اگست ۲۰۱۱ء

شریعت کے متعلق معذرت خواہانہ رویہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
رمضان المبارک ۔ حسنات کا گنج گراں مایہپروفیسر غلام رسول عدیم 
قرآن مجید بطور کتاب تذکیر ۔ چند توجہ طلب پہلومحمد عمار خان ناصر 
شخصیت پرستی اور مشیخیت کے دینی و اخلاقی مفاسدمولانا محمد عیسٰی منصوری 
تنقیدی جائزہ یا ہجوگوئی؟ (۲)محمد رشید 
مکاتیبادارہ 
سیمینار: ’’پر امن اور متوازن معاشرے کے قیام میں علماء کا کردار‘‘ادارہ 
دماغی رسولی کا آپریشن بذریعہ پسینہحکیم محمد عمران مغل 

شریعت کے متعلق معذرت خواہانہ رویہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہفت روزہ ’’اردو ٹائمز‘‘ نیو یارک میں ۲۱؍ جولائی ۲۰۱۱ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ :
’’شریعت کوئی قانون نہیں ہے، بلکہ ایک طرز حیات ہے۔ اگر امریکہ میں شرعی قوانین کے خلاف کوئی قانون بنایا گیا تو اس سے امریکہ کے سیکولر تصور کو دھچکا لگے گا۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر طارق رمضان نے، جو حسن البناءؒ کے نواسے بھی ہیں، نیو یارک میں ’’اکنا‘‘ کے زیر اہتمام ایک فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا انعقاد مقامی ہوٹل میں گزشتہ اتوار کو کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر طارق رمضان نے کہا کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں شرعی قوانین کو خلاف قانون قرار دینے کی مہم چلائی جا رہی ہے اور پروپیگنڈے کو اسلام کے خلاف ایک نفسیاتی حربے کے طو رپر استعمال کیا جا رہا ہے، مگر یہ کوئی منطقی بحث نہیں ہے، کیونکہ قانون الگ ہے اور شریعت الگ۔ قانون کسی مقصد کو حاصل کرتا ہے، جبکہ شریعت ایک راستے کی نشان دہی کرتی ہے۔ شریعت سزائیں نہیں بتاتی۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج سب شریعت ہیں۔ ڈاکٹر طارق رمضان نے کہا کہ کچھ لوگ صوفی کو شریعت سے ماورا قرار دیتے ہیں، مگر شریعت کے بغیر کوئی صوفی نہیں ہو سکتا۔ ہمیں خطرہ باہر سے نہیں بلکہ اندر سے ہے جو شریعت کی غلط توجیہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں انصاف کے بغیر امن کا تصور مشکل ہے۔ امریکی قانون کئی مسلم ممالک کے مقابلے میں زیادہ انصاف کی ضمانت دیتا ہے اور یہاں مسلمانوں کو ہی نہیں، دنیا کے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مذہبی آزادیاں حاصل ہیں۔ یہی شریعت ہے۔ ہر وہ چیز جو صحیح ہے، شریعت ہے۔ صرف مسلمانوں کے خلاف اگر کوئی قانون لایا گیا تو وہ ایک کالونیل سلوک ہوگا۔ ڈاکٹر طارق رمضان نے کہا کہ جس طرح امریکی آئین نے ریاست اور چرچ کو الگ الگ خانوں میں رکھا ہے، اگر کوئی عورت پریسٹ نہیں بن سکتی تو امریکی آئین ان معاملات میں مداخلت نہیں کرتا، اسی طرح ہمارے مذہبی معاملات میں بھی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ ہم کسی بھی ایسے قانون کے خلاف مزاحمت کریں گے جس کے تحت مسلمانوں کو معاشرے سے الگ رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ تقریب میں ڈاکٹر زاہد بخاری سمیت دیگر خواتین وحضرات بھی موجود تھے۔‘‘
مغربی دنیا میں اس طرح کے ملے جلے افکار ونظریات کا عام طو رپر اظہار کیا جاتا ہے، مگر ہمیں دو باتوں نے اس خبر کی طرف بطور خاص متوجہ کیا ہے۔ ایک یہ کہ جس تقریب میں ان خیالات کا اظہار کیا گیا ہے، وہ ’’اکنا‘‘ (اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا) کی سالانہ تقریب تھی اور ’’اکنا‘‘ جماعت اسلامی کے ساتھ فکری ونظریاتی تعلق رکھنے والے حضرات پر مشتمل ہے، جبکہ اظہار خیال کرنے والے محترم دانش ور الشیخ حسن البناءؒ کے نواسے ہیں جو ’’الاخوان المسلمون‘‘ کے بانی تھے۔ ڈاکٹر طارق رمضان موصوف نے مذکورہ رپورٹ کے مطابق ا س تقریب میں جو کچھ فرمایا ہے، ان دونوں نسبتوں کے حوالے سے اس کی بعض باتیں محل نظر ہیں جو اگر جماعت اسلامی اور الاخوان المسلمون کے اب تک چلے آنے والے موقف میں کسی تبدیلی کی غماز نہیں ہیں تو ان کی مناسب وضاحت ان حلقوں کی طرف سے سامنے آنی چاہیے۔ البتہ اس رپورٹ کو سامنے رکھتے ہوئے چند گزارشات اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں۔
جہاں تک ’’سیکولرازم‘‘ کا تعلق ہے، ہمیں اب تک یہی کہا جاتا رہا ہے کہ یہ مذہبی معاملات میں عدم مداخلت کا نام ہے جس کا مقصد ریاست کو مذہبی معاملات میں مداخلت سے روکنا اور تمام مذاہب کے پیروکاروں کو مذہبی آزادیاں فراہم کرنا ہے، لیکن امریکہ سمیت بہت سے سیکولر ممالک کی پالیسیوں کے تسلسل نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس ’’مذہبی آزادی‘‘ اور ’’ریاست کی عدم مداخلت‘‘ کے پیچھے اصل مقصد اسلامی ثقافت وروایات کے عالمی سطح پر دوبارہ اظہار کو روکنا ہے، اس لیے یہ عدم مداخلت دھیرے دھیرے اسلامی روایات کے خلاف مداخلت کا رخ اختیار کرتی جا رہی ہے اور امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ’’اسلامی شرعی قوانین‘‘ کے حوالے سے جس منفی مہم کا خدشہ ڈاکٹر طارق رمضان نے ظاہر کیا ہے، وہ بھی اسی پس منظر میں ہے۔
ہمارے خیال میں پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ اور جرمنی کے ساتھ ساتھ خلافت عثمانیہ کی شکست وریخت کے موقع پر ترکی کی قومی خود مختاری اور ریاستی تشخص کو تسلیم کرنے کے لیے مغربی ممالک نے شرعی قوانین کی منسوخی اور خلافت اسلامیہ کے خاتمہ کی جو شرط عائد کی تھی، اسے مغربی دنیا میں پورے عالم اسلام کے ساتھ اجتماعی معاہدہ سمجھا جا رہا ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے میں شریعت کے نفاذ کو اس معاہدہ کی خلاف ورزی تصور کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابق برطانوی وزیر اعظم مسٹر ٹونی بلیئر نے اپنے دور اقتدار میں پورے اہتمام کے ساتھ اس امر کا اعلان کیا تھا کہ دنیا کے کسی خطے میں خلافت قائم نہیں ہونے دی جائے گی اور نہ ہی شریعت نافذ ہونے دی جائے گی۔
ہمارے بہت سے دانش وروں نے ابھی تک مغرب کے سیکولر ازم کو ’’مذہبی معاملات میں عدم مداخلت‘‘ ہی تصور کر رکھا ہے جس کی بنا پر وہ اسلام کو ’’نظام حیات‘‘ اور شریعت کو ’’قانونی ڈھانچہ‘‘ قرار دینے کے بارے میں گومگو حتیٰ کہ بعض صورتوں میں نفی کا رجحان اپنائے ہوئے ہیں جو اگرچہ موجودہ عالمی نظام کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی نیت سے ہو سکتا ہے، مگر اصلاً یہ ایک غیر فطری اور غیر واقعاتی سوچ ہے، اس لیے کہ نہ تو مغرب کا سیکولرازم مذہب کا عملی وجود قبول کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات کا مجموعی دائرہ سسٹم اور قانونی ڈھانچے سے خالی ہے، کیونکہ اگر اسلام قرآن کریم، سنت نبوی اور خلافت راشدہ سے عبارت ہے تو اس میں ریاستی سسٹم بھی ہے، قانونی نظام بھی ہے اور باقاعدہ احکام وقوانین کا ایک اچھا خاصا ذخیرہ بھی موجود ہے جس پر عمل درآمد کسی باقاعدہ نظام اور قانونی ڈھانچے کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ اسی وجہ سے فقہاء کرام نے نظام خلافت کے قیام کے وجوب کی ایک دلیل یہ دی ہے کہ چونکہ قرآن کریم کے بہت سے احکام پر عمل درآمد باقاعدہ ریاست کے قیام اور حکومت کے وجود پر موقوف ہے، اس لیے خلافت اسلامیہ کا قیام امت مسلمہ کا اجتماعی دینی فریضہ ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے دانش وروں کو اس حقیقت کا اب تو ادراک کر ہی لینا چاہیے کہ حالات بہت آگے بڑھ چکے ہیں، تذبذب اور گومگو کی کیفیت کا زمانہ بیت چکا ہے، سامنے نظر آنے والے بہت سے واقعات کے پس پردہ اصل حقائق رفتہ رفتہ منکشف ہوتے جا رہے ہیں اور دو سو سال قبل جس فکری اور ثقافتی کشمکش کا آغاز ہوا تھا، وہ اب آخری اور فیصلہ کن راؤنڈ کے قریب ہوتی جا رہی ہے۔ اس لیے دینی حلقوں سے ’’اجتہاد‘‘ کا مسلسل تقاضا کرنے والوں کو خود بھی ’’اجتہادی نظر‘‘ سے کام لیتے ہوئے اپنا انداز فکر تبدیل کرنا چاہیے۔ مغرب کا معاشی اور معاشرتی نظام ہچکولے کھا رہا ہے اور دینی وروحانی اخلاقیات سے عاری مادہ پرستانہ مغربی فلسفہ حیات کے ناخدا خود متبادل کی تلاش میں پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ وقت اسلام کے نظام زندگی ہونے اور شریعت کے قانون ہونے کی نفی کا نہیں، بلکہ اس کے اثبات واظہار کا ہے اور اقبالؒ کے بقول آج کا مجتہد اور مجدد یعنی اسلامی حکمت ودانش کا اصل وارث وہی ہوگا جو اسلامی اصول وروایات اور احکام وقوانین کو آج کی زبان واسلوب میں پیش کرے گا اور منطق واستدلال کے ساتھ آج کے عالمی قوانین پر ان کی برتری ثابت کرے گا۔ 
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیوسٹن (امریکہ) سے شائع ہونے والے عربی جریدہ ’’المدار‘‘ کی ایک خبر (۲۹؍ جون ۲۰۱۱ء) کے مطابق ڈاکٹر طارق رمضان کے اصل وطن یعنی عرب جمہوریہ مصر میں حال ہی میں ابھرنے والی عوامی تحریک ’’الحریۃ والعدالۃ‘‘ کے ایک مسیحی راہ نما ناجی نجیب نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں اسلامی شریعت کے قوانین نافذ کیے جائیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ نفاذ شریعت سے ڈرنے اور خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے کہ:
لا خوف من تطبیق الحدود الاسلامیۃ فاذا کان السارق جزاء ہ ان تقطع یدہ فلتقطع والقاتل یقتل
’’حدود شرعیہ کے نفاذ سے کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے، اس لیے کہ جب چور کی سزا ہی یہ ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیاجائے تو وہ کٹ جانا چاہیے اور قاتل کو قصاص میں قتل ہونا چاہیے۔‘‘
ناجی نجیب کا کہنا ہے کہ بعض حلقے انھیں یہ کہہ کر خوف زدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مسیحی ہو کر ’’الاخوان المسلمون‘‘ کے لیے کام کر رہے ہیں، حالانکہ میں الاخوان المسلمون کے لیے نہیں بلکہ الاخوان المصریون کے لیے کام کر رہا ہوں۔ 
ہم سمجھتے ہیں کہ بعض سنجیدہ مسیحی راہ نماؤں کی طرف سے شریعت اسلامیہ کے نفاذ کی حمایت دراصل انسانی سوسائٹی کے لیے آسمانی تعلیمات کی ضرورت کا اظہار ہے اور یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ اس نے آسمانی تعلیمات کو مستند او رمکمل حالت میں محفوظ رکھا ہوا ہے۔ اس تناظر میں آج بھی کوئی مسلمان دانش ور مغرب کے فلسفہ وثقافت کے فکری دباؤ کا شکار ہو کر اسلامی نظام وقوانین کے بارے میں گومگو کے لہجے میں بات کرتا ہے تو اسے اقبالؒ کی زبان میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ:
یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا

رمضان المبارک ۔ حسنات کا گنج گراں مایہ

پروفیسر غلام رسول عدیم

اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ جس کی فضیلتوں اور برکتوں کا شمار ممکن نہیں، واحد وہ مہینہ ہے جس کا ذکر قرآن مجیدمیں آتا ہے اور دو مناسبتوں سے آیا ہے۔ اول یہ کہ یہی وہ ماہ مقدس ہے جس میں نزول قرآن کا آغاز ہو ایا قرآن لوحِ محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا اور پھر حکمتِ الٰہی اور ضرورتِ بشری اور حکمتِ خداوندی سے ۲۲؍سال اور ۷؍ ماہ اور ۱۴؍دن کے عرصے میں نجماًنجماً، آیۃً آیۃً، سورۃً سورۃً، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتا رہا۔ 
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیَ أُنزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ (البقرۃ۲:۱۸۵) 
’’رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔‘‘
دوسری مناسبت یہ ہے کہ اسی مہینے میں روزوں کی فرضیت کے احکامات نازل ہوئے۔ 
مَن شَہِدَ مِنکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ (البقرۃ ۲: ۱۸۵) 
’’تم میں سے جواس مہینہ میں موجود ہو وہ اس کے روزے رکھے ۔‘‘
یوں ایک طرف یہ جشن نزول قرآن کا مہینہ ہے تودوسری طرف ماہ صیام ہے۔
لغوی طورپر رمضان ’’رمض‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنی سخت گرمی اورتپش کے ہیں۔ اہلِ لغت نے اس لفظ کی اشتقاقی حیثیت پر بحث کرتے ہوئے دو ممکنہ وجوہ بتائی ہیں:
۱۔جب ابتدامیں مہینوں کے وضع کیے گئے تویہ مہینہ سخت گرمی کے موسم میں آیا ہوگا۔
۲۔ روزہ دار روزوں کی وجہ سے بھوک اور پیاس کی حدت وشدت کا احساس رکھتاہے، اس لیے اسے رمضان کانام دیا گیا۔
رمضان المبارک میں روزوں کی فرضیت مکی زندگی میں نہیں ہوئی بلکہ ۲ ؍ہجری میں پہلی مرتبہ اہلِ اسلام پر روزے فرض کیے گئے اور صرف اسی ماہ کے روزے فرض کیے گئے ۔ یوں سفر ہجرت کے کم وبیش ڈیڑھ سال بعد روزے فرض ہوئے۔ یوں کلمہ طیبہ اورنماز کے بعد تیسرا رکن اسلام (روزہ) اس خصوصی مہینے سے گہری وابستگی رکھتا ہے اور تزکیہ نفس کے ساتھ ساتھ دین سے گہری محبت اور شیفتگی کا درس دیتا ہے۔
عظمتوں والے اس ماہ مبارک کی فضیلتیں قرآ ن وحدیث میں پوری شرح و بسط سے دی گئی ہیں۔ آج کی نشست میں ہم سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خطبہ پیش کرتے ہیں۔یہ وہ خطبہ ہے جو آپ نے شعبان ۲ھ کے آخری دن ارشاد فرمایا۔ اس ایک خطبے سے رمضان المبارک کی فضیلت، اہمیت اور افادیت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ اس خطبے کے راوی حضرت سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان ۲ھ کے آخری دن ہم سے یہ خطاب فرمایا:
’’اے لوگو! ایک عظیم مہینہ، ایک مبارک مہینہ تم پر سایہ فگن ہے۔ یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ خیروبرکت والی ہے۔ اللہ نے اس کے دنوں میں روزہ رکھنا فرض قرار دے دیا اور اس کی راتوں میں قیام سنت قرار دیا ہے۔ جو شخص اس ماہ مبارک میں ایک نیکی کرے، وہ ایساہے جیسے اس نے دوسرے مہینوں میں ایک فرض ادا کیا اور جو اس میں ایک فرض ادا کرے، وہ ایساہے جیسے اس نے دوسرے مہینوں میں ستر فرض ادا کیے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثوا ب جنت ہے۔ یہ ہمدردی کرنے کا مہینہ ہے اور ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کے رزق میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ جس شخص نے کسی روزہ دار کا روزہ افطار کروایا، اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور اسے آتشِ جہنم سے آزاد کر دیا جائے گا۔ اسے بھی روزہ دار جتنا ہی ثواب ملے گا، درآں حالیکہ روزہ دار کے اجر میں بھی کوئی کمی نہ آئے گی۔
ہم نے عرض کیا۔اے اللہ کے رسول! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم میں سے ہر کوئی اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرا دے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ثوا ب اللہ تعالیٰ پانی ملے ہوئے دودھ یا پانی کے گھونٹ پر بھی مرتب فرما دے گا۔ جو روزہ دار کو پیٹ بھر کرکھلا دے، اسے اللہ میرے حوض سے پانی پلائے گا جس کے بعد اسے تشنگی محسوس نہ ہو گی تاآنکہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
یہ وہ مہینہ ہے جس کا عشرہ اول رحمت ہی رحمت ہے، جس کا درمیانی عشرہ بخشش ہی بخشش ہے اور جس کا آخری عشرہ آگ سے آزادی ہے۔ جس شخص نے اپنے غلام یا خادم یا ملازم کی ذمہ داریاں اس مہینہ میں کم کر دیں، اللہ تعالیٰ اس کی بخشش فرما دے گا اور اسے آتشِ دوز خ سے آزاد فرما دے گا۔‘‘ (کنزالعمال ، رقم حدیث: ۲۳۷۰۹)
سرکارِ رسالت پنا ہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث جس میں آ پ کا یہ خطاب نقل کیا گیا ہے، رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں میں خیر و برکت کے خزانوں اور حسنات و فضائل کے گنج ہاے گراں مایہ کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس حدیث میں اس مہینہ کی چار اہم صفات کا تذکرہ ہے:
۱۔شہر عظیم: عظمتوں والا مہینہ۔
۲۔ شہر مبارک: برکتوں والا مہینہ ۔
۳۔شہرصبر : ہمت و استقلال سے نیکیوں پر اور جرات و حوصلے سے گناہوں کے خلاف ڈٹے رہنے کا مہینہ۔
۴۔شہرمواساۃ: ایسا مہینہ جس میں لازم آتا ہے کہ ہم اپنے ابنائے جنس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ہمدردی، غم گساری اور دل سوزی کے ساتھ پیش آئیں۔ 
خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے ہے ۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم کس حد تک اس پر عمل پیرا ہیں۔ اگراس آئینے میں دیکھ کر اپنے اندر کوتاہیاں پاتے ہیں تو ان کے ازالے کا ہم نے کیا سوچا ہے؟ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب ہر مسلمان کے ذمے ہے۔ 

ماہ صیام کے ہدایا و عطایا

رمضان المبارک اپنی تمام ترجلوہ سامانیوں اور ضیاپاشیوں کے ساتھ جب پورے عالم اسلام کو بقعہ نور بنا دیتا ہے تو اس کے جلو میں ان برکتوں، رحمتوں اور فضیلتوں کا ظہور بھی ہوتا ہے جن سے سال بھر کے دوسرے مہینے خالی ہیں۔ یوں کہنا چاہیے، رمضان ایک ابرنو بہار ہے جس سے ایمان کی کھیتیاں لہلہاتی ہیں، حسنِ عمل کے نہال پروان چڑھتے اور رحمت و بخشش کے اثمار شیریں جھولیوں میں آن گرتے ہیں۔ اس ماہ مقدس میں خیر کے خزانے لٹتے اور نیکیوں کے بھنڈار بٹتے ہیں۔ رحمتیں محض بہانے تلاش کرتی ہیں۔ کبھی رحمت عالمِ انسانیت کو محیط ہوتی ہے تو کبھی گناہوں کی تپتی دھوپ میں مغفرت کے سائبان تن دیے جاتے ہیں اور کبھی گرفتار بلا کو نارِجہنم سے آزادی کے پروانے عطا کیے جاتے ہیں۔ اولہ رحمۃ، اوسطہ مغفرۃ و آخرہ عتق من النار۔ (کنزالعمال ، رقم حدیث: ۲۳۷۰۹)
حالت صیام ہو یا حالت قیام، ہر دو کو اس زور سے تبشیری سانچے میں ڈھال دیا گیا ہے کہ گزشتہ گناہوں کے دھل جانے کی نوید جانفزا دلوں کو سکون کی نعمت سے مالا مال کرتی ہے۔ نبوت کی ز بان فیض ترجمان ہے ، اعلا ن ہوتا ہے:
من صام رمضان ایماناً واحتساباً غفر لہ ما تقدم من ذنبہ، ومن قام رمضان ایماناً واحتساباً غفر لہ ما تقدم من ذنبہ (الجامع الصحیح للبخاری، رقم حدیث: ۱۷۶۸)
اس ماہ کے خصوصی ہدایا کو نگاہ میں رکھیے اور پھر اس کی عظمتوں کا اندازہ لگائیے کہ اس کی ایک ایک آن کس ندرت آمیز شرف کی آئینہ دار ہے۔
سب سے پہلا ہدیہ خود روزہ ہے۔ باقی مہینوں میں آپ روزے رکھیں تو محض نفلی عبادت ہو گی جس کی استحبابی قدر و قیمت تواپنی جگہ ہے مگر یہ عبادت ادائے فرض کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتی۔ رمضان اپنے ساتھ روزہ لاتا ہے اور روزہ جن جسمانی، طبعی، طبی، نفسیاتی، روحانی، معاشرتی فوائد و مصالح کو متضمن ہے، اسے لفظوں کے شکستہ پیمانوں سے ناپاہی نہیں جا سکتا۔ لفظ کیسے ہی خوبصورت کیوں نہ ہو ں، روزے کی افادیت اور جزا کی وسعتوں کو نہیں پا سکتے۔ وجہ یہ ہے کہ باقی عبادات میں ریاکاری اور نمود و نمائش کے سو پہلوؤں کا امکان ہے۔ محض روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں ریاکاری کو ذرہ برا بر دخل نہیں تا آنکہ خود روزہ دار ہی نمود روزہ پر مصرنہ ہو۔ اس عبادت کا یہی اخلاصی پہلو ہے جس کے لیے حدیث قدسی میں فرمایا گیا: الصیام لی و انا اجزی بہ (الجامع الصحیح للبخاری، رقم حدیث: ۱۷۶۱) ’’روزہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کی جزا دیتا ہوں‘‘۔ اگرچہ جزا تو سبھی اعمال کی وہی دیتا ہے اور کوئی نہیں دے سکتا، مگر اپنی طرف یہ انتسابِ جزا روزہ کے دوسرے اعمال پر شرف و تخصص کا اظہار کرتا ہے۔
دوسرا تحفہ جو رمضان اپنے ساتھ لایا، وہ، وہ ضابطہ حیات ہے جس نے پوری کائنات میں ہلچل مچا دی۔ فرسودہ زندگی کے اندر سے ایک تازہ تر اور شادا ب تر زندگی نمودار ہوئی۔ دقیانوسی اور رسم و رواج کے مارے ہوئے آدمی کے اندر سے ایک پر عزم اور بالیدہ روح انسان برآمد ہوا جس نے چار دانگ عالم میں فکر ونظر اور علم و عمل کا ایک انقلاب تازہ پیدا کر دیا۔ یہ وہ نوشتہ دانش و بینش ہے اور وہ کتاب ہدایت ہے جس نے آتے ہی پوری نسل انسان کو یہ چیلنج کر دیا کہ اس جیسے کم از کم تین جملے ہی گھر لاؤ مگر اپنی فصاحت و بلاغت اور قدرت زبان و بیان کی جملہ توانائیوں کے باوجود نہ کوئی اس دور میں اس کی نظیر ومثال پیش کر سکا، نہ ہی آج تک اس تحدی کا جواب پیش کیا جا سکا ہے۔ آج بھی وہ چیلنج انھی زوردار لفظوں میں پورے تحکمانہ لہجے کے ساتھ موجود ہے جیسے چودہ سو سال پہلے تھا:
فَأتُواْ بِسُورَۃٍ مِّن مِّثْلِہِ وَادْعُواْ شُہَدَآءکُم مِّن دُونِ اللّٰہِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ (البقرۃ ۲:۲۳)
زیادہ سے زیادہ جواب دیا گیا تو صرف یہ کہ لَوْ نَشَاء لَقُلْنَا مِثْلَ ہَذَا (الانفال ۸:۳۱) مگر یہ بھی خالی الفاظ تھے، ہر طرح کی معنوی معقولیت سے خالی۔ آج تک جواب کا انتظار ہے بلکہ قیامت تک رہے گا، جواب یقیناًنہیں بن پڑے گا۔ اس کتاب حکیم نے دلوں کے زاویے بدل دیے، نگاہوں کی آرزوئیں بدل دیں، دلبری اور دل ربائی کے طور بدل دیے، روحوں میں بے تابیاں بھر دیں اور فکر وعمل کو نئی وسعتیں عطا کر دیں۔ جس نے یہ کلام سنا اس کی تاثیر کا گھائل ہو کے رہا۔
مخدرات سرا پردہ ہائے قرآنی 
چہ دلبر ند کہ دل می برند پنہانی 
جس جان میں اتر گیا، اس میں زبردست انقلابی داعیے ابھارے، بالکل کائنات ہی بدل کر رکھ دی :
چوں بجاں در رفت جاں دیگر شود 
جاں چو دیگر شد جہاں دیگر شود 
تیسرا ارمغان ثمین اس ماہ مبارک میں اعتکاف ہے۔ اعتکاف اصل میں دنیوی آلائشوں اور بہت حد تک مکروہات زمانہ سے اپنے آپ کو الگ تھلگ کر کے اپنے خالق و مالک کے ساتھ تخلیے کا دوسرا نام ہے۔تخلیہ طالب ومطلوب کے راز ونیاز کا بہترین ذریعہ ہوتاہے۔ ایک عابد شب زندہ دار اپنے محبوب حقیقی کے ساتھ رات کی تنہائیوں میں اس زاویہ عزلت میں چپکے چپکے خضوع وخشوع کے ساتھ لو لگاتا ہے۔ کبھی اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ہے تو کبھی اپنی تردامنی پر سسک سسک کر، بلک بلک کر معافی کا خواستگار ہوتا ہے۔ اس حال میں اس کی یہ دعائیں درِ اجابت سے ٹکراتی اور بارگاہِ حق میں شرف باریابی پاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کائنات کے محسنِ اعظم نے ہر ماہ رمضان کے عشرہ اخیرہ میں اعتکاف فرمایا۔ ۸ھ کو فتح مکہ میں مصروفیت کی وجہ سے اعتکاف نہ فرما سکے تو اگلے سال ۹ھ میں بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔ یہ رمضان ہی ہے جس میں بنی نوع انسان کے لیے رحمتوں کے خزانے لٹتے اور انعاماتِ الٰہیہ کی بے طرح بارش ہوتی ہے۔
رحمت حق بہانہ می جوید 
رحمت حق بہانمی جوید 
چوتھی عطائے رمضان المبارک لیلۃ القدر ہے۔ کس حتمی انداز سے کہہ دیا گیا ہے کہ ’’لَیْْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ‘‘ (القدر ۹۷:۳) حساب لگائیے تو ۸۳ ؍سال ۴ ؍ماہ بنتے ہیں۔ ایک شخص بغیر کوئی دوسرا کام کیے بارگاہ ایزدی میں سرنہوڑائے، پورے استغراق و انہماک اور جذب و انجذاب کے ساتھ عبادت میں ۸۳ ؍سال ۴ ؍ماہ تک مسلسل کھڑا رہے تو بھی اس رات کی بیداری اور تعلق باللہ اس عرصہ دراز سے بھی بہتر ہے ۔ خَیْْرٌ کا لفظ تفضیل کل سے بھی کوئی اوپر درجہ ہو تو اس کو بھی شامل ہے۔ امت محمدیہ کی کوتہ عمری کا اس کثرت ثواب اور جزائے جزیل سے ازالہ کیا جا رہا ہے۔ یوں سمجھئے کہ تھوڑا کرنے پر بہت زیادہ انعامات کا مستحق قرار دینا اسی ذات ستودہ صفات کا شیوہ ہے جس نے اپنے آ پ کور ب العالمین اور رحمن و رحیم کے دلنواز القاب دیے ہیں۔
پانچواں عطیہ جو اس مقدس ماہ کا خاصہ ہے، وہ عیدالفطر ہے۔ اگرچہ یہ روز سعید شوال کی پہلی تاریخ کو ہوتا ہے مگر یہ ہے حاصلِ رمضان ہی۔ یہ فضیلتوں والا دن ہے جس روز پورا عالم اسلام ایک ماہ کی پوری بدنی و روحانی ریاضتوں کے بعد انبساط ومسرت کے جذ بات میں ڈوب جاتا ہے۔ دل والے 
؂بنتی نہیں ہے بادہ وساغر کہے بغیر 
کے لہجے میں اس دن کی خوشیوں کو دوبالا کرتے، استعاروں سے کام لیتے ہوئے، مجاز کے پردے میں معارف کا ذکر ایسے ایسے حسین پیرا یہ میں کرتے ہیں کہ ذوق جھوم جھوم اٹھتا ہے۔
ساقیا عید ہے لا بادے سے مینابھر کے کہ مے آشام پیاسے ہیں مہینہ بھرکے 
یہ ارمغان بہجت مسرتوں و شادمانیوں کا پیغام لاتا ہے۔ قربتوں اور محبتوں میں اضافے کا موجب ہے۔ روزے نے جن بہیمی قوتو ں کو مضمحل کر دیا تھا، یہ ان پر اترانے کا دن ہے۔ روح کی بالیدگی کا دن ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ غرہ شوال کو دیکھتے ہی روحیں یوں مچلنے لگتی ہیں گویا کوئی سالوں کا محروم حجِ اکبر کی سعادت سے بہرہ ور ہو رہا ہو۔
روزے داراں نوں عید دا چن چڑھیا
جویں حاجیاں حج تیاریاں نیں

کیا فائدہ ہے ترکِ غذائے حلال سے

روزہ اردو اور فارسی میں ترجمہ ہے صوم کا اور صوم کے لغوی معنی ہیں باز رہنا، رک جانا، خواہ کھانے سے ہو یا کلام کرنے سے یا چلنے سے:
الصوم فی الاصل: الامساک عن الفعل مطعماًکان اوکلاماً اومشیاً (المفردات فی غریب القرآن للاصفہانی، ص۲۹۳)
’’روزہ اصل میں کسی کام سے رک جانے کانام ہے، وہ کھانا ہو بات ہو یا چلنا ہو ۔‘‘
الصوم فی اللغۃ :الامساک عن ما تناز ع الیہ النفس (تفسیربیضاوی،۲؍۴۳۵)
’’روزہ لغت میں اس چیزسے رک جانے کو کہتے ہیں جس کی طرف نفس زور کر کے جائے‘‘۔
معلوم ہوا کہ روزہ نفس کی مرغوبات سے پرہیز کا دوسرا نام ہے۔ شرعی اصطلاح میں روزہ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک نیت کے ساتھ بعض حلال چیزوں سے بچے رہنے کا نام ہے جن میں کھانا پینا اور جنسی عمل سرفہر ست ہیں۔ دیگر منکرات عام زندگی میں بھی قابل پرہیز ہیں، بحالت روزہ توبدرجہ اولیٰ ممنوع ہوں گے۔
کھاناپینا زندگی کی بدیہی ضروریات میں سے ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا کھانا پینا ہی زندگی کی غایت ہے؟ اس کا جواب انسانی فکر نے د و طرح دیا ہے:
۱۔زیستن برائے خوردن، کھانے ہی کے لیے زندہ رہنا چاہیے۔
۲۔خوردن برائے زیستن، ز ندگی گزارنے کے لیے کھانا چاہیے۔
پہلا طرزِ فکر وہ ہے جو مادہ پرستانہ نظریات نے دیا ہے۔ اس نقطہ نگاہ کے مطابق تن پروری ہی انسانی زندگی کی غایت اولیٰ ہے ۔ ایسے افراد یا ایسے معاشرے اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے پیٹ پوجا سے آگے کوئی حقیقت نہیں دیکھ سکے۔ان کا نعرہ مستانہ یہی ہوتا ہے:
؂ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست 
Eat, drink and be merry, for tomorrow you will die. 
یہ زندگی کو دیکھنے کا اپیقورین (Epicurean) مطمح نظر ہے۔
دوسرا نقطہ نگاہ وہ ہے جس کے پیچھے وحی کی قوت محرکہ اور الہامی سوچ کے دھارے بہہ رہے ہیں۔ کھانا ایک ناگزیر ضرورت حیات ہے، مگر محض کھانا اور شکم پروری ہی غایت حیات نہیں۔ یہ پیغمبرانہ طرزِفکر ہے۔ اس سوچ کے مطا بق جسم کا جان سے رشتہ قائم رکھنا از حد ضروری ہے، مگروہ تن پروری جو تن آسانی پیدا کر دے، مطلوب نہیں۔ یہاں جاں پروری اور روح کی پرورش و تربیت کے وسائل کو بروئے کار لانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
اسلام دین فطرت ہے اور انسانی فطرت کی نشوونما کے جملہ اسباب فراہم کرتا ہے۔ وہ کھانے پینے میں اِسراف کو فسق سے تعبیر کرتا ہے تو اس سے کلیۃً بچے رہنے کو رہبانیت جانتا ہے۔ یوں وہ ’’خیر الامور اوسطہا‘‘ کا معیار پیش کر کے ہر طرح کی انتہاپسندی کو ناپسندیدہ قرار دیتا ہے، لہٰذا روح انسانی کی، جو ایک لطیف چیز ہے، نشوونما کے لیے اس نے سال بھر میں ایک ماہ کا ایسا ریفریشر کورس دیا ہے جس سے روح کی کثافتیں دھلتی اور اس میں لطافتیں در آتی ہیں۔ یہی مہینہ وہ ہے جس کے بارے میں قرآ ن کہتا ہے: 
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیَ أُنزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ (البقرۃ ۲:۱۸۵) 
’’رمضان کا وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ‘‘۔ 
اور فرمودہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کی توثیق یوں کی گئی کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ ( یکے از عشرہ مبشرہ ) نے ایک شخص کے بارے میں بتایا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی:
یا رسول اللّٰہ ! اَخبِرنِی عما فرض اللّّٰہ عَلَیَّ من الصیام؟ قال: شہر رمضان ( الجامع الصحیح للبخاری، رقم حدیث: ۱۷۵۸) 
’’اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ اللہ نے مجھ پر کون سے روزے فرض کیے ہیں ؟ فرمایا: رمضا ن کا مہینہ ‘‘۔
روحانی لطافتوں میں اضافے کے لیے روزہ بہترین تد بیر ہے۔ یوں سمجھئے کہ جسم وجان کے کئی امراض کے لیے یہ ایک پرہیز ہے، جس طرح نماز جسم وجا ں کی صحت وبقا کے لیے دوا ہے۔ دوا اور پرہیز دونوں کی اہمیت سے کسی بھی دور میں کسی بھی صاحبِ فہم کو کبھی انکار نہیں رہا، بلکہ بعض نے پرہیز کی افادیت کے پیش نظر یہ تک بھی کہہ دیاہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ اس پرہیز سے نہ تو بھوک پیاس کی شدت اور تکلیف مالایطاق مقصود ہے اور نہ ہی اذیت رسانی، بلکہ واضح طور پر اس کی غایت بتا دی گئی ہے اور وہ ہے لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ، تاکہ تم تقو یٰ شعار ہو جاؤ۔ تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ دراصل اس احساس کا نام ہے جس سے انسان کے دل میں نیکی کی طرف شدید رغبت ہوتی ہے اور گناہوں سے سخت نفرت پیدا ہوتی ہے۔ روزہ دراصل اسی غایت اولیٰ کے لیے فرض کیا گیا ۔ اگر یہ مقصد حاصل ہو گیا تو روزہ، روزہ ہے، ورنہ بھوکا پیاسا رہنا نہ مفید مطلب ہے، نہ مقصود و مطلوب ہے۔ اس حقیقت سے سرکارِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک فرمان واجب الاذعا ن سے یوں پردہ اٹھایا ہے: 
رب صائم لیس لہ من صیامہ الا الجوع (سنن ابن ماجہ، رقم حدیث: ۱۶۸۰) 
’’کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں کہ ان کو ان کے روزوں سے بھوک پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ 
وہ شخص بڑا ہی محروم القسمت ہے جو بھوکا پیاسا رہ کر اور اپنے آپ کو نڈھال کر کے بھی مفسدات روزہ سے بچنے کی کوشش نہیں کرتا اور تقویٰ شعاری سے محروم رہتا ہے۔ جب حرام کھانے سے اجتناب نہ کیا جائے تو حلال کھانا ترک کر دینے سے کیا فائدہ!
کیا فائدہ ہے ترکِ غذائے حلال سے 
روز ے میں جب نہ عزم ہو ترکِ حرام کا 

قرآن مجید بطور کتاب تذکیر ۔ چند توجہ طلب پہلو

محمد عمار خان ناصر

(الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں دورۂ تفسیر قرآن کے شرکا سے گفتگو۔)

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔ اما بعد!
قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہوئے اور اس کے تفسیری مباحث پر غور کرتے ہوئے ایک بنیادی سوال جس کے حوالے سے قرآن مجید کے طالب علم کا ذہن واضح ہونا چاہیے، یہ ہے کہ قرآن کا اصل موضوع اور قرآن نے جو کچھ اپنی آیات میں ارشاد فرمایا ہے، اس سے اصل مقصود کیا ہے؟
اس سوال کا جواب ہمیں خود قرآن مجید کی تصریحات سے یہ ملتا ہے کہ یہ اصل میں کتاب تذکیر ہے۔ قرآن نے اپنے لیے ’ذکر‘، ’تذکرہ‘ اور ’ذکری‘  کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تذکیر کا مطلب ہے یاد دہانی کرانا۔ ایسے حقائق جو انسان کے علم میں تو ہیں اور وہ ان سے بالکل نامانوس نہیں ہے، لیکن کسی وجہ سے ان سے غفلت کا شکار ہو گیا ہے اور وہ اس کے فعال حافظے سے محو ہو گئے ہیں، وہ حقائق اسے یاد کرانا، ان کی طرف اس کی توجہ مبذول کرنا اور ان حقائق کی یاد دہانی سے اس کو اپنی زندگی میں ایک خاص طرح کا رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کرنا، یہ ’تذکیر‘ کی اصل روح ہے۔ معروف اور مانوس لیکن بھولی ہوئی باتوں کو یاد کرانا اور ا س یادد ہانی کے ذریعے سے انسان کے فکر کو ، اس کے عمل کو اور اس کے رویے کو ایک خاص رخ پر ڈالنا، یہ تذکیر ہے۔
قرآن مجید اپنے اصل مقصد کے لحاظ سے ایک کتاب تذکیر ہے۔ اللہ تعالیٰ چند حقائق کی تذکیر انسان کو کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ حقائق انسان کے ذہن میں مستحضر رہیں اور انسان کا دھیان اور اس کی توجہ ان پر لگی رہے اور ان کی مدد سے وہ زندگی کے ایک ایک قدم پر صحیح راستے پر قائم رہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات کا، اس کی صفات کا اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے لیے جو قانون، ضابطے، قاعدے، سنن اور نوامیس مقرر کیے ہیں جن کے تحت وہ اس دنیاکا نظام چلا رہا ہے، خاص طو ر پر انسانوں کے معاملات وہ جن ضابطوں کے تحت چلاتا ہے، ان کا تعارف انسان کو کروانا، یہ نزول قرآن کی اصل غایت ہے۔ 
قرآن مجید کے جتنے مضامین ہے، ان کی آپ ذیلی تقسیمات کریں تو وہ بے شمار بن جاتے ہیں او رمختلف اہل علم نے اپنے اپنے ذوق کے لحاظ سے قرآن میں پھیلے ہوئے مضامین ومطالب کو مختلف عنوانات کے تحت تقسیم کیا ہے۔ ہمارے ہاں ایک معروف تقسیم شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب ’الفوز الکبیر‘ میں لکھا ہے کہ قرآن مجید کے مضامین کو پانچ قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱۔ تذکیر بآلاء اللہ، یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت اور اس کی رحمت وربوبیت کی جو نشانیاں کائنات میں بکھری ہوئی ہیں، ان کی یاد دہانی۔
۲۔ تذکیر بایام اللہ، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے دنیا کی مختلف قوموں کے ساتھ نعمت ونقمت، دونوں پہلووں سے جو معاملہ کیا ہے، ان کی یاد دہانی۔
۳۔ تذکیر بما بعد الموت، یعنی اس بات کی یاد دہانی کہ اس دنیا سے جانے کے بعد جو ایک یوم الجزاء آنے والا ہے، اس دن اللہ تبارک وتعالیٰ انسانوں کے ساتھ کیا معاملہ کریں گے۔
۴۔ احکام وشرائع، یعنی شریعت کے وہ قوانین جن کی پابندی اس دنیا کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کو انسانوں سے مطلوب ہے۔
۵۔ علم المخاصمۃ، یعنی قرآن کا مخاطب بننے والے جو گروہ قرآن کے دعاوی اور اس کے پیغام کو تسلیم کرنے اور اس کی دعوت کو قبول کرنے سے گریزاں تھے اور اس پر ان کے ذہن میں کچھ استدلالات اور کچھ شبہات تھے، ان کا جواب دینا اور ان کی تردید کر کے صحیح بات کو واضح کرنا۔
یہ بڑی حد تک ایک جامع تقسیم ہے جس میں قرآن مجید کے کم وبیش سارے نمایاں مطالب اور مضامین آ جاتے ہیں۔ اب ان پانچوں پر اگر آپ غور کریں تو مرکزی نکتہ یہ نکلے گا کہ انسان کو اس بات کی پہچان کرا دی جائے کہ اس کائنات کا خالق ومالک کیسا ہے، اس کی صفات کیا ہیں، اس کی صفات سے جو نتائج پیدا ہوتے ہیں اور جو مظاہر وجود میں آتے ہیں، وہ کیا ہیں اور اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لیے وہ کون کون سے قوانین مقرر کیے ہیں جن کے تحت وہ اپنی مخلوق کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔ گویا یہ سب مضامین مختلف پہلووں سے تذکیر ہی کے مقصد کو پورا کرتے ہیں اور مختلف حوالوں سے، مختلف زاویوں سے انسان کے ذہن میں اس بات کے شعور کو راسخ کرتے ہیں کہ وہ اپنے مالک کو پہچانے اور اس کے ذہن میں اللہ کی ذات اور اس کی صفات کا صحیح تصور قائم ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے ذہن میں کسی بھی ہستی کے بارے میں جو تصور ہوگا، اسی کے لحاظ سے اس کا اس کے ساتھ تعلق بھی قائم ہوگا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کی صفات اور اس کے قوانین اور اس کے معاملہ کرنے کے اصولوں اور ضوابط کا جو تصور انسان کے ذہن میں ہوگا، اسی کے لحاظ سے انسان کا تعلق بھی خدا کے ساتھ قائم ہوگا۔ یہ ساری باتیں جس درجے میں انسان کے ذہن میں واضح ہوں گی، اسی کے لحاظ سے خدا کے ساتھ اس کا تعلق بھی ایک خاص رنگ اختیار کر لے گا۔
اللہ نے اپنے لیے کچھ نوامیس مقرر کیے ہیں جن کے تحت وہ اپنی ساری کائنات کا نظام چلا رہا ہے۔ کوئی دوسری ہستی اللہ کو کسی بات کی پابند نہیں کر سکتی: لَا یُسْئلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْأَلُونَ (الانبیاء: ۲۳) ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی عالی صفات مثلاً عدل، رافت ورحمت کے تقاضے سے خود اپنے لیے کچھ قوانین مقرر کیے ہیں جن کی پابندی وہ کہتا ہے کہ میرے ذمے لازم ہے۔ کسی دوسرے نے لازم نہیں کی اور نہ کوئی کر سکتا ہے، لیکن ان کی پابندی اس نے خود اپنے ذمے لازم کی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ: حَقّاً عَلَیْْنَا (یونس: ۱۰۳)۔ یہ جو ہم نے وعدہ کیا ہے، اس کی پابندی اب ہم پر لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے جو قوانین او ر نوامیس مقرر کیے ہیں، ان کے لیے قرآن نے ’سنت‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ مثلاً دنیا میں حق کا انکار کرنے والی قوموں کے ساتھ معاملہ کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ایک خاص قانون بنایا ہے جس کے ظہور کی مثالیں تاریخ میں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔ قرآن اس کو ’سنت اللہ‘ کہتا ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا: سُنَّۃَ اللَّہِ فِیْ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِن قَبْلُ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللَّہِ تَبْدِیْلاً (الاحزاب: ۶۲)۔
اللہ نے اس ساری کائنات کے لیے کیا ضابطے بنا رکھے ہیں، وہ تو اس نے ہمیں نہیں بتائے۔ ہمیں تو ا س نے قرآن میں مخاطب کیا ہے اور صرف اس دائرے کے قوانین اور ضابطے بتائے ہیں جس کا تعلق ہم انسانوں سے ہے۔ سورج چاند اور دوسری مخلوقات کو اس نے کن قوانین کے تحت بنایا ہے، وہ اس نے ہمیں نہیں بتائے۔ کائنات کے مادی قوانین بھی، جن کو سائنس دریافت کرتی ہے، قرآن کا موضوع نہیں کہ وہ انسان کو یہ بتائے کہ سورج، چاند اور دوسرے مظاہر فطرت کن قوانین کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح باقی مخلوقات سے متعلق جو اخلاقی قوانین ہیں، ان کی وضاحت بھی قرآن کا موضوع نہیں۔ مثال کے طور پر ایک انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی کسی ضرورت یا خواہش کی تکمیل کے لیے کسی دوسرے انسان کی جان لے، لیکن آپ جانوروں میں دیکھیں گے کہ بہت سے درندوں کی زندگی ا ور بقا کا دار ومدار ہی اس پر ہے کہ وہ کسی دوسرے جاندار کی، بسا اوقات اپنے ہی کسی ہم جنس جاندار کی جان لیں اور ا س کے گوشت سے اپنا پیٹ بھریں۔ اب حیوانات کے اور اسی طرح دوسری بے شمار مخلوقات کے معاملات کن اخلاقی قوانین اور ضابطوں پر مبنی ہیں، ان کی وضاحت قرآن کا موضوع نہیں اور نہ اس نے ان کی وضاحت کی ہے۔ قرآن کا موضوع یہ ہے کہ انسان کو اس دنیا میں اللہ نے ایک خاص مقصد کے تحت بھیجا ہے اور اس کی نقل وحرکت کا اور زندگی کی سرگرمیوں کا ایک محدود دائرہ ہے۔ اللہ نے کائنات کے اربویں کھربویں بلکہ اس سے بھی حقیر ایک چھوٹے سے حصے میں انسان کو بسایا ہے اور اس کو ایک نہایت محدود دائرے میں اختیار دیا ہے۔ انسان کو یہاں بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کی آزمایش کی جائے۔ اس آزمایش میں کامیاب ہونے کے لیے انسان کو اپنے خالق ومالک اور اس کے مقرر کردہ قوانین کی پہچان کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے خدا کے ساتھ صحیح طو رپر تعلق قائم کر سکے اور اس معرفت صحیحہ کا ظہور اس کے فکر وعمل اور اس کے کردار میں بھی ہو۔ یہ سب باتیں انسان کے علم میں ہونی چاہییں تاکہ جب وہ اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد خدا کے حضور میں پیش ہو تو اس کی ابدی نعمتوں کا حق دار بن سکے۔
یہ ہے قرآن کی ساری تذکیر اور اس کے تمام تر مطالب ومضامین کا محور۔ دین کے جو تین بنیادی عقیدے ہیں جن پر پورے دین کی بنیاد ہے، وہ بھی یہی ہیں۔ خدا کو ماننا اس کی تمام صفات کے ساتھ اور ان تمام قوانین ونوامیس کے ساتھ جو اس نے اپنے لیے مقرر کیے ہیں، نبوت ورسالت کے اس سلسلے پر ایمان رکھنا جو اللہ نے اپنی صفات اور اپنے قوانین اورضابطوں سے انسانوں کو متعارف کرانے کے لیے دنیا میں جاری کیا اور اس حقیقت پر ایمان رکھنا کہ دنیا کی اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی بھی آنی ہے جس میں انسان اپنے قول وعمل کے لحاظ سے ابدی عذاب یا ابدی نعمتوں کا مستحق قرار پائے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ اس معاملے کا ایک اور نہایت اہم پہلو بھی آپ کے سامنے رہنا چاہیے۔ وہ یہ کہ قرآن مجید سے اس کا یہ مطمح نظر بڑے غیر مبہم طریقے سے واضح ہوتا ہے کہ اس کو پڑھتے ہوئے لوگ اسی چیز کے حصول پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھیں جو اس کے نزول کا اصل مقصد ہے۔ یہ نہ ہو کہ لوگ اپنی اپنی دلچسپیاں لے کر آئیں اور ان میں الجھ کر رہ جائیں۔ قرآن نے بعض پہلووں سے اپنا یہ مطمح نظر واضح کرنے کا خاص اہتمام کیا ہے اور اپنے انداز سے، اپنے اسلوب سے یہ بات سمجھائی ہے کہ قرآن کو پڑھنے کے لیے آؤ تو کیا ذہن لے کر آؤ اور تمھاری دلچسپی کا مرکزی نکتہ کیا ہونا چاہیے۔ مثال کے طو رپر آپ دیکھیں کہ قرآن مجید کا ایک بہت بڑا حصہ واقعات پر مشتمل ہے۔ شاید ایک تہائی یا اس سے زیادہ آپ کو قرآن میں واقعات ہی ملیں گے۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے اسی لیے اس حصے کو تذکیر بایام اللہ کا ایک مستقل عنوان دے دیا ہے۔ قرآن میں انبیا کے، دنیا کی قوموں کے اور قوموں کی تاریخ کے واقعات ہیں۔ ان واقعات کے ذکر سے قرآن کا مقصود انسان کا دل بہلانا یا اس کی تفریح طبع نہیں۔ گزشتہ زمانے کے واقعات کے بارے میں جستجو اور ان میں دلچسپی محسوس کرنا انسانی نفسیات کا حصہ ہے۔ عام طو رپر انسان جب ایسے واقعات کو سنتے ہیں تو اس کا مقصد جستجو کے جذبے کی تسکین یا محض تفریح طبع ہوتا ہے۔ تاہم قرآن کے، واقعات بیان کرنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے۔ اس سے اس کا مقصد وہی تذکیر ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ان واقعات سے انسان روحانی واخلاقی سبق حاصل کرے اور ان واقعات میں اللہ تعالیٰ کے جن ضابطوں اور قوانین کا ظہور ہوا، ان کی طرف متوجہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی واقعے سے متعلق ایسا لوازمہ جو اس میں کہانی کا مزہ پیدا کرتا ہے اور ایسے پہلو جو اسے تفریح طبع کا سامان بنا سکتے ہیں، قرآن کم وبیش ہر جگہ ایسے عناصر کو بالکل نظر انداز کر دیتا ہے۔ وہ ایک طویل عرصے کو محیط سلسلہ واقعات کے بے شمار اجزا کو حذف کر کے اس کے صرف ان اجزا کو بیان کر دیتا ہے جو اس کے مقصد کے لحاظ سے مفید ہیں۔ کئی سالوں پر پھیلے ہوئے سلسلہ واقعات کو قرآن یوں بیان کرتا ہے کہ اس کا ابتدائی حصہ، کچھ درمیانی حصے اور کچھ اختتامی حصہ معرض بیان میں آ جاتا ہے اور یہ تمام اجزا وہ ہوتے ہیں جو تذکیر کے پہلو سے مفید اور برمحل ہوتے ہیں۔ باقی تمام تفصیلات جن کو اگر قرآن بیان کرنے لگ جائے تو لوگ قصے میں الجھ کر رہ جائیں اور اس سے کہانی کا لطف اٹھانے لگیں، ان سب کو قرآن حذف کر دیتا ہے۔ اس کی چند مثالیں دیکھیے:
قرآن مجید نے حضرت موسیٰ کی پیدایش سے لے کر وادئ تیہ تک ان کی زندگی کا سفر بیان کیا ہے، لیکن اس سارے واقعے کے صرف وہ اجزا منتخب کیے ہیں جن میں تذکیر کا کوئی نہ کوئی پہلو پایا جاتا ہے اور جس سے اللہ تبارک وتعالیٰ کا کوئی خاص ضابطہ اور کوئی مخصوص قانون واضح کرنے میں مدد ملتی ہے۔ قرآن نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ کی پیدایش سے پہلے مصر میں صورت حال کیا تھی اور بنی اسرائیل کس طرح ظلم وستم کا شکار تھے۔ پھر حضرت موسیٰ کی پیدایش کا ذکر ہوا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے کس طرح انھیں فرعون کی قتل اولاد کی اسکیم سے معجزانہ طو رپر محفوظ رکھا اور خود فرعون کے گھر میں ان کی پرورش کا انتظام کر دیا۔ اس کے بعد اگلا منظر جو سامنے آتا ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ جوانی کی عمر کو پہنچ گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس درمیانی عرصے میں بھی کئی واقعات رونما ہوئے ہوں گے جن سے قرآن نے کوئی تعرض نہیں کیا۔ جوانی کے زمانے کا بھی صرف وہ واقعہ منتخب کیا ہے جو سلسلہ واقعات کو آگے بڑھانے والا ہے، چنانچہ بیان کیا گیا ہے کہ کیسے حضرت موسیٰ نے قبطی کے مقابلے میں اپنے اسرائیلی بھائی کی مدد کی اور اس کے نتیجے میں انھیں ہجرت کر کے مدین جانا پڑا۔ پھر وہاں اللہ نے ان کے لیے کیا بندوبست کیا، اس کا ذکر ہوا ہے۔ مدین سے واپسی پر راستے میں انھیں نبوت سے سرفراز کیا جاتا ہے اور پھر وہ سیدھے فرعون کے دربار میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس طرح کئی سالوں پر پھیلے ہوئے سلسلہ واقعات کو قرآن نے صرف چند اجزا میں سمیٹ دیا ہے۔
اس ضمن میں حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ ایک خاص پہلو سے توجہ طلب ہے۔ اس واقعے کو قرآن نے تفصیل سے بیان کیا ہے اور اگرچہ یہاں بھی قرآن نے واقعے کے وہی حصے منتخب کیے ہیں جن سے کوئی نہ کوئی تذکیری فائدہ حاصل ہوتا ہے، تاہم یہ واقعہ نسبتاً زیادہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہ واقعہ پڑھتے ہوئے آپ کو محسوس ہوگا کہ حضرت یوسف کی کہانی سے متعلق بعض ایسے اہم سوالات سامنے آتے ہیں جن سے قرآن کوئی تعرض نہیں کرتا، جبکہ کہانی کے تسلسل کے اعتبار سے اس میں ایک خلا سا رہ جاتا ہے جس کی وجہ سے انسان کو تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔ انسان اپنے ذہنی قیاسات سے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کرتا رہے، لیکن قرآن کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔ مثلاً یہ دیکھیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو بچپن میں ہی خواب کے ذریعے سے یہ بتا دیا گیا تھا کہ اللہ کی طرف سے ان پر خاص رحمت اور عنایت ہوگی۔ یہ بھی ان کو معلوم ہے کہ ان کے سوتیلے بھائی ان کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔ پھر جب بھائی ان کو لے جا کر کنویں میں پھینک دیتے ہیں تو اس وقت بھی اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے کہ ایک وقت آئے گا جب تم یہ سب کچھ اپنے بھائیوں کو بتاؤ گے۔ اس کے بعد یوسف علیہ السلام مصر پہنچ جاتے ہیں۔ قرآن سے یہ واضح ہے کہ یوسف علیہ السلام کو اپنا بچپن، اپنا خاندان اور یہ سارا سلسلہ واقعات اچھی طرح یاد ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ ان کے والد کون ہیں، ان کا خاندانی پس منظر کیا ہے، لیکن مصر میں فروخت ہونے سے لے کر منصب اقتدار پر فائز ہونے تک کے اس سارے عرصے میں وہ کہیں بھی اس بات کی کوشش کرتے نظر نہیں آتے کہ اپنے والد سے رابطہ کریں۔ ان کے والد ان کی جدائی کے غم میں نڈھال ہیں، رو رو کر بینائی کھو چکے ہیں، ان کی ملاقات کے شوق میں تڑپ رہے ہیں اور کوئی ظاہری امید نہ ہونے کے باوجود پرامید ہیں کہ یوسف زندہ ہے، لیکن ادھر حضرت یوسف کے ہاں ایسی کسی تڑپ یا کسی کوشش کا ذکر قرآن میں نہیں ملتا۔ یہ چیز عام انسانی نفسیات کے لحاظ سے بڑی عجیب سی لگتی ہے۔ معلوم نہیں، حضرت یوسف نے اس سلسلے میں کیا کیا ہوگا۔ کچھ کیا بھی ہوگا یا نہیں کیا ہوگا۔ بہرحال یہ ایک سامنے کا سوال ہے جو شاید ہر پڑھنے والے کے ذہن میں پیدا ہوتا ہوگا کہ جب یوسف کو اپنے والد کے بارے میں معلوم ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ ان کی جدائی پر سخت بے چین اور مضطرب ہوں گے تو وہ ان سے رابطہ کر کے انھیں صورت حال سے آگاہ کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ خاص طو رپر بادشاہ کا وزیر بن جانے کے بعد تو کوئی ظاہری رکاوٹ بھی اس میں دکھائی نہیں دیتی، تاہم قرآن اس پہلو سے سرے سے کوئی تعرض نہیں کرتا کہ انھوں نے اس کی کوشش کی یا نہیں کی۔ نہیں کی تو کیوں نہیں کی اور اگر کی تو اس کا کیا بنا اور وہ کیوں کامیاب نہیں ہوئی۔
اب دیکھیں، قرآن یہاں اپنے انداز سے یہ واضح کر رہا ہے کہ جب وہ یہ واقعہ بیان کر رہا ہے اور بڑی تفصیل سے بیان کر رہا ہے تو واقعے سے متعلق ایک بڑے نمایاں سوال کا جواب دینے سے اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ قاری کو اس کا جواب ملتا ہے تو ملے، نہیں ملتا تو نہ ملے۔ قرآن کا مقصد کہانی سنانا اور کہانی کا پورا لوازمہ فراہم کرنا نہیں۔ وہ تو حضرت یوسف کے واقعے میں تذکیر کے اور تربیت کے جو پہلو ہیں، بس ان کو سامنے لانا چاہتا ہے۔
اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کا جو واقعہ سورۂ سبا میں نہایت اختصار سے بیان ہوا ہے، وہ بھی بہت سے سوالات پیدا کرتا ہے۔ بیان ہوا ہے کہ جب ان کی موت کا وقت آیا تو وہ اپنی لاٹھی کا سہارا لیے کھڑے تھے۔ اسی حالت میں اللہ نے ان کی روح قبض کر لی۔ جنات جنھیں ان کی غلامی میں دیا گیا تھا، ان کو پتہ نہ چل سکا۔ زمین کے کیڑے نے حضرت سلیمان کی لاٹھی کو کھانا شروع کیا اور جنات کو اس وقت خبر ہوئی جب لکڑی اتنی کھوکھلی ہو گئی کہ حضرت سلیمان کا وزن نہ سہار سکی اور وہ گر گئے۔ تب جنات کو پتہ چلا کہ حضرت سلیمان کا انتقال ہو چکا ہے۔ یہاں دیکھیں، قرآن نے اپنے مقصد کے تحت واقعے کا صرف یہ پہلو بیان کر دیا ہے کہ جنوں کو غیب کا علم نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا تو حضرت سلیمان کی وفات کے بعد وہ اس ’’عذاب مہین‘‘ میں مبتلا نہ رہتے، لیکن اس مختصر بیان سے ایک سوال ہر پڑھنے والے کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان وفات کے بعد لکڑی کے سہارے آخر کتنا عرصہ کھڑے رہے؟ ظاہر ہے کہ کیڑے کو لکڑی کو کھوکھلا کرتے ہوئے کچھ دن تو لگے ہوں گے۔ کیا اس سارے عرصے میں حضرت سلیمان وہیں لاٹھی کے سہارے کھڑے رہے اور ان کی اس کیفیت پر کسی کو تعجب نہیں ہوا؟ کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ اتنے دن سے وہ نہ کہیں آ جا رہے ہیں، نہ کھا پی رہے ہیں اور نہ نماز پڑھ رہے ہیں؟ اس سوال سے قرآن کوئی تعرض نہیں کرتا۔
حضرت مسیح علیہ السلام کے واقعے کے بیان میں بھی یہی اسلوب ہے۔ قرآن جب نازل ہوا تو یہودی اور مسیحی صدیوں سے یہ عقیدہ رکھتے چلے آ رہے تھے کہ حضرت مسیح کو یہودیوں نے سولی چڑھا کر قتل کر دیا تھا۔ قرآن آ کر اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یہ بات درست نہیں۔ یہودی نہ انھیں سولی چڑھانے میں کامیاب ہوئے اور نہ کسی اور طریقے سے قتل کرنے میں، بلکہ اس معاملے کو ان کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا جس کی وجہ سے وہ یہی سمجھتے رہے کہ انھوں نے سیدنا مسیح کو سولی چڑھا دیا ہے، حالانکہ حقیقت میں اللہ نے حضرت مسیح کو بحفاظت آسمانوں کی طرف اٹھا لیا تھا۔ اب دیکھیں، قرآن مذہبی تاریخ کے ایک نہایت اہم واقعے کی اصل حقیقت کو واضح کرتے ہوئے صرف دو لفظوں میں یہ کہہ کر گزر جاتا ہے کہ یہ معاملہ یہود ونصاریٰ کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا۔ وہ اس اشتباہ کی نوعیت اور واقعے کی عملی تفصیلات سے جن سے اس پہلو پر روشنی پڑتی ہو، بالکل کوئی تعرض نہیں کرتا، اس لیے کہ یہ سب باتیں اس کے مقصد سے متعلق نہیں۔ آپ غور کرتے رہیں، چاہیں تو اسرائیلیات کو پڑھیں اور یہود ونصاریٰ کے لٹریچر کا مطالعہ کریں تاکہ اندازہ کیا جا سکے کہ کیا ہوا ہوگا، لیکن قرآن کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔
حاصل یہ ہے کہ کہ واقعات کے بیان میں قرآن جگہ جگہ اپنے اسلوب سے یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ جتنی بات اس نے بیان کی ہے، یقیناًاس کی کچھ زائد تفصیلات بھی ہیں جن کو جاننے کی انسان کو جستجو ہو سکتی ہے، لیکن قرآن کو ان سے غرض نہیں۔ قرآن کا مقصد یہ نہیں کہ وہ پورے واقعے کو اس کی جملہ تفصیلات کے ساتھ بیان کرے تاکہ سننے والے کو کسی پہلو سے تشنگی کا احساس نہ ہو۔ وہ قاری کی توجہ کو اپنی نظر میں مقصود معنوی حقائق پر مرکوز رکھنا چاہتا ہے اور اپنے انداز سے قاری کو متنبہ کرتا رہتا ہے کہ واقعات کے بیان سے قرآن کے اصل مقصد کو سمجھے اور اسی کو اپنا مطمح نظر بنائے۔
قرآن کے اصل مقصد کی وضاحت کے ضمن میں، میں نے جو کسی قدر طول بیانی سے کام لیا، شاید وہ آپ کو بے فائدہ دکھائی دیتی ہو۔ اس لیے کہ یہ بات بظاہر ایک سادہ سی اور معلوم ومعروف سی بات لگتی ہے اور ظاہری نظر سے دیکھیں تو علم تفسیر کے طلبہ کے سامنے اس کا ذکر شاید تحصیل حاصل بھی لگتا ہے۔ قرآن مجید نے اپنا یہ تعارف کروایا ہے اور اس کے لفظ لفظ سے اس کا یہ مقصد ٹپکتا ہوا نظر آتا ہے۔ قرآن کو پڑھنے والا ہر مسلمان اس سے واقف ہے کہ قرآن اس مقصد کے لیے نازل کیا گیا ہے اور یہ یہ اس کے مطالبات ہیں۔ اس لیے یہ سوال ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے کہ اس نکتے کو خاص طو رپر موضوع بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ قرآن کا مطالعہ کرنے والے اور خاص طور پر علم تفسیر سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ کے لیے خاص طو رپر سمجھنے کی بات ہے۔ 
اصل میں ہوا یہ ہے اور انسانی تاریخ میں ہمیشہ ایسے ہی ہوتا رہا ہے کہ اللہ کی کتاب نے اپنا جو اصل موضوع متعین کیا اور اپنے مضامین ومطالب کا جو اصل مقصد بیان کیا، ایک خاص وقت گزر جانے کے بعد لوگوں کی توجہ اس اصل مقصود سے ہٹ کر کچھ اور باتوں پر مرکوز ہو گئی۔ میں نے ’توجہ ہٹنے‘ کا لفظ استعمال کیا ہے، لاعلمی یا جہالت کا نہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اصل مقصد لوگوں کے دائرۂ معلومات میں نہیں رہتا۔ وہ لوگوں کے علم میں ہوتا ہے، لیکن جس چیز کو ‘مرکز توجہ‘ کہتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ بدل جاتا ہے۔ اس کتاب کو اتارنے سے جو چیز اللہ کو مقصود ہے کہ انسان جب اس کو پڑھیں تو ان کے ذہن کا رخ اس طرف ہو، وہ مرکز توجہ نہیں رہتی اور اس کے ساتھ ملحق، اس کے ارد گرد گھومنے والی کچھ دوسری باتیں، کچھ اضافی معلومات اور کچھ زوائد زیادہ توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ اس دنیا میں انسان کے لیے ظاہر ہے کہ دلچسپی کی چیزیں بے شمار ہیں۔ یہ چیزیں مادی بھی ہیں اور ذہنی وفکری بھی۔ ایک عام آدمی کی سوچ کا دائرہ محدود ہوتا ہے اور اس کے فکر کی سطح بھی سادہ ہوتی ہے، لیکن جب علم ودانش سے دلچسپی رکھنے والے لوگ کسی چیز کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ انسان کو دیے گئے بہت تھوڑے اور محدود علم کے باوجود، اس دنیا میں علم کے رنگ بے شمار اور اس کے اطراف وجوانب ان گنت ہیں اور علمی وفکری مزاج رکھنے والے افراد قدرتی طو رپر ان میں دلچسپی بھی محسوس کرتے ہیں۔ انسان اپنی بنیادی فطرت کے لحاظ سے علوم وفنون میں اور ان تمام چیزوں میں غیر معمولی کشش محسوس کرتا ہے جنھیں انسان اپنی عقل سے دریافت کر سکتا ہے۔ 
اب جب اس طرح کے مختلف علوم وفنون کا پس منظر رکھنے والے حضرات کلام الٰہی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو قدرتی طور پر انسان میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اس کے اپنے ذوق پر جس چیز کا غلبہ ہے، وہ کتاب الٰہی کو بھی اسی رنگ میں دیکھے۔ اس کی توجہ کتاب الٰہی میں ان پہلووں پر زیادہ مرکوز ہو جاتی ہے جو اس کے اپنے ذہنی وفکری پس منظر سے ہم آہنگ ہوتی ہیں اور وہ انھیں زیادہ نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے غور وفکر اور اس کی دلچسپی کے دائرے سے تعلق رکھنے والے جو پہلو ہیں، انھیں زیادہ اجاگر کیا جائے۔ چنانچہ آپ دیکھیں، صحابہ وتابعین اور ابتدائی ایک دو صدیوں کے بعد رفتہ رفتہ قرآن مجید کی تفسیر میں کئی انداز سامنے آ گئے۔ آپ تاریخ تفسیر کی کوئی کتاب، مثلاً محمد حسین ذہبی کی مشہور کتاب ’التفسیر والمفسرون‘ اٹھا کر دیکھ لیں جس میں علم تفسیر کی تاریخ اور اس کے مختلف مناہج کا تعارف کروایا گیا ہے۔ آپ کو تفسیر کے ضمن میں بہت سے رجحانات مثلاً تفسیر بالراے، تفسیر بالروایۃ، بلاغت کے پہلو سے قرآن کی تفسیر، تصوف کے نکات ومعارف کے لحاظ سے آیات قرآنی کی تشریح، فقہی احکام کے استنباط کے پہلو سے قرآن کی تفسیر اور اس طرح کے دوسرے رجحانات کا تعارف ملے گا۔ اب آپ ان سب کا تجزیہ کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ یہ مختلف رجحانات کیسے وجود میں آئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جن لوگوں کی علم نحو اور علم بلاغت کے ساتھ ایک خاص مناسبت تھی، انھوں نے اپنے زاویہ نظر سے قرآن کو دیکھا۔ ظاہر ہے کہ قرآن عربی زبان کا ایک نہایت عالی شان شہ پارہ ادب ہے اور اسالیب زبان اور نحو وبلاغت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اس میں غور وفکر کے لیے نہ ختم ہونے والا مواد اور لطائف ودقائق اخذ کرنے کی ایک وسیع جولان گاہ ہے۔ اسی طرح سے فقہا، جن کی توجہ اور غور وفکر کا محور احکام وقوانین کا استنباط ہے، قرآن کی طرف متوجہ ہوئے اور انھوں نے اس کی کوشش کی کہ قرآن کی آیات سے، دلالت کے مختلف درجات کے تحت حتی کہ لطیف اشارات تک سے جتنے زیادہ سے زیادہ فقہی احکام اخذ کیے جا سکتے ہیں، وہ کیے جائیں اور قرآن کے فقہی اور قانونی پہلو کو نمایاں کیا جائے۔ 
اس طرح جب مختلف علمی وفکری پس منظر رکھنے والے حضرات قرآن کی طرف متوجہ ہوئے تو انھوں نے اپنی اپنی دلچسپی کے لحاظ سے قرآن کو ایک خاص رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ اب یہ جو کام ہوا، اس کا ایک مثبت پہلو بھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس طرح قرآن کی علمی خدمت اور اس کی شرح ووضاحت کے اتنے متنوع اور گوناگوں پہلو سامنے آ گئے، تاہم اس کے ساتھ اس کا ایک سلبی پہلو بھی ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں۔ آپ جیسے جیسے ابتدائی دور کا تفسیری ذخیرہ دیکھتے ہوئے نیچے آتے جائیں گے، آپ کو ہر دور میں تفسیر کے مباحث میں مزید تنوع اور وسعت پیدا ہوتی نظر آئے گی۔ شروع کے دور کی تفسیریں دیکھیں تو صحابہ وتابعین کے ہاں قرآن کی کسی آیت کی تشریح میں آپ کو بہت سادہ انداز نظر آئے گا۔ کوئی لفظ مشکل ہے تو وہ اس کی وضاحت کر دیں گے۔ آیت کے مفہوم اور عملی مصداق کو واضح کرنے کے لیے کسی واقعے کا حوالہ دے دیں گے۔ اسی کو عام طو رپر شان نزول کہہ دیتے ہیں۔ کسی آیت کے معنی ومفہوم کے حوالے سے کوئی اشکال کسی کے ذہن میں پیدا ہوا ہے تو اس کو وہ حل کر دیں گے۔ یہ ایک سادہ سا انداز ہے۔ لیکن جیسے جیسے آپ نیچے آتے جائیں گے، یہ دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا ہوا دکھائی دے گا۔ آپ تفسیر کی کوئی بھی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں، آپ کو بے شمار علوم کی بحثیں مل جائیں گی۔ شروع میں لوگ اپنے اپنے مخصوص دائرے میں قرآن کے متن سے نکات ومعارف استنباط کرتے تھے۔ نحویوں نے اپنے انداز میں فوائد جمع کیے اور فقہا نے اپنے انداز میں۔ اس کے بعد جو لوگ آئے، انھوں نے سوچا کہ کیوں نہ ان سب مباحث کو یکجا کر دیا جائے۔ اس طرح گوناگوں اور رنگا رنگ علوم وفنون کے مباحث تفسیر کے عنوان سے جمع کیے جانے لگے۔ 
آپ متاخرین میں سے مثال کے طو رپر پانچویں صدی کے امام رازی کی تفسیر اٹھا کر دیکھ لیں۔ اس کے بعد پچھلے دور میں روح المعانی دیکھ لیں۔ آپ کو دنیا جہان کے علوم سے متعلق بحثیں ملیں گی۔ ایک آیت پر غور کرتے ہوئے اہل نحو نے کیا کیا بحثیں اٹھائیں، وہ سب آپ کو مل جائیں گی۔ فقہا نے اس کے تحت کیا کیا مسائل چھیڑے، وہ بھی آپ کو دستیاب ہوں گے۔ اہل تصوف نے اس سے کیا کیا نکات مستنبط کیے، وہ بھی آپ کی ضیافت طبع کے لیے مہیا ہوں گے۔ اب اس طرز تفسیر کا سلبی پہلو یہ ہے کہ قرآن کا مختصر سا متن علوم وفنون کے اتنے بڑے انبار کے نیچے دب کر رہ جاتا ہے۔ انسانی ذہن کی یہ محدودیت مسلمہ ہے کہ آپ اس کے سامنے بیک وقت جتنی زیادہ چیزیں رکھ دیں گے، اس کی توجہ اتنی ہی تقسیم ہوتی چلی جائے گی، جبکہ توجہ طلب چیزیں جتنی کم سے کم ہوں گی، اتنا ہی انسانی ذہن ان پر اپنی توجہ کو بہتر انداز میں مرکوز کر سکے گا۔ انسانی ذہن کی ساخت اور اس کی خصوصیات کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ انسانی توجہ کی مثال روشنی کی سی ہے۔ روشنی کو ایک خاص جگہ پر مرکوز کیا جائے تو جس جگہ پر روشنی براہ راست پڑ رہی ہوتی ہے، وہ زیادہ واضح ہوتی ہے جبکہ اس کے اطراف وجوانب میں جو چیز اس مرکز سے جتنا دور ہوتی چلی جاتی ہے، اتنا ہی بتدریج اندھیرے کی زد میں آتی چلی جاتی ہے۔ یہی معاملہ انسانی توجہ کا ہے۔ انسان بیک وقت اپنی مکمل توجہ ایک آدھ سے زیادہ چیزوں پر مرکوز نہیں کر سکتا۔ ایک وقت میں آپ کی توجہ جس چیز پر جتنی زیادہ مرکوز ہوگی، اتنی ہی وہ آپ کے سامنے واضح ہوگی، جبکہ باقی چیزیں درجہ بدرجہ توجہ کے دائرے میں تو ہوں گی، لیکن اس طرح سے آپ کے ذہن کے سامنے واضح نہیں ہوں گی۔ چنانچہ متنوع علوم وفنون سے پیدا ہونے والی مختلف بحثوں کو تفسیر کے دائرے میں لے آنے کا بڑا نقصان یہ ہو اہے کہ قرآن کا اصل موضوع اور اس کا اصل مقصد یعنی تذکیر بالکل دب جاتا ہے۔ اب ایک طالب علم جو مختلف علوم وفنون سے واقف ہے اور ان میں دلچسپی رکھتا ہے، وہ جب قرآن کی طرف آتا ہے تو اس کے اصل پیغام اور اس کے اصل فائدے کی طرف جو قرآن چاہتا ہے کہ اس کے پڑھنے والے کو حاصل ہو، اس کا دھیان کم جاتا ہے جبکہ زوائد اور ضمنی بحثوں اور نکات کی طرف اس کی توجہ زیادہ مبذول ہو جاتی ہے۔ وہ یہ جاننے میں زیادہ دلچسپی محسوس کرتا ہے کہ یہاں علم نحو کا نکتہ کیا ہے، آیت کی شان نزول کیا ہے، علم کلام کا کون سا مسئلہ اس آیت سے متعلق ہے، قرآن نے جو بات اور جو واقعہ اجمال میں بیان کیا ہے، اس کی تفصیلات کیا ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ تو یہ ایک پہلو ہے جس پر قرآن کے طلبہ کو متنبہ رہنا چاہیے اور خاص طو رپر میرے اور آپ جیسے طالب علموں کے لیے یہ بات خاص طو رپر توجہ کی محتاج ہے۔
ہماری علمی روایت میں جب مختلف علوم وفنون کا تفسیر کے ساتھ امتزاج ہوا اور تفسیر کے دائرے میں یہ سب چیزیں آتی چلی گئیں اور تفسیری مواد کا حجم بڑھتا چلا گیا، تفسیر کے نام پر ہر طرح کے علوم وفنون جمع کیے جانے لگے تو لازمی طور پر اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ قرآن کے طلبہ کی اور تفسیر کے عنوان سے قرآن پر غور کرنے والے لوگوں کی توجہات ان زوائد کی طرف زیادہ ہوتی گئیں اور اکابر اہل علم کو اس صورت حال پر بے اطمینانی کا اظہار کرنا پڑا۔ مثال کے طو رپر ہمارے قریب کے دور میں شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے ’الفوز الکبیر‘ میں اس پر باقاعدہ بحث کی ہے کہ یہ جو تفسیروں میں شان نزول کی روایات کا انبار لگا ہوا ہے، اس سے قرآن کے طالب علم کو خلاصی دلوانی چاہیے، کیونکہ ان میں سے بیشتر روایات کا متن قرآن کے فہم سے کوئی واسطہ نہیں۔ ان کا ایک بہت محدود حصہ ہے جس کا انسان کے علم میں ہونا قرآن کے متن کے فہم کے لیے ضروری ہے اور یہ قرآن کے وہ مقامات ہیں جہاں اس نے عہد نبوی کے بعض متعین واقعات کو سامنے رکھ کر ان پر تبصرہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن نے وہ سارا واقعہ اپنے متن میں بیان نہیں کیا۔ اس واقعے کی تفصیلات سے اس کے اولین مخاطبین پہلے سے واقف تھے۔ قرآن نے اس کو سامنے رکھ کر بس تبصرہ کر دیا ہے۔ اب اگر تاریخ وسیرت کا وہ حصہ آدمی کی نظر میں نہیں ہوگا جو ان آیات کے واقعاتی پس منظر پر روشنی ڈالتا ہے تو وہ قرآن کے تبصروں کی معنویت سے واقف نہیں ہو سکے گا۔ شاہ صاحب کا کہنا ہے کہ اس طرح کے چند مقامات کو چھوڑ کر، یہ جو ہر دوسری تیسری آیت کے تحت شان نزول کے نام سے دو چار واقعات درج کر دینے کا رجحان ہے، یہ تفسیر کے طالب علم کو ایک بے معنی مشغلے میں الجھا دینے کا ذریعہ ہے۔ وہ ساری زندگی اس طرح کی چیزیں جمع کرنے اور پڑھنے میں لگا رہتا ہے، جبکہ ان چیزوں کا قرآن کے متن کے فہم سے کوئی خاص واسطہ نہیں۔ 
مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک دوسرے مقام پر غالباً شاہ صاحب نے ہی علم تجوید سے اشتغال پر بھی اسی نوعیت کا تبصرہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ متاخرین کے ہاں قرآن کے الفاظ کی ادائیگی اور تلاوت میں لمبے چوڑے قواعد کی رعایت اور پابندی کا جو اہتمام دیکھنے کو ہے، اس کی وجہ سے لوگوں کی ساری توجہ تلفظ کی تصحیح اور تحسین صوت پر مرکوز ہو گئی ہے اور قرآن کے اصل مقصود سے ان کی توجہ ہٹ گئی ہے۔ شاہ صاحب کی اس بات میں بڑا وزن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے ہاں تو اس معاملے میں بڑی سہولت اور تیسیر دکھائی دیتی ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر اللہ تعالیٰ سے باقاعدہ درخواست کی کہ قرآن تو بڑا اعلیٰ کلام ہے، بڑی فصیح وبلیغ عربی میں اترا ہے، جبکہ میری امت میں ہر طرح کے لوگ ہیں، سارے قرا نہیں ہیں۔ ان میں بوڑھے بھی ہیں اور ان پڑھ بھی ہیں۔ ان سب کو اس کا پابند نہیں کیا جا سکتا کہ وہ قرآن کو اس کے بالکل معیاری لہجے پر پڑھیں۔ ان کے لیے یہ رخصت ہونی چاہیے کہ جو شخص جس طرح بآسانی قرآن کو پڑھ سکے، پڑھ لے۔ صحابہ کے ہاں آپ دیکھیں، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لوگوں کو قرآن پڑھایا کرتے تھے۔ ایک موقع پر وہ ایک عجمی بوڑھے کو سورۂ دخان پڑھا رہے تھے۔ اس میں طَعَامُ الْأَثِیْمِ (الدخان: ۴۴) کے الفاظ آتے ہیں۔ یہ لفظ اس بوڑھے کی زبان پر نہیں چڑ ھ رہا تھا۔ عبد اللہ بن مسعود نے دو چار مرتبہ اسے کہلوانے کی کوشش کی، لیکن جب ناکامی ہوئی تو فرمایا کہ تم طعام الفاجر پڑھ لو۔ دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ اگر أَثِیْمِ زبان سے ادا نہیں ہوتا تو فاجر پڑھ لو۔ 
آج ہم قرآن کی تلاوت کے ایک معیاری لہجے کو کسوٹی بنا کر کہتے ہیں کہ ساری امت اسی کے مطابق پڑھے اور اگر کوئی نہیں پڑھے گا تو لفظوں کی ادائیگی میں معمولی فرق سے کفر وایمان کے اور نماز کے ادا ہونے یا نہ ہونے کے مسئلے پیدا ہوجائیں گے۔ یہ غلو کی بات ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا انداز یہ نہیں ہے۔ قرآن کے الفاظ کو جس حد تک انسان کے لیے ممکن ہو، تجوید کے قواعد کے مطابق تحسین صوت اور تصحیح تلفظ کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش یقیناًکرنی چاہیے، لیکن آپ لوگوں کی محنت اور توجہ کا مرکز ہی اس چیز کو بنا دیں کہ قرآن کی تلاوت میں اصل کام تو بس اس کو تجوید کے مطابق پڑھنا ہی ہے تو یہ بات اعتدال سے ہٹی ہوئی ہے۔ اسی لیے شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ تجوید پر بہت زیادہ توجہ دینے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ اسی کو مقصود سمجھ لیتے ہیں اور قرآن کے معانی ومطالب سے ان کی توجہ ہٹ جاتی ہے۔ آدمی حسب استطاعت بہتر سے بہتر انداز میں پڑھنے کی کوشش کرے، لیکن محنت اور توجہ کا اصل مرکز یہ بات ہونی چاہیے کہ قرآن جن حقائق کی تذکیر کرنا چاہتا ہے، اللہ کی جن صفات کی اور اللہ کی جن سنن کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے، وہ کیا ہیں اور ان چیزوں کی تذکیر کی مدد سے مجھ سے کن تقاضوں کی تکمیل مطلوب ہے؟ 
یہاں میں اسی ضمن میں امام شاطبی کی ایک بات کا حوالہ بھی دینا چاہوں گا۔ امام شاطبی آٹھویں صدی ہجری کے ایک بڑ ے نامور مالکی عالم اور فقیہ ہیں۔ ’’الموافقات فی اصول الشریعہ‘‘ کے نام سے ان کی کتاب اصول فقہ اور فلسفہ دین میں ان چند اعلیٰ درجے کی کتابوں میں شمار ہوتی ہے جو اس موضوع پر علماے امت نے لکھیں۔ اس میں بے شمار مباحث ہیں۔ اس کی قسم ثالث ’کتاب المقاصد‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میں انھوں نے ایک مستقل فصل قائم کی ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن سے فائدہ حاصل کرنے اور اس کے پیغام تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک خاص اصول ہے جسے صحابہ ملحوظ رکھتے تھے۔ وہ یہ کہ جب آپ کلام اللہ کو پڑھیں تو آپ کی توجہ اس کے ’’مقصود اعظم‘‘ کی طرف ہونی چاہیے۔ ظاہر ہے کہ کلام بہت سے الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے۔ایک آیت میں مثال کے طو رپر دس پندرہ الفاظ ہوں گے۔ ہر لفظ کا اپنا ایک معنی ہوگا۔ پھر لفظوں سے جب تراکیب بنتی ہیں تو ان کے ساتھ کچھ مسائل وابستہ ہوتے ہیں۔ اگر آپ کلام کے اجزا میں اور اس کے ایک ایک لفظ میں الجھے رہیں گے تو پورے کلام کا جو اصل نکتہ ہے جس کا متکلم ابلاغ کرنا چاہتا ہے، اس سے آپ کی توجہ ہٹ جائے گی۔ اگر آپ کو اجزاے کلام میں سے کسی جز کا انفرادی فہم نہ حاصل ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پورے کلام کا حاصل اگر آپ تک منتقل ہو گیا ہے تو کلام کا اصل فائدہ آپ کو حاصل ہو گیا ہے۔ شاطبی کا مقصود اس بات سے اجزاے کلام سے کماحقہ واقفیت کی اہمیت کو کم کرنا نہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک ایک لفظ پر لغت اور نحو کے اعتبار سے اگر آپ کی گرفت مضبوط ہوگی تو آپ کے فہم کا درجہ اور سطح بہت بلند ہو جائے گی، تاہم قرآن کے اصل مقصد یعنی تذکیر کے پہلو سے شاطبی کا بیان کردہ یہ نکتہ بہت اہم اور مفید ہے کہ آپ کی نظر کلام کے مجموعی مفہوم پر رہنی چاہیے۔ اگر مجموعی طو رپر کلام کا مقصود آپ پر واضح ہو گیا ہے تو اجزا میں سے کسی ایک آدھ جز کا معنی معلوم نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ 
اس بات کو واضح کرنے کے لیے شاطبی نے حضرت عمر کے ایک مشہور واقعے کا حوالہ دیا ہے۔ روایات میں بیان ہوا ہے کہ سیدنا عمر نے ایک موقع پر سورۂ عبس کی آیت وَفَاکِہَۃً وَأَبّا (عبس: ۳۱) پڑھی اور لوگوں سے پوچھا کہ لفظ ’اب‘ کا کیا مطلب ہے؟ شاید ا س کا لغوی معنی انھیں معلوم نہیں تھا۔ پھر خود ہی فرمایا کہ ’ما کلفنا ہذا‘۔ اگر نہیں پتہ تو ہمیں اس مشقت میں نہیں ڈالا گیا کہ ایک ایک لفظ کی پوری لغوی تحقیق ہمارے علم میں ہو۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ سوال کسی دوسرے شخص نے ان سے کیا تو انھوں نے جواب میں کہا کہ ’نہینا التکلف والتعمق‘۔ ایک لفظ کا معنی اگر ہمیں معلوم نہیں تو ہمیں خواہ مخواہ تکلف کرنے اور تعمق میں پڑنے سے منع کیا گیا ہے۔ 
اب یہاں کلام کا جو اصل پیغام ہے، وہ بالکل واضح ہے۔وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سورۂ عبس کے اس حصے میں اپنی بہت سے نعمتوں کو گنوا کر انسان کو یاد دلا رہے ہیں کہ دیکھو، اللہ نے تم پر کیا کیا انعامات اور احسانات کیے ہیں اور ان کے اعتراف کے طو رپر تمھارا کیا فرض بنتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی حقیقت پر نظر کرے کہ اسے کس چیز سے اور کیسے پیدا کیا گیا اور پھر یہ سوچے کہ اس جیسی حقیر اور بے حیثیت مخلوق کے لیے اللہ نے کیا کیا نعمتیں مہیا کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے مثال کے طور پر پانچ سات نعمتوں کا ذکر کیا ہے۔ اب ان میں سے ایک لفظ کا معنی اگر کسی شخص کو معلوم نہیں تو اسے ایک ’’علمی‘‘ نقصان تو شمار کیا جا سکتا ہے، لیکن کلام کا مجموعی مفہوم اور اصل مقصود بالکل واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کے دل میں اللہ کی نعمتوں کے اعتراف اور قدر دانی اور اس کے مقابلے میں اپنی ناشکری کا احساس بیدار ہو۔ اگر ان آیات کو پڑھ کر یہ احساس انسان کے دل میں پیدا ہو گیا ہے تو قرآن کا مقصود حاصل ہو گیا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کو پڑھتے ہوئے اصل توجہ اس بات کی طرف ہونی چاہیے کہ قرآن کی آیات کو پڑھ کر دل میں خدا کا قرب حاصل کرنے کی، خدا کی عبادت کی اور خدا کی رضا کے حصول کی تڑپ پیدا ہو۔ اس بنیادی پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ جتنے چاہیں، ز وائد بھی حاصل کریں۔ آپ قرآن سے بلاغت کے نکتے بھی مستنبط کریں، نحو کے اسالیب پر بھی غور کریں، احکام وشرائع اور لطیف نکات بھی اخذ کریں، یہ سب کریں، لیکن اصل غرض کی قیمت پر نہیں۔ قرآن سے حاصل کرنے کی اصل چیز یہی تذکیر ہے۔ اگر یہ مجھے اور آپ کوحاصل نہیں ہو رہی تو باقی سب چیزیں درحقیقت ہماری توجہ کو بٹانے اور قرآن کے مقصد سے نظر ہٹانے کا کام کر رہی ہیں۔ کرنے کا پہلا کام یہ ہے کہ اس طرح کی باقی سب چیزوں سے کچھ عرصے کے لیے ’’ایلا‘‘ کر لیں۔ اپنے آپ کو اس بات کا عادی بنانے کی کوشش کریں کہ جو غذا آپ کو قرآن دینا چاہتا ہے، آپ کی طبیعت اس سے مانوس ہو جائے۔ جب یہ ہوجائے اور قرآن سے تذکیری غذا حاصل کرنے کا ذوق پختہ ہو جائے تو پھر باقی چیزیں بھی ان شاء اللہ قرآن کے طالب علم کے لیے مفید ہوں گی، لیکن اس کے بغیر یہ جو تفسیری نوعیت کی بحثیں ہیں، یہ آپ کی توجہ کو ہٹاتی رہیں گی۔ آپ کو تفسیری معلومات، نکات اور معارف تو بہت حاصل ہو جائیں گے، لیکن قرآن سے جو روحانی فائدہ آپ کو ملنا چاہیے، وہ ممکن ہے نہ ملے۔ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس ضمن میں اس حد تک اہتمام فرمایا کہ عام دعوت وتبلیغ کے لیے او رمسلمانوں کی عمومی تعلیم کے لیے نصاب صرف قرآن کو قرار دیا اور اس کے علاوہ کسی اور چیز کو اس طرح مقصوداً واہتماماً تبلیغ اور تعلیم کا موضوع نہیں بننے دیا۔ چنانچہ ایک عرصے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کے علاوہ خود اپنے ارشادات واقوال بھی لکھنے کی اجازت صحابہ کو نہیں دی۔ آپ نے فرمایا کہ قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو، بلکہ ایک روایت کے مطابق لوگوں نے جو کچھ لکھا ہوا تھا، اس کے متعلق بھی فرمایا کہ اسے مٹا دو۔ مقصد یہ تھا کہ قرآن ہی کو لکھا جائے، اسی کو یاد کیا جائے، اسی کو لوگوں تک پہنچایا جائے، اسی کو پڑھا اور اسی کو پڑھایا جائے۔ اس میں یہ حکمت بھی یقیناًملحوظ تھی کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات وفرمودات قرآن کے متن میں شامل نہ ہو جائیں، لیکن اصل مقصد یہ تھا کہ پڑھنے پڑھانے اور تعلیم وتبلیغ کا موضوع قرآن کے متن کے علاوہ اور کوئی چیز نہ بننے پائے۔ اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب اپنے دور میں باقاعدہ تعلیمی پالیسی بنائی اور مختلف علاقوں میں نئے مسلمان ہونے والوں کی تعلیم وتربیت کے لیے اساتذہ اور معلمین کی تقرری کا ایک نظام وضع کیا تو انھیں یہ ہدایات دیں کہ جب تک لوگ قرآن سے مانوس اور واقف نہ ہو جائیں، انھیں احادیث سنا کر ان کی توجہ قرآن سے ہٹا نہ دینا۔ اس طرح انھوں نے واضح کیا کہ لوگوں کو اور خاص طو رپر نئے مسلمان ہونے والوں کے لیے نصاب تعلیم صرف قرآن ہونا چاہیے۔ قرآن کے علاوہ کوئی دوسری چیز ساتھ شامل ہوگی تو وہ ان کی توجہ قرآن سے ہٹا دے گی۔ ان کی توجہ صرف قرآن کی طرف رہے اور جب تک قرآن کے ساتھ ان کی واقفیت اور مناسبت گہری نہ ہو جائے اور وہ قرآن کے انداز کو سمجھنے کی صلاحیت بہم نہ پہنچا لیں، کسی اور چیز میں ان کی توجہ بٹائی نہ جائے۔ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے اس کا اہتمام کیا کہ کسی دوسری چیز کے ساتھ، چاہے وہ دینی نوعیت رکھنے والی کیوں نہ ہو اور چاہے وہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ہی کیوں نہ ہوں، ایسا اشتغال نہیں ہونا چاہیے جو قرآن کے متن کے ساتھ مسلمانوں کے تعلق کو کمزور کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ 
قرآن کے ساتھ ہمارا تعلق زندگی بھر کا تعلق ہے۔ اس تعلق کے قائم ہونے ، اس کے نشوو نما پانے اور مضبوط سے مضبوط تر ہونے کا عمل ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ کوئی مرحلہ ایسا نہیں آتا جس میں انسان یہ کہہ سکے کہ میں نے قرآن سے جو سیکھنا تھا، سیکھ لیا ہے اور اب میرے لیے اس کو پڑھنا محض تکرار ہے۔ قرآن کو روزانہ پڑھنا اور اس کے کسی نہ کسی حصے پر باقاعدہ غور کرنا، دین کے ایک طالب علم کو یہ چیز اپنے معمولات کا حصہ بنا لینی چاہیے۔ تلاوت تو ہر مسلمان کو کرنی چاہیے، وہ دینی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ دین کے ایک طالب علم کو تلاوت کے ساتھ ساتھ قرآن کے کسی ٹکڑے پر روزانہ غور کرنے کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ اس غور وفکر کے دوران میں جو سوالات سامنے آئیں، ان کو باقاعدہ طالب علمانہ طریقے پر نوٹ کریں۔ جو خیالات پیدا ہوتے ہیں، ان کو نوٹ کریں۔ کوئی بات سمجھ میں نہیں آئی، کوئی نکتہ واضح نہیں ہوا تو اس کے لیے تفسیروں کی مراجعت کریں۔ قرآن کے علما اور اس پر غور وفکر کرنے والے محققین سے استفادہ کریں، لیکن اس ساری تگ ودو میں اگر دلچسپی کا محور زوائد بن جائیں تو قرآن کا اصل پیغام، جو وہ چاہتا ہے کہ اس کے پڑھنے والے تک پہنچے اور وہ روحانی اثر جو قرآن چاہتا ہے کہ اس کے قاری کے دل پر پڑے، خدشہ ہے کہ انسان اس سے محروم رہ جائے گا۔ اس لیے کوشش کر کے، تربیت کر کے اپنے اندر اس ذوق کی نشوونما کریں۔ اس کے لیے خاصی ریاضت کی ضرورت ہوگی۔جب تک آپ اپنی تربیت نہیں کریں گے اور ریاضت کر کے اپنے آپ کو اس کا عادی نہیں بنائیں گے، قرآن سے کماحقہ فائدہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ قرآن سے حاصل ہونے والا اصل فائدہ عقلی اور فکری نہیں، بلکہ جذباتی، تاثراتی اور روحانی ہے۔ قرآن آپ کو اللہ کے قریب کرتا ہے، اللہ کی پہچان کراتا ہے اور اللہ کے ساتھ تعلق استوار کرنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔ مجھے اور آپ کو اس بات کے لیے کافی ریاضت کرنا ہوگی کہ زوائد سے صرف نظر کرتے ہوئے اصل مقصود پر توجہ دیں اور قرآن کی آیات سے وہ روحانی غذا حاصل کریں جو قرآن چاہتا ہے کہ ہمیں حاصل ہو۔ 
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کا بہتر سے بہتر فہم حاصل کرنے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ اللہم اجعل القرآن ربیع قلوبنا ونور صدورنا وجلاء احزاننا وذہاب ہمومنا۔ آمین

شخصیت پرستی اور مشیخیت کے دینی و اخلاقی مفاسد

مولانا محمد عیسٰی منصوری

علماء کرام کا ایک بنیادی کام عوام کے ذوق و سوچ و فکر کی نگہداشت بھی ہے کہ دین کے کسی شعبہ میں غلو نہ پیدا ہونے پائے، دین کا ہر کام پورے توازن و اعتدال سے جاری و ساری رہے اور ملت اسلامیہ ذہنی و فکری طور پر جادۂ اعتدال سے ہٹنے نہ پائے۔ اس کی خاطر علماء کرام کو ہر دور میں بڑے حزم و احتیاط سے کام لینا پڑا۔ سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کا شجرہ بیعت رضوان کو کٹوا دینا یا حجر اسود کے سامنے اعلان فرمانا کہ : ’’تو ایک پتھر ہے، نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان‘‘ اسی حزم و احتیاط کا نمونہ تھا۔ 
اورنگ زیب عالمگیرؒ، جنہیں عصرحاضر کے عظیم عالم و مفکر شیخ طنطاوی نے چھٹا خلیفہ راشد کہا ہے اور اقبالؒ نے ’’ترکش مارا خدنگ آخرین‘‘، وہ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے انتہائی عقیدت مند تھے بلکہ بعض نے عالمگیر ؒ کو حضرت خواجہ معصوم ؒ کا مرید لکھا ہے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے پوتوں تک سے ایسی عقیدت و تعلق تھا کہ گولکنڈہ کی فتح کے بعد وہاں کے حکمران شاہ کی بیٹیوں میں ایک کی شادی اپنے صاحبزادے سے اور دوسرے کی حضرت مجدد ؒ کے پوتے سے کرتے ہیں۔ عالمگیر کو جو کتب نہایت عزیز تھیں، ان میں ’’مکتوبات مجدد‘‘ اور ’’دیوان حافظ‘‘ شامل تھیں جو ان کے سرہانے رکھی رہتی تھیں، مگر ایک وقت میں عالمگیر ؒ نے اورنگ آباد کے حاکم کو فرمان لکھ بھیجا کہ ان دونوں کتب کے پڑھنے پڑھانے سے لوگوں کو حکماً روک دیا جائے کہ ان کے بعض مضامین عوام کی سطح سے بالاتر ہیں۔ 
’’ارواح ثلاثہ ‘‘ میں حضرت گنگوہی ؒ کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے:
’’حکایت: (۲۹۷) خاں صاحب قبلہ نے فرمایا کہ : ایک مرتبہ حضرت گنگوہیؒ دیوبند سے واپسی میں سہارنپور سے رامپور تشریف لے جارہے تھے ( اور غالباً حضرت پھر دیوبند نہیں تشریف لے جا سکے)۔ اگلی گاڑی میں حضرت مولانا اور حکیم ضیاء الدین صاحب تھے اور پچھلی گاڑی میں، میں اورمولوی مسعود احمد صاحب۔ حضرت نے گاڑی کے پیچھے کا پردہ اٹھا کر مجھ سے باتیں کرنی چاہیں، مگر چونکہ گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے بات چیت مشکل تھی، اس لیے میں گاڑی سے اتر کر اور حضرت کی گاڑی کا ڈنڈا پکڑ کر ساتھ ساتھ ہو لیا۔ حضرت نے فرمایا: ’’میاں امیر شاہ خاں! ابتدا سے اور اس وقت تک جس قدر ضرر دین کو صوفیہ سے پہنچا ہے، اتنا کسی اور فرقہ سے نہیں پہنچا۔ ان سے روایت کے ذریعے بھی دین کو ضرر ہوا اور عقائد کے لحاظ سے بھی اور اعمال کے لحاظ سے بھی اور خیالات کے لحاظ سے بھی‘‘۔
اس کے بعد اس کی قدرے تفصیل فرمائی اور فرمایا کہ : 
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت روحانی کی یہ حالت تھی کہ بڑے سے بڑے کافر کو ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کہتے ہی مرتبہ احسان حاصل ہو جاتا تھا جس کی ایک نظیر یہ ہے کہ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم پاخانہ ، پیشاب وغیرہ کیسے کریں اور حق تعالیٰ کے سامنے ننگے کیونکر ہوں؟ یہ انتہا ہے۔ اور ان کو مجاہدات وریاضات کی ضرورت نہ ہوتی تھی اور یہ قوت بہ فیض نبوی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ میں تھی، مگر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کم اور تابعینؒ میں بھی تھی مگر صحابہ سے کم، لیکن تبع تابعین میں یہ قوت بہت ہی کم ہو گئی اور اس کمی کی تلافی کے لیے بزرگوں نے مجاہدات اور ریاضات ایجاد کیے۔ ایک زمانہ تک تو محض وسائل غیر مقصودہ کے درجہ میں رہے، مگرجوں جوں خیر القرون کو بعد ہوتا گیا، ان میں مقصودیت کی شان پیدا ہوتی رہی اور وقتاً فوقتاً ان میں اضافہ بھی ہوتا رہا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دین میں بے حد بدعات علمی وعملی اور اعتقادی داخل ہو گئیں۔ محققین صوفیہ نے ان خرابیوں کی اصلاح بھی کی، مگر اس کا نتیجہ صرف اتنا ہوا کہ ان بدعات میں کچھ کمی ہو گئی، لیکن بالکل ازالہ نہ ہوا‘‘۔ 
حضرت نے مصلحین میں شیخ عبدالقادر جیلانی اور شیخ شہاب الدین سہروردی اور مجدد الف ثانی اور سید احمد قدست اسرارہم کانام خصوصیت سے لیا اور فرمایا کہ ’’ ان حضرات نے بہت اصلاحیں کی ہیں، مگر خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا‘‘۔ (حکایات اولیاء، المعروف بہ ارواح ثلاثہ ، ص ۲۹۷ تا ۲۹۹، حکایت نمبر : ۲۹۷) 
یاد رہے کہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے بعد گزشتہ دو سو سال میں امام ربانی حضرت گنگوہی ؒ جیسی جامع ومحقق کوئی ہستی نظر نہیں آتی۔ حضرت گنگوہی ، حضرت مولانا خلیل احمد صاحب، حضرت تھانوی ، حضرت مدنی، حضرت مولانا الیاس صاحب رحمہم اللہ سمیت تقریباً ہمارے پورے ہی حلقے کے شیخ ورہبر ہیں اورآپ کا یہ ملفوظ زندگی کے آخری دنوں کا ہے، گویا پوری زندگی کے تجربات کا خلاصہ ہے۔ حضرت گنگوہی ؒ نے بڑی گہری بات فرمائی ہے۔ جس کی تصوف تاریخ پر وسیع نظر ہو، وہ حضرت کی بصیرت کی گہرائی کو سمجھ سکے گا۔ حضرت امام ربانیؒ نے چند جملوں میں گویا پوری تاریخ کا عطروخلاصہ بیان فرمادیا ہے۔ 
تصوف کے بے شمار سلسلے، خلاف شریعت اور باطل محض رہے ہیں، جیسے مداری، روشنی ، حلولی، حلاجی، قلندری ، ملامتی وغیرہ وغیرہ اور صحیح سلسلوں میں بھی بعد والوں کی ذرا سی بے احتیاطی یا غلو سے بے شمار خرابیاں اور بگاڑ پیدا ہوئے۔ دور کیوں جائیے، برصغیر میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ سے لے کر تمام اکابر اولیا ء اپنے اپنے زمانہ کے صحیح اہل حق ہی تو تھے۔ ا نہوں نے ساری زندگی شریعت کی اتباع اور مخلوق کو اللہ سے ملانے میں گزاری، مگر آج تقریباً سب ہی آستانے ومزارات شرک وبدعات کے گڑھ بنے ہوئے ہیں۔ تصوف میں جب بھی بگاڑ وفساد آیا، کسی شخصیت کے ساتھ عقیدت میں غلو کے نتیجہ میں آیا۔ اکثر بزرگان دین اور اولیا ء کبار کی کچھ پشتوں کے بعد ان کے جانشینوں نے ان کی تعظیم میں غلو کر کے ان کی ہستی کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنا لیا کہ اب تا قیامت انہیں روزی کے لیے پسینہ بہانے ومحنت کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ خواجہ کے نام پر حرام خوری کرنی ہے۔ 
حضرت مجدد الف ثانی ؒ سے بڑھ کر بدعات ورسوم وخرافات اور شیعیت کے خلاف کس نے لکھا ہوگا؟ مگر تیسری پشت ہی میں ان کی اولاد کے متعدد بزرگ دعوے دار تھے کہ وہی آج کے ’’قیوم‘‘ ہیں، زمین وآسمان انھی کے سروں پر قائم ہیں۔ ’’روضۃ القیومیۃ‘‘ جیسی کتاب اٹھا کردیکھیں ! قیوم کی تعریف وصفات میں صفحے کے صفحے بھرے پڑے ہیں، ساری الوہی وخدائی صفات’’قیوم‘‘ کو حاصل ہیں۔ قیومیت کا منصب کیا ہے ؟ اس کی توضیح وتشریح احسان مجددی نے اپنی کتاب ’’روضۃ القیومیۃ‘‘ میں کی ہے جو سلسلہ مجددیہ کے مطابق قیوم رابع کے خلیفہ تھے۔ لکھتے ہیں:
’’ قیوم اس شخص کو کہتے ہیں جس کے ماتحت اسماء وصفات، شؤنات، اعتبارات اور اصول ہوں اور تمام گزشتہ وآئندہ مخلوقات کے عالم موجودات، انسان وحوش، پرند ونباتات، پھر ذی روح، پتھر ودرخت، بحر وبر ہر شے، عرش وکرسی، لوح وقلم، سیارہ، ثواقب، سورج، چاند، آسمان بروج سب کے اس کے سایہ میں ہوں۔ افلاک وبروج کی حرکت وسکون، سمندر کی لہروں کی حرکت، درختوں کے پتوں کا ہلنا، بارش کے قطروں کا گرنا، پھلوں کا پکنا، پرندوں کا چونچ پھیلانا، دن رات کا پیدا ہونا، گردش کنندہ آسمان کی موافق وناموافق رفتار، یہ سب کچھ اس کے حکم سے ہوتا ہے۔ بارش کا ایک قطرہ بھی ایسا نہیں جو اس کی اطلاع کے بغیر گرتا ہو، زمین کی حرکت وسکون اس کی مرضی کے بغیر نہیں‘‘۔ (۱؍ ۹۴) 
بس پڑھتے جائیں! یہ سب عقیدت میں غلو کی کارستانی ہی تو ہے۔ یہ ساری خرابیاں تعظیم میں غلو اور اعجوبہ پسندی کی ذہنیت سے پیدا ہوئیں، اس لیے عوام کی ذہنیت کی نگہداشت علماء کرام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایک بار حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحبؒ نے فرمایا:
’’ جو اللہ کو اس کی ظاہری قدرت سے پہچانے گا ( جسے قرآن نے جگہ جگہ بیان کیا ہے)، مردہ زمین کو زندہ کرنا، جہازوں کا سمندر میں چلانا، آسمان کا بغیر ستون کے قائم کرنا وغیرہ وغیرہ، اس کا ایمان پہاڑوں جیسا مضبوط ہوگا اور جو عجوبہ پسندی (کشف وکرامات) کے دل دادہ ہوں گے، وہ سب دجال کے چیلے بن جائیں گے کہ دجال اس قسم کے سارے عجوبے وخارق چیزیں لے کر آئے گا، حتی کہ جب وہ مدینہ منورہ پہنچے گا تو زمین کا ایک جھٹکا ( زلزلہ) مدینہ منورہ میں مقیم اس قسم کے ۷۰؍ ہزار عاشقان رسول کو دجال کی گود میں پھینک دے گا اور وہ سب دجال کے چیلے بن جائیں گے۔ ‘‘ 
اس لیے علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے ذہنوں کو اس طرح کے تماشوں کے بجائے عملی کاموں کی طرف لانے کی سعی کریں۔ دین کے دیگر شعبوں مثلاً تعلیم وتعلم، دعوت وتبلیغ وغیرہ میں بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے، مگر ان کا نقصان تصوف کے نقصان سے بہت کم ہوتا ہے، کیوں کہ تصوف کا بگاڑ براہ راست شرک وبدعات پر منتج ہو تاہے۔ دنیا میں جتنی بدعات ہیں، سب نیک نیتی اور اچھے جذبات سے شروع ہوتی ہیں جیسے شیخ کے انتقال پر ان کی تعلیمات وطریقہ کی حفاظت کے لیے ان کے وفات کے دن خلفا ومتعلقین کا جمع ہونا، یا اگر کہیں لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے اور جمعہ آیا تو کسی نے کہا کہ چونکہ یہ پڑھ نہیں سکتے، اس لیے ایک شخص سورہ کہف جہراً پڑھ لے تو باقی سب کو سننے کا ثواب مل جائے گا یا ایصال ثواب کی رسوم وغیرہ۔ 
حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلویؒ کے بعد ہمارے اکابرین کا اصل مشغلہ تو تعلیم وتعلم، دعوت وتبلیغ، تزکیہ واصلاح، تصنیف وتالیف وغیرہ تھا، لیکن خدا سے تعلق بڑھانے، اللہ کی طرف متوجہ رہنے اور کمال اخلاص کے حصول کے لیے ضمناً ساتھ ساتھ ذکر وفکر بھی تھا۔ ان اکابرین کا اوڑھنا بچھونا علم دین خصوصاً علم حدیث وفقہ تھا، سیرت واحوال صحابہؓ پر گہری نظر تھی، اس لیے اگر تصوف کی راہ سے کوئی غیر شرعی ، رسمی یا عجمی شے آتی تو فوراً کٹ جاتی تھی، مگر علوم حقیقی کے زوال کے زمانہ میں اگر گہری نگہداشت نہ کی گئی تو خاموشی سے بظاہر بے ضرر نظر آنے والی رسوم داخل ہو کر اپنی جگہ بنالیں گی، پھر ان کا ازالہ مشکل ہو جائے گا۔
بندہ نے مولانایوسف متالا صاحب کو ایک ملاقات میں کہا تھا کہ : پیر تو پیر ہوتا ہے، دیوبندی یا بریلوی میں اب فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم بھی غیر شعوری طور پر اسی راہ پر چل پڑے ہیں۔ اپنی پسندیدہ شخصیات کے بارے میں غلو وعقیدت کا اس طرح مظاہرہ ہونے لگا ہے کہ علما بھی، جن سے توقع ہوتی ہے کہ وہ حزم واحتیاط ، توازن واعتدال کو قائم رکھتے ہوئے عوام کو عقیدت کے سطحی مظاہروں سے ہٹا کر عملی امور کی طرف متوجہ کریں گے، وہ بھی عوام کے ریلے میں بہہ جاتے ہیں۔ ذرا غور کیجیے، اگر یہ رخ چل پڑا تو ہر شخص’’ کھیڑا لو باپو‘‘ بننے کی سعی کرے گا جس کا دعویٰ تھا کہ ہر بیماری وپریشانی سے نجات کے لیے اس کی پھونک اتنے میل تک جاتی ہے۔ جب وہ کسی علاقے میں آتا تو وہاں کی مساجد کے حوض پانی سے خالی ہو جاتے تھے۔
بندہ کو اپنی ۶۶ سالہ زندگی میں ہند و بیرون ہند کے بہت سے بزرگوں اور اکابر اولیا کی زیارت نصیب ہوئی۔ اکثر بزرگوں کو قریب سے دیکھا اور ان کی خدمت میں کئی کئی دن رہنا نصیب ہوا، جیسے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب، حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحب، حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب، حضرت شاہ وصی اللہ صاحب الہ آبادی ، حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب، حضرت مولانا منظورنعمانی، حضرت مولانا علی میاں صاحب، حضرت مولانا صدیق صاحب باندوی، حضرت مولانا عبدالحلیم جونپوری (رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) وغیرہ۔ ان اکابرین کے دوروں کے مواقع پر اس طرح کی ہنگامہ خیزی اور بعض دوستوں کے الفاظ میں’’ مرجعیت ومقبولیت ‘‘ کہیں نہیں دیکھی جس کا مظاہرہ آج کل کے بعض پیران کرام کی آمد کے موقع پر ہوتا ہے۔ گجرات میں ان بزرگوں کے دورے بھی نظر کے سامنے ہیں۔ حضرت مولانا محمد منظور نعمانی ؒ نے گجرات کے مدرسوں کا سفر فرمایا تھا۔ محض اساتذہ کرام اور طلبہ ہوتے تھے۔ حضرت مولانا علی میاں صاحبؒ کی متعدد تقریریں سورت کے ’’ نگین چند ہال‘‘ میں سنیں۔ مشکل سے ۴؍۵ سوا فراد ہوتے تھے۔ اسی طرح حضرت مولانا صدیق باندوی،حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب، حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی (رحمہم اللہ تعالیٰ) وغیرہ کے دوروں پر بھی یہی کیفیت ہوتی تھی۔ حضرت جی کے دوروں کے مواقع پر عالمی اجتماعات میں تو لاکھوں کا مجمع ہوتا تھا، مگر شہروں اور بستیوں میں سیکڑوں یا زیادہ سے زیادہ ہزاروں کی تعداد ہوتی۔ 
حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ کی ایک نہایت قیمتی نصیحت یاد آتی ہے۔ فرمایا: مولوی صاحب! دو: راستے ہیں۔ ایک شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کا ، دوسرا شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒ کا۔ ایک میں عوام کی حفاظت ہے، دوسرے میں خواص کی منفعت ۔ آپ میزان کر لیں کہ دونوں میں کیا عزیز ہے، عوام کی حفاظت یا خواص کی منفعت؟
اس زمانہ میں ایک بے اعتدالی جو کچھ عرصہ سے ہم دیوبندیوں میں بھی بڑھ رہی ہے، وہ یہ کہ ہم اسلام کو اپنے بزرگوں کے حوالے سے پیش کررہے ہیں، جب کہ اسلام جب بھی پیش کیا جائے گا، قرآن وسنت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم وصحابہ کرامؓ کے حوالے سے پیش کیاجائے گا، نہ کہ حضرت شاہ وصی اللہ صاحب، حضرت مولانا مسیح اللہ صاحب، حضرت شیخ الحدیث صاحب اور دوسرے اکابر کے حوالے سے، جیسا کہ ساؤتھ افریقہ والوں نے انٹر نیٹ پر اپنے اپنے بزرگوں کے معمولات، کشف وکرامات واحوال کی بھرمار کر رکھی ہے۔ اکابرین کے معمولات اور طریقہ کار یقیناًبہت اچھے اور مفید ہیں، مگر پوری امت اس کی مکلف نہیں۔ اگر کسی بزرگ نے اپنے تجربات اورا جتہاد کی روشنی میں دین کی تین باتوں یا چھ باتوں کو محور بتاکر ان پر زور دیا تویقیناًیہ ان کا حق ہے، مگر عوام الناس کے سامنے ہمیشہ قرآن وسنت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کے حوالے سے ہی اسلام کو پیش کیاجائے گا، نہ کہ بزرگوں کے ذوقی نکات کے حوالے سے۔ خاص طور پر تصوف کا مسئلہ بہت ہی نازک ہے۔ تصوف کی پوری تاریخ بتاتی ہے کہ تصوف چاہے جہاں سے چلے، چند پشتوں کے بعد اس کا مآل (انجام) وہی ہوتا ہے جو اکابر اولیا ء اللہ کے مزارات پر نظر آتا ہے کہ جب ٹھوس علم نہ رہے تو آہستہ آہستہ عقیدت میں غلو پیدا ہوکر بدعات ورسوم ، دین بن جاتی ہیں۔ 
برصغیر کے مسلم فاتحین کی اکثریت نو مسلم تھی اور اسلامی زندگی سے ناآشنا، خاص طور پر مغلوں کا دور دینی اعتبار سے بڑا ہی منحوس اور نامبارک ثابت ہوا۔ مغل حکمران ہمایوں کے دور حکومت سے لے کر آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کے عہد تک تقریباً تین سو سال کے طویل عرصہ میں مسلم معاشرہ پر شیعیت کی زبردست یلغاررہی۔ حکومتی عہدے دار، علوم، نصاب تعلیم اور سب سے بڑھ کر تقیہ بردار شیعی شیوخِ تصوف کی خانقاہوں کے ذریعے سے (خواجہ اجمیری ؒ کے خلفا میں کئی شیعہ تھے) مسلم عوام کے ذہنی استحصال کے نتیجے میں امت مسلمہ کے عوام وخواص کے دلوں میں قرآنی احکام وہدایات اورحدیث وسنت کی اہمیت کم ہوتے ہوتے تقریباً معدوم ہوگئی تھی اور اس کی جگہ اولیا ء کرام اور بزرگان دین کے بے سند قصص وحکایات اور ملفوظات نے لے لی تھی۔ مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ لکھتے ہیں کہ :
’’ مسلمانوں پر ایک ایسا وقت بھی آیا جب وہ اس تاریخ سے بے گانہ ہو کر اس کو فراموش کر بیٹھے۔ ہمارے اہل وعظ وارشاد اور اہل قلم ومصنفین نے اپنی تمام تر توجہ اولیاء متاخرین کے واقعات اور ارباب زہد ومشیخیت کی حکایات بیا ن کرنے پر صرف کردی اور لوگ بھی اس پر ایسے فریفتہ ہوئے کہ وعظ وارشاد کی مجالس، درس وتدریس کے حلقے اوراس دور کی ساری تصانیف اور کتابیں ان ہی واقعات سے بھر گئیں اور سارا علمی سرمایہ صوفیاء کرام کے احوال وکرامات کی نذر ہو گیا‘‘۔ ( مقدمہ حیاۃ الصحابہ اردو ، ۱؍۲۰) 
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے جس ماحول میں آنکھ کھولی ، اس کی مجموعی صورت حال کا نقشہ علامہ سید سلیمان ندویؒ نے یوں کھینچا ہے:
’’سلطنت مغلیہ کاآفتاب لب بام تھا، مسلمانوں میں رسوم وبدعات کا زور تھا، جھوٹے فقرا ء اور نام ونہاد مشایخ اپنے اپنے بزرگوں کی خانقاہو ں میں مسند بچھائے اور اپنے بزرگوں کے مزاروں پر چراغ جلائے بیٹھے تھے، مدرسوں کا گوشہ گوشہ منطق وحکمت کے ہنگاموں سے پر شور تھا، فقہ وفتاویٰ کی لفظی پرستش ہر مفتی کے پیش نظرتھی، تحقیق وتدقیق مذہب کا سب سے بڑا جرم تھا، عوام تو عوام، خواص تک قرآن پاک کے معانی، مطالب اور احادیث کے احکام وارشادات اور فقہ دین سے بے خبر تھے‘‘۔ (مقالات سلیمانی، ص ۴۴)
آج جس قدر قرآن وسنت کا چرچا ہے، اسی طرح عجمی تصوف سے نبوی تزکیہ واحسان کی طرف توجہ مبذول ہونا بھی سب حضرت شاہ ولی اللہ ؒ اورآپ کے خانوادہ ؒ کی برکت ہے۔ شاہ ولی اللہ ؒ کے والد محترم شاہ عبدالرحیم ؒ اور چچا شیخ محمد رضا ؒ دونوں اہل طریقت میں تھے۔ معاصر تذکروں اور ’’روضۃ القیومیۃ‘‘ میں ان کا تذکرہ مشایخ تصوف کے ضمن میں ہوا ہے نہ کہ علماء کی صف میں۔ ایسی صورت میں حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی تصوف سے غیر معمولی دلچسپی کوئی تعجب خیزبات نہیں۔ شاہ ولی اللہ کو تصوف کی اہمیت اور اس کی ضرورت کا بھی احساس تھا اور اس میں شامل عجمی افکار اور شیعیت کے باطل نظریات کی زہرناکی سے بھی پوری طرح آگاہ تھے، چنانچہ آپ نے عہد زوال کے تصوف کی، جو اسلامی احسا ن وتزکیہ کی بگڑی ہوئی شکل تھی، اصلاح کی پوری کوشش فرمائی۔ بعد کے دور میں حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے تصوف کے متعلق تفصیلی کتب لکھ کر شاہ ولی اللہ ؒ کے کام کو آگے بڑھایا اور شاہ ولی اللہ ؒ کے نقطۂ نظر کی وضاحت وترجمانی فرمائی اور یہی کام ہر دور میں علماء کرام کو کرنا ہوگا۔
حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نے اپنے وصیت نامہ میں تیسری وصیت یہ فرمائی کہ:
’’اس زمانہ کے مشایخ جو طرح طرح کی بدعتوں میں مبتلا ہیں، ان سے بیعت ہرگز نہ کریں۔ ایسے لوگوں کی بیعت ممنوع ہے۔ اس سلسلہ میں عوام الناس کے غلو عقیدت کی پروا نہ کریں، نہ ان سے وابستہ کرامات کے و اقعات پر یقین کریں، کیوں کہ اکثر عوام الناس میں غلوِ عقیدت محض رسمی ہوتا ہے اور امور رسمیہ کاحقیقت میں کوئی اعتبار نہیں ہوتا‘‘۔ ( رود کوثر ، ص۵۸۰)
مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن ندویؒ نے اپنی کتاب’’ تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ میں حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی تحریک کا خلاصہ سات نکات میں بیان فرمایا ہے جس میں سب سے اہم ابتدائی دو نکات ہیں۔ ایک اصلاح عقائد ودعوت قرآن اور دوسرا حدیث وسنت کی اشاعت وترویج۔ شاہ ولی اللہ ؒ اوران کے خانوادے کی برکت سے قرآن وسنت، سیرت وفقہ، تزکیہ واحسان، دعوت وجہاد کے شعبے زندہ ہوئے۔ حضرت سید احمد شہیدؒ کے ایک سفر حج میں لاکھوں نے توبہ کی اور ہزاروں مسلمان ہوئے۔ حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ نے شیعیت کے (جو پور ے ملک پر حاوی ہو گئی تھی ، حتی کہ اکثر بزرگان دین کی گدیوں پر براجمان سجادہ نشین تقیہ کے پردہ میں شیعی ذہنیت کے حامل تھے اور آج بھی ہیں) مراکز وقلعوں پر جارحانہ حملے کر کے انہیں دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا۔ یہ ولی اللہ تحریک ومکتب فکر، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے نواسے شاہ محمد اسحاق اور شاگرد رشید مولانا رشید الدین دہلویؒ کی درسگاہ سے ہوتی ہوئی مولانا مملوک علی تک پہنچی اور ؒ پھر آپ کے صاحبزادے مولانا یعقوب نانوتوی اور شاگرد رشید حضرت گنگوہی و حضرت نانوتوی ؒ وغیرہ کے ذریعے سے پھل پھول کر ایک تناور درخت بن گئی۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ولی اللہی مکتب فکر کے حقیقی وارث اور علمبردار علماء دیوبند تھے۔ شاہ ولی اللہ سے لے کر حضرت شیخ الہند کے دورتک امت پنے کی ذہن سے کام ہوا اور عملی طور پر پوری امت کی فکر کی گئی۔ پھر فکر وجہد برصغیر تک محدود ہوگئی اور برصغیر کے تین ملک ہونے کے بعد اپنے اپنے علاقے تک۔ اب صورت حال یہاں تک پہنچ گئی کہ یہاں لندن میں برصغیر کے تینوں ممالک کے مشایخ وعلماء کی فکری حدود اپنے اپنے قبیلے وقوم یاضلع تک سمٹ چکی ہیں۔ 
تصوف میں جب کبھی مشیخیت ، روحانیت پر غالب آئی، تصوف انتہائی نقصان دہ بن گیا۔ جس طرح حضرت مجدد الف ثانیؒ کی تجدیدی تحریک مشیخیت کے ذہن سے پیدا شدہ نظریہ قیومیت کے سراب میں گم ہوگئی، اسی طرح اب حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی برپا کر دہ تحریک (تعلیم قرآن، سنت اور دعوت) علماء کی غفلت سے پھر مشیخیت (شخصیت پرستی کے غلو) میں گم ہونے جارہی ہے۔ آج کل علما نے شرک وبدعات کا رد چھوڑ رکھا ہے جس کی وجہ سے اہل بدعات کا پھر غلبہ ہو گیا ہے۔ آج کے دور کا سب سے بڑا فتنہ مشیخیت یعنی اپنے مقرب ہونے کا غرہ ہے۔ اس مشیخیت کی وجہ سے ہم اہل بدعت کے مماثل بنتے جارہے ہیں۔ انگلینڈ کے ایک بڑے مشہور شہر میں دو پیر صاحبان نے اپنا اپنا علاقہ تقسیم کررکھا ہے۔ ایک کا اعلان دوسرے کی مسجد میں نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ دنوں جب حضرت مولانا طلحہ صاحب تشریف لائے تو دونوں کے ہاں ان کا پروگرام تھا۔ ایک جگہ پہنچے تو شاید تھکان کی وجہ سے آرام کے لیے چلے گئے۔ دوسرے پیر صاحب سینکڑوں مصلیوں کے ساتھ آدھی رات تک اپنی ہی مسجد میں انتظار فرماتے رہے۔ پھر باتیں چلیں کہ فلاں نے آنے نہیں دیا۔ یہ دونوں پیر صاحبان جب نماز کے بعد اپنے گھر تشریف لے جاتے ہیں تو متعدد لوگ مشایعت کے لیے پیچھے چلتے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ اگر مریدوں میں سے کسی کونماز میں دیر ہو جائے تو وہ نماز توڑ کر پیر صاحب کی مشایعت کو ضروری سمجھتا ہے۔ تصوف کی منزل کا تو پہلا قدم ہی اپنے نفس وانانیت کو توڑنا ہے۔ یہاں درجن بھر قطب الاقطاب کا یہ حال ہے کہ عالم اسلام یا برصغیر کی کوئی بھی بڑی شخصیت آجائے، یہ اپنے گھر انتظا ر کرتے ہیں اور خود جا کر ملنا اپنی کسر شان سمجھتے ہیں۔ بندہ نے تقریباً دو سال پہلے مولانا عبداللہ پٹیل صاحب کو عرض کیا تھا کہ اس مشیخیت کی خبر لیجیے! ورنہ بندہ اپنے انداز میں کچھ کہے گا تو سختی ودرشتی کی شکایت نہ کیجیے گا۔ بندہ کے نزدیک اس دور کا سب سے بڑا فتنہ یہی مشیخیت ہے۔
بندہ جب ۱۹۷۵ء میں تبلیغی مرکز کے امام کے طور پر یہاں (لندن) پہنچا تو مرکز پر، مسجد واسلامک سنٹر میں رمضان المبارک میں حضرت شیخ الحدیث ؒ کے معمولات کے عنوان سے ایک چارٹ دیکھا۔ انہی دنوں علاقہ میں ایک پاکستانی دوست کے جوان بچے کا حادثہ ہو گیا۔ بندہ چند تبلیغی احباب کے ہمراہ تعزیت کے لیے ان کے ہاں گیا۔ وہاں بہت سے لوگ جمع تھے اور مسجد کے خطیب صاحب، جو بریلوی مکتب فکر کے تھے، تقریر کر رہے تھے۔ شاید ان کی مسجد میں بھی چارٹ بھیجا گیا ہوگا۔ ہمیں دیکھ کر انہوں نے کہنا شروع کیا: ہم نماز کے بعد جہری ذکرکریں تو بدعت،ان کے شیخ الحدیث کے ہاں روزانہ عصر کے بعد ذکر جہری ہوتا ہے، وہ سنت۔ ہم ختم خواجگان کریں تو بدعت، ان کے شیخ کے ہاں روزانہ ظہر کے بعد ختم خواجگان ہوتا ہے، وہ سنت۔ ہم بزرگوں کی قبروں پر جائیں تو بدعت، ان کے شیخ، حضرت گنگوہیؒ کی قبر پر دو گھنٹے مراقبہ کریں، وہ سنت۔ ہم کریں تو بدعت، دیوبندی کریں تو سنت۔ چند دنوں کے بعد ہندوپاک کے متعدد اکابر علماء تشریف لائے۔ ا ن میں حضرت مفتی زین العابدین ؒ بھی تھے۔ بندہ نے اکابر سے اس گفتگو کا تذکرہ کیا تو تقریباً سب ہی نے کہا : ان خطیب صاحب نے کوئی غلط بات تو نہیں کہی۔
اسی طرح حضرت شیخ الحدیث کی یہاں آمد ثانی کے موقع پر خلفا کی طرف سے مبشرات پر مشتمل ایک کتابچہ چھاپا گیا جس کا عنوان غالباً ’’ محبتیں‘‘ تھا۔ اس پر سلفی حضرات کے ماہنامہ ’’ صراط مستقیم‘‘ میں کئی قسطوں میں سخت تبصرہ چھپا کہ ان کے شیخ جب افریقہ، ری یونین، انگلینڈ تشریف لے جاتے ہیں تو سروردو عالم صلی اللہ علیہ وسلم،خلفائے راشدین اور دیگر اکابر صحابہ شیخ کے استقبال، انتظامات اور دیگر خدمات کے لیے پہنچتے ہیں۔ ا ن دیوبندیوں نے سرو رد وعالم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کو شیخ کا خادم بنا دیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کی بہت سی باتوں پر جب کبھی بندہ نے مولانا یوسف متالا کو ٹوکا تو ہمیشہ ایک ہی جواب ہوتا : غلطی ہو گئی۔ 
ماضی میں بزرگان دین اپنی خانقاہوں میں خاموشی سے افراد سازی فرماتے تھے۔ ہر میدان کے رجال کار تلاش کر کے انہیں کام میں لگاتے تھے، ان کی سر پر ستی، وسائل سے اعانت اور ہمت افزائی فرماتے تھے اور ان سے مختلف میدانوں میں اجتماعی کام لیتے تھے، جیسے دونوں حضرات راے پوری، تبلیغی جماعت، جمعیت علماء، مجلس احرار، ختم نبوت، جنگ آزادی کے مجاہدین، سیاسی وخدمت خلق کے میدانوں میں کام کرنے والے اور مختلف عملی وتصنیفی کام کرنے والے حضرات۔ دیوبند، مظاہر، ندوۃ چھوٹے بڑے مدارس ومکاتب کی سرپرستی فرماتے۔ اس طرح یہ حضرات خاموشی سے ملت کو منضبط ومتحد کرتے تھے۔ اول تو سفر بہت کم فرماتے ۔ اگر کرتے تو عموماً دین سے دور اور غربت زدہ علاقوں میں کرتے۔ اب حال یہ ہے کہ ایک ایک شیخ کے خلفا، پھر ہر خلیفہ کے درجنوں خلفا، امت کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزار رہے ہیں۔ آج عالم کفر عالمگیریت کے دور میں پہنچ کر ایک ایک مسلم ملک، قوم، طاقت اور ادارہ کو مل کر اقوام متحدہ کے زیر سایہ باری باری تباہ کررہا ہے۔ ادھر اللہ سے تعلق اور روحانیت کے دعوے دار ایک دوسرے کے مریدوں کی چھینا جھپٹی میں لگے ہوئے ہیں۔ ہمارا مقصود متاع دنیا اور دنیوی وجاہت بن گیا ہے۔ ان اللہ والوں کے زیادہ تر اسفار گجرات اور دنیا بھرمیں پھیلے ہوئے گجراتی اہل ثروت کی طرف ہوتے ہیں۔ خلافت کی ریوڑیاں بھی زیادہ ترانہی لوگوں میں تقسیم ہوتی ہیں۔ ( ایک مولوی کو ایک نہیں، کئی کئی خلافتیں)۔ بھارت کے بیس کروڑ مسلمان نظر التفات سے عموماً محروم رہتے ہیں۔ گزشتہ سال دُبیؔ کے چند دوستوں نے بتایا کہ فلا ں حضرت اپنے آدھ درجن بیٹوں وپوتوں کے ساتھ تشریف لائے۔ ان کی تشریف بری کے بعد دیکھا کہ بہت سوں کے ہدایا میزبان کے گھر پڑے تھے، کیونکہ ۶؍ ٹکٹوں پر زیادہ حضرت صرف قیمتی ہدایا ہی ساتھ لے جا سکے۔ یہاں لندن میں ہر خلیفہ نے اپنی ضروریات کے لیے چند اہل ثروت کو چن رکھا ہے اور یہ اللہ والے عموماً کسی کروڑ پتی کے ہاں قیام فرماتے ہیں، کسی غریب مرید کے ہاں شاذ ونادر ہی نزول فرمائیں گے۔ حقیقی روحانیت ہمیشہ فقر وفاقہ میں مست اور خوش رہتی ہے اور مشیخیت پیسوں کا کھیل بن جاتی ہے۔
سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہربرائی اور گناہ کی جڑ دنیا کی محبت کو اور امت کے لیے فتنہ ، عورت اور مال کو قرار دیا۔ چودہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے، اہل دین میں ہمیشہ فتنہ (فساد وبگاڑ) مال کی جہت ہی سے آیا ہے۔ کسی قوم اور ملت کی تباہی وزوال کی بنیادی وجہ حکمرانوں اور علما کا بگاڑ ہوتا ہے۔ اگر ان دو میں سے ایک بھی اپنا فریضہ صحیح طور پر ادا کر رہا ہوتو فساد وبگاڑ نصف رہ جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پیش گوئی فرما چکے ہیں کہ امت اور اس کے مشایخ وعلماء (احبار ورہبان) بنی اسرائیل کی قدم بقدم پیروی کریں گے۔ قرآن پاک میں بنی اسرائیل کے علماء ومشایخ کے حالات دیکھ لیں، کیا ہم انھی کے نقش قدم پر نہیں بڑھ رہے ہیں؟ آج کل اکثر مولوی مال بٹورنے اور جمع کرنے والی آیت ادھوری پڑھتے ہیں اور وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ  سے شروع فرماتے ہیں، جب کہ آیت میں اصل وعید ودھمکی علما و مشایخ (احبار ورہبان) ہی کی حرام خوری کے متعلق ہے۔ 
آج غریب آدمی اولیاء اللہ سے مصافحہ تو درکنار زیارت بھی بمشکل کر سکتا ہے۔ میرے ایک پاکستانی دوست جو یہاں بڑے سرکاری عہدے پر فائز ہیں، کہنے لگے: میں پاکستان میں فلاں فلاں مشایخ وبزرگوں اور اکابرین سے مل کر آرہا ہوں، سب ہی نے مجھ پر بڑی شفقت کی اور خوب اکرام فرمایا۔ بندہ نے عرض کیا: کیوں نہ کرتے، آپ انگلینڈ سے جو گئے تھے، اونچے عہدے پر جو ہیں۔ اب ایک بار اور جائیے، دیہاتی لباس میں اور سب سے عرض کیجیے: حضرت! چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، قرض ہو گیا ہے، بہت پریشان ہوں، دعا کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ پھر دیکھیے، کس طرح آپ کو دسترخوان پر ساتھ بٹھا کر اکرام فرماتے ہیں۔
آج کے پیر صاحبان، مہتمم صاحبان، تبلیغی جماعت کے امرا کو اگر موٹا سا ہدیہ دیا تو دسترخوان پر داہنی جانب عزو وقار کے ساتھ بٹھائیں گے، بلکہ دست مبارک سے لقمہ دیں گے۔ بدقسمتی سے غریب ہیں تو دور سے زیارت ہی کو خوش نصیبی اور جنت کا ٹکٹ سمجھئے۔ بھوپال کے حضرت مولانا حبیب ریحان ندوی ( شیخ الحدیث تاج المساجد) جب کبھی یہاں تشریف لاتے، ایک رات بندہ کے ہاں گزارتے اور بے تکلفی سے باتیں ہوتیں۔ تقریباً پندرہ سال پہلے کا واقعہ ہے، کہنے لگے: آج کے بعض مولوی اور پیروں سے زیادہ حرام خور کوئی نہیں۔ اس بات پر بندہ کی مولانا سے جھڑپ ہو گئی۔ مجھے اللہ معاف کرے، بہت سخت سست کہہ دیا اور یہاں تک کہہ دیا : یہ علماء دشمن مودودیت بول رہی ہے۔ (آپ مولانا مودودی صاحب کی تحریروں سے بھی متاثر تھے) وغیرہ وغیرہ۔ ادھر بدقسمتی سے ان پندرہ سالوں میں ایسے تجربے ہوئے کہ الامان والحفیظ۔ ۳۰، ۳۰ لاکھ کی کوٹھیاں بن رہی ہیں۔ انگلینڈ میں ایک شہر سے دوسرے شہر تک کالی ٹیکسی سے تشریف لے جاتے ہیں ( جو اتنی مہنگی ہوتی ہے کہ یہاں والے بھی ہمت نہیں کرتے۔) ان کی جیبوں میں دنیا بھر کے ہوائی جہاز کے اوپن ٹکٹ پڑے رہتے ہیں۔ گھر کے نقشے ،عیش وعشرت ہی نہیں، عیاشی تک پہنچے ہوئے ہیں۔غرض جس قدر خلفاء کرام، عالی یشان جامعات اور علماء کرام کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، اسی قدر ہدایت گھٹتی جا رہی ہے۔
اب یہاں ہم دیوبندیوں میں ایک بدعت یہ شروع ہوگئی ہے کہ یہ اللہ والے اپنے مدرسے سے تمام فارغ ہونے والوں کو خود ہی بیعت فرما لیتے ہیں کہ ہماری مرغیوں کے انڈے ہم ہی کھائیں، دوسرا کوئی کیوں فائدہ اٹھائے، اس لیے ان کے طلبہ پوری امت کے علماء و اہل اللہ سے کٹ کر صرف اپنے پیر سے مرتبط رہتے ہیں۔ کوئی ایسا عالم دین یا بزرگ جو ان کے شیخ کو قطب الاقطاب نہ مانتا ہو، اس کے قریب بھی نہیں جائیں گے جب کہ ہمیشہ صحیح روحانیت والوں کا طریقہ یہ تھا کہ طلبہ کی ذہنی مناسبت وصلاحیت کے اعتبار سے انہیں اہل اللہ کے حوالے فرماتے، جیسے حضرت رائے پوری ؒ نے اپنے خادم خاص حضرت مولانا عبدالمنان دہلویؒ کو حضرت شیخ الحدیث ؒ کے پاس اور حضرت تھانویؒ نے اپنے پاس مرید ہونے کے لیے آنے والے مولانا عبدالماجد دریا بادی کو حضرت مدنیؒ کے پاس بیعت کے لیے بھیجا۔ اب اس زمانہ کے اللہ والوں کی دیکھادیکھی تبلیغی ذمہ داربھی زور دینے لگے ہیں کہ بھائی، ہمارے کام کرنے والوں کو تو حافظ پٹیل صاحب ہی سے بیعت کرنی چاہیے، تب ہی تبلیغی کام کا پورا فائدہ ہوگا۔ یہ سارے کرشمے مشیخیت کے ہیں جو سچی روحانیت سے بہت دور ہے۔ اگر یہ مشیخیت اسی طرح بڑھتی رہی تو اندیشہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ سے شروع ہونے والی توحید وسنت، قرآن وحدیث کی اشاعت کی دعوت اور سچی روحانیت کا یہ سفر ترقی معکوس کر کے شاہ صاحب سے پہلے والی جہالت اولیٰ پر نہ منتج ہو جائے۔ آج دیوبندیوں کے ہاں بھی اپنے بزرگوں اور اکابرین کانام بیچ کرمال بٹورنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ آج مال بٹورنے کا یہ سب سے سہل نسخہ یہی بن چکا ہے، لیکن میرا وجدان یہ کہتا ہے کہ اب یہ مشیخیت یاجعلی روحانیت کامیاب نہیں ہوسکے گی، بلکہ منہ کی کھائے گی۔ ہمارے اکابر کی ڈھائی سو سالہ قربانیاں اور جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی۔ اب صرف قرآن وسنت، سیرت نبوی وصحابہ کی بات ہی چلے گی، نہ کہ بعد والی عجمی افکارواعمال کی ملاوٹ زدہ مشیخیت، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ہم دیوبندی اس مشیخیت وشخصیت پرستی کے مہلک سراب سے نکل کر اپنے اصل بزرگوں کی طرف لوٹیں۔ وماذلک علی اللہ بعزیز۔ 

تنقیدی جائزہ یا ہجوگوئی؟ (۲)

محمد رشید

۷۔ سابقہ سطور میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ مضمون نگار کس بے رحمی سے ڈاکٹر غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جیسے درویش منش انسان کو قارونی گروہ کا خاموش حمایتی ثابت کرنے کی کوشش کرچکے ہیں۔اور پھر وہ یہ ثابت بھی کرتے ہیں کہ شاہ ولی اللہ اور مارکس کے سوا علما و سکالرز کی اکثریت قارونی گروہ کی مخالفت سے اجتناب کے گناہ میں ملوث رہی ہے۔لیکن جب حضرت انعام یہ دیکھتے ہیں کہ محاضرات معیشت میں محترم غازی صاحب افراد معاشرہ کی کفالت اور ان کے لیے روٹی کپڑا اور مکان کا ذمہ داراسلامی ریاست کو قرار دیتے ہیں اور پھراسلاف کے حوالوں کے ساتھ قارونی گروہ کے خلاف بغاوت پران الفاظ میں اکساتے ہیں :
’’فقہائے اسلام میں سے بعض حضرات نے یہ لکھا ہے جن میں علامہ ابن حزم کا نام بہت مشہور ہوگیا ہے کہ اگر ریاست اپنے ان تقاضوں کو پورا نہ کرے یا ریاست ان فرائض کی انجام دہی میں غفلت اور کوتاہی اختیار کرے اور معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہوں جن کو روزی پیٹ بھر کر نہ ملتی ہو، ایسے لوگ موجود ہوں جن کے پاس تن ڈھانپنے کو لباس نہ ہو، سر چھپانے کو چھت نہ ہوتو وہ زبردستی خود باوسیلہ لوگوں سے اپنا حق وصول کرسکتے ہیں۔‘‘ (محاضرات شریعت صفحہ182-183)
تو صاحب محاضرات کے اس خوبصورت چناؤ کی تحسین کرنے کی بجائے عقل کل حضرت انعام کی زبان طعن اس طرح دراز ہوتی ہے: 
’’ڈاکٹر صاحب بندوق چلانا چاہتے ہیں لیکن ابن حزمؒ کے کندھوں پر رکھ کر۔ ایسا کیوں ہے کہ ہمارے علماء و سکالرز کی اکثریت اس طرح کے معاملات میں طرح مصرع ملنے پر بھی غزل کہنے سے گریز کرتی ہے؟ ان کا یہ سہما سہما معذرت خواہانہ اندازشاید اس لیے ہے کہ ماضی میں سوشلزم کی مخالفت برائے مخالفت میں خود انہی مقاصد(کفاف وغیرہ) سے چشم پوشی کرتے رہے ہیں۔‘‘
یعنی عقل کل حضرت انعام کو بڑی تکلیف اور شدید دکھ ہے کہ جس طرح ماضی میں علماء عوامی حقوق کے بارے میں خاموش رہے ہیں تو اسی طرح اب بھی کوئی نہ بولے۔لہٰذا اب اگر اعلیٰ ترین علمی حلقوں سے محترم غازی صاحب اس معاملے پر علم و برہان اور دلیل و سند کی قوت سے بولتے ہیں تو اسے وہ ’’دوسروں کے کندھوں پر بندوق چلانا‘‘، ’’سہما سہما معذرت خواہانہ انداز‘‘، ’اور ’’ماضی میں چشم پوشی کے جرم‘‘ کا قصور وار ٹھہرا کران کی بات کو ہوا میں اڑاکر بے وزن اور بے حیثیت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حضرت انعام کو اس پر بھی پیٹ میں مروڑ اٹھتا ہے کہ ڈاکٹر غازیؒ خلیفہ ا ول کی طبقاتی کشمکش کی پیش بندی کی بات کیوں کرتے ہیں۔ چنانچہ اس ضمن میں محترم غازی صاحب کے حوالے کو مجبورانہ اعتراف قرار دینے کے فوراً بعد اپنے مضمون ’’اسلامی حکومت کا فلاحی تصور‘‘ کا حوالہ دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ اورپھرلکھتے ہیں کہ ’’ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم بھی اس پالیسی سے ملتے جلتے رجحانات رکھتے ہیں۔‘‘
الشریعہ کے صفحہ 442کے نصف آخراور صفحہ443کے نصف اول پر موصوف کے خیالات کو ذرا غور سے پڑھا جائے تو ان کی عقل پر شک سا ہونے لگتا ہے۔سمجھ نہیں آتی کہ وہ ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمۃ اللہ علیہ کی تعریف کے پردے میں تذلیل کرنا چاہ رہے ہیں یا کہ تذلیل کے ساتھ ساتھ محض بھرتی کے لیے کہیں کہیں کچھ روکھے سے اعترافی کلمات بھی لکھ دیتے ہیں۔
اگلے صفحات میں بھی مضمون نگار اپنی پست فطرتی اور گھٹیا ظرف کا مظاہرہ کرتے ہوئے طعن و طنز پر مبنی زبان کا استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر غازی صاحبؒ پر چٹکیاں لینے کی کوشش کی ہے۔(خاص طور پر صفحہ 446-447)
۷۔ مضمون نگار حضرت انعام کو محترم غازی صاحبؒ پر یہ بھی غصہ ہے کہ وہ مغربی دنیا پر تنقید کیوں کرتے ہیں؟چنانچہ اس پر وہ بڑے سیخ پا ہوتے ہیں ۔ان کے غصہ اور ناپسندیدگی کا اظہار ان کے ان جملوں سے بخوبی ہوتا ہے:
’’ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم Primogenitureجیسے مغربی قوانین پر تنقید سے اک درجہ بڑھ کر ان کے قوانین کے پس منظر اور مغربی فکر و نظر پر بھی ڈرون حملے کرتے ہیں۔‘‘ (صفحہ453)
’’لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب مغربیوں سے خواہمخواہ ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔‘‘(صفحہ453)
’’ہم یہ کہنے کی جسارت نہیں کریں گے کہ ڈاکٹر غازیؒ ایسے حقائق سے بالکل بے خبر رہے، البتہ اتنا ضرور کہیں گے کہ انہیں مغربیوں اور مغربی فکر سے خدا واسطے کا بیر لگتا ہے۔‘‘(صفحہ456)
‘‘غالباً ڈاکٹر صاحب ’’فقط اللہ ہو اللہ ہو‘‘ کے قائل ہیں۔‘‘ (ایضاً)
مضمون نگار اپنے مضمون کا اختتام ان جملوں کے ساتھ کرتا ہے:
’’ان محاضرات کے بین السطور ڈاکٹر غازیؒ مغربی فکر سے مخالفت برائے مخالفت کی حد تک الرجک ہیں۔ وہ اپنوں کی خامیوں کے بارے میں گول مول بات کرتے ہیں، لیکن غیروں پر ڈرون حملے کرتے ہیں۔ لیکن اسے اونٹ نگلنے اور مچھر چھاننے سے بھی تعبیر کیاجاسکتا ہے۔‘‘ (صفحہ467)
’’مغربیوں سے خواہ مخواہ ادھار کھائے بیٹھے ہیں‘‘، ’’مغربی فکر سے مخالفت برائے مخالفت کی حد تک الرجک ہیں‘‘، ’’مغربی فکر سے خدا واسطے کا بیر لگتا ہے‘‘، ’’فقط اللہ ہو اللہ ہو کے قائل ہیں‘‘ ، ’’اونٹ نگلنے اور مچھر چھاننے ‘‘یہ ہیں وہ طنز نما القابات جو مضمون نگار اپنے ممدوح ڈاکٹر غازیؒ کوعطا کرتے ہیں۔طنز اور استہزا کے یہ نشترصرف ایسا شخص ہی محترم غازی صاحب رحمۃ اللہ پر چلا سکتا ہے جو ان کی ذات، ان کے کردار اور ان کے علمی کام کے بارے میں بدترین حد تک جہالت اور ناواقفیت کا شکار ہو۔بالفاظ دیگر طنز و تعریض کا یہ انداز یا تو بدنیتی کی بنا پر اختیار کیا جاتا ہے یا پھر علم کے فقدان کی وجہ سے۔اور بدقسمتی سے مضمون نگار کے مضمون میں یہ دونوں چیزیں بار بار اپنی جھلک پیش کرتی ہیں۔اس پر مستزاد یہ کہ مضمون نگار بار بار اپنا وزن بڑھانے کے لیے الشریعہ میں اپنے شائع ہونے والے مضامین کو سند کے طور پر پیش کرتے ہیں۔گویا غازی صاحب ؒ کی تنقیص کے ساتھ ساتھ اپنا مثبت تعارف اور اپنے خود ساختہ علمی کام کا حوالہ دینا بھی نہیں بھولتے۔
ہم دست بستہ عرض کریں گے کہ اگر مضمون نگار اپنے سر سے ’’پروفیسر‘‘ اور ’’میاں‘‘ کی عظیم المرتبت ٹوپیاں اتار کراور انصاف کی آنکھیں کھول کر محترم غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے افکار وکردارکا مطالعہ کرتے تو یوں ہجو گوئی اور مغالطہ آمیزی کی غیر اخلاقی حرکات سے محفوظ رہتے۔
ایسا نہ سمجھاجائے کہ ہم ’’تنقیدی کام‘‘ کی افادیت و اہمیت کے خلاف ہیں۔قطعاً نہیں۔ ہم علی وجہ البصیرت سمجھتے ہیں کہ معاشروں اور علمی کام کو درست سمت میں قائم رکھنے کے لیے ’’تنقید‘‘ اور ’’تنقید ی جائزہ‘‘ کی میزان کا قائم رکھنا ایک ناگزیر اور بنیادی ضرورت ہے۔لیکن تنقید اور تنقیص دو مخالف چیزیں ہیں۔ تنقید ایک مقدس فریضہ ہے تو تنقیص اخلاق کی پستی کے اظہار کا نام ہے۔پہلی چیزمعاشروں کو درست سمت میں قائم رکھنے والی، علمی و فکری کاموں کی اصلاح کرنے والی ہے تو دوسری چیز معاشرے کی اخلاقی خوبیوں کی جڑیں کاٹنے والی ہے۔خود ہم نے بھی اپنی ناقص بساط کی حدود میں رہتے ہوئے آج سے قریباً 15سال پہلے اپنے ہی ایک ایسے نہایت محترم راہنما کے کام کا مفصل تنقیدی جائزہ ’’تلاش منزل اور بھٹکتے کارواں‘‘ کے عنوان سے تحریر کرکے اس کی خدمت میں ارسال کیا تھا۔جسے ہم نے اپنا ’’امیر‘‘ مانا ہوا تھااور حاضر و موجود دینی و مذہبی راہنماؤں میں سے ہم اپنے اس’’امیر‘‘ سے بے حد مرعوب و متاثر بھی تھے۔اور پھر مسلسل چھ سال تک ہم اپنے تنقیدی وتجزیاتی نکات کا دلیل کے ساتھ رد یا قبول کے لیے یاددہانی کراتے رہے اور اپنے تئیں ہمارے مخلصانہ ’’تنقیدی تجزیہ ‘‘ کے جواب میں ہمارے محترم امیر کامسلسل دھتکارآمیزاصراربالآخر اپنی پسندیدہ اسلامی تنظیم سے ہمارے استعفیٰ کا سبب بن گیا۔اتنے طویل اختلاف کے باوجواس امیر کی وفات پر ہم نہایت گہرے دکھ کے احساسات سے دوچار ہوئے،اب اگر ہم ان کی وفات پر ان کے کام اور فکر کے ’’تنقیدی جائزہ‘‘ کے نام سے مضمون لکھ ماریں اور اس میں نہایت کمزور اور بودے دلائل سے ان پر پھبتیاں،طنز اور تعریض کرنے بیٹھ جائیں تو اسے اخلاق کی پستی اورذاتی انتقام تو کہا جاسکتا ہے، ایک علمی و دینی خدمت قطعاً نہیں۔
مضمون نگار سے ہم یہی بات دست بستہ عرض کریں گے کہ ’’تنقید‘‘ اور ’’تنقیدی جائزہ‘‘ کسی بھی فکر و عمل کے معروضی تجزیہ کا نام ہوتا ہے،اور اس معروضی تجزیہ کے بعد اس کام یا فکر کی خوبیوں اور خامیوں کو اسی معروضی انداز میں بیان کرنا ہی تنقیدی جائزہ کہلاتا ہے۔بلادلیل طنز و تعریض اور استہزا کی لٹھ لے کر دوسروں کو ہانکنے کی کوشش کرنا اخلاق سے گرا ہوا کام تو کہلا سکتا ہے ،اسے کسی بھی طرح ’’علم و تنقید‘‘ کی سند عطا نہیں کی جاسکتی۔
ایک طرف مضمون نگار کی یہ تہمتیں، طنز اور خرافات ہیں تودوسری طرف ذرا استاذ محترم ڈاکٹر غازی صاحبؒ کے درج ذیل پرمغز تجزیے کو ملاحظہ فرمائیے اور بتائیے کہ حضرت انعام نے اپنے مضمون میں محترم غازی صاحبؒ پر جو تہمتیں لگائی ہیں کیااس کے وہ سزاوار بھی ہیں؟ غازی صاحبؒ فرماتے ہیں:
’’مغرب اور مشرق دونوں کے تجربات کیا ہیں؟ کیا رہے ہیں؟ علوم کے میدان میں بھی، صنائع اور فنون کے میدان میں بھی، ان سب سے گہری اور ناقدانہ واقفیت دنیائے اسلام کے مستقبل کے لیے ناگزیرہے۔ مغربی تہذیب بہت جامع اور بھرپور تہذیب ہے۔ مغربی تصورات میں کچھ پہلو مفید ہیں، کچھ پہلو ہمارے لیے غیر ضروری ہیں، کچھ پہلو اسلامی شریعت اور عقیدے کی روشنی میں ناقابل قبول ہیں، کچھ پہلو شدید گمراہیوں پر مبنی ہیں۔ .....یہ گمراہیاں قانون اور سیاست کے میدان میں بھی ہیں ۔ معاشیات کے باب میں بھی ہیں، نفسیات اور اخلاقیات سے بھی ان کا تعلق ہے ، معاشرت و معیشت میں بھی بہت سی غلطیاں ہیں۔
جب تک ان تمام امور کا الگ الگ جائزہ نہیں لیاجائے گا اور ان گمراہیوں اور غلط تصورات پر عقلی تنقید کرکے ان کا برسرغلط ہونا ثابت نہیں کیاجائے گا، اس وقت تک فکر اسلامی کی تشکیل نو اور فقہ اسلامی کی تدوین نو کا عمل دور جدید کے تقاضوں کی روشنی میں مشکل کام ہے۔ ‘‘ (محاضرات شریعت صفحہ546)
محترم غازی صاحبؒ کا یہ نقطہ نظر ملاحظہ کرنے کے بعدکیا کوئی سنگدل یہ کہہ سکتا ہے کہ ’’ڈاکٹرغازیؒ مغربیوں سے خواہ مخواہ ادھار کھائے بیٹھے تھے‘‘۔ اور یہ کہ ’’وہ مغربی فکر سے مخالفت برائے مخالفت کی حد تک الرجک تھے۔‘‘ قارئین غور فرمائیں کہ کیا ہی اعلیٰ ، خوبصورت اور متوازن تجزیہ ہے استاذ محترم غازی صاحب کا اور کیا ہی گھٹیا اندازِ تہمت ہے ان سنگدل مضمون نگار کا۔
پھر مشرقی و مغربی دنیا کا جو پرمغزتجزیہ محترم غازی صاحبؒ کرتے ہیں اس کا 100واں حصہ بھی مضمون نگار جیسے فکری افلاس کے شکار خودساختہ قلمکاروں کے بس کی بات نہیں۔ملاحظہ فرمائیے صاحب محاضرات فرماتے ہیں:
’’اہل مغرب کے ہاں فکری یک رنگی موجود ہے۔ پورا مغرب ایک خاص رخ پر چل رہا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں جو رویہ فرانس اور پیرس میں محسوس ہوتا ہے وہی رویہ دوسرے مغربی ممالک میں محسوس ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں جو بات امریکہ میں کہی جارہی ہے وہی اٹلی میں بھی کہی جارہی ہے۔ وہی اسپین میں بھی کہی جارہی ہے۔ ان کے ہاں عزم و ارادہ پایاجاتا ہے اور پچھلے دو سو برس سے دنیائے اسلام کے بارے میں وہ اپنے عزائم اور ارادوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ اس معاملہ میں ان کے حکمرانوں اور عامۃ الناس کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ تعلیم کی سطح ان کے ہاں اتنی اونچی ہے اور ان کے اپنے مقاصد سے اتنی ہم آہنگ ہے کہ دنیائے اسلام کے ممالک میں اس کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ان کی معاشی خوشحالی کی بنیاد بڑی مضبوط اور دیرپا ہے۔ وہ خود کفیل ہیں، ان کے پاس بے پناہ عسکری قوت ہے، ان کے ہاں سائنسی تحقیق کے ہزاروں ادارے کائنات کے ذرہ ذرہ اور چپہ چپہ کا سراغ لگارہے ہیں اور تکریم آدم کا تصور ان کے ہاں ایک حقیقت ہے۔‘‘ (محاضرات شریعت صفحہ519)
ہجو گومضمون نگار کو بڑا دکھ ہے کہ ڈاکٹرغازی صاحب ؒ ’’ مغربی فکر و نظر پر ڈرون حملے کرتے ہیں‘‘۔اسی دکھ کی بنیاد پر وہ یہ بے سروپا الزام لگاتے ہیں کہ ڈاکٹر غازی ’’مغربی فکر سے مخالفت برائے مخالفت کی حد تک الرجک ہیں ‘‘۔لیکن اپنے اس الزام کے ثبوت کے طور پر وہ محترم غازی صاحبؒ کا کوئی حوالہ دینے سے قاصر ہیں ۔جہاں تک ڈرون حملے کرنے کی بات ہے ،توقرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اصطلاح مضمون نگار نے ڈاکٹرغازی صاحبؒ پر طعنہ زنی کے لیے استعمال کی ہے۔اور ’’ڈرون حملہ‘‘ کا لفظ ایک ’’بے رحم، سنگدل ، ظالم ، بے حس اور یک رخا‘‘ شخصیت کاتاثر پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا ہے ۔کیونکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ دنیا کے مجبور،غریب اور بے قصور مسلمان عوام پر دنیا کا عالمی تھانیدار نہایت سنگدلی ،بے رحمی اور ظالمانہ انداز سے ڈرون طیاروں کے ذریعے سے حملہ آور ہے۔اس اصطلاح کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ ’’ڈرون حملہ‘‘ اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنانے میں بالکل غلطی نہیں کرتا اور بالکل درست اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنا کر اسے تہس نہس کرتا ہے۔اب ذرا اس مفہوم کے پس منظر میں محترم ڈاکٹر غازی صاحبؒ پر ’’مغربی فکر ونظر پر ڈرون حملے ‘‘ کے الزام پر غور فرمایے،اور پھر مضمون نگارکے دکھ اور تکلیف کو سمجھیے کہ ان کو اصل دکھ کیا ہے؟ یہی نا کہ محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی مغربی فکر کا بالکل درست تجزیہ کرکے اس کی گمراہی اور بودا پن بالکل درست انداز میں ثابت کرکے اس کے رعب اور دبدبہ کو تہس نہس کردیتے ہیں اور یوں فکری سطح پر مغربی فکر کا بالکل درست نشانہ لگاتے ہیں۔یہ ہے وہ جرم جس کی وجہ سے مضمون نگار کو ہمارے استاد محترم پر غصہ ہے اور یوں وہ غیض و غضب اور بوکھلاہٹ میں’’مغربی فکر پر ڈرون حملے‘‘ کرنے کاواویلا کرنے بیٹھ جاتے ہیں ۔جناب ہجو گو صاحب کے ’’مغربی فکر سے مخالفت برائے مخالفت کی حد تک الرجک‘‘ اور ’’خواہ مخواہ کا بیر‘‘ اور ’’ادھار کھائے بیٹھے ہیں‘‘ جیسے پست ریمارکس کے مقابلے میں محترم غازی صاحبؒ کس خوبصورت انداز سے مغربی فکر کا تجزیہ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے مضمون نگار جیسے نام نہاد اسلامسٹ(اندر سے مغربسٹ) پر دہشت اور خوف طاری ہوجاتا ہے۔اسی دہشت اور خوف میں وہ ’’مغربی فکر پر ڈرون حملے‘‘ کی رٹ لگانا شروع کردیتے ہیں۔
مغربی فکر و کردار کا تجزیہ کرتے ہوئے صاحب محاضرات فرماتے ہیں:
’’مغرب کی پوری معیشت دن رات اسی بات کے لیے کوشاں رہتی ہے کہ انسانوں کے دل و دماغ کو نت نئی مادی اور شہوانی خواہشات کی آماج گاہ بنایاجائے۔ ان کی کمپنیاں، ان کی تجارتیں، ان کے بینک، ان کے تجارتی دفاتر، ان کے اشتہارات غرض ہر چیز کا ہدف یہ ہے کہ عام انسانوں کے لیے نئی نئی ضروریات تراشیں۔ پھر لوگو ں کو ان ضروریات کی تکمیل پر آمادہ کریں اور ایسی ایسی چیزیں ان کی بنیادی ضروریات کا حصہ بنادیں جس کے بغیر وہ انتہائی خوشی اور آرام سے زندگی بسر کررہے تھے۔ یہ تصور اسلام کی تعلیم کی رو سے ناقابل قبول ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت کے بنیادی احکام دراصل اس دنیا اور آخرت دونوں میں انسان کی حقیقی مصلحت کی تکمیل کے لیے دیے گئے ہیں۔ انسان کا حقیقی مفاد اور حقیقی مصلحت کیا ہے؟ یہ وہ ہے جو شریعت نے بیان کی ہے، یعنی اس دنیا میں بھی کامیابی اور آخرت میں بھی کامیابی کا حصول۔یہ فقہ کے، شریعت کے تمام احکام کا بنیادی ہدف اور بنیادی مقصد ہے۔ اس لیے شریعت کا کوئی پہلو چاہے وہ فقہ المعاملات سے تعلق رکھتا ہو، فقہ مالیات سے تعلق رکھتا ہو، معیشت و تجارت سے تعلق رکھتا ہو۔ وہ اخروی مقاصد اور اہداف کو سرے سے نظر انداز نہیں کرسکتا۔ اسلامی شریعت اس مغربی تصور کو قبول نہیں کرتی کہ معاشی انسان سے مراد وہ زندہ وجود ہے جس کی زندگی کا مقصد وجود صرف یہ ہو کہ وہ مادی زندگی کا بہتر سے بہتر ہدف اور اعلیٰ سے اعلیٰ سطح حاصل کرے، اور حصول مال، حصول زر اور حصول مادیات کے علاوہ اس کا کوئی محرک نہ ہو۔‘‘ (محاضرات معیشت و تجارت صفحہ92)
’’سرمایہ دارانہ معیشت میں اصل ہدف ہر چیز کی بہتات اور کثرت ہے۔ پیداوار کی بہتات اور maximization، دولت کی بہتات اور maximization، منڈیوں کی وسعت اور بہتات، روزانہ نت نئی ضروریات پیدا کرنا اور غیر ضروری ضروریات کو لوگوں کے لیے ناگزیر بنادینا، یہ مغربی سرمایہ دارانہ معیشت کا ایک اہم پہلو ہے۔ صارفین کی تعداد بڑھانے کے لیے دن رات کوشش جاری رہتی ہے۔ بچتیں بڑھانے کی اہمیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ بچتوں کا سود پر چلانا اس پورے عمل کی روح ہے۔ سودی کاروبار کی بہتات اور maximizationدن رات ہورہی ہے۔ پھر سود در سود ادا کرنے کے لیے پیداوار کو مزید بڑھانا ناگزیر ہے۔ جب پیداوار بڑھے گی تو پھر دولت بھی مزید بڑھے گی۔ پھر منڈیوں کی وسعت پیدا ہوگی۔ اس طرح سے یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک سرکل ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔ جس کی انتہاء صرف یہ ہے کہ ناجائز ذرائع، ظلم اور اقتدار کی پشت پناہی سے کچھ لوگ اپنی دولت میں لامتناہی اضافہ کرتے چلے جائیں جیسا کہ ہورہا ہے۔ آج مغربی دنیا میں چند سو یا زیادہ سے زیادہ چند ہزار افراد پر مشتمل ایک اقلیتی طبقہ ہے جو پوری دنیا کی معیشت کو کنٹرول کرتا ہے۔‘‘(ایضاً صفحہ94)
قارئین کرام ! غازی صاحب ؒ کے مغربی نظام پر یہ ہیں وہ ’’ڈرون حملے‘‘جس پر جناب ہجوگومضمون نگار چیں بہ چیں ہیں۔آگے چلیے، صاحب محاضرات فرماتے ہیں:
’’ابھی چند سال پہلے ہم نے دیکھا کہ کس طرح ایک بڑے مغربی ملک کے چند تیل کے بڑے تاجروں نے پوری دنیا کو ایک شدید افراتفری اور تباہی کا نشانہ بنایا۔ مسلم ممالک کو تباہ و برباد کیا۔ لاکھوں انسانوں کو تہہ تیغ کیا۔ اربوں کھربوں کی جائیدادیں مسلمانوں کی تباہ کردیں۔ ملکوں کے ملک تلپٹ کردیے۔ اس لیے کہ وہ اپنے تجارتی مفاد کو یقینی بنانا چاہتے تھے۔ ان چند افراد نے اپنے تجارتی مفاد کو محفوظ کرلیا، لیکن اس کی قیمت انسانوں کو کیا ادا کرنی پڑی؟ وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ یہ نتیجہ ہے اس تصور کا جس کی وجہ سے ہر چیز کی بہتات اور کثرت دراصل معیشت کا ہدف ہے۔ یہی maximization اگر حدود سے نکل جائے اور اخلاقی دائرے سے باہر ہوجائے تو اسی کو قرآن کریم کی اصطلاح میں تکاثر کہاگیا ہے۔‘‘ (ایضاً )
’’مذہبی اعتبار سے یا اخلاقی اعتبار سے کوئی چیز اچھی ہے یا بری، مغربی معیشت کو اس سے بحث نہیں ہے۔ اگر انسانوں کی ایک تعداد اس میں دلچسپی رکھتی ہے ، اس پر پیسہ خرچ کرنا چاہتی ہے، اس کو حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کو فراہم کرنا ایک تجارتی اور پیداواری سرگرمی ہے۔ظاہر ہے یہ بات اسلامی نقطہ نظر سے قابل قبول نہیں ہے۔ اسلامی معاشیات تو دراصل ایک اخلاقی معاشیات ہے، جس میں قسط یعنی حقیقی انصاف پر زور دیاگیاہے۔ اس میں احسان اور ایثار کی تلقین بھی کی گئی ہے۔ ظاہر ہے احسان اور ایثار خالص مذہبی اقدار ہیں۔ آج کل کے تصورات کی رو سے تجارت کے باب میں ان کو کوئی باریابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ لیکن اسلام کی تاریخ میں تجارت اور اخلاق، تجارت اور مذہبی تصورات ہمیشہ ساتھ ساتھ چلے ہیں۔ پھر شریعت نے جگہ جگہ نصیحت یعنی خیر خواہی کی تعلیم بھی دی ہے۔ خیر خواہی تجارتی رفیق کے لیے بھی ہے، خیر خواہی کسی گاہک کے لیے بھی۔ خیر خواہی ہر انسان کے لیے اور اللہ کی ہر مخلوق کے لیے ہر وقت پیش نظر رکھنا شریعت کی تعلیم کا بنیادی حصہ ہے۔۔۔۔
خلاصہ یہ کہ اسلامی معیشت کا اخلاق اور مذہبی تصورات سے بالکلیہ الگ الگ کردینا شریعت کی نظر میں قابل قبول نہیں ہے۔ اس کے برعکس بہت سے مغربی ماہرین معاشیات کا محض خیال ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ بات ان کے لیے عقیدہ اور یقین کا درجہ رکھتی ہے کہ معاشی ترقی اور مذہبی تصورات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے اپنی تمام معاشی پالیسیاں اور تحقیقات اسی بنیاد پر مرتب و مدون کی ہیں۔ چنانچہ اگر یہ طے کرلیاجائے کہ مذہبی تصورات اور اقتصادی مسائل ایک ساتھ نہیں چل سکتے تو اس کے نتیجے میں بہت سے سوالات اور مسائل پیدا ہوں گے۔ ربا کے ناگزیر ہونے کا سوال پیدا ہوگا۔ غرر پر اصرار، future salesکی افادیت اور ناگزیر ہونا، کاغذی کرنسی، قرض پر مبنی تجارت اور لین کی تمام صورتیں، یہ سب وہ معاملات ہیں جن کا واحد مقصد دولت کمانا اور دولت میں مسلسل اضافہ کرنا ہے۔ دوسری طرف مذہبی تعلیمات اور اخلاقی اعتبارات کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ سب امور ناپسندیدہ اور ناقابل قبول قرار پاتے ہیں۔
جدید مغربی معاشیات نے محض اخلاقی یا نظری سوالات ہی نہیں اٹھائے ہیں۔ اس نے محض مذہبی مسائل ہی پیدا نہیں کیے، بلکہ اس کے نتیجے میں بہت سے ایسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں جو خود معاشیات کے اہم مسائل قرار پاتے ہیں۔ اور ان کے حل پر دنیا کے مختلف ممالک میں، مختلف علاقوں میں توجہ دی جارہی ہے۔ ان مسائل کا تذکرہ کرنے سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جدید مغربی معاشیات ہی اب سوویت یونین کے زوال کے بعد دنیائے مغرب بلکہ بڑی حد تک پوری دنیا میں اب واحد معاشی نظام ہے۔ اس جدید معاشی نظام میں اصل حیثیت سرمایہ دارانہ تصورات کو حاصل ہے جن کی اٹھان خالص استحصالی ہے۔‘‘(محاضرات معیشت و تجارت صفحہ127-128)
’’یہ عدم توازن جو آج مشرق و مغرب میں پایا جاتا ہے ، یہ محض اتفاق نہیں ہے۔ یہ اس معاشی نظام کے لازمی نتائج ہیں جو آج دنیا میں قائم ہے اور جس کے تحفظ اور دفاع کے لیے مغربی دنیا سب کچھ کرنے کو تیار ہے۔آج فری مارکیٹ اکانومی اور سرمایہ دارانہ معیشت مغربی دنیا کے لیے دین و ایمان کا درجہ رکھتے ہیں اور مغربی دنیا اس کے لیے اسی طرح کی قربانی دینے کو تیار ہے جیسا کہ مخلص مسلمان دین کے تحفظ کے لیے قربانی دینے کو تیار رہتا ہے۔ بلکہ آج مسلمانوں میں دین کے لیے قربانی دینے کا جذبہ کم ہوگیا ہے۔ اس کے مقابلے میں مغربی دنیا میں اپنے اس نظام کے تحفظ کا احساس دن بدن شدید ہوتا جارہا ہے۔ وہ اس نظام کے تحفظ کے لیے ملکوں کو تباہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انسانوں کی نسلوں کو برباد کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ ملکوں کے وسائل پر قبضے کے لیے فوجیں اتارنے میں اور بمباری کرنے میں ان کو کوئی تامل نہیں ہے۔ اس سے یہ اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ مغربی دنیا اپنے اس نظام کے تحفظ کے لیے کہاں تک جاسکتی ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ134)
’’بے روزگاری ترقی پذیر معیشتوں کا ایک عالمگیر مسئلہ ہے۔ بے روزگاری کھلی بھی ہوتی ہے اور چھپی بھی ہوتی ہے۔ کھلی بے روزگاری تو سب کو نظر آجاتی ہے، لیکن چھپی بے روزگاری بہت سے لوگوں کو نظر نہیں آتی۔یہ کھلی اور چھپی بے روزگاری جس میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے یہ بھی مغرب کے معاشی نظام کا لازمی تقاضا ہے۔ مغربی ممالک میں آئے دن بڑے پیمانے پر بے روزگاری کی شکایتیں سننے میں آتی ہیں۔ لاکھوں ملازمین کو بڑی بڑی کمپنیاں لے آف کردیتی ہیں، جس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ ایسا کیوں کرتی ہیں؟ وہ اس لیے کرتی ہیں کہ ان کو اچانک کسی ایسے مالیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ ملازمین کی اتنی بڑی تعداد کا بوجھ نہیں اٹھاسکتیں۔
ایسا اچانک مالیاتی بحران کیوں پیدا ہوتا ہے؟ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ان کمپنیوں کا سارا کاروبار زرغیر حقیقی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ محض کاغذوں میں قرضے کی رقم بڑھتی چلی جاتی ہے۔ کاغذوں میں آمدنی اور نفع کی رقم میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ حقیقی پیداوار یا حقیقی اصول یا موجودات اور اثاثے بہت کم وجود میں آتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب تک غبارے میں گنجائش ہوتی ہے ہوا بھرتی رہتی ہے۔ بھرا ہوا نظر آتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے اس میں ذرا سا بھی سوراخ ہوجائے تو یہ بہت چھوٹا سا سوراخ اس پوری ہوا کو بہت جلد خارج کردیتا ہے۔‘‘(ایضاً صفحہ136)
مضمون نگار کا الزام ہے کہ صاحب محاضرات ’’اپنوں کے بارے میں گول مول بات کرتے ہیں‘‘۔آئیے، ذرا اس دعوے کا بھی محاضرات معیشت و تجارت کی روشنی میں جائزہ لیتے چلیں:
’’یہ تصوربعض مشرقی ممالک میں اور کچھ مسلم ممالک میں بہت مقبول ہوا۔ کمیونزم تو مسلم ممالک میں زیادہ مقبول نہیں ہوا۔ لیکن سوشلزم کو بعض مسلم حکمرانوں نے بہت پسند کیا۔ کسی معاشی بہبود کی خاطر کم، اقتدار اور استبداد کی خاطر زیادہ۔ انہوں نے دیکھا کہ جن جن ملکوں میں کمیونزم آیا ہے اور وسائل پیداوار پر وہاں ریاست مسلط ہوگئی ہے ان ملکوں میں حکمراں طبقہ کی مخالفت میں کوئی بولنے والا نہیں رہا اور حکمران مطلق العنان اور مستبد ہوگئے ہیں۔یہ منظر بعض مسلمان ڈکٹیٹروں کو بہت پسند آیا اور انہوں نے سوشلزم کے حق میں پروپیگنڈے سے فائدہ اٹھا کر کلی اقتدار اور استبداد کا رویہ اپنایا۔ وسائل پیداوار پر اپنی گرفت مضبوط کی۔ قوم کی معاشی بہبود کے لیے تو وہ کچھ نہ کرسکے۔ کسی سوشلسٹ مسلم ملک نے اپنے عوام کو وہ عدل و انصاف نہیں دیا۔ وہ وسائل اور سہولتیں فراہم نہیں کیں جن کی فراہمی کا دعویٰ کرکے وہ اقتدار پر قابض ہوئے تھے۔ ہاں استبداد اور ڈکٹیٹرشپ کے ایک سے ایک بڑھ کر نمونے ان مسلم ممالک میں سامنے آئے جہاں سوشلزم کے نام پر کچھ افراد اقتدار پر قابض ہوئے۔‘‘(ایضاً صفحہ95)
’’پاکستان میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔بعض ایسے ذمیندار جن کو انگریزوں نے سینکڑوں، ہزاروں ایکڑ کے حساب سے زمینیں دے دی تھیں۔ آج وہ زمینیں ان میں سے بعض کے خاندانوں کے پاس موجود ہیں۔ لیکن وہ ان کو خود آباد نہیں کرسکتے، کسی کو دینا بھی نہیں چاہتے۔ حکومتوں نے ان سے یہ زمینیں واپس لینے میں کوتاہی کی۔ مختلف سیاسی اور غیر سیاسی مفادات کی وجہ سے اس طبقے کو مزید نوازا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کی وہ زرعی اراضی جو پاکستان کی موجودہ آبادی سے کئی گنا آبادی کے لیے کافی ہے اور ذرا سی توجہ سے اس سے زیادہ کے لیے بھی کافی ہوسکتی ہے وہ موجودہ آبادی کے لیے بھی بعض اوقات کافی نہیں ثابت ہوتی اور بارہا ایسا ہوتا ہے کہ پیداوار میں کمی آجاتی ہے۔ اور بعض بہت اہم زرعی اجناس کی پیداوار بیرون ملک سے منگوانی پڑتی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ذرائع پیداوار کا استعمال نامکمل ہے اور وسائل کی تقسیم غیرعادلانہ ہے۔‘‘(ایضاً صفحہ 132)
’’مزید برآں ہمارے ملک میں خاص طور پر جاگیرداری کا نظام اس غیر منصفانہ تقسیم دولت اور غیر عادلانہ تقسیم وسائل کو پختہ سے پختہ تر کرنے کا سبب بنا ہے۔ سرمایہ داروں یا جاگیرداروں کے بعض ممالک میں الگ الگ طبقے ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بیشتر صورتوں میں یہ دونوں ایک ہی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انگریزوں نے اپنے وافادر سرداروں اور بااثر لوگوں کو زمینیں دے کر زمینداروں کا ایک طبقہ پیدا کیا۔ اس زمیندار طبقے نے ملک کے زرعی وسائل کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ پھر ان زرعی وسائل سے کام لے کر صنعتیں قائم کیں۔ ان صنعتوں سے کام لے کر بڑی بڑی تجارتیں اپنے کنٹرول میں کیں۔یوں ملک کے بڑے بڑے تجارتی ادارے ان کے انتظام میں آگئے۔ اس معاشی قوت سے کام لے کر انہوں نے سیاسی قوت بھی حاصل کرلی۔ اس طبقے کے بہت سے لوگ سول بیوروکریسی میں بھی شامل ہوئے اور اب صورتحال یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ طبقہ جس کو انگریز نے اپنے استعماری مفادات کی خاطر وسائل سے نوازا تھا، جس کی بدولت چار ہزار انگریز پورے برصغیر پر حکومت کرتے رہے۔ وہ طبقہ اب پاکستان کا مستقل طور پر مالک بن چکا ہے۔ وہ طبقہ اب پاکستان کا مستقل طور پر حاکم بھی بن گیا ہے۔ موجودہ پاکستان کے علاقے میں جو انگریز متعین تھے ان کی تعداد چار پانچ سو سے زیادہ نہیں تھی۔ یہ چار پانچ سو انگریز جوساڑھے تین لاکھ مربع میل پر حاکم تھے، اسوقت تین ساڑھے تین کروڑ آبادی کو کنٹرول کررہے تھے۔ وہ اسی وفادار اور جاگیردار طبقہ کے زور پر کررہے تھے۔‘‘(ایضاًص141)
کیا ہجوگوصاحب بتاسکتے ہیں کہ ان سطور میں غازی صاحب ؒ نے اپنوں کے بارے میں جوتجزیہ کیا ہے، وہ ’’گول مول‘‘ ہے۔ استاذ محترم ان اہل علم میں سے تھے جنہیں مائیں صدیوں بعد پیدا کرتی ہیں۔اپنے ہوں یا پرائے، ان کی رائے اور تجزیہ بے لاگ، غیر جانبدارانہ، مثبت ، تعمیری اور گہرے و پختہ علم و فکر اور تجربے کا حامل ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ ایک اور مقام پر محترم غازی صاحب ’’اپنوں‘‘ کے بارے میں ایسی ہی بے لاگ اور معروضی رائے کا اظہار اس طرح کرتے ہیں:
’’اس کے مقابلے میں آپ دیکھیں گے کہ دنیائے اسلام کا کوئی واضح نصب العین اور کوئی متعین ہدف نہیں ہے۔ عامۃ الناس کے عزائم اور خواہشات میں جو ہرجگہ یکساں ہیں اور حکمرانوں کے عزائم اور خیالات میں کوئی توافق اور ہم آہنگی نہیں۔ عامۃ الناس کی خواہشات، آرزوئیں اور امیدیں انڈونیشیا سے مراکش تک ایک جیسی ہیں۔ لیکن حکومتوں کا ، سیاسی قیادتوں کا اور فکری اور سرکاری سیاسی اور اقتصادی راہنماؤں کا کوئی ہدف نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ فکری الجھنیں عام ہیں۔ کوئی عزم و ارادہ کسی سطح پر موجود نہیں ہے۔ آپس میں بدترین اختلافات ہیں، تعلیم کی سطح بہت پست ہے، معاشی بنیادیں کمزور ہیں۔ دنیائے اسلام میں جو ممالک بہت خوشحال نظر آتے ہیں، ان کی خوشحالی کی بنیاد بھی کوئی مضبوط اور دیرپا نہیں ہے۔ بہت سی صورتوں میں یہ ظاہری خوشحالی ہے اور بعض بااثر مغربی طاقتوں کی مبنی برمصلحت سرپرستی کا نتیجہ ہے۔ اس خوشحالی کا کنٹرول اور سوئچ مغربی طاقتوں کے ہاتھوں میں ہے۔ وہ سوئچ آف کردیاجائے تو ساری معاشی چکاچوند آن واحد میں ختم ہوجائے گی۔ مسلم ممالک کا دوسروں پر انحصار ہے، اکثر مسلم ممالک عسکری اور سائنسی طور پر کمزور ہیں۔ بے توقیری آدم کے نمونے ہر مسلم ممالک میں کثرت سے نظر آتے ہیں۔ یہ فرق اس وقت ہمارے اور دنیائے مغرب کے درمیان قائم ہے۔ ان حالات میں کیا دنیائے اسلام اور دنیائے مغرب میں مقابلہ برابر کا ہے؟ ظاہر ہے کہ جواب نفی میں ہے۔‘‘(محاضرات شریعت صفحہ 519۔520)
نہایت متوازن فکر و عمل کے حامل ،علم و فکر کی بلندیوں کو چھونے والے ایک نہایت محترم استاد کی وفات کے موقع پر مضمون نگار کی طرف سے کی جانے والی ہجو گوئی اور فکری کجی پر ہمارے لیے خاموش ہونا ناممکن ہوگیاتھا۔ہمیں افسوس ہے کہ مضمون نگار کے جملوں کی ترتیب ،الفاظ و اصطلاحات کے استعمال اور فکری تجزیے کے مطالعے کے نتیجے میں ہم ان کے بارے میں وہ رائے قائم کرنے پر مجبور ہوئے جس کا اظہار سابقہ سطور میں بہ تکرار ہوا ہے۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
(ماہنامہ ’’الحامد‘‘ لاہور کے مارچ ۲۰۱۱ء کے شمارے میں حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی مدظلہ کا ایک مضمون شائع ہوا تھا جسے ’’الحامد ‘‘ کے شکریے کے ساتھ الشریعہ کے جون ۲۰۱۱ء کے شمارے میں ’’توہین رسالت کے مرتکب کے لیے توبہ کی گنجائش‘‘ کے عنوان سے نقل کر دیا گیا تھا۔ تحریر کا اصل ماخذ اسلامی نظریاتی کونسل کی سالانہ رپورٹ ۲۰۰۳-۲۰۰۴ء ہے جو کونسل کی طرف سے سرکاری طور پر طبع شدہ ہے۔ اس ضمن میں دار العلوم کراچی کے دار الافتاء کی طرف سے ہمیں درج ذیل وضاحتی موصول ہوا ہے جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)

مکرمی جناب مدیر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج گرامی بخیریت ہوں گے۔ گزارش ہے کہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے جون کے شمارہ میں شامل صفحہ نمبر ۱۸ پر ایک مضمون جو ماہنامہ ’’الحامد‘‘ کے شکریے کے ساتھ حضرت صدر جامعہ دار العلوم کراچی مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم العالیۃ کی جانب منسوب کر کے شائع کیا گیا، جس کا عنوان ہے ’’توہین رسالت کے مرتکب کے لیے توبہ کی گنجائش‘‘، حضرت نے یہ مضمون ملاحظہ فرمایا ہے اور اس پر تشویش کا اظہار فرمایا ہے کہ انھیں ایسا کوئی مضمون تحریر کرنا یاد نہیں، دوسرا یہ کہ بلااجازت شائع کیا گیا اور کسی کا مضمون بلا اجازت شائع کرنا مناسب نہیں، بالخصوص جبکہ مضمون علمی اور فقہی ہو۔ تیسرا یہ کہ اس مضمون میں غلطیاں بھی ہیں جس سے پڑھنے والا غلط فہمی کا شکار ہو سکتا ہے، اس لیے اس بارے میں آپ حضرات کی ذمہ داری ہے کہ آئندہ شمارے میں اس بات کی واضح تردید کر دی جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ یہ مضمون غلطی سے حضرت کے نام سے شائع کیا گیا ہے اور حضرت کو اس مضمون سے مکمل طور پر اتفاق بھی نہیں ہے۔ مدیر ماہنامہ ’’الحامد‘‘ کو بھی اطلاع کے لیے خط بھیجا جا رہا ہے۔ والسلام
عبد الرؤف سکھروی
ناظم دار الافتاء، جامعہ دار العلوم کراچی
۲۰ رجب ۱۴۳۲ھ/۲۳ جون ۲۰۱۱ء
(۲)
محترمی عمار خان ناصر صاحب
آداب! ماہنامہ ’الشریعہ‘ شمارہ جولائی ۲۰۱۱ء موصول ہوا۔ کرم فرمائی کے لیے ممنون ہوں۔
فہرست عناوین ہی کہہ رہی ہے کہ یہ شمارہ روشن فکری اور وسیع النظری کا مرقع ہے۔ ایسے موضوعات پر مکالمے کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، تاہم ناانصافی ہوگی اگر اس شمارہ کے ’’حاصل غزل‘‘ مقالہ بہ عنوان ’’سماجی، ثقافتی، سیاسی دباؤ اور دین کی غلط تعبیریں‘‘ از حافظ محمد صفوان کی تعریف نہ کروں۔ ادبی ولسانی موضوعات پر تو موصوف کی تحریریں ہند و پاکستان کے تقریباً تمام موقر جرائد میں ہم دیکھتے ہی رہتے ہیں، لیکن اس شگفتہ انداز میں دین کی غلط تعبیروں پر جامع اظہار خی ال انھی کا خاصہ ہے۔ یہ سلسلہ اگر جاری رہے تو بہت اچھا ہوگا۔
مستشرقین کی علمی خدمات بیسویں صدی کے دینی لٹریچر کا اہم پہلو ہے، لیکن اس پر کماحقہ کام نہیں ہوا۔ بعض اہم موضوعات پر مستشرقین کے مقالات پرانے جرائد مثلاً اسلامک ریویو، اسلامک کلچر وغیرہ میں مل جاتے ہیں۔ دور حاضر کے بعض مسائل کی تفہیم وتشریح کے لیے اور ان پر مثبت بحث کے آغاز کے لیے ان مقالات کا ترجمہ کروا کر بھی شامل اشاعت کیجیے۔
والسلام
محمد اطہر مسعود، لاہور
۱۳؍ جولائی ۲۰۱۱ء
(۳)

Brother Ammar
I happened to see the letter against my article on Science by brother Izhar. Let me be blunt to say that I was not shocked at all on reading his letter asserting that it is not possible to biffercate knowledge on capitalist and non-capitalist grounds. So is the case because I know that science is the diety of modern man who believes in it even without understanding what it actually is. Most of them jump in to defend it without studying basic issues of philosophy of science, theory of knowledge etc. However, I am sometimes really surprised at the fact that Muslims are keen to defend that western heritage (which is infact a social filth) which west has condemned itself. I will be happy to see if my brother could come up with some concrete and well referenced criticism on my article, instead of thrashing me with baseless and rhetorical labels.

Zahid Mughal

سیمینار: ’’پر امن اور متوازن معاشرے کے قیام میں علماء کا کردار‘‘

ادارہ

(پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے زیر اہتمام قومی سیمینار)

۲۱ تا ۲۳ جون ۲۰۰۱ء کو پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز، اسلام آباد کے زیر اہتمام اسلام آباد ہوٹل، اسلام آباد میں ’’ پُرامن اور متوازن معاشرے کے قیام میں علماء کا کردار‘‘ کے عنوان پر دو روزہ قومی سیمینار منعقد ہوا جس میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی اور موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ علمائے کرام نے پاکستان میں پُرامن اور متوازن معاشرے کے قیام کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس اَمر پر زور دیا کہ اختلافِ رائے کو لوگوں کے درمیان نفرت کو فروغ دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے اتفاق کیا کہ معاشرے میں پنپنے والے ہر طرح کے پُرتشدد رجحانات کی حوصلہ شکنی کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ 
اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی نے سیمینار کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بہت سارے مسائل غیر آئینی اور غیر جمہوری ادوار میں فروغ پائے ہیں، اور یہی اَمر معاشرے میں امن اور رواداری کی موجودہ ناگفتہ بہ صورتحال کے پسِ پردہ کارفرما ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت بُری حکمرانی اور معاشرے کی سمت کا تعین نہ ہونے کے باعث فروغ پا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ علمائے کرام بھی اپنا اصلاحی کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دلیل اور جواز کی جگہ فتوے نے لے لی ہے اور قانون کی حکمرانی پر بندوق کی حکمرانی غالب آگئی ہے۔ انہوں نے اس اَمر پر زور دیا کہ علمائے کرام کو امن اور محبت کے پیغام کو فروغ دینا چاہیے اور ذاتی محاسبہ ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ 
پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے کہا کہ پاکستان میں امن و رواداری کے فروغ میں علمائے کرام کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، خاص طور پر اُس وقت جب شدت پسنداور پرتشدد رجحانات کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اور لوگ ان کی حقیقی وجوہات سے آگاہ نہیں ہے ۔
سیمینار کی پہلی نشست بعنوان ’’ پرامن اور متوازن معاشرے کے خدوخال‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر علماء اکادمی، منصورہ ڈاکٹر فرید پراچہ نے موضوع کا علاقائی اور عالمی تناظر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حالتِ جنگ میں ہے اور علماء کرام لوگوں کے درمیان انسانی زندگی کے تقدس کو اجاگر کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔جامعۃ المنتظرسے وابستہ مذہبی سکالر ڈاکٹر سید محمد نجفی نے پُرامن اور متوازن معاشرے کے سماجی و ثقافتی عوامل پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ایسے معاشرے کے قیام لیے یکساں مواقع پیدا کرنے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
فرقہ ورانہ ہم آہنگی پر گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل دارالعلوم گلگت مولانا عطاء اللہ شہاب نے کہاکہ پُرامن معاشرے کے قیام کے لیے مذہبی اور سیاسی رواداری انتہائی اہم ہے، تاہم پاکستان میں ان دونوں کا وجود نہیں ہے۔ ان کا یہ خیال تھاکہ مذہبی عدم رواداری اور فرقہ واریت مذہب بیزار رویوں کے فروغ کا باعث بنتی ہے۔
معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر خالد ظہیر نے کہا کہ فرقہ واریت کے تدارک کے لئے یہ مسلمان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ جمعہ کے خطبہ کے لیے امام کا تقرر کرے اور خطبے کے متن کی تحریر کا اہتمام بھی کرے۔ پہلی نشست کی صدارت جنرل سیکرٹری وفاق المدارس العربیہ مولانا حنیف جالندھر ی نے کی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ سماجی استحصال کے خاتمے اور فوری اور بروقت انصاف کی فراہمی سے معاشرے میں امن اور رواداری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
سیمینار کی دوسری نشست بعنوان ’’ پُرامن اور متوازن معاشرے میں درپیش چیلنجز‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ نعیمیہ ، لاہور کے مہتمم مولانا راغب نعیمی نے کہا کہ تعلیمی مواقع کی کمی اور سماجی تقریق کے باعث معاشرے میں انتہا پسندی فروغ پا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی عدم مساوات اور غربت کے باعث معاشرے میں عسکریت پسندی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے ۔ متوازن معاشرے کے قیام کے لیے سماجی شعبے کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
پشاوریونیورسٹی کے سنٹر فار اسلامک سٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان جہاد کے باعث صوبہ خیبر پختونخوا اور وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں میں مذہبی انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کو فروغ حاصل ہوا جس نے ان علاقوں میں سماجی ڈھانچے کو تباہ کر دیا جبکہ فرقہ واریت بھی تشویشناک صورت اختیار کر گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن کے قیام اور رواداری کے فروغ میں علمائے کرام اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
رابطۃ المدارس کے رہنما اور جامعۃ الفلاح کے پرنسپل قاری ضمیر اختر منصوری نے کہا کہ سندھ میں لسانی، فرقہ وارنہ تشدد اور مجرمانہ کارروائیاں سب سے بڑا چیلنج ہیں۔ کراچی اور اندرونِ سندھ میں حکومت کی رٹ نہ ہونے کے باعث صوبے میں امن وا مان کی صورتحال خراب ہوئی ہے۔وفاق المدارس شیعہ، بلوچستان کے نمائندے علامہ اکبر حسین زاہدی نے کہا کہ بلوچستان میں شورش ہماری اپنی پالیسیوں کے باعث شروع ہوئی ہے جس کے لیے ہمیں ملکر کام کرنا چاہیے۔ جامعہ اسلامیہ مظفرآباد کے مہتمم قاضی محمود الحسن اشرف نے کہا کہ مساجد اور مدارس کے نظام کی تنظیمِ نو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں علم کے گہوارے بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے ایک صحت مند اور متنوع معاشرے کی علامت ہے۔
دوسری نشست کی صدارت کرتے ہوئے مہناج القرآن علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید فرحت حسین شاہ نے کہا کہ معاشرے میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کے لیے مذہبی عقائد اور شعائرات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان حالات میں یہ علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ ہر سطح پر ان مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
سیمینار کی تیسری نشست بعنوان ’’ پُرامن اور متوازن معاشرے کے قیام میں علماء کا کردار‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس سلفیہ کے سربراہ مولانا یٰسین ظفر نے کہا کہ علمائے کرام کی یہ اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں پنپنے والی مذہبی عدم رواداری، عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ کے وائس پرنسپل ڈاکٹر ابوالحسن شاہ نے کہا کہ دوسرے مکاتبِ فکر ، ان کے رہنماؤں اور عقائد کا احترام مختلف مسالک کے درمیان کشیدگی کو کم کر سکتا ہے۔ سابق سینیٹر اور مدرسہ عارف الحسینی پشاور کے مہتمم علامہ جواد ہادی نے کہا کہ لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ علماء معاشرے میں بد امنی کے ذمہ دار ہیں۔چنانچہ یہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں امن اوررواداری کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں۔ وائس پرنسپل الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ مولانا عمار خان ناصر نے کہا کہ عام لوگوں کی رہنمائی کے لیے علماء کرام قومی ایشوز جیسا کہ افغانستان اور کشمیر میں جہاد اور خروج اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل طے کریں۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سربراہ ڈاکٹر خالد مسعود نے قانون کی حکمرانی قائم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ کسی بھی اسلامی معاشرے میں یہ علماء کرام کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس کے بارے میں آگاہی پیدا کریں۔ اختتامی نشست سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے انسانی حقوق مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین کی طرز پر اسلامی ممالک کی یونین قائم کی جانی چاہیے۔
رؤیت ہلال کمیٹی اور تنظیم المدارس کے سربراہ مولانا مفتی منیب الرحمٰن نے آخری نشست کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی ہر کوتاہی کی ذمہ داری دوسروں پر عائد نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ذاتی محاسبے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس اَمر پر زور دیا کہ دہشت گردی کے لیے کسی بھی قسم کا جواز نہ تراشا جائے اور حکومت بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے واضح پالیسی اختیار کرے۔ ڈائریکٹر پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز محمد عامر رانا نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ عالمگیریت کے موجودہ دور میں مکالمہ سب سے پُراثر ہتھیار ہے۔ انہوں نے گفتگو میں اٹھائے گئے نکات کو سراہا اور کہا کہ عہدِ حاضر کے مسائل اور چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے اس نوعیت کی گفتگو کے ذریعے حل کی جانب بڑھا جا سکتا ہے
سیمینار کے دوران معاشرے میں امن اور رواداری کے فروغ پر گفتگو کرنے اور سفارشات کی تشکیل کے لیے پانچ مشاورتی گروپ تشکیل دیے گئے۔ ان مشاورتی گروپوں نے پانچ مختلف موضوعات پر گفتگو اور مشاورت کی:
(1) معاشرے میں متوازن فکر کے فروغ میں مدارس کا کیا کردار ہونا چاہیے؟
(2) معاشرے میں امن اور رواداری کو کیسے فروغ دیا جا سکتا ہے؟
(3) سیاسی رویوں اور سماجی و ثقافتی انتہا پسندی کے رَد کے لیے تجاویز۔
(4) معاشرے سے انتہا پسندی کے خاتمہ کے لیے علماء کا کردار۔
(5) معاشرے میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے لیے علما ء کا کردار۔
طویل مشاورت کے بعد یہ مشاورتی گروپ معاشرے میں امن اور رواداری کے قیام کے لیے کچھ سفارشات پر متفق ہوئے اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ سفارشات پرامن اور متوازن معاشرے کے قیام کا سبب بن سکتی ہیں۔
پہلے گروپ نے ’’ فرقہ واریت کے خاتمے میں علماء کا کردار‘‘ کے موضوع پر سفارشات پیش کیں۔ اس گروپ میں منتظم بحث سید فرحت حسین شاہ جبکہ محرکِ بحث مولانا عبدالاکبر چترالی تھے، جبکہ شرکا میں مولانا مسعود بیگ، علامہ اکبر حسین زاہدی، مولانا عبدالقدوس محمدی اور مولانا عطاء اللہ شہاب شامل تھے۔ سفارشات یہ ہیں:
(1) جملہ مکاتب فکر کے مابین ’مشترکات‘ کو فروغ دیا جائے۔
(2) جملہ مکاتب فکر جہلا کو اپنی اپنی مساجد کے منبر و محراب تک پہنچنے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
(3) فرقہ واریت کے اسباب کا سدِباب کیا جائے۔
الف۔ دل آزار تحریروں اور تقریروں پر پابندی عائد کی جائے۔
ب۔ فتویٰ نما نعروں سے تمام علماء اپنے اپنے پیروکاروں کو روکیں۔
ج۔ عالمی استعمار کی سازشوں سے لوگوں کو خبردار کیا جائے۔
(4) اختلافات کے ہوتے ہوئے باہمی احترام اور برداشت کو فروغ دیا جائے۔
(5) تمام مکاتب فکر کے عقائد پر مشتمل، ایک ایسی کتاب مرتب کی جائے جس میں ہر مسلک کا عقیدہ خود انہی کے جید علماء کرام پیش کریں۔
(6) فرقہ واریت کے خاتمہ کے لیے قرآن و سنت کو محور و مرکز بنایا جائے۔أ) لاؤڈ سپیکر کے استعمال کو محدود کرتے ہوئے اسے ضابطہ اخلاق کے تحت کیا جائے۔
(8) ملکی سطح پر ایک ایسا فورم تشکیل دیاجائے جو تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام اور مفتیان عظام پر مشتمل ہو اور فتویٰ جاری کرنے کا اختیار اسی فورم کے پاس ہو۔
(9) ایسی سرگرمیاں جن سے باہمی تعلقات کو فروغ ملے، ان کا اہتمام ہو اور ایک دوسرے کی خوشی غمی میں شرکت کا اہتمام کیا جائے۔
(10) مختلف مسالک نے موضوعات کی جو تقسیم و تفریق کر لی ہے، وہ ختم کی جائے۔ محرم اور ربیع الاول سمیت دیگر مواقع پر تمام مکاتب فکر کے علما شریک ہوں۔
(11) مذہبی ہم آہنگی اور باہمی روابط و مکالمہ کا عمل دینی مدارس کے طلبہ کی سطح سے شروع کیا جائے۔
(12) دینی مدارس، جامعات اور مساجد کے نام عمومی اور قابلِ قبول ہونے چاہئیں جو مسلکی اختلافات کا تاثر نہ دیتے ہوں۔
(13) ہر مکتبۂ فکر میں جو چند گنے چنے لوگ فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں، ان کا محاسبہ کیا جائے۔
(14) توہین آمیز، اشتعال انگیز اور کفر و ارتداد کے فتاویٰ پر مشتمل لٹریچر اور مواد کو ضبط کیا جائے۔
(15) علماء کرام دین کی تبلیغ کو مقدم رکھیں، مسلک کے پرچار کو ترجیح نہ دیں۔
(16) ذرائع ابلاغ کو پابند کیا جائے کہ وہ فرقہ واریت کو ہوا دینے والے پروگرام اور مواد نشر نہ کریں۔
(17) ملکی سا لمیت اور امن و امان کو پیشِ نظر رکھنے کا اہتمام کیا جائے۔
(18) فرقہ واریت کے نقصانات، خطرات اور تباہ کاریوں کی تقریری اور تحریری صورت میں نشاندہی کی جائے۔
دوسرے گروپ منتظمِ بحث خورشید احمد ندیم اور محرکِ بحث مولانا مفتی محمد زاہد تھے۔ شرکا میں پیرسید مدثر شاہ، مولانا فضل الرحمان مدنی، ڈاکٹر خالد مسعود، علامہ محمد حیات قادری اور علامہ انیس الحسنین خان شامل تھے۔ اس گروپ نے ’’پرتشدد رجحانات کے خاتمے میں علماء کا کردار‘‘ کے عنوان پر اپنی سفارشات مرتب کیں۔ اس گروپ کی رائے میں معاشرے کو تشدد سے پاک کرنے کے لیے علماء کو درج ذیل تین دائروں میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے:

1: ریاستی امور

1.1: سیاست میں علماء کے کردار کے تعین کے لیے برصغیر کی تاریخ میں علماء کے سیاسی کردار کی تفہیم نو کی جائے۔
1.2: جدید ریاست اور اس کے اداروں سے علماء کو متعارف کروانے کا اہتمام کیا جائے۔
1.3: ریاستی امور میں اصلاح کے لیے پرامن ذرائع اختیار کیے جائیں۔
1.4: علماء او ردیگر طبقات کے درمیان موجود بعد کو دور کیا جائے۔

II: سماجی امور

1: اصلاحِ معاشرہ کے لیے دین کی روحانی تعلیمات اور ان سے متعلق اداروں کا احیاء اور اصلاح کی جائے۔
2: سماجی اصلاح کے لیے محراب و منبر کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے۔

III: دینی امور

3.1: دین کے فہم اور تشریح کے لیے معتبر اور جید علماء سے ہی رجوع کیا جائے۔
3.2: علماء ، دینی اداروں اور تنظیموں میں بھی خوداحتسابی کو رواج دیا جائے۔
3.3: مسلکی ہم آہنگی کے لیے دوسرے مسالک کا مبنی بر انصاف تعارف شامل نصاب کیا جائے۔
3.4: مختلف مسالک کے اعلیٰ سطح کے علما کے روابط کو نچلی سطح تک فروغ دیاجائے۔
3.5: فتویٰ دیتے وقت شرعی، اخلاقی اور سماجی اصولوں کو مدنظر رکھا جائے۔
3.6: دینی مدارس اور عالمی دینی یونیورسٹیوں میں تعاون اور رابطے میں اضافہ کیا جائے۔
3.7: تکفیر، خروج اور دیگر مسائل میں رائے دینے کے لیے تمام مسالک کے جید علماء اور اسکالرز پر مشتمل ایک فورم بنایا جائے۔
تیسرے گروپ کی سفارشات کا عنوان ’’بدامنی اور عدم توازن کے سیاسی، سماجی اور معاشی محرکات اور تدارک‘‘ تھا۔ اس گروپ کے منتظمِ بحث ڈاکٹر عبدالناصر لطیف اور محرکِ بحث مولانا مفتی محمد رفیق بالاکوٹی تھے، جبکہ شرکا میں قاری ضمیر اختر منصوری، مولانا علی بخش سجادی، مولانا محمد یونس قاسمی اور مولانا خالد ضیاء شامل تھے۔ اس گروپ نے حسب ذیل سفارشات پیش کیں:

سیاسی محرکات :

(1) جمہوری نظام سیاست میں عدمِ برداشت ، سیاست دانوں کی نااہلی اور قیادت کے فقدان کے باعث مسائل کا شکار ہے۔ اس صورتحال میں حکمران طبقے کو اپنی ترجیحات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں سماجی اور معاشی انصاف کے حصول کو ممکن بنایا جاسکے۔
(2) سیاست دانوں کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے عوام کو استعمال کرنے اور ان کے حقوق کو پامال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
(3) پاکستانی طرزِ حکومت قرآن و سنت کے مطابق ہونا چاہیے۔
(4) ریاست اور حکمرانوں کو بیرونی طاقتوں کا آلہ کار بننے کے بجائے قومی مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔
(5) پاکستان کا سیاسی نظام دغا بازی، مکاری اور منافقت پر مبنی ہے۔سیاسی اور جمہوری نظام کی درستگی کے لیے مدبر قیادت کو سامنے آنے کی ضرورت ہے۔
(6) سیاسی نظام کی درستگی کے لیے علماء کے عملی کردار کی ضرورت ہے۔

سماجی محرکات:

(1) عوام کی ناخواندگی، جہالت اور تعلیم سے دوری کے اسباب حکمران اور وڈیرہ شاہی ہے۔حکومتی سطح پر معیاری تعلیمی ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
(2) مختلف نظامِ ہائے تعلیم کی پیداوار، مختلف اذہان کی صورت میں جنم لیتی ہے، اور یہی ذہنی اختلاف معاشرے میں عدم توازن کا سبب بنتا ہے۔ایک متوازن تعلیمی نظام، جس سے ایک فکر کے لوگ پیدا ہوں، معاشرے میں امن کا سبب بن سکتاہے۔
(3) حکمران طبقہ ملک میں امن و امان کے فروغ کے لیے علماء کرام اور مذہبی اسکالرز کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے۔
(4) عدمِ مساوات، طبقاتی تقسیم، احساسِ برتری، علماء کی کردارکشی، حکمرانوں کی سرپرستی میں جرائم کا فروغ، اتحاد و اتفاق کا فقدان، عصبیت، لسانیت اور اختلاف برائے محاصمت کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔
(5) عدلیہ، انتظامیہ اور میڈیا کا کردار مثبت ہونا چاہیے۔
(6) تطہیر افکار کا نہ ہونا اور فقدان تزکیہ ، ذمہ داریوں کا تعین اور احساسِ ذمہ داری کا نہ ہونا، ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر قربان کرنا، اسلام کے عائلی نظام کی تباہی، ظلم کے مقابلے میں عدم تعاون، عفو و درگزر اور برداشت کی کمی جیسے عوامل غیرمتوازن رویوں کے فروغ کا باعث بن رہے ہیں، جن سے چھٹکارا پانے کی ضرورت ہے۔

معاشی محرکات:

(1) جاگیرداری نظام ایک ناسور کی طرح ہے جس کا شرعی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
(2) معاشی عدمِ مساوات اور دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم کو ختم کیا جانے چاہیے۔
(3) سستی اور کاہلی کے باعث محنت و عمل کے ذریعے ذرائع آمدن کا حصول کم ہوتا جا رہا ہے۔محنت کے بغیر حاصل ہونے والے منافع اور ذرائع آمدن کی روک تھام کی جانی چاہئے۔ 
(4) اسلام کے اصولِ انفاق (صدقہ و زکوۃ) کے فرضی و نفلی احکامات سے لاپرواہی کی جاتی ہے۔اسلام نے واضح طور پر صدقات اور زکوٰۃ کے مصارف بتائے ہیں، ان پر سختی سے عمل کیا جانا چاہیے۔
(5) سودی نظام اور سرمایہ دارانہ کلچر معاشرے میں بگاڑ پیدا کررہا ہے جس کا تدارک فوری طور پر ہونا چاہیے۔
(6) بجلی کی پیداوار ، انڈسٹری کا استحکام، زراعت کی پیداوار، فنی مکاسب کی بہتر تنظیم اور ملکی ذخائر کا بہترین استعمال ملک میں معاشی استحکام کے لیے بہترین ثابت ہوسکتا ہے۔
(7) بیرونی امداد اور غیرملکی قرضوں کا حصول کم سے کم کیا جائے اور ملک کے اندر ذرائع آمدن پیدا کیے جائیں۔
چوتھے گروپ کے منتظمِ بحث مولانا بابر حسین بابر اور محرکِ بحث مولانا محمد عمار خان ناصر تھے، جبکہ شرکا میں مولانا یٰسین ظفر، مولانا عبدالحق ہاشمی، مولانا ممتاز نظامی، علامہ ڈاکٹر سید محمد نجفی، مولانا اصغر عسکری اور مولانا عبدالسلام شامل تھے۔ اس گروپ نے ’’برداشت کے کلچر کا فروغ کیسے ہو؟‘‘ کے زیر عنوان اپنی سفارشات مرتب کیں جو حسب ذیل ہیں:
1۔ برداشت کے کلچر کے فروغ کے لیے افراد معاشرہ کی تربیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے اس کا آغاز گھر کے ماحول سے ہونا چاہیے اور بچوں کو اس کی عملی تربیت دی جانی چاہیے تاکہ وہ ناپسندیدہ صورت حال میں اپنے رد عمل کو منفی ہونے سے بچا سکیں۔ 
2۔ افراد میں متوازن شخصیت کی تعمیر کو تعلیمی نصاب، ذرائع ابلاغ کے پروگراموں، مذہبی خطبات ودروس اور تربیتی ورک شاپس کا باقاعدہ موضوع بنایا جائے۔
3۔ دینی مدارس اور جدید تعلیمی اداروں کے نصابات میں ایسا مواد شامل کیا جائے جس کا مقصد مختلف فکری دھاروں کا مثبت تعارف حاصل کرنا ہو اور جس سے دوسرے طبقات کے انداز فکر کو دیانت داری اور رواداری کے ساتھ سمجھنے کا رویہ پیدا ہو۔
4۔ علما وخطبا دعوت وتبلیغ میں مسلکی پہلو کو غالب کرنے کے بجائے مشترکہ دینی تعلیمات اور اخلاقیات پر توجہ مرکوز کریں تاکہ سامعین میں افتراق وانتشار کے بجائے اتحاد کے جذبات پیدا ہوں۔
5۔ اس بات کو بطور ایک مسلمہ اصول اور قدر کے فروغ دیا جائے کہ ہر طبقے کو اپنے فہم کے مطابق عقیدہ اور رائے رکھنے اور اسے مثبت طو رپر بیان کرنے کا حق حاصل ہے۔ نیز یہ کہ کسی بھی طبقے کے نظریات اور عقائد کی وہی تشریح مستند اور قابل قبول ہے جسے وہ خود بیان کرتا ہو۔
6۔ جن امور میں (چاہے وہ مذہبی واعتقادی ہوں یا فکری وسیاسی وسماجی) اختلاف رائے پایا جاتا ہے، ان میں مخالف نقطۂ نظر پر تنقید کرتے ہوئے علمی رویے کو فروغ دیا جائے۔ اہل علم کے مابین ایسی بحثوں پر علمی رنگ غالب ہونا چاہیے، جبکہ عوامی سطح پر اظہار خیال کرتے ہوئے تنقید کے انداز سے ہمدردی اور خیر خواہی کی جھلک دکھائی دینی چاہیے۔
7۔ مختلف طبقہ ہاے فکر کی مستند اور اکابر شخصیات کی ایسی تحریروں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے جو برداشت، رواداری اور اختلاف رائے میں آداب کی پابندی کی تلقین کرتی ہیں۔
8۔ نزاعی امور پر غیر علمی اور سطحی اظہار خیال کے اثرات کا ازالہ کرنے کے لیے متعلقہ موضوعات پر سنجیدہ اور بلند پایہ اہل قلم کی تحریروں کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی کوشش کی جائے۔
9۔ بہت سے سوالات علمی وفکری یا فقہی سطح پر ابہام کا شکار ہیں اور اس ابہام کی وجہ سے عدم برداشت کے رویوں کے لیے گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ مثلا تکفیر کے اصول وضوابط اور شرائط کیا ہیں؟ معاشرے میں نہی عن المنکر کی حدود اور آداب اور اس کا دائرۂ اختیار کیا ہے؟ جہاد کا حق اور اختیار کسے حاصل ہے؟ وغیرہ۔ ان مسائل پر پائے جانے والے ابہام کو سنجیدہ علمی بحث ومباحثہ کا موضوع بنائے بغیر فکری ابہام کو دو ر نہیں کیا جا سکتا۔
10۔ برداشت یا عدم برداشت کے مسئلے کو صرف مذہبی طبقات کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے اسے ایک عمومی سماجی رویے کے طور پر لیا جائے اور مختلف مذاہب، برادریوں، طبقات اور فکری وسیاسی دھڑوں کے مابین پائے جانے والے عدم برداشت کے رویوں کو یکساں سطح پر زیر بحث لایا جائے۔
11۔ عدم برداشت اور شدت پسندی کے رویے کے خاتمے کے لیے ان اسباب (سیاسی وسماجی ومعاشی ناہمواری، ظلم ونا انصافی، ناروا اور جارحانہ مذہبی رویے وغیرہ) کو بھی دور کرنا ضروری ہے جن سے یہ رویے پیدا ہوتے ہیں۔
12۔ تاریخ اور سیرت سے ایسی مثالیں تلاش کر کے انہیں منظر عام پر لایا جائے جن میں اختلافات کے باوجود معاشرتی تعلقات قائم رکھے گئے۔ اسی طرح اہل علم حضرات کی جانب سے دیگر اہل علم حضرات کے احترام کے واقعات کو نمایاں کیا جائے۔ حج اور عمرے کے موقع پر ہر طرح کے تنوع اور رنگا رنگی اور تحمل وبرداشت کے جو منظر دیکھنے میں آتے ہیں، ان کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی جائے۔
13۔ برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے دنیا کے دوسرے مسلمان یا غیر مسلم ممالک میں جو کامیاب کوششیں کی گئی ہیں، انھیں ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا جائے اور ان سے جو روشنی ملتی ہے، اسے مقامی صورت پر منطبق کرتے ہوئے لوگوں کی رہنمائی کی جائے۔
14۔ مختلف الخیال طبقات (مسلم وغیر مسلم، مذہبی وغیر مذہبی وغیرہ) کے مابین مکالمہ کا عمل ایک تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے اور ایسا کرتے ہوئے شدت پسندانہ رجحانات رکھنے والے عناصر کو نظر انداز کرنے کے بجائے انھیں بھی مکالمہ کے عمل میں شریک کرنے کی کوشش کی جائے۔
15۔ معاشرے کے مختلف طبقات کے باہمی نزاعات کو صرف ان کا مسئلہ قرار دے کر انہی کے سپرد کر دینے کے بجائے اس رجحان کو فروغ دیا جائے کہ ایک طبقہ دوسرے طبقے کے مسائل میں دلچسپی لے اور ان کے داخلی نزاعات کو کم سے کم کرنے اور افہام وتفہیم کی فضا پیدا کرنے کے لیے پل کا کردار ادا کیا جائے۔
16۔ معاشرے کی سربرآوردہ شخصیات کی طرف سے سیرت نبوی ؐکی اتباع میں ایسے نمونے پیش کیے جائیں جن میں مخالفین کی طرف سے ناروا یا جارحانہ طرز عمل کا جواب اچھے برتاؤ، حسن سلوک اور درگزر سے دیا جائے۔
17۔ مختلف الخیال طبقات کی اہم شخصیات کے باہمی روابط کا عوامی سطح پر اظہار کیا جائے اور باہمی میل ملاقات اور سماجی تعلقات کو عوام کے سامنے نمایاں کیا جائے تاکہ عوام تک ایک مثبت پیغام پہنچے اور شدت پسندی کے رجحانات میں کمی لائی جا سکے۔ 
18۔ مختلف طبقات کے ذمہ دار حضرات اپنی تحریروں، بیانات اورخطبات میں مختلف حوالوں سے دوسرے طبقہ ہاے فکر کے خیالات یا خدمات یا ان کے ساتھ اپنے روابط کا ذکر کریں۔ایسے مشترکہ فورمز بھی قائم کیے جائیں جہاں ہر طبقہ فکر سے وابستہ حضرات اجتماعی مسائل پر غور وخوض کریں۔ 
19۔ ہر طبقہ فکر جس حد تک ممکن ہو، داخلی احتساب کا نظام وضع کرے اور اپنی صفوں کے اندر شدت پسندانہ رجحانات رکھنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے اور کسی بھی حال میں ان کی واضح یا ملفوف تائید نہ کی جائے۔
20۔ پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اور اس طرح کے دوسرے ادارے مختلف طبقات کے مابین مکالمے کے فروغ کے لیے پل کا کردار ادا کریں اور معاشرتی مسائل پر تجزیاتی ومعلوماتی مواد ہر طبقے کے رجحان ساز افراد تک پہنچانے کا اہتمام کریں۔
پانچویں گروپ کی سفارشات ’’مدارس کا کردار اور متوازن فکر‘‘ کے عنوان سے تھیں۔ منتظمِ بحث ڈاکٹر ابوالحسن شاہ اور محرکِ بحث مولانا زکریا ذاکر تھے جبکہ مولانا ضیاء نقشبندی، علامہ سید جواد ہادی، مولانا انوارالحق حقانی اور مولانا شمشاد نے شرکا کی حیثیت سے بحث میں حصہ لیا۔ اس گروپ کی مرتب کردہ سفارشات درج ذیل ہیں:
1۔ معاشرے کی خرابی کے ذمہ دار صرف علما اور مدارس ہی نہیں ہیں،اس ضمن میں دیگر عناصر کے کردار پر بھی گفتگو ضروری ہے۔
2۔ طلبہ اور سامعین کو تنقید سننے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔
3۔ ہر طبقہ میں شرپسند اور اختلاف پھیلانے والوں سے براء ت کا اظہار کرنا چاہیے۔
4۔ مدارس ؂ کی لائبریری میں تمام مکاتبِ فکر کی کتب ہونی چاہیے۔
5۔ ہر مسلک کی تشریح اس مسلک کا نمائندہ ہی کرے۔
6۔ مدارس میں مثبت اختلافات کی حامل نصابی کتب پر زیادہ توجہ دی جائے۔
7۔ عصری علوم کے بارے میں بنیادی واقفیت اور آگاہی دی جائے۔
8۔ حکومت اہلِ مدارس اور علماء کی معاشی ضروریات کو معاشرے سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اقدامات کرے۔
9۔ علما کی فکری نشو ونما کے لیے اُن کی حالاتِ حاضرہ سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے اہتمام کیا جائے۔
10۔ اساتذہ اور عملہ کی اعلیٰ تربیت کا اہتمام کیاجائے اور ان کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے۔
11۔ فتاویٰ دینے، خاص طور پر دوسرے مسلک کے حوالے سے اختیاط کی جائے۔
12۔ مختلف مکاتبِ فکر میں مشترک نکات کو اجاگر کیاجائے اور فروعی اختلافات کو علمی درسگاہوں تک محدود رکھاجائے اور انہیں اس طرح بیان کیا جائے کہ اختلاف نہ پھیلے۔
13۔ مختلف مذہبی ایام پر مدارس و مساجد میں مشترکہ اجتماعات منعقد کیے جائیں۔
14۔ اہلِ مدارس کی تعلیمی اسناد کو دنیاوی تعلیمی اسناد کے مساوی تسلیم کرکے امتیازی سلوک ختم کیا جائے، تاکہ مدارس سے فارغ التحصیل افراد بھی حکومتی اور نجی اداروں میں اپنی خدمات سرانجام دے سکیں۔
15۔ ’’کسی کے مسلک کو چھیڑو ، نہ اپنے مسلک کو چھوڑو‘‘ کی پالیسی کو عام کیا جائے۔

دماغی رسولی کا آپریشن بذریعہ پسینہ

حکیم محمد عمران مغل

آنے والے ادوار میں جب برصغیر کے اطباء عظام کا شمار کیا جائے گا تو جگراں والے اطبا سرفہرست ہوں گے۔ یہ سارا خاندان حافظ قرآن، حاجی، نمازی، تہجد گزار، غریب پرور، رحم دل اور غم گسار ہے، ایسے کہ اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں۔ حکمت ودانائی ان کے گھر کی لونڈی، جڑی بوٹیاں ان کی غلام۔ یہی وجہ ہے کہ صبح وشام ان کے مطب پر مریضوں کا ازدحام رہتا تھا۔ 
رسولی اور گلٹی کا تعلق ٹی بی یا سرطان سے بتایا جاتا ہے۔ وکٹوریہ ہسپتال بہاول نگر سے ایک ادھیڑ عمر مریضہ کو ایک صاحب لائے کہ یہ میری چچی ہیں۔ میری ساری پرورش ان کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ ان کی موجودہ حالت دیکھی نہیں جاتی۔ پہلے ان کے سر میں ہلکی سی خارش ہوتی رہی جو بعد میں رسولی کی شکل اختیار کر گئی۔ اب ہر جگہ اس کا آخری علاج آپریشن بتایا جا رہا ہے، مگر ان کی خواہش ہے کہ رسولی آپریشن کے بغیر ختم ہو جائے۔ آپ علاج کریں یا کوئی ایسا مشورہ دیں کہ بغیر آپریشن کے رسولی تحلیل ہو جائے۔ میں نے تسلی دی کہ ان شاء اللہ بغیر آپریشن کے رسولی نہ صرف تحلیل ہوگی بلکہ تازیت یہاں دوبارہ پیدا بھی نہیں ہوگی۔ 
ان دنوں میری مصروفیت حد سے سوا تھا۔ میں نے انھیں مشورہ دیا کہ آپ صدر بازار لاہور میں حکیم جگرانوی صاحب کے پاس چلے جائیں اور میری طرف سے عرض کریں۔ وہ اگلے دن وہاں پہنچے۔ حکیم جگرانوی صاحب کو گزشتہ حالات سے آگاہ کیا۔ انھوں نے چند رسمی باتوں کے بعد فرمایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔ آپریشن کی نوبت نہیں آئے گی اور انشاء اللہ بذریعہ پسینہ رسولی تحلیل ہو جائے گی۔ انھوں نے سات دن کی دوا کے پچیس روپے لیے۔ (یہ تقریباً تیس سال پرانا واقعہ ہے۔) پہلے سات دن میں تو کوئی قابل ذکر افاقہ نہ ہوا مگر اگلے سات دن کے بعد رسولی نے جگہ چھوڑ دی۔ اس طرح دو ماہ سے کم عرصہ سے رسولی کوبذریعہ پسینہ نیست ونابود کر دیا گیا۔
انسانی جسم کی مشین کو چوبیس گھنٹے ٹھنڈا رکھنے سے اور خوراک میں رد وبدل سے رسولیاں اور گلٹیاں نمودار ہوا کرتی ہیں۔ بہاول پور میں گزشتہ کئی سال سے ٹی بی کی لہر آئی ہوئی ہے۔ علامہ صابر ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق دو ہفتہ متواتر بغیر کسی وقفہ کے آلو کھائے جائیں تو ٹی بی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ آلو چاول بہاول پور والوں کا من بھاتا کھاجا ہے۔ اس پر غور وفکر کی ضرورت ہے۔ انسانی صحت کے لیے پسینہ کی اہمیت پر ایک مستقل مضمون درکار ہے، کبھی عرض کروں گا۔ آج کل جتنے جلدی امراض ہیں، ان میں سے پچاس فی صد امراض پسینے میں شرابور رہنے سے ختم ہو سکتے ہیں۔ اطبا نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ پسینہ صحت کا خزینہ ہے۔ اطبا کے ہاں صدیوں پرانا جوشاندہ ان امراض میں بڑے نام کا اور بڑے کام کا مانا گیا ہے۔ اس سے پسینہ فوری آتا ہے اور گلٹیوں اور رسولیوں کو تحلیل کر جاتا ہے۔ ٹھنڈے مشروبات پینے کے بعد اے سی اور پنکھوں کی ہوا سے لطف اندوز ہونے والے حضرات گردو ں اور جگر کی بیماریوں اور جوڑوں کے درد سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ بند ڈبوں کی تمام اشیا، حلوائی اور بیکری کی تمام مصنوعات کا ان امراض کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ان پائیں چھٹکارا یا پھر ان بیماریوں کو کریں گوارا!