حرفے چند
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ قرآن کریم کے اعجاز کا یہ پہلو کہ فصاحت و بلاغت میں اس جیسا کلام لانا انسانی دائرۂ اختیار میں نہیں ہے، اس پر نہ صرف ہر دور کے علما کرام نے دلائل و براہین کے ساتھ بات کی ہے بلکہ قرآن کریم کے وحی الٰہی ہونے سے انکار کرنے والے کسی بھی دور کے فصحاء و بلغاء اس چیلنج کا سامنا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ جبکہ اسی اعجاز کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی سوسائٹی کی فلاح و بہبود اور ترقی و کامیابی کے لیے جو اصول و قوانین اور احکام و ضوابط بیان فرمائے ہیں، انسانی سوسائٹی اپنی تمام تر کاوشوں کے باوجود ان جیسا کوئی اصول یا حکم پیش کرنے سے قاصر ہے۔ حضرت شاہ صاحبؒ کا ارشاد ہے کہ ان کے بعد آنے والا دور قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعجاز کے اس پہلو کے اظہار کا دور ہے اور وہ اپنی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ سے اسی علمی و فکری دور کا آغاز کر رہے ہیں۔
اسی بات کو فیلسوف مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے ایک اور انداز میں بیان کیا ہے کہ آج کے دور کا مجدد وہ ہوگا جو اسلامی قوانین و احکام کا دنیا کے مروجہ قوانین و احکام اور معاشرتی اصول و ضوابط کے ساتھ موازنہ و تقابل کر کے اسلامی قوانین کی برتری اور افادیت و ضرورت کو ثابت کرے گا۔
اب سے دو صدیاں قبل ’’انقلاب فرانس‘‘ سے خالصتاً انسانی فکر کی بنیاد پر معاشرہ و تمدن کی تشکیل کے جس دور کا آغاز ہوا تھا وہ اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ کر اب واپسی کے راستے تلاش کر رہا ہے اور آسمانی تعلیمات کی ضرورت و اہمیت اور وحی الٰہی کی افادیت و تاثیر ایک بار پھر نسل انسانی کو اپنی طرف متوجہ کرتی نظر آنے لگی ہے۔
اس تناظر میں جن مسلم علماء نے اسلام کے معاشرتی کردار، اسلامی نظام و قانون کی ضرورت و افادیت، وحی الٰہی کی اہمیت و برتری اور عصر حاضر میں اسلام کے نفاذ و ترویج کی عملی صورتوں کو اجاگر کرنے کے لیے علمی و فکری محاذ پر کام کیا ہے اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی علمی و فکری تحریک میں عملی طور پر شریک ہوئے ہیں، ان میں ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا نام اپنے معاصرین میں بہت ممتاز نظر آتا ہے اور ان کی علمی کاوشیں اس محاذ پر نئی نسل کے لیے یقیناً سنگ میل اور مشعل راہ ثابت ہوں گی۔
حضرت ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ اس شاہراہ پر ہمارے رفیق سفر تھے، مشفق راہنما تھے اور ہمدرد و معاون بھی تھے۔ ان کی جدائی نے تنہائی کے احساس کو اور زیادہ گہرا کر دیا ہے اور رکاوٹوں کی سنگینی فزوں تر دکھائی دینے لگی ہے۔ مگر سفر تو جاری ہے جو ان شاء اللہ تعالیٰ جاری رہے گا اور اس میں قدم قدم پر ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد دل کو ستاتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبولیت سے نوازیں اور سیئات سے درگزر کرتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
آئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ حیات و خدمات کا ایک مختصر خاکہ
ادارہ
نام: محمود احمد غازی (فاروقی)
والد: حافظ محمد احمد فاروقی ؒ
ولادت: ۱۸؍ ستمبر ۱۹۵۰ء
تعلیم
۱۔ حفظ قرآن (۱۹۵۸ء)
۲۔ آنرز عربی لینگویج (۱۹۶۶ء)
۳۔ درس نظامی (۱۹۶۶ء)
۴۔ آنرز فارسی زبان، پہلی پوزیشن گولڈ میڈلسٹ (۱۹۶۸ء)
۵۔ ایم اے عربی، پنجاب یونیورسٹی لاہور (۱۹۷۲ء)
۶۔ سر ٹیفکیٹ فرنچ زبان، فرنچ کلچرل سنٹر، اسلام آباد
۷۔ پی ایچ ڈی، (اسلامک اسٹڈیز)، فیکلٹی آف اورئنٹل لرننگ، پنجاب یونیورسٹی، لاہور (۱۹۸۸ء)
منصبی ذمہ داریاں
۱) صدر،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (۲۰۰۴ء تا ۲۰۰۶ء)
۲) نائب صدر،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (نومبر ۱۹۹۴ء تا ۲۰۰۴ء)
۳) وفاقی وزیربرائے مذہبی امورحکومت پاکستان (اگست ۲۰۰۰ء تا اگست ۲۰۰۲ء)
۴) ممبر، قومی سلامتی کونسل، حکومت پاکستان (۱۹۹۹ء تا ۲۰۰۰ء)
۵) جج (عارضی)، شریعہ اپیلیٹ بنچ، سپریم کورٹ آف پاکستان (۱۹۸۸ء تا ۱۹۹۹ء)
۶) ممبر،اسلامی نظریاتی کونسل (۱۹۹۰ء تا ۱۹۹۳ء، ۱۹۹۷ء تا ۲۰۰۰ء)
۷) ڈائریکٹر جنرل ،شریعہ اکیڈمی ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (۱۹۹۱ء تا ۲۰۰۰ء)
۸) ڈائریکٹر جنرل،دعوۃ اکیڈمی ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (۱۹۸۸ء تا ۱۹۹۴ء)
۹) خطیب فیصل مسجد/ڈائریکٹر اسلامک سنٹر، فیصل مسجد، اسلام آباد (۱۹۸۷ء تا ۱۹۹۴ء)
ٍ۱۰) مدیر ’’الدارسات الاسلامیۃ‘‘ (سہ ماہی اردو مجلہ) ادارۂ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد
(۱۹۸۱ء تا ۱۹۸۷ء، ۱۹۹۱ء تا ۱۹۹۳ء)
۱۱) مدیر ’’فکر ونظر‘‘ (اردو سہ ماہی مجلہ)ادارۂ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد (۱۹۸۴ء تا ۱۹۸۷ء)
۱۲) پروفیسر ،ایسوسی ایٹ ڈین، کلیہ معار ف اسلامیہ، قطرفاؤنڈیشن، دوحہ۔
۱۳) چیئرمین شریعہ بورڈ ،اسٹیٹ بینک آف پاکستان ۔
۱۴) چیئرمین شریعہ ایڈوائزری سیل، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
۱۵) چیئرمین شریعہ ایڈوائزری کمیٹی، تکافل پاکستان، کراچی (۲۰۰۵ء تا ۲۰۰۸ء)
علمی اداروں کی رکنیت
* ممبر، ورکنگ کمیٹی التجمع العالمی للعلوم المسلمین مکہ،سعودی عربیہ
* ممبر،الاتحاد العالمی للعلماء المسلمین (سرپرست شیخ یوسف القرضاوی) قاہرہ ،مصر
* ممبر، عرب اکیڈمی ،دمشق ، شام
* ممبر،سنڈیکیٹ، الرائد ایگری کلچرل یونیورسٹی ،راولپنڈی ،پاکستان (۲۰۰۶ء تا ۲۰۰۸ء)
* ممبر، ایگزیکٹو کونسل، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد (۲۰۰۴ء تا ۲۰۰۷ء)
* ممبر، بورڈ آف ایڈوانس اسٹڈیز اینڈ ریسرچ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد (۱۹۹۱ء تا ۱۹۹۴ء)
انگریزی تصانیف
i. The Hijrah: Its Philosophy and Message for the Modern Man, 1980, 1988, 1999.
ii. An Analytical Study of the Sannsiyyah Movement of North Africa, Islamabad, 2001 (Based on Ph.D. Thesis).
iii. Renaissance and Revivalism in Muslim India: 1707-1867, Islamabad, 1998.
iv. The Shorter book on Muslim International Law (Edited and translated), Islamabad, 1998.
v. State and Legislation in Islam, Islamabad, 2006
vi. Prophet of Islam: His Life and Works (translated from French).
vii. Qadianism: Lahore, 1992
اردو کتب
ادب القاضی، اسلام آباد، ۱۹۸۳ء
مسودہ قانون قصاص ودیت، اسلام آباد، ۱۹۸۶
احکام بلوغت، اسلام آباد ۱۹۸۷ء
اسلام کا قانون بین الممالک، بہاولپور ۱۹۹۷، اسلام آباد ۲۰۰۷
محاضرات قرآن، الفیصل۔ لاہور ۲۰۰۴
محاضرات حدیث، الفیصل۔لاہور ۲۰۰۴
محاضرات فقہ، الفیصل۔لاہور ۲۰۰۵
محاضرات سیرۃ، الفیصل۔لاہور ۲۰۰۷
محاضرات شریعت وتجارت، الفیصل۔لاہور ۲۰۰۹
اسلامی شریعت اور عصر حاضر، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد، ۲۰۰۹
قرآن ایک تعارف، اسلام آباد ۲۰۰۳
محکمات عالم قرآنی، اسلام آباد ۲۰۰۲
امربالمعروف ونہی عن المنکر، اسلام آباد ۱۹۹۲
اصول الفقہ (ایک تعارف، حصہ اول ودوم)، اسلام آباد، ۲۰۰۴
قواعدفقہیہ (ایک تاریخی جائزہ، حصہ اول و دوم)، اسلام آباد ۲۰۰۴
تقنین الشریعہ، اسلام آباد ۲۰۰۵
اسلام اور مغرب تعلقات، زوار اکیڈمی پبلی کیشنز،کراچی۔۲۰۰۹
مسلمانوں کا دینی و عصری نظام تعلیم، الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ۔۲۰۰۹
اسلامی بنکاری، ایک تعارف، زوار اکیڈمی پبلی کیشنز،کراچی۔۲۰۱۰
فریضہ دعوت و تبلیغ، دعوۃ اکیڈمی، اسلام آباد۔۲۰۰۴ (اشاعتِ سوم)
اسلام اور مغرب، زوار اکیڈمی پبلی کیشنز،کراچی۔۲۰۰۷
عربی تصانیف
تحقیق وتعلیق السیرہ الصغیرہ، امام محمد ابن حسن الشیبانی، اسلام آباد ۱۹۹۸ء
القرآن الکریم، المعجزۃ العالیۃ الکبریٰ، اسلام آباد ۱۹۹۴ء
یا امم الشرق (ترجمہ کلام اقبال)، دسمبر ۱۹۸۶ء
تاریخ الحرکۃ المجددیہ، بیروت ۲۰۰۹ء
العولمۃ،قاہرہ ۲۰۰۸ء
شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمٰن المینویؒ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے استاذ حدیث)
مولانا حیدر علی مینوی
شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرحمن المینویؒ ؒ نے ضلع صوابی ( صوبہ پختونخواہ) کے ایک دور افتادہ خوبصورت گاؤں ’’مینی‘‘ میں آنکھیں کھولیں جہاں کوہ مہا بن کا پرشکوہ نظارہ دکھائی دیتا ہے۔ یخ بستہ ہوائیں کوہ مہابن کی فلک بوس وبرف پوش چوٹیوں سے پھسل کر اس گاؤں میں اترتی ہیں۔ یہاں ٹھنڈے پانی کے بل کھاتے چشمے، مالٹے اور خوبانی کے باغات کو سیراب کرتے ہوئے گزرتے ہیں۔ اس چھوٹے سے قصبے کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ سید احمد شہید ؒ اور ان کے ساتھیوں کے قافلے یہاں آکر رکے اور اس کی زمین شہیدوں کے لہو سے لالہ زار بنی۔
حضرت موصوف کا شمار دارالعلوم دیوبند کے ان فضلا میں ہوتا ہے جن کی حیات مستعار کا ایک ایک لمحہ علم حدیث کے لیے وقف تھا۔ فراغت کے بعد آپ نے ایک مشہور ادارے دارالعلوم میرٹھ سے تدریس کی ابتدا کی اور پہلے ہی سال سے آپ کو حدیث پڑھانے کا شرف حاصل ہوا جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ اس کے بعد تادم واپسیں آپ کے لیل ونہار اسی میں گزرے۔ ہندوستان سے واپسی پر آپ نے ملک کے بڑے بڑے اداروں میں حدیث کی خدمت کی۔ دارالعلوم چارسدہ، خیرا لمدارس مردان، جامعہ اسلامیہ اکوڑہ خٹک میں پڑھاتے رہے، پھر مولانا غلام اللہ خانؒ کے شدید اصرار پر تعلیم القرآن راولپنڈی چلے آئے اور زندگی کے آخری دس سال یہیں گزارے۔ اس دوران میں اس چشمہ فیض سے ہزاروں طلبہ سیراب ہوئے اور اپنی اپنی بساط کے مطابق اکتساب علم کر کے اپنے علاقوں کو لوٹ گئے۔ درس کی عظمت اور وقار کا یہ عالم ہوتا تھا کہ اگر درس کبھی زیادہ طویل ہو جاتا تو بھی طلبہ انتہائی مشقت کے باوجود ایک ہی انداز میں بیٹھے رہتے۔ عموماً دائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے زمین پر ٹیک لگانے کی عادت تھی۔
احناف کے دلائل ذکر کرتے وقت قرون سابقہ کا منظر ہوتا۔ حیرت انگیز حافظے کے مالک تھے۔ آپ کے شاگرد ڈاکٹر مولانا محمود احمد غازیؒ فرماتے ہیں: ’’ حضرت پڑھاتے وقت جب کسی جگہ استشہاد کے لیے حافظ ابن حجر ؒ یا علامہ عینی کی لمبی لمبی عبارات پڑھتے تو اس وقت خیال ہوتا کہ روایت بالمعنی کے طور پر پڑھتے ہوں گے، لیکن فراغت کے بعد جب عبارات کا اصل مراجع سے تطابق کیا تو تعجب کی انتہا نہ رہی، عبارات میں من وعن الفاظ ہیں۔‘‘
حضرت شیخ کے لیل ونہار عمومی طور پر درس وتدریس میں گزرے او ر اس میدان میں آپ نے شاگردوں کی ایک پوری جماعت تیار کی، تاہم تصنیف وتالیف کے میدان میں بھی آپ کے کچھ نقوش موجود ہیں جن سے آپ کی یاد تازہ رہے گی۔
۱۔ اصول حدیث پرنہایت وقیع کتاب ’’جواہر الاصول‘‘ آپ کی گراں قدر تصنیف ہے۔ یہ کتاب پہلی بار راولپنڈی سے آپ کی زندگی ہی میں شائع ہوئی تھی۔ کتاب کے متعلق علامہ شمس الحق افغانیؒ فرماتے ہیں: ’’فقد طالعت الرسالۃ المسماۃ بجواہرالاصول لمولفہا العلام الجامع المعقول والمنقول والحاوی للفروع والاصول الشیخ المحدث عبدالرحمن المینوی‘‘۔
علامہ عبدالرحمن کیمل پوری ؒ فرماتے ہیں: حضرت مولانا عبدالرحمن مینوی ،شیخ الحدیث دارالعلوم چارسدہ کو بعض بعض مقامات سے دیکھا۔ حضرت موصوف علمی طبقہ میں خاص شہرت کے مالک ہیں۔ آپ نے نہایت عرق ریزی سے اس باب میں سعی فرما کر بکھرے ہوئے موتیوں کو یکجا جمع کردیا ہے اور اہل علم پر عظیم احسان فرمادیا ہے۔‘‘
مفتی اعظم مفتی محمد شفیع فرماتے ہیں: ’’وبعد فانی رایت الرسالۃ الغراء جواہر الاصول من مواضع عدیدۃ فوجدتھا بحمداللہ حافلۃ لما لا بد منہ‘‘۔
۲۔ بخاری شریف کے ابتدائی تین ابواب پر ’’الکوثر الجاری علیٰ ریاض البخاری‘‘ کے نام سے دو جلدوں میں آپ کی شرح ہے۔ اس شرح کی خصوصیت یہ ہے کہ احناف کے مذہب کو نہایت عمیق اور منطقی استدلال سے حل فرماتے ہیں۔ منطقی علوم میں حضرت کو امامت کا درجہ حاصل تھا۔
۳۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی میراث والی روایت پر ایک مستقل رسالہ ’’فیضان الباری فی حدیث ابن الحواری‘‘ لکھا ہے۔ قاضی شمس الدین ؒ نے الہام الباری میں اس حدیث کی تشریح میں جو تقسیم ذکر کی ہے، اس تقسیم پر حضرت شیخ کے کچھ تحفظات تھے جس کی وجہ سے آپ نے یہ رسالہ لکھا۔ ( چند سال پہلے راقم نے اس مسودہ کو شائع کیاتھا۔)
۴۔ شدالرحال اور زیارات قبور پر بھی ایک اہم کتاب حضرت نے لکھی تھی۔ افسوس یہ ہے کہ اس کا اصل مسودہ دریافت نہ ہو سکا۔ حضرت کی ذاتی لائبریری میں مجھے اس کتاب کا ایک کتابت شدہ نسخہ مل گیا، لیکن عرصہ دراز گزرنے کی وجہ سے اس کی لکھائی بہت مدھم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اسے پڑھنا دشوار ہے۔
۵۔ آپ کے ترمذی شریف کے افادات پرعلاقہ دیر کے جناب مولانا اعزاز علی، پی ایچ ڈی کے لیے ’’سنن ترمذی پر مولانا عبدالرحمن المینوی کے علمی کام کا تحقیقی جائزہ‘‘ کے عنوان سے پشاور یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے تحت اپنا مقالہ لکھ رہے ہیں۔ یہ تقریر تقریباً ساڑھے سات سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ صحاح ستہ پر آپ کے انتہائی جاندار اور محدثانہ افادات بھی آپ کے شاگردوں کے پا س محفوظ ہیں۔ حضرت شیخ کے ایک شاگرد مولانا اویس (سابق چیئر مین اسلامی ثقافت ڈنمارک) نے ان افادات پرکام کیا تھا جس کے لیے حضرت سے مسلسل رابطہ بھی رہا ۔ نہ معلوم کن وجوہات کی بنا پر یہ کام ادھورا رہ گیا۔
مولانا کا اسلوب تدریس انوکھی شان کاہوتا تھا۔ مشکل سے مشکل مقام کو آپ اتنی خوبی سے سمجھاتے کہ طالب علم کے سامنے سبق کا خلاصہ اور مغز تو آ ہی جاتا، متعلقہ بحث میں گہری بصیرت بھی حاصل ہو جاتی تھی۔ طریقہ یہ ہوتا کہ کسی بات کو شروع کرتے تو فرماتے:
اس باب میں دس عنوانات ہیں: عنوان اول: امام بخاری نے یہاں تین ابواب قائم کیے ہیں ۔ ۲۔ ان تین ابواب سے امام بخاریؒ کی غرض۔ ۳: دوسرے باب پر وارد اشکال کاحل۔ ۴: سند کا بیان۔ ۵: چند اہم سوالات کا جواب ۔ ۶: ان تعبداللہ کانک تراہ میں درجات شرک کا بیان۔ ۷: احسان کا لغوی اور اصطلاحی معنی۔ ۸: ملائکہ پر ایمان کا مطلب ۔ ۹: قیامت کی لغوی اور اصطلاحی تعریف۔ ۱۰: آیت پر وارد اشکال کا حل۔
ہرکتاب میں عنوانات کا یہ سلسلہ رہتا۔ اس اسلوب پر لکھنا شاید آسان ہو، لیکن دوران درس میں اجمال وتفصیل کے عنوانات کو لف نشرمرتب کے ساتھ بیان کرنا غیر معمولی حافظے کاپتہ دیتاہے۔
حضرت مولانا کے اساتذہ میں سب سے پہلا نام تو شیخ العرب والعجم مولانا حسین احمدمدنیؒ کاہے۔ آپ کے دوسرے اساتذہ میں شیخ الادب مولانا اعزاز علیؒ ، مولانا ابراہیم بلیاویؒ ، مفتی ریاض الدین بجنوریؒ وغیرہم ہیں۔
۱۹۷۰ء میں کینسر کے مرض میں مبتلا ہو کر حضرت شیخ اس دار فانی سے رخصت ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہاے گراں مایہ کیا کیے
میری علمی اور مطالعاتی زندگی
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا ایک غیر مطبوعہ انٹرویو
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
انٹرویو نگار : عرفان احمد
(علم کی پختگی کے لیے باقاعدہ مطالعہ کرنے کی اہمیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ خاکسار بھی مختلف علوم اور مختلف موضوعات پر اکثر مطالعہ کرتا رہتا ہے۔ آج سے دس برس پہلے پرانی کتابوں کی ایک دکان سے مجلس نشریات اسلام کی شائع کردہ کتاب ’’میری محسن کتابیں‘‘ اچانک دست یاب ہوئی۔ اس کتاب میں بیسویں صدی کے بعض بلند پایہ مشاہیر علم کے مطالعاتی تاثرات بیان کیے گئے تھے۔ مطالعہ کا ذوق رکھنے والے لوگوں کے لیے یہ کتاب ایک کلید اور محرک کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں شامل لوگوں کے طریق مطالعہ سے اپنے لیے مطالعے کے اصول اور طریقے اخذ کیے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے مجھ میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ آج کے موجودہ دور کے ارباب علم کے بھی مطالعہ کے حوالے سے انٹرویوز کیے جائیں۔ اسی مقصد کے پیش نظر میں نے آج سے تقریباً چار سال پہلے عصر حاضر کے اہل علم کے انٹرویوز کرنے شروع کیے جن میں زندگی کے مختلف شعبہ جات کے لوگ شامل ہیں۔ انہی ارباب علم میں ایک شخصیت جو اب ہم میں نہیں رہی، ڈاکٹر محمود احمد غازی کی تھی۔ مطالعے اور کتاب سے دلچسپی رکھنے والے سنجیدہ اہل علم اور شائقین کے لیے ان کے مطالعاتی ذوق کی داستان پر مشتمل یہ انٹرویو پیش خدمت ہے۔ عرفان احمد)
میری ابتدائی تعلیم روایتی انداز میں ہوئی جیسے میرے خاندان میں دوسرے لوگوں کی ہوئی تھی۔ پہلے میں نے قرآن پاک حفظ کیا، اس کے بعد میں نے اپنے والد سے تھوڑی فارسی پڑھی۔ فارسی پڑھنے کے بعد پھر سکول میں داخل ہو گیا۔ تین چار سال سکول میں پڑھا، پھر اسکول کی کچھ تعلیم اطمینان بخش نہیں لگی تو میرے والد صاحب نے مجھے کراچی میں ایک دینی مدرسے میں داخل کروا دیا جہاں میں نے کوئی پانچ سال پڑھا۔ عربی وغیرہ اچھی سیکھ لی۔ میرے والد گورنمنٹ سروس میں تھے تو وہ پھر ۱۹۶۴ء میں اسلام آباد آگئے تو میں بھی ان کے ساتھ اسلام آباد آگیا۔ یہاں کوئی دینی تعلیم کا قابل اعتماد انتظام نہیں تھا، اس لیے تھوڑی تھوڑی وہ بھی چلتی رہی، لیکن اس کے ساتھ میں نے میٹرک کا امتحان بھی دے دیا۔ میٹرک کر نے کے بعد پھر میں نے انٹر میڈیٹ کرلیا۔ اسی دوران انٹر میڈیٹ کے امتحان کے بعد جب میں بی اے کے امتحان کی پرائیویٹ تیاری کر رہا تھا کہ میرے والد صاحب نے مجھے کہا کہ کچھ اور بھی کرنا چاہیے تو پنڈی میں ایک سکول تھا، مدرسہ ملیہ اسلامیہ۔ مولانا عبد الجبار غازی مرحوم نے بنایا تھا۔ جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر بھی رہ چکے تھے جب مولانا مودودیؒ گرفتار رہے۔ کچھ عرصہ ان کے ہاں میں نے پڑھایا، لیکن میرا تاثر تھا کہ یہ ایسا ادارہ ہے نہیں جیسا کہ مولانا بنانا چاہتے تھے۔ اسی اسلامیہ مدرسہ میں، میں پڑھاتا تھا۔
مجھے مطالعہ کا شوق تھا، اس لیے میں چھٹی کے دن ادارہ تحقیقات اسلامی کی لائبریری میں چلا جایا کرتا تھا۔ سب لوگوں سے تعارف تھا۔ کسی اور دوست کے نام سے کتاب جاری کروالیا کرتا تھا۔ اسلام آباد میں ایک نیشنل سٹینڈرڈ لائبریری تھی اور وہ پاکستان کونسل برائے قومی یکجہتی لائبریری کہلاتی تھی۔ اس لائبریری میں بھی جایا کرتا تھا اور بہت سی کتابیں لاتا، لیکن وہاں عربی اور فارسی کی بجائے اردو، انگریزی کی کتابیں ملتی تھیں۔ میں فارسی جانتا بھی تھا اور بولتا بھی تھا۔ کتابیں پڑھنے کا بھی شوق تھا اور کتابیں مجھے ادارہ تحقیقات اسلامی سے مل جایا کرتی تھیں توچھٹی کے دن میں پورا دن وہاں گزارتا تھا۔ ایک مرتبہ میں وہاں گیا ہوا تھا۔ یہ بات تقریباً ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۶۸ء کی ہے۔ مدرسہ عربیہ اسلامیہ میں چھٹی تھی۔ ۱۶؍ اکتوبر کو (شہادت لیاقت علی خان کی وجہ سے) میں صبح ہی ادارہ تحقیقات اسلامی کی لائبریری میں، جہاں Reading Hall تھا، وہاں چلا گیا۔ وہاں وہ ایک سرخ وسفید داڑھی والے صاحب بیٹھے ہوئے تھے جونفیس لباس اورخوبصورت عمامہ پہنے ہوئے تھے۔ بڑے خوبصورت اور وجیہ آدمی تھے۔ میں نے سلام کیا۔ قریب جا کر اندازہ ہوا کہ وہ نابینا تھے۔ عربی میں بات کرنے کا مجھے شوق تھا بچپن ہی سے جیسے کہ بچوں کو ہوتا ہے۔ قابلیت کے اظہار کا شوق بچپن میں زیادہ ہوتا ہے۔ سلام ودعا کے بعد عربی میں بات شروع کر دی۔ انھوں نے پوچھا تم کون ہو اور ایک آدھ سوال کیا تو میرے لہجے سے خوش ہوئے۔ پوچھا فارسی بھی جانتے ہو؟ تو میں نے کہا جی۔۔۔ میں فارسی بھی جانتا ہوں۔ کتنی پڑھی ہے؟ میں نے کہا کہ فارسی میں نے کافی پڑھی ہے۔ پوچھا کلا م اقبال پڑھا ہے؟ تو میں نے کہا کہ بہت پڑھا ہے۔ میں تقریباً اس دور میں اقبال کا حافظ تھا فارسی اور اردو میں۔ تو انہوں نے کہا کہ کوئی شعر سناؤ تو میں نے فارسی کے دو تین اشعار سنا دیے۔ ان کے سامنے ’’ارمغان حجاز‘‘ رکھی تھی۔ انھوں نے کہا کہ آخر میں جو رباعی ہے، اسے پڑھو۔ پہلی رباعی تھی ’’حرم از دیر دیگر رنگ وبو‘‘۔ کہا اس کا ترجمہ کرو۔ میں نے ترجمہ کردیا۔ بڑے خوش ہوئے۔ ترجمہ ٹھیک تھا، ان کو اچھا لگا۔
انھوں نے بتایا کہ میرا نام شیخ صاوی علی شعلان ہے۔ میں مصر کا مشہور شاعر ہوں اور مجھے حکومت پاکستان نے بلایا ہے کہ میں کلام اقبال کا عربی منظوم ترجمہ کروں گا توکیا تم میرے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہو ؟میں نے کہا جی ہاں تو کہنے لگے کب سے؟ میں نے کہا کہ ابھی سے تو کہنے لگے کیا کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ اسکول میں پڑھاتا ہوں۔ پوچھا تو اسکول کا کیا کرو گے؟ تو میں نے کہا، چھوڑدوں گا۔ اس پر بڑے خوش ہوئے۔ ان کو حیرت یہ بھی ہوئی اور شک بھی کہ کیسا آدمی ہے۔ ایک دو آدمیوں سے پوچھا تو انھوں نے یقین دلایا کہ یہ آپ کے ساتھ استعفا دے کر کام کرلے گا۔ تو میں نے وہاں جانا شروع کردیا اور اسکول میں استعفا دے دیا۔ مولانا غازی بہت ناراض ہوئے۔ انھوں نے بہت Mind کیا لیکن میں نے ان کو اس کام کے بارے میں بتایا تو انھوں نے پوچھا کہ کیا تنخواہ ملے گی تو میں نے کہا کہ نہیں، تنخواہ کی فکر نہیں۔ اس طرح میں مدرسہ چھوڑ کر شیخ شعلان کے ساتھ لگ گیا۔ ان کے ساتھ کام کرنے میں کافی فائدے ہوئے۔ ایک تومیری عربی درست ہو گئی۔ پھر میں نے ان کے ساتھ کلام اقبالؒ ایک نئی ترتیب کے ساتھ پڑھا اور ہر مشق اور شعر کا عربی ترجمہ کر کے ان کو بتایا خاص طور پر اردو شعر کا۔ اور بھی بہت سی کتابیں پڑھیں اور اس طرح منتخب کلام کا ترجمہ ہوا، خاص طور پر علامہ اقبال کی فارسی مثنوی جو ہے، اس کا مکمل عربی ترجمہ ہوا، اس میں مدد کی۔ میں ترجمہ Dictate کردیا کرتا تھا، وہ اپنی برل مشین پر لکھ لیا کرتے تھے اور رات کو کہیں نظم کرتے تھے۔ برل مشین پر وہ نظم اگلے دن صبح Dictate کرواتے، میں اس دوران پھر تیار ترجمہ ان کو نثر میں لکھواتا تھا۔ اس طرح سے کوئی تقریباً ایک سال میں نے ان کے ساتھ کام کیا۔ اس ایک سال میں تقریباً جولائی، اگست ۶۹ء تک کافی کام ہو گیا، ترجمہ بھی ہو گیا۔ اس دوران اور بھی کتب جو وہ فرمائش کرتے، پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔ جو چیزیں انھوں نے نہیں پڑھی تھیں، وہ میں نے پڑھ کر سنائیں۔ ایسے شاعروں، ادیبوں کے نام جو میں نے نہیں سنے تھے، جب ان کی کتابیں ان کو پڑھ پڑھ کر سنائیں تو اس سے میرا مطالعہ مزیدوسیع ہوگیا۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ میری عربی زبان مضبوط ہو گئی۔ مجھے آج بھی عربی میں لکھنے، بولنے، پڑھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔
جب وہ چلے گئے یہاں سے اپنا کام مکمل کر کے تو ظاہر کہ میرا تعارف یہاں پر سب لوگوں سے ہو گیا تھا۔ پہلے کم تھا، پھر زیادہ ہو گیا کہ یہ عربی، فارسی اچھی جانتے ہیں ۔اس سے لوگوں کا میرے بارے میں تاثر زیادہ اچھا ہو گیا، کیوں کہ عربی جاننے والے اکثر لکھ پڑھ نہیں سکتے۔ جو یہ کر سکتے ہیں، وہ بول نہیں سکتے، لیکن الحمد للہ میرے اندر یہ تمام صلاحیتیں پیدا ہو گئیں۔ اس دوران انسٹی ٹیوٹ میں ملازمت کی آفر ہو گئی۔ انھوں نے مجھے وہاں آفر کی، ہلکا سا انٹر ویو ہوا، مجھے لگا کہ فارمیلٹی ہے۔ کوئی محمدممتاز حسن مرحوم تھے، نیشنل بنک کے ریٹائرڈ صدر تھے اس وقت، ایک دواور حضرات تھے۔ اس طرح ۱۹۶۹ء کی گرمیوں میں، میں نے انسٹی ٹیوٹ جوائن کرلیا۔ اس کے بعد میں انسٹی ٹیوٹ ہی میں رہا۔ اس دوران میں نے پرائیویٹ ایم اے بھی کر لیا تھا اور PhD بھی۔
انیسویں صدی میں مسلمانوں میں جو احیائے اسلام کا کام شروع ہوا، تجدید واحیائے دین کی تحریکیں چلتی رہی ہیں، ان کا بہت معروضی انداز میں مطالعہ کیا جائے تو مختلف لوگوں نے مختلف تحریکات کامطالعہ شروع کیا۔ سنو سی تحریک جو لیبیا میں چلی تھی، یہ آزادی کی تحریک تھی جس کے نتیجہ میں حکومت بھی بنی اور عمرو مختار اسی تحریک کے قائد تھے۔ شاید اس لیے کہ ماخذ کی کمی تھی، جو کام کرنے والے تھے شاید عربی میں اتنے رواں نہ تھے، بہر حال جو بھی وجہ تھی تو میں نے اس پر کام شروع کردیا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میں نے سنوسی تحریک کا نام پہلی بار سنا تھا۔ مجھے اس کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا۔ لیبیا کے نام سے بھی زیادہ واقف نہیں تھا کہ لیبیا بھی کوئی ملک ہے۔ بہرحال انھوں نے کہا کہ سنوسی تحریک پر کام کریں۔ میں نے تلاش شروع کی اور مواد ملنا شروع ہوا اور میں نے مطالعہ شروع کیا اور ایک کتاب تیار کردی۔ بعد میں کچھ لوگوں کے مشورہ پر اس کتاب یا تحریک کو Revise کر کے PhD کے مطالعہ کے لیے پیش کردیا۔ اسے یونیورسٹی نے قبول کرلیا اور اس طرح میں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ پاکستان میں غالباً ابھی تک وہ واحد کتاب ہے جو کہ سنوسی تحریک کے بارے میں چھپی ہے۔
میری ابتدائی تعلیم کراچی میں ہوئی۔ میرے والد کا تعلق دہلی کی ایک قریبی جگہ سے تھا، لیکن تعلیم کے بعد کا بیشتر حصہ علی گڑھ یا دہلی میں گزارا ۔علی گڑھ رہے۔ میرے خاندان کا علی گڑھ سے پرانا تعلق تھا۔ میرے دادا علی گڑھ سے پڑھ چکے تھے۔ علی گڑھ کی فٹ بال کی ٹیم کے کپتان تھے۔ میری دادی بتاتی ہیں کہ شادی کے بعد بھی جب وہاں جاتے تو ہاتھی ان کو لینے کے لیے آیا کرتا تھا۔ گاڑی تو ہوتی نہیں تھی اور ہاتھی کسی کو لینے کے لیے آئے تو یہ ایک دیہاتی کے لیے نئی بات ہوتی تھی۔ میری دادی کے ماموں جو تھے، بدر الحسن ان کا نام تھا، وہ سرسید کے ساتھ علی گڑھ کالج کے ٹرسٹی تھے۔ بدر باغ ان کے نام سے تھا۔ علی گڑھ اور دیوبند دونوں سے میر اخاندانی تعلق تھا۔ خاندان کے کچھ لوگ دیوبند سے پڑھے تھے، کچھ علی گڑھ سے پڑھے تھے۔ دونوں طرف رجحان تھا۔ یہ بھی ہوا کہ ایک بھائی کی تعلیم علی گڑھ، دوسرے کی دیوبند میں ہوئی، باپ کی دیوبند یا بیٹے کی علی گڑھ میں۔ یہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے رہے یعنی دینی اور دنیاوی تعلیم۔ میرے والدصاحب کی تعلیم پہلے مدرسہ میں ہوئی، بعد میں علی گڑھ چلے گئے ۔علی گڑھ سے پڑھنے کے بعد دہلی آگئے اور پرائیویٹ تعلیمی ادارہ قائم کیا جس میں درس وتدریس ہوتی تھی۔ ساتھ ہی ایک فتح پوری کالج تھا جو اب بھی ہے ،اس میں پڑھایا کرتے تھے۔فتح پوری کالج شایدکامیاب طور پر چلا نہیں، اس لیے والد صاحب نے بعد میں وہ ادارہ چھوڑ کر گورنمنٹ سروس اختیار کرلی۔ سروس میں دہلی میں رہتے رہے۔
جب پاکستان قائم ہوا تو بڑے پر جوش مسلم لیگی تھے، انھوں نے پاکستان کو Opt کیا۔ سرکاری ملازم ہوئے، بہت کام کیا۔ آرڈر ملا کہ۱۷؍اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستانی ہائی کمیشن دہلی میں رپورٹ کریں اور ان کی پوسٹنگ دہلی میں ہوئی۔ ۱۷؍اگست ۱۹۴۷ء کو دہلی میں کرفیو تھا۔ بہت قتل عام ہوا تھا۔ والد صاحب بتاتے ہیں کہ مجھے ساری رات نیند نہیں آئی کہ صبح پاکستان کی سروس جوائن کرنی ہے۔ یہ بتاتے ہوئے رویا کرتے تھے کہ میں صبح آٹھ بجے کپڑے بدل کر روانہ ہو گیا، اب وہاں لوگوں کی لاشیں پھلانگتا ہوا جا رہا تھا۔ بڑی مشکل اور تلاش کے بعد عمارت ملی جس میں ہائی کمیشن قائم ہوا تھا۔ کافی دیر تک دستک دیتے رہے، کسی نے نہیں کھولا۔ اندر سے کسی نے جھانکا اور پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا کہ میرے پاس لیٹر ہے اورمیں نے جوائن کرنا ہے تو انھوں نے کہا کہ اس حالت میں کیا پاگل ہو؟ واپس جاؤ، دوبارہ آنا۔ پھر ۱۵ کو گئے۔ ۱۷؍ اگست کو امن ہوا تو انھوں نے جوائن کیا اور دہلی میں گئے۔
میری پیدائش دہلی میں ہوئی۔ میں ۴، ۵ سال کا تھا جب دہلی سے پاکستان آیا۔ بچپن میں پرانے مسلمانوں کے قصے کہانیاں پڑھا کرتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میری دادی بڑی عالمہ فاضلہ خاتون تھیں۔ ان کی تعلیم تو کوئی زیادہ نہیں تھی، لیکن بڑی وسیع المطالعہ خاتون تھیں۔ اردو، فارسی ان کو اچھی آتی تھی۔ اردو کی کتابیں ان کے پاس بہت تھیں۔ وہ اپنے ساتھ کچھ اور تو نہیں لاسکی تھیں، لیکن اپنے مطالعہ کی کتابیں دوصندوقوں میں بھر کر لائی تھیں۔ وہ کتابیں میں پڑھا کرتا تھا۔ ایک کتاب ان کو زبانی یاد تھی جس کا نام تھا’’ صمصام الاسلام‘‘۔ اس کے لغوی معنی ہیں ’’اسلام کی تلوار‘‘ لیکن یہ ایک منظوم ترجمہ تھا ایک پرانی کتاب کا جو اس نام سے مشہور ہے۔ اس میں شام کے علاقہ میں جو مسلمانوں کی فتوحات کے واقعات تھے ،خالد بن ولیدؓ کی بہادری کے قصے تھے، ابوعبیدہؓ کی بہادری کے واقعات تھے، یہ کسی نے نظم کیے ہوئے تھے۔ یہ میری دادی کو زبانی یاد تھی۔ اس کی بہت سی نظمیں اور شعرمجھے سنایا کرتی تھیں۔ اس سے مجھے یہ واقعات یاد ہو گئے۔ تو ایسی کتابیں جن میں اس طرح کے واقعات ہوں، وہ مجھے اب بھی اچھی لگتی ہیں۔
میں کراچی میں قرآن پاک حفظ کرچکا تھا۔ یہ غالباً ۱۹۵۷ء کی بات ہے، میرے والد کے ایک قریبی دوست تھے۔ میرے والد سے ان کابڑا وسیع تعلق تھا۔ کافی لمبی عمر کے بزرگ تھے اور مولانا اشرف علی تھانوی کے بھتیجے تھے۔ کراچی میں مولانا اشرف علی تھانوی کی کتابوں کی طباعت کا کام انھوں نے شروع کررکھا تھا ادارہ تالیفات اشرفیہ کے نام سے۔ مولانا کے ملفوظات کی چھ، آٹھ جلدیں انھوں نے شائع کیں جو پروف ریڈنگ کرنے کے لیے میرے پاس آئی تھیں۔ میں ان کے ساتھ بیٹھ کر پروف پڑھا کرتا تھا۔ وہ مسودے کو پڑھتے اور میں اصل کو پڑھتا تھا اور جو غلطی ہوتی، میں ٹھیک کردیتا اور جہاں جہاں قرآن پاک کے حوالے ہوتے تھے، میں حافظ ہونے کی وجہ سے حوالہ نکال دیا کرتا تھا۔ اس کا ترجمہ اور ریفرنس مکمل طور پر وہ دے دیا کرتے تھے۔ اس طرح سے بچپن میں، جب کہ اردو نئی پڑھنی سیکھی تھی تو مولانا اشرف علی تھانوی کی کتابیں میں نے پڑھ ڈالیں جب کہ وہ ابھی انھیں چھپوا رہے تھے۔ ویسے تو ملفوظات میں تصوف کے مباحث بہت ہیں۔ اکثر جو فنی چیزیں ہیں، وہ تو میری سمجھ میں بہت کم آتی تھیں، لیکن اس میں جو حکایتیں اورشعروشاعری ہوتی، دلچسپی کی ہوتی تھیں، ان سے مجھے دلچسپی ہو گئی تو اس طرح حضرت تھانوی کی کتابیں بہت بچپن میں پڑھ ڈالی تھیں۔ ان کے پڑھنے سے بہت سارے دین کے اہم حقائق اور اہم چیزیں جو تھیں، وہ ذہن نشین ہو گئیں اور اس طرح بہت ساری ایسی مشکلات سے بچا رہا جس کا بہت سے لوگ شکار ہوتے ہیں کیونکہ اکثر لوگوں کو ان کا Background معلوم نہیں ہوتا۔
اس دوران کراچی ہی میں تھا کہ اتفاق سے مجھے مولانا مودودی کی کتابیں پڑھنے کا موقع ملا۔ ایک بزرگ تھے مفتی محمد اکمل جن کے پاس مولانا مودودی ؒ کی کتابیں تھیں تو میں فارغ وقت میں ان کے کتب خانہ میں جایا کرتا تھا اور کتابیں پڑھتا اور دیکھتا رہتا۔ میرا کتابوں کا ذوق انھوں نے دیکھا تو ایک دن کہنے لگے کہ کونے میں جو کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے، اس میں جو تمھارے کام کی کتابیں ہوں، وہ لے جاؤ تو میں بڑا خوش ہوا اور ایک تخت کے نیچے گھس کر مٹی میں ۲، ۴ دن کتابوں کو چھانٹتا رہا۔ ساری کتابیں باہر نکالیں اور ۵۰، ۱۰۰ کتابوں کا ایک بنڈل باندھا کہ لے جاؤں؟ توانھوں نے کہا کہ ہاں ٹھیک ہے، لے جاؤ تو وہ ساری کتابیں میں گھر لے آیا۔ اس طرح میری پہلی Personal لائبریری ان ردی کی عطیہ شدہ کتابوں سے بنی۔ کچھ کام کی نہیں تھیں، لیکن کچھ بہت مفید نکلیں۔ جو اچھی کتابیں تھیں، ان میں دو کتابچے تھے۔ ایک مولانا مودودیؒ کا تھا: ’’پاکستان میں اسلامی نظام اور نفاذ کی عملی تدابیر‘‘۔ یہ لیکچر یا تقریر تھی۔ میں بہت متاثر ہوا کہ یہ بڑے کام کی تقریر ہے۔ مولانا کی کتابیں پڑھنے کا ذوق بھی اس طرح ہوا۔ مولانا کی کتابیں میں نے اس وقت پڑھنی شروع کیں۔ دوسری چیز جو مجھے ان کتابوں میں ملی، وہ ایک قرارداد تھی جو مسلمانوں کے مختلف مسائل کے بارے میں تھی۔ اب یاد نہیں کہ کس ادارے کی تھی، شاید کراچی میں انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی تھی جو مسئلہ فلسطین اور الجزائر اور دیگر آزادی کی ان تحریکوں کے بارے میں تھی جسے پڑھ کر مجھے بہت دکھ ہوا کہ اچھا مسلمانوں کے ساتھ یہ ہو رہا ہے اور یہ صرف قراردادیں پاس کررہے ہیں، اس سے کیا ہوگا؟ اور میرے دل میں یہ آیا کہ حکومت پاکستان وہاں پر فوجیں بھیجتی۔ اس طرح کے جذبات میرے دل میں آتے تھے۔ یہ مجھے اندازہ نہ تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ جب ریزولیشن پاس کرنے کی ہمت بھی نہ ہوگی۔ لیکن بہر حال اس سے مجھ میں دنیائے اسلام کے معاملات میں دلچسپی لینے کا ذوق پیدا ہوگیا۔ اس دن سے مجھے عالم اسلام کے مسائل سے دلچسپی پید اہو گئی اور اب کافی مسائل سے واقفیت ہے۔
شاعری سے مجھے زیادہ دلچسپی شروع سے نہیں تھی اور شعروشاعری میری طبیعت کے خلاف تھی۔ وجہ کیا ہے؟ مجھے معلوم نہیں، لیکن میرا دل شعر و شاعری میں لگتا نہیں تھا۔ شاید اس وجہ سے کہ میری والدہ مجھے فارسی شاعری پڑھانا چاہتی تھیں جو کہ شاید اس وقت میرے ذوق اور سطح سے بلند ہو گی اور شاید اس وجہ سے شاعری سے میرا دل کھٹا ہو گیا۔ بہر حال جو بھی وجہ ہوگی، لیکن اردو ناول اور افسانے میں میرا دل لگنے لگا۔ اس زمانے میں نسیم حجازی کے میں نے کافی ناول پڑھے۔ ایک خاتون ہوتی تھیں، غالباً اے آر خاتون، بہت اچھا لکھتی تھیں۔ ان کے ناول بھی پڑھے۔ یہ دو نام مجھے یاد ہیں۔ ممکن ہے کہ میری اردو پر اس افسانوی ادب کے پڑھنے کا اثر ہوا ہو۔ اردو میں نے باقاعدہ نہیں پڑھی یا باقاعدہ اردو تعلیم کسی ادارے میں نہیں پائی۔ اردو میں لکھ لیتا ہوں، تحریریں موجود ہیں۔
جب میری دینی تعلیم مکمل ہو گئی تو زیادہ تر عربی مطالعہ کا موقع ملا۔ انگریزی کتابوں کا مطالعہ بھی کیا۔ انگریزی میں جن چیزوں کے ساتھ دلچسپی رہی، یا تو قانون کے متعلق موضوعات تھے کیونکہ میں فقہ کا طالب علم تھا اور وہ اس لیے کہ اس کے ذریعے قانون کو سمجھنے میں مدد ملتی تھی۔ قانون کی خاص کتابیں پڑھیں اور پھر کچھ قانون کا باقاعدہ طالب علم بھی رہا۔ FEL بھی کیا اور ایل ایل بی کا امتحان بھی پاس کیا۔ اس میں دو پرچوں میں شرکت نہ کرسکا اور پرچوں میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے فیل ہو گیا۔ میں نے کوشش کی دوبارہ کرنے کی، لیکن نہیں کر سکا وقت نہ ملنے کی وجہ سے۔ شاید یہی اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی کہ میں وکالت نہ کروں، استادبنوں۔ ۷۳ء، ۷۴ء، ۷۵ء میں قانون پڑھنے کا موقع ملا۔ انگریزی پڑھنے کا ذوق تو موجود تھا۔ میرے دادا علی گڑھ میں پڑھتے تھے ، میرے والدنے دینی تعلیم بھی حاصل کی تھی اور انگریزی بھی جانتے تھے اور میرے خاندان میں کافی لوگ دینی ودنیوی تعلیم کے حامل موجود تھے۔ بچپن کراچی میں ہی گزارا اور پھر اسلام آباد کا ماحول انگریزی کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے کافی تھا۔ انگریزی پڑھنے کی کوشش کی، میری کوشش تھی کہ ایسی کتابیں پڑھوں جو مغربی تصورات کو سمجھنے میں مدد دیں۔ اس کا احساس علامہ اقبال کی شاعری کے مطالعے سے ہوا۔
علامہ اقبال کے کلام کے مطالعہ کا ذوق کب پیدا ہوا؟ یہ کہنا مشکل ہے لیکن ۱۹۶۵، ۶۶ء کے لگ بھگ ہوا۔ اس سے پہلے اقبال کی کوئی خاص چیز نہیں پڑھی تھی اور پھر اتنا ہوا کہ دو تین سال ایسے گزرے کہ میں نے علامہ اقبال کے علاوہ کچھ پڑھا ہی نہیں اور اس زمانے میں مجھے کلام اقبال تقریباً سارا یاد تھا اور اب چالیس بیالیس سال ہو گئے ہیں، اب بھی آپ کوئی شعر مجھ سے پوچھ لیں تو تقریباً ۹۰ فیصد شعر کے بارے میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ یہ فلاں غزل میں فلاں کتاب کا حصہ ہے۔ ۹۰ فیصد شعر تو اب بھی مجھے یاد ہیں۔ مجھے کلام اقبال کو بیان کرنے میں کبھی دقت نہیں ہوئی۔ اسی عرصے میں شیخ شعلان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ تو کلامِ اقبال کے مطالعے سے یہ ذوق پیدا ہوا کہ مغرب کا تنقیدی مطالعہ ضروری ہے اور مغربی افکار سے واقفیت کے بغیر اور اس کے بارے میں ایک موقف اختیار کیے بغیر دور جدید میں مسلمانوں کا احیاناممکن ہے۔ اس کا جب احساس ہوا تو میں نے مغربی افکار کا مطالعہ شروع کیا۔ میری دلچسپی کے جو میدان تھے، وہ قانون، دستور اور کسی حد تک معیشت تھے، اگرچہ یہ میرا اتنا پسندیدہ موضوع نہیں رہا، لیکن سیاست کو سمجھنے کے لیے معیشت کو پڑھنا بھی ضروری ہے اور تھوڑا سا مغربی افکار کی تاریخ اور مغربی تہذیب کا پس منظر، مذہب اور ریاستی کشمکش، یہ چیزیں میری دلچسپی کا موضوع رہی ہیں۔ اس پر میں نے کچھ کتابیں پڑھیں، لیکن جس کتاب سے میں بہت زیادہ متاثر ہوا، وہ ول ڈیورنٹ کی کتاب The Story of Civilization ہے جو آٹھ جلدوں میں ہے۔ یہ کتاب میں نے کئی مرتبہ پڑھی ہے اورنہایت باریک بینی اورگہرائی سے پڑھی ہے۔ ایک تو اس سے انگریزی بہتر ہو جاتی ہے اور ویسے بھی ان چیزوں کے متعلق جن کے بارے میں ذہن میں سوالات پیدا ہوتے تھے، ان کا جواب اس کتاب میں تھا۔ Will Durant کی اس کتاب کے علاوہ مغربی افکار اور مغربی تہذیب کو جاننے کے لیے میں نے جو کتابیں دیکھیں، ان میں ٹرینڈ رسل کی کتابیں بہت اہم ہیں جو کہ میں نے پڑھی ہیں۔ اس کی کتابوں میں History of Western Philosophy جیسی کتاب کو میں نے تین چار مرتبہ پڑھا ہے۔ اس سے مغربی افکار کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کس دور میں کیا تھا اور مغرب میں کس دور میں کیا خیالات پیدا ہوئے، اس کا پس منظر کیا تھا۔ ان کتابوں کو پڑھنے سے مغربی افکار اور تہذیب کو سمجھنے میں مدد ملی۔ مغرب کو جاننے میں ایک اور کتاب جس سے بڑی مدد ملی ہے، میں نے اسے پاکستان کونسل کی لائبریری سے لے کر پڑھا۔ گبن کی کتاب The Fall of Roman Empire اگرچہ پرانی ہے، Outdated ہے، لیکن کتاب بہت اچھی ہے۔ اس سے مغربی رومن امپائر اورر ومن چرچ اور ان چیزوں کو سمجھنے میں بڑی مدد ملی۔ یہ چیزیں جب تھوڑی سی پڑھ لیں تو اقبال کی شاعری میں مجھے بہت گہرائی ملی۔ علامہ اقبال کا کہنا یہ ہے کہ جتنا آدمی گہرائی سے مطالعہ کرتا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابھی سطح پر ہے۔
اسلامی قانون پر تو بہت سی کتابیں ہیں جن میں سے چند کا ذکر کروں گا۔ مغربی قانون کے بارے میں دو کتابیں مجھے بڑی پسندآئیں جنھیں میں کثرت سے پڑھتا ہوں۔ اے کے بروہی صاحب کی کتاب ہے The Fundamental Law of Paksitan۔ اصل میں تو یہ ۱۹۵۶ء کے Constitution کی شرح ہے، لیکن انھوں نے مغربی قوانین کے تصورات، شہری اور تمام وہ بنیادی عقائد جس پر مغربی قوانین کی اساس ہے، ان پر بحث کی ہے۔ اتنی عالمانہ بحث بہت کم لوگ کر پاتے ہیں۔ یہ کتاب مجھے بہت پسندآئی اور اسے میں نے کئی مرتبہ پڑھا اور اب بھی ہمیشہ اسے وقتاً فوقتاًدیکھتا رہتا ہوں اور میرے خیال میں کسی اور مسلمان کی اس موضوع پراتنی جامع کتاب نہیں ہے۔ اس کے علاوہ Jurisdiction پر ایک اور کتاب پڑھی جو نئے انداز سے لکھی گئی ہے۔ اس کے مصنف نے ایسا التزام کیا ہے کہ اس میں تمام بنیادی تصورات دینے والے ماہرین قانون ہیں۔ مغربی دنیا کے اہل علم کے تصورات کے اقتباسات پیش کر کے اور بنیادی قانونی تصورات پر بحث کی ہے۔ یہ بھی مجھے بڑی پسندآئی۔ سترہویں اٹھارویں صدی میں جب سے اس پر غور شروع ہوا ہے کہ کس نے کیا لکھا ہے، Monters نے کیا لکھا تھا اور Kalsen نے کیا لکھا تھا، Rousseau نے کیا لکھا تھا تو گویا قانون تصورات کی تاریخ بھی آگئی۔ Rousseau کی اپنی زبان میں اس کا بیان بھی آگیا کہ انہوں نے Social Contract کے بارے میں کیا لکھا تھا، اس میں قانون دانوں کے اپنے دلچسپی کے موضوعات بھی ہیں۔
مجموعی طور پراسلامیات سے متعلق چیزیں ہی میری دلچسپی سے متعلق ہیں۔ اسلامی تاریخ و تمدن، تصوف اور اس طرح کی ہر چیز جیسے سید علی ہجویریؒ ]کی تحریریں[، مجدد الف ثانی کے مکتوبات۔ مجدد الف ثانی کے جو مکتوبات ہیں، وہ تصوف کی بنیاد ہیں اور تصوف میں اس سے زیادہ ٹھوس اور جامع تحریر کسی کی بھی نہیں ہے۔ پورے ۱۴۰۰ برس میں کسی بھی مسلمان صوفی کی اتنی جامع اور ٹھوس تحریریں نہیں ہیں جتنی کہ مجدد الف ثانی کی تحریریں ہیں۔ علامہ اقبال نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ Greatest Muslim Genius of India، یہ میں نے سارے پڑھے ہیں۔ اس میں سے ۱۱۰۰ کے قریب منتخب مکتوبات کا عربی ترجمہ بھی کیا ۔شاہ ولی اللہ کی کتب پڑھیں۔ امام غزالیؒ کی’’ احیاء العلوم‘‘ تو ہمیشہ میرے سرہانے رہتی ہے جس کو وقتاً فوقتاً پڑھتا رہتا ہوں۔ مولانا تھانوی کی کتب بچپن میں ہی پڑھ لی تھیں۔ بنیادی چیزیں پڑھیں۔ عصر جدید کے تمام لوگوں کو پڑھا، لیکن بنیادی جو کتابیں ہیں، وہ قوت القلوب ہے ابوطالب مکی کی، کتاب اللمعہ، رسالہ قشیر یہ ہے۔ یہ سب الحمدللہ میرے پاس ہیں۔ دورِحاضر کے مصنفین میں تصوف پرٹھوس اصل کام کسی نے بھی نہیں کیا ہے، یعنی ایسا تو ہے کہ کچھ لوگوں نے تصوف کو نئے انداز میں سمجھانے کی کوشش کی۔ ان میں دو تین کتابیں بہت اچھی ہیں۔ ایک تو مولانا زوارحسین صاحب جو کہ کراچی کے ایک بزرگ ہیں، ان کی کتاب ہے ’’عمدۃ السلوک‘‘۔ ایک مولانا اللہ یار خان تھے یہاں چکوال کے قریب، ان کی کتاب ہے ’’دلائل السلوک‘‘۔ یہ دونوں اچھی کتابیں ہیں، لیکن میرے ذہن میں اس سے مختلف نقشہ ہے۔ ایک بزرگ میرے دوست ہیں، صاحبزادہ محمد حسن الٰہی، یہاں قریب ایک جگہ ہے، وہاں کے رہنے والے ہیں۔ وہ بڑے صوفی بزرگ ہیں۔ عالم فاضل ہیں، استاد بھی ہیں، ان کی تحریریں بھی تصوف پر اچھی تحریریں ہیں۔ میں نے کئی مرتبہ ان سے گزارش کی ہے کہ ان سب کو مرتب کر کے تصوف پر ایک جامع کتاب تیار کریں جس میں ان اعتراضات کا جواب بھی موجود ہو جو کہ عموماً تصوف پر کیے جاتے ہیں۔ بڑے وزنی اعتراضات ہیں، ہلکے اعتراضات نہیں ہیں اور جو تصوف کے علم برداران کہتے رہے ہیں، وہ بھی بڑا وزنی ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ کے اہم اور عظیم ترین لوگ تصوف کے ساتھ وابستہ رہے ہیں، اس لیے آپ اسے آسانی سے نظرانداز نہیں کر سکتے کہ بیک جنبش قلم کہہ دیں کہ تصوف فضول ہے۔ یہ کہنے سے کام نہیں چلے گا، اس کے لیے ٹھوس مطالعہ کی ضرورت ہے۔
اسی طرح عصر حاضر میں مولانا مودودیؒ کی اکثر معروف کتب پڑھی ہیں۔ میں مولانا کی دو کتابوں سے بہت متاثر ہوا تھا۔ اب بھی دوبارہ پڑھتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ پہلا تاثر بالکل صحیح تھا۔ جو کتابیں مولانا کی بہت مقبول ہیں اور جس سے لوگ بہت متاثر ہوتے ہیں، میں ان سے متاثر نہیں ہوا۔یہ دو کتابیں ’’تنقیحات‘‘ اور ’’اسلام اور جدید معاشی نظریات‘‘ ہیں۔ یہ کتابیں مجھے بہت غیر معمولی فاضلانہ اور Creative محسوس ہوئیں۔ مولانا کی جن کتابوں سے لوگ بہت متاثر ہوتے ہیں، ’’خلافت وملوکیت‘‘ اور ’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘، ’’تجدید واحیائے دین‘‘ ہیں۔ ان کتابوں نے مجھے بہت کم متاثر کیا۔ مولانا کا احترام مانع ہے، ورنہ اس بات کو اور پھیلا سکتا ہوں۔ یہ مجھے مولانا کے معیار کی کتابیں معلوم نہیں ہوئیں، جو مولانا کا علمی معیار ہے۔ ’’خلافت و ملوکیت‘‘ کے بارے میں ایک اچھی کتاب حافظ صلاح الدین یوسف کی ہے جوبڑی معتدل اور اچھی کتاب ہے۔
اصل میں، میں مولانا پر وہ اعتراضات نہیں کرتا جس طرح کے اعتراضات یہ لوگ کرتے ہیں اور میں اُس طرح کے خیالات کے اظہار میں مولانا کو معذور اور کسی حد تک حق بجانب سمجھتا ہوں۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ ہر بڑا فاضل مفکر اپنے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ ظاہر ہے کہ اگرماحول کا نوٹس (Notice) نہ لے تو وہ بڑا مفکر نہیں بن سکتا۔ وہ کیا مفکر ہے کہ جو ماحول کا جواب نہ دے اور نہ ہی بالکل ماحول کا اسیر ہو جائے۔ تو ہر مفکر کے لیے یہ بڑا چیلنج ہوتا ہے کہ اُس میں اتنی عالمگیریت ہو کہ ماحول سے بہت آگے جا کر بات کرے، لیکن اُس کے ساتھ ماحول کا نوٹس لے کر اُس کا جواب بھی دے۔ تو مولانا جس ماحول میں لکھ رہے تھے، وہ مسلمانوں کی انتہائی پستی کا دور تھا۔ کوئی ایسی قابل ذکر قوت نہ تھی جو مسلمانوں کے مقاصد کو لے کر چل سکے، جو مسلمانوں کی مصلحت اور Cause کا تحفظ کر سکے۔ اُس کے مقابلے میں Communism کی ایک بڑی قوت قائم ہو گئی تھی جو Communism کو ایک پوری دنیا میں فروغ دے رہی تھی، وسائل استعمال کر رہی تھی۔ برطانیہ کی بڑی قوت تھی جو پوری دنیا میں اپنے وسائل سے انگریزی زبان، انگریزی کلچر اور انگریزی اقدار کو فروغ دے رہی تھی۔ بڑے بڑے تعلیمی ادارے انگریزی اقدار کو فروغ دینے کے لیے قائم کیے جا رہے تھے۔ تو اگر مولانا مودودی کے ذہن میں یہ آیا کہ مسلمانوں کی بھی ایک ریاست اُسی طرح کی ہونی چاہیے تویہ ان کی ذات میں موجود اخلاص کی بات ہے۔ اِس درد مندی اور اخلاص سے انہوں نے مسلمانوں کی زندگی کا جائزہ لیا ہو گا تو اُن کو لگا ہو گا کہ بڑی بڑی حکومتیں اپنے تصورات کو پھیلا رہی ہیں جو اسلام کے نقطہ نظر سے غلط ہے تو اگر اسلام کی بھی اس طرح کی ایک سلطنت ہو جو اُس Cause کو لے کر چلے تو اسلام کے حق میں بہتر ہوگا۔ تو اِس لیے مولانا نے اُس کے لیے قوم کو آمادہ کرنا شروع کیا۔ اِس کا نتیجہ لازمی طور پر یہ نکل سکتا تھا کہ مولانا کے اندازِ تخاطب اور طرزِ تحریرمیں سیاسیات کا پہلو بہت نمایاں ہو گیا۔ سیاسیات کے پہلو کا نمایاں ہونا اس لیے نہیں کہ مولانا اسلام میں بھی سیاست کو وہ مقام دیتے ہیں جو اُن کی تحریروں سے نظر آتا ہے۔ اُن کی تحریروں میں سیاسیات کی نمایاں حیثیت اِس لیے نظر آئی کہ مولانا جس دور میں لکھ رہے تھے یا جس طبقے سے مخاطب تھے، اُس طبقے کا بڑا مسئلہ یہ تھا۔ اب یہ سمجھنا کہ مولانا اسلام کے عمومی نظام میں سیاست کو بھی وہ درجہ دیتے ہیں تو یہ مناسب نہیں ہے۔ یہ مولانا کے ساتھ انصاف نہیں ہے، لیکن اُن کی تحریروں سے یہ رنگ پیدا ہوتا ہے۔ خواہی نخواہی، دانستہ یا نا دانستہ اُس سے قارئین کا ذہن یہ بنا تو پھر اس پر مولانا ابو الحسن علی ندوی کو قلم اٹھانا پڑا۔
مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کی کتاب ’’پرانے چراغ‘‘ بہت معیاری کتاب ہے۔ میری شخصیت پر اس کے بہت اثرات مرتب ہوئے ہیں، البتہ ان کی شہرت کی وجہ جو کتاب ہے، وہ مجھے پسند نہیں آئی۔ ’’انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر‘‘ میں نے پہلے عربی میں پڑھی تھی۔ اس کی زبان بہت اچھی ہے، عربی میں وہ کتاب میں نے Enjoy کی، لیکن اس کے مند رجات نے مجھے متاثر نہیں کیا۔ مولانا کی جس کتاب سے بہت متاثر ہوا اور بار بار پڑھی ہیں، وہ ’’پرانے چراغ‘‘ اور ’’سیرت سید احمد شہیدؒ ‘‘ ہیں۔
میں ایک زمانے میں کمیونزم سے بڑا متاثر ہوا۔ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں پاکستان کی چین نے بڑی مدد کی تھی اور بڑا چرچا تھا اس کا۔ اس زمانے میں چینی سفارت خانہ کمیونزم پر بڑی کثرت سے لٹریچر تقسیم کیاکرتا تھا۔ تو وہ لٹریچر دیکھ کر مجھے لگتا تھا کہ واقعی اگر دنیا میں کوئی مظلوموں کا ساتھی ہے تو وہ کمیونسٹ ہیں۔ انگریزی میری اتنی رواں نہیں تھی کہ میں انگریزی کی کتابیں پڑھ سکوں۔ عربی میں بھی کوئی چیزیں نہیں ملتی تھیں، لیکن جو کچھ ملتا تھا، میں نے پڑھنے کی کوشش کی اور کوئی سال سوا سال ایسا گزرا کہ کمیونزم کے بارے میں میری بڑی اچھی رائے رہی اور جو چیزیں اس بارے میں ملیں، میں نے پڑھیں۔ پھر ۱۹۶۶ء کی بات ہے جب انڈونیشیا میں انقلاب آیا۔ وہاں کمیونسٹوں کا قتل عام شروع ہوا تو مجھے بڑا دکھ ہوا کہ یہ تو بے گناہ لوگوں میں عدل وانصاف کی بات کرتے ہیں، انسان کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ اس کے بعد جب باقی چیزیں پڑھیں اور کچھ سنجیدہ مطالعہ ہوا تو پھرکمیونزم کے بارے میں یہ تاثر ختم ہو گیا اور بعد میں تو بالکل مختلف تاثر بن گیا۔ Communism بالکل فضول ہے اور مذہب بیزار زندگی، غیراخلاقی زندگی۔ ان کے سارے دعوے باطل اور غلط ہیں۔ نہ اس میں مزدور کی فلاح وبہبود ہوتی ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ اس نظام نے مزدروں کو مزید غلام بنایا۔ کمیونسٹ حکومتوں نے ان پر مزید مظالم کیے۔ اس بارے میں ایک کتاب جس سے میں بہت زیادہ متاثر ہوا، وہ پروفیسر مظہر الدین صدیقی کی کتاب تھی۔ ’’اشتراکیت اور نظام اسلام‘‘ اس زمانے میں لکھی گئی تھی جب کمیونزم پر زیادہ لٹریچر اسلامی نقطہ نظر کے حوالے سے نہیں ملتا تھا۔ غالباً ۱۹۴۰ء کے زمانے کی بات ہے، بلکہ اس سے بھی پہلے ایک اور کتاب تھی’’ اسلام اور مارکسزم‘‘۔
کتابیں لینے اور دینے کے بارے میں تھوڑی سخاوت بڑا نقصان پہنچاتی ہے۔ میری بہت سی کتابیں واپس نہیں آئیں۔ سینکڑوں جو بہت سے احباب لے گئے پڑھنے کے لیے۔ میرے پاس کوئی ریکارڈ نہیں تھا اور نہ ہی رجسٹر تھا کہ میں درج کرتا جاتا کہ اس کا اندراج ہو۔ پاکستان کی ایک بڑی نامور شخصیت نے مجھ سے کتاب لی اور پھر صاف مکر گئے اور میں بھی احتراماً خاموش رہا۔
میں دورانِ سفر بھی مطالعہ کرتا ہوں۔ کتابیں سفر میں ساتھ رکھتا ہوں، خاص طور پر ادب کی اور شاعری کی۔ شاعری میں زیادہ فارسی اور عربی شاعری پڑھتا ہوں۔ انگریزی شاعری پڑھنے کی کوشش کی، لیکن مجھے پسند نہیںآئی۔ میں نے بہت چاہا کہ انگریزی شاعری بھی پڑھوں۔ فارسی شاعری میں قدیم شاعری سے متاثر ہوا ہوں، جبکہ جدید شاعری نے کبھی متاثر نہیں کیا۔ قدیم شاعری میں حافظ، غالب، سعدی اور سنائی۔
اخبار صبح پڑھتا ہوں صرف ناشتے کے دوران۔ جنگ، ڈان اور Pakistan Observer پڑھتا ہوں۔ زاہد ملک صاحب مفت صبح صبح اخبار دیتے ہیں۔ باقی رسائل میں ریگولر نہیں پڑھتا۔ بہت سے حضرات بھیجتے ہیں۔ بس ایک نظر میں دیکھ لیتا ہوں۔ باقاعدہ ضرور نوائے وقت اور جنگ کے کالم پڑھتا ہوں، کیوں کہ بھائی کے گھر میں نوائے وقت آتا ہے۔
عموماً رات کو سونے سے پہلے پڑھتا ہوں۔ کرتا یہ ہوں کہ سال کا ایک پلان کرتا ہوں کہ سال میں یہ پڑھنا ہے تو کتاب پہلے ہی طے کر تا ہوں۔ کتابیں تو دنیا میں لاکھوں ہیں۔ زیادہ سے زیادہ آپ بیس یا پچیس ہزار کتابیں پڑھ سکتے ہیں زندگی میں یا دس بارہ ہزار پڑھ سکتے ہیں۔ اِن لاکھوں کتابوں میں آپ دس ہزار کتابیں منتخب کرتے ہیں تو میں ایسا کرتا ہوں۔
کچھ ایسی کتابیں ہوتی ہیں جن پر ایک نظر ڈال لینا کافی ہوتا ہے۔ آپ دس، پندرہ منٹ کے لیے نظر ڈال لیں، اندازہ ہو جاتا ہے کہ کیسی کتاب ہے، اِن میں کوئی نئی بات نہیں ہوتی۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بک سیلرکے پاس ہی جا کر دیکھتا ہوں۔ اسلام آباد کے کئی بک سیلر مجھے جانتے ہیں اور دوست ہیں۔ میں شیلف پر کھڑا ہو کر پندرہ منٹ نظر ڈال کرکتاب کا ]حاصل[ اخذ کر کے کتاب فارغ کر دیتا ہوں۔ اُس کے بعدان کو دیکھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ اُن کو مجھے دو گھنٹے دیکھنا پڑتا ہے۔ وہ اُسی کی مستحق ہوتی ہیں کہ آپ دو تین گھنٹے اُس پر لگائیں۔ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو ایک بار پڑھنے کی ہوتی ہیں، کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو ساری زندگی ساتھ رہتی ہیں۔ تو جو ایسی کتابیں ہوتی ہیں، وہ میں خریدلیتا ہوں۔ جو ایسی نہیں جن کو وقتاً فوقتاً دیکھنا ہوتا ہے، اُن کو بھی خریدنا پڑتا ہے۔ جو کتابیں گھنٹے اور دو گھنٹے میں فارغ ہوتی ہیں، وہ میں نہیں خریدتا۔ میری ذاتی لائبریری میں کتابیں میں نے کبھی گنی نہیں، مگر میرا اندازہ ہے کہ بیس بائیس ہزار کتابیں ضرورہوں گی۔
بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جن کو پڑھنے کے بعد ملنے کا اشتیاق ہوا۔ ایسا تو نہیں ہوا کہ کسی سے ملنے کی خواہش کی ہو اور ملنے کے بعد مایوسی ہوئی ہو۔ یاد نہیں کہ کبھی ایسا ہوا ہو، لیکن کچھ مصنفین جن سے ملنے کی خواہش پیدا ہوتی رہی لیکن مل نہ سکا، اِن میں سے ایک تھے پروفیسر یوسف سلیم چشتی۔ جب کلام اقبال اوڑھنا بچھونا تھا تو اُن کی شرحیں میں نے ساری پڑھی ہیں۔ نثر میں لکھیں۔ سب پڑھیں تو اُن سے ملنے کا بڑا اِشتیاق رہا۔ تین چار بار لاہور اُن سے ملنے گیا، لیکن اتفاق سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ بس ایک مرتبہ اُن کو زندگی میں دیکھا۔ لاہور میں ایک جلسہ تھا۔ یہ غالباً ۱۹۷۶ء کی بات ہے۔ اُس میں ایک میری تقریر تھی۔ اسٹیج پر چار، پانچ آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب صدارت کر رہے تھے۔ مولانا کے ایک طرف میں بیٹھا ہوا تھا، مولانا کے دائیں جانب ایک بوڑھے سے بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ کون ہیں۔ جب اعلان ہوا کہ پروفیسر یوسف سلیم چشتی تقریر کریں گے تو میں ایک دم چونکا۔ اُن بزرگ نے اٹھ کر تقریر کی۔ میں نے کہا کہ آج میں مل کر ہی جاؤں گا۔ میری بدنصیبی کہ وہ تقریر کر کے کہنے لگے کہ مجھے کام ہے اور وہ چلے گئے۔ اِس کے علاوہ نہ کبھی اُن کو دیکھا نہ اُن سے ملاقات ہوئی۔
باقی جن حضرات سے ملنے کا اشتیاق ہوا اور اُن سے ملاقات ہوئی تو بعض سے بہت استفادہ بھی کیا۔ دو بزرگوں سے تو میں کوشش اور اہتمام سے ملا جن کی کتابیں میں نے پڑھی تھیں اور بعد میں اُن سے بہت نیاز مندی رہی۔ ایک تو کراچی میں رہتے تھے اور جب بھی میں کراچی جایا کرتا تھا، اُن کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، اُن کی تمام کتابیں پڑھی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں تاریخ نویسی کے فن کی وہ معراج ہیں۔ اُن سے بڑا مورخ برصغیر میں شاید بیسویں صدی میں پیدا ہی نہیں ہوا۔ اگر مجھ سے کہا جائے کہ برصغیر میں بیسویں صدی میں تاریخ نویسی کا سب سے بڑا نام کون ہے تو میں کہوں گا کہ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی۔ میں اُن سے ملنے کے لیے گیا۔ میرا خیال تھا کہ اتنے بڑے آدمی ہیں، وزیر ہیں، اُن سے ملنا مشکل ہو گا۔ اُ ن کے ایک شاگردکی معرفت میں اُن سے ملنے گیا تو وہ ایسے ملے جیسے کوئی باپ یا استاد ملتا ہے تو بڑی حیرت ہوئی۔ اس طرح ملنے کے بعدپہلے جو احترام اور رعب تھا، اب اُس میں محبت بھی شامل ہو گئی تومیں جب بھی جایا کرتا تھا تو ملتا تھا، بہت ہی شفقت سے ملتے، ایسے جیسے ساری عمر سے جانتے ہیں۔
مجھے اشتیاق تھا مصطفی الزرقا سے ملنے کا۔ استاد مصطفی الزرقا شام کے تھے اور جو بات میں نے اشتیاق حسین قریشی کے بارے میں کہی ہے، مصطفی الزرقا کے بارے میں بھی کہتا ہوں کہ بیسویں صدی میں اُن سے بڑا فقیہ کوئی نہیں تھا۔ فقہ اسلامی میں گرفت اور گہرائی کے ساتھ کسی کی نظر نہیں تھی جتنی پوری دین اسلام کے بارے میں استاد الزرقاکی تھی، بلکہ مجھے اجازت دی جائے تو میں یہ بھی کہوں گا کہ علامہ اقبال نے ۱۹۲۵ء میں لکھا تھا کہ جو شخص زمانہ حال کے تمام احکام قرآنیہ کی ابدیت ثابت کرے گا، وہ اسلام کا سب سے بڑا مفسر ہو گا۔ یہ کام جن لوگوں نے کیا ہے بیسویں صدی میں، اُن میں مصطفی الزرقا کا نام سب سے پہلے آتا ہے۔ اُنہوں نے بہت غیر معمولی انداز میں کام کیا ۔وہ شام میں رہے اور کچھ عرصہ سعودی عرب میں رہے۔ میری اِن سے پہلی ملاقات ۱۹۷۹ء میں ہوئی۔ اکتوبر ۷۹ء میں اسلام آباد میں ایک سیمینار ہوا نفاذ اسلام کے بارے میں تو اُس میں وہ بھی آئے ہوئے تھے۔ اخبار میں آرہا تھا کہ مصطفی الزرقا بھی آئے ہوئے ہیں تو مجھے بڑا اشتیاق تھا۔ اس کی افتتاحی تقریب تھی تو میں اُس میں شرکت کے لیے گیا تو میں ہر ایک کو دیکھتا رہا کہ یہ مصطفی الزرقا ہوں گے، یہ ہوں گے۔ تو ایک صاحب پر نظر پڑی جن کا چہرہ مجھے معصوم سا لگا تو مجھے لگا کہ یہی ہیں مصطفی الزرقا تو میں نے پوچھا کہ آپ مصطفی الزرقا ہیں؟ تو کہنے لگے، ہاں تو اُن سے مل کر طبیعت بڑی خوش ہوئی۔ وہ مجھ پربڑے مہربان ہوئے۔ اتنے مہربان ہو گئے کہ میری حیثیت سے بڑھ کر میرے بارے میں رائے قائم کرنے لگے۔ خط وکتابت اِن سے ہوتی تھی۔ کئی بار ایسا ہوا کہ اُن کا خط میرے نام آیا تو میں نے شرم سے چھپا لیا کہ کوئی اور نہ دیکھ لے اور دیکھے گا کہ تو کیا کہے گا یعنی لوگ سمجھیں گے کہ میں نے کوئی جعلی عکس ڈال رکھا ہے، اُن پر غلط بیانی کر رکھی ہے اپنے بارے میں، اس لیے وہ ایسی بات لکھتے ہیں۔
ایک اور بزرگ جن سے بڑا ملنے کا اشتیاق رہا، اُن سے ملاقات بھی رہی اور بہت مہربان بھی رہے، وہ تھے مولانا صباح الدین عبد الرحمن۔ یہ ہندوستان کے رہنے والے تھے۔ اِن کی برصغیر کی تاریخ پر کئی زبردست کتابیں ہیں اور اردو زبان بڑی ہی نفیس لکھتے اور بولتے تھے۔ بہت ہی سادہ اور نفیس انسان تھے۔ اگر کسی نفیس انسان کی نفسیات کے ۱۰۰ نمبر ہوں تو ۹۹ نمبر اُن کو دوں گا۔ یہ دارالمصنفین کے ناظم تھے۔ کتابیں میں نے اُن کی پڑھی ہوئی تھیں۔ تو ایک دفعہ انسٹی ٹیوٹ میں، میں صبح صبح پہنچا تو گرمی کا زمانہ تھا۔ یہ ۱۹۷۵ کی بات ہے۔ میں دفتر میں پہنچا تو ایک صاحب نے کہا کہ آئیے، آپ کو ایک بزرگ سے ملاتے ہیں۔ تو انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور ڈائریکٹر کے کمرے میں لے گئے۔ وہاں ایک صاحب شیروانی اورپاجامہ پہنے ہوئے، جیسے ہندوستان کے لوگ پہنتے ہیں، بیٹھے ہوئے تھے۔ اُن سے تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ صباح الدین عبد الرحمن ہیں۔ میرے ذہن میں اُن کا جو نقشہ تھا، وہ بالکل اُس سے مختلف نکلے۔ اُس کے بعد مجھ پر اتنے مہربان ہوئے کہ پھر اُن کی زندگی کے آخری ایام تک اُن سے بڑا تعلق رہا۔ میں اُن سے ملنے کے لیے ہندوستان بھی گیا۔ وہ جب بھی آتے تو میرے پاس تشریف لاتے تھے۔ ان کی کتابوں میں بزم صوفیہ، بزم تیموریہ اور’’ ہندوستان میں مسلمانوں کے جلوے‘‘ اور ہندوستان میں مسلمانوں کا عسکری نظام، تمدنی نظام،’’ ]شامل ہیں[۔ ’’بزم صوفیہ‘‘ میں ہندوستان کے بڑے صوفیہ کا تذکرہ ہے، داتا گنج بخش سے لے کر خواجہ بہاء الدین نقشبند وغیرہ تک بلکہ خواجہ نظام الدین اولیا تک۔ ’’بزم تیمور یہ‘‘ مغل سلطنت کے زمانے کے تمدنی اور تہذیبی اور ثقافتی معاملات پر ہے۔ ’’بزم مملوکیہ‘‘ مغل دور سے پہلے کے تمدنی دور پر ہے۔
بھائی جان
ڈاکٹر محمد الغزالی
(۱۹ دسمبر ۲۰۱۱ء کو رابطۃ الادب الاسلامی پاکستان کے زیر اہتمام جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد میں ڈاکٹر محمود احمد غازی کی یاد میں منعقدہ سیمینار میں خطاب۔)
الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔
واقعہ یہ ہے کہ آپ سب حضرات بھائی جان کو مجھ سے شاید زیادہ ہی جانتے ہوں گے۔ میں بطور بھائی کے یقیناًنسبی رشتہ رکھتا ہوں، لیکن مجھے آپ حضرات کی گفتگو سن کر بہت رشک آیا۔ اس سے اندازہ ہوا کہ بھائی صاحب کی کوششیں جو وہ بہت خاموشی سے کرتے رہتے تھے اور پتہ بھی نہیں چلتا تھا، الحمد للہ اس قدر اس کی بازگشت ہے، اہل علم کے ہاں اعتراف ہے اور طلبہ اور تشنگان علم کے ہاں اس کی پوری قدر ہے۔ ابھی میرے چچا مولانا اسعد تھانوی صاحب نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ والد مرحوم نے بہت عزیمت کے ساتھ فیصلہ کیا تھا کہ اپنے بچوں کو قرآن حفظ کرائیں گے اور دینی تعلیم سے ان کوبہرہ مند کریں گے۔ اس پر ایک واقعہ یاد آتا ہے جس سے اس بات کی مزید توضیح اور تاکید ہوتی ہے جو میرے چچا صاحب نے بیان فرمائی۔
بچپن کا واقعہ ہے ۔ بھائی صاحب کو بہت ابتدائی عمر میں کوئی بخار ہوا تھا جس کی کوئی بہت سخت دوا کسی ڈاکٹر نے دی تھی تو ان کی زبان میں لکنت ہو گئی تھی ۔ جب وہ قرآن حفظ کرنے کے لیے بیٹھے تو اس وقت ان کی زبان میں اچھی خاصی لکنت تھی۔ رفتہ رفتہ وہ لکنت کم ہو گئی، شاید بہت سے لوگوں کو علم نہ ہو کہ تھوڑی بہت اخیر تک رہی۔ آخر میں انھوں نے بڑی حد تک اس پر قابو پا لیا تھا۔ آپ کو پتہ ہے کہ مکتبوں میں پڑھانے والے جو ہوتے ہیں، وہ کس قماش کے لوگ ہوتے ہیں۔ کراچی میں جس کے پاس ان کو بٹھایا، اس نے یہ سوچے بغیر کہ ایک بچے پر نفسیاتی طور پر کتنا برا اثر ہوتا ہے، کہہ دیا کہ یہ نہیں پڑھ سکتا، اس کو اٹھا لیجیے۔ والد صاحب گئے، اس سے ملے اور پوچھا کہ کیا بات ہے، یہ کیوں حفظ نہیں کر سکتا؟ انھوں نے کہا کہ یہ اٹکتا ہے، اس کی زبان سے لفظ نکلتا ہی نہیں۔ اس کی زبان میں لکنت ہے، یہ نہیں حفظ کر سکتا۔ والد صاحب مرحوم نے کہا کہ اچھا بیس برس میں تو کر لے گا نا؟ اب وہ کیا کہتا کہ بیس برس میں بھی نہیں کرے گا! خاموش ہوگیا۔ والد صاحب نے کہا کہ مجھے منظور ہے۔ یہ کچھ نہ کرے، قرآن حفظ کر لے، مجھے منظور ہے۔ اتنا یقین تھا ان کا اور یہ یقین ایک ایسے شخص کا تھا جو دن رات ایسے لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا تھا جو نہ صر ف یہ کہ ایک دوسرے رنگ کے تھے بلکہ ہمارے والد اور والدہ کو طعن وتشنیع کرنے والے بھی بہت ملتے تھے۔ ایسے کلمات بھی سننے کو ملتے تھے کہ اگر آپ کے پاس اسکول کی فیس نہیں ہے تو ہم دینے کو تیار ہیں، آپ کیوں ان کی زندگی برباد کرتے ہیں۔ مگر ہمارے والدین نے کبھی کوئی جواب ہی نہیں دیا۔ نہ دفاع کیا، نہ وضاحت کی، نہ کسی سے لڑائی جھگڑا کیا۔
دوسری بات یہ ہے کہ بھائی صاحب کے اندر کچھ خدادا دا ملکہ اور صلاحیت عجیب وغریب تھی اور بہت ذوق وشوق تھا پڑھنے کا۔ مجھے یاد نہیں ہے اور اس میں ذرہ برابر بھی مبالغہ نہیں کہ کبھی بچپن میں بھی انھوں نے کھیل کھلونے میں کوئی دلچسپی لی ہو۔ ہمارے والد کہیں سفر پر جاتے تھے تو وہ ان سے کتاب ہی کی فرمائش کرتے تھے۔ کبھی نہیں ہوا کہ انھوں نے کبھی کوئی کھلونا یا بچپن یا لڑکپن میں جن چیزوں سے دلچسپی ہوتی ہے، اس کا کبھی مطالبہ کیا ہو۔ ویسے وہ مطالبہ ہی بہت کم کرتے تھے۔ یہ بھی ان کی ایک عجیب وغریب بات تھی کہ بہت بے نیاز تھے۔ کبھی کسی سے کچھ نہیں کہتے تھے، حتیٰ کہ والدین سے بھی اپنی کوئی ذاتی خواہش یا فرمائش کرتے میں نے نہیں دیکھا۔ آپ حضرات جو واقف ہیں، وہ بھی اس کی گواہی دیں گے۔ اگر کبھی والد صاحب نے اصرار کیا کہ ہاں بتاؤ، تمھارے لیے کیا لاؤں تو کوئی کتاب بتا دی۔ کتاب سے بہت زیادہ دلچسپی اور علم کا حصول ان کی اولین priority تھی۔ کوئی ambition نہیں تھی، دنیا کی کوئی خواہش نہیں تھی۔
کراچی میں ہم جیکب لائن سے بنوری ٹاؤن پڑھنے جاتے تھے۔ فاصلہ غالباً چار پانچ کلومیٹر ہوگا تو وہ اکثر مجھے ورغلا کر لے جاتے تھے کہ ہم پیدل چلیں گے۔ راستے میں قائد اعظم کا مزار آئے گا اور پھر وہاں سے مدرسے چلیں گے ۔ وہ اس میں کچھ تفریح کا رنگ پیدا کرتے اور میں ان کی باتوں میں آ جاتا تھا۔ پتہ یہ چلا کہ وہ پیسے بچا کر کتابیں خریدتے ہیں۔ اس طرح ’’سازشیں‘‘ کر کے انھوں نے بچپن سے کتابیں جمع کیں اور کیا کسی عورت کو زیور سے دلچسپی ہوگی اور کسی اور شخص کو اپنی پسندیدہ چیز سے جو انھیں کتاب سے تھی۔ اخیر عمر تک کتابیں سنبھال سنبھال کر رکھتے رہے، یہاں تک کہ گھر میں جگہ تنگ پڑ گئی۔ بیڈ روم میں کتابیں، لاؤنج میں کتابیں، ڈرائنگ روم میں کتابیں، ڈائننگ روم میں کتابیں ہی کتابیں۔ تو جب کوئی شخص علم کی طلب ایسی رکھتا ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کے یہاں سے بھی اس پر فضل ہوتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ دعویٰ تو ہم لوگ کرتے ہیں کہ ہم علم دوست ہیں، کتاب دوست ہیں، لیکن حقیقت میں ہماری دل کی خواہش جس کو کہتے ہیں: ہوی الاحبۃ منہ فی سوداءہ، وہ نہیں ہوتی۔ جب وہ ہو جائے تو پھر عطا ہوتی ہے۔ کلا نمد ہولاء وہولاء، اللہ تعالی کا اصول ہے۔ جو چیز جو طلب کرتا ہے، ضرور ملتی ہے۔جتنی طلب کرتا ہے، اتنی ملتی ہے۔
دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر
تو بھائی صاحب میں غیر معمولی صلاحیتیں پیدا ہوئیں، حالانکہ ظاہری اسباب کو دیکھا جائے تو چار سال انھوں نے بنوری ٹاؤن میں پڑھا، اس کے بعد دار الحکومت منتقل ہوا تو ہم لوگ اسلام آباد آ گئے۔ ایک چھوٹا سا مدرسہ تھا قاری محمد امین صاحب کا۔ وہ ہمارے والد صاحب کے دوست تھے او رمسجد فتح پوری دہلی میں جومشہور مدرسہ ہے، وہاں کے پڑھے ہوئے تھے۔ مولانا یوسف بنوری صاحب مرحوم نے ایک ذاتی خط لکھا تھا کہ یہ دو بچے ہیں، ان کا خیال رکھیے گا اور ان کو اپنے مدرسے میں داخل کر لیجیے گا تو وہاں ہم کچھ دن رہے۔ وہاں قاری امین صاحب ہی ایک کام کے آدمی تھے، باقی وہ مدرسہ ایسا ہی تھا۔ پھر ہم مولانا غلام اللہ خان کے مدرسے میں داخل ہوئے۔ ان کے نام مولانا احتشام الحق تھانوی نے خط لکھ دیا تھا کہ ان کا خیال رکھیے گا اور انھوں نے واقعی بہت خیال رکھا۔ان کے ہاں دورۂ حدیث پشتو میں ہوتا تھا۔ اس زمانے میں بہت مشہور حدیث کے عالم تھے، مولانا عبد الرحمن۔ان کے بھائی تھے، مولانا عبد الحنان۔ دونوں سوات کے کسی دیہات کے رہنے والے تھے۔ غیر معروف تھے، لیکن فنا فی الحدیث اور بہت عالم فاضل شخصیت تھے۔ بہت سے لوگ افغانستان میں ان کے معتقد تھے۔ اکثریت چونکہ پشتون لوگوں کی تھی تو دورۂ حدیث پشتو میں ہوتا تھا۔ بھائی صاحب کا جب نمبر آیا تو ان کو ایک اور ملکہ یہ تھا کہ مسئلہ یوں چٹکیوں میں حل کرتے تھے۔ جو مسئلہ بہت مشکل لگتا، اس کو وہ بہت آسانی سے حل کر لیتے تھے۔ استاد نے کہا کہ تمھارا کیا ہوگا، یہاں تو دورہ پشتو میں ہوتا ہے۔ بھائی صاحب نے کہا کہ آپ عربی میں دورہ کرایا کریں۔ اب استاد کے لیے یہ کہنا مشکل ہوا کہ بھئی عربی میں نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ جب آدمی اس درجے کو پہنچ گیا کہ بخاری، مسلم، ترمذی پڑھے تو وہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ میں عربی نہیں سمجھ سکتا۔ چنانچہ اس کے بعد عربی میں دورہ شروع ہو گیا۔ مجھے بھی فائدہ ہو گیا۔ جب میری باری آئی تو دورۂ عربی میں ہی ہوتا تھا۔ کہیں کہیں وہ وضاحت کے لیے کچھ بات پشتو میں بھی بتا دیتے تھے۔ استاد کو عربی میں پڑھانے میں کوئی دقت نہیں تھی، طلبہ کچھ تھوڑے بہت چیں بجبیں ہوئے، لیکن کوئی کچھ کہہ نہیں سکا۔ بہت متبحر، بہت ہی اعلیٰ پایے کے استاذ تھے۔ ان کی اصول حدیث پر عربی میں ایک دو کتابیں بھی ہیں۔
اسی طرح کا ایک واقعہ ہے کہ میرا نام والد نے صرف ’’محمدؒ ؒ ‘‘ رکھا تھا۔ عربوں میں تو اس کا بہت رواج ہے کہ مفرد نام ہوتا ہے، جیسے محمد، علی، احمد۔ ہمارے ہاں اکثر مرکب ناموں کا رواج ہے اور خاص طور پر اگر کسی کا نام اکیلا محمد ہو تو اسے بے ادبی سمجھتے ہیں۔ جب بھائی جان مجھے بنوری ٹاؤن میں داخل کروانے لے گئے تو جو صاحب رجسٹر پر نام لکھ رہے تھے، انھوں نے کہا کہ یہ اکیلا محمد کیا نام ہوا؟ مرکب نام ہونا چاہیے۔ بھائی صاحب نے ایک سیکنڈ کے توقف کے بغیر کہا کہ محمد الغزالی لکھ دیں۔ پہلے یہ مسئلہ زیر غور نہیں آیا، نہ انھوں نے اس پرسوچا۔ بس چھٹتے ہی کہہ دیا۔ تب سے میرا یہ نام پڑ گیا۔ اسی طرح ہمارے والد کے ایک دوست تھے مولانا ابوالخیر مسلم علوی، اسلامی کاموں میں بہت پیش پیش رہتے تھے۔ انھوں نے ایک دفعہ ان سے کہا کہ تمہار انام محمود احمد ہے۔ کوئی لقب بھی ہونا چاہیے ، لقب کے بغیر نام اچھا نہیں لگتا۔ بھائی جان نے اسی وقت کہا کہ: محمود احمد غازی۔
اسی طرح ایک لطیفہ بھی عرض کر دوں۔ مرحوم ضیاء الحق کی شہادت ہوئی تو غلام اسحاق خان مرحوم نے بھائی صاحب کوبلا کر کہا کہ نماز جنازہ آپ پڑھائیے گا۔ انھوں نے پڑھا دی۔ اس کے چند ماہ بعد بے نظیر کی حکومت آگئی اور ایک دوسرارنگ پیدا ہو گیا تو ہمارے بچوں میں سے کسی نے کہا کہ دیکھیے، آپ کی بڑی شہرت ہوئی ہے کہ آپ نے ضیاء الحق کی نماز جنازہ پڑھائی ہے۔ بے نظیر اس کی بہت مخالف ہے۔ اگراس نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے کیوں نماز جنازہ پڑھائی ہے تو آپ کیا جواب دیں گے؟ کہنے لگے کہ میں کہوں گا کہ میں تمھاری بھی پڑھانے کو تیار ہوں۔ تو کتنا ہی گمبھیر مسئلہ ہو، الحمد للہ ان میں اس کو فوراً حل کر دینے کی خاص صلاحیت تھی۔
آپ حضرات نے علم میں ان کے توسع کا ذکر کیا۔ خالص درسی جو دائرہ ہے، اس سے باہر دینی علوم اور عصری علوم پر جو کچھ اس زمانے میں عربی اور اردو میں لکھا گیا، اس سے بہت پہلے سے انھوں نے ابتدائی زندگی سے ہی بہت استفادہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ ایک دو اساتذہ انھیں بہت اچھے ملے۔ ان میں ایک تھے استاد محمد یوسف عطیہ۔ وہ ان چند اولین لوگوں میں سے تھے جو مصر سے تشریف لائے تھے۔ مولانا بنوری مرحوم کے مدرسے میں انھوں نے عربی زبان پڑھائی تو بھائی صاحب نے بہت استفادہ کیا۔ ان کے گھر بھی جاتے تھے۔ جب وہ یہاں سے چلے گئے تو خط وکتابت بھی کرتے تھے۔ پھرایک بڑی عظیم شخصیت ہمارے ملک میں ہوئے ہیں مولانا عبد القدوس ہاشمی مرحوم۔ غالباً مولانا مجاہد الحسینی صاحب کو بھی ان سے تعارف حاصل ہوگا۔ ان سے بہت کسب فیض کیا۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ صرف کتاب سے ہی علم حاصل نہیں ہوتا۔ اس سے بہت زیادہ علم حاصل ہو جاتا ہے اگر کسی چلتی پھرتی کتاب سے آپ صحبت کریں اور اکتساب فیض کریں۔ اس کی ان کوبڑی لگن تھی۔ جہاں کسی صاحب علم کو دیکھا، وہ بس اس کے ہو کر رہ جاتے تھے۔ آپ نے سنا کہ صاوی شعلان صاحب آئے ہوئے تھے۔ ایوب خان مرحوم نے ان کو بلایا تھا اور ان کے ذمے اقبال کے کلام کا ترجمہ تھا۔ وہ ہمارے ادارۂ تحقیقات اسلامی کی لائبریری میں بیٹھے تھے۔ ان سے تعارف ہوا او ر ان کے پاس گھنٹوں بیٹھے رہے۔ انھوں نے سوچا کہ یہی میرے کام کا آدمی نکلے گا۔ اس وقت بھائی جان اتنے کم عمر تھے کہ ڈاڑھی بھی پوری طرح نہیں نکلی تھی۔ انھوں نے ایک سال صاوی شعلان کے پایے کے ادیب اور شاعر کے ساتھ کام کیا جو بہت ہی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل آدمی تھے اور جناب ڈاکٹر ابراہیم صاحب نے بجا کہا کہ کلام اقبال کے عربی ترجمے درجنوں ہیں، لیکن جو درجہ صاوی صاحب کے منظوم ترجمے کوحاصل ہوا ہے، کسی کو نہیں ملا۔ کہیں کہیں تو لگتا ہے کہ ترجمہ اصل سے بھی آگے بڑھ گیا ہے۔
ختم نبوت کے مسئلے سے انھیں کوئی خاص اعتنا نہیں تھا۔ جیسے ہر مسلمان اس سے واقف ہوتا ہے، وہ بھی واقف تھے، لیکن ایک موقع پر ساؤتھ افریقہ کی سپریم کورٹ میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا تو سوال ہوا کہ کون وہاں پیش ہو کر اسلام کا موقف بیان کرے۔ سب علماء کرام نے جو اس سلسلے میں سرگرم تھے، ان کو کہا کہ آپ یہ کام کریں تو وہ اس پرتیار ہو گئے۔ ایک دفعہ وہ چیلنج قبول کر لیتے توپھر اپنی صلاحیتوں کے ساتھ اس میں ہمہ تن لگ جاتے تھے۔ پانچ ہفتے تک ان کا سپریم کورٹ میں بیان ہوا۔ یہ آسان کام نہیں تھا، اس لیے کہ دوسری طرف سے پوری دنیا کی قادیانی جماعت، اس کے نمائندے اور ان کے وکیل پوری تیاری کے ساتھ اعتراض کرنے کے لیے، جرح کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔ اس طرف سے مسلمان علما اور دوسرے لوگوں کی جماعت تھی جو ان کی مدد کرتی تھی، لیکن جتنی بھی مدد ہو، بہرحال سپریم کورٹ میں پیش ہونا تھا جہاں ہر بات کے لیے دلیل طلب کی جاتی ہے۔ الحمد للہ پانچ ہفتے تک روزانہ صبح نو بجے سے ایک بجے تک ان کا بیان ہوا۔ وہ جب لکھا گیا تو تقریباً ساڑھے پانچ ہزار صفحوں پر محیط تھا۔ اب اس میں اس طرح کی بحثیں آئیں کہ ختم نبوت اسلام کا ایسا عقیدہ ہے کہ جو اس کامنکر ہو، وہ کافر ہے۔ انھوں نے چیلنج کیا کہ جناب، دلیل دیجیے۔ ختم نبوت کو define کیجیے، نبوت کو ڈیفائن کیجیے، وحی کو کیجیے، الہام کو کیجیے۔ مرزا صاحب کہتے تھے الہام آتا ہے، میں بروزی نبی ہوں، ظلی نبی ہوں تو نبوت کیا ہے، اس کی حقیقت کیا ہے اور آپ کے پاس دلیل کیا ہے؟ یہ بات جب آپ کہتے ہیں کہ جو ختم نبوت کا منکر ہے، وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے تو اس میں بہت سارے مقدمات ہیں۔ ہر مقدمے کے لیے دلیل چاہیے۔ پھر آپ کہتے ہیں کہ اس پر اجماع ہے تو بتائیے، اجماع کیا چیز ہے۔ اجماع پر بحث شروع ہو گئی۔ علیٰ ہذا القیاس مرزا صاحب صوفیہ کی بعض تحریروں کا سہارا لیا کرتے تھے تو تصوف پر بحث شروع ہو گئی کہ کشف کیا ہے؟ الہام کیا ہے؟ صوفیانہ انداز کا جو اکتساب علم ہوتا ہے، وہ کیا ہے؟ وحی کیا ہے جس کی بنا پر ایمان وکفر کا مسئلہ طے ہوتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح ایک زمانہ آیا جب کچھ اسلامی قوانین کا نفاذ ہو رہا تھا۔ اسلامی نظریاتی کونسل میں اور شریعت کورٹ میں مسائل زیر بحث تھے۔ مرحوم ضیاء الحق صاحب اس میں کچھ پیش پیش تھے۔ بھائی صاحب کو اس میں کچھ حصہ لینے کا موقع ملا تو بعض مواقع پر ایسا لگتا تھا کہ شاید انھوں نے یہی کام ساری عمر کیا ہے۔ میں ایک واقعے کی طرف اشارہ کروں گا۔ ضیاء الحق صاحب نے جب جونیجو حکومت کو برخواست کیا تو وہ یہ چاہتے تھے کہ ایک شریعت آرڈیننس نافذ کریں جس کا مقصد فیڈرل شریعت کورٹ کے اختیار سماعت میں توسیع کرنا تھا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ۸۱ء میں فیڈرل شریعت کورٹ بنی تھی تو اس کے اختیارات دو قسم کے تھے۔ ایک تو یہ کہ سیشن کورٹ میں جو حدود اور قصاص وغیرہ کے مقدمات کے فیصلے ہوتے ہیں، اس کے خلاف اپیل شریعت کورٹ سنے گی اور اس کے بعد اپیل ہوگی سپریم کورٹ کی شریعت اپیلٹ بنچ میں۔ اس کا دوسرا اختیار جس کو original jurisdiction کہتے ہیں، یہ تھا کہ کوئی بھی شہری شریعت پٹیشن دائر کر سکتا ہے جس میں وہ پاکستان کے کسی بھی قانون کو یا قانون کے جز کو چیلنج کر سکتا ہے کہ یہ قرآن وسنت سے متعارض ہے، لہٰذا اس کو کالعدم کیا جائے یابدلا جائے۔ شروع میں وفاقی شرعی عدالت کے اختیار سماعت سے مالی قوانین، دستور اور پروسیجر کو مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔ بہت سے استثناء ات تھے جن میں کچھ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہو گئے ہیں، کیونکہ وہ خاص وقت تک کے لیے تھے۔ ضیاء الحق صاحب چاہتے تھے کہ ایک شریعت آرڈیننس آئے جس میں یہ استثناء ات ختم کر دیے جائیں۔ ان کی لیگل ٹیم میں اس وقت جسٹس ارشاد حسن خان تھے جو بعد میں چیف جسٹس ہوئے۔ اس وقت وہ لاء سیکرٹری تھے۔ ان کے علاوہ عزیز منشی صاحب اٹارنی جنرل تھے اور شریف الدین پیرزادہ بھی تھے۔ ان تینوں حضرات نے ضیاء الحق صاحب سے کہا کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے، اس لیے کہ اگر آپ آرڈیننس لائیں گے تو یہ دستور میں ترمیم ہے اور دستور میں ترمیم پارلیمنٹ کے بغیر نہیں ہو سکتی جسے آپ نے ڈس مس کر دیا ہے۔ آرڈیننس تو قانون ہوتا ہے جو چھ مہینے کے لیے ہوتا ہے، تا آنکہ پارلیمنٹ اس کو منظور کرے یامسترد کرے۔ آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی تو ہو سکتی ہے، دستور سازی نہیں ہو سکتی نہ دستور میں ترمیم ہو سکتی ہے، لہٰذا یہ کام نہیں ہو سکتا۔
ضیاء الحق صاحب اس پر بہت frustrated ہوئے۔ ان دنوں ان پر اس خیال کا بہت غلبہ تھا کہ میں نے اب تک جو کیا ہے، وہ کافی نہیں ہے۔ شاید بعض اہل ایمان وتقویٰ کو احساس بھی ہو جاتا ہے کہ اب وہ جانے والے ہیں تو ان کو بہت لگن تھی کہ کچھ ہو جائے۔ ہمارے بھائی صاحب کی موجودگی میں ان تینوں آدمیوں نے ضیاء الحق صاحب سے کہا کہ جی، یہ نہیں ہو سکتا۔ آپ جو چاہیں اس آرڈیننس میں لکھ دیں، لیکن وہ جو استثنا ہے کہ شریعت کورٹ مالیات سے متعلق معاملات کو نہیں سن سکتی، پروسیجر کو نہیں سن سکتی، کانسٹی ٹیوشن کے خلاف نہیں کچھ سن سکتی، اسی طرح ایک دو اور چیزیں ہیں، یہ استثنا ختم نہیں ہو سکتا۔ یہ میٹنگ رات کے بارہ بجے تک چلتی رہی۔ ضیاء الحق صاحب بھی بہت دیر تک کام کرنے کے عادی تھے۔ میٹنگ کے بعد بھائی صاحب تھکے ہارے گھر آئے اور آ کر کہا کہ مجھے کچھ چائے یا کافی پلا دو، مجھے کام کرنا ہے اور کمرے میں بند ہو گئے۔ صبح کی نماز تک وہ دستور، دستورکی شرحیں اور اس سے متعلق کچھ اہم فیصلوں کا پلندہ جو وہ کہیں سے لے آئے تھے، پڑھتے رہے۔ ساری رات اس میں لگے رہے اور صبح کے قریب وہ اچھل پڑے اور انھوں نے مجھے بھی بتایا۔ انھیں بڑی خوشی ہوئی کہ کہیں ایک جگہ یہ لکھا ہوا مل گیا کہ کسی کورٹ کی جورس ڈکشن وہ ہوگی جو اس دستور میں طے کر دی گئی ہے اور جس کی وضاحت فلاں فلاں جگہ کی گئی ہے اور آخر میں ایک چھوٹا سا جملہ یہ لکھا ہوا تھاکہ: by law۔ تو انھوں نے کہا کہ جب قانون کے ذریعے کسی عدالت کی جورس ڈکشن طے ہو سکتی ہے تو آرڈیننس جو ہوتا ہے، وہ قانون کا متبادل ہوتا ہے، اس لیے آرڈی ننس سے بھی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے آرڈی ننس لایا جا سکتا ہے کہ شریعت کورٹ کے اختیارات پر قدغن کم کیے جائیں یا ختم کیے جائیں۔
اگلے دن وہ لیس ہو کر ان کے سامنے پہنچ گئے۔ اب میٹنگ شروع ہوئی تو ضیاء الحق صاحب نے ان سے شاید کہا تھا کہ آپ تیاری کر کے آئیے گا۔ انھوں نے ضیاء الحق صاحب کے سامنے بہت مدلل انداز میں یہ ساری بات رکھ دی تو ضیاء الحق صاحب اپنی لیگل ٹیم پر بہت ناراض ہوئے۔ وہ عام طور ناراض نہیں ہوتے تھے،لیکن ہوتے تھے تو بہت زیادہ ہوتے تھے۔ وہ جو عربی میں کہتے ہیں کہ اتقوا غضب الحلیم تو غضب الحلیم تھا ان میں۔ انھوں نے ان حضرات یعنی شریف الدین پیرزادہ، جسٹس ارشاد حسن خان اور عزیز منشی سے کہا کہ میں نے تمھیں یہاں گھاس چرنے کے لیے بلایا تھا؟ تم اتنے دن سے مجھے دھوکہ دے رہے ہو، جھوٹ بول رہے ہو؟ جو کچھ کہہ سکتے تھے، انھوں نے کہا۔ بھائی صاحب کہہ رہے تھے کہ جب انھیں ڈانٹ پڑ رہی تھی تو مجھے تھوڑا تھوڑا ڈر بھی لگا کہ باہر نکل کر یہ میرا کیا حشر کریں گے۔ بہرحال وہ بات مانی گئی اور آرڈیننس بن گیا۔ ضیاء الحق صاحب نے نافذ بھی کر دیا، لیکن اس کے بعد دن بے نظیر کی حکومت آئی، چھ مہینے گزر گئے اور پارلیمنٹ نے اس کو منظور نہیں کیا۔
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے ان کی لگن، commitment اور دلی شوق کی۔ دنیا کی تہذیب اور تمدن میں جوبھی کارنامے ہوئے ہیں، وہ شوق کے بغیر نہیں ہو سکتے تھے۔ تاریخ انسانی میں جو کچھ دنیاے انسانیت نے حاصل کیا ہے، وہ شوق اور عشق کا کرشمہ ہے۔ بڑے بڑے کارنامے اسی سے انجام پاتے ہیں۔ تو ان کو ایک شوق تھا، ایک عشق تھا اور میں نے ان کو پچاس سال دیکھا ہے۔ پچاس سال کے دوران وہ جس بات پرخوش ہوتے تھے، وہ یہی تھی کہ کوئی علمی کام ہو گیا، کوئی علمی نکتہ مل گیا، کوئی کتاب مل گئی، کوئی بات سمجھ میں آ گئی، کسی نے کوئی بات سمجھ لی، کوئی اچھا طالب علم ان کے پاس آکر اچھا کام کر گیا۔ کنفیوشس چینی فلسفی ہے۔ اس کا مشہو رجملہ ہے کہ ایک آدمی کو دیکھو، اس کی خوشی کے لمحات کودیکھو، اس کے غم کے لمحات کو دیکھو، اس کے حیرت کے لمحات کو دیکھو، اس کے دوست کو دیکھو، دشمن کو دیکھو، آدمی اپنے آپ کو کیسے چھپا سکتا ہے؟ تو حقیقت یہ ہے کہ علم دین کا حصول ، اس کا فروغ، اسی کے لیے وہ جیے، اور کسی چیز میں دلچسپی نہیں لی، حتیٰ کہ اپنی صحت کی طرف سے بے انتہا لاپروائی برتی۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ انھوں نے زندگی میں کبھی کسی ڈاکٹر سے رجوع نہیں کیا۔ کبھی بیمار نہیں ہوئے، ایک دن کے لیے صاحب فراش نہیں ہوئے۔ ظاہر ہے کہ بیماریاں تو لگی رہتی ہیں انسان کے ساتھ، لیکن چھوٹی موٹی تکلیف کو کبھی خاطرمیں نہیں لاتے تھے۔ آخری دن چند گھنٹے وہ ہسپتال میں لیٹے۔ اس دوران وہ قرآن پڑھتے رہے اور زیادہ بات نہیں کی۔ پھر فجر کا وقت ہوا تو اسی بستر میں بیٹھے بیٹھے وضو کر لیا، ڈاکٹر سے پوچھا ہی نہیں۔ عموماً آئی سی یو، سی سی یو میں اتنی حرکت کی اجازت نہیں ہوتی۔ ہمارا بیٹا تھا۔ انھوں نے اس سے کہا جلدی میں کہ وضو کرواؤ، اس نے وہیں وضو کروا دیا۔ بستر میں نماز پڑھی اور پھر یہ جا وہ جا۔ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
بھائی محمود
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی
ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ، پاکستان کے مدیر مکرم، مولانا عمار خان ناصر صاحب کا ارشاد ہے کہ راقم سطور، مجلہ الشریعہ کے پروفیسر محمود احمد غازی نمبر کے لیے کچھ لکھ کر پیش کرے۔ میں اس محترم فرمائش کی تکمیل کرنا چاہتاہوں مگر حیران ہوں کہ کیا لکھوں:
چگونہ حرف زنم دل کجا، دماغ کجا
مگر بہر صورت کچھ نہ کچھ حاضر کرنا ہے، اس لیے چل مرے خامے بسم اللہ!
محمود غازی صاحب برصغیر ہند کے نامور وممتاز فاضل، عالم، دانشور، مصنف ومترجم، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر [شیخ الجامعہ]، پاکستان کی عدالت عالیہ کی شریعت بنچ کے سینئر جج، مذہبی امور اورحج کے لیے حکومت پاکستان کے وفاقی مرکزی وزیر، پاکستان کے متعدد سربراہان حکومت کے مشیر ومعتمد، پچاسوں قومی اوربین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمیناروں میں ممتاز مبصر ومقالہ نگار، پینتس چھتیس کتابوں کے مصنف اور مختلف کتابوں کے عربی، اردو، انگریزی مترجم، یعنی اکثر علمی کمالات سے پوری طرح بہرہ ور اور دنیاوی مناصب واعزازات میں بلند سے بلند مرتبہ پر فائز! مگر ہم اہل خاندان خصوصاً کاندھلہ میں مقیم رشتہ داروں کو نہ ان میں سے اکثر عہدوں اور مناصب کا علم اورنہ ان کا ان سے وابستہ معاملات، منافع ومباحث سے کچھ واسطہ۔ ہم سب کے لیے محمودغازی صاحب نہ جسٹس صاحب تھے، نہ شیخ الجامعہ ،نہ وزیرباتدبیر اورصدرپاکستان کے مشیرومعتمد۔ ہم سب خصوصاً راقم سطور اورقریبی عزیزوں کی زبانوں پر وہ صرف بھائی محمود تھے۔ ہمیشہ اسی نام سے پکارے گئے اور بھائی محمود بھی ہم سب اہل خاندان سے صرف اور صرف اسی رشتے سے ملے۔ نہ ان پر کسی مقام ومرتبہ اورعہدہ ومنصب کا احساس واثر نظر آیا، نہ اس کا تذکرہ ہوا۔ جب ملتے خوب ملتے، بے تکلفی سے، بلاکسی خیال کے۔ سب طرح کی اچھی بری باتیں ہوتیں، عزیزوں رشتہ داروں کے احوال وکوائف کی بات ہوتی، واقعات جہاں کادفتر کھلتا، تازہ علمی مباحث اور کتابوں کی خبر ملتی اور ہراک عنوان پر کچھ نہ کچھ تبادلہ خیال ہوتا۔ اس کی وجہ بھائی محمود کے مزاج کی سادگی، کاندھلہ کے مشہورعلمی دینی صدیقی خاندان سے ان کی ننھیالی نسبت اور زندگی کے ابتدائی چندسال کاندھلہ میں گزارنے کا اثر تھا جس کابھائی محمودنے ہمیشہ بے حدخیال رکھا اوراس رشتہ وتعلق کوپورے اہتمام سے، پورے احترام سے اور تواتر کے ساتھ ہمیشہ نبھایا۔
کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ بھائی محمود کا اگرچہ اصلی وطن اور خاندانی سلسلہ تھانہ بھون کے ممتاز فاروقی خاندان سے ہے، مگر ان کے بچپن کا اکثر حصہ کاندھلہ میں گزرا۔ بھائی محمود کی والدۂ محترمہ مدظلہا کاندھلہ کے معروف صدیقی خاندان کی مؤقر خاتون ہیں۔ بھائی محمود کے نانا حکیم قمرالحسن صاحب، راقم سطور کے والد ماجد مدظلہ العالی کے بڑے بھائی [میرے تایا] تھے۔ اس پہلو کی بعض تفصیلات کے بغیر یہ گفتگو مجمل وناتمام رہے گی، اس لیے اس کے بعض گوشوں کاتذکرہ ضروری ہے۔
کاندھلہ کے اس خاندان کے ایک بابرکت فرد، مولوی رؤف الحسن صاحب کاندھلوی تھے جو [شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدزکریا کاندھلوی کے والد ماجد] حضرت مولانا محمدیحییٰ اور مروج تبلیغ، حضرت مولانا محمدالیاس صاحب کاندھلوی کے حقیقی ماموں بھی تھے۔ ان کا سلسلۂ نسب یہ ہے:
مولوی رؤف الحسن [وفات:۱۳۶۴ھ۔۱۹۴۵ء] بن مولاناضیاء الحسن صادق[م۱۳۱۵ھ۔ ۱۸۹۸ء] بن مولانا نورالحسن [۱۲۸۵ھ۔۱۸۶۸ء] بن مولانا ابوالحسن [م۱۲۶۱ھ۔۱۸۵۳ء] بن حضرت مفتی الٰہی بخش کاندھلوی [م۱۲۴۵ھ۔۱۸۲۹ء] رحمہم اللہ‘‘
مولوی رؤف الحسن صاحب کے پانچ فرزند ہوئے:
(۱) مولانا حکیم نجم الحسن صاحب [م:۱۳۳۶ھ/۱۹۱۸ء]
(۲) مولانا احتشام الحسن صاحب، معروف مصنف اور حضرت مولانا محمدالیاس صاحب کے رفیق [م: ۱۳۹۲ھ۔۱۹۷۱ء]
(۳) مولوی حکیم قمر الحسن صاحب فاضل، جامعہ طبیہ دہلی[م:۸/شوال۱۳۶۲ھ۔۸ستمبر۱۹۴۳ء]
(۴) مولانا اظہارالحسن صاحب ،جو مولانا انعام الحسن صاحب کے دور میں اوراس کے بعد مرکزتبلیغ نظام الدین، دہلی کے عملاً سربراہ اور تبلیغ کے موجودہ ذمہ دار مولوی محمد سعد صاحب کے ناناتھے۔ [م:۱۴۱۷ھ/۱۹۹۶ء]
(۵) حضرت مولانا افتخارالحسن صاحب مدظلہ [جو راقم سطور کے والد ماجدہیں] ولادت:۱۱جمادیٰ الاولیٰ ۱۳۴۰ھ/۱۰جنوری۱۹۲۲ء
اورتین دختر:
الف: جویریہ خاتون، زوجہ حضرت مولانا محمدالیاس صاحب کاندھلوی ۔
ب: امت الدیان، زوجہ مولوی ظہیرالحسن صاحب کاندھلوی۔
ج: امت المتین، زوجہ اولیٰ شیخ الحدیث مولانا محمدزکریا کاندھلوی۔
فرزندوں میں سے تیسرے، حکیم قمرالحسن صاحب کے کوئی پسری اولاد نہیں تھی، دوبیٹیاں تھیں۔ بڑی کی شادی تھانہ بھون کے فاروقی خاندان میں مولانا محمداحمدصاحب تھانوی سے ہوئی۔ یہی بھائی محمود کی والدہ محترمہ ہیں۔ دوسری بہن کا نکاح کاندھلہ کے ایک فاضل، مولوی حکیم خلیق الرحمن صاحب سے ہوا۔ وہ بھی ۱۹۴۷ء کے بعد پاکستان چلے گئے تھے۔ سنجھورہ، سندھ میں رہے۔ آخر میں سکھر آگئے تھے، ان کے اہل خانہ وہیں ہیں۔
مولانا محمداحمد کے دوبیٹے ہوئے: محموداحمد[ولادت:۱۹۵۰ء] اور محمد [ولادت:۱۹۵۳ء]۔ بھائی محمودنے زمانہ طالب علمی سے اپنے نام کے ساتھ غازی کا اضافہ کر لیا تھا اور چھوٹے بھائی کے نام کے ساتھ الغزالی کا لاحقہ استعمال ہوتاہے، پروفیسر ڈاکٹر محمدالغزالی [مدیر مجلہ الدراسات الاسلامیۃ اسلام آباد] حفظہ اللّٰہ۔
بھائی محمود کے والد محترم، دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن میں ملازم تھے، اس لیے ان کی والدہ اکثراپنے میکہ کاندھلہ رہتی تھیں۔ یہیں بھائی محمود کی نشوونما ہوئی اوریہیں قرآن کریم کی تعلیم کی ابتدا بھی ہوئی۔ بھائی محمودکی نانی صاحبہ کے مکان سے چند قدم کے فاصلہ پر،کاندھلہ کی جامع مسجد ہے۔ اس مسجدمیں ایک پرانامدرسہ تھا جس کو ۱۳۰۰ھ میں حضرت مولانا رشیداحمدگنگوہی کی سرپرستی میں حضرت مولانا کے ایک شاگرد،مولانا حکیم صدیق احمدصاحب کاندھلوی نے قائم کیا تھا۔ یہ مدرسہ اس وقت تک خوب کامیاب اور متحرک ورواں دواں تھا۔ اس میں حفظ کے درجات بھی تھے،ناظرہ کے بھی اور متوسطات تک عربی فارسی کی بھی عمدہ تعلیم ہوتی تھی۔ اسی مدرسہ کے ایک معلم قرآن، حافظ عبدالعزیز صاحب تھے جو کاندھلہ سے ملحق گاؤں کھندراؤلی کے باشندے تھے مگر کاندھلہ آگئے تھے۔ درجہ حفظ وناظرہ کے استاد تھے۔ بھائی محمود نے تعلیم کی ابتدا ان سے کی اوربہت کم عمری میں ایک پارہ ختم کر لیا تھا۔
سنہ۱۹۵۴ء میں بھائی محمود کے والد محترم نے اور بہت سے عزیزواقربا کے ساتھ پاکستان جانے کا ارادہ کرلیا اوراپنے وطن کوخیر باد کہتے ہوئے نئے وطن، نئی سرزمین کے لیے روانہ ہوگئے۔ پاکستان پہنچ کر کراچی میں قیام ہوا۔ کیونکہ دہلی میں مولوی محمداحمدصاحب پاکستان ہائی کمیشن میں ملازم تھے، اس لیے کراچی میں سرکاری دفتر میں تقرر ہوگیا۔ کراچی میں قیام اور ملازمت کا انتظام ہوتے ہی بھائی محمودکی تعلیم کی طرف توجہ کی۔ گھر کے قریب ایک مدرسہ تھا جس میں قاری وقاء اللہ صاحب پانی پتی سے [جو ہندوستان کی ایک معروف شخصیت مولانا لقاء اللہ پانی پتی کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے] کاندھلہ کے سلسلۂ تعلیم کی تجدید ہوئی۔ ان سے اور اسی مکتب کے ایک اوراستاد، حافظ نذیر احمدصاحب سے قرآن مجید حفظ مکمل کیا۔ حفظ نوعمری میں صرف نوسال کی عمر میں مکمل ہوگیاتھا۔
حفظ کے بعد دورکیا اور اس کے ساتھ ہی حضرت مولانا محمدیوسف بنوری کے مدرسہ میں عربی تعلیم کے لیے داخل کر دیے گئے۔ مدرسۂ مولانا بنوری میں چارسال تک پڑھا جس میں خودمولانا بنوری سے بھی تلمذ کی سعادت میسر آئی۔ اس کی صورت یہ ہوئی کہ بھائی محمودکے وہ استاذ جو اصول الشاشی پڑھارہے تھے، کسی ملازمت پر تقرر کی وجہ سے درمیان سال میں سعودی عرب چلے گئے تھے۔ اس وقت ان کے سبق مولانابنوری نے پڑھائے تھے۔ اسی مدرسہ میں مولانا عبدالرشید نعمانی سے بھی تلمذ ہوا اور مولانا عبدالقدوس ہاشمی سے بھی رابطہ رہا۔ مولانا ہاشمی سے اگرچہ باضابطہ تلمذوتعلیم تو نہیں ہوئی، لیکن کثیر استفادہ کاموقع ملا جو بعد میں بھی جاری رہا۔ بھائی محمودکوکچھ وقت مدرسہ ٹنڈو اللہ یار میں بھی گزارنے کا موقع ملا۔ یہاں حضرت مولانا ظفراحمدعثمانی اور حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی کے درس میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ یہ سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ پاکستان کامرکزی دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل ہونا شروع ہو گیا۔ سرکاری ملازمین بھی آہستہ آہستہ کراچی سے اسلام آباد پہنچتے رہے۔ انہی میں محمودصاحب کے والد محترم مولانا محمداحمد صاحب تھانوی بھی تھے۔ اس وقت سے اس گھرانہ کا قیام اسلام آباد میں ہوا جو آج تک اسی طرح ہے۔
بھائی محمود کی تعلیم کا سلسلہ ناتمام تھا، اس لیے ان کا راول پنڈی میں شیخ القرآن ، مولانا غلام اللہ خاں صاحب کے مدرسہ میں داخلہ کرایاگیا۔ اس مدرسہ میں درس نظامی کی آخری کتابیں مکمل کیں اور دورۂ ۂحدیث پڑھا۔ مولانا غلام اللہ صاحب کے مدرسہ کے ایک بڑے استاذ حدیث، مولانا عبدالشکور کامل پوری [وفات:رجب ۱۳۹۰ھ/ستمبر۱۹۷۰] (۱) سے سنن ابی داود اور موطاامام مالک پڑھیں۔ مولانا عبدالشکور صاحب ،حضرت مولانا خلیل احمد انبیٹھوی، حضرت علامہ انور شاہ کشمیری، حضرت مولانا محمدیحییٰ کاندھلوی اورحضرت مولانا عبدالرحمن کامل پوری رحمہم اللہ کے شاگردتھے۔ بہت عمدہ درس دیتے تھے۔ اگرچہ حنفی تھے، مگر درس محدثانہ شان کا محققانہ ہوتاتھا جس کی وجہ سے بعض حضرات کو یہ غلط فہمی ہوجاتی تھی کہ مولانا غیر مقلد یا اہل حدیث ہیں۔ مولانا حنفی تھے، لیکن محدثانہ تحقیقات صاف بیان فرماتے تھے جس سے مولانا کے اہل حدیث ہونے کا شبہ گزرتاتھا۔ چونکہ اس مدرسہ کے اکثر طالب علم پٹھان یا صوبہ سرحد [موجودہ نام، پختونخواہ] وغیرہ کے تھے، اس لیے مولانا کامل پوری، پشتو میں درس دیتے تھے۔ چند دنوں کے بعد بھائی محمود نے گزارش کی کہ میں پشتو نہیں جانتا، اگر درس عربی میں ہو تو میرے لیے استفادہ کا زیادہ موقع ہے۔ مولانا عبدالشکور صاحب نے عزیز شاگرد کی رعایت فرماتے ہوئے عربی میں درس دینا شروع کر دیا۔ اس سے اگرچہ کئی طلبہ ناراض ہوئے اورکچھ بات چلی، مگر پھر سب مطمئن ہوگئے تھے، درس عربی میں ہوتارہا۔ مولاناعبدالشکور کامل پوری ،۱۹۴۷ء سے پہلے مدرسہ مظاہرعلوم میں مدرس تھے، حضرت مولانا خلیل احمدانبیٹھوی کے بھی شاگر دتھے اوران سے بھائی محمود کے والد صاحب اور نانا دونوں نے پڑھاتھا۔ بھائی محمودکو بھی ان سے پڑھنے کی سعادت ملی۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھائی محمودنوعمری میں، اس وقت کے ایک بڑے مربی اور عارف حضرت شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوری سے بیعت ہوگئے تھے۔ مولانا کے والد، شیخ الحدیث مولانا محمدزکریا کی قیام گاہ (کچے گھر) سہارنپور میں، حضرت شاہ عبدالقادر صاحب سے بیعت ہورہے تھے۔ حضرت شیخ نے بھائی محمود کومخاطب کر کے فرمایا: تو بھی بیعت ہوجا! تو بھائی محمود بھی حضرت رائے پوری سے باقاعدہ بیعت ہوگئے تھے۔ میں نے سناہے کہ بھائی محمود کو، جو :’’بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی‘‘ کی حیثیت بھی رکھتے تھے، پاکستان اور بیرون پاکستان کے ایک سے زائدمشائخ طریقت سے اجازت وخلافت بھی حاصل تھی، مگر اس کی تفصیل معلوم نہیں۔
جب اس کارخانۂ ہستی میں ہماری آنکھیں کھلیں اور کچھ شعور پیدا ہوا، وہ عجیب اپنائیت ومحبت کادور تھا۔ میل ملاقات، ایک دوسرے سے رابطہ تعلق رکھنے، رشتے، عزیزداری نباہنے کادورتھا۔ گھر اگرچہ ماشاء اللہ سب کے علیحدہ علیحدہ اور خوب بڑے بڑے تھے، ہرطرح کی ہر چیز کی فراوانی تھی اورافراد بھی ماشاء اللہ کم نہیں تھے، مگر اپنی الگ حیثیت، علیحدہ گھروں اور ذرائع معاش کے باوصف، سب عزیزایک دوسرے سے گویا جسم وجان سے پیوست تھے۔ ہرایک دوسرے پر جان چھڑکتاتھا، ہروقت ایک دوسرے کے یہاں آناجانا، ملاقات اور خیروخبرجاری رہتی تھی جس کی وجہ سے سب ایک دوسرے کے لیے افراد خانہ کی حیثیت رکھتے تھے اورخاندان کے سب لوگ مل کر، ایک گھرانہ کی طرح رہتے تھے۔ اس وقت کی محبتوں اورمخلصانہ روابطوں اور تعلقات کاآج کل کے ناپرسان احوال دور میں، اندازہ بھی نہیں کیاجاسکتا۔ گویا:
خواب تھاجو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا
انہی روابط وقرابت کی وجہ سے بھائی محمود کی والدہ صاحبہ ۱۹۶۵ء تک [جب ہندوپاکستان کے تعلقات زیادہ خراب نہیں ہوئے تھے اور آنے جانے کی ایسی پریشانی نہیں تھی] تقریباً ہرسال اپنی والدہ صاحبہ سے ملاقات کے لیے ہندوستان آتی تھیں، ہندوستان میں عموماً دوتین مہینہ قیام رہتا تھا۔ اس وقت بھائی محمود اپنی خاندانی مادرعلمی، مدرسہ جامع مسجدکاندھلہ کے طالب علم بن جاتے تھے۔ قرآن شریف کی تعلیم ودور کی بات ہو یا فارسی عربی درسیات کی، دونوں کے سبق کاندھلہ کے مدرسہ میں جاری رہتے تھے۔ اچھے پڑھانے والے بھی موجود تھے، اس لیے پڑھنے کابھی ایک مزا تھا۔ اس دور میں اول استاد، حافظ عبدالعزیز صاحب مرحوم کے علاوہ، مدرسہ کے عربی کے استادوں، مولانا عبدالجلیل صاحب بستوی اور مولانا زین الدین صاحب بستوی سے بھی تعلیم کا کچھ نہ کچھ سلسلہ جاری رہتاتھا اور پاکستان میں زیردرس کتابوں کے اسباق کی تکمیل ہوتی رہتی تھی۔ بھائی محمود، مولانا عبدالجلیل صاحب کی علمی صلاحیت اورطریقۂ تعلیم ودرس کے مداح تھے۔
اس وقت سے بھائی محمود سے جو واقفیت اور رابطہ بنا تھا، وہ بحمداللہ، ملک بلکہ ملکوں کے فاصلوں، مناصب ومصروفیات، عہدۂ وترقیات کے باوجود ہمیشہ اسی طرح رہا۔ مجھے اس اعتراف میں ذرا بھی تکلف وتأمل نہیں کہ اگرچہ رشتہ میرا بڑا تھا، مگر بھائی محمود عمر کے علاوہ، علم وکمال اورتحریروقلم سے رہنمائی اور علم آفرینی کے اس درجہ پر تھے کہ ہمارے جیسوں کاوہاں گزر بھی نہیں، مگراس کے باوجود ہرطرح کی گفتگوہوتی۔ علمی مباحث بھی چھڑتے، ارباب سیاست کابھی ذکر آتا، ان پر کھٹے میٹھے تبصرے بھی ہوتے، خصوصاً پاکستان کے اہل سیاست واقتدار پر ان کی رائے سننے کی ہوتی تھی۔ کئی مرتبہ کئی شخصیات ومعاملات میں ان کی رائے متعارف رائے اورنظریہ سے خاصی مختلف مگر سوچی سمجھی اورجچی تلی ہوتی تھی۔ وہ اس اعتماد سے بات کرتے تھے اوراس کے ایسے گوشے سامنے لاتے تھے کہ دوسرا پہلو ثابت کرنا مشکل ہوجاتاتھا اور ہم ایسے افراد جو ان معاملات سے براہ راست وابستہ نہیں، بھائی محمودصاحب کو صاحب البیت یاد انائے راز سمجھ کر خاموش رہ جاتے تھے۔
بھائی محمودصاحب جب کبھی ہندوستان آتے، کسی سیمینار میں، پروگرام میں، سرکاری مصروفیت سے، کاندھلہ کے لیے ضروروقت نکالتے تھے۔ بعض مرتبہ توموقع نہ ہونے کی وجہ سے آناجانا ہی ہوتا تھا، بمشکل گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ قیام اور ملاقات رہتی، مگر آتے تھے اوراس کا اہتمام کرتے تھے۔ مجھے بھائی محمودکے کمالات وصفات میں یہ بات بہت پسند تھی کہ وہ اپنی بڑائی کے باوجود ہمیشہ خورد بن کر ملتے تھے۔ پوری زندگی انہوں نے اپنی کسی بات سے، طرزعمل سے بلکہ اشارہ سے بھی اس کااحساس نہیں ہونے دیا کہ وہ کس حیثیت ومقام کے شخص ہیں اور ان کی کیسی منزلت ہے۔ یہی انداز خط وکتابت میں بھی تھا۔ میرا ہمیشہ تو نہیں، لیکن کبھی کبھی فون پر رابطہ اور خط وکتابت رہتی تھی۔ پاکستان باربار فون کرنا اورلمبی بات چیت تو خلاف احتیاط تھی، مگر جب وہ پاکستان سے باہر ہوتے تو کئی مرتبہ فون پر رابطہ ہو جاتا تھا، خصوصاً آخر میں جب قطر میں تھے، کئی مرتبہ گفتگو رہی اور کبھی کبھی تبادلہ خطوط بھی ہوتاتھا جس میں سے غالباً اٹھارہ بیس خط محفوظ بھی ہیں۔ ان میں سے آخری دوخط یہاں پیش کیے جا رہے ہیں۔
میں نے مولانا ئے روم [شیخ جلال الدین رومیؒ ] کے سات سو سالہ جشن کے موقع پر مولانا روم پر ایک خاص شمارہ نکالنے کا ارادہ کیا تھا۔ اس کا اپنے مجلہ احوال وآثار میں اعلان بھی کر دیا تھا اور اس میں تعاون ومضامین کے لیے ہند وپاکستان کے بیسوں اہل علم کی خدمات میں عریضہ اور سوال نامہ بھی بھیج دیاتھا، مگر چھے سات کے علاوہ کسی نے خط کی بھی رسید نہیں دی، مضامین ورہنمائی کا تو کیا ذکر ہے، اس لیے وہ ارادہ عمل میں نہ آسکا۔ جن لوگوں نے حوصلہ افزا جوابات دیے اور بھرپور تعاون کا وعدہ کیا، ان میں سب سے پہلا نام بھائی محمود کا ہی ہے۔ بھائی محمود نے میرے خط کے جواب میں دوخط لکھے تھے۔ ان سے غازی صاحب کی وسعت نظر، قوت اخذواستنباط اور سیلانئ ذہن کا بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ خطوط ملاحظہ ہوں:
مکتوب اول:
خال مکرم ومحترم جناب مولانا نورالحسن راشد صاحب کاندھلوی دامت برکاتہم العالیہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گرامی نامہ مؤرخہ ۶؍صفر المظفر۱۴۳۰ھ چند روز قبل اسلام آباد پر ملا۔ شاید آں محترم کے علم میں ہو کہ میں آج کل قطر میں مقیم ہوں۔ موسم گرما کی تعطیلات کے سلسلہ میں اگست کے وسط تک یہاں اسلام آباد میں رہوں گا۔
اس اطلاع سے ازحد خوشی ہوئی کہ مفتی الٰہی بخش اکیڈمی مولانا روم کی آٹھ سو سالہ پیدائش کی یادگار تقریبات کے موقع پر مثنوی پر ایک خصوصی شمارہ شائع کرنے کا پروگرام بنارہی ہے۔ ایں کار از تو آید ومرداں چنیں کنند! میری طرف سے دلی مبارک قبول فرمائیے۔
میری ناچیز رائے میں مجوزہ مقالات وعنوانات کی فہرست میں، مندرجات مثنوی اور پیغام مثنوی پر مزید اضافہ کی ضرورت ہے۔ یہ اضافے درج ذیل خطوط پر ہو سکتے ہیں:
(۱) مولانا روم اور تجدید فکراسلامی
(۲) مثنوی کا علم کلام
(۳) اشعری اور ماتریدی کلام، مثنوی کی روشنی میں
(۴) وحی ورسالت مثنوی کی روشنی میں
(۵) پیررومی اورمرید ہندی، ایک تقابلی مطالعہ
(۶) احادیث مثنوی پر ایک نظر (اصول حدیث کی روشنی میں)
(۷) مثنوی اور مکتوبات امام ربانی: تجدید واصلاح تصوف کے دواہم مآخذ
(۸) مثنوی اور حدیقۃ الحقیقہ: ایک تقابلی مطالعہ
(۹) مولانا شیخ محمد اور مفتی الٰہی بخش کے تکملہ جات مثنوی
(۱۰) کلید مثنوی پر حاجی صاحب کی شرح مثنوی کے اثرات
(۱۱) مثنوی اورحکمت شریعت
(۱۲) مثنوی اور مسئلہ وحدۃ الوجود
(۱۳) مثنوی اور تصور ارتقاء
(۱۴) مثنوی کاتصور تعلیم وتربیت
(۱۵) حکایات مثنوی کے مآخذ
(۱۶) مثنوی میں تفسیر قرآن کا اسلوب
سردست یہ چند ممکنہ عنوانات ذہن میں آرہے ہیں۔ مثنوی سامنے ہو تو اور بہت سے عنوانات تجویز کیے جا سکتے ہیں۔ اگر آپ پسند فرمائیں تومیں عنوان ۱، ۲یا ۱۱ میں کسی ایک پر خامہ فرسائی کر سکتا ہوں۔
حضرت جدمکرم ومحترم مدظلہ العالی کی خدمت میں سلام نیاز اور دیگر اعزہ کو سلام ودعا۔
والسلام
نیازمندمحموداحمدغازی
۷؍جولائی۲۰۰۹ء
مکتوب دوم:
خال مخدوم ومعظم جناب مولانا نورالحسن راشد صاحب کاندھلوی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امیدہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے!
کل پرسوں ایک عریضہ ارسال خدمت کیاتھا، ملاحظہ سے گذرا ہوگا۔ رات مثنوی پر ایک سرسری نظر ڈالی تو بعض نئے موضوعات ذہن میں آئے جو خدمت عالی میں پیش ہیں:
(۱) مولانا کا فلسفۂ اخلاق
(۲) مکارم اخلاق : مثنوی کی روشنی میں
(۳) رذائل اخلاق: مثنوی کی روشنی میں
(۴) مولانا کی تنقید مسیحیت
(۵) مولانا کی تنقیدیہودیت
(۶) مثنوی کاتصور جہاد
(۷)معجزہ اور معجزات بندی مثنوی کی روشنی میں
(۸) نبوت وانبیاء [واِن شئت قلت] منصب نبوت اوراس کے حاملین، مثنوی کی روشنی میں
(۹)مقام نبوت اور مقام ولایت مولانا کی نظرمیں
(۱۰) مولانا کا اسلوب نعت گوئی
(۱۱)مولانا کا اسلوب تفسیر
(۱۲) مثنوی اور فلسفۂ یونان پر نقد
(۱۳) کشاکش عقل ودل، مثنوی کی روشنی میں
(۱۴) مولانا کاتصور مدت وحیات
(۱۵) مسئلہ جبر وقدر اور مثنوی
(۱۶) نفس انسانی اور اس کے مدارج
(۱۷) مثنوی کے مذہبی استعارے اور ان کی معنویت
(۱۸) آتش وخلیل کا استعارہ، رومی اور اقبال کے کلام میں
(۱۹) مثنوی کی باطنی تفسیریں: ایک تنقیدی مطالعہ
(۲۰)’’ ہست قرآں درزبان پہلوی‘‘
والسلام
نیازمند: محمودغازی
۹؍جولائی۲۰۰۹ء
کوئی موقع ہوگا توان شاء اللہ بعض چیزیں اور پیش کی جائیں گی۔
ہمارے بابا
ماریہ غازی
دنیا کے لیے بلاشبہ وہ ڈاکٹر محمود احمد غازی تھے، مگر ہمارے لیے وہ صرف ’بابا‘ تھے۔انھوں نے کبھی گھر میں یہ ظاہر نہیں کہا کہ وہ کتنے بڑے آدمی تھے۔ ان کے علم وتقویٰ کے بارے میں تو خاندان والوں کو بخوبی علم تھا، مگر دنیا ان سے کتنی محبت رکھتی ہے، اس کا اندازہ ان کے انتقال کے بعد ہوا۔ جس طرح لوگ دیوانہ وار ان کے جنازے میں شریک ہوئے اور جوق در جوق تعزیت کے لیے آئے، اس سے صحیح معنوں میں ان کی مقبولیت کا اندازہ ہوا اور بے پناہ رشک آیا۔ لوگوں کی محبت اور عقیدت کو دیکھتے ہوئے وہ حدیث یاد آتی ہے جس کامفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص سے محبت رکھتا ہے، دنیا والوں کے دلوں میں بھی اس کی محبت ڈال دیتا ہے۔
باوجود اتنی مقبولیت کے، گھر میں وہ بالکل عام آدمی کی طرح رہا کرتے تھے۔ بہت ہی مہربان رویہ، نرم خو لہجہ۔ کبھی کسی کو ڈانٹنا تو کجا، اونچی آواز میں بات بھی نہیں کی۔ گھرمیں ہمیشہ مسکراتے ہوئے داخل ہوتے تھے۔ روزانہ کا معمول تھا کہ رات کو سب گھر والوں، خصوصاً دادی صاحبہ کے پاس بیٹھا کرتے اور ہلکی پھلکی پرمزاح گفتگو کیا کرتے تھے۔ بیرون ملک سفر کے دوران میں پیش آنے والے دلچسپ واقعات سنایا کرتے تھے۔باتوں باتوں میں نصیحت بھی کر دیا کرتے تھے، لیکن انداز اتنا اچھا ہوتا تھا کہ کبھی کسی کو ناگوار نہیں گزرا۔ سنت کے مطابق اکثر پہیلی کی شکل میں سوال پوچھتے اور اکثر وبیشتر اس پر انعام بھی رکھا کرتے تھے کہ جو اس سوال کا جواب دے گا، اس کو سو روپے انعام دوں گا۔ کبھی کبھی انعامی رقم ایک ہزار روپے بھی ہوتی تھی۔ انعام کی رقم سے ہمیں اندازہ ہو جاتا تھا کہ سوال کس نوعیت کا ہے۔ اگر ہزار روپے ہوتے تو بغیر سوچے کہہ دیا کرتے تھے کہ ہمیں نہیں معلوم! اس طرح ہلکے پھلکے انداز میں بڑے بڑے مسائل سمجھا دیا کرتے تھے اور کسی کو یہ محسوس بھی نہیں ہوتا تھا کہ کوئی باقاعدہ تعلیم ہو رہی ہے۔ اقبال کی شاعری سے خاص شغف تھا۔ کبھی کسی شعر کا ایک مصرعہ بتا کر اگلا مصرعہ پوچھتے، کبھی کسی شعر کا مطلب دریافت کرتے اور کبھی یہ پوچھتے تھے کہ بتاؤ، یہ شعر کس شاعر کا ہے۔
اپنے مقام ومرتبہ کا اظہار گھر والوں کے سامنے تو کیا، رشتہ داروں کے سامنے بھی نہیں کرتے تھے۔ گھر میں مہمان داری بہت زیادہ تھی اور ہر کسی کی خوب خاطر تواضع کیا کرتے تھے۔ بچوں بڑوں، سب کو مناسب وقت دیتے تھے۔ مہمانوں کی تواضع کے لیے کئی طرح کے کھانے پکواتے اور سیر وتفریح کا بھی انتظام کیا کرتے تھے۔ گھر میں جو بھی بچے آتے، ان کو اپنے بچوں ہی کی طرح سمجھتے تھے۔ جب ہمیں جیب خرچ دیتے تو جو بچے مہمان آئے ہوتے، ان کو بھی اتنی ہی خوشی اور پیار سے پیسے دیتے تھے۔ دوسروں کو تحفے تحائف دینے اور کھانے پلانے سے بے حد خوش ہوتے تھے۔ مہمانوں کے لیے ہمیشہ بہت اہتمام سے تحائف منگایا کرتے تھے اور خود بھی جب بیرون ملک جاتے تو سب کے لیے الگ الگ تحائف لے کر آتے تھے۔ عید کے موقع پر ہمیشہ ہمیں چاند رات کو چوڑیاں خریدنے کے لیے ساتھ لے کر جاتے تھے۔ اتنی عزت اور مقام ومرتبہ کے باوجود دل میں تواضع اور انکسار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ کسی کے گھر جاتے تو خواہ کتنی ہی بے آرامی محسوس ہوتی، کبھی اظہار نہیں کرتے تھے۔ ہمیشہ یہی ظاہر کرتے کہ بہت آرام اور راحت سے ہیں۔
دل میں تقویٰ بہت زیادہ تھا۔ سرکاری چیزوں کے بارے میں بہت احتیاط سے کام لیتے تھے۔جو اپنا جائز حق ہوتا، اکثر وہ بھی چھوڑدیا کرتے تھے۔ اگر کوئی نشان دہی کرتا بھی تو فرماتے کہ اگر سب کچھ یہیں لے لیں گے تو پھر وہاں کیا لیں گے! بہت شروع سے سرکاری گاڑی ملی ہوئی تھی، مگر کسی کو اجازت نہیں تھی کہ اس کو چلائے۔ یا تو سرکاری ڈرائیور چلاتا تھا یا خود چلاتے تھے۔ کہتے تھے کہ یہ قانون کے خلاف ہے کہ میرے یا ڈرائیور کے علاوہ کوئی اور اس کو چلائے۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ گھر میں گاڑی ہونے کے باوجود چچا (ڈاکٹر محمد الغزالی) ٹیکسی یا بس سے دفتر گئے۔ گھر کے کام کے لیے جب بھی گاڑی استعمال ہوتی تو اس کا الگ سے حساب کر کے پیسے جمع کرایا کرتے تھے۔ کبھی کسی معاملے میں سختی نہیں کی، لیکن اس معاملے میں بالکل کمپرومائز نہیں کیا اور بہت سختی سے سب سے اس پر عمل کروایا کرتے تھے، حتیٰ کہ دفتر کی طرف سے جو اخبار بھی گھر میں آتے، وہ بھی اکٹھے کر کے واپس جمع کروایا کرتے تھے۔
بچپن سے کتابیں جمع کرنے کا شوق تھا۔ طالب علمی کے زمانے کی کتابیں بھی ابھی تک حفاظت سے رکھی ہوئی ہیں۔ اندرون ملک، بیرون ملک جہاں کہیں بھی جاتے، کتابیں ضرور خرید کر لاتے اور بہت احتیاط سے رکھتے تھے۔ اکثر کہا کرتے تھے کہ جو کتاب کا ادب نہیں کرتا، اسے کبھی علم حاصل نہیں ہوتا۔کتاب پر لکھنے کے سخت خلاف تھے۔ اپنی کتابوں کو ہمیشہ مضمون کے لحاظ سے ترتیب وار رکھا کرتے تھے۔ تفسیر، حدیث، علوم الحدیث، فقہ، اصول الفقہ، سیرۃ، رجال، عقیدہ، علم الکلام، مقارنۃ الادیان، قانون، فلسفہ، معاشیات ، اردو، انگریزی، فارسی ادب حتیٰ کہ طب یونانی کے بارے میں بھی کتابیں ان کے ذخیرے میں موجود ہیں۔ انھوں نے زندگی میں ہزاروں کتابیں جمع کیں اور ہر کتاب کے بارے میں انھیں زبانی یاد ہوتا تھا کہ کون سی الماری میں کس جگہ رکھی ہوئی ہے۔
ہمارے لیے بھی شروع سے ہی سبق آموز کہانیوں کی کتابیں لایا کرتے تھے۔ایک مرتبہ ہمیں نسیم حجازی کے ناول بھی لا کر دیے۔ علم اور تعلیم سے ان کو بے پناہ دلچسپی تھی۔ روزانہ جب میں یونیورسٹی سے واپس آتی تو پوچھتے تھے کہ آج کس کس مضمون کی کلاس ہوئی اور کیا پڑھا؟ اسکول کی ابتدائی جماعتوں سے ان کا یہی معمول تھا۔ یونیورسٹی میں جب مجھے کوئی اسائنمنٹ ملتی تو میں اس پر ان کے ساتھ اچھی طرح ڈسکس کرتی تھی۔ اس کے بعد وہ اس موضوع سے متعلق کتابوں کی نشان دہی کرتے تھے اور جب اسائنمنٹ تیار ہو جاتی تو بہت دلچسپی سے اس کو پڑھا کرتے تھے اور غلطیوں کی اصلاح کیا کرتے تھے۔ اکثر وبیشتر انعام بھی دیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہم بہنوں کا جب بھی امتحانات میں اچھا رزلٹ آتا تو نہایت خوشی کا اظہار کرتے، دعوت کا اہتمام کرتے اور تحائف دیا کرتے تھے۔
کھیلوں میں بھی انھیں وہی کھیل پسند تھے جن میں کوئی تعلیمی پہلو ہو۔ بہت بچپن سے ہمارے ساتھ تعلیمی تاش کھیلتے کہ اس سے اردو اچھی ہوتی ہے۔ اسی طرح اکثر جب سب لوگ اکٹھے ہوتے تو بیت بازی کیا کرتے تھے اور آخر میں والد صاحب اور دادی صاحبہ رہ جاتے تھے، باقی سب ہار جاتے تھے۔ مختلف علمی شخصیات سے متعلق سوالات پر مبنی ذہنی آزمائش کا کھیل ’کسوٹی‘ بھی بہت شوق سے کھیلتے تھے۔ ہم جب ان سے کہانی سننے کی فرمائش کرتے تو اسلامی تاریخ سے قصے سنایا کرتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ بہت پسند تھا۔ وہ بہت زیادہ سناتے تھے۔
والد صاحب بہت خوش لباس بھی تھے۔ اپنے کپڑے بہت شوق سے سلواتے تھے۔ اگر کبھی ہم کہتے کہ آپ کے پاس اتنے زیادہ کپڑے ہیں تو امام مالک بن انسؒ کا واقعہ سناتے کہ وہ روزانہ صبح کو نئے کپڑے پہنتے تھے اور جب کوئی ان سے اس کے بارے میں کہتا تو فرماتے تھے: ’نفعل ونستغفر‘ کہ ہم ایسا کرتے ہیں اور استغفار کرتے ہیں۔
اپنا وقت کبھی ضائع نہیں کرتے تھے۔ اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ انھوں نے کارآمد بنایا۔ شام کو جب چائے پیتے تھے تو ساتھ ساتھ کوئی کتاب پڑھتے رہتے تھے۔ شام کو بلاناغہ اپنے اسٹڈی روم میں بیٹھ کر کام کرتے تھے۔ چاہے کتنے بھی تھکے ہوئے ہوں، ناغہ نہیں ہوتا تھا۔ کھانے سے پہلے چہل قدمی کے لیے جاتے تھے۔ رات کا کھانا کھا کر گھر والوں کے ساتھ محفل سجایا کرتے تھے اور پھر رات کو بارہ ایک بجے تک اپنا کام کرتے تھے۔ آخری دن تک ان کا یہی معمول رہا۔
اپنا کام ہمیشہ خود کرتے تھے۔ کبھی کسی دوسرے کو زحمت نہیں دی۔ صبح دفتر جاتے ہوئے اپنا بریف کیس ہمیشہ خود گاڑی میں رکھتے تھے، کبھی ڈرائیور کو نہیں دیا۔ آخری عمر میں بازو میں تکلیف رہنے لگی تھی اور بھاری چیز اٹھانے میں دقت ہوتی تھی، پھر بھی کبھی کبھار خود ہی اٹھا لیتے تھے۔ گاڑی میں سفر کے دوران میں ہمیشہ قرآن شریف کی تلاوت کرتے تھے اور اگر سفر لمبا ہوتا تو کوئی کتاب ساتھ رکھ لیتے تھے۔
طبیعت میں قناعت پسندی بہت زیادہ تھی۔ دنیاوی عیش وآرام سے بے نیاز رہتے تھے۔ اپنے بچپن کا قصہ سناتے تھے کہ ایک دفعہ میں پڑوسیوں کی گاڑی دیکھ کر بہت افسردہ ہوا کہ ان کے ٹھاٹھ باٹھ ہیں اور ہمارے نہیں ہیں۔ گھر آکر کہا کہ میں کل سے مدرسے نہیں جاؤں گا، مجھے بھی پڑوسیوں کے بچوں کی طرح اسکول جانا ہے۔ ان کے پاس تو گاڑی بھی ہے۔ خوب روئے اور سو گئے۔ سو کر اٹھے تو دادی جان نے کہا کہ ذرا میرے ساتھ چلو۔ وہ گھر کے قریب ہی مہاجروں کی جھونپڑیوں میں لے گئیں۔ کئی جھونپڑوں کے اندر لے کر گئیں اور پھر گھر آ کر خوب ڈانٹا کہ پڑوسیوں کے عیش وآرام تو تمھیں خوب نظر آئے، یہ لوگ نظر نہیں آتے کہ کس طرح زندگی گزارتے ہیں! فرماتے تھے کہ انھوں نے ایسا سبق دیا تھا کہ میں دنیا کے بڑے سے بڑے محل میں گیا، خوب سے خوب تر ہوٹلوں میں ٹھہرا، مگر کبھی دل میں یہ خیال نہیں آیا کہ کس کے پاس کیا ہے اور میرے پاس کیا ہے۔ یہی بے نیازی اور تقویٰ تھا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اتنی عزت دی۔ ان کے ایک دوست نے کیا خوب کہا ہے کہ ایسا علم تو شاید دوبارہ پیدا ہو جائے، لیکن ایسا تقویٰ دوبارہ پیدا ہونا مشکل ہے۔
واقعات تو اور بھی بہت سے ہیں، لیکن نہ الفاظ ساتھ دیتے ہیں اور نہ جذبات اجازت دیتے ہیں۔ بس اللہ رب العزت سے یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق اور ان کے ادھورے رہ جانے والوں کاموں کو مکمل کرنے کی ہمت اور استطاعت عطا کرے اور ان کے لیے صدقہ جاریہ بنا دے۔ آمین
ایک معتمد فکری راہ نما
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کی اچانک خبر ملک بھر کے علمی وفکری حلقوں کی طرح میرے لیے بھی بہت بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔ میں اس روز ڈیرہ اسماعیل خان میں تھا۔ ایک روز قبل مولانا عبد الرؤف فاروقی اور مولانا قاری جمیل الرحمن اختر کے ہمراہ کلاچی گیا تھا۔ جمعیۃ علماء اسلام کے بزرگ راہ نما مولانا قاضی عبد اللطیف کی وفات کے بعد وہاں نہیں جا سکا تھا۔ ان کے برادر بزرگ حضرت مولانا قاضی عبد الکریم صاحب مدظلہ اور دیگر اہل خاندان سے تعزیت کی اور رات کو ہم ڈیرہ اسماعیل خان آ گئے۔ ڈیرہ میں موبائل فون کی سروس سکیورٹی کے عنوان سے ایک عرصے سے بند ہے۔ اپنے پروگراموں سے فارغ ہو کر دوپہر کے وقت ہم ڈیرہ اسماعیل خان سے روانہ ہوئے تو شہر سے باہر نکلتے ہی موبائل فون کی گھنٹی بجی اور ہمارے گوجرانوالہ کے ساتھی حافظ محمد یحییٰ میر نے اطلاع دی کہ آپ کے اسلام آباد والے دوست ڈاکٹر محمود احمد غازی انتقال کر گئے ہیں۔ دل دھک سے رہ گیا۔ ان سے خبر کا ذریعہ پوچھا تو بتایا کہ ٹیلی وژن کے ایک چینل پر پٹی چل رہی ہے۔ اسلام آباد کے ایک دو دوستوں کو فون کیا تو انھوں نے تصدیق کر دی کہ ڈاکٹر صاحب کا صبح نماز فجر کے وقت انتقال ہو گیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جنازے کے بارے میں بتایا گیا کہ دو بجے اسلام آباد میں ہے۔ اس وقت ایک بجے دن کا وقت تھا۔ جنازے میں شریک نہ ہو سکنے کا صدمہ بھی ڈاکٹر غازی مرحوم کی اچانک جدائی کے غم کا ساتھی بن گیا۔
ڈاکٹر صاحب موصوف نے ۳؍ اکتوبر کو ہمارے ہاں گوجرانوالہ تشریف آوری کا پروگرام طے کر رکھا تھا۔ الشریعہ اکادمی میں ’’دینی مدارس میں تدریس قرآن کریم کی اہمیت اور تقاضے‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار کا پروگرام طے تھا جس کے مہمان خصوصی ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ تھے اور تاریخ انھی کے مشورے سے طے ہوئی تھی۔ ہم ا س سیمینار کی تیاری کر رہے تھے اور ڈاکٹر صاحب کی تشریف آوری سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے کچھ مزید چھوٹے چھوٹے پروگرام بھی ترتیب دے رہے تھے کہ اچانک انھیں مالک حقیقی کی طرف سے بلاوا آ گیا اور وہ سارے پروگرام چھوڑ کر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ڈاکٹر صاحب کا تعلق حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانوی اور حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی کے خاندان سے تھا۔ انھوں نے ابتدائی دینی تعلیم جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں حاصل کی اور دورۂ حدیث دار العلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راول پنڈی میں کیا۔ ان کے حدیث کے استاذ صوبہ خیبر پختون خواہ کے معروف محدث حضرت مولانا عبد الرحمن المینوی رحمہ اللہ تعالیٰ اور قرآن کریم کے ترجمہ وتفسیر کے استاذ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ تعالیٰ تھے۔ وہ اپنے استاذ محترم کی طرز پر مختلف یونیورسٹیوں میں چند روز کے اندر دورۂ تفسیر بھی کراتے تھے۔ ایک دفعہ ان سے نوٹنگھم (برطانیہ) کے جامعہ الہدیٰ میں ملاقات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ وہ لیسٹر کے ادارۂ اسلامک فاؤنڈیشن میں دس روزہ دورۂ تفسیر قرآن کریم کرانے کے لیے آئے ہیں۔ میں نے تعجب کا اظہار کیا تو انھوں نے بتایا کہ وہ مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اس طرز کے دورۂ تفسیر قرآن کریم کراتے رہتے ہیں۔ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں پیش رفت کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچے کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر کے منصب پر فائز ہوئے، مگر ان کا اصل تعارف ان کی ڈگریوں کے حوالے سے نہیں، بلکہ ان کے علمی مقام اور دینی وعلمی خدمات کے حوالے سے جس نے انھیں دینی وعصری علوم کے ماہرین میں ایک متفق علیہ شخصیت اور معتمد راہ نما کے مقام پر فائز کر دیا۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ پہلی ملاقات یاد نہیں، مگر بیسیوں ملاقاتوں کے مناظر ذہن کی اسکرین پر جھلملا رہے ہیں۔ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے ابتدائی دور میں ڈاکٹر غازی مرحوم ہماری دعوت پر گوجرانوالہ تشریف لائے۔ یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کیا اور تعلیمی نظام میں بہت سے مفید مشوروں سے نوازا۔ اس موقع پر انھوں نے جامع مسجد نور، مدرسہ نصرۃ العلوم میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے بھی خطاب کیا۔
ڈاکٹر صاحب مرحوم میرے علمی وفکری معاملات میں سب سے بڑے مشیر تھے اور ہمارے درمیان امت مسلمہ کے علمی وفکری مسائل پر تبادلہ خیالات او رمشاورت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا تھا۔ لندن میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری اور مولانا مفتی برکت اللہ کے ساتھ مل کر ہم نے ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ قائم کیا جو گزشتہ دو عشروں سے علمی وفکری محاذ پر سرگرم عمل ہے۔ فورم کا مقصد ملت اسلامیہ کو درپیش علمی وفکری مسائل کی نشان دہی اور ان کے حل کی تلاش میں کاوشوں کو منظم کرنا ہے۔ اس فورم کی تشکیل اور سرگرمیوں میں ہمیں جن نمایاں علمی شخصیتوں کا تعاون حاصل رہا ہے، ان میں مولانا عتیق الرحمن سنبھلی، مولانا مجاہد الاسلام قاسمی، ڈاکٹر محمود احمد غازی، ڈاکٹر سید سلمان ندوی، مولانا سید سلمان الحسینی اور مولانا محمد عبد اللہ پٹیل کاپودروی بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم نے ایک بار ہماری دعوت پر برطانیہ کا دورہ بھی کیا اور فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے علاوہ مختلف شہروں میں علمی اور فکری اجتماعات سے خطاب کیا۔
ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے ہم نے مغربی ممالک کے لیے اسلامی تعلیمات کے خط وکتابت کا سلسلہ شروع کرنا چاہا تو ہمیں دعوہ اکیڈمی ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا کورس پسند آیا۔ اس وقت ڈاکٹر صاحب مرحوم دعوہ اکیڈیمی کے سربراہ تھے۔ انھوں نے نہ صرف بھرپور تعاون کیا، بلکہ باقاعدہ معاہدے کی صورت میں اردو اور انگلش نصابات کی کاپیاں فراہم کیں اور سالہا سال تک اس پروگرام کی سرپرستی کرتے رہے۔ یہ کورس جامعۃ الہدیٰ نوٹنگھم کے ذریعے کئی سال تک چلتا رہا ہے اور مختلف مغربی ممالک کے ہزاروں لوگوں نے اس سے استفادہ کیا ہے اور اب یہ ’’اسلامک ہوم اسٹڈی کورس‘‘ کے عنوان سے انٹر نیٹ پر موجود ہے اور سیکڑوں افراد اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اللہ کی قدرت کہ جن دنوں اس کورس کے سلسلے میں بات چیت چل رہی تھی، ڈاکٹر صاحب کی جگہ دعوہ اکیڈمی کے نئے ڈائریکٹر جنرل کا تقرر ہو گیا۔ ہمیں بہت پریشانی لاحق ہوئی کہ ڈاکٹر صاحب سے ہمارے مذاکرت چل رہے ہیں اور نئے آنے والے ڈائریکٹر جنرل کے مزاج سے ہم واقف نہیں ہیں، پتہ نہیں کہ وہ ہماری ضروریات کے مطابق تعاون کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔ میری برطانیہ کے سفر سے واپسی ہوئی تو میں نے ڈاکٹر صاحب سے فون پر رابطہ کیا اور نئے آنے والے ڈائریکٹر جنرل کے حوالے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ اسلام آباد تشریف لائیں۔ میں اسلام آباد گیا اور ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے مجھے ایک ڈرافٹ دیا اور کہا کہ اس پر دستخط کریں۔ ان دنوں میں ورلڈ اسلامک فورم کا چیئرمین تھا اور میرے وہاں دستخط ہونے تھے ۔ میں نے دستخط کر دیے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ دعوہ اکیڈمی کا منصب چھوڑنے سے پہلے میں نے آپ کے ساتھ کیے ہوئے معاہدے پر دستخط کر دیے تھے اور مجھے یاد تھا کہ میں نے ان سے معاہدہ کیا ہوا ہے۔ یہ ہمارا ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کام کرنے کا ایک خوشگوار تجربہ تھا۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم نے جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں وزارت مذہبی امور کا منصب سنبھالا تو مجھے بھی تعجب ہوا تھا کہ ڈاکٹر صاحب اس میدان اور ذوق کے آدمی نہیں تھے، مگر رفتہ رفتہ ان کی حکمت عملی سمجھ میں آنے لگی تو میں ان کی ذہانت اور صلاحیتوں کا پہلے سے زیادہ معترف ہوتا گیا اور جب وہ وزارت سے الگ ہوئے تو میں اسلام آباد کے چند علماء کرام کے ساتھ ان سے ملاقات کے لیے ان کے گھر گیا۔ باتوں باتوں میں، میں نے انھیں مبارک باد پیش کی اور شکریہ ادا کیا تو وہ چونکے اورمیرے ساتھ جانے والے علماء کرام بھی متعجب ہوئے کہ میں شکریہ اور مبارک باد کس حوالے سے پیش کر رہا ہوں! میں نے عرض کیا کہ دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے کے لیے جنرل پرویز مشرف کا پروگرام طے پا چکا تھا اور اس پر عمل درآمد کی تیاریاں ہو رہی تھیں کہ ڈاکٹر غازی مرحوم نے فائل ورک، پیپر ورک اور بیرونی دوروں کا جال بچھا دیا۔ مختلف مسلم ممالک کے تعلیمی نظاموں کا جائزہ لینے کے لیے وفود جانا شروع ہوئے اور ملک کے اندر مختلف حوالوں سے کمیٹیوں اور مذاکرات کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ اتنے میں دینی مدارس کے مختلف وفاقوں کو اپنی صف بندی اور موقف وپالیسی میں یکسانیت پیدا کرنے کا موقع مل گیا اور وہ متحد ہو کر رائے عامہ کی قوت کے ساتھ سامنے آ گئے جس سے دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے کا پروگرام آگے نہ بڑھ سکا۔ میں نے کہا کہ میں ڈاکٹر صاحب کو اس کامیاب حکمت عملی پر مبارک باد دے رہا ہوں اور ان کا شکریہ ادا کر رہا ہوں۔ یہ سن کر ڈاکٹر غازیؒ میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور کہا کہ صرف آپ میری اس حکمت عملی کو سمجھ سکے ہیں، ورنہ اسلام آباد کے علماء کرام تو مجھے ابھی تک برا بھلا ہی کہہ رہے ہیں۔
وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے کچھ عرصہ قبل بڑے دینی مدارس میں تخصصات کے نصابات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی بنائی اور مجھے اس کا مسؤل بنایا تو میں نے اس سلسلے میں ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب سے مشورہ ضروری سمجھا۔ انھوں نے نہ صرف متعدد مفید مشوروں سے نوازا، بلکہ ایک باقاعدہ رپورٹ دینی مدارس کے تخصصات کے بارے میں تحریر کی جو ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں شائع ہو چکی ہے، مگر بدقسمتی سے یہ اہم کام جو بتدریج آگے بڑھ رہا تھا، وفاق المدارس کی بیورو کریسی کی داخلی مصلحتوں اور ترجیحات کی نذر ہو کر معطل پڑا ہے۔
آخری ملاقات چند ماہ قبل اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر ہوئی جب میں گوجرانوالہ میں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے پراجیکٹ کے حوالے سے ان سے مشورے کے لیے گیا۔ ربع صدی قبل شروع کیا جانے والا ہمارا یہ پراجیکٹ مختلف وجوہ کی بنا پر کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ زمین کا ایک بڑا رقبہ اور تین چار بلڈنگیں موجود تھیں۔ ہم دس پندرہ سال کے تعلیمی پروگرام میں اتار چڑھاؤ کے بعد یہ طے کر چکے تھے کہ اب مزید اس کام کو آگے بڑھانا ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ اس کے لیے جن حضرات سے مشاورت ہوئی، ان میں ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ سرفہرست تھے۔ ہم ان کے پاس یہ تجویز لے کر گئے تھے کہ اگر یہ جگہ اور بلڈنگیں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے کسی منصوبے میں کام آ سکتی ہوں تو وہ اس کے لیے ہماری مدد کریں۔ انھوں نے اس سے اتفاق کیا مگر کہا کہ پہلے کراچی کے کسی بڑے دینی ادارے سے بات کر کے دیکھ لیں، وہ زیادہ بہتر رہیں گے۔ اگر وہاں بات نہ بن سکی تو پھر میں آپ حضرات کی تجویز پر پیش رفت کر سکتا ہوں۔ نام بھی انھوں نے انھوں نے تجویز کیا کہ اگر دار العلوم کراچی تیار ہو تو زیادہ بہتر ہوگا، مگر وہ شاید ایسا نہ کریں، اس لیے جامعۃ الرشید سے بات کر لیں۔ وہ سنبھال بھی لیں گے اور بہتر انداز میں کوئی تعلیمی پروگرام بھی منظم کر لیں گے۔ یہ بات ایک آپشن کے طور پر ہمارے ذہن میں بھی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کی تائید سے پختہ ہو گئی۔ ہم نے جامعۃ الرشید سے بات کی اور انھوں نے جگہ اور بلڈنگیں سنبھال کر ’’جامعہ شاہ ولی اللہ‘‘ کے نام سے تعلیمی پروگرام کا آغاز گزشتہ سال شوال سے کر دیا ہے۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کام بھی ڈاکٹر صاحب مرحوم کے صدقات جاریہ میں سے ہے اور اس تعلیمی پروگرام کے اجر وثواب میں وہ مسلسل شریک رہیں گے۔
اسی دوران ڈاکٹر صاحب مرحوم سے میری ایک ملاقات دار العلوم اسلامیہ کامران بلاک، علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں دینی مدارس کے اساتذہ کے تربیتی پروگرام میں ہوئی جس میں مختلف امور پر باہمی تبادلہ خیالات ہوا۔ میرا بیان ظہر سے قبل ہو چکا تھا، مگر میں ڈاکٹر صاحب سے ملاقات اور ان کا خطاب سننے کے لیے مغرب تک رکا۔ اب یہ میرے ذہن میں نہیں ہے کہ ان دونوں ملاقاتوں میں سے پہلے کون سی ہوئی اور دوسری کون سی، مگر یہ ہماری آخری دو ملاقاتیں ہیں جن کی یاد ہمیشہ ذہن میں تازہ رہے گی۔
ایک دفعہ خبر ملی کہ ڈاکٹر صاحب کے گھر میں ڈاکہ پڑ گیا ہے اور رات کے وقت ڈاکوؤں نے غازی صاحب کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر غزالی پر تشدد بھی کیا ہے۔ مجھے پریشانی ہوئی کہ ڈاکٹر صاحب کے گھر ڈاکو کیا لینے آئے تھے۔ مجھے تو معلوم تھا کہ ڈاکٹر صاحب کے گھر میں کیا ہو گا۔ جب میں ڈاکٹر صاحب سے ملا تو ان سے معاملہ دریافت کیا اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب ! ان کو کس طرح حوصلہ ملا کہ آپ کے گھر میں کوئی چیز مل سکتی ہے؟ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ اصل میں ان ڈاکوؤں کو مغالطہ لگ گیا ۔ وہ اس طرح کہ جب بھی مجھے کسی دوسرے ملک میں کسی پروگرام میں جانا ہوتا ہے تو وہاں سے کوئی نہ کوئی تحفہ یا اعزاز ملتا ہے اور وہ جن ڈبوں میں بند ہوتے ہیں، وہ زیورات کے ڈبوں کی طرح سجے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ میرے گھر میں ڈھیروں پڑے ہوئے ہیں اور تین چار الماریاں بھری پڑی ہیں۔ کسی آنے جانے والے کو مغالطہ ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کے گھر اتنا زیور ہے۔ وہ مغالطہ ڈاکووں کو یہاں لے آیا اور بے چارے غزالی پر تشدد کر کے چلے گئے۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کو عام طور پر یونیورسٹی کی دنیا کا آدمی سمجھا جاتا رہا ہے، حالانکہ وہ اصلاً دینی مدارس کے ماحول کے آدمی تھے اور جدید تعلیم کی دنیا میں روایتی دینی حلقوں کی بھرپور اور کامیاب نمائندگی کر رہے تھے۔ جدید ماحول میں آج کے اسلوب اور اصطلاحات میں دین اسلام اور امت مسلمہ کے روایتی اور اجماعی موقف کے جس کامیابی اور اعتماد کے ساتھ وہ نمائندگی کرتے تھے، مجھے اس معاملے میں اس حوالے سے بلا مبالغہ ان کا کوئی ثانی دکھائی نہیں دے رہا۔ علمی محاذ پر بہت سی شخصیات ان پر تفوق رکھتی ہیں، لیکن علم کے صحیح اور بروقت استعمال اور علم وفکر میں توازن کے حوالے سے وہ اپنے معاصرین میں سب سے نمایاں تھے۔ ڈاکٹر صاحب دینی اور عصری علوم پر یکساں دسترس رکھتے تھے۔ عربی اور انگلش سمیت نصف درجن کے لگ بھگ زبانوں میں قادر الکلام تھے اور تحریر وتقریر پر ان کی مکمل دسترس تھی۔ بے پناہ مطالعہ اور تجزیہ وتنقیح کی اعلیٰ صلاحیت سے بہرہ ور تھے۔ مشکل سے مشکل مسئلہ کی گہرائی تک اترتے اور اس کا قابل عمل حل نکالتے تھے۔ نامساعد حالات میں بھی اعتماد اور خوش اسلوبی کے ساتھ کام کرنے اور اپنا کام کر گزرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔ بین الاقوامی کانفرنسوں میں اسلام کی نمائندگی اور جمہور اہل علم کے موقف کی ترجمانی کے لیے پوری دنیاے اسلام میں گنتی کے جن چند حضرات کا نام لیا جا سکتا تھا، ان میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر محمود احمد غازی کا بھی تھا۔ کسی سطح کی کانفرنس ہو اور کوئی بھی موضوع ہو، وہ پورے اعتماد، حوصلے اور جرات کے ساتھ اسلام کی ترجمانی کرتے تھے اور مطالعہ اور گفتگو کے عصری اسلوب پر ان کی گرفت اس قدر مضبوط تھی کہ فکر ودانش کی کوئی بھی سطح اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی تھی۔
ڈاکٹر غازی مرحوم کے علمی تبحر، مطالعہ کی وسعت اور دینی وعصری تقاضوں کے مکمل ادراک کے ساتھ ساتھ مجھے ان کی جس بات نے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ موقع ومحل کے مطابق محفل کی ذہنی سطح کا لحاظ کرتے ہوئے موثر اور ثمر آور گفتگو کی صلاحیت تھی اور اس کے علاوہ ان کی سادگی، انکساری اور درویش مزاجی تھی جو ان کے حلقہ احباب میں ان کی مقبولیت کا باعث تھی۔ میرا احساس ہے کہ وہ اپنی علمی سطح اور منصبی مقام کو سامنے رکھتے ہوئے پروٹوکول کے تکلف میں پڑے رہتے تو شاید اتنے زیادہ لوگ ان سے علمی استفادہ نہ کر پاتے۔ میرے خیال میں پروٹوکول کا تکلف علمی دنیا میں استفادہ اور افادہ دونوں کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے اور میں اس سلسلے میں امام ابویوسفؒ کے اس قول کا اکثر حوالہ دیا کرتا ہوں کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ ایک غریب اور معمولی خاندان کا فرد ہوتے ہوئے علم وفضل کے اس قدر بلند مقام تک کیسے پہنچے ہیں تو فرمایا کہ:
ما استنکرت من الاستفادۃ وما بخلت بالافادۃ
میں اس کا اپنی زبان میں ترجمہ یوں کیا کرتا ہوں کہ :
’’علم کے حصول اور فروغ میں میرا کبھی کوئی پروٹوکول نہیں رہا۔‘‘
میں نے ڈاکٹر غازی مرحوم کو حضرت امام ابو یوسفؒ کے اس ارشاد کا عملی مصداق پایا ہے اور کم وبیش دو عشروں تک اس کامشاہدہ کرتا رہا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم کے ساتھ میرا تعلق مخلص بھائیوں اور بے تکلف دوستوں والا تھا۔ انھوں نے ہمیشہ مجھے بڑے بھائی کا احترام دیا اور میرے لیے ہمیشہ وہ سب سے زیادہ معتمد اور مخلص مشیر ثابت ہوئے۔ وہ اپنی زندگی پوری وضع داری کے ساتھ گزار کر چل دیے ہیں اور بارگاہ ایزدی میں ان کی قبولیت کی علامت یہ ہے کہ رات کو ان کو دل کا دورہ پڑا، وہ فجر تک ہسپتال میں رہے، فجر کے وقت ہوش میں آئے تو نماز کا وقت پوچھا اور یہ معلوم کر کے کہ فجر کا وقت ہو گیا ہے، نماز فجر ادا کی اور اس کے چند لمحوں بعد جان جاں آفرین کے سپرد کر دی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ رسم ومحاورہ کی بات نہیں، بلکہ امر واقعہ ہے کہ ہم اپنے دور کی ایک بڑی علمی شخصیت اور معتمد فکری راہ نما سے محروم ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں، آخرت کی منزلیں آسان فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
ایک عظیم اسکالر اور رہنما
مولانا محمد عیسٰی منصوری
ڈاکٹر محمود احمد غازی کی ہستی برصغیر کے ا ہل علم میں ایک ایسی شخصیت تھی جو بین الاقوامی مجالس وکانفرنسوں اور اعلیٰ سے اعلیٰ سطح پر اسلام اور جمہور اہل علم کی ترجمانی کرتی تھی۔ بقول مولانا زاہدالراشدی کے ’’مکالمے اور گفتگو کے عصری اسلوب پر ان کی گرفت اس قدر مضبوط تھی کہ اعلیٰ سے اعلیٰ فکر ودانش کی کوئی بھی سطح اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی تھی۔‘‘ انہوں نے خاموشی سے جنرل ضیاء الحق کے دور سے لے کر پرویز مشرف کے دور تک بعض ظاہر بین لوگوں کی ملامت کی پروا کیے بغیر حکومتی سطح پر وہ کام کر دکھایا جو صرف آپ ہی کے کرنے کا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے جنرل ضیاء الحق کے عربی کے ترجمان اور دینی معاملات میں مشیر بن کر بہت قریب تھے۔ آپ نے خاموشی سے جنرل ضیاء الحق سے حکومتی سطح پر متعدد دینی وعلمی کام کروائے، خواہ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کا خاکہ ہو، خواہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی دعوۃ اکیڈمی وشریعہ اکیڈمی کے ذریعے بے شمار دینی وعلمی کتب کی طباعت اور دنیا بھر میں ایسے ممالک میں اسلامی اسکالرز تیار کرنا جہاں مسلمان اقلیت میں اور غیر اسلامی تمدن وکلچر کے دباؤ میں ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹی کی طرف سے متعدد دینی واسلامی کورسز کا اجرا جس کے ذریعے ہزار ہا طلبہ نے مطالعہ اسلام، مطالعہ قرآن اور متعدد کورس کیے۔ خود برطانیہ میں ڈاکٹر صاحب کے عطا کردہ مطالعہ اسلام کا دو سالہ کورس (ہوم اسٹڈی کورس) ورلڈ اسلامک فورم کے توسط سے تقریباً دس ہزار طلبہ وطالبات نے کیا۔ آپ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر ونائب صدر رہے اور حقیقت یہ ہے کہ یونیورسٹی کی دعوۃ اکیڈمی وشریعہ اکیڈمی کی خاکہ گری کرنے والوں میں سب سے نمایاں اور عرصہ تک ان دونوں اکیڈیمیز کی روح رواں آپ ہی کی شخصیت تھی۔
اسی طرح سود کے خلاف سپریم کورٹ کے مشہور اور تاریخ ساز فیصلہ میں ڈاکٹر صاحب کا بحیثیت اپیلٹ بینچ سپریم کورٹ آف پاکستان سب سے نمایاں کردار رہا ہے۔ اس مشہور فیصلے کا بڑا حصہ ڈاکٹر صاحب ہی کا تحریر کردہ ہے، اگرچہ پاکستان کے متعدد علماء کرام اورجج صاحبان اس میں شامل تھے۔ ڈاکٹر حمیداللہ (پیرس) کے بعد برصغیر میں آئینی وقانونی معاملات میں آپ اسلامی دفعات کے سب سے بڑے ماہر تھے۔ ڈاکٹر حمیداللہؒ کے مشہور خطبات بہاولپور کی دوسری جلد جو قانون بین الممالک کی موضوع پرہی ہے، وہ ڈاکٹر غازی صاحب ہی کے محاضرات ہیں۔ اس کامطالعہ بتاتا ہے کہ آپ کی نظر قانون بین الممالک یا انٹرنیشنل لا پر اپنے پیش رو سے کہیں بڑھ کر تھی۔ اسی طرح بہت کم لوگوں اس حقیقت کا علم ہے کہ برصغیر میں آپ اسلامی بینکنگ کے بانیوں میں تھے۔ اسلامی بینکنگ کے لیے تکافل کا ابتدائی خاکہ آپ ہی کا تشکیل کر دہ ہے۔ اس پر پاکستان سے بہت پہلے بعض عرب ممالک اور ملائیشیا میں عمل ہوا۔ اسلامی معاشیات پر آپ کا علمی وفکری اور تجدیدی کام بہت وقیع اور ناقابل فراموش ہے اور آخر تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے شریعہ ایڈوائزی بورڈ کے چیئرمین کامنصب آپ ہی کے پاس تھا۔
اسی طرح قادیانیوں کے خلاف امت مسلمہ کے متفقہ موقف کی ترویج واشاعت اور اس سلسلے میں ہونے والی قانون سازی میں ڈاکٹر صاحب کی تگ ودو اور ماہرانہ رائے کا بڑا دخل رہا ہے۔ ۸۰ء کی دہائی میں ساؤتھ افریقہ میں قاد یانیوں کے متعلق مقدمہ میں صدر جنرل ضیاء الحق مرحوم نے پاکستان کے جید علماء کرام اور ماہرین قانون کا ایک موقر اور اعلیٰ سطحی وفد روانہ کیا تھا۔ وہاں عدالت عالیہ کے سامنے امت مسلمہ کا موقف پیش کرنے کی سعادت ڈاکٹر صاحب ہی کے حصے میں آئی۔ بالآخر اسی تاریخی مقدمے میں ملت اسلامیہ کے موقف کو غیر مسلم عدالت کے سامنے سرخروئی حاصل ہوئی۔ آج یہ فیصلہ دنیا بھر کے غیر مسلم ممالک کی عدالتوں کے لیے ایک نظیرہے۔ ایک بار بندہ نے ابراہیم کالج لندن میں برطانیہ کی مختلف ختم نبوت تنظیموں کے سربراہوں اور علماء کو بلا کر ڈاکٹر صاحب سے میٹنگ کروائی۔ ان علماء کرام کے روبرو ڈاکٹر صاحب نے جو بصیرت افروز تقریر فرمائی، بندہ نے اس مسئلہ پر ایسی ٹھوس اور مدلل تقریر کبھی نہیں سنی تھی۔ آج بھی آپ قادیانیوں کی ویب سائٹ کھولیں تو اندازہ ہوگا کہ قادیانیوں کو سب سے زیادہ تکلیف ڈاکٹر صاحب ہی سے تھی۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی پرویز مشرف کی تشکیل کردہ نیشنل سیکورٹی کونسل کا حصہ بنے تو بعض بزرگوں نے آپ کو لعنت ملامت کا نشانہ بنایا۔ بندہ نے اپنے کانوں سے پاکستان کے ایک ممتاز ترین عالم دین سے ڈاکٹر صاحب کے متعلق سخت ترین الفاظ سنے۔ ان بزرگ نے مجھے بتایا کہ میں نے بھرے مجمع میں ڈاکٹر صاحب کو کھری کھری سنائیں۔ بندہ نے دل میں کہا کہ یہ آپ کا کمال نہیں بلکہ ڈاکٹر صاحب کا حوصلہ، شرافت اورکمال ہے کہ آپ کے منصب کا لحاظ کر کے خاموش رہے، لیکن اہل نظر خوب جانتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نے مشرف جیسے شخص کے ساتھ رہ کر بھی جو کام انجام دیا، وہ صرف انھی کے کرنے کا تھا۔ چنانچہ رفیق محترم مولانا زاہدالراشدی صاحب لکھتے ہیں:
’’میں ان کی صلاحیتوں اور افتاد طبع سے آگاہ تھا، اس لیے کوئی تشویش نہیں تھی اور میں خاموشی سے ان کے ’’اپنا کام کر گزرنے‘‘ کی صلاحیت کا مشاہدہ کرتا رہا، چنانچہ جب مشرف نے آپ کو وزارت سے فارغ کر دیا تو میں اسلام آباد کے بعض علماء کرام کے ہمراہ ان سے ملنے گیا اور مبارک باد دینے کے ساتھ ان کا شکریہ بھی ادا کیاتو دوستوں کو تعجب ہوا کہ میں شکریہ کس بات کا ادا کر رہا ہوں۔ میں نے عرض کیا کہ دینی مدارس کے خلاف پرویز مشرف کی پرجوش پالیسی کی شدت کو جس حکمت عملی کے ساتھ ڈاکٹر صاحب نے کم کیا ہے اور اس پالیسی کو ٹالنے کے لیے داؤ پیچ ڈاکٹر صاحب نے کھیلے ہیں، یہ انھی کا کام تھا۔ ان خطرناک حالات میں امریکہ نے پرویز مشرف کے ذریعے دینی مدارس کو ملیا میٹ کرنے کے لیے ہلہ بول دیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی حکمت عملی یہ تھی کہ پیپر ورک، فائل ورک اور مسلمان ملکوں کے تعلیمی نظاموں کا جائزہ لینے کے حوالوں سے سرکاری وفود کا سلسلہ دراز کیا جائے۔ چنانچہ یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ اسی دوران دینی مدارس کے وفاقوں کو باہمی رابطوں اور رائے عامہ کو ہموار کرنے کاموقع مل گیا اور انہوں نے مشترکہ موقف طے کر کے حکومتی پالیسی کی مضبوط مزاحمت کا راستہ اختیار کر کے حکومت کی پالیسی کو ناکام بنا دیا۔‘‘
برصغیر میں ڈاکٹر حمیداللہ (پیرس) کے بعد ڈاکٹر محمود احمد غازی ایسے شخص تھے جو اردو، عربی، فارسی، انگریزی، فرنچ سمیت چھ سات زبانوں کے ماہر اور ان زبانوں میں اعلیٰ تحقیق وتصنیف وخطابت کا ملکہ رکھتے تھے۔ ڈاکٹر حمیداللہ ؒ کی فرانسیسی زبان میں دو جلدوں پر مشتمل سیرت کی شہرہ آفاق کتاب کا ڈاکٹر صاحب نے براہ راست فرنچ سے انگریزی میں ترجمہ کیا جو بہت مقبول ہوا۔ اسی طرح آپ کی آخری تصنیف ’’الحرکۃ المجددیہ‘‘ جو عربی میں چار سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہے، برصغیر کی عبقری شخصیت حضرت مجدد الف ثانیؒ کے احوال و آثار اور خدمات وتصنیفات کے علمی جائزے پر ہے۔ یہ کتاب آپ کی فارسی وعربی دانی کے ساتھ علمی تبحر اور تصوف کے دقائق سے گہری واقفیت کا ثبوت ہے۔ اسی طرح قرآن، حدیث، سیرت، فقہ، شریعت اور معیشت وتجارت پر آپ کے محاضرات علوم اسلامیہ کا بیش بہا خزانہ ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ پورے اسلامی کتب خانہ میں ان محاضرات کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ ان محاضرات کو پڑھنے والا ڈاکٹر صاحب کی وسعت علمی، وفور معلومات، ذہانت وقوت یادداشت اور قرآن وسنت اور تاریخ پر گہری بصیرت پر عش عش کر اٹھتا ہے۔ بندہ ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے اعلان کرتے ہوئے مسرت محسوس کرتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے محاضرات کی ان چھ جلدوں کو ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے لیسٹر کے دارارقم کے تعاون سے انگریزی میں چھاپا جائے گا۔ الحمد للہ اس پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح ڈاکٹر صاحب نے گوجرانوالہ (پاکستان) کی الشریعہ اکادمی کی ایک فکری نشست میں مسلمانوں کے نظام ونصاب تعلیم پر جو مبسوط خطاب فرمایا تھا، وہ اس موضوع پر ’’ما قل ودل‘‘ کی بہترین مثال ہے۔ اس میں آپ نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ مولانا ر اشدی صاحب نے ڈاکٹر صاحب کی فکری نشستوں کو مرتب کر کے چھاپ دیا ہے جو علماء کرام کے لیے نادر تحفہ ہے۔ بقول ڈاکٹر سید عزیز الرحمن چند برس پہلے جامعۃ الرشید کراچی میں قضاء وتحکیم کے موضوع پر اپنے خطاب میں ڈاکٹر صاحب نے مسلمانوں کے قضا کی پوری روایت اور اس کا محاکمہ ایسے انوکھے اسلوب میں پیش فرمایا کہ ملک بھر کے مفتیان کرام حیرت زدہ رہ گئے اور سب نے متفقہ طور پر اس خطاب کو پورے کورس کا حاصل قرار دے دیا۔ بندہ کے نزدیک ڈاکٹر صاحب طبقہ علماء میں برصغیر کی منفرد شخصیت تھے جو مشکل سے مشکل موضوع پر برجستہ اور مدلل خطاب کی صلاحیت سے بہرہ ور تھے۔ ایک بار لندن کے مشہور کانوے ہال واقع ہالبرن میں بندہ نے اسلامائزیشن کے موضوع پر خطاب کی دعوت دی۔ ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام میں اس موضوع پر ہونے والی کوششوں کی مکمل تاریخ پیش فرما دی۔
نومبر ۱۹۹۲ء میں رفیق محترم مولانا زاہدالراشدی اور بندہ نے یہاں برطانیہ میں مغربی فکر وفلسفہ کا جائزہ لینے اور اس کے موثر جواب کے لیے ورلڈ اسلامک فورم تشکیل دیا۔ اس وقت ہم نے ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی حلقہ بنایا جس میں ڈاکٹر سلمان ندوی (ساؤتھ افریقہ)، مولانا سید سلمان الحسینی (لکھنو)، مولانا مجاہدالاسلام قاسمی (بھارت)، مولانامحی الدین خان (ڈھاکہ) اور پاکستان سے ڈاکٹر محمود احمد غازی ہمارے شریک فکر اور شریک کار تھے۔ یوں تو ڈاکٹر صاحب کی برطانیہ متعدد بار تشریف آوری ہوئی۔ فورم کی دعوت پر ۱۹۹۴ء میں ڈاکٹر صاحب اور ڈاکٹر سلمان ندوی (ساؤتھ افریقہ) اورجناب صلاح الدین شہید مدیر تکبیر نے ہمارے ساتھ برطانیہ کے مختلف شہروں کا دورہ فرمایا۔ مختلف شہروں کی علمی تقریبات اور سیمیناروں میں شرکت فرمائی جن کی یادیں آج بھی یہاں کے علما اور دینی کارکنوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ اسی طرح فورم نے برطا نیہ میں ’’اسلامک ہوم اسٹڈی کورس‘‘ کے عنوان سے بذریعہ خط وکتابت اسلامی کورس شروع کیا تھا جس کے انچارج مولانا رضاء الحق آف نوٹنگھم تھے اور اس میں مولانا مشفق الدین بھی عملی طو ر پر شریک رہے۔ اس کورس سے برطانیہ میں ہزارہا طلبہ اور طالبات نے فائدہ اٹھایا ۔ اس کورس کی عملی رہنمائی ڈاکٹر صاحب نے فرمائی تھی۔ اس وقت آپ بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کی دعوۃ اکیڈمی کے ڈائریکٹر تھے۔ ہم نے دعوۃ اکیڈمی کا یہ کورس ڈاکٹر صاحب کی اجازت سے ان کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ کی صورت میں شروع کیا تھا اور ڈاکٹر صاحب مسلسل اس کی رہنمائی اور سرپرستی فرماتے رہے۔
جہاں تک یاد پڑتا ہے، ڈاکٹر صاحب سے بندہ کی پہلی ملاقات غالباً ۱۹۸۴ء میں پاکستان کے پہلے سفر کے موقع پر ہوئی۔ اس وقت ڈاکٹر صاحب اسلامی یونیورسٹی کی دعوۃ اکیڈمی کے ڈائریکٹر تھے۔ آپ نے ایک اجنبی زائر کے لیے اپنی قیمتی مصروفیات سے کئی گھنٹے فارغ کر کے ملاقات فرمائی۔ اس وقت بندہ کا احساس تھا کہ ایک ایسی شخصیت مل گئی جو فورم کے مقاصد میں بین الاقوامی سطح پر ہماری سرپرستی ورہنمائی کرسکتی ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب سے تعلق گہرا ہوتا گیا۔ جب بھی پاکستان کا سفر ہوتا، سب سے زیادہ اشتیاق ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا ہوتا کیونکہ پاکستان کے اہل علم میں آپ کی شخصیت ایسی ہستی تھی جن کی عالمی حالات پر گہری نظر تھی۔ خاص طور پر مغربی دجالی طاقتوں کے طریقہ واردات، پالیسیوں اور اقدامات میں آپ کو گہری بصیرت حاصل تھی۔ آپ سے مل کر کئی ذہنی وفکری گتھیاں سلجھ جاتیں۔ ڈاکٹر صاحب کی رہائش گاہ پر بھی نشستیں ہوتیں اور ہم آپ کی رفاقت سے مستفید ہوتے۔ پاکستان کے آخری سفر میں برطانیہ کے چھ علماء ہمراہ تھے جن میں مولانا مشفق الدین، مولانا شمس الضحیٰ اور مولانا فاروق ملا بھی تھے۔ ڈاکٹر صاحب سے طویل ملاقات اور مشورے رہے۔
بین الاقوامی فورم پر اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی کا جو سلیقہ ڈاکٹر صاحب کو تھا، اس کی مثال کم ہی ملے گی۔ آپ علم وفضل، دینی حمیت وتصلب کے ساتھ ساتھ حسن تکلم وحکمت کی دولت سے آراستہ تھے۔ ڈاکٹر صاحب حکومت کے اعلیٰ سے اعلیٰ منصب پر فائز رہے۔ آپ وفاقی وزیر بر ائے مذہبی امور، ممبر پاکستان سیکورٹی کونسل، جج وفاقی شرعی عدالت، چیئرمین شریعہ ایڈوائزری بورڈ برائے اسٹیٹ بینک آپ پاکستان، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن، انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کے صدر، نائب صدر، ڈائریکٹر دعوۃ اکیڈمی وغیرہ وغیرہ رہے، مگر کبھی سرکاری مراعات سے ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا۔ آپ کا علمی مقام یہ تھا کہ بیسیویں صدی کی عبقری شخصیت ڈاکٹر حمیداللہ آف پیرس نے ایک بار ڈاکٹر صاحب کو خط میں تحریر فرمایا کہ آپ کو میری کتب اور تحریروں میں حک واضافہ کا اختیار ہے۔ آپ کو تصوف واحسان میں برصغیر کے تین چار اہم ترین اکابر کی طرف سے اجازت بھی حاصل تھی، مگر آپ نے اس طرح اخفا سے کام لیا کہ گنتی کے چند افراد ہی واقف ہو ں گے۔ آپ سماع حدیث کی متعدد اعلیٰ ترین سندیں رکھتے تھے ۔ ایک سند ایسی تھی جو صرف چار واسطوں سے شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ تک پہنچ جاتی ہے۔
آپ کی گفتگو بڑی پر حکمت اور دانائی کی ہوتی۔ ایک بار ملائیشیا میں بین الاقوامی یونیورسٹی کی ورک شاپ کے موقع پر فرمایا کہ آج کے دور میں کوئی اگر خلیفہ ، وزیر، ا میر یا کسی منصب پر پہنچ جاتا ہے تو یہ بھول جاتا ہے کہ میں عبداللہ بھی ہوں۔ ایک بار ہم آکسفورڈ میں اسلامی سنٹر کے ڈائریکٹر فرحان نظامی سے ملنے گئے تو وہاں عرب شہزادوں کی داد ودہش کا تذکرہ تھا جو مغربی ممالک میں نام ونمود کی جگہوں پر علم اور اسلام کے نام پر خرچ کرتے ہیں اور بڑے فراخ دل واقع ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ عربوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اسلام کے سرپرست رہنا چاہتے ہیں، خادم نہیں۔ آپ ہمیشہ خود کو ایک دنیا دار شخص ظاہر کرتے، مگر بندہ نے ہمیشہ آپ کو کسی علمی مشغولیت (مطالعہ وتصنیف) میں دیکھا یا ذکر وتلاوت میں۔ ایک بار برطانیہ کے شہر لیسٹر میں مولانا فاروق ملا کے سنٹر دارارقم میں ایک ہفتہ تک ڈاکٹر صاحب کے محاضرات رہے۔ فقہ الاقلیات جیسے نادر موضوع پر ڈاکٹر صاحب کی قدرت کلام اور حسن خطابت دیکھ کر بار بار دل تڑپتا کہ کاش! برطانیہ کے مولوی صاحبان جبہ ودستار اورالقاب کے پھندوں سے نکل کر اس گوہر نایاب کی قدر کر کے فائدہ اٹھاتے۔ ڈاکٹر صاحب کی خداداد صلاحیتوں سے تقریباً دو سال ملائیشیا کی انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اور تقریباً اتنی ہی مدت عربوں میں قائم ہونے والی سب سے اعلیٰ معیار کی بین الاقوامی یونیورسٹی آف قطر نے استفادہ کیا۔ بندہ نے گزشتہ سال اپنے مخلص دوست مولانا رفیق ندوی کی، جو قطر میں مقیم ہیں، ڈیوٹی لگائی تھی کہ ہر ہفتہ کسی خاص موضوع پر ڈاکٹر صاحب کا لیکچر رکھیں اور ان کی ڈی وی ڈی تیار کر کے ہمیں فراہم کریں۔ ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے ایک معیاری دعوتی چینل قائم کرنے کے لیے کام جاری ہے۔ اسے تین سال پہلے دی میسیج کے نام سے رجسٹرڈ کروا لیا گیا تھا۔ جناب کامران رعد صاحب اس کے انچارج ہیں جو تن دہی سے اپنے کام میں جتے ہوئے ہیں۔ ویسے تو یہاں برطانیہ میں گزشتہ چند سالوں میں درجن بھر شیعہ، سنی، بریلوی، سلفی، دیوبندی چینل کھل گئے ہیں، مگر ان میں نہ انسانیت کے لیے کوئی پیغام ودعوت ہے نہ مسلمانوں کے لیے مقصد حیات اور امت پنے کا پیغام، نہ آج کے تہذیبی، فکری ونظریاتی چیلنجز کا جواب۔ یہ سات چینل محض اپنے اپنے مسلک کی اشاعت اور اپنے اکابر کی ثنا وتوصیف اور کہانیوں کے لیے وقف ہیں۔ خدا کرے ہم جلد اس قابل ہو سکیں کہ ڈاکٹر صاحب کے خطابات اپنے چینل سے نشر کر سکیں۔
ڈاکٹر صاحب کے اخلاص اوراپنی ذات کے اخفا کا یہ عالم تھا کہ فورم کی طرف سے ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۱۰ء کو ڈاکٹر صاحب کے لیے تعزیتی اجلاس کے موقع پر جب صدارتی خطبہ کی تیاری کا مرحلہ آیا تو خیال آیا گھر میں ڈاکٹر صاحب کی درجن بھر تصانیف ہیں۔ آپ کی شخصیت واحوال پر مضمون تیار کرنے میں ان سے مدد مل جائے گی۔ جب کتب اٹھا کر دیکھیں تو ان میں ایک لفظ ڈاکٹر صاحب کی ذات سے متعلق نہیں ملا۔ اس دور میں لوگ چھوٹی چھوٹی کتب مرتب کر کے اکابر کی تقریظ ومقدمہ کے نام سے اپنا پورے حالات زندگی بڑھا چڑھا کر لکھوا لیتے ہیں۔ بندہ نے ڈاکٹر صاحب کی طرح سفر وحضر میں تلاوت قرآن اور اذکار ومعمولات کی پابندی کرنے والے بہت کم دیکھے۔ آپ عام طور پر باوضو رہتے، فارغ اوقات میں اور دوران سفر اکثرآپ کے لبوں پر تلاوت قرآن جاری رہتی۔ آپ حافظ قرآن تھے، رمضان المبارک میں اپنی رہائش گاہ پر تراویح میں قرآن سنانے کا معمول تھا۔ آپ سادگی، تواضع اور انکسار کی تصویر تھے۔ جو کھانا سامنے رکھ دیا جاتا، انتہائی رغبت سے تناول فرماتے۔ ایک بار بندہ نے کہا کہ علماء کے مجمع میں خطاب کرنا ہے۔ برطانیہ کے مولوی صاحبان کی ظاہرپرستی حد سے بڑھی ہوئی ہے۔ آپ شلوار قمیص پہن کر چلیں تو اچھا ہے۔ فرمایا یہ مجھ سے نہیں ہوگا، میں جو ہوں وہ ہوں۔ حالانکہ اکثر اوقات شلوار قمیص ہی میں رہتے۔ ایک بار مولوی فاروق ملا تقریباً ڈیڑھ دو سو میل کا سفر کر کے ڈاکٹر صاحب، ڈاکٹر عابد اور غازی آف شکاگو اور بندہ کو برطانیہ کے ایک قابل دید تفریحی مقام پر لے گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ مجھے سیر وتفریح یا تاریخی مقامات دیکھنے سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ کہنے لگے کہ سارے پہاڑ، سمندر، دریا ایک ہی جیسے تو ہوتے ہیں۔ غرض آپ سادگی اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔
۲۶؍ ستمبر ۲۰۱۰ء کو صبح کی نماز کے بعد تقریباً سات بجے اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ اسلام آباد سے غالباً ڈاکٹر صاحب کے بھائی ڈاکٹر غزالی یا کوئی عزیز خبر دے رہے تھے کہ اچانک حرکت قلب بند ہونے سے ڈاکٹر صاحب انتقال کر گئے، اناللہ وانا الیہ راجعون۔ بند ہ سن کر سکتے میں رہ گیا۔ ایسا محسوس ہو اکہ سب کچھ تباہ ہو گیا ۔ نظریاتی وفکری کام کرنے والوں کے لیے کتنا عظیم سانحہ ہے۔ اکتوبر ۲۰۱۰ء کے آخری عشرہ میں ہم لوگوں نے مولانا سلمان الحسینی صاحب کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کا برطانیہ کا دورہ طے کیا۔ خیال تھا کہ طویل عرصہ کے بعدڈاکٹر صاحب سے دل کھول کر باتیں ہوں گی، مغرب اور ملت اسلامیہ کے احوال اور درپیش مسائل پر غور وخوض کر کے مستقبل کے لیے لائحہ عمل طے کریں گے مگر
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
واقعہ یہ ہے کہ ہم اپنے دور کی ایک بڑی علمی شخصیت اور فکری رہنما سے محروم ہو گئے ہیں۔ عرصہ سے ہم دیوبندیوں کا ایک المیہ یہ ہے کہ ہم ظاہرپرستی کا شکار ہیں، ظاہری ہیئت، جبہ ودستار اور بڑے بڑے رسمی القاب میں الجھ کر بہت سے قابل قدر لوگوں کی قدر نہیں کر پاتے۔ جب ڈاکٹر حمیداللہ کا انتقال ہوا اور بندہ نے ڈیلی جنگ میں آپ پر تفصیلی مضمون لکھا تو ایک مولوی صاحب نے فون پر پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب کس کے خلیفہ تھے؟ میرا جواب تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کے خلیفہ تھے۔ بہت سے مولوی صاحبان کے فون آئے کہ آپ نے پہلے نہیں بتایا ورنہ ہم فرانس جا کر استفادہ کرتے۔ میں نے کہا، آپ کبھی استفادہ نہیں کر سکتے تھے کہ آپ ظاہر پرستی کے مرض کا شکار ہیں۔ وہ ایک سادہ سے مسلمان تھے، کوئی پیر یا مولوی نہیں تھے۔ اسی طرح ہمارا طبقہ ڈاکٹر غازی سے فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ ہم نے کتنی عظیم شخصیت کھو دی۔ ڈاکٹر صاحب کا وجود عالم اسلام کے لیے غنیمت تھا۔ آپ کو دیکھ کر ملت کی بے مایگی وبے بضاعتی کا احساس کم ہوتا تھا۔
اللہ تعالیٰ آپ کی بال بال مغفرت فرمائے اور ملت اسلامیہ کو ڈاکٹر صاحب کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم
محمد موسی بھٹو
(۱)
ملک کے ممتاز فاضل، دانشور اور محقق ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب ساٹھ سال کی عمر میں ۲۶ ستمبر کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ ’’اناﷲ وانا الیہ راجعون‘‘۔ ہمارے حلقہ سے وابستہ علمی دوستوں وساتھیوں کی، ایک ایک کرکے جدائی جہاں دلی صدمہ کا باعث ہے، وہاں موت کی تیاری کے لیے انتباہ کی حیثیت کی حامل بھی ہے۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب عالم دین تھے، حافظ قرآن تھے، جدید نوعیت کے فقہی مسائل میں ماہرانہ صلاحیتوں کے حامل تھے، کئی زبانوں میں لکھنے پڑھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کی بڑی حیثیت یہ تھی کہ وہ دردمند داعی تھے اور خدمت اسلام کا بے پناہ جذبہ رکھتے تھے۔ عالم اسلام کے حالات ومسائل اور جدید معاشروں کی معاشی ومعاشرتی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور اسلامی نقطہ نظر سے ان کے حل کے سلسلہ میں وہ وسیع معلومات رکھنے کے ساتھ ساتھ حد درجہ خود اعتمادی کے حامل بھی تھے۔
محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب بنیادی طور پر دینی مدرسہ کے فارغ تھے۔ ان کا آبائی وطن مولانا اشرف علی تھانوی کا قصبہ تھانہ بھون ہے۔ موصوف کے والد صاحب قرآن کے حافظ اور عالم دین تھے۔ وہ مولانا اشرف علی تھانوی ؒ سے بیعت تھے۔ انہیں چشتی سلسلہ میں حضرت مولانا فقیر محمد صاحب اور شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ سے خلافت حاصل تھی۔ محترم غازی صاحب خود مولانا عبدالقادر رائے پوری سے بیعت تھے۔ یہ ساری تفصیل موصوف کے اس عاجز کے نام ان خطوط میں موجود ہے جو مضمون کے آخر میں شامل ہیں۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب اہم عہدوں پر فائز رہے۔ دعوہ اکیڈمی کے سربراہ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں شریعت فیکلٹی کے سربراہ، وفاقی شرعی عدالت کے جج اور وفاقی حکومت کے وزیر وغیرہ۔ یہ سارے عہدے ان کے مزاج کی انکساری کو متاثر نہ کر سکے، یہ بڑی سعادت کی بات ہے جو پختہ باطنی تربیت کا ثمرہ ہے۔ موصوف نے اپنے نام کے ساتھ کبھی ڈاکٹر کا لاحقہ نہیں لگایا۔ ان کی کسی کتاب میں ان کے نام کے ساتھ ڈاکٹر موجود نہیں ہے، حالانکہ ڈاکٹر بن جانے کے بعد افراد کی عام طور پر یہی آرزو رہتی ہے کہ ان کی طرف ڈاکٹر کی صفت منسوب کی جائے، اس طرح اسے خوبصورت اعزاز سے نوازا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب اندر بدل جاتا ہے تو اس طرح کی آرزوئیں کالعدم ہوجاتی ہیں اور فرد فقیرانہ صفات کا حامل ہوجاتا ہے اور اپنے آپ کو حقیر سمجھتے ہوئے وہ خوشی ولذت محسوس کرنے لگتا ہے۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے اس صفت سے بھی نوازا تھا کہ وہ بڑے سے بڑے دشوار موضوع پر نوٹس لیے بغیر تقریر کرتے تھے اور تقریر میں واقعات کی صحت اور حقیقت کی صحیح عکاسی دیکھ کر ان کے غیرمعمولی حافظہ پر حیرت ہوتی تھی۔ ان کی بیشتر کتابیں ان کی تقاریر کے مجموعہ پر مشتمل ہیں۔ خالص فنی، واقعاتی اور تاریخی معلومات پر مشتمل تقاریر میں اس طرح کی صحت بیانی فیضان خاص ہے جس کا کچھ حصہ محترم غازی صاحب کو دیا گیا تھا۔ غازی صاحب نے اس خداداد صلاحیت سے استفادہ کرتے ہوئے تقاریر کے ذریعہ خدمت اسلام کا بڑا فریضہ سرانجام دیا۔ اگرچہ ان کی تقاریر بہت سارے موضوعات کا احاطہ کرتی تھیں، لیکن تدوین، حدیث، تدوین فقہ، دور جدید میں نفاذ اسلام کی شکل، اسلام کا قانونی نظام، اسلام کا بین الاقوامی نظام، جدید پیچیدہ مسائل کے سلسلہ میں صحیح اسلامی تعلیمات کی توضیح، مسلم معاشروں کو طاقتور مادہ پرست معاشروں کی طرف سے چیلنج وخطرات اور ان کی گہری سازشوں کی نشاندہی اور ان سے عہدہ برآہونے کی صورت جیسے موضوعات ان کی تقاریر کا خصوصی اہداف تھے۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کے اعلیٰ علمی اداروں میں اسلام کی بہتر اور مؤثر طور پر ترجمانی کرنے میں ڈاکٹر صاحب کو خصوصی امتیاز حاصل تھا۔ ان کے انتقال سے اس میدان میں جو خلا پیدا ہو ہے، بظاہر اس کے پر ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔
ڈاکٹر صاحب کی خوبیوں، صفات وکمالات کو اگر مختصر الفاظ میں پیش کرنے کے لیے کہا جائے توکچھ اس طرح نقشہ کھینچا جا سکتا ہے:
زمانہ کو قرآن وسنت کی بنیاد پر پرکھنا اور دوسروں کو پرکھنے کے لیے استدلال کی عمارت فراہم کرنا، جدید تعلیم کے سحر میں مبتلا افراد کا اسلامی علوم پر اعتماد بحال کرنا، قرآن وسنت اور اس سے ماخوذ علوم پر اعتراضات کا شافی وکافی جواب دینا، اسلامی علوم کی، دنیا کے دیگر علوم پر برتری ثابت کرنے کے لیے علوم کے تقابلی مطالعہ کے حوالے سے گفتگو کرنا، اپنے شاگردوں میں اسلامی روح منتقل کرنا، اسلاف کے قرآن وسنت سے ماخوذ علوم پر تبحر علمی کا حامل ہونا، جدید وقدیم اسلامی مفکروں کے فکر کی نوعیت کو سمجھنا، ان کے مثبت اور کمزور پہلوؤں پر گہری نگاہ رکھنا، قرآن وسنت، سیرت اور فقہ کے موضوعات پر بلند پایہ کتابیں سامنے لانا، اجتہادی صلاحیتوں سے کام لے کر جدید دور کے جدید مسائل میں امت کی بہتر رہنمائی کرنا، اپنے دور کے ہر طرح کے فتنوں سے آشنا ہونا اور دوسروں کو بھی ان فتنوں سے بچانے کے لیے کوشاں ہونا، قرآن، سیرت، فقہ، تصوف اور تاریخ وغیرہ کے موضوعات پر عربی، انگریزی اور اردو زبانوں میں مارکیٹ میں شائع ہونے والی کتابوں پر نگاہ رکھنا اور ان کتابوں کو زیر مطالعہ لانا، امت میں ابتدائی صدیوں میں اسلامی علوم کی تدوین پر محدثوں، مفسروں، فقیہوں اور مورخوں کے کام کا وسیع مطالعہ ومشاہدہ ہونا، جدید دور کی تمدنی اور معاشرتی خرابیوں کی اصلاحِ احوال کے لیے بہتر اور مؤثر لائحہ عمل کی نشاندہی کرنا، مغربی نظام تعلیم کی پیدا کردہ خرابیوں کا پوری طرح ادراک حاصل ہونا، جدیدیت کے مثبت پہلوؤں کو اختیار کرنے اور منفی پہلوؤں کو مسترد کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونا، مسلم معاشروں کے بالائی طبقات کی ذ ہنی الجھنوں کو سمجھنا اور ان کی ذ ہنی سطح کے مطابق ان سے بات کرنے کی استعداد کا حامل ہونا، امت کے چوٹی کے چند بڑے اسکالروں میں ہونے کے باوجود عاجزی اور انکساری کی راہ اختیار کرنا اور امت کو اپنی نئی فکر اور نئی جماعتیں ودائراتی خول سے داغدار اور منتشر نہ ہونے دینا، ساری زندگی خاموشی سے صحیح اسلامی فکر کی ترویج میں صرف کرنا، تشہیر، شہرت، امیج، اخبارات میں اپنی تصاویر وتقاریر کی اشاعت سے بے نیاز ہونا اور بڑے علمی کاموں اور بڑی دینی خدمات کے باوجود اپنے آپ کو حقیر وفقیر سمجھنا وغیرہ۔
یہ ہے، وہ تعارفی خاکہ ہے جو ہمارے مرحوم دوست ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کا ہے۔ اس خاکہ میں مزید صفات بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ غازی صاحب کو قریب سے جاننے والے افراد ہمارے اس تعارفی خاکہ سے یقیناًاتفاق کریں گے۔ اس خاکہ میں شامل بہت ساری باتیں تو وہ ہیں، جن کا مشاہدہ ان کی کتابوں کے مطالعہ سے ہو سکتا ہے۔ بالخصوص درجہ ذیل کتابوں کے مطالعہ سے:
(۱) محاضرات قرآن (۲) محاضرات حدیث (۳) محاضرات فقہ (۴) محاضرات سیرت (۵) معاضرات معیشت وتجارت (۶) قرآن مجید۔ ایک تعارف (۷) مسلمانوں کا دینی وعصری نظام تعلیم۔ (۸) اسلامی بنکاری۔ ایک تعارف (۹) اسلام اور مغرب تعلقات (۱۰) خطبات بہاولپور حصہ دوم۔
موصوف کی اردو، انگریزی اور عربی میں کافی کتابیں موجود ہیں، لیکن مذکورہ کتابوں کے مطالعہ سے ان کے تبحر علمی کا بآسانی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
محترم غازی صاحب سے ہمارے تعلقات کا آغاز ان کے دعوۃ اکیڈمی کے سربراہ بننے کے وقت سے ہوا۔ یہ غالباً ۱۹۹۰ء کی بات ہے۔ اس وقت تک اردو میں ہماری متعدد کتابیں سامنے آچکی تھی۔ ملک کے دوسرے فضلا کی طرح غازی صاحب کی خدمت میں بھی ہماری کتابیں جاتی رہیں۔ غازی صاحب نے ہماری کتابوں کو اپنی دل کی آواز سمجھا اور متعد بار اس کا اظہار کیا۔ دعوۃ اکیڈمی کا سربراہ بننے کے ساتھ ہی انہوں نے سندھی زبان میں دعوتی اور علمی کتابوں کی اشاعت کا منصوبہ بنایا۔ چونکہ وہ فکر کی وسیع دنیا کا مطالعہ کر چکے تھے، اس لیے سندھ کی نظریاتی کشمکش کی صورتحال میں جدیدیت سے فکری مرعوبیت میں کمی اور علمی طور پر اسلام کی صداقت کے لیے جس قسم کے لٹریچر کی ضرورت تھی، انہوں نے ہماری مشاورت سے وہ لٹریچر سندھی زبان میں منتقل کرکے، ترجمہ کروا کر شائع کرنے کی کاوش کی۔ اس سلسلہ میں مولانا امیر الدین مہر صاحب جو دعوۃ اکیڈمی کے سندھی شعبہ کے سربراہ تھے، ان کو جملہ سہولتیں فراہم کیں، چنانچہ چند سالوں کے اندر اندر دعوۃ اکیڈمی کی طرف سے اسلام کے ہر موضوع پر ضخیم اور مؤثر کتابیں شائع ہوکر سندھ کے علمی حلقوں میں اعزازی طورپر تقسیم ہوئیں۔ غازی صاحب نے اس سلسلہ میں جس دردمندی، فکرمندی اور کاوش کا مظاہرہ کیا اور اس کام میں درپیش انتظامی رکاوٹوں کو دور کیا، وہ ان کی دعوتی کاموں سے بے پناہ لگن کا ثبوت ہے۔
اگرچہ علمی اعتبار سے اس وقت بھی غازی صاحب کا مطالعہ کافی تھا، دینی مدرسہ کے فضلا سے بہرہ وری کی وجہ سے قرآن وسنت اور فقہی مسائل میں وہ اس وقت بھی غیرمعمولی صلاحیت رکھتے تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مطالعہ اور فکر میں وسعت ہوتی چلی گئی اور اس مطالعہ میں ہر پہلو سے اضافہ ہونے لگا۔ دعوۃ اکیڈمی کے سربراہ کی حیثیت سے انہیں دنیا بھر کے علمی اداروں اور یونیورسٹیوں کی طرف سے مجالس مذاکرات اور سیمیناروں میں شرکت کے مواقع ملتے رہے۔ عربی اور انگریزی میں لکھنے پڑھنے کی صلاحیت اور مطالعہ کے شغف نے ان کی فکری صلاحیتوں کو غیرمعمولی نشوونما دی۔ ان کی تقاریر جو اسلام کے ہر اہم موضوع پر ہوتیں، ان تقاریر میں وہ سامعین کو اتنی معلومات فراہم کرتے تھے کہ وہ حیرت زدہ رہ جاتے تھے۔ معلومات کے ساتھ ساتھ وہ ان کے اندر حرارت وگرمی بھی منتقل کردیتے تھے۔ تقاریر پر مشتمل ان کی بہت ساری کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ان کے مطالعہ سے ان کی اس غیرمعمولی صلاحیت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔
غازی صاحب نے آج سے غالباً اٹھارہ سال پہلے اس عاجز کو جدید اسلامی مفکروں کے فکر کے تجزیاتی مطالعہ پر لکھنے کے لیے کہا تھا۔ (ان کے کسی خط میں بھی اس کا ذکر موجود ہے) الحمدﷲ ان کے اکسانے پر راقم السطور نے اس موضوع پر تین چار کتابیں لکھیں، اگرچہ یہ کتابیں دعوۃ اکیڈمی کی طرف سے شائع نہ ہوئیں، ہمارے ہی ادارہ کی طرف سے شائع ہوئی ہیں۔
غازی صاحب سے اس عاجز کی آخری ملاقات ستمبر۲۰۰۶ میں (جب وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے) ہوئی۔ راقم دعوۃ اکیڈمی ہی کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد گیا تھا۔ برسوں کے بعد ان سے ملاقات ہوئی تھی، ان کی صحت دیکھ کر مجھے سخت تشویش ہوئی۔ راقم نے انہیں اس طرف توجہ دلائی۔ کہنے لگے، شوگر کی تکلیف ہوگئی ہے اور کچھ یونیورسٹی کے مسائل کا دباؤ بھی ہے۔ مزید کہنے لگے کہ دکھ اس بات کا ہے کہ گہرا اسلامی ذہن رکھنے والے افراد، جن سے ہمیں تعاون کی زیادہ توقعات رہی ہے، سب سے زیادہ مسائل وہی پیدا کر رہے ہیں۔ ہم نے دعوۃ اکیڈمی کی سربراہی کے دوران اور اب صدارت کے دوران انہی افراد کا تقرر کیا ہے، لیکن چھوٹے چھوٹے مسائل کی وجہ سے بحران پیدا کرنے اور تلخیوں کے ماحول کو فروغ دینے میں یہی افراد سب سے زیادہ پیش پیش ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میں نے دعوۃ اکیڈمی کی سربراہی کے دور میں سوویت یونین سے آزاد مسلم ریاستوں کے لیے ایک سو سے زائد کتابوں کے تراجم شائع کرکے وہاں پھیلائے تھے۔ اب جب دوبارہ ان کتابوں کی اشاعت کا فیصلہ ہوا تو ان ساری کتابوں کے بٹر غائب تھے۔ ایک گروہ چاہتا ہے کہ بس ان کی فکر ہی کی اشاعت ہوتی رہے۔ ان کے مکتبہ فکر سے باہر کے علما وفضلا کے فکر کی ضرورت ہی نہیں۔ یہ افسوسناک صورتحال ہے جو پیدا ہو گئی ہے۔
اسلام آباد کے اسی دورہ کے دوران راولپنڈی کی ایک فاضل شخصیت جو علمی اعتبار سے ممتاز حیثیت کی حامل ہے، اس نے راقم الحروف سے کہا کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب اور ان کے بھائی محمد غزالی صاحب نے حکومت وقت سے تعاون کرنے میں اہم کردار ادا کرکے، علماے حق کی حکومت وحکمرانوں سے بے نیازی والی روایت کو سخت زک پہنچائی ہے۔ راقم نے اپنے خط میں ڈاکٹر صاحب سے اس کا ذکر کیا۔ اس کا جواب ڈاکٹر صاحب نے دیا جو خطوط میں شامل ہے ۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کا یہ نقطہ نگاہ کافی وزنی ہے کہ انہوں نے حکومت وحکمرانوں سے مالی فائدہ یا مراعات حاصل نہیں کی،بلکہ اپنی بساط کے مطابق اصلاح احوال اور بہتری کی کوشش کی، البتہ مشرف حکومت میں وفاقی وزیر کی حیثیت سے ان کی شرکت کا فیصلہ ایسا تھا جس پر ان کے ساتھ محبت کرنے والوں کو بھی دکھ ہوا۔ غازی صاحب کو توقع تھی کہ حکومت سے وابستگی سے وہ زیادہ بہتر طور پر خدمت سرانجام دے سکیں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا، چنانچہ جوں ہی انہیں اس کا احساس ہوا کہ حکومت وقت انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے تو انہوں نے بغیر تامل کے استعفیٰ دے دیا۔
غازی صاحب اپنی ذات میں انجمن تھے۔ اپنی تقاریر، گفتگو، اور کتابوں کے ذریعہ اُس طبقہ تک اسلام کی دعوت پہنچاتے تھے جس طبقہ تک علما کی رسائی دشوار تھی۔ فرد چلے جاتے ہیں۔ ان کی باتیں اور ان کا کام باقی رہ جاتا ہے، باتوں اور کام کو بھی اخلاص اور سوزِ دروں ہی بقا اور استحکام بخشتا ہے۔ غازی صاحب میں اخلاص اور سوز دروں کے اجزا غالب صورت میں موجود تھے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی لغزش معاف فرمائے، جنت الفردوس نصیب فرمائے اور ہمیں ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ (آمین)
ہم نے اپنی کتاب ’’عصر حاضر کی شخصیات میری نظر میں‘‘ میں غازی صاحب کا تعارفی خاکہ لکھا ہے۔ اس کتاب میں ان کے خطوط بھی شامل ہیں۔ یہ کتاب ان کی زندگی میں ہی چھپی ہے اور ان کی نظر سے گزر چکی تھی۔ یہ تعارفی خاکہ اور خطوط یہاں پیش کیے جا رہے ہیں۔
(۲)
ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب ملک وملت کا بڑا سرمایہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جن صلاحیتوں، خوبیوں اور کمالات سے نوازا ہے، انہیں دیکھ کر ملک وقوم کے بارے میں یہ حوصلہ بڑھتا ہے کہ جس قوم وملک میں اس طرح کی شخصیتیں موجود ہوں، ان شاء اﷲ وہ قوم سرسبز وآباد ہوگی اور اسے نقصان پہنچانے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔ وہ انگریزی، عربی اور اردو زبان میں یکساں صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہیں ان زبانوں میں تحریر وتقریر کا یکساں ملکہ حاصل ہے۔ فرانسیسی زبان بھی جانتے ہیں۔ دینی مدرسے میں فارسی بھی پڑھ چکے ہیں۔ قرآن کے حافظ بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں غیرمعمولی ذہانت سے نوازا ہے۔ پاکستان میں عالم اسلام کے جدید وقدیم اسلامی مفکروں اور فاضلوں کے لٹریچر پر جتنی عمیق نظر ان کی ہے، اتنی گہری نظر بمشکل چند افراد کی ہوگی۔ ملت اسلامیہ کو دور جدید میں درپیش چیلنج، علمی، نظری اور عملی طور پر اس چیلنج کی نوعیت اور اس سے عہدہ بر آہونے کے لیے نظریاتی وعملی خاکہ اور اس کے لیے فکر مندی اور اضطراب، ان سارے معاملات میں ملک میں ڈاکٹر موصوف جیسی شخصیتیں خال ہی نظر آتی ہیں۔
مختلف موضوعات پر ان کی تقاریر سننے اور مضامین پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف نے متعلقہ موضوع پر پڑھنے والے کے سامنے مواد کے اتنے سارے پہلو رکھ دیے ہیں کہ ان کے لیے متعلقہ موضوع کی گہرائی کو سمجھنا آسان ہوگیا ہے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے دعوہ اکیڈمی کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے دعوتی نقطہ نگاہ سے اردو، سندھی اور مختلف زبانوں میں جو لٹریچر منتخب کرکے شائع کرنے کا انتظام کیا، اسے دیکھ کر دل بے ساختہ ان کے حسن انتخاب پر داد دینے لگتا ہے۔ دعوہ اکیڈمی کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے اسلامی دعوت کے فروغ کے لیے اسلامی دنیا اور غیر اسلامی دنیا کے طویل دورے کیے، ہر جگہ اہل علم اور اہل فکر سے نشستیں کیں، ان سے حالات سنے اور ان کے سامنے اپناحال دل پیش کیا۔ ان طویل دعوتی دوروں میں جہاں انہوں نے مختلف ممالک میں دعوتی کام کے پھیلاؤ کے لیے تدابیر کیں اور عملی راہیں نکالیں، وہاں ان دوروں سے عالم اسلام کے حالات کے سلسلے میں انہیں بے پناہ تجربہ ومشاہدہ بھی ہوا۔ ہماری سندھی زبان، جو جدید اسلوب میں دعوتی لٹریچر سے خالی تھی، اس میں انہوں نے بعض ایسی اہم بنیادی کتابیں شائع کرکے پھیلا دیں جن کتابوں کی اشاعت سندھ نیشنل اکیڈمی جیسے کمزور اداروں کے لیے مشکل تھی۔ اس طرح انہوں نے سندھی نوجوانوں اور سندھ کے علم وادب پر احسان فرمایا۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے قلب سلیم بھی عطا فرمایا ہے، وہ علم وفضل کے حامل خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد صاحب ممتاز عالم دین تھے۔ جن کے برصغیر ہند کے ممتاز علما وصلحا سے گہرے تعلقات تھے۔ ان کے گھر پر علما وصلحا کی آمد ورفت رہتی تھی۔ وہ کتابوں کے ماحول میں پلے اور بڑھے۔ ان کی ابتدائی تربیت نہایت پختہ تھی۔ انہیں شروع سے فکری طور پر صحیح فکری خطوط اور لائن حاصل ہوگئی، چنانچہ ذہانت، صحیح تربیت، فطرت سلیمہ کی بڑی حد تک حفاظت اور صحیح اساتذہ کی رہنمائی اور مسلسل مطالعے ومشاہدے نے ان کو علم وعمل کی ایک مثالی اور پاکیزہ شخصیت بنا دیا۔ ڈاکٹر موصوف کو اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ دل بھی عطا فرمایا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے دین کی خدمت کی راہیں کھول دی ہیں۔ تقریر سے بھی، تو تحریر سے بھی اور حکومتی اداروں کے ذریعہ سے بھی۔ اب سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ کے جج کی حیثیت سے اس خدمت کی توفیق دی ہے۔
ان کی ان ساری سعادتوں میں جہاں ان کے گہرے مطالعے ومشاہدے اور طویل تجربات کو عمل دخل حاصل ہے، وہاں اس میں ان کی ایک خاص صفت کو بھی بنیادی عمل دخل ہے۔ وہ صفت ان کی بڑے پن سے دستبرداری، چھوٹے پن کا مظاہرہ اور عاجزی وخاکساری کا رویہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے باصلاحیت افراد پر ساری نوازشیں ان کی اس خاص ادا کی وجہ سے ہی ہوتی ہیں جس کا اندازہ ظاہر بین افراد کے لیے مشکل ہے۔ اس عاجز کے ساتھ ان کی محبت محض ان کے حسن ظن کی بنا پر ہے۔ دل سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے اپنے دین کی خدمت کا وسیع ترکام لے اور اخلاص عظمیٰ کی دولت عطا فرمائے۔ (آمین)
(بشکریہ ماہنامہ بیداری، حیدر آباد)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ : ایک اسم با مسمٰی
جسٹس سید افضل حیدر
(۲۷ ستمبر ۲۰۱۰ء کو وفاقی شرعی عدالت میں ایک تعزیتی ریفرنس میں گفتگو۔)
عزت مآب جسٹس آغا رفیق احمد خان، (چیف جسٹس، وفاقی شرعی عدالت)
عزت مآب جسٹس شہزادو شیخ، (جج، وفاقی شرعی عدالت)
عزت مآب جسٹس (ر) فدا محمد خان، (عالم رکن شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ)
عزت مآب جسٹس محمد الغزالی، (عالم رکن، شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ)
السلام وعلیکم رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جسٹس ڈاکٹر محمود احمد غازی کل صبح اپنے خالق حقیقی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے راہئ ملک عدم ہوئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ آج اِس مجلس ترحیم میں ہم مرحوم کے ذکر خیر اور دعائے مغفرت کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔
۱۸؍ ستمبر ۱۹۵۰ء کو حافظ محمد احمد فاروقی کے ہاں دہلی میں جسٹس ڈاکٹر محمود احمد غازی پیدا ہوئے۔ آپ نے آٹھ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا تھا۔ آپ نے لسانیات میں خاصا عبور حاصل کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے ۱۹۷۲ء میں ایم اے عربی کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۸۸ء میں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامک سٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ آپ نے ملکی و بین الاقوامی سطح پر متعدد جامعات کی تشکیل میں بھرپور حصہ لیا۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر بھی رہے۔ دو بار اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن مقرر ہوئے۔ وزارت مذہبی امور کا قلمدان بھی آپ کے سپرد رہا۔ فیصل مسجد اسلام آباد کے خطیب بھی رہے۔ عربی جریدہ ’’الدراسات الاسلامیہ‘‘ کے ایڈیٹر اور معروف علمی رسالہ فکرونظر (اردو) کے ایڈیٹر کی حیثیت سے کئی برس کام کیا۔ آپ متعدد اداروں کے مشیر تھے اور تقریباً ۳۰ کتب کے مصنف تھے جن میں سے ۷ کتب انگریزی زبان میں، ۵ کتب عربی زبان میں اور ۱۸ کتب اردو زبان میں لکھی گئیں۔
مرحوم جسٹس غازی محمود احمد بڑے باحیا انسان تھے۔ آپ خلوص کا پیکر تھے۔ خلوص کے رشتے عمر بھر قائم رہتے ہیں۔ غازی صاحب سے میرا پہلا تعارف دو دہائیاں قبل ۱۹۹۰ء میں ہوا جب ہم دونوں اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ جسٹس محمد حلیم سابق چیف جسٹس پاکستان ہمارے چیئرمین تھے۔ بہت اچھی ٹیم تھی۔ میرے ایما پر کونسل نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے قرآن و سنت کی کسوٹی پر رائج الوقت قوانین کو جانچنے کا فریضہ ایک کمیٹی کے سپرد کیا اور چیئرمین نے ہم دونوں کو اس کمیٹی میں شامل کیا۔ ہم نے مل کر کام شروع کیا۔ یہ فکری و علمی رفاقت دوستی کا روپ دھار گئی۔ بفضلہ تعالیٰ رفاقت کا سفر جاری رہا اور پھر ۲۶؍ مارچ ۲۰۱۰ء سے ہم اس عدالت میں ایک دوسرے کے ساتھی بن گئے۔
جناب آغا صاحب!
ہم دونوں نے دو بار اکٹھے حج بھی کیا اور اس طرح مجھے غازی صاحب کی ایمانی کیفیات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ مرحوم ایک متقی، پرہیزگار اور مخلص انسان تھے۔ اسلامی احکام کی بجاآوری آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ میں اس موقع پر آپ کو بتلاتا چلوں کہ غازی صاحب نے ایک بار علامہ محمد اقبالؒ اور دوسری بار قائداعظم محمد علی جناحؒ کے نام پر حجِ بدل بھی کیے تھے۔ آپ کو ان دونوں شخصیتوں سے اور ان کے فیض سے حاصل ہونے والے اس مملکت خداداد پاکستان سے بہت پیار تھا۔
غازی صاحب کی شخصیت کو ایک نشست میں بیان کرنا میرے لیے ممکن نہیں، کیونکہ ان کے مشاغل اور ان کی کامرانیوں کی فہرست خاصی طویل ہے جس کا ہر ہر جزو بذاتِ خود ایک دفتر ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت کم ایسی ہستیاں دیکھی ہیں جنہیں اللہ تبارک تعالیٰ نے دل و دماغ، علم و عمل اور عمیق بصیرت جیسی صلاحیتوں سے سرفراز کیا ہو۔ آپ کی نگاہ بلند تھی اور آنے والے حالات کا جائزہ لینے اور اس کے لیے تیار رہنے کی صلاحیت بھی غازی صاحب میں موجود تھی۔ بلاشبہ آپ اسم بامسمیٰ تھے۔ تحقیق ان کا وظیفہ تھا۔ مطالعہ اتنا وسیع تھا کہ اِن سے ہم کلام ہونے والا یہ سمجھتا کہ وہ ایک متحرک لائبریری اور زندہ کمپیوٹر سے فیض یاب ہو رہا ہے۔ جو بات کہتے، اس کے پیچھے دلیل ہوتی اور حوالہ بھی فوری طور پر دے دیتے۔ ان کی ذاتی لائبریری اس امر کی شہادت دیتی ہے کہ موصوف تحقیق‘ کھوج اور دریافت میں کتنے کوشاں رہتے۔
غازی صاحب قومی زبان کے علاوہ عربی، فارسی، فرانسیسی اور انگریزی زبانوں میں اپنا مافی الضمیر بیان کرنے پر قادر تھے۔ اردو کے علاوہ کبھی کبھی فارسی میں اشعار بھی کہہ لیتے۔ قرآنی علوم، سنت مطہرہ، سیرت، فقہ اور قانون کے علاوہ ادب سے بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ آپ کی بنیادی دلچسپی اسلام اور دین کے مختلف شعبے تھے۔ خطبات بہاولپور (۲) کے عنوان سے اسلام کے بین الاقوامی تعلقات پر آپ کے بارہ خطبات ایک قابل قدر کارنامہ تھا۔ آپ کے متعدد خطبات اسلامی فقہ میں ایک ممتاز مقام حاصل کرچکے ہیں۔
جناب آغا صاحب!
ڈاکٹر صاحب بنیادی طور پر ایک معلم تھے۔ آپ نے اس میدان میں بھی سنت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرتے ہوئے اہم کردار ادا کیا۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر آپ نے کئی جامعات کی تشکیل میں بھرپور حصہ لیا۔ عملی زندگی کا ایک طویل حصہ آپ نے درس و تدریس میں گزارا۔ سینکڑوں طالب علموں نے آپ سے رہنمائی حاصل کی۔
غازی صاحب نہ خود زندگی میں کبھی مایوس ہوئے، نہ کسی کو انہوں نے مایوس کیا۔ غازی صاحب سے مشورہ طلب کرنے والا یا مدد مانگنے والا کبھی خالی ہاتھ نہ لوٹا۔ آپ نے طالب علموں کے ساتھ مشفقانہ رویہ روا رکھا۔ میری نظر میں جسٹس غازی ایک درویش فقیہ اور عالم باعمل تھے۔
غازی صاحب نے اصولوں پر کبھی مفاہمت نہ کی۔ آپ نے ہمیشہ اعلیٰ اسلامی اقدار کی پاسداری کی اور نتائج کی پروا کیے بغیر صحیح بات سے انحراف نہ کیا۔ توکل اور قناعت آپ کا اثاثہ تھا، لہٰذا آپ کے پاؤں کبھی نہ ڈگمگائے۔
غازی صاحب کی زندگی کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ اسلامی اخلاق کی پابندی اور احکام اسلام کی مخلصانہ پیروی اس تیزرفتار زمانے میں بھی ممکن ہے۔ بقول اقبالؔ آپ شجر سے پیوستہ رہتے ہوئے بہار کی امید کے داعی تھے۔
غازی صاحب اپنی مجالس و محافل کو اللہ تبارک تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر سے مزین کرتے تھے۔ آپ نہایت منکسر المزاج اور حلیم الطبع شخصیت کے مالک تھے۔ انہیں زندگی میں اعلیٰ مقامات حاصل ہوئے، لیکن آپ نے کبھی بھی اپنی کامرانیوں کا ڈھنڈورا نہ پیٹا اور اپنے علم سے کبھی ناجائز فائدہ اٹھانے کی سوچ بھی ان کے پاس سے نہیں گزری۔ آپ اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر پاک سن کر آب دیدہ ہو جاتے۔ چھوٹوں کے ساتھ شفقت اور بزرگوں کا احترام آپ کا وطیرہ تھا۔
غازی صاحب مرحوم کو وطن عزیز کے ساتھ بہت پیار تھا۔ پاکستان کے استحکام کے لیے اکثر دعائیں کرتے۔ آپ کی انہی صفات کے پیش نظر ہمارے محترم چیف جسٹس آغا رفیق احمد خان نے وفاقی شرعی عدالت کے لیے غازی صاحب کا نام خصوصی طور پر تجویز کیا تھا۔ کسے معلوم تھا کہ علم کے اس منبع سے ہم محروم ہو جائیں گے۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔ ہم سمجھ رہے ہیں کہ سورج ڈوب گیا ہے، لیکن کسے معلوم کہ دوسری جانب یہی سورج اپنی آب و تاب سے طلوع ہوچکا ہے۔
بلھےؔ شاہ اساں مرناں ناہیں
گوراں وچ پئے ہور
ایک باکمال شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی
ڈاکٹر محمود احمد غازی کے ساتھ میری پہلی ملاقات مئی ۱۹۸۳ ء میں ہوئی۔ ان دنوں کراچی جاتے ہوئے تین چار دن کے لیے اسلام آباد میں قیام کا موقع ملا۔ میری خواہش تھی کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی جا کر ایل ایل ایم (شریعہ) کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کی جائیں۔ اس پروگرام کے بارے میں دینی جامعات کے طلبہ کے ہاں تذکرہ رہتا تھا اور مجھے ذاتی طور پر کئی اساتذہ نے اس میں داخلہ لینے کی ترغیب دی تھی۔ میں اپنے ایک عزیز کے ہمراہ جب فیصل مسجد پہنچا تو مین گیٹ کے سامنے استقبالیہ پر ایک ایسے صاحب سے ملاقات ہوئی جس کا تعلق اسلام آباد میں واقع ایک دینی مدرسے سے تھا۔ وہ دن کے وقت ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی میں ملازمت کرتا تھا اور چھٹی کے بعد دینی مدرسہ کی خدمت کرتا تھا۔ اُس نے پوری توجہ کے ساتھ میری بات سنی اور کہنے لگا:
’’میں آپ کی ملاقات ایسے اساتذہ سے کرا دیتا ہوں جو ایل ایل ایم (شریعہ) کے طلبہ کو پڑھاتے ہیں اور اس پروگرام کے بارے میں خوب جانتے ہیں، آپ اُن سے مشورہ کر لیں۔‘‘
یہ کہہ کر وہ مجھے ڈاکٹر احمد حسن کے پاس لے گئے۔ ڈاکٹر احمد حسن صاحب کی ٹیبل کتابوں سے بھری ہوئی تھی۔ میں اُن کے سامنے بیٹھ گیا ، اپنا تعارف کرایا اور جب انہیں یہ بتایا کہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا مبلغ ہوں تو ڈاکٹر صاحب نے بڑی پذیرائی فرمائی۔ ڈاکٹر صاحب سے اجازت لینے کے بعد ہم باہر نکلے اور بائیں طرف آگے بڑھے تو ایک کمرے کے باہر ’’محمود احمد غازی‘‘ کے نام کی تختی لٹک رہی تھی۔ میرے ساتھی نے کہا، یہ صاحب آپ کو بہت اچھا مشورہ دیں گے، آپ ان سے تفصیل کے ساتھ بات کریں۔ ہم نے دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر داخل ہو گئے۔ غازی صاحب کی ٹیبل پر مسودات کے ڈھیرتھے۔ پوچھنے لگے : آپ کیسے آئے، کہاں سے آئے؟ میں نے اپنا مدعا بتایا۔ میں نے کہا کہ:
’’ میرا تعلق نیو ٹاؤن سے ہے اور میں ہفت روزہ ’’ختم نبوت‘‘ کا منیجنگ ایڈیٹر ہوں‘‘۔
کہنے لگے :
’’ میں بہت اہتمام کے ساتھ ہفت روزہ ’’ختم نبوت‘‘ پڑھتا ہوں۔ آپ کے اداریے، مضامین اور نظمیں بھی پڑھتا ہوں۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آپ سے براہِ راست ملاقات ہوئی‘‘۔
میں نے عرض کیا:
’’ایل ایل ایم (شریعہ) میں داخلہ کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟‘‘
کہنے لگے :
’’آپ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ اشتہار آئے تو درخواست دے دیں۔ داخلہ ہو جائے گا۔‘‘
۱۹۸۳ء کے اواخر میں مجھے کراچی سے شفٹ ہو کر اسلام آباد آنا ہوا۔ اُس سال وفاق المدارس نے سولہ سالہ نصاب مرتب کر کے دینی جامعات کے مہتمم حضرات کو ہدایت کی تھی کہ اس کے مطابق اپنے اپنے مدارس میں پڑھائی کا انتظام کریں۔ اس نصاب پر تفصیلی گفتگو کرنے کے لیے مولانا عبد الحکیم رحمہ اللہ نے جامعہ فرقانیہ راولپنڈی میں اجلاس طلب کیا۔ اس اجلاس میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے دینی مدارس کے تمام مہمتمین اور سینئر اساتذہ نے شرکت کی جن میں حاجی اختر حسن (مرحوم) بانئ و مہتمم جامعہ فریدیہ اسلام آباد بہت نمایاں تھے۔ مولانا عبد الحکیم رحمہ اللہ اور قاری سعید الرحمن انہیں بہت پروٹوکول دے رہے تھے۔ میں نے حاجی صاحب سے ملاقات کی تو مولانا عبد الحکیم نے ازراہِ شفقت حاجی صاحب کے سامنے میری تعریف کی اور فرمایا کہ چشتی صاحب فاضل وفاق بھی ہیں اور لاء گریجویٹ بھی ہیں۔ حسنِ اتفاق سے حاجی صاحب کو جامعہ فریدیہ میں صدر مدرس کی پوزیشن کے لیے ایک ایسے استاذ کی تلاش تھی جس کا تعلق علوم دینیہ کے ساتھ ساتھ علوم عصریہ سے بھی ہو۔ اس ضمن میں میرا تذکرہ مولانا ظہور احمد علوی صاحب بھی حاجی صاحب سے کر چکے تھے۔ حاجی صاحب نے اس بارے میں سیٹھ ہارون جعفر صاحب (مرحوم) سرپرست جامعہ فریدیہ سے کہا۔ سیٹھ صاحب مجھے پیر طفیل احمد فاروقی رحمہ اللہ کی وجہ سے جانتے تھے۔ اللہ جل شانہ نے ایسے اسباب پیدا فرمائے کہ مئی ۱۹۸۴ء میں، میں نے جامعہ فریدیہ میں اپنے فرائض سنبھالے۔
جامعہ فریدیہ چونکہ فیصل مسجد کے قریب واقع ہے، اس لیے فیصل مسجد آنے جانے کے مواقع بڑی سہولت کے ساتھ میسر آئے۔ جامعہ فریدیہ میں قیام کے دوران میں جب بھی ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی کی لائبریری میں جاتا تھا تو اکثر و بیشتر غازی صاحب سے ملاقات ہو جاتی تھی۔ ایک سال جامعہ فریدیہ کے ساتھ منسلک رہنے کے بعد جون ۱۹۸۵ء میں مجھے دعوۃ اکیڈمی میں بطور لیکچرر کام کرنے کا موقع ملا۔ دعوۃ اکیڈمی جس کا اساسی نام اکیڈمی برائے تربیت ائمہ (Academy for training of Imams) تھا اور بنیادی طور پر ائمہ مساجد اور خطبا و اساتذہ کی تربیت کے لیے اس کا قیام عمل میں آیا تھا، اس میں تربیت ائمہ کا پہلا پروگرام ۱۹۸۵ء کے اواخر میں شروع ہوا۔ اس پروگرام کی تخطیط میں غازی صاحب نے بھرپور حصہ لیا اور جب ہم نے کورسز کی تقسیم کی تو غازی صاحب نے اسلام کے سیاسی نظام کے موضوع پر لیکچرز دینے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ شروع شروع میں غازی صاحب ہفتہ میں صرف ایک لیکچر کے لیے تشریف لاتے تھے، لیکن پھر ان کی دلچسپی بڑھی اور انہوں نے ہفتہ میں دو لیکچرز لے لیے۔ یہ وہ دَور ہے جس میں غازی صاحب کے ساتھ ہماری بہت frankness پیدا ہو گئی۔ میں ان دنوں صبح کے وقت لال کڑتی چوک سے بہت سپیشل پان بنوا کر لاتا تھا۔ غازی صاحب لیکچر سے فارغ ہو کر آتے تھے تو ہم چائے پیتے تھے، پان کھاتے تھے اور بہت کھل کر گفتگو ہوتی تھی۔ دعوۃ اکیڈمی کے رفقا سب جمع ہوتے تھے اور بلا تکلف بات چیت ہوتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ بعض مرتبہ موسم سرما میں پرنس بیکرز کراچی کمپنی کے سامنے کرسیاں لگا کر ہم بیٹھتے تھے اور بہت light mood میں غازی صاحب کے ساتھ سلسلۂ کلام چلتا رہتا تھا۔ غازی صاحب جب تک ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی میں رہے ، آپ کا مزاج خالص علمی رہا۔ علمی گفتگو کرتے ہوئے آپ کو وقت کی فکر نہیں رہتی تھی۔ گھنٹہ کے بجائے ڈیڑھ اور کبھی دو گھنٹے شرکاے کورس کے ساتھ سوال و جواب میں گذار دیتے تھے۔
۱۹۸۸ ء کے وسط میں دعوۃ اکیڈمی کے انتظامی معاملات نشیب و فراز کا شکار ہوئے اور بعض ایسے ناخوشگوار واقعات رونما ہوئے جن کی وجہ سے اکیڈمی کے تقریباً تمام رفقا بری طرح متأثر ہوئے ۔ ان حالات کے نتیجہ میں یونیورسٹی کی اعلیٰ انتظامیہ نے محمود احمد غازی کو دعوۃ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل کے منصب کے لیے منتخب کر لیا۔ وہ منظر اب تک میری نظروں کے سامنے ہے جب غازی صاحب اپنا منصب سنبھالنے کے لیے کراچی کمپنی میں واقع دعوۃ اکیڈمی کے دفتر میں تشریف لائے۔ ہم نے مین گیٹ سے باہر آ کر آپ کا استقبال کیا۔ پھر آڈیٹوریم ان کے ساتھ گئے۔ اس موقع پر آپ نے دعوۃ اکیڈمی کے رفقا کے سامنے بہت مختصر سا خطاب کیا ۔ پھر ہمیں اپنے ساتھ مدیر عام کے دفتر میں لے آئے اور اکیڈمی کے مختلف شعبوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔
ڈاکٹر غازی صاحب کی قیادت میں دعوۃ اکیڈمی نے بہت تیزی کے ساتھ ترقی کی۔ قسم قسم کے تربیتی پروگرام شروع ہوئے۔ آرمی آفیسرز کے لیے تربیتی پروگرام ترتیب دیا گیا۔ اساتذہ اور اُدبا کے لیے ورکشاپ کا سلسلہ شروع ہوا۔ بچوں کے ادب کا شعبہ قائم ہوا۔ خط و کتابت کورسز کے ضمن میں مطالعہ تفسیر، مطالعہ حدیث اور مطالعہ اسلام کے عنوان سے پروگراموں کا آغاز ہوا۔ ان کورسز کی سالانہ enrollment پینتالیس پچاس ہزار کے لگ بھگ ہوتی تھی۔ ان بہت سارے پروگراموں کے علاوہ دوپروگرام ایسے شروع ہوئے جو میری براہِ راست دلچسپی کے تھے جن کی تحریک میں نے پیش کی اور غازی صاحب نے انہیں سراہتے ہوئے مجھے ان کی تخطیط کی ہدایت کی۔ ایک بین الاقوامی تربیت ائمہ کورس جس میں زیادہ تر وسط ایشیا کی ریاستوں کے ائمہ مساجد اور خطبا شریک ہوتے رہے۔ بعد میں اس کا دائرہ پھیلا اور کئی ممالک مثلاً سری لنکا، فجی، نیپال، تھائی لینڈ، سنکیانگ اور برما کے ائمہ بھی اس پروگرام سے مستفید ہوتے رہے۔ یہ دعوۃ اکیڈمی کا ایک منفرد پروگرام تھا جس میں غازی صاحب بہت دلچسپی لیتے تھے۔ ڈاکٹر حسین حامد حسان، ڈاکٹر احمد العسّال (مرحوم) اور ڈاکٹر طیب زین العابدین جیسے اساتذہ اس کورس کے شرکا کو لیکچر دینے کے لیے آتے تھے اور بہت خوشی محسوس کرتے تھے۔ دوسرا کورس مطالعۂ قادیانیت کے عنوان سے ان ائمہ اور خطبا کے لیے ترتیب دیا گیا جنہوں نے دعوۃ اکیڈمی سے تربیت ائمہ کا عمومی کورس کر لیا ہو۔ قادیانیت کے موضوع پر چونکہ غازی صاحب نے بھرپور مطالعہ کیا ہوا تھا اور آپ اس موضوع کی اہمیت سے واقف تھے، اس لیے آپ نے اس پروگرام میں بھی بہت دلچسپی لی۔ غازی صاحب نے مجھے ایک بار نہیں، کئی بار اس بات کی ترغیب دی کہ ’’ قادیانیت کا علمی محاسبہ‘‘ کی تعریب کا اہتمام کیا جائے۔ آپ کہا کرتے تھے کہ :
’’ جوشخص اس کتاب کو عربی زبان کے قالب میں ڈھال لے گا، میں اُس کو جنت کی ضمانت دینے کے لیے تیار ہوں۔ مقصد یہ کہ ایسے شخص کے جنتی ہونے میں کم از کم مجھے کوئی شک نہیں ہے۔‘‘
مطالعۂ قادیانیت کے اس کورس کو بڑی پذیرائی ملی اور یہ تسلسل کے ساتھ چلتا رہا، لیکن ۱۹۹۹ء میں جب میں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی جائن کی تو یہ پروگرام بند ہو گیا۔ بین الاقوامی تربیت ائمہ کا کورس بھی بعد میں بحران کا شکار ہو گیا۔ دعوۃ اکیڈمی میں ڈاکٹر غازی صاحب بطور ڈائریکٹر جنرل ۱۹۸۸ء میں آئے تھے اور ۱۹۹۴ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ اس سات سال کے عرصہ میں ہمیں براہِ راست ان کی قیادت میں کام کرنے کا موقع ملا اور ان سے بھرپور استفادہ کے مواقع میسر آتے رہے۔ عام طور سے جامعات کے اساتذہ کا اختصاص کسی ایک مجال (field) میں ہوتا ہے اور وہ اُسی مجال میں گفتگو کرتے ہیں، لیکن غاز ی صاحب کا معاملہ اس اعتبار سے بالکل مختلف تھا۔ آپ تفسیر، حدیث، سیرت، فقہ، کلام، ادب اور تاریخ کے ادق موضوعات پر فی البدیہ گفتگو کرتے تھے اور یوں لگتا تھا جیسے آپ نے اس موضوع پر بولنے کے لیے بہت تفصیل کے ساتھ تیاری کی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنا قوی حافظہ دیا تھا کہ اس کا تصور معاصر علما میں نہیں کیا جا سکتا۔
نومبر ۲۰۰۵ء کی بات ہے، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبۂ اقبالیات اور کلیہ علوم اسلامیہ نے علامہ اقبال کے یوم ولادت کی مناسبت سے ایک سیمینار منعقد کیا۔ اس سیمینار میں مختلف جامعات کے معروف و مشہور اقبال شناس جمع تھے۔ ڈاکٹر غازی صاحب نے علامہ اقبال اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر گفتگو شروع کی۔ مسلسل دو گھنٹے آپ بولتے رہے۔ رقت اور جذبات کی ایسی فضا قائم ہوئی کہ حاضرین کے رخساروں پر بلااختیار آنسو بہتے رہے۔ ڈاکٹر الطاف حسین (وائس چانسلر ) جو سیمینار کی صدارت کر رہے تھے، جب صدارتی خطبہ کے لیے اُٹھے تو صدارتی کلمات کہنے کے لیے آمادہ نہ ہو سکے۔ اُس دن غازی صاحب خود بھی اپنے قابو میں نہیں تھے۔ آپ کا ایک ایک لفظ آپ کے دل کی گہرائیوں سے نکل رہا تھا اور سامعین کے دل و دماغ کو گرما رہا تھا۔
عام طور پر ہمارے ہاں جو اساتذہ تقریر کے ماہر ہوتے ہیں، ان کی تحریر اچھی نہیں ہوتی اور جن کی تحریر اچھی ہوتی ہے، وہ تقریر میں کمزور ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر غازی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بہ یک وقت جہاں تحریر کا بہت قوی ملکہ عطا فرمایا تھا، وہاں تقریر کی بہت عمدہ صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ آپ اُردو، عربی اور انگریزی تینوں زبانوں میں پوری مہارت کے ساتھ بول بھی سکتے تھے اور لکھ بھی سکتے تھے۔ ایک ہی نشست میں جب عربی بولتے تھے تو یوں لگتا تھا کہ آپ عربی زبان کے ماہر ہیں اور جب انگریزی بولتے تھے تو یوں لگتا تھا کہ آپ انگریزی کے استاد ہیں۔ اُردو تو خیر آپ کی مادری زبان تھی۔ فارسی بہت شستہ بولتے تھے اور فرنچ کے ساتھ بھی بہت حد تک مناسبت رکھتے تھے۔
۲۰۰۱ء میں جب غازی صاحب وفاقی وزیر مذہبی اُمور کے منصب پر فائز تھے تو تعلیم الاسلام کالج کراچی کی انتظامیہ نے اپنی پچاس سالہ تقریبات کا اہتمام کیا۔ تعلیم الاسلام کے موجودہ ریذیڈنٹ ڈائریکٹر جناب عبد الباقی فاروقی صاحب میرے پاس آئے اور ڈاکٹر غازی صاحب کوافتتاحی تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر دعوت دینے کا عندیہ ظاہر کیا۔ وہ فکر مند تھے کہ غازی صاحب اپنی مصروفیات سے وقت نکال سکیں گے یا نہیں اور کراچی جانے پر آمادہ ہوں گے یا نہیں۔ بہرحال ہم دونوں غازی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہیں تعلیم الاسلام کالج کی خدمات پر بریفنگ دی اور تقریبات میں شرکت کی دعوت دی۔ غازی صاحب کہنے لگے :
’’ میں تعلیم الاسلام کے بانی پیر طفیل احمد فاروقی رحمہ اللہ کے بارے میں جانتا ہوں۔ وہ اس دَور کے کبار اصحاب بصیرت میں سے تھے۔ میں ان شاء اللہ ضرور حاضر ہوں گا۔‘‘
پھر اپنی مصروفیات کو دیکھتے ہوئے ہمیں تاریخ دے دی۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر ڈاکٹر غازی صاحب نے انتہائی مؤثر انداز میں خطاب کیا۔ کراچی کے تمام دینی جامعات کے مہتممین اور اساتذہ کا جم غفیر تھا۔ غازی صاحب نے فرداً فرداً سب سے ملاقات کی۔ اس موقع پر آپ نے اس منصوبہ کا اظہار بھی کیا جو دینی مدارس اور جامعات کے ضمن میں آپ کے ذہن میں تھا۔
کلیہ عربی و علوم اسلامیہ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کو آغاز سے ڈاکٹر غازی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔ یہی وجہ ہے کہ جب کلیہ عربی و علوم اسلامیہ کے نوتعمیر کردہ بلاک (شاہ ولی اللہ بلاک) کے افتتاح کا مرحلہ آیا تو آپ کو بلایا گیا۔ غازی صاحب نے بلاک کا افتتاح کیا اور تقریب سے خطاب کیا۔ ۲۰۰۰ء سے لے کر اب تک مجھے یاد نہیں کہ ہم نے آپ کو اپنے کسی پروگرام، ورکشاپ، سیمینار، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے زبانی امتحان کے لیے بلایا ہواور آپ نے انکار کیا ہو۔ کلیہ عربی و علوم اسلامیہ کے بہت سے اسکالرز نے آپ کی نگرانی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات مرتب کیے۔ طلبہ کے ساتھ آپ کا رویہ غیر معمولی، نرم اور ہمدردانہ ہوتا تھا اور ہمیں بعض مرتبہ اس بات پر حیرت ہوتی تھی کہ غازی صاحب اس حد تک نرم رویہ کیوں رکھتے ہیں۔ آپ فرماتے تھے کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے سے کوئی عالم یا علامہ نہیں بنتا، بس اتنا ہو جاتا ہے کہ پڑھنے لکھنے سے مناسبت پیدا ہو جاتی ہے، اس لیے اس سطح کے طلبہ کو مجبور کرنا چاہیے کہ وہ پڑھنے اور لکھنے کی طرف آئیں تا کہ ان میں قلم کے استعمال کا ملکہ پیدا ہو۔
اپریل ۲۰۱۰ء میں ہمارے ہاں پی ایچ ڈی کے اسکالرز کی ورکشاپ ہو رہی تھی۔ اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ طلبہ اپنے اپنے موضوع کا تعین کریں اور خاکہ ہاے تحقیق تیار کر لیں تا کہ انہیں بورڈ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ ڈاکٹر غازی صاحب کو اس ورکشاپ میں لیکچرز دینے کے لیے دعوت دی گئی۔ آپ کا لیکچر چار بجے رکھا گیا تھا، لیکن آپ اڑھائی بجے تشریف لے آئے۔ میرے آفس میں بیٹھ گئے اور خوب گپ شپ لگاتے رہے۔ دوسرے دن آپ کا لیکچر مغرب کے بعد تھا، لیکن آپ عصر کے وقت تشریف لے آئے اور عشا تک ہمارے ساتھ رہے۔ غازی صاحب کے رویے میں اب غیر معمولی وسعت پیدا ہو گئی تھی۔ آپ کی خواہش ہوتی تھی کہ طلبہ آپ سے سوال کریں اور آپ پوری تفصیل کے ساتھ اس کا جواب دیں۔ جواب دینے میں اب آپ کے ہاں بخل کا شائبہ تک نظر نہیں آتا تھا۔
ڈاکٹر غازی صاحب کے ساتھ میری ملاقات سینکڑوں نہیں، ہزاروں مرتبہ ہوئی ۔ ہم نے اُن سے بہت کچھ سیکھا۔ میرے ایم فل کے مقالہ پر آپ نے رپورٹ لکھی اور بہت خوبصورت رپورٹ لکھی۔ جس دن میرے ایم فل کا زبانی امتحان تھا، اُس دن اتفاق سے آپ کو غلام اسحاق خان (مرحوم) نے ایوانِ صدر بلا لیا۔ مجھے بہت پریشانی لاحق ہوئی، لیکن ڈاکٹر صاحب نے ایوانِ صدر سے ڈاکٹر صدیق خان شبلی (سابق ڈین کلیہ سماجی علوم ) کو فون کیااور انہیں بتایا کہ چشتی صاحب کو ڈگری ایوارڈ کر دیں، میں ان کے مقالہ سے مطمئن ہوں۔ فائل پر دستخط کر دوں گا۔
غازی صاحب کو اللہ جل شانہ نے بہت سی خصوصیات سے نوازا تھا، لیکن میں نے ان کی تین خصوصیات ایسی دیکھیں جن میں میرے تجزیہ کے مطابق ان کی کامیابی کا راز مضمر تھا :
آپ کی پہلی خصوصیت یہ تھی کہ آپ اپنی والدہ کے بہت زیادہ فرماں بردار تھے۔ والدہ کی دُعا ئیں آپ کے ساتھ رہیں اور آپ نے ہمیشہ اپنی والدہ کو راضی رکھا۔
دوسری خصوصیت یہ تھی کہ آپ قرآن مجید کا بہت اہتمام کے ساتھ تلاوت کرتے تھے۔ آپ کو جونہی موقع ملتا تھا، آپ اُسے قرآن کی تلاوت میں صرف کرتے تھے، یہاں تک کہ گاڑی میں سفر کے دوران بھی آپ تلاوت کرتے رہتے تھے۔
تیسری خصوصیت یہ تھی کہ آپ مالی معاملات میں حد درجہ محتاط اور دیانت دار تھے۔
ڈاکٹر غازی کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ معمولی خلا نہیں۔ اس قحط الرجال کے دَور میں آپ کے وجود کی پہلی سے کہیں زیادہ ضرورت تھی، لیکن اللہ جل شانہ کا اپنا نظام ہے۔ اللہ جل شانہ کی مشیت کے سامنے کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ آپ کا انتقال آناً فاناً ہوا۔ ۲۶؍ ستمبر ۲۰۱۰ء کی صبح کو آپ نے عالم دُنیا کو خیر باد کہا ۔ نمازِ ظہر کے بعد نمازِ جنازہ ہوئی۔ نمازِ جنازہ میں اسلام آباد کے تقریباً تمام اہل علم شریک ہوئے۔ ہر شخص سوگوار تھا اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ تاحد نگاہ فضا پکار پکار کر کہہ رہی تھی کہ :
موت العالِم موت العالَم
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ - نشانِ عظمتِ ماضی
ڈاکٹر قاری محمد طاہر
لیجیے، ڈاکٹر محمود احمد غازی بھی عالم بقا کو سدھارے۔ ۲۶ ستمبر ان کا یوم موعود تھا جو آن پہنچا۔ اس یوم موعود کی پہلے نہ ڈاکٹر صاحب کو خبر تھی نہ کسی اور کو۔ صرف داعئ اجل ہی کو علم تھا۔ یہ بھید اسی وقت کھلا جب داعئ اجل نے دستک دے دی۔ ڈاکٹر صاحب اٹھے اورچل دیے۔ کسی کو بتانا بھی گوارا نہ کیا۔ کاش پہلے پتہ چل جاتا، لیکن اگر پہلے پتہ چل بھی جاتا تو بھی دنیا والے کیا کر لیتے۔ اس جہان میں ہر انسان تو بس بے بس ہی ہے۔
دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کو اپنے بچوں کی فکر تھی نہ دوست احباب کی۔ دم واپسیں بس اتنا کہا: ’’کیا نماز کا وقت ہو گیا؟‘‘ ظاہر بین لوگوں نے کہا ، نہیں ابھی نماز میں بہت وقت باقی ہے۔ دیدۂ بینا بولی، ڈاکٹر صاحب کی نماز کا وقت ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب رخصت ہوتے ہوئے پیغام دے گئے۔
فرصت کار فقط چار گھڑی ہے یارو
یہ نہ سمجھو کہ ابھی عمر پڑی ہے یارو
اس دنیا میں کسی کو دوام نہیں، اول فنا آخر فنا۔ جانا تو ہر ایک کو ہی ہے لیکن موت موت میں فرق ہے۔ موت اگر کسی کے آنگن میں آئے تو ایک ہی مرتا ہے لیکن فرشتۂ اجل اگر کسی نابغہ روزگار شخصیت کے دروازے پر دستک دے دے تو ایک نہیں پوری قوم کا جنازہ اٹھتا ہے۔ کوئی سمجھے نہ سمجھے، اس حقیقت کا ادراک صاحبان بصیرت ضرور ہی رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب حال کی آبرو اور ماضی کی عظمت کا نشان تھے۔ ان کو قدیم و جدید پر یکساں عبور تھا ۔ اردو انگریزی عربی بولتے تو محسوس ہوتا وہ زبان کے بندے نہیں بلکہ زبان ان کی باندی ہے اور الفاظ ان کے غلام جو صف بستہ ہاتھ باندھے حکم کے منتظر کھڑے ہیں۔ زبان کھولتے ہی علم کے موتی رولتے۔ سننے والے مبہوت ہو جاتے اور گفتگو سے گوہر چنتے تھے۔
یہ غالباً ۱۹۹۱ء کی بات ہے، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی سب سے پہلی ایم فل کی ورکشاپ تھی۔ اس ورکشاپ میں صوبہ سرحد اور پنجاب کے بیشتر حضرات شامل تھے۔ شاید ایک آدھ صاحب سندھ یا بلوچستان کے بھی ہوں ۔ یہ سب حضرات کالجوں کے لیکچرر یا اسسٹنٹ پروفیسر تھے۔ گویا سب کے سب کسی نہ کسی صورت میں پڑھے لکھے کہلاتے تھے۔ ورکشاپ کا اہتمام یونیورسٹی کی سابقہ عمارت میں کیا گیا تھا۔ اعلان ہوا کہ کل کا لیکچر ڈاکٹر محمود احمد غازی دیں گے۔ ہم اس وقت تک ڈاکٹر صاحب کے نام سے شناسا نہ تھے۔ ہم نے ڈاکٹر صاحب کا نام پہلی مرتبہ ہی سنا تھا۔ بیشتر شرکا کی زبانوں پر ان کی عظمت کے تذکرے تھے۔ لہٰذا سبھی وقت مقررہ پر ہال میں اکٹھے ہو گئے۔ ڈاکٹر صاحب تشریف لائے۔ دراز قد، فیروزی رنگ کا تھری پیس سوٹ، انتہائی سرخ ٹائی، سر پر قراقلی ٹوپی، لباس کی نفاست، آپ کی شخصیت میں خوب نکھار پیدا کر رہی تھی۔ چہرے پر لگی لگی داڑھی۔ مقدارِ داڑھی کو معیارِ اسلام سمجھنے والے حضرات کی جبین پر ’’؟‘‘ کا نشان واضح تھا، لیکن ڈاکٹر صاحب کی عالمانہ فاضلانہ گفتگو نے سکہ جمالیا ۔ بعد میں نجی محفلیں جمیں تو بحث، موضوع بحث اور اندازِ تکلم پر ہی تھی۔ بعض حضرات نے ڈاکٹر صاحب کی داڑھی کے طول و عرض، یک مشت و چہار انگشت کو موضوع بنانا چاہا لیکن ان کی کسی نے نہ سنی، نہ بات کو بڑھایا۔ جہاں علم کا بحربے کنار ہو جائے، وہاں یہ بحثیں سطحی ہوتی ہیں۔ علم و عمل میں فاصلے نہ ہوں تو ظاہری تراش خراش کی حد بندیاں باقی نہیں رہتیں۔
یہ ہماری ڈاکٹر صاحب سے پہلی شناسائی تھی۔ جس نے ہمارے دل کو مٹھی بند کر لیا۔ گرفت اتنی پختہ کہ ان کی موت کے بعد اب تک ڈھیلی نہ ہوئی۔ اس کے بعد بیسیوں مرتبہ ملاقات کی مجلسیں جمیں ۔ ہمیشہ یہی لگا، وہ میرے اور ہم ان کے ہیں۔ میری گزارش پر کئی مرتبہ فیصل آباد تشریف لائے۔ ان کی طبیعت میں نہ تکلف تھا، نہ ہی وہ زیادہ رکھ رکھاؤ کے عادی تھے۔ ہمیشہ کھلے دل سے اس طرح ملتے جیسے بچپن کے شناسا ہیں۔ اپنائیت اتنی کہ لگتا گلی گلیان میں اکٹھے کھیلتے کودتے بڑے ہوئے ہیں۔ کبھی اپنے علم کا رعب نہ جمایا، نہ بڑھ کر اپنی ہی کہی ، بلکہ دوسرے کی پورے دھیان اور توجہ سے سنی، پھر اپنی کہی اور دلائل سے زیر کیا۔ اہل علم کی یہی پہچان ہوتی ہے، اسی چیز نے ان کو بڑا بنایا۔
آپ کے نام کے ساتھ غازی کا لاحقہ کیوں اور کیسے ہے؟ اس کا علم تو ہمیں نہیں ، ہم اتنا ضرور جاتے ہیں کہ آپ علم کے غازی ضرور تھے۔ کسی موضوع پر بحث میں آپ بڑے بڑے علماء پر غالب آتے تھے۔ یہ تغلب آواز کی بلندی سے نہیں علم کی گہرائی اور گیرائی سے پیدا ہوتا۔ آپ کی رائے مستحکم ہوتی جس پر نصوص کی تائید پیش کرتے تھے اور سامع کو قائل ہوتے ہی بنتی تھی۔
ایک مجلس میں اس عاجز نے زکوٰۃ کے حوالے سے بات چھیڑی تاکہ ساز پر مضراب کی ضرب سے دھنیں جنم لیں اور موتیوں کی بارش ہو۔ میں نے مسئلہ تملیک کے بارے میں استفسار کیا۔ فرمانے لگے، تملیک صرف چار مدات میں ہے، دیگر میں نہیں۔ مجھے تعجب ہوا کہ علمائے احناف تو تملیک کو زکوٰۃ کا لزوم قرار دیتے ہیں ۔ فرمانے لگے، قرآن میں آٹھ مدات زکوٰۃ کا ذکر ہے جن میں سے پہلی چار میں تملیک ہے ، مؤخر الذکر چار میں تملیک نہیں ہے۔ میں نے دلیل پوچھی۔ فرمانے لگے ، پہلی چار میں لام تملیک ہے، آخری چار میں نہیں ہے۔
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاء وَالْمَسَاکِیْنِ وَالْعَامِلِیْنَ عَلَیْْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوبُہُمْ (۹:۶۰)
ان چاروں مدات میں لام تملیک ہے، لہٰذا ان میں تملیک لازم ہے، لیکن وَفِیْ الرِّقَابِ غلام کو آزاد کرایا جائے گا تو اس کی قیمت کی تملیک غلام کی نہیں بلکہ اس کے مالک کے لیے ہوگی۔ اسی طرح وَالْغَارِمِیْنَ میں تملیک مقروض کے لیے نہیں، قارض کی ہوگی۔ یہی کیفیت وَفِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَابْنِ السَّبِیْلِ میں ہے۔
آپ کا علمی قد کاٹھ بہت نہیں بلکہ بہت ہی بلند تھا جہاں پر پہنچنا ہر کہ ومہ کے بس کی بات نہیں۔ یہ بات مسلم ہے کہ علم و عمل ہی انسان کو عزت بخشتا ہے۔ علم روشنی ہے، عمل راستہ۔ آپ کی گرفت دونوں پر یکساں تھی۔ عمل کے بغیر محض علم کبر لاتا ہے اور علم بغیر عمل راستہ کھوٹا کر سکتا ہے۔ آپ کے پاس علم کی قندیل بھی تھی اور راستے کی معرفت بھی۔ اسی سبب آپ کی عزت و توقیر علمی حلقوں میں مسلم تھی، لیکن اس کے باوجود آپ تواضع و انکسار کا مرقع تھے۔ کبھی خود کو بڑا خیال نہ کیا۔ ایک مرتبہ میں نے فون کیا کہ ڈاکٹر صاحب! اگرچہ آپ کی شان سے تو کہیں فروتر ہے، لیکن آپ کی محبت کے پیش نظر جسارت کر رہا ہوں ۔ فیصل آباد میں دارِارقم نام کا چھوٹا سا سکول ہے ۔ اس کی سالانہ تقریب میں آپ کو مہمانِ خصوصی کی کرسی پر بٹھا کر اپنی اور سکول کی عزت کو بڑھانا چاہتا ہوں۔ فون سنتے ہی میرے جملوں پر مسکراتے ہوئے فرمانے لگے: یہ اسکول کی نہیں، آپ میری عزت افزائی فرما رہے ہیں، میں ضرور آؤں گا۔ تاریخ کا تعین ہوگیا، میں نے عرض کی، اسلام آباد و فیصل آباد کے مابین ہوائی سروس نہیں ہے۔ آپ کو زحمت ہوگی، کار پر سفر کرنا ہوگا۔ فرمانے لگے، زحمت نہیں میرے لیے رحمت ہے۔ میں کار پر ہی آؤں گا۔ یوں بھی ہوائی سروس ہوتی تو بھی وقت تو یکساں ہی لگتا۔ ہوائی جہاز میں سفر کریں تو کم از کم ڈیڑھ گھنٹہ پہلے پہنچنا ہوتا ہے۔ ڈیڑھ گھنٹہ پہلے پہنچنے کے لیے گھر سے مزید ایک گھنٹہ قبل روانہ ہونا ضروری ہے۔ پھر فیصل آباد کے ہوائی اڈے سے کلیرنس اور اصل مقام تک پہنچنے میں گھنٹہ ڈیڑھ تو لگتا ہی ہوگا۔ اس طرح کم از کم پانچ گھنٹے تو صرف ہوں گے جبکہ موٹر وے سے ساڑھے تین گھنٹے لگیں گے۔ یہ سب تفصیل آپ کی فطری تواضع کا ثبوت تھی ، وگرنہ سکول کی تقریب میں نہ آنے کے لیے ہوائی سروس کی عدم موجودگی او رمصروفیت کا ذکر بڑے معقول بہانے بن سکتے تھے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کے ہاں یہ تکلفات عنقا تھے۔ یہی ان کی عظمت تھی۔
تقریب سے ایک روز قبل میں نے یاد دہانی کے لیے فون کیا۔ میرے کچھ عرض کرنے سے پہلے ہی بولے، مجھے کل کی تقریب بالکل یاد ہے، میں فجر کی نماز کے ایک گھنٹہ بعد چلوں گا۔ میری ذہنی پستی، میں نے عرض کیا کہ دیر ہو جائے گی، آپ کے انتظار میں سامعین کو روکنا، بٹھانا ہمارے لیے مشکل پیدا کر دے گا۔ اگر آپ فجر کی نماز ادا کرنے کے فوری بعد سفر شروع کر یں تو ہمارے لیے سہولت رہے گی۔ آپ نے ایک منٹ توقف فرمایا اور بولے، اچھا ایسا ہی کروں گا۔ اگلے روز ہم موٹر وے پر آپ کے استقبال کے لیے پہنچنے بھی نہ پائے تھے کہ فون آیا: میں موٹر وے فیصل آباد انٹرچینج پر آپ کا منتظر ہوں۔ فون سنتے ہی بڑی خفت ہوئی۔ فوراً موٹر وے کی طرف بھاگے، گاڑی تیز دوڑائی، پھر بھی آدھ گھنٹہ صرف ہوگیا۔ ڈاکٹر صاحب کی گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی تھی اور ڈاکٹر صاحب اگلی سیٹ پر بیٹھے تلاوت کلام اللہ میں مصروف تھے۔ ہم نے معذرت کی۔ آپ آگے بڑھے ، منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور فرمایا، معذرت کی ضرورت نہیں، مجھے فائدہ ہوگیا۔ منزل رہتی تھی، پوری کر لی۔
تقریب کے اختتام پر فرمانے لگے ، فیصل آباد میں بڑی عظیم شخصیات رہتی ہیں، میں ان سے ملنا چاہوں گا۔ میں نے نام پوچھا۔ بولے، مولانا مجاہد الحسینی اسلاف میں سے ہیں، ان سے مل لیں۔ ہم ڈاکٹر صاحب کو لے کر مولانا مجاہد الحسینی کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ وہ محبت سے اور ڈاکٹر صاحب عزت سے ملے۔ وہاں سے جامعہ امدادیہ چلے گئے، راستہ بھر مولانا کی خدمات کا تذکرہ کرتے رہے۔
خط کا جواب لکھنے کے معاملے میں ڈاکٹر صاحب سخی نہیں بلکہ خط کے جواب کو لزوم کا درجہ دیتے۔ خط کا راقم چھوٹا ہو یا بڑا،اس سے غرض نہیں۔ اس نے سلام کے ذریعہ مخاطب کیا ہے، قرآن حکیم کے مطابق سلام کا جواب بھی لازم اور پوچھی گئی بات کا جواب بھی لازم ہے۔ قرآن حکیم میں ہے:
وَإِذَا حُیِّیْْتُم بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّواْ بِأَحْسَنَ مِنْہَا أَوْ رُدُّوہَا (۴:۸۶)
’’جب کوئی تمہیں سلام کرے تو جواب زیادہ احسن طریق سے دو یا اسی کو لوٹا دو۔ ‘‘
ڈاکٹر صاحب کے نزدیک خط کا جواب دینا بھی لازم تھا کہ اس میں لکھنے والا سلام ہی کرتاہے۔ دوسرا حکم بھی فرمانِ الٰہی ہے: فَاسْأَلُواْ أَہْلَ الذِّکْرِ إِن کُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ (۱۶:۴۳)۔
ڈاکٹر صاحب سے شناسا حضرات انہیں خط لکھتے، آپ ہر ایک کا جواب دیتے۔ ہماری دانست میں کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ڈاکٹر صاحب نے قصداً میرے خط کا جواب نہیں دیا۔ یہ ان کا بڑا وصف تھا۔ اکابر کا معمول بھی یہی رہا۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے حالات و معمولات میں بھی اس بات کی پابندی ملتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب عموماً جواب ہاتھ سے لکھتے۔ کبھی کمپوزنگ یا ٹائپ سے بھی کام لیتے، لیکن عموماً ہاتھ سے جواب لکھنے کی عادت تھی۔ مجھ سے کوتاہ علم اور کوتاہ عمل کے ساتھ بھی اس معاملے میں ان کا معمول سخیانہ تھا۔ میں نے جب بھی لکھا، جواب سرعت سے آیا۔ بالکل اسی طرح جس طرح مطلوب کی معمولی طلب پر طالب لپکتا ہے۔ یہ بات ان کے اخلاق کریمانہ میں سے ایک تھی۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی طرف سے لکھے گئے خطوط تحقیق کا مستقل علمی عنوان ہے جس سے بہت سے علمی گوشے منکشف ہو سکتے ہیں۔ شاید کوئی غواص اس علمی سمندر میں اترے اور علمی موتی چنے۔
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ علمی میدان کے شناور تھے۔ پڑھنا لکھنا، زبان کے ذریعے علم کے موتی بکھیرنا ہی ان کا مشغلہ تھا۔ یہ پرویز مشرف کا زمانۂ اقتدار تھا کہ اچانک خبر ملی کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی کو وفاقی حکومت میں وزارت کا قلمدان پیش کیا گیا ہے اور ڈاکٹر صاحب نے اس قلم دان کو سنبھال لیا ہے اور اس پر کام بھی شروع کر دیا ہے۔ پہلی خبر تک تو کسی کو حیرت نہ ہوئی کیونکہ ڈاکٹر صاحب کی صلاحیتیں اس بات کا تقاضا کرتی تھیں کہ ان سے حکومتی سطح پر کوئی اہم خدمت لی جائے۔ چنانچہ حکومت کی طرف سے کرسی وزارت کی پیشکش باعث حیرت نہ تھی، لیکن دو سری خبر کہ ’’آپ نے وزارت کی ذمہ داریاں قبول کر لی ہیں اور بطور وزیر وفاق حلف اٹھا کر کام بھی شروع کر دیا‘‘، اس پر علمی حلقوں میں اضطراب پیدا ہوا، کیونکہ ہر شخص یہ خیال کرتا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی افتاد طبع اس عہدہ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ لیکن یہ امر واقع تھا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے اس عہدہ سے فارغ ہوئے تو عقدہ کھلا اور وہ مصلحت سامنے آئی جس کے لیے آپ نے اپنی طبیعت کے برعکس سیاست جیسی پرخار وادی میں قدم رکھنا گوارا کر لیا۔
یہ وہ دور تھا کہ جب مدارس کو ختم کرنے یا ان کو حکومتی احکامات کا تابع بنانے کی بھرپور مہم چل رہی تھی اور پرویزی حکومت کے بارے میں یہ حقیقت سامنے آچکی تھی کہ وہ کتوں سے محبت رکھتی ہے اور مصطفےٰ کمال پاشا مشرف کے آئیڈیل ہیں، اسی آئیڈیلزم کے اشتراک کے سبب مشرف حکومت بھی دین سے ہمدردی رکھنے والوں کو نظر بد سے دیکھتی ہے۔ ان معروضی حالات میں ڈاکٹر محمود احمد غازی نے اپنی طبیعت پر جبر کیا اور مدارس کو حکومتی چیرہ دستی سے بچانے کے لیے وزیر مذہبی امور بنے اور مدارس کے دفاع میں کامیاب رہے۔ جب یہ کام ہو چکا تو آپ قلیل عرصہ ہی میں بغیر وجہ بتائے یا بغیر کسی ظاہری سبب کے اس منصب سے علیحدہ ہو گئے۔
وزارت سے علیحدگی کے بعد میری ملاقات ڈاکٹر صاحب سے ہوئی۔ میں نے اصل مقصد کو سمجھنے کے باوجود ڈاکٹر صاحب سے چٹکی لی۔ عرض کی، ڈاکٹر صاحب! آپ تو سیاسی ہو گئے۔ میرا سوال نما تبصرہ سن کر بولے، ہرگز نہیں ، میں تو بازارِ سیاست سے بس گزرا ہوں۔ حالات نے ثابت کر دیا کہ اگر ڈاکٹر صاحب مرحوم اس وقت اس پرخار وادی میں قدم نہ رکھتے تو مدارس اور دینی تعلیم کا حلیہ بگڑ چکا ہوتا اور مدارس کے مہتمم حضرات اہتمام سے فارغ بیٹھے ہوتے۔ جبہ بچتا نہ دستار، نہ ہی کھالیں ملتیں بلکہ کھالیں نوچ لی جاتیں۔ ڈاکٹر صاحب پر زبان طعن دراز کرنے والوں کی زبانیں کھنچ چکی ہوتیں۔
یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ مشرف دور میں دینی مدارس کے خلاف اٹھنے والے طوفان کو روکنے کی صلاحیت رکھنے والی شخصیت صرف اور صرف ڈاکٹر محمود احمد غازی ہی کی تھی جو قدیم و جدید تمام علوم کی جامع تھی۔ ڈاکٹر محمود غازی واحد شخصیت تھے جو منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولنے والوں کو مسکت جواب دینے کی اہلیت کے حامل بھی تھے اور ساتھ ہی دینی علوم کی اتھاہ گہرائیوں پر پوری نظر رکھتے تھے اور اس معاملے میں کسی سمجھوتے کے قائل نہ تھے۔ آپ نے اسی زمانے میں مدارس میں رائج نصاب میں معروضی حالات کے تقاضوں کے مطابق قدیم و جدید کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی اور اپنے قلیل دورِ وزارت میں مدارس کے لیے نہایت اہم نصاب مرتب کیا، لیکن افسوس بعض دینی حلقوں نے ڈاکٹر صاحب کے اس دانش مندانہ فعل کو بھی اپنی ذہنی اپج اور مخالفت برائے مخالفت کے جذبے ہی سے لیا، لیکن ڈاکٹر صاحب نے ایسے حضرات کا کوئی نوٹس نہ لیا اور اپنا مشن جاری رکھا۔ جب ڈاکٹر صاحب کی طرف سے اس نصاب کا اعلان ہوا تو راقم نے انہیں ایک خط لکھا جس میں مشورہ دیا کہ آپ بہت اہم کام سر انجام دے رہے ہیں، لیکن براہ کرم کوئی ایسی سبیل بھی تلاش کیجیے کہ علما کا روایتی طبقہ آپ کے خلاف صف آرا نہ ہو اور ایسا نہ ہو کہ آپ کی مثبت مساعی علما کے منفی رویے کا شکار ہو جائیں۔ اس خط کا آپ نے جواب دیا۔ ڈاکٹر صاحب کی طرف سے مجھے جتنے خطوط موصول ہوئے، ان میں صرف یہی ایک خط ہے جو کمپوز شدہ ہے۔ یہ خط انہوں نے اپنی وزاایک رت کے دوران اپنے پرنسپل سیکرٹری سید قمر مصطفےٰ کی طرف سے لکھوایا، وگرنہ باقی دیگر تمام خطوط ان کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے لکھا:
’’ڈاکٹر غازی صاحب نے آپ کے مراسلے اور ماہنامہ التجوید کے شمارے کا شکریہ ادا فرمایا ہے۔ انہوں نے مجھے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ میں آپ کو مطلع کروں کہ ماڈل دینی مدارس کا نصاب مختلف علماء کرام اور وفاق کے نمائندوں کی مشاورت سے ہی مرتب کیا جا رہاہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس نصاب سے مطلوبہ اہداف کا حصول ممکن ہو سکے گا‘‘۔
ڈاکٹر صاحب کو اپنے علم پر کبھی ناز ہوا ہی نہیں۔ کبھی کسی علمی موضوع پر بحث و تمحیص میں اپنی علمیت کو فخر کے انداز میں بیان نہ کرتے بلکہ اپنے سے کم علم آدمی کی بات کو بھی اس طرح سنتے جیسے اس معاملے میں بالکل بے خبر ہیں۔ یہ آپ کی عالی ظرفی کی علامت تھی۔ اسی طرح وزارت کے منصب پر فائز ہوئے تو عاجزی و انکساری میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ان کی وزارت ہی کے ایام کا واقعہ ہے کہ راقم کو آپ کی طرف سے کتابوں کا بنڈل بذریعہ ڈاک موصول ہوا۔ باہر وزارت حج و اوقاف کی مہر موجود تھی۔ میں نے بنڈل کھولا ، اس میں کچھ اہم علمی کتب تھیں۔ ساتھ ہی آپ کا خط تھا ۔ لکھا تھا کہ حج کے دوران مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ جانا ہوا۔ مہتمم مولانا حشیم صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے آپ کو یہ کتب بھیجنا تھیں۔ وہ متردد تھے کیسے بھیجوں۔ میں نے کہا مجھے دے دیں ، میں پاکستان جاکر پہنچا دوں گا۔ مجھے کتابیں وصول کرکے خوشی ہوئی اور اس سے زیادہ خوشی اس خط کو پڑھ کر ہوئی کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی کس قدر متواضع اور منکسرالمزاج ہیں جو اہل علم کاخاصہ ہے۔ میں نے شکریے کے طور پر فون کیا تو فرمانے لگے، شکریے کی کیا بات ہے ۔ میں آ ہی رہا تھا اور میں نے کتابیں خود تھوڑے اٹھانا تھیں۔ سامان میں آگئیں، ڈاک سے آپ کو پہنچ گئیں۔ پھر کہنے لگے ، ان کتابوں کے مطالعے سے آپ کو جو فائدہ ہوگا تو اس ثواب کا کچھ حصہ میرے نامہ اعمال میں بھی لکھا جائے گا۔ اب وہ دنیا میں نہیں لیکن ان کے ان جملوں کی حلاوت میرے کانوں میں رس گھول رہی ہے۔ میرا شعور اور لاشعور دونوں بین کرتے ہیں۔ کاش جیتا کوئی دن اور، کاش موت کا فرشتہ ڈاکٹر صاحب کا گھر بھول جاتا اور اسلام آباد کے پہاڑی سلسلہ میں گم ہو کر خائب و خاسر ہی لوٹ جاتا۔ لیکن ایسا ممکن نہیں ، فرشتۂ اجل بھی ویفعلون مایؤمرون (۶۶:۶) کا پابند ہے۔
۲۰۰۱ء میں آپ وزیر مذہبی امور تھے۔ سرکاری منصب کے حوالے سے حج وفد کی سربراہی آپ کے سپرد تھی۔ حج کے لیے تشریف لے گئے۔ ہمارے ایک دوست مصباح الحق صدیقی صاحب ، جو نیشنل بنک میں آفسر ہیں، بھی اس سرکاری وفد میں شامل تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک روز وضو اور حوائج ضروریہ کی تکمیل کے لیے سب لوگ قطار بنائے باری کا انتظار کر رہے تھے۔ میں نے ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کو بھی قطار میں لگے انتظار کرتے دیکھا۔ میں ان سے آگے تھا، ڈاکٹر صاحب تین چار افراد کے پیچھے کھڑے تھے۔ میں نے احتراماً عرض کی ، آپ مجھ سے آگے تشریف لے آئیں۔ ڈاکٹر صاحب نے شکریہ ادا کیا اور اپنی جگہ پر ہی کھڑے رہے، آگے نہ بڑھے۔ میں ان کی یہ تواضع و انکساری اور اصول کی پابندی دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ جب آپ وضو سے فارغ ہوئے تو میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور عرض کی کہ ڈاکٹر قاری محمد طاہر مدیر التجوید میرے دوست ہیں۔ ان کے حوالے سے آپ سے ملنا چاہتا ہوں ، وقت دے دیجیے۔ خندہ پیشانی سے بولے، میرے خیمہ کا نمبر یہ ہے۔ آپ جس وقت چاہیں تشریف لائیں، مجھے بہت خوشی ہوگی۔ مغرب کی نماز سے فارغ ہو کر ان کے خیمہ کی طرف چل دیا۔ آپ تلاوت کلام اللہ میں مشغول تھے۔ میں پیچھے بیٹھ گیا۔ جب آپ فارغ ہوئے تو مجھے دیکھا ، بہت ہی خوشی سے میرا استقبال کیا۔ میرے ہاتھ میں آپ کا کتابچہ بعنوان آسان حج پکڑا ہوا تھا۔ آپ نے وہ کتابچہ لیا ، کچھ ورق گردانی کی۔ فرمایا بہت مختصر اور مفیدہے۔ انہوں نے از خود تعریفی کلمات اس کتابچہ پر تحریر کر دیے۔ واپسی پر مصباح الحق صدیقی صاحب نے وہ کتابچہ مجھے لا کر دیا اور سارا واقعہ بھی سنایا۔ میرے دل میں ڈاکٹر صاحب کی عظمت مزید ہوئی۔ آپ کس قدر تعلق خاطر کو نبھانے والے ہیں۔ آپ کی وہ دو سطریں راقم کے پاس محفوظ ہیں اور میرے لیے سرمایہ حیات کا درجہ رکھتی ہیں۔
کوئی شخص فقیر ہو یا امیر، عالم ہو یا صوفی، بادشاہ ہو یا گدا، سب کا حاصل حیات گور کے علاوہ کچھ نہیں ۔ جو آیا جانے ہی کے لیے، رہنے کے لیے تو کوئی آتا ہی نہیں۔ علامہ اقبال نے زندگی کی اسی حقیقت سے پردہ سرکایا ہے۔
بادشاہوں کی بھی کشت عمر کا حاصل ہے گور
جادۂ عظمت کی گویا آخری منزل ہے گور
بادشاہ و امراء دنیا میں زر و زمین چھوڑ جاتے ہیں جن پر بعد والے لڑتے جھگڑتے ہیں۔ قتل و غارت اور خون ریزی سے بھی گریز نہیں کرتے لیکن علماء کا ورثہ علم ہوتا ہے۔ فرمان رسول ہے: العلماء ورثۃ الانبیاء۔ علما، انبیا کے وارث ہیں۔ انبیا کی وراثت درہم و دینار نہیں ہوتے، ان کا ترکہ علم ہوتا ہے۔ زندہ رہیں تو علم کی میراث تقسیم کرتے ہیں۔ دنیا سے رخصت ہوں تو ترکہ میں بھی علمی وراثت ہی ہوتی ہے جس سے ایک زمانہ صدیوں کسب فیض کرتا ہے۔ امام غزالی ایران کے شہر طوس میں محو استراحت ہیں۔ آپ کو رخصت ہوئے صدیاں بیتیں لیکن ان کی کیمیائے سعادت روشنی بکھیر رہی ہے۔ بہت سے غیر مسلم کیمیائے سعادت کو پڑھ کر مسلمان ہوئے۔ سعید ارواح اس سے علمی کیمیا گری کے اصول حاصل کر رہی ہیں۔ امام الہند شاہ ولی اللہ مہندیاں دہلی میں آسودہ خاک ہیں لیکن حجۃ اللہ البالغہ سے پوری دنیا میں اہل علم من کی دنیا کو اجال رہے ہیں اور تاقیامت اجالتے رہیں گے۔
اسی طرح ڈاکٹر محمود احمد غازی کی پاکیزہ روح بھی جلد ہی عالم ارواح کو سدھار گئی۔ اسلام آباد کی مٹی نے ان کے جسم کو پناہ دے دی۔ وہ یقیناًمٹی تلے آسودۂ رحمت ہیں لیکن وہ اپنے قلم سے اتنا کام ورثہ کے طور پر چھوڑ گئے ہیں کہ ان کے قلم سے نکلی تحریریں بہت سے کم علموں کو علم کی مالاؤں سے آراستہ کرتی رہیں گی۔ ان کی ایک ایک کتاب ہی پی ایچ ڈی کے لیے مستقل عنوان ہے۔ دورِ حاضر میں ذہن بنجر ہو گئے ہیں۔ تحقیق کے لیے عنوانات تلاش کرنا بھی کارے دارد، لیکن ڈاکٹر غازی کی کتابیں اور تحریریں غواص حضرات کو مزید راہیں عطا کرتی ہیں اور کرتی رہیں گی۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی کی قلمی میراث میں محاضرات قرآنی، محاضراتِ حدیث، محاضراتِ فقہ، قانون بین الممالک، اسلام اور مغرب تعلقات، مسلمانوں کا دینی و عصری نظام تعلیم، اسلامی بنکاری: ایک تعارف، قرآن مجید:ایک تعارف انتہائی اہم ہیں۔ ان میں سے ہر تحریر مستقل موضوع ہے، جس کو بنیاد بنا کر علم و تحقیق کے شناور مزید گوہر تابدار تلاش کر سکتے ہیں۔ ان کتب کے علاوہ ملکی و غیر ملکی جرائد میں طبع ہونے والے مضامین تحقیق کے لیے مستقل موضوع ہیں جن سے طلبہ اپنی پیشانیوں پر پی ایچ ڈی کے تمغے سجا سکتے ہیں جس سے ان کا دسترخوان بھی بابرکت ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کو اللہ نے جہاں تحریر کا ملکہ دیا، وہاں تقریر کا ملکہ بھی وافر عطا کر رکھا تھا۔ ان کی ہر تقریر کئی کتب پر بھاری ہوتی۔ بولتے تو محسوس ہوتا کہ علم کا بحرِ بے کراں ہے، سننے والوں کا دامن موتی سمیٹنے سے کوتاہ نظر آتا۔ دورانِ تقریر امہات الکتب سے ایسے ایسے حوالے پیش کرتے جیسے موسوعہ کھل جائے۔
ڈاکٹر صاحب دھیما مزاج رکھتے تھے۔ ہمیشہ خوش رہتے ، خوش رکھتے، لیکن اس کے باوجود میں نے انہیں ایک مرتبہ غصہ میں بھی دیکھا لیکن عام لوگوں کی طرح وہ غصہ میں غضبناک نہ ہوتے۔ ۲۰۰۷ء کی بات ہے، مشرف صدر تھے۔ انہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی کا ڈول ڈالا۔ ان کا خیال تھا کہ مختلف مذاہب کو اکٹھا کر دیا جائے تاکہ مختلف مذہب رکھنے والے لوگوں خصوصاً عیسائیت کے ساتھ اسلام کا اور عیسائیوں کے ساتھ مسلمانوں کا رشتہ مستحکم ہو اور ہم پوری دنیا خصوصاً امریکہ کو باور کرا سکیں کہ ہم میں اور عیسائیت میں ہم مشربی ہے۔
اس مقصد کے لیے صدر صاحب نے اسلام آباد میں عیسائیوں اور مسلمانوں کا مشترکہ اجلاس بلایا جس میں پاکستان بھر سے تقریباً دو ڈھائی سو کے قریب علماء کو اکٹھا کیا گیا۔ پاکستان کے چوٹی کے عیسائی بشپ اور فادر وغیرہ بھی بلائے گئے۔ ایک آدھ ہندو اور سکھ پیشوا بھی شریک ہوئے۔ کراچی سے مولانا تقی عثمانی ، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، اسی مقام کے شیعہ حضرات بھی شریک ہوئے۔ راقم بھی مدعوین میں سے تھا۔ صدر مشرف نے صدارت فرمائی۔ مولانا فضل الرحیم جامعہ اشرفیہ نے مولانا احتشام الحق تھانوی مرحوم کی لے میں تلاوت کی اور تعالوا الی کلمۃ سواء بینا و بینکم (۳:۶۴) کی آیات پڑھیں۔ علماء کرام اور عیسائی پیشواؤں نے اسلام اور عیسائیت کے فضائل بیان کیے۔ علماء کرام نے اسلام کو عیسائیت کے قریب اور عیسائیوں نے عیسائیت کو اسلام کی اصل ثابت کرنے کی کوشش کی۔ حسب معمول انتہائی پر تکلف چائے پر اجلاس ختم ہو گیا۔ یہاں سے فارغ ہو کر ہم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب سے ملنے کی غرض سے ان کے دفتر گئے۔ جو فیصل مسجد سے متصل تھا۔ ڈاکٹر صاحب حسب عادت و حسب معمول انتہائی تپاک ، محبت اور خوش روئی سے ملے۔ اسلام آباد آنے کی غرض پوچھی۔ میں نے بین المذاہب ہم آہنگی اجلاس کی روداد سنائی۔ ڈاکٹر صاحب کا چہرہ پر ملال ہوا۔ بولے عقیدہ توحید و تثلیث میں مماثلت کس طرح ممکن ہے؟ میرے دورِ وزارت میں بھی ایسی کوشش ہوئی تھی، میں آڑے ہی آیا جس پر حاملین تثلیث ناراض ہوئے۔ ہمیں اللہ کی رضا جوئی مقصود ہونی چاہیے۔ حالات کیا رخ اختیار کریں ، اس سے غرض درست نہیں۔ ڈاکٹرصاحب کا لہجہ سخت تھا۔ مجھے احساس ہوا ایں گناہ ہست کہ من ہم کردم ۔ کئی روز دل کچوکے لگاتا رہا۔
عالمی رابطہ ادب اسلامی، ادبا کی ایک تنظیم ہے جس کی بنیاد عالم اسلام کے نامور عالم، مؤرخ ، ادیب، متصوف بزرگ سید ابو الحسن علی ندوی نے رکھی تھی۔ آپ عالمی رابطہ ادبِ اسلامی پاکستان کے رکن تھے۔ آپ کے مرتبہ و مقام کے اعتبار سے اس کا رکن ہونا آپ کے لیے کوئی بڑے اعزاز کی بات نہ تھی بلکہ آپ کی رکنیت عالمی رابطہ ادب اسلامی کے لیے باعث عزت و افتخار تھی۔ لیکن جب بھی آپ سے ا س حوالے سے ملاقات ہوئی، ہمیشہ یہی فرمایا کہ اس تنظیم کا رکن ہونا میرے لیے اعزاز و فخر کی بات ہے۔ راقم اس تنظیم کا جنرل سیکرٹری تھا۔ اس حوالے سے مجھے ہمیشہ بہت عزت عطا فرمائی۔ میری ادارت میں ’’اخبارِ رابطہ‘‘ کا اجرا ہوا۔ اس کا پہلا شمارہ شائع ہوا تو میری حوصلہ افزائی کی اور بہت ہی خوشی کا اظہار کیا۔ فرمانے لگے ، اگر آپ کی یہ کوشش مسلسل جاری رہی تو رابطہ ان شاء اللہ بہت ترقی کرے گا۔ اہل علم سے رابطہ کرنے میں سہولت بھی ہوگی اور رابطہ کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی رابطہ میں تحریک کا سبب بنے گی۔
رابطہ کے بعض عہدیداران کو وہم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب رابطہ کے صدر بننے کی خواہش رکھتے ہیں حالانکہ امر واقعہ یہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب کے لیے رابطہ کا صدر ہونا قطعاً خواہش کی بات نہ تھی۔ وہ اس عہدہ سے کہیں بڑے تھے۔ آپ کو اس کی خبر ملی تو مسکرائے اور اتنا فرمایا کہ میں تو صرف اس لیے اس کا رکن ہوں کہ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ نے مجھے از خود اس کا رکن نامزد کر دیا تھا۔ یہی میرے لیے اعزاز کی بات ہے ۔ وگرنہ میں نے ان کے جملے سنے اور محسوس کیا کہ زبان سے نہیں بلکہ حال سے فرما رہے ہیں۔
سو پشت سے ہے پیشہ آبا سپہ گری
کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے
سچی بات ہے کہ ڈاکٹر محمود غازی کا وجود رابطہ ادب اسلامی کے لیے عزت و افتخار کا سبب تھا، وگرنہ ڈاکٹر صاحب موصوف اس قسم کے اعزازات سے ارفع و اعلیٰ تھے۔ یہ غالباً ۲۰۰۴ء کی بات ہے۔ میں اس وقت عالمی رابطہ ادب اسلامی پاکستان کا جنرل سیکرٹری تھا۔ مولانا فضل الرحیم اس کے صدر تھے۔ مجلس شوریٰ میں یہ بات طے ہوئی کہ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کے حوالے سے بین الصوبائی سطح پر سیمینار منعقد کیا جائے جو اسلام آباد میں ہو۔ اس سیمینار کے ابتدائی انتظامات کے حوالے سے میرے ذمہ یہ خدمت لگائی گئی کہ میں اسلام آباد جاکر ڈاکٹر صاحب سے رابطہ کروں اور سیمینار کے لیے جگہ اور تاریخوں کا تعین کروں۔ میں اسلام آباد گیا، ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ میں نے مدعا عرض کیا، خوش ہوئے۔ فرمانے لگے، اس نیک کام کے لیے اسلامی یونیورسٹی کے ہال کو رابطہ والے اگر قبول کریں تو اعزاز ہوگا۔ اندھا کیا چاہے، دو آنکھیں۔ میں خوشی سے دل ہی دل میں اچھل پڑا، لیکن میں نے اپنی خوشی چھپائے رکھی، ظاہر نہ ہونے دیا اور عرض کیا کہ آپ کی پیش کش اپنی جگہ، میں اکیلا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ لاہور جاکر دوستوں سے عرض کروں گا۔ جو فیصلہ ہوگا، آپ تک پہنچا دوں گا۔ یہ ڈاکٹر صاحب کی عظمت تھی۔ فرمانے لگے، مولانا فضل الرحیم صاحب کے سامنے میری پیشکش رکھیں، وہ ان شاء اللہ مان جائیں گے۔ مجھے حوصلہ ملا تو میں نے دست طمع دراز کیا۔ عرض کی ، ڈاکٹر صاحب اگر آپ کی اس پیشکش کو قبولیت ملے تو آپ رابطہ کے ساتھ مالی معاونت کیا فرمائیں گے؟ ڈاکٹر صاحب میری اندرونی کیفیت کو بھانپ گئے۔ میری طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا ، زیرلب مسکرائے۔ اب مجھ سے ضبط نہ ہوا، میرے حسن طلب کے جذبات چہرے اور آنکھوں سے ہویدا ہو گئے تو ڈاکٹر صاحب بھی کھل کر ہنس دیے۔ فرمانے لگے، ہال کا خرچ، بجلی پانی کا خرچ اور تقریب کے بعد کھانا سب اسلامی یونیورسٹی برداشت کرے گی اور سامعین کی کمی بھی پوری کر دے گی۔ ساتھ ہی فرمانے لگے ، اب تو شوریٰ سے منظوری کی ضرورت نہ ہوگی! میں نے چٹکی لی، عرض کیا: آپ عالمی رابطہ ادب اسلامی کے بڑے قدر آور رکن ہیں۔ آپ سے مشورے کے بعد کسی اور کے مشورے اور منظوری کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ہم دونوں اس مکالمے کا حظ کافی دیر تک لیتے رہے۔
اس جگہ ایک انتہائی اہم واقعہ کا تذکرہ بہت ضروری ہے جو غازی مرحوم کے حوالے سے قوم کی امانت ہے۔ مقررہ تاریخوں پر مذکورہ سیمینار اسلامی یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ ایک اجلاس کی صدارت ڈاکٹر صاحب مرحوم نے فرمائی۔ اپنے خطبہ صدارت میں آپ نے مولانا ابوالحسن علی ندوی کے حوالے سے انتہائی اہم بات ارشاد فرمائی۔ میری دانست میں یہ بات پوری پاکستانی قوم کی امانت ہے جس کا ذکر اس جگہ بہت ضروری ہے۔ شاید اس بات سے ہمارے سیاست کار اپنا قبلہ درست کر سکیں اور حق و باطل میں امتیاز کی لکیر کھینچنے کا حوصلہ حاصل کریں۔
ڈاکٹر صاحب فرما رہے تھے کہ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کو خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ آپ فرما رہے تھے کہ مدینہ منورہ میں صورت حال مخدوش ہے۔ اس کا تدارک ضروری ہے۔ مولانا ندوی اس خواب کی تعبیر و توضیح پر سوچ بچار کرتے رہے۔ ان کے ذہن میں اللہ نے بات ڈالی کہ خواب اہم ہے اور انتظامی معاملہ ہے۔ اس کی اطلاع پاکستان کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق کو کرنا ضروری ہے۔ یہ سوچ کر آپ فوراً کراچی پاکستان تشریف لائے اور اس وقت کے وزیر قانون اے کے بروہی سے رابطہ کیا اور کہا کہ میری ملاقات فوراً جنرل محمد ضیاء الحق سے کرانے کا بندوبست کریں۔ بروہی صاحب نے ضیاء الحق سے رابطہ کیا اور مولانا ندوی کا پیغام پہنچایا۔ ضیاء الحق مرحوم نے کہا کہ مولانا عالم اسلام کے بڑے مفکر ہیں، انہیں اسلام آباد آنے کی زحمت نہ دیں۔ میں فوراً ان کی خدمت میں کراچی حاضر ہو رہا ہوں۔ جنرل مرحوم اسی وقت عازم کراچی ہو گئے۔ مولانا سے ملاقات ہوئی۔ ندویؒ نے اپنا خواب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ضیاء الحق کو بتلایا۔ غازی صاحب کے بقول خواب بیان کر چکنے کے بعد مولانا ندویؒ اپنی نشست سے اٹھے اور ضیاء الحق کی قمیص کا کالر پکڑا اور فرمایا کہ میں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام آپ تک پہنچا دیا ہے۔ میں بری الذمہ ہوں۔ اس موقع پر ڈاکٹر غازی صاحب کی آواز بھرا گئی۔ کہنے لگے ، یہ خواب سن کر ضیاء الحق مرحوم رونے لگے اور مولانا سے قدرے توقف سے بولے، مولانا! اب اگر ایسی صورت پیش آئے تو میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیجیے گا کہ پاکستان کی فوج کا ہر جوان مدینہ منورہ کی حفاظت کے لیے کٹ مرے گا۔ مدینہ منورہ پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ ان شاء اللہ کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ ڈاکٹر غازی صاحب کی زبان سے یہ ساری بات سن کر پورے مجمع پر رقت طاری ہو گئی۔ اس کے بعد جنرل مرحوم نے جو اقدامات کیے، وہ اس وقت کے اخبارات کا حصہ ہیں۔
ڈاکٹر صاحب عالمی شہرت رکھتے تھے۔ پورا عالم اسلام ان کا قدر شناس تھا۔ ان کی آواز میں وزن تھا۔ عالمی رابطہ ادب اسلامی کے بزرجمہر اگر چاہتے تو ڈاکٹر صاحب کے مرتبہ و مقام سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے تھے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اپنی ذات کے ہالے میں گم رہنے والے حضرات کی کوتاہ فکری نے فکر ندوی کو محدود رکھنے میں عافیت تلاش کی اور ’انا ولا غیری‘ کے جذبے کے تحت ادیبوں کو اس تنظیم سے اور اس تنظیم کو ادیبوں سے دور رکھنے کی شعوری کوشش میں کامیاب رہے، اسی لیے اہل بصیرت عالمی رابطہ ادب اسلامی کو عارفی رابطہ ادب اسلامی کہہ کر حظ لیتے ہیں۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی زاہد تھے، لیکن خشک ہرگز نہ تھے۔ آپ کی طبیعت شگفتہ تھی۔ علمی لطائف سے دوران گفتگو رنگ بھرتے تھے۔ سننے والا محظوظ ہوتا۔ میرے ہمراہ مولانا مجاہد الحسینی سے ملنے گئے تو بات تبلیغی جماعت کے حوالے سے چلی۔ فرمانے لگے، مولانا الیاسؒ کا کارنامہ ہے کہ انہوں نے میواتیوں کو مسلمان کیا جبکہ آج کل تبلیغی جماعت والے مسلمانوں کو میواتی بنا رہے ہیں۔
ان کے ہمراہ ایک مرتبہ واش بیسن پر وضو کرنا مجبوری بن گیا۔ میں نے عرض کی اس معاملے میں اہل حدیث حضرات کے مزے ہیں۔ جرابوں پر مسح کرکے فارغ ہو جاتے ہیں۔ یہ پاؤں اٹھانا، سنک میں رکھنا ، اس مشکل سے جان چھوٹ جاتی ہے۔ فرمانے لگے ، یہ بات درست ہے۔ مجھے اس کا تجربہ اور اس کی اہمیت کا اندازہ ایک غیر ملکی سفر میں ہوا جب میں نے ایک ہوائی اڈے پر وضو کے لیے واش بیسن کا رخ کیا۔ جب حسب عادت منہ اور بازو دھونے کے بعد پاؤں دھونے کی غرض سے ٹانگ پکڑی اور پاؤں واش بیسن میں رکھا تو ایک غیر ملکی نے میری اس حرکت کو بنظر حقارت دیکھا۔ اس وقت مجھے جرابوں پر مسح کر لینے کی رخصت کی اہمیت کا پتہ چلا۔ میں نے ازراہ استفسار پوچھا کہ پاؤں پر مسح کرنے کے لیے موزے کی شرائط کیا ہیں؟ فرمانے لگے، چار شرائط ہیں۔ میں نے چونک کر پوچھا، ہم نے تو تین پڑھی ہیں، چوتھی شرط کون سی؟ فرمانے لگے، پہلی شرط یہ کہ تین چار میل چلے تو پھٹے نہیں۔ دوسرے یہ کہ موسمی اثرات سے محفوظ رکھے۔ تیسرے یہ کہ پاؤں پانی میں ڈالیں تو پانی جلد تک سرایت نہ کرے۔ مسکرا کر فرمانے لگے: اور چوتھی یہ کہ اس وقت کوئی حنفی مولوی صاحب پاس نہ ہوں۔
ایک مرتبہ ہم نے عالمی رابطہ ادب اسلامی کے تحت فیصل آباد میں سیمینار منعقد کرایا۔ ڈاکٹر صاحب کو دعوت دی، آپ تشریف لائے۔ بڑی علمی گفتگو فرمائی۔ واپسی پر میں نے کچھ رقم سفر خرچ کے طور پر مصافحہ کرتے ہوئے پیش کرنا چاہی تو انکاری انداز میں بولے، بھئی یہ کیا سلسلہ ہے؟ میں نے عرض کی، بس قبول کر لیجیے تو زور سے بولے، آخر کس سلسلے میں؟ کوئی سلسلہ تو بتاؤ۔ میں نے فوراً عرض کی ، جناب یہ سلسلہ چشتیہ قادریہ نہیں بلکہ سلسلہ مالیہ ہے۔ میرے اس جواب پر ڈاکٹر صاحب بڑے محظوظ ہوئے اور خوب مسکرائے۔
ڈاکٹر صاحب عموماً موبائل فون نہیں رکھتے تھے۔ کئی مواقع ایسے آئے کہ ڈاکٹر صاحب سے بات کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی، لیکن ہمارے پاس ان کا موبائل نمبر ہی نہ تھا۔ خیال ہوتا کہ اب ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوگی تو موبائل نمبر لے کر لکھ لوں گا، لیکن ہر ملاقات پر ایسا کرنا بھول جاتا تھا۔ ایک روز یاد آہی گیا، ہم نے مطالبہ کیا، ڈاکٹر صاحب اگر پسند فرمائیں تو موبائل نمبر دے دیں۔ آپ نے فرمایا، میں تو موبائل فون رکھتا ہی نہیں۔ ہم نے فوراً تعجب سے پوچھا، ڈاکٹر صاحب ہمیں ما اور لمَ کا حق تو نہیں، یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے۔ لیکن اجازت دیں تو پوچھ لوں کہ آپ نئی ایجادات سے کیوں بدکتے ہیں؟ آپ نے موبائیل فون کیوں نہیں رکھا؟ ڈاکٹر صاحب نے بات سنی اور بغیر کسی توقف کے فرمانے لگے: إِثْمُہُمَا أَکْبَرُ مِن نَّفْعِہِمَا (۲:۲۱۹)۔
گویا ڈاکٹر صاحب نے ہمیں ہنسایا اور چپ بھی کرا دیا۔ میں نے جواب سنا تو خوب لذت لی۔ جب بھی ان کا جواب ذہن میں آتا ہے، بڑا حظ ملتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے اس جملے نے ذہن کی تاروں کو چھیڑا تو ہم نے موبائل کے عنوان سے کالم لکھا۔ جس کے مندرجات یہ تھے:
’’ڈاکٹر محمود احمد غازی ہمارے ملک کے نامور معروف دانشور ہیں۔ ان کا شمار ان اہل علم میں ہوتا ہے جو قدیم وجدید علوم کا ادراک رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے اہل علم ہمارے ملک میں خال خال ہی ہیں۔ وہ مرکزی حکومت کے سابق وزیر مذہبی امور بھی رہ چکے ہیں۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے چیف بھی رہے۔ وہ پہلے پاکستانی ہیں جن کو یہ عہدہ تفویض ہوا۔ علمی اعتبار سے ان کی پذیرائی نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون پاکستان دیگر ممالک میں بھی ہوتی ہے۔ دنیا کے بڑے تعلیمی اداروں کی اعلیٰ سطحی علمی کانفرنسوں میں ان کو مدعو کیا جاتا ہے اور ان سے علمی موضوعات پر مقالات لکھنے اور پڑھنے کی فرمائش کی جاتی ہے۔ اردو کے علاوہ عربی اور انگریزی زبان میں تحریر و تقریر کا یکساں ملکہ رکھتے ہیں۔ اس وقت تک بہت سی کتب ان کے قلم سے نکلیں اور اہل علم کے لیے مزید علم کا ذریعہ بنیں۔ تواضع اور انکسار کا پیکر ہیں۔ لباس کے اعتبار سے بھی قدیم و جدید کا سنگم ہیں۔ تھری پیس سوٹ ، ہم رنگ نک ٹائی کے ساتھ ساتھ مشرقی لباس سے بھی جسم کو مزین کرتے ہیں۔ شلوار قمیص اور جیکٹ بھی زیب تن کرتے ہیں۔ اس طرح وہ صرف علم ہی کے اعتبار سے نہیں بلکہ لباس کے اعتبار سے بھی قدیم و جدید کا سنگم ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ دورِ جدید کی اہم ترین ایجاد موبائل فون کو کبھی استعمال نہیں کرتے اور نہ ہی موبائل اپنے پاس رکھتے ہیں۔ میں نے ایک مرتبہ پوچھ ہی لیا ’’ڈاکٹر صاحب! آپ کا موبائل نمبر کیا ہے‘‘؟ فرمانے لگے ’’میں موبائل رکھتا ہی نہیں‘‘۔ میں نے حیرت سے دوسرا سوال کیا ’’کیوں‘‘؟ تو ان کا جواب استعاراتی تھا جس سے وہی لوگ لذت لے سکتے ہیں جو اس آیت کے مطلب، مفہوم اور تناظر سے واقف ہیں۔ فرمانے لگے: ’’إِثْمُہُمَا أَکْبَرُ مِن نَّفْعِہِمَا‘‘۔ ترجمہ : ان دونوں کا گناہ ان دونوں کے فائدہ سے زیادہ ہے۔ ‘‘
اس کالم کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے ہمیں خط لکھا جس کے مندرجات اس طرح ہیں:
’’برادرِ مکرم و محترم جناب ڈاکٹر قاری محمد طاہر صاحب
یقین جانیے کہ آپ کا ممدوح اتنی تعریفوں کا مستحق نہیں ہے جتنی آپ کے مضمون میں بیان ہوئی ہیں۔ یہ محض کسر نفسی یا تواضع نہیں ، اظہارِ حقیقت ہے۔ آپ کا رسالہ ملتا رہتا ہے۔ استفادہ کرتا ہوں اور دعاگو رہتا ہوں۔ تجوید کے فنی مباحث تو میرے معیار تلاوت سے بلند ہوتے ہیں، ان سے استفادہ کا تو میں اہل نہیں ہوں، البتہ قراء حضرات کا تذکرہ دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔ فن قراء ت کے حوالہ سے بطور لطیفہ کے عرض ہے کہ ۱۹۶۲ء میں حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے حکم سے مجھے تجوید میں سو میں سے ایک سو پانچ نمبر ملے تھے، لیکن اس حرکت کے ذمہ دار مولانا نہ تھے، کچھ حاسدین تھے۔
(قدرے دخل در معقولات: مصر کے مفتی اعظم کا نام علی جمعہ ہے اور ان کا خطاب جامعۃ الاسکندریہ میں ہوا تھا)
والسلام
نیاز مند
محمود احمد غازی‘‘
یہ خط ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے جو راقم کے پاس محفوظ ہے۔ اس خط سے ڈاکٹر صاحب مرحوم کی بہت سی خوبیوں کا پتہ چلتا ہے۔ آپ کی طبیعت میں زہد کی خشکی نہ تھی بلکہ آپ شگفتہ طبیعت کے مالک تھے اور خط کا جواب لکھنا اسی طرح ضروری خیال کرتے جس طرح سلام کا جواب دینا ضروری ہے۔ تیسری بات یہ کہ آپ کے اندر تواضع و انکساری بھی انتہا کی تھی۔ حافظ قرآن تھے، تجوید کے قواعد و ضوابط سے پوری طرح بہرہ ور ہونے کے باوجود فرماتے ہیں کہ ’’تجوید کے فنی مباحث تو میرے معیار تلاوت سے بلند ہوتے ہیں۔ ان سے استفادہ کا تو میں اہل ہی نہیں ہوں‘‘۔ یہ جملہ انتہائے انکسار کا غماز ہے۔ کیونکہ قراء حضرات کے تذکروں کا دلچسپی سے پڑھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ علم تجوید و قراء ت کے خوب خوب شناور تھے اور محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کا آپ کو سو میں سے ایک سو پانچ نمبر دینا ہمارے دعوے کی دلیل کے لیے بذات خود بڑی دلیل ہی نہیں بلکہ بڑی تائید ہے۔
ڈاکٹر صاحب فقہی معاملات میں فروعی اختلافات کی خلیج کو پاٹنا چاہتے تھے، اسی لیے آپ نے اپنے دور میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں بڑے مفید اور اہم سیمینارز منعقد کرائے۔ بہت سے مضامین اور کتابچے بھی لکھے۔ اس حوالے سے آپ نے کاسموپولیٹن فقہ کا نیا نظریہ دیا۔ ان کی رائے یہ تھی کہ دنیا کے بدلتے حالات کے تناظر میں ایک نئی فقہ مدون کی جائے جو دنیا میں بسنے والے تمام مسلمانوں کی میراث ہو، جس پر پوری دنیا میں عمل بھی ممکن ہو۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ جدید حالات میں پوری دنیا سمٹ کر ایک ملک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ پوری دنیا میں بسنے والے لوگوں کا باہم رابطہ انتہائی آسان بھی ہے اور انتہائی سریع بھی ہو چکا ہے۔ فاصلہ اور وقت سب کے سب سمٹ چکے ہیں۔ لہٰذا اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر علاقے کے بسنے والے مسلمان معروضی حالات کے تحت اپنے مسائل کا جائزہ لیں اور بین الاقوامی سطح پر ان کے نتائج پر غور کریں اور اس غور کے نتیجے میں درپیش مسائل کا حل تلاش کریں اور چاروں مکاتب فکر کی بنیادوں کو قائم رکھتے ہوئے ایک نئی فقہ مدون کی جائے جس پر سب کا اتفاق و اتحاد ہو۔ اس کے لیے انہوں نے عملی خاکہ بھی دیا تھا کہ ہر ملک کے علماء کا ایک بورڈ قائم کیا جائے جو اپنے ملک کے معروضی حالات کی روشنی میں پیدا ہونے والے جدید مسائل کا حل کتاب و سنت اور کتب فقہ کی مدد سے تلاش کریں اور کتاب و سنت کی روشنی میں تجاویز مرتب کریں۔ اس طرح مسلمانوں کے ستاون اسلامی ممالک کے چوٹی کے اہل علم حضرات کا مرکزی بورڈ عالمی اسلامی سطح پر قائم کیا جائے۔ تمام ممالک سے موصولہ نتائج و تجاویز اس بورڈ کے سامنے پیش کی جائیں اور ان کے فیصلوں کو قبول کر لیا جائے۔ اس طرح جدید مسائل کا حل جدید حالات کے تناظر میں تلاش کیا جاسکے گا اور دنیا کے سامنے اسلام کا رخ روشن واضح کرنے میں مدد ملے گی۔ فقہی حوالے سے ڈاکٹر صاحب کے مضامین نہایت اہم ہیں جن سے مدد لے کر جدید مسائل کو متفقہ طور پر حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ کاش اہل دانش و بینش اور علماء حضرات اس اہمیت سے واقف ہوں اور فکر کی نئی راہیں تلاش کر سکیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کی کتاب ’’محاضرات فقہ‘‘ سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
سیاست کاروں کی سوچ مفادات کی اسیر ہوتی ہے ۔ مفادات بھی قومی نہیں، ذاتی۔ سیاست کار جم غفیر کا رخ دیکھ کر قبلہ متعین کرتے ہیں اور اس پیمانے کے مدنظر رخ تبدیل کرنے میں قطعاً دیر نہیں لگاتے۔ یہی پاکستان کا المیہ ہے اور اسی رویے کو عام اصطلاح میں لوٹا کریسی بھی کہا جاتا ہے۔ سیاست کار کچھ بھی کہیں ، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اسلامی نظام کو عملاً نافذ کرنے کے لیے جو مساعی پاکستان کے فوجی حکمران جنرل محمد ضیاء الحق رحمۃ اللہ علیہ نے سرانجام دیں، وہ کسی اور کا حصہ نہ بن سکیں۔ انہوں نے پاکستان میں غیر سودی معیشت کو رائج کرنے میں مثالی کام کیا۔ اس حوالے سے انہوں نے انتہائی چیدہ اور چنیدہ اہل علم سے معاونت حاصل کی، ان میں ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ممکن ہے کوئی صاحب ہماری اس بات کو عقیدت پر محمول کریں ، اس لیے ہم ان کے قریبی رفیق کار ڈاکٹر انیس احمد کی گواہی ڈلوانا چاہتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’پاکستان میں سودی بنکاری سے نجات کے لیے جن لوگوں نے کام کیا اور خصوصاً جب معاملہ سپریم کورٹ کے اپیلٹ بنچ میں گیا اور پھر سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اس مسئلے کا جائزہ لیا تو اس میں غازی صاحب نے نمایاں کردار ادا کیا۔ فیڈرل شریعہ کورٹ میں جس طرح ڈاکٹر فدا محمد خان صاحب نے فیصلے کی تحریر میں کردار ادا کیا، ایسے ہی سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس خلیل الرحمن صاحب اور ڈاکٹر غازی کا اہم کردار رہا۔ ۸۰ کے عشرے میں جنوبی افریقہ میں قادیانیوں کے حوالے سے عدالتی کاروائی میں پاکستان کے جن اصحابِ علم نے عدالتِ عالیہ کو اس مسئلے پر رہنمائی فراہم کی، ان میں مولانا ظفر احمد انصاری، پروفیسر خورشید احمد صاحب ، جسٹس افضل چیمہ صاحب مرحوم اور ڈاکٹر غازی کے نام قابلِ ذکر ہیں‘‘۔
ڈاکٹر صاحب کو فرنچ زبان پر بھی دسترس حاصل تھی۔ اس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ ڈاکٹر حمید اللہ مرحومؒ نے سیرت الرسول کے موضوع پر ایک کتاب فرانسیسی زبان میں لکھی تھی جس کا انگریزی ترجمہ ایک ترک سکالر نے The Life and Time of Muhammad کے نام سے کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ترجمہ دیکھا تو انہیں اس میں کچھ اسقام نظر آئے۔ چنانچہ آپ نے ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کی اصل کتاب جو فرانسیسی زبان میں تھی اور انگریزی ترجمہ کا باہم موازنہ کرکے ان اسقام کو دور کیا۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول انگریزی ترجمہ میں بہت سے مقامات ترجمہ سے رہ بھی گئے تھے۔ آپ نے ان حصوں کو پورا کیا۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی کو یہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ انہوں نے بطل امت، محسن پاکستان شہید اسلام جنرل محمد ضیاء الحق کا جنازہ پڑھایا۔ ہمارے نزدیک شہید ضیاء الحق کا جنازہ پڑھانا جہاں ان کے لیے سعادت تھا، وہاں ضیاء الحق کے لیے نجات کا اور بخشش کا ذریعہ بھی ثابت ہوگا، کیونکہ دونوں شخصیات تقویٰ و طہارت میں اپنا منفرد مقام رکھتی تھیں۔
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
شاید اس شعر کے شاعر کو مرحوم ڈاکٹر غازی سے واسطہ نہیں پڑا۔ اگر اسے ڈاکٹر صاحب سے کبھی واسطہ پڑتا تو شاید وہ یہ شعر ہرگز نہ کہتا، کیونکہ ڈاکٹر غازی مرحوم حیات دنیوی کے راستوں سے محفوظ و مامون تشریف لے گئے۔ وہ اپنی متاع حیات لٹا کر نہیں، رداے حیات کو حسنات سے مالا مال کرکے دنیا سے رخصت ہوئے۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی کا تعلق ایک ایسے علمی گھرانے سے تھا جس میں بڑے قد آور علما پیدا ہوئے جو علم کے ساتھ ساتھ تصوف و سلوک کے شناور بھی تھے، جن کے نزدیک محض علم کافی نہیں، تطہیر باطن اصلاً مقصد علم تھا۔ ڈاکٹر صاحب خود بھی تصوف و سلوک کے مویدین میں سے تھے، لیکن اس کے لیے جہری سری اذکار کی بحث میں نہ پڑے بلکہ سبحوا بکرۃً وعشیَّا(۱۹:۱۱) پر عمل کرتے ۔ وہ اس بات پر بھی شاید یقین نہیں رکھتے تھے کہ یاد الٰہی کے لیے مالا و دانے دار تسبیح کا سہارا ہی لیا جائے اور اس مقصد کے لیے کسی کونے کھدرے یا زاویہ ہی کو تلاش کیا جائے، بلکہ اس کے برعکس وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ زندگی اپنی ذات میں تصوف و سلوک کا نام ہے اور زندگی اگر ہے تو اس کا ایک ایک لمحہ عبادت الٰہی و ریاضت الٰہی کے لیے صرف ہونا چاہیے۔ وہ اسی پر عمل کرتے تھے۔ ان کی سوچ ان کی فکر ان کا قلم ان کی مساعی اور دنیوی دفتری مناصب کی مصروفیات سب اسی مقصد کے حصول کے لیے تھیں۔ بقول جگر
محو تسبیح تو سب ہیں مگر ادراک کہاں
زندگی خود ہی عبادت ہے مگر ہوش نہیں
ڈاکٹر صاحب نے شاید زندگی کے ساٹھ بہاریں بھی پوری نہ کیں لیکن اس متاع قلیل اور حیاتِ مستعار کو ہمیشہ عبادت سمجھا اور ایک ایک لمحہ بے ہوش نہیں باہوش گزارا۔ قلم کاری کو بھی عبادت خیال کیا۔ وہ عالم باعمل تھے۔ ان کے نزدیک علم محض جانکاری کا نہیں بلکہ عملی استواری کا نام تھا۔ تطہیر باطن کے بغیر علم محض ایک خبر ہے۔ آج کسے خبر نہیں کہ جھوٹ بولنا بری بات ہے۔ بچہ بھی جانتا ہے۔ اس جاننے کے باوجود لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور بعض تو بانگ دہل یہ بھی کہتے ہیں کہ جھوٹ کے بغیر گزارہ نہیں۔ یہ سب عدم تطہیر باطن کا سبب ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں:
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں
محض کتابی علم تطہیر باطن نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے کسی صاحب بصیرت کی ضرور ت ہوتی ہے۔ ایک زمانہ تھا کوئی شخص مسند تدریس پر نہیں بیٹھ سکتا تھا ، خواہ اس کا علمی مرتبہ و مقام کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو ۔ محض علمی بلندی مسند تدریس کے لیے کافی نہ ہوتی تھی۔ علمی مقام و مرتبہ عموماً خود پسندی کا مرض پیدا کرتا ہے جو زوال شخصیت کا باعث ہوتا ہے۔ تطہیر باطن کے لیے کسی صاحب نظر شخصیت کی طرف میلان طبعی ضروری ہوتا ہے۔ ہمیں اس بات کا تو علم نہیں کہ تطہیر باطن کے لیے ڈاکٹر صاحب کی نسبت کہاں تھی، البتہ ہم نے دیکھا اور بارہا دیکھا کہ سفر وحضر میں ذکر اذکار سے آپ کی زبان تر رہتی اور قلبی اعتبار سے آپ خاشعین ﷲ کی تصور تھے۔ جو تطہیر باطن کا ثبوت ہے۔ تقریباً نصف صدی قبل ہم نے اپنی نسبت سلوک کے اعتبار سے مولانا عبدالقادر رائے پوری سے قائم کی، لیکن یہ زمانہ ذہنی بلوغت کا نہ تھا ۔ ہم حضرت رائے پوری کی مرجعیت سے متاثر ہوئے اور لوگوں کو لمبی چادر پکڑے بیعت ہوتے دیکھا۔ ہم بھی بیٹھ لیے اور بہت سے صحبتیں اٹھائیں۔ ان کے جنازہ میں شرکت کی سعادت بھی ملی ۔ ان کے بعد اپنا رشتہ سلوک مولانا محمد زکریاؒ سے استوار کیا۔ ان کے انتقال کے بعد ہم کٹی ہوئی ڈور تھے لیکن، خواہش پیوستگی موجود تھی۔ دل ڈاکٹر محمود احمد غازی کی طرف مائل تھا۔ میں نے جتنی مرتبہ ڈاکٹر صاحب کو قریب سے دیکھا، میرا طبعی میلان حصول تطہیر باطن کے لیے ان کی طرف راغب ہوا۔ ایک مرتبہ میں نے لیطمئن قلبی کی غرض سے عرض کی: ڈاکٹر صاحب! سلوک و تصوف پر بھی آپ کے قلم سے کچھ تحریریں معرض وجود میں آئیں؟ گویا ہوئے، میرے ذہن میں اس کا خاکہ ہے، مختلف پہلوؤں سے اس پر لکھنے کا ارادہ ہے، لیکن ارادہ کی تکمیل سے قبل مدعی اجل نے دستک دی اور ڈاکٹر صاحب لبیک کہہ گئے۔
ڈاکٹر صاحب اس دنیا سے دور بہت دور چلے گئے، اتنا دور کہ کوئی بھی وہاں جانے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ البتہ موت اس مکانی فاصلے کو سمیٹ دیتی ہے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے ، اس سے مفر نہیں ۔ اس کے لیے فرشتۂ اجل کو بھی الزام نہیں دیا جاسکتا۔ وہ مالک الملک کی طرف سے اسی کام پر متعین ہے۔ وہ اپنا فریضہ اصول و ضوابط کے مطابق سرانجام دے رہا ہے۔ شکوہ میڈیا پر قابض لوگوں سے ہے جنہیں خبر ہی نہ ہو سکی کہ دنیا سے کون رخصت ہوا۔ کتنا بڑا خلا چھوڑ گیا۔ اس کی وجہ سے علمی دنیا پر کیا قیامت ٹوٹی۔ محسوس ہوتا ہے کہ میڈیا پر قابض لوگ صمٌ بکمٌ عمیٌ کی زندہ تصویریں ہیں جو پاتال سے خبریں ڈھونڈ لاتے ہیں ، جو کسی بھی مغنیہ یا مغنی کی آوازوں کے سر تال تو سنتے ہیں، ان کی باریکیوں پر پروگرام ترتیب دیتے ہیں، انہیں ڈھول کی تھاپ پر پاؤں کی جھنکار کا تو علم ہوتا ہے، لیکن ڈاکٹر محمود کی عظمتوں و رفعتوں کو ان کی آنکھ دیکھ نہیں پاتی۔ نہ ہی ان کے قلم سے لکھی تحریریں ان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ نہ ہی انہیں اس علمی میراث کا پتہ چلتا ہے جو وہ قوم کے لوگوں کے لیے چھوڑ کر جاتے ہیں۔ انہیں وہ تاریخ بھی یاد نہیں رہتی جس تاریخ کو ان کی موت کا عظیم سانحہ بیت جاتا ہے۔
لَہُمْ أَعْیُنٌ لاَّ یُبْصِرُونَ بِہَا وَلَہُمْ آذَانٌ لاَّ یَسْمَعُونَ بِہَا أُوْلَءِکَ کَالأَنْعَامِ بَلْ ہُمْ أَضَلُّ (۷:۱۷۹)
کان بہرے نہیں ہوتے، آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ یہ دل ہیں جو اندھے اور بہرے ہو جاتے ہیں۔ جب قومی سطح پر یہ مرض شدت اختیار کر جائے تو پھر ایسی قوموں کو فکری انتشار، کج علمی اور کج عملی سے کوئی مسیحا نجات نہیں دلا سکتا۔ میڈیا والوں کے اس رویہ پر ہم پروفیسر عنایت علی کے الفاظ میں یہی کہہ سکتے ہیں کہ
سانحے سے بڑا حادثہ یہ ہوا
کوئی ٹھہرا نہیں حادثہ دیکھ کر
مولانا ڈاکٹر محمود احمد غازی ۔ کچھ یادیں، کچھ تأثرات
مولانا مفتی محمد زاہد
(۳ اکتوبر ۲۰۱۰ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں منعقدہ تعزیتی نشست سے خطاب جسے مصنف کی نظر ثانی اور اضافوں کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔)
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، اما بعد!
جیسا کہ برادرم عمار صاحب بتلا رہے تھے، طے شدہ پروگرام کے مطابق اس وقت ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ سے ہم سب نے مستفید ہونا تھا اور انتظار میں تھے کہ کب وہ وقت آئے گا کہ ہم ڈاکٹر صاحب ؒ کی گفتگو کے سحر میں مبتلا ہوں گے۔ تقریباً دو ہفتے پہلے جب مجھ سے عمار صاحب نے رابطہ کیا اور پوچھا کہ اتوار کی صبح کو آئیں گے یا ہفتہ کی شام کو توشاید پہلے میری ترجیح یہ ہوتی کہ صبح کو وہاں سے نکلوں گا، لیکن جب انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب شام کو آجائیں گے تو میں نے بھی تقریباًذہن بنا لیا تھا کہ ہفتہ شام کو آ جاؤں گا اور ڈاکٹر صاحب سے مستفید ہونے کا موقع مل جائے گا اور اگلے دن بھی ڈاکٹر صاحب کا پورا بیان اول سے آخر تک سنیں گے ۔ انتظار میں لمحے گزر رہے تھے۔ آج اتوار کا د ن ہے۔ پچھلے اتوارکی صبح ساڑھے سات کے قریب ایک صاحب کا فون آیا کہ ڈاکٹر صاحب اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ وہ جو انتظار کے لمحے چل رہے تھے، اب وہ انتظار یک دم ایک حسرت بن کر رہ گئی۔ ایسی ناگہانی خبر تھی کہ اس پر یقین کرنا مشکل تھا۔ دو تین حضرات نے فون پر اطلاع دی، پھر بھی اطمینان نہیں ہورہا تھا۔ خیال ہوا کہ ان کے بھائی ڈاکٹر غزالی صاحب سے رابطہ کر لوں، لیکن ایسی خبر تھی کہ ان سے رابطہ کرنے میں بھی ڈر لگ رہا تھا۔ خدانخواستہ اگر خبر غلط ہوئی تو! لیکن دل کڑا کر کے ان سے پوچھا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیتے ہی کہا: ’’مولانا! دعا فرمائیے، بھائی صاحب دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔‘‘
جیسا کہ عمار صاحب ابھی ڈاکٹر صاحب کے بارے میں فرما رہے تھے کہ ڈاکٹر صاحب ہمہ جہت شخصیت تھے، سب کا مشترکہ اثاثہ تھے اور ہر پہلو سے، صرف علم ہی نہیں، علم و عمل اور کردار ہر پہلو سے ایک جامع شخصیت تھے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار اور متنوع کمالات سے نوازا تھا۔ وہ اپنے وقت کے بہت بڑے عالمِ دین، جدید وقدیم کے جامع اسلامی اسکالر، بہت اچھے مقرر، مصنف ومحقق، ماہر تعلیم، منتظم اور نہ جانے کیا کچھ تھے۔ رسمی طور پر تو عام طور پر کہہ ہی دیا جاتا ہے کہ فلاں صاحب کے جانے سے بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے، لیکن غازی صاحب کی رحلت سے جوخلا پیداہوا، علمی اور دینی حلقوں کو جو نقصان پہنچا، دینی تعلیم وتحقیق کے مستقبل کے بارے میں سوچنے والوں کو جو دھچکا لگا، اسے اس طرح کے رسمی جملوں سے تعبیر کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔ کہنے والے صحیح کہاہے :
وماکان قیس ھُلکہ ھلک واحد
ولکنہ بنیان قوم قد تہدّما
(قیس کا مرنا ایک آدمی کا مرنا نہیں۔ ایک پوری قوم کی عمارت منہدم ہو گئی ہے۔)
ہمارے درمیان جناب ڈاکٹر شہزاد اقبال شام صاحب موجود ہیں۔ ان کو ڈاکٹرصاحب کی رفاقت کا شرف حاصل رہا ہے۔ وہ ان کی زندگی کے پرت ہمارے سامنے کھولیں گے اور ڈاکٹر صاحب کے علم و عمل کے اعتبار سے کئی خوبیاں جو اب تک راز ہیں، وہ کھل کر سامنے آئیں گی۔ اسی طرح ہمارے محترم مخدوم و بزرگ جناب مولانا زاہدالراشدی صاحب موجود ہیں۔ کہتے ہیں کہ ’’ولی را ولی می شناسد‘‘، ولی کو ولی ہی پہچانتا ہے ۔ اسی طرح کہتے ہیں کہ ’’جوہر کو جوہری ہی جانتا ہے‘‘۔ مولانا راشدی جیسے جوہری اور ولی ہمیں بتلائیں گے کہ ڈاکٹر صاحب کتنا قیمتی اثاثہ تھے۔ میں تو ایک طالب علم ہوں، اپنے چند تأثرات پیش کرنے پر اکتفا کروں گا۔
اس موقع پر مجھے ایک بات یاد آ رہی ہے۔ ہمارے چھوٹے بھائی مفتی محمد مجاہد شہید ؒ ،وہ بھی اسی طرح دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے جیسا کہ آج یہاں آکر معلوم ہوا کہ ڈاکٹر فاروق خان بھی دہشت گردی کانشانہ بن گئے اور انہیں شہید کردیا گیا ہے، إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ مفتی محمد مجاہد ؒ کی شہادت کے کچھ عرصہ بعد حضرت مولانا مفتی زین العابدین ؒ [معروف مبلغ تبلیغی جماعت و بانی دارالعلوم،فیصل آباد] تعزیت کے لیے تشریف لائے۔ جن دنوں ان کی شہادت ہوئی، اس وقت وہ بیرون ملک سفر پر تھے۔ جب سفر سے واپس آئے تو گھر جانے کی بجائے سیدھا ایئرپورٹ سے جامعہ امدادیہ میں تشریف لائے اور طلبہ اوراساتذہ سے خطاب فرمایا۔ جن حضرات نے حضرت مفتی صاحبؒ کی گفتگو سنی ہے، ان کو یاد ہو گا کہ حضرت مفتی صاحب کے بیان کی تمہید بہت دلچسپ اور شاندار ہوتی تھی۔ اس میں تبلیغی رنگ بھی ہوتا تھا اور مفکرانہ بھی۔ مجھے ان کے الفاظ تو اچھی طرح یاد نہیں ہیں، لیکن انہوں نے بات اس طرح شروع کی۔فرمایا:
’’اللہ جل جلالہ کو انسان سے بہت محبت ہے اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ انسان کی قدر کی جائے۔ پھر جس میں جتنے کمالات ہوں، اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ اتنی ہی اس کی قدر کی جائے۔ جب کسی بندے کی اس طرح قدر نہیں کی جاتی جس طرح قدر کی جانی چاہیے تھی تو بعض اوقات اس نعمت کو اللہ تعالیٰ جلد واپس لے لیتے ہیں۔‘‘
میں یہ تو نہیں کہتا کہ ڈاکٹرصاحب کی قدر نہیں کی گئی۔ الحمد للہ ایک حد تک ان کی قدر کی گئی اور ان سے استفادہ کیا گیاہے، لیکن غالباً یہ کہنا صحیح ہو گا کہ ہم لوگوں نے انہیں صحیح طور پر بر وقت پہچانا نہیں تھا۔ ان کی خوبیوں کی طرف جو آج ہماری توجہ ہوئی، کہیں پہلے ہونی چاہیے تھی اور یہ شاید ہمارا عمومی المیہ ہے کہ صحیح وقت پر ہمیں بندے کی قدر نہیں ہوتی۔ آج بھی اللہ کے فضل وکرم سے بہت سے قابل قدر لوگ موجود ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی قدر اور ان سے استفادے کی توفیق عطا فرمائے۔ چند دن پہلے جب مولانا زاہد الراشدی صاحب فیصل آباد تشریف لائے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ ایک تو عمر کے اس حصے میں آپ کو سفر زیادہ آرام دہ کرنا چاہیے، دوسرے ایک رفیقِ سفر بھی ساتھ ہونا چاہیے، بلکہ اگر ایسا ذی استعداد نوجوان عالم جو کمپیوٹر کا استعمال بھی جانتا ہو، بالخصوص اچھی رفتار سے ٹائپ کرسکتا ہو، آپ کے ساتھ رہے۔ دورانِ سفر جب موقع ملے، آپ اسے املا کراتے رہیں اور وہ لیپ ٹاپ پر لکھتا جائے۔
مولانا چند سال پہلے بطور لطیفہ کے بتارہے تھے کہ ان کے ایک پوتے کے سامنے کچھ مہمانوں نے ذکر کیا کہ آپ کے دادا بہت بڑے اسکالر ہیں۔ اس پر اس نے (جو کہ اس وقت بہت چھوٹا ہوگا) کہا کہ بنے پھرتے ہیں بڑے صحافی، کمپیوٹر تو استعمال کرنا آتا نہیں! اب پوتا صاحب کی تازہ ترین رائے معلوم نہیں کہ کیا واقعی مولانا اسکالری کے امتحان میں پاس ہوگئے یا نہیں! پاس ہوبھی گئے ہوں تو اس عمر میں اعصاب کمپیوٹر پر کام کے کہاں متحمل ہوتے ہیں۔ بہر حال میں نے مولانا سے عرض کیا کہ اس طرح سے بہت سے لکھنے پڑھنے کے کام جو محض اسفار کی وجہ سے نہیں ہوپاتے، وہ ہوجائیں گے اور آپ کے بہت سے افادات جلد لوگوں تک پہنچنے کے قابل ہوجائیں گے۔ اگرچہ اس پر مولانا کا جواب تھا کہ بہت سے دعوت دینے والے مدارس خود مالی اعتبار سے کمزور ہوتے ہیں، ان کی دعوت پر انکار بھی نہیں کر سکتا اور ان پر زیادہ بوجھ بھی نہیں ڈال سکتا۔ خیر یہ تو ضمناً بات آگئی، اصل بات یہ عرض کررہا تھا کہ کسی کی خوبیوں سے صحیح وقت پر استفادے کی ہمارے ہاں روایت ہونی چاہیے۔
میری غازی صاحب سے پہلی شناسائی اس زمانے میں ہوئی جب میں ۱۹۸۵ء میں بین الأقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں زیر تعلیم تھا۔ اس زمانے میں ڈاکٹر صاحب یونیورسٹی ہی کے ذیلی ادارے دعوہ اکیڈمی میں غالباً ڈائریکٹر تھے اور فیصل مسجد میں عموماً جمعہ بھی وہی پڑھاتے تھے۔ اس زمانے میں ڈاکٹر صاحب کے علمی مقام کا بھی خاص اندازہ نہیں تھا، نہ ہی ان سے کسی طرح کے استفادے کا موقع ملا تھا۔ اسی زمانے میں حضرت مولانا نجم الحسن تھانویؒ بھی دعوہ اکیڈمی میں ہوتے تھے جس کا ایک دفتر اس زمانے میں کراچی کمپنی (مرکز جی نائن) میں ہوتا تھا۔ جامعہ امدادیہ نیا نیا قائم ہوا تھا، اس کے کسی معاملے میں مشورہ کرنے کا کام ہمارے والد ماجد ؒ نے میرے ذمہ لگایا۔ انہوں نے غازی صاحب مرحوم کو بھی بلالیا۔ کیا صورت اور تقریب ہوئی، یہ تو یادنہیں، البتہ اتنا یاد ہے کہ غازی صاحب سے بات حضرت مولانا نجم الحسن صاحب ؒ ہی کے کمرے میں ہوئی، حالانکہ غازی منصب کے لحاظ سے مولانا سے اوپر تھے ۔ اس کا تقاضا یہ تھا کہ مولانا مجھے ساتھ لے کر خود ڈاکٹر صاحب کے پاس جاتے۔ اس وقت تو نوعمری کی وجہ سے اس طرف اتنا دھیان نہیں گیا۔ ڈاکٹر صاحب کی ظاہری اعتبار سے اپنے ایک ماتحت کے ہاں حاضری اس بات کی غماز تھی کہ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت بزرگوں کے احترام جیسی مشرقی اور اسلامی روایات میں گندھی ہوئی تھی۔ زیر مشورہ معاملے میں ڈاکٹر صاحب نے جس انداز سے اپنی رائے دی، اس کی اصابت کے علاوہ ڈاکٹر صاحب کے مرتب اور منقح اندازِ گفتگو نے مجھے خاصا متأثر کیا۔
کسی علمی موضوع پر ڈاکٹر صاحب کی مفصل گفتگو سننے کا پہلی مرتبہ اتفاق مولانا نصیب علی شاہ صاحب ؒ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی بنوں فقہی کانفرنس میں ہوا۔ ایک تو اس طرح کی دور افتادہ جگہ پر جانے کے لیے ڈاکٹر صاحب کا تیار ہوجانا یقیناًان کے حسن خلق کی دلیل تھا۔ اس کے علاوہ فقہ اسلامی کے موضوع پر انہوں نے جو مفصل گفتگو فرمائی، اس میں معلومات کی وسعت اور ندرت، گفتگو میں ایک خاص قسم کا بہاؤ اور تسلسل، زبان میں قدرے لکنت کے باوجود سامعین کو اپنے کنٹرول میں لے لینے والا مخصوص اندازِ گفتگو جیسی صفات متاثر کن تھیں جنہیں کوئی بھی شخص محسوس کیے بغیر نہیں رہتا تھا۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب سے مختلف سیمینارز، کانفرنسز اور میٹنگز میں زیارت اور استفادے کا موقع ملتا رہا اور وسعت مطالعہ، قابل رشک حافظہ اور یادداشت، مضبوط طرزِ استدلال، ایک موضوع پر جماؤ اور استطرادات سے گریز، موضوع کا احاطہ، گفتگو میں ربط اور انضباط اور مسحور کن طرزِ بیان جیسی بے شمار خوبیوں کا نقش ذہن پر مستحکم ہوتا رہا۔ اسے میری کمزوری سمجھ لیا جائے یا افتادِ طبع کہ ہمیشہ معروف اور بڑی شخصیات سے رابطہ کرنے میں حجاب سا محسوس ہوتا رہتاہے۔ اس کے باوجود جہاں کہیں ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوتی، ان کی شفقتوں سے مستفید ہونے کا موقع ضرور ملتا۔
ایک مجلس میں ڈاکٹر صاحب سے کسی نے پوچھا کہ آپ کی بہتر یاد داشت کا راز کیا ہے؟ کیا کوئی نسخہ یا وظیفہ ایسا ہے جو اس چیز کے حصول میں معین ہو؟ تو اس پر، جہاں تک مجھے یاد پڑتاہے، فرمایا کہ مجھے کسی بزرگ نے یہ دعا بتائی تھی: أللہم إنّی أسألک علما لا یُنسی۔ غالباً ایک مرتبہ یہ بھی فرمایا کہ آدمی کو چاہیے کہ جب ایک کتاب کو شروع کرے تو اسے پورا پڑھنے کی کوشش کرے۔ اصل بات یہ ہے کہ جس چیز کو آدمی اپنی فکر اور توانائیوں کا محور بنالیتا ہے، وہ چیز اسے بآسانی یاد رہنے لگ جاتی ہے۔ ایک تاجر کو مختلف اشیا کے نرخ اور ان میں اتار چڑھاؤ اس طرح یاد ہوتا ہے کہ دوسرے آدمی کو حیرت ہوتی ہے کہ اتنی باریک تفصیلات اسے کیسے یاد رہ جاتی ہیں۔ قوت حافظہ اور یاد داشت کے یقیناًبہت سے اسباب بھی ہیں۔ ان میں طبی اسباب بھی ہوں گے، ہموم و افکار کی کمی بھی اس کا ایک ذریعہ بنتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ایک پیدائشی اور قدرتی ملکہ بھی ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے حکیمانہ نظام کے تحت تقسیم فرماتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ جب آدمی علم ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتا ہے تو اسے علم سے متعلق باتیں زیادہ یاد رہنے لگ جاتی ہیں۔ جس شخصیت میں یاد داشت کا یہ غیر معمولی وصف ہو، اس سے یہ سوال ضرور ہوتاہے کہ یاد داشت مضبوط کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ امام بخاری سے بھی یہ سوال کیا گیا کہ کیا حافظے کی کوئی دوائی ہے؟ پہلے تو امام بخاری نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں، اس لیے کہ اس طرح کی ظاہری دوائی واقعی انہیں معلوم نہیں ہوگی اور نہ ہی امام بخاری کا بے مثال حافظہ ایسے کسی ’نسخہ‘ کا مرہونِ منت تھا۔ پھر تھوڑے توقف کے بعد امام بخاری نے فرمایا : لا أعلم شیئا أنفع للحفظ من نہمۃ الرجل ومدوامۃ النظر، یعنی یاد داشت کے لیے دو کاموں سے زیادہ کوئی چیز میرے علم کے مطابق مفید نہیں ہے۔ ایک آدمی کی علم کے لیے بھوک اور اس کا شوق ولگن اور دوسرے کثرتِ مطالعہ۔ ( لامع الدراری از شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی ۱/۳۹)۔
ڈاکٹر صاحب پر متعدد اوقات میں جس طرح کی انتظامی ذمہ داریاں رہیں، ان کے ہوتے ہوئے عموماً آدمی مطالعہ وغیرہ سے کٹ جاتاہے، لیکن ڈاکٹر صاحب کے بارے میں معلوم ہوتاہے کہ ان میں نہمۃ الرجل اور مداومۃ النظر والی بات آخروقت تک موجود رہی۔ اس بات کی گواہی ان کے خطابات اور گفتگو کے علاوہ انہیں قریب سے دیکھنے والے بھی دیتے تھے اور کبھی کبھار شرفِ رفاقت حاصل کرنے والے بھی ۔
مولانا قاری محمد حنیف جالندھری بتارہے تھے کہ ایک دفعہ مراکش کے سفر میں وہ ان کے ساتھ تھے۔ ڈاکٹر صاحب روزانہ کتب خانوں کا چکر لگانے نکل جاتے اور شام کو کئی کتابیں خرید کر لاتے اور فرماتے تھے کہ سفرمیں میری شاپنگ یہی ہوتی ہے۔ اس سفر سے واپسی پر بھی کتابوں کے دو بڑے صندوق ان کے ساتھ تھے۔ پھر کتابیں خریدتے ہی قیام گاہ پر آکر انہیں پڑھنا بھی شروع کردیتے تھے۔ ایک اور بات جو ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں بھی ان کے ساتھ سفر کرنے والے ایک دوست سے سنی، لیکن اس وقت اسے وقتی چیز خیال کیا، ان کے انتقال کے بعد کئی لوگوں کے ذریعے یہ بات معلوم ہوئی کہ ڈاکٹر صاحب کثیر التلاوۃ تھے۔ بعض احباب سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ روزانہ قرآن کریم کی ایک منزل کی تلاوت کرلیں۔علمی مصروفیات رکھنے والوں میں کثرتِ تلاوت کا ذوق خال خال ہی نظر آتا ہے۔ حکیم الامت حضرت مولانا تھانوی ؒ کے بارے میں یہ بات معروف ہے کہ وہ صبح سیر کے دوران روزانہ سات منزلوں میں سے ایک منزل کی تلاوت فرمالیا کرتے تھے، بلکہ اس دوران پنسل اور کاغذ بھی جیب میں رکھتے تھے۔ ہوسکتا ہے ڈاکٹر صاحب کے ہاں یہ اسی ’’تھانوی‘‘ روایت کا تسلسل ہو۔ بہرحال ڈاکٹر صاحب کے علم میں آمد اور برکت کی ایک وجہ یہ کثرتِ تلاوت بھی ہوسکتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب کو ذوقِ مطالعہ کے علاوہ اپنے وقت کے کئی مشاہیر سے ملاقاتوں، ان کے ساتھ وقت گزارنے اور ان سے مختلف طریقوں سے استفادے کا وسیع موقع ملا تھا جس کا اظہار ان کی گفتگو سے بے ساختہ ہوجاتا تھا ۔ میرے لیے واقفیت کی کمی کی وجہ سے یہ کہنا تو مشکل ہے کہ وہ کس شخصیت سے سب سے زیادہ مستفید اور متاثر ہوئے، لیکن اندازہ یہ ہے کہ ایسی فہرست میں ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم کا نام کافی اوپر ہوگا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایسا لگتا تھا کہ سیرت طیبہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیم اور اسلام کا قانون بین الممالک ڈاکٹر صاحب کے پسندیدہ موضوعات تھے ۔ ڈاکٹر حمید اللہ ؒ کے علاوہ بھی متعدد شخصیات سے انہیں قرب کے مواقع حاصل ہوئے۔ ان میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کا نام بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ شام کے معروف عالم ڈاکٹر معروف الدوالیبی کے ساتھ انہیں وقت گزارنے کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ اور کئی متعدد شخصیات کا تذکرہ دورانِ گفتگو نوکِ زبان پر آجاتاتھا۔
ماضی قریب میں علمی نوعیت کے بہت سے واقعات کے وہ یا تو چشم دید گواہ اور ان میں شریک تھے یا ایک آدھ روای کے واسطے کے ساتھ اسے روایت کرتے تھے۔ مثال کے طور پر یہ بات تو مشہور ومعروف ہے کہ علامہ اقبال کی یہ بہت بڑی خواہش تھی کہ فقہ اسلامی کی تدوینِ نو کا ایک خاص نہج پر کام ہو جو یقیناًاجتہادی نوعیت کا کام ہوتا اور یہ بات بھی معروف ہے کہ ان کی نظر علامہ سید انور شاہ صاحب کشمیری ؒ پر تھی اور انہوں نے اس سلسلے میں انہیں لاہور تشریف آوری کی دعوت بھی دی تھی جسے شاہ صاحب قبول نہیں فرماسکے تھے۔ اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار میں امریکا سے تشریف لائے ہوئے ایک اسکالر نے یہی بات کچھ اس انداز سے بیان کی جس سے یہ تاثر ملتا تھا کہ شاہ صاحب ؒ کے انکار کی وجہ یہ تھی کہ علماے دیوبند فقہ اسلامی پر کسی نئے انداز کے کام میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے۔ ان کے خطاب کے بعد ڈاکٹر صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں اس معاملے کی وضاحت فرمائی اور ایک ایسے عالم کا حوالہ دیا جو شاہ صاحب ؒ اور علامہ اقبالؒ کے درمیان ہونے والی اس ملاقات میں بنفس نفیس شاہ صاحب کے ساتھ موجود تھے اور ڈاکٹر صاحب نے اس ملا قات کی سر گزشت ان سے براہِ راست سنی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے صرف ایک واسطے کی سند متصل کے ساتھ بیان فرمایا کہ شاہ صاحبؒ کے انکار میں ایسی کوئی بات نہیں تھی جس سے یہ تاثر ابھرے کہ وہ اس طرح کے کسی منصوبے کو پسند نہیں فرماتے تھے، بلکہ انہوں نے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ علامہ اقبالؒ کی لاہور کے لیے دعوت موصول ہونے سے پہلے ڈابھیل والوں سے وعدہ کر چکے تھے۔ اب وعدے کی خلاف ورزی مناسب نہیں تھی، اگر یہ دعوت پہلے موصول ہوجاتی تو وہ اس پر ضرور غور کرتے۔
ڈاکٹر صاحب کی یہ عجیب خصوصیت تھی کہ جو بات ان سے متعدد مرتبہ سننے کا اتفاق ہوا، ہر دفعہ تقریباً الفاظ ایک ہی جیسے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے انہوں نے باقاعدہ یہ تعبیر بناکر اسے کہیں بیٹھ کر رَٹ لیا ہو۔ یقیناًحقیقت میں ایسا نہیں ہوگا، لیکن یاد داشت کی خاص نوعیت کی پختگی کا یہ اثر تھا۔ ایک دفعہ ایک نجی مجلس میں تبلیغی جماعت کے کام کے ابتدائی دور کے بارے میں حضرت مولانا محمد الیاس صاحب اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کا ایک مکالمہ انہوں نے سنایا جو ڈاکٹر صاحب کی دادی صاحبہ کے گھر میں تھانہ بھون میں پیش آیا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے والد مرحوم کے حوالے سے یہ واقعہ نقل کرتے تھے جو اس واقعے کے عینی گواہ تھے۔ بات چونکہ بہت اہم، تاریخی اور کام کی تھی اور تھی بھی سند متصل کے ساتھ، اس لیے کئی سال بعد جب فیصل آباد جامعہ امدادیہ میں ان کی تشریف آوری ہوئی تو ناشتے کے موقع پر وہی واقعہ دوبارہ سنانے کی فرمائش کی گئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ اور اس مرتبہ کے الفاظ بھی تقریباً ایک ہی تھے۔ راقم الحروف تو دو مرتبہ سننے کے بعد بھی ہو بہو اسے نقل کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کرسکتا، لیکن ڈاکٹر صاحب کو ہر مرتبہ ایک ہی تعبیر کے ساتھ یعنی روایت باللفظ کرتے ہوئے سنا جو آج کے دور میں یقیناًعجیب بات ہے۔بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ڈاکٹر صاحب ایک مرتبہ جو بات ایک تعبیر میں کہہ دیتے تھے، وہ الفاظ ان کے ذہن پر نقش ہو جاتے تھے اور جب بھی وہ بات دوبارہ کہنا ہوتی تو تقریباً انہی لفظوں میں ادا کرتے تھے۔
اوپر مولانا محمد الیاسؒ اور مولانا تھانوی ؒ کے جس مکالمے کا ذکر ہوا، وہ بات چونکہ عام فائدے کی ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جتنی بات یاد ہے، اس قدر قارئین کے سامنے عرض کردی جائے۔ اگر روایت میں مجھ سے کمی کوتاہی ہوجائے تو کوئی صاحب اس کی تصحیح فرما دیں۔
جس زمانے میں حضرت مولانا محمد الیاس صاحب ؒ نے ایک خاص منہج سے دعوت وتبلیغ کا کام شروع کیا تو چونکہ یہ حضرات خود پسندی اور اعجاب برأیہ جیسی چیزوں سے بالکل دور ہوتے ہیں، اس لیے اپنی کار کردگی کو نمایاں کرنے، اسے ہر قیمت پر درست ثابت کرنے یا کسی بھی قسم کے اعتراض پر برافروختہ ہونے کی بجائے خود اس بارے میں متفکر رہتے ہیں کہ نہ معلوم میرا کام صحیح نہج پر ہوبھی رہاہے یا نہیں۔ اللہ کے مقبولین کے کاموں میں یہ بات قدرِ مشترک ہوتی ہے۔ بانی تبلیغی جماعت کے متعدد واقعات اور ملفوظات اس بات پر گواہ ہیں کہ وہ بھی اس جذبے سے سرشار تھے۔ اسی جذبے کے تحت مولانا محمد الیاس ؒ نے اپنے وقت کے اکابر سے رابطہ رکھا۔ اسی موضوع پر تبادلہ خیال کرنے اور راہ نمائی حاصل کرنے کے لیے مولانا تھانوی ؒ کے ہاں بھی حاضری دی اور کچھ دن تھانہ بھون میں قیام فرمایا۔ غالباً قیام کے آخری دن میں ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ کی دادی مرحومہ نے، جن کی دونوں حضرات کے ساتھ رشتہ داری تھی، دونوں (مولانا محمد الیاس ؒ اور مولانا تھانویؒ ) کی دعوت کی۔ اس موقع پران حضرات کے درمیان جو گفتگو ہوئی، وہ ڈاکٹر صاحب نقل فرمایا کرتے تھے۔ حضرت مولانا محمد الیاس ؒ نے عرض کیا کہ میں نے یہاں رہ کر کافی غور وتدبر بھی کیا ہے اور استخارہ بھی، مجھے تو اس کام پر شرح صدر ہے۔ اس کی وجوہات بھی انہوں نے تفصیل سے بیان فرمائیں۔ زیادہ گفتگو انہوں نے ہی فرمائی۔ مولانا تھانویؒ زیادہ تر خاموش ہی رہے، البتہ آخر میں حضرت مولانا تھانویؒ نے فرمایا کہ اگر آپ کو اس کام پر شرح صدر ہے تو اللہ کا نام لے کر اسے شروع کردیجیے، لیکن اس میں تین باتوں کا خاص خیال رکھا جائے۔ ایک تو یہ کہ شریعت میں جو چیزیں بھی مطلوب اور مستحسن ہیں، ان کے درجات ہیں۔ کوئی فرض ہے، کوئی واجب ہے، کوئی مستحب ہے وغیرہ وغیرہ ( بلکہ ایک ہی کام کے مختلف حالات کے اعتبار سے مختلف احکام ہوتے ہیں)۔ اس کام کے دوران شریعت کی اس درجہ بندی کو بطور خاص ملحوظ رکھا جائے کہ اس میں رد وبدل نہ ہو۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ جو لوگ دین کے دوسرے کاموں میں لگے ہوئے ہیں یا ان میں دوسرے کام انجام دینے کی زیادہ صلاحیت ہے، انہیں اگر دعوت کے اس خاص انداز کے کام میں لگنے پر شرح صدر نہ ہو تو انہیں شامل کرنے کے لیے اصرار نہ کیا جائے۔ یہ میری ’یاد داشت ‘ کا کمال ہے کہ تیسری بات مجھے اچھی طرح یاد نہیں رہی۔ غالباً کچھ اس طرح کی تھی کہ جس طرح کا خطابِ عام کرنا صرف اہل علم کا کام ہے، وہ غیر اہل علم سے نہ کروایا جائے۔
یہ واقعہ ایک طرف تو حضرت مولانا محمد الیاس ؒ کے اخلاص اور للہیت پر دلالت کرتا ہے کہ مولانا تھانوی ؒ کے اس مشورے کو انہوں نے اپنے کام کی مخالفت کا نام دینے کی بجائے طلب کے انداز میں اسے سنا، دوسری طرف اس سے مولانا تھانوی ؒ کی دور اندیشی اور فہم وفراست کا بھی اندازہ ہوتاہے ۔ چنانچہ مولانا محمد الیاس ؒ نے اپنے اس شرح صدر کی بنیاد پر جو کام شروع کیا، آج وہ ایک عالمی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس کے مبارک فوائد اور ثمراتِ حسنہ کا انکار صرف وہی شخص کرسکتاہے جس نے آنکھیں بند کرنے کا ہی فیصلہ کر رکھا ہو۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مولانا تھانوی ؒ نے کام کے آغاز میں جو مشورے دیے تھے، آج پون صدی گذرنے کے بعد بھی وہ مشورے زندہ، تازہ اور حالات سے متعلقہ معلوم ہوتے ہیں۔
میں نے ڈاکٹر صاحب سے یہ عرض کیا کہ یہ واقعہ اور مکالمہ خود انہی کی طرف سے لکھ کر شائع ہوجائے تو اچھا ہے، تاکہ یہ بات ریکارڈ کا بھی حصہ بن جائے۔ کسی حد تک اس ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کہہ کر ہچکچاہٹ کا اظہار فرمایا کہ اس میں چونکہ بڑوں کی طرف اپنی نسبت کا اظہار بھی ہے، اس لیے اچھا نہیں لگتا۔
ڈاکٹر صاحب کی ایک اہم خوبی یہ تھی کہ جس کام میں افادیت کا کوئی پہلو ہوتا تو محض چھوٹے شخص کے ہاتھوں ہونے یا بظاہر معمولی نظر آنے کے باوجود اس کی حوصلہ افزائی اور راہ نمائی سے گریز نہیں فرماتے تھے۔جامعہ امدادیہ کے ایک فاضل نے، جو ایک دینی مدرسے میں استاذ ہیں، ڈاکٹر حمید اللہ ؒ کے سیرت پر کسی پرانے مضمون کو ایڈٹ کر کے کتابچے کی شکل شائع کرنے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے مسودہ مجھے بھی دکھایا۔ اس سے اندازہ ہوا کہ ایک بظاہر چھوٹے شخص کے کام کو بھی انہوں نے کس دقیقہ رسی سے ملاحظہ کیا تھا۔
ڈاکٹر صاحب کی رحلت سارے ہی دینی اور علمی حلقوں کا بہت بڑا نقصان ہے، لیکن ان کی شخصیت کا ایک پہلو ایساہے جس کی بنیاد یہ کہا جاسکتاہے کہ سب سے زیادہ نقصان دینی مدارس کا ہواہے، اس لیے کہ ڈاکٹر صاحب کی جدید فکری اور تعلیمی رجحانات پر نظر تو معروف ہے ہی، اس حوالے سے وہ صرف صاحب مطالعہ ہی نہیں، صاحب تجربہ بھی تھے۔ انہیں زندگی میں مختلف رجحانات رکھنے والی شخصیات سے قرب اور ان سے استفادے کے مواقع نصیب ہوئے۔ انہیں بے شمار ایسے اسفار کا موقع ملا جن میں کئی مسلم اور غیر مسلم مفکرین اور قائدین سے تبادلۂ خیال اور مکالمے کا موقع ملا۔ وہ متعدد ایسے اہم مناصب پر بھی فائز رہے جو نہ صرف اختیارات کے اعتبار سے اہم ہوتے ہیں بلکہ ان کی یہ اہمیت بھی ہوتی ہے کہ ان کی بدولت بہت سی ایسی معلومات تک آدمی کی کسی رسائی ہوجاتی ہے جس کی عام حالات میں توقع کم ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے انہیں جہاں دیدہ شخص کہا جاسکتاتھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دینی مدارس کے نظام اور مزاج سے نہ صرف واقف تھے بلکہ باقاعدہ اس نظام کے اندر سے گذرے ہوئے تھے اور ان کی شخصیت کی ابتدائی ساخت پرداخت میں اس نظام کا بڑا حصہ تھا۔ حقیقت میں انہیں جو نسبتیں حاصل تھیں اور ذاتی طور وہ جن اوصاف کے مالک تھے، ان کے مطابق یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان کے اندر ایک صوفی اور ملا چھپا ہوا تھا یا انہوں نے چھپایا ہوا تھا، اس لیے انہیں مسٹر وملا کی خصوصیات کے امتزاج کا ایک اچھا نمونہ قرار دیا جاسکتا ہے۔
خاندانی طور پر ایک طرف وہ کاندھلہ کے اس معروف علمی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے جس نے حضرت مولانا محمد الیاس رحمہ اللہ جیسی عظیم شخصیت کو جنم دیا اور دوسری طرف سے وہ تھانہ بھون کے فاروقی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ان کی ابتدائی تعلیم وتربیت بھی دینی ماحول میں ہوئی۔ وہ بنیادی طور پر دینی مدارس کے پڑھے ہوئے تھے، محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری ؒ جیسی شخصیات ان کے اساتذہ میں شامل تھیں۔ اس وجہ سے جب سوال آتا تھا کہ دینی مدارس کے اصل اہداف اور مزاج کو برقرار رکھتے ہوئے عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق ان کے نصاب و نظام میں کیا تبدیلی لائی جاسکتی ہے تو اس سلسلے میں کردار ادا کرسکنے والی جن گنی چنی شخصیات پر نظر جاتی تھی، ان میں ڈاکٹر صاحب سرِ فہرست تھے ۔
دینی مدارس پر خاصا وقت ایسا گزرا کہ جو شخص عصری جامعات کی لائن اختیار کرلے، اس سے گریز کی راہ اختیار کی جاتی تھی اور ایسے شخص کی کسی بات پر دھیان نہیں دیا جاتا تھا، خواہ وہ ان کے اندر سے ہی نکل کر کیوں نہ گیا ہو ، تاہم پچھلے کچھ عرصے میں اس رجحان میں خاصی تبدیلی آئی ہے اور خود ڈاکٹر صاحبؒ سے بھی بعض اہل مدارس استفادے کے لیے رجوع کرنے لگے تھے۔خصوصاً ملک کے ایک اہم اور معروف ادارے جامعۃ الرشید نے، جس کے فکری پس منظر اور ’’مسٹر گریزی‘‘ کی روایت کو دیکھتے ہوئے اس پر تجدد پسندی کا الزام لگانا اتنا آسان نہیں ہے، کچھ عرصہ سے بہت اہتمام سے ڈاکٹر صاحب ؒ کو اپنے ہاں مدعو کرنے کا سلسلہ شروع کردیا تھا جو نہ صرف بذاتِ خود خوش آئند بات تھی بلکہ اس کے فوائد کے متعدی ہونے کے امکانات واضح ہورہے تھے اور یہ توقع بندھنے لگی تھی کہ دینی مدارس ڈاکٹر صاحب ؒ جیسی شخصیات، جو دونوں جہتوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھتی ہیں، کی فکر اور تجربے سے استفادہ کرنے لگیں گے اور ڈاکٹر صاحب دو ایسے طبقوں کے درمیان پل کا کام دیں گے جن کے درمیان قدرِ مشترک اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا جذبہ اور اسلامی تعلیمات کو زندگی کے ہر شعبے میں جیتے جاگتے انداز میں دیکھنے کی تڑپ ہے۔ بہرحال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ لگتا تھا کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب ؒ نے دنیا میں گھوم پھر کر اور مختلف اداروں میں اور مختلف شخصیات کے ساتھ کام کرکے جو تجربہ حاصل کیا ہے، اسے دینی مدارس کے اہداف کے مطابق بنا کر اس سے استفادے کا ایک سلسلہ چل نکلے گا، اس لیے میں نے اوپر عرض کیا کہ غالباً یہ کہنا درست ہوگا کہ ڈاکٹر صاحب کی رحلت سے سب سے زیادہ نقصان دینی مدارس کو ہوا ہے۔
چند دن پہلے ایک صاحب کہنے لگے کہ ڈاکٹر صاحبؒ مدرسہ کی لائن کے آدمی تھے، دوسری طرف کیوں نکل گئے؟ میں نے کہا: دوسری طرف نکل گئے تو اچھا ہوا۔ ادھر سے جو کچھ لے کر آئے، اس کو ہم لے لیتے اور مدرسوں میں منتقل کر دیتے۔ ان کے علم سے استفادہ کرتے۔ اگر بچوں کا والد کہیں باہر سفر پر جائے تو بچوں کو امید ہوتی ہے کہ ہمارا والد ہمارے لیے کوئی تحفہ لے کر آئے گا۔ ڈاکٹر صاحبؒ اگر دوسری طرف نکلے ہیں تو ہمیں انتظار ہونی چاہیے تھی کہ ہمارے لیے ڈاکٹر صاحبؒ کیا تحفہ لے کر آئیں گے۔ یقیناًدینی مدارس کو دینے کے لیے ان کے پاس بہت کچھ تھا۔
دو سال پہلے جب راقم الحروف کی طالب علمانہ کاوش ’’ تکملۃ معارف السنن‘‘ کی پہلی جلد چھپ کر منظر عام آئی تو کئی احباب کا اصرار تھا کہ اس حوالے سے ایک تقریب منعقد ہوجائے۔ جامعہ امدادیہ میں دورۂ حدیث شریف کے طلبہ سال کے اختتام پر ایک الوداعی تقریب منعقد کرتے ہیں، ان کی بھی خواہش تھی کہ یہ تقریب اس حوالے سے ہو۔ اس مقصد کے لیے پہلے مولانا زاہد الراشدی اور بعض دیگر اہل علم سے رابطہ ہوا ، لیکن ان سے وقت کے حصول کی کوئی صورت نہ بن سکی۔ پتہ چلا کہ ڈاکٹرصاحب قطر سے پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں۔ موقع غنیمت جانتے ہوئے برادرِ مکرم مفتی محمد طیب صاحب مدظلہم کے کہنے پر ان سے گذارش کی۔ انہوں نے کمالِ شفقت فرماتے ہوئے بلا ترد د وقت عنایت فرمایا۔ احقر نے کتاب کا ایک نسخہ ملاحظہ کے لیے روانہ کیا۔ تشریف آوری کی تاریخ سے چند دن پہلے جب راقم الحروف نے فون پر حتمی انتظامات اور ترتیب کے لیے رابطہ کیا تو یہ ان کی بڑائی اور خورد نوازی تھی کہ فرمایا کہ آپ کی کتاب میں نے دیکھ لی ہے، اس نے مجھے مسخر کرلیا ہے۔ اب آپ جیسے کہیں گے، ویسے ہی ہوگا۔ ڈاکٹر صاحب کے قیام کے لیے اچھے ہوٹل میں انتظام کا ارادہ کیا گیا، لیکن ڈاکٹر صاحبؒ کو معلوم ہوا تو انہوں نے سختی سے منع کردیا اور فرمایا کہ میں مدرسے میں ہی ٹھہرنا پسند کروں گا۔ ڈاکٹر صاحب ؒ نے علما اور طلبہ سے ان کی ذمہ داریوں کے موضوع پر بھی خطاب فرمایا اور تکملہ معارف السنن کے حوالے سے ہونے والی تقریب میں تدوین حدیث اور صحاحِ ستہ کے موضوع پر بہت ہی مؤثر اور انکشافات سے پر بیان فرمایا ( جو قلم بند ہوچکاہے اور ڈاکٹر صاحب اس پر نظر ثانی اور نظر ثالث بھی فرما چکے ہیں، ان شاء اللہ جلد شائع کرنے کا ارادہ ہے۔) حقیقت یہ ہے کہ متعدد حضرات کو حدیث شریف کے حوالے سے منعقد ہونے والی ایک مجلس میں یونیورسٹی کے کسی پروفیسر کو مدعو کرنا ہوسکتا ہے کہ عجیب سا معلوم ہوا ہو، لیکن ڈاکٹر صاحب ؒ کا خطاب خود ہی ایسے اشکالات کا جواب تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ حدیث کے استناد پر جو یقین اب حاصل ہوا ہے، پہلے نہیں تھا، فجزاہ اللہ عنا خیر الجزاء وأحسنہ۔
ڈاکٹر صاحب کے خاندان اور ابتدائی تعلیمی پس منظر کو دیکھا جائے تو ایک خاص حلقۂ فکر سے ان کا تعلق نظر آتاہے جو بر صغیر میں اپنی گہری جڑیں رکھتاہے۔ ایک حد تک یہ فطری سی بات ہے کہ آدمی کے لیے اپنی جڑوں سے الگ ہونا انتہائی مشکل ہوتاہے۔ ڈاکٹر صاحب کے فکر و عمل پر یقیناًیہ پس منظری اثرات ضرور ہوں گے، لیکن نہ صرف یہ کہ انہوں نے خود کو ہر قسم کے تعصبات سے پاک رکھا، بلکہ غالباً یہ کہنا درست ہوگا کہ انہوں نے خود کو کسی خاص حلقۂ فکر کی طرف منسوب کرنے یا اس کا ترجمان باور کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ان کی شناخت دینی علوم کے ایک ایسے شناور کی تھی جسے مسلمانوں کے تمام طبقات اپنا اثاثہ سمجھتے تھے۔ ان کا اگر کوئی ’’ تعصب‘‘ تھا تو صرف امت مسلمہ کا درد اور اس کا عمومی مفاد تھا، اس حوالے سے وہ مغرب شناس ضرور تھے، اس سے مرعوب یا اس کے بارے میں کسی خوش فہمی کا شکار ہرگز نہیں تھے۔
میں نے ڈاکٹر صاحب ؒ کا گھر سب سے پہلے اس وقت دیکھا جب جنازے کے لیے حاضری ہوئی۔ جب ہم وہاں پہنچے تو جنازے کو اٹھا کر باہر لایا جا رہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب جیسی معروف شخصیت جو اہم مناصب پر فائز رہی ہو، ایک ایسے حاکم کے زمانے میں وزیر اور نیشنل سیکورٹی کونسل کے رکن رہے جس کی طاقت کا سورج اس وقت سوا نیزے پر تھا۔ میرا اندازہ تھا کہ ان کا خاصا بڑا مکان ہوگا، لیکن سرسری طور پر باہر ہی سے ان کا مکان دیکھنے کا اتفاق ہوا جو میرے لیے ان کے مقام کے لحاظ سے حیرت کا باعث بھی تھا اور ان کی درویشی کی دلیل بھی۔
بہر حال موت سے کسی کو مفر نہیں۔ جو اس دنیا میں آیا ہے، اسے یہاں سے جانا بھی ہے۔ اللہ کے ہاں ان کی حکمت بالغہ کے تحت ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے، لیکن مفارقت اور جدائی کا غم فطری امر ہے۔ اس حادثے پر نہ معلوم کتنے لوگ خود کو تعزیت کا مستحق سمجھتے ہوں گے۔ سب کی خدمت میں تعزیت پیش ہے، خاص طور پر ڈاکٹر صاحب ؒ کے اہل خانہ، ان کی والدہ ماجدہ، ان کے برادر مکرم جناب ڈاکٹر احمد الغزالی، ان کی اولاد اور ان کے برادرِ نسبتی جناب ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی صاحب کی خدمت میں تعزیت پیش ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور ان کی حسنات کو قبول فرمائے۔ ان کے درجات کو بلند فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ اللہم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ۔
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند خوشگوار یادیں
محمد مشتاق احمد
(رمضان کے بعد سے میں مسلسل بیمار رہا ہوں ۔ پہلے بخار ، پھر ملیریا ، پھر ٹائیفائیڈ اور پھر بیماریوں کے aftershocks ۔ تاہم برادرد محترم جناب عمار خان ناصر نے جب ذکر کیا کہ وہ استاد محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب رحمہ اللہ کی یاد میں ’’الشریعہ ‘‘کی خصوصی اشاعت کا اہتمام کررہے ہیں تو دل سے بے اختیار ان کے لیے دعا نکلی ۔ میرا ارادہ تو اصل میں یہ تھا کہ غازی صاحب کی بعض تحریرات اور ان کے پیش کردہ بعض تصورات پر تفصیلی مقالہ لکھوں لیکن کچھ تو بیماری کی وجہ سے اور کچھ مصروفیات کی وجہ سے وہ مقالہ ابھی ادھورا ہی ہے ۔ تاہم غازی صاحب کے ساتھ گزارے ہوئے چند لمحات کا تذکرہ ’’الشریعہ‘‘ کے لیے پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔)
۲۶ ستمبر ۲۰۱۰ء کی صبح ڈاکٹر محمد منیر صاحب، سربراہ شعبۂ قانون، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد نے اطلاع دی کہ استاد محترم جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے انتقال کرگئے ہیں۔ کافی دیر تک صدمے کی کیفیت میں مبتلا رہا۔ آنسوؤں اور دعاؤں کا ایک عجیب امتزاج تھا جو والدہ مرحومہ کی وفات کے بعد پہلی دفعہ اتنی شدت سے محسوس کیا۔ بے بسی کے احساس نے صدمے میں اور بھی اضافہ کیا کیونکہ بیماری کی وجہ سے ڈاکٹرنے مجھے سفر سے منع کیا تھا۔ البتہ ایک بات نے بہت حوصلہ دیا کہ غازی صاحب کے شاگردوں نے ان کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار نہایت شدت سے کیاْ۔ بے شمار لوگوں نے فون یا ایس ایم ایس کیے یا ای میل کیے۔ غازی صاحب کے شاگرد ایک دوسرے کے ساتھ تعزیت کرتے رہے اور ایک دوسرے کو دلاسا دیتے رہے ، اور پھر ایک دوسرے سے چھپ کر تنہائی میں روتے رہے۔ ان گفتگوؤں میں ہم نے غازی صاحب کے ساتھ گزرے لمحات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر بھی کیے۔ آج ایسے ہی چند لمحات ’’ الشریعہ‘‘ کے قارئین کے ساتھ شیئر کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں ۔
ابتدائی دور
راقم الحروف نے ۱۹۹۴ء میں ایف ایس سی کے بعد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ یہ وہ دور تھا جب ابھی یونیورسٹی کی ’’بین الاقوامی‘‘ اور ’’اسلامی‘‘ دونوں خصوصیات بہت نمایاں تھیں۔ طلبا میں اکثریت غیر ملکیوں کی تھی۔ ساٹھ فی صد نشستیں غیر ملکی طلبا کے لیے اور چالیس فی صد نشستیں پاکستانی طلبا کے لیے مخصوص ہوتی تھیں، چنانچہ پچاس سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبا اسلامی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ فیصل مسجد کے قریب واقع کویت ہاسٹل تو امت مسلمہ کی کثرت میں وحدت کی زبردست مثال تھا۔ یونیورسٹی کی عمومی فضا پر اسلامیت کے ساتھ ساتھ عربیت کا پہلو بھی غالب تھا۔ کلیہ عربی، کلیہ اصول الدین اور کلیہ شریعہ کے طلبا کے لیے تو ویسے بھی عربی میں مہارت ضروری تھی، لیکن نہایت خوش آئند بات یہ تھی کہ اکنامکس اور کمپیوٹر کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلبا بھی عربی سے مناسبت رکھتے تھے۔
یونیورسٹی میں ہر ہفتے مختلف شعبوں کی جانب سے متنوع موضوعات پر سیمینار ہوتے تھے۔ میرا ذاتی تاثر یہ ہے کہ دو گھنٹے کے اس طرح کے سیمینار زمیں بیٹھ کر جو کچھ میں نے سیکھا، وہ شاید چھ گھنٹے کی کلاسز میں نہیں سیکھ پاتا۔ علمی اور ادبی پہلو سے تویہ سمینارز نہایت مفید ہوتے ہی تھے، لیکن دیگر کئی پہلوؤں سے بھی ان سیمینارز کا بڑا فائدہ ہوتا تھا۔ ایک دفعہ اسی طرح کے ایک سیمینار میں ہمارے ایک کلاس فیلو اسٹیج سیکریٹری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انھوں نے صدر جامعہ کو خطاب کے لیے بلایا تو پورا نام لینے کے بجائے محض ’’ڈاکٹر شافعی‘‘ کہہ کر انھیں خطاب کی دعوت دی۔ میں نے محسوس کیا کہ اسٹیج پر بیٹھے ڈاکٹر غازی صاحب کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ پھر جب غازی صاحب خطاب کے لیے اٹھے تو انھوں نے اسٹیج سیکریٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی محفل کے کچھ آداب ہوتے ہیں جنھیں ملحوظ نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چونکہ آپ سیکھنے کے مرحلے میں ہیں، اس لیے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کریں کہ کسی بھی مقرر کو دعوت دینے سے پہلے ان کا پورا نام لیا کریں اور ادارے کے ساتھ ان کا تعلق مناسب الفاظ میں بیان کیا کریں۔ چنانچہ غازی صاحب کی تجویز یہ تھی کہ ’’ڈاکٹر شافعی‘‘ کہنے کے بجائے آپ کو یوں کہنا چاہیے تھا: ’’جناب ڈاکٹر حسن محمود عبد اللطیف الشافعی، صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد‘‘۔ غازی صاحب کی یہ بات ہم سب نے یاد رکھی اور آج بھی جب میں اپنے طلبا میں کسی کو پہلی دفعہ اسٹیج سیکریٹری کے فرائض انجام دینے کے لیے کہتا ہوں تو دیگر نصیحتوں کے ساتھ یہ نصیحت بھی لازماً کرتا ہوں۔
اس طرح کے سیمینارز میں بعض اوقات ایسا ہوتا تھا کہ کسی مقرر نے انگریزی میں تقریر کی اور مہمانوں میں بعض ایسے تھے جو انگریزی نہیں سمجھتے تھے یا اس کے برعکس ہوا کہ تقریر عربی میں کی گئی لیکن بعض مہمان عربی نہیں سمجھتے تھے تو اس وقت کے صدر جامعہ جناب ڈاکٹر حسین حامد حسان فوراً ڈاکٹر غازی صاحب سے درخواست کرتے کہ وہ اس تقریر کا خلاصہ انگریزی یا عربی میں پیش کریں اور میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ غازی صاحب نے ہچکچاہٹ محسوس کی ہو۔ وہ اٹھتے اور جب خلاصہ ہیش کرتے تو سامعین نہ صرف ان کی زبان دانی کی وجہ سے، بلکہ ان کی قوت حافظہ کی بنا پر بھی انگشت بدنداں رہ جاتے۔ ایک دفعہ ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی صاحب ایک نہایت اہم موضوع پر اپنے فاضلانہ خیالات کا اظہار کررہے تھے کہ اچانک ہی (out of the blue) صدر جامعہ نے غازی صاحب سے کہا کہ وہ ساتھ ساتھ اس کا عربی ترجمہ بھی کرتے جائیں۔ ہم میں سے کئی طلبا کی رائے یہ تھی کہ غازی صاحب جیسے بڑے عالم کے ساتھ یہ زیادتی ہے اور ان کی قدر ناشناسی ہے کہ ان کو اس طرح کے کام کا کہا جاتا ہے اور وہ بھی یوں اچانک، لیکن غازی صاحب اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ اٹھے اور انگریزی سے عربی میں فی البدیہہ ترجمہ شروع کردیا۔ گیلانی صاحب دو دو تین تین جملے بولتے اور غازی صاحب فی البدیہہ ان کا نہایت فصیح و بلیغ ترجمہ کرتے جاتے۔
انگریزی اور عربی کے علاوہ کئی دیگر زبانوں، بالخصوص فارسی اور فرانسیسی میں بھی ان کی مہارت کا یہی عالم تھا۔ اقبال کا سارا کلام اور بالخصوص فارسی کلام ان کو ازبر تھا۔ انھوں نے ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرانسیسی زبان سے انگریزی میں ترجمہ کی جس کی پہلی جلد ادارۂ تحقیقات اسلامی نے شائع کی۔ ہمارے بعض دوست کہا کرتے ہیں کہ مختلف زبانوں میں مہارت غازی صاحب کا خاندانی ورثہ ہے، کیونکہ ان کے بھائی محترم جناب ڈاکٹر محمد الغزالی بھی اس معاملے میں اگر ان سے آگے نہیں تو پیچھے بھی نہیں ہیں۔
ایک دفعہ غازی صاحب نے مجھے پشتو زبان کی بعض ایسی خصوصیات کی طرف توجہ دلائی جس کی طرف میرا کبھی دھیان نہیں گیا تھا، باوجود اس کے کہ پشتو میری مادری زبان ہے اور پشتو شعر و ادب سے مجھے تھوڑا بہت شغف بھی ہے۔ غیر ملکی وفود کے ساتھ ملاقات سے پہلے غازی صاحب کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ ان کی زبان کے چند مناسب کلمات اور جملے، بالخصوص خیر مقدمی کلمات سیکھ لیں اور صحیح تلفظ کے ساتھ ادا بھی کریں۔ چنانچہ بعض اوقات وہ اس ملک کے کسی طالب علم کو بلا کر اس سے مدد بھی لیتے تھے۔ پھر جب وہ غیر ملکی مہمانوں کے ساتھ پہلی ملاقات میں انہی کی زبان اور انہی کے لہجے میں خیر مقدمی کلمات کہتے تو وہ بہت زیادہ متاثر ہوتے تھے۔
اقبال اور قائد اعظم کے ساتھ محبت
اقبال کے ساتھ غازی صاحب کو والہانہ محبت تھی اور مختلف مواقع پر وہ اس محبت کا اظہار بھی نہایت پر اثر انداز میں کرتے تھے۔ کلام اقبال کا جس طرح بر محل استعمال وہ کرتے تھے، وہ بھی بس انہی کا خاصہ تھا۔ اقبال کے ساتھ محبت کی وجہ سے غازی صاحب کو ان سے بھی محبت تھی جن سے اقبال کو محبت تھی۔ چنانچہ جب غازی صاحب کو معلوم ہوا کہ میرے والد صاحب نے ایم فل اقبالیات کے مقالے میں ’’اقبال اور افغانستان‘‘ کے موضوع پر تحقیق کی ہے اور وہ تحقیق کتابی شکل میں شائع بھی ہوئی ہے تو وہ بہت خوش ہوئے اور کہا کہ مجھے تو اقبال سے بھی محبت ہے اور افغانستان سے بھی، اس لیے پہلی فرصت میں یہ کتاب لے آئیے گا۔ اس کے بعد جب بھی غازی صاحب سے ملاقات ہوئی وہ والد صاحب کا نہایت محبت سے ذکر کرتے تھے اور ان کی صحت کے متعلق پوچھا کرتے تھے۔
اقبال کے ساتھ غازی صاحب کی والہانہ محبت کا اندازہ مجھے اپنے زمانۂ طالب علمی میں ان علمی و ادبی مجالس میں ہوا جن کا انعقاد کلیہ عربی کے پروفیسر حبیب الرحمان عاصم صاحب نومبر کے مہینے میں کرتے تھے۔ ان مجالس میں اہل علم، بالعموم عربی زبان میں، اقبال اور کلام اقبال پر علمی مقالات پیش کرتے۔ ان مجالس میں ایک خاصے کی چیز یہ ہوتی تھی کہ مجلس کے آخر میں کلیہ عربی کے عمید جناب ڈاکٹر رجاء جبر اقبال کے فارسی کلام میں کسی حصے کا انتخاب کرکے اس پر اپنے مخصوص شگفتہ انداز میں تفصیلی درس دیتے۔ غازی صاحب ان مجالس کے روح رواں ہوتے تھے۔ وہ نہ صرف خود فکر اقبال کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالتے بلکہ دوسرے اہل علم کے مقالات پر بعض اوقات تعلیقات بھی پیش فرماتے۔ ایک دفعہ اس طرح کی ایک مجلس میں ایک عرب مقرر نے شگفتہ اردو زبان میں اقبال کے انقلابی فکر پر ایک دلچسپ مقالہ پیش کیا۔ اس مقالے میں کسی وجہ سے زیادہ تر اقبال کے ان اشعار کا انتخاب کیا گیا تھا جن میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ تھا یا ’’رسم شبیری‘‘ ادا کرنے کی ترغیب تھی ۔ اس سے بظاہر یہ تاثر ملتا تھا کہ اقبال شاید تشیع کی طرف مائل تھے۔ مقالے کے اختتام پر غازی صاحب اسٹیج پر تشریف لائے اور ’’تعلیق ‘‘ کی صورت میں اس تاثر کی نفی کی اور ایک متوازن رائے قائم کرنے کے لیے اقبال کے دیگر اشعار اور اقوال کا حوالہ دیا۔
اقبال کی طرح غازی صاحب کو قائد اعظم محمد علی جناح سے بھی عقیدت اور محبت تھی اور اپنی تقاریر میں وہ قائد اعظم کے اقوال کے بر محل حوالے بھی دیا کرتے تھے۔ ۲۰۰۳ء کی بات ہے کہ اسلام آباد میں مولانا نصیب علی شاہ ہاشمی ؒ کی کاوشوں سے ایک عظیم الشان فقہی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ اس کانفرنس سے جناب غازی صاحب نے بھی خصوصی خطاب کیا اور اس وقت مجھے خوشگوار حیرت بھی ہوئی اور غازی صاحب کی جرأت رندانہ پر رشک بھی آیا جب انھوں نے علمائے کرام کی اس مجلس میں اسلامی معاشی نظام پر گفتگو کا آغاز کلام اقبال اور اقوال قائد سے کیا۔ انھوں نے اقبال کے خطبۂ الٰہ آباد کا حوالہ دیا جس میں اقبال مسلمانوں کے الگ قومی تشخص کی بات کرنے کے علاوہ مسلمانوں کے معاشی مسائل کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے قائد اعظم کے ساتھ اقبال کی خط و کتابت کا ذکر کیا جس میں اقبال نے قائد اعظم کو مسلمانانِ برصغیر کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے قائل کیا۔ مجھے غازی صاحب کی یہ بات اچھی طرح یاد ہے کہ اقبال نے نہ صرف مسلمانوں کے لیے منزل کا تعین کیا بلکہ اس منزل تک پہنچانے کے لیے رہبر کا بھی انتخاب کیا۔ غازی صاحب نے اس خط و کتابت کے حوالے سے مزید کہا کہ اقبال نے اس اہم بات کی طرف بھی قائد اعظم کی توجہ دلائی کہ ہندو ساہوکار مسلمانوں کا معاشی استحصال کررہے ہیں اور یہ کہ مسلمانوں کی آزادی کا خواب تبھی شرمندۂ تعبیر ہوسکے گا جب ان کی معیشت ان ساہوکاروں کے قبضے سے آزاد کرائی جائے۔ اس کے بعد غازی صاحب نے قائد اعظم کی اس تقریر کا حوالہ دیا جو انھوں نے اپنی وفات سے صرف دو ماہ اقبل سٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر کی اور جس میں آپ نے فرمایا کہ مغربی معاشی نظام نہ صرف یہ کہ انسانوں کے مسائل کے حل میں ناکام رہا ہے بلکہ اس کی وجہ سے دو بڑی جنگیں بھی لڑی گئیں اور اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا نظام تشکیل دے جو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہو کیونکہ صرف اسلامی نظام ہی معاشی عدل کو یقینی بنا سکتا ہے اور انسانوں کو ہلاکت سے بچا سکتا ہے ۔
قانون کی پابندی
غازی صاحب کی سیرت کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ اپنے قول و فعل سے قانون کی پابندی اور احترام کا درس دیتے تھے۔ میں یہاں دو ایسے واقعات کا حوالہ دوں گا جن کا میں خود شاہد ہوں۔
یہ دسمبر ۱۹۹۸ء کی بات ہے کہ میں اپنے تعلیمی کیرئیر کے ایک نہایت اہم موڑ پر پہنچ کر اچانک ہی ایک مسئلے کا شکار ہوگیا۔ اسلامی یونیورسٹی میں بی اے ۔ ایل ایل بی ( آنرز ) شریعہ و قانون کے پروگرام کا دورانیہ دس سمسٹرز (پانچ سال ) پر مبنی تھا۔ اس لحاظ سے میرے کورس کا اختتام جون ۱۹۹۹ء میں ہونا تھا، لیکن میں نے تین سال گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران میں اضافی کورسز پڑھے اور یوں یہ امکان پیدا ہوا کہ میرا کورس وقت سے پہلے دسمبر ۱۹۹۸ء میں ہی پورا ہوجائے۔ نیز اس وقت تک میں مسلسل آٹھ سمسٹرز میں اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن لیتا رہا تھا۔ گویا اس نویں سمسٹر میں اگر میں یہی پوزیشن برقرار رکھتا تو بی اے اور ایل ایل بی دونوں میں گولڈ میڈل بھی حاصل کرلیتا، مگر میری والدہ مرحومہ، جو کینسر کی مریضہ تھیں، کی بیماری کی وجہ سے میں کئی کلاسز نہیں لے سکا۔ قانون یہ تھا کہ طالب علم کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت تبھی دی جاتی جب وہ کم از کم ۸۰ فی صد تک کلاسز میں حاضرہوا ہو۔ متعلقہ کورس کے استاد کو حق تھا کہ وہ مناسب عذر کی بنا پر طالب علم کو ۵ فی صد تک رخصت دے اور کلیہ کے عمید کو مزید ۵ فی صد تک تخفیف کا اختیار تھا۔ چھ کورسز میں میری حاضری پوری تھی، لیکن دو کورسز میں میری حاضری ۷۰ فی صد سے کم تھی، چنانچہ مجھے دو کورسز کے امتحان میں بیٹھنے سے روکا گیا ۔
غازی صاحب اس وقت وائس پریزیڈنٹ (اکیڈمکس) تھے۔ چنانچہ میں نے ان کو درخواست لکھی کہ وہ میرے سابقہ تعلیمی ریکارڈ اور میری موجودہ مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دیں۔ جس وقت میں ان کے آفس میں داخل ہورہا تھا، وہ (غالباً سپریم کورٹ میں کسی مقدمے کی سماعت کے لیے) نکل رہے تھے۔ انھوں نے کھڑے کھڑے میری بات سنی۔ پھر کہا کہ قانون کے تحت تو اس کی گنجائش نہیں ہے۔ میں نے انھیں تفصیل سے اپنے سابقہ ریکارڈ سے آگاہ کیا، لیکن ان پر کچھ اثر ہی نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا سابقہ ریکارڈ کی وجہ سے قانون سے انحراف کی گنجائش تو نہیں نکلتی۔ نوجوانی کا دور تھا اور خون بھی گرم تھا۔ میں نے انتہائی تیز لہجے میں کہا کہ ساڑھے چار سال تک میں نے جو محنت کی ہے، کیا آپ اسے ایک ہی ٹھوکر میں ھباء منثورا کردینا چاہتے ہیں؟ یہ سن کر غازی صاحب کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور انھوں نے میرے شانے پر تھپکی دے کر کہا کہ میں دو گھنٹے بعد آفس آؤں گا اور دیکھوں گا کہ تمھارے لیے کوئی گنجائش نکل سکتی ہے یا نہیں۔ بعد میں جب وہ آئے اور میرے ایک نہایت ہی محترم استاد نے ان سے اس سلسلے میں بات کی تو غازی صاحب نے انھیں بتایا کہ اس نوجوان سے ہمدردی کے باوجود میں اس کے لیے کچھ نہیں کرسکتا، کیونکہ پورے کیس کا جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ قانون کے تحت تخفیف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ گولڈ میڈل سے محرومی کے باوجود غازی صاحب سے میری محبت میں کمی نہیں آئی، بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوا ۔ان کی وہ مسکراہٹ اور تسلی دینے کا ان کا وہ انداز مجھے ابھی تک اچھی طرح یاد ہے اور اب بھی میں اسے اپنے لیے ان کی جانب سے ایک انعام سمجھتا ہوں۔
ایک اور واقعہ یاد آرہا ہے۔ ۲۰۰۶ء میں جب وہ یونیورسٹی کے پریزیڈنٹ کے عہدے سے فارغ ہوئے تو انھوں نے پھر کلیہ شریعہ میں پروفیسر شریعہ کے طور پر پڑھانا شروع کیا۔ ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی صاحب اس وقت کلیہ کے عمید تھے۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر اساتذہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے تحقیقی خاکوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تاکہ یونیورسٹی کے ریسرچ فنڈ سے اساتذہ کی مدد کی جائے۔ فاروقی صاحب نے غازی صاحب کو اس کمیٹی کا چیئر مین بنایا اور دیگر سینئر اساتذہ کے ساتھ وہ خود اس کے ممبر بنے، جبکہ مجھے انھوں نے اس کمیٹی کا سیکریٹری بنا دیا ۔ جب میں اس کمیٹی کی میٹنگ کے حوالے سے غازی صاحب سے ملا تو انھوں نے کہا کہ قانون کے تحت اس طرح کی کسی بھی کمیٹی کا سربراہ عمید کلیہ ہی ہوتا ہے۔ میں نے یہ بات فاروقی صاحب کو بتائی تو انھوں نے کہا کہ غازی صاحب کی موجودگی میں کوئی اور کیسے اس کمیٹی کا سربراہ ہوسکتا ہے؟ اب جب میں نے غازی صاحب کو یہ بات بتائی تو میں نے صاف محسوس کیا کہ یہ بات انھیں ناگوار گزری ہے۔ انھوں نے فوراً یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط کا مجموعہ اٹھا کر اس میں متعلقہ ضابطہ مجھے دکھادیا اور پھر پوچھا کہ اس ضابطے کی موجودگی میں عمید کے سوا کوئی اور اس کمیٹی کا سربراہ نہیں ہوسکتا۔ پھر انھوں نے یہی بات متعلقہ ضابطے کے حوالے سمیت لکھ کر مجھے دے دی کہ یہ نوٹ فاروقی صاحب کو دکھائیں۔ یوں غازی صاحب کے احترام کے باوجود فاروقی صاحب مجبوراً کمیٹی کے سربراہ بنے۔
کلیۃ الشریعۃ و القانون کے ساتھ خصوصی محبت
غازی صاحب نے اسلامی یونیورسٹی میں کئی کلیدی عہدوں پر کام کیا۔ وہ دعوہ اکیڈمی اور شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے اور یونیورسٹی کے نائب صدر برائے اکیڈمکس (تعلیمی امور) کے طور پر بھی انھوں نے کافی عرصہ کام کیا۔ ۲۰۰۴ء سے ۲۰۰۶ء تک یونیورسٹی کے صدر کے طور پر انھوں نے خدمات انجام دیں اور ۱۹۸۵ء کے بعد سے جب یونیورسٹی ’’بین الاقوامی ‘‘ بنی تھی، وہ پہلے پاکستانی تھے جو صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس تمام عرصے میں غازی صاحب نے کلیۃ الشریعۃ و القانون کے ساتھ اپنا خصوصی تعلق برقرار رکھا۔ چنانچہ وہ صدر کے طور پر کام کرنے کے دوران میں اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود اس کلیہ میں کلاسز پڑھاتے رہے۔ انھوں نے یونیورسٹی کے ریکٹر جناب جسٹس (ریٹائرڈ ) خلیل الرحمن خاں کو قائل کیا کہ وہ قانون کے طلبا کو پاکستان کے دستوری قوانین پر خصوصی لیکچر دیں۔ صدارت کی مدت پوری ہونے کے بعد غازی صاحب نے کلیۃ الشریعۃ و القانون میں پروفیسر شریعہ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال لیں اور خواتین اور مردوں کے دونوں کیمپسز میں پی ایچ ڈی اور ایل ایل ایم کے علاوہ ایل ایل کی جونیئر کلاسز کے ساتھ بھی کورسز لیے۔
۲۰۰۴ء سے ۲۰۰۶ء تک کا دور، جبکہ غازی صاحب صدرجامعہ تھے، کلیۃ الشریعۃ کے لیے بڑا مفید رہا ۔ صدر جامعہ کے طور پر غازی صاحب تھے اور ریکٹر کے طور پر جسٹس خلیل الرحمان تھے جو ویسے بھی شعبۂ قانون سے متعلق تھے اور پروفیسر محمد منیر صاحب کلیۃ الشریعۃ کے نائب عمید تھے جو نہایت ہی سرگرمی سے کلیۃ الشریعۃ کی ترقی اور بہتری کے لیے کوشاں تھے۔ چنانچہ اسی دور میں ایک طرف کلیۃ الشریعۃ کے طلبا کے لیے خصوصی کمپیوٹر لائبریری بنائی گئی تو دوسری طرف شعبۂ قانون نے ایل ایل ایم میں تین تخصصات، انٹرنیشنل لا، انٹرنیشنل ٹریڈ لا اور کارپوریٹ لا میں ڈگری پروگرام شروع کیے۔ غازی صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ کلیۃ الشریعۃ و القانون نہ صرف اسلامی یونیورسٹی کی مادر کلیہ ہے (کیونکہ یونیورسٹی کا آغاز ہی کلیۃ الشریعۃ سے ہوا تھا) بلکہ یونیورسٹی کے اغراض و مقاصد کے حصول میں اب بھی یہ کلیہ بنیادی کردار ادا کرتی ہے ۔
دیانت
جناب غازی صاحب کی شخصیت اور کردار کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ بالخصوص مالی امور میں حد درجے کی دیانت داری کے حامل تھے۔ استاد محترم جناب ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری بیان فرماتے ہیں کہ اگرچہ غازی صاحب کو یونیورسٹی کے قواعد کے تحت یہ اجازت تھی کہ وہ گھر پر سرکاری ٹیلی فون کی سہولت لیں، لیکن انھوں نے کبھی بھی اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھایا، کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ اس ٹیلی فون کا استعمال صرف سرکاری کاموں ہی کے لیے ہوگا۔ ڈاکٹر انصاری سے ہی سنا کہ جب غازی صاحب کا بطور صدر جامعہ دفتر میں آخری دن تھا اور دفتر سے اپنی کتابیں وغیرہ جمع کرنے میں انھیں بہت دیر ہوئی تو انھوں نے اپنے بھائی جناب غزالی صاحب کو رات گئے تک روکے رکھا کہ فارغ ہونے کے بعد وہ ان کے ساتھ ان کی گاڑی میں گھر جائیں گے، کیونکہ عہدے سے فراغت کے بعد وہ یہ جائز نہیں سمجھتے تھے کہ سرکاری گاڑی میں گھر جائیں۔
اس دیانت داری کا ایک مظہر یہ تھا کہ وہ انتہائی حد تک وقت کی پابندی کرتے تھے۔ ہم اکثر حیران رہتے تھے کہ جس طرح کی مصروفیات ان کی ہیں ان میں وہ اتنے بڑے علمی و تحقیقی کاموں کے لیے وقت کیسے نکال پاتے ہیں، لیکن ایک دفعہ ان کی زبانی ڈاکٹر محمد حمید اللہ کا ایک واقعہ سنا تو یہ حیرت کافی حد تک دور ہوگئی۔ غازی صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ کسی یورپی ملک میں ایک سیمینار میں وہ ڈاکٹر حمید اللہ کے ساتھ شریک تھے تو سارا دن کافی مصروف رہا اور شام کو غازی صاحب کو موقع ملا کہ وہ اپنی ایک زیر تصنیف کتاب کا مسودہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کو دکھا سکیں۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے وعدہ کیا کہ وہ اس پر ایک نظر ڈال کر غازی صاحب کو اپنی رائے سے آگاہ کریں گے۔ غازی صاحب کہتے ہیں کہ اگلی صبح ڈاکٹر حمید اللہ نے انھیں وہ مسودہ دے دیا تو ان کا پہلا تاثر یہ تھا کہ دن بھر کی مصروفیت کے بعد رات انھیں دیکھنے کا موقع نہیں ملا ہوگا، لیکن یہ دیکھ کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ کئی سو صفحات کے اس مسودے پر تقریباً ہر دوسرے تیسرے صفحے پر ڈاکٹر حمید اللہ نے کوئی تبصرہ، کوئی نوٹ، کوئی مشورہ لکھا تھا۔ غازی صاحب کہتے ہیں کہ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ دن بھر کی مصروفیت کے بعد کوئی اتنا کام کیسے کرسکتا ہے جبکہ اگلے دن پھر اسے سیمینار میں بیٹھنا ہوگا اور اس سے زیادہ حیرت اس پر تھی ڈاکٹر حمید اللہ بہت ہشاش بشاش بھی دکھائی دے رہے تھے، گویا انھوں نے پوری نیند بھی لی ہو! غازی صاحب نے کہا کہ تب مجھے معلوم ہوا کہ ’’برکت‘‘ سے مراد کیا ہے اور کسی کے وقت میں اور صلاحیت میں برکت ہوتی ہے تو اس کا اثر کیا ہوتا ہے! انھوں نے کہا ہمارے لیے تو وقت کے چھ گھنٹے بس چھ گھنٹے ہی ہوتے ہیں، لیکن جن کے وقت میں برکت ہوتی ہے تو ان چھ گھنٹوں کی لمبائی کے علاوہ ان کی چوڑائی اور گہرائی بھی بڑھ جاتی ہے اور وہ چھ گھنٹوں میں وہ وہ کچھ کرپاتے ہیں جو ہم کئی کئی دنوں میں نہیں کرپاتے۔
میرا ناقص مشاہدہ تو یہی کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے غازی صاحب کے اوقات میں بھی بڑی برکت رکھی تھی۔ اس برکت کا ایک مظہر یا شاید سبب یہ تھا کہ بہت ساری مصروفیات کے بیچ میں جیسے ہی انھیں موقع ملتا، وہ قرآن کریم کی تلاوت میں لگ جاتے۔ کئی کئی بار ہم نے دیکھا کہ غازی صاحب دفتر سے نکلے ہیں تو اپنی عادت کے مطابق انتہائی تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے گاڑی کی طرف جارہے ہیں اور جیسے ہی گاڑی میں بیٹھتے ہیں، مصحف نکال کر تلاوت شروع کر دیتے ہیں۔
چونکہ غازی صاحب کو بہت زیادہ سفر بھی کرنے پڑتے تھے، اس لیے انھوں نے وقت کا ایک نہایت مفید مصرف یہ نکالاتھا کہ ایئر پورٹ پر فلائیٹ کے انتظار کا وقت وہ مطالعے میں گزارتے تھے۔ کئی کئی ضخیم کتابوں کا مطالعہ انھوں نے اس طرح کیا۔ ایک دفعہ میری موجودگی میں ڈاکٹر انصاری صاحب نے انھیں استاد محترم جناب پروفیسر عمران احسن خان نیازی صاحب کی کتاب Theories of Islamic Law کے نئے ایڈیشن کی ایک کاپی تحفتاً پیش کی تو غازی صاحب نے نیازی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی اس کتاب کا مطالعہ میں نے کراچی کے ایئر پورٹ پر کیا ہے۔
غازی صاحب وقت ضائع کرنے کے قائل نہیں تھے اور ہمہ وقت اس کوشش میں مصروف رہتے تھے کہ وقت کا بہتر سے بہتر استعمال کیا جائے۔ ڈاکٹر انصاری صاحب نے ایک واقعہ سنایا کہ کسی غیر ملکی سفر کے دوران میں جب وہ ایک ہوٹل میں ٹھہرے اور اتفاقاً ان کے پاس پڑھنے کے لیے کتاب نہیں تھی تو انھوں نے ہوٹل کی جانب سے کمرے میں رکھے گئے پمفلٹ اور مینو وغیرہ پڑھنے شروع کر دیے۔ انصاری صاحب کہتے ہیں کہ ان کے استفسار پر غازی صاحب نے جواب دیا کہ پڑھنے کے لیے اور کچھ نہیں ہے تو یہی سہی، کچھ نہ پڑھنے سے اس کا پڑھنا بہتر ہوگا!
وسعت مطالعہ
کتابوں کی اور مطالعے کی بات چلی ہے تو غازی صاحب کی وسعت مطالعہ کے متعلق بھی کچھ گفتگو کی جائے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ غازی صاحب کی دلچسپی کا میدان بہت وسیع تھا۔ علوم القرآن، حدیث، فقہ، قانون، سیرت، تاریخ، مقارنۃ الادیان، فلسفہ، زبان و ادب، معاشیات و اقتصادیات اور دیگر بہت سارے علوم پر وہ نہایت گہری نظر رکھتے تھے۔ کئی دفعہ غازی صاحب ہمیں بتایا کہ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے بڑے بھائی مولانا ابوالخیر مودودی نے انھیں یہ نصیحت کی تھی کہ کسی کتاب سے کما حقہ فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ کہیں کہیں سے اقتباسات پڑھنے کے بجائے اسے بائے بسملہ سے تائے تمت تک پورا پڑھا جائے۔ ڈاکٹر انصاری صاحب سے سنا کہ غازی صاحب نے خود انھیں بتایا کہ انھوں نے امام شافعی کی کتاب الأم تین دفعہ ابتدا سے انتہا تک پڑھی ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ کتاب الأم کا علمی معیار کتنا بلند ہے اور ضخامت کے علاوہ زبان کے لحاظ سے بھی اور موضوع و مواد کے لحاظ سے بھی یہ کتنی مشکل کتاب ہے، لیکن غازی صاحب کو اس کتاب سے کچھ اور طرح کی ہی محبت تھی ( بالکل اسی طرح جیسے استاد محترم نیازی صاحب کو امام سرخسی کی کتاب المبسوط سے ہے)۔ آگے میں ذکر کروں گا کہ غازی صاحب کا ارادہ یہ تھا کہ کتاب الأم کے مختلف ابواب سے جہاد کے متعلق مباحث اکٹھا کر کے انھیں ’’سیر الامام الشافعی‘‘ کے نام سے مرتب کریں۔ معلوم نہیں کس حد تک وہ اس منصوبے پر عمل کرپائے۔
تراث کی کتابوں پر غازی صاحب کو بلاشبہ عبور تھا اور ہمارے کئی دوست جب کسی عبارت کے فہم میں کہیں مشکل محسوس کرتے تو غازی صاحب ہی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ میرے عزیز دوست پروفیسر ضیاء اللہ رحمانی صاحب کہتے ہیں کہ ادارۂ تحقیقات اسلامی کے لیے اصول السرخسی کا اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے انھیں جب بھی کسی عبارت میں کہیں مشکل محسوس ہوئی تو وہ فوراً غازی صاحب کی طرف رجوع کرتے اور غازی صاحب وہیں اس مشکل کا نہایت آسان اور مناسب حل پیش کردیتے۔
جہاد و سیر کے موضوعات سے دلچسپی
جیسا کہ ذکر کیا گیا، غازی صاحب کی دلچسپی کے موضوعات تو بہت سے تھے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ انھیں فقہ و قانون اور بالخصوص جہاد وسیر کے احکام کے ساتھ انتہائی دلچسپی تھی۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ غازی صاحب کو ڈاکٹر حمید اللہ کے ساتھ نہایت عقیدت و محبت تھی اور جہاد و سیر ڈاکٹر حمید اللہ کا پسندیدہ موضوع تھا۔ چنانچہ جب جامعہ اسلامیہ بہاولپور نے انھیں ایک سلسلۂ محاضرات کے لیے آمادہ کیا تو انھوں نے جہاد و سیر ہی کے موضوعات چنے۔ بارہ خطبات کا یہ مجموعہ پہلے ’’خطبات بہاولپور۔ ۲‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا، کیونکہ خطبات بہاولپور کے عنوان سے ڈاکٹر حمید اللہ نے جامعہ اسلامیہ بہاولپور ہی میں بارہ خطبات دیے تھے ۔ تاہم ڈاکٹر حمید اللہ کے بارہ خطبات میں ایک خطبہ ہی جہاد وہ سیر سے متعلق تھا جبکہ غازی صاحب کے بارہ خطبات تمام کے تمام جہاد وسیر سے متعلق تھے۔ کچھ عرصہ قبل شریعہ اکیڈمی ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ، اسلام آباد ، نے ان خطبات کو ’’ اسلام کا قانون بین الممالک‘‘ کے عنوان سے دوبارہ شائع کیا ہے ۔
غازی صاحب کا ایک نہایت وقیع علمی کارنامہ امام ابو حنیفہ کے شاگرد رشید اور اسلامی بین الاقوامی قانون کے بانی امام محمد بن الحسن الشیبانی کی شہرۂ آفاق کتاب ’’ السیر الصغیر‘‘ کے متن کی تدوین اور اس کا انگریزی میں ترجمہ ہے۔ علمی دنیا میں السیر الصغیرکی اہمیت مسلم ہے کیونکہ اس کتاب میں امام شیبانی نے جہاد و سیر کے موضوع کے تمام بنیادی اور اصولی مسائل پر فقہ حنفی کی راجح اور مفتی بہ آرا ذکر کی ہیں۔ مجید خدوری نے، جو عراقی مسیحی تھے، امام شیبانی کی کتاب الأصل سے سیر، خراج اور عشر کے ابواب کا متن مدون کرکے ان کا انگریزی ترجمہ کیا تھا اور انھیں The Islamic Law of Nations: Shaybani's Siyar کا نام دیا ۔ عام طور پر ان ابواب کو ہی امام شیبانی کی السیر الصغیر سمجھا گیا، تاہم استاد محترم غازی صاحب نے ثابت کیا کہ یہ ایک بہت بڑا علمی مغالطہ ہے۔ چنانچہ انھوں نے السیر الصغیر کے متن کی تدوین اور ترجمے کا کام اپنے ذمے لے لیا۔ اس مقصد کے لیے ان کے سامنے دو مآخذ تھے : ایک امام الحاکم الشہید المروزی کی کتاب ’’الکافی فی فروع الحنفیۃ‘‘ جس میں امام شیبانی کی چھ کتابوں (ظاہر الروایۃ) کی تلخیص کی ہے اور دوسری شمس الائمۃ سرخسی کی کتاب ’’المبسوط‘‘ جو ’’الکافی‘‘ کی شرح ہے ۔ غازی صاحب نے واضح کیا کہ امام حاکم نے جب ’’الکافی‘‘ میں ظاہر الروایۃ کی تلخیص کا کام کیا تو چار کتابوں کو تو انھوں نے ملخص کیا، مگر سیر کے ابواب میں السیر الکبیر، السیر الصغیر اور دیگر کتب کے مواد کو ملخص کرنے کے بجائے انھوں نے السیر الصغیر کے متن کو جوں کا توں نقل کیا۔ گویا امام سرخسی کی المبسوط کی دسویں جلد میں کتاب السیر دراصل امام شیبانی کی السیر الصغیر کی شرح ہے۔ غازی صاحب نے الکافی کے مخطوطات اور المبسوط کے مطبوعہ نسخوں کا تقابل کر کے السیر الصغیر کا ایک مستند متن تیار کیا اور پھر اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا، نیز انگریزی میں ایک مبسوط مقدمہ بھی لکھا جس میں انھوں نے سیر اور بین الاقوامی قانون کے تقابل پر بھی بحث کی، سیر کی تدوین اور ارتقا کا بھی جائزہ پیش کیا اور امام شیبانی کی فقہی خدمات پر بھی روشنی ڈالی۔ ادارۂ تحقیقات اسلامی اسلام آباد نے غازی صاحب کی اس کاوش کو Shorter Book on Muslim International Law کے عنوان سے شائع کیا۔
۲۰۰۸ء میں غازی صاحب قطر جارہے تھے تو انھوں نے مجھے بتایا کہ سیر پر وہ دو کتابیں لکھنا چاہتے ہیں : ایک انگریزی زبان میں اور دوسری عربی زبان میں۔ انھوں نے کہا کہ انگریزی کتاب کے مخاطبین قانون کے ماہرین ہوں گے، اس لیے اس میں بین الاقوامی قانون کے مباحث زیادہ ہوں گے جبکہ عربی کتاب کے مخاطبین علمائے کرام ہوں گے، اس لیے اس کا زیادہ حصہ فقہی مباحث پر مشتمل ہوگا ۔ مجھے معلوم نہیں کہ وفات سے قبل وہ یہ کام تکمیل تک پہنچاپائے یا نہیں ۔
پچھلے سال ستمبر ۲۰۰۹ء میں ڈاکٹر انصاری صاحب نے سیر پر کام کے لیے ادارۂ تحقیقات اسلامی کے تحت ایک خصوصی گروپ تشکیل دیا جس میں انھوں نے غازی صاحب کے علاوہ پروفیسر عمران نیازی صاحب، ڈاکٹر محمد طاہر منصوری صاحب ( سابق عمید، کلیہ شریعہ و قانون، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد )، ڈاکٹر محمد منیر صاحب ( سربراہ شعبۂ قانون، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد)، ڈاکٹر عصمت اللہ صاحب (سربراہ شعبہ فقہ، ادارۂ تحقیقات اسلامی) اور راقم الحروف کو شامل کیا ۔ سیر کا یہ پراجیکٹ دو طرح کے کاموں کے لیے وجود میں لایا گیا: ایک یہ کہ فقہ اسلامی کی اساسی کتب میں سیر سے متعلق مواد پر تحقیق کرکے ان کی تدوین کی جائے اور ان کا انگریزی اور اردو میں ترجمہ کیا جائے اور دوسرا یہ کہ سیر اور جہاد کے موضوعاتی مطالعے کے لیے مناسب موضوعات کا انتخاب کرکے ان موضوعات پر اس فن کے متخصصین سے تحقیق کرائی جائے۔ اس سلسلے میں غازی صاحب نے اپنی اس خواہش کا ذکر کیا کہ کسی طرح کتاب الأم کے مختلف ابواب سے سیر کے متعلق مواد اکٹھا کرکے ان کی اچھی ایڈیٹنگ کی جائے اور اس طرح ’’سیر الامام الشافعی‘‘ مرتب کی جائے ۔ انھوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ وہ پہلے ہی اس سلسلے میں کافی کام کرچکے ہیں۔ انصاری صاحب کی خواہش پر غازی صاحب نے اسی کام کی تکمیل کا ارادہ کرلیا۔ راقم کی ہمشیرہ محترمہ سعدیہ تبسم صاحبہ نے (ریسرچ ایسوسی ایٹ، ادارۂ تحقیقات اسلامی )، جو اس گروپ کی سیکریٹری ہیں، بعد میں غازی صاحب سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ اپنی گوناگوں مصروفیت کے باوجود غازی صاحب اس پراجیکٹ پر کام کررہے ہیں۔ تاہم ان کی اچانک وفات کی وجہ سے شاید یہ کام ادھورا ہی رہ گیا ہے ۔
’’کاسموپولیٹن فقہ‘‘ یا ’’ فقہ عولمی‘‘ کا تصور
اگست ۲۰۰۹ء میں ادارۂ تحقیقات اسلامی میں ’’بر صغیر میں اسلامی قانونی فکر اور ادارے‘‘ کے عنوان سے ایک تین روزہ بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں غازی صاحب نے توسیعی خطبہ بعنوان ’’برصغیر میں مطالعہ فقہ: ماضی، حال اور مستقبل‘‘ پیش کیا۔ اس خطبے میں نہایت اہم نکات زیر بحث آگئے تھے جن میں ایک ’’کاسموپولیٹن فقہ‘‘ کا تصور تھا۔ غازی صاحب نے اس خطبے میں کہا کہ عالمگیریت (globalization)کے اثرات دیگر شعبہ ہائے زندگی کے علاوہ فقہ و قانون پر بھی مرتب ہورہے ہیں اور ایک ایسی cosmopolitan fiqh یا ’’الفقہ العولمی ‘‘ وجود میں آرہی ہے جو نہ کلیتاً حنفی ہے، نہ شافعی، نہ حنبلی، نہ مالکی، نہ ظاہری۔ اس موضوع پر اس سے پہلے بھی غازی صاحب اپنے بعض محاضرات میں اظہار خیال کرچکے تھے ۔ فقہ عولمی کا یہ تصور دور رس نتائج کا حامل ہے، اس لیے بعض شرکاے سیمینار نے اس رائے کا اظہار کیا کہ غازی صاحب سے درخواست کی جائے کہ وہ ایک الگ نشست میں فقہ عولمی کے تصور کے خد و خال کی وضاحت کریں۔ راقم کا تاثر یہ تھا کہ فقہ عولمی کے تصور کی بنا اس امر پر ہے کہ کسی موضوع کی جزئیات کے متعلق مختلف فقہی مذاہب سے آرا اکٹھی کرکے ایک ایسی صورت بنائی جائے جو متعین فقہی مذاہب کے دائروں سے بالاتر ہو۔ اس امر کو اگرچہ بعض لوگ روشن خیالی اور معروضیت کا تقاضا، نیز بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہیں، لیکن میری ناقص رائے میں یہ تصور اس بنا پر نہایت خطرناک ہے کہ ’’تلفیق‘‘ کے اس طریق کار کی وجہ سے قانون اصولی تضادات کا شکار ہوجاتا ہے۔ استاد محترم پروفیسر عمران احسن خان نیازی کی بھی یہی رائے ہے۔ چنانچہ یہ طے پایا کہ اس موضوع پر جب ڈاکٹر غازی صاحب اپنی آرا کا اظہار کریں گے تو اس کے بعد پروفیسر نیازی ان پر اپنا تبصرہ پیش کریں گے۔ اس کے بعد مذاکرے میں شریک دیگر افراد اس موضوع پر کھلی بحث کریں گے۔ یہ بھی طے پایا کہ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری اس مذاکرے کی صدارت کریں گے اور آخر میں وہی پوری بحث کو سمیٹیں گے۔ چنانچہ ۱۵ ؍اگست ۲۰۰۹ء کو ادارۂ تحقیقات اسلامی کے سیمینار روم میں اس خصوصی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں کثیر تعداد میں اصحاب علم نے شرکت کی۔
ڈاکٹر غازی صاحب نے فقہ عولمی کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے اسے عالمگیریت کا ایک لازمی نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمگیریت کی وجہ سے دنیا کے ایک خطے میں مسلمانوں کو پیش آنے والے مسائل سے دوسرے خطوں کے مسلمان بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ ذرائع مواصلات میں بے پناہ ترقی کی وجہ سے دنیا کے کسی بھی کونے میں رونما ہونے والے واقعات کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی صاحب علم نے کسی مسئلے پر کوئی رائے ظاہر کی تو بہت جلد وہ دوسرے اصحاب علم تک پہنچ جاتی ہے اور وہ اس پر اظہار خیال شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح کچھ ہی عرصے میں بحث مباحثے کے بعد بڑی حد تک ایک متفقہ رائے وجود میں آجاتی ہے۔ انہوں نے عالمگیریت سے پیدا ہونے والے مسائل اور خطرات کی بھی نشاندہی کی۔ نیز غیر مسلم ممالک میں مقیم مسلمانوں کے مسائل کی طرف بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ معاصر دنیا کے ان مخصوص حالات کی وجہ سے مختلف میدانوں میں جو فقہ مرتب ہورہی ہے، وہ کسی خاص فقہی مذہب کی بندشوں کی پابندی سے بہت حد تک آزاد ہے، بلکہ بسا اوقات ایک ہی مسئلے کے مختلف جزئیات میں مختلف مذاہب کی آرا کو جوڑ دیا جاتا ہے اور اس طرح ایک نئی فقہ وجود میں آجاتی ہے۔ انہوں نے اس کو ’’Fiqhi Engineering‘‘ کا نام دیا اور اس سلسلے میں بالخصوص اسلامی بینکاری کی مختلف پراڈکٹس کی مثالیں دیں۔
پروفیسر نیازی نے اس تصور پر تبصرہ کرتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا کہ جسے فقہ عولمی کہا جارہا ہے، پہلے اس کے اصول متعین کرنے چاہئیں کیونکہ فقہ کی بنیاد اصول فقہ پر ہے، اس لیے فقہ عولمی کی تشکیل سے پہلے فقہ عولمی کے اصولوں پر بحث ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصول میں بہت کچھ مشترک ہے اور ان مشترک اصولوں کی بنیاد پر عصر حاضر میں فقہ کے ایک بڑے حصے کی مشترکہ تشکیل کی جاسکتی ہے، لیکن اصولوں کی بحث میں پڑے بغیر اگر صرف سہولت اور آسانی کی خاطر یا دنیوی اغراض کے حصول کے لیے مختلف فقہی مذاہب سے ’’Pick and choose‘‘ کیا جائے گا تو اس ’’تلفیق‘‘ کے اثرات بہت خطرناک نکلیں گے، کیونکہ اس طرح جو چیز وجود میں آئے گی، وہ اصولی تضادات کی وجہ سے عملی دنیا میں پنپ نہیں سکے گی۔ انہوں نے کہا جسے غازی صاحب نے ’’Fiqhi Engineering‘‘ کہا، وہ دراصل ’’Reverse Engineering‘‘ ہے کیونکہ اسلامی بینکاری والے کرتے یہ ہیں کہ غیر اسلامی بینکوں کے ایک پراڈکٹ کو سامنے رکھ کر اس کو سند جواز عطاکرنے کے لیے اس پراڈکٹ کی مختلف جزئیات کے جواز کے متعلق مختلف فقہی مذاہب کی آرا اکٹھی کردیتے ہیں اور نتیجے کے طور پر قرار دیتے ہیں کہ یہ پراڈکٹ شرعی لحاظ سے بالکل جائز ہے۔ پروفیسر نیازی نے مزید کہا کہ ایک فقہی مذہب دراصل ایک مستحکم قانونی نظام ہوتا ہے جو بعض مخصوص اصولوں پر قائم ہوتا ہے۔ اس لیے اگر ایک جزئیے میں حنفی رائے لی گئی اور دوسری میں شافعی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک جگہ آپ ’’عام‘‘ کو قطعی کہہ رہے ہیں اور دوسری جگہ ظنی، ایک جگہ آپ قول صحابی کو حجت مان رہے ہیں اور دوسری جگہ اس سے انکار کررہے ہیں۔ یہی وہ اصولی تضادات ہیں جن کی وجہ سے تلفیق اور فقہ عولمی کا تصور ناقابل قبول اور ناقابل عمل بن جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک فقہی مذہب میں بھی بعض اوقات ایک سے زائد آرا پائی جاتی ہیں، لیکن ’’فتویٰ‘‘ کے لیے ان میں سے ایک کو منتخب کیا جاتا ہے۔ اس عمل کو ’’تخییر‘‘ کہتے ہیں اور اس کے اپنے اصول ہیں۔ تخییر محض ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تقلید کو خواہ مخواہ تنقید کا نشانہ بنایاجاتا ہے، حالانکہ کسی بھی مستحکم قانونی نظام کے لیے ضروری ہے کہ اس میں تقلید کے اصول کو مانا جائے۔ انہوں نے ماتحت عدالتوں پر اعلیٰ عدالتوں کے نظائر کی پابندی کو تقلید کی بہترین مثال قرار دیا۔ اس موقع پر غازی صاحب نے کہا کہ وہ فقہ عولمی کے تصور کے نہ داعی ہیں اور نہ وکیل، بلکہ وہ صرف ایک مبصر اور شاہد کے طور پر وہ کچھ بیان کررہے ہیں جس کا وہ مشاہدہ کر رہے ہیں۔
بطور معلم
غازی صاحب کی شخصیت کے یوں تو کئی پہلو تھے، لیکن درحقیقت وہ اولاً و آخراً ایک معلم تھے۔ کسی بھی موضوع پر گفتگو سے پہلے وہ کوشش کرتے تھے کہ مخاطبین کی نفسیات اور علمی استعداد کا اچھی طرح جائزہ لیں، پھر اپنے طلبا کی ذہنی سطح تک آکر انھیں بتدریج اپنے ساتھ علمی رفعتوں تک لے جاتے۔ قدرت نے انھیں مشکل سے مشکل موضوع کو آسان اور سلیس زبان میں بیان کرنے کا عجیب ملکہ عطا کیا تھا۔ یونیورسٹی میں میرے ابتدائی دور سے ہی مختلف سیمینارز میں انھیں بارہا سننے کا موقع ملا اور جب بھی انھیں سنا کوئی نئی بات سیکھی یا پرانی بات یاد آئی یا اس پر از سرنو غور کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ ان کی کتابوں کا علمی مقام تو ہے ہی ارفع، لیکن طلبا کے لیے خاصے کی چیز ان کا سلسلۂ محاضرات ہے جس میں ان کے محاضرات کو تحریری قالب میں ڈھال کے شائع کیا گیا ہے۔ محاضرات قرآنی، محاضرات حدیث، محاضرات سیرت، محاضرات شریعت، محاضرات فقہ اور محاضرات معیشت و تجارت میں غازی صاحب ایک مثالی معلم کے طور پر نظر آتے ہیں۔ ان محاضرات میں دیگر خصوصیات کے علاوہ ایک نہایت قابل رشک خصوصیت یہ ہے کہ ہر ہر محاضرہ میں کمال درجے کا ربط و نظم پایا جاتا ہے جس سے متعلقہ موضوعات کے اطراف و جوانب پر غازی صاحب کی گہری نظر کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ بات صرف محاضرات کی حد تک ہی صحیح نہیں ہے جن کے لیے وہ بہر حال کچھ تیاری کرکے آتے تھے (اگرچہ اس تیاری کا ماحصل صرف چند نکات میں کاغذ کے چھوٹے سے ٹکڑے پر غازی صاحب اپنی وضع کردہ مختصر نویسی کے ذریعے محفوظ کرلیتے تھے)، بلکہ اگر انھیں اچانک ہی کسی موضوع پر بولنے کے لیے کہا جاتا تو لمحہ بھر کے توقف کے بعد وہ اچانک یوں منظم و مرتب طریقے سے اس موضوع پر بولنا شروع کردیتے کہ گویا انھوں نے اپنے ذہن کے کمپیوٹر میں اسی موضوع پر پہلے سے کوئی مخصوص فائل محفوظ کی ہوئی ہو جسے اب انھوں نے کھول کر پڑھنا شروع کردیا ہو۔
یوں تو ۱۹۹۴ء سے ہی، جب میں نے اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ لیا، وقتاً فوقتاً غازی صاحب سے بہت استفادہ کیا لیکن ۲۰۰۷ ء میں جب میں نے فقہ میں تخصص کے لیے پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا تو ان کے سامنے باقاعدہ زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ ایک سمسٹر میں ان سے دو کورسز پڑھے اور، الحمد للہ، بہت کچھ سیکھنے کی کوشش کی ۔ پی ایچ ڈی کی اس کلاس میں ہم صرف تین طلبا تھے۔ ہم غازی صاحب کے دفتر میں ہی کلاس لیتے تھے جو لیکچر کے بجائے علمی مباحثے کی صورت میں ہوتی تھی۔ غازی صاحب کی مہمان نوازی سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے کیونکہ وہ ہمیں کافی بھی پلایا کرتے تھے اور مباحثہ بھی جاری رہتا تھا۔ بعض اوقات تو ہم اس مخمصے میں پڑ جاتے کہ کافی کی وجہ سے مباحثے نے زیادہ لطف دیا یا مباحثے کی وجہ سے کافی بہت اچھی لگی !
ایک مثالی معلم ہونے کی وجہ سے غازی صاحب کو اپنے طلبا کے ساتھ نہایت محبت تھی۔ ۲۰۰۶ ء میں جب صدر جامعہ کے طور پر ان کے عہدے کی مدت پوری ہوئی تو انھوں نے کلیہ شریعہ میں باقاعدہ کورسز پڑھانے شروع کردیے تھے اور اس سلسلے میں انھوں نے ایسی کوئی قید بھی نہیں رکھی کہ وہ صرف پی ایچ ڈی کے طلبا کو پڑھائیں گے، حالانکہ اگر وہ ایسا کرتے تو قانون کے تحت یہ ان کا حق تھا، بلکہ انھوں نے ایل ایل ایم کو بھی کورسز پڑھائے اور ایل ایل بی کو بھی۔ بالخصوص ایل ایل بی کے طلبا و طالبات جن کو اپنے کیریئر کے ابتدائی دور میں ہی غازی صاحب جیسا معلم نصیب ہوا، وہ اپنی خوش قسمتی پر نازاں تھے۔ میری ہمشیرہ محترمہ سعدیہ تبسم صاحبہ نے اسی دور میں غازی صاحب سے فقہ العلاقات الدولیۃ کا کورس پڑھا۔ وہ ذکر کرتی ہیں کہ کلاس میں غازی صاحب نے صرف یہی نہیں کیا کہ متعلقہ موضوع پر لیکچر دے کے چلے جاتے، بلکہ انھوں نے مختلف طریقوں سے طالبات کی علمی استعداد بڑھانے کی طرف توجہ دی اور بالخصوص کوشش کی کہ ہر ہر طالبہ عربی صحیح بولے اور لکھے۔
میں اسے اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل سمجھتا ہوں کہ شاگردوں کے ساتھ غازی صاحب کی اس خصوصی محبت کا مجھے وافر حصہ ملا۔ جولائی ۲۰۰۶ء میں جبکہ وہ صدر جامعہ تھے اور اس وجہ سے ان کی مصروفیات میں گوناگوں اضافہ ہوا تھا۔ ایک دن انھوں نے مجھے فون کیا اور کہا کہ حدود کے متعلق جناب ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی صاحب کی کتاب پر میرا تبصرہ ان کی نظر سے گزرا اور وہ انھیں بہت پسند آیا ہے۔ پھر انھوں نے مجھے ترغیب دی کہ جو نکات اس تبصرے میں اٹھائے گئے ہیں، ان کی وضاحت کے لیے باقاعدہ ایک کتاب لکھوں۔ اس ترغیب کے نتیجے میں ہی حدود پر میں نے کتاب لکھی جو اگست ۲۰۰۶ء میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب جب غازی صاحب کی خدمت میں پیش کی تو انھوں نے بے حد خوشی کا اظہار کیا۔ کچھ دنوں بعد جب پارلیمنٹ نے تحفظ نسواں ایکٹ منظور کیا تو کلیہ شریعہ کے طلبا و اساتذہ نے اس ایکٹ پر بحث کے لیے ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ راقم کو اس قانون کے شق وار تجزیے کی ذمہ داری دی گئی۔ میرے مقالے سے پہلے غازی صاحب نے حدود قوانین کا ایک عمومی جائزہ پیش کیا اور اس کے بعد انھوں نے اس ناچیز کا ذکر جس محبت کے ساتھ کیا، وہ میرے لیے ایک سرمایۂ افتخار ہے۔
۲۰۰۸ء کے اوائل کی بات ہے۔ ایک دن میں سٹاف روم میں داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ وہاں شعبۂ فقہ کے اساتذہ کی میٹنگ ہورہی ہے۔ میں معذرت کرکے واپس ہوا لیکن غازی صاحب نے مجھے آواز دے کربلایا اور اپنے قریب بٹھا کر کہا کہ آپ کی آمد اس وقت ہمارے لیے نعمت غیر مترقبہ ہے۔ پھر دیگر اساتذہ کی طرف رخ کرکے کہا کہ ابھی ہم یہ سوچ رہے تھے کہ یہ کام کس کو سونپا جائے، لیکن دیکھیے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت زیادہ سوچ بچار سے بچالیا ۔ پھر میرے شانے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا : یتولاہ القوی الأمین۔
کچھ عرصہ قبل جب غازی صاحب کو وفاقی شرعی عدالت کے جج کی ذمہ داری سونپی گئی تو انھوں نے فوراً ہی اسلامی قانون کی روشنی میں مجموعۂ تعزیرات پاکستان کی بعض دفعات کا جائزہ لینے کا ارادہ کیا۔ اس سلسلے میں مجھے بھی انھوں نے عدالت کے معاون کے طور پر طلب کیا۔ یونیورسٹی میں مصروفیت کی وجہ سے میں عدالت تاخیر سے پہنچا اور پہلے دن کی سماعت پوری ہوچکی تھی۔ میں واپس ہوا تو ظہر کی نماز کے بعد غازی صاحب کا فون آیا اور انھوں نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد اکتوبر کے مہینے میں ہر ہفتے چار دن اس کیس کی سماعت کریں گے اور تعزیرات پاکستان کی بعض دفعات نہیں بلکہ پورے مجموعۂ تعزیرات کا جائزہ لیں گے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ کلیۂ شریعہ کے بعض ہونہار طلبا و طالبات میں اس کام کو تقسیم کرکے عدالت کا کام آسان کیا جائے۔ غازی صاحب کی وفات کے ایک دو دن بعد مجھے عدالت کی جانب سے خط موصول ہوا جس میں لکھا گیا تھا کہ اکتوبر سے اس کیس کی سماعت شروع ہونے والی ہے اور میں اس سوچ میں پڑگیا کہ غازی صاحب ہوتے تو یہ کام کیسے ہوتا اور اب جبکہ وہ نہیں رہے تو ان کے بعد یہ کام کیسے ہوپائے گا ؟ اچانک حدیث مبارک یاد آگئی :
ان اللہ لا ینتزع العلم من الناس انتزاعاً، ولکن یقبض العلماء فیرفع العلم معھم و یبقی فی الناس رءوساً جھالاً یفتونھم بغیر علم فیضلون و یضلون (صحیح مسلم ، باب رفع العلم و قبضہ و ظہور الجہل و الفتن، حدیث رقم ۴۸۲۹)
کیا بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، بالخصوص کلیۃ الشریعۃ و القانون غازی صاحب کی علمی خدمات کے اعتراف میں ’’غازی چیئر‘‘، ’’غازی ایوارڈ‘‘ اور ’’غازی لیکچرز‘‘ کا اہتمام کرسکے گی؟
معدوم قطبی تارا
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام
(۳ اکتوبر ۲۰۱۰ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں کی جانے والی گفتگو جسے مصنف کی نظر ثانی کے بعد شائع کیا جا رہا ہے۔)
محترم جناب مولانا ابوعمار زاہد الراشدی صاحب،
برادرم مولانا مفتی محمد زاہد صاحب اور معزز خواتین و حضرات!
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ زندگی بھر میرے لیے آسانیاں پیدا کرتے رہے، لیکن کبھی کبھی میرے لیے مشکلات بھی کھڑی کر دیتے تھے۔ ان میں سے دو ایک کا ذکر تو آگے چل کر کروں گا۔ فوری طور پر تو یہ کہ ان کے اس دنیائے فانی سے اچانک رخصت ہوجانے کے بعد آج ان کی نسبت سے میرے لیے سب سے زیادہ مشکل کام یہ ہے کہ مجھے ایسے شخص کے بارے میں گفتگو کرنے کی دعوت دی گئی ہے جو خود فصاحت وبلاغت کا مرقع تھا۔ اور جو شخص فصاحت و بلاغت میں اپنی مثال آپ ہو، اس کی شخصیت پر گفتگو کرتے وقت انصاف کا دامن تھامنا دیہاتی پس منظر کے حامل میرے جیسے شخص کے لیے خاصا مشکل کام ہے۔ ان کی قدرت کلام اور میری بے ربط باتوں میں آپ کو وہی فرق دیکھنے کو ملے گا جو امریکہ اور ویت نام کی ٹیکنالوجی کے درمیان ہے۔ ڈاکٹر غازی مرحوم کی وفات نے میرے لیے یہ ایک مشکل کھڑی کر دی ہے۔ اس کے باوجود جس کسی نے بھی محترم عمار ناصر کو میرے بارے میں بتایا کہ وہ مجھے یہاں خطاب کا شرف بخشیں، میں اس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب موصوف کے ساتھ میرے نیاز مندانہ تعلق کے حوالے سے اس شخص کا انتخاب غلط نہیں ہے۔
جب مجھے مولانا موصوف کے حوالے سے فون آیاتو مجھے تعجب ہوا اور پریشانی بھی ہوئی کہ اس کڑے امتحان سے کیسے نکلوں گا۔ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ اور میرے درمیان کچھ نہ کچھ مشترک چیزیں رہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ میڈیا بیزار آدمی تھے اور میں بھی ہجوم اور مجمع سے دور رہنے کا عادی ہوں۔ شاید ہی کوئی کہہ سکے کہ میں نے اس طرح کے مجمع عام میں کبھی تقریر یا خطاب کیا ہو، اگرچہ پیشہ کے لحاظ سے استاد ہوں۔ لیکن مجھے یہاں آپ کے سامنے کھڑا ہونے کی توقع پردو وجوہ کے باعث تسلی ہوئی کہ ایک تو یہ کہ ایک امید موجود ہے۔ روزِ محشر جب میں اللہ کے سامنے پیش ہوں ،کہ وہ ستارالعیوب ہے اور دعا ہے کہ روزِمحشر کو وہ ہماری خامیوں پر پردہ ڈالے اور یہ بھی دعاہے کہ قیامت کے دن ہماری خوبیوں کو ظاہر کرے۔ میں دل کی گہرائیوں سے کہہ رہا ہوں کہ میں اس توقع کے ساتھ یہاں حاضر ہوا ہوں کہ یہ جو اتنے سارے انفس متبرکہ بیٹھے ہیں کہ میں انہیں یہاں گواہ بنا کر اور گواہی دے کر دنیا سے رخصت ہو جاؤں کہ ڈاکٹر صاحب کردار کی کس بلندی پر تھے۔
۲۶ ستمبر کی صبح کو ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی صاحب نے غالباً مجھے سب سے پہلے فون پر ان کی رحلت کی اطلاع دی تو میں گھر کے باہر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ ڈاکٹرفاروقی صاحب شریعہ اکادمی اسلام آباد کے ڈائریکٹر ہیں اور بہت ہی نیک سیرت، سچے اور امانت دار شخص ہیں۔ میں نے جب ان کی بات سنی تو چیخ کر کہا کہ ڈاکٹر صاحب! آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ اللہ معاف فرمائے، میں یہی سمجھا کہ وہ غلط بیانی کر رہے ہیں۔ اتنے میں انہوں نے فون بند کر دیا۔ اپنے اطمینان کے لیے میں نے ڈاکٹر غازی صاحب کے گھر فون کیا تو معصوم بچی کی معصوم سسکیوں نے خبر کی تصدیق کر دی۔ اس کے بعد میں نے چند دوستوں کو اطلاع دی اور ڈاکٹر صاحب ؒ کے گھر جانے کی تیاری کی چونکہ ان کے ساتھ ہمارے دیرینہ خاندانی مراسم تھے، اس لیے جب ہم وہاں پہنچے تو میں نے ڈاکٹر غزالی صاحب کو گلے لگا یا اور دھاڑیں مار نے کو دل چاہا تو پتہ چلا کہ غزالی صاحب صبرو استقامت کا پہاڑ بنے ہوئے ہیں۔ جب میری اہلیہ ڈاکٹرصاحبؒ کے گھر کے اندر گئیں تو واپسی پر انہوں نے بتایا کہ اتنا بڑا صدمہ سہنے کے باوجود ڈاکٹر صاحبؒ کی والدہ محترمہ تعزیت کو آنے والوں کو صبر کی تلقین کر رہی ہیں۔
ڈاکٹر صاحب ؒ موصوف سے میری پہلی ملاقات ۳۰؍ ستمبر ۱۹۸۱ء کو تب ہوئی جب میں اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں داخلہ کے لیے گیا۔ وہ اس کمیٹی میں تھے جو امیدواروں کا انٹر ویو کررہی تھی۔ اس کمیٹی کے تین ارکان تھے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تینوں کے نام محمود تھے۔ ان میں ایک محمود شرف الدین، مصری استاد تھے اور اب بھی یونیورسٹی میں موجود ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو طویل زندگی دے۔ دوسرے رکن پروفیسر سید احمد محمود ، علی گڑھ سے پڑھے ہوئے استاد تھے۔ اللہ ان کی قبر نور سے بھر دے ۔ اور تیسرے ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ تھے۔ اللہ سے التجا ہے کہ وہ انہیں اپنے قریب جگہ دے۔
جب ان لوگوں نے انٹرویو کر لیا تو من جملہ دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر غازی صاحبؒ مجھ سے پوچھنے لگے کہ اگر آپ کو شریعہ کی بجائے اصولِ دین میں داخلہ دے دیا جائے تو کیا خیال ہے؟ میں نے کہا کہ ’’اصول دین میں میرا میلان نہیں ہے‘‘۔ پوچھا: ’’فقہ پر کوئی کتاب پڑھی ہے‘؟‘ ان دنوں میں سرعبدالرحیم کی کتاب ’’اصول فقہ اسلام‘‘ پڑھ رہا تھا۔ میں نے کہا: ’’سرعبدالرحیم کی کتاب ’’اصول فقہ اسلام‘‘ پڑھ رہا ہوں‘‘۔ یوں داخلہ ہو گیااور میں چار سال تک اسلامی یونیورسٹی میں پڑھتا رہا۔ اسی دوران ڈاکٹر صاحبؒ کی علمی پختگی نے ہم سب کو خرید لیا۔
چار سال بعد ایل ایل ایم میں داخلے کے لیے انٹرویو ہوا۔ حسب دستور پھر ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہوا۔ اس کمیٹی میں بھی ڈاکٹر غازی صاحبؒ موجود تھے۔ اس میں ڈاکٹر حسین احمد حسان جو بعد میں اسلامی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی بنے، موجود تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایل ایل ایم میں داخلہ لینے آئے ہو (بات عربی میں ہورہی تھی) تو شرکات کی قسمیں بتائیں۔ میں نے شرکۃ الصنائع سے شروع کیا، حالانکہ ترتیب تو کچھ اور تھی۔ شرکۃ الابدان تک پہنچاتو تیسری قسم یاد نہ آئی۔ تھوڑا ادھر ادھر دیکھا، گلے میں اٹکا تھوک نگلا تو شرکۃ الوجوہ یاد آگئی۔ اب چوتھی قسم یاد نہ آئے۔ پھر ادھر ادھر دیکھا۔ معلوم ہوا، ڈاکٹر غازی صاحب منہ میں کچھ بدبدا رہے ہیں۔ ہونٹوں کی جنبش اوپر نیچے دکھائی دی تو معلوم ہوا ’’میم‘‘ کی طرف اشارہ ہے۔ اس طرح میرے ذہن میں مفاوضہ کا لفظ ابھرا جو میں نے ادا کیا اور یوں میرا داخلہ ہو گیا۔ فی الحقیقت ڈاکٹر صاحب ہر کسی کو ہمیشہ کچھ نہ کچھ دینے کے لیے کوشاں رہتے تھے، اسی لیے اس انٹرویو میں بھی مجھے کچھ نہ کچھ دینے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ بات ایک اور مثال سے زیادہ واضح ہو گی۔
ابھی چھ ماہ پہلے ڈاکٹر صاحبؒ نے مجھے کہا کہ ملک سے باہر کچھ وقت لگا آؤ، تاکہ نیا کلچر اور نیا رنگ دیکھنے کو مل جائے۔ میں نے ایک برطانوی یونیورسٹی کی ایک خالی اسامی کے لیے درخواست دی۔ آپ کو پتہ ہے بیرون ملک اس قسم کے کاموں کے لیے کسی حوالے کی ضرورت پڑتی ہے۔ چنانچہ میں نے ان سے گزارش کی کہ یہ کام بالعموم استاد کے ذمے ہوتا ہے، لہٰذا ایک رائے تو آپ دیں۔ انہوں نے فوراً قطر سے اس یونیورسٹی کو خط لکھ دیا۔ میں نے پوچھا : ’’دوسرا خط کس سے لوں؟‘‘ بولے ’’سید سلمان ندوی صاحب سے لے لیں‘‘۔ میں نے کہا : ’’سید سلمان ندوی صاحب سے میرے کوئی زیادہ علمی مراسم نہیں رہے، اس لیے آپ انہیں کہہ دیں‘‘۔ کہنے لگے : ’’وہ میرے کہے بغیر خط دے دیں گے‘‘۔ پوچھا: ’’یہ کیسے ممکن ہے‘‘؟ بولے ’’بس ویسے ہی دیں گے بغیر علمی مراسم کے‘‘۔ پھر اس کی تشریح کرتے ہوئے کہنے لگے : ’’دیکھو یہ بات ذہن میں رکھو، جو ’’سید ‘‘ہوتا ہے، وہ ہمیشہ نفع دیتا ہے اور اگر مجھے بھی شامل کرنا چاہو تو بیان یوں ہو گا کہ جوشخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا پیروکار ہو، سچی محبت کرنے والا ہو، وہ ہمیشہ نفع دے گا۔‘‘ ندوی صاحب نے واقعی خط دیا۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں ہی ان کے زیادہ قریب تھا، اس لیے یہ سب کچھ ہوا۔ موصوف کی مثال ایسے ہی ہے جیسے آپ سورج کو باہرکھڑے ہو کر دیکھیں تو ہر آدمی یہ تصور کرے گا کہ یہ سورج سب سے زیادہ اسی کے قریب ہے۔ دلی میں بیٹھا ہوا شخص بھی یہی خیال کرتا ہے اور کابل میں بیٹھا ہوا بھی یہی خیال کرتا ہے کہ سورج بس میرے لیے ہے۔ ڈاکٹر صاحبؒ کی صورت حال بھی کچھ ایسی تھی کہ ان سے جو بھی ملتا تھا، وہ یہی سمجھتا تھا کہ وہ میرے سے زیادہ کسی کا اکرام نہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ معاملہ سبھی کے ساتھ برابر ہوتا تھا۔
یہاں میں سامعین کو ایک دفعہ پھر یاد دلا دوں کہ یہ گفتگو منتشر یادداشتوں کے مجموعے میں سے کچھ یادوں کی ضوفشانی ہے۔ میں بس واقعات بیان کرتا جاؤں گا، نتائج آپ خود نکالیں۔
ایک دفعہ انہوں نے مجھے کہا کہ میرا پولیس اکیڈمی میں لیکچر ہے اور میں نے کہیں ضروری اجلاس میں جانا ہے، آپ میری جگہ پر جاکر لیکچر دے دینا۔ پندرہ سال قبل کا واقعہ ہے۔ تب میں قدرے نوآموز تھا، اس لیے پریشان ہوا کہ وہاں پر پولیس آفیسر آتے ہیں، سینئر لوگ ہوتے ہیں، شاید انصاف نہ کر سکوں۔ خیر چلا گیا اور آج پندرہ سال سے وہاں ان کی نیابت کر رہا ہوں۔ بعد میں اندازہ ہوا کہ یہ ان کا وہ مخصوص انداز تھا جس کے تحت وہ اپنے ساتھیوں کو بغیر چونکائے، بغیر احساس دلائے آگے بڑھاتے تھے۔ اس طرح کے کئی واقعات ہیں جس میں سے ایک واقعہ مزید سن لیجیے۔
جنوری ۲۰۰۰ء میں جنوبی افریقہ میں وہاں کے مسلمان قانون دان اور اکاؤنٹنٹس کی ایسوسی ایشن معروف بہ ایسوسی ایشن آف مسلم اکاؤنٹنٹس اینڈ لائیر، ڈربن نے جو وہاں کی ایک مشہور تنظیم ہے، ایک سیمینار کیا۔یہ سیمینار اسلامی یونیورسٹی کے تعاون سے تھا۔ موصوف نے مجھے اس کا آرگنائزر مقرر کیا اور بیشتر امور میرے سپرد کر دیے۔ لیکچرار حضرات کا انتخاب بڑی حد تک میرے ذمہ تھا، اگرچہ ان سے مشاورت ایک بدیہی امر تھا۔ تنظیم نے ہمیں فقہ اور شریعت پر لیکچر دینے کے لیے کہا تو مجھے ڈاکٹر صاحب نے حکم دیا کہ دو چار ساتھی تیار کر لیں اور میں خود بھی تیار ہوں۔ ڈاکٹر صاحبؒ جمہوری نظر یہ کے آدمی تھے۔ ایک آدمی کے بارے میں مجھے کہا کہ ان کو بھی ساتھ لے جاؤ۔ میں نے کہا ۔ ’’ڈاکٹر صاحب، اسے چھوڑیں‘‘۔ انہوں نے ایک دفعہ کہا، دو دفعہ کہا۔ تیسری دفعہ فائل لے کر گیا تو میں نے کہا : ’’ڈاکٹر صاحب میں اسے نہیں لے جاؤں گا، اسے چھوڑیں‘‘۔ میں غلطی پر نہیں تھا اور اب بھی نہیں ہوں۔ ڈاکٹر صاحب خاموش ہو گئے اورلگتا تھا کہ طبیعت پر جبر کر کے میری بات مان لی، حالانکہ مذکورہ شخص منصب کے لحاظ سے ان کے برابر کا تھا اور میرا دفتری قد کاٹھ اتنا نہیں تھا کہ میں اتنی بڑی جسارت پاکستانی دفتری نظام میں کر سکتا، لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو مکمل آزادی رائے، آزادی اظہار اور آزادی عمل دیا کرتے تھے۔
آگے سنیے! عین وہ دن جب افتتاحی تقریب تھی ۲۰۰۰ء میں عیدالاضحی کے ایک دن بعدتو عیدالاضحی سے ایک دن پہلے یونیورسٹی تو بندتھی، لیکن دفاتر کھلے تھے۔ ہمیں اپنے ایک دوست ڈاکٹر انواراللہ صاحب حال مقیم برونائی دارالسلام کے ویزا کی مشکلات تھیں، ان کا ویزا نہیں لگ رہا تھا۔ ڈاکٹر غازی صاحب اس وقت نیشنل سیکورٹی کونسل کے رکن تھے اور اپنے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ یہ کونسل وفاقی کابینہ سے بھی اوپر ایک ادارہ تھا۔ گویا اس کے ارکان وفاقی وزرا سے بھی بلند منصب کے حامل تھے۔ مختلف امور کی انجام دہی کے لیے میں نے ڈاکٹر صاحب کو تقریباً تیس بار ۔۔۔جی ہاں تیس بار ۔۔۔ٹیلی فون کیا اور نیشنل سیکورٹی کونسل کے دفتر میں بیٹھے ہونے کے باوجود انہوں نے ہر بار میری بات کو سنا اور پوری رہنمائی فرمائی۔ حالانکہ ہم میں سے ہر ایک کا مزاج ایسا ہے کہ اگر ایک دفعہ ، دو دفعہ، تین دفعہ سے زیادہ چوتھی دفعہ فون سننا پڑ جائے تو اکتا جائیں گے، لیکن ڈاکٹر صاحبؒ نے دفتر میں بیٹھے ہونے کے باوجود ہر دفعہ پوری طرح بات کو سنا اور رہنمائی کی۔ مجال ہے کہ ان کے لب ولہجہ میں کوئی اتار چڑھاؤ آیا ہو۔ مجال کہ یہ کہا ہو ، بھائی خود جاؤ، خود کرو، تنگ کر رہے ہو، بلکہ پوری رہنمائی کرتے رہے کہ فلاں کو فون کرو، فلاں سے پوچھو، اب فلاں شخص کے پاس جاؤ، اس کے بعد فلاں کے پاس جاؤ۔ یہ ان کی تحمل مزاجی کی صرف ایک مثال ہے۔
جب سارا کام مکمل ہو گیا اور عید گزر گئی تو مجھے کہنے لگے: ’’میری سیٹ ادھر ادھر کر دو، میں عیدالاضحی کے تین دن بعد آؤں گا‘‘۔ اب میرے چھکے چھوٹ گئے۔ میں نے کہا: ’’افتتاحی تقریب میں جنوبی افریقہ کا چیف جسٹس ہوگا، آپ نہیں جائیں گے تو میں کیا کروں گا‘‘۔ ڈاکٹر صاحبؒ ایسے مواقع پر زیادہ بولتے نہیں تھے۔ کہنے لگے: ’’چونکہ آپ کو اس سے پہلے فلپائن وغیرہ میں جانے سے کام کا تجربہ ہو چکا ہے، اس لیے آپ چلے جائیں، میں تین دن بعد آ جاؤں گا‘‘۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اکیلے ہی چلا گیا اور جنوبی افریقہ میں وہاں کے چیف جسٹس کے زیرصدارت منعقدہ تقریب میں میں نے ڈاکٹر غازی صاحب کی نیابت کی۔ بعد میں معلوم ہو اکہ اصل میں ڈاکٹر صاحب کا آدمی کو آگے بڑھانے میں ایک مخصوص اسٹائل تھا۔
ان کے کردار کی پاکیزگی کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ میں وہاں ڈربن میں اس ہوٹل کے استقبالیہ کے پاس لاؤنج میں بیٹھا ہوا تھا جہاں ہم سب ٹھہرے ہوئے تھے۔ یہاں اپنے ملک میں تو ہر ہوٹل پر فائیو اسٹار لکھ دیتے ہیں۔ لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ فائیو سٹار ہوتا کیا ہے، لیکن وہ کوئی ایکڑوں پر محیط تھری سٹار ہوٹل تھا جس میں لوگ میلوں کے حساب سے چہل قدمی کرتے تھے ۔ ایک دن ایسے ہوا کہ اتفاق سے یہ جگہ جہاں ہم بیٹھے ہوئے ہیں [ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے تہہ خانہ میں] اس ہوٹل کے لاؤنج جیسی ہے ۔یہی سمجھ لیں مجھے بات سمجھانے میں آسانی ہو گی۔ یوں ان سیڑھیوں کے سامنے ایک آئینہ لگا ہوا تھا اور استقبالیہ پر ایک سفید فام افریقی نژاد لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔ اگرچہ جنوبی افریقہ میں اکثریت سیاہ فام آبادی کی ہے، تاہم اقلیت میں تقریباً ۳، ۴ فی صد گورے افریقی بھی ہیں۔ بہرحال وہاں ایک نہایت خوبصورت لڑکی جس کی عمر تقریباً ۳۰،۳۲ سال ہوگی، کھڑی تھی۔ آج سے پیچھے جنوری ۲۰۰۰ء میں چلے جائیں تو ڈاکٹر صاحبؒ کی عمر اس وقت تقریباً ۴۹ سال کی تھی۔ یہ کوئی ایسی عمر نہیں ہے، جس کو بڑھاپے پر محمول کیا جائے اور ویسے بھی ڈاکٹر صاحب کی صحت تادمِ رحلت بہت اچھی تھی۔ اب ہوا ایسے کہ جوں ہی ڈاکٹر صاحب کی نظر اس خاتون پر پڑی تو انہوں نے فوراً آنکھیں نیچی کر لیں۔ میں سب کچھ آئینے میں دیکھ رہا تھا۔ یہ بات میں نے اپنی طرف سے آئینہ میں نوٹ کی۔ دنیا کا کوئی دوسرا جاننے والا شخص وہاں پر دیکھنے والا نہیں تھا اور ڈاکٹر صاحب کو وہاں میری موجودگی کا نہ تو علم تھا اور نہ میں ایسی جگہ بیٹھا تھا کہ انہیں علم ہو سکتا۔ وہ جو حدیث میں آتا ہے کہ اگر غیرمحرم پر پہلی نظر غیر ارادی اور غیر شعوری طور پر پڑ جائے تو معاف ہے، دوسری کا مواخذہ ہو گا۔ اس موقع پر میں نے دیکھا کہ اس سارے عمل میں ڈاکٹر صاحب میں کوئی تصنع نہیں تھا، کوئی بناوٹ نہیں تھی، کوئی ریاکاری نہیں تھی۔ پھر وہ فطری طریقے پر رواروی میں ہمیں تلاش کرتے کرتے میز پر آ کر میرے ساتھ بیٹھ گئے۔
آپ خواتین و حضرات کو گواہ بنا کر میں اللہ کی عدالت میں ان کے حق میں گواہی دیتا ہوں کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی پاکیزہ کردار کے مالک تھے۔
ڈاکٹر صاحب مالی معاملات میں بھی بڑے دیانت دار تھے۔
۱۹۹۹ء میں یکم اگست سے ا۳؍ اگست تک ایک عدالتی پروگرام چلانے کے لیے فلپائن میں جانے کا ہوا۔ فلپائن کے اس سفر کی مثال ، میں اس طرح دینا چاہوں گا کہ آپ پاکستان میں گویا کراچی ائیرپورٹ پر اترے۔ اگلی فلائٹ سے پشاور میں پہنچے، پھر بس یا کار میں پشاور سے کالام پہنچے۔ اس طرح فلپائن میںآپ گویا منیلا میں بذریعہ ہوائی جہاں اترے، پھر پشاور جیسے ایک چھوٹے شہر زیمبوانگا میں بذریعہ ہوائی جہاز اترے اور وہاں سے بذریعہ بحری جہاز ایک اور چھوٹے بلکہ بہت ہی چھوٹے شہر میں جاپہنچے۔ وہ جگہ آخری جزیرہ ہے جس کے بعد ایک جزیرہ چھوڑ کر ملائشیا شروع ہو جاتا ہے۔ جہاں ہم نے جانا تھا، وہاں جنگلات تھے اور دن میں آٹھ گھنٹے بجلی بند رہتی تھی۔ ٹی وی نشریات کوئی نہیں تھیں بلکہ وہ کیبل پر چلتا تھا۔ ٹیلی فون لینڈ لائن کوئی نہیں تھی، صرف موبائل فون تھے۔ اخبار تین دن بعد پہنچتا تھا۔ یوں سمجھیے جو درمیانی شہر ہے جس کی مثال میں نے پشاور دی ہے، وہاں تک تو ہم بذریعہ ہوائی جہاز پہنچے۔
ڈاکٹر غازی صاحب نے خود ہفتہ دس دن بعد آنا تھا۔ اس درمیانی شہر سے اصل جگہ تک جانے کے لیے اٹھارہ گھنٹے تک ہماری سوزوکی نمابحری جہاز میں سفر ہوتا تھا۔ جہاز میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس میں تقریباً پانچ چھ سو لوگ سفر کرتے تھے۔ اس منظر کشی کے بغیر شاید میں بات واضح نہ کر سکوں۔ اس میں جتنے بھی مسافرہوتے تھے ، ان کی لباس کی ہیئت کچھ اس طرح تھی کہ دیسی زبان میں ہم اسے نکر یا ’’کاچھا‘‘کہہ سکتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ ان لوگوں نے اس طرح کا مختصر لباس پہنا ہوا تھا۔ لوگ عام نچلے طبقے کے ماجھے گامے تھے۔ تہذیب سے دور، کوئی سوشل لائف نظر نہیں آتی تھی۔ آپ خود ان لوگوں کے بارے میں اندازہ کر لیں کہ کس طرح کے لوگ ہوئے ہوں گے۔ عام سوسائٹی کے لوگوں میں غالب اکثریت عیسائی تھی۔ درمیانی شہر سے سوزوکی نماجہاز مغرب کے بعد وہاں سے چلا اور اگلے دن ظہر اور عصر کے درمیان اپنی منزل کو پہنچا۔ اس درمیانی شہر سے ۱۳؍ نشستوں والا ایک ہوائی جہاز بھی ہماری منزل تک چلتا تھاجوصرف چار دن چلتا تھا :غالباً پیر، منگل ، جمعرات اور جمعہ۔
یہ بات ذہن میں رہے کہ ڈاکٹر صاحب اس وقت سپریم کورٹ کے جج تھے۔ وہاں پر سیٹوں کا کچھ مسئلہ پیدا ہوا۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا:’’آپ نے مجھ پر جو بندشیں لگائی ہوئی ہیں، ذرا سی تو کم کریں۔ سیٹیں مل نہیں رہیں اور لوگوں کی فلائٹ تبدیل کرنی ہے۔ آپ سپریم کورٹ کے جج ہیں، مجھے ایک ٹیلی فون کی اجازت دیں تو میں منیلا میں پاکستانی سفارت خانے سے کہہ دوں‘‘۔ کہنے لگے :’’نہیں ، نہیں، عام پاکستانی کی طرح رہا کریں اور عام پاکستانی کی طرح زندگی گزارا کریں، سفارت خانے وغیرہ کے چکر میں نہ پڑا کریں‘‘۔ میں چپ ہو گیا۔ ہاں تو وہ جو میں کہہ رہا تھا کہ واپسی پر ان کے شیڈول کے مطابق ہوائی جہاز موجود تھا، اس جگہ آتے ہوئے تو وہاں کی انتظامیہ اور لوگوں نے ٹکٹ دیا تھا۔ واپسی کا ٹکٹ شریعہ اکیڈمی کے ذمہ تھاجس کا ذمہ دار میں تھا ۔ میں نے کہا : ’’ڈاکٹر صاحب مجھے اپنا پاسپورٹ دیں‘‘۔ پوچھا: ’’کیا کرنا ہے‘‘۔ میں نے کہا : ’’ آپ کے لیے ہوائی جہاز کا ٹکٹ لینا ہے‘‘۔ بولے: ’’ارے نہیں! میں بحری جہاز پر واپس پر جاؤں گا‘‘۔
اس جہاز کی سونے والی نشست کا منظر کچھ یوں تھاکہ اس کی چوڑائی بہت ہی کم تھی اور پھر ایک نشست کے اوپر تلے کل تین آدمی سوتے تھے۔ ضرورت پڑنے پر کروٹ لینا ہوتی تو آدمی پہلے اٹھ بیٹھتا اور پھر اپنی کروٹ بدلتا تھا۔ میں نے کہا : ’’ڈاکٹر صاحب !اتنی مشقت اٹھانے کی کیا ضرورت ہے ۔ آپ ہوائی جہاز پر آرام سے جائیں‘‘۔ بولے: ’’میں جہاز پر جا کر کیا کروں گا‘‘ ۔ مجھے پتہ تھا کہ اس جہاز پر سفر کرنا نہایت مشکل ہے۔ میرے ضد کرنے پر بولے :’’آپ چھوڑیں، مجھے یہ سب معلوم ہے اور میں گزشتہ سال دعوہ اکیڈمی کے ایک پروگرام میں اس بحری جہاز پر سفر کر چکا ہوں‘‘۔ پھر مجھ سے پوچھا کہ ہوائی جہاز میں کتنے پیسے لگتے ہیں؟ میں نے بتایا کہ تقریباً۲۵۰۰روپے پاکستانی، جب کہ بحری جہاز میں۷۰۰/۸۰۰روپے لگتے ہیں، یعنی اسی طرح دونوں کے کرایے میں کوئی اٹھارہ سو پاکستانی روپے کا فرق تھا۔ جب انہوں نے یہ سنا تو بغیر تقریر کیے مسکرا کر خاموش ہو گئے۔ نہ یہ کہا کہ قوم کا پیسہ ہے، خون پسینہ کی کمائی ہے، کوئی حدیث نہیں سنائی، کوئی لیکچر نہیں دیا۔ میں ڈاکٹر صاحب کی اس مسکراہٹ کے بارے میں انہیں کہا کرتا تھا: ’’ اسے ’’تبسم سقم شناس‘‘ کہنا مناسب ہے‘‘ؒ ۔وہ انسان کی غلطی محسوس کرنے کے بعد ہلکا سا مسکراتے تھے، پھر بات کا رخ دوسری طرف بدل دیتے تھے ۔ پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے بولے :’’ بھائی ! بحری جہاز میں دو چار کتابیں پڑھ لوں گا، کیا ضرور ہی سونا ہے؟‘‘ مجھے یہ بھی معلوم تھا، انہیں بھی پتہ تھا کہ وہاں اس بحری جہاز میں تو ۱۵، ۲۰ واٹ کا بلب لگا ہوا تھا، وہاں تو نہیں پڑھ سکتے تھے۔ میں حیران تھا کہ آپ پہلے بھی سفر کر چکے تھے اور یہ جانتے بھی تھے۔ سپریم کورٹ کے جج تھے، اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل تھے، یونیورسٹی کے وائس پریذیڈنٹ تھے۔ ذرا دوسری طرف ملک کے عدالتی نظام کے سب سے نچلے پرزے، سول جج کے بارے میں آپ خود تصور کر سکتے ہیں کہ ایک شہر سے دوسرے شہر میں اعلیٰ حضرت کی تشریف آوری پر کیا کیا ہاہا کار مچتی ہے۔ استحقاق کے سوال جنم لیتے ہیں۔ ٹی اے ڈی اے کی جمع تفریق ہوتی ہے۔ اے اللہ !میں گواہی دیتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے اس جہاز پر پاکستان کے کسی بالکل عام شخص کی طرح سفر کیا ،حالانکہ وہ اس وقت سپریم کورٹ کے جج تھے۔
جب وطن واپس پہنچے تو ہمارے ٹی اے ڈی اے کا حساب ہوا۔ انسان خطا کا پتلا ہے۔ پوری دیانت داری سے اپنا اور ان کا بل ڈائریکٹر فائنانس کے پاس بھیجاجو ان کے ماتحت تھے۔ اس نے کوئی دس ہزار روپے کم کر دیے اور غلط کم کیے۔ میں فائل اٹھا کر ان کے پاس چلا گیا اور کہا : ’’آپ ڈائریکٹر فنانس کو سمجھا نہیں سکتے ، اس نے دس ہزار کی کٹوتی کی ہے‘‘۔ بولے : ’’چھوڑو، اب اس نے لکھ لیا ہے، میں اس کو کیا کہوں‘‘۔ پہلے تو میرے دل میں ملال ہوا کہ دس ہزار روپے کم ہورہے ہیں، لیکن پھر میرے ذہن میں آیا کہ میرے تو صرف دس ہزار روپے کم ہو رہے ہیں، ان کے تو تقریباًبیس ہزار کے لگ بھگ کم ہورہے ہیں، لہٰذا چپ ہو گیا۔
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یادیں توبہت ہیں، لیکن ترتیب سے بیان کرنا میرے لیے مشکل ہے ۔ ممکن ہے کہ آپ اس بات کو پسندنہ کریں کہ میری گفتگو بے ربط ہے اور اس میں ترتیب نہیں ہے، لیکن آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ میں جو کچھ آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں، دل کی گہرائیوں سے بیان کر رہا ہوں۔ جو کچھ میں نے بیان کیا اللہ کو گواہ بنا کر بیان کیا ہے۔
یہاں ایک ضروری بات بیان کرنا اہم ہے۔ پھر میں اپنے بیان کو ختم کرنا چاہوں گا۔
آپ دیکھیں گے کہ تاریخ اسلام میں رجال کی کتابوں میں بہت سی جگہوں پرخاص طورپر تراجم کے اثاثہ میں، کہا جا سکتا ہے کہ اس میں خاصی افراط وتفریط ملتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ میرے جیسے کسی نادان طالب علم کو استاد یا شیخ کے ساتھ اتنی محبت اور تعلق ہو گیا ہوتا ہے کہ اسے ان کی غلطی نظر ہی نہیں آتی۔ پس یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے معاملے میں میرے ساتھ ایسے نہیں ہے، اس کی بھی میں آپ کے سامنے وضاحت کر دوں۔
ویسے تو میں نے ان سے کئی بار اختلاف کیا، لیکن دو تین واقعات آپ کے سامنے ذکر کرنا چاہوں گا۔ امریکی دستورمیں ایک عبارت Chosen Representatives of Congress کا ترجمہ ڈاکٹر صاحب نے اپنی ایک تحریر میں ’’کانگریس کے چنیدہ ارکان‘‘ کیا۔ مجھے ایک تحریر لکھنے کا موقع ملا تو میں نے اس اپنی تحریر میں لکھا کہ ’’سپریم کورٹ کے ایک جج نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے جو آگے اس کی تشریح کرتے ہوئے یوں لکھتے ہیں‘‘۔
دراصل جمہوریت کے بارے میں ان کا اپنا ایک نقطۂ نظر تھا جو یہ تھا کہ جمہوریت ومہوریت ایسے ہی ہے۔ سوسائٹی پر رول کرنے کے لیے، اسے چلانے کے لیے سوجھ بوجھ رکھنے والے اور پڑھے لکھے افراد استحقاق رکھتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اس عبارت کا ترجمہ بھی تقریباً یہی کیا ہے کہ امریکی دستوریہی کہہ رہا ہے کہ منتخب ارکان نہیں، بلکہ چنیدہ ارکان ہوں گے اور چنیدہ میں کسی اور طریقے سے چنے گئے دوسرے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ ان کی تشریح ہو ا کرتی تھی۔ میں نے جب تحریر لکھی تو اس پر گرفت کی اور لکھا کہ سپریم کورٹ کے ایک سابق جج یہ تشریح کرتے ہیں حالانکہ امریکی دستوری تاریخ کے سوا دوسو سال میں کسی امریکی جج یا کانگریس کے کسی رکن نے آج تک یہ تشریح نہیں کی ہے جس طریقے سے ڈاکٹر غازی صاحب تشریح کر رہے ہیں۔ کوئی شخص بھی اس فلٹر سے گزر کر کانگریس تک نہیں پہنچا، اس لیے ڈاکٹر غازی صاحب کی تحریر محل نظر ہے۔ میں نے یہ تحریر اسی طرح اپنے ایم فل کے مقالے میں بھی لکھی۔ جب میں یہ تحریر ان کے پاس لے کر گیا اور انہوں نے کہاکہ آپ کا مقالہ ٹھیک ہے۔ میں نے مذکورہ نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ، ’’ذرا اس بات کو غور سے پڑھیں‘‘۔ بولے : ’’ہاں، یہ بھی ٹھیک لکھا ہے‘‘۔
دوسرا واقعہ سن لیجیے اور ضمناً میں اس بات کی وضاحت کر دوں کہ اگر میں کہوں کہ وہ خطاؤں سے خالی تھے تو یہ ایمانیات سے متصادم گفتگو ہو گی۔ لیکن اس کے ساتھ میں آپ کو بتا دوں کہ میں نے اپنی زندگی میں دو شخص ایسے دیکھے ہیں جو بشری کمزوریوں کے باوجود بہت سی ناروا چیزوں سے خالی تھے۔ میں نے کئی مرتبہ ڈاکٹر صاحب کی کمزوریوں پر گرفت کی۔ اکثر اوقات تو اس کی وضاحت کر دیتے جس سے آدمی مطمئن ہو جاتا تھا۔ مثلاً یونیورسٹی میں ایک شخص کی تقرری ہوئی جو میرے نزدیک نہیں ہونی چاہیے تھی، بلکہ تقریباً تمام افراد کی رائے یہی تھی کہ وہ شخص سسٹم سے باہر کا ہے تو اس کو اس سسٹم میں کیوں لایا جا رہا ہے۔ ایک دفعہ میں ان کے پاس چلا گیا تو معلوم ہوا کہ حقیقت میں مسئلہ کیا ہے۔
ذرا غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ امور سلطنت چلانا کتنا مشکل کام ہوتا ہے۔ ہم اخباروں میں کیا کچھ لکھ دیتے ہیں، منبر رسولؐ پرمائیک مل جائے تو کیا کچھ باتیں کہہ دیتے ہیں۔ اس واقعے میں دراصل ایک صاحب تھے جو باربار میرے پاس بار بار آ رہے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ مجھے اپنے پاس غیر ملکی طلبا والے سنٹرمیں استاد رکھ لو۔ میں اس وقت دعوۃ اکیڈمی کی طر ف سے اس سینٹر کاپرنسپل تھا۔ میں نے کہا کہ اب وقت گزر چکا ہے،کہاں رکھ لوں۔ اب ٹائم ٹیبل بھی بن چکا ہے۔ وہ صاحب ایک بڑے آدمی کی سفارش لکھوا کر لے آئے ، انکار کر دیا۔ پھر دوسرے کی لائے، پھر انکار کیا۔ پھر تیسرے کی ، میں نے پھر انکار کر دیا۔ حتی کہ ڈاکٹر غازی صاحبؒ کی لائے جو ہمارے ڈائریکٹر جنرل یعنی افسر اعلیٰ تھے۔ پھر بھی میں نے انکار کردیا۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے بلایا اور بولے : ’’میں بہت سی جگہوں پر جواب دہ ہوں، حتیٰ کہ صدر کوبھی ، وزیراعظم کو بھی وغیرہ۔ خیر یہ آدمی تو مولانا وصی مظہر ندوی کا ہے، اگر مولانا مجھے شام کو مل گئے تو میں انہیں کیا جواب دوں گا۔ اس کا بندوبست کر دو تو بہتر ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی میں نے اس شخص کا الٹا سیدھا بندوبست کر دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ اب اسلامی یونیورسٹی وہ نہیں رہی جو آج سے دس پندرہ سال پہلے تھی۔ اس میں تدریج کے ساتھ علمی اور اس کی روایات کے لحاظ سے ہر آنے والے لمحہ میں ضعف آتا گیا اور آچکا ہے۔ ایسا ہی ضعف ان کے دور میں بھی آتا گیا۔ ایک دن ڈاکٹر غازی صاحب نے Islamic Jurisprudenceیعنی اصول فقہ اور اسلامیات سے متعلقہ اساتذہ کو بلایا۔ ہال بھرا ہوا تھا اور اکثراساتذہ موجود ہیں۔ ڈاکٹر غازی صاحب کے ایک طرف ڈاکٹر فضل الٰہی (احسان الٰہی ظہیر کے بھائی جو سعودی عرب سے پڑھے ہوئے ہیں ) اور دوسری طرف پروفیسر یوسف کاظم صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ من جملہ دیگر باتوں کے ڈاکٹر غازی صاحب کی منظر کشی اور طلاقت لسانی کسی حد تک زبان زدعام ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ان دونوں اساتذہ کے ہاتھ پکڑ کر کہا :’’یہ دونوں حضرات حرمین شریفین میں رہ چکے ہیں۔ یہ میری بات کی تصدیق کریں گے‘‘۔ اس کے بعد اپنی گفتگو کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ عربی زبان پڑھنے کی افادیت اپنی جگہ تو مسلم ہے، لیکن انگریزی زبان بھی سیکھنا ہمارے لیے فرض کفایہ ہے ۔ اور کہا کہ تمام اساتذہ یہ دونوں کورس انگریزی ز بان میں پڑھائیں۔ اگر نہیں پڑھا سکتے تو اپنی انگریزی کو پالش کریں اور کورس انگریزی ہی میں پڑھائیں۔
ڈاکٹر صاحب کافی دیر تک انگریزی زبان میں کورس پڑھانے کے بارے میں بات کرتے رہے ۔ میرا ذاتی نظریہ یہ تھا کہ ہم لوگ علوم اسلامیہ کے پڑھنے پڑھانے والے ہیں جو عربی ز بان میں ہیں جس کی کمیت میں ہر آنے والے لمحے میں یعنی تقریباً پچھلے پانچ سال سے اس میں کمی واقع ہوتی جا رہی تھی۔ ادھر ڈاکٹر صاحب انگریزی زبان کے بارے میں رطب اللسان تھے اور مجھے پوری حقیقت کا علم نہیں تھا کہ پیچھے تاریں کون ہلا رہا ہے اور معاملہ کیا ہے۔ حقیقت تو بہت بعد میں جسٹس خلیل الرحمن صاحب نے بتائی کہ گزشتہ دنوں اس وقت کے انتہائی بدبخت صدر مملکت کی ہدایت پر یہ سب کچھ احتیاط سے کیا جا رہا تھا۔ اسی دوران میں، میں سوال کے لیے کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے ایک دفعہ بٹھایا تو تھوڑی دیر بعدمیں دوبارہ کھڑا ہو گیا اور کہا کہ بات یہ ہے کہ آپ کی باتیں سن کر میرا ایمان بڑھ گیا ہے اور تازہ ہوا ہے۔ آج کے بعد مجھے جتنی انگریزی آتی ہے، اس کو مزید پالش کروں گا۔ تاہم آخر میں ، میں نے کہا :’’ڈاکٹر صاحب ! ایک گزارش کروں گا ۔ آپ ہی سے پڑھا ، سنا ہے کہ امام شافعیؒ نے کتاب الام میں لکھا ہے کہ عربی زبان کا سیکھنا ہر مسلمان پر فرض عین ہے اور اب آپ بتائیں کہ اگر فرض عین اور فرض کفایہ میں تعارض ہو تو کس کو ترجیح حاصل ہو گی‘‘۔ میں نے مزید کہا : ’’آپ کے یہاں ہر آنے والے لمحے میں عربی میں ضعف آ رہا ہے‘‘ ۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ لاجواب ہو گئے۔ ادھر نماز ظہر کا وقت ہو چکا تھا اور یوں اجلاس ختم ہوگیا۔
میری اس بات کا مقصد یہ نہیں کہ میں ان سے گفتگو میں جیت گیا ، بلکہ یہ واقعہ سنانے کامقصد یہ ہے کہ آپ لوگ میری باتوں کومحض عقیدت نہ سمجھ لیں۔ میں ان سے کھل کر اختلاف بھی کیا کرتا تھا۔یہ جتنی باتیں میں نے آپ کو سنائی ہیں، یہ ان کے کردار کی بلندی اور عظمت کے گوشے ہیں، ان کا مقصد یہ ہے کہ قیامت کے دن آپ لوگ میری گواہی پر گواہی دے سکیں۔
اسی طرح ان کی علمی بلندی کی ایک بات سن لیجیے۔ میرے اور ان کے درمیان علمی لحاظ سے کوئی نسبت نہیں ہے۔ میں پچھلے کافی عرصے سے اسلام آباد میں مقیم ہوں ، لا گریجویٹ ہوں ، لائسنس لینے کے لیے کچھ عرصہ پریکٹس بھی کی ہے ۔ اس نسبت سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے تقریباً ڈیڑھ درجن کے قریب جج حضرات سے قریبی مراسم ہیں۔ ان سے قانونی گفتگو ہوتی رہی ہے، قانون پڑھاتا ہوں، لیکن پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ ان سارے جج حضرات کے علم کو ایک طرف رکھ دیں اور ڈاکٹر صاحب کا انگریزی قانون سے متعلق جو علم تھا، اس کو دوسری طرف رکھ دیں تو ان جج حضرات کا علم ڈاکٹر صاحب کے علم کے مقابلہ میں پرکاہ جیسا بھی نہیں ہے ۔
میں نے ۱۹۹۳ء میں ایک ادارے میں ایک قانون پڑھانا شروع کیا اور اس قانون کا نام صنعتی قانون تھا۔یہ قانون عام لا کالجوں میں پڑھائے جانے والے قوانین سے ذرا ہٹ کر ہوتا ہے۔ اس میں اہم صنعتی قوانین شامل تھے۔ ملک میں بہت سے آرڈیننس نافذ ہیں جو سارے کے سارے نہیں پڑھائے جاتے بلکہ تعلیمی زندگی میں صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ قانون کہاں سے تلاش کریں۔ کچھ بنیادی اصول بتائے جاتے ہیں، لیکن سارے قوانین نہیں پڑھائے جا سکتے۔ اس ادارے میں ایسے ہی دس بارہ قانون تھے جو میں نے کبھی سنے بھی نہیں تھے۔ مثال کے طور پر ایک قانون Payment of Wages Act یعنی اجرتوں کی ادائیگی کا قانون ہے۔ یہ قانون فیکٹری اور کاروباری اداروں میں کام کرنے والوں کے بارے میں ہے۔ ایک اور قانون میں دیگر باتوں کے ساتھ ایک ترکیب illegitimate son and daughter یعنی ناجائز بیٹا اور بیٹی ہے جن کا قانون کے تحت صنعتی کارکن کی وراثت میں حصہ تھا۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ایک اسلامی ریاست میں کس طرح ممکن ہے کہ ناجائز بیٹے اور ناجائز بیٹی کو وراثت میں حصہ ملے۔ میں نے اپنے سے بہتر اہل علم اور جج حضرات سے دریافت کیا، تاہم کسی نے تشفی نہیں کرائی اور کسی کو کچھ پتہ بھی نہیں تھا۔ ادھر ڈاکٹر غازی صاحب بنیادی طور پر عربی زبان میں ڈاکٹریٹ تھے۔ انہوں نے مجھے اجازت دے رکھی تھی کہ اگر کوئی مشکل پیش آ جائے تو آپ دو بجے رات تک فون کر سکتے ہیں، لیکن میں نے ساری زندگی اس رعایت سے فائدہ نہیں اٹھایا تھا، مگر اس دن میں تنگ آگیا تھا کہ صبح کو لیکچر ہے اور میں ان طلبہ کو کیا پڑھاؤں گا۔ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ لفظ illegitimate کا ترجمہ بتا دوں گا۔ پاکستانی طلبہ خاموشی سے سن لیتے ہیں اور اگر کوئی بات کرے بھی تو استاد ڈانٹ ڈپٹ کر لیتا ہے ، میں بھی اسی طرح کروں گا۔ لیکن پھر سوچا کہ ڈاکٹر غازی صاحب سے پوچھ لوں جو آخری اوزار تھے۔ یقین کیجیے، انہوں نے مجھے دو تین منٹ میں یوں چٹکی میں سارا مسئلہ سمجھا دیا۔ اب آپ کے ذہن میں تجسس پیدا ہو رہا ہوگا کہ مسئلہ کیا ہے، آپ بھی سن لیں۔
یہ قانون انگریزوں کا وضع کردہ قانون تھا۔ ملک میں جس طرح انگریزوں کے دیگر قانون چل رہے ہیں، یہ قانون بھی چل رہا تھا۔ اب اس کا مرتبہ کیا ہے ؟ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ یہ قانون اور ایک دوسرا قانون سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا تھا جہاں اسے غیراسلامی قرار دے دیا گیا تھا۔ اصل میں جب فوجی لوگ گاؤں اور دیہاتوں میں جا کر مشقیں کرتے ہیں تو اس دوران میں فصلوں وغیرہ کا نقصان ہوتا ہے تو ان کا اسٹیشن ہیڈکوارٹر لوگوں کی تلافی کرتا ہے۔ ایک دفعہ جب ایسی ایک ادائیگی کا موقع آیا تو اس دوسرے قانون میں بھی ناجائز اولاد کا بطور وارث ذکر موجود تھا۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے بتایا کہ کچھ دوسرے لوگ جو ناجائز اولاد تھے، وہ ورثا کے طور پر کھڑے ہو گئے اور قانون سامنے رکھ دیا۔ یہ قانون شرعی عدالت سے ہوتے ہوتے سپریم کورٹ گیاتوفیصلہ یہ ہوا ہے کہ قانون تو یقیناًموجود ہے مگر یہ غیر شرعی قانون ہے۔ چنانچہ یہ قانون تو اب تک موجود ہے، کیونکہ پارلیمنٹ نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی، لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت یہ ختم ہو گیا ہے۔ اب اس پر عمل درآمد نہیں ہوگا، لکھا ضرور ہے ۔ گویا اس مسئلے کی حالت ناسخ و منسوخ کی سی سمجھ لیں۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ سارا تجزیہ ۱۹۹۳ء میں کیا جب وہ یونیورسٹی میں محض ایسوسی ایٹ پروفیسر عربی تھے۔جج وہ ۱۹۹۹ء میں بنے تھے۔ اس وقت وہ ایک عام سے استاد تھے۔ عربی زبان پڑھاتے تھے۔ فقہ پڑھاتے تھے۔ بات دراصل یہ تھی کہ قانونی نظائر کے رسائل کا وہ تسلسل کے ساتھ مطالعہ کرتے تھے۔
ڈاکٹر غازی صاحب کس قدر نیک سیرت تھے ، کیا بتاؤں۔ میری معلومات کے مطابق قرآن کی سات منازل جو غالباً حضرت عثمانؓ کی طرف سے مقرر کر دہ ہیں، موصوف روزانہ ایک منزل پڑھتے تھے او ر یہ بھی مجھے معلوم ہے کہ دن بھر وہ باوضو رہنے کا اہتمام کرتے تھے۔ اگرچہ دفتر میں بیٹھے ہوتے تھے۔
سامعین کرام! کہنے کو تو بہت کچھ ہے۔ میرے لیے بہت صدمہ ہے۔ یقین نہیں آ رہا کہ وہ رخصت ہو گئے ہیں اور اگر ہوئے ہیں تو میری سمجھ سے بالا ہے کہ کیوں اتنی جلدی ان کی شام زندگی ہمیں دیکھنے کو ملی؟ لیکن سامعین کرام! ان کی وفات میں ایک مثبت پہلو بھی ہے جو شاید میں آپ سب لوگوں کو نہ سمجھا سکوں، لیکن سرکاری لوگ آسانی سے سمجھ جائیں گے۔ اسلام آباد میں لوگ ساٹھ سال عمر پوری کر کے ریٹائر ہو تے ہیں، لیکن باوسیلہ خواتین و حضرات کا ایک پورا غول پیر تسمہ پاکی طرح ہرطرف مسلط ہے۔ ان میں سے بیشتر کی عمر آج ۸۰، ۸۵ سال تک ہے ۔ مخلوق خدا ان کو کوستی رہتی ہے کہ مرتے کیوں نہیں اور کہتی ہے کہ یہ لوگ ہٹتے کیوں نہیں ہیں۔ کئی اصحاب تو منہ میں دانت نہ پیٹ میںآنت کے مصداق نماز کے دوران میں جس کرسی پر رکوع و سجود کرتے ہیں، میں نے اس کرسی کو بھی چرچرا کر غالباً کوستے سنا، لیکن حضرات ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ایک ریٹائرڈ آدمی ایسا بھی ہے کہ وہ جو پنجابی میں کہتے ہیں ’’ عمرہوئی تیری سو، ہنڑتاں مغروں لوہ‘‘ یعنی تمہاری عمر سو سال ہو گئی ہے، اب تو پیچھا چھوڑو۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے بیشتر کے لیے میں نے لوگوں کو ہاتھ الٹے کر کے کوسنے دیتے سنا۔
سامعین کرام! ذرا توجہ فرمائیں، غور کریں۔ غازی صاحب بھرا میلہ چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں اورمیرے یہ دوسرے ممدوح ؟ ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق، افلا یعقلون۔
۱۸؍ ستمبر کو ڈاکٹر صاحب کی ساٹھویں سال گرہ تھی۔ سرکاری اعتبار سے Joining time ہفتہ دس دن ہوتا ہے۔ وہ جائننگ ٹائم انہوں نے وفاقی شرعی عدالت میں گزارا۔ ساٹھ سال پورے ہوئے تو اللہ کی جواررحمت کو جائن کر لیا۔ اللہ نے ان کو اپنے پاس بلا لیا۔ مجھے طمانیت ہوتی ہے کہ اللہ کے مقرب بندے تھے، مخلوق خدا کی بددعاؤں سے بچ گئے۔ ڈاکٹر صاحب بہت خود دار آدمی تھے۔کبھی خود کو کسی منصب کے لیے انہوں نے پیش نہیں کیا۔
میں اسی بیان پر اپنی بات ختم کرتا ہوں حالانکہ کہنے کو تو بہت کچھ ہے۔ بہت شکریہ آپ سب کا۔
میرے غازی صاحب
ڈاکٹر حیران خٹک
’’کل نفس ذائقۃ الموت‘‘ اس میں شک ہی کیا ہے۔
ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے
جو کوئی بھی اس دارفانی میں آتا ہے ،اسے ایک دن دارِ بقا کی طرف کوچ کرنا پڑتاہے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی روح بھی قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ یقین نہیں آتا کہ وہ اتنی جلدی ہم سے بچھڑ جائیں گے، لیکن لگتا ہے انہیں خود جانے کی جلدی تھی، اس لیے بہت کم وقت میں دینی اور دنیاوی لحاظ سے طویل سفر طے کیا۔ آٹھ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ مزید تعلیم جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اور مدرسہ تعلیم القرآن راولپنڈی سے حاصل کی۔ کسی اسکول یا کالج میں ایک دن گئے بغیر ایم اے اور پی ایچ ڈی کے مراحل طے کیے۔ ادارہ تحقیقات اسلامی میں ریڈر کی حیثیت سے شامل ہوئے اور پھر دعوۃ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل، بین ا لاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے نائب صدر ، صدر اور اسی طرح سپریم کورٹ کے اپیلٹ بنچ کے جج اور آخر میں شریعت کورٹ کے جج کے منصب تک پہنچے۔ اسلامی بینکاری اور اسلامی نظام معیشت میں دنیا بھر میں اتھارٹی کی حیثیت رکھتے تھے۔ سپریم کورٹ کے اپیلٹ بنچ میں جب ربا کیس سنا جارہا تھا تو ڈاکٹر غازیؒ اس بنچ کے رکن تھے اوراس بنچ نے جو تاریخ ساز فیصلہ سنایا، وہ بقول جسٹس خلیل الرحمن خان اگر ان کو ڈاکٹر غازی کی معاونت حاصل نہ ہوتی تو وہ یہ فیصلہ کبھی نہ لکھ پاتے۔
جانے والے کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا۔ بلاشبہ ڈاکٹر محمود احمدغازیؒ کی رحلت اُمت مسلمہ اور بالخصوص پاکستان کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے، لیکن میرے لیے ذاتی طور پر بہت بڑا نقصان ہے، میں ایک ہمدرد اور غمگسار بزرگ سے محروم ہوگیاہوں۔
مجھے دعوۃاکیڈمی میں لانے والے وہی تھے۔ انہی کی دعوت پر میں نے پشاور کوخیرباد کہا۔ انہوں نے دعوۃ اکیڈمی میں قیام کے د وران اور اس کے بعد مجھے بہت عزت دی۔ جب دعوۃ اکیڈمی سے ان کاتبادلہ بحیثیت نائب صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ہوگیا تو انہوں نے میرے تبادلے کی تجویز بھی بھیجی، لیکن اُس وقت کے ڈائریکٹر جنرل محترم ڈاکٹرانیس احمد صاحب نے اس تجویزسے اتفاق نہیں کیا۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے پھر میرا تبادلہ شعبہ امتحانات میں کردیا۔ اب کی بار میری مرضی بھی اس میں شامل تھی چنانچہ محترم ڈاکٹر انیس احمد صاحب نے بھی جانے کی اجازت دے دی۔
ڈاکٹر غازیؒ درویش صفت انسان تھے۔ اگرچہ وہ ملنے ملانے میں زیادہ گرم جوشی کا اظہار نہیں کرتے تھے، لیکن میں اپنی عادت کے مطابق ان کے ساتھ بے تکلفی برتتا۔ کبھی کبھی یہ بے تکلفی بے ادبی کی حدود کو بھی چھو لیتی تھی، لیکن ڈاکٹر صاحب میرے مزاج سے بخوبی واقف تھے، اس لیے میر ی باتیں خندہ پیشانی سے برداشت کرلیتے۔
ڈاکٹر غازیؒ مجھ پر بہت اعتماد کرتے تھے اور الحمدللہ میں نے کبھی ان کے ا عتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائی۔ ایک دفعہ وہ کہیں بیرونِ ملک تشریف لے جارہے تھے اور میرا تربیت اساتذہ کا پروگرام شروع ہونے والا تھا۔ چنانچہ میں نے شرکا کی تعداد کے مطابق خالی اسناد ان کے سامنے دستخط کرنے کے لیے رکھ دیں ۔ انہوں نے خالی اسناد کو دیکھا اور کہا کہ ’’خالی اسناد پر دستخط کرنے پڑیں گے‘‘؟ میں نے کہا مجبوری ہے، چنانچہ ہماری مجبوری کا لحاظ رکھتے ہوئے انہوں نے خالی اسناد پر دستخط ثبت کیے۔ جب میرا تبادلہ شعبہ امتحانات میں ہواتو میں ایک دفعہ پھر براہِ راست غازی صاحبؒ کے ماتحت ہوگیا۔ وہ ان دنوں یونیورسٹی کے نائب صدر (اکیڈمکس) تھے۔ شعبہ امتحانات میں چونکہ آئے روز نت نئے مسائل کا سامنا ہوتا تھا، اس لیے غازی صاحبؒ کے ساتھ مشاورت کے لیے میں جب بھی جاتا تو وہ نہایت مصروف ہوتے اور بات نہ ہوپاتی۔ ایک دن میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھے دس منٹ دے دیں تاکہ میں اپنے مسائل آپ کے گوش گزار کروں۔ اس دوران پہلے سے گفتگو کا سلسلہ جاری تھا۔ غازی صاحب فائلیں نکالنے میں مصروف تھے۔ میری باتوں پر بھی وہ’’ بہت اچھا‘‘، ’’ٹھیک ہے‘‘ کہتے رہے۔ باتوں باتوں میں انہوں نے ایک دفعہ سر اٹھا کر کہا کہ دس منٹ میں سے پانچ منٹ تو آپ بول چکے۔ میں نے کہا میں توبول چکا ہوں، لیکن کیا آپ سن چکے ہیں؟ اس پر وہ مسکراکر پھر اپنے کام میں مصروف ہوگئے۔
اسی طرح ایک دن میں ان سے ملنے کے لیے ان کے پی ایس کے کمرے میں کچھ اور لوگوں کے ساتھ انتظار کررہا تھا کہ اتنے میں غازی صاحبؒ اپنے دفتر سے برآمد ہوئے اور اپنے پی ایس سے جاتے جاتے کہا کہ اچھا میں جا رہا ہوں، کوئی کام تو نہیں ہے؟ اور یہ کہتے ہوئے نکل گئے۔ مجھ سمیت وہاں موجود دوسرے احباب نے یہ بات بہت محسوس کی اور ہر ایک ناگواری کا اظہارکرنے لگا۔ مجھے غازی صاحبؒ سے یہ توقع نہیں تھی، چنانچہ اگلے دن میں ان سے ملنے دوبارہ گیا۔ اس دن ان کے پاس کوئی موجود نہیں تھا۔ جاتے ہی میں نے سلام کے بعد کہا کہ ڈاکٹر صاحب، آپ نے کل کیاکیا؟ آپ کے اس رویے کی وجہ سے کئی احباب کی دل شکنی ہوئی، فریادیوں میں، میں بھی شامل تھا ۔چونکہ میں نے بات تھوڑی سی سخت کی تھی، اس لیے ڈاکٹرصاحبؒ کے چہرے پرکچھ ناگواری کے آثار نظر آئے۔ چنانچہ ان کے تاثر کو ٹھیک کرنے کے لیے میں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ ’’پیروں کو مناسب نہیں کہ مریدوں کے دلوں کو دکھائیں‘‘۔ اس پر وہ نارمل ہوگئے اور مسکرا کر کہا کہ آئندہ میں خیال ر کھوں گا اور مجھے ڈھیر ساری دعائیں دیں۔
جن دنوں غازی صاحب نیشنل سیکورٹی کونسل کے ممبر بن رہے تھے تو میرے پاس ایک’’ فرشتہ‘‘ آیا اور غازی صاحب کے متعلق مختلف قسم کے استفسارات کرنے لگا۔ میں سمجھ گیا کہ ان کو کوئی اہم ذمہ داری سونپی جا رہی ہے۔ اگلے دن ان سے ملاقات میں عرض کیا کہ میرے پاس ایک فرشتہ آیاتھا جو آپ کے متعلق مجھ سے استفسارات کر رہا تھا۔ ا نہوں نے مسکرا کر کہاکہ اچھا آپ کے پاس بھی پہنچ گیا تھا اور پھر کہا کہ کئی دوستوں کے پاس یہ فرشتے پہنچ گئے ہیں۔ پتہ نہیں کیا چاہتے ہیں۔ جس دن ان کے سیکورٹی کونسل کے ممبر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کی خبر شائع ہوئی تو میں مبارکباد دینے کے لیے ان کے آفس گیا۔ جب میں نے مبارکباد دی تو انہوں نے مسکراکر وصول کی اور زبان سے کچھ نہیں بولے۔ پھر کہنے لگے کہ مجھے پیشکش تواس دن ہوئی تھی جس دن آپ کے پاس فرشتہ آیا تھا، لیکن میں نے احباب کے ساتھ مشورے کی مہلت مانگی تھی، چنانچہ کئی دوستوں سے مشورے کے بعد آج حلف اٹھارہا ہوں۔ کہنے لگے اللہ شاید کوئی خیر کا کام مجھ سے کروائے۔ میں نے ان سے کہا کہ کیا بیگم عطیہ عنایت اللہ اور صاحبزادہ امتیاز کے درمیان بیٹھ کر آپ اپنے خیر کے تصور کے مطابق کوئی کام کرسکیں گے؟ کہنے لگے نہ کرسکا تو چھوڑ کر آجاؤں گا۔ اب میں نے چبھتا ہوا جملہ کہا۔ میں نے کہا کہ’’ لوگ کہتے ہیں جب حکومت تبدیل ہوتی ہے تو ڈاکٹر صاحب اپنی شیروانی ڈرائی کلین کرا لیتے ہیں‘‘۔ اس پر ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور کہا کہ ’’میں قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ میں نے آج تک نہ کسی عہدے کی خواہش ظاہر کی اور نہ ہی کسی عہدے کے لیے کسی کو درخواست کی ہے۔ میرا ایمان ہے کہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس کے لیے ایک انسان کو دوسرے انسان کا محتاج نہیں ہونا چاہیے‘‘ اور پھر اپنے بریف کیس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’’ اگر میں اس میں پڑی ہوئی تحریر یں دکھا دوں تو آپ پریشان ہو جائیں گے کہ آخر یہ شخص سکون کی نیند کیسے سوتا ہے، لیکن الحمدللہ مجھے ان چیزوں کی پروا نہیں کیونکہ میرا ایمان ہے کہ عزت اور ذلت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے‘‘۔
وفاقی وزیر کی حیثیت سے ڈاکٹر صاحبؒ نے اصلاح احوال کی بڑی کوشش کی، لیکن ان کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوئی۔ مدارس کی اصلاح کے پروگرا م میں حکومتی پروگرام سے اختلاف کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر داخلہ کے ساتھ کابینہ کے اجلاس میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔ اسی طرح ڈاکٹر صاحب کی شدید خواہش تھی کہ سپریم کورٹ کے اپیلٹ بنچ کے ربا کے متعلق فیصلے کی روشنی میں پاکستان میں غیر سودی نظام معیشت رائج کیا جائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے حتمی تاریخ کا اعلان بھی کیا تھا، لیکن بیوروکریسی اور سیکولر عناصر نے ان کی ایک نہ چلنے دی اور حکومت نے اس فیصلے کوبالائے طاق رکھ دیا۔ جب انہیں احساس ہوا کہ وہ کوئی مثبت کردار ادانہیں کرسکتے تو استعفا دینے میں ہی عافیت سمجھی۔
میں ان سے اکثر ذاتی اور دفتری معاملات اور مشکلات کا ذکر کرتا تھا ۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ’’ اپنے ایمان کو مضبوط کرو۔ جب آپ کا ایمان مضبوط ہوگا تو آپ ان تمام چیزوں کو من اللہ سمجھیں گے اور پھر کسی سے شکایت کی بجائے مشیت اللہ پر صابر و شاکر ہوں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپ یہ بات اپنے دل میں راسخ کرلیں کہ دنیا کی کوئی طاقت نہ آپ کو ذرہ برابر شر پہنچاسکتی ہے اور نہ ہی خیر‘‘۔
ڈاکٹر محمود احمدغازیؒ ایک انسان تھے اور انسان معصوم عن الخطاء نہیں ہوسکتا، لیکن امانت و دیانت کے لحاظ سے غازی صاحبؒ جن بلندیوں پر فائز تھے، ان کا اس دور میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ غازی صاحبؒ اس لحاظ سے گفتار کے نہیں کردار کے غازی تھے اور انہوں نے عملی طور پر یہ بات سمجھائی کہ امانت اور دیانت کسے کہتے ہیں۔ میں ایسے کئی واقعات کا عینی شاہد ہوں۔
ایک دفعہ میں ڈاکٹر صاحبؒ کے پاس ان کے دفتر میں بیٹھا تھا کہ وہ گھر جانے کی تیاری کرنے لگے۔ بریف کیس کھول کر اس میں اپنی چیزیں رکھنے لگے۔ سامنے سے ایک پنسل اور ربر اٹھائی اور بریف کیس میں رکھ لی۔ میں یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا ۔ کہنے لگے یہ میں اپنے ذاتی کام کے لیے گھر سے لایاہوں۔
اسی طرح ایک دن کی بات ہے۔ غازی صاحب کو کہیں باہر دورے پر جانا تھا۔ میرے سامنے اپنے ڈرائیور کو بلایا اور ہدایت کی کہ کل دفتر کی گاڑی گیراج کر لیں اور اگر گھریلو ضرورت کے لیے گاڑی درکار ہو تو غزالی صاحب کی گاڑی استعمال کر لیں۔
غازی صاحبؒ یونیورسٹی کے نائب صدر بنے تو بھی میرا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ ایک دن میں ان سے ملنے گیا، اندر پہلے سے کچھ لوگ موجود تھے، چنانچہ میں ان کے سیکرٹری طاہر فرقان کے پاس بیٹھ گیا۔ اتنے میں اندرسے کچھ کاغذات فوٹو کاپی کے لیے آئے جن پر غازی صاحبؒ نے تحریر کیا تھا: ’’ذاتی‘‘۔
دعوۃ اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جناب حافظ بشیر احمد صاحب کا کہنا ہے کہ جب وہ دعوۃ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل بن کر آئے تو کئی مہینے ان کے گھر کے فون کا بل نہیں آیا۔ ایک دن میں نے پوچھ ہی لیا کہ سر! آپ کے گھر کے فون کا بل نہیں آرہاتو انہوں نے کہا کہ’’ میرے گھر پر کوئی سرکاری فون نہیں ہے۔ میں نے ذاتی لگوایا ہوا ہے، وہی استعمال کرتا ہوں، میرے بچے بھی وہی استعمال کرتے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑتاہے کہ ایک آدھ فون دفتری مقاصد کے لیے بھی ہو جائے‘‘۔ ڈاکٹر صاحبؒ گھر کی سیلنگ بھی نہیں لیتے تھے حالانکہ قانوناً ایسا کرنے میں کوئی قباحت نہیں تھی، لیکن وہ اخلاقی طور پر اس کو مناسب خیال نہیں کرتے تھے۔ وہ تو تفریح الاؤنس بھی نہیں لیتے تھے بلکہ مہمانوں کی خاطر داری اپنی جیب سے کرتے تھے۔ نیشنل سیکورٹی کونسل اور وفاقی وزیر کی حیثیت سے ان کو کافی مراعات حاصل تھیں، لیکن انہوں نے ان مراعات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ اسلامی یونیورسٹی میں صدر کے منصب سے ان کو جس دن فارغ کیا گیا، اُس دن وہ اپنے بھائی ڈاکٹر غزالی صاحب کی گاڑی میں گھر گئے اور یونیورسٹی کی گاڑی استعمال نہیں کی۔
یہ ۱۹۹۴ء کی بات ہے۔ غازی صاحبؒ اور ہمارے دو اور ساتھی کسی بین الاقوامی پروگرام میں شرکت کے لیے بیرونِ ملک جارہے تھے۔ میرا بھی تربیت اساتذہ کا پروگرام شروع ہونے والا تھا، اس لیے میں رہنمائی کے لیے غازی صاحب کے دفتر کی طرف چل پڑا۔ راستے میں معاً میرے دل میں بیرونِ ملک جانے کی خواہش نے سر اٹھایا۔ جب میں غازی صاحبؒ کے دفتر میں داخل ہوا تو اُن کے ہاتھ میں ایک خط تھا۔ انہوں نے دیکھتے ہی وہ خط مجھے پکڑا دیا اور کہا، بھئی میں باہر جارہا ہوں۔ یہ فجی میں ایک پروگرام ہے، اس پروگرام کے رابطہ کار آپ ہوں گے‘‘۔ اس سلسلے میں مزید تفصیلات طے کرنے کے لیے متعلقہ تنظیم سے رابطہ کرلیں۔ مجھے ملنے سے پہلے ہی وہ مذکورہ خط مجھے مارک کرچکے تھے۔ میں اب بھی سوچتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں میری وہ خواہش کتنی جلد مقبول ہوئی کہ ادھر دل میں خواہش پیدا ہوئی، اُدھر اللہ نے غازی صاحبؒ کے دل میں اس کام کے لیے میرا نام ڈا ل دیا۔ یہ ایک مہینے کا پروگرام تھا اور غازی صاحبؒ کے لیے اتنا عرصہ ملک سے باہر رہنا ممکن نہیں تھا، اس لیے وہ دس دن کی تاخیر سے ہمارے ساتھ شامل ہوئے۔غازی صاحبؒ کے آنے سے پروگرام کا لطف دوبالا ہوگیا۔ غازی صاحبؒ کے روزانہ ایک یا دو لیکچرز ہوتے تھے، باقی اوقات میں خوب گپ شپ رہتی۔ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میں پہلے بھی بے تکلف تھا، اب بے تکلفی اور بڑھ گئی۔
فارغ اوقات میں مختلف قسم کے سوالات جھاڑتا اور غازی صاحبؒ مسکرا مسکرا کر ہرسوال کا جواب دیتے۔ اس دوران غازی صاحبؒ کے ساتھ مختلف ضیافتوں اور فجی کے مختلف علاقوں کے دوروں کے مواقع بھی میسر رہے۔ ایک دن فجی مسلم لیگ کے یوتھ ونگ نے فجی کے دارالحکومت سووا کے قریب ایک جزیرے پر پکنک کا پروگرام بنایا۔ ہم پروگرام کے شرکا کے ہمراہ کشتی کے ذریعے روانہ ہوگئے۔ چونکہ کشتی نے بحرالکاہل کے سینے کو چیرنا تھا، اس لیے ہمیں لائف بوٹس دی گئیں۔ میں نے لائف جیکٹ مضبوطی کے ساتھ پہن لی۔ ڈاکٹر صاحب ؒ نے مسکرا کر کہا کہ یہ جیکٹ آپ کا بوجھ نہیں سہار سکے گی۔ میں نے استفسار کیا کہ بحرالکاہل کی گہرائی کتنی ہوگی؟ کہنے لگے کہ اوسطاً ایک سو دس میل۔ خوف سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ گھبرانے کی بات نہیں۔ جب ہم جزیرے پر پہنچے تو پروگرام کے شرکا بار بی کیو کی تیاری میں مصروف ہوگئے اور ہم ادھر ادھر جزیرے میں چہل قدمی کرنے لگے۔ اتنے میں کھانا تیار ہوگیا، ہم نے ڈٹ کر کھاناکھایا ۔ کھانا کھاتے ہی ڈاکٹر صاحبؒ کی طبیعت بوجھل ہوگئی۔ میں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب خیریت ہے؟ کہنے لگے قیلولے کے بغیر بات نہیں بنے گی اور پھر وہیں گھاس پر کہنی سے سرہانہ بنا کر سو گئے۔ وہاں کے لوگوں کے کھانے کا ٹیسٹ بڑا مختلف تھا۔ وہ اپنے ذوق کے مطابق کھانا دیتے جس میں اکثر اوقات ابلے ہوئے چاول اور مچھلی کا شوربہ ہوا کرتا تھا جو مجھے سخت ناپسند تھا۔ ڈاکٹر صاحب کو جب اس ناپسندیدگی کا پتہ چلا تو انہوں نے اس پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہم جو بھی پروگرام کریں گے، متعلقہ تنظیم کو بتادیں گے کہ وہ ہمارے رابطہ کار کی پسند کا خیال رکھے۔ کھانا ڈاکٹر صاحبؒ کو بھی پسند نہیں تھا لیکن خوش دلی سے اپنی ضرورت کے مطابق کھالیتے تھے۔
ایک دن ہم کھانے کے لیے بیٹھے۔ غازی صاحبؒ بھی موجود تھے۔ میں نہایت نیم دلی اور قدرے توقف سے ابلے ہوئے چاول چمچ میں اٹھا لیتا۔ ان کی نظر مجھ پر پڑی، انہوں نے مجھے کہا کہ مچھلی لے لیں! میں نے انکار میں سر ہلایا تو انہوں نے مچھلی کی ایک بوٹی اٹھائی اور کہا کہ میری خاطر ایک بوٹی لے لیں۔ چنانچہ ان کا دل رکھنے کے لیے میں نے وہ بوٹی کھالی ۔
فجی کے پروگرام سے و ہ بہت خوش تھے۔ اس پروگرام میں قریبی جزائر کے دعوتی کارکن بھی شامل تھے جن کی کل تعداد ۶۰ سے زیادہ تھی۔ڈاکٹر صاحبؒ نے مجھے بتایا کہ یہ بڑا اچھا موقع ہے انگریزی میں لیکچر دینے کے لیے۔ میں نے کہا کہ مجھ میں انگریزی بولنے کی استعداد نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ اللہ کا نام لے کر لیکچر دیں، آپ کی استعداد خود بخود بڑھ جائے گی، لیکن میں اپنے آپ میں جرأت پیدا نہیں کرسکا۔ پروگرام کی اختتامی تقریب کے لیے میں نے رپورٹ تیار کی تھی۔ وہ میں نے ڈاکٹر صاحبؒ کو دکھائی، ڈاکٹر صاحبؒ نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا، بہت اچھا لیکن مزہ تب آئے گا جب آپ زبانی تقریر کریں۔ میں ان کی یہ خواہش پوری نہ کرسکا۔
ایک موقع پر انہوں نے عربی میں اپنی پہلی تقریر کاقصہ بھی بیان کیا۔ کہنے لگے کہ ایک دفعہ میں ڈاکٹر معروف دوالیبی کی دعوت پر شام گیا۔ نماز جمعہ کے موقع پر انہوں نے مجھے خطبہ دینے کا حکم صادر کیا۔ میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے عربی میں تقریر نہیں کی، اس لیے مشکل ہے۔ اس پر ڈاکٹر دوالیبی نے کہا کہ آپ کے لیے کیا مشکل ہے؟ آپ حافظ قرآن ہیں، بسم اللہ کرکے خطبہ شروع کردیں اور ایک دو فقروں کے بعد قرآن کی متعلقہ آیت کا حوالہ دیں۔میں نے اس فارمولے پر عمل کیا اور یوں میں نے عربی میں تقریر شروع کی۔
فجی میں قیام کے دوران ڈاکٹر غازی صاحبؒ کے ساتھ خوب گپ شپ ہوتی اور تقریباً ہر موضوع پر بات چیت ہوئی۔ ایک دفعہ باتوں باتوں میں، میں نے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب! آپ غازی کیسے بنے، یہ آپ کا تخلص ہے یا کنیت؟ مسکرا کر کہنے لگے کہ یہ بچپن کی ایک یادگار ہے۔ میں نے کہا وہ کیسے؟ تو کہنے لگے کہ بچوں کو عام طور پر اپنے نام کے ساتھ لاحقہ یا سابقہ لگانے کا شوق ہوتاہے۔ دوسرے بچوں کے طرح میرے دل میں بھی یہ شوق چرایا اور اپنا نام ابوالعلاء محمود احمد غازی لکھنے لگا۔ یہ نام میں ہر کتاب اور کاپی پر لکھتا تھا۔ ایک استاد نے ابوالعلاء کے لفظ کو میرے لیے چھیڑ بنایا۔ وہ جب بھی مجھے پکارتے تو’’ ابوالعلا ‘‘یا ’’ابوالعلاکے بچے‘‘ کہہ کر پکارتے ۔ میں بھی اس سے چڑتا چنانچہ ابوالعلاء لکھنا تو چھوڑ دیا، البتہ غازی میرے نام کا حصہ بن گیا جو اب تک چلاآرہا ہے۔
جب میں نے ایم فل اقبالیات میں داخلہ لیا، تب بھی ڈاکٹر صاحبؒ سے ملاقات ہوتی تھی۔ ان کا پہلا سوال یہی ہوا کرتا تھا کہ ہاں بھئی، کیا بنا آپ کے مقالے کا؟ اور میرے پاس اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہ ہوتا ۔ میرے لیے بار بار اس سوال کا سامنا کرنا مشکل تھا، اس لیے ایک طویل عرصے تک میں ان کے پاس نہیں گیا اور پھر تب گیا جب میں نے مکمل کرلیا۔
ڈاکٹر صاحبؒ کو جب میں نے مقالہ مکمل کرنے کی نوید سنائی توانہوں نے نہایت خوشی کااظہار کیا اور کہا کہ پی ایچ ڈی کی تیاری پکڑو، چنانچہ میں نے پی ایچ ڈی میں رجسٹریشن کروائی۔ غازی صاحب ہی میرے نگران تھے، ان کو میں نے مجوزہ مقالے کا خاکہ دکھایا۔ معمولی رد و بدل کے ساتھ انہوں نے مقالہ واپس دیتے ہوئے کہا کہ کہ جلدی جلدی پہلا باب لکھو تاکہ میں اسے دیکھ سکوں، لیکن اس وقت میرے ساتھ جوسانحہ رونما ہوا وہ یہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی خواہش پر میرا تبادلہ دعوۃ اکیڈمی سے یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات میں کردیاگیا۔ میں نے کہا کہ شعبہ امتحانات کی ذمہ داریوں کے ساتھ میں یہ ٹیڑھی کھیر کیسے کھاؤں گا؟ کہنے لگے میں نے بھی تو ان تمام مصروفیات کے باوجود پی ایچ ڈی کی تھی، لیکن غازی تو کوئی کوئی ہوتاہے،’’ حیرانوں‘‘ سے ’’غازی‘‘بننے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اب ان کی مصروفیات بھی کافی بڑھ گئی تھیں، اس لیے ان کی طرف سے ایم فل کے مرحلے جیسا تقاضا نہیں ہوتا تھا چنانچہ میں سست پڑ گیا، البتہ ان کی طرف سے جب بھی کوئی نوٹ آتا تو اس میں وہ مجھے ڈاکٹر حیران خٹک لکھتے اور یوں مجھے آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے۔
ڈاکٹر غازی صاحبؒ کے ساتھ میری بہت سی یادیں وابستہ ہیں جو اب میرے لیے متاع حیات بن گئی ہیں۔ وہ ایک باکمال شخص تھے۔ ایک طرف اگر علم کی بلندیوں پر فائز تھے تو دوسری طرف اعلیٰ انسانی اخلا ق کا مرقع بھی تھے۔ انہوں نے حیاتِ مستعار کے ایک ایک لمحے کا حساب رکھا اور ایسی بھرپور ،متحرک ،بامقصد اور مصروف زندگی گزاری جس کی مثال ملنا محال ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت بخشے اور ان کی ابدی قیام گاہ دائمی نور سے منور فرمائے۔
علم و تقویٰ کا پیکر
قاری خورشید احمد
ڈاکٹر محمود احمد غازی علم ومعرفت کی دنیا میں ہمہ جہت شخصیت تھے۔ اصحاب علم ودانش آپ کو ایک جید عالم دین، مفسر، سیرت نگار، مایہ ناز معلم، مصنف عربی، فارسی اور انگریزی زبان کے ماہر کی حیثیت سے جانتے ہیں اور یہ مبالغہ آرائی نہیں، حقیقت ہے کہ ڈاکٹر صاحب علم ومعرفت کے آسمان پر بدر منیر بن کے چمکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو گوناگوں علمی وعملی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ان کی ان صلاحیتوں کے پس منظر میں ایک قوت کار فرماتھی جس کو قرآن کی زبان میں تقویٰ کہا جاتا ہے اور جس میں جس قدر تقویٰ کا جوہر نمایاں ہوگا، اتنا ہی اللہ تعالیٰ اسے علم ومعرفت کی دولت سے سرفراز فرمائیں گے۔ فرمان الٰہی ہے: وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَیُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ (۲:۲۸۲) ’’یعنی اللہ سے ڈرو، اللہ تمہیں علم عطا فرمائے گا۔‘‘
درج ذیل سطور میں ڈاکٹر صاحب کے تقویٰ کے چند واقعات سپرد قلم کیے جاتے ہیں۔
نماز کی پابندی:
قرآن عزیز میں متقین کی ایک صفت یہ بھی بتائی گئی ہے کہ یُقِیْمُونَ الصَّلٰوۃَ (۲:۳) یعنی وہ نماز قائم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نماز باجماعت کا بہت اہتمام کرتے تھے۔ ۱۹۸۵ء میں وزارت مذہبی امور، اسلام آباد کے زیر اہتمام کمیونٹی سنٹر اسلام آباد میں ایک نمائش ’’بسلسلہ کتب سیرت‘‘ کا انعقاد ہوا اور وطن عزیز کی بڑی بڑی لائبریریوں سے کتب سیرت کو نمائش میں رکھا گیا۔ یونیورسٹی کی جانب سے جو لوگ خدمت پر مامور تھے، ان میں چند حضرات کے علاوہ میں (راقم الحروف) اور ڈاکٹر غازی بھی شریک تھے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ ایسے مواقع پر بروقت نماز ادا کرنے کی پابندی نہیں کرتے، لیکن ڈاکٹر صاحب کو میں نے دیکھا کہ کسی بھی نماز میں اپنی مصروفیات کے باوجود تاخیر نہیں کرتے تھے اور جب نماز ادا کرتے تو اس میں خشوع وخضوع کا خاص خیال رکھتے اور جونہی اذان ہوتی تو آپ کی توجہ مسجد اور نماز کی جانب مبذول ہو جاتی۔ یہ بہت بڑی سعادت اور کامیابی کی دلیل ہے۔
جس شب آپ کو دِل کا دورہ پڑا، اس رات کو بھی آپ نے نماز عشا باجماعت ادا کی۔ رات ڈیڑھ بجے جب سینے میں درد محسوس ہونے لگا تو آپ کے بھائی ڈاکٹر محمد الغزالی آپ کو ہسپتال لے گئے اور صبح تک علاج معالجہ کی غرض سے ہسپتال میں رہے۔ جب صبح کی اذان ہوئی تو اپنے بھیجتے حمزہ غزالی سے کہا کہ مجھے وضو کرنا ہے۔ آپ کے فرمانبردار بھتیجے نے آپ کو چارپائی پر ہی وضو کروایا۔ اسی دوران اپنی اہلیہ سے کہا کہ: پاؤں کی ایڑھیاں صحیح طریقے سے دھوئیں۔ آپ نے چارپائی پر ہی صبح کی نماز ادا کی جو کہ آپ کی زندگی کی آخری نماز تھی۔ نماز کے بعد جب درد دل بڑھنے لگا تو آپ کے بھائی نے کہا: مولانا تھانویؒ نے دِل کے درد کے لیے جو دعا لکھی ہے، آپ کو یاد ہے؟ فرمایا: وہی دعا پڑھ رہا ہوں۔ وہ دعا یہ ہے:
وَأَلَّفَ بَیْْنَ قُلُوبِہِمْ، لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعاً مَّا أَلَّفَتْ بَیْْنَ قُلُوبِہِمْ، وَلَکِنَّ اللٰہَ أَلَّفَ بَیْْنَہُمْ، إِنَّہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (۸: ۶۳)
ڈاکٹر صاحب اس آیت کریمہ کا ورد کرتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپ نے چونکہ ساری عمر نماز اور وظائف کی ادائیگی میں بسر کی، موت بھی آئی تو نماز کے بعد اور آیت کریمہ کی تلاوت کرتے ہوئے۔ سچ فرمایا اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس طرح زندگی گزاروگے، اسی طرح موت آئے گی اور جس طرح موت آئے گی، قیامت کو اسی حال میں اٹھائے جاؤ گے۔
ڈاکٹر صاحب کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ عرصہ پانچ سال تک فیصل مسجد کے خطیب رہے اور جنرل ضیاء الحق کی نماز جنازہ بھی آپ ہی نے پڑھائی اور مختلف اسلامی ممالک سے آنے والے نمائندوں اور ہزاروں پاکستانیوں نے آپ کی امامت میں نماز ادا کی۔
قرآن مجید کی تلاوت:
آپ قرآن کی تلاوت کا بہت اہتمام کرتے تھے یہاں تک کہ دوران سفر جب جہاز یا گاڑی میں بیٹھتے تو قرآن کی تلاوت شروع کر دیتے۔ آپ کے بیگ میں ہمیشہ قرآن مجید کا نسخہ موجود ہوتا تھا۔ آپ کی قرآن سے وابستگی کے بارے میں آپ کی مایہ ناز کتاب ’’محاضرات قرآنی‘‘ واضح ثبوت ہے۔
محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:
متقین کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ وہ اللہ کی محبت کے بعد سب سے زیادہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں اور رسول کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت اور رسول کی محبت کو اللہ کی محبت تصور کرتے ہیں۔ ڈاکٹر غازی اپنے اقوال، اعمال اور اخلاق میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا وآخرت کی کامیابی کا ذریعہ قرار دیتے تھے جس کا واضح ثبوت آپ کی دو کتابیں’’ محاضرات سیرت‘‘ اور ’’محاضرات حدیث‘‘ ہیں۔ ان کتابوں کے مطالعہ سے ڈاکٹر صاحب کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت اور محبت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ آپ کی دوسری تصانیف ’’محاضرات قرآن‘‘ اور ’’محاضرات فقہ‘‘ کی طرح یہ دو کتابیں بھی اہل علم سے خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں اور بار بار طبع ہو رہی ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بار گاہ اقدس میں بصورت نعت بھی نذرانہ عقیدت پیش کیا جس کی تفصیل اور نعتیہ کلام فارسی زبان میں ماہنامہ ’’تعمیر افکار‘‘ کراچی کے شماروں میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام اہل کمال کا منبع اور ان کی نسبت کو ہی سب سے بڑا اعزاز اور کمال سمجھتے تھے۔ اس ضمن میں ان کی ایک فارسی نعت کا شعر ملاحظہ ہو:
کمال کاملاں یک قطرۂ بحر کمالش است
شود از نسبت نامش کمال کاملاں پیدا
]کاملین کا کمال، ان کے بحر کمال کا بس ایک قطرہ ہے۔ ان کے نام کی نسبت سے ہی کمال پیدا ہو جاتا ہے۔[
آپ کی حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور بین ثبوت یہ ہے کہ فتنہ قادیانیت کے سلسلہ میں جنوبی افریقہ کے دارالحکومت، ڈربن کی عدالت میں قادیانیوں پر ایک مقدمہ چل رہاتھا۔ آپ نے بہت کم وقت میں اپنے حافظے کی بنیاد پر ایسے ٹھوس علمی دلائل پیش کیے کہ وہاں کی عدالت قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج ماننے پر مجبور ہوگئی۔
حج کی ادائیگی:
ڈاکٹر صاحب مرحوم کو حرمین شریفین سے بے پناہ محبت تھی ۔ آپ نے متعدد عمرے اور نو حج ادا کیے۔ قارئین کرام یہ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ ڈاکٹر صاحب کو بانی پاکستان اور مصور پاکستان سے اس قدر محبت تھی کہ آپ نے ایک حج قائداعظم محمد علی جناحؒ کی طرف سے اور ایک حج علامہ محمد اقبالؒ کی طرف سے ادا کیا اور میرے علم کے مطابق یہ شرف صرف اور صرف ڈاکٹر صاحب ہی کو حاصل ہے۔
پابندئ اوقات:
۱۹۸۵ء کا واقعہ ہے کہ اسلام آباد کے ایک کالج میں مقابلہ حسن قرأت منعقد ہوا۔ مجھے اور ڈاکٹر صاحب کو جج مقرر کیا گیا۔ (یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب قرآن کے حافظ اور جید قاری بھی تھے۔) ہمارے ساتھ دو حضرات اور بھی تھے جن کے نام یاد نہیں آرہے۔ بہر حال تقریباً بارہ بجے ہم لوگ اپنے کام سے فارغ ہوگئے۔ مجھے اور غازی صاحب کو واپس دفتر آنا تھا، کیوں کہ ہم دفتر ہی کی طرف سے دفتر کے ٹائم میں گئے تھے۔ ہمارے دوسرے ساتھی دفتر آنے کی بجائے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے۔ ان کے اس عمل کو ڈاکٹر صاحب حیرت زدہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ گویا زبان حال سے یہ تاثر دے رہے تھے کہ ان کا یہ عمل تقویٰ کے منافی ہے اور ایک دو بار دوران تقریر انہوں نے اس بات کا اظہار کیا بھی کہ ہمیں دفتری اوقات کی پابندی کرنی چاہیے۔ قیامت کے دن اس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ فرمان الٰہی ہے: أَوْفُواْ بِالْعَہْدِ (۱۷:۳۴) اور وَیْْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ، الَّذِیْنَ إِذَا اکْتَالُوا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُونَ (۸۳:۱، ۲)۔ ان آیات کی روشنی میں ہمیں وعدہ کی پاسداری اور دفتری اوقات کی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ بہرحال ڈاکٹر صاحب اپنے گھر نہیں گئے، حالانکہ ان کا گھرکالج کے قریب تھا۔ آپ سیدھے دفتر آئے اور کام میں مشغول ہوگئے اور یوں آپ نے تقویٰ وپرہیز گاری کا ثبوت دیا۔
احترام رمضان:
ڈاکٹر صاحب مرحوم رمضان المبارک کا بہت احترام اور روزے کا پابندی سے اہتمام فرماتے اور ماہ رمضان میں گھر پر قرآن شریف سناتے تھے۔ ایک دفعہ ماہ رمضان میں، میں نے پوچھا ڈاکٹر صاحب! روزے کیسے جارہے ہیں؟ کہنے لگے، اللہ کا کرم ہے، بہت اچھے جارہے ہیں۔ میں نے دوبارہ سوال کیا کہ منزل سنا رہے ہیں؟ تو کہنے لگے: ’’مجھ جیسے نالائقوں کا کیا سنانا ہے‘‘ (یہ کہہ کر کچھ آب بدیدہ سے ہوگئے جو کہ ان کی رقت قلبی اور جذبہ ایمانی کی دلیل ہے۔) بس گزارہ ہو جاتا ہے، منزل تراویح میں سنا دیتا ہوں۔‘‘ اس واقعہ سے رمضان کے احترام، خشیت الٰہی اور رات کے قیام کا آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔
سرکاری املاک کی حفاظت:
ڈاکٹر صاحب دو سال یونیورسٹی کے صدر رہے۔ اس دوران آپ نے قابل تقلید کردار ادا کیا۔ آپ نے ایک مرتبہ یونیورسٹی کے تمام ملازمین کو خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’ہمیں سرکاری املاک کی حفاظت کرنی چاہیے۔ گاڑیاں ہوں یا فرنیچر، بجلی کا استعمال ہو یا ہیٹر، اسٹیشنری ہو یا ٹیلیفون، یہ سب ہمارے پاس امانت ہے۔‘‘ اس ضمن میں آپ نے اپنی زندگی کا ایک واقعہ سنایا جو سرکاری وغیرسرکاری دفاتر وغیرہ میں کام کرنے والوں کے لیے مشعل راہ ہے۔آپ نے کہا:
جب میں ادارہ تحقیقات اسلامی میں ملازم ہوا تو انھی دنوں ایک دوست نے مجھے اپنے دفتر میں دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا۔ جب ہم کھانے سے فارغ ہوئے تو میزبان نے ٹیبل کی دراز سے ٹائپنگ پیپر نکال کر ہاتھ صاف کیے اور دوسرے صاحب کو بھی دیے۔ میں نے پیپر سے ہاتھ صاف کرنے سے انکار کر دیا اور دل میں اللہ سے عہد کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے زندگی میں مجھے کوئی اہم منصب عطا کیا تو میں سرکاری املاک کو کبھی بھی ضائع نہیں ہونے دوں گا۔ ڈاکٹر صاحب جب جامعہ کے صدر بنے تو آپ نے اس عہد کو حرف بحرف پورا کر دکھایا۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ دفتری کام میں جو کاغذ استعمال ہوتے ہیں، عموماً ان کی دوسری جانب خالی ہوتی ہے۔ میں ان کاغذات کو ضائع کرنے کی بجائے ان کی دوسری جانب کو کام میں لاتا ہوں۔ انہی پر ڈکٹیشن دیتا ہوں، املا لکھواتا ہوں اور علمی مضامین بھی لکھتا ہوں۔
جامعہ کی صدارت کے دوران آپ شریعت کورٹ کے جج بھی تھے۔ اپنے فیصلے جن کاغذات پر لکھتے، ان کو دونوں جانب سے کام میں لاتے اور اسٹینوگرافر کے حوالے کرتے۔ علاوہ ازیں جامعہ اور شریعت کورٹ کی جانب سے موصول آرڈر، مکتوبات وغیرہ کا باقاعدہ ایک بنڈل بنایا ہواتھا جس کی دوسری جانب مضامین وغیرہ لکھتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ ایک دن مجھے یہ خیال آیا کہ شاید میرا یہ عمل درست نہ ہو۔ اسی سوچ بچار میں تھا کہ ایک شب امام شافعیؒ کے حالات زندگی پڑھنے لگا تو معلوم ہوا کہ امام شافعیؒ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ سرکاری کاغذات کو ضائع کرنے کی بجائے ان کو کام میں لاتے تھے۔ بس مجھے اطمینان ہوگیا اور کاغذات کو ضائع ہونے سے بچالیا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے کبھی بھی دفتر سے اسٹیشنری ایشو نہیں کروائی۔ دفتری کام کے لیے عام طور پر آپ ذاتی اسٹیشنری استعمال میں لاتے تھے۔
گیس ضائع نہ کریں:
ڈاکٹر صاحب کے ایک شاگرد جو کہ اب خود بھی ماشاء اللہ ڈاکٹرہیں یعنی ڈاکٹر شیخ تنویر احمد (اسسٹنٹ پروفیسر، اسلامک یونیورسٹی) ایک دن ڈاکٹر صاحب کے تقویٰ کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہنے لگے کہ:
’’ڈاکٹر غازی کے تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ آپ نے کلاس روم میں سوئی گیس کے ہیٹر کا پائلٹ جلتا ہوا دیکھا تو کہنے لگے، اگر ضرورت نہیں ہے تو پائلٹ بند کر دیا جائے۔ یہ قومی ملکیت ہے اور گیس ضائع ہو رہی ہے۔ آپ خود اٹھے اور پائلٹ بند کر دیا۔‘‘
غصہ کی حالت میں وضو:
ڈاکٹر صاحب کے پی اے عابد علی (جو دفتری معاملات میں آپ کی معاونت کرتے) کا کہنا ہے کہ اگر کسی معاملے میں ڈاکٹر صاحب کو غصہ آجاتا تو جوابی کارروائی کرنے کی بجائے آپ فوراً وضو کرنے لگتے اور تھوڑی ہی دیر بعد طبیعت میں بشاشت پلٹ آتی۔ علاوہ ازیں آپ دفتری اوقات میں بھی ہمیشہ باوضو رہتے اور اگر کوئی آپ کے سامنے آپ کی تعریف کرتا تو انتہائی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے۔
مکان کی ریکوزیشن اور ٹیلیفون کا استعمال:
قارئین کرام! آپ حیران ہوگے کہ جس دور میں یونیورسٹی کے ملازمین اپنے اپنے مکانوں کی ریکوزیشن کرواتے تھے، ڈاکٹر صاحب نے اپنے مکان کی ریکوزیشن نہیں کروائی حالانکہ ان کے گریڈ کے اعتبار سے خطیر رقم بنتی تھی۔ مگر ڈاکٹر صاحب نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مکان ایک ہے اور اس میں، میں اور میرا بھائی دونوں رہ رہے ہیں، اس لیے میں مناسب نہیں سمجھتا۔ اسی طرح گھر میں جو سرکاری ٹیلیفون تھا، اس کا بل اپنی جیب سے ادا کرتے اور دفتری ٹیلیفون کو صرف اور صرف سرکاری مقاصد کے لیے استعمال میں لاتے۔
یونیورسٹی کے صدر کی حیثیت سے آپ کو سرکاری طور پر یہ اجازت تھی کہ یونیورسٹی میں آنے والے سرکاری وفود اورمہمانوں کی چائے اور ریفریشمنٹ وغیرہ سے تواضع کریں، لیکن آپ ہمیشہ اس سے دور رہے اوریوں آپ نے مہمانوں کے بہانے یونیورسٹی کے مال کو ضائع ہونے سے بچائے رکھا۔ اگر کوئی غیر سرکاری مہمان یادوست آتا تو اپنی جیب سے اس کی خاطر تواضع کرتے۔
ان واقعات میں ہمارے لیے تقلید کا سامان ہے، خصوصاً اس دور میں جب کہ چہار جانب بددیانتی اور کرپشن کی مسموم ہوائیں چل رہی ہیں۔ اے کاش! اگر ہر ذمہ دار پاکستانی اور سرکاری عہدوں پر فائز لوگ اسی طرح تقویٰ اور دیانتداری کا ثبوت دیں جس طرح ڈاکٹر غازی مرحوم نے دیا ہے تو وطن عزیز سکون واطمینان کا گہوارہ بن جائے۔
عفوودرگذر:
تحمل وبردباری کو قرآن مجید نے نیک لوگوں کی صفت شمار کیا ہے، چنانچہ انہی لوگوں کے بارے میں ارشاد الٰہی ہے: وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ (۳:۱۳۴)۔ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کے علما کی سوانح عمریاں عفو ودرگذر کے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔ قسام ازلی نے ڈاکٹر محمود احمد غازی کو بھی عفو ودرگذر کی دولت سے مالا مال فرمایا تھا۔ اس ضمن میں ڈاکٹر صاحب کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر محمد الغزالی کی زبانی چند واقعات سپرد قلم کیے جاتے ہیں۔
۱۔ڈاکٹر محمد الغزالی بیان کرتے ہیں کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی جن دنوں دعوۃ اکیڈمی کے ڈائریکٹر تھے، ایک دن میں کسی کام سے ان کے دفتر گیا۔ اسی دوران دعوۃ اکیڈمی کا ایک ملازم اپنی پروموشن کا کیس لے کر ڈاکٹر صاحب کے پاس آیا۔ آپ نے اس کی فائل ملاحظہ کرنے کے بعد کہا: اس میں چند قانونی رکاوٹیں ہیں جن کو دور کرنے کی میں کوشش کروں گا۔ فی الحال آپ کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ ڈاکٹر صاحب کا جواب سن کر ملازم سیخ پا ہوگیا اور ڈاکٹر صاحب سے کہنے لگا: ایک گھنٹہ سے میں دماغ کھپا رہا ہوں۔ جب آپ مر جائیں گے تو پھر میری پروموشن ہوگی۔ اس طرح کے اور بھی کئی ترش وتلخ جملے مسلسل بولتا رہا اور ڈاکٹر صاحب سنجیدگی سے اس کی باتیں سنتے رہے۔ آپ نے نہ تو اس کو ڈانٹا اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی۔
۲۔ایک دفعہ یونیورسٹی کے طلبہ نے ہڑتال کردی اور طلبہ کی دو گاڑیاں بھر کر ڈاکٹر صاحب کے گھر کے سامنے اکھٹے ہوگئے۔ تقریریں کرتے رہے اور مختلف انداز میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ ڈاکٹر صاحب کا دور ایک مثالی دور تھا، مگر طلبہ بسا اوقات کچھ ایسے مطالبات بھی کر بیٹھتے ہیں کہ اصول وضوابط کی روشنی میں ان کا پورا کرنا مشکل ہوتا ہے۔ آپ نے نہ تو پولیس کو مطلع کیا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی کارروائی کی۔ ڈاکٹر صاحب کے صبروتحمل کا طلبہ پریہ اثر ہوا کہ طلبہ خود ہی ندامت کے ساتھ واپس چلے گئے۔
۳۔اسی طرح ایک مرتبہ طلبہ نے آپ کے دفتر کے سامنے نعرہ بازی شروع کر دی اور مطالبات منوانے کے لیے تقریریں کرتے رہے۔ ڈاکٹر صاحب سارا دن اطمینان سے کام کرتے رہے اورطلبہ کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی۔ آپ کو متعدد بار ایسے مراحل اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا، مگر آپ نے ہمیشہ عفو و درگزر سے کام لے کر مخالفین کو اپنا ہم نوا اور تابع فرماں بنا دیا اور کسی کے ستم کو ستم اور جفا کو جفا نہیں سمجھا اور یوں کہتے ہوئے ٹال گئے:
ستم کو ہم کرم سمجھے جفا کو ہم وفا سمجھے
جو اس پر بھی نہ وہ سمجھے تو اس بت کو خدا سمجھے
اہل وعیال سے شفقت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ تم میں سب سے اچھا اور نیک وہ ہے جو اپنے گھروالوں کے معاملے میں بہتر ہو۔ ڈاکٹر غازی صاحب نے اس فرمان نبوی کو ہمیشہ پیش نظر رکھا۔ ڈاکٹر محمد الغزالی نے آپ کی گھریلو زندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب اپنے اہل خانہ سے نہایت خندہ پیشانی سے پیش آتے اور کبھی بھی کسی معاملہ میں ناراضی یا غصہ کا اظہار نہیں کیا۔ یہاں تک کہ بچوں سے بھی بہت پیار کرتے اور ادب واحترام سے کلام کرتے اور بے پناہ پیاروشفقت کا اظہار کرتے۔ آپ کی اس شفقت اور محبت نے آپ کے گھر کو امن وسکون کا گہوارہ بنادیا تھا۔
والدین کی خدمت:
خوش نصیب اور بلند بخت ہیں وہ لوگ جنہوں نے والد کی رضا میں اللہ کی رضا کو اور والدہ کے قدموں تلے جنت کو تلاش کیا۔ ڈاکٹر غازی صاحب بھی یہ سعادت پا گئے اور والدین کی قدم بوسی کر کے خدمت کے اصول بتاگئے اور اللہ کو اپنا بنا گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے تازیست والدین کی خدمت کی اور خوب دعائیں لیتے رہے۔ چند سال قبل آپ کے والد مرحوم جب اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو اس کے بعد آپ نے اپنی والدہ کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آپ ہر روز دفتر آنے سے پہلے والدہ کی خدمت میں حاضری دیتے اور شام کو سب سے پہلے والدہ کی خدمت میں حاضر ہو کر حال احوال دریافت کرتے اور جھولیاں بھر بھر کر دعائیں سمیٹتے۔ اگر کہیں سفر میں ہوتے تو والدہ کے حالات سے باقاعدہ باخبر رہتے۔ آپ کی والدہ کی دعائیں ہمیشہ آپ کے شامل حال رہیں اور زندگی کے کئی پر خطر مراحل خوش اسلوبی سے طے کر گئے۔آپ کی والدہ محترمہ تاحال بقید حیات ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ انہوں نے اپنی وفات سے دو ماہ قبل اپنی والدہ کو وہیل چیئر پر بٹھا کر عمرہ کرایا۔ جن لوگوں نے حرمین شریفین کی زیارت کی ہے، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کسی عمرہ رسیدہ کو وہیل چیئر پر بیٹھا کر حج کے مناسک یا عمرہ کے اعمال بجالانا کس قدر مشکل مرحلہ ہے، مگر ڈاکٹر صاحب نے خندہ پیشانی کے ساتھ یہ سعادت حاصل کر لی۔
استقامت:
ڈاکٹر صاحب کی خداداد صلاحیتوں کو بھانپ کر بہت سے لوگوں نے آپ کو خریدنا چاہا، مگر آپ نے ہر پیش کش کو ٹھکرادیا اور إِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا (۴۱:۳۰) کا دامن اس مضبوطی سے تھام لیا کہ بادِ مخالف کے تندو تیز جھونکے آپ کے پائے استقامت کو متزلزل نہ کر سکے اور ’’قل اٰمنت باللّٰہ ثم استقم‘‘ کا عملی نمونہ پیش کیا۔ اس ضمن میں ڈاکٹر کی ایک علمی تقریر سے جس کا عنوان ’’اسلام اور مغرب۔۔۔موجودہ صورتحال‘‘ ہے، ان کی استقامت کا ایک قابل تقلید واقعہ پیش کیا جاتا ہے۔ آپ نے دوران تقریر میں کہا:
’’اکتوبر ۱۹۷۴ء میں ایک پروفیسر صاحب امریکہ سے تشریف لائے۔ وہ ایک مشہور امریکن یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔ انہوں نے پاکستان کے مختلف اداروں کا دورہ کیا۔ وہ ادارہ تحقیقات اسلامی میں بھی آئے۔ میں اس زمانے میں ادارہ تحقیقات اسلامی میں کام کرتا تھا۔ نوجوان تھا، مدرسے کی تعلیم سے فارغ ہو چکاتھا۔ عربی اچھی جانتا تھا، انگریزی سے بھی شدبد ہوگئی تھی۔ تھوڑی بہت فرنچ بھی میں نے سیکھ لی تھی۔ وہ پروفیسر صاحب بہت سے لوگوں سے ملے، مجھ سے بھی ملے۔ مجھ سے ملنے کے بعد انہوں نے کہا کہ میں الگ سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں، تم مجھ سے ملنے کے لیے آؤ۔ میں ان سے ملنے چلا گیا۔ دوران ملاقات انہوں نے کہا، میں تمہیں اسکالر شپ دینا چاہتا ہوں امریکہ میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے۔ تم امریکہ کی جس یونیورسٹی میں چاہو، میں تمہیں اسکالر شپ دے سکتا ہوں۔ میں نے سنا ہوا تھا کہ ہارورڈ صف اوّل کی یونیورسٹی ہے اور ایم آئی ٹی ہے اور پرسٹن ہے، تین یونیورسٹیوں کا بڑا چرچا تھا، اس لیے میں نے ان کا نام سنا ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ آپ مجھے ہارورڈ میں داخلہ دلوادیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے: میں تمہیں ہارورڈ میں داخلہ دلوادوں گا۔ کام یہ ہوگا کہ تم ایک سال کے لیے امریکہ آؤ، ہارورڈ یونیورسٹی میں کورس ورک کرو، پھر میرے پاس آؤ۔ تین مہینے میرے پاس کورس ورک کرو، پھر واپس پاکستان آجاؤ۔ انہوں نے جو نقد وظیفہ بتایا، وہ اتنا تھا جتنا اس وقت حکومت پاکستان کے سیکرٹری کو بھی تنخواہ نہیں ملتی تھی، کسی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو بھی نہیں ملتی۔ پاکستان میں رہ کر یہ وظیفہ ملنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کام یہ ہوگا کہ پاکستان میں رہ کر یہ معلومات جمع کرو کہ پاکستان میں دینی مدارس کیا کام کرتے ہیں، کتنے دینی مدارس ہیں؟ کون کون علماے کرام ان کو چلارہے ہیں، وہ کیا کیا پڑھاتے ہیں، کیا ذہن بناتے ہیں؟ اور جو لوگ ان سے تیار ہوتے ہیں، وہ بعد میں کیا کام کرتے ہیں اور ان کا رویہ مغرب کے بارے میں کیسا ہوتا ہے؟ یہ ساری معلومات جمع کر کے آؤ، پھر میرے ساتھ بیٹھ کر اس کو مرتب کرو، اس کی بنیاد پر تمہیں ہارورڈ یونیورسٹی پی ایچ ڈی کی ڈگری دے دے گی۔
سچی بات ہے، میں اللہ تعالیٰ کی تحدیث نعمت کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ مجھے اس وقت یہ لگا کہ یہ تو صاف صاف جاسوسی کا کام ہے۔ دوران گفتگو پروفیسر صاحب نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کا ایک پروجیکٹ مصر کے لیے ہے، ایک بنگلہ دیش اور انڈونیشیا کے لیے ہے۔ اب یہ چار بڑے ملک جو آبادی کے لحاظ سے صف اوّل کے ممالک تھے، جہاں دینی تعلیم کا پرائیویٹ نظام بڑا غیر معمولی تھا، وہاں کے لیے یہ کیوں تحقیق ہورہی تھی؟ اس پر لاکھوں روپے کے یہ مصارف کیوں کرائے جارہے تھے؟ میں نے کوئی ذاتی عذر بیان کر کے معذرت کر لی کہ میں سردست امریکا نہیں جا سکتا، لیکن اِس وقت میں جب بھی اس نوعیت کے مختلف معاملات کو دیکھتا رہتا ہوں تو مجھے یہ لگتا ہے کہ مغربی دنیا کم ازکم ۱۹۷۴ء سے اس نکتے پر سوچ رہی تھی کہ دنیائے اسلام میں دینی تعلیم کا مستقبل کیا ہے، ماضی کیا تھا اور حال کیا ہے؟ اب پچھلے آٹھ دس سال سے اس میں زیادہ شدت آگئی ہے۔‘‘ (تعمیر افکار، ج ۸، شمارہ ۱۰، اکتوبر ۲۰۰۷ء)
قارئین کرام! ڈاکٹر صاحب تو ایک علمی شخصیت تھے۔ یہ کام تو ایک طالب علم بھی کر سکتا تھا، مگر آپ نے فوراً اس پیشکش کو ٹھکرادیا جس کے لیے لوگ پاپٹر بیلتے اور ترستے ہیں۔
یہ اس دور کی بات ہے جب دینی مدارس کو ختم کرنے کی خفیہ پلاننگ ہورہی تھی اور غیروں نے مکین ومکان کو اجاڑنے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اپنی ایمانی فراست اور دینی غیرت کی قوت سے اس آزمائش سے دامن بچا گئے۔ استقامت کی سعادت پاگئے اور قیامت کے دن علماء ربانی کے گروہ میں یہ کہنے کے مجاز ہوں گے کہ:
بار الٰہ: جب اپنوں نے غیروں سے آشنائی کرلی تھی، روح اور جسم دونوں مرہون ہو چکے تھے، جب غیروں نے مکان ومکین پر منظم حملہ کیا تھا، دل ودماغ دونوں مجروح ہو چکے تھے اور بادسموم کے جھونکے شمع نبوت کو بجھانے کے درپے تھے تو ایسے نازک وقت میں اگرہم سے اور کچھ نہ ہو سکا تو غیروں کی مخالفت مول لے کر ملبہ کی حفاظت کی اور سامنے سے کسی کو مینا وساغر اٹھانے نہیں دیا۔
علماء وصوفیاء کے علم وہنر کا امتحان کم ہوا مگر کردار کا امتحان ہر زمانے میں ہوتا رہا، لیکن اہل استقامت اس امتحان میں کامیابی سے ہم کنار ہوئے۔ ڈاکٹر غازی بھی انہی کامیاب اور صاحب استقامت لوگوں میں سے ایک ہیں جو اغیار کی پیشکش ٹھکراگئے، وفا کے اصول بتا گئے اور ’پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ‘ کا درس دیتے ہوئے یہ فرما گئے:
چمن کا رنگ گو تو نے سراسر اے خزاں بدلا
نہ ہم نے شاخ گل چھوڑی نہ ہم نے آشیاں بدلا
سفر آخرت کے اشارے:
ڈاکٹر صاحب کی وفات سے تقریباً ایک ماہ قبل میں (راقم الحروف) نے خواب دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب ایک براؤن رنگ کی خوبصورت قالین پر بیٹھے ہیں اور آپ کے سامنے ایک رحل رکھی ہے جس پر قرآن مجید کھلا ہوا ہے اور اس کا ایک ایک ورق تقریباً چار چار فٹ چوڑا اور آٹھ آٹھ فٹ لمبا ہے۔ چہار جانب نور کا ہالہ بنا ہوا ہے اور ڈاکٹر صاحب بہت مسرور ہو ر ہے ہیں۔ جب راقم الحروف نے ڈاکٹر صاحب سے یہ خواب بیان کیا تو چند لمحے سکوت کے بعد کہنے لگے: ’’بس آپ میرے لیے دعا کیا کریں‘‘۔ غالباً ڈاکٹر صاحب کی خاموشی اس بات کی جانب اشارہ تھا کہ آپ کی مساعی جمیلہ کو اللہ نے قبول فرما لیا ہے اور سفر آخرت بہت قریب ہے۔
اسی طرح آپ کی وفات سے تقریباً چند دن قبل دارالعلوم اسلامیہ، لاہور میں ’’تربیت مدرسین‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد ہوا۔ ڈاکٹر صاحب بھی اس میں شریک تھے۔ سیمینار کے اختتام پر آپ نے مولانا مشرف علی تھانوی (جنہوں نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی) سے کہا کہ ’’مولانا! میری نماز جنازہ آپ نے پڑھانی ہے‘‘۔ آپ کی یہ تمنا پوری ہوئی اور علم وتقویٰ کا یہ پیکر اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔
نمازی اور نماز گاہ:
گزشتہ صفحات میں آپ نے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کو ایک متقی کی حیثیت سے ملاحظہ فرمایا۔ جہاں تک آپ کی علمی صلاحیتوں اور خدمات کا تعلق ہے، اہل علم سے یہ حقیقت مخفی نہیں کہ آپ کی ساری زندگی علوم اسلامیہ کے حصول، تدریس اور اشاعت میں گزری اور بقول علامہ اقبال مرحوم کے:
اسی کشمکش میں گزریں میری زندگی کی راتیں
کبھی سوز و ساز رومی کبھی پیچ و تاب رازی
ڈاکٹر غازی کے لیل ونہار بھی اسی قیل وقال میں گزر گئے اور اچھے حال میں گزر گئے۔ آپ کی مساعی جمیلہ کو اللہ نے وہ شرف بخشا کہ عالمِ برزخ میں بھی اسی محبوب عمل میں مشغول کر دیا جو کہ آپ کے تابناک مستقبل کی دلیل ہے۔
اس ضمن میں ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی صاحب (جو کہ علمی حلقوں میں جانی پہچانی شخصیت ہیں) کا ایک خواب نقل کیا جاتا ہے جو انہوں نے ڈاکٹر غازی کی وفات کے چند دن بعد دیکھا۔ اس خواب میں غازیؒ کے تلامذہ، احباب اور دیگر اہل علم کے لیے اطمینان وتسلی کا سامان ہے۔
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات غازی صاحب کو خواب میں دیکھا اور آپ تیز تیز چل رہے ہیں۔ میں نے کہا! غازی صاحب! آپ تو فوت ہوگئے ہیں۔ بتائیے آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا تو جلدی جلدی آپ نے جواب دیا کہ اللہ نے کرم والا معاملہ فرمایا ہے اور وہاں ایک نماز گاہ میں میرا محاضرۃ (لیکچر) ہوتا ہے۔ میں جلدی جلدی اس لیے جارہا ہوں کہ دیر نہ ہو جائے۔ (راقم الحروف سے یہ خواب ڈاکٹر عصمت اللہ صاحب، ریسرچ سکالر، IRIنے بیان کیا)۔
آخر میں ڈاکٹر صاحب کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
علم والے علم کا دریا بہا کر چل دیے
واعظان قوم سوتوں کو جگا کر چل دیے
کچھ سخن ور تھے کہ سحر اپنا دکھا کر چل دیے
کچھ مسیحا تھے کہ مردوں کو جلا کر چل دیے
میری آخری ملاقات
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
رات ساڑھے دس بجے کے قریب اچانک فشارِ خون کی وجہ سے بایاں بازو سُن ہوتا ہوا محسوس ہوا۔ میں نے اس کا تذکرہ گھر والوں سے کیا تو انہوں نے فوری طور پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) جانے کا مشورہ دیا۔ میں نے جواب میں کہا کہ فشار خون کم کرنے والی دوا لے لیتا ہوں۔اُمید ہے جلدہی طبیعت ٹھیک ہو جائے گی۔ لیکن گھر والوں کا اصرار تھا کہ احتیاط کا تقاضا ہے کہ اسپتال جاکر ایمر جنسی وارڈ میں چیک اَپ کروالیا جائے۔
رات ساڑھے گیارہ بجے PIMS کے ایمر جنسی وارڈ کے کمرہ نمبر۳ میں ابتدائی چیک اَپ کے لیے داخل ہوا تو وہاں ڈاکٹر محمد الغزالی نظر آئے۔ میں نے ڈاکٹر غزالی صاحب سے حیرت بھرے لہجے میں پوچھا کہ آپ اس وقت ایمرجنسی وارڈ میں موجود ہیں، خیریت تو ہے؟ ڈاکٹر غزالی صاحب نے یہ سن کر میری توجہ ایمرجنسی ڈاکٹر کی میز کے عقب میں موجود کرسی کی جانب دلائی، میں نے اس جانب دیکھا تو وہاں محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب موجود تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر ڈاکٹر غازی صاحب کو سلام کیا اور تشویش بھرے لہجے میں پوچھا: غازی صاحب خیریت توہے؟ غازی صاحب نے تکلیف بھرے انداز میں اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے جواب دیا کہ یہاں سینے میں درد ہے۔ میں سمجھ گیا کہ یہ دل کی تکلیف کی کیفیت ہے۔ ڈاکٹر غزالی صاحب ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کو بار بار کہہ رہے تھے کہ جلدی کریں، غازی صاحب کی طبیعت مزید خراب ہوتی جارہی ہے۔ لیکن ڈاکٹر روایتی انداز میں دوسرے مریضوں میں الجھا ہو ا تھا۔ ڈاکٹر غزالی صاحب کے مسلسل اصرار پر بالآخر ڈاکٹر غازی صاحب کی جانب متوجہ ہوا۔
اتنی دیر میں کمرے میں موجود دوسرے ڈاکٹر نے مجھے مشورہ دیا کہ پہلے ای سی جی کرواکے لاؤں۔ اس کے بعد مزید کاروائی ہو گی۔ میں ای سی جی کرواکے امراض قلب کے شعبہ انتہائی نگہداشت میں پہنچا تو وہاں کاؤنٹر کے قریب ڈاکٹر غزالی صاحب مضطرب حالت میں موجود تھے۔
ڈاکٹر غازی صاحب شعبہ انتہائی نگہداشت کے ایک کمرے میں منتقل ہو چکے تھے اور ڈاکٹر طبی امداد کے حوالے سے مصروف تھے۔ میں نے کاؤنٹر کے قریب موجود ایک ڈاکٹر کو اپنی ای سی جی رپورٹ دکھائی تو اس نے اطمینان کا اظہار کیا کہ تشویش کی کوئی بات نہیں۔ یہ سن کر میرے ساتھ ڈاکٹر غزالی صاحب نے بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ دل کے حوالے سے تشویش کی بات نہیں۔
ڈاکٹر غازی صاحب کے کمرے میں ان کی اہلیہ محترمہ بھی موجود تھیں، اس لیے وہاں جانا ممکن نہیں تھا، اس لیے ڈاکٹر غزالی صاحب کو تسلی دی کہ ان شاء اللہ غازی صاحب بہت جلد صحت یا ب ہو جائیں گے۔ ان دعائیہ کلمات کے بعد میں نے ڈاکٹر غزالی صاحب سے اجازت لی اور رات دوبجے واپس گھرپہنچا۔ نماز فجر کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ غازی صاحب جلد صحت یاب ہو جائیں۔ نماز ظہر سے پہلے موبائل پر مجھے ایک ایس ایم ایس وصول ہوا۔ ایس ایم ایس پڑھا تو ناقابل یقین اطلاع تھی کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کی نماز جنازہ دوپہر دو بجے قبرستان ایچ ٹن میں ادا کی جائے گی۔ وہ عظیم ہستی جس سے میر ی چند گھنٹے پہلے PIMS کے شعبہ انتہائی نگہداشت میں ملاقات ہوئی تھی، وہ اس طرح اچانک ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو جائے گی، یہ سوچا بھی نہیں تھا۔ مجھے اس موقع پر بے اختیار حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے خادم کا واقعہ یاد آگیا جس میں حضرت خضرؐ کے ساتھ ملاقات سے قبل حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھوک نے ستایا تو خادم سے مچھلی طلب کی تو اس نے کہا کہ راستے میں جہاں ہم نے پڑاؤ کیا تھا، وہاں اچانک اس کے ہاتھ سے پھسل کر مچھلی دریا میں چلی گئی تھی۔ مجھے بھی ایسے لگا کہ غازی صاحب بھی میرے سامنے اچانک ہمیشہ کی دنیا میں چلے گئے۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی، طویل عرصہ دعوۃ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ اس دوران ان کے بہت قریب رہنے، ان سے سیکھنے اور کام کرنے کا موقع ملا۔ ممکن ہے وہ اکیڈمی کے دوسرے رفقائے کار کے لیے ڈائریکٹر جنرل ہوں، مگر میں نے انہیں ہمیشہ شفیق و مشفق بڑے بھائی کی طرح محسوس کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب ڈاکٹر غازی صاحب نے دعوۃ اکیڈمی کے تحت ماہنامہ ’’ دعوۃ‘‘ کے اجرا کا پروگرام بنایا تو انہوں نے مجھ ناچیز کے ذمے لگایا کہ’’ دعوۃ‘‘کے اجرا سے پہلے وطن عزیز کی معروف دینی، علمی وادبی شخصیات سے رابطہ کرکے اُن سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ اسی مقصد کے لیے راقم الحروف نے ایک خط کا مسودہ تیار کیا اور ممتاز علمی وادبی شخصیات کی فہرست مرتب کرکے غازی صاحب کی خدمت میں پیش کی۔ غازی صاحب نے خط کے مسودہ کو مناسب قرار دیا اور دینی علمی وادبی شخصیات والی فہرست پر بھی پسندیدگی کا اظہار کیا۔
دو روز بعد ، ڈاکٹر غازی صاحب، دعوۃ اکیڈمی کے تحت ہونے والے ایک ماہ کے بین الاقوامی تربیتی پروگرام میں شرکت کے لیے بیرون ملک روانہ ہوگئے۔اَب ایک صورت یہ تھی کہ سرکاری اور روایتی انداز میں غازی صاحب کی واپسی کا انتظار کیا جائے کہ وہ ایک ماہ بعد واپس وطن تشریف لائیں گے تو خط کمپوز کرواکے اس پر ان کے دستخط کروانے کے بعد ممتاز علمی وادبی شخصیات کو خط بھجوایا جائے۔ دوسری صورت یہ تھی کہ اس کام کو سرکاری کی بجائے دعوتی و ذاتی سمجھتے ہوئے اور غازی صاحب کو ڈی جی کی بجائے مشفق ومہربان بھائی سمجھتے ہوئے، خط کو کمپوز کروانے کے بعد کسی فائل میں موجود نوٹ پر اُن کے موجود ہ دستخطوں کی فوٹو سٹیٹ کرواکے ان کے خط کے نیچے لگا کر تمام خطوط کی فوٹو کاپی کروالی جائے۔ یہ خیال آتے ہی میں نے اگلے ہی روز خط کمپوز کرواکے خط کے نیچے ان کے فوٹو کاپی شدہ دستخط لگا کر پچاس ساٹھ خطوط تیار کرکے ممتاز علمی ادبی شخصیات کو روانہ کردیے۔دو تین ہفتے کے دوران ممتاز علمی وادبی شخصیات کی بہت بڑی تعداد نے مجوزہ ’’دعوۃ ‘‘ کے اجرا کے حوالے سے پسندیدگی کا اظہار کیا اور اپنے گراں قدرمشوروں اور تجاویز سے نوازا۔ میں نے ان تمام خطوط کو ایک فائل میں محفوظ کر لیا۔
ایک ماہ کے بین الاقوامی تربیتی پروگرام کے بعد جب ڈاکٹر غازی صاحب واپس وطن تشریف لائے تو میں نے ملاقات کے موقع پر ان کی خدمت میں مجوزہ پرچے ’’دعوۃ‘‘ کے حوالے سے ممتاز علمی وادبی شخصیات کے خطوط والی فائل پیش کی تو انہوں نے حیرت سے پوچھا کہ میری جانب سے باضابطہ طور پر تو خط ان شخصیات کو روانہ ہی نہیں کیے گئے تھے تو یہ کس طرح ممکن ہوا ہے؟ اس پر میں نے بتایا کہ کس طرح ان کے دستخطوں کی فوٹو کاپی کرکے خط ممتاز علمی وادبی شخصیات کو بھجوایا گیا جس کے نتیجے میں اتنے سارے خطوط وصول ہوئے۔ یہ سن کر ڈاکٹر غازی صاحب زیرلب مسکراکر رہ گئے۔ کیا کسی سرکاری ادارے میں معمولی درجے کا ملازم یہ تصور کرسکتا ہے کہ وہ ادارے کے سربراہ کے نام کا خط، اس کے علم میں لائے بغیر بھجوادے اور اس پر اس کا مواخذہ نہ کیا جائے؟ یقیناًڈاکٹر غازی صاحب کی اعلیٰ ظرفی تھی کہ انہوں نے میری اس حرکت کو درگزر کردیا۔
دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد آنے سے پہلے مجھے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جامع مسجد پنجاب یو نیورسٹی لاہور اور چند دیگر مساجد میں اعتکاف کا موقع ملاتھا۔ اسلام آباد میں جب پہلی بار فیصل مسجد میں اعتکاف کا سلسلہ شروع ہوا تو راقم الحروف نے مسلسل تین سال فیصل مسجد میں اعتکاف کی سعادت حاصل کی۔ پہلے سال صرف ۶۵ لوگوں نے اعتکاف کیا، دوسرے سال ۱۱۵ لوگ معتکف ہوئے جبکہ تیسرے برس شبینہ کا سلسلہ فیصل مسجد میں شروع ہونے کی وجہ سے لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے اعتکاف کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ عوام الناس میں بالعموم اور نوجوانوں میں بالخصوص معتکف ہونے کا سلسلہ ہر سال بڑھتا جارہا ہے لیکن اعتکاف کے مسائل سے عدم واقفیت کی وجہ سے کچھ لوگوں نے اس کوچھوئی موئی بنا لیا ہے اور کچھ نے اس کو پکنک کا درجہ دے دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ افراط وتفریط سے بچتے ہوئے معتکف ہونے والوں کو قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی مہیا کی جائے۔
اس مقصد کے لیے راقم الحروف نے تمام مکاتب فکر کی قدیم وجدید کتب اور دینی رسائل و جرائد میں شائع ہونے والے مضامین کا جائزہ لے کر اعتکاف کے مسائل پر مختصر کتاب کا مسودہ تیار کرکے ڈاکٹر غازی صاحب کی خدمت میں پیش کیا تاکہ وہ اس کو دیکھ لیں کہ یہ قابل اشاعت بھی ہے یا نہیں؟ محترم غازی صاحب نے مجھ ناچیز پر بے پناہ اعتماد کرتے ہوئے مسودے کے صفحہ اول پر اکیڈمی کے شعبہ مطبوعات کے انچارج کو لکھا کہ اس کی کتابت و طباعت کا اہتمام کیا جائے۔ میں نے اس موقع پر فوراً غازی صاحب سے گزارش کی کہ راقم الحروف کو علم فقہ پر دسترس حاصل نہیں، اس لیے مسودے کو کتابت وطباعت سے پہلے علم فقہ کے کسی ماہر سے نظرثانی کروالی جائے۔ میری تجویز پر یہ مسودہ اکیڈمی کے ممتاز اسکالر اور فقہی ماہر مولانا فضل ربی کو بھجوادیا گیا۔ انہوں نے کمال شفقت سے مسودے پر نظرثانی کردی تو اس کے بعد اسے شعبہ مطبوعات کے حوالے کیا گیا۔ الحمد للہ اب تک ’’ اعتکاف، فضائل ومسائل‘‘ کے پانچ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کو جب حکومت پاکستان کی جانب سے وفاقی وزارت مذہبی امور پر فائز کیا گیا تو اُن دنوں وہ بین الاقوامی اسلامی یو نیورسٹی اسلام آباد کے نائب صدر (علمی) کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ انہی دنوں کسی کام کے حوالے سے ڈاکٹر غازی صاحب سے ملاقات کے لیے نائب صدر جامعہ کے کمرے میں جانے کا موقع ملا۔ اسی دوران انہوں نے یو نیورسٹی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر فنانس خورشید عالم صاحب کو بلوایا۔ خورشید عالم صاحب تشریف لائے تو ڈاکٹر غازی صاحب نے انہیں مخاطب کرکے کہا کہ انسان بنیادی طور پر لالچی واقع ہوا ہے۔ اب جبکہ میں وفاقی وزیر مذہبی امور بن چکا ہوں تو وفاقی وزیر کی تنخواہ، یو نیورسٹی کے نائب صدر (علمی) سے زیادہ ہے، اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک میں وفاقی وزیر کی ذمہ داری پر فائز رہوں گا، روزانہ بعد دوپہر یونیورسٹی آکر نائب صدر جامعہ(علمی) کے طور پر اپنی تمام ذمہ داریاں ادا کروں گا، لیکن اس دوران یو نیورسٹی سے نہ تو تنخواہ وصول کروں گا اور نہ دیگر مراعات سے استفادہ حاصل کروں گا۔ یقیناًیہ کام کوئی اعلیٰ درجے کا صاحب تقویٰ ہی کرسکتا ہے۔
برصغیر ہی نہیں، عالم اسلام کی ممتاز علمی وادبی شخصیت مولانا ابوالحسن علی ندوی نے جب عالم اسلام کے اہل قلم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے رابطہ ادب الاسلامی العالمیہ قائم کی تو عالم اسلام کے مختلف ممالک کے ساتھ پاکستان چیپٹر کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ پاکستان چیپٹرکے صدر پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ علوم اسلامیہ کے سربراہ ڈاکٹر ظہور احمد اظہر مقرر کیے گئے جبکہ اسلام آبادچیپٹر کے لیے ڈاکٹرمحمود احمد غازی کو ذمہ دار بنایا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر غازی صاحب کی ایف سکس والی رہائش گاہ میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی ممتاز علمی وادبی شخصیات کو جمع کیا گیا تاکہ کام کا نقشہ تیار کیا جاسکے۔ ممتاز علمی وادبی شخصیات کی موجود گی میں ڈاکٹر غازی صاحب نے مجھ ناچیزکو رابطہ ادب الاسلامی العالمیہ ، اسلام آباد شاخ کا سیکرٹری مقرر کیا۔ میرے مسلسل انکار کے باوجود انہوں نے یہ ذمہ داری میرے سپرد کردی۔ اس کے بعد رابطہ کی اسلام آباد شاخ کے تحت مختلف دینی اور علمی موضوعات پر لیکچرز کی سیریز کا پرگرام بنایا گیا۔ لیکن اسی دوران رابطہ ادب الاسلامی العالمیہ پاکستان چیپٹرکے ذمہ داروں کی روایتی سستی کی وجہ سے لاہور کے علاوہ فیصل آباد اور اسلام آباد میں بھی کام کا سلسلہ آگے نہ بڑھ سکا۔
بچوں کے لیے راقم الحروف کی اب تک تین درجن سے زیادہ کتب شائع ہو چکی ہیں۔ اپنی شائع شدہ کتب وقتاً فوقتاً محترم غازی صاحب کی خدمت میں پیش کرتا رہتا تھا۔جب میری کتاب ’’اقبال کہانی‘‘ چھپ کر آئی تو میں نے ان سے گزارش کی کہ آپ نے اب تک میری کسی کتاب کے متعلق اپنی تحریری رائے سے آگاہ نہیں کیا ۔ اس لیے اقبال کہانی پر اپنی رائے سے ضرور نوازیں۔ اس پر انہوں نے حسب ذیل تاثرات سے نوازا۔
’’ڈاکٹر افتخار کھو کھر اور بچوں کا اسلامی، دینی اور ملّی ادب اب لازم وملزوم بنتے جارہے ہیں۔ کھو کھر صاحب نے گزشتہ دو عشروں کے دوران بچوں کے ادب پر اتنا کام کیا ہے کہ اب اُردو کی ’’ تاریخ ادبیات اطفال‘‘ میں ان کا ایک مقام بن چکا ہے۔ ہمارے ملک میں اور بہت سے شعبوں کے علاوہ یہ اہم شعبہ بھی ایک عرصہ تک بے توجہی کا شکار رہا۔ پورے ملک میں صرف سعیدِ ملت حکیم محمد سعید ، میرزا ادیب اور اشتیاق احمد کے علاوہ ہمدرد نونہال اور تعلیم وتربیت کے لکھنے والوں نے چالیس سال یہ اہم ذمہ داری نبھائی اور حق یہ ہے کہ حق ادا کردیا۔
افتخار کھو کھر اسی روایت کے امین ہیں۔ اُن کے ہاں حکیم محمد سعید جیسی مقصدیت، میرزا ادیب جیسا فنی اسلوب اور اشتیاق احمد جیسی آسان اور رواں زبان یکجا ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں میں کھو کھر صاحب کی تحریریں دن بدن مقبول ہورہی ہیں۔ ان کی درجنوں تحریروں میں بہت سی انعام یافتہ کتب بھی شامل ہیں۔ بعض کتابوں کے ایک ایک درجن ایڈیشن نکل چکے ہیں جن سے ان کتابوں کی مقبولیت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔
زیر نظر کتاب ’’ اقبال کہانی‘‘ ان شاہین صفت بچوں کے لیے لکھی گئی ہے جو اقبال کے پیغام کو دنیا بھر میں پھیلانے کا عزم اور جذبہ رکھتے ہیں ۔کتاب کا انداز بیان بہت آسان اور اسلوب بچوں کی سطح کے مطابق ہے۔ مصنف نے علامہ اقبال کی زندگی کے تمام اہم واقعات کو مکالمہ کے دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔
مجھے امید ہے کہ یہ کتاب اقبالیات اطفال میں ایک اہم اور مفید اضافہ شمار ہو گی۔ میں جناب ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر کو اُن کی اِس مفید کاوش پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو کم سن قارئین میں مقبولیت عطا فرمائے۔‘‘
محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب جیسی بین الاقوامی سطح کی علمی وادبی شخصیت کی جانب سے مجھ ناچیز کے متعلق یہ تاثرات میرے لیے متاع زندگی ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ محترم غازی صاحب کو جنت الفردوس کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز فرمائیں اور ہمیں دنیا کی طرح آخرت میں بھی نعمت بھری جنتوں میں ان کی رفاقت نصیب ہو۔ آمین
مرد خوش خصال و خوش خو
مولانا سید حمید الرحمن شاہ
مرگ وزیست اس عالم کون وفساد کا خاصہ ہے۔ یہاں جو ذی روح آتا ہے، وہ موت کا ذائقہ ضرور چکھتا ہے۔ خواہ کوئی کتنا ہی بڑا مرتبہ پا لے، کتنی رفعتوں اور بلندیوں کو چھولے، نجوم وکواکب پر کمندیں ڈال لے، آفتاب وماہتاب کو پامال کر لے، بروبحر کی پہنائیوں میں اتر جائے، خلاؤں وفضاؤں کی تنگنائیوں کو روند ڈالے، تاروں بھری راتوں میں کہکشاؤں کے نقرئی راستے اپنے تصرف میں لے لے اور ارض وسما کے طول وعرض کی حقیقتوں کو پا لے، مگر موت سے مفر ناممکن ہے۔ خالق ارض وفاطر سماء نے کائنات ارضی وسماوی کی تخلیق سے پہلے ہی انھیں فناکرنے کا فیصلہ اور وقت مقرر کر رکھا ہے۔ موت وحیات کا نظام اپنے قبضہ قدرت میں رکھا اور آنے جانے کو بالخصوص سنت بنی آدم کا حکم تکوینی قرار دیا۔ بابا چلاسی فرماتے ہیں:
بو علی سینا وافلاطوں کجا غائب شدند
انبیا را ہم ز دنیا انتقالے دیدہ ایم
مالدارانش چرا بر مال خود فخر ے کنند
مالدارانش چو ما اندر سوالے دیدہ ایم
مگر اشرف المخلوقات کی صفت سے متصف بعض انسان ایسے بھی ہوئے ہیں جو اپنی اجلی سیرت، بلند کردار اور عمل صالح کے باعث یہاں سے جانے کے بعد بھی باقی رہتے ہیں، کیوں کہ وہ صرف آنے کے لیے ہی آتے ہیں۔ ایسے ہی آنے والوں میں ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ بھی تھے جو اگرچہ اب جسم کی مادی متحرک اور متکلم صورت میں ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، لیکن ان کی شوخیت ایک رنگ تک محدود نہ تھی، بلکہ کئی قزحی رنگوں کے حسین امتزاج نے انہیں ایک کہکشاں کی صورت دے دی تھی۔ وہ درس نظامی کے فارغ التحصل فاضل تھے۔ فقہ وقانون کے زبردست ماہر تھے۔ عصری علوم کے بلندپایہ عالم تھے۔ عمیق النظر دانشور تھے۔ مسلم الثبوت ماہر تعلیم تھے۔ محقق ومدقق اور فلسفی ومتکلم تھے۔ بالغ نظر منتظم اور صاحب بصیرت مفکر تھے۔ اعلیٰ پایے کے خطیب ومقرر تھے۔ عظیم المرتبت مصنف ومولف اور قادرالکلام مترجم تھے۔ درویش ومنکسرالمزاج اور تواضع پسند فقیر طبع تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک عظیم انسان تھے۔ سراپائے انس والفت،پیکرپریم وپیار اور مجسمہ محبت ومودت۔
ان کے انگ انگ سے اخلاص وچاہت کے سوتے پھوٹتے تھے اور ہر بال وبن سے شفقت ورافت کے چشمے ابلتے تھے۔ اس ماہر ہفت زبان کی ذات میں کتنے دھنک رنگ جمع ہو گئے تھے اور ان سب رنگوں میں اعلیٰ وبرتر رنگ صبغۃ اللہ یعنی اللہ کا رنگ تھا۔ ومن احسن من اللہ صبغۃ۔ آپ کا وجود باجود سرتاپا صبغۃ اللہ میں رنگا ہو اتھا۔ دنیا میں کسی بھی حوالے سے یاد کیے گئے ، کسی بھی عہدہ ومنصب پر فائز ہوئے ، کسی بھی مرتبہ ومقام تک رسائی حاصل کی، کسی بھی لقب وخطاب سے مخاطب کیے گئے، کسی بھی شرف وکمال سے پکارے گئے اور کسی بھی اعزاز وتمغہ سے نوازے گئے، کبھی بھی اپنی جون نہیں بدلی، کپڑوں سے باہر نہیں آئے، ہمیشہ صبغۃ اللہ کا چولا زیب تن رکھا اور اللہ کے رنگ کے دائرے میں ہی رہے۔ اسی کو وجہ پہچان بنایا، اسی کو زندگی کا مقصد وحید ٹھہرایا اور اسی پر نازاں رہے۔
شاید ایسی ہی طرح د ار شخصیات کے لیے ہشت پہلو کا لفظ وضع کیا گیا ہے اور ہشت پہلو اشخاص وافراد اپنے علم وفہم، بصیرت ونظر، جدوجہد، حسن کردار واعمال اور اعلیٰ اخلاق واخلاص کی وجہ سے مر کر بھی نسیاً منسیاً نہیں ہوتے بلکہ امر ہو کر تاریخ میں زندۂ جاوید رہتے ہیں۔ ایسے انسان ہی ابنائے آدم کی بھیڑ میں عند اللہ اشرف المخلوقات کہلائے اور کرہ ارض پر خلیفۃ اللہ کے لقب سے ملقب کیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب علوم قدیم وفنون جدید کے قران السعدین تھے اور ہنر کہن وعصری کے مجمع البحرین۔ ان کی ذات ستودہ صفات آثار ماضی وحال کے مابین ’’اعراف‘‘ کا درجہ رکھتی تھی۔ جب علما کے درمیان براجمان ہوتے تو عصر حاضر کے بہت بڑے دانشور واسکالر دکھائی دیتے تھے اور جب جدید تعلیم یافتہ طبقے کے مابین رونق افروز ہوتے تو طلبہ وعلما کے ترجمان اور مدارس ومکاتب کے پرزور حمایتی لگتے تھے۔
ان کی ظاہری وضع قطع یقیناًمسٹروں والی تھی اور بودوباش پروفیسروں والی، چال ڈھال ڈاکٹروں کی طرح تھی اور رہن سہن بیورو کریسیوں جیسا جو اکثر علمی تصلب سے تہی دامن ہوتے ہیں اور علم کی گہرائی وگیرائی سے یکسر خالی۔ محض کاغذی ڈگریوں کے بل بوتے پر پھوں پھاں کرتے ہیں اور پنجابی لہجے میں انگریزی کا تڑکہ لگا کر اردو بیچاری کا خانہ خراب کرتے ہیں۔ انہیں اپنی جہالت نما علمیت جتانے کا ہیضہ ہوتا ہے اور بات بات پر مغرب کی ترقی کے حوالے دینے کا ٹھرک۔ ان جہل مرکبوں کو مشرق کی کوئی چیز بھلی نہیں لگتی اور وطن عزیز کی کوئی خوبی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ یہ کورچشم اتنے احسان فراموش ونمک حرام ہوتے ہیں کہ ہمیشہ مشرق کا کھاتے ہیں، مگر زندگی بھر گن مغرب کے گاتے ہیں۔ ان کی آنکھ میں سور کا صرف ایک بال ہی نہیں، سارا سورا سمایا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ مدارس ومکاتب دینیہ کی اجلی ومزکی فضا کے پروردہ طالبان وعلما کو اسی سور مائی نگاہ سے دیکھتے اور انہیں حقیر ورذیل گردانتے ہیں، مگرہمارے فاضل ممدوح اپنے تبحر علمی، وسعت مطالعہ، ذکاوت وذہانت، استحضار وقوت حافظہ، بصیرت وفراست، قدامت وجدیدیت کے امتزاج، مافی الضمیر کے فی البدیہ اظہار کی قدرت، اسلام دشمن قوتوں اور تحریکوں سے آگاہی، دین میں نت نئے پیدا ہونے والے فتنوں اور فتنہ پردازوں پر کڑی نظر، تعلیم وتدریس اور تحریر وتقریر میں یکساں مہارت اور حاضر جوابی کے لاجواب ملکہ جیسی صفات عالیہ کے باعث پروفیسر ہو کر بھی مادر پدر آزاد پروفیسروں سے لگا نہیں کھاتے تھے اور نہ ہی روشن خیال ڈاکٹروں کے قبیلے کے لگتے تھے۔
قادر وکریم قدرت نے ان کے وجود مسعود میں جو اوصاف وکمالات کوٹ کوٹ کر بھر دیے تھے، ان کے حامل اس عہد قحط الرجال میں شاید ہی دکھائی دیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ بہت کم لوگ اس بات سے آگاہ ہوں گے کہ ڈاکٹر صاحب جید وپختہ کار حافظ اور بہترین مجود ومقری تھے ۔ تکلف وتصنع سے گریزاں ، غنا وسرتال سے محترز اور سادہ وفطرتی انداز ولہجے میں تلاوت وقراء ت کرتے تھے۔ ماہ مقدس میں باقاعدگی سے اپنی قیام گاہ پر ہی بصورت تراویح قرآن کریم سنانے کا اہتمام کرتے اور رمضان المبارک کے علاوہ بھی فارغ اوقات میں اس کی تلاوت سے اپنی زبان کو تر رکھتے تھے۔ بالخصوص حالت سفر میں لہو ولعب اور لایعنیات میں مشغول ہونے کے بجائے احسن الکتاب کتاب اللہ کی تلاوت میں ہی مصروف رہتے تھے۔ نیز ان کی ان گنت صفات عالیہ وکمالات عمدہ میں سے ایک اعلیٰ صفت وخوبی یہ بھی تھی کہ ہمیشہ باوضو رہتے اور کبھی اس سے سرد مہری وغفلت نہیں برتتے تھے۔
آں ممدوح اپنے تبحر علمی وتفوق عملی اور عمق وتنوع کے باوجود طبعاً متواضع ومنکسرا لمزاج تھے۔ تصنع وتکلف سے مبرا اور بناوٹ وظاہر داری سے سراسر پاک تھے۔ دسیوں اعلیٰ عہدوں پر متمکن رہے اور بیسیوں اہم مناصب پر رونق افروز کیے گئے، مگر وضع داری، رکھ رکھاؤ اور مروت کا دامن کسی حال میں نہیں چھوڑا اور نہ ہی متانت ووقار کے دائرے سے کبھی باہر آئے۔ پرویزی دور میں وزارت مذہبی امور کا قلم دان انہیں سونپا گیا اور سچ یہ ہے کہ ملک عزیز کی تاریخ میں پہلی بار، اور شاید آخری بھی، حق بحقدار رسید کا مظاہرہ کیا گیا، ورنہ عموماً چنوں کے کھیت کی رکھوالی گدھوں، خربوزوں کے فصل کی نگرانی گیدڑوں او ر شکار کیے گئے جانوروں کی حفاظت گدھوں کو ہی سونپی گئی ہے اور نااہل لوگ ہی وزارت کی کرسی پر بطور آرائش وزیبائش سجائے گئے ہیں۔ الغرض، اسی اثنا میں آں مکرم کے والد محترم جناب حافظ محمد احمد فاروقی کا پشاور میں انتقال ہو گیا اورآپ ان کی تجہیز وتکفین اور جنازہ وتدفین میں شرکت کے لیے پشاور تشریف لے گئے تواپنی گاڑی وعملہ کے افراد کو گھر سے دور چھوڑ گئے او ر ہر قسم کے پروٹوکول سے بے نیاز ومستغنی پیدل چل کر اکیلے گھر پہنچے ۔
زعشق ناتمام ما جمال یار مستغنی
بہ آب ورنگ وخال وخط چہ حاجت روئے زیبا را
پھر جب جنازہ وتدفین ہو چکی اور لوگ دوپہر کو آرام وقیلولہ کرنے لگے تو یہ زاہد مرتاض وشب زندہ دار بھی مکان کے کسی کونے کھدرے میں سمٹ سمٹا کر زمین پر ہی دراز ہو گئے۔ چونکہ مکان تنگ وچھوٹا تھا، مہمانوں کی آمد وآورد تھی اور مرگ وموت کا محل وموقع بھی تھا، ایسے میں سکھ چین کہاں، تسکین وطمانیت کیسی اور آرام وراحت کیونکر! چند گھڑیاں ہی لیٹ پائے تھے کہ آواز آئی، حضرات! ایک ضرورت شدیدہ کے باعث کمرہ ہذا خالی کر دیجیے۔ اس صدائے رحیل پر لبیک کہتے ہوئے دیگر اشخاص وافراد کے ساتھ وزیر موصوف بھی اٹھ کھڑے ہوئے، دائیں بائیں نظر ڈالی مگر نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ جب کہیں سر سمانے کی جگہ دکھائی نہیں دی تو کسی کو بتائے بغیر چپکے سے نکلے او ر گھر کے قریب ہی ایک خرابہ نما اور خام وناپختہ مسجد، جس کے درودیوار مٹی گارے سے بنائے گئے تھے اور جو خس وخاشاک سے مسقف کی گئی تھی، اس میں محو استراحت وخواب ہوگئے۔ تھوڑی دیر بعد کہیں سے ان کے نام ٹیلی فون آیا اور افراد خانہ اس طرف متوجہ ہوئے، لیکن تلاش بسیار کے باوجود کہیں دستیاب نہیں ہوئے۔ اس پر فکرو تشویش ہوئی اور ہر پیر وجواں ومرد وزناں فکرمند وسرگرداں ہوئے کہ آخر ڈاکٹر صاحب گئے تو کہاں گئے۔ جب سب تھک ہار چکے تو کسی نے یونہی سوچا کہ لگے ہاتھوں مسجد میں بھی جھانک لیں۔ جیسے ہی اس میں جھانکا تو حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ آں موصوف کچی مسجد کے کچے صحن میں کچی دیوار کے زیر سایہ اپنے جوتے سر کے نیچے رکھے غم جاں سے بے پروا، غم جاناں سے بے نیاز اور غم جہاں سے بے فکر، بڑے پرسکون انداز میں سو رہے ہیں۔
چوآہنگ رفتن کند جان پاک
چہ بر تخت خفتن چہ بر روئے خاک
یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب موسم گرما کا جو بن تھا اور سایہ دیوار ہنوز مثل اول تک نہیں پہنچا تھا۔ پشاورشہر کی حدت وتمازت ویسے بھی بہت مشہور ہے۔ کوئی پنکھا تک موجود نہیں اور سایہ دیوار بھی ناکافی ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے اس قناعت شعار بندے نے اسی پر اکتفا وقناعت کر لی اور جب جگایا گیا تو بڑے اطمینان کے ساتھ الحمدللہ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور پڑھتے ہوئے اٹھے، گردسے اٹے کپڑے جھاڑے اور گھر آ گئے۔
ڈاکٹر صاحب کی سیرت کے سارے رنگ حسین، سارے پہلو خوبصورت اور سارے اطوار من موہ لینے والے تھے اور بالخصو ص آپ کے حسن کردار کایہ تابناک انداز ہم جیسے ناہنجاروں کے لیے یقیناًدرس موعظہ اور لائق تقلید وعمل ہے کہ موصوف اپنے والدین کے از حد تابع دار وفانبردار اور مبالغہ کی حد تک ان کے مطیع وخدمت گزار تھے۔ ان کے والدمکرم کے مزاج میں جلالیت اور طبیعت میں تندی وتیزی کا عنصر کچھ زیادہ ہی در آیاتھا کہ بات بات میں آتش جیولہ بن جاتے اورکسی رو رعایت کے بغیر کھری کھری سنایا کرتے تھے اور بسا اوقات تو دو نکتی سنائے بغیر بھی نہیں رہتے تھے، مگر حیف ہے ان کی برخورداری پر، آفرین ہے ان کے تحمل وبردباری پر اور شاباش ہے ان کی اطاعت شعاری پر کہ سب کچھ خندہ روئی ورخشندہ جبینی سے سنتے اور اف تک نہیں کرتے تھے۔
غالباً ان کی وزارت کے زمانہ میں آں محترم فیصل مسجد کے اندر معتکف ہوئے اور وزیر موصوف بنفس نفیس سحر وافطار کا سامان لے کر مسجد میںآتے، انہیں سحری کراتے اور لوگوں کے سامنے ان کی جلی کٹی سن کر مسکراتے رہتے تھے۔ اگر کوئی انہیں سمجھانا چاہتا تو ناراضگی کا اظہار کرتے اور فرماتے، یہ میرااور میرے بابا کا معاملہ ہے اور آپ اس معاملہ میں مداخلت کرنے والے کون ہوتے ہیں۔ گویا
میان عاشق ومعشوق رمزیست
کراماً کاتبیں را ہم خبر نیست
لاریب ، ڈاکٹر صاحب انتہا درجہ کے پار سا اور پرہیز گار انسان تھے اور دوسروں کے لیے تتبع وتقلید کی علامت ونشان۔ زندگی کی آخری سانس تک اعلیٰ عہدوں ومناصب پر فائز رہے، مگر زندگی بھر دفتری وسرکاری ذمہ داریوں کے دوران کبھی حکومتی مراعات سے ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا اور سرکاری خزانہ کو ایک حبہ تک کا نقصان نہیں پہنچایا۔ صرف مقررہ مشاہرہ پر ہی گزارا کرتے تھے اور ہمیشہ صابر وشاکر رہے۔
ڈاکٹر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ ذہانت فطانت عطا فرمائی تھی، بے حساب استحضار اور قوت حفظ کاجوہر بخشا تھا اورلامتناہی حاضر جوابی کی صلاحیت سے ہم کنار کیاتھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی اور جس کسی نے ان سے ادق سے ادق موضوع پر گفتگو کی یا کسی عقدۂ لاینحل اور مسئلہ مشکل کے متعلق استفسار کیا، آپ نے فی البدیہ مسکت اور تسلی آمیز جواب سے اسے شاد کام کیااور سننے والوں نے یہی جانا کہ موصوف اسی موضوع کے ماہر اورمتخصص ہیں۔
آپ چونکہ معتدل مزاج اور معتدل شخصیت کے حامل اور مثبت سوچ وفکر رکھنے والے عالم تھے،اس لیے ہر طبقہ فکرکو مطمئن کرنے کا فن خوب جانتے تھے اور اپنی شیریں مقالی، حسن عمل اور اعلیٰ اخلاق وکردار نیز انداز تکلم، طرز استدلال وحسن بیان اور حاضر جوابی کا باعث جلد دوسروں کا من موہ لیتے تھے۔ ہمارے مزاج میں عموماً افراط وتفریط کا غلبہ ہے اور بے اعتدالی وغلوپسندی کی فراوانی اور ہم ہرمعاملے میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں اورہر پہلو سے حدود کے دائرہ سے تجاو ز کرنے میں دریغ نہیں کرتے۔ دعوت وتبلیغ ہو یا جہاد وقتال ، سیاست وسیادت ہو یا شریعت وطریقت، مدح ومنقبت ہویاتردید وتنقید، ذکر وتذکیر ہو یا ریاضت وعبادت، اقتصاد ومعاش ہو یا مذاکرہ ومکالمہ، بحث ومناظرہ ہو یا رویت ہلال کا مسئلہ، ذرائع ابلاغ وسائنس کے جدید وسائل سے استفادہ کا معاملہ ہو یا فقہ وفتاویٰ کی طرف مراجعت کی نوعیت، ہر جگہ ومقام اور ہر شعبہ وطریق میں اونچ نیچ کے عفریت نے اپنے خونخوار پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ کوئی تو اس حد تک تنگ نظر ہے کہ اپنی سوچ وفکر کی تنگنائیوں میں چند رسومات جاہلانہ کو ہی شریعت سمجھتا اور مسائل فرقہ وارانہ کو دین حق یقین کرتا ہے، ظاہری شکل وصورت کو متشرع بنانے کے مرض میں مبتلا ہو کر متشددانہ رویہ اپناتا ہے اور بزعم خویش اسے افضل الجہاد کا نام دیتا ہے اور کوئی مذہب کے معاملے میں اتنا وسیع الظرف ہے کہ ایمان وکفر، توحید وشرک اور اصل اور بدعت کا فرق بیان کرنے کو بھی فرقہ واریت کے اسم سے موسوم کرتا اور ادائیگی فرائض کو کار عبث خیال کرتا ہے۔ کوئی اس قدر انتہا پسند ہے کہ اپنے مخالفین کو ابوجہل وابولہب کے القاب سے نوازتا اور ابن ابی اور ابن سبا سے بھی بدترسمجھتا ہے۔ اس کے برعکس اپنے ہم مسلک وہم مشرب مشائخ کو بغدادی وجیلانی کا ہم پلہ یقین کرتا اور رازی وغزالی سے برتر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، مگر ہم نے آں ممدوح کے دامن کو اس طرح کی کج فکری کے داغوں سے یکسر پاک ومنزہ ہی دیکھا ہے۔ تحریر ہو یا تقریر، خطبہ ہو یا خطاب، وعظ ہو یا مقالہ، ہمیشہ ’’خیر الامور اوسطہا‘‘ کے دامن کو تھامے رکھا اور کبھی سرمو اعتدال کی راہ سے نہیں ہٹے اور نہ زندگی کے کسی موت پر جادۂ حق سے صرف نظر کیا۔
آں موصوف نے مختلف موضوعات پر اردو، عربی اور انگلش وغیرہ مختلف زبانوں میں متعدد وقیع وعلمی اور تحقیقی کتابیں تالیف کیں اور ملکی وبین الاقوامی کا نفرنسوں میں ان گنت محققانہ مقالے پیش کیے جنہیں علم کی دنیا میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا، دانشوروں کی طرف سے سراہا گیا اور حکما ومحققین کی جانب سے زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔ ان مقالات میں سے سلسلہ ہاے محاضرات کو بالخصوص اپنی علمیت وجامعیت، تحقیق وتفحص اور وسعت معلومات کے اعتبار سے علمی حلقوں میں بڑی پذیرائی ملی اور علم دوست علما وذی علم فضلا نے قدرو وقعت کی نظر سے دیکھا ۔ یہ محاضرات جو مختلف عنوانات وموضوعات کے حوالے سے مستورات کے مختلف اجتماعات میں مختصر اشاراتی نوٹس کی مدد سے پڑھے جاتے رہے ہیں، بعد میں زیور طبع سے آراستہ ہو کر سات ضخیم جلدوں میں اشاعت پذیر ہوئے اور ہر جلد میں ایسے بارہ مقالے جمع کیے گئے جو متعلقہ موضوعات پر نادروعجیب معلومات کا بے بہا ومنفرد مجموعہ ہیں۔
محاضرات کے اولین مجموعہ کو محاضرات قرآن، ثانی کو محاضرات حدیث، ثالث کو محاضرات سیرت، رابع کو محاضرات فقہ، خامس کو محاضرات شریعت، سادس کو محاضرات معیشت اور سابع کو محاضرات سیر بین الاقوام کے خوبصورت ناموں سے موسوم کیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کی ایک اور مایہ ناز تخلیق ’’تعلیمات قرآن علامہ اقبال کی نظر میں‘‘ ہے جو ڈاکٹر صاحب نے اپنی صاحبزادیوں کو محض حافظہ ویادداشت کی بنیاد پر زبانی املا کروائی تھی۔ گوظاہر میں یہ مختصر لگتی ہے، لیکن اپنے موضوع کے اعتبار سے انتہائی جامع وعلمی کتاب ہے جس کے مطالعہ سے ڈاکٹرصاحب کی وسعت معلومات اور فکر ونظر کی ہمہ گیری کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال کے فکر وفلسفہ سے بھی کماحقہ آگاہی ہوتی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ صرف یک در یا در کوزہ ہی نہیں، جمیع ابحار ویموم کو کوزہ میں جمع کیا گیا ہے۔
ان کی آخری تصنیف غالباً ’’تاریخ الحرکۃ المجددیہ‘‘ہے جسے قطر میں قیام کے دوران عربی زبان میں احاطہ تحریر میں لایا گیا ہے اور کتاب کامحور ومرکز حضرت مجدد الف ثانیؒ کی شخصیت کو ٹھہرایا گیاہے۔ ان کے آثار واحوال اور تصنیفات وخدمات کا علمی جائزہ لیا گیا ہے اور ساتھ ہی ان کے پچاس سے زائد منتخب مکتوبات کا فارسی سے عربی میں ترجمہ بھی دیا گیا ہے۔ کتاب کے مطالعہ سے جہاں ان کی فکری گہرائی ونظری گیرائی کی غمازی ہوتی ہے، وہاں عربی زبان کی اصالت وقادرالکلامی اور فارسی زبان کی گرفت وبندش کا پتا بھی چلتا ہے۔ عربی کی فصاحت وبلاغت دیکھ کر معلوم ہوتا ہے عجمی نہیں، کوئی عربی نژاد وعربی النسل ادیب وسخن ور عربی زبان کے شہ پارے پیش کر رہا ہے اور فارسی کی عربی میں ترجمانی سے لگتا ہے ، کوئی فردوسی کا ہمزاد موشگافیاں کر رہا ہے۔
ڈاکٹر صاحب جہاں میدان تحریر وکتابت کے شہسوار تھے، وہاں تقریر وتبیان کی دنیا میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ دیگر خطبا ومقررین کے برعکس ان کے خطاب وتقریر کا انداز ہمیشہ منفرد ہوتا تھا۔ سرتال وغنائیت سے کلیتاً اجتناب کرتے تھے اور تمہید طولانی سے سراسر گریزاں ہوتے تھے۔ سادہ وصحیح لہجے میں مختصر حمد وثنا کے الفاظ دہراتے ،سنجیدگی ومتانت سے قرآن کریم کی چند آیات تلاوت کرتے اور اس کے بعد متعلقہ موضوع پر بولنا شروع کر دیتے اور پورے تسلسل و روانی سے بولتے ہی چلے جاتے تھے۔ ان کے بیان سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دریا بپھرا ہو اہے اور اس کی موجیں اپنی طغیانی پر اٹھکیلیاں کر رہی ہیں۔
ڈاکٹر صاحب گو بنیاد ی طور پر ایک فقیہ ومقنن اور حدود شرعیہ کے فاضل وقوانین اسلامی کے ماہر تھے، لیکن دیگر موضوعات میں بھی ان کے فکرکی رفعتیں اور شعور وآگہی کی وسعتیں کچھ کم نہ تھیں۔ علوم اسلامی کے جتنے شعبے اور فنون وہنر کے جتنے عنوان ہیں، اگر غو ر کیا جائے تو وہ سب ایک مسلک وحدت سے منسلک اور باہم ایک دوسرے مربوط ومنضبط کیے گئے ہیں اور یہ وحدت ویکجائی اور ارتباط وانضباط ہی انھیں دیگر علوم وفنون سے ممیز ونمایاں کرتے ہیں۔ چنانچہ کلام اللہ کو سنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ وجدا کر کے دیکھنا ناممکن ہے، فقہ کو قرآن وسنت سے الگ کرکے سمجھنا ’’ کوہ کن وکوہ درپیش‘‘ کے مترادف ہے اور تاریخ وسیرت باہم لازم وملزوم ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن وسنت سے بھی جڑے ہوئے ہیں ۔یہی حال دیگر جملہ علوم وفنون کا ہے اور محترم ڈاکٹر صاحب کی ذات ستودہ صفات اس وحدت علوم اسلامی کی عملی وبین مثال ونظیر تھی۔ آپ تمام علوم اسلامیہ سے بہرہ ور تھے اور تمام فنون عصریہ سے واقف، آثار قدیمہ سے باخبر تھے اور روایات کہنہ سے آشنا، طریق جدید کی جدت کاریوں کے شناور تھے اور نئے فنون وہنر کی فتنہ سامانیوں وشرانگیزیوں سے ہوشیار۔ بعض علوم وفنون تلمیذاً حاصل کیے اور سبقاً پڑھے تھے اور بعض کثرت مطالعہ کی مرہون منت تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریر وتقریر سے قدامت وجدیدیت کے سب رنگ دھنکی رنگوں کی طرح ہم آہنگ اور غیر محسوس انداز میں جڑ ے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب ۱۹۵۰ء کو حافظ محمد احمد فاروقی کے ہاں پیدا ہوئے جن کا علماء کاندھلہ کے اس مشہور علمی خاندان سے تعلق تھا جن میں مولانا محمد ادریس کاندھلوی، مولانا محمد علی کاندھلوی اور مولانا عبدالمالک کاندھلوی وغیرہ جیسے عظیم المرتبت ونابغہ روزگار رجال اعاظم گزرے ہیں۔ اس خاندان کی ارادت وبیعت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ سے تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے تعلیم کی ابتدا قرآن کریم سے کی اور اسے آٹھ برس کی عمر میں ازبر حفظ کر لیا ۔ اس کے بعد درس نظامی کی طرف متوجہ ہوئے اورابتدائی کتابیں کراچی کی مشہور دینی درسگاہ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں پڑھیں۔ متوسط کتب جامعہ اشرفیہ لاہور اور منتہی تعلیم القرآن راولپنڈی میں مکمل کیں۔ درس نظامی کی تکمیل کے بعد عصری علوم کی تحصیل کا شوق چرایا اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے پہلے عربی میں ماسٹرز کیا اور پھر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ آں ممدوح عالم اسلام کے ان معدودے خوش نصیب فضلا میں سے تھے جنھوں نے صرف سترہ برس کی عمر میں مسندتدریس کو رونق بخشی اور اسلامی علوم وفنون اور متداول وفنی کتب کی تدریس ان کا لازمہ حیات اور زندگی کا جزو لا ینفک رہی۔
راقم اثیم کی ڈاکٹر صاحب سے یاد اللہ اس وقت قائم ہوئی جب موصوف دعوہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل اور شاہ فیصل مسجد اسلام آباد کے خطیب لبیب تھے اور یہ تعلق وقت کے ساتھ ساتھ اکرام واحترام سے گزر کر تقدیس وعقیدت کے قالب میں ڈھل گیا ۔ اس شناسائی وآشنائی کی صورت وسبیل یہ بنی تھی کہ پروفیسر محمد امیرالدین مہر سربراہ تربیت ائمہ کورس، شعبہ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد ۱۹۸۸ء میں میرے سفر مقدس کے رفیق وساتھی رہے تھے۔ موصوف انتہا درجہ کے صاحب بر وتقویٰ، بلند پایہ عالم وفاضل اور بلا کی ذکی وذہین شخصیت تھے۔ فکر مودودی کے دلدادہ وشیدا تھے اور سید مودودی مرحوم کی تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ کو سندھی زبان میں انہوں نے منتقل کیا تھا اور دیگر کتب کثیرہ بھی سندھی میں تالیف وتصنیف کی تھیں۔ پرانی وضع کے بزرگ تھے اور انتہا درجہ کے وضع دار وبامروت انسان تھے۔ یاروں کے یار اور ہمہ یاراں دوزخ وہمہ یاراں بہشت کا نظریہ رکھتے تھے۔ انتہائی خلیق وملنسار اور انتہائی مہمان نواز آدمی تھے۔ اکیڈمی میں جب بھی کوئی تقریب منعقد ہوتی ،موصوف مجھے ضرور یاد فرماتے اور ان کی وساطت سے حضرت ڈاکٹر صاحب کی زیارت ولقا کی سعادت بھی حاصل ہو جاتی تھی۔ میں جب بھی اکیڈمی میں حاضر ہوتا، ڈاکٹر صاحب اعلیٰ ظرفی وبڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیشہ کھڑے ہو کر استقبال کرتے، گلے لگا کر جی آیاں نوں کہتے اور مصافحہ فرما کر احوال وخیریت دریافت کرتے تھے۔ جب بھی ملتے، یہ ضرور فرماتے کہ میں از اول تا آخر آپ کی نگری کا فرد، آپ کی برادری کا رکن اور آپ کے قبیلے کا ہی ممبر ہوں، اگرچہ حالات نے مجھے کہاں سے اٹھا کر کہاں پہنچا دیا ہے، تاہم میں کسی صورت بھی نہ تو کبھی اپنے قبیلے کو بھولا ہوں اور نہ ہی بھول سکوں گا، خواہ تحت الثریٰ میں رہوں یا بام ثریا پربسوں۔ بہرحال میں تمہارا ہوں اور تمہارا ہی رہوں گا۔
مجھے ہمیشہ ان کے مشاغل ومصروفیات اور سرکاری ذمہ داریوں کا احساس رہتا جس کے پیش نظر میں جلد اجازت لینے کی کوشش کرتا، لیکن ڈاکٹر صاحب اپنی بے پایاں محبت وشفقت، بے حساب اخلاص مروت اور بے انتہا حقیر پروری وخوردنوازی کے تحت ’’ابھی آئے اور ابھی جانے کا ارادہ ہے‘‘ کہہ کر میری زبان بند کر دیتے تھے۔ پر تکلف خورونوش کا دور چلتا اور کتنی دیر تک بے تکلفانہ محفل جمی رہتی۔ علمی لطائف وحکایات کے تبادلے ہوتے،شائستہ وشستہ پھلجھڑیاں چھوڑی جاتیں اور مہذب وباوقار قہقہوں کا تبادلہ کیاجاتا تھا اور اس کے ساتھ مختلف مسائل وموضوعات بھی زیر بحث رہتے اور کئی لا ینحل عصری عقدے بھی موضوع سخن بنتے تھے۔ سچ یہ ہے کہ ہر محفل میں میر محفل وشمع محفل بلکہ جان محفل ومان محفل آپ ہی ہوتے تھے۔ جب محفل برخواست ہوتی تو آں روح محفل، اکیڈمی کی مطبوعہ کتب ہدیۃً عنایت کرتے اور اپنی نئی چھپنے والی تالیف یا تصنیف بھی عطا فرماتے تھے۔
جب ڈاکٹر صاحب پرویزی دور حکمرانی میں وفاقی وزیر مذہبی امور بنائے گئے تو کچھ عرصہ کے لیے میل ملاپ وسلسلہ جنبانی میں تعطل در آیا۔ دریں اثنا ان کا دو تین بار تحیہ وسلام بھی آیا اور یہ پیام بھی کہ آپ اسلام آباد میں آباد ہیں، مگر افسوس اتنا عرصہ بیت جانے کے باوجود ہمیں یاد نہیں کیا ،کسی طرح کا کوئی رابطہ نہیں فرمایا۔ میں نے جواباً عرض کیا: شاہوں کے مقبروں سے الگ دفن کیجیو، مجھے گور غریباں پسند ہے۔ مخدومی! آپ ایک ایسے خبیث الفطرت وغلیظ النفس شخص کی کابینہ کے رکن رکین ہیں جس کے نام سے ہی مجھے طبعاً نفرت اور اس ذات کے تصور سے گھن آتی ہے۔ ساحر لدھیانوی مرحوم نے کہا تھا:
تاج تیرے لیے اک مظہر الفت ہی سہی
تجھ کو اس وادئ رنگیں سے عقیدت ہی سہی
میرے محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی
ڈاکٹر صاحب کو معلوم تھا کہ میرا حضرت ڈاکٹر محمد حسین للٰہی مرحوم سے خصوصی تعلق ہے۔ بنا بریں انھوں نے حضرت للٰہی مرحوم ومغفور سے رابطہ فرما کر میری روش اور طرز فکر کے متعلق شکوہ کیا اور کہا کہ حضرت! حمید الرحمن سے فرما دیجیے، جس شخص کے نام اور کردار سے آپ کو نفرت ہے، مجھے بھی اسی طرح بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ کراہت ہے۔ میں محض یہ سوچ کر اس بد بخت کی کابینہ میں شامل ہوا تھا کہ شاید کوئی اصلاح وصلاح اور ہدایت وراستی کا پہلو نکل آئے، مگر یہ میری بھول اور میری زندگی کی بھیانک خطا تھی۔ میں نے جب قریب ہو کر دیکھا تو اسے سراپا رجس ونجس بلکہ غلاظت وگندگی اور مجسمہ رذالت وضلالت پایا۔ اب میں نے اس خسیس سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عملاً تو کب کا فارغ ہو چکا ہوں، صرف رسمی وکاغذی کارروائی باقی ہے۔ آپ جلد ذرائع ابلاغ سے میرے مستعفی ہونے کی خبر سن لیں گے اور یہ بھی کہ میں حکومت قطر کی دعوت پر قطر چلا جاؤں گا۔
حضرت للٰہی ؒ نے مجھے اس ساری صورت حال سے آگاہ کیا اور فرمایا: اب ان کی طرف سے دل میں کسی قسم کا کوئی تکدر اور میل نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے عرض کیا، حضرت میری سوچ وفکر کا مرکز ومحور صرف الحب للہ والبغض للہ ہے۔ اگر انھیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے تو میرا دل بھی صاف ہے۔ حضرت للٰہی نے انھیں اس بات سے مطلع کیا اور ساتھ میرا رابطہ نمبر بھی دے دیا۔ چند دن بعد یہ خبر خوش کن سامعہ نواز ہوئی کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی نے وزارت مذہبی امور سے استعفا دے دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہاتف کی یہ غیبی آواز بھی کانوں میں گونجی: میں محمود احمد غازی بول رہا ہوں، آپ سے ملنے کی خواہش ہے۔ کیا یہ خواہش یونہی ناتمام رہے گی؟ میں نے عرض کیا: حمید سر کے بل حاضر ہوا چاہتا ہے۔ اب میرے من کی خلش بھی ویسی ہی ہوگئی ہے جیسی آپ کے جی کی بے قراری ظاہر کرتی ہے۔
الفت کا جب مزا ہے کہ ہوں وہ بھی بیقرار
دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی
ڈاکٹر صاحب کی صحت آخر وقت تک لائق رشک تھی اور تندرستی قابل حسرت۔ انہیں جس نے بھی دیکھا اور جب بھی دیکھا، یہی جانا کہ آں موصوف سدابہار جوان رعنا ہیں۔ نہ کسی روگ ظاہری کے اسیر تھے اور نہ ہی کسی مرض باطنی میں مبتلا، مگر موت کا وقت مقرر ہے۔ جب جس کی اجل مسمی آ جاتی ہے اور وقت مقرر پورا ہوجاتا ہے تو وہ کسی کے ٹالنے سے نہیں ٹلتا۔ جو ہونا ہوتا ہے، وہ ہر صورت میں ہو کر رہتا ہے۔ مجال نہیں کہ اس میں ایک لمحے کی تقدیم یا تاخیر ہو جائے۔ اللہ کے فیصلے میں بلاوے کا وقت آ گیا اور وہ خراماں خراماں اپنے بلاوے پر لبیک وسعدیک کہتے ہوئے سوئے اعلیٰ علیین چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے، جوار میں جگہ نصیب ہو، درجات بلند ہوں اور سیئات سے عفو ودرگزر کا معاملہ فرمایاجائے، آمین۔
ایک اک کر کے ستاروں کی طرح ڈوب گئے
ہائے کیا لوگ میرے حلقہ احباب میں تھے
اب جب کہ ان کا چاندی جیسا اجلا روپ اور سونے جیسا سنہری سروپ ہمیشہ کے لیے نگاہوں سے اوجھل ہو گیا ہے، صرف حسرت بھری یادیں او ر فکر بھری باتیں سوہانِ روح بن کر باقی رہ گئی ہیں، ایسے میں ان کے روپ وسروپ اور چہرے مہرے کے ان مٹ نقوش جو لوح خاطر پر ثبت وکندہ ہیں، انہیں برنگ پیرہن کاغذی، احرف والفاظ کے قالب میں ڈھال کر تصویری خاکہ کی صورت میں طشت ازبام وہویدا کر رہا ہوں، کیوں کہ
آج نظر کے سامنے حسن ہوا جو بے نقاب
دیکھ لیا قریب سے رنگ طلوع آفتاب
رخصت دوست کا سماں یوں نظر میں ہے کہ جوں
پھیل رہی ہو تیرگی ڈوب رہا ہو آفتاب
معتدل ومائل بہ طوالت قامہ، گٹھا ہوا وگداز جسم، نہایت متناسب اعضا وجوارح، گندمی ومائل بہ ملاحت رنگت، تیکھے ودلکش متین نقش، فراخ وچوڑا ماتھا، اس پر قسام ازل کی حسن قسمت کا چند رکھا، جھیل جیسی گہرائی وگیرائی کی غماز آنکھیں، بھرے ہوئے خم دار وکشادہ ابرو، پرکشش وپر گوشت ماکھڑا، رس بھرے رسیلے شفتین، ستواں و شہابی ناک، صدف فم وغنچہ دہن، مسٹرانہ وغیر مسنون داڑھی، کبھی شلوار وقمیص اور قراقلی ٹوپی زیب تن اور کبھی انگریزی سوٹ بوٹ سے آراستہ بدن۔ افسوس جن کی زندگی ماہتاب سے تابندہ وتابناک تھی، وہ اپنی زندگی کی ساٹھ بہاریں دیکھ کر اس دنیاے دوں سے رخصت ہو گئے۔
کھوئیں گے ہمیں لوگ تو پھر پانہ سکیں گے
یوں جائیں گے دنیا سے کبھی آ نہ سکیں گے
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں
ڈاکٹر محمد امین
ڈاکٹر محمود احمد غازی بھی راہئ ملک عدم ہوئے اور اتنے اچانک کہ ابھی تک یقین نہیں آتا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ غالباً ۱۹۹۳ء کی بات ہے، جب ہم مرحوم ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک صاحب کے ساتھ ایک نیم سرکاری تعلیمی فاؤنڈیشن میں ڈائریکٹرنصابیات کے طور پر کام کرتے تھے۔ہم نے اڑھائی تین سال کی محنت سے پہلی سے بارہویں تک کے نصاب کو از سر نو اسلامی تناظر میں مدون کیا۔ اب اس نصاب کے مطابق نصابی کتب مدون کرنے کا مرحلہ درپیش تھا، لیکن ٹرسٹیوں اور ملک صاحب میں اختلافات کے پیش نظر کام ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ ہم نے چند ماہ انتظار کیا، لیکن جب دیکھاکہ اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھتا تو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ’’ادارہ تحقیقات اسلامی‘‘ کے سربراہ اور اپنے مہربان ڈاکٹر ظفر اسحق انصاری صاحب سے اس کا ذکر کیا کہ کسی دوسری مصروفیت کا متلاشی ہوں۔
چند دن بعد ان کا فون آگیا کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب سے آکر ملو۔ وہ ان دنوں ڈائریکٹر جنرل دعوۃ اکیڈیمی تھے۔ میں جا کر ان سے ملا۔ سانولا رنگ، لمبا قد اور لباس میں قدیم و جدید کا امتزاج یعنی سوٹ کے ساتھ نکٹائی لیکن سر پہ جناح کیپ اور چھوٹی داڑھی۔ خندہ پیشانی سے پیش آئے اور پوچھنے لگے کہ آپ کی زیادہ تردلچسپی اسلامیات کے کن شعبوں سے ہے؟ میں نے کہا: ’’مزاجاً دعوت سے، لیکن تعلیمی اسناد کے لحاظ سے اسلامی قانون سے‘‘۔ کہنے لگے خیر، ان شاء اللہ دونوں اپنے بس میں ہیں۔ (وہ ان دنوں شریعہ اکیڈیمی کے انچارج بھی تھے)۔ چنانچہ انہوں نے میری تعیناتی شریعہ اکیڈیمی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر کرا دی۔ وہاں سول اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ججوں کی اسلامی قانون میں تربیت کے علاوہ شریعہ میں تالیف و تدوین کا شعبہ بھی میرے سپرد تھا۔ وہ ان شعبوں میں میری تجاویز اور رپورٹوں پر عموماً من و عن صاد کر دیتے۔ ایسے ہی ایک موقع پر میں نے نوٹ لکھا کہ مجھے ان کاموں کا کوئی تجربہ نہیں اور یہاں کوئی ایسے ساتھی بھی نہیں جن سے مشاورت کی جاسکے اور یہ بڑے بڑے علمی منصوبے ہیں اور آپ بلابحث و ادنیٰ تغیر ان پر صادکردیتے ہیں۔ جواب میں ’’من تواضع للہ رفعہ‘‘ کا مختصر جواب لکھ کر یہ باب بند کردیا۔ مطلب یہ کہ وہ اپنے ساتھیوں پر اعتماد کرتے تھے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور ان کی علمی ترقی پر خوش ہوتے تھے۔
ان دنوں میری فیملی لاہور میں تھی، لہٰذا میرے پاس کافی وقت بچ جاتا اور میں نے نوائے وقت میں ہفتہ وار کالم ’’فکر و نظر‘‘ لکھنا شروع کردیا۔ ایک دفعہ میں مساجد میں اسلامی تعلیم کے موضوع پر کالم لکھنا چاہتا تھاتو میں نے بعض معلومات کے لیے ایک جاننے والے صاحب کو وفاقی وزارت تعلیم میں فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ جنرل ضیاء الحق صاحب نے ایک سروے کرایا تھا جس سے پتہ چلا کہ ہماری مساجد میں سے صرف ۲۵ فیصدایسی ہیں جہاں باقاعدہ سند یافتہ امام ہیں جو عوام کو قرآن و حدیث کا درس دے سکتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار چونکا دینے والے تھے۔ اتفاق سے اسی شام کسی وجہ سے مجھے ڈاکٹر غازی صاحب کے گھر جانا پڑا۔میں نے انہیں بتایا کہ مجھے اپنے کالم کے سلسلے میں یہ اعداد و شمار ملے ہیں۔کہنے لگے، اس بات کو ہرگز اپنے کالم میں نہ لکھنا کیونکہ اس سے علما کی ہوا خیزی ہوگی اور علما چونکہ ہمارے معاشرے میں دین کے نمائندے ہیں، لہٰذا اس سے دین کی بھی ہوا خیزی ہوگی۔
اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ایک سالہ قیام کے دوران ہی مجھے یہ آئیڈیا سوجھا کہ اسلامی مشاورتی کونسل چونکہ غیر فعال ہے، لہٰذاکیوں نہ پرائیویٹ سطح پر مختلف مسالک کے علماے کرام اور اسلامی سکالرز پر مشتمل ایک علمی مجلس ایسی بنائی جائے جو معاشرے کو درپیش مسائل میں اسلامی حوالے سے غور کرکے اپنی سفارشات عوام اور حکومت کے سامنے لائے تاکہ اگر وہ چاہیں تو اس سے استفادہ کرلیں۔ میں یونیورسٹی میں نیا اور ناتجربہ کار تھا اورغازی صاحب کا جونیئرتھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس معاملے میں میری بھرپور حوصلہ افزائی کی اوراس منصوبے کو آگے بڑھانے میں میرے ساتھ مل کر کام کیا۔ مجوزہ ادارے کی تشکیل کے لیے بلائے گئے ہر اجلاس میں پرجوش طریقے سے شریک ہوتے بلکہ بہاول پور یونیورسٹی سے آئے ہوئے اپنے برادر نسبتی ڈاکٹر یوسف فاروقی صاحب کو بھی اپنے ساتھ لاتے۔(اس معاملے میں معروف اہل حدیث عالم مولانا عبدالغفار حسن مرحوم نے بھی ہمارا بھرپور ساتھ دیا) لیکن برا ہو ’’معاصرت‘‘ کا کہ یونیورسٹی کی ایک سینئر اسلامی شخصیت نے اس کام میں اس طرح مداخلت کی کہ اسے کامیاب نہ ہونے دیا۔ اللہ ان کو بھی معاف فرمائے اور ہمیں بھی۔ (ہماری اس دیرینہ خواہش کی مظہر ’’مجلس فکر و نظر‘‘ تھی جو ہم نے جامعہ پنجاب کے دوران قیام تشکیل دی اور اب ’ملی مجلس شرعی‘ہے جوسارے دینی مکاتب فکر کے علماے کرام کا متحدہ پلیٹ فارم ہے)۔
غازی صاحب مرحوم کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ دینی فکر و عمل میں معتدل مزاج تھے۔ نہ تجمدکے قائل تھے اور نہ تجدد کے۔ یوں ہمارے معاشرے میں جو اصحاب و طبقات تجمدکی طرف میلان رکھتے ہیں، وہ ان کے ناقد تھے اور جو اصحاب تجدد کی طرف میلان رکھتے ہیں، وہ بھی انہیں ناپسند کرتے تھے لیکن ہمارے نزدیک ان کا معتدل رویہ قابل تعریف تھابلکہ وہ جدید و قدیم کے امتزاج کا بہترین نمونہ تھے۔ کراچی یونیورسٹی میں ہمارے دوست خالد جامعی صاحب جو جدیدیت کے خلاف تیغ براں ہیں، وہ غازی صاحب کا شمار بھی تجدد زدہ لوگوں میں کرتے ہیں۔ جب انہوں نے اس کا اظہار اپنے جریدے ’’ساحل‘‘ میں کیااور غازی صاحب کے خلاف لکھنے کا ارادہ ظاہر کیاتو ہم نے دوستانہ اختلاف کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا کہ وہ ایسانہ کریں کیونکہ ہماری رائے میں غازی صاحب اس عتاب کے مستحق نہ تھے، چنانچہ انہوں نے وقتی طور پر ہماری درخواست قبول فرما لی۔ (گوجامعی صاحب اپنے نظریات میں بہت پختہ ہیں اور اپنی رائے پر اب بھی قائم ہیں)۔
ہمارے نزدیک فکری رویوں کے بڑے بڑے دائرے ہیں اور ہر دائرے کا ایک سنٹر ہوتا ہے اور جو لوگ اس سنٹر سے تھوڑا دائیں یا بائیں ہوتے ہیں، ان کا شماربھی اسی دائرے میں ہونا چاہیے، خواہ وہ اس دائرے کی مین اسٹریم سے تھوڑے دور اورمختلف ہی کیوں نہ ہوں۔ مثلاً متجد دین کے دائرے میں برصغیر کی دینی روایت کے لحاظ سے سرسید، چکڑالوی، امرتسری، غلام احمد پرویز،جاوید احمد غامدی صاحب وغیرہ ہیں لیکن اقبالؒ ، مولانا مودودیؒ اورڈاکٹرغازی صاحب کو اس دائرے میں شامل کرنا ہمارے نزدیک زیادتی ہے۔ ہماری غازی صاحب سے اس موضوع پر کئی دفعہ بات ہوئی، لیکن انہوں نے کبھی اس طبقہ متجددین کے حق میں کلمۂ خیر نہیں کہا۔ مغرب کے حوالے سے جو ان کی اپروچ تھی، ضروری نہیں ہے اس سے خالد جامعی صاحب جیسے اصحاب بھی مطمئن ہوں، لیکن اس کے باوجود انہیں مغرب زدہ نہیں کہا جاسکتا۔ اسی طرح بلاشبہ وہ حلقہ دیوبند کے قریب تھے (بلکہ مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کے خاندان میں سے تھے) لیکن ہمارے علم اور مشاہدے کی حد تک وہ اس میں بھی معتدل مزاج تھے اور ہرگز متشدد نہ تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ بریلوی بھائیوں کو ان کا یہ اعتدال نہ بھاتا ہواور وہ انہیں حکومت میں ایک دیوبندی وزیر سمجھ کر ان کی مخالفت کرتے ہوں۔
وزارت سے یاد آیا کہ بعض لوگ ان پر اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں وزیر مذہبی امور کی ذمہ داری کیوں قبول کی؟ جس زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا، ہم لاہور میں تھے۔ ایک دفعہ کسی مظلوم کی مدد کے سلسلے میں ان کے ہاں حاضر ہوا تو انہوں نے بھرپور معاونت کی، لیکن ان کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ وہ حکومت میں خاصے غیر مطمئن تھے اور اپنے آپ کو misfit محسوس کرتے تھے اور اسے چھوڑنے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن اب انہیں کمبل نہیں چھوڑتا تھا۔ ناچار انہوں نے پبلک بیان دے دیا کہ وہ فلاں مہینے وزارت چھوڑ دیں گے اور پھر چھوڑ بھی دی۔ یار لوگ کہیں گے کہ قبول ہی کیوں کی تھی؟ ہم سمجھتے ہیں کہ غازی صاحب اپنی اہلیت کے بل پر بڑے سے بڑے منصب کے اہل تھے، لیکن ہمارے معاشرے کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ہر اس شخص کو جو داڑھی رکھتا، ٹوپی پہنتااور عربی اسلامیات میں مہارت رکھتا ہو، اسے مولوی سمجھتا اور بطور مولوی ٹریٹ کرتا ہے (خواہ وہ روایتی ’مولویت‘ سے دور ہی کیوں نہ ہو)۔ اس طرح باصلاحیت لوگوں کو ان کی صلاحیتوں کے اظہار و استعمال کے موزوں مواقع میسر نہیں آتے اور ان میں ردعمل کی ایک نفسیات پیدا ہوجاتی ہے اور پھر جب انہیں کوئی موقع ملے تو وہ اسے قبول کرلیتے ہیں، خواہ اس کی ’’موزونیت‘‘ کچھ مشکوک ہی کیوں نہ ہو۔ ویسے بھی معتدل مزاج ہونے کی وجہ سے غازی صاحب اپنی افتاد طبع میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ آدمی نہ تھے۔ پھر ملت کا درد رکھنے اور معاشرے کے دینی مستقبل کے حوالے سے سوچنے والے شخص کی حیثیت سے ان کے ذہن میں کئی منصوبے تھے۔ ان کا خیال ہوگا کہ وہ اقتدار میں آکر ان منصوبوں میں سے بعض پر عمل کرسکیں گے، لیکن غالباً حکومت میں جانے کے بعد جلد ہی انہیں اندازہ ہوگیا کہ ہمارا سیاسی نظام اور بیوروکریسی کا نظام نمک کی وہ کان ہے جس میں جانے والا خود نمک ہوجاتاہے اور اس کا اپنا میٹھا پانی بھی کھاری ہونے لگتا ہے، چہ جائیکہ وہ وہاں کے پانی کو میٹھا کرنے کے کسی منصوبے پر عمل کرے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وزارت میں زیادہ دیر نہ ٹک سکے اور باہر آگئے۔ غازی صاحب کے وزارت قبول کرنے کے حوالے سے ہم نے جو کچھ ابھی کہا، وہ ہمارا ذاتی تجزیہ ہے جس سے اختلاف کا حق ہر صاحب فکر و نظر کو ہے۔
پھر ہم نے اخبارات میں پڑھا کہ وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر ہوگئے ہیں۔ یہ ان کی محبت اور بڑا پن تھا کہ انہوں نے خود فون کرکے مجھے کہا کہ میرے پاس اسلام آباد آجاؤ، یہاں کام کے بڑے مواقع ہیں اور ترقی کے بھی۔ ایک یونیورسٹی کے زیرک سربراہ کی حیثیت سے انہیں خوب اندازہ تھا کہ یونیورسٹی بڑی بڑی بلڈنگوں کانام نہیں ہوتی بلکہ جتنے بڑے اہل علم اس سے وابستہ ہوں، یہ اتنی ہی بڑی ہوتی ہے اور جب اس میں کام کرنے والے بونے ہوں تو یونیورسٹی کی عظیم الشان بلڈنگیں اسے عظمت نہیں بخش سکتیں۔ چنانچہ جب وہ یونیورسٹی کے صدر نہ رہے اور ان کا واسطہ بونوں سے پڑا تو وہ خاموشی سے یونیورسٹی چھوڑ گئے اور جامعہ قطر چلے گئے کیونکہ وہ لڑنے والے آدمی تھے ہی نہیں۔ ہاں! تو ہم عرض کر رہے تھے کہ غازی صاحب نے ہمیں اسلام آباد یونیورسٹی آنے کی دعوت دی، لیکن ہم وہ راجپوت ہیں جن کا راج نہیں رہا، لیکن بھوت باقی رہ گیا ہے چنانچہ ہم نے تحریک اصلاح تعلیم اور نئے رول ماڈل تعلیمی اداروں کے قیام کے محاذ سے نہ ہٹنے کی ضد میں ان سے معذرت کرلی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم کوئی قلعہ فتح نہیں کرسکے، لیکن ہمارے نزدیک وفاداری بشرط استواری ہی اصل ایماں ہے۔ چنانچہ ہم اپنی ہٹ پہ قائم ہیں کہ غازی نہ بن سکے، شہید تو ہوں گے اور شہید بھی نہ ہوئے تو شہادت کی تمنا تو ہے۔ ہم معرکۂ کارزار میں تو ہیں، ہاتھ پاؤں تو چلا رہے ہیں __ اورممکن ہے ہمارے رب کو ہماری یہی ادا پسند آجائے۔
جب ہم نے پنجاب یونیورسٹی جوائن کی تو سرکاری ضرورت کے تحت ایک سال ہم نے جوغازی صاحب کے ساتھ اسلامی یونیورسٹی میں کام کیا تھا، اس کاتجربے کا سرٹیفکیٹ بھجوانے کی ان سے درخواست کی۔ انہوں نے سرکاری خط بھجوانے کے ساتھ جو ذاتی خط مجھے لکھا، وہ پڑھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میں مرجاؤں تو یہ خط میری قبر میں رکھ دینا کہ یہ ایک مسلمان کی دوسرے کے بارے میں بے ریا شہادت ہے۔ شاید اللہ اسے قبول فرمالے۔ اللھم اغفرلہ وادخلہ مدخلاً کریما وارزقہ جنۃ الفردوس۔ (بشکریہ ’البرہان‘ لاہور)
ایک بامقصد زندگی کا اختتام
خورشید احمد ندیم
ڈاکٹر محمود احمد غازی رخصت ہوئے۔ ایک با مقصد اور با معنی زندگی اپنے اختتام کو پہنچی۔ میری برسوں پر پھیلی یادیں اگر ایک جملے میں سمیٹ دی جا ئیں تو اس کا حاصل یہی جملہ ہے، لیکن غازی صاحب کے بارے میں ایک جملہ ایسا ہے کہ میں اس پر رشک کرتا ہوں۔ بہت سال ہو ئے جب غازی صاحب کے ایک دیرینہ رفیق نے ان کے بارے میں مجھ سے کہا: ’’میں نے علم اور تقویٰ کا ایسا امتزاج کم دیکھا ہے۔‘‘یہ بات کہنے والی شخصیت بھی ایسی ہے کہ میں ان کے علم اور تقویٰ دونوں پر بھروسہ کر تا ہوں۔ یہ گواہی وہ ہے جو یقیناًفرشتوں نے محفوظ کی ہوگی اوراللہ کے حضور میں ان شاء اللہ ان کی بلندئ درجات کا باعث بنے گی۔
غازی صاحب کے بارے میں ،میں یہ اطمینان کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں اب شاید ہی کوئی ایسا ہو جو ان کی جگہ لے سکے۔ غازی صاحب ان لوگوں میں سے تھے جوقدیم اور جدید کا ایک امتزاج تھے، تاہم ان کا جھکاؤقدیم کی طرف رہتا تھا۔ یہ ان کی احتیاط کا اظہار تھا۔ دینی تفہیم و تعبیر کے معا ملے میں وہ با لعموم اسلاف کی رائے کے قریب رہنے کو تر جیح دیتے تھے۔ یہ محتاط روش یقیناًخیر کا باعث ہو تی ہے۔ اس میں آپ کسی غلط رائے کا بار اپنے سر لینے سے محفوظ رہتے ہیں۔ تاہم ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ کسی مو قف کو غلط سمجھتے ہو ئے اُسے محض اس وجہ سے قبول کرلیں کہ وہ اسلاف کی رائے ہے۔ مثا ل کے طورپر وہ اکثر فقہا کی طرح عورت کی گواہی کو آدھی مانتے تھے، لیکن حدود کے مقدمات میں عورت کی گواہی کو قبول کر نے کے حق میں تھے۔ اس باب میں جمہور علما کی رائے یہ ہے کہ وہ حدود میں عورت کی گوا ہی مطلقاً قبول نہیں کر تے۔
غازی صاحب ایک کثیر المطا لعہ اورہمہ جہتی علم کے حامل تھے۔ دین کے حوالے سے وہ متعدد علوم میں ایک استاد کی دسترس رکھتے تھے۔ میں نے انہیں بارہا سنا اور پڑھا۔ سیرتِ صحابہ پر وہ گفتگو کرتے تومعلوم ہو تا کہ انہوں نے حرفِ آخر کہہ دیا ہے۔ اقبال کی عالمانہ تخلیق ’’جاوید نامہ‘‘ کی انہوں نے تسہیل کی۔ یہ کتاب اقبال کے علم اور شاعری کا ایک معجزہ ہے۔ اس میں اقبال نے اپنے پیر رومی کی معیت میں ایک روحانی سفر کیا ہے جس میں وہ متعدد افلاک پر جا تے ہیں اوران شخصیات سے ہم کلام ہو تے ہیں جو دنیا سے رخصت ہو چکیں۔ یہ مختلف ادیان اور افکار کے نمائندہ لوگ ہیں۔ اب اقبال ان سے جو مکالمہ کرتے ہیں اور ان کی زبان سے جو کہلواتے ہیں، اس کی تفہیم ممکن نہیں اگر پڑھنے والا ان کے فکر اورفلسفے سے واقف نہیں۔ مثال کے طور پر وہ روس کے بڑے ادیب ٹالسٹائی کا انتخاب کرتے ہیں تو سوچنا پڑتا ہے کہ اس انتخاب کی وجہ کیا ہے۔ اسی طرح وہ ابو جہل سے ایک نو حہ کہلواتے ہیں اور اس سے معلوم ہو تا ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے وہ کیا واقعہ پیش آیا جس نے ابو جہل کی دنیا اور آخرت برباد کر دی۔ غازی صاحب نے ’’جا وید نامہ‘‘ کے مضامین کو ایک عام آدمی کے لیے سہل بنا دیا۔ اس کے مطا لعہ سے ایک عام پڑھا لکھا آدمی بھی فکرِ اقبال کی رنگا رنگی سے واقف ہو جا تا ہے۔ اسی طرح انہوں نے بین الاقوامی قانون پر لکھا اور بہت عالما نہ انداز میں اس مو ضوع کو دیکھا۔ جنوبی ایشیا کی مسلم فکر پر بھی انہوں نے قلم اٹھایا۔ ان کی آخری تصنیف عربی زبان میں شیخ احمد سرہندی پر تھی جو بیروت سے شائع ہو ئی۔ غالباً بر صغیر کی ایک بڑی شخصیت کا عربی زبان میں یہ پہلا مفصل تعارف ہے۔
فقہ سے انہیں فطری منا سبت تھی۔ یہ وہ مو ضوع ہے جس پر وہی کچھ کہنے کا مجاز ہے جو ایک طرف روایت سے اچھی طرح آگاہ ہو اور دوسری طرف اپنے عہد کے مسا ئل سے بھی واقف ہو۔ یہ ان کا منفرد اعزازہے کہ دین کے حوالے سے پا کستان میں جو اہم دستاویزات سامنے آئیں، ان میں کسی نہ کسی طرح غازی صاحب کا حصہ رہا۔ مثال کے طور پر قادیانیوں کے حوالے سے جو آئینی ترمیم کی گئی، اس کی تیاری میں وہ مو لا نا ظفر احمد انصاری کے معاون تھے۔ ضیاء الحق صاحب کے دور میں جو حدود قوانین ملک میں رائج ہو ئے، وہ بڑی حد تک ان ہی کے تحریر کردہ تھے۔ وفات سے پہلے وہ وفاقی شرعی عدالت کے جج تھے۔ اس سے پہلے وہ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بینچ میں تھے۔ یہ ملکی قانون اور فقہ میں ان کی دسترس کا اظہار ہے۔ تدریس کے باب میں بھی ان کی خدمات بے پناہ ہیں۔ انہوں نے بہت سے شاگرد چھو ڑے ہیں جن کی حیثیت صدقہ جاریہ کی ہے۔ ان کی تعداد بہت ہے اور وہ ساری دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ اس سال کے آ غاز تک وہ قطر کی ایک یو نیورسٹی میں پڑھا تے رہے ہیں۔
اپنی طا لب علما نہ سر گر میوں میں، میں نے با رہا ان سے رجوع کیا اور ان کے علم سے فائدہ اٹھایا۔میری کتاب ’’علم کی اسلامی تشکیل‘‘ کا مسودہ انہوں نے دیکھا اور اس کو بہتر بنا نے کے لیے مشورے دیے۔یہ ان کی شفقت کا ایک انداز تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ محض میری ذات تک محدود نہیں۔ نہیں معلوم کتنے لوگوں نے ان کے علم سے فائدہ اٹھا یا اور آج ان کے ہاتھ اپنے پر وردگار کے حضور میں ان کی مغفرت کے لیے اٹھے ہیں۔
سچ یہ ہے کہ وہ ایک کامیاب آدمی کی طرح اس دنیا سے رخصت ہو ئے جسے قرآن مجید نفس مطمئنہ کہتا ہے۔ رات گیارہ بجے کے قریب انہیں دل کا دورہ پڑا۔ ہسپتال لے جا یا گیا ۔ چند گھنٹے بعد انہیں ہوش آیا۔اپنے بھائی محمد غزالی صاحب سے کہا کہ وہ گھر جا ئیں، میں بھی صبح تک لوٹ آؤں گا۔ فجر کی نماز کے لیے وضو کیا،بستر ہی پر نماز پڑھی اور تھوڑی دیر بعد اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ ہم تفہیمِ مدعا کے لیے اسے موت کہتے ہیں، لیکن یہ ایک دنیا سے دوسری دنیا میں قدم ر کھنا ہے۔ وہ اپنے جسمانی وجود کے ساتھ اب یہاں نہیں ہیں، لیکن اپنی کتابوں ، شاگردوں اور یادوں کے ساتھ یہیں ہیں، یہیں کہیں ہیں۔
لحد میں بھی یہی غیب و حضور رہتا ہے
اگر ہو زندہ تو دل نا صبور رہتا ہے
مہ و ستارہ مثالِ شرارہ یک دو نفس
مئے خودی کاابد تک سرور رہتا ہے
فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا
ترے وجود کے مر کز سے دور رہتا ہے!
(بشکریہ روزنامہ اوصاف، اسلام آباد)
اک دیا اور بجھا!
مولانا محمد ازہر
قحط الرجال کے موجودہ افسوس ناک دور میں جب کوئی ایسی ہستی جدا ہوتی ہے جس کا وجود مسائل و افکار سے پریشان اور رہنمائی کی متلاشی امت کے لیے مینارۂ نور کی حیثیت رکھتا ہے تو صدمہ اور غم دو چند ہو جاتا ہے۔اس لیے کہ اب دور دور تک ایسی شخصیات نظر نہیں آتیں جن کا اوڑھنا بچھونا علم ہو اور جن کا تعارف قرآن ،حدیث،فقہ اور علوم و فنونِ شرعیہ پر گہری دسترس ہو۔ معروف محقق و دانش ور،مصنف و ادیب،صاحب علم وفضل ڈاکٹر محمود احمد غازی کا شمار بھی ان اہل علم میں ہوتا تھا جن کی اہلیت و قابلیت اور دینی ثقاہت پر قدیم و جدید علما کا اتفاق تھااور عصری درس گاہوں سے وابستگی کے باوجود دینی مدارس کے اساتذہ و علما بھی ان کی تالیفات و تصنیفات سے استفادہ کرتے نظر آتے تھے۔افسوس کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی بھی۱۶ شوال المکرم ۱۴۳۱ھ (۲۶ ستمبر۲۰۱۰ء) کو علمی و تدریسی حلقوں کو سوگوار چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے،انا للہ و انا الیہ راجعون!
ڈاکٹر صاحب کا تعلق ٹھیٹھ مذہبی گھرانے سے تھا۔داعی کبیر حضرت مولانا محمد الیاسؒ اور شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ ڈاکٹر صاحب کی والدہ کے سگے پھوپھا تھے۔آپ کے والد ماجد محمد احمدؒ مرحوم متدین و متبع سنت بزرگ تھے جنہوں نے ڈاکٹر صاحب کی دینی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے درسِ نظامی کی ابتدائی تعلیم جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سے حاصل کی،جب کہ دینی علوم کی تکمیل شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خانؒ کے مدرسہ تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی میں کی اور مولانا ہی سے تفسیر قرآن کریم پڑھی۔ قرآن کریم کے پختہ حافظ تھے اور ہر سال رمضان المبارک میں قرآن کریم سنانے کا معمول تھا۔
ڈاکٹر محمود غازیؒ نے سترہ سال کی عمر میں تدریس کا آغاز کیا اور تا دم آخر اس فریضے کو نبھاتے رہے۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھا اور پوسٹ گریجویٹ اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریوں کی تحصیل کے بعد تصنیف و تالیف اور تحقیق و تدقیق کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔قدیم و جدید علوم پر دسترس اور خداداد غیر معمولی صفات و کمالات کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب مرحوم اپنی زندگی میں بہت سی اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے۔ استاذ سے لے کر وزارت تک بہت سے مناصب پر آپ کی صلاحیتیں نمایاں ہوئیں۔حق تعالیٰ شانہ نے آپ کو تحریر و تقریر کا خاص ملکہ عطا فرمایا تھا۔ عربی ،فارسی،انگریزی،فرانسیسی اور اردو زبان کے بہترین خطیب و ادیب تھے۔ ہفت زبان ہونے کا محاورہ ڈاکٹر صاحب کے لیے مجازاً نہیں، حقیقتاً استعمال ہوتا تھا۔سرکاری مناصب پر فائز رہنے کے باوجودڈاکٹر صاحب قومی،ملی اور دینی تحریکوں کے پشت پناہ رہے۔قادیانی تحریک کے خلاف مسلمانوں کے متفقہ موقف کی ترویج و اشاعت کے لیے آپ نے گراں قدر خدمات انجام دیں اور جنوبی افریقہ کی ایک عدالت میں قادیانیوں کے مقابلے میں امت مسلمہ کا متفقہ موقف پیش کرنے کی ڈاکٹر صاحب کو سعادت عطا کی گئی۔
جامعہ خیر المدارس ملتان نے جب عصری تقاضوں کے پیش نظر ’’خیر المعارف‘‘کے نام سے ایک جدید درس گاہ قائم کی تو اس کے رسمی افتتاح کے لیے جامعہ کے مہتمم مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے ڈاکٹر صاحب کو دعوت دی۔ ڈاکٹر صاحب ان دنوں(۲۰۰۰ء)مذہبی امور کے وزیر تھے۔افتتاح کے موقع پر انہوں نے دینی علوم کی عظمت و اہمیت پر فاضلانہ خطاب فرمایا۔ اس کے ساتھ ایسے اہل علم کی ضرورت پر زور دیا جو دور جدید کے رجحانات پر ناقدانہ نظر رکھتے ہوں۔ ’’کتاب الآرا‘‘ میں اپنے تأثرات رقم کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے لکھا:
’’ادارہ خیر المعارف پاکستان میں دینی تعلیم کے میدان میں ایک منفرد اور انقلابی تجربہ ہے۔اس ادارے کا مقصد ایسے علمائے دین تیار کرنا ہے جو ایک طرف سلف صالحین کے تقویٰ و للہیت کی صفت کے مظہر ہوں اور دوسری طرف جدید دور کے تقاضوں اور فکری رجحانات سے براہِ راست اور ناقدانہ واقفیت رکھتے ہوں۔مجھے امید ہے کہ ادارہ خیر المعارف اپنے پاک نفس اور پاک باز مدرسین کی اعلیٰ دینی روایات کو بلند سے بلند تر کرنے کے ساتھ ساتھ اس دور میں دینی قیادت فراہم کر سکنے اور دورِجدید کے رجحانات پر ناقدانہ نظررکھنے والے اہل علم پیدا کرے گا۔‘‘
حقیقت ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا شمار امت کے ان چیدہ چیدہ افراد میں ہوتا ہے جو ان کے بقول دور جدید کے رجحانات پر ناقدانہ نظر رکھتے تھے اور امت کو دینی قیادت فراہم کر سکتے تھے۔ راقم السطور کو دو چار مرتبہ حضرت ڈاکٹر صاحب کی مجلس میں بیٹھنے اور کسی حد تک استفادہ کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ غیر معمولی علمی مقام کے باوجود ان کے عجز وانکسار،سادگی،نرم مزاجی اور دھیمے پن نے احقر کو بہت متأثر کیا۔ڈاکٹر صاحب کی گفتگو سلاست، بلاغت، متانت اور فقاہت کا مرقع ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ جامعۃ الرشید احسن آباد کراچی میں ایک مجلس میں موضوع گفتگو مسلمانوں کی علمی،عملی اور معاشی زبوں حالی اور صورت حال کی تبدیلی،امکانات اور تجاویز تھا۔ اس مجلس میں بھی ڈاکٹر صاحب کی گفتگو نہایت پر مغز،معلومات افزا اور فاضلانہ تھی۔مسلمانوں میں پائی جانے والی ایک غلط فہمی کی اصلاح کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ ہمارے ہاں بہت سے حضرات سادہ لوحی سے مغرب کا مطالعہ کرتے ہیں اور مغرب کے ظاہری دعووں سے متأثر ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مغرب نے مذہب کو گھر سے نکال دیا ہے اور اب مغرب مذہبی تعصب سے آزاد ہو گیا ہے جب کہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے اور مغرب کی ہر چیز عیسائی تہذیب و تمدن ،عیسائی روایات اور عیسائی تعصبات پر مبنی ہے۔یہ بات خود مغربی مصنفین نے بھی کہی ہے،لہٰذاعیسائیت کو مغرب سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔یہ سمجھنا کہ مغربی دنیا سیکولر ہے، اس لیے اسے مذہبی مفادات سے دلچسپی نہیں اور وہ مذہبی عصبیت سے بالاتر ہے، سادہ لوحی بلکہ بے وقوفی ہے۔
اپنی بات مدلل کرنے کے لیے ڈاکٹر صاحب نے اپنا ایک ذاتی تجربہ بیان کیا جس سے مسلمانوں کے بارے میں اہل مغرب کی عصبیت کا اندازہ ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جرمنی میں ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس ہوئی جس میں دنیا بھر کے دانش وروں کو مدعو کیا گیا تھا۔اس میں عیسائی مندوبین کی تعداد ۶۰۰ تھی جب کہ پورے عالم اسلام کی نمائندگی کرنے والے مسلمان صرف تین تھے۔ سامعین جرمنی کے صف اول کے لوگ تھے۔ اس کانفرنس میں مجھے جس موضوع پر خطاب کا موقع ملا،وہ تھا:’’یورپ کی ٹیکنالوجی سے مسلمانوں کا رویہ کیسا ہونا چاہیے‘؟‘ اس پر میں نے عرض کیا کہ جب انگریز برصغیر میں آئے تو ان کی تہذیب و معاشرت،کلچر ،روایات اور ٹیکنالوجی کے بارے میں تین قسم کے نظریات اور رویے سامنے آئے۔بعض لوگ وہ تھے جنہوں نے مغرب کی ہر چیز کو ایک خطرہ سمجھا اور تہذیب و معاشرت سے لے کر ٹیکنالوجی تک مغرب سے درآمد شدہ ہر چیز کا مکمل مقاطعہ یا بائیکاٹ کر دیا۔ ایسے افرادکی تعداد بہت کم تھی اور یہ نظریہ بعدازاں ختم ہو گیا۔اب اس نظریہ کے لوگ نہیں پائے جاتے۔دوسرا نقطۂ نظر ان لوگوں کا تھا جنہوں نے بلا استثنا انگریزوں کی ہر چیز کو قبول کر نے کا نظریہ پیش کیا۔یہ نظریہ ابھی تک چل رہا ہے لیکن سو سال میں اس کا نتیجہ مسلمانوں کی ملی و تہذیبی تباہی کے سوا کچھ نہیں نکلا ۔ تیسرا رویہ اور نقطہ نظر یہ تھا کہ مغرب سے خیر کی چیزیں لے لی جائیں اور شر کی چیزیں چھوڑ دی جائیں جسے عربی میں ’’خذ ما صفا ودع ما کدر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک معقول و معتدل نظریہ ہے اور مسلمانوں کو اسے اختیار کرنا چاہیے مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میرے خطاب کے بعد جرمنی کے ایک سامع نے کہا کہ یہ آپ کا خیال خام ہے کہ آپ مغرب کی اچھی چیزوں سے استفادہ کریں اور جو آپ کی نظر میں اچھی نہ ہوں، انہیں چھوڑ دیں۔مغرب سے استفادہ کے لیے آپ کو مغرب کی تمام شرائط ماننا ہوں گی۔مثال کے طور پر اگر آپ مغرب کی ایجادات سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو آپ کو سیکولر ڈیموکریسی اور مساواتِ مرد و زن کا فلسفہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔مجھے خیال ہوا کہ شاید یہ اس شخص کے ذاتی خیالات ہوں اور یہ شخص مسلمانوں کے بارے میں متشددانہ نظریہ رکھتا ہو،لیکن جب مجھے دوسرے مقامات پر جانے،لوگوں سے ملنے ،ان کے نظریات معلوم کرنے اور ان کی کتابیں پڑھنے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ اس مسئلے میں پورا مغرب یک زبان ہے اور وہ مسلمانوں کو ان کے عقیدے ،دین اور خیر کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔
اس گفتگو سے شرکاے محفل کو اندازہ ہوا کہ ڈاکٹر صاحب مغربی افکار و نظریات پرنقد و محاکمے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس موضوع پر آپ کی کتاب’’اسلام اور مغرب کے تعلقات‘‘ اردو خواں حضرات کے لیے لائق مطالعہ ہے۔ حضرت ڈاکٹر صاحبؒ آج ہم میں نہیں رہے،اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ تو کجا شاید دینی مدارس کے طلبہ کو بھی اس نقصان اور خلا کا اندازہ نہ ہو سکے جو ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی وفات سے ہوا ہے۔
جواب اس بات کا یارانِ محفل سوچنا ہوگا
ہمارے بعد ہم جیسے کہاں سے لوگ لاؤ گے
حق تعالیٰ شانہ ڈاکٹر صاحب مرحوم و مغفور کی کروٹ کروٹ مغفرت فرمائیں، آمین
ایک معتدل شخصیت
مولانا محمد اسلم شیخوپوری
بیس بائیس سال پہلے یہ ناچیز ماہنامہ ’’الاشرف‘‘ کا مدیر تھا۔ یہ ادارت اسے اتفاق سے مل گئی تھی، ورنہ وہ اس کا ہرگز اہل نہ تھا۔ الاشرف کے انتظامی معاملات کی دیکھ بھال مولانا محمد شاہد تھانوی رحمہ اللہ کیا کرتے تھے۔ اچانک عارضہ دل میں مبتلا ہوگئے اور پھر اسی مرض میں ان کا انتقال ہوگیا۔ تعزیت کے لیے ان کے گھر حاضر ہوا تو وہاں مہمانوں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا۔ ان مہمانوں میں سے ایک کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ شاہ فیصل مسجد اسلام آباد کے خطیب ہیں۔ کاندھلہ کے مشہور علمی خانوادے سے ان کا تعلق ہے۔ انٹرنیشنل لیکچرار اور مبلغ ہیں۔ سات بین الاقوامی زبانوں پر انہیں عبور حاصل ہے۔ درسِ نظامی کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کررکھی ہے۔ مدارس کی مخصوص فضا میں نشوونما پانے والے اس ’’ملا‘‘ نے جب اس خطیب اور مبلغ کے سراپا پر نظر ڈالی تو اسے کوئی ایسی نمایاں چیز دکھائی نہ دی جس کی وجہ سے وہ علامہ فہامہ جیسے القاب کے حقدار ٹھہرتے ہوں۔ دل ہی دل میں وسوسہ آیا: ’’خاندانی نسبت بھی کیا چیز ہے جو صاحبزادوں کے سرپر عزت اور شہرت کا تاج رکھ دیتی ہے، اگرچہ وہ مطلوبہ صلاحیت سے محروم ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘
پروفیسروں، مسٹروں اور ڈاکٹروں کے بارے میں دل میں یہ خیال جاگزیں تھا کہ یہ علمی تصلب اور علمی پختگی سے خالی ہوتے ہیں اور عوام پر اپنا رعب ودبدبہ محض ڈگریوں اور جدید اسلوبِ گفتگو میں مہارت کی وجہ سے قائم رکھتے ہیں۔ جن شخصیت کا تعزیتی اجتماع میں تعارف کرایا گیا تھا، انہیں بجائے شیخ الحدیث، شیخ التفسیر اور ماہر علوم عقلیہ ونقلیہ کے ڈاکٹر محمود احمد غازی کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ میں نے سوچا یہ بھی ویسے ہی ڈاکٹر اور پروفیسر ہوں گے جیسے اس قبیلے کے دوسرے افراد ہوتے ہیں۔ بات بات پر مغرب کی ترقی کے حوالے دینے والے، قدیم علما کو حقارت کی نظر سے دیکھنے اور اپنی علمیت کے بارے میں دھوکا کھا جانے والے، لیکن جب انہیں براہِ راست سننے اور ان کی کتابیں دیکھنے کا موقع ملا تو اپنی عاجلانہ سوچ اور وساوس پر سخت افسوس ہوا۔
حقیقت یہ ہے کہ وسعت مطالعہ، ذکاوت اور حافظہ قدیم وجدید کے اجتماع، اظہار مافی الضمیر کی قدرت، اسلام دشمن تحریکوں اور فتنوں سے آگاہی، تدریس، تقریر اور تحریر میں یکساں مہارت جیسی صفات جو باری تعالیٰ نے ڈاکٹر صاحب میں جمع کردی تھیں، ان صفات کے حامل موجودہ دور میں دوچار ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ویسے تو پچیس کے قریب تصنیفات میں سے ان کی ہر تصنیف ہی ان کی متانت وثقاہت اور علمیت اور وسعتِ نظر کا شاہکار ہے، مگر چھ جلدوں میں ان کے جو محاضرات شائع ہوئے ہیں، کم ازکم اس عاجز کے علم میں ایسی ایسی کتابوں کے حوالے ہیں جن کا مطالعہ ہمارے ہاں متروک ہوچکا ہے اور ایسی ایسی معلومات ہیں کہ ذوقِ مطالعہ رکھنے والا انسان وجد میں آجاتا ہے۔ اس قسم کے متعدد محاضرات اور خطبات عربی اور اُردو میں شائع ہوچکے ہیں، مگر ان میں سے اکثر حقیقت میں وہ مقالات ہیں جنہیں پہلے حرف بہ حرف لکھا گیا اور پھر کسی علمی اجتماع میں یہ مقالات پڑھ کر سنادیے گئے مگر جناب غازی صاحب کے جو محاضرات طبع ہوئے ہیں، وہ ان کے ایسے لیکچر ہیں جو انہوں نے خواتین وحضرات کے منتخب اجتماع میں مختصر یادداشتوں کی بنا پر زبانی ارشاد فرمائے اور پھر صوتی تسجیل سے انہیں صفحہ قرطاس پر منتقل کیا گیا۔ یہ محاضرات چھ ضخیم جلدوں میں شائع ہوئے ہیں۔ ہر جلد ۱۲ خطبات پر مشتمل ہے۔ ان چھ جلدوں میں قرآن، حدیث، سیرت، فقہ، تصوف اور معیشت وتجارت کے مختلف پہلو زیربحث لائے گئے ہیں۔
ان محاضرات سے جہاں غازی رحمہ اللہ کے بے مثال حافظہ، وسعتِ فکرونظر اور علمی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے وہیں ان کی صفتِ اعتدال بھی نکھر کر سامنے آتی ہے اور اعتدال ایسی صفت ہے جو اہمیت کے باجود مفقود ہوتی جارہی ہے۔ ہمارے ہاں ہر معاملے میں افراط وتفریط پائی جاتی ہے۔ تبلیغ ودعوت ہو یا جہاد وقتال، سیاست وقیادت ہو یا طریقت وشریعت، مدح اور منقبت ہو یا تردید اور تنفید، ذکروعبادت میں انہماک ہو یا کسبِ معاش میں مشغولیت، ابلاغ کے جدید وسائل سے استفادے کا معاملہ ہو یا اختلافی مسائل میں بحث ومناظرہ کا، ہر جگہ اور ہر شعبہ میں افراط وتفریط آگئی ہے۔ کوئی اتنا تنگ نظر ہے کہ اس کے نزدیک دین نام ہے چند فرقہ ورانہ مسائل میں تشدد کرنے اور ظاہری شکل وصورت کو ’’باشرع‘‘ بنانے کا۔ کوئی ایسا وسیع الظرف ہے کہ وہ کفروایمان کا فرق بیان کرنے کو بھی فرقہ واریت سمجھتا ہے اور ظاہری اعمال کی اس کے نزدیک کچھ بھی اہمیت نہیں۔ تعریف اور تنقید کو دیکھیں تو بعض حضرات جب تک اپنے مخالفوں کو ابن اُبی اور ابولہب سے بدتر اور اپنے گروہ کے مشائخ کو ابن تیمیہ اور ابن قیم سے برتر ثابت نہ کردیں، انہیں چین ہی نہیں آتا، جبکہ ڈاکٹر صاحب فکرونظر اور کردار وعمل کے اعتبار سے انتہائی معتدل شخصیت تھے۔ اپنے دعوے کی تائید میں صرف دو مثالیں ذکر کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔
جب ڈاکٹر صاحب نے سیرت پر محاضرات پیش کرتے ہوئے ’’مطالعہ سیرت۔ پاک وہند‘‘ کے عنوان سے خطاب کیا تو اس میں انہوں نے یوپی کے لیفٹیننٹ گورنر سر ولیم میور کی کتاب ’’Life of Muhammad‘‘ اور اس کے جواب میں سرسید احمد خاں نے جو کتاب لکھی تھی، اس کا انہوں نے ذکر کیا۔ اس جواب کے لکھنے میں سرسید احمد خاں نے جو قربانیاں دی تھیں، ان قربانیوں کا بھی انہوں نے تفصیل سے ذکر کیا۔ انصاف کا تقاضا بھی یہی تھا کہ یہ سب کچھ بلاکم وکاست بیان کردیا جاتا، لیکن یہ سب کچھ بیان کرنے کے بعد انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا: ’’بطورِ سیرت کے ایک ادنیٰ طالب علم کے مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ سرسید کے بہت سے بیانات سے اتفاق کرنا مشکل ہے۔ کئی جگہ انہوں نے ایسی باتیں کہہ دی ہیں جو اسلامی نقطہ نظر کے مطابق نہیں ہیں۔‘‘ اس خطاب کے اختتام پر ان سے سوال کیا گیا: ’’کیا سرسید احمد خاں منکر حدیث تھے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’یہ تو مجھے معلوم نہیں کہ وہ منکر حدیث تھے یا نہیں، لیکن ان کے بہت سے مذہبی خیالات سے اہلِ علم کو اتفاق نہیں تھا۔ یہ خیالات کمزور دلائل اور مغرب سے مرعوبیت کے نتیجے میں اختیار کیے گئے تھے۔ خود مجھے بھی ان خیالات سے اتفاق نہیں۔‘‘
اسی طرح ایک موقع پرا ن سے سوال کیا گیا تھا: ’’جن معاملات میں فقہا کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے، ان میں کس کی بات کو صحیح مانیں اور کس بنیاد پر؟‘‘ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا: ’’بنیادی بات تو یہ ہے جس بات کو آپ دلیل کی بنیاد پر زیادہ صحیح سمجھیں، اس کی پیروی کریں۔ جو چیز قرآن وسنت کے زیادہ قریب ہو، اس پر عمل کریں اور جو چیز قرآن وسنت کے حکم سے ہم آہنگ نہ ہو، اس پر عمل نہ کریں، لیکن اس کام کے لیے بڑے گہرے علم کی ضرورت ہے۔ یا تو وہ گہرا اور عمیق علم ہمارے پاس ہو اور اگر ہمارے پاس اس درجے کا علم نہ ہو تو جس کے علم پر ہمیں اعتماد ہو، اس سے پوچھ کر عمل کریں۔‘‘
(ہفت روزہ ضرب مومن کراچی)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، ایک مشفق استاد
شاہ معین الدین ہاشمی
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ سے میری پہلی باقاعدہ ملاقات علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے زیر انتظام ۱۹۹۳ء میں ایم فل علوم اسلامیہ کی ورکشاپ کے دوران ہوئی۔ وہ ریسورس پرسن کی حیثیت سے ورکشاپ میں تشریف لائے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس ورکشاپ میں علوم اسلامیہ کے بنیادی مصادر پر تعارفی گفتگو فرمائی۔ یہ گفتگو اتنی علمی اور موضوع پر اتنی مربوط تھی کہ اس سے قبل نہ تو کہیں پڑھی اور نہ سنی تھی۔ اس گفتگو میں ڈاکٹر صاحب نے علوم اسلامیہ کے مصادر سے متعلق تفصیل سے بات کی۔ علوم القرآن، علوم الحدیث، فقہ، تصوف کے تمام بنیادی مصادر پر تعارفی گفتگو فرمائی۔ ڈاکٹر صاحب کے اس لیکچر نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اس سے ایک طرف مجھے یہ شوق پیدا ہوا کہ ہمیں اپنی تراث کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے، دوسری طرف غازی صاحب سے قلبی تعلق بڑھتا چلا گیا۔
اس کے بعد دوسری ملاقات اس وقت ہوئی جب ہم ایم فل علوم اسلامیہ کے تھیسس کے لیے عنوان کی تلاش کے مرحلے میں تھے۔ یہ ۱۹۹۴ء کی بات ہے کہ شعبہ علوم اسلامیہ نے میری ریسرچ کے لیے عنوان منظور کرلیا اورمجھے ’’عہد نبوی میں اسلامی ریاست کے داخلی نظم و نسق‘‘ پر خطہ بنانے کو کہا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس موضوع کو عرب قبائل کی شیرازہ بندی کے ساتھ مخصوص کر دیا اور میری خوش قسمتی کہ میرا اشراف بھی قبول فرما لیا۔ اپنے موضوع پر کام کرنے کے لیے ہدایات لینے کی غرض سے میں ان کے پاس حاضر ہوا۔ اس وقت آپ دعوۃ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔ اگرچہ ملاقات طے شدہ نہ تھی اور آپ کی دیگر مصروفیات بہت تھیں، تاہم آپ نے مجھے اندر بلا لیا ۔ ساتھ ساتھ دفتری لوگوں سے ملتے رہے اور مجھے موضوع سے متعلق بنیادی باتیں بتاتے رہے۔ یہ ملاقات تقریباً پچاس منٹ تک رہی جس میں مجھے بیس پچیس منٹ ملے۔ آپ نے موضوع پر مجھے ابتدائی اور اہم نکات بتائے۔ اس پہلی ملاقات میں ڈاکٹرصاحب نے میرے ذہن کو سیرت کے ان اطراف کی طرف منتقل کر دیا جن پر پہلے میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ میرا یقین یہ ہے کہ مجھے سیرت پر پڑھنے پڑھانے یا کچھ لکھنے لکھانے کاجو موقع ملا ہے، وہ اسی پہلی ملاقات کا ثمر ہے اور یہ ملاقات شاید ساری زندگی مجھے سیرت پر کام کرنے میں مدد دیتی رہے گی۔
ڈاکٹرغازیؒ گزشتہ دو دہائیوں سے اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز رہے جس کی وجہ سے آپ کی مصروفیات زیادہ ہو گئیں۔ اس کے باوجود آپ نے اپنا استاد ہونے کے تشخص کو نمایاں رکھا اور طلبہ سے تعلق میں کمی نہ آنے دی۔ میرے سمیت آپ کے اکثرشاگرد ہمیشہ وقت لیے بغیر ہی ملاقات کی غرض سے جاتے رہے۔ آپ طلبہ کے معاملے میں نہایت تحمل سے کام لیتے تھے اور نہایت شفقت سے پیش آتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ آپ اپنے طلبہ کو زیادہ دیر تک انتظار میں نہیں بٹھاتے تھے اور نہ ہی مصروفیت کی وجہ سے واپس بھیجتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب مرحوم خود بھی کثیر المطالعہ تھے۔ اسی طرح وہ اپنے طلبہ میں بھی مطالعہ کا شوق پیدا کرتے رہتے تھے اور ان کی مناسبت سے مختلف کتب کی طرف نشان دہی بھی فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ ڈاکٹر فواد سیزگین کی کتاب Geschischte der Arabischen Schriftum (تاریخ التراث العربی)اس قابل ہے کہ اس کے براہ راست مطالعہ کے لیے جرمن زبان سیکھ لی جائے۔ پھر فرمانے لگے کہ میں نے چار چھ مہینے لگا کر جرمن زبان کو اتنا سیکھ لیا ہے کہ اب میں آسانی سے اس زبان میں لکھے گئے مصادر سے استفادہ کر سکتا ہوں۔ ایک مرتبہ مجھے کہا کہ آپ نے قبائل عرب کے حوالے سے کام کیا ہے، لہٰذا آپ ابوالفرج اصبہانی کی کتاب الاغانی کا، جو کہ بائیس یا چوبیس جلدوں پر مشتمل ہے، شروع سے آخر تک مطالعہ کریں کیونکہ اس میں سیرت کے مختلف پہلوؤں سے متعلق خاصا مواد موجود ہے۔ پھر فرمانے لگے کہ میں نے یہ کتاب شروع سے آخر تک مکمل پڑھ لی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے امام شافعی کی کتا ب ’’الام‘‘ کا سات مرتبہ شروع سے آخر تک بالاستیعاب مطالعہ کیا۔ درجنوں مصادر علوم اسلامیہ ایسے تھے جنہیں آپ نے شروع سے آخر تک پڑھا۔
ایم فل علوم اسلامیہ کی تکمیل کے بعد مجھے یہ خیال ہوا کہ مجھے جلدپی ایچ ڈی کے لیے رجسٹریشن کروا نی چاہیے۔ میں نے جلدی میں معاہدات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک خاکہ تیار کیا اور ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اپنے ارادہ اور خواہش کا اظہار کیا اور اپنا خاکہ آپ کے سامنے رکھ دیا کہ اس پر رائے دیں۔ خاکہ دیکھنے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے علامہ اقبال ؒ کا یہ شعر سنایا:
نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی
اور اس موضوع پر مختلف کتب کی طرف نشان دہی فرمائی اور مزید مطالعہ کاکہا ۔ پھر چار برس تک مختلف اوقات میں مختلف کتب کے مطالعہ کا حکم دیتے رہے۔ بالآخر ۲۰۰۰ء میں جب میں نے اپنا خاکہ دوبارہ پیش کیا تو آپ نے نہ صرف اس سے اتفاق فرمایا بلکہ اس کا اشراف بھی قبول فرمایا۔ کلیہ عربی و علوم اسلامیہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں گزشتہ پندرہ برسوں کے تجربہ میں،میں نے یہ دیکھا کہ طلبہ کی رہنمائی کے حوالے سے آپ کو جب بھی کلیہ میں آنے کی دعوت دی گئی، آپ نے ایک مرتبہ بھی دعوت رد نہیں کی بلکہ نہایت خوشی خوشی کلیہ میں تشریف لاتے تھے اور اپنی دیگر مصروفیات کو ترک یا مؤخر کردیتے۔ اس کے لیے آپ عام طور پر مغرب کے بعد کا وقت پسند فرماتے تھے تاکہ وقت تنگ نہ ہو اورطلبہ زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکیں۔
ڈاکٹر صاحب کے فکر کی بہت سی اہم جہات ہیں جن پر بات کرنے کے لیے خاصا وقت درکار ہوگا، لیکن اس بات پرآپ کا ارتکاز رہا اور آپ اپنے طلبہ کے سامنے مختلف اوقات میں اس بات کو پرزور طریقے سے بیان کرتے رہے کہ اسلامی تحقیق کا سب سے بڑا کام تعمیر فکر کا ہے۔اس سے ان کی مراد اسلامی نقطہ نظر سے تمام علوم و فنون کی ترتیب نو اور تشکیل جدید ہے۔ اس میں جدید علوم کی تشکیل بھی شامل ہے اور قدیم اسلامی علوم کی تعمیر نو بھی، لیکن ڈاکٹر صاحب کے خیال میں تطہیر فکر کا عمل اس سے قبل ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ رائج الوقت علوم و فنون کا اسلامی نقطہ نظر سے تنقیدی جائزہ لے کر کھرے اور کھوٹے کو الگ کر دیا جائے۔ لیکن ان کے نزدیک علوم وفنون کی تدوین نوکے اس عمل کے انتظار میں ہم دوسرے شعبوں میں اسلامی نقطہ نظر سے اصلاحات کے عمل کو نہ تو ملتوی کر سکتے ہیں اور نہ مؤخر کر سکتے ہیں۔ ان کی رائے میں یہ دونوں کام ایک ساتھ ہی ہونے چاہئیں بلکہ اگر یہ دونوں کام ایک ساتھ شروع کیے جائیں تو دونوں ایک دوسرے کے ممد ومعاون اور تکمیل کنندہ ثابت ہوں گے اور ایک کی راہ میں حائل دشواریوں کو دور کرنے کی ہر کوشش دوسرے کی راہ میں حائل دشواریوں کو ختم کرنے میں بھی مدد دے گی۔ ڈاکٹر صاحب تعمیر و تطہیر فکر کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے تھے اور اپنے طلبہ اور دیگر اہل علم کو اس جانب توجہ دلاتے رہتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے خیال میں علوم کی تنقید و تنقیح کے لیے امت مسلمہ کے پاس اب زیادہ وقت نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر مستقبل قریب میں امت مسلمہ یہ کام کرنے میں کامیاب ہوگئی تو خیر، ورنہ اسلامی اقدار و تہذیب کا احیا شاید ممکن نہ ہوسکے گا۔
علامہ اقبالؒ نے آج سے ساٹھ برس قبل جو بات اسلامی فقہ کے بارے میں کہی تھی، ڈاکٹر صاحب مرحوم کے خیال میں وہ آج سارے علوم و فنون پر صادق آرہی ہے اوراس وقت اس کی جتنی اہمیت تھی، آج اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ علامہ نے فرمایا تھا:
’’میرا عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص زمانہ حال کے جورس پروڈنس (اصول قانون) پر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر احکام قرآنیہ کی ابدیت کوثابت کرے گا، وہی اسلام کا مجدد ہوگا اور بنی نوع انسان کا سب سے بڑا خادم بھی وہی شخص ہوگا۔ قریباً تمام ممالک اسلامیہ میں مسلمان یا تو اپنی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں یا قوانین اسلامیہ پر غور کررہے ہیں۔ غرض یہ وقت عملی کام کا ہے کیونکہ میری رائے میں مذہب اسلام گویا زمانہ کی کسوٹی پر کسا جارہا ہے اور شاید تاریخ اسلام میں ایسا وقت اس سے پہلے کبھی نہیں آیا۔‘‘
ڈاکٹر غازیؒ نے اپنی ساری زندگی ایسے ادارے اور رجال کار کی تیاری کے لیے وقف کر دی جو علامہ اقبال کے اس تصور کی تکمیل کر سکیں۔
ڈاکٹر صاحب کی فکر کا ایک اہم پہلو برصغیرپاک وہند کے دینی مدارس،ان کا نصاب اور ان کے فاضلین سے متعلق ہے۔ ڈاکٹر صاحب مدارس علوم دینیہ کے بارے میں نہایت متفکر رہتے تھے۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ اس نظام میں پڑھنے والے طلبہ بالخصوص ملک پاکستان میں اور بالعموم پوری دنیا میں خاص کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان کا خیال یہ تھا کہ اس کے لیے کسی بڑے پیمانے کی نہیں بلکہ تھوڑی لیکن مناسب تبدیلیوں کی ضرورت ہے جن میں ایک ضروری چیز زبان ہے۔ مدارس کے طلبہ کو عربی اور انگریزی زبانوں کو بالخصوص اور دیگر اہم زبانوں کو بالعموم سیکھنے کی ضرورت ہے۔ آپ کا خیال تھا کہ زبانوں کو سیکھنے سے معاشر ے میں علما کی افادیت کہیں زیادہ بڑھ جائے گی۔ درس نظامی کے نصاب کے مقصد سے متعلق ایک مرتبہ فرمایا: سوال یہ ہے کہ درس نظامی کا یہ نصاب ملا نظام الدین سہالوی ؒ مرحوم و مغفور نے کیوں اور کس مقصد کے تحت مرتب کیا تھا؟ اس پر اگر ذہن صاف ہو اور تاریخی حقائق سامنے ہوں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ بر صغیر میں سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں (جس کو آپ بر صغیر کی اسلامی تاریخ کا دور زوال اور دور انحطاط بھی کہہ سکتے ہیں) ریاستی نظام چلانے ،اسلامی عدالتوں کو قاضی ،مفتی اور مقنن فراہم کرنے کی خاطر یہ نصاب تیار کیا گیا تھا۔ یہ زمانہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا ابتدائی دور تھا۔جب اٹھارویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے شاہ عالم سے دیوانی خرید لی تو کمپنی کے زیر انتظام صوبوں کے بارے میں یہ شرط رکھی گئی کہ وہاں کا نظام بدستور فقہ حنفی کے مطابق چلتا رہے گا۔اس نظام کے لیے کمپنی کے کار پردازوں نے بھی اپنے اہتمام میں درس نظامی کے کئی ادارے قائم کیے۔ یہ سلسلہ ۱۸۵۷ء میں سلطنت مغلیہ کے مکمل اور حتمی سقوط تک جاری رہا۔ بہر حال اس کے بعدچونکہ یہی نصاب موجود تھا اور اسی نصاب کے تیار کردہ علما دستیاب تھے،اس لیے جب دار العلوم دیو بند اور دوسرے مدارس قائم ہوئے تو انہوں نے اسی نصاب کو قابل عمل پایا اور اس کو اختیار کر لیا۔ لیکن دار العلوم دیوبند کے قیام کے بعد خود اس نصاب کو ’’حقیقی درس نظامی‘‘ نہیں رہنے دیا۔ آج کا رائج الوقت درس نظامی اصل درس نظامی سے بہت مختلف چیز بن چکا ہے، لیکن تاریخی تسلسل میں اگر اس کو درس نظامی کہا جائے تو اس میں کوئی قباحت معلوم نہیں ہوتی۔
ایک گفتگو کے دوران دینی مدارس کے مقصد سے متعلق فرمایا کہ ان اداروں کا بنیادی مقصد دینی علوم کے محققین، محدثین، مفسرین، فقہا، مبلغین اور عربی دان پیدا کرنا ہے۔ ان اداروں کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ان میں محدثین، مفسرین، متکلمین اور فقہاے اسلام کے بجائے کمپیوٹر کے ماہرین پیدا ہوں۔ یہ دینی تخصص کے ادارے ہیں اور انہی رجال کار کی تیاری کے ادارے رہیں گے،لیکن ہم سب لوگ فرداً فرداً یہ بات محسوس کرتے ہیں کہ دینی مدارس کے متخصصین علما، فقہا، محدثین، مفسرین کو عصر حاضر میں اپنے تخصص کو عام لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اس تخصص کے مطابق، ملکی نظام کو ڈھالنے اور اس کے مطابق ملک کے مختلف اداروں کی تشکیل نو کے لیے بعض ایسی جزوی، معنوی تبدیلیوں یا جامع علوم اور مہارتوں کی ضرورت ہے جس کے بغیر دور جدید میں دینی تعلیم کے تقاضوں پر کما حقہ عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا ۔
درس نظامی اور موجودہ حکومتی نظام کی دو الگ جدولوں کے نقصان کے بارے میں وہ فرماتے ہیں کہ ’’دو متوازی جدولوں کا وجود ہمارے ملک میں خاص طور پر اور دنیاے اسلام میں عام طور پر دین ودنیا میں تفریق کے نظریہ کو فروغ دے رہا ہے اور یوں سیکولر ازم کے غیر اسلامی تشخص کو پروان چڑھا رہا ہے۔ سیکولر ازم کا مقصد یہ ہے کہ دینی تعلیم اور مذہبی ہدایت ورہنمائی کو زندگی کے عملی میدان سے نکال دیا جائے جیسا کہ مغرب میں ہوا ہے اور دوسرے کئی ممالک میں ہو رہا ہے۔ ہمارے ملک میں تعلیم کے ان دو متوازی نظاموں کی وجہ سے اس کومزید مہمیز مل رہی ہے۔ تعلیم کے ایک نظام کا دائرہ صرف مسجد تک محدود رہے اور دوسرا نظام، زندگی کے بقیہ سب پہلوؤں کو چلاتا رہے تو اسی کو سیکولر ازم کہتے ہیں۔ اس اعتبار سے عملاً سیکولر ازم ہمارے ملک میں آچکا ہے اور اگر گستاخی نہ ہو تو میں یہ بھی عرض کرنے کے لیے تیار ہوں کہ علما کے اس رویے سے سیکولر ازم کو فروغ ملا ہے۔‘‘
سیکولر ازم کی نظریاتی بنیاد کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ ’’وہ بنیاد موجودہ بائبل میں مندرج ہے (کس نے اور کب اس جملے کا اندراج کیا، اللہ ہی بہتر جانتا ہے) کہ ’’جو قیصرکا ہے، وہ قیصر کو دے دو اور جو اللہ کا ہے، وہ اللہ کو دے دو۔‘‘ اگر یہ سیکولر ازم کی بنیاد ہے تو پھر یہ بھی سیکولر ازم ہے کہ جو مذہبی تعلیم ہے، وہ مسجد میں ہو اور جو غیر مذہبی تعلیم ہے، وہ مسجد سے باہر ہو۔مسجد سے باہر دی جانے والی تعلیم معاشی، معاشرتی اور سرکاری نظام چلا رہی ہواور مسجد کی تعلیم کا دنیا کے ان مشاغل سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہی سیکولر ازم ہے۔‘‘
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے زیر اہتمام دینی مدارس میں تعلیم کے حوالے سے ایک سیمینار میں جس میں راقم بھی شامل تھا ،ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ ’’پچھلے چند مہینوں میں مجھے خاص طور پرملک کے انتہائی جید اہل علم سے اور بالخصوص بعض جید محترم علمائے کرام سے تبادلہ خیال اور استفادے کا موقع ملا ہے۔ علمائے کرام کی قابل لحاظ تعداد اس ضرورت کو محسوس کرتی ہے کہ’’دینی مدارس کے نظام اور نصاب میں مثبت تبدیلی لائی جانی چاہیے‘‘ لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ ملک کی دینی قیادت میں بعض انتہائی قابل احترام بزرگ ابھی تک ایک مختلف تصور پر سختی کے ساتھ قائم ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ مجھے ان میں سے بعض کی خدمت میں نیاز حاصل کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی ہے جنہوں نے ہر ایسے موضوع پر کسی قسم کی گفتگو کرنے، گفتگو میں حصہ لینے یا گفتگو میں شریک ہونے سے صاف صاف انکار فرمایا جس کا مقصد یہ ہو کہ دینی مدارس کی پیداوار یا دینی مدارس کے طلبہ کا معاشرے میں مسجد کی خدمت کے علاوہ بھی کوئی اور رول یا کردار ہو سکتا ہے۔ ایک بزرگ نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ :ہم تو مسجد کے ٹکڑوں پر پلنے والے کٹھ ملا ہی تیار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارا اور کوئی مقصد نہیں اور دینی مدارس اس وقت تک ہی قائم رہ سکتے ہیں جب تک ان کو صرف مسیتیے پیدا کرنے ہوں۔ یہ الفا ظ خود انہوں نے اپنی زبان مبارک سے ادا فرمائے۔‘‘
ڈاکٹر صاحب کے خیال میں اسلامی تعلیمات کی کما حقہ تفہیم دینی مدارس کا امتیاز ہے۔ آپ دینی مدارس کے کردار کو وسیع اور مفید بنانا چاہتے تھے۔ پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے زیر اہتمام ایک اجلاس میں آپ نے فرمایا: ’’کم و بیش گزشتہ ۳۵، ۴۰ سال سے میرے ذہن میں یہ خیال نہایت مستحکم ہے کہ ملک میں دینی اور اسلامی تعلیم کا ایک نیا جامع اور متوازن نظام وضع کیا جائے۔ اس نئے نظام کا بنیادی ہدف یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان میں ایسے اہل علم اور ایسے علما تیار کیے جائیں جو ایک طرف اسلام کی تعلیمات کو کما حقہ گہرائی اور تعمق کے ساتھ سمجھتے ہوں، اخلاق و کردار میں ائمہ سلف کی تعلیم اور اسوہ حسنہ کا نمونہ ہوں اور دوسری طرف وہ دور جدید اور نئی تعلیم کی تحدیات (Challanges) کو ایک ناقدانہ انداز میں سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ دینی مدارس کے طلبہ کے لیے عہد جدید کے امور و حالات کو اچھے طریقے سے سمجھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے اور یہ اسلامی شریعت کے نفاذ کے لیے نہایت ضروری ہے۔‘‘
ایک مرتبہ آپ نے فرمایاکہ ہمیں جس دور میں، جن حالات اور جس ماحول میں کام کرنا ہے، جن مسائل کا حل پیش کرنا ہے اور جن رکاوٹوں کو دور کرکے مملکت میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے لیے کوشاں رہنا ہے، ان سب سے گہری اور ناقدانہ واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے انہوں نے حضرت عمرؓ کی ایک مثال ذکر کی کہ آپؓ نے ایک مرتبہ کسی کو ایک خاص ذمہ داری پر فائز کرنے کے لیے اپنے ساتھیوں سے مشورہ مانگا۔ ایک صاحب کے بارے میں انہیں کہا گیا کہ وہ بہت متقی، پرہیزگار ہیں اور اتنے نیک ہیں کہ ’’کانہ لا یعرف الشر‘‘ (گویا کہ وہ شر کو جانتے ہی نہیں)۔ حضرت عمرؓ نے فوراً جواب دیا کہ مجھے ایسا آدمی نہیں چاہیے جو شر کو نہیں جانتا، اس لیے کہ ’’من لم یعرف الشر یوشک ان یقع فیہ‘‘ لہٰذا معلوم ہوا کہ شر سے بچنے کے لیے شر کو جاننا ضروری ہے۔اس بات کی مزید تفہیم کے لیے آپ نے ایک اور مثال بھی ذکر فرمائی۔ وہ یہ کہ اگر امام محمد کی کتابیں نہ ہوتیں تو امام ابو حنیفہ کے اجتہادات کا نوے فی صد حصہ ہم تک نہ پہنچ سکتا۔امام محمد بن حسن الشیبانی جب اپنی کتابیں مرتب فرما رہے تھے تو انہوں نے یہ اہتمام کیا تھا کہ اپنے وقت کا کچھ حصہ بازار میں گزاریں اور مختلف تجا رتی وبازاری سرگر میوں کا بذات خود جائزہ لیتے رہا کریں تاکہ ان کو یہ پتہ چلے کہ کاروبار کس طرح ہوتا ہے اور کس طرح کے مسائل ومشکلات کا کاروباری طبقے کو واسطہ پڑتا ہے تاکہ اسلامی فقہ کی تدوین میں ان مسائل ومشکلات کا خیال رکھا جا سکے۔بعد کے فقہاء کرام نے بھی اس رائے کا اظہار کیا ہے۔کہ ’’من لم یعرف اھل زمانہ فھو جاہل‘‘ یا ’’لیس بفقیہ‘‘ یعنی جو اپنے زمانے کے حالات نہیں جانتا، اس کو فقیہ بننے کا حق نہیں۔دوسرے لفظوں میں جو فقیہ بننا چاہتا ہے،جہاں وہ اسلامی علوم میں گہری بصیرت رکھتا ہو، وہاں اس کو زمانے کے حالات میں بھی گہری بصیرت رکھنی چاہیے۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ قدیم وجدید اسلامی افکار کے جامع تھے۔ ایک طرف آپ قدیم دینی افکار کے امین تھے اور دوسری طرف تیزی سے تغیر پذیر جدید معاشرے پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کا مقصد زندگی صرف اور صرف اسلام کا احیا اور اعلاء کلمۃ اللہ تھاجس کے لیے آپ نے اپنی حیات کے لمحات کو صرف کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور آپ کے درجات کو بلند فرمائے، آمین۔
مصادر ومراجع
ڈاکٹر محموداحمد غازی صاحب کے مندرجہ بالا فرمودات مختلف مقامات پر منعقد ہونے والی تقاریر کا حصہ ہیں جنہیں راقم نے خود سنا ہے، البتہ یہ مختلف کتب میں موجود ہیں۔ کتب کی تفصیل حسب ذیل ہے:
۱۔پہلی سالانہ رپورٹ،پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ،اسلا م آبا د ،طبع ،اکتوبر۲۰۰۲،ص:۱۳۳۔۱۴۰
۲۔دینی مدارس میں تعلیم،مرتبہ سلیم منصور خالد،طبع، iiit،اسلا م آبا د،ص:۶۱۔۷۸
روئے گل سیر نہ دیدم و بہار آخر شد
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن
یہ ستمبر ۱۹۹۸ء کی ایک سرد مگر اجلی صبح کا ذکر ہے۔ میں بنوں میں ہوں اور ایک آواز کانوں میں پڑتی ہے: آئیے، فاروقی صاحب! بیٹھیے۔ میں سامنے دیکھتا ہوں تو ایک وجیہ، معتدل القامہ اور روشن شخصیت چھوٹی سی کار میں پچھلی نشست پر بیٹھ کر دروازہ بند کررہی ہے۔ میرا قیاس یہی ہوا کہ یہ ڈاکٹر محمود احمد غازی ہیں۔ برابر میں کھڑے ایک صاحب سے پوچھا تو تصدیق ہوگئی۔ ان کے ساتھ ان کے بہنوئی ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی تھے جو اس وقت اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے رئیس کلیہ علوم اسلامی تھے اور حال ہی ڈائریکٹر شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے منصب سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ اسے پہلی ملاقات تو نہیں کہا جاسکتا، پہلی اچٹتی ہوئی، ہلکی سی زیارت ضرور کہا جاسکتا ہے۔ یہ بنوں میں مولانا نصیب علی شاہ رحمہ اللہ کے زیر اہتمام ان کے ادارے المرکز الاسلامی میں دوسری فقہی کانفرنس کا ذکر ہے جس میں راقم بھی مدعو تھا۔ اب تو مولانا نصیب علی شاہ بھی مرحوم ہوچکے۔
ان دنوں ہم اپنے ادارے سے سیرتِ طیبہ پر ایک شش ماہی مجلے کے اجرا کے سلسلے میں سرگرم تھے۔ مشاورت جاری تھی۔ اہل علم سے رابطے ہورہے تھے۔ مجلے کے پہلے شمارے کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ راقم نے دوسرے اہل علم کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں بھی خط ارسال کیا۔ خلافِ توقع جن چند حضرات نے فوراً جواب دینے کی زحمت کی، ان میں ڈاکٹر صاحب نمایاں تھے اور سب سے مفصل خط آپ ہی کا تھا۔ یہ ۱۹۹۹ء کے اوائل کی بات ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بلاتکلف ہمارے خیال اور ارادے کی ستائش کے بعد اس راہ میں آنے والی رکاوٹوں کا ذکر کیا اور پوری تیاری کے بعد حالات کا جائزہ لے کر ہی اس میدان میں آنے کی تاکید کی۔ السیرۃ کا پہلا شمارہ جون ۱۹۹۹ء/ ربیع الاوّل میں شائع ہوا۔ ۱۲؍ ربیع الاوّل کو سیرت کانفرنس، اسلام آباد میں شرکت کا اتفاق ہوا تو ’’السیرۃ‘‘ کا نیا شمارہ ساتھ تھا۔ ارادہ یہ تھا کہ کانفرنس سے فراغت کے بعد اسلامی یونیورسٹی میں ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کی کوشش کروں گا۔ ڈاکٹر صاحب اس وقت بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے نائب صدر (اکیڈمکس) تھے۔ اتفاق یہ ہوا کہ کانفرنس میں شرکت کے لیے اجتماع گاہ میں پہنچا تو ڈاکٹر صاحب وہاں موجود تھے۔ علم ہوا کہ آج دوسری نشست میں کلیدی خطبہ ڈاکٹر صاحب ہی کا ہے۔ افتتاحی نشست ختم ہوئی تو میں ابتدائی نشستوں پر چلاگیا جہاں ڈاکٹر صاحب قیام فرما تھا۔ چائے کا وقفہ تھا۔ ڈاکٹر صاحب وہیں تشریف فرما رہے۔ میں سلام کرکے بیٹھ گیا اور ’’السیرۃ‘‘ کا پہلا شمارہ پیش کردیا۔ شمارہ خود راقم کا تعارف تھا۔ شمارہ دیکھ کر فوراً بولے کہ میں نے آپ کو بہت ڈرایا تھا۔ آپ نے ہمت کی، اللہ مبارک کرے۔ اب مسلسل نکالتے رہیے۔ اس وقت تک دادا جان حضرت مولانا سید زوار حسین رحمہ اللہ سے راقم کے تعلق کا ڈاکٹر صاحب کو علم نہ تھا۔ میں نے بتایا تو ڈاکٹر صاحب کے رویے میں اور انسیت آگئی۔ پھر جب تک دوسری نشست کا آغاز نہیں ہوامجھے، وہیں بٹھائے رکھا۔ نہ خود چائے کے لیے گئے، نہ مجھے اس قیمتی نشست کو چھوڑ کر جانا مناسب معلوم ہوا۔ یہ ڈاکٹر صاحب سے پہلی ملاقات تھی اور اس روز ڈاکٹر صاحب کا کلیدی خطبہ جو عدم برداشت کے قومی و بین الاقوامی رجحانات پر تھا، میرے لیے ڈاکٹر صاحب کو براہِ راست سننے کا پہلا اتفاق تھا۔ ڈاکٹر صاحب سے متعلق اس نشست میں قائم ہونے والا نقش اس قدر پختہ ہوا کہ پھر ڈاکٹر صاحب کی تقریروں اور تحریروں کا انتظار رہنے لگا اور ایک جستجو سی قائم ہوگئی کہ ان کی چیزیں اہتمام سے پڑھی جائیں اور بالالتزام جمع کی جائیں۔
ڈاکٹر صاحب ان خوش نصیب فضلا میں شامل ہیں جنہوں نے سترہ برس کی عمر میں تدریس کا منصب سنبھال لیا تھا اور اسلامی علوم و فنون کی نمائندہ و چنیدہ کتب کی تدریس ان کی زندگی کا حصہ رہی ۔یوں اکنافِ عالم میں ان سے استفادہ کرنے والے تلامذہ کی تعداد ہزاروں سے کم نہیں ۔ ڈاکٹر صاحب حافظ قرآن تھے اور رمضان المبارک میں اپنی رہائش گا ہ پر تراویح میں قرآنِ کریم سنانے کا اہتمام فرماتے تھے۔رمضان کے علاوہ بھی ڈاکٹر صاحب عام طور پر با وضو رہتے اور فارغ اوقات میں خصوصاً دورانِ سفر آپ کے لبوں پر تلاوتِ قرآن جاری رہتی۔
ڈاکٹر صاحب نہایت جفاکش ،محنتی،کمٹڈ اور دل درد مند رکھنے والے محقق، عالم ،مفکر ،داعی اور فقیہ تھے۔ آپ پاکستان میں اسلامی بینکنگ کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ تکافل کا ابتدائی خاکہ آپ ہی کا تشکیل کردہ ہے جس پر پاکستان سے پہلے بعض عرب ممالک میں عمل ہوا۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان میں آئینی اور قانونی معاملات میں اسلامی دفعات کے بھی ماہر سمجھے جاتے تھے۔ جنرل ضیا الحق مرحوم سے لے کرجنرل مشرف تک ہر دور میں حکمران آپ سے اس سلسلے میں مستفید ہوتے رہے،یہ الگ بات ہے کہ حکومتی مزاج ڈاکٹر صاحب کی باتوں کو کس قدر ہضم کر پایا۔ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ نتائج سے بے پروا ہو کر درد مندی اور خیر خواہی کے جذبے سے ہر حاکم وقت کو صحیح مشوروں سے نوازتے رہے۔ وفات سے کچھ عرصہ قبل ایک گفتگو میں انہوں نے فرمایا کہ مجھے اس نیک مقصد کے لیے کوئی آئندہ بھی بلائے گا تو میں جانے کو تیار ہوں۔
سود کے خلاف سپریم کورٹ کے مشہور اور تاریخ ساز فیصلے میں بھی ڈاکٹر صاحب بہ حیثیت جج شریعت اپیلٹ بنچ شریک رہے اور اس فیصلے کا بڑا حصہ ڈاکٹر صاحب ہی کا تحریر کردہ تھا۔اس بنچ میں مولانا مفتی محمد تقی عثمانی بھی شامل تھے۔ قادیانی تحریک کے خلاف مسلمانوں کے متفقہ مؤقف کی ترویج و اشاعت اور اس سلسلے میں ہونے والی قانون سازی میں بھی ڈاکٹر صاحب کی ماہرانہ رائے اور تگ و دو شامل رہی۔۸۰ کی دہائی میں جب اس سلسلے کا ایک مقدمہ ساؤتھ افریقہ میں قائم ہوا تو پاکستان کے علما اور قانونی ماہرین کا ایک وفد وہاں کے اہل علم کی دعوت پر معاونت کے لیے گیا،اس وفد میں ڈاکٹر صاحب بھی شامل تھے اور وہاں عدالت کے روبرو امت مسلمہ کا موقف پیش کرنے کی سعادت ڈاکٹر صاحب کے حصے میں آئی۔ اور بالآخر اس مقدمے میں عالم اسلام کے مؤقف کو غیر مسلم عدالت کے سامنے سرخ روئی حاصل ہوئی۔
ڈاکٹر صاحب انتہائی متدین اور حد درجہ متقی شخص تھے۔ بر س ہا برس کا مشاہدہ ہے کہ سرکاری ودفتری ذمے داریوں میں سرکاری مراعات سے کبھی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا۔ ڈاکٹر صاحب کا وجود عالم اسلام کے لیے بسا غنیمت تھا۔ بین الاقوامی فورم پر اسلام اور پاکستان کی نمائندگی کا جو سلیقہ ڈاکٹر صاحب کو حاصل تھا، اس کی مثال کم ملے گی۔ پھر علم وفضل اور دینی حمیت وتصلب کے ساتھ ساتھ حسن تکلم وحکمت کی دولت سے آراستہ تھے جس سے وہ ایسے مواقع پر بھرپور فائدہ اٹھاتے تھے۔
اس وقت ڈاکٹر صاحب کا جامعۃ الرشید میں ہونے والا خطاب میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے جو چند برس پیش تر دورۂ قضا و تحکیم کے اختتامی روز فرمایا تھا۔ اس میں آپ نے مسلمانوں کی قضا کی پوری روایت اور اس کا محاکمہ اپنے اسلوب میں پیش کیا تھا۔ یہ خطاب لگ بھگ دو گھنٹے جاری رہا۔ اس کے اختتام پر ملک بھر سے آئے ہوئے مفتیانِ کرام نے متفقہ طور پر اس خطاب کو پورے کورس کا حاصل قرار دیا۔
علومِ اسلامیہ میں ایک عجب وحدت پائی جاتی ہے جو اسے دیگر علوم و فنون سے نمایاں و ممتاز کرتی ہے۔ قرآن کو سنت سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ فقہ کو حدیث سے جدا نہیں کرسکتے۔ سیرت اور تاریخ باہم پیوست ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ یہی حال دیگر تمام علوم و فنون کا ہے۔ ہمارے ڈاکٹر غازی صاحب اس وحدت علوم اسلامی کی نمایاں زندہ، عملی اور نمایندہ مثال تھے۔ آپ سب ہی علوم و فنون سے آشنا تھے، سب سے واقف تھے، سب کے شناور تھے۔ تحریر و تقریر میں ان علوم و فنون کے باہمی تعلق کو ایسے غیرمحسوس انداز میں بیان کرتے تھے کہ حیرت ہوتی تھی۔ طرز استدلال اور قوت مشاہدہ، دونوں اس قدر قوی تھیں کہ ایسے نکات آپ تلاش کرلیتے تھے جس کی جانب دوسروں کی نگاہ نہیں جاتی۔ ڈاکٹر صاحب کا اسلوب استدلال ملاحظہ کریں تو معلوم ہوتا ہے، سیرت پر گفتگو کرتے ہوئے اصول فقہ سے استدلال کرتے ہیں جو ان کا خاص اور پسندیدہ موضوع ہے، تعلیم پر بات کرتے ہوئے تاریخ سے مدد لیتے ہیں اور قانونی امور پر بات کرتے ہوئے نفسیات کے نکات استشہاد میں پیش کردیتے ہیں۔ اس قوت استدلال واستشہاد کی معراج خصوصیت کے ساتھ محاضراتِ سیرت اور اس کے بھی دو خطبوں، کلامیاتِ سیرت اور فقہیات سیرت میں نظر آتی ہے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ پچاس پچاس صفحات کے یہ خطبے ہزار ہزار صفحات کی کتابوں پر بھاری ہیں۔
علم وفضل کے اس تنوع، تعمق اور تبحر کے باوجود مزاج میں ایسا اعتدال اور تواضع تھا کہ باید وشاید۔ دسیوں اہم ترین مناصب پر فائز رہنے کے باوجود، جن میں سے ایک ایک کی تمنا میں ہم جیسے پوری عمر بتا دیتے ہیں، ڈاکٹر صاحب کی نشست وبرخاست، تحریر وگفتار، رہن سہن اور ملنے جلنے میں نمودونمائش نام کو بھی نہیں تھی۔ تکلف سے کوسوں دور اور تصنع سے یکسر پاک تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے قریبی عزیز انجینئر سید احتشام حسین راوی ہیں کہ وزارت کے زمانے میں ان کے والد کا پشاور میں انتقال ہوا۔ ڈاکٹر صاحب جنازے میں شرکت کے لیے آئے تو اپنی گاڑی اور عملے کو گھر سے فاصلے پر چھوڑدیا۔ فراغت کے بعد دوپہر میں سب آرام کرنے لگے۔ ڈاکٹر صاحب بھی ایک کمرے میں جگہ بناکر کونے میں لیٹ گئے۔ اب مہمانوں کی کثرت تھی، چھوٹا سا گھر اور جنازے کا موقع۔ کسی ضرورت سے وہ کمرہ خالی کرانا پڑا۔ کسی نے آواز لگائی تو ڈاکٹر صاحب بھی اٹھ گئے اور خاموشی سے دوسری جگہ تلاش کرنے لگے۔ جگہ نظر نہ آئی تو چپ چاپ گھر کے قریب ایک ناپختہ مختصر سی مسجد میں چلے گئے۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر صاحب کے لیے فون آیا تو ان کی تلاش شروع ہوئی۔ نہ ملنے پر کسی نے سوچا کہ قریبی مسجد میں جھانک لیں۔ دیکھا تو مختصر سی مسجد کے کچے صحن میں گرمی کے عالم میں دیوار کے سائے تلے اپنے جوتے سر کے نیچے رکھے مطمئن انداز میں آرام فرما ہیں۔ دیوار کا وہ سایہ نصف آدمی کے لیے ناکافی تھا۔ مسجد کا ہال جو صرف دو صفوں پر مشتمل تھا، بند تھا۔ اس لیے اس کے کچے صحن میں ہی جگہ مل سکی اور اسی پر قناعت کرلی۔
ڈاکٹر صاحب کا دل درد مند تھا جو خصوصاً اُمت مسلمہ کے حالات پر بہت کڑھتا تھا۔ مسلمانوں کی روایتی سستی وکاہلی، کام چوری، کج فہمی اور بدانتظامی پر پریشان رہتے۔ دو ڈھائی برس قبل جب قطر چلے گئے تو خصوصاً عالم عرب کو مزید قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اپنے مشاہدات وتجربات عندالملاقات گفتگو میں بیان کرتے رہتے تھے۔ ایک بار کہنے لگے، جب میں اسلام آباد میں یونیورسٹی میں تھا تو اپنے عملے کی سستی سے نالاں رہتا تھا، مگر جب سے یہاں آیا ہوں تو علم ہوا ہے کہ سستی کیا ہوتی ہے۔ اب تو مجھے اسلام آباد والے نہایت چست اور انتہائی متحرک محسوس ہونے لگے ہیں۔ عربوں کے روایتی طرزِ زندگی پر اس سے بہتر طنز شاید نہ ہوسکے۔
۲۰۰۸ء میں جون کے آخر میں مکہ مکرمہ میں بین الاقوامی کانفرنس برائے مکالمہ بین المذاہب منعقد ہورہی تھی۔ میں بھی مکہ مکرمہ میں تھا۔ ڈاکٹر صاحب کانفرنس میں شرکت کے لیے قطر سے وہاں تشریف لائے۔ حرم میں ملاقات ہوئی تو بتانے لگے آج مغرب میں جب حرم آنے لگے تو اہلیہ بھی ساتھ تھیں۔ انہیں صحن کعبہ میں خواتین کے لیے مخصوص حصے میں چھوڑنے جارہا تھا کہ ایک مطوعے نے روک لیا۔ کہنے لگا: حرام حرام، ممنوع ممنوع۔ میں نے کچھ پوچھنے کی کوشش کی تو اس نے مزید سخت لہجہ اختیا کرلیا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ میں خود اس امر کے حق میں ہوں کہ یہاں خواتین کا مردوں سے اختلاط نہ ہو اور ان کی جگہ مخصوص ہو، مگر اس کے لیے لوگوں کو مطلع تو کرنا چاہیے۔ راتوں رات نت نئے قوانین آجاتے ہیں اور دور دراز سے آئے ہوئے مسلمان زائرین پریشان ہوتے رہتے ہیں۔ بتانے لگے کہ کئی بار اعلیٰ ترین حکام کو اس جانب توجہ دلانے کی کوشش کی کہ زائرین کے لیے مختصر ہدایات چند بین الاقوامی زبانوں میں تیار کرکے انہیں یہاں آتے ہی فراہم کردی جائیں تو یہ بدنظمی نہ ہو۔ ملاقات میں تو وہ مان جاتے ہیں، بعد میں عملدرآمد نہیں ہوتا۔
راقم نے جب کبھی زحمت دی تو فوراً حامی بھر لی ۔چاہے کسی نوع کا کام ہو،میں نے کبھی ڈاکٹر صاحب سے کسی کام میں ’’نا‘‘ نہیں سنا۔ ہاں کوئی تجویز ہوئی تو صرف یہ کہا کہ اسے یوں کر لیں۔البتہ ایک بار کسی ٹی وی چینل سے مجھے پیغام ملا کہ ڈاکٹر صاحب کو ہمارے ہاں پروگراموں میں شرکت کے لیے رضامند کریں۔ میں نے بات کی تو صراحتاً تو منع نہیں کیا، البتہ اس قدر کہا کہ مجھے اس کام سے دور رکھو تو بہتر ہے۔ میں خود اس معاملے میں متردد تھا، سو اصرار نہیں کیااور بات آئی گئی ہو گئی۔
ڈاکٹر صاحب سے آخری ملاقات ان کی وفات سے چند روز قبل کراچی میں ہوئی جب وہ اسٹیٹ بینک کے شریعہ ایڈوائزری بورڈ کی میٹنگ میں شرکت کے لیے آئے تھے۔راقم کو ایک کام کے سلسلے میںیاد فرمایا۔ میں حاضر ہو گیا۔ جب پہنچا تو میٹنگ ختم ہو چکی تھی اور ڈاکٹر صاحب اےئر پورٹ روانہ ہو رہے تھے۔ مجھے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا لیا اور اےئر پورٹ تک ان کی معیت حاصل رہی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ واپس پہنچ کر ڈاکٹر صاحب نے راقم کو خط لکھا جو راقم کے نام ڈاکٹر صاحب کا آخری خط ثابت ہوا۔ اس میں انہوں نے نہایت انکساری کے ساتھ معذرت کی کہ میری وجہ سے آپ نے زحمت کی،اللہ اکبر!
ڈاکٹر صاحب مومن کامل اور پکے پاکستانی تھے۔ جب بات نکلتی، پاکستان کی بات آتی، تحریک پاکستان کا ذکر ہوتا، قیام پاکستان کی مشکلات اور تعمیر پاکستان کے پہلے مرحلے کی بات ہوتی تو نہایت تیقن اور بھرپور جذبے کے ساتھ گفتگو فرماتے۔ ان کے خیالات سے ڈھارس بندھ جاتی، قوت ملتی، تحریک ہوتی اور انسان کو قوتِ عمل اور نیا ولولہ ملتا۔ ڈاکٹر صاحب کی گفتگو سن کر ہی یہ ارادہ ہوا تھا کہ خاص تحریک پاکستان اور قیام پاکستان پر ان کی تفصیلی گفتگو رکھی جائے اور ان سے استفادہ کیا جائے۔ زبانی اجازت بھی لے لی تھی۔ کسی مناسب موقع کا انتظار تھا کہ ڈاکٹر صاحب کا اپنا انتظار ختم ہوا اور وہ عجلت میں اپنے کام سمیٹتے ہوئے اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔ نہایت شاداں وفرحاں، کامیاب وکامراں، مطمئن وآسودہ۔
ہم جیسے دنیا دار یہی لکھیں گے کہ ڈاکٹر صاحب کی وفات بے وقت تھی۔ ہماری کوتاہ نظر مشیت الٰہی تک کہاں پہنچے اور کیوں کر پہنچے، مگر ڈاکٹر صاحب کا معمول یہ تھا کہ ہم ایسے ناکارہ لوگوں کی دعوت بھی کبھی رد نہیں فرمائی۔ جب کبھی زحمت دی، قبول کی۔ کسی نیک کام کا اعلان ہوا، انہیں ہمیشہ تیار پایا۔ ایسا شخص اپنے رب کے بلاوے پر کیسے تاخیر کرتا؟ نمازِ فجر ادا کی، برکت کے وقت برکتیں سمیٹیں اور اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔
بقا صرف ذاتِ حی وقیوم کے لیے ہے۔ ہاں! ڈاکٹر صاحب کی یاد عرصے تک لو دیتی رہے گی، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کو اندازہ ہوگا کہ ڈاکٹر صاحب کیا شخصیت تھے! یہ نقصان کسی ایک کا نہیں، پورے عالم کا نقصان ہے۔ نہ ایسی شخصیات روز روز پیدا ہوتی ہیں، نہ ایسے نقصانات کی تلافی کی صورت ہی نظر آتی ہے۔ اس دنیا میں ایک بار آجانے کے بعد جانے سے کسی کو مفر ہے؟ مگر انسانی فکر چوں کہ محدود ہے، اس لیے ایسے نقصانات میں جو پورے عالم کا نقصان ہو، ہمیں یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ حادثہ بے وقت تھا۔اگر یوں کہا جائے کہ ڈاکٹر صاحب جیسی صاحبِ علم و بصیرت ،صاحبِ تفقہ،متوازن و متواضع اور جدید و قدیم کی جامع شخصیت عالم اسلام میں کم ہو گی تو یہ بیان نہ مبالغے پر مشتمل ہوگا نہ محض عقیدت پر، بلکہ صرف حقیقت پر مبنی ہوگا۔
ڈاکٹر صاحب کی خدمات کا تنوع ایک تحریر نہیں، مسلسل تحریروں کا تقاضا کرتا ہے۔ یقیناًاہل علم اس جانب توجہ فرمائیں گے۔ خصوصاً ڈاکٹر صاحب کی علمی خدمات پر گفتگو اہل علم کو ہی زیبا ہے، مگر ڈاکٹر صاحب کی اچانک ناگہانی وفات نے ایک سکتہ سا پیدا کردیا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو اب تک یقین ہی نہیں دلاسکے کہ یہ حادثہ واقعی پیش آچکا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی صحت، غیرمعمولی محنت، مضبوط اعصاب، اپنے مشن کے ساتھ نہایت غیرمعمولی وابستگی اور سب سے بڑھ کر عمر، یہ سب عوامل مل کر ہمیں مطمئن کیے ہوئے تھے کہ ابھی تو ڈاکٹر صاحب سے استفادہ جاری رہے گا۔ ابھی تو تادیر ہم ان سے مستفید ہوتے رہیں گے۔ افسوس :
روئے گل سیر نہ دیدم وبہار آخر شد
بلکہ پورا شعر ہی حسب حال محسوس ہوتا ہے:
حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد
روئے گل سیر نہ دیدم وبہار آخر شد
ڈاکٹر صاحب سے وابستہ یاد یں بہت سی ہیں۔ ان کی ناگہانی اور الم ناک وفات نے یادوں کے دریچے کھول دیے ہیں، مگر انھی سطور پر ختم کرتا ہوں۔ یہ یادیں امانت ہیں۔حواس کچھ بحال ہوئے تو قدرے ترتیب سے یہ امانت لوٹانے کی کوشش کروں گا۔
یاد خزانہ
ڈاکٹر عامر طاسین
باشعور انسان اپنی زندگی میں ایک عجیب سا تأثر اُس وقت لیتا ہے جب اُس کی ملاقات کسی ایسی علمی شخصیت سے ہو جو کہ اپنی ذاتی زندگی میں ذکر و عبادت کی پابند ی کے ساتھ اس منزل پر پہنچ چکی ہو جہاں فہم وبصیرت کے تقاضے موجود ہوں، جہاں دینی حمیت و بیدارگی کی فکر ظاہر ہو، جہاں خداداد قوت فیصلہ کی صلاحیت اجاگرہو، جہاں تنقیدی سوچ وفکر کے بجائے اصلاحی مزاج جگہ لے لے، جہاں خود نمائی و خودغرضی کے بجائے عاجزی اور انکساری ہو، جہاں علوم وفنون کا بہتا سمندر ہو، جہاں روشن ستارے آپس میں ہر ایک کو اپنی کرنوں سے بلا تمیز رنگ و نسل و مسالک کو منور کرنے کو شش میں سرگرداں ہوں، جہاں کسی کے تند و تیز اورسخت لہجہ پر سکوت اور خاموشی ہو، جہاں چھوٹوں پر شفقت اور محبت کے پھول نچھاور ہوں، جہاں احترام واکرام موجود ہو، جہاں عصری تقاضوں سے ہم آہنگ فکر نے جمود کے سکوت کوتوڑا ہو، جہاں فکری روش روایت پرستی، روایت پسندی میں پنہا ہو، جہاں فکر وشعور کی ہر منزل پختہ ہو۔ اپنی بے نیازی میں دنیاوی منصب کی منفعت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تدبیر انسانی کو ممیز و معقول کر کے تقدیر الٰہی پر صبر و شکر کرنے والے چند ہی لوگ نظر آتے ہیں اور ان میں ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ کا بھی نام سر فہرست نظر آئے گا۔ آج ایسا انسان دنیا سے چلا گیا جو عصری فقاہت و ذکاوت کا بادشاہ تھا، جس نے وہ فکر دی جس نے عصری تقاضوں پر مبنی مسائل کو ماضی کے فکری جمود سے آزاد کرانے میں دن رات سعی کی اور پھر ایسے مختلف موضوعات پر مبنی محاضرات پیش کیے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اُن کی زندگی کا بیش قیمت خزانہ تھے اور وہ اپنا سارا علمی خزانہ سرمایے کی طرح لوگوں میں نچھاور کرکے تا ابد اپنی تحریروں میں زندۂ جاوید ہوگیا۔
والد محترمؒ علامہ محمد طاسین کے انتقال کے کچھ دن بعد مجھے ڈاکٹر صاحب نے اسلام آباد سے ٹیلی فون کیا اور نہایت دردمندانہ لہجے میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کی اور یہ کہا کہ بظاہر یہ تو رسمی تعزیت ہے مگر سچ تو ہے کہ میں اپنے ایک استاد سے محروم ہو چکا ہوں۔ میں نے ایسے علما جن میں اجتہادی صلاحیتیں موجودہوں، کم ہی دیکھے ہیں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ علامہ طاسین کی اجتہادی مسائل پر فکر آمیز تحریریں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ مولانا کے درجات کی بلندی کے ساتھ گھر والوں کے لیے بھی صبر جمیل کی دعاکی۔
والد صاحب ؒ کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد ہی ڈاکٹر صاحب سے کراچی میں رابطہ ہوا اور اس وقت آپ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ کے جج کے منصب پر فائز تھے اور ایک اجلاس میں کراچی تشریف لائے ہوئے تھے۔اس وقت شریعت اپیلیٹ بنچ میں سود کے مسئلے پر بحث وگفتگو جاری تھی۔ مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب بھی اسی بنچ میں موجود ہیں۔ ملاقات کی تمنا دل میں تھی کہ دوسرے دن ڈاکٹر صاحب کا گھر پرٹیلی فون آیا، انتہائی خوشگوار انداز میں اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ محمود غازی بات کر رہا ہوں۔ مجھے ان کی آواز سن نہایت ہی مسرت ہوئی۔ حال احوال کے بعد والد گرامی ؒ کے وہ مضامین جو کہ اقتصادی موضوعات پر تحریر شدہ تھے، دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔
میں دوسرے دن مقررہ وقت پر سیشن ختم ہونے پر ڈاکٹر صاحب کے چیمبر میں گیا۔ وہاں موجود ایک سپاہی کو آنے کی غرض بتائی۔ اُس نے اندر جاکر ڈاکٹر صاحب کو آگاہ کیا ۔ میں حیرت زدہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب خود دروازے پر آگئے۔ مصافحہ اورمعانقہ کرنے کے بعد بہت محبت سے ہاتھ پکڑ کر اندر کی جانب لے گئے۔ مجھے صوفے پربیٹھنے کو کہا اور خود برابر میں تشریف فرماہو گئے۔ حال احوال دریافت کرنے کے بعد میں نے وہ مضامین آگے کر دیے۔ ڈاکٹر صاحب بہت توجہ سے ہر مضمون کو دیکھتے ہوئے فرماتے کہ اگر مجھے ان مضامین کی نقول دستیاب ہو جائیں تو ممنون رہوں گا۔ میں نے اثبات میں جواب دیا اور وہی اصل مضامین ان کی خدمت پیش کردیے اور آپ نے فوری طور پر ان کی فوٹواسٹیٹ کے لیے ایک صاحب کی ذمہ داری لگائی۔ تب تک چائے آچکی تھی اور ڈاکٹر صاحب مجھے اس بات کی ترغیب فرمارہے تھے کہ مولانا کے بقیہ جتنے بھی مضامین رہ گئے ہیں، انہیں کتابی شکل میں لائیے ۔
ڈاکٹر صاحب اپنے ایک مضمون میں مولانا طاسین کی فکری خوبی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
’’اُنہوں نے ایک طرف اپنے خیالات میں خاصی پختگی پیدا کی تھی لیکن اُس کے باوجود اختلاف رائے کو نہ صرف برداشت کرتے تھے بلکہ اُس کا خیر مقدم بھی کیا کرتے تھے۔ وہ ان تمام لوگوں سے گفتگو کے لیے تیار رہتے تھے جو اُن سے مختلف رائے رکھتے تھے۔ اس سے اُن کے مزاج میں ایک ایسی وسعت اور فکر میں ایسی گہرئی پیدا ہو گئی تھی جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔‘‘ (تعمیر افکار، اشاعت خاص بیاد علامہ محمد طاسین، اگست ۲۰۰۶ء، ’’چند یادیں چند تأثرات‘‘، ص ۷۸)
میں سمجھتا ہوں کہ مرحوم ڈاکٹر صاحب کی مولانا طاسین ؒ کی فکر کے حوالے سے جوخیالات مجتمع تھے، وہ یقیناًسند کی حیثیت رکھتے ہیں اور میرے لیے بھی رہنمائی کا باعث ۔ لہٰذا والد صاحب کے انتقال کے بعد ایسی علمی شخصیات کے ساتھ میرا کسی قدرتعلق خود میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔ ان مضامین کی نقول آنے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے معلوم کیا کہ پڑھائی کہاں تک چل رہی ہے۔ میں نے بتایا کہ ایم اے اسلامیات کر لیا ہے اور پہلی پو زیشن حاصل کی ہے اور اب پی ایچ ڈی میں بھی داخلہ لے لیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب یہ جان کر بہت خوش ہوئے اور چند نصیحتوں کے بعد دعائیں دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس کے ختم ہونے کے بعد وقت ہوا تو مجلس علمی(نئی منتقل شدہ جگہ) پر ضرورحاضر ہوں گا۔ میں اجازت لے کر روانہ ہوگیا ۔مجھے اُس وقت سب سے زیادہ خوشی اِس بات کی تھی کہ والد صاحب کے وہ مضامین ڈاکٹر صاحب کے لیے مددگار اور ملکی فیصلے میں کسی درجہ معان ثابت ہوں گے۔
اس کے کچھ عرصے بعد ڈاکٹر صاحب کا اسٹیٹ بنک کے شریعہ بورڈ کے اجلاس میں آنا ہوا۔ ڈاکٹر سید عزیز الرحمن کی وساطت سے پھر ملاقات ہوئی اور انہیں مجلس علمی آنے دعوت دی جسے وقت مقررہ پر قبول کیا۔ جب ڈاکٹر صاحب تشریف لائے اور لائبریری کو نئے سرے سے دیکھا تو بہت خوشی کا اظہار کیا اور کتاب تأثرات میں اپنے تاثرات قلم بند کیے۔ ڈاکٹر صاحب ؒ نے لکھا:
’’الحمد للہ آج کم وبیش بیس سال بعد پھر مجلس علمی میں حاضری کا اتفاق ہوا۔ اس ادارہ سے میری وا بستگی کم از کم چالیس پینتالیس سال پرانی ہے۔ اس ادارہ کے پاکستانی مؤسس مولانا محمد طاسین مرحوم سے میری ذاتی نیاز مندی ۱۹۷۲ کے لگ بھگ سے تھی جو اُن کی وفات تک جاری رہی۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ برادر عزیز محترم عامر طاسین کو توفیق، ہمت اور وسائل عطا فرمائے کہ وہ اِس ادارہ کو وطن عزیز کا ایک بہت معتبر علمی ادارہ بنا سکیں‘‘۔ (رجسٹر تأثرات، مجلس علمی کراچی ،۱،۶،۲۰۰۶)
میں والد صاحب کی حالات زندگی پراہل علم احباب کے علمی تأثرات جمع کر نے کی کوشش میں لگا ہوا تھا اور اس حوالے سے سب سے پہلے میں نے سابق چیف جسٹس شرعی عدالت محترم جسٹس تنزیل الرحمن صاحب کے گھر جا کر تأثرات حاصل کیے۔اُس کے بعد میں دیگر اور بھی کئی لوگوں سے رابطہ کیا۔ اُن میں اسلامی یونیورسٹی کے ڈاکٹر شیر زمان، ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری، ڈاکٹر صاحبزادہ ساجد الرحمن، ڈاکٹر سفیر اختراور ڈاکٹر محمود غازی بھی شامل تھے۔ مضامین اور تأثرات حاصل کرنے کے حوا لے سے میرا اسلام آباد جانا ہوا اور ان حضرات سے ملاقات کی۔ڈاکٹر صاحب کے پاس اس وقت غالباً اسلامی یونیورسٹی کے صدر کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ وفاقی وزارت مذہبی امور کی ذمہ داری بھی تھی اور یقیناًڈاکٹر صاحب کی مصروفیات حد درجہ بڑھ چکی تھیں۔ میں نے کراچی سے نکلنے سے قبل کئی حضرات سے رابطہ کیا کہ میں اِس غرض سے آنا چاہ رہا ہوں۔ سب نے مجھے ملاقات کا وقت دے دیامگرڈاکٹر صاحب سے رابطہ نہ ہو سکا تھا۔ مختصر یہ کہ میں جب اسلام آباد پہنچا تو دیگر حضرات سے بھی ملاقات ہوتی رہی اور کچھ تأثرات تحریری جمع کر لیے تھے۔ اب وقت تھا کہ ڈاکٹر صاحب سے بھی ملاقات کی جائے۔ ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور وقت لینے کی خواہش ظاہر کی۔ اُنہوں نے مجھے دوسرے ہی دن اپنے دفتر وزارت مذہبی اُمور آنے کا کہہ دیا۔ میں دوسرے دن مقرر وقت پر ڈاکٹر صاحب کے پاس پہنچا۔ بہت عزت و تکریم وشفقت کے ساتھ باتیں کیں۔ میں نے والد صاحب سے متعلق ان کے علمی تأثرات لکھنے کے بجائے ریکارڈ کر لینے کو ترجیح دی اور پھر ڈاکٹر صاحب نے طویل گفتگو میں اپنے خیالات ریکارڈ کرائے۔ اس کے بعد میں نے ایک تصویر ساتھ کھنچوانے کی خواہش ظاہرکی، اِس کی بھی تکمیل ہوگئی اور پھرچائے و دیگر لوازمات کے بعد شکریہ کے ساتھ اجازت چاہی۔
میرا یہی ارادہ تھا کہ میں سفر میں ہی ریکارڈ شدہ گفتگو کو قلم بند کر لوں گا۔ جب کراچی واپسی کا ارادہ کیا تو عجیب معاملہ ہوچکا تھا۔ ٹیپ پر وہ گفتگو ریکارڈ تو ضرور ہوئی مگر کسی ٹیکنیکل خرابی کے باعث الفاظ اور جملے سمجھ میں نہیں آتے تھے۔ مجھے بہت دکھ اور افسوس ہوا کہ یہ کیا ماجرا ہوگیا۔ میں نے تو بہت مشکل سے ڈاکٹر صاحب کا وقت حاصل کیا تھا اور اب مجھے انہیں آگاہ کرنے میں تأمل رہا کہ کس طرح انہیں بتاؤں۔ ظاہر ہے میری کوتاہی کے نتیجے میں یہ سب کچھ ہوا تھا۔ خیرجب کراچی پہنچا توکچھ دن بعدبہت ہی شرمندگی کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کو ٹیلی فون کیا اور انہیں ماجرا سنا دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے بہت اطمینان کے ساتھ یہ جواب دیا کہ کوئی بات نہیں، مجھے اگرمولانا طاسین جیسی عظیم علمی شخصیت کے لیے دس مرتبہ بھی کچھ کہنا یا لکھناپڑے تو میرے لیے اعزاز ہوگا ۔ وہ میرے استاد تھے اور میں انہیں اپنا روحانی مربی بھی سمجھتا ہوں۔ آپ گھبرائیے نہیں، میں ان شاء اللہ خود آپ کو ایک مضمون لکھ کر روانہ کر دوں گا۔ مجھے مزید تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اب آپ بے فکر رہیں، یہ میری ذمہ داری ہے اور پھر مجھے چند دنوں بعد ڈاکٹر صاحب کا مضمون ٹی سی ایس کے ذریعے موصول ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کا وہ مضمون ہم نے ماہنامہ ’’ تعمیر افکار‘‘ کے خاص نمبر (بیاد علامہ طاسین)میں شائع کر دیا۔
اسلام آباد سے واپسی کے بعد غالباً ایک ماہ بعد یہ خبر ملی کہ ڈاکٹر صاحب نے وزارت سے استعفا دے دیا ہے۔ میں نے ٹیلی فون کیا اور حال احوال دریافت کرنے کے بعد اس خبر کی تصدیق چاہی تو انہوں نے بتایا کہ یہ بات درست ہے۔ کچھ عرصے بعد پھر کسی وجہ سے اسلام آباد جانا ہوا اور ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ اُنہوں نے شام کے وقت گھر پر ہی بلا لیا تھا۔ اس وقت میرے بہنوئی اور بھانجے بھی ساتھ تھے۔ کافی دیر باتیں ہوتی رہیں، یہاں تک کہ ڈاکٹر صاحب خود ہی چائے و دیگر لوازمات کے ساتھ تواضع کرتے رہے۔ کوئی نوکر نظر نہیں آیا، خود گھر کے اندر سے لاتے اور پیش کرتے رہے۔ کچھ حالات کے پیش نظر گفتگو رہی اور پھر وزارت سے استعفا دینے کے متعلق بھی باتیں ہوتی رہیں۔ یہ بات تو طے شدہ تھی کہ ڈاکٹر صاحب ایسی علمی شخصیت تھیں کہ وہ جاہ و منصب کے لالچ سے بے بہرہ اور پاک تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان پر از خود کوئی ذمہ داری عائد کردی تو احسن طریقے سے نبھاتے بھی رہے، مگر جب کسی کادباؤ آتا تو معذرت کر لیتے اور ہر گز قبول نہیں کرتے۔ سفارش اور غیر قانونی کام کو ہمیشہ اپنے مزاج مطابق رّد کر دینے میں عافیت سمجھتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ ہمیشہ کسی دباؤ میں آئے بغیر اس منصب ہی کو خیر باد کہہ دیا ۔
اس کے بعد ڈاکٹر صاحب ایک دن دعوہ اکیڈمی کراچی ریجنل سینٹر تشریف لائے، وہاں لیکچر کے بعد ایک دو جگہوں پر جانا تھا۔ مجھے ڈاکٹر سید عزیز الرحمن نے مجھے بلا لیا تھا اور اس طرح پھر ڈاکٹر صاحب سے نہ صرف ملاقات ہو گئی بلکہ ان کو ایک دو جگہوں پر لانے اور لے جانے کا بھی شرف حاصل رہا۔ اسی دوران پھر مجلس علمی بھی تشریف لائے اور کچھ مزید نئی تبدیلی پر خوش ہوئے۔ اسی اثنا میں مجلس علمی کے چیف ایگزیکٹو جناب رضا عبد العزیز صاحب بھی موجود تھے اور ان سے ملاقات پر ڈاکٹر صاحب بہت خوش ہوئے۔ کچھ تھوڑاسا تواضع کا بھی اہتمام تھا۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب کو دعوہ اکیڈمی جانا تھا۔ میں اپنی کار ڈرائیو کر رہا تھا اور ساتھ ہی ڈاکٹر سید عزیز الرحمن بھی موجود تھے۔ ہم جب وہاں پہنچے تو عصر کی نماز پڑھنے کے بعد فوراًبعد ائیر پورٹ روانگی تھی۔ وقت بہت کم ہی تھا۔ مجھے ڈاکٹر سید عزیز الرحمن نے کہا کہ کتنی جلدی ہو سکے پہنچنا ہے، کہیں فلائٹ مس نہ ہوجائے۔میں نے کہا بس دیکھیے، ان شاء اللہ فلائٹ مل جائے گی۔ بس پھر کیا تھا، ڈاکٹر غازی صاحب اور ڈاکٹر سید عزیز الرحمن کو لے ائیر پورٹ کی جانب تیزڈرائیو کرتے ہوئے پہنچ گئے۔ جہاز روانگی میں بیس منٹ رہ گئے تھے ۔ڈاکٹر صاحب کو الوداع کیا۔ جاتے وقت مجھے کہہ گئے کہ مجھے آپ کی تیز ڈرائیو یاد رہے گی اور شکریہ، جزاک اللہ اور سلام کے بعد ائیر پورٹ کے اندرکی جانب روانہ ہو گئے۔
اس کے بعد بھی جب کبھی ڈاکٹر صاحب کا کراچی آنا ہوتا، بالخصوص ڈاکٹر سید عزیز الرحمن صاحب اپنے ادارے میں لیکچرز کے لیے مدعو کرتے تو میں ضرور جاتا۔ اس بہانے نہ صرف ملاقات ہوجاتی بلکہ ان کے سیر حاصل علمی بیان سے فائدہ بھی بہت ہوتا۔ اگر کبھی کسی وجہ سے نہ جا سکتا تو دوسرے دن ٹیلی فون آجاتا یا پھر ڈاکٹر سید عزیز الرحمن کے توسط سے اُن کا سلام پہنچ جاتا۔ آخری ملاقات ڈاکٹر صاحب سے اُس وقت ہوئی جب آپ جامعۃ الرشید کے سالانہ کونووکیشن ۲۰۱۰ء میں مدعو تھے۔ آپ کے آخری علمی خطاب سے ہر ایک نے خوب استفادہ کیا۔ مجھے بھی ملاقات کا رسمی موقع ملا۔ ڈاکٹر صاحب کی چونکہ روانگی پہلے سے مقرر تھی، اس لیے صبح اسلام آباد روانہ ہو گئے۔
۲۶ ستمبر کو یہ خبر ملی کہ پیکر علم و عمل، نگاہ جود و سخا، محبت و شفقت کا امین، احترام و اکرام کا منبع اور وسیع علم سے سیراب کرنے والا اور ٹھاٹھیں مارتا ہوعلم کا یہ سمندر دنیا والوں کے لیے اپنے انمول علمی خزانے لٹا کر داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ کل تک جس نے میرے والد پر مضمون لکھا، آج یہ وقت بھی آئے گا کہ میں اس عظیم علمی شخصیت پر اپنے رسمی تاثرات لکھنے کی کوشش کروں گا۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کے درجات بلند کرے اور ان کے علم کے چشمہ سے ہر ایک کو فیض حاصل کرنے کی تو فیق عطا کرے۔
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند تاثرات
محمد عمار خان ناصر
(۳ اکتوبر ۲۰۱۰ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں اور ۱۹؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد میں ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کی یاد میں منعقد کی جانے والی تعزیتی نشستوں میں جو گفتگو کی گئی، انھیں یکجا کر کے یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)
بسم اللہ الرحمان الرحیم۔ نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم اما بعد!
آج کی نشست، جیسا کہ آپ حضرات کو معلوم ہے، دینی علوم کے ماہر، محقق، اسکالر اور دانشور ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یادمیں منعقد کی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اپنی حکمتوں کے مطابق اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ نشست ہمارے پروگرام کے مطابق ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار اور نتائج فکر سے مستفید ہونے کے لیے منعقد کی جانی تھی۔ اس سے پہلے جنوری ۲۰۰۵ء میں ڈاکٹر صاحب یہاں تشریف لائے تھے اور اہل علم کی ایک نشست میں نہایت ہی پرمغز گفتگو فرمائی تھی۔ اس کے بعد پھر کوئی ایسا موقع نہ بن سکا کہ وہ تشریف لاتے۔ رمضان المبارک میں ہم نے ڈاکٹر صاحب ؒ سے گزارش کی کہ وہ ’’دینی مدارس میں قرآن مجید کی تدریس کے تقاضے ‘‘ کے حوالے سے مجوزہ سیمینار میں اپنے نتائج فکر سے حاضرین کو مستفید کرنے کے لیے تشریف لائیں تو کمال عنایت سے انہوں نے یہ دعوت قبول کر لی اور اپنی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اتوار کا دن مقرر کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کے اپنے قضا وقدر کے فیصلے ہوتے ہیں۔ آج کی نشست میں ان سے مستفید ہونا مقدر میں نہیں تھا۔ چنانچہ ہم نے اس نشست کو ڈاکٹر صاحب ؒ کی یاد میں ایک تعزیتی نشست میں تبدیل کر دیا۔ اس سلسلہ میں جناب مولانا مفتی محمد زاہد صاحب نے پہلے ہی تشریف لانا تھا۔ ان کے ساتھ ڈاکٹر شہزاد اقبال شام صاحب سے گزارش کی گئی جن کی ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کافی عرصہ سے رفاقت رہی ہے۔ وہ بھی تشریف لائے ہیں۔ میں ان کا اور اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے تشریف لانے والے دوسرے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی شخصیت، تعلیم وتحقیق میں ان کے مقام و مرتبہ اور ان کی خدمات کے تنوع اور وسعت پر تفصیل کے ساتھ ہمارے مہمانان گرامی گفتگو کریں گے۔ ویسے بھی مجھے ذاتی طورپر ڈاکٹر صاحب کو زیادہ قریب سے دیکھنے یا ان سے استفادہ کرنے کا موقع نہیں ملا، البتہ چند تاثرات کا اظہار میں ضرور کرنا چاہوں گا۔
چند سال قبل دعوہ اکیڈمی اسلام آباد میں ڈاکٹر صاحب کی سادگی اور تواضع کا ایک نمونہ دیکھنے کو ملا۔ دعوہ اکیڈمی نے ’’دینی صحافت‘‘ کے حوالے سے ایک ورک شاپ میں مختلف دانشوروں اور علماء کرام کو بلایا۔ والد صاحب کے ہمراہ میں بھی گیا ہوا تھا۔ پروگرام کے بعد کھانے کی میز پر والد گرامی کھانا کھا رہے تھے کہ اس دوران میں انھیں پانی کی ضرورت محسوس ہوئی لیکن پانی میز پر نہیں تھا۔ ڈاکٹر صاحبؒ نے محسوس کر لیا کہ وہ پانی پینا چاہتے ہیں مگر میز پر پانی نہیں ہے۔ اسی وقت فوراً لپک کر گئے اور پانی کا گلاس بھر کر مودبانہ طریقہ سے ان کے سامنے رکھ دیا۔
علمی حوالے سے آپ دیکھیں تو اگر ان کے مقالات، محاضرات اور مضامین کو جمع کیا جائے تو وہ سیکڑوں کی تعداد میں ہیں۔ ان کی کتابوں کی اشاعت کرنے والے حضرات بتاتے ہیں کہ کبھی بھی ڈاکٹر صاحبؒ نے اپنی لکھی ہوئی تحریروں کو جمع کر کے چھاپنے اور منظر عام پر لانے کی کوشش نہیں کی، بلکہ غالباً وہ اپنی تحریریں اپنے پاس محفوظ رکھنے کا بھی کوئی خاص اہتمام نہیں کرتے تھے۔ جب وفاقی شرعی عدالت میں حدود کے مقدمات میں خواتین کی گواہی کا مسئلہ زیر بحث تھا تو ڈاکٹرصاحب ؒ نے بھی اپنا نقطہ نظر لکھ کر عدالت میں پیش کیا کہ حدود کے مقدمات میں خواتین کی گواہی قبول کی جا سکتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے، میں نے ڈاکٹر صاحبؒ سے رابطہ کیا اور گزارش کی کہ مجھے آپ کا لکھا ہوا نقطہ نظر چاہیے، کیونکہ میں ایک بحث میں اس کا حوالہ دینا چاہتا تھا، لیکن وہ تحریر مجھے ڈاکٹر صاحب سے نہیں ملی۔ انھوں نے ’’فکر ونظر‘‘ کے دفتر میں کسی کے ذمے لگایا اور انھوں نے متعلقہ شمارہ تلاش کر کے مجھے بھجوایا۔ اس سے ڈاکٹر صاحبؒ کی علمی تواضع واضح ہوتی ہے۔
اگرچہ ڈاکٹر صاحب ؒ کی دینی تعلیم دیوبندی پس منظر ہوئی اور پھر وہ یونیورسٹی میں چلے گئے، لیکن میرے خیال میں جتنے بھی دینی کام کرنے والے ادارے اور حلقے ہیں، سب ڈاکٹر صاحبؒ کو اپنا اثاثہ سمجھتے تھے۔ ان کی دلچسپی اور مشاغل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہر حلقے کے ساتھ وابستگی رکھتے تھے۔ اپنی تحقیق و تنقید میں کسی خاص مکتبہ فکر کی طرف جھکے ہوئے نہیں تھے اور آزادی سے مسائل پر غور وفکر کر کے رائے قائم کرتے تھے۔ مجھے ڈاکٹر صاحبؒ کے جنازہ پر جانے کا موقع نہیں مل سکا۔ اسلامی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر صاحب نے، جو جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں، بتایا کہ ڈاکٹر صاحب ؒ کے جنازہ پر مجھے ایک بات پر بہت دکھ ہوا۔ جو بزرگ جنازہ پڑھانے کے لیے تشریف لائے تھے، غالباً مولانا مشرف علی تھانوی صاحب تھے، وہ بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ ڈاکٹر صاحب ؒ کی وفات سے علماء دیوبند کا بہت نقصان ہوا ہے۔ ہمیں بہت دکھ ہو رہا تھا کہ یہ ڈاکٹر صاحب ؒ کو محدود کیوں کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ؒ صرف مسلک علماء دیوبند کا اثاثہ نہیں تھے بلکہ دوسرے مکاتب فکر کے حضرات بھی انھیں اپنا ہی سمجھتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب کے خیال میں جو ادارے اور شخصیات کسی بھی نوعیت کی دینی وعلمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام کر رہے تھے، وہ ان کی حوصلہ افزائی فرماتے رہتے تھے۔ یہی معاملہ ہمارے ساتھ بھی تھا۔ چنانچہ جنوری ۲۰۰۵ء کی بات ہے۔ وہ ہمارے ہاں تشریف لائے اور گفتگو فرمائی تو مجھے اس وقت بھی ان کے ایک جملے پر حیرت ہوئی اور اب بھی حیرت ہوتی ہے۔ کہنے لگے کہ الشریعہ اکادمی جس نوعیت کا کام کر نا چاہ رہی ہے، وہ میرے خیال میں دارالعلوم دیوبند سے بھی زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کس ذہنی تناظر میں یہ بات کہی، یہ الگ بات ہے۔ میرے خیال میں یہ بات انہوں نے حوصلہ افزائی کے لیے کی کہ اس کام کو معمولی سمجھ کر چھوڑ نہ دیں۔ ظاہر ہے کہ اس کام کو معیار اور مقدار کے حوالے سے دارالعلوم دیوبند سے کوئی نسبت نہیں ہے۔ یہ صرف حوصلہ افزائی تھی۔
ڈاکٹر صاحب ؒ بڑی پابندی، اہتمام اور دلچسپی کے ساتھ الشریعہ اکادمی اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ رہتے تھے اور گاہے گاہے پیغامات اور خطوط کے ذریعے سے ہماری حوصلہ افزائی بھی فرماتے رہتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب ؒ کے مضامین بھی ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ میں چھپتے رہے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے ایک دوست نے ان کے ایک خط کی فوٹو کاپی بھیجی ہے۔ انہوں نے سیرت کے موضوع پر ڈاکٹر صاحب کے محاضرات کی تلخیص اور تخریج کا پروگرام بنایا اور نمونے کے طور پر ایک محاضرے کی تلخیص ڈاکٹر صاحب کو بھیجی تو ڈاکٹر صاحب نے انہیں مشورہ دیا کہ اس کو کتابی شکل میں شائع کرنے سے پہلے کسی مجلہ میں شائع کرا دیں اور خود ہی ماہنامہ الشریعہ کا نام بھی تجویز فرمایا کہ اس مقصد کے لیے وہ بہتر رہے گا۔
ایک طالب علم کی حیثیت سے مجھے ڈاکٹر صاحب کے علمی افادات اور خاص طورپر ان کے سلسلہ محاضرات کا مطالعہ دلچسپی سے کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس سلسلہ محاضرات میں ڈاکٹر صاحب نے جن موضوعات کے حوالے سے امت کی راہ نمائی کی ذمہ داری انجام دی ہے، واقعہ یہ ہے کہ اس خاص دائرے میں اس کی اہلیت رکھنے والے حضرات کو انگلیوں پر شمار کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب قدیم وجدید علوم پر گہری نظر رکھتے تھے، دور جدید کے فکری وتہذیبی مزاج اور نفسیات سے پوری طرح باخبر تھے اور آج کے دور میں اسلام اور مسلمانوں کو فکر وفلسفہ، تہذیب ومعاشرت، علم وتحقیق اور نظام وقانون کے دائروں میں جن مسائل کا سامنا ہے، وہ وسعت نظر، گہرائی اور بصیرت کے ساتھ ان کا تجزیہ کر سکتے تھے۔ آخری سالوں میں اللہ تعالیٰ نے انھیں مختلف موضوعات پر جس مقبول عام سلسلہ محاضرات کی توفیق ارزانی فرمائی، وہ ان کے غیر معمولی فہم وادراک اور علم وبصیرت کا ایک مظہر ہے۔
اس سلسلہ محاضرات کی پہلی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان سے ایک جامع اور فکری اعتبار سے مربوط ورلڈ ویو سامنے آتا ہے۔ صاحب محاضرات کو اسلام کی فکری ونظریاتی اساسات، اس کے تاریخی کردار اور دنیا کی دوسری نظریاتی اور سیاسی طاقتوں کے ساتھ اسلام کی آویزش کے مختلف مراحل سے بخوبی واقفیت ہے اور وہ اس تاریخی ونظریاتی تناظر میں موجودہ دور میں امت مسلمہ کی صورت حال، اس کو درپیش مسائل ومشکلات اور اقوام عالم کے درمیان اس کے کردار کے مختلف پہلووں پر گہری نظر رکھتا ہے۔ اپنی منصبی ذمہ داری کے لحاظ سے امت مسلمہ پر فکر وفلسفہ، معاشرت، سیاست اور تہذیب وتمدن کی داخلی تشکیل کے حوالے سے کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور اقوام عالم کے ساتھ تعامل اور تفاعل کے زاویے سے معروضی صورت حال کے تقاضے اس سے کیا ہیں، یہ سب پہلو اس ورلڈ ویو میں ملحوظ ہیں اور اس بحث کے اہم گوشوں پر تفصیلی بحث کے ساتھ ساتھ بہت سے جزوی امور پر بھی ایسے اشارات ملتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ صاحب محاضرات نے جن موضوعات پر گفتگو کی ہے، وہ اس کے ذہن میں موجود ایک مربوط فکری اسکیم کا حصہ ہیں۔
دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان محاضرات میں گفتگو کا تناظر کتابی نہیں بلکہ واقعی ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ معاصر فکری تناظر سے کٹا ہوا نہیں، بلکہ اس سے جڑا ہوا ہے۔ قرآن، حدیث، شریعت، سیرت اور فقہ جیسے خالص علمی اور اکیڈمک نوعیت کے موضوعات میں بھی کلاسیکی اور روایتی علمی بحثیں گفتگو کے پس منظر میں تو دکھائی دیتی ہیں، لیکن مسائل وموضوعات اور نکات بحث کا انتخاب خالصتاً معاصر علمی وفکری اور واقعاتی تناظرمیں ہوا ہے اور صاحب محاضرات نے جدید ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات اور اشکالات کے اہم گوشوں پر اپنا تجزیہ تفصیلاً پیش کرنے کے علاوہ بہت سے ذیلی اور جزوی امور پر ایسے اشارا ت بھی بیان کیے ہیں جنھیں بوقت ضرورت اجمال سے تفصیل میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ محاضرات کی یہ خصوصیت اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ صاحب محاضرات کا مطمح نظر درحقیقت نظری علمی بحثوں کے حوالے سے اپنی ترجیحات کا بیان یا نبوغ علمی کا اظہار نہیں، بلکہ اس ہمہ گیر فکری کنفیوژن سے نکلنے میں مدد دینا ہے جس سے اس وقت امت دوچار ہے۔
تیسری اہم خصوصیت مطالعہ اور معلومات کی وہ وسعت ہے جس سے کوئی بھی قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور جو خاص طورپر اس پہلو سے زیادہ قابل رشک اور موجب حیرت ہے کہ یہ خطبات مختصر نوٹس کی مدد سے زیادہ تر حافظے اور یادداشت کی بنیاد پر دیے گئے۔ علمی مآخذ کے حوالہ جات بہت زیادہ نہ ہونے کے باوجود بحثوں کی نوعیت اور تجزیے کے دروبست سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ صاحب محاضرات نے اس موضوع پر قدیم وجدید لٹریچر کا وسیع مطالعہ کیا ہے اور مختلف علمی دائروں میں نشو ونما پانے والی بظاہر الگ الگ بحثوں کا باہمی ربط متعین کرنے کے ضمن میں اس کے ہاں ایک طویل ذہنی عمل ہوا ہے۔ محاضرات سے کلاسیکی علمی ورثے سے عالمانہ واقفیت اور معاصر اہل علم کی ذہنی وفکری کاوشوں اور علمی رجحانات پر گہری نظر، دونوں کی غمازی ہوتی ہے اور اسلامی علوم کے طلبہ اگر مطالعہ اسلام کی وسیع الاطراف علمی روایت کا ایک عمومی تعارف حاصل کرنا چاہیں تو یہ سلسلہ محاضرات اس کے لیے ایک راہ نما ثابت ہو سکتا ہے۔
چوتھی اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان محاضرات میں مغربی فکر، اس کی اساسات اور اس کے تہذیبی مزاج پر بھی ایک بھرپور تبصرہ آ گیا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ فکر اسلامی کے مختلف شعبوں کا مطالعہ دراصل مغربی زاویہ فکر کے ساتھ تقابل کے انداز میں ہو ا ہے اور دونوں فکری نظاموں کی اساسات، امتیازی خصائص اور باہمی تناقضات کی تعیین وتنقیح کا رنگ اس پورے سلسلہ محاضرات پر غالب ہے۔ اس تجزیے میں اعتدال اور توازن پایا جاتا ہے، چنانچہ نہ تو مغرب کے تہذیبی استیلا پر فرسٹریشن اور جھنجھلاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے اہل مغرب کی ہر بات کی نفی کا رویہ اپنایا گیا ہے اور نہ اس کی تہذیبی چکاچوند اور اقتصادی ترقی سے مرعوب ہو کر اسلام اور امت مسلمہ کے تہذیبی ومزاجی خصوصیات سے دست برداری کا سبق دیا گیا ہے۔ اس گفتگو میں سیاسی اور صحافتی انداز کے سطحی تجزیے اور تبصرے بھی نہیں کیے گئے اور عمرانی علوم، قوموں کی اجتماعی نفسیات اور تہذیبی مطالعے کے معروضی اصولوں کی روشنی میں صورت حال کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہاں ضمناً ایک نقطہ نظر پر تبصرہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک خاص حلقہ فکر کی طرف سے یہ بات بڑے زور وشور سے اٹھائی گئی ہے کہ عالم اسلام کے طول وعرض میں اور خاص طور پر برصغیر میں جن اصحاب علم ودانش نے اسلام اور جدید مغربی فکر وتہذیب کے باہمی تعلق کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کیے، وہ مغربی فکر سے مناسب واقفیت نہیں رکھتے اور اگرچہ اسلام اور اسلامی شریعت وفقہ پر انھیں عبور حاصل ہے، لیکن مغربی فکر وفلسفہ سے کماحقہ واقف نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے معاشرتی، معاشی اور سیاسی اجتہادات میں گمراہی کا شکار ہو گئے ہیں۔
میری طالب علمانہ رائے میں اس زاویہ نظر میں دو چیزوں کو گڈ مڈ کر دیا گیا ہے۔ ایک چیز ہے وہ خاص ذہنی رو اور وہ مخصوص احساس اور رجحان جو ایک اخلاقی قدر کی صورت اختیار کر کے کسی تہذیب کے رگ وپے میں سرایت کر جاتا، ا س کے ظاہر وباطن کا عنوان بن جاتا اور اس کے پورے وجود کا احاطہ کر لیتا ہے، جبکہ دوسری چیز ہے اس رجحان اور احساس کی تعبیر وتشریح اور اس کو فکر وفلسفہ کی صورت دینے کے لیے کی جانے والی ذہنی کاوشیں۔ یہ دوسری چیز ظاہر ہے کہ پہلی چیز کے تابع اور اس کی خادم ہے، کیونکہ فلسفیانہ اور نظری بحثیں زیادہ تر یا تو اس مخصوص تہذیبی مزاج کو، جو اس کے مخدوم کا درجہ رکھتا ہے، نفسیاتی سہارا اور مابعد الطبیعیاتی واخلاقی جواز فراہم کرنے کے لیے ہوتی ہیں یا اس کی کچھ فکری الجھنوں کو سلجھانے کے لیے اور یا اس تہذیب کی فکری بلند نظری اور تفوق کا تاثر قائم رکھنے کے لیے۔ ان بحثوں کا گہرائی اور باریک بینی سے مطالعہ کرنا یقیناًاس تہذیبی مزاج کے گہرے علمی تجزیے میں بہت مدد دیتا ہے، لیکن جہاں تک اس تہذیب کے بنیادی ذہنی رویے، پیغام اور عملی ترجیحات کا تعلق ہے تو اسے سمجھنے کے لیے اکیڈمک معنوں میں کوئی فلسفی ہونا ضروری نہیں۔ یہ خاص ذہنی رو اپنے سارے مظاہر اورمضمرات کے ساتھ مغرب کی پوری تہذیب کی صورت میں ہمارے سامنے جلوہ گر ہے اور انفرادی اخلاقیات سے لے کر سیاست، معیشت، قانون، تہذیب وتمدن اور بین الاقوامی تعلقات تک ہر دائرے میں اس کی ترجیحات سے ہر صاحب نظر واقف ہے۔ گزشتہ دو صدیوں میں مغرب میں فلسفیانہ فکری نظام چاہے کتنے ہی سامنے آئے ہوں، مغربی تہذیب کا جو رخ اور مزاج متعین ہوا ہے، وہ ایک ہی ہے اور اس کے اور اسلام کے مابین پائے جانے والے کسی تضاد کو سمجھنے کی وجدانی صلاحیت اقبال جیسے فلسفی اور کسی دور افتادہ گاؤں میں رہنے والے ایک سادہ صاحب ایمان کو یکساں حاصل ہے۔
پھر یہ بات کہ علماے اسلام کی اجتہادی گمراہیوں کی وجہ اسلام سے ناواقف ہونا نہیں بلکہ مغربی فکر سے ناواقف ہونا ہے، اپنے اندر ایک داخلی تضاد رکھتی ہے۔ متضاد چیزوں کی پہچان کا اصول یہ ہے کہ آدمی ایک چیز سے جتنی گہری واقفیت رکھتا ہوگا، اس کی ضد کو پہچاننے کی صلاحیت بھی اسے اتنی ہی حاصل ہوگی۔ اگر ایک صاحب علم اسلام سے اور اس کی فکری عملی ترجیحات سے فی الواقع کماحقہ واقف ہے تو اس کی مخالف سمت میں جانے والے کسی رجحان سے دھوکہ نہیں کھا سکتا، اس لیے علماے اسلام نے اگر دور جدید کی کچھ غیر اسلامی چیزوں کو سند جواز دیا ہے تو ان کا جرم دراصل مغربی فکر سے ناواقفیت نہیں بلکہ خود اسلام اور اس کے مزاج سے ناواقفیت قرار پانا چاہیے اور صاف لفظوں میں یہ کہنا چاہیے کہ انھوں نے مغرب کے فکری اثرات کے تحت خود اسلام کی ترجیحات کو بدل دینے کی جسارت کی ہے۔
بہرحال ڈاکٹر محمود احمد غازی کے محاضرات دور حاضر میں اسلامی دانش کا ایک بلند پایہ اظہار ہیں اور انھیں اردو زبان کے اعلیٰ اسلامی لٹریچر میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی زندگی نے وفا نہیں کی، ورنہ خواہش ہوتی ہے کہ محاضرات کا یہ سلسلہ اسی نوعیت کے بعض دوسرے اہم موضوعات تک بھی وسیع ہوتا۔ تعلیم سے متعلق ایک مستقل سلسلہ محاضرات کا وہ ارادہ رکھتے تھے اور شاید تزکیہ نفس اور اخلاقی تربیت کا موضوع بھی ان کے ذہن میں ہو۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کے علم وبصیرت سے استفادہ کے دائرے کو وسیع سے وسیع تر کر دے اور اسے ان کے درجات میں بلندی کا ذریعہ بنا دے۔ آمین
ڈاکٹر محمود احمد غازی علیہ الرحمۃ
ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان
میرے والد پروفیسر عابد صدیق صاحب کا انتقال ۷؍ دسمبر ۲۰۰۰ء کو ہوا۔ وفات سے کچھ دن پہلے اُنھوں نے مجھے ایک خط لکھا جس میں دعوت و تبلیغ کی مرکزی شخصیت حضرت مولانا محمد احمد انصاری صاحب مدظلہ العالی سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ میں اُن دنوں مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات کے انگریزی ترجمے (Words & Reflections of Maulana Ilyas) کے آخری حصے پر کام کر رہا تھا جس میں تبلیغ سے متعلق شخصیات کے بارے میں ضروری شخصی معلومات دی گئی ہیں۔ اِس خط کا ایک جملہ تھا: ’’مولانا محمد احمد صاحب مدظلہ ۔۔۔ جامعہ عباسیہ [بہاول پور] میں ۔۔۔ ۱۹۴۲ء میں دورۂ حدیث مکمل کرنے کے بعد نسبت قدیم قائم رکھنے کے لیے دوبارہ دورۂ حدیث کے لیے دارالعلوم دیوبند چلے گئے۔۔۔۔‘‘ ’’نسبت قدیم‘‘ تو بڑی چیز ہے، اِس کے ذروں اور خوشبو کی تلاش میں، میں بھی پھرتا رہا ہوں اور پھرا کرتا ہوں۔ ایسے کئی اسفار میں بھائی سید ذوالکفل مرحوم کی معیت بھی نصیب رہی۔ چنانچہ ہم لوگ ایک بار وقت نکال کر محمد سہیل عمر صاحب اور مرحوم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کے ہاں بھی گئے۔ غازی صاحب سے یہ نسبت میرے اور میرے خاندان کے لیے بڑی سعادت ہے۔ برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ ’’نسبت قدیم‘‘ اردو کے اُن حسین مرکبات میں سے ہے جس کا مناسب انگریزی ترجمہ کم سے کم مجھ سے نہیں ہوسکا۔
محمود غازی صاحب سے اِس نابکار آید کا رابطہ اُن کے ایک خط سے شروع ہونا یاد پڑتا ہے جو اُنھوں نے اِس صدی کے ابتدائی دو تین سالوں میں سہ ماہی ’الزبیر‘ میں چھپنے والے میرے مضمون ’’اردو شاعری میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کو پڑھ کر مجھے لکھا تھا۔ میں تو اُنھیں جانتا تک نہ تھا۔ اُن جیسے مصروف آدمی کا یہ عنایت نامہ اُن کی ذرہ نوازی تھی۔ میں نے جواب بھی دیا اور فون بھی کیا۔ بس یہیں سے اللہ نے تعلق بنا دیا جو بحمداللہ اُن کے دمِ واپسیں تک ٹیلی فون، خط، کتابوں اور رسائل کے تبادلے کی صورت میں قائم رہا۔ وہ اب یاد آتے ہیں تو دل میں ایک کھوہ سی پڑنے لگتی ہے۔ اللہ اُن کے درجات کو بلند فرمائے۔
اِس پہلے خط کے جوابی ٹیلی فون میں (یا شاید کچھ بعد میں) اُنھوں نے مجھ سے میرے والد صاحب کا کلام اور مضامین کا مجموعہ طلب فرمایا۔ میں نے کتب ارسال کیں تو چند روز بعد اُنھوں نے فون پر میرے والد صاحب کے مضمون ’’محسن کاکوروی کی نعتیہ شاعری‘‘ کے بارے میں فرمایا کہ یہ میری خاص دلچسپی کا موضوع ہے۔ اِس مضمون کو کہیں الگ سے چھپوا دیجیے کہ شاید محسن کی شاعری پر بات چیت شروع ہو جائے۔ میں نے اُنھیں بتایا کہ میرے والد صاحب افسوس کے ساتھ فرمایا کرتے تھے کہ محسن کی شاعری کو ہر تذکرے سے بھلا دیا گیا ہے حالانکہ وہ صاحب طرز شعرا میں سے ہیں۔ غازی صاحب نے محسن کاکوروی کی نعت گوئی پر اور برعظیم کے اُس وقت کے کلچر پر کئی باتیں بتائیں اور خصوصاً اُن کے ڈکشن پر میرے والد صاحب کے نکات کو سراہا۔ میں نے یہ مضمون ’الزبیر‘ کی کسی قریبی اشاعت میں چھپوایا۔ ڈاکٹر صاحب نے مدیر ’الزبیر‘ ڈاکٹر شاہد حسن رضوی کو اِس کی بابت خط بھی لکھا جو شائع ہوا۔ یہ اُن کا مزاج تھا کہ بس ذرا چھیڑ دیجیے، وہ تاریخ اور ثقافت کی کوئی نہ کوئی اہم بات ضرور ذکر کر دیا کرتے تھے۔
یہ مضمون تعزیتی نوعیت کا ہے، لیکن مناسب ہے کہ اِسی موقع پر غازی صاحب سے اپنی واحد ملاقات کا ذکر کردیا جائے۔ فون پر تو سالہاسال باتیں ہوئیں اور کئی خط بھی آئے اور گئے، لیکن ملاقات کا موقع صرف ایک بار بنا۔ بھائی ذوالکفل اور میں غالباً ۲۰۰۶ء کے اوائل میں کسی وقت اُن کے ہاں گئے تھے۔ رسمی تعارف تو پہلے بھی تھا، لیکن بھائی ذوالکفل کے سعودیہ میں عرب زمین زادوں کو انگریزی پڑھانے کے موضوع سے بات چیت شروع ہوئی اور ذرا ہی دیر میں یہ مجلس کشت زعفران بن گئی۔ غازی صاحب نے بچوں کو بنیادی تعلیم انگریزی میں دینے کے مضمرات کو ذکر کیا اور وہ پرانا لطیفہ سنایا کہ ایک بچے کو My Friend کا مضمون یاد تھا، لیکن امتحان میں My Father پر مضمون لکھنے کو کہا گیا۔ اب اُس نے جو لکھا، وہ یوں تھا: I have many fathers but Aslam is my best father. He is my class-fellow...۔ اب جو قہقہہ چھوٹا تو بھائی ذوالکفل نے فرمایا کہ دوسری زبان میں تعلیم دینے کی تو الگ رہی، بنیادی بات معیارِ تعلیم کی ہے۔ وہ لطیفہ بھی تو آپ نے سنا ہوگا کہ ایک طالب علم نے مضمون فٹ بال میچ کا آنکھوں دیکھا حال رٹ لیا۔ امتحان میں ریل کا سفر پوچھ لیا گیا۔ اب اُس نے ریل گاڑی میں بیٹھنے سے متعلق دو جملے لکھے اور انجن کو خراب کرکے ریل گاڑی کو ایک ویرانے میں لا کھڑا کیا جہاں کھلے میدان میں لڑکے فٹ بال کھیل رہے تھے۔ آگے فٹ بال میچ شروع ہوگیا۔ ابھی ہمیں غازی صاحب کے ساتھ بیٹھے پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے ہوں گے کہ قہقہے تھے کہ کمرے سے باہر بھی سنائی دینے لگے ہوں گے۔
مجھے فون پر ہونے والی گفتگوؤں سے اندازہ تھا کہ وہ اونچی آواز میں ہنسنے والے آدمی نہیں ہیں لیکن یہ ملاقات اِس خیال کی نفی کرگئی۔ دو عالی نسبت، بڑے خاندانی لوگوں کی اِس کھلی ڈلی گفتگو سے میرا جھاکا بھی اتر گیا تھا۔ انگریزی کو نظامِ تعلیم میں بالجبر ٹھونس دینے سے پیدا ہونے والی آدھی تیتیریت آدھی بٹیریت کا ذکر کرتے ہوئے میں نے عرض کیا کہ ابھی چند دن پہلے میری چھوٹی بیٹی بریرہ کو سکول میں ایک انگریزی مضمون My School حفظ کرایا گیا جس میں دس جملے تھے۔ تیسرا جملہ تھا: There are many teachers in my school.۔ میں نے اُس جملے میں teachers سے پہلے ایک شرارتی سا اسم صفت لگا کر یاد کرا دیا۔ اُس نے یہ مضمون کلاس میں سنایا تو پورے سکول میں حال حال پڑگئی۔ شکایت ہوئی جو بہت دور تک گئی۔
القصہ غازی صاحب کے مزاج کی یہ جہت ہم پر پہلی ملاقات میں اور پہلی بار کھلی۔ یہاں سے ہماری باتوں کا رخ تخلیقی تحریر اور رٹالائزیشن (Creative Writing & Rote Learning) کی طرف مڑ گیا۔ یہ ذکر ہوا کیا کہ ہمارے موجودہ نظامِ تعلیم سے ایسے پیڑ اُگ رہے ہیں جن کی شاخیں بالکل لنڈ منڈ ہوکر رہ گئی ہیں۔ غازی صاحب نے بصیرت افروز باتیں کیں اور خاص طور سے زور دیا کہ ہم اساتذہ کو پڑھاتے ہوئے جہاں موقع ملے، اپنے مذہبی کلچر اور تاریخ سے مثالیں لانے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ بھی فرمایا کہ ہم پڑھے لکھے لوگوں کو مذہب اور مسلک میں فرق رکھنا چاہیے۔ مذہب غیرتِ دینی کا سبق دیتا ہے اور مسلک رواداری کا۔
اِس ملاقات میں اُن کے ایک مضمون پر جو ’الشریعہ‘ میں اُنہی دنوں چھپا تھا، بہت دیر تک گفتگو رہی۔ اِس مضمون کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ مغرب بڑی گہری حکمت عملی کے ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کو (علی الخصوص نان ایشوز میں) مصروف (Engage) رکھتا ہے اور کیا ہماری حکومتیں، زعما، اہل ثروت اور علمی اشرافیہ اور کیا ہمارے عوام151 ہم سب کے سب لوگ مغرب کے فراہم کردہ اور طے کردہ ایجنڈے پر کام کرنے کے لیے ایک طرح سے مجبورِ محض ہیں۔ میں نے یہ مضمون بھائی عمار ناصر صاحب سے منگواکر کئی دوستوں کو اِی میل اور ڈاک سے بھیجا۔ غازی صاحب کے اِس جملے کی بات اب بھی چلتی رہتی ہے۔ کراچی کے بھائی سلمان سعد خاں نے پچھلے دنوں میڈیا پر سیلاب کی خبریں چلنے پر کہا تھا کہ یہ اُسی وقت تک چلیں گی جب تک مائی باپ کی طرف سے کوئی نیا ایجنڈا میڈیا فلیش کے لیے مہیا نہیں ہوتا۔ بھٹہ مزدور آسیہ کے توہین رسالت کیس کے سامنے آتے ہی مجھے احساس ہوا تھا کہ آئندہ چند ہفتوں کے لیے دھماچوکڑی کا بندوبست ہوگیا ہے اور جیسے پچھلے سال ایک لڑکی کو کوڑے مارنے والی ویڈیو سے کچھ فوری مقاصد حاصل کیے گئے تھے، اُسی طرح اِس کیس سے وسیع تر اہداف حاصل کیے جائیں گے۔
مغرب والوں کی سپاہِ دانش ہمیں مصروف رکھنے کے لیے ایسے موضوعات سوچتی ہے اور ہمارے لیے پیدا کی جانے والی یہ مصروفیت وقتی یا فوری نہیں ہوتی بلکہ شیطان کی آنت کی طرح کبھی نہ ختم ہونے والی ازلی و ابدی لم یلد ولم یولد قسم کی ہوتی ہے۔ مثلاً کچھ عرصے سے حجاب اور برقع عالمی میڈیا میں زیر بحث لایا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ اِس کے نتائج بہت برے نکلیں گے۔ آج وہ ہوتے تو دیکھتے کہ یورپ کی بہت سی پارلیمانوں نے حجاب کو خلافِ قانون قرار دے دیا ہے۔ اور ابھی تو یہ آغاز ہے، آگے آگے دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ وقتی لہروں میں بہہ جانے اور انتہائی غیر مستقل کاموں میں کود کر لگ جانے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے۔ بحیثیت مجموعی مسلمانوں کی حالت سوکھے پتے کی ہے کہ ہوا جہاں چاہے اُڑالے جائے، اِلا ماشاء اللہ۔ اسلام کے لیے ایسے ایسے حسن بن صباح پیدا ہوچکے ہیں کہ خدا ہی خیر کرے۔ میرے منہ میں خاک کہ آسیہ والے کیس کے چڑھتے دریا میں بہہ کر انجامِ کار کہیں توہین رسالت کا قانون سمندر میں نہ اتر جائے۔
اوپر ذکر کی گئی ویڈیو کو دیکھ کر میں نے بھائی ذوالکفل سے کہا تھا کہ یہ لڑکی کوڑے کھاکر جس سہولت سے اٹھی ہے اور کوڑے مارنے والے نے جس سہج سے کوڑے مارے ہیں، اُسے دیکھ کر مجھے فیضؔ کا شعر یاد آتا ہے:
کس قدر پیار سے اے جانِ جہاں رکھا ہے
دل کے رخسار پہ اِس وقت تیری یاد نے ہاتھ
یہ کوڑے ویسے لگے ہیں جیسے دل کے رخسار پہ یاد نے ہاتھ رکھا ہو۔ اِسی بات کو میں نے غازی صاحب سے بھی ذکر کیا اور داد پائی۔ یہ ویڈیو میں نے سب سے پہلے جنابِ افتخار عارف کے ساتھ دیکھی تھی اور دیکھتے ہی کہا تھا کہ اِس میں تین مقامات ایسے ہیں جن کی وجہ سے یہ ویڈیو جعلی ہے۔ اِس سلسلے کی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ اب تک تین لڑکیاں یا عورتیں وہ لڑکی ہونے کا دعویٰ کرچکی ہیں جسے کوڑے لگے تھے۔ اِس ویڈیو پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے ایکشن لیا تھا۔ اُنھیں چاہیے کہ اب پھر ایکشن لیں۔
دعوت و تبلیغ کے تیسرے امیر حضرت جی مولانا محمد انعام الحسن رحمۃ اللہ علیہ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی والدہ کے ماموں زاد بھائی تھے۔ اُن کے اِس رشتے کا ذکر مجھ سے تبلیغ کی مرکزی شوریٰ کے رکن، لارڈ ردرفورڈ کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کرنے والے واحد مسلمان سائنسدان، پاکستان کے پہلے چیف سائنٹسٹ اور ستارۂ امتیاز ڈاکٹر مظہر محمود قریشی نے کیا تھا۔ میں نے غازی صاحب سے ذکر کیا کہ مجھے حضرت جی مولانا محمد انعام الحسن رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کی سعادت حاصل ہے اور میں نے اُن سے مجمع میں نہیں بلکہ الگ سے بیعت کی تھی۔ گفتگو کا رخ غازی صاحب کے دودمانِ عالی شان کی طرف ہوگیا۔ اُنھوں نے اپنے خاندان سے متعلق کئی باتیں بتائیں۔ بھائی سید ذوالکفل نے اپنے نانا امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ سے اُن کی زندگی کے آخری دنوں میں ہونے والی ملاقات (اپریل ۱۹۴۴ء) کے حوالے سے کچھ باتیں کیں۔ میرے والد صاحب کا ذکر بھی آیا۔ غازی صاحب نے فرمایا کہ مجھے عابد صاحب کے کچھ مضامین سے مولانا جعفر شاہ پھلواری کی ’’اسلام اور موسیقی‘‘ یاد آتی ہے۔ جب ہم واپس ہونے لگے تو مصافحہ کرتے وقت اُنھوں نے اِس بیعت کی نسبت سے میرا ہاتھ چوم لیا۔ میں اِس کیفیت کو کبھی نہیں بھول سکتا۔ آج غازی صاحب کے بھائی محمد الغزالی صاحب سے بھی فون پر بات ہوئی۔ اللہ اُنھیں سلامت رکھے۔
ایک بات اور یاد آئی۔ کچھ سال سے مغرب نے ہمیں ’’بین المذاہب مکالمہ‘‘ نام کی مصروفیت دے رکھی ہے۔ جب اِس منصوبے کا آغاز ہوا تو شہزادہ چارلس پاکستان آیا۔ اُس کے فیصل مسجد کے دورے کے موقع پر بغیر لاؤڈ اسپیکر کے اذان دی گئی۔ اِس پر بڑی لے دے ہوئی۔ اخبارات اور انٹرنیٹ پر خبروں سے جب معاملہ خوب پخ گیا تو میں نے براہِ راست معلومات حاصل کرنے کے لیے غازی صاحب کو فون کیا۔ فرمایا کہ بات اِتنی نہ تھی جتنی کہ بڑھائی گئی۔ چارلس کو تکلیف نہ تھی کہ اذان لاؤڈ اسپیکر سے ہوتی۔ یہ تو ہمارے چند بے حمیت لوگوں کا Guilty conscious تھا جو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہوتے ہیں۔ یہ ایک نان ایشو تھا جسے خوامخواہ کھڑا کیا گیا۔ (عرض ہے کہ چارلس کے بارے میں بات کرتے ہوئے میں نے اُسے ’’لیڈی ڈیانا کا نصف بدتر‘‘ کہا تھا۔ غازی صاحب بہت محظوظ ہوئے۔ اِس مضمون کی فضا ذرا مختلف ہے، لیکن چونکہ بات متعلق ہے اِس لیے ذکر کی۔)
غازی صاحب میڈیا پر آنے کے سخت خلاف تھے۔ میڈیا اُن کے نزدیک ریڈیو یا اخبار کے انٹرویو کی حد تک تو بکراہت جائز تھا، بشرطیکہ اِس میں تصویریں نہ اتاری جائیں۔ تصویر سے اُنھیں انقباض ہوتا تھا۔ فرماتے تھے کہ اِس سے روحانیت کا بیڑہ غرق ہوجاتا ہے۔ میڈیا کی نحوستوں کا بتاتے ہوئے اُنھوں نے ایک بار یہ جملہ دوہرایا تو میں نے امِ حبیبہ نام کی خاتون کا ذکر کیا جو ایک مدرسہ پڑھانے والے اللہ والے کی بیٹی ہے اور جسے میڈیا نعتوں کے راستے سے ریڈیو اور پھر ٹی وی پر لایا۔ اب وہ بے پرد نظر آتی ہے۔ لوگوں کو یاد ہوگا کہ پرانے زمانے میں ٹی وی پر امِ حبیبہ کی نعت آتی تھی تو سکرین پر ایک پھول دکھایا جاتا تھا۔ اب تو نعتوں کے سلسلے میں بھی بڑی ترقی ہوگئی ہے۔ ہمیں یہ دن بھی دیکھنا تھے۔ انگریزی محاورے کے الفاظ میں تیز روشنی میں رہنے والے لوگوں کے لیے میڈیا سے جان بچانا بہت مشکل ہوا کرتا ہے۔ غازی صاحب مرحوم اپنے عمل سے یہ کرکے دکھا گئے ہیں۔
جن دنوں یورپ میں ساحل پر نہانے کا تین کپڑوں پر مشتمل باپردہ لباس ’’برقنی‘‘ متعارف ہوا، ایک بار فون پر غازی صاحب سے باتوں باتوں میں پردے کا ذکر آیا ۔ میں نے عرض کیا کہ پردے کے بارے میں میرے والد صاحب فرماتے تھے کہ اللہ نے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ آیات میں نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے اور ہر دو کو الگ الگ ہدایات دی ہیں اور اللہ نے مردوں کو حکم نہیں دیا کہ وہ عورتوں سے پردہ کرائیں۔ جو عورت پردہ نہیں کرتی، وہ اللہ کی گناہگار ہے نہ کہ اپنے مرد کی۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔ مرد کے ذمے یہ ضرور ہے کہ وہ ایسا ماحول بنائے رکھے جس میں پردہ کرنا اور شریعت پر چلنا آسان ہو اور اللہ کے حکم سے روگردان ہونا مشکل ہو، کیونکہ اُسے عورتوں پر فوقیت اور افضلیت دی گئی ہے۔ جو عورت پردہ توڑتی ہے، وہ اللہ کا حکم توڑتی ہے اور اِس حکم عدولی پر وہ اللہ کو براہِ راست جوابدہ ہے۔ پھر مجھے اپنا ایک مضمون ’’اسلام میں ادارۂ خاندان اور اُس کی اہمیت‘‘ پڑھنے کو فرمایا۔ یہ مضمون اُن کے محاضرات کے کسی مجموعے میں ہے۔ یہ مضمون بھی میں نے بہت سے دوستوں کو پڑھوایا ہے۔ وہ لوگ جو مذہب کے نام پر خاندانی اور علاقائی روایات کا پرتشدد پرچار کرتے ہیں، اُنھیں چاہیے کہ کھلے ذہن کے ساتھ اللہ کے احکامات اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے صحابہ علیہم الرضوان کا اِن احکامات پر عمل ملاحظہ فرمائیں۔ صرف یہی ایک نہیں بلکہ محاضرات میں بہت سے مضامین ایسے ہیں جنھیں بار بار پڑھنا چاہیے۔
پچھلے سال بھائی سید ذوالکفل کا انتقال ہوا تو غازی صاحب نے حج کے کچھ روز کے بعد فون کرکے مجھ سے تعزیت کی اور اُن کے حادثے کی تفصیل معلوم کی۔ اُن سے ملاقات کا اور اُن کی خوبیوں کا بہت دیر تک ذکر کرتے رہے۔ فرماتے رہے کہ اُن کے حسن خاتمہ پر رشک آتا ہے۔
۲۴؍ اکتوبر ۲۰۱۰ء کو غازی صاحب اللہ کے حضور حاضر ہوئے تو میں نے سب سے پہلے ششماہی ’’السیرہ‘‘ والے بھائی ڈاکٹر سید عزیزالرحمن سے اور پھر بھائی عمار ناصر سے تعزیت کی۔ مجھے بھائی عزیزالرحمن کے غم کا کچھ اندازہ تھا۔ ۱۷؍ جولائی ۲۰۱۰ء کو یونی کیرئنز انٹرنیشنل نے جامعہ کراچی میں اردو لغت بورڈ کی ’’اردو لغت (تاریخی اصول پر)‘‘ کی تکمیل پر تقریب سپاس منعقد کی تھی جس میں مجھے بھی بلایا گیا۔ اگلے روز دعوۃ ریجنل اکادمی کراچی میں غازی صاحب کا لیکچر تھا جس کے لیے بھائی عزیزالرحمن نے مجھے دعوت دی۔ اُن کا فون آیا تو میں اُس وقت ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب کے یہاں سے ہوائی اڈے کی طرف نکل رہا تھا، اِس لیے حاضر نہ ہوسکا اور اِس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ اِس کا ہمیشہ افسوس رہے گا۔ بھائی عزیزالرحمن نے غازی صاحب پر لکھے اپنے مضمون بھی مجھے ارسال فرمائے۔
فون پر باتوں میں، میں نے غازی صاحب سے کسی کی غیبت نہیں سنی اور نہ اُنھیں کسی پر تبصرہ کرتے پایا۔ کسی کے بارے میں بات کرتے تو ہمیشہ بھلائیوں کا تذکرہ کرتے۔ نماز کے نہایت سختی سے پابند تھے۔ دنیا کی چیزوں کے بارے میں للچاہٹ اُن میں نہ تھی۔ بے حد نرم دل تھے۔ ۸؍ اکتوبر ۲۰۰۵ء کو زلزلہ آیا تو میں ہری پور سے ایبٹ آباد، گڑھی حبیب اللہ، بالاکوٹ اور مظفر آباد گیا۔ مجھ سے وہاں کے حالات سنے تو باقاعدہ روتے رہے اور دعا کرتے رہے۔ علم کے ساتھ تقویٰ اور فروتنی، بڑے عہدے کے ساتھ انکسار، تونگری کے ساتھ سادگی، تصنع سے کوسوں دوری151 یہ سب صفاتِ حمیدہ اُن کی ذات میں بڑے احسن طریقے سے جمع ہوگئی تھیں۔
غازی صاحب سے فون پر استفسارات اور معلومات کے تبادلے کی اجازت مجھے حاصل تھی۔ ہر سوال کا جواب ہمیشہ بہت تفصیل سے اور نواحی معلومات کے ساتھ ملتا۔ بعض اوقات حوالہ دیکھ کر بتاتے۔ اِنٹرنیٹ کی ایک سائٹ پر کسی نے قرآنِ پاک کے موجودہ متن کو ناقابل اعتبار بتانے کے لیے نسخہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے کچھ صفحات کے عکس رکھے اور اِی میلوں کے سیلاب کے ذریعے لوگوں کو اِس بحث میں الجھایا کہ تقابلی مطالعہ کرکے دیکھ لیں کہ آج جو قرآن پڑھا جارہا ہے، وہ متذکرہ نسخے سے مختلف ہے۔ میں نے ایک ایسی اِی میل اور کچھ صفحات کا پرنٹ آؤٹ غازی صاحب اور عبدالجبار شاکر صاحب کو بھیجا۔ غازی صاحب نے اِس پر بہت افسوس کا اظہار کیا کہ یہ خالص علمی بحث ہے، اِسے عوام میں چلانے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ پھر اِس سائٹ کے کرتا دھرتا سے بات کرنے، سمجھانے بجھانے اور اِسے بند کرانے تک کی ساری کارروائی میں اُنھوں نے فعال کردار ادا کیا۔ یہ نیکی بھی اُن کے توشے میں ہے۔ لیکن فون پر کیے گئے استفسارات میں سے دو باتیں تشنہ رہ گئیں۔ ایک بار میں نے قرآنِ پاک میں موجود وقوف کی صورتوں کے بارے میں دریافت کیا کہ مثلاً وقف لازم، وقف منزل، وقف النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وقف جبریل کی تو سمجھ آتی ہے، یہ وقفِ غفران کیا ہے؟ اِسی طرح قرآنِ پاک کو تیس سپاروں میں کس نے تقسیم کیا؟ فرمایا کہ ابھی ذہن میں نہیں ہے اور نہ ہی یہ یاد پڑتا ہے کہ اِن باتوں کا کبھی نظر سے گزر ہوا ہو۔ کسی وقت میں دیکھ کر بتاؤں گا۔ یہاں اِن دونوں باتوں کو اِس لیے ذکر کیا ہے کہ اگر کوئی صاحب جانتے ہوں تو مجھے ضرور بتا دیں۔
غازی صاحب سے رابطہ ہوتے ہی الشریعہ کا حوالہ ازخود درمیان میں آگیا۔ راقم کے نزدیک الشریعہ کی مثال ایک طرح کے اسلامی ہائیڈ پارک کی ہے۔ میں نے بڑی مدت سے ایسے مولوی صاحبان نہیں دیکھے تھے جو مسلمان کے مسلمان سے اختلاف کو اسلام کا اختلاف نہ سمجھتے ہوں۔ اللہ کے ایسے بندے مجھے تبلیغ والوں میں نظر آئے، پھر عطاء المحسن شاہ صاحب اور سید محمد ذوالکفل بخاری، اور اب مولانا زاہدالراشدی اور اُن کا الشریعہ۔ الشریعہ ایک تحریک ہے جس نے مختلف الخیال مسلمانوں کو اپنا اپنا نقطۂ نظر برقرار رکھتے ہوئے باہم گفتگو کا موقع، سلیقہ اور حوصلہ دیا ہے۔ الشریعہ کے بارے میں یہی بات غازی صاحب بھی کیا کرتے تھے۔ اس حوالے سے اُن کے ایک خط کے آخری جملے پر یہ تحریر ختم کرتا ہوں۔
’’الشریعہ‘‘ کے بارہ میں میرے تاثرات بھی وہی ہیں جو آپ کے ہیں۔ اس کا سارا کریڈٹ مولانا زاہدالراشدی صاحب کو جاتا ہے۔‘‘
یہ مضمون صرف حافظے سے لکھا ہے۔ ممکن ہے کہ ذکر کی گئی کوئی بات اپنے محل سے ذرا آگے یا پیچھے ہوگئی ہو، لیکن اِس سے مطالب پر اِن شاء اللہ کوئی زد نہیں آتی۔)
اتوار: ۱۹/ دسمبر ۲۰۱۰ء
مطابق: ۱۲/ محرم الحرام ۱۴۳۲ھ
ڈاکٹر غازیؒ ۔ چند یادداشتیں
محمد الیاس ڈار
صبح سویرے میرے موبائل کی گھنٹی بجی۔ ہمارے ایک دوست سید قمر مصطفی شاہ کی غم میں ڈوبی ہوئی آواز نے خبر دی کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی ہمیں چھوڑ گئے۔ میں لاہور میں تھا۔ جنازہ میں شریک نہ ہو سکنے کا افسوس ہوا۔ کئی دن تک یقین نہ آیاکہ وہ ہمارے درمیان نہیں رہے، بلکہ اب تک یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہمارے پاس ہی ہیں۔ کئی ایسے دوست جو زندگی میں کبھی ان سے نہیں ملے، مجھ سے افسوس کا اظہار کرتے رہے جیسے میرا کوئی عزیز رخصت ہو گیا ہے۔ میں اپنے پروگراموں کے لیے جہاں جہاں بھی گیا، ان کے لیے خصوصی دعا کا اہتمام کرتا رہا۔
وزارت صنعت وپیداوار سے وزارت مذہبی امور میں بطور جائنٹ سیکرٹری میرے تبادلے سے کچھ دیر پہلے ڈاکٹر صاحب وزارت کو خیر باد کہہ چکے تھے، مگران کی خوشگوار یادیں وزارت کے ماحول میں رچی بسی تھیں۔ سید قمر مصطفی شاہ ان کے سیکرٹری رہے، مگر ان سے وہ نہایت قریبی دوست اور گھر کے ایک فرد کی حیثیت سے ملتے تھے۔ اتفاق کی بات ہے کہ شاہ صاحب غازی صاحبؒ کے جانے کے بعد وزارت خارجہ میں واپس جانے کی بجائے وزارت مذہبی امورمیں رہ گئے اور زکوٰۃ ونگ میں میرے ساتھ ڈپٹی سیکرٹری رہے۔ جس محبت سے وہ ڈاکٹر صاحب ؒ کی باتیں بتاتے، اس سے انداز ہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے کس قدر اپنائیت اور برابری کا سلوک کرتے تھے۔
وزارت کے چھوٹے ملازم بھی ان کا ذکر نہایت محبت اور احترام سے کرتے۔ دفتر میں داخل ہوتے ہی ہر چھوٹے بڑے ملازم کو بڑے احترام سے ملتے اور سلام کرنے میں پہل کرتے۔ ہمیشہ ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھتے۔ چونکہ حافظ قرآن تھے، اس لیے پورا راستہ قرآن کی تلاوت کرتے رہتے۔ ان کے اور ان کے بھائی ڈاکٹر محمد الغزالی کے اکثر بچے حافظ قرآن ہیں۔ دونوں بھائی ایک ہی گھر میں الگ الگ حصوں میں رہتے تھے۔ انہوں نے بچوں کی تربیت اس طرح کی تھی کہ ہرمہمان خواہ وہ دفتر کا ڈرائیور یا نائب قاصد ہی کیوں نہ ہو، بچے اس سے احترام سے پیش آتے۔ اگرچہ اکثر سوٹ کا استعمال بھی کرتے تھے، لیکن سادہ لباس کو پسند کرتے تھے۔ کھانا بہت سادہ تناول کرتے اور مرغن کھانے پسند نہیں کرتے تھے۔ جن لوگوں نے انہیں قریب سے دیکھا، وہ بتاتے ہیں کہ ان کی عادات بے حد درویشانہ تھیں۔ وہ دین کو صرف بیان نہیں کرتے تھے بلکہ عالم باعمل بھی تھے۔ کسر نفسی کا یہ عالم تھا کہ اکثر مہمانوں کے جوتے سیدھے کر دیتے تھے۔ بعض اوقات تو یونیورسٹی یا وزارت کا کوئی معمولی ملازم اگر ملنے جاتا وہ شرمندہ ہوتا کہ ڈاکٹر صاحب ؒ اس کے جوتے اٹھا کر سامنے رکھ رہے ہوتے۔ کسی صاحب نے بتایا کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر ہونے کے زمانے میں اپنی ہی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کو کہتے کہ ڈاکٹر صاحب! مجھے آپ سے بہت محبت ہے۔ ان کا یہ طریقہ تھاکہ اچھے لوگوں سے صرف محبت ہی نہیں کرتے تھے بلکہ کھل کر اس کا اظہار بھی کرتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب ؒ نے وزارت اس وقت چھوڑی جب ایک متکبر آمر اپنی تمام رعونتوں کے ساتھ موجود تھا اور اس کے جانے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا۔ ہمارے ملک میں لوگ ہر ذلت سہتے ہیں، لیکن استعفا دینے کا نام نہیں لیتے۔ قمر مصطفی شاہ صاحب بتاتے ہیں کہ وہ یہ بات ذہن میں لے کر آئے تھے کہ دین اورملک کی کوئی خدمت کر سکیں، لیکن جب ان کو محسوس ہوا کہ سارے کا سارا ٹولہ کسی اور سانچے میں ڈھلا ہوا ہے تو انہوں نے وزارت سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا۔ مگر جب تک وزارت میں رہے، شب وروز اپنے فرائض کی بجاآوری میں لگے رہے اور سیاسی وزرا جو کام کئی سالوں میں نہیں کرتے، وہ چند ماہ میں کر گئے۔ زکوٰۃ کی بہتری کے لیے کئی کنونشن کیے، نئی زکوۃ کمیٹیاں بنوائیں، نئی زکوٰۃ اسکیمیں شروع کیں۔ حج وفد میں گئے تو اکیلے گلیوں اور محلوں میں گھوم پھر کر حاجیوں کی مشکلات حل کرنے کا سوچتے رہے۔ سعودی حج منسٹر سے تفصیلی ملاقات کی، کئی ملکوں کے حج وفود سے ملاقاتیں کیں۔ مدارس کے متعلق دین بیزار جرنیلوں سے اعتراف کروایا کہ ہمارے مدارس دنیا کی سب سے بڑی تعلیمی این جی او ز ہیں اور نہایت مفید خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ چونکہ خود دینی مدرسہ کے فارغ التحصیل تھے، اس لیے مدارس کی خدمات کو نمایاں کرنے میں ہر وقت کوشاں رہے۔ علما اور وفاق المدارس ؍ تنظیمات المدارس کے ذمہ داروں سے ملنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ مختلف مسالک کے علما کے پاس حاضر ہو کر ان کا نقطہ نظر معلوم کرتے اور بہتری کی تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کی بھرپور کوشش کرتے۔ مختلف دینی معاملات میں آخر وقت تک کابینہ اور حکومت کی رہنمائی کرتے رہے۔
ان کی دیانت کا یہ عالم تھا کہ آخری دن روانہ ہوتے وقت انہوں نے دفتر کی گاڑی بھی استعمال نہیں کی بلکہ گھر سے اپنی گاڑی منگوائی۔ دفتر کی اسٹیشنری انتہائی کفایت سے استعمال کرتے تھے۔ مثلاً استعمال شدہ کاغذوں کے پچھلے حصے کا رف کاغذ کے طور پر استعمال کرتے۔ فون کا بل ایک سیکشن افسر کے بل سے بھی کم ہوتا۔ وزارت کی مراعات ہر گز استعمال نہیں کرتے تھے۔ وزیروں کے لیے مختص رہائش گاہ کی بجائے اپنے اور اپنے بھائی کے زیر استعمال چھوٹے سے گھر میں رہتے رہے۔
وزارت کی فائلوں میں ان کا ایک تفصیلی خط پڑھنے کو ملا جو انہوں نے صوبائی گورنروں کو عشر نافذ کرنے کے لیے لکھا تھا۔ مجھے بتایا گیاکہ یہ خط لکھنے کے بعد وہ خود بھی گورنروں سے ملنے گئے، لیکن جو فضول دلائل زرعی ٹیکس سے بچنے کے لیے دیے جاتے ہیں، ویسے ہی عشر کے سلسلہ میں دیے گئے۔ ملک میں بے شمار دوسرے قوانین کی طرح زکوٰۃ وعشر کا قانون موجود ہے، مگر قانون نافذ کرنے والوں کی بدنیتی اس ملک کا سب سے بڑا روگ ہے۔ اس سلسلے میں ایک ضمنی بات یہ ہے کہ شریعت کے نفاذ کی بات ہو تو مغربیت کے پاکستانی اسیروں سے لے کر پورے مغرب اور امریکہ میں ایک اضطراب کی لہر دوڑ جاتی ہے، لیکن ہماری دینی سیاسی جماعتوں کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ پاکستان کے آئین اور قوانین میں اتنا زیادہ اسلامی مواد پہلے سے ہی موجود ہے کہ اس کا نفاذ شریعت ہی کا نفاذ ہوگا او ر اس کے نافذ کرنے کے مطالبہ پر رگیں پھڑکنے کا مظاہرہ بھی کم ہوگا، کیونکہ اس طرح ہم آئین اور قانون کے نفاذ کے مطالبے سے بے دین طبقے کی بدنیتی نمایاں کر رہے ہوں گے اور وہ بھی ان کے اپنے میدان فکر میں۔
وزارت میں مجھے زکوٰۃ سے حج ونگ کا انچارج بنا دیا گیا تواسی دوران دعوت ونگ کے جائنٹ سیکرٹری رخصت پر چلے گئے۔ ان کاکام بھی اضافی طور پر میرے سپرد ہوا۔ اسی ونگ میں رویت ہلال کے سلسلہ میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں مرکزی اور صوبائی رویت ہلال کمیٹیوں کے سرکردہ افراد، متعلقہ محکموں کے سرکاری افسران اور خصوصی دعوت پر ڈاکٹر صاحب شریک ہوئے۔ وزیر مذہبی امور صدارت کر رہے تھے کہ انہیں اور سیکرٹری مذہبی امور کو وزیر اعظم ہاؤس سے فوری حاضر ہونے کا بلاوا آ گیا۔انہوں نے میٹنگ جاری رکھنے کا کہا۔ کافی حضرات کے دلائل سننے کے بعد ڈاکٹر صاحب ؒ نے کہا کہ انہیں کسی اور جگہ جانا ہے، اس لیے اگر انہیں بات کرنے کی اجازت دے دی جائے تو ان کے لیے آسانی رہے گی۔ ان کی سادگی، دوسروں کے لیے احترام اور موثر خطاب آج بھی میرے احساسات میں موجود ہے۔ انہوں نے تمام معاملے کے دینی اور تکنیکی پہلوؤں کو جس انداز سے بیان کیا، اگر ہمارے بھائیوں میں وسعت قلبی ہوتی تو رویت ہلال کے اختلافات ختم کر چکے ہوتے۔
اسلامی یونیورسٹی کے فاضل پروفیسر ڈاکٹر طفیل صاحب نے ایک دفعہ مجھے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب ؒ کو ان کی زندگی کے آخری سالوں میں اعلیٰ انتظامی عہدوں کی پیش کش ہوئیں مگر انہوں نے صرف پی ایچ ڈی کے طلبہ کو پڑھانے اورعلمی کام کرنے کو ترجیح دی۔ فیڈرل شریعت کورٹ میں شمولیت سے پہلے میری اطلاع کے مطابق آپ قطر اور ملائشیا کی یونیورسٹیوں کے نصاب مرتب کرنے میں مصروف رہے۔ آخر اس درجہ کے اسکالر ہم کہاں سے لائیں گے جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر یکساں مقبول ہوں۔ اس کے باوجود انکساری کا یہ عالم تھا کہ چھوٹے بڑے سب کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتے تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر محمد الغزالی، جو خود اعلیٰ پائے کے اسکالر اور سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ کے جج ہیں، ڈاکٹر انیس احمد کے بقول نجی محفلوں میں ڈاکٹر غازی سے بھی چھیڑ چھاڑ سے پرہیز نہ کرتے، لیکن ڈاکٹر غازی صاحبؒ کبھی اپنے بڑے ہونے کا حق استعمال نہ کرتے بلکہ ان کی خوش مزاجی سے محظوظ ہوتے۔ ڈاکٹر صاحب! اب آپ کس کو لطیفے سنائیں گے اور اس پایے کا بھائی کہاں سے تلاش کریں گے؟ ہمارے جیسے لوگ جو ڈاکٹر غازی سے بہت کم ملے، اپنے دل میں ان کی جدائی کا غم آج تک محسوس کرتے ہیں مگر دونوں بھائی تو ایک ہی مکان کے دو حصوں میں اکٹھے رہتے تھے۔ آخروہ اوران کے بچے کس حال میں ہوں گے؟ ہم کمزور بندوں کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔
وزارت مذہبی امور میں ان کاایک اہم کام تین ماڈل دینی مدارس کاقیام تھا۔ ان مدارس کے سلسلہ میں ڈاکٹر غازی صاحب کا ذہن پڑھنے کے لیے انہی کی تحریر کا ایک اقتباس پیش کیا جاتا ہے۔ الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ایک لیکچر میں دینی مدارس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا:
’’نہ وسائل دستیاب تھے، نہ حکومتی سرپرستی دستیاب تھی اور نہ وہاں کے فارغ شدہ حضرات کے لیے قیادت کے مناصب موجود تھے۔ معاشرہ ان کی قیادت کو ماننے اور ان سے رہنمائی لینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ان کی رہنمائی مسجد اور مدرسہ کے خاص دائرے تک محدود تھی، اس لیے انہو ں نے جو کچھ کیا، اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے گا اور جتنا دین موجود ہے، انہی کی کاوش سے موجود ہے۔ لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جو دین موجود ہے اس کو زندگی کے روزمرہ معاملات سے relate کیا جائے اور اس کو معاشرے میں فعال قائدانہ کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں لایا جائے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ اہل دین کے پاس دینی علوم کا تخصص بھی موجود ہو اور جس دنیا اور جس معاشرے میں انہیں قیادت فراہم کرنی ہے، اس کے بارے میں بھی قائدانہ اور ناقدانہ واقفیت انہیں حاصل ہو۔‘‘ (دینی مدارس اور عصر حاضر: مرتب شبیر احمد میواتی، ص ۱۴۷)
انہوں نے ڈاکٹر ایس ایم زمان کے ساتھ مل کر ایک سیٹ اپ قائم کیا اور ماڈل دینی مدارس کے لیے جدوجہداور قدیم علوم پر مشتمل ایک نہایت عمدہ نصاب مرتب کیا۔ میرے پاس حج ونگ کی ذمہ داری تھی اور مدارس سے متعلقہ جائنٹ سیکرٹری جو پولیس کے ڈی آئی جی ہونے کے باوجود بیوروکریسی کے غلط رویوں سے بچے ہوئے تھے اور اپنی مرضی سے اس وزارت میںآئے تھے ، انہوں نے تجویز کیا کہ مجھے ماڈل دینی مدرسہ، اسلام آباد کے پرنسپل کا اضافی چارج دے دیا جائے۔ چند ہفتوں کے بعد وزیر مذہبی امور ایک یورپی وفد کے ساتھ اس مدرسہ کے دورے پر آئے۔ انہوں نے اس کی بدلی ہوئی حالت دیکھی اور کہا کہ کراچی اور سکھر والے مدارس بھی میرے زیر نگرانی دے دیے جائیں۔ اس طرح مجھے تینوں ماڈل دینی مدارس کا مہتمم بنا دیا گیا۔ ایک سال کے اندر اندر ان مدارس کے سٹاف کو متحرک کرکے ہم نے ان کی حالت اس طرح بدل دی کہ ہر طرف سے ’’ بند کرو‘‘ کی آوازیں آنا بند ہو گئیں ۔ طلبہ وطالبات کی تعداد دوسو سے بڑھ کر ایک ہزار ہو گئی۔ غریب طلبہ کے لیے زکوٰۃ فنڈ سے وظائف مقرر کیے گئے۔ امتحانات کا ایک نظام وضع کیا گیا اور ان کو امتحانات کے لیے اسلامی یونیورسٹی سے منسلک کر دیا گیا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ خبریں ڈاکٹر صاحب ؒ تک بھی پہنچتی رہیں اور خوش ہوتے رہے۔
ایک دن صاحبزادہ ڈاکٹر ساجدالرحمن (موجودہ ڈائریکٹر جنرل دعوہ اکیڈمی) کا فون آیا کہ وہ سیرت پر ڈاکٹر غازی صاحب کے محاضرات کروا رہے ہیں اورمجھے اس میں شامل ہوناچاہیے۔ باوجود حج کی انتظامی ذمہ داریوں کے ، میں نے بارہ میں سے آٹھ نو محاضرات میں شرکت کی۔ اس دوران چائے کی میز پر صاحبزادہ صاحب نے میرا تعارف کروایا توبہت خوش ہوئے ۔ مدارس کے حوالے سے وہ میرے کام سے واقف تھے۔ انہوں نے کہا: ڈار صاحب ! کم از کم تین ماڈل دینی مدارس اور قائم کر دیں۔ آپ اس وزارت سے چلے گئے تو یہ کام رہ جائے گا۔ آپ کا خدشہ درست ثابت ہوا۔ تقریباً دو سال ماڈل دینی مدارس کی خدمت کرنے کے بعد میرا تبادلہ ہوگیا اور مجھے ایک تربیتی ادارے کا ڈائریکٹر جنرل بنادیا گیا۔
ڈاکٹر صاحبؒ کے قرآن، حدیث، سیرت، فقہ، شریعت اور معیشت وتجارت پر چھ محاضرات شائع ہو چکے ہیں۔ ان کے تفصیلی تعارف کے لیے تو ایک الگ مضمون کی ضرورت ہے، لیکن ایک بات جس کا تذکرہ ضروری ہے اور ہمارے علما اور سکالرز کی رہنمائی کے لیے بہت اہم ہے، وہ ان محاضرات کی ہر مکتبہ فکر میں مقبولیت ہے۔ مختلف مسالک کے علما کے پاس ان کی کوئی نہ کوئی جلد میں نے خود دیکھی ہے جواس بات کا ثبوت ہے کہ ڈاکٹر صاحب ؒ کے نزدیک قرآن وسنت اور دین کی سربلندی بنیادی اہمیت کی حامل تھی اور مسلکی اور فروعی باتوں کی حیثیت ثانوی تھی۔ ان کے ذہن میں عقیدہ وایمانیات او ر تزکیہ واحسان سمیت کچھ اور موضوعات پر بھی محاضرات کا نقشہ تھا، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اگر صرف ان محاضرات کے مواد ہی کو دیکھا جائے تو ان کے علم وفکر کی وسعتیں نظر آتی ہیں، لیکن انہوں نے تمام عمر علم کی خدمت کی اورایک عظیم علمی ذخیرہ اہل ذوق کی تسکین کے لیے چھوڑا ہے۔ ان کی تقریر وتحریر یکساں پر تاثیر تھیں۔ علم دین کے لیے ان کی یکسوئی اور قدیم وجدید مسائل سے ان کی آگاہی ان کی کثیرالجہات شخصیت کی آئینہ دار ہیں۔
ہم نے دعوت فاؤنڈیشن پاکستان کا بیڑہ اٹھایا تو ہمارے ذہن میں کام کا یہ نقشہ تھا کہ مختلف مسالک اور دینی جماعتوں کی نمایاں شخصیات کو اس کے تعلیمی بورڈ میں شامل کیا جائے تاکہ اس کے پروگراموں سے استفادہ کرنے والوں کے ذہن میں کوئی جھجک نہ رہے۔ اس کے تعلیمی پروگراموں کا نصاب قدیم وجدید مصنفین کی کاوشوں پرمشتمل ہو، کم فرصت والے خواتین وحضرات کے لیے ایک باسہولت پروگرام ہو اور گھر بیٹھے علم دین سیکھنے کا بندوبست ہو۔ کام کے آغاز کے وقت ڈاکٹر صاحب ؒ کا نام ہمارے ذہن میں تھا لیکن جب بھی رابطہ کیا تو وہ بیرون ملک ہوتے تھے۔ جب وہ شریعت کورٹ کے جج بن گئے تو ہم نے سوچا کہ اب ان کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہونا مشکل ہوگا۔ گذشتہ شعبان میں گوجرانوالہ میں علامہ زاہد الراشدی کی خدمت میں حاضر ہوا کہ وہ دعوت فاؤنڈیشن کے تعلیمی بورڈ کی رکنیت قبول فرمالیں۔ انہوں نے میری گزارش کو شرف قبولیت بخشا جس کے لیے ہم ان کے ممنون ہیں۔ اس حاضری کے دوران انہوں نے فرمایا کہ ڈاکٹر غازی کو بھی اس میں ضرور شامل کریں۔ گذشتہ رمضان میں سیدقمر مصطفی شاہ کے ساتھ ان کے گھر پر حاضر ہو ا تو وہ نہایت خندہ پیشانی سے ملے۔ ہمارے پروگرام کا طویل ڈرافٹ اور ۷۵ کتب پر مشتمل دو ضمیمہ جات انہوں نے ہمارے سامنے نہایت توجہ سے پڑھے۔ اس کے بعد انہوں نے پروگرام کی اتنی تعریف کی اور اتنی دعائیں دیں کہ ہمارے وہم و گمان میں نہیں تھا ۔ بعدازاں انہوں نے ہرقسم کے تعاون کا یقین دلایا اور بے شمار نیک تمناؤں کے ساتھ ہمیں رخصت کیا۔ میں نے ضمناً عرض کیا کہ اگلے محاضرات دعوت فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم پر ہونے چاہئیں تو فرمانے لگے کہ ایک دفعہ نہیں، اپنی تمام مصروفیات کے باوجود ،جتنی دفعہ بھی آپ کہیں گے اور جہاں بھی کہیں گے، میں حاضر ہو جاؤں گا۔ان کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے ایک مشترکہ جاننے والے بزرگ عیدا لفطر کے موقعہ پر عید گاہ میں ان سے ملے اور دعوۃ فاؤنڈیشن سے تعاون کے لیے کہا توانہوں نے فرمایا کہ میری طرف سے ڈار صاحب کو کہیں کہ وہ ایک میٹنگ بلائیں تاکہ ہم سب بتا سکیں کہ اپنی استطاعت کے مطابق ہم دعوۃ فاؤنڈیشن کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ ان کے سامنے بھی انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا کام ہے اور پھر ڈھیر ساری دعائیں دیں۔ ڈاکٹر صاحب !اس سب کچھ کے لیے ہم آپ کو کہاں تلاش کریں؟ ہم آپ کی دعاؤں اور تمناؤں کی آغوش میں ہیں۔
ہمیں یقین ہے کہ وہ اپنی اس شاندار زندگی سے ایک ایسی زندگی میں داخل ہو گئے ہیں جہاں فرشتے ان کواہلاً وسہلاً مرحبا کہہ رہے ہیں، رب کے انوار ان کااحاطہ کیے ہوئے ہیں اور ان کے شایان شان ان کا اکرام ہو رہا ہوگا۔ ان کی یہ مختصر زندگی ، ایک طویل اور پرمسرت زندگی کا نقطہ آغاز تھی۔وہ ایک ایسی زندگی میں داخل ہو گئے ہیں جو خالدین فیہا کی تصویر ہے۔ بقول علامہ اقبال ؒ
تو اسے پیمانہ امروز وفردا سے نہ ناپ
جاوداں، پیہم رواں، ہردم جواں ہے زندگی
ایک ہمہ جہت شخصیت
ضمیر اختر خان
اللہ تعالیٰ نے بشمول انسان کے تمام مخلوقات کے لیے موت کے حوالے سے اپنا ضابطہ قرآن مجید میں یوں بیان فرمایا ہے: کل من علیھا فان (سورۃالرحمن:۲۶) کل نفس ذائقۃ الموت (سورۃ آل عمران: ۱۸۵، سورۃ العنکبوت:۵۷)۔ جو یہاں آیا ہے، اسے بالآخر جانا ہے۔ ہمارے محترم اور نہایت ہی شفیق بزرگ جناب ڈاکٹر محمود احمد غاز ی رحمہ اللہ اسی الٰہی ضابطے کے تحت اپنی آخری منزل کی طرف چل دیے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔
ڈاکٹر غازی ؒ ایک ہمہ جہت شخصیت کے حامل انسان تھے۔ وہ بیک وقت ایک عالم دین، فقیہ، متکلم وخطیب، قانون دان، ماہر تعلیم، دانشور، مصلح اور اعلیٰ درجے کے منتظم تھے۔ اگرچہ انہوں نے عملی سیاست میں حصہ نہیں لیا، مگربہت اچھی سیاسی بصیرت رکھتے تھے۔ ان سے میر ا پہلا تعارف جولائی ۱۹۹۰ء میں ایک سیمینار کے دوران ہوا جس میں انہوں نے ’’ فرقہ بند ی اور معاشرے پر اس کے اثرات ‘‘ کے موضوع پر نہایت مدلل اور پرجوش خطاب فرمایا تھا۔ میں نے تقریر کے اختتام پر منتظمین سے درخواست کی کہ اس خطاب کا کیسٹ مجھے مہیا کیا جائے۔ انہوں نے کمال مہربانی سے وہ کیسٹ مجھے عطا کیا جو آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ میں نے متعدد بار اسے سنا اور اس کا عنوان اپنے طور پر بدل کر ’’ مسلمانوں میں فرقہ بندی کا افسانہ‘‘ رکھ لیا ا ور بہت سے لوگوں کو استفادے کے لیے دیتا رہا۔ بعد ازاں اسی موضوع پر مولانا مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ کی کتاب بھی مجھے مل گئی جو اپنی جگہ جامع ہے، مگر جو انداز، دلائل اور جوش و جذبہ ڈاکٹر غازی ؒ کے اس خطبے میں ہے، اس کی تاثیر بہت زیادہ ہے اور ابھی تک برقرار ہے۔
دسمبر ۲۰۰۳ء میں ہم نے ایک سیمینار منعقد کیا اور اس میں ایک بار پھر ڈاکٹر محموداحمد غازیؒ کو مدعو کیا۔ اب کی بار ان کا موضوع: Religious Motivation and Geostrategic Compulsions of Pakistan تھا۔ عنوان انگریزی میں ہونے کے باوجودا ور خود انگریزی پرعبور رکھنے کے باوجود انہوں نے خطاب اردو میں کیا اور ایسا پر جوش خطاب کیا جس کی تازگی او رتحرک (Vibration ) ابھی تک برقرار ہے۔ پرویزی حکومت میں وزیر مذہبی امور ہونے کے باوجود انہوں نے جس بے باکی سے عالم اسلام کے اتحاد اور پاکستان کے مسلم دنیا کے حوالے سے کردار پر جذباتی انداز میں بات کی، اس نے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے تصور کی دھجیاں اڑادیں اور نہ صرف پرویزی فکرکے تار و پود بکھیر دیے بلکہ مجھ سمیت بہت سو ں کو رُلا دیا۔ ان کے خطاب کا انداز بھی ہمیشہ منفرد ہوتا تھا۔ میں نے کبھی انہیں طویل تمہیدیں باندھتے نہیں سنا۔ حمد و ثنا کے فوراً بعدہی موضوع پر جوشیلے انداز سے بولنا شروع کر دیتے تھے۔ ان کا ایک اورخطاب بعنوان ’’ اسلام میں تفریح کا تصور‘‘ تقریباً تین گھنٹوں پر مشتمل میرے پاس ہے۔ اس میں جیسے ہی تعارفی کلمات کے بعد انہیں مدعوکیا گیا، انہوں نے فوراً موضوع پر بولنا شروع کر دیا اور مسلسل بولتے رہے اور ایک ہی رفتار و آواز سے بولتے گئے۔ انتہائی سنجیدہ گفتگو کرتے ہوئے کوئی ایسا ذو معنی جملہ بولتے کہ ہمہ تن گوش سامعین عین سنجیدگی کے عالم میں بے اختیار ہنس پڑتے۔
ڈاکٹر غازی ؒ کی ایک اور انفرادیت یہ تھی کہ وہ علما کے درمیان جدید دانشور لگتے تھے اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کے مابین علما کے ترجمان و حمایتی محسوس ہوتے تھے۔ وہ ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والوں کو مطمئن کرنے کا ہنر جانتے تھے۔ کسی بھی موضوع پر انہیں اظہار خیال کی دعوت دی جائے، لگتا تھا جیسے اسی کے متخصص (Specialist) ہیں۔ تاریخ پر ان کی گہری نظر تھی۔ خاص طور پر مسلمانوں کے عروج وزوال کے اسباب سے بخوبی آگاہ تھے۔ ان کی ایک تقریر اس موضوع پر میرے پاس موجود ہے۔ اس میں انہوں نے بڑے خوب صورت انداز میں اہل ایمان کو متوجہ کیا ہے کہ وہ اپنی تابناک تاریخ سے روشنی حاصل کر کے اپنے حال کو سنواریں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کریں۔ ان کی مسلسل کوشش تھی کہ مسلمانوں کو زوال کے اسباب سے آگاہ کیا جائے تاکہ ان کا سد باب کیا جا سکے۔ اندلس (Spain) کی تاریخ کا خاص طور پر حوالہ دیتے تھے جہاں مسلمانوں نے آٹھ سو سال تک شاندار طریقے سے حکومت کی اورعظیم الشان تہذیب وتمدن کی بنیادیں رکھیں۔پھر وہاں سے ان کا صفایا کردیا گیا۔غازی ؒ صاحب کے نزدیک حکمرانوں کو سب سے زیادہ تاریخ سے واقف ہونا چاہیے۔وہ کہتے ہیں کہ تاریخ قوموں کا حافظہ ہوتی ہے،فرد اگر اپنا حافظہ بھول جائے تواس کا مقام پاگل خانہ ہوتا ہے،اگرقوم اپنا حافظہ کھو بیٹھے تو اس کا کیا مقام ہونا چاہیے۔ قیادت پر فائز لوگوں کوتاریخ کا گہرا شعور ہونا چاہیے تاکہ قوم کی رہنمائی کا حق ادا کر سکیں۔ (تعمیر افکار، اکتوبر ۲۰۰۷ء ص ۲۵)
ڈاکٹر صاحب قلم کے بھی شہسوارتھے اور متعددتحقیقی کتب کے مؤلف ومصنف تھے۔آپ نے سو سے زیادہ علمی وتحقیقی مقالے مختلف کانفرنسوں میں پیش فرمائے جن میں سے اکثر ملکی وبین الاقوامی جرائد میں طبع ہوچکے ہیں۔ وقیع علمی وتحقیقی کتب کے علاوہ ان کی بعض کتب تو ان کے خطابات سے ہی مرتب کی گئی ہیں۔ان میں سرفہرست محاضرات قرآنی،محاضرات حدیث اور محاضرات فقہ ہیں۔یہ خطابات مستورات کے اجتماعات میں مختصر نوٹس کی مدد سے دیے گئے تھے مگر ان کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے غازی صاحبؒ کو علم سے وافر حصہ عطا فرمایا تھا۔ ڈاکٹر صاحب بنیادی طور پر فقہ اسلامی کے ماہر تھے لیکن ان کی بعض دوسری تحریریں ان کے فکر کی بلندیوں اور وسعتوں کی گواہی دیتی ہیں۔میرے سامنے اس وقت ان کی ایک ایسی ہی تالیف ہے جس سے ان کے فکرکی ہمہ گیری کا پتہ چلتا ہے۔اس کاعنوان ہے: ’’محکمات عالم قرآنی، علامہ اقبال کی نظر میں، قرآنی دنیا کی امتیازی خصوصیات اور اس کی بنیادیں (جاوید نامہ کی روشنی میں)‘‘۔ یہ کتاب ڈاکٹر صاحب نے اپنی صاحبزادیوں کو املا کروائی تھی اوریہ معلوم ہے کہ املا کرانا اورالگ سے بیٹھ کرغوروخوض کر کے کسی موضوع پر لکھنے میں زمین وآسمان کا فرق ہوتا ہے۔ان کی یہ مختصر مگر جامع تالیف ان کی وسعت مطالعہ کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال کے فکروفلسفے سے کماحقہ آگاہی کی بھی آئینہ دار ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹرغازیؒ صاحب کو بے پناہ ذہانت وفطانت سے نوازا تھا۔ میں نے جب بھی ان سے کوئی استفسار کیا یا کسی موضوع پر گفتگو کی، وہ فوراًاس کی تہہ تک پہنچ جاتے تھے۔ یہ کوئی تین چار سال پہلے کی بات ہے۔ وہ اسلامی یونیورسٹی ،فیصل مسجد میں اپنے دفتر میں تشریف فرما تھے۔ میں ملاقات کے لیے حاضر ہوا ۔اثنائے گفتگو میں مغرب کا عالم اسلام کے ساتھ رویہ زیر بحث آیا تو فوراً مجھے اپنا ایک مضمون دراز سے نکال کر دیا جو’’تعمیر افکار‘‘ کی اشاعت بابت ماہ اکتوبر۲۰۰۷ء میں بھی چھپ چکا ہے۔ مضمون کا عنوان ہے’’اسلام ا ورمغرب۔ موجودہ صورت حال، امکانات، تجاویز‘‘۔ یہ بھی آپ کی فی البدیہ تقریر تھی جس کوصفحۂ قرطاس پر منتقل کر کے آپ کی نظر ثانی کے بعد شائع کیا گیا تھا۔ یہ مضمون مغربی دنیا کے حوالے سے آپ کی فکر کا نچوڑ ہے ۔اس کے ذریعے آپ نے بڑے جامع اندازسے مغرب کے مسلمانوں کے ساتھ رویے کا تجزیہ کیا ہے اور مسلمانوں کو مغربی طاقتوں کے عزائم سے خبردارکیا ہے۔ مغرب اوراسلام کی موجودہ کشمکش کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’امت مسلمہ کے عالم گیر کردار میں یہ بات بنیادی طور پر شامل ہے کہ ان کا ایک طویل عرصے تک یہودیوں اور عیسائیوں سے واسطہ رہے گا، مقابلے کی نوعیت پیش آتی رہے گی،تصادم ہوتا رہے گا،اوراس تصادم کے لیے مسلمانوں کویہ دو سورتیں (سورۃ البقرۃ، سورۃ آل عمران) تیار کر رہی ہیں‘‘۔ (تعمیر افکار، اکتوبر ۲۰۰۷ء ص ۲۰)
موجودہ مغرب جس کا سرغنہ امریکہ ہے اورکبھی اس کا کرتا دھرتا برطانیہ تھا، ہر ایک کی رگ جاں پنجۂ یہود میں ہے۔ اس کے ڈانڈے بھی یہود ونصاریٰ کے آغاز اسلام کے طرزعمل سے ملتے ہیں۔ ڈاکٹر غازی ؒ کے الفاظ میں : ’’جس کو ہم مغرب کہتے ہیں، اس سے مسلمانوں کا مقابلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک سے شروع ہوگیا تھا۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کو نامۂ مبارک بھیجا۔ ہرقل مشرقی سلطنت روم کا فرماں روا تھا‘‘۔ (تعمیر افکار، اکتوبر ۲۰۰۷ء ص ۲۰) گویا اس مخالفت کا اصل سبب دعوت اسلام بنی اورجب خلافت راشدہ کی صورت میں اسلام کا عادلانہ نظام اپنی بہاریں دکھانے لگا تو اس مخالفت میں اضافہ ہوگیا، کیونکہ قیصر کی خدائی خطر ے میں پڑگئی تھی۔اب کبریائی وخدائی صرف اللہ کا حق تھا۔ سارے انسان اللہ کی نیابت(خلافت)کے تو حقدارہو سکتے ہیں، لیکن خدائی منصب کسی کونہیں مل سکتا۔ اس کی عملی شکل خلافت راشدہ کے زمانے میں سامنے آئی توبندوں پر خدائی کا دعویٰ رکھنے والے خم ٹھونک کر میدان میں آگئے۔ مسلمانوں نے ان کا مقابلہ میدان جنگ میں کیا۔غازیؒ صاحب لکھتے ہیں:
’’اس کے (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے) بعداصل تصادم اورمقابلہ خلفائے راشدین کے زمانے میں ہوا۔ صلیبی جنگوں کے بعد ایک طویل عرصے تک اسپین میں یہ مقابلہ جاری رہا، جنوبی یورپ کے ذریعے یہ سابقہ پیش آتا رہا۔ پھر استعمار اور ایسٹ انڈیا کمپنیوں کے ذریعے ہوا۔ اس کے بعد گزشتہ سوسال سے جوکچھ ہو رہا ہے، وہ بھی ہمارے سامنے ہے‘‘۔ (تعمیر افکار، اکتوبر ۲۰۰۷ء ص۲۰)
ڈاکٹر صاحب مرحوم کو شدیداحساس تھا کہ مغربی دنیا اوراقوام متحدہ جیسے نام نہاد عالمی ادارے مسلمان ملکوں کو بالعموم اورپاکستان کو بالخصوص اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں:
’’جب گورے کی ہدایت آتی ہے کہ قیام امن کے لیے فلاں جگہ فوج بھیجواورمسلمانوں کی بندوقوں کے ذریعے مسلمانوں کو زیرکرکے ہمارے مفادات کے لیے راہ ہموار کرو ،تو تیمور میں بھی فوج چلی جاتی ہے،صومالیہ میں بھی چلی جاتی ہے اورایری ٹیریا میں بھی چلی جاتی ہے۔دنیائے اسلام کے سپاہیوں کے ذریعے ،دنیائے اسلام کی بندوقوں کے ذریعے،دنیائے اسلام کے مسلمانوں کی تلواروں کے ذریعے مسلمانوں کی گردنیں کاٹی جائیں،اور ان کو کاٹ کاٹ کرعیسائی اورمسیحی ریاستیں قائم کی جائیں۔‘‘ (تعمیر افکار، اکتوبر ۲۰۰۷ء ص ۲۴)
انگریزوں کے گن گانے والوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہ ان کے ممدوح کتنے مہذب اور انسان دوست تھے، لکھتے ہیں:
’’انیسویں صدی کے آغاز میں مسلمانوں میں پنجاب میں سوفیصد تعلیم تھی اور بحیثیت مجموعی ۸۴فیصد تھی اورجب انگریز ۱۹۴۷ء میں ہندوستان سے گیا تو پنجا ب میں مسلمانوں میں تعلیم کا تناسب ۴فیصد تھا۔ انگریز سوکو چار پر لے آئے اورپوری قوم کو جاہل چھوڑکرچلے گئے۔یہ ہے اس دعوے کی حقیقت جو کہا جاتا ہے کہ مغربی ممالک کا ایک سویلائزنگ رول تھا۔آج بھی ہمارے ہاں بہت سے سادہ لوح اور مشرق بے زار لوگ کہتے ہیں کہ انگریز نے ہمیں سویلائز کردیا۔ یہ سویلائز کیاکہ سو فیصد تعلیم کوسو فیصد جہالت میں بدل دیا‘‘۔ (تعمیر افکار، اکتوبر ۲۰۰۷ء ص ۲۶)
ڈاکٹر صاحب مرحوم نے اپنا ایک سبق آموز واقعہ بیان کیا ہے جس سے مغربیوں کے سازشی کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’اکتوبر ۱۹۷۴ء میں ایک پروفیسر صاحب امریکہ سے تشریف لائے۔ وہ ایک مشہور امریکن یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔ ...وہ پروفیسر صاحب بہت سے لوگوں سے ملے،مجھ سے بھی ملے۔ مجھ سے ملنے کے بعد انہوں نے کہا کہ میں الگ سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں، تم مجھ سے ملنے کے لیے آؤ۔ میں ان سے ملنے چلا گیا۔ دوران ملاقات انہوں نے کہا، امریکہ میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے تم جس یونیورسٹی میں چاہو، میں تمہیں اسکالرشپ دے سکتا ہوں۔.... میں نے کہا، مجھے ہارورڈ میں داخلہ دلوا دیں۔ انہوں نے کہاٹھیک ہے۔ ....تم ایک سال کے لیے امریکہ آؤ، ہارورڈ یونیورسٹی میں کورس ورک کرو۔ ....پھرواپس پاکستان آجاؤ۔ انہوں نے جو نقد وظیفہ بتایا، وہ اتنا تھا جتنا اس وقت حکومت پاکستان کے سیکرٹری کو بھی تنخواہ نہیں ملتی تھی۔ ...انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں رہ کر یہ معلومات جمع کرو کہ پاکستان میں دینی مدارس کیا کام کرتے ہیں، کتنے دینی مدارس ہیں، کون کون علماے کرام ان کو چلا رہے ہیں، وہ کیا کیا پڑھاتے ہیں، کیا ذہن بناتے ہیں اورجو لوگ ان سے تیار ہوتے ہیں، وہ بعد میں کیا کام کرتے ہیں، ان کا رویہ مغرب کے بارے میں کیسا ہوتا ہے؟ یہ ساری معلومات جمع کر کے آؤ، پھر میرے ساتھ بیٹھ کر اس کو مرتب کرو، اس کی بنیادپر تمہیں ہارورڈ یونیورسٹی پی ایچ ڈی کی ڈگری دے دے گی‘‘۔ (تعمیر افکار، اکتوبر ۲۰۰۷ء ص ۳۳)
غازی صاحب ؒ نے جس خوبصورتی سے مغرب کی مسلمانوں کوگمراہ کرنے کی تدابیر کا ذکرکیا ہے، وہ انھی کے ذہن رساسے ہی ممکن تھا۔اللہ تعالیٰ انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ آمین۔
غازیؒ صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں مسلمانوں کو بھی جھنجھوڑا ہے کہ وہ کھوکھلے نعروں سے اسلام کوبدنام کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اپنے دورۂ ازبکستان کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’۱۹۹۰ء میں مجھے ازبکستان جانے کا موقع ملا۔ ...میں نے صدر ازبکستان سے کہاکہ ...آپ ازبک نوجوانوں کو ہمارے تعلیمی اداروں میں آنے کی اجازت دیں۔ صدر صاحب مسکرائے اورانہوں نے کسی سے اپنی زبان میں کچھ کہا اوراس نے ایک موٹی سی فائل لاکر صدر کے سامنے میز پر رکھ دی۔ صدرصاحب نے وہ فائل میری طرف لڑھکا دی۔ میں نے فائل کوکھولا تو اس میں اخبارات کے تراشے تھے اورہمارے پاکستان کے بہت سے مذہبی، دینی سیاسی قائدین کے بیانات تھے کہ ہم فلاں جگہ جھنڈا لہرا دیں گے اور سمرقند وبخارا کو آزاد کرا دیں گے ... جب میں اس فائل کی ورق گردانی کر چکا تو صدر ازبکستان کہنے لگے کہ تم یہ سب کرنے کے لیے طلبہ کو لے جانا چاہتے ہو؟ سچی بات یہ ہے کہ ... میرے پاس سوال کاجواب نہیں تھا‘‘۔ (تعمیر افکار، اکتوبر ۲۰۰۷ء ص ۳۴)
متذکرہ بالا اقتباسات سے عیاں ہے کہ غازی ؒ صاحب محدود معنی میں معلم و مدرس ہی نہیں تھے بلکہ عالمی حالات کا گہرا شعور بھی رکھتے تھے۔ طوالت سے بچتے ہو ئے مغرب کے چند جرائم کا ذکر کرنا ضروری ہے جن کو وہ عالم انسانیت کے لیے انتہائی خطرناک سمجھتے تھے۔ مثلاً عالمگیریت (Globalization) کو وہ مسلمانوں کے وسائل پر قبضے اوران کے تشخص کو مٹانے کا ایک منصوبہ خیال کرتے تھے۔ مزید برآں وہ عالمگیریت کو انسانوں کے درمیان تفریق وتقسیم کا آلۂ کار گردانتے تھے۔ ان کی یہ پختہ رائے تھی کہ اہل مغرب کو اسلام کے حوالے سے کوئی غلط فہمی یا مغالطہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے کہ اسلام ومسلمانوں کی مخالفت کر کے وہ دنیا کی توجہ اسلام سے ہٹانا چاہتے ہیں کیونکہ و ہ دیکھ رہے ہیں کہ مستقبل اسلام کا ہے۔ مغرب کے متعصبانہ رویے کے باوجود اسلام وہاں تیزی سے پھیل رہا ہے۔خاص طور پر طبقۂ خواتین اسلام کی طرف زیادہ رجوع کررہاہے۔
غازی ؒ صاحب کی زندگی کا ایک اور پہلو بھی قابل توجہ ہے ۔آپ اپنی تعلیمی وتدریسی مصروفیات کے باوجود جس طرح تصنیف وتالیف کاکام بھی جاری رکھتے تھے، یہ آپ ہی کا خاصہ تھا۔ان ہمہ جہتی مشاغل کے باوجود طبیعت میں ہمیشہ بشاشت ہوتی تھی۔دگر گوں حالات میں بھی پرامید (Optimistic) ہوتے تھے۔عالم اسلام کے حوالے سے کسی اندیشے میں مبتلا ہونے کی بجائے وہ ہمیشہ روشن مستقبل کی بات کرتے تھے۔
آپ سماجی ومعاشرتی تعلقات کا کتنا خیال رکھتے تھے، اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسلامی یونیورسٹی میں اعلیٰ منصب پر فائز ہونے کے باوجود اپنی بیٹی کی دل جوئی کے لیے اس کی سہیلی کی مہندی کی رسم میں ایک دفعہ شرکت کے لیے چلے گئے۔ یہ اور با ت ہے کہ وہاں پر جو ہندوانہ خرافات ورسومات دیکھیں تو ان پر بعد میں اپنی تقریر کے دوران تأسف کا اظہار بھی کیا اور کھل کر اس ہندوانہ ثقافت کی مخالفت کی اور بر ملا اعتراف بھی کیا کہ اس سے پہلے وہ اس قسم کی رسوم کو محض سماجی Gatherings سمجھتے تھے، لیکن متذکرہ محفل میں انہوں نے دیکھا کہ نوجوان لڑکے لڑکیاں پیلے کپڑے پہنے، ہاتھوں میں گیندے کے پھول اٹھائے ہوئے اور عجیب وغریب انداز سے الٹی سیدھی حرکتیں کرتے ہوئے محفل میں نمودارہوئے تووہ سخت پریشان ہوئے اور آئندہ کے لیے ایسی محافل میں شرکت نہ کرنے کا عزم کیا۔ ان کی مخالفت اور تنقید کا انداز بھی بہت پیارا ہوتا تھا۔ مثلاً انسانی حقوق کے حوالے سے مغرب کے دہرے معیار پرتبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ Dignity of man کی باتیں کرنے والوں کواسلام کے قانون قصاص پر بڑا اعتراض ہے کہ اس میں ایک جان ضائع ہو جاتی ہے۔ خود کسی سے انتقام لینا ہو تو بستیوں کی بستیاں تاراج کر لیں گے، لیکن قصاص میں ایک انگلی کے کٹنے پر یہ شور برپا کر دیتے ہیں۔ (روایت بالمعنی)
ڈاکٹر صاحب ؒ علم وعمل کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ پایے کے منتظم بھی تھے۔ آپ نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کیا۔ یوں تو دعوۃ اکیڈمی،شریعہ اکیڈمی اوردیگر اداروں کے انتظام وانصرام باحسن طریق انجام دیے، مگر اسلامی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے آ پ نے جس نظم و نسق کا طلبہ واساتذہ کو پابند بنایا اور ایک مثالی تعلیمی ماحول قائم کیا، وہ قابل ستائش ہی نہیں قابل تقلید بھی تھا۔ عام طور پرڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کو صر ف ایک دینی سکالر اور ماہر تعلیم سمجھا جاتا ہے لیکن فی لواقع وہ اس سے کہیں زیادہ تھے۔وہ ایک مجتہد وفقہی ہونے کے علاوہ ایک مصلح کی سی شان کے حا مل بھی تھے۔ان کی بہت ہی پختہ رائے تھی کہ اسلام کے عادلانہ نظام کے اندر انسانیت کے تمام دکھوں کا مداوا موجود ہے اور آج اگر اس نظام عدل وقسط کودنیامیں قائم کر کے دکھا دیا جائے تو دنیا اسلام کی طرف لپک پڑے گی اور باطل نظاموں کے مظالم میں گھری ہو ئی انسانیت سکھ کا سانس لے سکے گی۔ وہ لکھتے ہیں:
’’عالم قرآنی یا قرآنی دنیا سے مراد انسانی زندگی کا وہ ڈھنگ ہے جو قرآن مجید کی تعلیم وہدایات پر استوار ہو۔ گذشتہ تین صدیوں سے اسلامی ادبیات اور اسلامی فلسفہ سیاست وقانون کا سب سے اہم موضوع یہی رہا ہے کہ اس مثالی دنیا کو از سر نو دریافت کیا جائے جو ہر مسلمان کے دل کی آواز ہے، جو مشرق و مغرب کے اہل ایمان کے لیے ایک ایسے آئیڈیل کی حیثیت رکھتی ہے جس کے حصول کی خاطر نہ معلوم کتنی نسلیں قربانیاں دیتی چلی آرہی ہیں۔ نہ معلوم کتنی سعید روحیں اس ہدف کے حصول میں جانوں کا نذرانہ پیش کر چکی ہیں۔ نہ معلوم کتنے اہل علم و دانش کے شب و روز اس عالم منتظر کی تفصیلات پر غور و خوض کرنے میں صرف ہوئے ہیں۔ یہ عالم قرآنی دنیائے اسلام کی وہ منزل و مقصود ہے جس تک پہنچنے کے لیے لاکھوں نہیں کروڑوں انسانوں نے جان و مال کی بازیاں لگائی ہیں۔ مسلم سیاسی مفکرین نے حکومت الہیہ، خلافت ربانی، اسلامی حکومت اور اسلامی ریاست کے عنوانات کے تحت اسی جہان مطلوب کے چہرے سے نقاب اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ فقہائے اسلام نے نفاذ شریعت اور فقہ اسلامی کی تدوین نو کے موضوعات پر جو کچھ لکھا ہے وہ اسی ہدف کو پیش نظر رکھ کر لکھا ہے۔ احیائے اسلام اور ملت اسلامی کی نشأۃ ثانیہ کے لیے گزشتہ چند صدیوں میں جو کاوشیں ہوئی ہیں ان کی منزل مقصود بھی ایک ایسی دنیا کی تشکیل تھی جہاں قرآن مجید اور اسوہ رسول ؐ کو سامنے رکھ کر انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اسلامی ڈھنگ اپنائے جاسکیں‘‘۔ (محکمات عالم قرآنی صفحہ۴، ۵)
ڈاکٹرصاحبؒ نے علامہ اقبال کے حوالے سے عالم قرآنی کے چار محکمات کا ذکر کیاہے یعنی ’’خلافت آدم، حکومت الٰہی، زمین ملک خدا ہے اور حکمت خیرکثیر ہے‘‘۔ (محکمات عالم قرآنی صفحہ۲۱) اسلام کے عادلانہ نظام، جس کو وہ عالم قرآنی کہتے ہیں، کے قیام کاخواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک علم الادیان اور علم الابدان کی دوئی کو ختم نہیں کیا جاتا۔ اس ضمن میں ان کا موقف یہ تھا کہ دینی ومذہبی علوم، علم وحکمت کی اساس ہیں، لیکن ان کے ساتھ ساتھ علم وحکمت کے دائرے میں علم اسماء وعلم تجربی (Modern Scientific Knowlege) بھی شامل ہیں۔ علوم وفنون کی یہ وحدت اسلام کے تصور علم کی بنیادہے۔ تعلیم میں دوئی سے فکرو نظر میں دوئی پیداہوتی ہے اور فکرو نظر میں دوئی سے اس وحدت فکروعمل پر زد پڑتی ہے جو عقیدۂ توحید کے لازمی نتیجے کے طور پر امت مسلمہ میں قائم رہنی چاہیے۔
ڈاکٹرغازیؒ کی فکری پختگی کامظہران کی مغرب کے بارے میں منفردرائے ہے۔ وہ مغربی تہذیب کو Secular کی بجائے مسیحی کہتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ہمارے ہاں بہت سے حضرات سادہ لوحی سے مغرب کا مطالعہ کرتے ہیں اور مغرب کے ظاہری دعووں سے متأثر ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مغرب نے مذہب کوگھر سے نکال دیا ہے اور اب مغرب ہر مذہبی تعصب سے آزاد ہے۔ وہ حضرات یہ بھول جاتے ہیں کہ مغرب نے مذہب کوایک خاص علاقے سے نکالا ہے، گھر سے نہیں نکالا۔ مغرب کی ہر چیزعیسائی تہذیب وتمدن، عیسائی روایات اور عیسائی تعصبات پر مبنی ہے‘‘۔ (تعمیرافکار، اکتوبر ۲۰۰ء، ص ۲۱)
ڈاکٹر محموداحمدغازی رحمہ اللہ کی زندگی کے یہ وہ پہلوہیں جن کا کسی درجے میں راقم الحروف کوعلم تھا۔ آئندہ کوئی صاحب عزم وہمت ان کی زندگی پر تحقیق کرکے ان کی شخصیت کے مزیدپہلوؤں کو اجاگرکرسکتا ہے۔ ایسی نابغۂ روزگار شخصیات کے بارے میں آگاہی آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا کام دے گی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی دینی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے اور ہم سب کوان کا سا جذبہ اوراخلاص عطا فرمائے۔ جس لگن ومحنت سے انہوں نے دین وملت کی خدمت کا فریضہ بحسن وخوبی انجام دیا، اللہ ہمیں اس میں سے کچھ حصہ نصیب فرمائے۔ اللھم اغفرلہ وارحمہ وحاسبہ حسابا یسیرا۔ آمین یا رب العٰلمین۔
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
محمد رشید
۲۶ ستمبر ۲۰۱۰ء کو میرے موبائل پر میسج ابھرا کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی وفات پاگئے ہیں۔ میسج کیا ابھرا کہ مجھے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔ دُکھ اور محرومی کا ایک گہرا احساس روح میں اترتا ہوا محسوس ہوا۔ مملکت پاکستان جس پر آج کل چہار اطراف سے آفات حملہ آور ہیں،ان حالات میں وہ کتنے بڑے نقصان سے دوچار ہوگئی ہے، یہ سوچ کر ہی دل میں درد کی ٹیسیں اٹھتی ہیں۔
جن علمی و دینی شخصیات کی علمی کاوشوں سے ہم استفادہ کرتے رہے ہیں، ان میں سے سال ۲۰۱۰ء میں یہ دوسری علمی و دینی شخصیت ہے جن کی وفات ذاتی نقصان کی طرح دکھی و پریشان کرگئی۔اگرچہ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم و مغفور کی وفات پر بھی دل پر ایک چوٹ پڑی، روح کی گہرائیوں میں چھناکے سے ہوتے ہوئے محسوس ہوئے لیکن ڈاکٹر محمود احمد غازی کی وفات نے تو محض دکھی ہی نہیں کیا، دل سخت بے چینی وکرب سے بھی دوچار ہوگیا۔ یہ بات واقعتا ہمارے لیے بھی خاصی حیران کن تھی کہ جس شخص سے ہم زندگی میں ایک بار بھی نہیں ملے ، اس کی وفات پر دُکھ کا ایسا احساس تھا کہ آنسو اندر ہی اندر گلے سے اتر کر دل کے پار ہوتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔
ڈاکٹر غازی صاحب سے ہماری پہلی غائبانہ ملاقات ان کی کتاب ’’محاضراتِ قرآن‘‘ میں ہوئی۔ ان کی یہ کتاب پڑھ کر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ ایک مخلص، ذہین، علوم پر گہری دسترس رکھنے والے، ابلاغ کی قوت سے مالا مال، بات کو عام فہم اور سلیس انداز سے سامع تک پہنچانے والے، علم و تحقیق سے شغف رکھنے والے ، جدید پڑھے لکھے انسان کے سامنے دین کو پیش کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ایک سادہ اور حلیم طبیعت کے مالک انسان ہیں۔
ڈاکٹر غازی صاحب سے ہماری دوسری غائبانہ ملاقات قدرے مختلف تاثرات کی حامل ثابت ہوئی۔ ہوا یوں کہ ہمیں ’’علم حدیث‘‘ پر جدید محققین کے کام اور آرا کا مطالعہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو ہم نے ڈرتے ڈرتے اور کسی قدر خوف و امید کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ ڈاکٹر غازی صاحب کی کتاب ’’محاضرات حدیث‘‘ کا مطالعہ شروع کیا۔ ہمیں ڈریہ تھا کہ ڈاکٹر غازی صاحب کے بارے میں ہمارا جو تاثر بن چکا تھا، وہ کہیں اس کتاب کے مطالعہ سے ٹوٹ نہ جائے۔ غازی صاحب جیسا فطین اور عبقری شخص حدیث پر بحث کرتے ہوئے کہیں راہ اعتدال سے ہٹ نہ جائے جیسا کہ آج کل کے ذہین لوگوں کا المیہ ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ اچھے بھلے دین پر چلتے چلتے ’’منکرین حدیث‘‘ کے ’’پرویزی حیلوں‘‘ میں ایسے پھنستے ہیں کہ ان کے دماغ کو لاکھ اس گورکھ دھندے اور دلدل سے نکالنے کی کوشش کرو، ’’ذہانت اور فطانت‘‘ کا فتنہ انہیں اس جال سے نکلنے ہی نہیں دیتا۔خیر! ہم جوں جوں اس کتاب کے مطالعے میں آگے بڑھتے گئے، قدرے مختلف گہرے تاثرات میں پھنستے چلے گئے۔ کتاب پڑھنے کے بعد ہم اس خوشگوار تاثر سے ہم کنار ہوئے کہ عصر ی مغربی علوم پر گہری نظر رکھنے والا، جدید دنیا میں رہنے والا، جدید دنیا کے پڑھے لکھے انسانوں سے میل جول رکھنے والا ایک ذہین اور فطین انسان حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہیں بھی معذرت خواہی یا کجی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔
ہم پر ایک اور انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ایسی زبردست صلاحیتوں سے نوازا ہے کہ وہ امت مسلمہ کی چودہ سوسالہ تاریخ کی علمی و تحقیقی کاوشوں کو موثر اور سلیس انداز میں پیش کرنے کاایسا ملکہ رکھتے ہیں کہ جدید دور کا انسان متاثر اور مبہوت ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ڈاکٹر صاحب کی یہ وہ خوبی ہے جو انہیں موجودہ دور کے قدیم و جدید علوم کے تمام علما سے بہت بلند، منفرداور نمایاں مقام عطا کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹرغازی صاحب کو پڑھ کو ہمیں پہلی دفعہ ’’علمی اور عقلی‘‘ سطح پر اپنے اسلاف پر فخر محسوس ہوا، ورنہ عام طور پر مذہبی علوم کے علما اسلاف کے علمی ورثے کو جس ’’انداز‘‘ سے پیش کرتے ہیں، اس سے جدید تعلیم یافتہ انسان متاثر تو کیا ہو، اسے ایک قسم کا توحش اور اجنبیت سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ ڈاکٹرغازی صاحب کی اس دوسری کتاب کو پڑھ کر ہمیں یہ بھی محسوس ہوا کہ وہ ’’عقائداوربنیادی فکر‘‘ کے معاملہ میں مولویوں سے زیادہ پختگی، اعتدال اور توازن پر کاربند ہیں۔
ڈاکٹر غازی صاحب کی تحریریں پڑھ کر کچھ اورخوبیوں کا تاثر دل پر پڑا، لیکن خدشہ ہوا کہ اگر ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی تو شاید یہ تاثر ٹوٹ نہ جائے۔ اس لیے شدید خواہش کے باوجود ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ ان کی اچانک وفات کے بعد مورخہ ۲۰۱۰ء/۹/۲۸ کو روزنامہ اسلام میں ڈاکٹر سید عزیز الرحمن نے ان الفاظ میں ان کی شخصیت کا نقشہ کھینچا: ’’ڈاکٹر صاحب حد درجہ متقی شخص تھے۔ برس ہا برس کا مشاہدہ ہے کہ سرکاری و دفتری ذمے داریوں میں سرکاری مراعات سے کبھی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا۔ ڈاکٹر صاحب کا وجود عالم اسلام کے لیے بساغنیمت تھا۔ بین الاقوامی فورم پر اسلام اور پاکستان کی نمائندگی کا جو سلیقہ ڈاکٹر صاحب کو حاصل تھا، اس کی مثال کم ملے گی۔ پھر علم و فضل اور دینی حمیت و تصلب کے ساتھ ساتھ حسن تکلم و حکمت کی دولت سے آراستہ تھے۔‘‘
اسی طرح مورخہ ۳۰؍ ستمبر کے روزنامہ اسلام میں مولانا ازہر نے ان الفاظ میں ان کی شخصیت کا نقشہ کھینچا: ’’راقم السطور کو دوچار مرتبہ حضرت ڈاکٹر صاحب کی مجلس میں بیٹھنے اور کسی حد تک استفادہ کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ غیر معمولی علمی مقام کے باوجود ان کے عجز و انکسار، سادگی، نرم مزاجی اور دھیمے پن نے احقر کو بہت متاثر کیا۔ ڈاکٹر صاحب کی گفتگو سلاست، بلاغت، متانت اور فقاہت کا مرقع ہوتی تھی۔‘‘
یہ گواہیاں پڑھ کر جہاں ڈاکٹر غازی صاحب کے بارے دل جو گواہی دے رہا تھا، اس کی تصدیق ہوگئی، وہاں ان سے ملاقات سے محرومی کا احساس بھی سوا ہو گیا۔
روزنامہ اسلام میں پڑھ کر سخت حیرت ہوئی کہ ڈاکٹر غازی صاحب کا خاندانی و تعلیمی پس منظر خالصتاً مولویانہ اور مذہبی ہے۔حیرت ہے، سخت حیرت پر حیرت ہے کہ ۲۰۱۰ء کے اس سخت زوال و تباہی کے دور میں بھی مدرسہ و خانقاہ کا پس منظر رکھنے والی ایک شخصیت علم و کردار کی ان بلندیوں پرپہنچ جاتی ہے کہ قدیم و جدید علوم کے بڑے سے بڑے ماہرین بھی اس کے سامنے ہیچ نظر آتے ہیں۔اے کاش ! ہمارے مدرسہ و خانقاہ کے نظام میں ایسی کوئی اصلاح ہو جائے کہ وہ ڈاکٹر غازی صاحب جیسی ہستیاں پیدا کرنے لگ جائے تونوع انسانی میں ایک بہت بڑے تعمیری انقلاب اور مثبت تبدیلی کی بنیاد ڈالی جاسکتی ہے۔ ہمارے سیاسی و مذہبی ہردوراہنماؤں کویہ بات پلے باندھ لینا چاہیے کہ دینی حمیت و تصلب کے ساتھ ساتھ حسن تکلم و حکمت ،عجز و انکسار، سادگی، نرم مزاجی،سلاست، بلاغت اور متانت کردار کی وہ بنیادی خوبیاں ہیں جس کے بغیر رہنمائی اور قیادت ایک خواب اور سراب ہے اور جس کے بغیر تعمیری انقلاب اور مثبت تبدیلی کی خواہش کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتی۔
دل کی گہرائیوں سے یہ ندانکل رہی ہے کہ اے کاش! اس امت میں بہت سے ’’ڈاکٹر محمود غازی‘‘ پیدا ہونا شروع ہو جائیں۔ ہمارے بے چین اور مضطردل کی یہ دعاہے۔ مضطر اور بے چین کی پکار بھلا کون سنتا ہے۔۔۔ صرف اللہ۔
آفتاب علم و عمل
مولانا ڈاکٹر صالح الدین حقانی
فنا ایک اٹل حقیقت اور عالمگیر صداقت ہے جس سے آج تک کوئی انکار نہیں کرسکااور موت سے کسی کو رستگاری نہیں۔ دوام اور بقا صرف خدائے برتر کے لیے ہے۔ دنیاایک ایساعالم ہے جس کی کسی بھی چیز کو دوام حاصل نہیں ہے۔ ہر چیز عدم کی طرف رواں دواں ہے۔ حرکت جمود کی طرف گامزن ہے اور زندگی موت کے بے رحم پہرے میں سفر کرتی ہے۔ ہر چیز بزبان حال یہ اعلان کرتی نظر آتی ہے کہ ہر شے کو کسی نہ کسی دن فنا ہونا ہے۔ کسی کو مہلت کم ملتی ہے تو کسی کو زیادہ۔ کامیاب وہ انسان ہے جو موت کو اپنے لیے خوشگوار مرحلہ بنالے کہ فنا بھی اس کو فنا نہ کرسکے اور اس دنیا سے جانے کے بعد بھی وہ کسی نہ کسی صورت میں موجود رہے، خواہ اپنے افکار کی صورت میں یا اپنے قلم کے ذریعے یا ایسی خدمات کے ذریعے جس سے پوری قوم مستفید ہو۔ اس بقا کی بہترین صورت ’’ علم ‘‘ ہے جس سے اہل علم کی ایسی جماعت تیار ہو جو استاد کو لازوال بنا دے۔ ایسی ہی لازوال ہستیوں میں استاذ محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ بھی تھے جو ۲۶ ستمبر۲۰۱۰ء کو بعد از نماز فجر دل کے دورے سے انتقال فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل یہ کیفیت ہے کہ منطوق الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مصداق عین الیقین کے درجہ میں سامنے آ رہا ہے۔ (آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کو تنگ فرما دے گا۔ صحابہ کرامؓ نے پوچھا کہ تنگی سے کیا مراد ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ’’بقبض العلماء‘‘، وہ علمائے ربانیین کو اٹھا لے گا۔)
مئی سے ستمبر ۲۰۱۰ء کے دوران میں تھوڑے تھوڑے وقفے سے پانچ بڑے بزرگ اور جید علماے کرام دارفانی سے داربقا کی طرف رخصت ہوگئے۔ ان میں سے خواجہ خان محمد صاحب (۵؍ مئی ۲۰۱۰ء)، راولاکوٹ (آزاد کشمیر) کے خان اشرف صاحب (۱۸؍اگست۲۰۱۰ء)، ان کے بعد تھوڑے ہی عرصے میں پلندری (آزاد کشمیر) کے بزرگ مولانا محمد یوسف خان صاحب، پھر قاضی عبداللطیف صاحب آف کلاچی ، پھر وانا کی ایک بزرگ شخصیت حضرت مولانا نور محمد صاحب شامل ہیں۔ ان مذکورہ جبال العلم کے فراق سے بندہ کے دل کے زخم ابھی مندمل نہیں ہو ئے تھے کہ ا یک اور جگر خراش اور جانکاہ اطلاع ملی کہ استاذ محترم ڈاکٹر محمود احمدغازی نے داعی اجل کو لبیک کہہ دیا ہے۔
یہ ۲۰۰۳ء کی بات ہے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحبؒ کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے بحیثیت مہمان خصوصی ایم فل علوم اسلامیہ کے اسکالرز سے خطاب کرنے کے لیے زحمت دی گئی تھی۔ آپ کے لیکچر کا عنوان تھا: ’’مشرقی اور مغربی علوم کا تقا بلی اور تنقیدی جائزہ‘‘۔آپ کے لیکچر سے پہلے استاذ محترم ڈاکٹر محمد ضیاء الحق نے فرمایا کہ کیا آپ ڈاکٹر صاحب کو جانتے ہیں؟ بس ہماری بڑی خوش قسمتی ہے کہ آج ڈاکٹر صاحب جیسی شخصیت ہمارے درمیان میں موجود ہے جن کا ہر بیان ایک تحقیقی مقالے سے کم نہیں ہوا کرتا۔ آپ توجہ اور دھیان سے ان کا لیکچر سنیں گے اور مجھے امید واثق ہے کہ ان کا یہ لیکچر آپ کے لیے تحقیقی مراحل میں تازیانہ اور مہمیز کا کام دے گا۔ دو گھنٹوں پر مشتمل ڈاکٹر صاحب کے لیکچر نے آپ کو ہزار گنا زیادہ ارفع ثابت کر دیا۔
اس ورکشاپ کے ایک مہینہ بعد یونیورسٹی نے ڈاکٹر محمد حمید اللہ کانفرنس منعقد کی جس میں بطور مہمان خصوصی آپ کو بلایا گیا۔ آپ نے اپنے استاذ محترم ڈاکٹر محمد حمیداللہ کی آرا وافکار اور خدمات کو جس انداز سے پیش کیا، وہ اپنی مثال آپ تھا۔ چائے کے وقفہ میں استاذ محترم ڈاکٹر محمد ضیاء الحق صاحب میرا ہاتھ پکڑ کر ڈاکٹر صاحب سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ ’’یہ حقانی صاحب ہیں، ایک ممتاز عالم دین مولانا محمد کامل شاہ صاحب کے فرزند ارجمند اور ان کے علمی ورثے کے امین ہیں۔ ہمارے ساتھ ایم فل (علوم اسلامیہ) کے ریسرچ اسکالر ہیں۔ ’’بسطۃ فی العلم والجسم‘‘ کے صحیح مصداق ہیں۔ ان کو دیکھ کر مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے‘‘۔ اس پر ڈاکٹر صاحب فرمانے لگے: ’’ہمیں تو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے اور یہی ہمارا اصل سرمایہ اور امت کی راہنمائی کی اہلیت رکھنے والے چند گنے چنے افراد ہیں‘‘۔ پھر فرمایا: حقانی صاحب! کبھی یونیورسٹی تشریف لائیں تاکہ تفصیلی نشست کی جائے۔ آپ کی اعلیٰ ظرفی دیکھ کر دل بے اختیار کہنے لگا:
کہاں میں اور کہاں نکہت گل
نسیم صبح، تیری مہربانی
ایک ہفتہ کے بعد میں یونیورسٹی حاضر ہوا۔ سلام کے بعد آپ فرمانے لگے، حقانی صاحب! بڑی خوشی ہوئی کہ آپ سے ملاقات ہو ئی، کیسے تشریف لائے؟ میں نے کہا کہ ایک نشست کے لیے وقت چاہیے۔ فرمانے لگے: Most Welcome۔ کل تو میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان جارہاہوں، لہٰذا پرسوں مغرب کے بعد تشریف لے آئیں۔ حسب ارشاد میں پندرہ منٹ پہلے پہنچ گیا۔ آپ انتظار فرمارہے تھے۔ بڑے مشفقانہ انداز سے گلے ملے اور ایسا پیار دیا جیسے ایک مشفق باپ دیتا ہے۔ ہماری ون ٹوون پروقار مجلس شروع ہو ئی۔ عصر حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کی بابت جب میں نے ایک سوال کیا تو اس پر ڈاکٹر صاحب نے ایک تفصیلی خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد مزید فرمایا:
’’ حقانی صاحب! سچی بات یہ ہے کہ دور جدید ایک پیچیدہ دور ہے۔ اس دور کے ارادے، تصورات اور اس دور کے معاملات اتنے پیچیدہ ہیں کہ اس کے لیے بڑی خصوصی مہارتیں درکار ہیں۔ اس وقت پاکستان میں مثلاً ’’بلاسود بینکاری‘‘ کا ایک بڑا چیلنج درپیش ہے، لیکن پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جو شریعت کا بھی عمیق علم رکھتے ہوں اور جدید بینکاری کے تقاضوں کو مکمل طور پر سمجھتے ہوں، اس طرح کہ دنیا بھر کی سطح پر بینکاروں سے مقابلہ کرسکیں؟ تو کیا یہ ہم پر فرض کفایہ نہیں ہے کہ ہم شریعت کے ایسے مایہ ناز اور اصحاب بصیرت ماہرین پیدا کریں جو دینی ماحول، دینی تربیت اور دینی ذوق ومزاج کے ساتھ ساتھ دور جدید کے معیار کی فنی مہارت رکھتے ہوں؟‘‘
استدلال کے طور پر آپ نے دو واقعات سنائے۔ فرمایا: حقانی صاحب! امام احمد بن حنبل ؒ جیسا متبع سنت اور فقیہ ان کے دور میں کوئی نہیں گزرا ۔ ان سے کسی نے مشورہ کیا کہ فلاں جگہ جہاد کا معاملہ درپیش ہے۔ مختلف علاقوں سے افواج، رضاکاروں اور مجاہدین کے دستے جارہے ہیں۔ ایک فوجی کمانڈر کی سربراہی میں ایک بڑا دستہ تیار ہو رہا ہے۔ وہ کمانڈر بڑا متقی اور پرہیزگار ہے، بڑا نمازی اور شب زندہ دار ہے، لیکن سیاسی وعسکری معاملات میں خاص ماہر نہیں ہے۔ البتہ ایک دوسرا شخص ہے جو زیادہ دیندار اور نیک تو نہیں ہے، لیکن اس کی عسکری مہارت بڑی مسلم ہے تو فرمائیے کہ ہمیں کس کے ساتھ جانا چاہیے؟ امام احمد بن حنبل ؒ نے فرمایا: جو شخص نیک ومتقی ہے، لیکن عسکری مہارت میں کم درجہ رکھتا ہے، اس کی نیکی وتقویٰ کا فائدہ اس کی ذات کو ہوگا اور اس کی عسکری عدم مہارت کا نقصان پوری قوم اور اسلامی فوج کو ہوگا۔ جو شخص زیادہ نیک نہیں ہے، اس کی نیکی کی کمی کا جو نقصان ہے، وہ تو صرف اس کی ذات کو ہوگا، لیکن اس کی عسکری ’’مہارت‘‘ کا فائدہ پوری مسلم امہ کو ہوگا‘‘۔
مزید فرمایا: بڑی خوشی ہوئی کہ آپ درس نظامی، حفظ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ سائنس گریجویٹ بھی ہیں، کیونکہ آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں ایسے اہل علم جو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم بھی رکھتے ہوں، ان کی بات کا غیر معمولی اثر ہوتا ہے اور جو دورجدید کے محاورے میں اپنی بات کو بیان نہیں کر پاتے، ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس صورت حال پر یہ کہنا کہ ’’ہمیں کوئی ضرورت نہیں کسی کو سمجھانے کی، جس کو سمجھنا ہو خود ہمارے پاس آئے اور ہمارا محاورہ اور اسلوب سیکھ کر آئے‘‘ مجھے اس بات سے ہرگز اتفاق نہیں۔ اسلام پر کسی فرد یا مخصوص طبقے کی اجارہ داری نہیں ہے۔ یہ تمام نسلوں، زمانوں اور قوموں کے لیے ہے، اس لیے اس کے پھیلاؤ کی راہ میں جو بھی جس انداز سے رکاوٹ بنے گا، اسے اپنا انجام یوم آخرت کو پیش نظر رکھ کر سوچ لینا چاہیے۔
اپنے ایم فل کے مقالے کے سلسلے میں موضوع کی بابت رہنمائی چاہی تو بڑی قیمتی آرا سے مستفید فرمایا، خصوصاً اپنے استاذ محترم کے نام سے موسوم ڈاکٹر محمد حمید اللہ لائبریری (فیصل مسجد، اسلام آباد) سے استفادے کی ترغیب دی۔ آپ کے ساتھ اس تفصیلی نشست نے میرے لیے مہمیز کا کام دیا اور میں نے بجائے ایک سال کے صرف دس مہینے میں عربی زبان میں ۳۰۸ صفحات پر مشتمل اپنا ایم فل کا مقالہ بعنوان ’’الامام زفر وآراؤہ الفقہیۃ: دراسۃ و نقدا‘‘ پیش کرکے ایم فل کی ڈگری حاصل کرلی۔ استاذ محترم کے ساتھ یہ میری پہلی اور آخری نشست تھی۔ اس کے بعد سیمینارز اور کانفرنسوں میں ملاقات اور اسی طرح بذریعہ فون سلام دعا ہوتی رہتی تھی۔
امسال عیدالفطر کے موقع پر میں نے گزارش کی کہ حضرت! آپ نے ہماری خانقاہ کو رونق بخشنے کا کافی عرصے سے جووعدہ فرما رکھا ہے، کیا میں اس کا خیال ذہن سے نکال دو ں؟ آپ نے فرمایا کہ صالح الدین! اگر زندگی نے وفا کی اور داعئ اجل نے تھوڑی مزید مہلت دی تو میرا ایک پروگرام اکتوبر کے پہلے ہفتے میں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں اپنے بھائی (مولانا زاہد الرشدی) کے ساتھ طے ہوا ہے۔ ان شاء اللہ سیمینار سے فراغت کے بعد یا اس سے پہلے آؤں گا، لیکن بفحوائے ’’تدبیر کند بندہ ، تقدیر زند خندہ‘‘ ۲۶ ؍ستمبر ۲۰۱۰ء کو بعد از نماز فجر جان، جان آفریں کے سپرد کر دی اور عمر بھر کا تھکا مسافر جو شاید ہی کبھی اطمینان کی نیند سویا ہو، منزل پر پہنچ کر میٹھی نیند سوگیا، لیکن ان کی یادیں، ان کی علمی خدمات اور ان کے شذرات قلم سے مستفیدین کا ایک نہ ختم ہو نے والا سلسلہ انھیں صدیوں زندہ رکھے گا۔
وقت ایک ایسی دولت ہے جو شاہ وگدا، امیر وغریب، چھوٹے اور بڑے، طاقتور اور کمزور سب کو یکساں ملتی ہے۔ اس کے صحیح استعمال سے ایک وحشی مہذب جبکہ ایک مہذب انسان فرشتہ سیرت بن سکتا ہے۔ اس کی بدولت ایک جاہل، عالم اور ایک نادان، دانا بن سکتا ہے، اس لیے مشہور ہے کہ جو شخص وقت کی قدرکرتا ہے، وہ زمانے میں قیادت وسیادت سنبھال سکتا ہے۔ استاذ محترم کو وقت کی قدر دانی کا عظیم وصف ورثہ میں ملا تھا۔ آپ نے اپنی زندگی کا ایسا نظام الاوقات بنایا ہوا تھا کہ جس میں وقت کا ایک ایک لمحہ تلاش علم، اسلام کی نشرواشاعت، دعوت وتبلیغ، تقریر وتحریراور عمیق ودقیق مسائل کے حل میں گزرتا تھا، یہاں تک کہ دوران سفر بھی تصنیف وتالیف کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خداے بخشندہ
استاذ محترم کی علمی اور دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع وعریض تھا۔ دورِ جدید کے فکری وتہذیبی مزاج اور نفسیات سے آپ پوری طرح آگاہ تھے اور بالخصوص آج کے دور میں اسلام اور مسلمانوں کو فکر وفلسفہ، تہذیب ومعاشرت ، علم وتحقیق اور نظام وقانون کے دائروں میں جن مسائل کا سامنا ہے ، آپ انتہائی وسعت نظر، گہرائی اور بصیرت کے ساتھ ان کا تجزیہ کرسکتے تھے۔ اسی طرح آپ کی عملی خدمات کا دائرہ بھی مختلف شعبوں میں پھیلا ہوا تھا اور آپ نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، ادارۂ تحقیقات اسلامی اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسے اداروں کے ساتھ ساتھ بیرون ملک کی اعلیٰ جامعات کو بھی اپنے علم وفضل سے سیراب کیا، جبکہ وفات کے وقت آپ وفاقی شرعی عدالت کے جج کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ اس قدر اسفار ، کثرت مشاغل اور مختلف اداروں کی ذمہ داریوں کے باوجود آپ نے مختلف موضوعات پر بڑی مفید کتابیں بھی تصنیف فرمائیں۔
محاضرات کے عنوان سے آپ نے قرآن، حدیث، فقہ اور سیرت پر مفصل خطبات دیے۔ یہ خطبات مختصر نوٹس کی مدد سے زبانی دیے گئے تھے جن کو بعد میں محترمہ عذرا نسیم فاروقی نے صوتی مسجل (Tape recorder) سے صفحہ قرطاس پر منتقل کیا۔ ان خطبات کے انداز بیان میں اگرچہ بنیادی طور پر علما اورمحققین کو سامنے نہیں رکھا گیا، لیکن پھر بھی علما اور محققین کے ہاں ان محاضرات کو بے حد پذیرائی ملی ہے۔ بے اختیار یہ کہنا پڑتا ہے کہ استاذ محترم قدیم وجدید دینی اور دنیوی علوم کے ایسے سنگم بن گئے تھے جس میں مختلف علوم وفنون کی حسین لہریں جمع تھیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ ایسی باکمال وبے مثال، باوقار وبامراد شخصیت کے حالات زندگی کو چند صفحات میں بیان کرنا جوے شیر لانے کے مترادف ہے اور پھر مجھ جیسا طفل مکتب آپ کے اخلاق وآداب، کمالات وامتیازات کو کیسے بیان کر سکتا ہے جس کی نہ عقل کی اتنی پرواز کہ استاذ محترم کی بلندیوں کو چھوسکے، نہ قلب میں اتنی سکت کہ وہ آپ کی اداؤں کا ادراک کرسکے، نہ فکر میں اتنی بلندی کہ وہ آپ کے مزاج ومزاق کو پہچان سکے، نہ طبیعت میں وہ جولانی کہ وہ آپ کے مقام کو جانچ سکے اور نہ قلم میں اتنی روانی کہ وہ آپ کی اداؤں کو بیان کرسکے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ استاذ محترم کے پس ماندگان اور ان کے جانشینوں کو ان کے قدم پر چلائے اور ان کو اپنی شایان شان اعلیٰ مقام نصیب فرمائے ۔ آمین
شمع روشن بجھ گئی
مولانا سید متین احمد شاہ
۲۶ ستمبر ۲۰۱۰ء کی سہانی صبح تھی۔ مہر درخشاں، ملکۂ عالم کی رسمِ تاجپوشی کے لیے مشرقی افق سے کافی بلندی پہ آچکا تھا۔ فطرت کا حسین منظر، عنادل کا شور، صبح بنارس کی مانند باد نسیم کی اٹھکیلیاں۔ اس جمالِ دل فروز کے جلو میں میں اسلام آباد کی ایک شارع عام پر محوِ سفر تھا کہ ایک پیغام موصول ہوا: ’’ڈاکٹر محمود احمد غازی کا انتقال ہوگیا۔‘‘ مولانا عمار خان ناصر صاحب کو فون کیا تو خبر کی تصدیق ہوگئی۔ دل غمگین ہوا، نینوں سے اشک چھلکے اور صبر وشکیب کا خرمن پل دو پل میں خاکستر ہوگیا۔ اس سوال کا جواب بھی مل گیا کہ عروس فطرت آج کس کے استقبال میں اپنی سج دھج دکھا رہی ہے اور ۲۴؍جنوری ۲۰۱۰ء کو کردار کے ’’غازی‘‘ سے ہونے والی پہلی اور آخری ملاقات کی جھلکیاں سامنے آنے لگیں اور میں خود کلامی کے خاموش پربت کے دامن میں فروکش ہوگیا۔
کیا ڈاکٹر غازی کا انتقال ہوگیا؟
سورۂ رحمن پکار کر کہنے لگی: کُلُّ مَنْ عَلَیْھا فَانٍ۔
خیال آیا: کیا آج اورنگ فکر کا سلیمان اپنے دربار کو سونا کر گیا؟
سورۂ انبیاء نے جواب دیا: کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ۔
تخیل نے پوچھا: کیا آج ہم ایک ایسی محرومی سے دوچار ہو چکے ہیں جس کی تلافی اب نہ ہوسکے گی؟
قطری بن فجأۃ نے آکر تسلی دی:
فصبراً فی مجال الموت صبراً
فما نیل الخلود بمستطاع
اک ہوک سی اٹھی: ہائے! کیا واقعی؟
روح اقبالؒ نے خطاب کیا:
موت ہے ہنگامہ آرام قلزمِ خاموش میں
ڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میں
اتنے جوابات مل جانے کے بعد بھی یقین کا سرمایہ کہاں سے لاتا؟
مری بے تاب نظریں ڈھونڈتی پھرتی ہیں گلشن میں
صبا تو نے کہاں لے جا کے خاک آشیاں کھو دی
ڈاکٹر محمود احمد غازی (اللہ ان کو جنت الفردوس کی ابدی بہاروں کا مکین بنائے) کے نام سے شناسائی مجھے بچوں کے ایک جریدے ماہنامہ ’’مجاہد‘‘ کے ذریعہ گیارہ برس کی عمر میں حاصل ہوئی جبکہ وہ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔ میٹرک کے امتحان کے بعد علامہ عبداللہ یوسف علی کا انگریزی ترجمہ قرآن لیا۔ اس پر ڈاکٹر غازی کے لکھے گئے جامع دیباچہ سے ان کے علمی مقام کا نقش اوّلین دل پہ مرتسم ہوگیا۔ مختلف جرائد کی وساطت سے ان کے البیلے مضامین کی ایک ایک سطر علم وآگہی میں اضافہ کا موجب تو بنتی ہی تھی مگر باضابطہ طور پر ان کے فکری و علمی آفاق کی وسعت و عظمت کا ادراک ان کے عظیم سلسلہ محاضرات کے ذریعہ ہوا۔ علوم، موضوعات اور مضامین کے اس تنوع کی مثال یکجا طور پر شاید عربی زبان میں بھی مشکل سے ملے۔ اپنی خوابگاہ کی الماری میں میں نے ان خطبات کو قرینے سے رکھا ہے اور ڈاکٹر غازیؒ کی وفات کے بعد آج تک کتنی بار ایسا ہوا کہ ان پر نظر پڑی تو دل پہ رقت طاری ہوگئی، آنکھوں سے آنسو چلنے لگے اوربے اختیار ہاتھ دعائے مغفرت کے لیے اٹھ گئے۔
۲۴؍جنوری ۲۰۱۰ء کو ایک ساتھی نے ڈاکٹر غازیؒ سے ملاقات کا پروگرام بنایا اور مجھے بھی ساتھ چلنے کو کہا۔ میں نے موقع کو غنیمت جانا کیونکہ اپنے ایم فل کے مقالے کے لیے ’’نظم قرآن‘‘ کے تصور پر ڈاکٹر غازیؒ کے علم سے استفادہ بھی مقصود تھا۔ یہ ملاقات ان سے زندگی کی پہلی اور آخری ملاقات تھی اور اس نے ان کی تواضع، محبت اور وقار ومتانت کا ایک گہرا تاثر دل پر چھوڑا۔ ڈاکٹر محمد میاں صدیقی صاحب بھی ڈاکٹر غازیؒ سے ملاقات کے لیے آئے ہوئے تھے۔ ہم نے ملاحظہ کیا کہ ان کی عمر کے احترام کے پیش نظر ڈاکٹر صاحب نے بہت کم گفتگو فرمائی اور صرف اسی سوال کا جواب خود ارشاد فرمایا جو انھی سے تعلق رکھتا تھا۔ سلسلہ گفتگو میں امام شاطبی ؒ کی کتاب ’’الموافقات‘‘ کا کسی حوالہ سے میں نے ذکر کیا اور اپنی لاعلمی سے اس کو ’بکسر الفاء‘ ادا کیا۔ انہوں نے فوراً اصلاح فرمائی کہ یہ لفظ ’بفتح الفاء‘ ہے اور یوں مجھے ایک لفظ میں ڈاکٹر غازیؒ کے تلمذ کا اعزاز مل گیا اور یہی کیا کم ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سیکھایا میں اس کا غلام ہوں چاہے مجھے آزاد کر دے یا بیچ دے۔
سلسلہ مراسلت قائم کرنے کے لیے میں نے ای میل مانگا تو انہوں نے لکھوایا:
mahmoodghazi23@yahoo.com
فرمایا کہ یہاں ۲۳ کا عدد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات نبوت کی مدت کی طرف اشارہ ہے۔ اتنے معمولی امور میں بھی اس بات کا خیال ان کی ذاتِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستگی ومحبت کی روشن دلیل ہے۔ اس مختصر ملاقات میں بھی ڈاکٹر غازیؒ کے خوانِ علم سے مجھ جیسا کم سواد طالب بہت کچھ لے کر اٹھا۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے اولڈ کیمپس (فیصل مسجد) میں ڈاکٹر غازیؒ پر ایک تعزیتی ریفرنس میں ڈاکٹر شیر محمد زمان صاحب نے فرمایا کہ ہماری رفاقت طویل عرصہ پر محیط ہے اور اس کی روشنی میں بلاخوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ اپنی زندگی میں ڈاکٹر غازی جن مناصب پر رہے اور ان میں چھوٹے چھوٹے امور میں بھی انہوں نے جس دیانت،تقویٰ اور ورع کا مظاہرہ کیا، اس کی اب کوئی دوسری مثال میں پیش کرنے سے قاصر ہوں۔
ڈاکٹر غازیؒ کے علمی ذوق اور ولولہ کے حوالہ سے ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری صاحب نے فرمایا کہ ایک بار غازی صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں نے امام شافعیؒ کی کتاب ’’الأم‘‘ کا سات مرتبہ از اوّل تا آخر مطالعہ کیا ہے۔ باریک ٹائپ سے لکھے گئے سات جلدوں کے اتنے بڑے علمی موسوعہ کو سات مرتبہ بالاستیعاب پڑھنے کی نظیر اس دور میں شاید مشکل ہی سے ملے گی جہاں اب تن آسانی، تضییع اوقات اور سطحیت ایک عمومی مزاج بن چکا ہے۔جامعۃ الرشید کی ایک مجلس میں ڈاکٹر صاحب نے علماے کرام سے فرمایا کہ میں اس کو عالم نہیں مانتا جس نے ہدایہ کم ازکم پانچ بار بالا ستیعاب نہ پڑھی ہو۔ میں تین بار پڑھ چکا ہوں، چوتھی بار شروع کر رکھی ہے، آپ بھی وعدہ کریں۔ نیز فرمایا کہ موطا امام مالک حفظ کر رہا ہوں، آپ تکمیل کی دعا کریں۔ ڈاکٹر غازی کا یہ علمی مزاج بجا طور پر علماے سلف کی یاد دلاتا ہے۔ اب ایسے عشاق علم، رُخِ زیبا کا چراغ جلا کر ڈھونڈے سے بھی نہ ملیں گے۔
جو سختی منزل کو سامانِ سفر سمجھے
اے واے تن آسانی ناپید ہے وہ راہی
عربی زبان وادب پر ڈاکٹر صاحب کی قدرت کے حوالے سے ڈاکٹر انصاری صاحب ہی نے بتایا کہ جب وہ عربوں کے سامنے گفتگو فرماتے تو وہ ان کی قدرتِ بیان، فصاحت وبلاغت اور استخصار علمی پہ انگشت بدنداں رہ جاتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل درالکتب العلمیہ، بیروت سے حضرت مجدد کے احوال وافکار پر شائع ہونے والی ڈاکٹر غازی ؒ کی کتاب ’’الحرکۃ المجددیہ‘‘ میں ان کے باغ وبہار قلم کے کمال کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
آج جب کہ قحط الرجال کا دور ہے، پرانے بادہ کش اٹھتے جاتے ہیں، ایک چراغ بجھتا ہے تو ظلمتوں کے بسیرے مزید طویل ہو جاتے ہیں، ہر میدان میں موثر افراد ی تیاری بند ہو رہی ہے اور ’’تبقی حثالۃ کحثالۃ الشعیر اوالتمر‘‘ کی نبوی پیشین گوئی مکمل طور پر پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے، ایسے میں ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا وجود ایک ابرنیساں، ایک آتش عالم افروز، ایک قلزم بے پایاں تھا۔ وہ فکرارجمند والا ایک بلند دماغ اور زبانِ ہوشمند ودلِ درد مندوالا ایک بے چین داعی تھا جو زندگی کے مختلف میدانوں میں امت کی زبوں حالی پہ وفورِ جذبات میں پکار اٹھتا تھا۔
نواے من ازاں پر سوز و بے باک و غم انگیز است
بخاشاکم شرار افتاد وبادِ صبح دم تیز است
حضرت سعید بن جبیرؓ (جو حجاج بن یوسف کے ظلم کا نشانہ بنے ) کی موت کے بارے میں میمون بن مہرانؒ اور امام احمد بن حنبلؒ جیسی شخصیات نے کہا تھا: قتل سعید بن جبیر و ما علی وجہ الارض الا ھو محتاج الی علمہ (سعید بن جبیر کی شہادت ایک ایسے وقت میں ہوئی کہ روئے زمین پہ ہر فرد ان کے علم کا محتاج تھا۔) ڈاکٹر غازیؒ دنیا سے اٹھے ہیں تو اس جملے کا اطلاق ان کی وفات پر کرنا شاید مبالغہ نہ ہو۔ معیشت و تجارت کے مسائل آپ کی بصیرت کے ضرورت مند تھے، قضاو تعلیم کا شعبہ آپ کی دقیقہ رسی کا طالب تھا، دینی مدارس کے نصاب ونظام پر گفتگو کی بات ہوتی تو نظریں ڈاکٹر غازیؒ کی طرف اٹھتی تھیں۔ وہ دنیا سے کیا گئے، علوم دینی ودنیوی کا ایک مفکر داغ مفارقت دے گیا، تفقہ وتدبر کا ایک دبستان بند ہوگیا، وسعت فکر ونظر کا ایک بہتا دریا سوکھ گیا، اپنی ہی ذات میں ایک انجمن اجڑ گئی۔ اے دریغا! کہ بساطِ علم ماتم گسار ہے، فکر ونظر کے افق پہ شامِ غم کی تاریکیاں بکھر گئی ہیں، انسانیت واخلاق کا ایک نمونہ نظروں سے روپوش ہوگیا ہے۔ جی ہاں!یہ مبالغہ نہیں۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری صاحب نے فرمایا کہ کوئی علمی مسئلہ درپیش ہوتا تھا تو ہماری نظریں غازی صاحب کی طرف اٹھتی تھیں اور اطمینان رہتا تھا کہ ان سے مشاورت کر لیں گے، لیکن اب
شمع روشن بجھ گئی
بزمِ سخن ماتم میں ہے
ان کے مشہور محاضرات کا سلسلہ قرآن سے شروع ہوا اور دینی مدارس میں قرآن ہی کی تدریس کے حوالہ سے الشریعہ اکادمی میں ان کا محاضرہ ہونا تھا کہ وقت موعود آن پہنچا۔ آغاز و انجام میں حسن مطابقت محض اتفاق ہی نہیں خداوند قدوس کی کسی مشیت کی جانب اشارہ بھی ہے۔
ڈاکٹر غازیؒ کے علمی وفکری کمالات پر اہل علم وفکر ہی گفتگو کریں گے اور وہ اس کے اہل بھی ہیں۔مجھے تو ایک ادنی طالب علم کی حیثیت سے ملک و ملت اسلامیہ کے اس گوہر یک دانہ کے فقدان پہ ان جذبات غم کا اظہار کرنا تھا جو دل کی خاموشیوں میں تموج پید اکرتے ہیں۔
من نیز حاضر می
شوم تذکار غازی برقلم
میں عالم تصور میں ڈاکٹر غازیؒ کی مرقد پہ کھڑا ہوں اور کسی شاعر کا شعر تصرف کے ساتھ گنگنارہا ہوں۔
ایا قبر غازی! کیف واریت علمہ
و قد کان منہ البر والبحر مترعا
علم کا آفتاب عالم تاب
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ
ایک عالم آدمی ساری عمر علم کے سمندر میں غوطہ زن رہتا ہے اور شام زندگی کے قریب جب وہ سطح آب پر نمودار ہوتا ہے تو اس کے دامن میں چند سیپیاں، چند گھونگھے اور کبھی کبھار کوئی ایک آدھ موتی ہوتا ہے۔ مگر اس دنیا میں چند ایسے خوش قسمت بھی ہوتے ہیں جو فنا فی العلم ہو کر خود علم کا بحرِبیکراں بن جاتے ہیں۔ اس بحرِناپیداکنار کی تہہ میں اترنے والے غواص بیش قیمت موتیوں سے اپنے دامن کو بھر کر ایک دنیا کو مرعوب و متاثر کرتے ہیں۔ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ متنوع اور متفرق علوم و عجائب کا ایک ایسا سمندر تھے کہ جن میں غوطہ زن ہو کر ہزاروں لاکھوں لوگ جن میں ان کے شاگرد، ان کے قارئین، ان کے سامعین اور ناظرین شامل ہیں، کسب فیض کرتے رہے۔
میں روایتی تعلیم سے فارغ التحصیل ہو کر سعودی عرب چلا گیا تھا۔ وہاں کی وزارت تعلیم میں دو اڑھائی دہائیوں تک تدریسی فرائض انجام دیتا رہا۔ اس دوران میں ڈاکٹر محمود احمد غازی کی شخصیت، ان کی بعض کتب اور دین میں راہ اعتدال اختیار کرنے جیسے ان کے کارناموں سے آگاہ ہو چکا تھا مگر سابق جسٹس خلیل الرحمان خان اور غازی صاحب کی دعوت پر پاکستان آ کر نیشنل اسلامی یونیورسٹی میں خدمت کا موقع ملا۔ اس دوران غازی صاحب کی چشم التفات مجھ پر کھلتی گئی اور ان کے ساتھ میرے تعلقِ خاطر میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور جوں جوں قربت بڑھتی گئی، تو ں توں ان کی عظمت کا نقش میرے دل پر مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔ ان کی بیکراں شخصیت اور ان کے عظیم علمی و دینی کارناموں پر غور کرتا ہوں تو سمجھ میں نہیںآتا کہ بات کہاں سے شروع کروں۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی کی تعلیم و تربیت میں ان کے والد حافظ احمد فاروقی کی توجہ، ان کی والدہ کے حسن تربیت اور ان کے اساتذہ کے فیضان نظر کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ ان کی والدہ آج بھی حیات ہیں اور ان کے برادر اصغر پروفیسر ڈاکٹرمحمدالغزالی کے بقول: بھائی صاحب اپنی وزارت، یونیورسٹی کی صدارت، اپنی خطابت و کتابت اور اپنی گوناں گوں مصروفیات کے باوجود والدہ صاحبہ کے سامنے آخر دم تک اقبال کے طفل سادہ کی تصویر بنے رہے۔ بقول علامہ اقبال
علم کی سنجیدہ گفتاری، بڑھاپے کا شعور
دنیوی اعزاز کی شوکت، جوانی کا غرور
زندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہم
صحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہم
مجھے یہ اندازہ نہ تھا کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی حافظِ قرآن بھی ہیں۔ ان کے ڈرائیور مولوی محمد یوسف نے مجھے بتایا کہ وہ جب بھی میرے ساتھ شہر کے اندر یا شہر سے باہر سفر کرتے، زیادہ ترقرآن پاک کی تلاوت کرتے رہتے۔ بعد میں جب میں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ انہوں نے تھانہ بھون کے خاندان فاروقیہ کی روایات کے مطابق صرف آٹھ برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا تھا۔ حفظ قرآن کے بعد انہوں نے عربی زبان و ادب میں کئی امتحانات امتیاز کے ساتھ پاس کیے اور ایک دینی مدرسے سے درس نظامی مکمل کیا۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ عربی کے علاوہ انہیں فارسی، انگریزی اور اردو زبان پر بھی مکمل عبور تھا۔ اردو تو ان کی مادری زبان تھی۔ ایک بار میں نے غازی صاحب سے پوچھا کہ آپ کاتعلیمی پس منظر تو عربی مدارس کا ہے، مگر آپ عام علماء کرام کے برعکس عربی بلکہ انگریزی بھی بڑی روانی سے بولتے ہیں۔ اس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کراچی کے جس دینی مدرسے میں انہوں نے درس نظامی مکمل کیا، وہاں مصری اساتذہ تھے جو بیک وقت محبت اور شوق سے ہمارے ساتھ رات دن عربی میں گفتگو کرتے، اس لیے میری عربی بول چال بہت رواں ہے۔ کہنے لگے کہ ابتدا میں مجھے انگریزی سے زیادہ دلچسپی نہ تھی مگر ایک رات زمانہ طالب علمی کے دوران میں نے سوچا کہ انگریزی سیکھے بغیر چارہ نہیں۔ اگلے روز میں نے فٹ پاتھ سے انگریزی گرائمر کی ایک پرانی کتاب خریدی اور پھر چل سوچل۔ میں نے انگریزی پڑھنا، بولنا اور لکھنا شروع کردی اور چند مہینوں میں میری استعداد اور میرا اعتماد اتنا بڑھ گیا کہ میں انگریزی میں تقریریں کرنے لگا۔
غازی صاحب نے تدریس کا آغاز پہلے راولپنڈی کے مدرسہ فرقانیہ میں عربی پڑھانے سے کیا۔ پھر وہ مدرسہ ملیہ میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ڈاکٹر غازی صاحب نے خود ایک بار مجھے بتایا تھا کہ میرے والد گرامی کو مولانا گلزاراحمد مظاہری ؒ نے لاہور آنے اور علماء اکیڈمی کا ڈائریکٹر بن جانے کی پیش کش کی تھی۔ غازی صاحب نے بتایا کہ وہ مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کے درمیان افہام و تفہیم کے لحاظ سے اس آئیڈیل کو بہت سراہتے تھے مگر وہ بوجوہ اس پیشکش کو قبول نہ کر سکے اور پھر اسلام آباد ہی ان کی علمی و دینی سرگرمیوں کی جولان گاہ بن گیا۔ ندوۃ العلماء لکھنو اور جامعہ ملیہ دہلی سے لے کر انٹر نیشنل یونیورسٹی اسلام آباد تک تقریباً ڈیڑھ صدی سے دنیاوی علوم یکجا کرنے کے لیے روشن خیال علماء کرام نے بہت کاوشیں کیں اور اس کے لیے کئی پروگرام وضع کیے۔ اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد اس دینی و دنیاوی یکجائی کی ایک بہترین مثال اور ماڈل ہے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا بہت سا خونِ جگر اس گلشن کی آبیاری میں صرف ہوا ہے۔ وہ اس یونیورسٹی میں پہلے تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ پھر وہ ڈائریکٹر دعوۃ اکیڈمی کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس کے بعد وہ نائب صدر جامعہ اور بعد ازاں صدر جامعہ کی حیثیت سے یونیورسٹی کی خدمات انجام دیتے رہے۔ اسی دوران وہ تین برس تک وزیر مذہبی امور بن گئے۔ وزارت اور اسلامی یونیورسٹی کی صدارت کے بعد وہ یونیورسٹی میں ایک بار پھر عام پروفیسر کی حیثیت سے درس وتدریس میں مشغول ہو گئے۔
اگرچہ ہماری ملکی روایات کے مطابق ایک بار کوئی شخص اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز رہ چکا ہو تو پھر وہ عام افسر یا استاد کی حیثیت سے فرائض انجام نہیں دیتا۔ یونیورسٹی کی نائب صدارت، پھر صدارت اور اس کے بعد وزارت کے بعد نہ ان کے پاس کوئی پلاٹ تھا، نہ کوئی بنگلہ اور نہ ہی ذاتی کار تھی۔ ان کے پاس ایک مشترکہ خاندانی گھر تھا جس میں دوسرے افراد خانہ کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ صدارت کے بعد سرکاری گاڑی واپس کرنے کے بعد انہوں نے المیزان اسلامی بنک کے ذریعے قسطوں پر گاڑی خریدی جسے وہ خود چلاتے تھے۔ جب کہیں دور جانا ہوتا یا گھر والوں کو ضرورت ہوتی تو وہ اپنے پرانے ڈرائیور کو جو اس وقت میرے ساتھ کام کر ر ہے تھے، فارغ اوقات میں بلاتے اور خدمت کا اسے معاوضہ ادا کرتے۔ کل وقتی ڈرائیور افورڈ کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ دیانت وامانت کے اعتبا ر سے غازی صاحب کا کردار مثالی تھا۔ یونیورسٹی صدارت سے فارغ ہو کر تقریباً آٹھ نو ماہ تک وہ شریعہ کے شعبے میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے اور پھر قطر یونیورسٹی چلے گئے۔ وہاں پر ہی انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے شریعت کورٹ میں جسٹس کی ذمہ داری کی پیش کش ہوئی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے قرآنیات، اقبالیات، اسلامی سیاسیات ومعاشیات ، سیرت وحدیث پاک وغیرہ پر درجنوں کتابیں اردو اور انگریزی میں لکھیں، تاہم عربی زبان اور فقہ اسلامی ان کے خاص موضوعات تھے جن میں انہیں سند کا درجہ حاصل تھا۔ میرے استاذ گرامی ڈاکٹر خورشید احمد رضوی ، غازی صاحب کے بے تکلف دوست تھے۔ انہوں نے بتایا کہ غازی صاحب پاکستان میں عربی زبان کے دو چار عالموں میں سے سرفہرست تھے۔
ایک زمانے میں غازی صاحب فتنہ قادیانیت کے رد میں جنوبی افریقہ کی عدالت میں مسلمانوں کے وکیل کی حیثیت سے پیش ہوتے رہے۔ انہوں نے وہاں دو اڑھائی ماہ قیام کیا تھا اور قادیانیت کی حقیقت کو آشکارا کیا۔ مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ اور اتحاد بین المسلمین غازی صاحب کی زندگی کا مشن تھا۔ وہ جس بین الاقوامی یا اسلامی کانفرنس میں جاتے، وہاں اس بات کا تذکرہ ضرور کرتے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ ان کی نیکیوں کو قبول کرے، ان کی کوتاہیوں سے درگزر کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے۔ آمین۔
(بشکریہ نوائے وقت لاہور، یکم اکتوبر ، ۲۰۱۰ء)
دگر داناے راز آید کہ ناید
حافظ ظہیر احمد ظہیر
مخدومی، استاذ ذی وقار حضرت مولانا ڈاکٹر قاری احمد میاں تھانوی مدظلہ العالی نے علالت کے باعث اپنے قابلِ فخر بھتیجے مفکر اسلام، عظیم مذہبی اسکالر، جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی کے حوالے سے کچھ لکھنے کا حکم فرمایا۔ تعمیل ارشاد میں اس اعتراف کے ساتھ کہ آپ کا ادراکِ نسبت یا ادراکِ کمالات میرے جیسوں کا منصب ہرگز نہیں ہے، راقم اثیم چند سطریں قارئین ’’الشریعہ‘‘ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کررہا ہے۔
موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کومفر نہیں، لیکن جو لوگ کسی نظریے اور مشن کے لیے تادمِ آخر ان تھک محنت اور لگن سے کام کرتے رہیں، وہ کتنی ہی طویل عمر کیوں نہ پائیں، ان کی جدائی قبل از وقت ہی محسوس ہوتی ہے۔
ڈاکٹرصاحب ایک علمی خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔ آبائی وطن علم و حکمت کی دانش گاہ ’’تھانہ بھون ‘‘ ٹھہرا۔ آپ کے والد گرامی حافظ محمد احمد فاروقیؒ صاحب کی بیعت وارادت حکیم الامت حضرت مولانا شاہ محمد اشرف علی تھانوی سے قائم تھی اور ان کو حضرت تھانوی کے خلیفہ اجل حضرت مولانا فقیر محمد پشاوریؒ اور شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ مہاجر مدنی سے اجازت بیعت اور خلافت بھی عنایت ہوئی۔ ڈاکٹرصاحب نے حصول تعلیم کے لیے شیخ المحدثین علامہ ظفرؒ احمد عثمانی کی خدمت میں زانوئے تلمذ تہہ کیے۔ عین ممکن ہے کہ بعض حضرات کا خیال شاید یہ بھی ہو کہ ڈاکٹر صاحب کی اٹھان میں ان کے اپنے ذاتی کردار، انفرادی کوشش، اپنے مشن کے ساتھ والہانہ لگاؤ اور اس کے حصول کے لیے ان تھک جدوجہد کا بڑا عمل دخل ہے۔ اس سے انکار نہیں، لیکن بنیادی طور پر آپ کی تعمیر و ترقی میں عظیم نسبتوں، اکابر و اسلاف کے اعتماد اور اساتذہ و شیوخ کی دعاؤں کو روح کی حیثیت حاصل ہے۔
موصوف قدیم و جدید علوم کے متبحر عالم دین، اسلامی یونیورسٹی کے سابق صدر، فیصل مسجد کے سابق خطیب اور شرعی عدالت کے جج تھے۔ رب العزت نے ان مناصبِ جلیلہ کے ساتھ ساتھ آپ کو ظاہری اور باطنی نسبت وکمالات سے بھی نوازرکھا تھا۔ آپ متنوع صفات اور مجموعہ کمالات شخصیت کے مالک تھے ۔آپ ہمارے دور کی ان چند ممتاز ویگانہ شخصیات میں سے ایک تھے جن کے دل میں دین فطرت کو عالم گیر مذہب کے طور پردیکھنے کی تڑپ ہوتی ہے اور وہ لوگ اس تڑپ کو سکون دینے کے لیے اپنی خداداد صلاحیتوں اور گوناگوں اوصاف و کمالات کے ساتھ جہدِ مسلسل اور سعی پیہم سے بھرپور کام لیتے ہیں۔ موصوف ڈاکٹر صاحبؒ کی تمام صفات کوحیطہ تحریر میں لانا ایک طویل وقت اور خاصی محنت کا متقاضی ہے، لہٰذا میں ان کی چند ایک خدمات کا اجمالی سا تذکرہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔
قارئین گرامی !اگر آپ ڈاکٹر محمود احمد غازی کو آج کے دور میں نہیں، مسلمانوں کے مثالی دورِ عروج کے تناظر میں دیکھنا چاہتے ہیں تو مولانا ابوالکلام آزادؒ کے ایک خط جو انہوں نے اپنے کسی عزیز کو لکھا تھا کا اقتباس ضرور پڑھیں ۔ فرماتے ہیں:
’’آپ کے لیے بہترین زندگی علمی زندگی ہے، اس شکل و طرز کی جس کانمونہ سلف صالح کے حالات سے ملتا ہے۔ علماء اسلام کے حالات پڑھیے۔ درس و تدریس، وعظ و ارشاد اور تصنیف و تالیف تینوں چیزوں کو بیک وقت کرتے تھے اور اس طرح ایک زندگی میں تین عظیم الشان خدمات انجام دیتے تھے۔ عوام کی اصلاح وعظ وتذکیرسے، مستقبل کے لیے تیاری دروس تدریس اور علم و مذہب کی خدمت دائمی تصنیف و تالیف سے ۔ ابن جوزیؒ مصنف ہیں، مستنصریہ کے صدر مدرس ہیں اور جامعہ رصّافہ کے واعظ۔ غزالیؒ مدرسہ طوس کے معلم، سو کتابوں کے مصنف اور جامعہ طوس کے واعظ۔ علماء اسلام کی زندگی کے لیے تو یہ طبیعت ثانیہ ہوگئی تھی۔ ایک شخص آپ کو نہیں ملے گئے جو اپنی زندگی میں یہ تینوں مشغلے نہ رکھتا ہو۔ جب سے یہ طبقات الگ ہوئے، سلسلہ ہدایت اور علم مفقود ہوکے رہ گیا۔‘‘
اس تحریر کی روشنی میں ہمارے حضرت ڈاکٹر صاحب نے قرونِ اولیٰ کی یاد تازہ فرمادی تھی ۔ ہم مختصراً ڈاکٹر صاحب کو ایک مقرر،مصنف اور مدرس کی حیثیت سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
بحیثیت مقرر
حضرت ڈاکٹر صاحبؒ پلند پایہ داعی اور مقرر تھے۔ آپ اردو، عربی، انگریزی تینوں زبانوں میں لکھنے پڑھنے پر خوب قادر تھے اور اس کے علاوہ فرانسیسی زبان بھی جانتے تھے۔ ان کی تقاریر جہاں قوتِ استدلال،نکتہ شناسی و نکتہ آفرینی کا بہترین مرقع ہوتیں، وہاں ایسی قیمتی معلومات کے خزینے بھی ہاتھ آتے جن کو تلاشِ بسیار اور کئی کتابوں کی ورق گردانی کے بعد بھی شاید حاصل نہ کیا جاسکے۔ آپ نے دین فطرت کی دعوت میں جو زبان استعمال کی ہے، وہ ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ اور موعظہ حسنہ کی بہترین عملی تفسیر ہے ۔
قرآن کریم، حدیث مبارکہ، سیرت پاک، فقہ اسلامی، شریعت اور معیشت و تجارت کے موضوعات پر ان کے خطابات محاضراتِ قرآنی، محاضراتِ حدیث، محاضراتِ سیرت،محاضراتِ فقہ کے نام سے کتابی شکل میں طبع ہوچکے ہیں۔ یہ مجموعہ جات آپ کے علوم و معارف کا نچوڑ ہیں۔ بقول ڈاکٹر صاحب ’’ان کے خطابات کی زبان تحریری نہیں، تقریری ہے۔ اندازِ بیان عالمانہ اور محققانہ نہیں، داعیانہ اور خطیبانہ ہے ۔‘‘
آپ نے ۸۰ء کی دہائی میں جنوبی افریقہ کی عدالت میں عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے مرزائیوں کے مقابلے میں گفتگو کے لیے پاکستان کے دیگر چوٹی کے اہل علم کے ساتھ ایک تاریخی سفر فرمایا۔ اس وفد میں مفکر اسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ، علامہ ڈاکٹر خالد محمودمدظلہ ، ڈاکٹر اسحاق ظفر انصاری مدظلہ اور دیگر جید علماء اسلام شامل تھے۔ اس سفر کا ذکر حضرت مفتی تقی عثمانی نے اپنے سفر نامہ ’’جہانِ دیدہ‘‘ میں تفصیل سے فرمایا ہے ۔ استاذ محترم علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ العالی نے راقم کو بتایا کہ ڈاکٹر غازی صاحب نے میدانِ مناظرہ کا آدمی نہ ہونے کے باوجود اس مقدمہ میں اس طرح بھرپور منطقی استدلالات کے ساتھ اور زوردار انداز میں ختم نبوت پر گفتگو فرمائی کہ بس انھی کا خاصہ تھا۔
حضرت کے خطبات میں قابل ذکر چیز آپ کی آفاقی نظر تھی۔ آپ نے دنیا بھر کے دورے کیے بلکہ عمر کا ایک طویل حصہ اسی دعوت کے کام میں گزرا۔ اس کثرت اسفار نے ایسا ذوق پیدا کررکھا تھا کہ آپ جب بھی کسی مسئلہ پر بولتے، اگر چہ آپ کے سامنے اردو دان طبقہ ہوتا مگر محسوس یوں ہوتا تھا کہ آپ صرف موجود سامعین کو نہیں بلکہ تمام اقوام عالم کو دین فطرت کی دعوت دے رہے ہیں ۔
بحیثیت مدرس
اسلامی علوم کی دنیا کے دیگر علوم پربرتری ثابت کرنے کے لیے علوم کے تقابلی مطالعے اور جدید تعلیم کے سحر میں گرفتار افراد کا اسلامی علوم پر اعتماد بحال کرنے اور قرآن وسنت، فقہ اسلامی پر اعتراضات کے کافی و شافی جوابات دینے میں آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا۔ اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی تدریس کے دوران یہ آپ کا ایک نمایاں وصف تھاکہ آپ نے جدید دور کی تمدنی اور معاشرتی خرابیوں کی اصلاحِ احوال کے لیے بہتر اور مؤثر لائحہ عمل کی نشاندہی کی۔ آپ نے مغربی نظام تعلیم کی پیدا کردہ خرابیوں کا پوری طرح ادراک کر کے اپنے شاگردوں میں اسلامی روح منتقل کرنے کی ہر ممکن کوشش فرمائی۔ آپ کا حلقہ درس و تدریس عوام الناس یا مذہبی طبقے کی بجائے چونکہ زیادہ تر عصری تعلیم کے حامل افراد پر مشتمل تھا، لہٰذا آپ نے مسلم معاشرے کے بالائی طبقہ کی ذہنی الجھنوں کو بڑی گہرائی سے سمجھا اور پھر ان کی ذہنی سطح کے مطابق ان سے بات کرنے کی خوب استعداد اور مہارت پیدا کی۔ دوران تدریس آپ کے لیکچرز وسیع و عمیق مطالعہ اور علم و تحقیق کا محور ہوتے تھے۔
بحیثیت مصنف
اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ تقریر اور درس و تدریس کی مستقل ذمہ داریوں کے ساتھ تصنیف کے مستقل شعبہ سے وابستگی کس قدر مشکل امرہے اور پھر صرف روایتی تصنیف و تالیف نہیں بلکہ فکری ، نظریاتی اور تخلیقی تحریر کا میدان کسی اور مصروفیت کے لیے کہاں چھوڑتا ہے۔ لیکن رب العزت نے جن ہستیوں سے کام لینا ہو، ان کے وقت کے لمحات بھی بابرکت بن جاتے ہیں۔ وقت ان کے ساتھ سمجھوتہ کرکے گزرتا ہے۔ تصنیف کے حوالے سے آپ کے غیر معمولی شاہکار منصہ شہود پر آکر اہل علم و فن سے داد حاصل کرچکے ہیں جن میں ادب القاضی ،قانون بین الممالک، اسلامی بینکاری: ایک تعارف،اسلام اور مغرب تعلقات، مسلمانوں کا دینی و عصری نظام تعلیم، اصول فقہ و علم اصول فقہ، (اصول فقہ) تقنین، (اصول فقہ ) پاکستان میں قوانین کی اسلامائزیشن، (اصول فقہ) قواعد کلیہ، قواعد کلیہ اور ان کا آغاز و ارتقا، ان کی علمی ثقاہت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔
ڈاکٹر صاحب کا قلم فکر انگیز تحریر لکھنے کے سوا کچھ اور لکھنے کا عادی ہی نہ تھا۔ آپ کی تحریروں کا مطمح نظر امت میں ابتدائی صدیوں میں اسلامی علوم کی تدوین پر حضرات صحابہ کرام، حضرات تابعین، محدثین، مفسرین، فقہا اور مؤرخین کی خدمات کا وسیع مطالعہ تھا۔ قدیم و جدید مفکرین کے فکر کی نوعیت کو سمجھ کر ان کے مثبت اور کمزور پہلوؤں پر گہری نگاہ رکھ کر مسلمانوں کے مستقبل کو ماضی سے جوڑتے ہوئے امت کو اپنی نئی فکر اور نئی جماعت و دائراتی خول سے داغدار اور منتشر نہ ہونے دینا آپ کی تصنیفی زندگی کا نصب العین تھا۔
چند دیگر صفات
یہ تو ایک خاکہ تھا جس میں آپ کی سیرت کے چند نمایاں گوشے اجمال کے ساتھ ذکر ضرور کیے ہیں، لیکن پھر بھی بہت کچھ باقی ہے اور باقی رہے گا ۔ وہ بہت بڑے قد کے آدمی تھے۔ خدا نے ان کو فقر، درویشی جیسی اعلیٰ صفات سے بھی نوازا تھا۔ ڈاکٹر صاحب بڑے بڑے علمی کارناموں اور بے مثال دینی خدمات سرانجام دینے کے باوجود اپنے آپ کو فقیر سمجھتے تھے، کیونکہ آپ باضابطہ عالم دین اور صوفی تھے۔ عالمِ ربانی کے الفاظ ان پر صادق آتے تھے۔ علمی تبحر، وسعت مطالعہ اور غیر معمولی ذہانت و ذکاوت، عالمی دنیا میں ایک نامی گرامی شہرت کے باوجود آپ ہمیشہ مجسمہ انکسار و عاجزی رہے اور من تواضع للّٰہ رفعہ اللّٰہ کے سانچے میں ڈھلے حقیقی پیکر انسانی تھے۔ بقول شیخ سعدی ؒ
تواضع ز گردن فروزاں نکوست گداگر تواضع کند خوئے اوست
’’بلند مرتبہ لوگوں سے تواضع بھلی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اگر فقیر اور گداگر تواضع کرتا ہے یہ اس کی مجبوری ہے ۔‘‘
عاجزی اور انکساری ان کا نمایاں وصف تھا۔ تھانوی مکتبِ فکر کی تربیت، اصول پسندی اور سلیقہ مندی ان کے چہرہ بشرہ سے عیاں تھی ۔
ڈاکٹر صاحب کی راہِ زندگی میں کچھ مشکل گھڑیاں اور کٹھن مراحل بھی آئے جو ہر بڑے آدمی کی راہ میں اسپیڈ بریکر بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ حسد و عناد کے بھی کچھ نشتر چلانے کی کوشش کی گئی تو درویش صفت ڈاکٹر محمود غازی یہ کہہ کر سب کچھ نظر انداز کرگئے۔ بقول شخصے :
کسی شاخِ سرنگوں پہ رکھ لوں گا چار تنکے
نہ بلند شاخ ہوگی نہ گرے گا آشیانہ
پاکستان میں سودی بینکاری سے نجات کے لیے جن لوگوں نے کا م کیا ہے، خصوصاً جب معاملہ سپریم کورٹ کے اپیلٹ بینچ میں گیا اور پھر سپریم کورٹ کے فل بینچ نے اس مسئلے کا بخوبی جائزہ لیا، اس سارے مقدمے کا ایک بنیادی کردار ڈاکٹر صاحب بھی ہیں۔ آپ نے اس موقع پر شیخ الاسلام جسٹس (ریٹائرڈ) مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی کا دست وبازو بن کر اپنے جوہر دکھائے ۔
دینی و مذہبی حلقوں کا ناقابل تلافی نقصان
ڈاکٹر صاحب کی رحلت سے دینی و علمی حلقوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ آپ زمانہ جدید کی تمام تر اصطلاحات اور اسلوب سے نہ صر ف واقف تھے، بلکہ اس معاملے میں ایک خاص تجربہ رکھتے تھے اور اپنے پیغام کو مغرب زدہ طبقے کے ذہنوں میں بڑی خوبصورتی اور عمدگی کے ساتھ اتارنے کا ڈھنگ بھی جانتے تھے ۔ اگر یہ کہا جائے تو بجاہوگا کہ اہل مدارس اور تجدد پسندی کے دلدادہ لوگوں کے درمیان ڈاکٹر صاحب ایک پل کا کردار ادا کرسکتے تھے، کیونکہ دونوں طرزِ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ مدارس اور کالجز، یونیورسٹیز کے مزاج و ماحول سے آپ گزر چکے تھے۔ جدید تعلیم یافتہ فرد جو مولوی اور مدرسہ سے نہ معلوم کیوں خوفزدہ رہتا ہے، آپ اس طبقے کے لوگوں کو دین اور دینداروں کے ساتھ جوڑنے میں کوشاں رہتے تھے۔ اہل مدارس نے اس سلسلے میں اب ان سے رہنمائی لینا شروع کر دی تھی، لیکن قضا کو کچھ اور ہی منظور تھا اور آپ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)۔
ہماری معلومات کے مطابق اس سلسلے میں سب سے مؤثر قدم اٹھانے میں پہل دینی و عصری علوم کے حسین امتزاج کے حامل جامعہ دارالعلوم الاسلامیہ کامران بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور نے اپنے تدریب المعلمین کے پروگرام منعقدہ ۱۳، ۱۴ فروری ۲۰۱۰ء کے ذریعے کی۔ (یہ پروگرام اس قدر کامیاب رہا کہ اس کے بعد دو مرتبہ علماء و طلبہ کے بھر پور اجتماع کی شکل میں منعقد ہوچکا ہے ، فالحمد للہ علیٰ ذالک)۔ اس میں ملک کے نامور علماء اور اسکالرز، پروفیسر حضرات کے بھرپور علمی و تربیتی بیانات ہوئے جوکہ مجموعہ مقالات کے نام سے دو جلدوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ اصحابِ ذوق کے لیے یہ ایک نادر اور گراں قدر علمی سوغات ہے۔ ان تمام بیانات میں ڈاکٹر صاحبؒ کا خطاب انتہائی ایمان افروز ، فکر انگیز اور کلیدی اہمیت کا حامل ہے ۔ حضرات اکابر جامعہ، شیخ الحدیث مولانا مشرف علی تھانوی مدظلہ العالی اور حضرت ڈاکٹر قاری احمد میاں تھانوی نے، جوکہ موصوف غازی صاحب کے رشتے میں چچا بنتے ہیں، آپ کے لیے ’’دینی و عصری تعلیم کا امتزاج‘‘ کا عنوان تجویز کیا۔ ویسے تو آپ کا سارا خطاب ہی پڑھنے اور سننے کے قابل ہے، لیکن اختصار کے پیش نظر اس خطاب کا مرکزی خیال اور روحِ بیان ڈاکٹر صاحبؒ کی اپنی زبان سے ہی بیان کردہ ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
’’بعض حضر ات بعض علماء کر ام جب اس پر تامل کا اظہارکرتے ہیں تو ان کاتامل بالکل بجاہوتاہے۔ ان کاتامل اس لیے ہوتاہے کہ بعض لوگ اسلامی علوم کو خادم اور عصری علوم کو مخدوم بناکے ایک جگہ جمع کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اسلامی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ اسلامی تاریخ میں کسی بھی عصری علم یاعصری فن سے جب استفادہ کیا گیا تو اسلامی علوم اور اسلامی ثقافت اور تہذیب کے خادم کے طور پر اس سے کام لیا گیا اور اس خادم نے اسلامی علوم کو مخدوم بناکر ان کی خدمت کی ۔ یہ آپ کو علم طب میں بھی نظر آئے گا، تفسیر میں بھی ،حدیث میں بھی، فقہ میں بھی، اصول فقہ میں بھی ،کلام میں بھی، حتی کہ تصوف میں بھی۔ تصوف جیسے فن کی کتابیں جو خالص روحانیات کامیدان ہے، اس کو بھی اتنے مضبوط عقلی استد لال سے بیان کیاگیاہے۔ یہیں اس کتب خانے میں ہوں گی، آپ دیکھ لیں۔ ’’تربیۃ السالک‘‘ دو بڑی ضخیم جلدیں ہیں اوربہت ساری کتابیں ہیں جن کے میں نام لوں گا تو گفتگو طویل ہو جائے گی ۔ وہ سب کی سب عقلی استدلال کی بنیاد پرہیں، اس لیے یہ بات کہ عصری علوم سے استفادہ کوئی نئی چیزہے جس کی آج بعض لو گ دعوت دے رہے ہیں، یہ درست نہیں ہے۔ عصری علوم سے استفادہ ہر دور میں مسلمان اہل علم کرتے آئے ہیں۔ اس شرط کے ساتھ کہ عصری علوم پر ناقدانہ نظررکھتے ہو ں، مقلدانہ نہیں۔ مقلدانہ نظر توخطر ناک ہوتی ہے۔ ناقدانہ نظر عصری علوم پر رکھتے ہوں اور اسلامی علوم سے مجتہدانہ طور پر واقف ہوں تاکہ عصری علوم کو، جو بھی جس زمانے کے علوم ہیں، ان کو اسلام کی خدمت کے لیے اور اسلامی علوم وفنون کو نئے انداز سے مرتب اور مدون کرنے کے لیے بیان کریں۔
آج کے سیاق وسباق میں عصری علوم سے کیامراد ہے؟ بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں،ایک بہت بڑے بزرگ ہمارے ملک کے ہیں ،ان سے میں نے ایک مرتبہ بات کی،جب میں انتظامی طور پر بعض معاملات سے وابستہ تھا تو میں نے یہ بات کی عصری علوم کی تو انہوں نے بہت غصے سے مجھ سے پوچھا کہ کیا انجینئر نگ کالج میں مولوی تیار ہوتے ہیں تو پھر مدرسوں میں انجینئر کیوں تیا ر ہوں؟ یہ بالکل خلط مبحث ہے۔ عصری علوم وفنون سے استفادہ کرنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ایک محدث کو حدیث کی درسگاہ سے اٹھاکر انجینئر بنا دیا جائے، ایک فقیہ کو دار الافتاء سے اٹھا کر کہا جائے کہ تم میڈیکل ڈاکٹر ہوجاؤ۔ اگر کوئی یہ سمجھتاہے تو غلط سمجھتاہے۔ محدث کو محدث ہی رہنا چاہیے، لیکن محدث ایسا ہو جو علم حدیث پر ماہرانہ،مجتہدانہ بصیرت رکھتاہو ، اپنے وقت کا انور شاہ کشمیری ہو، اس طرح کا محدث ہو، لیکن علم حدیث پرجو آج اعتراضات کیے جارہے ہیں، آج کا تعلیم یافتہ آدمی جن اسباب سے علم حدیث کے بعض پہلوؤں پر شبہات رکھتاہے،ان شبہات کو سمجھنے کے لیے بعض چیزوں کا جاننا ضروری ہے۔ اگر وہ شبہات نہیں جانتا، اگر وہ ان اعتراضات کے منشا سے واقف نہیں ہے کہ وہ اعتراضات کیوں پیدا ہوئے ہیں تو پھر وہ ان کا جواب نہیں دے سکتا۔
یہ بات میں بہت ادب سے، لیکن جرأت سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے بہت سے علماء کرام یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا کام فتویٰ دیناہے ۔ فتوے سے کسی کا ذہن نہیں بنتا۔فتویٰ اس کے لیے ہوتا ہے جو دین پر عمل کرناچاہے اور آپ سے آکر پوچھے۔ جو گمراہ ہے، شہر میں گمراہی پھیلارہاہے، آپ اس سکے خلاف فتویٰ دے کر کیا کرلیں گے ؟ آپ کے فتوے سے وہ گمراہی سے باز آجائے گا ؟میں مثالیں دوں گا تو گفتگو لمبی ہو جائے گی۔ ہزاروں گمراہیاں جن کے خلاف فتوے آئے اور یہ سمجھا علماء کرام نے کہ ہم نے فتویٰ دے دیا، ہمار اکام ختم ہوگیا، لیکن وہ کام ختم نہیں ہوا۔ اگر گمراہی اس وقت ایک گملے میں تھی تو آج جنگل بن گئی ہے، کانٹے دار درخت اس نے پیدا کر دیے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ یہ سمجھیں کہ وہ گمراہی کیوں پیدا ہوئی اور کہاں سے پیدا ہوئی ؟اور وہ سوالات جو پیدا ہورہے ہیں، کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟
میں پوری دنیا میں جاتا رہتا ہوں۔ مختلف ملکوں میں جانے کا پچھلے ۳۰ سال میں موقع ملتا رہا ہے۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ انتہائے مشرق میں جہاں سورج طلوع ہوتا ہے دن میں پہلی مرتبہ، ’’جزائر فجی‘‘ وہاں کا ایک عام تعلیم یافتہ شخص اور امریکہ کی انتہائی مغربی ریاست ’’سان فرانسسکو‘‘ کا ایک عام تعلیم یافتہ شخص ایک ہی طرح کے اعتراضات کرتاہے اسلام پر۔ پیرس میں جائیں، کسی سے بات کریں، وہ بھی وہی اعتراض کرے گا۔ ساؤتھ افریقہ میں جائیں تووہ بھی وہی اعتراض کرے گا۔ پاکستان میں کسی بڑے جدید تعلیمی ادارے میں جائیں ،لمز میں جائیں تو وہاں بھی اس طرح کے سوالات کیے جائیں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ یہ ایک ہی طرح کے سوالات اور ایک ہی طرح کے اعتراضات اور ایک طرح کے شبہات پوری دنیا میں کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ تہذیب اور وہ فکری استیلا جو مغرب سے آیا ہے، اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اس استیلا کی وجہ سے وہ شبہات پیدا ہو رہے ہیں جو ہر انسان کے دل میں پیدا ہو رہے ہیں۔ اب آپ یہاں بیٹھ کے فتویٰ جاری کر دیں کہ فلاں چیز گمراہی ہے تو جو لوگ پہلے سے گمراہی سمجھتے ہیں، وہ مزید یقین سے گمراہی سمجھنے لگیں گے، لیکن جو اسے گمراہی نہیں سمجھتے، وہ آپ کے فتوے سے اسے گمراہی نہیں سمجھنے لگیں گے۔ وہ اس پہ بدستور قائم رہیں گے، جیسا کہ میں سینکڑوں مثالیں دے سکتاہوں کہ لوگ قائم رہے اور آج بھی قائم ہیں، اس لیے میری گزارش یہ ہے کہ اس دور کے محاورے کو سمجھنے کے لیے اور امام ابویوسف کا یہ جملہ میں کئی مرتبہ دہر اچکا ہوں : ’’من لم یعرف اھل زمانہٖ فھو جاہل‘‘، جو اپنے زمانے کے لوگوں کو نہیں جانتا، وہ جاہل ہے ، یعنی اس کا علم قابل اعتبار نہیں ۔ لہٰذا جس زمانے کے ماحول میں آپ دین کی تعلیم دے رہے ہیں، ’’وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ‘‘، لسان قوم میں صرف اردو یاپنجابی یاانگریزی شامل نہیں ہے۔ لسان میں وہ پورا تہذیبی پس منظر بھی شامل ہے جو ا س زبان میں شامل ہوتاہے۔ زبان محض کوئی vehicle نہیں ہے، محض کوئی وسیلہ نہیں ہے خیالات کے انتقال کا یابیان کرنے کا۔ ہرلفظ کے پیچھے پوری تاریخ اور پوری تہذیب اور پورا فکر ہوتا ہے۔ وہ فکر اور تہذیب خود بخود اس لفظ کے ساتھ آتی ہے۔‘‘
یہ تھی ایک جھلک ڈاکٹر صاحب کے ذہنی اور فکری نقطہ نظر کی۔
قارئین گرامی ! اپنے بزرگوں کا تذکرہ اس غرض سے ہم اصاغر تو کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے کہ انہیں کردار و عمل کی کسوٹی پر جانچا اور کشف و کرامات کے ترازو میں تو لا جائے۔ ہرگز نہیں! بلکہ ان کے باعظمت کردار کے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر خود سے سوال کرنا مقصود ہے کہ میں اس شفاف آئینے میں کیسا لگتا ہوں ؟ اور یقین کی حدتک یہ امید تو ہے ہی کہ:
احب الصالحین ولست منھم
لعل اللہ یرزقنی الصلاحا
آپ کی رحلت سے پیدا ہونے والا خلا تادیر اہل علم کے زخموں کو تازہ کرتا رہے گا اور اس درد کی کسک امت مسلمہ عرصہ دراز تک محسوس کرتی رہے گی ۔ دعا ہے کہ رب العالمین اپنے خزانہ قدرت سے ہمیں آپ کا نعم البدل عطا فرمائیں۔ آمین بجاہ النبی الکریم۔
ایک نابغہ روزگار شخصیت
سبوح سید
۲۶ ستمبر کو دنیا بھر میں عارضہ قلب کا عالمی دن منایا جا رہا تھا۔ ملک بھرمیں اس بیماری کے علاج اور تدارک کے لیے عوام میں شعور بیدا ر کرنے کی مہم جاری تھی اور ٹیلی ویژن کے چینلز پر رپورٹرز بیماری سے متاثرہ افراد کی زندگیوں پر اور ڈاکٹرز کی ہدایات پر رپورٹس پیش کر رہے تھے۔ میں بھی جیو نیوز پر عارضہ قلب کے حوالے سے ایک رپورٹ دیکھنے میں مصروف تھا کہ اچانک موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ ایک میسج پڑھا توپاؤں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے سابق صدر اور معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر محمود احمد غازی حرکت قلب بندہونے کی وجہ سے انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی نماز جنازہ دو پہر دو بجے ایچ الیون قبرستان میں ادا کی جائے گی۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ میں نے اس خبر کی تصدیق کے لیے دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر اور فیصل مسجد اسلام آباد کے خطیب پروفیسر ڈاکٹر صاحبزادہ ساجد الرحمن صاحب کو فون کیا تو انہوں نے انتہائی دکھی انداز میں اس خبر کی تصدیق کی۔ میں نے کئی لوگوں کو اس افسوسناک خبر کے پیغامات بھیجے۔ شیخ زایداسلامک سنٹر جامعہ پشاور کے ڈائریکٹر اور میر ے استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان صاحب نے فون پر کیا خوب بات کہی کہ ان کی سمجھ میں آ گیا ہے کہ عالم کی موت پورے جہاں کی موت کیسے ہوتی ہے! ان کا کہنا تھا کہ ان کی گزشتہ ہفتہ ڈاکٹر غازی صاحب سے فون پر بات ہوئی جس میں انہیں شیخ زاید اسلامک سنٹر میں ’’خطبات خیبر‘‘ کے نام سے دس روزہ لیکچر دینے کی دعوت دی گئی جو انہوں نے قبول کرلی تھی۔
ان کی گفتگو مجمع کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی تھی۔ ان کی فکر قرآن کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی اور ان کی سیرت میں اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جھلکتا تھا۔ کتب احادیث ، تاریخ اور فقہ کے حوالے انہیں ازبر تھے۔ جن لوگوں نے انہیں سنا ہے، وہ جانتے ہیں کہ وہ گفتگو کے اسلوب وہنر اور زبان وبیان کی خوبیوں سے بدرجہ کمال آشنا تھے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمود احمد غازی ۱۸؍ستمبر ۱۹۵۰ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدین کا تعلق حضرت اشرف علی تھانویؒ کے گاؤں تھانہ بھون ہندوستان سے تھا۔ آپ کے والد محمد احمد دفتر خارجہ میں ملازمت کرتے تھے۔ تقسیم کے بعد کراچی آئے، تاہم ملازمت کے سلسلے میں انہیں اسلام آباد منتقل ہونا پڑا۔ کراچی میں ڈاکٹر محموداحمد غازی مدرسہ عربیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں درجہ خامسہ تک مولانا یوسف بنوریؒ کے شاگرد رہے، تاہم والد کے اسلام آباد منتقل ہوجانے کے بعد وہ راولپنڈی میں شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان کے قائم کردہ ادارے تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی میں داخل ہو گئے اور یہیں سے دورہ حدیث کیا۔ دینی علوم کے بعد آپ نے عصری تعلیم کا رخ کیا۔ انہوں نے باقاعدہ اسکول نہیں پڑھا۔ میٹرک، ایف اے، بی اے، ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ دیے۔ ڈاکٹر غازی بچپن سے ہی کتابیں پڑھنے اور تعلیم کے حصول میں مگن رہے۔ آپ کے بھائی ڈاکٹر محمد الغزالی نے بتایا کہ انہیں کھیل کود سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی اور عمر بھر پڑھنے لکھنے کی دھن میں مگن رہے۔ آپ نے شاہ ولی اللہ کی معاشی تعلیمات اور فلسفے کی نشاۃ ثا نیہ پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا۔ آپ عربی، فارسی، انگریزی، فرانسیسی، جرمن اور اردو پر عبور رکھتے تھے۔
آپ کی عربی زبان میں مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ ’’مجمع اللغۃ العربیۃ‘‘ کے تاحیات رکن رہے۔ اس سے قبل یہ اعزاز بھارتی عالم اورندوۃ العلماء کے سابق مہتمم سید ابوالحسن ندویؒ کے پاس رہا۔ امام کعبہ ۱۹۷۵ء میں پاکستان تشریف لائے تو ۲۵ سالہ ڈاکٹر غازی ان کے مترجم تھے ۔ امام کعبہ نے کہا کہ میری بات کو جتنی بہتر انداز میں محمود غازی بیان کر رہے ہیں، اتنا میں خود بھی نہیں کر پاتا۔ آپ نے اسی سال لیبیا میں ہونے والی عالمی سربراہی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
ڈاکٹر غازی نے علامہ اقبالؒ کی شاعری کا عربی میں ترجمہ کیا اور ’’ پس چہ باید کرد،اے اقوام شرق‘‘ کے نام سے کتابیں لکھ کر فکر اقبالؒ کو عام فہم بنایا۔ آپ نے ۲۵ سے زائد کتابیں لکھیں۔ محاضرات قرآن، محاضرات حدیث، محاضرات سیرت، محاضرات فقہ، محاضرات معیشت وتجارت سمیت کئی موضوعات پر خصوصی لیکچر دیے جو کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں۔ آخری ایام میں وہ شیخ زاید اسلامک سنٹر جامعہ پشاو رکی دعوت پر ’’خطبات خیبر‘‘ کے نام سے لیکچرز دینے کی تیاری کر رہے تھے۔ میں نے انہیں عالمگیریت ، اسلامی معیشت وتجارت سمیت کئی موضوعات پر سنا۔ وہ گھنٹوں گفتگو کرتے اور سننے والے سنتے رہتے۔ اسلام آباد میں قائم مسلم تھنکرز فورم کے وہ مستقل خطیب اور سرپرست تھے اور ہمیشہ کلیدی خطاب انہی کا ہوتا تھا۔ وہ مختصر وقت میں گفتگو کا حق ادا کر دیتے تھے۔ ڈاکٹر صاحبزادہ ساجدالرحمن کے مطابق پاکستان میں عہد حاضر کی وہ غیر متنازعہ شخصیت تھی جوتمام مسالک و مکاتب فکر میں یکساں مقبول اور قابل احترام سمجھی جاتی تھی۔ ان کی وفات سے پاکستان کا نہیں، عالم اسلام کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے زندگی بھر کبھی تعصب کا مظاہرہ نہیں کیا۔ صاحبزادہ ساجدالرحمن صاحب کہتے ہیں کہ وہ بگھار شریف کہوٹہ کئی مرتبہ آئے اور عرس کی تقریب سے خطاب بھی کیا۔ وہ مکتب دیوبند سے وابستہ تھے، لیکن تمام مکاتب فکر کا احترام کرتے اور اپنے تلامذہ کو بھی ادب واحترام کا درس دیتے۔ بھیرہ شریف کے جسٹس پیر کرم شاہ الازہریؒ کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات تھے۔ پیر صاحب جب اسلام آباد آتے ، غازی صاحب سے ضرور ملتے۔ کئی مرتبہ غازی صاحب بھیرہ شریف گئے اور عرس کی تقریب سے خطاب بھی کیا۔ وہ اعتدال پسند انسان تھے ،ان میں جدت بھی تھی اور روایت پسندی بھی ۔ چہرے پر چھوٹی چھوٹی داڑھی، خوبصورت چشمہ، پینٹ کوٹ اورشرٹ سے ملتے رنگ کی نکٹائی، وہ وجیہ بھی تھے اور نفیس بھی۔ وہ صدی کے انسان تھے جنہیں صدیوں یاد رکھا جائے گا۔
ڈاکٹر غازی صاحب فیصل مسجد اسلام آباد کے خطیب رہے ، ادارہ تحقیقات اسلامی میں پروفیسر اور دعوہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ اس کے علاوہ اپنے ادبی ذوق کی بنا پر کئی مجلوں کے ایڈیٹر بھی رہے۔ دنیا بھر میں کئی تحقیقی مجلات میں ان کے مضامین کو نمایاں طور پر شائع کیا جاتا ۔ اخبارات اورعلمی جرائد اس بات پر فخر کرتے تھے کہ ڈاکٹر غازی نے ان کے لیے خصوصی طور پر کوئی مضمون لکھا ہے۔ وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر رہے، سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے جج رہے۔ جب صدر مشرف کی پہلی کابینہ میں انہیں اصرار کے ساتھ وفاقی وزارت مذہبی امور کا منصب سونپا گیا توان کے بھائی کا کہنا تھا کہ قوم آج ایک اچھے استاد سے محروم ہو گئی۔ صدر مشرف نے جب پاکستان میں ہوائی اڈے امریکی فوج کو دینے کی کوشش کی تو آپ نے اس فیصلے کی بھرپور مخالفت کی اور کہا کہ یہ غلط فیصلہ ہوگا جس کے نتائج خطرناک ہوں گے۔ وہ آمرانہ مزاج سے ہم آہنگ نہ ہو سکے اور مشرف کی کابینہ سے مستعفی ہوگئے۔ وہ دینی مدارس کے نصاب میں تبدیلی کے خواہاں تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ نصاب وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں، اس لیے وہ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے قیام کے لیے متحرک ہو گئے تاہم ان کی وزارت سے علیحدگی کے بعد ان کا یہ منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر اور بعد میں چیئرمین بھی رہے۔ عہدے ان کے پیچھے دوڑتے رہے اور وہ علم وعمل کے پیچھے دوڑتے رہے۔ وہ کئی بینکوں کے شرعی بینکاری بورڈ کے ڈائریکٹر اور ایڈوائزر بھی رہے۔
۲۶؍ ستمبر کی شب ۱۱ بجے انہیں دل کی تکلیف ہوئی تو انہیں پمز ہسپتال لے جایا گیا۔ نماز فجر کے وقت جب ان کی طبیعت سنبھلی تو انہوں نے وضو کیا اور نماز فجر ادا کی۔ زندگی کا آخری سجدہ ادا کرنے کے بعد انہوں نے اپنے ہاتھ خدا کے حضور دارز کیے۔ آٹھ بج رہے تھے کہ انہوں نے پاکیزہ لبوں پر کلمہ شہادت سجایا، نم آنکھوں کے ساتھ خدا کے حضور جبین جھکائی اور ایک بھرپور زندگی گزارنے کے بعد اپنی جان، جان کے خالق کے ہاتھ میں دے دی۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ انہوں نے اپنے پسماندگان میں ۵ بیٹیاں اور ایک بیوہ چھوڑی۔ اللہ ان کے خاندان پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل کرے اور انہیں صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین۔
صدر آصف علی زرداری ، وزیر اعظم سید یوسف گیلانی ، اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر، آرمی چیف سب نے ان کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا اور ان کی خدمات کو شاندار الفاظ میں سراہا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ، اور وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس آغا رفیق نے ڈاکٹر غازی کی وفات کوعلمی، ادبی، فکری اور تحقیقی حلقوں کے لیے بہت بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے ان کی روح اور درجات کی بلندی کے لیے ان کے گھر آکر دعا کی۔
ڈاکٹر غازی کی نماز جنازہ میں ملک بھر سے مختلف مسالک کے جید علماء کرام، صاحبان علم ودانش، صوفیا، علما، طلبہ وطالبات ، پارلیمان کے اراکین ،سرکاری عمال الغرض سبھی شریک تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے راجہ ظفر الحق ، سینیٹر پروفیسر خورشید احمد، سینیٹر محمدخان شیرانی سمیت سابق اراکین پارلیمنٹ ، سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے ججوں ،اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبران، کئی ممالک کے طلبہ اور علما، مصر اور سعودی سفارت خانے کے اہل کاروں کے علاوہ دینی رہنماؤں اور کئی جامعات کے وائس چانسلرز نے بھی ان کے جنازہ ، تدفین اور دعا میں شرکت کی۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر، ڈاکٹرانوار حسین صدیقی نے شدید علالت کے باوجود جنازے اور تدفین کے عمل میں شرکت کی۔ ڈاکٹر ذاکر اے نائیک، مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی رفیع عثمانی، سید عدنان کاکاخیل، مولانا محمد زاہد، مفتی محمد نعیم، مولانا فضل الرحمان، مولانا سمیع الحق، مولانا محمد احمد لدھیانوی، ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں، ڈاکٹر ایس ایم زمان، سجاد افضل چیمہ، میاں نواز شریف، احسن اقبال، جسٹس فدا محمد، صدیق الفاروق سمیت دنیا بھر کے کئی اہم شخصیات نے ان کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا اورانہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ مسلم ہینڈز پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر سید ضیاء النور شاہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر غازی کے وجود سے انسانیت کی خوشبو آتی تھی۔ ہر طرف سے نفرت وتعصب کی آوازیں بلند ہوتی تھی، لیکن ڈاکٹر غازی نے سب کو جوڑ کر رکھا ہوا تھا۔ پیر سید امین الحسنات شاہ صاحب نے کہاکہ ان کی و جہ سے لوگ جڑے ہوئے تھے اور نفرتوں کی دیواریں بلند نہیں ہوپاتی تھی۔ ڈاکٹر غازی کے انتقال سے عالم اسلام ایک جلیل القدر علمی اور تحقیقی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔ ان کے علمی کمال کی خوشبو انسانوں کے ذہنوں اور دماغوں کو معطر ومنور رکھے گی۔ ان کی قبر پر کھڑے اچانک میں نے سامنے دیکھا تو مجھے فیصل مسجد نظر آئی اور دائیں طرف دیکھا تو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی عمارت تھی۔ یہ وہ مقامات ہیں جنہیں ڈاکٹر غازی نے اپنے خون پسینے کی محنت سے سینچا تھا اور آج یہ گلشن مہک رہے ہیں۔
(بشکریہ ’’قیام‘‘ اسلام آباد، نومبر / دسمبر)
تواریخ وفات ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
مولانا ڈاکٹر خلیل احمد تھانوی
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ میرے پھوپھی زاد بھائی مولانا محمداحمد صاحب کے بڑے صاحبزادے تھے۔ علوم دینیہ اور علوم دنیویہ دونوں کے ماہر تھے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کی ایک معروف شخصیت تھے۔ انہوں نے پاکستان میں اسلامی قوانین کی ترتیب وتدوین میں بڑی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اسلام آباد یونیورسٹی میں عرصہ دراز تک اپنے علوم سے طلبہ کو مستفید فرماتے رہے۔ میں نے محترم ڈاکٹر صاحب کی تواریخ وفات کچھ مفید جملوں اور کچھ آیات قرآنی سے مرتب کی ہیں جو ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا آئینہ دار ہونے کے ساتھ ان کے سن وفات کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔
قرآنی آیات سے نکالی گئی تواریخ کو اگر ترتیب سے پڑھا جائے تو ڈاکٹر صاحب کے لیے نیک فال بھی ہیں۔ پہلی آیت میں ان کے لیے بشارت ہے کہ اس دارفانی سے اپنے رب کی طرف چلو اس حال میں کہ تم اس سے راضی، وہ تم سے راضی ۔ دوسری آیت میں ان کے پس ماندگان کے لیے صبر کی تلقین ہے کہ ان کی جدائی سے پریشان نہ ہوں، اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں کی معیت عطا فرمائی ہے جن پر اللہ کاانعام ہوا ہے۔ تیسری آیت میں بشارت ہے کہ ان کے صبر کا بدلہ جنت اور اس کی نعمتیں ہیں اور چوتھی آیت میں یہ خوشخبری ہے کہ اے متعلقین، تم صبر کر واور خوش ہو جاؤ کہ وہ بہت ہی پرعیش زندگی میں ہیں۔
اللہ تعالیٰ میری اس کوشش کو قبول فرمائے، ہم سب پس ماندگان کو صبر جمیل عطافرمائے اور ڈاکٹر صاحب کے علوم سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ تعزیتی پیغامات و تاثرات
ادارہ
( ۱ )
محترم جناب مدیر صاحب ، ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا مرحوم ڈاکٹر محمود احمد غازی سے طویل محبت کا تعلق رہا ہے۔ ہم اسلامی نظریاتی کونسل میں ا کٹھے کام کرتے رہے ہیں۔ اور بھی بہت سے قومی، ملی، مقامی اور عالمی کاموں میں مشاورت رہی۔ حال ہی میں ان کی اچانک وفات سے تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل یعنی شعبان ۱۴۳۱ھ کے آخری عشرے میں مکہ مکرمہ میں رابطۃ العالم الاسلامی کی جو تین روزہ کانفرنس ہوئی، اس میں بھی ان کے ساتھ مفید اور پرلطف رفاقت رہی۔ میرا ان سے قلبی تعلق تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ دل چاہتا ہے کہ ان کے متعلق کچھ ضرور لکھوں، لیکن عوارض اور ہجوم مشاغل کے باعث اس سعادت میں شریک نہ ہو سکوں گا۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ’’ الشریعہ ‘‘ کے نمبر کو جوآپ مرحوم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کے بارے میں شائع کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں، مکمل کامیابی سے نوازے۔
محمد رفیع عثمانی عفا اللہ عنہ
رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی
( ۲ )
جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ جن کا انتقال چندماہ قبل ہوا، پاکستان کی ایک مایہ ناز شخصیت اور ملت اسلامیہ کا نہایت بیش قیمت سرمایہ تھے۔ ان کی وفات صر ف اہل پاکستان ہی کے لیے نہیں، پوری ملت اسلامیہ کے لیے ایک بڑا المیہ اور بظاہر ناقابل تلافی نقصان ہے۔
ڈاکٹر صاحب موصوف اپنی خصوصیات وامتیازات کی وجہ سے ایک منفرد شخصیت کے حامل تھے۔ دینی و دنیوی تعلیم کا حسین امتزاج اور قدیم و جدید علوم و نظریات میں ماہرانہ شناسائی میں ممتاز تھے۔ وہ ایسے دینی وعلمی خانوادے کے چشم وچراغ تھے جو دیوبند سے قرب مکانی کا شرف بھی رکھتا تھا اور نظریاتی اعتبار سے بھی مسلک دیوبند ہی پر کاربند تھا، لیکن مرحوم کا امتیاز یہ رہا کہ وہ نہ صرف خود فقہی جمود اور مسلکی تعصب سے بہت حد تک دور رہے بلکہ اس جمود اور تعصب کو کم کرنے میں عمر بھر کوشاں رہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ علمی سیمیناروں اور کانفرنسوں میں جب بھی ان کو موقع ملتا، اور اکثرا ن کو ایسے مواقع ملتے رہتے تھے، وہ مسلکی ونظریاتی وابستگی سے بالا ہو کر ملت کی وحدت ویگانگت کے نقطہ نظر سے فقہی جمود کے خلاف آواز ضرور بلند کرتے۔ وہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے، حتیٰ کہ مشرف دور میں وزیر مذہبی امور بھی رہے، لیکن انکسار اور عاجزی ان کے مزاج کا جزو لاینفک رہی۔ بلند پایہ اہل علم وقلم ہونے کے باوجود دوسرے اہل علم وقلم کا احترام اوران کی علمی خدمات کی تعریف کرتے۔ راقم کی کتاب ’’خلافت وملوکیت کی تاریخی وشرعی حیثیت‘‘ جو مولانا مودودی مرحوم کی ’’خلافت وملوکیت‘‘ کے جواب میں لکھی گئی تھی، ڈاکٹر صاحب کو بہت پسند تھی اور راقم سے جب بھی ملاقات ہوتی تو وہ یہ فرمائش ضرور کرتے کہ اس کی تلخیص کر دیں تاکہ اس کادائرۂ افادیت مزید وسیع ہو جائے۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ذیلی ادارہ دعوہ اکیڈمی کے وہ ڈائریکٹر اورروح رواں تھے او را س کے زیر اہتمام انہوں نے اسلامی موضوعات پر حالات حاضرہ کی روشنی میں نہایت مفید لٹریچر تیار بھی کروایا اور شائع بھی کیا۔ یہ مطبوعات وقت کی نہایت اہم ضرورت ہیں جویقیناًان کے لیے صدقہ جاریہ ثابت ہوں گے، ان شاء اللہ۔ خود ان کی تالیفات بھی جوزیادہ تر تقاریر اور محاضرات پر م مبنی ہیں، بغایت مفید اور متجددین کے شکوک وشبہات کے ازالے کے لیے نہایت موثر اور مسکت ہیں۔ یہ بھی ان کا صدقہ جاریہ ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ مذکورہ خوبیوں اور کمالات کی وجہ سے وہ ہر حلقے میں ہر دلعزیزبھی تھے اور اسلام کا ایک بہترین نمائندہ بھی۔ان کا خلا ایک مدت تک نہایت شدت سے محسوس کیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور اپنی رحمت کی برکات سے ان کو سیراب فرمائے۔ غفراللہ ورحمہ وجعل الجنۃ مثواہ۔
حافظ صلاح الدین یوسف
(مدیر شعبہ تحقیق وتالیف دارالسلام ،لاہور)
( ۳ )
مکرمی مولانا ناصر صاحب حفظہ اللہ
سلام مسنون
آپ کا دوسرا مکتوب گرامی ملا۔شکریہ! آپ کا پہلا نواز ش ]نامہ[ نہیں ملا۔ ادھر تقریباً دو سال سے خاکسار کا ادارۂ ثقافت اسلامیہ سے تعلق نہیں رہا۔شاید اس لیے وہ مجھے نہیں ملا۔ آپ کا رسالہ ’الشریعہ‘ ایک مدت تک میری نظر سے گزرتا رہا۔ مسائل حاضرہ کو ان کے صحیح تناظر میں دیکھنے پر آپ کو مبارک باد دیتا ہوں۔ ہم نے ’الشریعہ‘ کا ایک مقالہ ’المعارف‘ میں بھی نقل کیا تھا۔
آپ مرحوم ڈاکٹر غازی پر ’الشریعہ‘ کا خاص نمبر نکال رہے ہیں۔ اس پر میں مبارک باد دیتا ہوں۔ جب میں ادارۂ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد گیا، اس وقت جواں سال غازی مرحوم ادارہ میں تھے۔ ان سے جب کبھی ملنا ہوا، انھیں ایک سنجیدہ نوجوان پایا۔ ادارہ سے نکلا اور متعدد مقامات میں رہا۔ جب کبھی اسلام آباد جانا ہوا، ان سے ملتا رہا، ہرچند ان کا تعلق ایک سیاسی مذہبی جماعت سے تھا جو متعدد اسلامی دانش مندوں کو جو اپنے موضوع پر عبور رکھتے ہیں، سیکولر اور غیر سیکولر کے پیمانوں سے ناپتی تھی اور ان کے سامنے ضیاء الحق اور ان جیسے جابر حاکموں سے مل کر زہر کا پیالہ پیش کرتی تھی۔ خود اس خاکسار کو ضیاء الحق کے ہاتھوں اس پیالے کو دو دفعہ پینا پڑا۔ ان دنوں میں اتفاق سے مرحوم ڈاکٹر غازی سے ملنا ہوا تو انھیں افسردہ پایا۔ وہ اختلاف رائے کی بنا پر دوسروں کے منہ سے نوالہ چھیننے کے قائل نہیں تھے۔
غرضیکہ اس قسم کے واقعات کی بنا پر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ ایک شریف انسان تھے جو اختلاف رائے کی بنا پر اپنے ہم عصر اہل علم کے درپے آزار ہونے (suppression) کے قائل نہیں تھے۔ اس لیے میری رائے تھی کہ انھیں ایک ’’مذہبی سیاسی‘‘ جماعت کی طرف منسوب کرنا صحیح نہ ہوگا۔ البتہ میری اخلاص سے یہ رائے ہے کہ اگر وہ ظفر احمد انصاری اور افضل چیمہ سے دور رہتے تو وہ علمی میدان میں ٹھوس اور مثبت روایت قائم کر سکتے تھے۔ البتہ مرحوم ابوالحسن سید علی ندوی ایک نیک، مخلص اہل علم تھے۔ ان سے ڈاکٹر غازی کی عقیدت اور ملاقاتیں ان کے لیے یقیناًسود مند رہیں، کیونکہ مرحوم غازی صاحب بنیادی طور پر علمی اور اخلاقی آدمی تھے۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ انھیں اپنی رحمت سے نوازے۔ آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے مرحوم ڈاکٹر غازی کا تذکرہ چھیڑا اور مجھے ’’یاد ماضی عذاب ہے ساقی‘‘ کے حوالہ کر دیا۔
کبھی لاہور آنا ہو تو آپ سے مل کر مسرت ہوگی۔
(ڈاکٹر) رشید احمد (جالندھری)
( ۴ )
کل من علیہا فان، و یبقٰی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام (الرحمن ۵۵: ۲۶۔ ۲۷) ہر چیز جو اس زمین پر ہے، فنا ہوجانے والی ہے اور صرف تیرے رب کی جلیل وکریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔
قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ میں جو صداقت بیان کی گئی ہے، بار بار مطالعہ کے باوجود ہم اسے اکثر بھول جاتے ہیں لیکن بعض حادثات ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں اور اس وقت اس آیت کا مفہوم ذہن میں تازہ ہو تا ہے کہ ہر چیز جو اس دنیا میں ہے ،فنا ہو جانے والی ہے اور صرف اللہ ذوالجلال والاکرام کی ذات باقی رہنے والی ہے۔
کل تک یہ بات وہم وگمان میں بھی نہ تھی کہ آج ڈاکٹر محمود احمد غازی ہمارے ساتھ نہ ہوں گے۔ میں کراچی میں تھا جب ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے انتقال کی خبر ملی ۔ یہ خبر میرے لیے ناقابل یقین تھی۔ ابھی چند ہفتے قبل ہم نے رابطۃ العالم الاسلامی کے پچاسویں یوم تاسیس کی تقریب میں مکہ مکرمہ میں شرکت کی، ایک ساتھ جہاز میں سفر کیا اور حرم شریف میں نمازوں میں شرکت کی تھی۔ مکہ مکرمہ جاتے وقت میں اور میری اہلیہ جہاز میں بیٹھے تھے کہ غازی صاحب جہاز میں داخل ہوئے اورمجھے دیکھ کر انتہائی گرم جوشی کے ساتھ جھک کر میری پیشانی پر بوسہ دیااور پھریہ کہا: میں قطر میں تھا تو ڈاکٹر منذر قحف صاحب نے بااصرار کہا تھا کہ جب آپ ڈاکٹر انیس سے ملیں تومیری طرف سے ان کی پیشانی پر بوسہ دیں۔ اللہ اکبر! کل کی بات ہے اور آج ہم ایک ایسے صاحب علم سے محروم ہو گئے جونہ صرف اپنے علم وتقویٰ بلکہ برادرانہ تعلق کی بنا پر ہمارے گھر کا ایک فرد تھا۔
۱۹۸۰ء میں جب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے تصور سے نکل کر ایک قابل محسوس شکل اختیارکی تو ادارہ تحقیقات اسلامی کو، جو اس سے قبل مختلف سرپرستیوں میں رہا تھا، یونی ورسٹی کا حصہ بنا دیاگیا اور مرحوم ڈاکٹر عبدالواحد ہالے پوتاصاحب، جو ادارے کے سربراہ تھے اور ڈاکٹر محمود احمد غازی جو ادارے میں ریڈر تھے، مع دیگر محققین کے یونی ورسٹی سے وابستہ ہو گئے۔ اس زمانے میں شاید ہی کوئی دن ایساہو جب ان سے ملاقات نہ ہوئی ہو۔ اکثر حسین حامد حسان صاحب جو اس وقت کلیہ شریعہ کے ڈین تھے اور بعدمیں یونیورسٹی کے صدربنے، سرشام ہی مجھے، ڈاکٹر حسن محمود الشافعی اور اکثر ڈاکٹرمحمود احمدغازی کو ا پنے گھربلا لیتے اور رات گئے یونی ورسٹی کے بہت سے مسائل پر ہم سب مصروف مشور ہ رہتے۔ دعوہ اکیڈمی کاقیام ۱۹۸۳ء میں عمل میںآیا اور مجھے اس کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جن افرادنے ہر مرحلہ میں میرے ساتھ تعاون کیا، ان میں ڈاکٹر حسن شافعی اور محمود غازی پیش پیش تھے۔ بعض وجوہ کی بنا پر میں دعوہ اکیڈمی سے الگ ہوا تو ڈاکٹر غازی نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور جب میں دوبارہ اکیڈمی کا ڈائریکٹر جنرل بنا تو وہ اکثر یہ کہتے کہ میں آپ کاخلیفہ ہوں اور آپ میرے خلیفہ ہیں۔
ڈاکٹر غازی کی یاد داشت غضب کی تھی اور برس ہا برس گزرنے کے بعد بھی واقعات کی ترتیب وتفصیل بیان کرنے میں انہیں یدطولیٰ حاصل تھا۔ ڈاکٹر صاحب اثر انگیز خطیب اور پر فکر تحریر کی بنا پر اس دور کے چند معروف اصحاب قلم میں سے تھے۔ ان کے قرآن کریم، حدیث، سیرت پاک، فقہ، شریعت، اور معیشت وتجارت کے موضوع پر خطابات کتابی شکل میں طبع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر کتب میں قانون بین المالک، اسلام اور مغرب تعلقات، مسلمانوں کا دینی وعصری نظام تعلیم، اسلامی بنک کاری: ایک تعارف ، ادب القاضی، اور قرآن مجید: ایک تعارف شامل ہیں۔ وہ ایک دردمند دل رکھنے والے محقق، عالم ،مفکر اور فقیہ تھے۔
پاکستان میں سودی بنکاری سے نجات کے لیے جن لوگوں نے کام کیا اور خصوصاً جب معاملہ سپریم کورٹ کے اپیلٹ بنچ میں گیا اور پھر سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اس مسئلے کا جائزہ لیا تو اس میں غازی صاحب نے نمایاں کردار ادا کیا۔ فیڈرل شریعہ کورٹ میں جس طرح ڈاکٹر فداء الرحمن صاحب نے فیصلے کی تحریر میں کردار دا کیا، ایسے ہی سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس خلیل الرحمن صاحب اور ڈاکٹر غازی کا اہم کردار رہا۔ ۸۰ء کے عشرے میں جنوبی افریقہ میں قادیانیوں کے حوالے سے عدالتی کارروائی میں پاکستان کے جن اصحاب علم نے عدالت عالیہ کو اس مسئلے پر رہنمائی فراہم کی، ان میں مولانا ظفر احمد انصاری، پروفیسر خورشید احمد صاحب، جسٹس افضل چیمہ صاحب مرحوم اور ڈاکٹر غازی کے نام قابل ذکر ہیں۔ دعوہ اکیڈمی کے ساتھ میرے طویل تعلق میں شاید ہی کوئی پروگرام ایسا ہو جن میں ملک کے اندر یا ملک سے باہر کوئی تربیتی کورس ہو ا اور اس میں ڈاکٹر غازی نے شرکت نہ کی ہو۔
ڈاکٹر غازی کو اردو، عربی، انگریزی میں خطاب کرنے میں عبور حاصل تھا۔ وہ فرانسیسی زبان بھی جانتے تھے۔ ڈاکٹر غازی نے صدر جنرل پرویز مشرف کی کابینہ میں مذہبی امور کے وزیر کے فرائض بھی انجام دیے اور بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی کے صدر اور نائب صدر کے علاوہ یونیورسٹی کی شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ ان کی علمی خدمات کی بناپر انہیں ملک میں اور ملک سے باہر ایک معروف اسکالر کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا۔
ڈاکٹر غازی ایک حلیم الطبع انسان تھے۔ اکثر اپنے چھوٹے بھائی ڈاکٹر محمدا لغزالی کی چھیڑ چھاڑ سے خود بھی محظوظ ہوتے اور کبھی اپنے بڑے ہونے کے حق کواستعمال نہ کرتے۔ نجی محفلوں میں ان کی حاضر جوابی اور ذہانت ہمیشہ انہیں دیگر حاضرین سے ممتاز کرتی۔ مہمانوں کی تواضع میں ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ ان کی وفات نے جو خلا پاکستان بلکہ عالم اسلامی کی علمی صفوں میں پیدا کیا ہے، وہ عرصے تک ان کی یاد کو تازہ رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے قرآن کریم سے تعلق اور دین کی اشاعت کے لیے خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ آمین۔
ڈاکٹر انیس احمد
(ماہنامہ ترجمان القرآن، نومبر ۲۰۱۰ء)
( ۵ )
راقم الحروف دوران تعلیم شدید بیمار ہو گیا اور تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔صحت یابی کے بعد جب ۱۹۶۸ء میں دار العلوم تعلیم القرآن، راجہ بازار، راول پنڈی میں دورۂ حدیث شریف میں داخلہ لیا تو محمود غازی نام کا ۱۴، ۱۵ سالہ نوخیز لڑکا بھی ہمارے ساتھ شریک دورہ تھا جو دیگر طلبہ سے بہت کم عمر تھا۔ زبان میں قدرے لکنت تھی، مگر ذہانت اور حافظہ کے اعتبار سے تمام طلبہ پر فوقیت حاصل تھی۔ عبارت پڑھنے میں کہنہ مشق استاذ کی طرح ماہر تھا۔ ترجمہ اور تشریح میں بھی خاصی دسترس حاصل تھی۔ سالانہ امتحان میں نمایاں کامیابی سے ہم کنار ہوا۔
محمود غازی قابل رشک فہم وذکا اور عدیم النظیر قابلیت کے پیش نظر اساتذہ کے منظور نظر اور طلبہ کے ہر دل عزیز ساتھی تھے۔ شرافت ومتانت ان کی ہر ادا سے ہویدا تھی۔ عموماً لائق طلبہ بہت شریر ہوتے ہیں۔ اگر اور کچھ نہ بن پڑے تو اساتذہ کو لایعنی سوالات میں الجھائے رکھتے ہیں، لیکن غازی سے اساتذہ نہ صرف خوش تھے بلکہ ان کی تعریف وتوصیف کے خوگر بھی تھے۔
محمود احمد غازی کے لیے، جو ۱۷، ۱۸ سال کی عمر میں تحصیل علوم سے فارغ ہو گئے، یہ بات یقیناًطرۂ امتیاز ہے کہ انھوں نے صغر سنی میں علوم عقلیہ ونقلیہ سے فراغت حاصل کر کے بعض اکابر کی یاد تازہ کر دی۔ بعد ازاں متعدد یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیمی اسناد اور ڈگریاں حاصل کیں۔ ڈاکٹر غازی کی زندگی کا بیشتر حصہ ایسے ماحول میں بسر ہوا جہاں دینی شعائر کا تحفظ اور تقدس ثانوی حیثیت رکھتا ہے، مگر ڈاکٹر غازی نے اسلامی علوم کی لاج رکھی اور علما ومشائخ سے اپنا تعلق مضبوط اور قائم رکھا جس کا شاہکار ثبوت ان کی نادرۂ روزگار تصانیف ہیں جن میں اسلامی روح اور اسپرٹ نمایاں ہے اور اکابر محققین وعلما نے ان تصانیف کو توصیف وتحسین سے نوازا ہے۔
اللہ رب العزت نے ڈاکٹر غازی کو حکومت کے اعلیٰ مناصب پر بھی فائز اور متمکن فرمایا، لیکن ان کی طبیعت اور مزاج میں سرمو فرق نہیں آیا۔ ان کے دل میں دین دار طبقہ اور دینی شعائر کی عظمت موج زن رہی۔جناب ڈاکٹر صاحب کو تبلیغی جماعت سے قلبی وابستگی تھی۔ اسلام آباد کے سالانہ اجتماعات میں عام سامعین کے ساتھ شریک ہونا اور بغیر کسی کروفر کے فرش خاکی پر جلوہ افروز ہونا معمول تھا۔ احقر نے بچشم خود ڈاکٹر غازی کو گھاس پر بڑی طمانیت اور وقار سے بیٹھ کر اکابر کے بیانات سنتے دیکھا ہے۔ علماء کرام اور مشائخ عظام کی قدر ومنزلت اور عزت وتکریم ان کا شیوہ تھا۔ علماء کرام کی دعوت وطلب پر مدارس کے اجتماعات میں شریک ہونا اپنے لیے سعادت تصور کرتے تھے۔ بلاوجہ عذر ومعذرت سے کبھی کام نہیں لیا اور بڑے ذوق سے اکابر کی دعوت کو شرف قبولیت سے نوازتے تھے۔
اللہ رب العزت نے انھیں وفاقی وزیر مذہبی امور کے منصب سے نوازا تو بحمد اللہ حج کے انتظامات نہایت احسن طریقے سے انجام دیتے رہے۔ حجاج کرام کو ہر ممکن سہولیات اور طمانیت اور دل جمعی کے ساتھ مناسک حج ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے۔ وزارت کے پورے عرصے میں مدینۃ الحجاج اسلام آباد میں حجاج کرام کی تربیت کا خصوصی انتظام ڈاکٹر غازی صاحب کی سربراہی میں قائم رہا۔ حجاج کرام کو مسائل حج سے پوری طرح روشناس اور آگاہ کرنے کا بہترین نظم تھا اور خود بھی حجاج کرام کی راہنمائی کے لیے خطاب کیا کرتے تھے۔
جن دنوں ڈاکٹر محمود غازی وزیر مذہبی امور تھے، وزارت حج کے دفتر سے راقم الحروف کو فون آیا کہ آپ اپنا پاسپورٹ فوری طو رپر دفتر میں جمع کرائیں، پرسوں حج کے لیے آپ کی فلائٹ ہے۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ میری درخواست کے بغیر حج کی منظوری کیسے ہو گئی! آخر غازی صاحب کے متعلق خیال ہوا کہ انھوں نے اپنی پرانی دوستی کا حق ادا کیا ہے اور نظر عنایت فرمائی ہے۔ جو کام خلوص وللہیت سے، محض رب کی رضا کے لیے ہو، اس کے اظہار وافشا سے اللہ کے نیک بندے گریز ہی کیا کرتے ہیں۔ بہرحال جہاز کا دو طرفہ ٹکٹ احقر نے خرید لیا، رہائش اور ٹرانسپورٹ وزارت مذہبی امور نے فراہم کر دی۔ مکہ مکرمہ میں جناب غازی صاحب سے ملاقات ہوئی اور میں نے شکریہ ادا کیا، لیکن انھوں نے قطعاً نہ تو احسان جتلایا اور نہ ہی فخر وتکبر کی کوئی بات کی، بلکہ بالکل خاموش رہے۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی کی معرکۃ الآرا تصنیف ’’ادب القاضی‘‘ جب منصہ شہود پر آئی تو انھوں نے اس کے لیے عالی شان تقریب کا اہتمام کیا۔ ادارۂ تحقیقات اسلامی اسلام آباد کے ایک وسیع وعریض ہال میں نقاب کشائی کا پروگرام رکھا جس میں سرکاری سطح کے افسران مدعو تھے۔ غازی صاحب نے احقر کو بھی دعوت شمولیت دی اور کتاب لاجواب کا ہدیہ بھی مرحمت فرمایا۔ موصوف کی جملہ تصانیف انتہائی قابل قدر اورلائق صد تحسین ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو قبول فرمائے، اجر عظیم عطا فرمائے اور اخری منازل آسان فرمائے۔
(مولانا) محمد عبد المعبود
باغ سرداراں، راول پنڈی
( ۶ )
مخدومی ومحترمی حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم۔ مزاج گرامی!
جنوبی افریقہ کیس کے لیے مختلف وفود گئے۔ پہلا وفد ستمبر ۱۹۸۲ میں گیا۔ اس میں جناب مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا مفتی زین العابدین، جناب غیاث محمد، جناب گیلانی، مولانا عبد الرحیم اشعر ودیگر حضرات شامل تھے۔ ان میں حضرت ڈاکٹر محمود احمد غازی شامل نہ تھے۔ دوسرا وفد نومبر ۱۹۸۴ء میں گیا۔ اس میں حضرت غازی صاحب شریک تھے۔ جن حضرات کا عدالت میں بیان ہونا طے ہوا، ان میں محترم حضرت غازی صاحب کا نام بھی تھا۔ بیان ہوا؟ کب؟ کیا؟ تلاش سے مل سکے تو انعام الٰہی ہوگا، ورنہ اس تنخواہ پر گزارہ کیے بغیر چارہ نہیں۔
ایک بار سرکاری سطح پر ’’قادیانیت: اسلام کے خلاف سنگین خطرہ‘‘ کے نام سے حکومت پاکستان نے ایک وقیع مقالہ شائع کیا۔ جن دنوں وفاقی شرعی عدالت میں جنرل محمد ضیاء الحق کا جاری کردہ امتناع قادیانیت آرڈیننس زیر سماعت تھا، ایک مجلس میں فقیر نے ایک حوالے کے سلسلے میں متذکرہ رسالہ کا نام لیا۔ اس پر غازی صاحب نے تعجب کے ساتھ فقیر کی طرف دیکھا۔ فقیر نے بعد میں تعجب کے ساتھ نظر کرم کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ وہ رسالہ میرا مرتب کردہ ہے۔ (غالباً ان دنوں وزارت مذہبی کے آپ سربراہ تھے)۔ وہ رسالہ مل گیا، اس کا فوٹو بھی ارسال خدمت ہے۔ یہ رسالہ غازی صاحب کا مرتب کردہ ہے۔
جن دو قسطوں میں مولانا منظور احمد الحسینیؒ نے جنوبی افریقہ کیس کے حوالے سے محترم غازی صاحب کا ذکر خیر فرمایا ہے، ان کا فوٹو لف ہے۔ معافی چاہتا ہوں کہ تعمیل ارشا د میں تاخیر ہوئی۔ اس کا باعث یہ تھا کہ فقیر دفتر سے غیر حاضر تھا۔
(مولانا) اللہ وسایا
مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان
( ۷ )
ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کاتذکرہ کرتے ہوئے مجھے ڈاکٹر شیر محمد زمان صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جنھوں نے غائبانہ تعارف کروایا۔غازی صاحب اس وقت دعوہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل تھے ۔ڈاکٹر زمان صاحب زید مجدہم کے تعارف سمیت ان سے ملا قات ہوئی۔تجویز یہ تھی کہ میں ان کی اکیڈمی سے وابستہ ہو جاؤں۔ راقم کے لیے یہ بہت اہم بات تھی، اس لیے کہ وہ بے روزگاری کا زمانہ تھا۔ راقم کے مضمون کی مناسبت سے غازی صاحب نے کہا کہ ہم اردو کا ایک رسالہ نکالیں گے جس کی ادارت آپ کے سپرد کی جائے گی، چنانچہ انھوں نے اس رسالے کی تجویز بنا کر بھیجی جو منزلوں پر منزلیں مارتی رہی۔ یونی ورسٹی کے صدر صاحب مصر میں تھے اور تجویز پاکستان میں۔ اگرچہ وہ پاکستان آتے رہتے تھے، لیکن کئی برس کے تعاقب کے بعد تجویز ان تک پہنچی، مگر اس لیے نامراد لوٹ آئی کہ یہ عربی میں تیار نہیں کی گئی تھی۔ اردو رسالے کے لیے انگریزی میں تیار کی گئی تجویز نے عربی لباس پہنا اور بالآخر منظور ہوگئی، لیکن اس وقت تک راقم کی زندگی کئی منزلیں طے کرچکی تھی۔ بے روزگاری کا زمانہ قصہ ماضی بن چکا تھا۔ رسالے کے اجرا سے پہلے غازی صاحب کا پیغام آیا کہ آپ کے لیے جو تجویز بھیجی گئی تھی، وہ منظور ہوگئی ہے، لیکن راقم ا پنی موجود منزل سے غیر مطمئن نہیں تھا، اس لیے معذرت ہی کو مناسب سمجھا گیا چنانچہ رسالہ تو نکل آیا، لیکن اس کی ادارت کی ذمہ داری کسی اور نے اٹھائی۔ اقبال:
پرید ن از سر بامے بہ بامے
نہ بخشد جرہ بازاں را مقامے
اس کے کئی برس بعد غالباً ۲۰۰۳ء میں انھوں نے ایک پر محبت خط لکھ کر ایک بار پھریہ خواہش کی کہ میں ان کی یونی ورسٹی سے وابستہ ہو جاؤں۔ اس وقت مجھے اپنی مادر علمی پنجاب یونی ورسٹی سے وابستہ ہوئے ایک زمانہ گزر چکا تھا، چنانچہ اب بھی ان کی خواہش پوری نہ کرسکا، تاہم ان کے ساتھ باہمی احترام اور اخلاص کا تعلق رہا۔ ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں۔ پہلی بار انھیں تین مختلف ٹیلی فونوں پر باری باری عربی، انگریزی اور اردو میں یکساں مہارت کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے دیکھ کر جو خوش گوار حیرت ہوئی تھی، وہ قائم رہی اور ان کی علمیت کا نقش گہرا ہوتا چلا گیا۔ ان کے ساتھ شخصی ملاقاتیں بھی ہوئیں اور ان کے علم و فضل اور اعتماد سے بھرپورلیکچر سننے کا بھی موقع ملا۔ لیکچر کے دوران ان کا یہ طریقہ دیکھا کہ وہ چھوٹے سائز کے بہت سے کارڈوں پر لکچر کے نکات لکھ کر لاتے تھے اوردوران لکچر یہ کارڈ ان کے ہاتھ میں رہتے۔ جو جو نکتہ بیان ہوتا رہتا، اس سے متعلق کارڈ، کارڈوں کی تہہ کے نیچے جاتا رہتا۔ کسی ایک کاغذ پر نکات لکھ کر لانے کے مقابلے میں یہ طریقہ زیادہ جدید لگا۔
راقم جب پنجاب یونی ورسٹی کی سیرت کمیٹی کا سیکریٹری تھا تو اس کے ایک اجلاس سے خطاب کے لیے غازی صاحب کو بھی دعوت دی گئی۔ اس زمانے میں وہ مذہبی امور کے وفاقی وزیر تھے۔ جس سادگی اور بے غرضی کے ساتھ وہ اس اجلاس کے لیے اسلام آباد سے تشریف لائے، اس نے میرے دل میں ان کی وقعت میں اضافہ کیا۔ وزارت کے بعد بھی ان سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد کے نیو کمپس میں ان کے دفتر میں ہوئی تھی۔ وزارت کا کوئی رنگ باقی نہ تھا۔ ان کا کمرہ ایک پروفیسر کاکمرہ تھا۔ یہاں سے ہم اکٹھے فیصل مسجد گئے۔ راستے میں ہماری ایک مشترک محترم، صاحب علم شخصیت کے حوالے سے گفتگو ہوتی رہی۔ غازی صاحب کہہ رہے تھے، اہل علم کوچاہیے کہ وہ اپنے آپ کو حکومتوں سے وابستہ نہ کریں۔ شاید یہ رائے انھوں نے اپنے تجربے کے بعد قائم کی تھی۔
یہاں مصر میں جس محفل میں بھی ان کا ذکر ہوا، اہل مصر کو ان کی صلاحیتوں کا مداح اور معترف پایا۔ دنیا کی دوسری بڑی جامعات کی طرح جامعہ الازہر میں بھی پی ایچ ڈی کے مقالات کو جانچ کے لیے بیرونی ممالک کے ممتحنین کے پاس بھیجنے کا طریقہ رائج ہے۔ اساتذہ کی ترقی کے لیے بھی ان کے کام کو رائے کے لیے بیرونی دنیا میں بھیجا جاتا ہے۔ پی ایچ ڈی جس مضمون میں بھی ہو، عام طور سے مقالہ عربی میں لکھا جاتا ہے۔ یہی صورت اردو میں پی ایچ ڈی کی بھی ہے، چنانچہ ایسے غیر ملکی ممتحنین کی ضرورت رہتی ہے جو متعلقہ مضمون کے ساتھ عربی پر بھی اچھی دسترس رکھتے ہوں۔ اب اردو میں تو ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں جو عربی زبان میں کی گئی اردوتحقیق کو جانچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایک ایسی ہی میٹنگ میں غازی صاحب کا نام تجویز کیاگیا۔ راقم نے بتایا کہ وہ آج کل پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت کے جج ہیں۔ اس پران کی قابلیت کا اعتراف کرتے ہوئے ہماری فیکلٹی کے ڈین صاحب نے کہا کہ وہ تو اس سے بھی بڑے منصب کے اہل ہیں۔ ایک صاحب علم کا کہنا تھا کہ ان کی عربی کے سامنے تو ہم خود کو شرمندہ شرمندہ محسوس کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل جاپان کی دوشیشہ یونی ورسٹی نے اسلامیات کے موضوع پر مشارکت کے لیے پاکستانی اہل علم کی بابت دریافت کیا تو راقم نے غازی صاحب کا نام تجویز کیا۔ اس پر معلوم ہوا کہ وہاں بھی ان کے مداح موجود ہیں، لیکن قبل اس سے کہ وہ دوشیشہ یونی ورسٹی کی دعوت پر جاپان جاتے، ابدالآباد سے ان کا بلاوا آگیا۔ مولانا روم:
پس عدم گردد عدم چون ارغنون
گو ید م کانّا الیہ راجعون
ڈاکٹر زاہد منیرعامر
(وزیٹنگ پروفیسر مسند اردو ومطالعہ پاکستان،
جامعہ الازہر قاہرہ۔مصر)
( ۸ )
فکری تنگ دستی، نظریاتی بے گانگی بلکہ نظریاتی انحراف کے اس عہد میں ایسے دانشور، محقق اور افراد نایاب ہیں جو نہ صرف کسی نظریے یا فکر کے پیرو کار یا علمبردار ہوں بلکہ خود اس کا ایک مثالی نمونہ بھی ہوں۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم ایک ایسے ہی استاد و محقق تھے جن کی ذات ان کے نظریات کی آئینہ دار تھی۔ بلا شبہ وہ عصر حاضر میں ملت اسلامیہ کے ایک ایسے قابل فخر فرزند تھے جنہوں نے اسلامی تعلیمات کو ان کی حقیقی روح کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا ۔ وہ فکری انتہا پسندی کے حامی نہ تھے۔ نام نہاد روشن خیالوں یا راسخ العقیدگی کے دعوے داروں نے باہمی آویزش سے دنیا میں جو اندھیرا مسلط کر رکھا ہے، اس میں ڈاکٹر محمود احمد غازی ان معدودے چند افراد میں نمایاں تھے جنہوں نے توازن فکر کا چراغ روشن کیا، جو مسلمانان عالم کے اتحاد کے داعی تھے۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی اردو، انگریزی اور عربی کے علاوہ فرانسیسی زبان پر بھی مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے سیرۃ النبی پر ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی کتاب کا فرانسیسی سے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ عالمی زبانوں میں مہارت کی بدولت ہی انہوں نے دنیا کے کئی ممالک کے دورے کیے اور وہاں اسلامی قوانین اور فقہ کے مختلف پہلوؤں پر فکر انگیز لیکچر دیے۔ ڈاکٹر محمود احمد دنیا کی مختلف جامعات سے بطور ممتحن بھی وابستہ رہے۔ وہ ایک بلند پایہ عالم دین، مستند فقیہ اور بالغ نظر دانشور کے طور پر ساری دنیا میں خاص شناخت کے حامل اور قابل احترام شخص تھے۔ ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ اور اتحاد بین المسلمین آپ کی زندگی کا مشن تھا۔ انہوں نے جدید تناظر میں مسلمانوں کے دینی و عصری چیلنجوں پر مدافعانہ، معذرت خواہانہ اور محض بیانیہ انداز اختیار کرنے کی بجائے ہمیشہ خالص معروضی و تجزیاتی اور منطقی و دانشورانہ انداز تحریر و بیان کو شیوہ بنائے رکھا۔ وہ عالم و دانشور جو صداقتوں کے متلاشی اور مبلغ ہوتے ہیں، وہ اپنی فکر و نظر کو وقتی مصلحتوں سے آلودہ نہیں ہونے دیتے ۔ یہی کام ڈاکٹر صاحب نے بھی کیا۔ انہوں نے توازن فکر اور فہم تاریخ و فقہ کی بنا پر ہمیشہ حقیقت پسندانہ موقف اختیار کیا۔ اپنی فکری و نظری سچائی اور قوت عمل کی بدولت انہیں زندگی میں بہت سی آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑا اور کیوں نہ گزرنا پڑتا کہؔ
سوداؔ جو بے خبر ہے کوئی وہ کرے ہے عیش
مشکل بہت ہے ان کو جو رکھتے ہیں آگہی
فکرو آگہی کے حامل دانشور کے طور پر وہ مسلمانوں کے عصری مسائل بالخصوص فرقہ واریت، انتہا پسندی اور فروعی مسائل پر جھگڑوں کے کبھی حامی نہیں رہے۔ وہ اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر تفرقوں سے بالا ہو کر امت مسلمہ کے اتحاد کے پیامبر و مبلغ تھے اور یہی اُن کی زندگی کا مشن اور نصب العین تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عالمی و قومی سطح پر جس کانفرنس، سیمینار یا سمپوزیم میں جاتے، وہاں اتحاد بین المسلمین کے جذبے کا برملا اظہار کرتے اور فرقہ واریت کو زہر قاتل سمجھتے تھے۔ انہوں نے مختلف فقہی مسالک کو قریب لانے کے لیے ’’کاسمو پولیٹن فقہ‘‘ کا نظریہ پیش کیا تھا جس کو عام کرنے میں ذاتی حیثیت میں انہوں نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔ بلا شبہ ملت اسلامیہ کو اپنی صحت شعور کے لیے آج جس بات کی اشد ضرورت ہے، وہ اسلام اور اپنے ماضی کے متعلق رومانیت و جذباتیت سے نکل کر خود تنقیدی کی نظر پیدا کرنا ہے تاکہ دھندلکوں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کی بجائے مستقبل کے لیے کوئی راستہ روشن ہو سکے۔ محض رومانیت و جذباتیت جہل کی وہ خطرناک قسم ہے جس سے ہر قسم کا ظلم پیدا ہوتا ہے۔ اقوام عالم کی تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ عیاں ہوتا ہے کہ یہ درحقیقت ملی خود کشی کا راستہ ہے ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی جیسے صاحبان نظر اپنے بیان و تحریر میں ملت اسلامیہ کو یہ انتباہ کرتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی زبان و قلم سے دنیا کو حیات افروز اسلام سے متعارف کروانے کی مخلصانہ کوشش کی جو مایوسی نہیں امید ہے، تباہی نہیں تعمیر ہے، جو فرقہ واریت نہیں اتحاد ہے اور جو ناکامی نہیں کامیابی ہے ۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی نے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں ایک طرف آگاہ قلب اور روشن دماغ نمائندوں کو روشناس کرایا تو دوسری طرف قرآن و سنت، سیرت و حدیث، اسلامی سیاسیات و معاشیا،ت فقہ اور اقبالیات کے متنوع موضوعات پر عربی، انگریزی اور اردو میں درجنوں کتابیں رقم کیں۔ اس کے علاوہ ان کے لیکچرز ، خطبات اور محاضرات کے مجموعے بھی مرتب ہوئے جن میں سے ’’مسلمانوں کا دینی و عصری نظام تعلیم‘‘ مرتبہ ڈاکٹر سید عزیز الرحمن کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ نے اہتمام خاص سے شائع کیا۔ اس میں ڈاکٹر محمود احمد غازی کے درج ذیل چھ خطبے شامل ہیں: (۱)دینی مدارس: مفروضے، حقائق، لائحہ عمل، (۲) قدیم و جدید تعلیم میں ہم آہنگی، (۳) مسلمانوں کی تعلیمی روایت اور عصر حاضر، (۴) اکیسویں صدی میں پاکستان کے تعلیمی تقاضے، (۵) مغرب کا فکری اور تہذیبی چیلنج اور علماء کی ذمہ داریاں، (۶) دینی مدارس میں تخصص اور اعلیٰ تعلیم و تحقیق۔ ان کے علاوہ دو فکر انگیز ضمیمے ’’مسلکی اختلاف اور اس کی حدود‘‘ اور ’’عصر حاضر میں علماء کی ذمہ داریاں‘‘ شامل ہیں۔ مرتب کے الفاظ میں ’’ ان میں سے ہر محاضرہ یا خطبہ اپنی جگہ ایک مستقل کتاب کی اہمیت رکھتا ہے۔..... انہوں نے اسلاف کی خطا شماری کو مقصود بنائے بغیر ماضی کا بے لاگ تجزیہ کیا ہے اور مستقبل کے لیے ہماری راہیں متعین کی ہیں‘‘۔
بلا شبہ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی تحریروں اور محاضرات کا جائزہ لیں تو ان کی تحریریں محتاط تجزیے کے باوجود بے لاگ تبصرے اور دل میں اتر جانے والے حکیمانہ اسلوب کی حامل ہیں۔ وہ تنقید برائے تنقید کی بجائے تعمیری تنقید کے علمبردار ہیں۔ دلیل اور نیک نیتی سے لیس تحریریں اور درد مند دل کا بیان خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کی دستک نظر آتا ہے۔ تمام محاسن و خوبیوں سے بڑھ کر جو چیز ڈاکٹر صاحب کی علمی قامت کو مزید بلند او ران کے محققانہ و مدرسانہ کارناموں کو مزید وقیع اور معتبر بنا دیتی ہے، وہ ، وہ حالات ہیں جن میں انہوں نے توازنِ فکر و عمل کا علم بلند کیا اور تصنیف و تالیف اور تحقیق و تنقید کا کام جاری رکھا ۔ ان کے حوصلے اور جرات کی داد دینا ہو گی کہ انہوں نے کبھی خود پر اس یتیمانہ بے بسی کو طاری نہیں ہونے دیا جس سے اکثر ہمارے مذہبی دانشور دوچار رہتے ہیں۔
علم و تحقیق کو اوڑھنا بچھونا بنائے رکھنے والا یہ فکرمند اور درد مند دل ملت اسلامیہ کی حالتِ زار کی تاب نہ لا سکا۔ ۲۶ ؍ستمبر ۲۰۱۰ء کی شب ڈاکٹر محمود احمد غازی کو دل کی تکلیف ہوئی۔ انہیں اسلام آباد کے PIMS ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ عصر حاضر میں عالم اسلام کے اس قابل فخر فرزند کی نماز جنازہ اسی روز سہ پہر کو مولانا مشرف علی تھانوی نے پڑھائی او رانہیں اسلام آباد کے ایچ الیون قبرستان کے پلاٹ نمبر ۱۳ کی قبر نمبر ۱۳۶ میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ قبر پر تا حال کتبہ بھی نصب نہیں۔ آپ کے سوگواران میں بھائی ڈاکٹر محمد الغزالی، بیوہ اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔
آدم خاکی کو بالآخر آسودۂ خاک ہونا ہی ہوتا ہے، لیکن دنیا سے رخصت ہونے والی ہستی اگر کوئی ایسی ہستی ہو جس نے اپنی زندگی کو تدریس و تحقیق اور دین و دنیا کی فلاح کے لیے وقف کیے رکھا ہو تو اس کا دنیا سے اٹھ جانا صرف ایک گھرانے یا خاندان کا نہیں، سب درد مند دل رکھنے والوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے ۔
اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن میں کہرام مچا
اک چہرہ کملا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے
شیخ عبدالرشید
(ایڈیشنل رجسٹرار، یونیورسٹی آف گجرات )
( ۹ )
علامہ پروفیسر حافظ ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم نابغہ روزگار شخصیت تھے۔ ہفت زبان عالم دین، محقق، اسلامی علوم کے ماہر تھے۔ وفاقی وزارت سے لے کر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی صدارت تک وہ کون سا عہدہ ہو گا جو انہیں نصیب نہیں ہوا۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کے چھوٹے بھائی ممتاز عالم دین، اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی نے اپنے بڑے بھائی کے حوالے سے ایک انٹرویو میں ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر اظہار کرتے ہوئے کہا:
وہ ہمہ جہت شخصیت تھے۔ انہوں نے سرزمین پاکستان پر ۱۸؍ ستمبر ۱۹۵۰ء کو پاکستان کے ہائی کمیشن نئی دہلی میں آنکھ کھو لی۔ ہمارا خاندانی سلسلہ حضرت عمر فاروقؓ سے ملتا ہے۔ ہماری خاندانی روایات کے مطابق ہمارے خاندان کے مرد حضرات پر قرآن پاک حفظ کرنا لازم سمجھا جاتا ہے، یعنی حضرت عمرؓ سے ہمارے بیٹے حنظلہ غزالی تک سب مرد حضرات الحمدللہ حفظ قرآن شریف کا شرف حاصل کر چکے ہیں۔ ہمارے چچا، تایا، کزن سب حافظ قرآن ہیں۔ اس روایت کے تسلسل کے طورپر ہم نئی دہلی سے کراچی آگئے تو برادر اکبر ڈاکٹر محمود احمد غازی نے بھی ۱۹۵۴ء میں حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ کے مدرسہ سے قرآن پاک حفظ کیا۔
بھائی صاحب نے اے کے بروہی کے سامنے تجویز پیش کی کہ اسلامی قوانین کے حوالے سے ایک ادارہ ہوناچاہیے، چنانچہ شریعہ فیکلٹی کا قیام قائد اعظم یونیورسٹی میں عمل میںآیا، لیکن قائد اعظم یونیورسٹی کے ماحول میں یہ ادارہ ایڈجسٹ نہ ہوسکا۔ مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آ رہے تھے جس پر مرحوم اے کے بروہی بھی پریشان تھے۔ انہوں نے بھائی صاحب سے پوچھا کہ اس کا کیا حل نکالا جائے؟ ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم نے تجویز پیش کی کہ پاکستان چونکہ ایک اسلامی ملک ہے، اس لیے یہاں بین الاقوامی سطح کی یونیورسٹی ہونی چاہیے۔ انہوں نے عالمی اسلامی یونیورسٹی کی بنیادی تجویز مان لی۔ فیصل مسجد میں عالمی اسلامی یونیورسٹی کا منصوبہ کس طرح قابل قبول ہوا؟ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا موقف تھا کہ جس طرح عالم اسلام کی سب سے بڑی یونیورسٹی الازہر کا قیام بھی مسجد میں ہوا، اسی طرح یہ یونیورسٹی بھی فیصل مسجد میں قائم کی جائے۔ فیصل مسجد کا قیام کیسے ہوا؟ عالم اسلام کی اس منفرد عظیم الشان مسجد کی تعمیر ایک الگ داستان ہے۔ اس کا شرف شاہ فیصل شہید اورمملکت سعودیہ عربیہ کو جاتا ہے کہ یہ عظیم شاہکار اسلام آباد میں سامنے آیا۔
ایک اور بات جس پر بھائی صاحب سمیت ہم سب کو فخر حاصل ہے کہ عربی زبان، اسلامی علوم اور فقہ پرکامل دسترس رکھنے کے باعث اللہ تعالیٰ نے بھائی صاحب کو یہ اعزاز بخشا کہ وہ فیصل مسجد کے پہلے خطیب مقرر ہوئے۔ ان کی امامت میں ۲۲؍جون ۱۹۸۸ء کو پہلے جمعہ کے روز اس عالمی جامع کا افتتاح ہوا۔ مرحوم نے وہاں خطبہ دیا۔ بھائی صاحب نے دنیا کے قریباً تمام ممالک میں بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ اپنے علم وفضل سے پاکستان کا نام روشن کیا۔ آپ نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب مرحوم کے جدید اسلامی، اصلاحی اور فلاحی نظریات سے تمام دنیا واقف تھی۔ جنرل پرویز مشرف بھی ان کے خیالات سے واقف تھے۔ وہ ان کے عہد میں ۲۰۰۴ سے ۲۰۰۶ء تک وفاقی وزیر مذہبی امور رہے۔ قطر کی بین الاقوامی یونیورسٹی کی طر ف سے جب پروفیسری کی پیش کش ہوئی تو اسے انہوں نے قبول کر لیا۔
غزالی صاحب کہنے لگے: میرے بھائی درویش صفت انسان تھے۔ وہ عالم باعمل تھے۔ وہ بہترین قاری اور حافظ قرآن تھے، چنانچہ انہوں نے کئی بار تراویح میں قرآن کریم سنایا۔ یہ بہت بڑی سعادت تھی جو انہیں حاصل ہوئی۔ ان کی دلچسپی کا میدان اسلامی قانون، اسلامی معیشت وغیرہ تھے، لیکن تمام اسلامی علوم پر ان کی نظر بڑی وسیع او ر گہری تھی۔ اس کا ثبوت ان کا سلسلہ محاضرات ہے جس میں انہوں نے ۷ جلدوں میں مختلف اسلامی علوم کا مفصل تعارف کرا دیا ہے۔ یہ سلسلہ قرآن، حدیث، سیرت، شریعت، معیشت وتجارت اور اسلام کے بین الاقوامی قانون اور عصر حاضر کے مسائل پر مشتمل ہے۔ اس سلسلے کو قارئین نے بے حد پسند کیا اور اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔ اسی طرح ایک موقع پر ۱۹۸۵، ۱۹۸۷ء میں کئی سال کی محنت کے بعد وہ جنوبی ایشیا کی سپریم کورٹ میں پانچ ہفتے تک پیش ہو کر قادیانی مسئلہ پر اسلامی نقطہ نظر پیش کرتے رہے۔ اس موقع پر علما کی ایک ٹیم نے ان کی مدد کی۔ کورٹ میں ان کا بیان پانچ ہفتے تک جاری رہا اور پانچ ہزار صفحات لکھے گئے۔ اس میں عدالت اور وکیلوں کے تمام سوالات اور اعتراضات کا مدلل جواب دیا اور ختم نبوت کے بنیادی مسئلہ کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر کو عدالت کے سامنے پیش کیا۔ اس کارروائی میں کئی برس صرف ہوئے مگر بھائی صاحب اس کام میں اس طرح کھپ گئے گویا زندگی میںیہی ان کا مشن ہو۔
اسی طرح پاکستان میں اسلامی قانون کے نفاذ، اسلامی دستور کی تیاری اور عدالتی سطح پر، تعلیمی سطح پر، تصنیفی سطح پر اور پلاننگ کی سطح پر نفاذ شریعت کے لیے کوشاں رہے۔ میں نے انہیں زندگی بھر کسی بڑے سے بڑے حادثے کے موقع پر بھی روتے نہیں دیکھا، لیکن جب ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہوا، اس وقت مرحوم کی حالت ایسی تھی کہ انہیں سنبھالنا بہت مشکل محسوس ہو رہا تھا۔ وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہے تھے۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ یہ ملک اللہ نے بغیر اسباب کے بنایا ہے، وہی اس کی حفاظت کرے گا۔ یہ آزمائش کا وقت بھی گزر جائے گا۔
شریف فاروق /طاہر فاروق
(روزنامہ نوائے وقت ، لاہور، ۲۶؍ نومبر ۲۰۱۰ء)
( ۱۰ )
اسلام آباد (پاکستان ) کے عالمی شہرت یافتہ اسکالر ڈاکٹر محمود احمد غازی کا ۲۶؍ ستمبر کو انتقال ہو گیا۔ ان کی رحلت نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ ساری دنیائے علم و فکر کے لیے ایک سانحہ عظیم سے کم نہیں۔
۱۹۹۲ء میں جب پہلی مرتبہ میں اسلام آباد پہنچا تو ڈاکٹر صاحب دعوۃ اکیڈمی انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کے سربراہ اعلیٰ تھے۔ ان کا دفتر مسجد فیصل کامپلکس میں تھا۔ ہر جمعہ کو ان کا وہاں خطاب ہوا کر تا اور میں انہیں ایک اچھے خطیب کی حیثیت سے جانتا تھا۔ اس کے دو سال بعد ہی ۱۹۹۴ء میں مجھے پھر اسلام آباد کا سفر درپیش ہوا اور قیام بھی طویل تھا۔ اس قیام کے دوران بھی میں نماز جمعہ مسجد فیصل میں ادا کیا کرتا تھا اور غازی صاحب کے خطاب سے فیض یاب ہوا کرتا۔ ایک دن ان سے باقاعدہ ملاقات ہو گئی۔ وہ جلد ہی میرے دوست بن گئے۔ مرحول دل کے فیاض تھے۔ انہوں نے اپنی اکیڈمی کی بہت سی قیمتی مطبوعات مجھے عنایت فرمائیں۔
ڈاکٹر غازی علم، ادب، سیاست ومعاشرت کے جس مسئلے پر گفتگو کرتے تو ان کی رائے بالکل واضح ہوتی تھی۔ ان میں ایک زندہ و تابندہ عالم کی شان نمایاں تھی۔ ایک موقع پر میں نے کہا کہ غازی صاحب ! آج کل ساری دنیا سے تحمل اٹھتا جا رہا ہے تو انہوں نے برجستہ کہا : کہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ تحمل کی کمی واقع ہو رہی ہے۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی ایک صاحب سیرت انسان اور بلند پایہ عالم تھے۔ ان سے مختلف علمی موضوعات پر خط و کتابت ہوتی رہتی تھی۔ خط کا جواب لکھنے میں وہ بہت باقاعدہ تھے۔ وہ ہندوستان کے سفر کی تمنا رکھتے تھے لیکن افسوس ہے کہ انہیں اس کا موقع نہ ملا۔ ڈاکٹر صاحب کے علمی کارناموں کی کوئی جامع فہرست تو اس وقت میسر نہیں ہے ۔ ان کی تازہ کتاب ’’ عصرحاضر اور شریعت اسلامی‘‘ کے عنوان پر انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے شائع کی ہے۔ یہ ایک انتہائی وقیع تحقیقاتی ادارہ ہے۔ اس کے سربراہ برادرم خالد رحمان صاحب چند ہی ماہ قبل مجھے یہ کتاب روانہ فرمائی تھی۔ اس قیمتی کتاب کی دستیابی پر ڈاکٹر غازی صاحب کو میں مبارک باد بھی نہ دے سکاکہ وہ راہی ملک عدم ہوئے۔ اس کتاب کے ڈسٹ کور پر ان کی خدمات کی جوتفصیل درج ہے، میں ان کو یہاں نقل کر رہا ہوں:
’’ڈاکٹر محمود احمد غازی انتقال سے قبل تک قطر فاؤنڈیشن ، فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز میں شریعہ کے پروفیسر کے عہدے پر فائز تھے۔ اس سے پہلے آپ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر، پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور (اگست ۲۰۰۰ء تا اگست ۲۰۰۲ء ) ، نیشنل سیکورٹی کونسل حکومت پاکستان کے رکن (۹۹۔ ۱۹۹۸ء) ، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن، شریعہ اکیڈمی اور دعوۃ اکیڈمی اسلامی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر جنرل، فیصل مسجد اسلام آباد کے خطیب۔ موقرہ جریدہ ’’فکر ونظر‘‘ کے مدیر رہے۔ شریعہ بورڈ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے چیئرمین تھے( ۲۰۰۳تا حال) بہت سے پیشہ ورانہ اور علمی اداروں کی انتظامی اور علمی مجالس کے ممبر اور مشیر رہے۔ جن میں چند اہم یہ ہیں: عرب اکیڈمی شام، ابن رشد اسلامک یونیورسٹی اسپین، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلا م آباد، بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد، فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، بینک آف خیبر تکافل پاکستان۔
ڈاکٹر صاحب اسلامی قانون اور فقہ پر گہری نظر رکھنے والے چند اسکالرز میں سے تھے۔ جو عصرحاضر میں درپیش مسائل سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ ۲۳کتب اور ۱۰۰ سے زیادہ مقالات کے مصنف ہیں۔ پاکستان اور بیرون ملک ہونے والی ۱۰۰ سے زائد بین الاقوامی علمی کانفرنسوں میں شرکت کر چکے تھے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کی نیشنل اکیڈمک کونسل کے رکن تھے۔ آپ کی تصانیف میں محاضرات قرآن، محاضرات سیرت، محاضرات فقہ، محاضرات حدیث ، اور اسلام کا قانون بین الممالک قبولیت عام حاصل کر چکی ہیں‘‘
ڈاکٹر محمود احمد غازی نے ’’عصر حاضر اور شریعت اسلامی‘‘ کے موضوع پر جو خطبات دیے تھے ، ان کی تعداد آٹھ ہے۔ ہر خطبے کے لیے ایک فاضل شخصیت کی صدارت طے کی گئی تھی۔ خطبے کے اختتام پر سوال وجواب کا سلسلہ کچھ دیر چلتا ر ہتا تھا۔ چنانچہ پانچواں خطبہ ’’ اسلامی شریعت ، مسلم معاشرہ ، ملکی وانتظامی امور اور بین الانسانی معاملات ‘‘ کے موضوع پر منعقد کیا گیا کہ ’’ کہ آج ایک مکمل اسلامی ریاست قائم کرنے کا سب سے آسان اور عملی طریقہ کیا ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ:
’’ اس کا سب سے آسان طریقہ دعوت وتبلیغ اور رائے عامہ کی تیاری ہے۔ مسلمان اسلامی ممالک میں جتنی مضبوط اور وسیع رائے عامہ اسلامی ریاست کے حق میں ہو گی، اتنی ہی جلدی اسلامی ریاست قائم ہو گی۔ نہ صرف عامۃ الناس اس بارے میں شدید غفلت کا شکار رہے ہیں بلکہ اہل علم نے بھی ان کی مناسب رہنمائی اور تربیت میں خاصی کوتاہی کی ہے۔ اگر اسلامی ریاست عامۃ الناس کا مسئلہ نہ ہو ، عام لوگ اس سے الگ تھلگ رہیں اور کچھ محدود لوگ اسے اپنامسئلہ قرار دے کر محدود انداز سے کام کرنے پر اکتفا کریں تو اسلامی ریاست قائم نہیں ہو گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جو لوگ اس کام کے لیے اٹھیں گے وہ اپنی محدود تعداد اور عامۃ الناس کی عدم دلچسپی اور عدم شرکت کی وجہ سے امت سے الگ سمجھے جائیں گے اور اسلامی ریاست کا مسئلہ ان کا گروہی مسئلہ قرار دے دیا جائے گا کہ فلاں گروہ یا فلاں صاحب کا مسئلہ ہے لیکن اگر پوری امت کی رائے عامہ مکمل طور پر بیدار ہو اور پورے ملک کا یا مسلم اقوام کا یہ مسئلہ ہو تو پھر اسے کسی طبقے کامسئلہ قرار دے کر نظر انداز کر دینا دشوار ہو جائے گا‘‘۔ (عصر حاضر اور شریعت اسلامی ص۲۱۴۔۲۱۵)
موجودہ حالات میں محمود احمد غازیؒ کے اسی پیغام دانشورانہ پر امت مسلمہ کو غوروفکر کرنا چاہیے۔ مرحوم کے قابل رشک کارناموں کے باوجود اسلامی دنیا کو ابھی ان سے بڑی توقعات تھیں۔ خلاف توقع وہ اپنے اعزہ، احباب ومخلصین اور دیگر شیدائیوں کی بھری محفل سے کچھ اس طرح رخصت ہوئے کہ غالب کی زبان میں
جاتے ہوئے کہتے ہو، قیامت کو ملیں گے
کیاخوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور ؟!
وحید الدین سلیم
حیدر آباد ، بھارت
(بشکریہ سہ روزہ ’’دعوت ‘‘ دہلی)
( ۱۱ )
استاد ہونا قابل اعزازہے، لیکن اس اعزاز کے تقاضے بھی زیادہ ہیں۔ڈاکٹر محموداحمدغازی مرحوم کو اللہ نے جہاں بہت سی صلاحیتوں سے نوازا تھا، وہاں وسعت قلبی اورنرم مزاجی بھی عطا فرمائی تھی۔ بالخصوص طلبہ کے لیے ان کا رویہ حدردرجہ نرمی ومہربانی کا رہتا تھا۔ مشکل سے مشکل اور عمیق ودقیق علوم کو سامع کی ذہنی وعلمی سطح کے مطابق حل کر کے سمجھادیناغازی صاحب کا امتیازی ملکہ تھا۔ سامع یا سائل کی ذہنی سطح کو ملحوظ رکھنا کتنامفید ہوتاہے، اس کی مثال خود دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سابق صدر پرویزمشرف کی طرف سے سوال کیا گیا کہ آپ کی یونیورسٹی میں طلبہ وطالبات کو علیحدہ علیحدہ کلاسوں میں کیوں پڑھایا جاتا ہے؟ یہ توآج کی روشن خیالی کے بالکل خلاف ہے، اس کوختم ہونا چاہیے۔ جواب میں غازی صاحب کہتے ہیں کہ میں اگرو ہاں علمی دلائل پیش کرتا تو بات کبھی ان کی سمجھ میں نہ آتی۔ کہتے ہیں، میں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ پردہ کرنے کو اچھا سمجھتا ہے اور پردہ ان کے کلچر کا حصہ ہے، لہٰذا جہاں بہت سے ادارے ایسے ہیں جن میں مخلوط تعلیم کا اہتمام ہے، وہاں اگر کچھ تعلیمی ادارے ایسے بھی ہو ں جہاں پردے کا اہتمام ہو جائے تو کیا حرج ہے؟ غازی صاحب کہتے ہیں، یہ بات فوراً ان کی سمجھ میں آگئی اور ان کا اشکال دور ہو گیا۔
ایک شفیق استاد کے لیے یہ بات ناقابل تحمل ہوتی ہے کہ اس کی بات اس کے شاگرد کی سمجھ میں نہیں آئی، چنانچہ ایک مرتبہ ایم فل علوم اسلامیہ کی ایک ورکشاپ میں غازی صاحب کا لیکچر ہوا۔ ایک گھنٹہ تیس منٹ کے لیکچر کے بعد سوال وجواب شروع ہوئے تو غازی صاحب کو ادراک ہوا کہ آخر کی صفوں میں دو غیر ملکی طالب علم ایسے بھی بیٹھے ہوئے ہیں جن کو اردو نہیں آتی تھی۔ چنانچہ غازی صاحب نے دوبارہ سارا لیکچر عربی زبان میں دہرا دیا۔غالباً یہی وہ خصوصیت تھی جس کی بناپر اللہ تعالیٰ نے غازی صاحب کو نہ صرف طلبہ کے دِلوں میں بلکہ معاصر اساتذہ کے دلوں میں بھی وہ مقام عطا فرمایاجس کی تمناکرنا توآسان ہے، لیکن اس کا حصول بہت صبر آزما ہے۔
راقم الحروف کا غازی صاحب سے تعلق قرابت داری کے علاوہ شاگردی کا بھی رہا۔ مختصر وقت میں مشکل اور دقیق مباحث کو بڑی آسانی سے بغیر کسی ڈائری کے صرف اپنی یادداشت اور مطالعہ کی بنیادپر اس طرح بیان فرماتے تھے گویا ابھی کچھ ہی دیر پہلے تازہ مطالعہ کر کے آئے ہیں۔ مختلف اسلامی علوم وفنون کاتاریخی ارتقا اس طر ح بیان کرتے تھے کہ سامع کو لگتاتھاکہ یہ سارا کام ان کے سامنے ہواہے اور وہ اپنے مشاہدہ کو بیان کررہے ہیں۔ غازی صاحب کے مطالعہ میں وسعت اور گہرائی واضح جھلکتی تھی۔ ان کے لیکچر میں بیٹھے ہوئے وقت کا احساس ہی نہیں رہتا تھا۔ ان کاہر لیکچر اپنے موضوع پر جامع گفتگو ہوتی تھی۔ پاکستان میں رسم عثمانی کے مطابق مصحفِ قرآ نی کی ضرورت واہمیت کے موضوع پر راقم الحروف کی غازی صاحب سے ان کے گھر پر گفتگو ہوئی۔ پچاس منٹ جاری رہنے والی ملاقات میں غازی صاحب نے تقریباً چالیس منٹ تک مکمل اطمینان اور دلچسپی سے پوری گفتگو سنی۔ اس کے بعد فرمایاکہ آپ اس کی مکمل رپورٹ بناکر مجھے ارسال کر دیں۔ گفتگو کے دوران غازی صاحب نے ایک لمحہ بھی اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا کہ ان کا وقت قیمتی ہے، لہٰذا بات کو مختصر کیا جائے، بلکہ ان کی دلچسپی بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔
ان کے زمانہ وزارت میں بھی طلبہ کو ان سے رہنمائی لینے میں زیادہ دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ ایک مرتبہ راقم کو ایک سوال کے سلسلے میں ملنے کی ضرورت پیش آئی تو ان کے دفتر میں چلا گیا۔ اسٹاف نے بتایاکہ ان کی مصروفیات آج کل زیادہ ہیں، لہٰذا شاید ملاقات نہ ہو سکے۔ راقم نے سوال ایک کاغذ پر لکھااور ان کی میز پر رکھ کر خود لائبریری میں چلا گیا۔ کچھ دیر کے بعد یاد آیا تو واپس دفتر میں آکر پوچھا تو اسٹاف نے بتایا کہ چند منٹ کے لیے آئے تھے، پھر کسی میٹنگ میں چلے گئے ہیں۔ راقم نے مایوس ہو کر سوچاکہ اپنا لکھا ہوا سوال واپس اٹھا لیتا ہوں۔ کاغذ اٹھایا تو اس پر مکمل جواب لکھا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ غازی صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین!
حافظ رشید احمد تھانوی
(جامعہ دار العلوم الاسلامیہ، لاہور)
( ۱۲ )
سابق وفاقی وزیر مذہبی امور اور ڈاکٹر محمود احمد غازی ایک سچے عاشق رسول ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر تعلیم بھی تھے۔ والد گرامی مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ سے ان کا گہرا تعلق مذہبی حوالے سے ایک مستقل باب ہے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود اپنے سینے میں مذہب کے لیے تڑپنے والا ایک دل رکھتے تھے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا ایک عرصے تک صدر رہنا ان کے علم سے شغف کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ اس سلسلے میں ان کی گراں قدر خدمات تاریخ کا ایک حصہ ہیں اور تعلیم یافتہ طبقہ پر ان کا یہ بہت بڑا احسان ہے، نیز یہ ان کے لیے صدقہ جاریہ بھی ہے۔ ملکی سطح پر مذہبی حوالے سے جب بھی کوئی نیا فتنہ کھڑا ہوتا یا مسائل ومشکلات درپیش ہوتیں تو حضرت والد گرامی فوری طور پر ان کے ساتھ را بطہ کرتے اور صورت حال سے آگاہ کرنے کے بعد ان کے صائب مشوروں کی روشنی میں اس کا حل نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہو جاتے۔ راقم الحروف کی والد صاحب کی معیت میں ان سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور غالباً چند ملاقاتیں ان کے علاوہ بھی ہیں۔
ایک ملاقات میں ڈاکٹر صاحب سے بات چیت کرتے ہوئے والد صاحب ؒ نے ان سے کہا کہ قادیانی کافر ہیں اور وہ سعودی عرب میں اپنی مذہبی اور دیگر خلاف اسلام کار روائیاں کرتے ہیں، اس لیے حکومت سعودیہ نے ان کے داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے، لیکن وہ دھوکہ دہی سے وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو روکنے کا طریقہ یہ ہے کہ چونکہ پاسپورٹ شناختی کارڈ کی بنیاد پر بنتا ہے اور اس میں مذہب کے خانے کا اندراج نہیں ہے، لہٰذا شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کیا جائے یا پھر مسلم اور غیر مسلم کے شناختی کارڈ کا رنگ تبدیل کر دیا جائے، جیسا کہ سعودیہ میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ’’اقامہ‘‘ کا رنگ الگ الگ ہے۔ اس تجویز کو ڈاکٹر صاحب نے بہت پسند کیا اور ارباب بست وکشاد کے سامنے مسئلہ رکھنے کا وعدہ کیا۔
ایک دوسری ملاقات میں والد صاحبؒ نے ڈاکٹر صاحب ؒ کے سامنے ایک دوسرا مسئلہ بھی پیش کیا کہ چناب نگر قادیانیوں کی نام نہاد ریاست ہے۔ وہاں کے تمام لوگ قادیانیوں کے زیر تسلط ہیں۔ ان کی زمینوں اور جائیدادوں کے کاغذات ملکیت رہائشیوں کے پاس نہیں، بلکہ وہاں کے ناظم جماعت اور صدر کے پاس ہوتے ہیں۔ وہ جب چاہیں، انہیں بے دخل کر دیتے ہیں۔ اب جو بھی کوئی قادیانی مسلمان ہو نا چاہے تو اس کے اسلام لانے میں وہ رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس کے سامان، مکان، زمین اور جائیداد وغیرہ پر قبضہ کر کے ان کو بھگا دیتے ہیں اور خود ناجائز طور پر قابض ہو جاتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ باوجود خواہش اور کوشش کے مسلمان نہیں ہو سکتے، لہٰذا چناب نگر کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دلوانے کے لیے کوشش کی جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ قادیانیوں کی ایک کثیر تعداد مسلمان ہو جائے گی۔ جب ڈاکٹر صاحب نے یہ مسئلہ آگے بڑھایا تو مختلف محکموں میں موجود قادیانی لابی نے اس کیس کو دبا دیا کہ یہ قابل سماعت ہی نہیں۔ اب یہ کیس ہائی کورٹ میں چل رہا ہے۔ کئی دفعہ قادیانی سازشوں کی وجہ سے جج تبدیل ہوتے رہے یا کیس خارج کروا دیا جاتا رہا۔ اب ہماری طرف سے نظر ثانی کی اپیل چل رہی ہے۔ اللہ کرے کہ اس کیس کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہو جائے تو اس کے بہت اچھے اثرات مرتب ہو ں گے۔
ختم نبوت سے ان کے دلی لگاؤ کی ایک بہت بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ والد صاحب کی مشہور زمانہ کتاب ’’ردقادیانیت کے زریں اصول‘‘ کے شروع میں ڈاکٹر صاحب کی ایک شاندار اور پر مغز تقریظ موجود ہے جس نے کتاب کی اہمیت میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے۔ یہ تقریظ اس اشاعت میں شامل کرنے کی غرض سے ارسال کی جار ہی ہے۔ اس تقریظ سے ختم نبوت کے ساتھ ان کی وابستگی اور حضرت والد مرحوم کے مشن کے ساتھ لگاؤ بھی ظاہر ہوتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب ؒ جیسی شخصیات تو اب چراغ لے کر ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتیں۔ اگر ایسی چند مزید شخصیات ڈاکٹر صاحب کو میسر آ جاتیں تو ان کا تعاون حکومتی سطح پر ان کو بہت کارآمد ثابت ہو تا، لیکن قدرت نے ان کو مزید مہلت نہ دی اور وہ ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ قدرت کویہی منظور تھا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کا مشن مکمل کرنے کی صلاحیت سے نوازیں، تاکہ ان کے صدقات جاریہ اور نیکیوں میں اضافہ ہوتا رہے۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔
مولانا ثناء اللہ چنیوٹی
( ادارۂ مرکزیہ دعوت وارشاد، چنیوٹ)
( ۱۳ )
شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب ؒ کے شاگرد رشید، جامعہ دارالعلوم تعلیم القرآن، راجہ بازار راولپنڈی کے فاضل، جامعہ اشرفیہ لاہور اور جامعۃالعلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے متعلم، وفاقی شرعی عدالت کے جج، اسٹیٹ بینک کے شریعہ ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے سابق صدر، سابق وفاقی وزیر مذہبی امور، بالغ نظر محقق، بہترین صاحب قلم، مختلف زبانوں میں تدریس و خطابت کے شہسوار، عالمی شہرت یافتہ شخصیت، علمی رسوخ کے حامل، وطن عزیز کے مایہ ناز عالم دین حضرت مولانا ڈاکٹر محمود احمدغازی ۱۶؍ شوال ۱۴۳۱ھ/۲۶؍ ستمبر ۲۰۱۰ء بروز اتوار بعد نماز فجر ۶۰ سال کی عمر میں راہی عالم آخرت ہو گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔
ڈاکٹر محمود احمدغازی کا نسبی تعلق کاندھلہ کے ممتاز علمی خاندان سے تھا۔ آپ کے والد محترم بزرگوں کے صحبت یافتہ متدین ومتبع سنت بزرگ تھے۔ ڈاکٹر غازی صاحب ؒ نے درس نظامی کی ابتدائی تعلیم جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن، کراچی میں حاصل کی۔ پھر آپ کے والد محترم اسلام آباد منتقل ہو گئے تو آپ نے لاہور جاکر جامعہ اشرفیہ میں داخلہ لے لیا اور آخرمیں جامعہ دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی میں درس نظامی کی تکمیل فرمائی اور شیخ القرآن حضرت اقدس مولاناغلام اللہ خان صاحبؒ سے خصوصی طور پر تلمذ کا شرف حاصل فرمایا۔ درس نظامی کی تکمیل کے بعد ڈاکٹر صاحب نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کے مراحل طے کر کے اعلیٰ سندات حاصل کیں۔
ڈاکٹر صاحب بفضلہ تعالیٰ اسلامی وعصری علوم میں زبردست استعداد کے حامل تھے۔ انہوں نے حضرت مولاناغلام اللہ خان ؒ کی زیرنگرانی درس نظامی کی تکمیل کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ سترہ سال کی عمر سے ہی ڈاکٹر صاحبؒ نے تدریس کا آغاز فرما دیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی شرعی و عصری دونوں طرح کے علوم و فنون پر دسترس حاصل تھی، لیکن جدیدعصری فنون وافکار سے وافر آگاہی کے باوجود آپ میں تجدد یا کسی فکری زیغ کا کوئی شائبہ نہیں تھا اور بظاہر یہ خاندانی اور دینی مدارس کی تعلیم وتربیت کا ثمرہ ہی تھا کہ آپ دینی تصلب اور علمی رسوخ کے حامل تھے۔ ان سب چیزوں کے باوجود ان کی کسی ادا میں ڈھونڈ کر بھی اپنے علم یا خدمت پر ناز یا فخر کی کوئی پرچھائیں تلاش نہیں کی جا سکتی۔ ڈاکٹر صاحب ایک سادہ، متواضع، منکسر المزاج اور ہنس مکھ انسان تھے۔ رمضان المبارک میں ہر سال اہتمام سے تراویح میں قرآن کریم سناتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب حق کی ترجمانی کرنے والے انسان تھے۔
عالمی کانفرنسوں میں غیر مسلموں کے سامنے آپ دین اسلام کی ترجمانی معتقدات اسلام کی حقانیت، اسلامی احکام و تعلیمات کے دفاع کے لیے پیش پیش رہے۔ ڈاکٹر صاحب معاند خیالات ونظریات او ر زیغ وضلال کے فتنوں کا تعاقب کرنے والے مرد مجاہد تھے۔ انھوں نے پاکستان کے آئینی وقانونی مسائل میں بھرپور رہنمائی دی، جب کہ جنوبی افریقہ کی غیرمسلم عدالت میں قادیانیوں کے خلاف کیس لڑ کر اس تاریخی مقدمہ میں ملت اسلامیہ کے موقف کو سرخرو کرتے ہوئے اسے پوری دنیا کے غیر مسلم ممالک کی عدالتوں کے لیے مثال بنا دیا۔ ڈاکٹر صاحب کی یہ خدمت تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
ڈاکٹر صاحب نے قرآن، حدیث، سیرت، فقہ وقانون، معیشت وتجارت، اور دیگر علوم وفنون پر ۲۵ سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ آپ کی تصانیف اہل علم اور نئی نسل کے لیے قیمتی تحفہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ رضا ورضوان کا معاملہ فرمائیں۔
مولانا سید محمد زین العابدین
(مدرسہ امام ابویوسف، شاد مان ٹاؤن ، کراچی)
( ۱۴ )
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ، اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ہمارے بڑے مشفق استاد تھے۔ میرا ان سے پہلا تعارف علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے ایک کوڈ کا ٹیوٹر مقرر ہونے کے لحاظ سے ہوا۔ وہ ہماری کتاب ’’تحقیق نگاری‘‘ کوڈ نمبر ۷۱۴ کے ٹیوٹر مقرر ہوئے تھے۔ ۱۹۸۹ء میں ہمیں اوپن یونیورسٹی نے اسلام آباد میں ورکشاپ کے لیے بلایا۔ ابتدائی طور پر کل طلبہ کی تعداد ۶۵ تھی۔ ان میں سے کچھ فیل ہوئے اور بعض نے چھوڑ دیا تو ورکشاپ کے وقت ۳۵ طلبہ رہ گئے تھے۔ ڈاکٹر صاحبؒ کا کورس سب سے مشکل تھا، یعنی تحقیق نگاری جس میں طلبہ کو تحقیقی مقالے کا خاکہ تیار کرنا تھا۔ ڈاکٹر صاحبؒ نے جب طلبہ کا رزلٹ دیا تو ۳۵ میں سے ۲۵ طلبہ فیل ہو گئے۔ صرف دس طلبہ پاس ہوئے، میں بھی پاس طلبہ میں سے تھا۔ بہت پریشانی ہوئی۔ مجھے یاد ہے کہ ان میں کچھ بڑی عمر کے حضرات بھی تھے۔ ان میں ڈاکٹر محمد نواز چودھری تھے جن کی تقابل ادیان کی کتاب ہم ایم اے کے نصاب میں پڑھاتے ہیں۔ وہ اور ان کے ساتھی سب فیل ہو گئے۔ اتفاق سے میں پاس ہو گیا۔ سب ساتھیوں نے مجھے گھیر لیا کہ آپ چونکہ پاس ہیں، اس لیے ڈاکٹر صاحبؒ سے ہماری سفارش کریں کہ ہمیں بھی پاس کر دیں۔ میں نے کہا کہ یہ کیسے ہوگا؟ آپ کچھ کام کر کے لے آئیں گے تو وہ پاس کریں گے۔ ایسے میں کیسے کہہ سکتا ہوں۔ کہنے لگے، آپ ہمارے ساتھ ان کے گھر تو چلیں، آپ ہماری وکالت کریں۔
ہم نے ڈاکٹر صاحبؒ سے وقت لیا اور انھوں نے بڑی شفقت فرماتے ہوئے وقت دے دیا۔ سب لوگ چار بجے ان کے گھر پر پہنچے۔ سپر مارکیٹ کے قریب ان کا چھوٹا سا گھر تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے بہت پرتکلف چائے پلائی۔ پھر کہنے لگے، کیسے آنا ہوا؟ میں نے دبی سی آواز میں کہا کہ ہم ایک ’’ترلہ کمیٹی‘‘ لے کر آئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب قہقہہ لگا کر بہت ہنسے۔ کہنے لگے کہ کیا بات ہوئی؟ پھر میں نے سب کی طرف سے عرض کیا کہ آپ نے معزز اساتذہ کرام کو فیل قرار دے دیا ہے۔ اب یہ کیسے پاس ہو سکتے ہیں؟ اسی دوران ایک صاحب، جن کی عمر ۵۵ سال کے لگ بھگ تھی، کہنے لگے کہ ڈاکٹر صاحب! جب آپ کا خط میرے گھر میں پہنچا تو میرے بیٹے نے گھر میں شور مچا دیا کہ امی! ابو فیل ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ؒ نے پھر قہقہہ لگایا اور کہنے لگے کہ اب کیا ہو سکتا ہے۔ اب میں فیل کر چکا ہوں۔ پھر میں نے عرض کیا کہ آپ محترم اساتذہ کرام کو دو دن دے دیں، یہ اپنا کام درست کر لیتے ہیں۔ آپ پھر اس کی جانچ کریں اور ان میں جس کو پاس کرنا ہو، کر دیں۔ ڈاکٹر صاحبؒ نے وعدہ کر لیا۔ دو دن میں اساتذہ نے خاصی محنت کر کے اپنے کام کو بہتر کیا، خاکہ اچھے انداز سے تیار کیا اور ڈاکٹر صاحب نے واقعتا ان کو پاس کر دیا۔ اس سے بہت سے اساتذہ کا وقت بچ گیا۔ ڈاکٹر صاحب ؒ اس قدر مشفق تھے۔
میرا ان کے ساتھ ایک اور معاملہ یہ ہوا کہ جب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد نے ان کو بورڈ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کا ممبر بنایا تو مجھے ان کے سامنے پیش ہونا تھا۔ ڈاکٹر عبدالمالک عرفانی مرحوم مجھے بہت اچھا گائیڈ کرتے تھے۔ اگرچہ بنیادی طور پر وکیل تھے، تاہم اچھے انسان تھے۔ ’’اسلام کا نظریہ ضرورت اور جدید قانون میں اس کی حیثیت‘‘ کے عنوان سے ۱۹۸۴ء میں ان کا پی ایچ ڈی کامقالہ پنجاب یونیورسٹی سے منظور ہوا تھا۔ انہوں نے مجھے موضوع دیا اور خاکہ تیار کرایا اور کہا کہ آپ ’’ اسلام کا نظریہ ضرورت اور پاکستان کے سیاسی بحرانوں میں اس کے استعمال کا جائزہ‘‘ پر کام کریں۔ میں سارا کچھ تیار کر کے لے گیا۔ اب جو حضرات میٹنگ میں بیٹھے ہوئے تھے، ان میں ڈاکٹر غازیؒ بھی تھے۔ ڈاکٹر صاحبؒ نے کہا کہ ان کا مقالہ کیسے پاس ہوگا، ان کا موضوع تو اسلامیات رہا ہی نہیں، اس لیے یہ مسترد کیا جاتا ہے۔ آپ کوئی نیا عنوان سوچیں اور اس پر خاکہ تیار کریں۔ میں نے کہا کہ آپ کچھ رہنمائی فرما دیں۔ ڈاکٹر صاحبؒ نے اسی وقت مجھے نوٹ کرو ایا: ’’پاکستان کا نظریہ ضرورت اور مسلم سیاسی فکر کے ارتقا میں اس کا کردار‘‘۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جن لوگوں کے پاس علمی سرمایہ ہوتا ہے، ان کا ذہن کتنا کام کرتا ہے۔ واقعتا مجھے اس وقت بات سمجھ میں نہ آئی، لیکن میں نے اسے نوٹ کر لیا۔
رات کومیں اپنے اقارب کے گھر میں مقیم تھا۔ میں نے ڈاکٹر عبدالمالک عرفانی سے کہا کہ میرا عنوان تو مسترد ہو گیا ہے اور ڈاکٹر محمودغازی نے یہ عنوان دیا ہے ۔ وہ سوچ میں پڑ گئے کہ اس کو کیسے لکھیں گے۔ دس صفحات سے زیادہ مواد نہیں ملے گا۔ میں خاصا پریشان ہوگیا ۔عرفانی صاحب نے مجھے کہا کہ آپ ڈاکٹر غازی صاحب سے دوبارہ پوچھیں کہ اس پر کس انداز سے آگے چلنا ہے اور کیا لکھنا ہے؟ میرے پاس ڈاکٹر صاحبؒ کے گھر کا ٹیلی فون کا نمبر تھا۔ اسی وقت میں نے رابطہ کیا اور ڈاکٹر صاحب سے بات کی۔ ڈاکٹر صاحبؒ کہنے لگے کہ خلافت راشدہ تک تو سب خیریت تھی۔ اس کے بعد بنوامیہ آئے تو ہم نے کہا، یہ بھی ٹھیک ہے، یہ بھی قابل قبول ہے۔ ہم نے اس کو ماننا شروع کر دیا۔ پھر بنوعباس آئے۔ ہم نے کہا، یہ بھی ٹھیک ہے اور ان کا حکم ماننا شروع کر دیا۔ پھر عثمانی خلافت کا دور آیا تو ہم نے کہا، یہ بھی ٹھیک ہے۔ پھر جدید دور کے صدر اور وزیرا عظم آ گئے تو ہم نے کہا، یہ بھی ٹھیک ہے۔ یہ ہمارا سیاسی فکر کا ارتقا ہوا۔ اس طرح آپ نے آگے چلنا ہے۔ میں خاصا مطمئن ہو گیا۔ پھر میں نے ڈاکٹر عرفانی صاحب سے عرض کیا کہ ڈاکٹر صاحب نے یہ گائیڈ لائن دی ہے۔ کہنے لگے ، ٹھیک ہے۔ آپ کام کریں۔ بہرحال میں نے جب کام کرنا شروع کیا تو میرے پاس تقریباً دوہزار صفحات کا مواد تھا۔ پھر میں نے اس میں تحدید کی۔ میں نے اپنا مقالہ ڈاکٹر صاحبؒ کو پیش کیا تو انھوں نے کہا کہ آپ جمع کرا دیں۔ اس طرح میں پاس ہو گیا اور مجھے ڈگری مل گئی۔
ڈاکٹر صاحبؒ علمی حوالہ سے بہت زیادہ ’’امیر آدمی‘‘ تھے، rich minded تھے۔ ان کے انتقال کی جب مجھے خبر ملی تو بڑا دکھ ہوا اور دل سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اچھی جگہ عنایت فرمائے۔ ہمیں ان کے افکار سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ڈاکٹر شریف چودھری
(ر) ایسوسی ایٹ پروفیسر،
گورنمنٹ کالج، گوجرانوالہ
( ۱۵ )
ممتاز علمی سکالر ،مذہبی دانشور او ر عالم اسلام پر گہری نظر رکھنے والے عظیم مفکر ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ ہمیں داغ مفارقت دے کر خود راہی آخرت ہو چکے ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی بہت زیادہ خوبیوں کے مالک تھے۔ دینی و عصری علوم کے ماہر، اسلامی موضوعات کے محقق اور دورجدید میں پیش آمدہ مسائل اور عالم اسلام کے حالات وواقعات اور سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ایک بیدار مغز انسان تھے۔ وہ اپنی انھی خوبیوں اور خداداد صلاحیتوں کی بدولت اہم عہدوں پر بھی فائز رہے۔ وفاقی وزارت مذہبی امور، شریعت جج ، اسلامی نظریاتی کونسل اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے اہم مناصب ان کے سپرد کیے گئے جو انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے احسن طریقہ سے نبھائے اور خدمات سرانجام دیں۔ ڈاکٹر غازی مرحوم صرف کسی مخصوص طبقے تک محدود نہ تھے بلکہ علماء دیوبند میں بھی شرف و عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور اہل مدارس آپ کو اپنے پروگراموں میں دعوت دے کر آپ کی گفتگو سننے اور اپنے لیے فخر سمجھتے، چنانچہ دارالعلوم کراچی، جامعۃالرشید، جامعۃ الخیر لاہور اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے علاوہ بیشتر مدارس کی تقریبات میںآپ تشریف لاتے، جید اور ممتاز علماء کرام کے درمیان خطابات فرماتے اور اپنی رائے سے نوازتے۔ اکابر علماء بھی آپ کی رائے کا احترام کرتے۔ استاذ گرامی حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ نے ایک دفعہ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے درس کے دوران فرمایا کہ اس وقت میر ی نظر میں برصغیر میں دو شخصیات ایسی ہیں جو مغرب کو آج کے دور کی زبان میں حجۃ اللہ پڑھا سکتے ہیں اور امام شاہ ولی اللہ ؒ کا فلسفہ سمجھا سکتے ہیں۔ ان میں اول شخصیت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی مدظلہ اور دوسری ڈاکٹر محمود احمدغازی ہیں۔ اس سے ڈاکٹر صاحب کے علمی مقام ومرتبہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
راقم نے پہلی بار ڈاکٹر صاحب کی زیارت کا شرف اپنی مادر علمی جامعہ اسلامیہ کامونکی میں کیا۔ استاذ گرامی مولانا عبدالرؤف فاروقی، جو مذاہب عالم اور تقابل ادیان پر خوب دل جمعی سے کام کر رہے ہیں، انہوں نے اپنے قائم کردہ ادارہ جامعہ اسلامیہ کامونکی میں ایک عمارت اسی کام کے لیے مخصوص کر رکھی ہے۔ مختلف اوقات میں تقابل ادیان کے حوالے سے مختلف کورسز کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔انہوں نے حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ سے منسوب ہال کی افتتاحی تقریب رکھی جس کے مہمان خصوصی ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم تھے۔ اس سیمینار میں مولانا سمیع الحق، قاضی عبداللطیف، مولانا زاہدالراشدی، مولانا اجمل قادری اور دیگر علما تشریف فرما تھے۔ ڈاکٹر غازی صاحبؒ تقریر کیا کر رہے تھے، علم کا سمندر بہا رہے تھے اور ان کی گفتگو میں اس قدر تسلسل اور ربط تھا کہ اتنی طویل گفتگو راقم سمیت دیگر حاضرین نے پوری دل جمعی اور توجہ سے سنی۔ اس موقع پر ہم ڈاکٹر عزیر الرحمن کے بے حدمشکور ہیں جنھوں نے ڈاکٹر صاحبؒ کی متعدد تقاریر قلم بند کر کے ’’اسلام اور مغرب تعلقات‘‘ کے نام سے مجموعہ شائع کیا۔مذکورہ تقریر اسی مجموعے میں شامل ہے۔
حافظ خرم شہزاد
(اقرا روضۃ الاطفال، گوجرانوالہ)
( ۱۶ )
ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ ڈاکٹر حمید اللہ ؒ کے بعد اسلامی دنیا کے بڑے مذہبی اسکالر تھے۔ آپ کے لیکچرز بہت پسند کیے گئے ہیں اور وہ کتابی شکل میں دستیاب ہیں۔ محترم غازی صاحبؒ نے اپنے کیریئر کا آغاز ادارہ تحقیقات اسلامی سے کیا اور مختلف حیثیتوں میں خدمات انجام دیتے ہوئے دعوہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ، خطیب فیصل مسجد ، نائب صدر اسلامی یونیورسٹی اور ۲۰۰۴ء سے ۲۰۰۶ء تک صدر اسلامی یونیورسٹی رہے۔ غازی صاحب حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ بیک وقت مختلف سات زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ جامعہ تعلیم القرآن، راولپنڈی سے درس نظامی مکمل کیا۔ بعدازاں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ڈاکٹر صاحب نے متعدد کتابیں لکھیں جن میں سے کچھ کے نام یہ ہیں: محاضرات قرآنی، محاضرات حدیث، محاضرات سیرت، محاضرات فقہ، محاضرات معیشت وتجارت، اسلام کاقانون بین الممالک، حیات مجدد الف ثانیؒ اور سنوسی تحریک۔
ڈاکٹر صاحب نے سیرت پر ڈاکٹر حمیداللہ کی فرانسیسی میں لکھی گئی کتاب کو انگریزی میں ایڈٹ اور ترجمہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا تھا۔ وہ ایک ہمہ جہت اور ہمہ پہلو شخصیت تھے جو قدیم اور جدید علوم کا حسین امتراج تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی زندگی کاایک ایک لمحہ دین کی ترویج و اشاعت، اقدار اسلامیہ کے فروغ اور ملک و ملت کی بھلائی کے لیے وقف تھا۔ اسلامی تعلیمات ڈاکٹر صاحب کے رگ وپے میں سرایت کیے ہوئے تھیں۔ ڈاکٹر صاحب کا علم سمندر کی سی گہرائی رکھتا تھا۔ اخلاق کریمانہ سے متصف تھے اور ہر ملنے والے سے ایسے ملتے تھے گویا وہ دیرینہ شناسا ہو۔
ڈاکٹر صاحب اس ورثے کے امین تھے جو سراپا علم تھا کہ والد کی طرف سے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے اور والدہ کی طرف سے مولانا محمد الیاسؒ بانی تبلیغی جماعت سے قرابت داری تھی۔ آپ وفاقی وزیر بھی رہے اور وقت کے ڈکٹیٹر کے ساتھ نظریاتی اختلاف بھی رکھا اور جب اس ڈکٹیٹر نے دینی حکمت عملی میں تبدیلی کی تویہ کہتے ہوئے وزارت سے استعفا دے دیا کہ مجھے یہ تبدیلی منظور نہیں۔ غازی صاحب کاوصال کسی ایک طبقہ، خاندان یا ایک ملک کا نقصان نہیں، بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا نقصان ہے۔
نعمت اللہ سومرو
(ڈگری کالج ، نوشہرو فیروز ،سندھ)
( ۱۷ )
انسان کو اللہ تعالیٰ نے مختلف خوبیوں سے نوازا ہے اور بعض کو بعض پر درجات وکمالات میں امتیاز واختصاص پر فائز کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر محمود احمد غازی کے ساتھ بھی درجات و کمالات میں امتیاز و اختصاص کا منفرد معاملہ وبرتاؤ فرما رکھا تھا۔ آپ بیک وقت حافظ قرآن، ممتاز عالم دین اور عصری علوم کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ آپ کو علما، طلبہ، عوام الناس او ر سیاست دان حضرات قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پختہ حافظہ اور فہم وتدبر کا ملکہ عطا فرمایا تھا۔ آپ مختلف زبانوں میں تدریس کی صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ بہت گہرائی میں گفتگو فرماتے، مختلف کتابوں کے حوالے اور مراجع کی نشان دہی فرماتے، پھر مختلف مسائل میں ائمہ کرام ومحدثین عظام ؒ کی مختلف آرا پیش نظر وزیر بیان ہوتیں۔ ان متنوع سلسلوں کے باوجود آپ کے بیان میں اور تقریر میں تسلسل متاثر نہیں ہوتا تھا۔ اسے یقیناًوہبی کمالات کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
جب آپ کسی موضوع پر بیان فرماتے تو اپنے موضوع سے ہٹتے نہیں تھے بلکہ اس موضوع کی گہرائی میں جاتے تھے، کیونکہ آپ کا مطالعہ اور معلومات بہت وسیع تھیں۔ آپ کے جتنے خطبات ہیں، ان میں سے اکثر خطبات کتابی صورتوں میں آچکے ہیں جن کو ’’الفیصل تاجران کتب لاہور‘‘ نے شائع کیا ہے۔ مثلاً محاضرات سیرت، محاضرات قرآنی، محاضرات فقہ، محاضرات حدیث وغیرہ۔ ان محاضرات میں اچھا خاصا علمی مواد موجود ہے جن کو قاری پڑھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔
محاضرات حدیث میں ان موضوعات کا ذکر ہے: علم حدیث کا تعارف، علم حدیث کی ضرورت واہمیت ،حدیث اور سنت بطور ماخذ شریعت، روایت حدیث اور اقسام حدیث، علم اسناد ورجال، جرح وتعدیل، تدوین حدیث، رحلہ اور محدثین کی خدمات، علوم حدیث، کتب حدیث و شروح حدیث، برصغیر میں علم حدیث، علم حدیث دور جدید میں۔
محاضرات فقہ میں ان موضوعات کا ذکر ہے: فقہ اسلامی: علوم اسلامیہ کا گل سرسبد، علم اصول فقہ: عقل ونقل کے امتزاج کا ایک منفرد نمونہ، فقہ اسلامی کے امتیازی خصائص، اہم فقہی علوم اور مضامین کا تعارف، تدوین فقہ اور مناہج فقہا، اسلامی قانون کے بنیادی تصورات، مقاصد شریعت اور اجتہاد، اسلام کا دستوری اور انتظامی قانون، اسلام کا قانون جرم و سزا، اسلام کا قانون تجارت و مالیات، مسلمانوں کا بے مثال فقہی ذخیرہ، فقہ اسلامی دورجدید میں۔
محاضرات سیرت میں ان موضوعات کا ذکر ہے: مطالعہ سیرت کی ضرورت واہمیت، سیرت اور علوم سیرت، علم سیرت، مناہج فقہا، چند نامور سیرت نگار اور ان کے امتیازی خصائص، سیاست مدینہ: دستور اور نظام حکومت، سیاست مدینہ: معاشرت ومعیشت، کلامیات سیرت، فقہیات سیرت، مطالعہ سیرت پاک وہند میں، مطالعہ سیرت دور جدید میں، مطالعہ سیرت: مستقبل کی ممکنہ جہتیں۔ محاضرات عقیدہ وایمانیات غالباً زیر طباعت ہیں۔ یہ کل پانچ محاضرات ہیں۔ ان محاضرات میں بے شمار علمی ذخائر اور نایاب علمی موتی موجود ہیں۔ ڈاکٹر غازی ؒ کو فن تاریخ سے بہت لگاؤ اور دلچسپی تھی جس کا اندازہ ان محاضرات کو پڑھ کر لگایا جا سکتا ہے۔
ایک مقام پر ڈاکٹر غازیؒ لکھتے ہیں: ’’افسوس یہ ہے کہ ہمارا مغربی تعلیم یافتہ طبقہ مغرب سے آنے والی ہر رطب و یابس تحریر کو تحقیق کا بے مثل نمونہ سمجھتا ہے۔ اس طبقے کے بارے میں حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے آج سے اسی نوے سال پیشتر فرمایا تھا کہ مسلمانوں کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ نہایت پست فطرت ہے۔ فطرت کی یہ پستی آج انتہاؤں کو چھوتی محسوس ہوتی ہے۔ اب اس کے اثرات قرآن مجید، حدیث رسول، فقہ اسلامی اور سیرت پاک کے ذخائر پر عدم اعتماد کی صورتوں میں سامنے آنے لگے ہیں‘‘۔ والدین واساتذہ کرام کی اخلاقی تربیت اور دعاؤں کی برکت، دینی تعلیم ودینی حمیت وغیرت کا نتیجہ تھا کہ عصری علوم وفنون پر دسترس حاصل ہونے کے باوجود مرحوم میں مغرب سے مرعوبیت یاتجدد پسندی کی جھلک بالکل نہیں پائی جاتی تھی۔
آپ تحریک ختم نبوت کے داعی تھے۔ ختم نبوت کی تحریک میں عملی طور پر حصہ لیا۔ نومبر ۱۹۸۴ء میں کیپ ٹاؤن، (جنوبی افریقہ) میں قادیانیوں نے مسلمانوں کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا تو وہاں کے مسلمانوں کی فرمائش پر اس کیس کی پیروی کے لیے ایک وفد مسلمانوں کی مدد کے لیے گیا تھا۔ اس وفدمیں مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا عبدالرحیم اشعر، ڈاکٹر خالد محمود، مفتی محمد تقی عثمانی جیسے اکابرین امت شامل تھے۔ اس وفد میں آپ بھی شامل تھے۔ اس وفد نے مثالی خدمات انجام دیں۔ بالآخر وہاں کی عدالت نے اپنا حکم امتناعی واپس لے کر مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دے دیا۔
ایک سائل نے آپ سے سوال کیا کہ کیا قادیانی حنفی یا شافعی کی طرح مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ یا مسلک ہے یا الگ مذہب ہے؟ آپ نے اس کو جواب دیا کہ ’’ شریعت کی روسے ہر منکر ختم نبوت اور مدعی نبوت اسلام کے دائرہ سے خارج ہے۔ یہ تو شریعت کی بات ہوئی۔ پاکستان کاقانون یہ ہے کہ ہمارے ہاں قومی اسمبلی کی متفقہ رائے سے ان کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے اور پاکستان میں ۱۹۴۷ء سے لے کر آ ج تک اتنے بڑے پیمانے پر اتفاق رائے کی کوئی اور مثال نہیں ہے۔ نیشنل اسمبلی جب یہ ترمیم کر رہی تھی تو اس میں اس وقت ۱۰۰فی صد حاضری تھی۔ میں اس کا چشم دید گواہ ہوں ۔ سو فیصد ووٹ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے حق میں ڈالے گئے۔ سینٹ میں بھی سو فیصد حاضری اور سو فیصد ووٹ تھا۔ کوئی ایک ووٹ بھی غیر حاضر نہیں تھا۔ سب نے اتفاق رائے سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا، اس لیے آپ اپنی اصلاح کیجیے۔ ایسا غیر مسلم گروہ حنفی شافعی کی طرح اسلامی مسلک کیسے ہو سکتا ہے؟ پاکستان کے علاوہ بہت سے دوسرے ممالک بھی قادیانیوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ پاکستان سے بہت پہلے یہ فیصلہ متعدد دوسرے ممالک میں کیا جا چکا ہے۔ مصر میں ۱۹۳۵ء میں یہ فیصلہ کیا جا چکا تھا۔ سعودی عرب میں ۱۹۷۴ء کے اوائل میں یہ فیصلہ ہو اتھا۔ کئی اور ممالک میں ا س سے بھی پہلے فیصلہ ہو چکا تھا‘‘۔
اخلاص کسی پر تھوپا نہیں جاتا۔ محبت، اخلاص کا محض ایک عنصر ہے اور محبت کے متوالے سب اس کی کیفیات سے بخوبی واقف ہوں گے۔ ڈاکٹر غازیؒ اخلاص کے پیکر تھے۔ان سے فیض کے طالب ہر وقت فائدہ حاصل کیا کرتے تھے۔ آج ڈاکٹر صاحبؒ باوجود ابدی حیات کے ہمارے ساتھ موجود نہیں۔ سوگواری کے عالم میں یہی کافی ہے کہ:
سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہو ں گی کہ پنہاں ہو گئیں
مولانا محمد عرفان
(مدرسہ امام ابویوسف، شادمان ٹاؤن، کراچی)
( ۱۸ )
یوں تو میں نے اس عظیم ہستی کو ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۹۸ء کو بنوں کی فقہی کانفرنس میں پہلی مرتبہ دیکھا تھا جہاں ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے اصول الفقہ کی اہمیت پر موثر خطاب فرمایا تھا،لیکن کیا معلوم تھاکہ قسمت ساتھ دے گی اور مجھے اس عظیم ہستی سے شرف تلمذ بھی حاصل ہوگا۔ ۲۰۰۶ء کے اوائل میں ایل ایل بی شریعہ کے چھٹے سمسٹر میں جناب ڈاکٹر صاحب مرحوم نے فقہ العلاقات الدولیۃ پڑھائی۔ اس کے بعد جب بھی ملاقات ہوتی، انتہائی شفقت فرماتے۔ ایک دن ملاقات کے لیے گیا تو فرمانے لگے کہ بھئی، آج ہماری ترجمانی کرو گے۔ وہاں آپ کے دفتر میں ایک افغانی عالم (جن کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ مولانا عبد الباقی صاحب تھے) تشریف فرما تھے۔ وہ غازی صاحب کی بات تو سمجھ سکتے تھے، لیکن خود اردو بولنے سے قاصر تھے۔ موضوع بحث مولانا عبد الباقی صاحب کی تالیف ’’السیاسۃ والادارۃ الشرعیۃ فی ضوء ارشادات خیر البریۃ‘‘ کا اردو ترجمہ ’’اسلام کا نظام سیاست وحکومت‘‘ تھا۔ (یہ کتاب عربی اور فارسی میں بھی ترجمہ ہوئی ہے اور شنید ہے کہ وفاق المدارس العربیہ اس کو داخل نصاب کرنا چاہتا ہے۔) جناب غازی صاحب نے اس کتاب کے لیے تقدیم لکھنے کی ہامی بھری تھی۔
سید محبوب الرحمن
(متعلم ایل ایل ایم، شریعہ فیکلٹی،
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ فکر و نظر کے چند نمایاں پہلو
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا نام نامی تو خاصے عرصہ سے ذہن میں تھا اور عربی مدارس کے نظام ونصاب میں تبدیلی کے سلسلہ میں ان کے فکر انگیز خیالات بھی مطالعہ میں آئے تھے، لیکن با ضابطہ ان کی کسی تصنیف یا مجموعہ محاضرات کے مطالعہ کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ سرسری سی معلومات سے اتنا تو اندازہ تھا کہ فکرو نظر کے اعتبار سے موصوف کا شمار نہ صرف پاکستان بلکہ دنیائے اسلام کی چند منتخب روزگار شخصیات میں سے ہوتا ہے۔ جب ان کی وفات (۲۶ستمبر،۲۰۱۰)کے بعد مؤقر مجلہ ’الشریعہ‘ کے مدیر شہیر جناب مولانا عمار خان ناصر صاحب کا دعوت نامہ موصول ہوا کہ ڈاکٹر صاحب موصوف کی یاد میں الشریعہ کی اشاعت خصوصی کے لیے مضمون لکھوں تو راقم نے موصوف کی شخصیت اور کارناموں پر لکھنے کا عزم کرلیا اور اس مضمون کا ایک فوری فائدہ یہ ہوا کہ اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کی کئی کتابیں خصوصاً محاضرات قرآنی، محاضرات حدیث اور محاضرات فقہ بالاستیعاب پڑھنے کا موقع مل گیا۔ حاصل مطالعہ کے طور پر چند معروضات پیش خدمت ہیں:
سوانح زندگی:
ڈاکٹر محمود احمد غازی (فاروقی) ۱۳؍ ستمبر ۱۹۵۰ء کوکاندھلہ مظفرنگر(ہندوستان )میں پیدا ہوئے۔ (۱) ان کے والد محمد احمد فاروقی مولانا شیخ الحدیث محمدزکریاکاندہلوی کے خلیفہ تھے۔ (۲) خاندانی تعلق مولاناتھانوی سے تھا۔ اصلاً تووہ تھانہ بھون ضلع مظفرنگرکے رہنے والے تھے، مگران کی شادی کاندھلہ کے ایک بزرگ حکیم قمرالحسن کی دخترسے ہوئی جو کہ سابق امیرتبلیغ مولانا محمداظہارالحسن کاندھلویؒ کے بڑے بھائی تھے۔ اس رشتہ کے بعد وہ کاندھلہ جاکررہنے لگے تھے۔ جب محموداحمدغازی ۶، ۷ سال کے تھے تو یہ کنبہ کراچی چلاگیا جہاں محموداحمدکو بنوری ٹاؤن کے مدرسہ میں داخل کرایاگیا۔ قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد انھوں نے مروجہ طرز پراسلامی علوم کی تحصیل شروع کی۔ اس طرح علامہ محمدیوسف بنوریؒ سے انہوں نے پڑھا۔ کچھ عرصہ کے بعد ان کے والد راولپنڈی منتقل ہوئے توانہوں نے وہاں کے مدرسہ تعلیم القرآن میں تعلیم جاری رکھی۔ ۱۹۶۲ء میں عربی کامل کا امتحان پاس کیا اور ۱۹۶۶ء میں درس نظامی کا پورا کورس مکمل کرلیا۔ ۱۹۷۲ء میں عربی زبان میں ایم اے کیا۔ اسی کے ساتھ فارسی اور فرنچ میں ڈگریاں حاصل کیں۔ انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی جس کا موضوع شاہ ولی اللہ سے متعلق تھا۔ (۳)
تدریسی خدمات :
تعلیم کی تکمیل کے بعدڈاکٹر غازی صاحب نے راولپندی کے مدرسہ فاروقیہ اور مدرسہ ملیہ میں پڑھا یا۔ اس کے بعد ادار ہ تحقیقات اسلامی میں یہ خدمت انجام دی، پھر قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں اسلام کے سیاسی فکر کے ارتقا پر لیکچر دیے ۔ اس کے بعد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں برسوں تک تدریس کی جہاں وہ شریعہ فیکلٹی میں پروفیسر، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اوریونی ورسٹی کے نائب صدر سے لے کر وائس چانسلر تک رہے۔ نیز قطر فاؤنڈیشن دوحہ میں بھی فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
تدریس کے علاوہ ڈاکٹر غازی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے چےئرمین شریعہ بورڈ ، تکافل پاکستان کراچی کے شریعہ سپروائزری کمیٹی کے چیئرمین، مذہبی امور کے وفاقی وزیر (اگست ۲۰۰۲) سپریم کورٹ آف پاکستان کی شریعہ ایلپیٹ بنچ کے جج (۱۹۹۹-۱۹۹۸) اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر، شریعہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائرکٹر نیز اسی یونیورسٹی کی دعوۃ اکیڈمی کے ڈائرکٹر وغیرہ جیسے اہم اور ذمہ دارانہ مناصب پر فائز رہے۔ قومی سلامتی کونسل کا رکن بھی ان کو بنایا گیا ۔ اسی طرح بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے نکلنے والے دو اہم علمی مجلات الدراسات الاسلامیہ (عربی)اور فکر ونظر (اردو) کاایڈیٹر بھی ان کومقررکیاگیا۔ اپنی علمی فکری اور عملی خدمات کے قومی اور بین الاقوامی سطح کے کتنے ہی اداروں کی ممبری، اور فقہی مشیر کی حیثیت سے بھی انھیں حاصل ہوئی جن میں پاکستان کے متعدد اداروں کے علاوہ ایران، شام، اسپین ، مصر اور سعودی عرب کے مؤقر و مقتدر ادارے شامل ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر غازی کی پوری زندگی عملی و علمی نشاط وسرگرمی سے عبارت تھی۔(۴)
علمی آثار:
اگر چہ ڈاکٹر غازی کی شہرت عام اور روایتی علما سے مختلف اور جدید اسلامی اسکالر و مفکر کے بطورزیادہ تھی، تاہم ان کی تقریریں وتحریر یں بتاتی ہیں کہ وہ راسخ العقیدہ اور متبحر عالم تھے۔ انھوں نے اسلامیات کے متعدد موضوعات پر تیس کے قریب کتابیں اور ۱۰۰ سے زیادہ مضامین ومقالات لکھے۔ ان میں بعض کتابیں در اصل ان کے محاضرات کے مجموعے ہیں جو انھوں نے ادارہ ’’الہدیٰ ‘‘کی فرمائش پر قرآن، حدیث، فقہ، سیرت اور شریعت پر دیے تھے۔ یہ تقریبا ۶۸ لیکچرز ہیں جن کو الگ الگ کتاب کی صورت میں پاکستان کے معروف ناشر ’’الفیصل‘‘ نے شائع کیا ہے۔ ڈاکٹر غازی عربی ،اردو اور انگریزی میں لکھتے تھے۔ انھوں نے اردو سے عربی اور عربی سے اردو میں علمی اور اہم کتابوں کے کامیاب ترجمے بھی کیے ہیں ۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر صاحب کی تصنیف یا ترجمہ اور ایڈیٹنگ کی ہوئی۔ بارہ کتابیں غیر مطبوعہ ہیں۔ یہ کتابیں اردو ،عربی اور انگریزی میں ہیں اور ان میں بعض زیر طبع ہیں جن میں مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات کا عربی ترجمہ، اقبالؒ کے خطبات کا عربی ترجمہ، مقاصد شریعت، اسلام اور مغرب،ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی سیرت نبوی پر فرنچ میں لکھی گئی کتاب کا انگریزی ترجمہ اور امام غزالیؒ کی کتاب قواعد العقائد کا انگریزی ترجمہ بھی شامل ہے۔ (۶)
ایک بہترین متکلم:
ڈاکٹر محمود احمد غازی ایک بہترین متکلم اسلام ہیں۔ قرآن و حدیث ، فقہ، سیرت اورشریعت پانچوں علوم پر انھوں نے قارئین (حاضرین) کے سامنے اہم اور ادق مسائل کو نہایت، رواں اسلوب سہل و آسان زبان میں اس طرح بیان کردیا ہے کہ تمام باتیں ذہن نشین ہوتی چلی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے خطبات بہاولپورمیں بھی یہی انداز واسلوب ہے۔ تاہم ڈاکٹرمحمدحمیداللہؒ کاامتیازایجازہے اور اصلاً کلیات اور اہم امور کا بیان ہے اور خاص کر مختلف علوم اسلامیہ کی تدوین کی تاریخ پر ترکیز ہے، جبکہ ڈاکٹر غازی نے اپنے خطبات میں پانچوں علوم میں سے ہر علم کے اہم و مہتم بالشان اور ضرورت کے تمام مباحث نہایت جامع وبلیغ انداز میں بیان کردیے ہیں اور دوران تقریر بالکل سامنے کی آسان مثالیں دے کر بحث کو بہت آسان کردیا ہے۔ عصر حاضر میں اسلامیات پر سہل الفہم اور مفید عام کتابیں لکھنے میں سب سے زیادہ شہرت مولانا سیدابو الاعلیٰ مودودی ؒ بانی جماعت اسلامی کو ملی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ بہت سے مباحث پر ڈاکٹر غازی نے سیدمودودیؒ کی متکلمانہ بحث و گفتگو کی یاد تازہ کردی ہے۔
علوم اسلامیہ کا استحضار:
ڈاکٹر غازی کے محاضرات کے سلسلہ کو پڑھنے سے پہلا تاثر یہ قائم ہوتا ہے کہ محاضر ومقرر کا علوم اسلامی کا گہرا استحضار ہے۔ یہ محاضرات انھوں نے ادارہ ’’الہدیٰ‘‘ کی مدرسات کے آگے دیے اور محض چند نوٹس کی مدد سے دیے۔ ان کے سامعین مدرسات تھیں جن میں ظاہر ہے کہ اعلیٰ درجہ کی علمی صلاحیت کا ساتھ ہی متوسط درجہ کی صلاحیت رکھنے والی خواتین بھی ہوں گی۔ان کے سامنے امہات علوم اسلامیہ کی تفصیلات کا تعارف سلیس وسہل انداز میں پیش کرنا کارے دارد تھا،تاہم ڈاکٹر غازی اس مسئلہ سے نہایت عمدہ انداز میں عہدہ بر آ ہوئے۔محاضرات کے علاوہ بھی ان کی دوسری تحریروں میں بھی یہ صفت ظاہر ہے۔
راسخ العقیدہ عالم:
ڈاکٹر غازی اگر چہ متبحر عالم دین تھے مگر ان کی شہرت بطور ایک دانشور کے زیاد ہ تھی۔ ان کا حلقہ تعارف اور حلقۂ احباب میں بھی دانشور، اسکالرز، بین الاقوامی مسلم مشاہیر، چوٹی کے علما و مفکرین اور یونیورسٹی کے اساتذہ نیز حکومت کے ارباب حل وعقد زیادہ تھے۔ ظاہر ہے کہ وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے، وزیر برائے امور مذہبی تھے۔اپنی ان حیثیتوں کے ساتھ ہی وہ ایک راسخ العقیدہ عالم دین تھے۔ ان کے مطالعہ میں وسعت تھی اور ہر علم سے متعلق ان کی اپنی رائے تھی، لیکن ہر رائے قرآن وسنت کے مضبوط وپائدار دلائل پر مبنی ہے۔ تاہم ان کی بعض رایوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’ یہ بات بڑی بنیادی اہمیت رکھتی ہے کہ جن اہل علم نے سب سے پہلے کلامی اورفلسفیانہ نوعیت کے یہ سوالات اٹھائے، وہ اصلاً محدثین تھے۔ مثال کے طورپر امام بخاری، امام احمد بن حنبل اور دوسرے محدثین نے ان سوالات سے بحث کی کہ کلام الٰہی قدیم ہے کہ حادث ہے۔ یہ خالص عقلی اورفلسفیانہ مسئلہ ہے، لیکن امام احمد بن حنبل نے یہ مسئلہ اٹھایاجو ایک محدث ہیں۔‘‘ (۷)
ڈاکٹرصاحب کی اس رائے سے اتفاق کرناذرامشکل ہے کیونکہ صورت حال اس کے برعکس تھی اوروہ یہ کہ مسلمانوں میں کلامی وفلسفیانہ نوعیت کے سوالات پہلے ہی سے اٹھ رہے تھے۔ ان کے محرک وہ یونانی علوم تھے جن کا ترجمہ بڑی شد ومد سے خلافت بنوامیہ کے اخیر اوربنوعباس کے آغاز میں ہورہاتھا۔اس کے علاوہ شعوبی، زندیقی، سبائی تحریکیں اوران سے متاثرفارسی ذہنیت کے نومسلم عناصرتھے۔ معتزلہ ومتکلمین نے ان سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی۔جہاں تک محدثین کی بات ہے تو انہوں نے تومسلمان اہل علم کے کلام ومنطق اورفلسفہ یونانی میں اس انہماک کو غلط ہی سمجھا اوراس پر تنقیدکی۔ پھریہ کیسے کہاجاسکتا ہے کہ انہوں نے عقلی اورفلسفیانہ نوعیت کے سوالات سب سے پہلے اٹھائے ۔
مجتہدانہ سوچ کے مالک مفکر:
اعلیٰ درجہ کا تفکر اور تحقیقی نقطۂ نظرڈاکٹرصاحب کی ہر تحریر سے عیاں ہے۔ اس طرح وسعت مطالعہ اور مسلسل غور وفکر نے ان کی سوچ کو مجتہدانہ بنادیا تھا چنانچہ ایک عالمی فقہ کا تصور اور کسی ایک فقہ میں محصور نہ ہونا ان کی مجتہدانہ فکر کا غماز ہے۔ کا سمو پولیٹن فقہ کے ساتھ ہی حدیث کے بارے میں کہا کہ ’’علم حدیث میں ایک نیا پہلو ایسا ہے جو اس کے سائنسی مطالعہ سے عبارت ہے‘ ‘اور ’’نئے انداز سے علم حدیث کے مجموعے مرتب کرنے کی ضرورت ہے جن میں آج کے دورکے تہذیبی، تمدنی، سیاسی، معاشی، اجتماعی، اخلاقی اورروحانی ضروریات کے مطابق ابواب کی ترتیب اورمضامین کی تقسیم کی جائے اوریوں مجموعے مرتب کیے جائیں۔‘‘ (۸)۔ کتاب کے آخر میں انھوں نے حدیث پر نئے سرے سے کرنے کے کام سمجھائے اور مثالوں سے ان کی وضاحت کی۔ تدریس قرآن کے سلسلہ میں جدید تقاضوں پر گفتگو کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’صحابہ کرام نے کسی فقہی، کلامی یا تفصیلی معاملہ کی طرف کسی کو دعوت نہیں دی۔ دعوت صرف دین کی دی جاتی تھی۔ دعوت شریعت یا دعوت فقہ کبھی نہیں ہوتی تھی‘‘ (۹)۔ اسی طرح ان کا یہ بھی خیال ہے کہ اسلام میں ریاست وحکومت تو براہ راست مطلوب نہیں ہے، لیکن ایک اسلامی معاشرہ اورامت مسلمہ کا قیام یقیناایک دینی فریضہ اورراست مطلوب شرعی ہے۔ (۱۰) انہوں نے مشہورمستشرق ڈاکٹر اسپرنگرکے حوالے سے یہ فکرانگیز خیال بھی ظاہرکیاکہ علم حدیث اورعلم اصول فقہ یہ دونوں اسلام کی ذہانت (geniusness) کازبردست اظہارہیں۔ ان کے الفاظ میں ’’مسلمانوں میں creative Genius کاسب سے اعلیٰ نمونہ علم اصول الفقہ ہے۔ علم حدیث مسلمانوں کی Accumulative Genius کا بے مثال نمونہ ہے۔‘‘ (۱۱)
وسعت نظری و رواداری:
ڈاکٹر صاحب ان چنیدہ صاحبان دانش میں سے ہیں جن کا مطالعہ متنوع اور وسیع ہے۔ وہ زیادہ تر عربی کتابوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔ (۱۲) فرنچ جاننے کی وجہ سے ان کے مطالعہ میں مزید وسعت پیدا ہوگئی، خاص کر مستشرقین کی تحریریں راست ان کے مطالعہ میں آئیں۔ وسعت مطالعہ اور تفکر سے وسعت نظری پیدا ہوتی ہے، چنانچہ ڈاکٹر صاحب کے ہاں وسعت نظری اور رواداری پیدا ہوگئی۔ وہ حنفی تھے لیکن متشدد وکٹر قسم کے حنفی نہیں۔ان سے سوال کیاگیاکہ کیاحنفی کی نماز شافعی کے پیچھے ہوجائے گی،بعض لوگ منع کرتے ہیں۔اس سوا ل کے جواب میں وہ کہتے ہیں:
’’فقہ اسلامی میں ایساکوئی حکم موجود نہیں ہے۔ جس نے بھی ایسا کہا، فضول بات کی ہے اوربالکل غلط کہی ہے۔ جس مسلک کا امام نماز پڑھا رہا ہو، آپ بے تکلف وبے تردد اس کے پیچھے نماز پڑھ لیں۔ اگرآج امام شافعی یہاں تشریف لے آئیں تو میں کسی آدمی کو نماز پڑھانے نہیں دوں گا۔ خود بھی امام شافعی کے پیچھے نماز پڑھوں گا اور دوسروں سے بھی کہوں گا کہ امام شافعی کے پیچھے نماز پڑھیں۔‘‘ (۱۳)
اسی طرح وہ سنی تھے، راسخ العقیدہ سنی۔ ایک صاحب نے لکھا ہے کہ پی ایچ ڈی کے مقالہ میں ان کے ایک ایرانی ممتحن نے منفی رپورٹ لکھی تھی۔ اس کے باوجود وہ نہ صرف کافی حدتک مسلکی رواداری کا اظہار کرتے تھے بلکہ فقہ جعفری کے مطالعہ کا مشورہ بھی دیتے تھے۔ شیعوں کی تکفیرکے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہتے ہیں:
’’یہ بڑی غیر ذمہ داری کی بات ہے۔ جو لوگ یہ باتیں کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے۔ ان کو یہ باتیں نہیں کہنی چاہییں۔ یہ دنیائے اسلام میں ایک ٹائم بم رکھنے کے مترادف ہے۔ شیعہ حضرات آج سے نہیں ہیں، کم سے کم تیرہ سو برس سے چلے آرہے ہیں۔ کبھی بھی مسلمانوں نے ان کو کافر نہیں کہا۔بڑے بڑے اہل علم نے شیعہ عقائد کا مطالعہ کیا تو ان کو غلط تو کہا، ان پر تنقید تو کی اور ان کمزوریاں واضح کیں، لیکن کسی یہ نہیں کہا کہ شیعہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ لہٰذا یہ بات جو پچھلے پندرہ بیس سالوں سے پیداہوگئی ہے، اس نے دنیاے اسلام میں بڑافساد پیدا کیا ہے۔ میرے نزدیک شیعوں کے عقائد غلط ہیں، اسلام کے مطابق نہیں ہیں۔ بس، بات ختم ہوگئی۔‘‘ (۱۴)
معتدل فکرو اسلوب:
وسعت نظری اور جامعیت سے فکر میں اعتدال پیدا ہوا۔ الہدیٰ ایک ایسا ادارہ ہے جس کے تحت خواتین قرآن و حدیث کے دروس کا اہتمام کرتی ہیں۔ ان پر بعض علما نے اعتراض کیا تو اس کے جواب میں کہتے ہیں :
’’بعض علماے کرام کے بارے میں، میں نے سنا ہے کہ ان کہناہے کہ تدریس قرآن کے لیے پہلے مدرسہ کا دس سالہ نصاب مکمل کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس کے بعد ہی تدریس قرآن میں مصروف ہونا چاہیے ۔۔۔میں اس خیال سے اتفاق نہیں کرتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ قرآن مجید کو نہ بنیادکی ضرورت ہے نہ بے ساکھیوں کی۔ قرآن مجید خود بنیادفراہم کرتاہے، دیواریں بھی اورتعلیم کی بھی تکمیل کر دیتا ہے۔‘‘ (۱۵)
اسی طرح یہ اعتدال ان کے اسلوب تقریر وتحریر سے بھی مترشح ہوتا ہے۔ وہ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے بھی نہایت انکساری سے کہتے ہیں: ’’میری رائے یہ ہے، ہوسکتا ہے غلط ہو‘‘۔ اسی طرح کسی شخص یا فکر کی تردید میں بھی اسلوب کا دھیماپن صاف نظر آتا ہے۔ شدت، تعصب اور تعلی ان کے قریب بھی نہیں بھٹکتی، البتہ ان کے لب ولہجہ سے علمی اعتماد ضرور ٹپکتا ہے۔ انھوں نے انصاف پسندی کا ثبوت دیا ہے کہ مستشرقین پر تنقیدیں بھی کی ہیں تو ان کی خدمات کا اعتراف بھی کیا ہے۔ (۱۶) چہرے کے پردے کے بارے میں معتدل رائے کا اظہار کیا ہے۔ (۱۷)
متحرک وفعال زندگی :
ڈاکٹر صاحب موصوف نے صرف ساٹھ سال کی عمر پائی اور علمی حیثیت سے نہایت اعلیٰ اور بڑے سے بڑے عہدے پر پہنچے۔ انھوں نے پوری زندگی اسلام کی خدمت کے لیے وقف کرر کھی تھی۔ چنانچہ علمی میدان میں اور وزارت نیز جج کے اعلیٰ عہدوں پر رہ کربھی اسلام کی خدمت کی اور دانشوری کی روایت میں ایک گوہر نایاب بن کر چمکے۔ اپنی اعلیٰ حیثیت میں انھوں نے ۱۰۰ سے زیادہ قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں ومذاکروں میں شرکت کی اور پچاسوں ممالک کے سفر بھی کیے۔ ۱۹۸۷ سے ۱۹۹۴ تک اسلام آباد کی فیصل مسجد کے خطیب اوراسلامی سینٹرواقع فیصل مسجد کے ڈائرکٹر کے فرائض انجام دیے۔ اسی طرح نیشنل ہجرہ کونسل کے عالمی مشاورتی بورڈ کے ممبر رہے۔ (۱۸) طالب علمی کے دوران ان کا تعلق پاکستان کی معروف طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے بھی رہا جس کا فکری رشتہ جماعت اسلامی سے ہے۔ ۱۹۸۴ میں وہ اس کمیٹی کے رکن مقرر ہوئے جس نے پاکستان میں اہانت رسول کی سزاکا تعین کیا۔ وہ کچھ عرصہ جنرل ضیاء الحق کے عربی مترجم بھی رہے۔اس کے علاوہ التجمع العالمی للعلماء المسلمین(مکہ مکرمہ) کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر نیز علامہ یوسف القرضاوی کی قیادت میں الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین (قاہرہ مصر)کے رکن اوراسی طرح ادارہ مجمع التقریب بین المذاہب الاسلامیہ ایران کے رکن تھے۔ (۱۹)
جدید موضوعات:
علوم اسلامیہ قرآن، حدیث، فقہ وسیرت تو ان کے مطالعہ کی جولان گاہ تھے ہی، انھوں نے بالکل جدید موضوعات پر بھی قلم اٹھایا،چنانچہ گلوبلائزیشن پر عربی میں العولمۃ کے نام سے کتاب لکھی جو بیروت سے شائع ہوئی۔ انہوں نے مجدد الف ثانیؒ اور اقبالؒ کا بھی خاصا کام عربی میں کیا۔ اقبال کے خطبات اور ان کی شاعری کا عربی میں ترجمہ کیا۔ اسی طرح ’’الحرکۃ المجددیہ‘‘ کے نام سے کتاب لکھی اور مجدد ؒ صاحب کے متعدد خطوط کا بھی عربی میں ترجمہ کیا۔ برصغیر میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے ساتھ ہی افریقہ کی ایک اہم تحریک ’’السنوسیہ‘‘ کا تعارف بھی کرایا۔ انھوں نے اسلام کے قانون بین الاقوام اور اسلامک انٹر نیشنل لا پر کتابیں لکھیں اور اسلام میں ریاست اور قانون سازی کا تعارف کرایا۔ موجودہ زمانہ میں خلافت کے تصور کو کسی طرح عملاً برتا جاسکتا ہے، اس کا نقشہ بھی انھوں نے پیش کیا اور اس طرح اسلام کے سیاسی فکر میں اضافہ کیا۔
عالمی فقہ کا تصور:
بیسویں صدی علوم اسلامی کی نشاۃ ثانیہ کی صدی ہے۔ اس میں حدیث، تفسیر اور فقہ پر نئے انداز و اسلوب میں زبردست کام ہوئے ہیں۔ خاص کر عالم عرب میں مختلف اسلامی ممالک نے اس سلسلہ میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھایا اور نئی فقہ وجود پذیر ہونے لگی جس کا دائرہ ابھی فقہ کے ماہرین، اسکالروں اور طلبہ تک محدود ہے۔ عوام تک اس کے اثرات ابھی منتقل ہونے شروع ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر غازی لکھتے ہیں:
’’دنیائے اسلام کے لوگوں نے ایک دوسرے سے استفادہ شروع کیا۔ ایران کے تجربات سے پاکستان نے فائدہ اٹھایا۔ پاکستان سے سوڈان نے استفادہ کیا۔ سعودی عرب سے مصر نے استفادہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فقہی مسالک کی جو حدود تھیں، وہ ایک ایک کرکے دھندلانے لگیں۔ اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا ے اسلام میں باہمی مشاورت اور اشتراک عمل سے یہ اجتہادی کام کیا جارہا ہے۔ اسی اجتماعی اجتہاد کے نتیجہ میں فقہی مسالک کی حدود مٹ رہی ہیں۔ ایک نئی فقہ وجود میں آرہی ہے جس کو نہ حنفی فقہ کہ سکتے ہیں نہ مالکی، نہ حنبلی، نہ جعفری بلکہ اس کواسلامی فقہ ہی کہا جائے گا۔ میں اس کے لیے Cosmopolitan Fiqh یعنی عالمی یا ہر دیسی فقہ کی اصطلاح استعمال کرتا ہوں۔‘‘ (۲۰)
اس کے بعد انھوں نے بینکاری اور مالیاتی اور بین الاقوامی تجارت و کاروبار کے حوالہ سے اپنے اس تصور کی مزید وضاحت کی ہے۔ ۱۹۸۰ء میں بینکاری کے اسلامی نظام کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک رپورٹ پیش کی جس میں شیعہ، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور کوئی مسلک نہ رکھنے والے سب علما متفقہ طور پر شریک ہوئے تھے۔ اس پر وہ لکھتے ہیں کہ:
’’ظاہر ہے کہ یہ رپورٹ محض فقہ حنفی کی بنیاد پر نہیں ہے اور نہ اس دستاویز کو فقہ حنفی کے لٹریچرکا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی نہیں کہاجاسکتا ہے کہ فقہ شافعی کی بنیاد پر تیار ہوئی ہے۔ یہ فقہ زیدی یا فقہ جعفری کی بنیاد پر بھی نہیں ہے۔ اس لیے تمام فقہا اور تما م فقہی مسالک کے ماننے والوں نے اس سے اتفاق کیا۔ اس کا عربی، ملائی ، بنگلہ اور اردو وغیر میں ترجمہ ہوا اور دنیا میں ہر جگہ اس سے استفادہ کیا گیا‘‘۔ (۲۱)
اس طرح کی اور بھی مثالیں انھوں نے دی ہیں اور اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ’’موجودہ حالات میں کسی متعین فقہی مسلک کی پابندی پبلک کی حد تک بہت مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف فقہوں میں بعض ایسے اجتہادات ہوتے ہیں جو آج کے دور میں مشکل معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ (۲۲)
عصر جدید کے جو پیچیدہ مسائل ہیں، ان کے حل کے لیے بعض اوقات عدم تقلید اور اجتہادی صلاحیت سے کام لینا ناگزیز ہوجاتا ہے، تاہم یہ ہے انتہائی نازک اور احتیاط کا متقاضی کام اور ہر شخص کو اس کی کھلی چھوٹ نہیں دی جاسکتی ۔ اس نزاکت کاادراک ڈاکٹر صاحب کو بخوبی ہے۔ وہ کہتے ہیں:
’’ یہ اتنے بڑے اور پیچیدہ مسائل ہیں کہ کسی ایک فقہ کے دائرہ میں رہتے ہوئے ان کاحل تلاش کرنا مشکل ہے۔ بعض جگہ ایسا بھی ہوا ہے کہ چار مشہور فقہی مسلکوں کے دائرے سے نکل کر دیکھنا پڑا۔ بعض جگہ براہ راست قرآن وسنت کی نصوص سے استنباط کرکے تمام فقہا یا زیادہ تر فقہا کے نقطۂ نظر کو نظر انداز کرنا پڑا۔ یہ کام اتنا آسان نہیں کہ ہر کس وناکس اس کا بیڑا اٹھا سکے۔‘‘ (۲۳)
ظاہر ہے کہ ایسے مقامات پر اجتماعی اجتہاد تفصیلی غور و خوض، احساس ذمہ داری، تقویٰ و خدا ترسی اور از حد احتیاط کی ضرورت ہے۔ تبھی ممکن ہے کہ امت کو فقہی انار کی یا فتوے بازی کی انار کی سے نکلا جاسکے، جیسا کہ بد قسمتی سے برصغیر میں یہ .فضا بنی ہوئی ہے۔
دوبڑے چیلنج :
ڈاکٹر غازی کے نزدیک آج کے دو بڑے چیلنج ہیں: ایک چیلنج ملٹی نیشنل کمپنیوں اورمالیاتی اداروں کا ہے جس کا جواب مسلمان تیار کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں۔ دوسراچیلنج میڈیاکا چیلنج ہے۔ میڈیاکی یلغاراتنی تیزی، شدت اور سرعت سے ہو رہی ہے کہ بیت اللہ میں بیٹھ کرآپ دنیاکے دو ڈھائی سو چینل دیکھ سکتے ہیں۔ اس لیے یہ توقع کرنا یایہ مطالبہ کرناکہ یہ چینل بند کیے جائیں اوران کو ختم کیاجائے، ایک غیرحقیقت پسندانہ مطالبہ ہے۔ آج سے پچاس برس پہلے یہ بات ممکن تھی کہ آپ اپنے گھر میں بیٹھ جائیں اوردنیاکے ہرفتنہ سے اوردین وتہذیب پر اثراندازہونے والی ہر چیز سے محفوظ ہوجائیں۔یہ تو کوئی جواب نہیں کہ آپ اپنے گھرمیں تالا لگا دیں اور پردہ ڈال کر بیٹھ جائیں۔ سیلاب پردے ڈالنے سے نہیں رکتا، تالے ڈالنے سے نہیں رکتا۔ یہ دوسراچیلنج ہے جس کا جواب دینا ابھی باقی ہے۔ مسلمانوں میں جو میڈیا کے ماہرین ہیں، ان کو اس سلسلہ میں غوروخوض کرناچاہیے۔
ایک اہم فکری نکتہ:
بیسویں صدی میں ایک نیاظاہرہ (phenomenon) دین کی سیاسی تعبیرکا پیش آیا۔ بعض مسلم مفکرین اور مصنفین کے ہاں سیاست پر بہت زیادہ زور دیا گیا۔ اس کے بعض خارجی اسباب ہیں، اس کے کچھ مثبت پہلوبھی ہیں۔ اس سلسلہ میں ڈاکٹرغازی نے اپنی رائے یوں دی ہے جس میں سبب، مثبت پہلوپرتبصرہ کے ساتھ ہی انہوں ایک گونہ اس پر نظرثانی کی دعوت بھی دی ہے:
’’سو ڈیڑھ سو سال پہلے تک ایک زمانہ ایسا تھا جب لوگوں کی زندگی میں بنیادی کردار ریاست کا ہوا کرتا تھا۔ ریاست نظریہ کی علمبرداراورمحافظ ہوتی تھی، ریاست نظریہ کو فروغ دینے کا کام کرتی تھی۔ کمیونسٹ ریاست بنی، اس نے کمیونسٹ نظریہ کو فروغ دیا۔۔۔اس زمانہ کے مسلم مفکرین کو خیال آیاکہ جس طرح مغربی ریاستیں اپنے نظریات کو پھیلارہی ہیں، اسی طرح اگرایک بڑی مضبوط اسلامی ریاست قائم کی جائے جواسلامی نظریات کو پھیلائے اور ان کو فروغ دینے کا کام کرے تو اسلامی نظریات کو بھی اسی طرح فروغ حاصل ہوجائے گا۔اس تصور کے پیش نظر بیسویں صدی کے مفکرین اسلام کے نزدیک اسلامی ریاست کو بہت اہمیت حاصل ہوگئی اوراحیاے اسلام کے عمل میں اسلامی ریاست کا قیام بنیادی حیثیت کا حامل قرار پاگیا۔ ریاست ان کی فکر کا اصل اورمرکزی نکتہ بن گئی، ان کی ساری توجہ اسلامی ریاست کے قیام پر مرکوز ہوگئی ۔۔۔ لیکن اس فکر کا ایک مثبت فائدہ یہ ہواکہ اسلامی ریاست کے بارے میں بہت سا علمی اورتحقیقی کام سامنے آگیا۔۔۔ دوسری طرف دنیا میں یہ ہواکہ ریاست کی مرکزیت ختم ہوگئی۔ سویت یونین کو زوال آگیا۔ کمیونزم ایک نظریہ کے طورپر دنیاسے ختم ہوگیا۔۔۔اب جو ادارے اپنے نظریات کو فروغ دے رہے ہیں، وہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اوربڑے بڑے بینک ہیں۔ ورلڈ بینک اورآئی ایم ایف وہ ادارے ہیں جو غیرریاستی ادارے ہیں، لیکن مالیات اورتجارت ان کے ہاتھ میں ہے۔اس وقت دنیاکے مستقبل کو بنانے اوربگاڑنے کا یادنیائے اسلام کو کنٹرول میں کرنے کاجوسب سے بڑاذریعہ ہیں، وہ یہ ملٹی نیشنل ادارے اورکارپوریشنز ہیں ۔ان کے پاس دنیاکی معاشی زندگی کی لگامیں ہیں، ان کے پاس دنیاکے معاشی وسائل اورمالیاتی خزانوں کی کنجیاں ہیں۔۔۔ اس لیے بظاہر ایسامعلوم ہوتاہے کہ آئندہ آنے والے سالوں میں ریاست کا کرداربنیادی نہیں ہوگا، بلکہ ان اداروں کا کرداربنیادی ہوگا۔‘‘(۲۴)
خاکسار راقم یہ سمجھتا ہے کہ سیاسی اسلام کے نمائندوں کو اس رائے پر، جوان کے کسی ناقد کی طرف سے نہیں بلکہ ہمدردکی طرف سے آئی ہے، ضرور غور و فکر کرنا چاہیے۔
مصادرومراجع:
(۱) سید منصورآغا ، جدید خبر اردوروزنامہ، نئی دہلی بھارت، ۲۸ ستمبر ۲۰۱۰ء
(۲) ایضاً (۳) ایضاً (۴) یہ معلومات انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں ۔ (۵) ایضاً (۶) ایضاً
(۷) محمود احمد غازی ،ڈاکٹر، محاضرات حدیث، الفیصل غزنی اسٹریٹ لاہور طبع دوم دسمبر ۲۰۰۵ صفحہ ۶۹
(۸) محمود احمد غازی ،ڈاکٹر، محاضرات حدیث، الفیصل غزنی اسٹریٹ لاہور طبع دوم دسمبر ۲۰۰۵ صفحہ۴۵۷
(۹) محمود احمد غازی ،ڈاکٹر، محاضرات قرآنی، الفیصل غزنی اسٹریٹ لاہور طبع جولائی ۲۰۰۴ صفحہ ۳۸۲
(۱۰) محمود احمد غازی ،ڈاکٹر،محاضرات فقہ الفیصل غزنی اسٹریٹ لاہور طبع جون ۲۰۰۵ صفحہ ۱۷۰
(۱۱) محاضرات حدیث صفحہ ۲۸۔ نیز محاضرات فقہ میں ایک جگہ لکھتے ہیں: بعض جدید مصنفین نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کی عقلی منہاجیات یعنی intellectual methodology جس فن میں سب سے زیادہ نمایاں ہوکرسامنے آتی ہے وہ، علم اصول فقہ ہے۔ دیکھیے صفحہ ۶۰
(۱۲) محمود احمد غازی ،ڈاکٹر،محاضرات حدیث، الفیصل غزنی اسٹریٹ لاہور طبع دوم دسمبر ۲۰۰۵ صفحہ ۹۰
(۱۳) محمود احمد غازی ،ڈاکٹر،محاضرات فقہ، الفیصل غزنی اسٹریٹ لاہور طبع جون ۲۰۰۵ ص ۵۱۰
(۱۴) ایضاً (۱۵) محاضرات قرآنی، صفحہ ۴۳
(۱۶) لکھتے ہیں: ’’تیسرانقطۂ نظر یہ ہے جو مجھے بھی ذاتی دلائل وغیرہ کو دیکھ کردرست معلوم ہوتاہے۔ وہ یہ کہ چہرہ کا ڈھکنا توافضل اورعزیمت ہے، لیکن کھولنے کی اجازت ہے۔‘‘ دیکھیں محاضرات حدیث صفحہ ۴۶۴۔
(۱۷) ملاحظہ ہو ،محاضرات حدیث صفحہ۴۴۳۔
(۱۸) انٹرنیٹ سے (۱۹) انٹرنیٹ سے
(۲۰) محمود احمد غازی ،ڈاکٹر،محاضرات فقہ الفیصل غزنی اسٹریٹ لاہور طبع جون ۲۰۰۵ صفحہ ۵۳۴
(۲۱) محمود احمد غازی ،ڈاکٹر،محاضرات فقہ الفیصل غزنی اسٹریٹ لاہور طبع جون ۲۰۰۵ صفحہ ۵۳۴
(۲۲) ایضاً صفحہ ۵۳۵ (۲۳) ایضاً، صفحہ ۳۸ (۲۴) ایضاً، محاضرات فقہ صفحہ ۵۴۳
ڈاکٹر غازی مرحوم ۔ فکر و نظر کے چند گوشے
ڈاکٹر محمد شہباز منج
تحمل، برداشت، محبت، وسیع النظری، بلند نگہی، شیریں بیانی، جذب دروں، خوداعتمادی، علم کی گہرائی و گیرائی، اپنے علمی وتہذیبی ورثے پر فخر اور دوسروں میں یہ فخر پیدا کر دینے کا ہنر، ایسا شخص آج کی اس خانماں خراب ملتِ اسلامیہ میں، خداوندِ قدوس کی نعمتِ عظمی ہی تو تھا۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ عصر حاضر کے تہذیبی مزاج و نفسیات کے تناظر میں اہل اسلام کی رہنمائی اور امت کو درپیش جدید اندرونی و بیرونی اور فکری و تہذیبی چیلنجز کے مقابلہ کے لیے مطلوب اعلیٰ وژن اور اپروچ اور پختگی و ثقاہتِ علم وفکر کے حامل تھے۔ امت مرحومہ کو آج ایسے ہی مردانِ کار چاہییں مگر افسوس کہ یہ ڈھونڈے نہیں ملتے۔ ڈاکٹر غازی مرحوم کی رحلت سے محاورۃً نہیں واقعتا ایک غیر معمولی خلا پیدا ہو گیا ہے۔
و ماکان قیس ھلکہ ھلک واحد
ولکنہ بنیان قوم تھدما
’’قیس کامرنا ایک فرد کا مرنا نہیں، پوری قوم کی بنیاد کا منہدم ہو جانا ہے۔‘‘
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ڈاکٹر غازی ایسے لوگوں کوخراج تحسین تو پیش کرتے ہیں لیکن ان کے وژن اور فکر سے رہنمائی حاصل نہیں کرتے۔حالانکہ ایسے بڑے لوگوں کو بہترین خراج تحسین یہ ہوتا ہے کہ ان کے افکار سے رہنمائی حاصل کر کے ان کے آدرشوں کی تکمیل کی کوشش کی جائے۔ میں یہاں ڈاکٹر صاحب کی فکر کے چند گوشوں کو سامنے لاکرملت کی تقدیربدلنے کی خواہش رکھنے والوں اور اسلام اور عالم اسلام کے بہی خواہوں کواس سے رہنمائی حاصل کرکے ڈاکٹر صاحب کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی اپنی سی کوشش کرنے کی دعوت دینا چاہتا ہوں۔
کتاب وسنت سے گہرے ربط اور ان بحر ہاے معانی میں غواصی کی ضرورت
ڈاکٹر غازی فرماتے ہیں:
’’ہمارااللہ کی کتاب اور اس کی حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے رابطہ سطحی اور رسمی سا رہ گیا ہے۔اسی لیے یہ ہم پر اپنے دروازے وا نہیں کرتے۔قرآن سے گہرے ربط کے لیے ڈاکٹر صاحب مرحوم نے اقبالؒ کے توسط سے جو طریقہ بتایا ہے، وہ نوجوانان ملت کے لیے قابل تقلید ہے۔کہتے ہیں:علامہ ؒ نے لکھا ہے کہ نوجوانی کے زمانے میں میرا معمول تھا کہ فجر کی نماز کے بعدروزانہ قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتا۔ایک روز تلاوت میں مشغول تھاکہ والد گرامی پاس سے گذرے اور فرمانے لگے : کیا کر رہے ہو؟میں نے عرض کیا : قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہوں۔وہ خاموش رہے اور چلے گئے۔اگلے روز پھر ایسا ہی ہوا۔یہ معاملہ کئی دن رہا ۔ایک دن میں نے عرض کیا:آپ روزانہ پوچھتے ہیں حالانکہ آپ دیکھتے ہیں کہ میں قرآن کی تلاوت کر رہا ہوں۔فرمانے لگے:دیکھو! جب تم کلام پاک پڑھا کروتو اس شعور واحساس سے کے ساتھ پڑھا کروکہ اللہ تعالیٰ براہ راست تمہی سے ہم کلام ہے۔
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف‘‘
(محاضرات قرآنی،ص۳۹)
کتاب اللہ سے ربط پیدا کرکے اس لامتناہی سمندر سے گوہر ہائے معانی نکالنے کے کتنے وسیع امکانات ہیں، اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ، ڈاکٹرحمیداللہ مرحوم کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص اسلام قبول کرنے کے لیے آیا ۔ڈاکٹر حمیداللہ نے، جیسا کہ وہ اپنے پاس قبولِ اسلام کے لیے آنے والے ہر شخص سے پوچھا کرتے تھے، اُس سے سوال کیاکہ اسے اسلام کی کس چیز نے متاثر کیا؟اس نے کہا:میں فرانسیسی دنیا کا سب سے بڑا اورمقبول موسیقار ہوں۔آج سے چند روز قبل مجھے ایک عرب سفیر کے ہاں کھانے کی دعوت پر جانے کا موقع ملا۔وہاں موجود لوگ ایک خاص انداز کی موسیقی سن رہے تھے۔مجھے وہ دنیائے موسیقی کی سب سے اونچی چیز محسوس ہوئی۔میری ایجاد کردہ دھنوں اور ان کے نشیب وفراز سے بھی بہت آگے کی چیز،جہاں تک پہنچنے کے لیے دنیائے موسیقی کو ابھی بہت وقت درکار ہے۔میں حیران تھا کہ آخر یہ موسیقی اوراس کی دھنیں کس نے ترتیب دیں؟میں نے لوگوں سے بار باراس سے متعلق پو چھنا چاہا لیکن انہوں نے ہر بار مجھے اشارہ سے خاموش کر دیا۔ڈاکٹر حمیداللہ فرماتے ہیں کہ اس دوران وہ موسیقی کی بعض اصطلاحات بھی استعمال کر رہا تھا ،جن سے میں واقف نہ تھا۔جب وہ موسیقی بند ہو گئی تواس کے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ موسیقی نہیں ،قرآن حکیم کی تلاوت تھی ۔ فلاں قاری صاحب تلاوت کر رہے تھے، اور موسیقی کی تو وہ ابجد سے بھی واقف نہیں۔لیکن اس کو یقین نہ آیا ۔اس کا کہنا تھا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی نہ ہوں ۔اسے سمجھایا گیا کہ یہ فن تجوید وقرأت ہے۔وہ کہنے لگا :یہ فن کب ایجاد ہوا ؟ اسے بتایا گیا کہ چودہ سو سال پہلے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایسے ہی قرآن سکھایا تھا۔اس پر وہ گویا ہوا:اگر ایسے ہی ہے تو پھر بلاشبہ یہ اللہ کی کتاب ہے ۔پھر اس نے کئی جگہوں پر جاکر اور کئی قاریوں کی تلاوت سنی اور اب قرآن کے اللہ کی کتاب ہونے کا یقین حاصل کر کے مسلمان ہونے کے لیے ڈاکٹر صاحب کے سامنے تھا۔
ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے اسے مسلمان کرلیااور پیرس میں زیر تعلیم ایک الجزائری مسلمان کو اس کی دینی تعلیم کے لیے مقرر کردیا۔کچھ عرصہ بعد وہ دونوں میرے پاس آئے۔الجزائری معلم نے بتایا کہ یہ قرآ ن سے متعلق کچھ شک کا اظہار کر رہا ہے۔میں نے سوچا کہ یہ جس بنیاد پر مسلمان ہوا تھا وہ بنیاد ہی میری سمجھ میں نہیں آئی تھی، لہٰذا اس کے شک کا میں کیا جواب دوں گا۔ لیکن اللہ کے بھروسے پر میں نے پوچھا :بتاؤ کیا مسئلہ ہے ؟وہ موسیقار بولا:معلم صاحب نے مجھے سورہ نصر پڑھائی ہے ۔اس میں افواجا اور فسبح کے درمیان خلا ہے ۔معلوم ہوتا ہے یہاں کوئی چیز حذف ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں :ایک لمحے کو میرے پاؤ ں تلے سے زمین نکل گئی۔ دنیاے اسلام پر نگاہ دوڑائی، لیکن کوئی ایسا شخص نظر نہ آیا جو فن تجوید اور موسیقی دونوں کا ماہر ہو اور اس کا شک دور کر سکے۔ میں چند سیکنڈ شش و پنج میں رہا، پھر اچانک اللہ نے میرے ذہن میں ایک پرانی بات ڈالی ۔بچپن میں جب مکتب میں قرآن پڑھا کرتا تھا، تو میرے معلم نے مجھے بتایا تھا کہ افواجا پر وقف نہیں کرنا بلکہ آگے ملا کر پڑھنا ہے۔ایک مرتبہ میں نے افواجا پر وقف کیا تھا تو انہوں نے مجھے سزا بھی دی تھی ۔میں نے سوچا شاید اسی بات سے اس کا شبہ دور ہو جائے۔میں نے اس سے کہا کہ آپ کے معلم تجوید کے اتنے ماہر نہیں ہیں۔دراصل یہاں لفظ افواجا کو غنہ کے ساتھ فسبح سے ملا کر پڑھا جائے گا۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ یہ سن کر وہ خوشی سے اچھل پڑا اور مجھے گود میں لے کر کمرے میں ناچنے لگااور کہا کہ واقعی ایسا ہی ہونا چاہیے ۔یہ سن کر میں نے اسے ایک اور قاری کے سپرد کر دیا ۔وہ وقتاً فوقتاً مجھ ملتا اور بہت سر دھنتا کہ واقعی یہ اللہ کی کتاب ہے۔وہ ایک اچھا مسلمان ثابت ہوا اور ایک کامیاب زند گی گزار کر ۱۹۷۰ء میں فوت ہوا۔ (محاضرات قرآنی۔ص۲۲۷۔۲۳۰)
قرآن کی اسی معجز نمائی کے حوالے سے ڈاکٹر غازی مرحوم نے فرانسیسی سائنسدان ڈاکٹر موریس بکائی کا ذکر بھی کیا ہے۔ ان کا بیان ہے کہ ڈاکٹر بکائی نے اپنے قرآن کی حقانیت پر ایمان لانے سے متعلق اپنے تاثرات بذات خود ان سے بیان کیے۔ نامور ہارٹ اسپیشلسٹ اور فرانس کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدرکے طور پر فرائض سرانجام دینے والے ڈاکٹر بکائی سعودی عرب کے شاہ فیصل مرحوم کے ذاتی معالج تھے ۔انہیں وقتاً فوقتاً ریاض جانے کا اتفاق ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ سرکاری مہمان کے طور ریاض میں ایک ہوٹل میں قیام پذیرتھے۔ان کے کمرے میں انگریزی ترجمہ کے ساتھ قرآن مجید کا ایک نسخہ پڑا ہوا تھا۔ شاہ سے ملاقات کا انتظار تھا۔ انہوں نے وقت گزاری کے لیے اس نسخہ قرآنی کی ورق گردانی شروع کر دی۔اس سے پہلے عام عیسائیوں کی طرح انہیں بھی قرآن کو پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ اس ورق گردانی کے دوران انہیں محسوس ہوا کہ قرآن میں بعض بیانات سائنسی نوعیت کے بھی ہیں۔ایک سائنسدان اور میڈیکل ڈاکٹر ہونے کے ناطے انہیں یہ بیانات دلچسپ لگے۔انہوں نے قرآن کو باربار پڑھا اور ایسے بیانات نوٹ کر لیے۔ انہیں خیال آیاکہ اگر ایسے ہی بعض بیانا ت بائبل میں بھی ہوں اورسائنس کی روشنی میں قرآن اور بائبل کے بیانات کا تقابل کیا جائے تو ایک دلچسپ سٹڈ ی سامنے آسکتی ہے۔پیرس واپس جاکر انہوں نے بائبل سے بھی اس نوعیت کے بیانات نوٹ کر لیے ۔اب دونوں کاتقابلی مطالعہ شروع کیا۔ عیسائی ہونے کی بنا پر قرآن سے انہیں کسی نوع کی عقیدت نہ تھی۔معروضی مطالعہ کی روشنی میں وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ قرآن کے سائنسی نوعیت کے تمام بیانات سو فیصد درست جبکہ بائبل کے بہت سے بیانات غلط تھے۔ ان کی یہ تحقیقی کاوش The Bible, The Quran and Science کے نام سے سامنے آئی،جس کا دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ قرآن کی حقانیت کے اس تجربی ثبوت نے ان کو اسلام کی صداقت کو ماننے پرآماد ہ کیا اور بالآخر انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ (محاضرات حدیث،ص۴۴۹۔۴۵۰، محاضرات قرآنی،ص۴۳۔۴۴)
یہ اور اس طرح کے دیگر دلچسپ واقعات کے تذکرہ سے ڈاکٹر غازی مرحوم کا مقصود صاحبان فکر ونظر کے لیے قرآن کے بحر ناپیدا کنار میں غواصی کی تحریک و تشویق پیدا کرنا تھاکہ
صد جہانِ تازہ در آیات او ست
عصرہا پیچیدہ در آیات او ست
قرآن کے ساتھ ساتھ حدیث نبوی کے اندر بھی معانی ومفاہیم اور امکانات کی کئی دنیائیں آباد ہیں ۔ڈاکٹر صاحب نے اس حوالے سے بھی بہت دلچسپ حقائق بیان کیے ہیں۔ ایک واقعہ سائنس کے طالب علموں اور جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث ہوگا ۔یہ واقعہ بھی ڈاکٹر صاحب مرحوم نے ڈاکٹر حمیداللہؒ سے روایت کیا ہے۔ڈاکٹر موریس بکائی نے بخاری ؒ کی سو احادیث منتخب کرکے ان کا جدیدسائنسی تحقیق کی روشنی میں جائزہ لیا۔اس جائزہ پر مبنی مقالہ شائع کرنے سے قبل وہ ڈاکٹر حمیداللہ کے پاس لائے۔انہوں نے دیکھا کہ منتخب کردہ احادیث کے سو بیانات میں سے اٹھانوے کو تو ڈاکٹر بکائی نے درست قرار دیا تھا ،لیکن دو کوغلط بتایا تھا۔ان دو بیانات میں سے ایک یہ تھا کہ جب کھانے میں کوئی مکھی گر جائے تو اس کو پورا اندر ڈبو کر نکال لو کہ مکھی کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفاہوتی ہے ۔جب وہ گرتی ہے تو بیماری والاحصہ کھانے میں پہلے ڈالتی ہے،تم دوسرا پر بھی ڈبو لو تا کہ شفا والا حصہ بھی کھانے میں ڈوب جائے۔ ڈاکٹر بکائی کا خیال تھا کہ مکھی کے کسی پر میں شفا نہیں ہوتی، وہ تو گندی چیز ہے ۔دوسر ی بات جو بکائی کے نزدیک غلط تھی، وہ یہ تھی کہ بنی عرینہ کے لوگوں کومدینہ میں آکر ایک بیماری لگ گئی ۔اس بیماری سے ان کے رنگ زرد ہو گئے،پیٹ پھول گئے اور ایک خاص انداز کابخارگویازردبخار ہو گیا۔حضورؐ نے ان سے فرمایا:تم مدینے سے باہر فلاں جگہ چلے جاؤ۔وہاں رہو اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیو۔ڈاکٹر بکائی کا موقف تھا کہ پیشاب تو جسم کا Refuse ہے ،اس سے علاج کا تو سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔ڈاکٹر حمیداللہ نے ڈاکٹر بکائی سے کہا:میں سائنسدان تو نہیں ہوں، البتہ ایک عام آدمی کے طور پر میرے کچھ شبہات ہیں، اگر آپ وہ دور کردیں تو پھر بے شک اپنی اس تحقیق کو اپنے اعتراضات کے ساتھ شائع کر دیں۔ ایک یہ کہ سائنسدان جب تجربات کرتے ہیں تو ایک تجربے کے دوبار صحیح ثابت ہونے پر اسے پچاس فیصد درجہ دیتے ہیں، تین چار مرتبہ صحیح ہونے پر اس کا درجہ بڑھ جاتا ہے، چار پانچ مرتبہ کے تجربہ کے بعد کہا جاتا ہے کہ فلاں بات سو فیصد صحیح ثابت ہوگئی، حالانکہ سو بارتجربہ نہیں کیا ہوتا۔ ڈاکٹر بکائی نے اس بات کو تسلیم کیا تو ڈاکٹر حمیداللہ نے کہا:پھر جب آپ نے صحیح بخاری کے سو میں سے اٹھانوے بیانات تجربہ کر کے درست قرار دیے ہیں تو سائنسی اصو ل کی روشنی میں آپ کو بقیہ دو بیانات بھی درست ماننے چاہییں۔ دوسری بات یہ کہ آپ انسانوں کا علاج کرتے ہیں، جانوروں کے ماہر نہیں،نہ ہی آپ کو یہ معلوم ہے کہ دنیا میں کتنی قسم کے جانور پائے جاتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ علم حیوانات میں کون کون سے شعبے اور کون کون سی ذیلی شاخیں ہیں اور ان میں کیا کیا چیزیں پڑھائی جاتی ہیں؟لیکن اگر علم حیوانات میں ’مکھیات‘ کا کوئی شعبہ ہے تو آپ اس شعبہ کے ماہر نہیں ہیں۔کیا آپ نے سروے کیا ہے کہ دنیا میں کل کتنی قسم کی مکھیاں ہیں اور کون سی مکھیاں کس موسم میں کہاں پائی جاتی ہیں؟جب تک آپ عرب میں ہر موسم میں پائی جانے والی مکھیوں کا تجربہ کر کے، ایک ایک جز کا معائنہ کرکے لیبارٹری میں چالیس پچاس سال لگا کر یہ پتہ نہ چلا لیں کہ ان میں کسی بھی مکھی کے پر میں کسی بھی قسم کی شفا نہیں ہوتی، اس وقت تک آپ یہ فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں کہ مکھی کے پر میں بیماری یاشفا نہیں ہوتی؟ پھر اگر آپ یہ ثابت بھی کر دیں کہ مکھی کے پر میں شفا نہیں ہوتی تو یہ کیسے پتہ چلے گا کہ چودہ سو سال قبل ایسی مکھیاں نہیں ہوتی تھیں؟ ڈاکٹر بکائی نے اسے بھی درست تسلیم کر لیا۔ بکائی کے دوسرے اعتراض سے متعلق ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں بطور ایک عام آدمی کے یہ سمجھتا ہوں کہ بعض بیماریوں کا علاج تیزاب سے بھی ہوتا ہے۔ دواؤں میں ایسڈ شامل ہوتے ہیں۔جانوروں کے پیشاب میں کیا ایسڈ شامل نہیں ہوتا؟ آج کے خالص اور آپ کے بقول پاک ایسڈ کے مقابلے میں ممکن ہے عرب میں اس کارواج ہوکہ کسی نیچرل طریقہ سے لیا گیا کوئی ایسا لیکویڈ جس میں تیزاب کی ایک خاص مقدار پائی جاتی ہو، بطور علاج استعمال ہوتا ہو۔ آج سے کچھ سال پہلے میں نے ایک کتاب پڑھی تھی۔ ایک انگریز سیاح ڈاؤٹی نے ۱۹۲۵ء کے لگ بھگ عرب کی سیاحت کی اوراس کے جغرافیہ پر دو بڑی زبردست کتا بیں Arabia Deserta اور Arabia Petra تحریر کیں۔ اس نے اپنی یادداشت میں لکھا کہ جزیرہ عرب کے سفر کے دوران ایک موقع پر میں بیمار پڑ گیا۔ میرا پیٹ پھول گیا، رنگ زرد ہو گیا اور مجھے زرد بخار کی طرح کی ایک بیماری لگ گئی۔ میں نے دنیا میں جگہ جگہ اس کا علاج کروایا، کوئی افاقہ نہ ہوا۔ آخر جرمنی میں ایک بڑے ماہر ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ جہاں تمہیں یہ بیماری لگی ہے، وہاں جاؤ۔ ممکن ہے وہاں کوئی مقامی طریقہ علاج ہو۔ میں واپس عرب گیا۔ جس بدو کو میں نے خادم کے طور پر رکھا ہوا تھا، اس نے دیکھ کر کہا: یہ بیماری آپ کو کب سے ہے؟ میں نے کہا، کئی ماہ ہوگئے ہیں۔ اس نے کہا:ابھی میرے ساتھ چلیے۔وہ مجھے اونٹوں کے باڑے میں لے گیا اور کہا: آپ کچھ دن یہاں رہیں اور اونٹ کے دودھ اور پیشاب کے علاوہ کچھ نہ پییں۔ میں حیرت زدہ تھا کہ ایک ہفتے کے علاج کے بعد میں بالکل ٹھک ہو گیا ۔یہ سن کر موریس بکائی نے اپنے دونوں اعتراضات واپس لے لیے اور اپنا مقالہ ان کے بغیر ہی شائع کر دیا۔ (محاضرات حدیث، ص ۴۵۰۔۴۵۴)
اپنے تہذیبی ورثے سے آگہی
آج کا مسلمان نوجوان اپنی فکر وتہذیب سے متعلق احسا س کہتری کا شکار نظر آتا ہے۔ڈاکٹر غازی کے بقول اس کی وجہ اپنے تہذیبی ورثے سے ناواقفیت ہے۔آپ کسی بچے سے شیکسپئر کے بارے میں پوچھیں،وہ خوب بتائے گابلکہ ممکن ہے اس کے کئی شعر بھی سنادے ،لیکن مولاناروم کا شاید اسے نام بھی معلوم نہ ہو۔لہٰذا نسلِ نو کو اپنی تہذیب وتاریخ سے آگاہ کرنا نہایت ضروری ہے ۔ڈاکٹر صاحب اس سلسلہ میں اپنے ایک جاننے والے اسپینی نو مسلم مبلغِ اسلام کے اسلام کی طرف راغب ہونے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہیں اسپینی حکومت نے۱۹۹۲ء میں سپین کے مسلمانوں کے زوال وانخلا کے حوالے سے پانچ سو سالہ جشن منانے کے سلسلہ میں یہ ٹاسک دیا کہ وہ ایک ایسی کتاب مرتب کریں جو ۱۴۹۲ء میں اسپین میں مسلمانوں کے زوال تک ان کی ناانصافیوں اور مظالم کی داستان پر مشتمل ہو۔ انہوں نے مطالعہ شروع کیا تو عربی زبان سیکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ انہوں نے عربی سیکھی اور ذاتی مطالعہ سے اس نتیجے پر پہنچے کہ اسپین کی تاریخ کا سنہری اور زریں دور ہی وہ تھا جب یہاں مسلمان حکمران تھے۔علوم وفنون، اداروں کے قیام،عمارتوں کی تعمیر وغیرہ کا جو کام اہل اسلام کے دور میں ہوا، وہ نہ ان سے پہلے ہوا اور نہ بعد میں۔یوں اسلام سے دلچسپی پیدا ہوئی ۔پھر قرآن وحدیث کا مطالعہ کیا اور اسلام قبول کرکے اسپینی حکومت کا دیا گیا منصوبہ ادھورا چھوڑ کر تبلیغ اسلام میں لگ گئے۔ایسے ہی ایک امریکی نو مسلم فلسفہ کا مطالعہ کرتے کرتے اسلامی تصوف سے متعارف ہوئے اور بالآخر اسلام قبول کر لیا۔(محاضرات قرآنی،ص۸۲۔۸۴)
اختلافات میں انتہاپسندانہ رویہ سے اجتناب
ہمارے مذہبی حلقوں میں ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ علمی و فقہی اور تعبیر کے اختلاف کو کفر و اسلام کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے ۔ ڈاکٹرصاحب نے اپنی تحریروں اور خطبات میں اس جاہلانہ رویہ سے بچنے کی تلقین کی ہے۔انہوں نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے اختلافات نہ صرف یہ کہ نقصان دہ نہیں اور ان پر لڑنے جھگڑنے کا کوئی جواز نہیں بلکہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاہی یہ تھا۔ آنحضور ؐ نے صحابہ کو ایک سے زائد نقطہ ہائے نظر اپنانے کی تربیت دی ۔ اس سلسلہ میں وہ مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور نے صحابہ کو جلد ا زجلد بنی قریظہ کے محلہ میں پہنچنے اور نمازِ عصر وہاں جا کر پڑھنے کا حکم دیا۔بعض نے یہ سمجھ کر کہ حضور ؐ کا مقصد وہاں پہنچ کر نماز عصر پڑھنے کو لازم قرار دینا نہیں تھا، بلکہ ممکن حد تک جلدی پہنچنا تھا،راستہ ہی میں نماز عصر پڑھ لی۔بعض دیگر نے دوسرا مطلب سمجھا اور وہاں پہنچنے پر نماز قضا ہوگئی ۔حضور نے کسی کو بھی غلط قرار نہ دیا اور دونوں سے کہا کہ تم نے ٹھیک کیا۔ایسے ہی ایک دفعہ دو صحابہؓ کو دورانِ سفر غسل کی حاجت پیش آئی اور پانی نہ ملنے کی بنا پر انہوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی۔ بعد میں پانی ملا تو ایک صاحب نے غسل کرکے نماز دہرائی جبکہ دوسر ے نے کہا کہ نماز دہرانے کی ضرورت نہیں ۔حضورؐ کی خدمت میں عرض کیا گیا تو آپؐ نے پہلے شخص سے متعلق فرمایا:تمہیں دوہرا اجر ملے گا ،اور دوسرے سے کہا:تم نے سنت کے مطابق کام کیا ۔چنانچہ صحابہؓ میں باہم اختلاف ہوتا تھا۔ایک صحابی ایک عمل کو سنت سمجھتے اور دوسرے ،دوسرے کو۔گویا شریعت کے کسی حکم کو سمجھنے اور اس کی تعبیر و تشریح میں دیانت داری سے اختلاف رائے کی پوری گنجائش موجود ہے اورحکمِ شرعی کی تفسیر میں کسی شخص کی افتادِ طبع ،مزاج اور رویے کی گہری تاثیر کا لحاظ رکھا گیا ہے۔شریعت کاعمومی و جامع نظام اپنے اندرمتنوع قسم کی چیزوں کو سمو لینے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ القصہ اسلام میں اختلافِ آرا و مسالک ایک پسندیدہ چیز اور صحت مند سرگرمی قرار پاتی ہے۔ اسی بناپر روایات میں اہل علم کے اختلاف کو رحمت قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ا ختلافِ افکار وآرا جیسی باعث رحمت چیز کو زحمت نہ بنائیں۔(محاضرات حدیث، ص۲۵۲،۴۷۹،۴۸۰،مسلمانوں کادینی وعصری نظام تعلیم ،ص۲۴۹۔۲۵۵۔)
شیعہ کو کافر کہنے اور کافر قرار دلوانے کی کوششوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں : ’’دیکھیے یہ بڑی غیر ذمہ داری کی باتیں ہیں ۔ایسی باتیں کہنے والوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے۔یہ دنیائے اسلام میں ایک ٹائم بم رکھنے کے مترادف ہے ۔شیعہ حضرات آج سے نہیں،تیرہ سو برس سے چلے آرہے ہیں۔ کبھی بھی مسلمانوں نے انہیں کافر نہیں کہا۔بڑے بڑے اہل علم نے شیعہ عقائد کا مطالعہ کیا تو انہیں غلط کہا،ان پر تنقید بھی کی، ان کی کمزوریاں بھی واضح کیں، لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ یہ بات جو پچھلے پندرہ بیس سالوں سے پیدا ہوئی ہے ،اس نے دنیائے اسلام میں بڑا فساد پید ا کیا ہے۔شیعہ کے بہت سے عقائد غلط ہیں، لیکن غلط عقائد کے علمبردار ماضی میں بھی بہت رہے ہیں۔ مثلاً خوارج کے بہت سے عقائد غلط تھے ،لیکن کسی نے ان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا۔ابو بکرؓ و عمرؓ کی خلافت کا انکار کرنے والے پہلی صدی میں بھی تھے ،لیکن انہیں کافر نہیں کہا گیا۔کسی کی خلافت کے انکار سے کوئی کافر نہیں ہو جاتا۔قرآن میں کہیں یہ حکم نہیں دیا گیاکہ اے مسلمانو! ابو بکر و عمرؓ کو خلیفہ مانو۔جو شخص ان جلیل القدر صحابہؓ کی خلافت کا انکار کرتا ہے،وہ ایک امرِ واقعہ کا انکار کرتا ہے۔اگر کوئی انکار کرے کہ سورج نہیں نکلا ہوا تو یہ امر واقعہ کا انکار ہو گااور امر واقعہ کے انکار سے کوئی کافر نہیں ہوجائے گا ۔اسے بیوقوف یا جاہل کہہ سکتے ہیں۔ بیوقوف اور جاہل ہونا الگ بات ہے اور کافر ہونا الگ بات۔‘‘ (محاضرات فقہ، ص ۵۵۴)
پاکستان میں مذہبی تحزب وتشددکے محرکات اور اس سے نجات کی راہ
پاکستان میں مذہبی تحزب وتشدد ایک بہت بڑا ناسور ہے۔ڈاکٹر غازی مرحوم نے ایک بالغ نظر عالم کی حیثیت سے اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کے ظہور وشیوع کے محرکات کی نشاندہی اور اس سے بچنے کی راہ کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔ان کے مطابق انگریزی استعمار نے مسلمانوں کے مسلکی اختلافات کو ان کی قوت کمزو ر کرنے کے لیے استعمال کیا۔۱۹۷۰ء میں مسلکی اختلافات انتخابی میدان میں داخل ہوئے ،انتخابی رنجشوں نے مسلکی اختلافات کی زبان اور محاورہ اپنایااور یوں بتدریج یہ چیزمسلمانوں کی تقسیم در تقسیم کا ایک خود کار ذریعہ بن گئی۔ مذہبی تشدد وتحزب کے جراثیم ۱۹۸۰ء کے عشرے میں پیدا ہوئے اور ۱۹۹۰ء کے عشرے کے آغاز میں اس مذہبی تحزب وتشدد اور دہشت گردی نے ایک عفریت کی شکل اختیار کر لی۔اس کے اسباب میں اندرون ملک کی سیاسی،معاشرتی اورمعاشی پالیسیاں اور خطے کی دیگر قوتوں کی پالیسیاں شامل ہیں۔مخصوص مذہبی عقائد کی اشاعت میں غیر ضروری سختی،بعض مذہبی سیاسی تصورات کو بزورِ بازو برآمد کرنے کی کوشش اور بعض اقلیتی خیالات وتصورات کی غیر ملکی سرپرستی،وہ چیزیں ہیں جنہوں نے صورت حال کو کشیدہ بنا دیا اورمتعدد تشدد پسند گروہ اٹھ کھڑے ہوئے۔بیرون پاکستان کی متحارب قوتوں نے اپنے آپس کے اختلافات کوپاکستان برآمد کر دیااور اپنے اپنے حامیوں کی مدد سے اپنی ذاتی جنگ پاکستان کی سر زمین پر لڑنی شروع کر دی۔اس مسئلے کا حل بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہمیں اپنے دینی معاملات کو خود طے کرنا چاہیے اور غیر پاکستانی عناصر کو پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دینا چاہیے۔ جس طرح غیر مسلم قوتوں کا پاکستانی سرزمین کو حربی وعسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنا غلط ہے، دوسری مسلم قوتوں کا اپنے سیاسی اور گروہی مقاصد کے لیے ہماری زمین کو استعمال کرنا بھی غلط ہونا چاہیے۔ (مسلمانوں کا دینی وعصری نظام تعلیم،ص۲۵۰۔۲۵۱،۲۵۶)
دینی تناظر میں عصری تعلیمی تقاضے
ڈاکٹر غازی مرحوم اسلامی اور جدید مغربی ہر دو علوم میں گہری بصیرت کے مالک تھے، اورجدید مسائل کو دینی تناظر میں ماہرانہ انداز سے حل کرنے کے سلسلہ میں انہوں نے قابل قدر خدمات بھی سر انجام دیں، لیکن ظاہر ہے کہ یہ کام کسی ایک یامعدودے چند اہل علم نہیں، اہل علم کی معتد بہ تعدادکا متقاضی ہے ۔ڈاکٹر صاحب نے اس تقاضے کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے اس کی طرف بھرپور توجہ دلائی ۔وہ عصری ودینی تعلیمی نظام کو بانجھ سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک تحقیق وجستجو کا ذوق نہ عصری جامعات کے فضلا میں ہے اور نہ دینی مدارس کے فارغ التحصیل حضرات میں۔ اس لیے کہ تعلیم کے مقاصد واہداف ہر دو جگہ پر واضح نہیں۔یہاں ملازمت کا حصول مقصد ہے اور وہاں امامت وخطابت کا۔بلکہ مدارس کے طلبہ کو اس حوالے سے یک گونہ برتری حاصل ہے کہ اگر کسی موجودہ مسجد میں امامت وخطابت میسر نہ ہوتو اس مقصد کے لیے جہاں بس چلے،نئی مسجد کھڑی کی جاسکتی ہے اور پھر اس نئی مسجد کے وجود کا جواز پیدا کرنے کے لیے فقہی اور مسلکی حوالوں کو بہ سہولت مدد کے لیے پکاراجا سکتاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دینی مدارس بالعموم جو فاضلین تیا کرتے ہیں، وہ دین کوموجودہ زندگی اور روز مرہ معاملات سے متعلق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔وہ جدید مسائل کو حل کرنا تو درکنار ان کو سمجھنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں۔مثلاً ان سے پوچھا جائے کہ شیئرز مارکیٹ میں پیسا لگانا جائز ہے یا نہیں تو ان میں سے اکثر یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ شیئرز کہتے کس کو ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مدارس میں انہیں جو مسائل سکھائے جاتے ہیں، وہ اور ہی قسم کے مسائل ہوتے ہیں۔چنانچہ امام صاحبان سوسائٹی میں پہنچ کرجب اپنے سیکھے ہوئے مسائل کو معاشرے سے غیر متعلق پاتے ہیں تووہ مسائل پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، مثلاً یہ کہ حضورؐ نور تھے یابشر۔ اب بیچارے عوام جن کو ان مسائل سے کوئی سروکار ہوتا ہے اور نہ ان کاعلم اور نہ ہی یہ دینی حوالے سے ان کی کسی قسم کی ضرورت ہوتے ہیں، ان مسائل میں پھنسا دیے جاتے ہیں۔ایک طرف کے حضرات اپنا زور بیان حضورؐ کو نور اور دوسرے بشر ثابت کرنے پر صرف کرنے میں جت جاتے ہیں۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ان رہنمایانِ دین کو دینی تعلیم سے اس انداز میں بہرہ ور کیا جائے کہ وہ روز مرہ اور عام پیش آمدہ جدید مسائل میں لوگوں کی دینی رہنمائی کے اہل ہو سکیں۔ یہ تو ائمہ مساجد کی عام سطح کا معاملہ ہے۔جہاں تک ملک و ملت کو وسیع پیمانے پر جدید تناظر میں دینی حوالے سے محققانہ اور قائدانہ رہنمائی فراہم کرنے کا سوال ہے تو اس کے لیے ایسے اہل علم تیار کرنے کی ضرورت ہے جو اسلامی علوم میں گہری بصیرت کے ساتھ ساتھ جدید عمرانی و انسانی علوم میں بھی ماہرانہ دستگاہ رکھتے ہوں۔حیرت ہے کہ بعض روایتی اہل علم علما کو جدید علوم سکھانے پر معترض ہوتے ہیں ۔یہ لوگ اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ یونانی فلسفہ و منطق پر مبنی مباحث آج تک مدارس میں پڑھائے جا رہے ہیں ،حالانکہ نہ صرف یہ کہ آج ان کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ قرونِ وسطیٰ میں بھی مسلمانوں میں کسی واقعی مجبوری کے بجائے محض علمی ذوق کی بنا پر رائج ہوئے،جبکہ جدید عمرانی وانسانی علوم نہ صرف یہ کہ آج انتہائی ضروری ہیں بلکہ مسلمانوں کو درپیش جدید چیلنجز کے تناظر میں واقعی مجبوری کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اسلام میں دینی اور دنیاوی تعلیم کے الگ الگ ہونے کا کوئی تصور نہیں۔یہ مغربی سیکولرزم کے باقیات و اثرات میں سے ہے۔مسلمانوں کے دورِ عروج میں ان کا نظام تعلیم ان کی دین اور دنیا دونوں کی ضروریات پوری کرتا تھا۔آج مغربی اثرات کے نتیجے میں دینی اور دنیوی ضروریات کے لیے الگ الگ تعلیمی دھارے وجود میں آگئے ہیں ۔ہمارے مذہبی حلقے اس کو عملاً تسلیم کر بیٹھے ہیں،حالانکہ اسلام کا آئیڈیل نظام تعلیم وہ ہے جس کے ذریعے ایسے رجال کار سامنے آئیں جو مختلف شعبہ ہاے زندگی میں کارہاے نمایاں سر انجام دینے کی اہلیت رکھتے ہوں۔اسلامی نظام تعلیم کو دین ودنیا کی جامعیت کا یوں آئینہ دار ہونا چاہیے کہ ایک ہی قسم کی تعلیم حاصل کرنے والوں میں سے کوئی مجدد الف ثانی جیسا( ہندوستان کا سب سے بڑا مذہبی عبقری کہلانے والا) عالم ہو، کوئی سعداللہ خان ایسا (مغلیہ عہد میں موجودہ ہندوستان، موجودہ افغانستان،موجودہ پاکستان ،موجودہ بنگلہ دیش،موجودہ سری لنکا اور موجودہ نیپال،کم ازکم چھ ملکوں کی وزارت عظمیٰ کو چالیس تک کامیابی سے چلانے والامدبر) سیاستدان ہو اور کوئی استاد احمد معمار جیسا( تاج محل ایسادنیا کے سات عجائبات میں سے نمایاں عجوبہ تیار کر دینے والا) انجینئر ہو۔ (مسلمانوں کا دینی وعصری نظام تعلیم،ص ۵۶،۵۷،۱۶۸،مغرب کا فکری و تہذیبی چیلنج اور علما ء کی ذمہ داریاں، ص۱۲۔۳۴)
تبلیغ و دعوت میں دین،شریعت وفقہ اورذوق کالحاظ رکھنے کی ضرورت
یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں توحیدو وحدت کے علمبردار دین کے نام پر جو تبلیغ وتلقین ہورہی ہے،وہ سوسائٹی کو متحد کرنے کی بجائے اسے مسلکوں اور فرقوں کے نام پر مختلف حصوں میں بانٹ رہی ہے ۔ سارے مبلغین اس حقیقت کو تسلیم کرتے بلکہ اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ تعلیم وتبلیغِ دین مسلم معاشرہ میں وحدت کی ضامن ہے، لیکن ان کی کاوشوں کا نتیجہ بالکل الٹ برآمد ہو رہا ہے ۔ یہ امرواقعہ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ تبلیغ و دعوت کا کام غلط نہج پر ہورہا ہے۔ ڈاکٹر غازی علیہ الرحمۃ نے اس مرض کی تشخیص کرتے ہوئے تبلیغ ودعوت دین سے متعلق لوگوں کے لیے ایک نہایت خوبصورت نسخہ تجویز کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے ہمارے ہاں اتحاد کی بجائے انتشار کے سامنے آنے کا سبب اسلام کی تعلیم کے حوالے سے مسلکی آرا اور فقہی اجتہادات پرزوردیاجاناہے۔ ان کے مطابق اسلام کے حوالے سے اہل مذہب کی ذمہ داریوں کی مختلف سطحیں ہیں۔ان سطحوں کا لحاظ کیے بغیر مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔یہ سطحیں دین،شریعت وفقہ اور ذوق کی ہیں۔ جہاں تک غیر مسلموں اور دین سے برگشتہ مسلمانوں میں تبلیغ کاتعلق ہے تو وہ دین ہی کی ہونا چاہیے،اس لیے کہ تبلیغ ہمیشہ دین ہی کی ہوتی ہے۔آپ نے اسلامی ادب میں کسی بھی جگہ تبلیغِ شریعت یاتبلیغِ فقہ کالفظ نہیں پڑھا ہوگا۔دین سے مراد دین کی بنیادی اساسات یعنی توحید ،رسالت اورآخرت اوران کے مقتضیات پر ایمان اور مکارمِ اخلاق ہے ۔یہ چیز ہمیشہ اور تمام اقوام وملل میں ایک سی رہی ہے۔صحابہ کرامؓ دنیا کے گوشے گوشے میں گئے، لیکن ہر جگہ دین ہی کی تبلیغ کی ۔ان کے پیش نظر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ،حضور ؐ کی نبوت ،روزآخرت کی جزا وسزا اور مکارم اخلاق کی تعلیم رہی ۔کہیں بھی کسی نے لوگوں کوکسی فقہی یاکلامی رائے یا مسلک کی طرف نہیں بلایا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان میں فقہی اور کلامی حوالوں سے باہم کوئی اختلاف رائے موجود نہ تھا۔یہ اختلاف واضح طور پر موجود تھا لیکن اسے دعوت و تبلیغ کا موضوع نہیں بنایا گیا۔ اس لیے کہ یہ چیز تحقیق ،فتویٰ اور فہمِ شریعت کے ذیل کی ہے اور دین کے بعد کا مرحلہ ہے۔ایک صاحب علم اپنے فہم وتحقیق کے مطابق کسی فقہی وکلامی معاملہ میں ایک رائے کو زیادہ صحیح قرار دے گااور دوسرا ،دوسری کو۔یہ چیزصحابہ میں بھی موجود تھی، ائمہ سلف میں بھی موجود رہی اورآئندہ بھی موجود رہے گی ۔لیکن یہ اعلیٰ تعلیم اور تحقیق سے وابستہ لوگوں کے حلقہ تک محدود رہے گی۔یہ نہ عمومی اور ابتدائی تعلیم کا موضوع ہے اور نہ تبلیغ و دعوت کا۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ کسی فقیہِ اسلام نے کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا ہو کہ اے عراق والو! خبرداراحمد بن حنبل ؒ کی فلاں تحقیق غلط ہے ،اس کی بات مت ماننا۔ان حضرات نے اعلیٰ فنی اور تحقیقی موضوعات کو تحقیق کے دائرے تک محدود رکھااور دعوت ،جب بھی دی، دین ہی کی دی۔بنابریں تحقیقی معاملات میں ایک سے زیادہ آرا کی صورت میں عوام الناس محققین کی طرف رجوع کریں گے اور جس صاحب علم و تقویٰ کی تحقیق سے انہیں اتفاق ہوگا، اس کی تحقیق کو قبول کرلیں گے۔تحقیق کے بعد ایک اور چیز کسی صاحب علم کا ذوق ہے۔ اسلام نے کسی شخص کے ذوق کو ختم نہیں کیا۔صحابہ میں بھی ہر ذوق کے لوگ موجود تھے، ائمہ سلف میں بھی رہے اورآئندہ بھی موجود رہیں گے۔ بعض اوقات کسی دینی شخصیت کا ایک خاص مزاج بن جاتا ہے۔ اس شخصیت کے ماننے والے اس کے ذوق کی پیروی کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں،لیکن اگر اس ذوق کو دین بنا دیا جائے اوردین کی طرح اس کی تبلیغ شروع کر دی جائے تو یہ چیز فساد کا موجب ہو گی۔ذوق تو کسی صحابی کا بھی واجب التعمیل نہیں حتیٰ کہ حضورؐ کے ذاتی ذوق کے بارے میں بھی وضاحت کر دی گئی کہ جس کا جی چاہے، اختیار کرے اور جس کا جی چاہے، اختیار نہ کرے۔مثلاً ایک مرتبہ حضور ؐ دستر خوان پر تشریف فرما تھے۔وہاں کوئی خاص قسم کا گوشت پیش کیا گیا۔آپؐ نے اس سے اجتناب کیا اور یہ عذر فرمایا کہ میرا ذوق اس کو کھانے کی اجازت نہیں دیتا،لیکن صحابہ کو آپ نے منع نہیں فرمایا۔چنانچہ انہوں نے اپنے ذوق کے مطابق گوشت تناول فرمایا۔
امت کی وحدت نص قرآنی سے ثابت ہے۔ ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ اور متعدد آیات میں اس کا تاکیدی حکم آیا ہے ۔حضرت ابراہیم نے دعا مانگی: ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک ۔تو جو امت قرآن مجید کی نص سے، حضرت ابراہیم کی دعا سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شب و روز کی محنت سے قائم ہوئی ہے، جس کی وحدت اور حفاظت کی دعائیں حضورؐ نے راتوں کو جاگ کر فرمائی ہیں ،کیا اس کی وحدت کوزید ،عمر ،بکر کی رائے بنا پر افتراق و انتشار میں مبتلا کر دیا جائے؟یہ سراسر شریعت کے مزاج کے خلاف ہے اور یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم نے دعوت، تعلیم، تحقیق اور ذوق کو آپس میں خلط ملط کر دیا ہے۔جو شخص تحقیق اور ذوق کی دعوت دے رہا ہے ،وہ حضورؐ اور صحابہؓ کے عمل کی مخالفت کر رہا ہے۔ یہ امر کس قدر افسوسناک ہے کہ لوگ قرآن کی بجائے تراجم قرآن اور رسول ؐ واصحاب رسولؓ کے طرز عمل کی بجائے اپنے اپنے ممدوح علما کے مسالک و مشارب کی دعوت دیتے ہیں ۔اس پر مستزاد یہ کہ اپنے اپنے ممدوح علما سے اختلاف کو کفر و نفاق تک پہنچانے میں ذرا تامل نہیں کرتے۔ لوگوں نے قرآن کو مختلف ترجموں اور تفاسیر کی تنگنائیوں میں محدود کر ڈالا ہے،حالانکہ کوئی کتنا ہی بڑا انسان ہو،حتیٰ کہ عمر فاروقؓ ایسا جلیل القدر صحابی ہی کیوں نہ ہو ،اس سے قرآن کی تعبیر میں غلطی ہو سکتی ہے۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے محسوس کیا کہ لوگ مہر مقرر کرنے میں بہت اسراف سے کام لینے لگے ہیں اور اسے بڑائی کی دلیل سمجھا جانے لگاہے،لہٰذا اس پر قدغن لگانی چاہیے۔انہوں نے مسجد میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ آج کے بعد مہر کی ایک خاص مقدار مقرر کر دی گئی ہے اور کوئی شخص اس سے زیادہ مہر نہ رکھے ۔بڑے بڑے جید صحابہؓ موجود تھے،سب نے اس فیصلہ کو درست قرار دیا۔نماز سے فارغ ہو کر حضرت عمرؓ باہر نکلے تو ایک بوڑھی خاتون ملیں اور حضرت عمرؓ سے کہا: تم نے جو مہر مقرر کیا ہے ،وہ بالکل غلط ہے ۔تم قرآن کو نہیں سمجھتے ۔قرآن مجید میں تو آیا ہے کہ اگرتم نے عورت کودولت کا ایک ڈھیر بھی دے دیا ہو توبھی واپس مت لو۔گویا دولت کا ڈھیر بھی مہر ہو سکتا ہے۔لہٰذا تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ اس مقررہ مقدار سے زیادہ مہر نہ باندھا جائے ؟حضرت عمرؓ نے ایک لمحے کو سوچا۔مسجد میں آئے، لوگوں کو بلایا اور منبر پر چڑ ھ کر فرمایا: اخطا عمر واصابت امرأۃ۔ ’’عمر نے غلطی کی اور ایک عورت نے سچ کہا۔‘‘ میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔ یہ عمرؓ وہ تھے جو خلیفہ راشد تھے۔حضورؐ کے جانشین تھے۔قرآن مجید کی ۱۷ آیات جن کی توقع اور اندازہ کے مطابق نازل ہوئیں۔حضورؐ نے بارہا جن کی زبان سے نکلنے والے الفاظ کی تائید فرمائی۔اس کے بر عکس آج کا کوئی مذہبی لیڈر، مولوی یا پیر ہوتا تو بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ اعتراض کرنے والی عورت کو ڈانٹ کر خاموش کر دیتا۔اگر عمرؓ ایسے مقام و مرتبہ کے حامل شخص سے غلطی ہو سکتی ہے اور وہ علی الاعلان اس کا اعتراف کر سکتے ہیں تو اور کون کس شمار وقطار میں ہے؟مگر ہمارے ہاں یہ کہنا تو بہت آسان ہے کہ عمر فاروقؓ سے غلطی ہو گئی ،امام شافعیؒ اور امام مالکؒ سے غلطی ہو گئی، ہماری دینی درسگاہوں میں روزانہ یہ تنقیدی تبصرے ہوتے رہتے ہیں ،لیکن یہ کہنے کی کسی کی مجال نہیں کہ مولانا تھانوی سے غلطی ہو گئی ،مولانا مودودی سے غلطی ہو گئی یا مولانا احمد رضا خان سے غلطی ہو گئی۔کوئی ذرا یہ جرات کرکے تو دیکھے!ان کے مریدین سر توڑ دیں گے اور اسلام سے خارج کر کے دم لیں گے۔ (محاضرات قرآنی، ص ۳۸۰۔۴۰۱، محاضرات سیرت، ص ۷۵۳)
مقصودِ اصلی حکومت کا قیام نہیں، معاشرہ کی اصلاح ہے
ہمارے ہاں بہت سے اہل مذہب اپنی تمام تر توانائیاں حکومت کے حصول میں صرف کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اوراسلامی خطوط پر اصلاحِ معاشرہ کی بنیادی ذمہ داری سے غفلت کے مرتکب ہوتے ہیں۔یہ رویہ معاشرے اور ریاست ہر دو کی اسلامی تشکیل میں سدِ راہ ہے۔ ڈاکٹر غازی ؒ نے اہل مذہب کو مذہبی خطوط پر معاشرہ کی تعمیر کی ذمہ داری کی طرف متوجہ کیا اور اس با ت پر زور دیا ہے کہ اسلام میں اصلاح کی ترتیب اوپر سے نیچے کی بجائے نیچے سے اوپر کی طرف ہے۔حکومت مسلمانوں کا مقصود اصلی نہیں۔قرآن مجید میں کہیں بھی مسلمانوں سے یہ نہیں کہا گیا کہ اے مسلمانو!تم حکومت قائم کرو ،بلکہ امت قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ تم میں ایک ایسی امت ہونا چاہیے جو نیکی کی طرف بلائے اور برائی سے روکے ۔ہاں اس کام میں اگر حکومت رکاوٹ بنتی ہے تو اس کی اصلاح کرواور اگر اللہ تم میں سے کسی کو حکومت عطا فرما دے تووہ اسے اسلام کے مطابق چلائے ۔شریعت کی اصطلاح میں ایک ’’ مطلوب لعینہ‘‘ ہوتا ہے اور ایک’’ مطلوب لغیرہ‘‘، یعنی ایک چیز بذات خود مقصد ہوتی اور دوسری حصول مقصد کا ذریعہ۔اسلام کے نقطہ نظر سے حکومت مقصود لعینہ نہیں، مقصود لغیرہ ہے۔ریاست شریعت کی ضرورت ہے ،لیکن ریاست اور شریعت لازم و ملزوم نہیں۔ کیا امریکہ میں جو مسلمان رہتے ہیں،وہ اسلام پر عمل نہیں کر رہے؟کیا فتح مکہ سے پہلے مکہ میں رہنے والے مسلمان شریعت پر عمل نہیں کرتے تھے؟کیا حبشہ میں ہجرت کر کے جانے والے مسلمان شریعت پر عمل نہیں کر رہے تھے؟شریعت پر عمل ریاست کے بغیر بھی ممکن ہے ۔ہاں البتہ شریعت کی ریاستی ذمہ داریاں ریاست کے بغیر پوری نہیں ہو سکتیں اور اسی اعتبار سے مکمل اسلامی احکام کے مطابق اسلامی ریاست کا قیام ہم سب کی آرزو ہے، لیکن اس آرزو کی تکمیل کے لیے پھر سوسائٹی ہی کی اصلاح کو فوکس کرنا لابدی ٹھہرتا ہے۔ ریاست اسی وقت اسلامی بن سکے گی جب معاشرہ اسلامی ہو گا۔یہ نہیں ہو سکتا کہ معاشرہ کے افراد کی اکثریت اسلام سے بے بہرہ ہو،عبادات کی پابند نہ ہو، چوری، بدکاری جھوٹ اور دیگر جرائم میں مبتلا ہو اور حکومت حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ جیسی قائم ہو جائے۔ کسی نے حضرت علیؓ سے پوچھا:کیا وجہ ہے کہ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کے زمانے میں بہت امن تھا، مگر آپ کے دور میں بدامنی ہے؟انہوں نے فرمایا :اس لیے کے وہ میرے جیسے لوگوں پر حاکم تھے اورمیں تم جیسے لوگوں پر حاکم ہوں۔ (محاضرات سیرت، ص۳۷۲،۳۷۴،۳۸۲ وغیرہ)
غیر مطلوب اور بے فائدہ مذہبی مباحث سے احتراز
اسلام مسلمانوں میں جو رویے پیدا کرنا چاہتا ہے ،ان میں ایک نہایت اہم رویہ مذہب کے حوالے سے ایسے مباحث سے احتراز ہے جن کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہ ہو،لیکن ہمارے ہاں بد قسمتی سے نہ صرف یہ کہ ایسے بے فائدہ اور غیر مطلوب مباحث سے احتراز نہیں کیا جاتا بلکہ الٹا انہی کو مرکزِ بحث و نظر اور شناختِ ایمان بنا لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر غازی مرحوم نے اس افسوسناک رویہ کو ترک کرنے پر زور دیا ہے ۔ٍ حضور ؐ کے علم سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ ایک غیر ضروری اور بے فائدہ سوال ہے ۔ہمیں ایسے سوالات پر اپنا وقت ضائع کرنے سے بچنا چاہیے۔قیامت کے روز ہم سے حضور ؐ کے احکامات اور آپ کی سیرت کے مطابق عمل کے بارے میں پوچھا جائے گا، حضور کے علم کی کوانٹٹی سے متعلق ہر گز سوال نہیں ہو گا ۔مذکورہ سوال کی لغویت کو منطقی اعتبار سے واضح کرتے ہو ئے فرماتے ہیں کہ حضورؐ کے علم کا تقابل عام انسانوں سے کوئی فضول شخص ہی کر سکتا ہے،کیونکہ عام انسانوں کے مقابلہ میں حضور کے علم کی کوئی انتہا ہی نہیں اور اللہ تعالیٰ اور حضو ر کے علم کا تقابل اس اعتبار سے بے فائدہ مشغلہ ہے کہ اللہ کے مقابلہ میں حضور کے علم کا محدود ہونا ظاہر وباہر ہے۔کسی شخص کے پاس کوئی پیمانہ نہیں کہ وہ آپ کو بتا سکے کہ حضور کے پاس اتنا علم تھا۔ہم میں سے کوئی بھی اس کے علاوہ کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ حضور کے پاس غیب کا اتنا علم تھا جتنا اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا۔گویاایسے سوالات بحث و نظر کا موضوع ہی نہیں ہونا چاہییں۔جب کسی معاملہ میں کوئی فیصلہ انسانی بساط ہی میں نہ ہو تو اس پر بحث چہ معنی دارد؟(محاضرات سیرت، ص ۵۱۱، ۵۷۶ وغیرہ)
خذ ماصفا ودع ماکدر کا رویہ
ہمارے مذہبی حلقوں کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ جس کے ساتھ عقیدت اورفکری وابستگی ہے ،اس کی تو ہر کمزور سے کمزور چیز بھی صحیح اور لائقِ تقلید ہے اور جس سے یہ وابستگی و عقیدت نہیں، اس کا اچھے سے اچھا کام بھی ناقابلِ التفات۔یہی نہیں بلکہ اپنے فکری رہبر کی غلط سے غلط بات کے دفاع میں اور دوسرے کی صحیح سے صحیح بات کی تردید میں ’خود بدلتے نہیں قرآں کوبدل دیتے ہیں‘ کامصداق بن جاتے ہیں ۔ڈاکٹر صاحب نے اس رویے پر تنقید کرتے ہوئے خذ ما صفا ودع ما کدر کا رویہ اپنانے پر زور دیا ہے ۔ایک خطبہ میں ڈاکٹر صاحب نے سیرت سے متعلق سر سیدکی خدمات کا تذکرہ کیا تو لوگوں نے سر سید کی تجدد پسندانہ تعبیرات کی بنا پر مذہبی حلقوں میں ان سے متعلق پائی جانے والی ناپسندیدگی کے تناظر میں ان سے بہت سے سوالات کیے۔ ان سوالات کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا کہ ہمارے ہاںیہ روایت بن گئی ہے کہ یا تو ہر چیز کو بالکل منفی انداز میں دیکھا جاتا ہے یا بالکل عقیدت مندانہ انداز میں۔ضروری نہیں کہ کسی شخص کی ایک بات سے آپ متفق ہوں تو اس کی بقیہ تمام باتوں سے بھی آپ اتفاق کریںیا اگر ایک سے اختلاف ہے تو بقیہ سب باتوں سے بھی اختلاف کریں۔یہ رویہ ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔سر سید کی بہت سی باتوں سے مجھے اتفاق نہیں ہے ۔ان کی بہت سی باتیں مغرب سے مرعوبیت کا نتیجہ تھیں۔لیکن ان کی مثبت باتوں اور مسلمانوں کے لیے خدمات کو سراہنے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ کسی سے اتفاق کی صورت میں اس کے ہررطب ویا بس کو درست مان لینے اور اختلاف کی صورت میں ہر بات کا انکار کر دینے کا کوئی جواز نہیں۔ (محاضرات سیرت،ص۶۳۲،۶۳۹،۶۴۰)
ایک نئی اور عالمگیرفقہ کی تشکیل کی ضرورت اور اجتہاد وتقلید کی حقیقت
نئے زمانے کی ضروریات کے مطابق ایک نئی فقہ کی تشکیل کے بغیر اسلام کے عالمگیر کردار کا خواب شرمندۂ معنی نہیں ہوسکتا۔حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے بھی اس پر بہت زور دیا تھا۔ڈاکٹر غازی ؒ نے بھی اس کی طرف خصوصی توجہ دلائی ہے۔ان کے مطابق آج کا دور بین الاقوامیت کا دور ہے۔اسلامی عالمگیریت کے لیے نا گزیر ہے کہ ایک نئی اور عالمگیر فقہ تشکیل دی جائے۔اس فقہ کو Cosmopliton Fiqh یا Globalized Fiqh کا نام دیا جاسکتا ہے۔ اس فقہ کی تدوین کے لیے ہمیں قدیم اسلامی روایت کے ساتھ گہری اور مضبوط وابستگی کے ساتھ ساتھ مشرق و مغرب کے تمام مفید تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے جدید دور میں عالمگیریت کے مسائل کی بنیادی اہمیت کوواضح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہر دور میں بعض اہم فکری مسائل اور تہذیبی معاملات ایسے ہوتے ہیں ،جو کسی وجہ سے خصوصی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں ۔مثال کے طور پر بیسویں صدی کے نصف اول میں اسلامی اور غیر اسلامی، ہر فکر، ریاست وسیاست پر مرتکز تھی ۔اس زمانہ کے تمام مفکرین اسلام اسلامی ریاست اور اسلامی سیاست پر لکھ رہے تھے۔ بیسویں صدی کے نصف دوم میں ریاست اور سیاست کی مرکزیت کم ہوگئی اور اقتصادیات و مالیات کی مرکزیت نمایاں ہو گئی ۔چنانچہ فکر اسلامی کا اہم موضوع سیاست اور ریاست کی بجائے اقتصادیات و مالیات کے مضامین قرار پائے۔آئندہ پچاس سال میں، ایسامعلوم ہوتا ہے کہ عالمگیریت اور اس کے مسائل اور گلوبلائزیشن اور اس کے مسائل،فکر کے بنیادی مسائل ہوں گے۔لہٰذا ہماری ذمہ داری، آئندہ چندعشروں میں، یہ ہے کہ ہم عالمگیریت کی فکری واخلاقی اساس کا تعین کرنے میں دنیا کی رہنمائی کریں اور دنیا کو مذہب اور معاشرے، مذہب اور تہذیب، مذہب اور ریاست اورمذہب اور معیشت کا بھولا ہواسبق دوبارہ یاد دلائیں۔یہ کام چونکہ اجتہاد کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے ڈاکٹر صاحب نے اجتہاد پر بھی خصوصیت سے زور دیا اور اس کا ختم نبوت سے قریبی تعلق بتایا ہے۔ لیکن اجتہاد کے حوالے بعض لوگ اس غلط فہمی کاشکار ہوجاتے ہیں کہ یہ ائمہ فقہ کے اجتہادات سے بغاوت کی راہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس غلط فہمی کے ازالہ کی خاطر اجتہاد کی اہمیت پر زور دینے کے ساتھ ساتھ اجتہاد اور تقلید کی حقیقت بھی واضح فرمائی ہے۔لکھتے ہیں کہ بعض اعتبارات سے تقلید کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہوتا۔اگر کوئی شخص دین کا تفصیلی علم حاصل نہ کر سکے یا نہ کرے(کہ شریعت نے اسے سب پر لازم قرار نہیں دیا)تواس کے لیے شریعت کے مختلف فیہ امور میں اس کے سوا کوئی سبیل نہیں کہ جس کے علم وتقویٰ پر اسے اعتماد ہو، اس کے اجتہادات کے مطابق عمل کرے۔ ایسی تقلید ہمیشہ رہی اور ہمیشہ رہے گی۔یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی سائنس سے ناواقف شخص کسی سائنسی معاملے میں کسی ایسے سائنسدان کی رائے کو تسلیم کرے جس کے سائنسی علم پر اسے بھروسہ ہویا کوئی معاشی معاملات سے بے خبرشخص کسی ایسے ماہر معاشیات کی رائے پر اعتمادکرے جس کے معاشی علم اور مہارت پر اسے اعتماد ہو، لیکن اس تقلیدکا تعلق روزمرہ زندگی اور معاشرے کی اسلامی اساس اور اس کے تسلسل سے ہے۔ مستقبل کی تشکیل اور نقشہ کشی، نئے چیلنجز کا سامنا کرنے، نئے مسائل کو حل کرنے، نئی مشکلات کا دور کرنے اور نئے سوالات کے جوابات کے لیے جرأت مندانہ اجتہاد ناگزیر ہے۔ لہٰذا اہل علم وبصیرت کو آگے بڑھ کر اسلام کے عالمگیر کردار کے لیے وہ تمام تد ابیر اختیار کرنا چاہییں،جن کا شریعت میں حکم دیا گیا ہے۔ان تدابیر کے لیے نئے نئے ادارے بھی بنائے جائیں اورماضی کے اداروں کا احیا بھی کیا جائے ۔شریعت نے نہ ماضی کے کسی ادارے اور تجربے کو جوں کا توں اختیار کرنے کا حکم دیاہے اور نہ غیر ضروری طور پر کسی نئے ادارے یا تجربے کو ہدف تنقید بنایا ہے۔اس لیے کہ شریعت کا اصل زور مقاصد واہداف اور نصوص کی تعمیل پر ہے نہ کہ وسائل و ذرائع پر۔(محاضرات شریعت،ص۵۴۰۔۵۵۲)
ڈاکٹر غازی مرحوم کے افکار ونظریات کے بہت سے گوشوں میں سے صرف چند گوشے یہاں پیش کیے جا سکے ہیں، لیکن ان سے بھی یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مرحوم کس قدر اتھاہ وژن،عمیق فکر ،گہری بصیرت اور وسیع علم کے حامل تھے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے افکار سے رہنمائی حاصل کرکے ان کے امت مسلمہ کی عظمت رفتہ کی بحالی کے خواب کو شرمندۂ معنی کرنے کی سعی کی توفیق عطافرمائے۔ قضا وقدر کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر صاحب کوکچھ مزید مہلت ملتی تووہ اس امت مرحومہ کے لیے وہ کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے جس کاخواب دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ فکر کی تنگنائیوں کو پہنائیوں میں بدلنے، بے مایہ کو گراں مایہ کرنے، قطرے کو گہر کرنے اور اپنے افکارِ تازہ سے جہانِ تازہ تخلیق کرنے کی اہلیت کے مالک تھے۔ شاید اسی احساس کے تحت انہوں نے عرفی کی زبان میں کہا تھا:
من از گل باغ می جویم تو گل از باغ می جوی
من آتش از دخاں بینم تو از آتش دخاں بینی
’’میں پھول سے باغ بنانا چاہتا ہوں اور تم باغ سے پھول تلاش کرتے ہو۔ میں دھویں سے آگ کا پتہ چلا لیتا ہوں اور تم آگ کو دیکھ کر دھویں کا وجود معلوم کرتے ہو۔‘‘
کاسموپولیٹن فقہ اور ڈاکٹر غازیؒ کے افکار
محمد سلیمان اسدی
برصغیر پاک وہند کی سرزمین پر گزشتہ دو اڑھائی صدیوں میں بعض ایسی نابغہ روزگار شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے علمی بنیادوں پر لوگوں میں فکری جمود کو توڑتے ہوئے اجتہادی عمل کو آگے بڑھانے اور مسلکی انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کی حتی المقدور کوشش کی۔ ان اہل علم میں شاہ ولی اللہؒ ، علامہ اقبالؒ ، مولانا انور شاہ کشمیریؒ ، مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے نام سرفہرست ہیں۔ بیسویں صدی کے اوائل میں علامہ اقبالؒ نے زمانہ کے بدلتے ہوئے تقاضوں اور تمدنی و تہذیبی تغیرات پر گہری نظر رکھتے ہوئے فقہ اسلامی پر نئے زاویوں سے غور وفکر کرنے اور اسے از سر نو مرتب کرنے کے لیے دعوت فکر دی اور اس سلسلے میں مختلف نامور اہل علم سے رابطہ بھی کیا تھا۔ ان میں علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ ، مولانا سید سلیمان ندوی ؒ اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کے نام بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ ۱۹۲۶ ء میں مولانا انور شاہ کشمیری دارالعلوم دیوبند سے الگ ہوئے تو علامہ اقبالؒ کو اس سے خوشی ہوئی کہ شایداب وہ مولانا انور شاہ کشمیری ؒ کو قیامِ لاہور پر راضی کر سکیں گے۔ مولانا سعید احمد اکبر آبادی لکھتے ہیں:
’’دارالعلوم دیوبند میں اختلافات کے باعث جب حضرت الاستاذ [مولانا انور شاہ کشمیری] نے ا پنے عہدہ صدر الاساتذہ سے استعفا دیا اور یہ خبر اخبارات میں چھپی تو اس کے چند رو ز بعد میں ایک دن ڈاکٹر اقبال کی خدمت میں حاضر ہوا۔ فرمانے لگے کہ آپ کا اور دوسرے مسلمانوں کا جوبھی تاثر ہو، میں بہرحال شاہ صاحب کے استعفا کی خبر پڑھ کر بہت خوش ہوا ہوں۔ میں نے بڑے تعجب سے عرض کیا : کیا آپ کو دارالعلوم دیوبند کے نقصان کا کچھ ملال نہیں؟فرمایا کیوں نہیں، مگر دارالعلوم دیوبند کو تو صدرالمدرسین اور بھی مل جائیں گے اور یہ جگہ خالی نہ رہے گی، لیکن اسلام کے لیے جو کام میں شاہ صاحب سے لینا چاہتا ہوں، اس کو سوائے شاہ صاحب کے کوئی دوسرا انجام نہیں دے سکتا۔ اس کے بعد انہوں نے اس اجمال کی تفصیل یہ بیان کی کہ آج اسلام کی سب سے بڑی ضرورت فقہ کی جدید تدوین ہے جس میں زندگی کے ان سینکڑوں ہزاروں مسائل کا صحیح اسلامی حل پیش کیا گیا ہو جن کو دنیا کے موجودہ قومی اور بین الاقوامی، سیاسی، معاشی اور سماجی احوال وظروف نے پیدا کر دیا ہے۔ مجھ کو یقین ہے کہ اس کام کو میں اور شاہ صاحب دونوں مل کر ہی کر سکتے ہیں۔ ہم دونوں کے علاوہ اور کوئی شخص اس وقت عالم اسلام میں ایسا نظر نہیں آتا جو اس عظیم الشان ذمہ داری کا حامل ہو سکے۔ پھر فرمایا: یہ مسائل کیا ہیں اور ان کا سرچشمہ کہاں ہے؟ میں ایک عرصہ سے ان کا بڑے غور سے مطالعہ کر رہا ہوں۔ یہ سب مسائل میں شاہ صاحب کے سامنے پیش کروں گا اور ان کا صحیح اسلامی حل کیا ہے؟ یہ شاہ صاحب بتائیں گے ۔ اسی طرح ہم دونوں کے اشتراک وتعاون سے فقہ جدید کی تدوین عمل میں آئے گی‘‘ (۱)
چنانچہ علامہ اقبال ؒ نے مولانا انور شاہ کشمیری ؒ کو ایک تفصیلی تار بھیجا جس میں کہا گیا کہ آپ لاہور تشریف لے آئیں اور یہاں قیام فرمائیں۔ اس تار کا جواب نہ آنے پر انھوں نے مولانا عبدالحنان ہزاروی کو براہ راست بات کرنے کے لیے روانہ کیا کہ تم جا کر زبا نی عرض کر و۔ مولانا عبدالحنان ہزاروی کہتے ہیں کہ میں گیا تو معلوم ہوا کہ شاہ صاحب کو وہ تار اس وقت دیا گیا جب ڈابھیل والوں نے اصرار کر کے شاہ صاحب کو وہاں تشریف لے جانے پر رضا مند کر لیا تھا ۔ میں ملا تو فرمایا، افسوس کہ آپ کا پیغام بعد میں ملا اور میں ڈابھیل والوں سے وعدہ کر چکا تھا۔ (۲)
۲۹؍مئی ۱۹۳۳ء کو شاہ صاحب کا وصال ہو جانے کے بعد علامہ اقبال نے مولانا سید سلیمان ندویؒ کو اس بات پر غور وفکر پر آمادہ کرنے کے لیے متعدد خطوط لکھے کہ وہ دیگر اہل علم کے ساتھ مسلمانانِ عالم کو پیش آنے والے ممکنہ چیلنجز کا حل تلاش کرنے کے لیے فقہ اسلامی کا ازسرنو جائزہ لے سکیں۔ (۳) مگر یہ دونوں اہل علم بوجوہ علامہ محمد اقبال ؒ کے ساتھ مل کر کام نہ کر سکے۔ اسی طرح علامہ اقبال ؒ نے اپنی عمرکے آخری سال ۱۹۳۸ء میں مشرقی پنجاب کے ضلع پٹھان کوٹ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک صاحب ثروت مخلص بزرگ نے اس ادارہ کے لیے زمین بھی دے دی ۔ اس میں یہ طے کیاگیا کہ ایک نوجوان عالم مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو بلایا جائے ۔ خود موصوف بھی وہاں جایا کریں گے۔ اس طرح وہ مل کر فقہ اسلامی کی تدوین نو کا کام کریں گے اور جدید دور کی ضروریات کے مطابق فقہ اسلامی کے قواعد و ضوابط کو از سر نو مرتب کیا جائے گا۔ (۴)
اسی تناظر میں بیسویں صدی کے آخر میں بہت سے اہل علم ودانش کے ہاں یہ احساس شدت سے پیدا ہونے لگا کہ دنیا ایک گلوبل ولیج (Global village) کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، بہت سے پیچیدہ معاملات کی گتھیاں سلجھنے لگی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر تعلقات اور رابطوں کے راستے ہموار ہو نے لگے ہیں۔ پھر یہ کہ عالم اسلام کے بیشتر ممالک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کا عمل سنجیدگی سے آگے بڑھنا شروع ہوا ۔ اب جہاں جہاں اسلامی قوانین کی بات ہوئی، وہاں اسلامی قوانین پر اعتراضات بھی ہوئے۔ یہ اعتراضات مغرب نے بھی کیے اور دنیاے اسلام کے اندر سے بھی ہوئے۔ مثلاً عورتوں کے بارے میں، غیر مسلموں کے بارے میں، جمہوریت کے بارے میں ، روز مرہ پیش آمدہ معاملات و حادثات کے بارے میں اشکالات کا دنیائے اسلام کو واسطہ پڑنے لگا۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلاکہ عالم اسلام کے مختلف اہل علم و دانشور حضرات نے سنجیدگی سے ان مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے تمام فقہی مسالک سے استفادہ کرنے کا سوچا۔ اجتماعی اجتہاد کے اس رجحان کے نتیجے میں فقہی مسالک کی روایتی حدود، محدود اور کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ عالمی حالات کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو اب ایک نئی فقہ وجود میں آ رہی ہے جس کو نہ فقہ حنفی کہہ سکتے ہیں، نہ مالکی، نہ حنبلی، نہ جعفری، بلکہ اسے اسلامی فقہ ہی کہا جانے لگا ہے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ نے اپنے خطبات اور محاضرات میں اس کے لیے Cosmopolitan Fiqh یعنی عالمی یا ہردیسی فقہ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ (۵)
ڈاکٹر غازی صاحب ؒ نے اس کی ضرورت اور عملی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے اہل علم کو اس کی طرف توجہ دلانے اور سنجیدگی سے سوچنے کی دعوت عمل دی ہے کہ عصر حاضر میں اس کی ضرورت اس وقت واضح ہو کر سامنے آئی جب بنکاری کے نظام کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالنے کی کوششیں کی گئی تو عالم اسلام میں اور خصوصاً سر زمین پاکستان میں اس کی تیار ی کے لیے مختلف فقہی مسالک و مکاتب فکر کے اہل علم اور ماہرین معاشیات سے رپورٹ لی گئی تو اس کے نتیجے میں اسلامی بنکاری کا جو خاکہ مشترکہ جدوجہد اور لائحہ عمل سے تیار ہوا، وہ کسی مخصوص فقہ سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ اس کو فقہ حنفی کی دستاویز یا رپورٹ نہیں کہا جا سکتا اور اسی طرح یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فقہ شافعی یا فقہ جعفری کی بنیاد پر تیار ہوئی ہے۔ اس میں پوری فقہ اسلامی سے استفادہ کیا گیا اور دستاویز تیار کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے اسے ایک بڑی کامیابی کہا جا سکتا ہے کہ دنیائے اسلام کے مشکلات کے حل کے لیے مشترکہ فقہی پلیٹ فارم سے استفادہ کیا گیا ہے اور عملی طور پر اس پر عمل درآمد کرایا گیا ہے۔
ڈاکٹر صاحب ؒ اسے اس زاویہ نگاہ سے اس لیے دیکھتے تھے کہ تمدنی تغیرات اور زمانے کے تقاضوں میں اس قدر تغیر رونما ہو چکا ہے کہ اگر ایک فقہ کے ماننے والوں نے دوسری فقہ سے استفادہ نہ کیا تو ان کے لیے موجود چیلنجز سے نمٹنا مشکل ہو جائے گا۔ چنانچہ اس کی وضاحت ایک مثال سے کرتے ہیں کہ
’’اگر کوئی شخص آپ سے کوئی وعدہ کر لے کہ مثلاً وہ آپ سے آپ کی فیکٹری کی مصنوعات خرید لے گا تو کیا اس وعدہ کی کوئی قانونی حیثیت بھی ہے یا صرف اخلاقی حیثیت ہے؟ امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ اس طرح کا وعدہ قضاءً ا واجب التعمیل نہیں ہے۔ اس کے برعکس امام مالکؒ نے فرمایا کہ اگر کسی وعدہ کے نتیجہ میں کوئی شخص کسی ذمہ داری کو اپنے اوپر لے لے اور اس ذمہ داری کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے اس کا کوئی نقصان ہو جائے تو ایسے ہر وعدہ کی پابندی لازمی ہے اور ضروری ہے۔ عدالتوں کو ایسے معاملات میں مداخلت کا پورا اختیار ہے اور ملکی قانون ایسے وعدوں کی لازمی تعمیل کرانے کا اہتمام کر سکتا ہے۔ اب یہ دو نقطہ نظر ہیں۔ دونوں اجتہادی ہیں،کوئی نص صریح یا حدیث میں نہیں ہے۔ آج کل کا جو کاروبار ہے، وہ پرانے زمانے کے کاروبار کی طرح نہیں ہے کہ دو آدمیوں نے مل کر دکان کھول لی یا ایک آدمی، دو چار یا دس آدمیوں کا مال لے کر قافلہ میں چلا گیا اور جا کر تجارت کر کے آ گیا۔ دیانت دار نے تو بتا دیا کہ کس کو کتنا منافع ملا ہے جس کا یہ حساب ہے۔ بعض اوقات لوگ اپنا آدمی بھی ساتھ دیا کرتے تھے کہ دیکھتا رہے کہ کام ٹھیک ہو رہا ہے کہ نہیں ہو رہا ہے۔ آج کل کیفیت یہ ہے کہ کوئی کاروبار ایسا نہیں جس میں لاکھوں کروڑوں آدمی بیک وقت شریک نہ ہوں۔ بڑے بڑے کاروباروں کے شیئرز دس روپے میں مل جاتے ہیں۔ اس شیئر کو جس کاجی چاہے خرید لے۔ اگر بنکوں کو مضاربہ کمپنیوں کے طور پر چلانا ہے تو جتنے اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں، وہ ا س میں شریک ہوں گے اور سب رب المال ہوں گے، پاکستان میں غالباً ساڑھے تین کروڑ اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں۔ تین ساڑھے تین کروڑ اکاؤنٹ ہولڈروں کے کاروبار میں یہ کہاں ممکن ہے کہ آدمی یہ دیکھنے کے لیے رکھا جائے کہ کاروبار صحیح ہو رہا ہے کہ نہیں۔ یہ صورتحال ہے۔ اس لیے اس پر از سر نو غور کرنا پڑے گا۔ اتنے بڑے پیمانے پر جو کاروبار ہوتا ہے، اس کی شکل یہ ہوتی ہے کہ فرض کریںآپ کوئی کمپنی لانچ کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا میں آج کل جو قانون ہرجگہ رائج ہے، وہ یہ ہے کہ آپ پہلے اس کمپنی کا تصور اپنے ذہن میں واضح کریں جو آپ بنانے جا رہے ہیں۔ اس کمپنی کا ایک بنیادی ڈھانچہ تیار کریں جو میمورینڈم آف ایسوسی ایشن کہلاتا ہے۔ اس میں آپ واضح طور پر یہ بتائیں گے کہ وہ کمپنی کیا کرے گی۔ اس میں آپ کتنا سرمایہ لگانا چاہتے ہیں۔ کتنے پیسے آپ ابھی دینے کے لیے تیار ہیں اور کتنے بعد میں دیں گے۔ آپ شیئرز کے نام پر پبلک سے کتنے پیسے لینا چاہتے ہیں۔ ایک کو آتھورائزڈ کیپٹل یا اجازت شدہ سرمایہ کہتے ہیں اور دوسرے کو پیڈ اپ کیپٹل یا ادا شدہ سرمایہ کہتے ہیں ۔ پیڈاپ کیپٹل کتنا ہو گا اورا آھورائزڈ کیپٹل کتنا ہو گا ۔ جو اصل سرمایہ آپ لگا رہے ہیں وہ کتنا ہو گا ، کسی اور شخص نے اگر ذمہ لیا ہے جس کو انڈر رائٹنگ کہتے ہیں، وہ کون شخص ہے اور اس نے کتنا ذمہ لیا ہے۔ اگر اس نے کچھ شرائط رکھی ہیں تو وہ کیا ہیں۔ یہ کام کرنے کے بعد آپ کو وہ کمپنی حکومت کے پاس رجسٹر کروانی پڑتی ہے۔ اس کے بعد کمپنی کے articles of association بنانے پڑتے ہیں جس میں لکھا ہوتا ہے کہ کمپنی کے تفصیلی قواعد اور ضوابط کیا ہیں۔ پھر حکومت کے قواعد وضوابط کے مطابق آپ اس بارے میں اخبار میں اشتہار دیں گے۔ اس اشتہار کے ذریعے آپ کو بتانا پڑے گا کہ کون کون لوگ اس میں شریک ہیں۔ ان کی credibilityکیا ہے۔ وہ کتنے نفع کی توقع کرتے ہیں۔ اس کے حساب سے لوگ اس میں پیسہ لگائیں گے اور سرمایہ کار ادارے اس میں پیسہ دیں گے۔ اب یہ اربوں کھربوں کا کاروبار ہوتا ہے۔ خود اس اعلان کے مرحلہ تک پہنچنے کے لیے کئی کروڑ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ کئی کروڑ یا کئی لاکھ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ کئی کروڑ یا کئی لاکھ روپے خرچ کرنے کے بعد یہ مرحلہ آتا ہے کہ آ پ کمپنی لانچ کرنے کی بات کریں۔
خالص احناف کے ٹھیٹھ نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ سب کچھ محض ایک وعدہ ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ کاروبار شروع کر رہے ہیں۔ آپ پیسہ دیں تو اس میں نفع ہو گا ۔اب یہ وعدہ ، جو انہوں نے کیا ہے ،کیا یہ بائنڈنگ نہیں ہے؟ اگر یہاں احناف کا نقطہ نظر اپنایا جائے تو اس طرح کا کوئی کاروبار تو چل ہی نہیں سکتا۔ محض ایسے وعدے جو عدالت میں واجب التعمیل نہیں ہے اور جس کو عدالت نافذ نہیں کرے گی، اس میں کوئی آدمی اپنا پیسہ کیوں لگائے گا۔ اس پر غوروخوض شروع ہوا تو معلوم ہوا کہ امام مالکؒ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر کوئی وعدہ ایسا ہو کہ جس کے نتیجے میں کوئی obligationیا liability پیدا ہوتی ہے تو وہ وعدہ قضاءً ا واجب التعمیل ہے اور عدالت اس کی لازمی پابندی کا حکم دے گی۔ چنانچہ آج کل کے تمام فقہا نے اس رائے کو اختیار کر لیا۔ اب جہاں جہاں اسلامی فنانسنگ، بینکنگ یا کمپنی پر کام ہو رہا ہے، وہا ں امام مالکؒ کے اسی نقطہ نظر کے مطابق ہو رہا ہے۔‘‘ (۶)
ڈاکٹر صاحبؒ کے نقطہ نظر کا کئی اعتبار سے قوی ہونا بھی سمجھ میں آتا ہے۔ اس لیے کہ تمدنی تغیرات کے نتیجے میں اتنے پیچیدہ مسائل پیدا ہو چکے ہیں کہ کسی ایک فقہ میں رہتے ہوئے اور اس پر عمل کرتے ہوئے ان مسائل کا حل تلاش کرنا مشکل ہے، بلکہ بعض جگہ ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ چار مشہور فقہی مسلکوں کے دائرے سے نکل کر بھی عمل کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے فقہائے کرام کی کثیر جماعت نے اس طرف رجوع کیا ہے کہ براہ راست قرآن و سنت سے استنباط کر کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ اس صورت میں کسی بھی امام کے قول پر عمل کرنا ہو ، قبول کر لینا چاہیے۔ تاہم یہ اجتہاد واستنباط کی صلاحیت رکھنے والے اہل علم ہی کر سکتے ہیں۔ اس دوران اگر ائمہ اربعہ کے اقوال سے انحراف ہو جاتا ہے تو کوئی بری با ت نہیں ہو گی۔
جہاں تک پیش آمدہ مسائل کے اجتہاد واستنباط کی بات ہے تو ڈاکٹر غازی ؒ فرماتے ہیں کہ اجتہاد و استنباط کی پیچیدگیوں سے الجھنا اور سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے کہ ہر کس و ناکس اس کا بیڑا اٹھا سکے۔ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔ ہر کس و ناکس کا کام نہیں کہ اٹھ کر کہہ دے کہ میں چاروں فقہا کے نقطہ نظر کو مسترد کرتا ہوں۔ ایسا نقطہ نظر جس پر چار جید ترین فقہا کے زمانہ سے لے کر ہزاروں بلکہ لاکھوں فقہا نے غور وفکر کیا، جو تابعین اور تبع تابعین کے زمانے کے لوگ تھے، پھر ہزاروں لاکھوں انسان مسلسل اس پر غور کرتے چلے آرہے ہیں، ایک ایک پہلو ر صدیوں تک غور کیا گیا، اس سارے کام کو کوئی آدمی آج کھڑا ہو کر بیک جنبش زبان یہ کہہ دے کہ میں مسترد کرتا ہوں، یہ اتنا آسان کام نہیں۔ اس میں بہت تفصیلی غور وخوض کے ساتھ بڑی خداترسی، احساس ذمہ داری اور احتیاط کی ضرورت ہے۔ (۷)
ڈاکٹر صاحبؒ کے فکر کی تائید کے لیے ہم ذیل کی سطور میں چند مثالیں پیش کرتے ہیں جن میں فقہ حنفی سے وابستہ لوگوں کے لیے اپنی فقہ پر عمل کرنا دشوار نظر آتا ہے او ر اسی لیے وہ زمانہ کے تقاضوں پر پورا اترنے کے لیے دیگر فقہائے کرام ؒ کے اقوال کو ترجیح دیتے ہیں:
مثال کے طورپر دلالی brokerage)) کی اجرت کولیجیے۔ اگر دلال اپنی اجرت اور کمیشن بائع اور مشتری سے واضح طور پر طے کر لے تو فقہ حنفی سے وابستہ لوگوں میںیہ صورت معاملہ عام پائی جاتی ہے اور اسے جائز سمجھا جاتا ہے، جب کہ اگر فقہاے احناف ؒ کی رائے لی جائے تو یہ ان کے ہاں ناجائز ہے اور اس سے آپس میں طے پانے والا معاملہ فاسد ہو جاتا ہے۔ (۸) تاہم فقہائے مالکیہ کے ہاں مذکورہ صورت جائز ہے اور اس پر عمل ہوتا آ رہا ہے۔(۹) احناف ؒ کے نزدیک فیصد کے حساب سے دلال کی اجرت مقرر کرنا ناجائز ہے،جب کہ امام مالک اور امام احمد ؒ کے ہاں جائز ہے۔ تاہم متاخرین حنفیہ میں سے علامہ ابن عابدین ؒ اور مولانا اشرف علی تھانویؒ نے امام ابوحنیفہؒ کے قول کو ترک کرتے ہوئے امام مالک اور احمدؒ کے قول کو قبول کرنے کا کہا ہے ۔ (۱۰)
اسی طرح بین الاقوامی سطح کی تجارت پر شپنگ کا جو طریقہ رائج ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ جہاز پر مال چڑھا دینے کے بعد اصل بائع کا ذمہ فارغ ہو جاتا ہے اور اگر مشتری تک مال پہنچنے سے پہلے ضائع ہو جائے تو وہ اس کا ضامن نہیں ہوتا۔ پھر یہ مشتری مال کی وصولی سے پہلے، جب کہ مال ابھی سمندر میں ہوتا ہے، تیسرے شخص کے ہاتھوں فروخت کر دیتا ہے اور مال کے ضائع ہونے کی صورت میں اس کا ضامن نہیں ہوتا، بلکہ تیسرا شخص ضامن ہوتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں بیع قبل القبض پائی ہے۔ احناف ؒ اور شافعیہ دونوں کے نقطہ نظر کے مطابق تو درست نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ ان کے نزدیک بیع پرقبضہ ضروری ہے، بلکہ قبضہ سے بڑھ کر تخلیہ بھی ہونا چاہیے (۱۱) جب کہ مالکیہؒ کے ہاں طعام کے علاوہ سبھی چیزوں کی بیع قبل القبض جائز ہے۔ ( ۱۲) چنانچہ دورحاضر میں اس طرح بہت سے معاملات کثرت سے طے کیے جاتے ہیں۔ اس ناگزیر ضرورت کی بنیاد پر فقہائے احناف ؒ نے بھی مالکیہ کے قول پر عمل کرنے کی اجازت دی ہے۔
اسی طرح کی ایک مثال عقدکے اندر جہالت کے اعتبار سے غرر کی ایک صورت عقد العربون( بیعانہ والا معاملہ) ہے یعنی وہ معاملہ جس میں ایک فریق بیعانہ دیتا ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ خریدار بائع کو کچھ رقم اس شرط پر دیتا ہے کہ اگر وہ بعد میں بائع سے مطلوبہ چیز لے لے تو یہ رقم قیمت کا حصہ بن جائے گی، لیکن اگر بعد میں خریدار سے مطلوبہ چیز نہ لے تو وہ رقم بائع کی ہو گی۔ جس طرح یہ معاملہ بیع کے اندر ہوتا ہے، اسی طرح کا معاملہ اجارہ کے اندر بھی ہوتا ہے۔ اگر مذکورہ صورت پر غور کیاجائے تو اس میں خریدار یا کرایہ دار کو مطلوبہ سامان لینے یا نہ لینے کا اختیار ہوتا ہے۔ اگر وہ مطلوبہ سامان لے لے تو اس کی طرف سے دیا ہوا بیعانہ قیمت یا کرایہ کا حصہ بن جاتا ہے، ورنہ کسی عوض کے بغیر بائع یا موجر کے پاس چلا جاتا ہے۔ اس میں بائع یا موجر کو عقد ختم کرنے کا اختیار نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ہر حال میں ضروری ہے کہ وہ مطلوبہ سامان خریدار کے حوالے کرے۔ گویا اس میں ایک فریق کی طرف سے عقد لازم ہوتا ہے اور جب کہ دوسرے کی طرف سے لازم نہیں ہوتا بلکہ اسے عقد ختم کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس عقد میں ایک جانب سے غیر یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ چنانچہ حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ کے نزدیک یہ عقد جائز نہیں ہے جب کہ حنابلہ اس کی اجازت دیتے ہیں۔ عصر حاضرمیں اس کی شدید ضرورت وحاجت ہے کیوں کہ بیعانہ کے بغیر بیع ہونے کی صورت میں خریدار کو خطرہ رہتا ہے کہ بائع کسی دوسری جگہسے زیادہ قیمت ملنے پر اس چیز کو فروخت نہ کر دے۔ بیعانہ لینے کی وجہ سے وہ پابند ہو جاتا ہے اور اس کا عرف اور رواج بھی بہت زیادہ ہو گیا ہے۔
ضرورت اور حاجت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عصر حاضر کے اہل علم نے، اسلامی بینکوں اور حساب مرتب کرنے والی تنظیم aaofi نے بھی اسلامی بینکوں کو مرابحہ میں بیعانہ لینے کی اجازت دی ہے۔ البتہ اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ بہتر یہ ہے کہ عقد نہ ہونے پر بینک کو دوسری جگہ سامان بیچنے میں اگر کوئی حقیقی نقصان ہوا ہو تو صرف اس حد تک بیعانہ کی رقم اپنے پاس رکھ لے، زائد رقم کلائنٹ کو واپس کردے اور اگر نقصان نہ ہو تو پھر بیعانہ کی ساری رقم واپس کر دے۔ (۱۳)
سی طرح آج کل کی تجارتی زندگی میں ایک صورت یہ بھی رواج پذیر ہے کہ صرف غائب قرض یا غائب مال کو راس المال نہیں بنایا جاتا، بلکہ اس کے علاوہ نقد رقم یا سامان تجارت بھی شامل ہوتا ہے۔ مثلاً ایک دوکاندار کے پاس نقد رقم بھی ہے ، دکان میں سامان تجارت بھی رکھا ہوا ہے اور کچھ ادھار کھاتے بھی ہیں۔ اس سے کوئی شخص کہتا ہے کہ آپ ایک سال کے لیے مجھ سے ایک لاکھ روپے لے لیں، اس سے تجارت کریں اور پھر سال بعد جو نفع ہو، اس میں اتنے فیصد مجھے دے دیں۔ ظاہر ہے کہ اس میں دکاندار کی جانب سے شرکت میں صرف نقد رقم نہیں مل رہی بلکہ سامان تجارت اور ادھار کھاتے بھی شامل ہو رہے ہیں۔ مذکورہ صورت میں نقد رقم اور ادھار کھاتوں کے علاوہ سامان تجارت کو بھی راس المال کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اگرچہ فقہی ضابطہ میں فقہاء احنافؒ کے نزدیک سامان تجارت کو راس المال بنانا جائز نہیں، لیکن فقہاء مالکیہؒ کے ہاں اس کی اجازت ہے۔ زمانہ کی ضروریات کا لحاظ رکھتے ہوئے مولانا اشرف علی تھانویؒ کی رائے یہ ہے کہ بوقت ضرورت مالکیہ کے قول کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مولانا تھانویؒ کے اس قول کو اختیارکرنے کی وجہ سے عصر حاضر کی بہت سی جدید صورتوں کا حل بھی نکل آتا ہے۔ مثلاً موجودہ زمانے کی تجارت میں اس کا بھی رواج ہے کہ دو یا دو سے زائد تجارتی فرمیں مل کر ایک مشترکہ تجارتی ادارہ بنا لیتی ہیں۔ ایسی شرکت میں سرمایہ صرف نقد نہیں ہوتا بلکہ نقد اور جامد دونوں طرح کے اثاثے ہوتے ہیں۔ مذکورہ قول کی روشنی میں یہ صورت جائز ہو جا ئے گی۔
ڈاکٹر غازی ؒ کے فقہی نظریات کے مطالعہ سے چندامور سمجھ میں آتے ہیں:
۱۔ ضرورت وحاجت کو پیش نظررکھتے ہوئے کسی بھی فقیہ کی رائے کو قبول کرنے لینے میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں ہے۔
۲۔ بعض دفعہ مسائل پر عمل کرتے ہوئے امت کی بہتری اور مصلحت کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔
۳۔پیش آمدہ مسائل میں اجتہاد کی پوری گنجائش موجود ہے۔
اسی طرح ڈاکٹر صاحبؒ کی فقہی تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح کے اجتہادات بدلتے ہوئے حالات اوران کے تقاضوں کے گہرے شعور کی غمازی کرتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں تعلیم و تدریس کا دائرہ بھی مخصوص فقہی نظریات کے علاوہ تمام فقہی نظریات سے آگاہی تک وسیع کیا اجانا چاہیے تاکہ علمی روایت میں ارتقا بھی ہو اور تقاضوں کوکلی طور پر عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ ڈاکٹر صاحب اگرچہ ؒ فقہی توسع و تنوع رکھتے تھے اور اس طرح رہنمائی بھی کرتے رہے، لیکن ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بعض ضروری امور کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ فرماتے ہیں:
’’بہتر تو یہ ہے ایک ہی فقیہ کی پیروی کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ اگر کوئی آدمی اپنی پسند نا پسند سے pick and choose کاکام شروع کر دے تو اس سے شریعت کے مقاصدکو نقصان پہنچنے کا امکان رہے گا۔ اس لیے احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ کسی ایک فقیہ کی رائے کی پیروی کریں۔ لیکن جواہل علم ہیں، انہوں نے نہ پہلے اس کو لازمی سمجھا ہے اور نہ آج سمجھتے ہیں۔ جب فتویٰ دینا ہوتا ہے تو وہ دیکھ لیتے ہیں کہ اگر کسی خاص مسلک کانقطہ نظر اگر زیادہ قوی ہے تو اس کے مطابق وہ فتویٰ دے دیتے ہیں۔‘‘ (۱۴)
ڈاکٹر صاحب اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ عامۃ الناس کو بالکلیہ مسائل میں اختیار دینے کی بجائے امت کے فقہا کو اپنی صلاحیتوں کو اجتہاد پر لگانا چاہیے اور تاکہ وہ لوگوں کو درپیش مسائل سے نجات دلا سکیں ۔بصورت دیگر ان میں تلفیق عام ہو جائے گی۔ اس کے نتیجہ میں نئے فتنوں کا وجود اور امت میں انتشار کے ساتھ صحابہ کرامؓ ، ائمہ عظام ؒ ، اور سلف صالحین سے بد اعتمادی پیدا ہو گی جو کسی بھی طرح اسلامی معاشرہ کے لیے مفید نہیں ہے۔
حواشی و حوالہ جات
۱۔ سعید احمد اکبر آبادی: اے تو مجموعہ خوبی بچہ نامت خوانم ، مرتبہ سید محمد ازہر شاہ قیصر،(دیوبند، ۱۹۵۵ء )، باب ۶،درحیات انور، ص۱۶۵
۲۔ عبدالرشید ارشد: بیس بڑے مسلمان، ( مکتبہ رشیدیہ، لاہور، ۱۹۷۱ء)، ص۳۷۷
۳۔ قاضی افضل حق قرشی:اقبال کے ممدوح علماء، (مکتبہ محمودیہ، لاہو، ۱۹۷۸ء ) ص۵۰
۴۔ غازی، ڈاکٹر محموداحمد: محاضرات فقہ ،(الفیصل ناشران کتب ، لاہور، ۲۰۰۵ء) ، ص ۵۲۵
۵۔ المرجع السابق، ص۵۳۴
۶۔ المرجع السابق، ص۵۳۸
۷۔ المرجع السابق، ص۵۳۸
۸۔ االمرغینانی ، برہان الدین ابوالحسن علی بن ابی بکر ، الہدایہ،( ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ، کراتشی، ۱۴۱۷ھ)،باب بیع الفاسد ،فصل فیما یکرہ)،ص ۵؍ ۱۴۴
۹۔ عینی ،بدرالدین ،ابومحمد محمود بن احمد، عمدۃ القاری، (دارالفکر بیروت، لبنان) کتاب الاجارۃ، با ب اجر السمسرۃ، ۱۲؍۹۳
۱۰۔ محمد بن علی بن محمدالملقب بعلاء الدین (م۱۰۸۸ھ)،الدر المختار، ( ایچ ایم سعید کمپنی ،کراچی، ص)۶؍ ۶۳
* اشرف علی تھانوی، امداد الفتاویٰ ، (مکتبہ دارالعلوم کراچی، پاکستان)ص۳؍ ۳۶۶
۱۱۔ ابن عابدین، محمد بن امین الشامی، رد المحتار، (ایچ، ایم سعید، کراتشی، ۱۴۰۶ھ)،ص ۴؍ ۱۸۲
۱۲۔ ابن رشد ، ابوالولید محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن رشد :بدایۃ المجتہد، ( مطبعہ محمد علی صبیح، مصر، ۱۹۹۹ء)، ۲؍ ۱۴۴
۱۳۔ اعجاز احمد صمدانی، ڈاکٹر:اسلامی بینکاری اور غرر، (ادارہ اسلامیات ، کراچی،۲۰۰۶ء )،ص۴۴۔۴۵
۱۴۔ محاضرات فقہ، ۵۱۰
آتشِ رفتہ کا سراغ
پروفیسر محمد اسلم اعوان
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی کتاب ’’مسلمانوں کا دینی وعصری نظام تعلیم‘‘ پڑھتے ہوئے اسلام کی نشاۃ ثانیہ، برصغیر میں اسلامی فکری تحریکوں کے احیا اور عظمت رفتہ کے حصول کے لیے مصنف کا مبنی بر اخلاص جذبہ دیکھ کر بے اختیار علامہ اقبالؒ کا یہ شعر مسلسل ذہن وفکر میں گونجتا رہا:
میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغ
میری تمام جستجو، کھوئے ہوؤں کی آرزو
فاضل مصنف نے تاریخ، شعور، حقائق، جذبات اور احساسات کی روشنی میں گم شدہ عظمتوں کے احیا کا سراغ لگانے کے لیے معروضی صورت حال سے آگاہی کے بعد جس ژرف نگاہی سے مسائل کی نشان دہی کی ہے، اس سے ماہر معالج کی حذاقت یاد آجاتی ہے ، بقول اقبال :
مردان کار ڈھونڈھ کے اسباب حادثات
کرتے ہیں چارۂ ستم چرخ لاجورد
اصل میں مصنف کے ذہن وفکرکا قابل رشک پہلو یہ ہے کہ وہ دین اسلام اور اس کے تہذیبی وتمدنی اور سیاسی تفوق پر جس خود اعتمادی سے اظہار خیال کرتے ہیں، ایسی خود اعتمادی بہت کم اہل نظر کے ہاں دیکھنے میں آتی ہے۔ آج اکیسویں صدی کے پہلے عشرے میں یہ تلخ حقیقت نظر آ رہی ہے کہ علوم جدید کے حامل مسلمان چند ایک استثنائی صورتوں کے علاوہ، نہ صرف یورپ سے فکری طور پر مرعوب ہیں بلکہ انگریزوں سے بڑھ کر انگریزہیں۔ بقول اقبال :
نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو
ترس گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے
’’ دینی مدارس: مفروضے، حقائق، لائحہ عمل‘‘ کے زیر عنوان برصغیر پاکستان، ہند اور بنگلہ دیش میں دینی مدارس کے عظیم کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ ان مدارس نے ’’ ملک وملت کی پوری تاریخ میں بالعموم اور انگریز کی دوسو سالہ تاریخ میں بالخصوص یہاں اسلامی تہذیب، اسلامی تمدن، مسلمانوں کی مذہبی زندگی کا تحفظ کیا۔‘‘ (ص ۲۲) محمود احمد غازیؒ کے ان الفاظ کو پڑ ھ کر سرسر ی طور پر نہ گزر جائیے گا۔ اس کے پس منظر میں دینی مدارس سے وابستہ، اسلام اور علوم اسلامیہ سے وابستہ ہزاروں معلمین اور تلامذہ کی جاں سوزی اور پوری دنیا کو اختیاری طورپر تج کر مقہوری کی سطح پر رہ کر ایثارو فدا ہونے والوں کی لاتعداد روشن مثالیں ہیں۔ ان گم نام قربانیوں کے باعث آج بھی دینی مدارس روشن میناروں کی طرح بلند وبالا اور قائم ودائم کھڑے عظمت ونور بکھیر رہے ہیں۔
یہاں مجھے سیدعطاء اللہ شاہ بخاریؒ (م ۱۹۶۱ء) کے قریبی ساتھیوں میں ایک نمایاں نیاز مند اور رفیق قاضی احسان اللہ شجاع آبادی ( م ۱۹۶۷ء) کا واقعہ یا د آ رہا ہے۔ شجاع آباد میں قیام پاکستان سے قبل برطانوی حکومت کے عروج کے دور میں ایک سول جج تعینا ت تھے ۔ یہ جج صاحب مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کے سبب نسلی طورپر مسلمان تھے، لیکن جذباتی طور پراسلام سے وابستگی کے باوجود دین اسلام سے رواجی تعلق رکھتے تھے۔ اس دور کے جدید تعلیم یافتہ مسلمان طبقے کی اکثریت کے ذہن یورپ سے فکری طور پر مرعوب تھے اور مسلمانوں کے تہذیبی اور علمی ورثے کے بارے میں کچھ قابل رشک خیالات نہیں رکھتے تھے، بلکہ انگریزی تعلیم کے حصول اور انگریزی استادوں کے زیر اثر مسلمانوں کے ماضی کے بارے میں احساس کمتری کا شکار اور علما سے بھی نالاں اور گریزاں رہتے۔ ہوا یوں کہ اتفاق سے جج صاحب کی بیٹی ایم اے فارسی کرنے کے لیے پرائیویٹ طور پر تیار ی کے لیے فارسی کے کسی معلم ٹیوٹر کی رہنمائی اور امداد کی خواہاں تھی۔ جج صاحب تو فارسی سے ناخواندہ محض تھے، ان کی نظر انتخاب ٹیوٹر کے طور پر قاضی احسان احمد پر جا ٹھہری ۔ مجبوراً قاضی صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی بچی کے لیے فارسی زبان کی تدریس کی درخواست کے ساتھ فیس کی پیش کش بھی کی۔ قاضی صاحب نے فرمایا، فیس اور ٹیوشن دے کر نہ تو ہم نے اپنے اساتذہ سے پڑھا ہے اور نہ ہم نے معاوضہ لے کر کسی کو پڑھایاہے۔ آپ کی بیٹی میری بیٹی ہے، میں اسے بلامعاوضہ فارسی پڑھا ؤں گا۔ قصہ مختصر، وہ طالبہ قاضی صاحب کے پاس کم وبیش ایک سال تک فارسی پڑھتی رہی۔ یونیورسٹی کے امتحان میں اس طالبہ نے ایم اے فارسی میں سب سے اول پوزیشن حاصل کی۔ جج صاحب یہ خوش خبری سن کر جہاں انتہائی شاداں وفرحاں ہوئے، وہاں قاضی صاحب کی فارسی میں مہارت دیکھ کر علماء کرام کے علم وفضل اور مرتبہ ودرجہ کے بارے میں اپنے سابقہ احساسات سے رجوع کرتے ہوئے سوچنے پر مجبور ہو گئے۔ خود چل کر قاضی صاحب کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی کہ قاضی صاحب! آپ کی تعلیم کتنی ہے؟ قاضی صاحب نے جواب دیا: ’’ میری تعلیم اتنی ہے کہ مجھے کوئی پانچ روپے ماہانہ نوکری دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔‘‘
کہنے کو تو یہ ایک سرسری واقعہ ہے، لیکن گزشتہ دو سو سال میں دیسی انگریزوں نے دینی مدارس کے تعلیم یافتہ حضرات کو رزق کی مار دینے کی جو مذموم کوششیں یعنی سعی نامشکور کی، اس کا نچوڑ اور خلاصہ قاضی صاحب کی بیان کردہ اس مبنی برحقائق حکایت میں بطور المیہ آ جاتا ہے۔ یہ ہے دینی مدارس کی عظیم تاریخ جس پر محمود احمد غازی نے اعداد وشمار کی روشنی میں اظہار خیال کیا ہے۔
دینی مدارس کے عظیم کردار کو اکیسویں صدی کے جدید دور اور آئندہ مستقبل میں جدید تعلیم سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور آج سے تقریباً سوا صدی قبل دارالعلوم ندوۃ العلماء کے قیام کو اس جدوجہد کی پہلی جست کہا جا سکتا ہے۔ فاضل مصنف اس سلسلے میں اپنی دردمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں :
’’ دور جدید ایک پیچیدہ دور ہے۔ اس دور کے ادارے، تصورات اوراس دور کے معاملات اتنے پیچیدہ ہیں کہ اس کے لیے بڑی خصوصی مہارتیں درکار ہیں۔ جہاں فنی مہارتیں ہیں، وہاں بدقسمتی سے شریعت کا علم نہیں ہے اور جہاں شریعت کا علم ہے، وہاں جدید فنی مہارتیں نہیں ہیں۔ ہم پر فرض کفایہ ہے کہ ہم شریعت کے ایسے متعمق ماہرین پیدا کریں جو دینی ماحول، دینی تربیت اور دینی ذوق ومزاج کے ساتھ ساتھ دور جدید کے معیار کی فنی مہارت رکھتے ہوں۔‘‘
محمود احمدغازی نے جس اہم مسئلہ کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ بلاشبہ ہماری تہذیبی، تمد نی اور دینی بقا کے لیے اولین ترجیحات میں سرفہرست ہے، لیکن افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ المیہ اور یہ شتر گربگی بھی برطانیہ کے دو سو سالہ دور غلامی کے ثمرات بد میں سے ہے اور شجر خبیثہ کی طرح مسلسل اپنے برگ وبار چھوڑ رہا ہے۔ قبل ازیں یہ صورتحال نہ تھی۔ اس بارے میں فاضل مصنف بالکل صحیح اور برمحل کہتے ہیں:
’’ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے ہاں دینی مدارس اور غیردینی مدارس کی تفریق نہیں تھی۔مجدد الف ثانیؒ ( م ۱۶۲۴ء) اور سلطنت مغلیہ کے وزیر اعظم نواب سعداللہ اور تاج محل آگرہ اور دوسری عظیم الشان عمارتوں کے معمار بھی انھی درس گاہوں کے پڑھے ہوئے تھے۔‘‘
وطن عزیز پاکستان میں عمرانی علوم خصوصاً تاریخ، فلسفہ، عمرانیات، اردو، فارسی ،عربی ادبیات سے روگردانی اور اس حوالے سے عدم توجہی پر مبنی حقارت کا رویہ اور ایسے رجحانات میں روز افزوں کثرت، یہ ایسے تعلیمی المیوں میں سے ہے جن کے ارتکاب سے قومیں اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہیں۔ اس کی نشاندہی کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے :
’’ امام غزالیؒ نے احیاء العلوم میں، امام ابن تیمیہ نے السیاسیۃ الشرعیہ میں لکھا ہے کہ ایسی تمام مہارتوں اور تخصصات کا حاصل کرنا مسلمانوں کے ذمے فرض کفایہ ہے جس کے نہ ہونے کہ وجہ سے مسلمان غیر مسلموں کے محتاج بن کر رہیں۔ اس دور میں فقہ پڑھ کر قاضی بن جاتا تھا، مفتی بن جاتا تھا، گورنر بن جاتا تھا۔ امام غزالیؒ نے لکھا ہے کہ طلبہ فقہ تو بہت پڑھتے ہیں، لیکن طب، ہندسہ (انجینئرنگ ) کوئی نہیں پڑھتا۔ اس زمانے میں الٹ تھا ۔ آج کل لوگ میڈیکل اور انجینئرنگ تو بہت پڑھتے ہیں، لیکن فقہ نہیں پڑھتے۔‘‘
علوم جدید کے حصول اور ان میں اعلیٰ مہارت پیدا کرنے کے بعدان کے منفی پہلوؤں کی نشان دہی جس دلیری اور مہارت سے مسلمانوں کی نابغہ روزگار علمی شخصیات نے کی ہے، اس کی نظیر شاید ہی مل سکے۔ چنانچہ زیر نظرکتاب میں اس کی شہادتیں جا بجا بکھر ہوئی نظر آتی ہیں۔ مصنف لکھتے ہیں:
’’یونانی علوم وفنون کو سیکھ کر ہی ہم اس کا جائزہ لے سکیں گے کہ ان میں کون سی چیز غلط ہے اور کیا چیز ہمارے لیے اسلامی نقطہ نظر سے قابل قبول ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ کی حجۃ اللہ البالغہ برصغیر کی بہترین مستند تصنیف ہے۔ برصغیر میں اس سے بہتر کتاب اسلام کے فلسفے پر لکھی ہی نہیں گئی۔ وہ بھی ساری کی ساری یونانی علوم وفلاسفہ کی اصطلاحات سے بھر پور ہے۔ ان مثالوں سے اندازہ ہوگا کہ وہ چیز جو پہلے خطرہ سمجھی گئی، وہ بعد میں خادم بن گئی۔ اسلام خادم بننے کے لیے نہیں آیا، مخدوم بننے کے لیے آیا ہے۔ اگر امام غزالیؒ اپنے دور میں منطق کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ: من لم یعرف المنطق فلا ثقۃ لہ فی العلوم اصلاً، جس آدمی نے منطق نہیں سیکھی، اس کا علم میں کوئی مقام اور وزن نہیں، اس لیے کہ اس دور میں اہمیت منطق کی تھی۔ اس طر ح آج کے دور میں اگر کچھ دوسرے علوم وفنون، انگریزی زبان، معاشیات، ریاضی، کمپیوٹر کو اہمیت حاصل ہو گئی ہے تو علماء کرام کو آگے بڑھ کر امام غزالی کی طرح اس کا ادراک کرنا چاہیے۔‘‘
دیار مغرب (یورپ) میں جدید تعلیم یافتہ انگریز، فرانسیسی اور امریکی لوگوں میں سے غیر متعصب اور فراخ دل صاحب مطالعہ لوگ آخر کا راسلام کے دامن رحمت سے وابستہ ہو کر ملت اسلامیہ کے فرد بن جاتے ہیں، لیکن ہمارے برصغیر پاک وہند اور بنگلہ دیش سے برآمد شدہ نیم خواندہ اور فرقہ پرست امام مسجدوں کی یورپ میں موجودگی یورپ میں فروغ اسلام کے سلسلے میں نہ صرف سوالیہ نشان ہے بلکہ تبلیغ اسلام کے راستے میں بھی ایک بڑی رکاوٹ بن کر رہ گئی ہے۔ اس کی نشان دہی ملاحظہ ہو:
’’لندن میں یہ پاکستانیوں کی مسجد ہے، یہ بنگالیوں کی، یہ ترکوں کی۔ کیا صحابہ کرامؓ، تابعین ؒ جہاں گئے تھے، انہوں نے یہی طے کیا تھا کہ یہ بنو ہاشم کی مسجد ہے، یہ خزرج کی ہے اور یہ اوس کی ہے؟ وہاں تو اس طرح کی کوئی چیز نہیں تھی۔ ہماری اس کمزوری کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم طالب علم کو اس اہم اور بھاری ذمہ داری کے لیے تیار نہیں کر رہے کہ وہ ایسے غیر مسلم اور ناملائم ماحول میں حکمت کے ساتھ دین کی تعلیم پیش کر سکے۔‘‘
گزشتہ دوصدیوں میں یورپی استعمار نے نہ صرف براعظم ایشیا بلکہ براعظم افریقہ کے اکثر مسلم ممالک کو عسکری طور پر اپنے مقبوضات میں شامل کیا اور امت مسلمہ کو دینی، تہذیبی، ثقافتی اور علمی لحاظ سے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، لیکن یہ شرف برصغیر پاکستان وہند اور بنگلہ دیش کی سرزمین کو حاصل ہے کہ یہاں علما نے انگریز کے دو سو سالہ قبضہ کے باوجود مسلمانوں کی دینی وعلمی شناخت کو برقرار رکھا۔ محمود احمد غازی کے الفاظ میں :
’’الجزائر میں فرانسیسی استعمار نے اس مقبوضہ ملک کو اپنے رنگ میں رنگ دیا کہ فرانسیسیوں کے جانے کے بعد وہاں عربی بولنے اور لکھنے والے افراد کا وجود ختم ہو گیا۔ اس کے برعکس برصغیر کے علماء کرام، اہل علم، دینی مدارس نے قدیم تعلیمی روایت کے بہت سے پہلوؤں کو تحفظ فراہم کیا اور ان کو باقی رکھا۔ اس کے بعد جب منتقلی (ٹرانزیشن) کا آخری مرحلہ شروع ہوا، جب استعمار یہاں سے گیااور اقتدار مقامی لوگوں کے ہاتھوں میں آیاتو اس منتقلی کے وہ خطرناک اور منفی نتائج یہاں پیدا نہیں ہوئے جو کئی دوسرے مسلم ممالک میں پیدا ہوئے۔ صحابہ کرامؓ کی برکات، نفوس قدسیہ، صحابیوںؓ کی برصغیر میںآمد اور ان کے بابرکت قدموں کی کرامت کا سب سے بڑا مظہر یہ ہے کہ ان کے ورود مسعود کی مہک سے ان علاقوں کی فضائیں آج بھی پانچ وقتہ اذانوں سے گونج رہی ہیں اور وہاں دینی مدارس، قرآن وحدیث کی تعلیم وتدریس کا سلسلہ جاری وساری ہے۔ ‘‘
عموماً عبارت یا تقریر میں واقعہ لکھنے یا سنانے کے بعد حسب حال شعر لکھنا یاپڑھا جا تا ہے، لیکن میں محموداحمدغازیؒ کی زبانی وہ صورتحال قارئین کے سامنے پیش کرنے سے پہلے تقدیم کے طور پر شعر لکھتا ہوں:
کھلے ہوئے ہیں وہیں پھول سے نقوش قدم
جہاں سے قافلہ گزرا ہے میرے پیاروں کا
محمود احمدغازی کے الفاظ ہیں:
’’لیکن ایک بات نہایت عجیب ہے کہ وہ علاقہ جو صحابہ کرامؓ کے زمانے میں فتح ہواتھا ( اور صحابہ کرامؓ کا دور محدثین کے مطابق ۱۰۰ء تک ہے) وہ آج بھی پاکستان میں شامل ہے۔‘‘
دینی تعلیم وتدریس اسلامی ثقافت کی روح ہے اور یہ ایک ایسی ابدی حقیقت ہے کہ معیار ہمیشہ مقدار پر تفوق رکھتا ہے۔ دینی تعلیم کے فرو غ سے جو کلچر اور تمدن فروغ پاتا ہے، اس نے امت مسلمہ کو ہمیشہ غالب وبرتر رکھا۔ مقام تاسف کہ آج طبقاتی اور دینی اور انگریزی تعلیم کی تفریق وتقسیم سے وہ علمی ودینی ماحول دنیا کی غالب اکثریت کی آنکھوں سے اوجھل ہے او رانسان ہے کہ ہمیشہ سے محسوسات کا رسیا ہے اور موجود وحاضر صورت حال سے متاثر ومرعوب ہوتا آیا ہے۔ مصنف اس صورت حال کو مختصر اور معروضی انداز میں بیان کرتے ہیں:
’’مسلم کمیونٹی (برصغیر) میں، جو عددی اعتبار سے اقلیت میں تھی، جو عسکری اعتبار سے دوسری غیر اسلامی قوتوں کے مقابلے میں بہت زیادہ کمزور تھی، جو تہذیب وتمدن کے اعتبار سے یہاں کی قوتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی، لیکن صرف اور صرف تعلیم وتربیت کے اس نظام نے جو ۹۲ھ کے آغاز میں مسلمانوں نے قائم کیاتھا، مسلمانوں کو بارہ سو برس تک باقی رکھا۔‘‘
اسلامیان برصغیر پاکستان وہند اوربنگلہ دیش ہی نہیں بلکہ اسلامیان عالم کا دینی وفکری سرچشمہ سرزمین عرب ہے۔ ۹۲ھ بمطابق ۷۱۲ء میں محمدبن قاسم کی آمد کے وقت سند ھ اور ملتان تک کی زمین عربوں کے ورود سے آشنا ہوئی، لیکن بعد میں کچھ سیاسی، عصری اور دیگر وجوہ کے سبب عرب فاتحین اپنے ان مفتوحہ علاقوں سے رابطہ نہ رکھ سکے اور پھر کافی عرصہ یعنی دو صدیاں گزرنے کے بعد عرب سے مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ رکنے کے باعث برصغیر کا شمال میں واقع مسلمان ریاستوں افغانستان، وسط ایشیا، ترکستان سے اس طرح تعلق قائم ہوتا ہے کہ شمال سے سلطان محمود غزنویؒ (۹۹۸ء تا ۱۰۳۰ء) اور اس کے بعد سلطان شہاب الدین محمد غوری کی ۱۱۹۳ء میں آمداور دیگر مسلمان فاتحین، مبلغین، علماء کرام، صوفیاء کرام برصغیر کے شمال سے ہندوستان میں وارد ہوتے ہیں اور اسلامیان ہند کا رابطہ عرب کے مسلمانوں سے کٹ کر شمالی علاقوں کے مسلمانوں سے قائم ہو جاتا ہے۔ مصنف نے اس صورت حال کو کمال تاریخی بصیرت سے بیان کیا ہے:
’’ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا تعلیمی اور فکری رشتہ عرب اور عراق اورعربی بولنے والوں سے کٹ کر ایران اور سنٹرل ایشیا کے ممالک سے قائم ہو جاتا ہے۔‘‘
برصغیر پاک وہند اوربنگلہ دیش میں برطانیہ کی دو سو سالہ غلامی کے بعد آج اکیسویں صدی میں برطانیہ کے پیدا کیے ہوئے ذہنی غلاموں اور دیسی انگریزوں کے ہاتھوں تعلیم وتعلم کی جو درگت بن رہی ہے، اس کا خیال شاید لارڈ میکالے اوراس کے انگریز جانشینوں کو بھی نہ آیا ہوگا۔ بقول اقبالؒ
گلہ جفائے وفا نما کہ حرم کو اہل حرم سے ہے
کسی بت کدے میں بیاں کروں تو کہے صنم بھی ہری ہری
آئے دن کمیشن قائم ہو تے ہیں، تجاویز پر مبنی طول طویل مقالے لکھے اور پڑھے جاتے ہیں، بھاری بھر کم کتابوں پر مبنی رپورٹیں کئی کئی جلدوں پر مشتمل ضخیم کتابوں کی صورت میں شائع ہوتی ہیں، لیکن ملی تعلیم نظر انداز کرنے کے مسلسل رویے کے سبب انگریزی تعلیم وتعلم کاسلسلہ ہے کہ بڑھتا ہی چلا جاتاہے۔ اگر ان انگریزی اسکولوں اور کالجوں میں انگریزی کے ایسے فاضل تیار ہوتے جو اقوام یورپ کے سامنے مسلمانوں کانقطہ نظر اور نصب العین خود اعتمادی سے پیش کرنے کے اہل ہوتے تو پھر بھی غنیمت تھا۔ کم از کم ہمیں یہ تو اطمینان ہوتا کہ انگلش میڈیم اسکولوں اور کالجوں میں وہ مسلمان طبقہ تیار ہو رہا ہے جو مغرب کے سامنے اسلامی تہذیب وتمدن کو پیش کرنے کا اہل ہے، لیکن مقام صد افسوس کہ انگلش میڈیم اسکولوں اور کالجوں میں پڑھنے پڑھانے والا طبقہ دینی علوم، مشرقی ادبیات، عربی، فارسی، اردو سے کلی طور پر ناآشنا ہے اور اپنے ملی اور ادبی ورثہ سے حقار ت کارویہ رکھتا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ گزشتہ کئی عشروں سے انگریزی زبان وتہذیب سے عاشقانہ اور والہانہ انداز رکھنے کے باوجود اپنی محبوب ومرغوب زبان وتہذیب یعنی انگریزی زبان وادب سے اتنی بھی آگاہی نہیں رکھتا کہ اس پرعلمی اندازمیں اظہار خیال کرسکے۔ یعنی وہ صرف اور صرف لارڈ میکالے کے مجوزہ کلر ک بن کر نسل درنسل کالے اور دیسی انگریزوں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں۔ بقول اکبر الہ آبادی ؒ :
چھوڑ لٹریچر کو، اپنی ہسٹری کو بھول جا
شیخ ومسجد سے تعلق ترک کر، اسکول جا
چار دن کی زندگی ہے، کوفت سے کیا فائدہ
کھا ڈبل روٹی، کلرکی کر، خوشی سے پھول جا
مقام ماتم کہ آج کا برسر اقتدار حکمران طبقہ اور تعلیم، نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کی تشکیل کا اختیار رکھنے والا مقتدر گروہ کچھ ایسے نادیدہ عاشق کی طرح انگریزی کی زلف گرہ گیرکا اسیر ہے کہ وہ اسلامی ودینی ثقافت کے فکری سرچشموں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ادھر کا رخ کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتا، حالانکہ اسی مذکورہ بالا درس نظامی نے اپنے زمانے کے عبقری لوگ پید اکیے ہیں۔ محمود احمد غازیؒ کی زبانی:
’’درس نظامی محض دینی تعلیم کا نظام نہیں تھا۔ .....یہ تو اس زمانے کے حساب سے ایک ماڈرن اور اپ ٹوڈیٹ نظام کا خاکہ تھا جو اس زمانے کے ایک صاحب علم نے وضع کیا تھا۔ .....ملا نظام الدین نے اس زمانے میں جتنے علوم مروج تھے جن کا اندازہ ۵۶کے قریب لگایا جاتا ہے، ان سب کو یکجا کر کے ایک ایسے آٹھ سالہ نظام تعلیم کا خاکہ پیش کیاجس کو آج کل گریجویشن کی ڈگری کے برابر قراردے سکتے ہیں۔‘‘
کسی بھی نظام تعلیم کے روز افزوں فروغ اور نشوونما میں سب سے نمایاں کردار حکومت کی سرپرستی کا ہوتا ہے۔ حکام وقت جس بات کو بھی اختیار کریں، وہ عوام الناس کے لیے وجہ تقلید اور اسٹیٹس (status) کا معیار بن جاتی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے سیاح ابن بطوطہ نے اس سلسلے میں ایک بڑی ہوش ر با شہادت دی ہے جس کو محمود غازیؒ نے بایں الفاظ بیان کیا ہے:
’’دہلی کے اجڑنے کے بعد بھی ایک ہزار مدارس اس اجڑے دیار میں موجود تھے۔ ابن بطوطہ کے مطابق محمد تغلق دستر خوان پر اس وقت تک نہیں بیٹھتا تھاجب تک کم ازکم چار سو علما وفقہا اس کے دسترخوان پرموجود نہ ہوں۔‘‘ (ص ۵۶)
محمود غازیؒ کی کتاب پر تبصرہ کا خاتمہ کرنے کے بعد ضروری ہے کہ ہم موجودہ اور آئندہ کے لیے تعلیمی ضابطہ اخلاق کی تجدید کریں۔ پر وفیسرایم عمر الدین (شعبہ فلسفہ، مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ) نے امام غزالی کے فلسفہ اخلاق پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے :
"Knowledge of God includes the knowledge of the creator and the creation comprising the universe, the soul, the circumstances attending after death and so on. And knowledge of these things constitue the knowledge of Islam. Thus it is all-comprehending, for every science is a religious science if it promotes the realization of perfection. No science is bad in it self, because every science is simply knowledge of the facts as they are and this can not be bad in intself". (The Ethical Philosophy of Ghazali, Sh. M. Ashraf, Lahore 1977, page 113)
مراد یہ ہے کہ ہرعلم کا حصول دین کا حصہ تھا اور یہ علم حیات ہی کے ہر شعبہ سے متعلق نہ تھا، حیات بعد الممات سے بھی مربوط تھا۔ چنانچہ علم حاصل کرنا اور علم کو عام کرنا ثواب اور سر بسر عبادت ہے۔ یہی عبادت ہے کہ ہر پڑھا لکھا مسلمان دوسروں کو پڑھانا لکھانا اپنے لیے باعث رحمت جانتا تھا ۔ وہ گھر میں بھی معلم ہوتا تھا اور باہر بھی۔ نور کا اکتساب اور نور کی تقسیم، کار خیر میں امداد باہمی ہے۔ چنانچہ معلم کا مقام مسلم معاشرے میں بہت وقیع تھا۔ پہلی بار باتنخواہ اساتذہ بغداد کی نظامیہ یونیورسٹی میں مقرر کیے گئے۔ یہ یونیورسٹی پانچویں صدیں ہجری میں نظام الملک طوسی نے قائم کی تھی۔ باتنخواہ اساتذہ کا تقرر مسلمان اہل علم کوسخت ناگوار گزرا۔ ڈاکٹر محمد اسد طلس لکھتے ہیں کہ جب ہمہ وقتی تنخواہ دار اساتذہ ملازم ہوئے تو علماء خراسان نے ماتم علم کی مجلسیں منعقد کیں اور کہا کہ :
’’معلمی بلند نظر اور پاک نفس لوگوں کا شیوہ تھا جن کے پیش نظرعلم کے ذریعے کمال وفضیلت کا حصول ہوتا تھا۔ مگر ا ب جو علما آئیں گے، وہ علم کو محض کمائی کا ذریعہ بنائیں گے اور تنخواہ کے خیال سے دوں نہاد اور نکمے افراد بھی اس جانب کا رخ کرنے لگیں گے۔‘‘ (التربیۃ والتعلیم فی الاسلام، بیروت، ص ۱۲۴)
قارئین باتمکین!گستاخی معاف، آج ہم انگریزی تعلیم کے نقصانات اور انگریزی تعلیم کے اداروں کو تو بہت رو چکے، لیکن دینی مدارس میں بھی قابل اساتذہ کے بجائے صاحبزادگان کا قبضہ اور ان دینی مدارس کو جو ہر قابل (merit) کے حامل فاضل اساتذہ کے سپر د کرنے کے بجائے مدارس میں نسل در نسل گدی نشینی کا سلسلہ، یہ صورت حال ہماری دینی تعلیم اور دینی تعلیمی اداروں کے مستقبل کے لیے کوئی نیک فال نہیں ہے۔
اسلام کے سیاسی اور تہذیبی تصورات ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار کی روشنی میں
محمد رشید
جدید ترین اور حیران کن ذرائع ابلاغ کی ایجادات اور پھیلاؤ کی وجہ سے اکیسویں صدی کو اگر ذرائع ابلاغ و اطلاعات یعنی Information Technology کی صدی کا نام دیاجائے تو غلط نہ ہوگا۔تاہم ذرائع اطلاعات نے جس تیزی اور سرعت سے دہشت ناک حد تک ترقی حاصل کرلی ہے، اس کے برعکس نوع انسانی کو ’’درست اطلاعات‘‘ اور ’’نفع مند معلومات‘‘ پہنچانے والے دنیا میں بے حد کمیاب ہی نہیں بلکہ بے حد کمزور بھی ہیں۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ آج کی دنیامیں جدید ذرائع ابلاغ کا سب سے بڑا استعمال نوع انسانی کو مذہب، اخلاق، حیا اور انسانیت کو مسخ کرنے اور تباہی و بربادی کی آخری حدوں تک پہنچانے میں ہورہا ہے۔ وہ کمیاب لوگ جو نوع انسانی کی بقا، فلاح، اصلاح اور ترقی و خوشحالی کے لیے نوع انسانی کو معلومات و اطلاعات پہنچا سکتے ہیں، ان کی آواز ان جدید ترین ذرائع ابلاغ کے ذریعے نوع انسانی تک پہنچنے ہی نہیں دی جاتی کہ انسانیت علم کے نام پر جہالت، خود فراموشی اور خدا فراموشی کے جس نشے میں مدہوش ہوچکی ہے، کہیں اس کا یہ نشہ ٹوٹ نہ جائے۔ کہیں نوع انسانی ہوش میں نہ آجائے، نوع انسانی کو کہیں اپنی حقیقت، اپنے خالق کی پہچان اور اپنے ابدی انجام سے آگاہی نہ حاصل ہو جائے۔ یہ وہ خوف ہے جو نظام ابلیس کے ایجنٹوں کوہر وقت ستائے رکھتا ہے اور وہ جدید ایجادات کے ذریعہ سے نوع انسانی کو نفس پرستی و ہوس پرستی کے نشے میں مدہوش رکھنے میں اپنی تمام تر صلاحیتیں اور قوتیں صرف کیے ہوئے ہیں۔ لہٰذا نوع انسانی کی حقیقی فلاح و بہبود کے لیے اٹھنے والی کسی بھی طاقتور آواز کو ’’انسان دشمن‘‘ اور ’’تہذیب دشمن‘‘ کا نام دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔
دوسری طرف نوع انسانی کی رہنمائی مذہب کی صاف، سچی اور پاکیزہ تعلیمات کی طرف کرنے والا طبقہ (مذہبی طبقہ) مثبت ’’ابلاغ‘‘ کی قوت سے خوفناک حد تک عاری ہو چکا ہے۔ مشکل، پیچیدہ، اجنبی اور نامانوس انداز تکلم نے جدید دور میں بسنے والے انسان کو مذہبی طبقے سے بہت دور کردیا ہے۔ پھر مذہبی قائدین نہ صرف مثبت ابلاغ کی صفت کے فقدان کا شکار ہیں بلکہ اس طبقہ کی عظیم اکثریت کردار اور اخلاق کے بنیادی ترین جوہری وصف سے بھی اپنے آپ کو عاری کر چکی ہے۔ ان نہایت مایوس کن حالات میں اگر کوئی ایسی دینی شخصیت سامنے آجائے جو حسن کلام، قوت ابلاغ، کردار و اخلاق سے متصف اور جدید و قدیم علوم میں عبوررکھتی ہو، انسانیت کی فلاح و خوشحالی کا واضح شعور رکھتی ہواور ایمان و امن عالم کے کلیدی تصورات پر گہرا یقین رکھتی ہوتونگاہیں حیرت زدہ رہ جاتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ہمارے ساتھ پیش آیا۔ جب ہم نے ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کو آج سے قریباً ایک سال پہلے ان کی تحریروں کے آئینے میں دیکھاتو ہم دنگ رہ گئے۔ ہمیں ایسے لگا جیسے ایک بہت ہی بڑا انسان، قوت ابلاغ کی غیر معمولی صلاحیتوں اور علم وفکرکی بیش بہا دولت سے آراستہ ایک پہاڑ جیسا انسان عام انسانوں میں اپنے آپ کو چھپائے ہوئے ہے۔ اٹھارہ سال تک حصول تعلیم میں منہمک رہنے اور بے شمار مصنفین کے مطالعہ کے باوجود اس عاجز میں کبھی یہ خواہش پیدانہیں ہوئی کہ میں کسی کا شاگرد کہلواؤں۔ گویا زندگی کے چالیس سال مکمل کرنے تک میری یہ محرومی رہی ہے کہ مجھے کبھی یہ شوق اور اشتیاق ہی نہیں ہوا کہ میں کسی کو اپنا استادبناؤں، لیکن زندگی میں پہلی دفعہ عمر کے چالیسویں سال میں قدم رکھنے والے اس نہایت حقیر راقم کے دل میںیہ شدید خواہش پیدا ہوئی کہ اے کاش! مجھے علم کے اس پہاڑاور قدرت کے شاہکار، ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی شاگردی اختیار کرنے کا موقع مل جائے۔
جدید دور کے جن مصلحین اور داعیین کی تحریروں کا یہ عاجز مطالعہ کرتا رہا، ان میں مثال کے طور پرسید ابوالحسن ندویؒ ، مولانا منظور نعمانیؒ ، سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ ، مولانا تقی امینیؒ ، سید قطب شہید، مولانا وحید الدین خاں، جسٹس تقی عثمانی، ڈاکٹر اسرار احمدمرحوم اور دیگر چھوٹے بڑے بہت سے مصنفین اور مقررین شامل ہیں۔ ان حضرات نے اگرچہ اپنی جگہ متاثر کیا، خاص طور پر سید ابوالحسن ندویؒ کی دردمندتحریروں اور اعتدال پر مبنی تعلیمات نے انتہا پسندی اور تعصب سے بچنے کا خاص سبق دیااور اسلام کے دفاع و ابلاغ میں مولانا مودودیؒ کی بے باک، جری اور سلیس و موثرتحریروں نے بے حد متاثر کیا، لیکن اکیسویں صدی میں جب ڈاکٹر محمود احمد غازی سے ہمیں تعارف حاصل ہوا تو ایسے لگا جیسے پچھلے دو سو سالوں سے مسلمانوں کو ایک ایسے ہی عالم دین کی تلاش تھی جسے ایک طرف قدیم و جدید علوم میں گہری دستگاہ حاصل ہے تو دوسری طرف اسے ایسی قوت ابلاغ حاصل ہے کہ وہ مشکل سے مشکل بات کو بھی نہایت آسان اور سلیس زبان میں بیان کرنے پر عبور رکھتا ہے۔ پھر بھرپور ذہانت، عبقری دماغ، غیر معمولی علمیت، اعلیٰ عہدوں اور اعلیٰ صلاحیتوں نے اس کے قلب پر ذرا بھی منفی اثر نہیں ڈالا۔ وہ عجب و غرور اور فکری کج رویوں سے کوسوں دور سادگی، عاجزی، متانت، اعتدال، حلم اور فکری سلامتی کی دولت سے مالا مال اپنے سفر پر گامزن ہے۔یہ سب خوبیاں دیکھ کر مجھے وہ قدرت کا ایک شاہکار لگا، اکیسویں صدی میں خالق کائنات کا ایک ماسٹر پیس۔ لوگ مادی حسن کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں، میں فکری سلامتی، حسن توازن، سلاست و اعتدال اور ابلاغ کی قوتوں سے مالا مال اسلام کے اس معجزے کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ لیکن خالق کائنات کے اس شاہکار سے ابھی نگاہ و دل پوری طرح سیراب نہیں ہوئے تھے کہ ۲۶ ستمبر کو اطلاع ملی کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی اس دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون) اگر یہ بات درست ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچوں والے کسی جوان آدمی کی موت اس کے بچوں اور بیوہ کے حق میں بہت بڑا حادثہ ہوتا ہے تو پاکستانی قوم اس سے کہیں بڑے حادثے کا شکار ہوچکی۔ قدرت نے اس قوم کو ایک شاہکار اور معجزہ نما ہستی سے محروم کردیا،لیکن افسوس کہ کوئی افسوس کرنے والا بھی نہیں۔
جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی
تم چلے ہوتوکوئی روکنے والا بھی نہیں
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا علم انھیں صدیوں زندہ رکھے گا۔ان کی علمی و فکری خدمات کا احاطہ اس مختصر مضمون میں کرنا ممکن نہیں، تاہم ذیل میں ہم ان کی تحریروں سے چند اقتباسات پیش کرتے ہیں تاکہ ان کی فکری سلامتی، شعور کی طاقت اور ابلاغی قوت کا براہ راست مشاہدہ قارئین کرسکیں۔
اسلام کی تاریخ۔۔۔عدل و انصاف کی تاریخ
ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمۃاللہ علیہ امید اور روشنی کے داعی ہیں۔ چنانچہ شریعت کے اوصاف پر بات کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’شریعت کا چھٹا امتیازی وصف ثبات اور تغیر کے درمیان توازن اور امتزاج ہے۔ جہاں یہ شریعت ایک دائمی شریعت ہے، یہ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے ہے اور جب تک روئے زمین پر یا روئے زمین سے باہر انسان آباد ہیں، شریعت ان کے لیے دائمی نظام حیات رہے گی، وہاں اس شریعت میں نئے نئے حالات اور نئے نئے مسائل کو سمولینے کی ایک بڑی عجیب و غریب صلاحیت پائی جاتی ہے۔‘‘ (محاضرات شریعت، صفحہ ۳۵)
آگے چل کر لکھتے ہیں:
’’واقعہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے اس اہم اور بنیادی وصف کو دور جدید کے بہت سے متجددین اور مغرب سے متاثر مفکرین نے سمجھنے میں کوتاہی کی ہے۔ انہوں نے مغرب کے زیر اثر اپنے ماضی کی ہر چیز کو منفی اور حال کی ہر چیز کو مثبت انداز میں دیکھنا شروع کردیا ہے۔ مغرب اپنی قدیم تاریخ سے بیزار، اپنے مذہبی پس منظر سے نالاں اور اپنی تاریخ کے نشیب و فراز کے بارے میں غیر مطمئن ہے، اس لیے وہ اپنے ماضی کی ہر چیز کو ناپسندیدہ اور آنے والی ہر چیز کو پسندیدہ قرار دیتا ہے۔ اس لیے کہ اس کی تاریخ کا ایک طویل دور جو ایک ہزار سال سے زائد عرصے پر محیط ہے بلکہ ڈیڑھ ہزار سال سے زائد عرصے پر محیط ہے، ظلم و تعدی اور مذہب کے نام پر شدید قسم کے جبر و اکراہ سے عبارت ہے۔ مغرب کو اس ظلم و تعدی اور جبر واکراہ سے نکلنے میں بہت محنت کرنی پڑی ہے، یہاں تک کہ خود مذہب کو نظر انداز کرنا پڑا۔ مذہب کے تمام مظاہر کو منفی قرار دے کر ان سے جان چھڑائے بغیر اس ظالمانہ نظام سے بچ نکلنا اہل مغرب کے لیے شاید آسان نہ تھا۔ اس لیے مغرب کی نظر میں، مغرب کی نفسیات میں مغرب کا مذہبی ماضی ایک انتہائی منفی اور ناپسندیدہ ڈراؤنے خواب سے عبارت ہے، جبکہ حال اور مستقبل ایک مسلسل خوش آئند و خوشگوار صورتحال کی نوید دیتا ہے۔ اس لیے مغرب نے ماضی کی کسی چیز سے، خاص طور پر اگر اس کا تعلق مذہب سے ہو، تعلق برقرار رکھنااپنے اس نفسیاتی رجحان اور ساخت کی وجہ سے غیر ضروری سمجھا۔
ہمارے بہت سے مصنفین مغرب کے اس مخصوص پس منظر کا ادراک کیے بغیر اسلامی تاریخ پر بھی یہی تصورات منطبق کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح اسلام کی تاریخ کے تسلسل، شریعت کی اساس اور مسلمانوں کے دین کے نظام اور ثوابت کو متاثر و مجروح کردیتے ہیں۔ یہ بات ہم سب کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اسلام کی تاریخ اسلام سے انحراف کی تاریخ نہیں، بحیثیت مجموعی اسلام پر کاربند رہنے کی تاریخ ہے۔ یہ تاریخ انسانیت کے انسانیت پر مظالم اور ظلم و زیادتی کی تاریخ نہیں، بلکہ انسانیت کے یے ایک خوش آیند نوید کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسلام کی تاریخ عدل و انصاف اور تہذیب و تمدن میں نئی نئی مثالیں قائم کرنے کی تاریخ ہے۔ اس تاریخ کو دہرانے کی، اس کو زندہ کرنے کی اور دور جدید میں ایک نئے انداز سے اس کو جنم دینے کی ضرورت ہے۔ اس سے جان چھڑانا، اسے نظر انداز کرنا اور اس کو منفی انداز میں سمجھنا ایک بدترین قسم کی کم فہمی بھی ہے، مسلمانوں کے مستقبل سے مایوسی کی غماز بھی ہے اور مسلمانوں کے ماضی سے بے خبر ہونے کی دلیل بھی ہے۔‘‘ (محاضرات شریعت صفحہ ۳۷، ۳۸)
شریعت کی بنیاد: علم و عدل
شریعت کی بنیاد کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’شریعت کی بنیاد دو چیزوں پر ہے: ایک علم، دوسرے عدل۔ شریعت کا بنیادی مقصد، جیسا کہ قرآن پاک کی ایک آیت میں واضح طور پر آیا ہے، حقیقی عدل و انصاف کا قیام ہے۔ لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۔ ’’اوربلا شک و شبہ ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیاں دے کر اسی لیے بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب الٰہی اور میزان اسی لیے اتاری کہ لوگ حقیقی عدل و انصاف پر قائم ہوجائیں۔‘‘ گویا قرآن پاک کی رو سے یہ تمام آسمانی کتابوں کا مقصد اولین اور ہدف اساسی رہا ہے کہ انسانی معاشرے میں حقیقی عدل و انصاف قائم ہوجائے، مکمل عدل و انصاف قائم ہوجائے۔ مکمل عدل و انصاف قائم کرنے کے لیے ضرورت ہے کہ معاشرے میں علم اور شعور کی سطح موجود ہو۔اگر علوم اور شعور کی سطح معاشرے میں مطلوب درجے کی نہ ہوتو پھر اس معاشرے میں مکمل عدل و انصاف قائم کرنا مشکل ہوتا ہے۔
قرآن کی رو سے انسان خلافت الہٰیہ کا حامل ہے۔ خلافت الہٰیہ کا حامل ہونے کی صلاحیت اس میں علم کی وجہ سے پیدا ہوئی، جیسا کہ قصہ آدم سے واضح ہوتا ہے: وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کُلَّہَا۔ لہٰذا علم اور عدل یہ دونوں انسان کے مقصد وجود سے تعلق رکھتے ہیں۔انسان کی ملائکہ اور دیگر مخلوقات پر برتری انسان کا مقام و مرتبہ اور انسان کی حیثیت علم ہی کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے اور انسانوں کی ہدایت کے لیے جو شریعت دی گئی، اس کا سب سے اہم اور اولین مقصد عدل ہے۔گویا آغاز علم اور انتہا عدل ہے۔‘‘ (محاضرات شریعت، صفحہ ۴۷، ۴۸)
’’مشہورمفکراسلام اور فقیہ، محدث اور سیرت نگار علامہ ابن القیم (متوفی ۷۵۱ھ) نے ایک جگہ لکھاہے کہ شریعت کے احکام تمام تر عدل ہیں۔ شریعت سراپا عدل ہے۔ جہاں شریعت ہے، وہاں عدل ہے۔ جہاں عدل ہے، وہاں شریعت ہونی چاہیے اور جہاں عدل نہیں ہے، وہاں شریعت نہیں ہوسکتی۔ بالفاظ دیگر اگر کوئی شخص شریعت کے احکام کی ایسی تعبیرکرتاہے جس کے نتیجے میں عدل قائم نہیں ہوتا تو وہ تعبیر نظر ثانی کی محتاج ہے۔‘‘ (محاضرات شریعت صفحہ ۶۸)
اسلام نے دنیا کو عدل کا نیا اور کامل تصور دیا
عدل کے تصور پر گفتگوکرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اسلام سے پہلے دنیا عدل کے ایک ہی تصور سے واقف تھی اور یہ وہ عدل تھا جو بادشاہ، حکمران اور بانیان ریاست اپنی رعایا کے درمیان کیا کرتے تھے۔ .....قرآن مجید نے محض اس درجہ پر اکتفا نہیں فرمایا، بلکہ جہاں حکمرانوں کو انصاف کا حکم دیا ہے، جہاں عدالتوں کو انصاف کرنے کی تلقین کی ہے، وہاں افراد کو بھی عدل و انصاف کا حکم دیا ہے۔ ظاہر ہے عدل و انصاف کے جو تقاضے قاضی یا حکمران یا ریاست انجام دے گی، اس کی سطح اور ہوگی، جب افراد عدل و انصاف کا فریضہ انجام دیں گے تو ان کی سطح اور ہوگی۔ اس انفرادی عدل کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ وہ افراد سب سے پہلے خود اپنے ساتھ عدل کررہے ہوں، ان کے اپنے مزاج اور رویے میں اعتدال پایاجاتا ہو۔ اعتدال، عدل ہی سے نکلا ہے۔ اعتدال، عدل ہی کی ایک شکل ہے۔ انسان اپنے رویے میں جب توازن پیدا کرے گا، اپنے اندر سے پیدا ہونے والے تقاضوں کے درمیان توازن سے کام لے گا، جسمانی، روحانی، اخلاقی، نفسیاتی، جذباتی، ان تمام تقاضوں کے درمیان اعتدال کے رویے کو اختیار کرے گا، تبھی وہ دوسروں کے ساتھ عدل سے کام لے سکے گا۔‘‘ (محاضرات شریعت صفحہ ۶۹)
حریت وغلامی۔۔۔اسلام اورجدیدمغربی دنیا کا فرق
حریت و غلامی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمود غازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’اسلام نے اگر غلامی کو برداشت کیا تو بعض بین الاقوامی حالات کی وجہ سے برداشت کیا۔...... لیکن یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جب غلامی کا یہ محدودتصورموجودبھی تھا، سزا کے طور پر غلامی ایک حد تک رائج بھی تھی، اس وقت بھی ان غلاموں کو جو مسلم معاشرے میں رہتے تھے، آج کے ان آزادوں سے بڑھ کر مقام و مرتبہ حاصل تھا جو آج کی نام نہاد آزاد دنیا میں مقیم ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ آج آزاددنیا میں بہت سے لوگوں کو وہ مرتبہ حاصل نہیں ہے۔ مجھے یہ بات عرض کرنے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ مغربی دنیا میں جدید ترقی یافتہ مہذب دنیا میں اور مغربی تصورات کی علمبردار دنیا میں مسلمانوں کو، اہل اسلام کو وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جو دور اسلام میں غلاموں کو حاصل ہوا کرتے تھے۔ دنیائے اسلام کی تاریخ میں کتنے غلام تھے جو فرمانروا بنے، جنہوں نے حکومتیں قائم کیں، جو فاتحین بنے! کتنے غلام ہیں جو صف اول کے علما اور دینی قائدین قرار پائے!......
اسلام کا تصور حریت اتنابلندہے کہ ابھی اس کا ادراک کرنے کے لیے دنیا کو بہت آگے جانا ہے۔ بہت سے نشیب و فراز سے گزرنا ہے۔ اس کے بعد ہی دنیا کو اندازہ ہوگا کہ جس حریت کی اسلام نے تعلیم دی، وہ کیا مقصود رکھتی ہے، وہ کیا چیز ہے۔‘‘(محاضرات شریعت صفحہ ۷۳، ۷۴-۷۵)
توازن ۔۔۔شریعت کا حسن
توازن کے موضوع پراپنا نقطہ نظر یوں بیان کرتے ہیں:
’’اسلام میں روحانیت اور مادیت کے درمیان، دنیا اور آخرت کے تقاضوں کے درمیان،عقل اور وحی کے درمیان، افراد اور معاشرے کے درمیان، ماضی اور مستقبل کے تقاضوں کے درمیان، ثوابت اور متغیرات کے درمیان، حقائق اور آئیڈیل کے درمیان توازن و اعتدال پایاجاتا ہے۔نہ اسلام نے حقائق اور واقعات کی بنیاد پر اپنے آئیڈیل کو چھوڑا، نہ آئیڈیل اور مثالی صورتحال پر زور دیتے ہوئے واقعات اور حقائق سے صرف نظر کیا۔ اسلام کی تعلیم میں دونوں کے درمیان توازن موجود ہے۔ انسانی کمزوریوں کا احساس بھی ہے، انسان کی پریشانیوں اور مجبوریوں کا اندازہ بھی ہے، چنانچہ شریعت کے احکام میں عزیمت اور رخصت کی جو ترتیب ہے، وہ اسی آئیڈیل اور حقیقت کے درمیان توازن کی ایک جھلک یا توازن کے بہت سے مظاہر میں سے ایک مظہر ہے۔‘‘ (محاضرات شریعت صفحہ ۷۶)
عقیدہ کی اہمیت اور مغربی ملحدانہ تہذیب
عقیدہ کی اہمیت ایک منفرد اور اچھوتے انداز سے یوں بیان فرماتے ہیں:
’’کمپیوٹر انسانی عقل کو سامنے رکھ کر بنایاگیا ہے۔ انسانی عقل کمپیوٹر کو سامنے رکھ کر نہیں بنائی گئی، لیکن چونکہ بعض اوقات مشبہ اور مشبہ بہ میں ترتیب بدل جاتی ہے، اس لیے سمجھانے کی خاطر ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسانی عقل ایک کمپیوٹر کی طرح ہے۔ لیکن یہ کمپیوٹر جتنا بھی برتر اور پیچیدہ یعنی سوفسٹی کیٹڈ (sophisticated) ہو، جتنا بھی ترقی یافتہ ہو، وہ ایک سوفٹ وئیر (software) کا محتاج ہے۔ اعلیٰ سے اعلیٰ کمپیوٹر میں غلط سوفٹ ویئر (software) ڈال دیاجائے تو وہ بھی غلط رخ پر کام کرے گا۔ اس لیے شریعت نے پہلی ہدایت یہ کی ہے کہ جو softwareاس انسانی کمپیوٹر میں ڈالا جائے، وہ درست ہو۔ چنانچہ عقیدہ ہی وہ سوفٹ وئیر ہے۔
عقیدہ کی تعلیم دینے کا شریعت نے بچپن سے حکم دیا ہے۔ بچپن سے بچے کو یہ بتاؤ کہ اسلام کے عقائد کیا ہیں۔ سات سال کی عمر ہوتو نماز کی تلقین کرنا شروع کردو۔ دس سال کی عمر ہوجائے اور بچہ نماز نہ پڑھے تو جسمانی سزا بھی دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچوں سے جو محبت تھی، وہ مشہور و معروف ہے، اپنے بچوں سے بھی اور دوسروں کے بچوں سے بھی۔ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی اہمیت کی خاطر اور انسانی عقل کو ایک خاص رخ پر ڈالنے کی خاطر جسمانی سزاتک کی اجازت دی ہے کہ اگر بچہ نماز نہ پڑھے تو ہلکی پھلکی سزا بھی اس کو دے سکتے ہو۔ یہ بات کہ انسانی عقل کو صحیح رخ پر چلایاجائے، اس کو صحیح راستہ بتایا جائے، غلط راستوں پر جانے سے روکا جائے ، اس کی اہمیت کو احادیث مبارکہ میں بہت تفصیل سے بیان کیاگیا ہے۔
بعض متجددین، ملحدین اور دور جدید کے دین سے برگشتہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ عقیدہ کے نام سے جو تعلیم مسلمانوں کو دی جاتی ہے، یہ ان ڈوکٹری نیشن (indoctrination) ہے۔ indoctrination کا لفظ استعمال کرکے عقیدے کی تعلیم کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ مغرب کی لادینی تہذیب بڑے زور و شور سے indoctrination کر رہی ہے۔ مغرب کی آنے والی نسلوں کو جس انداز سے سیکولرازم اور لامذہبی اباحیت کے رخ پر پروگرام کررہی ہے، اس کا ایک ہزارواں حصہ بھی مسلمانوں میں عقیدے کی تعلیم کے لیے نہیں ہورہا ہے۔ یہ بات کہ دوسرے اپنے لامذہب اور ملحدانہ عقائد بچے بچے کے ذہن نشین کردیں، دین اور زندگی کا تعلق منقطع کردیں، اخلاق اور دین کی رہنمائی کو اجتماعی زندگی سے نکال دیں، اس کو تو انڈوکٹری نیشن نہ کہا جائے، لیکن اگر مسلمان بچوں کو یہ بتایاجائے کہ ان کا تعلق اسلام اور مسلمانوں کے گھرانوں سے ہے، وہ قرآن پاک پر ایمان رکھتا ہے، قرآن پاک کے بنیادی عقائد یہ ہیں تو اس کو ان ڈوکٹری نیشن کہہ کر اس کی اہمیت کم کی جائے۔ یہ شاخسانہ دور جدید کے ملحدانہ دور میں ہی ہوسکتا تھا۔ یہ ماضی میں ممکن نہیں تھا، لیکن افسوس بعض ایسے حضرات بھی اس طرح کی باتیں کرتے پائے جاتے ہیں جو اپنا ایک اسلامی اور دینی حوالہ رکھتے ہیں۔‘‘ (ایضاً ص ۹۹)
موجودہ زوال: فکری توازن سے محرومی کا نتیجہ
’’جب تک عقل و نقل کا یہ توازن مسلمانوں میں موجود رہا، جب تک امت مسلمہ میں فکری آزادی، خودمختاری اور قرآن و سنت سے براہ راست وابستگی موجود رہی، اس وقت تک مسلمانوں کا فکری مقام قائد اور رہنما کا رہا۔ جب یہ فکری آزادی کمزور پڑی، جب مسلمان غیروں کی تقلید کا شکار ہوئے تو پہلے ارسطو اور افلاطون کی تقلید شروع ہوئی، پھر ارسطو اور افلاطون کے درجے سے نچلے درجے کے لوگوں کی تقلید شروع ہوئی اور ہوتے ہوتے جب تقلید پسندی مسلمانوں کے مزاج کا حصہ بن گئی تو ہر کس و ناکس کی تقلید شروع ہوگئی۔ آج کیفیت یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو کسی مغربی زبان میں کوئی بات لکھ دے یا جس کا تعلق کسی مغربی ملک سے ہو، اس کی بات کو بلا چون و چرا قبول کرلیاجاتا ہے اور تقلید کے لیے یہ کہنا کافی ہے کہ فلاں مغربی شخص نے یہ بات یوں لکھی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک طرف ہمارا جدید تعلیم یافتہ طبقہ مغرب کے گھٹیا سے گھٹیا انسانوں کی تقلید کو باعث فخر سمجھتا ہے اور جو دینی طبقہ ہے، وہ متاخرین کے بھی متاخرین کی تقلید کو کافی سمجھتا ہے اور اس کی نظر میں متاخرین کے متاخرین نے بھی جو لکھ دیا ہے، وہ شریعت کے باب میں حرف آخر ہے۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۱۴۵)
بنیادی حقوق ۔۔۔مسلم تہذیب اورمغربی تہذیب کا فرق
مسلم تہذیب کا مغربی تہذیب سے فرق واضح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’اس سے بھی بڑھ کر مسلم معاشرے میں pluralismکی ایک بڑی مثال یہ ہے، کثیر العناصر معاشرہ ہونے کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں روزاول سے غیر مسلم باشندوں کو نہ صرف قبول کیاگیا بلکہ ان کو وہ تمام حقوق اور مراعات دی گئیں جو خود مسلمانوں کو حاصل تھیں۔ سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا یہ جملہ مشہور ہے، فقہی لٹریچر میں کثرت سے بیان کیاجاتا ہے کہ ’لہم ما لنا علیہم ما علینا‘۔ جو غیر مسلم دنیائے اسلام کی شہریت اختیار کرتے ہیں، ان کے وہی حقوق ہیں جو ہمارے ہیں، ان کی وہی ذمہ داریاں ہیں جو ہماری ہیں۔ یہ بات مختلف فقہاے اسلام نے مختلف انداز میں بیان کی ہے۔ مشہور حنفی فقیہ اور فقہ حنفی کے صف اول کے ائمہ اور مجتہدین میں سے ایک حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ نے اس اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’المسلم والکافر فی مصائب الدنیا سواء‘‘کہ مسلمان اور کافر دنیوی معاملات میں ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ یعنی ان میں اگر کوئی فرق رکھا جائے گا رویے میں اور معاملات میں تو روز قیامت رکھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جس کو جو سزا دینا چاہے گا، وہ دے گا، لیکن اس دنیا کے معاملات میں ، آپس میں لین دین میں، آپس میں جائیداد کے تبادلے میں، ایک دوسرے کے حقوق کے تحفظ میں، ایک دوسرے کی جان مال اور عزت کے تحفظ میں مسلم اور غیر مسلم سب برابر ہیں۔
آج مغربی دنیا کے قائدین و مفکرین کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ان تمام امتیازات کا خاتمہ کردیا ہے جو انسانوں کے درمیان پائے جاتے ہیں۔ یہ ذرا ان مسلمانوں سے پوچھیں جو مغربی دنیا میں رہتے ہیں کہ ان کے خلاف کتنے امتیازات ختم ہوگئے ہیں۔ آج کتنے مسلمان ہیں جن کو اپنے دین کے مطابق خاندانی معاملات منظم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ آج کتنے مسلمان ہیں جو اپنی جائیداد کو شریعت کے مطابق اپنے وارثوں میں تقسیم نہیں کرسکتے۔ آج کتنے مسلمان ہیں جو اپنی روزمرہ کی عبادات کو سہولت سے انجام نہیں دے سکتے۔ آج کتنی مسلمان بچیاں اور خواتین ہیں جن کو اسلامی تعلیمات کے مطابق لباس تک پہننے کی اجازت نہیں۔ آج بھی یورپ کے بلکہ یورپ سے متاثر بہت سے ممالک میں سکھوں کو ڈاڑھی رکھنے کی اجازت ہے، مسلمانوں کو نہیں، سکھوں کو پگڑی باندھنے کی اجازت ہے، مسلمانوں کو ٹوپی اوڑھنے کی اجازت نہیں۔
اس کے مقابلے میں اسلامی معاشرے میں غیر مسلموں کو نہ صرف مکمل آزادی اور مساوات حاصل رہی، بلکہ بعض ایسے حقوق بھی حاصل رہے جو مسلمانو ں کو حاصل نہیں ہیں۔ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ بعض پہلوؤں سے غیر مسلموں کا درجہ اور اسٹیٹس مسلم معاشرے میں مسلمانوں سے بہتر ہے۔ بہت سے معاملات میں ان کو وہ مراعات حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل نہیں ہیں۔ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو اس کی اجازت بھی دی گئی کہ وہ اپنے شخصی معاملات، اپنے مذہبی معاملات ، اپنے مذہب کے مطابق انجام دیں اور انہی کی عدالتیں، انہی کے قاضی ان کے معاملات کا فیصلہ کریں۔ نہ صرف عہد نبوی میں اور عہد خلفائے راشدین میں یہودیوں اور عیسائیوں کے اپنے مذہبی قائدین ان کے اختلافات کا فیصلہ کرتے تھے، اپنے مذہبی معاملات کو خود چلاتے تھے، بلکہ بعد کے ادوار میں بھی بنی امیہ کے زمانے میں، بنی عباس کے زمانے میں، سلطنت عثمانیہ کے زمانے میں، ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کے دور میں، اس سے پہلے دور سلطنت میں، ان تمام ادوار میں غیر مسلموں کے معاملات، غیر مسلم عدالتیں، ان کے اپنے نظام کے مطابق چلایا کرتی تھیں۔ کثیر العناصر معاشرہ ہونے کی ایسی کوئی مثال آج دنیا میں کہیں موجود نہیں ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۱۵۱-۱۵۳)
مغربی دنیا کا المیہ ۔۔۔اخلاق کی بنیادکیا ہو؟
مسلم تہذیب اور مغربی تہذیب کے ایک اور فرق کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’مسلمان فقہا اور متکلمین و مفکرین کے ہاں کبھی اخلاق اور روحانیات میں کسی قسم کے باہمی تعارض یا تناقض کا سوال پیدا نہیں ہوا۔ مکارم اخلاق کی حقیقی اساس کے بارے میں مفکرین اسلام کبھی کسی فکری یا نظریاتی الجھن کا شکار نہیں ہوئے۔ اس کے برعکس مغربی دنیامیں، قدیم مغربی دنیا ہو یا جدید مغربی دنیا، مشرقی یورپ کی یونانی تہذیب ہو ، وسطی یورپ کی رومن تہذیب ہو یا مغربی یورپ کی حالیہ دنیا ہو، ان سب میں بنیادی سوال جو ہمیشہ زیر بحث رہا ہے، وہ اخلاق کی علمی اور فکری بنیاد کا رہا ہے۔اخلاق کو کس بنیاد پر استوار کیاجائے؟ اس پر مغربی دنیا میں کبھی بھی اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ یونانیوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ دو متضاد رجحانات اور رویوں کے درمیان توازن اور اعتدال کا نام اخلاق ہے۔ عقلی اعتبار سے یہ ایک اچھی بات معلوم ہوتی ہے۔ اس پر اچھی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں، مضامین لکھے جاسکتے ہیں، لیکن خود توازن اور اعتدال کا تعین کیسے کیاجائے گا اور کس بنیاد پر کیاجائے گا؟ اس کی کوئی طے شدہ حقیقی عقلی اور قطعی بنیاد یونانیوں کے پاس بھی موجود نہیں ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۱۷۷)
مکارم اخلاق کی اسلام میں اہمیت
ڈاکٹر محمود غازی ؒ مکارم اخلاق پر اپنے اچھوتے انداز میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’مکرام اخلاق کچھ لوگوں میں فطری اور طبعی طور پر موجود ہوتے ہیں۔ مکارم اخلاق جہاں بھی پائے جائیں، وہ قابل تحسین ہیں۔ اسلام کی شریعت نے ان کو پسند کیا ہے، ان کا اعتراف کیا ہے۔ حاتم طائی کی بیٹی کا قصہ مشہور ہے۔ ایک جنگ میں جو اس قبیلے کے خلاف لڑی گئی تھی جس سے حاتم طائی کی بیٹی کا تعلق تھا۔ حاتم طائی کی بیٹی کی جہاں رشتہ داری تھی، اس کے خلاف جنگ ہوئی، دشمنوں کو شکست ہوئی اور میدان جنگ میں جو لوگ موجود تھے، وہ قید کرکے مدینہ منورہ لائے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگلے دوسرے دن جنگی قیدیوں میں جو خواتین یا بچے تھے، ان کی حالت معلوم کرنے کے لیے خود تشریف لے گئے۔ وہاں ایک خاتون بڑی باوقار معلوم ہوتی تھیں اور لگتا تھا کہ یہ خاتون کسی بہت اونچے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے کہا کہ میں اپنے قبیلہ کے سردار کی بیٹی ہوں، اپنی قوم کے سردار کی بیٹی ہوں۔ میرے والد لوگوں کی حمایت کیا کرتے تھے، کمزوروں کی مدد کیا کرتے تھے، قیدیوں کو چھڑایا کرتے تھے، بھوکوں کو کھانا کھلایا کرتے تھے، امن و امان قائم رکھنے میں کوشاں رہتے تھے، انہوں نے کبھی کسی سوالی کا سوال نہیں ٹالا۔ میں حاتم طائی کی بیٹی ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اے لڑکی! یہ تو واقعی مسلمانوں کے اور اہل ایمان کے اخلاق ہیں‘‘۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’خلوا عنہا‘‘، اس لڑکی کو چھوڑ دو۔ ’’فان اباہا کان یحب مکارم اخلاق وان اللہ یحب مکارم الاخلاق‘‘، اس لڑکی کا باپ مکارم اخلاق کو پسند کرتا تھا اور اللہ بھی مکارم اخلاق کو پسند کرتا ہے۔ اس پر ایک صحابی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا واقعی اللہ تعالیٰ مکارم اخلاق کو پسند کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، جنت میں وہی داخل ہوگا جس کا اخلاق اچھا ہوگا۔‘‘ اس سے پتہ چلا کہ مکارم اخلاق جہاں بھی ہوں، وہ قابل تعریف ہیں اور ان کو شریعت پسند کرتی ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۰۱-۲۰۲)
حجاب کا متوازن تصور
ڈاکٹرمحمود احمد غازی ؒ کے ہاں حجاب کا تصور بھی بہت معتدل اور متوازن شکل میں موجود ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
’’قرآن کے احکام میں حجاب کے مسائل کو تفصیل سے سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ آج ایک بہت بڑی غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے جس میں بہت سے لوگ مبتلا ہیں کہ مختلف اسلامی ممالک کے مقامی رواجات کو بعینہ شریعت اسلامی سمجھا جانے لگا ہے۔ اگر کسی ملک میں خاص انداز کا پردہ رائج ہے تو ضروری نہیں کہ وہ اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ شریعت کے احکام کا لازمی تقاضا ہو۔ وہ رواج بلا شبہ شریعت کے مطابق ہوسکتا ہے، شریعت سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے، لیکن ہر وہ رواج جو شریعت کے مطابق ہو اور اسلام کے احکام سے ہم آہنگ ہو، شریعت کی نظر میں لازمی طور پر ہر جگہ اور ہر فرد کے لیے واجب اور فرض نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بھی کوئی رواج ہوسکتا ہے۔ اس لیے مقامی رواجات، شریعت کے احکام، فقہا کے اجتہادات، ان تینوں کے درمیان فرق لازمی ہے۔جہاں تک مقامی رواجات کا تعلق ہے، اگر کسی کا جی چاہتا ہے کہ ان کو اختیار کرے تو وہ ضرور ایسا کرنے کا پورا حق رکھتا ہے اور کسی بھی مطابق اسلام مقامی رواج کو اختیار کرسکتا ہے۔ کسی مشرقی یا مغربی شخص کو کسی بھی بنیاد پر اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے۔ اگر ہماری افغان بہنیں، افغانستان کی خواتین، ایک خاص انداز کا برقعہ اوڑھتی ہیں تو یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ یہ ان کا مقامی رواج ہے جو صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ نام نہاد آزادی کے علمبردار کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس رواج کا مذاق اڑائے، اس پر اعتراض کرے اور اس کو انسانی حقوق اور تہذیب وتمدن کے خلاف قرار دے۔ لیکن دوسری طرف کسی کو یہ حق بھی نہیں پہنچتا کہ کسی اور ملک کی خواتین جو اس طرز حجاب کو پسند نہیں کرتیں، ان پر زبردستی وہ طرز حجاب مسلط کرے۔ مصر یا ترکی کی خواتین کو مجبور کرے کہ وہ بھی اسی طرح کا برقعہ اوڑھا کریں جو افغان بہنیں اوڑھتی ہیں۔ مصر اور ترکی کی مسلمان خواتین اپنے رواج کے مطابق حجاب اختیار کریں تو وہ بھی شریعت کے احکام کی تعمیل ہوگی۔
جس چیز کی پابندی لازمی ہے، وہ قرآن پاک اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منصوص اور قطعی احکام ہیں جن کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ ان دونوں کے درمیان یعنی قرآن و سنت کے منصوص اور قطعی احکام اور مقامی رواج کے درمیان فقہاے اسلام کے اجتہادات کا درجہ ہے۔ وہ اگر متفق علیہ ہیں یعنی ان پر اجماع یا نیم اجماع ہوچکا ہے تو ان کی پابندی بھی کی جانی چاہیے، لیکن اگر وہ انفرادی اجتہادات ہیں جن کے بارے میں اختلاف رائے کبار فقہا اور صحابہؓ کے زمانے سے ہمیشہ سے چلا آرہا ہو، وہاں شدت سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ اس دور کے بعض علما اگر اس سے اختلاف کرتے ہوں، دلائل کی بنیاد پر کوئی اور رائے رکھتے ہوں اور کچھ لوگ اس رائے پر عمل کرنا چاہیں تو ان کو یہ اختیار حاصل ہے۔ ان کو یہ اجازت حاصل ہے کہ وہ دلائل کی بنیاد پر جو رائے اختیار کرنا چاہیں، وہ اختیار کریں۔ اگر دوسری، تیسری اور چوتھی صدی ہجری کے فقہا کا اجتہاد قابل احترام ہے تو چودھویں اور پندرہویں صدی کے مخلص، ذی علم اور صاحب تقویٰ فقہا کا اجتہاد بھی قابل احترام ہے۔ جو حضرات سابقہ مجتہدین کے اجتہاد پر اعتماد رکھتے ہیں، وہ اس پر عملدرآمد کے پابند اور مکلف ہیں جو حضرات چودھویں اور پندرھویں صدی کے فقہا کے اجتہادات پر اعتماد رکھتے ہیں، وہ اس پر عملدرآمد کے پابند اور مکلف ہیں۔ دونوں کو مقامی رواج کسی پر مسلط کرنے کا حق حاصل نہیں۔ دونوں کو شریعت کے منصوص احکام سے انحراف کی اجازت نہیں۔ ان حدود کے اندر حجاب سے متعلق جو طریقہ کار بھی عامۃ الناس اختیار کرنا چاہیں، وہ شریعت کے مطابق ہوگا۔
حجاب دراصل ان راستوں کا سدباب کرنے کے لیے ہے جن کے نتیجے میں قباحتیں پیدا ہوتی ہیں، بداخلاقی جنم لیتی ہے اور فحاشی کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ صرف فحاشی کا ماحول پیدا نہیں ہوتا بلکہ خاندانی ادارہ بھی کمزور ہوتا ہے، تعلقات کمزور ہوتے ہیں۔ اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی یہ ایک عام مشاہدہ ہے جسے ہر شخص دیکھتا اور محسوس کرتا ہے۔ پھر شریعت نے محض حجاب کے احکام پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فسق و فجور کے تمام دوسرے اسباب کا بھی سدباب کیا، برائی اور بے حیائی کے تمام راستے روکے۔ شریعت نے سخت سزائیں رکھیں، سخت سزائیں ان جرائم کی رکھیں ہیں جو انتہائی نوعیت کے جرائم ہیں۔ جس طرح سزائیں انتہائی نوعیت کی ہیں، اسی طرح جرائم بھی انتہائی نوعیت کے ہیں۔ ان سب کا مقصد ایک ہی ہے۔ وہ حد قذف ہو ، حد رجم ہو، حد جلد یعنی تازیانہ ہو، ان سب کا مقصد منفی طور پر ان راستوں کو بند کردینا ہے جو تحفظ نسل اور تحفظ نسب کو مجروح کرتے ہیں۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۵۱-۲۵۳)
اسلام کی پاکیزہ تعلیمات اور موجودہ بے حیا تہذیب
حیا وحجاب پر مبنی اسلام کی تعلیمات پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’غیروں کے لیے ہدایات ہیں کہ خواتین کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آؤ، ان کو دیکھ کر نظریں نیچی کرلو۔ انسانوں کا مزاج یہ رہا ہے کہ جس کا انتہائی احترام پیش نظر ہوتا ہے، اس کے سامنے نظریں نیچی ہوجاتی ہیں۔ جب خواتین کے روبرو نظریں نیچی کرنے کا حکم ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ بحیثیت مجموعی صنف خواتین کو احترام کا وہ مقام حاصل ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ ایک اجنبی مرد ان کو دیکھ کر اپنی نظریں نیچی کرلے۔ خواتین کو حکم ہے کہ اپنی زینت کو چھپا کر رکھیں۔ خواتین کی زینت کوئی بازار کی جنس نہیں ہے کہ دنیا کے ہر انسان کے لیے سجا کر رکھ دی جائے۔ وہ انتہائی قابل احترام اور مقدس نعمت ہے جو اللہ نے عطا کی ہے۔ اس کو صرف اللہ کی حدود کے اندر استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ اللہ کی بیان کردہ حدود کے اندر خواتین اس کا اظہار کرسکتی ہیں۔ اس کے بارے میں بھی قرآن پاک میں احکام دیے گئے ہیں۔ یہ احکام کوئی نئے یا ایسے نہیں ہیں جو پہلی مرتبہ قرآن نے دیے ہیں، بلکہ ہر متمدن اور مہذب قوم نے کوئی نہ کوئی تصور ان احکام کا یعنی پردے اور حجاب کا دیا ہے۔ عریانی اور برہنگی کبھی بھی انسانیت کا شعار نہیں رہی۔ موجودہ لامذہب اور لا اخلاق معاشرے سے پہلے برہنگی اور عریانی سلیم الطبع انسانوں میں ناپسندیدہ اور مکروہ چیز سمجھی جاتی تھی۔عریانی اور برہنگی ہر قوم میں ایک بے حیائی اور فحاشی سمجھی جاتی تھی۔ آج بھی سلیم الطبع انسان اسے بے حیائی اور فحاشی ہی سمجھتے ہیں۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۵۵)
امامت وحکومت کے مقاصد
امامت و حکومت کے مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے ڈاکٹر غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
’’سیدنا علی ابن ابی طالب نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ امامت اور امارت مسلمانوں کے اجتماعی وجود کے لیے ناگزیر ہے۔ امام یا امیر نیک ہو یا بدکار، اس کا وجود بہرحال ناگزیر ہے۔ امیرالمؤمنین سے سوال کیاگیا کہ نیکوکار قائد تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن بدکار قائد کا وجود کیوں ضروری ہے؟ آپ نے فرمایا: قائد اور امام اگر بدکار بھی ہوگا تو کم از کم حدود قائم ہوتی رہیں گی، راستے پُرامن رہیں گے، جہاد کا تقاضا پورا کیاجاسکے گا۔ عامۃ الناس کے مادی حقوق اور مالی واجبات ادا ہوتے رہیں گے۔ اس لیے اگر سربراہ ریاست نیکی اور تقویٰ کے اس معیار پر نہیں ہے جو شریعت کو مطلوب ہے تو بھی اس کا وجود بہرحال ناگزیر ہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب جس بدکار اور غلط کار حکمران کا وجود تصور فرمارہے تھے، اس کے بارے میں بھی ان کو یہ یقین ضرور تھا کہ ایسے بدکار حکمران بھی، ایسے فاسق وفاجر حکمران بھی حدود قائم کریں گے، راستوں کو پُرامن بنائیں گے، دشمن کے خلاف جہاد کریں گے اور عامۃ الناس کے حقوق کی پاسداری کریں گے۔ آج ان میں سے شاید ہی کوئی ذمہ داری دنیاے اسلام میں ریاست کی طرف سے ادا کی جارہی ہو۔ حدود کتنی قائم کی جارہی ہیں؟ راستے کہاں کہاں اور کتنے پُرامن ہیں؟ دشمنان اسلام کے خلاف جہاد کون کررہا ہے؟ عامۃ الناس کے مالی واجبات کون ادا کررہا ہے؟ زکوٰۃ کا نظام کہاں کہاں قائم ہے؟ کتنے مستحقین کو زکوٰۃ مل رہی ہے؟ یہ واقعی ایک سوالیہ نشان ہے جو پوری امت کے جواب کا منتظر ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۸۶)
امامت کا قیام فرض کفایہ ہے
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’امامت کا قیام فرض کفایہ ہے اور واجب ہے۔ اس کے لیے فقہاے اسلام نے بہت سے دلائل دیے ہیں۔ ایک بڑی دلیل جو ہر جگہ دی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ ما لا یتم الواجب الا بہ فہو واجب۔یہ فقہ اسلامی کا قاعدہ کلیہ ہے کہ جس چیز پر کسی واجب کے ادا کیے جانے کا دارومدار ہو، وہ چیز بھی واجب ہوتی ہے۔ چونکہ اسلامی قوانین کا نفاذ واجب ہے، ایک دینی فریضہ ہے اور یہ فریضہ ریاست کے وجود کے بغیر انجام نہیں دیاجاسکتا، اس لیے ریاست کا وجود بھی ضروری ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۸۷)
وہ فقہاے اسلام کے حوالے سے اپنی بات کو مزید مدلل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ماوردی، ابویعلی اور دوسرے بہت سے اہل علم نے بار بار یہ لکھا ہے کہ دین کے تحفظ کے لیے ریاست کا وجود ناگزیر ہے۔ یہ بات آج کے سیکولر معاشرے کو عجیب معلوم ہوگی، لیکن واقعہ یہ ہے کہ اسلامی نظام میں ریاست اور دین، مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں۔ چنانچہ ماوردی نے یہ بات لکھی ہے کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور ہوجاتی ہے اور جب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑجاتا ہے۔ اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں، اس کے احکام میں لوگ ردوبدل شروع کردیتے ہیں اور ہر شخص نئی نئی بدعتیں نکالنے لگتا ہے۔ یوں ہوتے ہوتے دین کے سارے آثار مٹنے لگتے ہیں۔ اگر حکومت دین کا دفاع نہ کرے اور دین کا تحفظ نہ کرے تو لوگوں کے دل اس کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے۔ اس حکومت کو عامۃ الناس کی طرف سے مدد اور اطاعت نہیں ملے گی۔ وہ حکومت نہ قائم ہوسکے گی جو دین کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے، نہ اپنے معاملات کو صاف انداز میں چلاسکے گی۔ اس کے نتیجے میں استبداد قائم ہوگا۔ معاشرے میں انتشار پھیلے گا اور طرح طرح کی تباہیاں پیدا ہوں گی۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۸۷-۲۸۸)
ریاست و دین کے ناگزیر تعلق کو وہ تاریخی ثبوت سے واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’عبداللہ ابن المعتز ایک مشہور ادیب، شاعر اور نقاد تھا۔ ایک روز کے لیے خلیفہ بھی رہا۔ اس کو ایک ہی دن بعد معزول کردیاگیا تھا۔ اس نے ایک جگہ لکھا ہے کہ حکومت دین ہی کی بدولت قائم رہ سکتی ہے اور دین ریاست اور حکومت ہی کی وجہ سے تقویت پاسکتا ہے۔ اسلامی تصور یہی ہے کہ دین اور ریاست دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہوں، ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہوں۔ مسلمانوں کے سب سے بڑے ماہر اجتماعیات ابن خلدون نے بھی یہی بات کہی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ اگر کسی ریاست کو دینی دعوت کی مدد حاصل ہو اور ریاست کو دین کی پشت پناہی میسر ہوتو اس کی عصبیت مضبوط رہتی ہے، اس کی تائید کرنے والے یکجا رہتے ہیں اور ان میں آپس میں جو حسد اور مقابلے بازی ہے، وہ ختم ہوجاتی ہے اور سب مل کر مشترکہ دینی مقاصد اور مشترکہ اجتماعی اہداف کے لیے کام کرتے ہیں۔ جب بھی دین کی قوت کمزور پڑے گی تو لسانی، قبائلی، علاقائی اور مقامی عصبیتیں جنم لیں گی اور اصل مقصد سے توجہ ہٹ جائے گی، لیکن اگر دینی دعوت مضبوط ہوتو پھر مقامی عصبیتیں سر نہیں اٹھاتیں اور سب کی توجہ اصل مقصد کی طرف لگ جاتی ہے۔ ابن خلدون نے تاریخ کے واقعات سے قادسیہ اور یرموک کی کامیابیوں سے، موحدین کے پورے دور کی تاریخ سے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلامی تاریخ میں وہ ریاستیں کامیاب رہی ہیں جن کے دور میں دینی دعوت مضبوط تھی، جو دین کی پابند تھیں اور دین ہی کی مدد سے ان کو قوت مل رہی تھی۔
اگر ہم اسلامی تاریخ کا جائز لیں تو پتہ چلتا ہے کہ بیشتر بڑی بڑی مملکتیں مذہب ہی کی بنیاد پر، یعنی اسلام کی بنیاد پر ہی قائم ہوئیں۔ یہ بات ابن خلدون نے تو کہی ہے، لیکن تاریخ کے مشاہدے سے بھی یہی انداز ہ ہوتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا، دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔ یہ ایک ناقابل انکار تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان مغربی نظام جمہوریت کا انکار کرکے ہی قائم ہوسکا، مغربی تصور قومیت کو مسترد کرکے قائم ہوا۔ تحریک پاکستان کے دوران سب سے بڑا حوالہ امت مسلمہ، اسلامی شریعت اور مسلم برادری کا حوالہ تھا۔ افغانستان کی ریاست جب قائم ہوئی، آج نہیں، جب احمد شاہ ابدالی کے زمانے میں قائم ہوئی تو احمد شاہ ابدالی نے آخر کیا کہہ کر افغانیوں کو اپیل کیاتھا؟ اس نے افغانیوں کو اسلام کے نام پر جمع ہونے کو کہا تھا۔ سعودی عرب کی حکومت تو خالص اسلامی دعوت ہی کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی۔ موجودہ ایران، موجودہ لیبیا، موجودہ مراکش، یہ سب اپنے اپنے اوقات میں خالص دینی دعوت کی بنیاد پر بننے والی ریاستیں ہیں۔ سلطنت بنی عباس اور سلطنت عثمانیہ کا آعاز بھی دینی دعوت سے ہوا۔ مغلوں کے دور کی اسلامی ریاستیں، ایران کی صفوی ریاست خالص مذہبی دعوت کی بنیاد پر قائم ہیں۔ سلطنت مغلیہ کیسے قائم ہوئی؟ بابر کو یہاں کے مسلمان حکمرانوں نے ، علما نے، مسلمان قائدین نے خطوط لکھے تھے۔ ملت مسلمہ کے تحفظ کے لیے اس کو یہاں آنے کی دعوت دی تھی۔
اسلامی تاریخ پر ہم جتنا بھی غور کریں اور بڑی بڑی مسلم ریاستوں کے آغاز کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ ان میں بیشتر کا آغاز دینی محرکات کی بنیاد پر ہوا ہے اور جب تک وہ دینی محرک قوی رہا، ریاست قوی رہی۔ جب دینی محرک کمزور ہوگیا، ریاست کی بنیادوں میں کمزوری کے آثار نمایاں ہونے لگے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۸۸-۲۸۹)
ریاست کے دینی تصور پر امت کے تمام فرقوں کا اتفاق
محترم غازی صاحبؒ اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’صدر اسلام کی تاریخ سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ امت میں سب سے زیادہ جوش و خروش سے جس معاملے پر بحث ہوئی، جس کی بنیاد پر مختلف مسالک وجود میں آئے، کلامی فرقے بنے، مختلف مواقع پر جنگیں بھی ہوئیں، وہ یہی امامت اور ریاست کا مسئلہ تھا۔ امامت اور ریاست کے دینی بنیادوں پر قائم ہونے کو ہر مسلمان مکتب فکر کے نزدیک مسلمہ حیثیت حاصل ہے۔ اس اصول کے سب قائل ہیں۔ وہ شیعہ ہوں، اہل سنت ہوں، خوارج ہوں، زیدی ہوں، یہ سب کے سب ریاست کے دینی تصور اور مذہبی بنیادوں کو مانتے تھے اور نظری اور کلامی اعتبار سے آج بھی مانتے ہیں۔ ان سب کلامی مدارس کے درمیان جو چیز قدر مشترک ہے، وہ ریاست اور مملکت کا دینی بنیادوں پر قائم ہونا ہے۔ علامہ شہرستانی مشہور متکلمین اسلام میں سے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ مسلمانوں میں سب سے بڑا اور طویل ترین اختلاف جس معاملے پر رہا ہے، وہ ریاست اور امامت کا مسئلہ ہے۔ اسلام کی تاریخ میں کسی مذہبی معاملے پر اتنی بار تلوار نہیں اٹھائی گئی ہے جتنی بار امامت اور ریاست کے مسئلہ پر اٹھائی گئی ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ فکر اسلامی میں ریاست کا وجود کس حد تک ضروری اور کتنا ناگزیر سمجھا گیا۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۸۹-۲۹۰)
ان کی گفتگو اپنے عروج پر پہنچتی ہے۔ فرماتے ہیں:
’’جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ یہ بات اسلامی عقائد کا حصہ بن گئی تھی اور متکلمین اسلام اس کو عقیدے کے طور پر بیان کرتے تھے۔ عقائد کی مشہور کتاب جو مدرسوں میں پڑھائی جاتی ہے یعنی’’ شرح عقائد نسفی‘‘، اس میں لکھا ہوا ہے کہ مسلمانوں میں ایک ایسے امام یعنی ریاست کا وجود ناگزیر ہے جو شریعت کے احکام نافذ کرے، حدود کو قائم کرے، سرحدوں کا دفاع کرے، فوجوں کو تیار رکھے، زکوٰۃ و صدقات کی وصولی کا نظام قائم کرے، چوروں و ڈاکوؤں اور فساد پھیلانے والوں پر کنٹرول کرے، جمعوں اور عیدوں کی نمازوں کا انتظام کرے، عامۃ الناس کے درمیان اگر اختلافات یا تنازعات ہوں تو ان کا فیصلہ کرے، حق اور انصاف کی بنیاد پر گواہیاں قبول کرنے کا نظام قائم کرے، چھوٹے بچوں اور بچیوں کی سرپرستی کرے، جن کا کوئی سرپرست نہ ہو ان کے حقوق کی نگہداشت کرے، جو نوجوان بے سہارا ہیں ان کی شادیوں کا اور ازدواجی زندگی کا انتظام کرے، غنیمت اگر کہیں سے حاصل ہوئی ہے، اس کی تقسیم کا انتظام کرے اور وہ تمام کام انجام دے جو افراد انجام نہیں دے سکتے لیکن جن کا شریعت نے حکم دیا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسلامی ریاست کے وہ بنیادی فرائض بھی ہیں جو فقہاے اسلام نے بیان کیے ہیں۔ ان فرائض کے علاوہ دیگر فرائض بھی بیان ہوئے ہیں جن کی تفصیل میں ابھی عرض کرتا ہوں۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۸۹-۲۹۰)
تھیوکریسی کی لعنت سے پاک ایک دینی ریاست
محترم غازی صاحبؒ اسلامی ریاست کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اسلامی ریاست ایک دینی ریاست ہے۔ اس مفہوم میں کہ وہ خالص دینی تعلیم کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے، دینی اہداف کی علمبردار ہے، دینی احکام پر عملدرآمد کی پابند ہے، ایک ایسے قانون کے نفاذ کی مکلف ہے جو دینی قواعد اور تعلیمات پر مبنی ہے۔ لیکن دینی ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ریاست مغربی تھیوکریسی کے مفاسد اور نقائص سے مکمل طور پر پاک ہے۔ یہاں نہ اہل مذہب کا کوئی پیدائشی طبقہ ہے، نہ کوئی پوپ ہے، نہ کوئی چرچ ہے، نہ اہل مذہب کو کوئی ایسے اختیارات حاصل ہیں جو عامۃ الناس کو حاصل نہیں ہیں۔ یہاں اللہ اور بندے کے درمیان کوئی واسطہ نہیں۔ اللہ اور بندے کے درمیان ہر وقت ایک ہاٹ لائن قائم ہے۔ بندہ جب چاہے، براہ راست اللہ تعالیٰ سے رجوع کرسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ براہ راست اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔ یہاں گناہ بخشوانے کے لیے کسی پادری یا پروہت کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ یہاں اللہ اور رسول کے بعد کسی بڑے سے بڑے آدمی کا قول و فعل حجت نہیں ہے۔ اس لیے تھیوکریسی کے جتنے مفاسد ہیں جن کی وجہ سے اہل مغرب تھیوکریسی کے نام سے ہروقت خائف رہتے ہیں، وہ مفاسد اسلامی ریاست میں موجود نہیں ہیں۔‘‘ (ایضاً)
اسلامی ریاست کی صفات کو آگے بڑھاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:
’’اسلامی ریاست ایک جمہوری ریاست ہے، لیکن جدید سیکولرڈیموکریسی کے جمہوری مفاسد سے پاک ہے۔ آج مغربی جمہوریت نے خاصے مفاسد پیدا کردیے ہیں، اس لیے کہ مغربی جمہوریت نے کثرت اور قلت تعداد کو حق و باطل کا معیار قرار دے دیا ہے۔ جس طرف اکاون فیصد ہیں، وہ حق ہے۔ جس طرف انچاس فیصد ہیں، وہ باطل ہے۔ اسلام اس کثرت و قلت کے اصول کو قبول نہیں کرتا۔ حق حق ہے، چاہے ساری انسانیت اس کی مخالف ہو۔ باطل باطل ہے، چاہے ساری دنیا اس کی حامی ہو۔ لوگوں کی تائید اور مخالفت سے حق کے حق ہونے میں اور باطل کے باطل ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حق وہ ہے جو قرآن پاک میں آیا ہے یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے۔ باطل وہ ہے جس کو شریعت نے باطل قرار دیا ہے۔ اس لیے حق و باطل کا معیار وہی ہے جو شریعت میں ہے۔ ریاست کا بنیادی قانون وہی ہے جو شریعت نے بیان کیا ہے۔ ریاست کے مقاصد وہی ہیں جو شریعت نے بیان کیے ہیں۔ ان حدود کے اندر کہ ریاست شریعت کی بالادستی کی علمبردار ہو، شریعت ملک کا بالاتر قانون ہو، ان حدود کے اندر عامۃ الناس کو آزادی ہے کہ وہ اپنے سربراہوں کا انتخاب کریں، اجتہادی معاملات میں فیصلے کریں۔ اجتہادی آرا اگر ایک سے زائد ہوں تو ان میں سے جس رائے کو عامۃ الناس اختیار کرلیں، وہ رائے اسلامی قانون ہے۔ جن معاملات میں شریعت نے امت کو آزاد چھوڑا ہے اور وہ زندگی کے بیشتر معاملات سے عبارت ہے، وہاں امت اپنے اجتماعی فیصلے سے جس رائے کو اختیار کرنا چاہے کرسکتی ہے۔ اس لیے یہاں جمہوریت کی حقیقی روح موجود ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک بار کہا تھا کہ ’’مسلمانوں سے زیادہ جمہوریت پسند کون ہوسکتا ہے جو مذہب میں بھی جمہوریت پسند ہیں، جن کا مذہب بھی خالص جمہوری انداز سے کام کرتا ہے‘‘۔ نماز جیسی عبادت میں امامت کرنے کے لیے جس کو عامۃ الناس پسند کریں، وہی امامت کرسکتا ہے۔جس کو عامۃ الناس، ناپسند کریں اور وہ امامت کرنے لگے تو اس کو ناپسند کیاگیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے: لعن اللّٰہ امام قوم وہم لہ کارہون۔اللہ تعالیٰ اس امام پر لعنت بھیجتا ہے جو زبردستی لوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں۔ اس لیے جمہوریت کی روح تو اسلام کی رگ رگ میں موجود ہے۔ لیکن یہ جمہوریت جدید لادینی ڈیموکریسی کے مفاسد سے مکمل طور پر پاک ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۹۴۔۲۹۵)
حکمرانی کے جواز کے بنیادی ترین شرائط
ڈاکٹر محمود غازیؒ امت کے متفق علیہ فکر کی وضاحت کرتے ہوئے ایک جائز حکمران کی کم از کم شرائط بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اگر کسی شخص نے قوت حاصل کرکے اپنے گرد فوج اکٹھی کرکے ریاست پر قبضہ کرلیا اور اپنے کو حکمران قرار دے دیا، اب اگر وہ شریعت کے احکام نافذ کررہا ہے، دین کا تحفظ کررہا ہے، دنیوی معاملات کی تدبیر اور نظم و نسق ٹھیک چلا رہا ہے تو اسے قبول کرلینا چاہیے۔حاکم متغلب یعنی زبردستی قبضہ کرلینے والا حکمران جائز حکمران تسلیم کیاجائے گا، اگر وہ شریعت کی بالا دستی کو مانتا ہو، شریعت کے احکام پر عمل کرتا ہو اور شریعت کے قوانین کو نافذ کرنے کے لیے تیار ہو۔ یہ بات تمام فقہاے اسلام نے لکھی ہے، اس لیے کہ اگر کوئی حاکم متغلب یا زبردستی مسلط ہونے والا حکمران شریعت کے احکام نافذ کرتا ہو، حدود قائم کرتا ہو، ملک کا دفاع کرتا ہو، لوگوں کی عزت و آبرو کا محافظ ہو، دشمنان اسلام سے جہاد کے لیے فوجیں تیار رکھتا ہو، زکوٰۃ و صدقات کا نظام قائم کرتا ہو، عدالتیں آزادی سے کام کررہی ہوں، جمعہ، عیدین اور نمازوں کا نظام قائم ہو، مظلوم کو انصاف مل رہا ہو، ظالم کو ظلم سے روکا جارہا ہو، عدالتیں اور دوسرے ادارے کام کررہے ہوں، دنیا کے مختلف گوشوں میں داعی اور قاری بھیجے جارہے ہوں تو پھر وہ ریاست جائز ریاست مانی جائے گی۔ یہ تمام فرائض جو میں نے ابھی بیان کیے، وہ ہیں جو علامہ شہرستانی نے اپنی مشہور کتاب ’’نہایۃ الاقدام فی علم الکلام‘‘ میں بیان کیے ہیں۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۹۸-۲۹۹)
ریاست کا اولین فریضہ۔۔۔سیکولرازم کی جڑپرتیشہ
ریاست کے پہلے فریضہ پر بات کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
’’یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نماز جو عبادات کا سب سے بنیادی عنوان ہے، سب سے اولین اور بنیادی عبادت ہے، اس کو ریاست کا سب سے پہلا فریضہ قرار دیاگیا ہے۔ یہاں لامذہبیت اور سیکولرزم کی جڑ کٹ جاتی ہے، اس لیے کہ حکومت کے اہم ترین فرائض میں سے اقامت صلوٰۃ بھی ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے ایک مرتبہ اپنے تمام گورنروں کو لکھا تھا کہ آپ حضرات کے فرائض میں سے سب سے اہم ترین فریضہ میرے نزدیک اقامت صلوٰۃ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں فوج کے سربراہ ہی نماز کے امام ہوتے تھے۔ جو امام صلوٰۃ ہوتا تھا، وہ امام جیش بھی ہوتا تھا۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق کا انتخاب جب خلافت کے لیے ہونے لگا تو صحابہ کرامؓ نے متفقہ طور پر ان کی امامت صلوٰۃ کو امامت ریاست کی بنیاد قرار دیا اور کہا جس شخص کو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کی سب سے بڑی عبادت کے لیے چنا کہ وہ ہماری امامت کرے، ہم ان کو دنیوی معاملات میں بھی اپنی امامت کے لیے منتخب کریں گے۔ اس لیے اگر سربراہ ریاست امامت صلوٰۃ کا اہل ہوگا تو ظاہر ہے امام صلوٰۃ کے لیے جولازمی خصوصیات ہونی چاہییں، وہ اس میں پائی جانی چاہییں۔ یہ وہ کم سے کم اہلیت ہے جو اسلامی ریاست کے سربراہ میں پائی جانی چاہیے۔ کم از کم نماز پڑھنا جانتا ہو، اتنا قرآن جانتا ہو کہ نماز ادا کرسکے، نماز کے احکام سے واقف ہو۔ جس نے سرے سے کبھی زندگی میں نماز نہ پڑھی ہو، جو سرے سے نماز پڑھنا ہی نہ جانتا ہو، وہ اسلامی ریاست کا سربراہ ہوجائے، یہ بات اسلامی معیار اخلاق اور اسلامی سیاست کی رو سے ناقابل تصور ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۳۰۰)
نظریہ پاکستان: لادینی مغربی نظریات کا انکار
اسلامی ریاست کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کے ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اسی طرح تحریک پاکستان کی شکل میں جو ایک اسلامی ریاست کے قیام کی ایک اجتماعی کوشش تھی، یہی جذبہ کار فرما تھا۔ تحریک پاکستان دراصل ان مغربی تصورات کے انکار پر مبنی تھی جو دور جدید میں رائج تھے اور جدیدلادینی اور سیاسی تصورات پر مبنی تھے۔ یہ بات ہم سب کو یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان کی اساس اور اٹھان دو قومی نظریے پر ہے۔ یہ نظریہ قومیت اور نیشنل ازم کے جدید مغربی نظریے کے انکار پر مبنی ہے۔ جدید مغربی تصورات کے انکار و استرداد پر مبنی ہے۔ نظریہ پاکستان اور جدید لادینی نظریات اور تصورات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔پاکستان کی پریشانی اور مشکلات کا ایک بڑا سبب یہی ہے کہ قائدین تحریک پاکستان کے بعد جو لوگ پاکستان پر مسلط ہوئے، وہ تحریک پاکستان کی روح سے قطعاً ناآشنا رہے ہیں۔ اسی طبقہ نے جدید لادینی مغربی تصورات کو پاکستان میں جاری کرنا چاہا۔ اہل پاکستان کی نفسیات اور مزاج نے اسے قبول نہیں کیا، اس لیے کشمکش پیدا ہوئی۔ ‘‘(ایضاً صفحہ ۳۰۹)
مسلمانوں کے سیاسی زوال اور معاشرتی انحطاط میں کرنے کا اولین کام
محترم غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کردار اور اخلاق کی بنیادی ترین اہمیت کا واضح شعوررکھتے ہیں۔ چنانچہ ایک مقام پر فرماتے ہیں:
’’جس زمانے میں صوفیانہ مضامین کو نظم کرنے والے شعرا سامنے آئے، یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمانوں کا سیاسی زوال اور معاشرتی انحطاط بہت نچلی حدود کو چھورہا تھا۔ بغداد کا زوال ہوچکا تھا۔ تاتاریوں نے پوری دنیاے اسلام کو برباد کردیاتھا۔ بڑے بڑے جید علماء کرام شہید ہوچکے تھے اور مسلمانوں کا کوئی سیاسی مقام یا وقار دنیا میں نہیں رہا تھا اور ہر طرف مایوسی پھیل رہی تھی۔ اس مایوسی کے عالم میں بعض صوفیاے کرام نے مسلمانوں کو امید کا پیغام دینا چاہا جن میں سب سے بڑا نام مولانا جلال الدین رومیؒ کا ہے۔ انہوں نے اتنے زوروشور سے رجائیت کا یہ نغمہ بلند کیا اور لوگوں کو بلند آواز اور آہنگ یہ بات یاددلائی کہ اسلام کا مقصد کسی مادی مفاد کا حصول نہیں ہے یا ریاست اور سلطنت کا قیام اصلی مقصود نہیں ہے۔ یہ ایک ثانوی چیز ہے۔ اصل چیز کردار اور شخصیت کی تشکیل و تعمیر ہے، روحانیت کی تشکیل و تعمیر ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۳۵۰)
اہل مغرب اور اہل اسلام کی سوچ کا بنیادی فرق
اپنے خوبصورت اور سلیس انداز بیان کے ذریعے اہل مغرب اور اہل اسلام کی سوچ کا فرق یوں واضح فرماتے ہیں:
’’اہل مغرب نے آج سے طویل عرصہ قبل (تقریباً دو ہزار سال پہلے) یہ طے کرلیاتھا کہ عقل اور وحی میں کوئی توافق نہیں ہے اور ان دونوں کا دائرہ کار الگ الگ ہے۔ انہوں نے ایک جملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب کیا، معلوم نہیں وہ واقعتاً ان کا جملہ تھا یا نہیں۔ اگر انہوں نے ارشاد فرمایا ہوگا تو یقیناًکسی اور مفہوم میں ہوگا۔ بظاہر تو ان کا ارشاد معلوم نہیں ہوتا کہ ’’جو قیصر کا ہے، وہ قیصر کو دے دو۔ جو اللہ کا ہے، وہ اللہ کو دے دو۔‘‘ اس کی بنیاد پر مسیحی دنیا نے مذہب اور ریاست دونوں کا دائرہ کار الگ طے کردیا۔
آج اہل مغرب دنیا میں جس سے بھی معاملہ طے کرنا چاہتے ہیں، وہ دین و دنیا کی اسی تفریق کی بنیاد پر کرنا چاہتے ہیں کہ عقل اور وحی میں کوئی توافق نہیں ہے۔ ان کا اصرار اور مطالبہ، بلکہ شدید دباؤ ہے کہ ان دونوں میں تفریق کے اصول کو تسلیم کروگے تو بات آگے بڑھے گی۔ جو قوم یا افراد اس تفریق کے قائل نہیں ہیں، ان سے مغرب کوئی آبرومندانہ معاملہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اسلام کے نظام میں عقل اور وحی ایک دوسرے کے حریف نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے حلیف ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، یعنی انسانی علم یا سائنس اور مذہبی علم اور ہدایت یہ ایک دوسرے کے مؤید اور تکمیل کنندہ ہیں، ایک دوسرے کی نفی کرنے والے نہیں ہیں۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۰۶)
روحانی اقدار اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ہم آہنگی کیسے ہو؟
محترم غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عقل اور نقل کا یہ مکمل توازن اور ہم آہنگی شریعت کے بنیادی مزاج کا حصہ ہے تو پھر جدید مادی آسائشیں اور جدید مادی کامیابیاں دینی اور اخلاقی اقدار سے ہم آہنگ کیسے کی جائیں؟ یہ بات متعدد مغربی مفکرین نے تسلیم کی ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو اخلاقی اور روحانی اقدار سے ہم آہنگ کرنے میں اگر کوئی قوم یا تہذیب تاریخ کے اس طویل عرصہ میں کامیاب ہوئی ہے تو وہ مسلمان ہیں۔ آج مسلمانوں کو جو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں، ان میں سے ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ اخلاقیات اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے تقاضوں میں تعلق اور نسبت کیا ہے؟ اس کا تعین کیسے اور کن اصولوں کے تحت کیاجائے؟ اگر یہ کہیں کہیں متعارض ہیں تو وہ کون کون سے مسائل اور معاملات ہیں؟ اگر یہ باہم متوافق ہیں تو کہاں کہاں ہیں؟ باہم غیر جانبدار ہیں تو کہاں کہاں ہیں؟ اور ان تینوں صورتوں کے بارے میں مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ اس رویہ کے تعین میں جو بنیادی حقیقت مسلمانوں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے ،جو ماضی قریب میں بعض مفکرین اور اہل دانش کی نظروں سے کئی بار اوجھل ہوگئی، وہ شریعت کا دوام اور تسلسل ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۰۷)
اسلامی شریعت۔۔۔ثبات اور تغیرکا حسین نمونہ
شریعت کے دوام اور تسلسل کے نکتے کو آگے بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’مغرب نے اپنے خاص مزاج اور دوسرے مختلف اسباب کی بنا پر تغیر کو ایک مثبت اور قابل فخر نعرے کی شکل دے دی ہے۔ آج کے مغرب میں ہر نئی چیز قابل قبول ہے اور ہر قدیم چیز ناقابل قبول ہے۔ مغرب کا یہ مزاج پچھلے دو تین سو سال میں بنادیاگیا ہے اور اس مزاج کو بنانے میں وہ تاجر ، صنعتکار اور کارخانے دار بھی شامل ہیں جو اپنے خالص مادی مفاد کی خاطر ہر نئی چیز کے لیے مارکیٹ اور بازار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہر نئی چیز کے لیے بازار جب پیدا ہوگا جب ہر قدیم چیز کو ناپسندیدہ ٹھہرایاجائے گا۔یہ سلسلہ گزشتہ دو، ڈھائی سو برس سے جاری ہے۔ اس مسلسل یک طرفہ مہم کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہر قدیم چیز ناپسندیدہ اور منفی بن گئی ہے اور ہر جدید چیز پسندیدہ اور مثبت سمجھی جانے لگی ہے۔ یہ مزاج اور رویہ مغربی تہذیب کے تاجرانہ مزاج نے پیدا کردیا ہے۔ اس کے برعکس اسلام میں کوئی چیز نہ محض اس لیے اچھی یا بری ہے کہ وہ قدیم ہے اور نہ محض اس لیے اچھی یا بری ہے کہ وہ جدید ہے۔ نہ محض اس لیے پسندیدہ اور قابل قبول ہے کہ قدیم ہے، نہ اس لیے ناقابل قبول ہے کہ جدید ہے۔ کسی چیز کی قدامت اور جدت اسلام میں پسندیدگی کا معیار نہیں ہے، اس لیے کہ اسلام قصہ جدید و قدیم کو دلیل کم نظری سمجھتا ہے۔ جو چیز دراصل اسلام میں بقا اور تسلسل کی ضامن ہے اور جس بقا اور تسلسل کا مسلمانوں کو ساتھ دینا چاہیے، وہ دائمی و ازلی دینی اقدار ہیں جو قرآن پاک و سنت ثابتہ میں بیان ہوئی ہیں اور ان ازلی حقائق کے ساتھ ساتھ دین وشریعت کی وہ متفقہ تعبیرات اور تشریحات بھی تسلسل کی ضامن ہیں جن پر مسلمانوں کا روزاول سے اتفاق رہا ہے۔ یہ جو متفقہ تعبیرات ہیں، ان کی حیثیت اس پشتے کی ہے جس سے کسی دیوار کو سہارا دیاجاتا ہے۔ جب بنیاد بنائی جاتی ہے تو بنیاد کی حفاظت کے لیے بھی ایک پشتہ ہوتا ہے۔ یہ متفق علیہ تعبیرات اس پشتے کی حیثیت رکھتی ہیں جو اس بنیاد کی حفاظت کے لیے فراہم کیاگیا ہے۔ اس لیے اس بنیاد کے ساتھ ساتھ اس پشتہ کے بارے میں بھی کوئی مداہنت نہیں ہوسکتی، اس لیے کہ پشتہ کمزور ہوگا تو بنیاد بھی کمزور ہوگی۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۰۸)
’’اسی لیے یہ دینی حقائق جو قرآن پاک و سنت ثابتہ میں بیان کیے گئے ہیں، جن کو مسلمانوں کی متفقہ تعبیرات اور اجتماعی فہم کے پشتے نے مزید محفوظ و مضبوط بنایاہے، ان کی حیثیت روحانی اور اخلاقی دنیا میں اس خیر اور ابقی کی ہے جس کے نمائندے بڑے بڑے انبیاے کرام علیہم السلام رہے ہیں اور اس دوام خیر اور تسلسل حق کو یقینی بنانے میں ان بنیادوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ اس خیر و ابقیٰ کی حفاظت کے بعد ہر تغیر و جدت قابل قبول ہے۔ اس بنیاد کے تحفظ کی ضمانت کے ساتھ ساتھ اس پشتے کے چاروں طرف جتنی جدتیں اور تغیرات انسان لا سکتا ہے، اس کو اجازت ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۰۹)
معاشی خود مختاری کی اہمیت
معاشی خودمختاری کی اہمیت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
’’امت مسلمہ کی دیرپا سیاسی آزادی اور بامعنی عسکری اور دفاعی قوت کے حصول کے لیے معاشی خودمختاری درکار ہے۔ مسلمانوں کے لیے معاشی آزادی کے حصول کو فقہاے اسلام نے فرض کفایہ قرار دیاہے۔ یہ بات میں شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ، امام غزالی اور کئی دوسرے فقہاے کرام کے حوالے سے پہلے بھی بیان کرچکا ہوں۔ جب تک مسلمان معاشی طور پر آزادتھے، ان کی تہذیب غالب تہذیب تھی اور مقصدیت کی بنیاد پر قائم تھی۔ جب معاشی آزادی ختم ہوگئی تو ان کی سیاسی طاقت بھی ختم ہوگئی اور ان کی تہذیب ایک غلامانہ تہذیب میں بدل گئی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ’’از غلامی دل بہ میرد در بدن‘‘، یعنی غلامی کی حالت میں دل اندر سے مرجاتا ہے۔ ’’از غلامی روح گردد بارتن‘‘، غلامی کی حالت میں روح بوجھ بن جاتی ہے۔ ’’از غلامی شیر غاب افگندہ ناب‘‘، جنگل کے شیر غلامی کی حالت میں ایسے ہوجاتے ہیں جیسے دانت گرے ہوئے بوڑھے ہوتے ہیں۔ ’’از غلامی مرد حق زنار بند‘‘، غلامی میں مردان حق بھی زنار پوش ہوجاتے ہیں۔
آج دیکھ لیں کہ ہر جگہ مردان حق زنار بند نظر آتے ہیں۔ انگریزوں کی دوسو سالہ غلامی نے ہمتیں اتنی پست کردی ہیں کہ اب ہندوؤں کی تہذیبی غلامی کی نوبت آنے لگی ہے۔ جس قوم کے آباؤ اجداد نے ایک ہزار سال ہندوستان پر حکومت کی اور یہاں کی غالب ترین اکثریت کے علی الرغم شریعت اور اسلامی تہذیب کو جنوبی ایشیا کی بالادست تہذیبی قوت بنایا، ان کے ہاں آج کیا ہورہا ہے؟ شادی کی کسی تقریب میں جائیں تو لگتا ہی نہیں کہ یہ مسلمانوں کی شادی ہے۔ ہندوؤں کی شادی معلوم ہوتی ہے۔ جو چیزیں ہمارے بچپن میں ہندوانہ رواج کی وجہ سے ناجائز سمجھی جاتی تھیں، وہ آج اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلمانوں کے گھروں میں پھیل رہی ہیں۔ بے غیرت مسلمانوں نے سونیا گاندھی کو یہ کہنے کا موقع دیا کہ ہندوستان کو اب کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں، ہندوستان کے ٹی وی اور میڈیا نے پاکستان کی ثقافتی آزادی کو ختم کردیا ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۱۳۔۵۱۴)
علمائے سوء، دین کے ڈاکو
ڈاکٹر غازیؒ صاحب غلامانہ ذہنیت کے اسباب کا کھوج لگاتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ یہ ذہنی غلامی کیوں پیدا ہوئی؟ اس سوال کے جواب کے لیے احادیث میں جو کچھ آیا ہے اور اکابر اسلام نے جو کچھ لکھا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دو طبقوں کی گمراہی، کمزوری اور نالائقی سے یہ صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مبارکؒ مشہور بزرگ گزرے ہیں۔ اپنے زمانے میں امیرالمؤمنین فی الحدیث کہلاتے تھے۔ بڑے بڑے محدثین کے استاد ہیں۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ کے شاگردوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کا ایک شعر ہے:
وھل افسد الدین الا الملوک
واحبارسوء و رہبانہا
دین کے معاملات کو دو چیزوں نے خراب کیا، ایک نالائق حکمرانوں نے، دوسرا علماء سو (یعنی بدکردار اور دنیا پرست علما) نے۔ جب یہ دو طبقے مسلمانوں میں خراب ہوتے ہیں تو پورا معاشرہ خراب ہوجاتا ہے۔ جب علما کم فہم ہوں اور حکمران بدعمل ہوں تو مسلمان امت خرابی کا شکار ہوجاتی ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے کہا ہے کہ: علماء سوء لصوص دین اند (علماء سوء دین کے لیے ڈاکو ہیں۔) یہ مجدد الف ثانی کے الفا ظ ہیں، کسی عام اور دین سے بے بہرہ آدمی کے الفاظ نہیں ہے۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ علماء سوء کی صحبت سے ایسے بچو جیسے زہریلے سانپ کے قریب جانے سے بچتے ہو۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۱۴)
مغرب کا ایجنڈا
مغرب کا ایجنڈا کیا ہے اور وہ مسلمانوں کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے؟ ڈاکٹر محمود غازیؒ کو اس کا بڑا واضح شعور حاصل تھا۔لکھتے ہیں:
’’دنیائے اسلام میں بہت سے لوگ اب تک یہ سمجھتے تھے کہ مغرب کا ایجنڈامحض معاشی، سیاسی اور کسی حد تک ثقافتی ہے، اس ایجنڈے کا مذہب اور تہذیب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن اب جو بیانات اہل مغرب کی طرف سے آرہے ہیں اور اسلامی قوتوں کو جس طرح سے نشانہ بنایاجارہا ہے اور ہر مسلمان کو جس طرح اصول پسند یا بنیاد پرست قرار دے کر مسلسل حملوں کا ہدف بنایا جا رہا ہے، اس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ان کا ہدف براہ راست دین اور مذہب ہے۔ ان کے ہاں جو تحریریں پچھلے دس پندرہ سال میں شائع ہوئی ہیں، اس میں واضح طور پر کہاگیا ہے کہ ہر وہ مسلمان جو قرآن پاک کو حقیقی مفہوم میں اللہ کا کلام سمجھتا ہے اور ظاہری مفہوم میں اس کو نافذ کرنا چاہتا ہے، وہ بنیاد پرست (fundamentalist) ہے، چاہے عملاً نافذ کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔ جو قرآن کو کتاب ہدایت اور زندگی کا دستورالعمل سمجھتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی خواہش رکھتا ہے، وہ بنیاد پرست ہے۔ اس تصور کی رو سے ہر باعمل مسلمان بنیاد پرست قرار پاتا ہے بلکہ ایک بے عمل مسلمان بھی اگر قرآن کو کتاب الہٰی مانتا ہے تو وہ بھی بنیاد پرست ہے۔ یہ بات اب کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی ہے۔ بنیاد پرستوں کے خلاف جنگ کرنے کے عزائم اتنی کثرت سے دہرائے گئے ہیں کہ اب یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ ان کا اصل ہدف کیا ہے۔ اب یہ بالکل واضح اور عیاں ہو چکی ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۱۸-۵۱۹)
اہل مغرب کی منفی و مثبت خصوصیات
اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ فرماتے ہیں:
’’اہل مغرب کے ہاں فکری یک رنگی موجود ہے۔ پورا مغرب ایک خاص رخ پر چل رہا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں جو رویہ فرانس اور پیرس میں محسوس ہوتا ہے، وہی رویہ دوسرے مغربی ممالک میں محسوس ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں جو بات امریکہ میں کہی جارہی ہے، وہی اٹلی میں بھی کہی جارہی ہے، وہی اسپین میں بھی کہی جارہی ہے۔ ان کے ہاں عزم و ارادہ پایاجاتا ہے اور پچھلے دو سو برس سے دنیائے اسلام کے بارے میں وہ اپنے عزائم اور ارادوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ اس معاملہ میں ان کے حکمرانوں اور عامۃ الناس کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ تعلیم کی سطح ان کے ہاں اتنی اونچی ہے اور ان کے اپنے مقاصد سے اتنی ہم آہنگ ہے کہ دنیائے اسلام کے ممالک میں اس کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ان کی معاشی خوشحالی کی بنیاد بڑی مضبوط اور دیرپا ہے۔ وہ خود کفیل ہیں، ان کے پاس بے پناہ عسکری قوت ہے، ان کے ہاں سائنسی تحقیق کے ہزاروں ادارے کائنات کے ذرہ ذرہ اور چپہ چپہ کا سراغ لگارہے ہیں اور تکریم آدم کا تصور ان کے ہاں ایک حقیقت ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۱۹)
اہل اسلام کے انتشار کا نقشہ
ساتھ ہی مسلمانوں کے انتشار کی نقشہ کشی ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’اس کے مقابلے میں آپ دیکھیں گے کہ دنیائے اسلام کا کوئی واضح نصب العین اور کوئی متعین ہدف نہیں ہے۔ عامۃ الناس کے عزائم اور خواہشات میں جو ہرجگہ یکساں ہیں اور حکمرانوں کے عزائم اور خیالات میں کوئی توافق اور ہم آہنگی نہیں۔ عامۃ الناس کی خواہشات، آرزوئیں اور امیدیں انڈونیشیا سے مراکش تک ایک جیسی ہیں، لیکن حکومتوں کا ، سیاسی قیادتوں کا اور فکری اور سرکاری سیاسی اور اقتصادی راہنماؤں کا کوئی ہدف نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ فکری الجھنیں عام ہیں۔ کوئی عزم و ارادہ کسی سطح پر موجود نہیں ہے۔ آپس میں بدترین اختلافات ہیں، تعلیم کی سطح بہت پست ہے، معاشی بنیادیں کمزور ہیں۔ دنیائے اسلام میں جو ممالک بہت خوشحال نظر آتے ہیں، ان کی خوشحالی کی بنیاد بھی کوئی مضبوط اور دیرپا نہیں ہے۔ بہت سی صورتوں میں یہ ظاہری خوشحالی ہے اور بعض بااثر مغربی طاقتوں کی مبنی برمصلحت سرپرستی کا نتیجہ ہے۔ اس خوشحالی کا کنٹرول اور سوئچ مغربی طاقتوں کے ہاتھوں میں ہے۔ وہ سوئچ آف کردیاجائے تو ساری معاشی چکاچوند آن واحد میں ختم ہوجائے گی۔ مسلم ممالک کا دوسروں پر انحصار ہے، اکثر مسلم ممالک عسکری اور سائنسی طور پر کمزور ہیں۔ بے توقیری آدم کے نمونے ہر مسلم ممالک میں کثرت سے نظر آتے ہیں۔ یہ فرق اس وقت ہمارے اور دنیائے مغرب کے درمیان قائم ہے۔ ان حالات میں کیا دنیائے اسلام اور دنیائے مغرب میں مقابلہ برابر کا ہے؟ ظاہر ہے کہ جواب نفی میں ہے۔‘‘(ایضاً صفحہ ۵۱۹۔۵۲۰)
مغرب کے دو تباہ کن تحفے
’’مزید برآں انہوں نے دو بڑے تباہ کن تحفے دنیائے اسلام کو دیے ہیں۔ پہلے ایک تحفہ دیا جس کے ذریعے دنیائے اسلام کو تباہ و برباد کردیاگیا۔ اب دوسرا تحفہ آرہا ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ فی الوقت کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ پہلا تحفہ جس کو علامہ اقبال نے اپنے الفاظ میں کہا تھا: "the most dreadful enemy of humanity" کہ میں جس کو اسلام کا سب سے تباہ کن دشمن سمجھتا ہوں، وہ ’’قومیت اور علاقائی نیشنل ازم کا نظریہ (territorial nationalism) ‘‘ہے۔ اسی علاقائی قومیت نے دنیائے اسلام کو چھوٹے چھوٹے ملکوں اور رجواڑوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا۔ ........
نیشنل ازم نے جو حال مسلم ممالک کا کیا ہے، اس سے مسلمانوں کو ابھی تک سبق نہیں ملا۔ دوسو سال کے طویل اور تکلیف دہ تجربات بھی انہیں کوئی سبق نہیں سکھا سکے۔ اب جو مزید تحفہ دیاجارہا ہے یا زبردستی مسلط کیاجارہا ہے، وہ سیکولرازم ہے جس کے ذریعے مسلمانوں میں موجود تھوڑی بہت اسلامی اقدار اور اخلاقیات سے ان کی وابستگی کو بھی مٹادینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آج سے تقریباً ۲۵ سال قبل یہ بات ناقابل فہم تھی اور کوئی تصور نہیں کرسکتا تھا کہ پاکستان میں سیکولرازم کی بات کی جائے گی، سعودی عرب میں تعلیم کو جدید بنانے کے نام پر اسلامی اثرات سے پاک کرنے کی بات کی جائے گی، مصر میں جامعۃ الازہر کے کردار کو ختم کرنے کی بات کی جائے گی۔ چوتھائی صدی پہلے یہ سب کچھ کسی کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آسکتا تھا، لیکن آج دنیائے اسلام کے ہر ملک میں یہی کچھ ہورہا ہے۔ مجھے کئی ملکوں میں براہ راست جاکر مشاہدہ کا اتفاق ہوا ہے۔ جو باتیں آج کل پاکستان میں تعلیم کے بارے میں کہی جاتی ہیں، بعینہٖ وہی مصر کی جامعۃ الازہر میں بھی کہی جارہی ہیں۔ جن ’’دلائل‘‘ کا سہارا لے کر پاکستان کے تعلیمی اداروں میں نصابات سے اسلامی عناصر کو نکالا جارہا ہے، وہی ’’دلائل‘‘ عرب دنیا میں دہرائے جارہے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی نسخہ ہے جومختلف زبانوں میں لکھ کر مختلف ملکوں میں بھیجاجارہا ہے۔ انہی ’’دلائل‘‘ کی بازگشت خالص اسلامی اداروں میں بھی سنی جارہی ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۲۰)
مغرب کا مقتدر سیکولراور مذہبی طبقہ اسلام دشمنی میں متحد
مغرب کی اسلام دشمنی کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہیں:
’’یہ وہ صورت حال ہے جس میں ہمیں اپنے موقف کا تعین کرنا ہے۔ اس کام میں بہت سے مشکل مقامات بھی آتے ہیں۔ وہ مشکل مقامات فوری توجہ اور فیصلہ کا متقاضی ہیں۔ کون سی چیز ایسی ہے جس میں مسلمان فی الحال کمزوری یا صرف نظر سے کام لے سکتے ہیں؟ کون سے معاملات ہیں جن میں ایک لمحے کے لیے بھی صرفِ نظر نہیں کیاجاسکتا یا کمزوری نہیں دکھائی جاسکتی؟ ان سب باتوں کا ایک سنجیدہ ، متوازن، غیر جذباتی اور خالص علمی انداز میں جائزہ لینا ضروری ہے۔ لیکن مسلمان تو اس کے لیے شاید تیار ہوجائیں، کیا اہل مغرب بھی اس کے لیے تیار ہیں کہ سنجیدگی کے ساتھ یہ طے کریں کہ مسلمانوں کے ساتھ ان کا رویہ کیا ہوگا؟ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں او ریہ انتہائی سفاہت کی بات ہے، میں اس کو انتہائی بے وقوفی کی بات سمجھتا ہوں کہ اسلام اور مغرب کے درمیان جو دشمنی موجودہ دور میں نظر آتی ہے، یہ ماضی قریب کے کچھ واقعات کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دشمنی محض ماضی قریب کے چند واقعات کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ دشمنی خالص مسیحی دور میں بھی رائج تھی، جب یورپ کی سرزمین پر خالص مسیحی حکومت قائم تھی۔ جب پوپ اور کرسچن رومن ایمپائر ، ہولی رومن ایمپائر کا زمانہ تھا، اس وقت بھی یہ دشمنیاں زور وشور سے قائم تھیں۔ اس دشمنی میں جو شدت صلیبی جنگوں کے زمانے میں تھی، وہ شدت آج بھی موجود ہے۔ صلیبی جنگوں کے حوالے آج بھی کبھی کبھی مغربی قائدین کی زبان سے بے ساختہ نکل جاتے ہیں۔ یہ مخالفت آج کے خالص عقلی اور سائنسی دور میں بھی جاری ہے، استعماری دور میں بھی جاری رہی اور پھلتی پھولتی رہی۔ جمہوریت، عدل ، مساوات اور احترام آدم کے نعروں کی گونج میں بھی مخالفت کی یہ لے بڑھ رہی ہے۔ یہ مخالفت ظاہر ہے کہ خالص نسلی انداز کی ہے۔ یہ ایسی مخالفت ہے جس میں مذہبی یورپ اور سیکولریورپ، مذہبی مغرب اور سیکولر مغرب دونوں متفق الرائے چلے آرہے ہیں۔ وہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جو مذہبی اندازرکھتے ہیں، کچھ لوگ خالص سیکولر انداز کے حامل ہیں۔ لیکن مسلمانوں سے مخالفت اور دشمنی میں دونوں برابر ہیں۔‘‘
اسلامی ریاست کا مزاج۔۔۔عدل و رحمت
اسلامی ریاست کے مزاج پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمۃ اللہ علیہ اپنی پاکیزہ اور مطہر فکرکا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’شریعت نے اپنے کو رحمت قرار دیا ہے۔ کوئی ایسا قانون ، کوئی ایسا نظام، کوئی ایسا تصور جو رحمت کے اس تصور کے خلاف ہو، جس میں رحمۃ اللعالمین کے پیغام رحمت کا یہ تصور نہ جھلکتا ہو، وہ اسلام سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ آج مسلم ممالک میں کتنے نظام ہیں، ملازمتوں کے،غیر مسلموں سے ڈیل کرنے کے، غیر ملکیوں سے معاملہ کرنے کے جن میں رحمت کا یہ تصور موجود نہیں ہے۔ رحمت کا یہ تصور عدل کے باب کا پہلا درجہ ہے۔ عدل تو لازمی ہے ہی، عدل تو بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور عدل کے بارے میں کہہ چکا ہوں کہ ایک سطح تو وہ ہے جو ریاست کی ذمہ داری ہے، جو عدل قانونی یا عدل قضائی ہے۔ دوسری سطح وہ ہے جو افراد کی ذمہ داری ہے۔ عامۃ الناس کی ذمہ داری ہے، وہ عدل حقیقی ہے اور عدل حقیقی کے بعد احسان اور رحمت کے درجات آتے ہیں۔ اسلامی ریاست کا مزاج یہ ہونا چاہے کہ عدل کے لازمی اور قانونی تقاضے تو ہر صورت میں پورے ہوں۔ اس کے بعد ریاست کی پالیسیوں میں ریاست کے رویوں میں ، ریاست کے کارپردازوں کے مزاج میں احسان اور رحمت کے تصورات جھلکتے ہوں۔ مثال کے طور پر بین الاقوامی معاملات میں دنیا کی مظلوم اقوام کی تائید، دنیا کے محروم انسانوں کی مدد، خاص طور پر محروم اور مظلوم مسلمانوں کی مدد ریاست کی پالیسی ہونی چاہیے۔ بالادست غیر مسلم طاقتوں کے ساتھ مل کر کمزور اور نہتے مسلمان عوام کا قتل عام کرنا کسی بھی اعتبار سے اسلامی شریعت سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ یہ اسلامی شریعت سے بغاوت تو کہاجاسکتا ہے، اسلامی شریعت پر عملدرآمد کے تقاضوں سے یہ رویہ کوسوں دور ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۳۶۔۵۳۷)
اسلامی تہذیب کا ایک اہم وصف۔۔۔تسلسل
اسلامی تہذیب کے تسلسل پر اس انداز میں روشنی ڈالتے ہیں:
’’اسلامی تہذیب اور اسلامی شریعت کو ماضی، حال اور مستقبل میں تقسیم نہیں کیاجاسکتا۔ اسلامی شریعت ایک تسلسل ہے، اسلامی تہذیب ایک تسلسل سے عبارت ہے۔ اسلامی تہذیب کی تشکیل میں ماضی کے تمام علمی اور فکری ذخیرے سے گہرا تعلق اور وابستگی ناگزیرہے۔ اسلامی شریعت میں تو فقہ کی تعریف ہی یہ ہے کہ شریعت کے ان احکام کا علم جو قرآن و سنت کے تفصیلی دلائل سے ماخوذ ہیں۔ لہٰذا قرآن و سنت سے براہ راست، مسلسل اور ناقابل شکست وابستگی تو اس عمل کا بنیادی اور ناگزیر حصہ ہے۔ قرآن و سنت سے وابستگی کسی خلامیں نہیں ہوگی۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں یا کم از کم ان کے طرزعمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاید قرآن آج نازل ہوا ہے، سنت کا علم آج ان کو ہوا ہے اور وہ اپنی کم علمی اور سادہ لوحی سے یہ سمجھتے ہیں کہ آج اگر انہیں کسی حدیث کا علم ہوگیا ہے یا قرآن کی کسی آیت کا علم ہوگیا ہے تو ایسا اسلام کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ نہ ماضی میں کسی نے قرآن اور حدیث کو سمجھا، نہ ماضی قریب میں کسی نے سمجھا۔ آج پہلی بار انہی کی سمجھ میں آیا ہے کہ قرآن کریم یا سنت کیا کہتے ہیں۔ اس طرزعمل سے فائدہ تو شاید ہی ہوتا ہو، قباحتیں بہت پیدا ہوتی ہیں، اسلامی روایت کے تسلسل میں خلل پڑتا ہے۔ اسلامی روایت کا تسلسل برقرار رکھنا اسلامی تہذیب کے لیے ناگزیر ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۴۰)
تقلید، ایک دودھاری تلوار
اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’یہاں تقلید کا سوال بھی آجاتا ہے جو ایک دو دھاری تلوار ہے۔ تقلید بعض پہلوؤں میں، بعض اعتبارات سے ناگزیر ہے جہاں تقلید کے بغیر چارہ نہیں۔ مثلاً میں سائنس کا علم نہیں رکھتا، میں فزکس سے واقف نہیں ہوں، اس لیے اگر کوئی ایسا معاملہ ہو جس کا تعلق سائنس سے ہو اور مجھے اس کے بارہ میں کوئی فیصلہ کرنا پڑے تو میں بغیر کسی دلیل کے محض اعتماد کی بنیاد پر کسی ایسے سائنسدان کی رائے کی پابندی کروں گا جس کے علم اور کردار پر مجھے اعتماد ہو۔‘‘ (ایضاً )
مستقبل کی نقشہ گری کے حوالے سے آپ فرماتے ہیں:
’’لیکن یہ تقلید کی ایک سطح ہے۔ اس کا تعلق انسانوں کی روزمرہ زندگی سے ہے، اس کا تعلق انسانی معاشرے کی اسلامی اساس اور اس کے تسلسل سے ہے۔ لیکن مستقبل کی تشکیل ، مستقبل کی نقشہ کشی ماضی کے تسلسل کی ضمانت کے ساتھ ساتھ جس چیزکا تقاضا کرتی ہے، وہ نئے چیلنجز کا سامنا کرنا ہے، نئے مسائل کا حل کرنا ہے، نئی مشکلات کو دور کرنا ہے، نئے سوالات کا جواب دینا ہے۔ ان سب امور کے لیے نئے مسائل کے حل کے لیے جرات مندانہ اجتہاد ناگزیر ہے۔ لہٰذا ماضی سے تسلسل برقرار رکھنے کے لیے تقلید اور مستقبل کی نقشہ کشی کے لیے اجتہاد ایک اساسی شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان ایک ایسا توازن ہونا چاہیے کہ نہ تقلید کے تقاضے مجروح ہوں جس کے نتیجے میں تسلسل کا عمل اختلال کا شکار ہوجائے اور نہ اجتہاد کے تقاضے مجروح ہوں جس کے نتیجے میں مستقبل کی نقشہ کشی مشکل ہوجائے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۴۱)
عالمگیریت اور عالمی فقہ
فقہ پر گفتگو کرتے ہوئے غازی صاحبؒ فرماتے ہیں:
’’آج ہم ایک نئی فقہ کی تشکیل کے عمل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ فقہ وہ ہے جس کو میں کئی بار اپنی گفتگوؤں میں cosmopoliton fiqh یا globalized fiqh کے نام سے یاد کرچکا ہوں۔ الفقہ العولمی بھی اس کو کہا جاسکتا ہے۔ آج کا دور بین الاقوامیت کا دور ہے۔ اسلام کی بین الاقوامیت کا صحیح اور مکمل مظاہرہ آج کے دور میں ہوگا۔ ماضی کا دور مختلف علاقوں اور مختلف ثقافتوں کے درمیان باہمی اتفاق کا دور تھا۔ جب اسلامی ریاست ایک بڑی ریاست تھی، بنی عباس کے دور میں یا سلطنت عثمانیہ کے زمانے میں تو وہاں بھی اصل نوعیت یہ تھی کہ یہ مختلف خود مختار مسلم مملکتوں یا ریاستوں کا ایک ڈھیلا ڈھالا نیم وفاق تھا۔ عملاً یہی صورتحال تھی۔ آج کی زبان میں اس کو یہی کہا جاسکتا ہے۔ اس لیے اس صورتحال کے تقاضے کچھ اور تھے۔ آج جس نئے نظام کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں، وہ اس سے ذرا مختلف ہے۔ مستقبل میں کسی مسلکی فقہ کے بجائے ایک نئی فقہ عولمی کی ضرورت ناگزیر محسوس ہوتی ہے۔ مغربی عالمگیریت کا مقابلہ اسلامی عالمگیریت کے بغیر نہیں کیاجاسکتا۔ جدید عالمگیریت کے مسائل سے عہدہ برآہونے کے لیے اسلامی عالمگیریت کے بغیر چارہ نہیں ہے۔
اسلامی عالمگیریت کے لیے ناگزیر ہے کہ ایک عالمگیر فقہ کی تدوین نو کی جائے۔اس کے لیے فقہ سیر کی تشکیل جدید سب سے پہلا قدم ہے۔ تجارتی اور مالیاتی فقہ کی تدوین نو جس پر خاصا کام ہورہا ہے۔اس میدان میں ناگزیر ہے۔ ان سارے میدانوں میں تشکیل نو اور بالخصوص فقہ کی تدوین نو کے لیے ہمیں قدیم اسلامی روایت سے انتہائی گہری اور مضبوط وابستگی کے ساتھ ساتھ مشرق و مغرب کے تمام مفید تجربات سے فائدہ اٹھانا پڑے گا۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۴۵)
مشرق و مغرب سے گہری اور ناقدانہ واقفیت
اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’مغرب اور مشرق دونوں کے تجربات کیا ہیں؟ کیا رہے ہیں؟ علوم کے میدان میں بھی، صنائع اور فنون کے میدان میں بھی، ان سب سے گہری اور ناقدانہ واقفیت دنیائے اسلام کے مستقبل کے لیے ناگزیرہے۔ مغربی تہذیب بہت جامع اور بھرپور تہذیب ہے۔ مغربی تصورات میں کچھ پہلو مفید ہیں، کچھ پہلو ہمارے لیے غیر ضروری ہیں۔ کچھ پہلو اسلامی شریعت اور عقیدے کی روشنی میں ناقابل قبول ہیں، کچھ پہلو شدید گمراہیوں پر مبنی ہیں۔ یہ گمراہیاں جنہوں نے دنیائے اسلام میں بہت سے ذہنوں کو متاثر کیا ہے، وہ کیا ہیں؟ یہ گمراہیاں بے شمار ہیں۔ یہ فکر و فلسفہ کے میدان میں بھی ہیں ، تعلیم اور مذہبیات کے میدان میں بھی ہیں۔ مذہبیات کے میدان میں بالخصوص کتب مقدسہ کی نوعیت کیا ہے؟ کتب مقدسہ یا نصوص مقدسہ کی تعبیر و تفسیر کے بارے میں بہت سی گمراہیاں پیدا ہوئی ہیں جن سے دنیاے اسلام میں بھی بعض لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ یہ گمراہیاں قانون اور سیاست کے میدان میں بھی ہیں ۔ معاشیات کے باب میں بھی ہیں، نفسیات اور اخلاقیات سے بھی ان کا تعلق ہے ، معاشرت و معیشت میں بھی بہت سی غلطیاں ہیں۔
جب تک ان تمام امور کا الگ الگ جائزہ نہیں لیاجائے گا اور ان گمراہیوں اور غلط تصورات پر عقلی تنقید کرکے ان کا برسرغلط ہونا ثابت نہیں کیاجائے گا، اس وقت تک فکر اسلامی کی تشکیل نو اور فقہ اسلامی کی تدوین نو کا عمل دور جدید کے تقاضوں کی روشنی میں مشکل کام ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۴۶)
ہردور کے اہم فکری مسائل
ایک اور اہم نکتے کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے غازی صاحبؒ فرماتے ہیں:
’’یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ہر دور میں بعض اہم فکری مسائل اور تہذیبی معاملات ایسے ہوتے ہیں جو کسی وجہ سے زیادہ اہمیت اختیار کرلیتے ہیں اور پھر ساری فکری اور تہذیبی سرگرمی انہی کے گرد گھومنے لگتی ہے۔ مثال کے طور پر بیسویں صدی کے نصف اول میں جو فکر تھی، اسلامی بھی اور اسلام کے دائرے سے باہر بھی، وہ ریاست و سیاست پر مرتکز تھی۔ اس زمانہ کے تمام بڑے بڑے مفکرین اسلام اسلامی ریاست اور اسلامی سیاست پر لکھ رہے تھے۔ اس لیے اس دور میں یہی بڑا مسئلہ تھا۔ ریاست کی حقیقت اور ماہیت پر غور و خوض ، اسلامی ریاست کی تشکیل ، یہ مسائل فکر اسلامی کے نمایاں مسائل تھے۔
بیسویں صدی کے نصف دوم میں ریاست اور سیاست کی مرکزیت کم ہوگئی اور اقتصاد و مالیات کی مرکزیت نمایاں ہوگئی، چنانچہ فکر اسلامی کا اہم مضمون سیاست اور ریاست کے بجائے اقتصاد و مالیات کے مضامین قرار پائے۔ آئندہ پچاس سال یا کم و بیش ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عالمگیریت اور اس کے مسائل، گلوبلائزیشن کے مسائل فکر کے بنیادی مسائل ہوں گے اور دنیا کے مفکرین اور اہل علم کی توجہ ان معاملات کی طرف رہے گی۔ اس لیے ہماری ذمہ داری ، خاص طور پر آئندہ چند عشروں میں یہ ہے کہ عالمگیریت کی فکری اور اخلاقی اساس کا تعین کرنے میں دنیا کی رہنمائی کریں۔اخلاق کی عالمگیر اور متفقہ اساس کی نشاندہی کریں اور مذہب اور معاشرہ، مذہب اور تہذیب، مذہب اور ریاست، مذہب اور معیشت کے اس تعلق کو دوبارہ یاد دلائیں جو دنیا نے بھلا دیا ہے۔ اس تعلق کو مغرب نے بھلایا تو اس کے کچھ اسباب بھی تھے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۴۷۔۵۴۸)
مغرب کی مذہبی اور سیکولرطاقتوں کا مشترکہ ہدف
مغرب کی گمراہیوں کا تجزیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’مغرب کی نظرمیں اصل مسئلہ ان کی عسکری اور اقتصادی قوت کے تحفظ کا تھا۔ اس عسکری اور اقتصادی قوت کا تحفظ کرنے اور اسے فروغ دینے کے عزائم اور عمل میں جب شدت پیدا ہوئی تو اہل مغرب نے محسوس کیا کہ اخلاق اور مذہب کے قواعد ان عزائم کے راستہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اس پر انہوں نے ان تمام علائق اور رکاوٹوں کو دور کردیا اور یوں اخلاق اور مذہب کا تعلق سیاسی اور اقتصادی زندگی سے کٹ گیا۔ وہ آج بھی یہ چاہتے ہیں کہ اپنی عسکری اور اقتصادی قوت کو محفوظ بنائیں، اس کے تسلسل کو یقینی بنائیں اور مشرق کو اپنا عسکری اور اقصادی حریف بننے سے روکیں۔ آج وہ دنیائے اسلام کو نہ اقتصاد کے میدان میں اپنا حریف بننے دینے کے لیے تیار ہیں اور نہ عسکری میدان میں۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ اہل مشرق کو مغرب کی پیروی پر آمادہ رکھا جائے اور ایسا ذہن بنایاجائے کہ اہل مشرق اپنے نظام اور تہذیب کے مستقبل سے مایوس ہوجائیں۔ آج اگر ہمارا نوجوان اپنے مستقبل سے ، اپنے ملک کے مستقبل سے، تہذیب کے مستقبل سے مایوس نظر آتا ہے یا بے یقینی کا شکار نظر آتا ہے تو اس کے اسباب گزشہ ڈھائی تین سو سال کی مغرب کی تاریخ میں تلاش کرنے چاہئیں۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۴۸)
امت مسلمہ کا بین الاقوامی کردار۔۔۔اخلاق اور کردار کی بنیاد پر
محاضرات شریعت کے عنوان سے اپنے خطبات کے اختتامی کلمات میں فرماتے ہیں:
’’امت مسلمہ کے بین الاقوامی کردار کے جہاں اقتصادی سیاسی اور قانونی پہلو ہیں، وہاں اخلاقی، مذہبی اور انسانی پہلو بھی ہیں۔ آج بین الاقوامی معاملات میں اخلاق اور مذہب کا حوالہ اجنبی معلوم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا گزشتہ تین چار سو سال سے جس بین الاقوامی لین دین اور بین الاقوامی قانون سے مانوس ہے، وہ بڑی حد تک اخلاق اور مذہب سے لاتعلق ہے۔ اس تعلق کو دوبارہ استوار کرنا اور بین الاقوامی تعلقات کو اخلاق اور کردار کی بنیاد پر تعمیر کرنا پوری انسانیت کی بنیادی ضرورت ہے اوراس ضرورت کی تکمیل کا سامان اسلامی شریعت اور اسلامی تہذیب ہی کے ذریعے کیاجاسکتا ہے۔
آج مادیات اور روحانیات کے مابین وہ علمی اور فکری بُعد باقی نہیں رہا جو گزشتہ ہزار ہا سال سے موجود تھا۔ آج فلسفہ اور سائنس ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ مادہ اور روح ، matter اور spirit کے درمیان جو فرق اور امتیاز ماضی میں کیاجاتا تھا، وہ ختم ہورہا ہے۔ آج سائنس کے برتر اصولوں کو سمجھے بغیر سائنس کی مزید ترقی کے راستے بند نظر آتے ہیں۔ یہ برتر اصول فلسفہ اور حکمت کی سرحد پر نہیں بلکہ ان کی حدود کے خاصا اندر واقع ہیں۔ ایک سطح پر فلسفہ اور مذہب کے مدعیان میں حکماء اور علماء دونوں کا اجتماع ہوجاتا ہے۔ گویا فلسفہ اور مذہب میں قدیم علماء اور منطقیوں کے قول کے مطابق عموم خصوص من وجہ کی نسبت قائم ہوجاتی ہے۔ اب سائنس بھی ان حدود میں داخل ہورہی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ دور پھر آنے والا ہے جب فقیہ اور مفسر حکیم بھی تھا اور سائنس دان بھی تھا۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۵۱)
عام ریاست اور اسلامی ریاست میں اہم فرق
ڈاکٹر غازی صاحبؒ عام ریاست اور اسلامی ریاست میں ایک اہم فرق پر اپنے منفرد انداز میں اس طرح روشنی ڈالتے ہیں:
’’مدینہ کی ریاست اور بقیہ ریاستوں میں ایک دوسرا بڑا اہم فرق یہ ہے کہ جب ریاست بنتی ہے تو اس کو چلانے کے لیے قانون کی ضرورت پڑتی ہے۔ گویا ریاست مقصد ہے اور قانون اس کو چلانے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہاں اس کے برعکس ہے۔ یہاں ایک قانون الہٰی نازل ہورہا تھا۔ ایک شریعت دی جارہی تھی۔ اس شریعت کے بعض احکام مکہ مکرمہ میں نازل ہوچکے تھے۔ اس شریعت کے نفاذ اور تحفظ کے لیے ریاست کی ضرورت تھی۔ یہاں قانون اصل چیز تھی اور ریاست ذریعہ تھی۔ لہٰذا شریعت اصل مقصود ہے اور ریاست اس کا ذریعہ ہے۔ اسلام میں ریاست مقصود نہیں ہے۔اسلام میں ریاست حصول مقصد کا ایک اہم اور ضروری وسیلہ ہے۔ لہٰذا اسلام میں ریاست کا درجہ بعد میں ہے، شریعت کا درجہ پہلے ہے۔‘‘ (محاضرات سیرت صفحہ ۳۳۳)
رحمت اور عدل لازم و ملزوم
رحمت اور عدل پر اسلام کے حقیقی تصور کی ترجمانی اورمغربی قانونی تصور پر بے لاگ تبصرہ یوں فرمایا:
’’رحمت اور عدل دونوں ایک ساتھ چلتے ہیں۔ عدل کو نظر انداز کرکے رحمت نہیں ہوسکتی۔اگر عدل کے تقاصے کو نظر انداز کرکے رحمت کا رویہ اپنایاجائے گا تو وہ نام نہاد رحمت رحمت نہیں ہوگی بلکہ ظلم ہوگا۔ رحمت اور عدل دونوں لازم و ملزوم ہیں اور ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جو شخص رحم نہیں کرتا وہ خود بھی رحم کا مستحق نہیں ہے۔ ’’من لا یرحم لا یرحم‘‘ یہ رحمت للعالمین نے ہی فرمایا ہے کہ جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا، وہ خود بھی رحم کا مستحق نہیں ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک آدمی دس آدمیوں کو قتل کردے۔ مقتولین تو رحمت اور شفقت کے مستحق نہ ہوں اور قاتل رحمت کا مستحق ہوجائے۔ یہ انسانیت کے خلاف بغاوت ہے اور خود ایک مکروہ انسانی جرم ہے کہ مجرم اور قاتل کو برابر اور یکساں طور پر رحمت کا مستحق سمجھا جائے۔ اس مظلوم کو، اس کے گھر والوں اور بچوں کو تو شفقت اور رحم کا مستحق نہ مانا جائیاور شفقت، نرمی، قانونی موشگافیوں، انسانیت ہر چیز کو مجرم کی خدمت اور دفاع کے لیے وقف کردیاجائے۔ یہ خلط مبحث اور بے اعتدالی اہل مغرب ہی کو مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ کی متوازن اور اعتدال پسند شریعت اس سے بری ہے۔ یہ عدم توازن اور مجرم دوستی اسلام کے تصور رحمت کے خلاف ہے۔ اسلام اس طرح کی رحمت کا کوئی تصور نہیں رکھتا۔ لہٰذا عدل اور رحمت دونوں ایک چیز ہیں۔ عدل کا تقاصا رحمت اور رحمت کا تقاضا عدل ہے۔‘‘ (محاضرات فقہ صفحہ ۳۹۵)
عورتوں کے حقوق ۔۔۔اسلام کا حسن اور جدید تہذیب کا مکروہ پن
عورتوں کے حقوق کے حوالے سے ڈاکٹر غازی صاحبؒ جدید تہدیب کے علمبردار برطانیہ کے قانون وراثت پر نقد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’انگلستان میں آج ۲۰۰۴ میں بھی primogentiture کا اصول رائج ہے۔ اس اصول کے معنی یہ ہیں کہ وراثت پر سب سے بڑے بیٹے کا حق ہو۔ وہاں جائداد کی مالیت اگر ایک خاص حد سے زائد ہوتو اس کا کوئی اور رشتہ دار یا فردِ خاندان وارث نہیں ہوسکتا سوائے سب سے برے بیٹے کے۔ اس اصول کے تحت سب سے بڑا بیٹا ہی ساری جائداد کا وارث ہوتا ہے اور بقیہ سب ورثا محروم رہتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انگلستان کے اس اصول پر کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ عورتوں کے حقوق کے علمبردار بھی خاموش ہیں۔کم سے کم میں نے کسی مغربی یا مشرقی خاتون کے بارہ میں کبھی یہ نہیں سناجس نے اس پر اعتراض کیا ہو کہ یہ انصاف کے خلاف اور عورتوں کے ساتھ زیادتی ہے۔مجھے نہیں معلوم کہ شرعی احکام کے خلاف اور عورتوں کے خود ساختہ حقوق کے حق میں روزانہ مظاہرے کرنے والی خواتین اس پر کیوں خاموش رہتی ہیں۔یہ تو سراسر ناانصافی ہے۔ بڑی بڑی جائدادوں اور جاگیروں میں سارے کا سارا ورثہ صرف بڑے بیٹے کو ملے گا، لیکن اس میں نہ بیوی کو ملے گا، نہ بہنوں کو ملے گا، نہ بیٹیوں کو ملے گا اور نہ ماں کو کچھ ملے گا، بلکہ سب کچھ بڑے بیٹے کو ملے گا۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ چھوٹے بیٹے کو کیوں نہیں ملے گا۔ بہنوں کو کیوں نہیں ملے گا۔یہ ایک عجیب سی بات ہے۔ اگر بیٹا نہ ہو، بھائی، باپ اور چچا بھی نہ ہو، چچا زاد بھائی یا اس کا بیٹا بھی نہ ہو تو پھر نواسے کو ملے گا۔ بیٹیوں کو پھر بھی نہیں ملے گا۔ اب سوائے اس کے کہ یہ ایک سراسر دھاندلی اور ظلم ہے، اس کے علاوہ کوئی اور وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ شریعت نے ایسا کوئی ظالمانہ حکم نہیں رکھا۔ وراثت کے احکام لازمی طور پر واجب التعمیل ہیں اور مرنے والے کی موت کے فوراً بعد ہی اس کا ترکہ تقسیم کیا جائے گا۔‘‘ (محاضرات فقہ صفحہ ۴۴۹)
سطور بالا سے بخوبی اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ ڈاکٹر غازی کو اللہ تعالیٰ نے علمی رسوخ، فکری سلامتی، بیدار اور دردمند دل ،سلاست بیانی اور ابلاغ کی قوتوں سے مالا مال کیا ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جدیددجالی دور میں اسلام کی صاف، شستہ، صحیح اور معتدل و متوازن ترجمانی کا جو ملکہ اور صلاحیت اللہ تعالیٰ نے اپنے اس سعید بندے کو دیا تھا، اس بدترین زوال کے دور میں اسے ہم اسلام کا معجزہ ہی کہہ سکتے ہیں۔خاص طور پر فکری سلامتی، توازن اوربے مثال قوت ابلاغ انہیں بیسویں اور اکیسویں صدی کے تمام مسلم مفکرین میں نمایاں ترین اور ممتاز ترین مقام عطا کرتی ہے۔ اس خاص پہلو سے وہ واقعتاً قدرت کا ایک شاہکار اور ماسٹر پیس تھے۔ مغربی سائنس و فلسفے کے دجالی دور کے ان بدترین اندھیروں سے انسانیت کو نکالنے کے لیے آج قدرت کے ایسے ہی شاہکاراور ماسٹر پیس کی شدید ضرورت تھی ۔ نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ نوع انسانی کی یہ بہت بڑی محرومی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والاعلم و فکر اور قوت ابلاغ کایہ عظیم شاہکار ۲۶ ستمبر ۲۰۱۰ کو ان سے واپس لے لیا گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور ان پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین۔
سلسلہ محاضرات: مختصر تعارف
ڈاکٹر علی اصغر شاہد
استاذی ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ خالص مدارس عربیہ سے فیض یافتہ تھے۔ عصری تعلیم کے لیے کبھی بھی کسی سکول، کالج، یونیورسٹی میں نہیں گئے، بلکہ علوم نبوت کی برکت سے پرائیویٹ طور پر عصری علوم میں ممتاز کامرانیاں حاصل کیں۔ دورہ حدیث شریف کاآخری امتحان جامعہ تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی سے مکمل کیا۔ اس وقت طلبہ کی اکثریت پشتو زبان بولنے والوں کی ہوتی تھی تو تدریس بھی پشتو زبان میں ہوتی تھی۔ جب استاذ ی ڈاکٹر صاحبؒ نے دورہ حدیث شریف میں قدم رکھا تو ان کے اساتذہ کرام نے فرمایا کہ ’’ محمود‘‘ آپ کو پشتو زبان بولنا ، سمجھنا نہیں آتی۔ آپ کیا کریں گے؟‘‘ فوراً بلاتاخیر اپنے عظیم استاذ سے عرض کیا کہ حضرت! آپ تدریس کے لیے عربی زبان کو اپنا لیں تو انہوں نے بشاشت اور خوشی سے قبول فرما کر اس کو عملاً نافذ کر دیا۔ اس طرح آخری سال دور ہ حدیث کی تعلیم کو قرآن حکیم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل جنت کی زبان عربی میں مکمل کیا۔ میری اس تحریر سے استاذی ڈاکٹر صاحبؒ کی شان میں اضافہ تو نہیں ہوگا، مگر امید ہے کہ ان کے تذکرہ کی وجہ سے میری تحریر کی شان دوبالا ہو جائے گی۔ جس طرح حضرت حسان بن ثابتؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قصیدہ لکھتے ہوئے فرمایا:
ما ان مدحت محمدا بمقالتی لکن مدحت مقالتی بمحمد۔
’’میں نے اپنے اس مقالہ کے ساتھ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف نہیں کی مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے اپنے مقالہ کی تعریف کر لی ہے‘‘۔
ڈاکٹر صاحب علمی اعتبار سے اتنے عظیم اور بلند تر تھے کہ الفاظ میں بیان کرنا میرے جیسے بے بضاعت انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ جس موضوع پر بھی لب کشائی فرماتے تھے اس کے متعلق احساس ہوتا تھا کہ اب اس عنوان کی تمام جہات کو اپنی انتہا پر پہنچا کر ہی یہ سمندر کی موج واپس پلٹے گی۔ اس علمی بہاؤ میں جس شان کو قرآن کریم نے ذکر کیا ہے وہی ان میں صاف نظر آیا کرتی تھی۔ ارشاد الٰہی ہے: انما یخشی اللّٰہ من عبادہ العلماء (فاطر۳۵: ۲۸) ’’بے شک اللہ تعالیٰ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں‘‘۔ علم کے جس موضوع کو بھی شروع فرماتے تھے، اس کے ہمہ پہلوؤں کو خوب اجاگر کرتے۔ ان کی اپنی کتاب ’’ محاضرات قرآنی‘‘ جو مئی ۲۰۰۸ء میں شائع ہوئی اس کے پیش لفظ کے آغاز میں ہے:
’’ قرآن کریم ، تاریخ وتدوین قرآن کریم اور علوم القرآن کے چند پہلوؤں پر یہ خطبات اپریل ۲۰۰۳ء میں خواتین مدرسات قرآن کے روبرو دیے گئے ، ان خطبات کی ضرورت کا احساس سب سے پہلے میری بہن محترمہ عذرا نسیم فاروقی کو ہوا۔ جو اگرچہ عمر میں مجھ سے کم لیکن دینی حمیت، اخلاص اور للٰہیت میں مجھ سے بہت آگے اور میرے جیسے بہت سوں کے لیے قابل رشک ہیں‘‘ (محاضرات قرآنی: ص:۷)
کہ قرآن کریم کے متعلق ان محاضرات میں انتہائی وقیع اور عمدہ معلومات ہیں۔ کتاب میں بارہ خطبے شامل ہیں جن میں قرآن کے اکثر علوم پر مدلل گفتگو ہے۔ پہلاخطبہ ’’ تدریس قرآن مجید ایک منہاجی پہلو ‘‘ کے عنوان پر ہے۔ دوسرا خطبہ ’’قرآن مجید: ایک عمومی تعارف‘‘، تیسرا خطبہ ’’تاریخ نزول قرآن مجید‘‘، چوتھا خطبہ ’’جمع وتدوین قرآن مجید‘‘، پانچواں خطبہ ’’علم تفسیر: ایک تعارف‘‘، چھٹا خطبہ ’’تاریخ اسلام کے چند عظیم مفسرین قرآن‘‘، ساتواں خطبہ ’’مفسرین قرآن کے تفسیری مناہج‘‘، آٹھواں خطبہ ’’اعجاز القرآن‘‘، نواں خطبہ ’’علوم القرآن: ایک جائزہ ‘‘، دسواں خطبہ ’’ نظم قرآن اور اسلوب قرآن‘‘، گیارھواں خطبہ ’’قرآن مجید کا موضوع اور ا س کے اہم مضامین‘‘، بارہواں خطبہ ’’ تدریس قرآن مجید دورجدید کی ضروریات اور تقاضے‘‘ کے عنوان سے معنون ہے۰
مذکورہ خطبات مختصر نوٹس کی مدد سے زبانی دیے گئے ہیں جو ڈاکٹر صاحب کی ذہانت اور علمی وجاہت پر دال ہیں۔ نمونہ کے طور پر ان خطبات میں ایک اقتباس یہ ہے:
’’ اگر آپ نے بطور مدرس قرآن درس کے پہلے دن لٹھ مارنے کے انداز میں یہ کہہ دیا کہ اے فلاں فلاں لوگو! تم شرک کاارتکاب کررہے ہو اور اے فلاں فلاں لوگو! تم بدعت کا ارتکاب کر رہے ہو اور تم ایسے ہو اور تم ایسے ہوتو اس سے نہ صرف ایک شدید رد عمل پیدا ہوگا، بلکہ اس کے امکانات بہت کمزور ہو جائیں گے کہ آپ کامخاطب آپ کے پیغام سے کوئی مثبت اثر لے۔ اس انداز بیان سے مضبوط گروہ بندیاں تو جنم لے سکتی ہیں، کوئی مثبت نتیجہ نکلنا دشوار ہے۔‘‘ (محاضرات قرآنی : ص۳۴)
مذکورہ بالا عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ مدرس اپنے درس کے ذریعے امت میں اتحاد پید اکرنے اور گروہ بندیوں سے محفوظ رکھنے کی کس طرح سعی کر سکتاہے۔ درس قرآن تعلیمات قرآن کے عین مطابق ہو، اخلاص نیت سے ہو، پھر اس درس سے باہمی عداوت، بغض، عناد اور حسد جیسی تمام بیماریاں ختم ہو جائیں گی اور تعصب وعصبیت جڑ سے اکھڑ جائیں گی۔ ان خطبات سے عامی اپنی اہلیت کے مطابق آسانی سے کثیر فوائد حاصل کرکے اپنی زندگی کو قرآن کی تعلیم کے مطابق استوار کر سکتا ہے، رضاے الٰہی حاصل کر سکتا ہے، دینی و دنیوی کامرانیاں حاصل کر سکتا ہے۔ علما بھی ان خطبات سے استفادہ کر کے اپنے علم میں رسوخ پیدا کر سکتے ہیں۔
جس طرح محاضرات قرآنی کے عنوان سے علوم قرآن، تاریخ قرآن مجید اور تفسیر سے متعلق موضوعات پر خطبات آئے، اسی طرح محاضرات حدیث میں علوم حدیث، تاریخ تدوین حدیث اور مناہج محدثین پر بارہ خطبات بہت ہی اہم ہیں۔ ان محاضرات کی اصل مخاطب خواتین تھیں جو خالص اہل علم تھیں۔
محاضرات کی تیسری جلد فقہ اسلامی کے اہم پہلوؤں پر با رہ خطبات پر مشتمل ہے۔ فقہ اسلامی ایک بحرناپیدا کنار ہے جس کی وسعتوں ایک جلد کیا، بیسیوں جلد وں میں سمیٹنا بھی ممکن نہیں۔ ہمارے اسلاف نے فقہ کے علوم پر ان گنت کتب تحریر فرمائی ہیں۔ اس جلد میں فقہ اسلامی کے اہم مضامین، بنیادی مباحث،اساسی تصورات اور اہم پہلوؤں کو آسان زبان میں جدید تعلیم یافتہ طبقہ کو پیش نظر ر کھ کر بیان کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے فقہ اسلامی کا اردو زبا ن میں مطالعہ کرنے والے طبقہ کے لیے تین قسم کے لوگوں کو مدنظر رکھا ہے۔ اولاً شعبہ قانون ووکالت سے تعلق رکھنے والے، دوسرے وہ علما جو فقہ یا افتا کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں، تیسرے یونیورسٹیوں اور جدید تعلیم کے اداروں سے وابستہ حضرات یا وہ لوگ جو فقہ اسلامی کا عمومی اور سرسری سا مطالعہ کیا کرتے ہیں۔ یہ کتاب نہ صرف فقہ اسلامی کے طلبہ، وکلا اور قانون دان حضرات کے لیے مفید اور دلچسپ ہے بلکہ عام تعلیم یافتہ حضرات بھی اس کے ذریعے بہت سے معلومات میں فقہی معاملات کو ان کے صحیح پس منظر میں سمجھ سکتے ہیں۔
محاضرات سیرت صلی اللہ علیہ وسلم، محاضرات کی چوتھی جلد ہے۔ یہ خطبات سیرت طیبہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبا رکہ سے نہیں بلکہ علم سیرت سے متعلق ہیں۔ سیرت طیبہ پر ہزاروں کتب موجود ہیں جو بے شمار کتب خانوں کی زینت ہیں۔ ایک سے ایک بڑھ کر ہیں۔ اردو زبان میں تاریخ سیرت، تدوین سیرت اور مناہج سیرت پر نسبتاً کم مواد ہے۔ ہمارا جدید تعلیم یافتہ طبقہ مغربی مستشرقین کے پیش کردہ شبہات اور اعتراضات سے بہت جلد متاثر ہو جاتا ہے اور اب اس طبقہ کے اثرات قرآن حکیم،حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فقہ اسلامی اور سیرت طیبہ کے ذخائر پر عدم اعتماد تک پہنچ گئے ہیں۔ ان حالات میں فن سیرت کی ابتدائی تدوین، تاریخ اور مناہج کے بارے میں مستند معلومات کی پہلے کی نسبت انتہائی زیادہ ضرورت ہے۔ اس صورت حال کے مدنظر محاضرات سیرت کے خطبات پیش کیے گئے اور ان میں مشرق ومغرب سے اٹھنے والے بے شمار اعتراضات کو موضوع سخن بنایا گیا ہے۔
محاضرات کی پانچویں جلد محاضرات شریعت ہے۔ اس میں شریعت اسلامیہ کا جامع تعارف کروایا گیا ہے اور شریعت اسلامیہ کے عناصر اور اہم جزئیات کو اس طرح پیش کیا گیا ہے جیسا کہ تاریخ اسلام کے مستند، معتمد اور معتبر فقہا، متکلمین اور اصحاب تزکیہ یعنی سلوک واحسان نے اسے سمجھا اور ارشاد فرمایا ہے۔ شریعت کی تعلیم وتفہیم اور اس کے قواعد وضوابط اور احکام کے بارے میں جو کج فہمیاں، غلط فہمیاں یا شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں، اس کتاب میں انھیں دور کرنے کی بہت خوبصورت انداز میں کوشش کی گئی ہے۔ شریعت اسلامیہ کو عام فہم انداز میں پیش کیا گیا ہے اور جامع تعارف کے ساتھ عالمگیر سطح پر امت مسلمہ کی رہنمائی کی گئی ہے۔ اہم موضوعات میں اسلامی شریعت کا تعارف، خصائص، مقاصد اور حکمت، امت مسلمہ اور مسلم معاشرہ، تہذیب اخلاق، تدبیر منزل ومدن، تزکیہ واحسان وغیرہ شامل ہیں۔ آخر میں ’’اسلامی شریعت کا مستقبل اور امت مسلمہ کا تہذیبی ہدف کیا ہے‘‘ کے اہم موضوع پر نہایت وقیع خطبہ ہے جس کے محاسن اور خوبیوں کا اندازہ مطالعہ کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ یہ خطبات اسلام آباد اور دوحہ(قطر) کی مختلف مجالس میں پیش کیے گئے اور دوران خطبات میں وقفے لمبے اور زیادہ رہے، سامعین بھی تبدیل ہوتے رہیجس کی وجہ سے ان میں تکرار موجود ہے۔
محاضرات کی چھٹی اور آخری جلد معیشت وتجارت سے متعلق اہم خطبات پر شامل ہے۔ عصر حاضر میں معیشت وتجارت اور مالیات کی بہت زیادہ اہمیت ہو گئی ہے۔ اگر معیشت وتجارت کرنے کے ذرائع صحیح اور شریعت اسلامی کے احکام کے مطابق ہیں تو ان کا انسانی ذہن پر مثبت اثر ہوتا ہے، کیونہ لقمہ حلال سے بننے والے خون میں وہ جذبات ہوتے ہیں جو انسان کو اللہ کی مرضیات پر چلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس کے برعکس لقمہ حرام سے بننے والے خون کے جذبات انسان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر اکساتے ہیں۔ ان میں اعلیٰ ترین نافرمانی انتہائی بے حمیتی اور بے غیرتی پر منتج ہوتی ہے جس کی بین مثال عصر حاضر کا یورپ ہے۔ ڈاکٹر صاحبؒ نے عالمگیریت اور گلوبلائزیشن کے اس دور میں بین الاقوامی تجارت اور عالمی اقتصادی نظام کے مسائل کی اہمیت کے پیش نظر وقیع اور اہم خطبات پیش فرمائے ہیں جن سے انسان صحیح اور اسلامی اصولوں کے مطابق اپنی معیشت وتجارت اور مالیاتی مسائل کے لیے صحیح سمت کا انتخاب کرکے مرضیات خداوندی کو اپنا ہدف بنا کر دارین کی سعادتیں حاصل کر سکتا ہے۔
اسلا م کے مقابل دیگر مغربی معاشی نظام، کمیونزم اور سرمایہ داری وغیرہ اپنی موت آپ مر چکے ہیں۔ انسانیت قلبی سکون کی تلاش میں ہے جو دولت وحکومت یا دنیا کی کسی اور چیز سے میسر نہیں ہو سکتا۔ وہ اگر کسی کو مل سکتا ہے یا اس کو تلاش کیا جا سکتا ہے تو صرف اور صرف اسلام اور اسلام کے اصول اصول تجارت اور اصول مالیات وغیرہ میں ہی ملنا ممکن ہے۔ مغربی معیشت ایسی مشکلات میں پھنس چکی ہے جن سے نکلنے کے لیے انھیں کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ تمام دنیا کی نظریں اس وقت ان مشکلات کے حل کی طرف لگی ہوئی ہیں۔
محاضرات کی تمام جلدوں کی تقدیم یا پیش لفظ میں ڈاکٹر صاحب نے تمام کرم فرماؤں کا شکریہ اس انداز سے ادا فرمایا کہ اس سے ان کی اپنی شخصیت میں اسلام کی تعلیمات کا ایک اہم اور ضروری پہلو جس سے انسان انسانیت کی معراج پرپہنچ جاتا ہے، انتہائی نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ اہم پہلو تواضع ہے جس کا حدیث ’’من تواضع للہ رفعہ اللہ‘‘ میں ذکر ہے۔ تواضع اور انکسار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر صاحب کو وہ مقام عطا فرمایا جوان کے معاصرین میں سے کسی کو نہ مل سکا۔
ڈاکٹر صاحب کی دینی اور علمی خدمات محاضرات کی شکل میں اس وقت دنیا میں موجود ہیں۔ عصر حاضر میں علوم کے اعتبا ر سے علوم نبوت کے ورثا یعنی علماے کرام اور عصر ی تعلیم کے ماہرین ڈاکٹر صاحب کے محاضرات سے انتہائی متاثر ہیں۔ آخری خطبہ یعنی محاضرات کی آخری کڑی ’’تاریخ حدیث اور صحاح ستہ کا مقام و مرتبہ‘‘ آپ نے ۲۴؍ جولائی ۲۰۰۸ء کو جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد میں ارشاد فرمایا جو محرم الحرام ۱۴۳۲ھ میں طبع ہوا۔ اس سے قبل یہ خطبہ ’’تحقیقات حدیث‘‘ میں بھی چھپ چکا ہے۔ مگر اس وقت میرے سامنے جو خطبہ موجود ہے، وہ خود ڈاکٹر صاحب ؒ کی طرف سے نظر ثانی و نظر ثالث شدہ خطاب ہے جس میں مجلہ ’’ تحقیقات حدیث‘‘ میں شائع شدہ مضمون پر اضافات بھی شامل ہیں۔ اس میں، جیسا کہ نام سے واضح ہے، علم حدیث کی اہمیت اور علوم حدیث اور طالبان حدیث کی خدمات عظیمہ کا تذکرہ ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحبؒ کی تمام حسنات کو اعلیٰ درجے میں قبول فرما کر ان کے تمام علمی محاضرات کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنا دے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اعلیٰ علیین میں جگہ دے اور جنت الفردوس میں اپنے شایان شان مقام رفیع عطا فرمائے۔ آمین۔
’’محاضراتِ قرآنی‘‘ پر ایک نظر
حافظ برہان الدین ربانی
جہالت کی تاریکی کو علم کے نور سے بدلنے اور بھٹکتی انسانیت کو جینے کا شعور دینے کے لیے معاشرہ اور سوسائٹی ہمیشہ علم اور اہل علم کے محتاج رہے ہیں۔تغیر زماں کے ساتھ کئی اہل علم آئے اور اپنی ہمت وبساط کے مطابق اپنے علم سے روشنی کے دیپ جلاتے رہے۔ انہی قد آور شخصیات میں ایک نام ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کا بھی ہے جو سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ بعض لوگ اس دنیا سے بظاہر رخت سفر باندھ لیتے ہیں، لیکن اپنے پیچھے ایسے کارنامے چھوڑ جاتے ہیں جن کی بدولت وہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب بھی قانون خداوندی: کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ (۳:۱۸۵) کے مطابق اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے، لیکن اہل علم کے لیے محاضرات کی شکل میں ایک عظیم علمی اثاثہ چھوڑ گئے ۔ محاضرات اصل میں ڈاکٹر صاحب کے مختلف مقامات پر دیے گئے لیکچرز ہیں جو اب کتابی شکل میں دستیاب ہیں۔ ان میں محاضرات قرآنی ، محاضرات حدیث ، محاضرات فقہ ، محاضرات سیرت اور محاضرات معیشت وتجارت وغیرہ شامل ہیں۔
ہم اس وقت ڈاکٹر صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنے کی غرض سے محاضرات قرآنی پر ایک نظر ڈالنا چاہتے ہیں۔ ان محاضرات کے لیے تحریک ڈاکٹر صاحب کی ہمشیرہ محترمہ عذرا نسیم فاروقی نے پیدا کی اور ان خطبات کو صوتی مسجل سے صفحہ قرطاس پر بھی منتقل کیا۔زیر نظر محاضرات قرآنیات پر دیے گئے بارہ خطبات کا مجموعہ ہے جن کی ترتیب کچھ یوں ہے :
خطبہ اول : تدریس قرآن مجید: ایک منہاجی جائزہ
خطبہ دوم : قرآن مجید: ایک عمومی تعارف
خطبہ سوم : تاریخ نزول قرآن مجید
خطبہ چہارم : جمع و تدوین قرآن مجید
خطبہ پنجم : علم تفسیر: ایک تعارف
خطبہ ششم : تاریخ اسلام کے چند عظیم مفسرین
خطبہ ہفتم : مفسرین قرآن کے تفسیری مناہج
خطبہ ہشتم : اعجاز القرآن
خطبہ نہم : علوم القرآن
خطبہ دہم : نظم قرآن اور اسلوب قرآن
خطبہ یازددہم : قرآن مجید کا موضوع اور اس کے اہم مضامین
خطبہ دو از دہم : تدریس قرآن مجید: دور جدید کی ضروریات اور تقاضے
محاضرات قرآنی اس لحا ظ سے بڑی خصوصیت کے حامل ہیں کہ اس میں قرآنیات کے حوالے سے تقریباً تمام موضوعات کا احاطہ کرنے اور طویل و دقیق موضوعات کو مختصر اور عام فہم انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور بڑی حد تک ڈاکٹر صاحب کو اس کوشش میں کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں محاضرات قرآنی کا مطالعہ ایک عام قاری کو دوسری بہت سی کتب سے مستغنی کرتا اور ایک محقق کے علمی سفر کے لیے راہ ہموار کرتا ہے ، وہاں ڈاکٹر صاحب کے علمی مقام ومرتبہ کو بھی اجاگر کرتاہے ۔جہاں یہ محاضرات ایک ادیب کے لیے ادب کی چاشنی اور ایک محقق کے لیے تحقیقی راہنمائی لیے ہوئے ہیں، وہیں ایک مدرس کے لیے انداز تدریس کا سامان بھی فراہم کرتے ہیں۔ ان کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ ایک عام قاری بھی ان کے مطالعہ کے دوران میں کسی قسم کا ثقل اور بوجھ محسوس نہیں کرتا۔
قرآن اپنے دعویٰ ھُدًی للناس کے مطابق چونکہ تمام انسانیت کی راہنمائی کے لیے نازل کی گئی کتاب ہے، اس لیے اس کا مطالعہ ایک غیر مسلم کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ کسی مسلمان کے لیے۔ ڈاکٹر صاحب ایک غیر مسلم کے لیے قرآن کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’ایک انصاف پسند غیر مسلم اگر قرآن مجید پر نظر ڈالے گا اور قرآن مجید کی تاریخ اور انسانیت پر اس کے اثرات کا مطالعہ کرے گا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس کتاب کا مطالعہ اس کے لیے بھی شاید اتنا ہی ضروری ہے جتنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ اس کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی تاریخ میں کوئی اور کتاب ایسی نہیں جس نے انسانیت کی تاریخ پر اتنا گہرا اثر ڈالا ہو جتنا قرآن مجید نے ڈالا ہے۔‘‘ (ص: ۱۶)
اسی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے موصوف قرآن مجید کے ان اثرات کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو اس نے انسانی تاریخ پر مرتب کیے۔ قرآن نے انسانیت پر جو عظیم احسانات کیے، ان میں سے ایک کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’نزول قرآن سے پہلے دنیا میں ایک بہت بڑی غلط فہمی یہ پائی جاتی تھی (جو کسی حد تک اب بھی پائی جاتی ہے) کہ ہر وہ چیز جو انسانوں کو کسی قسم کا نفع یا نقصان پہنچا سکتی ہے، وہ اپنے اندر خاص قسم کے ما فوق الفطرت اثرات اور قوتیں رکھتی ہے۔ یہ غلط فہمی انسانوں میں بہت پہلے کم علمی اور جہالت کی وجہ سے پیدا ہوگئی ہے اور وہ یہ سمجھنے لگا کہ ہر وہ قوت جو اس کی نظر میں مافوق الفطرت حیثیت رکھتی ہے، وہ اس بات کی مستحق ہے کہ نہ صرف اس کا احترام کیا جائے بلکہ اس کی تقدیس بھی کی جائے۔ چنانچہ انسانوں نے ہر نافع اور ضار چیز کو مقدس سمجھنا شروع کردیا۔ آگے چل کر یہ احترام اور یہ تقدیس بڑھتے بڑھتے عبادت کے درجہ تک جا پہنچا۔ یوں ہوتے ہوتے ہر کائناتی قوت محترم اور مقدس قرار پاجاتی ہے، پھر اس کی پوجا کی جانے لگتی ہے اور اس کو بالآخر معبود کے درجہ پر فائز کر لیا جاتا ہے۔‘‘ (ص ۱۷)
اس قسم کے لوگوں کی قرآن کس حوالے سے راہنمائی کرتا ہے، ڈاکٹر غازیؒ نے اس کا بھی ذکر کیا ہے:
’’ انسانی تاریخ میں قرآن مجید وہ پہلی کتاب ہے جس نے انسان کو یہ بتایا کہ اس کائنات میں جو کچھ ہے، وہ تمہارے فائدے اور استعمال کے لیے پیدا کیا گیاہے: وسخر لکم ما فی الارض جمیعا، زمین و آسمان کے درمیان جو کچھ پایا جاتا ہے ،وہ اجرام فلکی ہوں ، گرجتے بادل ہوںِ، وہ بہتے دریا ہوں، وہ چمکتے ستارے ہوں، گہرے سمندر ہوں، وہ خطرناک جانور یا دیگر مخلوقات ہوں، یہ تمام کی تمام چیزیں انسان کے فائدے اور اس کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔‘‘ (ص: ۱۸)
وسخر لکم ما فی الارض جمیعا، ایک عام انسان اس آیت مبارکہ پر غور کرنے کے بعد یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اگر زمین میں موجود سب کچھ میرے لیے مسخر کیا گیاہے تو بجائے اس کے کہ ان اشیا سے فائدہ حاصل کروں اور انھیں تحقیق کا موضوع بناؤں، انھیں تقدیس کا مقام دے کر ان کا خادم کیوں بن جاؤں؟ کیونکہ کسی چیز کا تقدس ہی اس چیزکے استعمال اور اس کے متعلق تحقیق میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتا ہے ۔اس بات کو ڈاکٹر صاحب کے الفاظ میں ہی ملاحظہ کیجیے:
’’ جب آپ یہ یقین کرلیں کہ کوئی چیز آپ کے فائدے کے لیے پیدا کی گئی ہے اور آپ اسے ہر طرح استعمال کر سکتے ہیں ، وہ آپ کے لیے بطور دوا کے ، بطور غذاکے، بطور علاج کے،بطور زینت کے، یا کسی بھی طرح سے آپ کے کام آ سکتی ہے تو پھر آپ اس پر تحقیق شروع کریں گے۔ اس کے ٹکڑے کریں گے، اس کے حصے بخرے الگ الگ کریں گے اور لیبارٹری میں رکھ کر اس کی تحقیق کریں گے، کیونکہ تقدیس کے ساتھ تحقیق ممکن نہیں ہے۔ تحقیق ممکن ہے امکان تسخیر کے ساتھ ۔ جس چیز کو مسخر کرنے کا آپ کے اندر جذبہ پیدا ہو اور آپ کو یقین ہو کہ آپ اس چیزکو مسخرکر سکتے ہیں، وہی چیز آپ کی تحقیق کا موضوع بنے گی، لیکن جس چیز کے گرد تکریم و تقدیس کا ہالہ چھایا ہوا ہو، اس کی تحقیق نہیں ہوتی۔‘‘ (ص: ۱۸)
ڈاکٹر غازی مرحوم کی تائید میں ہم گزارش کریں گے کہ تاریخ عالم پر نظر رکھنے والے ہر صاحب علم پر یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ قرآن کے نزول سے قبل انسان کائنات کے حقائق سے کتنابے خبرتھا اور نزول قرآن کے بعد اس کے علم میں مسلسل اضافہ ہوا ہے ۔آگے بڑھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب قرآن کی دوسری بڑی عطا جو اس نے ایک عام انسان پر کی غالباً اس آیت : یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُم مِّن ذَکَرٍ وَأُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللّٰہِ أَتْقَاکُمْ إِنَّ اللَّہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ (حجرات:آیت ۱۳) اور حدیث مبارکہ: ان ربکم واحد وان اباکم واحد کلکم من آدم وآدم من تراب، لا فضل لعربی علی عجمی ولا لاحمر علی اسود کی روشنی میں د یکھتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’قرآن مجید کی ایک اہم عطا جس سے پورا عالم انسانیت یکساں طور مستفید ہوا اور ہو رہا ہے انسانی وحدت اور مساوات کا وہ واضح تصور اور دو ٹوک اعلان ہے جو قرآن مجید کے ذریعہ سے پہلی بار دنیا کو عطا ہوا۔ قرآن مجید سے قبل دنیا کی ہر قوم میں نسلی ، لسانی ، لونی ، جغرافیائی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور اونچ نیچ عام تھی۔ ایسے عوامل اور عناصر کی بنیاد پر جو انسان کے اپنے اختیار میں نہ تھے انسانوں کے مابین تفریق کو ایک مستقل صورت دے دی گئی تھی ۔اقوام عالم کے مابین تفریق اور دشمنی کی بنیاد کسی فطری یا عقلی یا اخلاقی مصلحت کے بجائے رنگ و نسل، زبان اور جغرافیہ کے امتیازات تھے جو انسان کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں ۔کو ئی انسان اپنی نسل خود منتخب نہیں کرتا، کوئی شخض اپنا رنگ خود پسند نہیں کرتا، کسی شخض کی مادری زبان کا انتخاب اس کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ یہ چیزیں وہ پیدائش کے وقت ساتھ لاتا ہے ۔ ان غیر اختیاری امور کی بنیاد پر گروہوں اور قوموں کی تشکیل کو قرآن مجید ایک وجہ تعارف کے طور پر تو تسلیم کرتا ہے۔ لیکن وہ ان چیزوں کو وحدت انسانی اور مساوات آدم میں مخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔قرآن مجید نے سب سے پہلے یہ انقلاب آفریں اعلان کیا کہ وحدت الٰہ کا لازمی تقاضا ہے کہ وحدت آدم کے اصول کو تسلیم کیا جائے۔‘‘(ص:۱۹)
انسان پر قرآن کے تیسرے بڑے احسان، نزول قرآن سے قبل اور بعد میں انسان اورخدا کے تعلق میں فرق کے حوالے سے ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ فرماتے ہیں :
’’ اسلام سے پہلے انسانوں کی مذہبی زندگی کی ساری باگ دوڑ بعض خاص طبقات کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ مذہبیات کی تاریخ کا ہر طالب علم یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ اسلام سے قبل ہر مذہب میں مذہبی زندگی پر متعین گروہوں اور مخصوص طبقات کی اجارہ داری ہوتی تھی ۔ یہ اجارہ داری یہاں تک بڑھ گئی تھی کہ آخرت میں گناہوں کی معافی تک کے اختیارات مذہبی طبقوں نے اپنے ہاتھ میں لے رکھے تھے۔ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ مذہبی پیشوا رشوتیں لے کر گناہوں کی معافی کے پروانے جاری کیا کرتے تھے ۔ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں آج بھی مذہبی پیشوا خصوصی اختیارات اور اجارہ داری کا دعوے دار ہے۔ وہ کسی بت خانہ کا پنڈت یا پروہت ہو، کسی گرجا کا پادری ہو، کوئی ربی ہو، یا کوئی اور مذہبی عہدیدار ہو، اپنے مذہب میں وہی مذہبی زندگی کا اجارہ دار ہے ، وہ اللہ تعٰا لیٰ اور بندوں کے درمیان کوئی رشتہ براہ راست قائم نہیں ہونے دیتا۔ کہنے کو تووہ گناہ گارانسانوں اور ان کے خالق کے درمیان سفارشی کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن دراصل وہ اللہ اور بندے کے درمیان ایک رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلے بھی دنیا میں ہر جگہ یہی رواج تھا، اور آج بھی یہی رواج ہے، قرآن مجید وہ پہلی کتاب ہے جس نے ان تمام رکاوٹوں کو ختم کرکے اعلان کیا: ادعونی استجب لکم۔ مجھے (اللہ) پکارو میں تمھاری پکار سنوں گا۔ ہر انسان جب دل کی گہرائیوں کے ساتھ دعا کرتا ہے تو براہ راست روشنی سے بھی زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ اس کی دعا اللہ تعالیٰ کے پاس جا پہنچتی ہے ۔ اجیب دعوۃ الداع اذا دعان، جب بھی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے میں اس کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔ ‘‘(ص:۲۲)
اس اقتباس کی روشنی میں ایک مسلمان کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ قرآن سے دوری نے آج پھر اسے اسی گمراہی کے کنارے لا کھڑا کیا ہے جہان انسان نزول قرآن سے قبل ڈگمگا رہا تھا ۔ ہم زیادہ دور نہیں اپنے ملک پاکستان کے حالات پر ہی ایک نظر ڈالیں تو ہمیں ایسے علماء و مشائخ کی ایک کھیپ ملے گی جن کی حیثیت ایک مذہبی اجارہ دار سے کم نہیں ۔ شاید کہ انہیں کبھی قرآن کو ہاتھ لگانے کا موقع بھی نہ ملا ہو لیکن وہ اپنے حلقہ میں مریدین کی ایک اچھی خاصی تعداد رکھتے ہیں۔ اور نسلی و صوبائی منافرت بھی کسی سے اوجھل نہیں، چاہے وہ پنجابی پٹھان کا جھگڑا ہو یا مہاجر مقامی کا نعرہ یا پھر قبائلی عصبیت ہو یہ سب کچھ ایک اسلامی ریاست میں اپنے عروج کو پہنچے ہوئے ہیں ۔ان سب کا سدباب قرآن سے تعلق قائم کیے بغیرنہیں ہوسکتا۔ورنہ قرآن کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان الفاظ سے شکایت پیش کریں گے۔ وقال الرسول یا رب ان قومی اتخذوا ھذا القراٰن مھجورا۔ اے پروردگار میری اس قوم نے قرآن کو چھوڑ دیا تھا۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنے خطبہ نمبر دو (قرآن مجید ایک عمومی تعارف) خطبہ نمبر تین(تاریخ نزول قرآن مجید) اور خطبہ نمبرچار (جمع و تدوین قرآن) میں قرآن مجید کا مکمل تعارف اور تاریخ بیان کی ہے۔اقسام وحی پر بات کرتے ہوئے وحی کی لغوی اور اصطلاحی تعریف اور اقسام وحی کا تفصیلی ذکر کیا ہے ۔قرآن کریم کو یک بار نازل نہ کیے جانے کی حکمتوں میں سے ایک حکمت کی طرف ڈاکٹر صاحب اشارہ فرماتے ہیں :
’’اس کتاب کے ذریعے سے ایک حقیقی اور دیر پا تبدیلی پیدا کرنا مقصود تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ کتاب کسی خلا میں نازل نہیں ہوئی تھی، بلکہ یہ کتاب ایک تبدیلی کو پیدا کرنے کے لیے اور ایک تبدیلی کی راہ نمائی کے لیے نازل ہوئی تھی۔ جب تک تبدیلی کا عمل مکمل نہیں ہوا قرآن کا نزول بھی جاری رہا ، اور جوں ہی تبدیلی کا عمل مکمل ہوگیا تو کتاب کا نزول بھی مکمل ہوگیا۔ یہ دونوں عمل ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہے۔ یہ دو مختلف لیکن متوازی عمل تھے، روئے زمین پر تبدیلی کا عمل اور آسمان پر نزول کتاب کا عمل جاری تھا،دونوں ایک ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچے۔ تبدیلی کا یہ عمل اسی وقت ممکن تھا جب نزول آہستہ آہستہ اور تھوڑا تھوڑا کرکے ہوتا۔ کسی انسان میں بھی اچانک مکمل تبدیلی نہیں آتی۔ ایسے لوگ بہت ہی شاذونادر ہوتے ہیں جو اچانک اور یک بارگی اپنے اندر ایک مکمل تبدیلی لے آئیں۔ بالفرض اگر کسی کے رویہ میں تبدیلی اچانک آبھی جائے تو پھر بھی روز مرہ کی تفصیلات کو بدلنے میں وقت لگتا ہے۔قرآن مجید کے زیر ہدایت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ نمائی میں تبدیلی کا یہ عمل شروع ہوا اور تیئیس سال مسلسل جاری رہا۔ جب ضرورت پیش آئی راہ نمائی نازل ہوگئی اور اس کے نتیجے میں تبدیلی آگئی۔ کسی جگہ قوانین کی تبدیلی آئی، کسی جگہ عقائد میں تبدیلی آئی اور کہیں عقائد اور کردار دونوں کو بہتر بنایا گیا۔ کہیں سابقہ انبیاء کی وہ شریعتیں جنہیں لوگوں نے بھلا دیا تھا ان کے بنیادی عناصر دوبارہ یاد دلائے گئے ۔اس تبدیلی کو یقینی اور دیر پا بنانے کے لیے ضروری تھا کہ یہ عمل تھوڑا تھوڑا کرکے کیا جائے۔‘‘ (ص:۶۶)
یہ تو قرآن مجید کی کیفیت نزولی کے حوالے سے بات تھی جس کا ڈاکٹرصاحب نے ذکر کیا۔لیکن اگر ہم قرآن کا مزاجِ تربیت دیکھیں تو اس میں دو اصولوں کو ہمیشہ مد نظر رکھاگیا:
(۱) قرآن مجید میں کسی ایسی معاشرتی برائی کوجو اس سوسائٹی میں سرایت کر چکی ہو، یک بارگی چھوڑنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ بلکہ تدریجی عمل کو اختیار کرتے ہوئے اس برائی سے بچنے کی ترغیب دی گئی۔ اور جب اس چیز کا اثر برائے نام رہ گیا یا اس برائی کو برائی سمجھنے پر طبیعتوں میں رجحان پیدا ہونے لگا تو پھر اس چیز کو ہمیشہ کے لیے حرام قرار دے دیا گیا۔اس بات کے لیے شراب کی حرمت کے بارے میں قرآن نے کیا طریقہ اختیار کیا، اس پر غور کرلینا کافی ہے۔
(۲) قرآن مجید میں کسی بھی بات کو منوانے کے لیے دعویٰ بغیر دلیل کے راستہ کو نہیں اختیار کیا گیا، بلکہ کسی حکم کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی متعلقہ نشانیوں اور حکمتوں کا بھی ذکر کر دیا گیا اور اس کے بعد انسانی عقل کو بذات خود غوروفکر کی دعوت دی گئی ، تاکہ وہ حق بات کو زبردستی قبول کرنے کے بجائے دلی طور پر اس کے سامنے سر تسلیم خم کردے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے درج ذیل آیات پر غور وفکر کافی ہے:
لَوْ کَانَ فِیْہِمَا آلِہَۃٌ إِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُونَ (الانبیاء: ۲۲)
’’اگر آسمان و زمین میں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور بھی معبود ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہوجاتے،پس اللہ تعالیٰ عرش کا رب ہر اس وصف سے پاک ہے جو یہ مشرک بیان کرتے ہیں۔‘‘
إِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِیْ الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْیَا بِہِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِن کُلِّ دَآبَّۃٍ وَتَصْرِیْفِ الرِّیَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخِّرِ بَیْْنَ السَّمَاء وَالأَرْضِ لآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَعْقِلُونَ (البقرہ: ۱۶۴)
’’آسمانوں اور زمین کی پیدائش ،رات دن کا ہیر پھیر، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیزوں کو لیے ہوئے سمندروں میں چلنا، آسمانوں سے پانی اتار کر مردہ زمین کو زندہ کر دینا، اس میں ہر قسم کے جانورں کو پھیلادینا، ہواؤں کے رخ بدلنا ، اور بادل، جو آسمان اور زمین کے درمیاں مسخر ہیں، ان میں عقلمندوں کے لیے قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں۔‘‘
بد قسمتی سے یہ دونوں مزاج ہمارے معاشرے سے مفقود ہوکر رہ گئے ہیں ۔ اپنی کوئی بات منوانے کے لیے( خواہ وہ کسی بھی حوالے سے ہو ) تحکمانہ لہجہ اختیار کیا جاتا ہے جس میں کسی قسم کی نرمی کی آمیزش تک کرنے سے گریز کیا جاتاہے۔ اور اگر کوئی اپنے ذہن میں پیدا ہونے والی خلش کو دور کرنے کے لیے کسی صاحب علم سے کسی قسم کی دلیل کا مطالبہ کرے تو بجائے اس کی راہ نمائی کے اپنی علمی کمزوری کو چھپانے کی غرض سے اسے ڈانٹ ڈپٹ کر چپ کروا دیا جاتا ہے ۔نہ جانے یہ بات کیوں ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے کہ ہمارا تجاہل عارفانہ کا سا مزاج کسی کو حق سے دور کرنے کے لیے کافی مدد گار ثابت ہو سکتا ہے ۔
تیسرے خطبہ’’ تاریخ نزول قرآن مجید‘‘ پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے قرآن مجید کی مکمل تاریخ (history) کو بیان کیا جس میں وحی اول سے لے کر وحی آخر اور سورتوں کی مکی و مدنی ترتیب کے حوالے سے کا فی توجہ طلب نکات ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ قرآن عربی میں کیوں نازل ہوا، ڈاکٹر صاحب ایک حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’عربی زبان کو اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ لسانیات کی تاریخ میں یہ زبان اپنی نوعیت کی منفرد زبان ہے۔ اس کی ایک انفرادی خصوصیت یہ ہے کہ یہ زبان گذشتہ سولہ سو سال سے بغیر کسی ردوبدل کے آج تک موجود ہے۔ دنیا کی ہر زبان دو تین سو سال بعد تبدیلی کے عمل سے گزرنے لگتی ہے ۔اور پانچ سو سال بعد تو مکمل طور پر تبدیل ہو جاتی ہے۔‘‘ (ص:۱۱۵)
محترم ڈاکٹر صاحب کی اس بات سے تو مکمل طور پر اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ یہ زبان ردوبدل سے آج تک محفوظ ہے۔ اگر بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل کا کلام کسی آج کے عربی بولنے والے کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ اسے بالکل اسی طرح سمجھ سکتا ہے جیسے بعثت نبوی سے پہلے کا عربی دان اور ا گر آج کی عربی کو ہزار سال پرانے عربی دان کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ کسی قسم کی نامانوسیت کا شکار نہیں ہونے پائے گا، لیکن عربی زبان کی قدامت صرف سولہ سو سالہ تک محدود نہیں ہے، کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام کی اول قیام گاہ جنت تھی اور وہاں حضرت آدم کو اسماء کی جو تعلیم دی گئی، وہ عربی زبان میں تھی۔ پھر قرآن کریم میں مختلف انبیا کے حوالے سے جو کلام پیش کیا گیا ہے، خواہ وہ حضرت ابراہیم اور اسمٰعیل علیما السلام کے درمیان مکالمہ ہو یا کسی نبی کی کوئی دعا ،ہو وہ سب عربی زبان میں آج تک من وعن محفوظ ہے بلکہ علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے الاتقان میں ایک روایت نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آسمانی کتابیں اور صحائف جتنے بھی نازل ہوئے، ان کی اصل زبان عربی تھی۔ انبیاء علیہم السلام نے اپنی اپنی قوموں کو ان کی زبان میں ترجمہ کرکے ان کو پہنچایا۔ ان میں قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جو اپنی اصلی زبان یعنی عربی میں باقی ہے۔ اس بات پر مزید غوروفکر کے لیے صفدر قریشی صاحب کی کتاب ’’وحدت اللسان‘‘ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی زبان سے قرآن کے عربی زبان میں نزول کی ایک دوسری حکمت ملاحظہ فرمائیں:
’’ہر زبان کا ایک خاص مزاج ہوتا ہے۔ انگریزی زبان کا ایک مزاج ہے، فرانسیسی، ہندی، سنسکرت وغیرہ زبانوں کے اپنے اپنے مزاج ہیں۔ کسی زبان کا یہ مزاج اس قوم کے عقائد، تصورات، اور خیالات کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے۔ مثال کے طور پر انگریزی زبان کا مزاج ایسا ہے کہ آپ اس میں ایک گھنٹہ بھی بات کر یں اور کوئی صاف بات نہ کرنا چاہیں تو آپ کر سکتے ہیں۔ سننے والا سمجھ نہیں سکے گا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔آپ کی بات مثبت ہے، منفی ہے، تائید میں ہے، تردید میں ہے، دوستی ہے، دشمنی ہے کچھ ظاہر نہ ہوگا۔ یہ حیلہ گری اور شعبدہ بازی صرف انگریزی زبان میں ہی ممکن ہے۔ کسی اور زبان میں ممکن نہیں۔ اگر آپ سے کوئی پوچھے آپ صدر بش کے ساتھ ہیں یا صدر صدام کے؟ اگر آپ اس کا جواب اردو میں دیں تو آپ کو ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ میں واضح اور دو ٹوک انداز میں کہنا پڑے گا، لیکن انگریزی ایسی زبان ہے کہ آپ اس کے جواب میں ایک گھنٹہ بھی بولیں تو کسی کو پتا بھی نہیں چل سکے گا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔ یہ اس زبان کا خاصہ ہے۔‘‘ (ص:۱۱۵)
سچ تو یہ ہے کہ اگر عربی زبان کی وسعت یا فصاحت و بلاغت کے حوالے سے بات کی جاتی تو واقعی عربی زبان سے کسی اور زبان کا مقابلہ ممکن نہیں، لیکن انگریزی یا کسی بھی زبان کو اس حوالے سے مخصوص کرنا کہ اس میں اپنی اصل بات کو دو ٹوک انداز میں پیش کرنے سے گریز کیا جا سکتا ہے، سمجھ سے بالا تر ہے کیوں کہ ہر زبان میں بشمول عربی کے اس بات کی گنجائش موجود رہتی ہے کہ اپنی اصل رائے کو چھپایا یا اپنی بات کو ملمع سازی سے پیش کیا جا سکے۔ زبان کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کی فکر میں تضاد پایا جاتا ہے۔ موصوف ایک مقام پر تو(جیسا کہ پچھلی سطروں میں ذکر ہو چکا) قرآن مجید کے انقلاب آفریں اعلان کی بابت فرماتے ہیں کہ قرآن نے غیر اختیاری امور کی بنیادوں پر روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کی نفی کر کے وحدتِ انسانی اور مساوات کی راہ ہموار کی اور اس سلسلے میں ڈاکٹر غازیؒ زبان کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’کسی شخص کی مادری زبان کا انتخاب اس کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتا‘‘۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کی مادری زبان انگریزی ہے، کیا وہ وحدتِ انسانی کے دائرے میں نہیں سما سکتے؟ کیا ایسے لوگوں کو ڈاکٹر صاحب کے نشتر کی چبھن محسوس نہیں ہو گی؟ یہاں قرآن مجید کا انقلاب آفریں پیغام کہاں گیا؟ سچ یہ ہے کہ ڈاکٹر غازیؒ انگریزی زبان سے تعصب برت رہے ہیں، جبکہ وہ بھی دیگر زبانوں کے مانند ایک انسانی زبان ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی بیان کردہ ایک اور حکمت ملاحظہ فرمائیں :
’’نزول قرآن کے لیے ایسی زبان کا انتخاب ضروری تھاجو ایک طرف تو مکمل طور پر ترقی یافتہ ہو اور دوسری طرف اس پر کسی غیر اسلامی عقیدے یا تصور کی چھاپ نہ ہو۔ عربی کے علاوہ اس وقت کی تمام زبانوں پر غیر اسلامی عقائد و خیالات کی گہری چھاپ موجود تھی۔ عربی زبان ترقی یافتہ بھی تھی اور ایسی ترقی یافتہ کہ آج تک کوئی زبان اس مقام تک نہیں پہنچ سکی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس پر کسی غیر قرآنی عقیدہ یا نظریہ یا قبل قرآنی خیالات کی چھاپ نہیں تھی۔‘‘ (ص:۱۱۵)
یہاں پر بھی ڈاکٹر صاحب کی مراد واضح نہیں ہو پاتی کہ آخر ان کے نزدیک غیر اسلامی تصور یا عقیدے کا معیار کیا ہے۔ بت پرستی جن کا عقیدہ اور فطرت سے بغاوت جس قوم کا شیوہ رہا ہو، اس سے زیادہ غیر اسلامی عقیدہ کی پختگی اور کیا ہو سکتی ہے ؟ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے آج کے دور میں کوئی ہندوبنیے کے تعصب اور جہالت سے قطع نظر کرکے سنسکرت کو غیر اسلامی چھاپ سے محفوظ زبان خیال کرے۔
ڈاکٹر غازی مرحوم قرآن مجید کے تراجم کا تقابل بائبل سے کرکے مسلمانوں کو جھنجوڑتے ہیں اور ڈاکٹر حمید اللہ ؒ کی کتاب القرآن فی کل لسان کے حوالے سے فرماتے ہیں :
’’ دنیا کی ۲۰۵ زبانوں میں قرآن کے کلی یا جزوی تراجم موجود ہیں ۔۲۰۵یہ وہ تراجم ہیں جو ڈاکٹر صاحب نے خود دیکھے ۔ صرف ایک اردو زبان میں ۳۰۰ سے زائد تراجم موجود ہیں۔ انگریزی میں ۱۵۰ سے زیادہ تراجم موجود ہیں ۔ فارسی اور ترکی میں ۱۰۰ سے زائد، فرانسیسی میں ۵۸۱، جرمن میں ۵۵، لاطینی میں ۵۳ اور بقیہ زبانوں میں درجنوں کے حساب سے قرآن مجید کے تراجم موجود ہیں۔ کچھ زبانیں ایسی ہیں جن میں ترجمے مکمل اور کچھ میں نامکمل ہیں۔ یہ معلومات ہمارے لیے اگرچہ بہت خوش کن ہیں، لیکن یہ بھی یاد رکھیے کہ بائبل کے ۱۸۰۰ زبانوں میں ترجمے موجود ہیں۔ یہ خبر ہم مسلمانوں کو بہت کچھ بتا رہی ہے اور بہت کچھ کرنے کی دعوت دے رہی ہے۔‘‘ (ص: ۱۱۸، ۱۱۷)
خطبہ چہارم میں جمع وتدوین قرآن اورصحابہ و تابعین کی قرآن کے حوالے سے خدمات اوررسم الخط(نبطی، حمیری، کوفی، نسخ) کی تاریخ اور قرآن میں استعمال نیز قرآن کو محفوظ کرنے کے لیے کن اسباب کو اختیار کیا گیا پر مفصل بحث کی گئی ہے ۔مثال کے طور پر:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن مجید اکثرو بیشتر جھلیوں سے بنے ہوئے کاغذ پر، کبھی کبھی باہر سے آئے ہوئے عمدہ اور نفیس کاغذ پر، اور کاغذ کے علاوہ اور چیزو ں پر بھی لکھا جاتا تھا۔ جو صحابہ کرام کاغذ رکھتے تھے، وہ کا غذ بھی استعمال فرمایا کرتے تھے۔ اور جن کے وسائل کم تھے، وہ رق parchment وغیرہ استعمال کرتے تھے۔ احادیث میں عُسُب کا ذکر بھی آیا ہے جو عسیب کی جمع ہے۔ یہ بھی لکھنے کے لیے کا غذ نما ایک چیز ہوتی تھی اور کھجور کی چھال خشک کرکے کا غذ کی طرح بنا لی جاتی تھی۔ لخاف کا بھی ذکر ہے جو لخف کی جمع ہے۔ یہ ایک چوڑی اور کشادہ سل نما چیز ہوتی تھی۔ یہ پتھر سے بنائی جاتی تھی۔ اس کی شکل غالباً وہ تھی جیسے آج کل بچوں کی سلیٹ ہوتی ہے۔ رقاع، رقعۃ کی جمع ہے جس کے لفظی معنی رقعہ کے ہیں جسے اردو میں ہم چٹھی بولتے ہیں۔ یہ کاغذ یا چمڑے کا ٹکڑا ہوتا تھا۔ اکتاف جو کتف کی جمع ہے، یہ اونٹ یا بڑے جانور کے مونڈھے کی ہڈی ہوتی تھی جس کو تختی کی طرح ہموار کر لیا جاتا تھا۔ ان کے علاوہ لکڑی کی بڑی اور کشادہ شاخوں سے بنائی ہوئیں تختیاں یا الواح بھی لکھنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔‘‘ (ص: ۱۲۵)
خطبہ پنجم ’’علم تفسیر: ایک تعارف ‘‘میں فہم قرآن میں تفسیر بالقرآن، تفسیر بالسنۃ اور جاہلی شعری ادب کی اہمیت پر زوردیا گیا ہے۔ خطبہ ششم ’’تاریخ اسلام کے چند عظیم مفسرین قرآن‘‘اور خطبہ ہفتم ’’مفسرین قرآن کے تفسیری مناہج‘‘ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مفسرین قرآن کا تعارف اور ان کی خدمات کا تفصیلی ذکر کیاگیا ہے اور اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ تفسیری خدمات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے صدی کی ترتیب کو بھی ملحوظ رکھا کہ کس صدی ہجری میں تفسیری کام کی نوعیت کیا تھی اور مفسرین کی دلچسپی کا میدان کیا تھا۔ اس کے علاوہ مفسرین کے اسالیب اور تفاسیر کی خصوصیات کے حوالے سے بھی خوب بات کی گئی ہے۔خطبہ ہشتم ’’اعجاز القرآن‘‘ میں قرآن مجید کے معجزاتی کلام ہونے کے بارے میں مختلف حوالوں سے مدلل اور پرمغز گفتگو کی گئی ہے۔ خطبہ نہم ’’علوم القرآن ایک جائزہ‘‘کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں:
’’علوم القرآن سے مراد وہ تمام علوم و معارف ہیں جو علماء کرام مفسرین اور مفکرین ملت نے گذشتہ چودہ سو سال میں قرآن مجید کے حوالے سے مرتب فرمائے۔ ایک اعتبار سے اسلامی علوم و فنون کا پورا ذخیرہ قرآن مجید کی تفسیر سے عبارت ہے۔ آج سے تقریباً ایک ہزار سال قبل مشہور مفسر قرآن اور فقیہ قاضی ابوبکر ابن العربی نے لکھا تھا کہ مسلمانوں کے جتنے علوم وفنون ہیں، جن کا انہوں نے اس وقت اندازہ سات سو کے قریب لگایا تھا، وہ سب بالواسطہ یا بلا واسطہ سنت رسول کی شرح ہے۔ اس اعتبار سے سارے علوم و فنون علوم القرآن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسلام سے وابستگی کا بھی یہی تقاضا ہے، وحدت علوم کا منطقی نتیجہ بھی یہی ہے اور وحدت فکر اور تصور وحدت کائنات کا بھی یہی ثمرہ ہے کہ سارے علوم و فنون کو قرآن مجید سے وہی نسبت ہو جو پتوں کو اپنی شاخوں سے، شاخوں کو اپنے تنے سے اور تنے کو اپنی جڑ سے ہوتی ہے۔‘‘ (ص:۲۸۳)
ڈاکٹر غازی صاحب نے علوم القرآن کو دو دائروں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک وہ دائرہ جن کا تعلق براہ راست قرآن کریم کی تفسیر اور فہم سے ہے۔ علوم القرآن کا دوسرا دائرہ ڈاکٹر صاحب نے انسان کی ہر اس فکری کاوش کو قرار دیا جس کی سمت درست اور اساس صحیح ہو۔ علوم القرآن کے پہلے دائرہ کو بیان کرتے ہوئے(جو کہ ڈاکٹر صاحب کا اصل موضوع ہے) فضائل قرآن، خواص القرآن، امثال القرآن، اقسام القرآن، قصص القرآن، حجج القرآن، جدل القرآن(علم مخاصمہ)، غریب القرآن، ناسخ ومنسوخ، مشکلات القرآن وغیرہ مو ضوعات کا تفصیلی تعارف دیا گیا ہے۔علوم القرآن کے دوسرے دائرے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’یہی وہ مقصد ہے جس کے حصول کے لیے گذشتہ ساٹھ ستر سال سے اہل فکرو دانش کوشاں ہیں۔ یہ وہ کوشش ہے جسے islamization of knowledge کی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتاہے ...... اس دائرے میں ہر وہ چیز شامل ہے جس سے مسلمانوں نے اپنی فکری اور علمی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہو اور جو قرآن مجید کے بتائے ہوئے تصورات کے مطابق ہو اور اس کی بنیادی تعلیم سے ہم آہنگ ہو۔ جب مسلمان اپنے تمام موجودہ معاشرتی اور انسانی علوم کو از سر نو مدون کر لیں گے تو وہ اسی طرح سے قرآن فہمی میں مدد گار ثابت ہوں گے جس طرح ماضی میں مسلمانوں کے معاشرتی اور انسانی علوم نے قرآن فہمی میں مدد دی۔ مسلمانوں کا فلسفہ اور تاریخ اپنے زمانے میں اسلامی نظریہ اور اسلامی تعلیم میں ممدومعاون ثابت ہوا۔جب آج کا اصول قانون، آج کی سیاسیات، آج کی معاشیات، اور آج کے دوسرے تمام علوم اسلامی اساس پر از سر نو مرتب ہوں گے تو اس وقت ایک بار پھر ان سب علوم کی حیثیت قرآن مجید کے خادم اور قرآن فہمی کے آلات وو سائل کی ہوگی۔ اس وقت یہ سب علوم وفنون اسی تصور حیات اور نظریہ کائنات کو فروغ دیں گے جو قرآن مجیدنے دیا ہے۔ اس وقت یہ علوم قرآن مجید کی تہذیبی اقدار کو نمایاں کریں گے اور اس تصور کی بنیاد پر مزید نئے علوم اور فنون کو جنم دیں گے جو قرآن مجید میں ملتا ہے۔‘‘ (ص: ۲۸۴، ۲۸۳)
ڈاکٹر صاحب مسلمانوں کی پستی ، نا اہلی اور ناکامی کے اسباب کا تجزیہ اس طرح کرتے ہیں:
’’آج مسلمان کے پاس رائج الوقت تمام علوم وفنون اکثر و بیشتر مغربی ذرائع و مصادر سے پہنچے ہیں۔ ان سب علوم کی اساس اور ان سب نظریات کی اٹھان ایک غیر اسلامی ماحول میں ہوئی ہے۔ غیر اسلامی نظریات و تصورات اور لا دینی افکا رو اساسات پر ان سارے علوم و فنون کا ارتقاء ہوا۔‘‘( ص:۲۸۳)
خطبہ دہم ’’ نظم قرآن اور اسلوب قرآن‘‘ کے موضوع پر ڈاکٹر غازی صاحب نے نظم قرآنی اور اسلوب قرآنی پرگفتگو کرتے ہوئے اس بات کی حکمتیں ذکر کی ہیں کہ قرآن مجید کو بائبل اوردوسری کتب کی طرح موضوعات کے اعتبار سے کیوں ترتیب نہیں دیا گیا۔ خطبہ یازدہم ’’قرآن مجید کا موضوع اور اس کے اہم مضامین‘‘ میں ڈاکٹر صاحب نے قرآن مجید کے مضامین کو دو مختلف انداز میں پیش کیا جس میں پہلے حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کے بیان کردہ علوم خمسہ (تذکیر باحکام اللہ، مخاصمہ، تذکیز بآلاء اللہ، تذکیر بایام اللہ، تذکیر بالموت وما بعدالموت) کا مکمل ذکر کیا۔ اس کے بعد اپنے غور وفکر سے اخذ کردہ قرآن مجید کے جن پانچ بنیادی مضامین کا ذکر فرمایا، ان میں عقیدہ، احکام، اخلاق، تزکیہ اور احسان، امم سابقہ کا تذکرہ، موت وما بعد الموت شامل ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے عقیدہ کے حوالے سے باقی مضامین کی نسبت قدرے تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے دور جدید میں عقیدہ کی خرابی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاہے کہ :
’’ دور جدید کے انسان نے ایک شخص کو تو خدا بنانا چھوڑ دیا ہے،البتہ ایک سے زائد افراد پر مشتمل گروہوں اور جماعتوں کو خدائی کا مقام ہمارے اس جدید دور میں بھی دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر برطانوی پارلیمنٹ کو لے لیجیے۔ کہا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ کو اختیار مطلق حاصل ہے۔ وہ جو چاہے کرے، سوائے اس کے کہ وہ کسی مرد کو عورت اور کسی عورت کو مرد نہیں بنا سکتی۔ یہ وہ قدرت کاملہ ہے جسے ہم اللہ تعالیٰ کے لیے مانتے ہیں۔ یہ پارلیمنٹ کو فرعون کے مقام پر فائز کرنے کے مترادف ہے۔ جس کو وہ جائز سمجھے، وہ جائز اور جسے نا جائز سمجھے، وہ ناجائز ہے۔ جو حیثیت اہل عراق نے نمرود کو اور اہل مصر نے فرعون کو دی تھی، وہ حیثیت اہل انگلستان نے پارلیمنٹ کو دے دی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پہلوں نے یہ خدائی حیثیت ایک فرد کو دی تھی اور پچھلوں نے ایک گروہ کو دے رکھی ہے، بعض اوقات گمراہی ایک شخص کی طرف سے آتی ہے تو محدود ہوتی ہے، لیکن اگر بہت سے انسانوں کی طرف سے گمراہی آئے تو اس کے اثرات بہت بڑھ جاتے ہیں۔‘‘ (ص:۳۶۶)
ڈاکٹر غازی مرحوم کے محاضرات چونکہ مدرسات کی تربیت کے حوالے سے منعقد کیے گئے تھے اس لیے ان میں جہاں جا بجا طریقہ تدریس اور قرآن مجید سے عامۃ المسلمین کی دلی وابستگی کی ممکنات کے حوالے سے بات کی گئی، وہیں فرقہ واریت کے نتائج اور نقصانات سے بھی صرف نظر نہیں برتاگیا۔ ڈاکٹر صاحب نے دین اسلام کو وحدت کا ضامن قرار دیتے ہوئے ان خامیوں اور رکاوٹوں کا بھی ذکر کیا جو وحدت کی چادر کو چاک کیے ہوئے ہیں۔ اوراس کا سد باب کیسے کیا جا سکتا ہے (اگر کوئی کرنا چاہے) ملاحظہ فرمائیں:
’’مسلم معاشرے کے بارے میں نظری طور پر تو یہ بات سب لوگ جانتے ہیں کہ اس میں دین اور دنیا کی تفریق موجود نہیں ہے۔ اس کی تعلیم میں بنیادی نکتہ توحید اور وحدت ہے۔ نہ صرف دین و دنیا کی وحدت ہے، بلکہ علوم و فنون کی وحدت اسلامی فکر اور اسلامی تہذیب وتمدن کی اساس ہے۔ اس تعلیم پر کامل ایمان کے علاوہ ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستگی امت مسلمہ میں وحدت کی بنیاد ہے۔ دین کی تعلیم کو جتنا فروغ دیا جائے گا، اتنا ہی مسلم معاشرہ میں وحدت فکرونظر پیدا ہوگی۔ نظری اعتبار سے تو سب لوگ یہ بات مانتے ہیں، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عملاً ایسا نہیں ہو رہاہے۔ دینی تعلیم کے بہت سے مراکز ایسے ہیں کہ وہاں سے دین کے نام پر جو تعلیم آرہی ہے، وہ معاشرے کو مسلکوں اور فرقوں کے نام پر مختلف حصوں میں بانٹ رہی ہے۔ اگر تھوڑا سا غور کر کے دیکھیں تو پتا چلے گا کہ مسلم معاشرہ میں پہلے سے جتنے گروہ یا فرقے موجود تھے، ان میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ جیسے جیسے مذہبی تعلیم کا یہ خاص رنگ اور انداز پھیل رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ میں تقسیم اور تفریق میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اب یا تو آپ یہ کہیں کہ قرآن مجید اور دین اسلام مسلمانوں میں وحدت کاضامن نہیں جو بالکل بے بنیاد اور خلاف حقیقت بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اسلوب تعلیم میں ہی کوئی خامی ہے۔ ہم جس انداز سے دین کی تعلیم دے رہے ہیں جس میں بنیادی زور مسلکی آرا اور فقہی اجتہادات پر دیا جاتا ہے، اس طرز عمل میں بہت کچھ اصلاح اور نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ مزید برآں ہمارے ہاں دین کے حوالہ سے جو ذمہ داریاں ہیں، وہ مختلف سطحوں کی ہیں۔ ان سطحوں کو جب تک اپنی جگہ برقرار نہ رکھا جائے، اس وقت تک اس وہ نتائج برآمد نہیں ہوسکیں گے جو دین پیدا کرنا چاہتا ہے۔‘‘(ص:۳۸۰)
ہمارے نام نہاد مذہبی فکر رکھنے والے (فکر کم ایکٹنگ زیادہ) طبقے میں اکثریت ان لوگوں کی ملے گی جنہیں اپنے مخصو ص حلقے کے علاوہ سب کچھ باطل ہی دکھتا ہے۔ امت کی پریشانیوں سے صرف نظر کرکے منا ظروں کی محفلیں گرمانا اور چوکوں چراہوں پر روڈ بلاک کرکے ایک دوسرے کے مسلک کے خلاف پاک بھارت سے بڑا محاذ سمجھ کر ’’جآء الحق وزھق الباطل‘‘ کے نعرہ لگانا جن کا شیوہ اور ایک دوسرے کے مسلک کے اکابر پر انگلی اٹھانا جن کا شعار ہو، آخر ایسے لوگوں کاخود کو ناجی فرقہ قرار دینے اور فرقہ ثانی کو جہنم کا مستحق سمجھنے کے علاوہ اور مقصد ہی کیا ہو سکتا ہے؟ تمام اکابرین دین کا احترام کرنے والے ایک سنجیدہ آدمی کے لیے اس سے بڑا تکلیف دہ امراور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ ایک دن مولانا ثناء اللہ امرتسری اور مولانا داؤد غزنوی پر سب و شتم ہوتے سنتا ہے اور دوسرے دن اسی مقام پر سیدحسین احمد مدنی، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا احمد رضا خاں بریلوی پر انگلیاں اٹھتے دیکھتا ہے۔ میں اس موقع پر اپنے استاد محترم مولانا زاہد الراشد ی کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ مدرسہ نصرۃ العلوم میں دورۂ حدیث کے طلبہ کوجمعرات کے دن مختلف موضوعات (تعارف ادیان ،تعارف مذاہب ، تعارف مسالک اور بین الاقوامی تعلقات) کے حوالے سے لیکچرز دیا کرتے ہیں۔ اس دوران جب تعارف مسالک پر بات کرتے ہیں تو استاد محترم جس طریقہ سے علماے دیوبند کا تعارف کرواتے ہیں، اسی طریقہ سے علماے اہل لحدیث اور بریلوی علما کا نہ صرف تعارف کراتے ہیں بلکہ ہر مسلک کے عالم کی خصوصیات کا بھی ذکر فرماتے ہیں جس سے اس عالم کی قدر اور اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ ایسے ہی علما کی راہ نمائی کا محتاج ہے تا کہ وحدت کی کھوئی ہوئی متاع کوہم دوبارہ حاصل کر پائیں۔لیکن افسوس! صد افسوس ایسے علما اتنی کم تعداد میں ہیں کہ بآسانی انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے بھی فرقہ پرست علما کی کثرت دیکھتے ہوئے ان کے ضمیر کو جھنجوڑنے کی( ناکام) کوشش کی تھی:
منفعت ایک ہے اس قوم کی ، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں!
بہرحال! ڈاکٹر غازی مرحوم نہ صرف قرآن سے رابطہ استوار کرنے کی بات کرتے ہیں بلکہ ہر عالم کے اظہار رائے کے حق کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور دروس قرآن کی محافل میں پائے جانے والے دوہرے معیار پر بھی کڑی تنقیدفرماتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
’’ہمیں درس قرآن کے حلقے منظم کرنے ہیں۔ یعنی لوگوں کو دین کے بنیادی عقائد پر جمع کرنا اور شریعت کی تعلیم اس طرح دیناکہ جہاں جہاں خود شارع نے اختلاف کی گنجائش رکھی ہے اس اختلاف کو آپ تسلیم کریں۔ اب ہوتا یہ ہے جو بالکل درست نہیں ہے کہ ایک عالم کا درس قرآن ہوتا ہے، اس میں صرف اس خاص مسلک کے لوگ ہوتے ہیں جو ان عالم کا اپنا فقہی یا کلامی مسلک ہوتا ہے۔ دوسرے مسلک کا کوئی آدمی حاضرین اور سامعین میں موجود نہیں ہوتا۔ترجمہ قرآن بھی اپنے مسلک کے عالم کا مخصوص ہوتا ہے۔ یوں تو کسی ترجمہ یا تفسیر کو مخصوص کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ ایک اعتبار سے بہتر اور مناسب یہی ہے جس سے آپ کا ذوق ملے اسی عالم کے ترجمہ اور تفسیر کو آپ پڑھ لیں۔ لیکن اگر اس سے آگے بڑھ کریہ کہا جائے کہ فلاں ترجمہ اور تفسیر ہی کو پڑھا جائے، اس کے علاوہ کسی اور ترجمہ یا تفسیر کو نہ پڑھا جائے تو یہ بات غلط ہوگی۔ کسی کو اس بات کا حق نہیں پہنچتا کہ لوگوں کو زبردستی اپنے ذوق پر جمع کرے۔‘‘(ص:۳۹۱)
اگر ہندو اور عیسائی مذہب کے پیروکارجہالت کی وجہ سے اپنے پنڈت اور پادری کو پا ک صاف اور ہر غلطی سے منزہ سمجھتے ہیں تو خیر سے ہمارے ’’مذہب شناس‘‘ لوگ بھی اپنے اکابرین کو پوجنے میں کسی قسم کی کمی نہیں کرتے ۔ اسی رویہ پر ڈاکٹر غازیؒ بڑے اچھے انداز میں تنقید فرماتے ہیں ۔ملاحظہ فرمائیں:
’’اگر غلطی ابوبکرصدیقؓ سے ہو سکتی ہے تو پھر کوئی شخص بھی غلطی سے مبرا نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ سے فہم قرآن سے چوک ہوتی ہے اور وہ اس کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں آج کل یہ کہنا تو بہت آسان ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ سے غلطی ہوگئی، ہمارے لیے یہ کہہ دینا بھی بہت سہل ہے کہ امام شافعی نے فلاں جگہ غلطی کی اور یہ کہہ دینا بھی آسان ہے کہ امام مالک نے فلاں بات صحیح نہیں سمجھی۔ ہماری دینی درس گاہوں میں روز یہ تنقیدی تبصرے ہوتے رہتے ہیں، لیکن یہ کہنے کی کسی کی مجال نہیں ہے کہ مولانا تھانوی یا مولانا مودودی یا مولانا احمد رضاخان سے بھی غلطی ہوئی ہے۔ کوئی ذرا یہ جرات کرکے دیکھے! ان کے مریدین سر توڑ دیں گے اور اسلام سے خارج کرکے دم لیں گے۔‘‘ (ص: ۴۰۱)
ہم اپنے مضمون کو یہیں پر سمیٹتے ہوئے ایک بار پھر ڈاکٹر غازی مرحوم کے کام اور ان کی لگن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں کہ اتنے مشکل مضامین کو انہوں نے سلاست کا جامہ پہنایا تاکہ ایک عام اردودان بھی ان سے استفادہ کر سکے۔ اللہ تعالیٰ غازی مرحوم کی اس محنت کو قبول فرمائے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ان کے علمی ذخیرہ سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
ڈاکٹر غازیؒ اور ان کے محاضرات قرآن
سید علی محی الدین
غازی صاحب کی رحلت کا حادثہ ایسا اچانک ہوا کہ ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ وہ ہم میں نہیں رہے۔ نہ جانے ہم جیسے کتنے طالب علموں نے ان سے استفادے اور رہنمائی کے کیسے کیسے منصوبے بنا کر رکھے تھے، مگر وہ اپنے حصے کا کام انتہائی تیز رفتاری سے نمٹا کر لوگوں کو اداس اور دل گرفتہ چھوڑتے ہوئے بڑے اطمینان اور سکون کے ساتھ اس عالم کو سدھار گئے جہاں سے واپسی ناممکن ہے۔
ڈاکٹر غازی صاحب کو جاننے، سمجھنے اور قریب سے ان کی شخصیت کا مطالعہ کرنے والے آج یقیناًاداس ہیں۔ یہ غم اس بنا پر نہیں کہ ایک استاد، قانون فہم، جدید وقدیم کی جامع، علوم اسلامیہ پر محققانہ نگاہ رکھنے والی، عربی زبان وادب کی ماہر، متوازن ومعتدل اور تعلیمی امور کو سمجھنے والی شخصیت رخصت ہوئی، بلکہ ان تمام کمالات اور خوبیوں کے ساتھ وہ کردار، اخلاق، سیرت، قلبی اور باطنی حالات کے لحاظ سے بھی ان شخصیات میں سے تھے جن کی تعداد محدود تر ہے۔ ہم القابات اور اعزازات عطا کرنے میں نہایت فراخ دل اور سخی واقع ہوئے ہیں۔ راہ چلتے معمولی کارناموں کے حامل افراد کووہ بلندوبالا القابات عطا کر دیتے ہیں کہ الامان والحفیظ۔ غازی صاحب کے سلسلے میں جو لقب اور اعزاز طویل غوروخوض کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے، وہ ’’علم دوست شخصیت‘‘ کا ہے جس کا اوڑھنابچھونا اور دلچسپیوں، مہارتوں اور صلاحیتوں کامرکز ومحور علم ہی تھا۔
ڈاکٹر صاحب کی خدمات وخصوصیات ایسی نہیں جنہیں عجلت میں بلاغوروخوض سپردقلم کر د یا جائے۔ ان کے فکری، ذہنی، علمی کمالات بڑا تدبر چاہتے ہیں۔ فوری طور پر حتمی انداز سے طے کرنا کہ وہ عمر بھر کس چیز کے لیے کوشاں رہے، آسان نہیں۔ بسا اوقات خود کام کرنے والی شخصیت کو بھی معلوم نہیں ہو پاتا کہ اس کا اصل میدان اور دائرہ کیا ہے! اکثرو بیشتر برسوں نہیں، صدیوں پردہ پڑا رہتا ہے۔ عرصہ دراز کے بعد کوئی شخص آکر بتاتا ہے کہ فلاں صدی میں گزرنے والی شخصیت کا اصل کارنامہ کیا تھا۔ اس خیال اور مضمون کو مولانا سید ابوالحسن ندویؒ نے ’’تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ میں خوب سمجھایا ہے۔ اصلاً تو اس کتاب میں اصلاح وتجدید کی اسلامی تاریخ میں جو تسلسل ہے، اس کو حضرت ندویؒ نے دکھایا ہے، لیکن ضمناً اس خیال پر بے شمار اشارے ملتے ہیں۔
دوسری چیز یہ ہے کہ رخصت ہو جانے والی شخصیت کی خدمات وخصوصیات کو سامنے لانے میں کچھ بے اعتدالی اور مبالغہ آرائی کے ساتھ کچھ مسلمہ اصولوں کو بھی بری طرح پامال کیا جاتا ہے۔ اتفاقی جملوں اور واقعات کو بنیاد بناکر پوری شخصیت کو بدل دیاجاتا ہے۔ اپنے خیالات کاخول چڑھا کر دوسروں کے افکار کو بیان کیا جاتا ہے اور صوفی کو ملا، متکلم کو مفسر اور محدود قسم کی شخصیات کوعالمی بنا دیا جاتا ہے اور یہ سب کچھ مبالغہ آرائی اور عقیدت کے تحت سرانجام دیا جاتا ہے۔ اقبال کی مثال سب سے زیادہ واضح ہے۔ اسلامی شریعت کے مداحین اور ناقدین بیک وقت اقبال سے یوں فائدہ اٹھاتے ہیں کہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ یہ اقبال کی جامعیت ہے یا استدلال کرنے والوں کی تحریف۔
خیر، بات دور نکل گئی۔ غازی صاحب کے کام کا مختصر سا خاکہ ان کے سلسلہ محاضرات کی روشنی میں سامنے لانے کی کوشش کروں گا تاکہ ان کی خدمات کے صرف ایک پہلو کا، جو علوم اسلامیہ کے میدان میں ظاہرہوا، کچھ ہلکا سا اندازہ ہو جائے۔ ان خطبات کے بعض طویل اقتباسات بھی نقل ہوں گے تاکہ مراد اور منشا واضح ہو سکے۔ ان میں سے کچھ محاضرات براہ راست سننے کا شرف بھی مجھے حاصل ہوا۔
توسیعی خطبات کے ذریعے علم ومعلومات دینا علمی دنیا میں معروف ومقبول طریقہ ہے اور یہ کئی لحاظ سے اپنے اندر افادیت بھی رکھتا ہے کہ مختصرو قت میں محاضر اپنی زندگی بھر کا مطالعہ پیش کر دیتا ہے۔ یہ روایت برصغیر میں بھی کسی حد تک موجود ہے، اگرچہ کم یاب ہے۔ علامہ اقبال کے مشہور خطبات، مولانا سید سلیمان ندویؒ کے خطبات مدراس، ڈاکٹر حمیداللہ کے خطبات بہاولپور، مولانا سیدا بوالحسن ندویؒ کی ’’ النبوۃ والانبیاء فی ضوء القرآن‘‘ (منصب نبوت اور اس کے عالی مقام حاملین) اور برصغیر سے باہر ڈاکٹر فواد سیزگین کی ’’التراث العربی‘‘ اس کا معیاری نمونہ ہیں۔ غازی صاحب کے ان خطبات کا آغاز ۲۰۰۳ء میں محاضرات قرآنی سے ہوا اور تکمیل ۲۰۰۹ء میں محاضرات معیشت وتجارت پر ہوئی۔اس لحاظ سے کل۶سال کے عرصے میں محاضرات قرآنی، محاضرات حدیث، محاضرات سیرت، محاضرات فقہ، محاضرات شریعت اور محاضرات معیشت وتجارت منصہ شہود پر آئیں۔
میرا ذاتی تاثر یہ ہے کہ ۶سال کے مختصر عرصے میں یہ خطبات ان سے دلوائے گئے اور جب اس کی تکمیل ہوئی تو بلاوابھی آگیا۔ ان خطبات کی محرک اول ان کی بہن تھی جو درس قرآن کے عمل سے وابستہ تھیں۔ انھیں سب سے پہلے یہ خیال آیا کہ خالی الذہن عوام الناس کو اسلامی علوم سے روشناس کروایا جائے، لیکن ان محاضرات سے استفادہ اہل علم نے بھی بڑے پیمانے پر کیا۔ ان خطبات میں مذکورہ بالا تمام علوم کے مختلف مضامین ومباحث، اساسی تصورات اور ضروری پہلوؤں کو جس آسان، عام فہم، دل نشین، متوازن او رمعتدل انداز میں بیان کیا گیا ہے، وہ ان کی زندگی بھر کی خدمات میں ایک نمایاں مقام اور حیثیت رکھتے ہیں۔ خالص خشک اور علمی موضوعات ومباحث میں دلچسپی وجاذبیت پیدا کرنا آسان نہیں۔ مغلق، پیچیدہ اور دقیق فنی اصطلاحات کو روز مرہ کی زبان اور مثالوں سے ذہن نشین کرانا ایک مشکل کام ہے۔
ان محاضرات کو پڑھ کر اسلامی علوم کی وسعت، گہرائی اور جامعیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اپنے شاندار علمی ماضی، قدیم ورثہ اور اسلاف کے کارناموں پر اعتماد اور اطمینان بڑھتا ہے۔ ایک نہایت حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس قدر وسیع علم رکھنے والی شخصیت اپنی ذاتی رائے اور خیال ظاہر کرنے میں حد درجہ احتراز سے کام لیتی ہے۔ آج کے زمانے میں جن حضرات کی نظر کچھ وسیع ہو جاتی ہے، وہ مسلمات اور علوم وفنون کی نمائندہ شخصیات سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے عدم اعتماد اور حقارت کا رویہ اپنانے لگتے ہیں، لیکن ڈاکٹر صاحب کی یہ خصوصیت بھی قابل غور ہے کہ اپنے آپ کو ان اسلاف کا ناقل قرار دینے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ ان کی گفتگو واضح، دو ٹوک، ابہام اور الجھاؤ سے پاک، توازن واعتدال، وسعت وجامعیت اور سلیقہ وادب کا نمونہ، سلف پر مکمل اعتماد کی مظہر اور حکمت ودانش سے بھرپور ہوتی ہے۔ وہ مستشرقین اور سرسید احمد خان کی مثبت علمی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ عظیم ترین مفسرین اور محدثین، جن کے حوالے سے ہم مسلکی تعصبات کا شکار ہیں، حکمت کے ساتھ سب کے مطالعہ کی ترغیب اور شوق دلاتے ہیں۔ عقائد اور اعمال کی اصلاح کا حکیمانہ اسلوب وطریقہ متعارف کرواتے ہیں۔ جم کر علمی کام نہ کرنے کے مزاج کا شکوہ کرتے ہیں۔
وہ نفاذ شریعت کے سلسلے میں عملی مشکلات اور رکاوٹوں کو سمجھاتے ہیں کہ کچھ مشکلات دستوری اور آئینی ہیں، کچھ کا تعلق ہماری سہل پسندی اور راحت طلبی سے ہے، بعض علم ومہارت کے فقدان سے تعلق رکھتی ہیں، فہم وبصیرت کی کمی بھی موانع میں سے ہے اور کچھ کا عمومی تربیت اور اصلاح کے ساتھ واسطہ ہے۔ ان تمام مشکلات اور رکاوٹوں کا حل تلاش کیے بغیر محض نفاذ شریعت کا نعرہ لگانا عجیب تر ہے۔ ریاست اور اس کے مرکزی اداروں کی اہمیت کا شعور اور نظام کو اسلامی بنانے میں کہاں بیٹھ کر موثر اور مفید کام کیا جا سکتا ہے، یہ چیز نہایت بالغ نظری چاہتی ہے۔ وہ سیاسی وتحریکی شعور بھی رکھتے ہیں۔ سیاست علم وآگاہی کے ساتھ چلتی ہے اور مفید علمی اور قانونی کام کے لیے سیاسی شعور حد درجہ ناگزیر ہے۔ مفکرین کی غلطیوں کی سزا نسلیں اور جماعتیں بھگتتیہیں۔
علوم کے میدان میں متعلقہ علم کی تاریخ، آغاز، نمائندہ شخصیات، امہات کتب اور برصغیر میں اس علم کی خدمت کی تفصیلات بتاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ علم کب اور کہاں پیدا ہوا؟ نوک پلک کہاں سنواری گئی؟ عروج کب ملا؟ شرح وتحشیہ کب شروع ہوئی؟ گھن کب لگا؟ برصغیر اور مستقبل میں اس علم کی وسعت کے کیا امکانات ہیں؟ یہ سب چیزیں زیر بحث آتی ہیں۔ نمونے کے طور پر محاضرات قرآنی سے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں۔
برصغیر اور موجودہ پاکستان میں عوامی سطح پر درس قرآن کی تاریخ کیا ہے اور اس مبارک سلسلے کے آغاز کا احساس سب سے پہلے کن حضرات کو ہوا؟ اس ضمن میں فرماتے ہیں:
’’ہمارے موجودہ پاکستان کے علاقوں میں بیسویں صدی کے اوائل میں بعض بزرگوں نے اس کام کو ازسر نو شروع کیا جن میں بڑا نمایاں نام حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ اور ان کے نامور شاگرد مولانا احمدعلی لاہوری کا ہے۔ مولانا احمد علی لاہوری نے سب سے پہلے لاہور میں ۱۹۲۵ء کے لگ بھگ عوامی درس قرآن کا سلسلہ شروع کیا تھا جو تقریباً چالیس پینتالیس سال تک، جب تک مولانا زندہ رہے، جاری رہا۔ اس کے بعد سے اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم ہے کہ پاکستان میں چپے چپے میں درس قرآن کی محفلیں جاری ہیں اور مختلف سطحوں اور مختلف انداز سے یہ کوششیں ہو رہی ہیں کہ برصغیر کے مسلمانوں کو بالعموم اور پاکستان کے مسلمانوں کو بالخصوص قرآن مجید کے پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے۔‘‘ (ص ۲۸)
عوامی اور عمومی سطح پر تدریس قرآن میں مخاطبین کی ذہنی وعلمی سطح کی رعایت واحترام از حد ضروری ہے۔ سب کو یکساں غذا اور مواد دینا اور مشترکہ اسلوب میں گفتگو کرنا موثر اور مفید نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں:
’’درس قرآن کے اسلوب اور منہاج پر بات کرتے ہوئے ہمیں یہ ضرورخیال رکھنا اور دیکھنا چاہیے کہ ہمارے درس کے مخاطبین کون ہیں؟ مخاطبین کا لحاظ رکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ مخاطبین کی بہت سی علمی اور فکری سطحیں ہوتی ہیں۔ بہت سے پس منظر ہوتے ہیں اور ان سب کے تقاضے الگ الگ ہوتے ہیں۔ بعض اوقات درس قرآن کا مخاطب ایک عام تعلیم یافتہ شہری ہوتا ہے۔ اس کے تقاضے اور ضروریات اور ہوتے ہیں۔ اگر درس قرآن کا مخاطب کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہے تو اس کے تقاضے اور معیار اور ہوگا اور اگر فنی تعلیم کے متخصص لوگ آپ کے درس کے مخاطب ہیں، مثال کے طور پر ایک قانون کا متخصص ہے، ایک فلسفہ کا متخصص ہے تو ایسے لوگوں کے تقاضے اور ہوں گے، لیکن اگر آپ کے درس کے مخاطبین قرآن مجید کے متخصصین، مثلاً درس نظامی کے طلبہ یاعلماء کرام ہیں تو ان کی ضروریات اور تقاضے اور ہوں گے۔ اس لیے پہلے یہ تعین کر لینا چاہیے کہ ہمارا ہدف کیا ہے اور ہم کس طبقے کو خطاب کرنا چاہتے ہیں؟ جس طبقے اور جس معیار کے لوگوں سے بات کرنی ہو، اس طبقے کے فکری پس منظر، اس کے ذہن میں پیدا ہونے والے شبہات، اس طبقے میں اٹھائے جانے والے سوالات اور ان شبہات اور سوالات کا منشا پہلے سے ہمارے سامنے ہونا چاہیے۔‘‘ (ص: ۲۹)
نزول قرآن کے مقاصد واہداف کیا ہیں؟ شاہ ولی اللہ ؒ نے تین مقاصد بیان کیے ہیں: اخلاق، عقیدے اور عمل کی اصلاح۔ شاہ صاحب کے مقاصد ثلاثہ کی تشریح میں عقیدے اور عمل کی اصلاح کے لیے جو حکمت اور دانش درکار ہے، اس پر یوں روشنی ڈالتے ہیں:
’’دوسری چیز جو شاہ صاحب نے بیان کی ہے، وہ ہے دمغ العقائد الباطلۃ یعنی وہ تمام باطل عقائد جو لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہیں، خواہ مسلمانوں کے ذہن میں ہوں یا غیر مسلموں کے، ان سب باطل عقائد کی تردید کی جائے۔ بعض اوقات ایک غلط خیال آپ کے مخاطب کے ذہن میں ہوتاہے اور اس کے دماغ کے مختلف گوشوں میں انگڑائیاں لیتا رہتا ہے، لیکن وہ غلط خیال اس کے ذہن میں اتنا واضح نہیں ہوتا کہ وہ خیال کی شکل میں آپ کے سامنے پیش کرسکے، اس لیے وہ خود تو اس سوال کو پیش نہیں کرے گا۔ اگر آپ از خود اس کی تردید نہیں کریں گے تو وہ سوال اس کے دماغ کے گوشوں میں کلبلاتا رہے گا اور الجھن اس کے ذہن میں قائم رہے گی۔ آپ کے درس قرآن کے باوجود اس کی وہ الجھن صاف نہیں ہو گی۔ اس لیے آپ پہلے سے اس کا اندازہ اور احساس کر لیں کہ مخاطب کے ذہن میں کیا کیا شبہات آ سکتے ہیں اور اپنے درس میں اس شبہے اوراعتراض کا تذکرہ کیے بغیر اور یہ کہے بغیر کہ لوگوں کے ذہن میں اس طرح کا شبہ موجود ہے، وہ از خود اس شبہے اور اعتراض کا جواب ایسے انداز سے دے کہ وہ اعتراض خود بخود ختم ہو جائے تو اس طرح وہ تمام عقائد باطلہ جو لوگوں کے ذہنوں میں پائے جاتے ہیں، ایک ایک کر کے ختم ہو جائیں گے۔
بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایسا عقیدہ جو قرآن مجید کی رو سے غلط عقیدہ ہے او ر ایک خیال جو قرآن مجید کی روسے غلط خیال ہے اور ایک تصور جو لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھا ہوا ہے، وہ غلط تصور ہے، لیکن کسی وجہ سے اس غلط عقیدہ، غلط خیال یا غلط تصور کے حق میں اس کے ماننے والوں میں کوئی عصبیت بھی پیدا ہوگئی اور اس عصبیت کا کوئی خاص پس منظر ہے تو ایسی صورت حال میں مناسب یہ ہے کہ عمومی انداز اختیار کیا جائے اور قرآن پاک کے موقف کی تشریح وتفسیر اس انداز سے کی جائے کہ وہ غلط فہمی دور ہو جائے۔ اگر آپ نام لے کر تردید کریں گے کہ فلاں شخص یا فلاں گروہ کے لوگوں میں یہ خیال یا یہ چیز غلط ہے تو اس سے ایک رد عمل پیدا ہوگا اور ایسا تعصب پیدا ہو جائے گا جو حق کو قبول کرنے میں مانع ہو گا۔
تعصب سے ضد پیدا ہوتی ہے۔ ضدبالآخر عناد کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ پھر انسان کے لیے حق بات قبول کر لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں انسان کا نفس اس کے غلط خیال کو نئے نئے انداز میں سامنے لانا شروع کر دیتا ہے۔ اس اعتراض کا ذکر کیے بغیر اگر آپ اس کا جواب دے دیں تو پھر تعصب کی دیوار سامنے نہیں آتی۔ قرآن مجید کا یہی اصول ہے۔ قرآن میں اکثروبیشتر سوال کا ذکر کیے بغیر او ر اعتراض کو دہرائے بغیر اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ پڑھنے والے کا ذہن خود بخود صاف ہو جاتا ہے اورمعترض کے ذہن کی کجی خود بخود دور ہو جاتی ہے۔
شاہ صاحب کی زبان میں قرآن کا تیسرا مقصد نفی الاعمال الفاسدہ ہے یعنی جو اعمال فاسدہ انسانوں میں رائج ہیں، چاہے ان کی بنیاد کسی غلط عقیدے پر ہو یا نہ ہو، ان اعمال کی غلطی کو واضح کیا جائے اور ان کو مٹانے اور درست کرنے کی کوشش کی جائے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی غلط رواج انسانوں میں رائج ہو جاتا ہے اور بہت سے لوگ قرآن مجید کا علم رکھنے کے باوجود یہ محسوس نہیں کرتے کہ ان کا یہ رواج قرآن مجید کے احکام کے منافی ہے، یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ انہیں کبھی اس بات کا خیال ہی نہیں آتا۔ اب اگر آپ نے بطور مدرس قرآن درس کے پہلے ہی دن لٹھ مارنے کے انداز میں یہ کہہ دیا کہ اے فلاں فلاں لوگو! تم شرک کا ارتکاب کر رہے ہو اور اے فلاں فلاں لوگو! تم بدعت کا ارتکاب کر رہے ہو اور تم ایسے ہو اورایسے ہو تواس سے نہ صرف ایک شدید ردعمل پیدا ہوگا بلکہ اس کے امکانات بہت کمزور ہو جائیں گے کہ آپ کا مخاطب آپ کے پیغام سے کوئی مثبت اثر لے۔ اس انداز بیاں سے مضبوط گروہ بندیاں تو جنم لے سکتی ہیں، کوئی مثبت نتیجہ نکالنا دشوار ہے۔ اس طرز گفتگو سے آپ کے اور مخاطب کے درمیان تعصب کی ایک دیوار حائل ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر آپ قرآن مجید کی تعلیم بیان کرنے پر اکتفا کریں کہ قرآن کریم کی تعلیم یہ ہے، اس میں حکمت یہ ہے اور اس تعلیم کا تقاضا یہ ہے کہ فلاں فلاں قسم کے کام نہ کیے جائیں تو اگر فوری طور پر نہیں تو ایک نہ ایک دن قرآن مجید کا طالب علم آپ کی دعوت قبول کر لیتا ہے اور قرآن مجید کے مطابق آہستہ آہستہ اس کے غلط طور طریقے اور فاسد عمل درست ہوتے چلے جاتے ہیں۔‘‘ (ص:۲۹۔۳۴)
مغربیت اور اس کے زیر اثر پھیلنے والے افکار سے بچاؤ اور تحفظ محض مواعظ اور تقریروں سے ممکن نہیں، جب تک قرآن کی روشنی میں متبادل اسلامی فکروجود میں نہیں آتا اور اس پر ذہنوں کومطمئن نہیں کیا جاتا۔ موجودہ زمانے میں درس قرآن کے ذریعے ایک بڑا مقصد یہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب کا ارشاد ہے:
’’سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم سب ایک ایسے فکری اور تعلیمی ماحول میں جی رہے ہیں جس پر مغربی افکار، تمدن اور ثقافت کا حملہ روز بروز شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد کے خیالات اور طرز معاشرت پر مغرب کی اتنی گہری چھاپ پڑ چکی ہے کہ درس قرآن میں اس کا نوٹس نہ لینا حقیقت کے انکار کے مترادف ہے۔ مغربی افکار کا اتنا گہرا اثر مسلمانوں کے دلوں اور ذہنوں پر چھا گیا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ مسلمان کے لیے اسلام کے عقائد اور تعلیمات میں جو چیز بالکل بدیہی ہونی چاہیے تھی، وہ اب بدیہی نہیں رہی، بلکہ محض ایک نظری اور خیالی چیز بن کر رہ گئی ہے۔ ایسے لوگ بھی ناپید نہیں ہیں جن کے لیے اسلامی عقائد اور احکام میں سے بہت سے پہلو نظری سے بھی بڑھ کر ایک مشکوک چیز بن گئے ہیں۔ نعوذباللہ۔
اس لیے جب بھی کبھی دینی ذہن کی تشکیل کا سوال پیدا ہوگا تو یہ بات ناگزیر ہو گی کہ عقیدہ اور فکرکی اس کمزوری اور انحلال کو پیش نظر رکھا جائے۔ آج مغربی افکار سے متاثر لوگوں کے دلوں اور ذہنوں سے مغرب کے منفی اثرات کو دھونا اور اس کے دھبوں کو مٹا کر صاف کرناا ور وہ قلب وبصیرت پیداکرنا جو قرآن مجیدکا مقصود ہے، ایک بہت بڑے چیلنج کے طور پر ہم سب کے سامنے ہے۔ افسوس کہ اس وقت کہیں بھی کوئی مثالی اسلامی معاشرہ نہیں۔ اس وقت ہم کسی مثالی مسلم معاشرے میں نہیں رہتے۔ ہمارا معاشرہ بعض اعتبار سے مسلم معاشرہ نہیں رہا۔ اگرچہ بعض اعتبار سے یہ اب ایک مسلم معاشرہ ہے، لیکن بعض اعتبار سے ہمارے اس معاشرے میں بہت سی خامیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ غیر اسلامی قوتوں نے ہمارے معاشرے،ہماری ثقافتی زندگی، حتیٰ کہ ہماری عائلی زندگی میں اس طرح مداخلت کر لی ہے کہ جگہ جگہ نہ صرف بہت سی خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں بلکہ کئی جگہ فکری، ثقافتی او ر تمدنی خلا پیدا ہو گیا ہے۔ اس خلا کو پر کرنااور ایک مکمل، متکامل اور متناسق اسلامی نقطہ نظر کی تشکیل کرنا ہم سب کا مشترکہ فریضہ ہے۔ مغربی افکار اور نظریات کے منفی حملے کا سد باب صرف اسی وقت کیا جا سکے گا جب ایک مکمل، متکامل اسلامی متبادل پیش کر دیا جائے گا۔ متبادل اسلامی فکر کی عدم موجودگی میں محض مواعظ اور تقریروں سے اس سیلاب کے آگے بند نہیں باندھا جا سکتا۔‘‘ (ص: ۳۶)
انبیاء کرام کی صحبت اور وحی کے ذریعے حاصل ہونے والا علم ایسا قطعی، یقینی اور رگ وپے میں اترنے والا ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑا استدلالی علم اس کو متاثر اور متزلزل نہیں کر سکتا۔ بقول مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ ،امام غزالیؒ کے ذہن میں یہی الجھن اورتشکیک پیدا ہوئی جس نے انہیں بے چین اور مضطرب کردیا اور وہ اس وقت کی سب سے بڑی علمی مسند مدرسہ نظامیہ کی صدارت چھوڑ بیٹھے کہ جو اطمینان اور یقین مجھے اپنے مذہب کی حقانیت اور صداقت پر استدلالی علم کے ذریعے حاصل ہے، وہ ایک یہودی اور عیسائی کو بھی اپنے مذہب کے سلسلے میں حاصل ہے۔ مجھ میں اطمینان اور یقین کی وہ کیفیت جو دو اور دو چار کی طرح ہو، کیوں موجود نہیں کہ اگر کوئی اس کے برعکس استدلال سے ثابت بھی کرے، تب بھی میں اس کو حیرت انگیز واقعے پر محمول کرتے ہوئے اپنے یقین کو قائم رکھوں۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے تذکرے میں مولانا ندویؒ نے اس بارے میں گہری تفصیلات بیان کی ہیں۔ یہی وہ بے چینی تھی جس نے امام غزالیؒ کو امامت کے رتبے پر فائز کر دیا۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں استدلال اور صحبت کے ذریعے حاصل ہونے والے اطمینان ویقین میں فرق:
’’ انبیاء کرام ؑ کی شخصیت ایسی ہوتی ہے کہ ان کے ساتھ رہنے والوں کے قلب ونظر میں اور رگ وپے اور روح وذہن میں ایسا قطعی علم حاصل ہو جاتا ہے کہ ان کو پھر کسی ظاہری استدلال کی ضرورت نہیں رہتی۔ ایک چھوٹی مثال دے کر بات کو آگے بڑھاتا ہوں۔ میں عرض کر چکا ہوں کہ عقلی دلائل اور منطقی استدلال کی بنیاد پر جو چیزیں آج ثابت ہوتی ہیں، وہ کل غلط ہو جاتی ہیں۔ ہر ذہین آدمی جو مناظرہ اور لفاظی کے فن سے واقفیت رکھتا ہو، وہ جس چیز کو چاہے دلائل او ر ز بان آوری کے زور سے صحیح یا غلط ثابت کر سکتا ہے۔ سرسید احمد خان کے صاحبزادے سیدمحمود کے بارے میں آپ نے سنا ہو گا کہ وہ اپنے زمانے میں ہندوستان کے سب سے بڑے قانونی دماغ سمجھے جاتے تھے۔ وہ اپنی مصروفیات اور بعض مشاغل کی وجہ سے بہت سی چیزیں بھول جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ کسی عدالت میں کسی فریق مقدمہ کی طرف سے پیش ہوئے اور بھول چوک کی عادت کی وجہ سے یہ بھول گئے کہ کون سے فریق کے وکیل ہیں۔ انھوں نے مخالف کی طرف سے دلائل دینے شروع کر دیے اور مسلسل دیتے رہے، یہاں تک کہ دلائل کا انبار لگا دیا۔ جس فریق نے انہیں اپنا وکیل مقرر کیا تھا، وہ گھبرا گیا، لیکن کچھ کہنے کی جرات نہیں ہو رہی تھی، اس لیے کہ بہت بڑے وکیل تھے۔ جب ان کے موکلین بے حد پریشان ہوئے تو انہوں نے خاموشی سے کسی کے ذریعے کہلوایا کہ آپ تو ہمارے وکیل ہیں۔ انہوں نے کہا، بہت اچھا! پھر عدالت سے مخاطب ہو کر بولے کہ جناب والا! فریق مخالف کے حق میں بس یہاں تک کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ سب غلط اور بے بنیاد ہے۔ پھر دوسری طرف سے دلائل دے کر اس سارے سلسلہ گفتگو اور استدلال کی تردید کر دی جو وہ اب تک کہہ رہے تھے اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ دنیا عش عش کر اٹھی۔ تودلائل کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ آپ اپنے زور بیان، قوت استدلال اور زبان آوری سے کام لے کر جس چیز کو چاہیں، سچا اور صحیح اور جس چیز کو چاہیں، جھوٹا اور غلط ثابت کردیں۔
اے کے بروہی ملک کے مشہور قانون دان تھے اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے بانی بھی تھے۔ کسی نے ایک مرتبہ ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنی زندگی میں سب سے بڑا وکیل کون دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا، میں نے اپنی زندگی میں سب سے بڑا وکیل اور قانون دان سہروردی صاحب کو دیکھا ہے۔ وہ بہت ماہر وکیل تھے۔ جب وہ بولتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ جس نقطہ نظر کی وہ تائید کر رہے ہیں، ہر چیز اس کی تائید کر رہی ہے۔ زمین وآسمان، درودیوار اور کمرۂ عدالت، کرسی، میز، غرض ہر چیز ان کی تائید کر تی ہوئی نظر آتی تھی۔ وہ اس طرح سماں باندھ دیتے تھے کہ جس چیز کو چاہتے، صحیح ثابت کر دیاکرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کی کوئی ذاتی دلچسپی تو ہوتی نہیں تھی۔ جو فریق پیسے دیتا تھا، ا س کے حق میں دلائل بیان کر دیا کرتے تھے۔ تو عقل اور استدلالی دلائل تو اس شان کے ہوتے ہیں کہ دلائل دینے والا جب چاہے، جس چیز کو چاہے، غلط ثابت کر دے۔‘‘ (ص: ۶۰)
خامی، کمزوری، عیب اور گمراہی کی اصلاح کیسے ہو؟ بسا اوقات ہمارا رد عمل اور گمراہی سے نمٹنے کا انداز واسلوب مزید شدت اور پختگی کا باعث بن جاتاہے۔ مکاتب فکر اور فرقوں کے وجود میں آنے کی تاریخ اگر سامنے ہو تو معلوم کیا جا سکتا ہے کہ معمولی غلط فہمی پر سخت اور غیر حکیمانہ رد عمل نے اگلی نسلوں میں کیسی عصبیت اور پختگی پیدا کر دی اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مستقل فرقے بنتے چلے گئے۔ غلطی اورگمراہی کو اس کی مقدار میں محدود رکھا جانا چاہیے۔ اصول کو فروع اور فروع کو اصول نہیں بنانا چاہیے۔ غازی صاحب سے سوال پوچھا گیا کہ لوگ دہریت کے مرض میں مبتلا ہیں، تبلیغ کیسے کی جائے؟ جوا ب ملاحظہ ہو:
’’پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دہریت کے فتنے میں گرفتار ہے تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ اس فتنے میں کیوں مبتلا ہوا اور وہ کون سے اسباب اور محرکات تھے جو اس فتنہ کا ذریعہ بنے۔ سبب معلوم کرنے کے بعد علاج آسان ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ کسی چیز کی ظاہری چمک اور چکاچوند سے بہت جلدمتاثر ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پرامریکہ، یورپ گئے۔ وہاں کا ظاہری حسن دیکھ کر بعض لوگ بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔ ان کی ہر چیز اچھی اور اپنی ہر چیز بری لگتی ہے، لیکن چند سال بعد خود بخود عقل ٹھکانے آجاتی ہے۔ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ وہ چند مغربی افکار اور تصورات کامطالعہ کرنے کے بعد ایک ذہنی الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس پہلو سے غلط فہمی ہوئی ہو، اسی پہلو سے اسے دور بھی کیا جائے، لیکن جدید تعلیم یافتہ نوجوان لوگوں کو اسلام سے متاثر کرنے کا بہترین اور سب سے موثر طریقہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ان کارناموں سے متعارف کروایا جائے جو اسلامی تاریخ میں مسلمانوں نے سائنس، تہذیب، تمدن اور علوم وفنون کے میدان میں انجام دیے۔ اس سے ان کے اندر اعتماد پیدا ہوگا۔ ہوتا یہ ہے کہ مغربی افکار اور ثقافت کی چمک بہت گہری ہوتی ہے او را س کے مقابلے میں اپنے ورثہ اور تاریخ کی واقفیت نہیں ہوتی۔ اس عدم واقفیت کی وجہ سے اپنے ورثہ پر اعتماد نہیں ہوتا اور اس عدم اعتماد کی وجہ سے اپنے مستقبل سے مایوسی طاری رہتی ہے۔ دوسروں کے ورثہ سے خوب آگاہی رہتی ہے، اس لیے اعتماد بھی انھی کے مستقبل سے وابستہ رہنے پر ہوتا ہے۔ آپ ایک بچے سے شیکسپیئر کے بارے میں پوچھیں تو وہ خوب بتائے گا، شاید اس کے بہت سے اشعار بھی سنا دے، لیکن ذرا اس سے مولانا رومؒ کے بارے میں دریافت کر کے دیکھیں تو شاید اس نے نام بھی پہلی مرتبہ سنا ہوگا۔ میں ایک صاحب سے ملا ہوں۔ اسپینی مسلمان ہیں، نو مسلم ہیں اور اسلام کے بہت پر جوش مبلغ ہیں۔ ان کے اثرو رسوخ سے تقریباً بیس بائیس ہزار اسپینی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ ان کا اسلام سے واسطہ ا س طرح ہوا کہ ان سے اسپینی حکومت نے کہا کہ ۱۴۹۲ء میں اسپین میں مسلمانوں کو زوال ہوا تھا، اس لیے ۱۹۹۲ء میں مسلمانوں کے زوال کاپانچ سو سالہ جشن منایا جائے اور اس بات کی خوشی منانے کا اہتمام کیا جائے کہ مسلمان یہاں سے پانچ سو سال قبل نکالے گئے تھے۔ ان صاحب سے کہا گیا کہ اس سلسلے میں آپ ایک کتاب مرتب کر یں جس میں اس دور کے مسلمانوں کے مظالم اور ناانصافیوں کا تذکرہ ہو۔ جب انہوں نے مطالعہ شروع کیا تو انہیں محسوس ہو اکہ عربی زبان سیکھے بغیر یہ کام نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ انہوں نے عربی زبان سیکھ لی اور مسلمانوں کی تاریخ پر کام کرنا شروع کر دیا۔ اس کام کے دوران میں وہ اپنے ذاتی مطالعات سے اس نتیجے پر پہنچے کہ اسپین کی تاریخ کا سنہری اور زریں دور وہ تھا جب مسلمان یہاں حاکم تھے۔ علوم وفنون کا چرچاہوا، ادارے بنے، بہترین عمارتیں تعمیرہوئیں، مفید کتابی لکھی گئیں۔ نہ مسلمانوں سے پہلے اس قدر کام ہوا تھا اور نہ مسلمانوں کے بعد ہوا۔ یوں انہیں اسلام سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ مسلمانوں کے کارنامے جاننے کاموقع ملااور اس طرح اسلام پر اعتماد پیدا ہونا شروع ہوا ۔ اب انہوں نے قرآن پاک کا مطالعہ شروع کیا۔ پھر حدیث کا مطالعہ کیا اور بالآخر اسلام قبول کر لیا۔ اپنا سابقہ منصوبہ ادھورا چھوڑ کر اسلام کی تبلیغ میں لگ گئے۔ انہوں نے اپنا نام عبدالرحمن رکھا اور پورا نام عبدالرحمن مدینہ لولیرا ہے۔ میں ان سے کئی بار ملا ہوں۔ میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ ان کے تجربے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اصل کمزوری ناواقفی اور اعتماد کافقدان ہے۔ بعض اوقات ایسے عجیب وغریب راستے سے بھی انسان اسلام کی جانب آ جاتا ہے کہ بظاہر اسلام کی مخالفت پرکام شروع کیا جو اسلام کی منزل پر منتج ہوا۔
ایک اور صاحب کو میں جانتا ہوں جو امریکی ہیں، انتہائی پرجوش مسلمان ہیں۔ وہ دراصل فلسفے کے طالب تھے۔ فلسفہ کا مطالعہ کرتے مسلم فلاسفہ سے متعارف ہوئے، پھر تصوف اور شیخ محی الدین ابن عربیؒ سے مانوس ہوئے۔ عربی کتابیں پڑھتے پڑھتے تصوف کی طرف مائل ہو گئے اور صوفیائے اسلام کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ ان کے مطالعے سے محدثین کے مطالعے کاشوق پیدا ہوا اور محدثین سے مفسرین تک آگئے اور بالآخر اسلام قبول کر لیا۔ اس لیے کسی بھی راستے سے کوئی شخص دین کے قریب آ سکتا ہے۔‘‘ (ص ۸۲)
عربیت اور قرآن کا گہرا ربط ہے۔ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ایک ارشاد گرامی کامفہوم ہے کہ عربی سے تین وجہوں سیمحبت کرو: میری زبان عربی ہے، قرآن عربی میں ہے اور اہل جنت بھی عربی بولیں گے۔ قرآن مجید کے لیے عربی زبان کا انتخاب محض اتفاق نہیں بلکہ عربی کی بحیثیت زبان کچھ خصوصیات ہیں۔
’’ ایک آخری سوال یہ ہے کہ قرآن مجید کے نزول کے لیے عربی زبان کیوں اختیار کی گئی؟ اللہ تعالیٰ تمام زبانوں کا خالق ہے۔ وہ انسان کا بھی خالق ہے اور اس کی زبان کا بھی۔ نزول قرآن کے وقت بڑی بڑی ترقی یافتہ زبانیں موجود تھیں، یونانی، سریانی، عبرانی وغیرہ۔ ان سب زبانوں میں مذہبی ادب موجود تھا۔ ان سب کو چھوڑ کر عربی زبان کا انتخاب کس بنیا د پر عمل میں آیا؟ اس سوال پر اگر تھوڑا سا غورکریں تو دو چیزیں سامنے آتی ہیں۔ چونکہ قرآن مجید رہتی دنیا تک نازل کیا جانا تھا اوراس کے ذریعے سے بے شمار نئے تصورات دیے جانے تھے، اس لیے قرآن مجید کے لیے ایک ایسی زبان کا انتخاب کیا گیا جو ایک طرف اتنی ترقی یافتہ ہو کہ قرآن جیسی کتاب کے اعلیٰ ترین مطالب کا تحمل کر سکے اور انہیں اپنے اند ر سمو سکے اور انہیں آنے والی نسلوں تک پہنچا سکے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری تھاکہ اس زبان میں کوئی غیر اسلامی تصورات نہ پائے جاتے ہوں اور نہ ہی اس زبان پر کسی غیر اسلامی نظریہ کی چھاپ ہو۔ ہر زبان کا ایک خاص مزاج ہوتا ہے۔ انگریزی زبان کا ایک مزاج ہے۔ فرانسیسی، ہندی، سنسکرت وغیرہ زبانوں کے اپنے اپنے مزاج ہیں۔ کسی زبان کا یہ مزاج اس قوم کے عقائد، تصورات اور خیالات کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے۔ مثال کے طور پر انگریزی ز بان کا مزاج ایسا ہے کہ اگر آ پ اس میں ایک گھنٹہ بھی بات کریں اور کوئی صاف بات نہ کرنا چاہیں تو آپ کر سکتے ہیں۔ سننے والا سمجھ نہیں سکے گا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔ آپ کی بات مثبت ہے یامنفی ہے۔ تائید میں ہے یا تردید میں ہے۔ دوستی میں ہے یا دشمنی میں ہے۔ کچھ ظاہر نہ ہوگا۔ یہ حیلہ گری اور شعبدہ بازی صرف انگریزی زبان ہی میں ممکن ہے، کسی اور زبان میں ممکن نہیں ہے۔ اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ آپ صدر بش کے ساتھ ہیں یا صدر صدام کے تو اگر اس کا جواب اردو میں دیں تو آپ کو ہاں یا نہیں میں واضح اور دو ٹوک اندا ز میں کہنا پڑے گا۔ لیکن انگریزی زبان ایسی زبان ہے کہ آپ اس کے جواب میں ایک گھنٹہ بھی بولیں تو کسی کو پتہ نہیں چل سکے گا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ یہ اس زبان کا خاصہ ہے۔ اسی طرح ہر ز بان کا ایک خاصہ ہوتا ہے۔ نزول قرآن کے لیے ایسی زبان کا انتخاب ضروری تھا کہ جو ایک طرف تو مکمل طور پر ترقی یافتہ ہو اور دوسری طرف اس پر کسی غیر اسلامی عقیدے یا تصور کی چھاپ نہ ہو۔ عربی کے علاوہ اس وقت کی تمام ز بانوں پر غیر اسلامی عقائد وخیالات کی گہری چھاپ موجود تھی۔ عربی ز بان ترقی یافتہ بھی تھی اور ایسی ترقی یافتہ کہ آج تک کوئی ز بان اس مقا م تک نہیں پہنچ سکی۔ اس کے ساتھ اس پر کسی غیر اسلامی عقیدے یا نظریے کی چھاپ نہیں تھی۔ ایک اعتبار سے یہ کنواری زبان تھی۔‘‘ (ص: ۱۱۴)
متون اور عبارات کی تشریح وتفسیر کے مسلمہ اصول وضوابط موجود ہیں۔ علم اصول فقہ دراصل تشریح وتعبیر ہی کے قوانین ہیں جو آغاز میں تفسیر قرآن کے لیے مرتب کیے گئے اور پھر انہیں مستقل علم وفن کی حیثیت دے دی گئی۔ علم تفسیر کی تاریخ ومقاصد پر یوں روشنی ڈالی گئی:
’’اس کتاب سے راہنمائی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو سمجھنے اور منطبق کرنے میں ان اصولوں اور قواعد کی پابندی کی جائے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے تفسیر وتشریح قرآن کے لیے برتے جا رہے تھے۔ صحابہ کرامؓ کے اجتماعی طرز عمل اور امت مسلمہ کے اجتماعی رویہ، تعامل اور فہم قرآن کی روسے تفسیر قرآن کے لیے ایسے مفصل اصول اور قواعد طے پاگئے ہیں جن کی پیروی روز اول سے آج تک کی جا رہی ہے۔ ان اصولوں کا واحد مقصدیہ ہے کہ جس طرح کتاب الٰہی کا متن محفوظ رہا، اس کی زبان محفوظ رہی، اسی طرح اس کے معانی اور مطالب بھی ہر قسم کی تحریف او راشتباہ سے محفوظ رہیں او ر اس بات کا اطمینان رہے کہ کوئی شخص نیک نیتی یا بد نیتی سے اس کتاب کی تعبیر وتشریح طے شدہ اصولوں سے ہٹ کر من مانے انداز سے نہ کرنے لگے۔ کسی بھی قانون، کسی بھی دستورکی تشریح وتعبیر اگر من مانے اصولوں کی بنیاد پر کی جانے لگے تو دنیا میں کوئی نظام ہی نہیں چل سکتا۔ جس طرح دنیا کی ہر ترقی یافتہ تہذیب میں قانون ودستور کی تعبیر وتشریح کے اصول مقرر ہیں جن کی ہر ذمہ دار شارح پیروی کرتا ہے، اسی طرح قرآن مجید کی تفسیر وتعبیر کے بھی اصول مقرر کیے گئے ہیں۔ ان اصولوں کی پیروی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے صحابہؓ نے کی، تابعین اور تبع تابعین نے کی، تاآنکہ ان تمام اصولوں کو اکابر ائمہ تفسیر اور اہل علم نے دوسری اور تیسری صدی میں اس طرح مرتب کر دیا کہ بعد میں آنے والوں کے لیے پیروی بھی آسان ہوگئی اور قرآن مجید کی تعبیر وتفسیر کے لامتناہی راستے بھی کھلتے چلے گئے۔ قرآن مجید کو من مانی تاویلات کا نشانہ بنایا جائے تو پھر یہ کتاب ہدایت کی بجائے گمراہی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی طرف قرآن میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ بہت سے لوگ اس سے گمراہ بھی ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ اس سے ہدایت بھی پاتے ہیں۔ یضل بہ کثیرا ویہدی بہ کثیرا۔
اس کتاب سے گمراہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو پہلے سے اپنے ذہن میں کچھ طے شدہ عقائد، نظریات اور خیالات لے کر آئیں اور ان کو کتاب الٰہی میں اس طرح سمونے کی کوشش کریں اور اس کے الفاظ کی تشریح وتعبیر اس انداز سے کریں کہ اس سے ان کے اپنے عقائد ونظریات اور افکار وخیالات کی تائید ہو۔ گویا خود کتاب الٰہی کے تابع بننے کی بجائے کتاب الٰہی کو اپنا تابع بنائیں۔ یہ ایک ایسی وبا ہے جس کا شکار ماضی کی قریب قریب تمام اقوا م ہوئیں۔ انہوں نے اپنی اپنی آسمانی کتابوں میں تحریف کی۔ آسمانی کتابوں کے معانی اور مفاہیم میں رد وبدل کیا اور ان کے احکام کی تعبیر وتشریح اس طر ح من مانے انداز میں کی کہ وہ ان کے اپنے تصورات ونظریات، عقائد وآداب، غلط رسم ورواج، فاسد نظریات اور باطل تقاضوں کے تابع ہو جائیں اور ان چیزوں کو کتاب الٰہی کی ظاہری تائید ملتی رہے۔
یہ وہ چیز ہے جس کی طرف قرآن مجید میں بار بار تنبیہ کی گئی ہے اور مسلمانوں کو روکا گیا ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار یہ بات ارشاد فرمائی اور آپ کا یہ ارشاد گرامی احادیث متواترہ میں شا مل ہے کہ جس نے قرآن مجید کے بارے میں محض اپنی ذاتی رائے اور اپنی عقل کی بنیاد پر کوئی بات کی (یعنی تفسیر قرآن کے قواعد، اصول تشریح، طے شدہ معانی ومطالب سے ہٹ کر کوئی بات اس کتاب سے منسوب کی) وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔ اس انجام سے بچنے کے لیے اہل علم نے دور صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک اس کا اہتمام کیا ہے کہ قرآن مجید کے متن کی طرح اس کے معانی کی بھی حفاظت کی جائے اور ان گمراہیوں کا راستہ بند کیا جائے جن کا یہود ونصاریٰ شکار ہوئے۔ چنانچہ قرآن مجید کے معانی ومفاہیم، پیغام ومطالب کی اصالت اور تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے علم تفسیر کی ضرورت پیش آئی۔‘‘ (ص: ۱۵۶)
تفسیری ذخائر میں کلامی، فقہی، منطقی، ادبی، سائنسی، لغوی اور تحریکی رجحانات موجود ہیں اور کچھ تفاسیر جامعیت کا بھی نمونہ ہیں۔ مقبول ترین یا نمائندہ تفاسیر کون سی ہیں؟ یہ ا یک مشکل سوال ہے۔ جواب ملاحظہ فرمائیں:
’’گزشتہ صدی (یعنی چودھویں صدی ہجری اور بیسویں صدی عیسوی) میں جن تفاسیر نے تفسیر ی ادب اور مسلمانوں کے عمومی فکر پر بہت زیادہ اثر ڈالا، ان کے بارے میں تفصیل اور قطعیت سے کچھ کہنا بہت دشوار ہے۔ دو ماہ قبل کی بات ہے کہ کسی مغربی ادارہ سے ایک سوال نامہ آیا جس میں یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہوئے کہ بیسویں صدی میں مسلمانوں پر کن علمی اور فکری شخصیات اور نامور لوگوں کے سب سے زیادہ اثرات ہوئے ہیں اور مسلمانوں کی مذہبی فکر کی تشکیل میں کن شخصیتوں یا عوامل کا سب سے زیادہ اثر رہا ہے، اس کے بارے میں وہ شاید کچھ معلومات جمع کرنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بڑے بڑے اداروں اور نامور شخصیتوں کو خطوط لکھے اور پوچھا کہ دنیائے اسلام کی وہ دس اہم شخصیتیں کون سی ہیں جن کا مسلمانوں پر بہت گہرا اثر ہے اور وہ کون سی دس اہم تفاسیر ہیں جنہوں نے قرآن مجید کو سمجھنے میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ مدد کی۔ ہماری یونیورسٹی میں بھی یہ سوال آیا اور کئی اہل علم حضرات نے بیٹھ کر اس پر غور وخوض کیا۔ انہو ں نے یہ محسوس کیا کہ اس کا تعین کرنا بے حد دشوار ہے۔ بیسویں صد ی کی کون سی وہ تفاسیر ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ سب سے زیاد ہ مقبول اور سب سے زیادہ نمائندہ حیثیت کی حامل تفاسیر ہیں، اس لیے کہ ہر تفسیر کے اپنے اپنے اثرات ہیں۔ جن لوگوں نے جو تفاسیر زیادہ پڑھی ہیں یا جو لوگ جس مفسر سے زیادہ مانوس ہیں، ان کے خیال میں وہی تفسیریں اور وہی مفسرین اس باب میں سب سے زیادہ نمایاں ہیں اور جنہوں نے کسی دوسری تفسیر کو زیادہ پڑھا ہے اور اس کے مفسر سے زیادہ کسب فیض کیا، ان کے خیال میں وہ نمایاں ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تمام تفاسیر ہی اپنی اپنی جگہ نمایاں ہیں۔
بعض تفاسیر ایسی ہیں کہ انہوں نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کو متاثر کیا۔ مثلاً مولانا مودودی صاحب کی تفہیم القرآن جسے لاکھوں انسانوں نے پڑھا اور آج بھی لاکھوں قارئین اس کو پڑھ رہے ہیں۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کیا اور ایک نیا رجحان تفسیر میں پیدا کیا۔ مفتی محمد شفیع صاحب کی تفسیر معارف القرآن جس کے پچیس تیس ایڈیشن چھپ چکے ہیں، اتنی کثرت سے شاید کسی اور تفسیر کے ایڈیشن نہیں نکلے۔ عرب دنیا میں سید قطب کی فی ظلال القرآن ہے جس کا اردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ اس قدر کثرت سے اس کے ایڈیشن نکلے ہیں کہ تعداد کا اب اندازہ کرنا بھی مشکل ہے، حالانکہ یہ تفسیر جیل میں بیٹھ کر لکھی گئی تھی جہاں ان کے پاس نہ کتابیں تھیں، نہ وسائل تھے اور نہ مآخذ ومصادر تھے۔ انہوں نے اس تفسیر کو اپنے تاثرات کے انداز میں لکھا۔ عربی زبان کے ایک بالغ نظر ادیب کا کہنا ہے کہ بیسویں صدی میں عربی میں کوئی تحریر اتنی جاندار اور اتنی زور دار نہیں لکھی گئی جتنی سید قطب ؒ کی فی ظلال القرآن ہے۔‘‘
یہ انتخاب اور طائرانہ نگاہ فقط محاضرات قرآنی پر ہے۔ وقت اور موقع ملاتو ان شاء اللہ دیگر محاضرات پر بھی مختصر جائزہ پیش کیا جائے گا۔
’’محاضرات فقہ‘‘ ۔ ایک مطالعہ
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ
فرمائش پر لکھنا رقص پا بہ زنجیر کی طرح ہوتا ہے۔ خاص طور پر ایک ایسی شخصیت پر جس کی صرف تصویر ہی دیکھی ہو۔ جناب محمود غازی کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے، مگر ان کو دیکھنے اور سننے کا موقع نہیں ملا۔ ایک بار الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں تشریف لائے، مگر میں اس روز حاضر نہ ہو سکا۔ البتہ ان کی بعض تحریریں پڑھی ہیں۔ لا کالج کے میرے زمانہ تدریس میں، اسلامی اصول فقہ کا مضمون ملا تو جناب محمود غازی کی محاضراتِ فقہ اپنے مہربان دوست ڈاکٹر محمد اکرم ورک سے مستعار لی۔ اپنی عادت کے مطابق مطالعہ کے دوران میں کتاب کے اہم حصوں کو مختلف رنگین مارکرز کی مدد سے نشان زد کیا۔ مہربان دوست کو جب کتاب واپس کرنے کے ارادے سے دکھائی تو انہوں نے اس ہائی لائٹنگ سے بے زار ہوکر کتاب مجھے تحفے میں عنایت فرما دی۔ ایک کتاب تو تحفہ میں مل گئی مگر لگتا ہے کہ آئندہ کے لیے مستعار کتاب پر مارکرز سے نشان لگانے کی روش ترک کرنا پڑے گی، وگرنہ تحفہ تو ایک بار ہو گیا ہے مگر کتاب کے مستعار ملنے کا راستہ بند ہو جائے گا۔
جناب محمود غازی کے بارے میں سنی ہوئی اور لکھی ہوئی روایات کی بنا پر جو تاثر ابھرتا ہے، اسے بیان کرنے کے بعد ان کی مذکورہ بالا کتاب کے حوالے سے کچھ عرض کر کے اپنے کلام کو مکمل کر دوں گا۔ محمود غازی صاحب پرویز مشرف کی سلامتی کونسل میں رہے۔ اس کے باوجود ان کے بارے میں کوئی منفی چیز باہر نہیں آئی، وگرنہ اقتدار میں رہنا اور وقار بچا کر رکھنا بڑا ہی مشکل کام ہے۔ اس سے ان کی شخصیت میں معاملہ فہمی کی صلاحیت کے کمال کا پتہ چلتا ہے۔ بعض لوگ اسے زمانہ سازی بھی کہہ سکتے ہیں، مگر کسی نے ایسا نہیں کہا۔ وہ صاف ستھرے اقتدار میں شامل ہوئے اور اسی طرح باہر ہوئے۔
ان کی شخصیت کے بارے میں دوسرا تاثر یہ سامنے آتا ہے کہ وہ کہنی مار کر آگے بڑھنے کا مزاج نہیں رکھتے تھے۔ اس کے بر عکس وہ دوسروں کو آگے بڑھاتے تھے۔ یہ خوبی بہت ہی کم دیکھی گئی ہے۔ پرانے اساتذہ میں یہ خوبی بدرجہ اتم ہوتی تھی۔ استاد کے مزاج میں یہ خوبی بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔ دیگر وجوہات کے علاوہ اس خوبی کی وجہ سے بھی جناب غازی صاحب طلبہ اور اساتذہ میں بہت مقبول ہوئے۔
محاضرات فقہ، فیصل ناشران کتب، غزنی سٹریٹ، اردو بازار لاہور سے شائع ہوئے۔ یہ کتاب جناب غازی صاحب کے بارہ خطبات کا مجموعہ ہے۔ یہ خطبات ستمبر اکتوبر ۲۰۰۴ء میں قرآن کی مدرسات کو دیے گئے۔ خطبات اشارات کی مدد سے پیش کیے گئے۔ بعد میں ان کو کتابی شکل میں مرتب کیا گیا۔ کتاب کی مجموعی ضخامت ۵۵۶ صفحات ہے۔ اشاعت جون ۲۰۰۵ء میں ہوئی۔ قیمت ۳۲۵ روپے درج ہے۔ موضوع کے اعتبار سے خاصی ضخیم کتاب ہے۔ اردو میں اس موضوع پر اتنا مواد، یکجا صورت میں بہت کم ملتا ہے۔ انداز بیان بہت سادہ ہے، اگرچہ خطبات کے دوران مخاطبین کی جانب سے مزید سلاست کا مطالبہ ہوتا رہا اور جناب غازی صاحب مزید سلاست کے لیے کوشاں رہے۔
خطبات کا یہ مجموعہ معلومات کا خزانہ ہے۔ اس میں جناب غازی نے فقہ کی ترتیب و ارتقا میں تاریخی پس منظر کو بہت خوبی سے بیان کیا ہے۔ تفہیم کے لیے روز مرہ کی مثالوں سے مدد لی گئی ہے۔ دیگر اصول اور نظام ہاے قانون پر فقہ اسلامی کی برتری ثابت کرنے میں مصنف نے بڑی عرق ریزی سے کام لیا ہے۔ ان کا انداز استدلال بڑا جان دار اور موثر ہے۔ اس میں فقہ و قانون کے طلبہ کے لیے استفادے کے بے پناہ مواقع ہیں۔ ہم یہاں خطبات کے عنوانات درج کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔
(۱) فقہ اسلامی، علوم اسلامیہ کا گل سر سبد
(۲) علم اصول فقہ
(۳) فقہ اسلامی کے امتیازی خصائص
(۴) اہم فقہی علوم اور مضامین
(۵) تدوین فقہ اور مناہج فقہاء
(۶) اسلامی قانون کے بنیادی تصورات
(۷) مقاصد شریعت اور اجتہاد
(۸) اسلام کا دستوری اور انتظامی قانون
(۹) اسلامی قانون جرم و سزا
(۱۰) اسلام کا قانون تجارت و مالیات
(۱۱) مسلمانوں کا بے مثال فقہی ذخیرہ
(۱۲) فقہ اسلامی دور جدید میں
ذیلی عنوانات کو دیکھ کر بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ جناب غازی نے موضوع کے کم وبیش ہر پہلو پر اظہار کیا ہے۔ ان عنوانات کے انتخاب میں مخاطبین کی ذہنی سطح کا خیال رکھتے ہوئے قدیم و جدید ضروریات کا بھی بھر پور لحاظ رکھا گیا ہے۔
ان خطبات میں دیگر نظام ہاے قانون کا تاریخی پس منظر بڑا اہم اور دلچسپ ہے۔ حمو رابی کا قانون تاریخی طور پر پہلا مرتب مجموعہ قانون ہے۔ اس کا زمانہ تدوین ۱۷۵۰ قبل مسیح بیان کیا جاتا ہے۔ دور حاضر میں اس کی تفصیلات ۱۹۰۱ میں دریافت شدہ تختیوں کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ ڈاکٹر غازی صاحب نے اس قانون کی اہم دفعات کا جائزہ لیا ہے۔ اس قانون کی خوبیوں اور خامیوں کو پیش کیا ہے۔ ان کے خیال میں اس قانون میں بعض دفعات میں الہامی تعلیمات کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس کی مثال پیش کرتے ہوئے آنکھ کے بدلے آنکھ، کان کے بدلے کان، چور کے ہاتھ کاٹنے، بد کاری کی سزا موت اور حق طلاق کا مرد سے متعلق ہونے جیسے احکام کا حوالہ دیا گیا ہے۔ بالآخر حمو رابی کا قانون ناپید ہوااور آثار قدیمہ کی دریافت کے نتیجہ میں آج کے علماے قانون کے لیے مطالعے کا موضوع بنا۔
اسی طرح انہوں نے رومن لا کے خصائص کا بھی احاطہ کیا ہے۔ اس قانون کا ابتدائی زمانہ ۴۵۰ قبل مسیح ہے۔ اسے کئی بار مرتب کیاگیا۔ پھر یہ قانون ترقی کرتے کرتے روما کے ایک فرمانروا جسٹینین کے دور میں از سر نو مرتب ہوا۔ یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا زمانہ ہے۔ اس تاریخی تناظر میں بعض مغربی حلقوں نے یہ تاثر پھیلایا کہ اسلامی قانون اور فقہ، رومن لا سے ماخذ ہیں۔ زمانی، علاقائی اور مضامین کے حوالوں سے جناب غازی نے اس کی بھر پور تر دید کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ رومن لا میں اشخاص (persons)، اشیا (things) اور اعمال (actions) کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ اس قانون کی ہر کتاب میں اسی ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا ہے، جب کہ اسلامی فقہ کی کم و بیش تمام کتابوں میں اس سے بالکل مختلف ترتیب اختیار کی گئی ہے۔
اس کتاب میں بہت ہی قابل قدر مواد موجود ہے۔ پھر اس میں فقہ اسلامی کی بڑی بڑی جدید و قدیم کتب کا تعارف بڑے شاندار انداز میں پیش کیا گیاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو میں ڈاکٹر حمید اللہ کے خطبات بہاولپور کے بعد یہ دوسری کتاب ہے جو جدید وقدیم علوم کے طلبہ کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہے۔ اپنے موضوع پر یہ شاندار اضافہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کتاب کا زیادہ تفصیلی تعارف کرایا جائے، لیکن چونکہ الشریعہ کا خصوصی نمبر پریس میں جانے کو تیار ہے اوروقت کی قلت تفصیلی تعارف کا موقع نہیں دے رہی، اس لیے صرف ایک پہلو سے کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
آج کا اہم سوال منتخب قانون ساز اداروں کو اجتہاد کے اختیارات دینے یا نہ دینے کا ہے۔ اس سوال کو جناب غازی صاحب نے اس کتاب میں نظر انداز کیا ہے۔ اس احتیاط سے، شاید وہ اپنے خطبات کو متنازعہ ہونے سے بچانا چاہتے ہوں۔ البتہ اس کتاب میں انہوں اجتہاد، اس کی حریت اور سرکاری اثرات اور کنٹرول سے آزادی، پر تاریخی پس منظر کی اتنی زیادہ تفصیل دی ہے کہ ان کے نقطہ نظر کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔ خاص طور پر اس وجہ کی بنا پر کہ انہوں نے اتنے ضخیم خطبات میں ایک جملہ بھی ایسا نہیں کہا جس سے سرکاری سطح پر اجتہاد کی گنجائش کا شائبہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہو۔ یہاں تک کہ علامہ اقبال کے خطبات کے چند جملوں کی آڑ لینے میں، منتخب اسمبلیوں کے لیے حق اجتہاد کے کا دعویٰ کرنے والوں نے انتہا کر دی ہے۔ اس بارے میں اقبال کی دیگرتحریروں کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس پہلو سے جناب محمود غازی نے اقبال کے حوالے سے کہا ہے:
’’انہوں نے ۱۹۲۵ میں یہ لکھا کہ میرے نزدیک مذہب اسلام، اس وقت زمانے کی کسوٹی پر کسا جا رہا ہے۔ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ احکامِ قرآنیہ کی ابدیت کو ثابت کیا جائے اور جو شخص زمانہ حال کے جوریس پروڈینس پر تنقیدی نگاہ ڈال کر یہ ثابت کرے گا کہ قرآنی احکام ابدی شان رکھتے ہیں ، وہ بنی نوع انسان کا سب سے بڑا محسن اور دور جدیدکا سب سے بڑا مجدد ہوگا۔‘‘ (ص ۵۲۵)
’’علامہ کے نزدیک اس کام کی جو اہمیت تھی، اس کا اندازہ ان کی تحریرسے بخوبی ہوجاتا ہے۔وہ خودیہ سمجھتے تھے کہ اس کام کودنیاے اسلام کے علمی منصوبوں میں اولین ترجیح حاصل ہوناچاہیے۔ مطالعہ شریعت کے اس پہلوپر طویل غور خوض کے بعدوہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس عظیم کام کا بیڑاان کو خود ہی اٹھانا چاہیے۔ ظاہرہے کہ اپنی غیر معمولی بصیرت، قانون دانی، عربی اور انگریزی سے واقفیت کی وجہ سے اور سب سے بڑھ کر اس وجہ سے کہ سب سے پہلے انہی کو اس ضرورت کا احساس ہوا، وہ دوسروں سے کہیں بڑھ کر اس کام کو انجام دے سکتے تھے۔ انہوں نے چاہا کہ بجائے انفرادی طور پر اس کام کو کرنے کے، اجتماعی طور پر کیاجائے۔‘‘ (ص ۵۲۵)
چنانچہ انہوں نے علامہ سید انور شاہ، مولانا شبلی نعمانی، مولانا سید سلیمان ندوی اورمولانا مودودی کو اپنے منصوبے میں شامل کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس کوشش کے سلسلے میں:
’’آخر میں انہوں نے مشرقی پنجاب کے ضلع پٹھان کوٹ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک صاحب ثروت مخلص بزرگ (چودھری نیاز علی) نے اس ادارہ کے لیے زمین بھی دے دی۔ اس میں یہ طے کیا گیا کہ ایک نوجوان عالم مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو بلایا جائے۔ طے یہ ہوا کہ مولانا مودودی وہاں رہیں گے۔ علامہ بھی سال میں چھ مہینے کے لیے وہاں جا کر رہاکریں گے اوروہاں بیٹھ کر دونوں حضرات اپنی اجتماعی کوشش سے نوجوان علما کوتربیت بھی دیں گے اورفقہ اسلامی کی تدوین نو کا کام بھی کریں گے اور یوں جدیددورکی ضروریات کا لحاظ رکھتے ہوئے فقہ اسلامی کے قواعد و ضوابط وکوازسرِ نو مرتب کیاجائے گا۔ ‘‘ (ص ۵۲۵)
’’اس کی شکل علامہ اقبال کے ذہن میں کیا تھی؟ وہ کن خطوط پر یہ کام کرنا چاہتے تھے؟ اس کے بارے میں قطعی اور حتمی اندازہ کرنا توبہت مشکل ہے۔ اس لیے کہ اس موضوع پر ان کی کوئی تحریر موجودنہیں۔ غالباً وہ یہ چاہتے تھے کہ اسلامی قوانین کو اس طرح سے مرتب کیا جائے کہ ان کے اپنے الفاظ میں احکام قرآنیہ کی ابدیت ثابت ہو۔ دورجدیدکی جیورس پروڈنس پر تنقیدی نگاہ بھی ڈالی گئی ہو اور اس کی کمزوریوں کو واضح کیا جائے۔ ....اس کے لیے مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی حیدر آباد دکن میں اپنا گھر بارچھوڑکر، مکان وغیرہ فروخت کر کے اور سب کچھ سمیٹ کر حیدر آباد سے لاہور پہنچے تویہ غالباً جنوری۱۹۳۸ کا واقعہ ہے۔وہ علامہ اقبال سے ملتے ہوئے پٹھان کوٹ گئے۔ لاہور میں کئی دن ان سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ یہ طے ہواکہ علامہ کی صحت جیسے ہی بہتر ہو گی وہ پٹھان کوٹ کا سفر کریں گے۔ لیکن اپریل ۱۹۳۸ میں علامہ کا انتقال ہوگیا۔ اس کام کا نہ تو ابتدائی خاکہ ہی تیار ہو سکا اورنہ کام کا آغاز ہی ہو سکا۔ اس سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ دنیائے اسلام کے اس عظیم فرزند اور مفکر کی نظرمیں اس کام کی کتنی اہمیت تھی۔‘‘ (ص ۵۲۵)
علامہ کی اس کوشش کو جناب غازی اجتماعی کوشش کے طور پر ذکرکرتے ہیں۔ جناب غازی صاحب نے بھی کہا ہے کہ علامہ اس کام کو خود انجام دینا چاہتے تھے۔ اس کے لیے وہ علما کی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس میں مولانا مودودی کے سوا کسی نے علامہ کی اس دعوت کو قبول نہیں کیاتھا۔
ابتدائی زمانہ میں فقہ کی ترتیب کی ضرورت کے حوالے سے جناب غازی نے ارشاد فرمایا:
’’جب دوسری صدی ہجری کا آغاز ہوا اور دنیائے اسلام کی حدود، دن بدن پھیلتی چلی گئیں تو روزانہ ایسے مسائل پیش آتے تھے جن کے جوابات شریعت کی روشنی میں درکار تھے۔ آئے دن ہر بڑے چھوٹے شہر اور بستی میں نئی رہنمائی کی ضرورت پیش آتی رہتی تھی۔ ان حالات میں اس بات کا خطرہ موجود تھا کہ کسی قابل اعتماد اور مستند فقیہ کی عدم موجودگی میں لوگ کم علمی سے غلط فیصلے نہ کردیں۔ یا کسی کم علم آدمی سے جا کر پوچھنے لگیں اور کوئی غلط رائے قائم کر لیں۔ اس زمانے میں دنیائے اسلام کی حدود چین سے لے کر اسپین تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اسپین اور فرانس کی سرحد کے درمیان ’لے پیرینے‘ نام کا ایک پہاڑی سلسلہ آتا ہے۔ اس کی حدود سے لے کر پورا اسپین، آدھا پرتگال، پورا شمالی افریقہ، پورا مشرق وسطی، پور افغانستان، پورا وسط ایشیا، پورا ایران اور چین کی شمالی سرحد تک دنیائے اسلام کی حدود تھیں۔ اب یہاں اس بات کا امکان ہر وقت موجود تھا کہ کسی گاؤں میں، کسی دیہات میں، کسی سرحدی علاقے میں، نو مسلموں کے کسی بستی میں، کسی آدمی کو کوئی مسئلہ پیش آئے اور وہاں جواب دینے والا کوئی پختہ علم اور پختہ کار فقیہ دستیاب نہ ہو، یا موجود ہو لیکن کچا فقیہ ہو یا کچا بھی نہ ہو لیکن اس معاملہ میں اس کے پاس رہنمائی موجود نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ غلط جواب دے دے۔ یوں لوگ اللہ اور اس کے رسول کی شریعت کو غلط سمجھ لیں اور غلط طریقے سے عمل کریں۔ ان حالات میں بعض فقہائے اسلام نے یہ محسوس کیا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ نئے نئے مسائل، سوچ سوچ کر جواب دیا جائے۔ بجائے اس کے، ہم انتظار میں بیٹھیں کہ کوئی آکر صورت حال اور ممکنہ مسئلہ بیان کر کے شریعت کا مسئلہ پوچھے تو ہم جواب دیں گے۔ ہمیں از خودغور کر کے ممکنہ سوالات اور ممکنہ معاملات فرض کرنے چاہیں اور ان کا جواب تیار کر کے رکھنا چاہیے۔‘‘ (صفحہ نمبر ۴۸)
اسے فقہ تقدیری کہا جاتا ہے۔
جناب ڈاکٹر محمود غازی نے فقہ اسلامی کے ایک اہم امتیازی وصف کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ جان آسٹن کے مطابق قانون مقتدر اعلیٰ کا حکم ہے۔ (Law is the command of sovereign) ۔اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے مروجہ جدید قانون کے مواخذ بیان کرتے ہوئے ماہرین کی تشریحات اور مقننین کے مرتب کردہ قوانین کا تذکرہ کیا ہے۔ پھر وہ یہ کہتے ہیں کہ :
’’فقہ اسلامی کی کتابیں ان میں سے کس زمرہ میں آتیں۔ نہ وہ کسی بادشاہ یا فرمانروا کا عطا کردہ چارٹر ہے، نہ کسی سربراہ مملکت کا جاری کردہ آرڈنینس ہے۔ کسی بھی فقہی مسلک کی کوئی بھی کتاب کسی حکمران یا فرمانروا کی دی ہوئی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ خلفائے راشدین کی عطا کردہ بھی نہیں ہے۔ خلفائے راشدین سے زیادہ خدا ترس اور عادل حکمران، دنیا نے آج تک نہیں دیکھے۔ یہ قانون ان کا عطا کردہ فرمان بھی نہیں۔ یہ کسی پارلیمنٹ کا بنایا ہو اقانون بھی نہیں ہے۔ فقہ کی کوئی بھی کتاب یا کوئی حکم جس پر آج مسلمان عمل کرتے ہیں، وہ کسی پارلیمنٹ کا دیا ہوا نہیں ہے۔‘‘ (ص ۱۱۹)
علامہ غازی فقہ کی ترتیب کے حوالے سے کہتے ہیں:
’’جس زمانے میں لوگوں نے اس کو لکھا، انہوں نے ایک زندہ قانون کے طور پر لکھا۔ فقہ تو ان اہل علم کے لکھنے سے پہلے ہی مسلمانوں کی زندگی میں نافذ العمل تھا۔ امام مالک نے جب موطا لکھی تو اس میں جو احکام دئیے گئے وہ پہلے سے لوگوں کی زندگیوں میں جاری و ساری تھے۔ اگر دو چار احکام ایسے تھے بھی جو بڑے پیمانہ پر لوگوں کی زندگی میں جاری نہیں تھے تو امام مالک کے موطا لکھنے کے بعدجاری و ساری ہو گئے۔ اس لیے موطا میں بیان کردہ قانون، ایک لمحہ کے لیے بھی مردہ قانون نہیں تھا۔ .... یہ خصوصیت ہے جو اسلامی قانون یا فقہ کو دنیا کے تمام قوانین سے ممیز کرتی ہے۔‘‘(ص ۱۲۰)
’’فقہ اسلامی کی یہ سب سے نمایاں اور امتیازی خصوصیت آزادی اور حریت کی صفت ہے۔ ‘‘
’’اسلامی قانون دنیا کا واحد قانون ہے جو حکمرانوں اور فرمانرواؤں کے ہر قسم کے اثرات اور رسوخ سے آزاد رہا۔ اس کی تمام تر ترقی اور پیش رفت، اس کی ساری توسیع، تمام گہرائی اور گیرائی ، وہ سب کی سب غیر سرکاری کاوشوں کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں کبھی بھی کسی سرکاری قانون ساز ادارے کا وجود نہیں رہا۔ ایسا قانون ساز ادارہ جیسے آج دنیاکے بہت سے نظاموں میں پائے جاتے ہیں۔آج برطانیہ میں ایک پارلیمنٹ ہے جو برطانوی لوگوں کے لیے قانون بناتی ہے، اچھا یا برا۔ امریکہ میں کانگریس قانون بناتی ہے۔ ایسی کوئی کانگریس یا ایسی کوئی پارلیمنٹ، کسی اسلامی دور میں نظر نہیں آتی۔ نہ یہ قانون سازی سرکاری اور حکومتی کوششوں کی مرہون منت ہے۔‘‘(ص ۱۲۰)
اس امتیازی خصوصیت کی بنیاد اور حکمت کے ذکر میں جناب غازی صاحب فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالی نے ہر انسان کو آزاد بنایا ہے۔ ہر انسان ایک دوسرے کے برابر ہے۔ اس برابری کا تقاضا یہ ہے کہ قانون سب کے لیے ایک اوریکساں ہو۔ اگر قانون سب کے لیے یکساں نہ ہو توپھر مساوات اور برابری نہیں ہو سکتی۔ .... اگر کچھ انسان دوسرے انسانوں کے لیے قانون بناتے ہیں تو قانون بنانے والے بر تر ہوں گے اور قانون قبول کرنے اوراس پر عمل کرنے والے زیر دست ہوں گے۔ جو قانون بنائے گا وہ اپنی فلاح و بہبود اور اپنے مفاد اور مقاصد کے لیے قانون بنائے گا۔‘‘ (ص ۱۲۱)
جناب غازی صاحب نے اپنے خطبہ میں مغربی قانون میں مابعد الطبیعاتی تصور کا ذکر کیا ہے:
’’یہ تصور تیس چالیس سال پہلے پیدا ہوا ہے۔ اس کے مطابق اصول قانون کے تمام احکام سے ماورا، اعلی اور بر تر فطری تصورات پر، اصول قانون کے تصورات کا دار و مدار ہے۔ جب تک یہ بنیادی اور اساسی قواعد نہ ہوں، جن پر اصول قانون کے احکام کی عمارت اٹھائی جا سکے اس وقت تک خود اصول قانون کا تعین دشوار ہے۔ گویا meta-jurisprudence جیسی اہم اور بنیادی چیز جس پر قانون کی آخری سند اور اساس کا دار و مدار ہے، اس پر مغربی دنیا صرف چالیس پچاس سال پہلے آئی ہے۔ اس سے پہلے اس شعبہ علم کا کوئی تصور مغرب میں نہیں تھا۔ اس کے بر عکس میٹا جورس پروڈینس کے تمام اصول و ضوابط قرآن حکیم میں موجود ہیں۔ قران پاک نے ان تمام سوالات کا جواب دے دیا ہے جن پر جورس پروڈینس کی اساس ہوئی ہے۔ یوں وہ بنیادی اصول و ضوابط، جن سے کام لے کر قرآن و سنت سے احکام معلوم کیے جاسکتے ہیں پہلے دئیے گئے ہیں۔ لہٰذا قرآن مجید نے بنیادی سوالات تو ابتدا ہی سے طے کر دیے ہیں۔ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اہم امور و مسائل میں جہاں جہاں انسان کی عقل کے بھٹکنے اور غلط فہمی پیدا ہونے کا امکان تھا، ضروری رہنمائی فراہم کر دی ہے اور اہم سوالات کا جواب دے دیا۔ اب رہ جاتاہے مزیدتفصیلات طے کرنے یا روزمرہ کے جزوی مسائل کا جواب دینے کا فریضہ تووہ بھی کسی بادشاہ یاحکمران کے سپردنہیں کیا گیا۔ یہ کام فقہی اجتہادات اور فتاوی کے ذریعے کیاجاتا ہے۔ فتویٰ اور اجتہادکی ذمہ داری شریعت نے فرمانرواؤں کونہیں دی بلکہ یہ ذمہ داری علما اور فقہاکے سپرد کی ہے۔‘‘( ص ۱۲۲)
’’یہی وجہ ہے کہ یہ کام تاریخ اسلام میں نہ کسی فرمانروا نے کیا، نہ بادشاہ نے، نہ خلیفہ نے اورنہ کسی پارلیمنٹ نے۔ اس کام میں سرکار اور دربار کاکبھی کوئی دخل نہیں رہا۔ یہ کام امت اور امت کے اہل علم نے کیا اور انہی کے کرنے کا یہ کام ہے۔ ’’فاسئلوا اھل الذکرا ان کنتم لا تعلمون‘‘ امت کا کام یہ ہے کہ وہ شریعت کے مطابق زندگی گزارے۔ قرآن و سنت کے احکام کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو منظم کرے۔ اگر کسی شخص یا گروہ یا جماعت کو کسی معاملہ میں تامل ہو کہ اس میں شریعت کا حکم کیا ہے اور شریعت کی فہم کیا کہتی ہے تو وہ جا کر اہل علم سے معلوم کرے۔ اہل علم ایسے ہوں جن کے دین اور علم پر یعنی ان کے علم اور تقویٰ، دونوں پر عامتہ الناس کو اعتماد ہو، ان کی بات مان لی جائے۔‘‘(ص ۱۲۲، ۱۲۳)
’’چنانچہ اسی نظام کے تحت فقہائے امت اور علمائے اسلام نے اس ذمہ داری کو انجام دینا شروع کیا۔ جن جن حضرات کی فقہی آرا کی، مسلمانوں میں روز اول سے پیروی کی جا رہی ہے، ان میں سے کوئی بھی کسی سرکاری منصب کا حامل نہیں تھا۔ امام مالک نے موطا لکھی اور بہت سے قانون اور فقہی مسائل کے جوابات دئیے۔ ان کے دئیے ہوئے جوابات اور ان کی جاری کردہ رولنگز پر دنیائے اسلام کے بہت بڑے حصے میں امام مالک کے اپنے زمانے سے عمل ہو رہا ہے۔ لوگ امام مالک کے علم اور تقویٰ پر غیر معمولی اعتمادکی وجہ سے ان کے اجتہادات پربھروسہ کرتے تھے اور ان کی فقہی آرا، بالفاظ دیگر ان کی قانون سازی پر عمل درآمد کرتے تھے۔‘‘
’’امام مالک سے لوگوں کی محبت اور عقیدت کی یہ کیفیت ہوتی تھی کہ لوگ چھ چھ مہینے کی مسافت طے کر کے امام مالک سے مسائل معلوم کرنے آیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک شخص چھ مہینے کی مسافت طے کر کے اسپین سے مراکش پہنچا۔ وہاں سے تیونس، الجیریا، لیبیا، مصر، صحرائے سینا اور پورے جزیرہ عرب کاآدھا حصہ سفر کر کے طے کیا، یہ سب وسیع علاقے عبور کر کے مدینہ منورہ پہنچا اور امام مالک کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ مجھے اہل اندلس نے آپ سے یہ سوال کرنے کے لیے بھیجا ہے‘‘۔ (ص ۱۲۳)
’’اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ امام مالک سے اہل اندلس کی عقیدت کی کیفیت کیا تھی اور امام مالک کے فتاوی اور ارشادات پرکتنی شدت سے اہل مغرب اوراہل اندلس عمل کرتے ہوں گے۔ کیا امام مالک کسی علاقہ کے فرمانرواتھے؟ کیا ان کوکسی خلیفہ نے مقرر کیا تھا کہ آپ اہل اندلس کے لیے قوانین بنائیں؟ کیاوہ کسی پارلیمنٹ کے رکن تھے؟ کیا وہ کسی کانگریس کے رکن تھے؟ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں تھی۔ امام مالک ایک پرائیویٹ شہری تھے۔ ایک مکمل غیر سرکاری حیثیت رکھتے تھے۔ ان کو اللہ نے جو درجہ دیا وہ صرف ان کے علم اور تقویٰ کی وجہ سے تھا۔ علم اور تقویٰ کے علاوہ کوئی دنیاوی منصب یا عہدہ یا اختیار ان کو حاصل نہیں تھا۔ لوگ ان کے فتوی اور ان کی دی ہوئی رولنگز پرعمل کرتے تھے۔ عدالتیں بھی عمل کرتی تھیں اور افرادبھی کرتے تھے اور حکمراں بھی کرتے تھے۔‘‘ (ص ۱۲۳، ۱۲۴)
’’امام اوزاعی امام اہل الشام کہلاتے تھے۔ وہ بیروت میں رہتے تھے اورایک زمانے میں پورا شام جس میں موجودہ فلسطین، لبنان، اردن اور شام اور شمالی سعودی عرب کا کچھ حصہ شامل تھا۔ یہ پورا علاقہ امام اوزاعی کے اجتہادات کی پیروی کرتا تھا۔ یہاں تک کہ حکمرانوں کوبھی جب ضرورت پڑتی تھی وہ امام اوزاعی سے فتوی معلوم کر کے اس پر عمل کیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ ہارون الرشیدکوکسی ایسے معاملے میں جو بین الاقوامی قانون سے متعلق تھا، جس میں ایک غیر قوم کے ساتھ معاہدہ کرنا تھا، اس میں بین الاقوامی ذمہ داریوں کی قسم کی کوئی چیز تھی، اس نے وہ معاہدہ رائے دینے کے لیے امام اوزاعی کو بھیجا اور انہوں نے جورائے دی، ہارون نے اس کے مطابق عمل کیا۔ کیا امام اوزاعی، سلطنتِ عباسی کے وزیر خارجہ یا وزیرقانون تھے؟ کیاوہ وہاں کے چیف جسٹس تھے؟ بالکل نہیں، وہ ایک عام شہری تھے۔‘‘ (ص ۱۲۴)
’’امام اعظم امام ابو حنیفہ کے اجتہادات کی پیروی آج دنیابھر میں مسلمان بڑی تعداد میں کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کی غالب اکثریت امام اعظم امام ابو حنیفہ کے اجتہادات کی پیروی کررہی ہے۔ امام ابو حنیفہ کے پاس کوئی سرکاری منصب نہیں تھا۔ امام جعفر صادق، امام زید بن علی اور تمام مجتہدین کرام، سب حضرات عام شہری تھے اور علم و تقویٰ کے علاوہ ان میں اور عامتہ الناس میں کوئی امتیاز نہیں تھا۔‘‘ (ص ۱۲۴)
’’طریقہ کار یہ تھا کہ جب کسی شخص کوکوئی مسئلہ پیش آئے، وہ ان میں سے جس فقیہ یاجس مجتہد کے علم اور تقویٰ پر اعتماد کرتے ہوں، اس کے فتوی کے مطابق عمل کریں۔ آج بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ آپ بھی یہی کرتے ہیں، میں بھی یہی کرتا ہوں۔‘‘ (ص ۱۲۴)
’’جب آپ کو کوئی مسئلہ پیش آتا ہے جس میں آپ کو شریعت کے کسی معاملہ میں رہنمائی یا شریعت کے کسی حکم کی تعبیر کی ضرورت ہو تو آپ یا میں کسی وزیر قانون کے پاس نہیں جاتے۔ عدلیہ کے کسی افسر کے پاس نہیں جاتے۔ پارلیمنٹ کے کسی ممبر کے پاس نہیں جاتے۔ ہم صرف اس شخص کے پاس جاتے ہیں جس کے علم اور تقویٰ پرہمیں اعتماد ہو۔‘‘(ص ۱۲۴)
’’اس طریقے سے فقہ اسلامی اور شریعت اسلامی پر عمل درآمد کوئی بارہ سو سال تک ہوتارہا۔ ان بارہ سو سالوں میں کبھی کسی حکمراں یا فرمانروا کوشریعت کے کسی جزوی حکم پربھی اثر اندازہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی۔ بعض لوگوں نے کوشش کی، کچھ نے اچھے ارادے سے کوشش کی اور کچھ نے برے ارادے سے کوشش کی، لیکن مسلمان فقہانے ایسی کسی کوشش کوکامیاب ہونے نہیں دیا۔‘‘(ص ۱۲۵)
’’ہارون رشید نے جب اسپین سے ملتان تک پھیلی ہوئی اسلامی سلطنت میں موطاکو بطور قانون رائج کرنے کی اجازت امام مالک سے طلب کی تو امام صاحب نے ہارون رشید کو سختی سے منع کرتے ہوئے کہا کہ وسیع تر سلطنت میں جتنے بھی فقہا اور مجتہدین، اجتہادات اور فیصلے کر رہے ہیں، یہ سب کے سب مختلف صحابہ کرام کے اسلوب کی پیروی کررہے ہیں۔ صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم سیکھا، اجتہاد کی تربیت پائی، شریعت پر غور و خوض کرنے کے آداب سیکھے اوروہ دنیائے اسلام کے مختلف علاقوں میں جا کربس گئے جہاں انہوں نے اس اسلوب کے مطابق لوگوں کو تیار کیا۔ اس لیے یہ سارے کی ساری آرا اور تعبیرات صحابہ کرام تک اور ان کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک تک پہنچتی ہیں۔ اس لیے آپ اس آزادی کو، جو امت مسلمہ کو حاصل ہے محدود نہ کریں اور جس انداز سے کام چل رہاہے، اسی انداز سے چلنے دیں۔ غرض امام مالک نے ہارون کی رائے سے اتفاق نہیں فرمایا اور قانون کی آزادی اور خود مختاری پرایک ہلکا سا دھبہ بھی آنے نہیں دیا۔ یہ فقہ اسلامی کی پہلی بنیادی خصوصیت ہے جس کو حریت قانون سازی یا آزادی کہہ سکتے ہیں۔‘‘ (ص ۱۲۷)
قانون سازی کی حریت یا آزادی کے تحفظ کی فکر اہل علم میں آج بھی پائی جاتی ہے۔ اس سلسلے کی ایک کوشش کا ذکر جناب غازی اس طرح فرماتے ہیں:
’’سب سے پہلے رابطہ عالم اسلامی نے مکہ مکرمہ میں ایک فقہ اکیڈمی قائم کی۔ اس میں دنیائے اسلام کے مختلف علاقوں کے نامور فقہا کو جمع کیا گیا اور یہ تمام مسائل ان کے سامنے رکھ دیے گئے اور ان سے کہاگیا کہ وہ اب ایک عملی دستور العمل اور ہدایات تیارکریں جن میں ہر چیز کے بارے میں الگ الگ بتایا گیاہو کہ کیا کرنا ہے۔‘‘
’’رابطہ عالم اسلامی ایک غیر سرکاری ادارہ ہے، اس لیے اس کی فقہ اکیڈمی نے جو مشورے دیے اور جو دستاویزات تیار کیں، ان کی حیثیت بھی ایک غیر سرکاری اور پرائیویٹ قسم کی تھی۔‘‘ (ص ۵۳۳)
تاریخ اسلام میں شخصی سطح پر قانون سازی کی آزادی کا تواتر اسے ایک بنیادی قدر بنا دیتا ہے۔ اجتہاد کی سرکار دربار سے آزادی ہمارا تاریخی اثاثہ ہے۔ یہ اثاثہ بارہ صدیوں پر محیط ہے۔ اسے کسی صورت قربان نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ائمہ کبار کی عظیم الشان قربانیوں سے ہر کوئی آگاہ ہے۔ ان کی استقامت ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ جناب غازی صاحب نے اپنے خطبات میں اس قدرِ حریت کو بڑی خوبی سے واضح کیا ہے۔ ان کا پیرایہ بیان براہ راست کے بجائے بالواسطہ ہے۔ ان کا آہنگ دھیما ہے۔ وہ مخاطب کے ذہن کو غیر محسوس طور پر متاثر کرتے ہیں، لیکن ان کا پیغام ان کے بالواسطہ خطبات سے چھن چھن کر آتا ہے۔ ان کی جانب سے یہ یاد دہانی ہے۔ دور غلامی میں یہ آزادی سلب ہوئی، غلامی سے نجات کے بعد یہ آزادی بحال نہیں ہو سکی۔ کوئی ہے جو اس آزادی کا چراغ جلا سکے!
محاضراتِ معیشت و تجارت کا ایک تنقیدی مطالعہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن
اپنی کلاسیکل علمی روایت کے ساتھ شعوری وابستگی عصرِ حاضر میں جن اصحاب کے حصے میں آئی ہے، ڈاکٹر محموداحمد غازی مرحوم ان میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ مرحوم کے محاضرات خواص و عوام میں پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔ اگر مسلم علمی روایت کے اس پہلو کو پیشِ نظر رکھا جائے کہ اس میں زبان و بیان، قلم و قرطاس پر چھائے رہے تو ڈاکٹر غازی ؒ اس روایتی پہلو کے جدید ترین نمائندہ تھے۔ ان کے محاضرات کا توضیحی و تنقیحی اسلوب گواہی دے رہا ہے کہ انہوں نے ’’نگہ بلند،سخن دل نواز،جاں پرسوز‘‘ کے ساتھ اسلاف کے علمی کارنامے نئی نسل تک پہنچانے کا حق ادا کر دیا۔ اللہ ان کی مغفرت کرے اور درجات بلند فرمائے،آمین۔ اس وقت ہمارے پیش نظر ڈاکٹر محمود مرحوم کی کتاب ’’محاضراتِ معیشت و تجارت‘‘ ہے جو اسلامی معاشیات پر ان کے بارہ خطبات کا مجموعہ ہے۔ اس کے صفحات ۴۵۹ ہیں اور قیمت۵۰۰ روپے ہے۔ الفیصل ناشران لاہور نے اسے شائع کیا ہے۔
ڈاکٹر غازی مرحوم علمی دیانت داری کا ثبوت دیتے ہوئے ’’تقدیم‘‘ کی سطروں میں کھلے عام اعتراف کرتے ہیں کہ وہ معاشیات میں کسی مہارت کے مدعی نہیں ہیں۔ ان کا یہ اعتراف فنِ معاشیات کا باقاعدہ یا بے قاعدہ طالب علم نہ ہونے تک پھیلا ہواہے۔ وہ بڑی اخلاقی جرات کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جدید فنی معاشی مسائل سے ان کی واقفیت سرسری اور جزوی ہے، اس لیے وہ ماہرین معاشیات سے بلا جھجھک درخواست کرتے ہیں کہ ان محاضرات کی فنی خامیوں اور کم زوریوں سے درگزر کریں، نیز ان کی نشاندہی کر کے راہنمائی بھی فرمائیں۔ ہم حیرت سے کبھی اعتراف نامہ دیکھتے ہیں اور کبھی ان محاضرات کے مندرجات۔ یہ مندرجات گواہی دے رہے ہیں کہ ہمارے ممدوحؒ کا اعتراف نامہ اسلاف کے طرزِ عمل کی پیروی ہے، وگرنہ محاضرات تو فکری و فنی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
اللہ رب العزت نے ہم مسلمانوں کو ایک خاص آسانی سے نوازا ہے۔ وہ یہ ہے کہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں ہمیں عملی راہنمائی درکار ہو تو فوراًسے پہلے ہم اسوہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے، اس لیے ان کی نظریں بھی خود بخود اسی مرکز کی جانب اٹھ جاتی ہیں:
’’خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے بہت بڑی تجارت قائم فرمائی تھی جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی کامیاب نگرانی فرمائی۔ اس کی آمدنی کا بیشتر حصہ دعوت و تبلیغ کی سرگرمیوں پر خرچ ہوا۔‘‘ (دوسرا خطبہ: ص ۷۴)
ڈاکٹر غازیؒ نے یہ اشارہ تو کر دیا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تجارت کی آمدنی کا زیادہ حصہ دعوت و تبلیغ میں صرف ہوا، لیکن موضوع کی مناسبت سے یہ وضاحت نہیں کی کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے معاملاتِ تجارت کیسے نمٹائے ، تجارت میں منافع کی شرح کیا رکھی اور حضرت خدیجہؓ کے ساتھ منافع کی تقسیم کس اصول کے تحت اور کتنے فی صد طے پائی، وغیرہ وغیرہ۔ اگر ڈاکٹر صاحب اس قسم کے سوالات سے تعرض کرتے تو آج کے تاجروں کے لیے ہدایت کا مینارہ نور قائم کر دیتے۔ اس سلسلے میں پروفیسر ڈاکٹر نور محمد غفاری نے اپنی کتاب ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی زندگی‘‘ میں فقط اتنا اضافہ کیا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سامانِ تجارت لے کر شام کا دوسرا سفر کیا تو یہ مضاربت سے زیادہ اجارہ کی ایک صورت تھی، کیونکہ حضرت خدیجہؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو متعین اجرت ادا کی تھی جو کہ ایک اونٹ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کے علاوہ یمن اور بحرین کے بھی تجارتی سفر کیے جن کی بابت تاحال زیادہ تفصیلات میسر نہیں ہیں۔ ڈاکٹر نور محمد غفاری نے حلف الفضول کو بھی معاشی تناظر میں دیکھنے کی قابل غور کوشش کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے قبل تقریباً ۲۰ برس کی عمر میں ایک ایسے معاہدے میں شمولیت فرمائی جس کی نوعیت سراسر معاشی و سماجی انصاف کی تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منصبِ نبوت پر فائز ہونے کے بعد بھی فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھے اس قسم کے معاہدہ کی طرف آج بھی دعوت دی جائے تو میں بخوشی شامل ہونے کو تیار ہوں گا۔ اس معاہدے میں مضمر مخصوص خیر کی بنا پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا کہ اس کے مقابلے میں اگر مجھے سرخ اونٹ بھی دیے جاتے تو میں نہ بدلتا۔ لہٰذا ما قبل نبوت کا یہ تناظر پورا قرینہ فراہم کرتا ہے کہ انسانی زندگی میں معاشی سرگرمی کی خاص اہمیت ہے۔ اسی لیے نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا منصب سنبھالنے سے قبل خالصتاً بشری حیثیت میں صرف تجارت نہیں بلکہ تجارت کا سفر کیا اور متاہل زندگی (married life) بسر کی اور کاروبار و شادی کے مراحل سے گزرنے کے باوجود مخالفین کی نظر میں امین و صادق کہلائے۔ ہمارے ہاں الطاف حسین حالی مرحوم کے کہے مصرعے ’’اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا‘‘ کو کچھ اس طرح رومانوی روپ دے دیا گیا جس سے مجموعی طور پر دین اسلام کے حقیقی مزاج سے مغایرت وبے گانگی (alienation) کے رویے نے خوب فروغ پایا۔ حالانکہ امرِ واقعہ یہ ہے کہ کسی انسان کی خو بو اور مزاج کا صحیح پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ متاہل زندگی بسر کرے یا اس کے ساتھ سفر کیا جائے یا مال و دولت کا کوئی معاشی معاملہ طے کیا جائے۔ معاملہ طے کرنے کے دوران میں اور طے پا جانے کے بعد اس کا رویہ اس کے حقیقی مزاج کی خبر کرتا ہے۔ چونکہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم صرف نور نہیں ہیں بلکہ بشر بھی ہیں اور بشر کی ارضی زندگی میں ازدواجی و معاشی سرگرمی بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے اس ازدواجی و معاشی سرگرمی کی بنیادی اہمیت کو اجاگر کرنے اور انہی سے پھوٹتے بشری رویے کو تدین کا معیار بنانے کی خاطر، اللہ رب العزت نے نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کو خالصتاًبشری حیثیت میں معاشی انصاف پر مبنی معاہدے اور تجارت و سفر تجارت اور شادی جیسے مراحل سے گزارا ۔ ذرا غور کیجیے کہ تجارت و سفرِ تجارت اور متاہلانہ زندگی (بشمول بیٹیوں کا باپ ہونے اور ان کی شادیاں تک کر دینے) کی جاں گسل راہ سے گزار کر، اس وقت کے معاشرے کو ایک ’’بشری معیار‘‘ دینے کے بعد محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو ختمِ نبوت کے منصب پر فائز فرمایا گیا۔ ہمارے موقف کی تنقیح حضرت سائبؓ کے اس بیان سے ہوتی ہے جو انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد دیا تھا۔جب وہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو صحابہ کرامؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی تعریف کرنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ اس پر سائب نے کہا کہ:
صدقت بابی انت وامی، کنت شریکی فنعم الشریک کنت، لا تداری ولا تماری (ابوداود، رقم ۴۸۳۶)
’’میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں، آپ نے درست فرمایا۔ آپ میرے شریک تجارت تھے اور آپ نہ تو جھگڑا کرتے تھے اور نہ بحث کرتے تھے۔‘‘
اس گواہی پرذرا غور تو فرمائیے۔ واقعہ یہ ہے کہ دینِ اسلام کی اس اصالت کا اظہار بعد کی صدیوں میں ہوتا رہا جب مسلمان تاجروں نے اپنے ازدواجی و معاشی رویے سے تشکیل پانے والے تدین کی بنیاد پر اسفارِ تجارت کے ذریعے اسلام کا پیغام دنیا کے کونے کونے میں پہنچا دیا۔ ڈاکٹرمحمود احمد غازیؒ بجا کہتے ہیں کہ:
’’اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ اسلام اور تجارت اور اسلام اور معیشت کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔‘‘ (دوسرا خطبہ: ص ۷۴)
اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب نے ابن العربیؒ کا قول پیش کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن العربیؒ کتنے معروضی انداز میں (objectively) دین اسلام کا حقیقی مزاج دیکھ رہے تھے:
’’انسانی ترقی کا دارومدار یا انسان کی بقا کا دارومدار جن معاملات پر ہے، ان میں مشہور مالکی فقیہ اور مفسرِ قرآن علامہ ابن العربیؒ کے بقول عقدِ نکاح اور عقدِ بیع دو بنیادی اہمیت رکھنے والے معاملات ہیں، اس لیے کہ وہ یہ کہتے ہیں: ’’یتعلق بھما قوام العالم‘‘ دنیا کی پوری زندگی کی بقا ان دونوں پر موقوف ہے۔‘‘(چھٹا خطبہ:ص۲۶۱)
لہٰذا دینِ اسلام کی ایسی تعبیر جس کے مطابق دینی عقیدہ، سماجی زندگی کے رگ و پے میں اترنے کے بجائے رسوم و عبادات کے شبستانوں میں خوابِ خرگوش کا مزہ لیتا رہے، ہرگز قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ نے ایک شخص کو عبادت و ریاضت میں ڈوبا ہوا دیکھا تو اسے درہ رسید کرتے ہوئے فرمایا: ’’اللہ تیرا برا کرے، ہمارے دین کو مردہ بنا کر پیش نہ کر‘‘۔ افسوس کا مقام ہے کہ آج ہمارے دور میں عبادت و ریاضت میں گھلے جانے والے کو دین زندہ کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ اسی ریاضت پسند اور عبادت گزار شخص سے جب کوئی معاملہ کیا جائے تو تدین اور موصوف، بالکل الگ الگ ہو جاتے ہیں۔ سیدنا عمرفاروقؓ کے دور کا ہی واقعہ ہے کہ ایک شخص بطور گواہ آپ کے پاس آیا۔ آپ نے اسے کسی ایسے شخص کو لانے کو کہا جو اسے جانتا ہو۔ وہ ایک شخص لایا جس نے اس کے بارے میں بہت اچھی رائے کا اظہار کیا۔ آپ نے پوچھا، کیا تم اس کے ہمسائے ہو اور اس کی زندگی سے خوب واقف ہو؟اس نے کہا نہیں۔ آپ نے پوچھا تم نے اس کے ساتھ سفر کیا ہے؟ اس نے پھر نفی میں جواب دیا۔ آپ نے پوچھا ، کیا تم نے اس شخص کے ساتھ کوئی معاملہ کیا ہے؟ اس نے اس سے بھی انکار کیا۔ پھر آپ نے فرمایا،میرا خیال ہے کہ تم نے اسے مسجد میں کھڑے قرآن پڑھتے، کبھی سر جھکاتے، کبھی اوپر اٹھاتے دیکھا ہے۔ اس نے ہاں میں جواب دیا۔ تب آپ نے فرمایا، چلے جاؤ تم اس کو بالکل نہیں جانتے اور اس شخص کو حکم دیا کہ جاؤ اور کسی ایسے شخص کو لے کر آؤ جو تمہیں ’’واقعی‘‘ جانتا ہو۔ غور کیجیے، یہ واقعہ خلیفہ دوم فاروقِ اعظمؓ کا ہے جو دینِ اسلام کے حقیقی مزاج کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ دین کی زندہ متحرک اور سماج سے وابستہ یہ تعبیر سیدنا عمر فاروقؓ کے بعد بھی جاری و ساری رہی۔ ڈاکٹر غازی مرحوم تاریخ کے جھروکے سے پردہ اٹھاتے ہیں:
’’مشہور تابعی فقیہ اور حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے استاد الاستاذ ابراہیم نخعیؒ فرمایا کرتے تھے کہ سچا دیانت دار تاجر مجھے زیادہ محبوب ہے بہ نسبت اس شخص کے جو سب کام چھوڑ چھاڑ کر عبادت میں اپنی زندگی گزارے۔ اس لیے کہ جو شخص تجارت کرتا ہے ، زندگی کی سرگرمیاں بھرپور طریقے سے انجام دے رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عبادت بھی کرتا ہے، دینی ذمہ داریاں بھی انجام دیتا ہے۔ وہ مسلسل جہاد کی کیفیت میں رہتا ہے، وہ جہاد جو اس کا اپنے نفس کے خلاف ہے، شیطان کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ ابراہیم نخعیؒ نے کہا کہ شیطان طرح طرح سے اس تاجر کے سامنے آتا ہے، کبھی ناپ تول اور ترازو کے ذریعے آتا ہے، کبھی لین دین کے ذریعے سامنے آتا ہے اور اس کو راہِ راست سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ دیانت دار تاجر شب و روز شیطان کے ان حربوں کو ناکام بنانے میں مصروف رہتا ہے اپنے کو ان سے دور رکھتا ہے اپنے طرزِ عمل کو پاکیزہ رکھتا ہے۔ یوں اس کو تزکیہ حاصل ہوتا ہے اور تزکیہ کے نتیجے میں جو کھرا پن پیدا ہوتا ہے، جو ستھرا مزاج انسان کا بنتا ہے، وہ اس شخص کا نہیں ہوسکتا جو سب کام چھوڑ کر مسجد کے گوشے میں یا خانقاہ کے گوشے میں بیٹھ گیاہو۔‘‘ (چھٹا خطبہ:ص۲۵۱،۲۵۲)
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تجارت کی پر خطر راہ سے گزر کر تزکیہ حاصل کرنے کے بجائے کسی کونے کھدرے میں بیٹھ کر متقی کہلانے والوں کے لیے ہی علامہ مرحوم نے کہا تھا:
جہاں میں تو کسی دیوار سے نہ ٹکرایا!
کسے خبر کہ تو ہے سنگ خارہ یا کہ زجاج
معاشی سرگرمی پر مبنی دین کی متحرک تعبیر کا ایک اور دلچسپ واقعہ ڈاکٹر غازیؒ نے پیش کیا ہے، ملاحظہ کیجیے:
’’مشہور محدث حضرت ابو قلابہؒ جو علمِ حدیث کی تاریخ کی نمایاں شخصیتوں میں سے ہیں، جن کی سند سے بہت سے ائمہ حدیث کو بہت سی روایات ملی ہیں، انھوں نے ایک شخص کو دیکھا جو مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر تلاوت اور عبادت کیا کرتا تھا۔ انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم کیا کرتے ہو؟ تمہارا ذریعہ آمدنی کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ذریعہ آمدنی کچھ بھی نہیں ہے۔ لوگ ہدیہ دیتے ہیں، وہ استعمال کرتا ہوں اور اپنا وقت عبادت میں صرف کرتا ہوں۔ ابوقلابہؒ نے کہا کہ: ’’لان اراک تطلب معاشک احب الی من ان اراک فی زاویۃ المسجد‘‘، میں تمہیں معاشی زندگی اور رزقِ حلال کے حصول میں سرگرم دیکھوں، یہ مجھے زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ میں تمہیں مسجد کے گوشے میں بیٹھے دیکھوں۔ اس لیے کہ عبادت کا اپنا وقت ہے معاشی سرگرمی کا اپنا وقت ہے، دونوں کی ذمہ داریاں اپنی اپنی جگہ ہیں۔ ایک کو دوسرے کے لیے قربان کرنا یہ شریعت کے توازن اور اعتدال کے خلاف ہے۔‘‘(چھٹا خطبہ:ص۲۵۳)
ہمیں ابوقلابہؒ کی خوش بختی پر رشک آ رہا ہے کہ ان کے دور میں تبلیغی جماعتوں کے ا جتماع منعقد نہیں ہوتے تھے جہاں سے اب دین کی وہی تعبیر بڑے منظم طریقے سے پھیلائی جا رہی ہے جس کی نفی ابوقلابہؒ کر رہے تھے۔ اگر وہ عبادت گزار تبلیغی جماعت سے وابستہ کوئی فرد ہوتے تو اپنے عجیب و غریب جواب سے ابوقلابہ صاحب کی قلابازیاں لگوا دیتے۔ خیر! یہ قلابازیاں تو مفروضے پر مبنی ہیں اور ’’اگرمگر‘‘ کی شرط کے ساتھ ہیں، لیکن ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم نے نام نہاد متقیوں کی قلابازیاں واقعی لگوا دی ہیں۔ دیکھیے ذرا:
’’ یہی وجہ ہے کہ علمائے اسلام نے یہ لکھا تھا کہ تجارت انسان کی کسوٹی ہے۔ انسان کے تدین، تقویٰ اور پرہیز گاری کا امتحان، لین دین اور تجارت میں ہی ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک شخص پوری زندگی تدین کا رویہ ظاہر کرتا رہتا ہے۔ نمازیں روزے عبادات اور تمام مذہبی سرگرمیوں کی پوری پابندی کرتا ہے۔ یہ سب کام اس کے ٹھیک رہتے ہیں، لیکن اس کو کبھی بھی کسی سے لین دین کا اتفاق نہیں ہوتا۔ جب لین دین کا اتفاق پہلی مرتبہ ہو جائے تو پتا چلتا ہے کہ کتنا زرپرست انسان ہے۔ ذرا ذرا سی چیز پر کس حد تک لڑنے جھگڑنے کو تیار ہے۔ معمولی معمولی بات پر سب و شتم پر اتر آتا ہے۔ یوں تقویٰ کا سارا ملمع منٹوں میں اتر جاتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حقیقی تقویٰ کا اصل مظاہرہ کاروبار اور لین دین میں ہی ہوتا ہے۔‘‘(چھٹا خطبہ:ص۲۵۹)
ڈاکٹر محمود مرحوم، شاعر مشرق کے ہم نوا معلوم ہوتے ہیں۔ اقبالؔ نے بھی دین کی اصل روح کے بجائے رسوم و عبادات پر بے جا زور دینے کے متعلق خوب کہا ہے:
رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز وروزہ وقربانی وحج
یہ سب باقی ہیں تو باقی نہیں ہے
بہرحال! ڈاکٹر غازیؒ کے فرمودہ میں سے آخری فقرے کو دیکھیے اور اس میں مندرج ’’ہی‘‘ پر غور کیجیے۔ یہ ’’بھی‘‘ بھی ہو سکتا تھا۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اظہارِ حقیقت نے موزوں لفظ چنا ہے اس لیے اگر کوئی تعصب یا ضد آڑے نہ آئے تو ڈاکٹر صاحب سے اختلاف کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ اسلام کی ابتدائی صدیوں کے بعد سلوک و تصوف کی غلط روی نے، عقیدہ و ضمیر کو بے عملی کی خلوت گاہوں میں تھپک تھپک کر سلا دیا۔ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کے بجائے ’’اللہ کے سوا ہر چیز کی نفی‘‘ کے نام پر بے عملی (اور بد عملی) کی راہیں کشادہ کر دی گئیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ’’اللہ کے سوا ہر چیز کی نفی‘‘ اپنی اصالت میں تحرک کا باعث بنتی ہے کہ اللہ کی صفات اس کی ذات کا ہی حصہ ہیں۔ بے عمل فرد ان صفات کا عملی انکار کر رہا ہوتا ہے اور نتیجے کے لحاظ سے اعلیٰ درجے کی بد عملی کا مرتکب ہو رہا ہوتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ: صِبْغَۃَ اللّٰہِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً وَنَحْنُ لَہُ عَابِدون (البقرۃ۲:۱۳۸) کے مفاہیم فقط اللہ ہو اللہ ہو کی رٹ لگانے کی دعوت دیتے ہیں یا سماجی معاشی و فکری فعالیت پر اکساتے ہیں؟ اقبالؔ نے کتنا درست کہا تھا کہ:
کمالِ ترک نہیں آب وگل سے مہجوری
کمالِ ترک ہے تسخیر خاکی ونوری!
ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کا بیشتر حصہ اوراحادیث کے دفاتر کے دفاتر اسی نوع کی غلط فہمیوں کی نہ صرف تصحیح و درستی کرتے ہیں بلکہ ترغیب و ترہیب کے ذریعے صراطِ مستقیم پر گامزن کرتے ہیں۔ ڈاکٹرمحمود غازی ؒ ہمیں بتاتے ہیں کہ اسلاف اس مسئلے کی نزاکت سے بخوبی آگاہ تھے:
’’ امام محمد بن حسن شیبانیؒ جو فقہ حنفی کے مدون اول ہیں، ان سے کسی نے کہا کہ آپ نے زہد پر کوئی کتاب نہیں لکھی۔ اس زمانے میں یعنی دوسری تیسری صدی ہجری میں محدثین کرام زہد اور رقاق کے موضوعات پر کثرت سے کتابیں تصنیف فرمایا کرتے تھے۔ یعنی احادیث کے مجموعے یا ان ہدایات کے مجموعے جو انسان کے دل میں دنیا سے استغنا پیدا کریں، للہیت پیدا کریں، دل میں نرمی پیدا کریں اور اللہ سے تعلق کو مضبوط بنائیں۔ امام محمد ؒ سے پوچھا گیا کہ آپ نے اس موضوع پر کوئی کتاب نہیں لکھی؟ امام محمدؒ نے جواب دیا، میں نے کتاب البیوع لکھ دی ہے۔ یعنی جب کتاب البیوع میں بیان کردہ حلال و حرام کے احکام پر انسان مسلسل عمل کرے گا تو لازماًتدین پیدا ہو گا۔ جب تدین پیدا ہو گا تو حلال و حرام کی تمیز پیدا ہو گی۔ جہاں حرام سے اجتناب کا جذبہ پیدا ہوگا، وہاں مشتبہات سے اجتناب کا جذبہ بھی پیدا ہو گا، اس لیے زہد خود بخود پیدا ہو جائے گا۔ اور اگر کوئی شخص احکامِ حلال و حرام کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کے زہد و استغنا کے سارے دعوے رکھے رہ جائیں گے۔ اس لیے اکل حلال کا گہرا تعلق صدق مقال سے ہے اور صدق مقال اور اکلِ حلال دونوں کا گہرا تعلق زہد و استغنا سے ہے۔‘‘(چھٹا خطبہ:ص۲۶۱،۲۶۲)
مسلم تاریخ کے اس دور میں امام محمدؒ جیسے افراد کی قبولیتِ عامہ بتاتی ہے کہ مسلم سوسائٹی کا عمومی رجحان کیا تھا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ علما او رفقہا کے نزدیک دین کی اصل روح کیا تھی۔ امام محمدؒ کا طرزِ عمل صراحت کرتا ہے کہ آخرت کی منزل دنیا کے راستے سے گزر کر ملتی ہے۔ بقول اقبالؔ :
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
دنیا دارالعمل ہے اور عمل کا ’’معیاری اظہار‘‘ حلا ل و حرام کی تمیز یعنی مثبت معاشی سرگرمی سے ہوتا ہے۔ ہمیں نہایت تاسف سے یہ اعتراف کر لینا چاہیے کہ آج کے علما اور فقہا عمل کے ’’معیاری اظہار‘‘ کے فروغ کے بجائے تبلیغِ محض کا کام سر انجام دے رہے ہیں۔ دین کی کلیت و جامعیت اور اس کلیت و جامعیت میں سے اساس پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے اپنے تسکین ذوق کی خاطر کلیت کی نفی کر رہے ہیں، جامعیت کا انکار کر رہے ہیں اور اساس سے بیگانہ ہو رہے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم دینِ اسلام کی کلیت و جامعیت کی بھر پور ترجمانی کچھ یوں کرتے ہیں:
’’مسلمانوں کی خالص مذہبی زندگی میں متعدد احکام ایسے ہیں جن کا گہرا اثر مسلم معاشرہ پر پڑتا ہے۔ کفارات، زکوٰۃ، صدقاتِ واجبہ وغیرہ جیسے احکام اس کی مثال ہیں۔ ان سب کے واضح اور نمایاں معاشی نتائج نکلتے ہیں۔ وقف ایک طرف عبادت ہے، دوسری طرف ایک معاشرتی اور معاشی ادارہ بھی ہے۔ یہاں تک کہ اسلامی قوانین میں بعض ایسے احکام بھی پائے جاتے ہیں کہ ان پر عمل درآمد کے نتیجہ میں خالص فوجداری معاملات کے بھی جہاں معاشی اثرات نکلتے ہیں، وہاں ان کی مذہبی جہتیں بھی ہیں۔ چنانچہ دیت، قتلِ عمد کا کفارہ وغیرہ اگرچہ خالص فوجداری معاملات ہیں لیکن کفارہ جب ادا کیا جائے گا تو ظاہر ہے کہ غریبوں کو ادا کیا جائے گا۔ اس کے قواعد و ضوابط ہوں گے، ان قواعد و ضوابط کا گہرا تعلق اسلام کے فوجداری قانون سے بھی ہو گا۔ اسلام کے عبادات کے احکام سے بھی ہو گا اور ان احکام کی معاشی جہت بھی ہوگی۔ اس لیے اسلامی معاشیات کو ان تمام معاملات کو پیشِ نظر رکھنا پڑے گا۔‘‘(بارھواں خطبہ:ص۴۳۲)
دینِ اسلام کے تمام پہلوؤں کے داخلی ربط پر مبنی یہی جامعیت ہے جس کی وجہ سے اس دین کے معیارات دیگر نظاموں کے معیارات سے کافی مختلف ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اسی نکتے کو موضوع سخن بناتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’ معاشی ترقی اسلامی تصور کی رو سے کیا ہے، مغربی تصور کی رو سے کیا ہے؟ اس کی شرائط اور تقاضے کیا ہیں؟ رکاوٹیں کیا ہیں؟یہ بھی ایک اہم معاشی مسئلہ ہے جس پر مفکرینِ اسلام نے غور کیا ہے۔ شریعت اسلامیہ کے مطابق معاشی اور اجتماعی وسائل کی تیاری اور استعمال، افرادِ کار کی تیاری، کسبِ حلال کا بندوبست اور مسلم معاشرے کی مادی اور تہذیبی مقاصد کی تکمیل، یہ وہ بنیادی عناصر ہیں جن کو ترقی کا اسلامی تصور قرار دیا جا سکتا ہے۔ ترقی کے اسلامی تصور میں صرف مادی ترقی شامل نہیں ہے۔ روحانی اخلاقی ذہنی اور تہذیبی ترقی بھی شامل ہے۔ قرآن مجید نے اس کو ’’حیاۃِطیبہ‘‘ کے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ ایسی پاکیزہ اور ستھری زندگی جو ہر اعتبار سے پاکیزہ اور ہر اعتبار سے ستھری ہو۔ ایک دوسری آیت میں ارشاد ہوا کہ آسمان اور زمین کی برکتیں تم پر کھل جائیں گی۔ آسمان اور زمین کی برکتوں سے مراد تمام اخلاقی روحانی مادی اور اقتصادی برکات کا حصول ہے۔‘‘(تیسرا خطبہ:ص۱۵۹)
ڈاکٹر غازی مرحوم غالباًیہ کہنا چاہتے ہیں کہ مغرب میں ترقی کا معیار ، مربوط اور جامع نہیں ہے۔ وہاں شعبہ ہائے زندگی کی تقسیم نے ترقی کو بھی الگ الگ خانوں میں بانٹ دیا ہے۔ اس لیے اہلِ مغرب کے ہاں معاشی ترقی کا سماجی ترقی، روحانی ترقی یا زندگی کے دیگر پہلوؤں کی ترقی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے برعکس اسلام میں (کم از کم نظری اعتبار سے) معاشی ترقی، زندگی کے دیگر پہلوؤں سے بے نیاز رہ کر ترقی نہیں کہلا سکتی۔
ڈاکٹرمحمود احمد غازی مرحوم نے اسلامی اقتصاد کے ایک پوشیدہ گوشے کی نقاب کشائی کی ہے اور خوب کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ:
’’بعض لوگوں کے ذہن میں بیٹھ گیا ہے کہ جمالیات سے فرار دینی زندگی کا لازمی تقاضا ہے یا روحانی کمالات، ذوقِ جمال اور جمالیات کے ساتھ جمع نہیں سکتے۔ یہ اسی طرح کی غلط فہمی ہے جو ہندوؤں میں عیسائیوں میں عام ہے کہ دنیا کے تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ روحانی تقاضے انجام نہیں پا سکتے۔ یہ تفریق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں نہیں ہے۔ یہاں تو ہدایت یہ ہے کہ ’’ان اللہ جمیل یحب الجمال‘‘، اللہ خود بھی جمیل ہے، صاحبِ جمال ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔ یہاں جمال سے مراد محض جسمانی یا ظاہری جمال نہیں ہے بلکہ کردار کا جمال، کارکردگی کا جمال، خدمات کا جمال، اخلاق کا جمال ہے۔ ہر وہ چیز جس میں کمال اور جمال حاصل کیا جا سکتا ہو، اس میں کمال اور جمال حاصل کیا جانا اللہ تعالیٰ کی مشیت کے عین مطابق ہے۔ ایک دوسری جگہ زیادہ وضاحت سے ارشاد فرمایا ہے: ’’من صنع منکم شیئا فلیحسنہ‘‘کہ تم میں سے اگر کوئی شخص کوئی چیز بنائے، یاد رکھیے کہ یہاں صنعت کا لفظ استعمال ہوا ہے جس میں پوری صنعت اور انڈسٹری شامل ہے، ’’فلیحسنہ‘‘ تو اس کو بہت خوبصورت اور بہتر انداز سے مکمل کرے بہتر انداز سے بنائے۔ یہ صنعت کاروں کے لیے ایک ہدایت ہے کہ تم جو بھی صنعت تیار کرو، جو چیز بھی پیداوار کرنے کے لیے اختیار کرو، اس کو جتنا خوبصورت بنا سکتے ہو بناؤ۔‘‘ (پہلا خطبہ: ص ۵۱،۵۲)
ڈاکٹر صاحب نے جمال کی مجمل تشریح میں درست نہج کی نشاندہی کی ہے، لیکن ان کا جمال کو حَسن کے مترادف لینا شاید پوری طرح درست نہیں۔ جمال اپنی حقیقت میں اخلاق کے مبالغے کی ایک مستقل حالت ہے، جبکہ حَسن، عقل و بصیرت پر مبنی ایسے جاری عمل (فعلیت)کے لیے مستعمل ہے جو نگاہ میں بھی بھلا معلوم ہو۔ بہرحال! اس پر غور کیجیے کہ کوئی بنائی گئی چیز(مصنوع) اپنی ذات میں کیا بھلائی(حسنۃ) عمدگی رکھتی ہے؟ زیادہ سے زیادہ یہی نا کہ وہ کسی نگاہ کو بھلی (خوبصورت) معلوم ہوتی ہے، لیکن یہ بھی مصنوع سے الگ تھلگ کوئی دوسری چیز ہے جو اسے بھلی قرار دے رہی ہے۔ اس لیے حسنہ یعنی بھلائی کا تعلق حقیقت میں، خارج میں موجود دیگر عناصر سے اس مصنوع کی مطابقت میں ہے۔ یوں سمجھیے کہ چاند کو صرف اسی صورت میں بھلا قرار دیا جا سکتا ہے اگر یہ کائنات کے دیگر مظاہر کے ساتھ مطابقت میں ہو۔ جس طرح کائنات کے مظاہر الگ الگ اپنا وجود رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ان کے درمیان مطابقت و موزونیت بھی پائی جاتی ہے جس سے وہ کائناتی نظم تشکیل پاتا ہے جو نہ صرف ہر کائناتی مظہر کو بقا بخشتا ہے بلکہ کائنات کی ناتمامی کو صدائے کن فکیون سناتا رہتا ہے، اسی طرح انسانوں کی بنائی ہوئی اشیا بھی دیگر اشیا (مادی وغیر مادی) اور کائناتی مظاہر کے ساتھ مطابقت میں ہونی چاہییں۔ آج کے انسان نے تکنیکی و صنعتی ترقی کے بل بوتے پر نت نئی اشیا کے ڈھیر ضرور لگا دیے ہیں، لیکن ان میں سے بعض اشیا سماجی، ارضی اور کائناتی موزونیت کی مطابقت میں نہیں ہیں جس سے(سماجی اور) ماحولیاتی آلودگی، گلوبل وارمنگ اور اوزون تہہ میں شگاف جیسے انتہائی سنجیدہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں سماجی ارضی اور کائناتی نظم بری طرح منتشر ہو رہا ہے۔ انسانوں کے مابین کشمکش بڑھ رہی ہے، موسموں میں تغیر رونما ہو رہا ہے، زلزلے اور سیلاب آئے دن تباہی مچاتے رہتے ہیں۔ اس سارے عمل کا ایک بنیادی سبب ہے اور وہ ہے ’’فلیحسنہ‘‘ کے بغیر ’’من صنع منکم شیئا‘‘ پر اندھا دھند مسلسل عمل کیے جانا جو حسنہ کے بجائے سیۂ کا لازمی نتیجہ دیتا ہے۔ اس لیے صناعی کے جوہر دکھانے والوں کو احسن الخالقین کی اتباع کرنی چاہیے جوخالقوں میں اس لیے بھی ’’احسن‘‘ہے کیونکہ اس کی کاریگری کے نمونے باہم مربوط اور ایک دوسرے کی مکمل مطابقت میں ہیں۔اس احسن نے انسان کو بھی احسن تقویم پر تخلیق کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ارضی صناعوں کو خود اپنی طرف ہی دیکھ لینا چاہیے کہ ان کا وجود فی نفسہ کتنا مربوط ہے اور خارجی اشیا سے کس حد تک موزوں ہے۔ اسی لیے اس کی تقویم احسن تقویم ہے۔ لہٰذا آج کی صنعت اور آج کی تکنیک کو یہ باور کرانے کی اشد ضرورت ہے کہ وسیع تر انسانی مفاد میں اس کا پیداواری اظہار، سماجی ارضی اور کائناتی موزونیت کی مطابقت میں ہونا چاہیے۔
موجودہ عالمی صورتِ حال کے تناظر میں اس بحث سے ایک لطیف نکتہ برآمد ہوتا ہے۔ آج بین الاقوامی تعلقات میں معاشی تعلقات کی اہمیت چونکہ بہت بڑھ گئی ہے، اس لیے کوئی بھی عالمی تبدیلی ان معاشی تعلقات سے مَس کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اگر آج کا مسلم ضمیر بیدار مغزی کا ثبوت دیتے ہوئے عالمی معاشی تعلقات میں مذکورہ بحث کے مضمرات سمو دے تو اسے ایک غالب و جاری معاشی نظام میں جگہ بنانے کا موقع مل سکے گا جس کے توسط سے عالمی اصلاحی تبدیلی کی امید بندھ سکے گی۔ لیکن افسوس کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ معیشت کے اس پہلو میں بھی مغربیوں کو سبقت حاصل ہے۔ ان کے ہاں معیشت کی یہ جہت اتفاقاًسامنے آئی ہے، لیکن اس کی بنیاد وہی ’’تجربہ و مشاہدہ ‘‘ ہے جو ان کی تہذیبی اساس قرار پاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ان کی موزونیت کی تلاش کا مذاق اڑایا جاتا ہے کہ یہ دہریے لوگ خواہ مخواہ اتنے تکلف میں پڑے ہیں، یہ اللہ کا کام ہے۔ غیر موزوں مصنوع کی پیدا کردہ خرابیوں کو اللہ خود ہی دیکھ لے گا، اس کا نظامِ قدرت ہے وغیرہ وغیرہ۔
اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے کہ اب ہم فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم: ’’من صنع منکم شیئا فلیحسنہ‘‘ کو دنیا کے سامنے اس دعوے کے ساتھ پیش کریں کہ دیکھو! تم لوگوں نے صنعتی انقلاب کے بعد اور اس صنعت کی خرابیوں کے ظہور کے بعد غیر موزونیت سے آگاہ ہو کر موزونیت کا عمل شروع کیا ہے، لیکن دیکھو! اسلام نے چودہ سو تیس سال سے بھی پہلے عالمِ انسانیت کی اس سلسلے میں راہنمائی کی ہے۔ غور کیجیے کہ کیا ہمارے اس دعوے میں کوئی وزن ہوگا؟ اس قسم کے دعوے ہم اکثر و بیشتر کرتے رہتے ہیں اور اہلِ علم ہمیں جاہل قرار دیتے ہوئے خاموشی سے اپنا کام کیے جاتے ہیں (خیال رہے یہاں اہلِ علم مغربیوں کو کہا جا رہا ہے)۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے ہاں کام کرنے کی رِیت کب ڈالیں گے؟ اور کب ہم بعد میں بے وزن حوالے دینے کے بجائے سبقت کرتے ہوئے اسلام کی حقانیت کے مظاہر دنیا کے سامنے رکھیں گے؟ خیر! مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس وقت مغرب میں ’’ماحول دوست معیشت‘‘ کو فروغ دیا جا رہا ہے یعنی معیشت کو ماحول کے ساتھ موزوں کیا جا رہا ہے، لیکن وہ لوگ ماحول میں سماج و اخلاق کو شامل نہیں کرتے۔ اگر آج کا مسلم ضمیر مغرب کی موزونیت کی تلاش میں سماج و اخلاق کو شامل کرا سکے تو نہ صرف اسلام کی عصری حقانیت کا ایک پہلو سامنے آئے گا بلکہ عالمِ انسانیت بھی اس کی احسان مند ہو گی۔ لیکن اس سلسلے میں ما بعدالصنعتی دنیا (post industrial world) کابے لاگ تنقیدی مطالعہ کرنا ہو گاکہ اس نے انفرادی اور سماجی موزونیت کو کس حد تک کہاں اور کیسے منتشر کیا ہے۔
دینِ اسلام کے تمام پہلوؤں کے درمیان normative relation پر ہمارے ممدوحؒ کی گہری نظر ہے۔ اسی معیاری تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے وہ ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلانے کی کوشش کرتے ہیں:
’’ اسلامی نظامِ معیشت کا ایک اہم میدان جس کا تعلق معاشی زندگی کے ساتھ ساتھ علم اور عدلیہ سے بھی رہا ہے، جس کا تعلق معاشرتی انصاف سے بھی بہت گہرا ہے، وہ اسلام کا ادارہ وقف ہے۔ یہ ایک ایسا منفرد ادارہ ہے جو روزِ اول سے اسلام کی تاریخ میں قائم رہا۔ سب سے پہلا وقف خود سرکارِ دوعالم علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ میں سب سے پہلا وقف قائم کرنے کی توفیق اور شرف سید نا عمر فاروقؓ کو حاصل ہوا۔ یہ ادارہ دینی، معاشرتی، تعلیمی، اقتصادی، تہذیبی، ثقافتی اور نیم عدالتی ادارہ رہا ہے۔ زندگی کے ان تمام پہلوؤں میں وقف کے ادارہ نے مثبت اور نئے نئے اثرات پیدا کیے ہیں۔ امام شافعیؒ کا ارشاد ہے کہ وقف اسلام اور مسلمانوں کی خصوصیات میں سے ایک ہے۔ .....ایک زمانہ تھا کہ بعض بڑے بڑے مسلم شہروں کی جائیداد کا بڑا حصہ اوقاف پر مشتمل ہوتا تھا، اس لیے کہ ہر صدی میں اور ہر دور میں مالکانِ جائیداد نے اپنی جائیدادیں وقف کیں۔ مثال کے طور پر استنبول اور مکہ مکرمہ کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان شہروں کی جائیدادوں کا غالب ترین حصہ وقف پر مشتمل تھا۔ ظاہر ہے یہ اوقاف ہر دور میں قائم کیے گئے، ہر صدی میں اصحابِ خیر لوگوں نے اپنی جائیدادیں وقف کیں۔ ......وقف کا اہم اصول یہ تھا جس سے تمام فقہا اتفاق کرتے ہیں اور اس پر عمل درآمد ہر دور میں ہوا ہے کہ ’’شرط الواقف کنص الشارع‘‘ کہ وقف کرنے والے کی شرائط کااور تفصیلات کا اسی طرح سے خیال رکھا جائے گا، اسی طرح سے ان کا اہتمام کیا جائے گا، ان کی تعبیر و تشریح انھی قواعد کے مطابق کی جائے گی جس طرح شریعت کی نصوص کی پابندی کی جاتی ہے اور تعبیر و تشریح کی جاتی ہے۔ اس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلامی تاریخ میں وقف کا ادارہ کتنی اہمیت رکھتا تھا۔ ‘‘ (دوسرا خطبہ: ص۱۱۸،۱۱۹)
ڈاکٹر صاحب کی بیان کردہ وقف کی اہمیت، اس کی بابت اسلاف اور مسلم سوسائٹی کا طرزِ عمل، نیز امام شافعیؒ کا اسے اسلام اور مسلمانوں کی خصوصیات میں شمار کرنا، ہمارے آج کے عمومی رویے سے میل نہیں کھاتا۔ اب بات یہاں تک بڑھی ہوئی ہے کہ وقف کو خیراتی ادارے کا نام دے کر اس کی مشابہت عیسائی مشنری اداروں میں ڈھونڈی جاتی ہے اور یہ کام ایسے لوگ کرتے ہیں جو اپنے تئیں دین اسلام کے مزاج سے پوری واقفیت رکھتے ہیں۔ اور تو اور، ہمارے ہاں جو تھوڑے بہت وقف موجود ہیں، ان کی جائیدادوں پر قبضہ کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی جاتی۔ اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ اسلام کو لوٹے مصلے کی تنگنائے سے نکال کر اس کے حقیقی مزاج سے ہم آہنگ دینی تعبیر لوگوں کے اذہان میں بٹھائی جائے تاکہ وقف جیسے امتیازی اسلامی اداروں کا احیا ممکن ہو سکے۔ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ وقف کا احیا عصری تقاضوں کی مطابقت میں ہونا چاہیے تاکہ مسلم معاشرہ اس کے عملی ثمرات سے بہرہ مند ہو سکے۔ لہٰذا ڈاکٹر غازی مرحوم کی اس تجویز سے اتفاق ضروری ہو جاتا ہے کہ :
’’اگر ایسے اوقاف قائم کر دیے جائیں جو لوگوں کو ذاتی ضروریات کے لیے بلا سود قرض دیا کریں تو بینکوں کا بہت سا بوجھ بھی کم ہو جائے گا اور عام لوگوں کی ایک حقیقی ضرورت کی تکمیل کا بندوبست بھی ہو جائے گا۔ یہ اوقاف حکومتِ پاکستان بھی قائم کر سکتی ہے، مختلف بنک بھی قائم کر سکتے ہیں، افراد بھی قائم کر سکتے ہیں۔ وقف کی یہ رقم سرمایہ کاری میں لگا دی جائے، اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں جو آمدنی ہو، اس آمدنی کو بھی وقف سمجھا جائے اور جس شخص کو بلا سود قرضے کی ضرورت ہو، مثلاًعلاج کے لیے شادی تعلیم حج وغیرہ کے لیے تو وہاں سے بلا سود قرضہ لے لے۔ اسی طرح بیت المال میں اس بات کا بندوبست ہو سکتا ہے۔ پاکستان بیت المال الحمد للہ موجود ہے۔ یہ ادارہ پندرہ بیس سال سے کام کر رہا ہے۔ اگر بیت المال میں ایسا بندوبست کر دیا جائے کہ ایک ریوالونگ فنڈ ہو، اس کو کسی کامیاب اور جائز سرمایہ کاری میں لگا دیا جائے۔ مثلاًاس کے حصص خرید لیے جائیں اور اس فنڈ کی آمدنی سے ذاتی مقاصد کے لیے لوگوں کو غیر سودی بنیادوں پر صرفی قرضے دیے جائیں تو یہ بیت المال کے مقاصد کے عین مطابق ہوگا۔ .......اگر قرضوں کی یہ اسکیم بیت المال میں شروع کر دی جائے تو بڑے پیمانے پر لوگ اس سے مستفید ہوں گے۔ جو بیت المال سے قرضہ لے کر حج کر آئے گا وہ زندگی بھر بیت المال کا شکر گزار رہے گا۔‘‘ (دسواں خطبہ: ص ۳۷۲، ۳۷۳)
واقعہ یہ ہے کہ وطنِ عزیز کے جس طبقے کی حمایت میں ڈاکٹر صاحب یہ تجاویز پیش کر رہے ہیں، اس طبقے کی جوانی نا گفتہ بہ معاشی حالت کی نذر ہو جاتی ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ اس طبقے کی اکثریت زندگی کے آخری ایام میں آرام کرنے کے بجائے حج کی مشقت اٹھانے کو ترجیح دیتی ہے اور یوں ان کی زندگی بھر کی کمائی آخرت کے ذخیرے کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ اس لیے ہمارے ممدوحؒ کا یہ فرمانا کہ بیت المال سے قرضہ لے کر حج کرنے والا زندگی بھر بیت المال کا شکرگزار رہے گا، حقیقت بیانی نہیں ہے۔ اس بے چارے کی زندگی باقی ہی کتنی رہ جاتی ہے؟ یہاں بنیادی سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرض اٹھا کر حج کرنے کی ترغیب دینا کیا مقاصدِ شریعت سے مطابقت رکھتا ہے؟ پھر جس طبقے کو قرض اٹھا کر حج کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے، کیا اس کی معاشی زندگی اس سطح کی ہوتی ہے کہ وہ قرض لے کر کسی معاشی سرگرمی میں ملوث ہونے کے بجائے حج کرنے کی ٹھان لے؟ کیا اس طبقے کی معاشی حالت اور حج کے تقاضے ہم آہنگ اور باہم مربوط ہیں؟ اگر ڈاکٹر صاحب فرماتے کہ وقف یا بیت المال کی آمدنی کا چند فی صد حصہ ایسے طبقے کے حج کرنے کے لیے مختص کر دیا جائے تو یہ بہتر تجویز ہوتی۔البتہ صرفی قرضوں کی تجویز کی حد تک ڈاکٹر غازیؒ سے سو فی صد اتفاق کرنا پڑتا ہے۔ ایسے قرضے بلا شبہ وقت کی اشد ضرورت ہیں۔ اس قسم کی تجاویز ڈاکٹرمحمود غازی مرحوم کے زرخیز ذہن کی عکاسی کرتی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرحوم کا نقطہ نظرمجموعی طور پر واقعیت پسندانہ ہے۔ درج ذیل اقتباس ہی ملاحظہ کیجیے کہ ان کی سوچ کے اس رخ کا اس میں خوب اظہار ہو رہا ہے:
’’ بیمہ اورانشورنس کا اصل محرک شرعاًقابلِ اعتراض نہیں ہے۔ یہ بات کہ اگر ایک شخص کو معاشی پریشانی کا سامنا ہو یا مالی مشکلات پیش آئیں تو دوسرے لوگ مل کر اس کی مدد کریں، یہ تصور شریعت میں پسندیدہ ہے اور شریعت کے احکام کے عین مطابق ہے۔ ایک حد تک یہ تصور اسلام میں پہلے دن سے موجود ہے۔ عاقلہ کے احکام احادیث میں تفصیل کے ساتھ دیے گئے ہیں۔ عاقلہ کے معنی یہی ہیں کہ کسی شخص پر اس کی کسی غلطی کے بغیر، کسی جرم کے بغیر یا محض بھول چوک سے کوئی تاوان مثلاًدیت یا ضمان عائد ہو جائے تو پوری برادری یا قبیلہ یا بستی کے لوگ مل کر اس کو ادا کریں۔ یہ تصور میثاقِ مدینہ میں بھی موجود ہے۔ جس کو اسلام کا پہلا تحریری دستور قرار دیا گیا ہے اور بعض اہلِ علم نے اس کو دنیا کی تاریخ کا پہلا تحریری دستور بھی قرار دیا ہے۔ اس میں یہ بات موجود ہے کہ عاقلہ کا جو نظام قریش میں پہلے سے موجود تھا وہ بدستور جاری رہے گا۔ جس جس قبیلے میں عاقلہ کا جو نظام موجود تھا، وہ اسی طرح موجود رہے گا اور ہر گروہ رائج الوقت معروف طریقے اور انصاف کے مطابق اپنے مقروضوں کا قرض ادا کرتا رہے گا۔ خود قرآن مجید میں زکوٰۃ کی مدات میں ایک اہم مد غارمین کی رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص مقروض ہو تو اس کا قرض زکوٰۃ سے ادا کر دیا جائے۔ .......فقہائے اسلام میں سب سے پہلے جس نے اس پر توجہ دی، وہ علامہ ابن عابدینؒ ہیں جو اپنے زمانے کے غالباًسب سے بڑے حنفی فقیہ تھے اور متاخرین فقہائے احناف میں ان کا بہت اونچا درجہ ہے۔ انہوں نے اس کے لیے سوکرہ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ یہ غالباًسکیورٹی کا معرب ہے۔ ..... انہوں نے اس معاملے کو غیر مشروع اور حرام قرار دیا ہے یعنی اس صورت کو جو ان کے زمانے میں یورپ میں رائج تھی، اس کو انہوں نے حرام قرار دیا۔ .....وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے غور و خوض ہوتا گیا، بیمہ کاری کی عملی تفصیلات واضح ہوتی گئیں، بیمہ کے رائج الوقت قوانین سے آگاہی ہوتی گئی۔ بیمہ کے بارے میں شریعت کا نقطہ نظر بھی واضح ہوتا گیا اور بالآخر یہ طے ہوا کہ تعاونی بیمہ Cooperative Insurance جائز ہے۔ .....لیکن تجارتی بیمہ کے بارے میں علمائے کرام کی غالب اکثریت کا کہنا ہے کہ یہ ناجائز اور حرام ہے۔ ......بیمہ کے ساتھ ساتھ ایک اہم مسئلہ جس کا ابھی تک قابلِ عمل اور شریعت کے اعتبار سے قابلِ قبول حل مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکا، وہ Re-insurance کامعاملہ ہے۔ ری انشورنس سے مراد یہ ہے کہ بڑی بڑی انشورنس کمپنیاں اپنے انشورنس کے معاملات کی بھی انشورنس کرواتی ہیں۔ یہ ری انشورنس یعنی بیمہ کا بیمہ بہت بڑی بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ ابھی تک ری انشورنس کی کوئی قابلِ ذکر اور بڑی کمپنی دنیائے اسلام کے کسی ملک میں موجود نہیں ہے۔ ری انشورنس کے لیے جدید ماہرین نے ری تکافل کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ انگریزی میں تکافل اور ری تکافل کا لفظ اب عام استعمال ہونے لگا ہے۔‘‘(گیارھواں خطبہ:ص۴۲۲،۴۲۳،۴۲۴)
بظاہر بیمہ اور عاقلہ کے درمیان ایسا تعلق بنتا نظر نہیں آتا جیسا کہ ڈاکٹر غازیؒ نے بنا دیا ہے البتہ دونوں کے مقاصد پیشِ نظر رکھے جائیں تو نہ صرف ایسے تعلق کی گنجایش نکلتی ہے بلکہ بیمہ کو عاقلہ کا قائم مقام ٹھہرا کر ترویج دینے کی بھی ترغیب پیدا ہوجاتی ہے۔ لیکن اس سلسلے میں ایک بنیادی اشکال وارد ہوتا ہے کہ ماضی میں تو عاقلہ کے فرائض قبیلہ انجام دیتا تھا جدید دور میں اس کی کیا صورت ممکن ہوسکتی ہے؟ اگر عاقلہ کی ذمہ داری ریاست یا ریاست کے زیرِ انتظام کسی ادارے کے سپرد کر دی جائے تو اس سے ایک تو قومی ریاست کے جدید تصور کو قبولیت عامہ ملتی ہے جس سے اسلام کا تصورِ ملت جو عوامی حلقوں میں کسی نہ کسی حد تک اب بھی پایا جاتا ہے، مجروح ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بفرضِ محال قومی ریاست اور تصورِ ملت میں تطبیق دے لی جاتی ہے تو پھر بھی جدید مسلم قومی ریاستوں میں کرپشن میں روزافزوں اضافہ، عاقلہ کی ذمہ داریاں ریاست کے سپرد کرنے میں مانع ہو جاتا ہے۔ اس لیے علاقائی بنیادوں (یعنی قومی ریاست) کے بجائے گروہی شناخت کے دیگر عناصر مثلاًبرادری، زبان، نسل وغیرہ، کو اگر نظری اعتبار سے بھی قبول کر لیا جائے(کہ عملاًانہیں قبولیت عامہ حاصل ہے)، تو نہ صرف ایک مصنوعی غیر فطری شناخت (یعنی قومی ریاست)جو گروہوں کے سر تھوپ دی گئی ہے (جس کی وجہ سے نہ مطلوب اجتماعی نظم قائم ہوتا ہے اور نہ مطلوب مقاصد حاصل ہو پاتے ہیں) سے چھٹکارا مل سکتا ہے اور اسے اس کی فطری حدود میں پابند کیا جا سکتا ہے بلکہ گروہی شناخت کے فطری عناصر کو راہ ملنے سے حقیقی معنوں میں ایسا نظمِ اجتماعی قائم ہو سکتا ہے جس پر لوگ (یعنی متعلقین گروہ) واقعتادل و جان سے نثار ہوں گے۔ واقعہ یہ ہے کہ عاقلہ کی ذمہ داری ایسا ہی نظم اجتماعی بطریق احسن پوری کر سکتا ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ فی الحال(یعنی عبوری دور کے لیے) عاقلہ کی ذمہ داری ریاست کو تفویض کر کے کیا اصلاحِ احوال کی امید کی جاسکتی ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا مصلحت کے خلاف ہو گاکہ یہ عبوری دور ہمیشہ ناتمام رہے گا۔ اس لیے عبوری دور کے لیے، ریاست کے بجائے معاشرے کے مختلف گروہوں کو یہ اختیار تفویض کر دیا جائے تو ایک تو یہ گروہ نسبتاًذمہ دارانہ کردار ادا کریں گے اور دوسرا یہ کہ یہی گروہ ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے بتدریج دیگر ریاستی فرائض بھی سنبھالتے چلے جائیں گے اور اس دوران میں ان مختلف سماجی گروہوں کے درمیان باہمی انحصار (inter-dependence) پر مبنی ایسی موافقت بھی پروان چڑھے گی جس کے نتیجے میں امہ یا ملت کا تصور حقیقی معنوں میں اور عملی صورت میں رونما ہو سکے گا۔ اس وقت وطن عزیز میں مختلف سماجی گروہ برادری وغیرہ کی بنیاد پر عاقلہ سے مماثل فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ مثلاً مختلف شہروں میں مختلف برادریوں نے ٹرسٹ ہسپتال اور تعلیمی ادارے قائم کر رکھے ہیں جن کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ اسی عمل کی توسیع کرتے ہوئے اگر بیمہ وغیرہ کو بھی شامل کر لیا جائے تو کامیابی کی امید کی جا سکتی ہے، کیونکہ برادری زبان وغیرہ انسانی شناخت کے فطری عوامل ہیں، اس لیے ان بنیادوں پر لوگ آپس میں انس و قربت محسوس کریں گے اور ایک دوسرے پر اعتماد بھی کریں گے۔ اس طرح تشکیل پانے والے نظام میں کسی برادری کے سرکردہ لوگ یعنی عاقلہ کے مدار المہام بھی اخلاقی دباؤ میں پوری طرح جکڑے ہوئے ہوں گے، کیونکہ برادری سے کٹ کر اور برادری کے مفادات سے ہٹ کر کوئی فیصلہ کرنا، کوئی قدم اٹھانا ان کے لیے عملاً ممکن نہیں ہو گا۔ اس کے برعکس اگر یہ ذمہ داری ریاست کے سپرد کر دی جائے تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ فرد اور ریاست ایک دوسرے کو فریق کے طور پر دیکھتے ہیں۔ عاقلہ کا بنیادی فلسفہ یہی ہے اور اس کے احیا کا بنیادی تقاضا بھی یہی ہے کہ فرد اور عاقلہ کے درمیان کسی بھی حوالے سے کسی بھی نوعیت کے تناؤ یا کھینچا تانی کا کوئی احتمال سرے سے پایا ہی نہ جاتا ہو، بلکہ فرد اور عاقلہ ایک دوسرے سے پوری طرح ہم آہنگ ہوں، موافق ہوں، موزوں ہوں۔
واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں صنعتی انقلاب کے بعد انسانوں کے مابین ایک نیا رشتہ تشکیل پایا ہے، وہ ہے مالک اور مزدور کا رشتہ۔ یہ رشتہ سماجیوں اکائیوں میں ایک نیا اضافہ ہے۔ اگر شروع میں ہی مالک اور مزدور کے تعلق کو ایک نئی سماجی اکائی کے طور پر دیکھا جاتا تو اسلام کے تصورِ عاقلہ وغیرہ کے تحت مالک اور مزدور کے معاملات بطریق احسن لازماً سلجھالیے جاتے۔ لیکن اب ٹریڈ یونینز اور لیبر یونینز، مالکان کو حریف کے طور پر دیکھتی ہیں اور مالکان بھی ان سے خائف رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دو طرفہ مفاہمانہ طرزِ عمل کے بجائے مخاصمانہ انداز و اطور اختیار کیے جاتے ہیں۔ مالکان سیاست کرتے ہوئے ان یونینز کے عہدیداران کو ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور یہ عہدیداران ذاتی مفادات کی خاطر اپنی کمیونٹی کے مفادات کو قربان کر دیتے ہیں۔ لیکن جہاں کہیں مالک اور مزدور کے مابین مفاہمانہ طرزِ عمل سامنے آیا ہے، وہاں نہ صرف باہمی مخاصمت میں کمی واقع ہوئی ہے بلکہ مالک اور مزدور دونوں کو سہولت میسر آئی ہے، مثلاً سوشل سکیورٹی ہسپتال اور تعلیمی ادارے دیکھ لیجیے۔ اس لیے مالک اور مزدور کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ وہ ایک ہی کشتی کے سوار ہیں، یعنی اس نئے رشتے نے انہیں عاقلہ کی لڑی میں پرو دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم ممالک میں چونکہ صنعتی انقلاب کے اثرات بہت بعد میں آئے، اس لیے یہ ممالک نسبتاً زیادہ بہتر پوزیشن میں تھے کہ مغربی ممالک میں مالک اور مزدور کے تعلق کی کش مکش کو مد نظر رکھتے ہوئے اصلاحِ احوال کی غرض سے کوئی متبادل صورت پیش کرتے اور اپنے ہاں صنعتی پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ اس متبادل نظام کو رائج کرکے اس گھمبیر مسئلے کا حل دنیا کے سامنے پیش کر دیتے۔ اگر ایسا ہوتا تو مسلم ممالک کے فکری راہنماؤں کی نظر عاقلہ جیسے اسلامی اداروں کی طرف اٹھ سکتی تھی، لیکن افسوس ایسا نہیں ہو سکا۔ مسلمان تو کوئی متبادل نظام پیش کرنے سے قاصر رہے ، البتہ سوشلزم اور کمیونزم جیسا انتہا پسندانہ تصور قبولیتِ عامہ سے بہرہ مند ہوا، لیکن اس سے مالک اور مزدور کے مسائل بطریق احسن سلجھ نہیں سکے۔اس لیے اگر اسلام کے تصورِ عاقلہ کو اب بھی عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تو مالک اورمزدور کے تعلق سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں مثبت پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے، کیونکہ عاقلہ کا طرہ امتیاز انس و قربت ہے نہ کہ چپقلش و کش مکش۔
اگر واقعیت پسندی سے کام لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے ہاں فرقہ وارانہ فضا نے بھی مختلف فرقوں کو الگ الگ سماجی اکائیوں میں بانٹ رکھا ہے۔ اس اندوہ ناک صورت کو بھی مثبت جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔ ایک ہی فرقے سے وابستہ لوگ آپس میں انس و قربت محسوس کرتے ہیں۔ ان کے احساسات کو عاقلانہ تنظیم دے دی جائے تو نہ صرف ایسے فرقہ وارانہ فروعی مسائل کا بیان کافی کم ہو جائے گا جن کا زندگی اور مقاصدِ شریعت سے دور کا بھی تعلق نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ فروعی مسائل کی اس جہت کو بھی فروغ حاصل ہو گا جو مقاصد شریعت سے پوری طرح ہم آہنگ ہو گی۔
اس سلسلے میں مسئلہ یہ ہے کہ مذہبی حلقوں کی طرف سے ایسے اقدامات کی بابت حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کی ہی توقع کی جاسکتی ہے کہ اہلِ مذہب کے نزدیک اس عمل سے امت کے مزید منتشر ہونے کا خطرہ ہے۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ امت صرف تصور کی حد تک کتابوں میں پائی جاتی ہے، اس کا سرے سے جسمانی وجود ہی نہیں ہے، چہ جائیکہ منتشر ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے۔ مذہبی حلقوں کے اس طرزِ عمل سے البتہ اتنا ضرور ہوا ہے کہ مثبت جہت میں منظم ہونے کے بجائے ایسے مختلف سماجی گروہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں اور ان کا رخ بھی غلط اطراف میں مڑتا جا رہا ہے۔ اس طرح سماج کاری (socialization) کے جس جاری عمل سے عاقلہ کے ظہور کی عملی صورت ممکن ہو سکتی تھی، اس کی راہ میں قدم قدم پر اسپیڈ بریکر قائم ہو گئے ہیں۔ اس تشویش ناک صورتِ حال میں بھی اگر گروہی شناخت کے فطری مظاہر کو تسلیم کر لیا جائے اور علاقائی بنیاد پر قائم قومی ریاست کے بجائے ان سماجی گروہوں سے عاقلہ جیسے فرائض کی بجاآوری کی توقعات وابستہ کر لی جائیں تو اس امر میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ بہت ہی کم عرصے میں یہ سماجی گروہ قدیم زمانے کے قبائل کے مانند عاقلہ کا بھر پور کردار ادا کریں گے۔اس سلسلے میں ہم محض اشارے کنایے میں یہ گزارش کریں گے کہ ایک امتیازی اسلامی ادارے وقف کو بھی عاقلہ کے ساتھ منسلک کر دیا جائے تو مختلف شناختوں کے حامل صاحبِ ثروت افراد اپنے اپنے مخصوص گروہ کے لیے جائیدادیں وقف کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے جس کے نتیجے میں معاشرتی و معاشی(نیز اخلاقی) ابتری میں خاطر خواہ حد تک کمی واقع ہوگی۔
مذکورہ بالا اقتباس کے آخر میں ڈاکٹر محمود مرحوم نے بیمہ کا بیمہ یعنی ری انشورنش یا ری تکافل کی بات کی ہے۔ ہمارے خیال میں ایسے امور میں قومی ریاست زیادہ بہتر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہو گی، لیکن ایسی قومی ریاست جو مختلف شناختوں کے حامل مختلف سماجی گروہوں کی حقیقت یعنی کثرت میں وحدت (unity in diversity) کو قبول کرتے ہوئے وحدت میں کثرت (diversity in unity ) کا واقعیت پسندانہ مظاہرہ کرے۔ اسی اصول کو مزید پھیلاتے ہوئے عالمی سطح پر اوآئی سی، رابطہ عالم اسلامی وغیرہ کے پلیٹ فارم سے بیمہ کا بیمہ کا بھی بیمہ ممکن ہو سکے گا جس کے نتیجے میں معیشتِ اسلامی کا ایک گم گشتہ باب عصری تقاضوں کی مطابقت میں بازیافت ہو گا۔
وسائل رزق اور مال و دولت کی انسانی زندگی میں کیا اہمیت ہے، ڈاکٹر محمود احمد مرحوم اس پر یوں اظہارِ خیال کرتے ہیں:
’’یہ مال و دولت یہ وسائل جو اللہ نے روئے زمین پر پیدا کیے ہیں، یہ انسانی معاشرے کے لیے وہی حیثیت رکھتے ہیں جو انسانی جسم کے لیے خون کی ہے۔ قرآن کریم نے مال و دولت کو قیام للناس کے لفظ سے یاد کیا ہے۔ ......کوئی معاشرتی یا اجتماعی زندگی، معاشی سرگرمی کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی اور معاشی سرگرمی کے لیے مال و دولت کا ہونا وسائل رزق او راسبابِ پیداوار کا ہونا ناگزیر ہے۔ اس لیے اسبابِ رزق اور وسائل پیدا وار کی حیثیت قیام للناس کی ہے۔‘‘(پہلا خطبہ:ص۲۶)
واقعہ یہ ہے کہ اگر تعصب آڑے نہ آئے تو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ کارل مارکس کی جدلیاتی مادیت (Dialectical Materialism ) کا پس منظر جدا ہے، الفاظ جدا ہیں، ورنہ قیام للناس اور اس کے درمیان کوئی آہنی پردہ (iron curtain) حائل نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی درج ذیل وضاحت سے مزید صراحت ہو جاتی ہے۔ فرماتے ہیں:
’’انسان یہ سمجھ لے کہ جو مال و دولت میرے تصرف یاقبضے میں ہے، میں اس کا حقیقی مالک نہیں ہوں۔ ’’المال مال اللہ‘‘ یہ سارا مال اللہ کا ہے اور میری حیثیت اس مال میں اللہ کے جانشین کی ہے۔ ’’مستخلفین فیہ‘‘ کہ تم لوگوں کواس مال میں اللہ کا جانشین بنایا گیا ہے، اس لیے یہ رویہ ’’ان نفعل فی اموالنا ما نشاء‘‘ کہ ہم اپنے مال میں جو چاہیں کریں، یہ رویہ درست نہیں ہے۔ گویا جس رویے کو مغربی معاشیات کی تاریخ میں laissez faire کہا جاتا ہے، یہ رویہ اسلامی شریعت سے متعارض ہے۔ اسلامی معیشت ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک ریگولیٹڈ معیشت کی علم بردار ہے۔‘‘ (پہلا خطبہ: ص ۳۱، ۳۲)
پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ’’المال مال اللہ‘‘ اور ’’مستخلفین فیہ‘‘ کی تشریح یک رخی کی ہے۔ سورۃ النساء، آیت۹۷ میں ’’مستضعفین فی الارض‘‘ (oppressed in earth) جیسے جواز پر اللہ رب العزت کی گرفت: ’’ فَأُوْلَئِکَ مَأْوَاہُمْ جَہَنَّمُ وَسَاءتْ مَصِیْراً‘‘ کتنی سخت ہے، اس کو دھیان میں رکھیے اور سورۃ الحدید کی آیت۷ میں مذکور ’’مستخلفین فیہ‘‘ (in which as deputies) پر دوبارہ غور کیجیے۔ کیا اس کا یہی مطلب نہیں کہ جب مال کسی بشر کی ملک ہی نہیں بلکہ بشر مستخلفین (deputies) ہیں تو پھر وہ کیونکر خود کو پستی میں گرا کر مستضعفین (oppressed) کی سطح پر قانع ہو جاتے ہیں۔ اس لیے مستضعفین کا جدوجہد کر کے خود کو مستخلفین کی صف میں شامل کرانا (یعنی یکساں حقوق و یکساں نیابت کا دعویٰ کرنا) شارع کا منشا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اسے مسلمہ حقیقت (settled fact) قراردے رہے ہیں کہ سبھی انسان مستخلفین ہیں اور مستضعفین سرے سے موجود ہی نہیں ہیں، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں، مسلم ممالک میں اور وطن عزیز میں کتنے فی صد لوگ ہیں جو مستخلفین کی حیثیت میں جی رہے ہیں اور کتنے فی صد لوگ مستضعفین کی پست سطح پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، یہ جاننے کے لیے کیا اعداد و شمار کے گورکھ دھندے کی ضرورت ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ قرآن مجید نے نوعِ انسانی کو اصولاًاور مقصوداً مستخلفین کے مقام سے نوازا ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے سورۃ الحدید جیسے بیانات یاددہانی اور تنبیہ سے عبارت ہیں کہ کہیں نوعِ انسانی کا کوئی طبقہ اپنے تئیں مستخلفین کی سطح سے بلند ہوکر قارون کی طرح مال و دولت کا مالک بن بیٹھے اور دیگر طبقات کو مستضعفین کی انتہائی پست و حقیر سطح پر لے آئے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انتہائی طاقت ور ہونا اور انتہائی کم زور پسا ہوا ہونا، قرآن کے مطابق دو انتہائیں ہیں اور ان کے درمیان نقطہ اعتدال مستخلفین ہونا ہے۔ غالباًڈاکٹر غازی مرحوم مستضعفین کو قارونی طبقہ کے خلاف بغاوت پر اکسا کر قرآنی نقطہ اعتدال (جسے وہ خود قیام للناس کہتے ہیں) کے ابلاغ کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں ہیں، اسی لیے مستخلفین کو امر واقعی کے انداز میں لے رہے ہیں۔ خیر! یہ کوئی نئی بات نہیں،تاریخ بتاتی ہے کہ (شاہ ولی اللہؒ اور کارل مارکس جیسے افراد کے استثنا کے ساتھ) علما اور سکالرز کی اکثریت کا یہی شیوہ رہا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ laissez faire سے مراد معیشت کا ریاستی کنٹرول سے حتی الامکان آزاد ہونا ہے۔ اگر ’’الاصل فی المعاملات الاباحۃ‘‘ کے اصول کے تناظر میں دیکھا جائے تو laissez faire کو اسلامی شریعت سے متعارض قرار دینا اتنا آسان نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ بازار کے معاملات کو آزاد چھوڑ دینا چاہیے، اس لیے ریگولیٹڈ اکانومی کو اسلامی قرار دینا خاصا مشکل ہے کہ اس میں بازار کے معاملات میں(ریاست وغیرہ کی طرف سے) غیر فطری مداخلت کا احتمال موجود رہتا ہے۔ اسلامی معیشت کے بارے میں البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مائیکرو لیول پر اس میں laissez faire کی گنجایش موجود ہے اور میکرو لیول پر ریگولیشن کی، یعنی ریاست ضرورت پڑنے پر فطری مداخلت کی حد تک محدود رہے۔ سیدنا عثمان غنیؓ کے درج ذیل طرزِ عمل سے بخوبی اندازہ ہو تا ہے کہ فرد کی آزادی اور ریاست کی حاکمیت کے درمیان خط تفریق کہاں کھینچا جاناچاہیے:
’’ حضرت عثمان غنیؓ کے زمانے سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ اموالِ ظاہرہ کی زکوٰۃ ریاست وصول کرتی تھی اور اموالِ باطنہ کی زکوٰۃ افراد خود دیا کرتے تھے۔ سیدنا عثمان غنیؓ کو اللہ تعالیٰ نے بہت غیر معمولی بصیرت عطا فرمائی تھی۔ انہوں نے بہت سے معاملات میں ایسے فیصلے کیے جن کے بہت دور رس اثرات ظاہر ہوئے اور اگر وہ یہ فیصلے نہ فرماتے تو آج بہت سے مسائل کھڑے ہو گئے ہوتے۔ چنانچہ اموالِ ظاہرہ اور اموالِ باطنہ کی تقسیم بھی ان اہم معاملات میں سے ایک ہے۔ سیدنا عثمان غنیؓ نے یہ محسوس فرمایا کہ ہو سکتا ہے آئندہ چل کر کچھ لوگ اپنے اموالِ باطنہ کی زکوٰۃ دینے میں تامل کریں۔ محصلِ زکوٰۃ اصرار کرے کہ ان کے پاس مال ہے، وہ اصرار کریں کہ ان کے پاس مال نہیں ہے اور نوبت تلاشی اور گرفتاری تک پہنچے تو یہ سرکاری کارندوں کو ایک ایسا ہتھیار دینے کے مترادف ہو گا جس سے کام لے کر سرکاری کارندے ہر شخص کی شخصی زندگی میں بے جا مداخلت کر سکتے ہیں۔ یوں تجسس کا ایک ایسا مکروہ عمل عام ہو جائے گا جس کے نتیجے میں بہت سی قباحتیں پیدا ہوں گی۔ شریعت نے تجسس سے منع کیا ہے۔ عامۃ الناس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اس لیے یہ توقع کرنی چاہیے کہ عامۃ الناس اپنے اموالِ باطنہ کی زکوٰۃ خود ادا کر دیں گے اور اموالِ ظاہرہ کی زکوٰۃ ریاست وصول کرے گی۔‘‘ (پانچواں خطبہ: ص ۲۱۴، ۲۱۵)
بہرحال! فرد کی معاشی آزادی اور ریاستی مداخلت کی حدود خاصا نازک مسئلہ ہے۔ یہ تناؤ اور کھینچا تانی کی دو مستقل حالتیں ہیں، اس لیے ان میں سے کسی ایک کی بہت واضح برتری، معاشی واخلاقی توازن کے بگاڑ کا باعث بنتی ہے۔ لیکن یہ ایک زاویہ نگاہ ہے اسے دوسرے زاویے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر محمود مرحوم فرماتے ہیں کہ:
’’ یہ بات کہ تجارت میں حصہ لینا فی نفسہ نیکی کا کام ہے اور خدمتِ خلق ہے، یہ متعدد احادیث میں بیان ہوئی ہے۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا اور یہ روایت موطا امام مالکؒ میں موجود ہے کہ جو شخص گرمی سردی کی پرواہ کیے بغیر ہماری منڈیوں میں باہر سے مال لے کر آتا ہے اور اس کو فروخت کرتا ہے تو وہ عمر کا مہمان ہوگا ، یعنی سرکاری مہمان ہوگا۔ ہماری مہمانی کے دوران جس طرح چاہے، اپنا سودا فروخت کرے اور جتنا چاہے، فروخت کرے اور جتناچاہے، فروخت نہ کرے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ تاجروں کو سہولتیں فراہم کرے اور ان سہولتوں کو فراہم کرنے میں سرکاری وسائل بھی خرچ کرے۔ ‘‘(چھٹا خطبہ: ص ۲۳۶، ۲۳۷)
نیکی کے جس تصور کی تبلیغ ڈاکٹر غازی مرحوم کر رہے ہیں ، اس کا تصور بھی ہمارے ہاں محال ہے۔ لیکن فاروقِ اعظمؓ کا عمل صراحت کر رہا ہے کہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتگان نیکی کے حقیقی تصور سے نہ صرف پوری طرح آگاہ تھے بلکہ عملاًاس پر کاربند تھے۔ تاجر کو سرکاری مہمان بنانے والی بات پر ذرا غور تو کیجیے کہ مومنین کی ہےئت اجتماعی(خلیفہ یا خلافت) اس کی مہمان نوازی کر رہی ہے۔ خیال رہے کہ خلافت کے ذریعے سے مومنین اور اسلام کے مجموعی فکر و عمل کا اظہار ہوتا ہے۔ اس اظہار کی نوعیت پر دوبارہ غور تو کیجیے اور اپنے ہاں رائج دین کے فرسودہ تصور پر ماتم کیجیے۔ اس اقتباس کا یہ بیان کہ ’’جس طرح چاہے جتنا چاہے اور جتنا نہ چاہے‘‘ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا ڈاکٹر مرحوم نے بنا دیاہے۔ اس کی بابت ہماری رائے یہ ہے کہ سیدنا عمرفاروقؓ کے اس بیان کو ان کے دیگرمعاشی سرگرمیوں سے متعلق بیانات اور شریعت کے منشا کے ساتھ ملا کر سمجھنا چاہیے۔
یہاں موقع کی مناسبت سے غنیمت معلوم ہوتا ہے کہ چند اصولی نکات پر بحث چھیڑی جائے تاکہ فرد کی آزادی اور ریاستی مداخلت کے حوالے سے دوسرا زاویہ نگاہ سامنے آ سکے۔ دیکھا جائے تو فرد کی آزادی کے دو پہلو ہیں: مثبت اور منفی۔ مثبت سے مراد فرد کو ایسی سہولیات کی فراہمی ہے جن کے بغیر اس کی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار نہیں ہو سکتا اور منفی سے مراد فرد کی خود غرضی وغیرہ کی تہذیب کے لیے اس پر پابندیاں عاید کیا جانا ہے کہ اس کی خود غرضی سے دوسرے افراد کی آزادی کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں(اور اس سے اس کی اپنی آزادی بھی غیر محفوظ ہو جاتی ہے)۔ اسی بات کو پلٹا کر دیکھا جائے تو ریاستی مداخلت کے بھی دو پہلو سامنے آتے ہیں، مثبت اور منفی۔ فرد کی صلاحیتوں کے بہتر اظہار کی غرض سے اگر ریاست مداخلت کرتے ہوئے سہولتیں فراہم کرتی ہے تواسے مثبت مداخلت کا ہی نام دیا جا سکتا ہے اور فرد کی خود غرضی وغیرہ کی تہذیب کے لیے اگر اس پر پابندیاں عائد کرتی ہے تو اسے منفی مداخلت کہا جا سکتا ہے، لیکن چونکہ دیگر افراد یعنی سوسائٹی کی آزادی کو لاحق خطرات دور کرنے کی غرض سے منفی مداخلت کی جاتی ہے، اس لیے اسے منفی مداخلت کا عنوان دینا شاید مناسب نہ ہوگا، بلکہ یہ مثبت مداخلت سے بڑھ کر دوہری مثبت مداخلت ہے۔ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مباک کہ محمد کی بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتی تو اس کے ہاتھ کاٹ دیے جاتے، اس دوہری مثبت مداخلت کی بہترین مثال ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ اسلامی احکامات کا نفاذ ہمیشہ مثبت مداخلت کے لیے ہوتا ہے، چاہے اکہری مثبت مداخلت ہو چاہے دہری مثبت مداخلت ہو۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہوا کہ اسلامی احکامات کا نفاذ، لفظوں کی خاطر کسی انسان کی جان لینا نہیں ہے یا لفظوں کی خاطر کسی انسان کے ہاتھ کاٹنا نہیں ہے وغیرہ، بلکہ اصلاً ومقصوداً مفادِ عامہ کے تحفظ یا کلی مصلحت کی غرض سے ان احکامات کی تنفیذ کی جاتی ہے، وگرنہ حقیقت یہی ہے کہ انسان الفاظ سے کہیں زیادہ قیمتی اور اہم ہے۔ بخاری کی اس روایت پر غور کیجیے اور بتائیے کہ کیا اس میں اور ریاست کی مذکورہ دوہری مثبت مداخلت میں مماثلت نہیں پائی جاتی؟ اس روایت سے سے ہمارے موقف کی تنقیح ہو جاتی ہے:
’’اللہ کی کھینچی ہوئی حدود کا پاس رکھنے والے اور ان سے تجاوز کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کچھ لوگ تھے جنہوں نے باہم شریک ہو کر ایک کشتی حاصل کی۔ کچھ لوگوں کو اوپر کا حصہ ملا اور کچھ لوگوں کو نیچے کا۔ جو لوگ نیچے کے حصے میں رہتے تھے، ان کو پانی پینے کے لیے اوپر والوں سے ہو کر گزرنا پڑتا تھا۔ انہوں نے سوچا کہ کیا اچھا ہوتا اگر ہم اپنے ہی حصہ میں ایک سوراخ کر لیں اور اوپر والوں کو تکلیف دینے سے بچ جائیں۔ اگر لوگ ان کو ان کا ارادہ پورا کرنے دیں تو خود بھی ہلاک ہوں اور اگر ان کا ہاتھ پکڑ لیں تو وہ بھی بچ جائیں اور سب کے سب نجات پائیں۔‘‘ (بخاری، رقم ۲۳۶۱)
المختصر! کلی مصلحت یا مفادِ عامہ (public interest) کے تحفظ کے اس اصول کا پورا پورا لحاظ اسلامی معاشی احکامات کو روبہ عمل لاتے ہوئے بھی رکھنا چاہیے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب سیدناعمرفاروقؓ مہمان نوازی کی بات کرتے ہیں تو در حقیقت ریاستی مداخلت کی سنگل مثبت جہت کا اظہار کرتے ہیں اور مفادِ عامہ (public interest) کے تحفظ کے اصول کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔
اسلامی معیشت کی رو سے جدید بینکاری میں ربا(سود) ایک سنجیدہ مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم نے اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ربا کے بارے میں وہ ایک اصولی بات سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’ ربا کے باب میں ایک بنیادی اور اہم بات یاد رکھنی چاہیے، نہ صرف ربا کے باب میں بلکہ یہ حکم شریعت کے تمام معاملات اور لین دین سے متعلق ہر قسم کے کاروبار میں دیا گیا ہے: ’’العبرۃ با لمضمون والجوہر ولیس بالصورۃ والمظھر‘‘ کہ کسی کاروبار یا تجارت یا لین دین کے حلال و حرام ہونے میں اصل اعتبار اس کے مندرجات اور اس کے مضمون کا ہے، اس کی ظاہری صورت یا عنوان کا نہیں ہے۔‘‘(ساتواں خطبہ: ص ۲۷۴)
ہمارے خیال میں غلامی کے مسئلے میں بھی ظاہری صورت یا عنوان کے بجائے مندرجات حقیقت اور ماہیت کو لیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ جدید دور کی پیچیدگی نے ربا کے مانند غلامی کو بھی ملفوف کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ربا کے بارے میں تو پھر بھی بات اٹھتی رہتی ہے، لیکن غلامی کے بارے میں علما وفقہا مکمل خاموش ہیں اور اس کے نت نئے عنوانات کو اس کے مندرجات کی بنیاد پر ہدفِ تنقید نہیں بناتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جدید دور میں معاشی مسئلے کا حقیقی حل صرف ربا کے خاتمے سے ممکن نہیں ہے بلکہ ربا کا بھی مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہے جب تک کہ غلامی کے عنوان کے خاتمے سے قطع نظر اس کے مندرجات کی حقیقت کو تسلیم کرکے اصلاحِ احوال کی کوشش نہ کی جائے۔ خیر! یہ ایک جملہ معترضہ تھا۔ ڈاکٹر محمود احمد مرحوم ربا(سود) سے متعلق بات بڑھاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ:
’’ربا کی حرمت شریعت کے بہت سے احکام کی طرح بالتدریج نازل ہوئی ہے۔ شریعت کا یہ مزاج رہا ہے کہ بہت سی اصلاحات میں بہت سے اہم معاملات میں احکام کے نزول میں تدریج سے کام لیا گیا ہے۔ اگر کوئی عادت خاص طور پر عادتِ قبیحہ لوگوں میں بہت جاگزین تھی تو اس کو بیک وقت ختم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اس تدریج کی وجہ یہ ہے کہ شریعت کوئی غیر عملی نظام نہیں ہے۔ شریعت کی بنیاد محض جذبات و احساسات یا عواطف پر نہیں ہے۔ اگرچہ جذبات و احساسات و عواطف کی انسانی زندگی میں بہت اہمیت ہے اور شریعت بھی اس اہمیت کا احساس و ادراک رکھتی ہے، لیکن انسانی معاملات میں حقائق پر نظر رکھنا واقعات اور انسانی زندگی کی نفسیات کو پیشِ نظر رکھنا، یہ شریعت کے اہم امتیازی اوصاف میں سے ہے۔ ان اہم امتیازی اوصاف میں تدریج کا طریقہ کار بھی ہے۔‘‘(ساتواں خطبہ:ص۲۷۵)
تدریج کے اصول کی وضاحت ڈاکٹر صاحب کے ذمہ تھی کہ آج بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ اس کا عمومی جواب ’’نہیں‘‘ میں ملتا ہے، اس لیے ڈاکٹر صاحب اس نفی میں شریک معلوم ہوتے ہیں۔ بہرحال! ڈاکٹر غازی مرحوم مضاربہ کو سود کی متبادل اساس قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلامی بینکاری مضاربہ کی بنیاد پر کھڑی کی جا سکتی ہے، کہتے ہیں کہ:
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نوجوانی میں نبوت سے بہت پہلے مضاربہ کی بنیاد پر کاروبار کا آغاز فرمایا۔ حضرت خدیجۃ الکبریؓ کا مال لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تجارت کے لیے تشریف لے گئے۔ یہ مضاربہ ہی کی ایک شکل تھی۔ بعد میں بھی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور صحابہ کرامؓ نے مضاربہ کی بنیاد پر کاروبار کیے۔ ....... مضاربہ کی بنیادی روح یہ ہے کہ سرمایہ دار یا جس شخص کے پاس سرمایہ یا سامانِ تجارت ہے، اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ تجارت اور کاروبار میں بھی مہارت رکھتا ہو۔ دوسری طرف جو شخص تجارت اور کاروبار کے گروں سے واقف ہے اور تجارت کا تجربہ رکھتا ہے، اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ سرمایہ بھی رکھتا ہو۔ اس لیے ان دونوں کے وسائل سے بیک وقت فائدہ اٹھانے کے لیے مضاربہ کا طریقِ کار دنیا میں بہت پہلے سے رائج ہے۔ ...... بیسویں صدی کے وسط میں جب اسلامی بینکاری پر گفتگو اور بحث و مباحثے کا آغاز ہوا تو اہلِ علم کی نظر سب سے پہلے مضاربہ پر پڑی، اس لیے کہ مضاربہ وہ طریقِ کار ہے جس کو بہت آسانی کے ساتھ جدید بینکاری کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جو حضرات بینکوں میں اپنی رقوم رکھتے ہیں، ان کی حیثیت رب المال کی قرار دی جا سکتی ہے۔ گویا وہ رب المال ہیں اور وہ اپنا سرمایہ کاروبار اور تجارت کے لیے دے رہے ہیں۔ بنک کی حیثیت اس مضارب کی ہو گی جو اپنے سرمایے کو آگے مضاربہ پر دے دیتا ہے۔ فقہ کی کتابوں میں اس عنوان کے تحت اس موضوع پر بحث ہوتی ہے: ’’باب المضارب یضارب‘‘۔ مضارب اگر آگے مضاربہ کرنا چاہے تو اس کو اجازت ہے اور رب المال کی اجازت سے کچھ شرائط کے تحت وہ آگے دوسرے کاروباریوں سے مضاربہ کر سکتا ہے۔ چنانچہ بنک ان تمام رقوم کو لے کر کچھ رقوم کو تو خود کاروبار میں لگاتا ہے اور بقیہ رقوم کو وہ آگے کاروبار کے لیے تجارت کرنے والوں کو دے دیتا ہے۔ یہ entrepreneur جو بنک سے سرمایہ لے کر تجارت کرتے ہیں، صنعت لگاتے ہیں یا کوئی اور کاروبار کرتے ہیں، یہی دراصل مضارب ہیں۔ بنک کی حیثیت درمیانی کارندے کی ہے۔ یہاں بنک کی دو حیثیتیں ہیں۔ اصل رقم دینے والوں کے لیے اس کی حیثیت مضارب کی ہے اور اصل مضارب کے مقابلے میں اس کی حیثیت رب المال کی ہے۔ اس عمل کو اگر شریعت کے احکام کے مطابق انجام دیا جائے تو یہ جدید بینکاری کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے موزوں ترین اور مفید ترین طریقِ کار ہے۔‘‘(آٹھواں خطبہ:ص۳۱۴،۳۱۵)
ڈاکٹر صاحب کی تجویز بلاشبہ کارآمد ہے۔ وہ ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اسلامی طریقوں، اصولوں اورمقاصد سے مماثلت رکھنے والے مغربی یا غیر اسلامی بینکوں کے طریق ہائے کار سے سیکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے:
’’ ایک اہم بات یہ ہے کہ خود مغربی دنیا میں مضاربہ سے ملتا جلتا ایک طریقِ کار رائج ہے جس پر وہاں بہت کامیابی سے عمل ہورہا ہے۔ یہ طریقِ کار venture capital کہلاتا ہے۔ وینچر کیپیٹل کی روح بھی یہی ہے کہ سرمایہ فراہم کرنے والا ایک شخص ہو ، جس کو وہاں خاموش شریک یعنی sleeping partner کہا جاتا ہے۔ وہ براہ راست کاروبار میں حصہ نہیں لیتا ۔ دوسری طرف کاروبار کرنے والا شخص ہوتا ہے جو اصل کاروبار کرتا ہے، یہی دراصل مضارب ہے۔ وینچر کیپیٹل کو بہت آسانی کے ساتھ بغیر کسی بڑی تبدیلی کے مضاربہ کے احکام کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ ......ہمارے یہاں بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مضاربہ پر کسی کو مال دیں گے تو وہ لازماً کاروبار میں نقصان ظاہر کرے گااور یہ دعویٰ کرے گا کہ مضاربہ میں کوئی نفع نہیں ہوا۔ لہٰذا جو گھر بیٹھا شریک (sleeping partner) ہے اس کو نقصان ہی نقصان ہو گا۔ یہ اعتراض بلاشبہ وزن رکھتا ہے، اس لیے کہ ہمارا تجربہ اس طرح کی سرمایہ کاری کے بارے میں خوش آئند نہیں رہا۔ ماضی میں فائنانس کمپنیوں کے حالات اور کارکردگی سے ہم سب واقف ہیں۔ تاج کمپنی جیسے ادارے میں جو مسائل پیدا ہوئے، اس سے ہم سب واقف ہیں۔ اس لیے بعض لوگ مضاربہ پر عمل درآمد کے بارے میں واقعتا اس لیے تامل کرتے ہیں کہ اگر لوگوں کے اعتماد پر بھروسہ کر کے ان کو بھاری رقمیں سرمایہ کاری کے لیے دے دی جائیں تو اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ وہ واقعتا اصل حسابات مالکانِ سرمایہ کے سامنے پیش کریں گے اور ان کو ان کا جائز حق ادا کریں گے۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ اگر وینچر کیپیٹل کے قواعد و ضوابط کو سامنے رکھا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ مغربی دنیا میں اس پر کیسے عمل ہو رہا ہے، وہاں کے تجربات اور طریقہ کار سے استفادہ کیا جائے تو مضاربہ کو درپیش بہت سی مشکلات پر قابو پایا جاسکتاہے۔‘‘(آٹھواں خطبہ:ص۳۱۶،۳۱۷)
مغربی نظام کی افادیت و کامیابی کو ڈاکٹر غازی مرحوم صحیح تناظرمیں نہیں دیکھ پا رہے۔ مغربی بینکاری میں رائج وینچر کیپٹیل کی کامیابی کا راز محض قواعد و ضوابط کی طلسم کاری نہیں ہے۔ وہاں قواعد و ضوابط حقیقت میں امدادی و اضافی حیثیت میں کام کر رہے ہیں۔ جب بھی مغربی سوسائٹی کے معاشی مقاصد اور ان قواعد و ضوابط میں مطابقت کم ہونی شروع ہوتی ہے تو وہ لوگ قواعد پر مقاصد کو ترجیح دیتے ہوئے فوراًسے پہلے مقاصد سے ہم آہنگ قاعدی تبدیلی کر لیتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اہل مغرب بحیثیت مجموعی، اپنے معاشی مقاصد سے پوری طرح متفق اور باخبر ہیں۔ اس اتفاق و باخبری نے ان میں ایک خاص اخلاقی حِس پیدا کر رکھی ہے جس کا تعلق معاملات و معاشیات سے ہے۔ اسے ہم (business ethics) کا نام دے سکتے ہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ اس حِس کی غیر موجودگی یا اس کا خوابیدہ ہونا ہے۔ اس لیے یہ محض خام خیالی ہے کہ وینچر کیپٹیل میں رائج قواعد سے استفادہ کر کے مضاربہ کو درپیش مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ جو بات مغربیوں سے سیکھنے کی ہے ڈاکٹر غازیؒ سمیت ہم میں سے اکثر لوگ اس کے لیے ذہنی طور پر آمادہ نہیں ہیں۔ ہم کسی طور یہ تسلیم ہی نہیں کر سکتے کہ مغربی تہذیب صرف مادی اعتبار سے ترقی یافتہ نہیں ہے بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی برتر و بالادست ہے۔ یعنی ہم صرف مادی ترقی میں پیچھے نہیں ہیں بلکہ اخلاقی اعتبار سے بھی ناگفتہ بہ حالت میں ہیں۔ اگرچہ اپنے تئیں ہم یہ دعویٰ کرنے سے بالکل نہیں چوکتے کہ مغربیوں کو اخلاقیات کا درس ہم سے ضرور لینا چاہیے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہمارے اس قسم کے دعوے حقیقت سے فرار کے سوا اور کچھ نہیں ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہی قوم دنیا کی راہنمائی کے منصب پر فائز ہوتی ہے جو اخلاقی لحاظ سے بھی نسبتاًبہتر حالت پر قائم ہو۔ اس لیے ہمیں معاشی ترقی میں مطلوب اخلاقیات (business ethics) کو رواج دینے کی زیادہ ضرورت ہے نہ کہ مغربی طرزکے ظاہری قواعد و ضوابط کی اندھا دھند پیروی کی۔ بہرحال! سود کی متبادل اساس کی تشریح کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ:
’’مشارکہ یا شرکت سے مراد ہر وہ کاروبار ہے جو دو یا دو سے زائد افراد مل کر کریں۔ آج کل کی اصطلاحات کی رو سے پارٹنر شپ، جوائنٹ اسٹاک کمپنی اور کارپوریٹ فائنانسنگ کی ساری قسمیں، یہ سب مشارکہ ہی کی مختلف شکلیں ہیں۔ ......فقہائے اسلام جس زمانے میں مشارکہ کے احکام مرتب فرما رہے تھے، اس زمانے میں مشارکہ کی جو جو شکلیں رائج تھیں، ان کا انہوں نے جائزہ لیا اور شریعت کے قواعد کی روشنی میں ان کے احکام مرتب کر دیے۔ اس زمانے میں شرکتِ عنان، شرکتِ مفاوضہ وغیرہ قسم کی شراکتیں رائج تھیں۔ بعض علما کا خیال ہے کہ آج کل کارپوریٹ فائنانسنگ کے نظام کے تحت جو کمپنیاں بنائی جاتی ہیں، ان کی نوعیت شرکتِ عنان سے بہت مشابہ ہے۔ اس لیے ان علما کے خیال میں شرکتِ عنان کے احکام کے تحت کمپنیوں کے نظام کو بہت آسانی کے ساتھ شریعت کے مطابق بنایا جا سکتا ہے۔ ......بالفرض اگر شرکتِ عنان کی تفصیلات کسی کمپنی کے طریقِ کار پر پوری نہیں اترتیں تو بھی اس کمپنی کے کاروبار کے جائز ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ شرکتِ عنان کے سو فی صد مطابق ہو۔ اگر کوئی کمپنی ایسی ہے کہ اس کے قواعد و ضوابط اور طریقِ کار میں کوئی چیز شریعت کے قواعد اور احکام سے متعارض نہیں ہے تو وہ جائز ہے، چاہے اس کو شرکتِ عنان کہا جا سکے یا نہ کہا جا سکے۔ یہی کیفیت مشارکہ کی دوسری قسموں کی ہے۔ .......علامہ عزالدین بن عبدالسلام نے اپنی انتہائی فاضلانہ کتاب ’’قواعد الاحکام فی مصالح الانام‘‘ میں بیان کیا ہے ’’کل تصرف تقاعد دون تحصیل مقصودہ فھو باطل‘‘ کہ ہر وہ تصرف یا سرگرمی جس سے اس کا اصل مقصود پورا نہ ہو وہ باطل ہے۔ لہٰذا مشارکہ متناقصہ ہو، مشارکہ منتہیہ بالتملیک ہو یا اور نئی شکلیں ہوں، اگر ان کے نتیجے میں شریعت کے مقاصد پورے ہو رہے ہیں، اگر ان کے نتیجے میں عامۃ الناس نفع نقصان کے تحت کاروبار میں آزادانہ شریک ہو رہے ہیں، اگر ان میں سے کسی طریقِ کار میں شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی تو پھر یہ سب جائز ہیں۔ لیکن اگر یہ مقاصد ان سے پورے نہیں ہو رہے تو محض عربی میں نام رکھ لینے سے کوئی طریقِ کار جائز نہیں قرار دیا جا سکے گا۔‘‘ (آٹھواں خطبہ: ص ۳۱۸، ۳۱۹، ۳۲۰)
ہمارے ممدوحؒ نے سود خوری سے جنم لینے والی برائیوں مثلاً بزدلی، سستی، کاہلی وغیرہ پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ سود خور اپنے سرمایے کاغیر فطری تحفظ کرتے کرتے over-protection کا شکار ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں ایسی جملہ صفات جو تازہ خون کے مانند جسم کو توانا رکھتی ہیں، آہستہ آہستہ اس سود خور فرد و قوم سے رخصت ہو جاتی ہیں۔مثال کے طور پر جرات، اقدام اور حوصلہ ، صحت مند زندگی کی لازمی صفات ہیں۔ ان اوصاف سے مزین انسان مثالی طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتا ہے۔ معاشی زندگی میں ایسے مثالی طرزِ عمل کی بابت ڈاکٹر غازی مرحوم کہتے ہیں کہ:
’’ دوسری بات جو شریعت کے احکام سے واضح طور پر سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ ایک تاجر اور کاروبار کرنے والے میں یہ حوصلہ ہونا چاہیے کہ وہ پہل کرسکے اور اقدام کر سکے یعنی کوئی جرات مندانہ قدم اٹھا سکے۔ یہ کامیابی اور ترقی کی ایک اہم شرط ہے۔ زندگی کے کسی بھی پہلو میں واقعہ یہ ہے کہ پہل اورا قدام کا حوصلہ رکھے بغیر کامیابی اور ترقی حاصل نہیں ہوتی۔ ربا اور سود خوری سے یہ جذبہ ختم ہوجاتا ہے۔ گھر بیٹھ کر کھانے کی عادت ہو جاتی ہے، اس لیے شریعت نے یہ کوشش کی ہے اور جا بجا ایسے احکام دیے ہیں جن کے نتیجے میں ہر جائزروزی کمانے والا محنت، پہل اور اقدام سے کام لے۔ گھر بیٹھ کر کھانے کا عادی نہ ہو۔ اس لیے کہ گھر بیٹھ کر کھانے سے تجارتی سرگرمی بھی کم زور ہو جاتی ہے اور پہل اور اقدام کا جذبہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔‘‘(چھٹا خطبہ:ص۲۴۱)
ہماری ناقص رائے میں گھر بیٹھ کر کھانے سے پہل اور اقدام کا جذبہ ختم نہیں ہوتا بلکہ غلط رخ موڑ لیتا ہے جس سے کئی اخلاقی برائیاں جنم لیتی ہیں۔ یہ بات اب تقریباًمسلمات میں سے ہے کہ انسانی جذبات کی تہذیب کی جا سکتی ہے، لیکن انہیں مکمل ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یوں سمجھیے جیسے مادہ ختم نہیں ہوتا بلکہ شکلیں بدلتا رہتا ہے، اسی طرح انسانی جذبات بھی اظہار کے نت نئے پیرایے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ اگر انہیں درست سمت میں گامزن (channelize) نہ کیا جا سکے تو کسی چاتر بہروپیے کے مانند یہ روپ بدلتے رہتے ہیں۔ جب بدلے ہوئے روپ میں ان کا اظہار ہوتا ہے تو ظاہر بین سمجھتے ہیں کہ اصل جذبہ تو ختم ہو چکا ہے، یہ کوئی اور ہی چیز ہے، حالانکہ یہ وہی اصل جذبہ ہوتا ہے جو مناسب راستہ نہ ملنے کی وجہ سے سی آئی ڈی کو چکمہ دے کر کہیں نہ کہیں کارروائی ڈال رہا ہوتا ہے۔ ربا (سود) کے معاملے میں یہ نہایت ہی اہم نکتہ ہے کہ اس سے انسانی فعلیت کی ایک خصوصیت ’’پہل‘‘ کا اظہار نامناسب بلکہ اکثر اوقات شرم ناک انداز میں اور غیر موزوں مقامات پر ہوتا ہے۔ اس سے ایک تو یہ نقصان ہوتا ہے کہ اسے درست سمت میسر نہ ہونے کی وجہ سے معاشی سرگرمی سست روی کا شکار ہو جاتی ہے اور دوسرا یہ کہ اس کے غلط رخ لینے سے کئی قسم کے نفسیاتی و اخلاقی مسائل پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں جن کا انجام سوائے تباہی کے اور کچھ نہیں ہوتا۔
مسلکی اعتبار سے ڈاکٹر صاحب کے یہاں عصبیت نہیں پائی جاتی۔ ان کا رجحان ’’امتزاجی مسلک‘‘ کی جانب ہے جس کا اظہار انہوں نے بغیر لگی لپٹی رکھے کافی کھل کر کیا ہے۔ مثلاًفرماتے ہیں کہ:
’’بینکوں کو شکایت یہ ہے کہ ہمارے یہاں جب کوئی شخص بینکوں سے رقم لینے آتا ہے تو بڑی موثر اور متاثر کن قسم کی رپورٹ لے کر آتا ہے۔ .......چند سال گل چھرے اڑانے کے بعد آتا ہے، بینکوں کو درخواست دیتا ہے کہ میری صنعت تو نہیں چلی، میری تجارت میں تو گھاٹا ہو گیا۔ اس سارے عمل کی حیثیت چونکہ ایک وعدے کی ہے اور فقہ حنفی کی رو سے کوئی وعدہ عدالتی اور قانونی طور پر واجب العمل نہیں ہوتا، اس لیے اس فزیبلٹی رپورٹ feasibility report میں کیے گئے وعدوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اس مسئلے کا حل بعض عرب ممالک میں اہلِ علم نے تجویز کیا ہے۔ انہوں نے فقہ مالکی سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اگر کسی شخص کے وعدے کی بنیاد پر کوئی شخص کوئی ایسا کام کرے جو وہ نہ کرتا اگر اس سے یہ وعدہ نہ کیا جاتا، اور وعدہ بعد میں جھوٹا ثابت ہو تو وعدہ کرنے والا اس نقصان کی تلافی کا پابند ہے۔ اس لیے عرب ملکوں میں عام طور پر رائے یہ ہے کہ فزیبلٹی رپورٹ میں جو کچھ کہا گیا ہے، اس کو حتمی کمٹمنٹ سمجھا جائے گا اور اس کی قانونی اور عدالتی پابندی لازمی ہو گی، الا یہ کہ فریق عامل یعنی entrepreneur یہ ثابت کرے کہ جن اسباب سے وہ تجارت یا صنعت کامیاب نہیں ہوئی، وہ اس کے بس سے باہر تھے۔ پھر یہ ایک امرِ واقعہ کا سوال ہو گا، اس پر عدالتیں غور کریں گی، گواہیوں اور شواہد کی بنیاد پر معاملات طے کیے جائیں گے۔‘‘(گیارھواں خطبہ:ص۴۰۵،۴۰۶)
سوال یہ ہے کہ جس قوم کا صدر میثاق کر کے مکر جائے اور توجیہ پیش کرے کہ میثاقِ جمہوریت قرآن و حدیث نہیں ہے، یہ سمجھے بغیر کہ قرآن حدیث میثاق کی پابندی کا حکم دیتے ہیں، اس قوم کے لیے فزیبلٹی رپورٹ کی کیا اہمیت ہو گی؟ ہماری رائے میں قرآنی حکم ’’اوفوا بالعقود‘‘ اور حدیثِ مبارکہ ’’المسلمون عند شروطھم‘‘ کا فہم مالکیوں کے استدلال کو تقویت بخشتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ فقہ حنفی کو ہی دین سمجھنے والے انگشت بدنداں رہ جائیں کہ غیر احناف کا استدلال قابلِ قبول’’کیسے ‘‘ہو سکتا ہے؟ لیکن ہمارے ممدوحؒ کی خو، بات بڑھانے والی ہے، اس لیے بہت صاف صاف کہتے ہیں:
’’ بعض علما کا کہنا ہے کہ خرید وفروخت اور عقود کے معاملات میں امام احمد بن حنبل ؒ کا نقطہ نظر بہت آسان اور وسیع ہوتا ہے۔ اس لیے امام احمد بن حنبلؒ کے اجتہادات سے اگر خاص طور پر استفادہ کیا جائے تو بیع کے احکام کو زیادہ آسانی کے ساتھ مرتب کیا جا سکتا ہے۔ کچھ اور حضرات کا کہنا ہے کہ بیوع کے بارے میں امام مالکؒ کے وضع کردہ اجتہادی قواعد بہت پختہ اور بہتر ہیں۔ ......اس لیے دنیائے اسلام میں آج کا رجحان یہی ہے اور یہ بہت مفید اور مثبت رجحان ہے کہ فقہ اسلامی کے پورے ذخیرے کو سامنے رکھ کر اجتہادی معاملات میں یہ دیکھا جائے کہ ائمہ فقہ کا کون سا اجتہاد ہے جو آج کل کے تقاضوں کے زیادہ مطابق ہے اور آج کل کے مسائل کو زیادہ آسانی کے ساتھ حل کر سکتا ہے۔‘‘ (آٹھواں خطبہ: ص ۳۲۱، ۳۲۳)
ڈاکٹر صاحب جس اعلیٰ ظرفی کی سو فی صد توقع کر رہے ہیں ، کم از کم پاکستان کے علما کے لیے تو اس کا پچاس فی صد اظہار بھی سو فی صد ناممکن ہے۔ اگر بات شعوری اور متصلب حنفیوں تک محدود ہوتی تو شاید کسی طور کھینچ تان کر انہیں اجتماعی ملی دھارے میں لایا جا سکتا تھا، لیکن خیر سے یہاں ایسے متعصب، ضدی، تنگ نظر اور فرقہ پرست مینڈکوں کی بہتات ہے جن کے لیے کنواں ہی سمندر ہے۔ بہرحال! ڈاکٹر غازی مرحوم اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اسلامی بینکاری کی کامیابی لوگوں کی ’’واقعی ضروریات‘‘ کی تکمیل سے وابستہ ہے۔ اس لیے فرماتے ہیں کہ:
’’اگرچہ آج پاکستان میں ایسے جائز ذرائع الحمدللہ موجود ہیں جہاں اس طرح کی رقم لگائی جا سکتی ہے اور جائز طریقے سے گھر بیٹھے آمدنی ہو سکتی ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے بددیانتی اور دھوکہ دہی کا دور دورہ ہے، اس لیے بہت سے لوگ اپنا پیسہ لگاتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ بینکوں کا نظام چونکہ شروع سے چلا آ رہا ہے، دو سو ڈیڑھ سو سال سے ایک خاص نہج پر قائم ہے، وہاں دھوکہ کے امکانات نسبتاًکم ہوتے ہیں، اس لیے کچھ لوگوں کی واقعی ضرورت ہے کہ ان کے لیے ایسانظام وضع کیا جائے جن کو گھر بیٹھے ماہانہ رقم مل سکے۔ اب چونکہ پاکستان میں بہت سے بینکوں نے اسلامی شعبے بھی قائم کر دیے ہیں، اسلامی برانچیں بھی بنائی ہیں، اس لیے اب یہ نسبتاًآسان ہو گیا ہے اور اسلامی بینکوں کو یا روایتی بینکوں کے جو اسلامی شعبے ہیں یا اسلامی شاخیں ہیں، ان کو یہ کام کرنا چاہیے اور بیوہ خواتین، بوڑھے پنشنرز، بے گھر لوگ، یتیم بچے اور بے سہارا، ایسے حضرات کے لیے شریعت کے مطابق کوئی ایسی اسکیمیں بنانی چاہیےیں جہاں وہ پیسہ لگا سکیں اور ان کو گھر بیٹھے آمدنی ہو سکے۔‘‘(نواں خطبہ: ص ۳۵۰، ۳۵۱)
ربا کی بحث میں ظلم و استحصال کے حوالے سے ناقدین کی تاویلات کو ڈاکٹر غازی مرحوم نے آڑے ہاتھوں لیا ہے، کہتے ہیں کہ:
’’ ظلم اور استحصال کا بعض حضرات بہت کثرت سے حوالہ دیتے ہیں اور عجیب بات ہے کہ ظلم اور استحصال کے بار بار حوالے کے باوجود ربا کی بعض قسموں کو جائز قرار دینا چاہتے ہیں۔ بنک انٹرسٹ کی کوئی قسم ایسی نہیں ہے جس میں اس مفہوم میں ظلم اور استحصال نہ پایا جاتا ہو جس مفہوم میں قرآن مجید نے ظلم اور استحصال کو ناجائز قرار دیا ہے۔ قرآن مجید کی رو سے ظلم یہ ہے کہ اصل سرمایے سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے اور یہ بھی ظلم ہے کہ اصل سرمایے سے کم واپس کیا جائے۔‘‘(نواں خطبہ:ص۳۵۷،۳۵۸)
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک لاکھ رروپے قرض لیتا ہے اور سال بعد ایک لاکھ واپس کرتا ہے تو کیا وہ اصل سرمایہ واپس کرتا ہے؟ ہماری نظر میں وہ اصل سرمایے سے کم رقم واپس کرتا ہے کیونکہ افراطِ زر کے باعث روپے کی قیمت کم ہو چکی ہوتی ہے۔ اندریں صورت قرض دینے والا جس رقم سے خود نفع حاصل کر سکتا تھا، اس رقم کو قرض دے کر نہ صرف ایسے نفع سے محروم رہتا ہے بلکہ الٹا اسے اصل رقم کے بجائے(ویلیو کے اعتبار سے) کم رقم ملتی ہے۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے؟ کیا یہ بھی’’ منفی ربا‘‘سے ملتی جلتی صورت نہیں ہے؟ کیا یہ بھی عجیب بات نہیں ہے؟ ڈاکٹر محمود مرحوم غالباًقرض کے معاملے میں افراطِ زر جیسے مسئلے کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں، البتہ افراطِ زر اور اس کی قباحتوں سے وہ بخوبی واقف ہیں:
’’ اقتصادِ کلی کے دوسرے اہداف میں قیمتوں میں استحکام کا معاملہ بھی شامل ہے۔ قیمتوں میں استحکام ریاست کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر قیمتوں میں استحکام نہ ہو تو نہ درآمد درست ہو سکتی ہے نہ برآمد درست ہو سکتی ہے۔ قیمتوں میں استحکام نہ ہو تو تنخواہ دار طبقہ اور محدود آمدنی رکھنے والے لوگ اپنی زندگی کے معاملات کو درست نہیں کر سکتے۔ قیمتوں میں استحکام اس لیے بھی ضروری ہے کہ افراطِ زر جو آج کل زر اعتباری کا ایک لازمی نتیجہ ہو گیا ہے، اسے کم سے کم رکھا جائے۔ جب تک زر اعتباری کا نظام دنیا میں موجود ہے اس وقت تک مکمل طور پر افراطِ زر کو ختم کرنا شاید ممکن نہیں ہے۔ البتہ مناسب اقدامات اور تدبیروں سے اسے کم سے کم رکھا جاسکتا ہے۔ اتنا کم سے کم جو عامۃ الناس کی سکت سے باہر نہ ہو۔ اس کام کے لیے ضروری ہے کہ ایک متوازن مالیاتی اور زری پالیسی وضع کی جائے جس پر ریاست کے تمام ادارے کام کریں۔ مالیاتی اور زری پالیسی وضع کرنا ریاست کا ہی کام ہے اور یہ ریاست کے اقتصادی اہداف میں سے ایک ہے۔‘‘ (چوتھاخطبہ:ص۱۶۸)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا یہ کہنا ’’جب تک زر اعتباری کا نظام دنیا میں موجود ہے، اس وقت تک مکمل طور پر افراطِ زر کو ختم کرنا شاید ممکن نہیں ہے‘‘ اشارہ دے رہا ہے کہ ان کے ذہن میں زرِ اعتباری کا کوئی متبادل نظام موجود ہے، لیکن نجانے انہوں نے اس کا اظہار کیوں نہیں کیا۔ بہرحال! ڈاکٹر غازی ؒ اسلامی بینکاری میں سود کے شائبے تک سے بچنے کی خاطر، جہاں قرض کے معاملے میں افراطِ زر سے چشم پوشی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہاں اتنی نرمی ضرور دکھاتے ہیں کہ:
’’بنکوں کے واقعی اخراجات کو پوراکرنے کے لیے سروس چارج لگایا جا سکتا ہے۔ سروس چارج کے جائز ہونے پر عام طور پر اس دور کے علما کرام کا اتفاق ہے۔ سروس چارج کے قواعد و ضوابط بہت سے علمائے کرام نے مرتب فرمائے ہیں۔‘‘ (دسواں خطبہ: ص ۳۷۲)
سود سے پاک اسلامی بینکاری عملی طور پر کیسے آگے بڑھ سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں اصولی طور پر کس قسم کا معاشی ڈھانچہ تشکیل پانا چاہیے جو اپنے ثمرات سے عامۃالناس کو نواز سکے؟ اس پر بھی ڈاکٹر محمو احمد مرحوم نے خوب اظہارِ خیال کیا ہے:
’’اسلامی بینکاری کو چاہیے کہ وہ مائیکرو فائنانسنگ پر خاص توجہ دے۔ چھوٹے لوگوں کو قرضے دینا ملکی معیشت کا تقاضا بھی ہے، عامۃ الناس کی ضرورت بھی ہے اور اسلامی بینکاری جتنی تیزی سے اور جتنے موثر انداز میں چھوٹی معیشت میں کامیاب ہو سکتی ہے، اتنی تیز رفتار کامیابی بڑی معیشت میں مشکل ہے۔ بڑی معیشت میں اسلامی اصلاحات کے کامیاب ہونے میں خاصا وقت لگے گا۔ مبنی بر شراکت تمویل کو یعنی participatory financing کو ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ یہ اسلامی بینکاری کا وہ کام ہے جو اسلامی بینکار کو کرنا چاہیے۔ ......اسلامی بینکاری میں نفع اگر آئے تو وہ دو طریقے سے آنا چاہیے۔ یا تو وہ نفع اس چیز کا نفع ہو جس کے نتیجے میں کوئی جائیداد یا اثاثہ جات assets وجود میں آئے ہیں یا کوئی ویلیو value وجود میں آئی ہے، یعنی value creation ہوئی ہے یا asset creation ہوئی ہے۔ محض opportunity cost یا وقت کی قیمت کی بنیاد پر آمدنی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر آمدنی محض وقت کی قیمت کی بنیاد پر ہو رہی ہے تو چاہے اس کا جو بھی نام رکھا جاے اور کسی بھی تاویل سے کھینچ تان کر اس کا جواز دریافت کر لیا جائے، وہ اسلام کی روح اور مزاج سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اسلام کی روح اور تقاضوں سے ہم آہنگ وہی تمویل اور سرمایہ کاری ہے جس کے نتیجے میں عملاًکوئی تجارت پیدا ہو، کوئی صنعت وجود میں آئے، کوئی خدمت وجود میں آئے، کوئی جائیداد وجود میں آئے۔ لہٰذا جتنی وسعت زر میں ہو، اتنی ہی وسعت اثاثہ جات یا صنعتوں یا تجارت میں ہونی چاہیے۔ توسیع زر اور توسیع اثاثہ جات یہ دونوں ایک ساتھ اور متناسب انداز میں ہونے چاہییں۔‘‘ (دسواں خطبہ:ص۳۸۵،۳۸۶)
اپنے لوگوں کی نالائقی اور مغربیوں کی فنی پختگی سے ڈاکٹر صاحب خوب آگاہ ہیں اور آج کی عالم گیر فضا کے تقاضوں پر بھی ان کی نظر ہے، اس لیے ایک حسرتِ تعمیر ہے جو درویش صفت ڈاکٹر غازیؒ کے اندر ہی اندر غالبؔ کے اس کہے کے مطابق مچل رہی ہے :
گھر میں تھا کیا جو تیرا غم اسے غارت کرتا
وہ جو رکھتے تھے ہم اِک حسرتِ تعمیر، سو ہے
لیجیے! ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کی حسرتِ تعمیر ملاحظہ کیجیے:
’’ کسی تجربے کی فنی خرابی کا ذمہ دار اسلامی بینکاری کو یا اسلامی شریعت کے احکام کو نہ ٹھہرایا جائے۔ اسلامی قوانین کے نفاذ اور اسلامی اصلاحات کی کامیابی کے لیے محض دینی جذبہ کافی نہیں ہے۔ اس کام کے لیے دنیا میں رائج الوقت تجربات سے واقفیت بھی ازحد ضروری ہے۔ جرمنی میں مرچنٹ بینکنگ کا تجربہ بہت کامیاب بتایا جاتا ہے۔ مرچنٹ بینکنگ کا تصور اسلامی بینکاری کے احکام سے خاصا قریب ہے۔ لہٰذا اگر جرمنی میں مرچنٹ بینکنگ کامیاب ہے تو اس سے استفادہ کر کے اس کو اسلامی بینکاری کے تقاضوں کے مطابق ڈھالاجا سکتا ہے۔ .......مغربی بینکاری اور اسلامی بینکاری کے درمیان ربط اور تعلق کی ممکنہ نوعیت کیا ہے؟ اس پر بھی غور ہونا چاہیے۔ ایک ممکنہ تعلق تو دشمنی اور دعوتِ مبارزت کا ہو سکتا ہے۔ ایک اور نوعیت مقابلہ اور منافرت کی ہو سکتی ہے۔ ان دونوں کے مقابلے میں جو تعلق مناسب تر اور بہتر معلوم ہوتا ہے، وہ تعاون اور تکامل کا ہے۔ اگر اسلامی بینکاری کے ادارے مغربی بینکاری کے اداروں سے شریعت کے احکام اور اخلاقی ضوابط کی مکمل پابندی کے ساتھ انسانی مقاصد میں تعاون کریں، عامۃ الناس کی بہبود اولین ترجیح ہو اور ان میدانوں پر توجہ دی جائے جو ابھی خالی ہیں، جن میں کام نہیں ہوا تو اسلامی بینکاری کے لیے مغربی دنیا میں پنپنا نسبتاًآسان ہو سکتا ہے۔ دشمنی اور دعوتِ مبارزت کا نتیجہ سوائے تباہی اور مشکلات کے اور کچھ نہیں ہو گا۔ ‘‘(دسواں خطبہ:ص۳۸۶،۳۸۷،۳۸۸)
ڈاکٹر غازیؒ نے خوب فرمایا کہ محض دینی جذبہ کافی نہیں ہے، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ دینی جذبہ بھی کفایت کر جاتا ہے بشرطیکہ وہ واقعی دینی جذبہ ہو۔ ہمارے ہاں جس قسم کے مباحث دینی جذبے کی نشو و نما کرتے ہیں، انہیں دیکھتے ہوئے مولانا رومیؒ کی ایک حکایت یاد آ جاتی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’’ایک شخص نے دوسرے کو تھپڑ رسید کیا، جواب میں دوسرے نے بھی چپت رسید کر دی۔ تھپڑ مارنے والے نے کہا کہ میرے ایک سوال کا جواب دو اور مجھے مارنے کی حسرت پوری کر لو۔ میں نے تجھے تھپڑ مارا تو تڑاخ کی آواز آئی۔ مجھے بتاؤ کہ یہ آواز میرے ہاتھ سے پیدا ہوئی ہے یا تیری گدی سے؟ اس نے جواب دیا کہ تیرے تھپڑ کی تکلیف اور درد سے مجھ کو اتنی فرصت نہیں ہے کہ آواز پر کان دھروں۔ تجھ کو چونکہ کوئی تکلیف نہیں ہے، اس لیے اس نکتے پر تو غور کرتا رہ۔ جو درد میں مبتلا ہوتا ہے، اس کو ایسی باریکیاں اور نکتے نہیں سوجھتے۔‘‘ اب ذرا اپنے سماج میں برپا شور و غوغا پر توجہ فرمائیے کہ مسلمانوں کی دینی غیرت بیدار کرنے کی غرض سے کیسے کیسے نکات اٹھائے جاتے ہیں اور دماغ سوزی کے کیسے کیسے مظاہرے دیکھنے میں آتے ہیں۔ اس وقت بے چارہ تھپڑ رسیدہ سماج، رخسار سہلا رہا ہے اور علمائے دین کو مسلکی اٹھکیلیاں سوجھی جا رہی ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دینی جذبے کے عناصر ترکیبی اگر اخلاص، احسان، ایثار، اخوت اور باہمی حسن سلوک سے عبارت ہوں تو کم از کم ایک راستہ ضرور دکھائی دینے لگتا ہے، پھر مسافت چاہے طویل ہی ہو، گراں نہیں گزرتی۔
جہاں تک بینکاری کے شعبے میں مغرب سے تعاون کا تعلق ہے، تو فکر ولی اللٰہی ایسے تعاون کو منزل آشنا تسلیم نہیں کرتی۔ حالیہ دور میں معیشت کی اہمیت اور اس میں بینکاری کے کلیدی کردار کو دیکھتے ہوئے یہ اخذ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ کلی نظام کو بدلنے کے لیے معاشی و بینکاری نظام میں مطلوبہ تبدیلی انتہائی ناگزیر ہے۔ شاہ ولی اللہؒ مطلوبہ تبدیلی کے بجائے نظام کا مکمل خاتمہ (فک کل نظام) چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی نظام میں کی گئیں جزوی تبدیلیاں مطلوبہ مقاصد نہیں دے سکتیں، اس لیے وہ موجود نظام کی بساط مکمل طور پر سمیٹ دینے کے حامی اور داعی ہیں۔ اس کے برعکس ڈاکٹر غازیؒ جزوی تبدیلیوں کے ذریعے سے، موجود معاشی نظام کی بنیادی ساخت کو متاثر کرنا چاہتے ہیں، بلکہ ایک قدم مزید بڑھتے ہوئے تبدیلی کے اس ارتقائی عمل میں تعاونی انداز و اطوار اپنانے پر زور دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم گزارش کریں گے کہ مغربی اور اسلامی بینکاری کے درمیان تعاون پر مبنی تعلق کیا شریعت کے اصولِ تدریج کے بغیر ممکن ہے؟ ڈاکٹر محمود مرحوم تو صرف اور صرف ناسخ احکام کے قائل معلوم ہوتے ہیں، پھر کس اصول کے تحت اور کس جواز کی بنا پر تعاونی تعلق قائم کیا جائے گا؟ کیا ناسخ احکامات میں اس قدر لچک موجود ہے کہ وہ تعاونی تعلق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں؟ یہ الگ بات ہے کہ بندہ اصولِ تدریج کو صدرِ اسلام کے زمانے سے مخصوص قرار دے، ناسخ و منسوخ کے تحت احکامِ شرعیہ کو انتہائی ٹھوس اور استوار سمجھے اور پھر ناسخ احکامات کی تنفیذمیں عملی مسائل بھانپ کر خود ساختہ تدریج قائم کرنے میں کوئی مضائقہ نہ سمجھے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس خود ساختہ تدریج میں ’’منسوخ‘‘ احکامات کو کوئی رعایت دینے کو تیار نہ ہو، بلکہ اپنی ذہنی اختراع کے مطابق اصلاحِ احوال کے لیے کوشاں ہو۔ اس سارے عمل کو، اگر نرم زبان استعمال کی جائے، داخلی تضاد کے سوا اور کیا نام دیا جا سکتا ہے؟
ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم پر اس تنقید کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم شاہ ولی اللہؒ سے اتفاق کرتے ہوئے نظام کے مکمل خاتمے (فک کل نظام) کے حامی ہیں اور مغربی نظامِ معیشت و بینکاری کے ساتھ مخاصمانہ رویہ اپنانا چاہتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ نظام کا مکمل خاتمہ کسی ’’طوفانِ نوح‘‘ کا تقاضا کرتاہے اور مشیت الٰہی اس تقاضے کے ساتھ معلوم نہیں ہوتی۔ ہمیں تو بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا ہے جس میں مکہ کے مشرکین اور مدینہ کے یہود و منافقین کے مقابل، بتدریج تبدیلی عمل میں لائی گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ اس تدریجی تبدیلی میں مبارزت اور تعاون ساتھ ساتھ شریک رہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ آج مغربی بینکاری کے ساتھ تعاونی تعلق ’ ہی‘ بہتر رہے گا، یک رخی پالیسی اپنانے کے مترادف ہوگاجس کا منطقی نتیجہ پسپائی و ہزیمت کی صورت میں برآمد ہو گا۔ اس لیے ڈاکٹر غازیؒ کی یہ حد بندی بہت قابلِ غور ہے کہ ’’ اگر اسلامی بینکاری کے ادارے مغربی بینکاری کے اداروں سے شریعت کے احکام اور اخلاقی ضوابط کی مکمل پابندی کے ساتھ انسانی مقاصد میں تعاون کریں‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مخاصمت و مبارزت کے لمحات بھی آتے جاتے رہیں گے۔ شاہ ولی اللہؒ غالباًتدریجی تبدیلی کے آخری مرحلے یعنی خطبہ حجۃالوداع سے استدلال کرتے ہوئے نظام کے مکمل خاتمے کی بات کرتے ہیں۔ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے کہ یہ نہ صرف شریعت کامقصد ہے بلکہ عالمی سطح پر نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی ادائیگی کی ایک سبیل بھی ہے، لیکنحجۃ الوداع سے پہلے کیے گئے اقدامات کے مراحل سے گزرے بغیر ایسا کرنا بلکہ ایسا سوچنا بھی محال اور نا ممکنات میں شمار ہوگا جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فرسودہ نظام کا مکمل خاتمہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا:
’’آج سے ہر قسم کا سود ختم کیا جاتا ہے۔ تم صرف اصل رقم کے حق دار ہو۔ تم کسی پر ظلم نہ کرو، تم پر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اللہ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ سود کو ختم کر دیا جائے۔ عباس بن عبدالمطلب کا جو سود دوسروں کے ذمہ واجب ہے، وہ ختم کیا جاتا ہے۔‘‘
تو اس سے پہلے اس سادہ زرعی دور کے تقاضے ملحوظ رکھے اور مقصد (رباکے خاتمے)کے واضح تعین کے باوجود احکامِ ربا کی نزولی ترتیب کے تتبع میں بتدریج عملی اقدامات اٹھائے۔واقعہ یہ ہے کہ شاہ ولی اللہؒ کے نام لیواؤں نے (فک کل نظام) کی غلط تعبیر ان کے سر منڈھ دی ہے حالانکہ شاہ صاحب کا اصولی موقف بھی نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی مطابقت میں ہے۔ فرماتے ہیں :
’’واضح ہو کہ امت کی درستی اور سیاست کے لیے ضروری ہے کہ ہر قسم کی طاعت کی دو حدیں قرار دی جائیں، ایک اعلیٰ اور دوسری ادنیٰ۔ پس اعلیٰ وہ ہے جس سے پوری طرح پر مقصود حاصل ہو جائے اور ادنیٰ کے معنی یہ ہیں کہ اس سے اس قدر مقصود حاصل ہو کہ اس کے بعد کا درجہ لحاظ کے قابل بھی نہ ہو۔ ......اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ اعلیٰ حالت کو چھوڑ کر ادنیٰ حالت پر ہی اکتفا کر لیا جائے کیونکہ یہ اعلیٰ حالت سابقین امت کا مشرب اور مخلصین کا حصہ ہے۔ ایسے درجے کو بالکل ترک کرنا لطفِ الٰہی کے منافی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہوا کہ ادنیٰ حالت کی بخوبی توضیح کر کے اس کے ساتھ لوگ مکلف قرار دیے جائیں اور اس سے زائد اور اعلیٰ امور کی طرف بھی مائل کیے جائیں۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغۃ: باب المصالح المقتضےۃ لتعیین الفرائض و الارکان والاٰ داب و نحوذٰلک)
بہرحال، خطبہ حجۃ الوداع میں حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب کا ذکر ہمارے لیے اس بات کی علامت ہے کہ آج کی عالم گیریت کی فضا میں جب ہم نظام کے مکمل خاتمے کے درپے ہوں یعنی سابقین امت اور مخلصین کے درجے میں آنا چاہیں تو ہمیں اس پوزیشن میں ہونا چاہیے کہ دوسروں کے ذمہ واجب اپنا سود ختم کر سکیں۔ معاف کیجیے گا، اس وقت تومعاملہ کافی دگرگوں ہے کہ دوسروں کا سود ہمارے ذمے واجب الادا ہے۔ تو کیا پھر صورتِ حال میں تبدیلی رونما ہو سکتی ہے؟ ہاں! کیوں نہیں، کہ اقبال ؔ نے کہا تھا:
وہی زمانے کی گردش پہ غالب آتا ہے
جو ہر نفس سے کرے عمر جاوداں پیدا
اسلامی بینکاری کے ضمن میں بیع مرابحہ پر اشکالات وارد ہوتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر محمود احمد مرحوم نے اس پر بھی گفتگو کی ہے:
’’ بیع مرابحہ کے بارے میں واقعہ یہ ہے کہ یہ سرمایہ کاری کا کوئی آئیڈیل طریقہ نہیں ہے۔ یہ تو تجارت کی ایک شکل ہے جس سے جزوی طور پر سرمایہ کاری کا فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ بیع مرابحہ یہ ہے کہ کوئی شخص جو اپنا کوئی سودا فروخت کرنا چاہتا ہو، اس کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ یہ طے کرے کہ اس کو کسی سودے کے حصول میں جو قیمت یا لاگت پڑے گی، اس پر وہ اتنے فی صد کے حساب سے نفع لے گا۔ .......بیع مرابحہ کو امپورٹ ایکسپورٹ میں خاص طور پر اور انڈسٹری کے دوسرے معاملات میں عام طور پر آسانی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاًایک شخص کوئی انڈسٹری لگانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے ایک کروڑ روپے کی مشینری اس کو جرمنی سے درکار ہے۔ اس کے پاس ایک کروڑ روپے نہیں ہیں۔ اب روایتی بینکاری کے طریقِ کار میں تو یہ ہوتا تھا کہ وہ بنک کے پاس جائے اور ایک کروڑ روپے قرض لے اور اس پر دس فی صد سود دینے کا وعدہ کرے اور وقت آنے پر ایک کروڑ کے بجائے ایک کروڑ دس لاکھ روپے کی رقم ادا کرے اور قرض کی یہ رقم لے کر اپنی مشینری منگوا لے۔ یہ تو یقیناًسود ہے۔ اس کے مقابلہ میں بیع مرابحہ کا طریقہ یہ تجویز کیا گیا کہ بنک ایک کروڑ روپے سودی قرض دینے کے بجائے از خود وہ مشینری درآمد کرے۔ اس کے بعد خریدار کو بتائے کہ یہ مشینری بنک کو ایک کروڑ روپے میں پڑی ہے۔ اس پر دس فی صد بنک کا نفع ہو گا۔ یوں وہ خریدار ایک کروڑ دس لاکھ روپے ادا کر کے مشینری بنک سے خرید لے۔ یہاں قرضوں کا لین دین نہیں ہے۔ یہاں حقیقی اصول کا یعنی اثاثہ جات کا اور tangible assets کا کاروبار ہے اور شریعت کے احکام کے مطابق بیع کی ایک شکل ہے۔ اس لیے یہ جائز ہے۔‘‘(آٹھواں خطبہ:ص۳۲۳،۳۲۴)
اگرچہ ایسی بیع مرابحہ کے حق میں حیلے کی شرعی حیثیت کے حوالے سے بات کی جا سکتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ عنوان اور مندرجات کی بحث (العبرۃ بالمضمون والجوہر و لیس بالصورۃ والمظھر) یہاں کیوں نہیں کی جا سکتی؟ خود ڈاکٹر صاحب نے نویں خطبے میں علامہ ابنِ قیم ؒ کے حوالے سے تقریباًیہی نکتہ اٹھایا ہے:
’’علامہ ابنِ قیم ؒ نے ایک جگہ حیلے سے بحث کی ہے اور خاص طور پر سودی حیلہ کاری کا ذکر کیا ہے۔ اس سیاق و سباق میں انہوں نے لکھا ہے کہ ربا کی حرمت کو کسی متعین صورت یا متعین الفاظ تک محدود کرنا درست نہیں ہے بلکہ ربا کی حرمت کا تعلق اس حقیقت کی وجہ سے ہے جس سے وہ تجارت اور خرید و فروخت سے ممیز ہوتا ہے۔ یہ حقیقتِ ربا جہاں بھی پائی جائے گی، وہاں حرمت کا حکم بھی منطبق ہو گا، چاہے اس میں الفاظ کوئی بھی اختیار کیے جائیں۔ شریعت کے احکام کا دارو مدار حقائق پر ہوتا ہے، الفاظ اور عنوانات پر نہیں ہوتا۔‘‘(نواں خطبہ:ص۳۵۴)
لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر غازیؒ کا رجحانِ طبع ، بیع مرابحہ جیسے عنوانات و مندرجات کی موافقت میں ہے، تبھی تو انہوں نے گیارھویں خطبے(ص۴۰۲،۴۰۳) میں اس کی وکالت کی ہے۔ شاید اسی لیے بینکاری کے بعض معاملات میں وہ حیلے کو اہمیت دیتے ہیں:
’’بظاہر کچھ معاملات ایسے ہیں کہ روایتی اور اسلامی بینکاری کے معاملات میں فرق زیادہ نمایاں طور پر محسوس نہیں ہوتا۔ لیکن شریعت کے بہت سے احکام میں ایسا ہے کہ جائز اور ناجائز میں جو فرق ہے، وہ طریقِ کار کا فرق ہوتا ہے۔ بہت سے معاملات شریعت میں جائز ہیں، بہت سے ناجائز ہیں۔ ایک ہی کام کو ایک طریقے سے کیا جائے گا تو جائز ہوگا دوسرے سے کیا جائے گا تو ناجائز ہو گا۔‘‘(دسواں خطبہ:ص۳۸۱)
لیکن امام شاطبی ؒ کے حوالے سے ہمارے ممدوحؒ ہمیں اس نکتے سے آگاہ کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں:
’’النظر فی مآلات الافعال معتبر شرعا، کہ کسی بھی معاملے کے انجام کی بنیاد پر اس معاملے کا فیصلہ کرنا شریعت کا ایک طے شدہ اصول ہے۔ لہٰذا اسلامی بینکاروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے معاملات جہاں فنی اعتبار سے سو فی صد درست ہوں، وہاں اسلامی اعتبار سے بھی مکمل طور پر شریعت کے احکام کے پابند ہوں۔‘‘(دسواں خطبہ:ص۳۸۵)
فیصلہ کرنا کافی مشکل ہے کہ بیع مرابحہ کوآخر کس کھاتے میں ڈالا جائے؟ اگر صرف اور صرف ’’ انجام‘‘ دیکھا جائے تو قرض لینے والے کو ایک کروڑ قرض پر، دونوں صورتوں میں ایک کروڑ دس لاکھ ادا کرنے پڑتے ہیں اور اگر ’’طریق کار‘‘ دیکھا جائے تو جواز بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ اسلامی بینکاری میں بیع مرابحہ جیسے طریق ہائے کار کی اجازت عبوری دور کے لیے ہونی چاہیے، یعنی انہیں’’ اصولاً‘‘ تسلیم کرنے کے باوجود ’’مقصود‘‘ کے درجے میں ہرگز نہ رکھا جائے۔ اسلاف کا طرزِ عمل ایسے معاملات میں بہت ہی زیادہ احتیاط برتنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ واقعہ ہی دیکھ لیجیے:
’’ ایک شخص نے امام( ابوحنیفہ ؒ )سے قرض لیا ہوا تھا۔ امام صاحب کہیں تشریف لے جا رہے تھے۔ راستے میں کسی (دوسرے)شخص نے روک کر مسئلہ پوچھنا چاہا۔ امام صاحب رک کر کھڑے ہو گئے۔ وہ صاحب جو مسئلہ پوچھنا چاہتے تھے، وہ سورج کی تمازت اور گرمی کی وجہ سے ایک دیوار کے سایے میں کھڑے ہو گئے۔ امام صاحب کو بھی دعوت دی کہ دیوار کے سایے میں آ جائیں۔ امام صاحب دیوار کے سایے میں تشریف نہیں لائے، دھوپ میں کھڑے کھڑے جواب دیتے رہے۔ جب خاصی دیر ہوئی تو ان صاحب نے پھر اصرار کیا کہ دھوپ کی شدت سے بچنے کے لیے دیوار کے سایے میں آ جائیں۔ امام صاحب پھر بھی سایے میں تشریف نہ لائے اور اسی طرح جواب دے کر تشریف لے گئے۔ کوئی شاگرد یا نیاز مند جو ساتھ تھے، انہوں نے پوچھا کہ آپ ان صاحب کے بار بار کہنے کے باوجود دیوار کے سایے میں کیوں کھڑے نہیں ہوئے؟ امام صاحب نے جواب دیا کہ وہ مکان جس کی دیوار کا سایہ تھا، وہ میرے فلاں مقروض کا مکان تھا۔ میں اس کی دیوار کا فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا تھا، اس لیے کہ وہ میرے مقروض ہیں۔ مقروض کی دیوار سے اتنا سا فائدہ اٹھانابھی کہ اس کے سایے میں کھڑے ہو جائیں، امام صاحب نے اس حدیث (کل قرض جر نفعاًفھو ربا) کے خلاف سمجھا۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ’’کل قرض جر نفعاًفھو ربا‘‘ کے حکم پر عمل درآمد کے بارے میں ائمہ کرام کا طرزِ عمل کیا تھا۔ وہ کتنے محتاط تھے اور کتنی جز رسی اور باریک بینی کے ساتھ وہ ان معاملات پر نظر رکھتے تھے۔‘‘ (ساتواں خطبہ: ص ۲۸۲، ۲۸۳)
ہماری روایتی علمی تاریخ میں، ربا کے باب میں ایک اختلافی واقعہ موجود رہا ہے۔ اس واقعے کی بابت خود کو مسلم علمی روایت کا پابند بناتے ہوئے ڈاکٹر غازی مرحوم فرماتے ہیں کہ:
’’ یہ معاملہ حدیث اور فقہ کے ادب میں ’’ضع وتعجل‘‘ یا ’’ضعوا وتعجلوا ‘‘کے عنوان سے مشہور ہے۔ ضعوا وتعجلوا صیغہ جمع میں ہے اور ضع وتعجل صیغہ مفرد میں ہے۔ ضع وتعجل کے لفظی معنی یہ ہیں کہ اصل مطالبے میں سے کمی کر دو اور بقیہ رقم پیشگی وصول کر لو۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنو النضیرکے موقع پر ارشاد فرمائی تھی۔ اس موقع پر یہ طے ہوا تھا کہ بنوا لنضیر کے یہودیوں کو مدینہ منورہ سے جلاوطن کر دیا جائے۔ جب وہ جلا وطن ہونے لگے اس وقت یہ اندازہ ہوا کہ مدینہ منورہ کے بہت سے لوگوں کی رقمیں بنو نضیر کے ذمے واجب الادا ہیں۔ اس طرح کے ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسئلے کو حل کرنے کے لیے فرمایا: ’’ضعوا وتعجلوا‘‘۔ یعنی جو رقم ایک مدت کے بعد واجب الادا ہو گی، وہ ابھی وصول کر لو اور اصل مطلوبہ رقم میں سے کچھ حصہ کم کر دو۔ یہ مسئلہ غزوہ بنی النضیر کے دوران پیش آیا جو مدینہ منورہ کے ابتدائی سالوں کا واقعہ ہے۔ اس وقت تک ربا کی متعدد آیات نازل نہیں ہوئی تھیں۔ اس لیے ائمہ اربعہ کا خیال ہے کہ ربا کی آیات کے نازل ہونے کے بعد اس طرح کی اجازت اگر شریعت میں تھی تو وہ منسوخ ہو چکی ہے اور اب ’’ضع وتعجل‘‘ کے اصول پر عمل کرنا درست نہیں ہے۔ کچھ دوسرے حضرات کا شروع سے یہ خیال رہا ہے کہ یہ حکم منسوخ نہیں ہوا۔ تابعین میں حضرت امام نخعیؒ اور بعد کے فقہا میں شیخ الاسلام علامہ ابنِ تیمیہؒ اور علامہ ابنِ قیمؒ کی یہی رائے ہے۔ ان حضرات کے نزدیک ضع وتعجل کااصول باقی ہے اور اس پر بعد میں بھی عمل کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ دو اصول پیشِ نظر رکھے جائیں۔‘‘(نواں خطبہ:ص۳۵۵)
بڑی عجیب بات ہے کہ ڈاکٹر غازی مرحوم اپنے محاضرات میں کہیں تو مستنبط اصولوں کو نصوص کے دائرے میں لے آئے ہیں اور کہیں منصوص احکام کو منسوخ قرار دے کر مستنبط اصولوں سے بھی بہت پیچھے لے گئے ہیں۔ درج بالا اقتباس ہی دیکھ لیجیے۔ کیا اس میں نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کوتقریباًنظر انداز کیے جانے کا تاثر نہیں ملتا؟اور کیا یہ منسوخ کے نام پر نہیں ہو رہا؟ کیا اس طرزِ عمل سے قرآن و سنت پر فقہا کی عملی فوقیت قائم نہیں ہو جاتی؟ یہ کیسا طرزِ عمل ہے؟حیرت کی بات ہے کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم اصولِ تدریج کی واقعیت اور حکمت سے خوب واقف ہیں، اسی لیے ساتویں خطبے میں (ص۲۷۵پر) فرماتے ہیں کہ ’’ربا کی حرمت شریعت کے بہت سے احکام کی طرح بالتدریج نازل ہوئی ہے۔ شریعت کا یہ مزاج رہا ہے کہ بہت سی اصلاحات میں بہت سے اہم معاملات میں احکام کے نزول میں تدریج سے کام لیا گیا ہے۔ اگر کوئی عادت خاص طور پر عادتِ قبیحہ لوگوں میں بہت جاگزین تھی تو اس کو بیک وقت ختم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اس تدریج کی وجہ یہ ہے کہ شریعت کوئی غیر عملی نظام نہیں ہے۔‘‘ ہم سمجھتے ہیں کہ شریعت کے اصولِ تدریج کو ناسخ و منسوخ کے نام پرصدرِ اسلام کے لیے مخصوص کر دینے کے رویے نے ہی اب شریعت کو غیر عملی نظام بنا دیاہے۔ اس موضوع پر قدرے تفصیلی و اصولی بحث کے لیے ماہنامہ الشریعہ اگست ۲۰۰۶ء میں ہمارا مضمون ’’معاصر تہذیبی تناظر میں مسلم علمی روایت کی تجدید‘‘ دیکھ لیجیے۔ بہرحال! زیر نظر محاضرات میں بعض ایسے نظری اور اصولی نکات شامل ہیں جن کی تنقیح ضروری ہے۔ خاص طور پر موجودہ ماحول میں جبکہ تکنیکی ترقی نے انسانی زندگی کے مادی و غیر مادی پہلوؤں کو خاصا متاثر کیا ہے، ایسے مباحث کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ڈاکٹر غازی مرحوم کہتے ہیں کہ:
’’جہاں تک قرآن کریم اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا تعلق ہے تو وہ ایک دائمی اساس ہے جو ہمیشہ رہے گی۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر ہمیشہ عمارت کی تعمیر ہوتی رہے گی۔ ان دو بنیادوں کے ساتھ ساتھ ائمہ اسلام کے وہ اجتہادات بھی بنیادی اہمیت کے حامل ہیں جن پر اتفاقِ رائے رہا ہے، جن پر اسلامی تاریخ میں تسلسل کے ساتھ عمل درآمد ہوتا رہا ہے۔ ان کی حیثیت بھی اسی طرح دائمی ہے جس طرح قرآن کریم اور سنتِ ثابتہ کی حیثیت دائمی ہے۔ ......جس تعلیم کو بقا ہے، جس حکم کو دوام ہے، وہ قرآن مجید کے احکام ہیں، وہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام ہیں اور ائمہ اسلام کے متفقہ اجتہادات ہیں۔‘‘(پہلا خطبہ:ص۱۹)
ڈاکٹر صاحب اسی نکتے کا اعادہ فرماتے ہیں :
’’الاصل فی المعاملات الا باحۃ، اس کے معنی یہ ہیں کہ کاروبار کی ہر قسم لین دین کی ہر قسم جائز ہے، بشرطیکہ وہ ان حرام عناصر سے پاک ہو جن کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔ اس لیے جدید نوعیت کے جتنے معاملات ہیں، چاہے وہ کسی روایتی عربی اسلامی اصطلاح کے تحت آ سکتے ہوں یا نہ آ سکتے ہوں، وہ سب جائز ہیں بشرطیکہ وہ قرآن کریم اور احادیث کی نصوص سے متعارض نہ ہوں اور ان متفق علیہ قواعد سے متعارض نہ ہوں جو فقہائے اسلام نے قرآن کریم اور سنت سے اخذ کیے ہیں۔‘‘(آٹھواں خطبہ:ص۳۰۱)
ڈاکٹر صاحب ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ معاملات میں اصل اباحت ہے اور اس بنیاد پر تجارت و کاروبار کی کوئی بھی صورت قابلِ قبول ہو سکتی ہے بشرطیکہ وہ قرآن و احادیث کی نصوص سے متعارض نہ ہو اور اسی سانس میں معاصر ین کو پابند کرنے کی خاطر یہ حکم لگا رہے ہیں کہ تجارت و کاروبار کی کوئی ممکنہ صورت ان متفق علیہ قواعدسے بھی متعارض نہیں ہونی چاہیے جو فقہائے اسلام نے قرآن و سنت سے اخذ کیے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ تسلیم کرنے میں تامل ہے کہ متفق علیہ قواعد اتنی بنیادی اہمیت کے حامل ہیں کہ انہیں بھی قرآن و سنت کی نصوص کے متوازی حیثیت دے کر ہر زمانے اور ہر علاقے کے لوگوں کے لیے لازمی قرار دیا جائے۔ اگر ایسا ہی ہے تو ان قواعد کو بطور قواعد، اصولاًقرآن و سنت میں ہی کہیں مذکور ہونا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہماری بات سے نتائج کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ فرق مرتب نہ ہو، یعنی معاصرین بھی قرآن و سنت سے اخذ کر کے ویسے ہی قواعد لے آئیں، لیکن اس کے باوجود اس عمل کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ یوں سمجھیے کہ جس طرح حقیقت میں ہر دن نیا دن ہوتا ہے (کل یوم ھوفی شان) اگرچہ بعضوں کے نزدیک ہر دن ایک جیسا ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ نتائج کی خارجی یکسانیت کے باوجود مذکورہ عمل سے حقیقی فرق ظہور پذیر ضرور ہوتا ہے اگرچہ یہ فرق ظاہر بینوں سے پوشیدہ رہتا ہے۔ بقول اقبالؔ :
اے اہل نظر ذوقِ نظر خوب ہے لیکن!
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے، وہ نظر کیا!
اس لیے ہمیں کہنے دیجیے کہ جوہری اعتبار سے یہ حقیقی فرق، سماج کے فکری جمود کے لیے ضربِ کلیم ثابت ہوتا ہے جس کے نتیجے میں تخلیقی سرگرمیوں کا ایک ماحول بننا شروع ہو جاتا ہے اور پھر ایسا ماحول ہی سماج کی واقعی ضروریات کی تکمیل کرتا ہے۔ غیر جانب داری سے ذرا غور تو کیجیے کہ کل یوم ھوفی شان قرآن مجید کا انتہائی مختصر حصہ ہے۔ اس کی یہ شان ہے کہ اس کا احاطہ ممکن نہیں تو پھر پورے قرآن مجید کو ائمہ اربعہ یا کبار فقہا کے مستنبط اصولوں میں محصور کر دینے کا عمل اپنے اندر آخر کتنا شرعی جواز رکھتا ہے؟ لہٰذا کل یوم ھوفی شان جیسی قرآنی آیات بہت صراحت سے راہنمائی کرتی ہیں کہ زندگی مسلسل ظہور میں ہے۔ ظہور کا تسلسل، لازمی طور پر انسانوں اور سماج پر اثرانداز ہوتا ہے اور اس اثر پذیری سے سماجی تقاضے بھی یقینی طور پر بدلتے رہتے ہیں۔ بدلے ہوئے تقاضے بدلے ہوئے رویوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جو سماج اور جو زمانہ ان مطالبوں کو تسلیم نہیں کرتا، اس کا وہی حشر ہوتا ہے جو موجودہ زمانے میں مسلم سماج کا ہوا ہے۔ شاید شریعت اسلامی کے اسی پہلو کی ترجمانی کرتے ہوئے حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے فرمایاتھا:
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی !
اس لیے کم از کم نظری اعتبار سے ہمیں بہت واضح ہونا چاہیے کہ قرآن و سنت کے متوازی کسی بھی قاعدے کو اس طرح لزوم کے درجے میں اصولاًنہیں لیا جا سکتا جس طرح ڈاکٹر غازی مرحوم فرما رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا بیان کردہ نظری منہج، صحیح معنوں میں ایسا علمی رویہ تشکیل کرسکتا ہے جو اسلام کو مطلوب ہے اور جو معاصر مسائل کے حل کے لیے اصولیین کی ایک جماعت بھی سامنے لا سکتا ہے۔ لیکن حد تو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک مقام پر مستنبط اصولوں کو منصوص حیثیت دے دی ہے:
’’کسی معاملے کے ربا ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ جہاں نصوص کی بنیاد پر کیا جائے گا، قرآن کریم اور احادیث کے واضح احکام کو سامنے رکھ کر کیا جاے گا ، وہاں معاملات کے بارے میں عمومی قواعد کو بھی سامنے رکھنا پڑے گا۔ معاملات کے بارے میں شریعت کے عمومی قواعد میں کچھ تو وہ ہیں جن کا قرآن کریم اور احادیث میں صراحت کے ساتھ تذکرہ ہے، کچھ وہ ہیں کہ جن کا تذکرہ صراحت کے ساتھ تو نہیں ہے، لیکن فقہائے اسلام نے قرآن مجید کی متعدد نصوص اور متعدد احادیث سے ان اصولوں کا استنباط کیا ہے، اس لیے ان کی حیثیت بھی منصوص اصولوں کی ہے۔‘‘ (نواں خطبہ:ص۳۵۶)
گویا ڈاکٹر محمود احمد مرحوم کے نزدیک شریعت دو کے بجائے تین عناصر پر مشتمل ہے۔ وہ بصد اصرار اپنا موقف پیش کرتے ہیں۔ ان کے یہی الفاظ ملاحظہ کر لیجیے:
’’شریعت نے کسی ڈھانچے کو کوئی تقدس عطا نہیں کیا، نہ کسی ڈھانچے کو دوام بخشا۔ دوام صرف اور صرف قرآن مجید کی نصوص، سنت کے احکام اور ان دونوں کی بنیادوں پر مدون کیے جانے والے متفق علیہ احکام کو حاصل ہے۔ ان تینوں چیزوں کی بنیاد پر یعنی قرآن کریم کی نصوص، سنتِ مبارکہ اور امتِ مسلمہ کے متفق علیہ قواعد و ضوابط کی بنیاد پر مسلمانوں نے وقتاًفوقتاًمختلف انداز کے ڈھانچے اپنائے۔‘‘(گیارھواں خطبہ:ص۴۱۲)
آج ہمارے ممدوحؒ نے شریعت میں قرآن و سنت کے ساتھ متفق علیہ قواعد کو شامل کر لیا ہے، کل کلاں کوئی صاحب کسی اور چیز کو شامل کرلیں گے۔ اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ پھر اپنا پنا حسنِ کرشمہ ساز ہو گا اور خرد ، جنوں اور جنوں ، خرد قرار پائے گا۔ یوں اجتہاد سے بچنے کے لیے کیا جانے والا یہ ’’اجتہاد‘‘ دین کو چوں چوں کامربہ بنا دے گا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر غازیؒ ایک طرف متفق علیہ قواعد کو قرآن و سنت کے متوازی لے رہے ہیں اور دوسری طرف قرآن کریم کہنے کے بجائے قرآن کریم کی نصوص کہہ کر غالباًقرآن مجید کے ایک خاص حصے کو ہی شریعت کے دایرے میں شامل کر رہے ہیں۔ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟ اس موضوع پر چونکہ ہم اپنی بے لاگ رائے کا اظہار ماہنامہ الشریعہ دسمبر۲۰۰۶ میں بعنوان ’’قدامت پسندوں کا تصورِ اجتہاد‘‘ کر چکے ہیں، اس لیے اسی بیان پر اکتفا کرتے ہیں۔
انسانی زندگی کی بقا کو ملزوم اور ضروریاتِ زندگی میں شامل اشیا پر خواص کا تصرف اسلامی نقطہ نظر سے قابل قبول نہیں ہے۔ ڈاکٹر محمود احمدغازی مرحوم نے اس موضوع پر یوں لب کشائی کی ہے:
’’ان ممانعتوں کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کی ممانعت بھی کی ہے جو اللہ تعالیٰ نے عام انسانوں کے لیے پیدا کی ہیں اور عام انسانوں کا ان پر حق یکساں ہے۔ جیسے ایک دریا ہے۔ ..... یہ ہر انسان کے لیے ہے، ہر جانور کے لیے ہے۔ اب کوئی شخص دریا کے کنارے ہتھیار لے کر بیٹھ جائے اور کہے کہ جب تک پیسے نہیں دو گے، پانی نہیں دیں گے، یہ جائز نہیں ہے۔ جو پانی کھلے دریاؤں میں سمندروں میں اور کھلے چشموں میں اور آبشاروں میں آ رہا ہے، وہ تمام لوگوں کی اور اس ملک اور علاقہ کے تمام باشندوں کی ملکیت ہے، اس پر کسی ایک شخص کا قبضہ نہیں ہوسکتا۔ یہاں تک کہ اگر کچھ لوگ سفر پر جا رہے ہوں، ایک شخص کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی موجود ہے اور دوسرا محتاج ہے تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے کہ جو زائد از ضرورت پانی ہے، یہ دوسرے کو ویسے ہی دے دو، فروخت نہ کرو۔ بعض فقہا کے نزدیک یہ حرمت قانونی انداز کی ہے ...... بیشتر فقہا کا خیال یہ ہے کہ یہ ایک اخلاقی نوعیت کی ہدایت ہے۔‘‘ (پہلا خطبہ: ص ۶۲)
ڈاکٹر صاحب نے عام انسانوں کے لیے پیدا کی گئیں چیزوں میں سے ’’دریا‘‘ کی مثال دی ہے۔ یہ شاید اس لیے ہے کہ سرمایہ داروں، جاگیرداروں کی ’’ذہانت‘‘ ابھی تک کوئی ایسا اصول اختراع نہیں کر سکی جس کی بنیاد پر دریاؤں پر بھی ان کی جارہ داری قائم ہو جائے۔ اس سلسلے میں جب وہ کوئی گل کھلائیں گے تو ’’دریا‘‘ کی مثال بھی عنقا ہو جائے گی اور بات آکسیجن تک آ جائے گی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسانوں کا ’’یکساں حق‘‘ کیا صرف اور صرف پانی تک محدود ہے؟ کیا انسان صرف اور صرف پانی کے سہارے زندہ رہ سکتا ہے؟ آج زمین کے اندر موجود چیزوں کے بارے میں تقریباًاتفاقِ رائے پایا جاتا ہے کہ وہ نجی ملکیت میں نہیں دی جاسکتیں، مثلاًقدرتی گیس، پٹرول، سونا چاندی و دیگر معدنیات وغیرہ تو پھر زمین کے اوپر موجود پیداوار کو نجی تصرف میں کیوں دے دیا گیا ہے؟ وہ زمین جو مدفون خزانے رکھے اور وہ زمین جو پوشیدہ خزانے رکھے، آخر کو زمین ہے، اس میں فرق کیوں روا رکھا جاتا ہے؟ ذرا غور کیجیے کہ سونے کا بنفسہ، انسان کی بقا سے انسان کی زندگی سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے، اس کے باوجود آج کے انسان کا اجتماعی ضمیر سونے کی کانوں کو اس لیے نجی ملکیت میں دینے کو تیار نہیں کہ اس سے پورا معاشی نظام تتربتر ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں سماجی نظم برقرار نہیں رہ سکتا۔ تو پھر ایسی اشیا جو انسانی بقا کے لیے لازم ہیں اورضروریاتِ زندگی میں شمار ہوتی ہیں اور اسی زمین سے پیداوار کی شکل میں حاصل ہوتی ہیں ان پر اجارہ داریاں قائم کرنے کی اجازت کس اصول کے تحت جائز ہے؟ زمین کی پیداوار چاہے داخلی ہو چاہے خارجی ہو، اب تو بات اس قدرتی پیداوار سے بھی بہت بڑھ گئی ہے۔ ہر قسم کی مصنوعات ، بلاواسطہ یا بالواسطہ زمین ہی کی کسی پیداوار کا نیا روپ ہیں۔ ابھی تک انسان نے اتنی ترقی نہیں کی کہ وہ کن فیکونکہے اور عدم سے اشیا ظہور میں آجائیں۔ اس لیے انسانی بقا اور انسانی ضروریات کو ملزوم اشیا کا دائرہ اگر مصنوعات تک بھی پھیلانا پڑتاہے تو ان پر یکساں انسانی حق تسلیم کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں حالیہ دور میں چینی کی مثال لے لیجیے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کے تناظر میں، جس کا ذکر ڈاکٹر صاحب نے کیا ہے، سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی احکامات کی قانونی اور اخلاقی تفریق میں ہم آخر کب تک الجھے رہیں گے؟ اگر کسی حکم کو اخلاقی قرار دیا جاتا ہے تو اس کا منشا کیا یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں استحصالی طبقہ مزید مضبوط ہو اور پساہوا طبقہ مزید خاک آلود ہو؟ ہم سمجھتے ہیں کہ آج کے دور میں اسلامی احکامات پر از سرِ نو غور کر کے نہ صرف قانونی و اخلاقی دائروں کی تشکیل نو کی ضرورت ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی احکام کی مقصدیت کی تنقیح بھی انتہائی ناگزیر اور لازمی ہے۔ افسوس! ہمارے ہاں اسلامی احکام کی مقصدیت پر ابھی تک تسلی بخش کام نہیں ہوا۔ زیر نظر محاضرات بھی اس کمی کا احساس دلاتے ہیں:
’’گندم گندم ہے، چاہے وہ اچھی ہو یا بری ہو۔ اگر کوئی شخص گندم کا گندم سے لین دین کرنا چاہے تو وہ برابری کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنی قیمتی گندم فروخت کر کے ذرا معمولی قسم کی گندم زیادہ مقدار میں حاصل کر لے تو اس کو چاہیے کہ وہ مونٹری ایکانومی کی طرف جائے یعنی وہ پہلے سکہ رائج الوقت کے حساب سے اپنی گندم فروخت کرے۔ پھر اس نقد رقم سے جو حاصل ہو، بازار میں جتنی اور جیسی چاہے گندم خرید لے۔‘‘ (پہلا خطبہ: ص ۵۵)
ڈاکٹر غازی مرحوم نے اس اصول کے جواز اور حکمت پر تفصیلی روشنی نہیں ڈالی۔ آج کے حالات میں یہ اصول حیلہ معلوم ہوتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب جب کہ ہر چیز کی قیمت متعین ہوتی ہے، ایسے ماحول میں اچھی اور معمولی گندم کی قیمت مارکیٹ میں متعین ہو جائے تو ان قیمتوں کو پیمانہ مانتے ہوئے انہی قیمتوں کی بنیاد پر اچھی اور معمولی گندم کا تبادلہ کیوں ممکن نہیں؟ بارٹر سسٹم (اشیا کے بدلے اشیا کا تبادلہ) کے دور میں اشیا کی قیمتیں متعین نہیں ہوتی تھیں۔ اس کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ذرائع رسل و رسائل میں انسان کی پس ماندگی تھی جس کی وجہ سے ایک ہی علاقے میں ایک ہی شے کی مختلف قیمتیں ہوتی تھیں۔ مثلاًاگر ذرائع رسل و رسائل کی ترقی کو سمیٹ دیا جائے تو پاکستان کے مختلف شہروں میں(بلکہ ایک ہی شہر کی مختلف منڈیوں میں) ایک ہی چیز کی قیمت مختلف ہو جائے گی(اگرچہ ذہنی پس ماندگی کے باعث عملاًایسا ہی ہو رہا ہے)۔اب مواصلات کے شعبے میں حیرت انگیز ترقی نے انسانوں کو اس قابل بنا دیا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو پوری دنیا میں کسی بھی چیز کی ایک ہی قیمت متعین کر سکتے ہیں۔ شاید مستقبل میں کبھی ایسا ہو بھی جائے، اس لیے آج کے دور میں قیمتوں کو پیمانہ بنا کر ایک ہی جنس کی شے کے تبادلے میں کمی بیشی کرنے میں معاشی اخلاقی اور شرعی اعتبار سے شاید کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔ چونکہ یہ اصول ڈاکٹر محمود مرحوم کی اختراع نہیں بلکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبارک سے اخذ کردہ ہے، اس لیے اس پر نہایت سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’سونے کا مبادلہ سونے سے، چاندی کا چاندی سے، گیہوں کا گیہوں سے، جو کا جو سے، چھوارے کا چھوارے سے، نمک کا نمک سے، برابر برابر اور ہاتھ در ہاتھ ہونا چاہیے، اور جب یہ اصناف بدل جائیں تو جس طرح چاہو خرید و فروخت کرو، لیکن یہ خرید و فروخت بھی ہاتھ در ہاتھ ہونی چاہیے۔‘‘
یہ فرمانِ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم واضح طور پر بارٹر سسٹم کے متعلق ہے۔ اب جبکہ مونیٹری سسٹم رائج ہے تو کیا اب اس حدیث پاک کو متروک سمجھا جائے؟ دیکھنے میں آیا ہے کہ معاصرین اس حدیث پاک کو عصری ماحول میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو اسے سودی نظام کی تفہیم تک محدود کر لیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں گنوائی گئی اشیا کی تعداد اور بارٹر سسٹم کو الگ رکھ کر، ان اشیا کی نوعیت ملحوظ رکھتے ہوئے فرمانِ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد دریافت کرنے کی کوشش کی جائے تو دو معنوی پرتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ اشیا انسانی ضروریات کی عمومیت پردال ہیں، یعنی ان کا دائرہ ہر دور کی ضروریاتِ زندگی کے مطابق کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے جسے اصطلاحاًکفاف کہا جا سکتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر زمانے کی ضروریاتِ زندگی کے لحاظ سے اشیا کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی عمومی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اس حدیث پاک کی دوسری معنوی پرت یہ ہے کہ کسی زمانے میں ضروریاتِ زندگی کو ملزوم ایک ہی جنس کی شے ، اعلیٰ اور حقیر کے نام پر منقسم نہ کی جائے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا ہے تو کوئی لازمی چیز مثلاًگندم چاول چینی وغیرہ، اعلیٰ ترین اور کم ترین کے نام سے مارکیٹ میں آئے گی اور زیادہ منافع کی غرض سے اعلیٰ درجے کی جنس کو رواج دینے کی کوشش کی جائے گی جس کے نتیجے میں ایک تو کفاف کے درجے میں کم ترین درجے کی جنس بھی اکثریتی آبادی کی ضروریات پوری نہ کر پائے گی اور دوسرا یہ کہ اس سے ضروریاتِ زندگی کی تکمیل میں بھی مساوات کے بجائے عدمِ مساوات قائم ہوجائے گی کہ معاشرے کا ایک مخصوص طبقہ اعلیٰ ترین درجے کی جنس کا خریدار ہو گا اور اس سے ضروریاتِ زندگی کے باب میں بھی دکھاوے کی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ کفاف کے درجے میں ایسی دوڑ یا ایسی عدمِ مساوات دین اسلام کی روح سے بالکل میل نہیں کھاتی۔ لہٰذا اس حدیث نبوی میں مضمر مقصدیت کو پیچھے کی سطروں میں مذکور ’’یکساں حق‘‘ کی مطابقت میں لینا، اس کی عصری معنویت سے لگا کھاتا ہے۔یہاں ضمناًیہ نکتہ پیش نظر رہے کہ آج اکیسویں صدی میں شرعی احکام کے الفاظ کی پیروی کے بجائے شریعت کے مقاصد کی تفہیم (جیسا کہ وقف، بیمہ،عاقلہ اور وینچر کیپیٹل کی بحث میں بھی مقاصد پر نظر رکھی گئی)، غالباًواحد راستہ ہے جس پر چل کر دین اسلام عملی تقاضوں کا مناسب حل پیش کر سکتا ہے اور تنفیذ کی منزل پا سکتا ہے۔ اگر الفاظ ، مقاصد کے ذرائع کے بجائے خود ہی مقصد ہیں تو پھر(مثال کے طور پر) دشمن کے خلاف جہاد میں بھی گھوڑے دوڑانے چاہییں اور تیر برسانے چاہییں۔ ڈاکٹر غازی مرحوم نے کفاف کے ضمن میں ریاستی ذمہ داری پر اس طرح روشنی ڈالی ہے:
’’ شریعت کا رجحان اور مزاج یہ ہے کہ کفاف اور ضروریات کے لیے تو ریاست کے وسائل مکمل طور پر خرچ کیے جائیں۔ حاجیات کے لیے ریاست کے وسائل وہاں خرچ کیے جائیں جہاں دستیاب ہوں اور جتنے دستیاب ہوں، اتنے ہی خرچ کیے جائیں۔ تکمیلیات کا جہاں تک تعلق ہے، وہ چونکہ لامتناہی ہیں، اس لیے اگر ان پر کنٹرول نہ کیا جائے، ان کو حدود کے مطابق نہ بنایاجائے تو یہ رجحان ناپسندیدہ رنگ اختیار کر سکتا ہے۔ ایک حدیث میں آپ علیہ السلام نے فرمایا: ’’لو کان لا بن آدم وادیان من ذھب لابتغیٰ ثالثا‘‘ اگر آدم کے کسی بیٹے کے پاس دو وادیاں سونے سے بھری ہوئی ہوں تووہ تیسری وادی کی تلاش میں نکل پڑے گا۔ یہ انسان کا مزاج ہے۔ خود قرآن پاک کا ارشاد ہے: ’’انہ لحب الخیر لشدید‘‘ انسان مال کی محبت میں شدید ہے۔ ...... ریاست کی اصل اور بنیادی ذمہ داری کفاف کی ہے۔ کفاف میں بنیادی اور ناگزیر طور پر تین چیزیں تو لازماًاور ہر حال میں شامل ہیں۔ بھوکے کو کھانا کھلانا، بے لباس کو لباس فراہم کرنا، بے گھر کو گھر فراہم کرنا۔ روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی کفاف ہے اور یہ پوری امت مسلمہ کے ذمے واجب علی الکفایہ ہے۔ اس واجب کو یا فرض کفایہ کو عامۃ الناس کی طرف سے ریاست ادا کرے گی، اس لیے کہ ریاست عامۃ الناس کی وکیل ہے۔ عامۃ الناس موکل ہیں، ریاست ان کی وکیل ہے، اس لیے موکل کی طرف سے وکیل اس فریضے کو انجام دے گا۔ فقہائے اسلام میں سے بعض حضرات نے یہ لکھا ہے، جن میں علامہ ابنِ حزمؒ کا نام بہت مشہور ہو گیا ہے کہ اگر ریاست اپنے ان تقاضوں کو پورا نہ کرے یا ریاست ان فرائض کی انجام دہی میں غفلت اور کوتاہی اختیار کرے اور معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہوں جن کو روزی پیٹ بھر کر نہ ملتی ہو، ایسے لوگ موجود ہوں جن کے پاس تن ڈھانپنے کو لباس نہ ہو، سر چھپانے کو چھت نہ ہو تو وہ زبردستی خود باوسیلہ لوگوں سے اپنا حق وصول کر سکتے ہیں۔‘‘(چوتھا خطبہ:ص۱۸۲،۱۸۳)
اس اقتباس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب بندوق چلانا چاہتے ہیں لیکن ابنِ حزمؒ کے کندھوں پر رکھ کر ۔ ایسا کیوں ہے کہ ہمارے علما و سکالرز کی اکثریت اس طرح کے معاملات میں طرح مصرع ملنے پر بھی غزل کہنے سے گریز کرتی ہے؟ ان کا یہ سہما سہما معذرت خواہانہ انداز شاید اس لیے ہوتا ہے کہ ماضی میں سوشلزم کی مخالفت برائے مخالفت میں خود انھی مقاصد (کفاف وغیرہ) سے چشم پوشی کرتے رہے ہیں، حالانکہ خلیفہ اول نے طبقاتی کشمش کی پیش بندی کر کے مساوات اور حریتِ فکر کی راہ ہموار کر دی تھی جس کا اعتراف خود ڈاکٹر غازیؒ بھی کر رہے ہیں:
’’ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے زمانے میں جب تمام مجاہدین کی باقاعدہ تنخواہیں مقرر کی گئیں تو سیدنا صدیق اکبرؓ نے سب کی تنخواہیں برابر رکھیں۔ ان کی اپنی تنخواہ ، ایک عام مجاہد صحابی یا تابعی کی تنخواہ کے برابر تھی۔ وہ یہ فرماتے تھے کہ کمی بیشی اور اجر میں زیادتی یہ اللہ تعالیٰ کے یہاں جا کر ہو گی۔ دنیوی معاملات کی حد تک ہم سب کو برابر رکھیں گے ااور سب کو برابر تنخواہ دیں گے۔ اس لیے کہ معاشی ضروریات سب کی ایک جیسی ہیں۔ اہلِ خانہ سب کے ساتھ ہیں۔ کھانا پینا روزی علاج تعلیم، یہ سب کو حاصل کرنی ہے۔ اس لیے تنخواہوں میں کمی بیشی کا تصور ان کے خیال میں مناسب نہیں تھا۔‘‘ (چوتھا خطبہ: ص ۱۷۵)
سیدنا ابوبکرصدیق کے معاشی وژن کا قدرے تفصیلی ذکر ہم اپنے مضمون بعنوان’’اسلامی حکومت کا فلاحی تصور‘‘ میں کر چکے ہیں۔ (اس کے لیے فروری ۲۰۰۵ء کا ماہنامہ الشریعہ دیکھیے)۔ علامہ محمد اقبالؒ بھی اس صدیقی پالیسی سے متفق تھے۔ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’ملکیت، خواہ وہ جمہوریت ہی کی قبا میں پوشیدہ کیوں نہ ہو ، انسان کو فوز و فلاح سے آشنا نہیں کر سکتی بلکہ انسانی فلاح تمام انسانوں کی مساوات اور حریت میں پنہاں ہے۔‘‘ (اقبال اور قرآن از ڈاکٹر غلام مصطفی خان:ص۸۸۷)
ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم بھی اس پالیسی سے ملتے جلتے رجحانات رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے صدرِ اسلام سے ضروریاتِ زندگی اور مفادِ عامہ سے متعلق ایک واقعہ پیش کرتے ہیں:
’’مشہور صحابی سیدنا بلال بن حارث المزنیؓ (یہ حضرت بلالؓ موذن نہیں ہیں، یہ دوسرے بلالؓ ہیں) ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے قریب عقیق کے علاقے میں ایک بہت بڑی زمین دے دی۔ صحابہؓ نے بعد میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس زمین میں فلاں قسم کی پیدا وار ہوتی ہے جو عامۃ الناس کے لیے بہت ضروری ہے، اس لیے اگر وہ ایک شخص کے پاس رہی تو شاید اس کے اثرات مناسب نہ ہوں۔ اس پر وہ زمین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے واپس لے لی اور دوسری ایک زمین ان کو دے دی جس کی آباد کاری کا انہوں نے وعدہ کیا، لیکن وہ اس کو آباد نہیں کر پائے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے زمانے میں جب یہ دیکھا کہ سیدنا بلال بن حارثؓ اس زمین کو آباد نہیں کر پائے تو سیدنا عمرفاروقؓ نے ان سے وہ زمین واپس لے لی اور دوسرے مسلمانوں کو الاٹ کر دی۔‘‘ (چوتھا خطبہ :ص ۱۸۱)
نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کا مفادِ عامہ میں زمین واپس لینا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے نہ صرف ضروریات زندگی کو ملزوم تقاضے نبھانے کی خاطر، بلکہ کسی ممکنہ اجارہ داری کے سدِ باب کے لیے بھی کسی چیز کو اجتماعی نظم میں لینے کی پوری گنجائش نکلتی ہے۔ اور رہا سیدنا عمر فاروقؓ کا طرزِ عمل تو وہ صاف صراحت کر رہا ہے کہ اسلامی احکام قانونی اطلاق کے بجائے مقصد قانون کو اصلاًاہمیت دیتے ہیں، یعنی قانونی اطلاق کی حیثیت اضافی ہے اور مقصدِ قانون اس پر فوقیت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کسی حکم کی تنفیذ کے بعد مقاصد حاصل نہیں ہوپاتے تو اس تنفیذ کی تنسیخ اس حکم کے مقاصد سے پوری طرح ہم آہنگ ہوگی۔ ڈاکٹر محمود احمد مرحوم کا درج ذیل بیان سیدنا عمر فاروقؓ کے عمل کی توضیح معلوم ہوتا ہے:
’’ ایک اہم بات وسائل کا مکمل استعمال بھی ہے۔ جس کو آج کل optimum utilization کہتے ہیں، وہ شریعت کا بھی منشا ہے۔ شریعت کا حکم یہ ہے کہ اللہ نے جو رزق دیا ہے، جو وسیلہ عطا کیا ہے، اس کا مکمل اعتراف اور اس احسان کا مکمل اظہار ہو نا چاہیے۔ اس کی واحد شکل یہ ہے کہ اس کا استعمال مکمل ہو۔ ......اس کے لیے ضروری ہے کہ اس بات کا علم اور مہارت حاصل کی جائے کہ کسی چیز کا بہتر سے بہتر استعمال کہاں کہاں اور کیسے کیسے ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ ایسا گھریلو جانور جو مر جائے جس کو لوگ اس کے گھر سے باہر پھینک دیتے ہیں، اس کے بارے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کو کسی ایسی طرح استعمال کرو اس کے مفید اجزا بالکل ضائع نہ ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں تشریف لے جا رہے تھے، راستے میں دیکھا کہ مردہ بکری پڑی ہوئی ہے جو کسی نے پھینک دی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ بکری مردہ ہے اس کو پھینک دیا، لیکن اس کی کھال کو استعمال کیا جاسکتا تھا۔ دباغت کے ذریعے اس کی کھال کا چمڑا بنایا جا سکتا تھا۔ یہ چمڑا کسی ایسے مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا جہاں چمڑا استعمال ہوتا ہے۔ اس سے واضح طور پر یہ ہدایت ملتی ہے کہ کسی چیز کو بھی بغیر مکمل استعمال کے ضائع کرنا درست نہیں ہے۔ یہ ہے وسائل کا مکمل استعمال۔‘‘ (چوتھاخطبہ:ص۱۷۳)
لیکن یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ انسان وسائل کا مکمل استعمال کسی مثبت نتیجے کی امید پر کرتا ہے۔ ڈاکٹر غازی مرحوم نے ایک روایت پیش کی ہے جس سے اخذ ہوتا ہے کہ نتیجے کی پروا کیے بغیر انسان کو کوئی بھی مثبت عمل کر گزرنا چاہیے۔ ملاحظہ کیجیے:
’’صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس زمین ہو، کسی کے پاس زمین ہے یا تو اس میں خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو کاشت کرنے کے لیے دے دے۔ یعنی وسائل کو بغیر استعمال کے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص پودا لگانے کے لیے بیٹھا ہو، ہاتھ میں اس کا بیج یا قلم ہو اور ابھی لگانے کے لیے بیٹھا ہے، قیامت کا صور پھنک گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر ہو سکے تو اس پودے کو لگا کر پھر اٹھو اور پھر دیکھو کہ قیامت آئی ہے تو اب کیا کریں۔ فان استطاع ان لا یقوم حتی یغرسھا فلیفعل ، اگر اس کو اتنی مہلت مل جائے کہ قیامت کا صور پھونکے جانے کے بعد بھی وہ پودا لگا سکے اور پودے کو لگانے کے بعد کھڑا ہو تو اس کو ایسا کر گزرنا چاہیے۔‘‘ (پہلاخطبہ:ص۵۱)
خیال رہے مثبت عمل وہ ہوتا ہے جو فی نفسہ نتیجہ خیز ہوتا ہے۔ اس لیے دینِ اسلام میں ایسی سرگرمی سے منع کیا گیا ہے جو اصلاًبے نتیجہ وبے ثمر ہو۔ اسی لیے خاص طور پر علم کے میدان میں بھی (نفع کے حقیقی تصورکے ساتھ) علم نافع ہی کو شریعت نے تسلیم و قبول کیا ہے۔ بقول اقبالؔ :
وہ علم اپنے بتوں کا ہے آپ ابراہیم!
کیا ہے جس کو خدا نے دل ونظر کا ندیم
وہ علم کم بصری جس میں ہم کنار نہیں!
تجلیاتِ کلیم ومشاہداتِ حکیم
اس لیے اس روایت سے یہ اخذ کرنا زیادہ صحیح ہو گا کہ اگر کوئی عمل فی نفسہ نتیجہ خیز ہے، ثمرآور ہے، نفع مند ہے تو پھر انسان کو یہ سوچ کر بلکہ یہ دیکھ کر بے عمل نہیں ہو جانا چاہیے کہ اس کی محنت کا ثمر اسے نہیں ملے گاکہ: السعی منی والاتمام من اللہ ، کہ کوشش میرا کام ہے اورا نجام کو پہنچانا اللہ کاکام ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ انسان کو ہر وقت کسی نہ کسی مثبت سرگرمی میں مصروف رہنا چاہیے اور دوسرا مطلب یہ ہوا کہ نتائج و ثمرات کے حوالے سے انسان کو خود غرض اور لالچی نہیں ہونا چاہیے۔ اقبالؔ نے سچ ہی کہا تھا:
جس کا عمل ہے بے غرض، اس کی جزا کچھ اور ہے
حور وخیام سے گزر، بادہ وجام سے گزر!
اس روایت میں قیامت کا صور پھونکے جانے کے ساتھ پودے کا بیان محض مثال کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کی ایک علامتی اہمیت بھی موجود ہے، لیکن سر دست اس علامت کی تحلیل و تشریح ہمارے لیے ممکن نہیں ہے کہ یہ ہمارے موضوع سے براہ راست مناسبت نہیں رکھتی۔
اپنی ذاتی منفعت کی خاطر لوگوں کو مختلف حیلوں بہانوں سے لوٹنا ایک عام انسانی روش رہی ہے۔ ڈاکٹرغازی مرحوم ایک قرآنی لفظ’’بخس‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے اس سے عصری تقاضوں کے موافق معنویت اس طرح اخذ کرتے ہیں:
’’ یہ بات فقہاے اسلام نے قرآن کریم کی اس آیت سے نکالی ہے جس میں ارشاد ہو اہے کہ ’’ولا تبخسوا الناس اشیاءھم‘‘ لوگوں کی چیزوں اور مال ودولت (کی قیمت) کم نہ کرو ۔ اس حکم میں بہت عموم ہے۔ لوگوں کی چیزیں اونے پونے خرید لینا، کھوٹے سکے جاری کرنا، کم وزن کے دراہم و دنانیر سے کام چلانا، کسی کی قیمتی چیز کو کم قیمت قرار دے کر خرید لینا، یہ سب بخس میں شامل ہے۔ آج کل کے لحاظ سے ہم کہ سکتے ہیں کہ سکے کو ڈی ویلیو کرنا بھی بخس کی ایک قسم ہے۔ آپ نے بطور حکومت مجھے پانچ ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا، اس کے بعد سکے کی قیمت کم کر کے آپ نے پانچ ہزار کی قیمت ڈھائی ہزار کر دی اور مجھے پانچ ہزار کا نوٹ پکڑا دیا۔ میرا استحقاق جس قیمت کا تھا، وہ قیمت آپ نے مجھے ادا نہیں کی۔ یہ بھی ’’ولا تبخسوا الناس اشیاءھم‘‘ میں شامل ہے۔ آج کل اس حکم پر عمل درآمد کی صورت کیا ہونی چاہیے؟ اس حکم کو آج کی معاشی زبان میں منتقل کیسے کیا جائے؟ یہ اہل علم کے غور کرنے کا سوال ہے۔ امام احمد بن حنبل ؒ نے کم وزن کے سکے جاری کرنے کو یا جعلی طور پر چلا دینے کو فساد فی الارض قرار دیا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ فساد فی الارض کی سزا قرآن کریم میں بہت سخت ہے۔‘‘ (چوتھا خطبہ: ص ۱۸۸)
قرآن مجید میں کم از کم تین مقامات (اعراف۷:۸۵، ھود۱۱:۸۵، شعراء۲۶:۱۸۳ ) پر بخس کی ممانعت کے ساتھ فساد فی الارض کا ذکر کیا گیاہے، اس لیے اگر یہ طے پا جائے کہ رائج الوقت کرنسی میں کسی قسم کی گڑبڑ ’’بخس‘‘ کے دئیرے میں آتی ہے تو پھر امام احمد بن حنبلؒ کا کم وزن یا جعلی سکے چلانے کے عمل کو فساد فی الارض سے تعبیر کرنا یقیناًدرست سمجھا جانا چاہیے، لیکن ہمیں حیرت ہے کہ ڈاکٹر محمو احمد مرحوم نے (روپے کے شے نہ ہوتے ہوئے بھی) اس کی قدر گرانے (devaluation) کے عمل کو تو بخس میں شمار کیا ہے، لیکن’’ محنت‘‘ اونے پونے خریدنے کو قابل غور ہی نہیں سمجھا۔ اس سلسلے میں امام احمد بن حنبلؒ کو الزام نہیں دیا جا سکتا کہ ان کے دور میں محنت اونے پونے خریدنے کا عمل یا تو موجود ہی نہیں تھا یا اتنا کم تھا کہ اسے بخس کے عنوان سے فساد فی الارض میں شمار کرنا تقریباًناممکن تھا۔ ڈاکٹر غازی مرحوم چونکہ قرآن مجید کی نص سے براہ راست اخذ کرنے کے بجائے امام احمد بن حنبلؒ کے اخذ کردہ سے اخذ کر رہے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ یہ مسئلہ پیش آرہا ہے۔ اب ہم امام احمد بن حنبلؒ کو کہاں سے لائیں کہ وہ آج کے دور کے مطابق کچھ اخذ کریں تاکہ ہمارے سکالرز ان کے پیچھے پیچھے کچھ جھاڑ پونچھ کر سکیں! خیر! ڈاکٹر صاحب کو محنت کے استحصال کا درد تو نہیں ہے، البتہ پانچ ہزار اور ڈھائی ہزار کی مثال بتا رہی ہے کہ انہیں تنخواہ دار طبقے کی حالت زار کا نہ صرف علم ہے بلکہ وہ ان کا درد بھی محسوس کر رہے ہیں۔ ایسا شاید اس لیے ہے کہ وہ خود سرکاری ملازم رہے ہیں۔ حالیہ دور میں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی، افراطِ زر میں مسلسل اضافے اور مہنگائی کے نہ رکنے والے طوفان نے ملازم اور مزدور کو ادھ موا کر کے رکھ دیا ہے۔ تو کیا کوئی احمد بن حنبلؒ ہے جو اسے علی الاعلان فساد فی الارض قرار دے کر امامت کا منصب سنبھال سکے؟
خیر! منفی ربا کے مانند، ہمارے دور میں بخس کا نیا روپ منفی بخس بھی سامنے آیا ہے۔ اس میں کسی کی اونے پونے قیمت والی چیز، زیادہ قیمت میں خرید لی جاتی ہے۔ حکومتوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ایسے معاملات چلتے رہتے ہیں۔ مثلاً ملی بھگت سے پانچ لاکھ مالیت کی زمین سرکار کے لیے ایک کروڑ میں خرید لی جاتی ہے۔ نتیجہ اس کا صرف اتنا نکلتا ہے کہ سرکاری خزانے کو پچانوے لاکھ کا نقصان پہنچتا ہے اور پچانوے لاکھ کا ہی فریقین (بیچنے والے اور سرکار کی طرف سے ڈیل کرنے والے) کو فائدہ ہو جاتا ہے۔ یوں نفع و نقصان میں ’’برابری‘‘ کی بنیاد پر معاملہ ختم ہو جاتا ہے، یعنی ایک کو جتنا نفع ہوا دوسرے کو اتنا ہی نقصان ہوا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ واقعہ یہ ہے کہ بددیانتی اور دھوکہ دہی بہروپیے کے مانند ہے۔ تجارت و کاروبار میں اس کے نئے نئے روپ سامنے آتے رہتے ہیں۔ قیمتوں میں مصنوعی اضافہ اس کا ایک مستقل روپ ہے۔ اس بابت ڈاکٹر محمود مرحوم فرماتے ہیں کہ:
’’جو لوگ خریداروں کو گم راہ کرنے کے لیے مصنوعی خریدار پیدا کرتے ہیں اور مصنوعی طور پر سودے کی قیمت بڑھاتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو دھوکے باز بھی قرار دیا ہے، خائن بھی بتایا ہے اور بالواسطہ سودخور بھی قرار دیا ہے۔ بعض فقہا کے نزدیک یہ خرید و فروخت منعقد ہی نہیں ہوتی۔ اگر کسی دھوکے کے نتیجے میں خریدار نے زیادہ قیمت لگا دی اور بازار سے زیادہ قیمت میں کوئی چیز خرید لی، ایسے کسی گم راہ کن خریدار کے قیمت بڑھانے کی وجہ سے یہ بیع بعض فقہا کے نزدیک منعقد ہی نہیں ہوتی۔ یہ باطل ہے۔ بعض دوسرے فقہا کے نزدیک یہ voidable ہے۔ اگر متعلقہ فریق چاہے تو اس کو منسوخ قرار دلوا سکتا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کو حدیث میں نجش کہا گیا ہے۔‘‘(پہلاخطبہ:ص۶۶)
آج کل خاص طور پر پراپرٹی کے معاملات میں یہ رجحان بہت عام ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ نجش کو معاملہ فہمی کا نام دے کر اس پیشہ کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ وطنِ عزیز میں مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز نجش کو فروغ دے رہی ہیں اور عوام الناس کو خوب لوٹ رہی ہیں، لیکن علما کی جانب سے ان کی مخالفت میں کبھی بھی آواز بلند نہیں کی گئی اور یہی علما مذہبی مسلکی نوعیت کے معاملات میں فوراًسے پہلے آستینیں چڑھا لیتے ہیں۔ اس سے تاثر یہی ملتا ہے کہ سماج و معاش کا مذہب سے اور مذہب کا سماج و معاش سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے، ان کا دائرۂ عمل الگ الگ ہے۔ اگر اسلام ایک ’’دین‘‘ ہے جس کے سماجی معاشی مذہبی روحانی ، غرض تمام پہلو باہم مربوط ہیں تواس کے علم برداروں کو اپنے معاشرتی مقاطعے جیسے رویے پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم نے ایسے رویوں پر اس طرح رائے زنی کی ہے:
’’ آج کے اہلِ علم کی یہ ذمہ داری ہے کہ رائج الوقت اسالیبِ تجارت کا جائزہ لیں اور اگر ان میں کوئی چیز شریعت سے متعارض نہیں ہے تو اس کے بارے میں وضاحت کر دیں کہ یہ جائز ہے۔ اور اگر کوئی چیز شریعت سے متعارض ہے تو یہ بتائیں کہ وہ کیوں متعارض ہے اور اس تعارض کو دور کیسے کیا جائے اور اس رائج الوقت طریقے کو اسلام کے مطابق کیسے بنایا جائے۔ یہ دونوں کام انجام دینا اور اس ضرورت کی تکمیل کرنا آج کل کے علمائے کرام اور فقہا کی ذمہ داری ہے۔ کسی تجارت کو ناجائز قرار دے کر بالکلیہ نظر انداز کر دینا اور عامۃ الناس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اس سے مجتنب ہو جائیں گے، یہ قابلِ عمل رویہ نہیں ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صحابہ کرامؓ کا تھا نہ ائمہ مجتہدین کا تھا اور نہ گزشتہ تیرہ سو چودہ سو سال کے دوران فقہائے اسلام کا یہ طرزِ عمل رہا ہے۔‘‘(چھٹا خطبہ:ص۲۴۹)
ڈاکٹر صاحب خوامخواہ اتنا خون جلا رہے ہیں، ان کے مخاطبین ٹس سے مس نہ ہوں گے۔ وہ جس مٹی کے بنے ہیں، اس میں معاملہ فہمی، دور اندیشی اور واقعیت پسندی جیسی خاصیتیں پائی ہی نہیں جاتیں۔ اس مذہبی ذہن کا ایک خاص نفسیاتی مسئلہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ کسی بھی ایسی بات کا فوراًانکاری ہو جاتا ہے جو اسے تاریخی اسلام میں نہ ملتی ہو۔ دین اسلام سے وابستگی کے بجائے اس کی وفاداری تاریخی اسلام کے ساتھ استوار ہے۔ (دین اسلام اور تاریخی اسلام میں فرق دیکھنے کے لیے ماہنامہ الشریعہ نومبر۲۰۰۶ میں ہمارا مضمون بعنوان’’اسلامی تہذیب کی تاریخی بنیاد‘‘ ملاحظہ کیجیے) لیکن ڈاکٹر غازی مرحوم ’’وما علینا الاالبلاغ‘‘ پر پختہ یقین رکھتے ہیں، اس لیے فرماتے ہیں کہ:
’’ کسی تجارت کے جائز اور مطابقِ شریعت ہونے کے لیے یہ ہرگز ضروری نہیں کہ وہ سو فی صد ان فقہی طریقوں کے مطابق ہو جو فقہائے اسلام نے فقہ کی کتابوں میں لکھے ہیں۔ فقہائے اسلام نے فقہ کی کتابوں میں جو طریقے لکھے ہیں، یہ وہ ہیں جو ان کے زمانے میں جا بجا رائج تھے۔ فقہائے اسلام نے ان طریقوں کا جائزہ لیا، ان میں جو چیز شریعت سے متعارض نہیں تھی، اس کے تفصیلی احکام بیان کر دیے۔ جب تک ان جائز طریقوں کو شریعت کے احکام کے مطابق برتا جاتا رہا، وہ اسلامی طریقے سمجھے جاتے رہے۔ جب تجارت کے ان طریقوں کو اسلام کی تعلیم سے ہٹ کر برتا گیا تو وہ غیر اسلامی طریقے ہوگئے۔ اسی طرح آج کے تمام رائج الوقت طریقوں کو اگر اسلام کے احکام کے مطابق برتا جائے گا تو وہ جائز طریقے ہوں گے۔ اسلام کے احکام سے ہٹ کر ان پر عمل کیا جائے گا تو وہ ناجائز طریقے ہوں گے۔‘‘(چھٹا خطبہ:ص۲۴۸،۲۴۹)
شخصیتِ اعتباری اور محدود ذمہ داری کا اصول عملی لحاظ سے بہت اہم ہے، کیونکہ یہ معاشرتی و ریاستی نظم کی نوعیت متعین کرتا ہے۔ زیرِ نظر محاضرات میں ڈاکٹر غازی مرحوم نے اس پر بھی گفتگو کی ہے، ملاحظہ کیجیے:
’’مشہور فقیہ اور صفِ اول کے قانون دان استاذ مصطفی احمد زرقا کا خیال تھا کہ شخصیتِ اعتباری کا تصور فقہ اسلامی میں پہلے دن سے موجود ہے۔ وہ اس کے لیے بیت المال اور وقف کی مثال دیا کرتے تھے کہ وقف کے متولی کی ذمہ داری وقف کی ذمہ داریوں تک محدود ہوتی ہے، اس کی ذات تک ممتد نہیں ہوتی۔ اسی طرح بیت المال کے متولی کی ذمہ داری بیت المال کے اموال تک محدود ہے، اس کی ذات تک اس کا اثر نہیں ہوتا۔ مثلاًاگر بیت المال کے متولی نے بیت المال کے لیے کوئی قرضہ لیا ہے اور وہ قرضہ بیت المال ادا نہیں کر سکا تو اس قرضے کی ادائیگی کے لیے قرض خواہوں کو متولی کی ذاتی جائیداد پر نظر اٹھانے کی اجازت نہیں ہوگی، اس لیے کہ یہاں متولی کی ذمہ داری بیت المال کے اموال تک محدود ہے اور اس معاملے تک محدود ہے جو اس نے بیت المال کے لیے کیا ہے۔ یہ حکم واضح طور پر شخصیتِ اعتباری اور محدود ذمہ داری دونوں تصورات پر مبنی ہے۔ بیت المال کی شخصیت متولی کی شخصیت سے الگ سمجھی جاتی ہے۔ آج ایک شخص متولی ہے، کل دوسراشخص متولی ہوگا، لیکن بیت المال کے معاملات بیت المال کے حقوق بیت المال کی آمدنی، کرایہ وصول کرنا، یہ معاملات متولی انجام دیا کرتا تھا۔ اس لیے ایک سطح پر شخصیتِ اعتباری کا تصور بھی موجود ہے اور محدود ذمہ داری کا تصور بھی موجود ہے۔ یہ دورِ جدید کے غالب فقہا کی رائے ہے۔ بعض حضرات اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ چنانچہ شام کے مشہور صاحبِ علم اور فقیہ شیخ سعید رمضان البوطی کی رائے میں شخصیتِ اعتباری اور محدود ذمہ داری کا فقہ اسلامی میں کوئی تصور نہیں۔ ان کی رائے میں یہ دونوں تصورات فقہ اسلامی کے لیے نا قابلِ قبول ہیں۔‘‘(گیارھواں خطبہ:ص۴۰۷،۴۰۸)
ہم سمجھتے ہیں کہ جس طرح فزیبلٹی رپورٹ اور وعدوں کی بحث میں فقہ حنفی کے بجائے بوجوہ فقہ مالکی سے مدد لی گئی ہے، اسی طرح قانون دان استاذ مصطفی احمد زرقا کے موقف کی مکمل حمایت کے بجائے شام کے فقیہ شیخ سعید رمضان البوطی کی رائے پر بھی نظر رکھی جانی چاہیے۔ ڈاکٹر غازی مرحوم نے شیخ سعید رمضان البوطی کے دلائل نقل نہیں کیے، اس لیے کسی کے حق یا مخالفت میں رائے زنی مناسب معلوم نہیں ہوتی ۔ البتہ اتنی گزارش ضرور کریں گے کہ محدود ذمہ داری اصل میں غیر ذمہ داری ہے۔ جدید دور کے معاشی معاملات کی پیچیدگیوں کے باعث کوئی صاحب محدود ذمہ داری کی آڑ میں بآسانی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ ایسے مظاہرے آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ حالیہ حج سکینڈل کو ہی لے لیجیے۔ سورۂ توبہ کی آیت۱۰۵ پر غور کیا جائے تو صاف اور واضح معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی انفرادی معاشرتی اور ریاستی یعنی (اخلاقی، قانونی، عدالتی) غرض ہر اعتبار سے جواب دہی کی طرف خصوصی توجہ دلائی گئی ہے:
وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُہُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَی عَالِمِ الْغَیْْبِ وَالشَّہَادَۃِ فَیُنَبِّءُکُم بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (التوبۃ ۹:۱۰۵)
’’اور آپ کہہ دیجیے کہ عمل کرو۔ اب تمہارے عمل دیکھے گا اللہ اور اس کا رسول اور مومنین۔ اور ضرور تم کو اس کی طرف پلٹنا ہے جو چھپا اور کھلا سب جانتا ہے، سو وہ تم کو تمہارا سب کیا ہوا بتلا دے گا ۔‘‘
سورت توبہ کی اس آیت میں (فَسَیَرَی) کی نسبت اللہ اور اس کے رسول تک نہیں ہے بلکہ مومنین کو اس نسبت میں شامل کیا گیا ہے، اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ نہ صرف محدود ذمہ داری میں ’’محدود‘‘ کی تلافی کے لیے ’’جواب دہی‘‘ کے موثر نظام کے قیام کی غرض سے بلکہ فزیبلٹی رپورٹ کو قابلِ مواخذہ بنانے کے لیے بھی یہ آیت شرعی جواز فراہم کرتی ہے۔ خیال رہے کہ وطن عزیز میں قومیائے گئے ادارے اور صنعتیں محدود ذمہ داری کی ہی بھینٹ چڑھی ہیں اور اشتراکی نظام کے عملی مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ اسی نوعیت کا رہا ہے۔ اس لیے شخصیت اعتباری و محدود ذمہ داری اور جواب دہی کے امتزاج سے اگر کوئی نیا عملی اور موثر نظام وضع کیا جائے تو نہ صرف اسلام بلکہ انسانیت کی بھی عظیم خدمت ہوگی۔
اگر وسائل رزق اور مال و اسباب نا اہلوں کے ہاتھ آ جائیں تو ایسی معاشی ابتری جنم لیتی ہے جس کی روک تھام میں کوتاہی صدیوں کی سزا دیتی ہے۔ دین اسلام کے تمام پہلوؤں کا داخلی ربط ایسے کسی متوقع معاشی و اخلاقی عدمِ توازن کو، جس کا انجام تباہی ہی تباہی ہے، بہت سنجیدگی سے لیتا ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر غازی مرحوم اسلامی تعلیمات کا ایک پوشیدہ گوشہ سامنے لاتے ہیں:
’’قرآن مجید نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ اگر کسی وقت کوئی ایسا شخص کسی بڑی دولت کا یکایک وارث ہو جائے جو بہت بے وقوف اور بے عقل ہو، جو دولت کے استعمال کا طریقہ نہ جانتا تو اس کو اپنی دولت پر کنٹرول حاصل کرنے کی پورے طور پر اجازت نہ دی جائے۔‘‘(پہلا خطبہ:ص۴۷)
سوال یہ ہے کہ بے وقوف اور بے عقل کسے کہتے ہیں؟ ڈاکٹر صاحب نے بڑی جامع بات کی ہے کہ’’جو دولت کے استعمال کا طریقہ نہ جانتا تو اس کو اپنی دولت پر کنٹرول حاصل کرنے کی پورے طور پر اجازت نہ دی جائے‘‘ ۔ یہاں دولت استعمال کرنے کا طریقہ نہ جاننے کی توضیح و تشریح کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ دولت کے استعمال کے دوبڑے پہلو ہیں: (۱) کاروبار وغیرہ کرنا، (۲) خرچ کرنا۔ لہٰذا اگر کسی کو اس بنیاد پر بے وقوف قرار دیا جائے گا کہ وہ دولت استعمال کرنے کے طریقے نہیں جانتا تو ان دو پہلوؤں کو ملحوظ رکھنا پڑے گا۔ آج وطن عزیز میں ایسے دولت مند پائے جاتے ہیں جن کے کاروبار اور اخراجات انہیں بآسانی بے وقوفوں میں شامل کرا دیتے ہیں۔ جہل فی نفسہ اور جہل بالاحکام ، غرض ہر حوالے سے ان کا طرزِ عمل بے عقلی اور حماقت پر مبنی ہوتا ہے۔ شریعتِ اسلامی کا یہ پہلو جس کی تنفیذ سے فوری نوعیت کے معاشرتی و معاشی ثمرات حاصل ہوسکتے ہیں، مسلمانوں کے روایتی لٹریچر میں ’’حجر‘‘ کے عنوان سے موجود ہے۔ اس پر ایک وقیع مضمون ’’الحجر۔۔حجر کی لغوی شرعی تحقیق‘‘ مولانا سعیدالرحمن علوی مرحوم نے لکھا ہے جو ان کی کتاب ’’اسلامی حکومت کا فلاحی تصور‘‘ میں شامل ہے۔ مولانا مرحوم لکھتے ہیں کہ:
’’ امام مالکؒ ، امام ابویوسفؒ ، امام محمد بن شیبانیؒ اور امام شافعیؒ جیسے متقین اور اسلامک لا کے ماہرین ایک مسرف و مبذر پر پابندی کی بات کرتے ہیں اور ہیئت انتظامیہ کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ ایسے شخص پر تصرفاتِ مالیہ کے سلسلہ میں رکاوٹ و پابندی عاید کرے تو ظاہر ہے کہ اسی لیے ہے کہ مال و دولت کا ضیاع نہ ہو، کچھ لوگوں کے حقوق تلف نہ ہوں اور معاشرہ میں فساد و بگاڑ پیدا نہ ہو۔ ان ائمہ کے نزدیک وہ قرض دار بھی حجر کی زد میں آتا ہے جو اپنا قرض ادا کرنے کے لیے اپنی جائیداد بیچنے سے انکار کرتا ہے۔ اس حوالے سے حکومت ان لوگوں کے حالات پر سنجیدگی سے غور کرے جو بینکوں سے لاکھوں کروڑوں کے قرض لے کر پلازے اور صنعتی پلاٹ وغیرہ بنا کر جائیداد بناتے چلے جاتے ہیں اور پھر جب بینک ان سے واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ بینکوں کو عدالتی حکمِ امتناعی کے چکر میں الجھا کر الٹا مزید نقصان کرتے ہیں اور اس طرح اسٹیٹ اور رعایا کا بے حد نقصان ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ اپنے اللے تللے اڑاتے رہتے ہیں۔ اسی طرح یہ ائمہ اس شخص کو بھی حجر کا مستحق گردانتے ہیں جو مختلف النوع قومی ذمہ داریوں یا قرض کی ادائیگی سے بچنے کی غرض سے جائیداد کے جعلی انتقال کرتا پھرے اور صرف ذمہ داریوں سے بچنے کی غرض سے انہیں اِدھر ادھر کر دے۔ یہ صورتِ حال بھی بڑی نازک ہے۔ خاص طور پر ہمارے ملک میں جہاں ایک خاص طبقہ ملک کی غالب جاگیر و جائیداد پر ہی مسلط نہیں بلکہ انتظامیہ، مقننہ، عدلیہ اور دوسرے ہر شعبہ پر اس کا کنٹرول ہے۔ یہی طبقہ اب جاگیر و جائیداد پر قبضہ سے آگے بڑھ کر تجارت و صنعت پر بھی چھا چکا ہے۔ اول تو اس کے پاس جو جاگیر ہے، وہ ہی محلِ نظر ہے کہ اس کے آبا و اجداد نے قومی مفادات کا سودا کر کے غیر ملکی سامراج اور آقاؤں سے یہ جاگیر حاصل کی۔ پھر اس نے سرکاری ٹیکسز اور الٰہی ٹیکسز(عشر وغیرہ) کی ادائیگی کی کبھی فکر نہیں کی۔ (الا ما شاء اللہ تعالیٰ) اس نے تجوریاں بھریں اور مختلف ذرائع و اسباب سے سیاست و نظم اور عدل و مقننہ پر بھی قابض ہو گیا۔ اس کی ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ وہ زکوٰۃ تک جیسے لازمی حکم سے بچنے کی غرض سے سال ختم ہونے سے چند دن پہلے اپنا سرمایہ اپنی بیوی وغیرہ کے نام منتقل کرا دیتا ہے اور اگلے سال وہ پھر اسی طرح مالک رہتا ہے اور جب کبھی حکومت اس جائیداد اور جاگیر کے حصے بخرے کرنے کا سوچتی ہے تو وہ جعلی انتقالات سے جائیداد اِدھر ادھر کر دیتا ہے۔ ایسے اشخاص پر حجر و پابندی بے حد ضروری ہے۔ ہم اپنے ملک کی مختصر تاریخ میں زرعی اصطلاحات کے نام پر تین مرتبہ (دولتانہ، ایوب، بھٹوکے ادوار) اس قسم کے جعل و فراڈ سے گز ر چکے ہیں۔‘‘ (اسلامی حکومت کا فلاحی تصور: ص ۱۳۸، ۱۳۹، ۱۴۰)
سوال یہ ہے کہ ’’حجر‘‘ کا نفاذ کون کرے گا؟ کیا اس سے متاثر ہونے والے خود یہ قدم اٹھائیں گے؟ کیا وہ اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماریں گے؟ مال و اسباب ان کا، حکومت ان کی، ادارے ان کے اور (معاف کیجیے گا) علما بھی ان کے۔ اس کی ایک ہی عملی صورت ہو سکتی ہے کہ درد مند حضرات یہ پیغام عامۃ الناس تک پہنچانے کی بھر پور کوشش کریں، لوگوں کو ذہنی طور پر تیار کریں، رائے عامہ ہموار کریں اورخاص طور پر مسلم تاریخ سے حجر کے اطلاق کے نظائر ڈھونڈ ڈھونڈ کر لائیں۔ ایسے دردمند حضرات کو تاویلات پیش کرنے والوں کے سامنے بھی ا چھے خاصے پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔ بہرحال! ڈاکٹر غازی مرحوم اسراف و تبذیر کو سماجی عمومیت کے دائرے میں لاتے ہیں۔ ان کے درج ذیل نکات سے جزوی اتفاق کیا جا سکتا ہے:
’’مسلمان صارف کا رویہ غیر مسلم صارف سے مختلف بنانے کے لیے تربیت درکار ہے۔ آج کل کی پوری معیشت صارفین کے رویے کے مطالعے پر مبنی ہوتی ہے۔ بہت سی معاشی پالیسیاں صارفین کے رویوں کے مطالعے کی بنیاد پر تشکیل دی جاتی ہیں۔ اگر مسلمان صارف کا رویہ غیر مسلم صارف سے مختلف نہیں ہے تو پھر اسلامی معیشت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اسلامی معیشت کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان صارفین کا رویہ غیر مسلم صارفین کے رویے سے مختلف ہو۔ مسلمان صارف وہ ہے جو حرام اشیا کی خریداری نہیں کرتا۔ مسلمان صارف وہ ہے جو اسراف اور تبذیر کا ارتکاب نہیں کرتا۔ مسلمان صارف وہ ہے جو مثلاًفحش رسائل اور کتابیں نہیں خریدتا۔ مسلمان صارف کی ضروریاتِ زندگی نسبتاًمحدود ہوں گی۔ مسلمان صارف دھوکہ دہی نہیں کرے گا۔ یہ چند مثالیں ہیں جن کے ذریعے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ مسلمان صارف کا رویہ غیر مسلم صارفین کے رویہ سے کیسے مختلف ہو گا۔‘‘ (بارھواں خطبہ: ص ۴۵۲، ۴۵۳)
سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاشرے کا وہ طبقہ جو مسلم صارفین کو اسراف، دھوکہ دہی، حرام خوری وغیرہ کی ترغیب دینے کا باعث بنے جس کے نتیجے میں اسلامی معیشت ایک خواب بن کر رہ جائے، اس کے خلاف معیشت اسلامی کے مقاصد کو ملحوظ رکھتے ہوئے ’’حجر‘‘ کے عنوان سے سخت کارروائی کیوں نہیں کی جا سکتی؟ ڈاکٹرمحمود مرحوم خود فرما رہے ہیں کہ آج کی پوری معیشت صارفین کے رویے کے مطالعے پر مبنی ہے ، اس لیے موجودہ حالات میں حجر کی معنوی توسیع کی اور اس کے نفاذ کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔
مغربی دنیا کے استحصالی اقدامات ڈاکٹر غازی مرحوم کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ وہ بھر پور احساس رکھتے ہیں کہ مغربی اقوام کی ترقی، مشرقی اقوام بالخصوص مسلمانوں کی ضروریاتِ زندگی اور عزتِ نفس کی قیمت پر ہوئی ہے۔ افراطِ آبادی پر مسلم موقف کی موثر ترجمانی کے ساتھ ساتھ مغربی دنیا کے موقف کا تنقیدی جائزہ ڈاکٹر محمود مرحوم نے اس طرح لیا ہے:
’’ دوسری طرف یہ امرِ واقعہ ہے جس سے قرآن و سنت کا کوئی طالب علم انکار نہیں کر سکتا کہ اسلام کا رجحان کثرتِ آبادی کی طرف ہے، بشرطیکہ کثرتِ آبادی کسی فرد کے لیے ذاتی طور پر غیر عملی ثابت نہ ہو۔ شریعت نے نکاح کو سنتِ موکدہ قرار دیا، ازدواجی زندگی کو مجرد زندگی سے بہتر اور افضل قرار دیا۔ ......جتنے بھی انبیاء علیہم السلام تھے، وہ سب کے سب متاہلانہ زندگی گزار کر گئے ہیں اور ازواج و اولاد کے تمام جھمیلے انہوں نے برداشت کیے۔ .......یہاں تعداد اور آبادی کی کثرت کا مطلب کیفیت کی قیمت پر کمیت میں اضافہ نہیں ہے۔ بلکہ کیفیت کے ساتھ ساتھ کمیت میں بھی اضافہ مطلوب اور پسندیدہ ہے۔ کیفیت میں اضافہ کے لیے تو پورے قرآن کریم اور احادیث کے دفتر موجود ہیں جہاں بہتر سے بہتر اخلاق، بہتر سے بہتر ایمان ، بہتر سے بہتر کردار، بہتر سے بہتر کارکردگی، بہتر سے بہتر فکری اور تعلیمی ترقی کے بارے میں ہدایات موجود ہیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ کمیتی اعتبار سے بھی مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے، یہ اسلام کو مطلوب ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مغربی دنیا نے محض اپنی تحسینیات اور کمالیات کی خاطر دنیا کی ضروریات و حاجیات کو قربان کرنے کا وطیرہ اختیار کیا ہوا ہے۔ اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ دنیا کی آبادی کنٹرول میں رہے تاکہ جو درجہ کمالیات اور تحسینیات کا ان کو حاصل ہے، وہ حاصل رہے۔ اس میں کوئی ان کا مقابلہ کرنے والا نہ ہو۔ کوئی انہیں compete کرنے والا نہ ہو اور کسی ملک کی آبادی اس حد تک نہ جائے جو ان کے لیے خطرہ ہو سکے۔‘‘ (تیسرا خطبہ:ص۱۴۹)
مسلم ممالک کی آبادی کنٹرول کرنے کے لیے آنے والی غیر ملکی امداد کو ڈاکٹر غازی مرحوم شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے خبر دار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’یہ بات محض اتفاق نہیں ہے کہ دنیائے اسلام کے کسی ملک کے لیے آبادی میں کنٹرول کے باب میں کبھی امدا د کی کمی نہیں ہوئی۔ مختلف ملکوں پر مختلف پابندیاں لگتی رہتی ہیں، پاکستان بھی ان پابندیوں کا شکار رہا ہے ، لیکن بدترین سے بدترین ادوار میں بھی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے باہر سے کبھی امدا دمیں کمی نہیں آئی ۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کے جواب پر غور کیا جائے تو بہت سے نکتے واضح ہو جاتے ہیں۔‘‘ (تیسرا خطبہ:ص۱۵۰)
اگر اعدادو شمار دیکھے جائیں تو ڈاکٹر محمود مرحوم کی بات سے اختلاف کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس وقت مسلم ممالک کی شرح پیدایش مغربی ممالک سے کہیں زیادہ ہے جس کے نتیجے میں مسلمانوں کے ہاں نوجوانوں کی تعداد میں نسبتاًمسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اور یہ بات مسلمات میں سے ہے کہ یہ نوجوان ہی ہوتے ہیں جو قوم کی رگوں میں تازہ خون بن کر دوڑتے ہیں اور قوم کو منزل آشنا کرتے ہیں۔ بہرحال! ڈاکٹر غازی مرحوم کی تلخ نوائی جاری ہے۔ خواتین کے حقوق کو آج کل جس طرح ایشو بنایا گیا ہے، اس کے تارو پود بکھیرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’ یہ بات آپ کو حیرت انگیز معلوم ہو گی کہ آپ نے آج تک پاکستان میں یا پاکستان سے باہر خواتین کے کسی بھی پلیٹ فارم کو یہ اعتراض کرتے نہیں سنا ہو گا کہ Primogeniture کا اصول خواتین کے حقوق کے منافی ہے۔ پوری جائیداد سب سے بڑے بیٹے کو یا سب سے بڑے پوتے کو یا سب سے بڑے بھائی کو کیوں چلی جائے؟ خواتین کو کیوں نہ ملے؟ اس پر آج تک کسی خاتون نے کسی تنظیم نے خواتین کے حقوق کے علم برداروں میں سے کسی نے اعتراض نہیں کیا، حالانکہ یہاں خواتین مکمل طور پر محروم ہیں۔ مرد بھی محروم ہیں۔ صرف ایک شخص دولت کا وارث بن رہا ہے۔ اس کے برعکس شریعت پر آئے دن آپ سنتے رہتے ہیں کہ عورت کا حصہ بعض صورتوں میں آدھا کیوں ہے؟ حالانکہ جن صورتوں میں عورت کا حصہ آدھا ہے، ان میں اور بقیہ تمام صورتوں میں بھی عورت پر کوئی معاشی ذمہ داری شریعت کے نظام میں نہیں ہے۔ بہرحال! قانونِ وراثت کا عملاًنافذ نہ ہونا بھی ارتکازِ دولت کے اسباب میں ہے۔‘‘(تیسراخطبہ:ص۱۴۴)
اگر مغرب میں Primogeniture کا قانون موجود ہے تو کیا ہوا؟ ہمارے ہاں بھی تو خیر سے عملاً بڑے بھائی کا ہی قبضہ ہوتا ہے۔ مغرب میں تو یہ عمل پھر بھی کسی قانون ضابطے کی مطابقت میں ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں دھونس زبردستی سے ہوتا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اگر کوئی غلط قانون رائج ہو تو اس کے خلاف دلائل کی بنیاد پر تحریک چلائی جا سکتی ہے، رائے عامہ ہموار کی جا سکتی ہے اور آخر کار اسے منسوخ کیا جا سکتا ہے یا بدلا جا سکتا ہے۔ لیکن جہاں قانون کے بارے میں کوئی ابہام سرے سے موجود ہی نہ ہو ، لیکن عملاًقانون کا منشا پورا نہ ہو رہا ہو تو بتائیے، وہاں بغلیں جھانکنے کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے؟ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم Primogeniture جیسے مغربی قوانین پر تنقید سے ایک درجہ بڑھ کر ان قوانین کے پس منظر اور مغربی فکر و نظر پر بھی ڈرون حملے کرتے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:
’’مغرب کی پوری معیشت دن رات اسی بات کے لیے کوشاں رہتی ہے کہ انسانوں کے دل و دماغ کو نت نئی مادی اور شہوانی خواہشات کی آماج گاہ بنایا جائے۔ .....اسلامی شریعت اس مغربی تصور کو قبول نہیں کرتی کہ معاشی انسان سے مراد وہ زندہ وجود ہے جس کی زندگی کا مقصد وجود صرف یہ ہو کہ وہ مادی زندگی کا بہتر سے بہتر ہدف اور اعلیٰ سے اعلیٰ سطح حاصل کرے۔ حصولِ مال حصولِ زر اور حصولِ مادیات کے علاوہ اس کا کوئی محرک نہ ہو۔‘‘ (دوسرا خطبہ: ص ۹۲)
واقعہ یہ ہے کہ مذہبیات سے قطع نظر، مغرب میں اجتماعی نظم کے لیے درکار اخلاقیات بدرجہ اتم موجود ہے۔ اگر مذہبیات کو بھی شامل کر لیا جائے تو ان کے ہاں عموماًکرسمس جیسے مواقع پر اشیا سستی کرنے کا واضح رجحان دیکھنے کو ملتا ہے، جبکہ مسلمانوں کے ہاں خیر سے لوٹ مار کا بازار گرم ہوتا ہے۔ اشیا سستی ہونا تو درکنار، ان کی سابقہ قیمتیں بھی برقرار نہیں رہتیں۔ اس لیے مغربی فکر کو صرف مادیت پر مبنی اور اخلاقیات سے بالکل عاری قرار دینا زیادتی اور انصاف سے روگردانی ہے۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ حصولِ مال و زر اور مادیات ہی مغربی فکر کا منشا ہے، تب بھی یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ اس فکر نے ذرائع کے درجے میں سہی، لیکن انسانیت کی عملاًبڑی خدمت کی ہے۔ اس لیے ہم نہایت افسوس کے ساتھ گزارش کریں گے کہ اسلامی شریعت اگر ایسی مغربی فکر کو قبول نہیں کرتی جس نے کم از کم ذرائع کے درجے میں ہی انسانیت کی خاصی خدمت کی ہے تو کیا ہوا؟ مسلمان تو اس پر نثار ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مسلمان اس کے آدھے حصے پر نثار ہیں یعنی حصولِ مال و زر اور مادیات پر۔ رہی انسانیت کی خدمت تو مسلمان اس سے یوں بدکتے ہیں جیسے جنگل کے کم زور جانور شیر سے بدکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اصولی بات یہ ہے کہ ذرائع کی اہمیت مقاصد کے تقریباًبرابر ہوتی ہے ، یعنی مقصد کے حصول کی خاطر کوئی نہ کوئی ذریعہ لازماًاختیار کرنا پڑتا ہے۔ مثلاًاگر مقصد مکان کی چھت پر چڑھنا ہو تو سیڑھی ذریعے کا کام دیتی ہے۔ اب بتائیے اگر سیڑھی ہی موجود نہ ہو تو چھت پر کیسے جایا جا سکتا ہے؟ اس لیے اگر مغربی فکر نے زندگی کی ماورا مادی جہت کو، ذریعے کے درجے میں رکھ چھوڑا ہے تو بہت برا بھی نہیں کیا۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب مغربیوں سے خوامخواہ ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔ ایک مقام پر فرماتے ہیں:
’’اصطلاحات کے سلسلے میں ایک بات اور بھی ذہن میں رکھنی چاہیے، وہ یہ کہ بعض مغربی اصطلاحات ایسی ہیں جن سے دور دور بھی ان کا لغوی مفہوم مراد نہیں ہوتا۔ .....مثال کے طور پر ایک زمانے میں یوٹیلیٹی (utility) اور افادیت کی اصطلاحات بہت عام تھیں۔ ..... بیسویں صدی کے شروع کی دہائیوں میں بعض اہل علم ان اصطلاحات سے بہت متاثر ہوئے۔ بعض حضرات نے اپنے نام کے ساتھ افادی کا لاحقہ بھی شامل کر لیا۔ اپنے نام کے ساتھ افادی لکھنے لگے۔ .....لیکن مغربی معاشیات میں افادیت یا یوٹیلیٹی کے وہ معنی نہیں ہیں جو ان حضرات نے سمجھے۔ وہاں یوٹیلیٹی کا تصور بہت گہرا ہے جس کا تعلق فلسفہ اخلاق اور ما بعد الطبیعات سے ہے۔ پھر مغرب میں معاشی تصورات اور نظریات کے بدلنے سے افادیت کا مفہوم بدلتا رہا ہے۔ ایک زمانے میں کچھ تھا، اس کے بعد کچھ اور تھا۔ اب اس کا مفہوم خالص انفرادی مفاد کے قریب قریب ہے۔ جس چیز کو کوئی فرد اپنے خالص ذاتی مفاد کے لیے ناگزیر سمجھتا ہو، وہ اس کے لیے افادیت کی حامل ہے، چاہے وہ اخلاقی اعتبار سے یا کسی اور پہلو سے ضرر رساں ہو۔ اسی طرح سے معقول رویہ (rational behaviour) کی اصطلاح ہے۔ (rational behaviour) یا معقول رویہ کا مفہوم لغت کی مدد سے معلوم کیا جائے گا تو اس میں کوئی چیز قابلِ اعتراض نہیں معلوم ہوگی، لیکن معاشیات کی اصطلاح میں اس سے مراد یہ ہے کہ فرد کو اپنی ذاتی مصلحت کا زیادہ سے زیادہ حصول کرنا چاہیے اور نفع کی زیادہ سے زیادہ فراہمی کے رویے کو اپنانا چاہیے۔ یہ رویہ rational رویہ یا معقول رویہ کہلاتا ہے۔‘‘ (دوسراخطبہ:ص۸۸،۸۹)
ڈاکٹر غازیؒ نے اصطلاحات کے ضمن میں افادیت (utility) پر جو تنقید کی ہے، وہ خاصی دلچسپ ہے۔اگر ڈاکٹر غازی مرحوم مزید مثالیں پیش کرتے تو دلچسپی میں مزید اضافہ ہو جاتا۔ ڈاکٹر صاحب کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ اب افادیت کا مفہوم ’’خالص انفرادی مفاد کے قریب قریب ہے۔ جس چیز کو کوئی فرد اپنے خالص ذاتی مفاد کے لیے ناگزیر سمجھتا ہو، وہ اس کے لیے افادیت کی حامل ہے، چاہے وہ اخلاقی اعتبار سے یا کسی اور پہلو سے ضرر رساں ہو‘‘۔ ان کے اس اعتراض میں یہ تضاد بیانی پائی جاتی ہے کہ ’’ مغرب میں معاشی تصورات اور نظریات کے بدلنے سے افادیت کا مفہوم بدلتا رہا ہے۔ ایک زمانے میں کچھ تھا، اس کے بعد کچھ اور تھا‘‘۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مغرب میں اب تغیر کو قرار آ گیا ہے؟ کیا ان کے موجودہ افادی نظریے میں تبدیلی رونما نہیں ہو سکتی؟ دوسرے الفاظ میں ہم کہیں گے کہ کیا ان کے افادی نظریے میں کبھی بھی اخلاقیات کی دخل اندازی کا کوئی امکان نہیں ہے؟ بھئی! اگر ان کے افادی نظریے کا مفہوم بدلتا رہا ہے جیسا کہ ڈاکٹر صاحب باور کرا رہے ہیں تو مستقبل میں یہ مفہوم کیونکر نہیں بدلا جا سکے گا؟ جہاں تک ڈاکٹر صاحب کا یہ فرمانا ہے کہ ’’ مغربی معاشیات میں افادیت یا یوٹیلیٹی کے وہ معنی نہیں ہیں جو ان حضرات نے سمجھے۔ وہاں یوٹیلیٹی کا تصور بہت گہرا ہے جس کا تعلق فلسفہ اخلاق اور ما بعد الطبیعات سے ہے‘‘ تو ہم گزارش کریں گے کہ مغرب کے افادی نظریے کا فلسفہ اخلاق اور ما بعد الطبیعات سے کوئی تعلق ہے یا نہیں، یہ بات قابل بحث ہے۔ لیکن حج کا مسلمانوں کے فلسفہ اخلاق اور ما بعد الطبیعات سے بہت گہرا تعلق ہے، اس پر بحث کی گنجایش نہیں۔ تو لغت سے ہٹ کر ’’حاجی‘‘ کو جو معنی معاشرے نے دیے ہیں، ڈاکٹر صاحب اس کا دفاع کیسے کریں گے؟ واقعہ یہ ہے کہ افادی کا لاحقہ ہو یا حاجی کا سابقہ، جوہر کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہا۔ بات بڑھانے کے بجائے ہم اسی بیان پر قناعت کرتے ہوئے اگلے نکتے کی طرف آتے ہیں۔
ڈاکٹر غازیؒ کو معقول رویے (rational behaviour) کے لغوی مفہوم پر اعتراض نہیں، جیسا کہ انہیں افادیت (utility) کے لغوی مفہوم پر بھی اعتراض نہیں تھا۔یہاں ان کا بنیادی اعتراض، فرد کی ذاتی مصلحت اور زیادہ سے زیادہ نفع (profit maximization) کے حصول پر ہے جسے مغرب میں معقول رویے (rational behaviour) کا نام دیا جاتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ صدقہ خیرات وغیرہ کے مقابلے اور موازنے میں معقول (rational) کی یہ نوع اچھی خاصی غیر معقول (irrational) دکھائی دیتی ہے۔ لیکن ایسا ہکہ دینا ایک جذباتی سی بات ہے۔ مزہ تب ہے کہ مسلم سکالرز دلائل و براہین کے ذریعے سے مغرب پر واضح کر دیں کہ صرف ذاتی مفاد کا حصول اور تکثیر نفع، عقلی اعتبار سے اس وقت تک غیر معقول رہتے ہیں جب تک ان میں انسانی اخلاقی روحانی اقدار کو سمو نہ لیا جائے۔ اس کے لیے زندگی کی کلیت کو بھی ثابت کرنا ہو گا، نیز زندگی کے تمام پہلوؤں (معاشی سماجی ثقافتی روحانی اخلاقی مادی ما بعد الطبیعاتی وغیرہ) کے گہرے داخلی ربط کو نہایت وضاحت سے سامنے لانا ہو گا۔ لیکن مغرب کو حقیقی معقولیت (true rationalism) کی تبلیغ کرنے سے پہلے ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانک لینا چاہیے۔ لغت(یعنی کتابوں) میں ’’حنفی‘‘ وغیرہ کے مفہوم اور اس کی حدود کو دیکھیے، دیوبندی وغیرہ کے مفہوم اور حدود کو دیکھیے، نظری اعتبار سے یہ سب واقعی بہت معقول (rational) معلوم ہوتے ہیں لیکن عملی طور پرغیر معقولیت (irrationalism) کی انتہائی حدوں کو چھو رہے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ہمارے علما نے فروعی مسائل کو معقولیت (rational) کا جامہ پہنا کر جس طرح ذاتی مصلحت اور (معاف کیجیے گا) تکثیر نفع کا بازار گرم کیا ہوا ہے، اس کے ہوتے ہوئے مغربیوں کو صحیح معقولیت کا درس دینا تو کجا، خود مسلم سماج میں بھی معقولیت کی ترویج ناممکن ہی قرار دی جا سکتی ہے۔ ہم یہ کہنے کی جسارت نہیں کریں گے کہ ڈاکٹر غازیؒ ایسے حقایق سے بالکل بے خبر رہے، البتہ اتنا ضرور کہیں گے کہ انہیں مغربیوں اور مغربی فکر سے خدا واسطے کا بیر لگتا ہے۔ اس لیے فرماتے ہیں:
’’انگریزی کی ضرب المثل جو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں، اس میں پڑھا تھا: Honesty is the best policy ، دیانت داری بہترین پالیسی ہے۔ یعنی دیانت داری فی نفسہ بطور ایک اخلاقی قدر کے کوئی اچھی چیز نہیں ہے، نہ فی نفسہ دیانت داری مطلوب ہے بلکہ بطور پالیسی کے اختیار کی جائے تو بہت ہی اچھی چیز ہے۔ اس سے مغرب کا تصور واضح ہو جاتا ہے اور مغربی ذہن کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اجتماعی اور معاشی زندگی میں اخلاقی اقدار کی اہمیت کیا ہے۔ وہ بطور پالیسی کے اگر مفید ہیں تو ان کو اختیار کرنا چاہیے اور اگر غیر مفید ہیں تو ان کو چھوڑ دینا چاہیے۔‘‘ (دوسراخطبہ:ص۹۲،۹۳)
ڈاکٹر محمود مرحوم کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ دیانت داری کو پالیسی کیوں شمار کیا گیا ہے؟ذرا غور کیجیے کہ Policy کا عام ترجمہ حکمت عملی کیا جاتا ہے اور Honesty is the best policy کا ترجمہ ہوا: دیانت داری بہترین حکمت عملی ہے۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ دیانت داری کومحض مجرد تصور تک محدود نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے زندگی کے عملی احوال کا حصہ بنانا چاہیے۔ کیا پالیسی یا حکمت عملی میں یہ خامی ہے کہ اس سے ایک مجرد تصور(دیانت داری) کو عملی زندگی کے احوال کا حصہ بنانے پر زور دیاجا رہا ہے؟ غالباًڈاکٹر صاحب ’’فقط اللہ ہو اللہ ہو‘‘ کے قائل ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ کسی بھی اخلاقی تصور کو ذہن نشین کرانے اور اعمال کا حصہ بنانے کے لیے یہی انداز اختیار کیا جاتا ہے۔ مولانا محمد جلال الدین رومیؒ کی مثنوی ہی دیکھ لیجیے، اس میں اخلاقی تصورات کے ابلاغ کی غرض سے اور ان تصورات کو زندگی کے عملی احوال کا حصہ بنانے کی خاطر کیسے کیسے اسالیب اختیار کیے گئے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر غازیؒ ، مولانا رومیؒ کو بوجوہ رعایتی نمبر دے دیں گے ، حالانکہ مثنوی کے بعض جواہر پارے حکمت عملی سے بہت بڑھے ہوئے ہیں۔ بہرحال! یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ ہم مسلمانوں کے ہاں دیانت داری کو پالیسی کے طور پر بھی نہیں اپنایا گیا۔ لیکن ڈاکٹر غازی ؒ ہیں کہ مسلمانوں کی بد دیانتی پر تنقید برداشت کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ فرماتے ہیں:
’’ میں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ دنیائے اسلام کا تاجر تو دھوکے باز ہے اور مغرب کا تاجر دھوکے باز نہیں ہے۔ دھوکہ دہی انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اس کانفس دھوکہ دہی اور جھوٹ بولنے پر اس کو آمادہ کرتا رہتا ہے۔ اگر شیطان پاکستان کے تاجر کو بہکا سکتا ہے تو امریکہ کے تاجر کو بھی بہکا سکتا ہے۔ یہ کہنا کہ امریکہ کا تاجر شیطان کے بہکاوے سے محفوظ و مامون ہے، پاکستان کا تاجر شیطان کے وسوسوں سے محفوظ نہیں ہے، یہ درست نہیں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان ممالک میں قوانین سخت ہیں۔ قوانین پر عمل درآمد کرانے والے ادارے انتہائی موثر ہیں اور رائے عامہ کے ذریعے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا ہے کہ کسی شخص کے لیے ان وساوس پر عمل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ کام دنیائے اسلام میں بھی کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا چاہیے اور جلد سے جلد کیا جانا چاہیے۔‘‘ (آٹھواں خطبہ:ص۳۱۷)
یہ کہنا واقعی مشکل ہے کہ امریکہ وغیرہ کا تاجر شیطان کے بہکاوے سے محفوظ و مامون ہے، البتہ موازنہ کرتے ہوئے یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا تاجر کسی نہ کسی درجے میں خود شیطان ضرور ہے، اس لیے یہ قوانین کی دیوار میں ایسے روزن تلاشنے میں مگن رہتا ہے جن کے ذریعے اس کی رسائی خودغرضانہ مفادات تک ہو سکے۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ہے کہ مغرب میں قوانین پر عمل درآمد کرانے والے ادارے انتہائی موثر ہیں لیکن یہ وضاحت نہیں کی کہ دنیائے اسلام میں یہ ادارے انتہائی غیر موثرکیوں ہیں؟ جناب نے مغربی دنیا کے ماحول کی بات بھی خوب کی ہے لیکن دنیائے اسلام کے ’’ماحول‘‘ کے سوال پر طرح دے گئے ہیں۔ اگر دنیائے اسلام جیسا تجارتی و معاشی ماحول مغربی دنیا کا ہوتا تو ڈاکٹر صاحب اسے’’ شیطانی ماحول‘‘ کہنے سے ہرگز نہ چوکتے۔ ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیے! لیکن ڈاکٹر غازی مرحوم احوالِ واقعی سے مکمل چشم پوشی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ ان کے مزاج کی واقعیت پسندی نے ان سے یہ کہلوایا ہے کہ :
’’ہمارے یہاں کارپوریٹ کاروبار کی نگرانی کا معاملہ بہت ڈھیلا ہے۔ دنیا کے ممالک میں یہ ادارے بہت قوی، بہت کھرے اور بہت کڑے ہوتے ہیں۔ ہمارے یہاں یہ ادارے نہ کھرے ہیں، نہ کڑے ہیں اور نہ تکڑے ہیں۔ نگرانی اور کنٹرول کے لیے جب تک کوئی مضبوط کھرا اور کڑا ادارہ نہیں ہوگا، اس وقت تک کارپوریٹ کاروبار کا نظام مضبوط بنیادوں پر قائم نہیں ہو سکے گا۔ ایک اہم تجویز یہ بھی ضروری محسوس ہوتی ہے کہ اقتصادی امور سے نپٹنے کے لیے فوری عدالتیں الگ ہونی چاہییں۔ عدالتوں کے پاس کام کا انبار بہت زیادہ ہے۔ کسی جج کے لیے، وہ اعلی عدالت کا جج ہو یا ماتحت عدالت کا جج ہو، اس پورے کام سے بطریق احسن نمٹنا بہت مشکل ہو جاتا ہے جو اس کو درپیش ہوتا ہے۔ مقدمات کی کثرت کی وجہ سے ان کو جمع شدہ مقدمات کو نپٹانے کے کام میں تاخیر ہوتی ہے اورتاخیر کے نتیجے میں وہ صورتِ حال پیدا ہوتی ہے جس کے بارے میں، میں نے ایک بار کہا تھا کہ پاکستان کی عدالتوں سے اپنا حق حاصل کرنے کے لیے صبرِ ایوب، عمرِ نوح اور دولتِ قارون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا ایک جزوی حل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہائی کورٹ کی نگرانی میں مختلف معاملات کی الگ الگ عدالتیں قائم کر دی جائیں۔ اقتصادی امور کی عدالتیں الگ ہوں، بینکاری کی عدالتیں الگ ہوں۔ اگر ایسا ہو جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ جن اسباب کی بنا پر کاروباری طبقہ پیش رفت کرنے سے گھبراتا ہے، ان رکاوٹوں کو جزوی حد تک ہی سہی، دور کیا جا سکے گا۔‘‘(بارھواں خطبہ:ص۴۴۶)
احوالِ واقعی کی بہتری کی غرض سے دی جانے والی مذکورہ تجویز نشاندہی کرتی ہے کہ ڈاکٹر محمود مرحوم جذباتیت کی رو میں بالکل ہی نہیں بہتے۔ ان میں حالات و واقعات کا معروضی جائزہ لینے کی صلاحیت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ انہی محاضرات میں یہ صلاحیت، شکوہ و شکایت کی آمیزش سے غالبؔ کے اس کہے کو عملی جامہ پہناتی نظر آتی ہے:
پر ہوں میں شکوے سے یوں، راگ سے جیسے باجا
اِک ذرا چھیڑیے، پھر دیکھیے، کیا ہوتا ہے!
ملاحظہ کیجیے کہ موصوف چھڑ گئے ہیں، لیکن قارئین کو خوب جھنجھوڑ گئے ہیں:
’’اس کے ساتھ ساتھ ایک بات اور بھی یاد رکھنی چاہیے جو ہم میں سے اکثرلوگوں کو یاد نہیں رہتی۔ ایک عام تاثر ہمارے ہاں یہ پیدا ہو گیا ہے کہ مغربیت کے دنیائے اسلام میں آنے کا واحد سبب مغربی استعمار ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ اس کا بڑا سبب مسلمانوں کی اپنی کم زوریاں ہیں۔ مسلمانوں کے نظام کا ڈھیلا پن ہے۔ دنیائے اسلام میں مغربی استعمار کی آمد سے خاصا پہلے سے اسلام کے احکام پر عمل درآمد میں شریعت کی روح کے بجائے محض روایت پرستی کا جذبہ نمایاں ہونے لگا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی بے جان اور کم زور روایت پرستی تیزی سے جنم لے رہی تھی جس میں نہ اسلام کی حقیقی تعمیری روح موجود تھی نہ اسلامی تہذیب کی وہ اٹھان نظر آتی تھی جو اسلامی تاریخ کے ابتدائی ایک ہزار سال میں محسوس ہوتی تھی۔ اب نہ مسلمانوں میں فکر و تہذیب میں جدت پسندی یا نئے نئے تجربات کی کوئی امنگ باقی رہی تھی اور نہ زوال و انحطاط کی اس تیزی سے پھیلتی ہوئی رَو کا زیادہ ادراک و احساس تھا۔ یہ رویہ جو خالص فکری کم زوری کا اور تہذیبی انحطاط کا غماز تھا، یہ دسویں صدی کے لگ بھگ شروع ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کے ادارے کم زور ہوتے گئے۔ شریعت کے احکام پر عمل درآمد کی کیفیت ظاہر پرستی کے قریب قریب پہنچ گئی اور شریعت کے مقاصد اصل اہداف اور محرکات پر توجہ دینے کے بجائے، قرآن و سنت کی ہمہ گیر اور عالم گیر نصوص پر توجہ ملحوظ رکھنے کے بجائے، بعض متاخرین کے فتاوی ہی کو شریعت کا قائم مقام سمجھا جانے لگا اور تمام معاملات مختلف علاقوں میں دنیائے اسلام کے مختلف ممالک میں رائج الوقت فقہی مسالک کے متاخر اہلِ علم کے فتاوی کے مطابق انجام دیے جانے لگے۔ شروع شروع میں تو اس غیر ضروری تقلیدی رویے کے اثرات زیادہ محسوس نہیں ہوئے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شریعت کے اصل مصادر یعنی قرآن وسنت سے تعلق کا احساس کم زور ہوتا چلا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن و سنت کی تعلیم بھی اس توجہ کی مستحق قرار نہ پائی جتنی توجہ اس پر ہونی چاہیے۔ نظامِ تعلیم کی کم زوری اور کھوکھلے پن نے بھی ایسے علما پیدا کرنے بند کر دیے جو اس صورتِ حال میں عامۃ الناس کی موثر اور فعال مجتہدانہ رہنمائی کر سکتے۔‘‘(گیارھواں خطبہ:ص۳۹۴،۳۹۵)
بات یہ ہے کہ کل کے متاخرین آج کے متقدمین شمار ہوتے ہیں، اس لیے خواہ مخواہ کی اصطلاحات میں الجھے بغیر مسئلے کی جڑ ڈھونڈنی چاہیے۔ واقعہ یہ ہے کہ اصل مسئلہ فقہی مسالک کی بے جا پیروی کا ہے۔ دین کی قانونی تعبیر پر مبنی جامد علمی رویہ اس اندھا دھند پیروی کو جواز فراہم کر رہا تھا۔ لہٰذا مسئلے کی جڑ متاخرین نہیں بلکہ دین کی کلیت کے بجائے اس کے فقہی(بمعنی قانونی) پہلوؤں پر توانائیاں صرف کر کے دینی تعبیر کو محدود کرنے والا غیر علمی رویہ تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ علما کی اکثریت ابھی تک اسی رویے سے چمٹی ہوئی ہے۔ ان کے نزدیک وہ اسلامی قانون جو ہزار برس قبل تشکیل پایا تھا، اس کی تنفیذہی شریعت کااصل مقصد ہے۔ خود ڈاکٹر غازی مرحوم بھی کسی نہ کسی درجے میں اسی سوچ کے حامی رہے ہیں(جب وہ قرآ ن و سنت کے ساتھ متفق علیہ قواعد کو بھی دائمی قرار دیتے ہیں تو اسی فکر کی زلف کے اسیر دکھائی دیتے ہیں، لیکن حیرت ہے کہ یہاں ڈاکٹر صاحب قرآن و سنت کو ہی شریعت قرار دے رہے ہیں)۔ بہرحال! جہاں تک قرآن و سنت سے تعلق کی کمزوری کا تعلق ہے، یہ کمزوری وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت طاقت ور ہو گئی ہے ، خاص طور پر قرآن سے تو رسمی تعلق باقی رہ گیا ہے۔ دینی مدارس کے نصاب اور طریقہ تدریس میں قرآن کو جو ’’مقام‘‘ حاصل ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اس پر مستزاد کہ علماء کرام قرآن کے اسی ’’مقام‘‘ کی بقا کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی! ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم شاید رسوائی کا چرچا کرنے پر تلے ہوئے ہیں، اس لیے بھری بزم میں راز کی بات کہہ گئے ہیں، گستاخی و بے ادبی کے طعنے کی پروا کیے بغیر :
’’ ایک ایک کر کے دنیائے اسلام میں پہلے مغربی تصورات عام ہونے شروع ہوئے اور پھر ایک ایک کر کے مغربی ادارے بھی قائم ہونے شروع ہو گئے۔ جن ممالک پر استعمار کا قبضہ براہ راست ہو گیا تھا، وہاں تو لوگ یہ کہہ کر بے فکر ہو جاتے ہیں کہ مغربی استعمار نے یہ سب کر دیا، لیکن جن ممالک پر براہ راست مغربی استعمار کا قبضہ نہیں ہوا یا اس وقت تک نہیں ہوا تھا، وہاں بھی اس طرح کے نئے مغربی ادارے اور نئے قوانین آنا شروع ہو گئے جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اس نئی تبدیلی کا اصل سبب اور محرک محض مغربی استعمار نہیں تھا بلکہ وہ خلا، وہ کم زوری اور وہ ڈھیلا پن اس کا اصل سبب تھا جو مسلمانوں کے نظام میں پیدا ہوا۔ اس کے مقابلے میں بعض ظاہر بینوں نے جب مغربی دنیا کے فعال اداروں کو، مغربی دنیا کے زندگی سے بھر پور قوانین اور اداروں کو دیکھا تو اس سے متاثر ہوئے اور ان کے دلوں میں مغربی اداروں اور قوانین کو اپنانے کی خواہش پیدا ہوئی۔ یوں دنیائے اسلام میں مغربی تصورات و قوانین کی طلب پیدا ہوئی۔ مغربی دنیا نے اس طلب سے فائدہ اٹھایا اور اپنے ادارے، اپنے تصورات، اپنے قوانین اور اپنے طور طریقے دنیائے اسلام کو برآمد کیے۔ چنانچہ مصر میں سودی بینکوں کا آغاز ۱۸۵۵ء میں ہو گیا تھا۔ .......۱۸۵۶ء میں عثمانی حکومت نے انگریزوں کو سلطنتِ عثمانیہ میں پہلا بنک قائم کرنے کی اجازت دی۔ ....... چند سال کے اندر اندر ۱۸۶۳ء میں اس پہلے انگریزی بنک میں فرانسیسی بھی شامل ہوگئے اور اس کا نام ’’البنک السلطانی العثمانی‘‘ قرار پایا۔ گویا سلطنتِ عثمانیہ جو خلافت کا مرکز تھی، جہاں کہا جاتا تھا کہ نظامِ حکومت شریعت کے مطابق قائم ہے، جہاں شیخ الاسلام اور مفتی اعظم کو انتہائی اہم مقام حاصل تھا، وہاں شیخ الاسلام اور مفتی اعظم اور دوسرے علما ئے کرام یہ اندازہ نہیں کر سکے کہ آج معاشیات کی دنیا میں بینکاری کے اس نئے نظام اور بین الاقوامی تجارت کی کیا اہمیت ہے اور اس اہمیت کو نظر انداز کرنے کے نتائج کیا نکلیں گے۔ چنانچہ بنک سلطانی عثمانی قائم ہو گیا، پھر بعد میں یہی بنک ایک سرکاری فرمان کے ذریعے ترکی کا سرکاری اور مرکزی بنک قرار دے دیا گیا۔ کرنسی اور سکہ جاری کرنا اسی کا اختیار قرار پایا۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ایک خالص مغربی سودی بنک، مرکزِ خلافت میں قائم ہوا اور جب وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا تو اسی بنک کو سلطنتِ عثمانیہ کے پورے مالیاتی نظام کو وضع کرنے کنٹرول کرنے اور نگرانی کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔‘‘(گیارھواں خطبہ:ص۳۹۶،۳۹۷)
ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم اگر شکایت کناں ہیں تو غلط تو ہرگز نہیں ہیں۔ ملت اسلامیہ کے مرکز خلافتِ عثمانیہ کا یہ حال تھا تو باقی امہ کے احوالِ واقعی کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پستی کی کس اتھاہ گہرائی میں کسمسا رہی ہو گی۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ صورتِ حال جوں کی توں قائم و دائم ہے۔ الطاف حسین حالیؔ کی زبان میں:
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گر کر نہ ابھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی مد ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے
ڈاکٹر غازی مرحوم کا شکوہ اپنی جگہ بجا، لیکن سوال یہ ہے کہ پھر کارل مارکس کو گالیاں کیوں دی جاتی ہیں؟ غالباً اس کا یہ قصور کم نہیں ہے کہ اس نے شیخ الاسلام، مفتی اعظم اور علما وفقہا کے بر عکس نہ صرف سرمایہ داری کے عفریت کو سمجھ لیا بلکہ بر وقت اسے نکیل ڈالنے کی بھی بھر پور کوشش کی۔ اگر ہم یہ نکتہ اٹھائیں کہ مرکزِ خلافت ترکی (معروف معنوں میں مذہب) سرمایہ داری کے تحفظ اور فروغ کا علم بردار بن گیا توکیا اس تاریخی تناظر سے یہ اخذ کرنا جرم ہوگا؟ تلخ نوائی جاری رکھتے ہوئے ہم گزارش کریں گے کہ اس دور کی تاریخ کا تنقیدی مطالعہ غالباًیہ حقیقت بھی آشکارا کرے گا کہ اسی دور کے کسی مسلم مستقبل بین (Muslim Futurist) نے تاریخ کے دھارے کا رخ بھانپ لیا ہو گا، لیکن اس پر ’’متجدد‘‘ ہونے کی پھبتی کسی گئی ہو گی اور وہ بے چارہ اپنا ایمان سنبھالتا رہ گیا ہوگا۔ سچ تو یہ ہے کہ اسلام کو ضابطہ حیات کہنے والے خود ساختہ ضابطہ پکڑے بیٹھے رہے اور حیات کہاں سے کہاں پہنچ گئی، انہیں اس کی خبر تک نہ ہوئی۔ افسوس کا مقام ہے کہ ان پر یہ حالت ہنوز طاری ہے۔ ڈاکٹر غازی مرحوم بات بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’چونکہ ایک مرتبہ حکمران اور بااثر لوگوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی اور حکمرانوں کو تجربے سے اس کا اندازہ ہو گیا کہ ان کے یہاں جو روایتی قوانین یا روایتی طور طریقے چلے آ رہے ہیں، جن کو علما کرام شریعت کا حتمی تقاضا قرار دیا کرتے تھے، وہ حکمرانوں کے خیال میں نئے تقاضوں اور نئے معاملات سے عہدہ برآ ہونے میں موثر ثابت نہیں ہو رہے۔ جب یہ تصور حکمرانوں کے ذہنوں میں پیدا ہوا، اس وقت علمائے کرام کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اس تصور کا احساس کرتے، اس کا ادراک کرتے اور پہلے سے پیش بندی کرتے ہوئے احکامِ شریعت کی روشنی میں ایسے قوانین اور قواعد ایسے ادارے اور اصول وضع کرتے جو نئی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی موثر ثابت ہوتے اور شریعت کے احکام اور قواعد سے بھی مکمل طور پر ہم آہنگ ہوتے۔ بہرحال یہ نہیں ہو سکا۔ مجھے اجازت دیجیے کہ میں یہ عرض کروں کہ یہ جہاں پوری امتِ مسلمہ کی ناکامی تھی، جہاں یہ حکمرانوں کی کوتاہ اندیشی تھی، وہاں سب سے بڑھ کر یہ علمائے کرام کی ناکامی بھی تھی۔ اگر علمائے کرام اس کم فہمی اور بے بصیرتی کا مظاہرہ نہ کرتے تو شاید اس انجام سے بچا جا سکتا تھا جو پوری دنیائے اسلام کو دیکھنا پڑا۔‘‘(گیارھواں خطبہ:ص۳۹۸)
ہم سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کی علمائے کرام پر تنقید بلا جواز ہے۔ وہ بے چارے جس دینی تعبیر کے پروردہ تھے اس کے ہوتے ہوئے ان سے زمان و مکاں کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی توقع کرنا عبث ہے۔ اصل مسئلہ یا اصل کوتاہی اس دور کے علما کی نہیں جتنی ان سے قبل کے علما کی ہے، وہ علما جنہوں نے اس انجام کے لیے زمین تیار کی۔البتہ بعد کے زمانے کے علما نے مجتہد بننے کے بجائے یہی آپشن مناسب سمجھی کہ گلے میں پڑا ڈھول بجاتے رہیں۔ خیر سے یہ ڈھول اب تک بج رہا ہے، خوب بج رہا ہے اور نجانے کب تک بجتا رہے گا! اس صورتِ حال میں ہمارے ممدوحؒ نے روایتی معاشی علمی ذخیرے کو عصری تناظر میں دیکھتے ہوئے صاف صاف کہا ہے کہ:
’’آج کی ضروریات کے لحاظ سے اسلامی معیشت کا علم از سرِ نو مدون کیا جانا ضروری ہے۔ آج جس کو اسلامی معیشت یا اسلامی اقتصاد کہتے ہیں، وہ ایک بالکل نئی چیز بھی ہے اور قدیم بھی ہے۔ نئی اس اعتبار سے ہے کہ اقتصادِ اسلامی یا اسلامی معیشت کی اصطلاح فقہا کے یہاں موجود نہیں تھی، نہ اس فن اور عنوان سے انہوں نے فقہی احکام کو مرتب کیا۔ امام زید بن علیؒ امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ کے زمانے سے لے کر بیسویں صدی کے اوائل تک اسلامی معیشت یا اقتصادِ اسلامی یا اسلامک اکنامکس Islamic economics کی اصطلاح فقہ کی کسی کتاب میں استعمال نہیں ہوئی تھی۔ ان موضوعات و مباحث کے لیے فقہا نے فقہ المعاملات کی اصطلاح استعمال کی ہے، مالیات، عقودِ مالیہ کی اصطلاح بھی استعمال کی ہے، بعض دوسری اصطلاحات بھی استعمال کی ہیں۔ لیکن آج جس کو علمِ اقتصاد کہا جا رہا ہے، اس میں اور فقہ المعاملات میں مطابقت یا تطابق کی نسبت نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ فقہ المعاملات سارا کا سارا علم اقتصادِ اسلامی ہے یا علم اقتصادِ اسلامی فقہ المعاملات سے عبارت ہے۔ ان دونوں میں اگر منطق کی اصطلاح استعمال کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان عموم خصوص من وجہ کی نسبت ہونی چاہیے۔ فقہ المعاملات کی بہت سی تفصیلات اقتصادِ اسلامی کا حصہ ہوں گی۔ اقتصادِ اسلامی کے بہت سے معاملات وہ ہوں گے جو فقہ المعاملات کی حدود سے باہر ہوں گے۔ آج جس کو ہم علم اقتصادِ اسلامی کہ رہے ہیں، وہ فقہ المعاملات کے علاوہ تصورِ مال، نظریہ مال اور کسی حد تک ان مباحث پر مشتمل ہو گا جو فقہائے اسلام کی اصطلاح میں اخلاقیات کا حصہ تھے، علم الاخلاق کا حصہ تھے، حکمت عملی کا حصہ تھے، تدبیر منزل کا حصہ تھے، سیاست مدن اور سیاست شرعیہ کا حصہ تھے۔ ان تمام موضوعات سے متعلق اس پورے مواد کو جمع کر کے جو آج کے تصورات اور تقسیم مباحث کی رو سے اقتصاد سے متعلق ہو، ایک نئے انداز سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ (گیارھواں خطبہ: ص ۴۱۰)
اس اقتباس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر محمود مرحوم جدید صورتِ حال کے تناظر میں معیشت اسلامی کا احیا چاہتے ہیں۔ان کے نزدیک ’علومِ تازہ کی سرمستیاں گناہ نہیں‘ ہیں۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا معیشت اسلامی کا احیا، زندگی کے باقی شعبوں سے کٹ کر منفرد انداز میں (بلا شرکت غیرے)ہو سکتا ہے؟ اس سلسلے میں ہم پیچھے بیان کر آئے ہیں کہ دین اسلام کے تمام پہلوؤں کے درمیان ایک داخلی ربط پایا جاتا ہے جو دین کی ایسی وحدت و اساس پر دلالت کرتا ہے جس کے توسط سے زندگی کے سبھی شعبے متوازی انداز میں ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ خود ڈاکٹر غازیؒ بھی اس کے قائل ہیں۔ لہٰذا اس دینی اساس سے وابستہ ہوئے بغیر جو تمام شعبہ ہائے زندگی کو یکساں متاثر کرتی ہے، صرف اور صرف معیشت اسلامی کی بازیابی مزید مشکلات کا باعث بنے گی۔ (اس موضوع پر اصولی بحث کے لیے ہمارا مضمون’’مسلم تہذیب کی اسلامی شناخت میں قرآن و سنت کی اہمیت‘‘ ماہنامہ الشریعہ جون۲۰۰۷ میں ملاحظہ کیجیے)۔ بہرحال! مذکورہ بالا اقتباس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اقتصادِ اسلامی کے شعبے میں ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے، لیکن غازی مرحوم اپنی کشت ویراں سے مایوس نہیں ہیں۔ غالباًدل ہی دل میں’’یا رب ! یہ چنگاری بھی ہماری خاکستر میں تھی ‘‘ کہتے ہوئے، ان کی نگہِ بلند پروفیسر شیخ محمود احمد مرحوم کے عالمانہ کام پر جا ٹکی ہے :
’’ طویل غور خوض اور مطالعے کے بعد انہوں نے ایک کتاب لکھی تھی: Man and Money جو بڑی جامع کتاب ہے۔ اس کتاب کا ایک خلاصہ آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس نے چند سال قبل شائع کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ اپنے موضوع پر انتہائی عالمانہ اور فاضلانہ کتاب ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں تاریخ مذہب، معاشیات، فلسفہ، ریاضی، غرض ہر فن کے دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ ربا کی تمام قسمیں اور شکلیں وہ تمام خرابیاں رکھتی ہیں جو اسلامی معاشرے کی اساس کو مختل کرنے کے مترادف ہیں۔ میں پوری دیانت داری سے علیٰ وجہ البصیرت یہ سمجھتا ہوں کہ پروفیسر شیخ محمود احمد مرحوم کی یہ کتاب جدید اسلامی معاشیات کی تاریخ میں وہی حیثیت رکھتی ہے جو امام غزالیؒ کی کتاب ’’تہافۃ الفلاسفہ‘‘ فکرِ اسلامی کی قدیم تاریخ میں رکھتی ہے۔‘‘ (ساتواں خطبہ:ص ۲۸۹، ۲۹۰)
جدید دور میں معاشیات کی اہمیت کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر غازیؒ نے اپنے ہم نام پروفیسرشیخ محمود احمد مرحوم کو ’’غزالی دوراں‘‘ کا خطاب دیا ہے۔ پروفیسر محمود مرحوم کی کتاب ہماری نظر سے نہیں گزری، لیکن ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کے بیان ’’پوری دیانت داری سے علیٰ وجہ البصیرت ‘‘ پر اعتماد کرتے ہوئے اقبالی زبان میں ہم کہے بغیر نہیں رہ سکتے:
دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا
گنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا!
قومی زندگی کی بقا اور ترقی مضبوط دفاع کے بغیر تقریباًنا ممکن ہے۔ قومی بجٹ کا کم از کم اور زیادہ سے زیادہ کتنے فی صد دفاع کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے، اس کے لیے تو ہمارے ممدوحؒ نے کسی قسم کے شواہد پیش نہیں کیے، لیکن دفاعی بجٹ کی داخلی تقسیم کن بنیادوں پر اور کتنے فی صدی حساب سے ہونی چاہیے، اس کے لیے انہوں نے خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروقؓ کے حوالے سے یہ بات گوش گزار کی ہے:
’’ ایک اور موقع پر آپؓ نے فرمایا کہ اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو میں ایک سپاہی کی تنخواہ چار ہزار درہم کر دوں گا۔ ایک ہزار درہم اس کام کے لیے کہ وہ اپنے اسلحے پر خرچ کرے ، بہتر سے بہتر اسلحہ حاصل کرے۔ ایک ہزار درہم اس کے ذاتی اخراجات کے لیے، ایک ہزار درہم اس کے گھر والوں کے اخراجات کے لیے اور ایک ہزار درہم اس کے گھوڑوں کی تیاری کے لیے۔ اس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ سپاہیوں کی تنخواہیں ان کی ذاتی ضروریات کے لیے بھی تھیں اور ان تمام وسائل اور ہتھیاروں کے لیے بھی تھیں جن کا بیشتر حصہ آج ریاست خود برداشت کرتی ہے۔ آج کا سپاہی اپنا اسلحہ خود فراہم نہیں کرتا۔ اپنی سواریاں خود فراہم نہیں کرتا۔ اپنی جیپ اور ٹینک خود لے کر نہیں آتا۔ اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملک کے دفاعی بجٹ کا اگر ایک بٹا چار حصہ سپاہیوں کی تنخواہوں ، سہولیات، تیاری اور دیگر مراعات پر اور تین بٹا چار حصہ دوسرے وسائل، اسلحہ اور ہتھیاروں پر خرچ ہو تو یہ سیدنا عمرفاروقؓ کی اس پالیسی کے عین مطابق ہو گا۔‘‘(چوتھا خطبہ: ص ۱۷۸، ۱۷۹)
اگر ڈاکٹر صاحب سیدنا عمر فاروقؓ کی پالیسی کے عین مطابق چاہتے ہیں تو دفاعی بجٹ کا ایک بٹا چار نہیں بلکہ پورا نصف سپاہیوں کی تنخواہ اور گھریلو ضروریات پر خرچ ہوگا۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے دفاعی بجٹ کی جو داخلی تقسیم کی ہے، اس میں بجٹ کا نصف تنخواہوں وغیرہ میں دیے جانے سے یہ اخذ کرنا شاید درست ہو گا کہ اسلحہ وغیرہ پر بے جا رقم خرچ کرنے سے دفاع مضبوط نہیں کیا جا سکتا، بلکہ حقیقت میں یہ سپاہی کی جواں مردی ہوتی ہے جو میدانِ کارزار میں کام آتی ہے اور دشمن کے دانت کھٹے کرتی ہے۔ بقول مرشد اقبالؔ ، رومیؒ :
بس کناں را آں سلاح بستن بکشت
بے رجولیت چناں تیغے بمشت
گر بپوشی تو سلاحِ رستماں!
رفت جانت چوں نباشی مرد آں
’’بہت سے لوگوں کو اس ہتھیار بندی نے مروا دیا جو ہمت مردانہ کے بغیر ہاتھ میں تلوار لیے نکلتے تھے۔ بے شک تم نے بہادروں کے ہتھیار پہن لیے ہوں، لیکن ان کے چلانے کی ہمت و صلاحیت نہیں تو جان لو کہ ہتھیاربندی تمہاری جان لے لے گی۔‘‘
آج مغرب نے اربوں کھربوں ڈالر اسلحہ سازی وغیرہ میں جھونک دیے ہیں، لیکن اس کے باوجود اسے دفاع کی فکر کھائے جا رہی ہے اور خوف کے مارے اس نے اقدامی جنگیں چھیڑ رکھی ہیں۔ غالباًمغرب کے دفاعی بجٹ کا بہت کم حصہ سپاہیوں کی تنخواہوں وغیرہ کی مد میں خرچ ہوتا ہے جس سے ان کی ہمت مردانہ مزید مضمحل ہوئی ہے۔ ہم مسلمانوں کے ہاں بھی ہمت مردانہ کو صحیح زاویے سے نہیں دیکھا گیا۔ اقبالؔ کے فرمودہ ’’مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘ کو مجموعی اقبالی فکر سے کاٹ کر غلط معنی پہنا دیے گئے ہیں۔ اس کہے کا محل اور ہے اور سپاہی کی گھریلو ضروریات کی تکمیل کا محل اور ہے۔ جس طرح پیاسے کے سامنے ’’پانی پانی‘‘ دہرانے سے اس کی پیاس نہیں بجھ سکتی، جس طرح نماز پڑھنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی کہ ہر ایک کا جدا مقام ہے، اسی طرح سپاہی کو مومن قرار دے کر اس کی ضروریات سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ مومن ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ اب وہ فرشتہ بن گیا ہے اور انسانی واقعی ضروریات سے بے نیاز ہو گیا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ فکر و سوچ کے ایسے انداز و اطوار ہمارے مجموعی سماجی رویے میں سرایت کر چکے ہیں۔ دینی مدارس کے اساتذہ کی ’’خطیر‘‘ تنخواہوں کو ہی دیکھ لیجیے۔ ان سے جس سطح کے کام کی توقع کی جاتی ہے، کیا وہ محض ’’تقویٰ‘‘ کے سہارے انجام دیا جا سکتا ہے؟ بنیادی سوال تو یہ ہے کہ کیا تقویٰ انسان کو بنیادی ضروریات سے مکمل بے نیاز کر دیتا ہے؟ یقین جانیے، اگر ایسا ممکن ہوتا تو دنیا کے اکثر و بیشتر حاکم تقویٰ پر دل و جان سے نثار ہوتے کہ محض زبانی جمع خرچ سے ان کی جان چھوٹ جاتی، اس لیے وہ ریاستی سطح پر تقویٰ کی ترویج کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ لہٰذا سیدنا عمر فاروقؓ کے حکیمانہ بیان کو محض سپاہیوں کی تنخواہوں تک محدود رکھنے کے بجائے زندگی کے تمام پہلوؤں تک پھیلا کر دیکھنا چاہیے۔
خیر! قومی زندگی کا ایک اور اہم پہلو دوسری اقوام کے ساتھ اختیار کیا جانے والا طرزِ عمل ہے۔ اس سلسلے میں دین اسلام عدل و انصاف، حسن سلوک اور اخوت کا درس دیتا ہے، لیکن خیر اور شر کے اس معرکے کو دیکھا جائے جو ہر انسان کے اندر برپا ہے اور جس سماج و قوم کا انسان حصہ ہے، وہاں بھی برپا ہے تو دو اقوام کے درمیان اخوت کا ’’مثالی مظاہرہ‘‘ عملی طور پر ممکن نہیں رہتا۔ ڈاکٹر غازی مرحوم قومی زندگی کے اس پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دشمن کے ہاتھ کوئی ایسی چیز فروخت نہ کی جائے جس سے کام لے کر وہ مسلمانوں کے خلاف قوت حاصل کر سکے۔ .....آج بین الاقوامی تجارت میں یہ بات پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ سامان یا پیداوار جو مسلم ممالک غیر مسلم ممالک کو یا دشمنوں کو دے رہے ہیں، ان میں کون سی چیز ایسی ہے جو وہ خود مسلمانوں کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں اور ماضی میں کرتے رہے ہیں۔ فقہائے اسلام نے اپنی فہم اور اس زمانہ کی صنعت کی رو سے اسلحے کی خرید و فروخت کی ممانعت کی تھی کہ محارب دشمن کے لوگوں کو اسلحہ فروخت نہ کیا جائے۔ کچھ اور فقہا نے کہا کہ اسلحہ سازی کا جو خام مال مثلاًلوہا ہے، وہ بھی فروخت نہ کیا جائے۔ جنگ کے زمانے میں گھوڑے فروخت نہ کیے جائیں۔ ڈھالیں تیر، غرض وہ چیزیں جو جنگ میں مسلمانوں کے خلاف استعمال ہو سکیں، وہ دشمن کو فروخت نہ کی جائیں۔ آج کل کے لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ دھاتوں کی بعض قسمیں نہ فروخت کی جائیں۔ بعض ایسی مہارتیں نہ منتقل کی جائیں جس کے بارے میں یہ خطرہ ہو کہ وہ انسانیت کے خلاف یا مسلمانوں کے خلاف استعمال کی جائیں گی۔ یورینیم نہ فروخت کیا جائے۔‘‘ (پہلا خطبہ: ص ۶۶، ۶۷)
ڈاکٹر صاحب کے بیان کردہ نکات کی اہمیت اپنی جگہ مسلم، لیکن اس امر میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ دشمن بھی اس معاملے کو خوب سمجھتا ہے۔ اس لیے مغربی ممالک سے اسلحہ خریدنے کی دوڑ میں اول آنے کے بجائے مسلم ممالک کو تکنیکی حربی و معاشی خود کفالت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مغربی ممالک صرف اسی وقت اپنا اسلحہ اور تکنیک مسلم ممالک کو فروخت کرتے ہیں جب وہ اپنے لیے اس سے بہت بہتر اسلحہ بنالیتے ہیں اور تکنیکی ترقی میں بھی کئی درجے آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے بارھویں خطبہ میں (ص ۴۵۰، ۴۵۱) اسلامی معیشت و تجارت کی پیش قدمی کے دس معیارات اشاریے (indicators) گنوائے ہیں:
۱۔ دولت کی وسیع تر تقسیم،
۲۔ چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کا زیادہ سے زیادہ فروغ،
۳۔ مشارکہ اور مضاربہ اور ان کے تصور پر مبنی نئے طریقوں کا زیادہ سے زیادہ رواج،
۴۔ بیع مرابحہ اور تورق جیسے طریقوں کا کم سے کم استعمال،
۵۔ تجارت میں توسیع،
۶۔صنعتی ترقی میں نمایاں اضافہ اور مسلسل اضافہ،
۷۔معاشرے کے نادار طبقات کو استفادے کے مواقع کی زیادہ سے زیادہ فراہمی،
۸۔سودی معیشت میں لگی رقم کی نسبت میں کمی کا واضح رجحان،
۹۔اسلامی معیشت میں لگائے جانے والے سرمایہ میں نمایاں اضافہ کا رجحان،
۱۰۔ارتکازِ دولت میں کمی کا نمایاں رجحان۔
ہم یہ کہنے کی جسارت کریں گے کہ ان معیارات کا حصول آج پھر مسلمانوں کو دنیا کی امامت کے منصب پر فائز کر سکتا ہے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ معاملات اتنے سادہ نہیں ہیں۔ معیشت و تجارت اور بینکاری کے اسلامیانے (Islamization) کے عمل کے ساتھ ساتھ اگر مذکورہ معیارات کے حصول پر کڑی نظر نہ رکھی گئی تو اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ استحصالی طبقہ غصے سے پھٹے پڑے مظلوم و مقہور طبقے کو اسلامیانے کا لولی پاپ (Lolly Pop of Islamization ) دے کر ٹرخا دے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو نہ صرف سماج کی غالب اکثریت کے ساتھ صریحاً دھوکہ اور ظلم ہو گا بلکہ اسلام بھی قصور وار ٹھہر کر بدنامی مول لے گا۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ معیشت کو اسلامیانے کی حکمت عملی ہمہ جہت و ہمہ رنگ ہو اور اس میں عدلِ اجتماعی کے قیام کا پورا پورا اہتمام کیا گیا ہو۔ اگر اس سلسلے میں کچھ پیش رفت ہوتی ہے تو گلوبلایزیشن کے شکنجے میں جکڑی اکیسویں صدی کی ما بعدالصنعتی دنیا (post- -industrial world ) کی اکثریتی آبادی کے لیے، جو پوری طرح بے دست و پا ہو کر معاشی و اخلاقی بحران کی زد میں ہے اور کسی مسیحا کی منتظر ہے، ایسی پیش قدمی روشنی کی کرن ثابت ہو گی اور دنیا کی یہ اکثریتی آبادی اسی روشنی کو حرزِ جان بنانے کے لیے بے اختیار لپکے گی۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم اس صورتِ حال سے بخوبی آگاہ ہیں اور اس کے ساتھ ہی فرمودہ اقبالؔ پر انہیں یقین ہے کہ ’’تری نسبت براہیمی ہے معمارِ جہاں تو ہے‘‘۔ اس لیے فرماتے ہیں کہ:
’’آج دنیا جس معاشی مشکل اور پریشانی کا شکار ہے، آج دنیا کو جو شدید معاشی بحران درپیش ہے، اس کا حل اسلامی تعلیم کے پاس موجود ہے۔ اسلامی شریعت اس بحران سے نکلنے میں دنیا کی راہنمائی کر سکتی ہے۔ یہ کام آج پاکستان کے تاجر اور کاروباری طبقے سے وابستہ حضرات کر سکتے ہیں کہ اسلام میں تجارت اور کاروبار کے جو اصول بتائے گئے ہیں، اسلامی معاشیات اور بینکاری کے جو قواعد دورِ جدید کے علما نے مرتب کیے ہیں، ان کو مغربی دنیا میں متعارف کرایا جائے اور ان کی بنیاد پر ایسی کامیاب تجارتیں منظم کی جائیں جو دنیا کو اسلام کی تعلیم کی طرف متوجہ کریں۔ یہ سرگرمی خود ایک عبادت ہے، لیکن جب اس نیت سے کی جائے گی کہ اس کے ساتھ ساتھ دعوت کا کام بھی کرنا ہے تو یہ اعلیٰ ترین درجہ کی عبادت بن جائے گی۔‘‘ (چھٹا خطبہ: ص ۲۳۶)
ڈاکٹر محمود احمدمرحوم درحقیقت اسی تصورِ عبادت کا درس دے رہے ہیں جو اس مضمون کے آغاز میں ہم نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ و مطہرہ کے حوالے سے پیش کیا ہے۔ اس تصورِ عبادت کی ترویج کے لیے جس درجے کی اخلاقی جرات درکار ہے، وہ طبقہ علما میں مفقود ہے۔ لیکن فطرت اپنی راہ خود نکال لیتی ہے اور اسلام دین فطرت ہے، اس لیے یہ ناممکن ہے کہ اس کی سچائیاں ڈھکی چھپی رہ جائیں اور اظہار کا راستہ تلاش نہ کر پائیں۔ سورۃ البلد کی آیت۴ میں ارشادِ ربانی ہے: لقد خلقنا الانسان فی کبد، کہ بے شک ہم نے انسان کو مشقت میں رہتا پیدا کیا ۔ لہٰذا سرگرمِ عمل رہنا، مشقت میں رہنا انسان کی فطرتِ ثانیہ ہے، اس لیے اپنے احیا کے لیے اسلام نے طبقہ علما کے تساہل سے نہیں بلکہ ہمیشہ انسان کی مشقت سے توقعات وابستہ کی ہیں۔ بقول اقبالؔ :
نقش ہیں سب نا تمام، خونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام، خونِ جگر کے بغیر!
ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کے محاضرات میں سے ’’محاضراتِ معیشت و تجارت‘‘ اس لحاظ سے بہت مفید ہیں کہ ان میں روایتی معاشی مباحث کو عصری اسلوب کا جامہ پہنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں کہیں کہیں عصری تناظر میں دیکھنے کی کوشش بھی کئی گئی ہے، لیکن اس سلسلے میں ڈاکٹر غازیؒ نے ضرورت سے زیادہ احتیاط پسندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ شاید اس کی وجہ ان محاضرات کا موضوع ہے جس کا فنی احاطہ ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ اگر عدل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے تو یہ بھی اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ان محاضرات کے بین السطور ڈاکٹر غازیؒ مغربی فکر سے مخالفت برائے مخالفت کی حد تک الرجک ہیں۔ وہ اپنوں کی خامیوں کے بارے میں گول مول بات کرتے ہیں، لیکن غیروں پر ڈرون حملے کرتے ہیں۔ اگر ہم اسے مثبت انداز میں لیں تو ’’عصبیت‘‘ کا نام دے کر ابن خلدون کی روح کو ثواب پہنچا سکتے ہیں، لیکن اسے اونٹ نگلنے اور مچھر چھاننے سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال! مجموعی طور یہ محاضرات عام قارئین اور دینی مدارس کے طلبہ کے لیے زیادہ مفید ہیں کہ ان کے توسط سے وہ نہ صرف اسلاف کے کارناموں سے واقف ہو سکیں گے بلکہ معیشت اسلامی کو درپیش جدید مسائل سے بھی کافی حد تک آگاہ ہو جائیں گے۔
تحریک سید احمد شہید رحمہ اللہ کا ایک جائزہ
ڈاکٹر محمود احمد غازی
(ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا ایک غیر مطبوعہ خطاب جسے سید محبوب الرحمن (ایل ایل ایم، اسلامک کمرشل لا، بین الاقوامی اسلامی یونیو رسٹی اسلام آباد) نے انگریزی سے اردو میں منتقل کیا۔)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
سید احمد شہید کی تحریک جہاد کا تذکرہ کرنے سے قبل ہم اس وقت کی تجدیدی تحریکوں کا سرسری جائزہ لیں گے جو کہ سترہویں، اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں ظہور پذیر ہوئیں۔ اگر ہم ساڑھے تین صدیوں پر محیط اس عرصہ کی تاریخ پر غور کریں تو ہم مسلم تاریخ کے اس دور میں احیا، تجدید اور اصلاح کو انتہائی واضح مقصد کے طور پر پائیں گے اور ہمیں دنیا ئے اسلام میں ہرطرف ایسے افراد، افرادکے گروہ اور تحریکیں ابھرتی ہوئی نظر آئیں گی جن کا مقصد اسلام کو، مسلم معاشر ہ میں ایک سماجی اور سیاسی محرک کے طور پر بحال کرنا تھا۔ برصغیر پاک و ہند کے مجدد شیخ احمد سرہندی جو کہ مجدد الف ثانی کے نام سے معروف ہیں یعنی اسلام کے دوسرے ہزار برس کے مجدد، ان سے لے کر بیسویں صدی کے آغاز تک ہمیں مسلم دنیا میں ہر جگہ کئی تجدیدی اور اصلاحی تحریکیں نظر آتی ہیں ۔اگر ہم ان تحریکوں کا بغور جائزہ لیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ان کی تین قسمیں کی جا سکتی ہیں۔
پہلی قسم میں وہ تحریکیں شامل ہیں جنہیں ہم روایتی تحریکیں کہہ سکتے ہیں۔ ان تحریکوں کا بنیادی مقصد آمیزشوں اور بعد کے خارجی اضافوں سے پاک کر کے اسلام کی حقیقی اور ثابت شدہ تعلیمات کا احیا، توحید اور وحدانیت کے اصول کو اس کی سادہ اور اصلی صورت میں پیش کرنا اور تعلیمات نبو ی کی حقیقی روح اور وقار کواجاگر کرنا تھا۔ ان پہلی قسم کی تحاریک کی زیادہ دلچسپی اسی مقصدمیں تھی ۔
دوسری قسم کی وہ تحاریک تھیں جن کی نمائندگی ہندوستان میں علی گڑھ تحریک کے بانی سر سید احمد خاں، مصرمیں مفتی محمد عبدہ اور دیگر علاقوں میں دوسری شخصیات کر رہی تھیں اور جو مغربی استعمار کے غلبہ کی وجہ سے ان کے افکار سے بے حد متأثر تھے۔ ان کاتصور تجدید اور نظریہ اصلا ح یہ تھا کہ مسلمانوں کو مغربی انداز فکر، مغر بی نظام تعلیم اور مغربی طریقہ کار اور مہارتوں کو اپنانا چاہیے جس سے وہ سیاسی برتری حاصل کر سکیں گے اور اس طرح وہ آخر کاراپنی کھوئی ہوئی عزت ووقار اور سابقہ حالت بحال کر پا ئیں گے۔ یہ دوسری قسم تھی۔
ان کے ساتھ ایک تیسری قسم بھی تھی جنہوں نے کوشش کی کہ ان دونوں قسم کی تحریکوں کی خوبیاں کو اکٹھا کیا جائے اور ان کی کمزوریوں اور خامیوں سے بچا جائے۔ اس کی مثال سید جمال الدین افغانی کی مجوزہ تحریک ہے۔ سید جمال الدین افغانی بنیادی طور پر اسلامی علوم عقائد کے عالم تھے ۔ انہوں نے دنیا ئے اسلام کے متعدد سفر کیے اور انہیں مسلمانوں کو در پیش مشکلات کا براہ راست علم تھا۔ وہ عملی طور پر مسلم دنیا کے ہر حصے سے رابطہ میں تھے اوریہی وجہ تھی کہ وہ مسلم دنیا کے مسائل سے براہِ راست باخبر تھے۔ اس کے ساتھ انہوں نے بعض مغربی ممالک کا وسیع سفر کیا اور انہیں مغربی افکار اورفلسفہ تک بلا واسطہ رسائی حاصل تھی۔ اس لیے وہ ایک ایسی تحریک کے لیے غوروفکر اور اس کے خدوخال تجویز کرنے کی بہتر پوزیشن میں تھے جو ان دونوں قسم کی تحریکوں کی خوبیوں پرمشتمل ہو اور جس سے ایک طرف آلائشوں اور اضافوں سے پاک کر کے قرآ ن وسنت کی حقیقی اور اصلی تعلیمات کے احیا کے لیے کوشش کی جائے تو دوسری طرف مغربی منہج اور مہارتوں کوان کے انداز ازِ فکر سے متأثر ہوئے بغیر ایک خاص حدتک بروے کار لایا جائے، کیونکہ ان دونوں کے درمیان انتہائی باریک فرق ہے۔ مثال کے طور پر سر سید احمد خان مغربی طریقہ کار اور مغربی انداز فکر اور تصورات کے درمیان فرق نہ کر پاسکے۔ ہم دوسرے لوگوں کے طریق کار اور منہج کو جنہیں ہم پسند کریں، اپنا سکتے ہیں، لیکن ہمیں غیر اسلامی ذرائع پر مبنی انداز فکر، نظریہ اور فلسفہ کو اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ چنانچہ جب ہم کسی قوم سے کچھ سیکھ رہے ہوں تو یہ بات مد نظر رہنی چاہیے کہ یہ دو مختلف چیزیں ہیں اور اس کی گنجائش بھی ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ سے روایت کردہ حدیث میں ہے: یعمل فی الاسلام بفضائل الجاھلیۃ کہ ہم اسلام میں ان اچھے معیارات کو اپنا سکتے ہیں جو دورِ جاہلیت میں رائج تھے۔ [حدیث کے معروف اور متداول مآخذ میں ان الفاظ سے کوئی روایت موجود نہیں۔ مرتب] لہٰذا اگر ہمیں کسی جاہلی معاشرے کی کوئی اچھی چیز یا کوئی بھلائی ملتی ہے تو اسے اپنانا اور اس سے مستفید ہونا ہمارے لیے جائز ہے۔
یہ تین قسم کی تحریکیں تھیں اور تاریخی طور پر ہم انہیں بالترتیب ہی پائیں گے۔ پہلی قسم کی تحریک سب سے پہلے، دوسری قسم دوسرے نمبر پر اور تیسری قسم آخرمیں ہے۔ اگر اس تجدیدی تحریک کا جائزہ لیا جائے جس کی ابتدا سید احمد شہیدؒ نے کی تھی تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے آغاز کا مسلم برصغیر کی تاریخ سے گہر ا تعلق ہے اور برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی تاریخ اور تاریخی طاقتوں پر ایک سرسری نظر ڈالے بغیر سید احمد شہید کی اس تحریک کے حقیقی وصف کا تعین کرنا مشکل ہو جائے گا۔ تفصیل میں جائے بغیر آپ کو یہ یاد دلا دوں کہ برصغیر میں مسلمان نسبتاً اقلیت میں ر ہے ہیں اور جب برصغیر کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد پورا جنوبی ایشیا ہوتا ہے جس میں موجودہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، کسی حد تک برما اور افغانستان کے کچھ علاقے شامل ہیں۔ یہ سب علاقے تاریخ میں برصغیر کے نام سے مشہور ہیں۔
مسلم برادری برصغیر میں ہمیشہ اقلیت کے طور پر رہی ہے، لیکن اقلیت اور کچھ علاقوں میں انتہائی اقلیت میں ہونے کے باوجود مسلمان برصغیر پر ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک حکمرانی کرنے میں کامیاب رہے۔ برصغیر میں مسلمانوں کی حکمرانی کا آغاز ۹۲ ہجری میں ہوااوراس کا اختتام ۱۲۷۶ ہجری کو ہوا، لہٰذا مسلمان باوجود اقلیت ہونے کے اس وسیع علاقے پر ایک ہزار برس سے زائد عرصہ برسر اقتدار رہے۔
مسلمانوں اور برصغیر کے اصلی باشندوں کے درمیان ہمیشہ ایک شدید اور دلچسپ مخاصمت اور اختلاف رہا ہے۔ اگر آپ ہندو ثقافت اور ہندو مذہب کا مطالعہ کریں جو کہ برصغیر میں اکثریت کا مذہب اور ثقافت ہے تو آپ دیکھیں گے کہ یہ مذہب اور تہذیب ہمیشہ حیرت انگیز طور پرجاذب رہی ہے کیونکہ باہر سے جتنے بھی نئے لوگ یہاں آئے، اس نے ا ن سب کو اپنے اندر ضم اور جذب کر لیا۔ اگر آپ برصغیر کی پچھلی پانچ ہزار سالہ تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ بہت زیادہ لوگوں، قوموں اور مہاجرین کو ہندوستان آتے پائیں گے جن میں ڈراو ڈینز، آریہ اور پھر مغل اور بہت سے لوگ شامل ہیں، لیکن برصغیر آنے کے فوراً بعد یہ لوگ ہندوستان کی ہندو اکثریت میں اتنی تیزی سے ضم اور جذب ہو گئے کہ خود اپنی شناخت کھو بیٹھے اور اپنی علیحدہ تہذیب، نظریہ اور نمایاں خصوصیات تک برقرار نہ رکھ سکے۔ وہ ہندو تہذیب اور ثقافت میں ضم ہوگئے اور اب انہیں ہندوؤں سے ممتاز کرنا مشکل ہو گیاہے۔ ان سب میں اگر ایک استثنا ہے تو مسلمانوں کا ہے۔
مسلمانوں کی آمد کے ساتھ ہی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان اختلاف شروع ہو گیا۔ مسلمانوں نے انتہائی احساس، احتیاط اور ہوش مندی سے اپنے تشخص اور علیحدہ ثقافت اور نظریہ کی حفاظت کی۔ انہوں نے ہندوؤں کی نفوذ اور انضمام کی کوششوں پر مسلسل نظر رکھی۔ ان کی مسلسل کوشش اور نگرانی نے ان کے تحفظ اور برصغیر میں مسلسل ان کی موجودگی کو یقینی بنایا۔ یہ مخاصمت چلتی رہی اور تاریخ کے مختلف ادوار میں اس نے مختلف روپ دھارے۔ بعض اوقات ہندو خطرہ سیاسی برتری کی صورت میں پیش آیا، بعض اوقات مذہبی تحریکوں کی صورت میں اور بعض اوقات معاشرتی اصلاح کی تحریکوں کی صورت میں پیش آیا۔
اگر آپ ہندو تصور کی تاریخ سے واقف ہوں تو آپ چودھویں اور پندرھویں صدی عیسوی میں ہندو فکر میں اس تحریک کو یاد کرسکتے ہیں جو بھگتی تحریک کے نام سے مشہور ہے۔ ہندو بھگت برصغیر کے مختلف حصوں میں ابھرے اور ان کا مقصد دینی فلسفہ میں ایک ایسا نیا تصور پیدا کرنا تھا جو بقول ان کے مطابق برصغیر میں موجود تمام مذاہب کی اچھی خصوصیات اور خوبیوں پر مشتمل ہو۔ سکھ تحریک کا وجود میں آنا بھگتی تحریک کا براہِ راست نتیجہ تھا اور سکھ تحریک کے بانی بابا گرو نانک نے ایک نیا مذہبی فلسفہ پیش کرنے کا دعویٰ کیا جس کی بنیاد اسلام، ہندومت ، عیسائیت اور بدھ مت کی تعلیمات پر ہو۔ یہ تصور اس لیے پیش کیا گیا کہ مسلمانوں کو اس نئے فلسفہ کی طرف مائل کیا جائے تا کہ وہ ان ملتی جلتی اور مشترک چیزوں میں ضم ہو جائیں اور اپنی شناخت، اپنی علیحدہ تہذیب اور ثقافت کھو دیں، لیکن یہ تحریک جو ہندوؤں اور ہندوؤں سے ابھرنے والے دوسرے گروہ سکھوں کی تھی، مسلمانوں کو راغب کرنے میں مذہبی اور فلسفیانہ سطح پر ناکام ہوگئی لیکن سیاسی سطح پر دوبارہ سامنے آئی۔
اگر آپ مغلیہ سلطنت کے ظہور کے پس منظر سے واقف ہوں تو آپ دیکھیں گے کہ اس وقت بڑے پیمانے پر برصغیر میں ہندو قبائل اور ہندو لوگوں کے درمیان گٹھ جوڑ ہوا۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا۔ وہ راجپوت لیڈر رانا سانگا کی قیادت میں متحد ہو گئے اور انہوں نے مسلمانوں کو جڑ سے اکھاڑنے اور برصغیر سے نکال باہر کرنے کی کوشش کی اور اس وقت جب مسلمان اس حالت میں نہیں تھے کہ اپنا تحفظ کرسکیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے وسطی ایشیا سے مغلوں کو بھیجا۔ بابر اپنی فوج اور عسکری قوت کے ساتھ آیا اور رانا سانگا کو شکست دے کر دوبارہ ۳۵۰ سال کے لیے مغلیہ سلطنت قائم کر دی۔ سیاسی سطح پر اس کوشش کی ناکامی کے بعد انہوں نے مسلمانوں کو اندر سے ہی منتشر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ ہندوستان ایک کثیر القومی ملک ہے اور اس نے سوچا کہ ہندوستان میں مختلف قومیں آباد ہیں اور یہ خیال اس کے ذہن میں ڈالا گیا کہ یہاں مسلمان، ہندومت اور بدھ مت کے پیروکار اور کچھ عیسائی بھی آباد ہیں۔ لہٰذا حکومت اور خاص طور پر بادشاہ کو ان تمام مذہبی عناصر کو یکجا کرنا اور تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے قریب لانا چاہیے۔ اس طرح اسلام کو دوسرے مذہبی نظریات کے ساتھ اکٹھا کرنے کا تصور اس کے ذہن میں ڈال دیا گیا۔
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے ہاں ایک فقہی قاعدہ ہے : اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام (ابن نجیم، الاشباء والنظائر، ص ۱۲۱) کہ اگر حلال اور حرام اکٹھے کر دیے جائیں تو حرام غالب آئے گا یعنی حرام اور حلال کو اکٹھا کر کے جو مجموعہ بنے گا، وہ باطل ہو گا۔ اگر برائی اور اچھائی اکٹھی کر دی جائیں تو نتیجہ برائی ہی ہوگا۔ لہٰذا حق اسی صورت میں حق ہے جب خالص اور سادہ ہو اور آلودہ نہ ہوا ہو۔ اگر یہ باطل کے ساتھ آلودہ ہو جائے تو پھر یہ سارے کا سارا باطل ہوگا، پورا نظام باطل ہو گا۔ لہٰذا برصغیر میں مسلمان قائدین، مفکرین اور مسلم تجدیدی تحریکوں کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اسلامی نظریہ کو حقیقی ، سادہ اور غیر آلودہ رکھا جائے۔
اکبر نے ہندوؤں، ملحدین اور منحرفین کے تعاون اور مدد سے اپنا مذہبی نظریہ پیش کر کے ایک نیا مذہبی نظام متعارف کروانے کی کوشش کی جو دین الٰہی کے نام سے مشہور ہے۔ ان کے مطابق یہ دین الٰہی برصغیر کے تمام بڑے مذاہب کے عقائد کا مجموعہ تھا، لیکن در حقیقت یہ اسلام نہیں تھا۔ یہ کچھ بھی تھا، لیکن اسلام نہیں تھا۔ اس تحریک کا مقابلہ کرنے کے لیے اور اسے ختم کرنے کے لیے وہ لوگ جو اقتدار میں تھے اور جو حلقہ حکومت کے قریب تھے، انہوں نے ایک جماعت تشکیل دی جسے فارسی میں جرگہ کہتے ہیں۔ اس جماعت کا نام ممدان اسلام یعنی اسلام کے مددگار تھا۔ یہ اسلام کے حمایتی لوگ تھے اور یہ حساس مسلم شخصیات پر مشتمل تھی۔ یہ آگے آئے اور مجدد شیخ احمد سرہندی جو مجدد الف ثانی ؒ کے نام سے مشہور ہیں، کی قیادت میں خود کو متحد کیا۔ انہوں نے اپنے ہاں سے اس ملحدانہ نظریہ کو ختم کرنے کی کوشش کی اور آخر کار اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مدد سے وہ اسے ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے اور اب یہ تاریخ کی کتابوں کا حصہ بن چکا ہے جہاں سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ دین الٰہی کیا تھا۔
عقلی اور مذہبی سطح پر اس تحریک کی ناکامی کے بعد ایک اور تحریک سیاسی سطح پر دوبارہ سامنے آئی۔ برصغیر میں مختلف ہندو گروہ اور قبائل پھیلے ہوئے تھے۔ اگر آپ برصغیر کے نقشے سے واقفیت رکھتے ہوں، اگرچہ میں جغرافیہ کا اچھا طالب علم نہیں، تو بر صغیر کے جنوبی حصہ پر جو گروہ غالب اور اکثریت میں تھا، وہ مرہٹوں کے نام سے مشہور تھا۔ دارالحکومت دہلی کے علاقے میں جاٹ قوم اور پنجاب میں سکھ قوم آباد تھی۔ یہ تینوں اسلام مخالف قوتیں آگے بڑھیں اور انہوں نے کوشش کی کہ اپنے علاقوں میں خود کو منظم کریں اور آخر کار مسلمانوں کو برصغیر سے نکال باہر کر کے اپنی برتری قائم کریں۔ مسلمانوں کی حالت اس وقت بہت کمزور تھی اور اختیارات بھی دارالحکومت اور ارد گرد کے علاقوں تک محدود تھے۔ اس کے علاوہ وہ برصغیر کے مختلف حصوں اور مختلف شہروں میں متفرق گروہوں کی صورت میں بکھرے ہوئے تھے اور باقی ماندہ عزت و وقار کو بحال رکھنے کی کوشش میں تھے۔
مرہٹے جنوبی حصے میں، جاٹ دارالحکومت کے ارد گرد اور پنجاب میں سکھ تھے۔ سکھوں نے پنجاب کے علاقے میں سیاسی قوت و برتری حاصل کر لی کیونکہ وہ آبادی میں مناسب تعداد میں تھے۔ ان کے پاس اپنی عسکری قوت تھی اور اس کے علاوہ وہ ایک قیادت کے تحت اکھٹے اور متحد تھے، جبکہ مسلمان متفرق اور بکھرے ہوئے تھے۔ چنانچہ وہ پنجاب میں اپنی سلطنت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے مسلمانوں کو اذیتیں دینا شروع کر دیں۔ یہ اٹھارہویں صدی کے اوائل میں ہو رہا تھا جب مغلیہ سلطنت کمزور ہو چکی تھی اور مسلم برصغیر کے مختلف علاقوں میں چھوٹی چھوٹی مسلم ریاستیں، اجارہ داریاں اور حکومتیں قائم ہو چکی تھیں جو عملی طور پر ایک دوسرے سے مکمل طور پر خود مختار تھیں۔ یہ تینوں بڑی طاقتیں مسلمانوں کی سیاسی برتری بلکہ برصغیر سے مسلمانوں کے وجود کو ختم کرنے کے درپے تھیں۔ ان کا ارادہ ایک خالص ہندو بادشاہت قائم کرنے کا تھا جسے ہندو ادب میں ہندو پد بادشاہی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ برصغیر میں خالصتاً ہندو بادشاہت قائم کرنا چاہتے تھے۔
اس مرحلہ پر شاہ ولی اللہ دہلوی آگے بڑھے۔ انہوں نے دو جہت پر کام شروع کیا۔ پہلی یہ کہ شاہ صاحب کا خیال تھا کہ مسلمانوں کے سیاسی تنزل کا سبب ان کی معاشرتی سطح پر انحطاط پذیری ہے اور معاشرتی زبوں حالی کی وجہ ان کی اسلام کی بنیادی تعلیمات سے دوری ہے کیونکہ جب تک وہ قرآن و سنت پر نظریات سے وابستہ نہیں ہوں گے، ان کا معاشرتی ڈھانچہ سلامت نہیں رہے گا اور جب تک معاشرتی ڈھانچہ سلامت نہیں ہوگا، اس وقت تک ان کی سیاسی برتری اور عزت و وقار کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، چنانچہ انہوں نے اولاً اس جہت پر کام کیا اور قرآن وسنت کی تعلیمات پر مشتمل نظام تعلیم کی تنظیم نو کے لیے کوشش کی۔ انہوں نے دہلی میں مدرسہ رحیمیہ کے نام سے تعلیمی ادارہ قائم کیا جس میں انہوں نے ایک اصلاح شدہ نظام تعلیم متعارف کروایا جو قرآن و سنت کی تعلیمات و احکامات پر مشتمل تھا۔ انہوں نے علما کی ایک جماعت تیار کی جنہیں انہوں نے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں بھیجا۔ بعض کو سندھ، بعض کو لکھنو اور کچھ کو بنگال روانہ کیا۔ اس طرح انہوں نے اپنے شاگردوں کو برصغیر کے تمام حصوں میں پھیلا دیا۔
دوسری جہت پر انہوں نے قلیل مدتی اقدامات بھی کیے، کیونکہ تعلیمی انقلاب اور ایسی نسل تیار کرنے کے لیے جو مقصد اسلام کے لیے وقف ہو، ایک لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے جو ایک طویل مدتی اقدام ہے۔چنانچہ قلیل مدتی اقدام کے طور پر انہوں نے مسلمانوں کو ان تین اسلام دشمن قوتوں سے بچانے کی کوشش کی۔ شاہ ولی اللہ کے دور میں ان میں سے سب سے زیادہ ناقابل برداشت اور طاقتور مرہٹے تھے۔ مرہٹے تعداد میں بہت ہی زیادہ تھے، ان کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ وہ ایک نئے جوش اور ہمت کے ساتھ ظاہر ہوئے اور برصغیر سے مسلمانوں حتیٰ کہ اسلام کا صفایا کرنے کے درپے ہو گئے۔ وہ مسلمانوں کو اذیتیں دینے میں اتنے بے رحم تھے کہ ہندؤں میں سے صحیح العقل لوگوں نے بھی ان کے وحشیانہ پن اور مسلمانوں کو دی جانے والی اذیتوں کی مذمت کی۔مرہٹوں کی حالت اس وقت یہ تھی کہ جب کہیں وہ فتح پاتے تو پورے کے پورے قصبے اور گاؤں ملیا میٹ کر دیتے، حتیٰ کہ بچوں اور عوتوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیتے اور پورے علاقے سے زندگی کا نام ونشان ختم کر دیتے تھے۔
اس وقت افغانستان میں ایک انتہائی مستعد اور بہت اچھا مسلمان حکمران تھا جو تاریخ میں شاہ احمد درانی اور ابدالی کے نام سے مشہور ہے۔ وہ ایک اچھا مسلمان ااور پکا مجاہد اور جنگ جو تھا اور وہ شاہ ولی اللہ سے رابطہ میں تھا۔ شاہ ولی اللہ نے معاشرے کے دوسرے معززین اور قائدین کے ہمراہ شاہ احمد ابدالی سے رابطہ کیا اور ان سے برصغیر میں آکر مرہٹوں کی قوت کو ختم کرنے کی درخواست کی۔ آخر کار شاہ ولی اللہ کے قائل کرنے پر وہ اپنی عسکری قوت کے ساتھ برصغیر آیا اور دہلی کے قریب ایک چھوٹے سے قصبے میں جو تاریخ میں پانی پت کے نام سے مشہور ہے اور دہلی سے تقریبا۱۲۰ میل کے فاصلہ پر ہے، اس جگہ احمد شاہ ابدالی اور مرہٹوں کے درمیان مڈ بھیڑ ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں کے خواب کو ہمیشہ کے لیے نا ممکن بنا دیا اور صرف ایک دن میں اڑھائی لاکھ مرہٹوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور اس طرح ان کے خواب کو ہمیشہ کے لیے خاک میں ملا دیا۔ اس کے بعد مرہٹوں کی جانب سے نہ کبھی مزاحمت کا سامنا ہوا اور نہ کبھی وہ دوبارہ ابھر سکے۔ اب بھی وہ ایک کمزور قوت ہیں۔ مرہٹوں کو شکست دینے کے بعد شاہ احمد ابدالی بد قسمتی سے افغانستان واپس چلے گئے اور برصغیر میں ٹھہرنا اور قیام کرنا پسند نہیں کیا۔ اگر انہوں نے برصغیر میں ٹھہرنے اور دہلی میں اپنی قوت اورحکومت قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہوتاتو شاید برصغیر کی تاریخ موجودہ تاریخ سے قدرے مختلف ہوتی۔ تاہم وہ واپس چلے گئے اور دہلی میں امور اسی حالت میں چھوڑ کر چلے گئے جس طر ح وہ تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سکھوں نے پنجاب میں برتری حاصل کر لی اور انہوں نے اسی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا جس کا آغاز مرہٹوں نے کیا تھا۔ یہ صورت حال انیسویں صدی کے آغاز میں تھی۔ شاہ ولی اللہ مرہٹوں کے خلاف اپنے منصوبے کی کامیابی دیکھنے سے قبل ہی انتقال کر گئے تھے۔مرہٹوں کے خلاف پانی پت کی جنگ ۱۷۶۲ء میں لڑی گئی اور شاہ ولی اللہ کا انتقال اس حتمی معرکے سے ایک سال قبل ۱۷۶۱ء میں ہوا۔ شاہ ولی اللہ کے بعد ان کے بڑے بیٹے شاہ عبد العزیز نے تحریک کی قیادت سنبھالی اور مدرسہ رحیمیہ کے مہتمم کے طور پر ان کے جانشین بنے۔ وہ اس وقت برصغیر میں ہونے والے تمام تجدیدی کاموں کے نگران تھے۔ شاہ عبد العزیز انیسویں صدی کی پہلی تہائی گزرنے کے ساتھ بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ اس وقت ان کی عمر اسی برس سے زائد تھی اور اس حالت میں نہیں تھے کہ مقبول تحریک کی براہ راست خود نگرانی کر سکیں اور برصغیر کے مسلمانوں کو غلامی اور سیاسی وعسکری میدانوں میں مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے سے محفوظ رکھ سکیں۔ انھی وجوہ کی بنا پر انہوں نے اپنے ایک شاگرد سید احمد شہید کو اس بات پر قائل کیا کہ وہ مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ کی کاوشوں اور خاص طور پر اس تجدیدی اور اصلاحی نظریہ کو جسے شاہ ولی اللہ اور ان کے پیروکاروں نے پیش کیا، مد نظر رکھتے ہوئے جہاد کی اس مقبول تحریک کو دوبارہ شروع کریں۔
سید احمد شہید ۱۲۰۱ ہجری [نومبر ۱۷۸۶ء] میں پیدا ہوئے۔ وہ شاہ عبد العزیز کے شاگرد تھے، لیکن بنیادی طور پر مزاج اور ذہنی رجحان کے لحاظ سے ایک مجاہد اور جنگ جو تھے، نہ کہ ایک عالم۔ اس وقت وسطی بھارت میں بھوپال نامی ایک ریاست تھی جس کی باگ ڈور ایک نیک حکمران نواب امیر خان کے پاس تھی۔ وہ ایک اچھا مسلمان تھا جس نے خود کو اسلام کے مقصد کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ اس کی یہ خواہش تھی کہ مسلمانوں کی سیاسی برتری کو دوبارہ بحال کیا جائے۔ شاہ ولی اللہؒ کے بیٹے شاہ عبدالعزیزؒ ہدایت پر پر سید احمد شہید اس کی عسکری قوت میں شامل ہو گئے اور کچھ وقت وہاں رہے۔ یہ عرصہ جو انہوں نے نواب امیر خان کے ساتھ گزارا، کئی لحاظ سے ان کے لیے مفید رہا۔ اولاً انہوں نے برصغیر کی اہم سیاسی شخصیات سے تعلقات استوار کیے جنہیں بعد ازاں انہوں نے اپنی تحریک کی کامیابی کے لیے استعمال کیا اور ثانیاً انہوں نے جنگ جوئی اور عسکری حکمت عملی کی عملی تربیت حاصل کی۔ لیکن کچھ عرصہ بعد جب انہوں نے محسوس کیا کہ نواب امیر خان برصغیر میں اسلام کی تجدیدی تحریک کے احیا کے لیے اقدام کرنے کی پوزیشن میں نہیں تو وہ اسے چھوڑ کر دہلی واپس آگے اور شاہ عبد العزیز کو اس تمام صورت حال سے آگاہ کیا۔
شاہ عبد العزیز سے مشاورت کے بعد اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایک مقبول تحریک کا آغاز کیا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے شاہ عبد العزیز کے مدرسہ رحیمیہ کے تمام علما نے سید احمد شہید کا ساتھ دیا۔ خاص طور پر دو نہایت بزرگ علما کا تذکرہ ضروری ہے۔ ان میں ایک مولانا عبد الحئی جن کا شمار برصغیر کے علما میں انتہائی بزرگ عالم کے طور پر ہوتا ہے اور وہ شاہ عبد العزیزؒ کے داماد تھے۔ دوسرے مولانا اسماعیل شہیدؒ تھے جو شاہ عبد العزیزؒ کے بھتیجے اور شاہ ولی اللہؒ کے پوتے یعنی ان کے سب سے چھوٹے بیٹے شاہ عبد الغنی ؒ کے بیٹے تھے۔ یہ دونوں بزرگ علما شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالرحیم اور شاہ عبد العزیز کی قائم کردہ قدیم روایات کے نمائندے اور سب سے بزرگ ترین علما شمار کیے جاتے تھے۔ پورا برصغیر حتیٰ کہ شاہ عبد العزیز بھی انہیں قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ سید احمد شہید کے حلقہ میں ان بزرگوں کی شمولیت سے اس تحریک کی شہرت اور وقار کو بہت زیادہ تقویت ملی۔
سید احمد شہید نے ان کے ہمراہ اس علاقے کا دورہ کیا جسے یو پی (United Provinces) کہتے ہیں۔ یقیناًآپ اس بات سے واقف ہوں گے کہ اسلامی دنوں میں ایک صوبہ لکھنؤ یا اودھ کے نام سے تھا اور وہاں ایک شہر بھی لکھنؤ کے نام سے ہے جو مولانا ابو الحسن علی الندوی کا شہر ہے۔ آپ مولانا ابو الحسن علی کی شخصیت سے واقف ہوں گے کہ وہ لکھنو میں رہا کرتا تھے۔ لکھنو کو اودھ بھی کہتے تھے۔ دوسرا صوبہ آگرہ تھا جو دہلی سے ۷۰ میل کے فاصلہ پر ہے۔ ان دونوں صوبوں، آگرہ اور اودھ کو اکٹھا کر دیا گیا۔ اس وجہ سے علاقہ یو پی کے نام سے مشہور ہو گیا۔ سید احمد شہید نے یو پی کے اس پورے علاقے اور اہم شہروں اور قصبوں کا سفر کیا اور شرک و بدعات کے بارے میں اپنے نظریات کی تشہیر کی اور لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ اس طرح لاکھوں مسلمان ان کے حلقہ میں شامل ہوگئے۔
ضروری کام مکمل کرنے کے بعد انہوں نے حج پر جانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ اگر آپ بحر ہند میں جہاز رانی کی تار یخ سے واقف ہوں تو جانتے ہوں گے کہ اس وقت بحر ہند برطانیہ، فرانس اور پرتگال کے جہاز رانوں کے لیے ایک جھیل کی طرح تھی اور مسلمانوں کے لیے بحر ہند میں جہاز پر سفر کرنا خطرہ سے خالی نہ تھا۔ اس بنا پر اس وقت کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ حج اب فریضہ نہیں رہا، کیونکہ قرآن میں ہے: من استطاع الیہ سبیلاکہ حج اس شخص پر فرض ہے جو مکہ پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ چونکہ مسلمان اس حالت میں نہیں کہ مکہ جا سکیں، اس لیے حج اب فرض نہیں رہا۔ اس فاسد خیال اور رائے کو ختم کرنے کے لیے اور حج کی فرضیت کو زندہ کرنے کے لیے سید احمد شہید نے حج پر جانے کا فیصلہ کیا۔ اپنے دو یا تین سو ساتھیوں کے ہمراہ وہ اس علاقے سے بنگال کی مشرقی بندر گاہ کلکتہ تشریف لائے اور وہاں سے خلیج بنگال کے ذریعے حج کے لیے روانہ ہوئے اور وہاں آپ نے ایک سال قیام کیا۔
مکہ اور مدینہ میں ایک سال کے قیام کے دوران انہوں نے اسلامی تحریکوں کے سربراہوں سے رابطہ کیا اور ان کے ساتھ جہاد کے مسائل اور مستقبل کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وہاں ان کا رابطہ افغانستان کے لوگوں کے ساتھ ہوا، کیونکہ اس وقت انگریزوں اور سکھوں کی موجودگی کی وجہ سے اس علاقے کے لوگوں کے ساتھ براہ راست رابطہ ممکن نہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے عرب میں وسطی ایشیا اور افغانستان کے لوگوں سے رابطہ کیا اور آخر کار جہاد شروع کرنے کے بارے میں حکمت عملی مرتب کی۔ حج سے واپسی پر انہوں نے جہاد کے لیے تیاریاں شروع کر دیں اور جہادی تحریک کے مرکز کے لیے انہوں نے پنجاب کی دوسری جانب کا علاقہ جو آج کل شمال مغربی سرحدی صوبہ میں شامل ہے، منتخب کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنے سات سو پیروکاروں کے ہمراہ ہجرت کرتے ہوئے پہلے نواب امیر خان کے پاس آپہنچے۔ وہاں سے سندھ اور سندھ سے قندھار کے راستے افغانستان پہنچے۔ پھر قندھار سے کابل اور کابل سے پشاور اور وہاں سے ضلع ہزارہ کے علاقے میں آئے اور اس علاقے کو انہوں نے کئی ایک وجوہ کی بنا پر اپنی جہادی تحریک کے مرکز کے طور پر منتخب کیا۔
اولاً: وہ سکھوں کی بالادستی کو ختم کرنا چاہتے تھے، کیونکہ سکھوں نے مسلمانوں کو اذیتوں میں مبتلا کر رکھا تھا جبکہ وہ پنجاب میں اقلیت اور مسلمان اکثریت میں تھے۔ اگر پنجاب کو سکھوں کی بالادستی سے آزاد کروا لیا جاتا تو مستقبل میں برصغیر کے کم از کم ایک حصے یعنی سرحد میں اسلامی نظام حکومت قائم کرنے کے لیے بہتر ثابت ہو سکتا تھا۔
ثانیاً: سرحدی صوبہ کا علاقہ وسطی ایشیا سے ملحق تھا جہاں آبادی کے لحاظ سے مسلمان غلبے میں تھے اور پیچھے کی جانب سے انھیں مدد اور حمایت فراہم کرنے کی بہتر پوزیشن میں تھے۔
تیسرا یہ کہ تاریخی اور روایتی لحاظ سے افغانستان اور پشاور کے مسلمان پر جوش اور سنجیدہ واقع ہوئے ہیں اور برصغیر کے باقی مسلمانوں کی نسبت اسلام کے مقصد کے ساتھ ان کی وابستگی بہت زیادہ گہری تھی۔
انہی وجوہ کی بنا پر انہوں نے اس علاقے کو اپنی جہادی کاوشوں کا مرکز بنانے کی کوشش کی۔ چنانچہ وہ یہاں علاقے پہنچے، مقامی آبادی جو مسلمانوں پر مشتمل تھی، ان کے ارد گرد اکٹھی ہوئی اور جہاد کے لیے ان کے ہاتھ پر بیعت کی گئی۔ وہاں ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جو پنج دھار کے نام سے مشہور ہے۔ تاریخی اہمیت کی وجہ سے ہم اسے یاد رکھ سکتے ہیں۔ اس چھوٹے سے قصبے پنج دھار میں انھوں نے اپنا مرکزی ہیڈ کوارٹر قائم کیا۔ یہ ان کی چھوٹی سی اسلامی ریاست کا دارالحکومت بھی تھا۔ سید احمد شہید نے امامت کی بیعت بھی لی اور انہیں امیر المومنین کے طور پر منتخب کیا گیا۔ انہوں نے اپنے اس چھوٹے سے علاقے کے تمام حصوں میں قاضی اور محتسب مقرر کیے۔ اسلامی قانون کو لاگو اور شریعت کو مکمل طور رپر نافذ کیا گیا۔ ضروری تیاری مکمل کرنے کے بعد انہوں نے سکھوں کے خلاف عملی طور پر جہاد کا آغاز کیا۔ اگر آپ کو پشاور جانے کا اتفاق ہوا ہو تو شاید آپ نے دریائے سندھ کے فوراً بعد ایک چھوٹا سا قصبہ اکوڑہ خٹک دیکھا ہو جہاں ایک بڑا دینی مدرسہ بھی ہے ۔ سید احمد شہید اور سکھوں کے درمیان پہلی مڈ بھیڑ یہاں اکوڑہ خٹک میں ہوئی۔ اس مقابلے میں مسلمان سکھوں کو شکست فاش دینے میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے سکھوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔
اس کامیابی کے بعد سید احمد شہید نے پشاور، ہزارہ اور کشمیر میں قبائلی سرداروں اور دوسرے حکمرانوں کو خطوط لکھے۔ اکثر نے مثبت رد عمل کا اظہار کیا اور اس طرح عملی طور پر شمال مغربی سرحدی صوبے کا پورا علاقہ ان کے زیر اثر آگیا اور انہوں نے ہر علاقے میں اپنے قاضی اور محتسب مقرر کیے۔ لیکن ایک بات جسے تحریک کے پر جوش کارکنان کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیے، شریعت کی بالا دستی اور اسلامی نظام قائم کرتے ہوئے جوش و جذبے میں یہ بات ہمیشہ ذہن میں ر ہنی چاہیے، لیکن انہوں نے اس بات کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا اور مقامی لوگوں کے مقامی رواجات، مقامی روایات اور لوگوں کی پسند اور نا پسند کو مدنظر نہیں رکھا۔ ان میں کچھ لوگوں نے شریعت کو اپنانے اور قبول کرنے میں لوگوں کی صلاحیت کو اور اس بات کو مدنظر نہیں رکھا کہ وہ کس حد تک شریعت کی ذمہ داریوں کو ادا کر سکتے ہیں اور کس حد تک اسے برداشت کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کسی پر بوجھ لادنے کی کوشش کر رہے ہوں تو آپ کو اس کی صلاحیت اور قابلیت کو مد نظر رکھنا چاہیے اور جب تک اس کی صلاحیت آپ کو اس بات کی اجازت نہ دے، آپ کو اس کے کندھوں پر بوجھ نہیں لادنا چاہیے۔ اس علاقے کے لوگ اس وقت شریعت کے نفاذ کا بوجھ برداشت کرنے کے لیے تجربہ اور تیاری نہیں رکھتے تھے۔ سید احمد کے پیروکاروں اور رفقا نے سوچا کہ یہ لوگ نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ کئی صدیوں سے مسلمان ہیں اور انہیں شریعت کے نفاذ کا خیر مقدم کرنا چاہیے اور خوش آمدید کہنا چاہیے، چنانچہ انہوں نے کسی تدریج اور مرحلہ وار تعارف کے بغیر شریعت نافذ کر دی۔ مقامی آبادی کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا اور خاص طور پر میں ایک مثال سے واضح کرتا ہوں۔ پشاور کے اردگرد اس علاقے میں حتیٰ کہ آج بھی لوگ اپنی خواتین کے معاملات میں بڑے حساس واقع ہوئے ہیں۔ ان کے ہاں شادی، طلاق اور خاندانی تعلقات کے بارے میں اپنی روایات ہیں اور خاندانی تعلقات اور خاندانی روایات کے تحفظ میں وہ بہت سخت ہیں۔ اگر کوئی فرد باہرکے دوسرے قبیلہ سے آ کر ان کی اندرونی زندگی میں دخل دینے کی کوشش کرے تو اسے ہر گز برداشت نہیں کیا جاتا اور اسے بغیر کسی تامل کے آج بھی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔
انہی دنوں سید احمد شہید کے علم میں یہ بات آئی کہ چند خواتین جن کا تعلق بڑے خاندانوں سے ہے، ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں اور ان کی عمریں بھی زیادہ ہو رہی ہیں۔ سید احمد شہید نے جب ان کے والدین اور سرپرستوں سے ان کے بارے میں پوچھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کی شادی کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے کہا کہ ہم ان کے لیے برابر کے مناسب رشتوں کی تلاش میں ہیں اور ایسے مناسب رشتے اور نوجوان نہیں مل رہے جن کا تعلق بڑے خاندانوں سے ہو اور دوسرے قبائل میں اپنی بیٹیوں کو نکاح میں دینے کے لیے ہم تیار نہیں۔ سید احمد شہید نے اس بات کو پسند نہیں کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کی شادی موجود مسلمان نوجوانوں اور ان کے ساتھ یو پی سے آئے ہوئے رفقا سے کر دیں۔ اس طرح ان کے اصحاب میں سے کچھ کو شادیوں میں لڑکیاں ملیں۔ اس پر ایک شدید رد عمل سامنے آیا اور یقیناًغیر اسلامی قوتوں اور اسلامی انقلاب اور اسلامی نظام کے مخالفین نے اسے مزید بڑھاوا دیا اور اس میں مزید ایندھن بھرا اور ایک دن ان سب نے ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا اور رات کے وقت تمام مجاہدین کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔
ایک رات وہ سب لوگ اپنی تلواروں، بندوقوں اور اسلحہ کے ساتھ آئے اور مسجد پر حملہ آور ہوئے۔ کچھ مجاہدین تہجد کی نماز پڑھ رہے تھے، انہیں قتل اور ہلاک کر دیا گیا۔ کچھ اپنے گھروں میں سو رہے تھے، انہیں بھی قتل کر دیا گیا۔ کچھ اپنے خیموں کی حفاظت کر رہے تھے، انہیں بھی قتل کر دیا گیا۔ سینکڑوں ہزاروں مجاہدین کو ایک رات میں خود مسلمانوں نے ہی قتل کر دیا۔ یہ شریعت کے نفاذ کا ایک رد عمل تھا۔ اس کا مسلمانوں کے کیمپ پر ایک برا اثر مرتب ہوا، سید احمد شہید شدید دل برداشتہ ہوئے اور انہوں نے اس علاقے سے جانے کا ارادہ کر لیا۔ اس وقت سوات میں ایک اچھا حکمران تھا۔ اس نے سید احمد شہید کو ہزارہ سے سوات آنے کی دعوت دی کہ وہ اپنا ہیڈ کوارٹر وہاں بنائیں اور انہیں ہر قسم کی مدد اور مزید جہاد کے لیے بنیاد فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ چنانچہ وہ پانچ سے سات سو کے قریب مجاہدین کے ہمراہ ہزارہ سے سوات کی جانب چل دیے۔ جب وہ سوات کی جانب جا رہے تھے تو وادی کاغان کے علاقے میں ایک قصبے سے جو بالا کوٹ کے نام سے مشہور ہے، گزرے ۔ بالا کوٹ اس طرح ہے کہ اس کی ایک جانب دریائے کنہار ہے جب کہ دوسری طرف ایک بڑا پہاڑ ہے اور ان کے درمیان بالا کوٹ کا علاقہ ہے۔ سید احمد شہید اور ان کے مجاہدین نے سوات جاتے ہوئے اس علاقے میں پڑاؤ ڈالا۔ معلوم نہیں سکھوں، ہندوؤں، مقامی مسلمانوں یا مخالفین میں سے کسی نے سکھ فوج کویہ بات پہنچا دی کہ سید احمد شہید اپنے مجاہدین کے ہمراہ اس علاقے میں خیمہ زن ہیں اور وہ سوات کی طرف جا رہے ہیں جسے وہ اپنا ہیڈ کوارٹر بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہاں سے سکھوں کے خلاف جہاد شروع کریں۔
سکھ فوج پہاڑ کے اوپر کی جانب سے آئی اور یک دم بغیر کسی اطلاع کے مسلمانوں پر حملہ آور ہو گئی۔ یہ ۶؍ مئی ۱۸۳۱ء کی بات ہے، جبکہ مسلمان جنگ کے لیے قطعا تیار نہیں تھے اور انہیں اس طرف سے کسی حملے کی توقع بھی نہیں تھی، لیکن پھر بھی ان کے پاس ہتھیار اور اسلحہ موجود تھا اور وہ ایک ہزار کے لگ بھگ تھے۔ سید احمد نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سکھوں کے حملے کا جواب دینے کا فیصلہ کیا ۔ جنگ کا علاقہ اس طرح تھا کہ اس کی پچھلی جانب دریا اور سامنے کی طرف پہاڑ تھا اور پہاڑ کے اوپر کی جانب سے سکھ فوج آ رہی تھی۔ آخر کار جنگ شروع ہوئی۔ سید احمد شہید، مولانا اسماعیل شہید سب سے آگے تھے اور مجاہدین ان کے ہمراہ تھے۔ حملے کا آغاز نماز فجر کے فوراً بعد یا کچھ دیر بعد ہوا۔ سید احمد شہید اور مولانا اسماعیل شہید نماز ظہر سے قبل ہی اللہ کی راہ میں اپنی جانیں پیش کر چکے تھے۔ باقی سینکڑوں مجاہدین کو سکھوں نے قتل کر دیا۔ اس طرح جہادی تحریک کے اس مرحلے کا اختتام ہو گیا۔ یہ اس جہادی تحریک کا اختتام تھا جس کا آغاز ۱۸۲۶ء میں اور اختتام ۱۸۳۱ء میں ہوا۔ پانچ سال کو محیط اس عرصے میں وہ اپنی اسلامی ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوئے جہاں ان کے خلاف بغاوت اور غداری ہوئی اور انہیں وہ علاقہ چھوڑنا پڑا اور پھر دوبارہ ان کے خلاف مسلمانوں کی طرف سے غداری ہوئی جس کی وجہ سے انہیں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑ گیا۔
مولانا اسماعیل شہید کی قبر تو معروف ہے اور ہر ایک جانتا ہے، لیکن سید احمد شہید کی میت نہ مل سکی حتی کہ ان کا سر بھی نہ مل سکا، لہٰذا ہمیں یہ معلوم نہیں کہ ان کی میت کو ختم کر دیا گیا یاوہ محفوظ رہی۔ تاہم بالا کوٹ میں ایک قبر ہے جسے سید احمد شہید کی طرف منسوب کی جاتا ہے، لیکن یہ بات ثابت نہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی نعش دریا میں بہہ گئی تھی اور کچھ کا خیال ہے کہ ان کی نعش تو محفوظ رہی، لیکن سر دریا میں بہہ گیا تھا۔ اس بارے میں بہت زیادہ روایات اور کہانیاں ہیں ۔ اس طرح یہ اس مرحلہ کا اختتام تھا۔ سید احمد شہید کی شہادت کے بعد ان کے جانشین اکٹھے ہوئے اور شیخ ولی محمد چلتی کو اپنا قائد منتخب کر لیا۔ اس کے بعد تحریک چلتی رہی اور وہ سوات چلے گئے اور کچھ جہاد بھی کیا، لیکن تحریک کا مرکزی اور بنیادی مرحلہ سید احمد شہید کی وفات کے ساتھ ختم ہو گیا۔
اسلام میں تفریح کا تصور
ڈاکٹر محمود احمد غازی
(ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ کا ایک غیر مطبوعہ خطاب جسے حافظ آغا عبد الصمد نے مدون کیا۔)
تفریح اور خوشی اور مسرت کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے؟ یہ موضوع ایک عمومی انداز بھی رکھتا ہے اور ایک خاص پہلو سے ہمارے لیے اہمیت بھی رکھتا ہے۔ اس وقت ہمارے معاشرے میں دینی تعلیم وتربیت کی کمی کی وجہ سے بہت سے معاملات میں غلط فہمیاں اور الجھنیں پیدا ہورہی ہیں۔ یہ غلط فہمیاں اور الجھنیں ماضی میں پیدا نہیں ہوئیں، اس لیے کہ ماضی میں اس بات کا انتظام موجود ہوتا تھا کہ مسلمانوں کی تعلیم وتربیت کا انتظام نہ صرف گھر سے شروع ہو، بلکہ گھر میں، بازار میں، مسجد اور مدرسے میں، دارالعلوم اور یونیورسٹی میں، کاروبار کے اداروں میں، تجارت کے مراکز میں ہر جگہ کا انتظام چوں کہ شریعت اور اسلامی تعلیمات کے مطابق تھا، ہر شخص کا رویہ اور طرز عمل شریعت کے احکام کے مطابق تھا، اس لیے اس ماحول میں رہنے والا خود بخود دینی تعلیم اور دینی مزاج میں رنگ جاتا تھا۔ اس پر دینی تعلیم کا رنگ اتنا غالب آجاتا تھا کہ کسی دوسرے رنگ کو قبول کرنا عام طور پر ممکن نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اب گزشتہ سوڈیڑھ سال کے دور انحطاط کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ اسلامی نظام تعلیم ختم ہوگیا ہے، مسلم ماحول اور معاشرے سے وہ اثرات ایک ایک کرکے ختم ہوگئے جن کی وجہ سے نئے آنے والے افراد کی تربیت خود بخود ہوتی رہتی تھی۔ اس لیے اب یہ ضرورت پیش آتی ہے کہ لوگوں کہ نہ صرف جزئی مسائل کی تعلیم دی جائے بلکہ یہ کوشش بھی کی جائے کہ عمومی طور پر لوگوں کے ذہنوں کی ساخت اور سانچہ شریعت اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق تشکیل پاجائے۔
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں نہ کسی تفریح کی گنجائش ہے اور نہ کوئی خوشی منانے کی گنجائش ہے۔ اسلام میں اگر کوئی داخل ہوگیا تو اس کاکام یہ ہے کہ خشک زندگی گزارے اور ہرقسم کی مسرت، خوشی اور سیروتفریح سے بالکل الگ ہوکر ایک تارک الدنیا کے طورپرزندگی بسر کرے۔یہ ایک رائے ہے جو کچھ لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ کچھ اور لوگ ہیں جویہ سمجھتے ہیں کہ اسلام صرف عبادات اور نماز روزے کانام ہے۔ نماز پڑھ لی تو گویا اللہ پر بڑا احسان کر لیا۔ رمضان کے روزے رکھ لیے تو بہت بڑا احسان ہوگیا۔ اس کے بعد ہم جو جی چاہے کریں۔ ہندوؤں کی نقل کریں، عیسائیوں کی نقل کریں، یہودیوں کی نقل کریں، بدکردار اباحیت پسند لوگوں کی نقل کریں۔ جو جی چاہے کریں کہ ہمیں تفریح اور خوشی کے نام پر دنیا کی ہر چیز کرنے کا اختیار ہے۔ یہ ایک دوسری انتہا ہے۔ یہ دونوں انتہائیں شریعت کے مزاج اور تقاضوں کے خلاف ہیں، شریعت کی تعلیم سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ تفریح اور خوشی اور مسرت کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیاہے؟
تفریح کا مفہوم
جس کو ہم تفریح کہتے ہیں، اس کے لغوی معنی کیا ہیں؟ تفریح کے لغوی معنی ہیں دل کو فرحت بخشنا۔ آپ گرمی کے موسم میں کہیں دور سے آرہے ہوں، سخت تکان اور پیاس ہو اور کسی اچھے شربت کا ایک ٹھنڈا گلاس پی لیں تو دل کو ایک فرحت پہنچتی ہے، خوشی اور مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ اس کیفیت کے فراہم کرنے کو تفریح کہتے ہیں۔ جس طرح جسم کی تفریح ہوتی ہے، عقل کی تفریح بھی ہوتی ہے، ذہن کی تفریح بھی ہوتی ہے، جذبات واحساسات کی تفریح بھی ہوتی ہے، دل کی تفریح بھی ہوتی ہے اور یہ تفریح انسانی مزاج، انسانی طبیعت، انسانی جذبات واحساسات کو regenerate کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ انسان ایک ماحول سے اکتا جاتا ہے، بعض اوقات ماحول کی یکسانیت اسے بور کردیتی ہے، وہ پریشان ہوجاتاہے، اس بنا پر ماحول میں جدت پیدا کرنے کے لیے اسے کچھ کرنا پڑتا ہے۔ عربی کا ایک جملہ ضرب المثل ہے: کل جدید لذیذ، ہر جدید لذیذ ہوتاہے، ہرنئی چیز میں ایک لذت ہوتی ہے۔ انسان کا مزاج یہ ہے کہ وہ ہر نئی چیز کو حاصل کرنا چاہتا ہے، اس لیے کہ وہ نئی چیز میں لذت محسوس کرتا ہے۔ اگر کسی پرانی چیز کو بھی نئے انداز سے پیش کیا جائے تو اس میں بھی ایک نیاپن محسوس ہوتاہے۔ آپ گھر میں جائیں اور گھر کے فرنیچر کو ایک نئے انداز سے ترتیب دے دیں، اس کی تشکیل بدل دیں تو کمرہ نیا معلوم ہونے لگے گا۔ پرانی کتابیں نکالیں، انہیں نئی ترتیب دے دیں، ان کی نئی جلدیں بنوالیں تو آپ کو اس میں ایک نیا پن اور اپنائیت محسوس ہونے لگے گی، ایک خوشی محسوس کریں گے۔ آپ لباس کی تراش خراش میں تھوڑی جدت پیدا کر لیں تو آپ کو اچھا لگے گا، خوشی محسوس ہوگی۔
گویا جدت میں انسان لذت محسوس کرتاہے اور نئے پن میں ایک تفریح محسوس ہوتی ہے۔ عام معمول سے ہٹ کر انسان جب کوئی نئی چیز کرتاہے تو اس کو خوشی ہوتی ہے، اس خوشی کی وجہ سے تفریح محسوس ہوتی ہے، اس تفریح سے جذبے اور احساس میں ایک نئی زندگی محسوس ہوتی ہے۔ ہم لوگ جو شہروں میں رہتے ہیں، تفریح کے لیے پہاڑوں پر جاتے ہیں اور جو لوگ پہاڑوں پر رہتے ہیں، وہ تفریح کے لیے شہروں میں آتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ گاؤں سے لوگ یہاں اسلام آباد آتے ہیں، فیصل مسجد آتے ہیں اور اس گھاس پر بیٹھ کر تفریح محسوس کرتے ہیں۔ جس ماحول میں ہمیں کوئی اپنائیت محسوس نہیں ہوتی، وہ اس ماحول میں پورا دن گزارتے ہیں۔ جو لوگ لاہور کے رہنے والے ہیں، وہ چھانگا مانگا جاتے ہیں اور چھانگا مانگا کے رہنے والے لاہور میں آتے ہیں۔ اس سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ جو آدمی جس ماحول میں رہتا ہے، اس سے ہٹ کر وہ نیا ماحول تلاش کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایک فطری بات ہے، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔ شریعت نے انسان کے تمام فطری تقاضوں کی تکمیل کا سامان کیا ہے، اس تقاضے کی تکمیل کا سامان اور اس سلسلے میں ہدایات بھی شریعت میں موجود ہیں۔ لیکن اس کی شرائط کیا ہیں؟ اس کی حدود کیا ہیں؟ اس پر ابھی بات ہوگی۔ لیکن اس حد تک ہر شخص اتفاق کرے گا کہ لوگ اپنے مزاج اور طبیعت کو ایک جدت سے ہم آہنگ کریں، اپنی صلاحیتوں کو جلا بخشیں، اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں، اپنی کارکردگی میں اگر کمی آرہی ہے، کوئی سستی واقع ہورہی ہے تو اس سستی کو دور کریں، یہ بات شریعت کے مزاج کے عین مطابق ہے، شریعت نے اس کی تعلیم دی ہے۔
لیکن آگے بڑھنے سے پہلے دیکھیں کہ دوسری اقوام میں تفریح یا تہوار کا تصور کیا ہے؟ تہوار جس کو کہتے ہیں، یہ بھی تفریح کا ایک ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ لوگ منتظر رہتے ہیں کہ فلاں تہوار آئے گا تو تفریح کے مواقع ملیں گے۔ اس موقع پر تفریح کریں گے تو ایک نیا پن محسوس ہوگا۔
اقوام عالم میں تفریح کا تصور
مختلف اقوام نے اپنے اپنے لیے جو تہوار اپنائے ہیں، ان میں کچھ چیزیں قدر مشترک کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مشرق کی قومیں ہوں یا مغرب کی، عیسائی ہوں یا یہودی، ہمارے پڑوس میں رہنے والے ہندو ہوں یا سکھ ہویا کوئی اور قوم ہو، ان میں سے اکثر اقوام میں بلکہ اگریہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ سب ہی اقوام میں تہوار کا تصور یہ تھا کہ موسم کی تبدیلی کو نقطہ آغاز قرار دیاجائے۔ انسان تبدیلی سے خوش ہوتا ہے۔ جب تک سردی نہیں آئی ہوتی تو سردی کا منتظر رہتا ہے۔ سردی آجاتی ہے تو گرمی کا انتظار شروع ہوجاتا ہے۔ پھر گرمی آتی ہے تو اس سے پریشان ہوکر سردی کا منتظر رہتا ہے۔ یہ ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ ہوتاہے۔ چونکہ یہ انسان کا عام مزاج ہے، اس لیے مختلف اقوام نے موسم کی تبدیلی کو ایک تہوار قرار دیا۔ قدیم ایرانیوں نے اس مقصد کے لیے نوروز مقرر کیا۔ انہوں نے ایک خاص دن کو موسم بہار کا نقطہ آغاز قرار دیا اور یہ سمجھا کہ اس دن ایک نیاپن ماحول اور کائنات میں پیدا ہواہے، اس لیے اسے ایک خاص انداز سے مناتے ہیں۔ کچھ اور اقوام ہیں جو سردی کی آمد کو مناتی ہیں۔ کچھ اور اقوام ہیں جو کسی خاص موسم کی آمد کو مناتی ہیں۔ کوئی گرمی کی آمد کو مناتا ہے، کوئی ہولی کے نام سے جب گرمی آتی ہے تو ایک دوسرے پر رنگ پھینکتے ہیں۔ لیکن تھوڑا سا غور کریں تو کسی خاص موسم کی آمدورفت سے کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ پھر موسم کی آمدورفت ہر علاقے کے لیے مختلف ہوگی۔ فرض کیجیے کہ موسم کی آمد پرجشن منانا اچھی بات ہو یا کم از کم بری بات نہ ہو تو موسم کی تبدیلی ہمارے پاکستان میں فرض کیجیے فروری میں ہوگی۔ لاہور میں فروری ہی میں ہوجاتی ہے، اسلام آباد میں مارچ میں ہوتی ہے۔ شمالی علاقہ جات میں اور آگے جائیں تو اپریل میں ہوتی ہے۔ مزید آگے جائیں تو جون میں ہوتی ہے۔ اور مزید آگے چلے جائیں توپورا سال نہیں ہوتی۔ سال بھر برف باری رہتی ہے۔ ہمارے مغربی علاقوں میں چلے جائیں تو بلوچستان میں شاید جنوری ہی کے کچھ دن سردی رہتی ہو۔ یہ جغرافیائی حالات ہیں جس سے اندازہ کرلیں کہ ہر علاقے اور ہر ملک میں ایک نئے وقت میں موسم کی تبدیلی آتی ہے۔ اس لیے اگر موسم کی تبدیلی کو اسلام بطور جشن کے یا بطور تہوار کے مانتا تو یہ ایک عالم گیر برادری کے لیے قابل عمل نہ رہتا۔ ایک ایسی عالمی برادری جو دنیا کے ہر ملک اور ہرگوشے میں پائی جاتی ہے، جو امریکہ سے لے کر چین تک اور سائبریا سے لے کر انتہائی جنوبی علاقوں سڈنی اور کیپ ٹاؤن تک میں موجود ہو، وہ کسی ایک دن کو موسم کی تبدیلی کانقطہ آغاز قرار نہیں دے سکتی۔ اس لیے کوئی ایسا تہوار موسم سے وابستہ نہیں ہوسکتا جو پوری امت مسلمہ کے لیے ہو۔ یہ آپ ذہن میں رکھیں کہ اسلام نے موسموں کو تہوار کیوں نہیں قرار دیا۔ اس لیے نہیں قرار دیا کہ یہ بات اسلام کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں ہے، اسی بنا پر قابل عمل نہیں ہے۔
کچھ اور اقوام نے یہ دیکھا کہ ان کے ہاں دیوتاؤں کے پرانے قصے مشہور ہیں کہ فلاں دیوتا سے یا فلاں دیوی سے یا فلاں بت سے وابستہ یہ واقعہ ہے ، وہ قصہ ہے۔ یہ قصے فرضی تھے یا حقیقی، انہوں نے ان کی یاد منانی چاہی اور انہوں نے ان کے نام پر تہوار مقرر کرلیے۔ اکثروبیشتر دیوتاؤں کے تہوار مشرکانہ ہیں ۔ مشرکانہ یادوں، مشرکانہ اعمال اور مشرکانہ عقائد کی بنیاد پر یہ تہوار مقر ر کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر اولمپک گیمز کیا ہیں؟ میں کوئی فتویٰ نہیں دے رہا۔ فتویٰ کوئی عالم دے گا۔ لیکن یونانیوں میں اولمپک ایک دیوتا تھا جو کھیلوں کا دیوتا کہلاتا ہے، اس کے نام پر یہ اولمپک گیمز ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے مختلف دیوتاؤں کے ناموں پر تہوار ہوا کرتے تھے۔ یہ اکثر یونانیوں کے یا رومیوں کے تہوار ہیں۔ ان کے ساتھ ان کی دیویاں وابستہ ہیں، ان کی یادیں وابستہ ہیں، ان کے ناموں سے یہ تہوار منائے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں ہندوستان میں برصغیر میں رام کی لیلا ایک تہوار ہوا کرتا تھا۔ میرا بچپن ہندوستان میں گزرا، اس لیے مجھے کچھ چیزیں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ غالباً ۱۹۵۶ء کی بات ہے، میں اپنے اعزہ کے ہاں انڈیا گیا ہوا تھا۔ ہماری والدہ کی نانی محترمہ تھیں، اللہ انہیں غریق رحمت کرے، اللہ کی ولیہ خاتون تھیں۔ کسی ولی خاتون کا تصور جب میرے ذہن میں آتا ہے تو ان کا آتا ہے۔ جب رام کی لیلا نکلنے والی تھی تو انہوں نے سختی سے منع کیا کہ کوئی بچہ باہر نہ نکلے۔ بچوں کو جس چیز سے منع کریں، اسی کا اشتیاق ہوتا ہے کہ کیا ہے۔ اور تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا، ایک کمرہ تھا جو اسٹور کے طور پرگندم وغیرہ رکھنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس میں ایک کھڑکی تھی، ہم کئی بچوں نے چارپائیاں اورسیڑھیاں کھڑی کر کے یہ فیصلہ کیا کہ اماں سے نظر بچا کر اس کھڑکی سے چڑھ کر دیکھیں گے کہ رام کی لیلا کیا ہوتی ہے؟ یوں ہم نے رام لیلا کا جلوس دیکھا۔ اس میں کئی چیزیں دلچسپی کی تھیں جو کسی بھی بچے کی دلچسپی کی ہو سکتی ہیں۔ ایک شخص جس نے ایک خاص طرح کے سوانگ بھرا ہوا تھا، وہ ہاتھی کے اوپر سوار تھا اور لوگ اس کے پاؤں چوم رہے تھے۔ اس کے پیچھے پیچھے دو تین خواتین جنہوں نے بے تحاشا کا میک اپ کیا ہوا تھا، لباس بھی بے ہودہ سا تھا، وہ اونٹوں، ہاتھیوں اور گھوڑوں پر سوار چلی آرہی تھیں۔ یہ ایک بہت بڑا جلوس تھا جس میں طرح طرح کی خرافات تھیں۔ اس وقت اس سے زیادہ کچھ معلوم نہیں تھا۔ بہت عرصے بعد یہ پتہ چلا کہ رام لیلا کیاہوتی ہے؟ قرآن پاک میں ایک جگہ آیا ہے: وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاء وَالْأَرْضَ وَمَا بَیْْنَہُمَا لٰعِبِیْنَ (الانبیاء :۱۶) ہم نے آسمان اور زمین کو کسی کھیل میں پیدا نہیں کیا۔
ممکن ہے یہ سوال آپ کے دل میں بھی آیا ہو کہ کون کہتا ہے کہ اللہ نے یہ سب کچھ کھیل میں پیدا کیا ہے؟ جب میں نے اس آیت کا ترجمہ پہلی بار پڑھا تو مجھے خیال ہوا کہ یہ کون سمجھتا ہے؟ ہم نے تو کبھی نہیں سوچا کہ آپ نے یہ سب نعوذ باللہ کھیل میں پیدا کیاہے ۔پھر جب کچھ عرصے بعد ہندو مذہب پر کتابیں پڑھیں تو معلوم ہوا کہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ رام پوری کائنات کا خالق اکبر ہے، جس کی یادگار کے طور پر وہ ایودھیا میں مندر بنانا چاہتے ہیں جو اس کی جنم بھومی ہے۔ خدا ان کے ہاں پیدا ہوتا ہے۔ جب وہ پیدا ہوا تو وہ تنہا تھا۔ وہ اکیلے بیٹھے بیٹھے بور ہوتا تھا، اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ کیا کرے؟ اس کی تفصیل بیان نہیں کی جاسکتی، کیوں کہ نہایت فحش خرافات اور بے ہودہ چیزیں وہ بیان کرتے ہیں کہ ر ام نے اپنی تنہائی کو دور کرنے کے لیے کیا کیا؟ خلاصہ یہ ہے کہ اس نے اپنے میل سے ایک لڑکی پیدا کی، دل بہلانے کے لیے اسے اپنے ساتھ رکھا۔ کچھ دن تو دونوں کا دل بہلارہا، پھر یہ بور ہونے لگے تو سوچا کہ کیا کریں؟ پھر انہوں نے کچھ کرنے کے لیے کائنات بنائی۔ تو یہ ساری کائنات انہوں نے دل بہلانے کے لیے بنائی ہے۔ لیلا کائنات کو کہتے ہیں، رام کی لیلا یعنی یہ پوری کائنات رام کی لیلا ہے۔ رام نے اپنے کھیل کود کے لیے، اپنی تفریح کے لیے یہ پوری کائنات یہ سارا سنسار سجایا ہے۔ جب اس کا دل بھرجائے گا تو وہ اسے توڑ دے گا۔ پھر کچھ اور شروع کردے گا، یہ ہے رام لیلا اور قرآن پاک میں اس کی تردید ہے کہ ہم نے کائنات کو کھیل کود کے لیے پیدا نہیں کیا۔
آپ دیکھیں کہ عرب میں کسی کے حاشیۂ خیال میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ اسلام ہندوستان میں جائے گا، وہاں ایک ایسی فضول قوم ہوگی جو اس طرح کے عقائد رکھتی ہوگی جس کی تردید قرآن پاک میں پہلے دن سے موجود ہے۔ لیکن اس کے بعد ہندوستان جانے کا اتفاق ہوا تو کئی لوگوں سے سنا کہ یہ ایک تہوار ہے، ہندوؤں کی کلچرل چیز ہے۔ آخر مسلمان بھی یہاں رہتے ہیں، انہیں ہندوؤں کے کلچر میں شریک ہونا چاہیے، لیکن اگریہ معلوم ہو کہ یہ ایک خالص بے ہودہ، مشرکانہ اور کافرانہ عقیدہ ہے تو وہ کبھی ایسا خیال تصور میں بھی نہ لائے۔ اب ایک موحد انسان جو خالق کائنات پر ایمان رکھتا ہو اور قرآن پاک کے نظریہ توحید کو مانتا ہو، ایک لمحے کے لیے بھی مسلمان کا مزاج اور اس کی طبع سلیم برداشت نہیں کرسکتی کہ کسی بھی کلچر کے، کسی ثقافت کے نام سے وہ رام کی لیلا میں شرکت کرے۔ ہندو کرتے رہیں، ٹھیک ہے۔ مسلمان نہ اس میں شرکت کرے نہ اس پر اعتراض کرے۔ اگر اعتراض نہیں کرسکتے تو کم از کم گھر میں بیٹھیں۔ اکثر وبیشتر تہواروں کایہی حال ہے کہ وہ مختلف اقوام کے، بت پرستوں کے تہوار ہیں یا خاص واقعات جو قوموں کی تاریخ میں ہوئے ہیں، جن میں سے بیشتر واقعات کا تعلق ان کے کافرانہ عقائد اور بت پرستانہ تصورات سے ہے، ان کی یاد میں یہ تہوار منائے جاتے ہیں۔
یہ بات کہ ہندوؤں میں مختلف چیزوں کے دیوتا ہیں، ہر شخص جانتا ہے۔ ہندو ہر اس چیز کو جو کسی طرح کا نفع یا ضرر رکھتی ہو، دیوتا مانتے ہیں۔ ان کے دیوتاؤں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہر فطری مظہر کا بھی ایک دیوتا قرار دیاہے۔ ایک دولت کا دیوتا ہے، ایک غریبی کا دیوتا ہے، ایک بیماری کا دیوتا ہے۔ اگنی دیوی کا نام آپ نے سنا ہوگا جو دولت کی دیوی ہے۔ جب کہیں اترتی ہے تو وہ اندھی ہے، اس کی نگاہ کمزور ہے، اسے نظرنہیں آتا۔ جہاں زیادہ روشنی ہو، وہاں اتر جاتی ہے۔ جب اترنے کا وقت ہوتا ہے تو گھروں میں چراغاں کیا جاتا ہے۔ شب برات کے چراغاں کایہ پس منظر ہے۔ جب وہ اترتی ہے تو زیادہ چراغاں ہوتاہے تاکہ جہاں زیادہ روشنی ہوگی، وہ وہاں اترجائے گی، کیونکہ وہ ندھی ہے، اسے نظر نہیں آتا۔ جب وہ اترے گی تو دولت آجائے گی۔ اب غور کرلیجیے کہ یہ عقیدہ معلوم ہو تو شب برأت کے پٹاخوں کی خرافات میں کون مسلمان شرکت کر سکتا ہے؟ شب برات میں چراغاں کرنے والوں کو دیکھتا ہوں تو ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔
اسی طرح ان کے ہاں موسم بہار کی بھی ایک دیوی ہے۔ یہ دیوی زرد کپڑے پہن کر اترتی ہے اور ایسی جگہ اترتی ہے جہاں زیادہ زردی ہو۔ اس گھر میں زیادہ بہار آجاتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہندوؤں میں اور ہندو زدہ ہمارے بھائیوں اور بہنوں میں ایک خاص دن ہی زردکپڑے پہننے کا بڑا رواج ہے۔ گیندے کے زرد پھول، زرد کپڑے، زعفران میں رنگے ہوئے کپڑے۔ لوگ بڑی سادگی سے پوچھتے ہیں کہ آپ کو ہر چیز پراعتراض ہے، زعفران پر کیا اعتراض ہے؟ مجھے زعفران پر کوئی اعتراض نہیں۔ آپ زعفران ضرور کھائیں، استعمال کریں۔ جو مرضی کریں، لیکن اگر ایک خاص دن میں آپ زعفران اس لیے استعمال کریں کہ اس کا رنگ پیلا ہے اور پیلے رنگ میں حکمت یہ بتائی جاتی ہے کہ اس موسم بہار کی دیوی کو پیلا رنگ پسند ہے اور وہ اس روز اترتی ہے اور پیلا رنگ جہاں ہوتا ہے، وہاں وہ زیادہ اترتی ہے تو پھر مجھے تامل ہوتا ہے کہ یہ چیز میرے عقیدے کے خلاف ہے، اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
جو مسلمان خداے و احد کو مانتا ہو اور ہر چیز اللہ کے حکم سے مانتا ہو، وہ کسی دیوی کے چڑھنے اترنے کا ایک لمحے کے لیے بھی تصور نہیں کر سکتا۔ بظاہر چیزیں ثقافتی اور کلچرل معلوم ہوتی ہیں اور کچھ لوگ سادہ لوحی میں یا زبردستی، دھونس اور دھاندلی میں اس کا کلچرل، ثقافتی یا معاشرتی پہلو سامنے رکھتے ہیں کہ موسم بہار کی آمد پر لوگ خوشی منالیں اور پتنگ اڑالیں تو آ پ کاکیا نقصان ہے؟ پتنگ اڑانے میں کوئی نقصان نہیں ہے، کوئی اڑانا چاہتا ہے تو اڑائے، لیکن پوری قوم کوپتنگ بازی پر لگا دیں اور پوری قوم کی ساری توجہ اس جانب لگ جائے، درجنوں آدمی اس روز مارے جائیں۔ ایک طرف انسانی جان کی قدر وقیمت کے نعرے لگائے جاتے ہیں، ایک جانب ڈگنٹی آف مین (Dignity of man) کی بات کی جاتی ہے۔ اگر کہیں اسلام کے حوالے سے کہا جائے کہ فلاں آدمی نے میری انگلی کاٹ دی، لہٰذا قصاص میں اس کی انگلی کاٹ دی جائے تو وہاں تو ڈگنٹی آف مین (Dignity of man) یادآجاتی ہے کہ اس قاتل، ڈاکویا چور کی، جس نے حملہ کر کے میری انگلی توڑ دی تھی، اس کی انگلی سلامت رہے، میری انگلی کی خیرہے، لیکن جہاں درجنوں آدمی روزانہ موت کے گھاٹ اترتے ہوں، اس کا کسی کو احساس نہ ہو، یہ افسوس اور دکھ کی بات ہے۔
تو یہ تہوار کی ایک دوسری قسم ہے۔
تہوار کی ایک تیسری قسم وہ ہوتی ہے اور مختلف اقوام میں یہ قسم بھی پائی جاتی ہے کہ کسی خاص حکمراں کو اس دن حکومت قائم کرنے کا موقع ملا، کسی خاص خاندان کو تخت نشین ہونے کا موقع ملا، کوئی خاص بادشاہ مرگیا، کوئی دوسرا بادشاہ تخت پربیٹھ گیا تو اس دن سے تہوار شروع ہو گیا، اس روز کو یادگار کے طور پر منایاجانے لگا۔ یہ دنیا کی ہر قوم میں ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس طرح کے تہوار بدلتے بھی رہتے ہیں۔ جس بادشاہ کا عروج ہوتاہے، اس کی تخت نشینی تہوار بن جاتی ہے۔ جب اس کا زوال شروع ہوجاتا ہے تو اس کے تہوار کو بھی لوگ بھول جاتے ہیں۔ اس طرح کے تہوار ماضی میں ہزاروں آئے اور ہزاروں ختم ہوگئے جن کے بارے میں آج کسی کو معلوم نہیں۔ کچھ بادشاہ ایسے ہوتے ہیں جن کا تہوار کافی دن چلتا ہے۔ ایک زمانے میں ہمارے برادر ملک مصر میں فرعون کا بڑا رواج تھا۔ وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ فرعون ان کی تاریخ کابڑا فرماں روا گزراہے، لہٰذا وہ ان کے لیے ایک ہیرو اور رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہاں یہ بحث چلی، باقاعدہ تحقیقیں ہوئیں، جامعات میں مقالے لکھے گئے کہ ان میں سے سب سے بڑا فرعون کون تھا جس کی یاد منائی جائے؟ فرعون تو لقب تھا، ہر بادشاہ کو فرعون کہتے تھے، لیکن ان میں سے متعین فرعون جو ان میں سب سے بڑا ہوا، اس کی نشان دہی کی جائے۔ پتہ چلا کہ وہ وہی تھا جس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ ہوا تھا،چنانچہ اس کو ہیرو بنانے کی کوشش شروع ہوئی۔ اب ہیرو تو بنالیا، اس کے نام کے بت بھی بنائے گئے، ہوٹل بنائے گئے، لیکن اس میں بڑی تحقیق کرنی پڑی کہ وہ پیدا کس تاریخ کو ہوا اور مرا کس تاریخ کو تھا، تاکہ اس تاریخ کو جشن منایا جائے، لیکن نہ اس کی پیدائش کی تاریخ کا پتہ چلا نہ مرنے کا، اس لیے جشن والی بات تو ختم ہوگئی۔
یہ بھی ایک انتہا ہے۔ جب کسی فرد کو رول ماڈل بنایاجائے اور اس کی ذات کو مرکز بنایاجائے تو یہ نتائج نکلتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں آپ دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات گرامی کو کسی تہوار کا موضوع قرار نہیں دیا۔ نہ آپ کے یوم پیدائش کوصحابہ نے تہوار بنایا، نہ اسے ہجری کیلنڈر کاآغاز قرار دیا، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے کیلنڈر شروع ہوا، نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ذاتی فعل وعمل سے ہوا۔ آپ کی شادی بھی ہوئی، آپ کی اولاد بھی ہوئی، بہت سے واقعات ہوئے، لیکن صحابہ کرام نے بالاتفاق ان میں سے کسی واقعے کو اسلامی کیلنڈر کا آغاز قرار نہیں دیا۔ خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان میں سے کسی واقعے کو تہوار قرار نہیں دیا۔
کچھ اور اقوام میں تہواروں کا ایک اور سبب پایاجاتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ کسی خاص جنگ میں کسی کو کامیابی ہوئی تو اس کی یاد میں تہوار منایاجانے لگا۔ مسلمانوں کو اللہ نے بڑی کامیابیاں دیں۔ غزوۂ بدر میں بڑی کامیابی ہوئی جسے قرآن نے یوم الفرقان قرار دیاہے۔ صلح حدیبیہ کو فتح مبین قرار دیاہے، فتح مکہ جیسی کامیابی ہوئی،لیکن ان میں سے کسی بھی جنگ میں کامیابی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کاتہوار یا یادگار قرار نہیں دیا۔ صحابہ کرامؓ نے ان میں سے کسی کی یاد نہیں منائی۔ آپ نے سیرت، تاریخ یا صحابہ کرام کی سوانح عمری میں کہیں نہیں پڑھا ہوگا کہ انہوں نے یوم بدر منایا ہو، انہوں نے فتح مکہ کا دن منایا ہو، انہوں نے صلح حدیبیہ کی کامیابی کا جشن منایا ہو۔ اس بات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اسلام کا مزاج تفریح اور تہوار کے بارے میں کیا ہے؟
اسلام کا تصور تفریح
اسی طرح سے آپ غور کریں کہ جتنے تہوار ہیں جن مواقع پر انسان تفریح مناتے ہیں، ان میں سے کسی موقع کو اللہ تعالیٰ نے تفریح کے لیے یا تہوار کے طور پراختیار نہیں کیا۔ اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے: لکل قوم عید وھذا عیدنا۔ ہرقوم کی ایک عید ہوتی ہے اور ہماری عیدیں یہ دو ہیں یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحی۔ آپ دیکھیں کہ نہ کسی بادشاہ کی تخت نشینی سے ان کا تعلق ہے، نہ کسی جنگ میں کامیابی سے تعلق ہے، نہ کسی ریاست وسلطنت کے قیام سے تعلق ہے، نہ کسی خاندان کی حکمرانی سے تعلق ہے کہ فلاں خانوادۂ شاہی کا عہدشروع ہوگیا، نہ کسی بڑے آدمی کی پیدائش ووفات سے تعلق ہے۔ ان دونوں عیدوں کا تعلق دو خالص اصولوں سے ہے، دو ایسے اصول جو انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کا ہمیشہ ممتاز ترین وصف رہے ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی الٰہی کانزول، قرآن مجید کی عطا جس کے شکر میں عید الفطر منائی جاتی ہے اور دوسرے اللہ کے حضور اتنی بڑی قربانی کہ اس سے بڑی قربانی کسی انسان نے کبھی نہیں دی، اس کی یاد میں عید الاضحی منائی جاتی ہے۔ ایک کاز کے لیے، اللہ کے حکم کے لییاپنی عزیز ترین چیز کی قربانی دینے کی جو مثال قائم ہوئی، عید الاضحی اس کی یادگار ہے۔ گویا تفریح کا تعلق بھی اور تہوار کا تعلق بھی نظریے ا ور اصول کے ساتھ ہے۔
نظریہ، اصول اور تفریح، یہ آپس میں اس طرح سے باہم مربوط ہیں کہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ بظاہر اس میں آپ کو کوئی خاص معنویت معلوم نہیں ہوگی۔ آدمی سوچ سکتا ہے چلیے مسلمان بڑے مذہبی قسم کے لوگ تھے، انہوں نے کسی حکومت کے قیام پر نہیں، قرآن کے نزول پرجشن منایا، اس میں کون سی خاص بات ہے؟ لیکن درحقیقت اس میں بڑی خاص بات پوشیدہ ہے۔ تفریح کرنے کے مواقع ہم نے دیکھ لیے کہ کیا کیا ہوتے ہیں۔ یہ تو قومی مواقع ہوئے۔ اس کے بعد انفرادی مواقع ہوتے ہیں کہ فرد کو خوشی ہوتی ہے۔ کسی کی شادی ہے، اس کو خوشی ہوئی۔ کسی کو اللہ نے بیٹا دیا، خوشی ہوئی۔ کسی کو کامیابی ہوئی، اچھی ملازمت مل گئی، کاروبار میں ترقی ہوگئی، اس طرح کے ذاتی مواقع بہت آتے رہتے ہیں اور ہر ذاتی موقع پر انسان خوشی کا اظہار کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اس کی تلقین فرمائی بلکہ خود بھی اس پر عمل کرکے دکھایا۔ گویا مواقع دو طرح کے ہوئے: قومی، ملی اور اجتماعی مواقع جو شریعت نے دو رکھے ہیں، یعنی عید الفطر اور عیدالاضحی جن کا تعلق دو بڑے اصولوں سے ہے۔ اس کے بعد انفرادی مواقع جو ہر فرد کی زندگی میں پیش آتے ہیں اور مشہورہیں۔ شادی بیاہ ہے، پیدائش ہے، ملازمت ہے، کاروبار ہے، مکان نیا بنایا ہے، اس طرح کے اور کئی معاملات ہوسکتے ہیں۔ کچھ اور مواقع بھی ہوسکتے ہیں جو ان دونوں کے درمیان میں ہیں۔ مسلمانوں کے ایک بہت بڑے گروہ کو کسی بات پر خوشی ہوئی، مثلاً قیام پاکستان ہے، یہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے خوشی کا موقع ہے۔ مصر کے مسلمان ہیں، انہیں ۱۹۷۳ء میں اللہ تعالیٰ نے اسرائیل پر فتح دی۔ ۶؍ اکتوبر کو وہ جشن مناتے ہیں۔ ایک بڑے دشمن پر اللہ نے انہیں کامیابی دی، اس پر وہ خوشی کااظہار کرتے ہیں۔ یہ عارضی یاعلاقائی قسم کے مواقع ہوسکتے ہیں، شریعت ان سے نہیں روکتی۔
اسلام نے تفریح کے جو مواقع بتائے ہیں، ان میں ذاتی مواقع، ملی اور قومی سطح کے مواقع اور علاقائی سطح پر ہرخوشی اور جائز کامیابی کے مواقع شامل ہیں جو شریعت کی حدود کے اندر ہوں۔ ان کی خوشی منانے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرنے کا اہتمام نہ صرف جائز ہے، بلکہ قرآن مجید کے بالواسطہ اشارے کے مطابق مسنون اور بہترہے: قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذَلِکَ فَلْیَفْرَحُوا (یونس: ۵۸) اللہ کے فضل کو یاد کرکے خوشی کا اظہارکرو، فرحت کا اظہار کرو۔ یہی تفریح ہے۔ وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضحیٰ: ۱۱) اللہ تعالیٰ جو نعمت عطا کرے، اسے بیان کرو۔ کیونکہ جب نعمت کو بیان کروگے تو نعمت کی قدر ہوگی، ورنہ بھول جاؤ گے کہ اللہ نے یہ نعمت تمہیں عطا کی ہے۔ اگر اللہ کی نعمت کااظہار دوسروں کے سامنے نہیں کرو گے تو یاد نہیں رہے گا کہ اللہ نے بڑی نعمت دی تھی۔
تفریح اور تہوار جیسا کہ میں نے عرض کیا، ایک فطری ضرورت ہے اور ہر انسان کسی خاص موقع پر خوشی منانا چاہتا ہے، لیکن اگر خوشی اور تفریح حدود سے نکل جائے گی تو اس سے اخلاقی، معاشی، معاشرتی بہت سی قباحتیں پیدا ہوں گی۔ ایک قباحت کا ابھی ذکر ہوا۔ لاہور میں بسنت کے موقع پر چند سال پہلے۲۲ افراد ہلاک ہوئے اور چالیس پچاس کروڑ روپے ضائع ہوئے۔ اس طرح کا کوئی تہوار اسلام نے نہیں رکھا۔ اسلام نے تہوار اور تفریح کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے۔ ایک تہوار تو وہ ہے جو ایک متعین دن منایاجائے اور ساری امت اور ساری قوم مل کر اس میں شریک ہو اور اپنی خوشی ومسرت کااظہار کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکل قوم عید وھذا عیدنا (صحیح بخاری) ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے، ہماری عید یہ ہے جو ہم منا رہے ہیں۔
تفریح کی حدود
لیکن ان دو تہواروں کے علاوہ ویسے بھی انسان کا کبھی کبھی یہ جی چاہتا ہے کہ اپنے عام معمولات اور ماحول سے نکل کر کسی نئے ماحول میں جائے، کسی نئی کیفیت کو محسوس کرے اور چوں کہ جدت کے احساس میں لذت ہے، اس لذت سے اپنی قوتوں،حوصلوں، اپنے مزاج کو تازہ کرے، دماغ کو تازہ ہوا دے، یہ ہر انسان چاہتا ہے۔ یہ بات اگر حدود کے اندر نہ ہو تو عملاً ممکن نہیں ہے۔ انسانوں کی ہرسرگرمی کے لیے حدود درکار ہیں۔ یہ ایسی واضح اور بدیہی بات ہے جس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ ہر مسلم، غیر مسلم اس کو تسلیم کرے گا کہ ہر انسان کی خواہش کی تکمیل کو حدود کا پابند ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ حدود کی پابندی ضروری نہیں ہے تو وہ غلط کہتا ہے۔ ہر خواہش کی تکمیل حدود کا تقاضا کرتی ہے۔ میری خواہش ہے کہ مجھے مزیدار سے مزیدار کھانے ملیں، لیکن اس کی حدود ہونی چاہییں۔ اگر اس کی حدود نہ ہوں تو میں آپ کے گھر میں گھس جایا کروں اور جو اچھا کھانا ملا کرے، کھاجایا کروں۔ ظاہر ہے کہ اس کو کوئی بھی پسند نہیں کرے گا۔ ہرشخص چاہتا ہے کہ اس کے پاس بڑی اچھی گاڑی ہو۔ اگر کوئی حدود کا پابند نہ ہو تو ہم میں سے ہر شخص باہرنکلے اور جو اچھی گاڑی نظر آئے، اسے ڈرائیو کرکے چلتا بنے۔ ظاہر ہے اس کو کوئی پسند نہیں کرے گا۔ اس لیے حدود ہونی چاہئیں، اخلاقی حدود ہونی چاہئیں۔ ہرنوجوان شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی ازدواجی زندگی اچھی گزرے، اچھی خاتون کے ساتھ گزرے۔ اس خواہش کو حدود کا پابند نہ بنایا جائے تو معاشرہ جنگل بن جائے گا۔ ہرنوجوان خاتون کی خواہش ہے کہ اس کے گھر کا اچھا ماحول ہو، اس کااپنا گھر ہو، اس کا شوہر ہو، اس کے بچے ہوں، لیکن اگر اس کو اخلاقی حدود کا پابند نہیں بنایا گیا تو معاشرہ بداخلاقی کے سیلاب میں بہہ جائے گا۔ اس لیے یہ بات کہ انسان کی خواہشات بلکہ جائز خواہشات کو بھی حدود کا پابند ہوناچاہیے، یہ دنیا کا ہر سلیم الطبع انسان تسلیم کرے گا۔ کوئی سلیم الطبع انسان اس سے اختلاف نہیں کرسکتا۔ اگر وہ اختلاف کرتا ہے تو وہ سلیم الطبع انسان نہیں ہے۔ اس سے بات کرنا بے کار ہے۔
جب یہ بات مان لی گئی کہ ہر انسان اپنی خواہشات کو حدود میں رہ کر ہی پورا کرنے کا پابند اور مکلف ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ حدود کیا ہیں اور ان حدود کو کون مقرر کرے گا؟ میں مقرر کروں گا یا آپ؟ اگر میں آپ کے لیے مقرر کروں تو میں کون ہوتا ہوں آپ کے لیے یہ حدود مقرر کرنے والا؟ مجھے آپ پر کیا فضیلت حاصل ہے کہ میں آپ کے لیے اس قسم کی حدود مقرر کروں؟ اور اگر آپ مقررکریں تو یہی سوال میں کر سکتا ہوں کہ آپ کویہ حدود مقرر کرنے کاکیا اختیار حاصل ہے؟ آپ کو کیا برتری حاصل ہے اور میں آپ کی مقرر کردہ حدود کا پابند کیوں ہوں؟ یا کوئی اور ہمارے لیے کرے تو کیوں کرے؟ اس لیے کہ جو شخص بھی یہ حدود مقرر کرے گا، اس کے اپنے خیالات ہوں گے، وہ اپنی تحدیدات سے محدود ہوگا، اس کا تجربہ محدود ہوگا، اس کا اپنا مخصوص پس منظر ہوگا، وہ کوئی بسنت کا رسیا ہوا تو بسنت کے بڑے احکام وضع کردے گا اور کوئی رام لیلا کا رسیا ہوا تو اس کو منانے کی گنجائش پیدا کرے گا اور بہت خشک آدمی ہوا تو جائز تفریح کے راستے بھی بند کردے گا، اس لیے کسی انسان کو یہ حدود مقرر کرنے کا فریضہ سونپنا بڑا خطرناک ہے۔ اگر وہ اچھی حدود بھی مقرر کردے تو وہ حدود چند مہینے، چند سال، چندعشرے چلیں گی، اس کے بعد وہ از خود حالات سے غیر متعلق ہوجائیں گی، بے کار ہوجائیں گی۔ جب وہ حالات بدل جائیں گے، زمانہ تبدیل ہوا تو وہ حدود بھی بدلنی پڑیں گی۔ پھر کیاہوگا؟ اس لیے بہتر ہے بلکہ ضروری ہے کہ یہ حدود کوئی ایسی قوت مقرر کرے جو موجودہ تحدیدات سے محدود نہ ہو، جو موجودہ قیود سے مقید نہ ہو، جو زمان ومکان سے ماورا ہو، جو کسی کے مفاد سے متاثر نہ ہو، جس کے پیش نظر کسی خاص گروہ یا فرد کی مصلحت نہ ہو، جو سب کو یکساں نظر سے دیکھتی ہو، جس کی نظر میں کالا اور گوراسب برابر ہوں، جس کی نظر میں غریب اور امیر میں کوئی فرق نہ ہو۔ وہ صرف خالق کائنات ہی ہو سکتا ہے، اس لیے اس طرح کی حدود جو سارے انسانوں کے لیے ہوں اور سارے انسان اس پر یکساں طور پرعمل کرسکتے ہوں، وہ حدود خالق کائنات ہی مقرر کر سکتا ہے۔
وحئ حق بنندہ سود ہمہ
در نگاہش سو دوبہبود ہمہ
صرف وحی حق ہے جو ہر شخص کے مفاد کودیکھتی ہے۔ اس کی نگاہ میں ہر انسان کا فائدہ، کامیابی اور فلاح ہے۔ وہ ذات متعین کرے گی کہ کیا حدود ہیں! وحی حق نے کیا حدود مقرر کی ہیں؟ ان میں سے کوئی بھی حد ایسی نہیں ہے جس سے کوئی سلیم الطبع انسان بھی اختلاف کرسکے۔ کوئی انسان جس میں اخلاق کی رمق ہو، جس میں فطرت سلیمہ ہو، وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، مشرقی ہو یا جنوبی، عالم ہو یاجاہل، اسلام کا حوالہ دیے بغیر اس سے پوچھیں تو وہ اس کو تسلیم کرے گا۔
سب سے پہلی حد جو کسی تفریح کو منانے کے لیے درکار ہے، جس کی حدسے آگے نہیں جانا چاہیے، وہ ہے حیا۔ انسان کو حیا کا پابند ہونا چاہیے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ میں دریا کی سیر کو جاؤں۔ اچھی بات ہے، جانا چاہیے۔ وہاں خواتین بھی موجود ہوتی ہیں۔ اگر کوئی انسان کپڑے اتار کر دریا میں دوڑ لگانا شروع کر دے تو اسے کوئی پسند کرے گا؟ مشرق ومغرب کا کوئی سلیم الطبع انسان اس کو پسند نہیں کرے گا۔ دس مردوں کا کہیں اجتماع ہو، چار خواتین جا کر تیراکی کا لباس پہن کر وہاں تیرنا شروع کر دیں تویہ اسلام کے تصور حیا کے خلاف ہے۔ حیا اور اخلاق بنیادی حد ہے جو شریعت نے مقرر کی ہے اور حیا کے آداب کی پاس داری کسی نہ کسی حد تک ہر انسان کرتا ہے۔ یہ توہوسکتا ہے کہ میں حیا کی حد کچھ اور مقرر کروں، دوسرا حد اور مقرر کرے۔ اس پر تو بات ہوسکتی ہے کہ حیا کی حد کہاں مقرر کی جائے، لیکن حیا کی حد مقرر کرنے پر ہرانسان کا اتفاق ہے۔
کافی عرصہ پہلے مجھے کسی مغربی ملک میں جانے کا اتفاق ہوا، پچیس تیس سال پہلے کی بات ہے۔ اس وقت پہلی مرتبہ مجھے یہ پتہ چلا اور مجھے کئی رات تک نیند نہیں آئی، عجیب ذہنی کیفیت رہی۔ مجھے پتہ یہ چلا کہ مغربی ممالک میں برہنہ لوگوں کے کلب ہوتے ہیں۔ وہاں جو جاتا ہے، وہ مادر زاد برہنہ رہتا ہے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے۔ اس کے قواعدوضوابط ہیں۔ ایک رسالہ تھا، اس میں کسی کلب کے متعلق قواعد وضوابط لکھے ہوئے تھے۔ ان قواعد وضوابط کی مثال میرے ذہن میں اس لیے آئی کہ ان بے حیا اور بداخلاق لوگوں میں بھی حیا کا تھوڑا سا تصور موجود تھا۔ اس میں یہ لکھا تھا کہ جو ہمارے کلب کا ممبر بنے گا، وہ کلب کی چار دیواری سے باہر برہنہ حالت میں نہیں جائے گا۔ میں بات یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بداخلاق سے بداخلاق اور بے حیا سے بے حیا انسان میں بھی حیا واخلاق کی کوئی نہ کوئی رمق موجود ہوتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فطری چیز ہے۔ اگر شریعت نے حیا کی شرط رکھی ہے تو وہ انسانی فطرت کے مطابق رکھی ہے۔ کوئی چیز خلاف فطرت یا انسانی مزاج وطبیعت کے خلاف نہیں ہے۔ یہ ایک بنیادی حد ہے۔
دوسری بنیادی حد یہ ہے کہ تفریح یا خوشی منانے میں اسراف اور تبذیر سے کام نہیں لینا چاہیے۔ خوشی منائیں، اللہ نے اچھے کپڑے دیے ہیں، آپ پہنیں۔ اچھا کھانے کو دیا ہے، اچھا کھانا بھی کھائیں۔ دوستوں، رشتے داروں، عزیزوں کو، اپنے پسندیدہ لوگوں کو بلا کر گھر میں تقاریب بھی منعقد کریں۔ اللہ تعالیٰ کی شریعت نے ان چیزوں سے بالکل نہیں روکا، لیکن اسراف وتبذیر سے کام نہ لیں۔ اسراف وتبذیر قرآنی اصطلاحات ہیں۔ اسراف سے مراد کسی جائز کام میں ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا ہے اور تبذیر سے مراد ناجائز کام میں خرچ کرنا ہے، خواہ وہ ایک پیسہ ہی کیوں نہ ہو۔ ناجائز کام میں ایک پیسہ بھی خرچ کرناتبذیر ہے اور جائز کام میں اگر ایک لاکھ کی ضرورت ہے تو ایک لاکھ خرچ کرنا بھی اسراف نہیں ہے، لیکن اس صورت میں ایک لاکھ ایک روپیہ خرچ کرنا اسراف ہوگا۔ اگر ایک لاکھ میں کام ہوتا ہے تو ایک لاکھ خرچ کریں، شریعت اس سے نہیں روکتی، لیکن اس سے اوپر اگر دس روپے بھی ہوں گے تو وہ اسراف ہوجائے گا اور اس کا ہر شخص اپنے طور پر فیصلہ کرے گا۔ اس میں کوئی شخص باہر سے آپ کو نہیں بتاسکتاکہ آپ کے لیے اسراف کیاہے۔ تبذیرکی نشان دہی ہوسکتی ہے۔ اگرکام حرام ہے تو اس میں ایک پیسہ خرچ کرنا بھی تبذیر ہے۔ یہ آپ کو شریعت کاعالم بتا سکتا ہے کہ یہ تبذیر ہے یانہیں۔ اسراف کیا ہے؟یہ ہر شخص کے حالات پر منحصر ہے۔ میرے لیے اسراف کچھ اور ہوگا اور آپ کے لیے کچھ اور ہوگا،کسی اور کے لیے کچھ اور ہوگا۔ اپنے حالات کے حساب سے اسراف ہوگا۔
ظاہر ہے اس سے بھی کوئی شخص اختلاف نہیں کرے گا کہ اللہ نے جو وسائل دیے ہیں، جو مال ودولت دیا ہے، اس کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ کائنات کی ہر چیز کا مالک ہے۔ وہ ہمارے مال ودولت کا بھی مالک ہے۔ میری جیب میں جو پیسے ہیں اور آپ کی جیب میں جو پیسے ہیں، اس کا بھی مالک ہے۔ آپ اس رقم کے امین ہیں۔ آپ اس رقم کے ٹرسٹی ہیں اور رقم کو استعمال کرنے کی اللہ نے ہمیں اجازت دی ہے۔ میں اس کی مثال بھی دیا کرتا ہوں کہ میں یونیورسٹی میں کام کرتا ہوں۔ یونیورسٹی نے مجھے استعمال کے لیے ایک گاڑی دے رکھی ہے۔ میں بہ طور صدر جامعہ اس گاڑی کو استعمال کرتا ہوں۔ عرف عام میں وہ میری گاڑی کہلاتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ غازی صاحب کی گاڑی آگئی، غازی صاحب کی گاڑی چلی گئی، غازی کی گاڑی کی مرمت ہوئی۔ حالانکہ یہ میری گاڑی نہیں ہے، میں اس کا مالک نہیں ہوں، لیکن عام بول چال میں میری گاڑی سمجھی جاتی ہے۔ مجھے ہی اسے استعمال کرنے کا حق ہے، کسی اور کو استعمال کرنے کا حق نہیں۔ تقریباً یہی کیفیت اس مال ودولت کا ہے جو اللہ نے ہمیں دیا ہے۔ گھر، جائیداد، ہر چیز کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے استعمال کی اسی طرح اجازت دی ہے، جیسے یونیورسٹی نے مجھے گاڑی استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ اگر میں یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط کے مطابق استعمال کروں گا تو وہ جائز ہوگا، قواعد وضوابط سے ہٹ کر استعمال کروں گا تو وہ ناجائز استعمال ہوگا۔ یونیورسٹی نے مجھے اجازت دی ہے کہ میں اس کو ذاتی اور سرکاری دونوں ضروریات کے لیے استعمال کرسکتا ہوں، لیکن اگر میں یہ کروں کہ روزانہ شام کو گھر آکے ایک ڈرائیور کو بلایا کروں کہ میاں اس کو لے جاؤ، کرایے پر چلاؤ اور جو رقم ملا کرے، آدھی تمہاری آدھی میری تو یہ ناجائز اور حرام ہے، اس لیے کہ یونیورسٹی نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جو مال ودولت دیا ہے، وہ جائز استعمال کے لیے دیاہے، ناجائز استعمال کے لیے نہیں دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ اختیار ہے کہ وہ کہے کہ میری دی ہوئی دولت کو کہاں استعمال کرو اور کہاں استعمال نہ کرو۔ یہ حق اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔
لیکن اگر کچھ لوگ شریعت کے اصولوں سے دلچسپی نہ بھی رکھتے ہوں تو بھی وہ یہ بات تو تسلیم کریں گے کہ مال ودولت انسانوں کی دوسری اعلیٰ وبرتر ضروریات کے لیے ہے۔ تفریح کے علاوہ بھی دوسری اہم ضروریات ہیں، مال ودولت کی زیادہ ضرورت ان کے لیے ہے۔ خدا نخواستہ آپ کے گھرمیں کوئی شدید بیمار ہے، پیسے آپ کے پاس تھوڑے ہیں۔ اب آپ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ اس کا علاج کروائیں، اور چھ ہزار کا Life saving انجکشن خریدلیں اور یہ بھی آپ کے اختیار میں ہے کہ چھ ہزار روپے خرچ کر کے آپ چھانگا مانگا چلے جائیں۔ لیکن کوئی معقول آدمی نہیں کہے گاکہ آپ اپنی ضعیف والدہ کا علاج تو چھوڑ دیں اور یہ چھ ہزار روپے جو آپ کے پاس ہیں، ان سے چھانگا مانگا کی تفریح کرنے چلے جائیں۔ ہر شخص یہی کہے گا کہ اس سے علاج کرانا چاہیے۔ کسی کی تعلیم کاخرچہ ہے، وہ پورا کرنا چاہیے۔ مکان کی چھت گرگئی ہے، بارش سے پانی بہہ رہا ہے تو کوئی یہ نہیں کہے گا کہ جی، چھ ہزار روپے سے چھت کی مرمت کی ضرورت نہیں، تفریح کرنے جاتے ہیں۔ ہرمعقول اور سلیم الطبع آدمی یہ کہے گا کہ یہ پیسہ تفریح کے بجائے فلاں بنیادی کام میں خرچ ہونا چاہیے۔ گویا جو بات شریعت نے کہی ہے، وہ ہر سلیم الطبع شخص مانتا ہے کہ تفریح کی ضرورت وہاں ہے جہاں باقی ضروریات آپ کی پوری ہوں، جہاں آپ کی ساری پریشانیاں دور ہوگئی ہوں اور اللہ نے جائز وسائل دیے ہوں جو آپ تفریح میں خرچ کرسکتے ہوں، ورنہ جائز ضروریات کو نظر انداز کر کے، اپنے فوری مسائل کو قربان کرکے تفریح کرنا کوئی معقول انسان پسند نہیں کرتا۔ نامعقولوں کی دنیا میں کمی نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین کی کہ جائز خوشی اور مسرت کے جو بھی جائز مواقع ووسائل موجود ہیں بغیر اسراف کے، بغیر تبذیر کے، بغیر اخلاقی، انسانی اور شرعی حدود کو توڑے جو بھی طریقہ ہو، اس کواختیار کرسکتے ہیں، چنانچہ بتایا گیا کہ بہترین کپڑے جو انسان کے پاس موجود ہوں، ان کوپہنے، تحفے اور ہدیے کا تبادلہ کرے۔ دوست احباب کو گھر بلانا، تحائف کا تبادلہ کرنا خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلقین ہے: تھادوا تحابوا۔ (طبرانی،المعجم الاوسط، بیروت، دارلکتب العلمیہ ۱۹۹۹ء، ج ۵، ص ۲۵۴، رقم الحدیث ۷۲۴۰) آپس میں تحفہ دو تو محبت بڑھتی ہے۔ ایک دوسرے کو گھروں میں بلاؤ، ایک دوسرے کی خدمت میں ہدیہ پیش کرو، چاہے کوئی معمولی چیز ہو۔ ضروری نہیں کہ کوئی قیمتی چیز ہی ہدیہ میں پیش کی جائے تو محبت بڑھتی ہے اور معمولی ہو تو نہیں بڑھتی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: لاتحقرن جارۃ لجارتھا ولو بفرسن شاۃ (صحیح مسلم ،کتاب الزکوٰۃ، باب الحث علی الصدقۃ ولو بالقلیل، رقم ۲۳۷۶)۔ یہاں نون تاکید ثقیلہ ہے جس میں زیادہ تاکید ہے۔ اس کا ترجمہ انگریزی یا اردومیں نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ ایسے الفاظ اردو یا انگریزی میں موجود نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی پڑوسی کسی پڑوسی کے ہدیے کوحقیر نہ جانے۔ اگر ایک بکری کا کھر بھی تحفے میں آئے تو اس کی قدر کرنی چاہیے، اس کو ہدیہ سمجھنا چاہیے، اسے قبول کرنا چاہیے، اس لیے کہ اگر قدر جذبے کی ہے تو جذبے میں قیمت نہیں دیکھی جاتی۔ قیمت اس گلاس کی پچاس روپے ہے یا وہ دوروپے کا مٹی کا پیالہ ہے، اگر کسی نے محبت سے پیاس کی حالت میں ٹھنڈے پانی کا گلاس پیش کیا ہے تو اصل قدر اس محبت اور جذبے کی ہے اور اس احساس کی ہے جو اس کے دل میں پیدا ہوا کہ آپ کو وہ چیز پیش کرے، آپ کے ساتھ شیئر (Share) کرے۔ وہ ایک لاکھ روپے کی ہو، ایک روپے کی ہو، ایک پیسے کی ہو، دو پیسے کی ہو۔ اس لیے انسان کے جو بھی وسائل ہیں، کم ہیں یا زیادہ ہیں، اس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہدیے کا تبادلہ کرنا تفریح کا ایک حصہ ہے اور خوشی ومسرت کے اظہار کا اسلامی اور دینی طریقہ ہے۔
بعض مواقع ایسے آئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ خاندانی میں یہ تفریح کا موقع ہوتا ہے۔ شادی ہوتی ہے تو لوگ خوشی کا اظہار کرتے ہیں، گھر میں جمع ہوتے ہیں، لیکن جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی کے اظہار کی تلقین فرمائی، وہاں اس میں ایک بڑے رجحان کو آپ نے روکا۔ بڑا رجحان ہوتا ہے اور یہ نفس کا ایک دھوکہ ہوتا ہے کہ جی، ایک ہی بیٹا ہے، اس کے ارمان نکالنے ہیں۔ ارمان بھی نکالنے ہیں اور ہر چیز کا جنازہ بھی نکالنا ہے۔ سب اکھڑ جاتا ہے، سب ختم ہو جاتا ہے کہ جی، ایک بچہ ہے، اس کے ارمان نکالنے ہیں۔ خاص طور پر بوڑھے لوگوں کایہ خیال، نانی دادی ہوں کہ جی ہمارا ایک ہی پوتاتو ہے، اس کے بعد کیا ہے۔ اس میں جو بھی راز ہے، سب ظاہر ہو جاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے طرز عمل سے اپنے صحابہ کی تربیت سے ایسی مثال پیش کی کہ آج ہمارے قریب ترین لوگوں میں بھی کوئی کرے تو شاید لوگ ناراض ہو جائیں۔
صحابہ کرامؓ میں سے اول درجہ کس کا ہے؟ عشرہ مبشرہ کا ہے۔ دس وہ صحابہ کرام جن کو اس دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی گئی اور ان صحابہ کا جن کو حضرت عمرفاروقؓ نے اپنی جانشینی کے لیے نامزد کیا کہ یہ چھ آدمی میرے جانشین ہو سکتے ہیں۔ عشرہ مبشرہ میں سے حضرت عبدالرحمن بن عوف وہ صحابی ہیں جو ہجرت حبشہ کے موقع پر چند سرداروں میں سے بنا کربھیجے گئے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ ہجرت کرکے مدینہ آگئے۔ آپ اس زمانے کا تھوڑا تصور ذہن میں لائیں۔ تیرہ سال اپنے گھر میں اپنے وطن میں Persecute ہو رہے ہیں اور پریشان کیا جارہا ہے، کچلا جا رہا ہے۔ پھر خدا خدا کر کے ایک ٹھکانہ مل جاتا ہے، سب گھر بار چھوڑتے ہیں۔ کسی نے کاروبار چھوڑا، کسی نے جائیداد چھوڑی۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ مکہ کے لکھ پتی آدمی تھے، صف اول کے پیسے والوں میں تھے۔ سب کاروبار چھوڑ کر تن تنہا مدینہ چلے آئے۔ وہاں جاکر ایک انصاری کے گھر میں بیٹھ گئے۔ انصاری نے کہا کہ میری زمین ہے، آدھی لے لو، کچھ یہ کرو، وہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ نہیں، مجھے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ مجھے بازار کا راستہ بتاؤ۔ دو چار دن بازار میں پھرے، کاروبار کیا۔ اللہ نے صلاحیت دی تھی، کاروبار شروع کر دیا۔
عبدالرحمن بن عوفؓ چند دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں آئے۔ ایک دن آئے تو ذرا نئے کپڑے پہنے ہوئے تھے، خوشبو لگی ہوئی تھی اور مہندی کا نشان شاید ہاتھ یا پاؤں میں یا جہاں بھی ہوگا، دکھائی دے رہا تھا۔ اثر صفرۃ (زردی کا نشان) کے الفاظ آئے ہیں۔ آپ نے پوچھا، کیا بات ہے عبدالرحمن؟ انھوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ، میں نے شادی کرلی ہے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف بلایا نہیں بلکہ بتایا بھی نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ نہیں کہ اچھااتنی طوطا چشمی، اتنی بے وفائی کہ یہاں آکر میں نے سارا ٹھکانا دیا، میں لے کر آیا، میں نے لوگوں کے یہاں ٹھہرایا، مواخات کرائی، میرے کہنے پر لوگوں نے کاروبار میں شریک کیا اور ہمیں پوچھا بھی نہیں۔ آج اگر یہ ہو توری ایکشن ہوگا کہ اچھا جی، کاروبار میں اتنے مگن ہوئے کہ ہمیں بھول ہی گئے، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کہا۔ نہ انہوں نے محسوس کیا کہ بلانا ضروری ہے، نہ حضور نے سمجھا۔ آپ نے فرمایا: اولم ولو بشاۃ (ابوداؤدج ۱، ص ۳۲۳، رقم ۲۱۰۹) ولیمہ ضرورکرنا، خواہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔ خوشی کا حکم دیا کہ اس کو Celebrate کرو، خوشی مناؤ، چاہے ایک بکری ذبح کرلو۔
اس واقعے پر جتنا غور کریں، اسلام میں شریعت کی ساری حدود سامنے آتی ہیں۔ اعتدال اور توازن کہ جتنے وسائل ہیں، ان کے اندر رہو، غیر ضروری طور پر اس کو مت پھیلاؤ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بس ایک بکری ذبح کرلو اور اس ایک بکری میں جتنے لوگوں کو شریک کرسکتے ہو، کرو۔ ولیمے کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم حکم دے رہے ہیں کہ دعوت کرو، لوگوں کو بلاؤ۔ اس میں بعض اوقات لوگوں کے وسائل ہوتے ہیں، بعض اوقات نہیں ہوتے۔ اگر اس موقع پرحضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے کہ عبدالرحمن! مجھے بھول گئے، مجھے نہیں بلایا تو یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان نہ ہوتی، اس لیے کہ اس سے یہ سمجھا جاتا کہ اپنے دینی قائد کو اپنی تقریب میں بلاؤ، یہ بلانا مستحب اور پسندیدہ ہے۔ اب کون مسلمان ایسا ہوتا مدینہ میں، مکے میں، اس کے قرب وجوار میں جس کے ہاں شادی ہوتی، تقریب ہوتی اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ بلاتا؟ ہر ایک بلاتا۔ کسی کے پاس اتنے پیسے بھی نہ ہوتے جتنے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے پاس تھے، کسی کے ہاں پانی پلانے کے لیے مٹی کا پیالہ بھی نہ ہوتا تو وہ کیا کرتا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کوئی لفظ بغیر وحی کے نکلتا ہی نہیں۔ وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی (النجم:۳، ۴) تو یہ بھی نہیں کہا کہ بلایاکیوں نہیں۔ اتنا کہنے سے بھی ایک طریقہ ایسا قائم ہو جاتا کہ آئندہ آنے والوں کے لیے اس لفظ سے بھی مشکلات پیدا ہو جاتیں، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی نہیں فرمایا۔
تیسری بنیادی حد یہ ہے کہ شریعت کے جو بنیادی مقاصد ہیں، وہ نظر انداز نہ ہوں۔ شریعت کے جو اہم Objectives ہیں، ان کو اگر نظر انداز کر کے تفریح کی جائے تو وہ تفریح شریعت کی حدود سے متجاوز ہے۔ اسلام نے انسان کو کائنات کے اندر سب سے اونچا مقام دیا ہے۔ اتنا اونچا مقام دیا ہے کہ خالق کائنات کے بعد سب سے اونچا مقام انسان کا ہے۔ انسان جسمانی طور پر تو بہت چھوٹی مخلوق ہے۔ آپ پوری کائنات میں ذرا غور کریں تو ہماری حیثیت وہ بھی نہیں ہے جو سمندر کے کنارے پر پڑے ریت کے کسی ذرے کی ہوتی ہے۔ جسمانی طور پر ہماری حیثیت وہ بھی نہیں، لیکن اللہ نے قوت بے شمار رکھی ہے، صلاحیتیں بے شمار دی ہیں۔ آزادی اور فیصلے کی نعمت سے نوازا ہے، اچھے اوربرے کی تمیز کی صلاحیت دی ہے۔ یہ باقی مخلوقات کو حاصل نہیں ہے۔ اس لیے اس کا درجہ اللہ نے اپنے بعد سب سے اونچا رکھا ہے۔ باقی ساری مخلوقات اس کے نیچے ہیں۔ یہ سب مخلوقات سے اوپر ہے اور خالق کائنات سے نیچے۔ ظاہر ہے جب درجہ اتنا اونچا ہے تو مقاصد بھی اتنے اونچے ہیں۔ خلافت ارضی سے اس کو نوازا ہے۔ خالق کائنات کی مرضی سے زندگی گزارنے کا یہ پابند ہے۔ اس کی مرضی کا عملی ترجمان بن کر اس کو دکھانا ہے کہ خالق کائنات جس طرح کا انسان چاہتا ہے، اس طرح کا انسان بننا ہے اور پھر دوسروں کے لیے اس کو معلم بنا کر بھیجا گیا۔ جو حیثیت پیغمبر کی اپنی قوم میں ہوتی ہے، وہ حیثیت امت مسلمہ کی بقیہ اقوام میں ہے۔ یہ آپ نے قرآن پاک میں پڑھا ہوگا کہ: لتکونوا شھداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیداً (البقرۃ: ۱۴۳) تم لوگوں کے مقابلے میں گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے، یعنی جو Relationship کی نوعیت تمہاری اور پیغمبر کی ہے، وہی نوعیت تمہاری اور بقیہ انسانوں کی ہے۔ اب اتنے اونچے مقام کو چھوڑ کر آپ نے تفریح کا کوئی ایسا طریقہ اختیار کر لیا جس میں یہ سب بھول جائیں کہ آپ کس کام کے لیے آئے تھے، کس کام کے لیے بھیجے گئے تھے تو یہ چیز ایک عام عقل کے بھی خلاف ہے اور شریعت کے بھی خلاف ہے۔
ایک مثال آپ کو دیتا ہوں۔ کمانڈر ان چیف پاکستان نیوی ایک بہت بڑامنصب ہے۔ بھاری ذمہ داری ہے، پاکستان کے پورے سمندروں کی نگرانی اور بہت سے کام ان کے ذمے ہیں۔ ان کو تفریح کا حق ہے، تفریح کرنی چاہیے، لیکن اگر نیوی کے دس جہاز تفریح کے لیے چلے جائیں اور دنیا کے سارے سمندروں کے بے آباد جزیروں میں جا کر شکار کھیلا کریں کہ جی شریعت نے تفریح کا حکم دیا ہے اور کچھ پتا نہ ہو کہ پاکستان میں پیچھے کیا گزر رہا ہے، تو ظاہر ہے وہ بھی اس تفریح کو ناجائز سمجھتے ہوں گے۔ وہ بھی اس کو تفریح نہیں سمجھیں گے، ذمے داریوں سے تجاوز سمجھیں گے اور ذمے داریوں سے فرار قرار دیں گے۔ تو جو ذمے داری حکومت پاکستان نے پاکستان نیوی کے چیف کو دی ہے، اس سے بڑی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو دی ہے، اس لیے ملت مسلمہ کی جو ذمہ داریاں ہیں، ان کو نظر انداز کر کے تفریح کرنا نامناسب و ناجائز ہے۔ مثال کے طور پر نماز سب سے بڑا مقصد ہے۔
روز محشر کہ جاں گداز بود
اولین پرسش نماز بود
روز محشر جو جاں گداز ہوگا، اس میں سب سے پہلا سوال نماز کے بارے میں ہوگا۔ اب کوئی ایسی تفریح جس میں یہ پتا نہ چلے کہ نماز کب آئی، کب گئی، یہ شریعت کے مزاج کے خلاف ہے،یہ جائز نہیں۔
یہ تین بنیادی شرطیں ہیں جو شریعت نے تفریح کے لیے رکھی ہیں۔ اسراف وتبذیر سے اجتناب ہو، حیا کے حدود کے مطابق ہو، مقاصد شریعت سے تجاوز اور تجاہل نہ کیا جائے۔ ان حدود کے اندر جو تفریح بھی ہوگی، وہ جائز ہے، بغیر کسی رد وقدح کے آپ اسے جائز سمجھیں۔ ہم میں سے بہت سے حضرات کے مزاج میں شدت اور تیزی ہوتی ہے۔ بعض لوگ خالص دینی جذبے سے، کسی برے جذبے سے نہیں، دینی ومذہبی جذبے سے ہر جائز چیز کو بھی ناجائز کہنے لگتے ہیں۔ یہ بھی صحیح نہیں ہے۔ بعض لوگوں کو اپنے فرائض کا احساس اتنا شدیدہوتا ہے کہ ان کو ہر تفریح بھول جاتی ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے، لیکن توازن کے خلاف ہے۔ اگر آپ امتحان دے رہے ہیں، فرض کیجیے آپ کا بی اے یا بی ایس سی کا امتحان ہورہا ہے اور بارہ بجے پرچہ ہونے والا ہے اور میں کہوں کہ وحدت روڈ کے فلاں اسکول میں آپ کا امتحان ہوگا، آپ وہاں چلے جایئے۔ اب کوئی تفریح یاد نہیں آئے گی۔ کوئی کہے کہ چلیں ہوٹل میں کھانا کھالیتے ہیں، تکے کھالیتے ہیں یا فلاں جگہ چلتے ہیں تو آپ کو کچھ یاد نہیں آئے گا۔ آپ کو یہ خیال دامن گیر ہوگا کہ مجھے وہاں پہنچنا ہے۔ جن لوگوں کو اللہ کے ہاں جو اب دہی کا احساس اتنا تازہ ہو جتنا کہ آپ کوپرچے کا احساس تازہ ہے تو تفریح یاد نہیں رہتی۔ اسی لیے میں یہ کہتاہوں کہ یہ قابل احترام بات ہے۔ اس سے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جس کو امتحان کی جواب دہی کا احساس تازہ ہوگا، اسے کوئی چیز attract نہیں کرسکتی تو ایسے حضرات انتہائی احترام اور انتہائی عقیدت کے مستحق ہیں کہ جن کو آخرت کے امتحان کا احساس اتنا تازہ رہے کہ وہ ہر تفریح کو بھول جائیں، لیکن شریعت کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ ہر شخص کا ذہنی رویہ ہمیشہ ایسا ہی رہے۔ اگر کسی کا رہتا ہے تو اچھی بات ہے۔ ہر شخص کا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ کبھی یادداشت میں امتحان تازہ ہوتا ہے، کبھی نہیں ہوتا۔
آپ نے حضرت حنظلہؓ کامشہور واقعہ سنا ہوگا کہ حضرت حنظلہؓ پریشانی میں تیز تیز تشریف لے جا رہے تھے۔ حضرت ابو بکرصدیقؓ ملے، پوچھا کہاں جارہے ہو؟کہنے لگے کہ حنظلہ تو منافق ہوگیا۔ پوچھا، اچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگے کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ہوتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی سامنے ہے، جنت بھی سامنے ہے، دوزخ بھی سامنے ہے۔ کوئی چیز یاد نہیں آتی، صرف اللہ کے حضور جواب دہی کا احساس بیدار ہوتا ہے۔ جب واپس جاتا ہوں، کاروبار میں، تجارت میں، باغ میں، گھر میں تو وہ کیفیت نہیں رہتی تو یہ تو نفاق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ اور ہے اور آپ کے پیچھے کچھ اور۔ حضرت ابو بکرصدیقؓ نے فرمایا کہ یہ کیفیت تو میری بھی ہوتی ہے۔ اگر یہ نفاق ہے تو بہت بری بات ہے۔ چلیں، پوچھتے ہیں۔ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ عرض کیا، یارسول اللہ! یہ مسئلہ ہے۔ آپ نے تسلی دی کہ ایسا نہیں ہوسکتا، یہ کیفیت ہمیشہ نہیں رہتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ کبھی یہ کیفیت اگر رہے جو تم بتارہے ہو تو فرشتے آپ کے ہاتھ چومنے لگیں۔ گویاحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ یہ چیز مطلوب نہیں کہ ہر وقت آپ پر یہ کیفیت طاری رہے اور نہ ایسا ہوتا ہے۔ اگرکسی پر طاری رہتی ہے تو یہ اللہ کا احسان ہے، اس کا معاملہ خالص اللہ کے ساتھ ہے، لیکن بقیہ انسان ایسے ہیں کہ ان میں جب تفریح کا جذبہ پیدا ہو تو تفریح بھی کریں۔ اس لیے میں یہ کہہ رہا تھا کہ کچھ حضرات ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرز عمل کو جو انہوں نے اختیار کیا ہے، جو انتہائی استثنائی ہے، وہ ہر شخص اختیار کرے۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ہر شخص تفریح بھی چاہتا ہے، ہر شخص کے بعض اور تقاضے ہیں، وہ ان کو بھی پورا کرنا چاہتا ہے۔ اس کے جسمانی تقاضے بھی ہیں، مادی اور اقتصادی ہر قسم کے تقاضے ہیں، ان کے درمیان توازن ہونا چاہیے۔ توازن اور اعتدال کے بغیرشگفتگی ہوہی نہیں سکتی۔ شگفتگی اعتدال کا لازمی تقاضا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سفر پر تشریف لے گئے۔ حضرت عائشہؓ کے ساتھ چہل قدمی کرنے لگے تو دیکھا کہ کچھ نوجوان دوڑ لگا رہے ہیں اور مقابلہ کر رہے ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے کہا کہ دوڑ کا مقابلہ کریں؟ آپ نے کہا چلو۔ مقابلہ کیا، دوڑ لگائی۔ یہ مدینہ منورہ کا واقعہ ہے۔ اس وقت آپ کی عمر کم ۵۷، ۵۸ سے کم نہیں تھی اور دنیاوی اعتبار سے آپ دیکھیں کہ مدینہ منورہ اور اس کے قرب وجوار کے کم از کم ایک تہائی پر آپ کی حکومت تھی اور آپ کے پیروکاروں کی تعداد، جو اپنی زندگی کا محور ومرکز آپ کو مانتے تھے، اگر لاکھوں میں نہیں تو ہزاروں میں ضرور تھی۔ اس اعتبار سے دیکھیں کہ ایک معمولی مسجد کا مولوی، ایک اسکول کا ہیڈ ماسٹر، ایک کلاس کا ٹیچر اس طرح کرنے لگے تو سمجھتا ہے کہ میرا بھرم ختم ہو جائے گا اور لوگ کیا کہیں گے۔ میری ایک Dignity ہے یعنی پچاس چیزیں آدمی سوچتا ہے، ایک تصنع کاہالہ اپنے اوپر طاری کردیتا ہے۔ لیکن یہ فطرت کے خلاف ہے، یہ رویہ Openness کے خلاف ہے۔ گھر والوں کے ساتھ ایک بے تکلفی کا تعلق ہونا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ چلو دوڑ لگاتے ہیں۔ آپ نے دوڑ لگائی۔ حضرت عائشہؓ کا بدن ہلکا تھا، عمربھی کم تھی، وہ آگے نکل گئیں اور کہا کہ دیکھا، ہرادیا! اس کے کچھ عرصے بعد پھر ایک مرتبہ سفر پر جانے کا اتفاق ہوا۔ پھر ایسے موقع پر دیکھا کہ لوگ دوڑ لگارہے ہیں تو کہا کہ آو دوڑ لگائیں۔اب حضرت عائشہؓ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگے نکل گئے تو آپ نے فرمایا: ھذہ بتلک۔ یہ اس دن کا بدلہ ہوگیا۔ مثالیں اور بھی ذہن میں ہیں جو دی جاسکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان میں حس مزاح (Humor) بھی رکھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حس مزاح تو ضرب المثل ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاح کے واقعات حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں، اگر آپ نے پڑھے ہوں۔ اگر نہ پڑھے ہوں تو ضرور پڑھیں۔ ترمذی کی بڑی اچھی کتاب شمائل ترمذی ہے جس کا اردو اور انگریزی ترجمہ دستیاب ہے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور شخصیت کے بارے میں، آپ کے حلیہ مبارک، لباس، عادات، خصائل کے بارے میں بڑی معلومات جمع کی ہیں اور ایک بڑے مستند ترین محدث وقت کی لکھی ہوئی ہیں۔ اس میں جتنے اقوال وواقعات جمع کیے گئے ہیں، بڑے مستند ہیں۔ اگر آپ مدینہ منورہ کے دس سال بلکہ مکہ مکرمہ کے تیرہ سال دیکھیں تو یہ انتہائی کرائسز کا زمانہ ہے۔ کرائسزاوربحران کے جو بھی پہلو آپ کے ذہن میں آتے ہیں، کسی علاقے میں ہنگامی حالات کے جو بھی اسباب آپ کے ذہن میں آتے ہیں، وہ سارے کے سارے بیک وقت موجود تھے کہ چاروں طرف سے دشمن حملہ آور ہے، ہر تین چار مہینے بعد حملہ ہو رہا ہے، ہر تین چار ماہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوج لے کر نکلنا پڑتا ہے اور اوسطاً ہر چار ماہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے باہر فوج لے گئے ہیں، دفاع کرنے یا فتنے یا خطرے کا سدباب کرنے کے لیے۔ کبھی باہر سے کوئی سازش ہو رہی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کوئی آرہا ہے، کچھ لوگ آپ کو شہید کرنے آرہے ہیں، لیکن ان سارے ہنگامی حالات اور خطرات کے باوجود آپ کی جو حس مزاح ہے، وہ اسی طرح موجود ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک شخص توازن اور اعتدال کی معراج پر بیٹھا ہوا ہے کہ اس سے اوپر توازن اور اعتدال کا تصور انسان کے ذہن میں نہیں آتا۔ بعض اوقات بچوں سے گفتگو ہو رہی ہے۔ بچے دوڑ لگا رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی دوڑ لگا رہے ہیں۔ کبھی صحابہ کرامؓ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ صحابہ کرامؓ میں جاکر دیکھا کہ شعر وشاعری ہورہی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی شعر وشاعری سننی شروع کردی۔ کبھی آپ نے یہ نہیں کہا کہ میاں! یہ کیا لغو حرکت ہے۔ دیکھتے نہیں کہ ہم آگئے ہیں، تب بھی شعر وشاعری ہورہی ہے! آپ بھی شعر سن رہے ہیں، لیکن اگراس میں کوئی بات شریعت کے خلاف ہوگئی تو آپ نے فوراً ٹوک دیا کہ یہ ٹھیک نہیں۔
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شادی میں تشریف لے گئے تو وہاں دیکھا کہ لوگ خوشی منارہے ہیں، بچیاں ڈھولک پر گا رہی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاکر بیٹھ گئے۔ اتنے میں ایک بچی نے گاتے گاتے ایک جملہ کہا کہ: وفینا نبی یعلم ما فی غد (بخاری،کتاب المغازی، باب ۱۲، رقم ۴۰۰۱)۔ اور ہم میں ایک نبی بھی ہیں جو کل کا حال جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں نہیں، یہ بات مت کہو۔ کل کا حال اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ یعنی عقیدے پر بات آئی تو فوراً اسی وقت ٹوک دیا، لیکن وہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ آئے تو بیٹھے رہے اور وہ گاتی رہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ آئے توبچیاں اٹھ کر چلی گئیں۔ حضرت عمر فاروقؓ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ دیکھو تمہارے آنے پر شیطان بھی بھاگ جاتا ہے۔ یعنی حضرت عمر فاروقؓ کو نہیں روکا کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ تم اتنے سخت کیوں ہو؟ اور ان بچیوں کو نہیں روکا کہ تم کیوں بھاگتی ہو؟ آپ دیکھیں کہ جس آدمی کے مزاج میں شدت ہے، وہ شدت دین کے لیے استعمال ہو رہی ہے تو اس شدت کو نہیں روکا۔ اس میں اگر حضور کہتے کہ مت روکو تو پھر وہی بات ہوتی کہ ہمیشہ کے لیے ممکن ہے۔ آگے چل کر کوئی اعتدال سے بڑھ جانے والا ہو تو ممکن ہے بعض اوقات آپ کسی مصلحت سے روک دیں۔ یہ چیز جائز ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک چیز جائز ہوتی ہے، لیکن آپ ماں ہیں، آپ سمجھتی ہیں کہ اگر اس وقت بچے کو اس میں لگنے دیا گیاتو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ اس وقت اس جائز کام کو روک دینا چاہیے، ممکن ہے اس سے غلط عادت پیدا ہوجائے۔ فرض کیجیے محلے میں کبوتر باز رہتے ہیں، کبوتر بازی کرتے ہیں۔ آپ کا بچہ ایک کبوتر لے آیا، چھوٹا کبوتر پالنا گناہ نہیں ہے، لیکن آپ اس کو اس وقت روک سکتے ہیں کہ خدشہ ہے کہ محلے والوں کے ساتھ مل کر غلط عادت پڑجائے گی۔ تو اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حضور عمر فاروقؓ کو روک دیتے کہ دیکھو منع مت کرو تو یہ ہمیشہ کے لیے قانون اور شریعت کا حکم بن جاتا کہ اگر کوئی جائز تفریح کے کسی کام میں مصروف ہو، کسی بھی مصلحت سے اس کو روکا نہیں جاسکتا۔ اب مصلحت سے آپ روک سکتے ہیں، حضرت عمرؓ کی سنت بھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ بچیوں کو گانے سے روکا اور نہ حضرت عمر فاروقؓ کو منع کرنے سے روکا۔ دونوں کو اپنی اپنی حالت پر رکھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ تشریف لائے جو سو فیصد مزاج شناسِ رسول تھے، انہوں نے نہیں روکا۔ حضرت عمرفاروقؓ جن کے مزاج میں سختی تھی، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ واشدھم فی امر اللہ عمر، اللہ کے معاملے میں میرے صحابہ میں سب زیادہ سخت عمرؓ ہیں۔ انہوں نے روکا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع نہیں کیا۔ اسی طرح کے واقعات اور مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اظہار مسرت اور خوشی کے جتنے بھی جائز طریقے ہیں، جب تک وہ شریعت کے حدود کے اندر ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نہیں روکا۔ انسان خوشی کے موقع پر چاہتا ہے کہ اس کا لباس اچھا ہو۔ انسان خوشی کے موقع پر چاہتا ہے کہ اس کی خوراک اچھی ہو، اپنے دوستوں کو بلائے، اپنے احباب کو بلائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اس کی تعریف کی ہے، لیکن اب اس بات کا امکان موجود تھا کہ جب لوگ خوشی ومسرت کے موقع پر دوست واحباب کو بلائیں گے تو انسان کا مزاج آپ نہ بھولیے، انسان کا مزاج بدلتا نہیں ہے۔ انسان کا مزاج یہ ہے کہ وہ مادی مفادات چاہتا ہے، ،انسان کا مزاج یہ ہے کہ دولت چاہتا ہے، صاحبان اقتدار کے قریب ہونا چاہتا ہے۔
بنا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اِتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
جو شہ کا مصاحب ہوتا ہے، وہ اِتراتا بھی ہے۔ تو اس میں یہ رجحان بھی موجود ہے کہ جی بڑے آدمیوں کو بلاؤ، چھوٹے آدمیوں کو نظر انداز کردو تو آپ نے جہاں خوشی کے اظہار کی اجازت دی اور تلقین کی کہ لوگوں کو بلاؤ، دوستوں کو بلاؤ، لوگوں کو جمع کرو، وہاں یہ بھی فرمایا کہ بدترین دعوت ہے وہ جس میں امیر لوگوں کو بلایا جائے، لیکن غریبوں اور ناداروں کو چھوڑ دیا جائے۔
عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کا حکم دیا۔ اس میں آپ دیکھیں توازن کیا ہے۔ ایک تہائی اپنے لیے رکھو، ایک تہائی دوست احباب کو بھیجو اور ایک تہائی آس پاس کے جوضرورت مند ہوں، نادار ہوں، چاہے دوستی رشتے داری نہ ہو، ان کو بھیجو۔ تو آپ دیکھیں کہ تینوں یکساں سطح پر ہیں۔ اپنی ذات بھی، دوست احباب بھی اور شہر کے نادار اور کمزور لوگ بھی۔ یہ خوشی کے موقعے پر اجتماعیت پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تفریح جس سے طبقاتیت کو فروغ ملے، اسلام کے مزاج کے خلاف ہے اور وہ تفریح جس سے طبقات ہم آہنگ ہوں، مسلمانوں میں ہم آہنگی پیدا ہو، بستی میں یکجہتی پیدا ہو،وہ تفریح اسلام کے تصور کے مطابق ہے، اسلام کے تصور سے ہم آہنگ ہے۔
دوسری چیز جو یاد رکھنے کی ہے، اس کو ذرا غور سے سماعت فرمائیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جی یہ تو ثقافتی چیز ہے، اس کا اسلام سے کیا تعلق؟ یہ بات کہ یہ ثقافتی چیز ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ بڑی غلط چیز ہے۔ اسلام کا ہر چیز سے تعلق ہے۔ اسلام تو ہر چیز کے بارے میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ثقافت کے بارے میں بھی کرتا ہے۔ اگر ثقافت میں کوئی ایسی چیز ہے جو مشرکانہ اورکافرانہ پس منظر رکھتی ہے،جیسا کہ میں نے مثالیں دیں کہ پیلے رنگ میں ویسے تو کچھ نہیں ہے، لیکن اگر پیلے رنگ میں یہ عقیدہ ہو کہ اس میں دیوی اترتی ہے، لہٰذا مجھے پیلے رنگ کے کپڑے پہننے ہیں تو پیلے رنگ میں بہت کچھ ہے۔ اگر ویسے ہی کسی کوپیلا رنگ اچھا لگتا ہے اور وہ بسنت کے علاوہ بھی پیلے رنگ کے کپڑے پہنتا ہے یا پہنتی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن اگر بسنت کے ہی دن پیلا رنگ پسند آتا ہے، اور کسی دن پسند نہیں آتا پھر معلوم ہوتا ہے کہ بات محض پسند کی بات نہیں، کچھ اور ہے۔ اس لیے یہ دیکھنا چاہیے کہ جو مقامی ثقافت ہے، اس کا جو مظہر ہے جس کو آپ کہتے ہیں کہ محض ثقافتی چیز ہے، وہ کیاہے؟ اگر اس کے پیچھے محض کسی قوم کا رواج ہے، اس کے پیچھے کسی غیر مذہب کا کوئی عقیدہ نہیں ہے، اس کے پیچھے کوئی مشرکانہ، جاہلانہ اور کافرانہ تصور نہیں ہے تو اس ثقافت کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مثال کے طور پر عید کے موقع پر لوگوں میں سویاں بنانے کا رواج ہے تو سویاں بنانے کا نہ کوئی مذہبی پس منظر ہے، نہ کوئی عقیدہ ہے، نہ کوئی ملحدانہ، مشرکانہ اور کافرانہ تصور ہے۔ یہ محض رواج ہے۔ ممکن ہے شروع میں کسی طبی ضرورت کے تحت اختیار کیا گیا ہو۔ ہمارے یہاں رمضان میں افطار کے وقت پکوڑے بنانے کارواج ہے، کئی اور ملکوں میں نہیں ہے۔ اب یہ طبی ضرورت ہے۔ ہندوستان کے ایک خاص موسم میں پورادن بھوکا رہنے کے بعد چنا شاید مفید رہتا ہو، اس طرح رواج ہوگیا۔ بعض عرب ملکوں میں اس کا رواج نہیں، کسی اور چیز کا رواج ہے۔ میں نے بچپن میں ہمیشہ اپنے بزرگوں سے سنا تھا کہ کبوتر بڑا گرم ہوتا ہے اور کبوتر کا گوشت کبھی ہمارے گھر میں کسی نے بنایا نہیں کہ اگر کسی نے کھایا تو نکسیر پھوٹ پڑے گی اور دانے نکل آئیں گے۔ پتہ نہیں کیا ہوجائے گا۔ کافی عرصہ پہلے، غالباً ۱۹۹۰ء میں مجھے مراکش جانے کا اتفاق ہوا۔ رمضان کامہینہ تھا۔ ایک جگہ جب میں گیا تو اسی دن کسی بڑے آدمی کے ہاں افطار تھا تو ملازمین بڑی بڑی دیگوں میں سوپ لے کر آئے۔ وہ کبوتر کی یخنی تھی اور انھوں نے بڑے بڑے پیالے میںیخنی بھر کر دی اور دو دو کبوتر بھی ڈالے۔ اب میں بہت ڈرا کہ گرمی کا موسم بھی ہے، روزہ بھی ہے اور یہ بھی سنا تھا کہ روزے میں خشکی ہو جاتی ہے تو نکسیر پھوٹ جائے گی۔ میں نے پیالے کو رکھ دیا، لیکن پھر سوچا کہ یہ پانچ سو آدمی کھارہے ہیں۔ جو ان کے ساتھ ہوگا، وہ تمہارے ساتھ بھی ہو جائے گا، چنانچہ میں نے ڈرتے ڈرتے تھوڑی سی یخنی پی لی اور کبوتر نہیں کھایا۔ اگلے دن ایک کبوتر کھایا اور دوسرے دن دونوں کبوتر کھالیے، کچھ بھی نہیں ہوا۔ نہ نکسیر پھوٹی، نہ دانے نکلے اورنہ کوئی پریشانی ہوئی۔ اب یہ محض رواج ہے۔ میں نے دیکھا کہ مراکش میں افطار کے وقت یخنی ہر جگہ ہوتی ہے۔ غریب، امیر سب کے پاس۔ دوکان میں جائیں تو کبوتر کی یخنی ملے گی، بادشاہ کے پاس جائیں تو کبوتر کی یخنی ملے گی۔
اس طرح کی ثقافت ظاہر ہے، ہر قوم میں الگ الگ ہوتی ہے۔ اسلام اس کو پسند کرتا ہے، مسلمانوں نے کبھی اس کو ختم نہیں کیا۔ یہ ثقافتیں آج تک چلی آرہی ہیں۔ اسلام جس علاقے تک گیا، وہاں کے رسم ورواج کو صحابہ نے بھی اختیار کیا، وہاں کے اچھے طریقوں کوصحابہ نے بھی اپنایا۔ کبھی کسی صحابی یا تابعی نے نہیں کہا کہ اہل شام، تم فلاں قسم کا کھانا بند کر دو اور ہمارے جیسا کھانا کھانا شروع کر دو یا ہمارے جیسا لباس اپنا لو۔ لباس الگ الگ رہے۔ اہل شام کا الگ تھا، سینٹرل ایشیا والوں کا الگ تھا، اب بھی الگ ہے۔ جزیرہ عرب والوں کا الگ تھا، ایرانیوں کا الگ تھا۔ اس میں اگر کوئی چیز شریعت کے خلاف تھی تو اس کی نشان دہی کر دی گئی کہ یہ حصہ شریعت کے خلاف ہے۔ مثلاً مرد ریشم پہنتے ہیں، یہ درست نہیں ہے یا آپ کا لباس مکمل طور پر ساترنہیں ہے تو ستر کا تقاضا ہے کہ اسے پورا کریں۔ اس طرح ضروری تبدیلی تو ہوتی رہی، لیکن اس طرح کی مقامی روایات کو جو شریعت کے متصادم نہیں تھیں، کبھی کسی نیختم نہیں کیا، بلکہ ان کواختیار کیا اوران کو پروموٹ (Promote) کیا۔ سب سے پہلی شرط تو مقامی ثقافت کے بارے میں یہ ہے۔
دوسری شرط مقامی ثقافت کے بارے میں یہ ہے کہ وہ ملت اسلامیہ کی وحدت سے متصادم نہ ہو۔ ابھی میں نے عرض کیا کہ اسلام میں تہوار موسم کی وجہ سے نہیں ہوتا کہ موسم ہر جگہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کہیں سردی ہوگی، کہیں گرمی ہوگی، کہیں بہار ہوگی۔ اگر موسم کے حساب سے اسلام میں تہوار ہوگا تو پوری دنیا میں نہیں ہوسکتا، اس لیے کوئی ایسا تہوار یا مقامی ثقافت یا مقامی رواج جس سے ملت مسلمہ کی وحدت ختم ہوجائے، وہ بھی قابل قبول نہیں ہے۔ امت مسلمہ کی وحدت قرآن کریم کی نص قطعی کی رُو سے ضروریات دین میں سے ہے: ان ھذہٖ امتکم امۃ واحدۃ (الانبیاء:۹۲)۔ یاد رکھو، بلاشک وشبہ یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے۔ جگہ جگہ قرآن میں اس بات کا ذکر ہے کہ امت کی وحدت میں خلل نہ پڑنے پائے۔ لہٰذا کوئی مقامی ثقافت جو امت مسلمہ کی وحدت متاثر کرے، شرعاً قابل قبول نہیں ہے۔
تیسری اور اہم چیز یہ ہے کہ جس چیز کو ثقافت کہتے ہیں، اس کا تعلق عقائد، عبادات اور ان معاملات سے نہ ہو جن کے بارے میں شریعت نے واضح ہدایات دی ہیں۔ شریعت نے جن چیزوں کی تعلیم دی ہے، وہ چار ہیں :
۱۔ کچھ وہ ہیں جن کا تعلق عقائد سے ہے۔ عقائد میں کوئی مقامی یا غیر مقامی ثقافت قابل قبول نہیں ہے۔ عقیدہ وہی قابل قبول ہے جو قرآن پاک اورسنت میں ہے۔
۲۔ عبادات ہیں۔ عبادات میں کوئی چیز قابل قبول نہیں ہے۔ صرف وہ عبادت قابل قبول ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے۔ اس کے علاوہ عبادت کی ہرقسم بالکل بدعت ہے۔ اس میں کوئی تامل کی بات نہیں ہے۔ ہر وہ عبادت جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم نہیں دی یا جس کی سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے نہیں ملتی، وہ عبادت، عبادت نہیں ہے۔ یہ دو چیزیں جن کے بارے میں اسلام بہت حساس ہے، اس میں کوئی External element داخل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں اضافے کی اجازت نہیں کہ کوئی یہ کہے کہ میرا تو اللہ کے آگے جھکنے کو بڑا جی چاہتا ہے۔ دو سجدوں سے تشفی نہیں ہوتی، میں دس دس سجدے کیاکروں گا۔ اگر ایسا کرے گا تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی، قابل قبول نہیں ہوگی۔
تیسری چیز ہے معاملات اور لین دین۔ لین دین میں شریعت نے جو احکام دیے ہیں، عمومی احکام ہیں، عمومی ہدایات ہیں۔ تفصیلات انسانوں پر چھوڑ دی ہیں۔ لیکن اگر مقامی ثقافت کا تعلق معاملات سے ہے تووہ شریعت کی ان حدود کے اندر ہونی چاہیے۔ جن معاملات کی تعلیم شریعت نے دی ہے، اس کے اندر وہ مقامی ثقافت ہو، اس کے باہر نہ ہو۔ مثال کے طور پر شریعت نے کہا ہے کہ کسی کا مال اس کی رضا مندی کے بغیر نہ خریدو۔ لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم (النساء :۲۹) یہ قرآن پاک کی نص قطعی ہے، شریعت کا حکم ہے، لہٰذا کوئی ایسا مقامی رواج جس سے زبردستی کسی سے پیسہ نکالا جائے یا اس کے مال وجائداد کو ہتھیا لیا جائے، جائز نہیں ہے۔
میں مثالیں دوں گا تو بات بہت لمبی ہوجائے گی، لیکن شادی ہوتی ہے تو لڑکیاں گھیر لیتی ہیں کہ بہنوئی سے جوتا چھپائی لینی ہے۔ بے چارہ پتہ نہیں پیسے لایا کہ نہیں لایا۔ شوق سے اور خوشی سے دے رہا ہے کہ نہیں دے رہا۔ جوتا چھپائی کے نام سے دے یا ٹوپی چھپائی کے نام سے دے۔ مجھے پتہ نہیں جوتا چھپائی کاکیا پس منظر ہے،کیا بیک گراؤنڈ (Background) ہے! ممکن کہ اس کا بھی کوئیبیک گراؤنڈ ہو، لیکن بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں کہ جن میں زبردستی یا کسی شخص کی مرضی کے خلاف اس سے پیسے یا رقم لی جاتی ہے تو یہ شریعت میں جائز نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یحل مال امرئ مسلم الا بطیب نفس منہ (مسندالامام احمد بن حنبل ج ۶، ص: ۳۰۹، رقم ۲۰۹۷۱)۔ کسی مسلمان کا مال دوسرے مسلمان کے لیے جائز نہیں، سوائے اس کے وہ اپنی خوشی سے، باہمی رضا مندی اور طیب نفس سے دے رہا ہو۔ اپنی پوری خوشی کے ساتھ دے رہا ہو تو وہ جائز ہے، اس کے علاوہ جائز نہیں ہے۔ اب یہ یقین کرنا کہ کہاں خوشی سے دے رہا ہے، کہاں مجبوری میں دے رہا ہے، یہ اس میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے، لہٰذا کوئی ایسا رواج جس میں زبردستی کسی کی رقم ہتھیا لی جائے، یہ شریعت کے خلاف ہے۔
۴۔ چوتھی چیز عادات ہے۔ عادات میں شریعت میں بہت آزادی ہے۔ کھلا چھوڑا ہے۔ ہر قوم کی عادات ورواج ہوتے ہیں۔ کسی کے یہاں چادر اوڑھنے کا رواج ہے، کسی کے ہاں تہ بند باندھنے کا رواج ہے، کسی کے ہاں چارپائی پر سونے کا رواج ہے، کسی کے ہاں فرش پر سونے کا رواج ہے، کسی کے پاس کوئی کھانا مروّج ہے، کسی کے پاس کوئی کھانا مروّج ہے۔ کوئی چاول کھاتا ہے، کوئی کدو کھاتا ہے۔ یہ سب عادات ہیں۔ مختلف قوموں کی عادات ہیں جن کا تعلق جغرافیے سے، تاریخ سے، مقامی حالات سے، اقتصادی وسائل سے ہوتا ہے۔ اس میں شریعت نے بالکل آزادی دی ہے کہ اگر کوئی چیز شریعت کی نص قطعی کے خلاف نہیں ہے تو آپ جو جی چاہے کریں، آپ کو کھلی آزادی ہے کہ اسے اختیار کریں۔ مقامی ثقافت اورعادات کے باب میں اس کی کھلی گنجائش ہے، جیسا کہ میں نے عید کے موقع پر سویوں کی مثال دی۔
یہ وہ بنیادی ہدایات اور اصول ہیں جو شریعت نے تفریح کے بارے میں دیے ہیں۔ ان حدود کے اندر جو تفریح یا تہوار ہوگا، وہ منانا جائز ہوگا۔ اب دیکھیں کہ اسلام میں تفریح اور تہوار منانے کے بارے میں مثبت ہدایات کیا ہیں؟ یہ تو وہ ہیں جن میں منفی چیزوں سے روکا گیا ہے۔ جو چیز شریعت نے خود بتائی ہے، وہ کیا ہے؟ اس میں دو چیزوں کو الگ الگ دیکھیں۔ پہلے دیکھیں تفریح اور اس کے بعد دیکھیں تہوار۔ تفریح سے مراد وہ سرگرمی ہے جو وقتاً فوقتاً انسان انفرادی طور پر کرتا ہے۔ آپ آؤٹنگ (outing) کے لیے چلے گئے، پکنک (Picnic) کے لیے چلے گئے۔ یہ تفریح ہے۔ دوستوں کی دعوت کرلی، مہمانوں کو بلالیا، یہ چیزیں تفریح ہیں۔تہوارسے مراد عیدالفطر اور عیدالاضحی ہے۔
پہلے تفریح کو دیکھ لیں۔ تفریح کے بارے میں شریعت نے جو ہدایات دی ہیں، پہلے ان کے بارے میں وہ تین ہدایات سامنے رکھیں جو میں نے ابھی بتائی ہیں۔ ان ہدایات کی روشنی میں یہ دیکھیں کہ صحابہ کرامؓ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل کیا تھا تو پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تفریح کو مقاصد عالیہ سے ہم آہنگ کر لیا۔ اسلام کے جو Higher objectives ہیں، امت مسلمہ کے جو مقاصد عالیہ ہیں، ان کو اور تفریح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یکجا کرلیا۔
تفریح کی تین عام شکلیں ہیں۔ ان میں پھر مختلف ورائیٹیز ہیں، لیکن بڑی بڑی شکلیں تین چار ہیں۔ تفریح کی ایک شکل یہ ہے کہ لوگ سیر وتفریح کے لیے جاتے ہیں۔ کسی اور ملک میں تفریح کے لیے چلے گئے، شہر کے کسی مقام پر چلے گئے، شہروالے گاؤں کی تفریح کے لیے چلے گئے، گاؤں والے شہر میں گئے، ریگستان گئے، پہاڑوں پر گئے، دریا یا سمندر کے کنارے گئے۔ یہ ایک عام تفریح ہے جو ہر شہری کرتا ہے اور ہرانسان کا جی چاہتا ہے کہ اپنے علاقے سے باہر نکل کر سیر وتفریح کرے۔ اس کے بارے میں قرآن مجید نے کیا کہا؟ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ گونگے، اندھے، بہرے آدمی کی طرح جیسے گئے تھے، ویسے واپس آگئے۔ نہ کسی اچھائی کا پتہ چلا، نہ کسی برائی کا پتہ چلا۔ انسان کو تو ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ایک تفریح یہ ہے کہ جیسے مکھی ہوتی ہے، اس کو گندگی ہی نظر آتی ہے، اچھائی نظر نہیں آتی۔ خوشبو، تازہ پھول رکھے ہوں تو مکھی وہاں نہیں بیٹھے گی۔ ایک نکتہ گندگی کا ہو تو ساری مکھیاں وہاں جمع ہو جائیں گی۔ ایک انسان وہ ہوتا ہے جس کو سیر وتفریح میں گندگی نظر آتی ہے، اچھائی نظر نہیں آتی۔ اسلام نے ایسی تفریح کو پسند نہیں کیا۔ جاتے ہیں تو نامحرم عورتوں کو ہی تاڑتے ہیں کہ یہاں کوئی نامحرم عورت ملے۔ یہی دیکھتے ہیں کہ یہاں کوئی خلاف شریعت کام اور سرگرمی ہو تو پتہ لگائیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ یہ منفی تفریح ہے جسے آپ کہہ سکتے ہیں کہ مکھی کا مزاج ہے۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ جب تفریح کے لیے جاؤ تو سیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المجرمین (النمل: ۶۹) جب جاؤ تو ہر چیز کو عبرت کی نظر سے دیکھو۔ یہ دیکھو کہ پچھلی اقوام کا عروج وزوال کیسے ہوا۔ جو قومیں مٹ گئیں، ان کے آثار باقی ہیں۔ ان کے آثار محض تاریخی چیز کے طور پر نہ دیکھو، بلکہ یہ دیکھو کہ ان کو زوال کیوں ہوا؟ ان کی غلطیاں کیا تھیں؟ ان کی کمزوریاں کیا تھیں؟ گویا تاریخ کو سیر سے وابستہ کر دیا کہ اس سیر کو تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بنا دیا۔ اسی نظریے کے ساتھ سیر کے لیے جاؤ، ہر جگہ جاؤ۔ بعض جگہ ایسے تاریخی اور عبرت انگیز مقام نہیں ہوتے تو مظاہر کائنات کو دیکھو۔ (الی الارض کیف سطحت)۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو کیسے بچھایا۔ شہر میں آپ دیکھیں تو اس کو احساس نہیں ہوگا کہ الی الارض کیف سطحت۔ لیکن ریگستان میں کسی پہاڑ کے قریب جا کر دیکھیں تو وہاں جا کر پتہ چلے گا کہ اللہ نے کیسے بچھایا۔ واقعی پتہ چلتا ہے کہ اللہ نے بچھایا۔ الی الابل کیف خلقت۔ اور نہیں تو کسی جانور پر غور کرو کہ اللہ نے اسے کیسا پیدا کیا۔اللہ کی حکمت کیا ہے۔ کسی بھی چیز پر غور کرنا شروع کردیں۔
ایک مرتبہ میرے ایک دوست نے مجھے ایک کتاب دکھائی جو ایک ماہر شخص نے پی ایچ ڈی کے تھیسس کے طور پر ایک آلو پر لکھی تھی۔ سچی بات یہ ہے کہ مجھے پہلے اس کا اندازہ نہیں تھا کہ اللہ کی ہر چیز پر غورکرنے سے اللہ کی قدرت سامنے آتی ہے۔ آلو کو سامنے رکھ کر ایک بڑی موٹی کتاب لکھی تھی کہ آلو میں کیا کیا ہوتا ہے؟ آلو میں پوری کائنات موجود تھی۔ اس کو مائیکرو اسکوپ کے ذریعے دیکھا تو جیسے دنیا کے اندر نہریں، سمندر اور جانورموجود ہیں، اس آلو کے اندر موجود تھے۔ چھوٹے مائیکرو اسکوپ کو اس آلو کے اندر لگا کردیکھاتو پورا کرۂ ارض اس آلو میں موجود ہے۔ اللہ کی مخلوقات اور ان میں تعارض اور تناسل، نہریں، پانی اورغذائیں اور پودے، سب کچھ اس چھوٹے سے آلو میں موجود تھا۔ جب انہوں نے مجھے وہ کتاب دکھائی اور مجھے اس کے بارے میں بتایا تو سچی بات یہ ہے کہ غیر معمولی انداز میں مجھے قرآن مجید کی وہ آیتیں یاد آئیں کہ جس چیز میں غور کرو گے، اللہ کی قدرت کو پاؤ گے۔ یہ قرآن پاک کی پہلی تعلیم ہے۔ اس لیے جب انسان سیر کے لیے جائے گا تو ایک لمحہ بھی مقاصد عالیہ اس کی نظروں سے اوجھل نہیں رہیں گے۔ مقاصد عالیہ اس کی نظروں میں رہیں گے۔ اللہ کی قدرت اور اس کی توحید، کائنات کی عظمت، اپنا مقام اور ذمے داری اس کو یاد رہیں گی۔ تفریح بھی ہورہی ہے، مقاصد عالیہ سے بھی وابستگی ہے اور خود بخود ایک سبق بھی مل رہا ہے۔
دوسری چیز جو تفریح کے طور پر انسان کرتا ہے، وہ آپس میں مقابلہ ہوتا ہے۔ ہر انسان ایک مثبت چیز میں مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ شریعت نے تعلیم دی ہے کہ مقابلہ اچھی چیز ہے، لیکن مقابلہ کسی برائی میں نہ ہو، کسی منفی چیز میں نہ ہو، مقابلہ کسی تباہ کن چیز میں نہ ہو۔ مقابلہ کسی مثبت اور خیر کی چیز میں ہو: وفی ذلک فلیتنافس المتنافسون (المطففین:۲۶)۔ خیر کے کاموں میں مقابلہ کرو، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ ایک شخص خطاط ہے۔ آپ اس سے بڑھ کر خطاط بننا چاہیں۔ ایک شخص اچھا قاری ہے، آپ اس سے بڑھ کر اچھا قاری بننا چاہیں۔ ایک شخص اچھا ماہر ریاضیات ہے، آپ اس سے بڑھ کر ماہر ریاضیات بننا چاہیں۔ ایک شخص اچھا معمار ہے، آپ اس سے اچھا معمار بننا چاہیں۔ جو چیزیں بھی مثبت ہیں، تعمیری ہیں، اس دنیا کے بارے میں ہوں یا آخرت کے بارے میں ہوں یا دین کے بارے میں ہوں، ان میں مقابلہ اچھی بات ہے۔ ایک بہن اچھی cook ہے، دوسری بہن اس سے اچھی cook بننا چاہتی ہیں۔ ایک بہن کو بریانی اچھی بنانی آتی ہے، دوسری بہن اس سے اچھی بریانی بنانا سیکھ لے۔ اس میں مقابلہ کرنے میں حرج نہیں، مقابلہ کرنا چاہیے۔ ہر اچھی، مثبت اور تعمیری سرگرمی میں صحت مندانہ مقابلہ، یہ قرآن مجید کی تعلیم کے بالکل مطابق ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نوجوان صحابہ میں اس طرح کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔ وہ زمانہ ایسا تھا کہ ہر وقت دشمنوں کا خطرہ تھا، ہر وقت مسلمانوں کو جہاد کے لیے تیار رہنا پڑتا تھا۔ آٹھ سالوں میں ۸۲ غزوات کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نکلنا پڑا۔ اب اگر calculate کریں تو ہر ماہ یا ڈیڑھ ماہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نکلنا پڑا۔ اسی طرح ایمرجنسی کی بھی کیفیت تھی اور یہ کیفیت تھی کہ رات کو اگر کہیں سے شور کی آواز آئے تو لوگ سمجھتے تھے کہ باہرسے کسی نے حملہ کر دیا ہے۔ آٹھ سال کا عرصہ تقریباًہر لمحہ ایمرجنسی کا زمانہ رہا۔ اس لیے اس کی ضرورت تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت صحابہ کرامؓ کوجہاد کی تربیت دیں، چنانچہ نوجوانوں میں جب مقابلے ہوتے تھے تو تیر اندازی کے ہوتے تھے یا گھوڑ دوڑ کے ہوتے تھے یا اونٹ دوڑ کے ہوتے تھے یا تلوار بازی کے ہوتے تھے یا اسی طرح کے مردانہ مقابلے ہوتے تھے کہ جس میں کھیل بھی ہو، تفریح بھی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیتنے والے کو انعام بھی دیا کرتے تھے کہ جو جیتے گا، اس کو انعام بھی دیں گے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تعمیری کاموں میں صحت مندانہ مقابلہ اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش، یہ قرآن مجیدکے مطابق بھی ہے، سنت کے مطابق بھی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مقابلوں کا اہتمام کیاہے۔
امہات المؤمنینؓ اور صحابیاتؓ میں اور قسم کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔ کھانا پکانے کے، سینے کے، گنتی سیکھنے کے، حساب سیکھنے کے یا اس زمانے کے گھریلو حساب سے ہوم اسٹڈی (Home study) یا ہوم اکنامکس (Home Economic) کہہ سکتے ہیں، وہ صحابیات میں رائج تھی اور وہ صحابیات سیکھتی تھیں ۔ایک دوسرے سے علم قرآن کا مقابلہ تو تھا ہی۔ علم حدیث کا مقابلہ بھی تھا، لیکن اس زمانے کے لحاظ سے جو خالص دنیوی علوم کی چیزیں تھیں جیسے کھاناپکانا یا سینا، ان میں بھی آپس میں ایک دوسرے سے بڑھنے کا سلسلہ تھا۔
ایک تیسری چیز ہوتی ہے، کھیل کود۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے صاحبزادوں نے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمیں اجازت دیں۔ ہم باہر پکنک کے لیے جارہے ہیں، اپنے بھائی کو بھی ساتھ لے لیں۔ یرتع ویلعب (سورۃ یوسف :۱۲) ہمارے ساتھ کھیلے کودے اور جنگل میں کھائے پیے۔ پیغمبر نے اجازت دے دی۔ قرآن پاک کی تفسیر کا یہ اصول ہے کہ سابقہ انبیاء علیہم السلام کی جو شریعت قرآن پاک میں بیان ہوئی ہے اور اس کی منسوخی کی کوئی ہدایت یا Indication نہیں ہے، وہ ہمارے لیے شریعت ہے۔ یہ قرآن کا اصول ہے۔ ہر وہ حکم جو سابقہ انبیاء علیہم السلام کے حوالے سے قرآن پاک میں یا سنت میں اور صرف قرآن وسنت میں آیا ہے، اس کی یہ حیثیت ہے۔ یہاں غلط فہمی نہ ہو۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ایک مرتبہ میں نے کہیں تقریر کی تو کسی نے یہ بات کہی کہ تورات اور انجیل کو بھی میں نے شریعت کا ماخذ بنا دیا ہے۔ قرآن پاک میں اور سنت میں سابقہ انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کے بارے میں جو فرمودات نقل ہوئے ہیں، اگر وہ فرمودات کسی منسوخی کی ہدایت کے ساتھ نہیں ہیں تو وہ ہماری شریعت کا حصہ ہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: وکتبنا علیہم فیھا ان النفس بالنفس والعین بالعین (المائدۃ:۴۵) ہم نے یہودیوں پر فرض کیا تھا تورات میں کہ نفس کے بدلے نفس، جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ۔ یہ بعینہ ہمارے لیے حکم ہے، حالانکہ تورات کے حوالے سے قرآن پاک میںآیا ہے، لیکن چونکہ منسوخی نہیں آئی، اس لیے ہمارے لیے حکم ہے۔
حضرت یعقوب علیہ السلام کی سنت ایک پیغمبر کی سنت ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو کھیل کود کی اجازت دے دی۔ اس لیے کہ بارہ تیرہ سال کی عمرمیں ایک خاص اسٹیج ہوتا ہے جس میں زیادہ فلسفہ آپ ان کے دماغ پر لاد نہیں سکتے۔ یہ بھی غلط ہوتا ہے۔ بعض ماں باپ کو میں نے دیکھا کہ چھ یا سات سال کا بچہ ہے، اس کے دماغ میں ٹھونس رہے ہیں کہ آپ کو کیا بننا ہے۔یہ بچے کے مزاج کے خلاف ہے۔ اس کو کھیلنے دیں۔ کھیل کود سے جسمانی طور پر اس کی صحت میں اضافہ ہوگا۔ یہ چیز انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کے مطابق ہے۔ البتہ کوشش کرنی چاہیے کہ اس میں بچے کی دلچسپی کو برقرار رکھتے ہوئے جتنی تربیت دی جاسکتی ہے، اتنی تربیت آپ دیں۔ بچیوں کی تربیت اور انداز کی ہوگی، لڑکوں کی اور انداز کی ہوگی۔ یہ ہر ماں باپ اپنے طور پر طے کرلیں۔ اپنے بچوں کے لحاظ سے طے کریں کہ ان کے بچے کا بیک گراؤنڈ کیا ہے، ان کا پس منظر کیا ہے، ان کے ذہن میں بچے کے مستقبل کے بارے میں کیا آرزوئیں اور تمنائیں ہیں اور اس کے حساب سے بچے کو تیار کریں۔
یہ تین تفریحیں ہیں جن کو اسلام نے اپنے تمام مقاصد سے ہم آہنگ کر دیا ہے۔ ان تفریحوں پر آپ بقیہ تمام تفریحوں کو قیاس کرسکتے ہیں۔ تفریح کی جو بھی شکل آپ ایجاد کریں یا جو بھی قوم ایجاد کرے، وہ انہی حدود کی پابند اور اسی نقشے کے مطابق ہو۔
تہوار کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لکل قوم عید وھذا عیدنا۔ ہر قوم کی ایک عید یا تہوار ہوتا ہے اور یہ ہماری عید اور تہوار ہے۔ تہوار کے بارے میں، میں نے عرض کیا کہ مختلف اقوام میں مختلف چیزوں کا رواج ہے۔ کہیں بادشاہ تخت پر بیٹھا تو تہوار ہے، کہیں جنگ میں فتح ہوئی تو تہوار ہے، کوئی دیوتا کے نام پر تہوار ہے، کہیں موسم کے بدلنے پرتہوار ہے۔ اسلام نے کوئی ایسی چیز نہیں رکھی۔ اسلام نے جو تہوار رکھے ہیں، وہ ایسے تہوار ہیں، ان کی Timing ایسی ہے کہ پوری امت مسلمہ اس کو ایک وقت میں مناسکتی ہے۔ یہ نہیں ہوگا کہ یہاں تو بہار شروع ہوگئی، وہاں بیس دن کے بعد شروع ہوگی، فلاں جگہ سرے سے بہار کا موسم آئے گا ہی نہیں۔ صرف سردی کا موسم ہے یا گرمی کا۔سائبیریا میں نہ خزاں کا تصور ہے، نہ سردی کا نہ گرمی کا۔ تو فرض کیجیے کہ اسلام بہار سے نو روز کو تسلیم کرتا ہے کہ نو روز سے عید ہوا کرے گی تو سائبریا کے مسلمان کیا کرتے؟ ان کے لیے تو نہ نوروز ہے نہ تین روز، کچھ بھی نہیں۔ اسی لیے اسلام نے ایسی کوئی چیز نہیں رکھی جو سارے مسلمانوں کے لیے قابل عمل نہ ہو۔ یہ دوتہوار جو اسلام نے رکھے ہیں (تہوار کا لفظ میں صرف مناسبت سے بول رہاہوں، ورنہ عید کا لفظ بولنا چاہیے) اس میں سے ایک عید الفطرہے اور ایک عید الاضحی۔ یہ دو وہ تہوار ہیں جو اسلام نے مسلمانوں کو دیے ہیں۔
خلاصۂ کلام
گفتگو کا خلاصہ بیان کردیتا ہوں کہ اسلام نے تفریح کی اجازت دی ہے۔ اسلام نے دو تہوار فراہم کیے ہیں۔ اسلام نے تفریح کو اخلاقی اور دینی حدود کا پابند قرار دیاہے، تفریح کے وہ آداب دیے ہیں جو انسانوں کی فلاح اور بہبود کے ضامن ہوں۔ تفریح میں ان حدود سے تجاوز کرنے سے منع کیا ہے جو دینی اعتبار سے، اخلاقی اعتبار سے، معاشرتی اعتبار سے، معاشی اعتبار سے، کسی بھی اعتبار سے انسانوں کے لیے نقصان دہ ہوں۔ جو تہوار دوسری قوموں میں رائج ہیں، وہ سارے کے سارے ایسی بنیادوں پر استوار ہیں جو ملت مسلمہ کی عالمگیریت کے خلاف ہیں یا عقیدۂ توحید کے خلاف ہیں، اسی لیے اسلام نے ان تہواروں کو قبول نہیں کیا۔ ان سے یا عالمگیریت متاثر ہوتی ہے یا عقیدہء توحید متاثر ہوتا ہے، اس لیے ایسے تہوار دیے ہیں جن سے عقیدۂ توحید بھی بدرجہ اتم مکمل رہتاہے اور عالمگیریت بھی بدرجہ اتم emphasize ہوتی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو ان غیر اسلامی تہواروں سے اجتناب کرنا چاہیے اور اپنے بہن بھائیوں کو سمجھانا چاہیے کہ جب وہ خوشی منائیں تو شریعت کے حدود کے اندر منائیں، جب کسی تفریح کا بندوبست کریں تو شریعت کے حدود کے مطابق کریں۔ اس میں دنیا کی بھلائی بھی ہے اور آخرت کی بھلائی بھی ہے۔
اسلام اور جدید تجارت و معیشت
ڈاکٹر محمود احمد غازی
(جامعۃ الرشید کراچی میں تقریب تقسیم اسناد کے موقع پر ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا خطاب)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلی آلہ واصحابہ اجمعین
قابل احترام علماء کرام ! میرے انتہائی عزیز طلبہ اور دوستو!
سب سے پہلے میں اپنی طرف سے اور آپ سب کی طرف سے ان طلبہ کی خدمت میں مبارک با د پیش کرتا ہوں جو آج فارغ التحصیل ہوئے اور ایک ایسے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ اور وسیلہ بنے جو امت مسلمہ تقریباً ایک سو سال سے دیکھ رہی تھی۔
برادران محترم! آج دنیاے اسلام کوجو مشکلات اور چیلنجز درپیش ہیں، ان میں سب سے بڑا چیلنج اور سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ دور جدید کی زبان میں، دور جدید کے محاورے میں اور دور جدید کے اسلوب میں قرآن مجید اور حدیث کو بیان کیا جائے۔ آج زبان بدل چکی ہے، محاروہ بدل چکا ہے، اصطلاحات بدل چکی ہیں اور اسلوب بدل چکا ہے، اس لیے آج کل کی زبان میں انسانوں تک اور آج کل کے لوگوں تک قرآن وسنت کی تعلیم کوپہنچانا ان تمام حضرات کے ذمے فرض عین کی حیثیت رکھتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے شریعت کے علم سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ اس نے جس نبی یا پیغمبر کو بھیجا، اس علاقے اور اس قوم کی زبان اور محاورے کے ساتھ بھیجا جو وہ قوم استعمال کرتی تھی۔ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِہِ۔ (۱۴:۴) لسان میں محض لغت شامل نہیں ہے۔ لسان میں لغت بھی شامل ہے، محاروہ اور اسلوب بھی شامل ہے، طرز استدلال بھی شامل ہے اور وہ ثقافتی مظاہر بھی شامل ہیں جن کا تعلق زبان اور اظہار بیان سے ہوتا ہے۔ آج جس میدان میں شریعت کی تعلیم کو اس نئے انداز سے بیان کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ اسلام کا قانون معاملات ہے۔
معاملات اور تجارت کے احکام کو شریعت نے اتنی اہمیت دی ہے کہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ دنیا کے کسی مذہب نے، تاریخ کے کسی نظریے نے اور کسی فلسفے نے معیشت وتجارت کو وہ مقام اور اہمیت نہیں دی جو اسلام نے دی ہے۔ دنیا کے کسی نظام نے معیشت اور تجارت کو اخلاق اور روحانیات سے اس طرح وابستہ نہیں کیا جس طرح اسلام نے ان دونوں کو وابستہ کر دیا ہے۔ دنیا کے کسی نظام میں معیشت وتجارت کی عمارت اخلاقی بنیادوں پر اس طرح قائم نہیں ہوتی جس طرح اسلام نے قائم کی ہے۔ مغربی ماہرین نے یہ بات تسلیم کی ہے۔ ایک بڑے مشہور مغربی ماہر قانون نے لکھا ہے کہ اسلامی شریعت نے اخلاقی قواعد اور اصولوں کو اپنے قانون کے اندر اس طرح سمو دیا ہے کہ قانون پر عمل کرنے والا خود بخود اخلاق پر عمل درآمد کرتا ہے اور اسلام کے اخلاقی اصول کی پاسداری کرنے والا خود بخود اسلام کے قانون پر عمل درآمد کرتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے مکمل طور پر ہم آہنگ اور ایک دوسرے سے مکمل طور پر وابستہ ہو گئے ہیں۔ مغربی دنیا نے اپنی تاریخ کے ایک دور میں بعض گمراہیوں کی وجہ سے قانون اور اخلاق، قانون اور روحانیات کے رشتے کو توڑ دیا۔ مغربی دنیا نے یہ طے کیا کہ قانون وہ ہوگا جس کا اخلاق اور روحانیات سے تعلق نہ ہو۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج قانون کی اصل بنیاد ختم ہو چکی ہے۔ آج غیر اخلاقی اور لااخلاقی تصورات کو قانون کے دائرے میں داخل کیا جا رہا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قانون اپنی اہمیت، اپنی افادیت اور اپنی تاثیر کھوتا چلا جا رہا ہے۔ یہ دنیا میں جو روز بروز لاقانونیت بڑھ رہی ہے، دنیا کی حکومتیں اور بڑے بڑے قائدین جس طرح قوانین کو توڑ رہے ہیں، دنیا کے طے شدہ اصولوں کی جس طرح مٹی پلید کی جا رہی ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ، اصل وجہ اور اہم وجہ یہ ہے کہ مغربی دنیا نے قانون اور اخلاق کے رشتے کو توڑ دیا ہے۔ اسلامی شریعت نے پہلے دن سے قانون اور اخلاق، ان دونوں کے رشتے کو اس مضبوطی سے قائم کیا تھا کہ وہ رشتہ آج تک اسی مضبوطی کے ساتھ قائم ہے۔
قانون اور اخلاق کی ضرورت مدرسوں اور خانقاہوں میں اتنی نہیں پڑتی۔ خانقاہوں میں بڑی تھوڑی ضرورت ہوتی ہے۔ مدرسوں میں اور مسجدوں میں ضرورت بہت محدود ہوتی ہے۔ اخلاق اور روحانی اقدار کی ضرورت بازار میں ہوتی ہے۔ اخلاق اور روحانیات کی ضرورت تجارت اور معیشت میں ہوتی ہے۔ جس زمانے میں امام محمد بن الحسن الشیبانی اپنی کتابیں تالیف کر رہے تھے، اس زمانے کے بہت سے محدثین نے زہد پر کتابیں لکھیں۔ امام عبداللہ بن المبارک کی کتاب الزہد اور امام احمد بن حنبل کی کتاب الزہد مشہور ہے۔ متعدد محدثین نے، جن کی تعداد ایک درجن کے قریب ہے، زہد کے موضوع پر کتابیں لکھیں۔ کسی نے امام محمد سے پوچھا کہ آپ نے زہد پر کتاب نہیں لکھی؟امام محمدنے جواب دیا کہ میں نے کتاب الکسب اور کتاب البیوع لکھ دی ہے۔ خرید وفروخت کے احکام پر، فقہ المعاملات پر میں کتاب لکھ چکا ہوں جو کتاب الزہد کے تمام تقاضوں کو پورا کرے گی۔ یہ بات امام محمد نے کسی کمزور بنیاد پر نہیں فرمائی۔ امام محمد کے اس قول کی تشریح میں امام غزالی نے لکھا ہے کہ مدرسے میں اور خانقاہ میں بیٹھ کر اور اپنے گھر کی تاریکی میں بیٹھ کر استغنا وزہد کی بات کرنا آسان ہے، لیکن بازار میں جہاں خرید وفروخت کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں، جہاں دھوکہ دہی کے لیے سو مواقع روزانہ پیدا ہوتے ہیں، کم تولنے کے موقع پیدا ہوتے ہیں، گھٹیا سودا دینے اور بڑھیا سودے کی قیمت لینے کے مواقع روز پیدا ہوتے ہیں اور بازار میں بیسیوں آدمی روز یہ کام کر رہے ہوتے ہیں، اس وقت جب ایک شخص اس ناجائز روزی سے بچتا ہے اور جائز اخلاقی، قانونی، دینی تقاضوں کے مطابق تجارت کرتا ہے تو وہ ہر لمحے شیطان کے گلے پر چھری چلاتا ہے۔ یہ جو نفس کا شیطان ہے، اس کے گلے پر چھری چلانا آسان نہیں ہے۔ مسجد میں بیٹھ کر چلائی جا سکتی ہے، خانقاہوں میں چلائی جا سکتی ہے، لیکن جس بازار میں آپ لاکھوں روپے کا کاروبار کر رہے ہوں اور وہ وہاں ایک معمولی غلط بیانی سے لاکھوں روپے کا فائدہ ہونے کا امکان ہو، وہاں اللہ کو حاضر ناظر جان کر اس فائدے سے اپنے کو محروم کرنا یہ دراصل وہ تربیت ہے جو اس روحانی اور اخلاقی اصول سے قائم ہوتی ہے جس پر شریعت نے اپنے احکام کی بنیاد رکھی ہے۔
اللہ کی حکمت بالغہ کو یہ بات پہلے سے معلوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے لامتناہی علم میں یہ بات پہلے سے موجود تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دور ایک بین الاقوامیت کا دور ہوگا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے تمام پیغمبر ، تمام آسمانی مذاہب اور تمام آسمانی کتابیں علاقائی پیغام لے کر آئے۔ کسی نے کہا کہ میں بنی اسرائیل کی بھیڑوں کوراہ راست پر لانے کے لیے آیا ہوں۔ کسی نے کہا کہ میں تو بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دلانے آیا ہوں۔ کسی نے کہا کہ میں تو اپنے گاؤں میں آیا ہوں اور اپنے گاؤں کے فلاں حصے کے لیے آیا ہوں۔ قرآن پاک میں شہادت ہے کہ ایک ایک گاؤں میں تین تین نبی اللہ نے بھیجے۔ ایک گاؤں میں تین نبی ہوں گے تو چند گھروں کے ایک نبی ہوں گے اور دوسرے چند گھروں کے دوسرے ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دور میں بھیجا گیا جو بین الاقوامی اور عالمگیر دور تھا اور عالمگیریت کا آغاز ہو رہا تھا۔ آپ دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالیں۔ بین الاقوامیت کا دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے چند عشرے، نصف صدی پہلے شروع ہوا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جدامجد جناب ہاشم بن عبد مناف نے بین الاقوامی تجارتی سفروں کا سلسلہ شروع فرمایا۔ رحلۃ الشتاء والصیف کا قرآن میں بھی ذکر ہے۔ یہ سفر جناب ہاشم بن عبد مناف کی کوششوں سے شروع ہوا۔ ہاشم نے قیصر روم سے اور شہنشاہ ایران سے اجازت لے کر ان سفروں کے لیے راہداری کے پرمٹ جاری کرائے تھے۔ پھر جناب عبد المطلب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عم محترم جناب عباس بن عبد المطلب کا بڑا کاروبار تھا۔
یہ بات محض اتفاق نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے پندرہ بیس سال پہلے سے تجارت سے وابستہ تھے اور بطور صادق اور امین کے پورے جزیرۂ عرب میں معروف تھے۔ اسلام کی صف اول کی تمام شخصیات کا تعلق تجارت سے تھا۔ خلفاے اربعہ اور خاص طور سے سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عثمان غنی، اسی طرح عشرہ مبشرہ میں سے بڑی تعداد اور اکثریت کا تعلق تجارت سے تھا۔ سیدنا عبد الرحمن بن عوف، سیدنا زبیر بن عبد المطلب، سیدنا زبیر بن العوام سب تجارت کرتے تھے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے، یہ اس لیے ہے کہ یہ ایک ایسی شریعت کے اولین علم بردار تھے جو بین الاقوامی شریعت تھی۔ بین الاقوامی معاملات اور تعلقات میں سب سے اہم چیز ہمیشہ سے تجارت اور معاشی معاملات رہے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی روابط کی سب سے بڑی اساس تجارت اور لین دین ہے۔ یہ حضرات پہلے سے بین الاقوامی تجارتی لین دین کر رہے تھے۔ گویا اگر میں یہ عرض کروں تو میں حق بجانب ہوں گا کہ اسلامی شریعت اور تجارت کا پہلے دن سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اسلامی شریعت اور بین الاقوامی معیشت دونوں پہلے دن سے ایک دوسرے سے وابستہ اور لازم وملزوم ہیں۔ یہ پیغام لے کر وہ شخصیات اٹھیں جو پہلے سے اس میدان میں تھیں، اس لیے کہ اگر کسی ایسی قوم کویہ پیغام دیا گیا ہوتا جو تجارت اور بین الاقوامی معیشت سے ناواقف ہوتی تو اسلام کے ان احکام پر عمل درآمد شاید اتنی آسانی سے نہ ہو سکتا اور اسلام کے وہ احکام جو پہلی صدی ہجری میں مرتب ہونا شروع ہو گئے، وہ شاید نہ ہو سکتے۔
آج اسلام سے پہلے دور کے متعدد قدیم قوانین موجود ہیں اور کتابوں میں لکھے ہوئے دستیاب ہیں۔ یہودیت کا قانون موجود ہے، ہندو لا موجود ہے، رومن لا موجود ہے،لیکن یہ بات میں بلاتامل آپ سے عرض کر رہا ہوں کہ اسلام سے پہلے دنیا کے کسی بھی نظام اور قانون میں تجارت اور معیشت پر وہ زور نہیں دیا گیا جو اسلامی شریعت نے دیا ہے۔ اسلامی شریعت کے نزول کی تکمیل کے ڈیڑھ سو سال کے اندر اندر ائمہ اسلام نے درجنوں کتابیں ان قوانین پر مرتب فرما دیں۔ امام شافعی کی کتاب الام پورا انسائیکلو پیڈیا ہے۔ اس کا جو نیا ایڈیشن چھپا ہے، وہ پندرہ جلدوں میں ہے اور انسائیکلو پیڈیا سے زیادہ ضخیم ہے۔ اسے تن تنہا ایک فقیہ نے بیٹھ کر مرتب کیا اور اس میں تجارت کے احکام اور قوانین کی جتنی شکلیں ہو سکتی ہیں، ان سب سے بحث کی ہے۔ امام محمد نے ان مسائل پر بحث کی ہے۔ امام محمد سے پہلے ان کے اور امام شافعی کے استاذ امام مالک نے اپنی المدونہ میں، جو چھ جلدوں میں ایک ضخیم کتاب ہے اور بارہا چھپی ہے، تجارت اور معیشت کے تمام جزوی سے جزوی مسائل بیان کیے ہیں۔
تجارت اور معیشت کے احکام بیان کرنا آسان کام نہیں ہے۔ قرآن پاک کی ان تمام آیات کو جب سامنے رکھا گیا جن میں تجارت اور معیشت کے بارے میں ہدایات دی گئی ہیں تو ایک ایک آیت اور ایک ایک لفظ سے ایک ایک فقیہ نے ہزاروں احکام کا استنباط کیا۔ ایک مرتبہ امام شافعی کسی مسجد میں نماز ادا فرما رہے تھے۔ جن بزرگ نے عشا کی نماز کی امامت کی، انھوں نے سورۂ بقرہ کی آخری آیات کی تلاوت کی۔ امام شافعی رات کو آکر سو گئے۔ صبح اٹھے تو شاگرد نے پوچھا کہ حضرت، رات کو نیند آگئی، اچھی طرح سے سوئے؟ امام شافعی نے کہا کہ میں تو ایک منٹ کے لیے نہیں سویا۔ پوچھا جی کیوں؟ امام شافعی نے فرمایا کہ جب تم نے یہ آیت تلاوت کی: وَ إِن کَانَ ذُو عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ إِلَی مَیْْسَرَۃٍ (۲:۲۸۰)۔ قرض دار کا ذکر ہے۔ قرض کے احکام بیان ہوئے ہیں کہ اگر تمھارا مقروض تنگ دست ہو تو اسے اس وقت تک مہلت دی جائے، اس وقت تک چھوٹ دی جائے جب تک اس کے پاس خوش حالی نہ آجائے، جب تک اس کے ہاتھ نہ کھل جائیں۔ امام شافعی نے فرمایا کہ میں نے اس آیت پر غور شروع کیا تو مجھے یہ پتہ چلا کہ اس میں تو اسلام کا قانون افلاس بیان کیا گیا ہے۔ It is the basis of the law of insolvency in Islam۔ افلاس (Insolvency) کیا ہے؟ وَإِن کَانَ ذُو عُسْرَۃٍ ۔ آدمی اپنی مالی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔ جس آدمی کی مالی ذمہ داریاں اور قرضے اس کے وسائل سے بڑھ جائیں، اس کو قانون میں مفلس کہتے ہیں۔ وہی صورت حال یہاں بیان ہوئی ہے۔ پھر امام شافعی نے فرمایا کہ فوراً ذہن میں یہ آیا کہ اس آیت کا منشا یہ ہے کہ شریعت نے جو اخلاق معاملات اور تجارت کے بارے میں سکھائے ہیں، وہ قانون افلاس کی بنیاد ہونے چاہییں۔ پھر میرے ذہن میں یہ آیا کہ یہ ہونا چاہیے۔ پھر یہ ذہن میں آیا، پھر یہ ذہن میں آیا۔ امام شافعی بیان فرما رہے ہیں اور طلبہ اور شاگرد سن رہے ہیں۔ پھر امام شافعی نے فرمایا کہ میں نے اس آیت سے ایک سو آٹھ مسئلے اخذ کیے ہیں۔ تین حرفی آیت ہے۔ اس تین حرفی آیت سے ایک سو آٹھ مسئلے امام شافعی نے قانون افلاس کے مرتب فرمائے۔
اس ایک مثال سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ تجارت اور معیشت کے احکام کی اسلام کے نظام میں کتنی اہمیت ہے۔ فقہاے اسلام نے قانون تجارت اور قانون معیشت یعنی فقہ المعاملات کے جو مسائل منقح کیے، ان میں سے کئی مسائل ایسے ہیں کہ آج بھی مغربی دنیا ان تک نہیں پہنچی۔ انسان کا مزاج یہ ہے کہ گھر کی مرغی دال برابر ہوتی ہے۔ یہ جو ذخائر کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں، اس کی اہمیت کا احساس نہیں ہوتا، اگر تقابل نہ کیا جائے۔ وبضدہا تتبین الاشیاء۔ جب تک یہ نہ دیکھا جائے کہ دوسرے کیا کہتے ہیں، دوسروں کا نظام اور دوسروں کا قانون کیا بتاتا ہے، اس وقت تک اپنی دولت کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا۔ اس لیے صحابہ کرام کے دور سے، فقہاے اسلام اور مجتہدین کے دور سے ان کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب شریعت کے احکام پر غور کیا جائے، شریعت کے احکام کو نافذ کیا جائے تو یہ بھی دیکھا جائے کہ شریعت سے انحراف کے کون کون سے راستے بازار میں موجود ہیں۔ اس سے ایک تو ان راستوں کو بند کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ دوسرے شریعت کے احکام کے راستے میں رکاوٹوں کا ادراک ہوتا ہے۔ پھر اس ادراک کی وجہ سے ان رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ سیدنا عمر فاروق کا واقعہ مشہور ہے۔ کئی مورخین نے اور سیرت نگاروں نے نقل کیا ہے کہ وہ کسی منصب کے لیے کسی ذمہ دار آدمی کی تلاش میں تھے۔ سیدنا عمر فاروق کا طریقہ تھا کہ کثرت سے صحابہ کرام سے مشورہ کیا کرتے تھے اور کثرت سے مشورہ کرنے کے بعد، غور کے بعد کسی منصب کے لیے افراد کا تقرر کرتے تھے۔ اس دوران میں کسی صحابی نے یا کسی دوست نے کسی صاحب کا نام لیا اور مشورہ دیا کہ آپ ان کو مقرر کر دیں، وہ بہت نیک آدمی ہیں، بہت متقی ہیں۔ بہت ان کی تعریف کی اور تعریف میں کہا کہ کانہ لا یعرف الشر، گویا کہ وہ شر کو جانتے ہی نہیں۔ اتنے اچھے آدمی ہیں کہ سراپا صلاح وتقویٰ ہیں اور شر کو جانتے ہی نہیں۔ سیدنا عمر فاروق نے فرمایا کہ ایسا آدمی نہیں چاہیے، اس لیے کہ اذا یوشک ان یقع فیہ۔ جو شر کو نہیں جانتا، وہ تو شر میں مبتلا ہو جائے گا۔ اسے پتہ ہی نہیں چلے گاکہ شر کیا ہے اور خیر کیا ہے۔ ایسا آدمی چاہیے جو خیر کو بھی جانتا ہو اور شر کو بھی جانتا ہو۔
اس لیے صحابہ کرام کے زمانے سے یہ سنت چلی آ رہی ہے کہ ائمہ اسلام نے اپنے دور کے تمام رائج الوقت طریقوں اور نظاموں کو جانا پہچانا، ان کا ادراک کیا۔ اس ادراک کے بعد جو مسائل سامنے آئے، ان کو سامنے رکھ کر شریعت کے احکام کومرتب کیا۔ جب سادہ زمانہ تھا، یہودیوں اور کفار مکہ کی گمراہیاں تھیں، عیسائیوں کی گمراہیاں تھیں، تجارت کے معمولی طریقے تھے تو ائمہ مجتہدین نے ان طریقوں سے واقفیت حاصل کی۔ امام محمد بن الحسن الشیبانی کا یہ واقعہ بہت مشہور ہے کہ جس زمانے میں وہ بیوع اور تجارت کے احکام مرتب فرما رہے تھے تو اس زمانے میں بازار میں جا کر بیٹھا کرتے تھے۔ اپنے وقت کا ایک حصہ انھوں نے اس کام کے لیے رکھا تھا کہ بازار میں جا کر بیٹھیں اور دیکھیں کہ تجارت کیسے ہوتی ہے، کاروبار کیسے ہوتا ہے تاکہ ان کو پتہ چلے کہ کاروبار کے طریقے کون کون سے ہیں اور کیا ہیں، تاکہ اس کی روشنی میں وہ شریعت کے احکام کو مرتب کر سکیں۔ پھر جب یونانی علوم وفنون کا دور شروع ہوا تو ائمہ اسلام کی بڑی تعداد نے یونانی علوم وفنون کو حاصل کیا۔ فلسفہ، منطق، ریاضی، اس راستے سے آنے والی گمراہیوں کا سد باب کیا۔ امام غزالی، امام رازی، ابن تیمیہ، یہ وہ شخصیتیں ہیں جنھوں نے یونانی گمراہیوں کی اس طرح موثر تردید کی کہ کوئی بڑے سے بڑا یونانی فلسفی اور منطقی اسلام کے کسی بھی حکم پر اعتراض نہیں کر سکا، حتیٰ کہ خالص اسلامی علوم کو اس طرح منطقی دلائل سے مرتب اور منظم کر دیا کہ اس زمانے کا کوئی بڑے سے بڑا منطقی اصول فقہ پر یہ اعتراض نہیں کر سکتا تھا کہ اس کا فلاں مسئلہ یا فلاں اصول غیر منطقی ہے۔ علم کلام کو اس طرح مرتب کیا کہ مسلمانوں کے کسی عقیدے کو کوئی بڑے سے بڑا یونانی غیر عقلی قرار دے نہیں سکا۔
ان مثالوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ فقہاے اسلام رائج الوقت تجارت اور معیشت، رائج الوقت تصورات، رائج الوقت الحادی نظریات اور رجحانات سے پوری واقفیت حاصل کر کے شریعت کے احکام کو مرتب کر تے تھے۔ فقہاے اسلام نے فقہ المعاملات کے احکام کو مرتب کیا۔ فقہ المعاملات کے احکام کی ترتیب صحابہ کے زمانے سے شروع ہو گئی تھی۔ تابعین میں بعض حضرات نے فقہ المعاملات میں تخصص کیا۔ امام احمد بن حنبل نے ایک جگہ لکھا ہے کہ بیوع کے احکام سب سے زیادہ مرتب انداز میں سعید بن المسیب کے ہاں ملتے ہیں۔ سعید بن المسیب مشہور تابعی ہیں، سید التابعین کہلاتے ہیں اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے طویل عرصہ تک شاگرد رہے ہیں۔ انھوں نے خاص طور پر ان احادیث اور سنت کے ان احکام پر غور وخوض کیا جن کا تعلق بیوع اور تجارات سے تھا۔ ایسا ولی کامل، ایسا محدث جلیل جس کو بہت سے حضرات نے سید التابعین قرار دیا ہے، جس نے سالہاسال صحابہ کرام سے کسب فیض میں گزارے، اس نے تجارت اور معیشت میں آج کل کی اصطلاح کے لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ تخصص پیدا کیا۔ اس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ تجارت اور بیوع کی، کاروبار کی اہمیت کو صحابہ اور تابعین نے پورے طور پر پہچانا۔ بہت سے حضرات نے اس میں تخصص پیدا کیا اور اس تخصص کی بنیاد پر ائمہ مجتہدین نے احکام مرتب کیے۔
پھر ان حضرات نے صرف احکام مرتب کرنے پر اکتفا نہیں کیا۔ انھوں نے ان احکام کی بنیادیں دریافت کیں۔ شریعت نے کسی چیز کو حرام قرار دیا ہے تو کیوں حرام قرار دیا ہے؟ اس کی علت کیا ہے؟ وہ علت کہاں کہاں پائی جاتی ہے؟ اس علت کو مختلف صورتوں پر منطبق کرنے کے قواعد کیا ہیں؟ خود مال جس کو کہتے ہیں، وہ کیا ہے؟ بیع کیا ہے؟ تجارت کیا ہے؟ اس کی قسمیں کتنی ہیں؟ ان میں سے بہت سے مسائل وہ ہیں کہ مغربی دنیا آج بھی وہاں تک نہیں پہنچی۔ ہمارے یہاں مدرسے میں فقہ کی جو کتابیں طلبہ پڑھتے ہیں، وہ جب کتاب البیوع شروع کرتے ہیں تو پہلے دو تین صفحے پر مال متقوم اور مال غیر متقوم کی بحث آتی ہے۔ یہ تصور آج مغربی قانون میں اس وقت بھی موجود نہیں ہے کہ مال کی پہلے دن سے دو قسمیں کی جائیں۔ ایک وہ مال ہے جس کی مالیت کو، جس کی ملکیت کو جس کے تصرف اور جس سے استفادے کو قانون جائز تصور کرتا ہے اور ایک قسم وہ ہے جس کو جائز تصور نہیں کرتا۔ آج مغربی دنیا یہ کرنا چاہتی ہے، لیکن اس کے پاس یہ تصور نہیں ہے۔ متقوم اور غیر متقوم کا تصور آج بھی ہے۔ مثال کے طو رپر پاکستان کے قانون کی رو سے کسی کو ہیروئن رکھنے کا اختیار نہیں ہے۔ ہیروئن کی خرید بھی ناجائز، فروخت بھی ناجائز۔ وہ شریعت کی رو سے بھی مال غیر متقوم ہے، اس لیے کہ مسکر ہے، لیکن موجودہ قانون میں بھی وہ مال غیر متقوم کہی جا سکتی ہے۔ کوئی شخص اپنی ملکیت میں توپ نہیں رکھ سکتا، ٹینک نہیں رکھ سکتا۔ اگر میں ٹینک خریدوں تو وہ خرید بھی ناجائز اور جو بیچے، وہ فروخت بھی ناجائز۔ یہ بات آج مغربی دنیا کو پریشان کر رہی ہے کہ اگر کسی چیز کی خرید وفروخت پر پابندی لگائی جائے تو کس بنیاد پر لگائی جائے؟ کبھی کہتے ہیں کہ عامۃ الناس کی فلاح میں نہیں ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ اس سے نقصان ہوگا۔ مختلف اسباب بیان کرتے ہیں، لیکن کوئی سبب یا کوئی بنیاد ایسی ٹھوس اور جامع نہیں ہے جو ان تمام جزئیات کو محیط ہو جن جزئیات پر پابندی لگانا مقصود ہے۔ فقہاے اسلام نے، اللہ تعالیٰ ان کو جزاے خیر دے، متقوم اور غیر متقوم، دو اصطلاحات سے اس مسئلے کو حل کر دیا۔
سود کا مسئلہ آپ کو اکثر پیش آتا ہے۔ تاجروں کو پیش آتا ہے۔ سود میں غلط فہمیوں کی ایک وجہ اصطلاحات کا نہ ہونا بھی ہے۔ فقہاے اسلام نے مال کی دو قسمیں قرار دی ہیں۔ یہ سب فقہ المعاملات کے مباحث ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک مال وہ ہوتا ہے جس کو استعمال کیا جائے۔ ایک مال وہ ہوتا ہے جس کو خرچ کیا جائے۔ یہ پگڑیاں رکھی ہوئی ہیں، میں آپ سے لے کر سر پر باندھ لوں اور تقریر کے بعد واپس کردوں تو یہ استعمال ہے۔ آپ کی اس پگڑی کا کچھ نہیں بگڑا۔ جیسی میں نے لی تھی، ویسی ہی واپس کر دی۔ یہ استعمال ہے۔ اس کی عاریت ہوتی ہے۔ اس کو شریعت کی اصطلاح میں عاریت کہتے ہیں۔ ایک مال وہ ہے کہ جب تک میں اس کو خرچ کر کے فنا نہ کر دوں، میں اس سے استفادہ نہیں کر سکتا۔ میں آپ سے ایک گلاس پانی مانگوں تو پانی کا کوئی فائدہ نہیں جب تک میں اس کو پی نہ لوں یا اس کو ہاتھ دھو کر اس کو بہا نہ دوں۔ یہ استہلاک ہے۔ ان دونوں کے احکام میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ شریعت میں ایک کو عاریت کہتے ہیں، ایک کو قرض کہتے ہیں۔ انگریزی میں دونوں کے لیے borrow کی اصطلاح ہے۔ آپ لائبریری سے کتاب بھی borrow کرتے ہیں اور بینک سے رقم بھی borrow کرتے ہیں۔ اب جو اس فرق سے واقف نہیں ہے، وہ کہتا ہے کہ میں کتاب borrow کر کے اس کا کرایہ دے دوں تو آپ اس کو جائز کہتے ہیں اور بینک سے پیسے borrow کرو ں اور اس کا کرایہ دوں تو آپ ناجائز کہتے ہیں! اس میں فرق کیا ہے؟ وہ اس لیے نہیں سمجھتا کہ اس کے ہاں یہ تصور نہیں ہے، اصطلاحات نہیں ہیں۔
اس طرح کے بے شمار احکام ہیں جو فقہ المعاملات میں فقہا نے مرتب کیے۔ فقہ المعاملات میں یہ بتایا گیا کہ مال کی تعریف کیا ہے؟ مال کہتے کس کو ہیں؟ جس چیز کو مال کہتے ہیں، اس کی خرید وفروخت کے احکام کیا ہیں؟ پھر مال اور ثمن میں کیا فرق ہے؟ یعنی جس کو آج کل زر (Money) کہتے ہیں، وہ کیا ہے؟ یہ بات آپ کے لیے حیرت انگیز ہوگی کہ آج کل جو Money کی تعریف کی جاتی ہے، زر کی تعریف کی جاتی ہے، بعینہ یہ تعریف فقہاے اسلام کے ہاں موجود ہے۔ امام مالک نے کہا ہے کہ زر کے لیے ضروری ہے کہ وہ ما یقتات بہ، ما یدخر بہ ہو، یعنی جس کو ذخیرہ کیا جا سکے، جس کو محفوظ کیا جا سکے۔ ادخار یعنی Store of value یہ آج کل کی اصطلاح ہے ۔ اس کے لیے امام مالک نے ادخار کی اصطلاح استعمال فرمائی۔ امام مالک سے پہلے روئے زمین پر کسی قانون دان کے ذہن میں یہ تصور نہیں آیا تھا۔ نہ رومن لا میں ہے، نہ ہندو لا میں ہے نہ ہی یہودی لا میں ہے۔ شریعت میں موجود ہے، امام مالک نے دیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے ہاں تصور یہ ہے کہ زر وہ چیز ہے جو گنی جا سکے، تولی جا سکے ، ناپی جا سکے۔ یہ تصور بھی آج کل زر کی تعریف میں موجود ہے۔ اس لیے اپنے اس ذخیرے کی قدر کرنا ہمیں سیکھنا چاہیے۔ اس ذخیرے سے واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے، لیکن ہمارے تاجر حضرات ان اصطلاحات سے اکثر واقف نہیں ہوتے جو فقہا نے استعمال کی ہیں۔ ہمارے علما اور مفتی حضرات ان اصطلاحات سے واقف نہیں ہوتے جو جونا مارکیٹ اور صدر میں استعمال ہو رہی ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک درمیانی واسطہ ہو۔ وہ درمیانی واسطہ یہ نوجوان علما ہیں جنھوں نے آج کل کا بزنس ایڈمنسٹریشن بھی سیکھ لیا ہے اور شریعت کے وہ پہلے سے متخصص ہیں۔ یہ حضرات اس نئے دور کے نقیب ہیں، ایک نئے دور کے مناد ہیں جس کی امت مسلمہ منتظر ہے۔ امت مسلمہ سو سال سے اس کی منتظر تھی۔
ابھی ایک دوست نے شیخ الہند کا ذکر فرمایا۔ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے انتقال سے چند مہینے پہلے جامعہ ملیہ کا افتتاح فرمایا تھا۔ جامعہ ملیہ آج ہندوستان کی ایک عام سیکولر یونیورسٹی بن گئی یا بنا دی گئی۔ جامعہ ملیہ کا مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا تعلیمی ادارہ بنایا جائے جو علی گڑھ اور دیوبند کا سنگم ہو، جس میں علی گڑھ کی اور دیوبند کی تمام خصوصیات موجود ہوں۔ شیخ الہند اس کا افتتاح کرنے کے لیے دیوبند سے علی گڑھ تشریف لے گئے تھے۔ علی گڑھ میں افتتاح ہوا تھا۔ مولانا محمد علی جوہر اس کے پہلے امیر یعنی چانسلر مقرر ہوئے تھے اور انھوں نے علامہ اقبال سے گزارش کی تھی کہ آپ اس کے پہلے وائس چانسلر ہو جائیں۔ اس سے آپ اندازہ کریں کہ ۱۹۱۹ء، ۱۹۲۰ء میں یہ احساس حضرت شیخ الہند میں موجود تھا جو دار العلوم دیوبند کے پہلے طالب علم تھے، یہ بات آپ سب کے علم میں ہوگی۔ انھوں نے ۱۹۱۹ء میں اس کا احساس کیا تھا۔ آج ۲۰۱۰ء میں ہم اس احساس کا عملی مظہر دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے نوے سال کی تاخیر کر دی ہے۔ اگر یہ نوے سال کی تاخیر نہ ہوتی تو شاید آج ہمارے دوستوں کو یہ شکایت کرنے کا موقع نہ ملتا کہ ہم دنیا سے پیچھے ہیں، ہم دنیا کے مقلد ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کارساز ہے۔ وہ اس تاخیر سے درگزر فرمائے اور اس تاخیر کے نقصانات سے ہمیں محفوظ رکھے اور ان برکات ونتائج سے ہمیں مالامال فرمائے جو اس پروگرام سے پیش نظر ہیں۔
اسلام میں تجارت کے احکام فقہ اسلامی کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔ فقہ اسلامی کے اگر بڑے بڑے اجزا بیان کیے جائیں تو ایک جز عبادات کا ہے۔ نماز روزہ جو تعلق مع اللہ کے لیے ہے۔ اسلام کا بنیادی مقصد ہی اللہ کی عبادت ہے۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ (۵۱:۵۶) اس لیے عبادت الٰہی کے لیے جو احکام ہیں، وہ بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں جتنی تجارت کے احکام رکھتے ہیں، بلکہ ترتیب میں وہ سب سے پہلے ہیں۔ اس کے بعد ایک مسلمان کی تربیت اور تعلیم کا، مسلمان کی تیاری کا، نئی امت مسلمہ کی نشوونما کا جو سب سے بڑا مرکز اور درس گاہ ہے، وہ ماں کی گود ہے اور گھر ہے، ماں باپ کی سرپرستی ہے۔ نانی اور دادی کی لوریاں ہیں۔ جب تک یہ درس گاہ مسلمانوں میں محفوظ تھی، مسلمان گھر خطرے سے محفوظ تھے۔ آج یہ درس گاہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے۔ اس لیے شریعت نے اس درس گاہ کے احکام دیے ہیں۔ قرآن پاک کی آیات احکام میں ایک تہائی کا تعلق عبادات سے ہے اور ایک تہائی کا تعلق عائلی احکام وقوانین سے ہے۔ اس کے بعد فقہ المعاملات میں فقہاے اسلام نے جتنی تفصیل سے معاملات کو مرتب کیا ہے، اس تفصیل میں، اس وسعت میں، اس گہرائی میں فقہ اسلامی کا کوئی حصہ مقابلہ نہیں کر سکتا۔ عبادات میں تو کسی تفصیل کی زیادہ گنجائش نہیں ہے۔ عبادات میں نہ کوئی نئی عبادت وضع کی جا سکتی ہے نہ کوئی نئی صورت وضع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے عبادات میں تو جوحدود اللہ نے مقرر کر دیے ہیں، اسی کے اندر رہنا پڑے گا اور اس کے احکام بھی محدود ہوں گے۔ اس کے باوجود فقہاے اسلام نے ہزاروں صفحات پر مشتمل سیکڑوں جلدیں تیار کر دیں ۔ لیکن معاملات کا جہاں تک تعلق ہے تو اس میں اصل یہ ہے کہ وہ مباح ہیں۔ الاصل فی المعاملات الاباحۃ۔ جو نیا کاروبار یا تجارت آج آپ سوچ لیں کہ آپ فلاں کاروبار کریں گے، اگر اس میں کوئی چیز شریعت سے متعارض نہیں ہے تو وہ جائز ہے۔ اس میں ربا نہیں ہے، اس میں قمار نہیں ہے، اس میں غرر نہیں ہے، فلاں فلاں برائیاں نہیں ہیں تو وہ جائز ہے، اس کا نام جو بھی ہو۔ چونکہ اس میں راستہ کھلا ہوا ہے، میدان کھلا ہوا ہے، اس لیے فقہاے اسلام نے ہر دور میں نئی شکلیں مرتب کیں۔ جب کوئی نئی شکل تجارت کی آئی، فقہا نے اس کے احکام مرتب کیے۔
امام محمد اور امام مالک اور امام شافعی کے ہاں بیع الوفاء کا ذکر نہیں ہے۔ بیع الوفاء کے نام سے ایک بیع کا آغاز پانچویں چھٹی صدی میں ہمارے سنٹرل ایشیا میں، سمرقند، بخارا، ماواء النہر میں ہوا تو فقہا نے اس کے احکام مرتب کر دیے۔ سوکرہ یعنی سکیورٹی یا انشورنس کا مسئلہ اٹھارھویں انیسویں صدی میں سامنے آیا تو علامہ ابن عابدین نے سوکرہ کے احکام مرتب کر دیے۔ رد المحتار میں سوکرہ کا باب موجود ہے، اس کے احکام موجود ہیں۔ اس لیے تجارت اور معیشت کے ابواب فقہ اسلامی میں مسلسل وسعت پذیر ہوتے رہے ہیں اور ہر دور میں اس میں نئے اضافے ہوتے رہے ہیں۔ جو بنیادی تصورات تھے، ان کی روشنی میں فقہاے اسلام نے احکام مرتب فرمائے ہیں۔ ایک زمانہ تھاکہ ان قواعد کی تعداد پچیس تیس سے زیادہ نہیں تھی، لیکن اب صورت یہ ہے کہ او آئی سی کی اسلامک فقہ اکیڈمی نے ایک پروگرام بنایا کہ ان قواعد کو مرتب کروایا جائے جن کا تعلق معاملات سے ہے۔ ان سے پہلے ایک اور سعودی ادارے نے کچھ علما کومقرر کیا کہ معاملات سے متعلق قواعد فقہیہ (Legam Maxims) مدون کریں۔ احکام یعنی Rules of Law نہیں، وہ تو بے شمار ہیں۔ صرف Legam Maxims کو مدون کیا جائے۔ چنانچہ وہ بارہ جلدوں میں مدون ہوئے ہیں۔ انگریزی کی کوئی کتاب جس میں سارے لیگل میکسم جمع ہوں، دو سے زائد جلدوں میں نہیں ہے۔ یہاں صرف معاملات کے لیگل میکسم بارہ جلدوں میں مرتب ہیں، چھپ چکے ہیں۔ اب او آئی سی کی فقہ اکیڈمی نے یہ کام شروع کروایا ہے۔ وہاں کے صدر نے خود مجھے بتایا کہ ہم نے یہ کام شروع کروایا ہے۔ اب تک جو مواد ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک سو جلدوں میں یہ کام مرتب ہوگا۔ اس سے آپ فقہ المعاملات کی وسعت کا، گہرائی اور تعمق کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ مجھے ابھی یہ خیال ہو رہا تھا کہ فقہ المعاملات میں دو سال، تین سال یا چار سال میں تخصص کیسے ہوگا۔ میرے خیال میں تو اس میں چار پانچ نسلیں لگانی چاہییں۔ تین نسلیں ہوں جو طے کریں۔ پہلے دادا پڑھے، پھر بیٹا پڑھے، پھر پوتا پڑھے تو جا کے شاید تخصص ہو سکے گا۔ جس قانون کے قواعد فقہیہ، لیگل میکسمز سو جلدوں میں آ رہے ہیں، اندازہ کریں کہ اس میں مہارت کے لیے کتنا وقت درکار ہے، لیکن یہ بیج حضرت مفتی صاحب نے ڈال دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو تناور درخت بنائے، اس درخت سے مزید بیج پیدا کرے، اس بیج سے مزید گل وگلزار پیدا ہوں اور یوں اللہ کرے کہ ایک نئے دور کا آغاز ہو۔
میں نے آپ کا وقت بہت لے لیا اور شاید اوروں سے زیادہ گفتگو میں نے کر لی، اس لیے معذرت چاہتا ہوں۔ اگر گفتگو مفید ہوئی تو اس روحانی ماحول کی برکت سے ہوئی۔ غیر مفید ہوئی تو میری کوتاہی اور کم علمی کی وجہ سے ہوئی۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ سے ایک انٹرویو
مفتی شکیل احمد
شعبان/رمضان ۱۴۲۷ھ بمطابق ستمبر /اکتوبر ۲۰۰۶ء میں جامعۃ الرشید کراچی میں دورۂ اسلامی بنکنگ ہوا۔ اختتامی تقریب سے ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ (۱۹۵۰ء-۲۰۱۰ء) نے معیشت اور اسلامی بنکاری پر تقریباً دو اڑھائی گھنٹے مفصل خطاب فرمایا۔ جامعۃ الرشید سے واپسی پر ڈاکٹر صاحب کو ایئر پورٹ پہنچانے کے لیے راقم الحروف او رمفتی احمد افنان ہمراہ تھے۔ راقم کو ڈاکٹر صاحب سے مختلف وجوہ سے تعلق او رقلبی لگاؤ تھا۔ اسلام آباد میں ڈاکٹر صاحب کے لیکچرز، بیانات، محاضرات اور مختلف تقریریں سننے کا موقع ملا۔ مختلف سیمیناروں اور کانفرنسوں میں ان سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔ اسی طرح جب ڈاکٹر صاحب کی رہائش ایف سیکس ون اسلام آباد میں تھی تو ہمارے جامعہ محمدیہ (ایف سکس فور) میں پڑوس کی وجہ سے جامعہ کے مختلف پروگراموں میں شرکت فرماتے اور بیانات بھی فرماتے۔ان تعلقات کی بنا پر ڈاکٹر صاحب بہت شفقت فرماتے۔ انھوں نے ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کے رسالہ ’’عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصول سیاست‘‘ پر احقر کی تعلیقات کے شروع میں تقدیم بھی لکھی۔ اس لیے راقم نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ڈاکٹر صاحب سے مختلف سوالات کر کے ان کو قلم بند کر لیا جو قارئین کی دلچسپی او ر استفادہ کے لیے پیش خدمت ہیں۔ڈاکٹر صاحب سے آخری ملاقات اسی رمضان المبارک ۲۰۱۰ء میں فیڈرل شریعت کورٹ میں ہوئی۔
سوال :ایک چیز مصر میں جائز ہوتی ہے اور پاکستان میں ناجائز، اس کا کیا حل ہے ؟
جواب: معاملات بین الاقوامیت میں جا رہے ہیں تو یکسانیت کے لیے ایک نظام بنانا پڑے گا۔ دنیائے اسلام کا ایک مشترکہ شریعہ بورڈ ہو۔ اسلامی ترقیاتی بنک نے اس کی کوشش کی تھی، لیکن امریکہ سے ڈرتے ہیں ۔
سوال:ڈاکٹر صاحب! تقریر میں آپ نے فرمایا کہ مرابحہ میں جو طریقہ استعمال ہوتا ہے کہ عمیل کو ہی وکیل بالقبض بنا دیا جاتا ہے، یہ بہت رکیک حیلہ ہے اور آپ نے فرمایا کہ پاکستان میں اسلامی بنکاری کا سو فیصد نہیں تو ستانوے فیصد کاروبار مرابحہ پر ہی ہو رہا ہے تو کیا یہ حیلہ آپ کی نظر میں جائز نہیں ہے؟
جواب : یہ حیلہ شرعاً جائز ہے اور اس کی وجہ سے ہونے والا عقد بھی درست ہے ۔
سوال:اور اس طرح حاصل ہونے والا نفع کیا حلال ہوگا؟
جواب: ہاں !حلال ہوگا ۔
سوال : جب حکومت کسی فیصلے کے ذریعے سے آپ کی کسی محنت کو ختم کر دیتی ہے جس طرح کہ ربا کیس میں ہوا، میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ جب ہم کو اس قدر تکلیف ہوتی ہے تو جنہوں نے براہ راست محنت کی ہے، ان کو کس قدر تکلیف ہوتی ہوگی؟
جواب:میں ایسے موقع پر حضرت نوح علیہ السلام کی عمر کو یاد کر لیتا ہوں کہ انھوں نے ساڑھے نو سو سال محنت کی۔ اللہ تعالیٰ نے کسی اور نبی کی عمر کو ذکر نہیں فرمایا۔ میرا خیال ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی عمر اس لیے بتائی گئی تاکہ اس سے تسلی حاصل کی جاسکے اور آدمی مایوس نہ ہو اور حوصلہ کم نہ ہو۔ ان کی عمر بیان کرنے سے مقصود یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ بس کام میں لگے رہنا چاہیے۔ تیمور لنگ جب ہار گیا تو کوہستان کے کسی غا ر میں آرام کے لیے پناہ لی۔ ایک چیونٹی سو مرتبہ گری اور پھر چڑھی جس سے وہ آخر کار کامیاب ہو گئی۔ اس سے اس نے سبق حاصل کر کے فوج کو ازسر نو مرتب کیا او رحملہ کر دیا اور کامیاب ہو گیا۔ اس سے سبق ملتا ہے کہ ہمت نہیں ہارنا چاہیے اور کام میں لگے رہنا چاہیے۔
سوال :(از مفتی احمد افنان صاحب)ڈاکٹر صاحب! میں درس قرآن دیتا ہوں، اس کے لیے کس طرح تیاری کروں؟
جواب: تین ،چار تفاسیر کو مطالعہ میں رکھیں اور مولانا عبد الماجد دریا آبادی کی تفسیر ماجدی ضرور مطالعہ کریں۔ اس میں جدید شبہات اور مغربی مصنفین کے قرآن پر اشکالات کا ذکر کر کے جواب دیا گیا ہے۔درس قرآن جاری رکھنا چاہیے۔ بنگلہ دیش میں مولانا دلاور صاحب کا پندرہ روزہ درس قرآن ہوتا ہے۔ انھوں نے اسٹیڈیم (غالباً اسٹیڈیم ہی فرمایا) بک کروایا ہوتا ہے۔ اس میں آٹھ نو لاکھ افراد ہوتے ہیں اور عشا سے فجر تک چلتا ہے جس میں تمام قرآن کریم کا خلاصہ ذکر کر دیا جاتا ہے۔
سوال : ڈاکٹر صاحب! اگر آپ اسلام آباد میں درس قرآن شروع فرمائیں تو بہت لوگ آئیں گے کیونکہ لوگ آپ کے بیان کو بہت پسند کرتے ہیں۔
جواب : (کچھ دیر توقف کیا اور پھر فرمایا:) قرآن کریم کے بارے میں کچھ کہتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔
سوال : ہمارے مدارس کے جو طلبہ بنکوں اور دیگر عصری اداروں میں چلے جاتے ہیں تو ان کی تربیت میں بھی کمی آجاتی ہے، وہ پہلا سا تدین بھی باقی نہیں رہتا اور اعمال میں بھی سستی ہو جاتی ہے، اس کی کیا وجہ ہے ؟
جواب : بنک اور دیگر عصری اداروں کا اپنا ایک ماحول ہوتا ہے اور وہاں کے لوگ اس وضع قطع او رہیئت کو پسند نہیں کرتے تو یہ کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے اور بالآخر اس وضع قطع اور ہیئت کو ترک کر دیتا ہے۔ تربیت کا سلسلہ تو بہر حال برقرار رہنا چاہیے، لیکن اگر یہ طالب علم اپنے نظریات اور سوچ کے اعتبار سے پختہ ہے تواس میں اس تبدیلی کو بھی میں اتنا برا نہیں سمجھتا، کیونکہ ہزاروں ملحدوں اور بے دینوں سے بہر حال یہ بہتر ہے جن کی سوچ او رفکر ہی بے دینی کی ہے۔ سوچ اور نظریات کی گمراہی بہت بڑی ہے ۔
سید عبد اللہ صاحب عالم تھے اور اردو اد ب کے نقادوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ حضرت مولا نا احمد علی لاہوری ؒ کے درس قرآن میں شریک ہوتے تھے اور اسلام آباد میں ہوتے تو مولانا غلام اللہ خانؒ صاحب کے درس میں ضرور شریک ہوتے۔ وہ اپنا حال سناتے تھے کہ میں حضرت لاہوریؒ کے درس میں پیچھے بیٹھتا تھا۔ ایک دن افراد کم تھے تو میں قریب بیٹھا اور اپنا چہرہ رومال سے چھپا لیا۔ حضرت لاہوری نے فرمایا: عبد اللہ! قریب ہو جاؤ۔ (یہ سناتے ہوئے ڈاکٹر سید عبد اللہ رو پڑتے تھے)۔ پھر حضرت لاہوری نے فرمایا : ’’سپاہی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک باوردی اور دوسرا بے وردی۔ ضرورت کے وقت وردی اتار دی جاتی ہے۔ بس کام کرنا چاہیے۔ تم کام میں لگے رہو۔ اگر اس طرح کام ہوتا ہے تو اس طرح کام کرتے رہو۔‘‘
سوال: ڈاکٹر صاحب! حافظہ کے لیے آپ کیا استعمال کرتے ہیں؟ کیونکہ تقریر کے دوران آپ نے پاکستان کی معیشت و بنکاری سے متعلق تیس چالیس سال کی تاریخ بیان کی۔ تاریخیں، دن اور وقت تک بیان کیا جس سے ہمیں بھی تعجب ہو رہا تھا۔
جواب : کوئی چیز استعمال نہیں کرتا۔ پہلے میرا حافظہ کافی اچھا تھا، اب شوگر کی وجہ سے کمزور ہو گیا ہے۔ انڈیا سے ایک چورن ملتاہے جسے مہا سرسوتی کہتے ہیں جس کا مطلب ہے علامہ کبیر، یعنی جو اس کو کھاتا ہے، اس کا حافظہ تیزہو جاتا ہے اور وہ ہندوؤں کا علامہ کبیر اور مہا سرسوتی بن جاتا ہے۔ میں نے اپنے ایک رشتہ دار کو وہاں سے لانے کے لیے کہا تھا، لیکن وہ اب تک نہیں ملا۔
سوال: خمیرہ گاؤ زبان استعمال نہیں کرتے؟
جواب: ہے تو بہت مفید اگر اصلی ملے، مگر اس میں شوگر وغیرہ میٹھا استعمال کیا جاتا ہے اور میں شوگر کے مرض کی وجہ سے استعمال نہیں کر سکتا۔ صدر مشرف جب انڈیا گیا تو وہاں ایک حکیم صاحب نے ان کو جوش عقیدت میں پانچ کلو خمیرہ گاؤ زبان کا ڈبہ دیا۔ مشرف صاحب جب اسلام آباد آئے تو کیبنٹ میں وزرا وغیرہ جمع ہوئے اور ان کو دورہ کے حالات بتائے۔ جب اٹھنے لگے تو آخر میں کہا کہ ایک بات میں بھول گیا کہ ایک حکیم صاحب نے پانچ کلو کا ڈبہ دیا تھا۔ اس پر کوئی عربی نام لکھا تھا،پتہ نہیں کیا نام تھا۔ سیکرٹری صاحب نے جیب سے پرچی نکال کر بتایا کہ خمیرہ گاؤ زبان تھا۔ صدر صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب (ڈاکٹر غازی صاحب) کو عربی سے تعلق ہے، عربی جانتے ہیں، ان کو دے دو۔ بعد میں معلوم کیا تو پتہ چلا کہ اس ڈبے کو پھینک دیا گیا ہے۔
سوال: ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کے رسالہ ’’عہد نبوی کے اصول سیاست‘‘ پر میں نے کچھ کام کیا ہے، اس میں ڈاکٹر صاحب نے ایک لفظ استعمال کیا ہے ’’بدرقہ‘‘۔ اس کا معنی اردو لغت میں ’’وہ شخص جو راستے میں مسافر کی حفاظت کرے، قافلہ کا راہنما، نگہبان، محافظ‘‘ ہے۔ کتاب میں کون سا معنی مراد ہے ؟
جواب لغت والے معنی ہی یہاں مراد ہیں۔
سوال : اسی طرح لکھا ہے کہ گوروں کی ’’لنچنگ‘‘ پر اتر آنے والی ننگ انسانیت قوم۔ لنچنگ کے معنی کیا ہیں؟
جواب: یہ لفظ ’’لنچنگ‘‘ (Lunching) نہیں ہے، بلکہ یہ انگریزی لفظ Lynching ہے اور اس کا معنی ہے کسی کو لاٹھیاں مار مار کر ہلاک کرنا۔ گورے دنیا کے جس ملک میں بھی گئے، انھوں نے کالوں کو نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور جہاں تک بن پڑا، کالوں کو بلا جواز و بلا قانون لاٹھیاں مار مار کر ہلاک کر دیا، خواہ گورے امریکہ میں گئے خواہ آسٹریلیاوغیرہ میں گئے۔
سوال : آ پ نے بنوری ٹاؤن میں بھی پڑھا ۔ کیا حضرت بنوری ؒ سے بھی کچھ پڑھنے کابھی موقع ملا؟
جواب: ہمارے اصول الشاشی کے استاد مولانا عبد اللہ کاکا خیل صاحب مدینہ یونیورسٹی چلے گئے (جو بعد میں اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسرہو گئے) تو ان کے جانے کے بعد حضرت بنوری ؒ نے باقی اصول الشاشی پڑھائی۔
سوال: اس کے علاوہ کسی اور بڑے عالم دین سے کچھ پڑھا ہو؟
جواب: حضرت مدنی کے شاگرد حضرت مولانا قاری محمد امین صاحب ؒ راولپنڈی کے ورکشاپی محلہ میں رہتے تھے۔ ان کا وہاں مسجد و مدرسہ بھی ہے، ان سے حماسہ پڑھی تھی ۔
سوال: آپ نے دورۂ حدیث شریف کہاں سے او ر کس سنہ میں کیا؟
جواب: ۱۹۶۶ء میں تعلیم القرآن راجہ بازار سے کیا۔
سوال: پھرتو شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان صاحب سے بھی استفادہ کا موقع ملا ہوگا؟
جواب: مولانا اس وقت مہتمم تھے، لیکن ان سے استفادہ کا موقع نہیں مل سکا۔
سوال : تعلیم القرآن میں کن اساتذہ سے استفادہ کیا؟
جواب: مولانا عبد الشکور صاحب ،مولانا عبد الرشید صاحب اور مولانا انور شاہ صاحب سے استفادہ کا موقع ملا۔
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ منتخب پیش لفظ اور تقریظات
ادارہ
’’رد قادیانیت کے زریں اصول‘‘ پر تقریظ
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی، ان مجاہدین اسلام میں سے ہیں جن کی زندگی کا ہر لمحہ دین حق کی سربلندی اور مسلمانان عالم کی ملی وحدت اور یک جہتی کے لیے وقف ہے۔ مولانا چنیوٹی گزشتہ پچاس سے ختم نبوت کے تحفظ کو اپنی زندگی کامشن بنائے ہوئے ہیں۔ ختم نبوت کے خلاف کھڑی ہونے والی ہر سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ ہمیشہ مجاہدین اسلا م کی صف اول میں موجود رہے ہیں۔ گزشتہ صدی کے اواخر میں اٹھنے والے فتنہ قادیانیت ومرزائیت کی تردید وتعاقب کو مولانا نے اپنی زندگی کا خاص الخاص مشن قرار دیا ہے۔ اندرون ملک وبیرون ملک اٹھنے والی ہر قادیانی سازش کا انہوں نے فکری، علمی، تعلیمی اور عوامی سطح پر بھرپور مقابلہ کیا۔
اس جہد مسلسل میں اپنے دست وبازو پیدا کرنے اور اس عمل کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے مولانا چنیوٹی نے ایک تربیتی پروگرام بھی شرو ع کر رکھا ہے جس کے ذریعے وہ نوجوان علما کو ختم نبوت کی تبلیغ اور قادیانیت کی تردید کے لیے تیار کرتے ہیں۔ زیر نظر کتا ب مولانا چنیوٹی نے ان زیر تربیت نوجوان علما کے لیے مرتب کی ہے جو فتنہ قادیانیت سے ہنوز کما حقہ واقف نہیں ہیں اور اب تربیت کے اس دور میں قدم رکھ رہے ہیں جس سے نکل کر ان کو اس فتنہ سے عہدہ برآ ہونا ہے۔
مجھے امید ہے کہ یہ کتاب نوجوان مبلغین اسلام میں مقبول ہو گی اور ان مقاصد کی تکمیل کرے گی جن کی خاطر یہ مرتب کی گئی ہے۔ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ مولانا کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور دارین میں ان کے لیے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنائے۔
Muhammad (pbuh) foretold in the Bible by Name پر پیش لفظ
اسلام اور مسیحیت کے درمیان بحث و گفتگو اتنی ہی پرانی ہے جتناکہ بذات خود اسلام ہے۔ پچھلے چودہ سو سال کے دوران میں اسلام اور مسیحیت کے درمیان بحث و استدلال متعدد نشیب و فراز سے گزرا ہے۔ اسلام، شروع ہی سے اس طویل بحث و استدلال کو ایک پائیدار تعاون اور افہام و تفہیم کی صورت میں ڈھالنے کا خواہاں رہاہے۔ اپنی دعوت کے بالکل ابتدائی مکی دور سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارد گرد کے مسیحیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنے اور بحال رکھنے کی کوشش کی۔ حقیقت یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اولین وحی کے نزول کے فوراً ہی بعد اسلام کا مسیحی دین سے پہلا سامنا ہوا۔ وحی الٰہی کے اپنے اولین تجربے سے چند ہی گھنٹے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ خدیجہ کے کزن جناب ورقہ بن نوفل سے ملے۔ آپ کے وطن میں ورقہ غالباً اکلوتے دانشور صاحب علم تھے جو مسیحیت کا علم رکھتے تھے۔ ورقہ نے نہ صرف ا س نئے پیغام کی الہامی بنیاد کا اعتراف کیا بلکہ اس نے اپنے اس جوان مہمان کے سامنے اس کی آئندہ زندگی میں پیش آنے والے حالات و مشکلات کی وسعتوں کی بھی وضاحت کی۔ جو چیز اس بزرگ مسیحی دینی رہنما نے پہچان کر فوری طور پر مان لی، ٹھیک اسی بات کی دیگر آسمانی ادیان کے پیرووں سے بھی توقع ہونی چاہیے۔ قرآن کریم نے مدنی وحی میں یہ دعوت بڑے واضح اور غیر مبہم الفاظ میں دہرائی ہے۔ اس نے اہل کتاب کو اس بات کی دعوت دی ہے کہ وہ آسمانی مذاہب کے ان مشترکہ مقاصدکی تکمیل کے لیے مسلمانوں کے ساتھ مل کر کام کریں جو انسانیت کے لیے برکات الٰہی کی ناقابل شکست زنجیر کا کام دیتے ہیں۔
قرآن کریم کے نزدیک مسلمان بننے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے تمام انبیا و رسل پر ایمان رکھا جائے۔ ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ دائرہ اسلام میں رہنے کے لیے حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور بائبل میں مذکور دیگر تمام انبیا پر ایمان لائے۔ نبوت کی اس زنجیر کے، جو غیر منقطع طور پر مربوط ہے، تسلسل کی اہمیت واضح کرنے کے لیے یہ عقیدہ و ایمان بہت ضروری ہے۔ اس ربط و تسلسل کی اہمیت مزیدواضح کرنے کے لیے ہی سابقہ انبیا اور الہامی کلام نے آخری پیغمبر کی آمد اور آخری و کامل پیغام کے الہام کی پیشین گوئی کی تھی۔ قرآن تو اس حد تک گیاہے کہ اس نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ کم از کم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہودیوں اور مسیحیوں نے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو اتنی جلدی اور آسانی سے پہچان لیا تھا جتنی جلدی اور آسانی سے وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو پہچان لیتے تھے۔ ایک مشہور قرآنی آیت میں تو یہاں تک آیاہے کہ حضرت عیسیٰ نے اپنے پیرووں کو بتا دیا تھا کہ ان کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے بعد آنے والے احمد نام کے ایک پیغمبر کی بعثت کی خوشخبری سنا دیں۔
قرآن کے ایسے بیانات کی بنیاد پر مسلم علما سابقہ مذہبی صحائف کے مطالعے میں مصروف رہے۔ سابقہ الہامی کتب پر تحقیق کی حوصلہ افزائی نہ صرف قرآنی آیات میں کی گئی ہے بلکہ ایسی متعدد روایات میں بھی کی گئی ہے جو یہودی اور عیسائی پس منظر رکھنے والے متعدد ایسے صحابہ کرام کی طرف منسوب ہیں جو دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ انہوں نے ایسی چیزوں کی نشان دہی کی ہے جو قرآنی اور دیگر اسلامی بیانات کی تائید کرتے ہیں۔ دوسری طرف یہودی ومسیحی علما کی اکثریت نہ صرف اپنی الہامی کتب میں ایسی پیشین گوئیوں کے وجود سے انکاری رہی ہے بلکہ یا تو متعلقہ الفاظ و آیات کے تراجم میں تبدیلی کر کے اور یا پھر ان کی مختلف تاویلات کر کے مسلمانوں کے نقطہ نظر کی تردید کرتی رہی ہے۔
کسی متفقہ نقطہ نظر پر پہنچنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ان اکثر آسمانی صحیفوں کے ابتدائی و اصلی متن کی عدم دستیابی ہے جو اب صرف نامعلوم مترجمین کے بالواسطہ اور ثانوی تراجم ہی کے ذریعے سے دستیاب ہیں۔ اس موضوع پر لکھنے والے مسلم علما کاخیال ہے کہ بائبل لٹریچر کے متعلقہ الفاظ و عبارات کا الحاق یہودو نصاریٰ کی طویل تاریخ کے دوران میں واقع ہونے والے مختلف ہنگاموں اور مصائب کے زمانے میں عمل میں آیا ہے۔ ان کے اس خیال کو اس بات سے تقویت ملتی ہے جب ایک شخص یہ دیکھتا ہے کہ بعض الفاظ و اصطلاحات کا بائبل کے مختلف مترجمین نے مختلف انداز میں ترجمہ کیا ہے۔ مسلمانوں کی علمی و فکری تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلم علما نے اس پر سیرحاصل بحث کی ہے۔ جن علما نے اس علمی کام میں حصہ لیا، ان میں پرانے دور کے طبری، ان حزم، شہرستانی، قرطبی اور رازی جیسے مستند ومسلم علما شامل ہیں اور جدید دور کے مصنفین میں سے رحمت اللہ کیرانوی، دریا بادی اور مودودی شامل ہیں۔ انہوں نے بائبلی لٹریچر کے ایسے الفاظ و آیات کی نشاندہی کی کوشش کی ہے جن میں نبی آخرالزمان کی بعثت کی پیشین گوئیاں موجود ہیں۔
مسیحی مصنفین متعلقہ الفاظ و آیات کی استعارانی مفہوم میں تاویل کرتے ہیں، تاہم علوم بائبل کے مسلم مصنفین کے درمیان متنازعہ الفاظ وعبارات کی تاویل و توضیح کے بارے میں قریب قریب اتفاق ہے۔ بائبل کے عہد نامہ عتیق میں پائی جانے والی ’’غزل الغزلات‘‘ ایسی عبارات میں سے ایک ہے ۔ جناب عبدالستار غوری نے اس عبارت کا گہرائی میں جاکر مطالعہ کیاہے اور پوری کامیابی کے ساتھ کوشش کی ہے کہ یہ ثابت کردیں کہ یہ عبارت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے اپنے موضوع کو ثابت کرنے کے لیے اس قدرے طویل عبارت کا مکمل تجزیہ کیاہے اور موثر دلائل ترتیب دیے ہیں۔
موجود ہ کتاب برسوں بلکہ عشروں کے طویل اور صبر آزمامطالعہ و تحقیق کا نتیجہ ہے۔ وہ کافی عرصے سے بائبلی علوم کے ایک سنجیدہ طالب علم رہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی انہوں نے مسلم، مسیحی اور یہودی دینی علما کی مشترکہ دلچسپی کے متعدد مضامین اور مطبوعات شائع کی ہیں۔ انہیں بائبل اور اس سے متعلقہ دیگر علوم میں گہری بصیرت حاصل ہے۔ ان کی عبرانی کی واقفیت نے ان کو ایسے مواد تک رسائی میں مدد کی ہے جو انگریزی تراجم میں دستیاب نہیں۔
موجودہ کتاب ان کی علمی زندگی کا ایک کارنامہ ہے۔ طویل مطالعے اور گہری تحقیق پر مبنی یہ کتاب اپنا نقطہ نظر ٹھوس دلائل اور معروضی انداز میں پیش کرتی ہے۔ انہوں نے اپنے نتائج تحقیق کا غیر مسلم مصنفین کی تحریروں سے موازنہ کر کے موخرالذکر مصنفین کی کمزوریاں ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے بائبل کی تمام تاویلات کے سلسلے میں قریباً کلیتاً مغربی مآخذ پر اعتماد کیا ہے۔ مستند مسلم مآخذ کا صرف اسی جگہ حوالہ دیاگیا ہے جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعض پہلوؤں کا ذکر ہے۔
مجھے امید ہے کہ اس کتاب میں نہ صرف مسلم قارئین دلچسپی لیں گے، بلکہ مسیحی، یہودی اور دوسرے مذہبی گروہوں کے پیروکار بھی اس میں اپنی دلچسپی کا سامان پائیں گے۔ یہ کتاب بڑے بروقت موقع پر سامنے آئی ہے۔ آج مسیحیت اور اسلام کے درمیان تعلقات انتہائی کمزور ہوچکے ہیں۔ مسلم دنیا اور مغرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مناقشہ اور ہنگامہ آرائی کی فضا میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ مختلف الہامی مذاہب کے متبعین کے درمیان مفاہمت کی فضا استوار کی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوئی کوشش انسانیت کی عظیم خدمت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جناب غوری کی کتاب اس مقصد کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگی۔ انسانیت سے محبت رکھنے والے لوگوں کو عموماً اور الہامی مذاہب کے پیرو کاروں کو خصوصاً اس کتاب کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔
’’اسلام کا نظام سیاست وحکومت‘‘ پر تقدیم
اسلام کے سیاسی اور دستوری تصورات واحکام اور انتظامی ہدایات پر بیسویں صدی میں بہت وقیع اور قابل ذکر کام ہوا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ بیسویں صدی کے مسلم اہل علم ودانش نے اسلام کے دستوری احکام کو ایک نئی اجتہادی بصیرت کے ساتھ ازسرنو مرتب کیا ہے۔ قدیم اسلامی لٹریچر میں اسلام کے سیاسی تصورات اور دستوری احکام تفسیر، حدیث، فقہ، کلام اور تاریخ وادب کی کتابوں میں بکھرے ہوئے ملتے ہیں۔ خالص سیاسی تصورات اور دستوری احکام پر کتابوں کی تعداد تفسیر، حدیث اور فقہ وکلام کی کتابوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ بیسویں صدی کے وسط میں جب بہت سی مسلم ریاستیں پے در پے وجود میں آنی شروع ہوئیں تو جہاں اور بہت سے معاملات ومسائل سامنے آئے، وہاں اسلامی ریاست کی نوعیت، اسلام کے دستوری احکام اور انتظامی ہدایات پر بھی نئے انداز سے غور وخوض کا آغاز ہوا۔ اس عمل میں علما اور فقہا کے ساتھ ساتھ ماہرین دستور وسیاست بھی شامل تھے۔
سالہا سال کی اس مسلسل اجتماعی اور اجتہادی کاوش کے نتیجے میں اسلام کے سیاسی تصورات اور دستوری احکام نہ صرف منقح ہو کر سامنے آ گئے، بلکہ ان کو آج کی دستوری زبان اور رائج الوقت قانونی اصطلاحات میں مرتب بھی کر لیا گیا۔ اسلام کے یہ نومرتب شدہ دستوری احکام دنیاے اسلام کے متعدد ممالک کے قوانین ودساتیر کی تدوین میں، جہاں جس قدر ممکن ہوا، مفید اورموثر بھی ثابت ہوئے۔ واقعہ یہ ہے کہ اسلامی دستور کی تدوین نو اور اسلام کی سیاسی فکر کی تشکیل جدید کا یہ کام فقہ اسلامی کی تاریخ کا ایک بہت اہم اور نمایاں باب ہے۔ اسلامی دستور کے بعد اب اسلام کی انتظامی ہدایات اور مسلمانوں کے انتظامی تجربات پر بھرپور علمی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ اب دنیاے اسلام کے اہل علم اس طرف توجہ دے رہے ہیں۔
زیر نظر کتاب افغانستان کے ایک جیدصاحب علم اور بالغ نظر محقق مولانا عبد الباقی حقانی کی فاضلانہ کتاب ’’السیاسۃ والادارۃ الشرعیۃ فی ضوء ارشادات خیر البریۃ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک بہت جامع کتاب ہے۔ فاضل مصنف نے تفسیر وحدیث اور فقہ وکلام کے علاوہ تاریخ، ادب اور تذکرہ کی کتابوں کو کھنگال کر یہ قیمتی مواد جمع کیا ہے جس کے لیے وہ ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں۔ کتاب کا اردو ترجمہ مولانا شکیل احمد حقانی اور مولانا سید الامین حقانی نے کیا ہے۔ زبان وبیان میں عربیت کے گہرے اثرات کے باوجود امید ہے کہ ترجمہ عام فہم ثابت ہوگا۔ میں دل کی گہرائیوں سے کتاب کے فاضل مصنف جناب مولانا عبد الباقی حقانی کا شکرگزار ہوں کہ انھوں نے اپنی طویل محنت اور تحقیق کے نتائج کو اتنی جامع ترتیب سے اہل علم کے سامنے پیش کیا۔ میں دست بستہ دعاگو ہوں کہ ان کی یہ کاوش اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہو اور قارئین کے لیے مفید اور نافع ثابت ہو۔
’’خطبات راشدی‘‘ پر پیش لفظ
ایک مشہور حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ دین اور شریعت کا علم ہر دور میں اہل علم کے ایک طبقے کے ذریعے محفوظ رہے گا جو اس علم کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان غلط فہمیوں کی تردید بھی کرتے رہیں گے جو انتہا پسندوں اور غلو کاروں کے ذریعے پھیلیں گی، ان بے بنیاد باتوں کی تردید بھی کرتے رہیں گے جو اہل باطل کے ذریعے فروغ پائیں گی اور ان غلط تعبیرات وتصورات کی اصلاح بھی کرتے رہیں گے جو دین کے جاہل اور کم علم عقیدت مند پھیلائیں گے۔ اسلامی تاریخ شاہد ہے کہ صحابہ کرام کے زمانے سے لے کر آج تک مخلص اہل علم کی ایک تعداد ان تینوں ذمہ داریوں کو انجام دیتی چلی آ رہی ہے۔ یہ انھی بابرکت نفوس کی مبارک کوششوں کا ثمرہ ہے کہ قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم آج بھی اپنی اصل تعلیم کے ساتھ موجود ہیں۔ شریعت الٰہی کا روشن چہرہ آج بھی دنیا کے سامنے منور ہے۔ اکابر اسلام کے تاریخ ساز کارنامے آج بھی دنیا کے سامنے موجود ہیں۔
اہل علم کے اسی بابرکت قافلے کے ایک قافلہ سالار حضرت مولانا زاہد الراشدی ہمارے دور میںیہی فرائض سہ گانہ انجام دے رہے ہیں۔انھوں نے عرب وعجم اور مشرق ومغرب ہر جگہ اپنی فصیح اللسانی اور رواں قلم کے ذریعے اسلام کا مسلسل دفاع کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ انھوں نے دین اور شریعت کی تعلیمات پر کیے جانے والے اعتراضات کا ہمیشہ موثر اور مثبت جواب دیا ہے۔ باطل پرست طبقات کی طرف سے جب بھی اسلام یا اسلامی تہذیب سے کوئی غلط چیز منسوب کی گئی، مولانا کے موثر اسلوب اور طاقت ور قلم نے اس کی کمزوری کھول کھول کر عیاں کردی۔ دین کے نادان دوستوں اور جاہل عقیدت مندوں کی کمزور تاویلات کے نتیجے میں جب بھی کسی کو دین وشریعت پر اعتراض کا موقع ملا، مولانا زاہد الراشدی نے جرات سے کام لے کر اس موقف کی کمزوری واضح کی۔
مولانا کی یہ فاضلانہ تحریریں پاکستان اور انگلستان کے بیسیوں اخبارات اور رسائل کی فائلوں میں منتشر بلکہ مدفون تھیں۔ اخبارات کی زندگی چند گھنٹوں اور رسائل کی زندگی چند دنوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔اخبارات چند گھنٹوں میں اور رسائل چند دنوں میں ردی کی نذر کر دیے جاتے ہیں۔ عام طو رپر اخبارات ورسائل میں شائع ہونے والی علمی وفکری تحریروں کو محفوظ رکھنے کا کوئی موثر بندوبست نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے اس بات کا شدید خطرہ تھا کہ مولانا راشدی کے قلم سے نکلے ہوئے یہ جواہر پارے وقت کے ساتھ ساتھ ضائع ہو جائیں۔ مجھے خوشی ہے کہ لاہور کے بعض علم دوست حضرات نے ان مضامین کی اہمیت کا احساس کیا اور ان کو یکجا کر کے کتابی صورت میں شائع کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مولانا کے یہ مقالات ومضامین اور تقاریر وخطبات متعدد جلدوں میں مرتب ہو کر محفوظ ہو جائیں گے اور اہل علم ودانش کے لیے دستیاب ہوں گے۔
مجھے امید ہے کہ مولانا زاہد الراشدی کے یہ وقیع خطبات ومقالات دور جدید میں دعوت وتبلیغ کے نئے اسلوب کو جنم دیں گے اور ان کی مدد سے ملک کے نوجوان علماء کرام تبلیغ دین کے ایک نئے اور منفرد ڈھنگ سے آشنا ہوں گے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا کی عمر، علم اور کوششوں میں برکت عطا فرمائے اور ان کی تحریروں اور تقریروں کو نتیجہ خیز اور مفید بنائے۔
مختلف اہل علم کے نام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے چند منتخب خطوط
ڈاکٹر محمود احمد غازی
بنام: جناب مسعود احمد برکاتی
برادر مکرم ومحترم جناب مسعود احمد برکاتی صاحب دامت برکاتکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا گرامی نامہ (بحوالہ ھ۔ن ۲۰۰۴، مورخہ ۲۷ جون ۲۰۰۴ء) بروقت مل گیا تھا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں بروقت جواب نہ دے سکا۔ امید ہے کہ آپ حسب سابق اس کوتاہی کو بھی معاف فرمائیں گے۔
میرا رشتہ بھی ہمدرد نونہال سے کم وبیش نصف صدی پرانا ہے۔ میں نے بہت بچپن میں، تقریباً چار سال کی عمر سے، ہمدرد نونہال پڑھنا شروع کر دیا تھا۔ میں نے اپنے والد مرحوم کی زیر نگرانی تین ساڑھے تین سال کی عمر سے ہی گھر میں نوشت وخواند کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ ظاہر ہے کہ شروع کے ایک دو سالوں میں نہ تو پورا رسالہ سمجھ میں آتا تھا اور نہ میری یہ بساط تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ چند سال کے اندر اندر نہ صرف رسالے کے مضامین سمجھ میں آنے لگے، بلکہ میرا اشتیاق بھی بڑھتا گیا۔ مزید دو ایک سال بعد میں نے تعلیم وتربیت بھی پڑھنا شروع کر دیا، لیکن جو اشتیاق ہمدرد نونہال کے نئے شمارے کے لیے پورے مہینے رہتا تھا، وہ ابھی تک یاد ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ہمدرد نونہال کے مضامین میں بچوں کے مزاج اور نفسیات کا خاص لحاظ رکھا جاتا تھا۔
ہمدرد نونہال نے ایسی تربیت کر دی تھی کہ کوئی غیر سنجیدہ یا غیر معیاری تحریر پڑھنے کو کبھی دل نہیں چاہا۔ بچوں کے بہت سے رسالوں میں جنوں اور پریوں، جادو اور ٹوٹکوں، چوری اور ڈاکے جیسے تصورات پر مبنی کہانیاں کثرت سے چھپتی تھیں، لیکن ان میں کبھی بھی میرا دل نہیں لگا۔ ہمدرد نونہال کے جو مضامین میں بہت شوق سے پڑھتا تھا، ان میں مسلمانوں کے کارناموں پر مبنی تاریخی کہانیاں اور واقعات نمایاں ہوتے تھے۔ ہمدرد نونہال اور تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ مولوی اسماعیل میرٹھی کی درسی کتابیں میرے والد مرحوم نے مجھے حفظ قرآن کے دوران ہی پڑھا دی تھیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعد کی زندگی میں اردو زبان کبھی بھی مشکل مضمون معلوم نہ ہوئی۔
ہمدرد نونہال نے میری تعلیم اور تربیت دونوں میں حصہ لیا۔ آج اگر اردو لکھنے اور بولنے کا کوئی سلیقہ حاصل ہے تو اس کا ابتدائی بیج رکھنے میں ہمدرد نونہال ہی شامل ہے۔
میری دعا ہے کہ یہ رسالہ اسی طرح قائم دائم رہے۔
والسلام
محمود احمد غازی
(بشکریہ ’’ہمدرد نونہال‘‘، نومبر ۲۰۰۴ء)
بنام:مولانا زاہد الراشدی
(۱)
برادر مکرم ومحترم جناب مولانا ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپریل ۲۰۰۲ء کا ماہنامہ ’الشریعہ‘ آپ کے دیرینہ لطف وکرم سے موصول ہوا۔ میں روز اول ہی سے اس رسالے کا باقاعدہ قاری ہوں۔ آپ کی تحریروں اور مضامین میں جو اعتدال اور توازن ہوتا ہے، وہ گزشتہ کچھ عرصے سے [ہمارے ہاں] کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ کی تحریریں ملک میں ایک متوازن اور معتدل مذہبی رویے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گی۔
زیر نظر شمارے میں اپنی ایک تحریر دیکھ کر حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی۔ حیرت اس لیے کہ اس عنوان سے کوئی مضمون لکھنا یاد نہیں تھا اس لیے ابتداءً اخیال ہوا کہ شاید یا تو غلطی سے میرا نام چھپ گیا ہے یا یہ میرے کسی ہم نام کی تحریر ہے، لیکن جب اصل مضمون پڑھا تو اندازہ ہوا کہ عنوان آپ کا اور معنون اس ناچیز کا۔ غالباً آپ نے میرا وہ لیکچر ملاحظہ فرمایا ہوگا جس سے یہ اقتباس لے کر شائع کیا گیا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ آپ اور آپ جیسے دوسرے علماء کرام اس پورے لیکچر کو بالاستیعاب مطالعہ فرمائیں۔ آپ کے عطا کردہ اس عنوان سے خیال ہوتا ہے کہ شاید میری کتاب ’خطبات بہاول پور‘ آپ کے لیے دلچسپی کا موضوع ہوگی۔ پتہ نہیں آپ کویہ کتاب دیکھنے کا اتفاق ہوا یا نہیں۔
علامہ اقبالؒ اور مولانا تھانویؒ کے مابین فکری مماثلتوں کے موضوع پر پروفیسر محمد یونس میو کا مضمون اچھا ہے، لیکن بہت مختصر۔ شاید ان کو یہ تجویز کرنا موزوں ہو کہ مولانا رومیؒ کے افکار اور پیغام کے بارے میں علامہ اقبالؒ اور مولانا تھانویؒ کے نظریات وخیالات کا تقابلی مطالعہ نہ صرف دلچسپ ہوگا بلکہ دونوں اکابر کے نقطہ نظر میں حیرت انگیز مماثلتیں بھی اس کے ذریعے سامنے آئیں گی۔ میری طرف سے پروفیسر محمد یونس صاحب کو مبارک باد پیش کر دیں۔
والسلام
نیاز مند
ڈاکٹر محمود احمد غازی
(الشریعہ، مئی ۲۰۰۲ء)
(۲)
۱۷؍ اگست ۲۰۱۰ء
۶؍رمضان المبارک ۱۴۳۱ھ
برادر مکرم ومحترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
مجھے معلوم ہوا ہے کہ چند سال قبل آپ نے طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر کوئی مشاورت منعقد فرمائی تھی جس میں بہت سے اہل علم نے اپنی آراء کا اظہار فرمایا تھا۔ کیا یہ آراء تحریری صورت میں دستیاب ہیں؟ اگر ایسا ہے تو کیا ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے؟ مزید برآں غیر اہل حدیث اور غیر سلفی علماء میں کون کون سے حضرات طلاق ثلاثہ کے ایک ہونے کے قائل رہے ہیں؟ ایک درمیانی راستہ حضرت مفتی کفایۃ اللہ صاحب نے اختیار فرمایا تھا۔ کیا دوسرے اہل افتاء کے ہاں بھی یہ رجحان ملتا ہے؟
بہرحال اس موضوع پر جتنا مواد فراہم ہو سکے، وہ مجھے ارسال فرما دیں۔
رمضان المبارک کی نیک ساعتوں میں بھی یاد فرمائیے۔
والسلام
نیاز مند
محمود احمد غازی
بنام: مولانا محمد موسیٰ بھٹو
(۱)
مورخہ: ۲۳ ستمبر ۸۹ء
مخدوم ومعظم جناب حافظ محمد موسیٰ بھٹو صاحب دامت برکاتکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے، آپ کے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ کل آپ کا گرامی نامہ موصول ہوا۔ معلوم نہیں آپ کو یہ تاثر کیوں ہوا کہ اکیڈمی نے سندھی زبان میں لٹریچر کا منصوبہ ترک کر دیا ہے۔ یہ تاثر غالباً گذشتہ چند ماہ کی سست رفتاری سے پیدا ہوا ہے۔ یہ سست رفتاری بعض انتظامی دقتوں اور دفتری طریقہ کار کی طوالت اور پیچیدگی کی وجہ سے پیدا ہو گئی تھی۔ تاہم ہماری پوری کوشش یہ ہے کہ سندھی اسلامی ادبیات کے میدان میں جو کچھ ہم کر سکتے ہیں، اس سے دریغ نہ کیا جائے۔ اس ضمن میں آپ سے ماضی میں جو گفتگوئیں ہوتی رہی ہیں، ان کی روشنی میں حتی المقدور کام کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ استاد محمد قطب کی کتاب ’’اسلام اور جدید ذہن کے شبہات‘‘ کے بارے میں دفتری کارروائی ایک ناگزیر انتظامی مشکل کی وجہ سے ہو گئی تھی جو اب الحمد للہ دور ہو گئی ہے۔ اس ضمن میں جلد ہی آپ کو دفتری مراسلہ مل جائے گا۔
سندھ نیشنل اکیڈمی کے ساتھ تعاون کی تجویز اچھی ہے۔ کیا یہ ممکن ہوگا کہ اس پر آپ تفصیلی تجویز انگریزی میں ٹائپ کرا کر ہمیں بھیج سکیں؟
بائبل، قرآن اور سائنس سندھ کے اہم اہل علم کو بھیجنے کے لیے آپ سے گزارش ہے کہ ایسے افراد کے پتے ہمیں ارسال فرمائیں۔ ہم ایک ہفتے کے اندر اندر ان کو یہ کتاب ارسال کر دیں گے۔
اگر آپ جیسے مخلص اہل علم وفکر ہی کسی مایوسی یا غلط فہمی کا شکار ہوں گے تو ہم جیسوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
دعاؤں میں یاد فرماتے رہنے کی درخواست ہے۔
والسلام
محمود احمد غازی
(۲)
مورخہ: ۳۰؍ اکتوبر ۸۹ء
برادر مکرم ومحترم جناب حافظ موسیٰ بھٹو صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ کے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ آپ کا گرامی نامہ مورخہ ۲۵؍ ستمبر مجھے ایک غیر ملکی سفر سے واپسی پر ملا۔ اس کے ہمراہ پتوں کی فہرست بھی مل گئی۔ ہم ان سب اہل علم کو سندھی زبان کی کتابیں بھیج رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اب تک ’’اسلام اور جدید ذہن کے شبہات‘‘ کی کمپوزنگ مکمل ہو گئی ہوگی۔ آپ سے گزارش ہے کہ جونہی پروف ریڈنگ اور تصحیح مکمل ہو، کتاب ہمیں ارسال کر دیں۔ یہ غالباً آپ کے ذہن میں ہوگا کہ اس کتاب کے مختلف ابواب الگ الگ کتابچوں کی شکل میں شائع کیے جائیں گے اور ایک ہی پیش لفظ جو میری طرف سے ہے، ہر کتاب میں شامل ہوگا۔
آپ سے مسلسل دعاؤں میں یاد رکھنے کی درخواست ہے۔
والسلام
نیاز مند
محمود احمد غازی
(۳)
برادر مکرم ومحترم جناب حافظ محمد موسیٰ صاحب بھٹو
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ کے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ آپ کا گرامی نامہ کئی روز ہوئے مل گیا تھا، لیکن میں مختلف مصروفیات کی بنا پر جواب ارسال نہ کر سکا۔
آپ کی مرسلہ کتاب ’’اسلام اور ہمارے مسائل‘‘ بروقت مل گئی تھی اور اس وقت اس سے استفادہ بھی کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ میں آپ کی تحریروں اور کتابوں کا ایک عرصہ سے مداح ہوں۔ آپ کی ہر تحریر میں نہ صرف صحیح اسلامی خیالات پڑھنے کو ملتے ہیں بلکہ ملک وملت کے مسائل پر آپ کا انداز فکر بڑا پختہ اور حقیقت پسندانہ ہوتا ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آپ کی ان فاضلانہ تحریروں کو وہ قبول عام حاصل نہیں ہوا جس کی اس وقت شدید ضرورت ہے۔
آپ کے حسب ارشاد جناب عبد الغنی فاروق کی کتاب ’’ہم کیوں مسلمان ہوئے‘‘ کا کمپوز شدہ مواد ان شاء اللہ ارسال کر دیا جائے گا۔ میں جلد ہی اس بارے میں آپ سے رابطہ قائم کروں گا۔
والسلام
مخلص
محمود احمد غازی
(۴)
برادر مکرم ومحترم جناب حافظ محمد موسیٰ صاحب بھٹو
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ کے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
آپ کا گرامی نامہ مورخہ ۸ ؍ اکتوبر موصول ہوا۔ آپ کے خطوط پڑھ کر ایمان میں تازگی پیدا ہوتی ہے، اس لیے آپ سے درخواست ہے کہ براہ کرم اپنے خطوط کا سلسلہ منقطع نہ فرمائیے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ کئی ماہ قبل میں نے یہ گزارش کی تھی کہ دور جدید میں دعوت دین، اس کا فلسفہ اور اسلوب ومنہاج کے عنوان سے ایک جامع کتاب اکیڈمی کے لیے مرتب کر دیجیے جس میں آپ کی اب تک کی تحریروں کا خلاصہ آ جائے۔ ہم اس کو اپنے پروگرام میں شائع کریں گے اور کوشش کریں گے کہ اس کا دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ کرا سکیں۔
مجھے امید ہے کہ آپ کے پاس اکیڈمی کی تمام اردو، انگریزی اور سندھی مطبوعات موجود ہوں گی۔
والسلام
نیاز مند
محمود احمد غازی
(۵)
برادر مکرم ومحترم جناب حافظ محمد موسیٰ بھٹو صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ کے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ آپ کا گرامی نامہ مورخہ ۲۰ جنوری موصول ہوا جس کے ہمراہ آپ نے ماہنامہ بیداری میں شائع شدہ اپنے فاضلانہ مضامین کی ایک فہرست بھی ارسال فرمائی ہے۔ ہم یقیناًان تحریروں سے استفادہ کریں گے اور وقتاً فوقتاً یہ تحریریں آپ سے منگواتے رہیں گے۔
شاید آپ کے علم میں ہو کہ اکیڈمی نے ڈاکٹر رفیع الدین کی دو کتابیں شائع کی تھیں اور ان کو بڑے پیمانے پر اندرون وبیرون ملک علمی حلقوں میں پہنچایا تھا۔ مولانا محمد تقی امینی کی کتابیں خالص فنی قسم کی ہیں اور وہ اکیڈمی کے موضوع سے براہ راست متعلق بھی نہیں ہیں۔ یوں بھی پاکستان میں کئی ادارے ان کی اشاعت کر رہے ہیں۔ کبھی ملاقات ہو تو مخدوم ومعظم جناب ڈاکٹر غلام مصطفی خان دامت برکاتہم کی خدمت میں سلام عرض کر دیں۔ ان سے مراسلت کا سلسلہ شروع کیا تھا، لیکن مسلسل سفروں کی وجہ سے میں اس کو جاری نہ رکھ سکا۔
والسلام
نیاز مند
محمود احمد غازی
(۶)
۹۹۔۱۔۲۰
محترمی ومکرمی جناب حافظ محمد موسیٰ بھٹو صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
دعوۃ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی سرگرمیوں سے آپ یقیناًآگاہ ہوں گے۔ اسلام کی دعوت وتبلیغ کے لیے دنیا کی ہر اہم زبان میں کتب کی اشاعت کے علاوہ انگریزی زبان میں دعوتی پرچہ "Dawah Highlights" کے نام سے شائع کیا جا رہا ہے۔
اس بات کی بہت عرصہ سے ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اردو بولنے اور پڑھنے والے مسلمانوں کے لیے اردو زبان میں ایسا معیاری دعوتی پرچہ شروع کیا جائے جس کے ذریعے وہ نہ صرف اسلام کی بنیادی تعلیمات سے آگاہ ہو سکیں، بلکہ انھیں موجودہ اور آنے والے دور کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو وسعت تحریر اور زور قلم سے نوازا ہے۔ امید ہے دعوۃ اکیڈمی کے مجوزہ ماہنامہ ’’دعوۃ‘‘ کو آپ کی قلمی سرپرستی حاصل ہوگی،مگر اس سے قبل ہمیں آپ کی گراں قدر تجاویز اور مفید مشوروں کی ضرورت ہے کہ اس کے مندرجات میں کیا کچھ شامل ہونا چاہیے۔ تعلیم یافتہ مسلمان بالعموم اور نوجوان وعام پڑھے لکھے مسلمانوں کے لیے بالخصوص اس میں کیا کچھ ہونا چاہیے۔ یہ پرچہ رمضان المبارک ۱۴۱۴ھ بمطابق مارچ ۱۹۹۴ء سے شروع کرنے کا پروگرام ہے۔ اس لیے آپ اپنی تجاویز اور مشوروں سے جلد از جلد نوازیں تاکہ ان کی روشنی میں ’’دعوۃ‘‘ کی اشاعت کو عملی شکل دی جا سکے۔
والسلام
محمود احمد غازی
(۷)
۲۸؍۱۰؍۹۴
برادر مکرم ومحترم جناب حافظ محمد موسیٰ صاحب بھٹودامت برکاتکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ آپ کا گرامی نامہ مورخہ ۱۲؍ اکتوبر موصول ہوا تھا۔ اس کے ہمراہ آپ کی مرسلہ کتاب ’’معاشرہ، جدیدیت اور اسلام‘‘ کے نسخے بھی موصول ہوئے، جزاکم اللہ تعالیٰ۔ ان شاء اللہ صاحب الرائے تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔ مجھے آپ کے خیالات میں اپنے احساسات کی عکاسی محسوس ہوتی ہے جس کی وجہ سے دل کوبڑی قربت محسوس ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو دار آخرت کی قربت کا ذریعہ بنائیں۔
والسلام
نیاز مند
محمود احمد غازی
(۸)
۱۷؍۶؍۲۰۰۶
برادر گرامی قدر جناب حافظ محمد موسیٰ بھٹو صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گرامی نامہ موصول ہوا۔ کتابوں کا ہدیہ بھی باصرہ نواز اور بصیرت افزا ہوا۔ جزاکم اللہ
آپ نے جن اہم امور کی طرف توجہ دلائی ہے، ان کے لیے شکر گزار ہوں۔ اگر آپ ان باخبر مذہبی شخصیات سے کہہ سکیں کہ وہ کبھی مجھ سے مل لیں تو میں ان کے تحفظات کے بارہ میں ان سے بات کر سکتا ہوں۔ ان شاء اللہ گفتگو کے بعد ان کے خدشات دور ہو جائیں گے۔
دعاؤں میں یاد رکھنے کی درخواست ہے۔
والسلام
نیاز مند
محمود احمد غازی
(۹)
اسلام آباد
۱؍۱۱؍۱۹۹۴ء
برادر مکرم ومحترم جناب حافظ محمد موسیٰ صاحب بھٹو دامت برکاتکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ آپ کا گرامی نامہ مورخہ ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۹۴ء بروقت مل گیا تھا اور اس کے ہمراہ آپ کی نئی تصنیف: معاشرہ، جدیدیت اور اسلام کے بیس نسخے بھی مل گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے قلم میں روانی، وسائل میں فراوانی اور ذوق وشوق میں طغیانی بیش از بیش فرمائیں۔ آپ سے وہ بہت کام لے رہے ہیں۔ ان شاء اللہ ان کاموں کے واضح نتائج بھی جلد سامنے آئیں گے۔
میں اب دعوہ اکیڈمی کی ذمہ داریوں سے الگ ہو گیا ہوں اور یونیورسٹی کے دوسرے شعبہ میں آ گیا ہوں۔ اکیڈمی کی سربراہی اب ڈاکٹر انیس احمد صاحب کے سپرد کی گئی ہے۔ وہی ا س کے بانی اور موسس بھی تھے اور گزشتہ چار سال سے ملائشیا میں تدریسی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ دعا فرمائیے کہ اکیڈمی کے اچھے کام ان کی سربراہی اور نگرانی میں اور اچھے ہوں اور جاری رہیں اور ان کے نااہل پیشرو کی کمزوریاں ان کے ہاتھوں دور ہوں۔
ایک عرصہ سے مخدوم ومعظم جناب ڈاکٹر غلام مصطفی خان صاحب کی خیریت معلوم نہیں ہوئی۔ نیاز حاصل ہو تو سلام عرض فرما دیں۔
والسلام
نیاز مند
محمود احمد غازی
بنام: ڈاکٹر سید عزیز الرحمن
(۱)
اسلام آباد ۱؍۳؍۱۹۹۹ء
برادرمکرم ومحترم جناب مولانا سید عزیرالرحمان صاحب دامت برکاتکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے دونوں گرامی نامے بروقت موصول ہو گئے تھے (۱) لیکن میں قبل از یں جواب ارسال نہ کر سکا جس کے لیے دل سے معذرت خواہ ہوں۔ حضرت مولانا سید فضل الرحمان صاحب از حد مبارک بادکے مستحق ہیں کہ شش ماہی تحقیقی مجلہ السیرۃ کا اجراء فرما رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائیں اور وسائل سے مالا مال فرمائیں۔ رسالہ کا نکالنا تو آسان، لیکن اس کا جاری رکھنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلا شمارہ اس وقت شائع کیا جائے جب آئندہ تین چار تیار شمارے موجود ہوں۔ مزید برآں علمی اور تحقیقی رسائل معاشی طور پر viable نہیں ہوتے۔ اکثر وبیشتر ان پر خرچ ہی کرنا پڑتا ہے۔ ان کی فروخت سے یافت ہوناشاذ ونادر صورتوں میں ہی ممکن ہو پاتا ہے۔ لہٰذا آئندہ تین چار شماروں کے مواد کے ساتھ ساتھ ان شماروں کے اخراجات کی فراہمی بھی ضروری ہے۔ علمی اور تحقیقی رسائل میں اشتہارات سے بھی زیادہ آمدنی نہیں ہو پاتی، لہٰذا اس مد سے بھی کسی خاص مدد کی امید نہ رکھنی چاہیے۔
رسالہ کو محدود معنوں میں سیرت کے موضوعات تک محدود نہ رکھیے، بلکہ اگر اس کا دائرہ کار معارف نبوت یا علوم نبوت یا پیغام سیرت رکھا جائے توموزوں ہو۔
محترم جناب سید سعید احمد شاہ صاحب علیل تھے، اب ٹھیک ہیں اور ہسپتال سے گھر آ گئے ہیں۔ (۲)
والسلام
نباز مند وطالب دعا
محمود احمد غازی
(۲)
محترم جناب سید عزیرالرحمان صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا گرامی نامہ مورخہ ۳۱؍ جنوری ۲۰۰۱ء بنام ڈاکٹر محمو د احمدغازی صاحب وفاقی وزیر مذہبی امور،زکوٰۃ وعشر موصول ہوا۔
ڈاکٹر غازی صاحب نے آپ کے مراسلے اورالسیرۃ انٹرنیشنل کا شکریہ ادا فرمایا ہے۔ (۳) آپ نے اپنے مکتوب میں جن دیگرامور کی جانب ڈاکٹر صاحب کی توجہ مبذول کروائی ہے، اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب نے مجاز افسروں کو مناسب غوروخوض اور ضروری کاروائی کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔ (۴) اس سلسلے میں ہونے والی پیشرفت سے آپ کو جلد آگاہ کیا جائے گا۔
والسلام
سید قمر مصطفی شاہ
پرنسپل سٹاف آفیسر برائے وزیر محترم
(۳)
اسلام آباد ، یکم اگست ۲۰۰۱ء
برادر مکرم و محترم جناب سید عزیرالرحمان صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے متعدد گرامی نامے اور ششماہی عالمی السیرۃ کے شمارے موصول ہوئے ۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ وقتاً فوقتاً اپنے مفید مشوروں اور تجاویز سے رہنمائی فرماتے رہتے ہیں۔
سیرت کانفرنس کی بابت آپ نے جو امور تحریر فرمائے تھے، ان پر غور وخوض کر کے اس سال سیرت کانفرنس کے انتظامات بہتر بنائے جا رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ حسب سابق اپنے مفیدمشوروں سے نوازتے رہیں گے۔
والسلام
نیاز مند
ڈاکٹر محمود احمد غازی
(۴)
اسلام آباد، ۹؍جولائی ۲۰۰۲ء
محترم جناب سید عزیرالرحمان صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کاوقیع رسالہ عالمی السیرۃ باقاعدگی سے ملتا رہتا ہے۔ اس کے عالمانہ مضامین اور تحقیقی مقالات نے اس رسالے کو بہت جلد ایک نمایاں مقام عطا کر دیا ہے۔ اس سے خوشی ہوئی کہ آپ پروفیسر سید محمد سلیمؒ کے افکار وخیالات پر رسالہ تعمیر افکارکے تعاون سے ایک خصوصی اشاعت کااہتمام کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ تعمیر افکار کا یہ خصوصی شمارہ ایک اہم تاریخی دستاویز ہو گا۔ پروفیسر سیدمحمد سلیم مرحوم کا علمی مقام اس بات کا متقاضی ہے کہ ان پر ایک نہیں، بہت سے رسائل کے خصوصی شمارے شائع کیے جائیں۔ انہوں نے علم وتحقیق کے مختلف میدانوں میں جتنا وقیع کام کیا ہے، اس پر دیر تک اہل علم تحقیق کرتے رہیں گے۔
میں بڑے اشتیاق اور شدت سے رسالہ تعمیر افکار کے خصوصی شمارے کا منتظر ہوں۔
والسلام
نیاز مند
ڈاکٹر محمود احمد غازی
(۵)
تاریخ: ۱؍۸؍۲۰۰۶
برادر مکرم جناب مولانا حافظ سید عزیر الرحمان صاحب زیدت معالیکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گرامی نامہ، کتابیں اورمقالہ (۵) سب ہدایا ایک ساتھ موصول ہوئے۔ جزاکم اللہ۔
مقالہ الحمدللہ بہت عالمانہ ہے۔ جلد سے جلد اشاعت کا اہتمام فرمائیے۔ عجیب توارد ہے کہ یہی موضوعات میرے ذہن میں بھی ہیں جو آخری تین خطبات میں زیر بحث آئیں گے۔ (۶) توارد پر ایک لطیفہ وقت ملاقات سناؤں گا۔
محترم ڈاکٹر کشفی صاحب کا بھی دلی شکریہ ادا کر دیں۔ ان سے ملاقات کی لذت ابھی تازہ ہے۔ (۷)
آج ان شاء اللہ خطبہ ہشتم ہے،ہفتہ تک بارہ خطبے ہو جائیں گے۔ جیسے ہی کسی خطبہ کی نقل تیار ہوئی، آپ کو ارسال کر دوں گا۔ (۸)
والسلام
نیاز مند
محمود احمد غازی
(۶)
دوحہ: قطر
۱۶؍ اکتوبر ۲۰۰۹ء
جمعۃالمبارک
برادر مکرم جناب ڈاکٹر سید عزیر الرحمان صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ٓامید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ عرصہ دراز سے، غالباً اگست کے اوائل کی ملاقات کے بعد سے آپ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، خدا کرے خیر ہی ہو۔
اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اسلامی بنکاری والی تقریر پر نظر ثانی ہو گئی ہے۔ (۹) لیکن اب بھی مزید نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اس لیے گزارش یہ ہے کہ ایک بار کھلا کھلا کمپوز کرا کے مجھے واپس بھیج دیں۔ ان شا ء اللہ اس بار تاخیر نہ ہوگی۔
پروفیسرعبدالجبار شاکر صاحب کے اچانک رخصت ہوجانے سے بہت صدمہ ہوا ۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے۔ بہت مخلص اور متدین انسان تھے۔ ان کے اہل خانہ میں سے کسی سے رابطہ ہو تو میری طرف سے تعزیت بھی کر دیں اور ان کا نمبر وغیرہ بھیج دیں تاکہ میں براہ راست بھی رابطہ کر سکوں۔
ان کا ذاتی کتب خانہ بہت عالی شان اور وسیع تھا۔ کتابوں کا واقعی بہت عالمانہ اور اچھا ذوق رکھتے تھے۔ اللہ کرے کہ کتب خانہ سلامت اور یکجا رہے۔ خالد اسحاق صاحب مرحوم کے کتب خانہ کی طرح تتر بتر نہ ہو۔
’’اسلام اور مغرب‘‘ والے مقالات کا کیا ہوا؟ (۱۰) یہ صرف استفسار ہے، اصرار نہیں ۔ دعوہ اکیڈمی (کراچی مرکز) کی سرگرمیاں کیسی چل رہی ہیں؟ والد صاحب سے سلام عرض کر دیں۔
والسلام
محمود احمد غازی
(۷)
تاریخ: ۱۶؍ستمبر ۲۰۱۰
برادر مکرم جناب ڈاکٹر سید عزیر الرحمان صاحب زیدت معالیکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
کل کی زحمت دہی پر نادم اور شرمندہ ہوں۔ بلاوجہ گرمی میں آپ کو (محض اپنے ذاتی کام کے لیے) پچاس میل سے سفر کی زحمت دی۔ ( ۱۱) براہ کرم درگزر فرمائیے گا۔ کتابیں (تاریخ الحرکۃ المجددیۃ) کے نسخے مل گئے، جزاکم اللہ۔ قرآن نمبر کے لیے منتخب کردہ خطبہ پر سرسری نظر ثانی کر دی ہے۔ (۱۲)
والسلام نیاز مند
محمود احمد غازی
(۸)
۱۹ ؍اکتوبر۲۰۰۸
۲۰شوال المکرم ۱۴۲۹ھ
دوحہ۔قطر
برادرم مکرم و محترم جناب مولانا ڈاکٹر حافظ عزیز الرحمن صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
وعدے کرنے میں بہت سخی واقع ہوا ہوں، نبھانے کے معاملہ میں صفر ہوں۔ اس شکل سے نکلنے کا واحد راستہ صبر ہی ہے،لہٰذا صبر سے کام لیجیے۔
بنکاری والی تقریر میں معاملہ صفر سے ذرا آگے بڑھا ہے۔ثبوت کے طور پر یہ آدھی تقریر ارسال خدمت ہے۔ بقیہ بھی جلدہی پیش کر دوں گا۔ گزارش یہ ہے کہ تصحیحات کے بعد تین گنا space پر ٹائپ کرائیے گا، اس لیے کہ ایک بار مزید اصلاح ہوگی تو یہ بے سروپا گفت گو قابل اشاعت ہو سکے گی۔
بقیہ وعدوں کے ایفا کی رفتار کا اندازہ آپ کو ہو گیا ہو گا۔
والسلام
نیاز مند
ڈاکٹر محمود احمد غازی
(۹)
۲۵ اکتوبر۲۰۰۸
۲۶شوال المکرم ۱۴۲۹ھ
برادرم مکرم و محترم جناب مولانا ڈاکٹر حافظ عزیز الرحمن صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے!
آج اپنے کاغذات میں یہ مقالہ نظر پڑا۔ یہ میں نے مکہ مکرمہ کی کانفرنس (جون ۲۰۰۸) میں پڑھا تھا۔ یاد آیا کہ آپ نے اس کی نقل بھیجنے کو کہا تھا۔ تاخیر ہی سے سہی، مگر تعمیل ارشاد کی سعادت ہوگئی۔
والسلام
نیاز مند
ڈاکٹر محمود احمد غازی
(۱۰)
برادرم مکرم و محترم جناب مولانا ڈاکٹر حافظ عزیز الرحمن صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
مزاج گرامی!
اسلامی بنکاری والی تقریر کا آخری حصہ ارسال خدمت ہے۔ اس میں کم از کم دو بار مزید اصلاح و ترمیم کرنا ہوگی، جب جا کر یہ قابل طباعت ہو سکے گی۔ دوبارہ جب بھیجیں تو تین گنا space پر ٹائپ کرائیے گا تاکہ اصلاح میں آسانی رہے۔
والسلام
نیاز مند
ڈاکٹر محمود احمد غازی
۲۳ اکتوبر ۲۰۰۸
(معاف کیجیے گا کہ علم اور ہمت کے ساتھ ساتھ قلم نے بھی جواب دے دیا ہے۔)
حواشی (از ڈاکٹر سید عزیز الرحمن)
۱۔ ۱۹۹۹ء میں شش ماہی السیرۃ کے اجرا کے موقع پر اہل علم کو خطوط لکھے گئے تھے۔ بعض حضرات کو یاد دہانی کے لیے اس کی نقل مکرر روانہ کی گئی تھی۔ یہ خط اس کے جواب ہی موصول ہو اتھا۔
۲۔ سید سعید احمد شاہ صاحب ادارۂ تحقیقات اسلامی میں ناظم مطبوعات تھے ۔ یونیورسٹی کی نہایت قابل احترام بزرگ شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ دادا جان مولانا سید زوار حسین شاہ ؒ سے بیعت تھے۔ اسی نسبت سے ڈاکٹر صاحب نے خط میں ان کا تذکرہ کیا تھے۔
۳۔ ان دنوں السیرۃ کا چوتھا شمارہ شائع ہوا تھا جو ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں ارسال کیا گیا تھا۔
۴۔ حج کے معاملات اور وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام ہر سال منعقد ہونے والی سیرت کانفرنس کے بعض امور کی جانب ڈاکٹر صاحب کی توجہ دلائی تھی۔ اس کے جواب میں ان کے دفتر سے یہ خط موصول ہوا۔
۵۔ راقم نے ایک تقریب میں سیرت نگاری پر ایک گفتگو کی تھی جو اس وقت شائع نہیں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کی تحریک پریہ مضمون شائع آنے کی ہمت ہوئی اور یہ مضمون ’’مطالعہ سیرت کی وسعت ، براعظم پاک وہند‘‘ کے عنوان سے شش ماہی السیرۃ کے شمارہ نمبر ۱۸ میں شائع ہوا ہے۔
۶۔ ان محاضرات کے عنوانات ہیں: مطالعہ سیرت پاک وہند میں۔ مطالعہ سیرت دور جدید میں۔ مطالعہ سیرت مستقبل کی ممکنہ جہتیں۔ یہ مجموعہ محاضرات سیرت کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔
۷۔ ڈاکٹر صاحب ایک پروگرام میں کراچی تشریف لائے تو ڈاکٹر سید محمد ابوالخیر کشفی ؒ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔ پھر راقم ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کشفی صاحب کے ہاں حاضر ہوا تھا۔ اس کا ذکر ہے۔
۸۔ ان دنوں ادارہ تحقیقات اسلامی ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ، اسلام آباد میں ڈاکٹر صاحب کے محاضرات سیرت جاری تھے، اس کا ذکر ہے۔
۹۔ تقریر جامعۃ الرشید کراچی کی گئی تھی او ر اپنے موضوع پر نہایت مفصل تقریرتھی۔ یہ پہلے دو اقساط میں ماہنامہ تعمیر افکار کراچی کے جنوری ، فروری ۲۰۱۰ء کے شماروں میں شائع ہوئی تھی۔ بعد میں اسے کتابی شکل میں ’’اسلامی بنکاری ۔ایک تعارف‘‘ کے عنوان سے دارالعلم والتحقیق کی طرف سے شائع کیا گیا۔ (صفحات ۱۱۱۔ مار چ ۲۰۱۰ء)
۱۰۔ ڈاکٹر صاحب کے یہ چھے حاضرات راقم نے مرتب کیے تھے۔ ان کی اشاعت میں تاخیر ہوتی چلی گئی۔ یہ مجموعہ ’’ اسلام اور مغرب تعلقات‘‘ کے عنوان سے دسمبر ۲۰۰۹ء میں دارالعلم والتحقیق سے شائع ہوا۔ (صفحات ۲۲۱)
۱۱۔ یہ خط راقم کے نام ڈاکٹر صاحب کا آخری خط ثابت ہوا۔ ڈاکٹر صاحب کی عربی کتاب تاریخ الحرکۃ المجددیۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت سے ۲۰۰۹ء میں شائع ہوئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کے کچھ نسخے ذاتی طور پر خریدنے کا عندیہ ظاہر کیا تو راقم نے وہ نسخے حاصل کرکے ارسال کر دیے تھے۔ ان کی رقم کی ادائیگی کے لیے ڈاکٹر صاحب مصر تھے۔ راقم نے عرض کیا کہ عندالملاقات وصول کر لوں گا، اس کی فکر نہ فرمائیں۔ ۱۴؍ ستمبر کو ڈاکٹر صاحب اسٹیٹ بینک کے شریعہ ایڈوائزی بورڈ کی میٹنگ میں شرکت کے لیے تشریف لائے۔ یہ میٹنگ ۱۵؍ ستمبر کو تھی۔ اسی روز وہاں سے فراغت کے بعد ڈاکٹر صاحب کی ائیرپورٹ روانگی تھی۔ ان کاحکم ہو ا کہ میں اسٹیٹ بنک میں ہی مل لوں۔ اس لیے وہاں جانا ہوں جس کا خط میں ذکر ہے اور راقم کو رقم کی ادائیگی وہ ذاتی کام تھاجس پر ڈاکٹر صاحب معذرت کر رہے ہیں۔ اللہ اکبر!
۱۲۔ڈاکٹر صاحب کا یہ خطبہ ان کی سلسلہ محاضرات کی آخری کتاب ’’محاضرات معیشت وتجارت‘‘ کا ابتدائی خطبہ ہے جس میں معیشت کی قرآنی ہدایات پر گفتگو کی گئی ہے۔ راقم نے ان میں چند حوالوں کا اضافہ کر کے اسی ملاقات ہی میں مضمون ڈاکٹر صاحب کو پیش کیا تھا تاکہ وہ ایک نظر اسے ملاحظہ فرما لیں۔ یہ خطبہ ان شاء اللہ ماہ نامہ تعمیر افکار کے قرآن نمبر میں شائع ہو گا۔
بنام: حافظ صفوان محمد چوہان
مورخہ ۱۴؍ ۴؍ ۲۰۰۵ء
بردر مکرم ومحترم جناب حافظ صفوان محمد چوہان زیدت معالیکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا گرامی نامہ چند روز قبل ملا تھا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں بروقت جواب ارسال نہ کرسکا۔ اس سے خوشی ہوئی کہ آپ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ جیسے شعبوں سے وابستہ رہتے ہوئے (جو خالص فنی اور سائنسی نوعیت کے ہیں) دینی اور ملی موضوعات سے بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے اس ذوق میں برکت عطا فرمائے اور آپ کو زیادہ سے زیادہ دینی اور ملی کاموں میں تعمیری حصہ لینے کی مزید توفیق عطا فرمائے۔
میری ناچیز گفتگو کو آپ نے پسند فرمایا۔ ممنون ہوں۔ یہ زبانی اور فی البدیہ گفتگو تھی جس میں مرتب خیالات اور پختہ نتائج پیش کرنا آسان نہیں (کم از کم میرے لیے) ۔ اب خیال ہو رہا ہے کہ اس transcription کو سامنے رکھ کر اس میں تفصیلی نظرثانی اور حک واضافہ کروں تاکہ جو با تیں وہاں زیادہ تفصیل سے عرض نہیں کی جا سکیں، وہ تفصیل سے سامنے آ جائیں۔
’’الشریعہ‘‘ کے بارہ میں میرے تاثرات بھی وہی ہیں جو آپ کے ہیں۔ اس کا سارا کریڈٹ مولانا زاہدالراشدی صاحب کو جاتا ہے۔
والسلام
نیاز مند
محمود احمد غازی
بنام: ڈاکٹر سید شاہد حسن رضوی
مکرمی جناب ڈاکٹر سید شاہد حسن رضوی صاحب
السلام علیکم
آپ کا ارسال کردہ سہ ماہی الزبیر موصول ہوا۔ اس سے قبل بھی ایک دو شمارے پڑھنے کا موقع ملا تھا۔ ایک انتہائی خوشگوار حیرت اس سے ہوئی کہ بہاول پور کا یہ رسالہ علم و ادب کے بڑے بڑے مراکز سے نکلنے والے بھاری بھرکم رسالوں سے کم نہیں۔ زیر نظر شمارے میں مشفق خواجہ مرحوم کے نام جو گوشہ مختص کیا گیا ہے، وہ بھی خاصے کی چیز ہے۔
میری ناچیز تحریریں عموماً دینی اور فقہی موضوعات پر مشتمل ہوتی ہیں جو شاید آپ کے رسالے کے لیے غیر موزوں ہوں۔ البتہ کبھی کبھی عربی یا فارسی میں کچھ اشعار نظم ہوجاتے ہیں جن کی حیثیت معنوی اعتبار سے صرف ذاتی احساسات اور لفظی اعتبار سے محض تک بندی سے زیادہ نہیں ہوتی۔ یوں یہ بھی آپ کے معیار سے فروتر سمجھی جائے گی۔
البتہ ایک گزارش کرنے کو جی چاہتا ہے۔ وہ یہ کہ عموماً اہل دین اور اہل تقویٰ کی ادبی کاوشوں کو اہل ادب کی بارگاہ میں زیادہ پذیرائی نہیں ملتی۔ اس دربار میں وہی لوگ باریاب ہوسکتے ہیں جو اخلاقیات اور روحانیات کے لباس سے یا تو عملاً عاری ہوں یا کم از کم نظری طور پر عاری ہونے کے دعوے دار ہوں۔ اگر سہ ماہی الزبیر اس رجحان کی اصلاح کی کوشش کرے تو یہ ایک بڑی خدمت ہوگی۔ مثال کے طور پر اردو کے مشہور شاعر محسن کاکوروی کا کلام کسی بھی اعتبار سے اردو کے بڑے بڑے اساتذہ کے کلام سے کم نہیں، لیکن ہماری ادبی تاریخیں اور تنقیدی تحریریں ان کے ذکر سے خالی ملتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں بہت سے ایسے لوگ جن کی شعری کاوشیں بہت پست معیار رکھتی ہیں، ادیبوں اور نقادوں کے ہاں ہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہیں۔
(بشکریہ سہ ماہی الزبیر، بہاولپور ۔ شمارہ ۳، ۲۰۰۶ء؛ ص ۲۸۹)
[اس خط کے جواب میں بندہ نے اپنے والد صاحب کا مضمون: ’’محسن کاکوروی کی نعتیہ شاعری‘‘ الزبیر میں بھجوایا جو شمارہ ۴، ۲۰۰۶ء میں چھپا۔ اس پر غازی صاحب کا خط شاید شمارہ۔۱، ۲۰۰۷ء میں چھپا ہوگا، لیکن یہ رسالہ مجھے فی الوقت نہیں مل رہا۔ (حافظ صفوان محمد)]
بنام:شہزاد چنا صاحب
(۱)
مور خہ ۴؍ جنوری ۲۰۰۶ء
برادرم جناب شہزاد چنا صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا گرامی نامہ موصول ہوا۔ اس کے ہمراہ’’ قرآن: ایک تعارف‘‘ کے سندھی ترجمے کی پہلی قسط بھی موصول ہوئی۔ جزاکم اللہ ۔
سندھی زبان میں لٹریچر کی تیاری کے لیے بہتر مشورہ اور رہنمائی مولانا امیر الدین مہر صاحب ہی دے سکتے ہیں۔
والسلام
ڈاکٹر محمود احمد غازی
(۲)
مورخہ ۲۲؍ مارچ ۲۰۰۶ء
برادر مکرم ومحترم جناب شہزاد چنا صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا گرامی نامہ مورخہ ۱۳؍ مارچ ۲۰۰۶ء موصول ہوا۔’’ الفاروق‘‘ اور ’’وینجھار ‘‘ کے تازہ شمارے بھی مل گئے ۔ اس سے خوشی ہوئی کہ ’’ الفاروق‘‘ کے ایڈیٹر مولانا محمدحسین شاہ نے بھی اس کاوش کو پسند کیا ہے۔ عربی لفظ ’’نجماً نجماً‘‘ کا ترجمہ ’’تھوڑا تھوڑا‘‘ ٹھیک ہے۔ مفسرین کرام نے آیت قرآنی کے لیے ’’ تھوڑا تھوڑا‘‘ کا لفظ خلاف ادب سمجھا، اس لیے اس کے بجائے ’’نجماً نجماً‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جن کے لغوی معنی ’’ستارہ ستارہ‘‘ کے ہیں۔ گویا قرآن مجید رشد وہدایت کی ایک کہکشاں ہے جس کے ستارے ایک ایک کر کے اتر رہے تھے اور کہکشاں کی تکمیل کر رہے تھے۔ اس لفظ میں جو معنویت اور خوبصورتی ہے، وہ کسی اور لفظ میں ممکن نہیں۔ جس صاحب ذوق اور صاحب دل مفسر نے پہلی بار یہ اصطلاح استعمال کی، اس کے ذوق کو سلام کرنا چاہیے۔
والسلام
ڈاکٹر محمود احمد غازی
(۳)
مورخہ ۳۱؍ جنوری ۲۰۰۶ء
برادر مکرم ومحترم جناب شہزاد چنا صاحب
السلام علیکم ورحمۃا للہ وبرکاتہ
گرامی نامہ مورخہ ۲۵؍ جنوری ۲۰۰۶ء موصول ہوا۔ ’ ’قرآن پاک:ایک تعارف ‘‘کے سندھی ترجمہ کی دوسری قسط بھی موصول ہوئی۔ اس سے خوشی ہوئی کہ مولانا امیر الدین مہر صاحب اس ترجمہ پر نظر ثانی فرما رہے ہیں۔ اگر مولانا کی رائے میں اس کتابچے کے سندھی ترجمہ کی اشاعت مفید ہوتو اس کے مکمل ہونے پر ایک کتابچے کی شکل میں شائع کرنے پر غور کریں اور مشورہ دیں۔
اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ختم ہو گیا ہے۔ اب دوسرے ایڈیشن کی طباعت کا مرحلہ درپیش ہے۔ چونکہ مولانا امیر الدین مہر صاحب اس کو ساتھ ساتھ ملاحظہ بھی فرما رہے ہیں، اس لیے ان سے درخواست کریں کہ کتاب کے آئندہ ایڈیشن میں جو ترامیم، اضافے اور اصلاحات ضروری ہوں، ان کی نشان دہی فرما دیں۔
میر ی طرف سے مرکز کے تمام احباب اور مولانا امیر الدین مہر صاحب کو سلام عرض کر دیں۔
والسلام
محمود احمد غازی
بنام: محمد عمار خان ناصر
(۱)
06/8/03
برادر مکرم ومحترم جناب مولانا عمار ناصر صاحب، مدیر الشریعہ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ آپ کے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ مسجد اقصیٰ کی شرعی حیثیت کے بارے میں آپ کا فاضلانہ مقالہ بروقت مل گیا تھا۔ میرے لیے اس کے مندرجات کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا تو دشوار ہے، اس لیے کہ میں نے مسجد اقصیٰ کی تاریخ کے بارے میں جو کچھ مطالعہ کیا تھا، اس پر خاصی مدت گزر چکی ہے۔ اب ازسرنو مطالعہ تازہ کرنے کے لیے کتابوں کی ورق گردانی ناگزیر ہے جس کی سردست فرصت نہیں۔ تاہم اگر آپ چاہیں تو علامہ ابن قیم الجوزیہ کی کتاب احکام اہل الذمہ کا مطالعہ فرمائیں جس میں انہوں نے شروط عمریہ پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ میری ناچیز رائے میں شروط عمریہ ہی اس معاملہ میں مسلمانوں کے موقف کی فقہی اور آئینی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
تاہم یہ غور ضرور کر لیں کہ کیا موجودہ حالات میں یہ بحث اٹھانا مفید ہوگا! میرا خیال یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کو اور بے شمار مسائل درپیش ہیں۔ اس صورت حال میں ایک نئی اختلافی بحث کھڑی کر دینا مناسب نہیں۔ علم اور خاص طور پر علم دین اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہاں ایک بڑا اعزاز ہے، وہاں ایک مقدس امانت بھی ہے۔ اس کو استعمال کرنے میں انتہائی احتیاط اور ذمہ داری سے کام لینا چاہیے۔ اگر ہم میں سے کسی کے علم کا استعمال اس انداز سے ہو کہ امت مسلمہ کو اس کا نقصان یا پاداش برداشت کرنا پڑے تو شاید یہ علم کا بہتر استعمال نہیں۔ مزید مشورہ برادر مکرم جناب مولانا زاہد الراشدی اور اپنے جد محترم سے فرما لیں۔
والسلام
ڈاکٹر محمود احمد غازی
نائب رئیس الجامعہ
(۲)
۱۱؍ اگست ۲۰۱۰ء
برادر عزیز ومکرم جناب مولانا محمد عمار خان صاحب ناصر
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گرامی نامہ مورخہ ۲۶ جولائی کل سفر حرمین سے واپسی پر دیکھا۔ دعوت کا شکریہ۔ جزاکم اللہ
۳۰؍ ستمبر کو جمعرات ہے اور عدالتی مصروفیت کا دن ہے۔ میں اتوار کے روز صبح کے وقت دستیاب ہو سکتا ہوں۔ آپ ستمبر/شوال کے مہینہ میں کوئی سا اتوار رکھ لیں۔
والد مکرم کی خدمت میں سلام عرض کر دیں۔ آپ کی تحریر بابت تولیت بیت المقدس کیا الگ سے بھی چھپی ہے؟ اس کی ایک نقل درکار ہے۔
والسلام
مخلص
محمود احمد غازی
بنام: محمد رضا تیمور
۱۹؍ اکتوبر ۲۰۰۷ء
برادر مکرم جناب محمد رضا تیمور ایم فل
السلام علیکم وررحمۃ اللہ وبرکاتہ
گرامی نامہ ملا۔ ممنون ہوا۔ جزاکم اللہ!
اس سے خوشی ہوئی کہ آپ کو محاضرات کا یہ سلسلہ پسند آیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کو قارئین کے لیے نافع اور ناچیز مولف کے لیے توشہ آخرت بنائے۔
آپ شوق سے ان کی تلخیص کیجیے۔ مناسب یہ ہوگا کہ پہلے کسی رسالہ میں ایک ایک محاضرہ شائع کرتے رہیے۔ قارئین کے تبصرہ اور رد عمل سے افادیت کا بھی اندازہ ہو جائے گا۔ اس کام کے لیے گوجرانوالہ کا الشریعہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ اس کے لیے پہلے مولانا زاہد الراشدی سے استمزاج کر لیں۔
والسلام
نیاز مند
محمود احمد غازی
بنام: شبیر احمد خان میواتی
۰۰۔۹۔۴
برادر مکرم جناب مولانا شبیر احمد خان صاحب میواتی زیدت معالیکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گرامی نامہ مورخہ ۱۷؍۸؍۲۰۰۰ء موصول ہوا۔ جزاکم اللہ۔ آپ نے جن خیالات کا اظہار فرمایا ہے، ان کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ آپ سے درخواست ہے کہ اپنی دعوات صالحہ میں یاد فرماتے رہیں۔
حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کے لیے میرے بھی وہی احساسات ہیں جن کا آپ نے اظہار فرمایا ہے۔ اللہ کرے ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
والسلام
مخلص
محمود احمد غازی
بنام: مولانا حیدر علی مینوی
برادر مکرم ومحترم جناب مولانا حیدر علی مینوی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ آپ کے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ میں ایک عرصہ دراز سے آپ کو یہ عریضہ ارسال کرنے کا ارادہ کر رہا تھا، لیکن میرے پاس آپ کا پتہ نہ تھا۔
اگر بہ سہولت ممکن ہو تو استاذ جلیل حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب مینوی رحمہ اللہ کی تالیف جواہر الاصول کے دو نسخے ارسال فرما دیں۔
میں یہاں اگست کے اوائل تک مقیم ہوں۔ پھر قطر واپس جانا ہے جہاں میں آج کل مقیم ہوں۔
والسلام
نیاز مند
محمود احمد غازی
بنام: نعمت اللہ سومرو
مورخہ ۲؍اکتوبر ۱۹۹۱ء
برادرمکرم ومحترم جناب نعمت اللہ سومرو صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ آپ کے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ آپ کا خط مورخہ ۲۱؍ ستمبر موصول ہوا کہ آپ کے علاقے میں امن وامان کی صورحال بہت خراب ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جلد از ہماری ان مشکلات کو دورفرما دے۔
یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ آپ لوگ شاہ عبداللطیف لائبریری کے اہتمام میں بہت سے دینی پروگرام منعقد کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی یہ تعمیری کوششیں بالآخر نتیجہ خیز ثابت ہوں گی اور آپ اسلام کے پیغام امن ومساوات کو عام کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ اس سلسلے میں اکیڈمی اپنے وسائل کے مطابق آپ کی ہر خدمت کے لیے تیار ہے۔
قطرٹیلی ویژن کے جس پروگرام کاآپ نے ذکر کیا ہے، وہ پہلے سے اکیڈمی میں موجود ہے اور اس کو اردو میں منتقل کرانے کی تجویز زیر غور ہے۔
والسلام مخلص
محمود احمد غازی
مکاتیب ڈاکٹر محمد حمیدؒ اللہ بنام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
ادارہ
ترتیب : ڈاکٹر حافظ محمد سجاد
(۱)
ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ عالم اسلام کے نامور محقق، مفکر اور سیرت نگار تھے۔ آپ کی علمی، فکری، تحقیقی وتصنیفی زندگی تقریباً اسّی پچاسی سال کے طویل عرصے پر پھیلی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کا تعلق خاندانِ نوائط سے تھا۔ نوائط کا نسبی تعلق عرب کے معزز قبیلہ بنو ہاشم کی ایک شاخ سے تھا۔ یہ لوگ مدینہ کے رہنے والے تھے۔ نوائط نے حجاج بن یوسف کے ظلم وستم سے تنگ آکر ہجرت کی اور یہ خاندان جنوبی ہند کے ساحلی علاقوں پر آ کر آباد ہو گیا تھا۔یہ خاندان اپنی دین داری، شرافت اور علمی رجحانات وخدمات کے لحاظ سے بہت معروف ومشہور ہے (۱)۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ ۱۶ محرم ۱۳۲۶ ہجری بمطابق ۱۹ فروری ۱۹۰۸ بروز چہار شنبہ کو فیل خانہ جو کہ حیدر آباد (دکن) کا قدیم محلہ تھا، میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی کا نام ابو محمد خلیل اللہ تھا جو کہ مدد گار معتمدمال گزاری حیدر آباد تھے اور والدہ کا نام بی بی سلطان تھا۔ آپ کی پانچ بہنیں اور تین بھائی تھے۔ ایک بھائی کابچپن میں انتقال ہو گیا تھا۔ بہنوں کے نام امۃ العزیز بیگم، امۃ الو ہاب بیگم، امۃ رقیہ بیگم ، امۃ الصمد بیگم، حبیبۃ الرحمن اور بھائیوں کے نام محمد صبغت اللہ ، محمد حبیب اللہ اور محمد غلام احمد ہیں۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی تعلیم کا آغاز گھر سے دینی تعلیم سے ہوا۔ ان کی رسم بسم اللہ والد محترم نے پڑھائی۔ کچھ عرصے تک خود بیٹے کو درس دیتے رہے۔ پھر حیدر آباد کی مشہور درس گاہ دارالعلوم میں داخل کرایا جہاں وہ چھٹے درجے تک پڑھتے رہے۔چھٹی جماعت کے بعد انہیں مدرسہ نظامیہ میں شریک کرایا ۔ایک سال وہ وہاں پڑھتے رہے۔ اس زمانے میں انگریزی تعلیم حاصل کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا، مگر ڈاکٹر حمید اللہ انگریزی زبان کی اہمیت سے واقف تھے۔ انہوں نے انگریزی تعلیم اپنے والد صاحب کی اجازت کے بغیر حاصل کرنا شروع کی۔
ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے بعد ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے جامعہ عثمانیہ میں داخلہ لیا۔ ۱۹۲۸ء میں ڈاکٹر صاحب نے جامعہ عثمانیہ سے فقہ میں بی اے کیا۔ اس وقت آپ کی عمر ۲۰ سال تھی۔ ۱۹۳۰ء میں ایم اے کا امتحان درجہ اوّل میں پاس کیا اور اسی سال ایل ایل بی بھی کر لیا۔ جامعہ عثمانیہ میں تحقیقات علمیہ کے لیے علیحدہ شعبہ ۱۹۳۰ء میں قائم کیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب اس شعبہ کے پہلے طالب علم تھے۔ ان کی تحقیق کا موضوع ’’اسلامی و یورپی قانون بین الممالک کا تقابلی مطالعہ‘‘ تھا۔ ایم اے میں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہونے پر ڈاکٹر صاحب کو جامعہ عثمانیہ سے دو سال کے لیے ۷۵ روپے ماہوار وظیفہ ملا تھا۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے جامعہ عثمانیہ سے درخواست کی کہ انہیں تحقیقی کام کے لیے مواد جمع کرنے کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے اور وہاں ان کا وظیفہ بھی جاری رکھا جائے جو جامعہ عثمانیہ نے قبول کی ۔
حصول علم اور تحقیق کا شوق ڈاکٹر محمد حمید اللہ کو یورپ لے گیا جہاں کی لائبریریوں اور درس گاہوں سے آپ نے خوب استفادہ کیا۔ اکتوبر ۱۹۳۲ء میں جب وہ تحقیقی کام کے سلسلہ میں استنبول میں تھے توجرمنی کی بون یونیورسٹی کے پروفیسر کرنیکو نے ان کو بون آنے کی دعوت دی۔ جامعہ عثمانیہ نے ان کو اجازت دے دی کہ وہ اپنا مقالہ بون یونیورسٹی کو پیش کر سکتے ہیں۔ بون یونیورسٹی میں قیام کے دوران مخطوطات سے استفادہ کیا۔ برلین میں بعض نادر ونایاب مخطوطات دریافت کیے۔ بون یونیورسٹی میں ۱۹۳۳ ء میں ڈاکٹر صاحب نے اپنا تحقیقی مقالہ ’’اسلام کے بین الاقوامی قانون میں غیر جانب داری‘‘ کے موضوع پر پیش کیا۔ اس مقالہ پر آپ کو ڈی فل کی ڈگری عطا کی گئی۔ اس کے بعد آپ پیرس آئے۔ ۱۹۳۴ء میں آپ نے پیرس کی مشہور ومعروف سور بون یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے لیے داخلہ لیا۔ ان کے تحقیقی مقالے کا موضوع تھا ’’عہد نبوی اور خلافت راشدہ میں اسلامی سفارت کاری‘‘۔ گیارہ مہینے کی قلیل مدت میں مقالہ مکمل کیا اور ۳۱ جنوری ۱۹۳۵ ء کو انہیں ڈی لٹ کی سند نہایت اعزاز کے ساتھ عطا کی گئی۔ جرمنی اور فرانس کی جامعات سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب کا ارادہ ماسکو یونیورسٹی سے تیسری ڈاکٹریٹ حاصل کرنے کا تھا، لیکن آپ کے وظیفہ کی مدت ختم ہو گئی۔ا علیٰ ڈگریز کے حصول کے بعد ڈاکٹر صاحب وطن تشریف لائے اور مادر علمی جامعہ عثمانیہ سے وابستہ ہو گئے۔ جہاں وہ دینیات اور اسلامی قانون کی تعلیم دیتے رہے ۔یہ سلسلہ ۱۹۴۸ تک جاری رہا۔
تقسیم ہند کے بعد ریاست حیدرآباد کا سقوط ہو گیا تو ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے پیرس کو اپنا مستقل رہائشی مقام بنانے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے فرانس کے ممتاز ادارے نیشنل سنٹر آف سائیٹفک ریسرچ National Centre of Scientific Research میں شمولیت اختیار کر لی۔کچھ عرصہ ترکی میں مہمان پروفیسر کی حیثیت سے تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ۱۹۵۷ء میں ڈاکٹرذ کی ولیدی طوغان نے (جو استنبول یونیورسٹی میں ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر تھے)۔ ڈاکٹر صاحب کو مہمان پروفیسر کی حیثیت سے مدعو کیا۔ ان کے لیکچروں میں طلبہ کے علاوہ تعلیم یافتہ افراد اور دانشوروں کی خاصی تعداد شریک ہوا کرتی تھی۔ تھوڑے ہی عرصہ میں ڈاکٹر صاحب کے علم و فضل اور سیرت وکردار کی شہرت سارے ملک میں پھیل گئی۔ پچیس برس تک وہ استانبول یونیورسٹی، ارض روم یونیورسٹی اور دیگر جامعات میں مہمان پروفیسر کی حیثیت سے جاتے رہے۔ وہ سال میں تین مہینے ترکی اور باقی ایام پیرس میں گزارتے تھے۔ یورپ کے قیام کے دوران ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے جرمنی اور فرانس کی یونیورسٹیوں میں تدریسی خدمات سر انجام دیں۔پیرس میں آپ نے مستقل قیام کیا۔ وہاں کتب خانوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے آپ پیرس کو بہت پسند کرتے تھے۔ وہاں پر رہتے ہوئے انہوں نے تحقیق کے میدان میں کار ہائے نمایاں سرانجام دیے۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ ایک بلند پایہ محقق ، عالم دین، ادیب اور داعی اللہ تھے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی تحقیق، تصنیف وتالیف اور اسلام کی خدمت میں صرف کر دی۔ انہوں نے بے شمار علمی خزانہ ورثے میں چھوڑا ہے جو دین اسلام کی ایک بہت بڑی خدمت ہے اور قابل فخر سرمایہ ہے۔انہوں نے قرآن و حدیث ،فقہ و قانون اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسے متنوع و مختلف موضوعات پر تقریباً ایک ہزار مقالات اور ایک سو ستر وقیع کتب یادگار چھوڑی ہیں۔ محمد حمید اللہ کا علمی و فکری سرمایہ صرف ان کے مطبوعہ و غیر مطبوعہ کتب و مقالات تک ہی محدود نہیں رہا۔ ان کے مکاتیب بھی علوم و معارف کا ایک وقیع گنجینہ ہیں۔ ان مکاتیب سے نہ صرف مختلف اسلامی علوم و فنون کے حوالے سے قیمتی و مفید معلومات فراہم ہوتی ہیں بلکہ ان سے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت ان کے اصول زندگانی ،ان کے عادات و معمولات اور ان کی گوناں گوں دلچسپیوں کا بھی پتہ چلتا ہے ۔
(۲)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ آپ عالم اسلام کے نامور سکالر، مفکر، اور داعی کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں ۔ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ ڈاکٹر محمد حمیداللہ ؒ کی علمی و تحقیقی خدمات کے قدر دان تھے۔ ونوں صاحبان علم کی علمی دلچسپیاں فقہ اسلامی، اسلام کے قانون بین الممالک اور سیرت طیبہ میں تھیں۔ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ نے نہ صرف ڈاکٹر محمد حمیداللہ ؒ کی علمی مطالعات و تحقیقات سے استفادہ فرمایا بلکہ ان کو متعارف کروانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر غازی ؒ صاحب نے ڈاکٹر محمد حمیداللہ ؒ کی وفات پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے فرمایا ۔
’’مجھے ذاتی طور پر ان سے ملنے کا ۱۹۷۳ء میں نیاز ہوا اور ان کے دنیا سے تشریف لے جانے کے آخری مہینوں تک جاری رہا۔ اس زمانے میں ڈاکٹر صاحب کے قلم سے کو ئی ایسی تحریر نہیں نکلی جو انہوں نے کبھی اپنے دستخط یا دستخط کے بغیر مجھے اس کے ارسال سے مشرف نہ فرمایا ہو۔ اس دوران میں با ر بار ایسے مواقع آئے کہ ڈاکٹر صاحب نے بعض زیر تحقیق معاملے میں مجھے اس کا مستحق سمجھا، اس قابل گردانا کہ مشاورت کا شرف عطا کر سکیں۔‘‘ (۲)
ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ نے ڈاکٹر محمد حمیداللہ ؒ کے حوالے سے اپنے تاثرات میں اس بات کا بھی ذکر فرمایا کہ
’’ڈاکٹر صاحب کے اس وقت میرے پاس ۱۲۴ خطوط محفوظ اور دستیاب ہیں۔ ممکن ہے کہ کچھ اور خطوط بھی کاغذات سے مل جائیں۔ ان خطوط کو مرتب کرنے کا پروگرام ہے اور ان خطوط کی تمہید میں یہ ساری یافداشتیں جو ابھی تک حافظے میں ہیں، لکھی نہیں گئیں، اس تمہید میں لکھنے کا پروگرام ہے۔ بظاہر تمہید بھی ۱۵۰۔۲۰۰ صفحے کی ہو گی۔‘‘ (۳)
ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ صاحب نے اپنے نام ڈاکٹر محمد حمیداللہ ؒ کے یہ خطوط کمپوز کروا لیے تھے اور اب وہ ان خطوط کا پس منظر بیان کرتے ہوئے تفصیلی حواشی لکھنا چاہتے تھے، مگر بیرونی سفر اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے یہ کا م مکمل نہ ہو سکا۔ راقم نے ڈاکٹر صا حب کے حکم پر ان خطوط کی پروف خوانی کی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر آپ اجازت دیں تو ان خطوط میں جن علمی نکات کی نشاندہی کی گئی ہے، ان کے حواشی میں لکھ دوں اور جو امور آپ سے متعلق ہیں، ان کی آپ خود و ضاحت کردیں۔ آپ نے اس تجویز کو پسندکیا اور فرمایاکہ کو ئی وقت مقرر کر لیتے ہیں،مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔اس کے بعد ملاقات کی نوبت نہ آ سکی اور آپ اپنے رب کے حضور حا ضر ہو گئے۔
ماہنامہ ’الشریعہ‘ کی اس خصوصی اشاعت بیاد ڈاکٹرمحمود احمد غازیؒ کے لیے ابتدائی دس خطوط ہدیہ قارئین ہیں۔ تمام ۱۲۴ خطوط پر حواشی کا کام جاری ہے، ان شا ء اللہ شش ماہی معارف اسلامی کے خصوصی شمارے بیاد ڈاکٹرمحمود احمد غازی میں ان کو شائع کیا جائے گا۔
خط نمبر:۱
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۱۷؍ ربیع الانور ۱۳۹۴ھ
مکرمی زاد مجدکم
سلام مسنون۔ آپ کا عنایت نامہ کل یہاں پاریس ہوکر آیا۔ ممنون ہوا ۔
اگر کسی شخص کو قابل طباعت فرانسسی آتی ہو اور مصارف طباعت کا بھی انتظام کرسکتا ہو تو :
الف) عشرہ مبشرہ میں سے ہر ایک کے حالات
ب) حضرت بلالؓ ،صہیبؓو سلمان فارسیؓ میں سے ہر ایک کے حالات
ج) ازواج مطہرات میں سے ہر ایک کے حالات
د) دیگر ممتاز صحابیاتؓ کے حالات
ھ) اخلاقی قصے کہانیان،لطائف،ضرب الامثال
و) اردو کے شہ کاروں کے ترجمے
ز) تصوف پر اچھی کتابیں جو خلاف شریعت نہ ہوں
غرض آغاز ہے، ابتدائی نوعیت کی کتابیں بھی نومسلموں اور ان کی اولاد کو درکار ہیں اور بلند پایہ کتابیں بھی، السعی منا والاتمام من اللہ ۔ کار دنیا کسے تمام نکرد۔
مجھے یہاں مئی کے اواخر تک رہنا ہے۔
نیاز مند
محمد حمید اللہ
خط نمبر:۲
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۲۱ رجب ۱۳۹۴ھ
مکرمی دام لطفکم
سلام مسنون
آج صبح عنایت نامہ ملا،شکر گزار ہوں۔
آپ کا سوال فرانسسی تالیف کے متعلق ایساہے جس کا خودآپ ہی نے جواب دے دیا ہے کہ عبد القدوس صاحب آپ کی مدد فرمانے والے ہیں۔ دوسرے سوال کے سلسلے میں یہ محض حسن ظن ہے کہ فرنگستان میں ہر چیز تیار ملتی ہے، ضرورت بس ایک پوسٹ کارڈ یا ایروگرام کے لکھنے کی ہے۔ یورپ میں مردم شماری کے وقت کبھی مذہب دریافت نہیں کیا جاتا، کسی کو معلوم نہیں کہ کہاں کتنے مسلمان ہیں۔
کافی عرصہ ہوا پروفیسر ماسین یوں Massignon نے سالنامۂ عالم اسلام Annuai nedu monde musulman شائع کرنا شروع کیا تھا۔ اس میں ہر قسم کے معلومات تھے۔ اب تو مؤلف کی وفات بھی ہو چکی ہے۔ معلومات کی ’’صحت‘‘ کا اندازہ اس سے کیجیے کہ انگلستان میں دس بارہ نو مسلم ہیں، فرانس میں ایک بھی نہیں!
فرانس میں آج کل پچیس تیس لاکھ مسلمان ہیں جن میں خاصے نو مسلم بھی ہیں۔ میرے اندازے میں شہرپاریس ہی میں دس ہزار سے کچھ زیادہ نو مسلم ہیں۔ یہاں فی الحال slam France-I نامی ایک فرانسسی ماہنامہ ہے۔ تین اسلامی انجمنیں قابل ذکر ہیں:
Centre Cultural Islamique,
Amicale des Musulmans
Association des Etudiants Islamiques
انگلستان میں سو سے زائد مسجدیں ہیں۔ پاریس میں اب بارہ پندرہ ہو چلی ہیں ۔
انگلستان میں کم از کم نو گرجا مسلمانوں کی مسجدوں کا کام دیتے ہیں تو پاریس میں دو۔ باقی فرانس میں مزید دو کا مجھے علم ہے، مگر ان خبروں کی اشاعت سے ہمیں مشکلیں ہی پیش آئیں گی کیونکہ ہر ملک وقوم میں تنگ نظر اورمتعصب لوگ بھی ہوتے ہیں اور وہ شور مچائیں تو روادار لوگ بھی ہاتھ روک لیتے ہیں۔
راوس کے مسلمان کے متعلق کوئی پندرہ بیس سال قبل فرانسسی وزارت خارجہ نے ایک کتاب شائع کی تھی۔ مؤلف کا نام Bennigsen ہے مگر اب اس کا ملنا ممکن نہیں۔
والسلام
محمد حمید اللہ
خط نمبر:۳
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۱۷؍ محرم ۱۳۹۵ھ
مکرمی
سلام مسنون.عنایت نامہ ملا۔ شکریہ۔ پابہ رکاب ہوں۔
آپ کا سوال مجھے بھایا نہیں۔ کسی بھی موضوع کو لیا جاسکتاہے، اہمیت عنوان کو نہیں مندرجات کو ہوتی ہے۔ ہر موضوع پر کام ہو سکتاہے۔
نیاز مند
محمد حمید اللہ
خط نمبر:۴
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۲۵ ذوالقعدہ۱۳۹۶ھ
مکرمی دام لطفکم
سلام مسنون۔ عید مبارک
عنایت نامہ ملا اور یہ معلوم کر کے مسرت ہوئی کہ آپ کی محترم و عزیز ہمشیرہ نے اپناکام مکمل کر لیاہے۔ میری مبارکباد پہنچائیں۔ تو قع ہے کہ یہ چھٹے (آخری) اڈیشن پر مبنی ہے ۔
اگر وہ چاہتی ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ میں بھی ترجمے پر ایک نظر ڈال لوں تو براہ کرم ارسال سے قبل مجھ سے پوچھ لیں۔ اگر وصولی کے زمانے میں، میں پاریس میں نہ رہوں تو بستہ بھیجنے والوں کو واپس ہو جائیگا۔ سمندری ڈاک دوماہ سے زیادہ لیتی ہے۔
مخلص
محمد حمید اللہ
مکرر
براہ کرم کبھی پارسل نہ بھیجیے۔ وہ لازماً چنگی خانہ جاتی ہے اورچنگی نہ بھی لی جائے تو اجرت کار بارہ فرانک (تقریباً چھتیس روپے) لی جاتی ہے۔ امید کہ خیال رکھا جائے گا۔
خط نمبر:۵
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترم زاد مجدکم ۶؍ محرم۱۳۹۸ھ
سلام مسنون۔ آپ کا عنایت نامہ استانبول والوں کی عنایت سے کل یہاں آیا، شکریہ۔ عزیز آپا جان کو میری مبارک باد فرمائیں۔ میں دو دن میں جرمنی کے سفر پر جارہا ہوں۔ دو ایک ہفتوں میں واپس آنے پر مکرر جنوبی فرانس جانا ہے۔ فروری میں ترکی کا سفر در پیش ہے۔ (اس سال استانبول کی جگہ ارضردم کی دعوت آئی ہے) اور وہاں کثیر سرکاری فرائض میں اس کا وقت نہ ملے گا کہ آپا جان کا کام کروں۔ اصل کتاب بھی ساتھ نہ ہوگی ( میں اشرف صاحب کو ساتواں اڈیشن تصحیح کے بعد ان کی فرمائش پر بھیج چکا ہو ں، معلوم نہیں چھپا یا نہیں) چھٹے اڈیشن میں عربی متن بہت غلط چھپے ہیں۔
ان حالات میں التجاء ہے کہ ساری کتاب ایک ساتھ اس طرح بھیجیں کہ وہ مثلاً جون کے آغاز میں فرانس آئے۔ احتیاطاُ پتہ لینڈ لیڈی کا لکھیے تاکہ میری غیر حاضری میں بھی ڈاکیا بستہ پہنچا دے۔
خدا کر ے آپ سب خیر وعافیت سے ہوں ۔
نیاز مند
محمد حمید اللہ
LA CONCIERGE
POUR Mr. Hamidullah
4, Rue de Tournan
25006- Paris/France
خط نمبر:۶
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۲۷؍ربیع الانور ۱۴۰۰ھ
مخدوم و محترم متعنا اللہ بطول حیاتکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ نے اس ناچیز کی جو قدر افزائی اور مہمان نوازی اسلام آباد میں فرمائی، اس پر ممنونیت کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں پاتا۔ حفظکم اللہ وعافاکم۔
بہاولپور کا سفر متعین ہوچکا ہے۔ ان شاء اللہ پاریس سے ۵مارچ کونکلوں گا اور ایک دن کراچی میں آرام لے کر آگے روانہ ہو جاؤں گا۔ ۸ تا ۲۱ مارچ وہاں درس ہیں۔ پھر فرانس واپسی ہے۔ ابھی یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ آیا مختصر قیام ہی کے لیے سہی، اسلام آباد آسکوں گا۔ سب احباب کوسلام مسنون عرض کرتا ہوں۔
غازی صاحب آپ کے رفیق تھے جن کے ہاں آپ کی ہمراہی میں رات کی دعوت ہوئی تھی۔ بعض چیزیں دریافت کی تھیں جوذیل میں درج ہیں۔ ان سے فرمادیں تو نوازش ہوگی:
Paul Coudere, Le Calwdrier مطبوعہ پاریس کے مطابق یہودیوں نے کالدیاوالوں سے تقویم لی۔ ان کے مہینے اب یہ ہیں:
1. Tishre 2. Marsahevan 3. Kislew. 4. Tebet 5. Sebat 6. Adar 7.. Nisan
8. Iyar 9. Sivan 10. Tamoug 11. Ab 12. Elul
یہودیوں کی Civil تقویم تِشری کے مہینے سے شروع ہوتی ہے ،خزاں میں ،اوریہ مہینہ کبھی اکتوبر اورکبھی ستمبر میں آتاہے کیونکہ مہینے توقمری ہوتے ہیں لیکن نسی کر کے تیرھواں مہینہ وقتاً فوقتاً ماہ آدار کے بعد بڑھاتے ہیں اور یہ زائد مہینہ Veadar کہلاتا ہے ۔ مگر مذہبی تقویم میں سال کا آغاز ماہ نیساں سے ہوتاہے جو مصر سے نکلنے اور دریا عبور کرنے (Peskha) کی یاد سے مربوط ہے ۔نسی کے باعث ماہ نیساں اپریل سے کبھی زیادہ دور نہیں ہوتا۔
نیاز مند
محمد حمید اللہ
خط نمبر:۷
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترمی ۲۱؍شعبان۱۴۰۰ھ
سلام مسنون ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
نوازش نامہ ملا۔مضمون کے ص:۷ پر Rune Genu نہیں Rene Guenon۔ ص:۱ پر عاقل نہیں آکؤیل Aquil قلینڈی نام ہے۔ ص:۱ پر اپنے محل میں ’’کی جگہ‘‘ اپنے محل کے قریب۔ ص:۳ مشل والی شاں، امیشل مصطفی وال ساں vichel Valsam ہے۔ ص: ۵ پر ’’اس پادری کو چند سال قبل ایک پادری کے قتل کے جرم میں‘‘ کو ’’ایک عورت کے قتل کے جرم‘‘ پڑھئے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرے لاہور چند سال قبل وہاں کے وزیر اعظم کی صدرات میں دیے ہوے لکچر کا خلاصہ کسی کا لکھا ہوا ہے، مگر استدعا ہے کہ شائع نہ فرمائیں۔ آج فرانس میں پوپ کے حکم سے حکومت کی سیاست بدل گئی ہے، تعصب تو عناد اور دشمنی میں مبدل ہوگیا ہے۔ چنانچہ حال ہی میں پارلیمنٹ نے قانون بنایا ہے کہ جومسلمان یہاں متوطن ہوگئے ہیں، لیکن اجنبی قومیت کے ساتھ، ان میں سے ہر سال پینتیس ہزار کو اپنے اصلی وطن کو واپس جانے پر مجبور کیا جائے۔ اس کا اطلاق خاص کر بیس پچیس لاکھ الجزائر یوں پر ہوتا ہے اوران کی جگہ پرتگالیوں کو مزدوری کے لیے بلایا جا رہا ہے۔ فرانس میں نو مسلموں کی روز افزوں کثرت سے کلیسا پریشان ہو گیا ہے۔ یہودی اور کمیونسٹ بھی حیران ہیں۔ گذشتہ ہفتے ایک کمیونسٹ اخبار کے ایڈیٹر نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کے نامہ نگار کو اس موضوع پر سوالات کا انٹریو میں جواب دوں۔ میں نے ٹال دیا اور ادب سے کہا کہ جامع مسجد کو جا کر وہاں کے ناظم سے پوچھ لو۔
ان حالات میں قطعاً مناسب نہیں معلوم ہوتا کہ دشمنوں کو معلومات مہیا کیے جائیں۔ أعوذ برب الفلق من شر ما خلق۔
نیاز مند
محمد حمید اللہ
مکرر:
کیا حدیث قدسی پر کسی مطبوعہ علمی کام کا آپ کو کوئی علم ہے؟ میری ایک نومسلم شاگرد عائشہ اس پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھ رہی ہے۔ Zwenier کا مضمون مسلم ورلڈ میں اور Mouton کمپنی کی شائع کردہ حالیہ ا نگریزی کتاب سے میں واقف ہوں۔ معلوم نہیں اردو فارسی، عربی، ترکی میں کوئی چیز آپ کے علم میں ہو۔
خط نمبر: ۸
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترمی دوشنبہ ،۹؍رمضان المبارک ۱۴۰۰ھ
سلام مسنون ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عنایت نامہ ملا۔ خیروعافیت کی اطلاع سے مسرت ہوئی۔
اگر موقع ہو تو الجزائر کے ذمہ دار لوگوں سے کہئے کہ مراکش میں جامع قرویین ہے، تونس میں جامع زیتونہ ہے ، مصر میں الازہر، مگر الجزائر میں کوئی اسلامی بڑی درسگاہ نہیں اور الجزائر یوں کو اپنے ہمسایوں کے ہاں جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دورِ استعمار میں پیدا شدہ اس خلا کو اب جلد سے جلد پر کرنا چاہئے کہ آدمی کو پیٹ بھی ہے اور دماغ بھی۔ صرف کسی ایک کو کِھلا ئیں تو دوسرا بھوکا مر جائیگا۔
ستمبر کے اواخر تک تو سفر کا کوئی پرگرام نہیں ہے اِلّا ما شاء اللہ۔ آپ کی تشریف آوری سے مسرت ہوگی، لیکن یونیورسٹی کے اساتذہ ابھی گرمائی تعطیلوں میں غائب ہی رہیں گے۔ کوشش فرمائیے کہ کسی اتوار کو یہاں رہیں تاکہ جمعیۃ الطلاب الاسلامیین کے ہفتہ وار اجلاس میں (جو صرف اتوار کو ہو سکتاہے) تشریف رکھ سکیں اور ان کو مخاطب فرما سکیں۔
رمضان مبارک، یوسف صاحب اور ان کی عزیز اہلیہ کو بھی میرا سلام فرمادیں۔
کیا اردو دائرہ معارف اسلامیہ کی جلد ع یا م شائع ہوگئی ہیں؟ عرصے سے زیر طبع تھیں۔ جواب کی کوئی جلدی نہیں۔
نیاز مند
محمد حمید اللہ
خط نمبر:۹
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۲۳؍ذی القعدہ ۱۴۰۰ھ
محترم ومکرم زاد مجدکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک ہفتے کی پرواز کے بعد الحمد للہ آج آپ کا عنایت نامہ پہنچ گیا۔خیروعافیت کی اطلاع سے مسرت بھی ہوئی اور اطمینان بھی ہوا، خاص کر ترکی کے انقلاب کے باوجود آپ کے لئے ازہر کے سفر کا موقع ملا۔ واللہ علیٰ مایشاء قدیر۔
افسوس ہوا کہ آپ پاریس کے کتب خانہ عام کو نہ جا سکے۔ اگر معلوم ہوتا کہ آپ کے رفیق اس میں دشواری محسوس کرتے ہیں تو میں آپ کو ساتھ لے جاتا۔توپ کاپی سرائے کے سلسلے میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کے دست مبارک کے متعلق جب میں نے دریافت کیا تھا تو بتایا گیا تھاکہ جب سلطان محمد فاتحؒ نے استانبول کو فتح کیا، مشہور حدیث نبوی کی حقانیت ثابت کی ۔ تو وہاں قیصر روم کے خزانۂ خاص الخاص میں یہ مساعد بھی ملا۔ (معلوم نہیں کیوں، اس کو ادب سے دفن کرنے کی جگہ محفوظ رکھا ہے؟) باقی کس حد تک وہ صحیح ہے اور اس کی تاریخ و سرگزشت کیا ہے، یہ اللہ تعالیٰ جانے۔
آپ کی مجلس کے سرنامہ پر موناگرام میں ’’ تعاونوا علی البر والتقویٰ‘‘ کی آیت پاک کے متعلق ہے۔ ( سورہ ۵ آیت ۲) آپ نے کبھی غور فرمایا کہ یہ کفار سے برتاؤ کے متعلق ہے، ’’ما بین المسلمین‘‘ طرز عمل کے لیے نہیں۔ اس آخر کے لیے اِنَّمَا المَؤمِنُوْنَ إخْوَۃٌ وغیرہ آیتیں ہیں۔ حدیث میں المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ (تین دن سے قطع مومن نہ کرنا چاہئے وغیرہ)
کیا آپ کو ایک زحمت دے سکتاہوں ؟ لاہور کے محمد اشرف صاحب نے میری کتاب چھاپی ہے۔ وہ یہاں نہیں ملتی ۔ اس کی مجھے شدید اور فوری ضرورت ہے ۔کیا وہ اسلام آباد میں مل سکتی ہے ؟اس کا ایک نسخہ ہوائی ڈاک سے، بل کے ساتھ روانہ فرما سکیں تو خوشی کا باعث ہوگا اور ہمیشہ شکر گزار رہوں گا۔
کار لائق سے یاد فرمائیں۔
نیاز مند
محمد حمید اللہ
خط نمبر:۱۰
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سہ شنبہ،۴؍ذی الحجہ ۱۴۰۰ھ
محترم ومکرم زاد مجدکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، عید مبارک
کتاب ابھی ابھی پہنچ گئی، دلی شکریہ۔
یہ چوری کا ایڈیشن ہے۔ پہلی دفعہ دیکھ رہاہوں۔ اللہ ہم لوگو ں کو اسلام فروشی سے بچائے۔ مزید برآں اجازت نہ مانگنے میں اس میں ایک مضرت یہ بھی ہے کہ کتاب کی تازہ تصحیحیں اور اصلاحیں نہیں ہوئی ہیں اور پرانی غلطیاں برقرار رہتی ہیں۔
بہر حال آپ کا دلی شکریہ ۔ میں نے کراچی میں ایک رشتہ دار کو لکھ دیا ہے کہ کتاب کی قیمت اور ڈاک کے مصارف آپ کو منی آرڈر سے بھیج دیں۔
میں ان شاء اللہ عیدالاضحی جزیرہ ریونیوں میں گزارو ں گا۔ دو ایک دن میں جارہا ہوں اور دو ہفتوں میں واپسی ہوگی۔ واللہ المستعان۔
نیاز مند
محمد حمید اللہ
حواشی و تعلیقات
۱۔ عمری، محمد یوسف کوکن، مولانا، خانوادہ قاضی بدرالدولہ، دارالتصنیف مدراس، ۱۹۶۳،ج۱/ص ۲۱۔۲۲
یوسف کوکن نے قاضی بدرالدولہ کے خاندان اور ان کے علمی کارناموں سے متعلق دو جلدوں پر مشتمل ایک کتاب ’’خانوادہ قاضی بدرالدولہ ‘‘کے نام سے لکھی ہے۔ وہ اپنی اس کتاب میں نائطی خاندان کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ قاضی بدرالدولہ کا خاندان نائطی کہلاتا ہے جو اپنے حسب ونسب ،عزوشرف، دینی ودنیوی وجاہت اور خصوصی رسم ورواج کے لحاظ سے خاص کر جنوبی ہند میں ایک امتیازی شان رکھتا ہے۔ نوائط جمع ہے نائط کی اور یہ لفظ’’ط‘‘ اور ’’ت‘‘ کے ساتھ دونوں طرح لکھا جاتا ہے۔ قدیم مورخین اور تذکرہ نگار ’’ت‘‘ سے ہی لکھا کرتے تھے‘‘۔
۲۔ غازی، محمود احمد، ڈاکٹر، علم و عمل کا پیکر۔ ڈاکٹر محمد حمیداللہؒ در شش ماہی معارف اسلامی، علامہ اقبال اوپن یو نیو رسٹی اسلام آباد،۲۰۰۳ء، جلد ۲ شمارہ ۲ ص۳۹۵
۳۔ایضا
ڈاکٹر غازیؒ کے انتقال پر معاصر اہل علم کے تاثرات
ادارہ
ترتیب: ڈاکٹر سید عزیز الرحمن
پروفیسر عبدالقیوم قریشی
(سابق وائس چانسلر، اسلامیہ یونیورسٹی، بہاولپور)
ڈاکٹر محمود احمد غازی تمام اخلاق حمیدہ سے متصف انسان تھے۔ ان کے بارے میں اتنا ہی کہوں گا کہ ’’بزم دم گفتگو گرم دم جستجو‘‘۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم کو بات سمجھانے کا ایسا ملکہ اللہ نے عطا کیا تھا کہ ججوں کی تربیت کے دوران ہرجج کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ مرحوم سے استفادہ کرے۔
پروفیسر فتح محمد ملک
(ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد،سابق چےئرمین مقتدرہ قومی زبان)
یقین نہیں آتا کہ ڈاکٹر غازی ؒ ہم سے جدا ہوگئے ہیں۔ مقررین نے ان کے بارے میں یہ تو بتا دیا کہ وہ وفاقی وزیرتھے، لیکن ایک بات جو ان کی شخصیت کا خاصہ تھی، وہ کسی نے نہیں بتائی اور وہ یہ تھی کہ مرحوم ایک ڈکٹیٹر سے نظریاتی اختلاف رکھتے تھے اور جب اس ڈکٹیٹر نے دینی حکمت عملی میں تبدیلی کی تو ڈاکٹر غازی نے یہ کہتے ہوئے وزارت سے استعفا دے دیا کہ مجھے یہ تبدیلی منظور نہیں۔ ڈاکٹر غازی ہمارے درمیان موجود ہیں اور ہمیشہ موجود رہیں گے۔
ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری
(ڈائریکٹر ادارۂ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد)
اسلامی تعلیمات ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے تھیں۔ دیانت، امانت، ورع و تقویٰ میں ان کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا۔ میں ان کے بارے میں کہا کرتا تھا کہ : He is punishing the onesty۔ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ نے اپنی ملازمت کے آخری دن دفتر کی گاڑی استعمال نہ کی اورا س کا عذر یہ پیش کیا کہ میں اب صدر نہیں ہوں۔ نہایت وسیع مطالعہ کے حامل تھے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک دن خود غازی صاحب مرحوم نے کہا کہ میں نے ’’کتاب الام‘‘ سات مرتبہ بالاستیعاب پڑھی ہے۔ تاریخ، سیرت، فقہ، حدیث، علم الکلام، فلسفہ، ادب اور شعرسب میں ان کو دلچسپی تھی۔ وہ وقت ضائع نہیں کرتے تھے۔ مرحوم یونیورسٹی کی صدارت کی گراں بار ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ چھ گھنٹے روزانہ تدریس کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کا انجام انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ فرمائیں۔
جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان
(سابق ریکٹربین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد)
ڈاکٹر محمود احمد غازی کا علم سمندر کی سی گہرائی رکھتا تھا۔ اخلاق کریمانہ سے متصف تھے اور ہر ملنے والے سے ایسے ملتے تھے گویا وہ کوئی دیرینہ شناسا ہو۔ میں نے سود کیس چھ ماہ سننے کے بعد جو جج منٹ لکھی، اگر غازی مرحوم کی معاونت نہ ہوتی تو میرے لیے وہ لکھنا ممکن نہ تھا۔ غازی مرحوم اس ورثے کے امین تھے جو سرتاپا علم ہی علم تھا۔ والد کی طرف سے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ سے اور والدہ کی طرف سے مولانا الیاسؒ بانی تبلیغی جماعت سے قرابت داری تھی۔اسلامی یونیورسٹی میں حسن بن طلال، مہاتیر محمد اور نیلسن منڈیلا کے نائبین کی آمد مرحوم ہی کا کارنامہ تھا جس نے پور ی دنیا میں یونیورسٹی کو پہچان بخشی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو غریق رحمت کرے۔
ڈاکٹر ایس ایم زمان
(سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، اسلام آباد)
’’ موت العالم موت العالم‘‘ کی ضرب المثل ڈاکٹر غازی مرحوم پر صادق آتی ہے۔ ان کے اخلاق میں صداقت کا پہلو برملا تھا۔ میں نے غازی صاحب کے ساتھ طویل رفاقت میں ان کو انتہائی دیانت دار پایا اور ایسا کہ اس پایے کی کوئی ایک مثال ملنا بھی آج پورے ملک میں ممکن نہیں۔ علم میں ان کا ثانی اور ہم سر تو پیدا ہو سکتاہے، لیکن دیانت، امانت، صداقت اور خلوص میں ان جیسا سپوت اس مٹی کو اب ملنا مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
ڈاکٹر صاحبزادہ ساجد الرحمن
(ڈائریکٹر، دعوۃ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد)
ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا تھا۔ وہ ایک ہمہ جہت و ہمہ پہلو شخصیت تھے اور قدیم و جدید علوم کا حسین امتزاج تھے۔ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ علم دین کی ترویج و اشاعت، اقدار اسلامیہ کے فروغ ا ور ملک و ملت کی بھلائی کے لیے صرف تھا۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی نے اہل علم سے اپنی علمیت کا لوہا منوایا تھا اور انتہائی کم عمری میں بڑے بڑے اسکالرز کے درمیان استاد کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کا وصال کسی ایک طبقہ، خاندان یا ایک ملک کا نقصان نہیں، پوری ملت اسلامیہ کا نقصان ہے۔ تقویٰ، طہارت، امانت اور دیانت کا مجسم پیکر تھے۔ اللہ ان کی قبر پر اپنے انوار اور رحمتوں کا نزول فرمائے۔
ڈاکٹر ممتاز احمد
(ایگزیکٹوڈائریکٹراقبال، انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ)
ڈاکٹر محمود احمد غازی علم اور حلم، دونوں میں ممتاز تھے۔ ان کے علم کے بارے میں اظہار خیال کرنا میرے لیے گستاخی کی بات ہے۔ مرحوم بہت محبت کرنے والے اور دوسروں کا خیال رکھنے والے انسان تھے۔ ہمیشہ خوشی، گرم جوشی اور تعلق خاطر سے ملا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید
(رئیس الجامعہ دارالعلوم، زاہدان)
مایہ ناز دانشور اور گراں قدر عالم دین جناب ڈاکٹر محموداحمد غازی رحمہ اللہ جو عالم اسلام کی نامور شخصیات اور علمی سرمایوں میں سے تھے، ان کے انتقال کی افسوسناک خبر نے ہمیں سخت غم زدہ اور متاثر کیا۔ آپ رحمہ اللہ علیہ مختلف موضوعات میں دسیوں تصانیف کے علاوہ متعدد سیمینارز اور کانفرنسز میں شرکت کر کے مغربی دنیا میں اسلام کا تعارف پیش کرتے تھے۔ مرحوم نے ۲۰۰۹ء کی بہار میں ایران اور دارالعلوم زاہدان کا تفصیلی دورہ کیا۔ آپ ایک ہفتے تک ایران کے ممتاز علمی ادارہ دارالعلوم زاہدان میں مختلف موضوعات پر لیکچر دیتے رہے۔
ریجنل دعوۃ سنٹر کراچی کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس
آغا عبد الصمد
وفاقی شرعی عدالت کے جج، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے شریعہ ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین، سابق وفاقی وزیر وسابق ڈائریکٹر جنرل دعوۃ اکیڈمی وسابق صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آبادڈاکٹر محمود احمد غازی کی یاد میں ریجنل دعوۃ سنٹر (سندھ) کراچی اور دارالعلم والتحقیق کراچی کی جانب سے دارالعلم والتحقیق میں ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیاگیا جس سے انجینئرسید احتشام حسین، ڈاکٹر عبدالشہید نعمانی، ڈاکٹر احسان الحق، مولانا ولی خان المظفر، آغا نور محمد پٹھان اور ڈاکٹر سید عزیز الرحمن نے خطاب فرمایا، جبکہ صدارت سید فضل الرحمن (ڈائریکٹر دارالعلم والتحقیق) نے کی۔پروگرام میں ڈاکٹر صاحب کی علمی، تحقیقی، قانونی اور عدالتی خدمات اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔
تعزیتی اجلاس کا افتتاح قاری محمدیاسین کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد ڈاکٹر سید عزیز الرحمن انچارج ریجنل دعوۃ سنٹر (سندھ) کراچی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج انتہائی افسوس اور رنج کے ساتھ عالم اسلام کی انتہائی ممتاز، انتہائی محترم اور انتہائی وقیع شخصیت، ہمارے اور ہم جیسے عالم اسلام کے بہت سے اداروں کے سرپرست جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد میں ایک تعزیتی تقریب کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت یقیناًہر چیز پر حاوی ہے۔ چند روز پہلے تک ہم یہاں ڈاکٹر صاحب کی گفتگو سننے کے لیے جمع ہوتے تھے اور آج ان کی یاد میں ان کی تعزیتی تقریب کے لیے جمع ہیں۔ انہوں نے غازی صاحب کی سوانح حیات پر مفصل روشنی ڈالی اور ان کی علمی خدمات کو بیان کیا۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر محمود احمد غازی جیسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ ان کی موت پورے عالم کا نقصان ہے۔ ڈاکٹر صاحب جیسی صاحب علم وبصیرت، صاحب تفقہ، متوازن ومتواضع اور جدید وقدیم کی جامع شخصیت عالم اسلام میں اب نظر نہیں آتی۔
آغانورمحمد پٹھان ریزیڈنٹ ڈائریکٹر اکادمی ادبیات کراچی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرصاحب اسلام اور علم وادب کے جدید تقاضو ں سے ہم آہنگ تھے۔ ان کی اصل خوبی یہ تھی کہ ایک متواضع اور صاحب علم شخصیت تھے۔ وہ اپنی ذاتی محنت کی بنا پر بڑے بڑے مناصب تک پہنچے۔ وہ ہفت زباں ادیب تھے، بے مثال مقرر تھے اور ایک ایسی سطح پر تھے جہاں وہ بیک وقت مختلف کام کر سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ہر ایک کے ساتھ انتہائی شفقت سے پیش آتے تھے۔ وہ بیک وقت منتظم، مدبر، مدیر، محقق اور مصنف تھے۔ ان کا انتقال ایک ایسے وقت میں ہوا جب امت مسلمہ کو ان کی شدید ضرورت تھی۔
پروفیسرڈاکٹر حافظ احسان الحق (صدر شعبہ عربی، جامعہ کراچی) نے تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غازی صاحب نے دنیا کی مختصر زندگی جو بہت بڑا کام کیا تو اس کام میں نہ صرف ان کی Will powerیا قوت ارادی یا ذاتی محنت کا دخل تھا بلکہ وہ اللہ کی دین تھی اور وہ یقیناًاللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کام کے لیے منتخب کیے گئے تھے۔ ان سے میرا تعلق طالب علمانہ تھا۔ ان کے بعض بیرونی اسفار میں ساتھ جانے کا اتفاق ہوا۔ ان کے اسفار کا ان کی سرگرمیوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا، اپنی تمام ذمے داریاں بحسن وخوبی سرانجام دیتے تھے۔ غازی صاحب بڑے سادہ مزاج آدمی تھے۔ پروٹوکول کا تقاضا نہیں کرتے تھے۔ بہت محبت کرنے والے انسان تھے۔ ان پر علم کا خصوصی نزول ہوتا تھا۔انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ اعزاز کی با ت تھی کہ مجھے پنجاب یونیورسٹی کے ایک پروگرام میں ان کے دست مبارک سے شیلڈ ملی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے شاگردوں کی ترقی دیکھ کر خوش ہوتے تھے اوران کو آگے بڑھاتے تھے۔ اسلامی بینکنگ کے حوالے سے آپ کی خدمات قابل قدر ہیں۔ غازی صاحب اعلیٰ اخلاق کا مجسمہ اور صاحب تقویٰ شخص تھے۔ ان کی موت ایک عظیم نقصان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلوبلائزیشن مسلمانوں کے لیے بڑاچیلنج ہے۔ ہمارے دانش ور یک رخے ہوگئے ہیں۔ غازی صاحب مشرقی علوم کے اصل مصادر کے ساتھ ساتھ مغربی علوم سے بھی واقف تھے، ان کاوژن بہت وسیع تھا۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور سوگواران کو صبر کی توفیق عطا فرمائے۔
پروفیسرڈاکٹر عبدالشہید نعمانی (سابق صدر شعبہ عربی، جامعہ کراچی) نے تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میرے لیے بڑا عجیب موقع ہے کہ میں اپنے ایک دیرینہ دوست اور ساتھی کی تعزیت کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ میں نے اور غازی صاحب نے ایک ساتھ حفظ کیا اور درجہ رابعہ تک جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ بعد ازاں غازی صاحب اسلام آباد منتقل ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی بچپن سے یہی سوچ تھی کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے، لہٰذا اس کو اسلامی ریاست ہونا چاہیے۔ انہوں نے کلاس میں ایک سلطنت قائم کی تھی۔ وہ اس کے صدر اور میں وزیراعظم تھا۔ ڈاکٹر صاحب بڑے ذہین انسان تھے اور اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ان کی تربیت ان کے والدین کے اخلاص کا نتیجہ تھی۔ ان کے والدین چاہتے تو اپنے بیٹے کو ڈاکٹر یا انجینئر بناتے، لیکن انہوں نے غازی صاحب کو دینی تعلیم کے حصول کے لیے وقف کیا۔ نعمانی صاحب نے مزید کہا کہ غازی صاحب نے اپنے وقت کو ضائع نہیں کیا۔ انہوں نے دینی ودنیوی دونوں علوم پر دسترس حاصل کی اور اپنی محنت، شوق اور لگن سے اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ انتظامی عہدوں کے باوجود وہ تعلیم پر توجہ دیتے تھے، ان کا بیشتر وقت تعلیم وتعلم میں گزرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب تمام صلاحیتوں کے جامع تھے۔ ان کی نظر بڑی وسیع تھی۔ اسلامی بینکنگ میں دونوں علوم کے ماہر بہت کم ہیں، لیکن غازی صاحب نے اس موضوع پر بڑ اکام کیا۔ بینکنگ کی تاریخ اور اس کی بنیاد پر ان کی نظر تھی۔ اپنی کتابوں میں انہوں نے اس کا بے لاگ تجزیہ کیا ہے اور نہ صرف تنقید کی ہے بلکہ اس کا حل بھی پیش کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے مشن کو آگے بڑھایا جائے، ان کے افکار کو مرتب کیا جائے اور ان کے علمی ذخیرے کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔
المظفر ٹرسٹ کے سر پرست مولانا ولی خان المظفرنے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سب سے پہلے میں ڈاکٹر سید عزیزالرحمن کا شکر گزار ہوں جنھوں نے اس نشست کا انعقاد کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی کئی نشستیں اب تک ہوجانی چاہییں تھیں ۔غازی صاحب کی سوچ، فکر، نظریہ اور ان کی آفاقیت، ہمہ جہتی اور ہمہ گیریت کے حوالے سے کئی پروگرام اور میڈیا پر ان کا پرچار ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرغازی صاحب، احمد دیدات، علی میاں اور ڈاکٹر حمید اللہ صاحب اس آخری دور میں امت مسلمہ کا وہ عظیم سرمایہ تھے کہ اب ان کی مثال دنیا کو شاید ہی مل سکے۔ بڑی مدت بعد ایسی شخصیات پیدا ہوتی ہیں۔ ان حضرات نے اپنے اپنے میدانوں میں کارہاے نمایاں سرانجام دیے۔ انہوں نے کہا کہ غازی صاحب سے میری کئی ملاقاتیں صدر وفاق المدارس مولانا سلیم اللہ خان صاحب کے پرسنل سیکرٹری کی حیثیت سے ہوئیں۔ ا پنے ادارے جامعہ فاروقیہ کے معہداللغۃ العربیہ کے حوالے سے میں ان سے ملتا رہا۔ میں نے دیکھا کہ ا ن کے اندر گہرائی بھی تھی اور گیرائی بھی تھی۔ حافظہ بے مثال تھا۔ انہوں نے ہر میدان میں اپنے آپ کو اہل ثابت کیا۔ سب سے بڑا وصف یہ تھا کہ عربی ادبیات میں ان کو کمال حاصل تھا۔ ہندوستان میں ابوالحسن علی ندوی اور پاکستان میں غازی صاحب ایک پایے کے لوگ تھے۔ دینی مدارس کو وہ جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتے تھے۔ ماڈل دینی مدارس ان کا منصوبہ تھا اور اس کے لیے انہوں نے نصاب بھی ترتیب دے دیا تھا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم امت مسلمہ کی عبقری شخصیات سے سبق حاصل کریں، علم میں رسوخ پیدا کریں اور امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔
تحریک فہم اسلام کے سربراہ انجینئر سید احتشام حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر صاحب، صاحب علم آدمی تھے اور صاحب علم پر گفتگو کے لیے صاحب علم لوگ ہی درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک عالم ساری زندگی علم کے سمندر میں غوطہ زن رہتا ہے اور شام زندگی کے قریب جب وہ سطح آب پر آتا ہے تو اس کے پاس کچھ سیپیاں، کچھ مونگے اور کبھی کبھار کچھ موتی بھی ہوتے ہیں، لیکن اس دنیا میں چند خوش قسمت لوگ ایسے ہیں جو فنا فی العلم ہوکر خود علم کے بحر بے کراں بن جاتے ہیں اور دنیا کو مستفید اور متاثر کرتے ہیں اور اگر میں کہوں کہ فنا فی العلم ہو کر ناپیدا کنار کو اگر آپ مجسم نام دیں تو ڈاکٹر محمود احمد غازی کہلاسکے گا۔
انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب میرے ماموں زاد بھائی تھے۔ ان سے ایک امت فیض یاب ہوئی۔ وہ نہایت جفاکش، محنتی اور درد دل رکھنے والے محقق، عالم، مفکر، داعی اور فقیہ تھے۔ پاکستان اور عالم اسلام کے لیے انہوں نے قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔ ڈاکٹر صاحب نے تصنیف وتحقیق کے میدان میں اپنا لوہا منوایا اور قومی، ملی اور دینی تحریکوں کے پشت پناہ رہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی زندگی کا آخری سفر جس طمانیت، اطمینان اور استقامت کے ساتھ پورا کیا، وہ پوری امت کے لیے مشعل راہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا شمار ان چیدہ چیدہ افراد میں ہوتا تھا جو دور جدید کے رجحانات پر ناقدانہ نظر رکھتے تھے اور امت کو دینی قیادت فراہم کرسکتے تھے۔
تعزیتی ریفرنس میں زندگی کے مختلف طبقات فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریفرنس کااختتام جناب سید فضل الرحمن صاحب ڈائریکٹر دارالعلم والتحقیق کی دعا سے ہوا۔
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں رابطۃ الادب الاسلامی کے سیمینار کی روداد
ادارہ
۱۹ دسمبر ۲۰۱۰ء کو رابطۃ الادب الاسلامی پاکستان کے زیر اہتمام جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد میں ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ کی یاد میں ایک سیمینار منعقد ہوا جس میں ممتاز اہل علم واہل دانش نے ڈاکٹر صاحب کی حیات وخدمات کے مختلف پہلووں کے حوالے سے اپنے خیالات وجذبات کا اظہار کیا۔
جامعہ امدادیہ کے مہتمم مولانا مفتی محمد طیب نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں علمی اور عملی کمالات کے حامل افراد ہر دور میں پیدا ہوتے رہے ہیں اور ایسے حضرات کے راستے بھی ہمارے لیے راہنما راستے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو اللہ نے جامع صفات عطا فرمائی تھیں اور مختلف علمی طبقات ان سے استفادہ کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ ان کا گوشت پوست اور جسم کی ہر چیز علم کی بنی ہوتی ہے اور ان کے اندر علم اس قدر راسخ ہو جاتا ہے کہ ان کی زبان سے جو بات بھی نکلتی ہے، علم ہی کی نکلتی ہے، حتیٰ کہ وہ مزاح کی بات کریں تو اس میں بھی علم کی چاشنی موجود ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب جس موضوع پربھی بات کرتے تھے، یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کے ذہن میں پہلے سے تیار شدہ کوئی منضبط کتاب ہے جس کو وہ پڑھتے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کے آثار علمیہ اور ان کے علوم وافکار کی اشاعت کے لیے کوئی جامع پروگرام بنانا چاہیے اور خاص طورپر ڈاکٹر صاحب سے دینی مدارس کے نصاب ونظام کی اصلاح اوربہتری کے حوالے سے جو کچھ کہا اور لکھا ہے، اسے وسیع پیمانے پر اہل مدارس تک پہنچانے کی ضرورت ہے تاکہ علما وطلبہ اس سے راہنمائی حاصل کر سکیں۔
ماہنامہ ’التجوید‘ کے مدیر ڈاکٹر قاری محمد طاہر نے ڈاکٹرغازی پر اپنے تفصیلی مضمون کے ایک منتخب حصہ سیمینار میں پڑھ کر سنایا۔ انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی اپنے پاس موبائل نہیں رکھتے تھے جس کی وجہ سے بعض اوقات ان سے رابطہ کرنے میں دقت پیش آتی تھی۔ ایک موقع پر انھوں نے ڈاکٹرصاحب سے پوچھاکہ وہ موبائل کیوں نہیں رکھتے تو انھوں نے کہا کہ اثمہما اکبر من نفعہما۔ قاری محمد طاہر نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب کی حیات میں انھوں نے یہ واقعہ اپنے کالم میں لکھا اور ڈاکٹر صاحب کے علم وفضل کی تعریف میں کچھ کلمات لکھے تو ڈاکٹر صاحب نے ایک خط میں انھیں لکھا کہ: ’’یقین جانیے کہ آپ کا ممدوح اتنی تعریفوں کا مستحق نہیں جتنی آپ کے مضمون میں بیان ہوئی ہیں۔ یہ محض کسر نفسی یا تواضع نہیں، اظہار حقیقت ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب مرحوم کی طبیعت میں زہد کی خشکی نہیں تھی۔ شگفتہ مزاج تھے اور خط کا جواب دینا اس طرح ضروری خیال کرتے تھے جس طرح سلام کا جواب دینا۔ ان کے اندر تواضع اور انکساری بھی انتہا کی تھی۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے ڈاکٹر حافظ محمد سجاد نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے ساتھ ڈاکٹر محمود احمد غازی کا ایک طویل تعلق رہا۔ ان کی پہلی ملاقات ڈاکٹر حمید اللہ سے ۱۹۷۳ء میں ہوئی اور پھر ان کی وفات تک یہ تعلق قائم رہا۔ ڈاکٹر حمید اللہ کی وفات کے موقع پر ان کی حیات وخدمات کے حوالے سے ادارۂ تحقیقات اسلامی اور علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی میں جو ریفرنس ہوئے، ان میں ڈاکٹر حمید اللہ کی حیات وخدمات پر سب سے عمدہ گفتگو ڈاکٹر صاحب نے ہی کی۔ علمی دنیا میں اور خاص طور پر پاکستان میں ڈاکٹر حمید اللہ کی علمی خدمات کو متعارف کرانے میں ڈاکٹر محمود احمد غازی کا بڑا کردار ہے۔ ڈاکٹر غازی ڈاکٹر حمید اللہ کو اس کے دور کے مجدد علوم سیرت کے نام سے یاد کرتے تھے۔ مطالعہ سیرت کے حوالے سے جتنی نئی جہات ڈاکٹر حمید اللہ نے متعارف کرائی ہیں، ڈاکٹر صاحب ان کے خوشہ چین تھے اور اس سلسلے کو آگے بڑھانا چاہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر غازی پر ڈاکٹر حمید اللہ کے علمی اعتماد کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنی لکھی ہوئی تحریر میں کسی قسم کی کمی بیشی کیے جانے کو پسند نہیں کرتے تھے، لیکن ڈاکٹر غازی کو انھوں نے اس کی اجازت دے رکھی تھی، چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے حضرت علی پر ایک مقالہ اردو دائرۂ معارف اسلامیہ کے لیے لکھا لیکن اس میں شاید کچھ ایسی باتیں تھیں کہ وہ اس میں نہ چھپ سکا۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے وہ مقالہ ڈاکٹر غازی کو بھیجا اور ایک خط میں لکھا کہ ’’آپ کو اس میں ترمیم کی کامل آزادی ہے۔‘‘
ڈاکٹر حافظ محمد سجاد نے بتایا کہ ڈاکٹر غازی کے نام ڈاکٹر حمید اللہ کے ۱۲۶ خطوط ہیں جو انتہائی علمی، فکری ہیں اور ان میں عالم اسلام کے حالات پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔ ان خطوط سے بہت سے علمی اور تحقیقی نکات ہمارے سامنے آتے ہیں اور ڈاکٹرحمید اللہ کی علمی دلچسپیوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کون سے نئے موضوعات ان کے مطالعہ میں آتے رہتے تھے اور وہ فرانس میں بیٹھ کر عالم اسلام کے حالات پر کتنا غور وفکر کرتے رہتے تھے۔ اھوں نے بتایا کہ یہ خطوط ڈاکٹر غازی کی ہدایت پر کمپوز کر لیے گئے تھے اور ڈاکٹر صاحب ان خطوط کے حواشی تفصیل کے ساتھ خود لکھنا چاہتے تھے۔ میرے ساتھ آخری ملاقات میں انھوں نے فرمایا کہ اب میں پاکستان آ گیا ہوں، آپ کسی چھٹی کے دن آ جائیں تاکہ ہم اس کے حواشی لکھنا شروع کر سکیں، لیکن وہ اپنے اس ارادے کو عملی جامہ نہ پہنا سکے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ خطوط تفصیلی حواشی کے ساتھ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے مجلہ ’’معارف اسلامی‘‘ کی خصوصی اشاعت میں شامل کیے جائیں گے۔
ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ کے مدیر محمد عمار خان ناصر نے اپنی گفتگو میں ڈاکٹر محمود احمد غازی کے سلسلہ محاضرات کی اہم فکری خصوصیات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب قدیم وجدید علوم پر گہری نظر رکھتے تھے، دور جدید کے فکری وتہذیبی مزاج اور نفسیات سے پوری طرح باخبر تھے اور آج کے دور میں اسلام اور مسلمانوں کو فکر وفلسفہ، تہذیب ومعاشرت، علم وتحقیق اور نظام وقانون کے دائروں میں جن مسائل کا سامنا ہے، وہ وسعت نظر، گہرائی اور بصیرت کے ساتھ ان کا تجزیہ کر سکتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کا مقبول عام سلسلہ محاضرات ان کے غیر معمولی فہم وادراک اور علم وبصیرت کا ایک مظہر ہے۔ یہ محاضرات دور حاضر میں اسلامی دانش کا ایک بلند پایہ اظہار ہیں اور انھیں اردو زبان کے اعلیٰ اسلامی لٹریچر میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
پنجاب یونیورسٹی لاہور کے حافظ عبد الباسط نے اپنے مقالے میں ڈاکٹر محمود احمد غازی کے ’’محاضرات حدیث‘‘ کے پس منظر اور اہمیت پر روشنی ڈالی اور مختلف خطبات کے مشمولات کا جائزہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ ان خطبات میں فتنہ انکار حدیث سے ایک مضبوط دفاع فراہم کیا گیا ہے۔ انھوں نے مختلف خطبات میں زیر بحث آنے والے اہم موضوعات اور اہم علمی نکات کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ان خطبات میں آسان اور عام فہم انداز میں مشکل اور پیچیدہ مباحث کو بیان کیا ہے اور علمی متانت کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یادداشت اور مختصرنوٹس پر مبنی ہونے کی وجہ سے ان محاضرات میں علمی اعتبار سے کچھ خامیاں بھی رہ گئی ہیں۔ انھوں نے تجویز پیش کی کہ اگر کوئی صاحب علم اس پوری کتاب کا ایک اشاریہ مرتب کر دیں، معلومات کی توثیق کر دیں اور جو جگہیں قابل اصلاح ہیں، ان کی اصلاح کر دیں اور ہر بحث کے ممکنہ مصادر کا تذکرہ حاشیے میں کر دیں تو کتاب کی افادیت دوچند ہو جائے گی۔
ادارۂ تحقیقات اسلامی کے ریسرچ ایسوسی ایٹ ڈاکٹر محمد تنویر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ڈاکٹر غازی ان کے پی ایچ ڈی کے نگران تھے۔ بطور معلم ان میں وہ تمام خوبیاں تھیں جو کسی کامیاب معلم میں ہوتی ہیں۔ وہ کئی پیچیدہ مسائل بآسانی طلبہ کو سمجھا دیتے تھے۔ کلاس میں مختلف تدریسی مناہج اختیار کرتے تھے۔ عام طور پر مدارس یا جامعات میں تدریس کا مرکز استاذ ہوتا ہے۔ غازی صاحب نے ہمارے لیے جو تدریسی منہج اختیار کیا، اس میں مرکز طلبہ ہوتے تھے۔ وہ کسی موضوع کے اہم مسائل ومباحث کا تعارف کروا کر مآخذ ومصادر کی طرف راہنمائی کر دیتے اور فرماتے کہ لائبریری میں ان مآخذ کا مطالعہ کر کے فلاں پہلو پر لکھیں اور لکھ کر تحریر مجھے دکھائیں۔ اس منہج کا بہت زیادہ فائدہ ہوا۔ کتابوں تک رسائی ہوئی اور قدیم مصادر اور جدید کتابوں سے اخذ واستفادہ کا ملکہ پیدا ہوا۔ جب کسی مسئلے پر بحث فرماتے تو یوں لگتا تھا کہ ان کے سامنے کوئی کتاب کھلی ہوئی ہے۔ بہت مرتب اورمربوط گفتگو ہوتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر غازی کسی بھی مسئلے پر مختلف زاویوں سے نظر ڈالتے تھے۔ کہتے تھے کہ فقہا نے جو دلیل دی ہے، دیکھیے کہ مفسرین نے اس کو کیسے دیکھا ہے اور محدثین کا زاویہ نظر کیا ہے۔ پھر یہ کہ مختلف ادوار کے فقہا کا موقف کیا ہے۔ اس سے اس مسئلے کی پوری تصویر سامنے آ جاتی تھی۔ پھر وہ تفسیر، حدیث، لغت وغیرہ مختلف علوم کے حوالے سے راہنمائی کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ترتیب زمانی سے علما کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ سلف نے اس کو کیسے دیکھا، بعد میں آنے والوں نے اس میں کیاموقف اختیار کیا اور جدید دور کے اہل علم نے اس پر کیسے غور کیا ہے۔ کہتے تھے کہ جہاد کے بارے میں ہمارے بہت سے علما کا موقف اعتذاری رہا ہے۔ اس کی ضرورت نہیں۔ آپ جم کر اسلام کے موقف کو پیش کیجیے۔ مثلاً جزیہ ایک ظالمانہ ٹیکس ہے یا نہیں، اس پر کلاس میں کافی بحث ہوتی رہی۔ پھر انھوں نے سمجھانے کے لیے کہا کہ آپ جزیے کا مقارنہ زکوٰۃ کے ساتھ کریں کہ زکوٰۃ کی شرح کیا ہے اور اس کے بدلے میں اسلامی ریاست کی کیا ذمہ داریاں ہیں اور اس کے مقابلے میں جزیے کی مقدار کیا ہے اور اس کے بدلے میں ریاست کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ سب سے اہم چیز ان کا تواضع تھا۔ وہ کسی بھی مسئلے پراپنا کوئی موقف پیش نہیں کرتے تھے۔ کبھی کوئی رائے ہوتی تو کہتے: قال صاحبکم۔
پنجاب یونیورسٹی کے ڈاکٹر محمد سعد صدیقی نے اپنے خطاب میں بتایا کہ جس زمانے میں ہم اپنے والد مولانا مالک کاندھلوی کے ساتھ ٹنڈو الہ یار میں رہتے تھے۔ یہ واقعہ والدہ میں نے اپنی والدہ سے بارہا سناہے۔ یہ ۷۰ء کے لگ بھگ کی بات ہے۔ غازی صاحب کے والد مرحوم میرے والد کے ماموں اور والدہ کے چچا تھے۔ ان کے والد کا خط میرے والد کے نام ایک پوسٹ کار ڈکی صورت میں آیا اور والدہ نے بھی پڑھا۔ انھوں نے مشورہ مانگا کہ محمود نے مجھ سے چھ کر میٹرک کا امتحان دے دیا ہے اور مجھے اب پتہ چلا ہے جب وہ امتحان میں کامیاب ہو گیا ہے۔ میری خواہش تو یہی ہے کہ وہ صر ف مدرسے میں پڑھے، لیکن اب چونکہ وہ امتحان میں کامیاب ہو گیا ہے تو آپ مشورہ دیں کہ میں اسے انگریزی تعلیم آگے جاری رکھنے کی اجازت دوں یا نہیں۔ والدہ نے کہا کہ میں نے تمہارے والد سے کہا کہ انھیں مشورہ دیں کہ محمود کو آگے اس تعلیم کے جاری رکھنے کی اجازت دیں اور کبھی اس کو منع نہ کریں۔ چنانچہ مولانا مالک کاندھلوی نے انھیں خط لکھ کر مشورہ دیا کہ محمود کو اس سے نہ روکیں، مجھے بجا طو رپر یہ توقع ہے کہ آپ کی تربیت میں یہ بچہ جب آگے بڑھے گا تو کچھ بن کر نکلے گا اور مغربی تعلیم اس کے افکار اور نظریات کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔
ڈاکٹر سعد صدیقی نے کہا کہ میں نے جو تقویٰ ڈاکٹر محمود غازی کے اندر دیکھا، وہ تقویٰ بڑے بڑے علما میں بھی نہیں دیکھا۔ ڈاکٹر سعد صدیقی نے بتایا کہ ایک موقع پر ہم نے قواعد فقہیہ پر لیکچر دینے کے لیے ڈاکٹر غازی کو پنجاب یونیورسٹی میں دعوت دی۔ اس موقع پر رات کو سونے سے پہلے ڈاکٹر صاحب کی فرمائش پر میں نے انھیں التعلیق الصبیح کی پہلی جلد دے دی۔ صبح انھوں نے بتایا کہ میں نے یہ ساری کتاب پڑھ لی ہے۔ اگلے دن ڈاکٹر صاحب نے کسی قسم کے نوٹس کے بغیر قواعد فقہیہ کے خشک اور فنی موضوع پر مفصل گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ علامہ ابن خلدون نے مقدمہ کے کتاب العلم میں لکھا ہے کہ ملکہ علم پیدا ہونا بند ہو گیا ہے، لیکن کاش ابن خلدون زندہ ہوتے تو میں ان سے کہتا کہ ملکہ علم آج بھی ہے اور ثبوت کے طور پر ڈاکٹر غازی صاحب کو ان کے سامنے پیش کرتا۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر غازی اپنے حصے کا کام کر کے چلے گئے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کام کو آگے بڑھائیں۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں شعبہ علوم اسلامیہ کے استاذ ڈاکٹر محمد معین ہاشمی نے دینی مدارس کے بارے میں ڈاکٹر غازی کے خیالات کے حوالے سے ۔ انھوں نے کہا کہ وہ دینی مدارس کے بارے میں بہت فکرمند رہتے تھے اور ان سے کئی مرتبہ مدارس کے نصاب ونظام پر گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ مدارس کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کی فکر کی وضاحت میں ان کے کئی تحریری اقتباس پڑھ کر سنائے۔ امت مسلمہ فکری طو رپر حصوں میں بٹ گئی ہے۔ گزشتہ دو ڈھائی صدیوں میں مسلمانوں نے اپنی اس روایت کا دامن چھوڑ دیا ہے جو سلف نے قائم کی تھی۔ دینی مدارس اور مین اسٹریم نظام تعلیم دو الگ الگ رخوں پر چل نکلا۔ اب یہ دونوں طبقوں ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھتے اورایک دوسرے کے پیش کیے ہوئے سوالات کا جواب دینے کے قابل نہیں۔ دور جدید کا آدمی جس فریکونسی پر بات کرتا ہے، عالم اس پر آپریٹ نہیں کرتا۔ ڈاکٹر غازی نے اس کا حل یہ تجویز کیا کہ علماء کرام جدید علوم کو اس حد تک پڑھ لیں کہ وہ جدید دور کی زبان اور محاورے میں اپنی بات لوگوں کو سمجھا سکیں۔ دو متوازی جدولوں کے نقصانات پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ سیکولرازم کے غیر اسلامی تصور کو تقویت پہنچانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ سیکولرازم اسی کو کہتے ہیں کہ دین مسجد ومدرسہ تک محدود رہے اور دنیا کے عام معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔
مولانا محمد اسعد تھانوی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ڈاکٹر غازی کے والد محترم ایک سرکاری افسر تھے۔ پوری زندگی سرکاری کالونی میں رہے جہاں دائیں بائیں، ہر گھر کے بچے اسکول اور کالج میں جاتے تھے، اس کے باوجود انھوں نے اپنے بچوں کو اسکول یا کالج نہیں بھیجا، بلکہ مسجد کی چٹائی پر بٹھایا جہاں انھوں نے حفظ قرآن کیا۔ معروف طریقے پر علوم دینیہ حاصل کیے۔ پھر اللہ نے ان کو یہ ترقیاں عطا فرمائیں کہ وہ اسلامی یونی ورسٹی کے صدر بنے جہاں پوری دنیا کے اہل علم آ کر کام کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۲۰، ۲۲ سال پہلے مفتی جمیل احمد صاحب تھانوی کی احکام القرآن کی تقریب جامعہ دار العلوم اسلامیہ لاہور میں منعقد ہوئی تو وہاں مولانا سلیم اللہ خان بھی تھے اور کافی اہل علم تھے۔ ڈاکٹر غازی اس وقت ایک نوجوان اور کم عمر آدمی تھے۔ وہاں انھوں نے جو تقریر کی، وہ میں نے پہلی مرتبہ سنی۔ میرے ساتھ مولانا سلیم اللہ خان بیٹھے تھے۔ جب جلسہ ختم ہوا تو مولانا سلیم اللہ نے حیرانی کا اظہار کیا اور کہا کہ غازی صاحب نے علوم القران اور احکام القران کی پوری تاریخ ایسے پیش کر دی ہے جیسے کوئی کتاب ان کے سامنے کھلی ہو۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر غازی میں مولانا ادریس کاندھلوی کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ اگر وہ مدارس میں ہوتے تو ڈاکٹر غازی جیسا کوئی شیخ الحدیث پورے پاکستان میں نہ ہوتا۔
انھوں نے کہا کہ ان تمام عہدوں اور علمیت کے باوجود ان کی تواضع اور انکسار کا یہ عالم تھا کہ رشتے میں جو بھی آدمی ان سے ایک دو سال بھی بڑا ہوتا، وہ اس کے جوتے اٹھا کر اس کے آگے رکھتے تھے۔ وہ مالی معاملات میں بے انتہا دیانت تھی۔ یونی ورسٹی کی گاڑی گھر کے کاموں کے استعمال میں نہیں آتی تھی۔ ایک مرتبہ کراچی میں ، جب وہ وفاقی وزیر تھے تو میں ان سے ملنے گیا اور ان سے معاشیات، بینکنگ پر گفتگو شروع ہو گئی جو چار پانچ گھنٹے تک چلتی رہی۔ جب اختتام ہوا تو میں نے اندازہ کیا کہ اس آدمی کا تخصص معاشیات میں نہیں ہے، لیکن ان کو بین الاقوامی اور پاکستانی معاشیات کے متعلق جو معلومات تھیں، وہ ایک عام اکانومسٹ بھی نہیں رکھتا۔ ابھی ان کے انتقال سے پندرہ بیس روز پہلے ہمارے ایک بھتیجے کا انتقال ہو گیا۔ وہاں ڈاکٹر غازی نے قبرستان میں مولانا مشرف علی تھانوی سے، جو بارہ چودہ برس ان سے بڑے تھے، کہا کہ اگر میر اانتقال ہو جائے تو میری نماز جنازہ آپ پڑھائیے گا۔ یہ انھوں نے وصیت کی اور پندرہ دن کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ اللہ نے انھیں تلاوت قرآن سے بھی بڑا شغف عطا فرمایا تھا۔ میرے بیٹے نے مجھے بتایا کہ اس موقع پر وہ اسلام آباد روانہ ہونے تک مسلسل تلاوت کرتے رہے۔
جامعہ ازہر میں شعبہ اردو کے استاذ الدکتور ابراہیم نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ ڈاکٹر غازی عالم اسلام کے ایک مایہ ناز محقق اور فقیہ تھے۔ وہ مترجم اقبال شیخ صاوی شعلان کی صحبت میں اس وقت رہے جب حکومت پاکستان نے انھیں غالباً ۱۹۶۷ء میں پاکستان آنے کی دعوت دی۔ یہ عربی میں کلام اقبال بہترین منظوم ترجمہ ہے۔ صاوی شعلان کو ہیلن کیلر الشرق کہا جاتا تھا جو ایک اندھی، گونگی بہری خاتون تھی، لیکن نہایت بلند پایہ شاعرہ اور ادیبہ تھیں۔ صاوی شعلان بھی نابینا تھے اور انھیں کئی زبانوں پر عبور تھا جن میں اردو شامل نہیں تھی۔ انھیں اقبال کے کلام کی تفہیم کے لیے اردو دانوں کی ضرورت رہتی تھی اور محمد حسن اعظمی، عبد الباری انجم اور ڈاکٹر غلام محی الدین العربی نے ان کی معاونت کی۔ پاکستان میں قیام کے دوران غازی نے ان کی رفاقت اختیار کی اور جہاں وہ جانا چاہتے، غازی صاحب انھیں لے کر جاتے تھے۔ خاص طور پر علامہ اقبال کے مزارپر بیٹھ کر علامہ اقبال کے کلام پر گفتگو ہوتی تھی۔ غازی صاحب علامہ اقبال کے کلام کا نثری ترجمہ وتوضیح کرتے رہتے، تب جا کر شیخ صاوی علامہ کے کلام کو بہترین عربی جامہ پہناتے۔ اس سے ڈاکٹر غازی کے دونوں زبانوں پر عبور کا اندازہ کیا جا سکتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر غازی جیسے معتدل فکر اور متوازن شخصیت کے مالک علما اورمحققین کی موجودگی تمام عالم اسلام کے لیے باعث رحمت تھی اور ان کی وفات عالم اسلام کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔
رابطہ ادب اسلامی کے ڈاکٹر محمود الحسن عارف نے کہا کہ ڈاکٹر غازی ایک نابغہ روزگار ہستی تھی جن پر پاکستان کو ہمیشہ ناز رہے گا۔ اللہ نے اس دور کے لیے جو رجال کار پیدا کیے، ان میں ڈاکٹر غازی کا نام بہت بلندی پر اللہ نے لکھا۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب رابطہ ادب کے بنیادی ارکان میں سے تھے اور جب یہاں شاخ قائم ہوئی تو ڈاکٹر صاحب کا نام مولانا رابع حسن ندوی نے بھیجا تھا اور ڈاکٹر صاحب رابطہ کے تمام پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوتے رہے۔ رابطہ مولانا ندوی کا تحفہ ہے جس کی شاخیں چودہ ممالک میں کام کر رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ’’ڈاکٹر محمود احمد غازی: مقاصد شریعہ کے شارح اور ترجمان‘‘ کے عنوان پر مقالہ لکھا ہے جو رابطہ الادب الاسلامی کے ترجمان ’’قافلہ ادب اسلامی‘‘ میں شائع ہوگا۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے سربراہ ڈاکٹر علی اصغر چشتی نے اپنے خطاب میں بتایا کہ میرا غازی صاحب کے ساتھ طویل عرصے تک قریبی تعلق رہا۔ ۸۲ء میں کیپ ٹاؤن میں قادیانیوں کے خلاف کیس کی کے سلسلیجو وفد گیا، اس میں ڈاکٹر غازی تشریف لے گئے تھے۔ اس پورے کیس کی تفصیلی رپورٹ ہفت روزہ ختم نبوت میں شائع ہوئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ۱۹۸۹ء میں جب غازی صاحب دعوہ اکیڈمی کے ڈی جی بنے تو انھوں نے مجھے بلایا اور کہا کہ تفسیر سے متعلق معلومات لوگوں کو درس قرآن اور خطبہ جمعہ سے کچھ نہ کچھ مل جاتی ہیں، اس لیے زیادہ ضرورت حدیث پر کورس تیار کرنے کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے کہنے پر میں نے اس کورس کے یونٹ لکھنے شروع کیے۔ ڈاکٹر صاحب اس کے مسودے کا تفصیلی جائزہ لے کر اس کی اصلاح کرتے اور کہتے تھے کہ یونٹ مکمل کرنے کے بعد یہ کسی مڈل یامیٹرک پاس عام آدمی کو پڑھائیں اور اس سے پوچھیں کہ کیا وہ مسودہ اس کی سمجھ میں آتا ہے یا نہیں۔ ایک مرتبہ حیدر آباد سے کچھ نو مسلم آئے اور لٹریچر کا تقاضاکیا۔ ڈاکٹر صاحب نے کچھ لٹریچر دیا اور پھر مجھے بلایا کہ ہمارے پاس عام فہم لٹریچر نہیں ہے۔ مولانا تھانوی کے لٹریچر کو عام لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ پھر ہم نے عام فہم لٹریچر کا ایک منصوبہ تیار کیا۔
انھوں نے بتایا کہ علمی کاموں میں ڈاکٹر غازی کی دلچسپی عجیب وغریب تھی۔ ہر کام کو بہت باریکی میں جا کر دیکھتے اور پوچھتے تھے۔ سنٹرل ایشیا کے علما کا جب پہلا گروپ آیا تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ کراچی میں جا کر ان کا استقبال کریں اور ایک ہفتہ انھیں وہاں رکھ کر گھمائیں پھرائیں اور مدارس اور ادارے دکھائیں۔ دعوہ اکیڈمی کے ہرپروگرا م میں ڈاکٹر صاحب کی پوری دلچسپی ہوتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب انتظامی معاملات میں بہت strict تھے، لیکن طلبہ کے ساتھ بے حد شفقت کا معاملہ کرتے تھے اور بہت نرم ہو جاتے تھے۔ انھوں نے کہاکہ یہ اسلامی یونیورسٹی کی خوش قسمتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب یہاں رہے، بلکہ اس یونیورسٹی کے وجود، اس کی تشکیل وترتیب میں ڈاکٹر غازی کا ذہن کارفرما ہے۔
ڈاکٹر محمد الغزالی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ڈاکٹر غازی کو بچپن سے ہی حصول علم کا بہت ذوق وشوق تھا اور وہ کبھی بچپن میں بھی کھیل کھلونے میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ اگر کبھی والد صاحب نے اصرار کیا کہ بتاؤ، تمھارے لیے کیا لاؤں تو وہ کوئی کتاب بتا دیتے تھے۔ کتاب سے بہت زیادہ دلچسپی اور علم کا حصول ان کی اولین priority تھی۔ کوئی ambition نہیں تھی، دنیا کی کوئی خواہش نہیں تھی۔ انھوں نے بچپن سے کتابیں جمع کیں اور کیا کسی عورت کو زیور سے دلچسپی ہوگی اور کسی اور شخص کو اپنی پسندیدہ چیز سے جو انھیں کتاب سے تھی۔ انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر غازی نے خالص درسی دائرہ سے باہر دینی علوم اور عصری علوم پر عربی اور اردو کے ذخیرے سے بہت ابتدائی زندگی سے ہی استفادہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ جہاں کسی صاحب علم کو دیکھا، وہ بس اس کے ہو کر رہ جاتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ڈاکٹر غازی کو پچاس سال دیکھا ہے۔ وہ جس بات پرخوش ہوتے تھے، وہ یہی تھی کہ کوئی علمی کام ہو گیا، کوئی علمی نکتہ مل گیا، کوئی کتاب مل گئی، کوئی بات سمجھ میں آ گئی، کسی نے کوئی بات سمجھ لی، کوئی اچھا طالب علم ان کے پاس آکر اچھا کام کر گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ علم دین کا حصول ، اس کا فروغ، اسی کے لیے وہ جیے، اور اس کے سوا کسی چیز میں دلچسپی نہیں لی۔
جامعہ اشرفیہ کے نائب صدر مولانا فضل الرحیم نے اختتامی کلمات میں کہا کہ ڈاکٹر غازی سے میرا بہت تعلق رہا۔ ان کی وزارت کے دور میں ایک حج کی سعادت بھی ان کی معیت میں ہوئی۔ جامعہ اشرفیہ میں عصری تعلیم کا آغاز کرنے میں میرے ساتھ ان کی تین چار محفلیں ہوئیں او رجب تک مجھ سے اس کام کا آغا زنہیں کروایا، مجھے چھوڑا نہیں۔ کئی کئی گھنٹے بیٹھ کر مجھ سے اس کام کے فوائد بیان کرتے رہے اور الحمد للہ اس وقت جامعہ اشرفیہ کے کم وبیش پچاس کے قریب فضلا پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس میرا ایک عزیز سفارشی رقعہ لینے کے لیے گیا تو انھوں نے اپنے پی اے سے کہا کہ ان کو ایک سفارشی خط لکھ دیں۔ اس نے الماری سے ایک کاغذ نکالا اور اس پر سفارشی رقعہ لکھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ دعوہ اکیڈمی کے لیٹر پیڈ پر کیوں نہیں لکھا تو اس نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے منع کیا ہے کہ جہاں میرا ذاتی کام ہو، وہاں دعوہ اکیڈمی کا لیٹر پیڈ بھی استعمال نہ کیا جائے۔ میرے عزیز نے بتایا کہ پھر انھوں نے اس پر دستخط بھی اپنے ذاتی قلم سے کیے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے ایک عزیز کو داخلے کے لیے بھیجا تو انھوں نے کہا کہ میں داخلہ دے دیتا ہوں، لیکن ایک شرط پر۔ اس ملک کو سو تقی عثمانی کی ضرورت ہے۔ تم میرے ساتھ یہ وعدہ کرو کہ تم تقی عثمانی بنو گے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر غازی جاتے ہوئے ایک پیغام دے گئے ہیں کہ میں جا رہا ہوں، اب تمہاری باری ہے۔ اپنی فکر کرو۔ اپنی آخرت کا فکر کرو۔ انھوں نے کہا کہ میں ڈاکٹر غزالی سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنی نگرانی میں ڈاکٹر غازی کی ایک مفصل سوانح مرتب کروائیں۔ یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہترین پیغام ہوگا۔
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام تعزیتی نشست
ادارہ
پاکستان کے بین الاقوامی اسکالر، ممتاز مفکر وعالم دین جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی کے انتقال پر ورلڈ اسلامک فورم، برطانیہ کے زیراہتمام ایک تعزیتی اجلاس ایسٹ لندن کے معروف ادارہ ’’ابراہیم کالج ‘‘میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں لندن کے علاوہ برطانیہ کے مختلف شہروں سے علماے کرام، اسکالرز اور تنظیموں کے سربراہوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس کا آغاز مولانا محمد الیاس کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ اس کے بعد فورم کے نائب صدر اور السلامۃ کمپیوٹر سنٹر کے ڈائریکٹر جناب مفتی برکت اللہ صاحب نے کہا کہ گذشتہ ۱۸ سال سے ڈاکٹر صاحب کا فورم کے ساتھ خصوصی تعلق تھا۔ فورم کے طرف سے جب بھی انہیں مدعو کیا گیا، وہ برطانیہ تشریف لائے۔ تہذیبوں کے تصادم کے اس دور میں ڈاکٹر صاحب کے علم وفکر سے پورا عالم اسلام رہنمائی حاصل کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے انتقال سے عالم اسلام کی علمی و فکری کاوشوں کو بے پناہ نقصان پہنچا ہے۔
جامعۃ الہدیٰ نوٹنگھم کے پرنسپل مولانا رضاء الحق نے کہا کہ ڈاکٹر محمودا حمد غازی کی وفات پر یہ مقولہ صادق آتا ہے کہ ’’عالِم کی موت، عالَم کی موت‘‘ ہے۔ وہ متعدد بار جامعہ الہدیٰ میں تشریف لائے اور برطانیہ کی مسلمان بچیوں کے لیے دینی و عصری تعلیم کا نہایت موثر نصاب تعلیم مرتب کر نے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ آپ کے بعد علمی، فکری اور تعلیمی میدان میں کوئی متبادل نظر نہیں آتا۔
مفتی عبدالمنتقم سلہٹی نے کہا: ڈاکٹر صاحب کا علمی کام مشعل راہ ہے۔ ان کی وزارت کے زمانہ میں ، میں وفد لے کر اسلام آباد ملنے گیا تو ڈاکٹر صاحب نے اپنی بے پناہ مصروفیت کے باوجود مجھ جیسے معمولی طالب علم کے لیے فقہ اسلامی کے موضوع پر کئی گھنٹے گفتگو فرمائی۔ آپ کو فقہ اسلامی اور اسلامی اقتصادیات پر بے پناہ بصیرت حاصل تھی۔
جماعت اسلامی کے رہنما جناب رضوان فلاحی نے کہا کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کا ایک اہم کام دینی نصاب تعلیم کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ ڈاکٹر صاحب صرف عالم دین نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر شخصیت کے حامل تھے۔ آپ کی شخصیت اسلامی علوم وفکر میں مرجعیت کا مقام رکھتی تھی۔
ابراہیم کالج کے پرنسپل مولانا مشفق الدین نے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا میں علم حاصل کرنے والے تین قسم کے لوگ ہیں۔ کچھ لوگ صرف مذہبی تعلیم سیکھ کر اور عصری علوم وتقاضوں سے بے بہرہ رہ کر کنویں کی مینڈک کی طرح محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ عصری علوم سیکھ کر دین ومذہبی علوم کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اپنی دنیا بنانے میں لگ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ بہت کم بلکہ نایاب ہیں جو دینی و عصری علوم میں گہری بصیرت حاصل کر کے ملک و ملت کو اپنے علوم و فکر سے مالا مال کرتے ہیں۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی ان خوش نصیب لوگوں میں سے تھے جنہوں نے پوری دنیا کو مستفید کیا۔ ہمارے ابراہیم کالج کا تعلیمی خاکہ بنانے میں ڈاکٹر صاحب کا بنیادی کردار ہے۔
روزنامہ جنگ (لندن) کے سابق ایڈیٹر جناب ظہور نیازی نے کہا کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی شخصیت اتنی ہمہ گیر تھی کہ تمام مکاتب فکر اور علوم کے بے شمار شعبوں کے لوگ آپ سے استفادہ کرتے تھے۔ دوست تو دوست، دشمن بھی اعتراف پر مجبور ہو جاتا تھا۔ میرے ہاتھ میں قادنیوں کی ویب سائٹ سے نکالا ہوا ایک پیپر ہے جس پر لکھا ہے کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی نے سولہ سال کی عمر میں دینی علوم سے سند فراغت حاصل کر کے ۱۷؍ سال کی عمر میں تدریس شروع کر د ی تھی۔ بقول قادیانیوں کے ڈاکٹر صاحب ہی نے جنرل ضیاء الحق کے ذریعے منکرین ختم نبوت کے لیے قانون سازی کروائی تھی۔ ڈاکٹر صاحب علم حقیقی کے وارث تھے۔ ان کو دیکھ کر امام غزالی کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ مجھے ڈاکٹرصاحب کے محاضرات نے بہت متاثر کیا۔ یہ محاضرات ہر تعلیم یافتہ شخص کے پڑھنے کے لائق ہیں۔ ضرورت ہے کہ ورلڈ اسلامک فورم ڈاکٹر صاحب کے فکر و نظر کو آگے بڑھانے کے لیے اقدامات کرے۔
جمعیۃ علماء برطانیہ کے صدر مولانا ڈاکٹر اخترالزمان غوری نے کہا یہ اسلام کا اعجاز ہے کہ ہر دور میں ایسے رجال کار پیدا ہوتے رہے جو اسلام کو عصری فہم اور زمانہ کی ذہنی سطح کے مطابق پیش کرتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے کام اور فکر کو مشعل راہ بنانا چاہیے۔ ورلڈاسلامک فورم ڈاکٹر صاحب کی کتابوں خاص طور پر محاضرات کا انگریزی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ کرنے کی طرف توجہ مبذول کرے۔ انھوں نے کہا کہ مولانا عیسیٰ منصوری نے یہ تعزیتی اجلاس منعقد کر کے پورے اہل برطانیہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا ہے اور ہم پر احسان کیا ہے۔
جمعیۃ اہل حدیث برطانیہ کے صدر ڈاکٹر صہیب حسن صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت ایک عبقری شخصیت تھی۔ آپ نے پوری زندگی بغیر مسلکی تعصب کے علمی ودینی خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر صاحب نے میرے والد مرحوم سے بھی اجازت حدیث حاصل کی تھی۔ آپ نے پاکستان میں دعوۃ اکیڈمی اور شریعۃاکیڈمی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی وزارت سے دینی مدارس کی حمایت میں استعفا دے دیا اور سود کے مسئلہ پر سپریم کورٹ میں مدلل تقریر کر کے صحیح فیصلہ کروایا۔
مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی شخصیت نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے لیے علوم اسلامی اور فکر اسلامی کا سرچشمہ تھی۔ آپ کی ہستی بین الاقوامی کانفرنسوں و مجالس اور اعلیٰ سطح پر اسلام او ر جمہور اہل علم کی ترجمانی کرتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے مملکت پاکستان کے آئینی وقانونی مسائل میں بھرپور رہنمائی دی۔ آپ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع بلکہ ہمہ گیر تھا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا فورم ہو یا بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی دعوۃ اکیڈمی وشریعہ اکیڈمی کے ذریعے دنیا بھر میں اشاعت علوم اسلامی اور اسکالرز تیار کرنے کا مسئلہ، سپریم کورٹ میں سود کے متعلق تاریخی فیصلے کا معاملہ ہو یا اسلامی اقتصادیات وبینکنگ کا مسئلہ، قادیانیت کے متعلق متفقہ موقف کی اشاعت کی بات ہو یا اس سلسلے میں ہونے والی قانون سازی کا مسئلہ، ڈاکٹر محمود احمد غازی کی جہد مسلسل، تگ ودو اور ماہرانہ رائے کا ہر جگہ بڑا دخل رہا ہے۔ آپ نے ساؤتھ افریقہ کی غیر مسلم عدالت میں قادیانیوں کے خلاف تاریخی مقدمہ میں ملت اسلامیہ کے موقف کو غیر مسلم عدالت میں سرخرو کر کے اسے پوری دنیا کے غیر مسلم ممالک کی عدالتوں کے لیے ایک نظیر و مثال بنا دیا۔ اسی طرح پرویز مشرف کے دور میں جب امریکی ایما پر مدارس کے خلاف یلغار ہوئی تو ڈاکٹر صاحب نے خداداد صلاحیت و بصیرت اور حکمت عملی سے اسے ناکام کر دیا جو پاکستان کے دینی مدارس پر ڈاکٹر صاحب کا عظیم احسان ہے۔
مولانا منصوری نے کہ عالم اسلام میں ڈاکٹر حمیداللہ کے بعد ڈاکٹر غازی ایک ایسی شخصیت تھے جو اردو، عربی، فارسی، انگریزی اور فارسی سمیت متعدد زبانوں پر اعلیٰ درجہ کی تصنیف وخطابت کی اہلیت وملکہ رکھتے تھے۔ ان زبانوں میں ان کی تیس کے قریب تصانیف اہل علم اورنسل نو کے لیے بیش بہا تحفہ ہیں۔ آپ کے محاضرات جو قرآن، حدیث، سیرت، فقہ ، شریعت اور تجارت ومعیشت پر ہیں، پورے اسلامی کتب خانہ میں بے مثل ہیں۔ برصغیر میں ڈاکٹر صاحب کی شخصیت ایسی تھی جن کی عالمی حالات پر گہری نظر تھی اوراس تہذیبی تصادم کے دور میں مغرب کے صلیبی صیہونی گٹھ جوڑ سے عالم اسلام کو جو تہذیبی وفکری چیلنجز اور خطرات در پیش ہیں، ڈاکٹر صاحب علمی وفکری سطح پر اس کا موثر جواب دے رہے تھے۔ آپ کی وفات نظریاتی فکری کام کرنے والوں کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔ ہم ایک فکری رہنما سے محروم ہو گئے۔ آپ نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے علاوہ ملائیشیا اور قطر کی یونیورسٹیوں میں بھی اسلامی فکر وفلسفہ کی جوت جگائی۔ ایک عرصہ سے ڈاکٹر صاحب کے فکروفلسفہ کو عام کرنے میں ورلڈ اسلامک فورم، مولانا زاہدالراشدی اور ان کا ادارہ الشریعہ اکادمی کا خاص رول رہا ہے۔ مولانا منصوری نے اعلان کیا کہ ورلڈ اسلامک فورم ان کے محاضرات کو انگریزی میں ترجمہ کروا کر شائع کرے گا، جبکہ فورم ہی کی وساطت سے برطانیہ میں ڈاکٹر صاحب کی راہنمائی میں جاری کیے جانے والے ’’ہوم اسٹڈی کورس‘‘ سے دس ہزار کے قریب طلبہ وطالبات استفادہ کر چکے ہیں ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملت اسلامیہ کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کے پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ رسائل و جرائد کے تعزیتی شذرے
ادارہ
(۱)
حضرت مولانا غلام رسول خاموش اور حضرت مولانا مرغوب الرحمن قاسمی کی وفات سے پہلے ملت اسلامیہ، خصوصاً برصغیر کے دینی وعلمی حلقوں کو ایک اور حادثہ سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ یہ تھا ڈاکٹر محمود احمد غازی کے انتقال پرملال کاحادثہ جو ۲۶؍ ستمبر ۲۰۱۰ء کو پیش آیا۔ ڈاکٹر صاحب اس دور کے ان ممتاز اہل علم ودانش میں تھے جو پاکستان اور عالم اسلام میں جاری اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش میں اسلام کے ایک وفادار اور جاں باز سپاہی کا کردار ادا کر رہے تھے۔ویسے تو مختلف اسلامی علوم میں ان کو عبور حاصل تھا، مگر فقہ وقانون میں ان کو زبردست مہارت حاصل تھی اور قدیم علمی سرمایے کو جدید اسلوب میں پیش کرنے میں ان کو غیر معمولی ملکہ حاصل تھا۔ وہ پاکستان کے فیڈرل شریعہ عدالت کے جج بھی تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم دینی مدارس میں ہوئی تھی۔ بعد میں انھوں نے یونیورسٹیوں کی ڈگریاں بھی حاصل کیں اور راقم کے اندازے کے مطابق قدیم وجدید کے درمیان توازن قائم رکھنے میں وہ بڑی حد تک کامیاب رہے اور اہل نظر جانتے ہیں کہ اس کا کہنا تو آسان ہے، مگر ہر جزئیہ اور ہر فکر اور ہر تعبیر میں یہ بہت ہی دشوار کام ہے۔
یہ راقم مولانا عیسیٰ منصوری صاحب کا شکر گزار ہے کہ انھوں نے ڈاکٹر صاحب مرحوم کی شخصیت کے بارے میں اپنے تاثرات پر مشتمل مفصل مضمون ’الفرقان‘ میں اشاعت کے لیے ارسال کیا جو اس شمارے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ دل کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم ڈاکٹر غازی صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کی زندگی بھر کی مساعی کو قبول فرماتے ہوئے ان کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے تمام پس ماندگان اورمتعلقین ومحبین کو صبر واجر عطا فرمائے۔
گزشتہ سال کے آخری دنوں میں مذکورہ بالا تینوں شخصیتوں کے اٹھ جانے سے بلاشبہ بہت بڑی کمی ہوئی ہے۔ اب ہم سب کی ذمے داری اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ اپنے اسلاف سے خدمت دین کی اس امانت کی وراثت قبول کریں اور اسی اخلاص، استغنا اور عزم وحکمت کے ساتھ کام کو جاری رکھیں۔ محترم قارئین سے ان تینوں حضرات کے لیے دعاؤں اورمسنون طریقے پر ایصال ثواب کے اہتمام کی بھی گزارش ہے۔
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْإِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوبِنَا غِلّاً لِّلَّذِیْنَ آمَنُوْا رَبَّنَا إِنَّکَ رَؤُوْفٌ رَّحِیْمٌ۔
مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی
(ماہنامہ الفرقان، لکھنو)
( ۲ )
احقر ۱۶؍ شوال المکرم کوچنیوٹ جار ہا تھا۔ راستے میں مخدوم و مکرم حضرت مولانا مشرف علی تھانوی مدظلہم نے فون پر اطلاع دی کہ جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب انتقال کر چکے ہیں۔ ۲ بجے اسلام آباد میں ان کا جنازہ ہوگا۔ اچانک ملنے والی اس خبر سے بہت افسوس ہوا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم باقاعدہ درس نظامی اورعصری تعلیم کے فاضل تھے۔ ان کے والد مرحو م کا حضرت حکیم الامت تھانوی ؒ سے خاص تعلق تھا، اس لیے ان کی تربیت اور نشوونما بڑے دینی اور علمی ماحول میں ہو ئی جس کا اثر ان کی زندگی پر آخر دم تک قائم رہا۔ عصر جدید کے چیلنج اور دورحاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر دین کی تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے حوالے سے وہ ہمیشہ فکر مند رہے اور انہوں نے ہمیشہ اہل علم کو بھی اس طرف متوجہ کیا۔ اپنی علمی، دینی، فکری صلاحیتوں کی بنیاد پر انہوں نے چیلنجوں کا خوب مقابلہ کیا اور اس محاذ پر اہل علم اور دین کی نمائندگی کی۔ مرحوم بڑے فاضل اور قابل جوہر تھے۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر بہت سا ذخیرہ چھوڑا ہے جو اہل علم کے لیے یقیناًقابل قدر ہے۔ ان کے بعض افکار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن جہاں تک ان کے اخلاص اور درد دل کے ساتھ عالم اسلام کے لیے گرانقدر خدمات کا تعلق ہے، اس میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں اور پس ماندگان کو صبر واجر سے نوازیں۔
احقر کو ان سے مستفید ہونے کا موقع نہیں ملا، لیکن جو ملاقاتیں ہوئیں، ان کا گہرا نقش اب تک احقر کے قلب پر موجود ہے۔ دارالعلوم الاسلامیہ لاہور میں ایک دو مرتبہ ان سے ملاقات ومجلس ہوئی۔ احکام القرآن کی تقریب میں ان کا خطاب ذی شان بھی سنا۔ اس میں انہوں نے جب آیت قرآنی: وَإِذَا أَرَدْنَا أَن نُّہْلِکَ قَرْیَۃً أَمَرْنَا مُتْرَفِیْہَا فَفَسَقُوا فِیْہَا فَحَقَّ عَلَیْْہَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاہَا تَدْمِیْراً (۱۷:۱۶) میں ’’أَمَرْنَا‘‘ کی وضاحت کی تو سامعین بڑے ہی محظوظ ہوئے۔ بعد میں حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب نے اپنے خطاب میں ان کی بڑی تعریف فرمائی۔
حضرت والد صاحب ؒ سے جب ان کی ملاقات ہوئی تو ان سے بڑے متاثر ہوئے۔ حضرت نے ان سے امام جصاص کے تحریر فرمودہ مقدمہ احکام القرآن کا ذکر فرمایا تو انہوں نے اسلام آباد اسلامی یونیورسٹی میں تلاش کرنے کا وعدہ کیا۔ حضرت والد صاحب سے تاثر ہی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے بڑے اصرار سے حضرت کو راضی کر کے اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن بنایا اور پھر ان کی وفات پر بڑے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ چند سال قبل احقر ان کی دعوت پر اسلام آباد میں منعقدہ سہ روزہ بین المذاہب کانفرنس میں حاضر ہوا اور ان کا فاضلانہ خطاب بھی سنا۔
ایک مرتبہ جنرل پرویز مشرف کی دعوت پر اسلام آباد میں حضرات علماء کرام تشریف لے گئے۔ احقر بھی حاضر ہوا تو ڈاکٹر صاحب نے بڑی محبت کا مظاہرہ فرمایا۔ وہ خود بھی صاحب فضل وکمال اور عالم وفاضل تھے، اس لیے اہل علم کے بے حد قدر دان تھے۔ ان کے جانے سے علمی اور تحقیقی دنیا میں ایک نیا خلا پید اہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرما ویں اور اس خلا کو پورا کرنے کی بعد کے حضرات کو توفیق عطا فرمائیں۔
مولانا مفتی عبد القدوس ترمذی
(ماہنامہ الحقانیہ، ساہیوال)
( ۳ )
وفاقی شرعی عدالت کے جج، مجمع الاسلامی کے ممبر، قومی سلامتی کونسل واسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن، شریعت اپیلٹ کورٹ کے سابق جج اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے سابق صدر ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب ۱۶؍ شوال المکرم ۱۴۳۱ء /۲۶؍ ستمبر ۲۰۱۰ء کو حرکت قلب بند ہونے سے اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ڈاکٹر صاحب ؒ حافظ قرآن، عالم دین، مشہور اسکالر، دینی ودنیاوی علوم کے جامع، اسلامی اصول وضوابط پر مطلع اور درجنوں کتابوں کے مولف تھے۔
سن ولادت ۱۸؍ ستمبر ۱۹۵۰ء ہے۔ مقام ولادت کراچی ہے۔ والد محترم کا نام محمد احمد ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے حفظ وناظرہ کی تعلیم مدرسہ اشرفیہ جیکب لائن کراچی میں قاری حافظ نذیر احمد متوفی ۱۲؍ ذوالحجہ ۱۴۱۰ھ/۸؍ جولائی ۱۹۹۰ء سے حاصل کی۔ اس کے بعد جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ یوسف بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ لیا اور درس نظامی کی کتابیں پڑھیں۔ ۱۹۶۰ء کے لگ بھگ غازی صاحب نے دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی میں داخلہ لیااور وہیں سے فراغت پائی اور بانی جامعہ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان ؒ سے بھی استفادہ کیا جب کہ غازی صاحب ؒ نے ۱۹۷۲ء میں پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ چونکہ غازی صاحب دینی ودنیاوی علوم کے جامع، دینی مدارس وجامعات اوراسکول وکالجز کے اسرار ورموز پر مطلع تھے اور ساتھ ملک وملت کے بھی خیر خواہ تھے، اس لیے غازی صاحب ملک کے درجنوں اداروں کے اہم عہدوں پر فائز رہے اور قومی وملی خدمات سرانجام دیں۔
غازی صاحبؒ نے ۲۰۰۲ء سے ۲۰۰۴ء تک بطور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور فرائض سر انجام دیے ۔ ۲۰۰۴ء سے ۲۰۰۶ء تک بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر رہے جب کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اور نواز شریف کے دورمیں شریعت اپیلٹ کورٹ کے جج رہے۔ غازی صاحب عرب ممالک کی جدید ڈکشنری مجمع الاسلامی [؟] کے تاحیات ممبر تھے اور یہ واحد مذہبی اسکالر تھے جو غیر عرب تھے۔ ۲۶؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو غازی صاحب وفاقی شرعی عدالت کے جج مقرر ہوئے اور آخری دم تک اس خدمت میں مصروف رہے۔
غازی صاحب کی پوری کوشش تھی کہ دینی مدارس کے علماء کرام کو عصری تعلیم سے روشناس کرائیں اور دینی مدارس کے نظام تعلیم میں اس طرح ردو بدل کیا جائے کہ دینی مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ عصری علوم کے بھی ماہر ہوں اور غازی صاحب کی نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ تنقیدی مضامین پر چراغ پا ہونے کی بجائے انتہائی متانت اور سنجیدگی کے ساتھ ان مضامین کو پڑھتے اور خیرمقدم بھی کرتے تھے۔
غازی صاحب کا ایک مضمون ہفت روزہ تکبیر کراچی، شمارہ ۵؍فروری ۲۰۰۴ء میں شائع ہوا تھا اور راقم نے اس مضمون کے بعض اقتباسات پر اپنا اظہار خیال کیا تھا ۔ یہ تنقیدی اظہار خیال جب ماہنامہ حق نوائے احتشام کراچی، شمارہ صفرالمظفر ۱۴۲۵ھ /اپریل ۲۰۰۴ء میں شائع ہوا تو غازی صاحب نے فون پر رابطہ فرمایا اور برا ماننے کے بجائے حوصلہ افزائی فرمائی۔ غازی صاحب کی ایک تالیف بنام ’’مسلمانوں کا دینی وعصری نظام تعلیم‘‘ ہے۔ صفحات ۲۵۶ ہیں۔ اس کتاب پر تبصرہ ماہنامہ حق نوائے احتشام شمارہ ربیع الاول ۱۴۳۱ھ /مارچ ۲۰۱۰ء میں شائع ہوا۔ اس کتاب کے بعض اقتباسات پر بھی تنقید ہے، لیکن غازی صاحب نے حسب معمول فون پر سلام کلام کیا اور انتہائی مودبانہ ومشفقانہ انداز میں گفتگو فرمائی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ غازی صاحب بے حد وسیع الظرف اور تحقیقی وعلمی شخص تھے۔
رجب المرجب ۱۴۲۶ھ /اگست ۲۰۰۵ء کو ہمارے ادارے سے ’’ متاع احتشام الحق‘‘ کے نام سے سات سو صفحات پر مشتمل ایک کتاب منظر عام پر آئی۔ حسب معمول ایک نسخہ غازی صاحب کی خدمت میں بھی بھیجا گیا۔ نسخہ ملنے کے بعد غازی صاحب نے جو خط بھیجا، وہ یہ ہے:
برادر مکرم ومحترم جناب مولانا حافظ محمد صدیق ارکانی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا پہلا گرامی نامہ چند روز قبل موصول ہوا۔ اس سے خوشی ہوئی کہ آپ اپنے رسالہ کا خصوصی شمارہ شائع کر رہے ہیں۔ ابھی اس کاجواب دینے کی نوبت نہیں آئی تھی کہ خصوصی شمارہ کی ایک کاپی بھی موصول ہو گئی۔ جزاکم اللہ۔ میری طرف سے مولانا تنویر الحق صاحب کی خدمت میں شکریہ کے جذبات پہنچا دیجیے۔ رسالہ کے مضامین اور تصاویر نے چالیس سالہ پرانی یادیں تازہ کر دیں۔
والسلام ڈاکٹر محمود احمد غازی
رئیس الجامعۃ الاسلامیۃ العالمیۃ
اسلام آباد ، پاکستان
مورخہ : ۱۸؍ اگست ۲۰۰۵ء
غازی صاحب کی متعدد تالیفات ہیں جن میں محاضرات، قانون بین الممالک، اسلام اور مغرب تعلقات، مسلمانوں کا دینی وعصری نظام تعلیم، اسلامی بنکاری: ایک تعارف، آداب القاضی، قرآن مجید: ایک تعارف معروف ہیں۔ محاضرات نامی کتاب چھ جلدوں پر مشتمل ہے اور ہر جلد ۱۲ خطاب کامجموعہ ہے۔
غازی صاحبؒ کو سات زبانوں پر عبور تھا اور پس ماندگان میں ایک بیوہ اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ غازی صاحبؒ کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے، جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی دولت سے مالا مال کرے۔
مولانا محمد صدیق اراکانی
(ماہنامہ حق نوائے احتشام، کراچی)
( ۴ )
آسمان علم وتحقیق کا ایک درخشندہ ستارہ گزشتہ دنوں اچانک بحر فنا میں ڈوب گیا۔ مسند علم وعرفان کی ایک ایسی شمع یکایک بادِفنا کی ستم ظریفی سے ہمیشہ کے لیے بجھ گئی ہے جس کی تلاش میں کہکشائیں بھی جلائی جائیں توبھی اس کی تلافی ممکن نہیں۔
اب انہیں ڈھونڈچراغ رخ زیبا لے کر
جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی عالم اسلام اور خصوصاً پاکستان کے لیے بہت بڑا علمی سرمایہ تھے۔ پاکستان اور برصغیر میں آپ کے پائے کے قابل اور فاضل افراد گنے چنے ہی نہیں بلکہ ایک دو افراد ہی ہیں۔ جناب ڈاکٹر صاحب کی علمی، تحقیقی، فنی، ادبی اور تعلیمی خدمات اتنی زیادہ اور وسیع ہیں کہ ان کااحاطہ ایک طالب علم کے بس کی بات نہیں۔ یقیناًڈاکٹر صاحب اس وقت علم وتحقیق کے میدان میں حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی مدظلہ کے بعد بہت نمایاں مقام پر فائز تھے۔ آپ کچھ عرصے میں اداروں اور اکیڈمیوں کا کام کر گئے۔ طبیعت میں تواضع کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ کم گوئی اور خاموشی آپ کی نمایاں خصوصیت تھیں اور علمی نخوت وتکبر سے بھی آپ کوسوں دور تھے۔
آپ اگرچہ جدید علوم وفنون میں ممتاز تھے اور آپ پر عصر حاضر کے رنگ کا عکس بھی کافی گہرا پڑ چکا تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلامی علوم وفنون پر بھی آپ کی دسترس کسی شیخ اور کسی دینی وعلمی مستند ترین شخصیت سے کم نہیں تھی۔ آپ ایک ایسے دریا کی مانند تھے جس میں قدیم وجدید دونوں علوم پانی کی مانند جمع تھے اور ایسا علمی خزانہ تھے جوجمع ہونے کی بجائے خود کوخرچ کرنے پر ترجیح دیتے تھے۔ دراصل آپ کی بنیاد ہی اسلامی مدرسے سے بنی تھی اور علوم شرعیہ میں کمال بھی آپ نے کراچی کے ایک بڑے علمی ادارے سے حاصل کیاتھا۔ پھربعدمیں اپنی جدت پسند اور خدا داد صلاحیتوں سے آپ ترقی کرتے کرتے علم وعرفان کے بلند ترین مسانید پر فائز ہو گئے۔ آپ کے قیمتی قلم سے کئی علمی اور تحقیقی ضخیم کتابیں منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئیں اور آپ کے پرمغز علمی مقالات، تقاریر،علمی سیمیناروں کی جان ہوا کرتے تھے۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے صدر اور فیصل مسجد کی خطابت بھی آپ نے کئی برس تک کی۔ اس کے علاوہ دیگر کئی علمی وتحقیقی اداروں کے بھی آپ رئیس رہے اور کافی عرصہ وفاقی وزیر مذہبی امور پاکستان بھی آپ رہے۔ اس وقت آپ وفاقی شرعی عدالت کے معزز جج کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے۔
پاکستان جو پہلے ہی مفلسی اور غربت کے ہاتھوں گھر اہواہے اوراس کا تعلیمی اور علمی سرمایہ بھی آہستہ آہستہ گھٹتا چلا جا رہا ہے، اب ڈاکٹر صاحب جیسی قیمتی شخصیت کے اٹھ جانے کے باعث توعلمی وتحقیقی مفلسی بھی پاکستان کے حصے میں آ گئی ہے۔ تعلیمی انحطاط روز بروز بڑھتا چلا جا رہاہے۔ درسگاہیں ویران، حقیقی طالب علم ناپید اور اساتذہ وپروفیسر علم وادب سے بے خبر۔ ایسے ماحول اور ایسے ملک میںآپ جیسے عظیم معلم، استاد،مفکر اور محقق کا بچھڑ جانا مزید گہرے صدمے کا باعث ہے۔ اب تو پور ے ملک میں لے دے کر چند ہی نابغے باقی ہیں۔ اللہ انہیں اپنے حفظ وامان میں رکھے اور ڈاکٹر صاحب کے مقامات اعلیٰ علیین میں مقرر فرمائے اور ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
مولانا راشد الحق حقانی
(ماہنامہ الحق،ا کوڑہ خٹک)
( ۵ )
ملک کی بے حد قابل احترام اور وقیع علمی شخصیت، جسٹس وفاقی شرعی عدالت اورسابق صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ وطن عزیز کی ان ہستیوں میں شامل تھے جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پہچان تھے، اس کے علمی مقام ومرتبہ کی شناخت تھے۔ وہ دینی اور جدید وقدیم علوم کے ایسے عظیم اسکالر تھے جن پر کوئی بھی قوم فخر کر سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سے اعزازات سے نوازا تھا۔ وہ کئی ایک قومی وملی اور علمی وتدریسی مناصب پر فائز رہے اور ہرجگہ سزاوار احترام ٹھہرے۔ وہ تحریر وتقریر دونوں ہی میدانوں کے شہسوار تھے۔ ان کی تصنیف کردہ کتب علم کا ایسا خزینہ ہیں جن سے آنے والی نسلیں مدت مدیر تک استفادہ کرتی رہیں گی۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی کے اچانک سانحہ ارتحال سے اسلامی، علمی اور قومی وملی حلقوں میں بہت بڑا خلا پیدگیا ہے۔ ایسا خلا جسے قدرت الٰہیہ فوری طور پر پرکر دے تو کوئی بعیدنہیں۔ وما ذلک علی اللہ ببعید۔ بظاہر ایسا ممکن نظر نہیںآتا۔ ہم قحط الرجال کے جس بدترین دور سے گزر رہے ہیں، ڈاکٹر محمود احمد غازی کی رحلت نے اس کی شدت میں کچھ اور اضافہ کر دیا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کی مغفرت تامہ کے لیے دست بدعاہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور ان کی بشری لغزشوں سے درگزر فرماتے ہوئے ان کے درجات کو بلند فرمائے۔ انہیں انبیا واتقیا اور صلحا کی معیت نصیب ہو اور ان کی اخروی زندگی ان کی اس حیات مستعار سے کہیں زیادہ قابل رشک ٹھہرے۔ آمین۔ ہم ان کے سبھی لواحقین بالخصوص ان کے برادر گرامی جناب ڈاکٹر محمد الغزالی سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کے لیے صبرجمیل کے طالب ہیں۔
ڈاکٹر زاہد اشرف
(ماہنامہ المنبر، فیصل آباد )
( ۶ )
۲۶؍ ستمبر کو معروف اسکالر، علمی وادبی اور تحقیقی کاز کے حوالے سے جدید وقدیم علوم کے متبحر عالم دین، اسلامی یونیورسٹی کے سابق صدر، سابق وفاقی وزیر مذہبی امور وسابق خطیب فیصل مسجد، وفاقی شرعی عدالت کے جج ، ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ بھی حرکت قلب بند ہونے سے راہی جنت ہو گئے ہیں۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ ایک وسیع المطالعہ شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک مقصد متعین کیا اور بھرپور استقامت اور عزیمت کے ساتھ اس مقصود کے حصول کے لیے اپنی پوری زندگی بسر کر دی۔ وہ جدید اور قدیم علوم پر گہری نظر رکھتے اور اپنی بات بڑے سلیقے سے کہنے کا ہنر جانتے تھے۔ ہمارے ہاں بہت کم لوگ اتنے شستہ اور اتنے اعلیٰ اسلوب میں اپنا مدعا بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ میری سب سے پہلی ملاقات مولانا سید چراغ الدین شاہ صاحب کے مدرسہ کے سالانہ جلسہ دستاربندی میں ہوئی۔ میں جلسہ گاہ میں پہنچا تو ایک عالمانہ، فاضلانہ خطاب شروع تھا۔ خطیب کی اردو سے علم و ادب چھلکتا تھا،جگہ جگہ قرآن کی آیات سے استدلال، احادیث سے استشہاد اور متنبی اور حماسہ کے عربی اشعار بھی بطور دلیل پیش کیے جا رہے تھے۔ میں نے دریافت کیا، خطیب کون ہیں؟ بتایاگیا کہ مرکزی وزیر جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی ہیں۔ اسی شام دسترخوان پر اکٹھے بیٹھے اور چند لمحوں میں موصوف بے تکلف ہو گئے ۔ مجھے اس رو ز اس پر اور زیادہ خوشی ہوئی کہ موصوف میری اکثر کتابوں کو جانتے بھی تھے، مطالعہ بھی کیا تھا اور انہیں میری بعض جدید کتب کی طلب بھی تھی۔ انہوں نے کئی بار جامعہ ابوہریرہ آنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ماہنامہ القاسم کوشوق سے دیکھتے بلکہ فرماتے کہ میں اس کے انتظار میں رہتا ہوں۔
گزشتہ کئی سالوں سے ان کے علمی افادات بھی منظر عام پر آنے لگے۔ قرآنیات ، احادیث اور فقہ پر ان کے علمی لیکچرز ان کے وسیع و عمیق مطالعہ اور علم وتحقیق کامظہر ہیں۔ ان کے خطبات ،محاضرات قرآن، محاضرات حدیث، محاضرات سیرت سے دین اور مطالعاتی حلقوں میں ان کا علمی مقام بہت بڑھ گیاتھا۔ بلاشبہ وہ اسلام اور پاکستان کے سلسلہ میں مخلص تھے۔ ان کے سانحہ ارتحال سے ہم بہت مخلص خادم علم، خادم اسلام اور خادم پاکستان سے محروم ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرما وے اور ان سے جو فائدہ مسلمانوں کو پہنچ رہا تھا، وہ پہنچتا رہے اور اگر ان سے کوتاہیاں ہوئی تھیں ، اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔
مولانا عبد القیوم حقانی
(ماہنامہ القاسم، نوشہرہ)
( ۷ )
ممتاز محقق اور عالم دین، اسٹیٹ بینک کے شعبے کے چیئر مین، سابق ڈائریکٹر دعوۃ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے سابق سربراہ اور فیصل مسجد اسلام آباد کے سابق خطیب ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ علمی حلقوں میں ان کی جدائی کی خبر سے انتہائی صدمے کی کیفیت طاری ہے۔ آپ کاندھلہ کے علمی خانوادے کا تسلسل تھے۔ آپ کی غیر معمولی قابلیت ، تحقیق اور وسعت خیالی نے آپ کو ہر طبقے میں ہر دلعزیز بنا رکھا تھا۔ جس انداز میں مدارس کے ساتھ آپ کامسلسل رابطہ اور محبت بھر اتعلق تھا ، بالکل اسی طرح ملکی اور غیر ملکی یونیورسٹیوں اور حکومتی اداروں میں بھی آپ کی بے انتہا پذیرائی تھی۔ سابق صدر ضیاء الحق نے آپ کی قابلیت کی بنا پر آپ کواپنا ترجمان بنایا تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر بنانے کے ساتھ اہم ذمہ داریاں تفویض کر رکھی تھیں۔ نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں انہیں وفاقی شرعی عدالت کاجج اپائنٹ کیا۔ سابق صدر پرویز مشرف نے انہیں وفاقی مذہبی امور کا وزیر بنایا جس سے ان کی موافقت نہ ہو سکی اور جلد ہی انہیں اس سے الگ ہونا پڑا۔
آپ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے سب سے کامیاب اور ہر دلعزیز سربراہ رہے۔ آپ کے زمانے میں یونیورسٹی کے ماحول میں اسلامی ثقافت کا رنگ غالب رہا۔ آپ نے گو پردے کو قانونی حیثیت تو نہ دی، لیکن اس زمانے میں نوجوان لڑکیوں میں اسلامی لباس کا رجحان ترقی کرتا رہا۔ دعوۃ اکیڈمی بھی آپ کی ڈائریکٹر شپ میں ہی منظم اور فعال ادارے کے طور پر سامنے آئی تھی۔ آج دعوۃ اکیڈمی کے مفید پروگرامز اور ہمہ جہت کارکردگی میں ڈاکٹر صاحب کی خصوصی توجہ کا بڑا دخل ہے۔ ہر محقق علمی شخصیت کی طرح آپ کے نقاد بھی موجود رہے۔ خاص طور پر پرویز دور میں عہدہ قبول کرنے پر ان پر بہت تنقید ہوئی۔ خاص طور پر ممتاز محقق محمد موسیٰ بھٹو نے اس حوالے سے خصوصی مکاتبت فرمائی تھی جو ان کی کتاب میں شائع ہو چکی ہے۔ ان خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ اپنے اسلاف کی طرح تحمل اور تواضع کے پیکر تھے۔ کسی موقع پر وہ تنقید کی وجہ سے اشتعال کا شکار نہ ہوئے۔ حفظِ مراتب کے ساتھ باسلیقہ گفتگو کا اللہ تعالیٰ نے انہیں خصوصی ملکہ عطا فرمایا تھا۔ موصوف کو اردو کے علاوہ عربی اور انگریزی تحریر وتکلم پر یکساں عبور تھا۔
عالمی کانفرنسوں اور سیمینارز میں کسی بھی زبان میں بے تکلف گفتگو ان کا طرۂ امتیاز تھی ۔ موصوف نے جدت پسندی کے نام پر اجماع سے ہٹے ہوئے نظریات کا ہمیشہ مردانہ وار مقابلہ کیا۔ مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے لیے ہمیشہ فکر مند رہتے۔ قرآن و حدیث کے علاوہ سیرت، فقہ اور خصوصیت سے فقہ المعاملات میں خصوصی درک رکھتے تھے۔ ان کے محاضرات( لیکچرز) سیرت، فقہ اور معیشت چھپ کر داد تحسین وصول کر چکے ہیں۔ ملک کی کوئی اہم لائبریری نہ ہو گی جس میں ان کی کتب کو خصوصیت سے جگہ نہ دی جاتی ہو۔ کراچی کے معروف علمی ادارہ جامعۃ الرشید کے زیرنگرانی قضا کورس میں انہوں نے جو ساڑھے چار گھنٹے پرمغز بیان کیا تھا، اسے لازوال شہرت ملی تھی۔ یہ بیان پاکستان بھر کے نامور دارالافتاؤں کے جید مفتیا ن کرام کے سامنے کیا گیا تھا جسے اس کی روانی، ٹھوس استدلال اور جامعیت کی وجہ سے بے حد پسند کیا گیا تھا۔ جامعۃ الرشید کے سالانہ کنونشن میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر تقریباً آٹھ ہزار سامعین کے سامنے انہیں دو لاکھ کتابوں پر مشتمل ڈیجیٹل لائبریری اور لیپ ٹاپ دیا گیا تھا۔ ان کی علمی قابلیت کی وجہ سے انہیں مختلف نصابوں کی تشکیل میں شریک کیا جاتا رہا ہے۔
گزشتہ کچھ زمانے سے وہ قطر میں خدمات انجام دے رہے تھے اور گاہے گاہے اسلام آباد، کراچی اور لاہور بھی چکر لگاتے تھے۔ اس بار اسلام آباد میں قیام کے دوران انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا اور داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ احادیث میں یہ مضمون موجود ہے کہ قیامت کے قریب جہالت کا غلبہ ہو گا اور علم اٹھا لیا جائے گا ۔ علم اٹھانے کی صورت یہ ہو گی کہ زمانے کے نبض شناس علما کو اٹھا لیا جائے گا۔ اس وقت ہم کسی ایسی ہی صورت حال کا شکار ہیں یا انہیں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے شہید کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہالت کے عذاب سے محفوظ رکھیں۔ ان کی علمی خدمات اور عملی جدوجہد یقیناًاس قابل ہے کہ ہر پاکستانی ان پر رشک کرے، ان سے استفادہ کرے اور امید رکھے کہ جس اللہ تعالیٰ نے انہیں اتنا عملی کام کرنے کا موقع عنایت کیا، وہ ان لغزشوں اور خطاؤں کو معاف کر کے انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں۔ ان کے درجات بلند فرمائیں اور اپنی عادت کے مطابق قحط الرجال کے اس دور میں ہمیں نئے رجال عطا فرمائیں۔ آمین۔
( ہفت روزہ ’’ضرب مومن ‘‘کراچی)
(۸)
یہ خبر دل ودماغ پر بجلی بن کر گری کہ سابق وفاقی وزیر مذہبی امور اور وفاقی شرعی عدالت کے جج، مایہ ناز استاد، محقق اور دانش ور مولانا ڈاکٹر محمود احمد غازی ۲۶؍ ستمبر کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اسلامی تعلیمات کے حوالے سے جن چند گنے چنے لوگوں کو سنجیدہ غور وفکر اور اعلیٰ درجے کا افہام اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے، ڈاکٹر محمود احمد غازی اسی عمدہ جماعت کے فرد فرید تھے۔ پاکستان میں ان کے نام اور کام کو جاننے والے دسیوں، ہزاروں لوگ ہیں تو بیرون ملک بھی ان کے قدر دانوں کی کمی نہیں۔ ڈاکٹر محمود غازی اپنے علم وفضل کی گہرائی اور مزاج کی شرافت اورمتانت کے حوالے سے اپنا ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔ اب جبکہ سنجیدہ غور وفکر کرنے والے لوگ علمی حلقوں میں دن بدن کم ہوتے جا رہے ہیں، ڈاکٹر محمود غازی کے جانے سے یہ کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر صاحب مرحوم ۲۰۰۲ء تا ۲۰۰۴ء وفاقی وزیر مذہبی امور رہے۔ انھوں نے حکومت میں رہتے ہوئے پرویز مشرف کے، دینی مدارس کے نصاب ونظام تعلیم کے خلاف ناپاک منصوبوں کو جس حکمت سے ناکام بنایا، وہ ان کے اخلاص کا غماز ہے۔ وزارت سے سبک دوشی ان کے اسی ’’جرم‘‘ کی سزا تھی۔ ۲۰۱۰ء میں انھیں وفاقی شرعی عدالت کا جج مقرر کیا گیا۔ انھوں نے چالیس سے زائد ممالک کے سفر کیے، اندرون وبیرون ملک مختلف موضوعات پر ہونے والی ایک سو سے زائد کانفرنسوں میں شرکت کی۔ اسلامی قوانین، اسلامی تعلیم، اسلامی معیشت اور اسلامی تاریخ سے متعلق اردو، انگریزی، عربی میں تیس سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ قادیانیت کے رد میں ایک مستقل کتاب انگریزی میں تحریر کی۔ وہ اپنی شاندار زندگی کا سفر ساٹھ سال میں مکمل کر کے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔
غم کی اس گھڑی میں مجلس احرار اسلام پاکستان کے امیر حضرت پیر جی سید عطاء المہیمن بخاری، سیکرٹری جنرل عبد اللطیف خالد چیمہ، مدیر نقیب ختم نبوت سید محمد کفیل بخاری اور راقم، مرحوم ڈاکٹر صاحب کے اہل خانہ اور ان کے بھائی ڈاکٹر محمد الغزالی سے تعزیت مسنونہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ڈاکٹر صاحب کے درجات بلند فرمائے۔ دین اسلام کے حوالے سے ان کی کوششوں کو شرف قبولیت بخشے۔ آمین
محمد عابد مسعود ڈوگر
(ماہنامہ نقیب ختم نبوت، ملتان)
ایک نابغہ روزگار کی یاد میں
پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان
مجھے یاد نہیں کہ محمود غازی کو میں نے پہلی بار کہاں دیکھا، کہاں سنا، لیکن اتنا یاد ہے کہ علوم الاسلامیہ کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے میں نے بر صغیر پاک وہھند کی جن علمی شخصیات کی تصنیفات و تالیفات سے سب سے زیادہ استفادہ کیا، ان میں محمود غازی صاحب کا اسم گرامی سر فہرست ہے۔ ان کے جاری کردہ سر چشمہ علم سے فیض یاب ہونے کی بنا پر میری شدید خواہش تھی کہ اپنے ان دیکھے روحانی استاد کی زیارت سے آنکھیں ٹھنڈی کرنے کا موقع جلد سے جلد حاصل کرلوں۔ آخر وہ دن آہی گیا۔ میں اس وقت شیخ زاید اسلامک سنٹر پشاور یونیورسٹی میں لیکچرر تھا اور میرے استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر سعید اللہ قاضی نے مجھے نصیحت کے طور پر فرمایا تھا کہ علما اور اسکالرز کے لیکچرز اور سیمینارز وغیرہ سے جب اور جہاں موقع ملے، خوب خوب استفادہ کیا کرو کہ سیمینارز کے محاضرات میں علما و فضلا کئی کتب کا نچوڑ بہت مختصر وقت میں پیش کرتے ہیں۔ اس جذبے اور تڑپ کو دل میں سمائے ہوئے میری کوشش ہوتی تھی کہ پشاور شہر میں کہیں بھی کسی عالم فاضل شخصیت کا ورود سعید ہو تو میں پہنچ جاؤں۔
ایک دن میرے ایک عزیز دوست نے مجھے وہ خوشخبری سنائی جس کے لیے میں ایک مدت سے انتظار میں تھا۔ محمود غازی کو جامعہ پشاور کی تنظیم اساتذہ کے منتظمین نے لیکچر کے لیے مدعو کیا تھا۔ میں مقررہ جگہ پر پہلی فرصت میں پہنچ کر یہ سوچتا رہا کہ وفور شوق ملاقات کا تقاضا ہے کہ محمود غازی کی آمد پر میرا دل زور سے دھڑکے اور وہی ہوا۔ جونہی اسٹیج سیکرٹری نے اعلان کیا کہ ہمارے مہمان گرامی پہنچ چکے ہیں، میں نے ہال کے گیٹ کی طرف نگاہ اٹھائی۔ میانے قدو قامت کی ایک شخصیت سفید اجلے کپڑوں اور سیا ہ شیروانی میں ملبوس سر پر ملائی (ملائشیا) طرز کی سیاہ ٹوپی پہنے تین چار پروفیسروں کے جھرمٹ میں ہال میں داخل ہو رہی تھی۔ غازی صاحب جب اسٹیج پر تشریف فرما ہوئے تو بلا مبالغہ میں کافی دیر تک آپ کے سراپے کا جائزہ لے لے کر آپ کی پڑھی ہوئی تحریروں میں آپ کو دیکھتا، تولتا اور جانچتا رہا۔ میں یہاں اس بات کا بھی ذکر کرتا چلوں کہ عام طور پر یہ کہاجاتا ہے کہ جن کی تحریروں سے کوئی متاثر ہوجائے، ان سے ملاقات کی کوشش نہ کی جائے تو بہتر ہوتا ہے۔ یہ خوف دل میں رکھتے ہوئے لیکچر کے بعد غازی صاحب سے مصافحہ کے لیے احباب آگے بڑھے تو میری باری بھی آگئی۔ میں نے معانقہ کے لیے ہاتھ پھیلائے تو آپ نے اسی گرم جوشی کے ساتھ بزرگانہ شفقت فرمائی۔اس واقعہ کو کئی عشرے گزر چکے ہیں، لیکن جب بھی ان کی یادیں میرے قلب وذہن کا احاطہ کرتی ہیں تو آپ کا وہی اجلا سراپا میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور لاشعور سے ایک آواز سی اٹھتی محسوس ہوتی ہے کہ ’’رفتید ولے نہ از دل ما‘‘۔
فیض کے اس آفاقی شعر کا پہلا مصرعہ : ’’اے ہم نفسانِ محفل ما‘‘ اس لیے نہ لکھ سکا کہ ہم اتنے خوش قسمت کہاں ٹھہرے کہ محمود غازی کی محفل کے ہم نفس ہونے کا دعویٰ کریں۔ بہرحال اس پہلی ملاقات کے بعد محمود غازی صاحب جب بھی پشاور آتے، ملاقات کی سعادت حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتا، لیکن چونکہ آپ ایک مصروف ترین عالمی علمی شخصیت تھے، لہٰذا ملاقات عموماً برسوں بعد ہوتی۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ کم ملاقاتوں کے باوجود ان کے ذہن کی لوح پر ایک کونے میں مجھ جیسے غریب العلم کا نام بھی کندہ ہو گیا تھا اور یہ یقیناًان کی عظمت تھی۔
میں عمداَ محمود غازی کے علمی کارناموں کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، اس لیے کہ مجھے معلوم ہے کہ پاکستان بھر کی علمی شخصیات نے اس کام کو بطریقہ احسن پایہ تکمیل تک پہنچایا ہوگا، لیکن اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ آپ نے اپنی حیات مستعار و مختصر میں کچھ کام ایسے انداز میں کیے کہ شاید ہی کوئی دوسرا آپ کے بعد کر سکے۔ عالم اسلام میں ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے بعد اپنے لیکچرز وخطبات کے ذریعے جس شخصیت نے عالم اسلام کے طالبان علم کو اپنی طرف کھینچا، وہ محمود غازی ہی تھے۔ آپ نے ’’محاضرات‘‘ کے نام سے سیرت، معاشیات، فقہ اور حدیث پر جو علمی ذخیرہ امت مسلمہ کے لیے چھوڑا ہے، وہ یقیناًخیر کثیر اور آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ آپ کا دوسرا کارنامہ یہ کہ آپ صدر پرویز مشرف جیسی Persona non grata کی کابینہ کے ان ایام میں حصہ بنے جب یہ کام ’’آبیل مجھے مار‘‘ کے مصداق تھا۔ سنجیدہ علمی حلقوں میں آپ کے اس فیصلے پر تنقید بھی ہوئی اور اسے حب جا ہ و اقتدار سے بھی تعبیر کیا گیا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پرویز مشرف کے دور میں عالمی طاقتوں کی طرف سے جتنا دباؤ منبر و محراب اور مدارس و اسلامی شعائر پر تھا، اس کا حکمت کے ساتھ مقابلہ کرنے، تدبیر و تدبر کے ساتھ اسے ناکام کرنے اور مدارس کی حفاظت کے لیے محمود غازی نے جو کردار ادا کیا، اس کا اندازہ مستقبل کا غیر جانب دار مورخ صحیح طور پر کر سکے گا۔ اس کا ثبو ت یہ بھی ہے کہ جونہی وہ سخت مرحلہ گزر گیا، آپ نے خود ہی استعفا پیش کر دیا۔ پاکستان کے بعض جید علماء کو اس کا احساس بھی تھا اور اندازہ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب غازی صاحب نے وزارت سے استعفا دیا تو محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب نے آپ کو اپنے مشن کی بخوبی تکمیل پر مبارک باد پیش کی جس کے جواب میں محمود غازی نے فرمایا کہ لوگ تو مجھ پر تنقید کررہے ہیں اور آپ مبارک باد دے رہے ہیں۔ مولانا صاحب نے فرمایا، جو آپ کے مشن سے واقف ہیں، وہی مبارک باد دے سکتے ہیں۔
تیسر ا بڑا کام یہ کہ آپ کا دل امت کی معاشی زبوں حالی پر تڑپتا تھا۔ آپ نے امت مسلمہ کو بالعموم اور مملکت خداداد کو بالخصوص سودی معیشت سے نجات دلانے کے لیے محاضرات معیشت پیش کرنے کے علاوہ اسلامی بینکاری کے فروغ سے متعلق اہم کردار ادا کیا۔ آپ نے جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں اس کے لیے قانون سازی سے لے کر عملی نفاذ تک دن رات محنت کی، لیکن اس کے باوجود جب ۱۹۸۵ء کے الیکشن کے بعد اس اہم کام کی طرف دین دار طبقے نے بھی توجہ نہیں کی تو محمود غازی صاحب اس کا ذکر ادب کا دامن ہاتھ میں تھامے، لیکن بہت ترش روئی کے ساتھ اور تیکھے انداز میں کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر جناب صبغت اللہ صاحب کے دستخط سے ۱۰ جون ۱۹۸۴ء کو ایک سر کیولر جاری ہوا جس کے مطابق یکم جولائی ۱۹۸۴ء سے تمام بینک اپنے کاروبار کو اسلامی بینکنگ میں تبدیل کرنا شروع کردیں گے اور یکم جولائی ۱۹۸۵ء سے مکمل طور پر اسلامی بینکاری شروع ہو جائے گی۔ پھر کسی کو غیر اسلامی بینکاری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ لیکن اس نئے نظام پر مکمل عمل درآمد کا آغاز ہونے سے پہلے مارچ ۱۹۸۵ء میں انتخابات ہوگئے اور جمہوریت کی نیلم پری آگئی اور لوگ اس سے بغل گیر ہو گئے۔ ہمارے علماء کرام اور اسلامی اور دینی جماعتوں کے ارکان بھی جمہوریت کی اس نیلم پری کے استقبال میں مگن ہوگئے۔ سب اہل دین، اہل جبہ و دستار اور احیاے اسلام کے علم بردار بھی، تجدید کے علم بردار بھی سب اس اصلی کام کو بھول گئے اور جمہوریت کے احیا میں تن من دھن سے مصروف ہوگئے۔ غالب نے کہا ہے نا آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے ۔ جب میں اس داستان کو بیان کرتاہوں تو میرے دل میں بھی درد سوا ہوجاتا ہے، اس لیے میری زبان میں تھوڑی سی تلخی آجاتی ہے۔‘‘
عالم اسلام کے امیر ممالک کی دولت کے انبار کو نالیوں میں بہتے اور امریکی تجوریوں میں منتقل ہوتے دیکھ کر اور اوپر سے ۱۹۸۲ء میں بنائے جانے والے ایک امریکی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے جس کے مطابق اگر کسی غیر ملکی کی امریکی بینکوں میں دس ملین ڈالر سے زیادہ رقم جمع ہو تو وہ اس سے سال میں دو فیصد سے زیادہ نہیں نکال سکتا، غازی صاحب پر کیا گزرتی ہے۔ ذرا ملاحظہ کیجیے:
’’اس امریکی قانون کو پڑھ کر مجھے فوراً ایک دھچکا سا لگا کہ یہ تو میرے مسلمان بھائیوں کی دولت کھا جانے کا اور لوٹنے کا ایک ذریعہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے مجھے بڑا صدمہ ہوا۔ میں نے اس قانون کا متن بہت تگ و دو کر کے حاصل کیا۔ اس کا عربی ترجمہ کیا، ایک مذکرہ تیار کیا اور ایک یادداشت اس موضوع پر لکھی۔ اس میں ان حضرات سے گزارش کی (ان حضرات سے جن کے ملکوں کی دولت وہاں جمع ہے) کہ آپ کی جتنی بھی دولت اس وقت وہاں جمع ہے، اس سے دو فیصد سے زیادہ تو آپ کبھی بھی نکال نہیں سکتے۔ اگر نکالیں گے تو آپ کی ساری دولت قانون کے مطابق منجمد ہوکر ضائع ہو جائے گی۔ کم از کم آپ اتنا تو کرسکتے ہیں کہ آئندہ آپ اپنی دولت وہاں جمع نہ کروائیں اور جو جمع ہے، اس کو کم از کم ڈیڑھ پونے دو فیصد سالانہ کے حساب سے نکالتے رہیں۔ اس طرح ساٹھ پینسٹھ سال کے عرصے میں امید ہے کہ آپ اپنی دولت واپس لے سکیں گے۔ یہ سب کچھ میں نے بڑی محنت سے لکھا۔ اس زمانے میں نہ کمپیوٹر ہوتے تھے، نہ فوٹو سٹیٹ مشینیں آسانی سے دستیاب ہوتی تھیں۔ بہت بھاگ دوڑ کرکے، بڑی محنت سے اس یاد داشت کو بہت خوبصور ت ٹائپ کرایا اور پھر سات آٹھ ملکوں کے سفارت خانوں کو ان کے ذریعے وہاں کے حکمرانوں کو بھیجا، لیکن کسی ایک نے بھی جواب نہ دیا۔ کہیں سے یہ رسید بھی نہیں آئی کہ تمھارا خط مل گیا ہے۔ کسی کے سیکرٹری یا چپڑاسی کی طرف سے بھی یہ اشارہ تک نہیں ملا کہ آپ کا خط مل گیا ہے، شکریہ! ‘‘
اس مثال سے آپ اندازہ لگائیے کہ ہمارے بھائیوں کی کتنی دولت وہاں جمع ہے اور مغربی بینکوں کا نظام کیسے چل رہا ہے اور اس بارے میں ان ممالک کے حکمرانوں کے سوچنے کا انداز کیا ہے اور امت مسلمہ کے مستقبل سے ان کی کس قدر ذہنی و فکری وابستگی ہے۔ میرے ساتھ ان کی آخری ملاقات پشار کے موضع حسن گڑھی میں ان کے ایک قریبی رشتہ دار کے جنازے پر ہوئی۔ ظہر کے نماز میں مجھے ان کے ساتھ قیام و قعدے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس ملاقات میں میرے ساتھ سال ڈیڑھ سے کیے ہوئے وعدے کی تجدید بھی ہوئی۔ میری شدید خواہش تھی کہ شیخ زاید اسلامک سنٹر پشاور یونیورسٹی کے آڈیٹورم میں ’’جہاد و دہشت گردی میں فرق عصر حاضر کے تناظر میں‘‘ کے عنوان پر آپ سے ’’خطبات خیبر‘‘ دلوا کر امت کی راہنمائی کا وسیلہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خطبات الہ باد، خطبات مدراس اور خطبات بہاول پور کی فہرست میں شامل ہوا جائے۔ یہ اہم کام مارچ ۲۰۱۱ء میں شروع ہونا تھا، لیکن اللہ کو منظور نہ تھا۔ اب یہ استدعامولانا زاہد الراشدی صاحب سے کرچکا ہوں۔ اللہ کرے کہ جلد پایہ تکمیل کو پہنچے۔ آخری بات یہ کہ عقیدۂ ختم نبوت کے سلسلے میں آپ کی مساعی اہل علم سے پوشیدہ نہیں۔ آپ کے اس اہم ترین کام کے آثار جنوبی افریقہ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ آپ کی مغفرت کے لیے قبول فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
برتر از اندیشہ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی