توہین رسالت پر سزا کا قانون
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
توہین رسالت کی سزا کے قانون کے خلاف ملک میں مختلف حلقے سرگرم عمل ہیں۔ ایک طبقہ ان لوگوں کا ہے جو سرے سے توہین رسالت کو جرم ہی نہیں سمجھتے اور اس پر کسی سزا کو آزادئ رائے، آزادئ ضمیر اور آزادئ مذہب کے منافی تصور کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے مغربی معیار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں، بلکہ اس پر ظالمانہ قانون اور کالا قانون ہونے کی پھبتی بھی کستے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس طرز فکر کے نمائندہ دانش ور سیکولر جمہوریت کو عدل وانصاف کا واحد معیار تصور کرتے ہوئے سوسائٹی کے اجتماعی معاملات اور ریاست وحکومت کی پالیسیوں میں مذہب کا کوئی حوالہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور حکومتی وریاستی امور میں دینی تعلیمات کا ہر حوالہ ختم کر دینے کی مہم چلائے ہوئے ہیں۔
گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے تناظر میں اس نقطہ نظر کے علم برداروں سے یہ گزارش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک سیکولر نقطہ نظر کی ترجمانی کا تعلق ہے تو سیکولر ذہن اور سیکولر جمہوریت کا پرچار کرنے والے دانش ور اور سیاسی راہ نما اس ملک میں ہمیشہ رہے ہیں اور آبادی میں ان کا تناسب کتنا ہی کم کیوں نہ ہو، انھیں اپنی بات کہنے اور اپنے موقف کے لیے مہم چلانے کا حق بھی ہمیشہ حاصل رہا ہے۔ قومی سیاسی منظر اور قومی پریس اس بات کا گواہ ہے کہ یہاں سیکولر جمہوریت کا پرچار اور سوسائٹی کے اجتماعی معاملات میں مذہب کے کردار کی نفی کرنے والے ہر دور میں اپنے موقف کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ سوسائٹی نے ان کی اس بات کو کبھی قبول نہیں کیا اور جب بھی سیکولر جمہوریت اور قومی ومعاشرتی معاملات میں اسلام کے کردار کی ضرورت پر بات ہوئی ہے، قوم کی غالب اکثریت نے فیصلہ اسلام کے معاشرتی کردار کی حمایت میں ہی کیا ہے، لیکن ذوق وسلیقہ اور احترام وآداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے سیکولر جمہوریت کی بات کرنے والوں کا راستہ کبھی نہیں روکا گیا اور انھیں ہر فورم پر اپنی بات کہنے کا حق دیا گیا ہے۔ تاہم توہین رسالت کو آزادئ رائے اور آزادئ اظہار کے دائرے کی چیز شمار کرنا اور اس پر سزا کے قانون کو ’’کالا قانون‘‘ کہنا ایک بالکل مختلف معاملہ ہے اور یہ پہلو سب لوگوں کے سامنے رہنا چاہیے کہ مسلمانوں کا اسلام کے ساتھ تعلق صرف رسمی نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی تمام تر عملی کمزوریوں کے باوجود اسلام کے معاشرتی کردار پر ایمان رکھتے ہیں اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ ان کی ذاتی عقیدت ومحبت ہر دور میں شک وشبہ سے بالاتر رہی ہے، اس لیے سیکولر حلقے اپنے موقف کا اظہار ضرور کریں، مگر مسلمانوں کے جذبات کو بار بار آزمانے سے بہرحال گریز کریں کہ اس کا نتیجہ ہمیشہ ایک جیسا ہی رہے گا۔
دوسرا حلقہ وہ ہے جو کہتا ہے کہ ہمیں نفس قانون پر کوئی اعتراض نہیں اور ہم بھی توہین رسالت کو حرام سمجھتے ہوئے اس پر موت کی سزا کی حمایت کرتے ہیں، لیکن چونکہ اس قانون کا استعمال ان کے بقول زیادہ تر غلط ہو رہا ہے اور اس کا استعمال ذاتی انتقام، خاندانی دشمنیوں اور علاقائی وطبقاتی مخاصمتوں کے لیے کیا جا رہا ہے، اس لیے ہم اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہ طبقہ دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک طبقے کا کہنا ہے کہ سرے سے اس قانون کا ہی خاتمہ ہونا چاہیے، جبکہ دوسرے طبقے کا موقف یہ ہے کہ قانون باقی رہے، لیکن اس کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے اس قانون کے نفاذ کے طریق کار کو بدل دیا جائے۔
اس تناظر میں گزشتہ جنوری کے دوران میں مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے جامعۃ الخیر لاہور میں مسیحی علما اور مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام کے درمیان اس مسئلے پر مکالمہ کا اہتمام کیا جس میں بشپ الیگزینڈر جان ملک اور بشپ منور سمیت نصف درجن کے لگ بھگ مسیحی راہ نماؤں نے شرکت کی جبکہ دوسری طرف سے مولانا مفتی محمد خان قادری، مولانا عبد المالک خان، رانا شفیق پسروری، مولانا یاسین ظفر، مولانا رشید احمد لدھیانوی، مولانا قاری روح اللہ، جناب لیاقت بلوچ، مولانا محمد امجد خان، علامہ حسین اکبر نجفی، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری اور راقم الحروف سمیت دیگر علما شریک ہوئے۔ اس موقع پر اس مسئلے پر تفصیلی بحث ہوئی جس میں دونوں فریق اس بات پر پوری طرح متفق تھے کہ توہین رسالت جرم ہے اور اس کی سنگین سزا پر کسی کو اعتراض نہیں ہے، البتہ دونوں فریقوں کے اپنے اپنے تحفظات تھے جن کا ذکر کیا گیا اور باہمی وعدہ ہوا کہ دونوں فریق ان پر سنجیدگی کے ساتھ غور کر کے اگلی کسی ملاقات میں ان تحفظات کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔
مسیحی راہ نماؤں نے اس تحفظ کا اظہار کیا کہ ان کے بقول اس قانون کا سب سے زیادہ استعمال مسیحی کمیونٹی کے خلاف ہو رہا ہے اور ان کے خیال میں اسے مسیحی لوگوں کو مختلف حوالوں سے انتقام اور تذلیل کا نشانہ بنانے کے لیے بطو ر خاص استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر جب کسی واقعہ پر عوامی اشتعال کے اظہار کے موقع پر مسیحی آبادی اور بستیاں عمومی سطح پر قتل وغارت اور آتش زنی کا نشانہ بنتی ہیں تو مسلمان علما مظلوموں کو بچانے کی بجائے خاموش تماشائی بن جاتے ہیں، بلکہ کچھ علماء کرام اس عوامی اشتعال کو بڑھانے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ایک مسیحی راہ نما نے اس موقع پر کہا کہ ہم توہین رسالت پر موت کی سزا کے خلاف نہیں ہیں، لیکن جب ہم عوامی اشتعال کی زد میں ہوتے ہیں اور اس وقت ہماری دادرسی نہیں ہوتی اور کوئی بھی ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہوتا تو پھر ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارۂ کار باقی نہیں رہتا کہ ہم سرے سے اس قانون کو ہی ختم کرنے کا مطالبہ کریں جو اس صورت حال کا ذریعہ بن رہا ہے۔
ہماری طرف سے اس تحفظ کا اظہار کیا گیا کہ وہ سیکولر لابی جو پاکستان کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کے درپے ہے اور ناموس رسالت کے تحفظ کے قانون سمیت ہر اس قانون کو ختم کرانے کے لیے کوشاں ہے جس میں دینی تعلیمات کا کوئی حوالہ موجود ہے، مسیحی مذہبی راہ نماؤں کی طرف سے تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے کا مسلسل مطالبہ اس سیکولر لابی کی تقویت کاباعث بن رہا ہے جبکہ یہ بات خود مسیحی تعلیمات اور بائبل کی تصریحات کے بھی منافی ہے۔
جہاں تک اس قانون کے غلط استعمال کا تعلق ہے تو ملک میں دیگر بہت سے قوانین کا بھی غلط استعمال ہو رہا ہے اور اس بات کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ ہمارے کلچر سے ہے جس کی جڑیں نوآبادیاتی دور میں پیوستہ ہیں کہ اس کلچر کو کرپشن اور بددیانتی کا خوگر بنا دیا گیا ہے۔ اس کا علاج ہمارے قومی راہ نماؤں نے مذہبی اقدار کی بحالی اور اسلامی معاشرے کی تشکیل میں تلاش کیا، مگر گزشتہ ساٹھ برس سے معاشرتی معاملات میں مذہب کو کردار ادا کرنے کا موقع ہی نہیں دیا جا رہا۔ یہ کہنا کہ قانون کا استعمال مذہب کے حوالے سے اور مذہبی راہ نماؤں کی وجہ سے ہو رہا ہے، خلاف حقیقت بات ہے کیونکہ ۳۰۲ اور ۳۰۷ کی دفعات بھی ذاتی انتقام، خاندانی دشمنیوں اور گروہی رقابتوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس میں کون سا مذہب کردار ادا کرتا ہے اور مذہبی راہ نماؤں کا کون سا طبقہ اس کی ترغیب دیتا ہے؟ یہ ایک معاشرتی رویہ ہے جس کا مذہب یا مذہبی حلقوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے اگر ۲۹۵۔سی کا بھی کسی جگہ غلط استعمال ہو جاتا ہے تو اسے مذہب یا مذہبی راہ نماؤں کے کھاتے میں ڈال دینا کہاں کا انصاف ہے؟
پھر اس قانون کا استعمال صرف اقلیتوں کے خلاف نہیں ہوتا، بلکہ مسلمان کہلانے والوں کے خلاف بھی ہوتا ہے اور اگر اس قانون کے غلط استعمال کی صورت فی الواقع ہے تو یہ ہے کہ بعض مسلمان محض فرقہ وارانہ اختلافات اور تعصب کے باعث اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف اس قسم کے مقدمات درج کرا دیتے ہیں، جیساکہ حال ہی میں ایک مقدمہ میں ایک فرقہ کے مولوی صاحب کو اس جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے کہ انھوں نے مسجد کی دیوار سے دوسرے فرقے کے ایک پروگرام کا پوسٹر پھاڑ دیا تھا۔ اکا دکا واقعات میں اس قسم کی صورت حال سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس کی بنیاد پریہ کہنا کہ توہین رسالت کے قانون کا بالکل ہی غلط استعمال ہو رہا ہے یا صرف اقلیتوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے، یہ قطعی طو رپر غیر واقعی اور غیر منطقی بات ہے۔
بہرحال اس قانون کے غلط استعمال کا الزام درست ہو یا غلط، دونوں صورتوں میں ہم نے اس پر باہمی گفتگو اور مکالمے کی ضرورت سے کبھی انکار نہیں کیا اور مبینہ طور پر غلط استعمال کی روک تھام کے لیے طریق کار میں کسی ایسی تبدیلی کو مسترد نہیں کیا جس سے نفس قانون متاثر نہ ہوتا ہو، لیکن سرے سے اس قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ ہمارے نزدیک ان لادین سیکولر حلقوں کے موقف کی حمایت کے مترادف ہے جو سرے سے مذہب کے معاشرتی کردار کو ختم کرنے کے درپے ہیں اور ریاست وحکومت کے تمام معاملات سے مذہب کا حوالہ ختم کر دینے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔
یہاں بشپ آف پاکستان ڈاکٹر اعجاز عنایت کے ایک تفصیلی انٹرویو کے چند اقتباسات نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے جسے کراچی کے روزنامہ ’’امت‘‘ نے ۱۱ جنوری ۲۰۱۱ء کو شائع کیا ہے۔ بشپ چرچ آف پاکستان ڈاکٹر اعجاز عنایت نے کہا ہے کہ:
- موجودہ صورت حال کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے جس نے معاملے کو یہاں تک پہنچایا ہے۔ اگر حکومت معاملے کو ابتدا میں ہی سمجھ داری سے حل کر لیتی تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ سلمان تاثیر سمیت دیگر حکومتی عہدیداروں نے طاقت کے زعم میں ایسی باتیں کیں جو ان کو نہیں کرنی چاہیے تھیں۔ درحقیقت انھوں نے لاپروائی کا مظاہرہ کر کے اقلیتوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔ سلمان تاثیر نے آسیہ کے معاملے میں جو مداخلت کی ہے، ہم اس کے طریق کار کو مناسب نہیں سمجھتے، اس لیے کہ اگر قانون میں کوئی سقم تھا تو انھیں عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔
- سلمان تاثیر کی جہاں تک بات ہے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ بے وقوف دوست سے عقل مند دشمن زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ ان کے بیان کی وجہ سے ملک میں لبرل اور انتہا پسند طبقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے جو غیر ضروری اور غیر اہم ہے۔
- میں توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے کے حق میں بالکل بھی نہیں ہوں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اسے اکثریت کی حمایت حاصل ہے اور اسے موجود رہنا چاہیے، تاہم جو شخص الزام عائد کرتا ہے، اس کا سب سے پہلے پولوگرافک ٹیسٹ ہونا چاہیے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ جھوٹ کہہ رہا ہے یا سچ۔ اس کے علاوہ الزام عائد کرنے والے کے الزام کاجائزہ لینے کے لیے علماے کرام کی ایک ہائی پروفائل کمیٹی ہونی چاہیے جو یہ دیکھے کہ الزام کسی دشمنی یا رنجش کی بنا پر تو عائد نہیں کیا جا رہا؟
- مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ وہ روز اول سے ہی ۲۹۵۔ سی کے غلط استعمال کو روکنے کی کوشش کرتے تاکہ آسیہ مسیح اور سلمان تاثیر کے اس مقام تک پہنچنے کی نوبت نہ آتی۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے اہل اسلام کو معلوم ہوگا کہ ۲۹۵۔ سی کے نفاذ میں اقلیتوں کے تمام ووٹ اس قانون کے حق میں تھے۔ اس وقت بھی ہمیں اس قانون سے کوئی خطرہ نہیں تھا اور آج بھی ہم اس قانون کی عزت کرتے ہیں۔
- عام تاثر یہی ہے کہ سلمان تاثیر بیرونی دنیا کے دباؤ اور صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایات پر عمل درآمد کر رہے تھے، تاہم میں اس سوچ کی سختی سے مذمت کرتا ہوں۔ صدر پاکستان اور حکمرانوں کو میرٹ کی بنیاد پر ملک کے عوام کو انصاف فراہم کرنا چاہیے تاکہ عدل وانصاف کے پیچیدہ نظام کی وجہ سے بے گناہ افراد کو سزا نہ مل سکے۔ میں اپیل کروں گاکہ ہم سب مل کر پاکستان میں عادلانہ نظام قائم کرنے کی کوشش کریں۔
بشپ چرچ آف پاکستان جناب ڈاکٹر اعجاز عنایت کے یہ متوازن اور حقیقت پسندانہ خیالات اس حوالے سے حوصلہ افزا ہیں کہ انھوں نے معروضی صورت حال کا بہتر تجزیہ کیا ہے اور اس سازش کو بروقت بھانپ لیا ہے جو پاکستان میں مسلم اکثریت اور مسیحی اقلیت کے درمیان غلط فہمیوں کو فروغ دینے اور اس کے ذریعے لادینیت کے سیکولر ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مفاد پرست عناصر کی طرف سے مسلسل جاری ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کا نقطہ نظر
ذو الفقار علی بھٹو مرحوم سے تمام تر اختلافات کے باوجود ان کا یہ کریڈٹ ہمیشہ غیر متنازعہ رہا ہے کہ انھوں نے ۱۹۷۳ء کے دستور میں پاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت کو قائم رکھا، قوم سے نفاذ اسلام کا دستوری عہد کیا، عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا دیرینہ مسئلہ حل کیا، اسلامی سربراہ کانفرنس کا اہتمام کر کے عالم اسلام کو وحدت اور یک جہتی کا پیغام دیا اور ایٹمی توانائی کے مسئلے پر عالمی دباؤ کی پروا نہ کرتے ہوئے قومی خود مختاری اور ملی حمیت کا مظاہرہ کیا۔ تحفظ ناموس رسالت کے مسئلے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کے بیانات اور اس کے خلاف ان کی مہم دیکھ کر ڈر لگ رہا تھا کہ شاید پی پی پی اپنے مرحوم بانی اور قائد جناب ذو الفقار علی بھٹو کے کردار سے منحرف ہونے جا رہی ہے ، لیکن ریمنڈ ڈیوس کے مسئلے پر شاہ محمود قریشی اور تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے بارے میں وزیر قانون بابر اعوان کے دوٹوک موقف نے ہمارے خوف اور خدشے کو دور کر دیا ہے اور دل کو تسلی ہونے لگی ہے کہ پی پی پی میں ابھی ایسے راہنما موجود ہیں جو ملی جذبات کو محسوس کرتے ہیں اور نہ صرف ان سے ہم آہنگ ہیں بلکہ ان کی ترجمانی کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔
تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے بارے میں مختلف ریفرنسز اور محترمہ شیری رحمان کی طرف سے قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں جمع کرائے جانے والے بل کے حوالے سے وزارت قانون نے اپنا موقف واضح کرنے کا تقاضا کیا گیا تھا جس پر وزارت قانون کی طرف سے جوابی طور پر پیش کیے جانے والے ریفرنس میں تحفظ ناموس رسالت کے قانون کا مختلف حوالوں سے جائزہ لیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ا ور حضرات صحابہ کرام کا فیصلہ یہی رہا ہے کہ گستاخ رسالت کی سزا موت ہے اور مختلف مواقع پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے یہ سزا دی گئی ہے۔ پھر مختلف ممالک کے قوانین کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں توہین مذہب اور مذہبی شخصیات کی بے حرمتی کو جرم قرار دیتے ہوئے اس پر سزا مقرر کی گئی ہے۔ ان ممالک میں افغانستان، آسٹریلیا، بنگلہ دیش، برازیل، کینیڈا، مصر، کویت، ملائشیا، مالٹا، ہالینڈ، نیوزی لینڈ، نائیجیریا، سعودی عرب، سوڈان، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، یمن اور امریکہ کی بعض ریاستیں شامل ہیں۔ ان تمام ممالک میں مذہب اور مذہبی شخصیات کی توہین جرم ہے اور اس جرم پر مختلف نوعیت کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں، اس لیے پاکستان میں ناموس رسالت کی توہین کو جرم قرار دینے اور اس پر سزا مقرر کرنے کا قانون عالمی روایات کے خلاف نہیں ہے۔
سمری کا اختتام اس پیرا گراف پر ہوتا ہے کہ ’’ان تمام حقائق کی روشنی میں توہین رسالت کی سزا موت آئین کے آرٹیکل ۲۹۵۔سی، پاکستان پینل کوڈ ۱۸۶۰ اور قرآن وسنت کے عین مطابق ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کی ہرگز ضرورت نہیں ہے، اس لیے ایسے تمام پیرا گراف جو مختلف ریفرنسز میں بیان کیے گئے ہیں، وہ تمام قانون کی غلط تشریح پر مبنی ہیں، جبکہ اس قانون پر عمل درآمد کے لیے پاکستان میں موثر عدالتی انصاف بھی موجود ہے جو آئین پاکستان، قرآن وسنت اور انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔‘‘ اس تفصیلی جائزے کے ساتھ وزارت قانون نے وزارت اقلیتی امور کے ریفرنس اورمحترمہ شیری رحمان کے پرائیویٹ بل سے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں کسی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کی سرے سے کوئی ضرورت نہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ وزارت قانون نے اس ریفرنس کی صورت میں پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کے عقائد وجذبات کا تحفظ وترجمانی کی ہے اور اس کے ساتھ ہی سابق وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی نے بھی ریمنڈ ڈیوس کیس کے بارے میں زمینی حقائق کے خلاف موقف اختیار کرنے سے انکار کر کے کسی قسم کے ملکی و غیر ملکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے پاکستانی عوام کے جذبات اور قومی حمیت کی ترجمانی کی ہے۔
’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ ۔ لبرل حلقوں کے لیے لمحہ فکریہ!
نادیہ ججا
اس وقت پاکستان میں انگریزی زبان کے تمام اشاعتی اور نشری ذرائع ابلاغ میں جنگ کے نقارے بجنے کی آواز سنائی دے رہی ہے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل نے ایک بار پھر سب کو حالات حاضرہ پر گفتگو میں ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کی اصطلاحات استعمال کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب گورنر کے قتل کی مذمت نہ کی جائے اور لوگوں کو باہر نکل آنے، ڈٹ کر کھڑے ہو نے اور اس ہوا کا رخ تبدیل کرنے پر نہ اکسایا جائے جو پاکستان کے ’’کمزور ذہن اور برین واش کیے ہوئے‘‘ لوگوں کے لیے چلتی ہے، وگرنہ ’’ہم‘‘ سب تباہ وبرباد ہو جائیں گے۔ ’’ہم‘‘ یقیناًبزعم خود لبرل اور ترقی پسند لوگ ہیں۔ ستم ظریفی اوربدقسمتی یہ ہے کہ یہ ’’ہم‘‘ وہ اقلیت ہے جو پاکستان کی چھ عشروں پر محیط تاریخ کے بیشتر حصے میں خاموش تماشائی بنی رہی ہے۔
لیکن ’’وہ‘‘ کون ہے؟ اس کا جواب اتنا سادہ نہیں اور ہوا کا رخ دیکھ کر بدلتا رہتا ہے۔ ’’وہ‘‘ ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جنھوں نے پاکستان کے سابق صدر اور وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو کی سزاے موت کے خلاف احتجاج کیا تھا، کسی جماعت کے کارکن ہو سکتے ہیں جو صدر جنرل پرویز مشرف کو اقتدار سے اتارنے کے لیے ۲۰۰۷ء اور ۲۰۰۸ء میں سڑکوں پر نکل آئے تھے جنھیں ’’ہم‘‘ روشن خیال، اعتدال پسند اور لبرل ازم کے علم بردار کہتے ہیں۔ ’’وہ‘‘ وہ ۴۰۰۰۰ ہزار افراد بھی ہو سکتے ہیں جنھوں نے توہین رسالت کے قانون کی ممکنہ منسوخی کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا تھا۔ تاہم پاکستان کی غالب اکثریت ہونے کے باوجود ’’وہ‘‘ کبھی بھی پاکستان کا حقیقی چہرہ نہیں بن سکتے۔ اس ضمن میں ہمارے سامنے کراچی کے ان چالیس ہزار لوگوں کی مثال آتی ہے جو توہین رسالت کے قانون کو منسوخ کیے جانے کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے اور جنھیں ایک مبصر نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ وہ محض مدرسوں کے طلبہ اور سیاسی کارکن ہیں۔ چنانچہ اس حوالے سے جو تبصرے سامنے آئے، ان کا پہلے ہی سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ ہمیشہ کی طرح ’’ہم‘‘ پھر خواب غفلت سے جاگے اور اخلاقی طور پر بالاتر اور بزعم خود حق پر ہونے کا ڈھول پیٹنے لگے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر ہم مبصرین کے لب ولہجے اور الفاظ کے چناؤ کو مد نظر رکھیں تو لگتا ہے کہ ’’ہماری‘‘ طرف سے ’’انھیں‘‘ ناروادار اور شیطانی مخلوق کہنے میں بس تھوڑی سی کسر ہی رہ گئی تھی۔
دریں اثنا مقامی اور غیر ملکی مبصرین نے ملک میں لبرل اور ترقی پسند طبقے کی حالت زار کا نقشہ کھینچنے کے لیے شاید ہی کوئی استعارہ اور تشبیہ چھوڑی ہو، چاہے اس کا حوالہ کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو، اور انھیں ’’نابود ہونے کے خطرے سے دوچار نوع‘‘ اور ’’انتہا پسندی کا کینسر‘‘ سے لے کر موہی کن اور انقلاب فرانس کی باقیات جیسے القابات سے نوازا گیا۔ لیکن ہم اتنے احمق کیسے ہو سکتے ہیں کہ یہ سوچیں کہ سلمان تاثیر کے قاتل ملک ممتاز حسین قادری نے جس نارواداری کا مظاہرہ کیا، وہ اس سے پہلے موجود نہیں تھی یا یہ کہ اس کی جڑیں ۱۹۸۰ء کی دہائی میں سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی بزعم خود ’’اسلامائزیشن‘‘ کی پالیسیوں میں نہیں ہیں؟ غازی علم الدین شہید یاد ہے جس سے ممتاز قادری اور اس کے حمایتی متاثر تھے اور جس نے ۱۹۲۹ء میں اپنے دوستوں کے ساتھ سکہ اچھال کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ توہین رسالت پر مبنی مواد شائع کرنے والے ہندو پبلشر کو قتل کرنے کے لیے کون جائے گا؟ ۱۹۵۰ء کی دہائی میں مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے والے احمدی فرقے کے خلاف ہونے والے فسادات بھی یاد ہیں، جس فرقے کے جائز ہونے پر اکثریت کو اعتراض ہے اور جب تک وہ اپنے احمدی اور غیر مسلم ہونے کا اعلان نہ کریں، انھیں پاسپورٹ بھی جاری نہیں ہو سکتا؟
مزیددو ہفتوں کے اندر سلمان تاثیر کی موت کی خبر پرانی ہو جائے گی۔ اگر تاریخ کو دیکھا جائے تو ’’ہم‘‘ میں سے کوئی بھی اس مسیحی خاتون آسیہ نورین کی حمایت میں کھڑا نہ ہوتا جسے توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ہے اور جس کی سلمان تاثیر حمایت کر رہے تھے۔ مجھے تو یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ اتنی رزمیہ فضا میں کوئی شخص ایسا بھی تھا جو اپنی موت تک اس کی حمایت میں کھڑا رہا۔ جو ستم ظریفی ابھی تک چل رہی ہے، وہ یہ ہے کہ پاکستان کو کھائی میں دھکا قدامت پرستوں نے نہیں دیا۔ ایسا کرنے والے ’’ہم‘‘ اور ہمارا باقی سارے ملک سے بے پروائی کا رویہ ہے۔ تاریخ نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ بزدلی ہمیشہ ’’ہم‘‘ لبرل لوگوں نے دکھائی ہے اور جب بھی سیاسی مصلحت اور اصولوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا وقت آیا تو ہم نے ہمیشہ سیاست کو چنا۔ اپنے دل کی گہرائیوں میں ہم خود بھی اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ امکانات انتہائی کم ہیں کہ ’’ہم‘‘ لبرل لوگ نافذ کی گئی، بلکہ نافذ نہ کی گئی پالیسیوں کا بوجھ اٹھا سکیں۔
اس وقت ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں اور مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم کون سا راستہ منتخب کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کی دیواروں کو گرا کر ’’ایک‘‘ بننا ہوگا۔ ’’وہ‘‘ بھی اسی طرح اس قوم کے افراد ہیں جس طرح ’’ہم‘‘ ہیں اور انھیں بھی اپنی رائے کے اظہار کا اتنا ہی حق ہے جتنا ہمیں حاصل ہے۔ ان کی ہستی کو تسلیم کرنے کے بعد ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ہم اب مزید انکار کی کیفیت میں نہیں رہ سکتے۔ ایسا کرنے کا مطلب ہے کہ ہم وہیں کے وہیں کھڑے رہیں گے۔ یہ کام اگرچہ آسان نہیں ہے، لیکن جیسا کہ قدیم چینی فلسفی لاؤتسو کا قول ہے، ہزار میل کا سفر ایک قدم سے شروع ہوتا ہے اور زیر بحث مسئلے میں یہ قدم ’’قبولیت‘‘ ہے۔
(ماخذ: کامن گراؤنڈ نیوز سروس، ۲۱؍ جنوری ۲۰۱۱ء)
ایک تلافی نامے کا معذرت خواہانہ جائزہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن
واقعہ کچھ یوں ہے کہ اکادمی ادبیات پاکستان، پنجاب شاخ لاہور کے زیرِ اہتمام ۸ مئی ۲۰۱۰ بروز ہفتہ ’’صوفی ازم کی عوامی بنیادیں‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان بھر سے ممتاز دانش وروں نے’’ گراں قدر‘‘ مقالات پڑھ کر صوفیا کو ایصالِ ثواب کیا۔ غالباً ثواب کے ایصال میں کافی کمی رہ گئی تھی جس کی تلافی کی ذمہ داری یونی ورسٹی آف گجرات کے سپرد کی گئی۔ اس وقت ہمارے زیرِ نظر یہی’’تلافی نامہ‘‘ ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ تلافی نامے کا سرورق کیا ہے؟ اچھا خاصا طلسم کدہ ہے۔ پھر ہماری کیا مجال کہ اس کے سحر میں ڈوبے بغیر صوفیانہ خوش بیانیوں تک رسائی پا لیں۔ اس لیے لامحالہ ہمیں سلوک کی اس منزل سے گزرنا پڑا جہاں صوفی حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ تمام قارئین کو اس ذہنِ رسا کو لازماً ایصالِ ثواب کرنا چاہیے جس نے ہم جیسے پھسڈی کو بھی صوفیانہ واردات کے ’’شاملِ حال‘‘ کرنے سے پہلے پہلے سرورق کے ’’حال‘‘ میں غلطاں کرتے ہوئے حیرت کے سمندر میں خوب غوطے لگوائے ہیں۔ دیدہ زیب کالے نیلگوں سرورق پر دھمال ڈالتے اجلے اجلے چٹے سفید صوفی ہیں، جن کے اوپر جلی حروف میں کندہ ہے:
تدوین و ترتیب: شیخ عبدالرشید
رہنمائی:الطاف احمد قریشی
ہم صوفیا کے مانند حیرت زدگی کے ’’حال‘‘ میں ہیں کہ خیر سے ’’شیخ‘‘ تو عبدالرشید صاحب ہیں لیکن ’’راہنمائی‘‘ کا قرعہ جناب الطاف احمد قریشی کے نام نکلا ہے۔
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
بات یہ ہے کہ شیوخ جتنے بھی پہنچے ہوئے ہوں، بازی گروں کی گرد بھی نہیں چھو سکتے، اس لیے ان کی مرشدی چھپائے نہیں چھپتی اور یہاں بھی نہیں چھپ سکی۔ لطف کی بات تو یہ ہے کہ تلافی نامہ میں جہاں جہاں حضرت شیخ کی مرشدیت کی گرفت کم زور پڑی ہے وہاں وہاں ان کے مریدوں کی’’ عقیدت مندی‘‘ نے خوب دھما چوکڑی مچائی ہے، پروف خوانی کی لن ترانی ہی دیکھ لیجیے۔ بقول شخصے:
حرف کو کاغذی سیاہ کند!
دل کہ تیرہ است کے چو ماہ کند
(جو حروف اچھے بھلے کاغذ کو سیاہ کر دیتے ہیں، وہ تاریک دل کو کیوں کر روشن چاند کا ہمسر بنا سکیں گے)
صاحبو! صوفیانہ واردات کے ترجمانوں نے تلافی نامہ کے اچھے خاصے مہنگے کاغذکے ساتھ وہی کچھ کیا ہے جو بوٹوں والے دساتیر کے ساتھ کرتے چلے آئے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ حرف، لفظ، جملہ، ابلاغ کا وسیلہ بنتاہے۔ لیکن جب یہ وسیلہ، صوفیانہ واردات کا اظہار کرتا ہے تو محض مخل ہوتا ہے۔ اس لیے معزز قارئین ’’شاملِ حال‘‘ ہونے سے پہلے پہلے یقین کر لیجیے کہ آنے والی سطروں میں بہت آسانی سے کاغذ سیاہ کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے کہ ان میں عمیق روحانی تجربات کے انکشاف کی ترجمانی کا ’’حق‘‘ ادا کیا گیا ہے۔
اس تلافی نامہ کے مدون و مرتب شیخ عبدالرشید کی تحریروں کی بابت البتہ یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ان میں عموماً فکر اور ادبیت کا امتزاج پایا جاتا ہے اور اس کے علاوہ حالاتِ حاضرہ سے واقفیت کا بھی پورا پورا اہتمام موجود ہوتا ہے۔ یہاں بھی شیخ صاحب نے حرفِ اول (جو حرفِ آخر بھی ہو سکتا تھا) کے عنوان سے تعارفی کلمات میں اپنے قلم کے خوب جوہر دکھائے ہیں۔ فرماتے ہیں:
’’بدامنی، فساد اور دہشت گردی کا آغاز چونکہ انسانی دل و دماغ میں ہوتا ہے اس لیے امن کی فصیلیں بھی انسان کے دل و دماغ ہی میں تعمیر ہونی چاہئیں۔ ......بیشتر صوفی اپنی روزی خود کماتے تھے ااور معاشی طور پر دوسروں پر بوجھ نہیں بنتے تھے۔ ان کی نظر میں دنیا اور دولت مطلقاً بری نہیں تھی۔ حضرت نظام الدین اولیاؒ فرماتے ہیں ترکِ دنیا یہ نہیں کہ انسان ننگا پھرے اور لنگوٹ باندھ لے۔ ترکِ دنیا یہ ہے کہ کھائے پےئے، دوسروں کو کھلائے اور پہنائے اور زخمی دلوں پر شفقت اور مستحقین کی مدد کرے۔ ......صوفیا نے بڑے بڑے جابر حکم رانوں کے سامنے کلمہ حق کہ کر عوام کے حقوق کی ترجمانی کی ہے۔ ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے۔ یوں انہوں نے اکثر آمروں اور جابروں کے دور میں ایک طور سے حزبِ اختلاف کا کردار ادا کیا ہے۔‘‘(حرفِ اول:ص۱۲، ۱۶)
تلافی نامہ کے ’’افتتاحیہ‘‘ میں جناب الطاف احمد قریشی نے سوالات کی آڑ میں ’’راہنمائی‘‘ کے فرائض سرانجام دے کر جان چھڑانے کی کوشش کی ہے۔ موصوف کا کہنا ہے کہ:
’’سوال یہ ہے کہ سیاسی عروج اور زوال کی وجوہات کیا ہوتی ہیں اور کیا تاریخ میں کبھی ایسا ہوا کہ صوفی روایات کسی قوم کے سیاسی عروج یا زوال کا باعث بنی ہوں؟ خود صوفی ازم کی روایت نے کس قسم کے سماج میں جنم لیا اور اس روایت نے برصغیر اور خصوصاً پاکستانی سماج میں کیا کردار ادا کیا؟کیا ہمارے سیاسی زوال کا سبب صوفی روایات کا زوال بنا؟ یا پھر برصغیر کے صوفیوں نے اپنے اپنے وقتوں کی آمریتوں اور شہنشاہیتوں کے خلاف مزاحمت کی؟ یہ تو حقیقت ہے کہ ہمارے اس دور میں عالمی طاقتیں ہم جیسے ملکوں کے وسائل پر تسلط قائم کرنے کے لیے ہمیں عقیدوں کے جھگڑوں میں الجھانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ ہمارے سیاسی زوال کا سبب اقتصادیات کے شعبہ میں ہماری کم فہمی ہے یا صوفی روایات کا معدوم ہونا اس کا باعث ہے؟‘‘(افتتاحیہ:ص۲۲،۲۳)
سوالات بہت اہم ہیں اور ذہنِ رسا کا پتہ دیتے ہیں، لیکن بات یہ ہے کہ سوالات اٹھانے، تلاشنے اور کھوجنے کی جستجو، طواف کے مانند اس امر سے متعین ہوتی ہے کہ ان کا مرکز کہاں ہے؟ اس حقیقت سے کسے انکار ہو سکتا ہے کہ کولہو کے گرد بیل کا گھومنا طواف نہیں کہلا سکتا۔اس لیے اکادمی ادبیات کے چےئرمین فخر زمان صاحب نے اٹھائے گئے سوالات سے کنی کتراتے ہوئے اپنے ’’ابتدائی کلمات‘‘ میں صوفی ازم کی سیاست کاری (politicization) کو حرزِ جان بنائے رکھنے میں ہی عافیت جانی ہے:
’’ویسے تو صوفیوں کی تحریک قدیم ہے اور ہمیشہ سے موجود رہی ہے مثلاً بابا فریدؒ کو ہی لے لیں یا ان سے پہلے کے صوفیا کو دیکھ لیں۔ صوفیا کی یہ تحریک ایک خاص ڈھنگ اور چلن سے چلتی رہی ہے۔ اس تحریک کو آج کے عہد میں articulate کرنے، پھیلانے اور عوامی قومی اور عالمی سطحوں تک اس تحریک کی dissemination کی اشد ضرورت ہے تاکہ صوفیا کا پیغامِ محبت عام ہو۔ ......قومی یک جہتی ، مارشل لا ادوار کا رگیدا ہوا لفظ ہی نہیں، ہماری سلامتی کا ضامن بھی ہے۔ مگر قومی یک جہتی کسی طور پر مسلط نہیں کی جا سکتی۔ ہم چاروں صوبوں کے صوفیا کے سچے پیغام کے ابلاغ کے ذریعے اس منزل کو حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘(ابتدائی کلمات:ص۲۶،۳۰)
کیونکہ صوفی ازم پر کانفرنس کا انعقاد ایک غیر سنجیدہ سرگرمی تھی بلکہ مذاق والی بات تھی، غالباً اسی لیے وزیر مملکت برائے تعلیم کو بھی اس میں مدعو کیا گیا تھا۔ لیکن جناب غلام فرید کاٹھیا نے موضوع سے متعلق چند شستہ نکات اٹھا کر صوفیانہ کلام کی عصری معنویت ثابت کر کے ناقدین کے منہ بند کر دیے۔ لیجیے خود ہی دیکھ لیجیے:
’’اس دھرتی کے صوفی شاعروں نے درحقیقت اپنے وقت کے نظام کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیے رکھا۔ رحمان بابا کہتے ہیں:’’ظالم حکم رانوں کے سبب گور، آگ اور پشاور تینوں ایک ہیں‘‘۔ ہمارے ہاں فوجی جرنیلوں نے وہ کچھ کیا جس کا ذکر رحمان بابا کرتے ہیں۔ آج ذرا دیکھیے کہ پاکستان کے چاروں فوجی آمروں نے جو کچھ کیا، اس کے نتیجے میں آج رحمان بابا کا شعر کس قدر حقیقی معلوم ہوتا ہے، اس لیے کہ آج گور، آگ اور پشاور ایک ہو چکے ہیں۔‘‘(صوفی ازم کی عوامی بنیادیں:ص۳۲)
سردار آصف احمد علی صوفیانہ احوال کی ایک جہت سے کافی نالاں نظر آتے ہیں ۔ اس لیے گومگو میں تضاد بیانی کا شکار ہو گئے ہیں:
’’ مگر یہ توقع کرنا کہ صوفی، معاشرے میں انقلابی ریفارمر کا کردار ادا کرے یا جھنڈا پکڑ کر جہاد کرے یا اسلام دشمنوں کو نیست و نابود کرے تو تاریخ ایسی مثالیں پیش کرنے سے قاصر ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مختلف اوقات میں اسی تجربے کے دوران کچھ لوگ انسپائر ہوئے اور انہوں نے جہاد بھی کیا، امام شمائلؒ کی مثال واضح ہے۔‘‘ (صوفی ازم:ص۳۸)
تاریخ ایسی مثالیں پیش کرنے سے قاصر بھی ہے اور پھر یہ بھی درست ہے کہ بتاتی بھی ہے، کیا طرفہ تماشا ہے؟۔ اس تماشے کے باطن میں کوئی صوفی جھانک سکتا ہے یا کوئی سردار ۔ جمع ضدین کے نجانے کتنے اور نمونے اس تلافی نامہ میں ہماری ضیافت کو موجود ہیں۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ سردار آصف احمد علی کے نام کے ساتھ اگر سردار نہ ہوتا تو کیا پھر بھی وہ ہم جیسے صوفیانہ مبتدیوں کو اس قسم کے’’ حکیمانہ ارشادات‘‘ سے نوازتے رہتے؟۔ یارو! ہمیں تو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ صدر آصف علی زرداری اگر(خدا نخواستہ ) سردار آصف علی زرداری ہوتے تو ان کی گل افشانیاں سمیٹنے کی کوشش میں عوام کے ہاتھ پاؤں مسلسل پھولے رہتے۔ ویسے آپس کی بات ہے باریک بین حضرات، صدر آصف علی زرداری کے نام میں سردارمخذوف خیال کرتے ہیں ۔ شاید اسی لیے عوام بھی کچھ پھولے پھولے سے رہتے ہیں۔ خیر! اس جملہ معترضہ سے قطع نظر سردار آصف احمد علی لاعلمی میں ایک علمی بات کہ گئے ہیں، ملاحظہ کیجیے:
’’میں نہیں سمجھتا کہ اسلام میں روحانیت کا کوئی الگ سے سسٹم ہے۔ یہ کسی نظام کا نہیں، کسی فرد کا انفرادی تجربہ ہو سکتا ہے کہ اسے divine experience حاصل ہو۔ اس جدوجہد کے درمیان انسان کی جو tendencies ہیں، وہ سوشل ریفارمز کی طرف ہیں یا انقلاب کی طرف، جو بھی اس کے اندر جذبہ ہے اس کو تقویت ملے گی۔ ...... اگر کسی کی انسپائریشن کا حصہ جنگ لڑنا یا جہاد تھا تو اس نے روحانی تجربے کے بعد جنگ لڑی۔ کسی کی انسپائریشن شاعری تھی تو اس نے شاعری کی۔ صوفیانہ شعر کی روایت ہمارے ہاں خاصی مضبوط رہی ہے۔‘‘ (صوفی ازم:ص۳۷،۳۸)
یونی ورسٹی آف گجرات کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد نظام الدین مخصوص عمرانی تناظر میں صوفیانہ روایت کی معنویت تلاش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ:
’’عوام زمین پر زمین کا سفر طے کرتے ہیں اور صوفی زمین سے آسمان کی جانب سفر کی راہ کھولتا ہے۔ بظاہر صوفی اور عوام دونوں کی منزلیں جدا جدا ہیں، تاہم زمین دونوں میں مشترک ہے اور یہی صوفی ازم کی عوامی بنیاد ہے۔ ......باریک بینی سے دیکھا جائے تو صوفی ازم کا اصل موضوع انسان اور عوام ہی تھا۔ کیونکہ انسان ہی سوال پوچھتا ہے اور انسان ہی ان کے جواب مانگتا ہے۔ ......زمانے نے جو گھاؤ نسل در نسل عوام کو دیے، ان پر اگر کسی نے مرہم رکھا تو وہ محض صوفیا ہی تھے۔ ...... صوفی فکر جو خاص طور پر شریعت کے میکانکی نفاذ سے ذرا ہٹ کر ہے اور عوام جو شریعت کی عملیت سے ذرا ہٹ کر ہیں، دونوں ایک غیر دانستہ اتحاد میں ہیں۔ ......مذہب تو پیغمبر لے کر آئے تھے اس کی ادارہ سازی علما نے کی تھی ان دونوں کے مقاصد پورے ہوئے کہ نہیں، مذہب کے سارے میکنزم سے صوفی کی وابستگی عوام کی سوچ کی حد تک سب سے زیادہ ہے۔ صوفیا ، لوگوں کے خیال میں مذہب کے سچے پیروکار ہیں، اس طرح سے لوگوں نے بھی صوفیا پر ایک جبر مسلط کیا ہے کہ وہ اسلام یا جس مذہب سے بھی ان کا تعلق ہے، سے باہر نہ نکلیں۔‘‘ (صوفی ازم کی عوامی بنیادیں:ص۴۰،۴۱،۴۴،۴۵)
عوام اور صوفیا کے درمیان اشتراک و اختلاف کی نفسیاتی سرحدیں کہاں سے شروع ہوتی ہیں کہاں کہاں سے گزرتی ہیں اور کہاں ختم ہوتی ہیں، ڈاکٹر محمد نظام الدین ان پر کافی تیکھی نظر رکھے ہوئے ہیں:
’’اس بات کا کسی کو علم نہیں ہے کہ وہ خدا کی ذات میں دخل حاصل کر سکے ہیں یا نہیں، مگر یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ عوام کی زندگی میں معتبر انداز میں داخل رہے ہیں۔ یہ اعزاز اتنے شان دار طریقے سے علما کو نہیں ملا جتنا صوفیا کو نصیب ہوا۔ ......عوام کو نفسیاتی سہاروں کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً محبت، امن، بھائی چارہ اور انسان دوستی۔ یہ سب کچھ انہیں ان ہستیوں میں نظر آتا ہے جو حکومتوں سے دور خدا سے لو لگائے بیٹھی ہیں، وہ خدا جس سے عوام کو بھی ساری آس امید تھی۔ یہ بھی صوفی اور عوام کی سانجھ تھی جو ہمیشہ قائم رہی۔ عوام نے کبھی صوفی ازم کی فلسفیانہ گہرائیوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی نہ وہ انہیں سمجھ سکتے تھے۔ اور صوفی کو عوام میں موجود سماجی آلودگیوں سے کوئی گہرا تعلق نہیں تھا، وہ تو اپنی ذات کی تطہیر و پاکیزگی کی تلاش میں تھا، یہی وجہ تھی دونوں ایک دوسرے پر آشکار نہیں ہوئے۔ وہ ادراکی قربت پیدا نہیں ہوئی جو دوری کا باعث بنتی ہے، لہٰذا صوفی ازم اور عوام ہمیشہ اتحادی رہے۔‘‘ (صوفی ازم کی عوامی بنیادیں:ص۴۶،۴۷)
ڈاکٹر محمد نظام الدین صوفیا اور عوام کے درمیان اتحادِ محض کے داعی نہیں ہیں۔ وہ صوفیانہ واردات کے اس اظہار سے کافی الرجک دکھائی دیتے ہیں جو عوام کو سستانے اور سلانے میں منہمک رہتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب بجا فرماتے ہیں :
’’اگر آج ہمیں صوفی ازم کے ان نظریات کو کسی سماجی ساخت میں ڈھالنا ہے تو ہمیں خود کو صوفی سے زیادہ انقلابی بنانا پڑے گا۔ ......صوفی ازم پر بہت زیادہ شور و غوغا مفاد پرستانہ لگتا ہے۔ یہ عوام کو گم راہ کرنے کا ایک ہتھیار بن سکتا ہے اور ان کی اس صلاحیت کو بھی جو انہوں نے democratization کے عمل میں حاصل کی ہے بے اثر کر دے گا جیسا کہ ہر status quo اپنے سامنے اٹھنے والے انقلابی نظریات کے ساتھ کرتا ہے۔ ہمیں صوفیا سے اسی طرح inspiration لینی پڑے گی جیسی ہم اپنے سورما باپ دادوں سے لیتے ہیں چاہے وہ خود ہم نے ہی تخیلاتی طور پر بنائے ہوں یا حقیقت میں وہ نہتے اور کم زور لوگ ہی کیوں نہ ہوں اور ہر حکم ران اور حملہ آور کو خراج ہی دیتے رہے ہوں۔‘‘ (صوفی ازم کی عوامی بنیادیں:ص۴۷،۴۸)
پروفیسر نبیلہ کیانی نے مذہب کی ماہیت و مقصدیت سمجھے بغیر تصوف کی اضافی خوبیوں کی نشاندہی کی ہے۔ قارئین کی تفننِ طبع کے لیے ہم ایک اقتباس پیش کیے دیتے ہیں:
’’تصوف میں اس بات کو باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دنیا صرف وہی نہیں ہے جس میں ہم اپنی سوچ کی مخصوص عادتوں کی وجہ سے رہ رہے ہیں بلکہ اور بھی دنیائیں ہماری منتظر ہیں جہاں ہم اپنے thought pattern تبدیل کر کے پہنچ سکتے ہیں۔ مذہب ہو یا تصوف، نئے modes of existence کا تصور دونوں میں موجود ہے۔ مگر دونوں میں فرق ہے کہ مذہب نے اگر اس existence کے علاوہ کسی اور mode of existence کی نشاندہی کی، تو ساتھ ہی اسے article of faith بنا کر مزید دنیاؤں کی تلاش پر پابندی لگا دی، جب کہ تصوف اور صوفیا کرام یہ تلاش جاری رکھنے کا پیغام دے رہے ہیں۔ ...... صوفیانہ شاعری میں جن انسانی images کو معنویت حاصل ہے وہ ہیں Human beings at work ۔ ایک اور انسانی image جو شاعری میں نمایاں ہوتا ہے، وہ گیت گاتے اور رقص کرتے ہوئے انسان کا ہے۔ فن اور تخلیقِ فن اور تصوف کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔‘‘ (تصوف کی آفاقی قدریں:ص۵۲،۵۳)
پروفیسر نبیلہ کیانی اپنے اسی فن پارے میں معمولی تبدیلی کر کے ’’مذہب کی آفاقی قدریں‘‘ کے موضوع پر خامہ فرسائی کر سکتی ہیں۔ ویسے اس تبدیلی کے لیے پروفیسر ہونا ضروری نہیں، یہ تبدیلی کوئی معمولی کمپوزر بھی آسانی سے کر سکتا ہے۔ اسے کرنا فقط یہ ہے کہ مذہب کی جگہ تصوف اور تصوف کی جگہ مذہب کا لفظ کمپوز کر دے۔ صاحبو! اگر کوئی سیمینار کانفرنس ’’مذہب کی عوامی بنیادیں‘‘ کے عنوان سے منعقد ہو تو پروفیسر نبیلہ کیانی کو ضرور خبر کر دیناکہ ان کا گھڑا گھڑایا مضمون کانفرنس میں قہقہے بکھیرنے کو تیار ہے۔ خیر سے پروفیسر خالد مسعود اسی کانفرنس میں تقدیمی قہقہے بکھیرنے کی کوشش میں ہیں:
’’جنرل پرویز مشرف کے روشن خیال دور میں ایک صوفی کونسل تشکیل دی گئی اور اس کونسل کے چیف صوفی کا درجہ جناب چوہدری شجاعت حسین کو عطا کیا گیا تھا۔ میں نے اپنے ایک دوست سے اس انتخاب کی وجہ دریافت کی، تصوف کی رمزوں سے آگاہ وہ دوست کہنے لگا کہ صوفی اپنا حال اور کیفیت دوسروں پر بیان نہیں کر سکتا، بس صوفی اور چوہدری شجاعت کے درمیان یہی ایک قدر مشترک ہے جس کی بنا پر انہیں چیف صوفی بنا دیا گیا ہے۔‘‘ (تصوف کی آفاقی قدریں:ص۶۵)
یہ درست ہے کہ جناب خالد مسعود بھی محترمہ نبیلہ کیانی کی طرح پروفیسر ہیں اور دونوں کا موضوع ’’تصوف کی آفاقی قدریں‘‘ بھی مشترک ہے، لیکن خالد صاحب نے برصغیر میں صوفیانہ سرمستیوں کی کارگزاری جلے کٹے انداز میں سنانے کے باوجود چند اصولی باتیں کی ہیں جن سے کوئی سلیم الفطرت شخص اختلاف نہیں کر سکتا:
’’ اگر بات صرف اور صرف تعلیمات پر عمل کر کے منزل کو پانے کی ہے تو یہ وصف صرف اور صرف قرآن و حدیث میں ہی ہے کہ آپ ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فیض حاصل کر سکتے ہیں۔ ......صوفی، اپنی تعلیمات، گفتگو اور لفاظی سے نہیں بلکہ اپنے عمل اور کردار سے متاثر کرتا ہے۔ اس کی ساری تعلیمات اس کا کردار اور عمل ہیں۔ ......اگر کسی کا خیال ہے کہ صوفیا کی تعلیمات صدیوں اور عشروں بعد بھی اسی طرح پیار محبت یگانگت بھائی چارہ تحمل اور رواداری عام کر سکتی ہیں جیسا کہ خود انہوں نے اپنے کردار اور عمل سے عام کی تھیں تو یہ ایک مکمل خوش فہمی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ‘‘ (تصوف کی آفاقی قدریں:ص۵۹)
پروفیسر خالد مسعود کا ایک فقرہ تو ’’سو سنار کی ایک لوہار کی‘‘ جیسے محاوروں کی صداقت کا زندہ جاوید نمونہ ہے، ملاحظہ کیجیے:
’’میں جب بھی اس سے اس سلسلے میں قرآن و حدیث کا حوالہ مانگتا ہوں، وہ مجھے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے ابنِ عربی کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے اور سرمد کے اشعار سے بہلانے کی سعی کرتا ہے۔‘‘(تصوف کی آفاقی قدریں:ص۵۸)
ایک دور تک علامہ اقبال پر ’’پنجابی‘‘ ہونے کی پھبتی کسی جاتی رہی ہے اور ان کے نظریات کو ایک پنجابی مسلمان کی اسلام فہمی قرار دے کر ’’پنجابی اسلام‘‘ کی ترکیب چلانے کی بھی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اب قاضی جاوید صاحب نے اپنے موضوع سے ’’انصاف‘‘ کرتے ہوئے دل لگی کے انداز میں صوفی ازم کو خوب گلوبلائز کیا ہے:
’’اسلام جیسے عالم گیر مذہب کو پنجاب نے تصوف کا روپ دے کر گویا اس کو اپنی روح کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیا تھا۔ اس لحاظ سے تصوف، پنجابی اسلام تھا۔ ......اسلام کی اس پنجابی صورت کی تشکیل وحدت الوجود کی مابعد الطبیعات کے سبب ہوئی تھی جو پانچ ہزار سال سے پنجابی روح کا بنیادی عنصر ہے۔‘‘(گلوبلائزیشن اور صوفی ازم:ص۶۸)
پروفیسر حمیدہ شاہین اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ان کے مخاطبین پاکستانی ہیں اور پاکستانیوں کی غالب اکثریت کا مذہب اسلام ہے، اس لیے ان کی نظریں صوفیانہ روایت کے اسلامی ایڈیشن تک ’’محدود‘‘ رہی ہیں۔ فرماتی ہیں:
’’صوفیا نے سلوک کی جو منازل بعد میں متعین کیں وہ اسلام کے دورِ اول میں اپنی فطری اور حقیقی صورت میں موجود تھیں اور ان پر چلنا اس ماحول میں چنداں دشوار نہ تھا۔ شریعت ، طریقت ، معرفت اور حقیقت کے مرحلے روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ تصوف نے اس دور میں انسان کے فطری تقاضوں کو چھیڑے بغیر عوام سے خطاب کیا اگرچہ اس کو تصوف کا نام بھی بعد میں دیا گیا۔ ......کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دینِ اسلام سے باطنیت کا گودا نکال کر الگ کر دیا گیا اور بے رس بے ذائقہ چھلکا مولوی کے ہاتھ میں تھما دیا گیا کہ جاؤ لوگوں کو بے روح نمازوں اور بے حضور سجدوں میں مشغول کر دو۔ ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر پر غور کرنے کی فرصت نہ ملے تو کوئی بات نہیں، شلوار ٹخنوں سے نیچے آئی تو اسلام خطرے میں پڑ جائے گا۔ دوسری طرف بے شرع تصوف کا ڈول ڈالا گیا۔ عالمِ استغراق میں رفع وجوب کی پٹی پڑھا دی گئی اور یوں جذب و مستی پیدا کرنے کے جعلی و خارجی طریقے خانقاہی زندگی کا حصہ بنا دیے گئے۔‘‘ (تصوف ۔ دین عوام یا دین خواص: ص ۹۹، ۱۰۳، ۱۰۴)
پروفیسر حمیدہ شاہین نے صوفی کو خاص انسان قرار دیتے ہوئے ان سمتوں کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے جو عام آدمی اور صوفی کے درمیان خطِ تفریق کھینچ دیتی ہیں:
’’عوام فقط بصارت ہیں، خواص بصیرت بھی ہیں۔ عام آدمی زمین پر چلتا ہے، خاص انسان زمین سے آسمان کی طرف پرواز کرتا ہے۔ زمین سے آسمان بہت دور دکھائی دیتا ہے، اس لیے عام آدمی نے تصوف کے معاملہ میں اپنے مقام کو آسانی سے قبول کر لیا۔ ......صوفیا کے تذکرے بتاتے ہیں کہ خواص کی نظر مقصودِ اصلی پر اور عوام کی نظر خواص پر ہوتی ہے۔ صوفی کسی اور مرکز کے گرد گھومتا ہے ، عوام صوفی کے گرد گھومتے ہیں۔‘‘ (تصوف ۔ دین عوام یا دین خواص:ص۹۲،۹۳)
پروفیسر صاحبہ کو صوفیانہ واردات کی اظہاری گنجلک کا بھر پور احساس ہے۔ اس لیے انسانی زندگی میں روحانی تجربات اور تصوف کی اہمیت سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے ابلاغ کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ:
’’اس میں کوئی شک نہیں کہ جسم کے سائے میں بیٹھے ہوئے انسان کو یہ بات صرف تصوف ہی بتا سکتا ہے کہ شاخِ بدن پر ابدیت کے پھول نہیں کھلتے، لیکن یہ بتانے کے لیے تصوف کو وہ زبان اختیار کرنی پڑے گی جسے عام آدمی آسانی کے ساتھ سمجھ سکے۔‘‘(تصوف ۔ دین عوام یا دین خواص:ص۱۰۵)
اس سلسلے میں سچ یہ ہے کہ تصوف زبان و بیان نہیں بلکہ کردار و عمل سے عبارت ہے۔ اس لیے زبان کی سلاست تلاشنے کے بجائے پروفیسر صاحبہ کو آتشِ رفتہ کا سراغ لگانا چاہیے۔ البتہ جیلانی کامران کے حوالے سے انہوں نے جو نکتہ اٹھایا ہے ہمیں اس سے انکار نہیں ہے کہ:
’’تصوف اور معاشرہ صرف ایسے موسم میں قریب آتے ہیں جسے غزل کی اصطلاح میں عشق کا موسم کہتے ہیں۔ جب سے تصوف کا رشتہ معاشرے کے ساتھ منقطع ہوا ہے زندگی محبت کی زبان میں بات کرنا بھول گئی ہے۔‘‘(تصوف ۔ دین عوام یا دین خواص:ص۱۰۵)
پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید بھی عشق کے موسم کی راہ دیکھتے ہوئے صوفی، ترکِ دنیا اور معاشرہ کے داخلی توازن کی بابت فرماتے ہیں کہ:
’’صوفی کا فقر اسے ترکِ دنیا کا درس نہیں دیتا بلکہ اسے معاشرے کے ایسے فرد کا درجہ عطا کرتا ہے جو انسانی اصلاح پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے تاکہ اس کی بدولت سماجی زندگی کو حیوانی جبلتوں کے دائروں سے باہر رکھا جا سکے۔ ......اگر غور سے اور تعصب کی پٹی اتار کر صوفیانہ بیانات کی روح کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ اس دنیا کو ترک کرنے کے لیے کہتے ہیں جو خدا کے راستے میں حائل ہوتی ہے نہ کہ راہبوں کی طرح دنیا سے الگ تھلگ ہو جانا ان کا مقصود ہے۔‘‘(تصوف، شہنشاہیت اور انسانی توقیر:ص۱۱۴،۱۱۶)
ڈاکٹر سعادت سعید صاحب نے صوفی اور وراثتی صوفی کی تفریق قائم کر کے تصوف کی لاج رکھنے کی لائق تحسین کوشش کی ہے۔ وہ برملا کہتے ہیں کہ:
’’صوفیوں کی گدیوں پر بیٹھے غیر صوفیوں یا وراثتی صوفیوں نے ۱۸۵۷ کی ہندوستانی جنگِ آزادی میں انگریزوں کے اتحادی بن کر جو ’’کارہائے نمایاں‘‘ انجام دیے ہیں اس سے ہماری تاریخ کے وہ صفحات بھرے ہوئے ہیں جن کے گرد سیہ حاشیے لگنے چاہئییں تھے۔‘‘(تصوف، شہنشاہیت اور انسانی توقیر:ص۱۱۰)
پروفیسر سعادت سعید صاحب صوفی کے سماجی کردار کو کلیدی قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے صوفی کے سیاسی کردار کی تحدید ان الفاظ میں کی ہے:
’’صوفی، شہنشاہوں کے غیر انسانی رویوں اور مظالم کے خلاف علامتی، تمثیلی، استعاراتی پیراؤں میں اظہارِ خیال کرنے سے نہیں چوکتے تھے، لیکن اگر یہ کہا جائے کہ وہ اتنے طاقتور تھے کہ وہ بادشاہت کے ادارے کو نقصان پہنچا سکتے تھے، تو ایسا نہیں تھا۔‘‘(تصوف، شہنشاہیت اور انسانی توقیر:ص۱۱۸)
زیرِ نظر تلافی نامہ کے بیشتر مضامین مخمل میں ٹاٹ کا پیوند معلوم ہوتے ہیں لیکن پروفیسر سید شبیر حسین شاہ کا مضمون ٹاٹ میں مخمل کا پیوند دکھائی دیتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
’’دونوں قسم کے لوگ یعنی علما اور صوفی پہلے سے موجود ایک فکری نظام کی سرحدوں کے اندر کارندوں کی طرح کام کرتے ہیں، کبھی بھی جبر و استبداد کی قوتوں کو ان سے بڑا خطرہ نہیں رہتا اور یہ سماج کی اندرونی ساخت اور حرکت میں خارجی عوامل کی طرح سے موجود رہتے ہیں، جب کہ اشتراکیت اپنی حکمت اور علمی ساخت میں سماج کی اندرونی پرتوں کے ضمن میں ایک جنگجویانہ لائحہ عمل رکھتی ہے۔ اس کی ساری inspiration آسمانوں سے نہیں اترتی، بلکہ معروض میں موجود قوتوں کے جدل سے پیدا ہوتی ہے۔ اشتراکیت اپنے عہد کے سماجی نظم میں سب کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ تصوف لاشعوری طور پر خدا کے اندر داخل ہونے کی جہدِ مسلسل میں ہے۔ اشتراکی، انسان کی گہرائیوں میں اترنے کی کوشش کرتا ہے۔ صوفی زیادہ سے زیادہ اپنے وقت کے despotic حکم رانوں کو مہذب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ عالمِ دین بھی یہی کام کرتا ہے۔ ظالم اجارہ دار حکم رانوں انسانوں سے پیار و محبت کا درس ہے تو بڑا خوب صورت، مگر ہے انتہائی منافقانہ۔ وہ جس نے تلواروں کی طاقت سے شاہی ہتھیائی ہو، اس کے استحقاق کو چیلنج کیے بغیر انسانوں کی رعیت کے لیے اس سے مراعات کی جدوجہد کرنا درحقیقت اس کے کارندے کے طور پر کام کرنا ہے۔‘‘(اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات:ص۱۲۷،۱۲۸)
وحدت الوجود کے نظریے پر تنقید کرتے ہوئے ہوئے شبیر صاحب نے محبت کی اشتراکی اساس کا کھوج خوب لگایا ہے:
’’صوفی یہ وضاحت نہیں کرتا کہ وہ خدا کے وجود میں پیوست ہو کر کن مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے۔ وحدت الوجود کی direction بندے سے خدا کی طرف سفر ہے مگر اپنی نفسی ساخت میں خدا کو بندے میں حلول کرنے کا عمل ہے۔ دونوں صورتوں میں بندے کی بندوں سے شراکت کو کوئی بنیادی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ بندوں کی بندوں سے محبت کا نظریہ بھی محض ایک یاوہ گوئی اور بندوں کے مابین تفریق سے چشم پوشی اور انحراف ہے۔ محبت ایک end سے جاری ہونے والی مافوق الفطرت شے نہیں ہے جو انسانوں کو اپنی جکڑ بندی میں لے لے گی، بلکہ یہ انسانی سانجھ اور مشترکہ تحرک کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ذہنی قبولیت اور نفسیاتی سانجھ ہے جس کا براہ راست تعلق social activism سے ہے۔ اور پھر صوفی جس قبیل کی محبت کا داعی ہے وہ دست برداری یا بے عملی سے پیدا ہوتی ہے یا ایک investment کے طور پر۔‘‘(اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات:ص۱۲۹)
اب ملاحظہ کیجیے کہ صوفی اور اشتراکی نے خلیفہ بننے سے کیسے انکار کیا۔ سمتوں کے فرق کے باوجود انکار دونوں جگہ پایا جاتا ہے، لیکن گردن زدنی بے چارہ اشتراکی قرار پاتا ہے:
’’اشتراکیت اپنی حد بندی کرنے میں اپنے جدید ہونے کی دعوے دار ہے۔ اس کا سارا انحصار انسانوں کے ان تجربات پر ہے جو انہوں نے نسلِ انسانی کے ارتقا میں حاصل کیے۔ یہ تجربات درحقیقت معروض کے ساتھ انسانوں کے interaction کا نام ہے۔ اسے آسمانوں نے کوئی راہنمائی نہیں ملی کہ انسان کبھی بھی ظلِ الٰہی نہ تھا۔ مذہب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ وہ خلیفۃالارض ہے۔ سوال یہ تھا کہ اس خلیفہ کے پاس اختیار کی ملکیت کس کی تھی، اگر وہ خدا کی تھی تو پھر اختیارات میں موجود سارے امتیازات بھی خدا کی طرف سے تھے۔ اشتراکی نے بڑی ڈھٹائی سے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا، اس نے اپنے معروض کو اپنی مرضی سے بدلنے کا نظریہ اختیار کر لیا۔ یہ مذہب پرستوں کے نزدیک خدائی کاموں میں مداخلت تھی۔ مگر جب صوفی نے اپنے انسانی وجود کی نفی کی اور اپنے خلیفہ ہونے کو خود خدائی وجود کا پرتو قرار دیا، تو دراصل اس نے بھی خلیفہ بننے کی نفی کر دی۔
صوفی کے سامنے ideal پیغمبری تھی۔ وہ اپنے اعلی ترین درجے میں وہ کمال حاصل کر لیتا ہے کہ پیغمبری بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ پیغمبری تو روح القدس یا جبریل کی محتاج رہتی ہے۔ صوفی براہ راست اللہ تعالی سے القا حاصل کرتا ہے اور خدا کے رازوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ وہ خلیفۃالارض کی ادنی حیثیت سے خود کو بہت دور لے جاتا ہے۔ خلیفۃ الارض یا انسان جب اپنے اختیارات سے دست بردار ہوتا ہے اور اپنی دانست میں دنیاوی آلودگی سے خود کو پاک کرتا ہے تو وہ ایک سمت میں چلتا ہے۔ مگر جب وہ مزید اختیارات مانگتا ہے، دنیا کی تمام آلودگیوں کے اندر بیٹھ کر زندگی بسر کرتا ہے تو وہ دوسری سمت میں چلتا ہے۔ سمتوں کا یہ فرق بھی صوفی اور اشتراکیت کا فرق ہے۔‘‘(اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات:ص۱۳۰،۱۳۱)
پروفیسر شبیر صاحب نے صوفی کے ممتاز ہونے کی وجوہ پر ایسی چوٹ کی ہے کہ کسی ملامتی کو بھی کہیں پناہ ملتی نظر نہیں آتی:
’’صوفی اپنی خواہشات کو تیاگ کر دوسرے انسانوں میں خود کو ممتاز کرتا ہے اور اپنے سے والہانہ قبولیت پیدا کرتا ہے۔ اشتراکی دوسروں کی خواہشات کو ابھار کر ایک عملی اشتراک حاصل کرنا چاہتا ہے، اس طرح خود کو انسانوں میں لازم و ملزوم بناتا ہے۔صوفی کے ٹارگٹ اس کی اپنی imagination اور intuition سے بنتے ہیں۔ اشتراکی کے ٹارگٹ پہلے سے زمین پر موجود ہوتے ہیں اور وہ انہیں اپنی علمی صلاحیت سے conceive کرتا ہے۔ اسے معروض سے فرار کا حق حاصل نہیں ہے۔ مادے کی جدلیات بظاہر انسان کے خارج میں موجود ایک کائناتی عمل ہے، مگر درحقیقت خود انسان اسی جدلیات کے ایک عنصر کے طور پر موجود ہے، اور اشتراکی کو اس کا ادراک ہونا چاہیے ورنہ وہ اپنی حکمتِ عملی ترتیب نہیں دے سکتا۔‘‘(اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات:ص۱۳۱)
شبیر حسین صاحب نے کوئے یارسے نکلے صوفی کے ’’فنا‘‘ ہونے کو معاف نہیں کیا۔ اس لیے گمان یہی ہے کہ وہ سوائے دار چلے خود کش حملہ آوروں کی معافی کے بھی قائل نہیں ہوں گے:
’’بدی کو دھتکارنے کا سارا وجدان اور ریاضت کا عمل صوفی کو اس کے مقدر میں ملا ہے۔ اشتراکی کا مقدر اس کے عہد کی ناقابلِ تردید زمینی حقیقت ہے اور یہ حقیقت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ utopia کبھی معرضِ وجود میں نہیں آتا۔ اعلیٰ درجے کا کمیونسٹ معاشرہ ایک حقیقت سے زیادہ ایک inspiration ہے جو اشتراکی کو ایک علمی فرد سے انقلابی میں تبدیل کرتا ہے۔ وہ انقلابی بننے کے لیے عوام سے اپنی جڑت کا محتاج ہے، لہذا اشتراکی کو خدا کی ذات سے زیادہ بندوں کی ذات پر غور کرنا پڑتا ہے۔ ......اشتراکی، زندگی کا صوفی سے بہتر آرگنائزر ہوتا ہے وہ زندگی کو ایک اثاثے کے طور پر اپنی جدوجہد میں استعمال کرتا ہے اور زندگی کے ہر پہلو پر حاوی رہتا ہے۔ صوفی پر زندگی کا تاریک حصہ ایک بوجھ ہے، جسے اتارتے اتارتے اس کی زندگی کا روشن پہلو بھی فنا ہو جاتا ہے اور اسی فنا میں صوفی سدا کی زندگی پاتا ہے۔‘‘(اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات:ص۱۳۱،۱۳۲)
سطورِ ذیل میں شبیر صاحب فرماتے ہیں کہ مولوی نے بے چارے صوفی کو ہمیشہ مار پڑوائی ہے۔ ہم گزارش کریں گے کہ صوفی بے چارہ اس وقت تو ایک اشتراکی کے ہتھے چڑھا ہوا ہے اور اس کی وہ درگت بن رہی ہے کہ وہ مولوی کی مار بھولے سے بھی یاد نہیں کرے گا :
’’تاریخ بتاتی ہے کہ جتنا اشتراکی کا انکار گردن زدنی ہوتا ہے، صوفی کو اتنی مار نہیں پڑتی۔ مجھے نہیں معلوم کہ آمرانہ ملوکیتوں نے خود اپنی سوچ سے صوفی دشمن پالیسی اپنائی یا ہمیشہ interpretation کی آڑ لے کر وقت کے مولوی نے صوفی کو مار پڑوائی۔ جیسے عیسٰی مسیح علیہ السلام کو فریسی یہودیوں نے صلیب پر لٹکوا دیا تھا۔ اشتراکی کی لڑائی حاکمیت سے براہ راست ہوتی ہے، اس لڑائی سے فرار ممکن نہیں، ورنہ اشتراکی اپنی وجودیت سے خارج ہو جاتا ہے۔ صوفی کے لیے ایسا نہیں ہے۔ وہ ہمیں کبھی کبھی حکم رانوں کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے، جب کبھی وہ عوام کے ساتھ بھی ہوتا ہے تو کسی جنگ کا آغاز نہیں کرتا، اس کی ساری ترغیب غیر جدلیاتی غیر سائنسی اور بے سمت ہوتی ہے۔ جب انقلاب، تاریخ کے ایجنڈے پر نہیں ہوتا تو انسانوں کے قول و فعل پر صوفی کا راج ہوتا ہے، بلکہ صرف قول پر، فعل تو شاہوں کی لونڈی ہوتا ہے۔ دونوں مل کر انسان کو اس کی اسی حالت میں برقرار رکھتے ہیں۔ بادشاہ اس کی زندگی کو عذاب بناتا ہے، صوفی اس کی زندگی کو خیالی جنت بناتا ہے۔ دونوں میں آخر لڑائی کہاں ہے۔‘‘ (اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات:ص ۱۳۳)
صوفی کے وہم اور اشتراکی کی سرفرازی کی تحلیل شبیر صاحب نے کچھ اس طرح کی ہے:
’’جس طرح تہذیب دورِ وحشت کی آغوش میں جنم لیتی ہے اور اتنی ہی باصلاحیت ہوتی ہے جتنا دورِ وحشت کا انسان اپنی بقا کی جنگ میں طاقت حاصل کرتا ہے۔ potential ایک مادی وجود کا نام ہے جو انسانی زندگی اور معاشرت میں قوتِ محرکہ کا کام کرتا ہے۔ صوفی کا علمی وجدان بھی اس کے اندر ایک potential پیدا کرتا ہے جس کے بل بوتے پر صوفی میں انسانی صلاحیت اپنے کمال سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ یہیں پر صوفی اس واہمہ کا شکار ہوتا ہے جو اسے الوہی ماہیت میں خلط ملط کر دیتا ہے۔ جب کہ اشتراکی اپنے عمیق علمی تجزیے میں کائنات کی سچائیوں سے سرفراز ہوتا ہے اور ایک potential حاصل کرتا ہے۔ یہ صلاحیت اسے آسمانوں کے بجائے سماج کی تہوں میں لے کر اترتی ہے اور اشتراکی اپنے کمال کے ساتھ انسانوں سے خلط ملط ہو جاتا ہے جہاں سے انقلاب کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔ یہ روشنی لازماً اس نور سے مختلف چیز ہے جو صوفی کے دل میں اترتا ہے لوگ جس کے متلاشی رہتے ہیں۔ مگر اشتراکی کو لوگوں کا ساتھ دینا پڑتا ہے، یہاں activity اور inactivity کا فرق ہے۔‘‘ (اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات: ص ۱۳۳، ۱۳۴)
سید شبیر حسین صاحب اپنے نتائجِ فکر میں صوفی اور اشتراکی میں کوئی اشتراک نہیں دیکھ پاتے۔ اس لیے وہ فیصلہ کن انداز میں لوگوں سے فیصلہ لینا چاہتے ہیں:
’’چونکہ آسمانوں سے کوئی تبدیلی زمین پر نہیں اترتی، لہٰذا جب صوفی خدا سے ملاپ کر کے واپس اترتا ہے تو کسی تبدیلی پیدا کرنے کے اہل نہیں ہوتا ۔ اس لیے صوفی سے عامۃ الناس کی relationing ایک سعی لاحاصل ہے۔ انہیں اشتراکی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا یا کہیں اور جانا پڑے گا۔ جب کوئی چیز surface پر موجود نہیں ہوتی تو محض تصوریت ہوتی ہے۔ چاہے اشتراکیت ہو، چاہے صوفی ازم، جب تک حالت بے عملی میں ہیں زبردست اشتراکات میں ہوتے ہیں۔ جب حرکتِ عمل میں جاتے ہیں، الٹ سمتوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔ لہذا انسانی فلاح کے لے صوفی اور اشتراکی میں اشتراک ممکن نہیں ہے اور لوگوں کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ کس کا ساتھ دینا چاہتے ہیں۔ اگر صوفی کے ساتھ جائیں گے تو اپنے دکھوں کا مداوا آسمانوں سے طلب کریں گے، حاکموں ا8 ور اجارہ داروں سے تعرض نہیں کریں گے۔ یہی ایک طریقہ ہے جبر و استبداد کو بری الذمہ کرنے کا۔ تنخواہ دار مولوی سرکاری ادیب اور دنیا سے لاتعلق صوفی سب یہی کام کرتے ہیں۔‘‘ (اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات:ص۱۳۴)
شبیر صاحب کی نظر سے صوفی اور اشتراکی کا نقطہ اتصال چھپ نہیں سکا۔ وہ ایک معروضیت پسند اشتراکی ہیں۔ اس لیے انہوں نے تحفظات کا شکار ہوئے بغیر اس مماثلت کو معروضی انداز میں تسلیم کیا ہے:
’’یہاں ایک سوال اشتراکی کے ضمن میں بھی بڑا اہم ہے کہ اگر اشتراکیت کا مرحلہ برپا ہو جاتا ہے اور اقتدار پرولتاری ڈکٹیٹر شپ سے ایک non-state سوسائٹی کے ہاتھ چلا جاتا ہے اور مارکسی انقلاب اپنی اعلیٰ منزل سے سرفراز ہوتا ہے، تو کیا اشتراکی اپنے انفرادی وجود سے دست بردار ہوجاتا ہے جس طرح صوفی خدا میں مدغم ہو کر اپنے وجود سے دست بردار ہو جاتا ہے۔ اپنے عروج کی اس مکینکس میں جو اشتراک پایا جاتا ہے بھلے وہ نوعیت اور ساخت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہے مگر اپنے رجحان میں یہ صوفی اور اشتراکی کا واحداشتراک ہے۔ تو کیا ہم کہیں گے کہ صوفی اور اشتراکی حتمی طور پر جس جہدِ مسلسل میں ہیں وہ دراصل اپنے وجود کو کسی اور وجود میں ڈھالنے کی جدوجہد ہے، یعنی اب ہم صرف technicalities اور نظریاتی سمتوں پر ہی تضاد دیکھتے ہیں۔
مارکسیوں نے جب مادے کی حرکت کے قانون کو سماج کی حرکت پر منطبق کیا تھا تو ان کے پاس چارہ نہیں تھا کہ سماجی حرکت کو مادے کے قانونِ حرکت کے تحت لے کر آئیں اور وہ حکمتِ عملی تشکیل دیں جو سماج کے اندر کی تشکیل بندی کو مادے کی جدلیاتی سائنس کے قانون کے تحت کریں۔ اپنی دانست میں وہ یہاں social scientist ٹھہرے اور بلا شبہ وہ تھے، مگر جب صوفی نے یہ نعرہ لگایا کہ خدا نے اپنے اندر ایک قانونِ فطرت قائم کر رکھا ہے اور وہ انسان کی تخلیق اپنی ہی فطرت اپنے ہی وجود کی حدود میں سے کرتا ہے اور انسان اسی کا حصہ رہتا ہے، لہذا نسان پر جب صوفی، خدا کے اندر کی فطرت کا نفاذ چاہتا ہے تو دراصل صوفی انفرادی طور پر وہی کام کرتا ہے جو اشتراکی اجتماعی طور پر کرنا چاہتا ہے۔ اشتراکیت اور صوفی ازم تقریباً ایک ہی جیسے انسان کو اپنا آلہ کار بناتے ہیں۔ ہمیں صرف یہ سوچنا ہے کہ ہمیں اپنے وجود اور تشخص کو آسمانوں پر ان دیکھے خدا کی سپردگی میں دینا ہے یا لاکھوں کروڑوں استحصال زدہ لوگوں کاسر اٹھا کر انہیں سر بلند کرنا ہے۔ یہ کام صوفی ازم اور اشتراکیت میں اشتراکات تلاش کرنے سے نہیں ہو گا بلکہ عوام تک یہ شعور لے جانے سے ہو گا کہ وہ حقیقتوں کی طرف پلٹ آئیں۔‘‘(اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات:ص ۱۳۴، ۱۳۵)
سید شبیر حسین شاہ کے مضمون کے مذکورہ اقتباسات کی مجموعی معنویت ملحوظ رکھتے ہوئے ہم گزارش کریں گے کہ سامراج نے مذہب کی اہمیت بھانپتے ہوئے اسے ہمیشہ ہائی جیک کیا ہے اسی لیے مذہب عوام کے لیے افیون قرار پایا ہے۔ لیکن نام نہاد معروض پسندوں نے معروض میں موجود مذہب کی مکمل نفی کرتے ہوئے (سامراج کو کھلی چھٹی دے کر) جدلیات کو عملی طور پر ہمیشہ بے معنی ثابت کیا ہے۔ لہذا حقیقی معروض پسند تو سامراجی ٹھہرے نہ کہ ہمارے اشتراکی بھائی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شبیر صاحب کے اس مضمون سے مذہب(خاص طور پر اسلام) کی بے عمل تعبیر کرنے والے اجارہ داروں کو کچھ نہ کچھ ضرور سیکھنا چاہیے جنہوں نے دین اسلام کے پیروکاروں کو مستقل سراسیمگی میں مبتلا کر رکھا ہے:
رسیدم من بدریائے کہ موجش آدمی خور است
نہ کشتی اندراں دریا نہ ملاحے عجب کار است
(میں اس دریا میں پہنچا ہوں کہ جس کی موجیں آدم خور ہیں، دریا میں نہ کشتی ہے اور نہ ملاح، عجیب ماجرا ہے)
خیر! پروفیسر نصر اللہ خان ناصر نے سرپٹ دوڑتے تاجرانہ گھوڑے کو روحانی لگامیں ڈالنے کی بات چلائی ہے۔ انہوں نے سید شبیر صاحب کے برعکس سرمایہ دارانہ معیشت میں صوفیانہ کردار کی راہ ڈھونڈ نکالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صارف معاشرہ صوفیا کے لیے بھی اصولی طور پر قابلِ قبول نہیں ہے۔ موصوف لکھتے ہیں کہ:
’’ہر رویے اور رشتے کو مفادات کے ترازو میں تولنے کی روش اور تاجرانہ وطیرہ ہماری سماجی زندگی اور اخلاقی اقدار میں فطری توازن کی نفی کر رہا ہے۔ یہی معاشرتی تقاضوں کا تضاد ہمارے اندر وہ تناؤ پیدا کرتا ہے جو ہمارے اذہان و قلوب کو بے چارگی، بے بسی، حسد اور محض دنیاوی آسائشوں تک رسائی کی تحریک دیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں عورت کا حسن و جمال، مرد کی مردانہ وجاہت، مردانگی کا وقار، بچوں کی معصوم مسکراہٹ اور کلکاریاں اور ممتا کے لازوال جذبوں کو اس نے اپنی پروڈکٹس کی تشہیر کے لیے اشتہارات کی زینت بنا دیا ہے۔ یہ سب کچھ ہم نے ترازو کے پلڑے میں بکنے کے لیے رکھ دیاہے۔ ہمارا صارف معاشرہ مکمل طور پر انسان کو بکنے اور خریدی جانے والی اشیا کی فہرست میں شامل دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی اس عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے اور اسی المیے کی اثر پذیری اور فعالیت پوری انسانیت کے لیے ایک سنگین خطرے کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ جس کا تدارک ہماری اپنی بقا کے لیے بہت ضروری ہے۔ مگر صوفیا کے نزدیک چونکہ انسان ہی مقصود بالذات ہے اس لیے وہ اس صارف کلچر صارف اپروچ اور عہدِ حاضر کی صارفی معیشت کے تقاضوں کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ یہ معیشت طبقات پیدا کرتی ہے طبقاتی تضادات کو تقویت دیتی ہے، اس لیے صوفی اس طبقاتی معیشت کی بھر پور نفی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے بعض صوفی شعرا کے کلام میں مادی جدلیت کی طرف جگہ جگہ واضح اشارے ملتے ہیں۔‘‘(صوفی ازم اور صارف معاشرہ: ص ۱۴۳، ۱۴۴)
سید شبیر صاحب کو صوفی کے فنا ہونے پر اعتراض تھا، لیکن ڈاکٹر محسن مگھیانہ اس فنائیت میں پناہ ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔ دونوں حضرات معروض پسند ہیں اور معروض پسندوں کی تعبیرات میں اصولاً یکسانیت ہونی چاہیے، جو یہاں نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ دنیا امید پر قائم ہے، ہم بھی امید رکھتے ہیں کہ اس ’’تلافی نامہ‘‘ میں جہاں جہاں مطلوبہ یکسانیت سے روگردانی کی گئی ہے اس کی تلافی کے لیے ایک اور تلافی نامہ بہت جلد منظرِ عام پر آئے گا۔ ڈاکٹر محسن کے الفاظ ملاحظہ کیجیے:
’’سارے جھگڑے ہی اپنی حاکمیت جتانے کے ہیں، دنیا پر قبضہ کرنے کے ہیں، چاہے وہ محلے، شہر، صوبے یا ملک کی حاکمیت ہویا پھر ساری دنیا کی۔ دنیا سے حب کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہم اس دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں اور اس کی فنا کا ہمیں یقین نہیں ہے۔ صوفی کو دنیا سے اس لیے رغبت نہیں رہتی کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور ہم سب نے فنا ہو کر بالآخر اسی ذات میں واپس جانا ہے جس کا ہم ایک ٹکڑا تھے اور جسے وقتی طور پر زمین پر بھیجا گیا تھا۔‘‘(کنزیومر ازم کے دور میں صوفی ازم کی اہمیت:ص۱۵۷)
ڈاکٹر محسن صاحب نے منصور حلاج کے ’’اناالحق‘‘ کی بابت ڈاکٹر نکلسن کے درج ذیل الفاظ نقل کر کے اپنے تئیں علمی وجاہت کا ثبوت فراہم کیا ہے:
’’حلاج کے انالحق کا مطلب یہ نہ تھا کہ میں خدا ہوں، بلکہ یہ تھا کہ میں حق یعنی سچ creative truth ہوں۔ یہ نظریہ ہمہ اوست pantheism کے سراسر خلاف ہے کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسان خدا کا مظہر ہے۔ یہ نظریہ حضرت عیسیٰؑ کے ان کلمات کے تقریباً مطابق ہے جس میں آپؑ نے فرمایا کہ جس نے مجھے دیکھا باپ (خدا) کو دیکھا۔ لیکن یہ نظریہ جسے حلول incarnation سے موسوم کیا جاتا ہے، اسلام میں جڑ نہ پکڑ سکا۔ اسے حلاج اور ان کے مریدوں نے ہی ختم کر دیا تھا۔ صوفیا کہتے ہیں کہ حلاج کو اس لیے شہید نہیں کیا گیا کہ وہ ’’حلولی‘‘ تھے بلکہ اس لیے کہ انہوں نے حق تعالیٰ کا راز فاش کر دیا۔‘‘(کنزیومر ازم کے دور میں صوفی ازم کی اہمیت:ص۱۵۴)
صاحبو! ہم کب پیچھے رہنے والے ہیں، علمی وجاہت نہ سہی، لاعلمی سہی، ثبوت تو ہم بھی فراہم کرنے سے نہیں چوکیں گے۔ واقعہ یہ ہے کہ حسین ابن منصور کے ہاتھ کاٹ ڈالے گئے، مگر وہ مسکراتے رہے اور ان کی ہر انگلی سے (دروغ بر گردنِ راوی) اناالحق کی صدا آتی رہی۔ انہیں دار پر کھینچا گیا تب بھی اناالحق پکارتے رہے۔ جلا دیا گیا تو راکھ کا ہر ذرہ اناالحق کی صدا بن گیا۔ تین دن بعد راکھ کو دریا برد کیا گیا تو وہاں بھی اناالحق کا آوازہ گونجتا رہا۔ دوستو! یہ سب اس لیے ہوا کہ حسین ابن منصور توحیدِ رسمی پر اکتفا کرنے کے بجائے توحیدِ حالی سے سرفراز ہوئے تھے، وگرنہ نجانے کتنے ارب انسانوں کی راکھ گنگا جمنا میں بہائی جا چکی ہے لیکن وہاں کبھی اناالحق کا آوازہ سنائی نہیں دیا۔ خیر! ڈاکٹر محسن مگھیانہ نے سلطان باہوؒ کے پنجابی کلام پر اپنی بات ختم کی ہے:
’’ اگر رب نہانے دھونے اور صاف ستھرے رہنے سے ملتا تو مینڈکوں اور مچھلیوں کو مل جاتا۔ اگر لمبے بال رکھنے سے مل جاتا تو بھیڑوں بکریوں کو مل جاتا۔ اگر رب کا دیدار رات بھر جاگنے اور پرندوں کی طرح کوکنے سے ملتا تو ان پرندوں کال کڑچھیوں کو مل جاتا جو ساری رات جاگتے اور شور مچاتے ہیں۔ اگر رب محض مجرد رہنے والوں کو ملنا ہوتا تو قوتِ تولید سے محروم بیلوں مل جاتا۔ لیکن اصل بات تو باہو یہی ہے کہ ان باتوں سے رب حاصل نہیں ہوتا بلکہ انہیں ملتا ہے جو دل کے اچھے اور من کے سچے ہوں جن کی نیت صاف ہو۔‘‘ (کنزیومر ازم کے دور میں صوفی ازم کی اہمیت:ص۱۵۸)
اکادمی ادبیات کے چےئر مین فخر زمان صاحب نے اختتامی کلمات میں خیر کے چند جملے ارشاد فرمائے ہیں۔ ہمارے لیے انہیں قارئین کے سامنے ’’تبرکاً‘‘ پیش کرنے کے علاوہ کوئی چارہ موجود نہیں:
’’ہر شخص کے اندر ایک صوفی ہوتا ہے، دیکھنا صرف یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر جو خیر ہے وہ کہیں شر کے ہاتھوں برباد تو نہیں ہو گیا۔ اس خیر کو بچانے، زندہ اور متحرک رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ......صوفی ازم بے عملی نہیں بلکہ شر کے مقابلے میں حرکتِ خیر کا نام ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ صوفیوں میں بے عملی بھی رہی ہو مگر میرا خیال ہے کہ حقیقت میں کوئی صوفی بے عمل نہیں رہا۔ اگر صوفی بے عمل ہوتے تو سرمد اور منصور کو قتل نہ کیا جاتا، انہوں نے اسٹیبلیشمنٹ کو پکارا اور للکارا، تبھی تو سزاوار ٹھہرے۔ اگر صوفی محض بے عمل ہوتے تو ملائیت بلھے شاہ کا جنازہ پڑھنے سے انکار نہ کرتی۔ ......ہمارے صوفیوں نے تو ہمیشہ بغاوت کی ہے اور بغاوت کے لیے ہر ایک کا طریقہ اپنا اپنا ہوتا ہے۔ کوئی حرفِ انکار سے بغاوت کرتا ہے، کوئی لفظوں کو ہتھیار بناتا ہے، کوئی عمل سے بغاوت کرتا ہے اور بندوق اٹھا لیتا ہے۔‘‘ (اختتامی کلمات:ص۱۶۵،۱۶۶)
اب ہم بھی اختتامی کلمات کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن آغاز کے مانند پھر ورطہ حیرت میں مبتلا ہیں کہ کوئی اشتراکی خواب بھی دیکھ سکتا ہے:
’’مثالی انسانی معاشرے کی تشکیل خوابوں کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ جب تک ہم اچھے خواب نہیں دیکھیں گے، اچھے اعمال ہم سے سرزد نہیں ہو پائیں گے۔‘‘(اختتامی کلمات:ص۱۶۸)
فخر صاحب نے شبیر صاحب جیسے اشتراکی بھائیوں کو ایک بڑی مشکل میں پھانس دیا ہے، وہ بھلا خواب کی مادی جدلیاتی توجیہ کیسے کر پائیں گے؟کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا!
توہین رسالت کے مرتکب کے لیے توبہ کا موقع ۔ حدیث اور فقہ کی روشنی میں
مفتی محمد عیسی گورمانی
(توہین رسالت کی سزا کے قانون کے حوالے سے علمی حلقوں میں جاری بحث ومباحثہ میں یہ پہلو خصوصی طور پر ارباب فکر ودانش کے درمیان زیر بحث ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کے لیے توبہ اورمعافی کی گنجائش ہے یا نہیں؟ ہمارے مخدوم ومحترم بزرگ حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی مدظلہ العالی نے اس پر اپنا موقف بیان فرمایا ہے جو ارباب علم ودانش کی خصوصی توجہ کا طلب گار ہے۔ اس پر کوئی دوست خالص علمی انداز میں اظہار خیال کا ارادہ رکھتے ہوں تو اس کے لیے ’الشریعہ‘ کے صفحات حاضر ہیں۔ ابو عمار زاہد الراشدی)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ وکفی وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفی۔ اما بعد!
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی اقوام سے واسطہ پڑا۔ مشرکین عرب، یہودی کینہ پرور، دیہاتی، ایسے لوگ جن کی فطرت اور خمیر میں فساد تھا، ان کے رگ وریشہ میں شر کا غلبہ تھا اور خیر کا پہلوناپید۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے پیغمبر سے حسب وعدہ ان کو ہلاک کر دیا۔ وہ بیماری میں مبتلا ہوئے جیسے ابو لہب، یا میدان جنگ میں مارے گئے جیسے ابو جہل، عتبہ، عتیبہ، شیبہ، امیہ، عقبہ بن ابی معیط وغیرہم۔ چند اپنی زندگی میں ناکامی، رسوائی اور مایوسی کے عالم میں طبعی موت مر گئے، جیسے رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی اور اس کا گروہ۔ یہود مدنی زندگی میں اسلام اور مسلمانوں کی روز افزوں ترقی دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس اور صحابہ کرام کے درپے ایذا تھے۔ اس کے لیے باقاعدہ خفیہ محافل قائم کرتے اور باندیوں کو حکم دیتے کہ آپ کی ہجو میں گانے گائیں تاکہ لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقار میں کمی آئے تو باذن خداوندی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کے ہاتھوں خفیہ طریقوں سے ان کا کام تمام کر دیا، جیسے کعب بن اشرف اور ابو رافع جن کا قصہ احادیث میں تفصیل سے مذکور ہے۔ صحابہ کرام نے اپنی جان پر کھیلتے ہوئے ان یہودی امرا کو ان کے بلند وبالا محفوظ قلعہ جات میں جا کر قتل کیا۔ اسی موقع کے لیے مولانا ظفر علی خان مرحوم نے کہا:
نماز اچھی، روزہ اچھا، حج اچھا، زکوٰۃ اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
بعض لوگ خاندانی روایات کے مطابق کبر ونخوت اور انانیت کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض رکھتے تھے اور خدا تعالیٰ کے ہاں ہدایت ان کے مقدر میں نہیں تھی۔ انھوں نے آخر وقت تک اسلام قبول نہیں کیا۔ خدا ورسول کے غیض وغضب کا نشانہ بن گئے اور قتل کیے گئے، جیسے ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا تھا کہ قتل کر دیا گیا۔
اس کے برعکس خدا تعالیٰ کے ہاں جن کی جان بخشی مقدر تھی، رحمت خداوندی نے ان کی یاوری کی، جیسے ابو سفیان اور ان کے رفقا اور وحشی بن حرب۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے ہاتھوں جنگ احد میں ستر صحابہ شہید ہوئے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت زخمی ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کے لوگوں کے حق میں بد دعا کرنے سے روک دیا:
لَیْْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْْءٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْْہِمْ أَوْ یُعَذَّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ (آل عمران ۱۲۸)
’’تیرا اختیار کچھ نہیں۔ یا ان پر رجوع کرے یا ان کو عذاب دے کہ وہ ناحق پر ہیں۔‘‘
اس آیت کی تفسیر میں شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی تحریر فرماتے ہیں:
’’احد میں ستر صحابہ شہید ہوئے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ مشرکین نے نہایت وحشیانہ طور پر شہداء کا مثلہ کیا (ناک کان وغیرہ کاٹے)، پیٹ چاک کیے۔ خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس لڑائی میں چشم زخم پہنچا۔ سامنے کے چار دانتوں میں سے نیچے کا دایاں دانت شہید ہوا، خود کی کڑیاں ٹوٹ کر رخسار مبارک میں گھس گئیں، پیشانی زخمی ہوئی اور بدن مبارک لہولہان تھا۔ اسی حالت میں آپ کا پاؤں لڑکھڑایا اور زمین پر گر کر بے ہوش ہو گئے۔ کفار نے مشہور کر دیا: ان محمدا قد قتل (محمد مارے گئے)۔ اس سے مجمع بد حواس ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آیا۔ اس وقت زبان مبارک سے نکلا کہ ’’وہ قوم کیوں کر فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کا چہرہ زخمی کیا جو ان کو خدا کی طرف بلاتا ہے۔‘‘ مشرکین کے وحشیانہ شدائد ومظالم کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رہا نہ گیا اور ان میں سے چند نامور اشخاص کے حق میں آپ نے بددعا کا ارادہ کیا یا شروع کر دی جس میں ظاہر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر طرح حق بجانب تھے، مگر حق تعالیٰ کو منظور تھا کہ آپ اپنے منصب جلیل کے موافق اس سے بھی بلند مقام پرکھڑے ہوں۔ وہ ظلم کرتے جائیں، آپ خاموش رہیں۔ جتنی بات کا آپ کو حکم ہے (مثلاً دعوت وتبلیغ اور جہاد وغیرہ)، اسے انجام دیتے رہیں۔ باقی ان کا انجام خدا کے حوالے کریں۔ اس کی جو حکمت ہوگی، وہ کرے گا۔ آپ کی بددعا سے وہ ہلاک کر دیے جائیں گے۔ کیا اس کی جگہ یہ بہتر نہیں کہ ان ہی دشمنوں کو اسلام کا محافظ اور آپ کا جاں نثار عاشق بنا دیا جائے؟ چنانچہ جن لوگوں کے حق میں آپ بد دعا کرتے تھے، چند روز کے بعد سب کو خدا تعالیٰ نے آپ کے قدموں پر لا ڈالا اور اسلام کا جاں باز سپاہی بنا دیا۔ غرض لَیْْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْْء میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو متنبہ فرمایا کہ بندہ کو اختیار نہیں، نہ اس کا علم محیط ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہے، سو کرے۔ اگرچہ کافر تمھارے دشمن ہیں اور ظلم پر ہیں، لیکن چاہے وہ ان کو ہدایت دے، چاہے عذاب کرے۔ تم اپنی طرف سے بددعا نہ کرو۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی شان کریمی دیکھیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کٹڑ دشمن، آپ اور آپ کے صحابہ کے خلاف سازشیں کرنے والے یہودی اور منافق جن کے ہاتھوں آپ بے حد تکالیف اٹھا چکے تھے، انھیں کہا گیا کہ اب بھی دروازے کھلے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوں، اللہ سے معافی مانگیں اور رسول اللہ بھی ان کے حق میں دعا کریں تو ان کے سب گناہوں کی تلافی ہو سکتی ہے۔ وہ اللہ کو بار بار معافی دینے والا مہربان پائیں گے:
وَلَوْ أَنَّہُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَہُمْ جَآؤُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّاباً رَّحِیْماً (النساء ۶۴)
’’اور اگر وہ لوگ جس وقت انھوں نے اپنا برا کیا تھا، آتے تیرے پاس، پھر اللہ سے معافی چاہتے اور رسول بھی ان کے لیے بخشش کی دعا کرتے تو البتہ اللہ کو پاتے مہربان معاف کرنے والا۔‘‘
یا رب تو کریمی ورسول تو کریم
صد شکر کہ ہستیم میان دو کریم
جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار کے لشکر جرار کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے تو ابوسفیان کو جان کے لالے پڑ گئے۔ حضرت عباس سے کہا، بچاؤ کی کیا تدبیر ہے؟ انھوں نے کہا، میرے پیچھے سواری پر بیٹھ جاؤ۔ حضرت عمر نے پہچان لیا۔ تلوار لے کر پیچھا کیا۔ حضرت عباس جلدی سے آنحضرت کی اقامت گاہ میں داخل ہو گئے۔ حضرت عمر نے کہا:
یا رسول اللہ صلی اللہ علیک ان اللہ امکنک من عدوک من غیر عقد ولا صلح ودعنی ان اقتلہ، قال عباس: مہلا فانی اجرتہ
’’یا رسول اللہ، اللہ نے بغیر عقد وصلح کے آپ کے دشمن پر قدرت دی ہے۔ مجھے اس کو قتل کرنے دیں۔ حضرت عباس نے کہا، چھوڑ دو۔ میں نے اسے پناہ دی ہے۔‘‘
حضرت عباس کی فہمائش پر ابو سفیان ایمان لائے۔ آنحضرت نے فرمایا: من دخل دار ابی سفیان فھو آمن۔ جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے، وہ امن والا ہے۔ ابو سفیان نے کہا: یا رسول اللہ، میرے گھر میں کتنے لوگ آ سکتے ہیں! اس پر آپ نے فرمایا:
من اغلق الباب علی نفسہ فہو آمن، ومن القی السلاح فہو آمن، ومن تعلق باستار الکعبۃ فہو آمن الا ابن خطل ویعیش بن صبابۃ وقینتین لابن خطل کانتا تغنیان بھجاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ثم جاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الی باب الکعبۃ وفیہا رؤساء قریش، فاخذ بعضادتی الباب وقال: ماذا ترون ان صانع بکم؟ فقالوا اخ کریم وابن اخ کریم ملکت فاسجح، فقال صلی اللہ علیہ وسلم: انی اقول لکم کما قال اخی یوسف لاخوتہ: لا تثریب علیکم الیوم، یغفر اللہ لکم، وہو ارحم الراحمین، انتم الطلقاء لکم اموالکم (المبسوط لشمس الائمۃ السرخسی، ج ۱۰ ص ۳۹، ۴۰ طبع دار المعرفۃ بیروت لبنان)
’’جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے، وہ امن والا ہے۔ جو ہتھیار پھینک دے، وہ امن والا ہے۔ جو کعبے کے پردوں سے لپٹ جائے، وہ امن والا ہے، سوائے ابن خطل اور یعیش بن صبابہ اور ابن خطل کی دو لونڈیوں کے جو آپ کی ہجو میں گانا گایا کرتی تھیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے دروازے کے سامنے تشریف لائے۔ اس میں قریش کے امرا موجود تھے۔ آپ نے بیت اللہ کی دونوں چوکھٹیں پکڑ کر کہا، تمھارا کیا خیال ہے، میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہوں؟ انھوں نے کہا، ہمارے مہربان بھائی اور مہربان بھائی کے بیٹے ہو۔ تیرا اختیار ہے، پس برتاؤ میں نرمی اختیار کر۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے وہ بات کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہی۔ آج کے دن تم پر کوئی گرفت نہیں۔ اللہ تمھیں بخش دے۔ وہ ارحم الراحمین ہے۔ تم آزاد ہو۔ تمہارے مال تمہارے ہی ہیں۔‘‘
کعب بن زہیر نامی شخص اہل نجد سے، خاندانی شاعر تھا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی تھی اور مسلمانوں کی عورتوں سے اپنا معاشقہ جتلاتا تھا۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ وہ روپوش ہو گیا۔ اسی حال میں مدینہ حاضر ہوا اور آپ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا اور کہا: کعب بن زہیر کے لیے معافی ہے؟ آپ نے اثبات میں جواب دیا تو کہا: میں کعب بن زہیر ہوں۔ اسلام قبول کیا۔ وقتی طور پر آپ کو غصہ آیا۔ آپ نے فرمایا: وقد قلت کذا وکذا؟ تم نے ایسے ایسے کہا ہے؟ اس نے اسی مجلس میں آپ کی اور آپ کے اصحاب کی مدح میں ایک طویل قصیدہ پڑھا جس میں ہے:
انبئت ان رسول اللہ اوعدنی
والعفو عند رسول اللہ مامول
لا تاخذنی بقول الوشاۃ ولم
اذنب وان کثرت فی الاقاویل
ان الرسول لنور یستضاء بہ
وصارم من سیوف اللہ مسلول
’’مجھے بتلایا گیا ہے کہ رسول اللہ نے مجھے دھمکی دی ہے۔ رسول اللہ کے ہاں معافی کی امید کی جا سکتی ہے۔ چغل خور لوگوں کی باتوں پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجیے۔ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا، اگرچہ میرے بارے میں بہت باتیں کہی گئیں۔ (ع یقین کس کس کا تم کرو گے، ہزار منہ ہیں ہزار باتیں)۔ اللہ کے رسول ایسا نور ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ آپ اللہ کی تلواروں میں سے ایک قاطع تلوار ہیں۔‘‘
امام سبکی الشافعیؒ نے السیف المسلول میں ذکر کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہبار بن اسود بن عبد المطلب کے قتل کا حکم دیا۔ وہ آپ کی خدمت میں آیا اور کلمہ شہادت پڑھا اور کہا کہ میں آپ کو ایذا اور گالی دینے پر حریص تھا۔ میں شرم سار ہوں، مجھ سے درگزر فرمائیے۔ حضرت زبیر کہتے ہیں، میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا تھا۔ آپ نے اس کی معذرت کے باعث سر جھکا لیا اور آپ فرما رہے تھے: قد عفوت عنک والاسلام یجب ما کان قبلہ۔ میں نے تمھیں معاف کیا اور اسلام پہلی غلطیوں کو ختم کر دیتا ہے۔ (تنبیہ الولاۃ، مجموعہ رسائل ابن عابدین ص ۳۴۶)
فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار آدمیوں کے قتل کا حکم دیا۔ ان میں ایک ابن ابی سرح تھا جو کاتب وحی تھا۔ پھر مرتد ہو کر مشرک ہو گیا اور قریش مکہ سے جا ملا۔ کہا کہ میں محمد کو جیسے چاہوں، پھیر لیتا ہوں۔ میں کہتا ہوں: عزیز حکیم یا علیم حکیم تو وہ کہتا ہے، نعم، کل صواب۔ ہر لفظ صحیح ہے۔ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا رضاعی بھائی تھا۔ وہ اسے بطور سفارش آپ کے سامنے لائے اور کہا یا رسول اللہ، عبد اللہ کو بیعت کر لیں۔ آپ نے تھوڑی دیر بعد اس کی طرف سر اٹھایا، ہر دفعہ انکار کیا۔ حضرت عثمان کی وجاہت وعظمت کے پیش نظر اوران کے اصرار اور سفارش پر تین مرتبہ انکار کے بعد آپ نے اسے بیعت کر لیا۔ آ پ اپنے اصحاب پرمتوجہ ہوئے اور کہا کہ تم میں کوئی ایسا سمجھ دار اور ہوشیار شخص نہ تھا کہ جب میں نے اپنا ہاتھ بیعت سے روک لیا تو وہ اسے قتل کر دیتا؟ عباد بن بشیرؓ نے کہا، یا رسول اللہ، ہمیں معلوم نہ تھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔ اشارے سے بتلا دیتے۔ فرمایا، پیغمبر کی یہ شان نہیں کہ اس کی آنکھوں میں خیانت ہو۔ (سنن ابی داود ج ۲ ص ۹)
یہ واقعہ قطعی دلیل ہے کہ سب وشتم کرنے والے کو توبہ کے بعد قتل نہیں کیا جا سکتا۔
ان چار میں سے دوسرے عکرمہ تھے جو فتح مکہ کے موقع پر بھاگ گئے۔ ان کی بیوی ام حکیم بنت حارث نے اسلام قبول کر لیا اور اپنے شوہر کو اسلام کی دعوت دی تو وہ اسلام کی طرف راغب ہو کر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ نے مرحبا بالراکب کہہ کر استقبال کیا۔
القصہ انھی لوگوں میں سے بعض نے براہ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر معافی مانگی، کہیں معافی مانگنے والے کی عاجزی اور الحاح وزاری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤف ورحیم ذات کو معاف کرنے پر مجبور کر دیا، کچھ لوگ سفارش لائے اور دیگر لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے امن کا پیغام ملا۔ ان لوگوں نے صدق دل سے اسلام قبول کر لیا اور قتل ہونے سے بچ گئے۔
ائمہ احناف اور جمہور علما کا موقف
جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے یا آپ کو گالی دے، اسے قتل کیا جائے۔ یہ مذہب امام مالک، امام لیث، امام احمد اور امام اسحاق کا ہے اور یہی مذہب امام شافعی کا ہے۔ تاہم ہمارے متقدمین ائمہ احناف نے ردۃ کے باب میں اپنی عام کتب میں اس بات کی تصریح کی ہے کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے اور پھر توبہ کر لے تو اس کی توبہ قتل کی سزا معاف کرنے کے حق میں قبول کی جائے گی۔
قال ابو یوسف ایما رجل سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او کذبہ او عابہ او تنقصہ فقد کفر باللہ تعالی وبانت منہ امراتہ فان تاب والا قتل وکذالک المراۃ الا ان ابا حنیفۃ قال لا تقتل المراۃ وتجبر علی الاسلام (تنبیہ الولاۃ، مجموعہ رسائل ابن عابدین ج ۱ ص ۳۲۴، مکتبہ عثمانیہ کوئٹہ)
’’امام ابو یوسف فرماتے ہیں: جو مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہے یا تکذیب کرے یا آپ پر عیب لگائے یا تنقیص کرے، اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا۔ اس کی عورت بھی اس سے جدا ہو گئی۔ اگر توبہ کرے تو فبہا، ورنہ اسے قتل کیا جائے گا۔ اسی طرح عورت کا حکم ہے۔ لیکن امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ اسے اسلام پر مجبور کیا جائے گا۔‘‘
الحاصل دین اسلام، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر سب وشتم کرنے والے غیر مسلم ذمی کو سزا دی جائے اور اگر علانیہ سب وشتم سے باز نہ آئے اور توبہ نہ کرے تو قتل کیا جائے۔ اسی طرح مرتد کی سزا، جبکہ وہ عاقل بالغ ہو، بالاجماع قتل ہے اور اس کی توبہ قابل قبول ہے۔ مرتد کو اسلام پر مجبور کیا جائے، اگر انکار کرے تو اس کی حد قتل ہے۔ نہ اسے امن دیا جائے گا، نہ اسے غلام بنایا جائے گا اور نہ ہی اس پر جزیہ عائد کیا جائے گا۔
اس سے معلوم ہوا کہ قتل کی علت محض کفر نہیں، بلکہ بالخصوص ردۃ ہی اس کی علت ہے۔ قتل ایک عقوبت خاصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خاص حق کے لیے واجب ہے اور بالخصوص ردۃ پر واجب ہوتی ہے، جس طرح شادی شدہ کے زنا پر رجم ہے۔ مرتد کا قتل کیا جانا حد ہے۔ حد لغت میں منع کو کہتے ہیں، جیسے چوکی دار کو حداد کہتے ہیں کیونکہ وہ گھر میں داخل ہونے سے مانع ہے۔ جیل کے داروغہ کو سجان کہتے ہیں، کیونکہ وہ جیل سے باہر جانے سے مانع ہے۔ عقوبات خاصہ کو حدود کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ یہ حدود معاصی کے دوبارہ ارتکاب سے رکاوٹ بنتی ہیں۔ حد ثابت ہو جانے کے بعد ساقط نہیں ہوتی اور نہ ہی اس میں سفارش چل سکتی ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید کو زجر فرمایا جب انھوں نے مخزومیہ عورت کی، جس نے چوری کی تھی، سفارش کی۔ فرمایا: اتشفع فی حد من حدود اللہ؟ کیا تو اللہ کی حدود میں سے کسی حد میں سفار ش کرتا ہے؟ فی الحقیقت حدود، ارتکاب معاصی سے پہلے مانع اور ارتکاب کے بعد زاجر ہیں یعنی معاصی کی طرف لوٹنے سے باز رکھتی ہیں۔ (تنبیہ الولاۃ مع الاختصار ص ۳۱۸)
توہین رسالت کی سزا فقہ حنفی کی روشنی میں
محمد مشتاق احمد
الحمد للہ ، و الصلاۃ و السلام علی رسول اللہ ، و علی آلہ و اصحابہ و من والاہ ۔
زیر نظر مسئلے پر بحث کے دوران یہ بات مسلسل مد نظر رہے کہ کسی شخص کو باقاعدہ عدالتی کاروائی کے بغیر محض سنی سنائی بات پر یا محض الزام کی بنیاد پر ’’گستاخ رسول ‘‘ نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ (۱) پس پہلا سوال یہ ہے کہ کسی شخص کو عدالت میں گستاخ رسول ثابت کرنے کے لیے ضابطہ اور معیار ثبوت کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہ متعین کیا جائے کہ توہین رسالت کے جرم کی نوعیت کیا ہے کیونکہ جرم کی نوعیت کے مختلف ہونے سے اس کے اثبات کا طریقہ بھی مختلف ہوجاتا ہے ؟ (۲)
’’توہین رسالت ‘‘کے جرم کی دو مختلف صورتیں
فقہاے احناف کا موقف یہ ہے کہ ملزم کے مسلمان یا غیر مسلم ہونے سے اس جرم کی نوعیت پر فرق پڑتا ہے ۔ اگر کسی مسلمان نے اس شنیع جرم کا ارتکاب کیا تو وہ مرتد ہوجاتاہے اور اس فعل پر ان تمام احکام کا اطلاق ہوگا جو ارتداد کی صورت میں لاگو ہوتے ہیں ، جبکہ غیر مسلم چونکہ مرتد نہیں ہوسکتا اس لیے اگر غیر مسلم اس فعل کاارتکاب کرے تو اس کے اثرات بھی مختلف ہوں گے ۔ (۳)
ارتداد کے قانونی اثرات
پہلے اس شخص کا معاملہ لیجیے جو پہلے مسلمان تھا لیکن توہین رسالت کے نتیجے میں مرتد ہوگیا ۔
۱ ۔ ارتداد کے احکام میں ایک اہم حکم یہ ہے کہ ارتداد کی سزا چونکہ حد ہے (۴) اس لیے اس کے اثبات کے لیے ایک مخصوص ضابطہ ہے ، جو آگے ذکر کیا جائے گا ۔ اس مخصوص ضابطے کے سوا کسی اور طریقے سے اس جرم کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
۲ ۔ حد کی سزا شبھۃ سے ساقط ہوتی ہے ۔ (۵) اب چونکہ حد ارتداد تکفیر کے بعد ہی نافذ کی جاسکتی ہے اس لیے کسی بھی ایسے قول یا فعل کی بنیاد پر یہ سزا نہیں دی جاسکتی جس کے کفر ہونے یا نہ ہونے میں اہل علم کا اختلاف ہو ۔ (۶) اسی طرح اگر کسی قول یا فعل کی ایک سے زائد تعبیرات ممکن ہوں اور ان میں کوئی تعبیر ایسی ہو جس کی رو سے اسے کفر نہ قرار دیا جاسکتا ہو تو اسی تعبیر کو اپنایا جائے گا ۔ (۷) چنانچہ ملزم سے پوچھا جائے گا کہ اس قول یا فعل سے اس کی مراد کیا تھی، الا یہ کہ وہ کفر بواح کا مرتکب ہوا ہو ۔ (۸) اگر ملزم کفر سے انکاری ہو تو اس کے انکار کو قبول کیا جائے گا خواہ اس کے خلاف گواہ موجود ہوں کیونکہ اس کے اس انکار کو رجوع اور توبہ سمجھا جائے گا ۔ (۹)
۳ ۔ اگر اقرار یا گواہی کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچے کہ ملزم کا متعلقہ قول یا فعل ارتداد کے زمرے میں آتا ہے تو عدالت اسے توبہ کے لیے تلقین کرے گی اور سوچ بچار کے لیے تین دن کی مہلت دے گی ۔ (۱۰) اگر وہ اس کے بعد بھی اپنے اس قول یا فعل سے رجوع کرکے اس سے مکمل براء ت کا اظہار نہ کرے تب عدالت اسے سزا سنائے گی اور یہ سزا ناقابل معافی ہوگی ۔ (۱۱) پوری امت کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس سزا کو نافذ کرے۔ (۱۲)
۴ ۔ چونکہ ارتداد کی سزا حد ہے اس لیے اس کا نفاذ افراد کاکام نہیں ، بلکہ حکومت کا کام ہے ۔ اس کی مزید وضاحت آگے آرہی ہے ۔
۵ ۔ کسی شخص کے مرتد ثابت ہوجانے کے بعد اس کی عائلی زندگی پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ مثلاً اس کی بیوی اس کے لیے حرام ہوجاتی ہے (۱۳) اور ارتداد کے بعد وہ جس مال کا مالک بنا ہو وہ اس کی موت کے بعد اس کے ورثا کو نہیں ملے گا ۔ (۱۴)
اگر ذمی توہین رسالت کا ارتکاب کرے
اگر ملزم غیر مسلم ہو تو اس فعل کو کفر میں اضافہ کہا جائے گا لیکن ظاہر ہے کہ اس کو ارتداد نہیں کہا جاسکتا ۔ (۱۵) چنانچہ فقہا اس مسئلے کو ارتداد کے بجائے نقض ذمہ کے عنوان کے تحت ذکر کرتے ہیں اور یہ متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ذمی کے اس فعل سے اس کا عقد ذمہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں۔
فقہاے احناف کا مسلک یہ ہے کہ ذمی کے اس فعل سے اس کا عقد ذمہ نہیں ٹوٹتا ۔ (۱۶) تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس فعل شنیع کے ارتکاب پر ذمی کو سزا نہیں دی جاسکے گی ۔ بہ الفاظ دیگر ان کا موقف یہ ہے کہ اس فعل سے ذمی کادار الاسلام میں سکونت کا حق ختم نہیں ہوجاتا لیکن چونکہ یہ فعل دار الاسلام کے ملکی قانون کے تحت جرم ہے اس لیے اسے سزا دی جاسکے گی ۔ اس قسم کی سزا کو فقہاے احناف سیاسۃ کہتے ہیں۔ (۱۷)
حد اور سیاسۃ میں فرق
حد اور سیاسۃ میں کئی فروق ہیں ۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں چند اہم فروق واضح کیے جائیں ۔
اسلامی قانون کی اصطلاح میں حد کی سزا کا تعلق حق اللہ سے ہے۔ (۱۸) حق اللہ قرار دینے کے کئی اہم نتائج ہیں :
۱ ۔ حد کی سزا قیاس و رائے سے نہیں بلکہ نص کے ذریعے مقرر کی گئی ہے جس میں کمی و بیشی کا اختیار ریاست کے پاس نہیں ہے ۔ (۱۹)
۲ ۔ حد کی سزا شبھۃ سے ساقط ہوجاتی ہے اور شبھۃ سے مراد صرف یہ نہیں کہ جرم کے ثبوت کے متعلق جج کے ذہن میں کوئی ابہام پایا جاتا ہے جس کا فائدہ (Benefit of the Doubt ) وہ ملزم کو دے دیتا ہے ، بلکہ یہ بھی ہے کہ اگر ملزم کے ذہن میں اس فعل کے قانونی جواز کے متعلق کوئی ابہام ، حقیقۃً یا فرضاً ، پایا جاتا تھا تو اس کی وجہ سے اسے حد کی سزا نہیں دی جاسکے گی ۔ (۲۰)
۳ ۔ حد کی سزا کے اثبات کے لیے صرف دو ہی طریقے ہیں ، کسی تیسرے طریقے سے اس جرم کو ثابت نہیں کیا جاسکتا : ایک مجرم کی جانب سے عدالت کے سامنے آزادانہ اقرار جرم اور دوسرا اس کے خلاف گواہی جو ایک مخصوص نصاب کے مطابق ہو ۔ (۲۱) وہ مخصوص نصاب یہ ہے کہ حد زنا کے ماسوا تمام حدود میں کم سے کم دو ایسے مسلمان عاقل بالغ مرد گواہی دیں جن کا کردار بے داغ ہو ۔ (۲۲) حد زنا کے اثبات کے لیے باقی شروط تو یہی ہیں لیکن گواہوں کی تعداد چار ہونی چاہیے ۔ (۲۳)
۴ ۔ حد کی سزا کی معافی کا اختیار نہ متاثرہ فرد کے پاس ہے اور نہ ہی حکومت یا ریاست کے پاس ۔ (۲۴)
سیاسۃ کی سزا کو اسلامی قانون کی اصطلاح میں حق الامام کہتے ہیں ۔ (۲۵) حق الامام قرار دینے کے اہم نتائج یہ ہیں :
۱ ۔ اس سزا کی کوئی کم یا زیادہ حد شریعت نے مقرر نہیں کی ہے بلکہ اس کی حد مقرر کرنے کا اختیار حکومت کو دیاہے اور حکومت اس کی بعض شنیع صورتوں میں سزاے موت بھی مقرر کرسکتی ہے ۔ (۲۶)
۲ ۔ یہ سزا فعل کے قانونی جواز کے متعلق ملزم کے ذہن میں پائے جانے والے ابہام کی بنا پر ساقط نہیں ہوسکتی ۔ (۲۷)
۳ ۔ اس جرم کے اثبات کے لیے کوئی مخصوص ضابطہ نہیں ہے بلکہ جس طرح کا ثبوت عدالت کو فعل کے وقوع کے بارے میں مطمئن کردے وہ قابل قبول ہے اور اس کی بنا پر مناسب سزا دی جاسکتی ہے ۔ (۲۸)
۴ ۔ اس سزا کی معافی کا اختیار حکومت کے پاس ہے ۔ (۲۹)
اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ گستاخ رسول کی سزا ایک صورت میں حد ہے اگر فعل کا مرتکب اس فعل کے ارتکاب سے پہلے مسلمان ہو ، اور دوسری صورت میں سیاسۃ اگر اس فعل کا مرتکب پہلے ہی سے غیر مسلم ہو ۔
اب آئیے توہین رسالت کے جرم کی ہر دو صورتوں کی سزا کے نفاذ کی طرف ۔
حدود کا نفاذ حکمران کا حق ہے
فقہا نے تصریح کی ہے کہ حدود کا استیفاء حکمران کا حق ہے ۔ اس لیے اصولی طور پر حدود کا نفاذ حکمران کے ماسوا کوئی اور شخص نہیں کرسکتا۔ (۳۰)
اسی اصول پر طے کیا گیا ہے کہ اگر ملک کا سب سے برتر حکمران حد کے جرم کا ارتکاب کرے تو اسے حد کی سزا نہیں دی جاسکے گی کیونکہ وہ خود اپنے اوپر حد کا نفاذ نہیں کرسکتا اور کسی اور کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ حد نافذ کرے ۔ (۳۱)
تاہم اگر عدالت میں ثابت ہوجائے کہ کسی شخص نے حد کے جرم کا ارتکاب کیا ہے اور اس کے بعد کوئی اور شخص اپنی جانب سے اس مجرم پر سزا کا نفاذ کرے تو اس صورت کو فقہا افتیات کے عنوان کے تحت ذکر کرتے ہیں ۔ افتیات سے مراد یہ ہے کہ اس شخص نے اپنی جانب سے حد کا نفاذ کرکے حکمران کا حق ضائع کردیا ہے اور اس طرح فساد کا مرتکب ہوا ہے۔ (۳۲)
اس کی تعبیر کے لیے آج کل ہم ’’ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ‘‘ کی ترکیب استعمال کرتے ہیں ۔
قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر حد کی سزا کا نفاذ
اگر کسی شخص نے قانون اپنے ہاتھ میں لے کر حد کے مجرم کو سزا دی تو فقہا یہاں دو صورتیں ذکر کرتے ہیں :
ایک یہ کہ اس نے حد کے بجائے کچھ اور سزا دی تو ظاہر ہے کہ وہ فساد کا مرتکب ہوا اور اس لیے مناسب سزا کا مستحق بھی ہے ؛ (۳۳)
دوسری صورت یہ ہے کہ اس نے حد کی مقررہ سزا ہی دی اور سزا کے نفاذ کی شروط کا لحاظ رکھا ، تب بھی افتیات کے مرتکب اس شخص کو حق الامام کی پامالی ، یا بہ الفاظ دیگر فساد کے ارتکاب ، پر حکمران مناسب سزا دے سکتا ہے ۔ (۳۴)
یہ سزا چونکہ حق الامام میں دی جائے گی اس لیے اس پر ان تمام احکام کا اطلاق ہوگا جو سیاسۃً دی جانے والی سزا کے لیے ہیں۔(۳۵)
واضح رہے کہ یہ حکم وہاں ہے جہاں پہلے سے ہی ثابت ہو کہ قانون ہاتھ میں لے کر جس شخص کو سزا دی گئی اس نے حد کے جرم کا ارتکاب کیا تھا ۔ اگر پہلے یا بعد میں اس کا جرم ثابت نہیں کیا جاسکا تو پھر قانون ہاتھ میں لینے والا یہ شخص اس عدوان کے لیے الگ سزا کا مستحق ہوگا جو اس نے اس شخص پر کیا تھا ۔ (۳۶)
گستاخ رسول کے معاملے میں چونکہ حد ارتداد کا اطلاق ہوتا ہے اس لیے مقررہ حد سزاے موت ہے ۔ پس اگر افتیات کے مرتکب شخص نے کسی شخص کو گستاخ رسول سمجھ کر قتل کردیا اور اس نے عدالت میں مقررہ ضابطے پر ثابت کردیا کہ مقتول واقعی گستاخ رسول تھا ، تو اس صورت میں اسے قصاصاً سزاے موت نہیں دی جاسکے گی کیونکہ مقتول مرتد ہونے کی وجہ سے مباح الدم تھا ۔ البتہ افتیات کے ارتکاب کی وجہ سے قاتل کو مناسب تادیبی سزا دی جاسکے گی ۔
اگر مقتول کو مقررہ ضابطے پر گستاخ رسول اور مرتد ثابت نہ کیا جاسکا تو قاتل کو مومن کے قتل عمد کا ذمہ دار ٹھہرا کر قصاصاً سزاے موت دی جائے گی ۔ نیز اسے فساد کے ارتکاب کی وجہ سے سیاسۃً کوئی اور مناسب سزا بھی دی جاسکے گی ۔
سیاسۃ کا نفاذ بھی حکمران کا حق ہے
سیاسۃ کی سزا چونکہ حق الامام میں دی جاتی ہے اس لیے اس کا استیفاء بھی حکمران ہی کا حق ہے ۔ (۳۷)
جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ، اگر توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والا پہلے ہی سے غیر مسلم تھا تو اسے دی جانے والی سزا حد ارتداد نہیں ، بلکہ سیاسۃ ہے ۔ یہ بھی مذکور ہوا کہ سیاسۃً دی جانے والی سزا کی کوئی مقررہ حد نہیں ہے بلکہ اسے حکمران اور عدالت کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے ، اس لیے ضروری نہیں کہ اس غیر مسلم کو سزاے موت ہی دی جائے ۔ باقی اصول وہی ہیں جو اوپر حد کے سلسلے میں ذکر ہوئے ۔
چنانچہ اگر کسی شخص نے کسی غیر مسلم کو گستاخ رسول قرار دیتے ہوئے قتل کردیا تو دیکھا جائے گا :
اگر مقتول کا جرم ثابت تھا اور اسے سزاے موت سنائی گئی تھی تو اس کے قاتل سے قصاص نہیں لیا جاسکے گا لیکن قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر اسے مناسب تادیبی سزا دی جاسکے گی ۔
اگر مقتول کا گستاخ رسول ہونا ثابت نہیں کیا جاسکا ، یا اسے سزاے موت کے بجائے کوئی اور سزا دی گئی تھی ، یا اس کی سزا میں تخفیف یا معافی کی گئی تھی ، اور اس کے باوجود اسے قتل کردیا گیا ، تو ان تمام صورتوں میں چونکہ وہ مباح الدم نہیں تھا اس لیے اس کے قاتل سے قصاص لیا جائے گا اور اسے سیاسۃً مزید سزا بھی دی جاسکے گی ۔
خلاصۂ بحث
آخر میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام مباحث کا خلاصہ چند نکات کی صورت میں پیش کیا جائے :
۱ ۔ کسی شخص کو اس وقت تک ’’گستاخ رسول ‘‘ قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک مقررہ شرعی ضابطے پر اس کا جرم ثابت نہ ہو ۔
۲ ۔ اگر گستاخ رسول اس جرم سے پہلے مسلمان تھا تو اس کے اس جرم پر ارتداد کے احکام کا اطلاق ہوگا اور اگر وہ پہلے ہی غیر مسلم تھا تو پھر اس فعل پر سیاسۃ کے احکام کا اطلاق ہوگا ۔
۳ ۔ حد ارتداد کو ملزم کے اقرار یا دو ایسے مسلمان مردوں کی گواہی ، جن کا کردار بے داغ ہو ، سے ہی ثابت کیا جاسکتا ہے ، جبکہ سیاسۃ کو عورتوں اور غیر مسلموں کی گواہی ، نیز قرائن اور واقعاتی شہادتوں سے بھی ثابت کیا جاسکتا ہے ۔
۴ ۔ پہلی صورت میں سزا بطور حد موت ہے لیکن سزا کے نفاذ سے پہلے عدالت مجرم کو توبہ کے لیے کہے گی اور اگر عدالت اس کی توبہ سے مطمئن ہو تو اس کی سزا ساقط کردے گی ۔ دوسری صورت میں کوئی مقررہ سزا نہیں ہے بلکہ جرم کی شدت و شناعت اور مجرم کے حالات کو دیکھتے ہوئے عدالت مناسب سزا سنائے گی ، جو بعض حالات میں سزاے موت بھی ہوسکتی ہے ۔ سیاسۃً دی جانے والی سزا کو حکومت معاف کرسکتی ہے اگر مجرم کا طرز عمل تخفیف کا متقاضی ہو ۔
۵ ۔ حد ارتداد حق اللہ ہے اور سیاسۃ کی سزا حق الامام ہے ، اور حنفی فقہا کے مسلمہ اصولوں کے مطابق حقوق اللہ اور حقوق الامام دونوں سے متعلق سزاؤں کا نفاذ حکومت کا کام ہے ۔
۶ ۔ اگر کسی شخص نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر ایسے شخص کو قتل کیا جو پہلے مسلمان تھا لیکن توہین رسالت کے نتیجے میں مرتد ہوگیا تھا اور اس کا جرم مقررہ ضابطے پر ثابت ہوا تھا ، تو قاتل کو قصاص کی سزا نہیں دی جائے گی لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر اس قاتل کو سیاسۃً مناسب سزا دی جاسکے گی ۔ اگر مقتول کا جرم مقررہ ضابطے پر ثابت نہیں ہوا تھا تو سیاسۃ کے علاوہ قاتل کو قصاص کی سزا بھی دی جائے گی ۔
۷ ۔ اگر مقتول پہلے سے ہی غیر مسلم تھا اور اس کے خلاف الزام ثابت نہیں ہوا تھا ، یا اسے عدالت کی جانب سے سزاے موت نہیں سنائی گئی تھی ، یا اس سزا میں تخفیف کی گئی تھی ، تو قاتل کو قصاص کی سزا بھی دی جائے گی اور سیاسۃً کوئی اور مناسب سزا بھی سزا بھی دی جاسکے گی ۔ اگر مقتول کا جرم بھی ثابت تھا اور اسے سزاے موت بھی سنائی گئی تھی ، تو قاتل کو قصاص کی سزا نہیں دی جائے گی لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر تادیب کے لیے اسے سیاسۃً مناسب سزا دی جاسکے گی ۔
ھذا ما عندی ، و العلم عند اللہ ۔ اللھم أرنا الحق حقاً و ارزقنا اتباعہ ، و أرنا الباطل باطلاً و ارزقنا اجتنابہ ۔
حواشی
۱ ۔ یہ اسلامی قانون کا مسلمہ ضابطہ ہے کہ جب تک باقاعدہ عدالتی کاروائی کے نتیجے میں کسی شخص کے خلاف دعوی ثابت نہ ہوجائے اسے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا کیونکہ الأصل براء ۃ الذمۃ ۔ ( شہاب الدین السید أحمد بن محمد الحموی ، غمز عیون البصائر شرح کتاب الأشباہ و النظائر ( بیروت ۔ دار الکتب العلمیۃ ، ۱۹۸۵ م ) ۔ ج ۱ ، ص ۲۰۳ ۔ در اصل یہ قاعدہ ایک اور بنیادی قاعدے الیقین لا یزول بالشک کا لازمی نتیجہ ہے ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے : مصدر سابق ۔ ص ۱۹۳ ۔ ۲۴۵ ۔
۲ ۔ جیسا کہ آگے ہم واضح کریں گے ، اسلامی قانون کی رو سے حدود ، قصاص ، تعزیر اور سیاسۃ میں سے ہر ایک کے اثبات کے لیے مختلف نصاب وضع کیا گیا ہے ۔ چنانچہ ان میں سے ہر جرم اقرار سے ثابت ہوتا ہے لیکن حد زنا میں اقرار کا طریقہ دیگر جرائم میں اقرار کے طریقے سے کسی قدر مختلف ہے ۔ پھر ان میں سے ہر جرم شہادت سے بھی ثابت کیا جاسکتا ہے لیکن شہادت کا نصاب مختلف جرائم کے لیے مختلف ہے ۔
۳ ۔ اس موضوع پر خاتمۃ المحققین علامہ محمد امین ابن عابدین الشامی کی معرکہ آرا تحقیق کے لیے ان کا رسالہ دیکھیے : تنبیہ الولاۃ و الحکام علی أحکام شاتم خیر الأنام أو أحد أصحابہ الکرام علیہ و علیہم الصلاۃ و السلام ۔ انھوں نے اس رسالے میں اس مسئلے کے ہر پہلو پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور متعدد متون ، شروح اور فتاوی کا تجزیہ کرکے یہی نتیجہ نکالا ہے۔ ( مجموعۃ رسائل ابن عابدین (دمشق : المطبعۃ الھاشمیۃ ، ۱۳۲۵ ھ ) ۔ ج ۱ ، ص ۳۱۳ ۔ ۳۷۰ ۔
۴ ۔ علامہ ابن عابدین نے ارتداد کی سزا کے حد ہونے پر بھی مدلل بحث کی ہے ۔ (مجموعۃ رسائل ابن عابدین ۔ ج ۱ ، ص۳۱۸ ۔ ۳۱۹)
۵ ۔ فقہا جب شبھۃ کے نتیجے میں حدود سزاؤں کے سقوط کی بحث کرتے ہیں تو اس سے وہ ’’شک کا فائدہ‘‘ (Benefit of the Doubt) مراد نہیں لیتے ، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ اس سے ان کی مراد فعل کے مرتکب کو امر قانونی یا امر واقعی کے سمجھنے میں لاحق ہونے والی خطا (Mistake of Law or of Fact ) ہوتی ہے ۔ ( تفصیل کے لیے دیکھیے : Imran Ahsan Khan Nyazee, General Principles of Criminal Law: Western and Isalmic (Islamabad: Advanced Legal Studies Institute, 1998), 142-43))
۶ ۔ علامہ علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی فرماتے ہیں :
لا یفتی بکفر مسلم أمکن حمل کلا مہ علی محمل حسن ، أوکان فی کفر ہ اختلا ف ، ولو روا ےۃ ضعیفۃ (رد المحتار علی الدر المختار (القاھرۃ : مصطفی البابی الحلبی ، تاریخ ندارد ) ۔ ج ۳ ، ص ۳۱۶ )
[مسلمان کے کفر کا فتوی نہیں دیا جائے گا اگر اس کے کلام کی بہتر تاویل ممکن ہو ، یا اس کے کفر میں اختلاف ہو ، خواہ اختلاف ضعیف روایت سے مروی ہو ۔ ]
علامہ خیر الدین الرملی نے وضاحت کی ہے کہ اگر کسی بات کے کفر ہونے کے متعلق ہمارے مسلک میں کوئی اختلافی روایت نہ ہو لیکن کسی دوسرے مسلک میں وہ کفر کی موجب نہ ہو تب بھی کفر کا فتوی نہیں دیا جائے گا ۔ اس کی تائید میں ابن عابدین تکفیر کے لیے اس مسلمہ شرط کا ذکر کرتے ہیں :
و یدل علی ذلک اشتراط کون ما یوجب الکفر مجمعاً علیہ ۔ ( ایضاً )
[اس کی دلیل یہ ہے کہ کسی بات کے موجب کفر ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ اس پر اجماع ہو۔]
۷ ۔ ملا علی القاری فرماتے ہیں :
المسئلۃ المتعلقۃ با لکفر اذا کان لھا تسع و تسعون احتمالاً للکفر ، وا حتمال واحد فی نفیہ ، فا لأولی للمفتی والقاضی أن یعمل بالاحتمال النافی ، لأن الخطاء فی ابقاء ألف کافر أھون من الخطا ء فی افناء مسلم واحد (شرح الفقہ الأکبر (کراچی : محمد سعید اینڈ سنز ، تاریخ ندارد ) ۔ ص ۱۹۵ )
[ کفر سے متعلق مسئلے میں اگر ننانوے احتمالات کفر کے ہوں اور ایک احتمال کفر کی نفی کا ہو تو مفتی اور قاضی کو چاہیے کہ کفر کی نفی کے احتمال پر عمل کرے کیونکہ ایک ہزار کافروں کے باقی چھوڑنے کی غلطی ایک مسلمان کے قتل کرنے کی غلطی کی بہ نسبت ہلکی غلطی ہے ۔ ]
۸ ۔ چنانچہ جن نصوص میں قرار دیا گیا ہے کہ کفر کی موجب کوئی بات کہنے والے شخص یہ عذر قبول نہیں کیا جائے گا کہ اسے اس بات کے کفر ہونے کا علم نہیں تھا ، بلکہ اسے تجدید ایمان کے لیے کہا جائے گا ، ان کا محل یہی ہے کہ جب بات بالکل صریح اور قطعی طور پر موجب کفر ہو ، اور اس کی بہتر تاویل ممکن نہ ہو ، تو اسے کفر ہی سمجھا جائے گا ۔ ( رد المحتار ۔ ج ۳ ، ص ۳۱۶ )
۹ ۔ کمال الدین محمد ابن الھمام الاسکندری نے صراحت کی ہے :
اذا شھدوا علی مسلم بالردۃ، وھو منکر، لا یتعرض لہ، لا لتکذیب شھود العدول، بل لأن انکارہ توبۃ ورجوع ( فتح القدیر علی الھدایۃ شرح بدایۃ المبتدی (القاھرۃ : دارالکتب العربیۃ ، ۱۹۷۰ء ) ۔ ج ۵، ص ۳۳۲ )
[اگر گواہ کسی مسلمان کے ارتداد کی گواہی دیں ، اور وہ اس سے انکاری ہو ، تو اس کے خلاف کاروائی نہیں کی جائے گی ، اس لیے نہیں کہ سچے گواہوں کو جھوٹا سمجھا جائے گا ، بلکہ اس لیے کہ ملزم کے انکار کو توبہ اور رجوع سمجھا جائے گا۔]
۱۰ ۔ ابن عابدین نے تفصیل سے احناف کا یہ موقف واضح کیا ہے کہ مسلمان توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو اس پر ارتداد کے احکام لاگو ہوتے ہیں جن میں ایک حکم یہ ہے کہ اسے توبہ کے لیے کہا جائے گا اور اگر اس نے توبہ کی تو وہ مقبول ہوگی ۔ (مجموعۃ رسائل ابن عابدین ۔ ج ۱ ، ص ۳۲۰ ۔ ۳۴۸ ) انھوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ توبہ کی قبولیت سے مراد یہ ہے کہ اسے دنیوی سزا نہیں دی جائے گی ، باقی رہی آخرت کی سزا تو وہ اللہ اور اس کا معاملہ ہے ۔
معنی قبول التوبۃ عندنا سقوط القتل عنہ فی الدنیا ، و نجاتہ من العذاب فی الآخرۃ ان طابق باطنہ ظاھرہ (ایضاً۔ ص ۳۲۴)
[توبہ کی قبولیت کا مطلب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ اس سے دنیا میں سزاے موت ساقط ہوجائے گی اور آخرت میں وہ نجات پائے گا ، اگر اس کاباطن اس کے ظاہر کے مطابق ہو ۔ ]
و أما الحکم الأخروی فانہ مبنی علی حسن العقیدۃ و صدق التوبۃ باطناً ، و ذلک مما یختص بعلمہ علام الغیوب جل و علا ۔ ( ایضاً )
[جہاں تک اخروی حکم کا تعلق ہے تو وہ باطنی طور پر صحیح عقیدے اور سچی توبہ پر منحصر ہے ، جس کا علم صرف خفیہ رازوں کے جاننے والے بزرگ و برتر ذات کے پاس ہے ۔ ]
۱۱ ۔ حق جس کا ہوتا ہے اسی کے پاس معافی کا اختیار بھی ہوتا ہے ۔ کسی کام کو حق اللہ قرار دینے کا قانونی نتیجہ یہ ہے کہ اس میں معافی کا اختیار اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہوتا ، حتی کہ معاشرہ یا حکمران بھی اسے معاف نہیں کرسکتا ۔ چنانچہ ملک العلماء علاؤ الدین ابو بکر بن مسعود الکاسانی یہ ثابت کرنے کے بعد کہ قذف یا تو خالصتاً حق اللہ ہے یااس میں حق اللہ غالب ہے ، قرار دیتے ہیں :
واذا ثبت أن حد القذف حق اللہ تعالی خالصاً أو المغلب فیہ حقہ فنقول : لا یصح العفو عنہ ، لأن العفو انما یکون من صاحب الحق ، و لا یصح الصلح و الاعتیاض ، لأن الاعتیاض عن حق الغیرلا یصح ، و لا یجری فیہ الارث ، لأن الارث انما یجری فی المتروک من ملک أو حق للمورث ۔۔۔ و لم یوجد شیء من ذلک فلا یورث ، و یجری فیہ التداخل ۔ (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع ، تحقیق علی المعوض و عادل أحمد عبد الموجود ( بیروت : دار الکتب العلمیۃ ، ۲۰۰۳ء )۔ ج ۹ ، ص ۲۵۰ )
[اور جب یہ ثابت ہوا کہ حد قذف اللہ تعالیٰ کا خالص حق ہے ، یا اس میں غالب حق اللہ کا ہے تو ہم کہتے ہیں ( کہ اس کے نتائج یہ ہیں) : کہ اس کا معاف کرنا صحیح نہیں ہے ، کیونکہ معافی صاحب حق کی طرف سے ہوتی ہے ۔ اسی طرح اس میں صلح یا عوض قبول کرنا بھی صحیح نہیں ، کیونکہ کسی اور کے حق کا عوض لینا (یا کسی اور کے حق پر صلح کرنا) صحیح نہیں ۔ اور اس میں وراثت جاری نہیں ہوتی، کیونکہ وراثت تو مورث کی چھوڑی ہوئی ملکیت یا حق میں جاری ہوتی ہے ...اور اس قسم کی کوئی چیز یہاں نہیں پائی جاتی ، اس لیے اس میں وراثت نہیں ہوتی ۔ اور اس میں تداخل جاری ہوتی ہے (یعنی ایک ہی نوعیت کے کئی جرائم کے ارتکاب پر ایک ہی سزا ملتی ہے ) ۔ ]
۱۲ ۔ انگریزی قانون میں حقوق کو بنیادی طور دو قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے : انفرادی حق (Private Right) اور اجتماعی حق (Public Right)۔اس تقسیم سے لاشعوری طور پر متاثر ہونے کے سبب سے کئی لوگوں نے قرار دیا کہ اسلامی قانون میں حق العبد سے مراد Private Right اور حق اللہ سے مراد Public Right ہے ۔ پھر جب انہوں نے دیکھا کہ بعض اوقات فقہا حق السلطان یا حق الامام کی بھی بات کرتے ہیں تو انہوں نے قرار دیا کہ حق الامام اور حق اللہ ایک دوسرے کے مترادف ہیں ۔ یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے جو دیگر کئی سنگین غلطیوں کا باعث بنی ہے ۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا، حق جس کا ہوتاہے، اسے جرم کی معافی کا بھی اختیار ہوتا ہے۔ اگر حقوق اللہ اور حقوق الامام ایک ہی ہوتے تو پھر جن جرائم کو حقوق اللہ سے متعلق سمجھا جاتاہے (حدود) ان میں ریاست کے پاس معافی کا اختیارہوتا۔
۱۳ ۔ امام ابوحنیفہ کے ممتاز شاگرد امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم نے تصریح کی ہے :
و أیما رجل مسلم سبّ رسول اللہ ﷺ، أو کذّبہ، أو عابہ ، أو تنقصہ ، فقد کفر باللہ تعالیٰ ، و بانت منہ امرأتہ ۔ فان تاب ، و الا قتل ۔ ( کتاب الخراج ( بیروت : دار المعرفۃ للطباعۃ و النشر ، ۱۹۷۹ م ) ۔ ص ۱۸۲ )
[جو مسلمان رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے ، یا ان کی تکذیب کرے ، یا ان کی عیب جوئی کرے ، یا ان کی شان میں تنقیص کرے ، تو اس نے اللہ تعالیٰ کے کفر کا ارتکاب کیا اور اس کی بیوی بائن ہوگئی ۔ پس اگر اس نے توبہ کی تو بہتر ، ورنہ اسے سزاے موت دی جائے گی ۔ ]
۱۴ ۔ برہان الدین ابو الحسن علی بن ابی بکر المرغینانی ، الھدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی ( بیروت : دار احیاء التراث العربی ، ۱۹۹۵ م ) ۔ ج ۱ ، ص ۴۰۷ ۔
۱۵ ۔ امام کاسانی فرماتے ہیں :
لو سبّ النبی ﷺ لا ینتقض عھدہ لأن ھذا زیادۃ کفر علی کفر ، و العقد یبقی مع أصل الکفر فیبقی مع الزیادۃ ۔ ( بدائع الصنائع ۔ ج ۹ ، ص ۴۴۷ ۔ ۴۴۸)
[ اگر ذمی نے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو اس کا عقد ذمہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ یہ کفر پر مزید کفر کا اضافہ ہے ، اور عقد جب اصل کفر کے ساتھ باقی تھا تو اضافے کے ساتھ بھی باقی رہے گا ۔ ]
۱۶ ۔ صاحب ہدایۃ کے الفاظ قابل غور ہیں ۔
ان سبّ النبی ﷺ کفر ، و الکفر المقارن لا یمنعہ ، فالطارئ لا یرفعہ ( الھدایۃ ۔ ج ۱ ، ص ۴۰۵ )
[رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کفر ہے ، اور جب عقدذمہ کے وقت موجود کفر اس عقد کے انعقاد سے مانع نہیں تھا تو عقد کے بعد طاری ہونے والا کفر اس عقد کو ختم بھی نہیں کرسکتا۔]
علامہ ابن الہمام نے حنفی مذہب کے اس موقف سے مختلف رائے اپنائی ہے ۔ وہ کہتے ہیں :
و الذی عندی أن سبّہ ﷺ أو نسبۃ ما لا ینبغی الی اللہ تعالیٰ ان کان مما لا یعتقدونہ کنسبۃ الولد الی اللہ تعالیٰ و تقدس عن ذلک اذا أظھرہ یقتل بہ ، و ینتقض عھدہ وان لم یظھر ولکن عثر علیہ وھو یکتمہ فلا ( فتح القدیر ۔ ج ۵ ، ص ۳۰۳)
[میری رائے یہ ہے کہ اگر وہ علانیہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی یا اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی بات کی نسبت کرے جو ان اعتقاد کا حصہ نہ ہو ، جیسے اللہ کی طرف بیٹے کی نسبت حالانکہ اس کی شان اس سے اونچی اور پاک ہے ، تو اسے قتل کیا جائے گا اور اس سے اس کا عہد ٹوٹ جائے گا ۔ اور اگر وہ اس کا اظہار نہ کرے بلکہ اسے ایسی حالت میں پکڑا گیا جب کہ وہ چوری چھپے یہ کررہا تھا تو نہیں ۔ ]
اس پر نقد کرتے ہوئے خیر الدین الرملی کہتے ہیں :
ان ما بحثہ فی النقض مسلّم مخالفتہ للمذھب ، و أما ما بحثہ فی القتل فلا ۔ ( علامہ محمد امین ابن عابدین الشامی، رد المحتار علی الدر المختار (القاھرۃ : مصطفی البابی الحلبی ، تاریخ ندارد ) ۔ ج ۳ ، ص ۳۰۵ )
[جو تحقیق اس نے عہد ٹوٹ جانے کے متعلق کی ہے اس کا مذہب حنفی کے خلاف ہونا مسلم ہے ، البتہ جو تحقیق اس نے سزاے موت کے متعلق کی ہے وہ مذہب حنفی کے خلاف نہیں ہے۔]
ابن عابدین نے ابن الہمام کے دفاع میں اس قول کی تاویل اس طرح کی ہے کہ اظھار سے مراد یہ ہے کہ وہ اسے عادت بنالے یا کھلے عام گستاخی کا ارتکاب کرکے متمرد اور مفسد بن جائے ۔ ( ایضاً ، ص ۳۰۶ ) تاہم اس تاویل کے باوجود ابن الہمام کا قول حنفی مذہب کے مطابق نہیں ہے کیونکہ بات اگر صرف قتل کے جواز تک ہوتی تو ٹھیک تھی لیکن وہ عقد ذمہ ٹوٹ جانے کے بھی قائل ہیں ۔ اسی وجہ سے الخیر الرملی کی بات صحیح ہے کہ عقد ذمہ ٹوٹنے کی بات درست نہیں ہے ، البتہ قتل کے جواز کی بات صحیح ہے ۔
۱۷ ۔ علامہ ابن عابدین شامی سیاسۃ اور تعزیر کے تصورات میں موازنہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :
قلت : و الظاھر أن السیاسۃ و التعزیر مترادفان ۔ و لذا عطفوا أحدھما علی الآخر لبیان التفسیر ، کما وقع فی الھدایۃ و الزیلعی و غیرھما ۔ بل و اقتصر فی الجوھرۃ علی تسمیتہ تعزیراً .... و قالوا ان التعزیر موکول الی رأی الامام ۔ فقد ظھر لک بھذا ان باب التعزیر ھو المتکفل لأحکام السیاسۃ ....وبہ علم أن فعل السیاسۃ یکون من القاضی أیضاً ، و التعبیر بالامام لیس للاحتراز عن القاضی ، بل لکونہ ھو الأصل و القاضی نائب عنہ فی تنفیذ الأحکام ۔ ( ایضاً )
[میری رائے یہ ہے کہ بظاہر سیاسۃ اور تعزیر مترادف ہیں ۔ اسی وجہ سے بیان تفسیر کے طرز پر ان کو ایک دوسرے پر عطف کیا جاتا ہے ، جیسے ہدایۃ ، زیلعی اور دوسری کتابوں میں ہوا ہے ۔ بلکہ الجوھرۃ میں تو اسے صرف تعزیر کہنے پر ہی اکتفا کیا گیا ہے ....اسی طرح کہا جاتا ہے کہ تعزیر امام کی رائے کے سپرد ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ باب تعزیر ہی سیاسۃ کے احکام پر متضمن ہے اور امام کا ذکر قاضی سے احتراز کے لئے نہیں کیا جاتا ، بلکہ اس وجہ سے کیا جاتا ہے کہ امام ہی قاضی کے اختیارات کی اصل ہے اور احکام کے نفاذ میں قاضی اس کا نائب ہے ۔ ]
ابن عابدین بہت بڑے فقیہ تھے اور انہیں بجا طور پر خاتمۃ المحققین کہا جاتا ہے مگر ہماری ناقص رائے میں سیاسۃ اور تعزیر کو مترادف قرار دینے میں ان سے تسامح ہوا ہے ۔ ان کی یہ بات اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کہ تعزیر اور سیاسۃ کے الفاظ توسعاً ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں ۔ تاہم اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ مترادف ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تعزیر حقوق العباد میں دی جاتی ہے اور سیاسۃ حقوق الامام میں ، اور امام چونکہ امت کا وکیل ہوتا ہے اس لیے حقوق الامام سے مراد دراصل امت کے اجتماعی حقوق ہیں ۔ پس تعزیر اور سیاسۃ دونوں در حقیقت حقوق العباد میں ہوتے ہیں ۔ اسی وجہ سے ان دونوں میں کوئی بھی سزا شبھۃ کی بنا ساقط نہیں ہوسکتی کیونکہ شبھۃ کی بنا پر صرف حقوق اللہ سے متعلق سزائیں ( حدود اور قصاص ) ساقط ہوتی ہیں۔ ان کی یہ بات بھی صحیح ہے کہ قاضی کے اختیارات کے لیے اصل امام ہے اس لیے اگر سیاسۃ کو امام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو اس سے لازم نہیں آتا کہ قاضی کے پاس سیاسۃ کا اختیار نہیں ہوتا ، بلکہ درحقیقت قاضی کا اختیار سیاسۃ کے قاعدے میں شامل ہوتا ہے ۔ تاہم اس سے بھی یہ لازم نہیں آتا کہ یہ دونوں مصطلحات مترادف ہیں ۔مخصوص اصطلاحی مفہوم میں ان دونوں کے درمیان کچھ اہم فروق پائے جاتے ہیں ۔
الف ۔ تعزیر چونکہ فرد کے حق سے متعلق ہوتی ہے اس لئے معافی ، صلح اور ابراء کا حق متاثرہ فرد ہی کے پاس ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس سیاسۃ کا تعلق چونکہ امام کے حق سے ہوتا ہے اس لئے دیگر حقوق بھی امام کے پاس ہوتے ہیں ۔ شمس الائمۃ أبو بکر محمد بن أبی سہل السرخسی نے تصریح کی ہے کہ حکمران کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ فرد کے حقوق کی معافی کرے ۔
لیس للامام ولایۃ اسقاط حقوق العباد ۔ ( المبسوط ، تحقیق محمد حسن اسماعیل الشافعی ( بیروت : دار الکتب العلمیۃ ، ۱۹۹۷ م ) ۔ ج ۱۰ ، ص ۱۳۹ )
[امام کے پاس بندوں کے حقوق ساقط کرنے کا اختیار نہیں ہے۔]
ب ۔ تنہا عورت کی گواہی یا واقعاتی شہادتوں اور قرائن کی بنیاد پر تعزیری سزا نہیں دی جاسکتی ۔ چنانچہ فقہا نے تصریح کی ہے کہ گواہوں کی تعداد کے لحاظ سے شہادت کے تین مراتب ہیں :
حد زنا کے اثبات کے لئے چار مرد گواہ چاہئیں ؛
باقی حدود اور قصاص کے اثبات کے لئے دو مرد گواہ درکا ر ہیں ؛ اور
تعزیر کے اثبات کے لئے وہی معیار ثبوت ہے جو مالی حقوق کے اثبات کے لئے ہے ، یعنی دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ۔ (المبسوط ۔ج ۱۶ ، ص ۱۳۴ ؛ الھدایۃ ۔ ج ۳ ، ص ۱۱۶۔۱۱۷ )
اسی لیے حقیقت یہ ہے کہ تعزیر کا دائرۂ کار حد سے کچھ وسیع ہونے کے باوجود درحقیقت نہایت محدود ہے۔ سیاسۃ کے اثبات کے لیے ایسی کوئی قید نہیں ہے ، بلکہ قاضی واقعاتی شہادتوں اور قرائن کی بنیاد پر بھی سزا سنا سکتا ہے ۔ مثال کے طور پر عہد رسالت میں ایک یہودی کا سر کچلنے کا حکم دیا گیا تھا کیونکہ اس نے ایک عورت کا سر بھاری پتھر سے کچل دیا تھا ۔ فقہاے احناف اس سزا کو سیاسۃ کہتے ہیں اور یہ سزا اقرار یا شہادت پر نہیں بلکہ قرائن اور واقعاتی شہادتوں کی بنیاد پر دی گئی تھی ۔ ( المبسوط ۔ ج ۲۶ ، ص ۱۲۶ )
ج۔ تعزیر اگر ایسے جرم میں دی جارہی ہے جس کی جنس میں حد کی سزا مشروع ہو مگر وہ شبھۃ کی بنا پر یا کسی شرط کے فقدان کی وجہ سے نہ دی جاسکتی ہو تو تعزیر کی مقدار حد سے کم ہوگی ۔ چونکہ حدود میں کم سے کم سزا غلام کے لیے شرب خمر، چالیس کوڑے، کی ہے ، اس لیے امام ابو حنیفہ کا کہنا ہے کہ تعزیر کی زیادہ سے زیادہ مقدار انتالیس کوڑے ہے ۔ ( بدائع الصنائع ۔ ج ۹ ، ص ۲۷۱) ایسی کوئی قید اس سزا کے لئے نہیں ہے جو سیاسۃً دی جائے ۔ چنانچہ سیاسۃً سزاے موت بھی دی جاسکتی ہے ، بلکہ اس سزاے موت کے لئے کوئی عبرتناک طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے جیسا کہ اوپر یہودی کی سزا کا ذکر ہوا ۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے : محمد مشتاق احمد ، ’’ آبرو ریزی کے جرم کی شرعی تکییف ‘‘ ، معارف اسلامی ، ج ۹ ، نمبر ۱ (جنوری ۔ جون ۲۰۱۰ ء ) ۔ ص ۷۳ ۔ ۸۰۔
۱۸ ۔ امام کاسانی نے حد کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :
عقوبۃ مقدرۃ واجبۃ حقاً للہ تعالیٰ ۔ ( ایضاً ۔ ص ۱۷۷)
[ ایسی مقررہ سزا جس کا نفاذ بطور حق اللہ واجب ہے ۔ ]
۱۹ ۔ امام سرخسی فرماتے ہیں :
الحد بالقیاس لا یثبت ۔ ( المبسوط ۔ ج ۹ ، ص ۱۱۰ )
[حد قیاس کے ذریعے ثابت نہیں ہوتی ۔ ]
۲۰ ۔ Nyazee, General Principles of Criminal Law, 142-43.
۲۱ ۔ امام کاسانی فرماتے ہیں :
الحدود کلھا تظھر بالبینۃ و الاقرار ، لکن عند استجماع شرائطھا ۔ ( ج ۹ ، ص ۲۲۹ )
[ تمام حدود بینہ اور اقرار سے ثابت ہوتے ہیں لیکن اسی وقت جب اس کی تمام شرائط پوری ہوں ۔ ]
آگے وہ واضح کرتے ہیں کہ بینۃ سے مراد شہادت ہے اور یہ کہ حدود میں شہادۃ علی الشہادۃ ، کتاب القاضی اور علم القاضی وغیرہ قابل قبول نہیں ہیں ۔
۲۲ ۔ نیز اگر ملزم مسلمان ہو تو گواہ کا مسلمان ہونا بھی ضروری ہے ۔ ( بدائع الصنائع ۔ ج ۹ ، ص ۵۶ ) عورت یا غیر مسلم کی گواہی پر حد کی سزا نہیں دی جاسکتی ۔ یہ خواتین یا غیر مسلموں کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ ملزم کے ساتھ تخفیف ہے ۔
۲۳ ۔ المبسوط ۔ج ۱۶ ، ص ۱۳۴ ؛ الھدایۃ ۔ ج ۳ ، ص ۱۱۶۔۱۱۷ ۔
۲۴ ۔ اوپر ہم نے امام کاسانی کے حوالے سے حدود کی صفات ذکر کی ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ حد چونکہ حق اللہ ہے اس لیے اس میں معافی کا اختیار نہ متاثرہ فرد کے پاس ہے ، نہ ہی حکمران کے پاس ۔ (بدائع الصنائع ۔ ج ۹ ، ص۲۵۰ )
۲۵ ۔ المبسوط ۔ ج ۹ ، ص ۹۱ ۔
۲۶ ۔ چنانچہ مثال کے طور پر عادی چور ، داعی زندیق ، جادوگر ، ہم جنس پرستی کے عادی شخص اور دیگر مفسدین کی سزاے موت کو فقہاے احناف سیاسۃ ہی کہتے ہیں ۔ ( المبسوط ۔ ج ۹ ، ص ۹۰ ۔ ۹۱ ؛ الھدایۃ ۔ ج ۲، ص ۳۴۶۔۳۴۷ ؛ رد المحتار ج ۳ ، ص ۱۶۲ )
۲۷ ۔ سیاسۃ چونکہ حق اللہ نہیں ہے اور نیز تعزیر کے وسیع مفہوم میں داخل ہے ، اس لیے تعزیر کی طرح یہ بھی شبھۃ یعنی فعل کے قانونی جواز کے متعلق ملزم کے ذہن میں پائے جانے والے ابہام کی بنا پر ساقط نہیں ہوگی ۔
۲۸ ۔ چنانچہ سیاسۃ کی سزا تنہا خواتین کی گواہی ، غیر مسلموں کی گواہی ، شہادۃ علی الشہادۃ ، کتاب القاضی بلکہ واقعاتی شہادتوں اور قرائن کی بنیاد پر بھی دی جاسکتی ہے ۔
۲۹ ۔ چونکہ معافی کا اختیار صاحب حق کے پاس ہوتا ہے اور سیاسۃ کی سزا حق الامام میں دی جاتی ہے اس لیے حکمران کے پاس معافی کا اختیار ہوتا ہے ۔
۳۰ ۔ امام سرخسی نے تصریح کی ہے : استیفاء الحد الی الامام ۔ ( المبسوط ۔ ج ۹ ، ص ۱۲۱)
[حد کا استیفا امام کا کام ہے ۔ ]
۳۱ ۔ البتہ حق العبد سے تعلق رکھنے والے امور (مثلاً اموال و تعزیر ) میں حکمران پر عدالتی فیصلہ نافذ کیا جائے گا ۔ یہی حکم قصاص کا بھی ہے کیونکہ اس میں بھی حق العبد غالب ہے ۔ (المبسوط ۔ ج ۹ ، ص ۱۲۱)
۳۲ ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے : افتیات کے عنوان سے مقالہ : الموسوعۃ الفقھیۃ ( الکویت : وزارۃ الأوقاف و الشؤن الاسلامیۃ ، ۱۹۸۶ء ) ۔ ج ۵ ، ص ۲۸۰ ۔ ۲۸۱ ۔
۳۳ ۔ رد المحتار ۔ ج ۳ ، ص ۱۷۶ ۔
۳۴ ۔ ایضاً۔ فقہاے احناف کا مسلمہ اصول ہے کہ کسی شخص کا فعل اگر فی نفسہ شرعاً جائز بھی ہو لیکن اس سے حکمران کے حق کا افتیات ہوتا ہو تو حکمران اسے مناسب تادیبی سزا سنا سکتا ہے ۔ مثال کے طور پر فقہاے احناف کا موقف یہ ہے کہ غیر مسلم مقاتل کو جب قیدکیا جائے تو جیسے اسے میدان جنگ میں قتل کیا جاسکتا تھا ایسے ہی اسے قید کیے جانے کے بعد بھی قتل کیا جاسکتا ہے ( أبو بکر محمد بن أبی سہل السرخسی ، شرح کتاب السیر الکبیر ، تحقیق محمد حسن اسماعیل الشافعی ( بیروت : دار الکتب العلمیۃ ، ۱۹۹۷ م ) ۔ ج ۳ ، ص ۱۲۴) کیونکہ وہ مرتد کی طرح مباح الدم ہوتا ہے ( ایضاً ۔ ص۱۲۶ ) لیکن انھوں نے یہ بھی صراحت کی ہے کہ کوئی شخص اسے حکمران کی اجازت کے بغیر قتل نہیں کرے گا ۔ ( ایضاً ۔ ج ۲ ، ص ۱۹۷ ) پھر اگر کسی نے اسے حکمران کی اجازت کے بغیر قتل کیا تو اسے حکمران مناسب تادیبی سزا دے سکتا ہے کیونکہ وہ افتیات کا مرتکب ہوا ۔ (ایضاً ۔ ج ۳ ، ص ۱۲۶)
۳۵ ۔ چنانچہ مثال کے طور پر اس سزا میں کمی بیشی اور معافی کا اختیار حکمران کے پاس ہے ۔
۳۶ ۔ رد المحتار ۔ ج ۳ ، ص ۱۷۵ ۔ ظاہر ہے کہ جسے حد کی سزا دی گئی اس کا جرم ثابت نہیں ہوا تو وہ معصوم اور بری تھا ۔ اس لیے اس کے خلاف کیا جانے والا اقدام عدوان ہی ہے خواہ اسے حد کا نام دیا گیا ہو ۔ چنانچہ عدوان کی ماہیت کو دیکھتے ہوئے اس پر قصاص ، دیت ، ارش یا حکومۃ عدل ( جسے مجموعۂ تعزیرات پاکستان میں ’’ضمان ‘‘ کہا گیا ہے ) کے احکام کا اطلاق ہوگا ۔
۳۷ ۔ اس کی وجہ واضح ہے ۔ یہ سزا حق الامام میں دی جاتی ہے ۔ اس لیے حکمران ہی کے پاس استیفاء کا حق ہے ۔ اس کے برعکس تعزیر چونکہ حق العبد میں دی جاتی ہے اس لیے بنیادی طور پر اس میں استیفاء کا حق متاثرہ فرد یا اس کے قانونی وارث کے پاس ہوتا ہے اور حکمران کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اس متاثرہ شخص کے حق کے استیفاء میں اس کی مدد کرے اور اسے اپنے حق سے تجاوز نہ کرنے دے ۔ ( بدائع الصنائع ۔ ج ۹ ، ص ۲۵۳ ) یہی حکم قصاص کا بھی ہے کیونکہ اس میں بھی حق العبد غالب ہوتا ہے ۔ ( ایضاً ۔ ج ۱۰ ، ص ۲۷۳ ۔ ۲۷۸ )
قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت (۱)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
گزشتہ ایک ماہ کے دوران مجھے کراچی، بہاول پور، لاہور، راولپنڈی، خانیوال، کبیروالا، سرگودھا، نوشہرہ، پشاور اور دیگر شہروں میں مختلف دینی اجتماعات میں شرکت اور احباب سے ملاقاتوں کا موقع ملا اور اکثر اوقات میں دوستوں کے اس سوال کا سامنا کرنا پڑا کہ تحریک تحفظ ناموس رسالت کی مرکزی قیادت میں اہل تشیع کی شمولیت کے بارے میں آپ کا موقف اور رائے کیا ہے؟ میں نے گزارش کی کہ پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت میں بھی تحریک تحفظ ناموس رسالت کی مرکزی کونسل کا حصہ ہوں اور اس حوالے سے میرا موقف وہی ہے جو ملک کے اکابر علماء کرام کا قیام پاکستان کے بعد سے مسلسل چلا آرہا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد جب یہ سوال اٹھاکہ پاکستان میں نفاذِ اسلام کس فرقے کے مسلک اور فقہ کے مطابق ہوگا اور اس سلسلہ میں فکری، کلامی اور فقہی اختلافات کو کیسے کنٹرول کیا جائے گا؟ اس سوال کے جواب کے لیے علامہ سیدسلیمان ندوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی سربراہی میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے متفقہ ۲۳ نکات پیش کرکے اس سوال اور اعتراض کا منہ بند کردیا اور بتایا کہ تمام تر اعتقادی اور فقہی اختلافات کے باوجود پاکستان میں آباد تمام مذہبی مکاتب فکر دستوری بنیاد اور قانونی نظام پر متفق ہیں اور ایک متفقہ دستوری ڈھانچہ انہوں نے پیش کردیا جس میں دیگر مکاتب فکر کے ساتھ اہل تشیع کے ذمہ دار علماء کرام بھی شریک تھے۔
۱۹۵۲ء میں تحریک ختم نبوت کے لیے تمام مکاتب فکر کو پھر سے جمع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور آل پارٹیز ایکشن کمیٹی قائم کی گئی تو اس میں بھی اہل تشیع کی نمایندگی موجود تھی جبکہ مولانا ابوالحسنات قادریؒ اور امیرشریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاریؒ تحریک کی قیادت کررہے تھے۔
۱۹۷۴ء میں محدث العصر حضرت علامہ سیدمحمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت تشکیل پائی اور اس کی جدوجہد سے قادیانیت کو پارلیمنٹ کو غیرمسلم اقلیت کا درجہ دلوایا تو اس کی قیادت میں بھی اہل تشیع موجود تھے۔
۱۹۷۷ء میں ملک میں نفاذاسلام کے لیے تحریک نظام مصطفی کی جدوجہد حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی سربراہی میں میدان میں آئی اس کی قیادت میں بھی شیعہ راہ نما موجود تھے۔
۱۹۹۸ء میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد نوراللہ مرقدہ کی سربراہی میں ایک بار پھر کل جماعتی مجلس عمل کا احیاء عمل میں لایا گیا تو اہل تشیع اس کی قیادت میں موجود تھی، بلکہ نائب صدر کے منصب پر ایک شیعہ راہ نما فائز تھے۔
اب جبکہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی میزبانی اور امیر مجلس حضرت مولانا عبدالمجیدلدھیانوی دامت برکاتہم کی رہ نمائی میں تحریک تحفظ ناموس رسالت وجود میں آئی ہے تو ماضی کے اسی تسلسل میں شیعہ رہنماؤں کو اس کی ہائی کمان میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل متحدہ مجلس عمل میں بھی اہل تشیع کے دیگر مکاتب فکر کے ساتھ قیادت کا حصہ رہ چکے ہیں، اس طرح دینی تحریکات کے حوالے سے قیام پاکستان کے بعد سے اب تک جو روایت اور تسلسل چلا آرہا ہے، وہ بدستور قائم ہے اور یہ دراصل سیکولر حلقوں کے اس اعتراض یا الزام کا عملی جواب ہے کہ پاکستان کے اسلامی تشخص، ملک میں اسلام اور شریعت کی حکمرانی کے بارے میں ملک کے مذہبی مکاتب فکر پوری طرح متفق اور پاکستان میں نفاذ اسلام فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں بلکہ متفقہ قومی مسئلہ ہے۔
ایک موقع پر بعض دوستوں نے یہ سوال کیا ہے کہ ہمارے والدمحترم امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدرؒ کا موقف اور طرزعمل کیا تھا؟ خصوصاً اس پس منظر میں کہ انہوں نے اثناء عشری اہل تشیع کی تکفیر پر’ ’ارشاد الشیعہ‘‘ کے نام سے کتاب بھی لکھی ہے، میں نے گزارش کی کہ انہوں نے ’’ارشادالشیعہ‘‘ تصنیف فرمائی اور اس میں انہوں نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ صرف ان کا موقف نہیں بلکہ یہ تو اہل سنت کا موقف ہے اور خود ہمارا موقف بھی اثنا عشری اہل تشیع کی حد تک یہی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ان تمام تحریکات کا حصہ رہے ہیں جن کا میں نے تذکرہ کیا ہے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدرؒ اور عم محترم حضرت مولانا صوفی عبدالحمیدسواتیؒ اور دیگر بزرگ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں شریک ہوئے ہیں، جلوسوں کی قیادت کی، مشترکہ اجتماعات میں شرکت کرتے رہے ہیں اور دونوں گرفتار بھی ہوئے ہیں۔حضرت والدصاحبؒ کم وبیش دس ماہ، حضرت صوفی صاحبؒ نے تقریباً چھ ماہ اس تحریک میں جیل کاٹی ہے۔ ۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں دونوں حضرات سرگرمی کے ساتھ شریک ہوتے رہے، مشترکہ اجتماعات میں خطاب کرتے رہے ہیں اور جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حضرت مولانا سیدمحمد یوسف بنوریؒ کی صدارت میں منعقد ہونے والا وہ تاریخی جلسہ تحریکی تاریخ کا حصہ ہے جس میں دوسرے مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام کے علاوہ شیعہ راہ نماؤں نے بھی خطاب کیا تھا بلکہ یہ واقعہ بھی تاریخی اہمیت کا حاصل ہے کہ جلسہ کے بعد جب پولیس نے علامہ علی غضنفر کراروی کو جلسہ گاہ سے نکلتے ہی گرفتار کرلیا تو آغاشورش کاشمیری نے نہ صرف اپنے خطاب کے دوران شدید احتجاج کیا بلکہ پولیس چوکی کالوگوں کے ہجوم کے ساتھ محاصرہ کرلیا اور کراروی صاحب کو رہا کرکے وہاں سے واپس ہوئے۔
۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی میں گوجرانوالہ میں حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی نے مشترکہ عوامی جلوس کی قیادت کی اور گکھڑ میں حضرت والد محترم جلوسوں کی قیادت کرتے رہے اور ان کا یہ تاریخی واقعہ بھی اسی تحریک کا ہے کہ فیڈرل فورس کے کمانڈر نے اس کو روکنے کے لیے اس کے راستے میں لکیر کھینچ کر اعلان کیا کہ جو شخص اس لائن کو عبور کرے گا، اسے گولی مار دی جائے گی، یہ سن کر حضرت والدمحترمؒ نے اپنے رفقاء استاذ محترم حضرت مولانا محمد انور صاحب مدظلہ اور حاجی سیدڈار صاحب مرحوم کے ہمراہ یہ کہہ کر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے لائن کراس کی کہ ’’مسنون عمر پوری کرچکا ہوں اور اب شہادت کی تمنا رکھتا ہوں۔‘‘ ان کا یہ جذبہ دیکھ کر فیڈرل سیکورٹی فورس کی رائفلیں سرنگوں ہوگئیں اور جلوس پوری شان وشوکت کے ساتھ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔ اپنی زندگی کے آخری دس سال وہ بستر علالت پر رہے، لیکن اس دوران متحدہ مجلس عمل تشکیل پائی تو انہوں نے دونوں الیکشنوں میں متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں کی حمایت کی اور لوگوں کو ان کا ساتھ دینے کی تلقین فرمائی۔ بعض حضرات نے اس سلسلہ میں تحفظات کا بھی ان کے سامنے اظہار کیا، مگر ان کا موقف وہی رہا۔
میں نے دوستوں سے عرض کیا کہ کسی کو مسلمان، منافق یا کافر قرار دینے کا مسئلہ اپنی جگہ پر ایک دینی ضرورت ہوتی ہے، لیکن قومی ضروریات اور معاشرتی روابط ومعاملات کا ایک مستقل دائرہ ہوتا ہے اور ہمارے بزرگوں نے اپنی اپنی جگہ ان دونوں کا لحاظ رکھا ہے۔ حضرت والدمحترمؒ اور حضرت صوفی صاحبؒ کا زندگی بھر یہ معمول رہا ہے کہ وہ بہت سے معاملات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے تھے اور رائے بھی دیتے تھے، لیکن جب کوئی اجتماعی فیصلہ ہوجاتا تھا تو اسے نہ صرف قبول کرلیتے تھے بلکہ اس کا بھرپور ساتھ دیتے تھے۔ خود میرا معمول بھی بحمداﷲ تعالیٰ یہی ہے کہ بعض معاملات پر اپنی مستقل رائے رکھتا ہوں، اس کا اظہار بھی کرتا ہوں اور کوئی مناسب موقع ہوتو اس پر بحث ومباحثہ سے بھی گریز نہیں کرتا، لیکن عملاً وہی کرتا ہوں جو اجتماعی فیصلہ ہوتا ہے اور جمہور اہل علم کا موقف ہوتا ہے، رائے کے حق سے میں کبھی دست بردار نہیں ہوا، لیکن اپنی رائے کو حتمی قرار دے کر جمہور اہل علم کے موقف کے سامنے اڑنے سے ہمیشہ گریز کیا ہے اور اسے کبھی حق اور صواب کا راستہ نہیں سمجھا۔
میری طالب علمانہ رائے میں اسلام، کفر اور نفاق کی بحث کے باوجود معاشرتی معاملات اور اجتماعی روایات کو الگ دائرے میں رکھنا چاہیے اور اس سلسلہ میں دورنبویؐ میں ہمارے لیے مثال موجود ہے۔ عبداللہ بن أبی اور اس کے منافق ساتھیوں کو جن کی تعداد غزوۂ احد کے موقع پر تین سو کے لگ بھگ بیان کی جاتی تھی، قرآن کریم کی نص قطعی میں ’’کافر‘‘ قرار دیا گیا ہے اور یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ’’وماہم بمؤمنین‘‘ ،وہ مسلمان نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عبادات میں شریک ہوتے رہے ہیں، غزوات میں اپنی تمام تر غلط حرکات کے باوجود شامل ہوتے رہے ہیں۔ ان کے بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ انہیں قتل نہ کردیا جائے؟ تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے جواب دیا کہ ’’نہیں! اس سے یہ تاثر پھیلے گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کردیتے ہیں‘‘، اس لیے کہ دنیا کو وہ مسلمانوں کا حصہ ہی نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ منافقین نے ایک موقع پر الگ مسجد بناکر خود کو عمومی معاشرے سے الگ کرنا چاہا تو قرآن کریم نے اسے ’’مسجدضرار‘‘ قرار دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کووہاں جانے سے منع کردیا۔ وہ مسجد گرادی گئی اور مصلحت اسی میں سمجھی گئی کہ منافقین کو ان کے کفر کے باوجود معاشرتی طور پر الگ ہونے سے روکا جائے کہ اس کے نقصانات زیادہ ہیں۔ اس لیے میری رائے یہ ہے کہ اکابر کے فیصلوں پر حسب سابق اعتماد کیا جائے۔
قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت (۲)
محمد یونس قاسمی
مولانا زاہد الراشدی مدظلہ نامور عالم دین اور اسلامی سکالر کی حیثیت سے معروف ہیں۔ پاکستان شریعت کونسل کے سربراہ، الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ کے ڈ ائریکٹراور جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث ہونے کے ساتھ ساتھ روزنامہ اسلام کے مستقل کالم نگار اور متعد د کتب و رسائل کے مصنف بھی ہیں۔ عالم اسلام میں پائے جانے والے مختلف عنوانات پر اختلافات کے خاتمے کے لیے محققانہ گفتگو اور مکالمہ کو اہمیت دیتے ہیں۔ مولانا موصوف نے روزنامہ اسلام میں ۱۱ فروری کو ’’اکابر کے فیصلوں پر اعتماد کیا جائے‘‘ کے عنوان سے ایک فکر انگیز کالم تحریر فرمایا ہے جس میں انہوں نے تحریک تحفظ ناموس رسالت میں اہل تشیع کی شمولیت کے متعلق اٹھائے جانے والے بعض سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے اور یہ اپیل کی ہے کہ اکابر پر مکمل اعتماد کیا جائے اور ان کے فیصلہ جات کا احترام کیا جائے۔ اکابر پراعتماد اور ان کے فیصلہ جات کا احترام یقیناہم سب پر لازم ہے اور ان فیصلہ جات سے کسی صورت بھی روگردانی نہیں ہونی چاہیے، مگر مشکل اس وقت پیش آتی جب اکابر کی طرف سے نئے فیصلہ جات سامنے آتے ہیں اور سابقہ فیصلہ جات کے ذریعے ایک راستہ اور منزل متعین کر کے جن لوگوں کو اس راستے پر چلایاگیا تھا، انہیں اعتماد میں بھی نہیں لیا جاتا۔ اگر سابقہ فیصلہ جات کی ضرورت اب ختم ہوگئی ہے اوران پر جتنا کام ہونا چاہیے تھا، وہ پورا ہوچکا ہے اور وہ تمام فیصلے اب کالعدم ہوگئے ہیں تو اس بات سے آگاہ کرنا اور اعتماد میں تو لیا جانا چاہیے۔
تحریک تحفظ ناموس رسالت یا اس طرح کی دوسری تحاریک میں قومی ضروریات کو مدنظر رکھ کر اس میں اثناعشری اہل تشیع کی شمولیت کو جائز ثابت کرنے کے لیے قیام پاکستان سے لے کر اب تک مختلف چلائی جانے والی تحاریک کے حوالے دے کر بڑے خوبصورت انداز میں مولانا زاہد الرشدی صاحب نے اپنا مؤقف بیان کیا ہے، مگر ان چند ایک واقعات کے علاوہ اسلام کی چودہ سوسالہ تاریخ سے کوئی ایک واقعہ بھی پیش نہیں کرسکے جس سے یہ ثابت ہو کہ منکرین ختم نبوت کے خلاف چلائی جانے والی تحاریک میں خود منکرین ختم نبوت کو بھی شامل کیا گیا ہو۔ حضرات تابعین کے دور سے یہ فتاویٰ اور فیصلے چلے آرہے ہیں کہ خاتم المعصومین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے منکر، صحابہ کرامؓ کے ایمان کا انکار کرنے والے، شیخینؓ کی صحابیت کا انکار کرنے والے اورقرآن کریم میں تحریف کے قائل لوگوں کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ پھر اہل تشیع اثنا عشری کے متعلق انہی عقائد باطلہ کی وجہ سے وقت کے مقتدر اور محقق علمائے کرام نے تکفیر کا فیصلہ صادر فرمایا اور خود مولانا زاہد الراشدی صاحب اور ان کے والد گرامی امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کا بھی یہی فیصلہ اور فتویٰ ہے، جیساکہ مولانا راشدی صاحب کے مذکورہ کالم اور امام اہل سنت ؒ کی کتاب ’’ارشاد الشیعہ‘‘ سے ظاہر ہوتا ہے۔ تحریک تحفظ ناموس رسالت میں اس وقت جتنے اکابر علمائے کرام شامل ہیں، ان سب کے یہی عقائد ونظریات ہیں کیونکہ ان سب حضرات نے اہل تشیع کے متعلق جاری ہونے والے متفقہ فیصلہ پر اپنے تائیدی دستخط ثبت فرمائے ہیں۔ پھر اسی پر بس نہیں بلکہ اس متفقہ فیصلہ کے بعد ایک اور فتویٰ (جسے متفقہ فیصلہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گاکیونکہ اس فتویٰ پر پاکستان،بنگلہ دیش اور برطانیہ کے اکابر علماء ومفتیان کے علاوہ سینکڑوں جید علماء کرام ومفتیان عظام کے دستخط موجود ہیں) چند سال قبل اس وقت سامنے آیا جب اہل تشیع اثنا عشری کو مسلمان قرار دے کر ایک سیاسی مذہبی اتحاد ’’متحدہ مجلس عمل‘‘اور اہل تشیع اثنا عشری کے تعلیمی اداروں کو دینی ادارے قرار دیتے ہوئے دینی مدارس کے اتحاد ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘‘ میں شامل کیا گیا۔ اس فتویٰ میں پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں یہ لکھا گیا ہے کہ ’’ان کے ساتھ تمام تعلقات اور دیگر مراسم اسلامیہ رکھنا ہرگز جائز نہیں کیونکہ یہ لوگ اس قسم کے تعلقات سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں،اپنے غلط عقائد کی تبلیغ کرتے ہیں اور دوسروں کے سامنے ان تعلقات کو بطور دلیل پیش کر کے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مذہبی اداروں اور تنظیموں کو دینی واسلامی کہنے سے اپنے ایمان کو خطرہ ہے۔‘‘ یادرہے کہ تحریک تحفظ ناموس رسالت میں اہل تشیع اثنا عشری کی تنظیم کو اسلامی تنظیم قرار دے کر اتحاد میں شامل کیا گیا ہے۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک چلائی جانے والی تمام تحاریک میں اہل تشیع شامل رہے ہیں تو اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ ایسے ہر اتحاد اور ہر واقعہ پر کم ازکم دس، دس صفحے لکھے جاسکتے ہیں لیکن انتہائی ادب سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ان تمام’’ حقائق‘‘ سے شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمدؒ ، فقیہ العصر حضرت مفتی عبد الستارؒ ، امام اہل سنت مولانا سرفراز خاں صفدرؒ ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر، شیخ الحدیث مولاناعبدالمجید لدھیانوی، مفتی عبد القیوم ہزاروی، شیخ الحدیث ڈاکٹر شیر علی شاہ، شیخ الحدیث مفتی غلام قادر ؒ دارالہدیٰ ٹھیڑی اور حضرت مفتی محمدزرولی خان سمیت دیگرسینکڑوں اکابر علماء اور مفتیان عظام واقف نہ تھے؟ کیونکہ ان تمام اکابر نے علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ کے موقف کی تائید اس وقت فرمائی جب یہ تمام تاریخی واقعات موجود تھے۔ اس سے پہلے دارالعلوم دیوبند میں ۲۹، ۳۰، ۳۱؍اکتوبر ۱۹۸۶ء کو عالمی اجلاس برائے تحفظ ختم نبوت منعقد ہوا تھاجس میں باقاعدہ ایک قرارداد پاس کی گئی جس کا متن کچھ یوں ہے کہ ’’یہ اجلاس اعلان کرتا ہے کہ شیعہ اثنا عشری مسلک جو فی زمانہ دنیا کے شیعوں کی اکثریت کا مسلک ہے اور ایران میں اس مسلک کے ماننے والوں کے ذریعے ماضی قریب میں ایک انقلاب برپا ہوا ہے، جس کو اسلامی انقلاب کہہ کر عالم اسلام کو زبردست دھوکہ دیا جاریا ہے، اس مسلک کا بنیادی عقیدہ، عقیدہ امامت براہ راست ختم نبوت کا انکار ہے۔ اسی بنا پر حضرت شاہ ولی اللہؒ نے صراحت کے ساتھ ان کی تکفیر کی ہے۔لہٰذا یہ اجلاس برائے تحفظ ختم نبوت اعلان کرتاہے کہ یہ مسلک موجب کفر اور ختم نبوت کے خلاف پرفریب بغاوت ہے۔ نیز یہ اجلاس تمام اہل علم سے اس فتنہ کے خلاف سرگرم عمل ہونے کی اپیل کرتا ہے۔‘‘ (ازاداریہ ماہنامہ ’’دارالعلوم‘‘ دیوبند، بابت ماہ جنوری ۱۹۸۷)
میری گزارشات کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اکابر علماء کرام کے فیصلوں یا فتاویٰ پر اعتماد سب کرتے ہیں، چند ایک ایسے ہیں جن کے لیے ان فیصلوں میں تمیز کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ وہ کس فیصلے پر اعتماد کریں۔اہل تشیع اثنا عشری کے متعلق اکابر علماء کرام کے دو متفقہ فیصلے موجود ہیں۔ ان کی موجودگی میں کوئی اورفیصلہ کرنے سے قبل ان دو فیصلوں کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے اور کم ازکم اکابر کے ان دوفیصلوں کی روشنی میں جدوجہد کرنے والی جماعتوں اور شخصیات بلکہ جنھیں اکابر نے یہ جدوجہد کرنے پر آمادہ کیا تھا، ان کو اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے۔ آج جنھیں اکابر کے فیصلوں پر اعتماد نہ کرنے کا طعنہ دیا جا رہا ہے، وہ تو بطریق اولیٰ اکابر کے ان فیصلوں پر اعتماد کر رہے ہیں اور ان فیصلوں کے احترام میں پانچ عظیم المرتبت قائدین، دو ہزار پانچ سوسے زائد افراد کی قربانی پیش کرچکے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس سے قبل شاید ہی تاریخ اسلامی میں کوئی ایسی تحریک موجود ہو جس نے اکابر کے فیصلوں پر اعتماد کرتے ہوئے اتنی بڑی قربانی دی ہو۔ جو لوگ اتنی بڑی تعداد میں شہید ہونے والوں کے امین اور وارث ہوں، وہ کیسے اپنے قائدین اور کارکنوں کے قاتلوں کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں اور کیسے اکابر کے ان فیصلوں سے منحرف ہوسکتے ہیں؟ مگر پھر بھی شکوہ انہی سے کیا جارہا ہے۔ ان حالات میں موجودہ اکابر علماء کرام سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے مل بیٹھ کر اتفاق رائے سے فیصلے کریں اور نئے فیصلے کرنے سے قبل اپنے سابقہ فیصلہ جات کو مدنظر رکھیں تاکہ کہیں کو ئی اختلافی صورت حال پیدا نہ ہوسکے۔
قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت (۳)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
راقم الحروف نے مختلف دوستوں کے سوالات پر تحریک تحفظ ناموس رسالت کی قیادت میں اہل تشیع کی شمولیت کے مسئلے پر اپنے موقف کی وضاحت کی تھی جو روزنامہ اسلام میں ۱۱؍ فروری ۲۰۱۱ء کو ’’نوائے حق‘‘ کے عنوان سے میرے مستقل کالم کی صورت میں شائع ہوئی۔ اس پر محترم جناب مولانا محمد یونس قاسمی نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے جو مذکورہ کالم کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔ مولانا قاسمی کی شکایت یہ ہے کہ اکابر کے فیصلے بدلتے رہتے ہیں جبکہ میں نے اس کالم میں ہی اس کے بارے میں عرض کر دیا تھا کہ کسی کو کافر قرار دینے یا مسلمان تسلیم کرنے کا دائرہ الگ ہے اور معاشرتی روابط اور مشترکہ تحریکات میں اشتراک عمل کا دائرہ اس سے مختلف ہے جس کی واضح مثال موجود ہے کہ دور نبوی میں عبد اللہ بن ابی اور اس کے ٹولے کو قرآن کریم کی نص قطعی میں کافر قرار دیے جانے کے باوجود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرتی طور پر انھیں الگ نہیں کیا بلکہ ان کی تمام تر خرابیوں اور غلط کاریوں کے ہوتے ہوئے بھی انھیں اجتماعی معاملات میں اپنے ساتھ شریک رکھا، اس لیے کہ انھیں معاشرتی طور پر الگ کرنے اور ان کے خلاف کوئی سخت کارروائی کرنے میں اس دورکے حالات میں مصلحت نہیں تھی۔
ہمارے اکابر کا طریقہ بھی یہی چلا آ رہا ہے کہ کفر کے فتووں کے باوجود مشترکہ قومی معاملات اور اجتماعی تحریکات میں اہل تشیع کو اپنے ساتھ شریک رکھا ہے اور اس میں کوئی تعارض اور الجھن کی بات نہیں ہے۔ اس سلسلے میں علماء کرام کے متفقہ ۲۲ نکات، ۵۳ء کی تحریک ختم نبوت، ۱۹۷۳ء کے دستور، ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت، ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی اور ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت کا حوالہ مذکورہ کالم میں دیا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس تسلسل میں چند اور تحریکات کا اضافہ بھی کرنا چاہتا ہوں۔
- بھارت میں مسلمانوں کے شرعی خاندانی قوانین کے تحفظ کے لیے ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘ کا مشترکہ پلیٹ فارم موجود ہے جس کے پہلے سربراہ حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ ، دوسرے سربراہ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ ، تیسرے سربراہ حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ تھے جبکہ اب اس کے سربراہ حضرت مولانا سید محمد رابع ندوی مدظلہ ہیں اور اہل تشیع اس بورڈ کا نہ صرف مسلسل حصہ ہیں بلکہ ممتاز شیعہ علما اس کے مرکزی عہدہ دار بھی چلے آرہے ہیں۔
- ایران میں اہل سنت کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا عبد العزیز رحمہ اللہ تعالیٰ جو حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے تلامذہ میں سے تھے، ایرانی انقلاب کے بعد اس کی مرکزی کونسل اور دستور ساز اسمبلی کے ممبر رہے ہیں اور ایرانی دستور کی تشکیل میں ان کا اہم کردار ہے۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی اور دوسرے علماء کرام کے ساتھ مجھے ۱۹۸۷ء میں ایران جانے کا موقع ملا تو ہم نے ایران میں حضرت مولانا عبد العزیز سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔ انھوں نے ایرانی انقلاب اور دستور میں اپنے کردار کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ فرمایا، البتہ یہ شکایت کی کہ اب ایرانی راہ نماؤں کا رویہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے اور وہ ان کی باتوں پر پہلے کی طرح توجہ نہیں دیتے۔
- افغانستان میں روسی استعمار کے خلاف جہاد میں اہل سنت کی نصف درجن کے لگ بھگ جہادی تنظیموں کے ساتھ ساتھ اہل تشیع کی ’’حزب وحدت‘‘ بھی جہاد افغانستان کا حصہ رہی ہے اور ان تنظیموں کے درمیان اس دور میں اشتراک وتعاون بھی رہا ہے۔
- دینی مدارس کے تحفظ کے لیے تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس کے وفاقوں کے اتحاد ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘‘ میں وفاق المدارس الشیعہ شامل ہے جس کا ذکر محترم مولا نا محمد یونس قاسمی نے بھی اپنے مضمون میں کیا ہے۔
اس لیے مولانا محمد یونس قاسمی صاحب کی خدمت میں گزارش ہے کہ اصل الجھن انھیں صرف اس وجہ سے ہو رہی ہے کہ وہ دونوں الگ الگ دائروں میں فرق نہیں کر پا رہے۔ اگر اس فرق کو وہ سنجیدگی سے محسوس کر لیں تو انھیں اکابر کے طرز عمل میں نہ کوئی تضاد نظر آئے گا اور نہ ہی یہ شکایت ہوگی کہ بزرگوں نے پہلے فیصلوں کے بعد نیا فیصلہ کرنے میں متعلقہ دوستوں کو اعتماد میں نہیں لیا۔ اکابر کے فیصلے فتووں کے دائرے میں مسلسل وہی چلے آ رہے ہیں جو پہلے سے موجود ہیں اور معاشرتی روابط اور دینی تحریکات کے دائرے میں بھی ان کے فیصلوں کے تسلسل میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ صرف دائروں کے فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد کسی دوست کے ذہن میں کوئی الجھن باقی نہیں رہے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
۲۹۵ سی : اقلیتوں کا نقطہ نظر
ڈاکٹر کنول فیروز
یادش بخیر! ۲۹۵۔سی کے حوالے سے ہم پہلے بھی اپنی نپی تلی رائے دے چکے ہیں کہ پاکستان کی اقلیتیں خصوصاً مسیحی اس کی روح اور نفاذکے قطعی خلاف نہیں کیونکہ اس قانون کا نفاذ واطلاق اہل اسلام کے دینی اور قلبی جذبات واحساسات کا انتہائی حساس مسئلہ ہے اور شایدا سی لیے جب پہلے پہلے قومی اسمبلی نے اس کی منظوری دی اور پھر بعدا زاں شریعت کورٹ نے اس جرم کی کم از کم سزا موت قرار دی تو اقلیتی حلقوں نے اس سے کوئی تعرض نہ کیا بلکہ اس وقت کے اقلیتی ایم این اے عمانوئیل ظفر نے کریمنل لاء امینڈمینٹ بل ۱۹۸۶ء کی منظوری کے دوران جو وزیرمملکت برائے عدل وپارلیمانی امور میر نواز خان سومرو نے پیش کیا تھا، اس قانون کو متفقہ طور پر پاس کرنے پر اسپیکر قومی اسمبلی کو مبارک باد بھی دی، کیوں کہ ظاہر ہے کہ ۹۵ فی صد سے بھی زائد مسلم اکثریت کے ملک میں کوئی پاگل اور فاتر العقل شخص ہی دانستہ ۲۹۵۔سی کے جرم کا ارتکاب کر سکتا ہے یا اس کی مخالفت کر سکتاہے او ر غالباً یہی وجہ ہے کہ اس وقت وطن عزیز کے کسی حلقے کی طرف سے بھی اس قانون کی مخالفت نہیں کی گئی، کیوں کہ بادی النظر میں دیکھا جائے تو صحیح الدماغ شخص، وہ خواہ کسی مذہب و عقیدہ یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کا مرتکب ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن یہ صورتحال گھمبیر اس وقت ہوئی جب اس قانون کی آڑ میں ذاتی، مسلکی اور سیاسی دشمنیوں اور اختلافات کے تحت کثرت سے مقدمات درج ہونے لگے اور پھر اسے مذہبی سے زیادہ جذباتی اور سیاسی مسئلہ بنانے کی بھی کوشش کی گئی۔ ہم آج بھی صدق دل سے ۲۹۵۔سی کی حقیقی روح کے حق میں ہیں۔ کسی بھی شخص کو بانی اسلام رسول کریم کی شان میں گستاخی کی معافی نہیں دی جا سکتی۔ خواہ کوئی بھی اس کا مرتکب ہو یا کسی کے بھی مذہبی جذبات مجروح کرنے کا باعث ہو، اسے قرار واقعی سزا ملنی چاہیے، لیکن ہماری تو صرف یہ گزارش ہے کہ آج تک جتنے بھی مقدمات اس قانون کے تحت درج ہوئے، ان کے ملزموں کو وطن عزیز کی عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ نے باعزت بری کر دیا، کیوں کہ ان پر یہ الزام جھوٹا اور ذاتی یا مسلکی دشمنی ثابت ہوا، لہٰذا اسی بنیاد پر مطالبہ کیا جانے لگا کہ اس قانون میں ترمیم کر کے جھوٹا الزام لگانے والوں کو بھی یہی سزا دی جائے، کیوں کہ لامحالہ یوں یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ الزام لگانے والوں اور استغاثہ نے جو کہانی گھڑی تھی، اس کے تحت وہ خود توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یعنی ترمیم کا مطالبہ اس قانون کی روح کو ختم کرنانہیں، بلکہ اس قانون کے غلط اور ناجائز استعمال کو روکنا اور بے گناہ کو موت کے پھندے سے بچانا ہے اور دنیا کا کوئی انصاف پسند شخص اور خدائے برحق پر ایمان رکھنے والا کبھی نہیں چاہے گا کہ کسی بے گناہ کو تختہ دار پر لٹکا دیا جائے یا اسے سرعام قتل کر دیاجائے، لہٰذا اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ترمیم کا مطالبہ اقلیتوں کا ہی نہیں بلکہ سول سوسائٹی، روشن خیال حلقوں بلکہ جید علماء کرام بھی اس کے حق میں ہیں کہ کسی بے گناہ کو ناکردہ گناہ کی سزا نہیں ملنا چاہیے۔
گورنر سلمان تاثیر بھی اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے اور کسی بے گناہ کو سزا نہ دینے اورحق وانصاف کا بول بالا کرنے کی پاداش میں قتل کر دیے گئے۔ اگر چہ ہم سمجھتے ہیں کہ گورنر سلمان تاثیر کی نیک نیتی اور انسانی ہمدردی کے جذبات اپنی جگہ قابل تحسین ہیں، لیکن ان کا آسیہ بی بی کی سیشن کورٹ ننکانہ سے سزائے موت کے فیصلہ کے خلاف صدر سے رحم کی اپیل بہت قبل از وقت تھی۔ ابھی تو عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ میں محترمہ آسیہ بی بی کے بارے میں کیس موجود تھا اور ہے۔ اسی طرح ہم پاپائے اعظم بینی ڈکٹ اور یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی طرف سے آسیہ بی بی کی رہائی اور ۲۹۵۔سی کی منسوخی کے مطالبہ کو بھی بے محل، بے موقع اور لاحاصل سمجھتے ہیں، کیوں کہ جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ آسیہ بی بی کی اپیل ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ پھر سپریم کورٹ میں بھی اپیل کی جا سکتی ہے۔ اس صورت حال میں ان بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے جب کہ موجودہ معروضی صورتحال میں ٹھنڈے دل سے مذہبی یا جذباتی نہیں بلکہ متوازن فکر، اعتدال پسندی اور خالص انسانی نقطہ نظر سے اس مسئلہ کو حل کرنے اور طرفین کو قائل کرنے کی ضرورت ہے۔
مندرجہ بالا حقائق وواقعات کی روشنی میں ہماری گزارش ہے کہ عموماً مقدمہ کے اندراج اور سیشن جج کی حد تک ۲۹۵۔سی کے ملزموں کو سزادینے کے لیے پولیس اور عدالت پر مقامی دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال سیشن کورٹ ساہیوال میں ایوب مسیح کا کیس بھی ہے جسے مقامی پریشر کی بنیاد پر سیشن کورٹ سے سزا ئے موت دی گئی جس کے فیصلے کے خلاف ڈاکٹر جان جوزف پی ایچ ڈی کا تھولک بشپ آف فیصل آباد نے سیشن کورٹ کے سامنے احتجاجاً خود کشی کر لی تھی، لیکن تاریخ گوا ہ ہے کہ ایوب مسیح کو سپریم کورٹ نے بے گناہ قرار دے کر بری کر دیا تھا۔ اس موقعہ پر بشپ ڈاکٹر جان جوزف کا خود کشی کا اقدام بھی ’’جذباتی‘‘ اور قبل از وقت سمجھا گیا۔ یہاں ایک اور واقعہ بھی بیان کرنا ضروری ہے کہ سیشن کورٹ کا پریشر مزید سنگین صورت اختیار کر گیا جب لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عارف اقبال حسین بھٹی نے توہین رسالت کے ملزموں سلامت مسیح اور منظور مسیح کو مقامی لاء جیورسٹ کی معاونت سے کیس کی مکمل چھان بین کے بعد بے گناہ قرار دے کر بری کر دیا جب کہ اس کا ساتھی منظور مسیح عدالت کے فیصلے سے قبل ہی ماورائے عدالت، تاریخ پیشی بھگتنے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے باہر گیٹ پر قتل کر دیا گیا تھا۔ بعدا زاں اس حق وانصاف پر مبنی فیصلہ کی ’’پاداش‘‘ پر جسٹس عارف اقبال بھٹی کو ان کے چیمبر، نر نر روڈ لاہور پر دن دیہاڑے اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جس وقت ملکہ برطانیہ لاہورکے دورے پر مال روڈ پر گزر رہی تھی۔ جب صورت حال یہ ہو تو پھر کون جج حق وانصاف کے تحت بے گناہ ملزموں کے حق میں فیصلہ کرنے کا رسک لے گا؟ جب کہ جھوٹا مقدمہ درج کرانے والوں کے لیے قانون میں کوئی سزا نہیں ہے۔ اس طرح تو جب جس کا جی چاہے، اپنے ذاتی مخالف کو تختہ دار پر پہنچا دے، اس کابال بھی بیکا نہ ہوگا۔ پھر یہ نکتہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ -295سی کا کیس درج کرتے وقت مکمل چھان بین، حزم واحتیاط اور تحقیق صحت مقدمہ کو ملحوظ خاطر رکھنے کے لیے قانون سازی ہونا چاہیے کیوں کہ اس الزام کے بعد ملزم اگر عدالت سے بری بھی ہو جائے تو اس کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی اور اسے ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکرہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے گزشتہ چیئرمین کے دور میں خود اسلامی نظریاتی کونسل بھی اس میں اس نوع کی ترمیم کی سفارش کر چکی ہے جس کی اس وقت کسی نے مخالفت نہ کی، بلکہ قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے حوالے سے ان سفارشات کو سراہا گیا تھا۔
۲۹۵۔سی کے غلط استعمال کے خلاف جب بھی بات کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ تو ہرقانون کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً قتل کی دفعہ ۳۰۲ اور دیگر پینل کوڈ کے بڑے بڑے جرائم سے متعلق قوانین کا حوالہ دیاجاتاہے اور کہا جاتا ہے کہ کیا ان کو بھی منسوخ کر دیا جائے یا ان میں بھی ترمیم کی جائے؟ بظاہر یہ دلیل بذات خود خاصی وزنی معلوم ہوتی ہے، لیکن ۲۹۵۔سی اور ۳۰۲ اور دیگر سنگین دفعات میں خاصا فرق ہے۔ اول یہ کہ ۳۰۲ میں سزائے موت کے علاوہ عمر قید اور قصاص ودیت کے تحت معافی کی بھی گنجائش ہے جب کہ ۲۹۵۔سی میں کم از کم سزا موت ہے اور اس میں کوئی معافی یا تلافی کی گنجائش نہیں۔ پھر جب یہ الزام کسی غیر مسلم پر لگایاجاتا ہے تو نہ صرف وہ شخص ماورائے عدالت بھی قابل گردن زدنی سمجھا جاتا ہے بلکہ اس کے خاندان اور بعض حالتوں میں اس کی پوری کمیونٹی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے جس کی مثال گوجرہ اور کوریاں کا المناک واقعہ ہے جس میں قرآن پا ک کی بے حرمتی کے ایک شخص پر جھوٹے الزام کی بنیاد پر پوری بستی کو نذر آتش کر دیا گیا جس میں کئی جانیں اور مقدس بائبل کی کئی جلدیں بھی جل کر خاکستر ہو گئیں۔ اسی طرح شانتی نگر، سانگلہ ہل، باہمنی والہ قصور کے تازہ واقعات مثال کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں جس کی عدالتی تحقیقات میں یہ الزام کسی پر ثابت نہ ہو سکا، لیکن جھوٹا الزام لگانے والے آج بھی دندناتے پھرتے ہیں۔ اس جھوٹے الزام کی پاداش میں کتنے گھر تباہ وبرباد ہوئے، کتنے مذہبی جذبات مجروح ہوئے، اس کی ہائی کورٹ کے جج نے تحقیقات بھی کیں جسے آج تک منظر عام پر نہیں لایا گیا۔ لیکن نہ تو شانتی نگر، نہ ہی سانگلہ ہل اور نہ ہی گوجرہ کے المناک واقعات میں ملوث ملزموں کو سزا ملی جب کہ جو گرجہ گھر اور عبادت گاہیں جلاد ی گئیں، بائبل مقدس کو خاکستر کر کے اس کی بے حرمتی کی گئی، لوگوں کی املاک تباہ ہوئیں اور عزت وناموس پامال ہوئی اور سب سے بڑھ کرجو وطن عزیز کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی اور خود مذہب اسلام پر جو حرف آیا، اس کے مرتکبین آج بھی سزا سے ماورا ہیں۔ اس تمام تفصیل سے صرف اتنی عرض ہے کہ ۲۹۵۔سی کے غلط محرکات، جھوٹے مقدمات اور الزامات کی سنگینی کو واضح کریں اور حق وانصاف کے ان تمام تقاضوں اور دعووں کے حوالے سے یہ گزارش کریں، جن پر تمام اہل مذاہب کا اتفاق ہے کہ بے گناہ اور معصوم جانوں کو ناکردہ گناہوں کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔ اس قانون کے تحت صرف غیر مسلم ہی ستم رسیدہ نہیں بلکہ کئی اہل اسلام بھی اس کے تحت ذاتی دشمنی، مسلکی اور سیاسی اختلافات کی نذر ہو چکے ہیں اور آج بھی پابند سلاسل ہیں، جب کہ کوئی مسلمان گستاخ رسول ہو ہی نہیں سکتا جس کی تازہ مثال گورنر سلمان تاثیر ہیں اورماضی قریب میں گوجرانوالہ کے حافظ قرآن فاروق احمد ہیں جنہیں قرآن مجید کی توہین کے جھوٹے الزام کی پاداش میں نہایت ذلت اور تذلیل کے ساتھ قتل کر دیا گیا اور ان کی لاش کو موٹر سائیکل کے پیچھے باندھ کر گھسیٹا گیا جب کہ وہ قاری اور حافظ قرآن مجید بھی تھے۔ بقول علامہ اقبالؒ
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
لیکن ان کے قاتلوں کو بھی کوئی سزا نہ دی گئی۔ یوں نادانستہ طورپر جھوٹا الزام لگانے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی۔ اس تمام تر بحث کے بعد ہماری علمائے اسلام سے اتنی سی گزارش ہے کہ ہم ۲۹۵۔سی سمیت تمام قوانین کا اور ان کے جذبات کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں، لیکن ان سے حق وانصاف کے مسلمہ اصولوں اور تمام بانیان دین حق کے نام پر اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنی کٹر رائے پر نظر ثانی کریں اور اس قانون کے غلط اور جھوٹے الزام لگانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے آواز بلندکریں اور توہین رسالت کے مرتکب کاذب اور مفتری کو بھی اسی سزا کا مستحق قرار دے کر بے گناہوں اور ناکردہ گناہوں کی سزا پانے والوں کی داد رسی کا پیغمبرانہ کردار ادا کریں۔ یوں یہ امرخدائے عزوجل کی خوشنودی حاصل کرنے اور فلاح انسانیت کا باعث بھی ہوگا، خواہ اس کے لیے الگ قانون سازی ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ اس طرح ملک وقوم مزید انتشار اور عالمی سطح پر بدنامی سے بھی بچ جائیں گے اور وطن عزیز میں تمام اہل وطن سکھ کا سانس لیں گے اور اس اقدام اور صحت مندرویے سے اس مسئلے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرنے والوں، جھوٹا الزام لگانے والوں اور اس الزام کے تحت قانون ہاتھ میں لینے والوں کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اس الزام بلکہ کسی بھی الزام کے تحت ماورائے عدالت قتل توہین انسانیت اور قتل انسانیت کے مترادف ہے، کیوں کہ کسی کو بھی یہ اختیار نہیں دیاجا سکتا کہ وہ قتل کے بدلے خود قتل کرے اور کسی بھی ملزم کو ماورائے عدالت قتل کر دے۔
مقام افسوس ہے کہ یہ روایت چل پڑی ہے، مدعی خود ہی منصف بن بیٹھے ہیں بلکہ ’’خود ذبح بھی کرے ہیں اور لیں ثواب الٹا‘‘ اور اگر یہی صورتحال رہی تو وطن عزیز میں جنگل کا قانون رائج ہونے کے امکانات ہیں۔ آج اقلیتی حلقوں میں گورنر تاثیر کے قتل کے بعد خوف وہراس، عدم تحفظ، بے اطمینانی، بے دلی اور مایوسی کی فضا پھیل گئی ہے جسے دور کرنے کے لیے ان کے تحفظات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے تاکہ وہ دیگر اہل وطن کے شانہ بہ شانہ حسب سابق ملک وقوم کی سالمیت اور استحکام کے لیے اپنا کردار بلاخوف وخطر ادا کرتے رہیں۔ امید ہے ہماری گزارشات کے حوالے سے اس مسئلہ کا مثبت حل تلاش کرنے کی طرف جلد پیش رفت ہو گی اور ارباب بست وکشاد اور علمائے کرام اسے محض مذہبی مسئلہ نہ سمجھتے ہوئے اس کے انسانی پہلوؤں پر بھی توجہ دیں گے کہ شرف انسانیت ہر دین کی بنیاد ہے۔
(بشکریہ ماہنامہ شاداب، لاہور)
مکاتیب
ادارہ
(۱)
محترم جناب عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوگا۔
یوگندر سکند کے آپ کے والد ماجد سے سوالات اور مولانا محترم کے جوابات ارسال کرنے کا بہت بہت شکریہ!
دیوبند میں ہوئی کشمیر کانفرنس کے حوالے سے جب آپ کے رسالہ کی کسی قریبی اشاعت میں ایک مضمون شائع ہوا تھا تو آپ کو اس کی بابت کچھ لکھنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔ اب اس انٹرویو میں بھی اس کا تذکرہ دیکھ کر خیال ہوا کہ سردست چند سطریں ہی آپ کی خدمت میں ارسال کر دی جائیں۔
۱۔ یہ کانفرنس جمعیۃ علماء ہند نے منعقد کی تھی، دار العلوم دیوبند نے نہیں۔
۲۔ یہ کانفرنس دار العلوم دیوبند میں نہیں ہوئی تھی، بلکہ دیوبند کے ایک میدان میں ہوئی تھی۔
۳۔ اس کانفرنس کا کوئی رسمی یا غیر رسمی تعلق دار العلوم سے نہیں تھا۔ یہ صحیح ہے کہ ماضی میں دار العلوم اور جمعیۃ ’یک جان دو قالب‘ جیسے بنا دیے گئے تھے، لیکن پچھلے برسوں میں جب جمعیۃ میں اختلافات ہوئے تو دار العلوم کی انتظامیہ نے دار العلوم اور جمعیۃ کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی، یہاں تک کہ جمعیۃ کے دونوں دھڑوں کے سربراہان مولانا ارشد مدنی اور مولانا عثمان صاحب کو بالترتیب دار العلوم کے اعتماد تعلیم اور نیابت اہتمام سے معزول کر دیا گیا تھا۔
۴۔ اس کاففرنس کو جمعیۃ کے ایک دھڑے نے صرف اسی لیے دیوبند میں منعقد کیا تھا تاکہ اس کو دار العلوم کی کانفرنس کہا جا سکے اور ایسا ہی ہوا۔ میڈیا نے اسے دار العلوم کی کانفرنس کہا اور یہ باور کرایا کہ یہ دار العلوم کے اندر ہوئی ہے، ورنہ اس عالمی مسئلہ پر ہونے والی کانفرنس کو ایک چھوٹے سے قصبہ میں منعقد کرانے کی کیا تک تھی؟
۵۔ دار العلوم کا اس کانفرنس اور اس کی تجاویز سے کوئی تعلق نہیں تھا، یہاں تک کہ ماضی کی روایات کے بالکل برخلاف اس کانفرنس میں دار العلوم کے ذمہ داران میں سے کوئی شریک بھی نہیں ہوا، لہٰذا اس کی بابت یہ خیال کرنا کہ یہ کانفرنس دار العلوم نے اپنے گرد وپیش کے حالات سے مجبور ہو کر منعقد کی تھی، صحیح نہیں ہے۔ ہندوستان کی حکومت کا کشمیر کے سلسلہ میں جو رویہ رہا ہے، یہاں کے مسلمانوں نے ہمیشہ اس پر حکومت کی سخت تنقید کی ہے۔
۶۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یوگیندر سکند صاحب نے بھی اس کانفرنس کو دار العلوم کے اندر منعقد ہوا بتایا۔ یہ جمعیۃ کے ایک دھڑے کی سیاسی بازی گری تھی، اور کچھ نہیں۔ افسوس کہ اس حوالہ سے دار العلوم کو بے جا بدنام کیا جا رہا ہے۔
مولانا محمد الیاس نعمانی
(ماہنامہ الفرقان، لکھنو)
(۲)
محترم المقام جناب عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مجلہ الشریعہ کا دسمبر ۱۰ء کا شمارہ میرے سامنے ہے۔ اس میں شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد صاحب مدظلہ کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے: ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ اور حکومت کا نیا معاہدہ‘‘۔ مجھے اس مضمون کے عنوان سے اختلاف ہے۔ چند سال قبل دینی مدارس کے پانچ بورڈوں کا مشترکہ ایک پلیٹ فارم بنا تھا جس میں مختلف چار مسالک کے دینی مدارس کے بورڈ تھے اور ایک بورڈ شیعہ مذہب کا تھا۔ ان پانچ بورڈوں کے متحدہ پلیٹ فارم کا نام ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ ‘‘تجویز کیا گیا۔ بندہ نے اس دور میں فیصل آباد سے شائع ہونے والے رسالہ ماہنامہ ’’خلافت راشدہ‘‘ میں اس عنوان پر بہت کچھ لکھا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سپاہ صحابہؓ کے سربراہ علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ اورسپاہ صحابہؓ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں نے اس عنوان پر ان تھک محنت کی اور اس اتحاد کے ذمہ داران سے مسلسل ملاقاتیں کی جس کے نتیجہ میں لفظ ’’دینیہ‘‘ اس فورم کے نام سے الگ ہوگیا۔اب اس فورم کانام صرف’’ اتحاد تنظیمات مدارس‘‘ ہی ہے جس کی تصدیق اس فورم کے ذمہ داران بھی کرتے ہیں اور ان کا چھپنے والا لٹریچر بھی اسی نام سے چھپتا ہے جس میں’’ صرف اتحاد تنظیمات مدارس‘‘ ہی لکھا جاتا ہے۔
اہل تشیع کے عقائد کفریہ کی بنا پر تمام علماء محققین کا شیعہ کی تکفیر پر اجماع اور اتفاق ہوچکا ہے۔تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: امداد الفتاویٰ،جلد ۴صفحہ ۵۸۴ اور احسن الفتاویٰ،جلد ۱صفحہ ۷۳ تا ۱۰۶،نیز ’’خمینی اور اثنا عشریہ کے متعلق علماء کرام کا متفقہ فیصلہ‘‘بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔اس لیے جب ان کے متعلق سب کچھ معلوم ہو اور ان کے کفریہ عقائد ظاہر ہوچکے ہوں، اس کے بعد بھی ان کے مذہبی اداروں اور تنظیموں کو دینی واسلامی کہنا اپنے ایمان کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتاہے،بالخصوص جبکہ اہل تشیع اس قسم کے تعلق اور ایسے اتحاد سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنے غلط عقائد کی تبلیغ کرتے ہیں اور دوسروں کے سامنے ایسے تعلقات اور ایسے اتحادکو دلیل کے طور پر پیش کرکے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سب میری تیار کی ہوئی باتیں نہیں بلکہ اکابر علماء کرام کے ایک فتویٰ کی رو سے میں نے یہ سب باتیں لکھی ہیں اور اس فتویٰ پر ملک کے جیدمفتیان اور علمائے کرام کے دستخط موجود ہیں۔اس لیے میری آنجناب کے ذریعہ سے حضرت مفتی زاہد صاحب مدظلہ سے گزارش ہے کہ وہ آئندہ ’’اتحاد تنظیمات مدارس ‘‘کے ساتھ لفظ دینیہ لکھنے سے گریز کریں تاکہ دشمنان اسلام کو اس سے غلط فائدہ اٹھانے اور عوام کو اس سے غلط فہمی میں مبتلا ہونے کا موقع نہ مل سکے۔
امید ہے کہ حضرت مفتی صاحب میری ان معروضات پر ضرور غور فرمائیں گے۔
محمد یونس قاسمی
(۳)
مکرمی ومحترمی شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب زید مجدکم، صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان
ومولانا محمد حنیف جالندھری صاحب، ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان
ودیگر ارکان مجلس عاملہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
باعث تحریر یہ کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے اجلاس منعقدہ ۳؍ صفر المظفر ۱۴۳۲ھ میں جو فیصلے ہوئے، ان میں سے ایک یہ ہے:
’’دوران امتحان نقل اورمتبادل کے رجحان کے سدباب کے لیے داخلہ فارم کے ساتھ طالب علم کی تین تازہ تصاویر جو کہ مہتمم یا ناظم جامعہ کی تصدیق شدہ ہوں، بھیجنا لازمی ہے۔‘‘
اس فیصلے کے متعلق آپ حضرات کی خدمت میں بندہ چند انتہائی مودبانہ گزارشات پیش کرنا چاہتا ہے:
۱۔ تصاویر کی حرمت میں صرف بخاری شریف کے ایک باب میں دس احادیث موجود ہیں اور بخاری کے علاوہ دیگر کتب حدیث میں جو احادیث آئی ہیں، وہ مزید برآں ہیں۔ اس لیے تصویر کشی اور تصویر کے استعمال کی حرمت پر پوری امت کے علماء حق متفق ہیں۔ آج سے ۹۶ سال پہلے یعنی ۱۳۳۶ھ میں حضرت مولانا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے فوٹو گرافی کی شرعی حیثیت پر ایک مفصل مضمون لکھا جو ماہنامہ ’’المعارف‘‘ اعظم گڑھ میں کئی قسطوں میں شائع ہوا جس میں انھوں نے فوٹو کے جواز کا عندیہ ظاہر کیا تھا۔ چونکہ یہ مسلک صریح احادیث کے خلاف تھا، اس لیے اس کی تردید میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے ایک تحقیقی مقالہ لکھا اور اسے ماہنامہ ’’القاسم‘‘ دار العلوم دیوبند میں شائع کرایا۔ بعد میں وہ مقالہ کتابی شکل میں ’’تصویر کے شرعی احکام‘‘ کے نام سے چھپا جس میں مفتی صاحب نے مولانا ندوی صاحب کے شکوک وشبہات کا ازالہ کیا ہے اور یہ بات قوی دلائل سے ثابت کی ہے کہ شریعت محمدیہ میں تصویر بنانا، بنوانا اور استعمال کرنا سب حرام ہے۔ یہ مقالہ پڑھنے کے بعد مولانا ندوی صاحب نے بھی اپنے مسلک سے رجوع کر لیا تھا۔
۲۔ نقل ومتبادل کا سدباب واقعی ضروری ہے مگر جائز طریقوں سے، ناجائز سے نہیں۔ تصویر کی حرمت منصوص ہے اور نقل کرنا اورمتبادل بٹھانا احتمالی معاملہ ہے، تو ایک احتمالی عمل کی روک تھام کے لیے منصوص حرام کو کس طرح حلال کیا جا سکتا ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ نقل ومتبادل کی روک تھام کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اگر وفاق المدارس العربیہ کے منتظمین حتی الوسع جائز تدابیر کریں، پھر بھی چند افراد یہ ناجائز کام کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو کیا وفاق المدارس کے منتظمین گناہ گار ہوں گے؟ میرے ناقص علم کے مطابق وہ بالکل ماخوذ عند اللہ نہیں ہوں گے، کیونکہ یہ بات ان کے اختیار سے باہر ہے۔
۳۔ طلبہ کے لیے امتحان کے دوران تصویر لازم ہونے سے صرف متبادل امیدوار کو روکنے میں کامیابی کا امکان ہے، اس سے نقل کی روک تھام نہیں ہو سکتی، حالانکہ نقل کا رجحان بھی متبادل سے زیادہ ہے اور اس کا نقصان بھی۔ جب فوٹو لازم کرنے سے نقل کا رجحان ختم نہیں ہوتا تو پھر اتنا عظیم گناہ کروانے سے کیا فائدہ؟ پھر یہ کہ اس طریقے سے متبادل کی روک تھام بھی نہیں ہو سکتی، کیونکہ اگر کسی نے دھوکہ دہی کا تہیہ کر رکھا ہو تو اس کا راستہ بند کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ اگر ایک راستہ بند کیا جائے گا تو وہ دوسرا راستہ نکال لے گا۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی صورت حال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں بہت پہلے سے تصاویر لازم ہیں، مگر جس پیمانے پر وہاں نقل اور متبادل کا طریقہ عام ہے، وفاق المدارس کے امتحان میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوتا۔ اگر دل میں تقویٰ اور خوف خدا نہ رہے تو جعل سازی کے لیے بے شمار طریقے نکالے جا سکتے ہیں۔ پھر یہ کہ نقل کرنے اور متبادل بٹھانے والے زیادہ سے زیادہ سو میں پانچ ہوں گے۔ باقی پچانوے طلبہ جن کا دامن اس فعل شنیع سے پاک ہے، ان سے اس گناہ کبیرہ کا ارتکاب کس جرم میں کروایا جائے گا؟
۴۔ وفاق المدارس کی تنظیم یوم تاسیس سے لے کر آج تک سارے ادوار میں بڑے بڑے شیوخ الحدیث، متقی اورمتبحر علماء کرام کی سرپرستی میں رہی ہے، اس لیے اس ادارے نے نہ صرف مدارس ومساجد کا تحفظ کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کا بھی تحفظ کیا ہے۔ اس بنا پر عام مسلمان اس ادارے کے ہر فیصلے کو حجت شرعیہ سمجھتے ہیں۔ جب ان کو یہ معلوم ہوگا کہ وفاق نے دوران امتحان مدارس کے طلبہ کے لیے تصویر کو لازم قرار دیا ہے تو ان کا یہ اعتماد ختم ہو جائے گا۔ وہ کہیں گے کہ چودہ سو تیس سال تک علما ہمیں یہ بتاتے رہے کہ فوٹو کھینچنا اور استعمال کرنا منع ہے، اب انھوں نے اپنے لیے اسے جائز کر لیا ہے۔ دین سے بے زار لوگ اس فیصلے کو عوام میں اس طرح اچھالیں گے کہ حرام صرف عوام کے لیے ہے، علما کے لیے کوئی چیز حرام نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اس فیصلے کے بعد بے دین لوگ ہر قسم کے فوٹو کو ہر وقت جائز سمجھیں گے اور دلیل یہ پیش کریں گے کہ پھر طلبہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے گھر میں کیوں جائز ہے؟
۵۔ وفاق المدارس کے زیر انتظام جیسے بنین کے امتحانات لیے جاتے ہیں، اسی طرح بنات کے امتحانات بھی لیے جاتے ہیں۔ جس بات کو فوٹو کے جواز کے لیے سبب بتایا گیا ہے، وہ بنات کے امتحانات میں بھی موجود ہے تو کچھ عرصے کے بعد ان کے لیے بھی تصاویر کو لازمی قرار دیا جائے گا۔ خدانخواستہ اگر وفاق المدارس نے امتحان کے دوران بنات کے لیے بھی تصاویر کو لازم قرار دیا تو اس دن یہود ونصاریٰ کی این جی اوز جو مسلمانوں میں بے حیائی وفحاشی پھیلانے کے لیے کوشاں ہیں، خوشی سے مٹھائیاں تقسیم کر رہی ہوں گی۔
۶۔ وفاق المدارس کے امتحانات اکثر مساجد کے اندر لیے جاتے ہیں اور مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر اورفرشتوں کا مرکز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مکان میں تصویر ہو، وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ جب مسجد میں سیکڑوں ہزاروں تصویریں جائیں گی تو اس سے اللہ تعالیٰ کی نورانی مخلوق فرشتوں کا داخلہ ممنوع ہو جائے گا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ بدبودار چیز (پیاز یا لہسن) کھائے تو جب تک اس کے منہ سے بدبو زائل نہ ہو جائے، مسجد میں نہ آئے، کیونکہ فرشتوں کو بدبو سے اذیت ہوتی ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ جس امتحان کے دوران فرشتے وہاں نہیں آ سکیں گے، اس علم میں کتنی برکت ہوگی؟
۷۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین۔ تبذیر کی تفسیر آپ حضرات سے ہی یہ سنی ہے کہ مال کو ناجائز کام پر خرچ کیا جائے تو یہ تبذیر ہے اور اگر جائز مصرف پر ضرورت سے زیادہ خرچ کیا جائے تو اسراف ہے۔ اب اندازہ لگائیں کہ ایک طالب علم کے تین تصاویر بنانے پر کم از کم چالیس روپے خرچ ہوں گے اور وفاق المدارس کے امتحان میں ایک لاکھ سے زائد طلبہ امتحان میں شریک ہوتے ہیں۔ یوں ایک سال کے امتحان میں چالیس لاکھ روپے تصاویر پر خرچ ہوں گے۔ اتنی خطیر رقم شاید تین چار متوسط مدارس کے سالانہ اخراجات کے لیے کافی ہوگی۔ غور کی بات ہے کہ صرف ایک سال میں چالیس لاکھ روپے فی سبیل الشیطان لگانا اور ایک لاکھ طلبہ کو شیطان کے بھائی بنانا یہ دن کی کون سی خدمت ہے؟
۸۔ ممکن ہے آئندہ سالوں میں یہ فیصلہ بھی صادر کر دیا جائے کہ کوئی طالب علم امتحان گاہ میں پگڑی، قمیص اور شلوار کے ساتھ نہ آئے، بلکہ ننگے سر اور کوٹ پتلون پہن کر آئے کیونکہ پگڑی، قمیص اور شلوار میں نقل کا مواد چھپائے جانے کا امکان زیادہ ہے۔ مظلوم طلبہ مجبوراً اس فیصلے کی بھی تعمیل کریں گے۔
۹۔ امتحان کے لیے تصویر بنوانے کو کرنسی، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ وغیرہ پر قیاس کرنا صحیح نہیں، کیونکہ ان چیزوں کے بارے میں دو قسم کے لوگوں کا حکم الگ الگ ہے۔ اصحاب اقتدار کے لیے کرنسی میں فوٹو چھاپنا اور شناختی کارڈ وپاسپورٹ میں تصویر کو لازم قرار دینا حرام ہے کیونکہ یہ ان کے اختیار میں ہے کہ ان چیزوں سے فوٹو کو ختم کر دیں، مگر رعایا کے لیے ان چیزوں میں تصویر لگانا اور ان چیزوں کو گھر میں اور جیبوں میں رکھنا جائز ہے، کیونکہ وہ بے چارے مجبور ہیں۔ چونکہ ہمارے حکمران یہود ونصاریٰ کے غلام ہیں، وہ شرعی احکام کو خاطر میں نہیں لاتے۔ وہ صرف امریکہ وبرطانیہ کے اشاروں پر چلتے ہیں، اس لیے وہ حرام کا ارتکاب کرتے ہیں۔ مگر آپ حضرات تو امت مسلمہ کے مقتدا ہیں، پوری امت کی نظریں آپ پر لگی ہوئی ہیں۔ آپ حضرات کو بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے، کیونکہ آپ کی معمولی سی غلطی سے پوری امت غلطی میں پڑ جائے گی۔ ہمیں یہ وہم وگمان بھی نہ تھاکہ آپ حضرات صریح نصوص کے خلاف فیصلہ صادر فرمائیں گے۔ آپ کو تو یہ چاہیے کہ اصحاب اقتدار سے یہ مطالبہ کریں کہ وہ کرنسی اور شناخی کارڈ اور پاسپورٹ وغیرہ سے تصویر کو ختم کریں، مگر صد افسوس کہ آپ نے خود تصویر کو لازم قرار دے دیا۔
چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی
ایک حدیث میں آیا ہے کہ من سن فی الاسلام سنۃ سیءۃ فعمل بہا بعدہ کتب علیہ مثل وزر من عمل بہا (مسلم ج ۲ ص ۳۴۱) اللہ تعالیٰ نہ کرے کہ آپ کا فیصلہ اس حدیث کا مصداق بن جائے۔
۱۰۔ تقریباً پچاس سال سے وفاق المدارس کے زیر اہتمام سالانہ امتحانات لیے جا رہے ہیں۔ اس پورے عرصے میں ہمارے اکابر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا محمد ادریس، حضرت مولانا عبد الحق، حضرت مولانا مفتی محمود رحمہم اللہ نے ضرورت کے باوجود تصویر کو لازم کرنا تو دور کی بات، اس کی اجازت تک نہیں دی۔ آج بھی ان حضرات پر اعتماد کر کے ان کی پیروی انتہائی ضروری ہے۔
ان سب وجوہ کی بنا پر آپ حضرات سے انتہائی مودبانہ عرض اور التجا ہے کہ خدا کے لیے اس فیصلے کو واپس لیجیے۔ یہ آپ کا علما، طلبہ، عوام الناس اور پوری امت پر بڑا احسان ہوگا اور ہم قیامت تک آپ کے لیے دعائیں کرتے رہیں گے۔
اگر اس خط میں نادانستہ ایسے الفاظ درج ہو گئے ہوں جن سے آپ کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں اس پر ہزار دفعہ معافی مانگتا ہوں۔ واللہ، میرے دل میں آپ حضرات کے ساتھ عقیدت میں کوئی کمی نہیں۔ یہ خط خالصتاً خیر خواہی کی بنا پر لکھا ہے۔
سخی داد خوستی، ژوب
طب مشرق کا جادو
حکیم محمد عمران مغل
طب کا ایک معنی جادو بھی ہے۔ یہ جادو جالینوس ثانی حکیم محمد حسن قرشیؒ نے اپنے وقت کے بڑے بڑے معالجین اور مفکرین کے سامنے نہ صرف جگایا بلکہ حاضرین مجلس کو انگشت بدنداں بھی کر دیا۔
جاویدمنزل گڑھی شاہو لاہورکے وسیع دالان میں برصغیر کے مایہ نازمعالجین کرام کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ درد گردہ کی شدت سے ماہی بے آب کی طرح بے تاب ہیں۔ علاج کی ہر امکانی کوشش کے باوجود درد ختم نہیں ہو رہا۔ چار وناچار علامہ مرحوم کی خدمت میں گزارش کی گئی کہ طب مغرب کا ساز تو سنا جا چکا ہے، بہتر ہے کہ طب مشرق کی آواز بھی سنی جائے۔ علامہ مرحوم حکیم نابینا رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھوں کئی بار مسحور کن ادویہ کھا چکے تھے، چنانچہ خادم کو علامہ محمد حسن قرشی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں بھیجا گیا جس نے اب تک کی تمام کیفیت گوش گزار کی۔ حکیم صاحب دوا کے ساتھ شاعر مشرق کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
حاضرین مجلس نے دیکھا کہ مرج البحرین میں ایک جوش اٹھا جس سے ایک در نایاب (دوا کی گولی) کنارے پر آن لگا۔ قرشی صاحب نے علامہ مرحوم کو گولی دی کہ اسے نیم گرم قہوہ کے ساتھ نگل لیں۔ چند لمحوں بعد علامہ مرحوم ایک انجانی چستی کے ساتھ بستر علالت سے اٹھ بیٹھے۔ ساتھ ہی فرمانے لگے کہ درد بالکل ختم ہو گیا ہے۔ حاضرین نے دیکھاکہ شاعر مشرق کا نہ صرف درد کافور ہوا، بلکہ بے چینی دور اور چہرہ مسرور ہو گیا۔