امیر عبد القادر الجزائریؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(جان کائزر کی کتاب ’’امیر عبد القادر الجزائری: سچے جہاد کی ایک داستان‘‘ کے دیباچہ کے طور پر لکھا گیا۔)
انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی کے دوران مسلم ممالک پر یورپ کے مختلف ممالک کی استعماری یلغار کے خلاف ان مسلم ممالک میں جن لوگوں نے مزاحمت کا پرچم بلند کیا اور ایک عرصہ تک جہاد آزادی کے عنوان سے داد شجاعت دیتے رہے، ان میں الجزائر کے امیر عبد القادر الجزائریؒ کا نام صف اول کے مجاہدین آزادی میں شمار ہوتا ہے جن کی جرات واستقلال، عزیمت واستقامت اور حوصلہ وتدبر کو ان کے دشمنوں نے بھی سراہا اور ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا۔
امیر عبد القادر مئی ۱۸۰۷ء میں الجزائر میں، قیطنہ نامی بستی میں ایک عالم دین اور روحانی راہنما الشیخ محی الدینؒ کے ہاں پیدا ہوئے اور اپنے والد محترم سے اور ان کے زیر سایہ دیگر مختلف علماء کرام سے ضروری دینی وعصری تعلیم حاصل کی اور ان کے ساتھ ۱۸۲۵ء میں حج بیت اللہ کی سعادت سے بھی بہرہ ور ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب مغرب کے استعماری ممالک ’’انقلاب فرانس‘‘ کی کوکھ سے جنم لینے والی جدید مغربی تہذیب وثقافت کی برتری کے نشے سے سرشار تھے اور سائنسی ترقی سے حاصل ہونے والی عسکری قوت اور ٹیکنالوجی کی صلاحیت نے انھیں پوری دنیا پر حکمرانی کا شوق دلا دیا تھا۔ عالم اسلام کی دو بڑی قوتیں خلافت عثمانیہ اور مغل بادشاہت ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھیں، چنانچہ برطانیہ، فرانس، اٹلی، ہالینڈ، پرتگال اور دوسرے ممالک نے ان دونوں قوتوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے مختلف اطراف میں یلغار کی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ افریقہ اور ایشیا کے ایک بڑے حصے کو نو آبادیات میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ خلافت عثمانیہ اور مغل بادشاہت کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ وہ سائنسی ترقی اور دنیا میں ہونے والی تہذیبی ومعاشرتی اور سیاسی تبدیلیوں کا بروقت ادراک نہ کر سکیں اور ان کی یہ غفلت استعماری یلغار کے سامنے عالم اسلام کے ایک بڑے علاقے کے سرنڈر ہونے کے اسباب میں ایک اہم سبب ثابت ہوئی۔
بہرحال جب بہت سے مسلم ممالک نے مختلف یورپی ممالک کی نوآبادیاتی غلامی کا طوق گردنوں میں پہنا تو ہر جگہ حریت پسندوں اور آزادی کے متوالوں نے حالات کے اس جبر کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور بہت دیر تک بغاوت اور سرکشی کا محاذ گرم رکھا۔ الجزائر پر فرانس کے تسلط کا آغاز انیسویں صدی کی تیسری دہائی کے آخر میں ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب جنوبی ایشیا میں برطانوی تسلط ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے ہو چکا تھا اور امام ولی اللہ دہلویؒ کے مکتب فکر بلکہ خانوادے سے تعلق رکھنے والے مجاہدین کا ایک گروہ سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کی قیادت میں پشاور کے علاقے میں جہادی سرگرمیوں میں مصروف تھا۔ ان کا وقتی سامنا اگرچہ سکھوں سے تھا، لیکن اپنے عزائم اور اہداف کے حوالے سے وہ برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف جہاد کے لیے بیس کیمپ حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ اس قافلہ حریت نے ۱۸۳۰ء میں پشاور کے صوبہ پر قبضہ اور کم وبیش سات ماہ حکومت کرنے کے بعد ۶؍ مئی ۱۸۳۱ء کو بالاکوٹ میں جام شہادت نوش کیا تھا۔
الجزائر میں جب ۱۸۳۰ء میں فرانس نے تسلط قائم کرنے کی کوشش کی تو علماء کرام اور مجاہدین کی ایک جماعت نے امیر عبد القادرؒ کے والد محترم الشیخ محی الدینؒ کی قیادت میں تحریک مزاحمت کا آغاز کیا، مگر دو سال کے بعد ۱۸۳۲ء میں یہ دیکھتے ہوئے کہ اس مزاحمت کا سلسلہ بہت دیر تک قائم رہ سکتا ہے، تحریک مزاحمت کی مستقل منصوبہ بندی کی گئی اور الشیخ محی الدین کے جواں سال اور جواں ہمت بیٹے امیر عبد القادر کو باقاعدہ امیر منتخب کر کے مزاحمت کی جدوجہد کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
امیر عبد القادرؒ جذبہ جہاد کے ساتھ ساتھ فراست وتدبر کی نعمت سے بھی مالامال تھے، اس لیے انھوں نے اپنی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے الجزائری عوام اور قبائل کو اعتماد میں لیا، وسیع تر مشاورت کا سلسلہ قائم کیا، آزادی کی فوج کو وقت کے ہتھیاروں اور جنگ کی نئی تکنیک سے مسلح کیا اور ایک باقاعدہ فوج منظم کر کے الجزائر پر حملہ آور فرانسیسی فوجوں کے خلاف میدان جنگ میں نبرد آزما رہے۔ انھوں نے ۱۸۳۲ء سے ۱۸۴۷ء تک مسلسل سولہ سال تک فرانسیسی فوجوں کے خلاف جنگ لڑی، بہت سے معرکوں میں فرانسیسی فوجوں کو شکست سے دوچار کیا اور ایک بڑے علاقے پر کنٹرول حاصل کر کے امارت شرعیہ کا نظام قائم کیا۔ وہ اس وقت تک لڑتے رہے جب تک الجزائری عوام اور اسباب ووسائل نے ان کا ساتھ دیا اور جب حالات کی نامساعدت نے انھیں بالکل تنہا کر دیا اور الجزائر کے قبائل ایک ایک کر کے الگ ہوتے گئے تو ۱۸۴۸ء میں انھوں نے اور کوئی چارۂ کار نہ دیکھتے ہوئے ہتھیار ڈال دیے۔
انھیں گرفتار کر کے ۱۸۵۳ء تک فرانس کے مختلف قلعوں میں محبوس رکھا گیا اور پھر آزاد کر کے دمشق کی طرف جلاوطن کر دیا گیا۔ انھوں نے ۲۳؍ دسمبر ۱۸۴۷ء کو ایک مشروط معاہدے کے تحت خود کو فرانسیسیوں کے حوالے کیا تھا، مگر ان کی شرائط کو قبول کیے جانے کے بعد بھی حسب معمول بالاے طاق رکھ دیا گیا تو ایک موقع پر انھوں نے اس حسرت کا اظہار کیا کہ:
’’اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ ہمارے ساتھ یہ کچھ ہونا ہے جو ہو رہا ہے تو ہم جنگ ترک نہ کرتے اور مرتے دم تک لڑتے ہی رہتے۔‘‘
وہ پہلے استنبول گئے اور پھر خلافت عثمانیہ کی ہدایت پر دمشق آ گئے جہاں انھوں نے درس وتدریس کا سلسلہ شروع کر دیا۔ وہ مالکی فقہ کے بڑے علما میں سے تھے اور تصوف میں الشیخ الاکبر محی الدین بن عربیؒ کے پیروکار اور ان کے علوم کے شارح تھے۔ دمشق میں قیام کے دوران انھیں ایک اور معرکے سے سابقہ درپیش ہوا کہ خلافت عثمانیہ کی طرف سے شام میں مقیم مسیحیوں پر جزیہ کا قانون تبدیل کیے جانے کے بعد اس مسئلے پر مسلم مسیحی کشمکش کا آغاز ہوا اور بہت سے حلقوں کی طرف سے قانون کی اس تبدیلی کو ناکام بنانے کے لیے مسیحیوں کے خلاف مسلمان عوام کو بھڑکانے کا سلسلہ شروع کیا گیا جس پر امیر عبد القادر الجزائریؒ نے مسیحیوں کے خلاف اس یلغار کی مخالفت کی اور ان کی حمایت وتحفظ کے لیے کمربستہ ہو گئے۔ اس وقت غصے میں بپھرے ہوئے عوام کے لیے امیر عبد القادر کا یہ اقدام قابل اعتراض تھا، لیکن وہ اپنے اس موقف پر قائم رہے کہ بے گناہ مسیحیوں کی جانیں بچانا ان کا شرعی فریضہ ہے اور وہ ایسا کر کے اپنے اسلامی فرض کی تکمیل کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ امیر عبد القادر الجزائری کے اس جرات مندانہ اقدام کی وجہ سے کم وبیش پندرہ ہزار مسیحیوں کی جانیں بچیں جس کی وجہ سے انھیں مغربی دنیا میں بھی تحسین کی نظر سے دیکھا جانے لگا اور انھیں ’’امن کا ہیرو‘‘ قرار دے کر مغرب کے چوٹی کے سیاسی راہ نماؤں اور دانش وروں نے خراج تحسین پیش کیا، جبکہ نیو یارک ٹائمز نے ان کے کردار کی عظمت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا کہ ’’عبدالقادر کے لیے یہ یقیناًعظمت کا اور حقیقی شان وشوکت کا باب ہے۔ اس بات کو تاریخ میں رقم کرنا کوئی معمولی بات نہیں کہ مسلمانوں کی آزادی کے لیے لڑنے والا سب سے ثابت قدم سپاہی اپنے سیاسی زوال اور اپنی قوم کے ناگفتہ بہ حالات میں عیسائیوں کی زندگیوں اور حرمت کا سب سے نڈر نگہبان بن کر سامنے آیا۔ جن شکستوں نے الجزائر کو فرانس کے آگے جھکایا تھا، ان کا بدلہ بہت حیرت انگیز طریقے سے اور اعلیٰ ظرفی سے لے لیا گیا ہے۔‘‘
امیر عبد القادر الجزائری کا یہ کردار دیکھ کر مجھے متحدہ ہندوستان کی تحریک آزادی کے ایک بڑے لیڈر مولانا عبید اللہ سندھیؒ یاد آ جاتے ہیں اور مجھے ان دونوں بزرگوں میں مماثلت کے بعض پہلو بہت نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ مثلاً مولانا عبید اللہ سندھیؒ اگرچہ میدان جنگ کے نہیں، بلکہ میدان فکر وسیاست کے جرنیل تھے، مگر ان کی سوچ یہ تھی کہ ہمیں سیاست وجنگ کے روایتی طریقوں پر قناعت کرنے کی بجائے ان جدید اسالیب، تکنیک اور ہتھیاروں کو سیاست اور جنگ کے دونوں میدانوں میں اختیار کرنا چاہیے اور وہ عمر بھر اسی کے داعی رہے۔
انھوں نے جب دیکھا کہ وہ حرب وجنگ کے ذریعے سے برطانوی تسلط کے خلاف جنگ جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو انھوں نے اس معروضی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی جدوجہد کے لیے عدم تشدد کا راستہ اختیار کر لیا اور بقیہ عمر پرامن جدوجہد میں بسر کر دی۔
امیر عبد القادر کی طرح مولانا سندھی نے بھی عملی تگ وتاز کے میدان کو اپنے لیے ہموار نہ پاتے ہوئے تعلیم وتدریس کا راستہ اختیار کیا اور ہندوستان واپسی کے بعد دہلی اور دوسرے مقامات میں قرآن کریم کے تعلیمی حلقے قائم کر کے اپنے فکر وفلسفہ کی تدریس وتعلیم میں مصروف ہو گئے۔
مولانا سندھیؒ مغربی تہذیب وثقافت اور تکنیک وصلاحیت کی ہر بات کو مسترد کر دینے کے قائل نہیں تھے، بلکہ اس کی ان باتوں کو اپنانے کے حامی تھے جو اسلامی اصولوں سے متصادم نہیں ہیں اور ہمارے لیے ضروری ہیں۔ اس کی وجہ سے انھیں بہت سے حلقوں کی طرف سے مطعون بھی ہونا پڑا۔
امیر عبد القادر الجزائری کو شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ کا پیروکار، ان کے علوم کا شارح اور ان کے فلسفہ وحدت الوجود کا قائل ہونے کی وجہ سے ان کے فکر کے ڈانڈے ’’وحدت ادیان‘‘ کے تصور سے ملانے کی کوشش کی گئی (جس کی جھلک جان کائزر کی زیر نظر کتاب میں بھی دکھائی دیتی ہے)، حالانکہ وحدت الوجود اور وحدت ادیان میں زمین وآسمان کا فرق ہے اور شیخ اکبرؒ کے نظریہ وحدت الوجود کا مطلب وحدت ادیان ہرگز نہیں ہے۔ اسی طرح مولانا عبید اللہ سندھی کو بھی فرنگی تسلط کے خلاف سیاسی طور پر ہندوستانی اقوام کے ’’متحدہ قومیت‘‘ کے نظریہ پر ہدف تنقید بنایا گیا اور انھیں ’‘وحدت ادیان‘‘ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔
امیر عبد القادر الجزائریؒ مغربی استعمار کے تسلط کے خلاف مسلمانوں کے جذبہ حریت اور جوش ومزاحمت کی علامت تھے اور وہ اپنی جدوجہد میں جہاد کے شرعی واخلاقی اصولوں کی پاس داری اور اپنے اعلیٰ کردار کے حوالے سے امت مسلمہ کے محسنین میں سے ہیں۔ ان کے سوانح وافکار اور عملی جدوجہد کے بارے میں جان کائزر کی یہ تصنیف نئی پود کو ان کی شخصیت اور جدوجہد سے واقف کرانے میں یقیناًمفید ثابت ہوگی۔ ایسی شخصیات کے ساتھ نئی نسل کا تعارف اور ان کے کردار اور افکار وتعلیمات سے آگاہی استعماری تسلط اور یلغار کے آج کے تازہ عالمی منظر میں مسلم امہ کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ ہے اور اس سمت میں کوئی بھی مثبت پیش رفت ہمارے لیے ملی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے۔
اسلام میں سماجی طبقات ۔ سورۂ زخرف کی آیت ۳۲ کی روشنی میں
ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج
سورۂ زخرف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
أَہُمْ یَقْسِمُونَ رَحْمَۃَ رَبِّکَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْْنَہُم مَّعِیْشَتَہُمْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُم بَعْضاً سُخْرِیّاً وَرَحْمَتُ رَبِّکَ خَیْْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُونَ (زخرف، ۳۲)
اس آیت میں لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُم بَعْضاً سُخْرِیّاً کے الفاظ ہماری بحث کا اصل موضوع ہیں اور انھی سے ہمارے مضمون کا عنوان متعین ہوا ہے۔ مذکورہ بالا الفاظ کا معنی بالعموم یہ کیا جاتا ہے:
’’تاکہ ایک دوسرے کو اپنے کام میں مدد کے لیے لے سکیں۔‘‘ (ابو الکلام آزادؒ ) ۱
’’تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں۔‘‘ (مولانا وحید الدین خان) ۲
تاہم ان الفاظ کا یہ معنی بھی کیا گیا ہے، جسے میں یہاں خصوصی معنی سے تعبیر کرتا ہوں:
’’کہ ان میں سے ایک دوسرے کی ہنسی بنائے۔‘‘ (مولانا احمد رضا خان بریلویؒ ) ۳
’’کہ انجام کار یہ ایک دوسرے کا مذاق اڑائیں۔‘‘ (مولانا غلام رسول سعیدی) ۴
زیر نظر مضمون میں ہم اس فقرے کو آیت کے محل میں اور آیت کو اس کے سیاق وسباق میں دیکھیں گے تاکہ معروضی طور پر عطر حقیقت کشید ہو سکے اور اس فقرے کی صحیح تعیین راجح شکل میں متعین ہو سکے۔
اس آیت کا ایک ترجمہ حسب ذیل ہے:
’’کیا یہ لوگ تیرے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں؟ دنیا کی زندگی میں ان کی روزی کو تو ہم نے تقسیم کیا ہے اور ہم نے ایک کو دوسرے پرفوقیت دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں اور تیرے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو یہ جمع کر رہے ہیں۔‘‘ ۵
اور اب ثانی الذکر یعنی خصوصی معنی کے تحت ترجمہ ملاحظہ ہو:
’’کیا یہ (کفار) آپ کے لیے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں؟ ہم نے ان کی دنیاوی زندگی میں ان کی روزی تقسیم کی ہے اور ہم نے دنیاوی روزی میں بعض کو بعض پر کئی درجے فوقیت دی ہے کہ انجام کار یہ ایک دوسرے کا مذاق اڑائیں اور آپ کے رب کی رحمت اس مال سے بہتر ہے جس کو یہ جمع کر رہے ہیں۔‘‘ ۶
اول الذکر ترجمے میں جو کہا گیا ہے، اس کی تفسیر یہ ہے:
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت ورسالت پر کفار نے یہ اعتراض کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس منصب کے لیے کسی مال دار آدمی کو کیوں نہ چنا؟ اسی تناظر میں کفار کا ذکر صیغہ غائب میں کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ (اے رسول محترم!) تیرے پروردگار کی تقسیم کیا ان کے ہاتھ میں ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں، بلکہ دنیوی زندگی کی روزی کی تقسیم بھی ہمارے ہاتھ میں ہے اور ہم نے اصول آزمائش کے تحت ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے۔ یہ مدارج فوقیت اس لیے قائم کیے گئے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے سے خدمت واجرت اور تعاون کے کام لے سکیں اور (اے رسول محترم) تیرے پروردگار کی رحمت ان کی جمع جتھا سے بہتر ہے۔
مولانا امین احسن اصلاحی نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:
’’..... یہ امر یہاں واضح رہے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے لیے بنائی ہے۔ اس وجہ سے اس کا نظام اس نے اس طرح کا رکھا ہے کہ اس میں ہر شخص دوسروں کا محتاج بھی ہے اور محتاج الیہ بھی۔ بڑے سے بڑا بادشاہ بھی دوسروں کا محتاج ہے اور چھوٹے سے چھوٹا آدمی بھی اس میں محتاج الیہ ہے۔ یہاں کوئی بھی شخص دوسروں سے مستغنی نہیں ہے اور کوئی شخص بھی ایسا نہیں کہ معاشرے میں کسی نہ کسی پہلو سے اس کی افادیت نہ ہو......۷
اسی تصور کو ذرا مخصوص اور ایڈوانس شکل میں مفتی محمد تقی عثمانی نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے:
’’ہم نے ان کے درمیان معیشت کو تقسیم کیا ہے اور ان میں سے بعض کو بعض پر درجات میں فوقیت دی ہے تاکہ ان میں سے ایک، دوسرے سے کام لے سکے۔
ظاہر ہے کہ ایک دوسرے سے کام اس طرح لیا جائے گا کہ کام لینے والا کام کی طلب ہے اور کام دینے والا کام کی رسد ہے۔ اس طلب ورسد کی باہمی کشمکش اور باہمی امتزاج سے ایک متوازن معیشت وجود میں آتی ہے۔‘‘ ۸
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مفتی تقی عثمانی صاحب نے اس آیت سے حیرت انگیز طو رپر طلب ورسد کا معاشی قانون دریافت فرمایا ہے، حالانکہ اس آیت سے نہ قانون طلب کشید ہوتا ہے اور نہ قانون رسد۔ بات اصل میں یہ ہے کہ قرآن کی آیتوں سے جزء اً جزء اً جب ا س طرح استدلال کیا جاتا ہے تو پھر ایسا ہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے، البتہ استقرا کے اسلوب پر قرآن مجید سے استدلال کرنے کا نتیجہ اس سے قطعی مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے مجتہد کو چاہیے کہ وہ قرآن مجید کو بحیثیت مجموعی ملحوظ رکھ کر استدلال کرے تاکہ امکان خطا کم سے کم رہ جائے۔ اس ضمن میں تصریف آیات اور نظم قرآن کا اصول اگر پیش نظر رہے تو مجتہد قرآن کی مراد تک بہ آسانی پہنچ سکتا ہے۔
اب ہم آیہ زیر بحث کے سیاق وسباق کو دیکھتے ہیں تاکہ آیت اپنے مفہوم کو خود متعین کر دے۔ آیت زیر بحث سے قبل یہ فرمایا گیا ہے:
وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ ہَذَا الْقُرْآنُ عَلَی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْْنِ عَظِیْمٍ (زخرف ۳۱)
’’اور انھوں نے کہا: یہ قرآن ان دو شہروں (مکہ اور طائف) کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل ہوا؟‘‘
اس کی تفسیر یہ ہے کہ کفار مکہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت پر اعتراض کرتے ہوئے اپنے مزعومہ خیال کے مطابق دنیاوی اعتبار سے اسے کسی بڑے آدمی کا استحقاق سمجھا تھا۔ ان کے نزدیک حضور اس رحمت کے سزاوار نہ تھے۔ ظاہر ہے کہ دنیوی اعتبار سے کسی آدمی کا بڑا ہونا اس کی معیشت سے وابستہ ہوتا ہے۔ معیشت میں جس درجے کی وسعت وکشادگی یافخر وطمطراق پایا جاتا ہے، آدمی کی شخصیت اسی درجے کی عظمت ورفعت کی حامل سمجھی جاتی ہے۔
نبوت ورسالت کا انتخاب چونکہ دنیوی اکتساب کے میدانوں سے نہیں، بلکہ محض خداکی چاہت سے ہوتا ہے، اس لیے اسے معیشت سے وابستہ کرنا سفلی تخیل کے سوا کچھ نہیں۔ بایں طور اس آیت میں کفار کی جانب سے حضور علیہ السلام کا استخفاف مذکور ہوا ہے، اس لیے اگلی آیت میں رب تعالیٰ کی طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا تیرے رب کی رحمت کو یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں؟ یہ استفہام دراصل کفار کے استخفاف کا منہ توڑ جواب ہے۔ پھر تقسیم رحمت اور تقسیم معیشت دونوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نظام قدرت وحکمت سے وابستہ کر کے استخفاف کرنے والوں کو سمجھایا کہ خدا کی تقسیم معیشت میں لوگوں کو جو متفاوت رکھا گیا ہے، وہ اس لیے نہیں کہ لوگ ایک دوسرے کا استہزا کریں اور مذاق اڑائیں، بلکہ اس لیے کہ وہ اسے خدا کی ایسی حکیمانہ تقسیم سے تعبیر کریں جس کے نتیجے میں عملی تعاون کی صورت پیدا ہو، یعنی معیشت کی فراوانی سے لوگوں کو مسخر کرنے کا جذبہ پیدا نہ ہو، کیونکہ اس جذبہ تسخیر سے لوگوں میں جاگیردارانہ اور وڈیرانہ ذہنیت پیدا ہوتی ہے اور استحصال کا رویہ جنم لیتا ہے۔ پھر اسی سوچ سے لوگوں کا تمسخر اڑایا جاتا ہے جیسا کہ آیت نمبر ۳۱ سے عیاں ہے۔
چنانچہ آیت نمبر ۳۲ کے زیر بحث فقرے کا صحیح محل وہ ہے جو مولانا احمد رضا خان بریلوی اور مولانا غلام رسول سعیدی کے تراجم سے واضح ہے، اس لیے کہ مولانا ابو الکلام آزاد اور مولانا وحید الدین خان کے ترجموں سے قرآن کی مقصدیت واضح نہیں ہوتی۔ عمومی تراجم کی رو سے جو تفسیریں کی گئی ہیں، اس سے معیشت میں متفاوت ہونے کے سبب مستقل بنیادوں پر بعض کو بعض کا مخدوم اور خادم ماننا پڑتا ہے اور یوں معاشی بنیاد پر ایک ایسا طبقاتی سماج وجود پذیر ہو جاتا ہے جسے قرآن کی تائید (Sanction) حاصل ہونے کے سبب مذہبی تقدس بھی حاصل ہو جاتا ہے۔ پھر ظاہر ہے کہ اس طرح کے سماج میں معاشی تفریق وامتیاز کو خدا کی ایک ایسی تقسیم سمجھ لیا جاتا ہے کہ جسے قائم کرنا اور رکھنا خود خدا کا گویا مطالبہ قرار پاتا ہے، چنانچہ لیتخذ بعضہم بعضہم سخریا کے اس معنی کو ہر دور میں سرمایہ دارانہ نظم معیشت میں لازمی عنصر کے طور پر بیان کیا جاتا ہے اور اسے خدا کی تقسیم کا نام دے دیا جاتا ہے، جبکہ قرآن مجید کے عمومی مطالعہ سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ قرآن انسانی سماج کو سرمایہ دارانہ نظم معیشت سے بچانا چاہتا ہے۔ چنانچہ آیت زیر بحث سے اس طرح کا استدلال خود قران کے مقصود ومدعا کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔ کم از کم قرآن کے استقرائی اسلوب سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے۔
آیت زیر بحث کے مابعد آیات میں جو مضمون آیا ہے، وہ بھی اسی مفہوم کا موید ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
وَلَوْلَا أَن یَکُونَ النَّاسُ أُمَّۃً وَاحِدَۃً لَجَعَلْنَا لِمَن یَکْفُرُ بِالرَّحْمَنِ لِبُیُوتِہِمْ سُقُفاً مِّن فَضَّۃٍ وَمَعَارِجَ عَلَیْْہَا یَظْہَرُونَ، وَلِبُیُوتِہِمْ أَبْوَاباً وَسُرُراً عَلَیْْہَا یَتَّکِؤُونَ، وَزُخْرُفاً وَإِن کُلُّ ذَلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃُ عِندَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقِیْنَ (زخرف ۳۳۔۳۵)
’’اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ ایک ہی طریقے کے ہو جائیں گے تو جو لوگ رحمان کا انکار کرتے ہیں، ان کے لیے ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور زینے بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں، اور ان کے گھروں کے کواڑ بھی اور تخت بھی جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں اور سونے کے ؟؟ بھی اور یہ چیزیں تو صرف دنیا کی زندگی کا سامان ہیں اور آخرت تیرے رب کے پاس متقیوں کے لیے ہے۔‘‘ ۹
ان آیات کی تفسیر میں مولانا وحید الدین نے لکھا ہے:
’’پیغمبر اسلام جب مکہ میں ظاہر ہوئے تو اس وقت وہ لوگوں کو ایک معمولی انسان نظر آتے تھے۔ لوگوں نے کہا کہ خدا کو اگر اپنا کوئی نمائندہ ہماری ہدایت کے لیے بھیجنا تھا تو اس نے عرب کی مرکزی بستیوں (مکہ اور طائف) کی کسی عظیم شخصیت کو اس کے لیے کیوں نہیں چنا۔ مگر یہ ان کی نظر کی کوتاہی تھی۔ انسان صرف حال کو دیکھ پاتا ہے، جبکہ پیغمبر اسلام کی عظمت کو سمجھنے کے لیے مستقبل کو دیکھنے والی نظر درکار تھی۔ چونکہ لوگوں کو اس قسم کی دور بیں نظر حاصل نہ تھی، وہ پیغمبر اسلام کی عظمت کو سمجھنے میں ناکام رہے۔
پیغمبر اسلام کو کم سمجھنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی زندگی میں مادی چیزوں کی رونق لوگوں کو دکھائی نہ دیتی تھی، مگر ان مادی چیزوں کی خدا کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ چیزیں خدا کی نظر میں اتنی غیر اہم ہیں کہ وہ چاہے تو لوگوں کو سونے چاندی کا ڈھیر دے دے، مگر خدا نے ایسا نہیں کیا کہ لوگ انھی چیزوں میں اٹک کر رہ جائیں گے۔ وہ اس سے آگے بڑھ کر حقیقت کو نہ پا سکیں گے۔‘‘ ۱۰
اس تفسیر نے واضح کر دیا ہے کہ کفار مکہ نے چونکہ حضور علیہ السلام کو معاشی طور پر ادنی آدمی سمجھا ہوا تھا، اس لیے وہ ان سے ہدایت کے طالب نہیں ہونا چاہتے تھے اور یہ ایک طرح سے ذات نبوی کا استخفاف تھا۔ پس اس جگہ اللہ تعالیٰ نے معاشی درجات میں فرق مراتب کو لوگوں کے مابین استخفاف واستہزا کا نہ صرف سبب قرار دیا بلکہ انھیں ایسا کرنے سے منع بھی کیا۔ مطلب یہ کہ لوگوں میں یہ فرق اس لیے نہیں رکھا گیا ہے کہ اسے بنیاد بنا کر لوگ ایک دوسرے کا مذاق اڑائیں۔ قرآن مجید کے اس مقصود ومدعا تک بہت کم مترجمین پہنچ پائے ہیں۔ عصر حاضر کے نامور عالم دین پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اپنے ترجمے میں اس مدعاے قرآنی کو بہت عمدگی سے بیان کیا ہے:
’’کیا آپ کے رب کی رحمت (نبوت) کو یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں؟ ہم ان کے درمیان دنیوی زندگی میں ان کے (اسباب) معیشت کو تقسیم کرتے ہیں اور ہم ہی ان میں سے بعض کو بعض پر (وسائل ودولت میں) درجات کی فوقیت دیتے ہیں۔ (کیا ہم یہ اس لیے کرتے ہیں) کہ ان میں بعض (جو امیر ہیں) بعض (غریبوں) کا مذاق اڑائیں؟ (یہ غربت کا تمسخر ہے کہ تم اس وجہ سے کسی کو رحمت نبوت کا حق دار ہی نہ سمجھو) اور آپ کے رب کی رحمت اس (دولت) سے بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے (اور گھمنڈ کرتے ہیں)۔‘‘ ۱۱
واضح ہو کہ اس فکر کی تائید شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے ترجمہ قرآن میں بھی موجود ہے:
’’...... وبلند مرتبہ ساختیم بعض ایشان را بعض تا تمسخر گیرد بعض ایشان بعضے را .....‘‘ ۱۲
آپ نے دیکھا کہ شاہ ولی اللہ کا ترجمہ تمسخر کے مفہوم پر مشتمل ہے۔ شاہ ولی اللہ سے پہلے یہ مفہوم امام قرطبیؒ کی تفسیر میں بھی موجود ہے: ’ہو من السخریۃ التی بمعنی الاستہزاء ای یستہزئ الغنی بالفقیر‘ ۱۳
امام قرطبی نے معروف معنی کے ساتھ سخریۃ کا یہ معنی بھی نقل کیا ہے جو استہزا کے مفہوم پر متضمن ہے، یعنی وہ توہین جو کوئی مال دار کسی غریب کی کرتا ہے۔
افسوس کہ یہ انقلابی مفہوم امت میں رائج اور شائع نہ ہو سکا اور شاید اس کا سبب جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ ذہنیت کا غلبہ واستیلا رہا، مگر اب لوگوں کا قرآنی شعور بڑھ رہا ہے۔ لوگ اپنے مسائل کا ادراک اور اس کا حل قرآنی افکار سے طے کرنا چاہتے ہیں، اس لیے جدید مترجمین میں قرآنی مقصدیت سے مالامال یہ توانا فکر روز بروز پروان چڑھ رہی ہے۔ ماضی قریب کے ایک بزرگ عالم دین علامہ احمد سعید کاظمیؒ کے ترجمے میں بھی یہ حسن فکر ونظر موجود ہے:
’’..... اور ہم نے (دنیوی نعمتوں میں) انھیں ایک دوسرے پر بدرجہا فوقیت عطا فرمائی تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے کا مذاق اڑائیں اور آپ کے رب کی رحمت اس چیز سے بہت بہتر ہے جسے وہ جمع کر رہے ہیں۔‘‘ ۱۴
آخر میں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ مقدم الذکر یعنی عمومی فکر کی رو سے جو تراجم کیے گئے ہیں، وہ بھی بلاشبہ امر واقعہ کے طور پر اپنے محل میں صحیح بیٹھتے ہیں، مگر اس امکان غالب کے ساتھ کہ اس میں ایسے واقعاتی شہادات موجود ہیں جن کی تعبیر وتفسیر مثبت ومنفی ہر دو طرح سے ممکن ہے، جبکہ موخر الذکر یعنی خصوصی فکر کی رو سے قرآن کے قاری کو ایک ایسا منہاج عطا ہوتا ہے جس کی انقلاب آفریں تعبیر وتفسیر اول وآخر مثبت ہی مثبت اور ہر طرح کی منفیت سے محفوظ ہے اور یہی اس فکر کا حسن وکمال ہے۔
حوالہ جات
۱ ترجمان القرآن، جلد سوم ص ۱۳۷، مرتبہ: غلام رسول مہر، شیخ غلام علی اینڈ سنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، ۱۹۶۰ء
۲ تذکیر القرآن، جلد دوم، دار التذکیر، رحمن مارکیٹ، غزنی اسٹریٹ، اردو بازار، لاہور، ۲۰۰۵ء
۳ کنز الایمان، ناشر: المجدد احمد رضا اکیڈمی، کراچی ۱۹۷۶ء
۴ تبیان القرآن، فرید بک اسٹال، لاہور، ۲۰۰۵ء
۷ تدبر قرآن، جلد ہفتم ص ۲۲۶، فاران فاؤنڈیشن، لاہور ۱۹۸۸ء
۸ اسلام اور جدید معیشت وتجارت، ص ۴۲، ادارۃ المعارف کراچی، ۱۹۹۶ء
۱۱ عرفان القرآن، منہاج القرآن پبلی کیشنز، لاہور، اشاعت ہفت دہم، ۲۰۰۶ء
۱۲ فتح الرحمن، ناشر: الامیر الولید بن طلال بن عبد العزیز آل سعود، ۱۴۱۶ھ۔ ترجمہ کے حاشیہ میں یہ عبارت درج ہے: بچشم حقارت نگرد۔
۱۳ ابو عبد اللہ محمد بن احمد الانصاری القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، الجزء السادس، الناشر: دار الکاتب العربی للطباعۃ والنشر بالقاہرۃ، ۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷ء
سماجی، ثقافتی اور سیاسی دباؤ اور دین کی غلط تعبیریں
ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان
اللہ نے دین کو دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنایا ہے۔ صحابۂ کرام علیہم الرضوان میں بہت کم لوگ ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے اور اُن میں بھی ایسے لوگ گنتی کے چند تھے کہ جنھیں دین فہمی میں رسوخ کا وہ درجہ حاصل تھا کہ اُن کے لیے زبانِ نبوت سے ’’فقیہ‘‘ کا جاوداں لقب حاصل ہوا۔ بحیثیت مجموعی یہ وہ لوگ تھے جن کو صحبت نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا وہ جوہر عطا ہوا تھا کہ جس کو کسی بھی بڑی سے بڑی نعمت کا مثل بتانے میں زمین و آسمان کی کل نعمتوں میں سے کسی پر نگاہ نہیں ٹھہرتی۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے مؤسسِ دعوت و تبلیغ حضرت مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ کے نظریۂ تعلیم و تعلم کا ذکر بایں الفاظ کیا ہے: ’’دین کا کچھ حصہ جوارح سے تعلق رکھتا ہے، وہ جوارح کی حرکت ہی سے حاصل ہوگا۔ کچھ حصہ قلب سے تعلق رکھتا ہے، وہ قلب سے قلب میں منتقل ہوسکتا ہے۔ کچھ حصہ ذہن سے، وہ بے شک کتابوں کے صفحات سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔‘‘ صحابہ کرام کی اکثریت دین کے اُس حصے کی حامل تھی جو اعضا و جوارح کی حرکت سے متعلق ہے۔ اُن کے اند ر دین متین کا یہ حصہ رچ بس گیا تھا۔ چنانچہ دین کے اِس حصے کو لے کر وہ جہاں گئے، دین کے اِس حصے کو زندہ کرتے چلے گئے۔ چند عشروں میں خدا کی پوری معلوم دنیا جسم سے نکلنے والے اعمال یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور شہادتین سے آشنا ہوگئی۔ دین دین کی محنت سے زندہ ہوتا ہے؛ باتوں سے باتیں پھیلتی ہیں۔
اللہ نے دین کو آسان کیا۔ لوگ اپنی ناسمجھی، معاشرتی دباؤ اور بسا اوقات عقیدت کی کسی خاص لہر میں آکر اِسے مشکل بنالیتے ہیں۔ ذیل کی سطروں میں ایسی ہی چند غلط فہمیوں کا بیان ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نماز کو وقتِ مقرر پر فرض کیا ہے اور پوری دنیا کو سجدہ گاہ بنایا ہے۔ کسی نماز کو کسی خاص مسجد یا امامِ مسجد سے مخصوص کرلینا صرف ذوقی چیز ہے جس پر اصرار درست نہیں۔ مسجد بیت الحرام، مسجد نبویؐ اور مسجدِ بیت المقدس کے علاوہ دنیا کی تمام مساجد میں نماز کا ایک ہی جتنا اجر ہے، اور اِن تین مساجد کے علاوہ کسی بھی جگہ کے سفر کو عبادت کی نیت سے کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ کسی مذہبی جماعت کے صدر مقام پر برائے تربیت و اصلاح جانے والوں کو اپنی نیت کی درستی خاص طور سے کرنی چاہیے کہ وہاں کی گئی عبادت کا اللہ کے ہاں کوئی خاص درجہ نہیں ہے۔ یا مثلاً کسی کام کے ہوجانے پر کسی خاص مسجد میں نفل وغیرہ پڑھنے کی منت مان لی جائے، یہ بھی درست نہیں۔ نفل ضرور پڑھنے چاہییں اور اُن کی منت بھی مانگی جانی چاہیے، لیکن اِس ادائیگی کو کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ کے وہ بندے جو قضائے عمری ادا کرتے ہیں، اُنھیں یہ بتایا جانا چاہیے کہ قضا صرف فرض نماز کی ہے جس میں نمازِ عشا کے تین وتر بھی آتے ہیں۔ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لغوی مطلب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش مبارک کی خوشی ہے۔ اِس روز نماز سمیت کسی بھی عبادت کی کوئی الگ حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی اِس عید (یعنی خوشی) کی کوئی نماز ہے۔ نمازِ عشا کے بعد پڑھے جانے والے تمام نفل رات کی نماز یعنی تہجد کی تعریف میں شامل ہیں۔
صلوٰۃِ تسبیح کی جماعت نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ نمازوں میں صرف سورۂ اخلاص اور سورۂ کوثر پڑھنے کو درست سمجھتے ہیں، ایسا درست نہیں۔ فجر کی سنتوں کی وجہ سے اگر جماعت جاتی ہو تو اِنھیں موخر کردینا چاہیے۔ نماز کے دوران موبائل کی گھنٹی بند کرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی، لیکن اِس میں جلدی کرنی چاہیے اور بٹنوں کو خوامخواہ ٹٹولنا نہیں چاہیے۔ جمعے کا خطبہ اور عیدین کے خطبے اپنے آداب کے اعتبار سے نماز ہائے جمعہ و عیدین کا ویسے ہی حصہ ہیں جیسے کہ نماز میں التحیات ہوتی ہے۔ اِن خطبوں کے دوران کوئی بات کی جائے یا کسی بات کا جواب دیا جائے یا محض اشارہ ہی کیا جائے یا کوئی نماز ہی پڑھی جائے تو خطبہ ٹوٹ جاتا ہے، یعنی اِس کا اجر نہیں ملتا۔ نمازیوں کا اِن خطبوں کو سننا خطیب کا حق ہے۔ باجماعت نماز اکیلے نماز پڑھنے سے کئی درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے چنانچہ جہاں تک ہوسکے، نمازِ باجماعت کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ اِس لیے بھی کہ پوری جماعت میں ایک بھی آدمی کی نماز قبول ہوجائے تو جماعت کی برکت سے سبھی کی نماز قبول کرلیے جانے کی امید ہے۔
نمازِ باجماعت، جمعہ اور عیدین کا اہتمام عورتوں کے لیے بھی کرنا چاہیے۔ اگر فتنہ کا خوف نہ ہو تو اہل خانہ کو چاہیے کہ عورتوں کے مسجد میں جاکر نماز ادا کرنے میں بلا وجہ رکاوٹ نہ ڈالیں۔ اللہ نے مردوں کو عورتوں پر قوام بنایا ہے یعنی اُنھیں عورتوں پر برتری دی ہے۔ مردوں کے ذمے ہے کہ عورتوں کے لیے باجماعت نماز کی ادائیگی کی صورتیں بنائیں، ورنہ خدا کے ہاں اپنا جواب سوچ رکھیں۔ مسجدیں صرف مسلمان مردوں کے لیے تربیت گاہیں یا میل جول کے مقامات (Community centres) نہیں ہیں بلکہ عورتوں اور بچوں کے لیے بھی ہیں۔ مسجدِ نبوی شریف میں عورتیں بھی تشریف لایا اور جمع ہوا کرتی تھیں۔ مسجد میں بچوں کو ضرور لے جانا چاہیے کیونکہ صحابہ کرام ایسا کرتے رہے ہیں۔ حضرات حسنین کریمینؓ اور حضرت امامہ بنتِ عثمان رضی اللہ عنہا تو اپنے بچپن میں مسجدِ نبوی شریف میں آکر کھیلتے بھی رہے ہیں۔ دودھ پیتے بچے روتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو مختصر فرما دیا کرتے۔ معلوم ہوا کہ اُس دور میں عورتیں شیر خوار بچوں کو بھی مسجد نبوی شریف میں لایا کرتی تھیں اور آج تک لاتی ہیں۔
ہر آزاد مسلمان (مرد ہو یا عورت) پر نماز ہر حال میں فرض ہے، چاہے وہ ہوا میں اُڑ رہا ہو یا پانی میں ڈوب ہی کیوں نہ رہا ہو۔ نماز کو چھوڑ کر مخیر یا بااخلاق بننے کی کوشش کرنا سخت بھول ہے جس میں بہت سے لوگ مبتلا ہیں۔ خوب یاد رکھنا چاہیے کہ نماز کی حیثیت دین میں ویسی ہے جیسی بدن میں سر کی ہے، چنانچہ اِس کے قیام کے بغیر اسلام کا دعویٰ ہی بے دلیل ہے۔ اذان اسلام کے شعائر میں سے ہے، اِس لیے اِس کی خاص طور سے فکر کرنی چاہیے۔ عورتیں اذان نہیں کہہ سکتیں، البتہ نابالغ بچہ کہہ سکتا ہے۔ نماز کے بارے میں یہ بات بھی بغور سمجھنے کی ہے کہ اِس سے صرف آخرت نہیں بنتی بلکہ دنیا کی صلاح و بربادی بھی نماز کے قیام اور چھوڑ دینے پر منحصر ہے۔
روزہ بھی ویسے فرض ہے جیسے نماز۔ جس طرح کسی کے ادا کرنے سے کسی دوسرے کی نماز نہیں ہوتی، ویسے ہی روزہ بھی بذاتِ خود رکھنا لازم ہے۔ جو روزے چھوٹ گئے ہوں، اُن کی قضا بھی لازم ہے۔ اللہ نے کچھ خاص مواقع کے لیے جو چھوٹ دی ہے، اُسے بہانہ بناکر روزے کا مذاق نہیں بنانا چاہیے۔
زکوٰۃ کا مطلب اپنے مال میں سے مخصوص حصے کو نکال کر پھینکنا نہیں ہے۔ جس طرح نماز کے لیے موقع و محل دیکھنا اور پاکی پلیدی کی جانچ ضروری ہے اور ہر نمازی کے لیے بذاتِ خود ضروری ہے، ویسے ہی زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے بھی موقع ڈھونڈنا اور اُس کی جانچ پڑتال کرنا ہر ایک کے لیے ضروری ہے اور بذاتِ خود ضروری ہے۔ سال پورا ہوتے ہی زکوٰۃ کا حساب فوراً مکمل کرلینا چاہیے اور جب بھی کوئی درست مصرف نظر آئے تو اِس رقم کو احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ باوجود پوری تلاش کے جب تک درست مصرف نظر نہ آئے، تب تک اِس رقم کو استعمال نہیں کرنا چاہیے خواہ یہ کتنے ہی دن تک رکھی رہے۔ مالِ زکوٰۃ جمع کرنے والے لوگوں اور اداروں کے بارے میں کامل اطمینان کے بعد ہی زکوٰۃ اُن کے سپرد کرنی چاہیے کیونکہ اِس کے بعد زکوٰۃ دینے والا فقہی طور پر اِس فرض سے فارغ ہوجاتا ہے اور یہ تحقیق کہ مالِ زکوٰۃ کہاں لگایا گیا، اُس کے ذمے نہیں رہتی۔ یاد رکھنا چاہیے کہ زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد بھی لوگوں کے مالوں میں برکت اور اُن کے مالوں کی حفاظت اِس لیے نہیں ہوتی کہ اُن کے زکوٰۃ کی مد میں دیے ہوئے پیسے زکوٰۃ کے درست مصرف میں استعمال نہیں ہوتے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ زکوٰۃ ادا ہو اور مال کی حفاظت نہ ہو جب کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ مالِ زکوٰۃ کے درست مصرف میں نہ لگنے سے نہ صرف یہ کہ زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی بلکہ مال جیسی نعمت کے غلط مصرف میں لگنے کا گناہ بھی ہوتا ہے۔ اِس بارے میں خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔ زکوٰۃ کا صرف رمضان میں دیا جانا ضروری نہیں۔ پورے سال میں کسی بھی وقت کوئی مستحق نظر آجائے تو اُسے زکوٰۃ دے دینی چاہیے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کی ایک آسان ترتیب یہ بھی ہے کہ حساب کرلینے کے بعد کل رقم کو بارہ مہینوں پر تقسیم کرکے ہر مہینے ادائیگی کی جاتی رہے۔ یکمشت ادائیگی کبھی کبھی بوجھ بھی بن جاتی ہے۔
زکوٰۃ اِس انداز میں نہیں دینی چاہیے کہ لوگ اِسے اپنا حق سمجھنے لگیں، بلکہ اِسے اِس انداز میں لگانا چاہیے کہ زکوٰۃ لینے والا آئندہ کے لیے اِس کا مستحق نہ رہے اور خود زکوٰۃ دینے والا بن جائے۔ مدینہ شہر میں کوئی زکوٰۃ لینے والا اِس لیے نہیں ملتا تھا کہ اُن لوگوں نے مل جل کر سب ضرورت مندوں کو ایسی ترتیب بناکر زکوٰۃ دی تھی کہ کچھ ہی عرصے میں یہ سب کے سب اپنے پاؤں پر کھڑے ہوگئے تھے۔ زکوٰۃ کی درست ادائیگی کے لیے خاندان اور محلے کی سطح پر چھوٹے چھوٹے گروپ بنانے چاہییں یعنی کچھ کچھ لوگوں کو مل کر یہ کام کرنا چاہیے: ضرورت مند خود تلاش کریں اور خود خرچ کریں۔ اِس کی بہترین شکل یہ ہے کہ رشتے دار مل کر ہر بار اپنے کسی قریبی مستحق رشتے دار کو مناسب کاروبار کرادیں، اور اِسی طرح محلے دار، وغیرہ۔ زکوٰۃ کا مال جہاں کے امیروں سے لے کر جمع کیا گیا ہو اُسے اصولًا وہیں کے غریبوں پر خرچ کرنا چاہیے۔ جو رشتے دار جتنا قریبی ہے، وہ زکوٰۃ کا اُتنا زیادہ مستحق ہے۔ مدارس دینیہ اور سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم بے آسرا مسلمان طلبہ و طالبات مالِ زکوٰۃ کا ایک جائز مصرف ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ زکوٰۃ دینا فرض ہے، اور جو اِسے قبول کرے، اُس کا احسان ماننا چاہیے کہ اُس کی وجہ سے آپ اِس فرض کے ادا کرنے کے قابل ہوئے۔ اللہ بہت جزائے خیر دے ہمارے علمائے کرام کو کہ امت کے اِس بنیادی فرض کی ادائیگی کے لیے سبیلیں پیدا فرماتے رہتے ہیں۔
حج کی فرضیت کی بنیادی شرط اِس سفر کی استطاعت رکھنا ہے یعنی مالی اور بدنی اعتبار سے مضبوط ہونا۔ دوسروں کے ہدیہ کیے ہوئے پیسوں سے حجِ بدل ہوتا ہے نہ کہ حج۔ ہاں! اِس سے فریضۂ حج ادا ہوجاتا ہے اور حج کرنے والے کو زیارات اور عبادات کا اجر بھی ملتا ہے۔ حکومت کے کسی کو حج کرانے کی کوئی اصل نہیں ہے کیونکہ حکومت پر نہ تو حج فرض ہے اور نہ حجِ بدل کی کوئی تُک بنتی ہے۔ حج انسانوں پر فرض ہے نہ کہ حکومت پر۔ کوئی مسلم یا غیر مسلم حاکم کسی کو اپنے ذاتی مال سے حج کرادے تو اِسے حکومت کا کرایا ہوا حج نہیں کہیں گے۔ نیز جو حکومت خود قرضے پر چلتی ہو وہ کسی کو حج کیسے کراسکتی ہے؟ اور یہ بات معلوم ہے کہ اِس وقت پوری دنیا کی حکومتیں قرض لے کر کام کرتی ہیں۔ مقروض پر تو حج ویسے ہی فرض نہیں۔ جو لوگ کسی ادارے میں کام کرتے ہیں اور مالکِ ادارہ قرعہ اندازی یا نامزدگی کے ذریعے ملازمین کو حج کی سعادت حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے تو کسی کے ذاتی کاروبار کی حد تک تو اِسے یوں درست کہا جاسکتا ہے کہ اُس مالک نے اپنے لیے حجِ بدل کرایا ہے یا حج کے لیے رقم ہدیہ کی ہے، لیکن اگر ادارہ سرکاری ہو تو اجتماعی مال کے ساتھ ایسا حیلہ کرنا بڑی جرات ہے۔ فقہ میں اگرچہ بیت المال کی رقم سے حج کرانے کی اجازت موجود ہے لیکن تقویٰ میں عمومی کمی، مال کے بارے میں للچاؤ، اقربا پروری اور دیگر کئی وجوہ سے یہ عملًا مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ کوشش کرنی چاہیے کہ حکومت کے مال سے حج و عمرہ نہ کیا جائے۔
نبیِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مدینہ و مکہ شہروں میں عورتیں بھی دکانداری کرتی تھیں، بلکہ آج تک کرتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا مالِ تجارت لے کر بذاتِ خود سفر فرمایا ہے۔ معلوم ہوا کہ اسلام میں عورتوں کا ملازمت کرنا اور کاروبار کرنا ہرگز حرام نہیں ہے۔ ہاں! بے پرد ہونا حرام ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ عورتوں کو عصری تعلیم اور فنی تربیت دے کر معاشرے کا کارآمد رکن بنانا دورِ جدید کی روشن خیالی نہیں ہے بلکہ ابتدائے نبوت سے اسلام کی تعلیم ہے اور اِن کو عضوِ معطل بناکر گھر ہی میں ڈالے رکھنا دین کے فہم سے عاری ہونے کی علامت ہے۔ صحابہ کرام کی بیٹیاں اور بیویاں گھر کا خرچ چلانے کے لیے اپنے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی رہی ہیں۔ حضرت علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کی اہلیہ خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا اونٹوں کو کھلانے کے لیے کھجور کی گٹھلیاں پیسا کرتی تھیں اور اناج پیسنے کے لیے چکی چلاتی تھیں، اور اُن کے جسمِ اطہر پر پانی کی مشک مستقلًا لادنے کی وجہ سے نشان پڑگئے تھے۔ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں مخصوص ذکر ’’تسبیحاتِ فاطمہ‘‘ عنایت فرمایا تھا جس سے جسمانی مشقت سے ہونے والی تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے۔ یہ ذکر خاص عورتوں کے لیے ہے جس سے مرد بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیٹیاں ہی بیٹیاں تھیں جو گھریلو صنعت لگاکر کام کرتی تھیں۔ اُن سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو شخص ہر رات میں سورۂ واقعہ پڑھے، اُس کے گھر میں فاقہ نہیں آتا۔ پوری امت اِن محنتی اور کارگزار خواتین کی احسان مند ہے کہ اِن کی برکت سے امت کو یہ اعمال تعلیم فرمائے گئے۔ امت کی فلاح و بہبود کے لیے کوشش کرنا جیسے مسلمان مردوں کے ذمے ہے ویسے ہی مسلمان عورتوں کے بھی ذمے ہے۔
ایسی ہی کچھ غلط فہمیاں استخارہ، اعتکاف، صدقہ و خیرات، لباس، نکاح اور نکاحِ ثانی، عدت، ساس بہو کے جھگڑے کو مذہبی سٹنٹ بنانا، میڈیا اور تصویریت، قرض کی واپسی اور لین دین، اور قومی و ملّی شعائر و شخصیات کے احترام وغیرہ کے بارے میں بھی عام ہیں۔ استخارہ اللہ سے مشورہ ہے۔ مشورہ وہی کرتا ہے جس کا معاملہ ہو۔ یاد رکھیے کہ جب حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا تو اُنھوں نے جواب دیا کہ میں اپنے اللہ سے استخارہ کروں گی۔ آج یہ بات سمجھنے کے لیے بڑے بڑے دین دار بھی تیار نہیں ہیں۔ دیکھیے! اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام آیا ہے اور یہ خاتون خود استخارہ کرنے کا کہتی ہے! یہ اِس لیے تھا کہ اُن لوگوں میں دین کی سمجھ تھی۔ کیا یہ خاتون، ہماری ماں، ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا اِس بات سے ناواقف تھیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان کے نکلنے والی ہر بات اللہ کی منشا کے مطابق ہوتی ہے اور یہ کہ اُنھوں نے اللہ کے حکم ہی سے اُنھیں اپنا رشتہ بھیجا ہے؟ اِن لوگوں کو دین کی ایسی سمجھ تھی کہ اِس خاتون نے یہ بھی نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہو کہ وہ اُن کے لیے استخارہ فرمادیں۔ اپنے لیے استخارہ اُنھوں نے خود ہی کیا! اُن لوگوں کو شرم کرنی چاہیے جو استخارہ سنٹر بناکر سادہ لوح مسلمانوں کو لوٹتے ہیں۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ گاجریں کوئی کھائے اور پیٹ میں درد کسی اور کے ہو؟ میں ایک نوجوان کو جانتا ہوں جو ابھی خود شادی شدہ نہیں ہے اور استخارے کے لیے لڑکیوں کی تصویریں جمع کرانے کو کہتا ہے۔ اچھی طرح سمجھنے کی بات ہے کہ کسی بزرگ کا تو کیا سوال، لڑکی کے لیے استخارہ تو اُس کے ماں باپ تک نہیں کرسکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی سنت یہ ہے کہ شادی کے لیے استخارہ صاحبین معاملہ یعنی وہ لڑکا اور لڑکی خود کریں جن کا رشتہ ہونے کی بات چل رہی ہے۔ اگر اِن استخارہ کرنے والے لڑکا یا لڑکی کو کوئی اشارہ مل جائے تو ٹھیک، ورنہ یہ اللہ کی جانب سے اُن کے لیے گویا بلینک چیک ہے۔ اِن کے رشتے میں خیر ہی خیر ہوگی، اِس لیے کہ اِن دونوں نے اللہ سے مشورہ کرلیا ہے۔ اور اللہ سے مشورہ کرنے والا کبھی نامراد نہیں ہوتا! استخارے کی اِسی فلاسفی کو کاروبار، سفر، وغیرہ کے لیے بلاتکلف استعمال کیا جانا چاہیے۔
اعتکاف ایک مستقل سنت ہے۔ کسی معتکف کے لیے اگر گھر سے کھانا لانے لے جانے والے کا انتظام نہ ہو تو وہ خود کھانا لا اور لے جاسکتا ہے، اِس خدمت کے لیے کسی پر بوجھ بننا اور سوال کرنا ناجائز ہی نہیں بلکہ شدید مکروہ فعل ہے۔ رفعِ حاجت کے لیے گھر میں آیا جاسکتا ہے۔ ہاں! فالتو ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکنا چاہیے۔ سخت گرمی کے دنوں میں اعتکاف میں بیٹھے لوگوں کو نہانے سے روکنا اور سلام کا جواب تک دینے سے منع کرنا وغیرہ وہ شدتیں ہیں جو تمام بلادِ اسلامیہ میں صرف ہمارے ہاں ہی پائی جاتی ہیں۔ پاکستان کی ایک مسجد میں مکۂ معظمہ کے قدیمی رہائشی کچھ عربوں نے معتکفین کی یہ صورتِ حال دیکھی تو بہت جزبز ہوئے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنا سر مبارک گھر کے اندر کرکے تیل بھی لگوایا ہے، اور ایسا کرتے ہوئے سلام دعا بھی یقینًا فرمائی ہوگی۔ عورتوں کو بھی اعتکاف کی ترغیب دینی چاہیے اور اُن کے لیے اِس کا ماحول بنانا مردوں کے ذمے ہے۔
صدقہ بلاؤں کو دور کرتا ہے، لیکن اِس کی ادائیگی کے معاملے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں عام طور سے رواج میں ہیں جن سے مکروہ معاشرتی برائیاں وجود میں آتی ہیں۔ صدقے کے بارے میں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ کسی کو اِتنا مال دے دینا کہ وہ للچا جائے یا غلط فہمی کا شکار ہوجائے، یہ درست نہیں۔ زکوٰۃ کی طرح صدقہ بھی ایک ہی ضرورت مند کو بھی دیا جاسکتا ہے اور تقسیم کرکے کئیوں کو بھی۔ صدقے میں جانور کا ذبح کرنا درست ہے لیکن اِس کے لیے کالے رنگ کے جانور پر اصرار صرف ہم ہندی مسلمانوں کے ہاں ہے۔ کالی بلی راستہ کاٹ جائے تو ہندو اِسے بدشگونی سمجھتے ہیں، مسلمانوں نے شاید اِسی سے کالے رنگ کے جانور کی قربانی کو بدشگونی رفع کرنے کا سبب سمجھ لیا ہے۔ صدقہ روزانہ دینا چاہیے اور اِتنی مقدار میں کہ بوجھ محسوس نہ ہو۔ صدقہ و خیرات کرکے خود قلاش و محتاج ہوجانا بالکل درست نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے والے لوگوں کا مال قبول نہیں فرمایا، اور ایسوں کا بھی جو صدقہ و خیرات کرکے احسان جتاتے ہیں۔ صدقے کی حقیر سے حقیر مقدار بھی اللہ کے ہاں مقبول ہے۔ کسی کو اچھی بات بتا دینا اور خندہ پیشانی سے پیش آنا بھی صدقہ ہے۔ کسی کے لیے کچھ پڑھ کر اُسے بخش دینا بھی صدقہ ہے۔ ایسا صدقہ جس کا سلسلہ مرنے کے بعد بھی ختم نہ ہو صدقۂ جاریہ کہلاتا ہے: مسجد، پل یا تالاب بنوا دینا، کسی کو عالم، حافظ یا قاری بنا دینا، کسی کو عصری تعلیم دلا دینا کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کرسکے اور معاشرے کا کارآمد فرد بن سکے، دینی یا دنیاوی علوم کی درسگاہ بنوا دینا، وغیرہ۔
اب لباس کی طرف آئیے۔ اسلام نے لباس کے آداب اور رکھ رکھاؤ (Dress code) دیا ہے نہ کہ فی نفسہٖ کوئی خاص لباس، اور یہ اِس لیے ضروری تھا کہ اسلام نے قیامت تک کے زمانے کے لیے اور دنیا کے گرم و سرد اور بنجر و شاداب ہر علاقے کے لیے اپنے آپ کو قابلِ قبول بنانا تھا۔ بلکہ ایک اِس دنیا ہی کے لیے کیا، جتنے سیارے اِس کے علاوہ ہیں اور جتنے ابھی دریافت ہونے والے ہیں اُن سب میں جہاں جن و انس آباد ہوسکتے ہیں اُن کے لیے مناسبِ حال شرعی پہناووں کا متنوع حل دینا بھی اِس عالمی و فطری مذہب کے لیے ضروری تھا۔ معاشرتی دباؤ اور چلن کی وجہ سے لباس کے بارے میں غیر ضروری شدت بلکہ لباس کو ’’اسلامی‘‘ اور ’’غیر اسلامی‘‘ تک قرار دے دینا ہماری دلچسپ اسلامی حماقتوں میں سے ہے۔ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام عمر دھوتی پہنی، شلوار کبھی نہیں پہنی، اور نہ کبھی شیروانی پہنی۔ ہمارے دین دار لوگ شلوار ہمیشہ اور شیروانی اکثر پہنتے ہیں، لیکن حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھر کی سنت یعنی دھوتی البتہ بالکل نہیں پہنتے۔ اِلّا ماشاء اللہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کی مانگ کے بارے میں احادیث موجود ہیں۔ چنانچہ یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ کچھ لوگوں نے اِسے دیکھا تھا تو ہی یہ حدیثیں بیان ہوئی ہیں۔ سر کا ڈھکا ہونا ادب بھی ہے اور سنت بھی، لیکن اِسے ٹھیٹھ اسلام اور غیر اسلام کا مسئلہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ سید ذوالکفل مرحوم فرماتے تھے کہ اتباعِ سنت میں ٹوپی ضرور پہننی چاہیے، لیکن اتباعِ سنت ہی میں اِسے کبھی کبھی اتار بھی دینا چاہیے۔ کالر والے کوٹ اور کالر والی یا گول گھیرے والی قمیص کو عیسائیت کا نشان سمجھنا بھی دورِ حاضر کی شدید غلط فہمی ہے؛ لباس کی یہ وضع قطع قدیم مسلمان عمائدین سے لے کر خلافتِ عثمانیہ کے اہلکاروں کے سرکاری لباسوں تک میں ملتی ہے۔ لڑکیوں کو فراک پہنانا بھی برِ عظیم پاک و ہند میں بڑی دیر تک دین باہر ہونے کی علامت رہا ہے کیونکہ یہ لباس فرنگنیں اپنے ساتھ لائی تھیں، حالانکہ معلوم ہے کہ اِس لباس میں پردہ زیادہ ہے۔ پتلون کو ٹھیٹھ فرنگی لباس سمجھنا بھی راہِ اعتدال سے ہٹ جانا ہے؛ حضرت عمر اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کی اسلامی فوج کے یونیفارم کی وضع ایسی ہی رہی ہے اور آج تک کی مسلمان افواج میں چلن میں ہے۔ اِسی طرح ٹائی کو صلیب سمجھنا بھی ایک دیرینہ اسلامی لطیفہ رہا ہے۔ المختصر ضرورت کے وقت ایسے پہناوے استعمال کرلینے والے مسلمانوں کے بارے میں دل برا نہیں کرنا چاہیے۔ دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں یہ اور ایسے لباس اب عام شہری اور دفتری چلن میں ہیں۔ خلاصۂ کلام یہ کہ کوئی لباس اسلامی یا غیر اسلامی نہیں ہوتا؛ جس جگہ کے مہذب مسلمان جو لباس عام طور سے اختیار کرلیں وہی وہاں کا عام مذہبی لباس ہے۔
عورتوں کے لباس کی اسلامائزیشن کے بارے میں بھی ایسی ہی کئی غلط فہمیاں ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ پردہ اسلام کے شعائر میں سے ہے اور مسلمان عورتوں کا امتیازی نشان، اور برقع پردہ کرنے کے لباسوں میں سے ایک لباس ہے۔ لہٰذا موقع و محل کے مطابق پردے کے لیے برقع یا کوئی اور لباس یعنی چادر وغیرہ استعمال کی جاسکتی ہے۔ برقعے کی کوئی بھی وضع قطع مسنون نہیں ہے۔ ٹوپی والا تو برقع تو خالص ہمارے علاقے کی ایک ڈیڑھ صدی پہلے کی ایجاد بلکہ بدعتِ حسنہ ہے۔ جب اِس میں شدت کی گئی تو اِس کے لازمی ردِ عمل کے طور پر ایسے برقعے نظر آنے لگے جو اِتنے جاذبِ نظر اور چست ہوتے ہیں کہ پہنے ہی اِس لیے جاتے ہیں کہ کوئی دیکھے تو بار بار دیکھے، بلکہ ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا کا دیکھتا رہ جائے۔ پہلی نظر معاف ہے؛ یہ پہلی نظر اگر ختم ہو تو دوسری کی باری آئے۔ یعنی برقعے کا مقصد ہی فوت ہوگیا۔ نیز کئی صورتیں بھی ایسی ہوتی ہیں کہ اگر برقع نہ پہنیں تو اُنھیں کوئی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھے۔ چنانچہ ایسا برقع ہی داعیِ گناہ بن جاتا ہے۔ واضح رہے کہ جس برقعے یعنی بڑی چادر کا ذکر احادیثِ پاک میں ملتا ہے اُس وضع قطع والا پہناوا وہ ہے جو آج عبایا کے نام سے پہچانا جاتا ہے اور ایران، عراق، شام و فلسطین وغیرہ میں عام رواج میں ہے۔ میں ایک بار سید ذوالکفل مرحوم کے ساتھ ایک اسلامی ملک کے سفارت خانے میں گیا جہاں کے عملے میں ایک برقعے والی پاکستانی لڑکی بھی تھی اور دفتری کوٹ کے ساتھ گھٹنوں تک سکرٹ پہنے ہوئے ادھ ننگی ٹانگوں والی کچھ انگریزنیاں بھی۔ بھائی ذوالکفل نے چھوٹتے ہی کہا کہ اِس برقعے والی جھانپو کبوتری کو دیکھ کر وہ حدیث پاک یاد آئی کہ کچھ عورتیں کپڑے پہنے ہوئے بھی ننگی ہوں گی۔ بات چلی تو مزید فرمایا کہ دفتر میں کام کرنے والے مردوں اور عورتوں کو یونیفارم کی طرح کا کوئی مخصوص دفتری لباس پہننے کی پابندی ہونی چاہیے کیونکہ اِس سے بہت حفاظت رہتی ہے۔
عورتوں کو برقعے میں اِتنا چھپا ہوا نہیں ہونا چاہیے کہ اُنھیں پہچانا ہی نہ جاسکے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ برقعے کا مقصد زینت کو چھپانا ہے نہ کہ عورت کی شناخت کو چھپانا۔ شناخت کو چھپانا شرعًا اور قانونًا جرم ہے، اور خصوصًا آج کے حالات میں تو اپنی شناخت لازمًا خود ہی کرانی چاہیے۔ لیکن اِس سب بحث سے عورتوں کے لیے پورے جسم خصوصًا چہرے کا پردہ نہ کرنے کا جواز نہیں ڈھونڈنا چاہیے۔ پردے کا حکم بالکل وہی ہے جو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد فرمودہ ہے۔ اللہ کے احکامات قیامت تک تبدیل نہیں ہوں گے۔ حیا مسلمان کا زیور ہے اور برقع و چادر مسلمان عورتوں کے لیے اِس کا ظاہری لباس ہے، چنانچہ یہ اسلام کے شعائر میں سے ہے۔ اِس پر کسی حال میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ اللہ بہت جزائے خیر دے ہماری اُن خواتین کو جنھوں نے دین کے اِس شعیرہ کو زندہ رکھا ہے۔
اگلی بات نکاح و شادی سے متعلق ہے۔ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین حلقے کے ایک مالدار ترین صحابی حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک روز خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو کپڑوں پر کچھ زعفران کا سا رنگ تھا جیسا کہ اُس دور میں شادی کا معمول تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ہمیں بلایا ہوتا تو ہم بھی آپ کی شادی میں شرکت کرتے۔ معلوم ہوا کہ شادی کرنا اُس دور میں اِس قدر آسان ہوگیا تھا اور اِس کو کوئی ایسا موقع تصور نہیں کیا جاتا تھا کہ ضرور ہی ساری برادری اور سبھی اہم لوگوں کو جمع کیا جائے۔ شادی کا اعلان ضروری ہے نہ سب کو جمع کرنا، کئی کئی روز تک پرتکلف کھانے کھلانا اور پوری برادری میں جوڑے بانٹنا۔ رسموں کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں پڑجانے کی وجہ سے ہم لوگوں نے شادی کو خاندان کی معاشی موت بنا دیا ہے۔ عربستان میں نکاحِ مسیار کا مسئلہ اِنہی رواجی خرچوں کو درجۂ اسلام تک پہنچا دینے کی شدت کا لازمی نتیجہ ہے جو ہماری مسلمان بہنوں بیٹیوں نے عفت اور فطرت کی زندگی گزارنے کے لیے تنگ آکر شروع کیا ہے۔ کیا معلوم کچھ عرصے میں یہ ’’بغاوت‘‘ ہمارے ہاں بھی ہوجائے۔ نکاح اور شادی دو الگ الگ چیزیں ہیں: نکاح کو سنت کے مطابق کرنا چاہیے اور شادی یعنی اِس موقع کی خوشی کو اپنے رواج، آسودگی اور سہولت کے مطابق اسراف سے بچتے ہوئے سادگی سے کرنا چاہیے۔ یاد رکھیے کہ اگر شادی یعنی نکاح کے موقع کی خوشی کو بڑے پیمانے پر منانے کی استطاعت نہ ہو تو اِس کی وجہ سے نکاح کو موخر نہ کرنا چاہیے۔ اگر اِن دونوں مواقع کو ایک دوسرے سے ذرا سا الگ کرکے کرنے کا رواج بنا لیا جائے تو بہت سہولتیں ہوسکتی ہیں اور سفید پوشی کا بھرم رہ سکتا ہے۔ اور اِس کے ذیلی نتائج میں گھر بیٹھی بوڑھی ہوتی لڑکیوں کو پرنانے کے مسئلے کا آسان حل بھی پوشیدہ ہے۔
وقت پر شادی نہ ہونے کی اُتنی بڑی وجہ معاشی ناآسودگی نہیں ہے جتنی کہ ذات برادری۔ اِسے کیا کیجیے کہ ذات برادری کے خالصتًا رواجی چکر کو بھی مذہب کی حمایت عطا کردی جاتی ہے۔ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اُن کی اتباع میں سبھی صاحبِ استطاعت صحابہ کرام نے خود مختلف خاندانوں میں شادیاں کرکے اور برادری باہر والوں میں اپنی بیٹیاں اور بہنیں دے کر اِس جہلِ مرکب کو ختم کرنے میں اپنا شاندار کردار ادا فرما دیا ہے۔ ہم میں سے کسی کی بیٹی نبیِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں سے زیادہ عالی خاندان کی نہیں ہے، اور یہ بات معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹیاں باہر دی ہیں، لہٰذا بیٹی خاندان سے باہر دینا سنت بھی ہے۔ خاندان باہر والوں سے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اِتنے راضی تھے کہ فرمایا کہ اگر میری سو بیٹیاں بھی ہوتیں تو بیاہ دیتا۔ اوروں کا تو کیا ذکر، افسوس اِس پر ہے کہ آج پاکستان و ہندوستان میں سید ہی وہ لوگ ہیں جو اِس سنت کو پوری قوت کے ساتھ چھوڑے ہوئے ہیں، چنانچہ اِن کی دیکھا دیکھی ارائیں، جٹ، راجپوت، اعوان، وغیرہ بھی خاندانی عصبیت کی اِسی رو میں بہہ نکلے ہیں۔ اِس (ظاہراً) نابرابری کے مسئلے کو مستقبل میں بڑھتا دیکھ کر شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے، کہ خود سید تھے، لکھا تھا کہ ہندوستان میں راجپوت سیدوں کے کفو یعنی برابر ہیں (اُس وقت میں یہاں بڑی راجدھانیاں راجپوتوں کی تھیں)۔ بین الخاندانی، بین البرادری، بین المللی اور بین الثقافتی شادیوں میں قومی، صوبائی، لسانی وغیرہ منافرتوں کا جڑ سے اکھیڑ دینا بھی پنہاں ہے، اور اسلام کے ابتدائی زمانے میں تو شادیوں سے یہ کام بطورِ خاص لیا گیا ہے۔ حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مفہوم ہے کہ میں نے نکاح سے زیادہ کسی چیز کو جوڑنے والا نہیں پایا۔ چنانچہ جو چیز ضروری ہے وہ یہ کہ رشتہ تلاش کرتے وقت معاشی، سماجی، ذہنی و تعلیمی، جسمانی اور صحت وغیرہ کے اعتبارات سے برابری کو پہلے دیکھا جائے اور صرف برادری ہی پر اصرار نہ کیا جائے۔ ہمارا عمومی حال یہ ہے کہ ہم برابری سے مراد صرف برادری لیتے ہیں، اور نتیجۃً بچوں بچیوں کو زندہ گاڑ دیتے ہیں۔
برابری کا دیکھا جانا کتنا ضروری ہے، اِس کے لیے یہی مثال دینا کافی ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق سماجی نابرابری کی وجہ سے دلوائی تھی کیونکہ اِس عالی خاندان آزاد خاتون کا نکاح غلام مرد سے ہوا تھا۔ خاندان برادری کی اکڑ کے ساتھ ساتھ ایک شدید غلط فہمی دین داری اور تعلیم کے معاملے میں بھی ہے۔ بیٹیوں کے لیے کسی حسن بصری کے انتظار میں اور بیٹوں کے لیے رابعہ بصری کے انتظار میں اولاد کو بٹھائے رکھنا اور شادی کی عمر گزار دینا کہاں کا اسلام ہے؟ ہم ذرا سے کم پر کیوں راضی نہیں ہوجاتے؟ کیا ہم خود ہر کمی سے پاک ہیں؟ کیا ایک مسلمان لڑکا یا لڑکی جو آج ذرا سا کم دین دار ہے، کسی نسبۃً زیادہ دین دار خاندان میں شادی ہونے کی برکت سے بہتر مسلمان بننے کا امکان نہیں رکھتا؟ نیز اگر بیٹی زیادہ پڑھی لکھی ہے تو کیا نسبۃً کم پڑھا لکھا لڑکا نہیں چل سکتا؟ اور اگر ڈگری کی برابری کے بغیر رشتہ نہیں سِرتا تو کیا لڑکے کے شادی کے بعد تعلیم جاری رکھے رکھنے پر کوئی شرعی یا قانونی پابندی ہے؟ ذات برادری کے ساتھ ساتھ جائیداد کی تقسیم کا مسئلہ اور جائیداد کا چتھیرا جانا بھی لڑکیوں کو بٹھائے رکھنے کا سبب ہے۔ یہ جھوٹ نہیں ہے کہ برِ عظیم پاک و ہند کے کچھ علاقوں میں لڑکی کا نکاح مرغے کے ساتھ اور کہیں قرآن کے ساتھ کردیا جاتا ہے۔ اِس مذاق کا اسلام جیسے فطری مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں سوائے اِس کے کہ یہ مذاق کرنے والے مسلمان ہیں!
اِس وقت عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہوچکی ہے۔ ساری دنیا کے چلن دار مذاہب میں اِس گمبھیر مسئلے کا حل صرف اور صرف مسلمانوں کے پاس ہے، اور یہ اسلام کے فطری مذہب ہونے کی ایک زندہ علامت ہے کہ اِس کے پاس ہر دور کے مسائل کا حل موجود ہے۔ موت فوت ہر ایک کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ یورپ و امریکہ اور بہتیرے بلادِ اسلامیہ کے مسلمانوں میں طلاق یافتہ یا بیوہ لڑکی کی دوسری شادی میں کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا کیونکہ وہاں کے لوگ اپنے ماحول کی وجہ سے ایسے سانحات کو لازمی سماجی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں جو کسی کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے، چنانچہ ایسے سانحات کا شکار لڑکیوں کو منحوس یا دوسرے درجے کا شہری تصور نہیں کیا جاتا جیسا کہ ہمارے ہاں عام ہے۔ غضب خدا کا، میں نے ایک نئی شادی شدہ لڑکی اور اُس کی ماں کو دیکھا کہ وہ ایک نوجوان بیوہ کے ہاں تعزیت کے لیے جانے سے گریزاں تھیں، اور جب مارے باندھے چلی ہی گئیں تو اُس بے چاری کے پیش کردہ گلاس ہاتھ میں پکڑنے سے انکاری تھیں۔ بالآخر اُن کی مہمانداری خاندان کی ایک اور خاتون نے کی۔ ہندوؤں کے سماجی اثرات کو قبول کرتے کرتے ہم ہندی مسلمان یہاں تک تو آگئے ہیں کہ اچھے بھلے دین دار لوگ بھی بیوہ/ طلاق یافتہ لڑکی کو منحوس جانتے ہیں، چنانچہ اُس کی دوسری شادی کا تو کیا سوال۔ کیا معلوم ہندو عورتوں میں ستی ہوجانا اِسی لیے شروع ہوا ہو کہ خاوند کے بعد دھتکاریں نہ پڑیں کیونکہ کسی اور سے تو شادی ہو نہیں سکتی۔ ہم مسلمانوں کی ایسے سانحے سے گزری ہوئی لڑکیاں زندگی کی آخری سانس تک زندہ ستی ہوتی رہتی ہیں۔ کیا ابھی بھی وقت نہیں آیا کہ ہم اسلام کے ہندوستانی ورژن کی بجائے اصل ورژن پر عمل کرنے کو لازم پکڑیں؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بڑی بیٹی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی کم و بیش چھے (۶) شادیاں ہوئیں۔ اِن پے در پے شادیوں کے باوجود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سمیت کسی کی ناک نہیں کٹی اور نہ ہی یہ محترم خاتون کبھی نشانۂ تعریض بنیں۔ کیا ہماری بیوہ بہنیں بیٹیاں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے زیادہ محترم ہیں، یا خاکم بدہن ہم یارؐ اور یارِ غارؓ سے زیادہ غیور ہیں؟ بیوہ یا مطلقہ کسی بھی عمر کی ہوں، اُن کو فارغ نہ رکھنا اور عدت و سوگ کا زمانہ ختم ہوتے ہی جلد سے جلد دوبارہ بیاہ دینا، بلکہ عدت کے اندر ہی سلسلۂ جنبانی شروع کردینے میں بھی کوئی عیب نہ سمجھنا، وہاں کے معاشرتی رواج میں لے آیا گیا تھا۔ اِس میں بڑی بچت ہے، کیونکہ یہ عینِ فطرت ہے۔
کنوار پنے کی نسبت رنڈاپا پاکبازی سے گزارنا زیادہ مشکل ہے، عورتوں کے لیے بھی اور مردوں کے لیے بھی۔ کھلی آنکھوں سے اِرد گرد کے حالات پر ذرا غور کیجیے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ فقہ میں زنانِ شوہر دیدہ کے لیے احکامات مختلف کیوں ہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود زیادہ شادیاں کرکے اور اُن کی اتباع میں حضرات صحابہ کرام نے بھی ایسا کرکے اسلام کے ابتدائی دنوں میں وہ صورت بنادی تھی کہ پورے شہر اور خاندان میں کوئی عورت خالی نہ رہتی تھی۔ اُس معاشرے میں ہر عورت کے سر کا سائیں ضرور ہوتا تھا اور کوئی عورت گواچی گائے کی طرح نہیں پھرتی تھی۔ یہی وجہ ہوئی کہ وہاں نہ صرف پردے پردے بدکاری بلکہ پیشہ ورانہ بدکاری بھی کم سے کم ہوتی گئی اور نکاح آسان سے آسان ہوتا گیا، یہاں تک کہ ایک صحابی دوسرے کو اپنا وکیل بناکر ایک گھر میں پیغام دے کر بھیجتا ہے، وہ واپس آتا ہے تو اُس وکیل ہی کو قبول کرلیا گیا ہوتا ہے، اور اِس پر اِن دونوں میں کوئی شکر رنجی نہیں ہوتی۔ اِس فطری انسانی ضرورت کی پکار پر ہاں کہتے ہوئے کچھ مسلم معاشروں میں یہ رواج رہا ہے کہ وہاں رہنے کے لیے ہر مرد کو شادی کرنا لازم ہوتا تھا۔ بیواؤں اور مطلقہ عورتوں کی شادی کے ضمن میں اگر ہماری عورتیں ذرا سا دل بڑا کرلیں اور اتباعِ سنت میں دوسری بہن کو برداشت کرنا سیکھ لیں تو یہ مسئلہ مسئلہ ہی نہیں رہتا۔ الغرض اگر نکاح کو آسان بنایا جائے اور نکاحِ ثانی والی منشائے دین محمدی کو رواج میں لانے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تو جہاں تاعمر غیر فطری زندگی گزارنے، جنسی و سماجی گھٹن، لوگوں کی نگاہوں میں ہمدردی کے تکلیف دہ پیغام پڑھنے، کنواریوں اور سہاگنوں کو اپنی پرچھاؤں سے بچتے پانے، اور طرح طرح کے گناہوں اور بدکاری میں کمی ہوگی وہاں معاشرے میں بحیثیت مجموعی معاشی ترقی بھی ہوگی کیونکہ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مفہوم ہے کہ نکاح سے معاشی آسودگی ملتی ہے، اور اگر ایک نکاح سے نہیں ملتی تو دوسرا نکاح کرنا چاہیے اور اِسی طرح تیسرا۔ ہاں! نکاحِ ثانی کا مسئلہ صرف عورتوں کا نہیں ہے۔ میں نے کئی ایسے ادھیڑ عمر کے مرد دیکھے ہیں جو بیوی کے داغِ مفارقت دے جانے یا کسی لاعلاج مرض کا شکار ہوجانے کے بعد سماجی دباؤ کی وجہ سے ساری زندگی رِس رِس کر گزار دیتے ہیں۔ یہ بھی ہندوؤں کے سماجی اثرات قبول کرنے کا نتیجہ ہے۔
ایک ایسا ہی مسئلہ عدت کا ہے جس کی شرح میں ہر عیسیٰ کا اپنا دین ہے اور ہر موسیٰ کا اپنا۔ کسی خاتون کا شوہر فوت ہوجائے تو جہاں وہ بے آسرا ہوجاتی ہے، وہاں کئی رشتے دار بھی اُس کا خیال رکھنے کے اسلامی حکم کی کچھ ایسی تاویلات کرتے ہیں کہ خاکم بدہن عدت کے مسائل کا پتھراؤ شروع کردیتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ عدت الگ حکم ہے اور خاوند کا سوگ الگ۔ معاشرتی دباؤ کی وجہ سے ہمارے ہاں یہ مغالطہ بڑے بڑوں کو لگا ہوا ہے کہ عدت اور سوگ ایک ہی چیز ہیں۔ عدت کی مدت وضعِ حمل تک ہے جس کا مقصد حمل کی تحقیق ہے۔ چنانچہ بچہ پیدا ہوتے ہی یا حمل کے کسی بھی وقت گر جانے سے عدت فوراً ختم ہوجاتی ہے، سوگ البتہ باقی رہتا ہے۔ جس عورت کی بچہ دانی آپریشن کرکے نکالی جاچکی ہو، اُس کی عدت صرف سوگ ہے، کیونکہ جب محل حمل ہی موجود نہیں تو حمل کی تحقیق کا کیا سوال۔ اور سوگ کا مطلب اور مقصد بھی بے جا آرائش سے گریز ہے نہ کہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے رہنا اور کنگھی تیل تک نہ کرنا۔ عدت کے اندر بھی عورت ضروری سفر کرسکتی ہے اور جتنی بار ضروری ہو اُتنی بار کرسکتی ہے، مثلًا ڈاکٹر کے ہاں جانا، یا مثلًا جس دفتر یا بنک میں حاضری ضروری ہو وہاں جانا جیسے پنشن وغیرہ سے متعلق امور میں۔ مختصراً یہ کہ جہاں جانا شرعًا یا قانونًا ضروری ہو، وہاں دورانِ عدت و سوگ بھی آیا جایا جاسکتا ہے۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ دورانِ عدت سفر کی اِس شرعی چھوٹ کو رسمی تقریبات وغیرہ میں جاکر مذاق نہیں بنانا چاہیے۔ نیز اگر یہ بیوہ خود ملازمت کرتی ہے اور اِس کا دفتر عدت کے پورے سوا چار مہینے کی چھٹی نہیں دیتا تو اِسے دفتر کے قانون سے ٹکرانے کی شرعًا اجازت صرف اِسی صورت میں ہے کہ روزی روٹی کی محتاجی نہ ہوجائے۔ ہمارے معاشرے میں عدت اور سوگ دونوں کو بے چاری بیوہ کی مسکینی کے بقدر گاڑھا کیا جاتا رہتا ہے اور اِن میں ایسی ایسی موشگافیاں کی جاتی ہیں کہ بیوہ عملًا ایک اچھوت اور بوجھ بلکہ نشانِ عبرت بن کر رہ جاتی ہے۔
ساس بہو اور نندوں کا جھگڑا بھی ہمارا خالص ہندوستانی سماجیات کا مسئلہ ہے جسے بوجوہ مذہب کی سان پر چڑھاکر اسلام کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ اسلام کے آغاز میں اِس مسئلے کا وجود ہی نہیں تھا۔ وجہ یہ تھی کہ بلادِ عرب میں بلکہ آس پاس کے سبھی علاقوں کی ثقافتوں میں شادی کرتے ہی لڑکا لڑکی کو الگ کردیا جاتا تھا (اور ہے)۔ اِس میں شک نہیں کہ عورتوں کے دین کا بہت بڑا حصہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، لیکن ذرا توجہ سے دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ اِس سب ذخیرۂ حدیثِ پاک میں ساس بہو سے متعلق ایک بھی حدیث نہیں ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے، کہ اُن کو کبھی ساس سے واسطہ ہی نہ پڑا تھا۔ چنانچہ ساس بہو کے جھگڑوں سے نبٹنے کی جتنی بھی صورتیں ہیں، وہ سب کی سب استنباطی ہیں نہ کہ دینی۔ حدیثیں اور آیتیں جوڑ کر اُنھیں ساس کی عزت کے لیے استعمال کرانا نہایت درجہ کی جرات ہے۔ لڑکی کو لڑکے کے لیے بیاہ کر لایا جاتا ہے نہ کہ لڑکے کے گھر والوں کے لیے، اور خصوصًا ساس صاحبہ کی ’’خدمت‘‘ کے لیے۔ گھر کے سب لوگوں کے کام کرنا ہرگز لڑکی کے ذمے نہیں ہے، نہ شرعًا نہ اخلاقًا۔ وہ اگر کوئی ذمہ داری لیتی ہے تو یہ اُس کا احسان ہے۔ اللہ نے تو عورت کے لیے بچے کو دودھ تک پلانا لازم نہیں کیا۔
گھر میں جھگڑا اِس بنیادی بات یعنی حقوق و فرائض کی طرف توجہ نہ دینے سے شروع ہوتا ہے، اور بڑھتے بڑھتے اخلاق و مروت اور شرم و حیا کی سب حدوں کو ملیا میٹ کردیتا ہے۔ لڑکی کا گھر اجاڑنے میں (اُس کی اپنی ماں کے بعد) ساس کے علاوہ شاید ہی کوئی عورت وجہ بنتی ہو، کیونکہ اُسی کو اِس نئی لڑکی کی آمد سے اپنا راج سنگھاسن ڈولتا محسوس ہوتا ہے۔ چنانچہ گھر میں جھگڑوں کی وجہ بڑے بنتے ہیں نہ کہ چھوٹے۔ گھر میں بڑے اگر بڑا بن کر رہیں تو چھوٹوں کے چھوٹا بن کر رہنے کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے، اور اِس کے لیے ضروری ہے کہ ہم دین پر چلیں نہ کہ رواج پر۔ اور جیسا کہ اوپر کی گفتگو سے معلوم ہوا، دینِ اسلام میں خالص ہندی اصطلاح میں ’’مشترک خاندان‘‘ کا ہرگز کوئی تصور نہیں ہے۔ اِس بات کو صاف لفظوں میں لکھنا ضروری ہے کہ میں یہاں خاندانی نظام کے خلاف بات نہیں کر رہا جو ہم ہندوستان و پاکستان والوں پر اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، بلکہ خاندانوں کی ’’دولتِ مشترکہ‘‘ (Union) کے تصور کی بات کر رہا ہوں۔ چھوٹے چھوٹے یونٹ مل کر ایک دوسرے کے لیے زیادہ کارآمد اور قابلِ قبول ہوسکتے ہیں نہ کہ ایک بڑا گھر جہاں کے مکینوں کو صرف دیواروں نے ایک جگہ جمع کیا ہوا ہو! ’’مشترک خاندان‘‘ کی صورت میں رہنے میں پردے کا حکم بھی ٹوٹتا ہے۔ پورے پاکستان میں گنتی کے چند گھر ہوں گے جہاں شرعی پردہ ہوگا؛ اور اِن میں کے کچھ گھروں کو میں جانتا ہوں کہ مشترک خاندان ہونے کی وجہ سے پردے کی یہ صورت مکینوں کے لیے وبالِ جان بنی ہوئی ہے اور آئے دن کے جھگڑوں کی وجہ سے نوبت بغاوت تک آپہنچی ہے۔
یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ گھروں میں جھگڑوں کی اُتنی بڑی وجہ معاشی ناآسودگی اور سماجی ناہمواری نہیں ہے جتنی کہ بڑے چھوٹے کا لحاظ ملاحظہ نہ کرنا۔ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اپنی اولاد کا اکرام کرو۔ ہم اولاد سے تو اکرام و احترام چاہتے ہیں، خود اُن کا اکرام کرنے میں البتہ کمی کرتے ہیں۔ بچوں کو بلاوجہ اِدھر اُدھر دوڑاتے پھراتے ہلکان کرنا کوئی اچھی عادت نہیں ہے۔ ہاں! ماں باپ اپنے بچوں سے روزانہ ایسی جسمانی خدمت ضرور لیا کریں کہ اُن کے لیے اپنے گھر کا/ کی ہونے کے بعد یہ بوجھ محسوس نہ ہو بلکہ اِس میں وہ اپنی سعادت جانیں۔ حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے، لیکن حدیثِ پاک ہی میں باپ کو جنت کا دروازہ کہا گیا ہے جس کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ خاوند کا لغوی معنی ہی خدا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک فرمان کا مفہوم ہے کہ اگر خدا کے علاوہ کسی کو سجدہ جائز ہوتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں۔ خاوند بلائے تو عورت کے لیے نماز جیسی عبادت کو مختصر کرکے اور اگر نفل پڑھ رہی ہو تو نیت توڑ کر جانے کا حکم ہے۔ عورت کی ہر نفلی عبادت یہاں تک کہ روزہ بھی خاوند کی اجازت پر موقوف ہے۔ یہ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح احکامات ہیں۔ اب ایک نظر اپنے اِردگرد دوڑائیے تو معلوم ہوتا ہے کہ میڈیا کے شور شرابے سے صنفی مساوات کے بہکاوے میں آکر مسلمان معاشرے کا یہ بنیادی یونٹ یعنی خاندان شدید ابتری کا شکار ہوچکا ہے۔ لڑکیوں کو خاوندوں کی عزت کرنا سکھانا ماؤں کے ذمے ہے، اور ظاہر ہے کہ لڑکیاں یہ کرداری خوبی اپنی ماؤں کے ذاتی عمل سے روزانہ کی بنیاد پر سیکھتی ہیں۔ چنانچہ اگر اپنے ذاتی عمل سے بڑے چھوٹے کی تمیز سکھا دی جائے تو یہ مسئلہ مسئلہ ہی نہیں رہتا۔ یاد رکھنا چاہیے کہ تمیز کوئی ٹیکہ نہیں ہے جسے لگا دینے سے بچے بچی کی رگوں میں تمیز داری دوڑنے لگے؛ یہ بڑی توجہ سے اور مستقل کرنے کا کام ہے جس میں خاندان کے بڑوں کا اپنا دیرینہ عمل ہی اصل محرک اور مثالی نمونہ ہوتا ہے۔
تصویر اور میڈیا کے ناجائز ہونے کے بارے میں ایک طرف اِتنا غلو کیا گیا اور دوسری طرف اِتنی آزادی برتی گئی ہے کہ اب تو اِس پر سنجیدگی سے کہنے کو کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا۔ ابھی تو اُن پاک نفس علما کی آوازیں میرے کانوں میں گونجتی ہیں جو سرے سے اخبار ہی پڑھنے کے قائل نہ تھے، کہ اِن سے جھوٹ اور غیبت کی اشاعت ہوتی ہے اور تجسس۔ آج کیا ٹی وی اور انٹرنیٹ، اور کیا اخبار کا رنگین صفحہ، لگتا ہے کہ تشہیر کا کوئی بھی ذریعہ اب ویسا حرام نہیں رہا جیسا کہ اب سے صرف دس سال پہلے تک ہوتا تھا۔ مذہبی مکالمہ ہو، سماجی و سیاسی مباحثہ ہو، پریس کانفرنس ہو یا انٹرویو، اِس کے لیے میک اپ کے ساتھ کیمرے کی روشنیوں میں بیٹھنا آج بہت سے لوگ جائز سمجھنے لگے ہیں۔ حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے گھروں کے بڑوں نے ایک پیڑھی پہلے کے علماء کی تقریریں سن کر ٹی وی سیٹ توڑ ڈالے تھے۔ القصہ تصویر جہاں ضروری ہو وہاں اتروانی چاہیے، اور اِس کو اسلام اور غیرِ اسلام کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ جامعہ الازہر، سعودی محکمۂ افتاء اور پاکستان کے بڑے دار ہائے اِفتا نے سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے سکیورٹی کیمروں کے سامنے مرد و عورت دونوں کے لیے پورا چہرہ کھول کر اور آنکھیں چار کرکے تصویر بنوانے کو ضروری قرار دے دیا ہے۔ اللہ پاک حضرات مفتیانِ کرام کو بہت جزائے خیر دے کہ اِن کی بدولت امت کا بڑا حصہ احساسِ گناہ کے ساتھ جیے جانے کے بوجھ سے آزاد ہوا۔ محتاط علما کے نزدیک تعلیم و تربیت کے مقاصد کے لیے میڈیا، تصویر یا ویڈیو استعمال کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔ عوامی اکٹھ کی جگہوں، دفاتر، مساجد اور گھروں وغیرہ میں حفاظتی کیمرے لگانے اور اِن سے لوگوں کے علم میں لائے بغیر اُن کی حرکات و سکنات دیکھنا اور ریکارڈ کرنا بھی فتوتًا درست ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ تصویر اور ویڈیو کی یہ اور ایسی سب صورتیں ضرورتِ حادثہ کی پیداوار ہیں۔ فتوے کا مطلب حرام کو حلال کرنا نہیں ہوتا، لہٰذا بدلتے حالات کی وجہ سے تصویر کے لیے دی گئی اِس شرعی چھوٹ کو مذاق نہیں بنانا چاہیے۔ جو علماء تشہیریت کے لیے تصویر کے معاملے میں آزادہ روی میں بہت آگے چلے گئے ہیں اُن کو مثال بناکر چلنے کی بجائے علماء کے دوسرے طبقے کو قابلِ تقلید جاننا زیادہ بہتر ہے۔
ایک بڑا مسئلہ کرنسی کی قدر و قیمت کا ہے۔ ایک صاحب نے آپ سے کچھ روپے قرض لیے۔ جب وہ واپس کرتے ہیں تو اِن کی قیمت وہ نہیں ہوتی جو لیتے وقت تھی۔ کیونکہ نوٹ اصل مال نہیں ہے بلکہ مال کی رسید ہے، اِس لیے رقم کی واپسی کے وقت مال کو پورا ہونا چاہیے نہ کہ رسیدوں پر لکھے ہندسوں کو۔ خوب یاد رکھیے کہ رقم کے (خصوصًا لمبی مدت کے لیے کیے گئے) لین دین میں کسی ایسی چیز کو معیار بنائیے جو متوازن رہتی ہو اور اُس کی قدر کم نہ ہوتی ہو، مثلًا سونا، گندم یا چاول، یا مثلًا ڈالر، یورو، پاؤنڈ یا ریال وغیرہ۔ چنانچہ یہ لین دین یوں ہونا چاہیے کہ مثلًا آج اِتنے تولہ سونے/ اِتنے من گندم یا چاول/ اِتنے ڈالر/ یورو/ پاؤنڈ/ ریال کی قیمت پاکستانی روپوں میں قرض لی، اِسے جب ادا کروں گا تو اِتنے ہی تولہ سونے/ اِتنے من گندم یا چاول/ اِتنے ڈالر/ یورو/ پاؤنڈ/ ریال کی قیمت اُس وقت کے مطابق پاکستانی روپوں میں دوں گا۔ علیٰ ہٰذا۔ جن لوگوں نے دوسروں کے پیسے دبا رکھے ہیں اُنھیں اگر واپسی کی توفیق ہوجائے تو اصل مالیت واپس کرنی چاہیے نہ کہ نوٹوں پر لکھے ہوئے ہندسوں کی تعداد کو پورا کرنا، ورنہ اللہ کی میزان میں تو ہر تول پورا کر ہی دیا جائے گا۔
میرے بچپن کی بات ہے کہ ہم مدرسے کے بچوں کو ایک مذہبی کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور لے جایا گیا۔ مینارِ پاکستان والے پارک میں جلسہ ہوا۔ نماز کا وقت ہوا تو میں نے ماسٹر صاحب سے کہا کہ نماز بادشاہی مسجد میں جاکر پڑھنی چاہیے۔ وہ بمشکل راضی ہوئے۔ ہم علامہ اقبال کے مزار کے سامنے پہنچے تو اذان شروع ہورہی تھی۔ میں نے عرض کیا کہ یہاں فاتحہ بھی پڑھتے چلتے ہیں۔ اِس پر ماسٹر صاحب نے، جو ایک ایسی جماعت سے تعلق رکھتے تھے جو پاکستان بنانے کے ’’گناہ‘‘ میں شریک نہ تھیں، اقبال کے بارے میں بڑی عجیب و غریب باتیں ہمارے کانوں میں انڈیلیں۔ قصہ کوتاہ، میں اور میرے ساتھ تقریبًا سارے ہی بچے اُن کی حکم عدولی کرتے ہوئے اندر جاکر فاتحہ پڑھ آئے۔
میں ٹوٹا پھوٹا سہی لیکن بحمداللہ مسلمان ہوں۔ میں پاکستانی ہوں۔ وطن کی محبت میرے ایمان کا حصہ ہے (یہ ایک حدیثِ پاک کے الفاظ ہیں)۔ میں کسی بھی ملک میں جاتا ہوں تو مجھے اپنا وطن یاد آتا ہے، اور میں اتباعِ سنت میں اپنے وطن کو یاد کرتا ہوں۔ پاکستان کی ایک تاریخ ہے، ایک جغرافیہ ہے، ایک ثقافت ہے۔ مجھے اِس سب پر فخر ہے، اِس لیے کہ یہ سب میرا اپنا ہے۔ وطن عزیز پاکستان نے اپنے بہت سے قومی وسائل مجھ پر اور میرے خاندان پر خرچ کیے ہیں۔ پاکستان اگر مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی کچھ جماعتوں کے مزاج اور توقعات کے مطابق نہیں بنا ہے تو اِس پر میں کیا کرسکتا ہوں۔ واللہ میں آج تک نہیں سمجھ پایا کہ سیاسی اختلاف رکھنے والا کلمہ گو ’’کافر‘‘ کیسے ہوجاتا ہے۔ سید القوم سر سید احمد خان، مولانا حالی، سر آغا خان، ڈاکٹر علامہ سر محمد اقبال اور قائدِ اعظم محمد علی جناح وغیرہ ہماری قومی و ملّی تاریخ کے ڈیڑھ ہزار سالہ سفر میں آنے والی تابناک کہکشاؤں میں سے چند بڑے نام ہیں۔ یہ وہ مردانِ راہ داں ہیں جو ستاروں کے لیے نشاناتِ راہ ہیں اور جن کی مختلف جہتوں میں کی گئی سنجیدہ اور پیہم کوششوں سے مسلمانانِ ہند پر آزادی کا سورج طلوع ہوا۔ اِن دور اندیش اور دردمند لوگوں نے اُن شاطر انگریزوں کی بچھائی ہوئی بساط پر اُنھیں ہراکر ہم درماندہ مسلمانوں کے لیے آزادی چھینی تھی جو قال اللہ قال الرسول پڑھنے پڑھانے والے ہمارے بڑوں کو توپ سے باندھ کر اُڑا دیا کرتے تھے یا کالا پانی بھیج کر اُنھیں موت کی دعائیں مانگنے میں لگا دیا کرتے تھے۔
آج کچھ لوگ مذہبی و سیاسی آزادی اور وطنی تشخص کو اُس وقت کی غلامی کے مقابلے میں ہلکا جانتے ہیں، یہ نری سادہ خیالی ہے اور حقائق سے فراریت۔ جن لوگوں نے بھی جس جس دور میں اقبال شکنی، جناح شکنی یا سرسید شکنی کی کوششیں کی ہیں یا اِن لوگوں کو کافر کہا ہے، وہ آج کہاں کھڑے ہیں؟ آج اُن کی کیا عزت ہے؟ بلکہ اُن کو آج جانتا کون ہے؟ یہ اور اِس قبیل (Profile) کے بڑے لوگ کارواں ران ہوتے ہیں۔ جو اِن کے ساتھ چلتا چلا جاتا ہے، منزل پاجاتا ہے اور جو اِن کے منہ کو آتا ہے، وہ کارواں سے ٹوٹ جاتا ہے اور جلد ہی اِدھر اُدھر ٹکراکر تھک جاتا ہے۔ ایسے لوگ جنھیں اللہ نے عزت دی ہو، اگر کسی خاص دینی مسلک یا سیاسی مشرب پر نہ ہوں تو بھی اِنھیں برا بھلا نہیں کہنا چاہیے کیونکہ اِس غلیظ گوئی سے ایسے ہیاکل کی عزت اور مرتبہ کم نہیں ہوا کرتے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اِن کا تھوکا منہ پر آتا ہے۔ یہ ذکر کردہ لوگ تقویٰ طہارت اور عقائد کے اعتبار سے کیسے بھی کمزور ہوں، بہرحال مسلمان ہیں، اور برِ عظیم کی قومی و ملّی تاریخ کے شدید ہیجانی دور میں شاندار قائدانہ کردار ادا کرگئے ہیں۔ اِس کرداری وصف کی بدولت اللہ نے اِنھیں عمومی نیک نامی اور عوامی مقبولیت عطا فرما دی ہے۔ کوشش کرنی چاہیے کہ ہم نبیِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم والے اخلاق کے ساتھ جییں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی عزت داروں اور سرداروں کو ذلیل نہیں کیا بلکہ اُن کی حیثیت اور مرتبے کو دین کی بہتری اور ترویج کے لیے استعمال فرمایا۔ اللہ ہمیں اِس کی سمجھ دے۔
اِسی طرح عوام میں بہت سی غلط فہمیاں عالمی طور پر پھیلانے والا ایک نیٹ ورک ای میل اور موبائل فون پر بھیجے جانے والے سندیسچے یعنی ایس ایم ایس ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کے نام کا کوئی وظیفہ دس یا پچاس لوگوں کو فارورڈ کرنے سے دس دن میں کوئی خوش خبری نہیں ملتی اور اِسے نہ بھیجنے سے کوئی آفت نہیں آتی۔ کسی اسلامی مہینے کی مبارک باد دینے سے جنت واجب نہیں ہوتی۔ کسی ایس ایم ایس کو فارورڈ کرانے کے لیے نبیِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم دینا نہایت درجے کی کم قسمتی ہے۔ کسی بڑی سے بڑی ہستی کا کسی کے خواب میں آنا بزرگی کی دلیل نہیں ہے کیونکہ کئی غیر مسلموں کو بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم تک کی زیارت ہوئی ہے، چنانچہ ایسے خوابوں کی اور خصوصًا اہل بیت کی خواتین سے متعلق خوابوں کی تشہیر نہیں کرنی چاہیے۔ ہمارے علاقوں میں ایسی غلط فہمیوں کی بنیاد مدینہ منورہ کے رہائشی شیخ احمد کے پیغامات کو کئی کئی سو لوگوں تک پہنچانے کی گپ سے شروع ہوئی تھی۔ یہ شیخ احمد کوئی دو سوا دو سو سال سے برِ عظیم پاک و ہند کے سادہ لوح مسلمانوں کو یہ پیغام بھیج رہا بلکہ دھمکیاں دے رہا ہے۔ المختصر اِن چیزوں کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اِس قسم کے ایس ایم ایس بھیجنے سے پہلے سمجھدار مفتی صاحبان سے دریافت کرلینا چاہیے۔
یہ اور ایسے کئی مسائل ہیں جن کے بارے میں ہمارے مخصوص سماجی ماحول اور شدت پسند رویوں کی وجہ سے بہت سی غلط فہمیاں رواج پاگئی ہیں۔ اسلام ہرگز تنگ نظر مذہب نہیں ہے بلکہ ہمارے سماجی اور ثقافتی رویے تنگ نظر ہیں۔ ہم اپنے سماج اور ثقافت کو اسلام کی وسعتوں سے ہم آہنگ کرنے کی بجائے اسلام کو اِن تنگ نظر رویوں کی عینک پہن کر دیکھتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اِس اِفراط تفریط سے پیدا ہونے والی دیرینہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ اِس میں سبھی کا فائدہ ہے۔
واَمّا مَا یَنْفَعُ النّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الارْض۔
ملتان: ہفتہ۔ ۲/ اپریل ۲۰۱۱ء
مطابق ۲۸/ ربیع الاخریٰ ۱۴۳۲ھ
دعوت الی اللہ کا فریضہ اور ہمارے دینی ادارے (۲)
مولانا محمد عیسٰی منصوری
دعوت میں کوتاہی کے ناقابل تلافی نقصانات
قرون اولیٰ کے بعد من حیث الامت دعوت میں کوتاہی سے جو نقصانات ہوئے، ان کی تلافی کبھی نہیں ہوسکتی۔ مثلاً برطانیہ کے بادشاہ جان لاک لینڈ (۱۱۶۷ء --۱۲۱۶ء) جس نے مشہور میگنا کارٹا(منشورآزادی) دیا، جب اس کے پادریوں سے اختلافات بڑھے تو اس نے ۱۲۱۳ء میں مراکش واسپین کے حکمران ناصر لدین اللہ کے پاس سفارت بھیجی جس کے ارکان میں ٹامس ہارڈینٹن، رالف فرنکسوس، ماسٹررابرٹ وغیرہ شامل تھے۔ انہوں نے شاہِ انگلستان کی طر ف سے پیغام دیا کہ عیسائیت پر سے میرا اعتقاد ختم ہو گیا ہے، اگر آپ پادریوں کے مقابلے پر میری فوجی مدد کریں تو میں اپنی پوری رعایا کے ساتھ مسلمان ہونے کو تیار ہوں۔ سفیروں نے مزید کہا کہ ہم انگلستان کے باشندے لاطینی، انگریزی، فرانسیسی زبانوں کے علاوہ مختلف صلاحیتوں کے ساتھ یورپ میں اسلام پھیلائیں گے، مگر شاہِ مراکش ناصر لدین اللہ نے پیش کش ٹھکرادی۔ ناصرلدین اللہ کو یہ ٹھکرانا بہت مہنگا پڑا۔ نتیجتاًناصرلدین اللہ کی زندگی ہی میں اس کے چھ لاکھ کے لشکر جرّار کو فرانس، انگلینڈ، اسپین کی افواج نے شکست فاش دے کر اسپین کا بڑاحصہ چھین لیا۔ اس طرح ایک عظیم امکان بدترین انجام میں بدل گیا۔ حالیہ دنوں میں مشہور اخبار ٹائمز نے لکھاتھا کہ تیرہویں صدی کے ابتدا میں امکان پیداہوگیا تھا کہ انگلستان خالص مسلم ملک بن جاتا اور برطانیہ میں قرآن کا حکم نافذ ہوتا۔
اسی طرح شہنشاہِ روس ولادیمر اول (۹۵۶ء -۱۰۱۵ء) کا اعتقاد بت پرستی سے اٹھ گیا تو اس نے مسلمان علما کو بلایا اور اسلام کی فطری تعلیمات سے دلچسپی ظاہر کی، لیکن کہا کہ میں شراب کا عادی ہوں، اسے چھوڑنامشکل ہے۔ اس مسئلے میں مجھے رخصت دی جا ئے، باقی سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ علما رخصت دینے پر راضی نہیں ہوئے۔ اس کے بعد عیسائی علما نے دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے رخصت دے دی تو اس نے عیسائیت سے اصولی طور پر مطمئن نہ ہونے کے باوجود مسیحیت قبول کرکے پوری مملکت کو بتوں خالی کروا کر اپنی ساری رعایا کو عیسائی بنادیا۔ ان علما کو اسلام کا مسئلہ معلوم تھا، لیکن وہ شاید دعوت کی اس حکمت سے ناواقف تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقیف طائف کو زکوٰۃ وجہاد وغیرہ سے وقتی رخصت عطا فرما کر اختیار کی تھی اور فرمایا تھا کہ جب اسلام قبول کر لیں گے تو زکوٰۃ بھی دیں گے، جہاد بھی کریں گے۔ اسی طرح ۱۸۹۱ء میں جاپان کے شہنشاہ میجی نے خلافت عثمانیہ کے فرمانروا سلطان عبدالحمید ثانی کو لکھا کہ ہم اتحادی ہیں، ہماری مصلحت یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے سے قریب ہوں تاکہ ہمارے درمیان معنوی رشتہ قائم ہوجائے اور فرمائش کی کہ اسلام کو ان کے ملک میں بطور تحفہ بھیجا جائے جیسے کسی دور میں بدھ مذہب بطور تحفہ بھیجا گیا تھا۔ سلطان عبدالحمید ثانی نے ترکی کے شیخ الاسلام اور بڑے علما کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا۔ علما کسی بات پر متفق نہ ہوسکے، باہم مختلف ہو گئے۔ بالآخر سلطان نے شکریہ کا خط لکھا اور کہا کہ ہم بعد میں کبھی (اسلام) کے مبلغین بھیجنے کی کوشش کریں گے۔ آج جاپان صنعت وٹیکنالوجی کا بے تاج بادشاہ ہے، دنیا کا سب سے بڑا معطی (اقوام عالم کو امداد دینے والا) اور اقوام متحدہ کا سب سے زیادہ خرچ اٹھا نے والا ملک اور دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت ہے۔ ان ساری ترقیوں کے باوجود واضح مقصد حیات یا قابل برآمد نظریہ نہیں رکھتا۔ جاپانی وزارت خارجہ کے ایک قابل افسر ہڈیاکی کا سے (HIDEAKKASE) نے کہا ہمارے پاس کچھ آدرش (نظریات) ہونے چاہییں جس میں عالم انسانی کے لیے اپیل ہو۔ اگر ہم دعوت کے ان تینوں مواقع میں سے کسی ایک سے بھی فائدہ اٹھالیتے تو شاید آج دنیا کی تاریخ مختلف ہوتی۔ یہ عظیم نقصان دعوت کے مزاج وذہنیت کھودینے کا نتیجہ ہے۔
قرون اولیٰ کے بعد ملت اسلامیہ نے دعوت کو فریضہ سمجھنا چھوڑ دیا
قرون اولیٰ کے بعد عام مسلمان تو درکنار، عام طور پر علماء کرام نے دعوت سے اغماض برتا، ہندوستان کے آٹھ سو سالہ مسلم دور میں علماء کرام یا تو شاہی درباروں سے منسلک ہوکر اپنی دنیوی ضروریات پوری کرنے میں لگے رہے یا اپنے حجروں میں بیٹھ کر درسی کتب پر شروحات وحواشی چڑھاتے رہے یا انہوں نے خود کو مسلمانوں کی ضروریات دین نماز، روزہ ،اور فضائل ومسائل بتانے تک محدود رکھا ،دعوت واشاعت اسلام پر بہت کم توجہ دی گئی،اگر دور غلامی (برٹش دور)میں بھی ہمیں ہوش آجاتا اور ہم آنے والے دور کا اندازہ کرکے اپنی صلاحیت، طاقت اور وسائل برصغیر کے اقوام کو اللہ کا پیغام پہنچانے میں لگائے ہوتے تو آج بر صغیر کا نقشہ مختلف ہوتا ، نہ ملت اسلامیہ ہند تین ٹکڑوں میں بٹتی نہ ایک تہائی سے زیادہ حصہ بدترین دشمن برہمن کے یہاں یرغمال بنتا ،تقریباً ہم نے پونے دوسو سال تک ملک کی آزادی کی جو جنگیں لڑیں ان میں کیسی کیسی صلاحیت وصفات والے ہزاروں اکابر علماء ومشائخ نے جام شہادت نوش کیا ،پھانسی پر چڑھے قید وبند اور ہر طرح کے مصائب سے گزرے اس سارے جہاد کا رزلٹ یہ ہے کہ وہ برہمن جس کی کبھی کوئی حیثیت نہیں تھی آج عالمی صہیونیت وصلیبیت کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے پوری دنیاسے اسلام اور مسلمانوں کو تباہ کرنے پر کمر بستہ ہے ہماری پوری چودہ سو سالہ تاریخ کا مطالعہ بتاتاہے دعوت کے سوا جہاں کہیں ہمارا جان ومال،وسائل وصلاحیتیں صرف ہوئیں اس کا نتیجہ ہمارے حق میں ہر اعتبار سے تباہ کن ثابت ہوا۔
برصغیر میں مسلم اقتدار کے بعد کی صورت حال
بر صغیر سے مسلمانوں کا اقتدار ختم ہونے کے بعد زوال وتباہی دن بدن بڑھتی گئی حتیٰ کہ اس کا اندیشہ پیدا ہوگیا کہ بر صغیر میں اسپین کی تاریخ نہ دہرادی جائے ان ناز ک حالات میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور آپ کے چاروں نامور صاحبزادگان اور سید احمد شہید بریلوی ؒ اور شاہ اسماعیل شہید ؒ کی ہمہ جہت کاوشوں کی بدولت ملت اسلامیہ ہند میں قرآن وسنت کی تعلیم اور دعوت وجہاد کی روح زندہ ہونی شروع ہوئی، پھر حضرت گنگوہی ؒ حضرت نانوتویؒ حضرت شیخ الہندؒ اور ان اکابر سے وابستہ حضرات کی کوششوں نے حالات کو کچھ اور سمبھالا دیا ،جگہ جگہ تعلیم وتعلم اور ذکروفکر کے چراغ روشن ہونے لگے، پھر بیسویں صدی میں شیخ حسن البنّا، ؒ مولانا الیاسؒ ، مولانا ابوالحسن علی ندویؒ اور مولانا مودودیؒ کی دعوتی سرگرمیوں کی بدولت ہماری تعلیم یافتہ نئی نسل، مغربی تہذیب وتمدن مغربی فلسفہ میں پوری طرح ضم ہوکر ختم ہونے سے بچ گئی ،بلاشبہ ان میں سے بعض حضرات نے فکری طور پر ٹھوکریں بھی کھائی ، غرض جب کبھی ملت اسلامیہ پرنازک حالات آئے، تو دعوت ہی سے حالات اسلام کے حق میں پلٹے ایک ایک داعی (شیخ حسن البنّا، مولانا الیاس، مولاناابوالحسن ندوی، ؒ مولانا مودودیؒ )کی بدولت سیکڑوں ہزاروں ادارے وجودمیں آئے ، دوسری طرف تعلیمی ودینی اداروں کے لاکھوں کروڑوں پڑھنے والوں میں سے عموماً اللہ تعالیٰ نے صرف انہی لوگوں سے کام لیا جو کسی داعی یا دین کا درد کڑھن رکھنے والی صاحب نسبت شخصیت سے وابستہ ہوئے۔
مذہب انسان کی فطری ضرورت ہے
مذہب ہرانسان کی فطری ضرورت ہے جس طرح ایک بچہ ایر پورٹ یا اسٹیشن پر اپنی ماں سے بچھڑ جائے آپ اسے کھلونے چاکلیٹ ٹافی سب کچھ دیدیں لیکن جب تک اسے ماں نہ ملے گی وہ روتا تڑپتا رہے گا، اسی طرح انسان اپنے خالق سے بچھڑ کر کبھی چین وتسکین نہیں پاسکتا،اسے سکون قلب سے جینے کے لیے ضرورت ہے، ایک اطمینان بخش نظریۂ حیات (آئڈیالوجی )کی ضرورت انسانی فطرت ہے، وہ کوئی ایسی آئڈیا لوجی چاہتاہے جس کے ذریعہ کائنات کی اور اپنی زندگی کی توجیہ کر سکے ،مقصد حیات کو پاسکے، خود کو تسکین دے سکے۔
موجودہ دور کا سب سے بڑا مسئلہ نظریاتی خلا ہے
رشیا کی آئڈیالوجی (کمیونزم )وقتی اور فرضی تسکین تھی جو جھوٹی اور غلط ثابت ہوچکی ہے، اور اس کے بعد سرمایہ دارانہ نظام دنیا کے معاشی بحران میں دوسری آئڈیالوجی یعنی کپیٹل ازم کا نظریہ بھی منہدم ہوچکا،اب دنیا میں زبردست نظریاتی خلا پیداہوگیا۔ ۱۹۹۱ء میں سویت یونین کا انہدام اور ۹؍جنوری ۱۹۹۲ء میں امریکی صدر جورج بش کا ٹوکیو(جاپان)میں ڈنر کے وقت کرسی سے گرپڑنے کے وقت اس دن کے ٹائمس آف انڈیا نے (BUSH COLLAPSES AT TOKYO RECEPTION)کی سرخی لگائی۔ گویا نئی صدی (اکیسویں صدی) شروع ہونے سے پہلے روس کے حقیقی اور امریکہ کے علامتی انہدام نے دنیا میں نظریاتی خلاء کا اعلان کردیا تھا، اس کوصرف اور صرف اسلام ہی پُر کرسکتاہے،کیونکہ علوم کے ارتقا اور جدید سانس نے اسلام کی حقانیت کو پوری طرح ثابت کردیا ہے ، مراکش کے مشہور کرسچن اسکالر ڈاکٹر مورس بوکا ئی نے اپنی معرکۃ الآرا کتاب ’’بائبل قرآن، اور سائنس‘‘ میں قرآن اور بائبل کے سینکڑوں سائنسی بیانات کوجدیدسائنسی اور علمی تحقیقات کی کسوٹی پر پرکھ کر ثابت کیا ہے کہ جدید سائنس اور علمی تحقیقات کی روسے قرآن کے سینکڑوں سائنسی بیانات میں ایک بات بھی غلط ثابت نہ ہوسکی ،اس کے برخلاف بائبل،ہرسائنسی بیان، جدید علمی تحقیق اور سائنس نے غلط ثابت کرکے رد کر دیا۔ یہ اس مذہب (کرسچن یاعیسائیت)کی بات ہے جو اسلام سے صرف ۵۷۰ سال پہلے کا ہے۔ یہودیت، بدھ ازم اور ہندومت جو عیسائیت سے ہزاروں سال قبل کے ہیں، جدید سائنسی وعلمی دور میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں ٹھہر سکے۔ یہ مذہب قرآن کے الفاظ میں اساطیرالاولین یعنی پچھلی من گھڑت کہانیوں کا پلندہ ہیں۔ قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک باشعور شخص محسوس کرتاہے کہ وہ کوئی کتاب نہیں بلکہ اپنی فطرت پڑھ رہا ہے۔ اسے قرآن فطرت کی آوازیا پکار محسوس ہوتی ہے، اس لیے اس کا انکار نہ صرف اپنی فطرت یعنی خود اپنی نفی کرناہے۔ کون ہے جو خود اپنی نفی کا متحمل ہوسکے! جدید علوم کی روشنی میں آج اسلام ہر شخص کے لیے ایساہی قابل قبول ہے جیسے پیاسے کے لیے پانی۔
ہرکچے پکے گھر میں اسلام کے داخلے کی پیشین گوئی کاوقت آپہنچاہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشین گوئی ہے: لا یبقی علی ظہر الارض بیت مدرٍ ولا وبرٍ الا ادخل اللہ کلمۃ الاسلام (مشکوٰۃشریف) روئے زمین پر کوئی کچا پکا گھر ایسانہیں بچے گا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس میں اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔ کچھ عرصہ پہلے تک جدید ترین الیکٹرونک میڈیا کے باوجودکمیونسٹ بلاک (عظیم سویت یونین) میں اسلام کاپیغام پہونچنا بظاہرناممکن نظر آرہاتھا، مگر سوویت امپائر کے انہدام کے بعد لگتاہے وہاں کی سرزمین اسلام کی کہیں زیادہ پیاسی ہے، چنانچہ برطانیہ کے اخبارڈیلی نائمز نے ۱۲؍مارچ ۱۹۹۰ء کو روس کے بارے میں ایک بالتصویر رپورٹ چھاپی تھی جس کا نہایت بامعنی عنوان رکھا۔ (Karl Marx Makes Room for Mohammad)کارل مارکس، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جگہ خالی کرتاہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس پیشین گوئی کے پوراہونے کا وقت قریب آگیا ہے۔ آج کا انسان سیاسی مذہب کے بجائے روحا نی مذہب کا متلاشی ہے جس سے سکونِ قلب میسر آئے۔ عصر حاضر کی نئی نسل، خواہ وہ عیسائی، بدھسٹ، ہندوہو، خوب جانتی ہے کہ چرچ اور مندروں کے اسٹیچو (مورتیاں) خدا نہیں ہیں۔ خداوہ ہے جو نہ گرے نہ ٹوٹے۔ دنیا میں بے شمار افراد اذان کے الفاظ کا ترجمہ معلوم کرکے یا نماز پڑھنے کا عملی منظردکھ کر یاقرآن کی کسی آیت کا ترجمہ پڑھ کر مسلمان ہو رہے ہیں۔ یورپ کے مشہور ادیب واسکالر جارج برنارڈشا نے بہت پہلے پیشین گوئی کردی تھی کہ اسلا م عقل اور فطرت انسانی کے عین مطابق واحدقائم شدہ مذہب ہے اس کی تعلیمات سے کوئی ذہین تعلیم یافتہ شخص انکار نہیں کرسکتا،جدید تعلیم یافتہ ذہن کے لیے اسلام قبول کرنے میں ایسی کوئی رکاوٹ نہیں کہ اگر وہ اسلام کو لیتا ہے تو عقل وسائنس کو چھوڑنا پڑے۔ جارج برنارڈ شا نے تقریباً ایک صدی پہلے کہہ دیاتھا کہ جلد اسلام عظیم سیلاب بن کر تیزی کے ساتھ یورپ کی انسانی آبادیوں میں داخل ہوگا اور مغر ب کے لیے مستقل کا مذہب اسلام ہی ہوگا۔ اسی طرح افریقہ میں عیسائی مشنریوں کی کوششیں پوری طرح پھیل چکی ہیں، لیکن وہاں اسلام تیزی سے اپنی جگہ بنارہا ہے۔ ابھی چندسال پہلے عالمی عیسائی مشنریوں نے ایک چھوٹے سے پس ماندہ افریقی ملک لیبریا (LIBERYA)کی راجدھانی منورویا (MONROVIYA) میں ایک عالمی مشنری نے وہاں کے دس لاکھ مسلمانوں کو کرسچن بنانے کے لیے پانچ ہزار افراد کو اس قدر تیارکیا کہ وہ وہاں کی نصف درجن قبائلی زبانیں بھی روانی سے بولتے تھے۔ انہیں خاموشی سے مسلم قبائل کے درمیان بسادیاگیا۔ وہاں کے علما نے سمجھداری سے کام لیا، انہیں مذاہب کانفرنسوں اور علمی مباحثوں کے ذریعہ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہ پانچ ہزار عیسائیت کے داعی ومبلغین مسلمان ہوکر اسلام کے مبلغ بن گئے۔
جدید علمی و سائنسی دور کا مذہب
قرآن انسانیت کے نام خالق کائنات کا آخری پیغام ہے جس طرح خالق ہر ہر اعتبار سے مخلوق پر حاوی اور غالب ہے اسی طرح اس کا کلام اور پیغام بھی، البتہ ہرہردور کے انسانوں کی ذہنی سطح اور علوم وفنون کے مطابق اس کے معجزات ظاہر ہوتے رہیں گے جب فصاحت وبلاغت الفاظ کے دقائق سمجھنے کا دور تھا قرآن کے کلام کی فصاحت وبلاغت اور الفاظ کی تاثیرکا معجزہ ظاہر ہوا،بائبل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جوپیشین گوئیاں ہیں، ان میں ایک یہ ہے کہ قوموں کو تسخیر کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے ایک تلوار نکلتی ہے (یوحناعارف کا مکاشفہ ۹۰۰/۱۵)یعنی تاثیر والا کلام جس کی تاثیر نے آپ کی حیات مبارکہ ہی میں جزیرۃ العرب کو تہ وبالا کردیا تھا ،موجودہ دور طبعیات وسائنس کے علوم سے انفس وآفاق کی ہرہرچیزکے متعلق تفصیلی کھوج وتحقیق کا دور ہے تو دنیا حیران ہے کہ جونئی تحقیق اور ریسرچ سامنے آتی ہے وہ قرآن میں موجود پاتی ہے۔
دعوت، آخری دور کا سب سے مؤثر اسلحہ
پتھر کے دور سے لے کر آج الیکٹرونک اسلحہ کے دور تک ہر دور میں اسلحہ کی نوعیت بدلتی رہی۔ آنے والے دور کا اسلحہ دعوت اور میڈیا ہے۔ ماضی قریب میں رشیا کو شکست امریکی اسلحہ نے نہیں بلکہ امریکی میڈیا نے دی تھی۔ معلوم ہوتاہے کہ اسلام کا غلبہ اور فتوحات اسی راہ سے ہوگی۔ مسلم شریف کی ایک حدیث میں وارد ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی کہ قیامت کے قریب ایک شہر جس کا ایک رخ خشکی کی طرف ہوگا اور دوسرا سمندر کی طرف، دونوں طرف کی شہر پناہ (دیواریں) مسلمان لشکر کے لا الہ الااللہ، اللہ اکبرکے نعرے سے گرجائیں گی۔ اس روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ کا لفظ استعمال فرمایا۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آخری دور کا سب سے بڑا اسلحہ دعوت ہوگی اور یہ دعوت مسلمانوں کے عالمی غلبہ وکامیابی کا سب سے بڑا ذریعہ ہوگی۔ بالفاظ دیگر آخری دور میں اسلحہ کے بغیر اسلام کی فکری ونظریاتی اور دعوتی طاقت قوموں کو مسخر کرنے والی ہوگی۔
مغرب میں دعوت کے خلاف عالمی طاقتوں کا خفیہ منصوبہ
موجودہ دور میں قدرت کے مخفی ہاتھ نے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کو مغرب (امریکہ یورپ)میں پہنچادیا ہے۔ شاید ان سے کوئی کام لینا منظورہے۔ ایسے دور میں جب انسانی مسائل کے حل میں سارے نظریات ومذاہب ناکام ہوچکے ہیں اور عصر حاضر کے انسان کو اپنی روح کی پیاس بجھانے کے لیے ایک نظریۂ حیات کی اشد ضرورت ہے، شاید فطرت کی یہ ضرورت پوری کرنے کے لیے یہ اللہ کا انتظام ہے۔ ہم نے یہاں (مغرب) پہونچ کر سینکڑوں ہزاروں مساجد ومکاتب اور درجنوں دارالعلوم قائم کیے، مگر ایسا چھوٹا سا سینٹر نہیں بناسکے جہاں نو مسلموں کو سال دو سال رکھ کر انہیں اسلامی تعلیمات سے روشناس کرواکر ان کے اپنے معاشرے میں داعی بناکر بھیجیں۔ ہماری اس غفلت کا نتیجہ یہ ہے کہ گزشتہ تیس چالیس سالوں میں مغرب میں جتنے لوگ مسلمان ہوئے، خواہ وہ اپنی ذاتی جستجوسے مسلمان ہوئے ہوں خواہ یا کسی نے مسلمان کیا، آج وہ سب کے سب شیخ ناظم ترکی کے پاس پہونچ چکے ہیں جس کا کام تصوف کا نام لے کر امت میں تفرقہ پیدا کرنا اور ان نومسلموں کو معطل بناناہے تاکہ وہ دعوت کا کام نہ کرسکیں۔ اس شخص (شیخ ناظم) کے نزدیک امام حرم، عرب علما، علمائے دیوبند ،تبلیغی جماعت، سلفی حضرات سبھی باطل وگمراہ ہیں (غالی قبر پرست بدعتیوں کے سوا)۔ بندہ کی تحقیق کے مطابق یہ شخص عالمی صہیونی طاقتوں کا گماشتہ ہے، اس کا آقا وشیخ مراکش میں صیہونیوں کا ایجنٹ ہے اور اس شخص کو امریکی ایما پر عرب حکمران کروڑوں اربوں روپے دے رہے ہیں۔
دینی جامعات اور عصر ی تقاضے
آج ہماری سب سے بڑی ضرورت اقوام عالم کے لیے داعی تیار کرناہے، اس کام کے لیے نظرباربار ہمارے دینی اداروں (دارالعلوم اور جامعات) کی طرف جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہبر صغیر اور جنوبی ایشیا کے ممالک میں ان دینی مدارس کا نہایت اہم رول رہا ہے۔ آج ان ممالک میں جودین اور علم دین کے چرچے ہیں، سب انہی کی برکتیں ہیں۔ یہ بلاشبہ دین کے قلعے ہیں،لیکن وقت کے علوم وضروریات کے ساتھ ساتھ ان دینی قلعوں میں بھی آج کی عصری ضرورتوں کا لحاظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ آج مضبوط ومستحکم قلعے بھی آثار قدیمہ کے میوزیم بن کر رہ گئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے دینی مدارس میں تقویٰ وتوکل کی صفات اور عصری تقاضوں کا شعور نہ رہے تو اندیشہ ہے کہ یہ بھی آثار قدیمہ بن کر نہ رہ جائیں۔ گذشتہ دنوں بندہ کا یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک میں جاناہوا جس کی آبادی چند لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ وہاں کی کرسچن مشنری میں دیکھا کہ وہاں بنگالیوں سے اچھی بنگالی، پنجابیوں سے اچھی پنجابی اور ہم سے اچھی اردو عربی بولنے والے موجود ہیں جبکہ عیسائیت ایک غیر دعوتی مذہب ہے۔ بائبل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقولہ مشہور ہے کہ میں صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑو ں کے لیے بھیجا گیا ہوں، جبکہ اسلام ایک دعوتی دین ہے۔ گذشتہ ڈیڑھ صدی میں ہمارے جامعات نے کتنے ایسے داعی تیار کیے جو اسپینش، جرمنی، فرانسیسی یا رشین زبانوں میں دعوت دے سکیں۔ گذشتہ ڈیڑھ صدی میں برصغیر میں دین کا بنیادی کام انہی دینی مدارس نے انجام دیا۔ ان اداروں سے کماحقہ فائدہ اسی وقت تک ہواجب تک وہ اصل بنیادتقویٰ وتوکل پر قائم رہے۔ یا درکھئے! ہماری بنیاد تقویٰ وتوکل، اور کفر کی بنیاد ملک ومال ہے اور بنیاد مثل زمین کے ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی زمین پر اپنی عمارت تعمیر کرلے تو صاحب زمین جب چاہے کہہ سکتا ہے اپنی عمارت اٹھاکرلے جاؤ، میری زمین خالی کرو۔ تقویٰ و توکل کے بجائے مال کی بنیاد پر بننے والے عظیم الشان جامعات گویا دوسروں کی زمین پر کھڑے ہیں۔ ایسے ادارے باطل کی ایک آندھی کامقابلہ نہیں کرسکیں گے، جیسے وسط ایشیا کے ممالک میں ہوا۔ سمرقند،بخارا،تاشقندوغیرہ میں سینکڑوں عظیم الشان دینی جامعات تھے۔ کمیونزم کی ایک آندھی چلی اور سب جامعات زمیں بوس ہوگئے۔ روحانی صفات، تقویٰ وتوکل سے عاری فارغ ہونے والے مولوی صاحبان کی فوج ظفر موج باطل کے ایک جھونکے کی تاب نہیں لاسکے گی۔ وسط ایشیا میں علما اور عوام کا جوڑختم ہوگیا تو وہ عوام جو علما کے ہاتھ چومتے تھے، خود انہوں نے ان علما کی گردنیں کاٹیں۔
افراد سازی میں ہمارے دینی جامعات و مدارس کی ناکامی
تقریباً ایک صدی پہلے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب ؒ نے لکھا تھا کہ ہمارے مدارس اور خانقاہ بانجھ ہوتے جارہے ہیں۔ غور کریں توہمارے زکوٰۃ وصدقات کا بڑاحصہ دینی مدارس اور دارالعلومو ں پر خرچ ہورہاہے، مگر ان سے زیادہ تر معمولی صلاحیت کے لوگ مل رہے ہیں، رسمی امام وخطیب یامکتبی مولوی۔ ان بیچاروں کی اکثریت عربی تو درکنار، صحیح اردو لکھنے پڑھنے سے بھی عاری ہے۔ پھر یہ حضرات جو لکھتے بولتے ہیں، درسی زبان میں ہوتاہے جو عام لوگوں کے سروں کے اوپر سے گزرجاتی ہے۔ برطانیہ میں پہلے ہم سوچتے تھے یہاں کوئی بڑا دارالعلوم ہوناچاہیے تاکہ یہاں کے ضروریات وتقاضوں کو پورا کرنے کے لیے افراد کار میسر آسکیں۔ اب درجنوں دارالعلوم قائم ہوگئے، لیکن ہماری ضرورتیں جوں کی توں ہیں۔ اگر ان جامعات کا حاصل مکتب میں پڑھنے والے مولوی صاحبان اور مساجدکے اما م ہی ہے تو مکتبی مولوی اور مسجد میں نماز پڑھانے والے امام ان دارالعلوموں سے پہلے بھی میسرتھے۔
دعوت کا جذبہ اور فکر آخرت پیدا کرنے کی ضرورت
اگر کوئی شخص طالب علم بن کر ہمارے پاس آتاہے توضروری ہے کہ اس کی نسبت اور ارادہ دین کے کام کرنے کا ہو کہ مجھے اب زندگی میں صرف دین کا کا م کرناہے، اور اہل مدارس کو بھی چاہیے کہ جن طلبہ کے بارے میں اندازہ ہو کہ ان میں نہ دین پھیلانے کا جذبہ ہے نہ دین پر چلنے کا شوق تو انہیں ضروریات دین کا علم دے کر دوسال میں فارغ کریں۔ ملت کا پیسہ ان پر ضائع نہ کریں۔ موٹی سی بات ہے، اگر کسی شخص کو محض اپنی ذاتی قابلیت پیداکرنے یااپنے معاش کے لیے علم وہنر سیکھنا ہے تو اسے اپنے ذاتی اخراجات سے سیکھنا چاہیے، جیسے دنیا میں ہر شخص کار چلانا، کمپیوٹر کا استعمال، ہندی انگریزی زبان اپنے اخراجات سے سیکھتاہے۔ ملت کی زکوٰۃ وصدقات کی امانت ایسوں پر پرکیوں ضائع کی جائے؟ ہمارے دینی مدارس کے اخراجات کا خاصا بڑاحصہ ایسے لوگوں پر ضائع ہورہاہے جودین پھیلانے کا جذبہ نہیں رکھتے۔ دعوتی اسپرٹ کے بغیر طالب علم کو علم دینا ایساہی ہے جیسے کوئی کاغذوں میں علم جمع کردے یا آڈیو، ویڈیو کیسٹ میں بھر دے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام دعوت کے ذریعہ انسانوں کے دلوں کا رخ دنیا سے آخرت کی طرف اور خواہشات سے رضاے الٰہی کی طرف موڑدیتے تھے، پھر انسان کی ساری زندگی آخرت بنانے کی فکر اور رضاے الٰہی کی طلب میں گزرتی تھی۔ ہم مدارس کے ذریعہ کسی درجہ میں علوم تو دے رہے ہیں، مگر ان کے دلوں میں فکر آخرت اور اللہ کا تعلق پیدا کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ جب دلوں میں دنیا بسی ہو تو انسان کی ساری علمی صلاحیتیں بھی اپنی دنیا بنانے پر صرف ہوتی ہیں۔ ادھر چندسالوں میں ہمارے دینی وتعلیمی جامعات میں تخصص کے شعبہ جات قائم کرنے کا ذوق اور رجحان بڑھ رہاہے۔ یہ بہت اچھی چیز ہے کہ زمانہ کسی فن میں تخصص ہی کا ہے۔ ہرعلم وفن ایک وسیع سمندر ہے۔ انسان کسی ایک شعبۂ علم میں بھی بصیرت ورسوخ پیداکرلے تو بڑی بات ہے، مگر یہاں بھی اصل خرابی یہی ہے کہ صلاحیت پیداکرنے کے ساتھ دلوں کا رخ آخرت کی طرف کرنے پر توجہ نہیں۔ اگرہم بنظر غائر دیکھیں کہ گذشتہ پچیس تیس برسوں میں دیوبند سے کیرالہ تک جن طلبہ نے دینی علوم وفنون میں تخصص کیا، مثلاً قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر، ادب، معاشیات، انگریزی زبان، عربی زبان، کمپیوٹر کا استعمال وغیرہ وغیرہ، ان میں کتنے فیصد طلبہ انسانوں کوخدا کی طرف بلانے یا ان تک دین پہنچانے میں مصروف ہیں؟ آج ان کی بھاری اکثریت ریڈیو اسٹیشنوں، اخبارات، چینلوں میں کام کرنے، ترجمہ کرنے، کمپیوزنگ کرنے یا پروگرام ترتیب دینے میں مشغول ہے یا کسی عرب سفارت خانہ میں ملازمت یا ملٹی نیشنل کمپنیوں میں خدمات انجام دیتی نظر آتی ہے۔ کیاملت کے لاکھوں کروڑوں روپے اس لیے صرف کیے گئے تھے کہ چندعلما کے معاشی حالات اور معاشی زندگی معیاری ہو جائے؟
قرآ ن وسیرت کے بجائے فقہ میں زیادہ اشتغال کے نقصانات
صدیوں سے بر صغیر کے علماء کرام کا زیادہ تر اشتغال فقہ میں رہا کیوں کہ مسلم دور حکومت میں قاضی محتسب اوقاف ووصایا کے متولی ونگراں عہدے، مناصب اور روزی فقہ سے وابستہ تھیں۔ اس کے برخلاف قرآن وسیرت نبوی پر توجہ بہت کم رہی۔ برصغیر کے آٹھ سو سالہ مسلم حکمرانی کے دور میں شاید سیرت پر کوئی جامع کتاب نہیں لکھی گئی، نہ نصاب تعلیم میں سیرت اور قرآن پر کوئی توجہ تھی۔ (الحمدللہ بیسویں صدی میں علماء ہند (جیسے شبلی نعمانیؒ ، سید سلمان ندوی، قاضی سلمان منصور پوری، مولانا مناظرا حسن گیلانی وغیرہ) نے سیرت پر اعلیٰ درجے کا علمی وتحقیقی کا م کرکے تلافی کردی۔ اس (فقہ) کی جھلک برصغیر کے نصاب و نظام تعلیم میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ نودس سالہ نصاب تعلیم میں اصل توجہ فقہ پرہی رہتی ہے، آخری سالوں میں قرآن اور احادیث کو اپنے اپنے فقہی مسلک کے سانچے میں ڈھال کر پڑھا دیا جاتاہے، جبکہ اصل کسوٹی قرآن وسنت ہونی چاہیے نہ کہ متأخرین کے فقہی اجتہادات وفتاویٰ۔ اس ترتیب وذوق کا بہت بڑا نقصان یہ ہواکہ ہمارے یہاں ہر دور میں فقہ القرآن اور فقہ الحدیث کا ملکہ رکھنے والے افراد کمیاب بلکہ نایاب رہے۔
فقہ دور عباسی میں مرتب ہوئی جو ہماری قوت وطاقت اور دنیا بھر پر حکمرانی کا دورہے۔ دور عباسی کے بعد بھی ہم صدیوں تک دنیا بھر میں غالب وحکمران ملت اور سُپر پاورامت کے طور پر تھے، اس لیے ہمارے فقہی ذخیرہ میں قوت وطاقت اور حکمرانی کے دور کے لیے لائحۂ عمل پوری تفصیل کے ساتھ ملے گا، لیکن بے بسی اور کمزوری کے دور کا جب ایک تہائی مسلمان اقلیت میں دوسروں کے رحم کرم پر ہو ں اور باقی مسلم حکومتیں بھی دنیا کی باطل ودجالی طاقتوں کے سامنے مجبور محض ہوں، ایسے دور کے لیے لائحۂ عمل اور مکمل رہنمائی جسے ہم فقہ الاقلیات یا بے بسی کے دور کا لائحۂ عمل کہہ سکتے ہیں، ہمارے فقہی ذخیرہ میں بہت کم ملے گا، کیوں کہ جس دور میں فقہ مرتب ہو ئی، اس کے بعد صدیوں تک فقہائے کرام اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ کبھی دنیا میں ایسادور بھی آسکتاہے کہ دنیا بھر کے مسلمان کفر کے سامنے ایسے بے بس ولاچار مجبور ومظلوم بن کر زندگی بسر کررہے ہوں۔ اس کمزوری اور ضعف کے دور کے لیے زندگی کے ہر شعبہ کامکمل اور تفصیلی لائحہ عمل قرآن اور سیرت میں ملے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریباً پوری زندگی اور نزول قرآن کا سارا دور مسلمانوں کی بے بسی اور کمزوری کا دور تھا۔ صلح حدیبیہ کی شرائط پر ایک نظر ڈالنے سے آٹھ ہجری تک کی صورت حال کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس صلح نامہ میں ہمارے عصرحاضر کے مسائل ومشکلات میں بہت کچھ رہنمائی اور بصیرت ہے۔ اگرچہ فتح مکہ پورے جزیرۃ العرب کی فتح کے ہم معنی تھی، مگر اطراف کی قوتوں، پرشین امپائر اوررومن امپائر کے عزائم کو سامنے رکھا جائے اور غزوہ تبوک اور جیش اسامہ کا پس منظر سامنے ہو تو سمجھاجا سکتاہے کہ بالکل آخری دورتک دشمنان اسلام کی طاقت وقوت کا دور ہے۔ مسلمانوں کو حقیقی اور صحیح معنی میں قوت دور فاروقی میں حاصل ہوئی۔ اس لیے پوراقرآن اور پوری سیرت گویا ہمارے آج کے دور کے لیے تفصیلی اور مکمل رہنمائی اور ہرہرشعبۂ زندگی کے لیے لائحۂ عمل ہے ،مگر ہم ہیں کہ فقہ میں اشتغال کے ذریعہ اپنے غلبہ وقوت دنیابھر پر حکمرانی کا دور سامنے رکھے ہوئے ہیں، اس لیے عصری مسائل میں اپنے لیے نہ کوئی راہِ عمل متعین کر پارہے ہیں نہ اپنے مسائل کا حل نکال پا رہے ہیں۔
آج کے دور میں ہمیں فقہ کے متعدد ابواب جیسے کتا ب الرقاق، کتاب الغنیمۃ بے جوڑ اور ناممکن نظر آتے ہیں۔ بندہ کے نزدیک اپنے غلبہ کے دورمیں مرتب ہونے والی فقہ پر ساری توجہ دینے کی وجہ سے نہ ہم آج کا دور سمجھ پارہے ہیں نہ موجودہ حالات میں اسلام کے غلبہ کی راہیں تلاش کر پا رہے ہیں۔ لگتاہے گویا ہم پر سارے دروازے بندہیں، مجبوری اور معذوری میں زندگی بسر کرناہی ہمارا مقدر ہے۔ یہ ساری مصیبت فقہ القرآن اور فقہ السیرت سے ناواقفیت اور غفلت کی وجہ سے ہے، ورنہ سیرت پاک اور قرآن حکیم آج کے دور کی رہنمائی سے بھراپڑاہے۔
برصغیرکے دینی مدارس کا اصل امتیاز
برصغیر میں دیوبند جیسے دینی مدارس کی اصل کامیابی وطاقت جس کا لوگوں کے دلوں پر سکہ جماہواہے، وہ تصنیف وتالیف، ریسرچ وتحقیق اور دوسرے علمی کارناموں کانہیں ہے، ان میں دوسرے ادارے مثلاً جامعہ ازہر بہت آگے ہے جہاں ہر طالب علم کو پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھنا لازم ہے، بلکہ اعظم گڑھ کا معمولی سا چند کمروں پر مشتمل ادارہ دارالمصنفین بھی شاید تصنیفی وتحقیقی کا م میں آگے ہے۔ ہمارے دینی مدارس کا اصل امتیاز وخصوصیت تقویٰ وتوکل، تعلق مع اللہ، اتباع سنت، زہدو قناعت والی زندگی، ملت کا درد وغم، دین کی خاطر مر مٹنے اور جاں فروشی کے جذبات ہیں۔ اگر یہ صفات نہ رہے تو دیوبند جیسے مدارس کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔ موجودہ دور کا سب سے تشویشناک پہلو یہی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کے بعد کئی پشتوں (تقریباً ڈیڑھ سو سالہ) دینی، تعلیمی واصلاحی جدوجہد کے برگ و بار آنے کا وقت آیا تو تقویٰ وتوکل کی جگہ عالی شان عمارتوں اور ما ل کی ریس نے دینی اداروں کو کھوکھلا اور بے روح بنادیا۔ خاص طور سے گذشتہ تیس چالیس سال سے ساری توجہ ظاہری شان وشوکت والی عمارتوں نے کھینچ لی، علم اور مجاہدے کا دور ختم ہوگیا، ایمانی صفات میں ضعف آگیااور افراد سازی سے توجہ ہٹ گئی۔ ہماری صفوں میں بہت سی کالی بھیڑیں داخل ہوگئیں، دینی مدارس کی عمارات جتنی بلندوبالا اور خوبصورت بنتی گئیں، ظاہری سجاوٹ کے ساتھ دلوں کی باطنی دنیا اجڑ تی گئی۔ تعلق مع اللہ، تقویٰ وتوکل، زہدوقناعت، سادگی اور جفاکشی کم ہوتی گئی۔ بلاشبہ بہت سے دینی مدارس میں کسی درجہ میں یہ صفات باقی ہیں اور کسی نہ کسی درجہ میں افراد کا ر بھی وہاں ہی تیار ہو رہے ہیں، اکیسویں صدی داخل ہونے تک ہمارے تعلیمی ادارے ظاہراً تو بہت بارونق اور عالی شان ہوگئے، مگر علمی وروحانی اخلاقی عملی طورپر بھیانک تباہی آگئی۔ آخرت کی طلب، دنیا سے بے رغبتی، دین پر مر مٹنے کا جذبہ، عوام تک دین پہنچانے کی تڑپ وکڑھن اور نبیوں کی طرح بے طلب لوگوں میں دین پہنچانے کے لیے مارے مارے پھر نا ماضی کی داستان بن گیا۔ اب دینی ادارے دکان اور فیکٹریوں کی طرح چلائے جانے لگے۔ یہ مدارس ذاتی، خاندانی اور موروثی جائیداد بن گئے جس کی وجہ سے موروثیت کی تمام خرابیاں اور فساد درآیا۔
آج کل دین کے نام پر ہم مولویوں کی ساری جدوجہد کا لب لباب یہ ہے کہ ہمیں پیسے دو، ہم اپنا ایک الگ ادارہ قائم کریں گے۔ ہم میں ہر شخص کے پاس کروڑوں اربوں کے منصوبے اقوام عالم تک ایمان واسلام پہنچانے یا ملت اسلامیہ کی تربیت وافراد سازی کے نہیں، محض عالی شان عمارات بنانے کے ہیں۔ دین کے نام پر ہر وقت مانگنے والا پیشہ ور طبقہ پیداہو گیا ہے۔ بقول مولانا زاہدالرشدی کے آج ہمارے بہت سے مولوی صاحبان کا تعارف وشناخت یہ ہے: ہر وقت مانگنا، ہر ایک سے مانگنا اور ہر چیز مانگنا۔ کسی معاشرہ میں مانگنے والے کا جو مقام وحیثیت ہوتی ہے، وہی ہماری بنتی جا رہی ہے۔ اگر اب بھی ہم نے سنجیدگی سے اس مسئلہ کو نہ لیا تو عالم بننا اعزاز کے بجائے ذلت کا لیبل بن جائے گا اور شاید سمر قند وبخارا کی تاریخ یہاں بھی دہرا دی جائے۔
دینی مدارس کی موجودہ صورت حال کا ایک جائزہ
اگرچہ ہر مدرسہ کے ذمہ دار زبان سے یہی کہتے ہیں کہ ہمارے ادارے سے فارغ ہونے والے دنیا میں دین پھیلائیں گے، سوال یہ ہے کیسے پھیلائیں گے جبکہ آپ نے نہ دعوت کی تربیت، دی نہ داعی کامزاج بنایا، نہ آخرت کی فکر پیداکی، نہ روحانی وباطنی اوصاف سے آراستہ کیا بلکہ وہ بھی اوروں کے دیکھا دیکھی دین کے نام پر اپنی ذاتی جائیداد یں بنائیں گے۔ آج صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ ہر مولوی جوچرب زبانی سے اہل مال کی جیب سے مال نکلوانے کا فن جانتاہے، وہ رئیس الجامعہ یا حضرت مہتمم صاحب سے کم پر راضی نہیں۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مہتمم بنتے ہی میری اولاد، دامادوں اور دیگر رشتہ داروں کی روزی کا مسئلہ مستقل حل ہوجائے گا۔ حضرت مہتمم صاحب سے کون پوچھ سکتاہے کہ آپ نے خود کی اور اولاد کی تنخواہ کس معیار پر مقرر کی، اس لیے وہ کسی قدیم بنے بنائے ادارے میں خدمات انجام دینے کے بجائے اپنا جامعہ ضروری سمجھتاہے۔ اگر مہتمم کا کوئی علمی، اخلاقی ورحانی معیار مقرر کرکے امتحان لیاجائے تو شاید نوے فیصد مہتمم صاحبان فیل ہو جائیں گے۔ بندہ نے یہاں انگلینڈ میں اپنی آنکھوں سے بارہا دیکھا کہ اپنا جامعہ قائم کرنے کی خاطر مولوی صاحبان ہر قسم کی عصبیت جاہلیت، علاقائی، ضلعی، گروہی، لسانی، برادری وقومی حتیٰ کہ ایک ہی ضلع کے لوگوں میں شہر سے آنے والے اور دیہات سے آنے والے اور براہ راست انڈیا سے آنے والے اور افریقی ملکوں میں جاکر آنے والوں میں عصبیت بھڑکائی تاکہ میرے ضلع، گاؤں برادری کا پیسہ باہر نہ جائے۔ کیا ایسے دارالعلوموں سے للہٰیت اور مجاہدے کے ساتھ دین کا کام کرنے والا طبقہ پیدا ہوگا؟ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے خود احتسابی کا عمل بالکل ترک کردیا ہے۔ ہم میں کوئی کسی منکرپر نکیر کرنے کے لیے تیار نہیں کہ میری مقبولیت اور تعلقات میں فرق نہ پڑے، مجھے سبھی اچھا سمجھتے رہیں۔ ہمارے بعض بزرگ جو اہل مدارس کے نزدیک نہایت محترم سمجھے جاتے ہیں، وہ بھی نجی مجالس میں ان خرابیوں کا تذکرہ کرلیتے ہیں مگر براہ راست ان ذمہ داروں کو ٹوکنے کے لیے تیار نہیں۔ جامعہ کے معنی یونیورسٹی کے ہیں جو ضلع میں ایک آدھ ہی ہوتی ہے، مگر یہاں دومیل کے فاصلے پر اور ایک ہی بستی میں متعدد جامعات بن رہے ہیں۔ جامعہ کہاں کس جگہ کس سائز کا بنے، آج یہ سب ایک فرد کی مرضی پر موقوف ہے جسے حضرت مہتمم صاحب بننا ہے۔
ابھی اکتوبر۲۰۱۱ء کے اخیر میں استنبول (ترکی) میں حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ پر منعقد ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنس میں بندہ سے ایک رئیس الجامعہ صاحب فرمانے لگے، مولانا! آپ ہم سے بہت خفالگتے ہیں اور سخت الفاظ میں ٹوکتے اور لکھتے ہیں، مثبت کام کیجیے۔ بندہ نے عرض کیا، آپ تمام حضرات تو ماشاء اللہ مثبت کا م کرہی رہے ہیں۔ لاکھوں مولوی مثبت کام میں لگے ہوئے ہیں، کیا اتنا سارا مثبت کا م کافی نہیں ہے؟آج ہم نے مداہنت کو مثبت کام سمجھ لیا ہے۔ یہ دکانوں کے انداز پر قائم ہونے والے شخصی جامعات نااہل مولویوں کا ڈھیر لگاتے جارہے ہیں جس کی وجہ سے علم اور علما دونوں کا وقار اور عظمت مٹی میں مل رہاہے۔ جیسے کسی شہر میں پچاس ڈاکٹروں کی ضرورت ہو، آپ وہاں پانچ سو ڈاکٹر پیدا کر دیں تو ڈاکٹروں کی نہ صرف قدروقیمت ختم ہوجائے گی بلکہ ڈاکٹر صاحبان ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر اپنے پورے طبقہ کی ذلت کا سبب بنیں گے۔ یہی ہم مولویوں کی صورتحال ہے۔ یادرکھیے! تعلیم وتعلم یا دین سکھانے کے دو مرتبے ہیں۔ ایک فرض عین، دوسرا فرض کفایہ۔ فرض عین ہے ہر مسلمان کو اس کی ضروریات کا علم دینا اور فرض کفایہ ہے کچھ افراد کو پورے دین کا تفصیلی علم دلائل کے ساتھ دینا۔ آج ہماری ساری توجہ فرض عین کے بجائے فرض کفایہ پر ہے، کیوں کہ فرض عین میں نبیوں کی طرح جان کھپانی پڑتی ہے اور لوگوں میں مارے مارے پھرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس فرض کفایہ میں لگنے سے ہم حضرت مہتمم صاحب اور حضرت رئیس الجامعہ بن کر اپنے حلقوں اور بستیوں کی اہم شخصیت بن سکتے ہیں جسے بندہ اسلامی وڈیرے وجاگیر دار کہتاہے۔
دعوت کی مثال بادل کی سی ہے کہ بادل ہر جگہ خود جاکر بے طلب لوگوں پر برس کربنجر زمینوں کو سیراب وشاداب بنادیتاہے اور دینی اداروں کی مثال کنویں کی سی ہے جسے طلب وضرورت ہو، ہمارے پاس آئے۔ حضرات انبیا علیہم السلام بادل بن کررہتے تھے، نہ کہ کنواں بن کر۔ حضرت مولانا سعیداحمد خان مکی فرمایا کرتے تھے: کُن عالماً ولا تکن مولویاً۔ اگر بھارت کے پندرہ کروڑ مسلمانوں کو آپ مولوی قاری حافظ مفتی بنادیں تو کیا آپ کے سارے مسائل حل ہوجائیں گے؟ کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا، سارے تعلیمی، سیاسی، معاشرتی، اقتصادی، تہذیبی و فکری مسائل اپنی جگہ پر رہیں گے۔ بلاشبہ دین کے لیے دارالعلوم اور جامعات ضروری ہیں، مگر یہ ضروری نہیں کہ سارے مولوی صاحبان ملت کے تمام اجتماعی مسائل سے آنکھیں بندکرکے ایک ہی کام کرتے رہیں۔
علماء کرام کی عوام سے لاتعلقی خطرے کی گھنٹی
آج سب سے تشویشناک اور فکر انگیز مسئلہ یہ ہے کہ اگر چہ دینی اداروں کی بہتات ہے، مگر علما اور عوام کاجوڑ وتعلق ختم ہوتا جارہا ہے۔ آج برصغیر کے تینوں ملکوں میں جو دینی پروگرام ہوتے ہیں، ان میں زیادہ تر علماء کرام اور طلباء مدارس ہوتے ہیں۔ عام مسلمانوں میں سے بہت کم لوگ نظرآتے ہیں۔ ہمارے کاشتکار، ہمارے تاجر، ہمارا ملازمت پیشہ طبقہ، ہمارے جدید تعلیم یافتہ لوگ اور ملت اسلامیہ کے دیگر طبقات کے لوگوں کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے۔ کیا دین واسلام ان کا مسئلہ نہیں ہے یا انھیں دینی رہنمائی کی ضرورت نہیں؟ یہ صورتحال خطرے کی گھنٹی ہے، باطل طاقتیں ایسے ہی مواقع سے فائدہ اٹھاکر مسلم عوام کوورغلا کر علما کے خلاف استعمال کرتی رہی ہیں۔ اگر علماء کرام کا اپنے عوام سے مضبوط تعلق قائم رہے تو باطل کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ماضی میں سمر قند، تاشقند اور بخارا کی تباہی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ علماء کرام اپنے عوام سے بے تعلق اور بے نیاز ہوگئے تھے، اس سے فائدہ اٹھاکر کمیونسٹوں نے مسلم عوام کو بھڑکاکر انہیں کے ہاتھوں علماء کرام، مدارس ودینی شعار کا خاتمہ کروایا۔ آج بھی باطل طاقتوں کی پوری کوشش ہے کہ مسلم عوام کو علماء کرام سے دور کیاجائے۔
ہمارے اکابرین اپنے گاؤں ضلع علاقہ میں عوام سے گہراتعلق رکھتے تھے، جیسے مظاہرعلوم وقف کے حضرت مفتی مظفر حسین ؒ صبح دوتین گھنٹے حدیث کا درس دیتے اور ظہرکے بعد اکثر اطراف کے کسی گاؤں یادیہات میں جاکر لوگوں سے ملتے، دین کی باتیں بتاتے، موسم خواہ کتناہی سخت ہو، سخت گرمی ہویا سردی یا بارش ہو۔ آخری عمرمیں لوگ عرض کرتے کہ حضرت! آپ کی صحت کاتقاضا ہے کہ آرام کیجیے، ان گاؤں والوں کویہیں بلوالیتے ہیں توفرماتے، وہاں سے دوچار آدمی آئیں گے، لیکن جب میں وہاں جاؤں گا تو پورا گاؤں مجھ سے ملے گا، دین کی باتیں مجھ سے سنے گا۔ اسی طرح حضرت مولانا صدیق احمد باندویؒ اور دیگر اکابرین عام مسلمانوں سے وابستہ رہتے تھے، جبکہ آج ہم عوام سے کٹتے جا رہے ہیں۔ اس مسئلہ پر ہمیں سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
دینی حلقوں میں عدم برداشت ۔ مضمرات و نتائج
محمد اورنگ زیب اعوان
دینی حلقوں میں عدم برداشت کی موجودہ کیفیت نئی نسل کے لیے انتہائی اضطراب کا باعث بن رہی ہے۔بات بات پہ فتوے، تنقیدات ، الزامات اور تہمتوں کی اس روش نے ذہنی ارتداد کی کیفیت کو جنم دیا ہے۔ ہمارے سنجیدہ اہل علم کواس معاملہ میں باہم سوچ وبچار کے بعد ایسی مشترکہ پالیسی طے کرنی چاہیے جس کے باعث ایسے معاملات کی راہ روکی جاسکے ۔کوئی رائے دینے،کچھ کہنے اور لکھنے سے پہلے اس کے تمام مثبت ومنفی پہلوؤں پر نظر رکھنی چاہیے۔فوائد اور نقصانات اگر مدنظر ہوں تو امید ہے کہ اختلافات کی صورتیں کم ہی پیدا ہوں گی ۔محض شخصی اور ذاتی مقاصد ومفادات کے حصول کی خاطر کسی رائے کے اظہار میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑناچاہیے۔ دوسروں کو جبراً قائل کرنے کے بجائے صبراً مائل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ہمارے اکابر اپنے اصاغر کی اصلاح اس انداز میں کریں کہ وہ محسوس کریں کہ جیسے والد اپنے بیٹے کی اصلاح کرتا ہے ایسے ہی یہ بزرگ ہماری اصلاح فرمارہے ہیں ۔
تنقید اور جارحانہ اندازِ اصلاح ، اصلاح کی بجائے فساد کا سبب بنتا ہے ۔ہم محض جذبات کی رو میں بہہ کر ایسی باتیں لکھ دیتے ہیں کہ ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ ہم نے کیا کر دیا ہے ؟اور جب پانی سر سے گذ رجاتا ہے تو پھرسوائے پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔سانپ گذر جائے تولکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ پہلے تولو پھر بولو۔اسی طرح لکھتے ہوئے بھی ایک ایک لفظ سوچ سمجھ کر لکھنا چاہیے، تقریرسے زیادہ تحریر اثرانداز ہوتی ہے۔ اگر ہمارے اندر یہ احسا س پید ا ہوجائے کہ ہم نے بولے جانے والے ایک ایک کلمہ اور لکھے جانے والے ایک ایک لفظ کا اللہ رب العزت کے سامنے جواب دینا ہے تو ہماری زبان اور قلم بہت ہی محتاط ہو جائیں۔
ہمیں اندازہ ہی نہیں کہ ہماری منفی تحریروں کے نقصانات کتنے زہریلے مرتب ہوتے ہیں ۔ہمارا مخالف اور مخاطب تو جواثر لے وہ تو ہے ہی مگر اس طرف ہمارا دھیان نہیں جاتا کہ دین دشمن افراد اور جماعتوں کے پاس ہمارا تمام ریکارڈمحفوظ ہورہاہے اور وقت آنے پر وہ ہماری نسلوں کو ہم ہی سے نہیں بلکہ دین اسلام سے بدظن اوربرگشتہ کرنے کے لیے استعمال کریں گے، جیساکہ ’’تاریخ احمدیت ‘‘لکھ کر قادیانیوں نے کیا ہے اور منکرینِ حدیث اپنی کتابوں میں کررہے ہیں۔صرف مذہب کا سرطان۔(مرتب:کوثر جمال)،تاریک اجالے،حقیقی علماء اور جعلی علماء ۔احتساب یا انقلاب ، حقیقی عبادت جعلی عبادت ۔(مرتب:مشتاق احمد)اور پسِ نوشت (ڈاکٹر پرویز پروازی) کا دیکھناہی اس حوالہ سے ہماری آنکھیں کھولنے اور غفلت کی چادر اتارنے کے لیے کافی ہو گا۔
پورے ملک میں چند گنی چنی شخصیات کے استثناء کے بعد ہمارے ہاں کون ہے جواس نہج پر سوچ کر بولے اور لکھے ؟ ہم پہلے جذبات کی رَو میں بہہ کر ایسی باتیں اور فتوے تحریر کر جاتے ہیں اور بعد میں ان کی وضاحتیں پیش پیش کرتے کرتے عمر بیت جاتی ہے ۔آغاز ایک تحریر سے ہوتا ہے اور اختتام ایک کتاب پر جاکے ہوتا ہے ۔کئی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ فتویٰ پہلے دے دیا جاتا ہے اور فریق ثانی سے متعلق دلائل وشوائد بعد میں اکٹھے کئے جاتے ہیں۔
کراچی کی ایک بہت بڑی علمی شخصیت نے ایک تنظیم کے خلاف فتویٰ تحریر فرمانے کے بعدمردان کے ایک عقیدت مندکو تحریر کیا کہ فتویٰ تومیں نے دے دیا ہے مگر ان سے متعلق بنیادی معلومات بھی مجھے نہیں ہیں۔آپ براہ مہربانی ان سے متعلق بنیادی معلومات مجھے فراہم کریں۔۔۔ ہمارے ایک انتہائی قابل احترام ’’کالم نگار‘‘دوست نے ایک دفعہ حضرت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ العالی سے استفسار کیا تھا کہ حضرت ! ہم جب لکھتے ہیں تو بار بار کانٹ چھانٹ کرنی پڑتی ہے، تین چار دفعہ کی ریاضت کے بعد کہیں جاکے ’’کالم ‘‘ مکمل ہوتا ہے جب کہ آپ کو بارہا دیکھا کہ آپ لکھنے بیٹھتے ہیں اورایک ہی نشست میں اپنا ’’کالم‘‘ مکمل کرلیتے ہیں اوراس میں کہیں کانٹ چھانٹ بھی نہیں کرتے ، تو اس کی وجہ کیا ہے ؟مولانا زاہد الراشدی صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا بھائی! آپ لکھنے کے بعد سوچتے ہیں اور میں لکھنے سے پہلے سوچتا ہوں ۔دوسری طرف وہ ہیں کہ ’’کالم ‘‘ہی نہیں ’’فتویٰ‘‘ ارشاد فرمانے کے بعد سوچتے ہیں بلکہ بعض تو فتویٰ جاری کرنے کے بعد بھی نہیں سوچتے ۔۔۔! انا للّٰہ و انا الیہ راجعون.
پھر نوبت یہاں تک جا پہنچتی ہے کہ فریقین میں تبادلہ دلائل کا نہیں الزامات واعتراضات کا ہوتا ہے ۔ اوریہ الزامات و اعتراضات بھی علمی نہیں ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ہم اُسے تحریر کاحسن سمجھتے رہتے ہیں کہ جتنا کسی کی ذات پر کیچڑ اچھالیں گے اتناہی تحریر میں زور پڑے گااورا دب کی چاشنی بڑھے گی ہمیں یہ احساس سرے سے نہیں ہوتا کہ ایسا کرکے ہم کسے خوش کررہے ہیں اورہماری ان تحریروں سے کل فائدہ کون اٹھائے گا؟
ابھی تک ہماری ماضی کی تحریروں سے ہی گلوخلاصی نہیں ہوئی، پہلے ہی اعتراضات وجوابات کا سلسلہ تھمنے نہیں پایا کہ اب مزید نئے نئے مسائل نے جنم لیناشروع کردیا ہے اوراس کی سب سے بڑی وجہ فریقین میں عدم برداشت اور عدم حوصلہ ہے۔ ہر فرد ، ہرادارہ ، ہرجماعت یہی سمجھتی ہے کہ جوہماری رائے ہے وہی ’’اقرب الی الحق‘‘ ہے اور اب تو بات اقرب سے ہٹ کر ’’عین الحق‘‘ تک پہنچ گئی ہے کہ جو میں کہتاہوں ، جو میرا نظریہ ہے ، جو میری سوچ ہے ، جو میں لکھتا ہوں ، وہی حق ہے، صحیح یہ ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ باطل، لغو اور غلط ہے۔ انا ولاغیری ہی آج ہمار انعرہ ہے۔ اسی سوچ اور نظریے نے آج ہمیں جس مقام پر لاکھڑا کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ایسے معاملات میں شیطان اوراس کے چیلے ہمارے سامنے ایسے ایسے دلائل لا کر رکھ دیتے ہیں کہ پھرہم رکنے اور ٹھہرنے کا نام تک نہیں لیتے اورایک دوسرے پر ایسے تابڑ توڑ حملے کرتے ہیں کہ الامان والحفیظ ۔
خدا را ہمارے اکابرومعاصر اپنے اس عمل پر نظر ثانی فرمائیں اور امت کے اس بکھرے شیرازے کو مزید انتشار وافتراق کی دلدل میں نہ دھکیلیں۔اکابرکے ساتھ ساتھ اصاغر کوبھی اس کا احسا س کرنا چاہیے کہ:
موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ بھی نہیں
الخیر مع اکابرکم، البرکۃ مع اکابرکم اور البرکۃ مع اکابرکم اہل العلم کا سنہری اصول ہمارے سامنے رہناچاہیے ، اکابر اُمت سے جب ہم کٹیں گے تو پھر ایک آوارہ پتاّ ہی ہو کررہ جائیں گے، ہوا جدھر چاہے گی ہمیں لے جائے گی اور چلو اُدھر کوجِدھر کی ہواہو، کا مصداق بن کر رہ جائیں گے۔پتاّ شاخ کے ساتھ جُڑا ہی اچھالگتا ہے۔ جو پتا شاخ سے ٹوٹ کر گر جائے وہ پھر پاؤں تلے ہی روندا جاتا ہے ۔ یہ نعرہ ، یہ سوچ ، یہ فکر ، یہ نظریہ اور یہ انداز قطعی مناسب نہیں ہے کہ ہم کہتے پھریں ،اکابر کون ہوتے ہیں ؟ ہم اکابر کو نہیں مانتے ۔۔۔ ہمیں اکابر کی راہ نہیں اپنانی ۔۔۔ اور بعض تو اپنی تقاریر میں یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ موجودہ اکابر کی سوچ اور نظریہ ہمارے جوتے کی نوک پر۔۔۔۔۔۔! یہ تمام الفاظ ، یہ نظریہ اور یہ سوچ ہمار ے ’’باغیانہ پن ‘‘ کی عکاسی کرتے ہیں۔
ہماری ذاتی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے ۔ہماری تمام تر عزت ، وقار ، مرتبہ اور مقام اپنے اکابر ہی کا مرہون منت ہے، اکابر ہی سے وابستگی میں ہماری بقا کا رازمضمر ہے ۔ اگرہم اپنے اکابر سے بغاوت کریں گے اور ان سے کٹ کر زندگی گذاریں گے تو پھر:
ہماری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
ہمارا مقصو د یہ باور کرانا بھی نہیں ہے کہ اکابر ’’معصوم‘‘ ہیں ۔ان کی ہربات کوآنکھیں بند کر کے تسلیم کر لیا جائے۔ جہاں ہمیں ان کی رائے اور مؤقف سے اختلاف ہووہاں انتہائی متانت، شائستگی اور ادب واحترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ان سے اختلاف رائے کیا جائے اورا س میں اندازجارحانہ اور گستاخانہ نہ ہو۔ جہاں کہیں کسی معاملہ میں اختلاف ہوتو آپس میں مل بیٹھ کر ان معاملات کو حل کر لینا چاہیے ،رسائل وجرائد اور کانفرنسوں میں ان اختلافات کو نہیں اچھالنا چاہیے ۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اکابرکا مؤقف ہماری رائے کے موافق نہیں اور ہماری سوچ ، فہم اور دانست کے مطابق صحیح نہیں ہے اوروہ بھی اپنے مؤقف کی غلطی کو ماننے کے لیے تیار نہیں تو پھر خاموشی سے ان سے علٰیحدگی اختیار کرلی جائے اوران اختلافات کو مزید ہوا نہ دی جائے ۔
ہمیں اپنی رائے منوانے پراصرار نہیں کرناچاہیے ،ہم اس کے مکلف قطعاً نہیں ہیں کہ ڈنڈے اور گولی کے زور پر اپنے مؤقف کو منوائیں، جومانتا ہے مانے ، نہیں مانتا نہ مانے ۔ہمارے ذمہ صرف اتنی بات ہے کہ اپنے اس مؤقف اور رائے کی وضاحت ان کے سامنے کردیں ا ور بس۔۔۔!
ایک دوسرے کی ذات پر کیچڑ اُچھالنے کے بجائے اگر اصلاح کا پہلو سامنے رکھا جائے تو امید ہے کہ اس کے اچھے نتائج مرتب ہوں گے اور ہم یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ ہماری اس درخواست کو درخور اعتنا سمجھاجائے گا اور اس سے بے اعتنائی نہیں برتی جائے گی ۔
(بشکریہ ماہنامہ ’’الحامد‘‘ لاہور)
تنقیدی جائزہ یا ہجوگوئی؟ (۱)
محمد رشید
الشریعہ کے خاص شمارہ (جنوری فروی 2011) کے چار سو صفحے پڑھنے کے بعد پروفیسر میاں انعام الرحمن کے مضمون ’’محاضرات معیشت و تجارت کا ایک تنقیدی مطالعہ‘‘ کا اس ذہن سے مطالعہ شروع کیا کہ ہمیں ایک معیاری،شستہ اور باوقارتنقیدی جائزہ پڑھنے کو ملے گا، لیکن اس تنقیدی مطالعے کے پہلے ہی صفحے میں الفاظ کے استعمال پر ہم کھٹکے، تاہم پھر بھی ہم اسے پڑھتے چلے گئے ۔لیکن ہم بمشکل پانچ صفحے ہی پڑھ پائے تھے کہ بوریت نے ہمارا برا حال کردیا چنانچہ اس کے بعد چھٹا صفحہ پڑھنا ہمارے لیے بے حد مشکل ہوگیا۔اس کے بعد ہمارا یہ حشر ہوا کہ ہم ہر روزارادہ کرتے کہ آج اس مضمون کو پڑھتے ہیں ، لیکن الشریعہ اٹھانے کو دل ہی نہ کرتا۔اسی آنکھ مچولی میں آٹھ دس دن گزرگئے۔اتوار والے دن ٹھان کر ہی بیٹھے کہ چاہے مضمون کتنا ہی بور لگے، بہرحال ایک دفعہ پڑھنا ضرور ہے۔اور پھر اپنے اس ارادے کوہم نے رات دیر تک عملی جامہ پہنا ہی دیا۔تاہم اس مضمون کے پہلے چھ صفحے ہمیں جتنے بور لگے اگلے ساٹھ صفحے ہمیں اتنے ہی تکلیف دہ محسوس ہوئے۔ہمیں حیرت ہے کہ مضمون نگار محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمۃ اللہ علیہ پر تضاد فکری کا الزام بڑے دھڑلے سے لگاتے ہیں لیکن اپنے ہی مضمون کے پہلے ہی صفحے پروہ ڈاکٹر صاحب کے علم و فکر کی جس بلندی کا اقرار کرتے ہیں باقی ساٹھ صفحات میں شد و مدسے سے اس کا انکار کرتے پائے گئے ہیں ،جس کا عروج ان کے مضمون کے آخری صفحے پر ہمیں ملتا ہے۔
مضمون نگار اپنے نام میں ’’پروفیسر میاں‘‘ کے لاحقے کے ساتھ اور الشریعہ کے لکھاری ہونے کی وجہ سے ہمیں جتنے موٹے محسوس ہورہے تھے،اپنے انداز تحریر اور قلم کے استعمال کی وجہ سے وہ ہمیں اس سے کہیں بڑھ کر چھوٹے محسوس ہوئے۔مضمون نگار کا یہ پہلا مضمون تھا جو ہم نے اپنے ہوش و خرد کو مکمل حاضر رکھتے ہوئے بیک وقت مکمل مطالعہ کر لیا۔ مضمون نگار کے ظرف کا چھوٹا پن ان کے انداز تحریر سے بار بار ٹپک رہا تھا۔اور ہم بار بار افسوس کا اظہار کررہے تھے کہ اے کاش! ایسے ’’چھوٹے‘‘ آدمی سے واسطہ نہ ہی پڑتا تو اچھا تھا۔لیکن ڈاکٹر غازی رحمۃ اللہ علیہ جیسے عظیم استاد کے (غائبانہ ہی سہی)انتہائی حقیر شاگرد ہونے کی حیثیت نے ہمیں پابند کیا کہ ہم ان کے افکارکے تنقیدی جائزہ کا کھلے دل سے جائزہ لیں۔ہم نہایت افسوس سے عرض کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں کہ یہ مضمون ’’تنقیدی و علمی جائزہ ‘‘کم اور’’تحقیری /استہزائی و ادعای‘‘ انداز زیادہ لیے ہوئے تھا۔
ایسا غیر معیاری اور ظرف سے عاری مضمون کسی بھی طرح ایک عظیم شخصیت کی وفات کے موقع پر اس کی یاد میں شائع ہونے والے مضامین میں جگہ پانے کے قابل نہیں۔یا تومدیرالشریعہ نے اس مضمون کو دیکھا ہی نہیں یا پھر الشریعہ کی روایتی اعلیٰ ظرفی نے ایسے گھٹیا مضمون کو غلط موقع پر شائع کرنے کی غلطی کرائی۔ایسا مضمون اگر کسی مباحثے کے دوران شائع کیا جاتا تو بات دوسری ہوتی۔مگرڈاکٹر محمود احمد غازی رحمۃ اللہ علیہ ایسی نہایت اعلیٰ ظرف شخصیت کی یاد میں ایسے ’’کم ظرف‘‘ مضمون کی اشاعت سخت ناانصافی ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ محترم ڈاکٹر غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر تنقید نہیں ہوسکتی۔ بلا ریب ہر علمی و فکری کام کرنے والے کے ’’کام‘‘ کا تنقیدی محاکمہ و تجزیہ ہر اہل علم کا حق ہے مگر تنقیدی محاکمہ اور گھٹیا اتہام بازی میں دور دور تک کوئی رشتہ و ناطہ نہیں۔ پہلی چیز ایک زندہ و باضمیر معاشرے کی نہایت بنیادی ضرورت ہے تو دوسری چیز ایک صالح علمی روایت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔
ہم ذیل میں حضرت انعام کے اس خود ساختہ تنقیدی جائزے کے چند نکات ونتائج کا جائزہ لیتے ہیں۔
۱۔ مضمون نگار محترم غازی صاحبؒ کے محاضرہ کا اقتباس پیش کرتے ہیں جس کا آخری حصہ یوں ہے:
’’من صنع منکم شیئا فلیحسنہ‘‘ کہ تم میں سے اگر کوئی شخص کوئی چیز بنائے، یادرکھیے کہ یہاں صنعت کا لفظ استعمال ہوا ہے جس میں پوری صنعت اور انڈسٹری شامل ہے۔ ’’فلیحسنہ‘‘ تو اس کو بہت خوبصورت اور بہتر انداز سے مکمل کرے ، بہتر انداز سے بنائے۔ یہ صنعت کاروں کے لیے ایک ہدایت ہے کہ تم جو بھی صنعت تیار کرو، جو چیز بھی پیداوار کرنے کے لیے اختیار کرو، اس کو جتنا خوبصورت بناسکتے ہو بناؤ۔‘‘
صاحب محاضراتؒ نے حدیث سے بہت ہی خوبصورت اور عصری زندگی کی راہنمائی کرتے ہوئے ایک بامعنی تشریح کی۔مگر مضمون نگار حضرت انعام اس پر اپنی ’’کم ظرفی‘‘ کا اظہار یوں فرماتے ہیں:
’’اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے کہ اب ہم فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم :’’من صنع منکم شیئا فلیحسنہ‘‘ کو دنیا کے سامنے اس دعوے کے ساتھ پیش کریں کہ دیکھو! تم لوگوں نے صنعتی انقلاب کے بعد اور اس صنعت کی خرابیوں کے ظہور کے بعد غیر موزونیت سے آگاہ ہوکر موزونیت کا عمل شروع کیا ہے، لیکن دیکھو! اسلام نے چودہ سو تیس سال سے بھی پہلے عالم انسانیت کے اس سلسلے میں راہنمائی کی ہے۔ غورکیجئے کہ کیا ہمارے اس دعوے میں کوئی وزن ہوگا؟ اس قسم کے دعوے ہم اکثر و بیشتر کرتے رہتے ہیں اور اہل علم ہمیں جاہل قرار دیتے ہوئے خاموشی سے اپنا کام کیے جاتے ہیں۔(خیال رہے یہاں اہل علم مغربیوں کو کہا جارہا ہے)‘‘
نہایت افسوسناک بات ہے کہ حضرت انعام صاحب محاضرات کا ایک خوبصورت اقتباس لے کر پہلے لایعنی تنقیدی تجزیہ پر ایک صفحہ سیاہ کرڈالتے ہیں اور پھر محترم غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تفہیم حدیث کے سلسلے میں ایک خوبصورت نکتہ کے خلاف اپنے بغض، استکباراور گھٹیا پن کا اظہار درج بالا اقتباس کے ذریعے کرتے ہیں۔محترم غازی صاحبؒ کا اندازبیان اور نقطہ نظر اورمضمون نگار کا انداز بیان ہردومخالف اقتباسات کو آمنے سامنے رکھ کراس بات کا بخوبی ادراک کیاجاسکتا ہے کہ مضمون نگار نے بڑے ڈرامائی انداز میں محترم غازی صاحب کا مذاق اڑانے کی کوشش کی ہے۔ مضمون نگار کے الفاظ اس بات کی چغلی کھارہے ہیں کہ وہ مغرب کی ’’علمیت ‘‘ کے اندھے عقیدے میں مبتلا ہیں اور مغرب کے علمی مغالطوں اور کمزوریوں پراہل مشرق یا اہل اسلام کی طرف سے پیش کی جانے والی بڑی سے بڑی اور مضبوط سے مضبوط دلیل سے بھی وہ اس لیے چڑتے ہیں کیونکہ اہل مغرب’’اصل اہل علم‘‘مسلمانوں کو جاہل قرار دیتے ہیں۔
۲۔ چند سطور کے بعد صاحب محاضراتؒ کے ایک نقطہ نظر پر لایعنی و سطحی تنقید کرنے کے بعد جہاں اپنے آپ کو بے بس پاتے ہیں تو یہ انداز بیان اختیار کرتے ہیں:
’’البتہ صرفی قرضوں کی تجویز کی حد تک ڈاکٹر غازی سے سو فی صد اتفاق کرنا پڑتا ہے۔‘‘
انداز بیان پر غور فرمائیں ’’ڈاکٹرغازی سے‘‘ کے الفاظ سے واضح تاثر مل رہا ہے کہ حضرت انعام بے حد بلند و غیرمعمولی مقام کی حامل شخصیت ہیں اور ڈاکٹر غازی مرحوم ایک معمولی درجے کے کوئی مولوی ہیں جن سے حضرت انعام کو ’’اتفاق کرنا پڑرہا ہے‘‘ ۔محترم آپ کے سرپر کیا کسی نے کوئی ڈنڈا اٹھا رکھا ہے ’اتفاق کرنے کے لیے‘‘جس کی وجہ سے آپ کو مجبوراً ’’اتفاق کرنا پڑرہا ہے۔‘‘
اگر انسان کی گفتگو میں ’’باڈی لنگویج‘‘ اور الفاظ کے چناؤ و استعمال کی ترکیب کو خاص اہمیت حاصل ہے تو ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ حضرت انعام کا درج بالا اقتباس محترم غازی صاحبؒ کے کسی فکر کی بلندی کا اعتراف نہیں بلکہ ایک معمولی درجے کے مفکرکے مقابلے میں مضمون نگار کا اپنی وسعت ظرفی کا اعلان لیے ہوئے ہے۔
۳۔ اس کے بعد محترم غازی صاحب ؒ کے اقتباس پیش کرنے کے بعد مضمون نگارلایعنی بحث اور تنقید پر صفحے کے صفحے سیاہ کرتے چلے جاتے ہیں۔بالکل ایسے ہی جیسے ’’گھوڑوں کی اصناف‘‘ پرکتاب لکھنے کا دعویدار پہلے صفحے پر ’’گھوڑا دوڑ رہا ہے‘‘ لکھنے کے بعد ہر صفحے پر ’’دغڑ دغڑ‘‘ لکھتا چلا جاتا ہے، اور سمجھتا ہے کہ وہ کوئی بہت بڑا علمی کام کررہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مضمون نگار کے ’’تنقیدی جائزہ‘ ‘ کا’’علم و تحقیق‘‘ سے دور دور تک کوئی واسطہ نظر نہیں آتااور تنقید کے مستند اصولوں اور معیارات سے بھی گرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ہمارے نزدیک یہ ’’تنقیدی جائزہ‘‘اس سطح کا ہے ہی نہیں کہ اس کاتجزیہ کرنے پر وقت ضائع کیا جائے۔لیکن چونکہ یہ ایک موقر علمی و تحقیقی ماہنامے میں شائع ہوا ہے لہٰذا اس کا محاکمہ کرنے کے تلخ فریضہ کی ادائیگی پر ہم نے اپنے آپ کو مجبور محسوس کیا ہے۔
۳۔ مضمون نگارمحترم غازی صاحبؒ کا کوئی اقتباس پیش کرتے ہیں اور پھر اٹکل پچو اور جذبات کی لٹھ لے کر چڑھ دوڑتے ہیں۔ صاحب محاضرات کا ایک اقتباس درج کرنے کے بعد الشریعہ کے ص ۴۱۹ پریوں رقمطراز ہیں:
’’غالباً ڈاکٹر غازی مرحوم مستضعفین کو قارونی طبقہ کے خلاف بغاوت پر اکسا کر قرآنی نقطہ اعتدال (جسے وہ خود قیام للناس کہتے ہیں) کے ابلاغ کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں ہیں، اسی لیے مستخلفین کو امر واقعی کے انداز میں لے رہے ہیں۔ خیر! یہ کوئی نئی بات نہیں تاریخ بتاتی ہے کہ (شاہ ولی اللہؒ اور کارل مارکس جیسے افراد کے استثنا کے ساتھ) علما اور سکالرز کی اکثریت کا یہی شیوہ رہا ہے۔‘‘
علم و فکر کے توازن کے شاہکار ایک باکردارانسان کی وفات کے موقع پر اسے خراج عقیدت دینے کا یہ نہایت نادر ،بدبودار اورپست انداز پہلی دفعہ حضرت انعام کے مضمون کے ذریعہ ہمارے مشاہدہ میں آیا ہے۔قارئین کرام !درج بالا پیراگراف پر غورفرمائیں اور پھر بتائیں کیا اس کے لفظ لفظ سے ’’نفرت اور حقارت ‘‘ نہیں پھوٹ رہی کہ شاہ ولی اللہ اور کارل مارکس کے سوا علما وسکالرز کی اکثریت بشمول ڈاکٹر غازی قارونی طبقہ کے درپردہ حمایتی اور پشتیبان رہے ہیں۔مضمون نگار کی اس ہجوگوئی کے برعکس محترم غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کس فکری حسن اور متوازن نقطہ نظر کے حامل تھے اس کی ہلکی سی جھلک ان کے محاضرات ’’معیشت و تجارت‘‘ کے درج ذیل اقتباسات میں دیکھی جاسکتی ہے۔:
’’قرآن کریم نے ربا کی حرمت کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس پر ایک تفصیلی گفتگو میں بات ہوگی۔مال کو جمع کرنے اور سینت سینت کر رکھنے کی برائی بیان کی گئی ہے۔ مال کو خرچ کرنے کی جابجا تلقین کی گئی ہے۔ مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کی مدد کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ بھوکے کو کھانا کھلانا، نادار کی مدد کرنا، کمزوروں کا بوجھ اٹھانے میں مدد دینا۔ یہ وہ اخلاقی رویے ہیں جو قرآن مجید مسلمانوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ یہ اخلاقی رویہ محض اجتماعی یا ثقافتی میدان سے تعلق نہیں رکھتا، بلکہ اس کا تعلق انسانوں کے معاشی رویے سے بھی ہے۔ جب انسانوں کے اخلاق و کردار میں بہتری آئے گی، جب انسان مال و دولت کے بارے میں اخلاقی ہدایات کے پابند ہوں گے تو معاشی رویے میں اصلاح خود بخود پیدا ہوگی۔‘‘(محاضرات معیشت و تجارت ۔ صفحہ 31)
’’عدل اور قسط کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ قرآن مجید کی رو سے یہ ریاست کا فریضہ ہے کہ حقیقی انصاف قائم کرنے میں عامۃ الناس کی مدد کرے اور ریاست اپنے وسائل کی حد تک ، اپنے مقدور کی حد تک عدل و انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے۔۔۔۔۔۔۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ جملہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ حکومت اور مملکتیں کفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتی ہیں۔ ظلم کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتیں۔اس لیے کہ ظلم اس دنیا میں بھی تباہی کا موجب ہوتا ہے اور آخرت میں بھی تاریکیوں کا اور ظلمتوں کا سبب ہے۔‘‘ (محاضرات معیشت و تجارت ۔ صفحہ 32)
معلوم نہیں یہ مضمون نگار کی بدنیتی ہے یا کہ بدمذاقی کہ جس صفحے کا ایک اقتباس لے کر وہ استاد محترم پر قارونی طبقہ کی مخالفت سے اعراض کا الزام لگا رہے ہیں،مضمون نگار کے اسی اقتباس سے پہلے اور بعد میں محترم غازی صاحب کے مذکورہ بالا اقتباسات سے اندھوں کو بھی اس چیز کا واضح ادراک ہوجاتا ہے کہ غازی صاحب ؒ قارونیت،ظلم اوراستحصال کے نہ صرف مخالف تھے بلکہ وہ قرآن وسنت اور صحابہ کرام کے حوالہ جات سے اس کا بطلان کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔قارونیت کی مخالفت سے اعراض کرنے کا طعنہ دینے والے ذرا محترم غازی صاحبؒ کا درج ذیل اقتباس بھی ملاحظہ فرمائیں:
’’۔۔۔قرآن مجید نے فقر و فاقے کے معاملے سے بہت زیادہ اعتنا کیا ہے۔ قرآن مجید نے ان تمام اسباب کو ختم کرنے کی تعلیم دی ہے، ان تمام راستوں کو بند کرنے کی تلقین کی ہے جن کے نتیجے میں فقر و فاقہ پیدا ہوتا ہے؟ معاشرے میں فقر کیوں پیدا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو سب کے لیے وسائل رزق یکساں پیدا کیے ہیں۔ ہر انسان کو دو ہاتھ دے کر بھیجا ہے، ہر انسان کو سوچنے والی عقل عطا فرمائی ہے۔۔۔۔۔۔۔ہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت تکوینی سے انسانوں کے درمیان بعض پہلوؤں سے تفاوت رکھا ہے۔ لیکن جو بنیادی اسباب ہیں وہ سب کے لیے یکساں طور پر فراہم کیے گئے ہیں۔ ان اسباب کا تقاضا یہ تھا کہ معاشرے میں فقر و فاقہ نہ پیدا ہو۔ معاشرے میں معاشی تفاوت ایک حد سے آگے نہ بڑھے۔
جب یہ تفاوت حد سے بڑھنے لگتا ہے اور غریب اور امیر اور فقیر اور دولت مند میں تفاوت بہت بڑھ جاتا ہے تو اس کے کچھ خارجی اور غیر فطری اسباب ہوتے ہیں۔ یا تو کہیں تقسیم دولت میں عدم مساوات سے کام لیاگیا ہے یا مواقع کی فراہمی غیر یکساں کردی گئی ہے، یا کہیں اور بے انصافی جنم لے رہی ہے یا دولت کا ارتکاز ہورہا ہے یا کچھ لوگ جہالت کا شکار ہیں جس کی وجہ سے وہ کاروبار اور تجارت کے تازہ ترین طریقوں سے ناواقف رہتے ہیں، یا کسی علاقہ میں امراض پھیل گئے ہیں کہ کچھ لوگ ان امراض کی وجہ سے اپنے وسائل کا صحیح استعمال نہیں کرارہے ہیں۔ یا حلال و حرام میں تمیز ختم ہوگئی ہے جس کی وجہ سے آمدنی بھی ناجائز ہے، اخراجات بھی ناجائز ہیں۔
یہ وہ بڑے بڑے اسباب ہیں جن کے نتیجے میں فقر و فاقہ جنم لیتا ہے۔ ان میں سے کوئی ایک یا متعدد اسباب جب پیدا ہوں گے تو معاشرے میں دولت کی تقسیم متاثر ہوگی ، وسائل کی تقسیم میں گڑبڑ پیدا ہوگی۔ غریب غریب تر ہوجائے گا، دولت مند مزید دولت مند ہوجائے گا۔ قرآن مجید نے ان تمام مسائل کا بہت جامع حل تجویز کیا ہے۔ سب سے پہلا حل قرآن کریم نے یہ دیا ہے کہ تقسیم دولت کا ایک نیا نظام عطا فرمایا۔ ۔۔۔
پھر قرآن مجید نے عدل و انصاف کے قیام پر اتنا زور دیا ہے کہ شاید کسی اور آسمانی کتاب نے اتنا زور نہیں دیا۔ جب معاشرے میں عدل و انصاف قائم ہوگا تو بہت سے ایسے اسباب ختم ہوجائیں گے جو دولت کے ارتکاز کا ذریعہ بنتے ہیں، تقسیم دولت میں ناہمواری کو جنم دیتے ہیں۔پھر خود ارتکاز دولت بھی شریعت کی نظر میں ایک بہت بڑی برائی ہے اور اس کا خاتمہ قرآن کریم کی معاشی پالیسی کا ایک اہم نکتہ ہے۔ ’’کی لایکون دولۃ بین الاغنیاء منکم‘‘ یہ سب احکام اس لیے دیے گئے ہیں کہ دولت صرف دولت مندوں میں گردش نہ کرے۔ بلکہ معاشرے کے ہر طبقے میں گردش کرے۔۔‘‘(ایضاً صفحہ35۔36)
’’ان بالواسطہ اقدامات کے ساتھ ساتھ شریعت نے دولت کی وسیع پیمانے پر تقسیم کے لیے کچھ مثبت اور براہ راست ہدایات بھی دی ہیں۔ مثلاً ذخیرہ اندوزی کی ممانعت کی ہے۔ مثلاً غیر ضروری طور پر بڑے بڑے رقبہ جات کی ملکیت اور ان کو غیر آباد چھوڑنے کو ناپسند قرار دیا ہے۔ کسی کی زمین کی تین سال تک بغیر آبادی اور کاش کے ملکیت شریعت کی نظر میں ناپسندیدہ ہے۔ اگر سرکاری زمین کسی شخص کو آباد کرنے کے لیے الاٹ کی گئی ہے اور وہ تین سال تک آباد نہ کرسکے تو وہ زمین اس سے واپس لے لی جائے گی۔ اسی طرح سے سرکاری چراتاہوں کے علاوہ ذاتی چراگاہیں یا گھوڑی پال مربعے قائم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یعنی بڑے پیمانے پر لوگ رقبوں کو روک لیں اور اپنے جانوروں کے چرنے کے لیے اس کو خالی چھوڑدیں، دوسروں کو استعمال نہ کرنے دیں، اس کی بھی اجازت نہیں ہے۔ صرف سرکاری یا فوجی جانوروں کے چرنے کے لیے جو جہاد میں کام آتے ہوں، حکومت کو اجازت ہے کہ وہ سرکاری چراگاہیں قائم کرے اور وہاں جانوروں کی نسل کشی کا انتظام کرے۔
ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ قرآن کریم نے جگہ جگہ مال کو جمع کرنے کی برائی اور خرچ کرنے کی اچھائی بیان کی ہے۔ مال کو جمع کرنا برا بتایا ہے، خرچ کرنا اچھا بتایا ہے۔ خرچ کرنا اللہ کے راستے میں ہو تو بلاشبہ، یہ ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ لیکن اگر کسی شخص کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی توفیق نہ ہو، وہ اپنی ذات پر خرچ کرے، اپنے خاندان پر، اپنے گھروالوں پر خرچ کرے تو مجرد خرچ کرنا بھی مال کو روک کر رکھنے سے بہتر ہے۔
جب مال کو انسان روک کر رکھتا ہے تو وہ نہ اس کے کام کا نہ کسی اور کے کام کا۔ گھر میں سونے چاندی کے انبار رکھے ہوں تو وہ کس کام کے۔ پرانے زمانے میں لوگ گھروں میں گڑھے کھود کر سونے چاندی کی اینٹیں جمع کرلیتے تھے اور بعض صورتوں میں ایسا ہوتا تھا، بارہا ایسا ہوا کہ کسی شخص نے خاموشی سے دولت جمع کی، اپنے گھر میں دفن کردی اور بعد میں مرگیا۔ کسی کو بتایا نہیں،د ولت ضائع ہوگئی۔ بعد میں کبھی کسی کے ہاتھ لگ گئی تو لگ گئی ورنہ ضائع ہوگئی۔
آج کل پاکستان میں بھی یہی ہورہا ہے۔ بعض بڑے بااثر لوگ ناجائز دولت پاکستان سے حاصل کرتے ہیں اور مختلف فرضی ناموں سے مغربی بنکوں میں جمع کرادیتے ہیں۔ وہ ان کے مرنے کے بعد ضائع ہوجاتی ہے۔ ایسے لوگوں کی داستانیں وقتاً فوقتاً اخباروں میں آتی رہتی ہیں کہ فلاں گورنر صاحب نے، فلاں وزیر صاحب نے، فلاں بااثر آدمی نے، فلاں ملک کے بنک میں اکاؤنٹ کھولا ہوا تھا، اس میں اتنی رقم تھی اور فلاں نام سے تھی، ان کے مرنے کے بعد وہ ضائع ہوگئی۔ ظاہر ہے کوئی والی وارث نہیں ہے، کوئی ثبوت نہیں ہے، کوئی عدالت نہیں ہے۔
یہ ناجائز دولت کے وہ نتائج ہیں جن کی وجہ سے شریعت نے ارتکاز دولت کو منع کیا ہے۔ قرآن مجید سے یہی پتا چلتا ہے کہ دولت کے حد سے زیادہ پھیلاؤ اور فراوانی کے بہت منفی نتائج برآمد ہوتے ہیں، جن کی قباحتیں اخلاقی اعتبار سے بہت بری ہیں۔ مترفین کے کرتوت معاشرے کو تباہی کا نشانہ بنادیتے ہیں۔ مترفین سے مراد وہ طبقہ ہے جس کے پاس دولت کی ریل پیل ہو، جو دولت کے انبار اپنے پاس رکھتا ہو، دولت کے بڑے بڑے تالابوں پر قابو اس کو حاصل ہوگیا ہواور وہ ان سے کھیلتا ہو۔ جب کسی طبقے میں مترفین کی کثرت ہوتی ہے تو وہاں کثرت سے ایسے فارغ البال اور دولت سے کھیلنے والے وجود میں آجاتے ہیں جن کی کوئی ذمہ داری نہ ہو، جن کو بے تحاشا دولت بغیر محنت کے مل گئی ہو۔
جب ایسے طبقے کی کثرت ہوتی ہے تو اس سے معاشرے میں بے شمار اخلاقی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ معاشرے کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ معاشرے میں جو نظم اور توازن قائم ہوتا ہے وہ بگڑجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پورا معاشرہ تباہی کا شکار ہوجاتا ہے۔ قرآن کریم میں بھی یہ بات بیان کی گئی ہے کہ جب اللہ کے حکم تکوینی کی رو سے کوئی بستی تباہ ہوتی ہے تو اس کی فوری وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ اس بستی یا آبادی میں مترفین کی کثرت ہوجاتی ہے۔مترفین اتنی کثرت سے ہوتے ہیں کہ ان کا فسق و فجور اور ان کے کرتوت اور گناہ پوری بستی کو لے ڈوبتے ہیں۔‘‘(ایضاً صفحہ 45۔46)
’’توازن کی جنتی صورتیں معیشت اور مادیات سے متعلق ہیں، ان کو قائم کرنا اور عدم توازن کو جنم لینے سے روکنا یہ معاشرے کی ذمہ داری بھی ہے اور ریاست کی ذمہ داری بھی ہے۔ یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب معاشرے سے استحصال کی تمام قوتوں کا خاتمہ کردیا جائے۔ استحصال سے مراد یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی قوت، دولت، وسائل، اختیارات اور اثر رسوخ سے ناجائز کام لے کر وہ فوائد حاصل کرنا چاہیں جو اخلاقی یا قانونی طور پر ان کو حاصل نہیں کرنے چاہئیں اور دوسرے لوگوں کو ان ضروریات سے محروم کردیں جو ان کی جائز اور بنیادی ضروریات ہیں۔ یہ رویہ استحصال کہلاتا ہے۔‘‘(ایضاً صفحہ102)
قارونیت اور ظلم و استحصال کے خلاف اتنے خوبصورت، سلیس ،متوازن اور پراثر پیرایے میں ابھارنا اور اکسانا یقیناًمحترم ڈاکٹر محمود غازیؒ ہی کی خوبی ہے ، شاید یہی خوبی معترض وہجوگو مضمون نگار کو بری لگتی ہے کہ ڈاکٹر غازیؒ اس موضوع پر لکھتے اور بولتے ہوئے ’’کارل مارکس‘‘ کے الفاظ و اصطلاحات اور اس کے فکر سے مدد کیوں حاصل نہیں کرتے۔
۴۔ محترم غازی صاحبؒ نے تجارت کی فضیلت و اہمیت کے بیان میں ایک حدیث بیان کی۔حضرت انعام کوشاید حدیث سنانے پر بے حدغصہ آیا کہ اتنا بڑا سکالربنا پھرتا ہے اور عقل سے کام لینے کی بجائے موطا کی حدیث سنانے بیٹھ گیا ہے۔ چنانچہ اس حوالے سے محترم غازی صاحبؒ کو ان الفاظ میں اپنے نشانے پر لے آتے ہیں: ’’اس اقتباس کا یہ بیان کہ ’’جس طرح چاہے جتنا چاہے اور جتنا نہ چاہے‘‘ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا ڈاکٹر مرحوم نے بنا دیا ہے۔‘‘(الشریعہ صفحہ420)
مضمون نگار کا یہ انداز بیان بزبان حال کہہ رہا ہے کہ ڈاکٹر مرحوم ایک سطحی انسان تھے یا پھر سطحیت بیں ہونے کی بناوٹ کیا کرتے تھے۔ کیا ایسے پست انداز فکر کا کوئی علمی جواب دیا جاسکتا ہے؟ہم قارئین سے صرف اتناا عرض کریں گے کہ وہ ’’محاضرات معیشت و تجارت‘‘ کا صفحہ نمبر82اور 83مکمل پڑھ کر بتائیں کہ محترم غازی صاحبؒ اپنے اقتباس میں جو بات کہنا چاہتے ہیں کیا اس پر وہ اعتراض پیدا ہوتا ہے جو ہجوگو مضمون نگار پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
۵۔ غازی صاحبؒ مضاربہ کے ضمن میں مغربی دنیا کے بعض تجربات سے استفادہ پر بات کرتے ہیں تو مضمون نگار بھڑک اٹھتے ہیں اور صاحب محاضرات کا اقتباس درج کرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے جدا ہونے والے اس عظیم انسان پر یوں نشترزنی کرتے ہیں:
’’مغربی نظام کی افادیت و کامیابی کو ڈاکٹر غازی مرحوم صحیح تناظر میں نہیں دیکھ پارہے‘‘
’’جو بات مغربیوں سے سیکھنے کی ہے ڈاکٹر غازیؒ سمیت ہم میں سے اکثر لوگ اس کے لیے ذہنی طور پر آمادہ نہیں ہیں۔‘‘
’’اس لیے ہمیں معاشی ترقی میں مطلوب اخلاقیات (business ethics)کو رواج دینے کی زیادہ ضرورت ہے نہ کہ مغربی طرز کے ظاہری قواعد و ضوابط کی اندھا دھند پیروی کی۔‘‘
مضمون نگار کھینچ تان کر اعتراض کررہے ہیں کہ محترم غازی صاحبؒ کومغربی نظام کا نہ ہی صحیح ادراک ہے اور نہ ہی وہ اس سے کچھ سیکھنا چاہتے ہیں۔ اور پھر وعظ فرماتے ہیں کہ ’’ ہمیں معاشی ترقی میں مطلوب اخلاقیات کو رواج دینے کی زیادہ ضرورت ہے نہ کہ مغربی طرز کے ظاہری قواعد و ضوابط کی اندھا دھند پیروی کی۔‘‘ مضمون نگار سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ جناب غازی صاحبؒ نے کب اور کہاں مغربی طرزکی اندھا دھند پیروی کی دعوت دی ہے؟ اور پھر ’’معاشی ترقی میں مطلوب اخلاقیات کو رواج دینے‘‘ کی جو بات حضرت واعظ انعام صاحب فرمارہے ہیں کیا محترم غازی صاحب نے اپنے محاضرات میں اس اغماض برتا ہے۔ ہمیں نہایت افسوس سے عرض کرنا پڑتا ہے کہ مضمون نگار نے اپنے مضمون سے شدید ناانصافی اور خیانت کا ارتکاب کیا ہے، کیونکہ محترم غازی صاحب رحمۃ اللہ نے تو اپنے محاضرات معیشت و تجارت کا آغاز ہی ’’معاشی ترقی میں مطلوب اخلاقیات‘‘ سے کیا ہے اور پھر ان اخلاقی قدروں کو محض معاشی ترقی تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ معاشرے کے تمام شعبوں کی استحکام و ترقی کے لیے انہیں ضروری قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو محاضرات شریعت سے درج ذیل اقتباسات:
’’دوسری اہم بات قرآن مجید کے طالب علم کو یہ ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ قرآن مجید اجتماعی، اقتصادی اور مادی معاملات کے خلاقی اور روحانی پہلوؤں سے زیادہ اعتنا کرتا ہے۔ معاملات کے خالص انتظامی اور دنیاوی پہلوؤں کے مقابلہ میں قرآن پاک کی زیادہ دلچسپی ان امور کے اخلاقی اور روحانی پہلوؤں سے ہے۔ یقیناًمعاملات کے دنیاوی اور مادی پہلو قرآن کریم نے نظر انداز نہیں کیے۔ لیکن ان سے قرآن کریم کی دلچسپی جزوی ہے۔ قرآن کریم کی اصل دلچسپی معاملات کے اخلاقی او رروحانی پہلوؤں سے ہے۔ ‘‘(صفحہ15)
’’قرآن مجید اور سنت کی توجہ کا مرکز وہ معاشی معاملات ہیں جن میں normativeپہلو بہت نمایاں ہیں۔ دولت کو کیسے حاصل کیاجائے، کہاں خرچ کیاجائے، کیسے خرچ کیاجائے، کون کون سے معاملات جائز ہیں، کون کون سے معاملات ناجائز ہیں۔ کاروبار وتجارت کے بنیادی اخلاقی اصول کیا ہونے چاہئیں۔ انسانوں کا آپس کا لین دین، تجارت اور مالی تعاون کس نہج پر استوار ہونا چاہیے۔ یہ وہ معاملات ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید نے بنیادی ہدایات دی ہیں۔‘‘(صفحہ16)
’’انسان کے رویے کی تشکیل، انسان کی ذہن سازی، کردارسازی اور اخلاق کی تعمیر، یہ اہداف قرآن مجید کا سب سے بڑا مقصود ہیں۔ ایک مرتبہ یہ کردار سازی ہوجائے، ایک مرتبہ مناسب رویے کی تشکیل ہوجائے تو پھر یہ رویہ معاشیات میں بھی جھلکتا ہے، سیاسیات میں بھی جھلکتا ہے اور زندگی کے دوسرے تمام پہلوؤں میں بھی نظر آتا ہے۔ اسی لیے جہاں جہاں قرآن مجید اس طرح کے مضامین کو بیان کرتا ہے، وہاں جگہ جگہ کہیں کوئی معاشی انداز کی ہدایت ہے، کہیں کوئی ثقافتی رہنمائی ہےء کہیں کوئی اجتماعی اور معاشرتی زندگی کی ہدایات ہیں۔ کہیں انسانوں کے درمیان آپس کے میل جول اور تعاون کا تذکرہ ہے۔ اس طرح سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والا جب بار بار اس کی تلاوت کرتا ہے تو جہاں اور بہت سے حقائق اس کے ذہن نشین ہوجاتے ہیں وہاں اسلام کی معاشی تعلیم کی اساس اور بنیاد بھی اس کے ذہن میں پوری طرح سے راسخ اور مرتسم ہوجاتی ہے۔‘‘(صفحہ17)
۶۔ مضمون نگار کو محترم غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے اس اعلیٰ اور محفوظ فکر پر بھی شدید اعتراض ہے کہ وہ قرآن و سنت کی نصوص اورقرآن و سنت سے اخذ کردہ فقہائے اسلام کے متفق علیہ قواعدکی پیروی کی بات کیوں کرتے ہیں۔صاحب محاضرات کی اس فکری سلامتی پر وہ منکرین سنت کی طرح اس قدر سیخ پا ہوتے ہیں کہ کئی صفحے اس کی تغلیط پرسیاہ کردیتے ہیں۔صفحہ 435سے 440تک وہ اپنا علامہ پن اسی تسلسل میں بگھارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
(جاری)
مکاتیب
ادارہ
(۱)
Dear Ammar Nasir Sahib,
I saw the article, " Sarmaayadarana ya sciencee ilmiyat. Aik ta,aaruf" in your 'is maah kaa intikhab'. I was shocked and when I say I was shocked, this is an understatement. This article is so unreasonable, biased, absurd and senseless that it is not even worth contradicting. Perhaps first time in the history, knowledge has been torn apart on the basis of capitalism and non-capitalism. Science and technology and the concepts of development and equality have been discarded as alien to Islam. But the real shock is that Al Shareea has published this piece of Dogmatism. It proves that it is impossible to get rid of what one 'learns' in madrasa!!! On the one hand, you are publishing articles of Mahmood Ghazi and students of Javed Ghamdi and on the other hand such samples of obscurity are also being dished out! That you published it because you believe in freedom of expression will be a farce. In that case you should accommodate view point of barailvees, sheea and qadyanees also! This unfortunate article can be rejoined but that will be sheer wastage of time.
Your brother in shock,
Muhammad Izhar ul Haq
izhar@izharulhaq.net
(۲)
سوال: فقہا ایسے بہت سے فرقوں کو مسلمان ہی شمار کرتے ہیں جن کے عقائد تو قطعیات اسلام کے خلاف ہوتے ہیں مگر پھر بھی تاویل کی بنا پر وہ تکفیر کی تلوار سے بچ جاتے ہیں۔ (واضح رہے یہاں قطعیات سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا ثبوت قطعی ہو)۔ یہاں تک کہ امام ابو حنیفہ نے جہمیوں کے پیچھے نماز پڑھ لینے کی اجازت دی ہے۔ جبکہ قادیانی یوں کہتے ہیں کہ آیت قرآنی ’ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین‘ میں خاتم النبیین، خاتم المرسلین کو مستلزم نہیں اور اسی طرح لا نبی بعدی بھی لا رسول بعدی کو مستلزم نہیں، مگر فقہاے کرام ان پر کفر کا وار ضرور کرتے ہیں۔ اب واضح یہ ہونا چاہیے کہ تاویل کہاں کہاں کام کرتی ہے اور کہاں کہاں نہیں۔ کیا معتزلی، مشبہہ وغیرہ قطعیات کے منکر نہیں تھے؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے خوارج کے خلاف جو جنگ کی تو اس کا سبب خارجیوں کے عقائد تھے یا یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کے خلاف خروج کیا تو اس کے دفاع میں حضرت علی نے انھیں مارا؟
محمد عبد الرافع
چوک فوارہ۔ ملتان
جواب: آپ کے سوال کے حوالے سے میری گزارشات حسب ذیل ہیں:
کسی گروہ کو جو قطعی نصوص سے ثابت کسی امر کا منکر ہو، تاویل کی رعایت دیتے ہوئے تکفیر سے بچانے کا اصول بالکل درست ہے، تاہم اس کا عملی اطلاق کرتے ہوئے بہت سے دوسرے پہلووں کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ قادیانیوں کے معاملے میں امت نے کم وبیش اجماعی طور پر اس اصول کے اطلاق کو درست نہیں سمجھا جس کے بنیادی وجوہ میرے فہم کے مطابق دو ہیں:
ایک یہ کہ تاویل کی رعایت علمی وعقلی طور پر اسی صورت میں دینی چاہیے جب اس بات کا کافی اطمینان ہو کہ منکر دیانت داری کے ساتھ غور کرتے ہوئے فی الواقع کسی شبہہے کی وجہ سے انکار کر رہا ہے۔ مرزا غلام احمد کے معاملے میں یہ صورت نہیں پائی گئی۔ اول تو نبوت اور نزول وحی کا دعویٰ کرنا بذات خود ایک بہت بڑا جھوٹ اور افترا ہے۔ پھر مرزا صاحب کے ہاں کذب اور افترا اور اخلاقی بد دیانتی کی جو مثالیں کثرت سے پائی جاتی ہیں، وہ اس کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتیں کہ ان کے بارے میں کسی حسن ظن سے کام لیا جائے۔ مزید برآں کسی بھی گروہ کی طرف سے پیش کی جانے والی تاویلات خود اپنی نوعیت کے لحاظ سے بھی یہ بتا دیتی ہیں کہ ان میں شبہے کا پہلو کتنا ہے اور عمداً تحریف کا کتنا۔ صدر اول میں جن گروہوں مثلاً جہمیہ وغیرہ اور بعد میں روافض کی تکفیر کے متعلق سلف نے عمومی طور پر جو احتیاط کی ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ نصوص اور واقعات کی تعبیر میں عام انسانی نفسیات اور فہم کے اعتبار سے ایسی گنجائش محسوس کرتے ہیں جو ان گروہوں کے راہ راست سے بھٹکنے کا سبب بنی۔ خود قرآن نے یہود کے لیے’مغضوب علیہم‘ اور نصاریٰ کے لیے ’ضالین‘ کے الگ الگ الفاظ استعمال کر کے اس پہلو کو واضح کیا ہے اور کفر وضلالت میں دونوں گروہوں کے اشتراک کے باوجود قرآن کا لب ولہجہ یہود کے بارے میں بدیہی طور پر زیادہ سخت اور بے لچک، جبکہ نصاریٰ کے معاملے میں نسبتاً نرم ہے۔ قادیانی حضرات کی تاویلات کا معاملہ نصاریٰ سے زیادہ یہود سے مشابہت رکھتا ہے۔ مرزاصاحب اور ان کے حواریوں کی پیش کردہ تمام تاویلات سے صاف واضح ہوتا ہے کہ وہ نصوص کو خارج میں قائم کردہ ایک مفروضے کے اثبات کے لیے توڑنا مروڑنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے واضح ترین دلالتوں کو چھوڑ کر دور از کار تاویلات اور احتمالات کا سہارا لینے میں وہ کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے۔ یہ ساری صورت حال میرے خیال میں اس کا سبب بنی ہے کہ علماے اسلام قادیانی گروہ کے معاملے میں تاویل اور شبہہے کی وجہ سے عدم تکفیر کے اصول کا اطلاق کرنے پر مطمئن نہیں ہوئے اور ان کی تکفیر ہی پر امت کا اتفاق ہو گیا۔
دوسری اہم وجہ وہ اصول ہے جسے علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ نے اپنی تحریروں میں واضح کیا ہے۔ کسی گروہ کو تاویل کا فائدہ دینا اس لازمی شرط سے مشروط ہے کہ وہ گروہ امت مسلمہ کے بنیادی مذہبی تشخص سے ہٹ کر اپنے لیے کسی الگ مذہبی تشخص کا مدعی نہ ہو۔ دنیا کے مذاہب میں امت مسلمہ کا بنیادی مذہبی تشخص جو اسے سماجی اورمعاشرتی سطح پر دوسرے گروہوں سے ممتاز کرتا ہے، وہ ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک دین کا واحد اور حتمی ماخذ ماننا۔ اگر کوئی گروہ ختم نبوت کے عقیدے میں تاویل کر کے ایک نئے مصدر اطاعت اور ماخذ ہدایت کی بنیاد پر اپنا الگ تشخص قائم کرتا ہے تو وہ غیر تشریعی، ظلی اور امتی نبی کی اصطلاحوں کا کتنا ہی سہارا لے، عملاً وہ اپنے آپ کو ایک نئے مرکز اطاعت سے وابستہ کر دیتا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لینے کے باوجود آپ کی تعلیمات کی تعبیر وتشریح میں وہ اس نئے مرکز اطاعت کو حتمی اتھارٹی کا درجہ دیتا ہے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی بات عملاً بے معنی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود قادیانی حضرات اپنے اس تصور کی رو سے مجبور ہیں کہ ایمان واسلام کے دائرے کو مرزا صاحب کے معتقدین تک محدود رکھتے ہوئے ان پر ایمان نہ رکھنے والی ساری امت مسلمہ کو ’کافر‘ شمار کریں۔
اس بنیادی نکتے کی حد تک علماے اسلام کے موقف میں بہت وزن ہے۔ البتہ میرے خیال میں اس معاملے میں قادیانی قیادت اور ان کے تاویلاتی جال میں پھنس جانے والے عام سادہ لوح مسلمانوں کے مابین جو فرق حکمت دین کی رو سے ملحوظ رکھا جانا ضروری تھا، وہ نہیں رکھا گیا اور عام لوگوں کو ہمدردی اور خیر خواہی سے راہ راست پر واپس لانے کے داعیانہ جذبے پر نفرت اور مخاصمت کے جذبات نے زیادہ غلبہ پا لیا۔ میرے نزدیک قادیانی گروہ کو قانونی طور پر مسلمانوں سے الگ ایک غیر مسلم گروہ قرار دے دیے جانے سے امت مسلمہ کے تشخص اور اس کی اعتقادی حدود کی حفاظت کا مقصد پورا ہو جاتا ہے اور اس کے بعد مسلمانوں کے علما اور داعیوں کی محنت اور جدوجہد کا ہدف اصلاً یہ ہونا چاہیے کہ وہ دعوت کے ذریعے سے ان عام قادیانیوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کریں جن کے حوالے سے قادیانی قیادت کا مفاد بھی یہی ہے کہ وہ مسلمانوں سے الگ تھلگ اور اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ناواقف رہیں اور معلوم نہیں کن ضرورتوں یا مجبوریوں کے تحت ہماری مذہبی قیادت بھی انھیں مسلمانوں سے دور ہی رکھنے کو اپنی ساری جدوجہد کا ہدف بنائے ہوئے ہے۔
محمد عمار خان ناصر
۱۱؍ دسمبر ۲۰۱۰ء
تعارف و تبصرہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن
’’قلم کے چراغ‘‘
برِ عظیم پاکستان و ہند کی مزاحمتی تاریخ جن قدآور شخصیات کے ذکر کے بغیر ہمیشہ ادھوری سمجھی جائے گی، ان میں ایک بڑا نام آغا شورش کاشمیری مرحوم کا ہے۔جن لوگوں نے آغا صاحب کا عہد دیکھا ہے، آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے اس فانی دنیا سے اٹھتے جا رہے ہیں۔ اب ایسی محافل ایسی مجلسیں اور ایسی نشستیں کبھی کبھار ہی منعقد ہوتی ہیں جن میں آغا شورش کی شخصی خوبیوں اور ان کے کردار کے متعلق گفتگو ہوتی ہو، انگریز سامراجیت سے ان کی نفرت و حقارت کا بیان ہوتا ہو، ایوبی آمریت کے خلاف ان کی للکار یاد کی جاتی ہو اور ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر ان کی ولولہ انگیزیوں کا تذکرہ ہوتا ہو۔ ہمیں بارہا تجربہ ہوا کہ جب بھی نئی نسل کے سامنے آغا شورش جیسے حریت پسندوں کا نام رکھا گیا تو ’انہیں‘ ہمیشہ نامانوس اور ناواقف ہی پایا۔ اس فقرے میں ’انہیں‘ سے مراد صرف نسلِ نو نہیں ہے بلکہ حریت پسند بھی اس میں شامل ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے اجنبی ہیں۔ دونوں دو مختلف دنیاؤں کے باسی ہیں۔ دونوں کی آنکھوں میں حیرت کے سائے ہیں۔ حریت پسندوں کی نگاہوں میں البتہ ایک سوال بھی ہے کہ ہم نے قربانیاں ایک ایسی نسل کے لیے تو نہیں دی تھیں جو تاریک راہوں میں(تقریباً) ماردی گئی ہے۔ جس کے ہاتھ میں اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے، کھاتے پیتے، چلتے پھرتے، غرض ہر وقت موبائل رہتا ہے۔ جس کا اوڑھنا بچھونا اسی قسم کی لا یعنی فضول سرگرمیاں ہیں۔ دوسری طرف ایک سوال نئی نسل کی آنکھوں میں بھی ہے کہ آخر تم ہو کون ؟ یہ سوال بخوبی وضاحت کر رہا ہے کہ ایک خلیج ہے جو عہدِ رفتہ کی لطافتوں اور عہد حاضر کی کثافتوں کے درمیان وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ زبان و ادب کے ذریعے اس خلیج کو پاٹنے کی امید رکھنے والے نا امیدی کے سمندر میں ڈوبے جا رہے ہیں کہ زبان سے بڑھتی ہوئی بیگانگی آخر کہاں جا کے تھمے گی؟ کیا نوبت اشاروں کی زبان تک آ جائے گی؟اگر زبان و ادب میں ایسا معکوس سفر ہی ہمارا مقدر ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماضی کے پرشکوہ ادب کو اشاروں کے سانچے میں کون ڈھال پائے گا؟اس لیے آسان راستہ یہی ہے کہ اپنا مقدر بدلنے کی جدوجہد کی جائے، رجعت قہقری کی راہ میں کم از کم ایسے سپیڈ بریکر قائم کر دیے جائیں کہ یہ سفر رکنے نہ پائے تو چلنے بھی نہ پائے:
جلانے والے جلاتے ہی ہیں چراغ آخر
یہ کیا کہا کہ ہوا تیز ہے زمانے کی
پروفیسر محمد اقبال جاوید صاحب زمانے کی تیز ہوا کو خاطر میں لائے بغیر نئی نسل کے روبرو ہوئے ہیں۔ انہوں نے ’’قلم کے چراغ‘‘ کے عنوان سے شورشِ رفتہ کا سراغ لگایا ہے اور خوب لگایا ہے، لیکن ان کی تمام جستجو، کھوئے ہوؤں کی آرزو سے لبریز نہیں ہے۔ شاید اسی لیے پروفیسر صاحب نے اپنی محنت شاقہ ، حوالہ جات کے استناد کے سپرد نہیں کی۔ ہمیں تو اس میں شاعرانہ افتاد دکھائی دے رہی ہے۔ شاعر حضرات اپنی کوئی بہت اچھی مطبوعہ یا غیر مطبوعہ نظم اپنے مجموعہ کلام میں جان بوجھ کر شامل نہیں کرتے کہ اپنے تئیں عظیم شاعر ہونے کے زعم میں مستقبل کے کسی ادبی محقق سے یہ توقع کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ اس نظم کو دریافت کر کے اپنی خوش بختی کو آواز دے گا اور ایسی جان لیوا بحث چھیڑے گا جس سے بڑے بڑے نقاد چاہتے ہوئے بھی لا تعلق نہیں رہ سکیں گے اور یوں شاعر موصوف ایک ادبی نزاع کے باعث امر ہو جائیں گے۔ اس جملہ معترضہ سے قطع نظر پروفیسرمحمد اقبال جاوید صاحب کو داد دیے بنتی ہے کہ انہوں نے ’چٹان‘ میں مدفون ایک خزانے کے اِدھر اُدھر بکھرے آثار و باقیات کا نہ صرف سراغ لگایا ہے بلکہ خوش سلیقگی سے اس کی سنبھال کا انتظام بھی کیا ہے۔ ’’قلم کے چراغ‘‘ میں ستائیس موضوعات کے تحت آغا شورش مرحوم کے خیالات کو اس طرح سمویا گیا ہے کہ شورشؔ کے بانکپن، جرات، بے باکی اورمخصوص اسلوب و ادا سے قاری کما حقہ آگاہ ہو جاتا ہے۔
زیرِ نظر کتاب میں حرفِ آغاز کے بعد ’چراغوں کی لو سے ستاروں کی ضو تک‘ اور ’آگہی کے چراغ‘ غیر ضروری اضافہ معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے بجائے شورشؔ کا ایک مفصل سوانحی خاکہ شاملِ اشاعت ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ البتہ شورشی اقتباسات سے قبل، پروفیسر محمد اقبال جاوید صاحب نے ’غبارِ تیرہ شبی میں چراغوں کی روشنی‘ کے عنوان سے محمد حسین آزادؔ سے شورشؔ کا شمیری تک، مخصوص نثری ارتقا سے روشناس کرواتے ہوئے شورشؔ کے پیش روؤں کے نثری شہ پاروں کا جو خوبصورت گل دستہ پیش کیا ہے، وہ خاصے کی چیز ہے۔ اس خوبصورت گل دستے نے رنگا رنگی اور ہما ہمی کا سماں باندھ دیا ہے۔ پھر بھی یہ بات قابلِ بحث ہو سکتی ہے کہ ان چراغوں کی روشنی سے تیرہ شبی کا غبار کہاں تک چھٹا ہے؟ لیکن یہ طے ہے کہ اس روشنی نے شورشؔ کے سوانحی خاکے کی کمی کا احساس مزید بڑھا دیا ہے۔ بہرحال، آئیے اس روشنی کی روشنی میں شورشؔ سے ملاقات کیجیے:
’’ان کے قلم کی کاٹ پر جہاں مخالف کراہتا تھا وہاں انداز و اسلوب کے حُسن پر سر بھی دُھنتا تھا اور یہ خوبی صرف شورش میں تھی کہ ان کا وار کاری ہونے کے ساتھ ساتھ حسین بھی ہوتا تھا۔ ......... ان کی سیاسی نظموں میں بھرتی کے اشعار اور خیالات بالکل نہ ہوتے تھے۔ وہ طویل ترین نظمیں بھی کہتے۔ مگر خیالات میں روانی اس قدر ہوتی تھی کہ آورد کا شائبہ بھی نہ ہوتا تھا۔ آج کوئی مدیر ایسا نہیں جو نثر کے ساتھ ساتھ نظم اور غزل میں بھی حالاتِ حاضرہ پر نقد و نظر کر سکتا ہو۔........ شورشؔ نے صحافت کو ادب کا بانکپن اور شعر کا حُسن عطا کیا۔....... انہوں نے اپنے پرشکوہ انداز میں بہت سی نظمیں اور ترانے لکھے، وہ مختلف ہئیتوں میں قلم اٹھاتے، سنگلاخ زمینوں میں تغزل کے پھول کھلاتے اور سرفروشانہ جذبوں کو ابھارتے تھے۔........ شورشؔ کے قلم نے ہر تالیف کو ایک ادب پارہ بنا دیا ہے۔ اور یہ نتیجہ ہے شورشؔ کے خاص اسلوب کا۔ جس میں ندرت کی شگفتگی اور جدت کی شادابی دونوں پائے جاتے ہیں۔ مراد الفاظ و تراکیب کا طنطنہ نہیں بلکہ اسلوب و ادا کا وہ خاص پہلو ہے جس کے دریچے سے قلم کار کی اپنی شخصیت گاہے چھپی ہوئی اور گاہے جھلکتی نظر آتی ہے۔ وہ اپنی کتابوں کے جو اشتہار چٹان میں دیا کرتے تھے وہ بھی شعر و ادب کا ایک ایسا شہ پارہ ہوتے تھے کہ قاری خودبخود کتاب کی جانب کھنچ کے رہ جاتا تھا۔.....آغا شورشؔ کاشمیری ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں کہ ان کی نثر کے بارے میں کوئی ’ادبی فتویٰ‘ نہیں دیا جا سکتاکہ وہ حدی خواں ہیں یا رجز خواں، طناز ہیں یا مزاح نویس، انشائیہ نگار ہیں یا صحیفہ طراز، شاعر ہیں یا خطیب۔یوں معلو م ہوتا ہے کہ ان میں ہر رنگ موجود ہے۔ ان کی تحریر میں مزاح سے زیادہ طنز کی کاٹ ہے۔ وہ لکھتے لکھتے اداریے کو بھی انشائیے کا نہیں بلکہ انشا پردازی کا روپ دے دیتے ہیں۔ وہ شاعری میں خطابت، خطابت میں شاعری اور نثر میں نظم کہتے چلے جاتے ہیں۔‘‘ (قلم کے چراغ:ص۲۶،۳۰،۳۱،۳۹،۵۸)
آغا شورشؔ کاشمیری کی خطابت کے متعلق پروفیسر اقبال جاوید صاحب کی اس رائے سے اختلاف کرنا کافی مشکل ہے کہ وہ احرار کے گم شدہ قافلے کی آخری کڑی تھے۔ شورشؔ کی خطابت کے اعتراف میں امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے درج ذیل الفاظ ایک سند سے کم نہیں ہیں:
’’معلوم ہوتا ہے اس کے حلق میں گراریاں لگی ہوئی ہیں، خدا کا شکر ہے، آواز میں غنا نہیں، ورنہ ہم لوگ چوکڑی بھول جاتے۔ مطمئن ہوں کہ میرا بڑھاپا، جوان ہو گیا ہے۔ میں برگد کا درخت نہیں کہ اس کے نیچے دوسرا پود ا اُگ ہی نہیں سکتا ، شورشؔ میری مراد ہے۔‘‘ (ص۳۸)
شاہ صاحب کی یہ بات کہ ’میں برگد کا درخت نہیں کہ اس کے نیچے دوسرا پود ا اُگ ہی نہیں سکتا‘ ان کی وسعتِ قلبی کی دلیل تو ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ ایسے نام نہاد راہنماؤں کے لیے راہنمائی بھی لیے ہوئے ہے جو اپنے تئیں برگد بنے بیٹھے ہیں اور بتکلف نئے پودوں کو اگنے سے روک رہے ہیں۔سطورِ ذیل میں ملاحظہ کیجیے کہ شاہ جی کی مراد نے ایسے دل آویز اسلوب میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے جس سے زبان و بیان کا وہ پیرایہ سامنے آتا ہے جس کی بابت تصریحاً کہا جاتا ہے کہ الفاظ شورشؔ کے حضور، قطار اندر قطار صف بستہ کھڑے ہو جاتے ہیں اور موصوف انہیں چن چن کر طلاقت لسانی کا اظہار کرتے ہیں:
’’ کالی داس نے عورت کے روپ کی تصویر کھینچتے ہوئے کائنات کی جن تصوری اور نظری خوبصورتیوں کو یکجا کیا ہے، ان تمام خوبصورتیوں کا مرقع شاہ جی کی خطابت ہے۔ رعد کی گونج، بادل کی گرج، ہوا کا فراٹا، فضا کا سناٹا، صبح کا اجالا، چاندنی کا جھالا، ریشم کی جھلملاہٹ، ہوا کی سرسراہٹ، گلاب کی مہک، سبزے کی لہک، آبشار کا بہاؤ، شاخوں کا جھکاؤ، طوفان کی کڑک، سمندروں کا خروش، پہاڑوں کی سنجیدگی، صبا کی چال، اوس کا نم، چنبیلی کا پیرہن، تلوار کا لہجہ، بانسری کی دھن، عشق کا بانکپن، حسن کا اغماض اور کہکشاں کی مسجع و مقفع عبارتیں انسانی آواز میں ڈھلتے ہی جو صورت اختیار کرتی ہیں، اس کا مرقع شاہ جی کی ذات ہے۔‘‘ (ص۵۶)
پروفیسر محمد اقبال جاوید شورشؔ کی خطابت و طلاقت کے اعتراف میں ایک اور سند پیش کرتے ہیں، ملاحظہ کیجیے:
’’مسجد شہید گنج کی بازیابی کے لیے سول نافرمانی کا آغاز ہوا تو مولانا مظہر علی اظہرؔ نے دہلی دروازے کے باہر خود کو گرفتاری کے لیے پیش کیا۔ انہیں الوداع کہتے ہوئے شورشؔ نے ایک تقریر کی۔ یہ تقریر شورشؔ کی اولین تقریروں میں سے تھی۔ اس تقریر کو ڈاکٹر سید عبداللہ نے بھی سنا۔ ان کے تاثرات شورشؔ کے فنِ خطابت پر ایک بھر پور تبصرہ ہیں اور حرفِ آخر بھی:
’میں نے ۱۹۱۹ سے اس زمانے تک بڑے بڑے خطیبوں کی تقریریں سنی تھیں، مگر یہ تقریر کچھ اور شے تھی۔ مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کہ ایک نوجوان (بلکہ نوخیز لڑکا) خطابت کے طوفان اٹھا رہا تھا۔ الفاظ کی فراوانی، ترکیبوں کی کثرت، جوش کا وفور، طنز کی تیزی، ہجو کی کاٹ، اشعار کی پیوند کاری....... ایک تماشائے لفظ و معنی تھا جو ہر سننے والے کو مسحور و مبہوت کر رہا تھا...... میری نگاہ کا شورشؔ سے یہ پہلا تعارف تھا اور تعارف کیا تھا، ایک شب خون تھا جس نے شورشؔ کے متعلق میرے دل میں ایک مرعوب کن تصور پیدا کر دیا اور یہ تصور عمر بھر رہا۔‘‘(ص۳۸،۳۹)
دارالکتاب، اردو بازار لاہور کے حافظ محمد ندیم صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ’قلم کے چراغ‘ نہایت اہتمام سے شائع کی ہے۔ متن خوانی تسلی بخش ہے، لیکن ندیم صاحب نے سرورق پر زیادہ توجہ صرف نہیں کی اور نہ ہی ستائیس موضوعات کے بکھراؤ کے سبھاؤ کے لیے اشاریے کا بندوبست کرنے کی زحمت گوارا کی ہے۔ کتاب کے آخر میں ایسا مختصر لغت بھی قابلِ اعتنا نہیں سمجھا گیا جو نئی نسل کے لیے ’قلم کے چراغ‘ کے جملہ مندرجات سہل بناتا ہو۔
’’الاقتصاد‘‘
مسلمانوں کو عالمی برادری میں باعزت مقام دلوانے کے لیے اس وقت بہت سے محاذوں پر کام ہو رہا ہے۔ کہیں عسکریت پنپ رہی ہے اور کہیں مکالمہ و مباحثہ فروغ پا رہا ہے۔ عسکریت اور مکالمے جیسے محاذوں پر ہونے والے کام کا سنجیدگی اور گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آزاد روی اور نفسیاتی صحت مندی کے ساتھ ہونے والا کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے باوجود ان محاذوں پر ڈٹے ہوئے لوگ لائقِ تحسین ہیں کہ کسی نہ کسی درجے میں اپنے تئیں تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن انتہائی قابل افسوس بات ہے کہ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں مسلم سوسائٹی میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو دین کے تحفظ کے نام پر دقیانوسیت سے چمٹے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگ تیر کمان سے ڈرون گرانے کے خواہش مند ہیں۔ پرانی منطق و فلسفے سے آسٹرو فزکس اور حیاتیاتی دریافتوں کو پچھاڑنے کا عزم رکھتے ہیں اور نام نہاد قوتِ ایمانی سے سودی نظام کو صفحہ ہستی سے ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں نے مسلم سوسائٹی کی غالب اکثریت کو فکری طور پر یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ایسی اندوہ ناک صورتِ حال میں اگر اصحابِ فکر و دانش، یرغمالی معاشرت کی نجات کی خاطر درست سمت میں کوئی قدم اٹھائیں تو اسے بآسانی تپتی دھوپ میں تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیا جا سکتا ہے۔ حکمتِ قرآن انسٹی ٹیوٹ کراچی کے زیرِ اہتمام ششماہی ’الاقتصاد‘ کا اجرا تازہ ہوا کا ایسا ہی جھونکا ہے جس سے حبس زدہ موسم کے کُھلنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ کتاب اللہ میں پوشیدہ معاشی حقائق کی دریافت، عصرِ حاضر کا بہت بڑا چیلنج ہے۔ ’الاقتصاد‘ نے درحقیقت اسی چیلنج کو قبول کیا ہے۔ اگر تسلسل ، معیار اور آزاد روی کے ساتھ ’الاقتصاد‘ جاری رہا تو امید کی جا سکتی ہے کہ کسی نہ کسی درجے میں، جدید اقتصادی مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل پروگرام تشکیل پا سکیں گے۔
الاقتصاد کا آئندہ شمارہ ’زمین کی ملکیت‘ کے بارے میں ہو گا۔ اس سلسلے میں محققین اپنی نگارشات ’حکمت قرآن انسٹی ٹیوٹ، سندھی جماعت کو آپریٹوہاؤسنگ سوسائٹی، جوگی موڑ، نیشنل ہائی وے، کراچی۷۵۰۳۰‘ کے پتہ پر ارسال کر سکتے ہیں۔ ای میل: hikmatequran@gmail.com
طب مشرق کی مسیحائی
حکیم محمد عمران مغل
میڈیکل سرجری نے ارتقائی منازل طے کر کے موجودہ انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ بہت سے ناقابل علاج امراض آج سائنس کے سامنے رفوچکر ہوتے نظر آنے لگے ہیں، لیکن تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو وہ بہت بھیانک ہے۔ ایلوپیتھک طریق علاج کے مابعد اثرات کی وجہ سے آج انسان متبادل کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔ دوسری طرف طب مشرق کے حاملین کی حالت علمی لحاظ سے نہایت ناگفتہ بہ ہے۔ اس میں حالات کا بھی بہت عمل دخل ہے اور کالے انگریزوں کا خفیہ ہاتھ دور تک پہنچا ہوا ہے۔ جدید طبی علوم سیکھنے والے پر ابتدا سے انتہا تک لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں اور فارغ ہونے کے بعد وہ عیش وعشرت میں کھیلنا شروع کر دیتا ہے جبکہ طب مشرق کے طلبہ کو کوئی پوچھنا تک گوارا نہیں کرتا۔ ایک طبیب کو فراغت کے بعد سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسا وقت بھی آ جاتا ہے کہ اسے طب کو ہی الوداع کہہ دینا پڑتا ہے۔ ہزار کوشش کے باوجود وہ عملی زندگی میں قدم نہیں جما سکتا۔ اس کے پاس نہ پیسہ ہوتا ہے نہ تجربہ اور نہ ایسی حالت کہ موجودہ سوسائٹی اس کو قبول کرے۔
میں نے پرانے اطبا کے چراغوں سے اپنی حکمت کا چراغ روشن کیا ہے، مگر پھر بھی معاشرے کی تیکھی نظریں مجھے گھائل کر دیتی ہیں۔ اطبا کے خلاف عجیب عجیب باتیں سن کر دل کے زخم ہرے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس سب کے باوجود، حقیقت خود کومنوا ہی لیتی ہے اور یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ:
یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی
آج بھی ملک کے طول وعرض میں اطبا اپنے مطب چلا رہے ہیں اور بعض دفعہ ایسے حیران کن واقعات سننے میںآتے ہیں جن پر بڑے بڑے معالج انگشت بدنداں ہیں۔ لقوے کی ایک مریضہ کا ناقابل یقین واقعہ سنیں۔ ان کے میاں نے اپنا تعارف کرایا کہ میں سی ایم ایچ میں اساتذہ کرام کا استاذ ہوں۔ میری اہلیہ پر دوسری بار لقوہ کا حملہ ہوا ہے اور پہلے حملے کے اثرات بھی زبان پر نمایاں ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کس کس سے علاج کرایا ہے؟ فرمانے لگے کہ تمام متعلقہ ڈاکٹر صاحبان میرے وفادار شاگرد ہیں۔ انھوں نے اپنی پوری کوشش کی ہے، مگر اب دوسرا حملہ ہو چکا ہے۔ دوران کلام میں، مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کچھ گومگو کی کیفیت میں ہیں کہ اطبا کی لن ترانیوں سے خوب واقف تھے اور میری حالت دیکھ کر بھی کچھ سہمے ہوئے تھے اور ڈرتے تھے کہ باقی ماندہ صحت کا سفینہ بھی کہیں بیچ بھنور میں ڈوب نہ جائے۔
میں نے کہا کہ کوئی امر مانع نہ ہو تو نبض اورحالات سے آگاہی حاصل ہو جائے۔ کہنے لگے کہ آپ میرے ساتھ چل کر نبض دیکھ لیں۔ نبض دیکھی، مطلوبہ سوالات کر کے بیماری کی تہہ تک پہنچا۔ مریضہ کی رنگ حد درجہ کالی ہو چکی تھی۔ ماضی میں کچھ امراض کا مجھے شک ہوا تو میرے پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ ہاں، یہ امراض لاحق رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ جن معالجین کرام نے آپ کا علاج کیا ہے، بہت ممکن ہے کہ میں ان کے پایے کا نہ ہوں، پھر بھی میرا وعدہ ہے کہ اگر آپ پرہیز کریں تو ان شاء اللہ لقوہ ہمیشہ کے لیے نیست ونابود ہو جائے گا۔ خور ونوش کے پرہیز کے علاوہ ایسا کمرہ ہونا چاہیے جس میں کہیں سے روشنی نہ آئے، نہ بلب روشن کریں اور نہ ہی ہوا کا گزر ہو۔ تمام ضروریات زندگی کمرے کے اندر ہی پوری کریں۔ دوا دے کرمیں نے نتیجے کابے تابی سے انتظار کیا۔ ایک ہفتے کے بعد ان کے میاں نے کہا کہ جو حملہ آج سے چھ سال پہلے ہوا تھا، اس کا بھی نام ونشان ختم ہو گیا ہے اور صحت کی خوشی میں کل ہم نے جشن منانا ہے۔
میں نے اللہ تعالیٰ کا ہزار بار شکر ادا کیا۔ یہ تھی ریٹھے کی مسیحائی جس نے مریضہ کی رنگت نکھاری اور اس کی جان بچائی۔ یوں میرے علاج معالجہ نے اپنی قیمت پائی۔