اپریل ۲۰۱۱ء

پاک بھارت تعلقات: ایک جائزہ (یوگندر سکند کے سوالنامہ کے جوابات)مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
ریمنڈ ڈیوس کیس کے تناظر میں اسلامی فوجداری قانون کا ایک مطالعہپروفیسر میاں انعام الرحمن 
کورٹ میرج: چند قانونی اور معاشرتی پہلوچوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ 
توہین رسالت کے مسئلے پر ایک مراسلتمحمد عمار خان ناصر 
قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیتمحمد یونس قاسمی 
مکاتیبادارہ 
تصویر کے بارے میں ہمارا موقف اور پالیسیمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
تعارف و تبصرہادارہ 
مولانا محمد اعظمؒ کا انتقالمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
السی: قیمت میں کہتر، فائدہ میں بدرجہا بہترحکیم محمد عمران مغل 

پاک بھارت تعلقات: ایک جائزہ (یوگندر سکند کے سوالنامہ کے جوابات)

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سوال نمبر ۱۔ بھارت اور پاکستان دونوں اپنے قومی تشخص کی بنیاد ایک دوسرے کی مخالفت کو قرار دیتے ہیں۔ آپ کے خیال میں ایسی صورت حال میں دونوں ملکوں کے مابین پرامن تعلقات حقیقتاً ممکن ہیں؟
جواب: قیامِ پاکستان کے وقت پاکستان کے قومی تشخص کی بنیاد یہ تھی کہ جنوبی ایشیا کے مسلمان ایک الگ قوم ہیں اور اپنے دین کے حوالے سے الگ تشخص رکھتے ہیں، اس لیے جس خطے میں ان کی اکثریت ہے، وہاں ان کی الگ ریاست قائم ہونی چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے ایسٹ تیمور میں مسیحی اکثریت وہاں الگ ریاست کا باعث بنی اور اب جنوبی سوڈان اسی مسیحی اکثریت کے حوالے سے الگ ملک بننے جا رہا ہے۔ مگر قیام پاکستان کے بعد ہماری رولنگ کلاس جس کی تربیت نوآبادیاتی ماحول میں ہوئی تھی اور وہ وہی نفسیات ومزاج رکھتی تھی، دین کی بنیاد پر تشخص اور قومی بنیاد اسے ہضم ہونے والی نہیں تھی۔ پھر اس کے ساتھ ہی برصغیر کی تقسیم کے ایجنڈے کو مسئلہ کشمیر کھڑا کر کے الجھا دیا گیا، اس لیے باہمی دشمنی کی بنیاد پر قومی تشخص کی روایت آگے بڑھتی گئی۔ میرے نزدیک یہ مصنوعی بنیاد ہے۔ اگر ہم اپنی اصل بنیاد کی طرف واپس لوٹ جائیں اور بھارت بھی اس کا عملی احترام کرے تو اس دشمنی کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ اگر سعودی عرب اورایران کے ساتھ بھارت کے دوستانہ تعلقات ومعاملات ہو سکتے ہیں تو ایک اسلامی پاکستان کے ساتھ کیوں نہیں ہو سکتے؟
سوال نمبر۲۔ بھارت اور پاکستان دونوں میں انتہا پسند عناصر موجود ہیں (پاکستان میں اسلامی اور بھارت میں ہندو) جو دونوں ممالک کے مابین پرامن اور بہتر تعلقات کے شدت سے مخالف ہیں۔ اس مشکل پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے؟ اسلامی زاویہ نگاہ سے آپ اس صورتحال کو کیسے دیکھتے ہیں؟
جواب: میرے خیال میں یہ بات شاید قرین قیاس نہیں ہے کہ پاکستان میں جن طبقات کو انتہا پسند اور شد ت پسند سمجھا جاتا ہے، وہ بھارت کے ساتھ دشمنی کا اظہار اس لیے کرتے ہیں کہ وہ کافراکثریت کا ملک ہے۔ اگر ایسا ہوتو ان کے جذبات چین کے با رے میں اسی طرح کے ہونے چاہییں، اس لیے پاکستان کے انتہا پسند طبقوں کی شدت پسندی کے اسباب کچھ اور تلاش کرنے چاہییں۔ غالباً مسئلہ کشمیر کے حل میں مسلسل تاخیر اور مشرقی پاکستان کی بنگلہ دیش کی صورت میں پاکستان سے علیحدگی میں بھارت کا کردار ان شدت پسندانہ جذبات کی اصل وجہ ہے اور اس مبینہ شدت پسندی کو کم کرنے کی کوئی بھی کوشش اس کے پس منظر کا لحاظ رکھے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ 
سوال نمبر۳: پاکستان کے انتہا پسند گروپ مثلاً لشکر طیبہ کا اصرار ہے کہ بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات ممکن نہیں اور یہ کہ مسلمانوں کو ہر حال میں بھارت کے خلاف جہاد کرنا ہوگا تا آنکہ وہ ایک عظیم تر پاکستان میں ضم ہو جائے۔ اس موقف کے با رے میں آپ کے احساسات کیا ہیں؟ کیا اسلام میں اس کی اجازت ہے؟
جواب :یہ جذبات دونوں طرف یکساں طور پر پائے جاتے ہیں۔ بھارت کے انتہا پسند ہندوؤں کا نعرہ اکھنڈ بھارت کا ہے اور پاکستان کے انتہا پسند مسلمان دہلی کے لال قلعے پر پاکستان کا پرچم لہرانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ دونوں جذباتی باتیں ہیں۔ جب تک باہمی تنازعات کے حل کی کوئی صورت نہیں نکلتی، یہ نعرے اسی طرح لگتے رہیں گے۔ اس کا راستہ تلاش کرنا دونوں طرف کے سنجیدہ راہ نماؤں کی ذمہ داری ہے۔ 
سوال نمبر۴: پاکستان کے انتہا پسند اسلامی گروپ مثلاً لشکر طیبہ کتب حدیث میں موجود ایک روایت کا حوالہ دیتے ہیں جس میں غزوۃ الہند کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ اس غزوے میں شریک ہوں گے، وہ دوزخ میں نہیں جائیں گے۔ آپ کی رائے میں اس حدیث کا کیا درجہ ہے؟ کیا یہ صحیح اور متواتر ہے؟کیا آپ کے خیال میں اس کا مطلب یہ ہے کہ لشکر طیبہ جیسے گروہ اس سے مراد موجودہ حالات میں انڈیا کے خلاف جہاد کرنا لیتے ہیں اور کیا اس حدیث کی یہ تعبیر درست ہے؟
جواب:غزوہ ہند کی روایات موجود ہیں۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی پیش گوئیاں عالمی صورتحال میں پوری ہو چکی ہیں او ر باقی بھی اپنے وقت پر پوری ہوں گی، لیکن ان کا وقت متعین نہیں ہے اور ان کی کسی بھی موقع پر تطبیق کرنا ایسا کرنے والوں کے اپنے ذوق، استنباط اور استدلال کے درجہ کی باتیں ہیں۔ ماضی میں بھی اس خطے میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی بہت سی جنگوں پران کا اطلاق کیا گیا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہوتا رہے گا۔ لیکن کیا قوموں اور ملکوں کی پالیسیوں اور تعلقات کی بنیاد ان پیش گوئیوں پر رکھی جا سکتی ہے؟ یہ بات محل نظر ہے۔ میرا خیال ہے کہ چونکہ ان پیش گوئیوں میں کوئی وقت طے نہیں کیا گیا، اس لیے قوموں اور ملکوں کی پالیسیوں میں ان کو بنیاد بنانا درست نہیں ہے، اس لیے کہ پیش گوئیاں پوری ہونا الگ بات ہے اور کسی پیش گوئی کو از خود پورا کرنے کا عمل اس سے مختلف امر ہے۔ آج کے دور میں کسی مسلمان ملک کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کی بنیاد معروضی حالات، دو طرفہ مفادات اور مسلمہ بین الاقوامی عرف وتعامل ہی ہو سکتی ہے اور ہونی چاہیے۔ 
سوال نمبر۵۔ آپ کی سیاسی جماعت، جمعیت علمائے اسلام کا پاک بھارت تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے علانیہ موقف کیا ہے؟ 
جواب: میں جمعیت علماء اسلام پاکستان کا ایک غیر متحرک رکن ہوں اور اس کی پالیسی سازی اور قیادت میں میرا ایک عرصہ سے کوئی کردار نہیں ہے جب کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن ہیں جو پاکستانی پارلیمنٹ کی قومی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔ وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے بہتر تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر ہے۔ وہ اگر بین الاقوامی معاہدات واعلانات اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہو جائے تو باقی تنازعات ومعاملات میں مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔ 
سوال نمبر ۶۔ آپ کے خیال میں مسلم اور ہندو مذہبی قائدین دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے میں اگر کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں تو وہ کیا ہے؟ کیا اب تک فروغ امن کی کوششوں کے حوالے سے ان قائدین کی غیر فعالیت یا خاموشی کے ان تعلقات پر کوئی منفی یا مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں؟
جواب:مسلم اور ہندو مذہبی قائدین کے درمیان ملاقاتوں اور مکالمہ کی کوئی صورت نکل سکے تو اس سے فائد ہ ہوگا، لیکن یہ مکالمہ باہمی مشترکات کے فروغ، شدت پسندی کو کنٹرول کرنے اور خطے کے امن اور ترقی کے حوالے سے ہو۔ میر ا خیال ہے کہ مذہبی راہ نما اگر خلوص کے ساتھ مل بیٹھیں تو وہ زیادہ بہتر تجاویز دے سکتے ہیں۔ 
سوال نمبر۷۔ جمعیت علماے ہند نے حال ہی میں دارالعلوم دیوبند میں ایک بڑا کنونشن منعقد کیا ہے جس میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ وہ جموں اورکشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ سمجھتے ہیں اور کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق یا خود مختاری کے خلاف ہیں (جب کہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کشمیر میں بھارتی افواج کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت بھی کی ہے)۔ ایک پاکستانی، ایک عالم اور ایک دیوبندی جماعت کے رکن کی حیثیت سے آپ اس موقف کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
جواب:میرا خیال ہے کہ اس مسئلہ کو قومی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ کسی بھی ملک کی کسی کمیونٹی کے لیے قومی مسائل میں قومی موقف سے انحراف مناسب نہیں ہوتا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے پاکستان میں رہنے والی اقلیت کشمیر سمیت تمام قومی مسائل میں قومی موقف کی تائید کرتی ہے اور کم وبیش ہر ملک میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
سوال نمبر۸: آپ کے خیا ل میں مسئلہ کشمیر کے حل کا بہترین، معقول ترین اور عملی حل کیا ہو سکتا ہے؟ اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات کیا کہتی ہیں؟
جواب: مسئلہ کشمیر کے حل کی دو ہی اصولی بنیاد یں ہیں: مسلمہ بین الاقوامی معاہدات اور کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی۔ اس سے ہٹ کر کوئی حل شاید ہی کامیاب ہو سکے۔ اگر اقوام متحدہ ایسٹ تیمور اور جنوبی سوڈان میں استصواب رائے کر اسکتی ہے تو کشمیر میں استصواب رائے کروانے میں اسے ٹال مٹول سے کام نہیں لینا چاہیے اور میرے خیال میں یہی اسی مسئلے کا صحیح حل ہے۔ 
سوال نمبر ۹: پاکستان کے انتہا پسند اسلامی گروہ بھارت اور ہندوؤں کی شدید مخالفت پر مبنی آئیڈیالوجی کا پرچار کرتے اور اسلام کی تعبیر بھی اس کے مطابق کرتے ہیں۔ (اسی طرح ہندو انتہا پسند گروپ بھی بھارت میں پاکستان اور اسلام کی شدید مخالفت پر مبنی آئیڈیالوجی کا پرچار کرتے ہیں۔) آپ کی رائے میں اس انتہا پسندانہ اسلامی موقف کے منفی اثرات ہندوؤں کو دعوت اسلام دینے کی ذمہ داری پر کیا پڑتے ہیں جن میں بھارت کے ہندو بھی شامل ہیں اور پاکستان کی ہندو اقلیت بھی؟
جواب: میرے خیال میں دونوں طرف صورت حال ایک جیسی ہے۔ مسلمانوں کے ایک بڑے حصے میں بھارت اور ہندوؤں کے خلاف شدید مخالفت پائی جاتی ہے اور ہندوؤں کے ایک بڑے حلقے میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اسی درجہ کی شدید مخالفت کا رویہ بھی موجود ومتحرک ہے۔ اسی طرح دعوت کے میدان میں ہندوؤں کو مسلمان کرنے کا جذبہ بھی پایا جاتا ہے اور ہندوستان کے بہت سے مسلمانوں کو ہندو مذہب سے منحرف قرار دے کر واپس ہندو مذہب میں شامل کرنے کی تحریک بھی کام کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں دونوں طرف کے اعتدال پسند راہ نماؤں کو کردار ادا کرنا چاہیے جس کا دائرہ باہمی گفتگو اورمشترکہ جذبہ کے ساتھ ہی طے کیا جا سکتا ہے۔ منافرت، دشمنی اور ایک دوسرے کو مغلوب کرنے کا ماحول دونوں طرف سے دعوت کے عمل میں رکاوٹ ہے۔ اس کا دونوں طرف کے سنجیدہ راہ نماؤں کو جائزہ لینا چاہیے۔
سوال نمبر۱۰:بھارت اور ہندو مخالف جذبات کے، جنھیں دوسرے عوامل کے علاوہ نام نہاد اسلامی عناصر بھی بھڑکاتے ہیں، پاکستان کی ترقی پر مثبت یا منفی اثرات کیا مرتب ہوئے ہیں؟ کیااس کو فرقہ وارانہ، طبقاتی اور علاقائی تقسیم کے تناظر میں پاکستانی قوم میں اتحاد پیدا کرنے کا ذریعہ بنانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے، جیسا کہ اس رویے کے حامیوں نے کوشش کی ہے؟ کیا یہ پاکستانی قوم یامسلمانوں میں وحدت پیدا کرنے کا ایک فی الواقع اسلامی منہج ہے؟
جواب: میرے خیال میں پاکستان اور بھارت کے درمیان قومی سطح پر دشمنی کے جذبات کا ماحول برقرار رکھنا عالمی استعمار کی طے شدہ پالیسی اور ایجنڈے کا حصہ ہے جو دونوں ملکوں کی ترقی میں رکاوٹ ہے اور شاید عالمی ایجنڈے کا بنیادی ہدف بھی یہی ہے۔ سوال نمبر ۱ کے جواب میں عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ ماحول مصنوعی ہے۔ پاکستان میں قوم کی وحدت کی اصل بنیاد بھارت دشمنی نہیں، بلکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ محبت وعقیدت ہماری قومی وحدت کی اصل اساس ہے جس کا اظہار ابھی حال میں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کے حوالے سے قوم کے کم وبیش تمام طبقات نے متحد ہو کر ایک بار پھر کر دیا ہے۔ 
سوال نمبر ۱۱۔پاکستان کے اسلامی گروپوں کی طرف سے بھارت اور ہندو مخالف جذبات کو ہوا دینے کی پالیسی کے مضمرات بھارت کی مشکلات کا شکار مسلم اقلیت کے حوالے سے کیا ہیں؟ کیا پاکستانی گروہوں نے اس بات پر کبھی غو ر کیا ہے کہ ان کے بھارت مخالف رویے کے یقینی طور پر منفی اثرات بھارتی مسلمانوں کی زندگیوں، تحفظ اور بھلائی پر پڑیں گے اور اس سے بھارت کے انتہا پسند ہندو گروپوں کو تقویت ملے گی؟
جواب: یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں مسلمانوں کی طرف سے ہندؤں اور بھارت کے خلاف شدت پسندانہ جذبات کے اظہار کے اثرات بھارت کی مسلمان اقلیت پرپڑتے ہیں، لیکن یہ بات سوچنے کی ہے کہ بھارت میں اسلا م اور پاکستان کے خلاف شدت پسندانہ جذبات کے اظہار کے اثرات پاکستان میں بسنے والی ہندو اقلیت پر کیوں نہیں پڑتے؟ اگر اس پہلو سے تقابل کیا جائے تو دونوں طرف کی صورت حال ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے۔ میرے خیال میں بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کا بھارتی قومیت کے ساتھ مضبوط تعلق اور بھارت کے امن وترقی کے لیے ان کابھرپور کردار اس قدر مستحکم ہے کہ اس طرح کے اثرات سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا، البتہ یہ بات اصولی طور پر درست ہے کہ کسی بھی معاملے میں شدت پسندانہ رویہ بہرحال ٹھیک نہیں ہوتا۔ اعتدال اور توازن کا راستہ ہی ہر دور میں بہتر اور مفید رہا ہے اور دونوں طرف سے اس کا لحاظ رکھا جانا چاہیے۔

ریمنڈ ڈیوس کیس کے تناظر میں اسلامی فوجداری قانون کا ایک مطالعہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

اس وقت ہر طرف شور و غل برپا ہے کہ پاکستان کی ایک عدالت نے پاکستانیوں کے ایک امریکی قاتل کو باعزت بری کر دیا ہے۔ یہ بات سو فی صد غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک عدالت کے ایک ’قاضی‘ نے پاکستانی مسلمانوں کے ایک غیر مسلم امریکی قاتل کو ’دیت‘ لے کر چھوڑ دیا ہے۔ وطن عزیز کے اسلام پسندوں کو خوشی کے شادیانے بجانے چاہییں کہ امریکہ بہادر کم از کم ایک اسلامی قانون کی ’حکمتوں‘ کا قائل ہو گیا ہے اور یہی امر سیکولر لبرل حلقوں کے لیے باعث تشویش ہونا چاہیے کہ اسلامی قوانین کی حکمتیں اگر اسی انداز میں جلوہ افروز ہوتی رہیں تو وہ دن دور نہیں جب ان قوانین کو سامراجی ہتھکنڈے کے طور پر نافذ کرنے کے لیے عالمی استعماری طاقتوں کی مہربانیوں اور فنڈز کا رخ مکمل طور پر اسلام پسندوں کی طرف ہو جائے گا اور سیکولر لبرل این جی اوز حیرت و حسرت سے منہ تکتی رہ جائیں گی۔
قارئین کرام! ریمنڈ ڈیوس کیس میں قصاص و دیت کے جس جاں فزا اسلامی قانون کو ’برتا‘ گیا ہے، اس قانون کے مندرجات میں الجھے بغیر ہم کوشش ہو گی کہ قصاص و دیت کے قرآنی مفاہیم کے تناظر میں اس کیس کو سمجھنے کی سعی کریں۔ ہماری یہ کاوش سیکولر لبرل حلقوں کے لیے تو ناقابلِ قبول ہی ہوگی، لیکن توقع ہے کہ حدود اللہ اور حدود قوانین میں فرق نہ کرنے والے اسلام پسندوں کو بھی اس پر جذباتی اچھل کود کے اچھے خاصے مواقع میسر آئیں گے۔

قرآنی تناظر میں دیت اور ریاستی اختیار

اس وقت ریاستی موقف کے مطابق، ریمنڈ ڈیوس کیس میں ورثا نے دیت لے کر امریکی قاتل کو معاف کر دیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قتل کے کسی بھی کیس میں دیت کی صورت میں معاملہ طے کرانے میں کیا ریاست دخل اندازی کر سکتی ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ ریاستی مداخلت کس نوعیت کی اور کس حد تک ہو سکتی ہے؟ رائج الوقت حدود قوانین سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اگر ہم نصوصِ قرآنی کی طرف براہ راست رجوع کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ: 
(۱)اصلاً ریاستی اختیار کی نوعیت، بنیادی طور پر دیت کی ’ادائیگی‘ کو یقینی بنانے تک محدود ہے اور یہ اختیار بھی تب عمل میں آتا ہے جب فریقین (قاتل اور مقتول کے ورثا معاشرتی مداخلت کے بعد) قصاص کے بجائے دیت پر باہم رضامند ہو جائیں۔
(۲) جہاں تک دیت کا معاملہ طے کرانے کا تعلق ہے، اس میں ریاست کی براہ راست مداخلت کسی نص شرعی سے ثابت نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں ریاست کی زیادہ سے زیادہ مداخلت، صرف پس منظر میں رہتے ہوئے (بالواسطہ طور پر ایسی عمومی) سماجی فضا انگیخت کرنے تک محدود ہے جس کی موجودگی، قتل کے اکثر کیسوں میں مقتول کے ورثا کو قصاص کے بجائے دیت لینے پر بغیر جبر و اکراہ کے آمادہ کرسکتی ہے۔ اس نکتے کے مطابق اگرچہ معاملہ طے کرانے میں ریاستی مداخلت کی گنجائش نکل آتی ہے لیکن اس گنجائش پر بھی دو قدغنیں عائد ہوتی ہیں: 
(۱) ریاست دیت کا معاملہ طے کرانے میں براہ راست دخیل نہیں ہو سکتی، بلکہ بالواسطہ انداز میں ہی معاشرے کی (خوابیدہ)عمومی اخلاقی حِس کو بیدار کرنے کی کوشش کر سکتی ہے تاکہ اس اخلاقی قوت کے بل بوتے پر سوسائٹی میں قصاص کے بجائے عفو و احسان (فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَان) جیسی اقدار پھل پھول سکیں۔ اس سلسلے میں براہ راست مداخلت کا اصلاً اور بالفعل اختیار صرف اور صرف معاشرے (بشمول قاتل و مقتول کے ورثا)کا ہی ہے۔ 
(۲) پھر یہ بالواسطہ ریاستی مداخلت بھی کسی ’مخصوص کیس‘ کے لیے بطورِ خاص کسی خاص وقت پر نہیں کی جا سکتی کہ اس عمل سے معاشرے کو ’ہائی جیک‘ کرنے کا تاثر پھیلے گا نہ کہ دیت کی عمومی ترویج کے لیے ریاستی فرائض کی ادائیگی کا بھر پور احساس تاثر پکڑے گا۔ 
مذکورہ نکات نصوصِ قرآنی سے مستنبط ہیں۔ یہ ہماری ذہنی اختراع نہیں ہیں۔ اگرچہ روایتی فقہی مباحث میں دیت کے ضمن میں ریاستی اور معاشرتی حدود کی تفریق اس طرح غالباً نہیں کی گئی، لیکن یہ امر تقریباً طے شدہ ہے کہ قصاص و دیت اور معافی کے احکام کی بنیادی آیت سورۃ البقرۃ۲ کی آیت۱۷۸ جیسا سخت استوار حکم ہے۔
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنثَی بِالأُنثَی فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَانٍ ذَلِک تَخْفِیْفٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ فَمَنِ اعْتَدَی بَعْدَ ذَلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیْمٌ
اس میں (الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنثَی بِالأُنثَی) جیسا سخت استوار حکم، جس کا مخاطب (یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ)مومنین کا مقتدر نظمِ اجتماعی( معروف معنوں میں ریاست) ہے، کے بعد (فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَان) جیسے نرمی و لچک پر مبنی بیان، جس کا باقاعدہ اظہار (ذَلِک تَخْفِیْفٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ)کے الفاظ میں کیا گیا ہے، اپنے اندر ایک دعوتِ فکر رکھتا ہے اور کئی سوالات کو جنم دیتا ہے مثلاً: 
(۱) شارع کا منشا اگرسختی (قصاص) ہی ہے تو پھر نرمی (دیت و معافی)کی گنجائش کیوں رکھی گئی ہے؟
(۲) اگر دیت و معافی ہی شارع کا منشا و مقصود ہے تو پھر قصاص کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟
(۳) قصاص کے حکم میں (کُتِب) کا لفظ لزومیت لیے ہوئے مومنین کے مقتدر نظمِ اجتماعی(ریاست) کو خطاب کرتا نظر آتا ہے، ایسا کیوں ہے؟
(۴) عفو و احسان کے مخاطبین افرادِ معاشرہ ہیں نہ کہ مومنین کا مقتدر نظمِ اجتماعی، ایسا کیوں ہے؟
(۵) نکات ۳ اور ۴ کے مطابق مخاطبین بالترتیب ریاست اور معاشرہ ہیں، مخاطبین کا یہ فرق کیا حکمت لیے ہوئے ہے؟
(۶) آیت ۱۷۸ میں دیت و معافی کو مقصود کی سطح پر رکھتے ہوئے اس سے متصل آیت ۱۷۹ میں (فِیْ الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ) ’قصاص میں حیات ہے جیسے اٹھتے ہوئے اسلوب میں دوبارہ قصاص کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
ہم نے اپنے مضمون ’’قرآن مجید میں قصاص کے احکام‘‘ میں اس قسم کے سوالات سے تعرض کیا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ یہ سوالات داخلی شواہد پر مبنی جوابات لیے ہوئے اس آیت مبارکہ سے خود بخود ہمارے سامنے آئے ہیں۔ (تفصیل کے لیے ماہنامہ الشریعہ ستمبر ۲۰۰۸ دیکھیے۔) اس مضمون کے ملخص کے مطابق دیت کا معاملہ طے کرنے اور طے کرانے میں قاتل و مقتول کے ورثا اور سماج کا کردار کلیدی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری قصاص کے اصول کو قائم رکھنے کی ہے تاکہ مقصود کی سطح پر دیت و معافی کے ضمن میں دھونس زبردستی نہ ہوسکے۔ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے سے (اس کیس کے صحیح یا درست ہونے سے قطع نظر )ایک اصولی سوال پیدا ہوتا ہے جس پر ہم نے مذکورہ مضمون میں بات نہیں کی تھی کہ اگر قاتل کوئی غیر ملکی ہو تو دیت طے کرنے کرانے میں اس کی اور اس کے متعلقین کی رسائی مسلم سوسائٹی تک کیسے ہو گی؟کیونکہ اس سلسلے میں ریاست اصولاً (نص کے مطابق) براہ راست مداخلت کی مجاز نہیں ہے۔ اندریں صورت یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی غیر ملکی قاتل اور اس کے متعلقین کو مسلم ریاست سے بالا بالا مقتول کے ورثا اور سول سوسائٹی سے روابط قائم کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟اور پھر وہ غیر ملکی ہو بھی غیر مسلم ، اور کسی ایسی قوم کا فرد ہو جو مسلم ریاست کے لیے کئی حوالوں سے کافی اہمیت رکھتی ہو۔ اس قسم کے سوالات فقہا کی توجہ کے مستحق ہیں۔ ہماری ناقص رائے میں مسلم ریاست کسی غیر ملکی قاتل کو (شاید) دیت کی آپشن دینے کی ہی پابند نہیں ہے، دیت کا معاملہ طے کرنا کرانا تو اگلی بات ہے۔ اس سلسلے میں ریاست اپنی بنیادی ذمہ داری یعنی قصاص کے نفاذ کو ہی یقینی بنائے گی کیونکہ اس کی عمل داری (jurisdiction) میں اس سے رجوع کرنے کے بجائے کسی غیر ملکی نے اپنے طور پر معاملہ نمٹاتے ہوئے اسے کھلے عام دعوتِ مبارزت دی ہے۔ لیکن اس موقف کے لیے براہ راست استدلال سورۃ البقرۃ۲ آیت۱۷۸ سے(شاید) نہیں کیا جا سکتا (کیونکہ یہ بنیادی طور پر معافی کی آیت ہے)اس لیے اس سلسلے میں دیگر قرآنی آیات کا مطالعہ ناگزیر اور مفید ہوگا۔

قصاص اور جزاکے قرآنی مفاہیم

ہماری رائے میں امریکی قاتل ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں سورۃ البقرۃ۲ آیت ۱۷۸ جیسے قرآنی حکم کا اطلاق نہیں ہوتا (کیونکہ اس آیت کے مفاہیم میں قاتل کے قتل کرنے کے پیچھے موجود کسی نہ کسی ’جواز‘ کا لحاظ رکھا گیا ہے)۔ اگر نرمی کو بہت ہی غالب رکھا جائے تو ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ سورۃ بنی اسرائیل۱۷ آیت۳۳ (وَلا تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّہُ إِلاَّ بِالحَقِّ وَمَن قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَاناً فَلاَ یُسْرِف فِّیْ الْقَتْلِ إِنَّہُ کَانَ مَنْصُوراً) جیسے قرآنی حکم کے مطابق نمٹانا جانا چاہیے تھا جس کے مطابق مظلوم مقتول کے ولی کو ’سلطان‘ قرار دیتے ہوئے معاشرتی و ریاستی طاقت اس کی پشت پر کھڑی کر دی گئی ہے تاکہ وہ(ولی) قصاص لازماًلے سکے لیکن اسراف کا مظاہرہ نہ کر سکے۔ (تفصیلی بحث کے لیے ماہنامہ الشریعہ اکتوبر۲۰۰۸ میں ہمارا مضمون ’قرآن مجید میں قصاص کے احکام قسط ۲‘ ملاحظہ کیجیے)۔
لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی قاتل ریمنڈ ڈیوس قصاص کا نہیں بلکہ جزا کا مستحق تھا۔ سورۃ النساء۴ آیت۹۳ (وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً) سے معلوم ہوتا ہے کہ (فَجَزَآؤُہُ) یک طرفہ کارروائی ہے۔ اس میں نہ تو قاتل کے لیے کسی قسم کی گنجائش (قانونی، اخلاقی، سماجی وغیرہ) نظر آتی ہے اور نہ ہی کسی بھی درجے میں مقتول مومن کے ورثا کو قابلِ توجہ سمجھا گیا ہے۔ ایک لحاظ سے یہ ’طے‘ کر دیا گیا ہے کہ مومن کو عمداً قتل کرنے والے قاتل کے لیے ایک ہی فیصلہ ہے اور وہ ہے (جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً)۔ لیکن اس قرآنی حکم کے سرسری جائزے سے یہ مغالطہ لاحق ہوتا ہے کہ (فَجَزَآؤُہُ) اور اس کے بعد (جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً)کا بیان صرف اور صرف اخروی سزا کے لیے آیا ہے، دنیاوی سزا سے اس کا سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حقیقت میں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اس آیت میں ’قصاص‘ کے لفظ کی عدم موجودگی دنیاوی سزا کے تعطل پر دلالت نہیں کرتی بلکہ قصاص کے متبادل کے طور پر لایا گیا لفظ ’جزا‘ قصاص سے بہت بڑھ کر سزا کی ایسی نوعیت کی غمازی کرتا ہے جس میں کیفیت میں عدم تطابق کے تدارک کے لیے اور وزن و کمیت میں برابری کی خاطر، سزا میں ظاہری طور پر مختلف صورت کا اپنایا جانابھی شامل ہے۔ قرآن مجید میں ’جزا‘ کے اطلاقات ہمارے موقف کی تنقیح کرتے ہیں مثلاً: 
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُواْ أَیْْدِیَہُمَا جَزَاء بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللّہِ وَاللّہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (المائدۃ۵ :۳۸)
’’ اور جو مرد یا عورت چور ہو تو ان کا ہاتھ کاٹو ، ان کے کیے کی جزا اللہ کی طرف سے عبرت ، اور اللہ غالب حکمت والا ہے‘‘
اگر جزا کا مطلب(قصاص کے مانند) ویسا ہی بدلہ ہے توچور کی سزا چور کے ہاں چوری کی صورت میں ہونی چاہیے تھی، لیکن چونکہ ایسی ظاہری مطابقت ممکن نہیں تھی ، اس لیے عدم مطابقت کے تدارک کے لیے قطع ید کی جزا مقرر کی گئی۔پھر عام طور پر چور کا کٹا ہوا ہاتھ ، سماجی کلنک کی علامت بھی بن جاتا ہے جسے اللہ رب العزت نے (نَکَالاً مِّنَ اللّہِ) کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قطع ید اور (نَکَالاً مِّنَ اللّہِ) جرم کے عین مطابق سزا کے بجائے زیادہ سزا پر دلالت کرتے ہیں؟اس سلسلے میں ’جزا‘ کے دیگر قرآنی اطلاقات ، قطعیت کے ساتھ راہنمائی کرتے ہیں کہ سزا کی ایسی نوعیت سزا میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہے ، لہذا اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے ’ ظلم‘ کی علامت بھی نہیں ہے بلکہ حقیقت میں کسی منفی فعل یا جرم کا عین بدل ہے ، مثلاً:
مَن جَاء بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا وَمَن جَاء بِالسَّیِّئَۃِ فَلاَ یُجْزَی إِلاَّ مِثْلَہَا وَہُمْ لاَ یُظْلَمُونَ (الانعام۶ :۱۶۰)
’’جو ایک نیکی لائے تو اس کے لیے اس جیسی دس ہیں اور جو برائی لائے تو اسے جزا نہ ملے گی مگر اس کے برابر ، اور ان پر ظلم نہ ہو گا‘‘
مَن جَاء بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ خَیْْرٌ مِّنْہَا وَمَن جَاء بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجْزَی الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّئَاتِ إِلَّا مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ (القصص۲۸ :۸۴)
’’ جو نیک کام کرے اسے اس سے بہتر صلہ ملے گا اور جو برا کام کرے تو انہیں جو برا کام انجام دیتے ہیں ، جزا نہیں ملے گی سوا اس کے جو وہ کرتے تھے‘‘
الْیَوْمَ تُجْزَی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ إِنَّ اللَّہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ (غافر ۴۰:۱۷)
’’ آج ہر جان اپنے کیے کی جزا پائے گی آج کسی پر ظلم نہیں ، بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے‘‘
مَنْ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَلَا یُجْزَی إِلَّا مِثْلَہَا وَمَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّن ذَکَرٍ أَوْ أُنثَی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَئِکَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ یُرْزَقُونَ فِیْہَا بِغَیْْرِ حِسَابٍ (غافر ۴۰ :۴۰)
’’ جو برا کام کرے اسے جزا نہیں دی جائے گی مگر اتنی ہی ، اور جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور وہ ہو مومن ، پس وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے وہاں بے حساب رزق پائیں گے‘‘
وَخَلَقَ اللَّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزَی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُونَ (الجاثےۃ ۴۵ :۲۲) 
’’ اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ بنایا اور اس لیے کہ ہر جان اپنے کیے کی جزا پائے اور ان پر ظلم نہ ہو گا ‘‘ 
چور کو قطع ید کی جزا اور اللہ کی طرف سے عبرت ، اگرچہ ظاہری طور پر زیادہ سزا معلوم ہوتے ہیں ، لیکن اگر قرآن مجید میں کسی کا مال حرام طریقے سے کھانے وغیرہ ، اور کسی سماج میں مال کی اہمیت وغیرہ ، کو مدِ نظر رکھا جائے تو قطع ید کی جزا، وزن و کمیت کے لحاظ سے جزا کی معنوی سطح پر پوری اترتی ہے اور جرم کا عین بدل معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے زیرِ نظر النساء۴ آیت ۹۳ کے مطابق بھی مقتول مومن کے قاتل کو قتل کرنا ہی جزا نہیں کہ ایسی جزا میں مقتول کے ’ایمان‘کا دھیان نہیں رکھا جاتا، اس لیے جرم کی نوعیت کے لحاظ سے ، جزا کی معنوی سطح کا اطلاق(بہ اعتبار وزن و کمیت ) اسی صورت ممکن ہے جب قاتل کے قتل سے بھی بڑھ کر سزا تجویز کی جائے ۔ شاید اسی لیے شارع نے اس آیت میں قصاص کے بجائے جزا کا لفظ استعمال کیا ہے۔ المائدۃ آیت ۳۸ میں سے (نَکَالاً مِّنَ اللّہِ) اور النساء آیت ۹۳ میں سے (وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیہِ) کا تنقیدی تقابلی مطالعہ شارع کے منشا کی مزید صراحت کرتاہے جس کے مطابق قرآنی مغضوبین کی ’ ذلت و محتاجی کی حالت‘ (نَکَالاً مِّنَ اللّٰہِ) سے بہت بڑھی ہوئی ہے۔ لہٰذا، زیرِ نظر النساء آیت ۹۳ میں ’جزا‘ کے مذکورہ مفہوم کو ذہن میں رکھتے ہوئے ، قرآنی مغضوبین کی ذلت و رسوائی پر بھی توجہ کی جائے ، تو استدلال کیا جا سکتا ہے کہ المائدۃ آیت ۳۸ کے مانند ، مومن کے قتل کی جزا کا وزن و کمیت کے لحاظ سے اطلاق ، قاتل کی ذلت و رسوائی کے بغیر ممکن نہیں ۔اہم بات یہ ہے کہ النساء آیت ۹۳ کے علاوہ ، قرآن مجید میں جن دو مقامات پر مغضوب و ملعون کااکٹھے ذکر کیا گیا ہے وہاں بھی دنیاوی ذلت و رسوائی کا واضح اہتمام موجود ہے :
قُلْ ہَلْ أُنَبِّئُکُم بِشَرٍّ مِّن ذَلِکَ مَثُوبَۃً عِندَ اللّہِ مَن لَّعَنَہُ اللّہُ وَغَضِبَ عَلَیْْہِ وَجَعَلَ مِنْہُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیْرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ أُوْلَئِکَ شَرٌّ مَّکَاناً وَأَضَلُّ عَن سَوَاء السَّبِیْلِ (المائدۃ ۵ :۶۰)
’’ تم فرماؤ کیا میں بتا دوں جو اللہ کے یہاں اس سے بدتر درجہ میں ہیں وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور غضب فرمایا اور ان میں سے کر دیے بندر اور سور اور طاغوت کے پجاری ، یہ لوگ جگہ کے لحاظ سے بدتر اور سیدھے راستے سے زیادہ ہٹے ہوئے ہیں ‘‘
وَیُعَذِّبَ الْمُنَافِقِیْنَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکَاتِ الظَّانِّیْنَ بِاللَّہِ ظَنَّ السَّوْءِ عَلَیْْہِمْ دَائِرَۃُ السَّوْءِ وَغَضِبَ اللَّہُ عَلَیْْہِمْ وَلَعَنَہُمْ وَأَعَدَّ لَہُمْ جَہَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِیْراً (الفتح ۴۸ :۶)
’’ اور عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں اورمشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو ،جو اللہ کی نسبت برے گمان رکھتے ہیں، ان پر برا وقت پڑنے والا ہے اور اللہ ان پر غضب ناک ہے اور ان پر لعنت کرتا ہے اور اس نے ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے ‘‘
اس لیے یہ اخذ کرنا نص میں اضافہ نہیں ہو گا کہ النساء آیت۹۳ میں (فَجَزَآؤُہُ) کے بعد ، جہنم میں خلود ، اللہ کا غضب و لعنت اور عذابِ عظیم کی تیاری کابیان (کیفیت میں عدم تطابق کے تدارک اور وزن و کمیت میں برابری کی خاطر) مقتول مومن کے قاتل کے قتل سے بڑھ کر کسی ایسی مرکب سزا کی راہ دکھاتا ہے جس میں ذلت و رسوائی کا پہلو بدرجہ اتم موجود ہو ۔ 

سورۃ النساء۴ آیت۹۳ میں ’عمد‘ حق راہ جاننے کے حوالے سے تحقق اور اتمامِ حجت پر دلالت کرتا ہے اور پھر قرآن مجید نے تو مطلق انسان کے قتل کو انتہائی ناپسندیدہ قرار دیا ہے (المائدۃ۵:۳۲) چہ جائے کہ مومن کا عمداً قتل ہو۔ اگر اس نکتے کو بھی دھیان میں رکھا جائے کہ کہ تخلیقِ آدم سے قبل فرشتوں نے کہا تھا کہ انسان تو زمین میں فساد پھیلائے گا قتل و غارت کرے گا ، اور اللہ نے فرمایا تھا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے، اس لیے مومن ، فرشتوں کے اس سوال کا جواب ہونے کے ناطے ایک جہت سے آیتِ الہی ہے اور دوسری جہت سے آیاتِ الہی کی تجسیم ہے ، نہ فسادی اور نہ قتل و غارت پر تلا ہوا ۔اس لیے اگر اس کا قتل ، آیتِ الہی کے خاتمے کی کوشش خیال کیا جائے تو اس کے قاتل کو ’جزا‘ کے طور پر لوگوں کے لیے آیت بنا دیا جانا چاہیے ،جیسا کہ سورۃ الفرقان میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ہے: 
وَقَوْمَ نُوحٍ لَّمَّا کَذَّبُوا الرُّسُلَ أَغْرَقْنَاہُمْ وَجَعَلْنَاہُمْ لِلنَّاسِ آیَۃً وَأَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِیْنَ عَذَاباً أَلِیْماً (۳۷)
’’اور نوح کی قوم کو جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا ہم نے ان کو ڈبو دیا اور انہیں لوگوں کے لیے نشانی کر دیا اور ہم نے ظالموں کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے ‘‘ 
اگرمومن کی دوسری جہت ، یعنی آیاتِ الہی کی تجسیم کو پیشِ نظر رکھا جائے تو:
وَالَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْ آیَاتِنَا مُعٰجِزِیْنَ أُوْلَئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِیْمٌ (سبا ۳۴ :۵)
’’ اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں ہرانے کی کوشش کی ، ان کے لیے سخت درد ناک عذاب ہے ‘‘
کے مصداق ، اس کا قتل ، آیاتِ الہی کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے اس لیے خدائی نظام میں فتنہ و فساد برپا کرنے کی کوشش ہے اور قرآن مجید کا فیصلہ ہے : وَالْفِتْنَۃُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ (البقرۃ ۲:۱۹۱) ’’اور فتنہ سخت تر ہے قتل سے‘‘ وَالْفِتْنَۃُ أَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ (البقرۃ ۲ :۲۱۷) ’’اور فتنہ انگیزی ، قتل سے بھی بڑھ کر ہے‘‘۔ ایسے فتنہ و فساد پر قرآن نے خاموشی اختیار نہیں کی اور نہ ہی محض اخروی سزاؤں پر انحصار کیا ہے بلکہ ان کے سدِ باب کے لیے سخت دنیاوی تدابیر و سزائیں مقرر کی ہیں ، مثلاً: سورۃ النور آیت ۲ میں زانی مرد و عورت پر ترس نہ کھانے اور مومنین کے ایک گروہ کی حاضری کا حکم آیا ہے ، ظاہر ہے کہ اس حکم کے پیچھے جواز یہی ہے کہ زانی لوگ ، ایک لحاظ سے آیاتِ الہی کو چیلنج کرتے ہوئے ، قرآنی اقدار پر مبنی اجتماعی نظم میں خلل اندازی کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے وہ ترس کے بجائے ذلت و رسوائی کے زیادہ مستحق ہیں ۔ زنا کے مقابلے میں مومن کا قتل ، آیاتِ الہی کو کلی اعتبار سے چیلنج کرنے کے مترادف اور اجتماعی نظم میں خلل اندازی کی انتہائی کوشش ہے ، اس لیے منطقی طور پر اس کے قاتل کے لیے نہ تو نرمی کا کو ئی گوشہ ہونا چاہیے اور نہ ہی اس کی ذلت و رسوائی میں کوئی کسر باقی چھوڑنی چاہیے۔ النساء۴ آیت ۹۳ کو دوبارہ دیکھیے (وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً)، اس میں کہیں بھی کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں کیا گیا جس میں قاتل کے لیے کسی حوالے سے نرمی کی ذرہ برابر بھی گنجایش نکلتی ہو ۔ اس کے برعکس ، سورۃ بنی اسرائیل آیت ۳۳ میں مقتول کے مظلوم ہونے کے باوجود (فَلاَ یُسْرِف فِّیْ الْقَتْلِ) کے الفاظ، ظالم قتل کے لیے ایک حد تک نرمی ظاہر کرتے ہیں ۔ اس لیے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ النساء آیت ۹۳ میں اس اسراف (سختی و رسوائی )کی اجازت(بلکہ حکم ) دیا گیا ہے جس کی بنی اسرائیل آیت ۳۳ میں ممانعت کی گئی ہے۔ اگرالمائدۃ آیت ۳۲ کے بیان (مَن قَتَلَ نَفْساً بِغَیْْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِیْ الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعاً) ’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی ‘‘ میں انسانی جان کی حرمت اور قرآن میں مومن کے مقام پر نظر رکھتے ہوئے، النساء آیت ۹۳ میں قصاص کے مقابل ’جزا‘ کی معنویت کا احاطہ کرکے ، مذکور سزاؤں جہنم غضب لعنت عظیم عذاب پر غور و خوض کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مومن کے قاتل کے ساتھ ’اسراف‘ کرنے کی صورت میں بھی ’جزا‘ کا معنوی اطلاق (قاتل کے فعل کے مساوی ، وزن و کمیت کے لحاظ سے ) ممکن نہیں ہوتا ، اس لیے قاتل کی سزا کے لیے ایسے الفاظ (جہنم غضب لعنت عظیم عذاب) برتے گئے ہیں جو بدیہی طور پر اخروی سزا پر دلالت کرتے ہیں ، یعنی دنیاوی سزا کی کوئی بھی نوعیت چونکہ قاتل کے فعل کا بدل نہیں ہو سکتی ، اس لیے آخرت میں بھی اسے لازماََ سزا ملے گی ۔(آیت مذکور کے مزید پہلوؤں پر غور کے لیے ماہنامہ الشریعہ فروری۲۰۰۹ میں ہمارا مضمون’قرآن مجید میں قصاص کے احکام:قسط۳‘ ملاحظہ کیجیے)۔

عمداً قتل کیے جانے والے مومن کا ولی

سورۃ بنی اسرائیل آیت ۳۳ (وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّہُ إِلاَّ بِالحَقِّ وَمَن قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَاناً فَلاَ یُسْرِف فِّیْ الْقَتْلِ إِنَّہُ کَانَ مَنْصُوراً) میں قاتل کو سزا دینے کے لیے مقتول کے ولی کی قانونی پوزیشن (ًفَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَاناً) کے الفاظ میں واضح کی گئی ہے، لیکن النساء آیت ۹۳ میں مقتول مومن کے ولی کی قانونی پوزیشن کی تصریح کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ، بلکہ مزید غور سے دیکھا جائے تو ولی کا بیان ہی موجود نہیں، قانونی پوزیشن کی صراحت تو خیر اگلی بات ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے اندازِ بیان سے شارع کا منشا کیا ہے؟ ( خیال رہے کہ البقرۃ آیت ۱۷۸ میں (فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْءٌ) کے الفاظ اور المائدۃ آیت ۴۵ میں (فَمَن تَصَدَّقَ بِہِ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہُ) کے الفاظ کسی فریق ثانی یا ولی کی موجودگی پر دلالت کر رہے ہیں ) جبکہ النساء آیت ۹۳ میں فریق ثانی وہ مومن ہے جس کو عمداََ قتل کیا جا چکا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مقتول مومن کا قائم مقام آخر کون ہو گا؟ ہم سمجھتے ہیں کہ مقتول مومن کے قائم مقام کو تلاش کرنے سے ہی ، اس آیت میں کسی فریق ثانی یا ولی کی عدم موجودگی میں پنہاں شارع کا منشا سامنے آ سکتا ہے ۔
مقتول مومن کے قائم مقام کی تلاش میں بنی اسرائیل آیت ۳۳ اور النساء آیت ۹۳  کا تقابلی مطالعہ کافی معاونت کر سکتا ہے ۔ سورۃ بنی اسرائیل آیت ۳۳ میں (وَمَن قُتِلَ مَظْلُوماً) کے بیان سے ، سورۃ النساء آیت ۹۳ میں (وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً) کے ذکر کی بظاہر کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی ، کہ مقتول مظلوم ، مومن بھی ہو سکتا ہے ۔ لیکن غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل آیت ۳۳ میں مقتول کی ’’مظلومیت کی نوعیت ‘‘بیان نہیں کی گئی ۔ چونکہ مقتول مظلوم ، غیر مومن بھی ہو سکتا ہے ، اس لیے قرینہ بتاتا ہے کہ مظلومیت ، نوعیت کے اعتبار سے دنیاوی پہلو کی حامل ہے ،مثلاََ سماج میں طبقاتی کھینچا تانی کے عمل میں کوئی شخص مظلومانہ قتل ہو سکتا ہے یا کارا کاری جیسی کسی قبیح رسم کی بھینٹ چڑھ سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔اسی لیے شارع نے ایک طرف (بنی اسرائیل آیت ۳۳کے تناظر میں ) النساء آیت ۹۳ میں ’مومن‘ پر فوکس کیا ہے اوردوسری طرف (البقرۃ آیت ۱۷۸ کے تناظر میں )’عمد‘ پر توجہ مرکوز رکھی ہے کہ کسی بھی قسم کے جواز کے بغیر ، جانتے بوجھتے مومن کو عمداََ قتل کرنا ، اللہ کے غضب اللہ کی لعنت اور جہنم میں ہمیشہ رہنے کے عذابِ عظیم کو دعوت دینے والی بات ہے ۔ اس تقابلی مطالعہ سے یہ نکتہ بھی سامنے آتا ہے کہ اگر کسی شخص کا طبقاتی کھینچا تانی وغیرہ کے عمل میں مظلومانہ قتل ہو جائے اور وہ شخص مومن بھی ہو تو ، اس کے قاتل کے جرم کی سنگینی بہت بڑھ جاتی ہے۔ غالباََ اسی سنگینی کو باقاعدہ ظاہر کرنے کے لیے ہی، بنی اسرائیل آیت ۳۳ کے برعکس مقتول(اور اس کے ولی ) کے بجائے النساء آیت۹۳ میں قاتل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے (فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً) جیسی سخت وعید بیان کی گئی ہے ۔اس وعید میں یہ معنویت بھی مستور ہے کہ چونکہ مومن قرآن کے نظامِ اقدار کا متشکل روپ یا تجسیم ہے ،اس لیے اسے عمداََ قتل کرنا ایسے ہی ہے جیسے قرآن کو حق جانتے ہوئے نہ صرف جھٹلا یا جائے بلکہ اس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی مذموم کوشش بھی کی جائے ۔لہذا ، اس آیت سے یہ معانی اخذ کیے جا سکتے ہیں کہ مومن کو بلا جوازعمداََ قتل کرنا درحقیقت قرآنی اقدار پر مبنی ہیتِ اجتماعی(معاشرہ) کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے اس لیے ایسے مقتول مومن کے قائم مقام یا ولی کی حیثیت مسلم معاشرے کی اجتماعیت کی نمائندگی کرنے والی مقتدر طاقت (معروف معنوں میں خلافت یا ریاست) کو ہی حاصل ہو گی۔ اس لیے ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ریمنڈ ڈیوس کیس میں مقتولین کے ورثا کو ’ولی‘ کا رتبہ حاصل نہیں تھا، اگر وہ رضامندی سے بھی دیت لینے پر آمادہ ہو جاتے تو اس آمادگی کی کوئی شرعی توجیہ نہیں کی جا سکتی تھی۔ اس کیس میں ولی کی حیثیت مومنین کی معاشرت کی نمائندگی کرنے والے ادارے کو حاصل تھی جسے آج کل ریاست کہتے ہیں اور اس ریاست کے پاس بھی امریکی قاتل کو عبرت ناک مرکب سزا دینے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا (جیسا کہ جزا کی بحث میں ذکر ہو چکا)۔ ریاست کے پاس سزا دینے کے علاوہ کسی بھی آپشن کی عدم موجودگی سے، مقتول مومن کے ورثا کو ولی کی حیثیت نہ دیے جانے کی حکمت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ شارع کا منشا اس نوعیت کے کیسوں میں ایسی انتہائی سخت سزا کا نفاذ ہے جو جرم کی سنگینی کو ممکن حد تک قریب سے ایڈریس کر سکے۔

قصاص میں ریاست کا اختیار 

یہاں ضمناً ایک نکتے کی صراحت بے جا نہ ہو گی کہ قصاص کے معاملے میں ریاستی اختیار(ریاست بطور فریق) پر زور دینے والے اہلِ علم اپنے استدلال کی بنیاد سورۃ البقرۃ۲ آیت۱۷۸ پر رکھتے ہیں، جو سراسر غلط ہے۔ البقرۃ آیت ۱۷۸ (یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِصَاصُ....) میں ریاست کو فریق کی حیثیت یا ریاستی اختیار، پورا معاملہ طے پا جانے کے بعد کسی قسم کی گڑ بڑ کی صورت میں (فَمَنِ اعْتَدَی بَعْدَ ذَلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیْم) آیت کے تکمیلی الفاظ سے شروع ہوتا ہے۔ تکمیلی الفاظ سے قبل کا بیان ریاست کو اصولاً (صرف اور صرف)قصاص کی تلوار اٹھائے رکھنے کا پابند کرتا ہے تاکہ اس کے سائے تلے مقتول کے ورثا اطمینانِ قلبی کے ساتھ (دھونس زبردستی کا شکار ہوئے بغیر) دیت وغیرہ کا معاملہ طے کر لیں جو شارع کا (اصلاً)مقصود و منشا ہے۔ ہماری ناقص رائے میں قتل جیسے معاملات میں ریاست کو فریق بنانے کی بنیاد سورۃ النساء۴ آیت۹۳ میں تلاش کی جانی چاہیے۔ سورۃ البقرۃ۲ آیت۱۷۸ کے بنیادی حکم میں ایسی تلاش نص میں اضافہ شمار ہوگی۔ 

کسی غیر ملکی پر اسلامی حدود کا نفاذ

ریمنڈ ڈیوس کیس سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی غیر ملکی پر جب کہ وہ غیر مسلم بھی ہو، کیا اسلامی حدود کا نفاذ اصولاً کیا جا سکتا ہے؟ اس سلسلے میں ہم دیکھتے ہیں کہ قصاص و دیت کی بنیادی آیت سورۃ البقرۃ ۲آیت۱۷۸ کے آغاز میں ہی مومنین کو خطاب کیا گیا ہے (یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنثَی بِالأُنثَی) جس سے غیر ملکی غیر مسلم مستثنیٰ معلوم ہوتے ہیں۔لیکن یہاں مومنین کے نظمِ اجتماعی یعنی ریاست کو خطاب کرنے کی وجہ سے یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس مقام پر مومنین کا ذکر ان کی’ مقتدر ذمہ داری‘ کے حوالے سے کیا گیا ہے کہ وہ اس حکم کی تنفیذ کو (مسلم غیر مسلم کی تفریق میں الجھے بغیر) عمومی صورت میں یقینی بنائیں۔ لیکن پھر (فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْء) کے بیان میں ( أَخِیْہ) کی کیا توجیہ کریں گے؟ کیونکہ اس سے یہ سوال جنم لے گا کہ کیا قرآن مجید کے مطابق مومن اور کافر بھائی بھائی ہو سکتے ہیں؟سورۃ الحجرات۴۹ آیت۱۰ (إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَۃٌ فَأَصْلِحُوا بَیْْنَ أَخَوَیْْکُمْ وَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ) کے تناظر میں (جس کا مزید حصر سورۃاٰل عمران۳ آیت۱۵۶ کرتی ہے) اگر اس سوال کا جواب’نہیں‘ میں ہے تو دیت کے بیان (فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَان) کے بعد اللہ کی رحمت کے خاص ذکر (ذَلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ) کا مخاطب کوئی غیر ملکی غیر مسلم نہیں رہتا، کیونکہ یہاں تک پہنچنے کی بنیاد (بھائی) ہی کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس آیت کے داخلی شواہد اس کے کسی غیر ملکی غیر مسلم پر اطلاق میں مانع ہیں۔ 
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی معاملے میں ایک فریق مسلمان ہو اور دوسرا غیر ملکی غیر مسلم(جیسا کہ ریمنڈ ڈیوس کیس کا معاملہ ہے) اور نصِ قرآنی اس غیر ملکی غیر مسلم پر منطبق نہ ہو رہی ہو (جیسا کہ البقرۃآیت۱۷۸ کے جائزے سے معلوم ہوا) تو کیا شریعت خلا میں معلق رہے گی؟ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ انطباق کے حوالے سے تعطل اسی وقت سامنے آتا ہے جب قضیے سے متعلق موزوں آیت سے استدلال نہ کیا جائے۔ سورۃ البقرۃ۲ آیت ۱۷۸ کے آغاز سے یہ بات تو تقریباً طے ہو جاتی ہے کہ قرآن مجید میں جہاں جہاں تخصیص کے ساتھ بھی مومنین کو مخاطب کیا گیا ہے وہاں اصلاً ایسی مقتدر ذ مہ داری نبھانے کو کہا گیا ہے جس کی عمل داری (jurisdiction) غیر ملکی غیر مسلم تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔ اس پر مستزاد، ایسی آیات بھی بکثرت موجود ہیں جن میں کسی تخصیص کے بغیر خطاب کیا گیا ہے۔ اس لیے یہ امر اتنا قابلِ بحث نہیں رہتا کہ غیر ملکی غیر مسلم شرعی حدود کی (jurisdiction) میں آتا ہے یا نہیں، بلکہ صرف موزوں احکامات کا اطلاق ہی قابلِ توجہ اور قابلِ تنقیح قرار پاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ریمنڈ ڈیوس کیس میں سورۃ النساء۴ آیت ۹۳، اطلاقی پہلو سے نہایت موزوں آیت ہے۔یہ آیت اصولی لحاظ سے یہ امر بھی واضح کرتی ہے کہ شریعت کی تنفیذ غیر مسلموں پر کی جا سکتی ہے ۔ کیونکہ اس آیت کے مطابق مومن کو عمداً قتل کرنے والا اگر خود بھی مومن ہو تو اس قبیح فعل کے بعد وہ مومن نہیں رہتا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سورۃ النساء۴ آیت ۹۳ کا اطلاق (عمومی طور پر) دائرہ ایمان سے خارج لوگوں پر ہو تا ہے، اس لیے ایمان نہ رکھنے والے ہی اصلاً اس آیت کی عمل داری میں آتے ہیں۔ 

ریمنڈ ڈیوس کیس سے جنم لینے والے واقعاتی سوالات 

امریکی قاتل ریمنڈ ڈیوس کی طرف سے دیت (اس کے درست یا غلط ہونے سے قطع نظر) کی ادائیگی کے معاملے میں بھی سوالات اٹھتے ہیں، کیونکہ شنید ہے کہ کسی اسلامی ملک (بشمول اسلامی جمہوریہ پاکستان) نے ریمنڈ ڈیوس کی دیت کا معاملہ ہی ’طے‘ نہیں کروایا بلکہ ایک قدم مزید بڑھتے ہوئے قاتل کی طرف سے دیت کی رقم اد ا کرنے کی ’سعادت‘ بھی حاصل کی ہے۔ سنا ہے کہ کسی بااثر پاکستانی مسلمان شخصیت نے بھی ’نمک حلالی‘ کرتے ہوئے اپنی آخرت سنوارنے کی خوب کوشش کی ہے۔ کہتے ہیں کہ کہ دھواں آگ کا پتہ دیتا ہے ، بات کچھ بھی ہو، اگر اس میں کسی قدر سچائی پائی جاتی ہے تو شخصیت موصوف اور اسلامی ریاست نے امریکی قاتل کے ’عاقلہ‘ کا کردار ادا کیا ہے جس سے ان کا ’قبلہ‘ بے نقاب ہو گیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان یااسلامی ریاست، کسی غیر ملکی غیر مسلم مجرم کے لیے ’عاقلہ‘ کے فرائض سر انجام دے سکتے ہیں؟ اگر نہیں، تو ایسا کر گزرنے والوں کی بابت کیا حکمِ شرعی ہے؟ 

ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے متعلق ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ اسے وسیع تر قومی مفاد میں رہا کیا گیا ہے۔ اس لیے عدالتی کاروائی محض ایک کاروائی تھی، مقصد اسے ہر صورت رہا کرنا تھا۔ لہذا اس پورے معاملے کو خالصاً قانونی زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اگر قومی مفاد کی یہ منطق مان بھی لی جائے اور یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں جو کرتب دکھائے ہیں اس سے امریکہ بہت مرعوب ہو اہے اور اپنے بِل میں دبک کر بیٹھ گیا ہے تو پھر بھی ایک سوال موجود رہتا ہے کہ امریکی قاتل کی رہائی کے لیے اسلامی حدود کا غلط استعمال کیوں کیا گیا؟ کیا کسی اور ذریعے سے اسے رہا نہیں کیا جا سکتا تھا؟یا پھر اس کی رہائی کے ساتھ یہ مقصد بھی شامل تھا کہ اسلامی حدود کی تضحیک کی جائے اور انہیں متنازعہ بنایا جائے؟ یہاں ایک اصولی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلامی حدود کو ریاست کی تزویراتی مہمات (strategic adventures) کی بھینٹ چڑھایا جا سکتا ہے، چاہے یہ مہمات مبنی بر قومی مفاد ات ہی ہوں؟ اگر اس سوال میں کسی بھی درجے میں سنجیدگی پائی جاتی ہے تو آج کے اہلِ علم کو اسلامی حدود کے مطالعات کی نئی جہتیں متعارف کروانی ہوں گی۔

امریکی قاتل ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے معاملے میں اسلامی حدود کو جس طرح ’برتا‘ گیا ہے اس سے ایک بہت ہی بنیادی نوعیت کا سوال جنم لیتا ہے کہ کیا مومنین کا کوئی ایسا نظمِ اجتماعی ، جو فی الواقعی مقتدر حیثیت کا حامل نہ ہو، اپنی نام نہاد عمل داری (jurisdiction) میں اسلامی حدود کے نفاذ کا شرعی حق رکھتا ہے؟ ہماری رائے میں تو اصولیین اور فقہا کو(جدید صورتِ حال کے تناظر میں) مومنین کے نظمِ اجتماعی کی اس کم از کم مقتدر حیثیت(prerequisite sovereignty) کا باقاعدہ تعین کرنا چاہیے جس کی عدم موجودگی میں حدود کے نفاذ پر اصولاً پابندی عائد ہو، تاکہ اسلامی حدود کا مذاق نہ اڑایا جا سکے۔ اور اگر یہ طے پا جائے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایسی کم از کم مقتدر حیثیت (prerequisite sovereignty) کا حامل نہیں ہے تو اسلام پسند حلقوں کو شریعت کے نفاذ کے بجائے نافذ شدہ حدود کی تنسیخ کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام پسند حلقے ایسی جرات اور بالغ نظری کا مظاہرہ کر پائیں گے؟ یہ حلقے ریمنڈ ڈیوس قضیے کو دبے لفظوں میں ’جرمِ ضعیفی کی سزا‘ قرار دے رہے ہیں۔ ہمارے خیال میں جب تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کا’مردانہ ضعف‘ دور نہیں ہو جاتا، اس وقت تک کے لیے اس ریاست میں حدود کے نفاذ کی جدوجہد کرنے والوں کو دیت کے ’حشرنشر‘ سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے اور اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کرلینا چاہیے۔ 

کورٹ میرج: چند قانونی اور معاشرتی پہلو

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ
شفقت رضا منہاس ایڈووکیٹ

ہمارے ہاں کورٹ میرج کا ایک عام تصور پھیلا ہوا ہے، حالانکہ اس کا نہ قانونی وجود ہے اور نہ ہی کوئی بنیاد۔ (البتہ ایک رائے کے مطابق non-believers یعنی غیر اہل ایمان کا چونکہ کوئی خاندانی نظام دویعت شدہ نہیں ہوتا، ان کے لیے بعض نظائر کی بنیاد پر کورٹ میرج کا تصور موجود ہے۔ یہ واضح رہے کہ غیر اہل ایمان میں مسلمان، ہندو، سکھ، یہودی اور عیسائی شامل نہیں۔ اس طرح پاکستان میں ایسے غیر اہل ایمان کی تعداد چوونکہ برائے نام بھی نہیں، لہٰذا اگر اس رائے کے مطابق ایسا کو تصور ہو بھی تو اس کی اہمیت باقی نہیں رہتی۔) اس کے باوجود یہ تصور عام سطح سے لے کر اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی موجود ہے۔ پچھلے دنوں میرے ایک نہایت مہربان اور عزیز دوست نے مجھے فون پر یاد کیا۔ فرمانے لگے کہ ’’میری بیٹی نے ملک کی ایک بین ا لاقوامی اسلامک یونیورسٹی میں ایل ایل ایم کی کلاس میں داخلہ لیا ہے۔ اس کے لیے مقالے کا عنوان ہے: Court marriage and its effects upon family in Pakistan.۔ آپ اس عنوان کو خاکہ تحقیق بنانے میں مدد کریں۔‘‘ میں حیران ہوا کہ ایل ایل ایم کی طالبہ کے استاد، اتنی بڑی یونیورسٹی میں کم از پی ایچ ڈی تو ہوں گے۔ پی ایچ ڈی بھی کسی گھوسٹ یونیورسٹی سے نہیں، بلکہ مسلمہ یونیورسٹی سے ہوں گے، مگر وہ پاکستان کے قوانین کے بارے میں عام سطح کے شخص کی طرح اس واہمے میں مبتلا ہیں کہ کورٹ میرج کا کوئی باقاعدہ عدالتی ادارہ موجود ہے۔
میں نے اس عزیزہ پر واضح کیا کہ مذکورہ عنوان نہیں بنتا اور وجہ یہ ہے پاکستان میں کورٹ میرج کا کوئی تصور ہی نہیں۔ مجھے بچی نے بتایا کہ ہمیں استاد صاحب نے کہا ہے کہ مختلف عدالتوں کو وزٹ کر کے کورٹ میرجز کے بارے میں ڈیٹا جمع کیا جائے۔ میں نے واضح کیا کہ طالب علم کے طور پر عدالت اسے اس طرح کے استفسار پر رعایت دے سکتی ہے، ورنہ عدالت کو نکاح رجسٹرار یا نکاح خواں کی سطح پر لانا عدالت کے وقار کی نفی ہو گی۔ کوئی جج اسے سنجیدہ لے سکتا ہے اور توہین عدالت کی کارروائی بھی شروع ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اگر استفسار کے دوران، یونیورسٹی پروفیسر صاحب کا حوالہ آیا تو ایسا نہ ہو کہ اس سے پروفیسر صاحبان کی ڈگریوں کی پڑتال کا سلسلہ چل پڑے۔ تعلیمی اداروں میں تعلیم کے نام پر کاروبار اور کاروباری مفادات کے تحفظ کی صورت کا اندازہ کرنا ہو تو بورڈ آف گورنرز کے خلاف طلبہ اور اساتذہ کی ایجی ٹیشن کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گورنمنٹ کالجوں میں تعلیم، نام کی حد تک رہ گئی ہے۔ پروفیسر صاحبان کی ایک تعداد تدریس کے بجائے صرف تنخواہ وصول کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
کورٹ میرج کے تصور کے بے بنیاد ہونے کی سب سے واضح دلیل یہ ہے کہ قانون کی رو سے نکاح ایک معاہدہ ہے۔ عدالت کسی بھی معاہدے کی تشکیل میں حصہ دار نہیں ہوتی۔ کسی عدالت کو اس کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ البتہ معاہدہ تکمیل پا جائے تو معاہدے کی شرائط کو نافذ کرنے کا اختیار عدالت کو حاصل ہے۔ اس کے لیے مختلف قسم کی دادرسی فراہم کی جا سکتی ہے۔ معاہدہ کی تشکیل بدوں کسی عدالتی مداخلت یا سہولت کے، فریقین کا اپنا کام ہے۔ وہ اس میں مکمل طور پر آزاد ہیں، مگر عدالت معاہدے کی تشکیل کے مرحلہ میں کوئی کردار ادا کرنے کی کسی طرح مجاز نہیں۔
البتہ یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ کورٹ میرج کے بارے میں جو واہمہ لوگوں میں پایا جاتا ہے، اس کی بنیاد کیا ہے۔ عام طور پر جس وقت کوئی لڑکی اور لڑکا اپنے خاندان سے بغاوت کر کے شادی کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ میرے جیسے کسی وکیل سے رجوع کرتے ہیں۔ میرے دوست بھاری فیسیں وصول کر کے کورٹ میرج کے نام پر ایک ڈرامہ ترتیب دیتے ہیں۔ بالعموم اس ڈرامے کی صورت اس طرح ہوتی ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعات 107/151 کے تحت نقص امن کے اندیشے یا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 506 کے تحت مجرمانہ تخویف کا استغاثہ مرتب کر کے عدالت میں دائر کیا جاتا ہے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ نمبر 200 کی رو سے استغاثہ دائر کرنے پر مجسٹریٹ فوری طور پر مستغیث کا بیان قلم بند کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ استغاثہ چونکہ لڑکی کی جانب سے ہوتا ہے، اس لیے اس کا بیان عدالتی ریکارڈ پر آ جاتا ہے۔ استغاثے اور بیان کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ لڑکا اور لڑکی ہر دو بالغ ہیں، (بلوغت کا کوئی دستاویزی ثبوت استغاثے کے ساتھ شامل کر کے فائل کا پیٹ بھرا جاتا ہے)، وہ بالغ ہونے کی وجہ سے شادی کرنے کے مجاز ہیں، لہٰذا انہوں نے اپنا یہ اختیار استعمال کرتے ہوئے آزاد مرضی سے باہم شادی کی ہوئی ہے اور بطور میاں بیوی اکٹھے رہ رہے ہیں۔ ان کے والدین یا دیگر قریبی رشتہ دار اس شادی کے خلاف ہیں، چنانچہ وہ طرح طرح کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ بیان میں کہا جاتا ہے کہ وہ مستغیثہ کی شادی کسی اور سے کرنا چاہتے ہیں، بلکہ بعض اوقات یہاں تک الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اسے فروخت کرناچاہتے ہیں۔ بلا شبہ اس کا استثنائی صورتوں میں امکان ہو سکتا ہے۔ یہ کہاجاتا ہے کہ والدین اسے قتل کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں یا جھوٹے مقدمے میں ملوث کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ استتغاثے میں استدعا کی جاتی ہے کہ والدین یا مذکورہ رشتہ داروں کو طلب کر کے سزا دی جائے یا نقض امن کے اندیشے کے تحت حفظ امن کی کارروائی کی جائے۔ اس طرح کا بیان ریکارڈ کرانے کے بعد دائر کیس کی پیروی نہیں کی جاتی۔ استغاثے اور بیان کی مصدقہ نقول حاصل کر لی جاتی ہیں۔ یہ عدالتی نقول ان کے خلاف بعد میں پولیس کے ذریعے اغوا وغیرہ کی ممکنہ کارروائی میں موثر دفاع بن سکتی ہیں۔ اس اہتمام سے ہمارے دوست وکلا کہہ دیتے ہیں کہ عدالت میں ان کی شادی کی توثیق یا تصدیق ہو گئی ہے۔
وکلا بھائیوں کی جانب سے اس طرح کی نام نہاد کورٹ میرج کی ایک دوسری صورت دعویٰ اعادۂ حقوق زن و شوئی کی ہوتی ہے۔ لڑکے کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ لڑکی کا خاوند ہے، اس کا باقاعدہ نکاح ہوا ہے اور نکاح میں لڑکے اور لڑکی کی آزاد مرضی شامل تھی۔ دونوں بالغ ہیں، دونوں میاں بیوی کے طور پر رہنے کے خواہش مند ہیں، مگر لڑکی حقوق زوجیت ادا کرنے سے گریزاں ہے اور لڑکی کے والدین اور دیگر رشتہ داروں کا دباؤ اس گریز کا باعث ہے۔ لہٰذا لڑکے کے حق میں اور لڑکی اور رکاوٹ ڈالنے والے رشتہ داروں کے خلاف اعادۂ حقوق و زن و شوئی کی ڈگری جاری کی جائے۔ یہ دعویٰ دائر کر کے تاریخ پیشی مقرر کروائی جاتی ہے۔ پھر اگلے روز ہی لڑکی کی جانب سے مثل طلب کرا کے دعویٰ کے تمام مندرجات تسلیم کرا ئے جاتے ہیں اور کیس ڈگری کرا لیاجاتا ہے۔ 
اس طرح کے مقدمے کی ایک اور صورت استقرار حق کی ہوتی ہے۔ اسے فنی طور پر jactitation of marriage کہتے ہیں۔ اس دعوے میں یہ کہانی پیش کی جاتی ہے کہ فریقین کے مابین باقاعدہ نکاح ہوا ہے اور لڑکا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ لڑکی کا باقاعدہ خاوند ہے، مگر لڑکی خاندانی دباؤ کی وجہ سے شادی کو تسلیم نہیں کرتی۔ دعویٰ دائر ہونے کے بعد تاریخ مقرر ہونے کے ایک دو روز بعد ہی مثل طلب کروا کے لڑکی کو پیش کیا جاتا ہے اور دعوے کے مندرجات کو تسلیم کراتے ہوئے کیس ڈگری کروا لیا جاتا ہے۔ اس طرح کی تسلیمی ڈگری کے لیے لڑکی کی جانب سے ایک علیحدہ وکیل پیش کیا جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ لڑکے کا وکیل لڑکی کی جانب سے پیش نہیں ہو سکتا۔ ایسی صور ت میں لڑکے کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل چونکہ پورا ڈرامہ ترتیب دیتے ہیں، اس کے لیے ان کو بھاری فیس وصول ہوتی ہے، البتہ لڑکی کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل کو سازشی طور پر تیار کر کے پیش کیاجاتاہے، اس لیے ان کو برائے نام فیس ادا ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں، میں اپنا ایک تجربہ بیان کر دینا بر محل خیال کرتا ہوں۔ میرے ایک دوست اپنے محکمے سے رخصت لے کر وکالت کے شوق میں میرے ساتھ آ شامل ہوئے۔ ان کے ایک قریبی رشتہ دار مجسٹریٹ تھے۔ انہوں نے اسی طرح کا ایک کیس بک کیا اور ہم دونوں نے کیس تیار کیا اور مذکورہ مجسٹریٹ کی عدالت میں دائر کر دیا۔ اب ہم مستغیثہ کے بیان کے لیے عدالت میں گئے تو اس پر پیشی ڈال دی گئی۔ ہم نے بہت کوشش کی کہ ایسا نہ ہو۔ قانون کے لازمی تقاضے پر زور بھی دیا مگر مجسٹریٹ چونکہ اس طرح کی پریکٹس کو پسند نہیں کرتے تھے، اس لیے وہ بیان قلم بند کرنے پر رضامند نہ ہوئے۔ انہوں نے قانون کی پابندی کے بجائے اپنے ضمیر کا لحاظ رکھا۔ ہم دونوں کی مولویت شرمندہ ہوتی رہی، مگر ہم چند ٹکوں کے لیے قانونی تقاضے پر زور دیتے رہے۔
اس طرح کے واقعات ایک مدت مدید سے چلے آرہے ہیں۔ وکلا ذہین لوگوں کا پیشہ ہے۔ وہ اس طرح کی کورٹ میرج کی اور بھی صورتیں تراش سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ میں ان کا اپنی چالیس سالہ پریکٹس کے باوجود تصور نہ کر سکوں۔ اس لیے اس تحریر میں، میں ایسی تمام صورتوں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ بہرحال کورٹ میرج کا تصور ایسے مقدمات کی وجہ سے پھیلا ہے۔ کوئی پی ایچ ڈی پروفیسر اگر پس منظر کی اس صورت حال سے شناسا نہ ہوں تو میں انہیں زیادہ قصور وار نہیں ٹھہرا سکتا، البتہ انہیں صورت حال سے آگاہی حاصل کرنا چاہیے۔
اس صورت حال کی بنیاد اور پس منظر میں لڑکے اور لڑکی کی جانب سے اپنے اپنے خاندانوں سے بغاوت کا وجود لازمی عنصر ہے۔ خاندان سے بغاوت کے بعض کیسوں کے پس منظر میں خاندانی جبر کی صورتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ان میں ونی کی رسم اور قرآن کے ساتھ شادی، والدین کی جانب سے لڑکی کو فروخت کرنے کی صورتیں بھی ممکن ہیں۔ یہ صورتیں خاندان سے بغاوت کا اخلاقی یا قانونی جواز بن سکتی ہیں یا نہیں، ایک ایسا سوال ہے جو اہل فقہ سے متعلق ہے۔ ہمارے حلقے کے بہت سے اہل علم جہاد بالسیف کے لیے ریاستی آشیر باد کو شرطِ لازم قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت یاخروج کو بڑی سخت شرائط میں جکڑتے ہیں۔ خاندانی نظام کو اس طرح کا تحفظ دینے میں نکاح کے لیے لڑکی کی جانب سے ولی کی تقرری کے بارے میں اہل اجتہاد کیا موقف اختیار کریں گے، اس بارے میں ان کے درمیان کھلا مباحثہ ہونا چاہیے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس حفیظ اللہ چیمہ نے مشرف کے دور میں ایک فیصلہ دیا تھا جس کی رو سے نکاح کے لیے لڑکی کی جانب سے ولی کا تقرر لازمی قرار دیاگیا۔ ان کا فیصلہ قیاس پر مبنی نہیں تھا بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح ارشاد (لا نکاح الا بولی) پر مبنی تھا۔ لیکن بعد میں مملکت اسلامی جمہوریہ میں، روشن خیالی کی لہر تیز اور طاقت ور ہوگئی، لہٰذا اس کے برعکس نقطہ نظر غالب آ گیامگر جسٹس حفیظ اللہ والے فیصلے کا کیا بنا، یہ معلوم نہیں۔ اسے اگر منسوخ کیا گیا ہوتو اسے میڈیا میں جگہ نہیں مل سکی۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے خلاف اپیل کی باقاعدہ اور حتمی سماعت نہ ہوئی ہو۔ ہمارے ہاں ایسی مثالیں موجود ہیں۔ حاکم خان کیس میں متنازعہ نکات پر حبیب وہاب الخیری کی رٹ پیٹیشن کے ساتھ ہائیکورٹ میں یہی کچھ ہوا تھا۔ اس درخواست کو جسٹس شیخ خضر حیات نے تعطیلات میں، سائل کو دس روز سن تک کر سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔ بعد میں اس کی کبھی سماعت نہیں ہوئی۔
جناب عمار خان ناصر کی تازہ تحریر ماہنامہ الشریعہ کے دسمبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں موجودہے۔ اس میں ان کی مجتہدانہ بصیرت بڑی توانا نظر آتی ہے، مگر ولی کے تقرر کے بارے میں انہوں نے اختصارکے پیش نظر صرفِ نظر سے کام لیا ہے یا شاید میں ان کے مضمون کو زیادہ غور سے پڑھ نہیں سکا۔ ان کو اس پہلو پر بھر پور اظہار کرنا چاہیے۔ بہرحال خاندان سے بغاوت کی حدود اور شرائط کا تعین باقی ہے۔ اس مسئلے میں خودکچھ نہیں کہنا چاہتا، البتہ یہ بات بہت واضح ہے کہ خاندان ہماری سوسائٹی کی ایک نہایت اہم قدر ہی نہیں، اثاثہ بھی ہے۔ اسے آسانی سے تج دینا ممکن ہے اور نہ ہی جائز۔ جو لڑکی بھی اس تحفظ اور سہارے سے محروم ہو کر باہر آئے گی، اس کا سامنا سوسائٹی میں موجود بھیڑیوں سے ہوگا۔ ایسی صورتوں کی پیش بندی یا مداوا ہمارے سوشل سائنسدانوں کی ذمہ داری ہے۔ اختصار کی خاطر ایک ٹی وی شو کا ذکر برمحل خیال کرتا ہوں۔ وجہ یہ ہے اس شو میں ہماری اقدار کے تحفظ میں جتنا موثر انداز اختیار کیا گیا، وہ لاکھ تقریروں، تحریروں اور درسوں پر بھاری ہے۔ 
اے ٹی وی پر ہفتے کے پہلے پانچ روز ایک شو ہوتاہے جس کا نام ’’مارننگ ود فرح حسین‘‘ Morning with Farah Husain ہے۔ میں کبھی کبھار یہ شو جزوی طور پر دیکھ لیتا ہوں۔ فرح حسین کو اپنے شو میں ہر طرح کے روپ میں آنا پڑتا ہے۔ اکثر و بیشتر ان کے روپ مجھے پسند نہیں آتے۔ وہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں۔ پڑھی لکھی خاتون ہیں۔ اس سے زیادہ میں ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ ہماری معاشرتی اخلاقیات کے فروغ و تحفظ کے بارے میں ان سے میرے اندازے کے مطابق کبھی لغزش نہیں ہوئی۔ مجھے اچھی طرح یادہے کہ چند سال پہلے ایک پروگرام میں انہوں نے لاہور کی ایک خاتون کو پیش کیا تھا۔ یہ خاتون کئی شہروں میں بیوٹی پارلرز جیسے کاروبار کے وسیع سلسلے کی مالک اور آسودہ حال خاتون تھی۔ راولپنڈی کے ایک شخص نے کسی نہ کسی طرح اس خاتون سے شادی کر لی۔ دو تین بچے ہوئے۔ راضی خوشی گزر اوقات کے ایک عرصہ بعد فریقین کے ما بین نا چاقی ہوئی اور طلاق ہو گئی۔ اس سب کچھ کے باوجود مرد نے خاتون کاپیچھا نہ چھوڑا۔ بچے خاتون کے پاس رہے۔ وہ اسے بچوں کے حوالے سے بلیک میل کر کے ایک مدت تک دولت بٹورتا رہا۔ بلیک میلنگ کی آخر کوئی حد ہوتی ہے۔ جب یہ تمام حدیں پار ہوگئیں تو ایک رات وہ بچوں سے ملنے کے بہانے لاہور آیا۔ خاتون کے گھر بچوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر بھی اس نے بلیک میلنگ کی کوشش کی، مگر جب کچھ حاصل نہ ہوا توجاتے ہوئے خاتون کے چہرے پرتیزاب پھینک کر فرار ہو گیا۔ اس کے لیے وہ پہلے سے تیاری کر کے آیاہوا تھا۔ اس کی داستان ستم فرح حسین نے خود تفصیل سے بیان کر دی۔ پھر فرح حسین نے، اس خاتون کو ٹی وی اسکرین پر پیش کیا۔ خاتون نے چہرے سے برقعے کا نقاب ہٹایا اور اپنا مسخ شدہ چہرہ ناظرین کے سامنے پیش کیا اور روروکر التجا کی کہ لو میرج کے خبط میں گمراہ ہوکر بھائیوں، والدین یعنی خاندان کے تحفظ سے آزادی کا آپشن استعمال نہ کرنا۔ سوسائٹی کے بھیڑیوں سے بچنے کی واحد صورت خاندان کا ادارہ ہے۔ اس سے باہر نکلنا مکمل بربادی کو دعوت دینا ہے۔
کاش فرح حسین کے اس شو کی سی ڈی سوسائٹی میں عام ہو۔ ہمارے ہاں منصب و ارشاد والے توبین الاقوامی سطح پر سیمیناروں میں ابھی یہ طے نہیں کر سکے کہ جدیدذرائع ابلاغ (ٹی وی، سینما، انٹرنیٹ) کا مثبت استعمال جائزہے یا نہیں، (دیکھیے: ماہنامہ الشریعہ اکتوبر ۲۰۰۵ء میں روئیداد سہ روزہ بین الاقوامی سیمینار فقہائے اسلام، منعقدہ لکھنو اور ماہنامہ الشریعہ نومبر ۲۰۰۵ میں اس سیمینار کے حوالے تفصیلی تبصرہ منجانب مرتب) مگر میں تکرار کے ساتھ یہ کہے بغیرنہیں رہ سکتاکہ فرح کا شو اپنے گہرے تاثر کے لحاظ سے لاکھ تقریروں اور درسوں پر بھاری ہے۔ ہمارے اہل اجتہاداپنے گھروں یا اداروں میں ٹی وی رکھنے سے خائف ہیں، مگر ادھر ادھر خوددیکھ لیتے ہیں۔ اس طرح کے خوف زدہ مجتہد سوسائٹی میں رسمی کردار سے زیادہ کتنا کچھ حصہ ڈال سکتے ہیں! جب ہم مارکیٹوں میں وڈیو اور آڈیو کیسٹس اور سی ڈیزکے سیلاب کو دیکھیں تو ان میں ایک طرف فحش، عریاں فلموں اور گانوں کا سیلاب ہے تو دوسری طرف فرقہ وارانہ تقریروں کا طومار ہے۔ کچھ علمی حلقے واقعی اور عملی مسائل سے دور رہ کر لغت ہائے حجازی کے حلقے سجائے ہوئے ہیں۔ سوسائٹی کے حقیقی مسائل اور دکھ درد کا ادراک اور مثبت، موثر نوعیت کی چیزوں کا مکمل فقدان ہے۔ 
نکاح اور شادی کے قوانین، خاندان کے یونٹ کو مضبوط کرنے کے لیے ہیں۔ یہ مقصد اسلام کے قانونِ نکاح ہی میں نہیں بلکہ ہر دیگر قوانین اور تہذیبوں میں پایا جاتا ہے۔ خاندان کا تقدس اور اس کا احترام اور اس کی مضبوطی کی خواہش ہر تہذیب میں موجود ہے۔ مغربی تہذیب جس کے بارے میں مسلمانوں میں آزادہ روی کا بہت زیادہ پروپیگنڈا کیا گیا ہے، وہ ایسا ہی ہے جیسے مغرب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نعوذ باللہ کردار کشی پر مبنی لٹریچر ہے۔ اگر مغربی تہذیبوں کا بلا تعصب مطالعہ کیا جائے تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ہر تہذیب کی طرح مغربی تہذیب بھی خاندان کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔ اس بارے میں امریکی تہذیب بہت زیادہ آزاد رو سمجھی جاتی ہے، مگر امریکی لٹریچر میں خاندان کی اہمیت کے شواہد بڑے مضبوط صورت میں موجود ہیں۔ مغربی تہذیب میں ہمیشہ سے خاتون کو گھر کی رونق ہی خیال کیا جاتا تھا۔ اندرون خانہ خاندان کے استحکام، بچوں کی تربیت، خاوند کی آسودگی کی ذمہ داریاں مسلمہ طور پر عورت پر ہی عائد ہوتی تھیں۔ عورت کا ناگزیر صورت حال کے سوا گھر سے نکلنا مغربی تہذیب میں بھی اتنا ہی معیوب تھا جتنا کہ اسلامی تہذیب میں تھا اور ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اس صورت حال میں تبدیلی کی شروعات ہوئیں۔ جنگ کی وجہ سے مردوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ سالہا سال تک گھر سے دور جنگوں میں مصروف رہے۔ اس سے مغربی ممالک کی اقتصادی نظام میں زبردست خلا پیدا ہوا۔ دفتروں اور کارخانوں میں کام کرنے والے مردوں کی قلت کو دور کرنے کے لئے عورتوں کو گھر سے نکلنا پڑا۔ اس طرح تبدیلی کا عمل شروع ہوا۔
تبدیلی کے اس عمل میں مغربی سوسائٹی کی پست اخلاقی اقدار نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ اس کا جائزہ لیتے ہوئے مسلمان مبصرین توازن ہاتھ سے کھو دیتے ہیں۔ نتیجتاً وہ مغربی سوسائٹی میں اس پستی کے خلاف رد عمل کا حوالہ نہیں دیتے۔ اس بارے میں مثال کی ضرورت ہو تو سید مودودی کی مغربی تہذیب پر تنقید کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ سید کی زبردست تصنیف ’’پردہ ‘‘ ہے۔ (فیملی لاز پر سید مودودی ایک کتاب ’’حقوق الزوجین‘‘ کورٹ میرج کے حوالے سے تو خالی ہے، مگر اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک معرکہ آرا کتاب ہے۔ اردو زبان میں میرے مطالعے میں اس سے زیادہ دقیق اور کوئی کتاب نہیں۔ یہ کتاب مولانا کی گنتی کی چند تصانیف میں سے ایک ہے۔ یہ کتاب ہمیشہ اپڈیٹ رہے گی۔) اس میں انہوں نے پردہ کے بارے میں اسلامی احکامات کاشاندار طریقے سے دفاع کیا ہے۔ مولانا مودودی کا انداز بیان اتنا پر زور اور موثر ہے کہ پڑھنے والے کو ذہنی طور پر قائل ہونا پڑتا ہے، یہاں تک کے جدید تعلیم یافتہ، مغربی تہذیب کے اثرات کے تحت آنے والے بھی مولانا کے زور بیان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اسی کتاب میں مولانا نے مغربی تہذیب کی عریانی کے بخیے تار تارکر کے رکھ دیے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کتاب کو مغربی حوالوں سے update کیا جائے۔ مغرب نے اپنے ہاں تہذیبی صورت میں تبدیلی کا جائزہ لیا ہے۔ ہمیں اس جائزے کو کسی صورت فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ مغرب میں اخلاقی اقدار خاص طور پر خاندان کے یونٹ کے بارے میں مثبت لٹریچر کو ہر صورت اہمیت دینا چاہیے۔
مجھے امریکی لٹریچر کے بارے میں وسیع رسائی تو حاصل نہیں لیکن اتفاق سے، ایک کتاب میرے پاس موجود ہے۔ اس میں دیے گئے مواد نے مجھے توجہ دینے پر مجبور کر دیا۔ اس موقعہ پر میں چند حوالے دے کر قارئین کو شریک کرنا چاہتا ہوں۔ اس کتاب کا نام Making Americaہے۔ یہ کتاب ۱۹۸۷ میں واشنگٹن سے سرکاری اطلاعاتی ایجنسی نے شائع کی ہے۔ کتاب کی ترتیب Luther S. Luedtke نے کی ہے۔ کتاب کا تیسرا حصہ اوپر ذکر کردہ پہلو سے متعلق ہے۔ اس کتاب میں اعداد و شمار کے ساتھ خاندانی یونٹ کے زوال کا بہت مکمل جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ امر تو یقینی ہے کہ خاندان سے بغاوت کا نتیجہ معاشرتی تباہی کے سوا کچھ ممکن ہی نہیں۔ یہ نتیجہ مغرب اور مشرق میں ایک جیسا ہے۔ بغاوت کا ثمر امریکہ اور پاکستان میں ایک ہی پیدا ہوگا۔ امریکہ میں اعداد و شمار کی مدد سے جائزہ لیا گیا ہے، جب کہ پاکستان میں اعداد و شمار اور جائزے کا عمل ناپید ہے۔ اگر اعداد و شمار کسی طرح مہیاہو جائیں تو ان کے حوالے سے بات ہو سکتی ہے۔ یہاں سروے مکمل اعداد وشمار کے بجائے نمائندہ یا منتخب افراد یا حلقوں کی بنیادپر مرتب کیے جاتے ہیں اور ان پر نتائج کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ بہر صورت ہم امریکی جائزہ سے اقتباسات پیش کر کے پاکستان میں قیاس پرنتائج مرتب کر سکتے ہیں۔ البتہ ایک فرق ضرور رہے گاکہ ہمارے ہاں خاندان کے حوالے سے اخلاقی اقدار بے حد مضبوط ہیں۔ ان کے زوال کی رفتار میرے خیال میں بہت سست ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا میڈیا مغربی اقدار کو فروغ دینے کے لیے جو کچھ کررہا ہے، بڑی احتیاط سے کام لیتا ہے۔ اس کی ایک مثال پی ٹی وی ہوم پر حال ہی میں دکھائے جانے والے ایک ڈرامے ’’زنداں‘‘ کی ہو سکتی ہے۔ اس میں ایک نفسیاتی مریضہ کو split personality (دوہری شخصیت) کے طور پر پیش کیا گیا۔ عارضہ کی وجہ یہ ظاہر کی گئی کہ مریضہ اپنے جائز بیٹے اور شادی کو وہم کے اعتبار سے ناجائز خیال کرنے لگی۔ علاج میں، اس کے شوہر کو یہ تدبیر بتائی گئی کہ وہ شادی اور اولاد کو ناجائز تسلیم کر کے معافی مانگے اور بار بار کی معافی کے بعد، نفسیاتی طور پر اپنی بیمار بیوی کو دوبارہ شادی کے لیے اسے راضی کرے۔ اس طرح مریضہ کے بارے میں دکھایا گیا کہ وہ ذہنی عارضے سے صحت یاب ہو گئی۔ یہاں ڈرامہ نگار کی مہارت کی داد تو دینا پڑتی ہے مگر پس منظر میں فکری پراگندگی جھلکتی ہے۔
ہمارے ہاں کوئی خود کتنا ہی بد کردار ہو، مگر اپنے خاندان اور بیٹیوں کو بد کردار بنانے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ فرق یہ پڑتا ہے کہ نیکی اور برائی کی مقدار میں کچھ زیادہ اضافہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ اپنے بسیرے بدلتی ہے۔ اچھی یا بری اقدار پر کسی کا اجارہ نہیں۔ آج فرض کیجیے میں شرافت کا امین ہوں تو کل کو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ قدر میرے گھر سے رخصت ہو کر کسی برے شخص کے ہاں ہدایت کا ذریعہ بن کر بسیرا کر لے۔
لیجیے امریکی سوسائٹی میں خاندان کے زوال کی کہانی امریکیوں کی زبانی سن لیں۔
As late as the 1950s, more than 70 percent of all American families comprised a father who worked, a mother who stayed at home to take care of the children. By 1980, that description applied to only 15 percent of all families. In the same year, birth rates declined precipitously. At the height of the baby boom, the average family had more than three children. By 1980, that figure had fallen to less than 1.6 children, the reproduction level required for zero population growth. (p. 265)
The divorce rate climbed more than 100 percent in the twenty years after 1960 and by 1980 more than two out of five marriages were expected to end in divorce. (p. 265, 266)
By the 1970s, these trends in behavior and attitude had begun to reinforce each other. College educated women--those most affected by the rise in feminist conscienceness--increasingly declared that a career was just as important a priority as marriage. (p. 264)
Women must boldly announce that no job is more exacting, more necessary , or more rewarding than that of housewife and mother. (p. 262)
As soon as the war ended, business leaders, politicians and social commentators insisted that women must recapture their traditional role as housemakers. (p. 261)
During the war years, the female labor force increased by 57 percent, and the proportion of women who were employed leaped from 25 percent to 36 percent. When the war began, it was expected that virtually all the new workers would return to home as soon as the war was over. Four years later, more than 80 per cent told the government pollsters that they wanted to stay on the job. (p. 261)
Women who, a few years before, had been told it was a mortal sin to leave the home and take a job were now urged as a matter of patriotic necessity to help win the war by replacing a soldier gone to the front. Between 1941 and 1945 over six million women took jobs for the first time, the majority of them married and over thirty. (p. 261)
In effect, a married middle-class white women who wished to work was an anomaly, acting in violation of both her social status and the attitude of dominant culture. As the anthropologist Martraret Mead observed in 1935, a young woman contemplating a career had two choices. Either she proclaimed herself ''a woman'' and therefore less an achieving individual, or therefore less a woman. She could not do both, and if she chose to follow the second option, she took the risk of losing for ever the chance to be a ''loved object, the kind of girl whom men will woo and boast of, toast and marry.'' (p. 260-261)
By the end of 1930s state, local and national authorities all endorsed discriminatory treatment against married women seeking employment. As one congressional representative declared, a woman's proper place was in the home, not taking job away from a male breadwinner. (p. 260)
Adlai Stevenson's injunction to Smith College class of 1957 that women's primary role as citizens should be to influence men through their positions as ''house wives and mothers'' as a latter day manifestation of the same cultural world view that guided colonial America. (p. 259)
In the word of one matron quoted in an eighteenth century news paper, ''I an married, and I have no other concern but to please the man I love; he is the end of every care I have; If I dress, it is for him, if I read a poem or a play, it is to qualify myself for a conversation agreeable to his taste.''
آخر پر یہ واضح کر دینا ضروری سمجھتاہوں کہ میں باغی ہوں۔ اپنے گرد و پیش سے بغاوت میری سرشت ہے۔ میں اپنے آس پاس کی فسوں کاری کو توڑ دینا چاہتا ہوں ۔ میں سوسائٹی میں ہر طرح کے جبر، ظلم، بد دیانتی، کرپشن، مفاد پرستی، گروہ بندی، سازش، جماعتی وغیر جماعتی تعصب کے خلاف بغاوت پر ہمہ تن اور ہمہ وقت آمادہ ہوں، مگر میں کبھی اقدار کا باغی نہیں ہوا۔ خاندان سے کبھی بغاوت نہیں کی۔ ذاتی طور پر خاندانی جبرکو بھی قبول کیا، بہت نقصان بھی اٹھایا مگر بڑوں کے احترام میں کوتاہی نہیں کی۔ خاندان کی سطح پر سوسائٹی میں پائے جانے والے ظلم کے خلاف نوجوان اور ناپختہ ذہنوں کو بغاوت کی راہ دکھلانا میرے نزدیک کسی طرح درست نہیں ہو سکتا۔ البتہ سوسائٹی کے لیے ہر طرح کے ظلم، جبر اور بے انصافی کے خلاف بغاوت لازم ہے۔ اس میں خاندان کا جبر پہلی ترجیح کے طور پر ہے ۔ اس بغاوت کی سربراہی اورقیادت پختہ ذہن، تجربہ کار، راسخ العقیدہ اور صاحب کردار لوگوں کو کرنا چاہیے۔ ایسی بغاوت ہر صورت خیر ہی خیر ہوگی۔ البتہ بغاوت میں سودا بازی اور مصلحت کی گنجائش کسی اجتہاد سے نکالی جا سکتی ہو تو پھر منفی قوتوں کے لیے راہ چھوڑ کر اپنا وقار بچا لینا بہتر ہو گا۔ 

توہین رسالت کے مسئلے پر ایک مراسلت

محمد عمار خان ناصر

(گزشتہ دنوں توہین رسالت کی سزا سے متعلق بعض اہل علم ودانش کے ساتھ مراسلت میں راقم کو اس کے بعض اہم پہلووں کی توضیح کا موقع ملا جسے نقد ونظر کے لیے یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)

(۱)
مکرمی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کے اٹھائے ہوئے سوالات کے حوالے سے میری گزارشات حسب ذیل ہیں:
۱۔ آپ کے پہلے نکتے کا حاصل میرے فہم کے مطابق یہ ہے کہ عہد رسالت میں مختلف افراد کو توہین رسالت کی جو سزا دی گئی، اس کی علت محض توہین نہیں بلکہ قبول حق سے انکار بھی تھا جس کی وجہ سے یہ لوگ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا براہ راست مخاطب ہونے کی وجہ سے، پہلے ہی سزاے موت کے مستحق تھے جبکہ ان کی طرف سے توہین وتنقیص کے رویے نے ان کے اس انجام کو مزید موکد کر دیا تھا۔ مجھے اس احتمال میں زیادہ وزن دکھائی نہیں دیتا۔ پیغمبر کے زمانے میں خود پیغمبر کے سامنے سرکشی اور عناد کا رویہ اختیار کرنا یقیناًمعاملے کو زیادہ سنگین بنا دیتا ہے، لیکن اصل جرم جس پر سزاے موت دی گئی، وہ ’محاربہ‘ اور ’فساد فی الارض‘ تھا اور اس کے لیے بیان کیا جانے والا ضابطہ تعزیرات پیغمبر کے ساتھ خاص نہیں بلکہ شریعت کا ایک عام قانون ہے۔ مسلمانوں کی ریاست میں اگر کوئی غیر مسلم ان کے پیغمبر یا مذہب کے بارے میں سرکشی کے انداز میں علانیہ توہین وتنقیص کا رویہ اختیار کرتا اور اس پر مصر رہتا ہے تو وہ یقینی طور پر محاربہ اور فساد فی الارض کا مرتکب ہے جس پر اسے نشان عبرت بنا دینا واضح طور پر آیت محاربہ کا تقاضا ہے۔
۲۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اس جرم پر سزا دینے کے لیے عدل وانصاف کے سارے تقاضے پورے ہونے چاہییں اور باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بغیر کوئی اقدام نہیں کیا جانا چاہیے تو یہ بات بالکل درست ہے اور میں اس پر الگ سے ایک تحریر لکھ رہا ہوں جو امید ہے کہ ان شاء اللہ جلد مکمل ہو جائے گی۔ اسی طرح سزاے موت کو لازم قرار دینے کے بجائے قانون میں متبادل سزاؤں کی گنجائش رکھے جانے پر بھی میں اپنا نقطہ نظر ’’حدود وتعزیرات‘‘ میں واضح کر چکا ہوں۔ میں اس باب میں احناف کے نقطہ نظر کو درست سمجھتا ہوں جو عام حالات میں اس جرم کو مستوجب قتل نہیں سمجھتے۔ واللہ اعلم

(۲)
برادرم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
امید ہے مزاج بخیر ہوں گے اور آپ دلچسپی سے تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہوں گے۔ 
توہین رسالت اور اس پر مواخذہ سے متعلق آپ نے جو سوالات لکھے ہیں، اپنے ناقص فہم کے مطابق ان کا جواب تحریر کر رہا ہوں۔
پہلے سوال سے متعلق عرض ہے کہ کسی قول یا عمل کا فی نفسہ خدا یا اس کے کسی پیغمبر یا کسی بھی برگزیدہ ہستی کی توہین وتنقیص پر مبنی یا اس کو مستلزم ہونا ایک بات ہے اور باقاعدہ توہین کی نیت سے اور خدا یا اس کے رسول یا کسی بھی معتبر شخصیت کے معتقدین کے جذبات کو مجروح کرنے کے ارادے سے ایسا کوئی فعل انجام دینا دوسری بات۔ دنیا میں مذہبی عقیدوں کا اختلاف بھی موجود ہے اور مذہبی شخصیات سے متعلق مختلف آرا رکھنے والے گروہ بھی پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ کے خیالات دوسرے گروہ کے عقیدے کے مطابق توہین وتنقیص کو بھی یقیناًمستلزم ہیں، چنانچہ سیدنا مسیح کو الوہیت کے منصب پر فائز کرنا مسلمانوں کے نزدیک خدا کی شان کے منافی اور اس کی تنقیص کو مستلزم ہے جبکہ سیدنا مسیح سے الوہی صفات کی نفی کر کے انھیں ایک عام انسان تصور کرنا مسیحیوں کے نزدیک سیدنا مسیح کی تنقیص شان کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں تصریح فرمائی ہے کہ وہ اس دنیا میں اس نوعیت کے مذہبی اختلافات کو ختم نہیں کرنا چاہتا اور اسی لیے اس نے شرک تک کے وجود کو گوارا فرمایا ہے۔ ہر گروہ کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ جس عقیدے کو درست سمجھتا ہے، اس کو بیان کرے اور جس عقیدے کو غلط سمجھتا ہے، اس کی تردید کرے اور ہر گروہ دوسرے گروہ کے حق کا احترام کرتے ہوئے اپنے ا س حق کو استعمال کرے، چنانچہ خود مسلمان معاشروں میں یہودی اور مسیحی علما اسلام، قرآن اور پیغمبر خدا پر ایسے اعتراضات کرتے رہے ہیں جس سے ان کے خیال میں ہمارے دین کا باطل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ علماے اسلام نے ایسے اعتراضات کو مذہبی آزادئ رائے کے تناظر میں دیکھتے ہوئے کبھی اس پر قدغن لگانے کی کوشش نہیں کی بلکہ استدلال کا جواب استدلال ہی کے میدان میں دیا ہے۔
جس چیز کو شریعت میں دنیوی قانون کے اعتبار سے قابل مواخذہ کہا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ اپنے عقیدے کی وضاحت اور مخالف عقیدے کی تردید کے لیے ناگزیر اسلوب بیان سے تجاوز کر کے ایسا طرز بیان اختیار کرے جس کا مقصد اصلاً تبلیغ نہیں بلکہ توہین وتنقیص ہو اور اس میں مخالف گروہ کو اپنا نقطہ نظر سمجھانے کے بجائے محض اس کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا مقصود ہو۔ شیعہ حضرات اگر خلفاے ثلاثہ کی خلافت کو مبنی برحق نہیں سمجھتے تو وہ اپنے اعتراضات علمی دلائل کے ساتھ بیان کر سکتے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہے ہیں اور علماے اہل سنت نے بھی ان کا یہ حق تبلیغ تسلیم کرتے ہوئے دلائل کا جواب دلائل ہی سے دیا ہے۔ اس کے برعکس ان کے واعظین اور ذاکرین جس لب ولہجے اور جس اسلوب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں، وہ تبلیغ کے دائرے میں نہیں بلکہ توہین کے دائرے میں آتا ہے اور قانونی طور پر سزا کا محل یہی دائرہ ہے۔ عہد صحابہ میں بھی جن غیر مسلم گروہوں سے مسلمانوں نے معاہدہ کیا، ان کے ساتھ یہی شرط طے کی گئی کہ وہ ’’مسلمانوں کے سامنے‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نامناسب انداز میں نہیں کریں گے۔ حاصل یہ کہ کسی ایک گروہ کے عقیدے کا دوسرے گروہ کے عقیدے کی رو سے توہین وتنقیص پر مبنی ہونا الگ مسئلہ ہے اور باقاعدہ توہین وتنقیص کی نیت اور ارادے سے ایسا طرز بیان اختیار کرنا جس سے دوسرے گروہ کے جذبات مجروح ہوں، ایک الگ بات ہے۔ ان دونوں باتوں میں فرق ملحوظ رکھا جائے تو میرے خیال میں وہ اشکال پیدا نہیں ہوتا جو آپ نے ذکر کیا ہے۔
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح عبد اللہ بن ابی پر بھی توہین رسالت کی سزا نافذ نہیں کی تو اس کی وجہ، جیسا کہ میں نے اپنی کتاب میں بھی واضح کیا ہے، یہ ہے کہ یہ سزا دراصل ایک تعزیری سزا ہے جس میں جرم کی نوعیت، اس کے اثرات، مجرم کی حیثیت اور اسے سزا دینے سے رونما ہونے والے ممکنہ سیاسی وسماجی اثرات، ان سب چیزوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی چیز کو ملحوظ رکھتے ہوئے بہت سے مجرموں کو نظر انداز کرنے یا ان سے درگزر کرنے کا طریقہ اختیار فرمایا جبکہ بہت سے لوگوں پر سزا نافذ کرنے کو قرین مصلحت دیکھتے ہوئے سزا نافذ فرما دی۔ یہ حکمت آج بھی ملحوظ رکھنی چاہیے۔ مجھے ان لوگوں کی رائے سے اتفاق نہیں ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کا نظم اجتماعی توہین رسالت کے ہر واقعے سے ایک ہی لگے بندھے قانونی طریقے سے نمٹنے کا پابند ہے اور یہ کہ اس معاملے میں اسلام اور مسلمانوں کی وسیع تر سیاسی اور دعوتی مصلحتیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ میرے نزدیک اس معاملے میں فقہاے احناف کا موقف ہی ان بہت سی الجھنوں کا قابل عمل حل پیش کرتا ہے جو آج امت مسلمہ کو درپیش ہیں۔ ہمارے ہاں بھی جنرل ضیاء الحق صاحب کے دور میں پارلیمنٹ سے منظور کیے جانے والے قانون میں اس جرم پر متبادل سزا کی گنجائش موجود تھی جسے بعد میں ختم کر کے متعین طور پر موت ہی کی سزا کو لازم کر دیا گیا۔ یہ ایک بڑی قانونی غلطی تھی اور جلد یا بدیر ہمیں نہ صرف قانون کی سطح پر احناف کے موقف کو وزن دینا ہوگا بلکہ عام سماجی سطح پر بھی لوگوں کو اس کی حکمت سے روشناس کرانا ہوگا۔ 
امید ہے کہ یہ گزارشات زیر بحث سوالات کے حوالے سے میرا مدعا واضح کرنے میں مدد دیں گی۔ بصورت دیگر آپ کی طرف سے مزید تنقیحی سوالات کو خوش آمدید کہوں گا۔ بے حد شکریہ!

(۳)
برادرم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ نے لکھا ہے کہ کسی شخصیت یا عقیدے کی توہین اور اس پر علمی وعقلی تنقید میں فرق کرنا بعض صورتوں میں عملی اعتبار سے پیچیدہ بن جاتا ہے۔ آپ کی بات درست ہے۔ اپنے عقیدے کی تبلیغ، مخالف عقیدے پر تنقید اور اس کی توہین، ان تینوں میں کچھ چیزیں یقیناًمشترک ہیں، لیکن اصولی طور پر یہ بات قابل فہم ہے کہ کچھ چیزیں ان کے مابین فارق بھی ہیں۔ چنانچہ کسی مخصوص فعل کے بارے میں یہ طے کرنے کے ضمن میں اختلاف کی گنجائش یقیناًرہے گی کہ وہ تنقید کے زمرے میں آتا ہے یا توہین کے۔ کسی بھی اخلاقی یا قانونی اصول کے عملی اطلاق میں ایسے اختلاف سے کسی طرح بچا نہیں جا سکتا۔ اسی وجہ سے فصل نزاع کے لیے ہر مہذب معاشرہ ایسے معاملات میں فریقین میں سے کسی کو ازخود قضیہ نمٹانے کی اجازت نہیں دیتا، بلکہ قانون اور عدالت کی صور ت میں (مفروضہ طور پر) ایک غیر جانب دار ثالث کی طرف رجوع کرنے کا پابند بناتا ہے۔ ضروری نہیں کہ عدالت کا فیصلہ بھی حقیقی طور پر انصاف پر مبنی ہو، تاہم اس دنیا میں اس سے ہٹ کر کوئی تدبیر اختیار کرنا ممکن نہیں اور شریعت یا کوئی بھی قانون دراصل انسانی عقل وتدبیر کی اس نارسائی کو پہلے دن سے مان کر آگے چلتا ہے۔
اسی طرح آپ کی یہ بات بھی درست ہے کہ بعض صورتوں میں ایک گروہ اپنے عقیدے کے لحاظ سے کسی ایسے اقدام کو بالکل جائز تصور کرتا ہے جو دوسرے گروہ کے نزدیک اس کے مذہب کی توہین شمار ہوتا ہو۔ اس ضمن میں محمود غزنوی کے بجائے زیادہ واضح مثال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اقدامات کی ہے جو آپ نے کعبہ میں موجود بتوں کو توڑ دینے اور جزیرۂ عرب میں ہر جگہ مشرکین کی عبادت گاہوں، بت خانوں اور استھانوں کو منہدم کرنے کے سلسلے میں فرمائے۔ اس صورت میں دراصل دو اخلاقی اصول باہم مزاحم ہوتے ہیں: ایک دوسرے مذہبی گروہوں کی آزادئ رائے کا احترام اور دوسرا حکم الٰہی کی تعمیل اور منشاے خداوندی کی تکمیل۔ کوئی بھی مذہبی گروہ جب کسی اخلاقی اصول کی پابندی قبول کرتا ہے تو محض دوسرے مذہبی گروہوں کے جذبات کی رعایت کی خاطر نہیں بلکہ بنیادی طور پر خود اپنی مذہبی تعلیمات کی روشنی میں قبول کرتا ہے، چنانچہ جہاں اس کی مذہبی تعلیمات اسے رواداری کا درس دیتی ہیں، وہاں وہ رواداری اختیار کرتا ہے اور جہاں وہ اس سے اس کے برعکس کوئی تقاضا کرتی ہیں، وہاں وہ اس تقاضے کو بجا لاتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی بھی بے گناہ انسان کی جان لینا خود شریعت کے حکم کی رو سے حرام ہے، لیکن اگر اللہ کا حکم ہو تو ابراہیم علیہ السلام اپنے معصوم بیٹے کی اور خضر علیہ السلام راہ چلتے ایک بے گناہ لڑکے کی جان لینے کے پابند ہو جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں مذہب کے دائرے میں تمام اخلاقی اصولوں میں برتر اصول (overriding principle) کی حیثیت صرف اطاعت کو حاصل ہے۔ ایسی صورت میں جو گروہ receiving end پر ہو، اسے اپنے عقیدے سے دیانت دارانہ وابستگی کا ثبوت دینے کے لیے اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ یہ دنیا اللہ نے آزمائش کے لیے بنائی ہے اور اپنی حکمت کے تحت اس میں اس نوعیت کے بہت سے تضادات رکھے ہیں۔ ہمارے لیے اسے اسی طرح قبول کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
آپ نے لکھا ہے کہ اگر توہین رسالت پر سزا حرابہ اور فساد فی الارض کے اصول کے تحت آتی ہے تو پھر اس میں معافی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ اس صورت میں یہ ’حد‘ ہوگی اور اس میں معافی نہیں ہو سکتی۔ میری رائے میں اول تو یہی بات درست نہیں کہ ’حد‘ میں تخفیف یا معافی نہیں ہو سکتی۔ میں اپنی کتاب ’’حدود وتعزیرات‘‘ کے ایک مستقل باب میں تفصیل سے واضح کر چکا ہوں کہ اگر کوئی معقول شرعی حکمت تخفیف یا معافی کا تقاضا کرتی ہو تو ایسا کیا جا سکتا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ ہدایت فرمائی کہ اگر مسلمانوں کا کوئی لشکر جنگ کے لیے نکلا ہو اور لشکر میں شامل کوئی آدمی چوری کر لے تو اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ فقہا نے اس کی وجہ ’مفسدہ‘ پیدا ہونے کا اندیشہ بیان کی ہے۔ ابن ابی کا مواخذہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وجہ سے نہیں کیا کہ ایک تو انصار کے ایک گروہ میں، جن کا وہ سردار تھا، اس سے منفی جذبات پیدا ہوں گے اور دوسرے، لوگوں کو یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ محمد اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ ویسے بھی آیت محاربہ کا اسلوب یہ بتاتا ہے کہ شارع یہاں سزا کے لیے حالات کے لحاظ سے مختلف صورتوں کے انتخاب کو قاضی یا حاکم کی صواب دید پر چھوڑنا چاہتا ہے۔ میرے نزدیک اسی اسلوب سے یہ گنجائش پیدا ہوتی ہے کہ ریاست کے خلاف سیاسی نوعیت کے جرائم کا مواخذہ کرتے ہوئے سیاسی ومعاشرتی مصلحتوں اور مواخذہ یا درگزر، دونوں کے نتائج واثرات کے تناسب کو ملحوظ رکھا جائے۔

(۴)
(بعض اہل دانش نے یہ نکتہ اٹھایا کہ بعض روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک واقعے میں توہین رسالت کے ایک عادی مجرم کو قتل کر دینے پر قاتل کو بری کر دیا، حالانکہ وہاں اپنے دفاع کے لیے نہ مقتول موجود تھا اور نہ الزام کی صحت پر کوئی گواہ، جبکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں کی جا سکتی۔ اس کے جواب میں یہ مختصر خط لکھا گیا۔)
مکرمی! وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
آپ کے تبصرے کی بابت عرض ہے کہ:
۱۔ کسی روایت پر اگر بنیادی استدلال کا مدار ہو تو اس کو یقیناًفنی صحت کے معیار کے مطابق ہونا چاہیے، لیکن تائیدی طور پر پیش کی جانے والی روایات کے لیے یہ ضروری نہیں۔
۲۔ یہ اشکال مذکورہ واقعے کی پوری تفصیلات کے روایت میں بیان نہ ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں عقلی وقیاسی طور پر یہ فرض کرنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لازماً انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ہی یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ روایت کے مجمل ہونے کی صورت میں اس کے خلا کو علمی وعقلی اصولوں کی روشنی میں بھرنا چاہیے، نہ کہ اسے بالکل ناقابل استدلال قرار دے دینا چاہیے۔

قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت

محمد یونس قاسمی

اس عنوان پر ماہنامہ الشریعہ کے مارچ کے شمارہ میں گرامی قدر حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب اور میرے مضامین شائع ہوچکے ہیں۔ حضرت راشدی صاحب کے جواب الجواب کو پڑھ کر کچھ باتیں مزید لکھی جارہی ہیں۔ 
بندہ نے اپنے مضمون میں جن چیزوں کو ذکر کے یہ واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ اہل تشیع اثنا عشری کی قومی وملی تحریکات میں شمولیت بلاجواز ہے، حضرت راشدی صاحب مدظلہ نے میرے پیش کیے گئے نکات پر بحث نہیں فرمائی بلکہ اپنے مؤقف کو مزید مضبوط کرنے کیلئے مزید حوالہ جات پیش فرمائے ہیں اور دور نبوی کی ایک مثال سے استدلال کرتے ہوئے شیعہ کے ساتھ معاشرتی تعلقات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔سب سے پہلے دور نبوی کی مذکورہ مثال کے متعلق وضاحت ضروری سمجھتا ہوں ۔دور نبوی میں منافق کفار کے ساتھ نص قطعی سے کافر ثابت ہوجانے کے بعدبھی معاشرتی تعلقات برقرار رہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں، مگر بات صرف یہیں تک نہیں ہے بلکہ اس کے بعد نص قطعی سے ان منافق کفار کے ساتھ ترک مراسم کا حکم بھی نازل ہوا تھا اور سابقہ احکام منسوخ قرار پائے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ترک تعلقات کے احکام نازل ہوجانے کے بعد جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کفار کو اخرج فانک منافق  کہہ کر مسجد نبوی اور اپنی مبارک ومطہر مجالس سے نکال باہر کیا تھا۔ مجھے تو یہ بڑی حیرت ہورہی ہے کہ حضرت راشدی صاحب مدظلہ جیسی شخصیت بھی منسوخ آیت سے استدلال کررہی ہے۔ حضرت والا! اگر ان آیات سے استدلال درست ہوتا تو پھر بحکم ربانی ان آیات کے منسوخ ہوجانے کاکیا فائدہ؟ میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ اگر اس پوری مثال کو ہم سامنے رکھیں تو صورت حال یہ بنتی ہے کہ دور نبوی میں جب منافقین کے متعلق کفر کا حکم نازل ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان منافقین کو محض کافر سمجھا، پھر جب ترک مراسم کاحکم نازل ہوا تو ان منافق کفار کو اپنی مجالس، مساجد اور مدارس سے نکال باہر کیا۔ ہم بھی یہ استدلال کرسکتے ہیں کہ اہل تشیع اثناعشری جو کہ منافقین مدینہ کے روپ میںآج موجود ہیں، ان کے متعلق بھی پہلے محض کفر کافتویٰ آیا، پھر جب ان کے عقائد مزید واضح ہوئے توکفر کی خاص قسم ارتداد وزندقہ کافتویٰ آیا جس کے معنی دوسرے لفظوں میں ترک تعلقات ہی تھے۔ پھر ان پر حضرات نے مزید تحقیق کی تو ان سے کھلم کھلا اعلان برأت کرنے اور ہر طرح کے تعلقات توڑنے اور انہیں اپنے سے دور کرنے کا فتویٰ آیا۔ لہٰذا جیسے ہم نے ان پر کفر کا فتویٰ مان کر انہیں کافر قرار دیا، بعد میں آنے والے فتاویٰ جات کو بھی مانتے ہوئے ان سے ترک تعلقات کرنے چاہییں۔دور نبوی کی مثال بھی ہمیں یہی درس دیتی ہے۔
جہاں تک تعلق ہے اس بات کا کہ یہ مختلف تحاریک میں شامل رہے ہیں تو اس کا جواب بھی یہی ہے کہ ان کے متعلق پہلے محض کافر ہونے کا فتویٰ تھا، اس لیے ان کے ساتھ عام کفار جیسا برتاؤ کیا جاتا رہا۔ پھر ہمارے بعض اکابر نے ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ان پر تحقیق کی۔ مجھے اس سلسلہ کی سب سے پہلی تحقیق ۱۳۴۸ھ میں علامہ عبد الشکور لکھنوی فاروقیؒ کی نظر آتی ہے۔ حضرت لکھنویؒ نے اپنی تحقیق کو ان الفاظ کے ساتھ اہل علم کی خدمت میں پیش کیا: ’’اہل سنت والجماعت بوجہ ناواقفیت کے شیعوں کومسلمان سمجھ کران کے ساتھ مناکحت تک سے پرہیز نہیں کرتے، بالآخر جس کے تلخ ترین نتائج سوہان روح ہوتے ہیں، یہاں تک کہ بعض مسلمان شیعوں کو مسلمان سمجھ کر ان کا ذبیحہ بھی استعمال کر لیتے ہیں۔‘‘ پھر اپنے فتویٰ میں رقم طراز ہیں: ’’شیعوں سے مناکحت ناجائز اور ان کا ذبیحہ حرام اور ان کا چندہ ناجائز اور ان کا جنازہ پڑھنا یا ان کو اپنے جنازوں میں شریک کرنا شرعاً قطعاً ناجائز ہے۔ سنی جنازہ میں یہ لوگ میت کے لیے بددعا کرتے ہیں، کمافی کتبہم‘‘ (بحوالہ۔شیعہ اثنا عشریہ کے کفرو ارتداد کے متعلق علماء کرام کا متفقہ فتویٰ، صفحہ ۳)
حضرت لکھنویؒ نے اپنے اس فتویٰ کو اکابر دارالعلوم دیوبند کی خدمت میں پیش کیاتاکہ وہ حضرات اس کی تائید اور تصدیق فرماسکیں۔ حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی ؒ کے خلیفہ اجل ،رئیس المناظرین ،دارالعلوم دیوبند کے شعبہ تعلیمات کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد مرتضی حسن چاند پوریؒ اسی فتویٰ پر اپنے تائیدی وتصدیقی دستخط ثبت فرمانے سے پہلے یہ الفاظ تحریر فرماتے ہیں: ’’روافض صرف مرتد ،کافر اور خارج ازاسلام ہی نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن بھی اس درجہ کے ہیں کہ دوسرے فرق کم نکلیں گے۔ مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے جمیع مراسم اسلامیہ ترک کرنا چاہییں۔‘‘ اکابر دارالعلوم دیوبند میں سے جن حضرات نے اس فتویٰ کی تصدیق وتائید کی، ان میں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ ، صدر مدرس دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانیؒ ، مدرس دارالعلوم دیوبند شامل ہیں۔ (بحوالہ شیعہ اثنا عشریہ کے کفرو ارتداد کے متعلق علماء کرام کا متفقہ فتویٰ،صفحہ۶،۷)
۱۳۴۸ھ کا یہ فتویٰ شاید میرے مخدوم محترم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ کی نظروں سے نہیں گزرا، کیونکہ اگر حضرت نے اس فتویٰ کو ملاحظہ فرمایا ہوتا تو یقینااپنی صفوں میں اس گروہ باطل کی شمولیت کو جواز فراہم کرنے کے لیے مضمون نہ لکھتے بلکہ ان کے خلاف نبرد آزماشخصیات کے دست وبازوبنتے۔اس فتویٰ کے اندر دارالعلوم دیوبند کے نائب مفتی،فقیہ امت حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے جانشین وفرزند ارجمندحضرت مولانا مفتی مسعود احمدؒ کی تحریر’’شیعہ اثنا عشریہ کے کفرو ارتداد کے متعلق علماء کرام کا متفقہ فتویٰ‘‘ کے صفحہ نمبر۸،۹ پر انتہائی قابل دید ہے جسے میں یہاں ذکر نہیں کررہا کیونکہ میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ موجودہ دور کے اکابر علماء امت کے سامنے اس انداز میں بحث وتکرار کر سکوں، البتہ اس کی ایک کاپی حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ کی خدمت میں ارسال کررہا ہوں تاکہ اگر یہ بات ان کے علم میں نہیں ہے تو وہ ملاحظہ فرمالیں اور دیگر حضرات میں سے جس کسی نے ملاحظہ کرنی ہو، وہ حضرت راشدی صاحب سے رابطہ کرلیں۔
اہل تشیع اثنا عشریہ سے ترک تعلقات کے متعلق دوسرا فتویٰ موجودہ دور کے اکابر علماء امت کا ہے جس کاتذکرہ ماہنامہ الشریعہ کے گذشتہ شمارے میں شائع ہونے والے میرے مضمون میں ہوچکا ہے۔ابھی حال ہی میں محقق اہل سنت علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ کی اس تحقیق و فتویٰ کی تصدیق دارالعلوم دیوبند کے موجودہ رئیس الافتاء حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمن خیر آبادی مدظلہ اور دیگر مفتیان عظام نے بھی کردی ہے۔حضرت مفتی حبیب الرحمن خیر آبادی نے اس فتویٰ پر جو الفاظ تحریر فرمائے ہیں، وہ کچھ یوں ہیں’’تصدیق کی جاتی ہے کہ مذکورہ جواب بالکل صحیح ہے۔شیعہ کے جو عقائد ان کی کتابوں میں ملتے ہیں، وہ اپنے عقائد باطلہ کی بنیاد پر کافر ومرتد ہیں۔ان سے مذکورہ بالا تعلقات اور مراسم اسلامیہ رکھنا جائز نہیں۔‘‘
آخر میں محسن اہل سنت ،حضرت مولانا محمد منظور احمد نعمانیؒ کے ایک خط کا چھوٹا ساپیرا گراف بھی شامل کررہا ہوں جو انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے نام لکھا تھا۔ اس خط کو شامل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنے اکابر کی شدت جذبات کا احساس ہو اور یہ اندازہ ہوکہ خود ہم اکابر پر کتنا اعتماد کررہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم دانستہ یا نادانستہ اپنے اکابرامت کے فیصلوں کا مذاق اڑارہے ہیں۔ 
’’پاکستان میں کے بعض قابل اعتماد حضرات نے مجھے لکھا ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ارکان میں بعض معروف شیعہ علماء ومجتہدین ہیں اور وہ برابر جلسوں میں شریک ہوتے ہیں اور اسی حیثیت سے ان کے نام شائع ہوتے ہیں،یہ ان کے مسلمان بلکہ خواص مسلمین اور محافظین اسلام ہونے کا ثبوت ہے۔ نہ صرف خدا کرے یہ اطلاع غلط ہولیکن اگر خدانخواستہ یہ اطلاع صحیح ہے تو میں آپ سے اور آپ کے ذریعے مجلس تحفظ ختم نبوت کے حضرت صدر اور دیگر مسلمان اراکین سے عرض کروں گا کہ جلد سے جلد اس غلطی کی اصلاح فرمائی جائے۔ موجودہ صورتحال میں عام مسلمانوں کو یہ بتلانا ہمارا فرض ہے کہ اثنا عشری مذہب اسلام کی شاخ نہیں ہے بلکہ ایک متوازی دین ہے جس کی بنیاد اسلام کی تخریب ہی کے لیے رکھی گئی ہے۔’’الفرقان ‘‘کے مئی، جون، جولائی اور اگست۸۵ء کے شماروں میں، میں نے اس سلسلہ میں جولکھا ہے، وہ نظروں سے نہ گزرا ہوتو ضرور ملاحظہ فرمالیا جائے۔میرے اس عریضہ کی نقل یا فوٹو کاپی کراکر مجلس تحفظ ختم نبوت کے حضرت صدر محترم کو بھیج دی جائے اور جناب سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ کو خود جناب اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سے یہ کام بہتر طریقے سے لے لے،اور اس سلسلے کی کاوش وجدوجہد کو آپ اپنے قرب ورضا کا وسیلہ بنائے۔‘‘ (بحوالہ،ماہنامہ بینات جمادی الاولیٰ۱۴۱۸ھ)
میں نے اپنے گذشتہ مضمون میں بھی یہ عرض کیا تھا کہ حضرات اکابر علماء کرام کو مل بیٹھ کر اہل تشیع اثناعشری کی قومی وملی تحریکات میں شمولیت کے متعلق علمی بحث ومباحثہ کے بعد متفقہ لائحہ عمل اور ضابطہ اخلاق تیا ر کرنا چاہیے،تاکہ اس عنوان پر جن لوگوں کے تحفظات ہیں، وہ دور ہوسکیں اور ہماری تمام تحریکات مکمل یکسوئی اور اتحاد واتفاق کے ساتھ اپنی جدوجہد میں مصروف رہیں ،یوں ہم نتائج بھی بہترین حاصل کرسکتے ہیں۔اللہ رب العزت ہم سب کو دین حق اسلام کا سچا سپاہی بنائے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
محترم جناب مولانا محمد عمار صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مزاجِ گرامی
کل ہی الشریعۃ کا ڈاکٹر محمود احمد غازی نمبر اور آپ کا رسالہ مسئلہ توہین رسالت موصول ہوئے۔ توقع نہیں تھی کہ اتنے مختصر وقت میں اتنی ضخامت کا نمبر تیار ہوسکے گا۔ غازی صاحب رحمہ اللہ پر خصوصی نمبر شائع کرنے میں شرفِ سبقت غالباً آپ ہی کو حاصل ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اس کاوش کو مقبول اور نافع بنائیں۔ آمین۔ الحمد للہ ڈاکٹر کی حیات وخدمات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑگئی ہے۔ میری نظر میں غازی صاحب جیسی شخصیات کے کردار کا پہلو نمایاں کرنا ان کی علمی خدمات سے بھی زیادہ اہم ہے۔ ایک تو اس لیے کہ کسی کے علمی کام پر کوئی بھی کسی بھی وقت کام کرسکتا ہے ، جبکہ کسی کے کردار وعمل پر چند لوگ ہی روشنی ڈال سکتے ہوتے ہیں۔ دوسرے اس لیے کہ آج کے دور میں میرے جیسے بے عمل لوگ جن پر کچھ لفظ جاننے کی تہمت لگی ہوئی ہو، ان کو اس طرح کے نمونوں کی غالباً زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
توہین رسالت کے مسئلے آپ کی تحریر جب ای میل کے ذریعے موصول ہوئی تھی، اس وقت اس کا سرسری مطالعہ کیا تھا، اب مطبوعہ کتابچے میں غالباً اس پر کافی اضافات ہیں۔ آپ نے جس موضوع پر قلم اٹھایا ہے، اس پر لکھنے کی بہر حال ضرورت تھی، اس لیے کہ بہت سے ایسے پہلوؤں کو اجماعی اور ناقابل بحث بناکر پیش کیا جارہاہے جو نہ صرف مختلف فیہ ہیں بلکہ فقہ حنفی کے بھی معروف نقطہ نظر سے مختلف ہے۔ اس حقیقت کو وہ لوگ بھی نظر انداز کررہے ہیں جن کے دن رات در مختار اور شامی کے ساتھ گذرتے ہیں۔ ایک ہی نقطہ نظر کو اس شد و مد کے ساتھ بیان کیا جارہاہے کہ بادی النظر میں یہ محسوس ہوتاہے کہ فقہ حنفی نے اس مسئلے میں اس ایمانی حمیت کا ثبوت نہیں دیا جو ضروری تھی، جبکہ مجموعی طور پر حنفی نقطہ نظر بھی دلیل کے اعتبار سے کمزور نہیں ہے۔ اس لیے اس موضوع پر مفصل کام کی ضرورت کا عرصے سے احساس ہو رہا تھا۔ آپ کی اس تحریر سے کافی حد تک یہ ضرورت پوری ہوگئی ہے۔ بعض جگہ اندازِ استدلال یا کسی خاص دلیل سے اختلاف تو ہوسکتاہے، لیکن مجموعی طور پر آپ کے نتائجِ بحث درست معلوم ہوتے ہیں۔ آپ نے علامہ ابن تیمیہ یا جمہور کے دلائل کے حوالے سے اس پہلو کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کے زیادہ تر مستدلات فعلی یا تقریری احادیث ہیں، قولی اور تشریع عام کی حیثیت رکھنے والی حدیثیں نہیں ہیں۔ اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول، فعل، تقریر حجت ہے، لیکن ان سے استدلال کے انداز میں ہمیشہ فقہا نے فرق کیاہے۔ میرے خیال یہ نکتہ اگر زیادہ تفصیل سے آجاتا تو شاید مناسب ہوتا۔
تعزیر اور سیاست کے پہلو پر بات کرتے ہوئے آپ نے عموماً قاضی کے اختیارات کا تذکرہ کیا ہے۔ بظاہر جرم کی نوعیت اور مجرم وجرم کے حالات کا بہتر فیصلہ قاضی ہی کرسکتاہے، لیکن مجھے یاد پڑتا ہے کہ علامہ شامی نے ’’تنبیہ الولاۃ والحکام‘‘ میں یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس میں فیصلہ کرنے کا اصل اختیار قاضی کی بجائے امام کو حاصل ہے۔ اس سے اس معاملے میں عدلیہ کے علاوہ دیگر ریاستی اداروں کے کردار کی نشان دہی ہوتی ہے۔
اللہ کرے، آپ کی اس کاوش سے یہ بحث علمی انداز سے آگے بڑھے اور کوئی ایشو کھڑا ہونے کی بجائے اہل علم دلائل کے ساتھ اپنا نقطہ نظر پیش کریں اور اس سے مسئلہ منقح ہونے اور موجودہ حالات میں درست لائحہ عمل طے کرنے میں مدد ملے۔ 
(مولانا مفتی) محمد زاہد
جامعہ اسلامیہ امدادیہ، فیصل آباد

(۲)
محترم مولانا عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
دلیل جب تک عقل و نظر کی میزان میں نہ تولی جائے، اس وقت تک اس کی قیمت صاحب دلیل کے ہاں تو مسلم ہو سکتی ہے،علم و تحقیق کی دنیا میں اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی ۔ الحمد للہ الشریعہ ایک اچھا پلیٹ فارم ہے جو کسی تعصب کے بغیر ہر صاحب دلیل کو میزان فراہم کرتا ہے کہ وہ دوسرے نقطۂ نظر اور اس کی دلیل وتنقید کی روشنی میں اپنی دلیل کی قیمت کو جانچ سکے ۔اللہ آپ کو حق و صداقت کی دعوت پر استقامت نصیب فرمائے۔
الشریعہ کے ۲۰۱۰ء کے جنوری،فروری اور مارچ کے شماروں میں’ اسلامی بنکاری :غلط سوال کا غلط جواب ‘کے عنوان سے جناب زاہد صدیق مغل صاحب نے اپنی کچھ معروضات پیش کی تھیں جس کے بعد مئی،جون اور اگست کے شماروں میں مفتی محمد زاہد صاحب نے ’بلاسود بنکاری کا تنقیدی جائزہ(منہج بحث اور زاویہ نگاہ کا مسئلہ ) ‘کے عنوان سے اپنی معروضات پیش کیں جو کہ اصل میں زاہد صدیق صاحب کے اعتراضات کا جواب ہی تھا۔ مغل صاحب نے دوبارہ قلم اٹھایا اور’ اسلامی بنکاری :زاویہ نگاہ کی بحث‘کے عنوان سے مفتی زاہد صاحب کے مضمون پر جون،اگست اور ستمبر کے شماروں میں تفصیلی نقد لکھا۔ امید تھی کہ مفتی صاحب اس پر مزید لکھیں گے کیونکہ مغل صاحب کے مضمون میں کچھ باتیں ایسی تھیں جن کے بارے میں میرا جیسا طالب علم بھی سر سری نگاہ ڈال کر سمجھ جاتا ہے کہ ان میں یا تو واضح طور پر خلطِ مبحث سے کام لیا گیا ہے یا غیر متعلقہ مباحث پر قرطاس وروشنائی کو صرف کیا گیا ہے یا کم از یہ ان باتوں پر مزید لکھا جائے گا۔ لیکن مفتی صاحب کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا جو کہ کسی مصلحت کی بنا پرہی ہوگا،کیونکہ الشریعہ میں چھپنے والے بعض خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ بات بنکاری سے ذاتیات پر اترتی جا رہی ہے اور یہی بات قرین قیاس لگتی ہے۔
اٹھائے گئے ایشوز پر تفصیلی طور پرتو بلا سود بنکاری سے وابستہ کار ہی لکھ سکتے ہیں، لیکن کم علمی کے باوجود دو تین باتوں کی طرف متوجہ کرنے کے لیے یہ عریضہ لکھ رہا ہوں۔
پروفیسر زاہد صدیق مغل صاحب نے اپنے مضمون’ اسلامی بنکاری :زاویۃ نگاہ کی بحث‘ اگست کے شمارہ میں یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ بلا سود بنکاری کے مجوزین کا مفروضہ (کہ یہ عوام کی ناگزیر ضروت ہے) ہی محل نظر ہے اور اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے سٹیٹ بنک آف پاکستان کی سالانہ رپوٹ کی مدد سے ایک ٹیبل بنا کر یہ تخمینہ پیش کیا ہے کہ آبادی کے تناسب سے 13.7% لوگ اس نظام سے وابستہ ہیں اور پھر مختلف کمپنیوں پراجیکٹس اور ایسے اکاؤنٹ جو بوجہ ضرورت کھلوائے جاتے ہیں، ان کو نکال کر8%تک تسلیم کیا ہے اور اس کو قلیل کہتے ہوئے طنز کے انداز میں لکھتے ہیں کہ ’’سوال یہ ہے کہ کیا آبادی کے اسقدر قلیل افراد کے عمل کو’عوام کی نا گزیر ضرورت‘ قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا پاکستان کی نوے فی صد سے زیادہ وہ اکثریت جو بنکوں،اسٹاک ایکسچینج اور بیمہ کمپنیوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتی زندگی کی نعمت سے محروم ہو چکی ہے؟آخر آبادی کا یہ اکثریتی حصہ بنکوں کے بغیر اپنا معاش کیسے چلا رہی ہے؟آخر اسلامی بنکاروں کو آبادی کی اس قدر ’محدود اقلیت‘کے مسائل(جن کی نوعیت بھی ذیل میں آرہی ہے)حل کرنے کی اتنی فکر کیوں لاحق ہو چلی ہے؟سارے اجتہادات و توجہ کا محورو مرکزیہی محدود اقلیت کیوں ہے‘‘۔ مزید لکھتے ہیں کہ ’’یہ عجیب منطق ہے کہ دس فیصد عوام کو بنکاری سے بچانے کے بجائے اسلامی کا لیبل چسپاں کر کے نوے فیصد کو اس میں شامل ہونے کے لیے اداراتی صف بندی فراہم کر دی جائے،فیاللعجب‘‘
اول تو مفتی زاہد صاحب کے مضمون میں کم ازکم مجھے یہ بات کہیں نہیں ملی کہ اسلامی بنکاری اس لیے جائز ہے کہ بنکاری ایک ناگزیر ضرورت بن گئی ہے۔ مغل صاحب نے خود ایک نظریۂ ضرورت ایجاد کرکے اس کی تردید شروع کردی ہے۔ مفتی صاحب نے پہلی قسط میں بڑی وضاحت سے غیر سودی بنکاری کا پس منظر بیان کیا ہے، اسے دوبارہ ملاحظہ فرمانے کی ضرورت ہے ۔ مفتی صاحب کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ غیر سودی بینکاری سودی بنکاری کے خلاف علما کی جد وجہد کا ایک فیز ہے اور ان علما کو اس پر اس لیے غور کرنا پڑا کہ دین دار عبادت گذار لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی تھی جو سود کی وعیدیں سنانے کے باوجود اسے چھوڑ نہیں رہے تھے ۔ اب ان کی خاطر سود کو تو حلال نہیں کہا جاسکتا تھا، البتہ چند مباح عقود کی طرف ان کی راہ نمائی کی جاسکتی تھی ۔
اس بات سے قطع نظر بھی کرلیا جائے تو کیاجناب مغل صاحب سے یہ پوچھنے کی جسارت کی جاسکتی ہے کہ کیا پاکستان جیسے غریب ملک میں ہر آدمی خود کفیل ہے یا ایک آدمی کئی کئی افراد کا بوجھ برداشت کر رہا ہے۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی لیبر فورس55.77ملین ہے جس کو آبادی پر تقسیم کیا جائے تو ہر ایک صاحب روزگار ایک نہیں بلکہ اوسطاً تقریباً 3.5آدمیوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ ان میں کتنے بچے ہیں جو اپنی ماں باپ کی انگلی کے سہارے پل رہے ہوتے ہیں، کتنی بیوائیں ہیں جو اپنے بھائیوں کے سہارے جی رہی ہوتی ہیں،اور کتنے بوڑھے ماں باپ ہیں جو اپنی اولاد کے رحم و کرم پر زندگی کے دن پورے کر رہے ہوتے ہیں ۔ تو کیامغل صاحب کے اعدادو شمار کے مطابق 10% تعداد خود بخود35% نہیں بن جاتی؟ اس کو قلیل کہیں گے یا کثیر؟ حاصل یہ کہ بنکوں میں افراد کے کھاتوں کی تعداد کو ان کے زیرِ کفالت افراد کے ساتھ ضرب دے کر پھر کل آبادی میں سے اس کا تناسب نکالنا چاہیے۔ پھر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ دن بدن عام آدمی کا بھی بنک کی طرف رجحان بڑھ رہاہے۔ میرا اپنا تعلق دیہاتی پس منظر سے ہے ، مجھے معلوم ہے کہ عام دیہاتی جو بنک کے قریب سے گذرتا ہوا بھی ڈرتاتھا، اب وہ بھی اکاؤنٹ کھلوانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آنے والے وقت میں یہ تناسب بڑھے گا۔ اس لیے مغل صاحب کے استدلال کو اسی طرح لے بھی لیا جائے جس طرح وہ اسے پیش کررہے ہیں، تب بھی اس استدلال کی عمر اتنی زیادہ نہیں ہوگی۔ 
مغل صاحب نے ’’الضرورات تبیح المحظورات‘‘ پر کافی صفحات لکھے ہیں، حالانکہ مفتی صاحب نے کہیں اس اصول کو بنیاد ہی نہیں بنایا۔ پھر بھی مان لیا جائے کہ مجوزین کا استدلال اس مقدمے پر مبنی ہے تو یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ یہ اصول کہاں سے اخذ کرلیا کہ اس اصول کے اطلاق کے لیے کم از کم اتنے فیصد آبادی کا اس کے دائرے میں آنا ضروری ہے۔ اگر مغل صاحب کے بقول 8% کا تناسب ہی لے لیا جائے تو یہ بھی کروڑوں کی تعداد بنتی ہے ، کیا اتنے لوگوں کی ضرورت کے بارے میں شرعی دائرے میں سوچنا گناہ ہے؟ آج سنگین بیماریوں کے علاج کی بعض صورتیں فقہا کے زیرِ غور ہیں، بعض میں جواز وعدمِ جواز میں اختلاف بھی پایا جاتاہے۔سوال یہ ہے کہ ان بیماریوں میں مبتلا افراد کا تناسب کتنا ہے؟ کیا جب تک ان بیماریوں میں مبتلا افراد کا تناسب مغل صاحب کے معیار تک نہیں پہنچتا، تب تک ایسے کسی مسئلے پر غور اور بحث کو روک دینا چاہیے؟ حاصل یہ کہ اول تو یہاں الضرورات تبیح المحظورات کا کم ازکم مفتی زاہد صاحب کے استدلال میں کوئی حوالہ نہیں، اور اگر ہو بھی تو ضرورت کا تحقق ایک آدمی کے حق میں بھی ہے اوراس پر یہ اصول لاگو ہوگا۔
مفتی صاحب نے جناب مغل صاحب کو کل اور جز کا فلسفہ ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ ہما را اتعلیمی نظام باطل کا ایجنڈا پورا کر رہا ہے اور اس کی بنیادیں ہی غلط ہیں، لیکن اگر کوئی اس نظام تعلیم کا حصہ ہے تو ہم اس پر کوئی فتویٰ نہیں لگا سکتے جس کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ کل اور جز کی بحث کو خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے جواب میں اگست کے شمارے میں اس مثال کو ’منطقی تضاد پر مبنی الزامی‘ کہتے ہوئے جناب مغل صاحب نے کچھ سوال اٹھائے ہیں جن میں بنیادی باتیں دو ہیں۔ پہلی ’’یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ آخر ایک غلط عمل کسی دوسرے غلط عمل کی دلیل کس طرح بن سکتا ہے؟ (منطق میں اسے Fallacy of two wrongs make a rightکہتے ہیں)۔ پہلی بات یہ کہ راقم الحروف کے کسی جدید تعلیمی درسگاہ کا حصہ ہونے سے یہ کہاں ثابت ہواکہ وہ نظام تعلیم درست ہے؟‘‘ میں مغل صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب مفتی صاحب خود اس کو غلط نہیں سمجھتے جیسا ان کے مضمون سے واضح بھی ہے کہ وہ اس کو غلط کہنے میں تردد کا اظہار کر رہے ہیں تو ان پر الزامی دلیل کیسے قائم کی جا سکتی ہے کہ’ ’زاہد صدیق کے غلط ہوجانے سے غلط نظام درست ہے‘‘۔ دوسری ’’کیا دعویٰ کرنے والے کے قول و فعل کے تضاد سے اس کے دعوے کی منطقی تردید لازم آتی ہے؟ (منطق میں اسے Fallacy of look who is talkingکہتے ہیں)۔ سگریٹ کو برا کہنے والا اگر خود اس کے کش لگائے تو اس سے سگریٹ کے نقصانات غلط ثابت نہیں ہو جاتے۔‘‘ یعنی مغل صاحب خود اس نظام تعلیم کو برا سمجھتے ہیں جیسا کہ انہوں نے فرمایا: ’’راقم الحروف موجودہ نظام تعلیم کو سرمایہ دارانہ شخصیت کی تعمیر و تشکیل کا نظام سمجھتا ہے اور اپنے طلبہ کو بھی حد الامکان اس کی بنیادی حقیقت اور موجودہ تعلیمی نظام(خصوصا علم معاشیات) کے تضادات سے آگاہی دینے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘ مغل صاحب اپنی غلطی کو عملی غلطی سے تعبیر کرتے ہیں اور اسلامی بنکاروں کا فکر وعمل دونوں ہی غلط بتاتے ہیں: ’’راقم کا مؤقف یہ ہے کہ مجوزین اسلامی بنکاری کی فکر اور عمل دونوں ہی غلط ہیں۔راقم کے غلط عمل کی بنیاد پرمجوزین اپنی غلط فکر کو درست ثابت نہیں کر سکتے‘‘۔ میں اپنی کوئی رائے قائم نہیں کرنا چاہتا بلکہ جناب مغل صاحب سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ جیسا دین و دنیا کا عالم جس کے قول و فعل میں تضاد ہے کہ وہ ایک نظام کے ناقد ہوتے ہوئے بھی اس کے منافع سمیٹ رہاہے توعوام کا کیا حال ہوگا جو بحیثیت امت 90%تو نماز چھوڑے ہوئے ہیں اور بنکوں کے سود کو سود ماننے پر بھی تیار نہیں ہیں اگر۔ مانتے بھی ہیں تو ضرورت کے درجہ میں چھوڑ بھی نہیں سکتے تو آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ اس صورت حال میں امام غزالی کا فلسفہ زہدو قناعت کہاں تک اثر کرے یگاجو بظاہر اس فلسفہ کے علمبرداروں کی زندگی میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ پھر جس نظام سے منافع سمیٹے جا رہے ہوں، اس پر نقد کرتے ہوئے آواز کلاس روم کی چار دیواری سے بھی بلند نہ ہو اور جس نظام سے مفاد وابستہ نہ ہو، اس پر نقد کرتے ہوئے کئی کئی اوراق سیاہ کر دیے جائیں۔ ہم جناب مغل صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ موجودہ نظام تعلیم پر جس کا وہ خود حصہ ہیں، کھل کر لکھیں اور اس کی شرعی صورتحال بھی واضح کریں اور پوری شد ومد کے ساتھ بتائیں کہ اس نظام کا کسی بھی طرح حصہ بننا ناجائز ہے۔ جس طرح انہوں نے خود اپنے عمل کی غلطی کو تسلیم کیا ہے، اسی طرح دوسروں کو بھی اس غلطی سے آگاہ فرمائیں، کیونکہ تعلیمی اداروں میں بہت سے اساتذہ اس نظام کو غلط سمجھتے ہوئے ہی اس کا آلہ کار بنے ہوئے ہوں گے، تاکہ ان پر واضح ہو جائے۔ یہ بھی بتائیں کہ کسی کام کو غلط سمجھ کر کرنے والے میں اور غلط کو صحیح سمجھ کر کرنے والے میں بڑا مجرم کون ہے، جب کہ غلط کو صحیح سمجھنے والے کی خطا بھی اجتہادی نوعیت کی ہوکیونکہ اگر بلا سود بنکاری کے مجوزین کی خطا کو جناب مغل صاحب اجتہادی نہ مانیں تو ان کو نیت پر بھی شک کرنے کا کوئی اختیارنہیں ہے۔
جناب مغل بہت شد ومد کے ساتھ یہ فرمارہے ہیں کہ بینک اتنی بڑی برائی ہے کہ اس کو پوری دنیا کے علما اور مسلمان ماہرین مل کر کبھی اسلام کے مطابق نہیں بناسکتے، اس لیے ہمیں توقع ہے کہ جناب مغل صاحب کا خود کسی بھی بنک سے کوئی رابطہ نہیں ہوگا اور وہ یونیورسٹی سے تنخواہ بھی بنک کی بجائے دستی وصول کر کے اسے گھر میں ہی رکھتے ہوں گے ، اس لیے کہ کسی نظریۂ ضرورت کے عنوان سے وہ ’’ فِٹ اِن‘‘ ہونے کے قائل نہیں ہیں، بلکہ مغل صاحب نے تو موجودہ کرنسی کو بھی جعلی رسید ہونے کی بنا پر برائی قرار دیا ہے تو میرے جیسا طالب علم یہ پوچھنا چاہے گا کہ وہ بازار میں کون سا سکہ لے کر جاتے ہیں؟ میرے خیال میں تو انہیں یہ پیش کش قبول کرلینی چاہیے کہ وہ ایک ماڈرن یونیورسٹی میں تعلیم دینے کی بجائے کسی دور افتاد گاؤں کے مکتب میں خدمات انجام دیں، اس لیے کہ آج بھی بعض دیہاتوں میں اناج کے ذریعے خرید وفروخت ہوتی ہے اور مولوی صاحب کا حق الخدمت بھی اناج کی شکل میں ہوتاہے۔ اسی کے عوض وہ گاؤں کی’ ہٹی‘ سے اشیا ضرورت خریدتاہے۔کیا مغل صاحب کے نقطۂ نظر سے یہ زیادہ آئیڈیل صورتِ حال نہیں ہے؟ ہمارا مقصد خدانخواستہ کوئی طنز و تعریض کرنا نہیں ہے ، بات یہ ہے جناب پروفیسر صاحب اپنے سے اختلاف رکھنے والوں پر جس انداز کی تنقید کرتے ہیں، اس سے ایک سیدھے سادے قاری کے ذہن میں یہ سوالات خود بخود پیدا ہوتے ہیں۔
اسلامی بنکاری کے بارے میں کسی کو مانعین کے نقطۂ نظر سے اتفاق ہو توبھی جواز کو اہلِ علم کی ایک علمی رائے تو تسلیم کرنا پڑے گا، اس لیے بہر حال یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے۔ اس قسم کے مسئلے کو اسلامی قحبہ خانوں والی مثال پر قیاس کرنا کس حد تک درست ہے؟ ایسی اخلاقیات سے گری ہوئی مثالوں سے کسی جاہل کو چپ تو کروایا جا سکتا ہے، لیکن جب اس طرح کی مثال علمی حلقوں میں اپنا نقطۂ نظر ثابت کرنے کے لیے دی جائے تو یہ خود ہی اپنا مدعا کمزور کرنے کے مترادف ہوتا ہے ۔ اس پر اگر مد مقابل عافیت کی راہ اختیار کرتے ہوئے چپ کر جائے تو یہ بھی ایک مصلحت مفتی صاحب کی طرف سے خاموشی کی سمجھی جا سکتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ مفتی صاحب نے اپنے مضمون میں جو اہم علمی نکات اٹھائے تھے، ان میں سے اکثر پر پروفیسر مغل صاحب نے کچھ فرمانے کی بجائے انہیں تو وعدۂ فردا پر ٹال دیاہے اور غیر متعلقہ مباحث سے صفحات بھر دیے ہیں۔ مثلاً مفتی صاحب نے اس بات کی نشان دہی کی کہ مغل صاحب کے مضمون میں حدیث کی کسی کتاب کا جو اکلوتا حوالہ دیا گیا ہے یعنی موطا امام مالک کی ایک روایت، اس کا ترجمہ ہی انہوں نے غلط کیاہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پروفیسرصاحب کے مضمون پر یہ بہت سنجیدہ اعتراض تھا ، لیکن مغل صاحب نے نہ تو یہ ثابت کیا ہے کہ ان کا کیا ہوا ترجمہ ٹھیک ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے۔ اس کی بجائے وہ ایک ثانوی بحث میں الجھ گئے کہ انہوں نے حضرت زید بن ثابتؓ کے اس اثر کا تفصیلی حوالہ کیوں نہیں دیا۔ اسی طرح مغل صاحب کا بنیادی مقدمہ یہ تھا کہ بینک( اسلامی بینکوں سمیت) قرض کی جعلی رسیدوں کا کاروبار کرتے ہیں جو کہ ناجائز ہے ، نیز اگر رسید جعلی نہ بھی ہو تب بھی ان کے ساتھ لین دین کے جواز کی کوئی صورت نہیں ہوسکتی، اس لیے کہ دین کے ساتھ تعامل ناجائز ہے۔اس پر مفتی صاحب نے تفصیل سے اس غلط فہمی کے اسباب بیان کرتے ہوئے یہ سوال کیا ہے اسلامی بینکوں کے حوالے سے بالتعیین کسی ایسے معاملے کی نشان دہی کی جائے جو جعلی رسید کے زمرے میں آتاہو یا اس میں دَین کا ایسا لین دین پایا جاتاہو جسے فقہانے ناجائز قرار دیاہے۔
پھر مغل صاحب نے کرنسی کو رسید نہ کہنے والوں کو جس طرح آڑے ہاتھوں لیاہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ مغل صاحب کے پردادا شیخ مولانا احمد رضا خاں بریلوی نے اسی جیسے بلکہ اس سے تلخ لہجے میں رسید کہنے والوں پر رد کیاہے ، مثلاً انہوں نے رسید قرار دینے والی رائے ( جیسا کہ مغل صاحب بھی نہ صرف رسید بلکہ جعلی رسید قرار دیتے ہیں)کو گمان فاسد اور نہایت بد تر شک اور ایسی رائے رکھنے والوں کو سفیہ اور واہم قرار دیاہے۔ مجھے امید ہے کہ پروفیسر صاحب نے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے رسالہ کفل الفقیہ الفاہم اور کاسر السفیہ الواہم کا مطالعہ ضرور کیا ہوگا۔ جناب مغل صاحب نے اپنی تلخ نوائی کا ایک مضمون میں جواز یہ پیش کیا ہے کہ جب غلط بات شد ومد سے کی جارہی ہو تو ایسا ہوہی جاتاہے۔ حضرت فاضل بریلوی کی رائے بھی مغل صاحب کے نقطۂ نظر سے نہ صرف غلط بلکہ انتہائی غلط ہے جبکہ اعلیٰ حضرت اسے بہت شد ومد سے پیش کررہے ہیں اور آج بھی فتاویٰ رضویہ کے ضمن میں اس کی عام اشاعت بھی ہورہی ہے۔ ہم انتظار کریں گے کہ جناب پروفیسر مغل صاحب حضرت فاضل بریلوی کی رد میں اپنے اسی لہجے میں کچھ تحریر فرمائیں گے۔
ہمارے نزدیک اسلامی بینکاری کے مانعین اور مجوزین دونوں طرف کے علما اور ان کی آرا قابلِ احترام ہیں، لیکن محترم پروفیسر مغل صاحب سے یہ درخواست ضرور کریں گے کہ وہ اپنے طریقۂ تنقیدپر ضرور نظر ثانی فرمائیں۔
محمد وقاص (بی ایس، اصول دین) 
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد

(۳)
محترمی ومکرمی مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ
السلام وعلیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ 
مارچ۲۰۱۱ء کے شمارے میں آنجناب اور حافظ محمد یونس قاسمی صاحب کی گفتگو پڑھنے کو ملی۔ اسی موضوع پر طالب علمانہ باتیں حاضر خدمت ہیں۔ یہ کوئی ایسی معروضات بھی نہیں جو قبل ازیں آنجناب کے علم وسیع میں نہ ہو ں، لیکن درد دل ہے جو بنا اظہارتھمتا نہیں۔ چند گذاشات حاضر خدمت ہیں:
۱)مرزا کادیانی نے بھی حق تعالیٰ کی شان میں گستاخی کی اور شیعہ بھی حق تعالیٰ کی شان گستاخی کرتے ہیں اور عقیدہ بدا کے قائل ہیں۔
۲)مرزا کادیانی نے نبوت کا دعوی کیا تو اہل تشیع بھی اپنے بارہ ائمہ میں صفات نبوت کو تسلیم کرتے ہیں۔ شاہ ولی اللہؒ کی حجۃاللہ البالغہ تو الشریعہ اکادمی کے علما کے لیے سالانہ کورس میں بھی شامل ہے۔ یہی شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی اپنی دوسری تصنیف التفہیمات الالہیہ میں شیعہ کے ختم نبوت کے منکر ہونے کا اعلان فرماتے ہیں اور یہ اعلان آنجناب کے لیے بھی قابل حجت ہونا تو چاہیے ۔
۳)کادیانی حضرات اہل بیتؓ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتے ہیں تو شیعہ بھی اس فعل شنیع میں کادیانیوں کے ہمراہ ہیں بلکہ شیعہ تو کادیانیوں سے قبل ہی اس فعل کے مرتکب تھے او رشیعہ نے صرف ازواج مطہراتؓ ہی کی گستاخی نہیں کی بلکہ سیدنا علیؓ (آثار حیدری)، سیدہ فاطمہؓ (جلاء العیون)، سیدنا حسنین کریمینؓ (اصول کافی، جلاء العیون) کی بھی گستاخی کی ہے۔
۴)کادیانی قرآن مجید کے بجائے ’’تذکرہ‘‘ نامی کتاب کومانتے ہیں تو شیعہ بھی قرآن کریم کے انکاری ہیں۔ 
۵)کادیانی اگر صحابہؓ کے گستاخ ہیں تو شیعہ بدرجہ اتم اس فعل بد کے مرتکب ہیں بلکہ شیعہ کی پہچان ہی ا س فعل بد سے ہوتی ہے ۔
۶)کادیانی اگر تابعین، تبع تابعین، فقہا، محدثین، اولیاء کرام کے گستاخ ہیں تو شیعہ بھی تابعین،تبع تابعین، فقہا، محدثین، اولیاے امت وجملہ اہل اسلام کے گستاخ ہیں۔
آنجناب کے بقول ’’معاشرتی روابط ومعاملات کا ایک مستقل دائرہ ہے‘‘ اور شیعہ کو مذہبی تحریکات میں اپنے شامل کرنا ’’دراصل سیکولر حلقوں کے اس اعتراض یا الزام کا عملی جواب ہے کہ پاکستان کے اسلامی تشخص، ملک میں اسلام اور شریعت کی حکمرانی کے بارے میں مذہبی مکاتب فکر پوری طرح متفق ہیں اور پاکستان میں نفاذ اسلام فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں، بلکہ متفقہ مسئلہ ہے۔‘‘ آپ کی ان آرا پربصد ادب عرض کرنا چاہوں گا کہ اگر آپ شیعہ کو کافر سمجھتے ہوئے بھی معاشرتی روابط ومعاملات کے مستقل دائرہ میں رکھ کر دینی تحریکات واجتماعات میں انھیں شامل کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں تو پھر جماعت احمدیہ کو بھی اسی دائرہ میں رکھ کر دینی تحریکات واجتماعات میں شامل فر ما لیں تاکہ آپ کی آواز میں قوت بھی پیدا ہوجائے اور سیکولر طبقہ میں یہ تاثر بھی قائم ہو جائے کہ مذہبی مکاتب فکر پوری طرح متفق ہیں۔ اس طرح آپ کی رائے کے مطابق اسلام، کفر، نفاق کی بحث کے باوجود معاشرتی اور اجتماعی روایات کو الگ الگ دائرے میں رکھا جا سکے گا اور معترضین کا منہ بھی بند ہو جائے گا کہ تمام تر اعتقادی اور فقہی اختلافات کے باوجود پاکستان میں آباد تمام مذہبی مکاتب فکر ایک ہیں۔ بالفرض آپ چناب نگر (ربوہ) والوں کو شامل اتحاد نہ کر سکیں تو لاہوری فرقہ والوں کو تو ضرور شامل اتحاد فرما لیں۔ اگر یہ بھی نہ کرسکیں تو بس اتنا فر ما دیں کہ جو لوگ قرآن کریم کا صریح انکار کریں، جو بارہ افراد میں خصائص نبوت تسلیم کریں،جو سیدنا ابو بکرؓ، سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ، سیدنا معاویہؓ، سیدہ عائشہؓ اور سیدہ حفصہؓ پر ہر نماز کے بعد لعنت کرنے کو دعا کے لیے باعث قبولیت جانیں، ان کے ساتھ اتحاد کیوں؟
احقر آپ سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے معذرت خواہ ہے اگر اس تحریر کے کسی حرف سے آنجناب کی دل آزاری ہوئی ہو۔ سپاہ صحابہ والے مسلک اہل سنت والجماعت سے وابستہ جملہ جماعتوں کی دل سے عزت واحترام کرتے ہیں، لیکن جواب میں انہیں خون کے آنسو رلایا جاتا ہے۔ غیر کی جانب سے آئے ہوئے پتھر کو بھی انسان خوشی سے برداشت کرلیتا ہے لیکن جب اپنوں کی جانب سے ایک سخت جملہ یا سخت اور بے جا تنقید سامنے آئے تو کوہ استقامت انسانوں کے بھی آنسو نکل آتے ہیں۔ کوئی مبلغ صاحب جو ش مبلغی میں صحابہ کو سب وشتم کرنے والے کو مسلمان ہونے کا سرٹیفیکٹ عنایت کرتے نظر آتے ہیں تو کوئی صاحب انہیں موساد کا ایجنٹ گردانتے نظر آتے ہیں۔ آخر کیوں؟ اگر کوئی زخم پر مرہم نہیں لگا سکتا تو کیا ضروری ہے کہ وہ مرہم کی جگہ نمک لگائے؟ اگر کوئی آنسو نہیں پونچھ سکتا تو کیا ضروری ہے کہ وہ مزید رلائے؟ اگر کوئی دلاسہ نہیں دے سکتا تو کیا ضروری ہے کہ وہ تنقید کے طمانچے مارے؟ اگر کوئی ساتھ نہیں دے سکتا تو کیا ضروری ہے کہ وہ احساس تنہائی دلائے؟
مولانائے محترم!آخر سپاہ صحابہؓ والوں کے ساتھ آپ لوگ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ کیا دفاع صحابہ آپ کے نزدیک جرم ہے؟ میں اور کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں! بس انھی بے ترتیب حروف اور لفظوں پر اجازت چاہوں گا۔ اللہ جل شانہ کی باگاہ میں خلوص قلب سے دعا گو ہوں کہ حق تعالیٰ آپ کی عمر میں برکت عطا فرمائے اور آپ کاسایہ تادیر ہمارے سروں پر سلامت رکھے، آمین یا رب العالمین۔
عبد المنان معاویہ 
maviya_114@yahoo.com

(۴)
برادرم عبد المنان معاویہ صاحب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ نے بہت اچھا کیا جو اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کر دیا۔ اس میں نہ کوئی حجاب کی بات ہے اور نہ کسی قسم کی معذرت کی ضرورت ہے۔ ہم ’الشریعہ‘ کے فورم پر اسی رجحان کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جذبات وتاثرات کو سینے میں گھٹے نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ان کا اظہار ہونا چاہیے اور ان پر ایک جائز حد تک کھلا مباحثہ بھی ہونا چاہیے۔ اس سے مسائل کی بہت سی تہیں کھلتی ہیں اور اصل حقائق تک رسائی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
اہل تشیع کے بارے میں میری سابقہ سب گزارشات کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کے خلاف تمام تر فتاویٰ کے باوجود دینی تحریکات میں ان کے ساتھ ہمارے اکابر کا ربط ومعاونت کا تعلق رہا ہے جو ایک ملی ضرورت سمجھا جاتا ہے اور میری رائے میں آئندہ بھی اس ربط ومعاونت کا تسلسل باقی رہنا چاہیے، کیونکہ وہ اجتماعی مصالح بدستور موجود ہیں جن کی وجہ سے ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ قادیانیوں کو ان پر قیاس کرنا درست نہیں ہے، اس لیے کہ ہم ان کے بارے میں بھی معاشرتی سطح پر اپنے روایتی موقف سے ہٹ کر ایک اجتماعی فیصلہ کر چکے ہیں۔ پاکستان بننے سے قبل قادیانیوں کے بارے میں ہمارا موقف یہ نہیں تھا کہ انھیں ایک غیر مسلم اقلیت کے طو رپر اسلامی ریاست میں رہنے کا حق دیا جائے، بلکہ ہمارا روایتی موقف شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی کے معروف رسالہ ’’الشہاب‘‘ کی صورت میں واضح تھا کہ مرتد کی سزا قتل ہے اور قادیانی بھی مجموعی طور پر اسی زمرے میں شمار ہوتے ہیں، مگر علامہ محمد اقبال کی تجویز یہ تھی کہ قادیانیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت کے طو رپر اسلامی ریاست میں بطور شہری رہنے کا حق دیا جائے اور قتل مرتد کی بات نہ چھیڑی جائے۔
قیام پاکستان کے بعد تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام نے متفقہ طور پر علامہ محمد اقبالؒ کی اس تجویز کو قبو ل کرتے ہوئے قادیانیوں کو ملک میں غیر مسلم اقلیت کا درجہ دے کر بطور اقلیت ان کی جان ومال اور دیگر حقوق ومفادات کے تحفظ کا اعلان کیا تھا، مگر قادیانیوں نے یہ حیثیت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اب قادیانیوں کے ساتھ معاشرتی تعلقات میں پیش رفت کی راہ میں خود قادیانی رکاوٹ ہیں۔ اگر وہ غیر مسلم اقلیت کا درجہ قبول کر کے ملت اسلامیہ کے اجتماعی فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں تو ہم انھیں ایسے تمام معاملات میں شریک کرنے کے پابند ہوں گے جن میں ملک کی دوسری غیر مسلم اقلیتوں کو شریک کیا جاتا ہے اور وہ بھی دوسری اقلیتوں کی طرح قومی معاشرے کا حصہ تصور ہوں گے، جبکہ اہل تشیع کے بارے میں ملت اسلامیہ نے اس قسم کا کوئی اجتماعی فیصلہ نہیں کیا اور اگر یہ فیصلہ کرنا ضروری ہے تو اس کا آغاز حرمین شریفین سے کیا جانا چاہیے، اس لیے کہ یہ بات دنیا کے کسی بھی منصف مزاج شخص کو ہضم نہیں ہوگی کہ حرمین شریفین میں تو اہل تشیع نماز، روزہ، حج، عمرہ اور دیگر عبادات میں مسلمانوں کے ساتھ بلا روک ٹوک شریک ہوں اور پاکستان میں انھیں غیر مسلم قرار دے کر معاشرے سے الگ کر دیا جائے۔ اس لیے اگر کچھ دوستوں کو اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو اس کے لیے کام کا اصل میدان یہ ہے کہ حرمین شریفین میں اہل تشیع کو اہل اسلام سے الگ کرایا جائے اور پاکستان میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کو اس مقصد کے لیے تیار کیا جائے کہ وہ اہل تشیع کے بارے میں بھی اسی طرح کا اجتماعی فیصلہ کریں جیسا فیصلہ وہ قادیانیوں کے بارے میں کر چکے ہیں۔
جہاں تک سپاہ صحابہ کی قیادت، ناموس صحابہ کے شہدا اور سپاہ کے کارکنوں کا تعلق ہے، ہم نے ان کے خلوص وجذبات، شہادتوں اور قربانیوں کا ہمیشہ اعتراف کیا ہے اور جہاں ضرورت محسوس ہوئی، تعاون بھی کیا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ہر مرحلہ پر ان کے طریق کار سے مسلسل اختلاف بھی کیا ہے۔ میں اس موقع پر والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کے ان دوخطوط کا حوالہ دینا چاہوں گا جس میں انھوں نے سپاہ صحابہ کے قائدین اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کے طریق کار سے اختلاف کیا تھا اور اصلاح احوال کی طرف توجہ دلائی تھی۔ یہ خطوط ان کی زندگی میں شائع ہو کر تقسیم ہوئے تھے اور ان کی یاد میں شائع ہونے والی ’الشریعہ‘ کی خصوصی اشاعت میں بھی شامل ہیں۔ انھوں نے جہاں سپاہ صحابہ کی قربانیوں کو ان الفاظ میں سراہا ہے کہ:
’’سپاہ صحابہ کے حضرات نے ایران کی طاغوتی طاقت کے بل بوتے پر اور شہ پر چلنے اور ناچنے والی رافضیت کا پاکستان میں جو دروازہ بند کیا ہے، وہ نہ صرف یہ کہ وقت کی اہم ضرورت ہے بلکہ دینی لحاظ سے فرض کفایہ بھی ہے۔‘‘
وہاں یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ:
’’نوجوان جذباتی ہوتے ہیں اور جذبات میں آ کر بہت کچھ ’’کہہ‘‘ اور ’’کر‘‘ جاتے ہیں۔ شدت اور سختی سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے اور نہ طاقت وقوت سے کسی فرد یا نظریہ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ .... اس لیے گزارش ہے کہ نوجوانوں کو قولاً اور فعلاً شدت اختیار کرنے سے سختی کے ساتھ روکیں۔ رافضیوں کے کفر میں تو شک ہی نہیں، مگر در ودیوار پر ’’کافر کافر‘‘ لکھنے اور ’’نعرہ بازی‘‘ سے بجائے فائدہ کے نقصان ہوگا۔ عیاں را چہ بیاں‘‘
سپاہ صحابہ کی قیادت اور کارکنوں کی جدوجہد اور قربانیوں کے بارے میں ہمارے جذبات بھی کچھ اسی طرح کے ہیں۔ ہم ناموس صحابہ کرام کے تحفظ کی جدوجہد کو بھی دینی فریضہ سمجھتے ہیں اور ایسی ہر جدوجہد میں بحمد اللہ تعالیٰ مختلف مراحل میں شریک کار رہے ہیں، لیکن ہر جدوجہد کے کچھ اصولی اور اخلاقی تقاضے ہوتے ہیں اور حالات زمانہ کے حوالے سے کچھ ناگزیر ضرورتیں، حکمتیں اور مصلحتیں ہوتی ہیں جن سے صرف نظر کرنا درست نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہم سپاہ صحابہ کے حضرات کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اپنی جدوجہد کے لیے جو موقف اور طریق کار چاہیں، طے کریں اور آزادی کے ساتھ اس پر عمل کریں، لیکن ملک کی اجتماعی دینی قیادت اور دوسری جماعتوں کی قیادتوں کو اپنے موقف اور طریق کار کا پابند کرنا انھیں یرغمال بنانے کی کوشش کے مترادف ہے جس سے بہرحال گریز کیا جانا چاہیے۔ شکریہ!
ابو عمار زاہد الراشدی

(۵)
برادر محترم محمد عمار خان صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
ماہنامہ’الشریعہ‘ ایک ایسا پرچہ ہے جس کا انتظار رہتا ہے اور اس انتظار کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں سلگتے ہوئے دینی واجتماعی مسائل پر ’’سود وزیاں‘‘ سے بالاتر رہتے ہوئے بحث کی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جسے بہت سے حلقے مصلحت، رخصت، خوف یا استدلال کی صلاحیت میں کمی کے باعث ہاتھ لگانے سے گریزاں رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو حفظ وایمان میں رکھے۔ سچی بات ہے کہ آپ کی یہ ادا اگر ایک طرف سچائی کی تلاش میں قدم بڑھانے کی جسارت ہے تو دوسری جانب برملا آگ کے شعلوں کو پکڑنے کی جرات بھی ہے۔ ہرچند کہ یہ حوصلہ ایک جنس نایاب ہے، مگر اسے پانے کے لیے اعتدال اور ہوش مندی کے دامن کو پکڑنے کے لیے دو چیزوں کی اشد ضرورت ہے: دعا اور رد عمل سے بچنے کی کوشش۔ ٹوٹی پھوٹی دعا ہم کرتے ہیں اور رد عمل سے بچاؤ کی کوشش آپ کیجیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے گا۔
مارچ کے شمارے میں مولانا زاہد الراشدی صاحب کی تینوں تحریریں اعتدال، ایمان اور حق نصیحت پر دال ہیں۔ اب اگر کوئی نشہ ایمان میں آگے بڑھ کر یہ کہے کہ ’’مولانا بات سمجھے ہی نہیں‘‘ تو اس کے بارے میں یہ کہے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ بھائی! ذرا اپنے ایمان کی خبر لو۔ یہ نشہ ایمان نہیں، نشہ عصبیت ہے۔
پروفیسر محمد مشتاق احمد صاحب (اسلام آباد) سے، حقیقت یہ ہے کہ ہم آپ ہی کے پرچے سے متعارف ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں تحقیق وجستجو کی شاہراہ پر کامیابی عطا فرمائے۔ بڑے مشکل پہلووں پر بڑی خوب صورتی سے حق تحریر ادا کرتے آئے ہیں اور تازہ مضمون مختصر ہونے کے باوجود غور وفکر پر ابھارتا ہے۔ تاہم میاں انعام الرحمن صاحب کہ جن سے بڑی توقعات ہیں، وہ ماضی کی قیمتی تحریروں کے برعکس اس مرتبہ اپنے طنزیہ اسلوب پر انحصار کے سبب ذرا دب سے گئے ہیں۔ بڑے اہم موضوع پر انھوں نے محنت سے چیزوں کو اخذ کیا ہے اور سلیقے سے پیش بھی کیا ہے، لیکن کم وبیش ہر دوسرے پیراگراف سے پہلے طنز کے تیر کچھ اس شدت سے برسائے ہیں کہ اس سے پرچہ، نفس مضمون اور خود برادرم انعام صاحب متاثر ہوئے ہیں۔ چلیے، کوئی بات نہیں۔ نوجوان ہیں، ایک بار کر لیا، آئندہ اپنے جذبات یا غصے کو طنز میں ضائع کرنے کے بجائے استدلال میں ڈھال دیں گے۔ بہرحال یہ بات دوبارہ عرض کروں گاکہ اس مضمون کے لیے انعام صاحب نے محنت بھی بے پناہ کی ہے اور زاویہ نظر بھی راست راوی سے مرصع ہے جس نے ان کی سلامتی طبع سے متعارف کرایا ہے۔ ان کا یہ جذبہ بہرصورت قیمتی چیز ہے۔
اسی طرح معاصر عزیز ’محدث‘ جسے ڈاکٹر حافظ حسن مدنی صاحب مرتب کر تے ہیں، دینی چیلنجوں پر تازہ بہ تازہ رہنمائی دینے میں اولیت پاتا ہے۔ آپ کے ہاں اگر متن کے ساتھ مجرد استدلال سے روشنی تلاش کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے تو ’محدث‘ میں کم وبیش قرآن وحدیث کے متن پر کلی انحصار کر کے رہنمائی کا زاویہ تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس اعتبار سے یہ دونوں لہریں بہ یک وقت دینی فہم اور معاصر چیلنج کا جواب دینے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ اس میں خوشی کا مقام یہ ہے کہ دونوں کے مدیر ہم عمر اور نوجوان ہیں۔ ان شاء اللہ مستقبل میں بہتر علمی روایت کو پروان چڑھانے میں مدد فراہم کریں گے۔
(پروفیسر) سلیم منصور خالد
گوجرانوالہ
(۶)
ڈاکٹر محمود احمد غازی کی یاد میں، الشریعہ کی خصوصی اشاعت پر ادارہ، لکھنے والے اور قارئین مبارکباد کے مستحق ہیں۔ خاص طور جناب محمد عمار خان ناصر کی محنت اور یکسوئی قابل داد ہے۔ اس اشاعت کے ذریعے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت اور ان کی خدمات کو سامنے لانے کی نہایت کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ دینی علوم پر مہارت کے بعد جدید علوم پر یکساں عبور حاصل کر کے ڈاکٹر صاحب نے اک عالم کو متاثر کیا۔ ان کے رشحاتِ زبان سے مستفید ہونے کے مواقع ان کے خطابات کی صورت میں مہیا ہیں۔ الشریعہ کی خصوصی اشاعت میں ان کا اچھا آئینہ مرتب ہوا ہے۔ میں ڈاکٹر صاحب کی شخصیت سے بخوبی واقف نہیں تھا، اس لیے اشاعت کا بغور مطالعہ کیا۔ یقینی طور پر مجھے اشاعت کی افادیت کو ماننا پڑا۔ ڈاکٹر صاحب کے دیانت دارانہ طرز عمل کا تذکرہ جس انداز سے ہوا، وہ میرے لیے اور بھی طمانیت کا باعث ہوا۔ دیانت داری ایک بنیادی صفت ہے۔ یہ اہل مذہب ہی نہیں بلکہ مذہب بیزار لوگوں کے ہاں بھی تسلیم شدہ قدر ہے، مگر ہمارے معاشرے میں بہت پیچھے چلی گئی ہے بلکہ نایاب ہو گئی ہے۔ خاص طور پر اونچے مناصب پر فائز ہونے والوں میں تو اس کا گمان بھی مشکل ہے۔ اس پہلو سے ڈاکٹر صاحب کے جس پختہ طرز عمل کا ہر جاننے والے نے ذکر کیا ہے، وہ ان کے کردار کا ایسا جوہر ہے جسے مزید عام کرنے کی واقعی ضرورت ہے۔
ان کے محاضرات کے مطالعے کا کم و بیش ہر پہلو سامنے آیا ہے۔ اس پہلو سے سب سے زیادہ سلیقہ مندانہ پیش کش جناب محمد رشید صاحب کی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب پر خود سے تو کوئی لمبی چوڑی بحث نہیں کی، مگر ڈاکٹر صاحب کے خطبات سے اقتباسات منتخب کر کیان کو جس ترتیب سے پیش کیا ہے، وہ بڑی خوبصورت اور متاثر کرنے والی ہے۔
اشاعت پر مفصل تبصرے کی اپنی جگہ افادیت ہے، لیکن سردست میں اشاعت میں پائی جانے والی چند الجھنوں کی جانب توجہ دلانے پر اکتفا کروں گا۔ یہ کوشش بھی کروں گا کہ اصل صورت حال کو سامنے لاؤں۔ اس میں مجھے کس قدر کامیابی ہوئی ہے، اس کے بارے میں فیصلہ قارئین کے ہاتھ میں ہے۔
ڈاکٹر صاحب کے مقام پیدائش کے بارے میں خاصا اختلاف ہے۔ ادارہ نے اشاعت کے صفحہ نمبر ۱۱ پر جو سوانحی خاکہ درج کیا ہے، اس میں مقام کا ذکر نہیں کیا۔ سبوح سید نمائندہ جیو نیوز نے ڈاکٹر صاحب کا مقام پیدائش کراچی تحریر کیا۔ (ملاحظہ ہو ص: ۲۵۱)۔ پیغامات اور تاثرات کے حصے میں شریف فاروق اور طاہر فاروق کی جو تحریر شامل کی گئی ہے، اس میں لکھا گیا ہے کہ ’’انہوں نے پاکستان کے ہائی کمیشن نئی دہلی میں آنکھ کھولی۔‘‘ (ص: ۲۶۷) ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی صاحب نے کاندھلہ، مظفر نگر (ہندوستان) کو ان کا جائے پیدائش لکھا ہے۔ انہوں نے تاریخ پیدائش بھی ۱۳ ستمبر درج کی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے سید منصور آغا کی اطلاع (جدید خبر، اردو روزنامہ نئی دہلی کی اشاعت ۲۸ ستمبر ۲۰۱۰ء) پر انحصار کیا ہے۔ اس صورت حال کی صراحت تو مرحوم کے لواحقین کر سکتے ہیں۔ مقام پیدائش کے بارے میں ابہام کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ قیام پاکستان کے وقت ڈاکٹر صاحب کے والد صاحب سرکاری ملازم تھے۔ انہوں نے پاکستان کا انتخاب کیا۔ پاکستانی ہائی کمیشن دہلی میں کام شروع کیا۔ ۱۹۵۴ء میں پاکستان آئے۔ قیام پاکستان کے سات سال بعد پاکستان آمد کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے تو ڈاکٹر صاحب کی پیدائش کو کراچی سے جوڑنا ممکن ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان نے ڈاکٹر صاحب کی تاریخ وفات اپنے مضمون میں ۲۴؍ اکتوبر لکھی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کمپوزر کی غلطی ہو۔ مضمون کے سیاق سباق سے یہی اندازہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کے بطور جج تقرری کے بارے میں، لکھنے والوں میں کافی الجھاؤ ہے۔ سوانحی خاکے میں شریعت اپیلیٹ بنچ میں ججی کا زمانہ ۱۹۸۸ء تا ۱۹۹۹ء لکھا گیا ہے۔ اس کے بر عکس مولانا محمد صدیق اراکانی (ماہنامہ حق نوائے احتشام کراچی ) کے حوالے سے صفحہ نمبر ۵۸۸ پر لکھا گیا ہے کہ ’’۲۶؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو غازی صاحب وفاقی شرعی عدالت کے جج مقرر ہوئے اور آخر دم تک اس خدمت میں مصروف رہے۔‘‘ اگر شریعت اپیلیٹ بنچ والی بات درست ہو تو وفاقی شرعی عدالت والی بات بے معنی ہو جاتی ہے۔ شریعت اپیلیٹ بنچ، سپریم کورٹ کا بنچ ہے۔ سپریم کورٹ کا جج، بعد میں وفاقی عدالت میں کیسے آ سکتا ہے؟ ہفت روزہ ضرب مومن کے حوالے سے کہا گیا کہ ’’نواز شریف نے اپنے دورِ حکومت میں انہیں وفاقی شرعی عدالت کا جج اپائنٹ کیا۔‘‘ اسی طرح سود سے متعلق فیصلے میں ڈاکٹر صاحب کے کردار کے بارے میں کافی الجھاؤ ہے۔ خصوصی نمبر کے صفحہ نمبر ۵۷ پر مولانا محمد عیسیٰ منصوری صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ ’’اس مشہور فیصلے کا بڑا حصہ ڈاکٹر صاحب ہی کا تحریر کردہ ہے‘‘۔ ڈاکٹر سید عزیز الرحمن انچارج ریجنل دعوہ سنٹر کراچی نے لکھا کہ ’’سود کے خلاف سپریم کورٹ کے مشہور اور تاریخ ساز فیصلے میں بھی ڈاکٹر صانب بحیثیت جج شریعت اپیلیٹ بنچ شریک رہے اور اس فیصلے کا بڑا حصہ ڈاکٹر صاحب ہی کا تحریر کردہ تھا۔ اس بنچ میں مولانا مفتی محمد تقی عثمانی بھی شامل تھے۔‘‘ (صفحہ نمبر ۱۹۲، ۱۹۳)۔ اسی طرح کے ابہامات کئی اور مقامات پر بھی موجود ہیں۔ جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمن خان کے حوالے سے اشاعت خاص کے صفحہ نمبر ۵۶۸ پر درج ہے کہ ’’میں نے سود کیس چھ ماہ سننے کے بعد جو جج منٹ لکھی، اگر غازی مرحوم کی معاونت نہ ہوتی تو میرے لیے وہ لکھنا ممکن نہ تھا۔‘‘
قانونی جرائد سے صحیح صورت حال کی جستجو سے یہ واضح ہوا کہ جناب محمود احمد غازی کا ۵؍ اکتوبر ۱۹۹۸ء کو شریعت ایپلیٹ بنچ میں تقرر کیا گیا۔ یہ نواز شریف کا دورِحکومت تھا۔ وفاقی شرعی عدالت نے سود کیس کا فیصلہ ۱۴؍ نومبر ۱۹۹۱ء کو کیا تھا۔ اس وقت وفاقی شرعی عدالت کے چیئر مین جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمن تھے۔ ان کے ساتھ شریک فیصلہ ججوں میں ڈاکٹر فدا محمد خان اور جسٹس عبیداللہ خان تھے۔ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ میں مختلف اپیلیں دائر کی گئیں۔ ان اپیلوں پر ابھی سماعت نہیں ہوئی تھی کہ وفاق کی جانب سے واپسی اپیل کی درخواست دائر کر دی گئی۔ وفاق کی جانب سے واپسی کی درخواست مسترد ہوئی۔اس کی رپورٹ PLD 2000 SC 770 میں موجود ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف ایک اپیل ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کی جانب سے تھی۔ وفاق واپسی اپیل کی درخواست اور ہاؤس بلڈنگ کی جانب سے اپیل کی سماعت میں جناب محمود غازی دیگر ججوں کے ساتھ شریک ہوئے۔ ہاؤس بلڈنگ کے علاوہ باقی اپیلوں کی سماعت ایک ہی تاریخوں پر ہوئی۔ یہ سماعت فروری ۱۹۹۹ء سے شروع ہوئی اور ۶ جولائی ۱۹۹۹ء تک جاری رہی۔ باقی اپیلوں کے فیصلے کی رپورٹ پی ایل ڈی میں مطبوعہ رپورٹ میں مقدمے کا عنوان محمد اسلم خاکی بنام محمد ہاشم ہے۔ کیس کا فیصلہ ۲۳؍دسمبر ۱۹۹۹ء کو سنایا گیا۔ اس کی رپورٹ PLD 2000 SC 225 پرموجود ہے۔ ہاؤس بلڈنگ والی اپیل کا فیصلہ مولانا محمد تقی عثمانی نے تحریر کیا۔ اس فیصلے میں زیادہ تر دیگر اپیلوں کے فیصلے پر انحصار کیا گیا۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے، غازی صاحب کا نام ہاؤس بلڈنگ والی اپیل کی سماعت کرنے والے بنچ میں شامل ہے۔ البتہ ایک بات کو میں نہیں سمجھ سکا کہ دیگر اپیلوں کی سماعت اس اپیل کے ساتھ ہی ہوئی، مگر ان کی سماعت کرنے والے بنچ میں جناب غازی صاحب کا نام شامل نہیں۔ 
بہر حال واضح ہے کہ ان میں سے کسی کیس میں جناب ڈاکٹر محمود غازی نے الگ سے کوئی فیصلہ نہیں لکھا۔ اس طرح یہ کہنا کہ سود کے متعلق فیصلے کا بڑا حصہ ڈاکٹر محمود غازی کا لکھا ہوا ہے، غلط معلوم ہوتا ہے۔ سود سے متعلق شریعت اپیلٹ بنچ کا فیصلہ جناب جسٹس خلیل الرحمن نے لکھا۔ بنچ کے دیگر ارکان میں سے منیر اے شیخ نے فیصلے پر دستخط کیے، البتہ جسٹس وجیہ الدین احمد اور جسٹس محمد تقی عثمانی نے علیحدہ سے تائیدی فیصلے لکھے۔ جسٹس خلیل الرحمن خان نے خصوصی اشاعت میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر غازی نے فیصلہ لکھنے میں ان کی معاونت کی۔ بہر حال اس معاونت کا جسٹس خلیل الرحمن خان نے اپنے فیصلے میں کہیں ذکر نہیں کیا۔ سال ۲۰۰۰ء میں سپریم کورٹ کے ججوں کی پی ایل ڈی اور پی ایل جے میں ڈاکٹر غازی صاحب کا نام درج نہیں۔ اس کی بدیہی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ ڈاکٹر غازی پرویز مشرف کی سکیورٹی کونسل میں شامل ہو گئے تھے۔ بہر حال ڈاکٹر غازی ۵؍اکتوبر ۱۹۹۸ء سے سال ۱۹۹۹ء کے اواخر تک سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ میں رہے۔ اس طرح ۱۹۸۸ء تا ۱۹۹۹ء تک ان کے شریعت اپیلٹ بنچ میں رہنے کی بات درست نہیں۔
میں نے اپنی تئیں جستجو کر کے صحیح صورت حال متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر کوئی صاحب مزید صراحت کریں تو میرے اور قائین کے لیے مفید ہو گی۔
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

تصویر کے بارے میں ہمارا موقف اور پالیسی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’الشریعہ‘ کے مارچ کے شمارے میں شائع شدہ مولانا سختی داد خوستی کے مکتوب اور ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں خصوصی اشاعت کی ٹائٹل پر ان کی تصویر کے حوالے سے بعض دوستوں نے تصویر کے بارے میں میرا ذاتی موقف دریافت کیا ہے۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ میرا ذاتی رجحان اس مسئلے میں حضرت امام محمدؒ کے اس قول کی طرف ہے جو انھوں نے ’’موطا امام محمد‘‘ میں ان الفاظ سے بیان فرمایا ہے کہ:
عن عبد اللہ بن عتبۃ بن مسعود انہ دخل علی ابی طلحۃ الانصاری یعودہ فوجد عندہ سہل بن حنیف فدعا ابو طلحۃ انسانا ینزع نمطا تحتہ فقال سہل بن حنیف لم تنزعہ؟ قال لان فیہ تصاویر وقد قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیہا ما قد علمت، قال سہل: اولم یقل: الا ما کان رقما فی ثوب؟ قال بلی ولکنہ اطیب لنفسی۔
قال محمد: وبہذا ناخذ، ماکان فیہ من تصاویر من بساط او فراش یفرش او وسادۃ فلا باس بذلک، انما یکرہ من ذلک فی الستر وما ینصب نصبا وہو قول ابی حنیفۃ وعامۃ فقہاء نا۔
’’حضرت عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ وہ حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر گئے تاکہ ان کی عیادت کر سکیں تو وہاں حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ حضرت ابو طلحہ انصاری نے ایک شخص کو بلایا تاکہ وہ ان کے نیچے سے بچھونے کو نکال دے۔ حضرت سہل نے پوچھا کہ یہ بچھونا کیوں اپنے نیچے سے نکلوا رہے ہیں؟ ابو طلحہ نے فرمایا، اس لیے کہ اس میں تصاویر ہیں اور ان تصاویر کے بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے، وہ تمھیں معلوم ہے۔ حضرت سہل نے فرمایا کہ کیا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’مگر وہ تصویر جو کپڑے پر نقش ہو‘‘؟ (یعنی ایسی تصویر حرمت مستثنیٰ ہے)۔ حضرت ابو طلحہ نے فرمایا کہ یہ بات درست ہے، مگر میں اپنے لیے اسی کو پسند کرتا ہوں۔
امام محمد فرماتے ہیں کہ ہم اسی حدیث پر عمل کرتے ہیں، اس لیے جو تصویر بستر پر ہو یا چٹائی پر ہو یا تکیہ پر ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ پردے پر یا سامنے کھڑی کی جانے والی تصویر مکروہ ہے اور حضرت امام ابوحنیفہؒ اور ہمارے جمہور فقہا کا موقف بھی یہی ہے۔‘‘
لیکن چونکہ پاکستان کے جمہور علماء احناف کا رجحان تصویر کے مطلقاً عدم جوازکی طرف ہے، اس لیے جمہور کے اس موقف کا احترام کرتے ہوئے ’الشریعہ‘ میں تصویر کی اشاعت کا سلسلہ ہم نے ترک کر رکھا ہے۔ ہماری اس عمومی پالیسی کے خلاف محترم ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی تصویر کی اشاعت جن قارئین کو ناگوار گزری ہے، ہم ان سے معذرت خواہ ہیں۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’برصغیر میں مطالعہ قرآن‘‘  (بعض علماء کی تفسیری کاوشوں کا جائزہ)

ہندوستان کے معروف علمی وتحقیقی جریدے ’’تحقیقات اسلامی‘‘ کے نائب مدیر ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی کا تعارف اور ان کی فاضلانہ تصنیف ’’نقد فراہی‘‘ پر تبصرہ قارئین چند ماہ قبل انھی صفحات میں ملاحظہ کر چکے ہیں۔ قرآنی علوم ومعارف مصنف کے مطالعہ وتحقیق کا خاص موضوع ہیں اور وہ ایک عرصے سے اپنی تحقیق کے حاصلات علمی مقالات کی صورت میں پیش کرتے آ رہے ہیں۔ زیر نظر کتاب بھی مصنف کے علمی مقالات کا مجموعہ ہے جس میں بیسویں صدی میں برصغیر کے بعض معروف اہل علم کی تفسیری کاوشوں کے مختلف پہلووں کا تجزیاتی اور تنقیدی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ 
پہلے مقالے کا عنوان ’’سرسید کی تفسیر القرآن اور مابعد تفاسیر پر اس کے اثرات‘‘ ہے۔ مصنف نے سرسید کی تفسیر قرآن کی تالیف کا فکری پس منظر واضح کیا ہے اور سرسید کے منہج تفسیر پر روشنی ڈالتے ہوئے قرآن اور بائبل کے بیانات کے تقابلی مطالعہ، اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کے رد اور غیبیات ومعجزات کی عقلی توجیہ کو اس کی اہم خصوصیات میں شمار کیا ہے۔ مصنف نے یہ دلچسپ حقیقت بیان کی ہے کہ تفسیر قرآن کے ضمن میں ان تینوں پہلووں سے بعد کے مفسرین نے سرسید کے اثرات قبول کیے اور اردو تفاسیر میں نہ صرف قرآن اور بائبل کے تقابلی مطالعہ اور اسلام پر اعتراضات کا رد کرنے کی ریت قائم ہوئی، بلکہ غیبیات اور معجزات کی عقلی توجیہ کے باب میں بھی ’’اس تفسیر کے مابعد تفاسیر پر اثرات مرتب ہوئے اور اہل علم نے اس کے اسلوب اور انداز تحقیق کو اپنایا۔‘‘ (ص ۲۳) مصنف کے خیال میں اس طرز فکر کے بعض مثبت اثرات بھی ہیں، چنانچہ ’’قدیم مفسرین کی عجوبہ پسندی کا یہ حال تھا کہ وہ ایسے واقعات کو بھی جن کی مناسب عقلی توجیہ ممکن ہے، معجزات قرار دیتے تھے۔ ..... معجزات کے سلسلے میں سرسید کا نقطہ نظر تو قبولیت حاصل نہ کر سکا، لیکن اس کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ عجوبہ پسندی کی شدت میں کمی آئی اور بعض قرآنی واقعات پر اس حیثیت سے بھی غور ہونے لگا کہ ان کی عقلی توجیہ کر کے انھیں غیر معجزانہ واقعات کی حیثیت سے پیش کیا جائے۔ اسے بھی تفسیر سرسید کا ایک قابل لحاظ اثر قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘ (ص ۲۴) اس نکتے کی وضاحت میں مصنف نے متعدد مثالیں بھی نقل کی ہیں۔ سرسید کی تفسیری خدمات کے حوالے سے مصنف کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ بعض پہلووں سے ’’یہ تفسیر سرسید کی مذہبی خدمات میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور یہ ان کا ایک قابل قدر علمی کارنامہ ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ جہاں ان کی غلطیوں اور لغزشوں پر بے لاگ تنقید کی جائے، وہیں ان کی وقیع تحقیقات کو سراہا جائے۔‘‘ (ص ۱۱) یہ رائے مصنف کے خالص علمی ذوق اور مذہبی واختلافات وتعصبات سے بالاتر ہو کر متوازن تجزیہ وتنقید کے رجحان کی غمازی کرتی ہے۔
’’بیسویں صدی عیسوی میں علماے ہند کی تفسیری خدمات میں‘‘ کے زیر عنوان دوسرے مقالے میں عربی زبان میں تصنیف کردہ علمی کاوشوں کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا حمید الدین فراہی، مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا انور شاہ کشمیری کے نام نمایاں ہیں۔ اس مقالے میں زمانہ قدیم کے اہل علم کی بعض تصانیف کا ذکر بھی کیا گیا ہے جن کی طباعت واشاعت بیسویں صدی میں ہوئی۔ بظاہر ان تصانیف کا ذکر مقالے کے دائرے سے متجاوز دکھائی دیتا ہے، تاہم بیسیویں صدی کے اہل علم نے ترجمہ، تحقیق اور تحشیہ کی صورت میں ان تصنیفات پر جو کام کیا، اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک حد تک انھیں اس مقالے میں شامل کرنے کا جواز نکل آتا ہے۔
تیسرا مقالہ ’’بیسویں صدی میں حروف مقطعات کے مباحث‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس مقالے کا حاصل یہ ہے کہ حروف مقطعات کے معنی ومفہوم کی تعیین کے ضمن میں امام طبری نے اپنی تفسیر میں جو اقوال نقل کیے ہیں، بعد کے اہل علم اپنی تحقیقات سے ان میں کوئی معتد بہ اضافہ نہیں کر سکے اور یہی صورت حال بیسویں صدی کے مفسریں کے ہاں بھی برقرار ہے۔ اس ضمن میں ایک منفرد رائے مولانا فراہی نے ظاہر کی تھی جس کی رو سے عربی زبان کے حروف چونکہ عبرانی لیے گئے ہیں جو آواز کے ساتھ ساتھ معانی اور اشیا پر بھی دلیل ہوتے تھے، اس لیے یہ ممکن ہے کہ بعض قرآنی سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں، وہ اپنے قدیم معانی اور سورتوں کے مضامین کے مابین کسی مناسبت کے لحاظ سے آئے ہوں۔ تاہم اس رجحان کے حوالے سے خود مولانا فراہی کا تبصرہ یہ تھا کہ ’’جب تک تمام حروف کے معنی کی تحقیق ہو کر ہر پہلو سے ان ناموں اور ان سے موسوم سورتوں کی مناسبت واضح نہ ہو جائے، اس وقت تک اس پر ایک نظریہ سے زیادہ اعتماد کر لینا صحیح نہیں ہوگا۔‘‘ (ص ۶۳) ہمارے علم کی حد تک ابھی تک اس باب میں مولانا فراہی کی ذکر کردہ مثالوں پر کوئی اضافہ سامنے نہیں آیا۔
’’مولانا سید سلیمان ندوی اور مفردات قرآنی کی لغوی تحقیق‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون میں قرآنی الفاظ، اعلام اور اصطلاحات کی لغوی وتاریخی تحقیق کے ضمن میں سید سلیمان ندوی کے منہج کی وضاحت مثالوں کی مدد سے کی گئی ہے اور اس تحقیق میں سید صاحب کے علمی مآخذ کی نشان دہی کی گئی ہے۔ یہ مضمون علمی لحاظ سے دلچسپ اور اہم لیکن کافی مختصر ہے۔
’’تفسیر تدبر قرآن میں کلام عرب سے استشہاد‘‘ کے زیر عنوان مقالہ علمی اعتبار سے خاصے کی چیز ہے۔ مصنف بتاتے ہیں کہ ’’تفسیر قرآن میں کلام عرب ایک اہم ماخذ ہے۔ تمام قدیم مفسرین نے اس سے استفادہ کیا ہے، لیکن متاخرین کے یہاں اس سے استشہاد میں کمی آ گئی تھی۔ مولانا فراہی اور ان کے شاگرد مولانا امین احسن اصلاحیؒ کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اس کی اہمیت واضح کی اور اپنی تفسیروں میں اس سے بھرپور استفادہ کیا۔‘‘ (ص ۱۱۴) مقالے میں مصنف نے تدبر قرآن میں کلام عرب سے استشہاد کی نوعیت کے مختلف پہلو اور اس ضمن کی بعض اہم اور نمائندہ مثالیں بھی توضیح کے لیے نقل کر دی ہیں۔ صرف ایک مثال ملاحظہ ہو۔ ’ولقد یسرنا القرآن للذکر‘ کا مفہوم واضح کرتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں:
’’لفظ ’تیسیر‘ عربی میں کسی چیز کو کیل کانٹے سے لیس کرنے، پیش نظر مقصد کے لیے اس کو اچھی طرح موزوں بنانے اور جملہ لوازم سے آراستہ وپیراستہ کرنے کے معنوں میں آتا ہے۔ مثلاً یسر الفرس للرکوب کے معنی ہوں گے، گھوڑے کو تربیت دے کر، اس کو کھلا پلا کر، زین لگام رکاب سے آراستہ کر کے سواری کے لیے بالکل ٹھیک ٹھاک کر دیا۔ یہیں سے یہ لفظ کسی شخص کو کسی مہم کے لیے تیار اور جملہ لوازم سے مسلح کر کے اس کو اس کا اہل بنا دینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ایک جاہلی شاعر کہتا ہے:
ونعین فاعلنا اذا ما نابہ
حتی نیسرہ لفعل السید
’’اور جب ہمارے سربراہ کار کو کوئی مہم پیش آتی ہے تو ہم اس کی مدد کرتے ہیں، یہاں تک کہ سرداروں کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی راہ اس کے لیے ہموار کر دیتے ہیں۔‘‘ (ص ۹۳)
مصنف نے ناقدانہ نگاہ سے جائزہ لیتے ہوئے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تدبر قرآن میں اشعار کی تخریج نہیں کی گئی، نیز بعض مقامات پر موزوں اشعار سے استشہاد کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ بعض جگہ مولانا نے کسی قرآنی کلمہ کا مفہوم واضح کرنے کے لیے کلام عرب سے نظائر پیش کیے ہیں، حالانکہ اس مفہوم کے نظائر خود قرآن میں موجود ہیں جن کی طرف مولانا کی نگاہ نہیں گئی۔ 
اس مقالے کے آخر میں فاضل مصنف نے تفسیر کے مآخذ کے ضمن میں مولانا کی تقسیم سے اختلاف کیا ہے۔ مولانا نے عربی زبان اور کلام عرب کو تفسیر کے قطعی مآخذ میں جبکہ احادیث اور آثار صحابہ کو ظنی مآخذ میں شمار کیا ہے۔ مصنف کی تنقیدیہ ہے کہ ’’دیگر اصولوں کے ساتھ مل کر کلام عرب سے استدلال کے اصول کو کیوں قطعیت مل جائے گی اور احادیث اور آثار صحابہ کو انھی اصولوں کے ساتھ مل کر ویسی قطعیت کیوں نہیں مل سکتی؟ ..... تفسیر قرآن میں احادیث اور آثار صحابہ کو کلام عرب سے کم تر حیثیت دینا صحیح نہیں۔‘‘ (ص ۱۱۳) تفسیر کے ماخذ کی تقسیم اگر قطعیت اور ظنیت کے عنوان سے کی جائے تو اس پر یہ اعتراض ایک حد تک بجا ہے، لیکن اگر اس سے ذرا ہٹ کر غور کیا جائے تو مولانا کے بنیادی زاویہ نگاہ میں بے حد وزن دکھائی دیتا ہے۔ مولانا نے تفسیری وسائل کی یہ تقسیم اصلاً متکلم کے مدعا ومنشا تک رسائی کے لحاظ سے کی ہے۔ کلام کا مفہوم سمجھنے کے لیے جن وسائل سے مدد لی جاتی ہے، ان میں سے کچھ خود کلام کا حصہ ہوتے ہیں اور کچھ اس سے الگ، خارج میں پڑے ہوتے ہیں۔ زبان او رمحاورات کا علم، سیاق وسباق پر غور اور نظائر کا تتبع فہم کلام کے داخلی، جبکہ احادیث وآثار خارجی وسائل ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ وتابعین سے جو تفسیری روایات منقول ہیں، ظاہر ہے کہ وہ بذات خود فہم کلام کے داخلی وسائل کو استعمال کرنے کا نتیجہ ہیں، کیونکہ اگر متکلم نے اپنے مدعا کے ابلاغ کے لیے کلا م کو ذریعہ بنایا ہے تو پھر کلام ہی اس باب میں اصل اور اساس کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس اعتبار سے جب متکلم کے مدعا تک رسائی میں مدد دینے والے علمی وسائل کی درجہ بندی کی جائے گی تو فطری طور پر کلام کے داخلی وسائل ترتیب میں پہلے نمبر پر اور خارجی وسائل دوسرے نمبر پر آئیں گے۔ اس لحاظ سے زیادہ درست اور سادہ تقسیم یہ بنتی ہے کہ تفسیر کے مآخذ کو داخلی اور خارجی میں تقسیم کر کے قطعی اور ظنی کو ان دونوں کی ذیلی تقسیمات کے طور پر بیان کیا جائے۔
’’مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ ؒ کی قرآن فہمی‘‘ کے زیرعنوان مقالے میں مصنف بتاتے ہیں کہ اگرچہ مولانا علی میاں کی عام پہچان ایک مورخ اور سوانح نگار کی ہے، لیکن ان قرآن فہمی کا ذوق بھی بہت بلند پایہ ہے اور ان کی تقریروں اور تحریروں، سب کا سرچشمہ قرآن مجید ہے۔ اس مقالے میں مولانا کے قرآنی افادات کا تعارف پیش کیا گیا اور قرآن مجید پر غور وفکر سے متعلق ان کے منہج اور اسلوب کی بعض خصوصیات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مصنف نے ’فساد فی الارض‘ کی تشریح میں مولانا کی ایک راے نقل کر کے، جس کی رو سے یہ تعبیر صرف اخلاقی بگاڑ تک محدود ہو جاتی ہے اس پر بجا طور پر تنقید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ مفسرین نے اس کی وسعت وجامعیت میں کفر وشرک اور تمام معاصی کو شامل کیا ہے۔ (ص ۱۴۲) اسی باب کے اگلے دو مقالوں میں مولانا صدر الدین اصلاحی کی تفسیر ’’تیسیر القرآن‘‘ (نامکمل وغیر مطبوع) اور ’’تلخیص تفہیم القرآن‘‘ کے اہم خصائص اور علمی نکات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان دونوں تفسیری کاوشوں میں ایک مشترک نکتہ یہ ہے کہ ان میں قرآنی آیات کی تشریح وتوضیح کرتے ہوئے غیر مسلم ذہن کو خاص طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے۔ فاضل مصنف کا تاثر یہ ہے کہ تفسیر تیسیر القرآن ’’اپنے اندروں میں بہت سے جواہر پارے سمیٹے ہوئے ہے، اس لیے اپنی موجودہ ناتمام صورت میں بھی اس کی اشاعت ایک اہم علمی خدمت ہوگی۔‘‘ (ص ۱۷۳)
چوتھا باب ’’قرآنی موضوعات پر چند تصانیف کا جائزہ‘‘ کے عنوان سے ہے اور اس میں متعلقہ موضوع پر ۳۲ تصانیف کا تعارف اور ان پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ ان میں سے ’’برصغیر میں مطالعہ قرآن‘‘ (فکر ونظر اسلام آباد کی خصوصی اشاعت)، ’‘تدبر قرآن پر ایک نظر‘‘ از مولانا جلیل احسن ندویؒ ، ’’ذبیح کون؟ اسحاق یا اسماعیل؟‘‘ از عبد الستار غوری، ’’قاموس الفاظ واصطلاحات قرآن‘‘ (افادات: مولانا امین احسن اصلاحی)، ’’قرآن کریم میں نظم ومناسبت‘‘ از ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی اور شش ماہی علوم القرآن علی گڑھ کا مولانا امین احسن اصلاحی بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ مولانا جلیل احسن ندوی کی تالیف ’’تدبر قرآن پر ایک نظر‘‘ میں مولانا اصلاحی کی بعض تفسیری آرا پر نقد وتبصرہ کیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے المورد، لاہور میں منعقد ہونے والی ہفتہ وار علمی نشستوں میں اس کتاب کے مباحث کا اجتماعی مطالعہ کیا گیا تھا۔ اگر ان نشستوں کی ریکارڈنگ محفوظ ہو اور انھیں مرتب ومدون کر کے منظر عام پر لایا جا سکے تو قرآنیات کے طلبہ کے لیے وہ ایک مفید چیز ہوگی۔ کتاب کا یہ باب غالباً مختلف رسائل وجرائد میں لکھے جانے والے تبصروں کا مجموعہ ہے، تاہم اختصار کے باوجود یہ تبصرے علمی طور پر مفید اور معلومات افزا ہیں۔ 
فاضل مصنف کی دوسری نگارشات کی طرح زیر نظر مجموعے میں شامل تحریریں بھی بلند پایہ علمی مواد سے بھرپور ہیں اور قرآنی علوم وتحقیقات کے ساتھ مصنف کی گہری ذوقی مناسبت کا پتہ دیتی ہیں۔ 
کتاب میں شامل مقالات اور خاص طور پر آخری باب میں تبصرے کے لیے منتخب کردہ کتب پر ایک نظر ڈالنے یہ دلچسپ نکتہ سامنے آتا ہے جس کی طرف دینی علوم کے طلبہ کو متوجہ کرنا یہاں برمحل دکھائی دیتا ہے۔ وہ یہ کہ بیسویں صدی میں برصغیر میں ترجمہ وتفسیر کے انداز میں قرآن مجید کی خدمت تو اپنے اپنے انداز میں یقیناًسبھی مکاتب فکر نے کی ہے، لیکن قرآنی علوم اور تحقیقات کے دائرے میں علمی روایت کی تجدید اور اس دائرے میں نئے نئے پہلووں اور مباحث کے اضافے کا کام بنیادی طور پر ان علمی حلقوں کی طرف سے انجام پایا ہے جن کے لیے بعض اہل علم نے مجموعی طور پر ’’دبستان شبلی‘‘ کی تعبیر استعمال کی ہے۔ اس ضمن میں ماضی قریب کے بڑے ناموں میں مولانا فراہی، مولانا آزاد، سید سلیمان ندوی، عبد الماجد دریابادی، مولانا اصلاحی اور مولانا مودودی کا ذکر کیا جا سکتا ہے جبکہ حالیہ تحقیقات میں بھی ندوۃ العلماء اور مدرسۃ الاصلاح وغیرہ کے فیض یافتگان ہی کا نام نمایاں ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دنیوی علوم وفنون کی طرح دینی علوم ومعارف کی نعمت بھی اللہ تعالیٰ نے اس طرح تقسیم کی ہے کہ کوئی بھی حلقہ فکر دوسرے حلقہ ہاے فکر کی علمی وفکری کاوشوں سے مستغنی نہیں ہو سکتا اور تمام حلقہ ہاے فکر کی مساعی کو امت کی مجموعی علمی میراث کا حصہ سمجھتے ہوئے سب کی قدر دانی اور اعتراف اور کسی تعصب کے بغیر سب سے اخذ واستفادہ ہی صحیح علمی رویہ ہے۔
کتاب کی کتابت وطباعت، کاغذ اور پیش کش کا معیار عمدہ اور کتاب کی علمی سطح کے شایان شان ہے۔ البتہ ٹائٹل کے آخری صفحے پر ناشر کی طرف سے ’’ہماری چند خوب صورت اور معیاری مطبوعات‘‘ کا عنوان دے کر ان مقالات کی ایک فہرست دے دی گئی ہے جو زیر نظر کتاب میں شامل ہیں۔ یوں بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ تمام عنوانات مستقل تصانیف کے ہیں۔ اسی طرح کتابت کی بعض غلطیاں بھی ذوق سلیم کو ناگوار گزرتی ہیں۔ امید ہے کہ آئندہ ایڈیشن میں ان کی اصلاح کر لی جائے گی۔
اس مجموعے کو اسلامک بک فاؤنڈیشن، نئی دہلی نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت ۱۶۰ روپے (ہندوستانی) درج ہے۔ پاکستان میں غالباً یہ سجاد الٰہی صاحب کے پاس دستیاب ہوگی جو ہندوستان سے رسائل وجرائد مطبوعات منگوا کر اہل علم کو فراہم کرنے کا خا ص ذوق رکھتے ہیں۔ (رابطہ: 0300-4682752) 
(تبصرہ: محمد عمار خان ناصر)

Islamism and Democracy in India
The Transformation of Jamaat -e-Islami

(ہندوستان میں اسلام پسندی اور جمہوریت: جماعت اسلامی کی قلب ماہیت)
مصنف :عرفان احمد۔ صفحات :306۔ قیمت:695
ناشر: Permanent Black,'Himalayana,Mall road, Rani 
Khet Cantt. Rani Khet' (India) 263645
اسلام کا سیاست مرکزی تصور اسلامی نظام کے قیام کواسلامی عقیدے اور عمل کا بنیادی پہلو قرار دیتا ہے اوراس کے مقابلے میں جمہوریت اور سیکولرزم کے تصورات کومسترد کردیتا ہے۔ پچھلی تقریبا نصف صدی سے علمی و سیاسی حلقوں میں اس پر بحث ومباحثہ جاری ہے۔نائن الیون کے بعد اس پر بحث میں تیزی آئی اور یہ اور اس سے متعلق موضوعات پر مختلف زبانوں میں اتنی کتابیں لکھی گئیں جو شاید گزشتہ کئی دہائیوں میں نہ لکھی گئی ہوں ۔ عالم اسلام کے علماو اہل دانش اورعوام کی اکثریت نے اس نظریے کو کبھی قبول نہیں کیا،وہ ہمیشہ اس کے خلاف رہی۔اس لیے یہ نظریہ اسلامی فکر کے بنیادی دھارے میں شامل نہیں ہوسکا۔تاہم اس وقت اسلام کو سیاسی tool کے طور پر استعمال کرنے والے اسلام پسند تمام اسلامی ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ بہت سی انقلابی اسلامی تحریکات اپنے مقصد اور فکری اساس کے اعتبار سے یہی تصور رکھتی ہیں۔عرفان احمدکی زیرتبصرہ کتاب اسی موضوع کے ایک اہم پہلو پر لکھی گئی ہے۔ اسلام پسندی کے نظریے کی بانی سمجھی جانے والی جماعت اسلامی ،ہندکے حوالے سے وہ اس نکتے سے بحث کرتی ہے کہ ہندوستان میں جمہوری عمل کے ساتھ اس کے تعلق اور کش مکش کی کیا شکل و نوعیت رہی ہے اور اس کے کیا اثرات اس کے فکری منہج اورعملی طریقہ کار پر مرتب ہوئے ہیں!
کئی سال کے مسلسل مطالعے اور پرمشقت فیلڈ ورک پر مشتمل یہ کتاب کئی حیثیتوں سے انفرادیت رکھتی ہے۔ اس کے مندرجات نہایت چشم کشا ہیں۔ اس کتاب میں پہلی مرتبہ تفصیل کے ساتھ اس بات کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے کہ عالم اسلام کی اس نوع کی دوسری جماعتوں سے قطع نظر،پچھلی نصف صدی سے زیادہ عرصے سے جماعت خود کوجمہوریانے کے عمل میں پوری طرح کوشاں رہی ہے۔مصنف کے مطابق ،جماعت کی بنیادی فکر میں تبدیلی کی شروعات ۱۹۶۰ سے ہوئی جب علما وعوام کی اکثریت کی طرف سے ،جس میں علماے دیوبند پیش پیش تھے ،پوری طرح جماعت کے اس نظریے کو مسترد کردئے جانے پر جماعت نے دو الیکشن کے مکمل بائکاٹ کے بعد تیسرے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ (ص:۲۱۸) یہ دل چسپ بات ہے کہ ۱۹۵۱۔۵۲ کے الیکشن میں امیر جماعت نے الیکشن میں مسلمانوں کے حصہ نہ لینے کے لیے باضابطہ مہم چلائی ۔لیکن ۱۹۸۰ میں خود اپنے ارکان کو اس کی اجازت دینی پڑی (ص:۱۹۷) جب کہ۲۰۰۲ کے الیکشن میں اس نے سیکولرپارٹی کی جیت کے لیے باضابطہ انتخابی مہم چلائی۔(ص:۲۲۰)
اس کے بعدنصف صدی کے عرصے میں حکومت الہیہ کو اپنا اولین ہدف قرار دینے والی اورسیکولر جمہوریت کو ’’طاغوت‘‘ اور’’ جاہلیت ‘‘اور’’خنزیر کی طرح حرام‘‘ تصور کرنے والی جماعت اسی سے اپنا رشتہ استوار کرتی رہی ہے۔ مولانا مودودی نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سمیت تمام جمہوری عصری اداروں کو ’’قتل گاہ ‘‘ قرار دیا تھا لیکن اب انہی قتل گاہوں میں جماعت اسلامی زندگی کی تلاش میں ہے۔ مصنف نے کتاب کے ساتویں اور آخری باب (ص: ۱۸۸۔۲۱۶) میں جماعت کے اس قلب ماہیت کا مدلل ومفصل تجزیہ پیش کیا ہے۔یہ پوری ’داستان عبرت‘ دلچسپ اور قابل مطالعہ ہے۔جماعت کی سر پرستی میں چلنے والے علی گڑھ کے گرین اسکول کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس پر سرے سے کسی آئڈیالوجی کا کوئی اثر نہیں ہے ۔اس میں اور عام اسکولوں میں کوئی فرق نہیں۔طلبہ کے والدین کی اکثریت اسکول کے پس منظر سے واقف بھی نہیں اس کے کارکنان کو اس کا احساس بھی نہیں۔ افراد اور ادارے کی سطح پر جماعت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جماعت کا دعوا خواہ جو بھی ہو، لیکن جماعت کی خاموش ترجیح سیکولر جمہوریت سے ہی قربت تلاش کرنا رہی ہے۔ اپنی تحقیق اور تجزیے کی بنیاد پر مصنف ا س خیال کو غلط ٹھہراتے ہیں کہ جماعت کے اندر یہ تبدیلی محض ظاہری ہے۔ ان کی نظر میں اس تبدیلی کا تعلق جماعت کے اندرون سے ہے ۔خود اس کے فکری ڈھانچے میں گہرائی کے ساتھ تبدیلی آئی ہے۔ (ص:۲)
کتاب کا چوتھا ،پانچواں اور چھٹاباب جماعت اسلامی کی فکر کی بنیاد پر قائم ہونے والی دو طلبہ تنظیموں:سیمی (SIMI) اور ایس آئی او ((SIO کے تقابلی مطالعے پر کے مختلف اہم پہلووں پر مشتمل ہے۔ اس کے لیے مصنف نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ،اعظم گڑھ میں جماعت کی طرف سے قائم مدرسے جامعۃ الفلاح میں فیلڈ ورک کے طور پر کافی وقت گزارا اور دونوں تنظیموں سے منسلک طلبہ کی تنظیمی و اجتماعی سرگرمیوں کوقریب سے دیکھنے ،پڑھنے کی کوشش کی ۔دونوں جگہوں پروہاں کے طلبہ اور کارکنان واساتذہ سے پیہم ملاقاتیں کرکے دونوں گروپ کے طلبہ وکارکنان کی ذہن کی ساخت اور اس کے تشکیلی عوامل کو سمجھنے کی جد وجہد کی تاکہ ایک ہی پس منظر رکھنے والے دونوں طلبہ گروپوں کے بالترتیب اعتدال پسندی اور ریڈیکلزم کے رویے کے بنیادی اسباب کا اندازہ کیا جاسکے۔مصنف کی نظر میں سیمی کی انتہاپسندانہ ذہنی تشکیل میں بنیادی طور پر ہندوتو طاقتوں کے اسی اور نوے کی دہائیوں کے عروج نے اہم رول نبھایا ہے ۔خاص طور بابری مسجد کے انہدام اور اس کے ما بعد ملک گیر فسادات نے سیمی کو ہندوستان جیسے ملک میں بھی جہاد کا راستہ اختیار کرنے پرمائل کیا۔ قابل غور ہیکہ مصنف کے مطابق ،۱۹۹۱ سے قبل سیمی کے اندر جہاد کا رجحان نہیں پایا جاتا تھا۔ ان کا مطالعہ جن نتائج پر مشتمل ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ ا ن کی نظر میں سیمی کا ظاہرہ (phenomenon) ہندوستان کے سیکولر جمہوری نظام کی ناکامی کی پیداوار ہے۔سیمی کے جماعت کی سر پرستی سے محرومی اسی کے ساتھ اس سے متعلق طلبہ کے سماجی پس منظر کو بھی کافی دخل رہا ہے ۔سیمی کے کارکنان شہری علاقوں اورخوش حال خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد اور سرپرستوں کی تعلیم مدارس کے ساتھ عصری درس گاہوں میں بھی ہوئی ہے۔وغیرہ۔ایس آئی او کی صورت حال بہت حد تک اس کے برعکس ہے۔جس کی قابل ذکر تفصیلات مصنف نے پیش کی ہیں۔ 
یہ مطالعہ اس بات کو ثابت کرتا ہے اور مصنف کا اپنا نقطہ نظریہی ہے کہ اسلام پسندی کا نظریہ کوئی جامد اور بے لچک نظریہ نہیں ہے۔بلکہ وہ بہت سے دوسرے نظریات کی طرح ایک متحرک نظریہ ہے۔ جس میں زمانی و مکانی احوال وواقعات کے نتیجے میں ہمیشہ تبدیلی کی گنجائش رہتی ہے۔ہم اسے اس پورے مطالعے کا حاصل کہ سکتے ہیں۔اسلام پسندی سے متعلق خاص طورپر مغرب کے سیاسی وفکری حلقوں میں اس وقت جونظریات پائے جاتے ہیں،یہ نظریہ بہت حدتک ان سے مختلف اور حوصلہ افزا ہے۔اس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ حالیہ عرصے میں مختلف ملکوں کی اسلامی تحریکات کے اندر جو انتہا پسندانہ رجحانات سامنے آرہے ہیں وہ عبوری ہیں مستقل نہیں ہیں۔مشرق وسطی میں ان رجحانات کی پرورش میں وہاں کے غیر جمہوری سیاسی ماحول کا بنیادی دخل رہا ہے جس کی بقا انہی عالمی طاقتوں کی رہین منت ہے جوان تحریکات سے سب سے زیادہ خائف ہیں۔یہ پیراڈاکس ،فکر کا اہم مقام ہے۔ 
اسلامی اور سیاسی حلقوں کے لیے یہ مطالعہ ایک اہم بنیاد فراہم کرتا ہے کہ وہ ان کمزوریوں اورکا جائزہ لے سکیں جو بعض مسلم گروپوں میں انتہا پسندی کے فروغ کا سبب بنی ہیں یا بن رہی ہیں۔خوشی اور اطمینان کی بات ہے کہ عرفان احمد نے نہایت مدلل طور پر اس بات کوثابت کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے کہ بعض مسلم حلقوں میں ریڈیکل رجحانات کی پیدائش اور افزائش کا تعلق مذہبی نظریات سے نہیں ،جیساکہ ہن ٹنگٹن اور برنارڈ لیوس جیسے لوگ کہتے رہے ہیں ،بلکہ اس کا تعلق سماجی حالات سے ہے۔مذہبی نصوص کی تشریح و تطبیق افراد او ر جماعتوں کی خود اپنی تاثر پذیر ذہنیت کا مر ہون منت ہوتی ہے۔یہ بشریاتی مطالعہ انتہا پسندی کی جڑوں کی تلاش و دریافت کے لیے کیے گئے حالیہ مطالعات میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ہندوستان کے تعلق سے اپنی نوعیت کا یہ پہلا مطالعہ ہے۔جواس موضوع پرکا م کرنے والوں کے لیے ایک مضبوط زمین فراہم کرتا ہے۔امید ہے کہ اس کتاب سے سوچنے والوں کو نئی جہت ملے گی اور بہت سی ان غلط فہمیوں کا ازالہ ہوسکے گاجواب تک مسلم اور غیر مسلم فکری و سیاسی حلقوں میں پائی جاتی رہی ہیں۔
ڈاکٹرعرفان احمد ہندوستان کے صوبہ بہار سے تعلق رکھنے والے نوجوان وذہین قلم کار ہیں۔طالب علمی کے زمانے سے مختلف اہم موضوعات پر لکھتے رہے ہیں۔ دہلی جواہرلال نہرو یونی ورسٹی سے انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کی ہے۔ اس وقت وہ آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔
(تبصرہ نگار: محمد وارث مظہری)

مولانا محمد اعظمؒ کا انتقال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے ناظم تعلیمات مولانا محمد اعظمؒ کی اچانک وفات پر بے حد صدمہ ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے شہر کے بزرگ علماء کرام میں سے تھے اور دینی تحریکات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ معتدل اور متوازن مزاج کے بزرگ تھے اور انھیں شہر کے تمام مکاتب فکر میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ میرا ان سے کم وبیش ربع صدی تک دینی تحریکات کے حوالے سے تعلق رہا۔ جب بھی انھیں کسی اجتماعی مسئلے کی طرف توجہ کی دعوت دی گئی، انھوں نے بھرپور توجہ سے نوازا، حوصلہ افزائی کی اور تعاون فرمایا۔ وہ بھی ہر اہم موقع پر یاد کرتے تھے اور ہماری حاضری اور شرکت پر خوش ہوتے تھے۔ ضلعی امن کمیٹی میں ان کے ساتھ رفاقت رہی۔ حق کے اظہار کے ساتھ ساتھ متنازعہ معاملات کو خوش اسلوبی کے ساتھ الجھانے کا ذوق رکھتے تھے اور اس سلسلے میں مکمل تعاون کرتے تھے۔
بیسیوں پبلک اجتماعات میں ان کے ہمراہ شرکت کا موقع ملا۔ شعلہ نوا خطیب تھے اور ان کی گفتگو، جوش وجذبہ کے ساتھ دلائل سے مزین ہوتی تھی۔ ابھی چند روز قبل ۲۶؍ فروری کو ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں محکمہ اوقاف کے زیر اہتمام ڈویژنل سیرت کانفرنس میں ہم اکٹھے شریک ہوئے اور کافی دیر ہم ایک ساتھ بیٹھے رہے۔ اہل حدیث علماء کرام میں حضرت مولانا حکیم عبد الرحمن آزاد رحمہ اللہ تعالیٰ کے بعد دینی تحریکات کے بارے میں ہم زیادہ تر انھی سے رجوع کرتے تھے اور انھوں نے ہمیں کبھی مایوس نہیں کیا۔ 
میں ذاتی طو رپر ان کی وفات پر ایک بزرگ دوست اور گرم جوش ساتھی کی جدائی کا غم محسوس کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور پس ماندگان، متوسلین، تلامذہ اور احباب کو صبر وحوصلہ کے ساتھ ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین

السی: قیمت میں کہتر، فائدہ میں بدرجہا بہتر

حکیم محمد عمران مغل

جو خاندان ابھی تک تہذیب مشرق سے وابستہ ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ نے کئی خطرناک امراض سے بچایا ہوا ہے۔ مثلاً تھکاوٹ، شوگر، امراض دل وگردہ، بلڈ پریشر، جسمانی دردیں وغیرہ۔ آج ریڈی میڈ ادویہ کا چلن ہے۔ گھر میں کوئی بزرگ اپنی زندگی کا کوئی قیمتی عمل بتاتا ہے تو تہذیب مغرب کے دل دادہ سنی ان سنی کر دیتے ہیں۔
تہذیب مغرب نے ہمیں چاروں شانے چت گرا دیا ہے۔ ایک بیماری جاتی ہے، دوسری آتی ہے۔ بہت سے حضرات نے بتایا کہ فلاں ہم نے کیا نہیں، ہم سے بہ جبر کرایا گیا ہے، مگر اب پچھتا رہے ہیں۔ ان کے ازالے کے لیے بتائیں۔ میں نے ان کی خدمت کے لیے کافی تشخیص اور تحقیق اور مطالعہ کے بعد ایک نسخہ ترتیب دیا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ موجودہ طرز بود وباش اور خور ونوش کو ترک کر دیں۔ ان شاء اللہ دور جدید کے تمام امراض سے بچ جائیں گے۔ یہ دوا یعنی السی پانچ ہزار قبل مسیح سے مستعمل ہے۔ السی کو باریک کر کے سفوف بنا لیں، لیکن ایک ہفتہ سے زیادہ نہ رکھیں۔ اس سے غذا جزو بدن بنتی ہے۔ بعض امراض کے جراثیم اور اندرونی رسولیوں کو ختم کرتا ہے۔ سورج کی روشنی برداشت نہ ہونا، موٹاپا، زائد چربی، انتڑیوں کے اورام، پھوڑے پھنسی، ٹھیک نہ ہونے والی کھانسی، حیض کے نظام کی تمام خرابیاں، ان سب امراض میں اس کے استعمال سے فائدہ ہوگا۔ چھاتی کا سرطان، تین ماہ میں ختم۔ اعلیٰ پروٹین اور مچھلی کا بدل اور مانع سرطان ہے۔ تقریباً دو چھوٹے چمچ کھانے کے بعد روزانہ کھائیں۔ شوگر میں خاصی کمی ہوگی۔ اس سے بلغمی امراض کا بالکل خاتمہ ہو جاتا ہے، مگر پرہیز شرط اول ہے۔ اس کا تیل بھی استعمال ہوتا ہے، مگر تیل سے کھانا نہ پکائیں۔ اس کا تیل بچوں کے لیے ٹانک ہے۔ بچوں کو اس کے پانچ قطرے پلاتے ہیں۔ آلو، گوبھی، دال ماش، چاول، پراٹھا، موجودہ دور کے تمام مشروبات سے قطعی پرہیز کریں۔ بہت سے خطرناک امراض سے بچ جائیں گے۔