیہ السلام دعوت کے معاملے میں اجتہادی کوتاہی سے مچھلی کے پیٹ میں ڈال دئے گئے تھے، آج پوری ملت اسلامیہ دعوت فراموشی کے جرم میں ہر قسم کے مسائل کے شکنجے میں اس طرح جکڑدی گئی ہے کہ ایک مسئلہ حل ہوتا نہیں کہ دوسرا پیداہو جاتاہے۔

دین پھیلانے کی محنت ہی امت مسلمہ کو متحداور یکجا کرسکتی ہے

آج ہمارا بہت بڑا مسئلہ باہمی تشتت وافتراق ہے۔ ہماری پوری تاریخ شاہد ہے کہ یہ امت صرف دعوت وجہاد پر ہی جمع ومتحد ہوسکتی ہے نہ کہ کسی مسلک پر، کیونکہ پوری امت نہ حنفی بن سکتی ہے نہ مالکی نہ شافعی نہ حنبلی، نہ امت کسی ایک بزرگ کی بیعت پر اور تصوف کے کسی خاص سلسلے پر متفق ہوسکتی ہے، نہ کسی ایک جامعہ یاادارہ مثلاً جامعہ ازہر یا دیوبندپرمتحد ہوسکتی ہے۔ آج بھی کھلی آنکھوں سے یہ حقیقت دیکھی جا سکتی ہے کہ جہاں تبلیغ کا کام شروع ہوا، پوری امت ایک جگہ جمع ہوگئی۔ مثلاً تبلیغی جماعت (جس کا کام دعوت کے بجائے تذکیر ہے) کے اجتماعات میں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی ہر مذہب کے لوگ اور تصوف کے ہر سلسلے کے افراد اور ہر نسل کے ہزار ہا افراد جمع ملیں گے، مثلاً سوڈانی ،نائجیرین، اردنی، سعودی، انڈونیشی وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح جہاد افغانستان میں سعودی، شامی، مصری، یمنی، الجزائری، مراکشی، لیبی، افریقی ،یورپی، امریکی، چینی، چیچن، البانی، ترکستانی غرض کہ ہر ملک ونسل کے مسلمانوں نے اپناحصہ ڈالا، جبکہ دعوت وجہاد کے علاوہ دین کے دوسرے شعبوں میں صرف قومی نسلی جھلک ہی نظر آئے گی۔
(جاری)

کرکٹ اور گروہی نرگسیت

پروفیسر ابن حسن

کہا جاتا ہے کہ ادب میں المیہ اور رزمیہ سب سے ارفع اصناف سخن ہیں اور پھکڑ ڈرامہ farce اصناف کی درجہ بندی میں سب سے نیچے ہے۔ رزمیے کا آغاز تاریخی طور پر دو موثر اور وسیع قوتوں کے ٹکراؤ سے پیدا ہوتا ہے، اس لیے شاعر اعلیٰ مضمون کے بیان کے لیے عام زندگی سے ارفع الفاظ کا استعمال کرتا ہے۔اپنی جگہ یہ شاعرانہ کمال ہے۔ اس کو پڑھنا جمالیاتی حظ ہے، لیکن جب اسی قبیل کے ادبی حربوں کو کسی ایسے واقعے کے لیے مستعار لیا جائے جو عامیانہ، گھٹیا اور سطحی ہو تو اسے بیہودگی ہی کہا جا سکتا ہے۔ ایسے میں الفاظ گویا سچائی کی بجائے منافقت کا وسیلہ بن جاتے ہیں۔ اس بے معنی ڈرامے کے کردار عظیم تاریخی ہستیوں کی بجائے مسخرے، جوکر، بازی گر، ٹھگ، اٹھائی گیرے، نوسر باز، سیہلے باز ہی ہو سکتے ہیں۔ 
اس طرح کا بے معنی ڈرامہ ہر روز ہمارے سامنے رچا یاجاتا ہے، لیکن جن دنوں کرکٹ میچ ہو رہا ہو، اس نوٹنکی کے رنگ ہی اور ہوتے ہیں۔ اخبارات اور ٹیلی وژن کے پروگراموں میں بے شمار ’ماہرین‘ شاندار ڈسکورس کے نمونے آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ آپ جی کڑا کر کے چند منٹ ان کی گفتگو سنیں تو اس سے ایک بات ضرور ثابت ہو گی کہ انسان کو ایسی قوتِ گفتار عطا ہوئی ہے کہ وہ بغیر کسی موضوع اور بغیر کسی مواد کے کئی کئی گھنٹے بول سکتا ہے۔ اس گفتگو میں استعمال ہونے والے چند الفاظ ملاحظہ ہوں: ’پنچہ آزمائی‘۔ ’دو قوتوں کا ٹکراؤ‘۔ ’ایشیا اور یورپ کی جنگ‘۔ ’کرکٹ کی حکمرانی کے لیے معرکہ‘۔’ فلاں ملک کے شیر‘۔ ’ فتح کا تاج‘۔
پھر اس عظیم رزمیے کے نتائج کے لیے کیا الفاظ استعمال ہوتے ہیں: ’شیروں کو دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کر دیا‘۔ ’انگریزباؤلروں کا بھرکس نکال دیا‘۔ فلاں کی پٹائی ‘۔’ریت کی دیوار‘۔ ’فیلڈنگ کا قلعہ‘۔ اس طرح کے الفاظ کی ایک لمبی فہرست ہے جو ان’عظیم دانشوروں ‘نے اپنے کمالِِ تخیل سے پیدا کی ہے۔
اگر میچ میں کامیابی (اسے عام طور پر ’فتح‘ کہا جاتا ہے) ملی ہے تو رزمیے کا farce بننا اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گا، لیکن اگر خدا نخواستہ ناکامی ہو تو رزمیہ المیے کی شکل اختیار کر جائے گا۔ جیسے کسی بھی ملک کی فوج کو کبھی بھی شکست نہیں ہوتی، بلکہ کچھ نا قابل فہم عوامل یا تقدیر کی ستم ظریفی سے ’فتح‘ میسر نہیں ہو پاتی۔ (یاد رہے کہ ایسا کبھی نہیں کہا جاتا کہ ہماری فوج کو ’شکست‘ ہوئی)۔ کرکٹ ٹیم اس لیے ’فتح‘ سے محروم رہتی ہے کہ کسی کلموہے امپائر نے بے ایمانی کی، یا شومئی قسمت سے کوئی کیچ چھوٹ گیا، دنیا کا عظیم ترین بیٹسمین آؤٹ آف فارم تھا، یا اس کا ناقابل یقین کیچ پکڑ لیا گیا وغیرہ، وغیرہ۔ اب دل کو تسلی دینے کے لیے بڑا عمدہ جملہ موجود ہے کہ ’میچ فکس تھا‘۔
یہ ثقافتی ارتقا کی تصدیق بھی ہے کہ آج کے دور میں اگر رزمیہ لکھا جائے تو یہ farce ہی ہو سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ اپنے آپ کو دھوکا دینے اور اپنے محدودات چھپانے کے لیے اپنے ماضی سے نعرے اور الفاظ دوبارہ زندہ کیے جائیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس طرح کھڑا کیا جانے والا رزمیہ بندروں کا تماشہ لگے گا۔ 
ایسا کیا ہے کہ کسی قوم کا سوادِ اعظم کرکٹ میچ میں کامیابی یا ناکامی کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنالے، ناکامی پر پہلے سے بے روح چہرے اور مکروہ شکل اختیار کر لیں، کامیابی پر ہلڑ بازی کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو جائے، ڈھول بجائے جائیں اور دیگیں چولھوں پر چڑھ جائیں گویا بیت المقدس فتح ہو گیا ہو! 
اس سماجی اور ثقافتی مظہر کی بہت سی وجوہات بیان کی جاتی ہیں جن میں سب سے زیادہ مشہور یہ ہے کہ حکمران طبقے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے اس طرح کے تماشوں کو ہوا دیتے ہیں۔ لوگ اپنے مسائل بھول کر ہلے گلے کو کتھارسس کا ذریعہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ فلمی ستارے، کھیلوں کے ستارے، مشہور ہستیاں وغیرہ طبقات کے مابین تضاد کو کند کرنے کا بہت آسان اور مروج ذریعہ ہیں۔ اس طرح یہ ایک طرح کا مجہول انحصاری پن ہے جس میں فرد اپنی شخصیت کو کسی اور کے سہا رے کھڑا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جیسے نرگسیت میں میرا خاندان، میرا حسن و جمال، میری عقل، میرا گھر ، وغیرہ جیسے ہزاروں ہیولے جنم لے لیتے ہیں، اسی طرح میرا ہیرو، میرا فیورٹ سٹار، فرد کی اپنے آپ کی کسی اور میں projection ہے۔ 
ایرک فرام کا کہنا ہے کہ ’’جب گروہی نرگسیت کا مطمح نظر فرد نہیں بلکہ وہ گروہ ہو جس سے فرد کا تعلق ہے تویہ دعویٰ کہ میرا ملک، (یا میری قومیت، مذہب وغیرہ ) سب سے زیادہ زبردست اور عمدہ ہے، سب سے زیادہ مہذب، سب سے زیادہ طاقتور، سب سے زیادہ امن پسند وغیرہ ہے تو یہ قطعاً احمقانہ پن نہیں لگتا۔ اس کے برعکس یہ حب الوطنی ، ایمان یا وفاداری کا اظہار لگتا ہے۔ [فرد کو ] لگتا ہے کہ یہ عقل پر مبنی رائے ہے کیونکہ اس گروہ کے بہت سے افراد اس پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ اتفاقِ رائے واہمے کو حقیقت کا روپ دے دیتا ہے کیونکہ اکثر کی رائے میں جس چیز پر بہت سے لوگ یقین رکھتے ہوں، لازماً درست ہو گی۔ درست ہونے کا معیار تعقل یا ناقدانہ جائزہ نہیں۔ (Anatomy of Human Destructiveness, p 203)
آگے چل کر وہ لکھتا ہے کہ ’’بیمار ذہن کا فرد اپنے جیسے دوسرے افراد کے ساتھ بڑا خوش رہتا ہے۔ تمام معاشرت اس سمت بھاگی چلی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عام فرد وہ اکلاپا اور تنہائی محسوس نہیں کرتا جو وہ شخص محسوس کرتا ہے جس کادماغی توازن مکمل طور پر بگڑ چکا ہو۔‘‘ (ایضاً)
کیا افراد، تنظیمیں، قومیتی اور نسلی گروہ، حتیٰ کہ پوری قوم کو نرگسیت کا شکار کہا جا سکتا ہے؟ (ہم اس کے لیے گروہی نرگسیت کی اصطلاح استعمال کر سکتے ہیں)۔ گروہ کی بتدریج ارتقا پذیر ساخت اپنی معاشرتی اور ثقافتی زندگی میں بے شمار عوامل سے اثر پذیر ہو کر فرد کو اپنے میں گویا تحلیل کر لیتی ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرے کی خامی یہی ہے کہ یہ فرد سے خود اس کے وجود کا معنی تک چھین لیتا ہے اور گروہ پوری طرح سے اُسے اپنے تابع کر لیتا ہے۔ اس طرح کا اجتماعی شعور تعقل کا اظہار نہیں رہتا۔ حقیقی رویے یا خیالی دنیا fantasy میں تعریف و تحسین کی شدید خواہش، خوشامد پسندی یا انسانی ہمدردی کا فقدان اسی رویے کو فاشزم کی شکل دیتا ہے۔ گروہ یا اس کے افراد بطور گروہ یا بطور فرد اس تعلق کی بنا پر اپنی شان و شوکت اور اہمیت کو مبالغہ آمیز انداز سے دیکھتے ہیں۔یہی مبالغہ گروہ کی کامیابیوں کو جھوٹ کی حد تک چمک دمک دیتا ہے۔ اسی بنا پر افراد یہ چاہتے ہیں کہ بغیر کسی کامیابی کے بھی انہیں برتر جانا جائے۔ (حکمران اسی لیے کرکٹ ٹیم جیتے یا نہ جیتے، اس کے لیے بڑے بڑے انعامات کا اعلان کرتے ہیں)۔ افراد گروہ سے اجتماعی وابستگی کی بنا پر لامحدود کامیابی کے خواب خیال میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔انہیں یہ سودا ہو جاتا ہے کہ وہ لامحدود اور مافوق الفطرت قوتوں کے مالک ہیں۔ اسی خواب وخیال کی دنیا میں وہ دنیا پر تسلط اور غلبے کے خواب دیکھتے ہیں۔ کرکٹ سے وابستہ مال و دولت کی بہتات نوجوانوں میں اس واہمے کو اور تقویت دیتی ہے۔ اجتماعی نرگسیت فرد کو اس واہمے کی طرف لے جاتی ہے کہ اسے اعلیٰ درجے کے گروہوں اور ارفع رتبے کے اشخاص سے جوڑا جائے۔ اس لیے انہیں چنیدہ لوگوں کی طرح تحسین و تعریف بھی دی جائے۔ اگر ایسا نہ ہو تو ان کی یہ خواہش اور بھی بیمارانہ ہو جاتی ہے کہ دوسرے ان کے حوالے سے ڈر اور خوف محسوس کریں۔ تیز باولروں کے لیے اس طرح کی خوفناک امیجری اسی لیے استعمال ہوتی ہے۔ 
اس طرح کے افراد غیر معقول ترجیحی سلوک کی توقع رکھتے ہیں اور دوسروں کے لیے لازم سمجھتے ہیں کہ ان کی توقعات کی مکمل تابع فرمانی کریں۔ اسی لیے وہ اپنی غلطیوں اور جرائم کی کوئی ذمے داری قبول نہیں کرتے۔ (alloplastic defenses)۔ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ جب کرکٹرز سے کوئی جرم سرزد ہو جائے تو اسے کسی ناہنجار کی ’سازش‘ کہا جاتا ہے اور سارا میڈیا ان کا دفاع کرنے میں لگ جاتا ہے۔ ان کے جنسی اسکینڈل میں قصوروار ہمیشہ خاتون ہی ہوتی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا افراد دوسروں کے جذبات اور احساسات کی قطعاً پروا نہیں کرتے۔ اس لیے وسیع پیمانے پر منظم جرائم ان میں کسی قسم کی ضمیر کی خلش پیدا نہیں کر سکتے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ کرکٹرز میں ’ملک کانام روشن‘ کرنے کا جذبہ میچ فکسنگ کے ذریعے پیسہ کمانے کی ہوس میں بدل جاتا ہے۔ اگر کبھی یہ قانون کے شکنجے میں آ بھی جائیں تو ان کا ردِ عمل غصے اور بدمزاجی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ 
ان وجوہات کی بنا پر کرکٹ کے شیدائی قطعاً نہیں پہچان سکتے کہ کہ وہ کرکٹ کے حسن پر فریفتہ ہو کر خود اپنی عقل اور شکل دونوں کو بگاڑ چکے ہیں۔ کرکٹ پر شور و غوغا کر کے آسمان سر پر اٹھا لینا جذبات کا اظہار نہیں بلکہ جذبات کو مسخ کرنا ہے۔ یہ قابلِ رحم ذہنی بانجھ پن اورثقافتی گھٹیا پن ہے جس میں خود مسرت، حظ، لطف کا حصول مجہولیت کے درجے تک آ جاتا ہے۔ شخصیت کا ارتقا اس کا زوال اور تذلیل ہے۔ وہ اس لیے کہ ثقافتی وجود فرد کی ذات کی تکمیل کی بجائے اسے بے رحمی سے خالی کر کے اس میں ہر وہ چیز بھر دیتا ہے جو خود اس کے وجود کی تردید ہے۔ پوری قوم علمی، اخلاقی اور ثقافتی اعتبار سے ا س قدر گر جاتی ہے کہ اچھائی اور برائی، اعلیٰ ذوق اور بیہودگی، پھکڑ پن اور سنجیدگی، جھوٹ اور سچ میں فرق مٹ جاتا ہے۔اسی لیے کرکٹ ثقافتی زوال کی بہت بڑی نشانی ہے۔

تاریخ کی درستی: بھٹو سے فیض تک

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

سلمان تاثیر کے قتل کے بعد، توہین رسالت کیس کو تبدیل کرنے کے بارے میں حکومت پر بین الاقوامی دباؤ ختم ہوا، چنانچہ کم و بیش ہر روز زعیمان مملکت قانون میں کسی طرح کی تبدیلی نہ کرنے کا یقین دلاتے رہے۔ رحمان ملک کی یقین دہانی کو تو کوئی مانتا نہیں تھا۔ آخر کار وزیر اعظم صاحب نے پارلیمنٹ کے بھرے اجلاس میں یقین دلایا۔ اس کے باوجود پبلک احتجاج جاری رہا۔ اسی اثنا میں ریمنڈ ڈیوس کا قصہ شروع ہو گیا۔ حکومت پھر دباؤ میں آگئی۔ دو اڑھائی مہینے تک دباؤ چلتا رہا۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ہی نہیں، فوج، آئی ایس آئی اور عدلیہ نے بھی ڈیوس کی رہائی اور پاکستان سے رخصتی میں بھر پور حصہ ڈالا۔ مقتولوں کے ورثا لا پتہ ہیں۔ لگتا ہے کہ سینکڑوں دیگر لا پتہ لوگوں میں وہ بھی شامل ہو گئے ہیں۔ ابھی ان کی تلاش اور جستجو دم نہیں توڑ پائی تھی کہ مجید نظامی کے بقول، مرد حر نہ کہ مردِ حریت جناب آصف علی زرداری نے تاریخ کی درستی کے نام پر ریفرنس دائر کر دیا ہے۔ اس کی رو سے وہ بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دلوانا چاہتے ہیں۔ اس ریفرنس کی پیروی کا کریڈٹ بھی اس شخص کو گیا جس کے بارے میں روایت یہ ہے کہ اس نے بھٹو کی پھانسی پر مٹھائی تقسیم کی تھی۔ کریڈٹ کی تقسیم حاکم مطلق کے ہاتھ میں ہے۔ 
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
کمال ڈرامہ ہوا۔ سپریم کورٹ میں ریفرنس کی پیروی کے لیے وفاقی وزیر قانون پیش ہوگئے۔ یوں جیسے جانتے نہیں تھے کہ انہوں نے اپنا لائسنس وکالت خود وزارت کی خاطر معطل کرایا ہوا ہے۔ عدالت نے وزیر صاحب کو پیروی کی اجازت کے لیے وزارت سے مستعفی ہونے کو کہا تو فوراً ہی استعفا پیش کر دیا۔ نالائقی یا ہشیاری کی حد دیکھیے کہ وزیر قانون چیف جسٹس کو استعفا پیش کر رہے ہیں۔ در اصل ڈرامہ کیا جا رہا تھا۔ میڈیا میں سٹوری بنانا مقصود تھا۔ صدرِ مملکت کی نظر میں نمبر بنائے جا رہے تھے۔ کچھ حرج نہیں، نمبر گیم جاری رہے۔ تاریخ کی درستی کا عمل شروع ہو لے، اس عمل کے دوران نمبر گیم الٹنے کا سلسلہ شروع ہو گاتو پھر کسے ہوش رہے گا۔ اس گیم کے حصہ دار کنتی بھول جائیں گے۔ بہر حال تاریخ کی درستی کا عمل تو اسی روز شروع ہو گیا تھا جب افتخار حمد چوہدری نے چھ وردی پوش جرنیلوں (بشمول جنرل کیانی) کی جانب سے مستعفی ہونے کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اڑھائی سال تک، پاکستان کے گلی کوچوں میں جب یہ نعرے لگتے تھے، ’’کرنل جنرل ۔ ۔ بے غیرت‘‘ تو یہ تاریخ کے پہیے کو الٹا پھیرنے کی کاوش ہی تو تھی۔ نتیجتاً یہ عوام کا فیصلہ سامنے آ گیا۔ یہ ایک فیصلہ تھا جس نے ساٹھ سالہ نظریہ ضرورت کو لنگوٹی چھوڑے بغیر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ لیکن یہ عوام کا فیصلہ آخری فیصلہ تو نہیں تھا۔ ابھی بہت سے فیصلے باقی ہیں۔ ہم جناب زرداری کے ریفرنس کا خیر مقدم کریں گے۔ ریفرنس پر فنی فیصلہ تو سپریم کورٹ نے کرناہے، لیکن یہ امر یقینی ہے کہ فیصلہ جو بھی ہو گا، حکومت تو صرف اس کا احترام کرے گی، مگر عوام فیصلے کو اپنی پراپرٹی کے طور پر دل و جان سے عزیز تر جانیں گے۔
اس مرحلہ میں ہماری گذارش یہ ہے کہ تاریخ کی درستی کا عمل بڑا احسن ہے، مگر کسی ترتیب سے شروع ہو تو زیادہ اچھا ہوگا۔ زمانی ترتیب سے ریمنڈ ڈیوس کیس ۲۰۱۱ء کا کیس ہے۔ یہ تازہ ترین کیس ہے۔ اس کے بر عکس راولپنڈی سازش کیس ۱۹۵۱ء ہماری ملکی تاریخ کا پہلا کیس تھا۔ کوئی بھی ترتیب اختیار کی جا سکتی ہے۔ پہلے کیس سے شروع کریں یا تازہ ترین کیس سے، یہ حکومت کی مرضی ہے۔ چلیے اگر درستی کا عمل بھٹو کیس ہی سے کرنا ہو تو اس پر بھی اعتراض نہیں، مگر اس کیس کو مرکزی کیس مان لیا جائے اور اس سے پیچھے اور آگے، تقدیمی و تاخیری ترتیب بھی اختیار کی جا سکتی ہے۔ تاریخ تو اپنا عمل شروع کر چکی ہے۔ وہ ہماری اختیار کردہ ترتیب کی پابند بھی نہیں۔ 
بھٹو صاحب کا مقدمہ کھلی عدالت میں چلایا گیاتھا۔ ہر روز بھٹوصاحب کو کوٹ لکھپت جیل سے سماعت کے لیے لایا جاتا تھا۔ مرڈر ٹرائل کے نامور ترین وکلا نے ان کے کیس کی پیروی کی۔ سپریم کورٹ میں اپیل اور نظر ثانی کی سماعت بھی کھلی عدالت کے طور پر ہوئی۔ ساری دنیا نے سماعت کا منظر دیکھا۔ ٹرائل کے دوران ایک ایک گواہ پر کئی کئی روز جرح جاری رہتی تھی۔ سپریم کورٹ میں عدالت نے بھٹو صاحب کے وکلا کے ہوتے ہوئے بھی بھٹو صاحب کو خود طلب کر کے بحث کرنے کا موقع دیا۔ بھٹو صاحب نے یہ موقع استعمال کیا۔ پھر عدالت پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ اس کے بعد فیصلہ ہوا۔ فیصلہ قانونی جرائد میں چھپا ہو اہے۔ سماعت کے دنوں میں روزانہ کی کارروائی لفظ بلفظ چھپتی تھی۔ بھٹو صاحب کو کوٹ لکھپت جیل سے عدالت عالیہ میں پیشی کے لیے لانے اور سماعت کے بعد واپس جیل لے جانے کی تمام کارروائی رواں تبصرے کی طرح اخبارات کی زینت بنتی۔ کیس کا فیصلہ ہوا تو فیصلے کے متن کے اردو ترجمے بھی شائع ہوئے۔ اب ریفرنس کی کارروائی شروع ہوئی ہے تو لوگ لمحہ بہ لمحہ ٹی وی چینلز کے ذریعے با خبر ہو رہے ہیں۔ 
راولپنڈی سازش کیس کی صورت دوسری تھی۔ اس کی سماعت خصوصی عدالت نے کی تھی۔ جملہ سماعت بھی بند کمرے میں جیل کے اندر ہوئی۔ رپورٹنگ کی اجازت نہیں تھی۔ سماعت کے لیے خصوصی قانون بنایا گیا۔ کیس کے بارے میں جملہ معلومات کو مملکت کا راز قرار دیا گیا۔ کیس کی ایف آئی آر، سماعت کی کارروائی اور فیصلہ، سب کچھ خفیہ ہے۔ کسی کو اس کی آج تک بھنک نہیں پڑنے دی گئی۔ ملزمان نے کیس کی پیروی کے لیے سید حسین شہید سہروردی کو وکیل رکھا۔ سہروردی نے کیس میں گواہ کے طور پیش ہونے والے فوجی افسران پر فن جرح کے جوہر دکھائے تو مسلح افواج کے سربراہ ایوب خان کے پسینے چھوٹ گئے۔ ایوب خان کی ’’فرینڈز، ناٹ ماسٹرز‘‘ ملاحظہ فرما لیں، لگتا ہے کہ کتاب لکھواتے ہوئے بھی پسینہ خشک نہیں ہوا تھا۔ ہو سکتا ہے، قبر میں بھی یہ پسینہ خشک نہ ہوا ہو۔
جناب زرداری نے موجودہ سال کو فیض کا سال قرار دیاہے۔ اس حوالے سے اس کیس کا ریفرنس بھی دائر ہو جائے تو نہایت بر موقع ہوگا۔ تاریخ کی درستی کا اطلاق صرف عدالتی فیصلوں پر ہی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مجلس قانون ساز کو بھی اپنے گھر میں جھاڑو پھیرنا چاہیے۔ پارلیمان میں سرکاری طور پر ایک قرار داد پاس ہونی چاہیے جس میں ۱۹۵۱ء کے راولپنڈی سازش کیس کی سماعت کے لیے بنائے گئے خصوصی قانون کو سیاہ قانون قرار دیا جائے۔ قرارداد میں ۱۹۵۱ء کے اس امتیازی قانون کو پاس کرنے والی دستوریہ یا مقننہ کے ارکان کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ البتہ مشکل یہ ہے کہ ہماری معلومات کے مطابق ۱۹۵۱ء کے راولپنڈی سازش خصوصی ٹربیونل ایکٹ پر اس وقت کی پارلیمنٹ میں جو بحثیں (debates) ہوئی تھیں، وہ مہیا نہیں۔ اگر وہ بحثیں فراہم ہو جائیں تو مولانا شبیر احمد عثمانی، ڈاکٹر عمر ملک جیسے بہت سے بڑے بڑے مقننین کے بارے میں لوگوں کو علم ہو جائے گا کہ انہوں نے اس سیاہ قانون کے بارے میں کیا کچھ ارشادات فرمایا تھا۔ واقعات کی جستجو کی جائے تو معلومات میسر نہیں۔ سرکاری سطح پر کیس کی کوئی تفصیل مہیا ہی نہیں۔ جب سرکاری سطح پر تفصیل نہ ہو تو افسانے اور کہانیاں راہ پالیتی ہیں۔ مگر ان کہانیوں کو اتنا احترام بھی حاصل نہیں ہوتا جتنا جعلی ڈگری کو حاصل ہوتا ہے۔ 
اس کیس کے بارے میں ایک کہانی ایوب خان کی ’’فرینڈز، ناٹ ماسٹرز‘‘ میں موجود ہے۔ ایوب خان کی سوانح میں بہت سی دوسری سازشوں کی تفصیلات بھی درج ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ایوب خان اس کتاب کا نام ’’سازش نامہ‘‘ رکھ لیتے تو یہ کتاب فٹ پاتھوں پر دو دو روپے میں فروخت نہ ہوتی۔ وجہ یہ ہے کہ ان سازشوں کا مرکزی کردار تو صاحب کتاب خود تھے۔ یہ کتاب اس وقت تک کی سازشوں کی مستند ترین تاریخ کا درجہ حاصل کر لیتی۔ بہر حال سچ یہی ہے اور رہے گا بھی کہ بغاوت کامیاب ہو جائے تو احسن الانقلاب اور ناکام ہو جائے تو سازش اور غداری کہلاتی ہے۔ اس کے باوجود تاریخ کا منصف کسی کو لٹکانے کاحکم دیتا ہے اور نہ ہی کسی کو پس دیوار زنداں بند بھیجتا ہے۔ وہ جب اپنا کام شروع کرتا ہے تو اس وقت تک فریقین مٹی میں مل چکے ہوتے ہیں۔ ۱۹۵۱ء کی راولپنڈی سازش کے مصنف اس وقت کے گورنر سرحد جناب آئی آئی چندریگر، زیر اعظم جناب لیاقت علی خان، ایوب خان اور ان سب کے قانونی باپ جناب جسٹس محمد منیر تھے۔ سازش کا الزام جنرل اکبر خان، بریگیڈیر صدیق اور فیض احمد فیض وغیرہ پر تھا۔ یک طرفہ تاریخ کی رو سے قصور وار ثانی الذکر ہی ہوں گے۔ آئیے ہم تاریخ کی درستی کی بات کو ترک کر کے تلواروں کے سائے میں مرتب کردہ تاریخ کے صفحات الٹنے کی کوشش کریں۔
سب سے پہلے ان سازشیوں میں سے جناب فیض احمد فیض کی گرفتاری کا منظر ملاحظہ فرمائیں۔
یہ ۱۹۵۱ء کی بات ہے۔ مارچ کی ۹ تاریخ۔ صبح کے ساڑھے چھ بجے۔ پاکستان کے ممتاز شاعر اور موقر انگریزی روزنامے پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر جناب فیض احمد فیض کے گھر کو پولیس نے گھیرا ہو اہے۔ پولیس والے باربار فیض صاحب کو آوازیں دے رہے ہیں۔ جناب فیض کی اہلیہ ایلیا شور سے بیدار ہوئیں۔ بالکونی سے نیچے جھانکا تو مسلح پولیس والے لان میں داخل ہو کر جمع ہو چکے تھے۔ ان کی تعداد خاصی زیادہ تھی۔ انہوں نے گھر کو گھیر رکھا تھا۔ اگلے روز صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہونے والے تھے۔ ان حالات میں فیض صاحب نے ایلیا کو پہلے سے بتا رکھا تھاکہ ان کو الیکشنز کے کافی بعد تک نظر بند کیے جانے کا اندیشہ ہے۔ اس نظر بندی کا منشا ان کو خاموش کرنا ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ فیض کی اہلیہ موقعہ کی صورت حال کے بارے میں کچھ بتا سکے، سپاہیوں نے دروازہ توڑنے کی کوشش کی اور مکان کے اوپر کا صحن پولیس والوں سے بھر گیا۔ وہ سب بندوقیں تانے ہوئے تھے۔
پولیس کے موجود افسران کو فیض کے جرم کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، مگر وہ فیض کو اپنے ساتھ لے جانے پر مصر تھے۔ فیض نے پاکستان ٹائمز کے اپنے ساتھی مظہر علی خان کے مشورہ کے بغیر ساتھ جانے سے انکار کردیا۔ اسی دوران مظہر علی خان گھر پر آگئے۔ ساتھ ہی پولیس نے غیر معینہ عرصے تک کی نظر بندی کا وارنٹ دکھایا۔ یہ وارنٹ بنگال ریگولیشن کے تحت جاری شدہ تھا۔ مذکورہ ریگو لیشن انگریز دور میں حکومت کے مخالفین کو قابو کرنے کے لیے وضع کیے گئے تھے۔ قانون کالعدم ہو چکاتھا۔ قانون کے کالعدم ہونے کی کسی کوکیاپروا ہو گی۔منشا تو اس کو استعمال میں لاکر فوری طور پر بندے کو قابو کرنا تھا۔ مظہرخان نے یقین دلایاکہ انتخابات سے پہلے کی مختصر نظر بندی ہے، لہٰذا فیض کو پولیس کے ساتھ جانے میں کسی ہچکچاہٹ کی ضرورت نہیں۔ اس طرح ان کو کچھ کپڑے اور بستر ہمراہ لینے کا موقع دیا گیا۔ پھر ان کو ایک جیپ کے ذریعے سرگودھا جیل لے جایا گیا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کو ان کی آمد کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔ جیل سپرنٹنڈنٹ فون پر رابطہ کررہاتھا کہ یکا یک وزیراعظم لیاقت علی خان نے ریڈیو پر آکریہ اعلان کیاکہ حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی گئی ہے۔ سازشیوں میں میجر جنرل اکبر خان چیف آف جنرل سٹاف، ان کی اہلیہ نسیم اکبر خان، کوئٹہ کے بریگیڈ کمانڈر بریگیڈیرعبداللطیف خان اور فیض احمد فیض گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ لیاقت علی خان نے منصوبے کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا، البتہ یہ کہا کہ سازشی پاکستان کی سلامتی اور استحکام کو طاقت کے زور پر نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ وزیر اعظم صاحب کا اچانک اعلان، عین صوبائی اسمبلی کے انتخابات (المعروف جھرلو انتخابات) سے عین ایک دن پہلے، بذات خود تمام تر سازشی اداؤں کا آئینہ دار نظر آتا ہے مگر اس کے لیے آنکھیں کھول کر دیکھنا پڑے گا۔
یہ تفصیلات فیض کی گرفتاری اور بعد میں وزیراعظم کے اعلان کی ہیں۔ 
سوال یہ ہے کہ ایک سویلین، جس نے شاید کبھی غلیل بھی نہ چلائی ہو، وہ فوج میں تعلقات عامہ کے افسر رہے۔ اب مکمل سویلین تھے۔ انہیں فوجی جرنیلوں کے ساتھ نتھی کر کے شریک سازش ظاہرکرنا کس طرح قابل یقین ہو گا۔ چلیے شواہد کا معاملہ ہے، مگر انہیں گرفتارکرنے کے لیے جوطریقہ اختیار کیاگیا، کیا کسی مہذب حکومت کا طرز عمل اسی طرح کا ہو سکتا ہے؟ چار سال ہی پہلے، طویل جد و جہد کے بعد، ہم نے آزادی حاصل کی تھی تو ہماری قومی حکومت، قائد اعظم کے خلیفہ اول کی یہ روش،ان کے شایانِ شان تھی؟ گرفتاری کے لیے صبح سویرے کا وقت، پھر مسلح پولیس کی بھاری نفری کا اس طرح فیض کے گھر پر ریڈ ایسے ہی تھا جیسے کسی دشمن ملک پر حملہ کرنا مقصود ہو۔ فوجیں دشمن پر حملہ کے لیے، بالعموم سورج نکلنے سے پہلے کا وقت منتخب کرتی ہیں۔ یہاں ایسے ہی کیا گیا۔ چادر اورچار دیواری کے حقوق کے تصور کا اجتہاد تو ضیاء الحق کے دور میں اتحادی فقہ (PNA's jurisprudence) کا وضع کردہ تھا، لہٰذا ان کا کوئی سوال نہیں کیا جاسکتا۔ کیا گرفتاری کے لیے اچانک اور اتنی بڑی مسلح نفری کی مدد سے کارروائی کا کوئی جواز ہو سکتا ہے؟ مبینہ سازش کو بروئے کار لانے کے لیے کسی بھی ملزم نے ابھی تک کوئی عملی اقدام شروع بھی نہیں کیا تھا۔ اگرکوئی سازش تھی بھی تو وہ لوگوں کے ذہنوں میں ہو سکتی تھی، لیکن سازش کو ناکام بنانے کے لیے ریاستی کارروائی، جس کا براہ راست وزیر اعظم نے حکم دیا تھا، ضرورت سے کہیں زیادہ افرا تفری سے کی گئی۔ اگرچہ افسر شاہی ہمیشہ ہی افرا تفری کا شکار رہتی ہے۔ سکون سے، سوچ سمجھ کر، صورت حال میں ضرورت کے مطابق مناسب ضابطے اور اخلاق کی حدود میں رہ کر، کارروائی کرنا افسر شاہی اور مقتدر لوگوں کا مزاج نہیں۔ مقتدر لوگ ہمیشہ سے خوداعتمادی کے فقدان بلکہ بحران کا شکاررہتے ہیں۔ پنڈی سازش کیس میں کارروائی کے بارے میں، وزیر اعظم لیاقت علی خان صاحب خود ریڈیو پر آ کر اعلان فرمائیں۔ مقصود یہ تاثر دینا تھاکہ جیسے مملکت کے ساتھ کوئی بہت بڑا حادثہ پیش آنے کو تھا۔ سازش کے محرکات اور وجوہات ہم الگ سے زیربحث لائیں گے۔ سرکاری اقدام اور اس کی انجام دہی کے لیے اختیار کردہ طریقہ کار کو ریاستی دہشت گردی سے مختلف کیسے تعبیرکیا جا سکتا ہے۔
آرمی ایکٹ کے تحت کسی سویلین کو کورٹ مارشل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لہٰذا اس گرفتاری کے قریباً ڈیڑھ ماہ بعد، خصوصی عدالت کے قیام کا قانون منظور کیا گیا۔ یہ قانون صرف اس کیس کی سماعت کے لیے مر تب کیا گیا۔ اس طرح یہ ہر لحاظ سے امتیازی قانون تھا۔ ایک اچھی حکومت اس طرح کے قانون نہیں بناتی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کی مقننہ کے جملہ ارکان اس امتیازی قانون پاس کرنے کی پاداش میں کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لائق ہیں، لیکن جو کچھ کل تک ناروا تھا، اب روا ہو چکا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ اقتدار کی حکمتیں اور مصلحتیں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ہم اس خصوصی قانون کا جائزہ بعد میں لیں گے، لیاقت علی خان کا بیان ذیل میں درج ہے:
’’پاکستان کے دشمنوں کی تیار کردہ ایک سازش کا انکشاف ابھی ہوا ہے۔ اس سازش کی غرض و غایت یہ تھی کہ متعدد ذرائع سے ملک میں ہلچل پید اکی جائے اور اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان کی دفاعی فوجوں کی وفا داری ختم کر دی جائے۔ حکومت کو اس سازش کا بر وقت علم ہوا۔ چنانچہ آج سازش کے سرغنہ لوگوں کو گرفتار کر لیاگیا۔ میجر جنرل اکبر خان چیف آف جنرل سٹاف، بریگیڈیر ایم اے لطیف بریگیڈ کمانڈر کوئٹہ، مسٹر فیض احمد فیض ایڈیٹر پاکستان ٹائمز اور بیگم نسیم اکبر خان اہلیہ میجر جنرل اکبر خان پرمشتمل ہیں۔ سازش میں شریک دونوں فوجی افسروں کو فوراً ملازمت سے بر طرف کر دیا گیا ہے۔ قومی تحفظ کے وجوہ کی بنا پر میرے لیے یہ بتانا نا ممکن ہے کہ جو لوگ سازش میں شریک تھے، ان کی اسکیم کی تفصیل کیا ہے۔ میں اس موقع پر صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر خدانخواستہ ان لوگوں کی اسکیم کامیاب ہو جاتی تو اس سے ہماری فوجی زندگی کی بنیاد پر کاری ضرب لگتی اور پاکستان کا استحکام در ہم برہم ہو جاتا۔ اگر یہ سازش ناکام ہوئی ہے تو اس کا سہرا ان لوگوں کے سر ہے جو پاکستان کی سلامتی کے تحفظ کی ذمہ دار ہیں۔ یقیناًسازش کی ناکامی پاکستان کی مسلح افواج کی غیر متزلزل وفاداری کے لیے ایک خراج تحسین ہے جو چند شر انگیز غدار سازشیوں کی شرارت سے بالکل متاثر نہ ہوئے اور انہوں نے پاکستان کے ان دشمنوں کی ساری ناپاک کوششوں پرپانی پھیر دیا۔ ہم سب کو ان کی چوکسی کی وجہ سے خدائے تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔‘‘
’’پوری قوم اس سلسلے میں مسلح افواج کی شکر گذار ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس طرح خراج تحسین پیش کرنے میں پوری قوم میری ہم نوا ہے۔ ان افراد کو ریگولیشن ۸۰ کی دفعہ ۳ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، لیکن ان کے ساتھ ہی کرنل محمد راجا، کیپٹن نیاز محمدارباب، میجر ضیاء الدین،میجر حسن خان، گروپ کیپٹن ظفراللہ خان پوشنی، لیفٹیننٹ خضر حیات، کیپٹن محمد اسحاق، لیفٹیننٹ کرنل نذیر احمد، محمد خان جنجوعہ، سجاد ظہیر، میجر خواجہ محمد شریف، محمد حسن عطا اور خواجہ محمد یوسف کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘‘ (واقعات پاکستان جلد اول صفحہ نمبر ۳۴۸، ۳۴۹، مرتبہ زاہد حسین انجم، مطبوعہ نذیر سنز پبلشرز، ۴۰ اردو بازار لاہور، سال اشاعت ۲۰۰۷ء )
اس وقت کے کمانڈر انچیف، جنرل محمد ایوب خان کی خود نوشت سے متعلقہ حصہ درج ذیل ہے:
’’میں نے کمانڈر انچیف کا منصب ۱۷ جنوری ۱۹۵۱ء کو سنبھالا۔ جنرل گریسی نے چارج دیتے ہوئے کچھ بتایا اور نہ ہی ایسے موقعوں پرایسا ممکن ہوتا ہے۔ انہوں نے صرف اتنا ذکر کیا کہ فوج میں نوجوان ترکوں کا ایک گروہ ہے۔ اکبر خان جیسے کچھ لوگ اس میں شامل ہیں۔ دو تین ماہ بعد اکبر سازش سامنے آئی۔ یہ راولپنڈی سازش کے طور پر معروف ہوا۔ ۔ ۔ سازش کے بارے میں مجھے لیاقت علی سے علم ہوا۔ وہ انتخابی مہم پر تھے۔ انہوں نے مجھے اور اسکندر مرزا (سیکرٹری دفاع) کو سرگودھا ریلوے اسٹیشن پر ملنے کے لیے بلوایا۔ میں لاہور اور اسکندر مرزا کراچی سے پہنچے۔ ہم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ وزیر اعظم معمول کے مطابق پر سکون تھے۔ کھانے کے بعد کہنے لگے، ’’آپ کے لیے بری خبر ہے۔کچھ فوجی افسران نے حکومت الٹنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ وہ اسے جلد ہی بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔ ‘‘میں نے تفصیلات پوچھیں تو انہوں نے صوبہ سرحد کے گورنر آئی آئی چندریگر کی بھیجی ہوئی رپورٹ کا متن فراہم کیا۔ میں نے واقعات کی پڑتال کا مشورہ دیا۔ اسکندر اور میں گورنر سے ملنے پشاور گئے۔ ہم نے گورنر، پولیس افسر کیانی اور مخبر سے انکوائری کی۔ یہ واضح ہوا کہ طوفان آنے والا ہے۔ سازشیوں میں سے ایک بریگیڈیر صدیق خان تھے۔ وہ میرے یونٹ میں رہے۔ جذباتی اور مضطرب طرح کے شخص تھے۔ میں نے ان کو طیارے کے ذریعہ بلوایا اور ان کو بتا دیاکہ وہ سچ سچ کہہ دے، وگرنہ الٹا لٹکا دیا جائے گا۔ انہوں نے انکار کرتے ہوئے رپورٹ کو مکمل طور پر جھٹلا دیا۔ میں نے انہیں واپس بنوں جانے کی اجازت دے دی۔ بنوں پہنچ کر انہوں نے ایک شریک سازش کرنل ارباب کو فون پر بتایا کہ بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ اس سے مجھے یقین ہو گیا کہ حکومت الٹنے کا منصوبہ بنا ہے۔ ہم نے وزیر اعظم کو اپنی انکوائری سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ہمیں کارروائی کی ہدایت کی۔ انسپکٹر جنرل قربان علی خان کو منظر پر لایا گیا اور تمام سازشی افسران اور سویلینز کو ان کے گھروں سے ایک ہی رات میں گرفتارکر لیا گیا۔ میرا ارادہ کورٹ مارشل کا تھا، مگر سویلینز کے ملوث ہونے کی وجہ سے ایسا کرنا مشکل تھا۔ وزیر اعظم نے خصوصی ٹربیونل کے ذریعے بند کمرے کی سماعت کا فیصلہ کیا۔ حیدرآباد جیل میں مقدمہ چلا اور ملزمان نے سہروردی کو صفائی کا وکیل مقرر کیا۔ سہر وردی عجیب و غریب شخصیت تھے۔ مقدمہ میں جو فوجی افسران گواہ کے طور پر پیش ہوئے، سہروردی نے ان پر جرح میں شدید حملے کیے۔ میری نظر میں سہروردی نے حدود سے تجاوز کیا، البتہ عدالت کا رویہ مثبت ہی رہا۔ ملزمان سزاپا گئے۔ چند سال بعد،سہروردی اور ان کے ساتھی حکومت پر حاوی ہو گئے اور وہ رہا کر دیے گئے۔ سزاؤں کی معافی حکومت کا اختیارتھا۔ میں اعتراض نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ فوجی افسران پر سہروردی کی جانب سے سخت، غیر ضروری اور بے وقار کرنے والی جرح کو فراموش نہیں کر سکتا تھا۔ میرے لیے سہروردی کا یہ عمل ناقابل معافی تھا۔ بعد میں ہم کابینہ میں اکٹھے ہوئے، ایک موقع پر پنڈی سازش کا ذکر آیا تو میں نے سہر وردی کو گھیرا اور کہا کہ انہوں نے سماعت میں فوج کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور وہ کسی طرح بھی پاکستان کے ہمدرد نہیں۔ سہروردی خاموش رہے۔ بعد ازاں جب وہ وزیر اعظم ہوئے تو میں کراچی میں تھا۔ اسکندر مرزا نے مجھے بتایا کہ وہ سہروردی کو وزیر اعظم بنانے جا رہے ہیں۔ اس حیثیت میں وہ آپ کے وزیر دفاع بھی ہوں گے۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ آپ کے ساتھ پرانا حساب طے کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے ان سے ملنے کے لیے کہا گیا۔ سہروردی ایوان صدر آئے۔ میں نے ان کو بتایا ہم دونوں ایک دوسرے کے بارے میں جواحساسات رکھتے ہیں، ان سے دونوں بخوبی واقف ہیں۔ اس کے باوجود کمانڈر انچیف کے طور وہ ہر جائز اور قانونی احکامات کی اطاعت کریں گے۔ البتہ میں یہ توقع بھی رکھتاہوں کہ وہ فوج کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دیں گے۔ سہر وردی نے صورت حال کو قابل قبول محسوس کیا۔ مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے کبھی میرے معاملات میں دخل نہ دیا۔ میں جب بھی ان کے پاس گیا تو وہ ہمیشہ سننے پر آمادہ اور فیصلہ کرنے کے لیے تیار رہے۔‘‘
’’راولپنڈی سازش کی جڑیں گہری تھیں۔ اس کے بیج بے چینی اور بد اعتمادی کے ماحول میں نمو ہوئے۔ پھر مختلف اسباب نے ان کی مزید پرورش کی۔ فوج میں جونیئر افسران کو سینئرز پر ترقی دینے کی وجہ سے کافی بے اطمینانی تھی۔ اس طرح ترقی پانے والوں کی توقعات کی کوئی حد باقی نہ رہی۔ ہر کوئی یہ خیال کرنے لگا کہ جب تک وہ کمانڈر انچیف نہ بنا تو اس کا کیریئر بیکار ہی رہا۔ یہ عجیب و غریب صورت حال تھی۔ اچھے خاصے سمجھ دار لوگ، بریگیڈیئر اور جنرل رینک والے، اپنی لاٹری نکلنے کے انتظار میں رہنے لگے۔ ہر کوئی بونا پارٹ کے کردارکے لیے تیار تھا۔ میں آزادی کے بعد، بریگیڈیئر بننے پراپنے آپ کو مطمئن کرتا رہتا تھا، یہاں تک کہ آزادی کے بعد، میجر جنرل ہو کر اپنے آپ کو کافی سے زیادہ کامیاب خیال کرتا تھا۔ لیکن فوج میں صورت حال کافی خراب ہو چکی تھی۔۔ ۔ اس دوران کشمیر میں لڑائی شروع ہو گئی۔ یہ بے قاعدہ مہم کے طور پر شروع ہوئی۔ ہیڈ کوارٹرز سے کچھ زیادہ ڈائریکشن نہیں تھی۔ جونیئر افسر اپنے طور پر لڑائی میں مصروف و ذمہ دار تھے۔ میرے خیال میں بے اطمینانی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ہماری حکومت اپنے فرائض مناسب طور پر ادا نہیں کر رہی تھی۔ ہم نے جب جنرل اکبر خان کے کاغذات قبضہ میں لیے تو ان میں ایک مقالہ موجود تھا۔ اس میں وزیر اعظم اور ہر دوسرے ذمہ دار شخص پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ غیر مستعد اور بر وقت فیصلے کرنے کی اہلیت سے محروم ہیں۔ اکبر خان غیر معمولی طور پر مستعد حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔ وہ بہادر افسر اور فوج میں کافی وقار کے حامل تھے۔ البتہ وہ بہت باتونی اور آرزوئیں پالنے والے شخص تھے۔وہ لوگوں کومتاثر کرنے کا فن بخوبی جانتے تھے اور اپنا ایک وسیع حلقہ اثر قائم کیے ہوئے تھے۔۔ اگرچہ مجھے کبھی یہ خیال نہیں ہوا کہ وہ کبھی حکومت الٹنے کا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔ البتہ کبھی کبھی مجھے ان کی کار کردگی پر کچھ شبہہ ہوتا تھا۔ میں ان کی تمناؤں، خاندانی پس منظر اور نظریاتی رجحانات کو جانتا تھا۔ مجھے اکبر خان سمیت، جب افسران کو میجر جنرل کے طور پر ترقی دینا تھی تو کچھ وقت تک اکبر خان کے بارے میں متردد رہا۔ میں نے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں چیف آف سٹاف کے طور پر ان کے تقرر کا فیصلہ کیا۔ میرا منشا ان کو اپنی نظروں کے سامنے رکھنا اور فوج کے کسی حصے کو براہ راست ان کے زیر کمان رکھنے سے بچنا تھا۔ میں نے نوٹ کیا کہ وہ چیف آف سٹاف کے طور پر اپنے فرائض سے غفلت برتتے ہوئے آزاد کشمیر میں تعینات افسران سے ملنے کو ترجیح دیتے۔ میں نے ایک دو کام ان کے سپرد کیے مگر انہوں نے وہ انجام نہ دیے۔ مثال کے طور پر میں نے ان سے کہا کہ ہمیں دشمن کے علاقے میں اپنے فوجیوں کے کیے خشک راشن جمع کرنا چاہیے۔ انہوں نے مجھ سے گریز شروع کر دیا۔ یوں محسوس ہوا کہ یہ شخص یا تو غیر مستعد ہے یا اپنے کام میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ دوسری صورت یہ ممکن ہے کہ اس کا ذہن کسی اور کام میں لگا ہوا ہے۔ یہ صورت حال خطرے کی جانب اشارہ کرتی تھی۔ اس طرح مجھے اور فوج میں صحیح سوچ رکھنے والوں کے لیے شدید دھچکامحسوس ہوا۔ فوج کا وقار سخت مجروح ہوا۔ لوگ بجا طور پر سوال کر سکتے تھے کہ پاک فوج اسی قسم کا حصار ہوتی ہے۔ فوج وفاداری، فرض شناسی، حب الوطنی اور سول اتھارٹی کے مکمل اتباع کی شاندار روایات رکھتی تھی۔ کوئی شخص اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ مملکت اتنے نازک دور میں ہو اور فوج اس طرح ابتری کا شکار ہو۔ میں نے سوچنا شروع کیا کہ اگر سازش کامیاب ہو جائے تو کیاہو گا۔ میرے اندازے میں سازش کی کامیابی کی دو صورتیں ہو سکتی تھیں، ایک مکمل کامیابی کی جس میں فوج کی جانب سے مزاحمت نہ ہوتی۔ اس صورت میں میرے جیسے سینئر افسران کو کسی جوابی کارروائی سے پہلے گرفتار کر لیتے۔ فوج اس تبدیلی کو قبول کر لیتی یا قبول نہ کرتی، بہر صورت اس الجھی ہوئی کیفیت میں اکبر خان اگر ہشیاری سے کام لیتے تو وہ اور ان کے ساتھی اپنے کنٹرول کو مستحکم کر لیتے۔ دوسری صورت میں اگر فوج کے کچھ لوگ مزاحمت کرتے تو فوجی یونٹوں میں تصادم ہو جاتا۔ نتیجے کے طور پر بھارتی فوج مداخلت کرتی۔ مجھے یہی خوف کھائے جا رہا تھا۔ میں اس مخمصے سے جلد ہی نکل آیا اور میں نے فوج کے وقار کو بحال کرنے کا تہیہ کر لیا۔ چنانچہ بیمار ذہنوں سے فوج کو پاک کیا۔‘‘ (Friends not masters pages 35-40)
ایوب خان کی کتاب سے سازش کے بارے میں درج تمام تفصیلات نقل کر دی گئی ہیں۔ سازش سے نبٹنے میں وزیر اعظم اور کمانڈر چیف کے کردار کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔ ایوب خان نے سازش کے اسباب کی تفصیل بیان کر دی ہے۔ ہم اس کو متنازعہ بنائے بغیر عدالتی کارروائی اور وکیل صفائی کے بارے میں ایوب کے طرز عمل پر کچھ کہنا لازم خیال کرتے ہیں۔ لگتا ہے کہ ایک فوجی ذہن ہونے کی وجہ سے وہ صفائی کے وکیل کے حق جرح اور گواہوں کے وقار میں تصادم کے غلط تصور کا شکار ہیں۔ در اصل کورٹ مارشل میں جرح کا حق بہت محدود بلکہ برائے نام ہی ہوتا ہے، جبکہ ایک اہل اور جرات مند وکیل صفائی گواہوں کی پیش کردہ کہانی کو ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے۔ اس میں کسی گواہ کے منصب اور وقار کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایوب خان وکیل صفائی کی اس حیثیت کا شعور نہیں رکھتے یا اسے مخصوص اغراض کے تحت تسلیم نہیں کرتے۔ اس بارے میں ان کی سہروردی سے کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کا لہجہ کتنا رعونت پسندانہ ہے۔ ان کے جملوں سے اس بیماری کی نشان دہی ہو جاتی ہے جو ہماری فوج میں تقسیم ہند کے بعد کینسر کی طرح پھیل گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کینسر کا سرچشمہ ایوب خان کی ذات تھی۔ یہاں انہوں نے فوج کی طرف سے سول اتھارٹی کی اطاعت کی جن اعلیٰ روایات کا ذکر کیا ہے، حقیقت میں ان کا قلع قمع کرنے کا تمام تر کریڈٹ ایوب خان کو ہی جاتا ہے۔ 
در اصل فوجی ذہن صرف طاقت کی زبان ہی جانتا ہے۔ اس کے ذہن میں انصاف کا تصور، امریکی ڈرل مشین کے ذریعے بھی داخل نہیں کیا جا سکتا۔ شروع ہی سے سول اقتدار میں فوج کی شریک ہو گئی۔ سول نظامِ incubator میں تھا،اس کے باوجود سانس بھی لینے نہ دیا گیا۔ جنرل اکبر خان اور ان کے ساتھیوں نے جو کچھ کیا، اس کی حقیقی تفصیلات کہیں بھی میسر نہیں۔ حیدر آباد جیل میں بند کمرے میں مقدمہ چلایا گیا۔ خصوصی ایکٹ کے تحت قائم ٹربیونل کی جملہ کارروائی افشا کرنے کی صورت میں سرکاری راز داری کے قانون کا طلاق کر کے مقدمے کی تفصیلات پبلک تک پہنچانے سے بچایا گیا۔ اندر کیا ہوتا رہا، اس کی کسی کو کوئی خبر نہیں۔ مقدمہ کتنا منصفانہ رہا، ایوب خان کے اپنے جملے بہت واضح ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تابڑ توڑ جرح کے باوجود عدالت کا رویہ مثبت رہا۔ وہ جرح کے انداز پر برہم ہیں۔ خصوصی عدالت میں بند کمرے کی سماعت، مخصوص قانون اور ضابطے کی قید میں چلایا گیا مقدمہ، نمائشی حیثیت سے زیادہ کیا اہمیت رکھتا ہے! کاش سہر وردی کی جرح کی تفصیلات مہیا ہو جائیں تو مقدمے کی ساری حقیقت کھل جاتی۔ مقدمے میں ریکارڈ شدہ شہادت میں جعل سازی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ میں نے کہیں اس طرح کے ریمارکس پڑھے ہیں مگر حوالے ذہن سے اتر گئے ہیں۔ ایوب خان وکیل صفائی کی جانب سے سہر وردی کی جرح پر کتنے بر ہم ہیں، اس کا اندازہ اوپر ان کے اپنے جملوں سے ہو سکتا ہے۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ انصاف دینے والوں کے ذہن میں انصاف کی کون سی سطح تھی۔
راولپنڈی سازش کی مختصر سی تفصیلات زاہد حسین کی ’’واقعات پاکستان ‘‘کی پہلی جلد میں درج کی گئی ہیں۔ ملاحظہ ہو۔
’’راولپنڈی سازش کی تحقیقات کے لیے پیرزادہ عبدالستار نے ۱۳ -اپریل ۱۹۵۱ء کوقانون ساز اسمبلی میں ایک بل پیش کیا جس کے تحت جسٹس سر عبد الرحمان، جسٹس چوہدری محمد شریف اور جسٹس امیرالدین احمد پر مشتمل ایک ٹربیونل کا قیام عمل میں آیا۔ 
فرد جرم میں قتل، شاہ برطانیہ کو سلطنت کے ایک حصے (پاکستان) سے جبراً محروم کرنے اور دوسرے حصے (بھارت) پر حملہ آور ہونے اور ملک معظم کے اغوا کی منصوبہ بندی کا ذکر کیا گیا تھا۔
۳۰۔مئی ۱۹۵۱ء کو میجر جنرل اکبر خان اور ان کی اہلیہ کو جسٹس محمد شریف کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ 
۱۰۔جون لیفٹیننٹ کرنل صدیق راجا اور میجر خواجہ محمد یوسف راولپنڈی سازش کیس میں سلطانی گواہ بن گئے۔ 
۱۸۔ جون کو اس مقدمہ میں استغاثہ کا بیان مکمل کیا گیا۔ 
یکم اگست کو بیگم نسیم اکبر خان کے وکیل زیڈ ایچ لاری نے سرکاری گواہ پر جرح ختم کر لی۔ 
۵ جنوری ۱۹۵۲ء کوراولپنڈی سازش کیس کے فیصلے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے تحت ۱۵ ملزمان میں سے گیارہ افسر اور چار شہری شامل تھے۔ بیگم نسیم اکبر خان کو بری کر دیا گیا۔ جبکہ میجر جنرل اکبر خان کو بارہ سال، گروپ کیپٹن جنجوعہ کو سات سال، میجر صادق کو سات سال، میجر ضیا الدین اور کیپٹن نیاز ارباب کو پانچ پانچ سال کی سزا سنائی گئی، جبکہ لیفٹیننٹ خضر حیات، کیپٹن حسن یاخان، کیپٹن اسحاق، لیفٹیننٹ ظہیر اللہ، فیض احمد فیض، سجاد ظفر، حسن عطا کو چار چار سال قید با مشقت سنائی گئی۔ لیفٹیننٹ کرنل نذیر کو تا برخواست عدالت قید کی سزا سنائی گئی۔ (واقعات پاکستان جلد اول صفحہ نمبر ۳۴۸، ۳۴۹، مرتبہ زاہد حسین انجم، مطبوعہ نذیر سنز پبلشرز ۴۰ اردو بازار لاہور، سال اشاعت ۲۰۰۷ء )
اس کیس کے حوالے سے، اس مختصر مضمون میں ہم کچھ زیادہ تبصرہ کرنے کے بجائے، وارث میر کے ایک مضمون سے کچھ اقتباسات درج کرنے پر اکتفا کریں گے۔ یہ مضمون ان کی کتاب ’’فوج کی سیاست’’ مطبوعہ جمہور پبلی کیشنز لاہور کینٹ، شائع شدہ ۲۰۰۷ء میں شامل ہے۔ اس مضمون میں وہ سازش کے ایک ملزم میجر اسحاق کے ہفت روزہ اشتراک لاہور کو ۲۱۔مئی ۱۹۷۲ء کو دیے گئے کے صفحہ نمبر ۱۱۲ تا ۱۱۴ میں لکھتے ہیں:
’’بہت سے لوگوں نے پنڈی سازش کیس کے بارے میں کئی مفروضے گھڑ لیے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کیس سے متعلق کارروائی صیغہ راز میں رکھی گئی ۔ جب پردہ ہٹے گا تو معلوم ہو گا کہ پنڈی سازش کیس کوئی سازش تھی ہی نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں پاکستان کی حکومت پاک امریکی فوجی معاہدے کے لیے رضامند ہو چکی تھی لیکن اسے فوج میں محب وطن عناصر کی طرف سے خطرہ تھا کہ وہ ملک کو امریکہ کی غلامی میں نہیں جانے دیں گے۔ دوسرے کشمیر میں یکم جنوری ۱۹۴۹ء کو جو جنگ بندی کی گئی، وہ پاکستان، بھارت کے حکمران طبقوں اور انگریزوں کے درمیان ایک سازش کا نتیجہ تھی۔ اس کے خلاف فوج میں شدید رد عمل ہوا تھا جیسے معاہدہ تاشقند کے بعد عوام میں ہوا۔ کشمیر کی جنگ پاکستان کی طرف سے چونکہ خفیہ طور پر لڑی جا رہی تھی، اس لیے یہ رد عمل صرف ان فوجوں تک محدود رہا جو کشمیر کی جنگ میں حصہ لے رہی تھیں۔ یاد رہے کہ جن فوجی افسروں کو پنڈی سازش کیس میں ملوث کیا گیا، وہ سب کشمیر میں لڑے تھے۔ ‘‘
’’نشان امتیاز چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل اکبر خان کے کشمیر محاذ پر غیر معمولی جرات مندانہ کردار نے انہیں نوجوان افسروں میں بہت مقبول بنا دیا تھا۔ اسی مقبولیت نے ان میں حد سے زیادہ خود اعتمادی کی کمزوری اور خواہش انقلاب پیدا کر دی تھی۔ جنگ کشمیر میں سری نگر اڈے تک پہنچ جانے کے بعد حکومت پاکستان کے فیصلہ جنگ بندی کو اکبر خان ہضم نہ کر سکے تھے اور اسی لیے انگریز کمانڈر انچیف اور اس کے قریبی اعلیٰ فوجی افسروں کی نظر میں’مشکوک‘ تھے۔ یہ افسران صاحب مطالعہ اور صاحب تخیل تھے اور کھل کر اختلاف کا اظہار کر دینے کے بھی عادی تھے۔ جنرل گریسی نے ان کی خقیہ رپورٹ میں لکھا تھا ،’اکبر خان اپنے کیرئیر کے دوراہے پر کھڑا ہے، اسے سیاست اور فوج میں سے کسی ایک کیرئیر کا انتخاب کرنا ہو گا۔‘ میجر جنرل اکبر خان کا تقاضا تھا کہ انگریز فوجی افسروں کو انگلینڈ واپس بھیجا جائے۔‘‘ (ص ۱۱۲)
’’پنڈی سازش کیس میں ملوث جنرل نذیر محمدجنجوعہ نے اگرچہ ایک بار ریسٹ ہاؤس اٹک میں اکبر کی طرف سے دیے گئے پکنک لنچ میں شرکت کی تھی لیکن لیاقت علی خان کے سامنے اس نے بھی یہی مطالبہ کیا تھا۔ یہ بات لیاقت علی خان اور ایوب خان دونوں کو سخت ناگوار‘‘ گزری تھی۔ چنانچہ فرینڈز ناٹ ماسٹرز میں ایوب نے لکھا ہے’پاکستان کے فوجی افسر انگریزوں کو فوراً ملک سے نکال کر خود نپولین بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔‘‘(ص ۱۱۳)
’’۲۳۔فروری ۱۹۵۱ء کو چیف آف دی سٹاف جنرل آفیسر میجر جنرل محمد اکبر خان کے بنگلے میں بعض فوجی افسروں کی ایک میٹنگ ہوئی جو گھنٹوں ’نقد جان پیش کروں نہ کروں‘ کے مسئلے پر غور و خوض کے بعد گو مگو کی حالت میں ختم ہوئی۔ اس قسم کے اجلاسوں کے بارے میں بعد ازاں اکبر خان کا تبصرہ یہ رہا کہ ’ہم نے وطن عزیز کے متعلق اظہارِ تشویش اور شکوہ و شکایت کے سوا، کیا ہی کیا ہے؟ہم عدالت کا سامنے کریں گے۔’ فرد جرم میں خان قربان علی خان کے قتل، شاہِ برطانیہ کو سلطنت کے ایک حصے (پاکستان) سے جبراً محروم کرنے اور دوسرے حصے (بھارت) پرحملہ آور اور ملک معظم کے اغوا کی منصوبہ بندی کا ذکر تھا۔ (سازش کیس کے ایک ملزم) کرنل حسن کے نزدیک یہ محض الزامات تھے اور گورنمنٹ پراسیکیوٹر کی فکری کاوشوں کا نتیجہ تھے۔‘‘
ایوب خان کی کتاب سے درج کردہ اقتباسات اور وارث میر کے حوالے سے ملزمان میں سے بعض کے حوالوں میں کیس کے پس منظر پر کافی یکسانیت پائی جاتی ہے۔ ایوب خان بھارت کی طرف سے حملے پر ہمیشہ ہی خوف زدہ رہے ہیں۔ ۱۹۶۵ء میں بھی کشمیر میں ہماری جانب سے مداخلت کے بعد ۱۹۴۹ء والی صورت حال پیدا ہوئی۔ ایوب خان کو وزارت خارجہ کی جانب سے بین الاقوامی بارڈرز کراس نہ کرنے کا یقین دلایا گیا تھا۔ اس طرح کشمیر میں ہمارے مجاہدین اٹاری تک ایڈوانس کر چکے تھے۔ پھر بھارت نے واہگہ پار کیا تو محافظ لاہور سوئے ہوئے تھے۔ واہگہ اور چونڈہ کے محاذوں پر فوج کے اعلیٰ افسران اور جوانوں نے عظیم الشان قربانیوں سے دفاعِ وطن کاحق ادا کیا، وگرنہ ہمارے سربراہان فوج اور زعمائے مملکت تو بھارت سے دو دو ہاتھ کرنے کا تصور بھی بھول چکے ہیں۔ لیکن جنہوں نے اس تصور کو پالا، ایسے میں وہ وطن دشمن، باغی اور غدار قرار نہ پائیں تو اور کیا ہوگا! 

مذہبی فرقہ واریت کا سیاسی ظہور

خورشید احمد ندیم

مذہبی فرقہ واریت،ایک سونامی کی طرح،مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کواپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔اس کی لہریں پاکستان اور افغانستان تک پہنچ سکتی ہیں۔مذہب اور سیاست کے باہمی تعلق کو نہ سمجھنے کا ایک اورخطرناک نتیجہ ہمارے سامنے آنے والا ہے۔
ایران کا انقلاب،9/11 کی طرح مسلم دنیا میں ایک نئے دور کا آ غاز ہے۔اس میں شا ید کو ئی مبالغہ نہ ہو کہ سیدناحسینؓابن علیؓ کی شہادت کے بعد یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے جس نے مسلمانوں کی داخلی سیاست کو اتنے بڑے پیما نے پر متا ثر کیا ہے۔اس انقلاب کے بعد ہماری سیاست یقیناً وہ نہیں رہی جو پہلے تھی۔آج ہم مشرقِ وسطیٰ میں جو تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں،ان کاایک بڑا محرک یہی انقلاب ہے۔تیل کی وجہ سے اس خطے میں عالمی قوتوں کی دلچسپی نے یقیناً یہاں کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا ہے لیکن ۱۹۷۹ء کے بعد اس علاقے میں داخلی سطح پرجوتبدیلیوں پروان چڑھتی رہیں ،ان پر بہت کم توجہ دی گئی۔آج تبدیلی کا یہ عمل ایک واضح صورت اختیار کر چکا ہے، جس کے خد و خال ہم بچشمِ سر دیکھ سکتے ہیں۔
ایران کا انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھی،یہ شیعہ فکر میں ایک غیر معمولی تغیر بھی تھا۔روح اللہ خمینی صاحب سے پہلے شیعہ علما کا دائرہ کار مذہبی وروحانی امور میں راہنمائی تک محدود تھا۔عملاً وہ سیاسی عمل سے لا تعلق تھے۔خمینی صاحب نے ’ولایتِ فقیہہ‘‘ کا تصور دیا جس نے علما کے بھر پور سیاسی کردار کو دینی و عقلی استدلال فراہم کیا۔شیعہ علما میں ’اصولی‘ اور ’اخباری‘ دو نقطہ نظر اگر چہ پہلے ہی سے مو جود تھے اور اصولی علما اجتہاد اور روز مرہ امور میں راہنمائی کی ذمہ داری بھی ادا کر تے تھے لیکن سیاست میں ان کا کو ئی قابلِ ذکر کردار نہیں تھا۔خمینی صاحب نے ’نائبِ امام ‘ کو امام کا قائم مقام قرار دے کر اس خلا کو عملاً ختم کر دیا جو امام کی غیر مو جو دگی کے باعث پیدا ہو گیا تھا۔جب ایران میں اس تصور کوپزیرائی ملی اور ان کی قیادت میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی واقع ہو گئی تو ’اخباری ‘ نقطہ نظر عملاً ختم ہو گیااور دنیا بھر میں اہلِ تشیع نے سیاست کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا شروع کیا۔امریکا میں رہائش پزیرممتازایرانی محقق ڈاکٹر ولی نصر کے اس تجزیے سے مجھے پو را اتفاق ہے کہ اس انقلاب سے پہلے مختلف مسلمان ممالک میں اہلِ تشیع دوسری مر کزی تحریکوں کا حصہ تھے جیسے وہ مشرقِ وسطیٰ میں عرب قوم پر ستی کی تحریک،بائیں بازو کی جماعتوں اور دوسرے سیاسی فورمز سے وابستہ تھے۔اس انقلاب کے بعد وہ شیعہ تحریکوں کاحصہ بنے اور انہیں اس کے لیے ایران کی حمایت بھی حاصل رہی۔ولی نصر نے اپنی کتاب’شیعہ احیا‘ (The Shia Revival) میں بعض ایسے افراد اور ان کی سابقہ وابستگیوں کاذکرکیا ہے۔
یہ تبدیلی عملی سیاست پر کیسے اثر انداز ہو ئی، اس کا اندازہ عراق،لبنان، اردن اوربحرین کے حالات پر سرسری نظر سے ڈالنے سے کیا جا سکتا ہے۔ اس مقد مے کی وضاحت میں ،میں دومثالوں کا ذکر کر تا ہوں۔۲۸۔ فروری۲۰۰۵ء کو عراق کے ایک شہر حلہ میں ایک خو ش کش حملہ ہوا جس میں ۱۲۵ شیعہ مارے گئے اور ۱۵۰ زخمی ہو ئے۔اس حملے کا ذمہ دار اردن کا ایک نو جوان منصور البنا تھا۔اس کی موت کی خبر جب اس کے آ بائی قصبے السلط پہنچی تو وہاں اسے شہید قرار دیا گیا اور تین دن تک اس کا سوگ منا یا گیا۔اس سوگ میں ان لوگوں کا کو ئی ذکر نہیں ہوا تو اس حملے میں مارے گئے۔اس پر عراق میں بہت ردِ عمل ہوا اور ۲۰ مارچ کوایک مشتعل ہجوم نے اردن کے سفارت خانے پر حملہ کر دیا۔معا ملہ مزید بگڑااوردو نوں ممالک نے اپنے اپنے سفارت کار واپس بلا لیے۔عراق اور اردن کے تعلقات میں یہ تلخی پہلے نہیں تھی۔اس کا اظہار تب ہوا جب عراق میں شیعہ بر سر اقتدار آئے۔
بحرین کا معا ملہ بھی ایسا ہی ہے۔یہاں شیعہ آ بادی کی اکثریت ہے۔ایرانی انقلاب سے پہلے اخباری نقطہ نظر غالب تھا۔اس کے بعد اصولیوں کا غلبہ ہے۔اس کا سبب نقطہ نظرکی تبدیلی ہے۔یہاں ۱۹۹۴ء میں شیعہ آ بادی نے اپنے حقوق کے لیے تحریک اٹھائی۔۱۹۷۰ء میں بحرین کی آ زادی کے بعد یہ سب سے بڑا ہنگامہ تھا۔۱۹۹ء میں نئے حکمران شیخ حامدبن عیسیٰ الخلیفہ نے سیاسی اصلاحات کا اعلان کیا تو انہیں زیادہ پزیرائی نہیں ملی۔اہلِ تشیع کی طرف سے۲۰۰۲ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا گیا اور اب وہاں کے شیعہ، مذہبی جماعتوں کے عَلم تلے جمع ہیں۔ان میں الوفاق اور الجبہ الاسلامیہ لالتحریر البحرین نمایاں ہیں۔۲۰۰۳ء میں جب عراق ایک بڑی تبدیلی سے گزرا تو اس کا اثر بحرین میں بھی ہوا۔ دکانوں میں خمینی صاحب اور لبنان کے شیعہ راہنماحسین فضل اللہ کی تصویرں بڑی تعداد میں آویزاں تھیں۔۲۰۰۵ء میں جب ایک مقامی اخبارنے خمینی صاحب کا ایک کارٹون شائع کیا تو بطور احتجاج ایک بڑا جلوس نکالا گیا جو ’لبیک خمینی‘ کے نعرے لگا رہا تھا۔سعودی عرب کی جو سرحد بحرین سے ملتی ہے وہاں کی آ بادی میں بھی شیعہ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ سعودی عرب کو یہ پریشانی ہے کہ اگر بحرین میں شیعہ غالب آتے ہیں تو اس علاقائی قرب کی وجہ سے سعودی عرب بھی متاثر ہو سکتا ہے۔چنانچہ اس نے بحرین میں حالیہ شیعہ تحریک کو دبا نے کے لیے بحرین میں اپنی افواج بھیج دیں۔اس وقت سعودی عرب کے ان علاقوں میں شیعہ آ بادی بحرین میں فوج بھیجنے کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے۔مذہبی مسلک کے اس سیاسی استعمال کا سب سے زیادہ نقصان تصورِ قومیت کو پہنچ رہا ہے۔ اب سعودی عرب کے شیعہ شہری کی وفاداری اپنے ملک سے زیادہ ایران سے ہو تی ہے اور ایران کا سنی شہری ممکن ہے سعودی عرب یا کسی دوسرے ہم مسلک ملک سے خود کو ذہی طور پر زیادہ قریب محسوس کر تا ہو۔
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست جس طرح مذہبی فر قہ واریت سے متاثر ہو رہی ہے،اس کے مظاہر عالمِ اسلام کے دیگر حصوں میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ پاکستان بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ عراق ایران جنگ میں ہم نے اس کی ابتدائی جھلک دیکھی۔ مجھے خدشہ ہے کہ چند دنوں تک اس کے مزید مظاہر بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ہماری مذہبی جماعتوں میں سعودی عرب اور ایران کے لیے جو نرم گوشہ ہے، اس کا اظہار ہونے لگا ہے۔ایک مسلک کے رسائل میں سعودی عرب کی حمایت کی جارہی ہے اور ان وا قعات کو سعودی عرب کی اسلامی حکومت کے خلاف ایک سازش قرار دیا جا رہا ہے۔ جواباً ایران کی حمایت میں بھی لکھا جا رہا ہے۔یہ سلسلہ جلسوں جلوسوں تک پھیل سکتا ہے۔
میرے نزدیک مذہبی فرقہ واریت کا سیاسی ظہور عالمِ اسلام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور اس سے امریکا جیسی قوتیں فائدہ اٹھائیں گی جن کی نظر اس خطے کے وسائل پر ہے۔ یہ مذہب اور سیاست کے تعلق کو صحیح تناظر میں نہ سمجھنے کانتیجہ ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ مسلمانوں کی زندگی دین کے احکام کے تابع ہو نی چا ہیے اور اس سے سیاست کا کوئی استثنا نہیں ہے لیکن اہلِ مذہب نے اس کی جو تعبیر کی گئی ہے وہ محلِ نظر ہے۔ہمارے ہاں اس کا یہ مفہوم لیا گیا ہے کہ اسلام کے سیاسی غلبے کے لیے جماعتیں بننی چا ہیں۔ اب عملاً یہ ہوا کہ ہر مسلک کے لوگوں نے اپنی سیاسی جماعت بنالی اور انہوں نے اپنے مسلک کی روشنی میں سیاسی نظام تشکیل دینا چا ہا اور اسے اسلام کی واحد تعبیر قرار دیا۔یوں اسلامی ریاست کا تصور پاپائیت میں بدل گیا کیوں کہ اس میں مذہبی تعبیر کا حق ایک خاص گروہ کے لیے خاص ہوگیا۔اسی کانام پاپائیت ہے۔
قرار دارِ مقاصد تک حالات یہ نہیں تھے۔اس قرار داد نے ریاست کی نظری سمت کا تعین کردیا اور حکومت کا حق جمہور کو دے دیا۔اس کا منطقی نتیجہ ۱۹۷۳ء کا آئین ہے۔یہ ایک ایسی متوازن دستاویز ہے جس کے بعد مذہبی فرقہ واریت کے سیاسی ظہور کا امکان ختم ہو گیا۔اگر یہاں مذہبی سیاسی جماعتیں نہ ہوتیں تو مذہب کے نام پر کوئی سیاسی قضیہ پیدا نہ ہوتا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہاں سیکولرزم کا غلبہ ہوجاتا۔میرے نزدیک ایک جمہوری پاکستان کبھی سیکولر نہیں ہو سکتا۔ جب تک یہاں دینی مدارس ،علمی تحقیق کے مراکز اور دعوتی تحریکیں موجود ہیں،قوم کا نظری تشخص تبدیل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے مذہبی سیاست کی ضروت نہیں۔یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم سے لے کر آج تک،کسی سیاسی قیادت کا مذہبی مسلک ہمارے ہاں کبھی زیرِ بحث نہیں ہوا۔اس کے بر خلاف ایران میں حکومت مذہبی لوگوں کے ہاتھ میں آئی تو ریاست کو آئینی طور پر ایک خاص فقہ سے منسوب کر دیا گیا۔یہی کچھ افغانستان میں ہوا جب وہاں ایک مذہبی گروہ برسراقتدار آیا۔
ریاست اور مذہب کا باہمی تعلق جس طرح پاکستان میں،آئین اور سماج کی سطح پر سامنے آیا ہے،وہ پورے عالمِ اسلام کے لیے مثال بن سکتا ہے۔اگر تمام مسلمان ملک جمہوری ہو جائیں اور قرآن و سنت کی لازمی راہنمائی پر مبنی ایک عمرانی معاہدے کو اختیارکر لیں تو مسلکی و فقہی اختلاف اجتماعیت پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ عالمِ اسلام پر اپنا اثر ڈالنے کی بجائے ،ہم دوسروں کا اثر قبول کر رہے ہیں۔ 
(بشکریہ روزنامہ اوصاف)

شیعہ سنی مفاہمت کی ضرورت و اہمیت

مولانا محمد وارث مظہری

شیعہ سنی اختلاف بنیادی طور پر مسلمانوں کی داخلی سیاسی کش مکش کی پیداوار ہے، لیکن بعد میں اس اختلاف نے جو شکل اختیار کی، اسے اب دونوں فریقوں کی نظر میں محض فروعات دین میں اختلاف سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا، تاہم اسے کفرو ایمان کا اختلاف قرار دینا بھی کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ اس اختلاف کو کم یا ختم کرنے کی جو سنجیدہ کوششیں ما ضی میں ہونی چاہیے تھیں، وہ بد قسمتی سے نہیں ہوسکیں۔ اب یہ اختلاف اتنی سنگین کشمکش کی شکل اختیارکرچکا ہے کہ اس کی زد میں آکر نہ جانے کتنی ہی جانیں ضائع اور نہ جانے کتنے ہی مال واسباب تباہ ہوچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں فرقوں کے شدت پسند حلقے اس اختلاف کو کفر و اسلام کے تناظر میں دیکھنے اور پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور اس طرح دونوں فرقوں کے درمیان خلیج مزید بڑھتی رہی ہے۔دونوں فرقوںیا اس کے بعض طبقات کے اندر ایک دوسرے کے تعلق سے انتہا پسندانہ نظریات پائے جاتے ہیں۔شیعہ کی کتابوں میں یہ نظریہ پایا جاتا ہے کہ جب حضرت امام مہدی ظاہرہوں گے تو و ہ سنیوں کو قتل کریں گے۔سنیوں کے یہاں یہ حدیث پیدا کرلی گئی ہے کہ: ’’اخیر زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے جو رافضی کہلائیں گے۔اسلام کے منکر ہوں گے، لیکن اس کا لفظی اقرار کریں گے تو تم ان کوقتل کردو، اس لیے کہ وہ مشرکین ہیں‘‘۔ (یکون قوم فی آخر الزمان یسمون الرافضۃ یرفضون الاسلام و یلفظونہ فاقتلوہم فانہم مشرکون) (1) شاید اسی گھڑی روایت کی بنا پر پاکستان میں بعض انتہا پسندوں نے شیعوں کو مباح الدم قرار دے رکھا ہے۔
کسی بھی جماعت یا قوم میں دوسری جماعت کے خلاف جو ڈھلی ڈھلائی سوچ (stereotypes) بن جاتی ہے، اس کو ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی فریق اپنے نظریاتی خول سے باہر آکردوسرے فریق کو خود اپنے طور پر سمجھنے اور برتنے کی کوشش نہیں کرتا۔ موجودہ دور میں دونوں فرقوں میں سے با شعور اور حساس لوگوں پرمشتمل ایک طبقہ شیعہ سنی مکالمے کوفروغ دینے کا خواہش مند اور اس کے لیے کوشاں ہے، لیکن اعتراف کی بات یہ ہے کہ اس تعلق سے جتنی دلچسپی شیعہ علما اور اہل حل و عقد کے یہاں پائی جاتی ہے، اتنی دلچسپی سنی علما و اہل فکر کے یہاں نہیں پائی جاتی۔ تہران میں اس کے لیے حکومت کی سر پرستی میں با ضابطہ ایک ادارہ ’’المجمع العالمی للتقریب بین المذاہب الاسلامیۃ‘‘ قائم ہے جس سے اسی مقصد کے پیش نظر ’’رسالۃ التقریب‘‘ نامی عربی جرنل شائع ہوتا ہے۔ سنی علما اور دانش وروں کی بڑی تعداد شیعہ سنت مفاہمت کے لیے اس کی طرف سے منعقد کیے جانے والے پروگراموں میں شریک ہوتی رہی ہے۔ 
فرقہ وارانہ مفاہمت کے لیے سب اہم طریقہ مکالمے کا طریقہ ہے۔مکالمہ متفق علیہ امور میں تعاون اور مختلف فیہ امور میں گفت و شنیدکے نکات کی تلاش کا نام ہے، اس لیے وہ ہر انسانی گروہ کی ضرورت ہے۔ چوں کہ شیعہ سنی مفاہمت مسلمانوں کے لیے اپنے داخلی حصار کو مضبوط کرنے کی ایک بہت ہی اہم کوشش ہے ،اسی لیے وہ زیادہ حساس بھی ہے۔ اس کی حساسیت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں فرقوں کا یہ اختلاف صدیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ ان اختلافات کو حل کرنے سے متعلق ماضی میں گفت و شنید کی سنجیدہ کوششیں بہت کم ہو سکیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے جسم کے ایک بڑے اور ضروری عضو کو جسم سے کاٹ کرعلاحدہ تو کر سکتے ہیں لیکن پرسکون نہیں رہ سکتے۔یہ فطرت کے خلاف ہے۔فطرت دشمنوں کو بھی دوست بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔اسی لیے قرآن میں اس کی تاکید کی گئی ہے(2)۔ راقم الحروف کا خیال ہے کہ موجودہ سیاسی صورت حال میں شیعہ سنی مفاہمت بہت سے سیاسی مسائل کے حل کی کلید بن سکتی ہے۔ یہ دونوں فرقے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور ان کا باہمی تعاون اجتماعی قوت و اتحاد کے ایسے دروازوں کو کھول سکتاہے جو اب تک تاریخ میں بند رہے ہیں۔
شیعہ سنی مفاہمت کے عمل کو ایک دینی وملی ضرورت کے طور پر آگے بڑھانا وقت کا تقاضا ہے جس کا مقصد تصحیح فکر و نظر کے ساتھ اسلامک اکٹو زم کوزیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز بنانا ہے۔ دونوں فرقوں کے درمیان مکالمے کے لیے سب سے پہلے اس بات پر اتفاق ضروری ہے کہ شیعہ سنی اختلاف کا تعلق بنیادی عقائد اورایسے اساسات دین سے نہیں ہے جو کفر وایمان کی بنیاد ہیں۔ اس تعلق سے اہم بات جس کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے، یہ ہے کہ شیعوں کے مختلف طبقات اورگروہ ہیں۔ان کے درمیان بہت سے بنیادی نظریات میں باہم ختلاف پایا جاتا ہے۔ شیعوں کی باضابطہ الگ الگ شاخوں کے علاوہ خود اثنا عشری فرقہ مختلف طبقات میں بٹا ہوا ہے۔اس لیے کوئی ایک شرعی حکم تمام شیعوں پر لگا ناانصاف کے تقاضے کے مطابق نہیں ہے۔ بہت سے ثقہ علما کا نطتہ نظر یہی ہے کہ عمومی طور پر شیعوں پرکفر کا حکم لگانے کی بجائے یہ معیار بنایا جائے کہ جو لوگ اس طرح کے عقائد رکھتے ہوں، وہ کافرہیں۔اس میں غالی شیعہ خود شامل ہو جائیں گے۔ خاص طور پر جوشیعہ قرآن میں تحریف کے شدت کے ساتھ منکر ہیں، ان کی تکفیر صحیح نہیں ہے۔ 
شیعہ اور سنی دونوں ہی قرآن کے اس حکم کے مخاطب ہیں کہ:’’ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو‘‘ (4)۔ قرآن کے مطابق آپسی تنازع اور اختلاف کو امت کی قوت و اثر کے ز ائل ہونے کا سبب بتایا گیا ہے۔(3) اس پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں امت کی جو صورت حال ہے وہ سب پر ظاہر ہے ۔ ایک مضبوط حکمت عملی کے تحت نواستعماری مغربی طاقتیں شیعہ سنی اتحاد کو عملی شکل میں ڈھلتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتیں۔ حالیہ عرصے میں غیر مسلموں: عیسائی،ہندو وغیرہ کے ساتھ مکالمے کا غلغلہ پایا جاتاہے اوراسلامی اور مغربی ملکوں میں اس پر کانفرنسیں اور سیمینارمنعقدہورہے ہیں۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ خود داخلی سطح پر اس نوع کی کوشش و عمل کی ہمارے اندر شدید کمی پائی جاتی رہی ہے۔ برصغیر میں پہلے شیعہ سنی اختلاف نے اور بعد میں دیوبندی ۔بریلوی اور اہل حدیث و اہل تقلید کے اختلاف نے مسلم اجتماعیت کو شدید نقصان پہنچایا۔ دیوبندی بریلوی مفاہمت پر میرے خیال میں اب تک باضابطہ طور پر صرف حلقہ دیوبند کے مشہور عالم مولانا اخلاق حسین قاسمیؒ نے قلم اٹھایا ہے۔اس موضوع پر اپنا کتابچہ انہوں نے راقم الحروف کو بھی بھجوایا تھا،لیکن کسی نے اس کوشش اور فکر کو آگے بڑھانے کی کوشش نہیں کی۔اب یہ اطلاع خوش آیند ہے کہ حضرت مولانا مفتی رفیع عثمانی صاحب بھی دیوبندی بریلوی اختلاف وکش مکش کوختم یا کم کرنے کے تعلق سے نہایت مثبت ذہن رکھتے ہیں۔ اس وقت امت کی سب سے اہم ضرورت نظم اجتماعی کا استحکام ہے اور اس کے لیے بین مسلکی مکالمے کی ہر سطح پر ضرورت ہے ۔مکالمے کے علاوہ دوسرا انتخاب، ذاتی مطالعہ اور ذاتی غور وفکرایک یک طرفہ عمل ہے جس کا نتیجہ محدود اور وقتی ہوتاہے۔
اس مفاہمت کے عمل میں سب سے بنیادی رول شیعہ سنی دونوں فرقوں کے علما اور ارباب فکر کاہے، کیوں کہ عوام کی فکری قیادت انھی کے ہاتھوں میں ہے۔لیکن دانش وروں کے اہل فکرطبقے کے اشتراک و تعاون کے بغیر یہ نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے چند امور بنیادی اہمیت رکھتے ہیں جن کو اس تعلق سے عمل میں لانا ضروری ہے:

حسن ظن

دو فریقوں کے درمیان نتیجہ خیز مکالمے کے لیے سب سے اہم چیز حسن ظن اور الدین النصیحۃ کے تحت خیر خواہی کا جذبہ ہے۔ قرآن میں بد گمانی کی مذمت کی گئی ہے۔(5) حدیث کے مطابق بد گمانی سے بچنا چاہیے کہ بد گمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ (ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث) (6) مسلکی کش مکش میں سب سے زیادہ دخل اس بد گمانی کو ہے جو باہمی طور پر دوری بنائے رکھنے اور ایک دوسرے کوسمجھنے کی کوشش نہ کر نے کی وجہ سے عوام تو عوام، خواص کے بھی ذہنوں میں بھی راسخ ہو چکی ہے۔عوامی سطح پر ایک دوسرے کے تعلق سے نہایت بے بنیاد باتیں پھیلی ہوئی ہیں۔ حسن ظن کے ساتھ یہ علمی اور دینی تقاضا ہے کہ اس کی حقیقت خود متعلقہ فریق کی کتابوں یا علما سے معلوم کی جائے۔ دونوں فرقوں کے تعلق سے پا ئے جانے والے اسٹیریو ٹائپس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ شیعوں کے تعلق سے بدگمانی کی ایک اہم وجہ ان کا تقیہ سے متعلق نظریہ ہے۔اس میں شک نہیں کہ اس سے متعلق جو نظریات اپنی تفصیلی شکل میں ان کی کتابوں میں موجود ہیں، وہ انتہا پسندی پر مبنی ہیں اور ان پر عمل کرنے کی صورت میں تقیے اور نفاق میں بظاہر کم ہی فرق رہ جاتا ہے۔ لیکن اہل سنت میں بڑے پیمانے پر یہ رائج تصور کہ شیعہ سنیوں کے ساتھ ہر یا اکثر انفرادی واجتماعی امور و معاملات میں تقیہ کرتے ہیں، صحیح نہیں ہے۔سماجی زندگی میںیہ سرے سے قابل عمل نہیں ہے۔ تاہم یہ صحیح ہے کہ غالباً تقیے کی ہی بنا پر اہل تشیع کے یہاں فکر و عمل کا تضاد پایا جاتا ہے۔

سماجی سطح پر اشتراک عمل

اس تعلق سے سب سے اہم کام یہ ہے کہ دونوں مکاتب فکر کے لوگوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ اشتراک عمل وجود میںآئے۔ اشتراک عمل سے اشتراک فکر کی بھی راہیں ہموار ہوں گی۔سنی حلقے کی طرف سے جو بھی سیاسی وسماجی پروگرام منعقدہوں، ان میں شیعہ اہل علم و فکر کی شرکت کو یقینی بنا یا جائے۔ اسی طرح شیعہ حضرات سنیوں کو اپنے اجتماعی کاموں میں شریک کریں۔ اپنے اداروں کی رکنیت دیں۔ ہندوستان میں مسلم پرسنل لا بورڈ کی مثال اس تعلق سے نمایاں ہے کہ عرصۂ دراز سے اس کے نائب صدر مشہور شیعہ عالم مولانا کلب صادق ہیں۔ مسلم پرسنل لا بور ڈ ہندوستان میں اہم اجتماعی ادارہ ہے جس کے صدور میں قاری محمد طیبؒ (سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند)، مولانا ابوالحسن علی ندویؒ ، قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ اور مولانا رابع حسنی ندوی( موجودہ) جیسے مستند اورثقہ علما کا نام آتا ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت میں بھی شیعہ علما شریک رہے ہیں۔ہندوستان میںیہ بحث سرے سے کبھی پیدا نہیں ہوئی کہ شیعوں کو مسلمانوں کی ملی و اجتماعی سرگرمیوں میں شریک کیا جاسکتا ہے یا نہیں ۔ موجودہ صورت حال میں اہل فکر شیعہ علما سنی فضلا اور ارباب علم ہنر کو اپنے اداروں سے جو ڑنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ راقم الحروف کے شناسا کئی دیوبندی فضلا،دہلی کے سفینۃ الہدایہ ٹرسٹ اورجامعہ اہل بیت سے وابستہ ہیں۔ میرے خیال میں یہ اہل تشیع کی طرف سے یہ ایک مثبت پہل ہے جس کے جواب میں ہمیں بھی اپنے اداروں میں شیعوں کو جگہ دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن یہاں اس سیاق میں ایرانی حکومت کے اس رویے کی کوئی توجیہ سمجھ میں نہیں آتی کہ ایران میں سنیوں کو تقریباً حاشیہ پر رکھا گیا ہے۔ تہران میں تقریباً دس لاکھ سنی ہیں، لیکن سنیوں کو وہاں مسجد بنانے کی اجازت نہیں۔اس کے بر عکس مثال کے طور پر سعودی عرب میں نہ صرف ان کی مساجد ہیں بلکہ، مجھے دو اہم شیعہ علما نے بتایا کہ مدینہ میں بھی انہیں مسجد بنانے کی اجازت مل گئی ہے۔ اس طرح کا امتیاز شیعہ سنی مفاہمت و تقارب میں زبردست رکاوٹ ہے۔
بہر حال دونوں فرقوں کے درمیان سماجی سطح پر دوریوں کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ عراق میں اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان ازدواجی رشتے کا تعلق تقریباً 30/% فی صد ہے۔ (8) ہمارے یہاں بہ مشکل ایک فی صد ہوگا۔ اہل سنت کے وسیع النظر علما کی نظر میں یہ صحیح اور جائز ہے۔ شیخ یوسف قرضاوی انھی میں سے ایک ہیں، لیکن ہمارے اکثر علما اس جواز کے قائل نظر نہیں آتے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اہل کتاب کی عورتوں سے شادی جائز ہے تو یہ کتنی عجیب بات ہوگی کہ شیعوں کے ساتھ اسے ناجائز قرار دیا جائے۔ ایک دوسرے کے پروگراموں ،شادی وغم کی تقریبات، ایک دوسرے کی مسجدوں میں نمازکی ادائیگی،اجتماعی افطار ،اس نوع کی دوسری سرگرمیاں دونوں فرقوں کے درمیان مفاہمت کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ 

اشتعال انگیز باتوں سے احتراز

دونوں فرقوں کو اشتعال انگیز باتوں سے آخری حد تک پرہیز کرنا لازمی ہے۔ ہندوستان میں لکھنؤ میں اور پاکستان کے مختلف شہروں میں شیعہ سنی کشیدگی میں اس بات کا بہت دخل رہا ہے کہ دونوں فریق اپنے نظریات پر سنجیدہ علمی ماحول میں غور و خوض کے بجائے انھیں عوامی سطح پرسڑکوں پر حل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔اشتہارات اور جلسے جلوس جذبات کو اور بھڑکاتے ہیں۔اسی روش نے پاکستان کومسلکی کش مکش کا جہنم زار بنا دیا ہے ۔اختلاف کرنے والے ہر دو فریقوں میں ایک حلقہ انتہا پسندوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ارباب حل وعقدکے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس حلقے کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کرے۔سماجی سطح پراس کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرے ۔اجتماعی عہدوں سے اس کو دور رکھے ،نئی نسل کو اس سے خبر دار و ہوشیار کرے۔اسی حلقے کو اسلام دشمن اورسماج دشمن عناصر استعمال کرکے اپنا مقصد پورا کرتے ہیں۔
ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو اس ذہنیت سے نکلنا ضروری ہے کہ فریق مخالف جب تک اپنے فلاں مخصوص نظریات سے دست بردار نہ ہو جائے اس وقت تک اس کے ساتھ مکالمہ اور تعلق سازی کی کوشش نہیں کی جا سکتی۔حقیقت یہ کہ اس شرط کے ساتھکبھی کوئی مکالمہ عمل میں آہی نہیں سکتا۔

ایک دوسرے کو اصل ماخذ کی روشنی میں سمجھنے کی کو شش

شیعہ سنی مفاہمت کے لیے ایک دوسرے کو اس کے اصل ماخذ سے سمجھنا ایک اہم اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔دونوں فریقوں کے پاس اختلافی لٹریچر کا تقریبا ہزار سال سے زیادہ عرصے پرمشتمل ذخیرہ موجود ہے۔ جس میں دونوں فریقوں کے یہاں بڑی مقدار میں رطب ویابس جمع ہوگئی ہیں ۔ان سے دامن بچاتے ہوئے بنیادی ماخذ تک رسائی اور اس کی روشنی میں اپنے اختلافات کا تجزیہ ایک دشوار گذارعمل ضرور ہے لیکن ناگزیر ہے۔اصل مسئلہ علمی حلقوں کی سہل پسندی اوراخلاص کی کمی کا ہے۔جو علما ذوق علم سے بہرہ ور ہیں وہ خاموش اور ان معاملات سے کنارہ کش ہیں اور کم علم و نام نہاد علما و اہل دانش اختلاف کی خلیج کے مزید وسیع کرنے کو علم کی معراج اورافتراق امت کے کام کوعبادت سمجھ کر اس میں جوش اور خشوع و خضوع کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ 
جہاں تک راقم الحروف کو علم ہے ،ازہر کے تدریس فقہ کے نصاب میں فقہ جعفری اور فقہ زیدی و اباضی بھی شامل ہے۔ علی گڑھ میں سنی تھیولوجی کے ساتھ شیعہ تھیولوجی کا قیام بھی اہم اور نہایت با معنی اقدام تھا،لیکن اس کے طرز پرہندو پاک کی دینی درس گاہوں میں کوئی پہل سامنے نہیں آئی ۔ نہ شیعہ سنیوں کے مدارس کا رخ کر سکتے ہیں اور نہ سنی شیعوں کے مدارس کا۔اب اس تعلق سے پیش رفت کی ضرورت ہے۔پاکستان کے تعلق سے یہ توقع کم ہے ،ہندوستان کی ا گرکوئی قابل ذکر دینی درس گاہ اس بارے میں پہل کرے تو بلاشبہ یہ ایک تاریخی اور دور رس اثرات کا حامل قدم ہوگا۔ فقہ جعفری کی ایک خصوصیت ( اپنی بہت سی افراط و تفریط کے ساتھ ) یہ ہے کہ اس میں اجتہاد کادروازہ ہمیشہ کے لیے کھلا رکھا گیا ہے۔ اس اعتبار سے اس باب میں اس میں سنی مکتب فکر کے مقابلے میں حرکیت اور لچک زیادہ ہے اور اس کے عملی مظاہرایران میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔(اگرچہ ایک خاص دائرے تک ہی، کیوں کہ بہر حال راقم الحروف کو اس بات پر ہمیشہ حیرت رہی کہ آخراجتہاد کے دروازے کے ’چوپٹ کھلے ‘ رکھے جانے کے باوجود آج تک بہت سی قبیح اور غیر اخلاقی و غیر فطری رسموں مثلاً: متعہ،رسول اللہ کی تصویر کشی جس کا ایران میں بکثرت رواج ہے، پر بھی شیعہ مجتہدین کی طرف سے پابندی کیوں عائد نہیں کی جاسکی؟) اسی طرح روایات واحادیث کے باب میں اگر شیعہ حضرات یہ اصولی لچک پیدا کرنے پر آمادہ ہوں کہ عقلی طور پر روایات کے قبول وعدم قبول کا مدار جیسا کہ سنیوں کے یہاں ہے، راوی کا معتمد وغیر معتمد ہونا،ہوناچاہیے نہ کہ محض اہل بیت سے انتساب،تو وہ سنیوں کے زیادہ محفوظ، مستند اور بڑے ذخیرہ سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ 
شیعہ سنی مفاہمت میں ایک بڑی رکاوٹ صحابۂ کرام اور بعض ازواج مطہرات کے تعلق سے شیعوں میں پائی جانے والی بد ظنی، غلط نظریات اور ان کا افسوس ناک سطح پر زبانی اظہار و اصرار ہے۔ شیعوں کے ایک طبقے نے اس کو ایک بڑے کار ثواب کے طو پرا ختیار کر کررکھا ہے۔ شیعہ مجتہدین اور حکومت کے تعاون سے قائم قمُ(ایران) کے بعض اداروں کی طرف سے نہایت افسوس ناک کتابیں اصحاب رسول و ازواج مطہرات کی معاندت میں لکھی گئی ہیں ۔مثلاً ایک کتاب ’’تین سو جعلی صحابہ‘‘ ہے جو مجمع جہانی اہل بیت ،قم سے اردو سمیت کئی زبانوں میں شائع کی گئی ہے ۔بظاہر اس کا مقصد اسی شیعوں کے مشہور عام نظریے کو تقویت دینا ہے کہ صحابہ کی بہت بڑی تعداد نعوذ باللہ منافقین پر مشتمل تھی۔ جب کسی فریق کی مقدس شخصیات کواس طرح ہدف تشنیع بنا یا جانے لگے تو اس کے جذبات کا برانگیختہ ہونا لازمی ہو جاتاہے اور اس طرح سارا معاملہ افراط و تفریط کا شکار ہو جاتا ہے۔ کچھ سال قبل ایک بڑے شیعہ اجتماع میں جس میں خیر سگالی کے جذبے سے سنیوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا، ایک ذمہ دار شیعہ مقرر نے اپنے اس نہایت بے بنیاد اور افسوس ناک نظریے کو دہرایا کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد تین چار صحابہؓ کے علاوہ باقی سارے صحابہ نعوذ باللہ مرتد ہو گئے تھے۔ ہمارے ایک فاضل دیوبند دوست نے وہیں کھڑے ہو کر احتجاج کیا کہ کیایہی سننے کے لیے ہمیںیہاں بلایا گیا تھا۔ راقم الحروف کا اندازہ ہے کہ شیعوں کا ایک طبقہ شیعہ سنی مفاہمت کا حامی ہونے کے باوجود تبرا اور سبّ صحابہ کو اپنا مسلک بنائے ہوئے ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کم از کم اس سے طبقے سے کسی قیمت پر مصالحت نہیں ہوسکتی۔
اکتوبر 2009 میں دوشنبے (تاجکستان) میں ملک کے صدر کی طرف سے امام ابو حنیفہ ؒ پر ہونے والی عالمی کانفرنس میں ( جس میں راقم الحروف بھی شریک تھا) بعض اہل تشیع کی ایسی ہی کسی حرکت پر شیخ ازہر، شیخ طنطاوی ؒ نے انتہائی خفگی کے عالم میں اسی قسم کی راے کا اظہار کیا تھا۔شیعہ سنی قربت ومفاہمت میں جو چیزسب سے بڑی دیوار بن کرحائل ہے، وہ بلاشبہ یہی سب وشتم صحابہ کا مسئلہ ہے۔اس تعلق سے شیعوں کے مراجع تقلید علما اور مجتہدین،ایرانی حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تحریری یا زبانی سطح پرپائے جانے والے اس مظہرپرپابندی لگائے ۔ قم میں مختلف دیواروں پر اللہم العن قاتلی فاطمۃ (فاطمہؓ کے قاتلین پر اللہ کی لعنت ہو) لکھا ہوا ہے۔ حضرت ابو بکروعمرؓ کواہل تشیع حضرت فاطمہؓ ؓکا قاتل تصور کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جس طرح اہل تشیع کے یہاں اب قرآن کے محفوظ اور غیر محرف ہونے پر تقریباً اجماع ہو چکا ہے اور اس حوالے سے جو درجنوں روایات شیعہ کی اہم اور مستند کتابوں میں پائی جاتی تھیں، ان کے بارے میں اس پراتفاق کرلیاگیاکہ وہ سب غلط اور موضوع ہیں، اسی طرح شیعہ مجتہدین کواپنے اثر ورسوخ کو کام میں لاتے ہوئے خاص طور پر خلفاے ثلاثہ(حضرت ابوبکر و عمراور عثمان رضی اللہ تعالی عنہم) اور حضرت عائشہؓ اورعمومی سطح پرتمام صحابہ کرامؓ سے متعلق عوام وخواص کے ذہن کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جنہیں یہ بتایا گیا ہے کہ نعوذ باللہ صحابہ کرامؓ کی اکثریت (مختلف شیعی روایات کے مطابق، تین چار صحابہؓ کے علاوہ تمام کی تمام) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتد ہو گئی تھی اور خلفاے ثلاثہ نعوذ باللہ غاصب و منافق تھے۔ بصورت دیگر تقریب او ر مکالمے کی کوششیں بے سو د ثابت ہوں گی۔ اسی طرح اہل سنت کے ان علما کو اور جماعتوں کو جو شیعوں خاص طور عمومی سطح پر تمام اثناعشریوں کی تکفیر کرتے ہیں، اس سے باز آنا چاہیے۔ اس نظریاتی تبدیلی کے بغیرشیعہ سنی اتحاد مشکل نظر آتاہے۔ اسی طرح پچھلے دنوں ایک سلفی اسکالر اور مناظر کی طرف سے، جو پیس ٹی وی کے ذریعہ اہم خدمات انجام دے رہے ہیں، یزید کی شخصیت کو اہمیت دینے کے حوالے سے جو تنازع پیدا ہوا وہ سراسر مسلکی امن و آشتی کی فضا کو غارت کر دینے والا ہے۔ اہل سنت کی طرف سے ایسے لاحاصل موضوعات پر زبان کھولنے یا قلم اٹھانے سے احتراز کیا جانا ہی عین اسلامی مصلحت ہے۔
بہرحال شیعہ سنی مفاہمت وقت کا ایک اہم تقاضا ہے۔ہمیںآگے بڑھ کر ایسی کوششوں کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ مشہور سنی داعی اسلام شیخ احمد دیدات مرحوم نے ایک جگہ لکھا ہے کہ :کیا 90%فی صد سنی 10%فی صدشیعوں سے خوف زدہ ہیں کہ وہ ان سے قریب ہونے کی کوشش نہیں کرتے؟(9)میرے خیال میںیہ سوال اہم ہے۔اہل سنت ہر طرح سے اہل تشیع پر اثر اندازہونے کی قوت رکھتے ہیں،لیکن اس کے باوجودان کے یہاں اس تعلق سے غیر ضروری حساسیت اور بے جا تحفظ کی نفسیات پائی جاتی ہے۔ 
2008 میں لکھنؤمیں شیعہ وسنی حضرات نے ایک ساتھ مل کر نمازعید ادا کی۔یہ ایک نہایت خوش آیند واقعہ تھا جسے دونوں فرقوں کی دو باوقار شخصیات مولاناکلب صادق اور مولانا خالد رشید فرنگی محلی کا کارنامہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ کہ صرف رسول اللہ کی اس حدیث کو بھی قابل ذکر انداز میں عمل میں لایا جانے لگے توصورت حال میں نمایا ں تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے کہ ’’: ہر نیک و بد کے پیچھے اور ہر نیک و بد پر نماز پڑھو اور ہر نیک وبد کے ساتھ جہاد کرو‘‘ (صلوا خلف کل بر و فاجرو صلوا علی کل بر وفاجر وجاھدو ا مع کل بر و فاجر) (8)
بہر حال شیعہ سنی اتحاد اور مفاہمت وقت کا ایک اہم تقاضا ہے ۔ضرورت ہے کہ علما اور اہل فکر اس کی طرف متوجہ ہوں، لیکن میں پوری غیر جانب داری کے ساتھ سمجھتاہوں کہ مفاہمت کے تعلق سے بنیادی طور پر شیعوں کو ہی اپنے بہت سے روایتی نظریات اور طرز عمل پرنظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر مفاہمت کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ 
مکالمے اور مفاہمت کی کوششوں کے لیے ہندوستان کی سر زمین خاص طورپر نہایت سازگار ہے۔شرط یہ ہے کہ اس رخ پر مناسب انداز میں قدم آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے۔

حواشی

(1) مسائل الجاہلیۃ التی خالف فیھا رسول اللہﷺ اہل الجاہلیۃ ص:67 -المکتبۃ السلفیۃ ومکتبتہا ،قاہرہ 1397-سرورق کی عبارت ہے: الف اصلہا الامام شیخ الاسلام محمد ابن عبد الوہاب وتوسع فیہا علی ہذ الوضع علامۃ العراق السید محمود شکری آلوسی۔غالب گمان یہی ہے کہ یہ اضافہ ثانی الذکر کی طرف سے کیا گیا ہوگا)۔
(1) فصلت: 34
(2) آل عمران: 103
(3) الانفال: 46
(4) الحجرات: 12
(5) متفق علیہ
(http://soundvision.com/info/muslims/shiasunni.asp (6
(http://www.islamawareness.net/Deviant/Shia/iran.html (7
(8) بیہقی و دارقطنی عن ابی ہریرہؓ 

قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مذکورہ بالا عنوان پر مولانا محمد یونس قاسمی، حافظ عبد المنان معاویہ اور راقم الحروف کی گزارشات ’الشریعہ‘ کے مارچ اور اپریل کے شماروں میں قارئین کی نظر سے گزر چکی ہیں۔ میرا خیال تھا کہ دونوں طرف سے ضروری باتیں سامنے آچکی ہیں اور اب کسی مزید بحث کی ضرورت باقی نہیں رہی، مگر مولانا محمد یونس قاسمی نے اپنے تازہ مضمون میں ایک دو باتیں ایسی فرمائی ہیں جن کی وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے۔
انھوں نے راقم الحروف کے بارے میں فرمایا ہے کہ میں نے قرآن کریم کی کسی منسوخ آیت سے استدلال کیا ہے۔ حیرت کے ساتھ یہ بات پڑھنے کے بعد میں نے اس سلسلے کے اپنے مضامین پر پھر ایک نظر ڈالی ہے، اس لیے کہ میں نے تو اپنے مضامین میں قرآن کریم کی صرف ایک ہی آیت کریمہ کا حوالہ دیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ ’’وماہم بمومنین‘‘، وہ مومن نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ کسی اور آیت کریمہ کا حوالہ میرے مضامین میں استدلال کے طور پر موجود نہیں ہے اور اس آیت کے منسوخ ہو جانے کا مجھے علم نہیں ہے۔ اگر اس کے منسوخ ہو جانے پر کوئی حوالہ موجود ہو تو میں اس سے باخبر ہونا چاہوں گا، خصوصاً اس وجہ سے بھی کہ قرآن کریم کے اس جملے میں ان منافقین کے مومن نہ ہونے کی ’خبر‘‘ دی گئی ہے جبکہ نسخ صرف احکام میں ہوتا ہے۔ ایمانیات اور اخبار نسخ کے دائرے کے امور نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ میں نے قرآن کریم کے حوالے سے ’’مسجد ضرار‘‘ کا تذکرہ کیا ہے اور اس کے نسخ کی کوئی صورت بھی کم از کم میرے علم میں نہیں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ میں نے اپنے سارے استدلال کی بنیاد جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمومی طرز عمل اور معاشرتی رویے پر رکھی ہے کہ ان منافقین کے مومن نہ ہونے کے باوجود معاشرتی معاملات میں یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلسل شریک رہے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نہ صرف معاشرتی امور بلکہ مذہبی معاملات میں بھی اپنے ساتھ شریک رکھنے میں ہی مصلحت سمجھی ہے اور یہ سلسلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں آخر تک رہا ہے۔ ’اخرج فانک منافق‘ قسم کا کوئی واقعہ اگر ہوا بھی ہے تو وہ شخصی واقعہ ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمومی رویے اور پالیسی کا آئینہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ طرز استدلال اہل حدیث حضرات کا ہے کہ کسی جزوی واقعہ یا ایک آدھ روایت کو بنیاد بنا کر پورے موقف کی عمارت کھڑی کر دیتے ہیں۔ احناف کا طرز استدلال اس سے بالکل مختلف ہے۔ ان کے ہاں مجموعی صورت حال کو سامنے رکھا جاتا ہے، صحابہ کرام کے اجماعی تعامل کو دیکھا جاتا ہے اور تمام متعلقہ روایات جو میسر ہوں، ان کا جائزہ لے کر موقف طے کیا جاتا ہے۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل ان منافقین کے بارے میں یہ تھاکہ چند معر وف منافقین کے علاوہ صحابہ کرام کی صفوں میں موجود ان منافقین کی نشان دہی تک نہیں کی گئی۔ انھیں الگ کرنے اور معاشرتی طور پر انھیں علیحدہ قرار دینا تو بعدکی بات ہے۔ اس سے قبل ان کی جو نشان دہی ضروری قرار پاتی ہے، اس کا مرحلہ بھی نہیں آیا۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف چودہ منافقین کے نام بتائے اور وہ بھی صرف حضرت حذیفہ بن الیمان کو، اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان میں سے کسی کا نام اور کسی کو نہیں بتائیں گے، حتیٰ کہ حضرت عمر بن الخطابؓ نے انھیں کئی بار کرید کر پوچھنا چاہا مگرحضرت حذیفہؓ نے امیر المومنین حضرت عمرؓ کو بھی ان میں سے کسی منافق کا نام بتانے سے انکار کر دیا جس پر حضرت عمرؓ نے یہ طرز عمل اختیار کیا کہ کسی عام شخص کے جنازے پر اگر حضرت حذیفہؓ موجود ہوتے تو حضرت عمرؓ جنازہ پڑھتے تھے، ورنہ یہ سوچ کر جنازہ پڑھنے سے گریز کرتے تھے کہ یہ میت کہیں ان چودہ منافقین میں سے کسی کی نہ ہو۔ جہاں منافقین کے ناموں تک کو خفیہ رکھنے کا اس قدر اہتمام موجود تھا، وہاں معاشرتی طور پر انھیں الگ کر دینے اور ان کا بائیکاٹ کر دینے کی بات عملی طور پر کس طرح ممکن ہے؟
مولانا محمد یونس قاسمی کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ منافقین کے معاشرتی بائیکاٹ کی بات خود قرآن کریم نے ایک جگہ کی ہے جس کا ذکر سورۃ الفتح کی آیت ۱۵ میں ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جو منافقین جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں آئے تھے، ان سے کہا گیا کہ اگلی جنگ میں تم مسلمانوں کے ساتھ شریک نہیں ہو سکو گے، چنانچہ غزوۂ خیبر میں وہ لوگ خواہش کے باوجود مسلمانوں کے ساتھ نہیں جا سکے تھے، لیکن یہ مقاطعہ وقتی اور عارضی تھا، اس لیے کہ سورۃ الفتح کی اس سے اگلی آیت ۱۶ میں ان منافقین سے کہا گیا ہے کہ:
’’تمھیں عنقریب ایک اور قوم کے مقابلے میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہونے کی دعوت دی جائے گی جو بڑی سخت پکڑ والی قوم ہے۔ تم ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھیں اچھا اجر عطا کریں گے اور اگر تم پھر گئے جیسے تم اس سے پہلے پھر جاتے رہے ہو تو اللہ تعالیٰ تمھیں سخت عذاب سے دوچار کر دے گا۔‘‘
مفسرین کرامؒ فرماتے ہیں کہ یہ سخت پکڑ والی قوم (اولی باس شدید) جس کے مقابلے کے لیے منافقین کو مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہونے کی قرآن کریم خود دعوت دے رہا ہے، مسیلمہ کذاب کی قوم تھی اور وہ قبیلے تھے جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مرتد ہو گئے تھے، اس لیے یہ کہنا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری دور میں منافقین کو مسجدوں سے نکال دیا تھا اور انھیں اپنی صفوں سے الگ کر دیا تھا، ایک خواہش تو ہو سکتی ہے مگر امر واقعہ نہیں ہے، حتیٰ کہ جب منافقین نے اپنی الگ مسجد بنا کر جداگانہ تشخص قائم کرنا چاہا تو قرآن کریم نے اسے ’’مسجد ضرار‘‘ قرار دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں جانے سے منع کر دیا تھا اورجناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ’’مسجد ضرار‘‘ کو گرا کر بلکہ نذر آتش کر کے ان کے علیحدہ تشخص کے امکان کو ہی ختم کر دیا تھا۔
میری طالب علمانہ رائے کے مطابق وہ منافقین جنھیں قرآن کریم نے صراحتاً ’وما ہم بمومنین‘ قرار دیا ہے اور وہ متذبذب اعرابی مسلمان جن کا قرآن کریم نے ’لم تومنوا ولکن قولوا اسلمنا‘ کے عنوان سے ذکر کیا ہے، ان کے بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی پالیسی یہ رہی ہے کہ انھیں الگ تشخص قائم نہ کرنے دیا جائے، بلکہ انھیں اپنے ساتھ رکھ کر ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی سرگرمیوں پر پوری نظر رکھتے ہوئے ان کے شر سے بچنے کی تدابیر اختیار کی جائیں۔ یہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی حکیمانہ پالیسی کا نتیجہ تھا کہ وہ منافقین جن کی تعداد غزوۂ احد کے موقع پر ایک ہزار میں سے تین سو بتائی جاتی ہے، اپنا الگ تشخص اور مورچہ قائم نہ کر سکنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ مسلم سوسائٹی میں تحلیل ہوتے چلے گئے اور جنگ یمامہ اور مرتدین کے خلاف جہاد کے بعد ان کا کوئی اکا دکا نشان بھی تاریخ کے تذکرے میں موجود نہیں ملتا۔
مولانا محمد یونس قاسمی نے ایک بار پھر فتووں کی بات چھیڑی ہے، جبکہ میں عرض کر چکا ہوں کہ یہ معاملہ فتاویٰ کے دائرے کا نہیں بلکہ معاشرتی اور قومی ضروریات کے دائرے کا ہے۔ انھوں نے دار العلوم دیوبند کے فتویٰ کا بھی ذکر کیا ہے۔ ہمیں اس فتوے سے پوری طرح اتفاق ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خاندانی شرعی قوانین کے تحفظ کے لیے ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘ کے عنوان سے جو مشترکہ فورم کام کر رہا ہے اور اہل تشیع بھی اس کا حصہ ہیں، کیا دار العلوم دیوبند اس سے الگ تھلگ ہے؟ ا س بورڈ کی تو بنیاد ہی حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب قدس اللہ سرہ العزیز کی صدارت میں رکھی گئی تھی اور وہ تاحیات اس کے صدر رہے ہیں۔ اور کیا حرمین شریفین میں اہل تشیع کو مسلمانوں کے ساتھ نمازوں، روزوں، حج، تراویح اور دیگر عبادات میں شریک ہونے سے روکنے کے لیے کوئی قدم اٹھایا گیا ہے؟ جن چند بزرگوں نے مقاطعہ کی بات کی ہے، وہ بھی ہمارے بزرگ ہیں، اکابر ہیں اور قابل احترام ہیں، لیکن آج بھی علماء امت کا اجماعی تعامل کیا ہے؟ اور ہمارے مراکز کی عملی پالیسی کیا ہے؟ اگر ہم شخصی آرا اور اجماعی تعامل میں فرق محسوس کرتے ہوئے اپنے اندر معروضی حقائق اور ملی ضروریات کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کر سکیں تو اکابر کے عملی فیصلوں کی حکمتوں کو سمجھنا آج بھی مشکل نہیں ہے۔

مکاتیب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۱)
محترم جناب عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
محترم ڈاکٹر محمود احمدغازی مرحوم پر الشریعہ کا خصوصی شمارہ اوراپنی تالیف’’توہین رسالت کا مسئلہ۔چند اہم سوالات کا جائزہ‘‘ ارسال فرمانے کا شکریہ۔ثانی الذکر کے بالاستیعاب اوراول الذکر کے چنیدہ مقامات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ ان دنوں توہین رسالت کے مسئلہ کے زیر بحث آنے کے تناظر میں راقم کی رائے ہے کہ توہینِ رسالت پر سزائے موت ہی ہونی چاہیے اور سزائے موت کا قانون نہ صرف باقی رہنا چاہیے،بلکہ اس قانون پر کسی بھی دوسرے قانون پر عمل درآمد کے سلسلہ میں متصور مستعدی سے کہیں زیادہ مستعدی سے عمل کیا جانا چاہیے۔ وطنِ عزیز کے معروضی حالات اوراہلِ وطن کے احساسات کو پیش نگاہ رکھیں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں نظر آتی ہے کہ لبرل اور سیکولر حضرات کا ’’فائدہ‘‘ اس قانون کے خلاف واویلا میں نہیں بلکہ اس پرموثراور بلا تاخیر عمل درآمد نہ ہونے پر واویلا کرنے میں ہے۔ معلوم نہیں یہ سیدھی سی بات ان کی سمجھ میں کیوں نہیں آتی کہ یہ قانون اور اس پر موثر عمل درآمد توہینِ رسالت کے ملزموں کا ماورائے عدالت قتل روکنے کا سب سے بہتر طریق کار ہے۔اس سلسلہ میں ذرا سی کمزوری بھی، جیسا کہ گورنر سلیمان تاثیر کے قتل سے واضح ہے، ’’تمھی قاتل،تمھی مخبر،تمھی منصف ٹھہرے‘‘ ہی کا نتیجہ پیدا کرے گی۔ بلا شبہ قانونِ توہینِ رسالت اور ملزمِ توہینِ ِ رسالت کے اقدامِ قتل کے بیک وقت دفاع میں کھلا تضاد ہے اور کسی بھی عقلی ومنطقی دلیل سے اسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ (قانون کا تو مطلب ہی یہی ہے کہ ملزم انصاف کے کٹہرے میں آئے، اس کا ٹرائل ہو اور پھر اس کے معاملے کا فیصلہ ہو۔ اگر متاثر افراد نے خود سے ہی معاملات فیصل کرنا ہوں تو ظاہر ہے کہ قانون کی سرے سے ضرورت ہی نہیں) لیکن کیاکیجیے کہ یہ بھی قانون کے نفاذ میں کمزوری ہی کا کیا دھرا ہے۔ (وہ لوگ سخت بر خود غلط اور معروضی حالات کے ادراک سے یکسر قاصر ہیں جو قانونِ توہینِ رسالت پر عمل درآمد کو بھی دیگر قوانین پر عمل درآمد کا سا معاملہ خیال کرتے ہیں۔) یہاں چشم بینا کو کوئی حل اس کے سوا دکھائی نہیں دیتا کہ ادھر کسی شخص پر توہینِ رسالت کا الزام لگے اور ادھر وہ عدالت کے حصار میں ہو اور پھر انتہائی نیک نیتی سے اس کا ٹرائل یوں ہو کہ ہر آنکھ کو انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔اگر یہ نہیں تو کہانیاں ہی ہیں اور کہانیاں ہی رہیں گی۔
اور یہ سوال شاید کرنے کا نہیں کہ قانون کی کمزوری یا سست روی کا ردعمل زیر نظر معاملے ہی میں اس سرعت سے ’’تمھی قاتل، تمھی مخبر،تمھی منصف ٹھہرے‘‘ کی شکل میں سامنے آتاکیوں دکھائی دیتا ہے؟اس لیے کہ یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ یہاں کوئی Metaphysical involvement ہے اور اس لیے کہ خدا وندِ قدوس نے اگر ہر چیز بالحق پیدا فرمائی ہے اور دینی تناظر میں جنون ووارفتگی کا بھی کوئی مصرف ہے ،تو وہ ذات مصطفی علیہ التحےۃ والثنا اور آپؐ کی عزت و ناموس ہے۔یہاں اس کے سوا کچھ سوجھتا نہیں کہ:
عقل گو آستاں سے دور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں
جہاں تک آپ کی تالیف کے حوالے سے کسی خالص مبسوط علمی تنقید و تبصرہ کا تعلق ہے تو اس کی سر دست فرصت ہے نہ بساط۔ اس عاجزنے مذکورہ مسئلہ پر مختلف اہل فکر کے زاویہ نظر کے مالہ وماعلیہ کے مطالعہ کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ آپ کی تالیف کچھ مزید اہم پہلو سامنے لائی ہے۔ یہ بے شبہ نہایت مدلل اورمعلومات افزا ہے۔ میں نے کچھ چیزیں ترتیب دینے کی کوشش کی تھی، لیکن ہنوز کوئی قابل اشاعت چیز تیار نہیں کر سکا۔ شاید کبھی ہو جائے۔ سر دست صرف اس قدر عرض کرنا چاہتا ہوں کہ دلِ ناداں اس مسئلہ کو Rationalize کرنے پر مطمئن نہیں ہوا۔کوئی کچوکے لگاتا رہتا ہے کہ:
اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
ڈاکٹر محمد شہباز منج
شعبہ اسلامیات، یونیورسٹی آف سرگودھا
drshahbazuos@hotmail.com
(۲)
برادرم عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم! الشریعہ مارچ کا شمارہ مطالعہ سے گزرا۔اس شمارہ میں مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان اور پروفیسر محمد مشتاق احمد صاحب کے مضامین خاص اہمیت کے حامل ہیں۔توہین رسالت کے مسئلہ پر دونوں مضامین بے حد معتدل اور متوازن محسوس ہوئے۔خاص طور پر پروفیسر مشتاق احمد صاحب کا مضمون اپنے عنوان کی وجہ سے محسوس ہوتا تھا کہ ایک رواجی ذہن کا مضمون ہوگا۔لیکن اس مضمون کے مندرجات نہ صرف سلیس زبان لیے ہوئے ہیں بلکہ فکری توازن سے بھی آراستہ ہیں۔ایک علمی اور تحقیقی مضمون کے لیے جس متوازن اور سنجیدہ زبان و بیان کا حامل ہونا ضروری ہے اس سے یہ مضمون بخوبی آراستہ محسوس ہوا۔ توہین رسالت کے مسئلہ پر معروف ایڈووکیٹ جناب اسماعیل قریشی صاحب کی ضخیم کتاب کے مطالعہ کے باوجود ایک پیاس اور کسک باقی رہ جاتی ہے۔محترم پروفیسر مشتاق احمد صاحب کے مضمون سے مجھے اپنی یہ پیاس بجھتی ہوئی محسوس ہوئی۔میرے خیال میں یہ مضمون اسلام کی رحمت اور عدل پر مبنی معتدل،متوازن اور معقول دعوت اور تعلیمات کی زیادہ صحیح ترجمانی کرتا ہے۔تاہم محترم پروفیسر صاحب کے مضمون کے اقتباس ’’اسی اصول پر طے کیاگیا ہے کہ اگر ملک کا سب سے برترحکمران حد کے جرم کا ارتکاب کرے تو اسے حد کی سزا نہیں دی جاسکے گی‘‘ میں جس بے بسی اور اسلامی قانون کی خامی کا اظہار ہوتا ہے، چاہیے تو یہ تھا کہ اسلامی ضابطہ حیات ہی کی روشنی میں مختصرالفاظ میں اس کا حل بھی بتادیاجاتا۔جناب انعام الرحمن کا مضمون حسب روایت غیر علمی انداز کا حامل ہی محسوس ہوا۔موصوف اگر ’’نیم طنزونیم استہزا‘‘کی غیر علمی عادت سے گریز کرتے تو شاید موصوف کا یہ مضمون کسی درجے میں علمی کہلانے کا حقدار کہلاتااور قارئین کے لیے دلچسپی کا سامان پیدا کرسکتا۔لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ شاید موصوف علم اور تحقیق کے جذبے سے نہیں لکھتے بلکہ اپنی ’’طنز اور استہزا‘‘ کی عادت کی تسکین کے لیے لکھتے ہیں۔ہمارا عاجزانہ مشورہ ہے کہ جتنی جلد ہوسکے، وہ اپنی اس عادت سے جان چھڑا لیں، ورنہ شاید یہ عادت ان کی تمام اعلیٰ صلاحیتوں کو گھن کی طرح چاٹ جائے ۔
’’قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت‘‘ کے عنوان کے تحت آپ کے والدمحترم مولانا زاہد الراشدی صاحب نے جن خیالات کا اظہار فرمایا، اس میں بعض نکات کو ہضم کرنا خاصا مشکل محسوس ہوا۔ ان کے ارشادات کا معروضی خلاصہ یہ ہے کہ اہل تشیع کی تکفیر بالاجماع ہوچکی، لہٰذا اہل تشیع کو کافر سمجھنے کے باوجود ملت اسلامیہ کے اجتماعی مفاد اور کاز کے حصول کے لیے کی جانے والی جدوجہد میں مسلمانوں کے ساتھ ان کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ تاہم جب ہم مسلم فقہا و اہل علم کے فتاویٰ کی طرف دیکھتے ہیں تو اہل تشیع کو ’’کافر‘‘ ماننے پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں، اور جب جمہورکے عملی طرز عمل کو دیکھتے ہیں تو پھر اہل تشیع کو مسلمانوں کا حصہ ماننا پڑتا ہے۔یہ صورتحال ایک عام آدمی کو اچھی خاصی کنفیوژن اور الجھن میں ڈال دیتی ہے۔اس الجھن میں اس وقت زبردست اضافہ ہوجاتا ہے جب مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم اپنے موقف کی حمایت کے لیے دور نبوی سے استشہاد واستدلال فرماتے ہیں۔
اس استدلال کا معروضی تجزیہ کیاجائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین سرداروں اور ان کے پیروکاروں کو کافر ڈکلیئر کر دیا تھااور مسلمانوں کے اجتماعی معاملات میں ان کی شمولیت واشتراک بطور ’’کافر ملت‘‘ قبول کی تھی؟ سیرت و تاریخ اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔پھر یہیں سے ایک سوال اور بھی پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی اجتماعی کازیا جدوجہد میں اہل تشیع کے اشتراک اور شمولیت سے پہلے کیا جمہورالمسلمین یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ پیش آمدہ ’’دینی و مذہبی جدوجہد‘‘ میں اہل تشیع کی شمولیت بطور ایک معاون’’کافر ملت‘‘ یا ’’غیر مسلم ‘‘ اقلیت کے طور پر قبول کی جارہی ہے۔اس سوال کا جواب بھی حالات و واقعات اور تاریخ سے یقیناًنفی ہی میں ملتا ہے۔سیرت رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم اور جمہور امت کے اس تعامل کو دیکھا جائے تواہل تشیع کی تکفیر پر مبنی مفتیان عظام اور اہل علم کے فتاویٰ پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہوجاتا ہے۔ پھر اہل تشیع میں چندخاص لوگوں کے کھلم کھلا اظہار کفراور باطل عقائد کی دعوت کی پاداش میں عام لوگوں کو اسلام سے خارج قرار دینے کی سزا کیوں دی جائے؟ بزرگوار محترم جناب راشدی صاحب کے موقف سے جہاں الجھن اور تناؤ میں اضافہ ہوا ،وہاں ان کے اقتباسات پر غور کرنے سے مسئلہ کا حل بھی مل گیا۔
میری عاجزانہ اور عامیانہ بساط اس الجھن کا یہ حل تجویز کرتی ہے کہ جناب زاہد الراشدی صاحب کے اقتباسات کی روشنی میں ہم اس معروضی نتیجہ تک رسائی حاصل کرتے ہیں کہ اہل تشیع کی اکثریت کا معاملہ دوررسالت کے منافقین سے ملتا جلتا ہے۔جیسا کہ گروہ منافقین کونبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’کافر ملت‘‘ ڈکلیئر نہیں کیاتھا، بالکل اسی طرح اہل تشیع کو بھی ’’ملت کافر‘‘ ڈکلیئر کرناخلاف سنت وحکمت ہے۔چونکہ منافقین کی اکثریت ’’وماہم بمومنین‘‘ کے قرآنی خطاب کے باوجود قانونی سطح پر قرآن انہیں ’’ملت کافر‘‘ قرار نہیں دیتا۔ بلکہ مسلم امت کا حصہ مانتے ہوئے انہیں خطاب کرتا ہے، قرآن ظاہری و باطنی اور فکری و نظری وعملی خرابیوں پر منافقین کی گرفت کرتا ہے۔انہیں اصلاح وتوبہ کی دعوت دیتا ہے۔ لہٰذا اس قرآنی دعوت کے نتیجہ میں دوررسالت میں جن لوگوں نے اپنی اصلاح کرلی اور نظری و عملی نفاق سے توبہ کرلی توقرآن اس پرانہیں قانونی سطح پر ’’کافر‘‘ سے ’’مسلم‘‘ ہونا قرار نہیں دیتا بلکہ اس داخلی فساد کی اصلاح کوتوبہ اور تزکیہ کا نام دیتا ہے۔ پھر منافقین چونکہ اپنے فکری فساد کو چھپایا کرتے تھے اور کافرانہ نظریات سے محبت رکھنے اور خفیہ طور پر ان کا اظہار کرنے کے باوجودعام مسلمانوں کے سامنے ان سے مکر جاتے تھے اور اصل اسلام کا اظہار کرتے تھے، اسی وجہ سے انہیں ’’ملت کافر‘‘ declare نہیں کیاگیابلکہ ان کے ظاہری اظہار اسلام کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں امت مسلمہ کا حصہ سمجھا گیا۔ اگرچہ ان کی اصلاح و تزکیہ کے لیے قرآن حکیم نے اپنی درجنوں بلکہ سینکڑوں آیات میں زوردیا ہے۔ بالکل اسی طرح اکیسویں صدی میں جو بھی گروہ کافرانہ نظریات و عقائد کا گرویدہ ہواور خفیہ طور پر ان کا اظہار بھی کرتا ہو، مگر عام مسلمانوں میں اسلام کے متفقہ علیہ عقائد ونظریات کی پیروی کا دعویٰ کرے تو ان کے اس دعویٰ کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں ملت اسلامیہ کا حصہ مانا جائے گااور اصل زور سیرت وقرآن کی پیروی میں ایسے لوگوں کی باطنی اصلاح و تزکیہ پر صرف کیاجائے گا۔
رہ گیا سوال مفتیان عظام اور اہل علم کے ان فتاویٰ کا جن میں اہل تشیع کی تکفیرکی گئی ہے۔ ہمارے خیال میں اس کی تعبیر یوں کی جانی چاہیے کہ ان فتاویٰ کا اطلاق کسی خاص فرقہ اورمعروف گروہ یا جماعت پر کرنے کی بجائے ملت اسلامیہ کے ہر فرقہ اور گروہ کے ان افراد پر ہوگا (چاہے وہ اپنے آپ کو اہل سنت ہی کیوں نہ کہلواتے ہوں) جو ان فتاویٰ میں بیان کیے گئے کفریہ عقائد و نظریات کے کھلم کھلامدعی اور دعویدار ہوں۔ اور جو لوگ عام مسلمانوں کے سامنے ان باطل نظریات و عقائد کو غلط مانیں انہیں ان فتاویٰ کی گرفت سے آزاد سمجھا جائے، چاہے وہ اہل تشیع کے فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں یا کسی اور فرقہ سے۔
مولانا زاہد الراشدی صاحب کے استدلال و استشہاد سے ہمیں اپنی اس سوچ کو پختہ کرنے کا موقع ملا ہے کہ باطل نظریات و عقائد کے ایسے پیروکارجو خود کو مسلمان کہلواتے ہوں اور عام مسلمانوں سے کفریہ عقائد کو چھپاتے ہوں اور عام مسلم عقائد کے مدعی ہوں، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و ختم نبوت کوتسلیم کرتے ہوں تو ایسی صورت میں چاہے ایسا کو ئی ایک شخص ہویا کوئی گروہ یا فرقہ اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی بلکہ ان کی اصلاح اور تزکیہ پرپورا زور اور کوشش صرف کی جائے گی۔ہاں باطل نظریات اور کفریہ عقائدکا بطلان اور نکیرببانگ دہل کی جائے گی اور اس میں کسی ملامت کرنے والی کی ملامت کی کوئی پرواہ نہیں کی جائے گی۔
اس بحث میں جہاں تک اہل تشیع کی بالاجماع تکفیر کے مسئلہ کا تعلق ہے تو بزرگوارم زاہدالراشدی دامت برکاتہم نے جو معروضی حقائق بیان فرمائے ہیں اس سے تو واضح ہوتا ہے کہ اہل تشیع کی تکفیر پر امت کا اجماع نہیں ہے۔ بلکہ اہل تشیع میں رائج بعض بدترین گمراہیوں اور خرابیوں کے باوجود امت کا اجتماعی ذہن انہیں بالعموم ملت اسلامیہ کا حصہ ہی سمجھتا رہا ہے اور اسی حیثیت سے ان کے تعامل واشتراک کو بھی قبول کیاجاتا رہا ہے۔تاہم اس کے باوجود ہمیں اپنے نتائج فکر پر اصرار نہیں ہے۔اوپر بیان کیے گئے معروضی حقائق سے اگرکوئی دلائل سے ہمارے نتائج فکر کا غلط ہوناثابت کردے تو ہم دل کی پوری آمادگی سے اپنی فکر کی اصلاح کرلیں گے۔اس ساری بحث میں جناب راشدی صاحب مدظلہ کا یہ موقف طالبان علم کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے کہ:
’’میرے والد محترم اور حضرت صوفی صاحب کا زندگی بھر یہ معمول رہا ہے کہ وہ بہت سے معاملات پر اپنے تحفظات کا اظہارکرتے تھے اور رائے بھی دیتے تھے، لیکن جب کوئی اجتماعی فیصلہ ہوجاتا تھا تو اسے نہ صرف قبول کرلیتے تھے بلکہ اس کا بھرپور ساتھ دیتے تھے۔خود میرا معمول بھی بحمداللہ تعالیٰ یہی ہے کہ بعض معاملات پر اپنی مستقل رائے رکھتا ہوں، اس کا اظہار بھی کرتا ہوں اور کوئی مناسب موقع ہوتو اس پر بحث و مباحثہ سے بھی گریز نہیں کرتا، لیکن عملاً وہی کرتا ہوں جو اجتماعی فیصلہ ہوتا ہے اور جمہور اہل علم کا موقف ہوتا ہے، رائے کے حق سے میں کبھی دست بردار نہیں ہوا لیکن اپنی رائے کو حتمی قرار دے کر جمہور اہل علم کے موقف کے سامنے اڑنے سے ہمیشہ گریز کیا ہے اور اسے کبھی حق اور صواب کا راستہ نہیں سمجھا۔‘‘
محمد رشید 
مکان نمبر336/50،گلی نمبر3
شاہ فیصل کالونی رجوانہ روڈ، ملتان
(۳)
محترمی ومکرمی!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ ........ مزاج گرامی!
آج کی ڈاک سے الشریعہ کا ڈاکٹر محمود احمد غازی نمبر موصول ہوا جسے دیکھ کر آپ کے لیے دل سے دعائیں نکلیں۔ اللہ تعالیٰ اس کار خیر پر آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ 
ڈاکٹر محمود احمد غازی کی شخصیت اور ان کے افکار وخیالات پر ’’الشریعہ‘‘ نے خصوصی نمبر شائع کر کے اس میدان میں سبقت تو حاصل کر لی ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس نمبر کی پیشکش (خوب صورت بائنڈنگ، عمدہ کاغذ، عمدہ طباعت اور معیاری مقالات) کی صورت میں اپنی اعلیٰ اہلیت اور مہارت کا لوہا بھی منوا لیا ہے۔ 
آج کے نفسا نفسی کے دور میں ہمارے دینی حلقے اس بنا پر دوسروں کی تعریف اور ان کے لیے کلمات خیر کہنے سے بچتے ہیں کہ مبادا اس سے کہنے والے کا مقام فروتر شمار نہ ہو۔ اسی بنا پر دینی حلقوں میں بڑی بڑی قد آور شخصیات انتقال کر جاتی ہیں اور ان پر مقتدر دینی حلقوں کو دو لفظ کہنا بھی نصیب نہیں ہوتا، حالانکہ برسوں پہلے شیخ سعدی فرما گئے تھے:
نام نیک رفتگاں ضائع مکن
تا بماند نیک نیکت برقرار
آپ اور آپ کے والد محترم (اللہ تعالیٰ انھیں سلامت رکھے، اللہ رب العزت نے انھیں حالات حاضرہ کو سمجھنے اور ان کا تجزیہ کرنے کا خصوصی فہم اور سلیقہ عطا کیا ہے) جو شمع جلائے بیٹھے ہیں اور جس کی روشنی سے اپنے اور بیگانے سبھی مستفید ہو رہے ہیں، ہمارے دینی حلقوں میں ایک منفرد مثال ہے۔ 
مجھے افسوس ہے کہ میں اس بزم میں شرکت نہیں کر سکا، لیکن چونکہ ’’قافلہ ادب اسلامی‘‘ بھی اس عنوان پر خصوصی نمبر شائع کر رہا ہے، اس لیے امید ہے، اس کے ذریعہ اس کی تلافی ہو جائے گی۔
اس نمبر کی اشاعت پر میری طرف سے دلی مبارک باد قبول فرمائیے۔ والد محترم مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم کی خدمت میں تسلیمات۔
ڈاکٹر محمود الحسن عارف
اردو دائرۂ معارف اسلامیہ
پنجاب یونیورسٹی، لاہور
(۴)
محترم ومکرم جناب عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ماہنامہ الشریعہ کا خصوصی شمارہ بیاد مولانا ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب موصول ہوا۔ میں آپ کو اور آپ کی پوری ٹیم کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ آپ نے مختصر عرصہ میں چھ سو ضخیم صفحات پر مشتمل خصوصی اشاعت شائع کر کے عصر حاضر کے ایک عظیم محقق کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
یقیناًڈاکٹر محمود احمد غازی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اس قابل تھی کہ ان کی وفات پر ان کے حالات زندگی، ان کے علمی وفکری رجحانات اور سب سے بڑھ کر ان کی وسعت نظری پر، جس پر کسی خاص مسلک کی چھاپ نہ تھی اور خاص گروہی دائرے سے نکل کر پوری امت مسلمہ کے مسائل کو دیکھنے اور اسے حل کرنے کی صلاحیت تھی، خصوصی اشاعت کا اہتمام ہو۔ یہ سعادت الشریعہ کے حصے میں آئی ہے اور الشریعہ نے اسے خوب نبھایا ہے اور ڈاکٹر صاحب کی پوری زندگی کھلی کتاب کی طرح ہمارے سامنے آ گئی ہے۔
بدقسمتی سے برصغیر میں دینی ومذہبی رہنماؤں اور قیادتوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اپنے خاص گروہی دائرے سے باہر نہ نکلنا ہے جس کی وجہ سے سیکولر طبقہ ہمیشہ سے عوام کو یہ باور کروانے میں کامیاب نظر آتا ہے کہ جو مولوی ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے، وہ پاکستان میں کیا اسلام لائیں گے؟ اور اگر یہ اسلامی نظام لانے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو کون سی فقہ نافذ کریں گے یا کس گروہ کے اسلام کو نافذ کیا جائے گا؟ اگرچہ علماء کرام نے مل کر اس کا جواب دے دیا تھا، مگر وہ صرف دستاویزات کی حد تک ہی محدود رہا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے مذہبی گروہوں کے درمیان ابھی تک فاصلے باقی ہیں اور یہ فاصلے جلد ختم ہونے کی کوئی علامت نظر نہیں آتی، جیسا کہ قرآن نے کہا ہے کہ کل حزب بما لدیہم فرحون۔ ہر گروہ اپنے پاس جو کچھ ہے، اسی پر خوش ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اغیار کو یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ مذہبی لوگوں کے درمیان مزید اختلافات پیدا کریں اور ان کو تقسیم در تقسیم کریں۔ گورنمنٹ کی جانب سے ناموس رسالت ایکٹ پر ترمیم کے خلاف اگرچہ تمام دینی وسیاسی جماعتوں اور دینی رہنماؤں کی یک جہتی نظر آتی ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ اتحاد بھی جلد ختم ہوجائے گا۔ ان پریشان کن حالات میں ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی شخصیت ہم سب کے لیے اور پوری امت مسلمہ کے لیے ایک آئیڈیل ہے کہ ہم بھی ان کی طرح گروہی ومسلکی تعصبات سے بالاتر ہو کر سوچیں اور عالم کفر کی اسلام کے خلاف زہریلی مہم کی طرف متوجہ ہوں اور اس کے لیے ٹھوس لائحہ عمل اپنائیں۔ اتحاد بین المسلمین کے لیے پرزور جدوجہد کریں اور اسلام کو اس دور میں بھی قابل عمل بنانے کی سعی پیہم کریں۔
سعید احمد الحسینی
مرکز تعلیم وتحقیق، قرآن اکیڈمی
یاسین آباد، کراچی
(۵)
محترمی ومکرمی مولانا ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپریل ۲۰۱۱ء کے شمارے میں برادرم عبد المنان معاویہ کا خط اور آنجناب کا جواب پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اسی سلسلے میں کچھ جذبات وتاثرات عرض کرنا چاہتا ہوں اور آپ نے بھی فرمایا ہے کہ ’’جذبات وتاثرات کو سینے میں گھٹے نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ان کا اظہار ہونا چاہیے اور ان پر ایک جائز حد تک کھلا مباحثہ بھی ہونا چاہیے۔‘‘
۱۔ آپ نے فرمایا کہ آپ قادیانیوں سے بھی قومی ومعاشرتی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس میں خود قادیانی رکاوٹ ہیں۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ محقق اہل سنت، شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید ؒ نے تحفہ قادیانیت ص ۵۹۱ میں فرمایا ہے کہ ’’پاکستان کے آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے، لیکن قادیانیوں سے اپنے آپ کو غیر مسلم شہری (ذمی) تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس طرح وہ غیر مسلم ذمی نہیں، بلکہ ’’محارب کافر‘‘ ہیں اور ’’محاربین‘‘ سے کسی قسم کا کوئی تعلق رکھنا شرعاً جائز نہیں۔‘‘
۲۔ قادیانی اور اہل تشیع دونوں اسلام کے نام کا لبادہ اوڑھ کر اپنے اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں اور تبلیغ بھی ایسی کہ جو ملک کی صورت حال میں گڑبڑ پیدا کرتی ہے۔ قادیانی اور اہل تشیع دونوں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دیتے ہیں اور آپ پھر توقع رکھتے ہیں کہ معاشرے کا امن قائم رہے؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ اصل فساد کی جڑ تو یہ ہے جس کو ختم ہونا چاہیے۔ ہماری تو ایمانی ودینی غیرت گوارا نہیں کرتی کہ ہم ان کے ساتھ اٹھیں بیٹھیں، کھائیں پئیں، ان کو اپنی مجالس میں شامل کریں یا ان کی مجالس میں شریک ہوں۔ آپ کی ایمانی غیرت کیسے گوارا کرتی ہے؟
۳۔ اپ اپنے ساتھ اہل تشیع کو ملا کر خوش ہیں کہ ہم سب ایک ہیں، ہم میں اتحاد ہے تو آپ اس اتحاد کو کیا نام دیں گے؟ ’’اتحاد بین المسلمین‘‘ یا ’’اتحاد بین المسلمین والکافرین والکاذبین‘‘؟ آپ نے اپنے ساتھ اہل تشیع کو ملایا ہوا ہے اور قادیانیوں کو بھی ساتھ ملانا چاہتے ہیں، مگر اپنے مسلک کی جماعت سپاہ صحابہ کو آپ نے اپنے سے دور کر رکھا ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
۴۔ آپ نے فرمایا کہ اگر اہل تشیع کا معاملہ حل کرنا ہے تو اس کا آغاز حرمین شریفین سے ہونا چاہیے۔ عرض ہے کہ جب قادیانیوں کا مسئلہ حل ہوا تھا تو کیا وہ حرمین شریفین سے حل ہوا تھا؟ مودبانہ عرض ہے کہ جب اپنا پیٹ بھوکا ہو تو پہلے اپنے پیٹ کو بھرتے ہیں، اس لیے تمام اکابر علماء کرام سے گزارش ہے کہ وہ اس مسئلے کا جلد اجتماعی فیصلہ کریں۔ محقق اہل سنت مولانا علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان سید سجاد علی شاہ کے سامنے شیعوں کی کتابیں اور آڈیو کیسٹیں پیش کی تھیں۔ سید سجاد علی شاہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’’مجھے ہٹایا اس وجہ سے گیا تھا کہ میں دلائل کے سامنے جھک گیا تھا۔ یہ فیصلہ کر رہا تھا۔‘‘ مگر یہ فیصلہ ہونے سے پہلے ہی ان کو ہٹا دیا گیا، ورنہ آج شیعہ یہاں غیر مسلم ہوتا۔ ہم حکومت پاکستان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس کیس کو ری اوپن کرے تاکہ اس مسئلے کا حل نکل سکے۔
۵۔ ہم سپاہ صحابہ والے کہتے ہیں کہ اپنو ں کو اپنے ساتھ ملائیں۔ اپنوں میں لاکھ غلطیاں کوتاہیاں سہی، مگر مسلمان کے ساتھ مسلمان اچھا لگتا ہے۔ مسلمان کے ساتھ کافر اچھا نہیں لگتا۔ جب آپ کافروں کو ساتھ بٹھائیں گے تو مغالطہ پیدا ہوگا اور عام آدمی یہ سمجھے گا کہ یہ بھی مسلمان ہیں۔ آپ ہمارے بزرگ ہیں، مگر اکابرین امت فرما گئے ہیں کہ اہل تشیع کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق رکھنا جائز نہیں۔ ہم کس کی بات مانیں؟ آپ کی یا پہلے والے اکابرین امت کی؟ اگر ہم ان کی بات کو مانتے اور اس پر عمل کرتے ہیں تو آپ جیسے بزرگ ہی ہمارے اوپر یہ لیبل لگا دیتے ہیں کہ ہم سپاہ صحابہ والے اکابر کے گستاخ ہیں۔ آخر ہم کریں تو کیا کریں؟ کس کو اپنا دکھ درد بتائیں؟ اگر آپ جیسے بزرگ ہمارا ساتھ نہیں دے سکتے، ہمیں اپنے ساتھ نہیں ملا سکتے تو پھرہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کا بھی آپ کو کوئی حق نہیں۔ خدارا! آپ کا جو مقام بنتا ہے، آپ اپنے اس مقام کو پہچانیں۔ جب آپ جیسے بزرگ ایسی تحریرات لکھیں گے تو پھر ہم جذبات میں نہ آئیں تو اور کیا کریں؟
۶۔ ہم مانتے ہیں کہ اکابر نے اہل تشیع کا ساتھ دیا ہے، مگر اکابر سے ہٹ کر آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں اہل تشیع کیا ہیں؟ مسلمان یا کافر؟ اگر کافر ہیں تو پھر ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات رکھنا کیسا ہے؟ ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، ان کو اپنی مجالس میں شامل کرنا یا ان کی مجالس میں شریک ہونا شرعاً کیسا ہے؟ ان دو سوالوں کے شرعی حوالے سے جوابات دے کر اپنا ایمانی فریضہ ادا کریں۔ خصوصاً مفتیان کرام سے گزارش ہے کہ ان سوالوں کے جوابات قرآن وسنت کی روشنی میں دے کر امت مسلمہ کو کفریہ عقائد سے بچائیں۔
حافظ محمد حسن الحسینی
(۶)
محترمی ومکرمی محمد عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم
ماہنامہ الشریعہ، اپریل ۲۰۱۱ء میں جناب چودھری محمد یوسف اور شفقت رضا منہاس ایڈووکیٹ صاحبان کا مضمون ’’کورٹ میرج: چند قانونی اور معاشرتی پہلو‘‘ نظر سے گزرا۔ چار مرتبہ عرق ریزی اور جاں فشانی سے پڑھنے کے باوجود میں مضمون کی اساس تک پہنچنے سے مکمل طورپر قاصر رہا، کیونکہ حسب روایت عنوان اور مضمون میں کوئی تال میل نظر نہ آیا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بقول محترم مضمون نگار صاحبان ’’وکلا ذہین لوگوں کا پیشہ ہے‘‘، جبکہ میں ذہانت کی اس معراج پر ابھی نہیں پہنچ پایا جہاں حقائق اور موز واسرار مجھ پر یوں منکشف ہوں جیسے وکلا حضرات پر ہوتے ہیں۔
دونوں حضرات بات کورٹ میرج سے شروع کرتے ہیں۔ اس کے بعد پروفیسر حضرات کو رگڑتے ہوئے قاری کو گھسیٹ کر عدالت کے کٹہرے میں لے جاتے ہیں۔ پھر بطور اتھارٹی ’’مارننگ ود فرح‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے آخر میں بڑے پروفیشنل انداز میں ’’میں باغی ہوں‘‘ کہہ کر اپنی جان خلاصی کروانا چاہتے ہیں۔ جناب ایڈووکیٹ صاحبان! پہلے تو قانونی تقاضوں کو ایک طرف رکھ کر یہ بتایا جائے کہ کیا پاکستان میں ’’کورٹ میرج‘‘ کے عنوان سے شادیاں نہیں ہو رہیں؟ (قانون اس کی اجازت دیتا ہے یا نہیں، یہ ایک علیحدہ بحث ہے)۔ اگر ہو رہی ہیں تو پھر آپ کے دوست کی بیٹی کا thesis بھی درست ہے۔ آپ کی ذمہ داری تھی کہ اس کی راہنمائی کرتے، نہ کہ اس پر اپنی رائے ٹھونستے۔ مضمون نگار صاحبان خود ہی کورٹ میرج کے تصورکی نفی کرتے ہیں، پھر خود ہی اس سلسلے میں عدالت میں پیش بھی ہوتے ہیں۔ کیا یہ ذہین پیشے سے وابستہ افراد کے نظریہ اور عمل میں کھلا تضاد نہیں؟
محترم مضمون نگار صاحبان رانی توپ کا رخ پروفیسر حضرات کی جانب کرتے ہوئے چند ثانیوں کے لیے یہ بات فراموش کر دیتے ہیں کہ ان کے مضمون کا عنوان کورٹ میرج ہے نہ کہ تعلیمی اداروں میں بورڈ آف گورنرز کے خلاف طلبہ اور اساتذہ کا رد عمل۔ ان کو یقین ہے کہ گورنمنٹ کالجز میں تعلیم، نام کی حد تک رہ گئی ہے اور پروفیسر صاحبان صرف تنخواہ وصول کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ میں ان کی خدمت میں عرض کروں گاکہ آج بھی سفید پوش عوام الناس کے بچوں کی کثیر تعداد انھی سرکاری کالجز میں زیر تعلیم ہے اور یہی کالجز ان کے لیے تعلیم کی آخری کرن ہیں۔ یہ بات کہ پروفیسر حضرات کی ایک تعداد صرف تنخواہ وصول کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے، بڑی حد تک درست ہے، لیکن وہ یہ بتائیں کہ ان چند مفاد پرست لوگوں کی بدولت تمام محنتی اساتذہ کی کردار کشی کرنا کہاں کا انصاف ہے؟
کیا آپ کے ’’ذہین افراد‘‘ پر مشتمل شعبے میں کالی بھیڑیں نہیں ہیں؟ کیا چند وکلا پیسوں کی خاطر اپنی مخالف پارٹیوں سے نہیں مل جاتے؟ کیا چند وکلا ججز اور سائلوں کے درمیان ’’پل صراط‘‘ کا کام نہیں کرتے؟ قانون کو تو آپ نے اپنے گھر کی باندی بنا رکھا ہے۔ قانون کے رکھوالے بھی آپ اور میرٹ کے بغیر ایم بی بی ایس میں داخلہ دلوانے والے بھی آپ۔ نظریہ ضرورت کے تخلیق کار بھی آپ اور اس کے تخریب کار بھی آپ۔ گویا قانون ساز بھی آپ اور قانون شکن بھی آپ۔ سو جس طرح ان چند ذہین مگر لالچی وکلا کے کردار کی بنیاد پر پورے شعبہ وکالت کو برا نہیں کہا جا سکتا، اسی طرح چند خودغرض پروفیسرز کی وجہ سے آپ کو شعبہ تدریس سے منسلک تمام اساتذہ کرام کی کردار کشی کا بھی قطعاً کوئی حق نہیں رکھتے۔
پروفیسر محمد اویس چوہدری
شعبہ انگریزی، گورنمنٹ اسلامیہ کالج، گوجرانوالہ

’’موجودہ عالمی استعماری صورتِ حال اور فیض کی شاعری‘‘

پروفیسر میاں انعام الرحمن

پاکستان میں اقبالؔ کے بعد جن شعرا کوقبولیتِ عامہ ملی ہے، ان میں فیض احمد فیضؔ نے نئی نسل کو غالباً سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ فیضؔ نے دست یاب صورتِ حال میں (in the given situation) جس متانت و سنجیدگی اور مدھر و دھیمے لہجے میں ترقی پسندانہ خیالات کا شاعرانہ اظہار کیا، تمام حلقوں نے ہمیشہ اس کا اعتراف اور احترام کیا ہے۔
حکومت پاکستان نے ۲۰۱۱ کو ’فیض کا سال‘ قرار دیا ہے۔ اکادمی ادبیات نے اس سلسلے میں فیض کانفرنس منعقد کر کے فیض احمد فیضؔ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی قابل قدر کوشش کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کانفرنس میں پڑھے گئے مقالات فیضؔ کو خراجِ تحسین کے بجائے ’خراج‘ ادا کرنے کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ خراجیات کے اس شگوفے کی تدوین و ترتیب کا ’شرف‘ یونی ورسٹی آف گجرات کے ایڈیشنل رجسٹرار شیخ عبدالرشید صاحب کو حاصل ہوا ہے اور اسے سہواً ’’موجودہ عالمی استعماری صورتِ حال اور فیض کی شاعری‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ پونے تین سو (۲۷۵) صفحات کی کتاب میں بمشکل پانچ سات صفحات ہی ایسے ہیں جو دل فریب عنوان سے تو مناسبت رکھتے ہیں۔ ہم جیسے، ادب سے واجبی سی دلچسپی رکھنے والے موسمی نقاد بھی (جنہیں بآسانی غیر موسمی قرار دیا جا سکتا ہے) یہ بات جانتے ہیں کہ کسی ادبی صنف کو اپنا آپ منوانے میں برسوں لگتے ہیں، لیکن خراجیات کا یہ شگوفہ ایک ہی کانفرنس میں کچھ اس طرح چٹکا ہے کہ کریڈٹ لینے کی خاطر چار حریف لپکے جا رہے ہیں۔ (۱) مقالہ نگار حضرات، (۲) اکادمی ادبیات، (۳)حکومت پاکستان، (۴)یونی ورسٹی آف گجرات۔ اگر فیضؔ حیات ہوتے تو شاید پانچویں حریف وہ خود ہوتے۔ 
مقالات کے بین السطور مقالہ نگار حضرات مصر ہیں کہ خراجیات کا شگوفہ انہی کا مرہونِ منت ہے۔ اکادمی ادبیات کا جوابی اصرار یہ ہے کہ کانفرنس کا انعقاد نہ ہوتا تو یہ شگوفہ کیونکر ظہور پذیر ہوتا؟ کچھ اسی قسم کا دعویٰ حکومت پاکستان کا ہے کہ ۲۰۱۱ کو فیض کا سال قرار نہ دیا جاتا تو اکادمی ادبیات کو فیض کانفرنس کا خیال تک نہ سوجھتا۔ ان تینوں کی چپقلش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یونی ورسٹی آف گجرات کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین نے خراجیات کے شگوفے کو اپنی یونی ورسٹی کے احاطے سے اٹھکیلیاں کرتے تاڑ لیا ہے۔ موصوف اسے رجھانے بلکہ ورغلانے کی کوشش میں ہیں، دیکھیے ذرا: 
’’فیض احمد فیضؔ کے صد سالہ یومِ ولادت اور سالِ فیض کی مناسبت سے یہ پاکستان کی ڈیڑھ سو کے لگ بھگ جامعات میں سے پہلی یونی ورسٹی ہے جس نے انہیں یاد کرتے ہوئے کتابی صورت میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ ’فیضیات‘ کے حوالے سے یہ کتاب پیش کرنے کا اعزاز حاصل کرتے ہوئے مجھے طمانیت و فخر کا احساس ہو رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ کتاب فیضیات کے ضمن میں اہم حوالہ ثابت ہوگی۔‘‘ (ص ۱۱)
ڈاکٹر صاحب اناڑی نکلے۔ ان کے قلم کی لغزش (slip of the pen) نے ایک نئی ادبی صنف متعارف کروانے کا کریڈٹ کھو دیا ہے۔ افسوس صد افسوس! نوکِ قلم نے خراجیات کے بجائے فیضیات لکھ دیا ہے۔ اگر وائس چانسلر صاحب سے یہ غیر شعوری غلطی(slip of the mind) نہ ہوتی تو قوی امید تھی کہ خراجیات کا یہ شگوفہ گجرات یونی ورسٹی کے نام ہو جاتا اور یونی ورسٹی کے لیے بنیادی حوالے کی چیز بھی بن جاتا۔ 
اس انوکھے شگوفے کو اکادمی ادبیات کے کھاتے میں ہرگز نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ اس نے وہی کام کیا جو اسے کرنا چاہیے تھا۔ یہ تو مقالہ نگاروں کا اپنے کام سے (بزبانِ فیضؔ ) عشق ہے جس کی وجہ سے ایک نئی ادبی صنف ’خراجیات‘ ایک شگوفے کے مانند چٹک کر سامنے آ گئی۔ اس ادبی صنف کے مطالعے سے پہلے ہمارا گمان تھا کہ ترقی پسندی اور حقیقت پسندی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ لیکن اکادمی ادبیات نے مقالہ نگاروں کو، استعماریت کے مفاہیم سے روشناس کرائے بغیر، موجودہ عالمی صورتِ حال کا ادراک کرائے بغیر، اور تو اور فیضیات کے ضمن میں چند اہم کتابیں پڑھوائے بغیر، اس پر مستزاد مقالہ نگاری کی مشق کا اہتمام کیے بغیر فیضؔ کانفرنس منعقد کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نئی ادبی اصناف کی اختراع، محض ترقی پسندانہ حقائق سے ممکن نہیں، بلکہ مقالہ بازی کو فروغ دینے والے مقالہ نگاروں کے طفیل ہی اذہان میں مدفون ایسے خزانے باہر لائے جا سکتے ہیں جنہیں بعد ازاں بڑی آسانی سے خراجیات جیسا ’معتبر‘ نام دیا جا سکتا ہے۔ 
اب یہ شگوفہ پھوٹ نکلا ہے تو دیکھتے ہیں کہ فیض احمد فیضؔ کے بعد کس ترقی پسند کے ساتھ حقیقت پسندی کا سلوک کیا جاتا ہے۔ فی الحال اس سلوک کا مستحق فیضؔ ہی ٹھہرے گا کہ حکومت پاکستان نے ۲۰۱۱ کو فیضؔ کا سال قرار دیا ہے۔ آپس کی بات ہے، اگر بھٹو کیس ری اوپن کرنے سے پہلے سالِ فیضؔ کی مناسبت سے پنڈی سازش کیس ری اوپن کیا جاتا تو تاریخ کی درستی، تاریخی درستی کے ہمراہ سامنے آجاتی اور تاریخ کی درستی کی ایک فضا بھی تیار ہو جاتی جس میں بھٹو کیس کی شنوائی خوب طنطنے اور غلغلے سے ہوتی۔ ہمارا وجدان بتا رہا ہے کہ حکومت نے یہ کام اشارتاً اکادمی ادبیات کے سپرد کر دیا تھا۔ اب اکادمی ’ سالِ فیض‘ کے مضمرات کو ملحوظ رکھتے ہوئے پنڈی سازش کیس پر کانفرنس کا اہتمام نہیں کر سکی تو حکومت کا کیا قصور؟ 
البتہ فیضؔ کانفرنس میں گورنر پنجاب جناب سردار محمد لطیف خان کھوسہ کی صدارت، کسی حد تک اکادمی کی اشارہ فہمی کی دلیل ہے۔ اگر یہ کانفرنس ’پنڈی سازش کیس اور فیض احمد فیضؔ ‘ کے زیر عنوان منعقد ہوتی تو لطیف کھوسہ صاحب اپنے خطبہ صدارت میں اس عزم کے ساتھ گورنری چھوڑنے کا اعلان فرماتے کہ وہ خود اس کیس میں وکالت کے فرائض سر انجام دیں گے۔ یار لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ منعقد شدہ فیضؔ کانفرنس میں جناب گورنر کے خطبہ صدارت سے جس درجے کی ’پختگی‘ ٹپک رہی ہے، اس سے یہ مفروضہ تقویت پکڑ رہا ہے کہ ان کا استعفا ان کی جیب میں موجود تھا۔ یہ تو کانفرنس کے رنگ ڈھنگ اور خراجیات جیسے شگوفے کو دیکھتے ہوئے گورنر صاحب عین وقت پر مستعفی ہونے سے تائب ہو گئے، ورنہ آج تاریخ کا دھارا مختلف ہوتااور بابر اعوان صاحب استعفیٰ دینے میں سبقت نہ لے جا سکتے۔

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں حفظ قرآن کریم اور ترجمہ وعربی زبان کی کلاسز

ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں قرآن کریم حفظ کی کلاس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ قاعدہ اور ناظرہ قرآن کریم کے ساتھ ابتدائی دینی تعلیم کا سلسلہ اکادمی میں ابتدا سے ہی جاری ہے اور روزانہ صبح کے وقت محلے کے بچے اکادمی کی مسجد میں آکر تعلیم حاصل کرتے ہیں، جبکہ اب حفظ قرآن کریم کی باقاعدہ کلاس بھی شروع کر دی گئی ہے جس میں حفظ قرآن کریم اور ضروریات دین کی بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ انگریزی اور ریاضی وغیرہ کی ضروری تعلیم بھی دی جائے گی تاکہ طلبہ حفظ قرآن کریم مکمل کرنے کے بعد حسب استعداد مڈل یا میٹرک کا امتحان دے سکیں۔
اس سلسلے میں ۲۲؍ اپریل ۲۰۱۱ء بروز جمعۃ المبارک چار بجے شام ایک افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں علماء کرام، احباب اور اہل محلہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی، مولانا حافظ محمد یوسف اور حافظ محمد رشید نے خطاب کیا، جبکہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے شعبہ تجوید کے صدر مدرس مولانا قاری سعید احمد نے دس بچوں کی کلاس کو پہلا سبق پڑھا کر حفظ قرآن کریم کے سلسلے کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس موقع پر قاری صاحب موصوف نے اپنے مخصوص انداز میں قرآن کریم کی تلاوت سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ تقریب کے اختتام پر کلاس کی کامیابی اور الشریعہ اکادمی کی ترقی کے لیے دعا مانگی گئی۔
الشریعہ اکادمی میں، اسکول وکالج کے طلبہ کے لیے ترجمہ قرآن کریم وعربی زبان کی نئی کلاس کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔ یہ کلاس ہر روز بعد از نماز مغرب اکادمی کے زیر انتظام مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں منعقد ہوگی اور اکادمی کے رفیق مولانا حافظ محمد رشید تدریس کے فرائض انجام دیں گے۔ ان شاء اللہ العزیز

ہیپا ٹائٹس کی تباہ کاریاں

حکیم محمد عمران مغل

ہیپا ٹائٹس کا اژدہا منہ کھولے اور پھن پھیلائے سارے ملک میں تباہی پھیلا رہا ہے، حتیٰ کہ سرسبز مقامات کے علاوہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر رہائش پذیر آبادی بھی اس کے چنگل سے محفوظ نہیں۔ مریضوں کی بدپرہیز اور معالجوں کی ناسمجھی نے نوبت جگر کی پیوند کاری تک پہنچا دی ہے۔ خدا نخواستہ اتنا مہنگا علاج بھی خاطر خواہ نتائج نہ دے سکا تو کیا ہوگا؟ اطباء عظام نے فرمایا ہے کہ جگر سے کتنا بھی خلاف فطرت کام لیا جائے، یہ کام کرتا رہے گا اور ایک عرصہ تک خراب نہیں ہوگا، لیکن جتنا وقت خراب ہونے میں لے گا، اتنا ہی ٹھیک ہونے میں بھی لے گا۔ ایک بار جگر خراب ہو جائے تو بارہ سال تک اس کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ 
تین تین ماہ کے کورس اور درجنوں انجکشن لگوانے کے باوجود فائدہ نہ ہونے کے مقابلے میں ایسے واقعات موجود ہیں کہ اطباء نے فقط تین چار دن میں جگر کے مریض کو گھوڑے کے ساتھ دوڑایا ہے۔ شرط یہ ہے کہ پڑھانے والوں نے طب مشرق صحیح معنوں میں پڑھائی اور پڑھنے والوں نے پڑھی ہو۔ ہیپا ٹائٹس سی کی ایک مریضہ،جو دو بچوں کی ماں تھی، کھانے پینے اور چلنے پھرنے اور بولنے سے قاصر ہو چکی تھی۔ لاہور کے نامور معالجین کے علاج کے باوجود حالت ناگفتہ بہ تھی۔ اس کے میاں ہنڈا کمپنی، جاپانی برانچ، ملتان روڈ لاہور میں مکینک ہیں۔ سبزہ زار پارک میں، میں بھی ان کے گھر کے قریب ایک مدرسہ میں رہائش پذیر تھا۔ ایک دن مریضہ کے شوہر انور صاحب نے روتے ہوئے مدرسہ کے قاری صاحب سے کہا کہ اہلیہ کے علاج میں جائیداد، گاڑی، قیمتی برتن اور گھر کا اثاثہ بیچ چکا ہوں۔ اب خالی ہاتھ ہوں۔ معالجین نے میری بیوی کے ہیپا ٹائٹس سی کو ناقابل علاج قرار دیا ہے۔ قاری صاحب انھیں میرے پاس لے آئے۔ میں نے مریضہ کا باقی علاج جو کچھ کیا، وہ تو اپنے موقع پر عرض کروں گا، انوکھی بات یہ تھی کہ جون جولائی کی گرمی میں اسے کمرے سے باہر نہ لانے کی ہدایت تھی۔ طب مشرق کا اپنا اصول علاج ہے، جیسے کینسر کے مریض کو روزانہ دس بارہ پاخانے آنے چاہییں۔ اسی طرح دیگر امراض میں بخار، کھانسی، نزلہ، زکام، پیچش کا ہونا صحت کے لیے لازمی ہے۔ میرے علاج سے صرف دو ماہ میں مریضہ بارہ سال کی بچی کی طرح اچھلنا کودنا اور کھانا پینا شروع کر دیا۔ اب اس کی دیکھی ہوئی صورت پہچانی نہیں جاتی تھی۔
ان شاء اللہ اس مرض پر مزید تفصیل نسخہ جات کے ساتھ عرض کروں گا۔ یہ یاد رکھیں کہ ہیپا ٹائٹس سی طب مشرق میں قطعی طور پر قابل علاج ہے۔ کسی آپریشن کی قطعاً ضرورت نہیں۔