دسمبر ۲۰۱۱ء

آزادانہ بحث و مباحثہ اور ’الشریعہ‘ کی پالیسیمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دنیائے اسلام پر استشرقی اثرات ۔ ایک جائزہ (۱)ڈاکٹر محمد شہباز منج 
’’حیات سدید‘‘ کے ناسدید پہلو (۲)چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ 
شاتم رسول کی توبہ کا شرعی حکمامام تقی الدین السبکی الشافعیؒ 
شاتم رسول کی توبہ ۔ سعودیہ کے سابق مفتی اعظم الشیخ عبد العزیز بن بازؒ کا فتویٰادارہ 
مشہورات کو مسلمات بنانے سے اجتناب کی ضرورتمولانا محمد عبد اللہ شارق 
کیا معاصر جہاد ’منہاج دین‘ کے خلاف ہے؟محمد زاہد صدیق مغل 
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعوائے نبوت اور مولانا وحید الدین خان کا تجاہل عارفانہمولانا مفتی محمد سعید خان 
مکاتیبادارہ 
فالج کا ایک نایاب نسخہحکیم محمد عمران مغل 

آزادانہ بحث و مباحثہ اور ’الشریعہ‘ کی پالیسی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب ہمارے قابل احترام دوست ہیں، تعلیمی نظام کی اصلاح کے لیے ایک عرصے سے سرگرم عمل ہیں، ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کی تشکیل میں ان کا اہم کردار ہے اور دینی حمیت کو بیدار رکھنے کے لیے مسلسل تگ ودو کرتے رہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے موقر جریدہ ’’البرہان‘‘ کا اکتوبر ۲۰۱۱ء کا شمارہ جناب جاوید احمد غامدی کے افکار وخیالات پر نقد وجرح کے لیے مخصوص کیا ہے اور اس ضمن میں راقم الحروف، ماہنامہ ’الشریعہ‘ اور عزیزم عمار خان ناصر سلمہ پر بھی کرم فرمائی کی ہے جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں۔
ڈاکٹر صاحب محترم کے دینی معاملات میں عزم وجذبہ کا میں پہلے سے ہی معترف ہوں، مگر اب ان کی ایک اور صلاحیت سے آگاہی حاصل کر کے بہرحال مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ وہ ایک اچھے ’’مناظر‘‘ بھی ہیں اور مناظرانہ داؤ پیچ استعمال کرنے پر خوب قدرت رکھتے ہیں۔ انھیں شکوہ ہے کہ:
  • ’الشریعہ‘ غامدی صاحب کے افکار کی اشاعت کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
  • ’الشریعہ‘ کی آزادانہ مکالمہ اور بحث ومباحثہ کی پالیسی ان کے خیال میں ضرورت سے زیادہ ’آزادانہ‘ ہے۔
  • جاوید احمد غامدی صاحب کے بارے میں راقم الحروف کا موقف واضح نہیں ہے۔
  • میرا بیٹا اور ’الشریعہ‘ کا مدیر حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ جاوید غامدی صاحب کے افکار کا مبلغ ہے اور اس کے باوجود میں نے اسے ’الشریعہ‘ کے مدیر کے طور پر برقرار رکھا ہوا ہے۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب موصوف کے ان شکووں کا تھوڑا سا جائزہ لے لیا جائے کہ شکوہ کرنا ان کا حق ہے اور اس پر اپنی پوزیشن کی وضاحت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ’الشریعہ‘ جناب جاوید احمد غامدی کے افکار کی اشاعت کے لیے استعمال ہو رہا ہے تو یہ بات خلاف واقعہ ہے، اس لیے کہ ’الشریعہ‘ کی فائل گواہ ہے کہ اس میں غامدی صاحب کے افکار پر تنقید کے حوالے سے بھی بیسیوں مضامین شائع ہوئے ہیں جن میں سے کم وبیش ایک درجن مضامین خود میرے ہیں جن میں غامدی صاحب کے افکار کو موضوع بحث بنایا گیا ہے اور ان پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ قارئین گزشتہ چند سالوں کی فائل پر ایک نظر ڈال کر خود دیکھ سکتے ہیں کہ غامدی صاحب کے افکار کے حوالے سے ’الشریعہ‘ میں بحث ومباحثہ کا آغاز بنیادی طور پر ان کے افکار پر تنقیدی مضامین سے ہوا ہے جبکہ غامدی صاحب کے حلقہ فکر کی طرف سے موصول ہونے والے مضامین محض جوابی طو رپر ’الشریعہ‘ کی اس پالیسی کے تحت شائع کیے گئے ہیں کہ مباحثہ کے دونوں فریقوں کو اپنا موقف اور استدلال واضح کرنے کا حق حاصل ہے اور قارئین تک دونوں اطراف کا نقطہ نظر براہ راست پہنچنا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی موقف کے وزنی یا کمزور ہونے کا فیصلہ خود کر سکیں۔
ڈاکٹر صاحب محترم کو ’الشریعہ‘ میں آزادانہ مباحثہ کی پالیسی پر شکوہ ہے اور وہ اسے آزادی کے مغربی فکر کے مترادف قرار دے رہے ہیں، حالانکہ ’الشریعہ‘ کی پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے ’البرہان‘ کے اسی شمارے میں وہ خود راقم الحروف کی یہ گزارش نقل کر چکے ہیں کہ:
’’راقم الحروف کے نزدیک اسلامی قوانین واحکام کی تعبیر وتشریح کے لیے صحیح، قابل عمل اور متوازن راستہ یہ ہے کہ امت مسلمہ کے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی مسلمات کے دائرہ کی، بہرحال پابندی کی جائے۔‘‘
’’مجھے ان نوجوان اہل علم سے ہمدردی ہے، میں ان کے دکھ اور مشکلات کو سمجھتا ہوں اور ان کی حوصلہ افزائی کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھتا ہوں، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ امت کے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی مسلمات کا دائرہ کراس نہ ہو، کیونکہ اس دائرے سے آگے بہرحال گمراہی کی سلطنت شروع ہو جاتی ہے۔‘‘
میں فی الواقع یہ بات نہیں سمجھ پایا کہ راقم الحروف کی یہ گزارش نقل کرنے کے بعد بھی اگر ڈاکٹر صاحب موصوف کو ’الشریعہ‘ کی آزادانہ مباحثہ کی پالیسی پر اعتراض ہے تو ان کے اس اعتراض اور اس تجمد کے درمیان کیا فرق باقی رہ جاتا ہے جس کا رونا خود ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں پورے خلوص کے ساتھ رویا ہے۔
محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کی ایک شکایت یہ ہے کہ جاوید احمد غامدی صاحب کے بارے میں راقم الحروف کا موقف پوری طرح واضح نہیں ہے، جبکہ میں اس پر خود ان سے اس شکوے کا حق رکھتا ہوں کہ انھوں نے یہ رائے غامدی صاحب کے بارے میں میرے مضامین پڑھے بغیر قائم کر لی ہے، حتیٰ کہ ’’جناب جاوید احمد غامدی کے حلقہ فکر کے ساتھ ایک علمی وفکری مکالمہ‘‘ کے عنوان سے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی طرف سے شائع ہونے والی کتاب میں انھیں صرف دو مختصر عبارتیں دکھائی دی ہیں جن کا انھوں نے اپنے مضامین میں حوالہ دیا ہے، مگر ان گیارہ مضامین کو دیکھنے کا انھیں موقع نہیں مل سکا جو ستر سے زائد صفحات پر مشتمل ہیں اور جن میں غامدی صاحب کے افکار وخیالات پر علمی نقد کیا گیا ہے، جبکہ ان کے بارے میں محترم نعیم صدیقی صاحب مرحوم کا تبصرہ بھی ان کے مکتوب گرامی کی صورت میں اسی کتاب میں موجود ہے جس میں انھوں نے فرمایا ہے کہ:
’’میں نے آپ کی جرات مندی کو سراہا کہ اکیلے میدان میں اترے اور دوسری طرف سے تین چار نوجوانوں کا جتھا آپ کے پیچھے لگ گیا، مگر کہیں خم آپ نے بھی نہیں کھایا۔ بے اختیار میرا جی چاہا کہ میں آپ کی مدد کو نکلوں، مگر کم علم الگ، میری صحت کی کشتی گرداب میں ہے۔‘‘
ڈاکٹر محمد امین صاحب میرے قابل صد احترام بھائی، دوست اور دینی معاملات میں رفیق کار ہیں۔ مجھے ان سے اس یک طرفہ طرز عمل کی ہرگز توقع نہیں تھی، اس لیے میں اس حوالے سے مزید کچھ عرض کرنے سے پہلے انھیں مشورہ دوں گاکہ وہ ’الشریعہ‘ میں غامدی صاحب کے حوالے سے شائع ہونے والے میرے مضامین کا، جو ’’ایک علمی وفکری مکالمہ‘‘ میں موجود ہیں، ایک بار پورا مطالعہ کر لیں۔ اس کے بعد غامدی صاحب کے بارے میں میرے موقف کی مزید وضاحت کا تقاضا کریں۔ البتہ اس کتاب پر اپنے ہی تحریر کردہ پیش لفظ کا ایک اقتباس سردست نقل کر رہا ہوں:
’’غامدی صاحب نے جس انداز سے دین کی بنیادی اصطلاحات کی تشکیل نو کی ہے اور اصطلاحات کے الفاظ کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے مفہوم ومصداق کے حوالے سے جو نیا تانا بانا بنا ہے، وہ اجتہاد اور تجدید کے قدیمی اور روایتی مفہوم کے بجائے تشکیل نو (Reconstruction) کے دائرے میں آتا ہے۔ ہمارا ان سے اصولی اختلاف یہی ہے اور ہم پورے شرح صدر اور دیانت داری کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ جہاں بھی دین کے پورے ڈھانچے کی تشکیل نو کی بات ہوگی، دین کی بنیادی اصطلاحات کو نئے معانی دے کر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور امت کے چودہ سو سالہ علمی ماضی کے خلاف بے اعتمادی کی فضا پیدا کر کے نئی نسل کو اس سے کاٹنے کی سوچ کارفرما ہوگی، وہاں ایسی کوششوں کا عملی نتیجہ گمراہی کا ماحول پیدا کرنے کے سوا کچھ برآمد نہیں ہوگا۔‘‘ (ایک علمی وفکری مکالمہ، ص ۸)
اس وضاحت کے بعد ڈاکٹر صاحب موصوف کو مزید کسی وضاحت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کی نشان دہی فرمائیں، اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔ ہاں، اپنی چند ’’کمزوریوں‘‘ کا اس موقع پر ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس کا لحاظ ضرور رکھا جانا چاہیے۔
ایک یہ کہ ’’لٹھ مار تنقید‘‘ کا نہ میرے اندر سلیقہ موجود ہے اور نہ ہی اس کا عادی ہوں۔ کوئی دوست طبع آزمائی کریں تو برداشت کسی نہ کسی طرح کر لیتا ہوں، مگر خود ایسا کرنے کا سرے سے مجھ میں حوصلہ ہی نہیں ہے۔ سادہ لہجے میں اور حتی الوسع طالب علمانہ انداز میں رائے سے اختلاف کرتا ہوں اور ہر ممکن کوشش کرتا ہوں کہ بات علمی دائرے سے باہر نہ نکلنے پائے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ سے میں نے اسی ذوق کی تربیت پائی ہے۔
دوسری کمزوری جس کا اعتراف کرنے میں مجھے کوئی باک نہیں، مجھ میں یہ ہے کہ میرے پاس کوئی ایسا تھرمامیٹر موجود نہیں ہے جس کے ذریعے سے لوگوں کی نیتوں اور دلوں کا حال جان سکوں۔ ظاہر کا مکلف ہوں اور اسی دائرے میں رہنے کی کوشش کرتا ہوں، البتہ کسی صاحب کی رائے اور موقف کے ممکنہ نتائج وثمرات کے حوالے سے بات ضرور کر لیتا ہوں، جیسا کہ میں نے غامدی صاحب کے بارے میں بھی سطور بالا میں عرض کیا ہے، مگر نیت اور دل تک مجھے رسائی حاصل نہیں ہے کہ کسی کو حتمی لہجے میں کسی کا ایجنٹ قرار دے سکوں۔
چند سال پہلے اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک سیمینار میں ملک کے ایک بڑے دانش ور نے چند معاشی مسائل کے بارے میں ایک صاحب علم کے موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے سرمایہ داروں کے کہنے پر یہ موقف اختیار کیا ہے۔ میں نے اسی اسٹیج پر اس بات سے کھلے بندوں اختلاف کیا تھا اور یہ عرض کیا تھا کہ یہ بارے ہمارے کلچرل مزاج اور نفسیات کا حصہ بن چکی ہے کہ ہم جس سے اختلاف کرتے ہیں، اسے کسی نہ کسی کا ایجنٹ قرار دیے بغیر ہماری نفسیات کی تسکین نہیں ہوتی۔ میں نے وہاں یہ بھی عرض کیا تھا کہ اجتماعی معاملات میں جو بھی موقف اختیار کیا جائے گا، وہ معروضی حالات میں کسی نہ کسی کو ضرور فائدہ دے گا، اس لیے یہ کہنا کہ وہ موقف کسی فریق سے پیسے کھا کر اپنایا گیا ہے، یک طرفہ نہیں رہے گا، دوسری طرف کے بارے میں بھی آسانی کے ساتھ یہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ جناب جاوید احمد غامدی اور ان کی قسم کے دیگر اصحاب دانش پر نقد وتبصرہ کے حوالے سے خود ڈاکٹر محمد امین صاحب کا ایک ارشاد بھی یہاں نقل کرنا مناسب دکھائی دیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے ’البرہان‘ کے زیر نظر شمارہ کے ص ۵۸ پر فرمایا ہے کہ:
’’علماء کرام یہ بھی غور نہیں فرماتے ہیں کہ آج مغربی تہذیب اگر فاتح، غالب اور قوی ہے تو اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ مضبوط علمی وفکری بنیادوں پر کھڑی ہے، لہٰذا مسلم معاشرے کے لیے اس کا چیلنج حربی اور سیاسی ہی نہیں، علمی اور فکری بھی ہے، لیکن معاف کیجیے گا! علماء کرام اس کا جواب کیا دیں گے، وہ تو اسے سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ انھیں تو ’’مقاصد الفلاسفہ‘‘ کا ادراک نہیں، ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ کا ادراک وہ کیسے کریں گے؟ محض یہ کہہ دینا کہ ہمارا موقف مبنی برحق ہے اور ان کا موقف غلط ہے، کافی نہیں جب تک ہم مروجہ علمی اسالیب میں اپنے موقف کا صحیح ہونا اور ان کے موقف کا خام، ناقص اور غلط ہونا دلائل کے ساتھ ثابت نہیں کر دیتے۔ اس کے مقابلہ میں جاوید غامدی صاحب اور ان کے ..... تلامذہ ذہین اور محنتی ہیں، وسیع المطالعہ ہیں، جدید تعلیم یافتہ ہیں، مغربی نفسیات کو سمجھتے ہیں، بات متانت، شائستگی اور دلیل کے ساتھ کرتے ہیں اور موثر انداز میں کرتے ہیں، لوگوں کے سوالوں کے جواب صحیح فریکونسی میں دیتے ہیں تو لوگ ان کی بات کیوں نہ سنیں اور ان سے متاثر کیوں نہ ہوں؟
علماء کرام غور فرمائیں کہ دینی مدارس، مساجد کے ائمہ وخطبا، ان کی دعوتی تنظیموں (تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی وغیرہ) اور اصلاحی اداروں (صوفیاء اور ان کی خانقاہوں) کو کیا مغربی فکر وتہذیب اور مسلم معاشرے میں اس کے تعامل واثرات سے پیدا ہونے والے مسائل اور چیلنجز کا ادراک ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ مغرب کے پیدا کردہ علوم اور فکر نے مسلم معاشرے کے لوگوں کا، جنھوں نے مغربی فکر پر مبنی تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی ہے، ایک خاص ذہن (mindset) بنایا ہے جس سے ہماری روایتی فکر نہ آگاہ ہے اور نہ اس سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس چیز نے ایک خلا پیدا کر دیا ہے۔ جاوید غامدی صاحب اور ان کے رفقاء کار اس خلا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اسے پر کر رہے ہیں، لہٰذا غامدی صاحب پر کفر اور گمراہی کے فتوے لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، جب تک علماء کرام اس تجمد کے ماحول اور اپنی فرقہ واریت سے باہر نہیں نکلیں گے اور اپنے آپ کو عصر حاضر کے علمی وفکری چیلنج کا جواب دینے کا اہل نہیں بنائیں گے۔‘‘
ہم ڈاکٹر صاحب محترم کے انتہائی شکر گزار ہیں کہ انھوں نے ہمارا موقف اور ’الشریعہ‘ کا مقدمہ ہم سے کہیں زیادہ اچھے انداز میں اپنے مذکورہ ارشاد میں سمو دیا ہے۔ ہم شاید اتنے اچھے پیرایے میں اسے پیش نہ کر سکتے۔
عزیزم عمار خان ناصر سلمہ کے بارے میں بھی ڈاکٹر صاحب موصوف نے تند وتیز شکوہ کیا ہے، مگر مجھے اس سے کلی اتفاق نہیں ہے، اس لیے کہ وہ میرے ہاتھوں میں پلا بڑھا ہے، اسے میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ وہ اپنے دادا محترم شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کا شاگرد ہے، اس نے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں درس نظامی کی تعلیم کی تکمیل کی ہے اور دورۂ حدیث کیا ہے۔ اس کے بعد موقوف علیہ تک درس نظامی کی کتابیں دس گیارہ سال تک مسلسل پڑھائی ہیں۔ تدریسی اور کتابی ذوق رکھتا ہے اور اس کے سوا اس کا کوئی اور شغل نہیں ہے۔ غامدی صاحب سے اس کا تلمذ کا تعلق ہے اور ان کے بعض افکار سے وہ متاثر ہے، جبکہ کچھ عرصہ تک ان کے ادارے کے ساتھ بھی اس کا جزوی تعلق رہا ہے۔ اس کے بعض خیالات اور مضامین سے خود میں نے بھی اختلاف کیا ہے اور ’الشریعہ‘ کے صفحات پر کیا ہے جو ریکارڈ پر موجود ہے، لیکن کسی صاحب فکر کے بعض نتائج فکر سے ہم آہنگ ہونا اور بات ہے اور اس کی مکمل فکر کا مبلغ ہونا اور بات ہے۔ اس فرق کو اگر ڈاکٹر امین صاحب بھی نہیں سمجھ سکیں گے تو اور کون سمجھے گا؟ 
پھر بعض باتیں خواہ مخواہ ’’غامدیت‘‘ کے طعنے کی آڑ میں عمار خان کے کھاتے میں ڈالی جا رہی ہیں۔ مثلاً مسلمان شاتم رسول کے لیے توبہ کی گنجائش کے بارے میں احناف متقدمین کے موقف کی بات صرف عمار خان نے نہیں لکھی، بلکہ علامہ شامیؒ کا موقف بھی یہی ہے اور دور حاضر کے مفتیان کرام میں سے الشیخ عبد العزیز بن بازؒ اور ہمارے ہاں مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی، مولانا مفتی عبد الواحد اور مولانا مفتی محمد زاہد نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے اور خود میرا طالب علمانہ موقف بھی یہی ہے، حتیٰ کہ ممتاز اہل حدیث عالم دین مولانا حافظ صلاح الدین یوسف نے بھی یہی لکھا ہے اور یہ سب کچھ ’الشریعہ‘ میں تفصیل کے ساتھ شائع ہو چکا ہے۔ اب صرف اس وجہ سے کہ اس موقف کا حوالہ غامدی صاحب نے بھی دیا ہے، کھینچ تان کر اسے ’’غامدیت‘‘ قرار دینا او رپھر طعن وتشنیع کی توپوں کے دہانے کھول دینا نہ صرف یہ کہ علمی دیانت کے منافی ہے بلکہ ائمہ احناف کے علمی موقف کی اہانت واستخفاف بھی ہے جس سے ڈاکٹر امین صاحب جیسے صاحب دانش کو بہرحال گریز کرنا چاہیے تھا۔
اس موقع پر ان امور ومسائل پر بحث ومباحثہ کا مثبت ماحول پیدا کرنے اور علم وتحقیق سے دلچسپی رکھنے والے اہل علم کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے میں اپنا اصولی موقف ایک بار پھر دہرانا چاہتا ہوں جس کا اظہار ایک سے زیادہ مواقع پر کر چکا ہوں اور ابھی ماہ اکتوبر ۲۰۱۱ء کے ’الشریعہ‘ میں ایک تفصیلی سوال نامہ کے جواب میں بھی وہ درج ذیل الفاظ میں موجود ہے:
’’آج کے حالات میں آزادانہ بحث و مباحثہ کے بغیر کسی بھی مسئلے میں منطقی نتیجے تک پہنچنا ممکن نہیں ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ اور تعلیمی مراکز نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مختلف اطراف سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی جو مہم شروع کر رکھی ہے، اس کے اثرات سے نئی نسل کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمارا روایتی اسلوب کافی نہیں ہے۔ ماضی نے اپنا علمی خزانہ کتابوں اور سی ڈیز کی شکل میں اگل دیا ہے اور آج کوئی بھی ذی استعداد اور با صلاحیت نوجوان اپنے چودہ سو سالہ علمی ماضی کے کسی بھی حصہ کے بارے میں معلومات حاصل کر نا چاہے یا کسی بھی طبقے کا موقف اور دلائل معلوم کرنا چاہے تو اسے اس کے بھرپور مواقع اور وسائل ہر وقت میسر ہیں۔ اس ماحول میں یہ کوشش کرنا کہ نوجوان اہل علم صرف ہمارے مہیا کردہ علم اور معلومات پر قناعت کریں اور علم اور معلومات کے دیگر ذرائع سے آنکھیں اور کان بند کر لیں ، نہ صرف یہ کہ ممکن نہیں بلکہ فطرت کے بھی منافی ہے۔ اس لیے آج کے دور میں ہماری ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے اور یہ بات ہمارے فرائض میں شامل ہو جاتی ہے کہ مطالعہ اور تحقیق کے اس سمندر سے نئی نسل کو روکنے کی بجائے خود بھی اس میں گھسیں اور ان متنوع اور مختلف الجہات ذرائع معلومات میں حق کی تلاش یا حق کے دائرے کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی راہ نمائی کریں۔ چنانچہ علم و فکر کی دنیا میں میرا ذوق روکنے یا باز رکھنے کا نہیں بلکہ سمجھانے اور صحیح نتیجے تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن مدد کرنے کا ہے۔ کسی دوست کو یہ طریقہ پسند ہو یا نہ ہو، لیکن میں اسی کو صحیح سمجھتا ہوں۔ اس کے لیے بحث و مباحثہ ضروری ہے، مسائل کا تجزیہ و تنقیح اور دلائل کی روشنی میں ان کا خالص علمی انداز میں تلاش کرنا ضروری ہے۔ ایک عرصہ تک میرا بھی یہ ذوق اور ذہن رہا ہے کہ تحقیق کا دائرہ صرف یہ ہوتا ہے کہ جو بات ہم اپنے ذہن میں پہلے سے طے کر چکے ہیں، اسے کسی نہ کسی طرح ثابت کر دیا جائے۔ مگر رفتہ رفتہ یہ بات ذہن میں راسخ ہوتی گئی کہ خود اپنی بات کو دلائل اور حقائق کے معیار پر پرکھنا بھی تحقیق کا اہم ہدف ہوتا ہے ۔ بہت سے مسائل میں اکابر اہل علم کا رجوع الی الحق بالخصوص حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی طرف سے اس کا باقاعدہ اہتمام میرے ذوق میں اس تبدیلی کا باعث بنا۔ ‘‘
باقی رہی بات ’الشریعہ‘ کی ادارت کی تو میں خود ڈاکٹر صاحب موصوف سے دریافت کرنا چاہوں گا کہ آزادانہ علمی مباحثہ کے لیے، جس کی اصولی طور پر ڈاکٹر صاحب بھی تائید فرما رہے ہیں، کسی ایسے شخص کی ادارت کی ضرورت ہے جو خود بھی علمی بحث ومباحثہ کا ذوق اور صلاحیت رکھتا ہو یا ڈاکٹر صاحب کے بقول کسی ’’تجمد کے خوگر‘‘ کو اس منصب پر بٹھا دیا جائے اور پھر ڈاکٹر صاحب محترم کو شکوہ کرنا پڑے کہ اسے تو ’’مقاصد الفلاسفہ‘‘ کا ادراک نہیں، وہ ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ کا ادراک کیسے کرے گا؟
گزشتہ دنوں ایک محترم دوست میرے پاس تشریف لائے اور بڑے خلوص کے ساتھ فرمایا کہ ’’آپ نے عمار خان کو آزاد چھوڑ رکھا ہے۔‘‘ میں نے ان کی اس ہمدردی اور خیر خواہی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھیں تسلی دی کہ ایسا نہیں ہے۔ میں نے اسے بالکل آزاد نہیں چھوڑ رکھا ہے، بلکہ جہاں ضرورت محسوس ہو، اسے سمجھاتا ہوں، اس کی راہ نمائی کرتا ہوں اور جو بات اس کی سمجھ میں آ جائے، وہ مانتا بھی ہے۔ اس کے مزاج میں تعنت اور ضد بالکل نہیں ہے، البتہ بات سمجھ کر مانتا ہے۔ بہت سے معاملات میں اس نے میرے سمجھانے پر رائے تبدیل کی ہے، اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ میں نے اسے بالکل آزاد چھوڑ رکھا ہے، البتہ میں نے اسے اس گھنے جنگل میں تنہا اور بے سہارا بھی نہیں چھوڑ رکھا کہ جس کا جی چاہے، اس پر غرانے کی مشق شروع کر دے۔ اتنی بات کا ہمارے دوست خیال رکھ سکیں تو ان کی نوازش ہوگی۔

دنیائے اسلام پر استشرقی اثرات ۔ ایک جائزہ (۱)

ڈاکٹر محمد شہباز منج

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مستشرقین نے بالعموم اسلام کا معروضی مطالعہ پیش نہیں کیا۔ وہ اپنے مخصوص مقاصد کے لیے اسلام کی غیر حقیقی اور مسخ شدہ تصویر پیش کرتے رہے ہیں۔ ان کی کوشش یہ رہی ہے کہ اسلام کو لوگوں کے سامنے اس انداز سے پیش کیا جائے کہ وہ ان کو کوئی غیر معمولی اور خاص وقعت کی چیز محسوس نہ ہو بلکہ اس کے برعکس انسانی ترقی و تمدن کی راہ میں مزاحم دکھائی دے۔ اس سلسلے میں وہ کئی جہتوں میں کام کرتے اور مختلف نتائج سامنے لاتے ہیں۔ عالم اسلام کے تناظر میں دیکھیں تو ان کی کوشش کا اہم مقصودمسلمانوں کو اپنے دین سے متعلق متشکک و مترددبنانا، اسلامی اقدار وتہذیب کو مغربی اقدار وتہذیب کے مقابلے میں کم تر ثابت کرنا اورانہیں یہ باور کرانا ہے کہ وہ مغربی تہذیب واقدارسے بیگانہ اور روایتی اسلام سے، جس میں دقیانوسیت اوربہت سے نقائص ہیں، چمٹے رہ کردنیا میں ترقی و عروج حاصل نہیں کر سکتے۔ اس مقالہ میں ہمارے پیش نگاہ مذکورہ مقصد کے حوالے سے مستشرقین کی کاوشوں اوران کے نتائج کا مطالعہ ہے۔

استشراقی مساعی کی نو عیتیں

موضوع زیر بحث کے حوالے سے مستشرقین کی کوششیں کئی نوعیت کی ہیں۔ کبھی وہ اسلام سے متعلق ایسا مواد فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اہل اسلام میں روایتی اسلامی عقائد وتصورات سے متعلق شکوک وشبہات اور بیزاری و نفرت پیدا کرے، کبھی وہ تجدد کی طرف بلاتے اور جدید تصورات ونظریات اپنانے کو مسلمانوں کی ترقی و کامیابی کاذریعہ قرار دیتے ہیں اورکبھی اسلامی تہذیب و تاریخ کی تحقیر کرتے ہیں۔ سطور ذیل میں مستشرقین کی ان مساعی کو قدرے تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے۔

اساسی اسلامی عقائد پر نقد

مستشرقین اسلام کے اساسی عقائدو تصورات کو جدید افکارو نظریات کے تناظر میں اس طرح سے ہدف تنقیدبناتے اور ایسے نتائج سامنے لاتے ہیں کہ سطحی دینی علم کے حامل مسلمان ان عقائد وتصورات سے متعلق طرح طرح کے شکوک و شبہات اور تحفظات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مثلاً وہ وحی پر کلام کرتے ہوئے کبھی اسے عقل و تجربے کے خلاف ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۱؂ کبھی اس کی محض اسی صورت کو قابل قبول گردانتے ہیں جس میں کوئی چیز عقل سے ماورا نہ ہو۔۲؂ کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کی تعبیر (نعوذ باللہ) مرگی کے دوروں سے کرتے ہیں۳؂ا ور کبھی اسے آپؐ کے زمانے کے حالات کے فطری ردعمل اورآپ کی داخلی کیفیت سے تعبیرکرتے ہوئے اس کے خارج سے نزول کی نفی کرتے ہیں۔۴؂ معجزات پر بحث کرتے ہوئے انہیں قدیم غیر متمدن قوموں کی جہالت ووہم پرستی اورلا علمی سے تعبیر کرتے،۵؂ انہیں خلاف قانون قدرت،۶؂ ناممکن الوقوع۷؂ اور سائنسی نقطہ نظر سے غلط بتاتے،۸؂ اور بائبل۹؂ اور قرآن ۱۰؂ میں معجزات کے مذکور ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ قرآن سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اسے حضورؐ کااپنا کلام کہتے،۱۱؂ قصص قرآنی کوبائبل کی روایات پر منحصر قرار دیتے،۱۲؂ قرآن کو حضورؐ کے الہامات کی حیثیت سے آپؐ کے ساتھیوں کے جمع کردہ ۱۳؂ نامکمل مواد۱۴؂ کا نام دیتے، ناسخ و منسوخ پر معترض ہوتے۱۵؂ اور اعجاز القرآن کا انکار کرتے ہیں۔۱۶؂
حدیث پر تنقید کرتے ہوئے ذخیرۂ احادیث کو جعلی وفرضی اورپیغمبر اسلام اور آپؐ کے عہد سے متعلق معلومات کا ناقابل اعتبار ماخذ قراردیتے ہیں۔۱۷؂ سیرت طیبہ پر لکھتے ہوئے حضورؐ کے اخلاق وکردارکو ہدف تنقید بناتے،۱۸؂ آپؐ کے پیغام کی بسرعت اشاعت اور آپؐ کی غیر معمولی کامیابیوں کو اللہ کی مدداورآپ کی حقانیت پر محمول کرنے کی بجائے وقت کا تقاضا اور حالات کی سازگاری کا نتیجہ قرار دیتے،۱۹؂ تعدد ازواج کے حوا لے سے آپؐ کی سیرتِ بے داغ پر دھبے ظاہر کرنے کی کوشش کرتے۲۰؂ اور آپ پر تشدد پسندی اوردین اسلام کو بزور شمشیر قائم کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔۲۱؂ معاد اور جنت ودوزخ سے متعلق اسلامی تصورات کو یہودیت و عیسائیت وغیرہ مذاہب سے اخذ کر کے، بے آب و گیاہ اور بنجر زمین کے باسی عربوں کومتاثر کرنے کی غرض سے مادی و حسی صورتوں میں پیش کیے گئے تصورات قرار دیتے ہیں۔۲۲؂ جہاد کو عربوں کے ہاں مروج ڈاکہ زنی کے عمل کا تبدیل شدہ نام۲۳؂ اور اسلام کی ترقی اور اشاعت کو تلوارپر منحصر بتاتے ہیں۔۲۴ ؂ اسلامی قانونِ تعدد ازواج کو اسلام کی اختراع کہتے۲۵؂ اور اس سے متعلق طرح طرح کی قیاس آرائیاں کرتے اور افسانے تراشتے ہیں۔۲۶؂ اسلامی قانون کوغیر عقلی،قدیم عربی روایات پر مبنی اور جادوئی وافسانوی قرار دیتے۲۷؂ اور اسلامی سزاؤں کو غیر ضروری طور پر سخت ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۲۸؂ کتب مقدسہ کے نظریہ تخلیق انسانی کو مسترد کرتے ہوئے انسانی ارتقا کا ایسا تصور پیش کرتے ہیں جس میں کسی خدائی منصوبے کو کوئی دخل حاصل نہیں۔۲۹؂

دعوتِ تجدد و اصلاحِ مذہب

مستشرقین اہل اسلام کو تجدد و مغربیت اور اصلاحِ مذہب کی دعوت دیتے اور انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی فلاح وترقی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ وہ جدیدمغربی تہذیب اپنائیں اور اپنے مذہب کو نئے حالات کے مطابق ڈھالیں۔ ان کے نزدیک مسلم معاشروں میں اٹھنے والی ایسی تحریکیں اور اشخاص حوصلہ افزائی اور تعریف و ستائش کے مستحق ہیں جو اسلام کو دور جدیدکے مطابق بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مذکورہ استشراقی کاوش کی وضاحت کے لیے چند مستشرقین کے خیالات ملاحظہ ہوں:
یہ ثابت کرنے کے لیے کہ نئے زمانے کا ساتھ دینے کے لیے اسلام کو اپنی روح میں تبدیلی پیدا کرنا لازم ہے، Kenneth Cragg لکھتا ہے:
"The modern mind is right in its instinctive awareness that Islam must either baptize change into its spirit or renounce its own relevance to life. Since it cannot do the later, it must somehow do the former."(30) 
Cragg محمد کامل حسین کواس بنا پرداد دیتا ہے کہ اس نے اس بات پر اصرار کیاکہ خود اسلام ہی سے اسلام کاغیر معتبر ہونا ثابت ہوتا ہے۔۳۱؂ وہ ایک اور مقام پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ مسلمان وقت کے مطابق اسلامی احکامات میں از خود تبدیلی کرتے رہے ہیں جس سے ایک طرف یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام کوئی مستقل دین نہیں تو دوسری طرف یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام کو ضرورت کے تحت تبدیل کیا جا سکتا ہے۔۳۲؂
فلپ کے ہٹی کے مطابق تعدد ازواج، چوری، جوا اور شراب وغیرہ سے متعلق اسلامی قوانین اور سزائیں جدید اسلامی سوسائٹی میں قابلِ عمل نہیں۔ یہی سبب ہے کہ آج مسلم معاشرے میں ان کو در خور اعتنا نہیں سمجھا جاتا۔وہ کہتا ہے:
"Modern Islamic society has practically outgrown the Koranic legislation."(33) 
کینٹ ویل اسمتھ مصطفی کمال کی اصلاحات کی تحسین کرتے ہوئے دوسرے مسلمانوں کوبھی ایسا ہی کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ترکوں نے بجا طور پر محسوس کیا کہ اسلام اپنے وقت پر پروگریسو تھا` مگر اب نہیں۔ اب اسلام اور کسی بھی دوسرے مذہب کو زندہ رہنے کے لیے جدید تعلیم یافتہ انسان کے لیے قابل فہم ہونا چاہیے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو نئے حالات کے مطابق ڈھالے۔ سمتھ کے نزدیک ایسی اصلاحات کا مطلب عیسائی بننا نہیں بلکہ ماڈرن بننا ہے۔۳۴؂ سمتھ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کا حل سیکولر ازم کو بتاتا ہے۔ وہ کانگرسی مسلمانوں کی تعریف کرتا اور تخلیق پاکستان کو ایک برائی بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پاکستان جتنا زیادہ ’اسلامی‘ ہوگا، ہندوستانی مسلمان اتنے ہی زیادہ غیر محفوظ ہوتے جائیں گے ۔۳۵؂ 
S.D.Goiteinکا کہناہے کہ قرآن جدید سوسائٹی کی ضرورت کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔وہ اسلام کو یہودیت سے مستعاربتاتا اور عربوں کو مقامی زبانیں اپنانے کا مشورہ دیتا ہے۔۳۶؂
یہودی مستشرق Nadve Safran اسلام کو ناقابل عمل اور غیر حقیقی قرار دیتا ہے ۔وہ رشید رضا کی خلافت سے متعلق کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے کہ رشید رضاکو مسلمانوں کے سابقہ تجربات سے کچھ سبق نہ مل سکا۔۳۷؂ وہ مصری قومیت پسند سید لطفی سے اظہار ہمدردی کرتاہے جو تجدد کا بہت بڑا نقیب اور اسلام کی بجائے فرعونیوں کی تقلید پر ابھارنے اورمصر میں نئے معتقدات اختیار کرنے اور پرانے اسلامی تصورات کو چھوڑنے کی ضرورت پر زور دینے والا تھا۔۳۸ ؂
الغرض مستشرقین سر توڑ کوشش کرتے ہیں کہ اہل اسلام کو اپنے مذہب کو گردشِ زمانہ کے مطابق بدلنے اورمغربی تہذیب اور افکار ونظریات اپنانے پر مائل کیا جائے۔ یہاں تک کہ بعض یونیورسٹیوں کے ذمہ باقاعدہ طور پر ایسے اسلامسٹ تیار کرنے کا کام لگایا گیا ہے جو اسلام سے متعلق جدید افکارکے حوالے سے سمجھوتے کی فضا پیدا کریں۔ ۳۹؂ 

اسلامی تاریخ و تہذیب کی تحقیر

مستشرقین اسلامی تاریخ و تہذیب سے متعلق متعصبانہ ۴۰؂ انداز نظر اختیار کرتے ہوئے ان کے بارے میں بدگمانیاں پیدا کرتے اور ان کی تحقیر کرتے ہیں۔وہ اسلامی تاریخی واقعات کی خلافِ حقیقت توجیہات پیش کر کے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام کا ظہور وفروغ عالمِ انسانیت اور بالخصوص عیسائیت کے لیے فالِ بد ثابت ہوا۔ اسلام شروع ہی سے یہودیوں اور عیسائیوں کا دشمن بن گیااور مسلمانوں نے ہمیشہ جارحیت کا ارتکاب کیا۔ مثلاً Thomas Wright ابرہہ کے حملے کے دو ماہ بعد حضور ؐ کی پیدائش کو عیسائیوں کے لیے بد ترین آفت قرار دیتے ہوئے آپؐ کو مسیحیوں کا سب سے بڑا دشمن گردانتا ہے۔۴۱؂ فلپ کے ہٹی الزام لگاتا ہے کہ حضورؐ نے موتہ کی جنگ شروع کر کے اسلام اور عیسائیت میں طویل جنگ کی بنیاد رکھی۔۴۲؂ اسلامی تہذیب کی قدرو منزلت کوگھٹانے اور اس کی تحقیر کرنے اور عرب مسلمانوں کے تمدنی محاسن کے استخفاف کی خاطر مستشرقین اپنے طلبہ کو تربیت دیتے ہیں کہ وہ تہذیبی و ثقافتی مظاہر کو عربی الاصل ثابت کرنے کی بجائے لا طینی الاصل ثابت کریں تا کہ علم و فکر کے رشتے اور عقیدت و محبت کے جذبات مسلمانوں سے کٹ کر قدیم لاطینی اور یونانی اقوام کے ساتھ منسلک ہو جائیں۔۴۳؂ وہ اسلامی تہذیب اپنانے والوں کو تو رجعت پسندی اور دقیانوسیت کے طعنے دیتے ہیں، لیکن اس کے بر عکس اسلامی تہذیب سے قدیم تر تہاذیب، جو زندگی کی صلاحیت اور ہرطرح کی افادیت سے محروم اور سینکڑوں ہزاروں برس سے ماضی کے ملبے تلے دبی ہیں، کے احیا کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کوقرآن اور اسلامی علمی ذخیرے سے لا تعلق بنانے کے لیے نئے زمانے کے تقاضوں کا واسطہ دے کر قرآنی عربی زبان اور عربی رسم الخط کی بجائے مقامی زبانوں اور لاطینی رسم الخط اپنانے پر مائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۴۴؂

عالم اسلام میں استشراقی اثر ونفوذ

مستشرقین کواپنی متذکرہ صدر مساعی سے جو مقاصد مطلوب تھے، ان میں وہ خاصی حد تک کامیاب رہے۔عالم اسلام میں اصلاح وترقی کے نام پرتجدد و مغربیت کے جتنے علمبردار پیدا ہوئے، ان کے افکار و نظریات پر استشراقی چھاپ واضح دکھائی دیتی ہے۔ مسلم دنیا میں اہل اقتدار اور طبقہ امرا کے علاوہ مسلم سکالرز اور دانشوروں کی بھی ایک بڑی تعداد مستشرقین سے متاثر ہے۔ سطور ذیل میں مذکورہ طبقوں میں استشراقی اثر ونفوذکا مطالعہ مختلف عنوانات کے تحت پیش کیا جاتا ہے۔

اہل اقتدار اور طبقۂ امرا

عالم اسلام میں جہاں تک اہل اقتدار اور طبقہ امرا کا تعلق ہے، یہ بالعموم مغرب کے زیر اثر ہے ۔یہ لوگ بقول مریم جمیلہ اکثر وبیشتر اس کوشش میں رہتے ہیں کہ اصلی اسلام کی بجائے مستشرقین اور عیسائی مشنریوں کا لندن اور امریکہ میں تیار کردہ اسلام کا ایک جدید، لبرل اور ترقی پسند ایڈیشن پیش کیا جائے۔۴۵؂ مسلم معاشروں میں مغربی طرز پر اصلاح و ترقی کے خواہاں زعما اور حکمرانوں نے اپنے معاشروں کو مغربی رنگ میں رنگنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے ۔ ترکی کے قوم پرست لیڈر ضیا گوک الپ پر مغربی اور ملحدانہ اثرات اتنے گہرے تھے کہ وہ کسی بھی قسم کی اچھائی اور برائی کی تمیز کے لیے یورپ کی مکمل نقل کا خواہاں تھا ۔ اس نے عالمگیراخوتِ اسلامی کے تصور کو مغربی تصورِ قومیت سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔وہ کہا کرتا تھا کہ ترکوں کو اپنی سر زمین کو ہر چیز پر مقدم رکھنا چاہیے ۔ ان کے لیے حب الوطنی سے بڑھ کر کوئی اخلاقیات نہیں۔ ۴۶؂ مصطفی کمال اتاترک ،جو عالمِ اسلام کے طبقہ امرا وزعما میں بالعموم ایک آئیڈیل باور کیا گیا ہے، ترکی میں تجدد ومغربیت کا سب سے بڑا نقیب تھا ۔ اس نے حصول اقتدار کے بعد اسلام کو ترکوں کی عملی زندگی سے بے دخل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ اس کے خیال میں ترکی کی ترقی اس وقت ممکن نہ تھی جب تک اسلام کے اثرو نفوذ کو بالکل ختم نہ کر دیا جاتا۔ اس کے خیالات میں اسلام سے متعلق نفرت وحقارت بہت نمایاں ہے۔ مثلاً وہ کہتا ہے:
''Islam- This theology of an immoral Arab is a dead thing. Possibly it might have been suitable to the tribes in the desert. It is no good for a modern, progressive state. God's revelation! There is no God! There are only the chains by which the priests and bad rulers bound the people down."(47) 
چنانچہ مصطفی کمال نے ترکی کو خدا کی بجائے مغربی تہذیب کی شکل میں ایک دیوتا عطا کیا۔ اس دیوتا کا وہ خود بھی وفادار حواری اور پر جوش پجاری تھا۔وہ مغربی تہذیب کو ملک کے چپے چپے میں رائج دیکھنے کا تمنائی تھا۔اس تہذیب کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آنکھوں چمک اور اس کے چہرے کی طمانیت دیدنی ہوتی۔۴۸؂ وہ کہا کرتا کہ عالم اسلام کی کم نصیبی اور پس ماندگی کی اصل وجہ خود کو نئی، روشن اور بلند پایہ مغربی تہذیب میں فٹ نہ کر سکنا ہے۔ ہم جو اپنے آپ کو بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں تو اسی باعث کہ اب ہماری ذہنیت بدل رہی ہے۔۴۹؂ لہٰذا اس نے ترکی کو سیکولر سٹیٹ قرار دے دیا۔ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ قرار پایا۔خلافت کا ادارہ ختم کر دیا گیا۔ شرعی اداروں اور محکموں اور اسلامی شریعت کو ملک سے بے دخل کرکے مغربی قوانین نافذ کر دیے گئے۔ہر وہ چیز جس کا کوئی تعلق اسلام سے بنتا تھا، حرف غلط کی طرح مٹا ڈالی گئی۔عربی کی جگہ لاطینی رسم الخط جاری کر دیا گیا۔ اور تو اور عربی میں اذان تک ممنوع قرار پاگئی۔ مختصر یہ کہ ترکی قوم اور حکومت کی دینی اساس کو تھوڑ پھوڑ کر ختم کر دیا گیا اور قوم کا نقطہ نظر یکسربدل ڈالا گیا۔۵۰؂
استشراقی فکر نے صرف ضیا گوک الپ اور مصطفی کمال یا دیگر ترک زعما ہی کو اپنی گرفت میں نہیں لیا بلکہ اس کے اثرات تقریباً عالم اسلام کے تمام اعلیٰ تعلیم یافتہ،مقتدر اور صاحب اختیار طبقہ تک ممتد دکھائی دیتے ہیں۔ عالم اسلام میں جہاں بھی کوئی ملکی تعمیر وترقی کے لیے اٹھتا ہے،بالعموم تجدد ومغربیت اور کمالی طرز کی اصلاحات ہی کومقصود و منتہاسمجھتا ہے۔ ۱۹۵۲ء کامصری انقلاب اپنی بنیادوں میں مغربی زاویہ نگاہ لیے ہوئے آیا۔ اس کامقصد جمال عبد الناصر کے خیال میں یہ تھا کہ مصری عربی معاشرہ ایک ایسی سوسائٹی میں بدل جائے جس کے افراد اپنے اجتماعی تعلقات،اخلاقی قدروں اور حقوق وغیرہ سے متعلق ایسا نقطہ نظر اختیار کریں جو جدید فکر سے ہم آہنگ ہو۔ صدرناصر کے پیش کردہ منشور سے اگر مصر اور عرب لفظ نکال دیں تو وہ کسی بھی سیکولر سوشلسٹ سٹیٹ کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے۔ رضا شاہ پہلوی نے اپنے زمانے میں ایران کو بھی ترکی کے نقش قدم پر مغربیت کے سانچے میں ڈھالنے کی کوششیں کیں۔وہ ایران سے مذہبی رجحان کوپوری طرح مٹانا اور اسلامی تشخص کو ختم کرنا چاہتا تھا، تاہم اس کی متشددانہ پالیسیاں۱۹۷۴ء کے شیعی اسلامی انقلاب پر منتج ہوئیں اور شاہ کو ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ انڈونیشیا میں صدر احمد سوئیکارنو کی رہنمائی میں بھی حکمران طبقے نے ملک کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ترکی کے نقش قدم پر لے جانے کی کوشش کی۔انڈونیشیا میں اگرچہ مغربیت کے خلاف رد عمل بھی ظاہر ہوتا رہا اور اسلامی تحریکیں اٹھتی رہیں، تاہم متجددانہ سر گرمیاں ہنوز جاری ہیں۔ 
تیونس میں حبیب بورقیبہ نے ۱۹۵۷ء میں صدارت کا عہدہ سنبھالتے ہی کمالی اصلاحات اورتجددکا آغاز کر دیا۔ تیونسی صدر مسیحی مشنریوں اور مستشرقین کے خیالات سے حد درجہ متاثر ہوا۔ اس نے قرآن میں تضادات ثابت کرنے کی کوشش کی اور قرآنی قصوں کو خرافات کا مجموعہ قرار دیا۔الجزائر کے ۱۹۶۳ء میں منتخب ہونے والے صدر احمد بن بلا جمال عبد الناصر کے دوستوں اور ہم خیالوں میں سے تھے۔ انہوں نے صدر ناصر ہی کی طرز پر دینی ذہن کو محدوداور حکومت سے دور رکھنے کی کوشش کی۔ صدر کرنل معمر قذافی نے ۱۹۶۹ء میں زمام اقتدار سنبھالی اور بعض شرعی حدود کا نفاذ کیاتو مغربی پریس میں ان کو ایک کٹر مذہبی شخصیت کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔مستشرقین سے رابطہ کی بنا پران کا انقلابی دائرۂ فکر سیاست سے ہٹ کر دینی فکر میں انقلاب تک وسیع ہو گیا۔ انہوں نے یہ تصور قائم کر لیاکہ وہ اسلام جو کتاب وسنت سے ماخوذ ہے، اس انقلابی عہد کا ساتھ نہیں دے سکتا۔چنانچہ انہوں نے اسلام کو اپنے انقلابی ذہن کے سانچہ میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ وہ اسلام کو عبادت تک محدود کر دینا چاہتے تھے ۔عبادت اور عام زندگی کے بارے میں ان کا تصورتیونسی صدر حبیب بورقیبہ سے بہت قریب ہے ۔حبیب بورقیبہ نے قرآن کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کیا۔معمر قذافی نے حدیث کوتختہ مشق بناتے ہوئے اسے مشکوک اور ناقابل اعتماد ثابت کرنے کی کوشش کی۔الغرض قذافی بھی پورے زور شور سے تجدد ومغربیت کے راستے پر ہو لیے۔۵۱؂لمحہ موجود تک تمام مسلم قیادت تجدد ومغربیت ہی کو کامیابی و کامرانی کا واحد راستہ سمجھتی ہے اوراس کلیے میں شاید ہی کوئی استثنا نظر آئے۔

جدید تعلیم یافتہ دانشوراورسکالرز

مسلم دنیا کے جدید تعلیم یافتہ دانشور اور سکالرزکی بھی ایک قابل لحاظ تعداد مستشرقین کے زیر اثر ہے۔ ان میں ایک بڑی تعدادنے یورپ کی یونیورسٹیوں میں مغربی اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور اپنے اساتذہ کے تصورات ونظریات اپنا لیے۔ ۵۲؂ ان کے نزدیک بھی مسلمانوں کی ترقی و کامرانی تجدد و مغربیت کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضورؐاور خلافت راشدہ کے زمانے تک اسلام ایک لبرل، ترقی پسند اور عقلیت پسند مذہب تھا، لیکن بعد میں فقہا اور ملاؤں نے اسے جامد اور متحجر دین بنا دیا۔ چنانچہ وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ نام نہاد علما ومفسرین ہی ہماری تمام تر حرماں نصیبی اور پسماندگی کا اصل سبب ہیں۔ ایک دانشورنے لکھا ہے کہ سعودی عرب سے لے کر موریطانیہ تک اور انڈونیشیا سے لے کر پاکستان تک ہر مسلم ملک میں اہل اسلام زیست کی جنگ لڑرہے ہیں۔ ملا مسلمانوں کے تنزل وادبارکو مغربی اثرات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں کہ جہاں تک ہنوز مغربی اثرات نہیں پہنچے، وہاں اب بھی اسلام کی گھناؤنی تصویر دیکھی جا سکتی ہے۔ کیا اس بات سے انکار کی کوئی معقول وجہ ہے کہ سب سے پسماندہ ممالک وہ نہیں جہاں یورپی تہذیب کی باد نسیم کے جھونکے نہیں پہنچے بلکہ بد نصیب وہ بلاد وامصار ہیں جہاں زمام اقتدار ملاؤں کے ہاتھ میں ہے۔ انہی کور چشموں کے سبب اسلام جمود کا شکار رہا اور اسے وقت کے مطابق ڈھلنے سے روکا جاتا رہا۔ عالم اسلام کونحوستوں اور لعنتوں سے نجات دلانے کے لیے ہمیں قرآن کی ان روایتی تعبیرات کو بھول جانا ہوگا جو راسخ العقیدہ ملاؤں نے صدیوں سے مسلط کر رکھی ہیں ۔ جس دن ہم اپنے طور پر قرآن کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے، اس دن ہم اسلام کو بچانے نیز عورتوں کو چودہ سو سال کی محرومی و بد نصیبی سے نکال کر آزادی و مساوات کی روشنی میں لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لوگ مجبوری کی بنا پر نہیں بلکہ محبت و مسرت سے مذہب پر عمل کریں گے۔ زندگی سے اکتاہٹ اور بوریت ختم ہو جائے گی۔ نماز بھی ہو گی اور کھیل تماشا بھی۔ یوں ہم ایک دل پسند ہیرے کی طرح اسلام کی خوبصورت تعبیر ملاحظہ کر سکیں گے۔ ۵۳؂جدید تعلیم یافتہ دانشور اور سکالرزمستشرقین کی ہم نوائی میں اس تصور کے حامی ہو گئے کہ ترقی و تبدیلی، جو کہ قانون ارتقا کا جزو لا ینفک ہے، کواسلام پربھی لاگو ہونا چاہیے اور قدیم اسلام کی جگہ ایک جدید لبرل اسلام سامنے آنا چاہیے:
"Just as the Martin Luther broke down the barriers of dogma in Christianity and Moses Mendelssohn sought to bring a progressive reformed version of Judaism to the Jews, so Islam must also be recognized and given its place the by the Orthodox."(54) 
مصر کے معروف دانشور اور سکالر ڈاکٹر طہ حسین نے مصریوں کو مغربی تہذیب اپنانے کی پر زور دعوت دی ۔وہ کہا کرتے تھے کہ مصری زندگی اپنے مظاہر کے اختلاف کے ساتھ خالص مغربی ہے۔ لہٰذا مصر کو مشرق کا حصہ اور مصری فکر کو ہندوستان یاچین کی طرح مشرقی فکر کہناکم عقلی اور سطحیت ہے۔ ہمیں اہل یورپ کے طریقہ پر چلنا چاہیے اور انہی کی سیرت و عادات کو اختیار کرنا چاہیے۔ درحقیقت عصر حاضر میں ہمیں یورپ سے ایسا رابطہ اور قرب چاہیے جو روز بروز بڑھتا رہے یہاں تک کہ ہم لفظ اور معنی حقیقت اور شکل ہر اعتبار یورپ کا ایک حصہ بن جائیں۔ ۵۵ ؂ ڈاکٹر طہ حسین عربی ادب کو دینی علوم کے تعلق سے یکسر آزاد کر دینے کے حامی ہیں۔وہ اس سلسلہ میں تحقیق پر ،قومی احساسات اورمذہبی رجحانات و میلانات کوبالائے طاق رکھ کر اس فلسفیانہ طریقہ کا اطلاق کرنا چاہتے ہیں جس کی ابتداڈیکارٹ نے کی تھی۔ ۵۶؂ ڈاکٹر صاحب اس بات سے انکاری ہیں کہ کعبہ کی بنیاد ابراہیم اور اسمعیل علیھم السلام نے رکھی تھی،بلکہ ان کے نزدیک یہ دونوں شخصیتیں کوئی تاریخی وجود ہی نہیں رکھتیں۔آپ کے خیال میں قرآن کی سات مشہور قرأتیں بھی حضورؐ سے ماخوذنہیں ہیں۔۵۷؂ 
پاکستانی اسکالراور دانشور ڈاکٹر فضل الرحمن کے نزدیک مسلمانوں کو مغربیت اختیار کرنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ مغربی تہذ یب اپنانے کے باوجود مسلمان مکمل مسلمان رہ سکتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ بعض مسلم اورغیر مسلم اسلام کو ایک مخصوص طرززندگی سمجھتے ہیں جس میں مشکل ہی سے کوئی تبدیلی ممکن ہے، حالانکہ اسلام کے بہت سے غیر مسلم طالب علم مثلاً پروفیسر گسٹاف اے وان گرونیبام کے نزدیک اسلام دراصل کسی تہذیب و ثقافت کا نام نہیں بلکہ قرآن و سنت کے فراہم کردہ کچھ اصول و ضوابط کا نام ہے جس میں وقت اور ضروریات سے توافق وتطابق کی گنجائش پائی جاتی ہے۔ ۵۸؂ ڈاکٹر فضل الرحمن قرآن میں بیان کردہ قصصِ انبیاء کی تفصیلات کو بعینہ وحی خداوندی ماننا ضروری خیال نہیں کرتے۔ ۵۹؂ان کے مطابق مسلمانوں میں پانچ نمازوں کا تصور حدیث کی بعد میں اٹھنے والی لہر کانتیجہ ہے جبکہ قرآن میں یہ کہیں مذکور نہیں۔ ۶۰؂
چونکہ حدیث اور جدید مغربی تہذیب کو یکجا کرنا ممکن نہیں اور بقول علامہ محمد اسد حدیث کو نظر انداز کر کے قرآنی تعلیمات کو آسانی سے مغربی تہذیب کے سانچے میں ڈھالا جا سکتا ہے ،۶۱؂ لہٰذاحدیث پر اعتراض جدید تعلیم یافتہ مسلم دانشوروں کے ہاں ایک فیشن بن گیا۔ وہ بڑے زور و شور سے حدیث کو ناقابل اعتبار روایات پر مبنی اوراسلام کاغیر ضروری حصہ قرار دینے لگے۔ ڈاکٹر فضل الرحمن کے نزدیکحدیث ایک تاریخی افسانہ ہے جس کا مواد مختلف ذرائع سے اکٹھا کیا گیا۔۶۲؂ سنت محض ابتدائی مسلم سوسائٹی کی عملی زندگی کا لفظی اظہار ہے اور ایک زندہ معاشرے کے طرز عمل میں وقت کے ساتھ تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ بنا بریں حدیث کوئی دائمی نمونہ عمل نہیں۔۶۳؂ غلام احمد پرویز بھی احادیث کو فرضی اور ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق آج احادیث کے نام سے ہمیں جو کچھ ملتا ہے، یہ محض مسلمانوں میں مروج باتیں تھیں جن کو غلط طور پر حضور کی جانب منسوب کیا جاتا تھا ۔ بعد ازاں امام بخاری اور دیگر حضرات نے ان باتوں کو جمع کر کے کتبِ احادیث کی شکل دے دی ۔۶۴؂مستشرقین سے متاثر ہو کر اور بھی متعددمسلم دانشوروں نے حدیث کاانکار کیا ہے۔ ۶۵؂ 

حوالہ جات و حواشی

1. See: "Supernatural Religion", published by Longman, London,1874, Vol. II., pp. 491-492.
2. See for detail: Kant, Immanuel, "Religion within the Limits of Reason Alone", New York, 1960.
3. Vide, Muier, William, "Muhammad and Islam", London Religion Trackt society, N.D., pp. 22-24. Mohammad Khalifa, "The Sublime Quran and Orientalism", London & New York, 1983, p.112.
سر سید احمد خاں،سیرت محمدی، لاہور، مقبول اکیڈمی،۱۹۹۷،ص۲۳۲۔۲۳۳۔
4. Watt, W. Montgomery, "Muhammad: Prophet and Statesman", Oxford University Press, 1958, pp.14-17.
5. Hume, David, "Enquiries concerning the Human Understanding", edited by L.A. Selly, Bigge 2nd ed; Oxford, 1893, p.119.
6. Ibid.p.114. 
7. Lawton, J.S. Dr., "Miracles and Revelation", London, 1959, p. 84.
8. Ibid. p. 100.
9. "Supernatural Religion", Op. Cit.. Vol.II. p.486.
10. Bashir Ahmad Siddiqi, Dr. Professor, "Modern Trends in Tafsir Literature-Miracles", Lahore, Facilty of Islamic and Oriental Learning, University of the Punjab, 1988, p.8.
11. Sale, George, "The Koran", New York, 1890, p .50.
12. Watt. W. Montgomery, Op. Cit. p. 39. "Encyclopaedia of Religion and Ethics|, edited by James Hastings, New York, Charles Scribner's Sons,1930, Vol. X, p. 540. Brown, Daniel, "A New Introduction to Islam", United Kingdom, Blackwell, 2004, p. 65. "The New Encyclopaedia Britannica", 15th edition,1986, Vol. 22, p. 9. Bell, Richard, "Introdution to the Quran", Edinburgh University Press, 1963, pp.161-163.
13. Jeffery, Arthur, "Muhammad and his Religion", Indiana Polus, 1979, p. 47.
14. Idem, "Materials for the History of the Texst of the Quran", Leiden, E. J. Brill, 1937, pp. 3-10. 
15. Palmer, E. :The Koran with an Introduction" by R Nicholson, London, Oxford University press,1928,p,53.
۱۶۔ رحمت اللہ کیرانوی، بائبل سے قرآن تک(مترجم،اکبر علی)کراچی، مکتبہ دارلعلوم،۱۳۸۹ھ،جلددوم،ص۳۶۵۔
17. Goldziher, Ignaz, "Muslim Studies", Translated by C.R.Barber and S.M.Stern, Chicago; IL Aldine Publishing, 1973, Vol.II, 18. Guillaume, Alferd, "The Traditions of Islam", Beirut, Khayats, 1960, p.15.
18. Tor Andrae, "Muhammasd, The man and his Faith", translated from German by Theophil Menzel, London,George Allen and Unwin,1956, pp.143, 191.
19. Muir, William, Op.Cit.p.47. Watt, W. Montgomery, Op. Cit. p.14. Gib, H.A.R, "Mohammemanism", London,  Oxford, 1964, p. 25.
20. Muir, William, Op,Cit.p.126.
21. Tor Andrae, Op. Cit. p.147. Sale, George, Op. Cit. p. 38. Watt, W. Montgomery,Op.Cit.p.105.
22. Bell, Richard, Op.Cit. pp.156-161. Muir,William, "The life of Mahomet", London, Smith, Elder & Co.1877,  Vol.2.pp.141-145. 
23. Watt, W. Montgomery, Op. Cit. p.108.
24. Tor Andrae, Op.Cit. p.147. Sale, George,Op. Cit. p.38. Menezes,F.J.L, "The Life and Religion of Mohammad, the Prophet of Arabian Sands", London,1911, pp. 63,165. Wollaston, A. N, "The Religion of the Koran", Lahore, Sh. Muhammad Asharf, 1965, p.27.
25. Watt, W. Montomery, "Muhammad at Madina", Karachi, Oxford University Press, 1981, p.277.
26. Mohammad Khalifa, Op.Cit. p.157. 
27. Shacht, J. "Introduction to Islamic Law", Oxford, 1964,p.202.
28. Coulson, N. J., "Conflicts and Tentions in Islamic Jurisprudence", London, The University of Chicago press, N.D., p.78. "Encyclopedoia of Crime and Justice", New York, The Free Press, 1983, Vol.1, p.194.
29. "The New Encyclopaedia Britannica", Chicago, 1986, Vol.18, pp.996-997.
30. Kenneth Cragg, "The Call of Minaret", New York, Oxford University Press, 1956, p.17.
31. Idem, "Islamic Surveys-3: Counsels in Contemporary Islam", Edinburgh, Edinburgh University Press,1965,p.107.
32. Idem, "The Dome and the Rock: Jerusalem Studies in Islam", S.P. C. K; London, 1964,p.135.
33. Hitti, Philip. K, "Islam and the West", New Jersey, 1962, p.21. 
34. Smith, Welfred Cantwell, "Islam in Modern History", New Jersey, Princeton University Press, 1957, pp.178,204.
35. Ibid. pp. 273,274.
36. Goitien, S. D.. "Jews and Arabs: Their Contacts through the Ages", New York, Schockan books, 1955, pp.129-130.
37. Nadave Safran, "Egypt in Search of Political Community: An Analysis of the Intellectual and Political Evolution of Egypt", 1804-1952. Cambridge, Havard University Press, 1961,p.80. 
38. Ibid,pp.95-97.
39. Vide, Muhammad Imran Moulana, "Distortions about Islam in the West", Lahore. Malik Siraj & Sons,1979,p.13.
۴۰۔ اسلامی تاریخ و تہذیب سے متعلق استشراقی تحریروں کے مبنی بر تعصب و عناد ہونے کا اندازہ اس حقیقت سے لگایاجا سکتاہے کہ خود بہت سے مغربی زعماء اور اہل قلم نے اس ضمن میں استشراقی تحرورں کو مسلمانوں کیخلاف صلیبی جنگوں کے تسلل کا نام دیا ہے۔مثلاًملاحظہ ہو:السباعی، محمد مصطفی،ڈاکٹر،السنۃ ومکانتہا فیالتشریع الا سلامی،القاہرہ ،مکتبہ دارلعروبہ شارع الجمہوریہ،۱۹۶۱،ص۳۲۔
Loon Handrik Van, "Tolerance", New York, The Sun Dial Press, 1939, p.114.
41. Wright, Thomas, "Early Christianity in Arabia", London, 1855, p,152.
42. Hitti, P. K. "History of the Arabs", London , Macmillan, 1968, p.147. 
مذکورہ حوالے سے J.J.Saunders بھی ہٹی کا ہمنوا ہے۔ دیکھیے:
Saunders, "A History of Medievel Islam", London, Routledge and Kegan Paul, 1965, p. 14.
۴۳۔ حامدی، خلیل احمد(مرتب)،نظام اسلام مشاہیر اسلام کی نظر میں،لاہور،اسلامک پبلیکیشنز،۱۹۶۳،ص۴۵۲۔
۴۴۔ ابو الحسن علی ندوی، مولانا،مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش،کراچی، مجلس نشریات اسلام،۱۹۸۱، ص۲۶۵۔۲۶۶۔
45. Maryam Jameelah, "Islam and Modernism", Lahore, 1977, p.239.
46. Ziya Gokalp, "Turkish Nationalism and Western Civilization", New York, 1959, pp. 60,271,302.
47. Armstrong, H.G, "The Gray Wolf", New York, Capricon Books, 1961, pp.199-200. 
 48. Irfan Orga Margarate, "Ataturk", London, 1962, p. 273.
49. Ibid. pp.237,238,297.
50. Ibid. p. 280.
ترکوں کو اپنی اسلامی شناخت سے دور ہٹانے،اسلامی اتحاد کو ضرب لگانے کے خاطر انہیں اپنی اصلی قومیت کااحساس دلانے کے لیے،جس کا دارامدار نسل اور مادری زبان پر ہے،اورانہیں یہ باور کرانے کے لیے کہ وہترک پہلے ہیں اور مسلمان بعد میں، مستشرقین کی کاوشیں کلیدی کردار کی حامل ہیں۔ ان استشراقی کوششوں کے قدرے تفصیلی مطالعہ کے لیے مثال کے طور پر دیکھؤ: اکمل ایوبی،ڈاکٹر،مستشرقین اور تاریخ ترکی،در،ماہنامہ ’معارف‘اعظم گڑھ،اکتوبر۱۹۸۳ء،ص۲۵۱۔۲۶۰۔
۵۱۔ عالم اسلام کے حکمران طبقہ کے استشراقی ومغربی فکرسے تاثر کے نتیجہ میں تجددو مغربیت کی طرف راغب ہونے سے متعلق یہ نکات مولانا ابوالحسن علی ندوی کی،مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش ، سے اخذکے کیے گئے ہیں۔تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہوں مذکورہ کتاب کے صفحات۱۶۲۔۲۲۵۔ 
52. See for detail: Smith, Wilferd Cantwell, Op.Cit .pp.55-73.
53. Jafri, Fareed S, "The Need for a Re-evaluation of Islam in Pakistan", the Pakistan Times Lahore, August 11,1967.
54. Fyzee, Asaf A, "A Modern Approach to Islam", Bombay, Asia publishing House, 1963, p.107.
۵۵۔ طہ حسین،ڈاکٹر،مستقبل الثقافۃ فی مصر،قاہرہ،۱۹۳۸ء،ص۳۱۔۴۴۔
۵۶۔ وہی مصنف، الادب الجاھلی،قاہرہ، ۱۹۲۷ء،ص۶۵۔۶۸۔
۵۷۔ چارلس سی آدم، اسلام اور تحریک تجدد مصر میں (مترجم،عبدالمجید سالک)، لاہور، مجلس ترقی ادب، ۲۰۰۲۔ ص ۳۷۰، ۳۷۳، ۳۷۴۔
58. Fazlu-Rahman, Dr, "What is Islamic Culture?", The Light, Lahore, March 24,1973, p.5.
59. Idem, Weidenfield and Nicholson, London, 1996, p.16.
60. Ibid.p.36. 
61. Muhammad Asad, "Islam at the Cross Roads:, Lahore, Arafat Publications, 1955,pp.112-130.
62. Fazlu-Rahman, Dr, Weidenfield and Nicholson, Op.Cit. p.14.
63. Ibid. p.56.
۶۴۔ پرویز ،غلام احمد ، مطالب الفرقان ، جلد چہارم ،لاہور،ادارہ طلوع اسلام،۱۹۸۱ء ،ص۳۴۳۔۳۵۳۔ 

’’حیات سدید‘‘ کے ناسدید پہلو (۲)

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

مجموعی تاثر

کتاب پر تفصیلی اظہار سے پہلے اپنے تاسف کا اظہار کرنا پڑتا ہے کہ کتاب کی ترتیب میں جناب اعظم صاحب کی محنت و ریاضت اور جناب مجید نظامی کی پیش لفظی سطور نے جو مجموعی تاثر، کم از کم میرے ذہن پر چھوڑا ہے، وہ یہ ہے کہ کتاب کی ترتیب کا منشا سید مودودی کی شخصیت کو مجروح کرنا ہے۔ اس غرض کے لیے جنابِ مولف نے پوری فنی مہارت سے کام لیا ہے۔ سب سے پہلے تو انہوں نے بنیادی مواد (خطوط) کی مکمل فائل کا جماعت کے مرکز میں پہنچنے کا سراغ لگا یا ہے اور پھر اس کی عدم دستیابی کا تاثر دیا۔ ساتھ ہی جماعت کے ایک دوسری سطح کے مگر نہایت بلند قامت و پختہ کردار کے بزرگ جناب محمد یوسف خان سے اس فائل کے، پانچ ہزار روپے کے عوض حاصل ہونے کا تذکرہ کیا مگر اس کی مزید پستی کرتے ہوئے یہ لکھ دیا کہ یہ بہت ناقص فوٹو کاپیاں تھیں جن سے استفادہ بہت مشکل تھا۔ (صفحہ نمبر ۳۴۲) اس کے باوجود وہ اس میں سے کافی خطوط پڑھنے اور پیش کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کامیابی میں، کہاں کہاں وہ انحراف کی حدوں سے بچے رہے اور کہاں کہاں ان حدود کو پار کر گئے، اس کا تعین کیسے ہوگا؟ خطوط کی اصل فائل بقول مولف دستیاب نہیں۔ دستیاب فوٹو کاپی قابل خواندگی نہیں۔ ناقابل خواندہ تحریروں کو پڑھنے کے لیے شاید برآمد شدہ جدید آلات سے مدد لی گئی ہو۔ اس کا مولف نے ذکر نہیں کیا۔ اگر کرتے تو ہم بھی جدید آلات کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرتے مگر اس کے لیے بھی فائل کا مولف سے دستیاب ہونا شرط ہو گا۔
یہ بھی صاف ہے کہ خطوط کی ناقص نقول سے بہتر نقول کی صحت مندانہ تیاری کے عمل سے جناب مجید نظامی کو کوئی دلچسپی ہے نہ ہی ارباب جماعت کو۔ یہ در دِ سر جناب سلیم منصور کے بعد، ادارہ معارف اسلامی کے لائبریرین جناب پروفیسرِ ظفر حجازی صاحب کا ہو سکتا ہے۔ جناب لیاقت بلوچ اور جناب حافظ محمد ادریس تو پہلے ہی کتاب کا قصیدہ کتاب کی وصولی کی رسید لکھتے ہوئے لکھ چکے ہیں۔ وہ اس سے رجوع کریں گے یا نہیں، کچھ انتظار کے بعد واضح ہو گا۔ اس پڑتول میں میری مشکل ریسورس ریفرینس ((resource references تک رسائی مسئلہ ہو گی۔
اس پس منظر میں، حیات سدید کے مولف کے پیرایے میں جو تضادات پائے جاتے ہیں، وہ گہرے اور تعداد میں وافر ہیں۔ ہم ان کا موقع بموقع ذکر کریں گے، البتہ کتاب کی ترتیب میں پائی جانب والی چابک دستی کو سامنے لانے کو اولیت دیں گے۔ یہ واضح ہے کہ کتاب میں پیش کردہ تاریخی حقائق پر، آج قریب قریب ایک صدی کے بعد، قطعیت کے ساتھ کچھ کہنے کی پوزیشن میں کوئی بھی نہیں۔ جناب کے ایم اعظم صاحب نے اپنے والد محترم چوہدری نیاز علی خان، علامہ اقبال، ابوالحسن علی ندوی،سید نذیر نیازی کی روایات کو الگ رکھ کر جناب چودھری غلام احمد پرویز، ان کے ہمدم دیرینہ جناب شیخ سراج الحق اور اسی طرح کے بعض دوسرے اصحاب کی روایات کو ترجیح دینے میں صریحاً زیادتی فرمائی ہے۔ مسئلہ تو صرف اتنا ہے کہ چوہدری نیاز علی خان صاحب نے مولانا مودودی کو دارالاسلام پٹھانکوٹ میں مدعو کیا تھا یا علامہ اقبال نے۔ مجید نظامی تو پہلے ہی مولانا کے اقبال کے ساتھ قرب کے قصے گڑھنے کا کہہ چکے تھے۔ اس تنازع کا فیصلہ کرنے کے لیے خود حیاتِ سدید میں مذکورہ اصحاب کے شواہد کافی سے زیادہ تھے۔ جناب پرویز کو میدان میں لا کر بات مجید نظامی سے آگے نکل گئی۔ مولانا مودودی کی پٹھان کوٹ منتقلی کی تجویز کے ایک تیسرے دعوے دار جناب غلام احمد پرویز بن گئے۔پون صدی بعد تیسرا دعوے دار کہاں سے آ گیا۔ اس الجھاؤ آفرینی سے جناب کے ایم اعظم کا کیا مقصود ہے؟ پوری کتاب سے گزر جائیے تو بھی واضح نہیں ہو گا۔ الجھاؤ فزونی کے فن کا وکالت میں ہمیں کئی بار تجربہ ہوتا ہے۔ ہم جب اپنے کیس کو کمزور دیکھتے ہیں تو اس کو اس طرح پیش کرنا شروع کرتے ہیں کہ جج صاحب کا دماغ ایک سے نکل کر دوسری الجھن کا شکار ہو جائے۔ اس طرح مقصود یہ ہوتا ہے کہ جج لگا تار الجھاؤ سے عاجز آ کر عارضی سا ریلیف دے کر اپنی جان چھڑا لیتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے جناب کے ایم صاحب اسی طرح کی فنی تکنیک کو قارئین پر آزما رہے ہیں۔ پوری کتاب اس طرح کی الجھنوں سے بھری ہوئی ہے۔ بہر حال مصنف کی فنکاری کی داد دینا پڑتی ہے۔
مسئلہ کی نوعیت ہم نے اوپر واضح کر دی ہے۔ ہم جناب پرویز کے دعوے کو یکسر نظر انداز کر دینا چاہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ حیات سدید میں پرویز صاحب کے حوالے سے کہانی تین مرحلوں میں بیان ہوئی ہے۔ سب سے پہلے تو جناب پرویز دارالاسلام کے قیام کے موقع پر، ادارے کا تعارفی مضمون طلوع اسلام میں شائع کرتے ہیں۔ یہ مضمون اگست ۱۹۳۹ء میں چھپا۔ کہانی کے دوسرے حصے میں پہلی بار وہ دارالاسلام کے لیے اقبال کی جانب سے اپنانام تجویز کرنے اور قائد اعظم کی جانب سے ان کو اس کام کے لیے پٹھانکوٹ جانے کی اجازت دینے سے انکار کی بات کی گئی ہے۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مولانا کا نام تجویز کر کے اقبال کو منظوری کے لیے لکھ بھیجا۔ کہانی کے دوسرے مرحلے کے بیان میں وہ بعض خطوط کا ذکر کرتے ہیں۔ حیات سدید کے صفحہ ۱۹۵ میں ان خطوط کا ذکر دیکھا جاسکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کہانی کے اس حصے کو ادھورا چھوڑنے کے بجائے حیات سدید کے صفحہ نمبر ۱۹۵ پر مذکورہ تحریروں کو حاصل کر کے شامل کتاب کیا جانا چاہیے تھا۔ کتاب میں پرویز صاحب کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ 
’’چوہدری نیاز علی خان کے اصرار و تقاضا نے علامہ صاحب کو مجبور کر دیا تو لا چار انہوں نے پرویز صاحب کو دہلی میں لکھا کہ آپ دارالاسلام چلے جائیں۔‘‘
قائد اعظم کی جانب سے اس تجویز پر انکار کے بعد پرویز صاحب نے حضرت علامہ اقبال کو عریضہ ارسال کیا کہ مجھے تو کوئی عذر نہ تھا لیکن قائد اعظم کی طرف سے No ہے۔‘‘
پرویز صاحب مزید لکھتے ہیں کہ :
’’پرویز صاحب نے حضرت علامہ کو لکھا کہ آپ نے مولانا مودودی صاحب کا ’’دو قومی نظریہ‘‘تو پڑھا ہوگا، اگر وہ دارالاسلام چلے جائیں تو بہتر ہو گا۔علامہ نے جواباً لکھوایا کہ ہاں ایسا ہو جائے تو موزوں ہے۔چنانچہ یہاں سے دارالاسلام کے لیے مولانا مودودی صاحب کے متعلق بات چلی۔‘‘
اوپر درج اقتباسات میں جن خطوط کا ذکر آیا، ہے ان کی تفصیل اس طرح ہے۔
۱۔ علامہ اقبال کا خط بنام غلام احمد پرویز جس میں علامہ نے جناب پرویز کو دارالاسلام جانے کے لیے کہا۔
۲۔ جواب کے طور پر قائد اعظم کا خط بنام علامہ اقبال جس میں قائد نے تجویز سے اختلاف کیا۔
۳۔ پرویز کا خط علامہ اقبال کے نام جس میں پرویز صاحب نے دارالاسلام کے لیے اپنے بجائے مولانا کا نام تجویز کیا۔
۴۔ پرویز کے جواب میں علامہ اقبال کا خط جس میں مولانا مودودی کے نام کی تائید کی گئی۔
مولف کتاب جناب کے ایم اعظم صاحب نے ان چار خطوط کی جستجو نہیں کی۔ پوری کتاب میں کہیں اس جستجو کا ذکر نہیں۔ خط ایسے اہم لوگوں کے نام بتائے گئے ہیں کہ ان کے محفوظ ہونے کا قوی امکان ہے۔ یہ خطوط تحریری شہادت کے درجے کی چیز ہیں۔ جب تک یہ ثابت نہ کر دیا جائے کہ یہ خطوط دستیاب نہیں، اس وقت تک ان واقعات پر زبانی شہادت کسی طرح بھی قابل لحاظ نہیں ہو سکتی۔ ہم جناب مجید نظامی کی حد تک نہیں جا کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ قصے گڑھے گئے۔ البتہ واقعات کے اثبات میں یہ معمول کے قواعد ہیں۔ان کو نظر انداز کر کے کوئی نتیجہ اخذ کرنا درست نظر نہیں آتا۔
کہانی کے دوسرے حصے میں پرویز صاحب نے اپنے متعلقہ حصے کی تمام تر تفصیلات پہلی بار بیان کی ہیں۔ اپنے اولین مضمون میں ان کا کہیں کسی حد تک بھی ذکر نہیں کیا۔ تیسرا حصہ ان کے غیر نشر شدہ ٹی وی انٹرویو کی صورت میں ہے۔ یہاں کہانی بیان کرتے ہوئے تمام خطوط کا ذکر غائب کر دیتے ہیں۔ اس طرح ان کی کہانی مرحلہ وار مرتب ہوئی ہے۔ اس میں ارتقا پایا جاتا ہے۔ جب تک دوسرے بیان میں مذکورہ خطوط سامنے نہ ہوں، ان پر کلام تقاضائے احتیاط کے خلاف ہو گا۔ بیان میں اس طرح کی امپرومنٹ کسی طور پر قابل اعتماد نہیں ہوتی۔ فن وکالت میں تو اسے after thought کہا جاتا ہے۔
علاوہ ازیں یہ امر بھی اہم ہے کہ پرویز صاحب کے صورت حال میں پیش کردہ مشاہدات کو دیکھنے پر قارئین ایک موقع پر سخت حیرانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پرویزی حلقے اور مودودی صاحب کے ما بین حدیث کی شرعی حیثیت کے بارے میں طویل مناقشے سے ہر کوئی واقف ہے۔ مولانا مودودی نے اپنی طویل حیات میں ایک ہی مناظرہ کیا ہے۔ وہ مناظرہ سے گریز کی روش پر قائم رہے۔ اس میں ایک ہی استثنا ہے۔ یہ پرویزی فکر حدیث پر ہے۔ اس مناظرے میں انہوں نے خوب جم کر حدیث کا دفاع کیا ہے۔ اس مناظرے کے پس منظر کا بیان کر دیا جائے تو یہ واضح ہو سکتا ہے کہ مولانا نے یہ مناظرہ کرنے کا یہ استثنا کیوں اختیار کیا۔دراصل اس دور میں مولانا کی تحریروں میں قرآن پر تکرار سے زور پایا جاتا ہے۔ حدیث پر زور شاید ہی کہیں نظر آئے۔ یہی کیفیت پرویز کی تحریروں میں بڑی نمایاں تھی۔ اس سے پڑھے لکھے طبقے میں یہ تاثر یا اشتباہ پایا جاتا تھا کہ شاید مولانا مودودی اور پرویز کا حدیث کی حجیت کے بارے میں نقطہ نظر ملتا جلتا ہے۔ اس اشتباہ کے تحت ہی جناب پرویز کے دست راست ڈاکٹر عبدالودود نے مولا نا مودودی سے خط و کتابت کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا۔ یہی تحریری مباحثہ ترجمان القرآن میں باقاعدگی سے چھپا اور پھر اسے ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘ کے عنوان کے تحت کتابی شکل میں شائع کیا گیا۔اس طرح طلوع اسلام اور ترجمان القرآن میں اتنا واضح اختلاف اور بعد واضح طور پر معروف ہوا کہ جب حیاتِ سدید سے یہ بات سامنے آئی کہ مولانا مودودی کا ایک زمانے میں طلوع اسلام کی ادارت کے لیے نام تجویز ہوا۔ قاری کے لیے یہ معلوم کر کے حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔ پوری کتاب میں کہیں بھی یہ واضح نہیں ہوتا کہ قاری کو اس طرح حیرانی میں مبتلاکرنے سے مصنف کا کیا منشا ہے۔
حیرانی میں مبتلا قاری یہ پوچھتا ہے کہ اگر اس روایت کو درست بھی مان لیا جائے تو آج پون صدی بعد، طلوع اسلام کی ادارت کے بارے میں پرانی تجویز کے ذکر سے مولانا مرحوم کے بعد کے نقطہ نظر اور طرز عمل کو فرو تر کرنے کی کوشش کے سوا کیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کہ کیا اس کے ذکر سے مولانا کو کوئی ایوارڈ دیا جانا مقصود ہے؟ کیا ان کے معنوی جانشینوں کو آج بھی طلوعِ اسلام کی ادارت میں حصہ لینے کو کوئی موقع دیا جاسکتا ہے؟ یقیناًایسا ممکن نہیں تو پھر یہ ذکر کسی طور موقع ومحل کے مطابق معلوم نہیں ہوتا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے مولانا کوثر نیازی کا جماعت اور مولا نا سے اولین وابستگی کا ذکر کیا جائے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ مولانا مودودی مرحوم و مغفور نے زندگی بھر مولانا کوثر نیازی کے سوا کسی شخص سے ملنے سے انکار نہیں کیا، یہاں تک کہ جنرل اعظم اور مصطفی کھر تک کو بھی ملنے سے گریز نہیں کیا۔ مگر وہ اس جہاں سے مولانا کوثر نیازی سے اتنا دکھی گئے ہیں کہ اپنی حیاتِ مستعار کے آخری لمحات میں بھی کوثر نیازی کو ملنے کی اجازت نہ دی۔

فیصلہ کن مواد .....خطوط

ویسے بھی کتاب میں سید نذیر نیازی کا خط، مولانا مودودی اور چوہدری نیاز علی کے (چالیس) باہمی( خطوط صورت حال میں متنازعہ امورطے کرنے کے لیے کافی ہیں۔ البتہ مولانا مودودی کی جانب سے نذیر نیازی کے نام دو خطوط کو شامل کر لیں تو صورت حال طے کرنے میں کافی سہولت ہو جاتی ہے۔ مولانا کے یہ خطوط ہم آخر پر بطور ضمیمہ شامل کر رہے ہیں۔ بہر حال جناب پرویز کی کہانی یہ ہے کہ علامہ اقبال نے اولاً غلام احمد پرویز کو دارالاسلام میں منتقل ہونے کے لیے تجویز کیا۔ جناب پرویز اس پر آمادہ تھے مگر قائد اعظم نے پرویز صاحب کو دہلی چھوڑنے کی اجازت نہ دی۔ پھر مولانا مودودی کا نام علامہ اقبال کو پرویز نے تجویز کیا جسے علامہ نے مان لیااور مزید پیش رفت ہوئی۔
کتاب میں یہ بھی کہا گیا کہ اقبال کے بارے میں مولانا مودودی کے خیالات دھوپ چھاؤں کی طرح بدلتے رہے۔ علامہ کے حوالے سے بھی کہا گیا کہ وہ مولانا مودودی کو دارالاسلام کے پروجیکٹ کے لیے اہل نہیں سمجھتے تھے۔ علامہ کے نزدیک مولانا مودودی ملا تھے اور بادشاہی مسجد کے خطیب سے زیادہ کے مقام کے مستحق نہیں تھے۔ نتیجہ یہ اخذ کیا گیا کہ مولانا کو پٹھان کوٹ لانے میں اقبال پر معروضی حالات کے علاوہ نیاز علی خان کا ’’اصرار‘‘ ہی اصل ہے، وگرنہ علامہ تو مولانا کو دارالاسلام پروجیکٹ کے لیے کسی طرح راہ دینے پر آمادہ نہیں تھے۔ نیاز علی خان کا بر صغیر کے دیگر علما کی طرح مولانا سے بھی دیرینہ رابطہ تھا۔ علما کے ساتھ چوہدری نیاز علی خان کے خط و کتابت کو دیکھنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ علما میں سے مولانا مودودی سے زیادہ کسی اور نے چوہدری صاحب کے خطوط کو اہمیت نہیں دی۔ دارالاسلام کی ہیئت طے کرنے میں چوہدری نیاز علی خان نے بہت سے لوگوں سے مشورہ طلب کیا۔ کتاب کے صفحہ نمبر ۳۴۵ پر ابوالکلام آزاد کا خط بنام چوہدری نیاز علی خان موجود ہے۔ خط میں مطلوب مشورہ سے گریز کیا گیا ہے یا مشورہ دیا گیا ہے، ہم کچھ کہے بغیر خط کے اہم حصے درج کر رہے ہیں۔ مولانا آزاد لکھتے ہیں:
’’خط پہنچا۔ مجھے خیال ہوتا ہے کہ آپ کا خط آیا تھا جس میں آپ نے بعض انتظامات کی اطلاع دی تھی اور میں نے اس کے جواب میں لکھ دیا تھا کہ یہ انتظامات بہتر ہیں۔ اللہ آپ کی مساعی مشکور فرمائے۔
قرآنی ادارے کا معاملہ کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے جس کے لیے کسی مضمون کا لکھ دینا یا کسی نقشہِ نصاب کا بنا دینا مفید ہو سکے۔ قرآن کے لیے نصاب تعلیم بجز قرآن کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ اصل سوال اشخاص کا ہے، اور اس روئے تربیت کا جو کسی حلقہ میں پیدا ہو جائے۔ اگر اس بارے میں آپ بر وقت میر ے مشورے کے طالب ہوں گے تو جو کچھ مشورہ دے سکتا ہوں، اس میں حتی الوسع کوتاہی نہیں ہو گی۔
اس قسم کے ارادوں کا مجھ سے بڑھ کر استقبال کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔ لیکن زمانے کی حالت ایسی ہو رہی ہے کہ میں خود اپنی جانب سے پیش قدمی کا قصد نہیں کر سکتا۔ کوئی طلب و امتیاز کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو خود بھی بڑھنا ضروری سمجھتا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی مشکور فرمائے۔کام کیے جائیے اور جب نفاذ کا وقت آئے، تعین کے ساتھ مرتب کار کی نسبت اطلاع دیجیے۔ میں جو کچھ مشورہ دے سکتا ہوں، ضرور دوں گا۔ ‘‘
کتاب کے صفحات ۳۷۹ سے ۳۹۵ تک مولانا ابوالحسن ندوی اور چوہدری نیاز علی کے چودہ خطوط شامل ہیں۔ ان سب کو پڑھ جائیے۔ رسمی دعا و حوصلہ افزائی کے سوا کم ہی لکھنے کا کچھ تکلف نظر آتا ہے۔ علامہ اقبال کا صرف ایک خط شامل کتاب ہے۔ خط بہت مختصرہے مگر علامہ نے کھل کر لکھا ہے۔ خط اس لائق ہے کہ یہاں نقل کر دیا جائے۔ ویسے بھی تبرک کی حیثیت رکھتا ہے۔ خط کتاب کے صفحہ نمبر۳۴۴پر شیخ عطا ء اللہ کے اقبال نامہ کے حوالہ سے دیا گیا ہے۔
’’لاہور
۲۰۔جولائی ۱۹۳۷ء 
جناب چوہدری صاحب!
آپ کا خط ابھی ملا ہے۔ آم اس سے پہلے مل گئے تھے جو نہایت شیریں ہیں۔ نیازی صاحب کے ہاتھ سے رسید لکھوا کر ارسال کر چکا ہوں۔ مہربانی کر کے اگر ممکن ہو تو اور آم اسی قسم کے ارسال کیجیے۔
آپ ضرور تشریف لائیں، میں آپ سے ادارہ کے متعلق گفتگو کروں گا۔ اسلام کے لیے ملک میں نازک زمانہ آ رہا ہے۔ جن لوگوں کو احساس ہے، ان کا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش اس ملک میں کریں۔ انشاء اللہ آپ کا ادارہ اس مقصد کو باحسن وجوہ پورا کرے گا۔علما میں مداہنت آگئی ہے۔ یہ گروہ حق کہنے سے ڈرتا ہے۔ صوفیہ اسلام سے بے پروا اور حکام کے تصرف میں ہیں۔ اخبار نویس اور آج کل کے تعلیم یافتہ لیڈر خود غرض ہیں اور ذاتی منفعت و عزت کے سوا کوئی مقصد ان کی زندگی کا نہیں۔ عوام میں جذبہ موجود ہے مگر ان کا کوئی بے غرض رہنما نہیں ہے۔ زیادہ کیا عرض کروں۔ امید ہے آپ کا مزاج بخیر ہو گا۔‘‘
کتاب میں شامل خطوط کی کل تعداد ۱۵۰ ہے۔ ان میں ۴۰ خطوط چوہدری نیاز علی خان اور مولانا مودودی کے ما بین ہیں۔ اس طرح ہر دو بزرگوں کے درمیان خطوط کا سلسلہ کسی دیگر بزرگ کے مقابلے پر کہیں زیادہ وسیع ہے۔ ان خطوط میں دو طرفہ دلجمعی کی جو کیفیت پائی جاتی ہے، وہ دیگر خطوط میں کہیں کہیں ہی نظر آتی ہے۔ ان خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر دو حضرات کو زیر بحث موضوع (دارالاسلام) سے کس قدر گہری دلچسپی ہے۔ اس سلسلہ کلام کی ابتدا ۲۰ ستمبر۱۹۳۵ ہے۔ آخری خط ۶ جنوری ۱۹۳۸ء کا ہے۔ ۲۳ خطوط چوہدری نیاز علی نے مولانا مودودی کے نام لکھے، جب کہ مولانا مودودی نے ۱۶ خط لکھے ہیں۔ یہ خطوط کتاب کے صفحات ۴۸۲ سے ۵۵۲ پر ہیں۔ اس کے علاوہ کتاب میں صفحہ ۱۲۶ پر دارالاسلام پر چھبیس صفحے کا وہ خاکہ شامل ہے جو ادارہ دارالاسلام کی بنیاد بنا۔ یہ مولانا مودودی کا مرتب کردہ ہے۔
اس خط و کتابت سے اندازہ ہوتا ہے کہ دارالاسلام کی نوعیت کی خدمت کا ذہن میں آتے ہی چوہدری نیاز علی خان نے مولانا مودودی سے رابطہ استور کیا۔ کتاب میں شامل خطوط کی رو سے قدیم ترین خط مولانا مودودی سے متعلق ہی ہے۔ اولین خط ۲۰ ستمبر ۱۹۳۵ء کاہے۔ جنابِ چوہدری نیاز علی خان اسی سال ریٹائر ہوئے۔ ریٹائر ہوتے ہی دارالاسلام کا غم شروع ہوا اور اس کے ساتھ ہی اولین رابطوں میں مولانا مودودی کوفوقیت حاصل ہے۔ دارالاسلام کے قیام اور اس کی عملی تشکیل میں علامہ اقبال اور مولانا مودودی نے سب سے زیادہ موثر حصہ لیا۔ دارالاسلام ٹرسٹ کی رجسٹریشن ۴ مارچ ۱۹۳۶ء کو ہوئی۔ مولانا مودودی ساتویں ٹرسٹی تھے۔ اقبال ٹرسٹیوں میں بوجوہ شامل نہ ہوئے، مگر ہمیشہ شریک مشورہ رہے۔ دارالاسلام میں قیام کے جامعہ ازہر مصر کو جو مکتوب علامہ کے دستخطوں سے ارسال کیا گیا، اس کا عربی متن مولانا مودودی کا مرتب کردہ تھا۔ حیدرآباد دکن سے دارالاسلام منتقلی تو بہت بعد کی بات ہے، مگر ادارے کے جملہ عملی تنظیمی کام، مولانا ہی انجام دیتے تھے۔ تمام ڈرافٹ حیدرآباد دکن ہی سے تیار ہو کر آتے تھے۔ چوہدری نیاز علی ان ڈرافٹوں کو خود قبول بھی کرتے اور دوسرے لوگوں کو بھی دکھاتے۔ چوہدری نیاز علی اور مولانا مودودی کی باہمی خط و کتابت مولانا مودودی کی روز اول سے ایکٹو مشاورت کا واضح ثبوت ہیں۔ دارالاسلام ٹرسٹ کے معاملات میں اتنی دور رہتے ہوئے شرکت کے ثبوت میں چوہدری نیاز کے مکتوب نمبر ۲۲ بنام مولانا مودودی مورخہ ۸۔اگست ۱۹۳۷ء قابل توجہ ہے۔ حیات سدید کے صفحہ نمبر ۵۲۲ پر چوہدری نیاز علی خط میں لکھتے ہیں،
’’۳  تاریخ کو حضرت سر علامہ محمد اقبال صاحب کے مکان پر ان کی صدارت میں یہاں ادارہ کے متعلق مجلس مشاورت منعقد ہوئی۔ جرمن نو مسلم علامہ اسد اور سید محمد شاہ کے علاوہ تین چار اور احباب بھی موجود تھے۔ مفصل کارروائی سید محمد شاہ صاحب نے نوٹ کر لی تھی۔ جامعہ ازہر کی چٹھی بعد مناسب ترمیم لکھوا کر بھیج دی گئی ہے اور مولانا اسد، سید محمد شاہ اور جناب (مولانا مودودی) کو ادارہ کا پراسپیکٹس تحریر کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے اور در اصل سارا کام جناب کی تشریف آوری پر ہی ملتوی ہو رہا ہے۔‘‘
ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ’’حیات سدید‘‘ میں شامل خطوط (جن کی تعداد ڈیڑھ سو ہے) اور چوہدری نیاز علی کے سوانحی حالات کتاب کا اصل ہیں۔ ان کی حیثیت مستند دستاویزات کی ہے۔ بلا شبہہ بہت سے خطوط رسمی نوعیت کے ہیں۔ مکتوب الیہم میں ایسے بھی تھے جو لمبے چوڑے غور فکر کی فرصت نہیں پاتے تھے اور رسمی جملوں پر مشتمل ہیں، مگر بہت سے خطوط زبردست فکری اور علمی مواد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر جناب کے ایم اعظم اس مواد پر ریاضت کرتے۔ اس کی روشنی میں مزید مواد جمع کرتے اور اس پر اپنا ذہن apply کرتے تو اپنے والد محترم کی شخصیت کو کہیں بہتر طور پر پیش کرتے بلکہ ان کے مشن کے تسلسل کی کئی صورتین اختیار کر لیتے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کتاب سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ایک عرش نشین دانشورہیں جو اپنے والد کے دوست اور مہمان، اپنی والدہ اپنے بڑے بھائی، کسی کو معاف نہیں کرتے۔ وہ سب کچھ ادھیڑ دینے میں اپنی دانشوری کی معراج سمجھتے ہیں۔ اس طرح حیات سدید میں بلا شبہہ انتہائی قابل قدر سوانحی مواد موجود ہے، مگر اس مواد کی مدد سے سوانح کی ترتیب کے لیے جو مشقت اور ریاضت ضروری تھی، معلوم ہوتا ہے کہ جناب مصنف نے اس سے جی چرایا ہے۔ اس سے کتاب کی سوانحی حیثیت سخت مجروح ہوئی ہے۔ 
لگتا ہے کہ مولانا مودودی اور چوہدری نیاز علی، ہر دو بزرگوں کی اولاد کو اپنے والد کے مشن اور اس کے تسلسل میں کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ چھیانوے سال کی طویل عمر پانے والے بزرگ کی طویل خدمات کو مرتب کرنے والے صاحب پٹڑی سے اتر جائیں تو نقصان کس کا، مصنف کا یاقارئین کا؟ ان کو پٹڑی سے اترنے کے لیے مجید نظامی کے علاوہ اور کئی لوگوں نے خوب تھپکیاں دی ہوں گی۔ ہمارا جی چاہتا ہے کہ کتاب میں غیر متعلقہ مواد کی پوری چھانٹ کی جائے۔ مزید مواد جمع کیا جائے۔ چوہدری نیاز علی کی شخصیت اپنے حقیقی اور دلکش روپ میں پیش کرنے کے لیے اپنی پوری صلاحیت صرف کروں، مگر ایسے ستم رسیدگان میں ایک چوہدری نیاز علی ہی تو نہیں۔ آج مولوی تمیز الدین خان کو کون جانتا ہے؟ اگر وہ دستوریہ توڑنے کے حکم کو چیلنج نہ کرتے تو کتب ہاے قانون میں ان کا حوالہ بھی نہ آتا۔ قائد اعظم کے بعد دوسری حیثیت رکھنے والا شخص اپنی تمام تر خدمات اور عظمتوں کے باوجود تاریخ کے صفحات سے بھی غائب رہتا۔ ان کی ایک خود نوشت انگریزی زبان میں چھپی تھی۔ کسی زمانے میں اس کا اردو ترجمہ فرنٹئیر پوسٹ نے چھاپا تھا جو اب نایاب ہو چکا ہے۔ کیا مجلس کارکنان پاکستان کے روح رواں، مولوی صاحب کی یاد باقی رکھنے کے لیے اسے چھاپنے کی زحمت فرمائیں گے؟ محکمہ آثار قدیمہ کی طرح کوئی ایسا ادارہ قائم ہوسکتا ہے جو تاریخ کے ملبے تلے دبے ہوئے ایسے ہیروں کو دریافت کر کے نئی نسل کے لیے محفوظ کر سکے؟
چوہدری نیاز علی خان واقعتا ہیرے سے کم نہ، تھے مگر جناب کے ایم اعظم صاحب نے ان کی شخصیت کو پیش کرنے میں اگر غیر ذمہ داری نہ بھی کہا جائے تو قلمی نا پختگی کا مظاہرہ کیا ہے وہ بڑی زیادتی ہے۔ mania کسی قسم کا ہو، خاص طور پر چھپنے کا، بڑا خطرناک ہے۔ اگر ہم مصنف کا نفسیاتی جائزہ لیں تو ایک عام عارضے کا پتہ چلتا ہے کہ جب بھی کوئی شخص اپنے حقیقی میدان سے نکل کر کسی دوسرے شعبے میں ٹانگ اڑاتا ہے تو پھر اس طرح کی غیر معیاری حرکات سامنے آتی ہیں۔ آج کا دور تو مکمل تخصص کا قیدی ہو گیا ہے۔ قلم کار، ہر کوئی نہیں ہو سکتا ۔ پھر ہر شخص ہر موضوع پر نہیں لکھ سکتا۔ یہ گستاخی ہو گی کہ ہم چوہدری نیاز علی خان کا اس پہلو سے جائزہ لیں۔ ان کا اور سید مودودی کا تقابل کیا جائے تو دونوں میں مشنری ہونے میں کوئی شبہہ نہیں ہو سکتا مگر فرق یہ رہا کہ مولانا آزاد منش تھے، جب کہ نیاز علی صاحب خاں، چوہدری ہونے کے ساتھ ریٹائرڈ افسر تھے۔ وہ افسری سے ریٹائر ہوئے۔ دونوں کے مزاج میں جو فرق ہوتا ہے، وہی چیز ان کے درمیان اختلاف کا باعث ہوئی۔ البتہ یہ ان کا خلوص تھا کہ دونوں نے اس فرق پر قابو پا لیا اور دوبارہ مفاہمت کے ساتھ ہم سفر ہو گئے۔

غیر متعلقہ مواد

حیات سدید میں جو غیر متعلقہ مواد شامل کیا گیا ہے، ان کی جانب کچھ مزید اشارے کر دینا ضروری خیال کرتا ہوں۔ کتاب میں مولانا امین احسن اصلاحی کا ایک مقالہ شامل کیا گیا ہے۔ کتاب میں یہ مقالہ مکمل طور پر بے جوڑ لگتا ہے۔ اصلاحی صاحب کے مقالے کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں ہو سکتا ہے، مگر اس کتاب میں اس کی کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔ ان کے طویل مضمون میں سوانح نیاز کے حوالے سے ایک جملہ بھی نہیں۔ اسی طرح کتاب میں جماعت اسلامی کی حکمت عملی پر ڈاکٹر اسرار احمد، وحیدالدین خان، ارشاد حقانی اور حیدر فاروق مودودی کی تحریریں شامل کی گئی ہیں۔ کتاب تو ’’حیات سدید‘‘ ہے، اس میں جماعت اسلامی کی حکمت عملی کیسے در آئی؟ مولانا مودودی کا علم کلام پر بھی بڑی تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ باقاعدہ دو باب باندھ کر مصنف نے اپنے رشحات فکر پیش کیے ہیں۔ اسی طرح جناب الطاف گوہر کے مضامین بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس طرح ایک سوانحی کتاب کو شخصیاتی، جماعتی اور فکری مناقشوں سے بھر دیا گیا ہے۔ اس غلط مبحث سے کتاب کی سوانحی حیثیت شدید طور پر متاثر ہوتی ہے۔ جماعت اسلامی کے بارے میں مصنف جو کچھ چاہیں کہہ اور لکھ سکتے ہیں، مگر یہ امر سمجھ سے بالا تر ہے کہ اپنے والد محترم کی سوانح لکھنے بیٹھیں تو جماعت اور مولانا مودودی کی شخصیت کو رگیدنے کا کیا منشا ہو سکتا ہے۔ ہم مشورہ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، البتہ کتاب پر لکھتے ہوئے یہ ضرور کہیں گے کہ اس کتاب میں سے کم از کم اک سو بیس صفحات نکال کر، موجودہ کتاب کو کسی حد تک، سوانحی دائرے کے اندر لانا ممکن ہو گا۔ 
جماعت پر تنقید لکھنا کوئی جرم نہیں۔ جماعت کے اندر اور باہر اسے کبھی جرم نہیں سمجھا گیا۔ میرا دعویٰ ہے کہ جماعت کے اندر اور باہر تنقید اور احتساب کی جتنی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، کسی اور جماعت میں اس کا شائبہ بھی تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ جماعت کی پوری ایک تاریخ ہے۔ میں نے تو پہلے بھی لکھا ہے کہ جماعت کی تاریخ کا اسی طرح جائزہ لیا جانا ضروری ہے جس طرح مولانا مودودی علیہ الرحمہ نے خلافت و ملوکیت میں مسلمانوں کی ہزار سال کی تاریخ کا جائزہ لیا ہے۔ یہ جماعت کی اپنی بھی ضرورت ہے۔ جماعت کو خود اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ کوئی دوسرا کرے تو اس کا خیر مقدم کیا جائے گا، مگر چوہدری نیاز علی خان کی سوانح کی آڑ میں جماعت اور مولانا پر سنگ زنی کی گنجائش مجید نظامی پیدا کر لیں تو وہ اس کے مجاز ہیں۔ کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔مجید نظامی خوش ہوں گے، مگر چوہدری نیاز علی خان کے حقیقی قدر دان بد مزگی کا شکار ہوں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ چوہدری نیاز علی خان کے چھوڑے ہوئے کام کو آگے بڑھایا جائے۔ ان کی فکر کو پھیلایا جائے۔ ان کے عمل کو زندہ رکھا جائے۔ ان کے فکری، علمی اور طبعی اثاثوں کی حفاظت کی جائے۔ ان اثاثوں کو جماعت کے تنقیدی جائزہ کے لیے بھی استعمال کیا جائے تو یہ خدمت ہو گی۔ جماعت کا ایک وسیع حلقہ جماعت کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہے۔ وہ تنقیدی جائزے سے دلچسپی رکھتا ہے۔ جماعت کے ہاں ایسے کام کو علمی سطح پر انجام دینے کا کوئی موقع نظر نہیں آتا۔ نئے حالات میں اگر چوہدری نیاز علی اور مولانا مودودی کی اولاد اس پہلو ہی سے باقاعدہ کوئی علمی اور سنجیدہ کام کرنا چاہیں تو اس کی پوری گنجائش ہو گی۔ یہ کام مولانا اور چوہدری صاحب ہی کا کام متصور ہو گا۔
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر از بر ہو 
پھر پسر قابل میراث پدر کیوں کر ہو
اس پہلو سے جنابِ خرم مراد کا فکری کام بڑا ہی قابل قدر ہے۔ ان کے الفاظ یہ ہیں:
’’ہمارے ہاں دنیا بھر کی خرابیوں اور غلطیوں پر قرار دادیں مل جائیں گی، اپنی خرابیوں اور غلطیوں پر کوئی قرار داد نہیں ملے گی۔ 
ہمارا خیال ہے کہ پبلک میں اور پبلک کے لیے کام کرنے والی جماعتوں کو پبلک کے سامنے ہی اپنااحتساب کرنا چاہیے، اپنی غلطیوں کی تاویل یا پردہ پوشی کے بجائے ان کا اعتراف کرنا چاہیے، اپنی اصلاحی تدابیر کا اعلان بھی کرنا چاہیے۔ اس سے ان کی عزت، دلوں میں مقام اور ان کے دائرہ اثر و حمایت میں کمی نہیں آئے گی بلکہ اضافہ ہو گا۔ صحت مند اور مفید روایات قائم ہوں گی۔رگوں میں نیا خون دوڑے گا اور اصلاح کے دروازے کھلیں گے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ غلبہ دین کی جد و جہد کے مختلف پہلوؤں پر جائزے، غور و خوض، نظر ثانی، تجدید یا تغیر کا عمل شروع ہو جائے گا تو نصف صدی سے زائد کی محنت سے جو پھل ہم نے جمع کیے ہیں، وہ گلنے اور ضائع جانے کے بجائے برگ و بار لائیں گے۔ قوموں اور جماعتوں کے لیے انحطاط، زوال اور بگاڑ مقدر نہیں، نہ جمود اور تعطل۔ اجتہاد و جہاد سے قوت اور شباب کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ ماشا ء اللہ ولا قوۃ الا بااللہ۔‘‘ (تحریک اسلامی اہداف، مسائل، حل صفحہ نمبر ۳۱۳)

پاکستانی دارالاسلام .....زبوں حالی

کتاب میں دارالاسلام کے پاکستانی ایڈیشن میں تازہ صورت حال کا مصنف نے بڑی بے چارگی کے انداز سے ذکر کیا ہے۔ حیات سدید کے صفحہ نمبر ۳۴۱، ۳۴۲پر مولف نہایت حسرت سے تحریر فرماتے ہیں:
’’چوہدری نیاز علی خان کی قبر دارالاسلام کی مسجد کے ایک حجرے میں بنائی گئی تھی، مگر میرے برادرِ بزرگ نے جب مسجد کی توسیع کے لیے سعودی گرانٹ قبول کی تو چوہدری صاحب کی قبر مسجد کے صحن میں گم کردی گئی کیونکہ کسی قبر کا مسجد میں ہونا سعودیوں کے لیے شاید قابل قبول نہ تھا۔ مسجد کے داخلی دروازے پر پھولوں کی دو کیاریاں بنا دی گئی ہیں اور دائیں طرف کی کیاری کے نیچے چوہدری نیاز علی خان کی قبر کو چھپا دیا گیا ہے۔ دارالسلام ٹرسٹ جوہر آباد کی دو سو ایکڑ اراضی تو میرے بھتیجے، چوہدری محمد اسلم خان کے فرزند ارجمند چوہدری محمد افضل خاں کے قبضہ میں ہے جب کہ ٹرسٹ کی عمارات جماعت اسلامی کے تصرف میں ہیں جہاں پر وہ ایک ہائی سکول چلا رہے ہیں۔ حالانکہ چوہدری محمد اسلم خان جماعت اسلامی کو پسند نہ کرتے تھے، مگر انہوں نے دارالاسلام کا قبضہ اسی جماعت کے حوالے کر دیا۔ چوہدری نیاز علی خاں تو یہ کبھی نہ چاہتے تھے کہ دارالاسلام بس ایک مدرسے کا ہو کر رہ جائے۔‘‘
چوہدری نیاز علی خاں کے ساتھ جو ان کی اپنی ہی اولاد نے کیا ہے، اس پر آدمی خون کے آنسو نہ روئے تو کیا کرے؟ یہی احوال ’’قرآن سوسائٹی‘‘ کا بھی ہے جو چوہدری صاحب نے اپنا وسیع اثر و رسوخ استعمال کر کے بنائی تھی اور حکومت پنجاب نے اس کے لیے آٹھ مربع اراضی جوہر آباد میں وقف کی تھی۔ اس سوسائٹی کے کئی نامور جج صاحبان ٹرسٹیز تھے۔ چوہدری صاحب کی وفات کے بعد اس کا بھی کوئی پرسان حال نہیں اور زمین کی آمدن کو کوئی بڑی سہولت کے ساتھ خرد برد کر رہا ہے۔ میں اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کو درخواست کروں گا کہ وہ اس واردات کا نوٹس suo moto لیں۔‘‘
چوہدری نیاز کی اولاد نے اپنے عظیم باپ اور ٹرسٹ کے اثاثوں کے ساتھ جو کچھ کیا، اس کے بارے میں ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ مولف کے تمام گلے شکوے اپنے تایا اور تایا زاد سے ہیں، لیکن وہ خود بھی اپنے طرز عمل پر ذرا غور تو کریں۔ وہ خود اگر اس ٹرسٹ میں ٹرسٹی نہ بھی ہوں تو بھی دس بیس روپے کے کنٹری بیوٹر تو ہوں گے۔ اس طرح وہ موجودہ کتاب تالیف کرنے سے پہلے حساب فہمید کا دعویٰ کر سکتے تھے۔ اس کے لیے ان کو صرف ایڈووکیٹ جنرل کی اجازت کی ضرورت تھی۔ یہ اجازت ان کو معمولی کوشش سے مل جاتی۔ اس کے لیے کسی لمبے چوڑے اثر رسوخ کے استعمال کی بھی ضرورت نہ پڑتی۔ در اصل مصنف اپنی اس بے بسی کا غصہ دوسروں پر اتارنے کے درپئے معلوم ہوتے ہیں۔ اس غرض کے لیے اس کتاب کو اپنے عظیم والد کی شخصیت اور خدمات تک محدود رکھنے کے بجائے لا یعنی مباحث میں الجھ گئے ہیں۔ وہ اپنے والد کے نظریاتی اور دیگر اثاثوں کے تحفظ کی اپنے میں شاید صلاحیت محسوس نہیں کرتے۔ 
کتاب کو مرتب کرتے ہوئے اسے بڑی ضخامت دینے کے لیے اپنے پر کار قلم سے خوب کام لیا ہے۔ آئیے ہم اب ان مباحث کی طرف بھی کچھ توجہ دیں۔ 
کتاب کے مولف جناب کے ایم اعظم لکھتے ہیں کہ ان کے والد (جناب چوہدری نیاز علی خان) مولانا مودودی کو دارالاسلام لے کر آئے۔ مولانا مودودی ان کے والد کے پر خلوص دعوت پر حیدرآباد دکن اور دہلی میں اپنے جملہ اثاثہ جات اور کاروبار ترک کر کے آئے۔ ماہنامہ ترجمان القرآن کی اشاعت بھی حیدرآباد سے دارالاسلام منتقل ہوگئی (تو گویا مولانا اپنی ساری کشتیاں جلا کر آئے تھے)۔ ابتدا ہی میں دونوں پر واضح ہو گیا کہ ان کے ایجنڈے مختلف ہیں، لہٰذا مولانا لاہور چلے گئے۔ اس کے باوجود چوہدری نیاز نے مولانا کا پیچھا نہ چھوڑا اور ان کو جلد ہی واپس لے آئے جہاں تقسیم ہند تک دونوں اکٹھے رہے۔ مولف نے خود بھی لکھا کہ ان کے والد نے اس پر کچھ کہنے سے ہمیشہ گریز کیا۔ مولانا مودودی نے بھی اپنی عادت کے مطابق انتہائی شائستہ خاموشی اختیار کی۔ مسئلہ یہ ہے کہ دونوں بزرگوں کے اس پر وقار طرزعمل کے اعتراف اور اظہار کے بعد مولف نے کیا کیا؟ یہ کتاب کا چونکا دینے والا پہلو ہے۔ جماعت اور مولانا مودودی پر تنقید جرم ہے اور نہ ہی میں نے کبھی اس سے پرہیز کی ہے۔ البتہ جناب کے ایم اعظم صاحب نے جناب مجید نظامی کی تھپکی کے ساتھ، اپنے والد محترم کی شخصیت و خدمات اور سوانح پیش کرتے ہوئے، زیر ترتیب کتاب سے تجاوز کی روش اختیار کی ہے، اسے چیک کرنا ہمارے پیش نظر ہے۔ 
بنیادی سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ مولانا مودودی کو دارالاسلام پٹھانکوٹ منتقلی کی دعوت علامہ اقبال کی تجویز تھی یا چوہدری نیاز علی کی۔ مولانا مودودی اور اقبال کے ما بین قرب کس سطح کا تھا۔ کیا ان کی باہم ملاقات اور مراسلت کا کوئی وجود ہے یا یہ محض پروپیگنڈا ہے۔ ہمارے نزدیک اس بارے میں معتبر ترین شہادت جناب نیاز علی خان اور اقبال کی ہو سکتی ہے۔ ہم سب سے زیادہ اہم اسی کو سمجھیں گے۔ اس قصے میں جناب غلام احمد پرویز نے جو نئی کہانی پیش کرنے کی کوشش کی ہے اسے نظر انداز کرنے کے بارے میں اپنا نقطہ نظر شروع میں دے چکے ہیں۔ 
جناب نیاز علی خان، مولا نا مودودی اور سید نذیر نیازی کے خطوط سے یہ امر ثابت ہے کہ مولا نا مودودی کی علامہ اقبال سے ملاقات بہر حال موعودہ تھی۔ حیات سدید کے صفحہ نمبر ۵۲۱ پر نیاز علی خان کے مولانا مودودی کے نام خط نمبر ۲۱ مورخہ ۱۸۔ جولائی ۱۹۳۷ء میں یہ لکھا ہے کہ 
’’پھر علامہ اقبال سے مل کر آپ کی پوری اسکیم ان سے بیان کی جائے گی۔ وہ اس کی سرپرستی کے لئے بالکل آمادہ ہیں۔‘ ‘
اسی طرح صفحہ نمبر ۵۲۷ پر درج نیاز علی خان کے خط نمبر ۲۶ میں یہ الفاظ موجود ہیں :
’’ہم دونوں ۱۰۔اکتوبر کو صبح کی گاڑی سے دہلی پہنچ جائیں گے۔ مجلس سے فارغ ہوتے ہی آپ کو ہمارے ساتھ جمال پور تشریف لانا ہو گا۔ اس جگہ اسد صاحب اور مولانا قرشی صاحب کو بلا لیا جائے گا۔ یہاں سے فارغ ہو کر سب لاہور سر محمد اقبال صاحب کی خدمت میں چلیں گے۔ ‘‘ 
مولانا مودودی کے نام سید نذیر نیازی کا مشہور و معروف مکتوب مورخہ ۱۸۔ اپریل ۱۹۳۸ء درج ذیل ہے:
’’مکرمی۔ السلام علیکم۔
امید ہے آپ بفضلہ تعالی خیر و عافیت سے ہوں گے۔ کچھ دن ہوئے سید محمد شاہ صاحب سے معلوم ہوا تھا کہ آپ جمال پور تشریف لے آئے ہیں اور عنقریب لاہور بھی آئیں گے۔ اس وقت سے برابر آپ کا انتظار ہے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ اگر آپ کا ارادہ فی الواقعہ لاہور آنے کا ہے تو جلدی تشریف لائیے تاکہ ملاقات ہو جائے۔ اپنی طرف سے یہ گزارش ہے کہ ڈاکٹر صاحب قبلہ کی حالت نہایت اندیش ناک ہے۔ ایک لمحے کا بھی بھروسہ نہیں مگر اس بات کو صرف اپنی ذات تک محدود رکھئیے گا۔ کسی سے ذکر نہ کیجئیے گا۔ لہذابہتر یہی ہو گا کہ آپ جس قدر ہو سکے جلدی تشریف لے آئیں۔ ڈاکٹر صاحب کی صحت کے لئے دعا فرمائیے ۔ ‘‘
اس کے علاوہ سید نذیر نیازی اپنی کتاب مجلس اقبال اوراق گم شدہ کے صفحہ نمبر ۸۵۔۸۶ پر روایت کرتے ہیں:
’’چوہدری نیاز علی خان جاوید منزل میو روڈ لاہور تشریف لائے اور ان کے ہمراہ علامہ محمد اسد بھی تھے۔ چوہدری صاحب نے حضرت علامہ کی مزاج پرسی کے بعد عرض کیا کہ انہوں نے جمال پور میں ایک وقف ’’دارالاسلام ‘‘کے نام سے قائم کیا ہے تاکہ وہاں مسلمانوں کی اصلاح و تربیت اور دینی تعلیم کا انتظام کیا جائے۔ ان کی خواہش تھی کہ حضرت علامہ اس کام میں ان کی رہنمائی فرمائیں اور جیسا ان کا مشورہ ہو، اس کے مطابق بعض علمائے دین کو دارالاسلام آنے کی دعوت دی جائے۔ حضرت علامہ نے کہا، سر دست ایک نام میرے ذہن میں آتا ہے۔ حیدرآباد دکن سے ’’ترجمان القرآن ‘‘ نام سے ایک بڑا اچھا رسالہ نکل رہا ہے۔ مودودی صاحب اس کے ایڈیٹر ہیں۔ میں نے ان کے مضامین پڑھے ہیں۔ دین کے ساتھ ساتھ وہ مسائل حاضرہ پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ ان کی کتاب ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ مجھے بہت پسند آئی ہے۔ آپ کیوں نہ انہیں دارالاسلام آنے کی دعوت دیں، میرا خیال ہے کہ وہ دعوت قبول کر لیں گے۔‘‘
یہاں ہم حیات سدید کے مصنف کے والد محترم جناب چوہدری نیاز علی خان کے ایک مضمون کا حوالہ بھی دینا چاہیں گے۔ یہ مضمون دارالاسلام سے شائع ہونے والے جریدہ جس کانام بھی دارالاسلام ہی تھا اس کے ستمبر ۱۹۳۹ء کے شمارے میں چوہدری صاحب کے حوالے سے تحریر ہے:
’’اس دوران میں مجھے مولانا سید ابوالاعلی مودودی کے ساتھ اس ادارے کے متعلق خط و کتابت کا موقع ملا اور حضرت علامہ کی نظر جوہر شناس بھی سید صاحب پر جا پڑی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ حیدرآباد سے یہاں کا موقع و محل دیکھنے آئے اور حضرت علامہ کی خدمت میں حاضر ہو کر تین صحبتوں میں ان سے مفصل گفتگو کرنے کے بعد اس ادارے میں جس کا نام خود انہوں نے دارالاسلام تجویز کیا‘ نقل مکانی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔‘‘
ان حوالوں کے علاوہ جناب غلام احمد پرویز کے ہمدم دیرینہ جناب شیخ سراج الحق کا ایک خط حیات سدید کے صفحہ ۱۹۱ پر درج دیا گیا ہے۔ صفحہ نمبر ۱۹۲۔۱۹۳ پر خط مورخہ ۴؍جولائی ۱۹۷۶ء میں یہ درج ذیل تفصیل موجود ہے:
’’علامہ اقبال نے دارالاسلام کا ایک تصور پیش کیا تھا اور خان صاحب چوہدری نیاز علی خان مرحوم نے اس تصور کوعملی شکل دینے کے لیے اپنی جائداد کا ایک معتد بہ حصہ وقف کر دیا تھا۔علامہ اقبال کا ارادہ خود وہاں منتقل ہوجانے کا تھا، لیکن بد قسمتی سے وہ شدید بیمار ہو گئے۔ اس پر یہ طے پایا کہ سر دست وہاں کسی مناسب شخص کو بلا لیا جائے جو دارالاسلام کے ابتدائی مراحل طے کرنے میں مدد دے۔ دیگر ممالک سے سکالرز بلانے کے لیے بھی علامہ اقبال کی طرف سے خط و کتابت ہو رہی تھی۔ پہلے تجویز ہوا کہ خود پریز صاحب ملازمت چھوڑ کر دارالاسلام منتقل ہو جائیں، لیکن قائد اعظم اس سے متفق نہ ہوئے کہ چوہدری صاحب ملازمت چھوڑ دیں۔ وہ چاہتے تھے کہ چوہدری صاحب دہلی میں ان کے قریب رہیں۔ چنانچہ اس پر طے پایا کہ دارالاسلام کے لیے مودودی صاحب کو بلا لیا جائے۔ چوہدری نیاز علی صاحب نے اس تجویزسے اتفاق کیا اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، نیاز علی خان صاحب مرحوم نے علامہ اقبال کی اجازت سے مودودی صاحب کو دعوت نامہ بھیجا تھا۔ ‘‘
مولانا مودودی سے علامہ کی ایک ملاقات کی گفتگو کا کچھ حصہ، ہارون رشید نے اس طور پر نقل کیا ہے:
’’لاہور میں وہ اقبال سے ملے اور دارالاسلام کے منصوبے پر اتفاق رائے ہو چکا تو ان سے (مولانا مودودی نے) عرض کیا: ’’میری ایک بات مان لیجیے، سر کا خطاب واپس کر دیجیے کہ یہ آپ کو جچتا نہیں۔ ‘‘بعد میں ایک ذاتی دوست کو ابوالاعلیٰ نے بتایا کہ یہ بات سن کر اقبال کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ سید کو ملال ہو اکہ انہوں نے اقبال کو رنجیدہ کر دیا ہے۔‘‘ (ترجمان القرآن اشاعت خاص، مئی ۲۰۰۴ء صفحہ نمبر ۱۲۸)
ان کثیر، معتبر اور ٹھوس شواہد کی بنا پر یہ تو آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ واضح ہے کہ ہر جانب سے مایوسی کے بعد، مولانا مودودی کو آخر کار دارالاسلام آنے کی تجویز علامہ اقبال کی تھی۔ چوہدری نیاز علی خان نے اس تجویز سے اتفاق کے بعد اسے بروئے کار لانے کے لیے موثر طور پر pursue کیا۔ علامہ اقبال اور مولانا مودودی کے مابین مراسلت اور ملاقات بھی ثابت شدہ معلوم ہوتی ہے۔ علامہ اقبال کے مولانا کے نام خطوط تو ہجرت کے دوران محفوظ نہ رہ سکے مگر مولانا کے علامہ کے نام چار خطوط سید نذیر نیازی سے مہیا ہوئے اور ان کو وثائق مودودی میں محفوظ کیا گیا ہے۔ بطور ثبوت ان خطوط کو آخر پر شامل کیا جاتا ہے۔ یہ امر بھی انتہائی اہم ہے کہ مولانا مودودی کے سوا کوئی اس کارِ خیر کے لیے نقل مکانی کے لیے آمادہ نہ ہوا۔ حیات سدید کا سب سے اہم پہلو یہی تھا، مگر مصنف نے اسے کوئی اہمیت ہی نہیں دی بلکہ اس کی پوری بے قدری فرمائی۔ 
(جاری)

شاتم رسول کی توبہ کا شرعی حکم

امام تقی الدین السبکی الشافعیؒ

(۹ ویں صدی ہجری کے ممتاز شافعی فقیہ اور مجتہد علامہ تقی الدین السبکیؒ نے اپنی معروف تصنیف ’’السیف المسلول علیٰ شاتم الرسول‘‘ کی ایک مستقل فصل میں اس مسئلے پر مفصل کلام کیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو تو ا س کی توبہ قبول کی جائے گی یا نہیں۔ امام صاحب نے ایسے شخص کی توبہ قبول کرنے کے حق میں قرآن وسنت سے مثبت طور پر بھی دلائل پیش کیے ہیں اور اس ضمن میں پیش کیے جانے والے اشکالات کا بھی عالمانہ تجزیہ کیا ہے۔ توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے جاری مباحثہ کے تناظر میں، یہاں امام سبکی کی اس بحث کے بعض اہم اور نسبتاً عام فہم اجزا کی تلخیص پیش کی جا رہی ہے۔ عمار ناصر)

توبہ کی قبولیت کے حق میں دلائل

ایسے شخص کی توبہ کو قبول کرنے کے حق میں ہمارے دلائل حسب ذیل ہیں:
۱۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
قُل لِلَّذِیْنَ کَفَرُواْ إِن یَنتَہُواْ یُغَفَرْ لَہُم مَّا قَدْ سَلَفَ وَإِنْ یَعُودُواْ فَقَدْ مَضَتْ سُنَّۃُ الأَوَّلِیْنِ (الانفال: ۳۸)
’’کافروں سے کہہ دو کہ اگر وہ باز آ جائیں گے تو ان کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور اگر دوبارہ یہ راستہ اختیار کریں گے تو ان سے پہلے ایسے لوگوں کا انجام گزر چکا ہے۔‘‘
نیز ارشاد ہے:
قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَۃِ اللّٰہِ، إِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیْعاً، إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیْمُ (الزمر: ۵۳)
’’کہہ دو کہ اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہو، اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو۔ اللہ سب گناہوں کو معاف کر دینے والا ہے۔ بے شک وہ بخش دینے والا، بے حد مہربان ہے۔‘‘
نیز فرمایا:
أُوْلَئَکَ جَزَآؤُہُمْ أَنَّ عَلَیْْہِمْ لَعْنَۃَ اللّٰہِ وَالْمَلآئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ، خَالِدِیْنَ فِیْہَا، لاَ یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَلاَ ہُمْ یُنظَرُونَ، إِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُواْ مِن بَعْدِ ذَلِکَ وَأَصْلَحُواْ فَإِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (آل عمران: ۸۷۔۸۹)
’’ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر اللہ اور فرشتوں اور لوگوں، سب کی لعنت ہے۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ ان سے عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی۔ ہاں، جو لوگ اس کے بعد توبہ کر کے اصلاح کر لیں تو بے شک اللہ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘
یہ آیات مرتد کی توبہ قبول کرنے کے معاملے میں نص ہیں اور سب وشتم کی وجہ سے مرتد قرار پانے والا بھی ان کے عموم میں داخل ہے۔
۲۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
فَإِن یَتُوبُوا یَکُ خَیْْراً لَّہُمْ وَإِن یَتَوَلَّوْا یُعَذِّبْہُمُ اللّٰہُ عَذَاباً أَلِیْماً فِیْ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ وَمَا لَہُمْ فِیْ الأَرْضِ مِن وَلِیٍّ وَلاَ نَصِیْرٍ (التوبہ: ۷۴)
’’اب اگر یہ توبہ کر لیں تو یہ ان کے لیے بہتر ہوگا اور اگر واپس پلٹ جائیں تو اللہ انھیں دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب دے گا اور زمین میں انھیں نہ کوئی دوست میسر ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔‘‘
یہ آیت رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے غزوۂ تبوک کے موقع پر اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ ’’ہماری اور محمد کی مثال (نعوذ باللہ) وہی ہے جو اس مقولے میں بیان کی گئی ہے کہ اپنے کتے کو کھلا پلا کر موٹا کرو تاکہ وہ تمھیں ہی کھا جائے۔ اگر ہم مدینہ واپس پہنچے تو ہم میں سے عزت والا ذلیل کو وہاں سے نکال دے گا۔‘‘ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے ان منافقین کے بارے میں آیت یہ کہہ رہی ہے کہ اگر وہ توبہ کر لیں تو ان کے لیے بہتر ہے، ورنہ انھیں دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب دیا جائے گا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے لوگوں کی توبہ قابل قبول ہے اور اس کی وجہ سے ان سے دنیا اور آخرت کی سزا ٹال دی جائے گی۔
۳۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ :
’’الاسلام یجب ما کان قبلہ‘‘۔ 
’’اسلام ان گناہوں کو ختم کر دیتا ہے جو اس سے پہلے کیے گئے ہوں۔‘‘
یہ بات آپ نے ہبار بن الاسود بن عبد المطلب کے بارے میں فرمائی تھی۔ آپ نے اس کے بارے میں قتل کا حکم دے رکھا تھا، لیکن اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کلمہ پڑھا اور کہا کہ میں آپ کو برا بھلا کہنے اور ایذا دینے میں حد سے تجاوز کر گیا تھا، لیکن آپ مجھ سے درگزر فرمائیے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’قد عفوت عنک والاسلام یجب ما کان قبلہ‘‘۔ (میں نے تمھیں معاف کر دیا اور اسلام اپنے سے پہلے کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے)۔ اس ارشاد کی رو سے قبول اسلام کے بعد آدمی کا وہ جرم بھی معاف ہو جائے گا جس کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق سے ہو، کیونکہ آپ نے خود ایسے شخص کے قبول اسلام کے بعد اپنے حق کو معاف کر دیا ہے۔ گویا آپ کے اس ارشاد کی یوں تعبیر کی جا سکتی ہے کہ ’’جو شخص اسلام قبول کر لے، میں نے اسے معاف کر دیا۔‘‘ 
۴۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
لا یحل دم امرئ یشہد ان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ الا باحدی ثلاث: الثیب الزانی والنفس بالنفس والتارک لدینہ المفارق للجماعۃ۔
’’جو شخص لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی گواہی دیتا ہو، اس کو تین صورتوں کے علاوہ قتل کرنا جائز نہیں۔ ایک شادی شدہ زانی، دوسرا جسے قصاص میں قتل کیا جائے اور تیسرا وہ جو دین کو چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جائے۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ جرائم کے علاوہ کسی کو قتل کرنا جائز نہیں اور چونکہ گستاخی کا مرتکب دوبارہ اسلام قبول کر لینے کے بعد اس زمرے میں نہیں آتا، اس لیے اس کو قتل کرنا بھی جائز نہیں۔ 
۵۔ سب وشتم کے بعد توبہ کرنے والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہے اور معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک مخصوص دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھا ہے۔ اب اگر یہ مانا جائے کہ (سب وشتم کے بعد توبہ کر کے) حالت اسلام میں مرنے والے کے ذمے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حق باقی ہے، کیونکہ دنیا میں اسے اس کی سزا نہیں دی گئی، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسے شخص کو جب تک آپ خود قیامت کے دن معاف نہیں کریں گے، وہ جنت میں نہیں جا سکے گا۔ حالانکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس صورت حال پر کبھی خوش نہیں ہو سکتے کہ آپ کی امت کے کسی فرد کے جنت میں جانے میں کسی دوسرے آدمی کے حق کی وجہ سے، چہ جائیکہ خود آپ کے حق کی وجہ سے، تاخیر ہو جائے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ اپنے بعد اپنی امت کے ایسے تمام افراد پر اپنے حق کے تحت لازم ہونے والی سزا کو آپ معاف فرما چکے ہیں)۔
مزید برآں اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرنے والے پر قیاس کا تقاضا بھی یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ کی توبہ قبول کی جائے، کیونکہ اللہ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے بارے میں امام مالک کا مشہور مذہب بھی یہی ہے کہ اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور قتل کی سزا اس سے ساقط ہو جائے گی۔

توبہ کی قبولیت پر اشکال کا جواب

یہ اشکال پیش کیا جا سکتا ہے کہ سب وشتم حق اللہ نہیں، بلکہ حق العبد ہے اور حق العبد توبہ سے معاف نہیں ہوتا، بلکہ صاحب حق کے معاف کرنے سے معاف ہوتا ہے۔ اب چونکہ آپ خود موجود نہیں جبکہ کسی دوسرے کو آپ کا یہ حق معاف کرنے کا اختیار نہیں تو آپ کا حق کیسے ساقط ہو سکتا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ درست ہے کہ یہ حق العبد ہے، لیکن ہمیں معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رافت ورحمت اور شفقت کی وجہ سے اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے۔ ہاں اگر اللہ کی قائم کردہ حرمتیں پامال کی جاتیں تو آپ ان کا انتقال لیتے تھے۔ سب وشتم کا ارتکاب کرنے والا اللہ کے نبیوں کو برا بھلا کہہ کر دراصل اللہ کی حرمت کو پامال کرتا ہے، اس لیے اگر وہ سب وشتم کے بعد اپنے کفر پر قائم رہے تو اس پر قتل کی سزا لازم ہوگی، لیکن توبہ کر کے اسلام قبول کر لینے کی صورت میں حق اللہ اس سے ساقط ہو جائے گا۔ جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کا تعلق ہے تو جب آپ نے خود اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیا تو آپ کی وفات کے بعد کیسے آپ کی ذات کے لیے انتقام لیا جا سکتا ہے؟ دراصل اس معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حق کو حق اللہ کے تابع کر دیا ہے، اس لیے جب اصل یعنی حق اللہ ساقط ہوگا تو اس کے تحت حق العبد بھی ساقط ہو جائے گا۔
اس پر اتفاق ہے کہ حق اللہ کے طو رپر شاتم رسول کو قتل کرنا لازم نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے معاف کرنے کا حق تھا، اسی لیے آپ نے ابو سفیان، عبد اللہ بن ابی سرح اور دوسرے بہت سے ایسے افراد کو معاف کیا اور اسلام قبول کرنے کے بعد کسی کو قتل نہیں کیا۔ اگر شاتم رسول کو حق اللہ کے طور پر قتل کرنا لازم ہوتا تو آپ ان لوگوں کے قبول اسلام کے بعد بھی اس کو ترک نہ کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے شخص کو قتل کرنا دراصل حق اللہ کے طو رپر تھا، کیونکہ اپنی ذات کے لیے تو آپ انتقام لیتے ہی نہیں تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عالی ظرفی سے یہ معلوم ہو گیا کہ آپ اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیتے تھے اور امت پر ان کی اپنی جانوں سے بھی بڑھ کر رحم کرنے والے تھے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اپنے گستاخ کو معاف کرنے پر راضی ہیں، چنانچہ شاتم رسول کے دوبارہ اسلام قبول کرنے کی صورت میں اگر اسے معاف کیا جائے تو اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا شامل ہوگی۔
اصل یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ایک ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (اپنی کسی گستاخانہ بات سے) غصہ دلائے، آپ کو اسے قتل کرنے کا اختیار تھا۔ اب یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک آپ کی ناراضی برقرار ہو۔ جب آپ (توبہ کی وجہ سے) اس شخص سے راضی ہو گئے تو قتل کا حکم بھی خود بخود زائل ہو گیا۔ گویا قتل کا مدار سب وشتم پر نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی پر ہے۔ جہاں آپ کی ناراضی موجود ہوگی، وہاں قتل کرنا جائز ہوگا اور جہاں ناراضی ختم ہو جائے گی، وہاں قتل کی سزا بھی باقی نہیں رہے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ کو راضی کیا جاتا تو آپ راضی ہو جاتے تھے۔ جب آپ کو سب وشتم کرنے والا دوبارہ اسلام کی طرف لوٹ آنے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کا مورد نہیں رہتا تو اسے کیسے قتل کیا جا سکتا ہے؟
یہ اشکال بھی پیش کیا جاتا ہے کہ حدیث میں ہے کہ ’’من سب نبیا فاقتلوہ‘‘۔ (جو شخص کسی نبی کو برا بھلا کہے، اس کو قتل کر دو)۔ یہ ارشاد ایسے شخص کے مستوجب قتل ہونے کے لیے کافی ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’من بدل دینہ فاقتلوہ‘‘۔ (جو شخص اپنا دین بدل لے، اس کو قتل کر دو) ظاہر ہے کہ اس سے یہ استدلال درست نہیں کہ مرتد کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ اسی طرح ’’من سب نبیا فاقتلوہ‘‘ کو بھی توبہ کے قابل قبول نہ ہونے کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔
حاصل کلام یہ ہے کہ سب وشتم کا مرتکب کی توبہ میں اگر ایسے قرائن پائے جائیں جو شک وشبہے کا موجب ہوں اور وہ خبث باطن سے متہم ہو تو ایسے شخص کی توبہ قبول کرنے کے بارے میں تو اختلاف کی گنجائش ہے، لیکن قوی بات یہی ہے کہ اس کے اسلام کو قبول کر لیا جائے او ر قتل کی سزا ٹال دی جائے، جبکہ اگر توبہ کرنے والے کی حسن نیت کے آثار اور قرائن ظاہر ہوں تو میرے نزدیک اس کی توبہ کو قبول کرنا اور اس سے قتل کی سزا کو ٹال دینا قطعی طور پر لازم ہے۔ ایسے شخص کو قتل کرنے پر اصرار کرنا ایسا جمود ہے جس کی بنیاد کسی صریح، واضح اور قوی دلیل پر نہیں، بلکہ مجھے خدشہ ہے کہ اگر اسے قتل کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن سب سے پہلے اسی کے بارے میں باز پرس فرمائیں گے۔

شاتم رسول کی توبہ ۔ سعودیہ کے سابق مفتی اعظم الشیخ عبد العزیز بن بازؒ کا فتویٰ

ادارہ

فاذا کان من سب الرب سبحانہ او سب الدین ینتسب للاسلام فانہ یکون مرتدا بذلک عن الاسلام ویکون کافرا یستتاب فان تاب والا قتل من جہۃ ولی امر البلد بواسطۃ المحکمۃ الشرعیۃ وقال بعض اہل العلم انہ لا یستتاب بل یقتل لان جریمتہ عظیمۃ ولکن الارجح ان یستتاب لعل اللہ تعالی یمن علیہ بالہدایۃ فیلزم الحق ولکن ینبغی ان یعزر بالجلد والسجن حتی لا یعود لمثل ہذہ الجریمۃ العظیمۃ وہکذا لو سب القرآن او سب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم او غیرہ من الانبیاء فانہ یستتاب فان تاب والا قتل 
(http://www.binbaz.org.sa/mat/354)
’’ذات باری یا دین کو برا بھلا کہنے والا اگر مسلمان ہو تو ایسا کرنے سے وہ اسلام سے مرتد اور کافر قرار پائے گا اور اسے توبہ کے لیے کہا جائے گا۔ اگر توبہ کر لے تو درست، ورنہ حاکم شہر شرعی عدالت کی وساطت سے اس پر قتل کی سزا نافذ کر دے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ایسے شخص کو توبہ کے لیے نہ کہا جائے بلکہ قتل کر دیا جائے، کیونکہ اس کا جرم بہت سنگین ہے، لیکن راجح بات یہی ہے کہ اسے توبہ کے لیے کہا جائے گا۔ ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے سرفراز فرمائیں اور وہ حق پر پختگی سے قائم ہو جائے، البتہ اسے کوڑوں اور قیدکی صورت میں تعزیری سزا دی جانی چاہیے تاکہ وہ آئندہ کبھی اس جرم عظیم کا ارتکاب نہ کرے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص قرآن مجید یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی دوسرے نبی کی شان میں گستاخی کرے تو اسے توبہ کے لیے کہا جائے گا۔ اگر توبہ کر لے تو درست، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے۔‘‘

مشہورات کو مسلمات بنانے سے اجتناب کی ضرورت

مولانا محمد عبد اللہ شارق

میرے خیال میں اب وہ وقت آگیا ہے کہ میرے ایسے طالبِ علم کو توہین رسالت کی سزا پر جاری مباحثہ کے ضمن میں کچھ عرض کرتے ہوئے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے جناب مولانا زاہدالرشدی صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے بہت طویل انتظارکے بعد ہی سہی، بہرحال اِس نازک اور حساس مسئلہ میں خاموشی پر اظہار کو ترجیح دی، بغیر کسی لگی لپٹی کے حنفی نکتۂ نظر کو وضاحت سے بیان کیا اور کسی کے طعن وملامت کی پروا کیے بغیر پڑھنے لکھنے والے بچوں کے اس کرب کا مداواکیا جو اِ س مسئلہ کی بابت پیدا ہونے والے سنجیدہ ابہامات اور ان پربڑوں کی لامتناہی خاموشی کو دیکھ کر مسلسل بڑھتا جا رہا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس جرا تِ اظہار کی امید مولاناکی شخصیت سے ہی تھی جسے انہوں نے اپنے مخصوص طرزِمتانت اور اعتدال کے ساتھ خوب نبھایا۔
اِس مسئلے کے حوالہ سے میرے ایسے نو آموزوں کا کرب یہ نہیں تھا کہ ہمارے ہاں اس مسئلہ میں فقہِ حنفی کے نکتۂ نظر کونظر انداز کیا جارہا ہے یا امام ابوحنیفہ ؒ کے مقلدین اِ س مسئلہ میں ان کی تقلید سے انحراف کررہے ہیں یا پھر زیادہ قابل قبول لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ اِ س مسئلہ کے اندر حنفی نکتۂ نظر کی تشریح اور ترجمانی کرتے ہوئے علامہ ابن عابدین شامی نے جو موقف اختیار کیا ہے، اس سے اختلاف کیا جار ہا ہے۔ نہیں، ہماری نظر میں یہ قطعاً کوئی تشویش اور اضطراب کی بات نہیں۔ علامہ شامی کی حیثیت فقہِ حنفی کے ایک محقق اور شارح کی ہے۔ اگر ہمارے ہاں اکثر وبیشتر مسائل میں ان کی تحقیق اور ترجیح پر اعتماد کیا جاتا ہے تو ضروری نہیں کہ سب مسائل میں ان ہی کی رائے کو حرفِ آخر قرار دیا جائے۔ فتاویٰ شامی کے کتنے ہی مندرجات ایسے ہیں جن سے ہمارے ہاں کے جمہور علما اختلاف کرتے ہیں۔ اگر ان میں ایک مسئلہ توہین رسالت کی سزا کا بھی ہے تو اس میں کیا حرج ہے؟ ہرمسئلہ میں علامہ شامی کی تحقیق پر ہی عمل کرنا یقیناکوئی شرعی فریضہ نہیں۔ پھر اس مسئلہ کے اندر حنفی نکتۂ نظر کی تشریح وتعبیر کے ضمن میں بعض دیگر ایسے معتبرنام بھی موجود ہیں جن کی تحقیق علامہ شامی کی رائے کے برخلاف ہے اور انہوں نے امام ابوحنیفہ کی طرف وہ موقف منسو ب کیا ہے جس کے قائل پاکستان کے جمہور اہل علم ہیں۔ ان میں سے بہت سے حضرات کے اسماے گرامی علامہ خلیل الرحمن قادری نے اپنے مضمون (مطبوعہ : محدث؍ شمارہ اگست ۲۰۱۱ء) میں بڑی جانفشانی سے ضبط کردیے ہیں۔ اگر ہمارے جمہور علما اس مسئلہ کی حنفی تنقیح میں علامہ شامی کی ترجمانی کی بجائے دیگر علما کی تحقیق کو ترجیح دیتے ہیں تو یہ کوئی پریشان کن صورتِ حال نہیں۔
نیز فرض کیجیے کہ اگر دلائل کو پر کھنے کے بعد یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ اِ س مسئلہ کی حنفی تنقیح کا حق علامہ شامی نے ادا کیا ہے اور امام ابوحنیفہ کا اصل نکتۂ نظر وہی ہے جو علامہ شامی نے بڑی عرق ریزی اور شرح وبسط کے ساتھ بیان کردیا ہے تو بھی کوئی ضروری نہیں کہ ہمارے اہلِ علم کو اس مسئلہ میں کوئی مختلف نکتۂ نظراختیار کرنے کا حق حاصل نہ ہو۔ اصحابِ فتویٰ (جو حقیقتاً اصحابِ فتویٰ ہیں) اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم کتنے ہی مسائل میں بہت سی حکمتوں اور مصلحتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اما م کی بجائے صاحبین اور بعض مسائل میں یکسر کسی دوسری فقہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ قرآنِ مجید کی تعلیم پر اجرت لینے اور لاپتہ خاوند کی بیوی کے مدتِ انتظار سمیت کئی مسائل کی ایک فہرست ہے جو مرتب کی جاسکتی ہے ۔ ان مسائل میں فقہ حنفی کے ائمہ کی بجائے ہمارے علما کسی اور فقہ کے قول کو اختیار کرتے ہیں ۔ اگر مسئلہ ’’توہین رسالت کی سزا‘‘ کے ضمن میں بھی پاکستان کے حنفی علما اپنے امام کی بجائے کسی دوسری رائے کوترجیح دیں تو یہ کوئی انوکھی اور اپنی نوعیت کی منفردمثال نہیں اور نہ ہی اس پر ہمیں سر پکڑ کر بیٹھ جانے کی ضرورت ہے۔
ہمارے درد اور کرب کا سلسلہ تب شروع ہوا جب ’’تحریک ناموسِ رسالت ‘‘ کے بھر پور حرارت کے دنوں میں ’’توہین رسالت کی شرعی سزا‘‘ کے حوالہ سے مذہبی رسائل وجرائد کے اندر قطار اندر قطار مضامین لگنا شروع ہوئے اور ان کے اندر پاکستان کے جمہور علما کے موقف کو علامہ شامی کی طرف منسوب کیا جانے لگا۔ نہ صرف یہی ، بلکہ علامہ شامی مرحوم کے اِ س مسئلہ پر تحریر کیے گئے مستقل اور منفرد رسالہ ’’تنبیہ الولاۃ والحکام‘‘ اور فتاویٰ شامی کے ’’جلد نمبر‘‘ اور’’ صفحہ نمبر‘‘ کا حوالہ دے دے کر متواتر یہ دعویٰ دہرایا جاتا رہا کہ توہین رسالت کا مرتکب واجب القتل اور ناقابل معافی ہے اور اس کی کسی ذیلی صورت اور کسی فرع میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ناطقہ سربگریباں کہ اسے کیا کہیے! فقہِ حنفی کا طالبِ علم جب تحقیق کے نام پر ڈھائے گئے اس ’’ظلم‘‘ کو دیکھتا تو سمجھ نہ پاتا کہ اِسے علمی افلاس کہنا چاہیے یا علمی خیانت؟
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر مسلمان کے ایمان کا جزو ہے جبکہ اِس خطہ کے مسلمانوں میں اِس حوالہ سے خصوصی طور پر بہت زیادہ حساسیت پائی جاتی ہے۔ اس حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں ’’قانون توہین رسالت‘‘ جیسا کوئی قانون ہی مطلوب تھاجس میں لاقانونیت کا دروازہ بند کرنے کے لیے توہین رسالت کے جرم کی انتہائی سے انتہائی سزا مقرر کی گئی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شعوری کارکن کی حیثیت سے پورے خلوص کے ساتھ ، میں خود ذاتی طور پر تحریکِ ناموسِ رسالت کے مختلف اجتماعات میں شریک ہوتا رہا جس کا ایجنڈا ’’قانون توہین رسالت ‘‘ کو تعطیل اور ترمیم سے بچانا تھا۔ قائدِ اعظم جیسے آدمی کا اپنے دور میں گستاخِ رسول کے ایک قاتل کا مقدمہ لڑنا اور اب ایک سرکاری اہل کار کے ہاتھوں صوبائی گورنر کے قتل جیسے واقعات بتلاتے ہیں کہ یہ قانون اپنی سخت گیر شکل میں ہی خطہ کے مسلمانوں کے جذبات کی عکاسی اور ترجمانی کرتا ہے اور اس کی فعالیت اور بغیر ترمیم کے برقرار رہنا ہی لوگوں کے جذبات کو قانونی دائرہ کا پابند رکھ سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر اِس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ لوگ اپنے جذبات کے اظہار کے لیے قانونی راستہ اختیار کریں گے، بلکہ اِس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ ممتاز قادری کی طرح لوگ از خود ہی اپنے جذبات کی تشفی کے من پسند راستے تراشنا شروع کردیں گے۔ البتہ علماے کرام کے لیے ضروری ہے کہ اِس حوالہ سے غیر محسوس طریقہ پر عوامی جذبات کی نئی رخ سازی کا فریضہ انجام دیں اور انہیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت وعظمت پہ جان دینے کے ساتھ ساتھ دعوتِ دین کے حکیمانہ آداب وضروریات اور تقاضوں سے بھی آگاہ کریں تاکہ عوامی اعتماد کے ساتھ اِس قانون کی درست صورت گری ممکن ہوسکے، جیسا کہ مولانا مفتی محمد زاہد نے لکھا ہے :’’ اہل علم سے یہ درخواست ہے کہ مسئلے کے تمام پہلوؤں کو اور ملک کی معروضی صورتِ حال کو سامنے رکھ کر سنجیدہ غور کا سلسلہ شروع کریں اور بجائے اس کے کہ کوئی موقع دیکھ کر حکومت کوئی لسٹم پسٹم ترمیم لے آئے اور دینی حلقوں کے ساتھ اسی طرح کا ہاتھ ہوجائے جیساکہ ۲۰۰۷ء میں حدود کے مسئلہ پر ہوا تھا، علماء کے لیے مناسب ہوگا کہ مختلف طبقات کے جائز تحفظات کو سامنے رکھ کر از خود قرآن وسنت کی روشنی میں کوئی قانونی پیکج پیش کردیں۔‘‘
تاہم جب تک یہ سب ممکن نہیں ہو پاتا، حالات کے معروضی تناظر، ریاست کے جمہور عوام کے جذبات واحساسات اور مفادِ عامہ کی روشنی میں قانونِ توہین رسالت کا جوں کا توں برقرار رہنا ہی حکمت ودانش کا تقاضا ہے اور اِس صورت میں علامہ شامی کی تحقیق اور توہین رسالت ایکٹ کے مابین بھی ماسوائے ایک نکتہ کے کوئی تصادم موجود نہیں ہے، جبکہ بعض حضرات کی طرف سے اِسے بہت بڑھاچڑھا کر پیش کیا جارہا ہے۔ علامہ شامی کی تحقیق کے مطابق توہین رسالت کا مرتکب خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم، اپنے خون کی حرمت کھو کر ’’مباح الدم ‘‘ہوچکا ہے اور انہی کے مطابق اس میں کسی عالم کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ’’مباح الدم ‘‘ کی اصطلاح ایسے آدمی کے لیے استعمال ہوتی ہے جو واجب القتل ہو یا نہ، لیکن اسے قتل کرنا بہر حال جائز ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک گستاخِ رسول اگر مسلم ہو تو مباح الدم کے ساتھ ساتھ وہ واجب القتل بھی ہوچکا ہے، لیکن اگر غیرمسلم ہو تو وہ شرعاً واجب القتل نہیں، بلکہ اس کو قتل کرنا یا قتل سے کم تر سزا دینا قاضی کی تعزیری صواب دید پر منحصر ہے ۔ ’’تعزیراتِ پاکستان‘‘ نے اگر اپنے اسی صواب دیدی اختیار کو عوامی جذبات کے مطابق برمحل استعمال کرتے ہوئے صرف موت کی سزا متعین کردی ہے تو اِس میں فقہِ حنفی کی مخالفت کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ البتہ اگر گستاخِ رسول توبہ کرلے تو اس کی معافی ہے یانہیں ؟یہ ایک صورت ہے جس میں فقہِ حنفی اور قانون توہینِ رسالت کے درمیان ہم آہنگی نظر نہیں آتی۔ علامہ شامی کے مطابق توبہ کرلینے سے گستاخِ رسول کے خون کی حرمت واپس لوٹ آئے گی اور اسے قتل کرنا درست نہیں۔ 
تحریکِ ناموسِ رسالت کی کامیابی کے لیے ا تنا ہی کافی تھا کہ پاکستان کے جمہور اہل علم اور تمام مسالک اس سلسلہ میں یک نکاتی ایجنڈے پر متفق تھے کہ قانون توہین رسالت میں کسی طور ترمیم نہیں ہونے دی جائے گی۔ اگر اِس سلسلہ میں علامہ شامی یا پاکستان کے کسی اور صاحبِ علم کی رائے استثنائی تھی تو اِس سے تحریک کو کیا نقصان تھا؟ ظاہر ہے کہ پاکستانی عوام جمہور اہلِ علم کی پشت پر کھڑے تھی اور جمہوری حکومت نے اگر فیصلہ جمہور کے حق میں کیا تو یہ جمہور کی قوت کی وجہ سے ممکن ہوا، علامہ شامی مرحوم کا غلط حوالہ استعمال کرنے کی وجہ سے نہیں۔علامہ شامی ہمارے حکمرانوں کے لیے کوئی بہت محترم شخصیت نہیں کہ ان کانام سن کر وہ چاروں شانے چت گر پڑتے اور اپنے ارادوں سے تائب ہوجاتے۔ 
علامہ شامی موصوف نے ہی اپنی کتاب ’’شرح عقود رسم المفتی ‘‘ میں ایک مستقل عنوان قائم کرکے بتایا ہے کہ بعض مسائل یوں مشہور ہوجاتے ہیں کہ جیسے یہ متفقہ امور ہیں ، حالانکہ اِس کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ اِس ضمن میں بطورِمثال انہوں نے ’’ توہین رسالت کی سزا‘‘ کے مسئلہ کا بھی ذکر کیا ہے ۔ ان کی رائے میں ایک مفتی کے لیے ضروری ہے کہ وہ فتویٰ دیتے ہوئے صرف متاخرین کی کتابوں کو نہ دیکھے ، بلکہ فقہ کے اصل مآخذ سے بھی رجوع کرے، کیونکہ بعض اوقات کسی مسئلہ کو نقل کرتے ہوئے یا اس کی تشریح کرتے ہوئے کسی عالم سے غلطی ہوجاتی ہے اور آنے والے اسی کو نقل درنقل کرتے چلے جاتے ہیں جس سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ کوئی اجماعی مسئلہ ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ مسئلہ سرے سے تعبیر اور تشریح کی اس غلطی کانتیجہ ہوتا ہے جو پہلے عالم سے ہوئی ۔ اصل ماخذ کے ساتھ مراجعت کرنے سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے۔ 
حاصل یہ ہے کہ ایسے بے شمار مسائل ہیں جن میں تحقیق واختلاف کا باب وسیع ہے ، مگر ان میں کسی ایک قول کی مقبولیت اور شہرتِ عامہ نے عوام کی نظروں میں ہر قسم کی تجدید اور اختلافِ رائے کے دروازے کو مقفل کردیا ہے۔ اگر علماءِ کرام کا کام بھی یہی ہے کہ انہوں نے عوام کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ایسے مسائل میں مشہورات کوہی قطعیات کا درجہ دے کر سطحی اندازِ فکر اختیارکرنا ہے تو پھر ہمارے خیال میں انہیں اپنی عمر عزیز کے آٹھ دس سال مدرسہ کی چاردیواری میں خرچ کرنے کی بجائے کسی اور شعبہ میں کارآمد بنانے چاہئیں۔ اس طرزِ فکر کا اظہار کرنے کے لیے اتنے طویل دورانیہ کی ریاضت کا بوجھ اٹھانے کیا ضرورت ہے؟ اگر شہرتِ عامہ کو مسائل کی قطعیت کا سبب فرض کرلیا جائے تو بہت سی لاینحل پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں گی۔ علما کافرض بنتا ہے کہ اختلافی مسائل کو اجماعی بنانے اور ان میں غیر ضروری شدت اختیار کرنے سے اجتناب کریں، بلکہ ایسے مسائل میں عوامی رویوں کو اعتدال پر قائم رکھنے کے لیے کوششیں بروے کار لائیں۔ یہ مقصود نہیں کہ ہر مسئلہ کے متعلقہ اختلافات کھول کھول کر عوام کے سامنے بیان کرنا شروع کردیں اور ان کے لیے خلفشار کا باعث بنیں۔ ہرگز نہیں، بلکہ ہونا یہ چاہیے کہ یہ اختلافات علما کی نظروں کے سامنے رہیں۔ وہ فقہی اور اجتہادی نوعیت کے مسائل کوان کے اصل تناظر میں دیکھیں اور بوقت ضرورت اس کا اظہار کرنے میں بھی جھجک محسوس نہ کریں۔

کیا معاصر جہاد ’منہاج دین‘ کے خلاف ہے؟

محمد زاہد صدیق مغل

ماہنامہ الشریعہ، شمارہ اکتوبر ۲۰۱۱ میں فاضل مصنف جناب اویس پاشا قرنی صاحب کا مضمون ’عصر حاضر میں غلبہ اسلام کے لیے جہاد‘ نظر سے گزرا۔ صاحب مضمون نے اپنے مضمون میں دو مقدمات پر بحث کی ہے۔ اولاً، موجودہ دور میں نصوص دعوت کو منسوخ ٹھہرانے والے حضرات کا رد (مضمون کے اس حصے سے ہمیں اتفاق ہے کہ دعوت و تبلیغ کی اہمیت کا انکار کرنا کسی طور درست نہیں)۔ ثانیاً، موجودہ دور میں جہادی جدوجہد کو نہ صرف غیر ضروری بلکہ منہاج شریعت کے خلاف ثابت کرنے کی کوشش کرنا۔ اس ضمن میں فاضل مصنف بنیادی طور پر دو دلائل پیش کرتے ہیں: (۱) جہادی جدوجہد ناکامی و نقصان سے عبارت ہے، لہٰذا اسے ترک کردینا چاہیے (گو کہ اس نکتے پر وہ تفصیلی دلیل قائم نہیں کرتے، البتہ اسے ایک حقیقت ثابتہ کے طور پر فرض کرکے اپنے دلائل کی عمارت قائم کرتے چلے جاتے ہیں)۔ (۲) موجودہ صورت حال میں جہادی حکمت عملی سنت نبوی کے منہاج کے خلاف ہے۔ اس دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاد کا حکم مدینہ میں مشروع ہوا نہ کہ مکہ میں، جبکہ موجودہ حالات میں مسلمان مکی دور سے گزر رہے ہیں اور مکی دور کا تقاضا صرف اور صرف دعوت، تبلیغ و تنظیم سازی وغیرہ پر ساری توجہ مرکوز کردینا ہے۔ 
ہمیں نہیں معلوم پاشا صاحب کا فکری تناظر و پس منظر کیا ہے (کسی دلیل کا تجزیہ کرنے کے لیے صاحب دلیل کے فکری حدود اربعہ معلوم ہونے سے بہت مدد مل جاتی ہے)، البتہ ان کے انداز استدلال سے یہ تاثر ابھر رہا تھا کہ ان کا فکری تعلق شاید تنظیم اسلامی سے ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)۔ چونکہ ہمیں اس بابت کوئی حتمی علم نہیں، لہٰذا ہم یہاں تنظیم اسلامی کے طرز فکر کو بنیاد بنا کر کوئی تنقید نہیں کریں گے۔ جہاں تک ان کی پہلی دلیل کا تعلق ہے، اس کا تفصیلی جائزہ ہم نے اپنے مضمون ’’معاصر منکرین خروج کے استدلال کا جائزہ‘ ‘ میں پیش کیا ہے (جو ان شاء اللہ عنقریب منظر عام پر آئے گا)۔ یہاں بس اتنا اصولی جواب کافی ہے کہ : 
  • فائدوں اور نقصانات کا تعلق حکمت عملی کے باب سے ہے نہ کہ اصل دلائل شرعیہ سے، لہٰذا ان کی بنا پر کسی شے کی مخالفت ایک اجتہادی رائے سے زیادہ کچھ نہیں۔
  • ’فائدے اور نقصان‘ کا تعین طرز فکر سے ہوتا ہے، یعنی ایک شے جو کسی ایک نقطہ نظر کے لحاظ سے فائدہ سمجھی جاتی ہے، عین ممکن ہے کسی دوسرے نقطہ نظر کے اعتبار سے نقصان قرار پائے۔ جس طرح منکرین معاصر جہاد کو اپنے نقطہ نظر سے فائدے اور نقصان کا تعین کرنے کا حق حاصل ہے، بالکل اسی طرح دوسروں کو بھی اس کا حق حاصل ہے۔
  • نتائج کی بنیاد پر کسی شے کا حکم متعین کرنا اصول فقہ میں ’سد الذرائع‘ کہلاتا ہے اور یہ اصول فقہ کا ایک پیچیدہ باب ہے جہاں فیصلہ کرتے وقت کسی ایک نہیں، بلکہ تمام عوامل اور پہلووں کو مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے، لہٰذا حکم لگاتے وقت کسی ایک پہلو پر ہی ساری توجہ مرکوز نہیں کی جاسکتی۔
  • یہ بات بھی یاد رہنی چاہیے کہ ہر جدوجہد محتاط اندازے و تخمینے کے مطابق ہی کی جاتی ہے جس میں کامیابی و ناکامی کے امکانات ’جدوجہد کرنے والوں‘ کے خیال میں برابر ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان امکانات کا تخمینہ لگانا ’جدوجہد سے باہر‘ کسی بیرونی ادارے، افراد یا تحریک کا نہیں بلکہ خود جدوجہد کرنے والوں کا کام ہوتا ہے اور اس ضمن میں انہی کا قول ’قول فیصل‘ سمجھا جانا چاہیے کیونکہ جہاد کرنے والا گروہ زیادہ بہتر طور پر جان سکتا ہے کہ اس کے پاس کتنی قوت ہے اور کب اس کو استعمال کیا جائے گا۔ پھر کامیابی و ناکامی کے امکانات طے کرنے کاکوئی سائنٹفک معیار و طریقہ کار موجودہ نہیں ہوتا اور نہ ہی جدوجہد سے پہلے اس کی عوامی مقبولیت کا کوئی معین اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی قریب میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ جب آغاز جدوجہد میں ناقدین اسے ناکامی کا سرٹیفیکیٹ دے چکے تھے، لیکن حالات و واقعات نے ایسی کروٹیں لیں کہ طاقتور ترین دشمن گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیا۔
  • پھر امت کو جہادی جدوجہد ترک کرکے جن طرق کی طرف دعوت دی جارہی ہے، بذات خود ان طریقوں کو بھی نتیجیت پسندی کے اصول پر پرکھ کر دیکھ لیا جانا چاہیے کہ ان کے نتیجے میں اسلامی ریاست کی تعمیر کے کام میں کس قدر ’خیر‘ جمع کیا جا سکا ہے؟ کیا نصف صدی سے لمبے عرصے پر محیط غیر جہادی جدوجہد نے آج سیاسی اسلامی تحریکات کو ایسی بند گلی میں لا کھڑا نہیں کیا جس سے آگے انہیں کوئی راہ نہیں سوجھتی ؟ 
  • منکرین معاصر جہاد کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ وہ موجودہ دور کے اصل چیلنج یعنی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے جواب میں امت مسلمہ میں برپا جدوجہد کی ہمہ گیریت کا درست ادراک نہیں رکھتے، لہٰذا وہ معاصر جہادی جدوجہد کو اصلاحی جدوجہد کا متبادل و مد مقابل سمجھتے ہیں، جبکہ درحقیقت یہ دونوں ایک دوسرے کا تکملہ ہیں۔ (ان نکات کی مزید تفصیل کے لیے راقم کا مضمون ملاحظہ فرمائیے گا)۔ 
اب ان کی دوسری دلیل پر تبصرہ پیش کیا جاتا ہے۔ 
پاشا صاحب کی پیش کردہ یہ دلیل کوئی نئی نہیں، بلکہ ایک عرصے سے معاصر جہاد کے خلاف دہرائی جارہی ہے۔ (معاصر جہاد پر اس قبیل کے دیگر اعتراضات کے تجزیے کے لیے دیکھیے حامد کمال الدین صاحب کا مضمون ’معاصر جہاد اور کچھ عمومی اشکالات‘، ایقاظ، جولائی تا دسمبر ۲۰۱۱)۔ چلیے ایک لمحے کے لیے قرآنی آیت الیوم اکملت لکم دینکم کے بارے میں علمائے مفسرین کی رائے سے صرف نظر کرتے ہوئے پاشا صاحب کی اس ترتیب احکام اور ’حکمت منہاج ‘ کے فلسفے کو مان لیتے ہیں، پھر بھی ذہنوں میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ’مکی و مدنی دور کے منہاج میں فرق کرنے والی شے آخر کیا تھی؟‘ ہماری دانست میں اس کا جواب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ مدینہ میں ایک ریاست میسر آگئی تھی۔ ہم تاکید کے لیے پھر کہے دیتے ہیں کہ منہاج کا فرق کرنے والی شے مدینہ میں باقاعدہ ایک ریاست کا میسر آجانا ہی تھا نا؟ اگر ایسا ہی تھا جیسا کا امر واقعہ ہے اور یہ دلیل دینے والے حضرات کو بھی قبول ہے تو پھر دور حاضر میں مسلمانوں نے جو یہ درجنوں مسلم (یا جیسی تیسی اسلامی) ریاستیں قائم کر رکھی ہیں، کیا اتنی طویل المدت اور ڈھیر ساری ریاستوں کے قیام کے بعد بھی مدنی دور کا آغاز نہیں ہوا؟ سیرت نبوی میں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ ’مدینہ میں ایک چھوٹی سی اور نہایت کمزور اسلامی ریاست قائم ہوتے ہی احکاما ت جہاد اور عملاً جہاد شروع ہوجاتا ہے‘، لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ کروڑوں کی آبادیوں اور وسائل والے علاقوں پر مسلم حکومتیں قائم ہوجانے کے بعد بھی جہاد منہاج سنت کے خلاف قرار دیا جارہا ہے؟ آخر اس مدنی دور کا آغاز کس طلوع آفتاب سے ہوگا؟ یہ دلیل دینے والے حضرات سے درخواست ہے کہ اپنے منہاجی فلسفے کی روشنی میں ان ’شرائط‘ (ہم یہ لفظ فقہی اصطلاح میں استعمال کررہے ہیں) کا ٹھیک ٹھیک تعین فرمادیں جو مدینہ میں تو جہادی حکمت عملی کا وجہ جواز بن سکتی تھیں، لیکن موجودہ حالات میں مانع ہیں۔ (اگر ہمیں یہ یقین ہوتا کہ پاشا صاحب کا تعلق تنظیم اسلامی سے ہے تو ہم ان کی فکر کو تنظیم کے فکری تناظر کے ساتھ ملا کر دکھاتے کہ اس میں مزید کتنے ابہامات ہیں)۔ 
عقل کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس ’منہاجی فلسفے‘ کو بطور دلیل پیش کرنے والے حضرات کو تو موجودہ حالات میں نہ صرف یہ کہ جہاد کا سب سے بڑا حامی ہونا چاہیے، تھا بلکہ کم از کم پاکستان کو اس کا بیس کیمپ بنانے پر اصرارکرنا چاہیے تھا کہ پاکستانی ریاست تو (بقول ان کے) بنائی ہی اسلام کے لیے گئی تھی۔ چنانچہ جب ریاست بھی بن گئی تو اب مکی دور کی دہائی کا کیا مطلب؟ 
چونکہ اس منہاجی دلیل کے منطقی مضمرات انتہائی خطرناک ہیں (مثلاً اس دلیل کے اطلاق کی رو سے سود، صوم و حج وغیرہم جیسے بہت سے احکامات پر آج عمل کرنا منہاج دین کے خلاف ٹھہرے گا کیونکہ یہ بھی مدینہ میں مشروع ہوئے)، لہٰذا ان سے بچنے کے لیے اپنی دلیل میں موجود ضعف کو پیوندکاری کے ذریعے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چنانچہ اپنی دلیل پر وارد ہونے والے اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے پاشا صاحب فرماتے ہیں: ’’یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی نظیر یا مثال کا سوفیصد انطباق نہیں ہوتا بلکہ کسی نسبت سے اُس کا اطلاق ہوتا ہے اور کسی پہلو سے نہیں بھی ہوتا۔ اُسوۂ حسنہ کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ حالات کی رعایت کے ساتھ عمل کرنا مقصود ہوتا ہے اور یہ عقل عام کی بات ہے جس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں‘‘۔ بالکل جناب، یہ بات درست ہے کہ مقیس اور مقیس علیہ میں تعلق کسی مخصوص نسبت ہی سے قائم کیا جاتا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دینی معاملات میں آخر ’آج‘ یہ فیصلہ ’ کون‘ اور ’کس پیمانے‘ کی بنیاد پر کرے گا کہ اس دلیل میں مقیس اور مقیس علیہ کی مماثلت و عدم مماثلت کن دینی معاملات میں معتبر اور کن میں غیر معتبر مانی جائے گی؟ پھر اگر کوئی شخص یا جماعت اپنے تئیں یہ فیصلہ کرلے تو سوال یہ ہے کہ امت کے حق میں اس فیصلے کی ’شرعی حیثیت‘ کیا ہوگی؟ ظاہر ہے اس کی دینی حیثیت ذاتی اجتہاد سے بڑھ کر کوئی اور تو ہو نہیں سکتی۔ تو پھر جس طرح ایک شخص یا جماعت کو اپنا ’حق اجتہاد ‘ استعمال کرکے امت یا اپنی جماعت سے حکم جہاد کو معطل کرنے کی اجازت مل جائے گی، کیا اسی طرح دوسرے گروہوں کو بھی اجتہاد کے ذریعے اپنے فلسفے و مطالعے کی بنیاد پر چند دیگر احکامات معطل کرلینے کا حق حاصل نہیں ہو جائے گا؟ 
مثلاً کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ قرآن میں جہاں استخلاف فی الارض کا مومنین سے وعدہ کیا گیا ہے، وہاں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جب بھی انھیں زمین میں اقتدار حاصل ہوگا تو وہ چار کام کریں گے: اقامت صلوٰ ۃ ،زکوٰۃ کا قیام اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر (الذین ان مکنہم فی الارض اقاموا الصلوۃ واتو الزکوۃ وامروا بالمعروف ونہوا عن المنکر)۔ اسلامی ریاست کے یہ چار بنیادی وظائف قرآن میں بیان کیے گئے ہیں، چنانچہ اس آیت سے منکرین جہاد کی طرح کوئی منکر صلوٰۃ و زکوٰۃ یہ استدلال کرسکتا ہے کہ جناب زکوٰۃ وصلوٰۃ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر اسلامی ریاست کا فریضہ اور وظیفہ ہیں، لہٰذا مسلمانوں پر یہ تمام کام بھی اسلامی ریاست کے قیام تک ترک کرنا لازم ہے۔ کیونکہ ہم مکی دور سے گزر رہے ہیں اور اسلامی ریاست موجود نہیں، لہٰذا مساجد تعمیر نہ کی جائیں نیزنظام صلوٰۃ کا اہتمام بند کیا جائے، کیونکہ زکوٰۃ وصول کرنے والی ریاست نہیں ہے، لہٰذا زکوٰۃ بھی ساقط ہے اور ساتھ ہی ’منہاجی فلسفے‘ اور ’حکمت دین‘ کی بنیاد پر یہ استدلال بھی پیش کردے کہ دیکھیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو مکہ میں مسجد کا کوئی اجتماعی بندوبست کیا اور نہ ہی کسی سے زکوٰۃ لی۔ اسی طرح اچھے کاموں کا حکم دینا اور برائی سے روکنے کا فریضہ بھی اسلامی ریاست کی سرپرستی اور موجودگی میں ہی اداکیا جاسکتا ہے، لہٰذا ان کاموں کو بھی ترک کردیا جائے۔ کیوں جی، کیسا رہا یہ اجتہاد اور منہاج دین کا فلسفہ؟ 
اگر کسی کا جواب یہ ہے کہ ’موجودہ حالات کی رعایت کے ساتھ عمل کرنا مقصود ہے‘ تو سوال یہ ہے کہ موجودہ حالات کی رعایت کرتے ہوئے آخر جہاد کرنا ہی کیوں مقصود نہیں؟ کیا کوئی صاحب علم یہ ثابت کرسکتا ہے کہ آج حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ جہاد ’عملاً ناممکن ‘ ہوچکا ہے؟ اگر یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ امر واقعہ ہے، تو اگر حالات کی رعایت کرتے ہوئے غلبہ دین کے دیگر طرق کے ذریعے جدوجہد کرنا جائز ہے تو جہاد ہی کیوں شجر ممنوعہ ہے؟ اگر مسئلہ ’موجودہ حالات کی رعایت کے ساتھ عمل کرنے‘ کا ہی ہے تو اس معاملے میں منکرین کا ’تجزیہ حالات‘ ہی کیوں حجت مانا جائے؟ کیا کسی دوسرے فرد یا گروہ کو حالات کے اپنے تجزیے کی بنیاد پر جہاد کرنے کا حق حاصل نہیں ہو سکتا؟ پس جس طرح حالات کی رعایت کرتے ہوئے پاشا صاحب جیسے حضرات دیگر احکامات پر عمل ممکن سمجھتے ہیں، جہادی جدوجہد کرنے والے گروہ جہاد کو بھی ممکن سمجھتے ہیں۔ 
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے منہاجی فلسفے عام کرنے کا مطلب دین میں رخنہ اندازی کرنے کے راستے کھولنا ہے ، یہی وجہ ہے کہ روایت پسند علمائے کرام نے الیوم اکملت لکم دینکم کی روشنی میں فرمایاہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد کسی شخص یا جماعت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی فلسفے یا اجتہاد کی روشنی میں کسی دینی حکم کو عبوری طور پر ہی سہی منسوخ قرار دے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ پاشا صاحب جس ذہنیت (دین کے بعض احکامات کو مخصوص حالات میں منسوخ ٹھہرانے) کو اپنے مضمون میں رد کرنے نکلے تھے ، شعوری یا غیر شعوری طور پر بذات خود اسی ذہنیت کا شکار نظر آتے ہیں۔ 

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعوائے نبوت اور مولانا وحید الدین خان کا تجاہل عارفانہ

مولانا مفتی محمد سعید خان

جناب مولانا وحید الدین خان صاحب ، عصر حاضر کی ان نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک ہیں جن کے قارئین کا پوری دنیا میں ایک حلقہ موجود ہے۔لوگوں کوان کی تحریرات کاانتظار رہتا ہے اور ہزاروں افراد نہ صرف یہ کہ ان کے مشن سے وابستہ ہیں بلکہ کسی بھی معاملے میں انہیں جو ہدایات مولانا کی طرف سے ملتی ہیں، وہ دل وجان سے ان پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ ہندوستان کے چند ایک پڑھے لکھے حضرات میں ان کانام شمار کیاجاتا ہے اوران کی جو پذیرائی مغربی ممالک میں ہورہی ہے، اس کااندازہ کچھ انہی حضرات کو ہوسکتا ہے جو ان کے شمارے ’’الرسالہ‘‘ کے مستقل قاری ہیں۔ ان کی شخصیت، جیسا کہ روز اول سے ہوتا چلا آیا ہے، موضوع سخن رہی ہے ،اب بھی ہے اور جب وہ دنیا میں نہیں ہوں گے، اس وقت بھی اپنے نقاد اور مداحوں کے درمیان گھری رہے گی۔ الرسالہ میں ان کی بعض تحریرات شہ پارہ ہیں اور ہماری نئی نسل کی رہنمائی میں ہمیشہ معاون ثابت ہوتی ہیں، لیکن اس تصویر کادوسرا رُخ یہ ہے کہ ان کی بعض تحریرات اہل ایمان ودانش کے لیے سخت خلجان کا موجب بھی بن جاتی ہیں۔ انگلی کو دانتوں میں دبائے بغیر چارہ نہیں رہتا کہ جس شخص اورا س کے قلم کی صلاحیتیں اسلام کے مخالفین اور شکوک وشبہات کی جڑ کھودنے میں صرف ہو رہی ہیں، انہی صلاحیتوں کا رُخ پھرا اور کوئی ایسی تحریر وجود میں آگئی جو اہل کفر اور افواج باطل کے لیے ایک عمدہ ہتھیارکا کام دے سکے۔دودھاری تلوارجب کھنچ جائے اور دشمنوں ہی کونہیں دوستوں کو بھی اپنا دفاع کرنا پڑے تو اس کاٹ کی مدح سرائی کیونکر ہو۔
ماہ اکتوبر 2011ء  کا شمارہ ’’الرسالہ‘‘ نظرنواز ہوا اور اس ماہ کا موضوع ہے ’’ختم نبوت‘‘۔ ختم نبوت جو ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ اور کفر واسلام کا ایک امتیازی نشان ہے ، مسلمانوں میں کبھی بھی متنازعہ نہیں رہا۔ جس شخص نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا،اسے اور اس کے ماننے والوں کو اُمت مسلمہ نے کبھی بھی اپنی صفوں میں کوئی جگہ نہیں دی۔دعوائے نبوت اس قدر ہولناک ہے کہ اس کے مدعی کے کلام کی توجیہ وتاویل کبھی بھی قابل اعتبار و التفات نہیں ٹھہری ۔اب تک جس آخری شخص نے نہایت شدّو مد سے دعویٰ نبوت بھی کیا اور انہیں اپنے ماننے والوں کی جماعت بھی میسر آئی، وہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی تھے۔ الرسالہ کے اس ’’ختم نبوت‘‘ نمبر میں ، اس دعوائے نبوت کی تاویل کرتے ہوئے جناب مولاناوحید الدین خان صاحب اس دعوے کی نہ صرف یہ کہ نفی کرتے ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جناب مرزا غلام احمد صاحب کے دعوائے نبوت کی تاویل کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’مرزا غلام احمد قادیانی نے کبھی اپنی زبان سے یہ نہیں کہا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ میں ظلِّ نبی ہوں، یعنی میں نبی کا سایہ ہوں ۔اس طرح کے قول کو ایک طرح کی دیوانگی تو کہا جاسکتا ہے، لیکن اس کو دعوائے نبوت نہیں کہا جا سکتا۔‘‘ (ماہنامہ الرسالہ، اکتوبر 2011ء ، ص:13)
معروضہ یہ ہے کہ جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ہمیشہ نبوت کا دعویٰ کرتے رہے ہیں اور بالکل صاف اور واضح الفاظ میں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا نبی اور رسول کہتے رہے ہیں۔ان کی زبان اور قلم ہمیشہ اپنے سننے اور پڑھنے والوں سے یہی تقاضا کرتی رہی ہے اور اب بھی ان کی جماعت کا اصولی مؤقف یہ ہے کہ ان کے مقتدا اورپیشوا جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو نبی اور رسول مانا جائے۔ خود جناب مرز اغلام احمد صاحب قادیانی تحریر فرماتے ہیں :
’’حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے، اس میں ایسے الفا ظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ ۔‘‘
پھر آگے چل کر تحریر فرماتے ہیں :
’’چنانچہ وہ مکالماتِ الہٰیہ جو براہین احمد یہ میں شائع ہوچکے ہیں ، ان میں سے ایک وحی اللہ (اللہ تعالیٰ کی وحی)ہے: ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔ (دیکھو براہین احمد یہ ، ص:۴۹۸)اس میں صاف طور پراس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے ۔‘‘
چند سطروں کے بعد تو انہوں نے ایسی عبارت لکھی ہے، جو کسی بھی اشتباہ یا تاویل کا موقع فراہم نہیں کرتی:
’’یہ وحی اللہ (اللہ تعالیٰ کی وحی)ہے: محمد رسول اللّٰہ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحماء بینھم، اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی ۔‘‘
(ان تمام عبارات کے لیے ملاحظہ ہو روحانی خزائن ، جلد :18 ص:206-207۔ ایک غلطی کا ازالہ، ص:2-3)
صرف اس ایک کتاب ’’ایک غلطی کا ازالہ ‘‘ ہی نہیں بلکہ ان کی متعدد کتابوں میں بار بار اس دعوے کی تکرار کی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں ۔ وہ اپنی وحی کو بھی قرآن کریم کے ہم پلّہ قرار دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر۔‘‘ (روحانی خزائن ، جلد:17، ص:454۔(ب)اربعین لاتمام الحجۃ علی المخالفین نمبر4، ص:112)
جناب مولانا وحید الدین خان صاحب سے درخواست ہے کہ اگر اب تک انہوں نے احمدی حضرات کی کتابوں کا مطالعہ نہیں کیاتو اُن کی کتاب ’’روحانی خزائن ‘‘کو غور سے پڑھیں اور کسی بھی شخص یافریق کی بات سنے،ان کا لٹریچر پڑھے اور ان کے متعلق کسی بھی ٹھوس ثبوت کے بغیر کوئی حکم لگانا ، بعیداز انصاف ہے ۔ان کی جماعت کے کسی بھی ذمہ دار فرد سے اگران کا مسلک دریافت کیا جائے تو وہ جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی نبوت ورسالت کا ہی اقرار کرتے نظرآئیں گے ۔
یہ تمام تحریر بھی اس صورت کے لیے ہے کہ یہ فرض کر لیاگیا کہ جناب مولانا وحید الدین خان صاحب کی نظر سے جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی ایسی تحریرات اور کتابیں نہیں گذریں، لیکن اگر وہ ان کی کتابوں کے مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تو پھر وہی مثل صادق آتی ہے کہ ہم سوئے ہوئے کو تو بیدار کرسکتے ہیں ، اس کو نہیں جو سویا بن رہا ہے ۔
مرزا صاحب نے اپنی تحریروں میں بروزی نبوت کا تصور پیش کیا ہے۔ عربی زبان میں بَرَزَ کا لفظ ظہور اور کسی چیز یا کام یا صلاحیت کے ظاہر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ ہندوؤں کے عقیدے میں بھی یہ ’’بروز ‘‘شامل ہے۔ان کے مذہب میں یہ بات ہے کہ ان کے دیوتا آسمان سے اُترے اور مختلف انسانوں کے روپ دھار کر انہوں نے بروز کیا یعنی ظہور یا ظاہر ہوئے۔ وہ ظاہر میں انسان لیکن در حقیقت خدا تھے۔جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے بھی ہندوؤں کے اس نظریے کو ایک اور رنگ میں پیش کیا اور وہ یہ کہ ہندو تو خداؤں کے بروز کے قائل تھے، انہوں نے نبوت کو بروزی بنادیا کہ ان کے اندر تو حضرت رسالت مآب سمائے ہوئے تھے اور ظاہر میں جسم ان کا تھا۔ چنانچہ وہ اپنی ایک کتاب’’ایک غلطی کا ازالہ ‘‘میں واضح طور پر تحریر فرماتے ہیں :
’’بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔‘‘
یعنی آقائے نامدار حضرت رسالت مآب e میرے اندر سماگئے ہیں ۔ میں ظاہر میں تو مرزا غلام احمد ہوں` لیکن اندر سے محمد رسول اللہ ہوں۔اعاذنا اللہ۔پھر اپنی اسی کتاب میں چند سطروں کے بعد مزید تحریر فرماتے ہیں:
’’میں بروزی طور پر آنحضرت ہوں۔‘‘ (روحانی خزائن،ج:18، ص:212 (ب)ایک غلطی کا ازالہ ۔ص:8)
جناب مولانا وحید الدین خان صاحب اور ان کی تحریرات سے متاثر ہونے والے حضرات وخواتین کو اس نقطے اور عبارات پر غور فرماناچاہیے کہ جناب مرزا صاحب کہہ کیا رہے ہیں۔ وہ تو یہ بتارہے ہیں کہ میں اندر سے تو حضرت خاتم الابنیاء ہوں اور ظاہر میں مرزا غلام احمد ہوں۔ ایسے عقائد تو ان قوموں کے ہوا کرتے تھے جو اپنے دیوتاؤں کو خدا مانتے تھے اور ہیں۔ اسلام نے بھی کبھی کوئی ایسی تعلیم دی ہے؟کل کو یا زمانۂ ماضی میں اگر کوئی جاہل اور گمراہ صوفی یہ دعویٰ کرے کہ وہ بروزی طور پر خدا ہے تو کیا وہ مسلمان رہ جائے گا ؟وہ دنیا کو اس عقیدے کی دعوت دے کہ میں بروزی اللہ ہوں یعنی اللہ تعالیٰ میرے اندر سما گیا ہے اور میں فقط ظاہر میں انسان ہوں، حقیقت میں تمہارا پروردگار ہوں ۔ کیا یہ دعویٰ مسموع ہوگا؟ اس لیے جناب مولانا وحید الدین خان صاحب کن کا دفاع فرمارہے ہیں، چاہیے کہ غور فرمالیں اور جو لوگ دین میں ان سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں، کہیں ان کی راہ کھوٹی نہ ہوجائے۔
جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ ظِلّی نبی ہیں جناب مولانا وحید الدین خان صاحب تحریر فرمارہے ہیں کہ:
’’انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ میں ظِلِّ نبی ہوں یعنی میں نبی کا سایہ ہوں۔‘‘ (الرسالہ،بابت ماہ اکتوبر 2011ء، ص:13)
بات یوں نہیں ہے جناب مرزا صاحب نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ حضرت رسالت مآب علیہ الصلاۃوالتسلیم کا سایہ (ظل)ہیں بلکہ انہوں نے تو یہ دعویٰ فرمایا کہ میں نبی ہوں اور میری نبوت کو حضرت صاحب الرسالۃ محمد رسول اللہ سے وہی نسبت ہے جوکہ سایے کو اصل سے ہوتی ہے۔ جناب مولانا وحید الدین خان صاحب کی تحریر کے مطابق تو ان کا اصل دعویٰ محض اصل اور سایے(ظِلّ) کے زمرے میں آتا ہے، لیکن در حقیقت ان کا دعویٰ اپنی چھوٹی نبوت اور حضرت رسالت مآب کی بڑی نبوت کا ہے کہ میں جو کم درجے کی چھوٹی نبوت رکھتا ہوں، اس کے مقابلے میں ایک بڑی نبوت بھی ہے، وہ حضرت رسالت مآب کی ہے۔ وہ تو بہت صاف ،واضح اور بغیر کسی جھجک کے یہ دعویٰ فرماتے ہیں:
’’میں ظلّی طور پر محمد ہوں۔‘‘ (روحانی خزائن ج:18 ،ص:212 (ب)ایک غلطی کا ازالہ،ص:8 )
اور پھر انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا دعویٰ کردیا ،ایسادعویٰ کہ جو ان کے اس دعوے کو نہیں مانتے اور اس کی تکذیب کرتے ہیں اور وہ افرادجو جناب مرزا صاحب کو ان کے دعوے میں سچا مانتے ہیں، دونوں کے درمیان مسلم اور غیر مسلم کی لکیر کھچ گئی۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں یہ دعویٰ کیا:
’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘ (روحانی خزائن ج:18، ص:231۔ دافع البلاء و معیار اھل الاصطفاء: ص:15)
ایک اورحوالہ ملاحظہ ہو :
’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس اُمت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس اُمت میں سے گذر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا ۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘ (روحانی خزائن، ج:22،ص:406-407۔ حقیقۃ الوحی ، ص:391)
جناب مولانا وحید الدین خان صاحب کی خدمت میں گزارش ہے کہ انہوں نے اپنے پرچے ’’الرسالہ ‘‘ میں جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی وکالت ، اور ان کے جرم کو جو کم کرنے کی کوشش کی ہے، تو کیا یہ دعاوی اور عبارات ان کی نظر سے نہیں گزریں؟ اگر نہیں تو یہ تو بہت ہی نامناسب بات ہے کہ وہ جس کی وکالت فرماتے ہیں، وہی ان کے دعوے کی تردید کرتا چلا جاتا ہے۔ ان کی عبارتیں ایک سے ایک بڑھ کر دعوائے نبوت ورسالت کی ہیں اور یہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے دعویٰ کیا ہی نہیں۔ بغیر مطالعہ کیے عقیدۂ ختم نبوت جیسے حساس اور بنیادی عقیدے پر اس طرح کا تبصرہ کیسے مناسب ہے؟ اور اگر ان کی نظر سے یہ تمام کتابیں اور جناب مرزا صاحب کے دعوے گزر چکے ہیں تو پھر کیا اسے تجاہل عارفانہ سمجھا جائے! جناب مولانا وحید الدین خان صاحب چاہیے کہ اپنے الفاظ ، تحریر اور عقیدے سے رجوع فرمائیں۔ اس مسئلے کی سنگینی کا احساس کرنا چاہیے اور اس نزاکت کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ان کی اس تحریر کی بنیاد پر کوئی نیا فرقہ نہ بن جائے۔ اللہ تعالیٰ اُمت کی حفاظت فرمائے، پہلے ہی بہت ٹکڑے اور فرقے بن چکے ہیں، اب کہیں کوئی نیا فرقہ یا فتنہ نہ اٹھ کھڑا ہو۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
برادرم مولانا زاہد اقبال صاحب 
السلام علیکم، مزاج گرامی؟
آپ کی کتاب ’’اسلامی نظام خلافت‘‘ میں نے دیکھ لی ہے اور اس پر تقریظ بھی لکھ دی ہے، مگر میں اس سلسلہ میں بعض تحفظات رکھتاہوں جو الگ درج کر رہا ہوں۔ انہیں غور سے دیکھ لیں اور اگر میری گزارشات آپ کے ذہن میں آجائیں تو متعلقہ مقامات کا از سر نوجائزہ لے لیں۔
۱۔کتاب قرآن وسنت اور فقہ اسلامی کے علمی ذخیرے کی بنیاد پر لکھی گئی ہے اورآج کے عالمی حالات اور معروضی حقائق کی طرف توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے میری رائے یہ ہے کہ اگر خلافت کا نظام آج سے دوسوسال قبل کے ماحول میں قائم کرنا ہے تو اس کے لیے یہ کتاب کافی ہے، لیکن اگر آج کی دنیا میں خلافت کے نظام کی بحالی مقصود ہے تو یہ مواد اور تجزیے قطعی طور پر ناکافی ہیں اوریہ موجودہ مسائل کا حل پیش نہیں کرتے۔
۲۔خلافت کے لیے سنت کے حوالے سے معیار قائم کرنے میں جو حوالہ پیش کیاگیاہے، وہ بہت بہتر ہے، لیکن اس کے لیے مسلم شریف کی یہ روایت بھی شامل کر لی جائے تو زیادہ بہتر ہوگی کہ ’’تمہارے اچھے حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں اور تمہارے برے حکمران وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہیں‘‘۔ میرے نزدیک اس ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم ہونا اور باقی رہنا ضروری ہے اور اس کے لیے عملی طور پر حالات کے تحت کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
۳۔ انعقاد خلافت کا ایک صورت میں صرف ’’ارباب حل وعقد‘‘کو ذریعہ قرار دیاگیاہے جو درست نہیں ہے۔ امامت وخلافت کے بارے میں اہل سنت اور اہل تشیع کا بنیادی اختلاف ہی یہ ہے کہ ان کے نزدیک یہ منصوص ہے جو نامزدگی اور خاندان کی بنیاد پر طے ہوتاہے جبکہ ہمارے نزدیک خلافت نہ منصوص ہے اور نہ ہی خاندانی ہے، بلکہ اسے امت کی صوابدید اور اختیار پر چھوڑ دیا گیا ہے اور امت سے مراد امت ہے، صرف ’’اہل العقد والحل ‘‘نہیں ہیں۔ آپ نے خود حضرت عمرؓ کے ارشاد میں ’’عن غیر مشورۃ من المسلمین‘‘ کا جملہ نقل کیاہے، اس لیے خلیفہ کا انتخاب پوری امت کا حق ہے۔ حضرت عمرؓ کے اس خطبہ کو بخاری شریف میں دیکھیں تو اس میں یہ جملہ بھی ملے گا کہ جو لوگ مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر خلیفہ کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں، وہ ان کے حقوق اور اختیارات کو غصب کرنا چاہتے ہیں۔
۴۔ خلافت کے نظام میں صرف شوریٰ نہیں، بلکہ نمائندگی بھی ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے قیدیوں کی واپسی کے لیے بارہ ہزار پر مشتمل اسلامی لشکر کی اجتماعی رائے کو کافی نہیں سمجھا تھا، بلکہ ’’نقبا‘‘ کے ذریعہ ان کی رائے الگ الگ طور پر معلوم کی تھی، اس لیے جہاں علمی مسائل کی بات ہوگی، وہاں شورائیت کے نظام میں وہ تمام افراد حصہ دار ہوں گے جن کے حقوق حکومتی فیصلوں اور اقدامات سے منسلک ہوں گے۔ بخاری شریف میں اس حوالہ سے تفصیلی روایت موجود ہے، اسے توجہ سے دیکھ لیں۔
۵۔خلافت کے لیے تسلط کو ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت ذریعہ تسلیم کیا گیاہے کہ اگر کسی وقت ایساہوجائے تو فتنہ وفساد سے بچنے کے لیے اسے قبول کر لیا جائے گا، لیکن اسے ایک مستقل طریق انتخاب اور انعقاد خلافت کے ایک باقاعدہ ذریعہ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہے۔ بالخصوص آج کے دور میں ایک مستقل ’’طریقہ انعقاد وخلافت‘‘ کے طور پر پیش کریں گے تو اس سے کسی متفقہ خلیفہ کا انتخاب تو ممکن نہیں رہے گا، البتہ عالم اسلام میں اس حوالے سے سو ڈیڑھ سو مقامات پر خانہ جنگی ضرور ہو جائے گی۔
۶۔میرے نزدیک آج کے دور میں خلافت کے انعقاد کی صرف ایک ہی صورت عملاً ممکن ہے کہ عالم اسلام میں آٹھ دس مقامات پر اسلامی امارتیں قائم ہوں جن کی بنیاد شوریٰ اور نمائندگی پر ہو۔ وہ انہی دو بنیادوں پرآپس میں کنفیڈریشن قائم کرکے اپنے اوپر خلافت کا ادارہ قائم کرلیں اور ا س کے حق میں ضروری اختیارات سے دست بردار ی اختیار کر کے باہمی مشورہ سے امیرا لمومنین کا انتخاب کرلیں۔ اس کے سوا آج کے دور میں اسلامی خلافت کے قیام کی کوئی صورت عملاً ممکن نہیں ہے ۔
۷۔خلافت کے لیے قریشیت کی شرط کو میں بھی ضروری نہیں سمجھتا، لیکن اس کے لیے آپ نے اولوالامر کے غیر قریشی ہونے سے جو استدلال کیاہے، وہ بے محل ہے، اس لیے کہ قریشی ہونے کی شر ط کی بحث صرف خلیفہ کے لیے ہے۔ اس کے ماتحت اولو الامرکے لیے قریشی ہونے کو کسی نے بھی شرط قرار نہیں دیا۔
۸۔آپ نے ایک طرف ’’غلام‘‘کو خلیفہ کے انتخاب کے لیے رائے دینے کے حق سے محروم کردیاہے اوردوسری طرف استعمل علیکم عبد یقودکم بکتاب اللہ کی روایت بھی نقل کردی ہے۔ اس تعارض کا آپ کے پاس کیا حل ہے ؟اگر اسے شرعاً یہ دونوں حق حاصل ہیں تو اسے اس نظام میں کسی نہ کسی درجہ میں شریک کرنے کے لیے آپ کو راستے نکالنا پڑیں گے۔
۹۔ اقوا م متحدہ عالم اسلام پر( غلط یا صحیح )جو حکمرانی کررہی ہے، وہ یکطرفہ اور جبری نہیں ہے بلکہ ایک معاہدہ کے تحت ہے جس میں ہم باضابطہ طورپر شریک ہیں اور اس سے نکلنے کا مکمل اختیار رکھتے ہیں، اس لیے اس کی ساری ذمہ داری اقوام متحدہ پر ڈال دینا مناسب نہیں ہے۔ 
۱۰۔ نیز بین الاقوامی معاملات کے بارے میں بھی ہمیں کوئی اصول قائم کرناہوگا۔ جو بین الاقوامی معاہدہ ہمارے اقتدار اعلیٰ اور قرآن وسنت کے منصوص احکا م کے منافی ہے، اسے ہمیں کلیتاً مسترد کردینا چاہیے بلکہ اس میں شامل ہونا بھی غلط ہے، لیکن جو معاملات ہماری خود مختاری کی نفی نہیں کرتے اور قرآن وسنت کے کسی صریح اور منصوص حکم کے منافی بھی نہیں ہیں، انہیں یکسر مسترد کردینا درست نہیں ہوگا۔ تلک عشرۃ کاملۃ 
ابو عمار زاہد الراشدی
۲۰۰۶/۱۱/۱
(۲)
مولانا عمار خان ناصر حفظہ اللہ تعالیٰ
السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مزاج بخیر
آپ نے اپنے لبنان کے سفر نامے میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ایک فتویٰ نقل کیا ہے کہ رافضی کے پیچھے نماز جائز ہے۔ برائے کرم اس کا حوالہ اگر میسر ہو جائے تو بندہ آپ کا ممنون و مشکور ہوگا۔
(حافظ)محمد فرقان انصاری۔ ٹنڈو آدم
(۳)
مکرمی محمد فرقان انصاری صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
متعلقہ حوالہ حسب ذیل ہے:
واما الصلاۃ خلف المبتدع فہذہ المسالۃ فیہا نزاع وتفصیل فاذا لم تجد اماما غیرہ کالجمعۃ التی لا تقام الا بمکان واحد وکالعیدین وکصلوات الحج خلف امام الموسم فہذہ تفعل خلف کل بر وفاجر باتفاق اہل السنۃ والجماعۃ وانما تدع مثل ہذہ الصلوات خلف الائمۃ اہل البدع کالرافضۃ ونحوہم ممن لا یری الجمعۃ والجماعۃ، اذا لم یکن فی القریۃ الا مسجد واحد فصلاتہ فی الجماعۃ خلف الفاجر خیر من صلاتہ فی بیتہ منفردا لئلا یفضی الی ترک الجماعۃ مطلقا واما اذا امکنہ ان یصلی خلف غیر المبتدع فہو احسن وافضل بلا ریب لکن ان صلی خلفہ ففی صلاتہ نزاع بین العلماء ومذہب الشافعی وابی حنیفۃ تصح صلاتہ واما مالک واحمد ففی مذہبہما نزاع وتفصیل وہذا انما ہو فی البدعۃ التی یعلم انہا تخالف الکتاب والسنۃ مثل بدع الرافضۃ والجہمیۃ ونحوہم (مجموع الفتاوی، ۲۳/۳۵۵، ۳۵۶)
’’بدعتی کے پیچھے نماز ادا کرنے کے مسئلے میں کچھ اختلاف اور تفصیل ہے۔ اگر تو بدعتی کے علاوہ کوئی دوسرا امام میسر ہی نہ ہو، مثلاًجمعے کی نماز جو صرف ایک ہی جگہ ادا کی جاتی ہو یا عیدین کی نماز یا ایام حج میں حج کے امام کے پیچھے ادا کی جانے والی نمازیں (جبکہ ان سب صورتوں میں امام بدعتی ہو)، تو مذکورہ تمام نمازیں اہل سنت والجماعت کے نزدیک بالاتفاق ہر نیک اور بد کے پیچھے ادا کی جائیں گی۔ امام کے پیچھے ایسی نمازوں کو ترک کرنے کی روش دراصل روافض اور ان جیسے اہل بدعت کی ہے جو (اپنے مذہب کے علاوہ دوسرے امام کے پیچھے) جمعہ اور جماعت کو درست نہیں سمجھتے۔ اسی طرح اگر بستی میں ایک ہی مسجد ہو (اور اس کا امام بدعتی ہو) تو گناہ گار امام کے پیچھے نماز ادا کر لینا گھر میں تنہا نماز ادا کرنے سے بہتر ہے تاکہ بالکلیہ نماز باجماعت کا ترک کرنا لازم نہ آئے۔ البتہ اگر آدمی کے لیے بدعتی کے علاوہ دوسرے امام کے پیچھے نماز پڑھنا ممکن ہو تو بلاشبہ یہ طریقہ بہتر اور افضل ہے، لیکن اس کے باوجود اگر وہ بدعتی کے پیچھے نماز پڑھ لے تو اس کی نماز کے متعلق علما کے مابین اختلاف ہے۔ امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ اس کی نماز درست ہوگی، جبکہ امام مالک اور امام احمد کے مذہب میں اختلاف اور کچھ مزید تفصیل ہے۔ یہ مسئلہ ایسی بدعت (اور اس کے حامل بدعتی امام) سے متعلق ہے جس کا کتاب وسنت کے خلاف ہونا واضح طور پر معلوم ہو، جیسا کہ روافض، جہمیہ اور ان جیسے دوسرے گروہ۔‘‘
میں نے یہ حوالہ کمپیوٹر سافٹ ویئر ’الجامع الکبیر‘ (الاصدار الثانی ۱۴۲۶ھ/۲۰۰۵ء) سے لیا ہے۔ مطبوعہ نسخوں میں، ممکن ہے جلد اور صفحات مختلف ہوں۔
محمد عمار خان ناصر
۱۹؍ نومبر ۲۰۱۱ء
(۴)
محترم مولانا عمار خان ناصر صاحب مدظلہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
مزاج بخیر
میں آپ کا مشکور ہوں کہ آپنے مجھے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اس فتویٰ کا حوالہ مرحمت فرمایا کہ روافض کہ پیچھے نماز کی گنجائش ہے۔ مجھے احساس ہے کہ آپ انتہائی مصروف شخصیت کے حامل شخص ہیں، لیکن حکم قرآنی ’فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم تعلمون‘ کے مطابق میں آپ کی خدمت میں اس فتوے کے بعد میرے ذہن میں پیدا ہونے والے خیالات کو گوش گزار کرکے اس معاملے میں شرح صدر حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے امید ہے آپ اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائیں گے۔
یہ بات عام ہے اور مشہور ہے کہ ابن تیمیہ نے روافض کے کفر کا فتویٰ دیااور سپاہ صحابہ والے ان کا فتویٰ اپنے موقف کی تائید میں پیش بھی کرتے ہیں۔ جب وہ کافر ٹھہرے تو ان کی اقتدا میں نماز کس طرح جائز ہو سکتی ہے؟ اسی طرح ہمارے اکابرین نے ہر دور میں شیعہ فرقے سے اتحاد کیا اور ان پر کفر کے فتوے بھی دیے۔ کیا اس سے عام تاثر یہ پیدا نہیں ہوتا کہ یہ دہرا معیار ہے؟ حال ہی میں دیوبند انڈیا والوں نے ایک فتویٰ شیعہ اثنا عشری کے متعلق دیا کہ ان کے عقیدہ امامت سے انکار ختم نبوت لازم آتا ہے، لہٰذا وہ منکر ختم نبوت ہیں اور دوسری طرف ہم تحفظ ختم نبوت کے جہاد میں ان کو شامل کرتے ہیں۔ دیوبند انڈیا والوں نے ان کے عقیدہ امامت کے بارے میں یہ حوالہ نقل کیا کہ ہمارے اماموں پر وحی آتی ہے، نئی شریعت آتی ہے، وہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر سکتے ہیں اور انہوں نے فتوے میں ان تمام عقائدکو اصول کافی میں کتاب الحجۃ میں درج قرار دیا۔ احقر نے کتاب الحجۃ کو پڑھا، لیکن مجھے اس طرح اس میں کچھ نہ ملا اور سرگودھاکے شیعہ عالم محمد حسین نجفی کی کتاب ’’احسن الفوائد فی شرح عقائد‘‘ کو پڑھا۔ اس میں انہوں نے صاف اور واضح طور پر لکھا ہے کہ اماموں کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ نبی ہیں اور ان پروحی آتی ہے، یہ کفر ہے۔ امام حلالِ خدا کو حلال اور حرامِ خدا کو حرام بتاتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اس تمام صورت حال میں آپ برائے کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا ہمارے علما اور مفتی حضرات اس معاملے میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں؟ غالی شیعوں کے عقائد کو دوسرے شیعوں پر چسپاں کرنا کیا یہ صحیح ہے؟ امید ہے رہنمائی فرمائیں گے۔
حافط محمد فرقان انصاری
(۵)
مکرمی حافظ محمد فرقان انصاری صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
روافض کی تکفیر کے ضمن میں معاصر مفتیان کرام کے طرز عمل کے حوالے سے آپ نے جو سوال اٹھایا ہے، وہ برمحل ہے، البتہ اس کی وضاحت انھی حضرات کی ذمہ داری ہے۔ میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نقطہ نظر کو درست سمجھتا ہوں۔ اس کی مزید وضاحت گزشتہ دنوں میں نے ایک علمی مجلس میں کی تھی۔ اتفاق سے اس گفتگو کی نقل تحریری صورت میں میرے پاس محفوظ ہے۔ سردست وہی پیش کر رہا ہوں۔ امید ہے اس سے ابن تیمیہ کے زاویہ نظر کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ 
میں نے عرض کیا تھا کہ:
’’کسی بھی مسلمان پر، کسی بھی کلمہ گو پر کفر کا فتویٰ لگانا کسی ایسی بات پر جو حقیقت میں کفر نہیں ہے، کوئی فرعی اختلاف ہے، کوئی فہم کا اختلاف ہے، ظاہر ہے کہ اس کا قبیح ہونا اور اس کا ممنوع ہونا واضح ہے۔ اسی طرح اگر کسی نے کوئی ایسی بات کہی ہے جو محتمل ہے تو اس میں فقہا کا وہ مشہور اصول سب اہل علم نے بیان کیا کہ اگر ننانوے میں سے ایک احتمال بھی ایسا ہے جو کفر سے بچاتا ہے تو اسے کفر سے بچانا ہی چاہیے، جب تک کہ وہ اس کی وضاحت نہ کر دے۔
زیادہ نازک بحث جو بنتی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان فرد یا گروہ نے کوئی ایسی بات کہی ہے یا اس کو نظریے کے طور پر اپنا لیا ہے جو واقعتا علمی اور فقہی لحاظ سے کفر ہے یا مستلزم کفر ہے تو اس کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟ جو چیزیں کفر نہیں ہیں، فہم کا یا تعبیر کا اختلاف ہے، ان کو کفر قرار دینے کی شناعت تو واضح ہے۔ جن چیزوں کے بارے میں اہل علم نے، فقہا نے یہ بات بیان کی ہے کہ اگر کوئی آدمی یہ بات کہتا ہے تو یہ کفر ہے اور مستلزم کفر ہے تو ایسے افراد کے بارے میں کیا کہا جائے؟ یہ زیادہ اہم اور نازک بحث ہے۔ میں اس معاملے میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا نقطہ نظر یہاں بیان کرنا چاہوں گا جو انھوں نے منہاج السنۃ میں اور اپنے فتاویٰ میں اور بعض دوسری کتابوں میں بیان کیا ہے۔ مجھے ان کا نقطہ نظر درست لگتا ہے۔ دلائل کا موقع آئے گا تو اس پر بات ہوگی۔ میں اس کا خلاصہ بیان کر دیتا ہوں۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ کوئی فرد یا گروہ ایسا ہے جو کلمہ گو بھی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول مان کر ہدایت کا ماخذ بھی مانتا ہے اور اس کے ساتھ کسی کفریہ بات کا بھی قائل ہے تو یہاں دو چیزیں ہیں جن کے مابین تعارض ہو رہا ہے۔ ایک طرف تو اس کی نسبت کا معاملہ ہے کہ وہ اپنی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتا ہے، جبکہ دوسر ی طرف یہ چیز ہے کہ وہ عملاً کوئی ایسا عقیدہ یا نظریہ یا عمل اپنائے ہوئے ہے جو رسول اللہ کے دین کے خلاف ہے۔ اب ان میں سے کس پہلو کا زیادہ لحاظ کیا جائے؟ اس کے کلمہ گو ہونے کا زیادہ لحاظ کیا جائے یا اس کے نظریے یا عمل کے مستلزم کفر ہونے کا زیادہ لحاظ کیا جائے؟ ابن تیمیہ کا کہنا یہ ہے کہ میرے نزدیک دین کا اورشریعت کے مزاج کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے گروہوں کے معاملے میں پہلی نسبت کا زیادہ لحاظ رکھا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں آنے کے بعد اصل میں انسانوں کی دو ہی قسمیں بنتی ہیں۔ یا وہ دائرۂ اسلام میں ہوں گے اور یا دائرۂ اسلام سے باہر ہوں گے۔ تو ایسے لوگ جو نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے ہیں اور آپ کے دین کو بحیثیت مجموعی قبول کرتے ہیں، لیکن بعض عقائد میں یا بعض اعمال میں اس سے ہٹے ہوئے ہیں تو ان کو دائرہ کفر میں شمار کرنے کے بجائے دائرۂ اسلام میں ہی شمار کرنا زیادہ مناسب ہے۔ گویا ابن تیمیہ کے نزدیک ایسی صورت میں کلمہ گوئی کی جو نسبت ہے، اس کو وزن دینا زیادہ اہم ہے۔ 
دوسری بات جو انھوں نے اور ان کے علاوہ دوسرے فقہا نے بھی بیان کی ہے، وہ یہ ہے کہ کسی قول یا فعل کے فی نفسہ کفر ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کے قائل کو یا اس کے فاعل کو بھی ہم کافر کہہ دیں۔ ان دونوں باتوں میں فرق ہے۔ قائل یا فاعل اس وقت کافر ہوگا اگر وہ کسی شبہہے یا کسی تاویل کے بغیر وہ بات کہتا ہو۔ اگر بات تو ایسی ہے جو فی نفسہ کفر ہے، لیکن کہنے والے کو کوئی شبہہ لاحق ہے جس کی وجہ سے وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ یہ کفر نہیں یا کہنے والا اس میں کوئی ایسی تاویل کر رہا ہے جس کی وجہ سے وہ یہ سمجھتا ہوکہ کفر نہیں ہے تو اس پر اس پر قانونی لحاظ سے کافر کا حکم جاری کرنا صحیح نہیں ہوگا۔ 
ابن تیمیہ نے اس نکتے کو واضح کرنے کے لیے صحابہ کے واقعات سے بعض مثالیں دی ہیں۔ مثلاً بعض صحابہ کو کسی شبہے کی وجہ سے قرآن کی بعض آیات کے قرآن کا حصہ ہونے میں تردد تھا۔ (اگرچہ اس میں ایک الگ بحث ہے کہ ایسا تھا یا نہیں، لیکن ابن تیمیہ اس کو مانتے ہیں کہ بعض صحابہ کو شبہہ تھا کہ قرآن کے بعض حصے قرآن کا جزو ہیں یا نہیں۔) اب ظاہر ہے کہ قرآن کے کسی جزو کو قرآن نہ ماننا فی نفسہ ایک بہت نازک اور حساس مسئلہ ہے، لیکن چونکہ ان حضرات کو اس میں کچھ شبہہ تھا، اس وجہ سے انھیں اس کی رعایت دیتے ہوئے تکفیر نہیں کی گئی۔
اسی طرح فقہا یہ اصول بیان کرتے ہیں کہ شریعت کی حرام کردہ چیزوں کا عملاً کوئی آدمی ارتکاب کرتا ہو تو یہ فسق ہے، لیکن اگر وہ اس کو حلال سمجھ کر کرتا ہے تو یہ کفر ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص شریعت کی حرام کردہ چیز کو کسی تاویل کے تحت وہ حلال سمجھتا ہے تو ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ اس کی مثال موجود ہے کہ بعض صحابہ قرآن مجید کی ایک آیت کی غلط تاویل کے تحت شراب کو حلال سمجھتے تھے اور پیتے بھی رہے۔ تو شریعت کی حرام کر دہ ایک چیز جو نص قطعی سے ثابت ہے، اس کو انھوں نے تاویل کے تحت یہ سمجھا کہ اس کی اجازت ہے، اس کی ان کو رعایت دی گئی۔ 
ابن تیمیہ کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ جن گروہوں یا جن افراد کے عقائد یا نظریات میں فی الواقع ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں جو کفر ہیں یا مستلزم کفر ہیں تو ایک تو ان کی کلمہ گوئی کی نسبت کا احترام زیادہ ترجیح کے قابل بات ہے اور دوسرے یہ کہ ان کے ہاں شبہے یا تاویل کا جو پہلو ہے، اس کی رعایت کرنی چاہیے۔ اس سے میں یہ اخذ کرتا ہوں کہ مستند اسلامی عقائد اور نظریات سے ہٹ کر کوئی نقطہ نظر اختیار کرنے والے گروہوں کے بارے میں شریعت کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ حتی الامکان انھیں دائرۂ اسلام کے اندر رکھا جائے اور علمی تنقید کے ذریعے سے اور باہمی گفتگو کے ذریعے سے ان کے عقائد کی اصلاح کوشش کی جائے۔ ہاں اگر کچھ ایسے زائد وجوہ اور مصالح کسی گروہ کی تکفیر کا تقاضا کریں، مثلاً کوئی گروہ اسلام کے کسی بنیادی عقیدے کو براہ راست چیلنج کرتا ہو (جیسا کہ مثال کے طور پر قادیانی حضرات اجراے نبوت کے معاملے میں کرتے ہیں) یا ایسا خطرناک ثابت ہو رہا ہو کہ اس کو الگ کر دینا ہی مسلمانوں کی اور اسلام کی اور ملت کی مصلحت کا تقاضا معلوم ہو تو اس صورت میں یہ اقدام بھی کیا جا سکتا ہے۔‘‘
محمد عمار خان ناصر
۲۲؍ نومبر ۲۰۱۱ء

فالج کا ایک نایاب نسخہ

حکیم محمد عمران مغل

مسجد و مدرسہ نیلا گنبد ، انار کلی لاہور کو ہمیشہ ایک مرکزی مقام حاصل رہا ہے۔ یہاں بڑے بڑے علما، فقہا، اساتذہ کرام اور حکما کا جمگھٹا رہا ہے۔ انھی میں ایک ایسے عالم دین تھے جو سرکاری نوکری چھوڑ کر یہاں کے پرسکون ماحول میں آ بسے۔ دین کے علاوہ کوئی کام یا مجلس انھیں پسند نہ تھی۔ عربی، اردو، فارسی اور انگریزی زبانوں کے اسکالر تھے۔ گزر بسر کے لیے مختلف زبانوں کے تراجم کا کا م شروع کر دیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ سعودی حکومت اور اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات، امریکہ، افریقہ تک ان کے نام کا سکہ چلنے لگا۔ بھاٹی گیٹ ہائی اسکول میں عربی کے استاذ تھے، مگر سب کچھ چھوڑ کر مسجد نیلا گنبد میں آ بسے۔ ان کے دو چھوٹے بھائی بھی تھی۔ میرا تعلق ان سے اسکول سے ہی ہوا تھا۔ صبح جتنا کماتے تھے، شام کو خالی ہاتھ گھر جاتے تھے۔ مخلص اتنے کہ کبھی کسی سے انتقام لینے کا نہ سوچتے۔ مجلس بھی بڑی وسیع ہوا کرتی تھی۔ خود اعلیٰ پایے کے ہومیو پیتھ ڈاکٹر تھے، مگر ترجیح ہمیشہ طب اسلامی کو دی۔ فرماتے تھے کہ میں نے ہومیو پیتھک کا کورس کیا ہے، مگر جو بات طب اسلامی یا یونانی میں ہے، وہ دوسرے کسی نظام میں نہیں۔ اسی لیے میں ان کے نزدیک ہوتا گیا۔ میری خواہش تھی کہ ایسے نیک عالم باعمل سے ہر قیمت پر رابطہ استوار ہونا چاہیے۔ یہ تھے حضرت مولانا منظور الوجیدی المعرف مولانا منظور بیگ۔
ایک مرتبہ یوں ہوا کہ تین چار دن تک ملاقا ت نہ ہو سکتی۔ پتہ کیا تو بتایا گیا کہ وہ ہسپتال میں داخل ہیں۔ میں فوراً ہسپتال پہنچا۔ چھوٹا بھائی تیمار داری کر رہا تھا، مگر نہایت پریشان تھا۔ میں نے کہا کہ تسلی رکھیں، اللہ فضل کرے گا۔ کل میں دوا کے ساتھ حاضر ہوں گا۔ ان کے بھائی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب تو دیسی دوا نہیں کھانے دیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ سے زیادہ مجھے ان معاملات کا پتہ ہے۔ دوسرے دن میں دوا کے ساتھ گیا تو ان کے دونوں بھائیوں کے علاوہ قاری بشارت صاحب مرحوم نے، جن سے میں نے قرآن شریف پڑھنے کا فن سیکھا تھا، فرمایا کہ اس ماحول میں یہ مناسب نہیں۔ میں نے عرض کی کہ ماحول، حالات اور بیماری کی کیفیات کے تحت جو دوا میں لایا ہوں، وہ اللہ کے فضل سے تیر بہدف ثابت ہوگی اور کئی دفعہ تجربہ کی میزان پر یہ دوا پرکھی جا چکی ہے۔ لیکن ان کے چھوٹے بھائی صاحب نے کہا کہ منظور صاحب خود بھی آمادہ نہیں، کیونکہ واسطہ تو ڈاکٹر حضرات سے ہی پڑے گا اور وہ دیسی دوا دیکھ کر ناراض ہوں جائیں گے۔
میں واپس آ گیا اور رات بھر سوچتا رہا کہ انھوں نے یہ دوا نہ کھائی تو ساری زندگی چارپائی سے نہ اٹھ سکیں گے۔ اللہ نے میرے دل میں ایک بات ڈال دی۔ دوسرے دن میں پھر گیا اور ان سے کہا کہ میری دوا بہت قیمتی ہے۔ آپ مجھے کم از کم تیس سال سے جانتے ہیں کہ میں نے کس طرح اور کن حالات میں طب اسلامی پڑھی ہے۔ میں نے ہر طرح سے قائل کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے کہا کہ آپ اپنی ذمہ داری پر دے سکتے ہیں تو دے دیں۔ میں نے کہا مجھے منظور ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ جو کیپسول وہ کھا رہے ہیں، وہ سارے لا کر مجھے دے دیں۔ وہ لے آئے۔ میں نے سب کو خالی کر کے ایک کالی مرچ کے برابر ہر کیپسول میں خالص ہیرا ہینگ بھر دی۔ میں نے کہا کہ ایک کیپسول ابھی سادہ پانی سے دے دیں۔ میں نے رات وہیں گزارنے کی خواہش ظاہر کی جس سے ان کا حوصلہ بڑھا۔ سات دن صبح شام کھانے کے بعد صرف ہینگ دی گئی۔ ساتویں روز مولانا منظور صاحب پیدل چل کر اچھرہ سے نیلا گنبد آئے بھی اور گئے بھی۔ پھر وہ جتنا عرصہ زندہ رہے، سواری استعمال نہ کی۔ میں نے ان کے بھائی صاحب سے کہہ دیا تھاکہ میرا ذکر نہ کریں کہ ہر کوئی میرے پیچھے لگ جائے گا اور جان چھڑانی مشکل ہو جائے گی۔
مولانا کو تکلیف کیا تھی؟ بظاہر ان کا ایک قدم معمولی سے ڈگمگاتا تھا، مگر کوئی یہ نہ جان سکا کہ انھیں فالج کا حملہ ہوا تھا۔ ہینگ اور کالی زیری دونوں بڑے نام اور کام کی ادویہ ہیں۔ فالج کے علاوہ میں نے ہینگ کے ساتھ بڑے اونچے اور پڑھے لکھے گھرانوں کے مریضوں کا لقوہ کا علاج کیا ہے۔ آج جتنی ٹھنڈک ہمارے گھروں میں مستعمل ہے، اس نے لوگوں کو جیتے جی گڑھوں میں دھکیلنا شروع کر دیا ہے۔ ٹھنڈا پانی، ایئر کنڈیشنر، برف، قلفی، ٹھنڈی بوتلیں، سب زہر قاتل ہیں۔ ان سے بچیں۔
نوٹ: ہر آدمی یہ نسخہ استعمال نہ کرے، خصوصاً وہ مریض جو بلڈ پریشر یا خونی امراض کا شکار ہوں۔