جون ۲۰۱۱ء

اسامہ بن لادنؒ اور ان کی جدوجہدمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قومی خودمختاری کا سوال اور ہماری سیاسی قیادتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اُسامہخورشید احمد ندیم 
گوجرانوالہ میں توہین قرآن کا واقعہ: چند حقائقچوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ 
توہین رسالت کے مرتکب کے لیے توبہ کی گنجائشمولانا مفتی محمد رفیع عثمانی 
توہین رسالت کی سزا کے متعلق حنفی مسلکمحمد مشتاق احمد 
’’توہین رسالت کا مسئلہ‘‘ ۔ اعتراضات پر ایک نظرمحمد عمار خان ناصر 
دھڑکٹی تصویر اور فقہِ حنفیمولانا محمد عبد اللہ شارق 
انا للہ و انا الیہ راجعونمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مدرسہ نصرۃ العلوم کے قراء کے اعزاز میں تقریبادارہ 
ہیپا ٹائٹس ۔ کل اور آجحکیم محمد عمران مغل 

اسامہ بن لادنؒ اور ان کی جدوجہد

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(نائن الیون کے فوراً بعد ’’الشریعہ‘‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی نے ایک سوال نامہ کے جواب میں معروضی صورت حال کے تجزیے کے حوالے سے ایک تحریر قلم بند کی تھی جو ’’جہادی تحریکات اور ان کا مستقبل‘‘ کے زیر عنوان ’الشریعہ‘ کے جنوری ۲۰۰۲ء کے شمارے میں شائع ہوئی۔ موجودہ صورت حال کی مناسبت سے یہ تحریر یہاں دوبارہ شائع کی جا رہی ہے۔ مدیر)

سوال :۱۱ ستمبر کے حملے کے بعد جو حالات پیش آئے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب : ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور واشنگٹن میں پنٹاگون کی عمارت سے جہاز ٹکرانے کے جو واقعات ہوئے ہیں، ان کے بارے میں حتمی طور پرکچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کس نے کیے ہیں اور خود مغربی ایجنسیاں بھی اس سلسلے میں مختلف امکانات کا اظہار کر رہی ہیں لیکن چونکہ امریکہ ایک عرصہ سے معروف عرب مجاہد اسامہ بن لادن اور عالم اسلام کی مسلح جہادی تحریکات کے خلاف کارروائی کا پروگرام بنا رہا تھا اور خود اسامہ بن لادن کی تنظیم ’’القاعدہ‘‘ کی طرف سے امریکی مراکز اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے اعلانات بھی موجود تھے اس لیے امریکہ نے ان حملوں کا ملزم اسامہ بن لادن کو ٹھہرانے اور افغانستان کی طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فوری مطالبہ کر دیا اور اقوام متحدہ اور ورلڈ میڈیا کے ذریعے سے وہ دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش میں لگ گیا کہ ان حملوں کی ذمہ داری اسامہ بن لادن پر ہی عائد ہوتی ہے۔
جہاں تک ان حملوں کا تعلق ہے، دنیا کے ہر باشعور شخص نے ان کی مذمت کی اور ان میں ضائع ہونے والی ہزاروں بے گناہ جانوں کے نقصان پر افسوس اور ہم دردی کا اظہار کیا ہے لیکن امریکہ نے ا س پر جس رد عمل کا اظہار کیا اور اس رد عمل پر اپنے آئندہ اقدامات کی بنیاد رکھی، اس کے بارے میں واضح تاثر یہ تھا کہ اس رد عمل کی بنیاد حوصلہ وتدبر پر نہیں بلکہ غصے اور انتقام پر ہے اور عام طور پر یہ محسوس ہونے لگا کہ امریکہ بہر صورت فوری انتقامی کارروائی کرنے اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ’’جہادی تحریکات‘‘ کو کچل دینے پر تل گیا ہے اور اس کے بعد ہونے والے مسلسل اقدامات نے اس عمومی تاثر واحساس کی تصدیق کر دی ہے۔
جہاں تک الشیخ اسامہ بن لادن اور افغانستان کی طالبان حکومت کے موقف کا تعلق ہے، ان کے طریقہ کار اور ترجیحات سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود اصولی طور پر ان کا موقف درست تھا اور امریکہ کا موقف اس کے مقابلے میں کمزور اور بے وزن تھا، اسی لیے امریکہ نے کارروائی میں عجلت سے کام لیا تاکہ ۱۱ ستمبر کے واقعات کے نتیجے میں اسے عالمی سطح پر جو ہم دردی حاصل ہوئی ہے، ا س کے ٹھنڈا پڑ جانے سے قبل وہ سب کچھ کر دیا جائے جس کے لیے امریکی دماغ اور ادارے کئی سال سے منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اسامہ بن لادن روس کے خلاف ’’جہاد افغانستان‘‘ میں عملاً شریک تھے اور امریکہ بھی اس جہاد کا سب سے بڑا سپورٹر تھا، اسی لیے اس دور میں مغربی ذرائع ابلاغ اور خود امریکی ادارے انہیں ایک ’’عظیم مجاہد‘‘ کے طور پر پیش کرتے رہے اور جہاد افغانستان کے خاتمے کے بعد اسامہ بن لادن ایک ہیرو کے طو رپر اپنے وطن واپس جا چکے تھے، لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ خود ان کے اپنے ملک سعودی عرب اور اس کے ساتھ پورے عرب خطے کو امریکہ کے ہاتھوں وہی صورت حال درپیش ہے جو جہاد افغانستان سے قبل افغانستان کو روس کے ہاتھوں درپیش تھی تو ان کے لیے اس صورتِ حال کو قبول کرنا ممکن نہ رہا۔ انہوں نے دیکھا کہ خلیج عرب میں امریکی فوجیں مسلسل بیٹھی ہیں جس کی وجہ سے عرب ممالک کی آزادی اور خود مختاری ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے۔ عرب ممالک کی دولت اور تیل کا بے دردی کے ساتھ استحصال کیا جا رہا ہے، عرب عوام کو انسانی، شہری اور شرعی حقوق حاصل نہیں ہے اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا کوئی موقع بھی میسر نہیں ہے جبکہ فلسطین کے خلاف اسرائیل کی جارحیت اور تشدد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور فلسطینی عوام پر ان کی اپنی زمین تنگ کر دی گئی ہے تو انہوں نے صدائے احتجاج بلند کی اور مطالبہ کیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجیں خلیج عرب سے نکل جائیں، لیکن چونکہ ان کے ملک میں اس قسم کی بات کہنے اور کوئی سیاسی مہم چلانے کی کوئی گنجائش نہیں تھی، اس لیے انہیں مجبوراً اس رخ پر آنا پڑا کہ وہ اپنے جذبات کے اظہار کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کریں اور خلیج عرب سے امریکی فوجوں کی واپسی کے لیے اسی قسم کی جدوجہد منظم کریں جس طرح کی جدوجہد کا تجربہ افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کے لیے اس سے قبل ہو چکا تھا اور وہ خود اس میں شریک رہے تھے۔
اسامہ بن لادن کے طریق کار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اس بات سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ان کا موقف اور مطالبہ اصولی طور پر درست تھا اور اس بات سے اختلاف کرنا بھی ممکن نہیں ہے کہ سعودی عرب اور خلیج عرب کے دیگر ممالک میں سیاسی جدوجہد کے راستے مکمل طور پر مسدود ہونے کی وجہ سے اسامہ بن لادن اور ان کے رفقا کے لیے اپنے جذبات اور موقف کے اظہار کے لیے صرف ایک راستہ باقی رہ گیا تھا جسے تشدد کا راستہ کہا جاتا ہے اور جس پر اسامہ بن لادن کو مطعون کیا جاتا ہے، لیکن طعن وتشنیع کرنے والے اس معروضی تناظر سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں کہ ان حالات میں ان کے لیے اس کے سوا کوئی اور راستہ اختیار کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔
اسامہ بن لادن کا خیال تھا کہ وہ جہاد افغانستان میں ٹریننگ لینے والے دنیا بھر کے مجاہدین کو ایک نظم اور پروگرام میں منسلک کریں گے اور اس طرح ایک ایسا مزاحمتی گروپ وجود میں آجائے گا جو عالم اسلام کے مختلف حصوں میں ہونے والے جبر وتشدد کے خلاف ’’پریشر گروپ‘‘ کا کام کرے گا اور شاید وہ اس کے ذریعے سے اسرائیلی جارحیت کے سامنے کوئی رکاوٹ کھڑی کرنے اور خلیج عرب میں امریکی فوجوں کے خلاف اس حد تک دباؤ منظم کرنے میں کام یاب ہو جائیں جو امریکہ کو خلیج عرب میں اپنی فوجوں کی موجودگی کے تسلسل پر نظر ثانی کے لیے مجبور کر سکے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سوڈان کو اپنی سرگرمیوں کامرکز بنایا لیکن امریکی دباؤ کی وجہ سے سوڈان کی حکومت کے لیے اسامہ بن لادن کا وجود برداشت کرنا ممکن نہ رہا چنانچہ وہ سوڈان چھوڑ کر افغانستان آ گئے جہاں طالبان کی حکومت قائم ہو چکی تھی اور وہ ایک نظریاتی اسلامی ریاست کے قیام اور امریکہ کے تسلط سے عالم اسلام بالخصوص خلیج عرب کی آزادی کے حوالے سے اسامہ بن لادن کے موقف سے متفق تھی۔ ان کے ساتھ وہ ہزاروں عرب مجاہد بھی افغانستان آ گئے جو جہاد افغانستان میں شریک تھے اور اسلامی جذبات سے سرشار ہونے کی وجہ سے اپنے اپنے ملکوں میں واپس جانے کی صورت میں حکومتوں کی طرف سے انتقامی کارروائیوں اور ریاستی جبر کا نشانہ بننے کے خطرات سے دوچار تھے۔
طالبان حکومت نے نہ صرف انہیں پناہ دی بلکہ موقف اور جذبات کی ہم آہنگی اور دینی حمیت میں شراکت کی وجہ سے دونوں میں ایسے تعلقات کار بھی قائم ہو گئے کہ انہیں ایک ہی منزل کے مسافر سمجھا جانے لگا۔ اس کے باوجود طالبان حکومت نے ۱۱ ستمبر کے واقعات کے بعد یک طرفہ موقف اختیار نہیں کیا بلکہ ان واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر ثبوت فراہم کر دیے جائیں تو وہ اسامہ بن لادن کو حوالے کر دینے کے مطالبے پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں یا کسی ایسے بین الاقوامی فورم کے حوالے بھی کر سکتے ہیں جو غیر جانب دار ہو مگر امریکہ نے رعونت اور ہٹ دھرمی کے ساتھ ان کے اس جائز موقف کو مسترد کر دیا اور اپنے الزامات کو ہی قطعی ثبوت قرار دیتے ہوئے افغانستان پر حملہ کا اعلان کر دیا جس کے ذریعے سے امریکہ نے وہ دونوں مقاصد حاصل کر لیے جو اس نے پہلے سے طے کر رکھے تھے اور ۱۱ ستمبر کے واقعات ان کے لیے محض بہانہ ثابت ہوئے۔
سوال : افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کا خاتمہ ہوا ہے۔ اسے آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
جواب : طالبان حکومت قائم ہوتے ہی مجھے یہ خدشہ محسوس ہونے لگا تھا اور میں نے کئی مضامین میں اس کا اظہار بھی کیا کہ اس حکومت کو برداشت کرنا نہ صرف یہ کہ امریکہ کے لیے ممکن نہیں ہے بلکہ وہ مسلمان حکومتیں بھی اسے اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہیں جو اپنے ملکوں میں اسلامی نظام کے نفاذ کی تحریکات کا سامنا کر رہی ہیں کیونکہ طالبان حکومت کی کامیابی کا واضح مطلب یہ ہوتا کہ مسلمان ملکوں میں اسلامی نظام کے نفاذ کی تحریکات کو تقویت حاصل ہوتی اور ایک کام یاب حکومت کی صورت میں عملی آئیڈیل بھی مل جاتا۔ اس لیے امریکہ اور کفر کی دیگر طاقتوں کے ساتھ ان مسلم حکومتوں کا اتحاد ایک فطری بات تھی اور ان سب نے مل کر ایک ایسی حکومت کو ختم کر دیا ہے جو اپنی کام یابی کی صورت میں دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔ خطرہ اس معنی میں نہیں کہ وہ کوئی بہت بڑی قوت ہوتی بلکہ اس معنی میں کہ موجودہ عالمی سسٹم سے ہٹ کر اور اس سے بغاوت کر کے ایک الگ نظریہ اور فلسفہ کے تحت بننے والی کسی حکومت کی کام یابی سے ان تمام قوتوں اور عناصر کو بغاوت کا راستہ مل جاتا جو موجودہ عالمی سسٹم سے مطمئن نہیں ہیں اور ا س سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ اسی لیے اسے بہت بڑ اخطرہ سمجھا گیا اور اسے ختم کرنے پر دنیا کی سب حکومتیں اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود متفق ہو گئیں۔
امریکہ اور اس کی زیر قیادت عالمی استعمار کو عالم اسلام سے کوئی فوجی، سیاسی یا معاشی خطرہ نہیں ہے اور نہ مستقبل قریب میں اس کا کوئی امکان ہی ہے بلکہ فوجی، سیاسی اور معاشی طور پر پور اعالم اسلام امریکہ کے شکنجے میں پوری طرح جکڑا ہوا ہے مگر مغربی تہذیب وثقافت اور فلسفہ ونظام کے مقابلے میں اگر کسی فلسفہ ونظام اور تہذیب وثقافت میں کھڑا ہونے کی قوت وصلاحیت موجود ہے تو وہ صرف اور صرف اسلام ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادی اسلامی تحریکات کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہیں اور بجا طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ اس فلسفہ ونظام اور تہذیب وثقافت کو اگر دنیا کے کسی خطے میں ایک ریاستی سسٹم کے طور پر قدم جمانے کا موقع مل گیا تو وہ موجودہ عالمی نظام اور مغربی فلسفہ وثقافت کے لیے حقیقی خطرہ بن سکتا ہے اسی وجہ سے موجودہ عالمی سسٹم کے ارباب حل وعقد نے قطعی طور پر یہ بات طے کر رکھی ہے کہ دنیا کے کسی کونے میں کوئی ایسی مسلمان حکومت وجود میں نہ آنے پائے جو موجودہ عالمی سسٹم اور بین الاقوامی نیٹ ورک سے ہٹ کر ہو یا دوسرے لفظوں میں اقوام متحدہ کی بالادستی قبول کرنے کے بجائے وہ اپنا کوئی الگ ایجنڈا رکھتی ہو۔ افغانستان میں طالبان کی اسلامی نظریاتی حکومت کو تسلیم نہ کرنے اور اب اسے فوجی طاقت کے زور پر ختم کر دینے کا بھی یہی پس منظر ہے البتہ طالبان حکومت کے خاتمے پر انتہائی افسوس اور صدمہ کے باوجود کسی حد تک یہ بات اطمینان بخش ہے کہ طالبان حکومت کا خاتمہ فلسفہ ونظام اور تہذیب وثقافت میں مغرب کی بالادستی کے حوالے سے نہیں ہوا بلکہ محض مادی طاقت، جبر وتشدد اور عسکری قوت کے زور پر اسے ہٹایا گیا ہے۔ فکر وفلسفہ اور نظام وثقافت اگر زندہ ہوں تو عسکری ناکامیاں زیادہ دیر تک ان کا راستہ نہیں روک سکتیں اور وہ کسی نہ کسی طرح سے اپنے اظہاراور پیش قدمی کے راستے نکال لیا کرتے ہیں۔
سوال :مستقبل میں افغانستان کی صورت حال کیا ہوگی؟
جواب : میرے خیال میں امریکی اتحاد کی پشت پناہی سے قائم ہونے والی حکومت افغانستان میں امن قائم کرنے میں کام یاب نہیں ہوگی اور افغانستان کے سب قبائل کو مطمئن کرنا اس کے بس میں نہیں ہوگا۔ یہ صرف اسلام اور ایمان کی قوت تھی جس نے قبائلی تعصبات اور علاقائی امتیازات کو دبارکھا تھا۔ اس کا پردہ ہٹ جانے کے بعد اب تمام معاملات قبائل اور علاقائیت کے حوالے سے طے پائیں گے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان عصبیتوں میں اضافہ ہوگا جبکہ مغربی قوتوں کا مفاد بھی اسی میں ہوگا کہ یہ عصبیتیں بڑھیں اور اختلافات وتفرقہ کا ماحول قائم رہے تاکہ وہ اس کی آڑ میں افغانستان پر اپنا کنٹرول زیادہ دیر تک قائم رکھ سکیں اور وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے حوالے سے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کر سکیں۔
دوسری طرف طالبان تحریک نے میدان جنگ سے پسپائی اختیار کی ہے، ذہنی طور پر شکست اور دست برداری قبول نہیں کی اور ان کی افرادی قوت بڑی حد تک محفوظ ہے اس لیے وہ کچھ وقت گزرنے کے بعد دوبارہ منظم ہوں گے اور مزاحمت کا راستہ اختیار کریں گے جس کی حمایت وتعاون کرنا اس خطے کی ان تمام قوتوں کی مجبوری بن جائے گا جو امریکہ کی یہاں مستقل موجودگی کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ وقتی لشکر کشی میں امریکی اقدامات کا ساتھ دینا اور بات ہے اور اس خطے میں امریکہ کی مستقل فوجی موجودگی کو قبول کرنا اس سے بالکل مختلف امر ہے اس لیے اس کا فائدہ ہر اس قوت کو ہوگا جو افغانستان میں امریکی اتحاد کی فوجوں کی مستقل یا زیادہ دیر تک موجودگی کے خلاف مزاحمت کا راستہ اختیار کرے گی۔ میرا اندازہ ہے کہ طالبان کی یہ مزاحمتی تحریک دوبارہ منظم ہونے میں ایک سال اور اپنے ہدف تک پہنچنے میں پانچ چھ سال کا عرصہ لے سکتی ہے اور افغان قوم کے مزاج، روایات اور تاریخی تسلسل کو سامنے رکھتے ہوئے مجھے اس کی کام یابی میں شک اور تردد کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔
سوال :القاعدہ اور طالبان کو نشانہ بنا کر امت مسلمہ پر جو ظلم کیا گیا ہے، اس میں اسلامی ممالک کی کیا ذمہ داری ہے؟
جواب : میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ موجودہ مسلم حکومتیں عالمی نظام اور اقوام متحدہ کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں، وہ ا س سے بغاوت اور انحراف کا سوچ بھی نہیں سکتیں اس لیے ان سے کسی ذمہ داری کی ادائیگی بلکہ کسی بھی درجے میں کسی خیر کی توقع کرنا ہی فضول ہے۔ اسلامی تحریکات کو مسلم عوام سے اپنا رشتہ استوار کرنا ہوگا اور انہی کے اعتماد اور تعاون سے اپنے کام کو آگے بڑھانا ہوگا۔ اس کے سوا ان کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے۔
سوال:مستقبل میں مجاہدین کو کس طرح کا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے؟ بالخصوص اب جبکہ پاکستان میں بھی مجاہدین کے خلاف عملی کارروائی ہونے کی توقع ہے؟
جواب : میں اصولی طور پر تشدد کے حق میں نہیں ہوں اور پر امن سیاسی جدوجہد کا قائل ہوں، اسی وجہ سے جہاں سیاسی جدوجہد کے راستے کھلے ہوں، وہاں کسی قسم کی پر تشدد تحریک کو جائز نہیں سمجھتا اور پاکستان میں بھی نفاذ اسلام کی جدوجہد کے لیے تشدد اور عسکریت کا راستہ اختیار کرنا میرے نزدیک درست طرز عمل نہیں ہے البتہ جہاں عالمی جبر یا ریاستی تشدد کی فضا موجود ہو اور اس کے خلاف رائے عامہ کو منظم کرنے، اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے تمام راستے مسدود ہوں، وہاں احتجاج کرنے اورکلمہ حق بلند کرنے والوں کی طرف سے تشدد کا راستہ اختیار کرنے کو ان کی مجبوری سمجھتا ہوں اور مجبوری ہی کے درجے میں ان کی حمایت کو دینی حمیت کا تقاضا تصور کرتا ہوں۔ اسی طرح جن غیر مسلم ممالک میں مسلم اکثریت کے خطے اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، ان کی جدوجہد میرے نزدیک جہاد ہے۔ اس پس منظر میں ’’جہادی تحریکات‘‘ کے لیے یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ مل بیٹھ کر اپنی پالیسی اور طریق کار کا ازسر نو جائزہ لیں، اپنی غلطیوں کی نشان دہی کریں، ترجیحات پر نظر ثانی کریں اور اہل علم ودانش کو اعتماد میں لے کر اپنا آئندہ طرز عمل طے کریں۔
میرے نزدیک جن باتوں نے جہادی تحریکات کو نقصان پہنچایا ہے، ان میں چند اہم امور یہ ہیں:
۱۔ اصل اہداف سے ہٹ کر جذباتی نعرہ بازی مثلاً دہلی کے لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے، پاکستان میں طالبان کی طرز پر انقلاب لانے اور مغربی ملکوں کے مراکز کو نشانہ بنانے کی باتیں جنہوں نے ان سب قوتوں کو نہ صرف چوکنا کیا بلکہ متحدبھی کر دیا۔
۲۔ ایجنسیوں کے ساتھ ضرورت سے زیادہ اختلاط اور اس اختلاط میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی درپردہ کوششیں جن کی وجہ سے پالیسی سازی اور فیصلوں کی قوت بتدریج جہادی تحریکات کی لیڈرشپ کے ہاتھوں سے نکلتی چلی گئی۔
۳۔ باہمی مشاورت، تعلقات کار اور انڈر سٹینڈنگ کے ضروری اہتمام سے گریز۔
۴۔ ملک کے داخلی معاملات بالخصوص فرقہ وارانہ امور میں شعوری یا غیر شعوری طور پر ملوث ہونا۔
۵۔ اور اہل علم ودانش سے صرف تعاون اور سرپرستی کے حصول پر قناعت کرتے ہوئے ان سے راہ نمائی اور مشاورت کی ضرورت محسوس نہ کرنا۔
یہ اور اس قسم کی دیگر کئی باتیں ہیں جنہوں نے جہادی تحریکات کو نقصان پہنچایا اور ان کے مخالف عناصر کو اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے، اس لیے جہادی تحریکات کو اپنی پالیسیوں اور طریق کار کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے اور اہل علم ودانش کی راہ نمائی میں لائحہ عمل اور ترجیحات کا پھر سے تعین کرنا چاہیے۔

قومی خودمختاری کا سوال اور ہماری سیاسی قیادت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مسلسل ڈرون حملوں نے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی خود مختاری پر پہلے ہی سوالیہ نشان لگا رکھا تھا، مگر شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ کے حوالہ سے ’’ایبٹ آباد آپریشن‘‘ نے اس سوال کے سوالیہ پہلو کو اور زیادہ تاریک کر دیا ہے اور پوری قوم وطن عزیز کی خود مختاری کی اس شرم ناک پامالی پر چیخ اٹھی ہے۔ پوری قوم مضطرب ہے، بے چین ہے اور ایک ’’اتحادی‘‘ کی اس حرکت پر تلملا رہی ہے، مگر حکومتی پالیسیوں کے تسلسل میں کوئی فرق دیکھنے میں نہیں آ رہا اور وہ پالیسیاں جن کو ملک کے عوام نے گزشتہ الیکشن میں کھلے بندوں اپنے ووٹوں کے ذریعے مسترد کر دیا تھا او رمنتخب پارلیمنٹ نے بھی متفقہ قرارداد کی صورت میں ان پالیسیوں سے بے زاری کا اظہار کر دیا تھا، پرویز مشرف کے وہ معاہدات اورپالیسیاں آج بھی نہ صرف جاری ہیں بلکہ ان پر عمل درآمد کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
قوم کے اضطراب اور غصے کو پارلیمنٹ کی ایک اور ’’متفقہ قرارداد‘‘ کے ذریعے کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر اس قرارداد کا مستقبل بھی سابقہ قرارداد سے مختلف دکھائی نہیں دے رہا۔ اصل بات قراردادوں اور اخباری بیانات کی نہیں، بلکہ پالیسیوں اور خفیہ معاہدات کی ہے۔ جب تک ان پر نظر ثانی نہیں ہوتی اور قومی مفادات اور عوامی جذبات کے مطابق ان سے ’’یوٹرن‘‘ لینے کی کوئی سبیل سامنے نہیں آتی، تب تک ان قرادادوں اور اخباری بیانات کی کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ اب تو یہ بیانات اور قراردادیں قوم کے ساتھ مذاق کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
شیخ اسامہ بن لادن تو شہید ہو گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت الفردوس میں بلند فرمائے کہ وہ شہادت ہی کی تمنا رکھتے تھے، مگر ان کے ساتھ ہماری قومی خود مختاری بھی شہید ہو گئی ہے۔ یہ بات ہماری قومی سطح کی سیاسی ودینی قیادت کے لیے لمحہ فکریہ ہے بلکہ نشان عبرت ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ:
وَلَا تَکُونُوا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللَّہَ فَأَنسَاہُمْ أَنفُسَہُمْ (الممتحنہ: ۱۹)
’’ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے آپ سے غافل کر دیا۔‘‘
قوموں کا اپنے نفع ونقصان سے غافل ہو جانا اور قومی قیادتوں کا ملی جذبات ومفادات سے بے پروا ہو جانا ’’عذاب خداوندی‘‘ ہوتا ہے۔ آج ہماری حالت بتاتی ہے کہ ہم اسی دور سے گزر رہے ہیں۔ اس کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی اللہ تعالیٰ کو بھول جانے کی حالت کا ادراک کریں، اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں، انفرادی اور اجتماعی معاملات میں اپنے خالق ومالک کو یاد کرنے کا ذوق زندہ کریں اور بارگاہ ایزدی میں توبہ واستغفار کا اہتمام کریں تاکہ ’’خود سے غافل ہو جانے‘‘ کے اس قومی عذاب سے نجات حاصل کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر سطح پر اس کا احساس وادراک اور اصلاح احوال کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین

اُسامہ

خورشید احمد ندیم

یہ خبر نہیں، اداسی کی ا یک لہر تھی جس نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔پہلا ردِ عمل ایک جملہ تھا: اناللہ وانا الیہ راجعون۔ ایک دنیامدت سے موت بن کراُس کی تلاش میں تھی۔ تورہ بورہ کا مقتل، افغانستان کے صحرا، پاکستان کی وادیاں، کہاں کہاں اُس کا پیچھا نہیں کیا گیا۔لیکن اسے کب اور کہاں مر ناہے، یہ صرف عالم کا پروردگار جانتا تھا۔اِس کی خبرتو اس نے پیغمبروں کو بھی نہیں دی۔ وہ وقت آیا تو اسامہ کو مو ت کے حوا لے کر دیا گیا۔ لا ریب، ہم سب کو مرنا ہے اور ہم سب کو اپنے رب کی طرف لو ٹنا ہے۔
موت کسی کی بھی ،مجھے اداس کر دیتی ہے۔ اِس مو ت کی اداسی مگر دوگنا تھی۔ ایک اس کا رنج کہ ایک مسلمان مارا گیا۔ دوسرا اس کا دکھ کہ ایسے عزم اور حو صلے والا، اگر اپنی صلاحیتوں کو اس امت کی فلاح کے لیے صرف کر دیتا تو اس زمین کے کتنے صحراؤں کو گلزار بنا سکتا تھا۔ جس نے امریکا کو چیلنج کیا، اگر پہلے ہمارے افلاس کو مخاطب بنا تا توہم اغیار کی دریوزہ گری سے نکل آتے۔ اگر ہماری جہالت کو اپنا ہدف بناتا تو دنیا طلب علم کے لیے واشنگٹن اور کیمبرج کے بجائے کابل اور اسلام آ باد کا رخ کر تی۔ جب ہم علم اور ما دی وسائل میں خود کفیل ہو تے توغلامی کی زنجیریں ٹو ٹتیں۔ ہم اپنے فیصلے خود کر تے اور ہمارے شہر قتل گاہوں میں تبدیل نہ ہو تے۔ جو امریکا کے خلاف جہاد کے لیے ایک ولولہ تازہ دے سکتا تھا، وہ جہالت ا ور غربت کے خلاف جہاد کے لیے بھی مجاہدین کے لشکر تیا رکر سکتا تھا۔ کاش ایسا ہو سکتا۔ صرف افغانستان ہی اگر تعمیر کا نمو نہ بن جاتا تو ہم دنیا کو دکھاتے کہ مسلمان کس طرح ایک نئی دنیا کی تعمیر کا سلیقہ رکھتے ہیں۔صد افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔ میرے لیے یہ ایک مسلمان بھائی کی موت ہی نہیں، ایک ایسے حو صلے کی بھی موت ہے جو بد قسمتی سے مسلمانوں اور دنیا کے لیے تباہی کا پیغام بن گیا۔
اسا مہ رخصت ہو ئے۔اب ان کا معا ملہ ان کے پروردگار کے پاس ہے۔ لیکن وہ ہمارے لیے بہت سے سوال چھوڑ گئے، ہمیں جن کے جواب تلاش کر نے ہیں۔ یہ سوال ہیں کیا؟
  • عہدِ حاضر میں اگر مسلمانوں کو وقار کے ساتھ جینا ہے تواس کی حکمتِ عملی کیا ہو نی چا ہیے؟
  • علم کے بغیر، جس کا ایک مظہر سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت ہے، کیا کو ئی معر کہ سر کیا جا سکتا ہے؟
  • اگر امریکا بطور عالمی قوت ختم ہو جا ئے تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ ہمارے لیے کو ئی نیا سامراج وجود میں نہیں آئے گا؟
  • اس دور میں جارح کے خلاف جنگ کیا محض جذبے کے ساتھ جیتی جا سکتی ہے جب کہ وسائل میں غیر معمولی فرق ہو؟
  • اس عسکریت پسندی نے ہمیں کیا دیا؟ مسلمان ملکوں کو مقتل بنانے میں اس سوچ کا کتنا دخل ہے اور کیا یہ کو ئی کامیابی ہے؟
  • اگر اس مہم جو ئی کے نتیجے میں ایک مسلمان بھی بے گناہ مارا گیا تو اس کی جان کا وبال کس کے سر ہے؟ کیا ہمارے پاس کو ئی ایسا جواب مو جود ہے جو ہم اپنے رب کے حضور میں پیش کر سکیں؟
  • ۱۱/۹ کے بعد مسلمانوں کا کتنا نقصان ہوا ہے اور امریکا کا کتنا؟
  • کیا القاعدہ اور بلیک واٹر کی سر گرمیوں کے مابین کوئی واضح حدِ فاصل تلاش کی جا سکتی ہے؟تحریک طالبان پاکستان کیا ہے؟ القاعدہ، بلیک واٹر یا ایک واہمہ؟
  • کیا ہم کسی دوسری ایسی مزاحمتی تحریک کا تصور کر سکتے ہیں جس کی بنیاد مسلمان معا شروں کی تعمیر ہو اور جس میں خسارہ نہ ہو نے کے برابر ہو، تاہم اس کے نتیجے میں ہم اغیار کے اثرو رسو خ کا خاتمہ کر سکیں؟
ہم نہیں جا نتے کتنے باعزم اور حو صلے والے جوان اب بھی اس راستے پر چل رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں انہیں امریکی وحشت اور بربریت سے بچا نا ہے۔ اس کے ساتھ ان کی صلاحیتوں کو امت کے لیے مفید بنانا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان سوالات پر غور کیا جائے اور ایک ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جس میں ہمارے قیمتی لوگ محفوظ رہیں اور ہم ان کی صلاحیتوں سے بہتر فائدہ اٹھاسکیں۔
مجھے دکھ اس کا بھی ہے کہ ایک مسلمان کی جا ن ہی نہیں گئی، اس کے ساتھ ہمارے اس اعتبار کا جنازہ بھی اٹھ گیا جو ایک مسلمان قوم کی حیثیت سے دنیا میں ہماری پہچان ہو نا چا ہیے تھا۔ ہم بر سوں سے ساری دنیا کو یہ کہتے رہے کہ اسامہ یا ان سے متعلق لوگ پاکستان میں نہیں ہیں۔ اب ایک تو امریکیوں نے اسامہ کو ہماری سر زمین سے تلاش کر لیا اور دوسرا یہ کہ ہماری مکمل لا علمی میں انہوں نے عین ہماری ناک کے نیچے ایک آ پر یشن کیا اور ہم بے خبر رہے۔ جب امریکی یہ آپریشن کر رہے تھے، ہماری فوج کے سپریم کمانڈر اور صدر مملکت سیاسی جو ڑ توڑ میں مصروف تھے جب کہ ہمارے سپہ سالار بھی اسی سیاسی قضیے میں کسی دوسرے کا دکھڑا سن رہے تھے۔ اب ایک طرف عالمی برادری میں ہمارا وقار شکوک کی زد میں ہے اور دوسری طرف بیرونی جا رحیت سے محفوظ رکھنے کی ریاستی صلاحیت کے بارے میں بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ یہ معمولی صدمہ نہیں اور اس سے میرے دکھ میں تشویش بھی شامل ہو گئی ہے۔
زندہ افراد کی نشانی یہ ہے کہ وہ حادثات سے سیکھتے ہیں۔ یہ جو کچھ ہوا ،نہ تو اچانک ہوا اور نہ ہی یہ غیر متوقع تھا۔ اس کالم میں بار ہا اس کی طرف تو جہ دلا ئی جاتی رہی۔مجھے یہ زعم نہیں کہ پالیسی ساز اس کالم سے کو ئی راہنمائی لیتے ہیں اور نہ ہی کسی کو زبر دستی مشورہ دیا جا سکتا ہے۔ ہم جیسے لوگ تو تاریخ کے سامنے اپنی گواہی پیش کر دیتے ہیں۔یہ رب کے حضور میں ہماری معذرت ہو گی کہ ہم نے جو سمجھا ،اس کے مطابق لوگوں کو خبر دار کر دیا اور یوں بساط بھر ’انذار ‘ کا فریضہ سر انجام دیا۔آج ایک بار پھر میں نے یہ اپنا دکھ ریاست کے ذمہ دار ان اور فکرِ اسامہ کے متاثرین کے سامنے رکھ دیاہے۔یہ ایک عجیب کیفیت کا اظہار ہے جب دکھ اور تشویش باہم گلے مل رہے ہیں۔ دکھ اس کا کہ اسامہ جیسا حو صلہ مند ایک فکری غلطی کی نذر ہو گیا اور تشویش اس کی کہ عالمی سطح پر ہمارے وقار کا کیا ہوگا۔اگر ہمارے اربابِ حل وعقد اور احیائے امت کے علمبرداروں نے اب بھی اپنی سوچ پر نظر ثانی نہ کی تو اس امت کا کیا بنے گا؟ اھدنا الصراط المستقیم!
(بشکریہ روزنامہ اوصاف)

گوجرانوالہ میں توہین قرآن کا واقعہ: چند حقائق

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

ہمارا محلہ کھوکھر کی گوجرانوالہ کا بہت پرانا محلہ ہے۔ یہاں عیسائی اور مسلم آبادی باہم شیر وشکر رہتی ہے۔ سیالکوٹ روڈ کے پار عیسائیوں کے بڑے بڑے عبادت خانے موجود ہیں۔ عیسائی مسلم کشیدگی کی صورت کبھی سننے میں نہیں آئی۔ انٹر نیٹ پر عیسائی زعما نے خود بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ اس محلے اور اس کی مضافات (عزیز کالونی، گلزار کالونی، اسلام کالونی) میں ایک سو پچیس سال سے عیسائی اور مسلمان بھائیوں کی طرح پر امن رہ رہے ہیں۔ یہاں عیسائی خاندانوں کی تعداد تین ہزار بیان کی جاتی ہے۔ وہ پر امن رہے ہیں اور امن و امان کی چادر تلے خوش و خرم ہیں۔ کبھی انتظامی بے اعتدالی ہوئی بھی تو مسیحی برادری نے درگذر سے کام لیا۔ اس کی مثال پچھلے دنوں سیالکوٹ روڈ کو کشادہ کرنے کے لیے تجاوزات گرانے کی مہم کے دوران سامنے آئی۔ اس مہم میں گرجا گھروں اور مشنریوں کے دیگر اداروں نے تجاوزات کو، رضاکارانہ طور پر خالی کیا۔ مگر صد افسوس، سیشن کورٹ کے مین دروازے کے بالمقابل، کھو کھر کی کا پرانا قبرستان اور اس کے کونے پر واقع مسجد انصاف کا منہ چڑا رہی ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ مسلمانوں کے قبرستان اور مسجد کو سڑک کی حدود سے ہٹانے میں پہل کی جاتی، پھر عیسائیوں کے معبدوں کو چھیڑا جاتا۔ بلا شبہہ انتظامیہ نے یہاں کمزوری دکھائی اور مسلمانوں کو اپنے تجاوزات ہٹانے کے لیے مہلت دے دی۔ اس انتظامی بے انصافی پر عیسائی کمیونٹی نے در گزر سے کام لیا۔ اگر اسے تنازع بنایا جاتا تو معاملہ دور تک جا سکتا تھا۔
مسلمانوں کے علما بالعموم انتظامیہ سے ساز گاری رکھتے ہیں۔ اگر انتظامیہ انصاف پر مبنی طرز عمل اختیار کرتی تو میرے نزدیک علما کی جانب سے مشکلات پیدا نہ کی جاتیں۔ یہاں میں راستے میں واقع مسجد اور مسلمانوں کے قبرستان کا ذکر، عیسائیوں کی نظر میں نمبر گیم کے لیے نہیں کر رہا۔ اس متجاوز مسجد اور قبرستان کے قریب سے دن میں کئی بار گزرنا پڑتا ہے ۔ اس طرح یہ منظر مجھے ہر بار کھٹکتا ہے۔
محلہ میں رہتے ہوئے بھی اکثر مجھے کئی بڑے بڑے واقعات کا کافی بعد میں علم ہوتا ہے۔ عام روایت ہے کہ تھانے میں درج ابتدائی رپورٹ کے مطابق قرآن حکیم کے اوراق کی بے حرمتی اور توہین رسالت کا الزام ایک شخص انور مسیح گل پر عائد کیا گیا۔ انٹر نیٹ کی رپورٹ کے مطابق اس کیس میں مشتاق گل اور اس کا بیٹا فرخ مشتاق بھی گرفتار ہوا۔ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے سخت اشتعال انگیز تھا۔ احتجاج شروع ہوا۔ قبا مسجد وقوعہ کے قریب ترین جامع مسجد ہونے کی وجہ سے احتجاج کا مرکز بنی۔ مسجد کے خطیب و متولی سید عرفان شاہ احتجاجی تحریک کے قائد ہوئے۔ ان کے جمعہ کے خطابات بڑے متوازن تھے۔ امن میں خلل ڈالنے کا کوئی عندیہ ان کی جانب سے نہیں تھا۔ وہ بر ملا یہی کہتے رہے کہ وہ پر امن احتجاج کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی بار ہا کہا کہ ہم احتجاج کو ہر صورت پر امن اور قانون کے دائرے کے اندر رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی اندیشہ ظاہر کیا کہ ان کی پر امن ریلیوں میں تخریب کار گھس کر اسے تشدد کی راہ دکھا سکتے ہیں۔ وہ لوگوں اور انتظامیہ کو اس بارے میں خبر دار کرتے رہے۔ وقوعہ کی نسبت تھانہ جناح روڈ میں رپورٹ ابتدائی ۱۵؍ اپریل ۲۰۱۱ء کو درج ہوئی۔ وقوعہ گزری ہوئی رات کا تھا۔ اگلی صبح سویرے جمعہ کا دن تھا۔ صبح ہوتے ہی اس رو فرسا واقعہ کا لوگوں کے علم میں آیا تو پولیس کو رپورٹ کیاگیا۔ جمعہ ہی سے احتجاج شروع ہوا۔
۲۲؍اپریل ۲۰۱۱ء کو مجھے صورت حال کا علم ایک یارِ مہربان سے ہوا۔ میں ان کے ہمراہ صبح صبح احتجاج کے ذمہ داران سے ملا۔ ان میں عرفان شاہ صاحب شامل تھے۔ مقدمہ درج ہو چکا تھا۔ ملزم گرفتار تھا۔ تفتیش کا مرحلہ درپیش تھا۔ درج ایف آئی آر نمبر ۱۷۱ کی نقل دکھائی گئی، مگر اس نقل کو کوئی خاص دستاویز کے طور پر مجھے فراہم کرنے سے گریز کیاگیا۔ البتہ ۱۹۲۹ء کی غازی علم الدین شہید والی ابتدائی رپورٹ کی نقل مجھے آسانی سے فراہم کر دی گئی۔ میں نے خود قبا مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ نماز سے پہلے شاہ صاحب کا خطاب جزوی طور پر سنا۔ مسئلہ ہی کچھ ایسا تھا۔ پھر شاہ صاحب کا جذبات کو آگ لگادینے والا موثر اور ماہرانہ انداز، اپنی جگہ موقعہ کی مناسبت سے کسی طرح بے جوڑ نہیں تھا۔ بڑی مدت کے بعد ایسا منظر دیکھنے کو ملا۔ لوگوں کے جذبات کو زبان دینا لازم تھا اور اس میں ان کے جذبات کو کھولنا کسی لحاظ سے نا مناسب قرار نہیں دیا جاسکتاتھا۔ جذبات کا پرامن طور پر اظہار، خواہ احتجاج کی صورت میں ہو، لوگوں کا حق ہے اور فرض بھی۔ لیکن یہ حق اور فرض، ہر صورت پر امن رہنے کی شرط کے ساتھ منسلک ہے۔
محلے کی مساجد میں جمعہ کا اجتماع اور جمعہ کے خطبات احتجاج کے لیے مخصوص ہو کر رہ گئے۔ علمائے کرام کی جذباتی تقاریر آگ لگا دینے والی تھیں۔ تقاریر کے نتیجہ میں ایک ہی نعرہ لگتا: حرمت رسول پر جان بھی قربان۔ اس طرح کے قبیح واقعات میں ہر مسلمان کے جذبات ایک جیسے ہی ہیں۔ اس میں کوئی استثنا نہیں۔ کوئی کتنا ہی امن اور اعتدال پسند ہو، اس کی جذباتی کیفیت کسی انتہا پسند سے مختلف نہیں ہو سکتی۔ یہاں تک کہ سکیورٹی پر متعین افسران سے لے کر معمولی سپاہیوں کی کیفیت بھی یہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے محافظ کے ہاتھوں قتل کی سادہ اور واحد ممکنہ تشریح، اسی سیاق و سباق میں ہو سکتی ہے۔
۲۹؍اپریل کو احتجاجی ریلی نکالنے کے بجائے مسجد کے اندر جلسہ ہوا۔ دیگر مساجد سے آئے ہوئے خطبا نے اپنی تقاریر میں لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کی۔ پرنٹ اور اسکرین میڈیا مکمل بائیکاٹ کیے ہوئے تھا۔ عام لوگوں میں چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں کہ بین الاقوامی سطح پر این جی اوز مسیحی برادری کی کھل کر مدد کر رہی ہیں۔ ۲۹ اور ۳۰ کی درمیانی رات کو، اوراق مقدسہ اور رسالت کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا دوسرا واقعہ سامنے آیا۔ اس کی ایف آئی آر نمبر ۱۸۳ تھانہ جناح روڈ میں درج کی گئی۔ اس پر لوگوں میں پہلے سے پایا جانے والا اشتعال شدت اختیار کر گیا۔ انٹر نیٹ رپورٹ کے مطابق، مقدمہ نمبر ۱۷۱ میں گرفتار ملزمان مشتاق اور فرخ مشتاق کی رہائی بھی اشتعال کا باعث ہوئی۔ ہفتے کا دن تھا۔ جمعہ کے معمول کے اجتماعات کے بغیر ہی لوگ، صبح ہی سے جمع ہونے شروع ہوگئے۔ ایک بڑی ریلی سیالکوٹ روڈ پرپہنچی۔ ٹائروں کو جلا کر سڑک پر دھواں دھواں کر دیا گیا۔ رواں ٹریفک مسدود ہو گئی۔ توڑ پھوڑ کے معمولی واقعات ہوئے۔ بالآخر لوگ چرچ روڈ اور ڈی آئی جی آفس کے سامنے جمع ہو گئے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ چرچ روڈ پر لوگوں نے بعض گرجوں کو جلانے کی کوشش کی۔ علما بھی یہی کہتے ہیں کہ پے درپے واقعات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے اشتعال سے یہ رد عمل کچھ زیادہ غیر معمولی نہیں تھا۔ بہر حال انتظامیہ نے نظم عامہ کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے آنسو گیس کے شیل پھینکے، گرفتاریاں کیں۔ اس کشیدہ صورت حال سے متعلق رپورٹ ابتدائی نمبر ۱۸۴ تھانہ جناح روڈ اور رپورٹ ابتدائی نمبر ۵۲۱ تھانہ سول لائن میں درج کی گئی۔ راتوں رات اڑھائی سو کے لگ بھگ لوگ گرفتار کر لیے گئے۔ ان میں چھوٹے بچے بھی کافی تعداد میں شامل تھے۔ احتجاج کے قائدین روپوش ہو گئے یا انتظامیہ نے ان کو اپنی حفاظت میں لے کر حالات پر قابو پانے کے لیے بات چیت کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ 
اسی دوران روح فرساواقعات کی تفتیش بھی جاری رہی۔ پریس اور ابلاغ عامہ کے دیگر ذرائع قریب قریب خاموش رہے یا خاموش بنا دیے گئے۔ صورت حال کو امن کی جانب گامزن کرنے کے لیے پے درپے اقدامات ہوئے۔ اس میں جماعت اسلامی کی پھرتیاں اپنے کمال کو پہنچی ہوئی تھیں۔ کہاں احتجاجی ریلیوں میں اپنی بساط سے بڑھ کر شرکت اور کہاں عیسائی بھائیوں کے ساتھ یک جہتی اور ان کے نقصانات کے ازالہ کے لیے کیمپوں تک قیام۔ اتنی لچک بڑی غیر معمولی بات تھی۔ دوسری طرف پولیس کی انسدادی کارروائیوں سے مسلمانوں میں خوف و ہراس دور دور تک سرایت کر گیا۔ ان ایام میں تحریک کا مرکز بننے والی مسجد قبا میں نمازیوں کی تعداد برائے نام رہ گئی۔ پولیس والے وردی اور وردی کے بغیر رسم نماز ادا کرتے رہے۔ تیسرے روز صورت حال کا اندازہ کرنے فجر کی نماز کے لیے میں مسجد میں پہنچا۔ یہ مسجد کھوکھر کی کے بڑے قبرستان کے قریب عابد کالونی کی آخری گلیوں میں واقع ہے۔ مسجد کم وبیش ایک کنال اراضی کے لمبوترے پلاٹ پر تعمیر شدہ ہے۔مسجد کا ہال، برآمدہ، اس کے ساتھ وسیع لان ہے۔ لان کے ایک حصے میں باغیچہ کا منظر پر کشش ہے۔ مساجد کے اعتبار سے یہ ایک غیر معمولی کیفیت ہے۔ گرجوں میں باغیچے کا ماحول اور احاطے کی وسعت تو انگریز دور کی یاد گار کے علاوہ این جی اوز کی عنایات کی مرہون منت ہے، جبکہ ہمارے ہاں مساجد زیادہ تر سوسائٹی کی جانب سے پلاٹوں کی خرید اور تجاوزات کی صورت میں معرض وجود میں آتی ہیں۔ اس طرح پلاٹ مختصر اور ان پر تعمیر کاروباری لوگوں کے عطیات سے ہوتی ہے، کیونکہ اہل ثروت کو دو سجدوں کے لیے بھی محل نما مساجد کی ضرورت ہوتی ہے۔ البتہ ائمہ و خطبا حضرات کو مسجد محل پر ظل الٰہی جیسا کنٹرول حاصل ہو جاتا ہے۔ کھوکھر کی کے مضافات میں واقع مسجد قبا عرفان شاہ صاحب کی ذاتی طور پر تعمیر کردہ بیان کی جاتی ہے۔ یہ مسجد بریلوی مسلک سے منسلک ہے۔ 
جمعہ کو احتجاج کا پروگرام تھا، چنانچہ جمعہ کی نماز مذکورہ مسجد میں ادا کی۔ دوپہر سوا تین بجے مسجد پہنچا تو عرفان شاہ صاحب کا خطاب جمعہ جاری تھا۔ مجھے برآمدے میں جگہ ملی۔ اپنی چھڑی اور دیوار کے سہارے کھڑے ہو کر شاہ صاحب کی مہارت خطاب کا مشاہدہ کرنے لگا۔ لوگوں کے جذبات کو بر انگیختہ کرنے میں ان کا ایک ایک جملہ گہرا اثر رکھتا تھا۔ پولیس کی نفری بھی خوب تھی۔ شروع شروع میں احتجاجی ریلی پولیس کی نفری کے مقابلے پر کافی کم تھی، مگر تھوڑی دیر بعد دیگر مساجد سے لوگوں کی بڑی تعداد کی آمد سے خاصی بڑی ریلی منظم ہو گئی۔ میں ریلی میں شامل ہو کر سیالکوٹ روڈ تک ساتھ رہا اور پھر اس خیال سے واپس آ گیا کہ سائیکل لے کر آخر تک ساتھ چلوں گا۔ گھر پہنچ کر مہمانوں کی آمد کے انتظامات نے گھر سے دوبارہ نکلنے کا موقع نہ دیا، البتہ فون پرصورت حال سے با خبر رہا۔ ریلی بخیر و خوبی ریل بازار چوک پر جلسہ کی صورت میں پر امن طور پر ختم ہوئی۔
اختصار سے پیش آنے والے واقعات کے بعد بعض توجہ طلب پہلوؤں کا ذکر لازم ہے۔
سب سے اہم تر بات یہ ہے کہ احتجاج کی قیادت سید عرفان شاہ صاحب خطیب جامع مسجد قبا کے ہاتھ میں رہی۔ ان کی مسجد علاقائی وجہ سے احتجاج کا مرکز بنی۔ اس طرح شاہ صاحب پر قیادت کی ذمہ داری حالات نے ڈال دی۔ شاہ صاحب نے قیادت خوب نبھائی۔ انہوں نے راز داری سے بھی کام لیا اور کسی دوسرے کو قیادت میں شرکت سے بھی دور رکھنے کا پورا اہتمام کیا۔ اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ لیکن احتجاج کے برآمد ہونے والے نتائج کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہو گی۔ حالات کے کنٹرول سے باہر ہونے کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی، اس میں شاہ صاحب کو جتنی بھی رعایت دی جائے، اسے ناکامی کے سوا کچھ اور نہیں کہا جاسکتا۔ کیس کی تفتیش اور احتجاج میں تشدد شامل ہونے کے نتیجہ میں وسیع گرفتاریاں، مسلمانوں میں پیدا خوف و ہراس کا ہر پہلو نا خوشگوار ہے اور اس کی ذمہ داری احتجاج کے قائد پر ہی عائد ہو گی۔ احتجاج کو قابو میں نہ رکھنے کے کتنے بھیانک نتائج نکلیں گے، اس کا اندازہ ابھی احتجاج کرنے والوں میں سے کسی کو نہیں۔ اس صورت حال میں لوگوں کا بڑی تعداد میں گرفتار ہونا اور قائدین کا بچ رہنا شعوری ہو یا انتظامیہ کی حکمت عملی کے تحت ہو، نہایت افسوس ناک ہے۔ جماعت کی مقامی قیادت میں سے حکیم کلیم ابتدائی رپورٹ میں نامزد ملزم ہیں۔ انہوں نے قبل از گرفتاری ضمانت کرائی ہے اور نہ ہی وہ گرفتار ہوئے۔ یہ صورت حال انتظامیہ کے ساتھ ملی بھگت کی نشاندہی کرتی ہے۔ عام لوگوں کو قید و بند کا شکار کر کے خود محفوظ رہنے کی حکمت عملی کسی طرح درست نہیں ہو سکتی۔ تحریک کو پر امن رکھنے کی تمام تر ذمہ داری قائدین کی ہوتی ہے۔ اس کا تشدد کی راہ پر جانا اس کی سو فی صد ناکامی ہے۔ کوئی سمجھے یا نہ سمجھے، مانے یا نہ مانے، احتجاج کی کامیابی اس کے پر امن رہنے میں ہے۔ تشدد کی راہ پر جانے میں دشمن یا انتظامیہ کی سازش کا عنصر بھی ہو سکتا ہے۔ مگر تمام تر نتائج تحریک کے قائدین پر عائد ہوں گے۔ 
ضرورت اس بات کی تھی کہ احتجاج کو پر امن رکھنے کے لیے بھر پور حکمت عملی اختیار کی جاتی۔ اس میں احتجاج کی نوعیت کا تبدیل کرنا بھی ایک اچھی اور موثر تدبیر ہوسکتی ہے۔ لگتا ہے کہ سید عرفان شاہ اور دیگر قائدین قیادت کی ذمہ داریوں کے لحاظ سے اپنی نا تجربہ کاری کی مار کھا گئے۔ احتجاج کا اگر حاصل یہ ہے کہ خوف و ہراس کے نتیجہ میں تحریک کا مرکز بننے والی مسجد میں نماز یں ادا کرنے کے لیے پولیس کی نفری ہی باقی رہ جائے تو بڑی مایوسی کی بات ہے۔ نعرے اتنے بلند بانگ، ہزاروں کے جلوسوں میں ’’حرمت رسول پر جان بھی قربان‘‘ اور جب آزمائش کا وقت آئے تو لیڈر گرفتاری سے بچ رہیں! مسجدوں میں ادائیگی نماز کے لیے بھی لوگ نہ آسکیں!
پولیس انتظامیہ کے ساتھ معاملات پر مذاکرات میں پبلک کی جانب سے کوئی شخص یا تنظیم کبھی آسان وکٹ پر نہیں ہوتی۔ علما کے لیے تو مذاکرات ہمیشہ ہی دلدل بن جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ تفتیش اور پولیس کے اقدامات دونوں میں علما قانون، ضابطہ اور پولیس و انتظامیہ کے مزاج پر گرفت رکھنے کی صلاحیت و مزاج سے محروم ہیں۔ وہ اپنی اعانت کے لیے وکلا کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں مگر اس کی کسی مرحلے میں ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اگر ایسا ہوتا بھی تو تحریک کو تشدد کی راہ پر جانے کے بعد مذاکرات میں کچھ حاصل کر لینا بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے خطرناک مرحلے میں اخلاقی طور پر لوگوں کے ساتھ، آزمائش کے مرحلے میں، بہادرانہ گزرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ مصلحت، بزدلی یا سمجھوتے کے تحت گرفتاری سے بچنا سخت ہزیمت ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ گرفتار لوگوں کی ضمانتوں کے مرحلے میں، لوگوں کی مدد سے کوئی سیاسی فائدہ ہو جائے گا۔ قیادت کے لیے لازم ہے کہ وہ بہادر ہو، حالات پر قابو رکھے، بے قابو ہونے کی انہونی صورت پیدا ہو جائے تو لوگوں کے ساتھ مرے اور جیے۔ دوستوں کے ہاں پناہ گیری اختیار کرے اور نہ انتظامیہ کے ساتھ سودا بازی سے گرفتاری سے بچنے کی راہ تلاش کرے۔
تازہ صورت یہ ہے کہ اوراق مقدسہ اور رسول اقدس کی اہانت کے دونوں مقدمات کی تفتیش کے بارے میں صورت حال واضح نہیں۔ مقدمات کی ابتدائی رپورٹ نمبر ۱۷۱، ۱۸۳ کہیں سے مہیا نہیں۔ قانون کی رو سے اس کا ایک پرت علاقہ مجسٹریٹ کے پاس جانا چاہیے۔ وہاں یہ پرت نہیں گیا۔ تھانے سے بھی یہ مہیا نہیں ہوا۔ ایس پی کے دفتر میں بھی یہ دستیاب نہیں۔ یہ کتنی بڑی زیادتی ہے کہ ایف آئی آر ایک پبلک دستاویز ہے۔ قانونی طور پر یہ دستاویز ہر ایک کے لیے کھلی ہے، مگر یہ کہیں بھی مہیا نہیں۔ اس پر علما کیا احتجاج کر سکتے ہیں! وہ قانون کے اس پہلو سے بے خبر رہیں گے۔ واقعات کی تفتیش میں پولیس نے کیا کیا اور کیا نہیں کیا، کوئی نہیں جانتا۔ پولیس سب کچھ خاموشی اور راز داری سے کر رہی ہے۔ تفتیش صاف اور شفاف ہے یا نہیں، یہ بعد کی بات ہے۔ پہلے یہ تو واضح ہو الزامات کیا ہیں، کس پر ہیں اور کن شواہد کی بنیاد پر ہیں؟ ان شواہد کی جانچ کے لیے، پولیس کس حد تک اپنی ذمہ داری قانون اور انصاف کی رو سے پورا کر رہی ہے؟ اس بارے میں علما کچھ کہنے کو تیار ہیں اور نہ ہی پولیس حکام کچھ کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مسئلے کی حساسیت کے پیش نظر، ایف آئی آر سیل کر دی گئی۔ تفتیش راز داری سے کی گئی تاکہ اشتعال نہ پھیلے۔ یہ سب کچھ غلط اور قانون اور ضابطے کے سخت خلاف ہے۔ ابتدائی رپورٹ کو سیل کر کے اسے پبلک دستاویز کے status سے ایک خفیہ دستاویز تک لے آنے کو کم سے کم بد معاشی کے الفاظ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ قانون میں زیادہ سے زیادہ اتنی گنجائش ہے کہ اگر کوئی، اس دستاویز کی مدد سے نقص امن کی صورت کو خطرے میں ڈالے تو قانون تحفظ امن عامہ کی دفعہ ۳ کے تحت انسدادی کارروائی کے طور پر اس کے خلاف نظر بندی کا اقدام ہو سکتا ہے یا اگر کوئی نقص امن کا باعث بنے تو مذکورہ قانون کی دفعہ ۱۶کے تحت مقدمہ درجہ کر کے گرفتاری عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ میرے علم کے مطابق قانون میں کسی مقدمے کی رپورٹ ابتدائی کو سیل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ سیاسی اور تحریکی کارکنوں کو یہ امر بخوبی سمجھنا چاہیے۔ اس پہلو سے پولیس حکام نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے اور سخت زیادتی کی ہے۔ تفتیش گم اور خفیہ انداز میں جاری رہی۔ آج تک تفتیش کے بارے میں کوئی اعلان تفتیش کرنے والوں کی جانب سے جاری نہیں ہوا۔ اس سے لوگوں میں بجا طور پر بے چینی اور بد اعتمادی پیدا ہوئی ہے۔
سارے قضیے میں مقامی، صوبائی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر این جی اوز نے عیسائی کمیونٹی کی بھر پور ر اخلاقی امداد کی ہے۔ اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ مسلمانوں کا کیس پرنٹ اور اسکرین میڈیا سے غائب کر دیا گی۔ ابتدائی رپورٹ خفیہ کر دی گئی۔ تفتیش کے مراحل اور نتائج بھی لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے۔ اگر عیسائی کمیونٹی اکثریتی احتجاج سے خوف و ہراس کا شکار ہوئی تو مسلمان اکثریت میں ہوتے ہوئے میڈیا، انتظامیہ اور علما کی بے تدبیری سے خود کتنے دباؤ کا شکار ہوئے! اس کیس کو عیسائیوں کی جانب سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر لیا جا رہا ہے۔ ۸۲ این جی اوز مسیحی برادری کی حمایت میں ہیں۔ ان میں اکثر این جی اوز مسلمانوں کی ہیں۔ انٹر نیٹ پر ساری تفصیلات موجود ہیں۔ یہ صورت حال مقامی انتظامیہ پر دباؤ کا باعث ہے۔ میڈیا خاموش ہے یا خاموشی کا پابند کر دیا گیا ہے۔ واقعہ سنگین ہونے اور احتجاج میں پوری توانائی کے باوجود، اسے مقامی سطح تک کارنر کر کے مکمل طور پر کچل دیا گیا بلکہ تفتیش میں بھی جانب داری اور بد دیانتی کے کھلے شواہد سامنے آچکے ہیں، لیکن احتجاجی تحریک کی پسپائی سی پسپائی ہے کہ کوئی پرسان حال بھی نہیں۔ تحریک کے تشدد کی راہ پر جانے سے تحریک اخلاقی ہمدردی اور حمایت کھو بیٹھی۔ یہ پہلو قیادت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے تھا۔
امن وامان کی صورت کو کنٹرول کرنے کے لیے اندھا دھند گرفتاریاں بڑی زیادتی تھی۔ نابالغ بچوں تک کو گرفتاری اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ لطف یہ ہے کہ امن کے قیام کی منزل سر کر لینے کے بعد بعد بھی گرفتاریوں کے لیے چھاپے جاری ہیں۔ اس بارے میں ابتدائی رپورٹ نمبر ۱۸۴ تھانہ جناح روڈ اور ابتدائی رپورٹ نمبر ۵۲۱ تھانہ سول لائن میں درج ہوئیں۔ دونوں رپورٹس علیحدہ تھانوں میں درج ہوئی ہیں۔ ان کے مرتب کرنے والے بھی مختلف ہیں، لیکن مضمون میں اتنی یکسانیت پائی جاتی ہے کہ مصنف ایک ہی معلوم ہوتا ہے۔ دونوں میں بعض جملے بطور خاص قابل توجہ ہیں۔ کہا یہ گیا ہے کہ نفرت اور اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں اور نعرے لگائے گئے۔ یہ الزام مبہم ہی نہیں، بے معنی ہیں۔ نفرت اور اشتعال پیدا کرنے والی تقریروں کے جملے اور نعرے اور متعلقہ اشخاص کا رپورٹ میں واضح طور پر درج کیا جانا ضروری تھا۔ اسی طرح دونوں رپورٹس میں کہا گیا کہ دو اڑھائی سو افراد امن عامہ کو برباد کر رہے تھے۔ رپورٹ مرتب کرنے والے پولیس افسر ان ان دو اڑھائی سو افراد کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان کو سامنے آنے پر وہ شناخت کر سکتے ہیں۔ یہ جملے بھی لا یعنی اور غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ اگر ان کی پہچان اتنی ہی غیر معمولی اور طاقتور ہے تو ایسے افراد کے حلیے، قد کاٹھ، رنگ روپ اور لباس و چال ڈھال کا ذکر متعین انداز میں کرنا چاہیے تھا۔ اس کے بغیر ایسے جملے کی آڑ میں گرفتاری کے لیے ایک ایسا کھلا لائسنس حاصل کرنے والی بات ہے جس کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ 
ان مقدمات میں، انسداد دہشت ایکٹ کی دفعہ لگایا جانا سخت ظلم ہے۔ یہ واقعہ سخت اشتعال انگیز صورت حال میں بہت معمولی فساد کا ہے جسے آنسو گیس اور گرفتاریوں سے کنٹرول بھی کر لیا گیا۔ دہشت گردی کا ٹھپہ لگا کر انتظامیہ نے صورت حال کو بگاڑا ہے۔ اوراق مقدسہ اور رسول اقدس کی توہین پر احتجاج کے ذرا سے بے قابو ہو جانے پر دہشت گردی کا لیبل لگا کر پولیس انتظامیہ نے سخت بے تدبیری سے کام لیا ہے۔ اس سے این جی اوز کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، مگر اسے حسن تدبیر کہنا ممکن نہیں ہو گا۔ حقیقت میں یہ انتظامیہ کی جانب سے دہشت گردی کے مترادف ہے۔ دہشت گردی کی دفعات کو انتظامیہ امرت دھارا نہ سمجھے۔ یہ دفعات بہت ہی غیر معمولی صورت حال کے لیے ہیں۔
اس معاملے میں پولیس انتہائی بد دیانتی کی حدوں کو بھی پار کر گئی ہے۔ یہ پہلو سخت قابل مذمت ہے ۔ ہوا یہ کہ پولیس نے تھانہ سول لائن میں اس تصادم کے بارے میں ابتدائی رپورٹ نمبر ۵۲۱ مورخہ ۳۰؍اپریل کو درج کی۔ اس رپورٹ میں مقدمہ کے لیے جو دفعات لگائی گئیں، وہ 427/295,431/147,149/353,186 تعزیرات پاکستان ہیں۔ ایف آئی آر کے خانہ نمبر ۳ اور اس کے متن میں یہی دفعات درج ہیں۔ عدالت میں موصولہ رپورٹ مقدمے کی حقیقی شکل پر واضح شہادت ہے۔ اس ابتدائی رپورٹ میں بعد میں پولیس حکام نے دفعہ 7-ATA کا اضافہ کیا۔ یہ اضافہ ضابطے کے تحت ممکن تھا۔ ایک ضمنی لکھ کر ایسا آسانی سے کیا جاسکتا تھا، مگر ایف آئی آر کے متن میں کمی بیشی کرنا واضح طور پر جعل سازی ہے۔ پولیس حکام کا پبلک ریکارڈ میں اس طرح کا جعل سازی کرنا سنگین نوعیت رکھتا ہے۔ پھر یہ جعل سازی ایسے کیس میں ہو جس میں پبلک وسیع پیمانے پر فریق ہے، اس صورت حال کا سنجیدہ نوٹس لیا جانا چاہیے۔ اتفاق سے ہماری بار کے ایک ذمہ دار وکیل جناب شہزاد اشرف کے نوٹس میں یہ جعل سازی آئی تو انہوں نے پوری جرات سے خود سائل بن کر پولیس حکام کو کٹہرے میں لانے کی کوشش کی۔ اس کے لیے انہوں نے مقدمہ کے اندراج کے لیے باقاعدہ درخواست ضابطہ فوجداری کی دفعہ 22-A/22-B کے تحت دائر کی۔ سیشن جج جناب رشید قمر صاحب نے اس درخواست پر ریلیف دینے کے بجائے وقتی طور پر ٹالنے کی راہ اختیار کی اور سائل کو، جو کہ ہماری بار کے ایک جرات مند وکیل ہیں، مشورہ کے انداز میں پیار پوچا ڈال کر درخواست واپس واپس لینے پر آمادہ کر لیا۔ یہاں میرے عزیز بھائی ناتجربہ کاری کی مار کھا گئے۔ سیشن جج صاحب نے پولیس کے ایک سنگین جرم کو عملاً تحفظ فراہم کیا۔ سیشن جج صاحب نے اپنے تجربے، مہارت اور اختیار کو طاقتور فریق کے حق میں استعمال کیا۔ انہوں نے میرے عزیز وکیل صاحب کو خود فریق نہ بننے کے بجائے متاثرہ سائل کو میدان میں لانے کا مشورہ دیا۔ سیشن جج صاحب کا یہ رویہ کسی طرح ان کے منصب کے مطابق نہیں تھا۔ قانون کی رو سے ہر شہری، کسی بھی جرم کے ارتکاب کا علم ہونے پر، اس کی اطلاع دینے کا پابند ہے۔ اس میں وکیل کا کوئی استثنا نہیں۔ وکیل کو تو عام شہری سے زیادہ ذمہ دار خیال کیا جانا چاہیے۔ پولیس کے خلاف وکلا سے بڑھ کر کون میدان میں اتر سکتا ہے؟ پولیس کے خلاف کسی پرائیویٹ شخص کا سائل بننے کی توقع، جج صاحب اپنے ذہن میں قائم کر سکتے ہیں، مگر زمینی حقائق بہت مختلف ہیں۔ میں مان نہیں سکتا کہ سیشن جج صاحب اس زمینی صورت حال سے آگاہ نہیں ہوں گے۔ جج صاحب بہت جذباتی شخص معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے شخص سے اس طرح کی فروگذاشت ہر وقت ممکن ہے۔ یہ فروگذاشت طاقت ور پولیس کے حق میں ہو تو جج صاحب کے بارے میں کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑے گی۔
مجھے دکھ کے ساتھ واضح کرنا پڑتا ہے کہ وکیل سوسائٹی میں ظلم کے خلاف پروٹیکشن کی علامت ہے۔ کسی آبادی میں ایک وکیل کی رہائش اس آبادی کے لیے تحفظ کے قوی احساس کا باعث ہے۔ وکلا تحریک کے دوران اعتزاز احسن کہا کرتے تھے کہ ’’پندرہ کروڑ عوام میرے کلائنٹ ہیں‘‘۔ اسی طرح اگر وکیل پیسے ٹھگنے والی مشین نہیں تو وہ یقیناًہر ظلم کے خلاف موثر جد و جہد کی مضبوط علامت ہے۔ جناب شہزاد اشرف ایڈووکیٹ ایسی ہی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں ان کی اس کاوش پر ان کو مبارکباد دیتا ہوں۔ ان شا ء اللہ وہ دن دور نہیں جب وکلا میں سے راست رو لوگ، سوسائٹی کے استحصال کے بجائے استحصالی قوتوں کے لیے ضرب کلیمی بن کر ابھریں گے۔

توہین رسالت کے مرتکب کے لیے توبہ کی گنجائش

مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی

(توہین رسالت پر قتل کی سزا کی فقہی حیثیت کیا ہے اور کیا مجرم کے لیے کسی درجے میں توبہ کی گنجائش ہے؟ اس کے بارے میں حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی مدظلہ العالی کا موقف ’الشریعہ‘ کے ایک گزشتہ شمارے میں پیش کیا جا چکا ہے۔ جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور کے ترجمان ماہنامہ ’’الحامد‘‘ نے مارچ ۲۰۱۱ء کے شمارے میں اسی سلسلے میں حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم (صدر دار العلوم کراچی) کا مضمون شائع کیا ہے جو ’’الحامد‘‘ کے شکریے کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)

توہین رسالت کے سلسلے میں مسلمان کا حکم

یہ مسئلہ تو اتفاقی ہے کہ اگر کوئی مسلمان شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے اور توہین رسالت کا مرتکب ہو جائے تو اس سے وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائے گا اور جرم ثابت ہونے پر اس کو قتل کیا جائے گا، لیکن قتل کی یہ سزا حکومت وقت دے گی، عوام کو اس کا اختیار حاصل نہیں۔ یہ شق اجماعی ہے اور اس کے دلائل نہایت واضح ہیں اور خود یہ عمل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے کہ آپ نے اپنی حیات مبارکہ میں کئی ایسے بدبختوں کو موت کی سزا دی ہے جن کے قصے کتب حدیث اور سیرت میں مشہور ہیں۔
۱۔ عن علی رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من سب نبیا قتل ومن سب اصحابہ جلد (الصارم المسلول، ص ۹۲)
۲۔ فی اکفار الملحدین للعلامۃ الکاشمیری رحمہ اللہ تعالی: فی کتاب الخراج: اجمع المسلمون علی ان شاتمہ صلی اللہ علیہ وسلم کافر ومن شک فی عذابہ وکفرہ کفر ’’شفا‘‘ (ص ۵۴)
اور اس کا یہ کفر ’’ارتداد‘‘ کے حکم میں ہوگا۔
۳۔ فی رسائل ابن عابدین: الساب المسلم مرتد قطعا الخ (ص ۳۱۹)
۴۔ وفیہا: من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم او ابغضہ کان ذلک منہ ردۃ الخ (ص ۳۲۵)
۵۔ وفی الدرالمختار : حکمہ حکم المرتد الخ ( ۴/۲۳۴)
۶۔ وفی فتح الباری: ومن طریق الولید بن مسلم عن الاوزاعی ومالک فی المسلم ھی ردۃ الخ وغیر ذلک من الکتب الفقہیۃ۔
اور مرتد اگر مرد ہو اور وہ سچی توبہ نہ کرے تو اس کی سزا بھی بحکم نصوص قطعی قتل ہی ہے۔ اس سے بھی معلو م ہوتا ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہے۔ 

اس سلسلہ میں ذمی کا حکم

توہین رسالت کا مذکورہ حکم مسلمان کے بارے میں اجماعی ہے، البتہ ذمی کے بارے میں معمولی سا اختلاف ہے اور توہین رسالت کا مسئلہ زیادہ تر چونکہ غیر مسلموں کی طرف سے پیش آتا ہے، اس لیے اس کا خلاصہ ’’الصارم المسلول‘‘ سے ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:
(۱) امام مالک،اہل مدینہ، امام احمد بن حنبل، فقہاء حدیث، خود امام شافعیؒ کے نزدیک ذمی کو بھی مسلمان کی طرح توہین رسالت کی وجہ سے قتل کیا جائے گا۔
(۲) امام شافعیؒ کے اصحاب کے اس میں مختلف اقوال ہیں۔ جہاں تک امام ابوحنیفہ اوران کے اصحاب کا مذہب ہے تووہ درج ذیل عبارات سے واضح ہے او ر وہ یہ کہ توہین رسالت کا مرتکب اگر ذمی ہے تو پہلی دفعہ میں اس کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ امام اس پر مناسب تعزیر جاری کرے گا۔ البتہ اگر وہ اس جرم کا ارتکاب مکرر کرے تو اس صورت میں اس کو قتل کیا جائے گا۔ عربی عبارات درج ذیل ہیں:
۷۔ وتحریر القول فیہ ان الساب ان کا ن مسلما فانہ یکفر ویقتل بغیر خلاف وھو مذہب الائمۃ الاربعۃ وغیرہم وقد تقدم ممن حکی الاجماع علی ذلک اسحاق بن راہویہ وغیرہ، وان کان ذمیا فانہ یقتل ایضاً فی مذہب مالک واھل المدینۃ وسیاتی حکایۃ الفاظہم، وھو مذہب احمد وفقہاء الحدیث، واما الشافعی فالمنصوص عنہ نفسہ ان عہدہ ینتقض بسب النبی صلی اللہ علیہ وسلم وانہ یقتل ہکذا حکاہ ابن المنذر والخطابی وغیرہما۔
واما ابوحنیفۃ واصحابہ فقالوا: لا ینتقض العہد بالسب ولا یقتل الذمی بذلک لکن یعزر علی اظہارہ ذلک کما یعزر علی اظہار المنکرات التی لیس لہم فعلہا من اظہار اصواتہم بکتابہم ونحو ذلک وحکاہ الطحاوی عن الثوری ومن اصولہم ان مالا قتل فیہ عندہم مثل القتل بالمثقل والجماع فی غیر القبل اذا تکرر فللام ان یقتل ...... لہذا افتی کثرہم بقتل من اکثر من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اہل الذمۃ وان اسلم بعد اخذہ، وقالوا: یقتل سیاسۃ الخ (ص۳ تا ۱۱)

مسلمان مرتکب توہین کی توبہ کا حکم

اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب شخص کی توبہ قابل قبول ہے یا نہیں او راس توبہ سے اس کے قتل کی سزا معاف ہو جائے گی یا نہیں؟ اگر قابل قبول ہے تو کب؟ اور توبہ کی نوعیت کیا ہو گی؟ اس کو ’’استتبابہ‘‘ کہتے ہیں۔
اس میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف اس بات پر مبنی ہے کہ اس شخص کا قتل ’’حداً‘‘ ہے یا ’’ردۃ‘‘ ہے، چنانچہ جو حضرات کہتے ہیں اس کا قتل ردۃً ہے، وہ استتابہ کے قائل ہیں او رجو حضرات کہتے ہیں کہ اس کا قتل حداً ہے، ان کے نزدیک اس میں عفو کی کوئی صورت نہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ شخص سچی توبہ کرے تو توبہ کرنے سے اس کا آخرت کا معاملہ سدھر جائے گا، البتہ دنیا میں اس کی سزائے قتل ساقط نہیں ہوگی، خواہ گرفتاری سے قبل ہو یا گرفتاری کے بعد ہو، کیوں کہ حد ثابت ہونے کے بعد ساقط نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی اس کو معاف کر سکتا ہے، چنانچہ حضرت ا بن مسعودؓ سے یہی مروی ہے:
۸۔ لا ینبغی لوال ان یوتی بحد الا اقامہ (مصنف عبدالرزاق وغیرہ :۷/۳۷۰)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی صراحۃً منقول ہے:
۹۔ لا عفو فی الحدود عن شئ منہابعد ان تبلغ الامام 
۱۰۔ فی اکفار الملحدین : فی قبول التوبۃ فی احکام الدنیا اختلاف وتقبل فیما بینہ وبین اللہ تعالیٰ الخ (ص ۵۴)
۱۱۔ فی رسائل ابن عابدین: وممن قال ذلک مالک بن انس واللیث واحمد واسحاق وھو مقتضی قول ابی بکر رضی اللہ عنہ ولا تقبل توبتہ عند ھولاء وبمثلہ قال ابوحنیفۃ واصحابہ والثوری واھل الکوفۃ والاوزاعی فی المسلم لکنہم قالوا: ھی ردۃ الخ 
۱۲۔ وفیہا : وقال فی محل آخر قال ابوحنیفۃ واصحابہ: من برئ من محمد اوکذب بہ فھو مرتد حلال الدم الا ان یرجع الخ 
۱۳۔ وفیہا : وبعد فاعلم ان مشہور مذہب مالک واصحابہ وقول السلف وجمہور العلماء قتلہ حداً لا کفراً ان اظہر التوبۃ منہ، ولہذا لا تقبل توبتہ ولا تنفعہ استقالتہ وحکمہ حکم الزندیق، سواء کانت توبتہ بعد القدرۃ علیہ والشہادۃ علی قولہ او جاء تائباً من قبل نفسہ لانہ حد وجب لاتسقطہ التوبۃ کسائر الحدود، قال القابسی: اذا اقر بالسب وتاب منہ واظہر التوبۃ قتل بالسب لانہ ھو حد، وقال محمد بن ابی زید مثلہ واما مابینہ وبین اللہ تعالیٰ فتوبتہ تنفعہ ، وقال ابن سحنون: من شتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الموحدین ثم تاب لم تزل توبتہ عنہ القتل۔
۱۴۔ وفیہا بعد التفصیل الطویل: اقول: فقد تحرر من ذلک بشہادۃ ھولاء العدول الثقات الموتمین ان مذہب ابی حنیفۃ قبول التوبۃ کمذہب الشافعی، وفی الصارم المسلول لشیخ الاسلام ابن تیمیہ قال: وکذلک ذکر جماعۃ آخرون من اصحابنا انہ یقتل ساب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولا تقبل توبتہ سواء کان مسلما او کافرا وعامۃ ھولاء لما ذکروا المسئلۃ قالوا: خلافاً لابی حنیفۃ والشافعی، وقولہما ای ابی حنیفۃ والشافعی: ان کان مسلماً یستتاب، فان تاب والاقتل کالمرتد وان کان ذمیا ..... الخ 
۱۵۔ وفیہا: وقال ابویوسفؒ وایما رجل مسلم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او کذبہ او عابہ او تنقصہ فقد کفر باللہ تعالیٰ وبانت منہ امراتہ فان تاب والا قتل وکذلک المراۃ الا ان اباحنیفۃ قال: لا تقتل المراۃ علی الاسلام انتہیٰ بلفظہ وحروفہ الخ (ماخوذۃ من رسالۃ تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام شاتم خیر الانام المتضمنۃ لرسائل ابن عابدین رحمہ اللہ تعالیٰ)
۱۶۔ وفی الشرح الصغیر للددیر: (وقتل الزندیق) بعد الاطلاع علیہ بلااستتابۃ وھو من اسر الکفر واظہر الاسلام وکان یسمٰی فی زمن الرسول صلی اللہ علیہ وسلم منافقاً (بلا قبول توبۃ) من حیث قتلہ، ولا بدمنہ من توبتہ لکن ان تاب قتل حداً والا کفراً ( الا ا ن یجء) قبل الاطلاع علیہ فلا یقتل ....کالساب للنبی مجمع علیہ فیقتل بدون استتابۃ ولاتقبل توبتہ ثم ان تاب قتل حداً ولا یعذر بجھل لانہ لایعذر احدفی الکفربالجہل (اوالسکر) حراما (او تہور) کثرۃ الکلام بدون ضبط ولا یقبل منہ سبق اللسان او غیظ (او بقولہ: اردت کذا) الخ ( ۴/ ۴۳۸)
وفی استتابۃ المسلم خلاف، ہل یستتاب فان تاب ترک والا قتل او یقتل لو تاب والراجح الاول۔
وفی حاشیۃ علی الشرح الصغیر للصاوی: (قولہ: والراجح الاول) ای قبول التوبۃ کما ھو مذہب الشافعی الخ ( ۴/۴۴۰)
ان عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلہ میں اختلاف ہے او را س کا حاصل یہ ہے کہ شافعیہ اور حنفیہ کے ہاں اس کی توبہ قبول ہے اور اس کی وجہ سے اس سے قتل کی سزا ساقط ہو جائے گی اور امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ کے نزدیک اس کی توبہ دنیا کے حق میں قبول نہیں ہو گی اور توبہ کی وجہ سے اس کی سزا قتل ساقط نہیں ہوگی۔
امام مالک اور ان کے اصحاب کا مذہب مشہور یہی نقل کیا گیا ہے جیسا کہ عبارت نمبر ۱۳ سے واضح ہے، لیکن مالکیہ کی مشہور کتاب الشرح الصغیر اوراس کے حاشیہ میں ترجیح قبول توبہ کو دی جائے گی۔ ملاحظہ ہو : عبارت نمبر ۱۶۔
البتہ بزازیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حنفیہ کے ہاں بھی اس کو حد کے طورپر قتل کیا جائے گا اور بزازیہ کی اتباع میں متاخرین حنفیہ نے بھی اس قول کو ذکر کیا ہے، لیکن علامہ شامیؒ نے اس کی سخت تردید کی ہے اور اس کو غلط فہمی قرار دیا ہے ۔ لہٰذا اس سلسلہ میں اس قول پر اعتماد نہ کیا جائے، چنانچہ ان کی عبارت ملاحظہ ہو:
۱۷۔ فی الشامیۃ بعد بحث طویل یرد علی البزازیۃ: فقد علم ان البزازی قد تساہل غایۃ التساہل فی نقل ہذہ المسالۃ ولیتہ حیث لم ینقلہا عن احد من اہل مذہبنا بل اسند الیٰ مافی الشفاء والصارم امعن النظر فی المراجعۃ حتی یری ماھو صریح فی خلاف ما فہمہ ممن نقل المسالۃ عنہم ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم، فلقد صار ہذا التساھل سبباً لوقوع عامۃ المتاخرین عنہ فی الخطا حیث اعتمدوا علی نقلہ وقلدوہ فی ذلک ولم ینقل احد منہم المسئلۃ عن کتاب من کتب الحنفیۃ بل المنقول قبل حدوث ھذاالقول من البزازی فی کتبنا وکتب غیرنا خلافہ (۴؍۲۳۴) کذا فی شرح عقو درسم المفتی لابن عابدین (ص۳۲)

ذمی مرتکب توہین کی توبہ کا حکم

اس میں تین اقوال مشہور ہیں:
ا۔ ذمی کو بہرحال قتل کیا جائے گا، اگرچہ گرفتاری کے بعد، توبہ بھی کر لے۔ یہ امام احمد اور امام مالک کا مشہور موقف ہے اور امام شافعیؒ کا ایک قول ہے۔
۲۔ ذمی اگر توبہ کرے اور توبہ کامطلب یہ ہے کہ مسلمان ہو جائے تواس کی یہ توبہ قبول کی جائے گی ۔ یہ امام احمد اور امام مالک رحمہما اللہ سے ظاہرالروایۃ ہے۔
۳۔ ذمی کو قتل کیا جائے گا مگر یہ کہ یا تو اسلام لے آئے یا حقیقی ذمی بن جائے اور اسی پر امام شافعی کا ظاہر کلام دلالت کرتاہے۔ (خلاصہ ماخوذہ از الصارم المسلول ص۳۳۰)
ان تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ استتا بہ کے مسئلہ میں ائمہ مجتہدین کا اختلاف ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور مالکیہ کے راجح قول کے مطابق مسلمان کی توبہ قابل قبول نہیں اور ذمی کی توبہ کے بارے میں مذکورہ بالا تین اقوال ہیں۔ اس لیے زمانہ کے حالات اور تقاضوں کے مطابق حکومت وقت ان دو میں سے کسی بھی موقف کے مطابق قانون بنا سکتی ہے، لیکن شان رسالت اور ناموس رسالت کی انتہائی عظمت اور جلالت شان کا تحفظ بہرحال انتہائی ضروری ہے، اور اگر قانون میں توبہ کی گنجائش نکالی گئی تو توبہ کا وہی طریقہ کا ر اختیار کرنا ہوگا جو اس سنگین ترین جرم کے مطابق ہو جس کا طریقہ ذیل ہے:

توبہ کا طریقہ

(۱) مذکورہ بالا تفصیلات سے واضح ہو چکا ہے کہ توہین رسالت کا مرتکب شخص بالاتفاق دائرۂ اسلام سے خارج ہو چکاہے، لہٰذا توبہ کی صورت میں اس کے لیے سربرآوردہ علما وعوام کے مجمع میں فوراً تجدید ایمان کرنی لازم ہو گی اور اس کا اسی قدر اعلان ہوگا جس قدر ان حرکتوں کا اعلان ہو چکا تھا۔ 
(۲) چونکہ کافر ہونے کی وجہ سے اس کا نکاح ختم ہو چکا تھا، اس لیے اسلام لاتے ہی فوراً نکاح کی تجدید کرنی لازم ہوگی اوراس کا اعلان بھی اسی طرح ہو گا جس طرح تجدید ایمان کا اعلان کیا تھا۔ 
(۳) یہ شخص گزشتہ جرم پر انتہائی شرمندہ رہے گا۔
(۴) اس وقت انتہائی عاجزی اور گریہ وزاری سے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔
(۵) آئندہ کے لیے ان سب باتوں کے نہ کرنے کا پختہ عہد کرے۔
(۶) توہین رسالت پر مشتمل مواد اگر کتاب اور تحریری شکل میں ہو تو اس صورت میں اس کے سارے موجود نسخے جلائے اور جہاں جہاں یہ کتاب یا رسالہ پہنچا ہے، ہر ممکن طریقہ سے وہاں سے اس کو ختم کرانے کی کوشش کرے۔ اخبارات کے ذریعے اس کا عام اعلان کرے کہ میں اس کتاب یا رسالہ سے براء ت کا مکمل طریقہ سے اعلان کرتا ہوں، لہٰذا اس کتاب کو جلایا جائے یا کم از کم اس سے میرے نام کا ورق جلایا جائے۔

توہین رسالت کی سزا کے متعلق حنفی مسلک

محمد مشتاق احمد

(علامہ ابن عابدین الشامی کی معرکۃ الآرا تحقیق کا خلاصہ)

ماہنامہ ’’الشریعہ ‘‘ کے مارچ ۲۰۱۱ء کے شمارے میں راقم کا ایک مقالہ ’’ توہین رسالت کی سزا فقہ حنفی کی روشنی میں ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس مقالے کے آخر میں تمام مباحث کا خلاصہ راقم نے ان سات نکات کی صورت میں پیش کیا تھا : 
’’ ۱۔ کسی شخص کو اس وقت تک گستاخ رسول قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک مقررہ شرعی ضابطے پر اس کا جرم ثابت نہ ہو۔ 
۲ ۔ اگر گستاخ رسول اس جرم سے پہلے مسلمان تھا تو اس کے اس جرم پر ارتداد کے احکام کا اطلاق ہوگا اور اگر وہ پہلے ہی غیر مسلم تھا تو پھر اس فعل پر سیاسۃ کے احکام کا اطلاق ہوگا ۔ 
۳ ۔ حد ارتداد کو ملزم کے اقرار یا دو ایسے مسلمان مردوں کی گواہی ، جن کا کردار بے داغ ہو ، سے ہی ثابت کیا جاسکتا ہے ، جبکہ سیاسۃ کو عورتوں اور غیر مسلموں کی گواہی ، نیز قرائن اور واقعاتی شہادتوں سے بھی ثابت کیا جاسکتا ہے ۔ 
۴ ۔ پہلی صورت میں سزا بطور حد موت ہے لیکن سزا کے نفاذ سے پہلے عدالت مجرم کو توبہ کے لیے کہے گی اور اگر عدالت اس کی توبہ سے مطمئن ہو تو اس کی سزا ساقط کردے گی ۔ دوسری صورت میں کوئی مقررہ سزا نہیں ہے بلکہ جرم کی شدت و شناعت اور مجرم کے حالات کو دیکھتے ہوئے عدالت مناسب سزا سنائے گی ، جو بعض حالات میں سزاے موت بھی ہوسکتی ہے ۔ سیاسۃً دی جانے والی سزا کو حکومت معاف کرسکتی ہے اگر مجرم کا طرز عمل تخفیف کا متقاضی ہو ۔ 
۵ ۔ حد ارتداد حق اللہ ہے اور سیاسۃ کی سزا حق الامام ہے ، اور حنفی فقہا کے مسلمہ اصولوں کے مطابق حقوق اللہ اور حقوق الامام دونوں سے متعلق سزاؤں کا نفاذ حکومت کا کام ہے ۔ 
۶ ۔ اگر کسی شخص نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر ایسے شخص کو قتل کیا جو پہلے مسلمان تھا لیکن توہین رسالت کے نتیجے میں مرتد ہوگیا تھا اور اس کا جرم مقررہ ضابطے پر ثابت ہوا تھا ، تو قاتل کو قصاص کی سزا نہیں دی جائے گی لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر اس قاتل کو سیاسۃً مناسب سزا دی جاسکے گی ۔ اگر مقتول کا جرم مقررہ ضابطے پر ثابت نہیں ہوا تھا تو سیاسۃ کے علاوہ قاتل کو قصاص کی سزا بھی دی جائے گی ۔ 
۷ ۔ اگر مقتول پہلے سے ہی غیر مسلم تھا اور اس کے خلاف الزام ثابت نہیں ہوا تھا ، یا اسے عدالت کی جانب سے سزاے موت نہیں سنائی گئی تھی ، یا اس سزا میں تخفیف کی گئی تھی ، تو قاتل کو قصاص کی سزا بھی دی جائے گی اور سیاسۃً کوئی اور مناسب سزا بھی سزا بھی دی جاسکے گی ۔ اگر مقتول کا جرم بھی ثابت تھا اور اسے سزاے موت بھی سنائی گئی تھی تو قاتل کو قصاص کی سزا نہیں دی جائے گی لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر تادیب کے لیے اسے سیاسۃً مناسب سزا دی جاسکے گی ۔ ‘‘ 
ان نتائج بحث میں سے بعض پر چند اہل علم کی جانب سے عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا کیونکہ ان کی راے میں متاخرین فقہاے احناف کی راے اس مقالے میں نظر انداز کی گئی تھی۔ درحقیقت متاخرین کی اختلافی راے پر راقم نے مقالے کے حواشی میں بحث کی تھی اور شاید اسی وجہ سے بعض اہل علم اسے نظر انداز کرگئے تھے۔ اس مقالے میں راقم کا مفروضہ یہ تھا کہ متاخرین کی راے حنفی مسلک کی صحیح نمائندگی نہیں کرتی ۔ اس موضوع پر اپنی جانب سے مزید کچھ کہنے کے بجاے راقم نے مناسب خیال کیا کہ اس مسئلے میں علامہ محمد امین ابن عابدین الشامی کی معرکہ آرا تحقیق کا خلاصہ پیش کر دیا جائے۔ 
توہین رسالت کی سزا کے متعلق معاصر اہل علم کی بحث میں بالعموم قاضی عیاض بن موسی کی الشفا بتعریف حقوق المصطفی اور شیخ الاسلام احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیہ الحرانی کی الصارم المسلول علی شاتم الرسول کے مندرجات کو ہی مد نظر رکھا گیا ہے ۔ قاضی عیاض کا تعلق مالکی مسلک سے جبکہ امام ابن تیمیہ کا تعلق حنبلی مسلک سے تھا۔ شافعی مسلک سے تعلق رکھنے والے ممتاز فقیہ خاتمۃ المجتہدین تقی الدین السبکی کی نہایت اہم تالیف السیف المسلول علی من سبّ الرسول کو بالعموم اس سلسلے میں نظر انداز کیا گیا ہے، لیکن سب سے بڑا ظلم علامہ ابن عابدین الشامی کے ساتھ ہوا ہے کیونکہ ان کی تحقیق کا جو خلاصہ رد المحتار میں ملتا ہے، اس سے لوگوں نے بالعموم مختلف اقتباسات سیاق و سباق سے کاٹ کر نقل کیے ہیں اور یوں علامہ شامی نے جس بات کی تردید میں اپنی توانائیاں صرف کی اسی بات کو علامہ شامی کے حوالے سے لوگوں نے نقل کیا ہے ! یہی کچھ ان کے اس رسالے کے ساتھ ہوا ہے جس کا خلاصہ یہاں پیش کیا جارہا ہے ۔ 
علامہ شامی کا یہ رسالہ ان کے مجموعۂ رسائل کی پہلی جلد میں پندرھویں نمبر پر آتا ہے ۔ اس کا پورا عنوان ہے : 
’’تنبیہ الولاۃ و الحکام علی أحکام شاتم خیر الأنام أو أحد أصحابہ الکرام علیہ و علیھم الصلاۃ و السلام ‘‘
راقم کی راے یہ ہے کہ موجودہ دور کے مخصوص تناظر میں اس عنوان میں تھوڑی تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ اب اسے محض تنبیہ الولاۃ و الحکام نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا زیادہ مناسب عنوان شاید تنبیہ العلماء والولاۃ والحکام  ہو ۔ راقم نے اس انتہائی اہم رسالے کا انگریزی زبان میں ترجمہ مکمل کر لیا ہے اور آج کل اس پر تحقیقی حواشی اور مقدمہ لکھنے کا کام جاری ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ 
واضح رہے کہ اس مقالے میں راقم کا مطمح نظر توہین رسالت کی سزا کے بارے میں حنفی فقہا کے موقف کے دلائل واضح کرنا نہیں ، بلکہ راقم کا مقصود صرف یہ ہے کہ توہین رسالت کی سزا کے مختلف پہلووں پر حنفی فقہا کے موقف کی صحیح تصویر سامنے لائی جائے ، اگرچہ اس کوشش میں ضمناً فقہاے احناف کے دلائل کا خلاصہ بھی سامنے آجائے گا ۔ 

علامہ شامی کے رسالے کا اجمالی خاکہ

علامہ شامی نے اپنے اس رسالے کو دو ابواب میں تقسیم کیا ہے : 
باب اول میں گستاخ رسول کی سزا پر تفصیلی بحث ہے جبکہ باب دوم صحابۂ کرام کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا کے بارے میں ہے۔ 
چونکہ موضوع زیر بحث کا تعلق باب اول سے ہے اس لیے اس باب کے مندرجات کا خاکہ یہاں پیش کیا جاتا ہے۔ علامہ شامی نے اس باب کو تین فصول میں تقسیم کیا ہے جن میں پہلی دو فصول اس شخص کے متعلق ہیں جو اس فعل کے ارتکاب سے قبل مسلمان تھا : 
فصل اول میں علامہ شامی نے ثابت کیا ہے کہ اگر ایسا شخص اس فعل سے توبہ نہ کرے تو اس کی سزا بطور حد موت ہے۔ 
فصل دوم میں علامہ شامی نے تفصیل سے ثابت کیا ہے کہ ایسے شخص سے توبہ کے لیے کہنا لازم ہے اور اگر قاضی اس کی توبہ سے مطمئن ہو تو اس شخص کی دنیوی سزا ساقط ہو جائے گی ۔ انھوں نے تفصیل سے اس سلسلے میں امام ابو حنیفہ کا مسلک واضح کیا ہے ۔ 
فصل سوم اس گستاخ رسول کی سزا کے متعلق ہے جو مسلمان ریاست کا باشندہ ہو ۔ علامہ شامی نے ثابت کیا ہے کہ اس شخص کو فساد کے ارتکاب کی وجہ سے قاضی مناسب سزا دے سکتا ہے جو بعض شنیع صورتوں میں سزاے موت بھی ہوسکتی ہے۔ 

فصل اول : اگر مسلمان اس جرم کا ارتکاب کرے 

علامہ شامی نے اس فصل کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے : 
پہلے حصے میں انھوں نے اس مسئلے میں فقہا کی آرا اور دلائل کا خلاصہ ذکر کیا ہے ، جبکہ دوسرے حصے میں انھوں نے اس بات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے کہ ایسے گستاخ رسول کی سزا کی علت ’’گستاخی‘‘ ہے یا ’’ کفر ‘‘ ؟ 
ایسا مجرم اگر توبہ نہ کرے تو اس کی سزاے موت پر اجماع ہے ۔ 
چنانچہ پہلے حصے میں علامہ شامی نے اس بات پر فقہا کا اجماع نقل کیا ہے کہ اگر مسلمان کہلانے والا شخص رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے اور اس فعل سے توبہ نہ کرے تو اس کی سزا بطور حد موت ہے ۔ انھوں نے اس ضمن میں بعض لوگوں کے شبہے کا جواب بھی دیا ہے جو یہ کہتے تھے کہ اس فعل کے ارتکاب سے مسلمان تبھی مرتد ہوگا جب وہ اس فعل کو اعتقاداً جائز سمجھے ۔ علامہ شامی نے قرآن و سنت کی نصوص اور اجماع و قیاس کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ اس فعل کا مرتکب مرتد ہوجاتا ہے خواہ وہ اعتقاداً اس کی حلت کا قائل نہ ہو ۔ 

سزاے موت کی علت : گستاخی یا ارتداد ؟ 

اس کے بعد دوسرے مسئلے میں علامہ شامی نے یہ بحث اٹھائی ہے کہ ایسے شخص کو جو سزا دی جاتی ہے وہ خاص اس گستاخی کے سبب سے دی جاتی ہے یا اس وجہ سے دی جاتی ہے کہ یہ گستاخی ارتداد ہے اور اس وجہ سے اس شخص کو دراصل ارتداد کی سزا دی جاتی ہے ؟ 
انھوں نے قرار دیا ہے کہ گستاخ رسول کی سزاے موت کی علت یہ ہے کہ اس فعل کی وجہ سے وہ مرتد ہوجاتا ہے ۔ اگر گستاخی ہی علت ہوتی تو پھر ہر گستاخ کو بطور حد سزاے موت دی جاتی حالانکہ فقہائے احناف سے صراحت کی ہے کہ غیرمسلم گستاخ رسول کو بعض حالات میں سزاے موت دی جاتی ہے تو وہ بطور حد نہیں بلکہ بطور سیاسۃ دی جاتی ہے۔ چنانچہ پہلے وہ مرتد اور عام کافر میں چند فروق ذکر کرتے ہیں ۔ مثال کے طور عام کافر کو ذمی بناکر اس پر جزیہ عائد کیا جاسکتا ہے اور اسے اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ، جبکہ مرتد کو ذمی نہیں بنایا جاسکتا اور اگر اس نے اسلام کی طرف رجوع نہیں کیا تو اسے قتل کیا جائے گا ۔ اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ قتل مرتد کی علت کفر نہیں بلکہ کفر کی خاص شکل ۔ مسلمان کی طرف سے ارتداد۔ ہے اور ارتداد کی یہ سزا بطور حق اللہ واجب ہے ۔ لہٰذا مرتد کی سزاے موت حد ہے ، خواہ متقدمین فقہائے احناف نے کتاب الحدود میں اس کا ذکر نہ کیا ہو ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ متقدمین بھی ارتداد کے لئے ان ساری صفات کے قائل ہیں جو حد کی ہیں ۔ 
یہاں ابن عابدین ایک شبہے کا ذکر کرتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر یہ سزا حد ہے تو پھر یہ توبہ سے ساقط کیسے ہوتی ہے ؟ اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ مرتد کی بطور حد سزاے موت کی وجہ خاص فعل ارتداد نہیں ہے بلکہ فعل ارتداد کے ساتھ ساتھ اس کا دوسرا سبب اس کا کفر پر قائم رہنے کا ارادہ ہے ۔ اور ایسی علت جو دو اجزا پر مشتمل ہو وہ ان میں کسی کے بھی نہ ہونے کی صورت میں موجود نہیں رہتی ۔ پس اس کے اسلام کی طرف لوٹ آنے کے بعد تنہا ارتداد سزاے موت کا سبب نہیں بن سکتا کیونکہ سزاے موت بیک وقت دو افعال کی جزا تھی ۔ 
وہ مزید کہتے ہیں کہ عام قاعدے کے تحت تو بقیہ حدود کی طرح چاہیے تھا کہ یہ حد بھی توبہ سے ساقط نہ ہوتی لیکن کئی آیات و احادیث میں صراحتاً قرار دیا گیا ہے کہ اسلام قبول کرنے پر پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ۔ اس لیے فقہا نے اسے عام قاعدے سے استثنا قرار دیا ہے ۔ اسی طرح اس سزا پر یہ اعتراض بھی درست نہیں ہے کہ اگر یہ حد ہے تو پھر مرتد عورت پر کیوں نہیں نافذ کی جاتی کیونکہ کئی روایات میں صراحتاً کافر عورتوں کے قتل سے منع کیا گیا ہے ۔ اس لیے یہ ممانعت بھی ایک استثنائی حکم ہے ۔ 

فصل دوم : مسلمان کہلانے والے گستاخ رسول کی توبہ کے بعد سزا کا سقوط 

اس فصل کو علامہ شامی نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے : 
حصۂ اول میں انھوں نے ایسے گستاخ رسول کی توبہ کی قبولیت پر مختلف مسالک کے فقہا کا اختلاف نقل کیا ہے ؛ 
حصۂ دوم میں انھوں نے اس پر بحث کی ہے کہ کیا ایسے گستاخ رسول سے توبہ کے لیے کہناواجب ہے؟ 
حصۂ سوم میں انھوں نے اس مسئلے میں حنفی مسلک کے نمائندہ موقف کی تنقیح کی ہے اور نہایت تفصیل سے امام ابوحنیفہ کی راے کی وضاحت کی ہے ، نیز بعض متاخرین حنفی فقہا کی اختلافی آرا کی کمزوری بھی واضح کی ہے ۔ 

ایسے مجرم کی توبہ کی قبولیت کے متعلق مذاہب فقہ کا اختلاف 

حصۂ اول میں علامہ شامی نے واضح کیا ہے کہ ایسے گستاخ رسول کی توبہ کی قبولیت کے مسئلے پر فقہا کا اختلاف ہے ۔ 
چنانچہ انھوں نے قاضی عیاض کی الشفا اور دیگر فقہا کی کتب سے طویل اقتباسات نقل کرکے دکھایا ہے کہ فقہا کے ہاں اس مسئلے پر تین آرا پائی جاتی ہیں: 
۱ ۔ امام مالک کی مشہور راے یہ ہے کہ ایسے گستاخ رسول کو سزا گستاخی کی ملتی ہے ، نہ کہ کفر کی ، اور اس وجہ سے یہ سزا توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ یہ راے امام شافعی ، امام احمد اور امام لیث سے بھی نقل کی گئی ہے۔ 
۲ ۔ امام مالک سے ہی دوسری راے کی روایت ولید بن مسلم نے کی ہے اس شخص پر ارتداد کے احکام کا اطلاق ہوگا جن میں ایک حکم توبہ کی قبولیت کا ہے ۔ یہی راے امام ابو حنیفہ ، امام ثوری اور امام اوزاعی کی ہے ۔ 
۳ ۔ تیسری راے ، جس کی روایت سحنون نے کئی مالکی فقہا سے کی ہے ، یہ ہے کہ اس شخص پر زندیق کے احکام کا اطلاق ہوگا ، گویا اس کی توبہ دنیوی سزا ساقط نہیں کرسکے گی ۔ 

کیا ایسے مجرم کو توبہ کے لیے کہنا واجب ہے ؟ 

حصۂ دوم میں علامہ شامی نے واضح کیا ہے کہ جو فقہا ایسے گستاخ کی توبہ کی قبولیت کے قائل نہیں ہیں وہ اس سے توبہ کرانے کے بھی قائل نہیں ہیں۔ البتہ توبہ کی قبولیت کے قائل فقہا میں بھی اکثریت کا کہنا یہ ہے ، اور یہی حنفی فقہا کا نمائندہ موقف ہے ، کہ اگر ایسے شخص کو توبہ کے لیے کہے بغیر بھی اسے سزاے موت دی گئی تو اس سزا کو جائز سمجھا جائے گا ، اگرچہ قانوناً صحیح طریقہ یہ ہے کہ اسے توبہ کے لیے کہا جائے ، اس کے شبہات دور کیے جائیں اور اسے رجوع کا موقع دیا جائے ۔ علامہ شامی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر ایسا شخص غور و فکر کے لیے مہلت چاہے تو پھر حنفی فقہا کا موقف یہ ہے کہ اسے سوچنے سمجھنے کے لیے مہلت دینا واجب ہے ۔ 

ایسے مجرم کی توبہ کے قانونی اثرات کے متعلق امام ابو حنیفہ کے مسلک کی تحقیق 

حصۂ سوم اس ساری بحث کی جان ہے ۔ یہاں علامہ شامی نے فقہ حنفی کے تمام ذخیرے کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد جو نتائج نکالے ہیں وہ نہایت اہمیت کے حامل ہیں ۔ علامہ شامی کی اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ کسی بھی فقہی مسلک ، اور بالخصوص حنفی مسلک ، میں اگر ایک سے زائد آرا پائی جاتی ہوں تو ان میں کسی راے کو اس مسلک کا نمائندہ موقف ماننے کے لیے کیا طریق کار اختیار کرنا چاہیے ۔ اصول قانون اور اصول فقہ پر کام کرنے والوں کے اس فصل میں بہت مفید مواد موجود ہے ۔ 

امام ابو حنیفہ کے مسلک کے متعلق دیگر مذاہب کے ائمہ کی گواہی 

اس مقام پر پہلے تو علامہ شامی نے قاضی عیاض اور امام طبری کے اقتباسات کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ ثابت کیا ہے کہ امام ابو حنیفہ ایسے گستاخ کی توبہ کی قبولیت اور توبہ کے ذریعے اس کی سزا کے سقوط کے قائل تھے کیونکہ وہ اس پر مرتد کے احکام کا اطلاق کرتے تھے ۔ اس کے بعد انھوں نے دو اہم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے : 
۱ ۔ یہ کہ یہی راے امام مالک سے ولید بن مسلم نے روایت کی ہے کہ ایسے گستاخ پر ارتداد کے احکام کا اطلاق ہوگا۔ 
۲ ۔ دوسری یہ کہ توبہ کی عدم قبولیت کے متعلق امام مالک کی مشہور راے کی بنیاد یہ امر ہے کہ وہ اس سزا کو گستاخ کے مرتد ہوجانے کی حد نہیں بلکہ خاص گستاخی کے فعل کی حد سمجھتے ہیں ، اور یہی راے قاضی عیاض نے امام شافعی ، امام احمد اور امام لیث سے نقل کی ہے ۔ 
اس آخری نکتے کے متعلق علامہ شامی فرماتے ہیں کہ امام احمد کی مشہور راے تو یہی ہے جو قاضی عیاض نے نقل کی ہے ۔ تاہم امام شافعی کے مسلک کی تحقیق کے متعلق علامہ شامی کی راے قاضی عیاض سے مختلف ہے ۔ علامہ شامی فرماتے ہیں کہ یہ راے شافعی فقیہ ابو بکر الفارسی کی راے کے موافق ہے جو قرار دیتے ہیں کہ حد قذف کی طرح یہ سزا بھی توبہ سے ساقط نہیں ہوتی ( کیونکہ شافعی فقہا کے نزدیک حد قذف حق العبد سے متعلق ہے ، نہ کہ حق اللہ سے متعلق ، اور ابو بکر الفارسی کی راے میں گستاخ رسول کی سزا رسول اللہ ﷺ کے حق سے متعلق ہے ) ۔ دیگر مشہور شافعی فقہا میں ابو بکر القفال اور امام الحرمین نے بھی اسی راے کو ترجیح دی ہے لیکن خاتمۃ المحققین تقی الدین السبکی نے صراحت کی ہے کہ امام شافعی کا مشہور مسلک اس کے برعکس توبہ کی قبولیت ہی کا ہے اور اسی مسلک پر قاضیوں نے فیصلے دیے ہیں ۔ امام سبکی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امام فارسی کے قول کی روایت مختلف الفاظ میں کی گئی ہے ، اور یہ کہ اس کے قول کی سیاق و سباق اسے گستاخی کی ایک خاص نوعیت ، رسول اللہ ﷺ کے خلاف قذف کے ارتکاب ، کے ساتھ خاص کردیتا ہے ۔ امام الحرمین نے بھی امام فارسی کے قول کی روایت قذف کے لفظ کے ساتھ کی ہے ۔ شافعیہ کے مسلک کے متعلق امام سبکی کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ : 
۱۔ گستاخی کی عام صورتوں میں مجرم کو توبہ کے لیے کہا جائے گا اور اگر اس نے توبہ کی تو اس کی سزا ساقط ہوجائے گی ؛ 
۲ ۔ اگر گستاخی قذف کی نوعیت کی ہو اورپھر مجرم توبہ کرے تو پھر شافعیہ کے ہاں تین آرا ہیں : ایک یہ کہ اس کی سزا ساقط ہوجائے گی ؛ دوسری یہ کہ اس کی سزاے موت ساقط ہوجائے گی لیکن اسے سزاے قذف دی جائے گی ؛ اور تیسری راے یہ ہے کہ اسے سزاے موت ہی دی جائے گی ۔ 
جہاں تک امام ابوحنیفہ کے مسلک کا تعلق ہے تو امام سبکی نے تصریح کی ہے کہ حنفی مسلک توبہ کی قبولیت ہی کا ہے اور اس میں دو رائیں نہیں پائی جاتیں۔ اس کے بعد علامہ شامی نے اس سلسلے میں امام تیمیہ کی گواہی پیش کی ہے ۔ امام ابن تیمیہ نے بھی امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کا یہی مسلک نقل کیا ہے کہ اگر مجرم پہلے مسلمان ہو اور گستاخی کے بعد توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور اس کی سزا ساقط ہوجائے گی ۔ 

امام ابو حنیفہ کے مسلک کے متعلق متقدمین فقہاے احناف کی گواہی 

اس کے بعد علامہ شامی قرار دیتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کے مسلک کے متعلق اگر حنفی متون خاموش بھی ہوتیں تو امام طبری ، قاضی عیاض ، امام ابن تیمیہ اور امام سبکی جیسے انتہائی ثقہ اور معتبر فقہاء کی گواہی اس سلسلے میں کافی تھی ۔ تاہم حنفی متون اس سلسلے میں خاموش نہیں ہیں بلکہ وہ صراحتاً اس گواہی کی تائید کرتی ہیں ۔ یہاں علامہ شامی امام ابوحنیفہ کے ممتاز شاگرد امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم کی کتاب الخراج سے یہ اقتباس نقل کرتے ہیں جو فقہ حنفی کے موقف کے متعلق بالکل صریح ہے : 
و قال ابو یوسف : و أیما رجل مسلم سب رسول اللہ ﷺ أو کذبہ أو عابہ أو تنقصہ، فقد کفر باللہ تعالیٰ ، و بانت منہ امرأتہ ۔ فان تاب، و الا قتل ۔ و کذلک المرأۃ ، الا أن أبا حنیفۃ قال : لا تقتل المرأۃ ، و تجبر علی الاسلام ۔ 
[ابو یوسف کا قول ہے کہ جو مسلمان رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے ، یا ان کی تکذیب کرے ، یا ان کی عیب جوئی کرے ، یا ان کی شان میں تنقیص کرے ، تو اس نے اللہ تعالیٰ کے کفر کا ارتکاب کیا اور اس کی بیوی بائن ہوگئی ۔ پھر اگر وہ توبہ کرے تو بہتر ورنہ اسے سزاے موت دی جائے گی۔ یہی حکم عورت کا بھی ہے ۔ البتہ ابو حنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے اسلام کی طرف لوٹ آنے پر مجبور کیا جائے گا۔ ] 
اس اقتباس سے دیگر امور کے علاوہ علامہ شامی یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ حنفی مسلک کے مطابق توبہ کی قبولیت سے مراد سزا کا سقوط ہے کیونکہ امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ : فان تاب، والا قتل۔ 
علامہ شامی نے شیخ الاسلام السعدی کی تالیف النتف الحسان سے یہ اہم اقتباس بھی اس سلسلے میں نقل کیا ہے : 
من سب رسول اللہ ﷺ فانہ مرتد وحکمہ حکم المرتد، یفعل بہ ما یفعل بالمرتد 
[جس نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو وہ مرتد ہوا ۔ اس کی قانونی حیثیت وہی ہے جو مرتد کی ہے، اور اس کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے گا جو مرتد کے ساتھ کیا جائے گا ۔ ] 
اس کے بعد انھوں نے اس مفہوم کی کئی عبارات فتاوی مؤید زادہ ، شرح الطحاوی ، معین الحکام اور نور العین شرح جامع الفصولین سے نقل کی ہیں جن سے قطعی طور پر یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ حنفی مسلک یہی ہے کہ دیگر مرتد ین کی طرح گستاخ رسول کی سزا بھی توبہ کے بعد ساقط ہوجاتی ہے ۔ 

ایسے مجرم کی قانونی پوزیشن وہی ہے جو مرتد کی ہے 

اس کے بعد علامہ شامی نے ایک اور پہلو سے اس مسئلے کو لیا ہے ۔ انھوں نے دکھایا ہے کہ حنفی فقہا ارتداد کا حکم واضح کرتے ہوئے جب ان الفاظ کا ذکر کرتے ہیں جن کے کہنے سے سے کوئی مسلمان مرتد ہوسکتا ہے تو ان میں رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کا بھی ذکر کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر انھوں نے فتاوی تاتارخانیہ سے یہ عبارت نقل کی ہے : 
من لم یقر ببعض الأنبیاء، أو عاب نبیاً بشیء، أ و لم یرض بسنۃ من سنن سید المرسلین ﷺ فقد کفر۔ 
[جس نے انبیاء علیہم السلام میں بعض کا انکار کیا، یا کسی نبی کی عیب جوئی کی، یا سید المرسلین ﷺ کی سنن میں کسی سنت کو ناپسند کیا تو اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔] 
اس طرح کی کئی عبارات علامہ شامی نے التتمۃ ، المحیط ، الظاھریۃ اور متون معتبرہ جیسے مختصر القدوری ، کنز الدقائق ، المختار ، ملتقی الأبحر ، الھدایۃ اور امام محمد بن الحسن الشیبانی کی الجامع الصغیر سے نقل کی ہیں ۔ اس کے بعد وہ قرار دیتے ہیں کہ جب حنفی فقہا صراحتاً اس کو ارتداد قرار دیتے ہیں اور پھر ارتداد کے قانونی اثرات میں ایک اہم اثر یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ مرتد کو توبہ کے لئے کہا جائے گا اور اگر وہ توبہ کرے تو اس کو ارتداد کی سزا نہیں دی جائے گی ، تو ظاہر ہے کہ یہی حکم گستاخ رسول کا بھی ہے ۔ 
اس استدلال پر اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ زندیق بھی تو مرتد ہوتا ہے مگر فقہا اس کی توبہ کے قائل نہیں ہیں تو علامہ شامی اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ زندیق یا جادوگر کو محض ارتداد کی وجہ سے نہیں ، بلکہ فساد فی الارض کی وجہ سے سزاے موت دی جاتی ہے اور گستاخ رسول کو بھی بعض صورتوں میں ارتداد کے بجائے فساد فی الارض کی بنیاد پر سزاے موت دی جاسکتی ہے ، جیسے مثال کے طور غیر مسلم گستاخ رسول کا حکم ہے ، بلکہ فساد فی الارض کی بنیاد پر سیاسۃً سزاے موت تو زندیق، جادوگر، مرتد یا گستاخ رسول کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اس مسلمان کو بھی دی جاسکتی ہے جس نے کفر کا ارتکاب نہ کیا ہو ، جیسے مثال کے طور پر باغیوں کو سیاسۃً سزاے موت دی جاسکتی ہے ۔ 

بعض متاخرین احناف کی اختلافی راے 

یہاں سے علامہ شامی اس بات کی طرف رخ کرتے ہیں کہ بعض متاخرین احناف نے کس بنا پر قرار دیا ہے کہ گستاخ رسول مسلمان کو سزاے موت بطور حد دی جائے گی اور اس کی توبہ مقبول نہیں ہوگی ؟ مثال کے طور پر الفتاوی البزازیۃ میں یہی قرار دیا گیا ہے جس کی اتباع الدرر و الغرر میں کی گئی ہے۔ ابن الھمام نے بھی فتح القدیر میں اسی طرح کی رائے کا اظہار کیا ہے ۔ نیز ابن نجیم نے الأشباہ و النظائر اور البحر الرائق میں کہا ہے کہ فتوی اسی قول پر دینا چاہیے کہ گستاخ رسول کی توبہ قبول نہیں ہوگی ۔ اس بات کی اتباع ان کے شاگرد علامہ تمرتاشی نے التنویر میں کی۔ پھر یہی بات علامہ خیر الدین الرملی ، صاحب النھر اور علامہ شرنبلانی نے اور ان کے بعد دیگر کئی متاخرین نے اپنے فتاوی میں کی ہے ۔ 

اختلاف کا اصولی فیصلہ 

اس اختلاف کا اصولی فیصلہ تو علامہ شامی ان اصولوں کے ذریعے کرتے ہیں جن کے ذریعے یہ طے کیا جاتا ہے کہ روایات میں اختلاف کی صورت میں مفتی بہ قول کی پہچان کس طرح ہوگی ؟ یہاں علامہ شامی نے شیخ امین الدین بن عبدالعال کے فتاوی سے جو اہم اصول بیان کیے ہیں ان میں سے چند کا یہاں ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے : 
  • اگر امام ابو حنیفہ سے ایک سے زائد آرا مروی ہوں تو اس راے کی اتباع کی جائے گی جو زیادہ قوی ہو ۔ پس اگر صاحبین کی راے امام کی سے مروی آرا میں کسی ایک سے موافق ہو تو اس کے خلاف راے پر فتوی نہیں دیا جائے گا ۔ 
  • اگر امام اور ان کے تلامذہ میں اختلاف ہو تو امام کی راے پر فتوی دیا جائے گا ، بالخصوص جبکہ صاحبین میں کسی ایک کی راے امام کی راے کے موافق ہو ۔ 
  • اگر امام ایک طرف ہوں اور صاحبین دوسری طرف تو اگر یہ اختلاف کسی شرعی دلیل کی تعبیر و تشریح پر مبنی ہو تو امام کی راے پر عمل کیا جائے گا ، اور اگر اختلاف احوال کے تغیر کی بنا پر ہو تو صاحبین کی راے پر فتوی دیا جائے گا ۔ 
  • اگر کسی مسئلے میں امام کی راے نقل نہ کی گئی ہو تو فتوی ابو یوسف کی راے پر دیا جائے گا ؛ وہ بھی نہ ہو تو محمد کی راے پر ، ورنہ زفر کی راے پر اور وہ بھی نہ ہو تو حسن ( بن زیاد ) کی راے پر فتوی دیا جائے گا ۔ 
  • اگر کسی مسئلے پر ان کبار فقہا یا ان کی طرح کے دیگر فقہا کی راے نہ ملے تو پھر دیکھنا چاہیے کہ ان کے بعد کے فقہا نے اس مسئلے میں کوئی متفقہ راے دی ہے یا نہیں ؟ اگر دی ہے تو اسی کی اتباع کی جائے گی ۔ اگر ان کا اختلاف ہو تو پھر جمہور فقہاے مذہب کی راے ، بالخصوص ابو حفص ، ابو جعفر ، ابو اللیث اور طحاوی جیسے فقہا کی راے پر فتوی دینا چاہیے ۔ 
  • اگر یہ راستہ بھی میسر نہ ہو تو پھر مفتی پر یہ ذمہ داری آن پڑتی ہے کہ وہ ان فقہاے کرام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود اس مسئلے کا شرعی حل تلاش کرے ۔ 
  • واضح رہے کہ وہی مفتی فقہا کی آرا میں اختلاف کی صورت میں کسی راے کا انتخاب کرسکتے ہیں جو کسی مسئلے کا قانونی تجزیہ کرنے اور اس کے لیے قانونی حکم کے استنباط کے لیے مجتہدانہ بصیرت رکھتے ہوں ۔ باقی رہے ہم اور ہمارے معاصرین ، اور ہمارے ان کے اساتذہ اور ان اساتذہ کے اساتذہ ، تو ہماری حیثیت تو صرف مجتہدین کی آرا کے نقل کرنے والوں اور ان کی حکایت کرنے والوں کی ہے ۔ 
یہاں علامہ شامی نے ثابت کیا ہے کہ حنفی مسلک میں اس سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا تھا اور اس کی شہادت متقدمین احناف کی نصوص بھی دیتی ہیں اور دیگر مسالک کے فقہاء کی عبارات بھی ۔ اس لیے امام بزازی کی عبارت ، جہاں پہلی دفعہ حنفی فقہا کے ہاں ایک مختلف راے ملتی ہے ، اصولاً ناقابل قبول ہے ۔ 

بزازی اور ان کے متبعین کی راے کے اصل مآخذ 

اس کے بعد علامہ شامی نے یہ بات بھی قطعی طور پر ثابت کی ہے کہ فتاوی بزازیہ کی عبارت حنفی فقہا کی تصریحات کے بجائے مالکی فقیہ قاضی عیاض کی الشفا اور حنبلی فقیہ امام ابن تیمیہ کی الصارم المسلول سے ماخوذ ہے ۔ نیز علامہ شامی نے یہ بھی دکھایا ہے کہ بزازی سے قاضی عیاض اور امام ابن تیمیہ کی عبارات کے فہم میں غلطی ہوئی ہے ورنہ قاضی عیاض اور امام ابن تیمیہ دونوں نے حنفی موقف کو صحیح طور پر نقل کیا ہے۔ اسی طرح علامہ شامی نے ثابت کیا ہے کہ ابن الھمام کا انحصار بزازیۃ پر تھا اور خود ابن الھمام کے شاگرد رشید علامہ قاسم نے ان کے قول کو اس بنیاد پر رد کیا ہے کہ وہ حنفی مسلک کے خلاف ہے ۔ اسی طرح ابن نجیم پر خود ان کے اہل عصر نے بھی اس سلسلے میں تنقید کی تھی ، بالخصوص جبکہ ابن نجیم نے حوالہ الجوھرۃ کا دیا ہے لیکن وہاں یہ عبارت نہیں پائی جاتی ۔ 

کیا توبہ کی قبولیت سے مراد اخروی سزا کا سقوط ہے ؟ 

یہ ثابت کرنے کے بعد کہ حنفی مسلک توبہ کی قبولیت کا ہی ہے ، علامہ شامی اس تاویل کی طرف رخ کرتے ہیں جو بعض لوگوں نے بزازی اور ابن الھمام وغیرہ کے دفاع میں پیش کی ہے ، کہ توبہ کی قبولیت سے مراد اخروی سزا کا سقوط ہے ، نہ کہ دنیوی سزا ۔ علامہ شامی اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ تاویل پیش کرنے والے اصل محل نزاع کو ہی نظر انداز کرگئے ہیں۔ قاضی عیاض ، امام ابن تیمیہ ، امام سبکی اور اما م ابو یوسف کی جو عبارات نقل کی گئیں ان میں صراحتاً مذکور ہے کہ اصل بحث سزاے موت کے سقوط یا عدم سقوط پر ہے ۔ چنانچہ امام ابو یوسف قرار دیتے ہیں : فان تاب، والا قتل۔ 

کیا توبہ اس لیے دنیوی سزا ساقط نہیں کرسکتی کہ مجرم فساد کا ارتکاب کرتا ہے ؟ 

بزازی اور ابن الہمام کے قول کی ایک اور تاویل یہ بھی پیش کی گئی ہے کہ اس قول کی بنا یہ امر ہے کہ مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ محترم شخصیت کی شان میں گستاخی کرکے مجرم فساد فی الارض کا ارتکاب کرتا ہے اور یہ حنفی مسلک کا مسلمہ اصول ہے کہ فساد فی الارض کی سنگین صورت میں مجرم کو سزاے موت دی جاسکتی ہے ۔ اس تاویل کا جواب علامہ شامی یہ دیتے ہیں کہ ایک تو گستاخ رسول تعزیری نہیں بلکہ اسے ارتداد کی سزا بطور حد دی جاتی ہے اگر وہ توبہ نہ کرے ، دوسرے اگر سزاے موت فساد کی وجہ سے دی جارہی ہے تو یہ حکم مطلق صورت میں صحیح نہیں ہے کیونکہ فساد کی ہر صورت پر موت کی سزا نہیں دی جاسکتی ، بلکہ صرف اسی صورت میں یہ سزا دی جاتی ہے جب مجرم معاشرے میں عمومی انتشار کا باعث بنے اور اس کے فساد کے خاتمے کے لیے سواے سزاے موت کے اور کوئی راستہ نہ ہو ۔ پس اگر مجرم اسے عادت بنالے کہ جب بھی وہ پکڑا جائے وہ توبہ کرکے خود کو بچانے کی کوشش کرے ، یا وہ جرم انتہائی اشتعال انگیز انداز میں یا سرکشی کے ساتھ کرے تب اسے فساد کا مرتکب قرار دے کر سزاے موت دی جاسکتی ہے لیکن ایسا جرم کی ہر صورت میں نہیں ہوسکتا ۔ 

کیا اس طرح بزازی اور دیگر فقہا کی کتب پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے؟ 

یہاں علامہ شامی اس اعتراض کا بھی رد کرتے ہیں کہ ان کے اس موقف کی وجہ سے بزازیہ جیسی مستند کتاب ناقابل اعتماد ٹھہرتی ہے ۔ علامہ شامی فرماتے ہیں کہ امام بزازی ، محقق ابن الھمام اور دیگر فقہا جنھوں نے اس راے کا اظہار کیا ہے ، ان کا احترام اور ان کے ساتھ عقیدت اپنی جگہ لیکن اللہ کی کتاب کے سوا کوئی کتاب غلطی سے پاک نہیں ہوسکتی اور اللہ تعالیٰ نے اس امت پر جو احسان کیے ہیں ان میں ایک بڑا احسان یہ ہے کہ ہر دور میں اس نے اپنے بعض بندوں سے یہ کام لیا ہے کہ وہ اپنے پیش رووں کی غلطیوں کا احتساب کرکے شرعی احکام کی توضیح اور احقاق حق کا فریضہ ادا کرتے رہیں۔ پس فقہا نے اپنے پیش رووں کے کام کا تنقیدی جائزہ لے کر اس میں غث و ثمین کی تمییز کا کام ہمیشہ سے جاری رکھا ہے اور اس سلسلے میں اپنے بزرگوں اور اساتذہ سے بھی اختلاف کرتے آئے ہیں ۔ پھر علامہ شامی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ غلطی کسی ایک اہل علم سے ہوجاتی ہے لیکن ان پر اعتماد کی وجہ سے دوسرے اس راے کو نقل کرتے چلے جاتے ہیں اور یوں بات پھیل جاتی ہے لیکن جب یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ پہلا قدم ہی غلط اٹھایا گیا تھا تو پھر اس غلطی پر اصرار نہیں کرنا چاہیے ۔ اس کے بعد انھوں نے کئی ایسی مثالیں دی ہیں جن میں بعض بڑے اہل علم سے کسی مسئلے کے صحیح حکم کے تعین میں تسامح ہوا ہو اور بعد کے فقہا نے اس کی تصحیح کی ہو ۔ 

کیا ایسے مجرم پر مرتد کے بجاے زندیق کے احکام کا اطلاق ہوگا؟ 

اس مقام پر پہنچ کر علامہ شامی ایک اور اہم تاویل کا تنقیدی تجزیہ پیش کرتے ہیں ۔ شیخ ابو السعود الآفندی سے روایت کی گئی ہے کہ گستاخ رسول پر عام مرتدین کے بجاے زندیق کے احکام کا اطلاق ہوگا جن میں ایک یہ ہے کہ اس کی ظاہری توبہ دنیوی سزا ساقط نہیں کرسکتی۔ صاحب در مختار کی تحقیق کے مطابق اس راے کی بنا یہ امر ہے کہ فقہا کے درمیان گستاخ رسول کی توبہ کی قبولیت و عدم قبولیت پر اختلاف اس صورت میں ہے جب اسے گرفتار نہ کیا گیا ہو ، اور یہ کہ جب اسے گرفتار کیا گیا تو پھر بالاتفاق اس کی توبہ سزا ساقط نہیں کرسکے گی کیونکہ اسے زندیق سمجھا جائے گا۔ چنانچہ اس سلسلے میں عثمانی خلیفہ کے ایک فرمان کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے جو ۹۳۴ ھ میں جاری کیا گیا تھا اور جس میں قرار دیا گیا تھا کہ اگر مجرم کی توبہ قاضی کو مطمئن کردے تو اسے سزاے موت کے بجاے تعزیری سزا دی جائے گی جیسا کہ امام اعظم کا مسلک ہے ، اور اگر قاضی مجرم کی توبہ سے مطمئن نہ ہو تو وہ اسے دیگر فقہا کی راے کے مطابق سزاے موت دے گا ۔ 
علامہ شامی کہتے ہیں کہ محقق ابوالسعود کے احترام اور ان کے ساتھ عقیدت کے باوجود کہنا پڑتا ہے کہ ان کے قول کے دو اجزا باہم متناقض ہیں کیونکہ پہلے جز میں قرار دیا گیا ہے کہ گرفتاری کے بعد مجرم کی توبہ کی عدم قبولیت پر کوئی اختلاف نہیں ہے ، جبکہ آخری جز میں تصریح کی گئی ہے کہ امام اعظم اور دیگر فقہا کا اختلاف گرفتاری کے بعد کے مرحلے پر ہے ۔ مزید برآں خود مفتی ابو السعود نے ایک اور فتوی میں قطعی الفاظ میں تصریح کی ہے کہ امام اعظم کا مسلک یہی ہے کہ مجرم کی گرفتاری کے بعد بھی اس کی توبہ قاضی کو مطمئن کردے تو وہ سزا کو ساقط کردے گا ۔ 
علامہ شامی نے اس بات کا بھی تفصیلی تجزیہ کیا ہے کہ کیا گستاخ رسول کو زندیق سمجھا جاسکتا ہے ؟ اور کیا اسے زندیق قرار دینے سے بزازی کا دیگر فقہاے احناف کے ساتھ اختلاف رفع ہوجاتا ہے ؟ انھوں نے واضح کیا ہے کہ اس مجرم کو زندیق قرار دینے سے ان تمام عبارات کی مخالفت لازم آتی ہے جن میں قرار دیا گیا ہے کہ وہ مرتد ہے اور اس کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے گا جو مرتد کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ اس عمومی حکم کی تخصیص تبھی مانی جاسکتی ہے جب ائمۂ مذہب سے اس کی روایت کی گئی ہو اور ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے ۔ نیز اگر یہ تخصیص مان لی گئی تب بھی بزازی اور ائمۂ مذہب کا اختلاف رفع نہیں ہوتا کیونکہ بزازی اور ان کے متبعین کی راے یہ ہے کہ گرفتاری سے قبل بھی اس مجرم کی توبہ ناقابل قبول ہے ۔ گویا اس تاویل کو ماننے سے دو آرا کا اختلاف رفع نہیں ہوتا بلکہ اس سے ایک تیسری راے وجود میں آجاتی ہے ۔ 
یہاں پھر علامہ شامی اس اصول کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ جب مذہب کے مجتہدین کے ساتھ متاخرین کا اختلاف ہو تو مجتہدین کی راے پر عمل لازم ہے ۔ اس لیے فتوی بزازی اور ان کے بعد آنے والوں کی راے کے بجاے ابو یوسف ، طحاوی اور دیگر ائمۂ مذہب کے موقف پر ہی دیا جائے گا ۔ حقیقی اختلاف تو اس صورت میں ہوتا جب ان ائمۂ مذہب کے مرتبے کے مجتہدین سے کوئی مختلف راے منقول ہوتی ۔ ( مثال کے طور پر ابو یوسف کچھ کہتے اور محمد کچھ اور ۔ ) اس صورت میں بھی ہمارا کام یہ نہ ہوتا کہ کسی ایک راے کی ترجیح کریں ، بلکہ یہ کام اصحاب ترجیح ہی کا ہوتا اور ہم پر ان کی اتباع لازم ہوتی ۔ اب جبکہ ائمۂ مذہب میں کوئی اختلاف ہے ہی نہیں تو ان سے مرتبے میں کم متاخرین نے خواہ ایک مختلف راے اختیار کی ہو اس اختلاف کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ 
علامہ شامی اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ بزازی ، ابن الہمام ، ابن نجیم اور دیگر فقہا پر، جنھوں نے ائمۂ مذہب سے منقول موقف کے خلاف راے اختیار کی ہے، دیگر فقہاے مذہب کی جانب سے مسلسل تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔ بہ الفاظ دیگر ان کے اختلاف کو مذہب کے اندر قبولیت عامہ حاصل نہیں ہوسکی ہے ۔ 

گستاخی کے ہر ملزم کو زندیق کیوں قرار نہیں دیا جاسکتا؟ 

پھر علامہ شامی یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ گستاخی کے ہر ملزم کو زندیق کیوں قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ انھوں نے ابن الھمام کے حوالے سے زندیق کی یہ تعریف پیش کی ہے کہ زندیق سے مراد وہ شخص ہے جو کسی دین پر ایمان نہ رکھتا ہو اور جو عہد رسالت کے منافقین کی طرح ہو کہ بظاہر مسلمان ہو لیکن بباطن کافر ہو ۔ علامہ شامی فرماتے ہیں کہ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کی پہچان صرف اسی وقت ہوسکتی ہے جب اس کا راز کسی طرح آشکارا ہوجائے ، یا وہ اپنے کسی ساتھی پر اپنا اصل عقیدہ واضح کرے ۔ یہاں البحر الرائق اور الخلاصۃ سے بعض جزئیات نقل کرنے کے بعد علامہ شامی التجنیس سے یہ اہم جزئیہ نقل کرتے ہیں کہ زندیق کی تین قسمیں ہیں : 
۱۔ ایسا زندیق جو اصلاً مشرک ہو ؛ 
۲ ۔ ایسا زندیق جو پہلے مسلمان تھا ؛ اور 
۳ ۔ ایسا زندیق جو پہلے ذمی تھا ۔ 
ان میں پہلی قسم سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا ، الا یہ کہ وہ مشرکین عرب میں سے ہو۔ ( احناف کے نزدیک مشرکین عرب کے لیے دو ہی راستے ہیں : اسلام یا سزاے موت ۔ ) اسی طرح تیسری قسم کے زنادقہ سے بھی تعرض نہیں کیا جائے گا کیونکہ اہل ذمہ بھی غیر مسلم ہیں اور زنادقہ بھی ، اور الکفر ملۃ واحدۃ ۔ البتہ دوسری قسم کے زنادقہ ، جو پہلے مسلمان تھے ، کا حکم یہ ہے کہ انھیں اسلام قبول کرنے کو کہا جائے گا اور انکار پر انھیں سزاے موت دی جائے گی کیونکہ وہ مرتد ہو گئے ۔ 
علامہ کمال پاشا نے بھی تصریح کی ہے کہ ایسے زنادقہ اور مرتدین میں احکام کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے ۔ البتہ انھوں نے تنبیہ کی ہے کہ اگر اس قسم کے زنادقہ میں اگر کوئی ایسا ہو جو اپنے مسلک کے لیے بہت مشہور ہو اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت بھی دیتا ہو تو اگر گرفتاری سے پہلے وہ توبہ کرے تو اسے ارتداد کی سزا نہیں دی جائے گی لیکن اگر گرفتاری تک اس نے توبہ نہیں کی تو اسے سزاے موت دی جائے گی خواہ گرفتاری کے بعد وہ توبہ کرے ۔ علامہ شامی قرار دیتے ہیں کہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ اس دوسری قسم کے زنادقہ میں جن کی توبہ گرفتاری کے بعد ان کی سزا کو ساقط نہیں کرسکتی ، یہ وہ مخصوص طبقہ ہے جن کو فساد پھیلانے کی وجہ سے سزا دی جاتی ہے ، بالکل اسی طرح جیسے جادوگروں ، ڈاکووں اور رہزنوں اور دیگر مفسدین کو سزاے موت دی جاتی ہے ۔ 

کیا گستاخی کے ہر ملزم کو زنادقہ کے اس مخصوص طبقے میں شامل سمجھا جاسکتا ہے ؟ 

اس مقام پر علامہ شامی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا گستاخی کے ہر ملزم کو زنادقہ کے اس مخصوص طبقے میں شامل سمجھا جاسکتا ہے ؟ وہ پھر یاد دلاتے ہیں کہ ان مخصوص زنادقہ کی سزاے موت کی علت ان کا کفر نہیں ، بلکہ یہ امر ہے کہ یہ فساد پھیلاتے ہیں ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کا مرتکب اپنا خبث باطن آشکارا کردیتا ہے اور اس کے ظاہری اسلام یا توبہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، تو علامہ شامی اس بات کو نہیں مانتے ۔ وہ قرار دیتے ہیں کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو پھر یہی حکم اس شخص کا بھی ہوتا جو رسول کے بجاے خدا کی شان میں گستاخی کرے ۔ نیز وہ یاد دلاتے ہیں کہ زنادقہ میں بھی یہ حکم صرف اس مخصوص طبقے کے لیے ہے جو اپنے مسلک کے لیے معروف ہو اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت بھی دیتا ہو ۔ گستاخی کا ہر مجرم اس نوعیت کا نہیں ہوتا ۔ علامہ شامی توجہ دلاتے ہیں کہ بسا اوقات اس جرم کا ارتکاب اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی شخص کو بہت زیادہ اشتعال دلایا جائے ۔ البتہ اگر مجرم اس فعل کے لیے معروف ہو اور وہ دوسروں کو بھی اس کے ارتکاب کی ترغیب دیتا ہو تو پھر اس کے زندیق ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے اور اسے قطعی طور پر سزاے موت دی جائے گی خواہ وہ دعوی کرتا ہو کہ اس نے توبہ کرلی ہے ۔ 

تکفیر میں احتیاط کی ضرورت 

یہاں پہنچ کر علامہ شامی اس اہم حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ کسی قول یا فعل کو کفر یا گستاخی قرار دینے میں بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے اور اگر کسی قول یا فعل کی مناسب تاویل ممکن ہو تو اس کے مرتکب کو کافر یا گستاخ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ اس سلسلے میں انھوں نے جامع الفصولین ، الفتاوی الصغری ، البزازیۃ ، التتارخانیۃ ، البحر الرائق اور خیر الدین الرملی کے فتاوی سے کئی جزئیات نقل کی ہیں ۔ 

ساری بحث کا خلاصہ 

علامہ شامی نے ایک بہترین محقق کا کردار ادا کرتے ہوئے اس ساری بحث کا خلاصہ بھی اس مقام پر پیش کیا ہے ۔ چنانچہ وہ قرار دیتے ہیں کہ فقہاے احناف سے اس گستاخ رسول کے متعلق جو پہلے مسلمان تھا ، تین آرا نقل کی گئی ہیں : 
۱ ۔ پہلی راے وہ ہے جس کی روایت امام ابو حنیفہ سے قاضی عیاض مالکی ، امام ابن تیمیہ حنبلی اور امام سبکی شافعی نے کی ہے کہ اس مجرم کی توبہ اس کی سزاے موت کو ساقط کردے گی خواہ اس نے توبہ گرفتاری سے قبل کی ہو یا بعد میں ۔ امام ابو حنیفہ سے اس راے کی روایت امام طبری نے بھی کی ہے ۔ یہ راے فقہاے احناف کے متقدمین کی مستند کتابوں میں بھی منقول ہے ۔ چنانچہ امام ابو یوسف نے کتاب الخراج میں اس کی تصریح کی ہے اور یہی بات شرح الطحاوی میں بھی منقول ہے ۔ نیز حنفی مسلک کی معتبر متون کے مندرجات سے بھی اسی راے کی تائید ہوتی ہے ۔ 
۲ ۔ دوسری راے بزازیہ میں پیش کی گئی ہے کہ مجرم کی توبہ ، خواہ گرفتاری سے قبل ہو یا بعد میں ، ناقابل قبول ہے اور اس کی سزا توبہ سے ساقط نہیں ہوگی ۔ اس راے کی بنیاد حنفی مسلک کی اپنی روایت پر نہیں بلکہ قاضی عیاض کی الشفا اور امام ابن تیمیہ کی الصارم المسلول کی ان عبارات پر ہے جن میں امام ابو حنیفہ کا مسلک بیان کیا گیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان عبارات کے فہم میں امام بزازی سے تسامح ہوا ہے ۔ یہ راے دراصل مالکی اور حنبلی فقہا کی ہے ۔ بزازی کے بعد اس راے پر اعتماد علامہ خسرو نے الدرر میں ، محقق ابن الھمام نے فتح القدیر میں ، ابن نجیم نے البحر الرائق اور الأشباہ میں ، علامہ تمرتاشی نے التنویر اور المنح میں ، شیخ خیر الدین الرملی نے اپنے فتاوی میں اور بعض دیگر متاخرین فقہا نے اپنی کتب میں کیا ہے ۔ 
۳ ۔ تیسری راے مفتی ابو السعود نے اختیار کی ہے کہ گرفتاری سے قبل اس شخص کی توبہ قابل قبول ہے لیکن گرفتاری کے بعد اس کی توبہ اسے سزاے موت سے نہیں بچا سکتی ۔ 
یہ بات بھی ثابت ہوچکی کہ بزازی اور ان کے متبعین کی راے پر دیگر فقہاے مذہب اس بنا پر مسلسل تنقید کرتے آئے ہیں کہ یہ راے حنفی مسلک کے مطابق نہیں ہے ۔ مفتی ابو السعود کی راے دراصل اس کوشش پر مبنی ہے کہ کسی طرح پہلی دو آرا میں تعارض کو رفع کیا جاسکے لیکن اس کوشش سے تعارض تو کیا رفع ہوتا ، ایک تیسری راے وجود میں آگئی ۔ 

ترجیح کے دس دلائل 

بحث کے آخر میں علامہ شامی بعض مزید دلائل سامنے لاتے ہیں جن کی بنا پر وہ ان تین آرا میں پہلی راے کو ترجیح دیتے ہیں جو براہ راست ائمۂ مذہب سے منقول ہے ۔ جو دس دلائل یہاں علامہ شامی نے دیے ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے : 
۱ ۔ ہم مقلد ہیں اور مقلد پر مجتہد کی راے کی اتباع واجب ہے ۔ 
۲ ۔ اس مسئلے میں امام کے ساتھ ابو یوسف اور محمد دونوں متفق ہیں جبکہ امام کے ساتھ صاحبین میں کسی ایک کی راے بھی موافق ہو تو حنفی مسلک میں اسی راے کی اتباع کی جاتی ہے ۔ 
۳ ۔ متقدمین اور متاخرین کے اختلاف کی صورت میں متقدمین کی راے کی اتباع ضروری ہے ۔ 
۴ ۔ متون اور شروح کے درمیان تعارض کی صورت میں متون کو ترجیح حاصل ہے اور اس مسئلے میں پہلی راے ہی متون کے مطابق ہے ۔ 
۵ ۔ اس جرم کا مرتکب اصلاً مسلمان تھا اور شہادتین کی وجہ سے اس کی جان کو عصمت حاصل تھی ۔ پس جو شخص اس کے خون کی حلت کا دعویدار ہے اس پر لازم ہے کہ اس حلت کے لیے قطعی دلیل لائے ۔ جس مجتہد کی اتباع ہم نے اپنے اوپر لازم قرار دی ہے ان کی راے بھی اس حلت کے خلاف ہے ۔ ہم اپنے طور پر مجتہد بھی نہیں ہیں اور ایسے مجتہد کے مقلد بھی نہیں ہیں جو اس حلت کے قائل ہوں ۔ 
۶ ۔ کسی کو عدالتی کاروائی کے ذریعے مرتد قرار دینا ایک انتہائی حساس نوعیت کا معاملہ ہے۔ اس لئے اس میں حتی الامکان احتیاط کی ضرورت ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ محبت کے تقاضے اپنی جگہ، لیکن اس محبت کا اولین تقاضا ان کی شریعت کی اتباع ہے : 
ان أمر الدم خطر عظیم حتی لو فتح الامام حصناً أو بلدۃً و علم أن فیھا مسلماً لا یحل لہ قتل أحد من أھلھا لاحتمال أن یکون المقتول ھو المسلم ۔ فلو فرضنا ان ھذہ النقول قد تعارضت فالأحوط فی حقنا أن لا نقتلہ لعدم الجزم بأنہ مستحق القتل ، فان الأمر اذا دار بین ترکہ مع استحقاقہ للقتل و بین قتلہ مع عدم استحقاقہ لہ تعین ترکہ لخطر الدماء ۔۔۔ و الأدلۃ فی ذلک متعارضۃ مع احتمالھا للتأویل بلا نص صریح ۔ و لیس لنا أن ننصب بآرائنا حدوداً و زواجر ۔ و انما کلفنا بالعمل بما ظھر أنہ من شرع نبینا صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ۔ فحیث قال لنا : اقتلوا ، قتلنا ۔ وحیث قال : لا تقتلوا ترکنا ۔ و حیث لم نجد نصا قطعیاً و لا نقلاً عن مجتھدنا مرضیاً ، فعلینا أن نتوقف، ولا نقول ان محبتنا لنبینا صلی اللہ تعالی علیہ و سلم تقتضی أن نقتل من استطال علیہ و ان أسلم، لأن المحبۃ شرطھا الاتباع، لا الابتداع ۔ فاننا نخشی أن یکون صلی اللہ تعالی علیہ وسلم أول من یسألنا عن دمہ یوم القیامۃ ۔ فالواجب علینا الکف عنہ حیث أسلم، و حسابہ علی ربہ، العالم بما فی قلبہ، کما کان صلی اللہ تعالی علیہ و سلم یقبل الاسلام فی الظاھر، ویکل الأمر الی عالم السرائر ۔ 
[کسی کی جان کی حلت کا فیصلہ کرنا ایک سنگین معاملہ ہے ۔ یہاں تک کہ اگر امام کوئی قلعہ یا شہر فتح کرے اور اسے علم ہو کہ وہاں ایک مسلمان ہے تو اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ وہاں کے لوگوں میں کسی ایک کو بھی قتل کرے کیونکہ ہر شخص کے متعلق یہ احتمال پایا جاتا ہے کہ شاید وہی مسلمان ہو ۔ پس اگر ہم نے یہ فرض کیا کہ ان نصوص کے درمیان تعارض ہے تو ہمارے حق میں زیادہ محتاط طریقہ یہی ہے کہ اسے سزاے موت نہ دیں کیونکہ اس کا سزاے موت کا مستحق ہونا قعطی نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اس کے معاملے میں دو امکانات ہیں کہ یا تو اسے سزاے موت کا مستحق ہونے کے باوجود چھوڑ دیا جائے یا اسے مستحق نہ ہونے کے باوجود سزاے موت دی جائے تو جان لینے کی سنگینی کی وجہ سے اسے چھوڑ دینا لازمی ہوگیا ۔۔۔ اور اس مسئلے میں دلائل کا آپس میں تعارض ہے اور ان میں کوئی نص صریح نہیں ہے بلکہ ہر ایک دلیل تاویل کا احتمال رکھتی ہے اور ہمیں یہ اختیار نہیں حاصل کہ ہم اپنی آراء کی بنیاد پر حدود قائم کریں اور سزائیں دیں ، بلکہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی شریعت کا جو حکم ہم پر ظاہر ہو جائے تو اس پر عمل کریں ۔ پس اگر شریعت نے ہمیں کہا کہ سزاے موت دو تو ہم دیں گے اور اگر کہا کہ نہ دو تو نہیں دیں گے ، اور جہاں ہمیں کوئی قطعی نص نہ ملے ، نہ ہی ہمیں اپنے مجتہد کی جانب سے مقبول روایت ملے ، تو ہماری ذمہ داری ہوگی کہ ہم رک جائیں ۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہماری محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ان پر زبان دراز کرنے والے کو سزاے موت دیں کیونکہ ان کے ساتھ محبت کی شرط یہ ہے کہ ان کی اتباع کی جائے نہ کہ اپنی جانب سے شریعت میں حکم کا اضافہ کیا جائے ، کیونکہ ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں قیامت کے دن اس کے خون کے متعلق سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ ہی ہم سے نہ پوچھ لیں ! پس ہم پر واجب ہے کہ جب اس نے اسلام قبول کرلیا تو ہم اسے سزاے موت دینے سے باز رہیں اور اس کے ساتھ حساب کا معاملہ اس کے رب پر چھوڑ دیں جو اس کے دل کی اندرونی کیفیت سے باخبر ہے ، جیسے رسول اللہ ﷺ لوگوں کے ظاہری اسلام کو قبول فرماتے تھے اور ان کے دلوں کا معاملہ رازوں سے باخبر ذات پر چھوڑ دیتے تھے ۔ ] 
۷ ۔ اگر ہمارا مسلک یہ ہو کہ اس مجرم کو توبہ کے باوجود بہر صورت سزا دینی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمارے نزدیک سزاے موت کی علت خاص گستاخی کا فعل ہے، نہ کہ یہ امر کہ مسلمان گستاخی کے ارتکاب کی وجہ سے مرتد ہوجاتا ہے ۔ اگر ایسا ہو تو پھر ہر گستاخ کو گستاخی کے فعل کی وجہ سے لازماً سزاے موت دی جائے گی ، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیرمسلم ۔ تاہم یہ بات ہمارے مسلک کے اس صریح فیصلے کے خلاف ہوگی جس کی تصریح متون میں کی گئی ہے کہ گستاخی کے ارتکاب کی وجہ سے ذمی کا عقد نہیں ٹوٹتا ، اگرچہ حکمران بعض حالات میں اس کے فساد کے خاتمے کے لیے بطور سیاسہ اسے سزاے موت دے سکتا ہے ۔ 
۸ ۔ اگر خون کی حلت و حرمت کے متعلق دلائل میں تعارض ہو تو احناف کے ہاں ترجیح حرمت کی دلیل کو حاصل ہوگی ۔
۹ ۔ شبھۃ کی موجودگی میں حد ساقط ہوتی ہے ، جیسا کہ فقہ کا مسلمہ قاعدہ ہے ۔ 
۱۰ ۔ ابن ابی سرح کے واقعے سے بھی یہی حقیقت ثابت ہوتی ہے جنھوں نے ارتداد کا ارتکاب بھی کیا اور شان رسالت میں گستاخی بھی کی لیکن فتح مکہ کے موقع پر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان کو دربار رسالت میں لے آئے تو آپ نے بالآخر اس کی جانب سے توبہ اور اسلام کو دوبارہ قبول کرنے کا فعل قبول کرلیا ۔ اگر یہ حد کا معاملہ ہوتا جس میں معافی نہیں ہوتی ، نہ ہی رحم کی درخواست کی جاسکتی ہے تو رسول اللہ ﷺ کبھی ان کی بیعت قبول نہ کرتے ۔ یہ تاویل بھی صحیح نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے سے قبل ہی اس نے اسلام قبول کیا تھا کیونکہ جیسا کہ امام سبکی نے تصریح کی ہے یہ روایت اہل سیر کے ہاں غیر مقبول ہے ۔ ایک روایت میں مذکور ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ابن ابی سرح آپ کا سامنا کرنے سے ہچکچاتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کیا میں نے اس کی بیعت قبول نہیں کی اور اسے امان نہیں دیا؟ انھوں نے جواب دیا : کیوں نہیں لیکن وہ اسلام سے قبل اپنے گناہوں کو یاد کرکے پچھتاتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : اسلام اپنے سے پہلے کے گناہوں کو دھو دیتا ہے ۔ اسے معلوم ہوا کہ نہ صرف سزاے موت بلکہ گناہ بھی قبولیت اسلام کی وجہ سے دھل جاتا ہے ۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ سزا حق اللہ ہے ، نہ کہ حق العبد ، کیونکہ حق العبد ہونے کی صورت میں یہ سزا قبولیت اسلام پر ساقط نہ ہوتی ۔ 

کیا مجرم کو معاف کرنا رسول اللہ ﷺ کا ذاتی حق تھا ؟ 

بعض لوگوں کا استدلال یہ ہے کہ کسی مجرم کو معاف کرنا یا نہ کرنا رسول اللہ ﷺ کا ذاتی حق تھا ، اس لیے آپ کی رحلت کے بعد کسی کے پاس یہ اختیار نہیں کہ مجرم کو معاف کردے ، پس توبہ سے صرف گناہ ہی معاف ہوسکتا ہے ، دنیوی سزا ساقط نہیں ہوسکتی ۔ اس سلسلے میں ایک حدیث کا حوالہ بھی بالعموم دیا جاتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جس نے کسی پیغمبر کی شان میں گستاخی کی تو اسے سزاے موت دو۔ 
علامہ شامی اس سلسلے میں فرماتے ہیں کہ روایات میں مجرم کے لیے عفو کا لفظ استعمال ہوا ہے جو اصطلاح شریعت میں گناہ کی معافی کے لیے نہیں بلکہ سزا کی معافی کے لیے رائج ہے ۔ نیز یہ بھی مسلّم ہے کہ رسول اللہ ﷺ انتہائی کریم تھے ، اپنی امت کی غلطیوں کے معاف کرنے میں نہایت رحم دل تھے اور ذاتی حق کے معاملے میں درگزر سے کام لیتے تھے، البتہ جہاں اللہ تعالیٰ کی حدود کی پامالی ہوتی تو آپ وہاں سختی سے کام لیتے تھے ۔ جہاں تک مذکورہ حدیث کا تعلق ہے تو اس کی تاویل وہی ہے جو اسی نوعیت کی دوسری حدیث کی ہے : جس نے اپنا دین تبدیل کیا اسے سزاے موت دو ، یعنی اگر وہ توبہ نہ کرے ۔ یہی کچھ یہاں بھی کہا جائے گا کہ جس نے کسی پیغمبر کی شان میں گستاخی کی اسے سزاے موت دو اگر وہ توبہ نہ کرے ۔ 
مزید برآں اس سزا کی علت خاص گستاخی کا فعل نہیں ہے بلکہ یہ امر ہے کہ گستاخی کی وجہ سے یہ شخص مرتد ہوجاتا ہے اور مرتد کی سزا موت ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر گستاخ کے ذمی ہونے کی صورت میں بھی اسے لازماً یہ سزا دی جاتی حالانکہ مسلمہ طور پر ہمارا مسلک یہ نہیں ہے ۔ اگر گستاخی کو علت قرار دیا جائے تب بھی یہی کہا جائے گا کہ گستاخی سزاے موت کی علت اس وجہ سے ہے کہ گستاخی کا یہ فعل کفر و ارتداد کا موجب ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ گستاخی بذات خود علت ہے خواہ وہ کفر و ارتداد کی موجب نہ ہو تو کیا وہ کسی ایسی صورت کا تصور کرسکتا ہے جس میں گستاخی تو ہو لیکن وہ گستاخی کفر و ارتداد کی موجب نہ ہو ؟ 
علامہ شامی یہاں پہنچ کر فریق مخالف کے دیگر دلائل کے بھی تفصیلی جواب دیے ہیں ۔ 
کعب بن الاشرف وغیرہ کی سزاے موت سے زیرنظر مسئلے میں استدلال باطل ہے ۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ کعب بن الاشرف ، ابو رافع ، ابن خطل اور اس نوعیت کے دیگر مجرموں کو یقیناًرسول اللہ ﷺ نے سزاے موت سنائی لیکن ان میں کسی بھی سزا سے مسئلۂ زیر بحث پر کوئی اثر نہیں پڑتا جب تک کہ یہ ثابت نہ کیا جائے کہ ان میں سے کوئی مسلمان ہوا تھا اور اس کے باوجود رسول للہ ﷺ نے اس کی سزاے موت برقرار رکھی ۔ ابن ابی سرح کے واقعے سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد سزا ساقط ہوجاتی ہے۔ 
جہاں تک مجرم کی سزاے موت پر اجماع کے دعوے کا تعلق ہے تو علامہ شامی نے واضح کیا ہے کہ یہ اجماع اس صورت میں ہے جب مجرم نے توبہ نہ کی ہو کیونکہ توبہ کی صورت میں سزاے موت کے وجوب و عدم وجوب پر فقہا کا اختلاف ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔ 
اسی طرح علامہ شامی فرماتے ہیں کہ یہ موقف صحیح نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ذاتی حق کا معاف کرنا بعد کے لوگوں کے اختیار میں نہیں ہے کیونکہ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا کہ اسلام قبول کرنے سے پچھلے جرائم معاف ہوجاتے ہیں تو گویا آپ نے تصریح کی کہ جس نے اسلام قبول کیا اسے میں نے معاف کردیا ۔ اس بات کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جسے امام سبکی نے نقل کیا کہ ہبار بن الاسود بن عبد المطلب کی سزاے موت کا رسول اللہ ﷺ نے حکم جاری کیا تھا لیکن انھوں نے آپ کے سامنے آکر اسلام کی قبولیت کا اعلان کیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمھیں معاف کردیا اور اسلام پچھلے جرائم کو دھو دیتا ہے ۔ پس اگر گستاخی کو رسول اللہ ﷺ کے ذاتی حق پر عدوان سمجھا جائے تب بھی رسول اللہ ﷺ نے گویا اعلان عام فرمایا ہے کہ اگر کسی نے اسلام قبول کیا تو میں نے اسے معاف کردیا ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں پیش کیا جاسکتا جب کسی شخص نے گستاخی کے بعد اسلام قبول کیا ہو اور پھر بھی اسے سزاے موت دی گئی ہو ۔ 
علامہ شامی مزید فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اسلام قبول کرنے کی شرط پر اپنا حق معاف کردیا ہے تو آپ کا خلیفہ آپ کا حق نافذ کرنے کا مجاز نہیں رہا ۔ نیز اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا حق معاف نہیں فرمایا تب بھی خلیفہ صرف اسی صورت میں آپ کا حق نافذ کرسکتا ہے جب یہ ثابت کیا جائے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا حق نافذ کرنے کا اختیار خلیفہ کو دیا ہے ۔ 

اسلام پچھلے جرائم کو مٹا دیتا ہے 

علامہ شامی کا اٹھایا گیا یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ اگر اس سزاے موت کی بنیاد مصلحت عامہ ہوتی تو رسول اللہ ﷺ اسے کبھی معاف نہ کرتے اور اگر اس کی بنیاد یہ امر ہوتا کہ اللہ کے رسول کی شان میں گستاخی کرکے اور دین کی توہین کرکے مجرم نے حق اللہ کی پامالی کی ہے تو اسلام قبول کرکے وہ اس جرم کو مٹا دیتا ہے ۔ یہاں علامہ شامی قرآن کریم کی بعض ان آیات سے استدلال کرتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مرتد کی توبہ مقبول ہے ۔ بناے استدلال یہ امر ہے کہ یہ حکم تمام مرتدین کے لیے ہے جن میں گستاخ رسول بھی شامل ہے ۔ اسی طرح وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جس میں فرمایا گیا ہے کہ مسلمان کا خون صرف تین میں سے کسی ایک امر کی بنیاد پر حلال ہوتا ہے : زانی محصن ، نفس بالنفس اور مرتد ۔ وجہ استدلال یہ ہے کہ گستاخی کا مجرم جب اسلام قبول کرلیتا ہے تو وہ ان تین اصناف میں سے کسی صنف میں بھی شمار نہیں کیا جاسکتا ۔ علامہ شامی یہ نکتہ بھی اٹھاتے ہیں کہ جب اللہ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزاے موت توبہ اور قبول اسلام سے ساقط ہوسکتی ہے تو یہی حکم رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے لیے بھی ہے کیونکہ دونوں جرم ایک ہی نوعیت کے ہیں ۔ 

لوگوں کے دلوں میں جھانکنا ہماری ذمہ داری نہیں 

علامہ شامی مزید فرماتے ہیں کہ یہ بات بھی غلط ہے کہ گستاخی کا ارتکاب کرکے مجرم قطعاً اپنا خبث باطن آشکارا کردیتا ہے کیونکہ جب وہ توبہ کرکے اسلام قبول کرلیتا ہے تو وہ اس بات کی نفی کردیتا ہے ۔ یہاں وہ ان آیات او ر احادیث سے استدلال کرتے ہیں جن میں یہ اصول طے کیا گیا ہے کہ لوگوں کے ظاہری اسلام کو قبول کرنا چاہیے اور ان کے دل کے عقیدے کا فیصلہ اللہ پر چھوڑنا چاہیے ۔ یہی طرز عمل رسول اللہ ﷺ نے منافقین کے معاملے میں اختیار کیا تھا ۔ 
آخر میں علامہ شامی نہایت عجز و انکساری کے ساتھ قرار دیتے ہیں کہ ان کی اس تحقیق سے شاید ان کا دعوی قطعی طور پر ثابت نہیں ہوتا لیکن اس سے کم از کم شبھۃ تو پیدا ہوجاتا ہے جس کی موجودگی میں کسی ایسے شخص کے لیے ، جو اپنے دین اور عزت کے بارے میں حساس ہو ، یہ جائز نہیں کہ وہ قطعیت کے ساتھ ایسے مجرم کی توبہ کی عدم قبولیت اور اس کی سزاے موت کے عدم سقوط کی بات کرے۔ 

فصل سوم : ذمی کی جانب سے گستاخی کا ارتکاب 

مسلمان ، جو گستاخی کے نتیجے میں مرتد ہوجائے ، کے مسئلے کے تفصیلی تجزیے کے بعد علامہ شامی فصل سوم میں ذمی کی جانب اس جرم کے ارتکاب کے قانونی اثرات پر بحث کرتے ہیں ۔ 

ذمی کے متعلق امام ابو حنیفہ کا مسلک 

اس فصل کی ابتدا میں علامہ شامی نے امام سبکی ، قاضی عیاض اور امام ابن تیمیہ کے طویل اقتباسات پیش کیے ہیں جن میں امام ابو حنیفہ کے متعلق صراحت کی گئی ہے کہ وہ ذمی کے لیے تعزیری سزا کے قائل تھے اور سزاے موت کو اس کے لیے حد نہیں سمجھتے تھے کیونکہ ان کا موقف یہ تھا کہ جب ان کے شرک کے باوجود ان کے ساتھ عقد ذمہ کیا گیا تو اس کفر میں اضافے پر یہ عقد ٹوٹ نہیں سکتا لیکن فساد کے ارتکاب کی وجہ سے اسے مناسب سزا دی جاسکتی ہے ۔ اس کے بعد انھوں نے قرار دیا ہے کہ حنفی مسلک کی متون میں اسی بات کی تصریح کی گئی ہے جس کی روایت دیگر مسالک سے تعلق رکھنے والے یہ تین بڑے ائمہ کررہے ہیں ۔ 

بعض فقہاے احناف کی اختلافی راے 

البتہ علامہ عینی نے امام شافعی کی راے کو اختیار کیا ہے کہ گستاخی سے ذمی کا عقد ٹوٹ جاتا ہے ۔ اسی طرح محقق ابن الہمام نے قرار دیا ہے کہ اگر ذمی ایسی بات کا کھلے عام اظہار کرے جو گستاخی کے زمرے میں آتی ہو اور وہ ان کے عقائد کا حصہ بھی نہ ہو تو اس پر اس کا عقد ٹوٹ جاتا ہے اور اگر وہ اس بات کا کھلے عام اظہار نہ کرے، لیکن کسی طرح اس کی بات کی سن گن ملے تو اس پر عقد نہیں ٹوٹتا ۔ تاہم ابن الھمام کا یہ موقف حنفی مسلک کے صریح خلاف ہے اور اس وجہ سے ان کے شاگرد علامہ قاسم نے اپنے شیخ کی اس راے کی اتباع سے منع کیا ہے ۔ ابن نجیم نے بھی اس راے پر کڑی تنقید کی ہے ۔ اسی طرح ابن نجیم نے علامہ عینی کی بات کو بھی رد کیا ہے کیونکہ اس کے حق میں ائمۂ مذہب سے کوئی روایت موجود نہیں ہے۔ علامہ خیر الدین الرملی نے دفاع کی کوشش اس طرح کی ہے کہ عدم نقض سے سزاے موت کا عدم لازم نہیں آتا ۔ انھوں نے ابن السبکی کے حوالے سے یہ بھی قرار دیا ہے کہ امام شافعی کا مسلک بھی اصلاً یہی ہے کہ گستاخی سے ذمی کا عقد نہیں ٹوٹتا لیکن اسے سزاے موت دی جاسکے گی ۔ 

اگر ذمی گستاخی کو عادت بنالے 

اس کے بعد علامہ شامی نے مختلف کتب فقہ سے بہت ساری عبارات پیش کی ہیں جن کا مقتضا یہ ہے کہ ذمی اگر گستاخی کو عادت بنالے ، یا سرکشی کے ساتھ اس جرم کا ارتکاب کرے تو حنفی مسلک کے مطابق ایسے شخص کے فساد کے خاتمے کے لیے اسے بطور سیاسہ سزاے موت دی جاسکتی ہے ۔ 

عقد ذمہ نہ ٹوٹنے کے قانونی نتائج 

علامہ شامی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ عقد ذمہ نہ ٹوٹنے سے کیا فرق پڑتا ہے جبکہ اسے اس کے باوجود سزاے موت دی جاسکتی ہے ؟ انھوں نے دکھایا ہے کہ اگر اس کا عقد ٹوٹنے کی بات مانی جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ اسے دیگر حربیوں کی طرح غلام بنایا جاسکے گا اور اس کا مال مسلمانوں کے لیے فے کی حیثیت رکھے گا ۔ گویا جب حنفی فقہا یہ کہتے ہیں کہ اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا لیکن اسے سزا دی جاسکے گی تو ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اسے حقوق شہریت حاصل رہیں گے اور ان کے بموجب اسے اور اس کے اموال کو دیگر امور سے قانونی تحفظ حاصل رہے گا، لیکن اس مخصوص جرم کے ارتکاب کی وجہ سے اسے اس جرم کی سزا دی جاسکے گی ۔ 

کیا ایسے مجرم کو سزاے موت نہیں دی جاسکے گی؟ 

بعض حنفی کتب میں قرار دیا گیا ہے کہ اس جرم کے بار بار ارتکاب پر بھی ذمی کو سزاے موت نہیں دی جائے گی ۔ علامہ شامی نے اس بات کا یہ جواب دیا ہے کہ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ وہ اس جرم کا اظہار کھلے عام نہ کرتے ہوں ، گویا فساد نہ پھیلا رہے ہوں ، یا مراد یہ ہے کہ انھیں بطور حد سزاے موت نہیں دی جائے گی ، گویا سیاسۃً سزاے موت کی نفی اس سے نہیں ہوتی ۔ یہاں انھوں نے الملتقی سے یہ جزئیہ نقل کیا ہے کہ کوڑوں کی سزا کو رجم کی سزا کے ساتھ یا جلاوطنی کی سزا کے ساتھ اکٹھا نہیں کیا جائے گا ، الا یہ کہ فساد کے خاتمے کے لیے حکمران ان دو طرح کی سزاوں کو اکٹھا کرنے میں ہی مصلحت سمجھے ۔ نیز فقہا نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ سیاسہ پر مبنی حکم جاری کرنا حکمران کا اختیار ہے نہ کہ قاضی کا ۔ اس لیے جب وہ کہتے ہیں کہ ایسے مجرم کو سزاے موت نہیں دی جائے گی تو مراد یہ ہوتی ہے کہ قاضی اسے سزاے موت نہیں دے سکے گا ، الا یہ کہ حکمران اسے سیاسۃً ( یعنی فساد کے خاتمے کے لیے ) سزاے موت دینے کا فیصلہ کرلے۔ 
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔

’’توہین رسالت کا مسئلہ‘‘ ۔ اعتراضات پر ایک نظر

محمد عمار خان ناصر

گزشتہ دنوں اپنی ایک تحریر میں توہین رسالت اور اس کی سزا کے حوالے سے ہم نے جو نقطہ نظر پیش کیا ہے، بعض اہل قلم نے تحریری اور زبانی طو رپر اس پر مختلف تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان حضرات کے تحفظات کو درج ذیل تین نکات کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے:
۱۔ ہم نے اپنی تحریر میں فقہاے احناف کے نقطہ نظر کی درست ترجمانی نہیں کی، کیونکہ توہین رسالت کے مجرم کے لیے کسی رعایت کے بغیر موت کی سزا کو لازم قرار دینے میں فقہاے احناف اور دوسرے فقہی مذاہب یک زبان ہیں۔
۲۔ توہین رسالت کے مجرم کے لیے کوئی قانونی رعایت یاموت سے کم تر سزا کی گنجائش تلاش کرنا دینی غیرت وحمیت کے منافی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ محبت وعقیدت کی کمی کی دلیل ہے۔ 
۳۔ اگر فقہی لٹریچر میں اس ضمن میں کوئی اختلاف پایا جاتا ہے تو بھی ایک ایسے ماحول میں اس بحث کو چھیڑنا جس میں مغرب اور مغرب زدہ طبقے قانون ناموس رسالت کے خاتمے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، درحقیقت اس مسئلے میں مغرب کے موقف کو تائید فراہم کرنے اور مغربی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے مترادف ہے۔
آئندہ سطور میں، ہم ان اعتراضات کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔

فقہاے احناف کا نقطہ نظر

بہت سے قارئین کے لیے، جنھوں نے ہماری اصل تحریر کا مطالعہ کیا ہے، یہ اعتراض شاید اس حوالے سے حیرت کا موجب ہو کہ ہم نے اپنی تحریر میں فقہا ے احناف کی طرف اس موقف کی نسبت کا محض دعویٰ نہیں کیا، بلکہ مستند ترین علمی مصادر سے اس کی تائید میں تفصیلی حوالہ جات بھی نقل کیے ہیں۔ تاہم یہ اعتراض پیدا ہونے کی ایک خاص وجہ ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہمارے ہاں اس وقت مذہبی رسائل وجرائد اور اخباری کالموں میں جو اہل قلم دینی موضوعات پر امت کی راہ نمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، ان میں سے بیشتر کو نہ تو اسلامی علوم کے اعلیٰ مآخذ تک براہ راست رسائی حاصل ہے اور نہ علمی وفقہی موضوعات پر امت مسلمہ کی علمی روایت اور اس کے مختلف رجحانات کا باریک بینی سے مطالعہ اور تجزیہ کرنے کی فرصت میسر ہے۔ چونکہ توہین رسالت کی سزا کے ضمن میں فقہاے احناف کا موقف بعض تکنیکی فقہی نکتوں پر مبنی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ احناف کی علمی روایت میں ایک سے زیادہ فقہی رجحانات بھی پائے جاتے ہیں، اس لیے جن حضرات کو زیادہ توجہ سے احناف کے فقہی لٹریچر کا مطالعہ وتجزیہ کرنے کا موقع نہیں ملا، وہ بعض آرا اور عبارات کے درست پس منظر سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے خود بھی ذہنی الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنی الجھی ہوئی تحریریں عام قارئین کے سامنے پیش کر کے ان کے ذہنوں میں بھی کنفیوژن پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں فقہاے احناف کے موقف کی کچھ مزید توضیح قارئین کے سامنے رکھ دی جائے۔
اس ضمن میں حنفی فقہا کے ہاں پائے جانے والے مختلف رجحانات کو حسب ذیل نکات کے تحت بیان کیا جا سکتا ہے:
۱۔ فقہاے احناف کا کلاسیکی موقف یہ ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم جزیہ ادا کرنے کی شرط پر اسلامی ریاست کی شہریت قبول کر لے تو اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا دین اسلام کو برا بھلا کہنے سے اس کا معاہدہ نہیں ٹوٹتا، اس لیے اسے تادیب اور تنبیہ کے طو رپر سزا تو دی جائے گی، لیکن نقض عہد کی بنیاد پر مباح الدم قرار نہیں دیا جائے گا۔ احناف کا کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سب وشتم کفر ہی کی ایک شکل ہے جس پر قائم رہنے کی اجازت عقد ذمہ کی صورت میں غیر مسلموں کو پہلے ہی دی جا چکی ہے، اس وجہ سے شتم رسول کے ارتکاب کو فی نفسہٖ معاہدہ توڑنے کے ہم معنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ (کاسانی، بدائع الصنائع، ۷/۱۱۳) 
اس کے مقابلے میں بعض حنفی اہل علم مثلاً جصاص، ابن الہمام اور آلوسی رحمہم اللہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ سب وشتم کے ارتکاب کے باوجود معاہدۂ ذمہ کو علی حالہ برقرار سمجھنا درست نہیں، کیونکہ معاہدے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اہل ذمہ مسلمانوں کے مقابلے میں ذلیل اور پست ہو کر رہیں گے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب وشتم کرنے والا ذمی معاہدے کی خلاف ورزی کی وجہ سے مباح الدم ہو جاتا ہے۔ (جصاص، احکام القرآن ۴/۲۷۵۔ ابن الہمام، فتح القدیر، ۲/۶۲) 
ہمارے نزدیک اس باب میں یہ دوسرا نقطہ نظر ہی راجح ہے، اس لیے کہ غیر مسلموں کے ساتھ معاہدے میں انھیں ان کے کفریہ اور مشرکانہ اعتقادات پر قائم رہنے کی اجازت تو دی گئی تھی، لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اجازت ہرگز اس معاہدے کا حصہ نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ خود فقہاے احناف غیر مسلموں کے کفر وشرک پر تو انھیں کوئی سزا دینے کے قائل نہیں، لیکن توہین رسالت کو ایک قابل تعزیر جرم قرار دیتے ہیں جس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں بنتا کہ معاہدے کی رو سے انھیں ایسا کرنے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔ آلوسی نے جمہور احناف کی راے پر تنقید کرتے ہوئے بجا طو رپر لکھا ہے کہ:
والقول بان اہل الذمۃ یقرون علی کفرہم الاصلی بالجزیۃ وذا لیس باعظم منہ فیقرون علیہ بذلک ایضا .... لیس من الانصاف فی شئ ویلزم علیہ ان لا یعزروا ایضا کما لا یعزرون بعد الجزیۃ علی الکفر الاصلی وفیہ لعمری بیع یتیمۃ الوجود بثمن بخس (روح المعانی ۱۰/۵۸، ۵۹)
’’یہ کہنا کہ چونکہ جزیہ کی ادائیگی کے بعد اہل ذمہ کو ان کے کفر اصلی پر قائم رہنے کی اجازت دی جاتی ہے اور سب وشتم، اس کفر سے زیادہ بڑا جرم نہیں ہے، اس لیے انھیں اس پر بھی قائم رہنے دیا جائے گا، انصاف سے بالکل بعید بات ہے۔ اس صورت میں تو یہ لازم آئے گا کہ جیسے انھیں جزیہ ادا کرنے کے بعد ان کے کفر اصلی پر کوئی تعزیر نہیں کی جاتی، اسی طرح سب وشتم پر بھی کوئی تعزیری سزا نہ دی جائے۔ بخدا، یہ تو کائنات کے در یتیم کو نہایت حقیر قیمت کے عوض فروخت کر دینے کے مترادف ہے۔‘‘
۲۔ فقہ حنفی کے کلاسیکی مآخذ میں سب وشتم کے مرتکب ذمی کے بارے میں صرف تادیبی سزا کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے، جبکہ سزاے موت کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ امام طحاوی نے لکھا ہے کہ پہلی مرتبہ سب وشتم کرنے والے ذمی کو صرف زبانی تنبیہ کی جائے، جبکہ اس کے بعد اگر وہ اس کا مرتکب ہو تو بھی اسے قتل کرنے کے بجائے تادیبی سزا ہی دی جائے۔ (مختصر الطحاوی، ص ۲۶۲) 
فقہ حنفی کے اس کلاسیکی موقف کے تقابل میں متاخرین میں سے بہت سے حضرات کی رائے یہ ہے کہ چونکہ قتل سے کم تر تعزیری سزا سب وشتم کے جرم سے باز رکھنے میں زیادہ موثر نہیں، اس لیے تعزیر کے طور پر ایسے مجرم کو قتل ہی کی سزا دی جانی چاہیے۔ 
یہاں دو نکتے ملحوظ رہنے چاہییں:
ایک یہ کہ فقہ حنفی کے کلاسیکی مآخذ کی عبارات میں ذمی پر سزاے موت کے عدم نفاذ کا موقف بظاہر کسی قید کے بغیر بالکل مطلق انداز میں بیان کیا گیا ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کسی حال میں بھی شاتم رسول کو سزاے موت نہیں دی جا سکتی۔ علامہ ابن نجیم نے علامہ عینی اور ابن الہمام کی طرف سے شاتم رسول کے لیے سزاے موت کے حق میں رجحان ظاہر کرنے پر جو تنقید کی ہے، اس سے بھی بظاہر اس تاثر کی تائید ہوتی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے:
ان قول العینی واختیاری ان یقتل بسب النبی لا اصل لہ فی الروایۃ وکذا وقع لابن الہمام بحث ہنا خالف فیہ اہل المذہب وقد افاد العلامۃ قاسم فی فتاواہ انہ لا یعمل بابحاث شیخہ ابن الہمام المخالفۃ للمذہب نعم نفس المومن تمیل الی قول المخالف فی مسالۃ السب لکن اتباعنا للمذہب واجب وفی الحاوی القدسی ویودب الذمی ویعاقب علی سبہ دین الاسلام او النبی او القرآن (البحر الرائق ۵/۱۲۵)
’’علامہ عینی کا یہ کہنا کہ میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنے پر ذمی کو قتل کیا جائے، حنفی مذہب میں اس کی کوئی اصل موجود نہیں۔ اسی طرح ابن الہمام نے بھی یہاں ایک ایسی بحث کی ہے جس میں انھوں نے حنفی فقہا سے مختلف موقف اختیار کیا ہے۔ علامہ قاسم بن قطلوبغا نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ ان کے استاذ علامہ ابن الہمام کی جو بحثیں حنفی مذہب کے مخالف ہوں، ان پر عمل نہ کیا جائے۔ ہاں، ایک مسلمان کا دل سب وشتم کے مسئلے میں مخالف قول کی طرف رجحان محسوس کرتا ہے، لیکن ہمارے لیے حنفی مذہب کی پیروی کرنا واجب ہے۔ حاوی قدسی میں ہے کہ دین اسلام یا قرآن یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنے پر ذمی کو تادیب کے طور پر سزا دی جائے گی۔‘‘
تاہم علامہ شامی اور صاحب اعلاء السنن نے واضح کیا ہے کہ احناف کے موقف کو سزاے موت کی مطلقاً نفی پر محمول کرنا درست نہیں اور یہ کہ ان کے موقف کا اصل رخ سزاے موت کے امکان کی نفی کی طرف نہیں، بلکہ اسے ایک لازم وواجب سزا قرار دینے کی نفی کی طرف ہے۔ (مجموعہ رسائل ابن عابدین ۱/۳۵۳، ۳۵۴۔ اعلاء السنن ۱۲/۵۰۵ تا ۵۱۴) 
بہرحال اتنی بات بالکل واضح ہے کہ حنفی فقہا کا اصل رجحان غیر مسلموں کو سزاے موت نہ دینے کی طرف ہے، جبکہ متاخرین کے ہاں ایسے مجرموں کو تعزیراً قتل کرنے کا رجحان عملی مصلحت کے تحت زیادہ نمایاں ہوا ہے۔
دوسرا نکتہ یہ سامنے رہنا چاہیے کہ متاخرین میں سے جو حضرات غیر مسلموں کے لیے تعزیری طور پر سزاے موت کے قائل ہیں، ان کا موقف بھی ہرگز یہ نہیں ہے کہ ایسے مجرم کو توبہ اور اصلاح کا موقع دینے کی کوئی گنجائش نہیں اور پہلی ہی مرتبہ اس جرم کا ارتکاب کرنے پر یا جرم کے ارتکاب کے بعد ندامت ظاہر کرنے کے باوجود اسے موت کی سزا دینا ضروری ہے۔ اس کے بالکل برعکس یہ حضرات اس کے قائل ہیں کہ ایسے مجرم کو سمجھا بجھا کر اس جرم کے ارتکاب سے باز رہنے کی تلقین کرنی چاہیے اور کسی شخص کو اسی وقت قتل کرنا چاہیے جب وہ اپنی روش بدلنے پر آمادہ نہ ہو۔ چنانچہ ابن الہمام لکھتے ہیں:
ہذا البحث منا یوجب انہ اذا استعلی علی المسلمین علی وجہ صار متمردا علیہم حل للامام قتلہ او یرجع الی الذل والصغار (فتح القدیر ۶/۶۲، ۶۳)
’’ہماری اس بحث کا تقاضا یہ ہے کہ اگر ذمی (سب وشتم کی صورت میں) مسلمانوں کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے ہوئے باغیانہ روش اختیار کر لے تو حکمرا ن کے لیے اسے قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے، الا یہ کہ وہ دوبارہ ذلت اور پستی کی حالت قبول کرنے پر آمادہ ہو جائے۔‘‘
ملا احمد جیون بھی اسی نقطہ نظر کے قائل ہیں، چنانچہ لکھتے ہیں:
والحق ان یکون فتوی اہل العلم فی زماننا علی ہذا اذ لیس فی التعزیر الذی قال ابو حنیفۃ تہدید بحسب ما کان ذلک فی القتل (التفسیرات الاحمدیہ، ص ۴۵۲)
’’حق بات یہ ہے کہ آج کے زمانے میں اہل علم کو اسی پر فتویٰ دینا چاہیے، کیونکہ امام ابوحنیفہ جو تعزیری سزا تجویز کرتے ہیں، وہ اس جرم سے روکنے میں اتنی موثر نہیں جتنی قتل کی سزا موثر ہے۔‘‘
لیکن اسی بحث میں انھوں نے تصریح کی ہے کہ ذمی کو علی الفور قتل کرنے کے بجائے اسے سمجھا بجھا کر اس طرز عمل سے باز رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ لکھتے ہیں:
ان من طعن فی الدین ای سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم یجب ان یذاکر معہ فان قبل الذمۃ وکتم ما اظہرہ یترک والا یقتل البتۃ (التفسیرات الاحمدیہ، ص ۴۵۳)
’’جو شخص دین میں طعن کرے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہے، اس کے ساتھ بات چیت کرنا واجب ہے۔ اگر وہ دوبارہ عہد ذمہ قبول کر لے اور جن باتوں کا اظہار کرتا ہے، انھیں علانیہ کہنا چھوڑ دے تو اسے چھوڑ دیا جائے، ورنہ اسے لازماً قتل کر دیا جائے۔‘‘
علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:
من کان کافرا خبیث الاعتقاد وتجاہر بالشتم والالحاد ثم لما رای الحسام بادر الی الاسلام فلا ینبغی لمسلم التوقف فی قتلہ وان تاب لکن بشرط تکرر ذلک منہ وتجاہرہ بہ کما علمتہ مما نقلنا عن الحافظ ابن تیمیۃ عن اکثر الحنفیۃ ومما نقلناہ عن المفتی ابی السعود (رسائل ابن عابدین ۱/۳۵۶)
’’جو شخص کافر ہو اور خبیث اعتقادات رکھتا ہو اور کھلم کھلا سب وشتم اور الحاد کی باتیں کرے، لیکن جب تلوار دکھائی دے تو فوراً اسلام کی طرف لپک پڑے، ایسے شخص قتل کو کرنے کے بارے میں کسی مسلمان کو توقف نہیں ہونا چاہیے، چاہے وہ توبہ کر لے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس نے یہ جرم بار بار اور لوگوں کے سامنے علانیہ کیا ہو، جیسا کہ ہم نے حافظ ابن تیمیہ کے حوالے سے اکثر احناف کا موقف اور اس کے علاوہ مفتی ابوالسعود کا فتویٰ نقل کیا ہے۔‘‘
۳۔ اگر کسی مسلمان سے سب وشتم کا جرم سرزد ہوجائے تو متقدمین ائمہ احناف کا متفقہ موقف یہ ہے کہ اس کا حکم وہی ہے جو کسی بھی مرتد کا ہوتا ہے، چنانچہ اس سے توبہ کے لیے کہا جائے گا اور اگر وہ توبہ کر لے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ اس کے برعکس بعض متاخرین کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان سب وشتم کے ارتکاب کی وجہ سے مرتد ہو جائے تو اس کے لیے دنیوی قانون کے لحاظ سے توبہ کی کوئی گنجائش نہیں اور اس جرم کی پاداش میں اسے ہر حال میں قتل کر دینا لازم ہے۔ یہ موقف متاخرین میں سے بزازی، تمرتاشی، ابن ہمام اور ابن نجیم وغیرہ نے اختیار کیا ہے۔ 
اس نقطہ نظر کے حوالے سے علامہ ابن عابدین شامی نے اپنی تصنیف ’تنبیہ الولاۃ والحکام‘ میں پوری تحقیق کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ حنفی فقہ میں اس کی سرے سے کوئی بنیاد موجود نہیں اور یہ کہ یہ موقف اصل میں بزازی کے ہاں قاضی عیاض کی ’الشفاء‘ کی ایک عبارت کا بالکل غلط مطلب سمجھنے سے پیدا ہوا اور پھر بعد میں آنے والے بعض حضرات بزازی ہی کی بات پر اعتماد کرتے ہوئے اسی موقف کو نقل کرتے چلے گئے۔ ’شرح عقود رسم المفتی‘ میں لکھتے ہیں:
قد نقل صاحب الفتاوی البزازیۃ انہ یجب قتلہ عندنا ولا تقبل توبتہ وان اسلم وعزا ذلک الی الشفاء للقاضی عیاض المالکی والصارم المسلول لابن تیمیۃ الحنبلی ثم جاء عامۃ من بعدہ وتابعہ علی ذلک وذکروہ فی کتبہم حتی خاتمۃ المحققین ابن الہمام وصاحب الدرر والغرر مع ان الذی فی الشفاء والصارم المسلول ان ذلک مذہب الشافعیۃ والحنابلۃ واحدی الروایتین عن الامام مالک مع الجزم بنقل قبول التوبۃ عندنا وہو المنقول فی کتب المذہب المتقدمۃ ککتاب الخراج لابی یوسف وشرح مختصر الامام الطحاوی والنتف وغیرہا من کتب المذہب (مجموعہ رسائل ابن عابدین ۱/۱۴)
’’فتاویٰ بزازیہ میں منقول ہے کہ ہمارے نزدیک اس کا قتل واجب ہے اور توبہ قابل قبول نہیں ہے، اگرچہ وہ اسلام قبول کر لے۔ صاحب بزازیہ نے یہ بات قاضی عیاض مالکی کی الشفاء اور ابن تیمیہ حنبلی کی الصارم المسلول کی طرف منسوب کی ہے۔ پھر بزازی کے بعد آنے والے اکثر حضرات نے، یہاں تک کہ خاتمۃ المحققین علامہ ابن الہمام اور الدرر والغرر کے مصنف نے بھی یہی بات اپنی کتابوں میں لکھ دی، حالانکہ الشفاء اور الصارم میں جو بات ہے، وہ یہ ہے کہ یہ شوافع اور حنابلہ کا مذہب ہے اور امام مالک رحمہ اللہ کی دو روایتوں میں سے ایک روایت ہے، جبکہ ہمارا (احناف کا) مذہب قطعیت کے ساتھ یہ نقل کیا ہے کہ ایسے شخص کی توبہ مقبول ہے اور یہی بات قدماء احناف کی کتابوں، مثلاً امام ابو یوسف کی کتاب الخراج، امام طحاوی کی مختصر کی شرح اور النتف وغیرہ میں بھی مذکور ہے۔‘‘ 
یہاں یہ اہم نکتہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ بزازی، تمرتاشی، ابن ہمام اور ابن نجیم وغیرہ توبہ قبول کیے بغیر شاتم رسول کو قتل کرنے کا جو حکم بیان کرتے ہیں، اس کا تعلق صرف مسلمان سے ہے اور غیر مسلم شاتم رسول ان حضرات کے نزدیک اس کے دائرۂ اطلاق میں نہیں آتا، چنانچہ اہل ذمہ کے بارے میں یہ حضرات بھی، فقہ حنفی کے کلاسیکی موقف کے مطابق، اسی بات کی تصریح کرتے ہیں کہ سب وشتم کے ارتکاب پر معاہدۂ ذمہ نہیں ٹوٹتا اور چونکہ اہل ذمہ پہلے ہی کفر پر قائم ہیں، اس لیے سب وشتم کی صورت میں مزید کفر کے ارتکاب پر انھیں قتل نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طو رپر صاحب ’تنویر الابصار‘ علامہ تمرتاشی نے سب وشتم کے مرتکب مسلمان کے بارے میں لکھا ہے کہ اس کی توبہ کسی حال میں قبول نہیں اور اسے قتل کیا جائے گا (الدر المختار ۴/۲۳۲) جبکہ اہل ذمہ کے بارے میں لکھا ہے کہ سب وشتم سے ان کا معاہدہ ختم نہیں ہوتا، اس لیے انھیں قتل کرنے کے بجائے تادیبی سزا دی جائے گی:
ویودب الذمی ویعاقب علی سبہ دین الاسلام او القرآن والنبی صلی اللہ علیہ وسلم (الدر المختار ۴/۲۱۴)
’’دین اسلام یا قرآن یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنے پر ذمی کو تادیب کے طور پر سزا دی جائے گی۔‘‘
اسی طرح علامہ ابن الہمام نے سب وشتم کی وجہ سے مرتد ہو جانے والے مسلمان کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں اور اسے ہر حال میں قتل کیا جائے گا (فتح القدیر ۶/۹۸) لیکن اہل ذمہ کے بارے میں ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ’حل للامام قتلہ او یرجع الی الذل والصغار‘، یعنی امام کے لیے اس کو قتل کرنا جائز ہے، الا یہ کہ وہ اپنی روش سے باز آکر دوبارہ ذلت اور پستی کی حالت قبول کرنے پر آمادہ ہو جائے۔ اس سے واضح ہے کہ وہ توبہ کر لینے کی صورت میں ذمی کے قتل کو لازم نہیں سمجھتے۔ 
یہی معاملہ علامہ ابن نجیم کا ہے۔ انھوں نے سب وشتم کے مرتکب مسلمان کی توبہ کو ناقابل قبول اور مجرم کو ہر حال میں واجب القتل کہا ہے، (البحر الرائق ۵/۱۳۶) لیکن اہل ذمہ کے بارے میں لکھتے ہیں:
ولا ینتقض عہدہ بالاباء عن الجزیۃ والزنا بمسلمۃ وقتل مسلم وسب النبی لان الغایۃ التی ینتہی بہا القتال التزام الجزیۃ (البحر الرائق ۵/۱۲۴)
’’ذمی اگر جزیہ دینے سے انکار کرے یا کسی مسلمان عورت کے ساتھ بدکاری کرے یا کسی مسلمان کو قتل کر دے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہے تو اس سے اس کا معاہدہ نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ وہ غایت جس پر قتال رک جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ ذمی جزیہ ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کر لے۔‘‘
ابن نجیم نے اسی بحث میں عینی اور ابن الہمام کے اس قول پر تنقید کرتے ہوئے جس میں انھوں نے سب وشتم کے مرتکب ذمی کو قتل کرنے کو راجح قرار دیا ہے، اسے خلاف مذہب قرار دیا ہے۔ (ان کا متعلقہ اقتباس اوپر نقل کیا جا چکا ہے)۔
فقہاے احناف کے ہاں پائے جانے والے ان مختلف رجحانات کے تقابل اور موازنہ سے ایک بنیادی نکتہ یہ سامنے آتا ہے کہ بہت سے پہلووں سے زاویہ نظر کے اختلاف کے باوجود سب وشتم کے مرتکب غیر مسلم کے بارے میں ان کے ہاں اس بات پر قریب قریب اتفاق پایا جاتا ہے کہ اسے اس جرم پر اگر قتل کی سزا دی جائے گی تو دراصل سرکشی اور عناد کے رویے کی وجہ سے دی جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں، جرم کے ارتکاب کے بعد ندامت محسوس کرنے اور توبہ ومعذرت کا راستہ اختیار کرنے والوں کے لیے معافی کی گنجائش تسلیم کرنے پر فقہاے احناف قاطبۃً متفق ہیں اور مذکورہ مختلف رجحانات میں سے کسی بھی رجحان کی نمائندگی کرنے والے اہل علم کو اس پر اصرار نہیں ہے کہ غیر مسلم کو توبہ اور اصلاح کا موقع دیے بغیر نفس جرم کے ارتکاب پر قتل کر دینا ضروری ہے۔
معاصر تناظر میں اس مسئلے پر خامہ فرسائی کرنے والے بیشتر اہل قلم کے ہاں احناف اور جمہور فقہا کے موقف میں موافقت اور ہم آہنگی ثابت کرنے کے لیے ایک ایسا طرز استدلال دیکھنے کو ملتا ہے جس میں اس پوری تفصیل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مثال کے طو رپر بعض حضرات متاخرین احناف مثلاً علامہ ابن الہمام وغیرہ کے ایسے فتوے نقل کر کے جن میں سب وشتم کے مرتکب ذمی کو تعزیراً قتل کرنے کو راجح قرار دیا گیا ہے، یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ فقہ حنفی کا اصل موقف ہے، حالانکہ خود ان حضرات کی تصریح کے مطابق ان کی یہ راے احناف کے روایتی موقف کی ترجمانی نہیں کرتی، بلکہ اس سے اختلاف پر مبنی ہے۔ مزید یہ کہ متاخرین میں سے یہ رائے اختیار کرنے والے حضرات اس کی بھی تصریح کرتے ہیں کہ سب وشتم کے ارتکاب پر ذمی کے لیے توبہ کی گنجائش موجود ہے اور مجرم کو اسی صورت میں قتل کیا جائے جب وہ تنبیہ وتادیب کے باوجود اپنی روش سے باز نہ آئے اور سرکشی اور عناد ہی کے رویے پر مصر رہے، جیسا کہ ابن الہمام، ابن عابدین اور ملا جیون کی تصریحات سے واضح ہے۔ 
اسی طرح بعض حضرات احناف اور جمہور کے موقف میں یکسانی دکھانے کے لیے بزازی اور ابن نجیم وغیرہ کی ایسی عبارات کا حوالہ دیتے ہیں جن کی رو سے سب وشتم کے مرتکب کے لیے توبہ کی کوئی گنجائش نہیں، حالانکہ مذکورہ فقہا کا یہ موقف متقدمین ائمہ احناف کی تصریحات کے بالکل برعکس ہے۔ پھر یہ کہ بزازی وغیرہ کا یہ موقف سب وشتم کے مرتکب مسلمان کے بارے میں ہے نہ کہ غیر مسلم کے بارے میں، اس لیے توبہ کی گنجائش تسلیم نہ کرنے کو علی الاطلاق بیان کرنا اور غیر مسلم شاتم رسول کو بھی توبہ کا موقع دیے بغیر واجب القتل قرار دینا خود ان حضرات کے نقطہ نظر کی درست ترجمانی نہیں ہے۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ ظلم علامہ شامی کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور ان کی تصانیف سے وہ جملے نقل کر کے جن میں انھوں نے بزازی وغیرہ کا موقف بیان کیا ہے، یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علامہ شامی بھی سب وشتم کے مرتکب کے لیے توبہ کی گنجائش کے قائل نہیں، حالانکہ ابن عابدین نے رد المحتار اور تنبیہ الولاۃ والحکام میں جو بحث کی ہے، وہ سر تا سر اس نقطہ نظر کی تردید پر مبنی ہے۔

اسلامی غیرت وحمیت کا سوال

اب دوسرے اعتراض کو دیکھیے:
ہمارے نزدیک یہ اعتراض اس جذباتی انداز فکر کا ایک شاخسانہ ہے جس میں اس وقت مسلمانوں کے ’عوامی‘ راہ نماؤں نے انھیں مبتلا کر رکھا ہے اور جو انھیں اس پر برانگیختہ کرتا ہے کہ وہ دینی غیرت وحمیت کا اپنا ایک مخصوص مفہوم طے کریں اور دینی معاملات میں خالصتاً جذبات کو فیصلہ کن حیثیت دیتے ہوئے فقہ وشریعت کی تعبیر کے مسائل کو بھی اسی ذہنی رجحان کے تحت دیکھنا شروع کر دیں اور ایسا کرتے ہوئے خود اپنی تاریخ اور اپنی ہی مستند دینی وعلمی روایت کے ان تمام پہلووں کو نظر انداز کر دیں بلکہ بے غیرتی وبے حمیتی کا مظہر قرار دے دیں جو اس وقت کی ذہنی فضا میں لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔
اس طرز فکر کے حاملین سے ہماری صرف اتنی گزارش ہے کہ وہ تاریخ کے صرف ایسے واقعات کا حوالہ دینے کے بجائے جو بظاہر ان کے تصور غیرت وحمیت سے زیادہ ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں، درج ذیل واقعات کو بھی ملحوظ رکھیں اور غیرت وحمیت کے اس مفہوم کو دینی لحاظ سے حتمی اور معیاری سمجھنے کے بجائے جو انھوں نے اپنے ذہن میں طے کر رکھا ہے، اس معاملے کے حکیمانہ پہلووں کو بھی پورا وزن دیں۔ 
★ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں بیان ہوا ہے کہ ایک شخص کی لونڈی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی اور آپ کی توہین کیا کرتی تھی اور اپنے مالک کے منع کرنے اور ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود اس سے باز نہیں آتی تھی۔ ایک دن اسی بات پر اس نے اشتعال میں آ کر اسے قتل کر دیا۔ (ابوداؤد، ۴۳۶۱) 
عمیر بن امیہ کی بہن نے، جو مشرک تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے بارے میں سب وشتم کو ایک مستقل روش بنا رکھا تھا اور اس کے اس رویے سے تنگ آ کر ایک دن عمیر نے اسے قتل کر دیا تھا۔ (طبرانی، مجمع الزوائد ۶/۲۶۰۔ ابن ابی عاصم، الدیات، ۱/۷۳) 
ان واقعات میں صحابہ نے پہلے مرحلے پر ان مجرموں کے خلاف قتل جیسا انتہائی اقدام کرنے کے بجائے ان کی حرکتوں کو نظر انداز کرنے اور سمجھا بجھا کر اس روش سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ کیا ناقدین اس طرز عمل کو دینی غیرت کے منافی قرار دیں گے؟ 
★  واقعہ افک میں عبد اللہ بن ابی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف تہمت طرازی کا جو طوفان کھڑا کیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس قدر اذیت ناک بن گیا کہ آپ کو لوگوں سے اپیل کرنا پڑی کہ وہ اس کے شر سے آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کو بچائیں۔ اس موقع پر اوس کے سردار سعد بن معاذ نے عبد اللہ بن ابی کو قتل کرنے کی اجازت مانگی تو ابن ابی کے قبیلہ، بنو خزرج کے سردار سعد بن عبادہ سخت غصے میں آ گئے اور انھوں نے سعد بن معاذ سے کہا کہ ’’خدا کی قسم، تم اسے قتل نہیں کرو گے اور نہ تم میں اتنی ہمت ہے کہ اسے قتل کر سکو۔ اگر اس کا تعلق تمھارے قبیلے سے ہوتا تو تم کبھی اس کا قتل کیا جانا پسند نہ کرتے۔‘‘ (بخاری، ۳۹۱۰)
اس کے باوجود ہمیں یقین ہے کہ ناقدین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی محبت وعقیدت کے بارے میں کوئی سوال اٹھانے کی جسارت نہیں کریں گے۔
★  فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے افراد کے ساتھ ساتھ سیدنا عثمان کے رضاعی بھائی عبد اللہ بن ابی سرح کو عام معافی سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے اسے قتل کر دینے کا حکم دے دیا۔ تاہم سیدنا عثمان نے اسے اپنے پاس چھپا لیا اور حالات کے پر سکون ہونے پر اسے اپنے ساتھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بے حد اصرار کر کے اس کے لیے معافی کا فیصلہ کروایا۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۵/۶۹، ۷۰۔ الصارم المسلول، ص ۱۰۸)
اگر دینی حمیت کے اسی تصور کو معیار سمجھا جائے جو ناقدین بیان کر رہے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر مبہم اعلان کے باوجود سیدنا عثمان کی طرف سے ابن ابی سرح کو اپنے پاس چھپانے، پناہ دینے اور پھر اصرار کر کے اسے معافی دلوانے کے اس عمل کی کیا توجیہ کیا جائے گی؟ 
★  سیدنا معاویہ کی مجلس میں ابن یامین نضری نے کہا کہ اسے بد عہدی کرتے ہوئے قتل کیا گیا تھا، لیکن سیدنا معاویہ نے اس بیان پر ابن یامین کا کوئی مواخذہ نہیں کیا، بلکہ محمد بن مسلمہ کے احتجاج کے باوجود، جو اسی مجلس میں موجود تھے، ابن یامین پر سزاے موت نافذ کرنا تو کجا، کوئی تادیبی اقدام تک نہیں کیا۔ (بیہقی، دلائل النبوۃ ۳/۱۹۳)
روایت میں سیدنا معاویہ کے اس طرز عمل کی وجہ بیان نہیں ہوئی، لیکن یقینی طور پر ان کے پیش نظر اس کی کوئی نہ کوئی دینی مصلحت تھی۔ اب اگر ناقدین کے تصور حمیت کو معیار مانا جائے تو کیا اس واقعے سے سیدنا معاویہ کے دین وایمان کے بارے میں اس سے مختلف کوئی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے جو مثال کے طور پر اہل تشیع کرتے ہیں؟
★  خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے سامنے مالک بن نویرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر استخفاف آمیز اندازمیں کیا تو خالد بن ولید نے کسی توقف کے بغیر اسے وہیں قتل کروا دیا۔ تاہم ان کے اس اقدام پر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے سخت اعتراض کیا، سیدنا عمر نے سیدنا ابوبکر سے سفارش کی کہ خالد کو معزول کر دیا جائے، جبکہ خود سیدنا ابوبکر نے مالک بن نویرہ کے بھائی کو اس کی دیت ادا کی۔ (ابن کثیر ، البدایہ والنہایہ ۶/۳۲۲)
غور طلب بات یہ ہے کہ مروجہ تصورات کے مطابق خالد بن ولید کا فیصلہ دینی غیرت وحمیت سے زیادہ ہم آہنگ بلکہ اس کا عین تقاضا تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ان کے اس غیرت مندانہ اقدام پر تین اکابر صحابہ ان سے نالاں ہوئے اور ان کے فیصلے کا قانونی جواز تسلیم کرنے کے بجائے مقتول کی دیت ادا کی گئی؟
★  سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک موقع پر یہودی عالم فنحاص کے پاس بیٹھے تھے کہ اس نے صدقہ اور زکوٰۃ کے حکم کے تناظر میں اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کہا کہ اللہ ہمارا محتاج ہے جبکہ ہم اس سے بے نیاز ہیں۔ سیدنا ابوبکر نے غصے میں آ کر فنحاص کے چہرے پر زور سے تھپڑ رسید کیا اور کہا کہ اے اللہ کے دشمن، اگر ہمارے اور تمھارے مابین معاہدہ نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن اڑا دیتا۔ (تفسیر ابن کثیر، سورۂ آل عمران، آیت ۱۸۱)
عرفہ بن حارث کندی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک نصرانی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر دی تو عرفہ نے زور سے مکہ مار کر اس کی ناک توڑ دی۔ معاملہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انھوں نے عرفہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تو ان کے ساتھ معاہدہ کیا ہوا ہے۔ عرفہ نے کہا کہ اس بات سے اللہ کی پناہ کہ ہم نے ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کھلم کھلا گستاخی کی اجازت دینے پر معاہدہ کیا ہو۔ (بیہقی، السنن الکبریٰ، ۱۸۴۹۰۔ طبرانی، المعجم الکبیر ۱۸/۲۶۱)
سوال یہ ہے کہ اگر اللہ اور اس کے رسول کے گستاخوں کے خلاف عملی اقدام میں کسی قانونی اور فقہی نکتے کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ’ہر چہ بادا باد‘ کا رویہ ہی غیرت ایمانی کا معیار ہے تو سب وشتم کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے میں معاہدے کو مانع تصو رکرنے والے ان جلیل القدر صحابہ کی اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ عقیدت ومحبت اور دینی غیرت وحمیت کا درجہ کیا متعین کیا جائے گا؟
حقیقت یہ ہے کہ توہین رسالت کا مسئلہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے اتنا نازک ہے کہ اسے محض جذباتی زاویے سے دیکھنا کسی بھی اعتبار سے شرعی حکمتوں اور مصلحتوں کے قرین نہیں۔ اسلام کی دعوت، مسلمان معاشرے کی داخلی تشکیل اور اس کی دینی واخلاقی ساکھ اور دین وملت کے اجتماعی مصالح سے اس مسئلے کا تعلق اتنا گہرا ہے کہ جذبات کی سطح پر مسلمان اس پر جو بھی رد عمل اپنے دل میں محسوس کرتے ہوں، قانون اور سیاسی پالیسی کی سطح پر اس معاملے میں بہرحال حکیمانہ طرز عمل ہی اختیار کرنا ناگزیر ہے، اس لیے کہ قانون اور سیاست، دونوں کی اپنی عملی تحدیدات، ضروریات اور تقاضے ہیں جنھیں کم سے کم امت کے اہل علم ودانش اور فقہا نظر انداز نہیں کر سکتے۔ علامہ قاسم بن قطلوبغا نے اسی نکتے کی طرف یہ کہہ کر اشارہ کیا ہے کہ اگرچہ سب وشتم کے مسئلے میں ایک مسلمان کا دل اسی طرف میلان محسوس کرتا ہے کہ مجرم کو قتل کر دیا جائے، لیکن ہمارے لیے حنفی مذہب کی پیروی واجب ہے۔ بعض لوگ ان کی اس بات کو فقہی تعصب کی مثال کے طو رپر پیش کرتے ہیں، لیکن ہمارے نزدیک اس کا درست محل یہ ہے کہ حنفی نقطہ نظر چونکہ قانون کی سطح پر شارع کے منشا کی زیادہ درست ترجمانی کرتا اور قانونی سوالات ومشکلات کا زیادہ قابل عمل جواب فراہم کرتا ہے، اس لیے جذباتی سطح پر ایک مسلمان کے احساسات کچھ بھی ہوں، تعبیر قانون کے دائرے میں اسی راے کی پابندی لازم ہے۔

مغربی مفادات کی تائید

اب اس ضمن کے آخری اعتراض کا جائزہ لیجیے:
اس میں شبہ نہیں کہ اہل مغرب اور ہمارے ہاں ان کے انداز فکر سے متاثر سیکولر حلقے، جو ملک کے سیاسی اور قانونی ڈھانچے کو مغربی طرز پر استوار دیکھنے کے خواہش مند ہیں، اپنے مخصوص تصورات کے تحت پاکستان میں اسلامی قانون سازی کے عمل سے ناخوش ہیں اور ان کی طرف سے ان قوانین کے خاتمے کے لیے مسلسل دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے۔ جہاں تک سیکولر حلقوں کے اس نقطہ نظر کا تعلق ہے کہ ملک کے اجتماعی معاملات میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے اور یہ کہ توہین رسالت پر سزا جیسے قوانین چونکہ ریاست اور قانون کے اس مذہبی تشخص کو مستحکم کرتے ہیں، اس لیے ان کو کتاب قانون سے مٹا دینا چاہیے تو ہم اپنی اصل تحریر میں دوٹوک الفاظ میں واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان جیسے مسلم اکثریتی معاشرے میں اس نقطہ نظر کو کسی حال میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ہم نے لکھا ہے:
’’ممکن ہے اہل مغرب اپنے سیکولر زاویہ نگاہ کے تحت یہ مطالبہ کرنے میں اپنے آپ کو فی الواقع حق بجانب سمجھتے ہوں کہ کوئی ریاست قانونی دائرے میں مذہبی شعائر اور شخصیات کے ساتھ کسی وابستگی کا اظہار نہ کرے، لیکن ایک اسلامی ریاست کے لیے ایسے کسی مطالبے کو تسلیم کرنے کی کوئی وجہ نہیں جو ریاست کے مذہبی تشخص کے حوالے سے اسلام کی واضح ہدایات کو پامال کرتا ہو۔ قرآن مجید کے بارے میں یہ بات معلوم ہے کہ وہ مذہب کو صرف انفرادی معاملات تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ مسلمانوں کے معاشرے کو سماجی، قانونی اور سیاسی، ہر سطح پر اللہ کی دی ہوئی ہدایات کے رنگ میں رنگا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو خدا اور اس کے رسولوں کے ساتھ اعتقادی وجذباتی وابستگی اور ان کی حرمت وناموس کی حفاظت محض ایک مسلمان کے انفرادی ایمان واعتقاد کا مسئلہ نہیں، بلکہ نظم اجتماعی کی سطح پر مسلمانوں کے معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے اور جو چیزیں اسلامی ریاست کو ایک مخصوص نظریاتی تشخص اور امتیاز عطا کرتی ہیں، ان میں اسلامی حدود وشعائر کا تحفظ اور ان کی بے حرمتی کا سدباب بھی شامل ہے۔ چنانچہ یہ بات اسلامی ریاست کا ایک بنیادی فریضہ قرار پاتی ہے کہ وہ اسلام اور پیغمبر اسلام کی حرمت وناموس اور مسلمانوں کی مذہبی غیرت وحمیت کو مجروح ہونے سے بچانے کے لیے پوری طرح چوکنا رہے اور قانون کی سطح پر اس نوعیت کے اقدامات کے سدباب کا پورا پورا اہتمام کرے۔ ‘‘
ہم نے توہین رسالت کے مسئلے کے حوالے سے جو کچھ عرض کیا ہے، اس کا بنیادی نکتہ سیکولر حلقوں کے مذکورہ زاویہ نظر کی تائید نہیں، بلکہ اس جرم کی شرعی سزا کے حوالے سے مختلف فقہی نقطہ ہائے نظر کی شرح ووضاحت اور ان میں سے احناف کے نقطہ نظر کی علمی ترجیح کو واضح کرنا ہے جو توہین رسالت کے مجرم پر پہلے ہی مرحلے میں سزاے موت نافذ کرنے کے بجائے اسے توبہ واصلاح کا موقع دینے اور عام حالات میں موت سے کم تر تعزیری سزا دینے کے قائل ہیں۔ اس تناظر میں ناقدین کا یہ اعتراض کہ ہماری اٹھائی ہوئی بحث مغربی زاویہ نظر یا مفاد کی تائید کرتی ہے، ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے، یعنی یہ کہ اسلامی قانون کی تعبیر وتشریح کے حوالے سے مختلف نقطہ ہاے نظر پر غور وخوض اور علمی بحث ومباحثہ میں فیصلہ کن حیثیت مسلمانوں کی علمی وفقہی روایت کے داخلی اصولوں اور ضروریات وترجیحات کو حاصل ہے یا مغرب کے مطالبات کے جواب میں ایک مصنوعی طور پر فرض کیے گئے ’’متفقہ موقف‘‘ کے اظہار کو؟ دوسرے لفظوں میں اگر فقہ وشریعت کے داخلی اصولوں اور دلائل کی روشنی میں یہ واضح ہو جائے کہ کسی مخصوص مجرم کو ایک محدود دائرے میں رعایت دینا شارع کا منشا ہے یا کم از کم شارع کے منشا کے خلاف نہیں ہے تو آیا اس پہلو کو صرف اس لیے نظر انداز کر دیا جائے گا کہ اہل مغرب اس جرم پر سرے سے سزا ہی کو ختم کر دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ 
اس طرز فکر کے مضمرات کو ایک مثال سے واضح کرنا مناسب ہوگا۔
قرآن مجید نے قتل عمد کی صورت میں قصاص کو فرض قرار دیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ مقتول کے ورثا کی طرف سے دیت پر رضامند ہو جانے کی صورت میں نہ صرف یہ کہ قاتل کے لیے معافی کی گنجائش ہے، بلکہ اس نے خود ورثا کو ترغیب دی ہے کہ وہ عفو ودرگزر سے کام لیتے ہوئے دیت قبول کر لیں۔ اس کے علاوہ بھی مختلف قانونی اور تکنیکی وجوہ کے تحت قاتل کے لیے رعایت کی بہت سی صورتیں کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ یہی معاملہ چور کے لیے قطع ید اور شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کا ہے اور فقہ اسلامی میں ایسے مجرموں کو مختلف صورتوں میں قطع ید اور رجم کی سزا سے مستثنیٰ قرار دے کر کم تر تعزیری سزا دینے کی رعایت نہ صرف ثابت ہے بلکہ ایسی رعایت تلاش کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
اسلامی شریعت کے ان تمام احکام پر اس وقت اہل مغرب کو اعتراض ہے۔ مغربی قانونی فکر نہ صرف یہ کہ ہاتھ کاٹنے اور سنگ سار کرنے کو سنگ دلانہ اور وحشیانہ سزائیں قرار دیتی ہے، بلکہ بڑی حد تک کسی بھی جرم پر سزاے موت دینے کو سرے سے ناجائز تصور کرتی ہے اور اہل مغرب کی طرف سے مسلمان معاشروں سے بھی یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ہاں ان سزاؤں کو کتاب قانون سے خارج کر دیں۔ اب زیر بحث طرز فکر کی رو سے اہل مغرب کے اس مطالبے کا جواب یہ بنتا ہے کہ چونکہ اہل مغرب قطع ید اور موت کی سزا کا خاتمہ چاہتے ہیں، اس لیے ہم قاتل اور شادی شدہ زانی پر ہر حال میں سزاے موت جبکہ چوری کے مجرم پر ہر صورت میں قطع ید کی سزا نافذ کریں گے اور فقہ وشریعت کی روشنی میں ان مجرموں کو رعایت دینے کی کتنی ہی گنجائش کیوں نہ ہو، اہل مغرب کے سامنے ایک بے لچک موقف اختیار کرنے کے شوق میں ہم کسی مجرم کو کوئی رعایت نہیں دیں گے۔ ؂
بریں عقل ودانش بباید گریست
واقعہ یہ ہے کہ مذہبی حلقوں کا یہ جذباتی اور سطحی انداز فکر اسلامی قانون سازی کے عمل کو تقویت پہنچانے اور اسے آگے بڑھانے کے بجائے الٹا اسے نقصان پہنچانے کا سبب بن رہا ہے، کیونکہ اسلامی قانون سازی کے مخالف حلقوں کی طرف سے اپنے موقف کے حق میں استدلال کے طور پر جہاں اصولی اور نظریاتی دلائل پیش کیے جاتے ہیں، وہاں موجودہ قوانین میں پائے جانے والے بعض نقائص اور خامیاں اور قوانین کے غلط استعمال کی مثالیں بھی ایک کارآمد ہتھیار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس نوعیت کے اعتراضات کے حوالے سے مذہبی حلقوں کا رویہ نہ صرف یہ کہ سنجیدہ نہیں بلکہ غیر حکیمانہ بھی ہے جس سے نہ صرف ان قوانین کے متعلق بلکہ مذہبی جماعتوں کے متعلق بھی منفی تاثرات جنم لیتے ہیں۔ 
یہ بات محتاج وضاحت نہیں کہ ملک میں جو اسلامی قوانین نافذ ہیں، وہ بہرحال انسانی کاوش ہیں اور ان میں نہ صرف تعبیر قانون کے زاویے سے بلکہ عملی تجربات کے لحاظ سے بھی نقائص رہ جانے کا پورا امکان پایا جاتا ہے۔ چنانچہ شرعی وفقہی اصولوں اور عملی تجربات کی روشنی میں ان کا مسلسل جائزہ لیتے رہنے اور انھیں بہتر سے بہتر بنانے کی گنجائش بلکہ ضرورت بھی پوری طرح موجود ہے۔ تاہم عملاً یہ ہو رہا ہے کہ مذہبی حلقے اسلامی قوانین کے نفاذ کے بعد اس پہلو سے بالکل صرف نظر کرتے چلے آ رہے ہیں جبکہ ان قوانین کے حوالے سے پیدا ہونے والے عملی مسائل کو اجاگر کرنے اور پھر انھیں اسلامائزیشن کے پورے عمل کے خلاف پراپیگنڈا کے لیے استعمال کرنے کی ذمہ داری سیکولر طبقات نے سنبھال رکھی ہے۔ مذہبی طبقات اس سارے عمل میں صرف اس وقت متحرک ہوتے ہیں جب کسی قانون کے ضمن میں کوئی عملی اقدام کیا جانے لگتا ہے اور چونکہ میدان اصلاً مخالف عناصر نے سجایا ہوتا ہے، اس لیے کئی مواقع پر غیر جانب دارانہ نظر سے صورت حال کا مشاہدہ کرنے والے کو صاف محسوس ہوتا ہے کہ مذہبی حلقے اپنی دفاعی پوزیشن کی کمزوری کو اقدامی طاقت میں بدلنے کے لیے عوامی جذبات اور رائے عامہ کی طاقت کا سہارا لینے کی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بظاہر متعلقہ قوانین کو ’’بچانے‘‘ میں کامیاب ہو جاتے ہیں، لیکن قانون کے حوالے سے جو واقعی نظری یا عملی سوالات موجود ہوتے ہیں، وہ جوں کا توں باقی رہتے ہیں۔
جنرل پرویز مشرف کے دور میں حدود قوانین میں ترمیم کی ضرورت کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں بحث ومباحثہ کا میدان سجایا گیا تو مذہبی حلقوں نے ابتدا میں سارا زور یہ ثابت کرنے پر صرف کیا کہ یہ قوانین اعلیٰ سطحی اسلامی ماہرین نے بہت گہرے غور وفکر اور مشاورت کے بعد بنائے ہیں اور ان میں جو خلا یا نقائص بتائے جاتے ہیں، وہ بے بنیاد ہیں، اس لیے ان میں کسی ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں۔ تاہم آخرکار خود علما کی ایک کمیٹی نے ان میں سے بعض قوانین کو شرعی لحاظ سے قابل اصلاح تسلیم کرتے ہوئے خود ان میں ترمیم کے لیے تجاویز پیش کیں۔ اس سارے عمل سے ذہنوں میں ایک سوال تو یہ پیدا ہوا کہ اگر قانون میں یہ خامیاں موجود تھیں تو گزشتہ تیس سال میں مذہبی حلقوں نے ان کی اصلاح کے لیے کوشش کیوں نہیں کی اور ہر موقع پر یہ اصرار کیوں کیا جاتا رہا کہ ان قوانین کو چھیڑنا حدود اللہ اور احکام شرعیہ میں مداخلت کے ہم معنی ہے؟ دوسرا تاثر یہ پیدا ہوا کہ مذہبی طبقات کا رویہ شرعی قانون سازی کے حوالے سے خالص علمی اور شرعی وفقہی بنیادوں کے بجائے سیاسی مصلحتوں اور مفادات پر استوار ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ اگر ان کی کوششوں سے کوئی ایسا قانون بن گیا ہے جو شرعاً قابل اصلاح ہے تو بھی اس کی اصلاح وترمیم کے ضمن میں کسی دوسرے فرد یا حلقے کو بات کرنے کا کوئی حق نہیں اور یہ حق بلاشرکت غیرے مذہبی حلقوں ہی کے لیے خاص ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے شرعی قانون سازی کا سارا عمل بنیادی طو رپر ایک سیاسی اور طبقاتی کشمکش کا رنگ اختیار کر کے اپنی اخلاقی اور دینی ساکھ سے محروم ہو جاتا ہے۔
شرعی قوانین اور بالخصوص توہین رسالت کے قانون کے غلط اور غیر ذمہ دارانہ استعمال کی بات بھی نہایت توجہ کے قابل ہے اور اگرچہ الزامی طور پر یہ بات کہہ دینے کی گنجائش موجود ہے کہ غلط استعمال تو ہر قانون کا ہو رہا ہے، تاہم مذہبی طبقات کی طرف سے مثبت طور پر اس کی روک تھام کے لیے جس قدر کوشش کی ضرورت ہے، اس کی ادنیٰ خواہش بھی ان کے ہاں دکھائی نہیں دیتی۔ اس کے نتیجے میں غیر مسلم اقلیتیں، جو اصولی طورپر توہین رسالت پر سخت سزا کے قانون کے خلاف نہیں اور ان کے اعلیٰ سطحی ذمہ دار راہ نما اپنا یہ موقف برملا ظاہر کر چکے ہیں، جب کسی مشکل سے دوچار ہوتی ہیں تو انھیں اپنے حق میں آواز اٹھانے کے لیے مذہبی راہ نما اور علما نہیں، بلکہ غیر مذہبی قائدین ہی میسر آتے ہیں۔ مظلوم غیر مسلموں کا ساتھ دینا تو دور کی بات ہے، اگر خود مسلمانوں کے مذہبی فرقوں کے مابین کہیں تصادم ہو جائے تو کسی بھی فریق کے ذمہ دار قائدین اور اعلیٰ سطحی راہ نماؤں کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے حلقے کے اختیار کردہ طرز عمل کے بارے میں تحفظات یا اعتراضات رکھتے ہوئے بھی عوامی جذبات سے مختلف کوئی بات علانیہ کہہ سکیں۔ اس ضمن میں ان کی عملی مجبوریوں سے انکار نہیں، لیکن یہ بھی واقعہ ہے کہ مذہبی قیادت کو درپیش اس داخلی مشکل سے مسیحی راہ نماؤں کے اس سوال کا کوئی جواب بہرحال فراہم نہیں ہوتا کہ اگر مسلمانوں کے مذہبی راہ نما خود اپنے پیروکاروں کے طرز عمل کو حدود کا پابند رکھنے کی عملی ذمہ داری اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو وہ مسیحی اقلیت سے یہ مطالبہ کس منہ سے کرتے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سیکولر لابیوں کی مہم کو تقویت پہنچانے کے بجائے اپنا وزن اسلام پسندوں کے پلڑے میں ڈال دیں؟
ہماری رائے میں یہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ ملک وملت کے اجتماعی معاملات میں عملی کردار ادا کرنے والے مذہبی طبقات محض جذباتیت کو فروغ دینے اور اس کے سہارے وقتی نوعیت کے سیاسی اقدامات کرنے کے بجائے اپنی دینی واخلاقی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے سنجیدگی کا راستہ اختیار کریں اور مذہب اور اہل مذہب کے اجتماعی کردار کو مفید، مثبت اور موثر بنانے کے لیے اپنی موجودہ حکمت عملی کا گہرا ناقدانہ جائزہ لے کر اس کی اصلاح کے لیے عملی قدم اٹھائیں۔ ہمارے نزدیک اس ضمن میں حسب ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
۱۔ ملک میں نافذ اسلامی قوانین کے حوالے سے علمی وفقہی سطح پر یا عملی تجربات کی روشنی میں جو مختلف توجہ طلب سوالات سامنے آتے رہتے ہیں، ان کا جائزہ لینے کے لیے تمام دینی جماعتوں کے نمائندہ علما پر مشتمل ایک مستقل کمیٹی قائم کر دی جائے جو اس طرح کے مسائل پر تسلسل کے ساتھ غور وفکر کرتی رہے۔ مذہبی جماعتیں اس کمیٹی کے پیش کردہ تجزیوں کی روشنی میں، مخالف عناصر کی طرف سے کسی مہم کا انتظار کرنے کے بجائے، ازخود اصلاح طلب پہلووں کے بارے میں ذمہ دارانہ موقف اختیار کریں اور آئینی وقانونی اداروں کی سطح پر مطلوبہ تبدیلی لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
۲۔ توہین رسالت سے متعلق حالیہ قانون چند بنیادی اور اہم پہلووں سے نظر ثانی کا محتاج ہے، اس لیے جید اور ذمہ دار علما کی راہ نمائی میں مذہبی جماعتیں درج ذیل امور کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک ترمیم شدہ اور جامع مسودۂ قانون پارلیمنٹ میں پیش کریں: 
الف۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شہریت کے لیے اسلام اور پیغمبر اسلام کے احترام کو بنیادی شرط قرار دیا جائے اور کوئی بھی شخص جو اپنے قول وفعل سے اس شرط کی دانستہ خلاف ورزی کرے، اس کے حقوق شہریت منسوخ کر دیے جائیں۔
ب۔ توہین رسالت کا جرم کسی ایک فرد کے خلاف نہیں، بلکہ پورے مسلمان معاشرے اور ریاست کے خلاف جرم ہے، اس لیے اس میں قانونی طو رپر مدعی بھی کسی فرد کو نہیں، بلکہ ریاست کو ہونا چاہیے، جبکہ عام لوگوں کا کردار ایسے کسی بھی معاملے کو محض قانون کے نوٹس میں لانے تک محدود ہونا چاہیے۔
ج۔ مجرم سے پہلی مرتبہ جرم سرزد ہوا ہو تو اسے توبہ، معذرت اور معافی کا موقع دیا جائے، البتہ جرم کے مکرر ارتکاب کی صورت میں قرائن وشواہد سے یہ واضح ہو جائے کہ مجرم صرف دفع الوقتی کے لیے معذرت کا سہارا لے رہا ہے جبکہ حقیقی طور پر اپنے رویے کی اصلاح پر آمادہ نہیں تو اس کی توبہ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا جائے۔
د۔ جرم کی نوعیت اور اثرات کے لحاظ سے سزاے موت کے ساتھ ساتھ متبادل اور کم تر سزاؤں کی گنجائش بھی قانون میں شامل کی جائے، جبکہ موت کی سزا کو اس جرم کی انتہائی سزا قرار دیتے ہوئے اسی صورت میں نافذ کیا جائے جب جرم کے سد باب اور اس کے اثرات کا ازالہ کرنے کے لیے یہی سزا ناگزیر ہو۔
ہ۔ اگر توہین رسالت کا الزام جھوٹا ثابت ہو تو الزام لگانے والے کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ شخصی اور گروہی وطبقاتی نزاعات میں اس الزام کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
۳۔ ہر شہر میں تمام مکاتب فکر کے ذمہ دار علما اور مقامی طور پر بااثر سماجی وسیاسی شخصیات پر مشتمل ایک مستقل کمیٹی قائم کی جائے جو کسی بھی مسلمان یا غیر مسلم کے خلاف توہین رسالت کا الزام سامنے آنے کی صورت میں اپنے اجتماعی اثر ورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنائے کہ کوئی بھی گروہ عوامی جذبات کو بھڑکا کر انھیں قانون کو ہاتھ میں لینے یا پولیس اور عدالت پر دباؤ ڈال کر ان کی جانب داری کو مشکوک بنانے کی کوشش نہ کر سکے۔*
ہذا ما عندی والعلم عند اللہ۔

حواشی

* اس کی ایک اچھی مثال حال ہی میں گوجرانوالہ میں پیش آنے والے ایک واقعے میں سامنے آئی۔ کھوکھرکی کے علاقے میں، جہاں مسیحی لوگ بڑی تعداد میں آباد ہیں، قرآن مجید کے اوراق جلائے جانے کے الزام میں کچھ مسیحیوں کا نام لے کر ان کے خلاف احتجاجی جلوس منظم کیے گئے جس پر علاقے کی مسیحی آبادی میں خوف وہراس پھیل گیا اور بڑی تعداد میں لوگ اپنے مکانات چھوڑ کر چلے گئے۔ تاہم شہری انتظامیہ نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ الزام غلط ہے اور ملزموں کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ اس ضمن میں شہر کے تمام مکاتب فکر کے ذمہ دار علما کی میٹنگ طلب کر کے انھیں صورت حال سے آگاہ کیا گیا تو علما نے کم وبیش اتفاق رائے سے اس حرکت کی مذمت کی اور انتظامیہ پر زور دیا کہ جب الزام کا جھوٹا ہونا معلوم ہو گیا ہے تو بے گناہ مسیحیوں کو تنگ نہ کیا جائے اور اس کے بجائے اصل ذمہ داروں کو تلاش کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

دھڑکٹی تصویر اور فقہِ حنفی

مولانا محمد عبد اللہ شارق

اگر کسی مسئلہ یاواقعہ کے شرعی حکم کے بارہ میں فقہا کا کوئی ایک نکتۂ نظر مشہور ہوجائے توضروری نہیں ہوتا کہ فی الواقع بھی اس مسئلہ میں اہل علم کا صرف ایک ہی نکتۂ نظر ہو اور وہ سب اس ایک رائے پر متفق ہوں جو اس مسئلہ کے شرعی حکم کے حوالہ سے زبان زدِ عام ہوچکی ہے ۔ ایسے درجنوں مسائل کی نشان دہی کی جاسکتی ہے جن کے بارہ میں عوام تو عوام، اچھے بھلے سنجیدہ اور فہمیدہ لوگ بھی اسی غلط فہمی میں مبتلا نظر آتے ہیں کہ یہ اختلاف سے ماورا، اجماعی اور متفقہ ومنصوص مسائل ہیں حالانکہ درحقیقت ان کے اندر اہلِ علم کی ایک سے زیادہ آراء موجود ہوتی ہیں۔ ہماری مراد اس سے وہ مسائل نہیں ہیں جن کے اندر کسی زمانہ میں علماءِ امت کا اختلاف تھا اور بعد میں اللہ کی کسی تکوینی حکمت کے تحت یا کسی ایک موقف کی قطعیت سامنے آنے کے بعد پوری امت ان کے اندر یک رائے ہوگئی، جسے اصولِ فقہ کے اندر ’’اجماع من بعد الصحابۃ علی قول سبقہم فیہ مخالف‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے (۱)کیونکہ یہ اتفاق بھی کسی نہ کسی درجہ میں بہرحال اجماع کے دائرہ میں ہی آتا ہے ۔ ہمارا اِشارہ یہاں اُن ’’مظلوم مسائل‘‘ کی طرف ہے جو کبھی بھی اجماعی نہیں رہے ،مگر ان کے اندر کسی ایک مکتبِ فکر کا نکتۂ نظر اس حد تک مشہور ہوا کہ علماء کی نظروں سے بھی اس مسئلہ کے اندر موجود ایک دوسرا نکتۂ نظراوجھل ہوگیااور اسی شہرت کے زیرِ اثر غلط طور پر یہ سمجھ لیا گیا کہ یہ اجماعی مسائل ہیں۔اگر اجماع وقطعیت کا یہ دعوی کسی ایک دور کے علماء کی ذاتی تحقیق اور ان کے ذاتی اتفاقِ رائے کی حدتک ہوتا تو درست اور قابلِ فہم تھا،لیکن چونکہ سرے سے یہ دعوی کسی تحقیق یازمینی حقائق پر مبنی ہی نہیں تھا اِس لیے کم علمی کی وجہ سے اس اتفاق کو ماضی وحال کی تمام وسعتوں تک محیط کردیا گیااور اس میں اُن اصحابِ نظر کو بھی شامل کرلیا گیا جنہوں نے واشگاف الفاظ میں اس مسئلہ کے اندر اپنے اختلافی نکتۂ نظر کا اظہار کیا تھا۔ پھر یہ ہواکہ جب کوئی طالبِ علم جھاڑ پونچھ کر پرانے اکابرین میں سے ہی کسی مقتدر شخصیت کا اس مسئلہ میں اختلافی نکتۂ نظر میدان میں لے کر آیا تو اچھے اچھے صاحبانِ علم نے اس پر حیرت کے مارے انگلیاں منہ میں دبا لیں۔
ان مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے جن پر ہم تفصیل سے گفتگو کسی موقع پر کریں گے ۔فی الحال ہمارے سامنے جو مسئلہ ہے، وہ تصویر کی حرمت کا ہے ۔یہ بھی انہی ’’مظلوم مسائل‘‘ میں سے ایک ہے ۔ یہ درست ہے کہ تصویر کی حرمت چودہ صدیوں میں امت کے ہاں اجماعی اور غیرمختلف فیہ رہی ہے ،لیکن یہ اجماع تصویر کے مجمل شرعی حکم کی حد تک ہے۔ ذیلی جزئیات و تفصیلات سے اِس کا کوئی تعلق نہیں،جیساکہ نماز کی فرضیت ، اذان کی مشروعیت اور ربا کی حرمت بھی فقہاءِ امت کے مابین اتفاقی امور ہیں ، لیکن یہ اتفاق ان کے فی الجملہ شرعی حکم تک محدود ہے ۔سب جانتے ہیں کہ ضمنی تشریحات اور اجتہادی صورتوں کے ساتھ اِس اتفاق کا قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر اجماعی مسائل میں اجماع اور اتفاق کا پھیلاؤ بس اِ سی قدر ہی ہوتا ہے،فقہی تفریعات اور اصولی موشگافیاں عموماً اس کے دائرہ سے باہر ہی ہوتی ہیں۔مسئلہ تصویر کی تفصیلات میں صرف ائمہ اربعہ کی مختلف آرا کا اجمالی مطالعہ کرنے کے لیے کتاب الفقہ علی المذاہب الأربعۃ کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ کلاسیکی فقہا میں سے صرف ائمہ اربعہ کا اس مسئلہ میں کتنا اختلاف ہے اور یہ جاننے میں آسانی ہوگی کہ حرمت تصویر کے اجماعی فتوی کے باوصف کتنی ہی قسم کی تصاویر اس فتویٰ سے مستثنیٰ ہیں ؟
ہماری کھود کرید او رجانچ پڑتال کے مطابق جو تصاویر اِ س فتوی سے مستثنی ہیں اور چاروں مذاہب میں بالاتفاق ان کے جواز کی گنجائش موجود ہے ، ان میں جان داروں کی سربریدہ تصاویر یاجسم کے صرف اتنے حصے کی تصاویر شامل ہیں جس کے ساتھ اس جان دار کا زندہ اور بقیدِ حیات رہنا ممکن نہیں ہوتا۔شیخ عبدالرحمن الجزیریؒ احناف کا مذہب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’الحنفیۃ قالوا : ۔۔۔وکذلک یجوز اذاکانت الصورۃ ناقصۃ عضوالایمکن ان تعیش بدونہ کالرأس ونحوہ‘‘(۲) مالکیہ کا مذہب بیان کرتے ہیں:’’المالکیۃ قالوا: انما یحرم التصویر بشروط اربعۃ ۔۔۔ثالثہا : ان تکون کاملۃ الاعضاء الظاہرۃ التی لایمکن ان یعیش الحیوان او الانسان بدونہا، فان ثقبت بطنہا اورأسہا او نحو ذلک فانہا لاتحرم‘‘ (۳) شوافع کے بارہ میں لکھتے ہیں: ’’الشافعیۃ قالوا:۔۔۔وان کان مجسدا فانہ یحل التفرج علیہ اذا کان علی ہیءۃ لایعیش بہا کأن کان مقطوع الرأس أوالوسط أوببطنہ ثقب‘‘ (۴) نیز حنابلہ کا موقف نقل کرتے ہیں:’’الحنابلۃ قالوا:۔۔۔ فاذاکان مجسدا ولکن ازیل منہ مالاتبقی معہ الحیاۃ کالرأس ونحوہا فانہ مباح‘‘ (۵) ان عبارات سے ظاہر ہورہا ہے کہ مذاہبِ اربعہ میں جان داروں کی ایسی نامکمل تصاویر کی گنجائش موجود ہے جو بغیر سر کے ہیں یا کسی اور ایسے عضو کے بغیر ہیں جس کے بغیر اس جان دار کا زندہ رہنا ممکن نہیں ہوتا۔
چونکہ ہماری گفتگو کا خاص موضوع اِس وقت فقہِ حنفی ہے ، اس لیے ہم فقہِ حنفی کی نصوص کے حوالہ سے ہی اپنی بات مزید آگے بڑھاتے ہیں۔احناف کے نزدیک تصویر کی کراہت کا ایک دائرہ اس کے عمومی استعمال کا ہے جبکہ دوسرا دائرہ نمازی کے قریب موجود ہونے کا ہے۔اِن دونوں دائروں کی علیحدہ علیحدہ تفصیلات ہیں اور دونوں میں علتِ کراہت بھی مختلف ہے ۔ علامہ ابنِ عابدینؒ لکھتے ہیں :’’علۃ حرمۃ التصویر المضاہاۃ لخلق اللہ ۔۔۔وعلۃ کراہۃ الصلوۃ بہا التشبہ‘‘ (۶) عمومی استعمال کے باب میں حرمتِ تصویر کی علت المضاہاۃ لخلق اللہ یعنی اللہ کی تخلیق کے ساتھ تشابہ ،اس کی نقالی اور یک گونہ مقابلہ بازی ہے ۔ یہ علت درج ذیل حدیث کے مضمون سے اخذ کی گئی ہے :’’ان اصحاب ہذہ الصور یعذبون یوم القیمۃ ، یقال لہم : احیوا ما خلقتم‘‘ (۷) نیز فرمایا: ’’من صور صورۃ فی الدنیا کلف یوم القیمۃ ان ینفخ فیہا الروح، ولیس بنافخ‘‘ (۸) ان احادیث میں تصویر سازی کی اخروی سزا بیان کی گئی ہے کہ مصور کو روزِ قیامت اپنی تصاویر میں روح ڈالنے پر مجبور کیا جائے گا جوکہ اس کے بس میں نہیں ہوگااور اس کی وجہ سے وہ بے بسی اور اضطرار کی جس تکلیف دہ اندرونی کیفیت سے دوچار ہوگا ، وہی اس کی سزا ہوگی۔ حدیث کا مضمون واضح طور پر بتارہا ہے کہ تصویر سازی صرف جان داروں کی ہی حرام ہے کیونکہ بے جان اشیا میں روح ڈالنے کے حکم کا کوئی معنی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خود احادیث وآثار سے ہی بے روح اشیا کی تصویر سازی اور عکاسی کا جواز صراحتاً ثابت ہے اور نیز یہی وجہ ہے کہ چونکہ جان دارکی صورت گری ہی حرام ہے اس لیے بغیر سر کے کسی جان دار کی تصویر بنانا بھی حرام نہیں ہے کیونکہ بغیر سر کے کوئی ذی روح زندہ نہیں رہ سکتا اور اِس صورت میں وہ تصویر گویا کسی بے جان اور جامد چیز کی ہوگی جس میں روح نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ 
اس تفصیل کی روشنی میں احناف کے نزدیک المضاہاۃ لخلق اللہ کی علت کا معنی ومفہوم اور حدودِ اربعہ بھی پور ی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ یہ علت کامل طور پر اسی صورت میں متحقق ہوگی کہ جب تصویر ذی روح کی ہو ا ور اس میں ان تمام ظاہری اعضا کی ضرور عکاسی کی گئی ہو جو اس کے وجود کے لیے لابدی اور مالایعیش بدونہ کے درجہ میں ہیں۔مطلق مضاہات علتِ ممانعت نہیں۔چنانچہ امام ابو جعفر طحاوی ؒ مقطوع الرأس تصویر کے جواز کے حق میں احادیث وآثار نقل کرنے کے بعد یہی نتیجہ اخذکرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’فلما ابیحت التماثیل بعد قطع رؤسہا الدی لو قطع من ذی الروح لم یبق دل ذلک علی اباحۃ تصویر مالاروح لہ وعلی خروج مالاروح لمثلہ من الصور‘‘ (۹)۔ (حافظ ابنِ حجر عسقلانی ؒ نے بھی بعض علما کی طرف اِس استدلال کو منسوب کرنے کے بعدسنن نسائی کی ایک حدیث کی روشنی میں اسی کو ترجیح دی ہے۔ (۱۰) امام طحاوی ؒ کا یہی مدققانہ استدلال بعد میں فقہاءِ احناف کے مقطوع الرأس کے ساتھ ساتھ مقطوع عضوٍ لایعیش بدونہ کو بھی مستقل طور پر مباح تصاویر کی فہرست میں شامل کرنے کا سبب بنا۔ علاؤالدین الحصکفی ؒ لکھتے ہیں: ’’ولایکرہ لو کانت ۔۔۔أو مقطوعۃ الرأس أوا لوجہ أو ممحوۃ عضوٍ لاتعیش بدونہ (۱۱) نیز شیخ احمد الطحطاوی ؒ لکھتے ہیں: ’’قطع الرأس لیس بقید، بل المراد جعلہا علی حالۃ لاتعیش معہا مطلقا‘‘ (۱۲) مؤخر الذکر دونوں عبارات ’’مکروہات الصلوۃ‘‘ کے باب سے نقل کی گئی ہیں جس سے یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ اِن تصاویر کی عدمِ کراہت کا تعلق محض نماز کے ساتھ ہے، لیکن یہ بات درست نہیں ۔ جس طرح مقطوع الرأس تصویرعدمِ مضاہات کی وجہ سے عمومی استعمال کے لیے بلاکراہت جائز ہے ، مقطوع مالایعیش بدونہ کے اندر بھی بعینہ اسی طرح مضاہات کی علت مفقود ہے،اس لیے اس کی عدمِ کراہت کو بھی محض نماز کے ساتھ مخصوص نہیں کیا جا سکتا۔
البتہ سرکٹی تصویر کی طرح نہ تو ہم دھڑکٹی تصویر (جس کی ضرورت آج قدم قدم پر مختلف امورِدنیامیں پیش آتی ہے اور جو اس وقت ہماری تحقیق کا اصل موضوع ہے ) کو قطعی طور پر جائز سمجھتے ہیں اور نہ ہی اہل علم سے اس کو بہر صورت جائز سمجھنے کا تقاضاکرتے ہیں کیونکہ یہ ایک اجتہادی تخریج ہے ،کوئی منصوص مسئلہ نہیں ۔اس لیے اس میں خطا و صواب کا امکان برابر موجود ہے او راہل تحقیق کو اِس میں کراہت یا عدمِ کراہت کا کوئی ایک نکتۂ نظر اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ ماضی میں بھی ہمارے حنفی فقہاء ہی کے مابین اِ س تصویر کا جواز کوئی متفق علیہ امر نہیں رہا۔ فتاویٰ عالم گیری کی عبارت ملاحظہ فرمائیں: ’’اختلف المشائخ فی رأس الصورۃ بلاجثۃ ہل یکرہ اتخاذہ والصلوۃ عندہ؟‘‘ (۱۳) نیز علامہ شامی لکھتے ہیں: ’’قال القہستانی : فیہ اشعاربأنہ لاتکرہ صورۃ الرأس وفیہ خلاف کما فی اتخاذہا،کذا فی المحیط‘‘ (۱۴) پاک وہند کے علماء میں اگرچہ جواز کے قول کو زیادہ پذیرائی حاصل نہیں رہی، مگر ثقہ علما نے ہمیشہ جواز کے ایک قول کا بہرحال اعتراف ضرور کیا ہے اور اِس تصویر کو متفقہ طورپر حرام کبھی نہیں کہا ۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ امدادالفتاوی میں ردالمحتار کی ہی مذکور الصدر عبارت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :’’اس سے معلو م ہوا کہ اس میں بوجہ اختلاف کے ضرورت والے کو گنجائش ہے، گو غیر ضرورت والے کو بقاعدہ اذا تعارض المحرم والمبیح الخ منع کو ترجیح ہوگی۔‘‘ (۱۵)‘‘نیز مفتی محمد شفیع ؒ لکھتے ہیں :’’لیکن اگر ناقص تصویرمیں چہرہ موجود ہو تو خواہ بدن باقی نہ ہو توایسی تصویر کا استعمال اکثر فقہا کے نزدیک جائز نہیں ، مگر بعض حضراتِ حنفیہ اور اکثرمالکیہ اس کے استعمال کوبھی جائز فرماتے ہیں۔‘‘ (۱۶)
مولانا مفتی محمد شفیع ؒ نے عدمِ جواز کی ترجیح ثابت کرنے کے لیے جواز کے موقف پر کئی اشکالات بھی وارد کیے ہیں (۱۷)، جبکہ ان سے قبل مولانا احمد رضاخان بھی اِس نکتۂ نظر پر بہت تفصیل سے ناقدانہ کلام کرچکے ہیں۔(۱۸)اٹھائے گئے نکاتِ اعتراض میں سے ایک مشہور اعتراض یہ ہے کہ تصویر کے اندر اصل مقصود چہرہ ہوتا ہے ، اس لیے جب تک چہرہ باقی رہے گا ، اس وقت تک تصویر بھی باقی رہے گی اور حرمت کا حکم مرتفع نہیں ہوگا۔ یہ اعتراض بظاہر بہت معقول اور وزنی ہونے کے باوجود اپنی اصل میں بالکل قابلِ التفات نہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تصویر کے اندر چہرہ کے ’’اصل مقصود‘‘ ہونے سے کیا مراد ہے ؟اگر یہی کہ لوگوں کے مقاصد اور ضروریات اسی قدر سے پورے ہوتے ہیں تو ہمارے خیال میں یہ چیز ممانعت کی کوئی شرعی وجہ نہیں۔احناف کے نزدیک حرمت کی وجہ المضاہاۃ لخلق اللہ ہے ، نہ کہ عرفِ عام کے اندر اس کا قابلِ اعتبار اور بامقصد ہونا یا لوگوں کی معاشرتی ، قانونی اور حفاظتی ضروریات کے ایک خاص دائرہ میں اس کا کارآمد ہونا ، بلکہ فقہا کے کسی بھی مکتبِ فکر کے نزدیک تصویر کے عدمِ جواز کی یہ علت نہیں ۔نیز اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو اِس صورت میں صرف دھڑکٹی تصویر کو ہی نہیں ، سرکٹی تصویر کو بھی ناجائز ہی کہنا پڑے گاکیونکہ جس طرح محض چہرہ کی تصویر بعض اوقات مقصودِ اصلی اور لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے ، بعینہ اسی طرح بعض اوقات صرف نچلے دھڑ کی تصویر بھی اصل مقصود کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے ۔چہرہ کی تصویر اگر ایک فرد کا تعین کرتی ہے تو نچلے دھڑ کی تصویرجان داروں کی اصناف میں سے کسی ایک صنف کا تعین کرتی ہے ۔اگر مصور کا تخیل تصویر کے اندر جان داروں کی کسی خاص جنس کی عکاسی کا تقاضاکرتاہے تو وہ اس کے چہرہ کو مدہم یاکسی دوسری چیز کے اندر مدغم کرکے بھی اپنا کام چلاسکتا ہے۔ اس صورت میں اس کا اصل مقصود چہرہ نہیں ، بلکہ نچلا دھڑ قرار پائے گا۔تو کیا ’’مقصود‘‘ ہونے کی وجہ سے اِس کو بھی ناجائز کہا حائے گا؟حالانکہ بغیر سر کے نچلے دھڑ کی تصویر اجماعاً مباح ہے ۔(۱۹)
مکررعرض ہے کہ ہمارا مقصود کسی ایک نکتۂ نظر کی ترجیح پر اصرار کرنا نہیں، بلکہ صرف یہ عرض کرنا ہے کہ ازراہِ کرم مختلف فیہ مسائل کو اپنی کم علمی کی بھینٹ چڑھا کر اجماعی مت بنائیں۔ ایسا کرکے ہم دین کی کوئی خدمت سرانجام نہیں دے رہے ۔ محض چہرہ کی تصویر اگر بعض علماء کے نزدیک جائز ہے تو آپ بے شک اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں،مگر اس کے اندر موجود اختلاف کا بھی اعتراف کریں اور دوسروں کو اپنی رائے کا مکلف اور پابند بنانے کی بجائے،اختلاف کی وجہ سے اس مسئلہ میں جو شرعی گنجائش پیداہورہی ہے ،اپنے دیانت دارانہ موقف پر کاربندرہنے کے باوصف اختلاف الأمۃ رحمۃ  اور الدین یسر کے تحت لوگوں کو اس سے مستفید ہونے دیں۔فقہِ حنفی میں کئی ایسی نظائر موجود ہیں کہ جن کے اندر مسئلہ کے شرعی حکم میں ہمارے فقہا نے صرف اس لیے تخفیف کردی کہ یہ مجتہدفیہ مسئلہ ہے اور اس میں بعض اہلِ علم کا اختلاف ہے (باوجو داس کے کہ ایک مجتہد صرف اپنے اجتہاد کا مکلف ہوتاہے ، کسی دوسرے کی رائے کے لحاظ اور رعایت کانہیں)مثال کے طور پر:
۱۔نجاستِ خفیفہ کے تصور کو لے لیں۔ امام محمد ؒ کے نزدیک حلال جانوروں کا پیشاب پاک ہے جبکہ امام ابوحنیفہ ؒ اور امام ابویوسف ؒ کی تحقیقی رائے اس سلسلہ میں یہ ہے کہ یہ نجاست کے قبیل سے ہے ،لیکن وہ اسے ہلکی نجاست(نجاستِ خفیفہ ) کہتے ہیں۔ اس کی وجہ ؟ صرف یہ کہ اِس کی نجاست کا حکم منصوص اور قطعی نہیں،بلکہ مجتہدفیہ ہے ۔(۲۰)
۲۔’’عورتِ غلیظہ ‘‘،’’عورتِ متوسطہ‘‘ اور’’ عورتِ خفیفہ ‘‘کی درجہ بندی کو لے لیں۔ احناف کے نزدیک مرد کے جسم میں ناف سے لے کر گھٹنے تک کا حصہ ستر ہے ، مگر ان کے نزدیک گھٹنا معمولی ، ران متوسط اور اعضاءِ رئیسہ بڑے درجہ کی ’’برہنگی ‘‘ شمارہوتے ہیں۔ (۲۱)بعدازاں اس درجہ بندی کے اثرات فروعی احکام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ چنانچہ میت کو غسل دیتے وقت غسال کی سہولت کے لیے صرف اس کے اعضاءِ رئیسہ (عورتِ غلیظہ ) کو چھپالینا ہی کافی ہے۔(۲۲)نیز اگر کسی آدمی کا ستر کھلا ہوا ہے تو اِن درجات اور مراتب کا لحاظ کرتے ہوئے اس کے ساتھ رویہ اختیار کیا جائے گا۔ گھٹنا یا ران کے کھلے ہونے کی صورت میں زیادہ سختی سے پیش آنا جائز نہیں۔(۲۳)اس درجہ بندی کا پسِ منظر کیا ہے ؟کوئی آیت یا حدیث نہیں ، محض اس کی ’’مجتہد فیہ‘‘ کی حیثیت ہی ہے کیونکہ شوافع کے نزدیک گھٹنا ستر میں شامل نہیں ، جبکہ اصحابِ ظواہر کے نزدیک ران بھی اِس میں شامل نہیں۔ البتہ چونکہ اعضاءِ رئیسہ کے ستر ہونے پر اتفاق ہے اس لیے اس کو عورتِ غلیظہ قرار دیا گیا ہے ۔(۲۴)
۳۔اگر نفل نماز شروع کرکے توڑ دی جائے تو احناف کے نزدیک اس کا اعادہ واجب ہوتا ہے ، لیکن بعض صورتیں احناف کے نزدیک بھی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں ۔ یہ وہ صورتیں ہیں کہ جن کے اندر اولاًً نفل نماز کے صحیح طور سے شروع ہونے میں اختلاف ہے ۔ احناف کے نزدیک اگرچہ تحریمہ صحیح ہوگیا تھا اور اس وجہ سے اِن صورتوں میں بھی ان کے نزدیک توڑے گئے دوگانہ کو واجب الاعادہ ہونا چاہئے تھا مگر فی الواقع ایسا نہیں۔ کیوں؟صرف اس لیے کہ اصلاً اس تحریمہ کے صحیح ہونے میں اختلاف ہے ۔ اگر نماز اُسی تحریمہ سے مکمل کرلیتا تو احناف کے نزدیک مستحقِ اجر ہوتا ،لیکن اگر درمیان میں قطع کردی ہے توخلافِ قاعدہ اس کا اعادہ ضروری نہیں کیونکہ اُس تحریمہ کی صحت ’’مظنون‘‘ اور مجتہد فیہ ہے۔ (۲۵)
یہ تین مثالیں صرف ’’عبادات وقربات ‘‘ کے باب سے نقل کی گئی ہیں جس کے اندر بالاتفاق احتیاط کا پہلو ملحوظ رکھنا مطلوب ہے۔ اگر اس باب کے اندر اسلافِ امت اور خصوصاً ہمارے فقہاءِ احناف اپنے موقف پر کاربند رہتے ہوئے محض مختلف فیہ ہونے کی وجہ سے اتنی آسانیاں فراہم کررہے ہیں تو معاشی ، معاشرتی اور سماجی نوعیت کے مسائل میں اس پہلو کو ملحوظ رکھنا کس حدتک ضروری ہوگا ؟بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔شاید اسی وجہ سے حضرت گنگوہی ؒ اور حضرت تھانویؒ سے معاملات کے باب میں لوگوں کی آسانی اور سہولت کے لیے ائمہ اربعہ میں سے کسی بھی امام کے مذہب پر فتوی دینے کا جواز بلکہ پسندیدگی منقول ہے۔ (۲۶)
ہمارے خیال میں’’ الشریعہ ‘‘کے مکتوب نگار مولانا سختی داد خوستی کو ان طالب علمانہ گذارشات کی روشنی میں اپنے مکتوب کے ان مندرجات پر نظر ثانی کرلینی چاہیے جن کے اندر وہ تصویر کی حرمت کو پوری شدومد کے ساتھ متفق علیہ امر لکھ کر اکابرینِ وفاق سے اپنی اس نئی پالیسی کو تبدیل کرنے کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں جس کے تحت امتحان کے شرکا کو داخلہ فارم کے ساتھ پاسپورٹ سائز کی تصویر جمع کرانے کا پابند بنایا گیا ہے ۔ تاہم ان کا یہ شکوہ بجا ہے کہ ’’ہم لوگ ‘‘ کل تک جس امر کو پوری قطعیت کے ساتھ حرام کہتے ہیں اور لوگوں کی ضروریات کا ذرا بھی اعتبار نہ کرتے ہوئے ان کے لیے اسے ’’شجرۂ ممنوعہ ‘‘ قرار دیتے ہیں، بعد میں جب خود اپنے اوپر آن پڑتی ہے اور عملاً مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو ’’الضرورات تبیح المحظورات‘‘ کے تحت اسے جائز قرار دے دیتے ہیں۔پہلے یہ شکوہ مولوی کو عوام سے ہوتا تھا، لیکن اب خود علماءِ کرام کے حلقے میں بھی یہی آوازیں سنائی دینے لگی ہیں ۔ مولانا سختی داد نے جس شکوہ کا اظہار کیا ہے، یہ صرف ان کا نہیں،نوے فی صد سے زیادہ علماءِ کرام وفاق المدارس اور بڑے دینی مدارس کے تصویر کو ’’ضرورت‘‘ اور لازمی قرار دینے کی پالیسی پر بعینہ اسی طرح تشویش میں مبتلا ہیں اور یہ تشویش کسی حد تک بجا بھی ہے کیونکہ کل تک ہم ہی تھے جو شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر امورِ دنیا میں تصویر کے ضرورت قرار دینے کو بلاجواز اور اور مسلمان حکم رانو ں کے فسق وفجور پر محمول کرتے تھے ۔ ایسے میں یہ سوال بالکل بدیہی ہے کہ اگر ریاستی اور بین الاقوامی معاملات میں تصویر کی ضرورت مسلمہ نہیں تھی تو ہمارے معمولی تنظیمی اور ادارہ جاتی امور میں یہ ضرورت کیسے متحقق ہوگئی؟ یہی گول مول پالیسیاں اور طرزِ عمل کی عدمِ یکسانیت بعد میں لوگوں کوایسے معاملات پر ازخود رائے زنی کا جواز فراہم کرتی ہے جو ہمیں گراں گزرتی ہے ۔
حواشی
(۱) تفصیل کے لیے دیکھیے: المستصفی للغزالی۱/۱۸۵۔ط:مصری قدیم، (ایضا) فواتح الرحموت لبحرالعلوم العلامۃ عبدالعلی ۲/۲۲۰۔ط:مصری قدیم
(۲) الفقہ علی المذاہب الاربعہ،کتاب الحظر والاباحۃ (احکام التصویر) صفحہ نمبر ۴۳۳۔ط: دارالغد الجدید، مصر
(۳) الفقہ علی المذاہب الاربعہ ، کتاب الحظر والاباحۃ (احکام التصویر) صفحہ نمبر ۴۳۲۔ط:دارالغدالجدید،مصر
(۴) الفقہ علی المذاہب الاربعہ،کتاب الحظر والاباحۃ (احکام التصویر) صفحہ نمبر ۴۳۳۔ط:دارالغدالجدید،مصر
(۵) الفقہ علی المذاہب الاربعہ،کتاب الحظر والاباحۃ (احکام التصویر) صفحہ نمبر ۴۳۳۔ ط: دارالغد الجدید، مصر
(۶) ردالمحتار،باب مایفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا، ۱/۴۷۹۔ط:مصری قدیم
(۷) صحیح البخاری ،کتاب اللباس (باب من کرہ القعود علی الصور)، حدیث نمبر ۵۹۵۷
(۸) صحیح البخاری ،کتاب اللباس (باب من صور صورۃ کلف یوم القیمۃ ۔۔۔)، حدیث نمبر۵۹۶۳
(۹) شرح معانی الآثار ،کتاب الکراہیۃ (باب الصور تکون فی الثیاب) ۴/۱۰۰۔ط:قدیمی کتب خانہ ،کراچی
(۱۰) ان کی عبارت یہ ہے :’’وفی روایۃ النسائی : اما أن تقطع رؤسہا أو تجعل بسطا توطأ، وفی ہذاالحدیث ترجیح قول من ذہب الی أن الصورۃ التی تمتنع الملائکۃ من دخول المکان التی تکون فیہ باقیۃ علی ہیئتہا مرتعفۃ غیر ممتہنۃ ، فأما لوکانت ممتہنۃ أوغیر ممتہنۃ لکنہا غیرت من ہیئتہا اما بقطعہا من نصفہا أو بقطع رأسہا فلاامتناع (فتح الباری ۱۰/۴۸۰۔ط:قدیمی کتب خانہ ،کراچی)
(۱۱) الدرالمختار،باب ما یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا، ۱/۴۷۹،۴۸۰۔ط: مصری قدیم
(۱۲) حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح ،فصل فی المکروہات من الصلوۃ، صفحہ نمبر ۱۹۹۔ط:مصری قدیم
(۱۳) الفتاوی الہندیۃ ،کتاب الکراہیۃ (الباب الرابع)  ۵/۳۱۵۔ ط: مصری قدیم
(۱۴) ردالمحتار،باب ما یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا، ۱/۴۷۹۔ط:مصری قدیم
(۱۵) امدادالفتاوی ، غناؤ مزامیراور لہوولعب وتصویر کے احکام۴/۲۵۳۔ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی
(۱۶) تصویر کے شرعی احکام،صفحہ نمبر۸۶۔ط:ادارۃ المعارف ، کراچی
(۱۷) تصویر کے شرعی احکام،صفحہ نمبر۷۸۔ط:ادارۃ المعارف ، کراچی
(۱۸) فتاوے رضویہ۲۴/۵۷۸،۵۸۹۔ط:رضافاؤنڈیشن،لاہور
(۱۹) تصویر کے شرعی احکام،صفحہ نمبر۴۴۔ط:ادارۃ المعارف ، کراچی
(۲۰) الہدایۃ،باب الأنجاس وتطہیرہا ۱/۱۳۲۔ط: مکتبۃ البشری
(۲۱) ردالمحتار،باب شروط الصلوۃ ۱/۳۰۱۔ط:مصری قدیم
(۲۲) الہدایۃ، باب الجنائز (فصل فی الغسل) ۱/۴۰۸۔ط: مکتبۃ البشری
(۲۳) ردالمحتار،باب شروط الصلوۃ ۱/ ۳۰۱۔ط:مصری قدیم
(۲۴) فتح الباری ۱/ ۶۳۳۔ط:قدیمی کتب خانہ ،کراچی (ایضا) کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ،کتاب الصلوۃ (مبحث ستر العورۃ فی الصلوۃ)، صفحہ نمبر ۱۱۱۔ط: دارالغد الجدید
(۲۵) الہدایۃ ،باب سجودالسہو ۱/۳۳۷،۳۴۰۔ط: مکتبۃ البشری
(۲۶) ملفوظاتِ حکیم الامت ۶/ ۲۱۴۔ط: ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ ،ملتان

انا للہ و انا الیہ راجعون

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قاری محمد عبد اللہؒ

 گزشتہ دنوں جامعہ نصرۃ العلوم کے شعبہ حفظ کے سابق صدر مدرس قاری محمد عبد اللہ صاحب طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے پرانے ساتھی اور رفیق کار تھے۔ ان کا تعلق منڈیالہ تیگہ کے قریب بستی کوٹلی ناگرہ سے تھا۔ ان کے والد محترم حاجی عبد الکریم جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم حضرات میں سے تھے اور مفتی شہر حضرت مولانا مفتی عبد الواحد اور امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتے تھے۔ 
انھوں نے اپنے گاؤں میں مسجد بنائی اور تعلیم القرآن کے مدرسہ کا آغاز کیا جس میں علاقہ کے سیکڑوں حضرات نے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی۔ راقم الحروف کو ۱۹۷۰ء میں اس بستی میں جانے اور مختلف دینی اجتماعات میں شرکت کی مسلسل سعادت حاصل ہوتی رہی ہے۔ قاری محمد عبد اللہ صاحب نے اس مدرسہ میں سالہا سال تک حفظ قرآن کریم کی تدریس وتعلیم کی خدمات سرانجام دیں۔ پھر کچھ عرصہ تک مدرسہ انوار العلوم جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے اور اس کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم کے شعبہ حفظ سے منسلک ہو گئے جہاں وہ بیماری اور معذوری تک مسلسل قرآن کریم کی خدمت کرتے رہے۔
قاری صاحب موصوف ایک اچھے استاذ ہونے کے ساتھ ساتھ مسلکی معاملات اور دینی تحریکات میں بھی سرگرمی کے ساتھ شریک ہوتے تھے اور ان کا خاص ذوق بزرگوں کی تقاریر اور بیانات کو ریکارڈ کر کے محفوظ کرنے کا تھا۔ امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کے خطبات وبیانات اور دروس ومواعظ کا ایک اچھا ذخیرہ انھوں نے ریکارڈ کر کے محفوظ کر رکھا ہے جو ان کا صدقہ جاریہ رہے گا۔
قاری محمد عبد اللہ صاحب کے کم وبیش سب بیٹے دینی خدمات میں مصروف ہیں جبکہ سب سے بڑے بیٹے مولانا قاری عبید اللہ عامر جامعہ نصرۃ العلوم کے شعبہ حفظ میں ایک عرصہ سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور شہر میں مسلکی جدوجہد اور دینی تحریکات میں پیش پیش رہتے ہیں۔ قاری صاحب کی نماز جنازہ پہلے جامعہ نصرۃ العلوم میں پڑھائی گئی۔ امامت کے فرائض راقم الحروف نے سرانجام دیے جبکہ دوسری نماز جنازہ ان کے بڑے فرزند قاری عبید اللہ عامر صاحب نے گاؤں پڑھائی اور اس کے بعد انھیں کوٹلی ناگرہ کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
ہم قاری صاحب موصوف کی وفات پر ا س غم میں ان کے خاندان، تلامذہ، احباب اور دیگر متعلقین کے اس غم میں شریک ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت قاری محمد عبد اللہ صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور ان کے پس ماندگان کو صبر وحوصلہ کے ساتھ ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین

حضرت قاری عبد الصمدؒ

قرآن کریم حفظ وقراء ت اور تجوید کے بزرگ استاذ حضرت قاری عبد الصمد صاحبؒ بھی گزشتہ دنوں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انھوں نے طویل عرصہ تک مدرسہ اشرف العلوم باغبان پورہ گوجرانوالہ میں تجوید وقراء ت کے شعبہ میں خدمات سرانجام دیں اور ان کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد ملک کے مختلف حصوں میں قرآن کریم کی خدمت میں مصروف ہے۔
راقم الحروف کو بھی ان سے تلمذ کا شرف حاصل ہے کہ جامعہ نصرۃ العلوم میں طالب علمی کے دوران چند روز ان کی خدمت میں مشق کے لیے حاضر ہوتا رہا ہوں۔ وہ ایک صاحب فن مقری اور مشفق استاذ تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور ان کے تلامذہ وپس ماندگان کو ان کی جلائی ہوئی شمع روشن رکھنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین

مدرسہ نصرۃ العلوم کے قراء کے اعزاز میں تقریب

ادارہ

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا قدیم تعلیمی ادارہ ہے جو دینی و علمی مسائل میں اہل وطن کی راہنمائی میں ایک نمایاں مقام کا حامل ہے۔ گزشتہ دنوں اس عظیم علمی مرکز کے ایک قابل و ہونہار استاد قاری وسیم اللہ امین نے پاکستان اور جامعہ کی نمائندگی کرتے ہوئے کویت میں منعقد ہونے والے تجوید و قرأت کے ایک عالمی مقابلہ میں شرکت کی۔ یہ مقابلہ ۱۳؍ اپریل تا ۲۰ اپریل کویت کی ’’وزارت اوقاف و شؤن اسلامیہ‘‘ کے زیر اہتمام کویت کے ’شیراٹن ‘ہوٹل میں منعقد ہوا جس میں ۵۵ کے لگ بھگ ممالک کے قراء کرام نے حصہ لیا۔ قاری وسیم اللہ امین نے مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کر کے امیر کویت سے ۹ لاکھ روپے کا نقد انعام اور اعزازی شیلڈ وصول کی ۔اس سے پہلے جا معہ نصرۃ العلوم کے شعبہ حفظ کے استادقاری محمد یاسین صاحب کے فرزنداور مدرسہ نصرۃ العلوم کے طالب علم حافظ عمار یاسر نے جنوری ۲۰۱۱ء کے پہلے ہفتے کے دوران مکہ مکرمہ میں تحفیظ القرآن الکریم کے بین الاقوامی مقابلہ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور تیسری پوزیشن حاصل کر کے ایک لاکھ روپے نقد انعام اور شیلڈ کے مستحق قرار پائے۔ اس مقابلہ کا اہتمام مسجد الحرام میں کیا گیا تھا۔
قاری وسیم اللہ امین اور قاری عمار یاسر کے اعزاز میں۹ ؍مئی ۲۰۱۱ء کو بعد از نماز عصر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت جامعہ نصرۃ العلوم کے مہتمم مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی نے کی جبکہ ملک کے معروف خطیب مولانا عبد الکریم ندیم مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔ پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، جمعیۃ علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الحئی آف دھیر کوٹ اور باغ آزاد کشمیر کے ضلع مفتی مولانا مفتی عبد الشکور بھی تقریب میں موجود تھے جبکہ مدرسہ نصرۃ العلوم کے اساتذہ اور شہر کے علماء کرام و طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ مدرسہ نصرۃ العلوم کے شعبہ تجوید کے صدر مولانا قاری سعید احمد، قاری وسیم اللہ امین اور حافظ عمار یاسرنے تلاوت کلام پاک سے حاضرین کو محظوظ کیا اور مولانا عبدالکریم ندیم نے اپنے مخصوص انداز میں قرآن کریم کی عظمت و حفاظت اور اعجاز کا تذکرہ کرتے ہوئے اس اعزاز پر جامعہ نصرۃ العلوم اور اس کے دونوں سپوتوں کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے اس اعزاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شرکاے محفل کا شکریہ ادا کیا۔ محفل کے اختتام پر علماء کرام نے الشریعہ اکیڈمی کی لائبریری کا وزٹ کیا اور کتابوں کا وقیع ذخیرہ دیکھ کر اکادمی کی انتظامیہ کے حسن ذوق کو سراہا۔

ہیپا ٹائٹس ۔ کل اور آج

حکیم محمد عمران مغل

کل کی چیونٹی کو آج کا مست ہاتھی کیونکر بنا دیا گیا؟ اصل بات یہ ہے کہ جن معالجین نے علم کی روح کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، ان کے نزدیک یہ مست ہاتھی آج بھی محض ایک چیونٹی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ پرانے اطبا نے بیماریوں کے بحر ظلمات میں نہ صرف گھوڑے دوڑائے بلکہ حیران کن ریکارڈ بھی قائم کیے۔ تاریخ میں ایسے سیکڑوں واقعات درج ہیں۔
ایسا ہی ایک دلچسپ واقعہ جناب ریٹائرڈ جسٹس الیاس قادری صاحب نے روزنامہ نوائے وقت میں اپنے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جب انھیں عدلیہ میں ملازمت ملی تو وہ خوشی سے پھولے نہ سمائے۔ ایک دن یرقان نے انھیں آن گھیرا۔ ضابطہ کی کارروائی مکمل کر کے فی الفور تین ماہ کے لیے اسپتال داخل کر دیا گیا۔ دوسرے دن حسب معمول دوست احباب ملنے آئے تو پتہ چلا کہ جسٹس صاحب کو تو اسپتال داخل کر دیا گیا ہے اور کم از کم تین ماہ کا کورس پورا کرنا ہے۔ دوست سیدھے اسپتال پہنچے اور جسٹس صاحب سے کہنے لگے کہ آپ کو کس نے کہا کہ تین ماہ تک اسپتال میں ایڑیاں رگڑیں؟ ہمارے علم میں اس وقت ایک فرشتہ سیرت حکیم صاحب ہیں، وہ چند دنوں میں آپ کا علاج کر دیں گے۔ جسٹس صاحب نے فرمایا کہ میرا معالج، میری رہائش، خور ونوش اور میری ملازمت سب سرکاری ہیں اور میں سرتاپا سرکار کی تحویل میں ہوں۔ آپ کی کسی خواہش کی تکمیل میرے بس میں نہیں۔ دوستوں نے ایک نہ سنی اور زبردستی اسپتال سے اٹھا لائے۔ 
لوہاری دروازہ میں حکیم شیخ محمد حسین کا شہرہ چار دانگ عالم میں پھیلا ہوا تھا۔ تشخیص اور تجویز ان کی ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی تھی۔ دو چار منٹ نبض دیکھی اور باتیں کیں۔ حکیم صاحب نے کہا کہ تین چار دن میں اللہ کے فضل سے یرقان نیست ونابود ہو جائے گا، آپ نے ضرور تین ماہ انتظار کرنا ہے؟ چوتھے دن جسٹس صاحب بھلے چنگے ہوئے۔ خوشی خوشی ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ میری باقی چھٹی ختم کر کے مجھے نوکری پر بھیجا جائے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ تین چار دن میں یرقان کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے؟ ایک تو آپ سرکاری ملازم، پھر بغیر پوچھے اسپتال سے باہر جا کر کسی حکیم سے علاج کرا آئے ہیں۔ پھر آپ کا دعویٰ کہ آپ بالکل ٹھیک ہوگئے ہیں۔ یہ سب غلط ہے۔ میں کسی حکیم یا حکمت کو نہیں مانتا۔ دوستوں نے صورت حال دیکھی تو فوراً حکیم صاحب سے ایک مفصل تصدیق لکھوا کر ساتھ ہی ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر دی۔ جج صاحب نے فوری طور پر طرفین کو بلایا۔ ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ کا مریض تین چار دن میں ٹھیک ہو گیا ہے۔ معالج کا حلفیہ بیان بھی مسلک ہے۔ آپ مریض کا تین ماہ مزید علاج کرنے پر کیوں بضد ہیں؟ ڈاکٹر صاحب نے مجلس کو بغور دیکھا، کچھ باتیں کیں، مگر حکیم صاحب نے ایک نہ چلنے دی۔ جج صاحب نے دیکھاکہ ڈاکٹر صاحب آئیں بائیں شائیں کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ حکیم صاحب کی طرف سے زیر بحث نکتہ یہ ہے کہ آپ یرقان کی تعریف بھی نہیں کر سکتے۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے بھری مجلس میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی۔
میں نے اخبار میں یہ مضمون پڑھ کر شیخ محمد حسین صاحب مرحوم کے خاندان کو ڈھونڈ نکالا۔ ان کے ایک پوتے حکیم جاوید شیخ راوی روڈ لاہور پر مطب کرتے ہیں۔ علیک سلیک کے بعد نسخے پر بات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ عام سی گولیاں ہیں۔ اصل نسخہ شربت بزوری معتدل ہی ہے۔ عوام کو بے وقوف بنا کر یرقان کی پانچ اقسام بنا دی گئی ہیں او رہیپا ٹائٹس کا ہوا کھڑا کر دیا گیا ہے۔ جن لوگوں نے انجکشن کا کورس پورا کیا ہے، ان میں سے کچھ کی حالت پہلے سے زیادہ خراب ہو گئی ہے۔
قارئین کے سامنے مختصر نسخہ عرض کرتا ہوں کہ ابتدا یہاں سے کریں۔ ساری زندگی پانی ابال کر لازماً مٹی کے برتن میں رکھیں اور پئیں۔ سکندر اعظم کی فوج میں براہ راست کنویں، دریا اور چشمے سے پانی لا کر پینا قانوناً جرم تھا۔ چین کے لوگ ہمیشہ نیم گرم پانی پیتے ہیں، اسی لیے میں نے جس مریضہ کا علاج کیا تھا، اسے ٹھنڈے پانی اور ٹھنڈی ہوا سے بچا کر رکھا تھا۔ سر سے پاؤں تک پسینے میں شرابور کر کے پیچش، کھانسی اور بخار چڑھایا۔ اس کے جسم سے زہریلے مادے خارج کرنے کے لیے کئی جتن کیے۔ اللہ نے میری کوشش کو کامیاب کیا۔ فیثاغورث نے کہا تھا کہ مجھے پانی یا مشروب پینے کے لیے کھلے منہ کا برتن، چمڑے کا جوتا اور کھانے کے لیے موٹا آٹا ملتا رہے تو میں زمین پر بیٹھ کر آسمان کے سارے حالات بتا سکتا ہوں۔ آج کل جتنے رنگین مشروبات استعمال ہو رہے ہیں، ان کے بارے میں قرشی دواخانہ کے ہر دل عزیز ڈاکٹر جنجوعہ صاحب سے پوچھ لیں۔ وہ آپ کو بتائیں گے کہ ہمیں روزانہ کتنا زہر پلایا جا رہا ہے۔ کبھی کھڑے کھڑے پانی نہ پئیں۔ اس سے جگر آناً فاناً کمزور ہو جاتا ہے اور انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ اسی لیے حدیث شریف میں اس کی ممانعت آئی ہے۔
اوپر جتنی باتیں کہی گئی ہیں، ہر بات کی تفصیل کے لیے کئی صفحات درکار ہیں۔ اگر اللہ نے آپ کو بصیرت عطا کی ہے تو ان باتوں کو سمجھ لینے سے صحت کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ بہت سے احباب نے نسخہ جات کے لیے فرمایا ہے۔ یاد رکھیں ہر نسخہ ہر مریض پر کام نہیں کرتا۔ پھر بھی ایک نسخہ عرض کرتا ہوں جو ان شاء اللہ ہر مریض پر کارگر ہوگا۔
جب ہیپا ٹائٹس یعنی یرقان کاحملہ ہو جائے تو بند پیکٹ کی کوئی چیز ہرگز استعمال نہ کریں، ورنہ کینسر کا شدید حملہ ہو سکتا ہے۔ حملے کے بعد عرق مکوہ اور عرق کاسنی آدھا آدھا کپ ملا کر دن میں تین بار پئیں۔ انار یا شربت انار، املی آلو بخارے کا شربت، کنو، مالٹا، سنگترہ جو میسر ہو، استعمال میں لائیں۔ ساری زندگی پانی ابال کر پینے والے کو یہ تکلیف نہیں ہوگی۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ بازاری شربت اور بوتلیں گردوں کو کاٹ کر رکھ دیتی ہیں، اس لیے کہ تمام رنگین اشیا کا رنگ گردے میں پتھری کا باعث بنتا ہے۔ گردے اس رنگ کو چھانٹ لیتے ہیں۔