رفتم وازرفتنِ من عالمے تاریک شد
من مگر شمسم چوں رفتم بزم برہم ساختم
آنحضرت جل سلطانہ کی خلاقی وصناعی کا کیا کہیے کہ اس نے باوجود قدرتِ تامہ کے اپنی حکمتِ بالغہ سے نوع بنی آدم کو مختلف الاستعداد والحیثیۃ بنایا، جس کو خبیث النفس اور مبغوض جانا ؛اس کو کفر و شرک اور بُعد کی تاریکیوں میں دھکیل دیا،یا خلق کی ایذا رسانی اور تکلیف دہی کی قعرِ مذلت میں گرا کر لعنتوں کا مستحق ٹھہرایا اور ’’نُولّہ ماتولّی‘‘کی سزا سنائی اور جس کو شریف النفس پایا ؛ اس کو پسند فرما کر ایمان و عمل صالح کے اَنوار سے مزین فرمایا اور جس کو مقعدِ صدق کے لائق پایا، اُس کو اپنے در پہ بٹھا کر قرب و معرفت اور لذت آشنائی بخشی۔ پھر لھم البشْریٰ فی الحیوۃ الدنیا وفی الآخرۃ کی نوید سنائی۔ فالحمد لمن قدّر خیراً و خبالاً۔
قسمت کیا ہر ایک کو قسّامِ ازل نے
جو شخص کہ جس چیز کے قابل نظر آیا
پھر بخاطرِ مصلحت اپنے نظامِ خیرو شر کی کشاکش کو تاقیامت جاری رکھنے کے لیے ہر دور میں، ہر استعداد کے مظاہرِ خیروشر پیدا فرمائے۔ اگر ایک طرف مظاہرِ خیر میں اصحابِ صفاپیدا فرمائے،تو مظاہرِ شر میں اصحابِ کدورت ظاہر فرمائے ۔ اگر اِدھر فنا فی اللہ کے حامل پیدا فرمائے، تو اُدھر فنا فی الشیطان ظاہر فرمائے۔ اگر مظاہرِ خیر میں استعدادعالی کی بنا پر اِنسلاخ عن الشر کو وجود بخشا تو مظاہر شر میں اِنسلاخ عن الخیر سے نظام جاری رکھا۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا اِمروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی
گویا کہ ہر زمانے میں لکل فرعون موسیٰ کا اصول جاری رہا ۔ چنانچہ آخری دور میں مہدی اور دجال اسی اِنسلاخ عن المادۃ کے مظاہر ہوں گے۔ اَلفِ ثانی میں حضرتِ حق جل مجدہٗ نے دینِ اکبری کو بیخ وبُن سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے امامِ ربّانی حضرت مجدد الف ثانی ؒ کی براہ راست تربیت فرما کر اُن کو اپنے قرب و معرفت کے انتہائی اعلیٰ مراتب عنایت فرمائے جو بڑے بڑے اکابر مشائخِ امت کے وہم و گمان میں بھی نہ تھے اور کم ترک الأوّل للٓاخر کا مصداق بنے۔ نسبتِ مجددّیہ انہی مراتب سے عبارت ہے ۔ پھر آنحضرت جل سلطانہ نے اس نسبتِ مجددیہ کی چوٹیوں پر فائز ہونے کے لیے جن چند برگزیدہ شخصیات کو منتخب فرمایا،اس آخری دور میں انہی میں سے قیّومِ زمان اعلحٰضرت خواجہ ابو السعد احمد خان قدس سرہ بانی خانقاہ سراجیہ کی ذات گرامی تھی ۔ حضرت حق جل مجدہٗ جب کسی کو نوازنے کا ارادہ فرماتے ہیں، تو خلقِ اسباب و رفعِ موانع بھی خود فرمادیتے ہیں ۔ چنانچہ امامِ وقت شہنشاہِ معرفت مخدوم العلماء والمشائخ خوا جۂ خواجگان حضرت خوا جہ قدس سرہ کی تربیت کے لیے اعلیٰ حضرت قیومِ زمان کو ان کے ہاں بھجوایا۔
پھر ان کی نگرانی میں اعلیٰ علم و عمل سے نوازا۔پھر حضرت ثانی قدس سرہ کی تربیت میں عین جوانی میں نسبتِ مجدّدیہ کی بلندیوں سے سرفراز فرمایا اور پھر کم و بیش پچاس سال سے زائد عرصہ تک شہنشاہِ معرفت اور امام ہونے کا شرف بخشا ! حق یہ ہے کہ اتنی بڑی سعادتیں امت میں خال خال ہی کسی کو نصیب ہوئی ہیں۔ ولی را ولی می شناسد کے ضابطہ کے تحت اگرچہ کسی ادنیٰ ولی کو بھی ولی کے بغیر دوسرا نہیں پہچان سکتا ،چہ جائیکہ امامِ وقت کو کوئی پہچانے، خصوصاً جبکہ اعلیٰ ظرفی ، خاموشیئ طبع اور اِخفاءِ حال کی بنا پر امتیازی تعلّی ور رسمی بہتری کا بھی دور پار تک کوئی شائبہ نہ ہو ۔حق یہ ہے کہ اس پچاس سال کے عرصہ میں انہی وجوہ کی بنا پر بڑے بڑے اکابرِ علم واسا طینِ روحانیت میں سے شاید ہی کسی نے حضرت کی ذاتِ عالی کو کما حقہا پہچانا ہو۔ ظاہر ہے کہ جس کسی کے مقاماتِ قرب کا علم ہی کسی کو نہ ہو تو ان تک رسائی کا علم کسی کو کیسے ہوسکے گا ؟! چنانچہ ایک دفعہ اس نادان نے جرأت کرتے ہوئے حضرت خواجہ ؒ سے عرض کرہی دی : کہ معتقدین میں سے شاید ہی کوئی آنحضور کی بلندئ مرتبت کو جانتا ہو، حضرت نے مسکرا کر فرمایا :’’ آپ کی بہت مہربانی‘‘۔
راقم الحروف سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ معصومیہ میں شیخ المشائخ حضرت شیخ سید صفی اللہ شاہ بخاری قدّس سرہ کا مرید، تربیت یافتہ اور خاتم الخلفاء ہے؛ جو کہ فاضل دیو بند تھے ۔ شیخ الاسلام حضرت مدنی ؒ کے شاگردِ خاص اور شیخ العرب والعجم مولانا عبد الغفور مدنی ؒ کے سات سلاسل میں خلیفہ اَجل تھے۔ اپنی وضع قطع ،بودو باش اور ریاضت کے اعتبار سے اکابر مشائخ متقدمین کا کامل نمونہ تھے اور یہ نادان سلسلہ مجددیہ بنّوریہ میں شیخ المشائخ خواجہ مظفر الدین سید پوری قدس سرہ اور خواجہ محمد سعید کو ہستانی قدس سرہ کا خلیفہ ہے۔ دونوں حضرات قطب وقت خواجہ شمس الدین سید پوری بنوری قدس سرہ کے خلفاء تھے، جبکہ اوّل الذکر صاحبزادے بھی تھے ۔ دونوں نے تقریباً سو سال سے زیادہ عمر پائی۔ دونوں حضرات مجھ کم نصیب پر بہت ہی مہربان تھے۔ اوّل الذکر کی سوسالہ زندگی کا سب سے چہیتا خلیفہ اور ثانی الذکر کی سوسالہ زندگی کا واحد خلیفہ ہونے کا شرف حضرتِ حق نے عنایت فرمایا! میرے اس بنوری سلسلے کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس نالائق کی معلومات کے مطابق عالم اسلام میں پھیلے ہوئے مجددی سلاسل میں سب سے عالی سند سلسلہ ہے۔ باوجود بلندئ مر تبت کے حضرت خواجہ ؒ اور امام ربانی ؒ کے درمیان بارہ یا تیرہ واسطے ہیں، جبکہ مجھ نالائق اور امام ربانی ؒ کے درمیان صرف نو واسطے ہیں۔سند کا عالی ہونا علومِ ظاہرہ میں خصوصاً فنِ حدیث میں اگر چہ بہت اہمیت کا حامل ہے، لیکن فنِ تصوف میں جس کا مدار بلندئ قرب و مرتبت پر ہے، سند کا عالی ہونا زیادہ سے زیادہ فی الجملہ اہمیت رکھتا ہے ۔
الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے
حضرت خواجہ ؒ کے ساتھ مجھ نالائق کو بچپن سے ہی اعتقاد تھا۔ معلوم نہیں کہ عالمِ اسباب میں اس کی وجہ کیا بنی تھی؟ !لیکن بندہ کے برادر کبیر قاری محمد اشرف خان ماجد ( مرحوم) کے حضرت خواجہ ؒ سے بیعت کرنے پر اس اعتقاد کو مزید تقویت ملی۔ لیکن باضابطہ استفادے کا موقع مندرجہ بالا مشائخ ؒ سے ہی ملا ۔ آخر عمر میں حضرت خواجہ ؒ سے خط و کتابت بھی چند بار ہوئی اور زیارت اور صحبت شریفہ میں حاضری کی سعادت بھی چند بار ملی اور علمی و روحانی استفادے کا موقع بھی نصیب ہوا ۔ آٹھ، دس بار حضرت نے شفقت فرماتے ہوئے تنہائی میں نجی ملاقات کا موقع بھی عنایت فرمایااور چند بار مختلف مواقع و مقامات میں مجامع میں ملاقات کا موقع بھی ملا۔نظرِ کشفی سے بندہ کی روحانیت و حقیقت کو دیکھتے ہوئے اسباق کی نشاندہی اور راہنمائی بھی فرماتے رہے ۔ماوشما کے لیے جس شخصیت کا تعارف ہی ناممکن ہو اس کے بارے میں مجھ بے بضاعت کا کچھ ذکر کرنا اگرچہ سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا لیکن:
ما تماشا کنانِ کوتہ دست
تو درختِ بلند وبالائی
کا اعتراف کرتے ہوئے یہ نادان صحبت شریفہ میں اخذ کر دہ، چند علمی و روحانی فیوض و برکات کا ذکر کرنے کی کوشش کرے گا۔ اگرچہ اس سے حضرت کے کسی ادنی کمال کی عکاسی بھی نہیں ہوسکے گی ۔
ہزار بار بشویم دَہن زِمشک وگلاب
ہنوز نامِ تُو گفتن کمال بے ادبی است
بلندئ مرتبت
آنحضرت جل سلطانہ نے امامِ وقت حضرت خواجہ ؒ کو تمام کمالاتِ ظاہری و باطنی، علمی، عملی و روحانی سے بھر پور نوازا تھا۔ بندہ نے اپنی حیات میں جن اکابر علماء و مشائخ کی زیارت کی ؛کسی کو بھی جامعیت کمالاتِ ثلٰثہ میں حضرت خواجہ ؒ کے برابرنہیں پایا ۔ خاص طور پر فنِ تصوف کے تمام لوازم وآثار کا حامل، نیز بیعت ،معرفت و حقیقت کے رموز واسرار کا پورا پورا آشنا حضرت عالی کے ہم پلہ کوئی شخص عالم اسباب میں قریب قریب ناممکن تھا ۔ اوائل شباب میں اپنی کم ظرفی و پست ھمتی کی بنا پر بندہ کا خیال تھا، کہ نسبت مجددیہ کے انتہائی اعلیٰ و آخری مراتب، بالخصوص’’ کمالات و حقائق‘‘ کے حامل لوگ اس دور میں نہیں ہوا کرتے ۔ چنانچہ آج سے اٹھارہ سال قبل حضرت کے سامنے حضرت کے اسی مکتوب پر تبصرہ کرتے ہوئے جو آخر میں درج کیا جائے گا ،بندہ نے اپنے اس خیال کا اظہار کیاتو مسکرا کر فرمایا: ’’کہ تمہارا خیال درست نہیں، بلکہ اس نسبت کے حامل لوگ اس دورمیں بھی موجود ہیں‘‘۔ چنانچہ بندہ نے استشہاد کے طور پر امام الہند شاہ ولی اللہ ؒ کے معاصر مرزامظہر جانِجاناںؒ کا قول نقل کیا کہ انہوں نے اپنے آخری دور میں سالکین کی سست روی کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ عنقریب کمالات کا دروازہ بند ہوجائے گا اور ولایت کا کھلا رہے گا، حقائق تک رسائی توبہت متعّذر ہے۔
لگے ہاتھوں حضرت مرزا مظہر جانجانانؒ کا تعارف بھی کراتا چلوں کہ مرزا صاحب ؒ کس پائے کی شخصیت تھے؟! امام الہندشاہ ولی اللہ ؒ جیسی نابغہ روز گار شخصیت ،جو اپنی اعلیٰ ظرفی اور عالی نفسی کی بنا پر بہت کم کسی کی معتقد تھی اور حسبِ عادت بہت کم کسی کے لیے تعریفی کلمات فرمائے ہیں، لیکن باوجود مرزا صاحبؒ کے معاصر ہونے کے شاہ صاحبؒ کا فرمان ہے:
’’اللہ پاک نے مجھے اتنا اعلیٰ کشفِ صحیح عنایت فرمایا کہ کسی وقت پوری دنیا میرے سامنے ایسے منکشف ہوتی ہے جیسے ہاتھوں کی لکیریں۔ میں بلا مبالغہ کہتا ہوں کہ اس وقت دنیا کی کسی اقلیم میں مرزا صاحب ؒ جیسی شخصیت موجود نہیں۔ وہ قیّم طریقہ احمدیہ ہیں۔ جو بھی نسبت مجددیہ کی تحصیل چاہتا ہو، اپنے آپ کو مرزا صاحب ؒ تک پہنچائے‘‘۔
بلکہ یہاں تک فرمایا کہ اتنی بلند شخصیات متقدمین میں بھی خال خال ہوئی ہیں۔ حضرت خواجہ ؒ نے بندہ سے مرزا صاحب ؒ کا قول سن کر فرمایا کہ اس سے مرزا صاحب ؒ نے اپنی وفات کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ بندہ نے عرض کی: کہ’’ کمالات و حقائق‘‘ کا دروازہ بند ہونے سے اگرچہ وفات کی طرف اشارہ ممکن ہے، لیکن’’ ولایات کا دروازہ کھلا رہے گا‘‘سے نسبت کے تنزل پذیر ہونے کی طرف واضح اشارہ ہے۔ حضرت خواجہؒ مسکرا کر قدرے خاموش رہے؛ پھر فرمایا کہ مقاماتِ ’’کمالات و حقائق‘‘ کے قوۃ وضعف میں فرق ممکن ہے، ورنہ نفسِ کمالات حقائق اس دور میں بھی حاصل ہیں ۔
تو وطوبی وما وقامتِ یار
فکر ہر کس بقدر ہمت اوست
قارئین کو معلوم رہے کہ مقامات کمالات و حقائق آنحضرت جل سلطانہ کے قرب کے انتہائی مقامات میں سے ہیں جن سے بالاصا لتہ تو انبیاء کرام علیہم الصلوٰات والتسلیمات ہی بہرہ ور ہوتے ہیں، لیکن امتیوں میں سے بھی گنے چنے افراد انتہائی اعلیٰ استعداد اور انتہائی اعلیٰ متابعت کی بنا پر فیضیاب ہوتے ہیں۔ حاصلِ کلام یہ کہ سالک جس نبی کے زیرِ قدم ہوتا ہے، اس کی حقیقت سے متحد ہو نے کے بعد حضرت حق کی طرف سے اپنے ساتھ وہی معاملات پاتا ہے جو اس نبی علیہ السلام نے پائے اور بغیر کسی وساطت کے براہِ راست حضرت حق جل مجدہ سے مستفیض ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ دور حاضر کے اعتبار سے انتہائی اعلیٰ سعادت ہے جس کا مندرجہ بالا مکالمہ میں در پردہ حضرت خواجہ ؒ نے اعتراف فرمایا؛ اور حق یہ ہے کہ یہ نعمت نسبتِ ولایت سے بالا تر ہے ۔’’ کمالات نبوت اور نسبت مجددیہ‘‘ کے خصائص میں سے ہے ۔
بے نفسی
دین و دنیا کی کوئی نعمت بھی جب حضرتِ حق جل شانہ کی طرف سے کسی کو عنایت ہوتی ہے؛ خاص طور پر جب کوئی بڑا منصب مل جائے تو جب تک منعم علیہ بہت اعلیٰ ظرف اور وسیع الصدر نہ ہو، تب تک بڑوں بڑوں سے بھی خود نمائی کا عنصر ضرور شامل ہو جاتا ہے، لیکن حضرت خواجہ ؒ اس سلسلے میں بہت اعلیٰ ظرف واقع ہوئے تھے۔ بار ہا بار بندہ نے مختلف حیلوں بہانوں سے کریدنے کی کوشش کی لیکن کیا مجال ہے کہ کبھی خود رائی کا اظہار ہو ۔جیسے کہ آئندہ آنے والے مکتوبات سے بھی معلوم ہوگا۔ حضرت خواجہ ؒ کو آنحضرت جل سلطانہ نے مسلسل پینسٹھ (۶۵) حج ارزائی فرمائے تھے جو کہ ایک نایاب یا کمیاب سعادت ہے!! بندہ نے ایک دفعہ عرض کی کہ جیسے حضرت عروۃ الوثقی خواجہ معصوم قد س سرہ نے ’’یا قوتِ احمر‘‘ کے نام سے اور حضرت شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے ’’فیوض الحرمین‘‘ کے نام سے اور دیگر اکابر نے مختلف ناموں سے حرمین شریفین میں پیش آمدہ معاملات، فیوضات و برکات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ آپ نے تو بہت زیادہ بار حاضری دے کر فیوض و برکات حاصل فرمائے ہیں ۔ آپ بھی کچھ تحریر فرماتے ؟! بر جستہ فرمایا ’’کہ مجھے کوئی دعویٰ نہیں ،بندہ نے جرأت سے عرض کی: کہ میں دعویٰ کا نہیں عرض کر رہا ، بلکہ یہ کہ خلقِ خدا کو اس سے بہت سی معلومات اور استفادہ ہوتا؟فرمایا کہ کوئی ضرورت نہیں !
اللہ اکبر! کہاں حضرت خواجہ ؒ جیسے خدا رسیدہ مرشدانِ حقیقی اور کہاں میرے جیسے نالائق رسمی اور نمائشی پیر ۔ چہ نسبت خاک رابا عالم پاک! اسی ضمن میں ایک لطیفہ یاد آگیا ۔ قطبِ وقت خواجہ شمس الدین سید پوری بنوری قدس سرہ کے ایک خلیفہ ریل گاڑی کے سفر میں تھے ۔ایک لحیم شحیم رسمی پیر صاحب بڑے طمطراق سے چار آدمیوں کی سیٹ پر قبضہ کرکے ایسے ہی براجمان تھے ۔خلیفہ صاحب اسی سیٹ کے ایک کونے پر مشکل اڑ کر بیٹھ گئے اور بار بار پیر صاحب کی طرف لجاجت آمیز نظروں سے دیکھاکہ میں تنگ بیٹھا ہوں ؛شاید پیر صاحب تھوڑاسمٹ کر میرے لیے کچھ گنجائش پیدا کریں ۔لیکن پیر صاحب ٹس سے مس نہ ہوئے اور نہ ہی خلیفہ صاحب کی روحانیت کو پَر کھ سکے۔ آخر خلیفہ صاحب نے عرض کر دی: کہ حضور! اگر تھوڑا کلوز ہوجائیں تو میرے لیے گنجائش نکل سکتی ہے۔ پیر صاحب جو کہ کافی دیر سے خود نمائی کے لیے پر تول رہے تھے لیکن موقع نہیں مل رہا تھا ؛فوراً غصے سے گردن کو خاص انداز میں تاؤ دے کر بولے: آپ کو معلوم ہے کہ میرے چار لاکھ مرید ہیں؟! خلیفہ صاحب نے عرض کی: کہ حضور میں نے تو مریدوں کی تعداد پوچھی بھی نہیں، نہ ہی اس سے میری کوئی غرض ہے کہ مجھے توبیٹھنے کے لیے ڈیڑھ فٹ جگہ چاہئیے!! ظاہر ہے کہ ایسے خود نما پیروں سے کس کی کیااصلاح ہوگی؟!
یہ زاہد نفس پرور تیرے دربان بن کے بیٹھے ہیں
خداوند تیرے در تک رسائی کتنی مشکل ہے
کشف و کرامات
کشف و کرامات اگر چہ ولایت کی شرط نہیں ؛ لیکن کم و بیش صوفیانہ ولایت کے لوازم و آثار میں سے ہے۔طریقِ تصوف میں آنحضرت جل سلطانہ کا شاید ہی کوئی ایسا پاک باطن برگزیدہ بندہ ہو جو کم و بیش اس سے خالی ہو ۔ خواہ وہ خود سمجھے یا نہ سمجھے۔ حضرت خواجہ علیہ الرحمتہ جن کی سجادگی کا زمانہ چوّ ن سالہ(۵۴) طویل عرصہ پہ محیط ہے۔لاکھوں مرید ین اور متوسلین حضرت خواجہ ؒ سے فیض یاب ہوئے۔ ہزاروں معتقدین نے موقع بموقع ان سے کشف و کرامات کا صدور دیکھا جو کہ معتقدین میں ہر خاص و عام کی زبان پر ہیں ۔ راقم الحروف اپنے ساتھ پیش آمدہ دو واقعاتِ کشف کا ذکر کرے گا:
پہلا واقعہ: خانقاہ شریف میں گرمیوں میں عصر کی مجلس میں بندہ بھی حاضر تھا ۔ حضرت کے حجرہ شریفہ اور مسجد کے صحن کے درمیان کھلی فضا میں مجلس ہوتی تھی ۔ حضرت چارپائی پر تشریف فرماتھے اور چند معتقدین حضور کا بدن مبارک دبا رہے تھے۔ بندہ بھی آہستہ آہستہ قریب پہنچا دبانے والے ساتھی نے حضرت کا بازو اس انداز سے تھام رکھا تھا،کہ دست مبارک مجھے نظر آرہا تھا؛ بندہ چونکہ پامسٹری کا شوق بھی رکھتا تھا ۔ خیال ہوا کہ حضرت کے دست مبارک میں کونسی ایسی لکیر ہے جو حضرت کے امامِ وقت ہونے پردال ہے؛ دیکھنا چاہیئے۔ بندہ نے غیر محسوس طریقے سے مزید قریب ہونے کی کوشش کی ۔ حضرت نے مکشوف ہونے پر فوراََ لطیف حیلے سے دست مبارک کا رخ اپنی طرف فرما کر مٹھی بند کرلی اور دو ،تین بار بندہ کی طرف خاص نظروں سے دیکھا اور آخر تک مٹھی بند ہی رکھی ۔
دوسرا واقعہ: حضرت خواجہ اپنی افتاد طبع اور خاموشی کی بنا پر بوقت ملا قات عام طور پر رسمی علیک سلیک پر ہی اکتفا فرماتے تھے ۔ بہت ہی اخص الخواص حضرات سے معمول سے زائد انبساط بھی کبھی فرمایا کرتے تھے۔ حضرت اسلام آباد تشریف لائے ہوئے تھے ۔بندہ حاضر ہوا۔ گھر کے کسی بچے نے بتایا کہ حضرت کھانا تناول فرما رہے ہیں۔ چنانچہ بندہ نے باہر گلی میں ہی چہل قدمی میں بہتری سمجھی۔ خیال ہوا کہ اندر مجمع بھی ہوگا،سر سر ی سی ملاقات ہوسکے گی۔ کاش کہ حضرت خود ہی خلاف معمول کافی انبساط و شفقت فرمائیں!چنانچہ حضرت کے فارغ ہونے پربندہ حاضر ہوا ۔ حضرت نے بوقت سلام خلاف معمول بندہ کا ہاتھ کافی دیر تھامے رکھا اور حال احوال پوچھتے رہے ۔بالآخر بندہ اپنے خیال اور خواہش پہ مسکرادیا ۔حضرت بھی مجھے دیکھ کر مسکرائے اور پھر ہاتھ چھوڑ دیا ۔ اسی طرح میرے علاوہ ہزاروں معتقدین کیساتھ ایسے واقعات بار ہا بار پیش آئے ہوں گے جوکہ حضرت کے انتہائی روشن ضمیر ہونے پر دال ہیں۔
حافظہ
محدثین ،فقہا ء اور علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے اوصاف میں حافظے کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے اور ان کی سوانح میں اس کا خاص ذکر ملتا ہے ۔ جو کہ وھبی اور کسبی دونوں طرح کا ہوسکتا ہے ۔گناہوں سے تحفظ ،خصوصی طور پر نظروں کی حفاظت سے اس کا خاص تعلق رہا ہے۔ لیکن عام ضابطے کے برعکس تصوف میں کمال کا مدار چونکہ فناو بقاپر ہے جوکہ ماسوا کے نسیان پر مرتب ہے۔ اسی لیے صوفیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ میں ایسے ایسے مستغرق الحال لوگ بھی بکثرت ہوئے ہیں جو اپنا نام تک بھول جاتے تھے، لیکن حضرت خواجہؒ باوجود انتہائی اونچے صوفی صافی ہونے کے کمال درجہ کا صحووبقا بھی رکھتے تھے۔ اس لیے حافظہ بھی بہت قوی رکھتے تھے۔ خانقاہ کی طرف سے ایک بار ’’دلائل الخیرات ‘‘طبع ہوئی جس کے شروع میں درودِ تاج بھی طبع ہوا۔ ایک ٹھیٹھ مولویانہ ذہن رکھنے والے ساتھی نے کہا کہ اس میں کچھ الفاظ موہم شرک ہیں !بندہ اتفاق سے اپنی کسی مقصد کے لیے حضرت خواجہ کو خط ارسال کر رہا تھا۔ اس نے بھی یہ اشکال لکھ کر بھیج دیا۔ حضرت خواجہ ؒ نے جواب میں’’ دلائل الخیرات ‘‘کے شروع میں درودِ تاج کی طبع سے لاعلمی اور بے تعلقی ظاہر فرما کر معذرت فرمائی ۔ بات آئی گئی ہو گئی۔
اس واقعے سے تین سال بعد بندہ پہلی بار خانقاہ شریف زیارت کے لیے حاضر ہوا تو غالباً دوسرے دن حضرت خواجہ ؒ نے ایک عبارت بندہ کے سامنے رکھ دی فرمایا کہ اس عبارت پر شرعاً کوئی اشکال تو نہیں؟ !بندہ نے عرض کی :کہ اگر ’’با‘‘سببیت کے لیے لیں ،علت کے لیے نہ لیں تو بظاہر کوئی اشکال نہیں۔ حضرت نے فوراً مسکرا کر فرمایا کہ پھر لوگ درودِ تاج پر کیوں اعتراض کرتے ہیں!! سچ یہ ہے کہ درودِ تاج والا مندرجہ بالا قصہ بندہ کے اپنے ذہن سے نکل چکا تھا، لیکن حضرت کے فرمانے سے ذہن میں تازہ ہوا اور حضرت کے قوی حافظے کی داد دینی پڑی ۔
عشقِ امام ربّانی ؒ
اگرچہ مجددی سلسلے کے ہر شابّ و شیخ کو امام ربانی سے خصوصی محبت ہوتی ہے لیکن حضرت خواجہ ؒ کو امام ربانی ؒ سے غایت درجہ محبت تھی۔ اتفاق سے ایک بار مجلس میں بندہ نے عرض کی: کہ خاتم المحدثین علامہ انور شاہ کاشمیری ؒ نے فرمایا ہے کہ امام ربانی ؒ کے خلیفہ اجل شیخ آدم بنوریؒ کے بعض مَلَکات، امام ربانی ؒ سے زیادہ قوی تھے ۔ خلاف معمول سن کر حضرت چیں بجبیں ہوئے اور فرمایا کہ کاشمیری صاحب نے کون سی نسبت مجددیہ حاصل کی ہوئی تھی کہ ان کو یہ کہنے کا حق ہو؟!!
امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی ؒ نماز کے تشہد میں رفع مسبحہ کے قائل نہیں تھے اور ان کے عاشق صادق تمام حاملین نسبتِ مجددیہ بھی اسی نسبت سے رفع مسبحہ نہیں فرماتے تھے۔ حضرت خواجہؒ کا بھی معمول عدم رفع کا تھا۔ اسی طرح رئیس المحدثین حضرت مولانا حسین علیؒ بھی عدم رفع کے قائل تھے۔ امام ربانی ؒ نے مکتوبات میں فقہی روایات سے مدلل ایک مکتوب عدم رفع مسبحہ پر بھی تحریر فرمایا ہے۔ ایک دن بندہ نے حضرت خواجہ ؒ سے عرض کی کہ آپ کے تشہد میں اشارہ نہ فرمانے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا :کہ تم نے مجدد صاحب ؒ کا مکتوب نہیں پڑھا؟ بندہ نے عرض کی کہ بندہ نے مرزاصاحب ؒ کا مکتوب بھی پڑھا ہے۔ ( مرزا صاحب نے اثبات رفع مسبحہ پر مکتوب تحریر فرمایا ہے اور باوجود مجددی اور عاشق امام ربانی ہونے کے مجدد صاحب کے قول کو فقہی اعتبار سے مرجوح قرار دیا ہے۔) حضرت میر ا جواب سن کر مسکرائے اور فرمایا کہ حضرت مجدد ؒ کے صاحبزادہ ثانی خواجہ محمد سعید ؒ نے عدم رفع پر ایک مستقل کتاب تحریر فرمائی ہے۔ بندہ نے عرض کی: کہ مجھے امام ربانی ؒ کے سب سے چھوٹے صاحبزادے خواجہ محمدیحییٰ ؒ کے اثبات رفع پر مستقل تصنیف کا بھی علم ہے۔ حضرت جواب سن کر محظوظ ہوئے اور مسکراتے رہے۔ آخر میں بندہ نے عرض کی کہ ہماری حنفی فقہی روایات کا سب سے بڑا ماخذ اور سند توا مام محمد ؒ ہیں۔ وہ خود فرمارہے ہیں: ’’وبہ نأ خذ وھو قول أبي حنیفۃؒ ‘‘ کہ ہمارے امام ابوحنیفہ ؒ کا یہی قول و عمل ہے ؛رفع مسبحہ ،اور اسی پر ہمارا عمل ہے تو پھر کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے! حضرت نے مسکرا کر فرمایا :کہ بھئی آپ کیا کریں،آپ کو کون روکتا ہے؟
سکوتِ دائمی
ہر سلسلے کی اپنی خصوصیات ہوا کرتی ہیں سلسلہ نقشبندیہ کی بنا ہی چونکہ ذ کر خفی پر ہے ۔ اس لیے خاموشی سے صحبتِ شیخ میں اپنے لطائف اور اسباق کی طرف متوجہ رہ کر فیوض و برکات اخذکرنے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔حضرت خواجہ ؒ اسی اصول کی بنا پر ہمیشہ خاموش رہتے تھے۔ احادیث میں خواجہ کا ئنات حضرت ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کان کثیر الصمت کے الفاظ آئے ہیں اور یہ تو قارئین نے سناہی ہوگا : کہ حکمت ودانائی کے دس اجزاء ہیں؛ جن میں سے نو صرف خاموشی میں ہیں اور ویسے بھی اصحابِ عشق و معرفت کی خاموشی خالی سکوت کا نام ہی نہیں؛ بلکہ: خموشی معنی دارد کہ در گفتن نمی اَید کا مصداق ہوتی ہے ۔نیز من عرف اللّٰہ کلّ لسانہ بھی مسلّمات میں سے ہے۔ ان تمام امور کی بنا پر حضرت خواجہؒ دائم السکوت تھے ۔ عوام الناس جو کہ جب تک و عظ و نصیحت یا بیان نہ سن لیں متاثر نہیں ہوتے ۔ اسی طرح اس اصول کو نہ سمجھنے والے اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی حضرت کی مسلسل خاموشی پہ حیران ہوتے تھے۔چنانچہ ایک بار کسی نے عرض کر ہی دی :کہ حضور کچھ فرمائیں ؟تو حضرت خواجہ ؒ نے امام ربانی ؒ کا قول نقل فرمایا :
’’جس کو ہماری خاموشی سے فائدہ نہ ہو،اس کو ہمارا کلام کوئی فائدہ نہیں دے گا ‘‘
ایک دفعہ اتفاق سے بندہ خانقاہ میں تھا ۔ مظفر گڑھ کے علاقے سے ایک عمر رسیدہ سفید ریش، تقریباً حضرت کے ہم عمر ایک صاحب ،بڑے باتو نی اور چٹورے قسم کے مرید تشریف لائے ۔غالباًکسی دینی مدر سے کے سفیر بھی تھے۔ مجلس شریفہ میں سوائے علیک سلیک کے کوئی بات بھی نہ سن پائے ۔ مجلس کے بعد میرے پاس آبیٹھے اور فرمانے لگے :کہ حضرت تو بالکل بولتے ہی نہیں !!میرے پہلے شیخ خواجہ سعید گوہانویؒ مجھے بہت نصیحتیں فرمایا کرتے تھے ۔بندہ نے عرض کی :کہ اپنی اپنی طبیعت ہے ؛جوبات واقعی ضروری ہو حضرت فرمادیتے ہیں۔جو نہیں فرماتے وہ ضروری نہیں ہوتی۔ کہنے لگے :کہ میں تو حضرت کی خاموشی سے تھک جاتا ہوں! !حضرت کو کچھ نہ کچھ فرمانا چاہیء۔ بندہ نے عرض کی :کہ بزرگوں کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کیا کرتے ۔عصر کی مجلس میں ان صاحب نے حضرت کے کچھ فرمانے کا انتظار کیا لیکن بے سود۔ بالآخر خود ہی بول پڑے کہ: سائیں !میرے پہلے پیر مجھے بہت نصیحتیں کرتے تھے ۔چنانچہ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو میں نے عرض کی :کہ آپ تو اب فوت ہورہے ہیں میرے بارے میں کیا حکم ہے ؟انہوں نے فرمایا: کہ میری وفات کے بعد دو آدمیوں میں سے جس کے پاس مرضی ہو چلے جانا : ایک حضرت خواجہ عبداللہ بہلوی شجا ع آبادی ہیں اور دوسرے حضرت خواجہ خان محمد کندیاں والے ہیں۔ چنانچہ میں ابھی اسی شش و پنج میں تھا کہ دونوں میں سے کس کے پاس جاؤں ؟! تو کچھ عرصہ بعد خواجہ عبداللہ بہلویؒ بھی وفات پاگئے ۔ چنانچہ پھر صرف آپ ہی رہ گئے ۔پھر میں آپ سے بیعت ہوا ۔اس بزرگ کی زبان سرائیکی تھی اور حضرت کے ساتھ بات کا طرز بالکل ہم عمر دوستوں جیسا تھا۔ جس سے حضرت خواجہ ؒ سمیت پوری مجلس کافی محظوظ ہوئی ۔ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ سائیں !چند سال پہلے جو مرید آپ کے پاس آتے تھے کافی سخی ہوتے تھے ۔کوئی مٹھائی لے آتا، کوئی پھل لے آتا،مجھے بھی کھانے کا موقع مل جاتا ۔لیکن اب چند دن سے دیکھ رہا ہوں کہ کافی بخیل مرید آتے ہیں، کوئی چیز نہیں لاتے!! حضرت نے فرمایا : تمہیں مٹھائی کی خواہش ہے، تمہیں مل جائے گی۔ ان صاحب نے حضرت کی بشاشت کو دیکھتے ہوئے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ یہ دستار کافی سال پہلے آپ نے دی تھی؛ اب بالکل بوسیدہ ہوچکی ہے ۔ اس دفعہ نئی دستار مجھے عنایت کرو؛ میں لے کرجاؤں گا۔حضرت نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ مل جائے گی !‘‘
الغرض مجلس شریفہ میں اگرچہ ہر ایک کی خواہش ہوتی ہوگی کہ حضرت کچھ فرمائیں، لیکن حضرت اپنے اصول کی پاسداری فرماتے ہوئے ،آفتابِ معرفت و موردِتجلیات ہونے کی بنا پر اپنے فیوضات و برکات کی ضیاء پاشیوں سے باطنی طور پر مجلس کو گرم رکھتے تھے ۔جس سے اصحابِ بصیرت واستعداد؛ خصوصاً اصحابِ ادر اک وکشف پوری طرح مستفیض ہوتے تھے۔ حتیٰ کہ ایک ہیئت پر جم کر بیٹھنا مشکل ہوتا تھا۔انوارہڈیوں میں سرایت کرتے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔
دل سلگتا ہے تیرے سرد رویے پہ مرا
دیکھ اس برف نے کیا آگ لگا رکھی ہے
حضرت کی ذات عالی تو نور مجسم تھی ۔مجلس شریفہ سے کسی کے بے فیض اُٹھنے کا تو سوال ہی کیا ہے ۔الّایہ کہ کوئی بہت ہی شیطان صفت اور خلق کی ایذا رسانی کی بنا پر محروم القسمت ہو تو علیحدہ بات ہے !
تہید سنانِ قسمت راچہ سود از رہبرِ کامل
خضر از اَب حیوان تشنہ لب اَرد سکندر را
ورنہ حضرت ؒ تو جس علاقے میں تشریف فرما ہوتے ؛پورے علاقے کی فضا انوار کی بارش سے سیراب ہوتی تھی ۔
ایک دفعہ بندہ بقر عید کے دوسرے دن قطب البلاد حضرتِ لاہور پہنچا ۔دو دن بعد حسب معمول رات کو سویا تو فضا معمول کے مطابق تھی لیکن سحری کو جب اُٹھا تو لاہور شہر کی فضا کو بندہ نے روحانیت سے معمور پایا۔ بڑی حیرت ہوئی ؛کہ ابھی رات کو خلاف معمول کوئی بات نہیں تھی، اب سحری کویہ روحانیت کہاں سے آئی۔ فوراً ذھن حضرت خواجہ ؒ کی طرف منتقل ہوا کہ غالباً رات کے کسی حصے میں حضرت خواجہؒ لاہور میں تشریف فرماہوئے ہیں ۔ چنانچہ صبح فجر کے فوراً بعد ناشتے میں بندہ نے میزبان سے کہا کہ شاید حضرت خواجہ ؒ لاہور میں تشریف لائے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت چند دن قبل حج پر تشریف لے گئے تھے عید کے فوراً بعد بظاہر واپسی کا کوئی امکان نہیں، لیکن بندہ اپنے ادراک پر مصر تھا۔ چنانچہ ایک ساتھی معلومات کے لیے حضرت کے مخلص قاری نذیر صاحب کے پاس بھیجا گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت واقعی رات ساڑھے بارہ بجے کی فلائٹ پر تشریف لائے تھے اور ابھی ہی ناشتہ کرکے خانقاہ تشریف لے گئے ہیں ۔
شہر تو شہر ہے ؛سچ پوچھو تو کئی بار ایسا بھی ہوا کہ بندہ نے روحانی فضا کو مکدر اور سُونا سُونا پایا۔ خیال ہوا کہ شاید حضرت خواجہ ؒ ملک میں تشریف فرما نہیں ہیں ۔چنانچہ معلومات کرنے پر معلوم ہوا کہ واقعی حضرت خواجہ ؒ بیرون ملک کے دورے پر تشریف لے گئے ہوئے ہیں ۔
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدِ بیضاء لیے پھرتے ہیں اپنی آستینوں میں
قصّہ عجیبہ: حضرت خواجہ ؒ اگر چہ آخری سالوں میں مندرجہ بالا سکوت پر بہت کار بند تھے، لیکن اٹھارہ بیس سال قبل کی مجالس میں سوالوں کا خاطر خواہ جواب ضرور مرحمت فرمائے تھے۔ بندہ جب بھی مجلس میں ہوتا تو تصوف کے کسی موضوع پر ضرور پوچھ گچھ کرتا رہتا اور حضرت بھی شفقت فرماتے ہوئے وا جبی سا جواب ضرورمرحمت فرماتے ۔ اتفاق سے بندہ نے تصوف کی کوئی بات پوچھی تو حضرت بات سنتے ہی فوراً خلافِ معمول اٹھ کر باہر تشریف لے گئے ۔ساری مجلس میری طرف دیکھنے لگی۔ بندہ خود اپنی جگہ پریشان ؛کہ خدا نخواستہ کوئی گستاخی مجھ سے ہوئی ہے کیا ؟! لیکن مجلس کے ایک حاضر باش، مزاج شناس نے میری طرف اشارہ کیا کہ آپ بھی حضرت کے پیچھے چلے جائیں ۔بندہ لرزتی ٹانگوں سے حضرت کے پیچھے چل پڑا۔چنانچہ حضرت کشاں کشاں خانقاہ کی لائبریری میں تشریف لے گئے اور خانہ کتبِ تصوف کے سامنے قیام فرما ہوئے۔ بندہ پیچھے کھڑا رہا۔ حضرت نے کچھ دیر کی تلاش کے بعد تصوف کی مشہور کتاب’’ لوائح جامی‘‘ نکالی ۔فہرست دیکھی اور پھر کتاب بند ہ کے ہاتھ میں تھمادی فرمایا کہ اس کا فلاں جگہ سے مطالعہ کرلو۔ چنانچہ واپس ہم دونوں حجرہ شریفہ پہنچے ۔ دوپہرکی فرصت میں بندہ نے کتاب کا مطالعہ کیا اور ظہر کی مجلس میں عرض کی کہ میں نے کتاب کا مطالعہ کر لیا ہے، لیکن اس میں چند باتیں غلط ہیں!! حضرت نے فرمایا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ بندہ نے وہ مقام کھول کر آگے کر دیا۔ حضرت دیکھ کر مسکرائے فرمایا کہ ہاں کتابت کی غلطی سے مضمون غلط ہوگیا ہے۔ پھر رات کی مجلس میں جس میں ساتھی نسبتاً کم ہوتے تھے، بندہ نے وحدۃ الوجود کی بحث شروع کی۔ حضرت ؒ نے کافی معلومات افزأ جوا بات عنایت فرمائے جو آخر میں مکتوب کے بعد بندہ ذکر کرے گا۔ ایک جواب جس پر بندہ نے اشکال ظاہر کیا؛ اس کا جواب باحوالہ دکھانے کے لیے حضرت ؒ نے فرمایا کہ اپنے پیچھے موجود الماری سے فلاں کتاب دے دو۔ حضرت نے وہ حوالہ تلاش کرنے کی کافی کوشش فرمائی، لیکن پندرہ منٹ کی جستجو کے باوجود حوالہ نہ مل سکا۔ آخر بندہ نے عرض کی کہ چلو پھر کسی موقع پر تلاش کر لیں گے، لیکن حضرت نے میری بات سنی اَن سنی کر دی اور حوالہ کی تلاش جاری رکھی جبکہ بندہ کو پہلے سے علم تھا کہ حضرت خواجہ ؒ شیخ المشائخ شاہ غلام علی مجددیؒ کا قول مجھے دکھانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ جب تلاش کو پون گھنٹے کے قریب وقت ہوگیا اور تمام ساتھی میری طرف بار بار دیکھنے لگے کہ حضرت کو تم نے ویسے مشقت میں ڈال رکھا ہے تو بندہ نے دوبارہ عرض کی کہ حضور صبح تلاش کر لیں گے، لیکن حضرت بدستور ورق گردانی فرماتے رہے۔ بالآخر مجبوراً بندہ کو آخری پتہ پھینکنا پڑا کہ میرے خیال میں حضور مجھے شاہ غلام علی ؒ کا ارشاد دکھانا چاہتے ہیں، وہ پہلے سے میرے علم میں ہے۔ حضرت ؒ نے مسکرا کر کتاب بند فرما دی اور فرمایا کہ میں وہی دکھانا چاہتا تھا۔ حضرت نے مجھ نالائق کے وسعت مطالعہ کی تعریف بھی فرمائی، نیز شکریہ ادا کرنے کاحکم فرمایا۔
کمالِ عظیم
امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الف الف تحیۃ و سلام کے جن چند جلیل القدر مشائخ کرام ؒ کو آنحضرت جل سلطانہ نے شرعیت، طریقت، معرفت، حقیقت کی جامعیت کی بنا پر پیری کی پوری پوری حقیقت مع لوازمہا وآثار ہا عنایت فرمائی تھی؛ حضرت خواجہ ؒ اپنی بہت سی خصوصیات کی بنا پر ان مشائخ میں خاص مقام کے حامل تھے ۔
مشائخِ طریقت کی عام طور پر تین اقسام ہر دور میں رہی ہیں۔ بندہ نے بھی تینوں اقسام کو دیکھ رکھا ہے :
قسمِ اوّل: بعض مشائخِ طریقت اگرچہ عملی ،حالی اور باطنی طور پر کمالاتِ تصوف سے حسب استعداد خاطر خواہ حد تک متحقق ہوتے ہیں اور باریاضت ہو نے کی بنا پر دوسرے کی تربیت اور اصلاح بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن علمی طور پر تصوف کی حقیقت سے ناآشنا ہوتے ہیں ۔چنانچہ صاحب استعداد لوگ اگر علمی طور پر کوئی اشکال یا سوال، تصوف کے بارے میں ان سے پوچھیں۔ تو وہ جواب دینے سے عاجز ہوتے ہیں ۔ ایسے مشائخ کی کثیر تعداد ہر دورمیں خصوصاً آخری دور میں رہی ہے۔
قسمِ دوم: ایسے مشائخ جو عملی، حالی، روحانی اور باطنی کمالات میں بھی بیچارے کمزور ہوتے ہیں اور علمی طور پر بھی تصوف کے فن سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ ایسے حضرات کو مشائخ کی بجائے پیران کرام کہنا چاہئیے اور مجھ کم نصیب جیسے اکثر پیر اس دور کے تقریباً ایسے ہی ہیں۔
قسمِ سوم: ایسے مشائخ کرام جو واقعی سجادہ نشین ہیں۔ شریعت، طریقت اور حقیقت کے تمام پہلوؤں پر علمی، عملی، روحانی غرضیکہ ہر لحاظ سے حاوی ہوتے ہیں۔ کمال و تکمیل میں بھی اعلیٰ مقام رکھتے ہیں ؛فن کے بہترین شارح اور تسلی بخش جواب دھندہ ہوتے ہیں اور تصوف کے دقائق، معارف ،رموزو اسرار کے پوری طرح آشنا ہوتے ہیں ۔پہلے ادوار میں ایسے مشائخ بکثرت ہوتے تھے۔ لیکن آخری ادوار میں کم، اور دورِ حاضر میں سوائے حضرت خواجہ ؒ کے کوئی شخصیت راقم الحروف کی نظر سے اِس پائے کی نہیں گذری ۔ فنِ تصوف سے نا آشنا لوگ خواہ عوام ہوں یا خواص ،عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ پیری ایک معمولی ،عام اور آسان سا کام ہے ۔حتی کہ عوام تو عوام ہیں؛ خواص بلکہ علماء میں سے بھی کئی حضرات یہ کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ پیری تو ہر بندہ کر سکتا ہے ؛صرف یہی تو بتانا ہوتا ہے کہ اتنی دفعہ فلاں ذکر کیا کرو اور بس۔ حاشا وکلّا ثم حاشا و کلّا !!
بلا مبالغہ حق بات یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کے تمام کاموں میں سب سے مشکل ترین کام پیری ہے ۔ بڑے بڑے لوگ اس فن میں ناقص پائے گئے۔ پیری کیا ہے؟ اس کی حقیقت پر قدرے روشنی ڈالتے چلوں؛ تاکہ مغالطہ دھندگان کی غلط فہمی یا خوش فہمی دور ہوسکے۔
پیری نام ہے: آنحضرت جل سلطانہ کے مراتب قرب میں اپنے کمال اور دوسروں کی تکمیل کا ۔کمال کیا ہے؟ کمال نام ہے تین چیزوں کا:
۱۔ ظاہراً و باطناً پورا پورا متبع شریعت وسنت متقی ہو نا۔
۲۔ باطن کا انوارِ حقیقت میں مستغرق ہونے کی بنا پر لطائف عشرہ کا پورا پورا مصفّیٰ و مزکّیٰ ، محلّیٰ و مجلّیٰ ہونا۔ قالب کا اعتدالِ حقیقی سے مشرف ہونا ۔مقام بی یسمع و بی یبصر کی بنا پر فنا فی اللہ و بقا با للہ سے مشرف ہونا ۔صاحبِ کشفِ عیانی یا کم از کم صاحبِ کشف وجدانی وادراک باطنی ہونا۔ دنیا وما فیہا کی محبت سے بالکلیہ خالی ہونا ۔دن رات کی کوئی گھڑی ریاضت ، اعمال یا مشاہدہ و توجہ الیٰ اللہ سے خالی نہ ہونا ۔
۳۔ آنحضرت جل سلطانہ کے معاملات کو پوری طرح سمجھنا اور ان کے مقتضی پر ہمہ وقت عمل پیرا رہنا ۔
جبکہ مقامِ تکمیل نام ہے مندرجہ ذیل تمام صفات سے متصف ہونے کا :جب کوئی بیعت کے ارادے سے آئے ؛اس کی استعداد کو دیکھنا ،کہ قربِ عام کی استعداد رکھتا ہے یا قربِ خاص کی۔ اگر استعدادِ قربِ خاص رکھتا ہے؛ تو راہِ ولایت کی استعدادرکھتا ہے یا راہِ نبوت کی؛ بصورت ولایت استعدادِ جذب رکھتا ہے یاسلوک کی ۔کیونکہ ان میں سے ہر استعداد کے مناسب علیحدہ اذکار و اوراد ہیں ۔اصحابِ بصیرت نے دیکھا ہوگا کہ مشائخ سے بیعت کے بعد، مختلف اسباق ،مختلف سالکین کو جو ملتے ہیں؛ اس میں اصل راز یہی استعداد کا فرق ہے۔ پھر سالک کس لطیفے یا مشرب سے خاص تعلق رکھتا ہے یا کس نبی کے زیر قدم ہے؛ تاکہ اس لطیفے پر خاص تو جہات اور محنت کرائی جائے۔ عنایت شدہ ذکر اُس نے کیا ہے یا نہیں؟! اس کے لطائف اس سے متاثر ہوئے ہیں یا نہیں؟اگلا سبق دیے جانے کے قابل ہے یا نہیں ؟! عالمِ امر سے مناسبت کم رکھنے کی صورت میں، خصوصی توجہات سے اُس کی مناسبت پیدا کرنا،تاکہ ناسوتی صفات چھوڑ کر ملکوتی صفات کی طرف ترقی کرے ۔ پھر بحالتِ جذب ،کیفیات ووار دات کا تحمّل نہ کر سکنے کی صورت میں اس کو مصلحت کی خاطر واپس نیچے لانا یا بصورتِ تحمل توجہ سے اُس کو اُس کیفیت سے بالا مقام پر لے جانا۔ سالک کی شرعی خامیوں سے پوری طرح با خبر رہنا اور اس مقام سے اس کو نکالنے کے لیے نصیحت ،توجہ و دعا سے اُس کی دستگیری کرنا ۔سالک کے کسی گناہ کی بنا پر نزولِ غضبی یا نزول عدلی کا شکار ہوکر عروج کھو د ینے پر دوبار ہ اُس کو اس مقام تک پہنچانا۔بصورت استعداد عالی جونسی تجلیات اس سالک کے لیے نافع ہیں ؛اُن کو اس پر وارد کرنا اور مضر تجلیات سے بذریعہ بائی پاس کسی بالا تجلی تک پہنچانا۔ صاحبِ استعداد غیر ملکی مرید ین یا دور دراز رہنے والے عشاق سالکین کو دور دراز کی توجہ سے مقاماتِ عالیہ تک پہنچانا اور سالکین کو پیش آنے والے علمی و حالی اشکالات سے تسلی بخش طریقے سے نجات دینا۔ فنافی الشیخ ،فنافی الرسول اور فنافی اللہ جیسے مقامات سے گزار کر مقامِ احسان تک اس کو پہنچانا۔ عالم غیب کے رُمو زو اسرار سے رفتہ رفتہ اُس کی مناسبت پیدا کرکے ،ان کے حقائق کو سمجھنے کی استعداد اُجاگر کرنا۔ بے استعداد یا ضعیف الاستعداد سالکین پر انعکاس کیو جہ سے کھلنے والے کشوف کو بخاطرِ مصلحت بند کرنا۔ واقعات و منامات کی صحیح تعبیر کی عکاسی کرنا ۔سالکین کے علاوہ عام ملاقاتی حضرات کی حقیقت پر مطلع ہونا؛ تاکہ نزّلوا کل رجل منزلتَہ پر عمل کیا جا سکے اور پھر سب کچھ کے باوجود اپنی حقیقت کو ان کی آلودگیوں سے بچائے رکھنا ۔اپنے اور سالکین کے اعمال و اشغال کے انوار واثرات پر علمی و حالی پوری پوری گرفت رکھنا۔ مجلس پہ مختلف الجہات وارد شدہ کیفیات کے اسباب پر نظر رکھنا۔ غرضیکہ اس قسم کی بیسیوں وجوہ کے اسباب وعلل، ثمرات و نتائج پر علماً و تصرفاً پوری طرح حاوی رہنا ۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے اکثر صفات کا مدار کشف وادراکِ باطنی پر ہے۔ جن کا مدار ریاضتِ دائمی اور لقمہ حلال پر ہے۔ آج کل دورِ حاضر میں نظام کے بأکثر الوجوہ سودی ہونے کی بنا پر رزق حلال تقریباًمفقودہے ہر جگہ مکروہ یا مشتبہ طعام سے واسطہ پڑتا ہے۔ ان حالات میں حتی الوسع احتیاط و تقویٰ کو ملحوظ رکھنا۔
سودی نظام ہے اور یہ تقویٰ کی آرزو
کتنا حسین فریب ہے جو کھار ہے ہیں ہم
اور پھر ریاضتِ دائمی کے لیے حضرت حق جل مجدہ کے عشق و محبت سے سر شار ہونے کی بنا پر سالہا سال کی شبہائے تاریک کو روشن وزندہ رکھ کر اس شعر کا مصدا ق بننا:
اسی کشمکش میں گزریں میری زندگی کی راتیں
کبھی سوز و ساز رومی کبھی پیچ و تاب رازی
غرضیکہ پیری کے یہ لوازم و آثار کم از کم دورِ حاضر کے لحاظ سے اتنے مشکل اور کٹھن ہیں کہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہیں۔ ان لوازم و آثار کے ہوتے ہوئے پیری کو ایک عام اور آسان سا کام سمجھنا ؛خالی از خرد ہونے کی علامت ہے ۔دورِ حاضر میں پیری کے ان لوازم و آثار کے ساتھ امام وقت حضرت خواجہ ؒ پوری طرح متحقق اور متصف تھے۔ اگر چہ پیری کے اس رُخ کے ساتھ ساتھ معاشرہ میں رسمی پیری کا ایک دوسرا رخ بھی بہت وسیع حد تک موجود ہے جس کی عکاسی یہ شعر پوری طرح کر رہا ہے:
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
میراث میں آئی ہے انہیں مسندِ ارشاد
چنانچہ حضرت خواجہ ؒ جیسے مشائخ کو ہر وقت مریدوں کے جلَو میں گھرے ہوئے دیکھ کر للچانے والے راہگیر اسی غلط فہمی کی بنا پر، پیر بننے کی سعی لاحاصل میں ہر ناجائز ہتھکنڈوں تک استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔لیکن خالی از روحانی کمالات آدمی کو یہ کون سمجھائے کہ پیری تو اوپر سے نازل ہوتی ہے ایڑی چوٹی کا زور لگانے سے اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے سے نہیں حاصل ہوتی:
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
علمی عبورِ کا مل درفنِ تصوف
جیسے کہ پہلے ذکرہوچکا کہ حضرت خواجہ ؒ جامعِ مشائخ میں سے تھے۔ علمی طور پر بھی فن تصوف پر عموماً اور علوم مجددیہ پر خصوصاً عبورِ کامل رکھتے تھے۔ فنی اصطلاحات و حقائق کے بہترین اور مستند شارح تھے ۔ استشہاد کے طور پر حضرت خواجہ ؒ کے دو تین مکتوبات کا ذکر کر رہا ہوں ؛جو بندۂ نا چیز کے نام حضرت خواجہ ؒ نے سوالوں کے جواب میں ارسال فرمائے۔ جس سے حضرت خواجہ ؒ کے علمی بلند مرتبہ کی کسی قدر عکاسی ہوتی ہے ۔
عرصہ دراز قبل بندہ نے وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود کی حقیقت دریافت کرنے کے لیے ایک عریضہ حضرت خواجہ ؒ کی خدمت میں ارسال کیا۔ جس کا جواب حضرت ؒ نے مندرجہ ذیل عنایت فرمایا جوکہ مِن و عَن نقل کیا جارہا ہے:
’’مکرم و محترم جناب رشید الحق صاحب مطالعہ فرما ویں؛ کہ آپ کا گرامی نامہ موصول ہوا ۔آپ نے جس مسئلہ کے متعلق اِس فقیر سے رجوع فرمایا ہے ۔ وہ مسئلہ علمی ہونے کے ساتھ ساتھ ذوقی اور وجدانی بھی ہے اور من لم یذُقْ لم یدْرِ کا مصداق ہے اور یہ فقیر دونوں سے عاری ہے ۔ وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود :یہ تصوف کے معرکتہ الآراء مسئلے ہیں۔ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ الأقدس سے پہلے صرف وحدۃ الوجود ہی کی بحث چلتی تھی۔ ہمارے علماءِ اسلام دیو بند رحمہم اللہ تعالیٰ وحدۃ الوجود کے ہی قائل ہیں ۔حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں اصطلاحوں میں تطبیق دینے کی سعی فرمائی جو اُس دور کے نقشبندی مجددی حضرات نے قبول نہیں فرمائی اور اب یہ مسئلہ صرف کتابوں میں رہ گیا ہے۔ اس کا ذوق اور وجدان رکھنے والے اگر موجود ہیں تو وہ ہمیں معلوم نہیں۔ حضرت شیخ اکبر ؒ سے بعض مسائل میں حضرت اما م ربانی مجدد الف ثانی ؒ نے اختلاف کیا ہے، لیکن اختلاف کے باوجود اُن کے متعلق اپنے مکتوبات میں تحریر فرمایا ہے کہ وہ مقبو لانِ بارگاہِ الہٰی میں نظر آتے ہیں۔
وحدۃ الوجود کی آسان سی تعبیر ہمہ اوست سے کی جاتی ہے اور وحدۃ الشہود کی ہمہ ازاوست سے ۔ اِن تعبیرات سے بہ آسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ قرآن و سنت کے قریب کونسی اصطلاح پڑتی ہے ۔بہت مدت ہوئی مولانا محمد عبداللہ دھرم کوٹی مرحوم ؛جو کہ حضرت رائے پوری حضرت مولانا عبدالقادر صاحب ؒ کے خلفاء میں تھے ،کے ساتھ ایک رات گزارنے کا اتفاق ہوا۔ وہ سحری کے وقت اُٹھے۔ تہجد کے بعد انہوں نے اپنے طریقہ کے مطابق ذکرِ جہر شروع کیا ۔ وقفے وقفے کے بعد وہ یہ بھی ترنم کے ساتھ کہتے تھے :
جس طرف دیکھتا ہوں اُدھر تو ہی تو ہے
اِسی طرح حضرت امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ کے کلا م میں ہے :
مَن تُوشُدم تُو مَن شدی مَن تن شُدم تُو جان شُدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں مَن دیگرم تُو دیگری
یہ اسی ہمہ اوست کی کیفیت کا پَر تو ہے اور اسی سے بے دین لوگوں نے اتحاد ، حلول ، تجسیم کے غلط مسائل پیداکیے ہیں اور تصوف کے منکرین نے انہی غلط چیزوں کو دیکھ کر کہا ہے: کہ تصوف میں ہندوستان کے جو گیوں کے اثرات ہیں۔
وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود تصوف کی اصطلاح ہیں ۔ ان کا عقائد سے کوئی تعلق نہیں ۔عقائد سے تعلق اس توحید کا ہے جس کی تعبیر قرآن و سنت میں موجود ہے ۔ یہ اصطلاحیں اس کے اعتبارات ہیں ۔ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی ؒ نے وحدۃ الوجود کا انکار نہیں فرمایا؛ وہ فرماتے ہیں: سالکین راہ کو وسط میں یہ کیفیت بعض پر وارد ہوتی ہے اور بعض پروارد نہیں ہوتی اور انتہا میں اس کیفیت کی بجائے وحدۃ الشہود کی کیفیت وارد ہوتی ہے ۔ اسی لیے حضرات نے لکھا ہے کہ جس پر یہ کیفیات وارد نہ ہوں، اُس کو اس پر کلام نہیں کرنا چاہےۂ!!احتیاط کے پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے ،فقیر اپنے اندراس سے زیادہ لکھنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ افسوس ہے !!کہ فقیر اس سلسلہ میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکا ۔ فقیر بفضلہ تعالیٰ بعافیت ہے ۔ والحمد للّٰہ علیٰ ذلک۔ فقیر آپ سب حضرات کی صحت وعا فیت اور سلامتی کا طالب ہے ۔مولا پاک نصیب فرماوے ۔ آمین ۔ فقیر کی طرف سے سب حضرات کی خدمت میں سلام مسنون۔ والسلام ‘‘
یہ مکتوب حضرت خواجہ ؒ نے وفات سے چوبیس سال قبل تحریر فرمایا ہے۔
حضرت خواجہؒ نے باوجود مسئلہ پر تفصیلی روشنی ڈالنے کے اصل اختلاف سے احتیاطاً پہلو تہی فرماتے ہوئے معذرت فرمائی ہے ۔لیکن جیسے کہ قبل ازیں بندہ ذکر کرچکا ہے کہ اس مسئلہ کو بالمشافہہ حضرت سے مختلف مجالس ومواقع میں استفسارات کرکے بندہ نے سمجھا ہے اور امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ اور امامِ وقت حضرت خواجہ ؒ کے فرمودات کا حاصل جو کچھ ہے ؛کافی ساتھیوں کے عرصہ دراز کی خواہش اور اصرار پر نقل کررہا ہوں۔ امید ہے کہ باذوق حضرات خصوصاً علومِ مجددیہ کے شائقین کے لیے فائدے کا باعث ہوگا۔
وحدۃ الوجود کا اطلاق دو مقامات پر ہوتا ہے:
۱۔ دورانِ سلوک عروج اور حال کی ایک منزل پر ۔
۲۔ حقیقتِ کائنات کے ضمن میں۔
(۱) ’’توحید وجودی‘‘ یا ’’وحدۃ الوجود‘‘ کا پہلا اطلاق
۱۔ ’’ توحیدِ وجودی ‘‘ یا ’’ہمہ اوست ‘‘درعروج وحال:
طالبِ حق جب کسی کامل مکمل شیخ کی اجازت سے ،نیز ذکر وفکر ومراقبات کی کثرت سے تصفیہ وتزکیہ سے اپنے لطائف کو منور اور مزین کرلیتا ہے۔ عالمِ امر اور ملکو ت سے پوری پوری مناسبت حاصل کرکے دائرہ امکان سے گزر جاتا ہے۔ تو بعض سالکین کو( اغلب ہے کہ وہ مجذوب سالک ہوتے ہیں) سیرِبرزخی اور ظلی کی انتہاء میں اور سیر اصلی وصفتی کی ابتداء میں آنحضرت جل مجدہ کے غلبہ محبت کی بناء پر؛ اچھے اور برے آئینوں میں؛یعنی مظاہرِ خیر وشر میں محبوب کی وحدت کا جمال مشاہدہ ہوتا ہے ۔ہر اچھے بُرے فعل کو اسی کافعل پاتا ہے۔ غلبہ حال کی وجہ سے تمیز رفع ہوجاتی ہے۔ چنانچہ آئینہ سے غافل ہوکر؛مظہر کو ظاہر کا عین ، مخلوق کو خالق کا عین جانتا ہے ۔ ہرچہ خوباں کند خوب آمد کے تحت ایمان کی طرح کفر کو بھی اُ س کا فعل جان کر بنظرِ استحسان دیکھتا ہے ۔غرض یہ کہ اسی مغلوبیت کی بنا پر امیر خسرو ؒ کی طرح
ہرچہ آید در نظر غیرِ تو نیست
یا توئی یا بوئے تو یا خوئے تو
کے راگ الاپتا ہے۔ حسن بن منصور حلاج ؒ کا :
کفرت بدین اللّٰہ و الکفر واجب
لدیّ و عند المسلمین قبیح
کہتے رہنا ۔ امام ربانی کا :
کفر و ایما ں زلف و روئے آں پری زیبائی است
کفر و ایماں ہر دو اندر راہِ ما یکتائی است
اپنے مرشد محترم کو تحریر فرمانا۔ شاہ ولی اللہ علیہ الرحمۃ کا:
غافل از خود ماند از صورت چوں پر شد آئینہ
تا ترا شناختم جاناں ز خود بیگانہ ام
گنگناتے رہنا۔ بایزید بسطامی ؒ کا: لیس فی جبتی سوی اللّٰہ کااظہار کرنا ۔ شیخ جامی ؒ کا:
درہرچہ نظر کردم غیر از تو نمی بینم
غیر از تو کسے باشد حقا چہ مجال است ایں
کے زمزمے گانا ۔یہ سب اسی مقام کے پر تَو، کیفیات اور پھول ہیں۔
مجنون کا لیلیٰ کے عشقِ مجازی میں:
اَمرّ علیٰ الدیار دیارِ لیلی
اقبّل ذا الجدار وذا الجدارا
کے ترنم سے انہی کیفیات کا اظہار ہے۔
چونکہ توحیدِ وجودی کا یہ حال آنحضرت جل سلطانہ کے غلبہ محبت کی وجہ سے پیدا ہوتاہے اورمقدمہ فنا ہے۔ گذشتہ مقامات کی بہ نسبت محمود ہے۔ لیکن چونکہ دو ئی اور کثرت؛ نظرسے ساقط نہیں ہوتی ،علم الیقین کی قسم سے ہے اور سالک کے وجود کو فنا نہیں بخشتا؛ اس لیے ناقص مقام ہے۔ سالک کو اس مقام سے جلد گزر جانا چاہئے۔ کیونکہ یہ دید اور مشاہدہ ،غلبہ حال کی وجہ سے ہیں ۔نفس الامر کے مطابق نہیں یعنی مظہر ،عینِ ظاہر نہیں۔
یہ مندرجہ بالا تمام مشائخ اس مقام میں رہے ہیں لیکن با لآخر اس سے گزر کر بلند مقامات پر پہنچے ہیں۔ اس مقام والوں کو’’ وجودیہ عینیہ ‘‘کے نام سے موسوم کیا جاتاہے اور یہ مقام سلوک میں ہرایک کو پیش نہیں آتا بلکہ حسبِ استعداد بعض کا عبور اس مقام میں ہوتاہے۔اس کی مثال مشائخ نے یوں دی ہے کہ رات کے وقت ستاروں کی روشنی کو اصحابِ بصیرت سور ج کی روشنی کا پَرتَوکہتے ہیں۔ لیکن سورج کے غلبہ محبت اورکمال روشن ہونے کی وجہ سے ستاروں میں اس کے نور کے عکس کو دیکھ کر ستاروں کو بھی سورج کہتے پھر نا!؛ظاہر ہے کہ یہ دید اور شہود خلافِ واقعہ ہے۔
لیکن یہ توحیدِ وجودی کا مقام با وجود ناقص ہونے کے اسی وقت محمود ہو گا جب غلبہ محبت کے حال کی وجہ سے ہوگا۔ جیسے کہ مشائخ کو عنایت ہوا ہے لیکن اگر محض قال اور تکرار کی حد تک ہے ؛مشائخ کی پیروی میں ان کے حال کی علمی عکاسی کی حد تک ہے تو انتہائی مذموم ہے۔ کیونکہ مشائخ رحمہم اللہ تعالیٰ اس مقام میں بھی شرع شریف پر پوری طرح کار بند رہے ہیں۔ باوجود غلبہ حال کے سرِمو شریعت سے تجاوز نہیں کیا۔ لیکن محض قال رکھنے والے چونکہ تمام کونی تعینات کو حضرتِ حق ہی کہتے پھرتے ہیں ؛شرع شریف سے مادر پدر آزاد ہوتے ہیں۔
پرانے وقتوں میں ایسے ملحد لوگ ہر دور میں بے شما ر ہوئے ہیں۔ دینِ اکبری کی بنیاد اور داراشکوہ کے نظریات کی اساس یہی لوگ ہوئے ہیں۔ امام ربانی ؒ نے مکتوبات میں جا بجا اور حضرت خواجہ ؒ نے گزشتہ مکتوب میں ملحد اور بے دین کہہ کر انہی لوگوں کا رد کیا ہے۔ بندہ نے اس دور میں اپنی زندگی میں صر ف ایک آدمی اس طرز کا دیکھا ہے ۔ممکن ہے کہ اور بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہوں۔ عرصہ ہوا کہ اسلام آباد سے پندر ہ بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پرا نے صوفی بزرگ کے مزار پر جاناہوا۔ جب ہم واپس نکلنے لگے تو سجادہ نشین صاحب کا خادم ہمارے استقبال میں کھڑا تھا۔ علیک سلیک کے فوراً بعد سجادہ نشین صاحب بھی آن وارد ہوئے۔ بڑے اصرار سے اپنے ساتھ لے گئے۔ مزار کے احاطے میں چمن کے لان میں کرسیاں بچھی ہوئی تھیں،ان پر بیٹھنا ہوا۔ انہوں نے خادم کو چائے لانے کا آرڈر دیا اور خود باتوں باتوں میں اپنا حدودِ اربعہ بیان کر نا شروع کیا۔ ظاہری جسم پر شرع شریف کے کوئی آثار نظر نہ آئے۔ ڈاڑھی شریف بالکل غائب تھی۔ ٹوپی رومال کا بھی کوئی ذکر نہ تھا ۔ رفتہ رفتہ اسی وحدت الوجود کی رسمی قالی تکرار شروع کی اور چائے کے وقفے کے علاوہ گھنٹہ ڈیڑھ اسی میں صَرف کر دیا۔ جانوروں حتی کہ سانپ ،بچھوتک کو نعوذباللہ حضرتِ حق بتایا۔ میری متجسس نظروں سے بھانپ گئے اور کہا کہ میں نے بھی بہت ریاضت کی ہے۔ پورے نوسال رات دن ایک کردیا تھا۔ بڑی بڑی متشرع ڈاڑھی تھی، لیکن اتنی کڑی ریاضت سے جب کچھ ہاتھ نہ آیا تو مایوسی کا شکار ہو کر پوری ڈاڑھی منڈوا کر ،ننکانہ صاحب میں گورونانک صاحب کے نام ہدیہ کرآیا ہوں۔ نعوذ باللہ!!
بندہ نے بار بار اٹھنے کی کوشش کی لیکن اُن کی پھرتی نے ایک نہ چلنے دی اور کہا کہ آپ جیسے لوگ ایسی جگہوں پر ضرور آتے رہنے چاہیءں۔ بمشکل جان چھڑائی تو رخصت کرنے کے لیے گیٹ تک آئے ۔سلام لیتے وقت ہاتھ تھامے تھامے مزید آدھ پون گھنٹہ اسی بحث میں صرف کرگئے۔ پندرہ سال گزرگئے ہیں باوجود اس صوفی بزرگ کے مزار پر فاتحہ خوانی کا شوق رکھنے کے ،صرف انہی سجادہ نشین صاحب کی وجہ سے دوبارہ نہیں جاسکا ۔سنا ہے کہ اب تو وہ اس بحث میں بالکل فنا ہوچکے ہیں اور علماء کرام اُن کے کفر کا فتوی تک دے چکے ہیں۔
الغرض توحیدِ وجودی کا مقام بصورتِ حال محمود لیکن ناقص ہے ۔جبکہ بصورتِ قال سراسر خلاف شرع ہے اور کفر کی دہلیز تک پہنچانے والا ہے۔ امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ سے اس توحید وجودی کا جو انکار معروف ومشہور ہے ۔وہ نفسِ مقام کا انکا ر نہیں بلکہ اس مقام کے مقامِ کمال ہونے کا انکار ہے۔ ورنہ امام ربانی ؒ خود بھی سالہا سال دوسرے مشائخ کی طرح اس مقام میں رہ چکے ہیں اور مکتوبات شریفہ میں ابتدائی تمام مکتوبات کے معارف وعلوم اسی مقام سے ناشی ہیں۔
۲۔ ’’ توحیدِ شہودی‘‘ درحالِ عروج:
گزشتہ سالک کو آنحضرت جل سلطانہ توحیدِ وجودی سے ترقی بخشتے ہیںیا تمام سالکین بذریعہ بائی پاس اس مقام سے پار ہوجاتے ہیں۔ تو تمام مظاہرِخیر وشر، نظر سے ساقط ہوجاتے ہیں ۔دیدہ بصیرت میں صرف اور صر ف حضرتِ حق جل مجدہ کا شہود باقی رہ جاتا ہے ۔جیسے دن کے وقت سور ج کے نکلنے سے تمام ستارے نظر سے غائب ہوجاتے ہیں ۔یہ مقا م فنا ہے اور اس راہ کی ضروریات میں سے ہے۔ کوئی سالک اس مقام سے گزرے بغیر ولی نہیں بن سکتا اور اسی کو عین الیقین کہتے ہیں۔
یہ مقام چونکہ سالک کے وجود کو فنا بخشتا ہے ؛اس لیے توحیدِ وجودی کی بہ نسبت مقام کمال ہے۔اس مقام کو ’’ توحیدِ شہودِ حقیقی‘‘ یا صرف’’ اوست ‘‘کہتے ہیں۔ لیکن چونکہ سالک جب تک زندہ ہے بلحاظ شرع مخلوقات کے حقوق کامکلف ہے۔ اس لیے یہ مقام باوجود پہلے مقام سے کمال ہونے کے آئندہ مقامات کی بہ نسبت مقامِ نقصان ہے۔ فنا کی وجہ سے بہت سارے حقوق سے عہدہ برآں نہیں ہوسکتا اور ویسے بھی ولایت، فنا اور بقاء دونوں چیزوں کے بغیر متحقق نہیں ہوتی ۔اس لیے اس مقام سے بھی توحیدوجودی کی طرح گزرنا چاہیئے ورنہ ولایت ثابت نہیں ہوسکے گی ۔امام ربانیؒ نے جس معنی میں توحیدِ وجودی کا انکار فرمایا ہے ؛اسی معنی میں اِس توحیدِشہودی کا بھی انکار فرمایا ہے۔ صرف اوّل کی بہ نسبت اِس کو کسی قدراعلیٰ بتایا ہے۔
۳۔ ’’توحیدِ شہودی ظلّی‘‘ یا’’ ہمہ اَزاَوست‘‘:
جب سالک کو توحیدِ شہودی اور مقامِ فنا سے مقامِ بقاء میں پہنچاتے ہیں ۔ تو قبل از فناء، وجودِ حقیقی کے ساتھ مشہود ہونے والی تمام کائنات، مخلوقات اور کثرت ؛جو مقامِ فنا میں نظر سے غائب ہوگئی تھی، دوبارہ وجودِ ظلّی کے ساتھ نظر میں واپس آجاتی ہے۔ یہ مقام بقاء ہے؛ جس میں حضرت حق جل مجدہ کا شہود اپنے وجودِ حقیقی کے ساتھ اور مخلوقات کا شہود، وجودِ ظلّی کے ساتھ نظر میں رہتا ہے اور دونوں کے حقوق علیٰ حسب المراتب پورے پورے ادا ہوسکتے ہیں۔اسی کو حق الیقین کہتے ہیں۔
اور مجددی حضرات کو جو’’ شہودیہ ظلّیہ ‘‘کے نام سے یاد کیا جاتاہے؛ وہ اسی مقام کی مناسبت سے ہے۔ لیکن حق یہ ہے کہ تمام کامل اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اس مقام کے حامل ہوئے ہیں۔خواہ وہ’’ وجودیہ‘‘ کہلاتے ہوں یا ’’شہودیہ‘‘۔
’’ شہودیہ‘‘ کو اس مقام میں’’ شہودیہ ظلیہ ‘‘اور’’ وجودیہ ‘‘کو اس مقام میں ’’وجود یہ ورائیہ‘‘ سے موسو م کرتے ہیں اور نام میں فرق اس فکر و اعتقاد کی وجہ سے ہے جس کو عنقریب بندہ وحدۃ الوجود کے دوسرے اطلاق :’’حقیقتِ کائنات‘‘ میں اختلاف کے ضمن میں بیان کرے گا اور بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ جس طرح امام ربانی ؒ نے وحدۃ الوجود کا انکار فرمایا ہے اسی طرح ’’وحدۃ الشہود‘‘ یا’’ شہود ظلی‘‘ یا’’ہمہ ازاوست ‘‘کا بھی انکار فرمایا ہے اور اس کو باوجود مقامِ کما ل بتانے کے راستے کا ایک مقام بتا یا ہے اور مقصد کو اس سے بہت اوپر بتا یا ہے!!
فائدہ عظیمہ
عام مشہور اصطلاح کے مطابق علم الیقین کا معنی ہے: دھواں دیکھ کر آگ کا یقین ہو جا نا اور عین الیقین کا معنی ہے :براہ راست آگ کو دیکھ کر آگ کا یقین ہو جانا اور حق الیقین کا معنی ہے: آگ میں ہاتھ ڈال کر یا سینک کر آگ کا اعلیٰ یقین حاصل کرنا ۔
گذشتہ تینوں اَقسامِ توحیدمیں ان تینوں اَقسام کا اطلاق اسی اصطلاح کے مطابق کیا گیا ہے جو عام صوفیاء کی اصطلاح ہے، لیکن امام ربانیؒ ؒ کے نزدیک راہِ سلوک میں یہ تینوں اقسام اَثر کی طر ف راجع ہیں۔ کیونکہ حضرت حق جل مجدہ کی رؤیت ،باوجود ممکن ہونے کے اس دنیا میں غیر واقع ہے۔ لہٰذا علم الیقین کا معنی ہوگا :دھویں کے علم سے آگ کا یقین ہونا ۔عین الیقین کا معنی: دھواں دیکھ کر آگ کا یقین ہونا اور حق الیقین کا معنی ہوگا : دھویں سے متحقق ہو کر آگ کا یقین ہونا ۔آگ تینوں صورتوں میں نظر نہیں آئیگی ۔ جیسے کہ حضرتِ حق یقین کی تینوں صورتوں میں مرئی نہیں ہونگے۔ ہاں! بصارت اور رؤیت کی بجائے دیدہ بصیرت کے اطلاق میں ممکن ہوگا۔
مذکورہ بالا فنا وبقا، نیز ظاہر اور مظہر میں ا تحاد یا ظلیت کی نسبت چونکہ تجلی فعلی یا صفتی کی فنا وبقاسے وابستہ ہے اور امتِ مرحومہ کے اکثر مشائخ اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اسی مقام میں ہوئے ہیں ،اس سے اعلیٰ مقامات یا تجلی ذاتی دائمی کا مورد ومہبط بننا چونکہ کروڑوں اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ میں سے خال خال کسی محمدی ا لمشرب کا حصہ ہے اور اس آخری دور میں مجددی نسبت کے خواص میں سے ہے اور یہ وہ کمالات ہیں جو الف ثانی میں امام ربانی ؒ کی براہ راست حضرتِ حق جل مجدہ کے تربیت فرمانے سے منصہ ظہور میں آئے ہیں۔ جن کو ’’کمالاتِ ثلثہ‘‘ ، ’’حقائقِ انبیاء‘‘ و’’حقائقِ الٰہیہ‘‘ سے تعبیر کیاجاتا ہے اور امت میں انتہائی اعلیٰ استعداد رکھنے والے چیدہ چیدہ حضرات کو حاصل ہوئے ہیں اور سورۃ واقعہ کے قلیل من الآخرین سے یہی لوگ مرادہیں۔
۴۔ نسبتِ خالقیّت و مخلوقیت:
جب کسی انتہائی اعلیٰ استعدا د کے حامل سالک پر آنحضرت جل مجدہ نظرِکرم فرما کر کمالاتِ نبوت کا انعکاس فرماتے ہوئے تجلّی ذاتی سے بہرہ ور فرماتے ہیں۔ تو کمالاتِ ولایت کی تمام نسبتیں کا فور ہوجاتی ہیں۔ کمالاتِ نبوت کے سامنے کمالاتِ ولایت کی اتنی حیثیت بھی نہیں جتنی سمندر کے سامنے ایک قطرہ حقیر ہ کی !! چنانچہ اس نسبت کے وارد ہونے پر سابقہ اتحاد وظلّیت کے دعوے بالکل غائب ہوجاتے ہیں۔ حضرت حق جل مجدہ خالقِ مطلق اور تمام کائنات مخلوقِ محض ،حضرتِ حق قادرِ مطلق ربّ اور تمام ممکنات عاجزِ محض نظر آتی ہیں؛ جیسا کہ شرع شریف میں قرار پایا ہے۔ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی تعلیمات اورآسمانی کتب کا خلاصہ یہی نسبت اور عقیدہ ہے اور تمام مکلفین اسی عقیدہ کے مکلف ہیں۔ امام ربانی ؒ پر جب یہ نسبت وارد ہوئی تو فرمایا:
’’اس فقیر پر بہت گراں گزرتا ہے کہ مخلوقات اور ممکنات کو عینِ ظاہر یا ظلِ ظاہر کہہ سکے۔ مخلوقات کی اتنی حیثیت کہاں سے آگئی کہ اتحاد وظلیت اس کے نصیب ہوسکے !!‘‘
اس کو نسبتِ غیب الغیب اور مقامِ عبدیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب یہ نسبت عام اولیاء کرام ؒ کی دسترس سے بالاتر ہے تو اس کے علوم ومعارف بھی یقیناًان کی سمجھ سے بالاتر ہوں گے۔ امام ربانیؒ نے اس نسبت کو سلوک تصوف کا مقصد بتایا ہے اور گزشتہ تمام مقامات کو راستے کی منازل اور مقصد کے سامنے ناقص مقامات بتایا ہے۔ حق یہ ہے کہ جب تک ’’ذاتِ بحت ‘‘ تک عروج اور ’’عدمِ صِرف‘‘ تک نزول واقع نہ ہو سالک ؛خالق ومخلوق میں پورا پورا امتیاز نہیں کرسکتا اور شرک خفی اور اخفی کی تاریکیوں سے نجات نہیں پاسکتا۔ اسی لیے امام ربانیؒ کا اپنے دور کے بارے میں فرمان ہے :
’’کہ میں جب نظر کشفی سے دیکھتا ہوں تو پورے جہان میں صرف ایک آدمی کے کلمہ کو آنحضرت جل سلطانہ تک پہنچا ہوا پاتا ہوں۔باقی سب کے کلمے علیٰ حسب المراتب راستے میں ہی رہ جاتے ہیں۔‘‘
فللّٰہ درالشیخ المجدّد ؒ ظاہر ہے کہ اس سے امام ربانی ؒ کا اپنے انتہائی کمال قرب ومعرفت کی طرف اشارہ ہے۔
(۲) ’’توحیدِ وجودی ‘‘یا ’’وحدۃ الوجود‘‘ کا دوسرا اطلا ق
’’توحیدِ وجودی ‘‘یا ’’وحدۃ الوجود‘‘ کا دوسرا اطلا ق ’’حقیقت کا ئنات‘‘ کے ضمن میں کیا جاتا ہے۔ اس پر تمام مشائخ صوفیا ؒ کا اتفاق ہے کہ وجو دِ حقیقی صرف ایک ہے اور وہ وجود آنحضرت جل سلطانہ کا ہے۔ وحدۃ الوجود پر اتفاق کا یہی معنی ہے لیکن اس اتفاق کے باوجود اس میں اختلاف ہے کہ یہ اتنی طویل وعریض کائنات اور ممکنات کی کثرت جو سب کو نظر آرہی ہے یہ وجود نہیں رکھتی ہے کیا؟!! پھر اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اس اختلاف کو سمجھنے کے لیے چند مقدّمات کاسمجھنا ازبس ضروری ہے:
مقدمہ اولیٰ: شیخِ اکبر شیخ ابن عربیؒ اور ان کے متبعین کے ہاں خارج میں صرف حضرت حق جل مجدہ کی ذات پاک موجود ہے اور کوئی چیز موجود نہیں حتی کہ حضرت حق تعالیٰ شانہ کی صفات بھی خارج میں علیحدہ موجود نہیں بلکہ اس کے اسماء و صفات، حق تعالیٰ کی عینِ ذات ہیں اور نیزایک دوسرے کے بھی عین ہیں : مثلاًعلم وقدرت ؛جس طرح عینِ ذاتِ باری تعالیٰ ہیں اسی طرح علم ،عینِ قدرت ہے اور اس کا عکس اور یہ بھی فرماتے ہیں: کہ اس مقام میں تعدد و تکثّر کا کوئی نام ونشان نہیں۔ صرف اتنا ہے کہ اسماء وصفات، شیون واعتبارات نے حضرت حق کے علم میں اجمالی اور تفصیلی طور پر تمایز پیدا کیا ہے ۔خارج میں یہ تمایزوتباین مفقود ہے۔ چنانچہ اس کی تعبیر انہوں نے بدیں الفاظ کی ہے:
از روئے تعقل ہمہ غیر اند صفات
با ذات تو از روئے تحقق ہمہ عین
جبکہ امام ربانی کے ہاں حضرت حق جل مجدہ کی’’ صفاتِ ثمانیہ‘‘، ذات پاک کی طرح خارج میں موجود اور متمیز ہیں۔جیسا کہ اہل حق علماء ما ترید یہؒ کے ہاں مقرر اور ثابت ہے ۔اگر چہ اشاعرہؒ تکو ین کے سوا،’’ صفاتِ سبعہ‘‘ کے قائل ہیں۔ پھر جس طرح صفاتِ ثمانیہ خارج میں حضرت حق سے متمیز ہیں۔ اسی طرح ایک دوسرے سے بھی متمیز ہیں۔ اگرچہ تمیز بھی بے کیف وبے چون ہے۔ یعنی قدرت، علم کا عین نہیں اور نہ ہی اس کا عکس ہے۔ اس خارجی تمایز کے ساتھ ساتھ حضرت حق جل مجدہ کے علم میں بھی یہ صفات متمایز ومتباین ہیں ۔جیسے کہ پہلا گروہ بھی اس کا قائل ہے۔ امام ربانی ؒ کے ہاں حضرت حق کے علم میں ان صفات واسماء کے تمایز کے ساتھ ساتھ ان کے نقائض بھی متمیز ہیں اور انہوں نے بھی مرتبہ علم میں تفصیل پیدا کی ہے : مثلاً مرتبہ علم میں صفتِ علم کا مقابل عدمِ علم ہے؛ جس کو جہل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس طرح صفتِ قدرت کے مقابل عدمِ قدرت ہے؛ جس کو عجز کہا جاتا ہے۔ گویا کہ مرتبہ علم میں صفات کی طرح عدماتِ متقابلہ نے بھی تمایز حاصل کیا ہے۔
مقدمہ ثانیۃ: شیخ اکبرؒ اور عام صوفیاءؒ کے ہاں حضرت حق تعالیٰ کی حقیقت ’’واجبُ الوجود ‘‘ہے اور’’ وجود‘‘ ذاتِ باری تعالیٰ کا عین ہے۔ جبکہ امام ربانیؒ کے نزدیک حضرت حق جل مجدہ کی ماہیت اور حقیقت’’ ذات محض‘‘ ہے اور’’ وجود‘‘ اس سے زائد ہے مثل الصفات ۔رہا یہ کہنا :کہ ماہیت کا تحقق اور تقرر ’’وجود‘‘ کے بغیر کیسے ممکن ہے؟! تو یہ بات ممکنات کی حد تک تودرست ہے کہ ممکنات کی ماہیات اپنے تحقق اور تقرر میں وجود کی محتاج ہیں لیکن یہ فلسفیانہ اصول حضرت حق پر جاری نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ذات پاک وجود کی محتاج ہے:
فلسفی ر ا چشمِ حق بین سخت نابینا بود
گرچہ بیکن باشد ویا بوعلی سینا بود
یعنی جس طرح ذات پاک باوجود جامع الکمالات ہونے کے مرتبہ ذات میں صفات سے پوری طرح مستغنی ہے اسی طرح باجود واجب الوجود ہونے کے مرتبہ ذات میں وجود سے بھی پوری طرح مستغنی ہے لہٰذا’’ وجود‘‘، عینِ ذات نہیں بلکہ اخصِ صفات میں سے ہے۔ یہ معرفت طورِ عقل سے بالا تر ہے اور صفات کے خارجی ہونے کی طرح مشکوۃ نبوت سے مقتبسں ہے۔ چنانچہ امام ربانیؒ کا فرمان ہے :
’’جب اس درویش کا ’’وجود‘‘ کے مرتبہ سے اوپر گزرا ہوا تو جب تک وہ حال مجھ پر غالب رہا، اپنے آپ کو ذوق ووجدان سے اربابِ تعطیل میں پاتا تھا۔ مرتبہ ذات میں ’’وجود‘‘ کی گنجائش نہ پاتا تھا۔ کیونکہ’’ وجود‘‘ کو راستہ میں ہی چھوڑ آیا تھا۔‘‘
صوفیاءؒ میں سے اس معرفت میں امام ربانیؒ کے ساتھ’’ شہود یہ غیریہ‘‘ کے شیخ علاء الدولۃ سمنانی ؒ بھی شریک ہیں۔ ان کا قول ہے کہ: فوق عالَمِ الوجود عالَمُ المَلِکِ الودُود ۔اسی طرح علماء اہلِ حق بھی اس معرفت میں شریک ہیں۔ ان کا فرمان ہے : ’’وجود واجب تعالیٰ زائد است بر ذاتِ او سبحانہ‘‘۔
مقدمہ ثالثہ: عام صوفیاء کرام کے نزدیک’’ تعینِ اول‘‘ یا’’ وحدت‘‘ تعینِ علمی ہے۔ جس کو’’ حقیقتِ محمدیہ ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن امام ربانیؒ نے تعینِ علمی سے اوپر’’ تعینِ وجودی‘‘، اس سے اوپر’’ تعینِ حیاۃ‘‘، اور’’ تعینِ اول‘‘،’’ تعینِ حبی‘‘ کو بتایا ہے ۔ شیخ سمنانی ؒ کے مندرجہ بالاقول سے بھی ’’وجود‘‘ کے اوپر’’ ودود‘‘ کے لفظ میں اسی’’ تعینِ حبی‘‘ کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔امام ربانیؒ کے ہاں تمام وہ صوفیائے کرام ؒ جن کا عروج، اجمالِ علم تک ہوا ہے اور انہوں نے’’ تعینِ اول‘‘ ،’’ تعینِ علمی‘‘ بتایا ہے ؛علم سے اوپر کے مراتب تک رسائی حاصل نہیں کرسکے اور ان مراتب کو مبدأ سے جدا نہیں کرسکے۔
ظاہر ہے کہ عام صوفیائے کرامؒ اپنے مشائخ سے تربیت یافتہ ہیں اور زیادہ سے زیادہ صدی کے مجدد ہیں۔ جبکہ امام ربانی ؒ براہ راست حضرت حق کے تربیت یافتہ اور الف ثانی کے مجدد ہیں۔ مشائخ کی تربیت اور حضرت حق کی تربیت میں زمین وآسمان کا فرق ہے!!
مقدمہ رابعہ: عام صوفیائے کرامؒ کے ہاں’’ صورتِ شء‘‘ عینِ شئ ہے۔ جبکہ امام ربانیؒ کے نزدیک صورتِ شء، شئ کا شبح ومثال ہے ؛عین نہیں ہے۔ آئینے میں نظر آنے والی آگ کی صورت، اگر خارجی آگ کا عین ہوتی تو صورت بھی جلاتی جبکہ صور ت جلانے کا کام نہیں کرتی۔
مقدمہ خامسہ: کہ’’ وجود‘‘ ہر خیر وکمال کامبدأ ہے اور تمام کمالات ’’وجود‘‘ کی طرف راجع ہیں۔ جبکہ ’’عدم ‘‘ہر نقص وشرارت کا منشأ بلکہ سراسر شرارت ہے اور تمام نقائص اور عیوب اسی کی طرف راجع ہیں۔
ان مقدماتِ خمسہ کے بعد کائنات کی حقیقت سمجھئے :
یہ مشاہد ومحسوس عرصۂ کائنات وممکنات شیخ ابن عربیؒ اور ان کے متبعین کے نزدیک’’ حضرتِ وجود ‘‘ہے ۔جس کے سوا خارج میں کچھ موجود نہیں اور یہ حق تعالی کی ذات کا وجود ہے ۔ جس کو ’’ظاہروجود‘‘ بھی کہتے ہیں ۔آنحضرت جل سلطانہ نے اپنی حکمت بالغہ سے اپنے علمِ ازلی میں تمام ممکنات وکائنات کی جو صورتیں تجویز فرمائی ہیں ۔یہ صور علمیہ متکثرہ جن کو’’ باطنِ وجود‘‘ اور’’ اعیانِ ثابتہ ‘‘بھی کہتے ہیں۔ جب ’’ظاہر وجود‘‘ کے آئینے میں منعکس ہوتی ہیں، تو کثرت نظر آتی ہے ۔جس طرح کہ آئینے میں کسی شخص کی صورت منعکس ہوکر وجودِ تخیلی پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح ان صورعلمیہ متکثرہ نے وجود تخیلی پیدا کیا ہے۔ خارج میں’’ احدیتِ مجردہ ‘‘کے سوا کچھ موجود نہیں ۔لیکن چونکہ اس متخیل اور متوھم عکس کو ابدی عذاب وثواب کی خاطر حضرت حق نے ثبات واستحکام بخشاہے ۔اس لیے وہم و تخیل کے اٹھنے سے اٹھ نہیں سکتا اور مندرجہ بالا مقدمات میں گزرچکا کہ ان کے نزدیک صورتِ علمیہ، علم کا عین ہے اور علم عینِ ذات ہے۔ اسی طرح وجود بھی عین ذات ہے۔ اس لیے تمام متوھم اور متخیل کائنات پر’’ اتحاد ‘‘کا حکم کیا ہے اور’’ ہمہ اوست ‘‘کہاہے۔ چنانچہ ان ابیات میں اسی نظریہ کی عکاسی ہے :
ہمسایہ و ہم نشین و ہمراہ ہمہ اوست
در دلق گدا ؤ اطلس شبہ ہمہ اوست
در انجمن فرق و نہانخانہ جمع
باللہ ہمہ اوست ثم باللہ ہمہ اوست
اسی طرح مولوی جامی علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہے:
مجموعہ کون راہ بقانون سبق
کردیم تصفح ورقا بعد ورق
حقا کہ ندیدیم ونخواندیم درو
جز ذات حق وشیون ذاتیۂ حق
لیکن ان کے اس نظریے پر ممکنات اور کائنات کی شیطانیوں، شرارتوں، عیوب ونقائص کی زد جب پڑتی ہے تو کہتے ہیں :کہ ذاتی نقص وشرارت کسی چیز میں نہیں صرف نِسبی اور اضافی ہے۔ لیکن امام ربانیؒ کے نزدیک کائنات کی حقیقت، مقدمہ اولیٰ میں ذکر شدہ ’’اعدام متقابلہ‘‘ ہیں۔جن میں صورعلمیہ کے عکوس جلوہ گر ہیں۔ حاصلِ کلام یہ کہ’’اعدام متقابلہ‘‘ اسماء وصفات کے عکوس سمیت حقائقِ ممکنات ہیں۔ ’’اعدام ‘‘ بمنزلۂ ھیولیٰ ہیں اور’’ عکوس ‘‘بمنزلہ صور ہیں ۔قادرِ مختا ر جل شانہ جب چاہتے ہیں کہ ان ماہیات ممتزجہ میں سے کسی ماہیت کو موجود فرمائیں؛ تو حضرتِ وجود کا پَرتو، وجودِ ظلی اس ماہیت پر منعکس فرما کر آثار خارجیہ کا مبدأ بنادیتے ہیں ۔گویا کہ ممکنات کے وجود اور صفات سب کے سب وجود حقیقی اور صفات باری کے ظلال اور عکوس ہیں۔جو’’اعدام متقابلہ‘‘ میں منعکس ہوئے ہیں ۔’’اعدام ‘‘ میں چونکہ خباثت ،ذاتی اور شرارت ،اصلی وجبلّی ہے؛ اس لیے تمام عیوب ونقائص کا منبع ہیں۔ آیۃ کریمہ ما أصابک من حسنۃ فمن اللّٰہ وما أصابک من سیئۃ فمن نفسک سے اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔
غرض یہ کہ کائنات میں جو کچھ نظر آتاہے؛ سب کچھ ممکنات کی قسم سے ہے۔ اگر چہ بعض سالکوں کو وہ مشہود ، ’’وا جب ‘‘کے ساتھ متوہم ہوتا ہے اور مقدمات میں گزرچکا ہے کہ امام ربانیؒ کے نزدیک صور تِ شئ ،عینِ شئ نہیں۔ صفات عینِ ذات نہیں۔ ’’وجود ‘‘زائدازذات ہے۔ اس لیے ممکن عینِ واجب نہیں ہوسکے گا اور ’’ہمہ اوست ‘‘کہنا درست نہیں ہوگا بلکہ ’’ہمہ ازوست ‘‘کہنا ہوگا۔ حاصلِ کلام یہ کہ حق تعالیٰ وراء الوراء ثم وراء الوراء ہے ۔جو کچھ دیکھا گیا، سنا گیا ،جانا گیا، سب غیرہے۔کلمہ ’’لا‘‘ سے اس کی نفی کرنی چاہیئے۔
خلق را وجہ کے نماید او
در کدام آئینہ در آید او
حاصل یہ ہے کہ توحیدِو جودی کے قائلین یا شیخ اکبرؒ کے ہاں کائنات کی حقیقت ،حضرت حق کے’’ ظاہر وجود‘‘کے آئینہ میں صورعلمیہ متکثرہ کے انعکاس وتلبس سے محسوس ومشاہد ،موجود نما کثرتِ موھومہ ہے ۔جو نقطہ جوّالہ کے دائرہ موہو مہ کی مانند ہے اور توحید شہودی کے قائلین یا امام ربانی ؒ کے نزدیک کائنات کی حقیقت،’’ اعدام متقابلہ‘‘ کے آئینوں میں اسماء وصفات کے عکوس کے انعکاس سے ظل،خارج میں موجود ظلال خارجیہ ہیں۔ چونکہ دونوں نظریات کے آئینے ’’وجود‘‘ و’’عدم‘‘ سراسر ایک دوسرے کی ضد اور متقابلین ہیں۔اس لیے دونوں نظریات میں تطبیق یا اختلاف ونزاع ،لفظی ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ اب دیکھنا چاہیئے کہ دونوں نظریات میں سے کونسا نظریہ حضرت حق جل مجدہ کی تقدیس وتنزیہہ کے قریب ہے؟!!
فائدہ عظیمہ خاصہ
جیسا کہ قبل ازیں گزرچکا کہ دوران سلوک امام ربانیؒ ان تمام منازل ومقامات سے گزرے ہیں ۔ہمہ اوست،صرف اوست، ہمہ ازاوست، اور بالآخر کمالاتِ نبوت تک رسائی سے حضرت حق اور کائنات کے درمیان صرف نسبت خالقیت ومخلوقیت کے نظریہ شرعیہ تک انتہا ہوئی۔ چونکہ انما الاعمال بالخواتیم کے تحت اعتبار قولِ آخر کاہوتا ہے ؛حال چونکہ قال میں دخیل اور اثر انداز ہوتا ہے؛ امام ربانیؒ کے مکتوبات شریفہ کے اول سے آخر تک تمام مکاتیب بالترتیب انہی چاروں کیفیات اور احوال کی عکاسی کرتے ہیں۔ اب امام ربانیؒ کو توحیدِ وجودی یا شہودی کی بجائے قولِ آخر نسبتِ خالقیت ومخلوقیت کی طرف منسوب کرنا چاہیئے۔ جیسا کہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی تعلیمات اور قرآن وحدیث کی تعلیمات کا خلاصہ اور حاصل ہے۔ اب اس بحث میں الجھناکہ امام ربانیؒ توحیدِ شہودی کے قائل تھے ،تو حیدِ وجودی کے منکر تھے ؛سراسر فضولیات میں داخل ہے !!قبل ازیں گزرچکا کہ امام ربانی ؒ جس معنی میں توحیدِ وجودی کے منکر تھے؛ اس کو مقامِ ناقص، راستے کی منزل اور مقصد سے کوسوں دور بتاتے تھے۔اسی معنی میں توحیدِ شہودی کے بھی منکر ہیں،اس کو بھی راستے کی منزل اور مقصد سے نیچے فرمایا ہے اور بنا بر حال کے جس معنی میں توحیدِ شہودی کے قائل تھے اسی معنی میں توحیدِ وجودی کے بھی قائل تھے۔ استشہاد کے طور پر امام ربانی ؒ کے ایک مکتوب کا خلاصہ ذکر کیا جاتا ہے تاکہ صورت حال بخوبی واضح ہوجائے۔ فرماتے ہیں:
مشائخ طریقت قدس اللہ تعالی اسرارہم کے تین گروہ ہیں:
۱۔ پہلا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ کائناتِ عالم حق تعالیٰ کی ایجاد سے خارج میں موجود ہے۔ یہ بزرگ گروہ اپنے تمام اعتقاداتِ کلامیہ میں ،جو کتاب وسنت اور اجماع کے موافق ثابت شدہ ہیں ،علماء اہل سنت وجماعت کے ساتھ اتفاق رکھتا ہے اور متکلمین اور ان کے درمیان سوائے اس کے اور کچھ فرق نہیں کہ متکلمین اس معنی کو علمی اور استدلالی طور پر جانتے ہیں اور یہ بزرگ کشف وذوق کی بنیاد پر سمجھتے ہیں۔ اس گروہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کمالِ متابعت کے باعث ،ممکن کے تمام مراتب کو واجب سے جدا کردیا اور کلمہ’’ لا‘‘ کے تحت لا کر سب کی نفی کردی اور انہوں نے واجب کے ساتھ ممکن کی کوئی مناسبت نہیں دیکھی ؛سوائے اس کے کہ اپنے آپ کو عاجز بندہ، مخلوق جانا اور اس عزّ شانہ کو اپنا خالق اور مولیٰ سمجھا۔ خود کا مولیٰ کا عین جاننا یا اس کا ظل اور سایہ سمجھنا ،ان بزرگوں پر بہت گراں اور دشوار ہے: ما للتراب و رب الأرباب!!
۲۔ دوسرا گروہ عالم کو حق سبحانہ وتعالیٰ کا ظل جانتا ہے مگر یہ اس بات کا قائل ہے کہ عالم خارج میں اصالت کے طریقے پر نہیں بلکہ ظلیت کے طریقے پر موجود ہے اور اس کا وجود حق سبحانہ وتعالی کے وجو د سے قائم ہے۔ جس طرح کے ظل اپنے اصل کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ اس گروہ نے اگر چہ ممکن کے مراتب کو مبدأسے جدا کردیا اور کلمہ’’لا‘‘ کے تحت لاکر اس کی نفی بھی کی۔ لیکن ظلیت اور اصالت کے واسطہ سے کچھ چیزیں ان کے وجود کے بقا کے ساتھ ثابت رہی۔ چونکہ ظل کا اصل کے ساتھ تعلق بڑا قوی ہے، اس لیے یہ نسبت ان کی نظروں سے اوجھل نہ ہوسکی۔ (دوسرے گروہ میں توحید شہودی یا شہودیہ ظلیہ کے نظریے کا اظہار ہے)
۳۔ تیسرا گروہ وحدت وجود کا قائل ہے یعنی خارج میں صرف ایک موجود ہے اور بس ،اور وہ صرف ذات حق سبحانہ وتعالیٰ ہے اور عالم کا خارجی طور پر علمی ثبوت کے علاوہ ہرگز کوئی ثبوت نہیں اور کہتے ہیں: الأعیان ما شمّت رائحۃ الوجود اگر چہ یہ جماعت بھی عالم کو حق سبحانہ وتعالیٰ کا ظل کہتی ہے۔ لیکن ساتھ یہ بھی کہتی ہے کہ ان چیزوں کا وجود صرف حِس کے مرتبہ میں ہے ورنہ نفس الامر اور خارج میں عدمِ محض ہے ۔جیسے نقطہ جوالہ سے دائرہ موھومہ ؛صرف حِس کے مرتبہ میں ہے خارج میں معدوم ہے۔ اگر چہ یہ گروہ بھی اپنے درجاتِ وصل وکمال میں تفاوت کے باوجود ،واصل وکامل ہیں۔ لیکن ان کی ایسی باتیں مخلوق کو گمراہی، الحاد اور بے دینی کی طرف لے جاتی ہیں ۔ یہ گروہ ممکن کے بعض مراتب کو اگرچہ مبدأ اور واجب سے جدا کرسکا ہے لیکن تمام مراتبِ ممکن کو واجب سے جدا نہیں کرسکا ہے۔ خود کو علمی جاننا، خارجی نہ جاننا، مولیٰ کا عین جاننا، اسی کو تاہ نظری کے باعث ہے۔ (یہ نظریہ توحیدِ وجودی والوں کا ہے )
ان تین گروہوں کا ذکر کرنے کے بعد امام ربانی ؒ اپنے سلوک کے بارے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’یہ درویش بچپن کے زمانے سے ہی توحیدِ وجودی کا علم یقین کی حد تک رکھتا تھا۔ اگر چہ اس کا حال نہ رکھتا تھااور جب راہ سلوک میں آیا۔توحضرت پیر ومرشد خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کی توجہ کی برکت سے توحیدِ وجودی منکشف ہوئی۔ مدتوں بلکہ سالوں اسی مقام کے درجات میں گشت کرتا رہا حتی کہ اسی سکر کی حالت میں کفر و ایما ن زلف وروئے آں پری زیبائی است والی مشہور رباعی اپنے مرشد کو مکتوب میں تحریر کی۔ تاآنکہ حضرت حق جل مجدہ کی عنایت نے دستگیری کی اور یہ نسبت زائل ہونے لگی ۔اس کے زائل ہوتے وقت یہ درویش بڑا بے قرار ہوا کہ مجھے اس مقام سے نہ نکالیں ،کیونکہ بہت سے مشائخ عظام اسی مقام میں اقامت پزیر تھے ۔لیکن اس مقام سے نکال کر مقامِ ظلیت یا توحیدِ شہودی کے مقام پر لے گئے۔ پھر معلوم ہوا کہ پہلا مرتبہ پست سے بھی پست تر تھا۔ چنانچہ اس مقام پر خود کو اور عالم کو حضرتِ حق کا ظل محسوس کیا۔ اس مقام پر خواہش پیدا ہوئی کہ اس مقام سے نہ نکالا جاؤں۔ کیونکہ یہ مقام بھی توحیدِ وجودی سے کسی قدر مناسبت رکھتا تھا ۔لیکن بالآخر کمال مہربانی سے اس مقام سے بھی بالا لے جا کر مقامِ عبدیت میں پہنچادیا اور عبدیت کا کمال ظاہر ہوا اور پہلے مقامات ،توحیدِ وجودی وشہودی کی پستی ظاہرہوئی اور ان مقاما ت سے تائب ہو کر استغفار کی!!‘‘
امام ربانیؒ کے علوم ومعارف ومقامات عالیہ تک یقیناًبہت کم کسی کی رسائی ہوئی ہے :
قیامت میکنی سعدی بدیں شیریں سخن گفتن
مسلّم نیست طوطی را بدو رانت شکر خائی
امام ربانی ؒ کے اس صحیح صریح اور فیصلہ کن روشن واضح مکتوب کے بعد حیرت ہوتی ہے کہ عرصہ چار سو( ۴۰۰)سال سے اختلاف ونزاع کرنے والے، امام ربانی ؒ کو ابھی تک توحیدِ شہودی کا قائل اور توحیدِ وجودی کا منکر کہتے آرہے ہیں اور ان کے اصلی نظریات اور مقامات بتانے سے ہچکچارہے ہیں۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے!! حق یہ ہے جیسا کہ قبل ازیں بھی بندہ ذکر کرچکا ہے کہ حضرت حق جل مجدہ نے اپنی خصوصی تربیت سے دوسرے ہزار سال کے مجدد بنانے کے لیے امام ربانی ؒ کی جس نہج پر تربیت فرما کر کمالاتِ نبوت اور اس سے بھی بالاتر مقامات پر امام ربانیؒ کو پہنچایا ہے ۔بعد میں آنے والے اکثر مشائخ کی ان مقامات تک رسائی نہیں ہوسکی ۔ کمالاتِ ولایت رکھنے کی وجہ سے اتحاد یا ظلیت کی نسبت ان سے منقطع نہیں ہوسکی۔ چنانچہ ان مشائخ کے جذباتی اور نا سمجھ معتقدین ان کے نظریات کی تقویت کے لیے استشہاد کے طور پر امام ربانی ؒ اور شیخ اکبرؒ کو درمیان میں لاکر فضاء کو تلخ بناتے رہے ہیں۔ فیا للعجب!!
امام وقت حضرت خواجہؒ نے بالمشافہہ توحیدِ وجودی وشہودی کی بحث کے دوران یہ قصہ کم نصیب کو سنایا کہ امام الہند شاہ ولی اللہ ،ؒ امام ربانی ؒ کے توحیدِ وجودی وشہودی پر تحریرفرمودہ ایک مکتوب کو سمجھنے کے لیے خانقاہ مظہریہ میں شیخِ وقت مرزا مظہر جانجاناںؒ کے پاس تشریف لائے ۔مرزا صاحب ؒ عمر میں شاہ صاحب ؒ سے تین سال بڑے تھے اور شاہ صاحبؒ کا ان کے بارے میں اعتقاد، مضمون کے شروع میں بندہ نے تحریر کردیا ہے۔ خیر مرزا صاحبؒ نے مکتوب سمجھا دیا۔ شاہ صاحبؒ تشریف لے گئے۔ رات کو امام ربانی ؒ روحانی طور پر مرزا صاحب کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ شاہ صاحبؒ پوری طرح مطمئن نہیں ہوسکے۔ کل خود ان کے ہاں جا کر اچھی طرح سمجھا کر ان کی خلش دور کر کے ان کو اطمینان دلائیں۔ چنانچہ مرزاصاحبؒ حسبِ حکم تشریف لے گئے اور مزید وضاحت فرمادی۔
چند ساتھیوں کے اصرار پر بندہ نے توحیدِ وجودی وشہودی کے موضوع پر جتنا کچھ تحریر کیا ہے؛ میرے خیال میں ذوق، شوق اور بصیرت رکھنے والوں کے لیے سرِدست اتنا ہی کافی ہے اور نہ سمجھنے کی نیت رکھنے والوں کے لیے شاید دفتروں کے دفتر بھی بے کار ہوں ۔
بس کنم خود زیر کاں را ایں بس است
امام وقت حضرت خواجہ ؒ کے گزشتہ مکتوب کے عرصہ بعد بندہ نے مزید کچھ استفسارات بذریعہ خط حضرت خواجہ ؒ سے کیے توحضرت خواجہ ؒ نے یہ مکتوب جواباً تحریر فرمایا۔ یہ بھی من وعن نقل کیا جارہا ہے :
’’مکرم ومحترم مولانا رشید الحق صاحب! مطالعہ فرماویں کہ سفرِحج سے واپسی کے بعد آپ کا گرامی نامہ موصول ہوا۔ واپسی کے بعد سفر کی تھکان اور احباب کی کثرت سے آمد ورفت نے ڈاک دیکھنے کا موقعہ نہ دیا۔ بعد میں دیگر مصروفیات نے گھیر لیا۔ تاآنکہ (ربوہ) صدیق آباد کا نفرنس کا وقت آگیا۔ وہاں کانفرنس کے موقعہ پر کسی صاحب نے ایک لفافہ ہاتھ دے دیا۔ وہ لفافہ ہفتہ عشرہ کے بعدکھولنے اور پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس فقیر کو ایسی ایسی مصروفیتوں سے اچانک اور بے ارادہ واسطہ پڑ جاتا ہے کہ جس کا وہم وگمان نہیں ہوتا۔ بہر حال آپ کے گرامی نامے ایسے ویسے تو تھے نہیں، کہ قلم برداشتہ جواب لکھ دیا جاتا!؛اس لیے جواب میں تاخیر ہوتی رہی۔
آپ نے صدیق آباد ملنے والے گرامی نامہ میں فقیر کے ایک ساتھی کا ذکر کیا ہے؛ ان کے جواب اور مضمون کو ذہن میں نہ رکھیں۔ عفو اور درگزر ہی بہتر ہے ۔آپ کے گرامی نامہ میں والدہ مرحومہ کے انتقال کا درج تھا۔ جس سے افسوس ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ پاک مرحومہ کی مغفرت فرماویں اور ان کو اپنی قبر میں جنت کی اسائشیں اور راحتیں عطا فرماوے اور آپ سب کو اس صدمے کا اجر عظیم عطا فرماویں اور صبر وسکون کرامت فرماوے۔ آمین
۱۔ حضر اتِ مشائخ نقشبندیہ مجددیہ قدس اللہ تعالیٰ اسرارھم کے ہاں اور فقیر کے خیال میں جملہ صوفیائے عظامؒ کے ہاں قوتِ متخیلہ کوئی چیز نہیں ۔یہ معقولیوں کی وضع کردہ ایک اصطلاح ہے۔ شریعتِ مطہرہ اور حضرات صوفیائے کرام کے ہاں فہم وادراک کے دو محل، جسدِ عنصری میں اللہ تعالی نے اپنی حکمتِ بالغہ کے پیش نظر مقرر فرمائے ہیں۔ ایک قلب اور دوسرا نفس۔ لہٰذا شریعتِ مطہرہ میں قلب کی کیفیت تصدیق، اذعان، یقین کے طور پر آتے ہیں اور نفس کے متعلق بھی امّارہ، لوّامہ اور مطمئنہ کے الفاظ سے اس کی کیفیات کا بیان ہوتا ہے۔ ان دو محلِ فہم وادراک میں اوّلیت قلب کو حاصل ہے اور نفس ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔
لہٰذا مشائخ عظام حضرات نقشبندیہ مجددیہ نے خطرات ووساوس کا محل پہلے قلب کو قرار دیا ہے۔ لہٰذا فرماتے ہیں کہ اول اول خطرات ووساوس کا محل قلب کا جو ف ہے۔ ذکر واذکار کی برکت سے اور اپنے شیخ کی توجہات کی بدولت خطرات و وساوس جوفِ قلب سے ہٹ جاتے ہیں اور قلب پر وارد ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔پھر قلب سے ہٹ کر حوالئِ قلب پر آتے ہیں۔ پھر یہ خطرات و وساوس دماغ پر وارد ہوتے ہیں۔ یہی دماغ، نفس کا محل ہے۔ پھر محنت اور ریاضت اور ذکر کی برکت سے خطرات و وساوس دماغ سے بھی مرتفع ہوجاتے ہیں۔ پھر کہاں وارد ہوتے ہیں؟! یہ مسئلہ بڑامعرکۃ الآراء ہے۔کیونکہ انسان جب تک بشریت کے لبا س میں رہتا ہے؛ خطرات و وساوس کا واردہونا لازمی ہوتا ہے۔ ذکر واذکار کی برکت اور شیخ کی توجہات اور ریاضت ومجاہدہ کے ثمرات میں خطرات ووساوس کا محل بدلتا رہتا ہے اور ان کے موذی اثرات سے انسانِ ذاکر وسالک محفوظ رہتا ہے ۔
سالک جب ذکر واذکار کا طریقہ اختیار کرتا ہے اور جب سالک کا باطن ذکر الہٰی سے مانوس ہوجاتاہے تو پہلے ذکر کے دوران سالک پر عدمیت کی کیفیت وارد ہوتی ہے۔ اس عدمیت کامطلب یہ ہے کہ سالک اپنے آپ کو اور اپنے و جود کو معدوم محسوس کرتا ہے۔ جب ذکر کے دوران یہ کیفیت وارد ہو تو اس وقت سالک ذکر بند کردے اور اس کیفیت کی طرف متوجہ رہے۔ جب یہ کیفیت چلی جائے تو پھر ذکر شروع کردے۔ ابتداءً یہ کیفیت لمحوں کی صورت میں آتی ہے اور آہستہ آہستہ بڑھنی شروع ہوجاتی ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ سالک ہمہ وقت اپنے آپ کو معدوم پاتا ہے۔ اس کیفیت کو عدمیت کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔
اس کے بعد تجلی فعلی کا ورود ہوتا ہے۔ تجلی فعلی کامطلب یہ ہے: اپنے فعل وہرحرکت کو اور عمل کو سالک اپنی طرف منسوب نہیں کرتا۔ جب اس کیفیت کو پختگی حاصل ہوتی ہے تو اس کے بعد وساوس وخطرات میں کمی محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ وساوس وخطرات قلب سے بالکل مرتفع ہوجاتے ہیں اور فنائے قلب کے اثرات شروع ہوجاتے ہیں۔ فنائے قلب کے رسوخ کے لیے’’ مدت مدیدہ‘‘ درکار ہے جیسا کہ حضرت مرزامظہر جانجاناں شہید ؒ کا ارشاد آپ نے تحریر فرمایا ہے۔بہرحال فنائے قلب کے لیے حضور ویادداشت لازمی ہے اور ان کے بغیر فنائے قلب متصور نہیں۔
۲۔ فنائے نفس تو تمام لطائف کی فنا کو متضمن ہے ۔یہ صحیح ہے ،لیکن فنائے قلب بغیر فنائے نفس کے متصور ہے۔ لیکن صرف لطائف کے ذاکر ہوجانے سے فنا متصورنہیں ہوتی۔ لطائف عشرہ کے بعد مشائخ عظام ؒ نفی و اثبات کا ذکر کراتے ہیں۔ اس کے بعد ولایتِ صغری کے مراقبات شروع کرواتے ہیں۔ ان مراقبات کے دوران فنائے قلب کا عمل بھی ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ انعام فرماتے ہیں۔ ذکر واذکار کے نتیجہ میں جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام ہوتا ہے وہ وہبی ہے۔ البتہ اس کے ذرائع کسبی ہیں ۔بعض سالکین کو ذکر واذکار کرتے کرتے مدتیں گزر جاتی ہیں کچھ بھی احساس نہیں ہوتا ۔ایسے سالکین کے لیے ان کا شیخ اگر صاحبِ کشف ہے ،تو وہ شیخ اپنی صوابدید کے مطابق تربیت کرتا ہے۔
۳۔ حضرت مرزا مظہرجانجاناں شہید رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان کہ: سلوکِ مقامات عنقریب مسدود ہوجاوے گا !! اس کا مطلب حضرت شاہ غلام علی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ لیا ہے کہ یہ فرمان اپنے انتقال کی طرف اشارہ ہے۔
حضرت شاہ غلام علی دہلوی ؒ حضرت مرزا مظہر جانجاناں شہید رحمۃ اللہ علیہ کے سجادہ نشین ہے اور اپنے دور میں اس سلسلے کے امام ہیں اور تمام ممالک اسلامیہ میں حضرت کے خلفاء موجود رہے ہیں اور ہندوستان میں اُس دور میں حضرت شاہ صاحبؒ کے ہم پلہ کوئی شیخ نہیں تھا ۔اس کے باوجود حضرت شاہ غلام علی شاہ دہلویؒ تحریرفرماتے ہیں :
’’ بدانکہ ایں ولایاتِ ثلاثہ وایں کمالاتِ ثلثہ وحقائقِ سبعہ ودیگر مقامات، ہمہ متوسلان ایں خاندان شریف رامیسر نیست۔ بعضے بولایتِ کبریٰ و قلیلے بہ کمالات ثلاثہ، ونادرے بحقائق سبعہ وجز آں فائز می شود۔ ازیں است کہ درحالات وتاثیرات ایں عزیزاں تفاوت ھااست کہ حالات وعلوم ہرمقام جدا است‘‘
حضرت مرزا صاحبؒ کے کلام کا مطلب بھی یہی لیاجاسکتا ہے کہ ان مقامات کی پوری پوری تکمیل والے حضرات قلیل ہوں گے، اکثر اس راہ پر چلنے والے ان مقامات پر فائز نہیں ہونگے۔
۴۔ حضرت مرزا مظہرجانجاناں شہید رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فرمان جو آپ نے تحریر فرمایا ہے: تیس سال سلوک کے اور پنتیس سال تسلیک کے گزر چکے ہیں ۔ یہ فرمان حضرت نے اپنی بے نفسی کی بنا پر فرمایا ہے۔ لیکن ہر مقام کے بیشمار مدارج ہیں ،ممکن ہے فنائے قلب کے اعلیٰ وارفع مقامات مراد ہوں۔
۵۔ ’’ قطب ‘‘ و ’’ فرد‘‘ اور ’’ اوتاد‘‘ وغیرہ ایک علیحدہ شعبہ ہے۔ یہ تکوین کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا کیا شرائط مقرر فرمائے ہوئے ہیں، فقیر کو اس کا کوئی علم نہیں ۔
آپ کے سوالات معمولی اور تمہیدی نہیں، یہ بڑے مشکل سوالات ہیں۔ معلوم نہیں آپ کی اس جواب سے تسلی ہوگی یانہیں۔
’’دلائل الخیرات‘‘ کی فقیر کی طرف سے اجازت ہے ۔اللہ تعالی باعث برکت کرے۔ آمین۔ ہمارے مشائخ ’’دلائل الخیرات‘‘ تنہا نہیں تلاوت فرماتے تھے۔ پہلے قرآن پاک کی تلاوت کی ،اس کے بعد اس روز کی ’’دلائل الخیرات‘‘ کی ایک منزل تلاوت کرلی۔ برکت کے لیے تعویذ جو یہاں معمول ہے وہ اصحاب کھف والا تعویذ ہے اور یہ تعویذ’’تذکرۃ الرشید‘‘ کے آخر میں درج ہیں۔ اس کی بھی اجازت ہے اللہ تعالی باعث برکت کرے ۔ آمین۔ آمدن میں برکت کے لیے اپنے مشائخ موسیٰ زئی شریف کا ایک درود شریف معمول ہے، وہ اپنی سہولت کے ماتحت ایک تعداد مقرر کرلیں اور اس کو ہمیشہ جاری رکھیں: ’’اللّھم صلِّ علیٰ سیدنا محمد و علی آل سیدنا محمد أفضل صلواتک بعددِ معلوماتِک وبارِک وسلِّم یہ ہے ۔
فقیر جواب میں تاخیر کی معافی چاہتا ہے ،فقیر کی طرف سے سب کو سلام مسنون۔ والسلام‘‘
یہ طویل پُرمغز اور دریا بکوزہ بند مکتوب ،حضرت خواجہ ؒ نے اپنی وفات سے بائیس (۲۲) سال قبل تحریر فرمایا ہے۔
حضرت خواجہ ؒ نے اپنے مکتوب میں بعض سالکین کے باوجود مدت مدیدہ تک ذکر واذکار کے متاثر نہ ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔اس عدمِ تاثیر کے اسباب پر قدرے روشنی ڈالتا چلوں:
جیسے کہ دین ودنیا کے ہر علم وفن میں اسباب ،شرائط اور موانع ہوا کرتے ہیں ۔اسی طرح تصوف میں بھی بے شمار موانع ہیں۔گناہ کا مانع ہونا تو ظاہر ہے لیکن بعض عمل باوجود گناہ نہ ہونے کے، بلکہ باوجود سراسرنیکی اور خیر ہونے کے بھی مطلقاً مانع ہوتے ہیں۔ چنانچہ تین آدمی اس فن میں ایسے ہیں جو پوری طرح فنِ تصوف میں ترقی نہیں کرسکتے۔ فنا فی اللہ کا مقام تو ان تینوں کو بالکل حاصل نہیں ہوسکتا :
۱۔ ایسا آدمی جس پر’’لطیفہ خیالیہ‘‘ یا’’ ادراکیہ‘‘ یا’’ قوتِ تمیز‘‘ غالب ہو اور وہ ان ہی کے اشارہ پرچلتا ہو، مقام فنا فی اللہ حاصل نہیں کرسکتا؛ کیونکہ فنا فی اللہ کا مدار تقلید، اعتقاد اور عشقِ شیخ پر ہے اور ایسا آدمی اپنی خود رائی کی وجہ سے اس سے محروم رہتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ مقام صفاء حاصل کرسکتا ہے اور اصلاح یا فتہ ہوسکتاہے۔
۲۔ایسا آدمی جو کثیرالمطالعہ ہویا انہماکِ علمی رکھتا ہو، مقام فنا فی اللہ حاصل نہیں کرسکتا بلکہ ابتدائی تاثر بھی بڑی مشکل سے حاصل کرسکتا ہے۔ خواہ کثر ت مطالعہ اور انہماک علمی تدریس کے رنگ میں ہو یا تصنیف کے لیے یا محض شوقیہ ہو۔ اسی لیے صاحبِ فن مشائخ کرام بوقتِ بیعت ایسے آدمی کے لیے مطالعہ اور کتب بینی پر پابندی لگادیتے ہیں !وجہ اس کی یہ ہے کہ حضرتِ انسان عبارت ہے بہیمیت اور مَلَکیت سے ۔کثرتِ مطالعہ یاانہماکِ علمی قبل از فنا سے حیوانیت میں مزید ترقی ہوتی ہے بلکہ کثرت مطالعہ علامت ہی کسی بھی شخص کے قوی الحیوانیت ہونے کی ہے ۔جبکہ فنا فی اللہ، حیوانیت کے ضعیف ہوئے بغیر اورمَلَکیت کے قوی ہوئے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی اور دوسری وجہ اس کی یہ ہے کہ فنا فی اللہ ،احدیتِ صَرفہ کی طرف عرصہ دراز کی دائمی توجہ چاہتی ہے ،جبکہ کثرتِ مطالعہ اس دائمی توجہ سے مانع ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے:
در کنز و ہدایہ نتواں یافت خد ا را
آئینہ دل بیں کہ کتابے بہ ازیں نیست
مشہور ہے کہ ایک شیخ الحدیث صاحب شیخ الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ سے بیعت ہونے گئے۔ساتھ ہی اپنے دو تین مقتدیوں کو بھی لے گئے۔ چنانچہ حاجی صاحبؒ نے سب کو بیعت فرما کر لطیفہ قلب پر ذکر کا سبق عنایت فرمایا اور تین ماہ کرنے کا حکم دیا۔ تین ماہ بعد جب سب حاضر ہوئے تو شیخ الطائفہ نے عوام الناس مقتدیوں کو دوسرا سبق عنایت فرما دیا، لیکن شیخ الحدیث صاحب کو فرمایا کہ وہی پہلا سبق کرتے رہے۔ پھر تین ماہ بعد آنے کا کہا۔ ظاہر ہے شیخ الحدیث صاحب نے محسوس کیا ہوگا کہ عوام آگے نکل گئے، میں پیچھے رہ گیا۔ اتفاق سے تین ماہ بعد پھر اکھٹے حاضر ہوئے تو حاجی صاحب ؒ نے عوام کو تیسرا سبق عنایت فرمایا ا ور شیخ الحدیث صاحب کو حسب سابق اسی سبق اول کا حکم دیا۔ شیخ ؒ الحدیث صاحب اس دفعہ ذہنی طور پر تیار ہو کر تشریف لائے تھے کہ اگر وہی سبق ملا تو احتجاج کروں گا !!چنانچہ عرض کی کہ یہ تو میں بھی سمجھتا ہوں کہ مجھ پر سبق نے اثر نہیں کیا؛ اسی لیے اگلا سبق نہیں ملتا۔یاتو ہر دفعہ حضرت یوں ہی فرماتے رہیں گے کہ اسی سبق کو کرو!! اور یا پھر اس عدمِ تاثر کا حل فرمائیں؟ حاجی صاحب ؒ جہاندیدہ کامل العقل شیخ تھے۔ ان کا رسمی عالم نہ ہونا سب کومعلوم تھا۔ اس لیے بخاطر مصلحت فرمایا کہ رشید احمد کے پاس چلے جائیں۔ چنانچہ شیخ الحدیث صاحب حضرت گنگو ہیؒ کے پاس پہنچے۔ آمد کی وجہ پوچھنے پر سارا قصہ بتا دیا۔ حضرت گنگو ہی ؒ نے فرمایا کہ تین ماہ بخاری شریف اور ترمذی شریف پڑھانا موقوف رکھیں اور سبق یہی پہلا جاری رکھیں۔ یہی بات حاجی صاحب بھی فرمانا چاہتے تھے، لیکن ان کے فرمانے سے مفاسد پیدا ہوسکتے تھے۔ اسی لیے حضرت گنگو ہی ؒ کے حوالے فرمایا۔ حضرت گنگوہی چونکہ خود بھی حدیث پڑھاتے تھے، ان کے فرمانے میں مفاسد نہ تھے۔ چنانچہ شیخ الحدیث صاحب اس عرصے میں ذکر سے متاثر ہونے لگے۔
غرض یہ کہ حدیث شریف خصوصاً بخاری شریف پڑھانے کے انتہائی اعلیٰ نیک عمل ہونے میں کسی کو شک وشبہ نہیں لیکن ہر فن کے اپنے اصول ہیں، انہی پر کاربند رہنا پڑتا ہے۔
۳۔ کثیر العبادۃ الظاہرۃ: ظاہری عبادت مثلاً نما ز،نفل، تلاوت، درود، استغفار، غرض یہ کہ لسانی اور قالبی عمل کی کثرت رکھنے والا، فنافی اللہ حاصل نہیں کرسکتا۔ اسی لیے مشائخ بیعت کرنے والوں کو سوائے فرائض، واجبات اور سنن موکدہ کے تمام اعمال ظاہرہ سے منع فرمادیتے ہیں ۔سوائے ذکر کے سب عبادتیں ممنوع ہوجاتی ہیں۔
عبادت ظاہرہ اگر چہ ملکیت کو بڑھاتی ہے ،لیکن یہ عبادت ظاہرہ، باطن کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے محض رسمی ہونے کی بنا پر ملکیت ضعیفہ پیدا کرسکتی ہیں۔ جبکہ فنا فی اللہ کے لیے ملکیت قویہ درکار ہے اور نیز عبادات ظاہرہ اس سٹیج پر اپنے اندر مشغول رکھنے کی وجہ سے ’’احدیت صرفہ‘‘کی طرف دائمی توجہ سے مانع ہوتی ہیں۔
بارہ تیرہ سال قبل اسلام آباد میں ایک بزرگ عالم تشریف لائے ،مجھ نالائق سے ملاقات کی خواہش کاپیغام بھیجا۔ چنانچہ بندہ نے ظہرکی چائے میں دعوت دے دی۔ تشریف لائے، نحیف ونزار ،سن شریف نوے (۹۰) سے تقریبا متجاوزتھا۔ معلوم ہوا کہ دیوبند کے فاضل ہیں۔ ۱۹۳۵ء میں فراغت ہوئی۔ فراغت کو بھی باسٹھ تریسٹھ سال ہوچکے تھے۔ خیر باتوں باتوں میں بندہ نے روحانی نسبت کا پوچھ لیا۔ مسکرانے لگے !فرمایا کہ بیعت تو رسمی سی عرصہ دراز قبل شیخ العرب والعجم حضرت مولانا عبدالغفور مدنی ؒ سے کی تھی، لیکن ذکر سے میں ذرا بھی متاثر نہیں ہوسکا۔ بندہ نے عرض کی کہ اپنے شیخ سے رابطہ کرکے عرض کردیتے۔ فرمایا کہ وہ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے گئے؛ البتہ کافی عرصہ بعد حج پرجانا ہوا تو وہاں عرض بھی کردی کہ میں ذکر سے متاثر نہیں ہوسکا۔ حضرت نے شفقت فرمائی اور رات کو اپنے حجر ہ خاص میں ٹھہرنے کا فرمایا۔ خصوصی توجہ بھی فرمائی اور رات کو اپنی خاص چارپائی پر سونے کا فرمایا، لیکن دونوں باتوں سے میں متاثر نہ ہوسکا! صبح عرض کرنے پر دوبارہ توجہ فرمائی، لیکن بے سود؛ چنانچہ بندہ نامراد واپس ہونے لگا ،تو فرمایا کہ پوری زندگی میں دو آدمی میری توجہات سے متاثر نہیں ہوسکے۔ ایک’’ تم‘‘ اور دوسرا’’ کوئی اور‘‘۔ اس کے بارے میں فرمایا کہ وہ بہت عبادت گزار تھا۔
بندہ راقم الحروف نے عرض کی کہ آپ کے عد مِ تاثیر کی کوئی وجہ بیان نہیں فرمائی؟کہنے لگے نہیں۔میں نے عرض کی کہ وہ وجہ میں بیان کر دوں؟!! فرمانے لگے : ضرور بیان کریں۔ بندہ نے عرض کی کہ آپ کثیر المطالعہ ہیں۔ مولانا باوجود نحیف ونزار بوڑھے ہونے کے اچھا خاصا اچھل پڑے! اور فرمایاکہ اوہو !میں تو واقعی کتا بی کیڑا ہوں!! میری ساری زندگی اسی مطالعے میں ہی گزر گئی ہے اور لوگ بھی مجھے کتابی کیڑا ہی کہتے ہیں ۔
غرضیکہ بہت سے اچھے کام بھی اس لائن کے موانع میں سے ہیں۔ البتہ اتنا فرق ہے کہ تینوں آدمیوں میں سے اوّل الذکر مطلقاً فنا فی اللہ کی استعداد نہیں رکھتا،لیکن کثیر المطالعہ وکثیر العبادۃ عرصہ دراز تک علی حسب الاستعداد والریاضۃ ان کاموں کو چھوڑنے سے استعد اد حاصل کرسکتے ہیں۔ کہیں مولویان کرام مجھ نالائق پر فتویٰ ہی نہ جڑدیں کہ یہ امت کو کدھر لے جا رہا ہے !! خدانخواستہ ایسی بات نہیں۔ میں تو ذکر و فکر کی محنت کے تھوڑے عرصے میں رنگ لانے کا اصول بیان کررہا ہوں تاکہ :
آنچہ دانا کُند کند ناداں
لیک بعد از خرابی بسیار
کا مصداق نہ بنے!!
اگر لوگ خفانہ ہوں توخد ا لگتی کہہ دوں:کہ تمام انبیاء علیم الصلوات والتسلیمات اور انکے برگزیدہ اصحاب کرام کی نسبت کی بلندی کی ایک خاص وجہ مطالعہ اور اسباب مطالعہ کا فقدان تھا۔ وہاں تو سراسر عمل، اخلاص ،روحانیت تھی ۔
حاصل کلام یہ کہ فنا فی اللہ سے قبل کثرت مطالعہ وعبادۃ ظاہرہ موانع میں سے ہیں۔ ہاں! ایساآدمی جو فنا وبقا حاصل کرچکا ہو، اس کو کثرتِ مطالعہ کتبِ شریعہ خصوصاً کتبِ حدیث وتفسیر کا مطالعہ، اسی طرح عبادۃظاہر ہ کی کثرت بھی سراسر ترقی بخش ہے ۔غرض یہ کہ’’ جائے استاد خالی است ‘‘کے بموجب ہرفن استاد سے ہی سیکھنا پڑتا ہے اور یہ اصول وضوابط کے تحت ہی ہوسکتا ہے۔
حضرت خواجہؒ نے آخری خط اپنی وفات سے دس سال قبل مجھ نالائق کو تحریر فرمایا ۔بندہ ایک دفعہ اپنے شاگردِ خاص مریدِ خاص مولوی نیاز احمد شاہ صاحب سے اس کی مسلسل نالائقیوں کی وجہ سے ناراض ہوا اور مجلس میں حاضر ہونے پر پابندی لگا دی ۔ انہوں نے بڑی چالاکی سے حضرت خواجہ ؒ کے دامن عاطفت سے سفارش چاہی تو حضرت خواجہ ؒ نے اس کی عرض قبول فرماتے ہوئے مجھ نالائق کو مکتوب تحریر فرمایا۔ اس مکتوب کے وقت یہ نالائق اپنی تمام کوتاہیوں کے باوجود ،عرفِ عام میں چونکہ’’ شیخ صاحب‘‘ کے نام سے مشہور ہوچکا تھا۔اس لیے حضرت خواجہؒ نے اسی عرف کا لحاظ فرماتے ہوئے اسی لقب سے یاد فرمایا ہے۔ خط کیا ہے، باوجود اختصار کے’’ ہم نے ہر ادنی کو اعلی کردیا‘‘ کا مکمل عکاس ہے ؛من وعن نقل کیا جارہا ہے:
’’بگرامی خدمت جناب محترم شیخ صاحب زید مجدکم!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
سلام مسنون کے بعد گزارش ہے کہ حاملِ رقیمہ ہذا نیاز علی شاہ صاحب جناب کے مخلص خادم حاضر ہورہے ہیں۔اپنی شفقتوں سے اُن کو سرفراز فرماویں۔ اللہ تعالیٰ اجر عظیم عطا فرماویں گے اور فقیر دل وجان سے شکر گزار ہوگا۔‘‘
ان آخری دس سالوں میں حضرت خواجہؒ نے رفتہ رفتہ اپنی پیرانہ سالی کمزوری اور بیماری کی بنا پر خط وکتابت ترک فرمادی تھی۔ ورنہ بہت ساری اہم فنی باتیں پوچھنے کے قابل تھیں۔ جن کاجواب صرف حضرت خواجہ ؒ ہی عنایت فرما سکتے تھے:اے بسا آرزو کہ خاک شدہ اور ساتھ ہی خاموشی بھی بہت بڑھ چکی تھی۔ تجلیات عالیہ عظیمہ کی بناپر ،باوجود شفیق ہونے کے ھیبت وجلال محسوس ہونیکی بنا پر زبانی بھی پوچھنے کی ہمت نہ ہوسکتی تھی۔
پیشِ جاناں قوت گفتار بودے کا شکے
سانحۂ وفات
حضرت خواجہ ؒ کی وفات سے دو دن قبل بندہ نے ایک خواب دیکھا : دفعۃً ذہن حضرت خواجہؒ کی وفات کی طرف منتقل ہوا۔ دل دھک سے رہ گیا!! فوراً خانقاہ شریفہ رابطہ کیا لیکن نہ ہوسکا۔ چنانچہ اسلام آبادمیں حضرت کے میزبان حاجی یعقوب صاحب سے معلوم ہوا کہ حضرت واقعی بیمار ہیں اور ملتان میں سیال کلینک میں زیر علاج ہیں۔ اعتقادِ روحانی بھی عجیب چیز ہے!!بندہ نے خواب اور اپنی پریشانی کا ابھی تک کسی سے اظہار بھی نہیں کیا تھا۔ کہ اُسی رات بقول معتقدین : بند ہ نے ایک قریبی مرید ومعتقد کو خواب میں بتایا کہ حضرت خواجہؒ وفات پاچکے ہیں! دیکھنا جنازے سے رہ نہ جانا۔جبکہ دوسرے معتقد کو کہا: کہ تین بجے جنازہ ہے، سب ساتھیوں کو بتا دو اور سب جنازے پر پہنچنے کی فکر کریں اور بندہ کے ایک مرید کو جو بیرون ملک قیام پزیر تھا؛ حضرت خواجہ ؒ نے خود خواب میں فرمایا : کہ میں ایک ہفتے بعد وفات پارہا ہوں جنازہ پرپہنچنا: چنانچہ وہ ہفتے بعد بدھ کی شام لاہور ائر پورٹ پر پہنچا اور اگلے دن سیدھا جنازہ پر حاضر ہوا۔سچ ہے:
ما شما را بہانہ ساختند
چنانچہ خواب کے دو دن بعد شام کو کھانے کے بعد مدرسہ کے مدرس قاری زاہد صاحب نے اپنا موبائل فون بندہ کے سامنے کردیا۔ جس میں امام وقت حضرت خواجہؒ کی وفات کی وحشت ناک خبر تھی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
دنیا کے طول وعرض میں یہ خبر سب معتقدین پر بجلی بن کر گری۔لیکن چونکہ آنحضرت جل سلطانہ کا نظام ہی ایسا ہے صبر کے بغیر کوئی چارہ نہیں!!
خنک روزے بود یا بیم اگر خضر ہدایت را
کہ راہوارِ یقین ما بصحرائے گمان گم شد
اگلے دن احباب کے ساتھ جنازے پر حاضر ہوا تو انسانی سروں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر،’’ عاشق کا جنازہ ہے ذرادھوم سے نکلے‘‘ کا سماں پیش کر رہا تھا۔ جنازے کے بعد بچشم گریاں ودل بریاں سر پر خا کِ محرومی ڈالتے ہوئے واپسی ہوئی۔ حیات عنصری میں اب شوقِ دیدار ہمیشہ بے کل ہی رکھے گا!!
مئے وصل نیست وحشی بخمارِ ہجر خو کن
کہ شرابِ نا امیدی غم دردِ سر ندارد
حضرت خواجہ ؒ کی وفات و حسرتِ آیات سے عالمِ اسلام کا اتنا بڑا عظیم نقصان ہوا ہے ، کہ قطع نظر رسمی الفاظ کے عالمِ اسباب میں اس کی تلافی یقیناًناممکن ہے۔ حضرت حق جل مجدہ حضرت خواجہؒ کے ساتھ یقیناان کے شایانِ شان سلوک فرمائیں گے اور مقعدِ صدق کے مقامِ عالی سے سرفراز فرمائیں گے۔ ہم پسماندوں کو حضرتِ حق، حضرت خواجہؒ کی نسبت کے طفیل اپنے قرب ومعرفت سے بہرہ ور فرمائیں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائیں۔ آمین
مکاشفہ
حضرت خواجہؒ کی وفات کے دو چار دن بعد راقم الحروف کے ایک قریبی صاحبِ کشف مرید و معتقد نے مکاشفہ میں دیکھا :کہ راقم الحروف نے حضرت خواجہؒ سے پوچھا کہ حضور برزخ میں کیسی رہی؟ تو حضرت خواجہؒ نے فرمایا کہ خلاف توقع رہی۔ میرا خیال تھا کہ قبر میں حسب معمول مجھ سے سوال وغیرہ ہوگا ؛لیکن قبر میں ڈالے جانے کے ساتھ ہی قبر تاحد نگاہ فراخ ہوگئی۔ جنت کی کھڑکی کھول دی گئی۔ منکر نکیر کی بجائے دو فرشتے بطور خادم کے بھیجے گئے کہ جو خدمت ہو ،ان سے فرمادیں ،بجا لائی جائی گی۔ تمام مشائخ کرامؒ نے میرا استقبال کیا اور خاص ’’لَے‘‘ میں سب نے میرے آنے کی خوشی میں اسمِ ذات کا جہری ذکر کیا، اور میری آمد پر برزخ میں مشائخ نے تین دن جشنِ خوشی منایا۔ تین دن کے جشن کے بعد خواجہِ کائنات حضرت ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دربارعالی میں بلایا ،میں حاضر ہوا؛ تو حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے ختمِ نبوت کے کام کے طفیل مجھ پر توقع سے زیادہ عنایات فرمائیں اور اب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی ہوتاہوں۔
کشف وکشوف اگر چہ کوئی شرعی حجت نہیں، لیکن اس میں کوئی بات خلاف شرع بھی نہیں ۔میرا اعتقاد ہے کہ یقیناًایسا ہی بلکہ اس سے بھی بہت اعلیٰ معاملہ حضرت حق جل مجدہ نے حضرت خواجہؒ کے ساتھ فرمایا ہوگا۔ آنحضرت جل سلطانہ ہمیں حضرت خواجہؒ کی ہمہ قسم، خصوصی طور پر روحانی برکات دائمی طور پر نصیب فرمائیں۔ آمین یارب العالمین والحمد للہ رب العالمین۔
اسلامی بینکاری بطور حکمت عملی اور انداز فکر
پھر اسلامی بینکاری کے نام پر جس شے کو ’تبدیلی کی حکمت عملی‘ کے طو پر اختیار کر لیا گیا ہے اس کی نوعیت پر غور کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ اس بحث سے یہ اندازہ لگانا بھی ممکن ہوجائے گا کہ آیا اسلامی بینکاری کو فروغ دینے والے حضرات بذات خود اسے مجبوری سمجھتے بھی ہیں یا نہیں نیز اس کے ذریعے وہ کس نوع کی تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں۔ کسی موجود نظام میں تبدیلی کے لیے برپا کی جانے جدوجہد کو حکمت عملی کے تین ادوار پر تقسیم کرکے سمجھا جاسکتا ہے، short run, middle run and long run (قریب یا قلیل، وسط اور طویل مدتی)۔ ان میں سے ہر دور کی حکمت عملی کے اپنے جدا گانہ تقاضے ہیں:
طویل مدت (Long Run)
حکمت عملی سے متعلق یہ وہ دور ہے کہ جس کے بارے میں آپ اپنی حتمی منزل کا تعین کرتے ہیں کہ آپ بالاخر کن مقاصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، یعنی طویل دور سے مراد وہ مقام ہے جہاں آپ اپنی قلیل اور وسط مدت میں اختیار کردہ طرز عمل و فیصلوں کے نتیجے میں پہنچنے کی امید کرتے ہیں۔ طویل مدت کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ اس کے بارے میں حتمی مقاصد کے بیان اور ایک عمومی خاکے سے زیادہ کوئی بات طے کرنا قریب قریب ناممکن ہوتا ہے، یعنی یہ بات قابل از وقت طے نہیں کی جاسکتی کہ طویل مدتی معاشرتی و ریاستی صف بندی کیسی ہوگی کیونکہ اداری صف بندیاں افراد کے تعلقات کے نتیجے میں وقوع پزیر ہوتی ہیں جن پرا ن گنت عوامل اثر انداز ہوتے ہیں
قلیل مدت (Short Run)
نظاماتی تبدیلی کے لیے جدوجہد کرنے والی تحریکات کے لیے اپنی واقعیت کے اعتبار سے یہ اہم ترین دور ہوتا ہے کیونکہ عوام کی اکثریت دور اندیش نہیں ہوتی اور وہ اسی دور میں زندہ رہتی ہے۔ قلیل مدت سے مراد وہ فیصلے میں جو ہمیں فوری یعنی ’آج‘ اور ’ابھی‘ کرنے ہیں۔ مثلاً کیا اس سال ہمیں الیکشن میں حصہ لینا چاہئے یا نہیں، اگر ہاں تو کسی پارٹی کے ساتھ ملکر یا اپنے طور پر، بینکاری نظام کے بارے میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہئے، ہمیں اپنے مطالبات منوانے کے لیے ہڑتال کرنی چاہئے یا اسلحہ اٹھا لینا چاہئے وغیرہ وغیرہ اور اس نوع کے بے شمار فیصلے، اہم بات یہ کہ ان امور کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرنا بھی بذات خود ایک فیصلہ ہے۔ عام لفظوں میں اس دور کو پنجابی زبان کے محاورے ’ہن کی کرئیے‘ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ قلیل مدت فیصلوں کی نوعیت سمجھنے کے لیے اس سے متعلق دو خصوصیات ذہن نشیں رہنا چاہئیں: اول یہ وہ دور ہے جہاں ہم اپنی واقعیت اور ماحول (facticity and environment) پر اثر انداز ہو کر اسے تبدیل نہیں کرسکتے، بلکہ وہ ایک حقیقت واقعہ کے طور پر ہمارے سامنے موجود ہوتا ہے اور ہمیں اس موجود ماحول کے اندر رہتے ہوئے ہی کوئی فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ دوئم یہی وجہ ہے کہ اس دور میں ہم ہمیشہ ’کم تر شر‘ کو اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دو افراد یا تحریکات کے درمیان اپنے اپنے زاویہ نگاہ کی بناء پر اس امر میں تو اختلاف ہو سکتا ہے کہ فی الحال ’چھوٹی برائی‘ کیا شے ہے مگر یہ بات طے ہے کہ دونوں اپنے تئیں ’کم تر شر‘ ہی کو اختیار کرنے کی کوشش کررہے ہوں گے۔
وسط مدت (Middle Run)
طویل مدت مقاصد کے حصول اور اپنی نتیجہ خیزی کے اعتبار سے یہی دور سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ وسط مدت حکمت عملی کے اہم مراحل میں موجود نظام کے جبر کو کم کرنے کے لیے افراد کی مسلسل تعلیم و تربیت (جسے نئے سیاسی شعور سے تعبیر کرسکتے ہیں) اور متبادل ادارتی صف بندی (جسے تحریکی عمل بھی کہہ سکتے ہیں) کو وجود میں لانا شامل ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں اپنے فیصلوں کے ذریعے ہم ماحول کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ وسط مدت حکمت عملی میں فیصلہ کرنے کے اصول قلیل مدت سے متضاد ہوتے ہیں، یعنی اگر قلیل مدت میں ہم سمجھوتے پر مبنی فیصلے کرتے ہیں تو وسط مدتی حکمت عملی میں سمجھوتوں پر مبنی فیصلے کبھی نہیں کیے جاتے، بلکہ ان فیصلوں کی خصوصیت ہی یہ ہوتی ہے کہ انکا مطمع نظر اپنی واقعیت اور ماحول کو تبدیل کرنا ہوتا ہے۔ ان تمام ادوار میں تعلق یہ ہے کہ قلیل مدت میں ایسے فیصلے نہیں کرنے چاہئیں جن کے بعد وسط مدتی حکمت عملی پر عمل کرنا ہی نا ممکن ہوتا چلا جائے اور بالآخر آپ نظام تبدیل کرنے کی پوزیشن ہی میں نہ رہیں بلکہ اس سے علی الرغم خود کو اسی نظام میں سمو لیں۔
پھر حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ کسی حاضر و موجود شے کو اختیار کرتے وقت اس کے ساتھ دو قسم کا رویہ اپنانا ممکن ہے: اول آئیڈئیل سمجھنے کا اور دوسرا Strategization یعنی بطور حکمت عملی اسے حتمی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کا۔ کسی شے کو بطور آئیڈئیل اور بطور Strategy استعمال کرنے سے دو مختلف قسم کا فکری لٹریچر اور طرز عمل وجود میں آتا ہے۔ اول الذکر رویے کے بعد اس اختیار کردہ شے کو اپناتے (own کرتے) ہوئے اسے ایک مقصد کے طور پر فروغ دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف کسی انقلابی تبدیلی کی گنجائش باقی ہی نہیں رہتی، جبکہ دوسرے طرز عمل میں کسی شے کو اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ بالآخر اسکی ضرورت ہی ختم ہوجائے، نہ یہ کہ وہ ہماری زندگی کا لازمی جزو بن جائے۔ مثلاً افغان جہاد میں امریکہ نے مجاہدین کے ساتھ جو تعلق استوار کیا وہ دوسری نوعیت کا تھا اور یہی وجہ ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد امریکہ نے جہاد کی تعلیم اور مجاہدین کے مالی مسائل کے حل اور ان کی تربیت کرنے والے اداروں کے فروغ کے لیے دنیا بھر میں کوئی جال نہیں بچھاد یا بلکہ بذات خود انہیں مٹانے کے در پے ہو گیا۔
حکمت عملی کے اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے اب ذرا اسلامی بینکاری کا جائزہ لیجئے۔ ماہرین اسلامی بینکاری کے نزدیک اس کے طویل مدتی مقاصد کیا ہیں یہ جاننے کے لیے انکے فکری لٹریچر کا مطالعہ بہت کافی ہے جس سے یہ بات عین روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ ان حضرات کے نزدیک اسلام بھی ان مقاصد کے حصول کا ذریعہ بن سکتا ہے جنہیں موجودہ نظام اصل قرار دیتا ہے (اسی لیے یہ حضرات بینکنگ کا متبادل پیش کرتے ہیں اور ظاہر ہے متبادل کہتے ہی اسے ہیں جو ایک ہی مقصد کو کسی دوسرے طریقے یا ذریعے سے حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو)۔ ماہرین اسلامی معاشیات کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ مارکیٹ اکانومی پر مبنی موجودہ نظام اور اس کے مقاصد فطری انسانی تقاضوں کا جائز ارتقا ہیں، البتہ اس نظام میں چند عملی (operational) مگر قابل اصلاح نوعیت کی خرابیاں بھی ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ اگر یہ مقدمہ و مفروضہ مان لیا جائے تو پھر موجود ہ نظام کے خلاف ہر قسم کی انقلابی (ریاست کے اندر تعمیر ریاست) اسلامی جدوجہد کا جواز کالعدم ٹھہرتا ہے کیونکہ اس بنیادی مقدمے کے بعد ان عملی خرابیوں کی اصلاح کے لیے کسی انقلابی جدوجہد نہیں بلکہ اصلاحی سیاست (reformist politics) و سرمایہ دارانہ علوم یعنی سائنسز (بشمول سوشل اور بزنس ) میں مہارت حاصل کرنے کی ضرورت رہ جاتی ہے، اور درحقیقت یہی ماہرین اسلامی معاشیات کی طویل مدت حکمت عملی ہے جسکے حصول میں وہ ہر دم کوشاں ہیں اور یہ حکمت عملی انکے قلیل اور وسط مدتی تمام فیصلوں سے عین عیاں ہے (۴) ۔ اسلامی معاشیات و فائنانس سے وابستہ افراد کا حتمی مطمع نظر موجود عالمی نظام زر کا خاتمہ نہیں بلکہ اسے فطری مان کر اس میں چند اصلاحات کا نفاذ ہے اور وہ بھی اس لیے کہ ان اصلاحات کے ذریعے سرمائے میں زیادہ بہتر انداز میں اضافہ ممکن ہوسکتا ہے ]یہی وجہ ہے کہ مجوزین اس امر (جو درحقیقت ان کی ’غلط فہمی‘ ہے) کو فخریہ طور پر بیان کرتے ہیں کہ گلوبل فائنانشل بحران میں اسلامی اصولوں پر چلنے والے بینک وغیرہ سب سے کم متاثر ہوئے، یعنی اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام زر خود کو بحرانوں سے محفوظ کر سکتا ہے، فیا للعجب گویا اسلام باطل کا محافظ بننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے[۔ اسلامی بینکاری، اسلامی بانڈز، اسلامی انشورنس وغیرہم کا حاصل صرف اور صرف مسلم ذرائع کو عالمی نظام زر میں شامل کرکے نفع خوری کو بڑھاوا دینا ہے۔ مجوزین اسلامی بینکار ی کے نزدیک قلیل مدت جبر سے مراد محض یہ ہے کہ فی الوقت انہیں عام بینکوں کے معیار سود کو اپنے شرح نفع کے لیے بطور معیار قبول کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ حکمت عملی کے درج بالا خاکے کے مطابق اسلامی بینکاری کا نقشہ کچھ یوں ہے:
- طویل مدتی حکمت عملی: موجودہ نظام زر کے مقاصد کو جائز سمجھتے ہوئے اسلامی طریقوں سے ان کا حصول۔
- وسط مدتی حکمت عملی: سرمایہ دارانہ علوم کی اسلام کاری اور اصلاحی سیاست کے ذریعے افراد کی فراہمی اور قانونی تبدیلیوں کو ممکن بنانا تاکہ اسلامی بینکاری پر بہتر طریقے سے عمل درآمد کرنا ممکن ہوسکے۔
- قلیل مدتی حکمت عملی: سودی نظام زر کے جبر کو جس حد تک کم اپنانا ممکن ہو اتنا ہی اختیار کیا جائے۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ اسلامی بینکاری کے حامیین اور ہمارے درمیان باعث نزاع یہی قضیہ ہے کہ وہ موجودہ نظام کی اسلام کاری کو ممکن سمجھ کر اس کے ساتھ آئیڈئیل بنیادوں پر تعلق استوار کرتے ہیں اور یہی انکی حکمت عملی کی بنیادی غلطی ہے۔ ماہرین اسلامی معاشیات کی اس طویل مدتی حکمت عملی کو چند اکا دکا عبارتوں کا حوالہ دیکر ذائل کرنے کی کوشش کرنا اور یہ تاثر دینا کہ بذات خود اسلامی بینکاری کسی قلیل مدت حکمت عملی (جبر وغیرہ) کا شاخسانہ ہے دن کو رات کہنے کے مترادف ہے (جسکی ایک دلچسپ مثال ذیل میں ’خلوت و جلوت کے تضاد‘ کے تحت آرہی ہے)۔
خلوت و جلوت کا تضاد
اسلامی بینکاری کے مویدین اکثر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں اسلامی بینکاری کے حامی علمائے کرام بھی اسلامی بینکاری کے فروغ کو آئیڈئیل نہیں سمجھتے بلکہ اسے مجبوری وغیرہ کے درجے میں ہی اختیار کرتے ہیں، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اکثر و بیشتر ان علماء کرام کی نجی محافل میں جب کوئی شخص ان سے سوال کرتا ہے تو تقوے کا لحاظ کرتے ہوئے اسے غیر سودی (اسلامی) بینکاری سے بچنے ہی کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اسلامی بینکاری کے فروغ کے حوالے سے ان علماء کرام کی ’نجی حکمت ‘ عملی کیا ہے یہ تو ہمیں معلوم نہیں کیونکہ اس کے لیے ثقہ و غیر ثقہ راویوں کی چھانٹ پھٹک کرنے کا ایک پیچیدہ مرحلہ درکار ہے (ہوسکتا ہے بعض احباب کو کسی معتبر با خبر ذریعے سے ان نجی محافل کے احوال معلوم ہوتے ہوں)، مگر ان علماء کرام کی اسلامی بینکاری کے حوالے سے ’پبلک پالیسی‘ معلوم کرنے کے لیے کسی روایت پر اعتماد کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس سلسلے میں آئے دن اسلامی بینکوں (بشمول میزان بینک) کی طرف سے اخبارات میں دیے جانے والے جاذب نگاہ اشتہارات، شہر کی اہم شاہراہوں کے کنارے آویزاں بڑے بڑے بل بورڈز اور گلیوں کوچوں میں لٹکے ہوئے خوشنما بینرز بہت کافی ہیں جن کا مقصد ہی صرف یہ ہے کہ مختلف اشتہاری ہتھکنڈے استعمال کرکے عوام الناس (علی الرغم اس سے کہ وہ بینکوں سے کوئی تعلق رکھتے ہیں یا رکھنا چاہتے بھی ہیں یا نہیں کیونکہ پاکستان کی دس فیصد سے بھی کم آبادی بینک اکاؤنٹ ہولڈر ہے) کو اسلامی بینکوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے اکسایا جائے، اور یہ بات بھی کوئی راز نہیں کہ کروڑوں روپے کی اس اشتہار بازی کا مقصد آخر کیا ہوتا ہے۔ شاید یہ اپنی نوعیت کی پہلی اسلامی روایت ہوگی کہ جس شے کو خلوت میں ترک کرنے کی نصیحت کی جارہی ہو جلوت میں عین اسی شے کو اشتہار بازی کے ذریعے عام کیا جانا مطلوب قرار پا رہا ہو۔ خلوت اور جلوت میں اختیار کردہ یہ متضاد حکمت عملی آخر تنوع کی کس قسم سے متعلق ہے یہ ہم طے کرنے سے بالکلیہ قاصر ہیں، اگر مویدین اسلامی بینکاری اس سلسلے میں راہنمائی فرمائیں تو نوازش ہوگی۔پھر کیا ہی اچھا ہو اگر ان علمائے کرام کی یہ ’نجی حکمت عملی‘ اور ’تقوے پر مبنی قیمتی مشورے‘ خفیہ روایت کے سلسلوں کے بجائے اشتہارات اور بل بورڈز کے ذریعے عوام الناس تک پہنچ جائیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ماہرین اسلامی معاشیات کی اکثریت موجودہ معاشی ادارتی صف بندی میں شمولیت کو کوئی مجبوری نہیں بلکہ فطری تقاضوں کا ارتقاء سمجھتی ہے جنہیں معمولی ردوبدل کرکے اسلامی بنایا جا سکتا ہے (جیسا کہ ان حضرات کی کاوشوں اور مفتی تقی عثمانی صاحب کی کتب کے مطالعے سے واضح ہوجاتا ہے)۔
کیا ’کل‘ کی بحث شرع کے لیے اجنبی ہے؟
مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ شریعت میں کسی شے کو اپناتے وقت ’کل ‘ کے بجائے حرام و حلال کی بنیاد پر جانچنے کا اصول کارفرما ہوتا ہے۔ مفتی صاحب کے اس اصول کے تجزیے سے قبل یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ ’کل‘ کی بنیاد پر جانچنے سے ہماری مراد ہے :
- موجودہ دور کے کسی بھی مظہرکا اس کے درست اور مخصوص علمی ومعاشرتی تناظر میں جائزہ لے کر اسکی حقیقت کو پہچاننا
- اس مظہر کو کسی اسلامی روایت یا تصور کے ساتھ محض ظاہری و جزوی مماثلت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے مخصوص مقاصد اور ’مقاصد شریعت‘ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس طرح پرکھنا ہے کہ
- مبادا ہم کسی ایک پہلو پر عمل کرنے کی کوشش میں شریعت کے ان گنت دیگر احکامات کی نافرمانی کے مرتکب نہ ہوں
- نیز شریعت جس قسم کی انفرادیت، معاشرت وریاست کا فروغ چاہتی ہے وہ تار تار نہ ہوجائے
کلی تجزئیے سے ہم ہر گز یہ مطلب ’نہیں ‘ لیتے کہ چاہے کوئی عمل قرآن وسنت سے ہی کیوں نہ ثابت ہو اگر وہ مقاصد الشریعہ کے خلاف ہوگا تو ہم اسے نہیں مانیں گے، العیاذ باللہ بھلا کیا خود شارع سے بڑھ کر بھی کوئی یہ طے کر سکتا ہے کہ اسکی عطا کردہ شریعت کے مقاصد حاصل کرنے کا طریقہ خود اس کے تجویز کردہ طریقے کے سواء کوئی اور ہوسکتا ہے؟ مفتی صاحب کو راقم کے بارے میں یہ بد گمانی نجانے کس عبارت سے لاحق ہوگئی کہ ہمارا تعلق اس گروہ سے ہے جو مقاصد الشریعہ کی آڑ میں شریعت ہی کو معطل کردینا چاہتا ہے۔ راقم ایک مرتبہ پہلے بھی ماہنامہ الشریعہ ہی میں یہ وضاحت کر چکا ہے کہ مسئلہ خیر و شر، معروف و منکر کی تعیین کے معاملے میں وہ ماتریدی ہی نہیں بلکہ اس سے بھی آگے اشعری نکتہ نگاہ کا قائل ہے کہ حسن و قبح افعال کے ذاتی نہیں بلکہ شرعی اوصاف ہیں نیز عقل انکا ادراک کرنے سے بالکلیہ قاصر ہے، لہذا راقم الحروف کو مقاصد الشریعہ کی آڑ میں شریعت معطل کرنے والے گروہ پر قیاس کرنا کسی طور درست نہیں۔ جہاں تک رہی یہ بات کہ مجوزین اسلامی بینکاری کے شرع سے ثابت شدہ معاہدات استعمال کرنے کو ہم مقاصد الشریعہ کے تناظر میں رد کیوں کرتے ہیں تو اس ضمن میں تین باتیں عرض ہیں:
- مجوزین جن دلائل کی بنیاد پر موجودہ ادارتی صف بندی کا اسلامی جواز پیش کرتے ہیں وہ دلائل ہی محل نظر ہیں۔ انکے اکثر و بیشتر دلائل کی حالت یہ ہے کہ ایک ہی حدیث سے علمائے متقدمین کا کوئی حوالہ پیش کیے بغیر نیز لبرل معاشیات کو درست طور پر سمجھے بغیر ہی اس نظام کو اس حدیث سے اخذ کرڈالتے ہیں۔ انکے زیادہ تر دلائل قرآن و سنت سے براہ راست استدلال کے بجائے قیاس پر مبنی ہوتے ہیں، مثلاً کمپنی کا جواز بیت المال پر قیاس کرکے نکال لیا گیا ہے جو محض ظاہر بینی کی علامت ہے کیونکہ دونوں اپنے مقاصد کے اعتبار سے بعد المشرقین کی سی مماثلت رکھتے ہیں۔ یہ قیاس بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اسلامی تاریخ میں ’تعلیمی نظام کی موجودگی‘ کو دیکھ کر یہ دعوی کرے کہ ’موجودہ تعلیم بھی ایک نظام ہے‘ اور یوں موجودہ علوم کو شامل اسلام کرلے (اگر راقم کو مفتی صاحب کی الزامی دلیل سے اپنا دفاع کرنا ہوتا تو اسلامی بینکاروں کی مانند اس قسم کے بے شمار قیاسات گھڑے جاسکتے ہیں)۔ ظاہر بات ہے محض نظام تعلیم کی مماثلت موجودہ تعلیم کو اسلام میں جائز کہنے کے لیے کافی نہیں کیونکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ دونوں کے مقاصد میں تعلق کیا ہے۔ ہمارے مفکرین موجودہ دور کے تقریباً ہر ہی مظہر کو کسی نہ کسی اسلامی روایت سے جزوی مشابہت کی بنیاد پر ’یہ بھی اسلام میں ہے‘ کہہ کر شامل اسلام کردیتے ہیں مگر اس قسم کے استدلال کرتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ قیاس کرتے وقت محض ’مماثلت‘ (similarities) ہی نہیں بلکہ ’عدم مماثلت‘ (dis-similarities) کا خیال رکھنا بھی بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ (علمائے متقدمین نے اس بات پر نہایت زور دیا ہے اور اسی بناء پر علم الاشباہ و النظائر اسلامی علمی روایت کا ایک اہم جزو رہا ہے اور موجودہ دور میں تو اس کے احیاء کی سخت ضرورت ہے)۔ چنا نچہ یہ کہتے وقت کہ ’یہ بھی اسلام میں ہے‘ اس پر بھی نظر رہنا چاہیے کہ ’اسلام میں کیا نہیں ہے‘ ۔
- ہمارے تجزیے کے مطابق شرکت و مضاربت کی بنیاد پر بینکاری ممکن ہی نہیں جیسا کہ ہم نے اپنے مضمون میں واضح کرنے کی کوشش کی اور مفتی صاحب نے بھی اس پر کوئی بنیادی اعتراض وارد نہیں کیا، سوائے اس کے کہ مجوزین اسلامی بینکاری علمائے کرام اسے درست اور ممکن سمجھتے ہیں (اور جو اشکالات اٹھائے ہیں، ان کی حقیقت ان شاء اللہ اگلے تبصرے میں واضح کی جائے گی)۔ لہٰذا جن معاہدات و طرق تمویل (شرکت و مضاربت) کو حضرات مجوزین بھی ’آئیڈیل ‘ سمجھتے ہیں، وہ کم از کم اسلامی بینکاری کے نام پر کیے جانے والے کاروبار کے تحت ناممکن ہیں۔
- رہے ’حیلہ طرق تمویل‘ تو ان کے بارے میں نہ صرف یہ کہ ناقدین علمائے کرام بلکہ خود مجوزین کو بھی قبول ہے کہ یہ عبوری دور سے متعلق ہیں اور جن کا مستقل اور منظم استعمال بعض کے نزدیک نا پسندیدہ اور بعض کے ہاں ممنوع ہے (جیسا کہ آگے آرہا ہے)۔ ان تمام پہلووں کو سامنے رکھتے ہوئے اگر راقم الحروف اسلامی بینکاری و فائنانس میں اختیار کیے جانے والے معاہدات کو غلط سمجھتا ہے تو کیا اسے ’مقاصد کی آڑ میں شرع کو معطل کرنا‘ کہا جا سکتا ہے؟
اس وضاحت کے بعد ’کل‘ کو نظر انداز کر کے جزو پر فتوے دینے کی غلطی سمجھنے کے لیے ایک مثال پر غور کرتے ہیں۔ ایک ایسے غلیظ معاشرے کا تصور کیجیے جہاں فحاشی و بدکاری اس طرح عام ہوجائیں کہ اسے باقاعدہ طور پر ایک منظم معاشرتی صف بندی کی حیثیت حاصل ہوجائے، لوگوں کا احساس گناہ اس حد تک گر جائے کہ وہ نکاح کے بجائے زنا کو ترجیح دینے لگیں، نیز ریاستی قوانین بھی نکاح کو مشکل اور زنا کو آسان بنائیں (جیسا کہ دنیا کے کئی ممالک کا یہ حال ہے)۔ ایسے ماحول میں ایک ’تہجد گزار فرد ‘ بھی خود کو ایسے حالات میں پائے گا کہ نہ صرف یہ کہ وہ اپنی اولا د ہی کو بلکہ خود کو بھی زنا و بدکاری کی آلائشوں سے بمشکل ہی بچا پائے گا جس کا اظہار یہ اعداد وشمار ہیں کہ مغربی معاشروں میں محض پندرہ سال کی عمر تک پہنچنے والے بچوں میں سے ستر فیصد سے زائد بچے کم از کم ایک مرتبہ زنا کا ارتکاب کر لیتے ہیں، کئی ممالک میں پچاس فیصد سے زائد بچے حرامی النسل ہوتے ہیں۔ فرض کریں اس ماحول میں کوئی ’خداترس‘ عالم ’تہجد گزار‘ مسلمانوں کو ’بدکاری کے گناہ سے بچانے ‘ کے لیے ’عموم بلوی‘ اور ’وقت کی ضرورت‘ کو دلیل بنا کر ’اسلامی قحبہ خانے‘ بنائے جہاں بڑی تعداد میں بدکاری کے شعبے سے متعلق عورتوں کو جمع کرلے اور پھر درج ذیل ’شرعی‘ اصولوں کی پابندی کرنا شروع کردے:
- وہاں ’بلا ضرورت شرعیہ ‘ مرد و زن کا اختلاط نہ ہونے دے ۔
- مباشرت سے قبل ’نکاح‘ کی رسم اور ’مہر ‘ کی رقم طے کروائے۔
- نکاح کروانے کے لیے ’شرعی قاضیوں‘ اور ’گواہوں‘ کا انتظام موجود ہو ۔
- مباشرت کے بعد شوہر بیوی کو ’طلاق ‘ دے کر ’مہر کی رقم ادا‘ کردے ۔
- کیونکہ عورت کے لیے ہر طلاق کے بعد نئے نکاح کی راہ میں ’عدت ‘ کی طویل مدت حائل ہوگی، لہٰذا یہاں غامدی صاحب کے فتوے پر عمل کرلے کہ اگر میڈیکل ٹیسٹ سے ثابت ہوجائے کہ حمل نہیں ٹھہرا تو عدت ختم ہوجائے گی، لہٰذا اسلامی قحبہ خانے میں اعلیٰ قسم کی لیبارٹری بھی بنوالے۔
ذرا غور تو کیجیے کہ ’اسلامی قحبہ خانے‘ بنانے میں کس قدر شرعی مسائل کا لحاظ کیا جارہا ہے۔ قریہ قریہ ’اسلامی قحبہ خانے ‘ بنانے کے بعد یہ نقشہ وہ آپ کے سامنے پیش کرکے پوچھے کہ بتائیے، اس میں کیا خرابی ہے اور آپ بجائے اسے ایک ’کل‘ کے ’اس میں جو اچھا ہے، وہ لے لو اور جو برا ہے اسے چھوڑ دو‘ کی بنیاد پر جزواً جزواً پرکھ کر یہ کہنے لگیں کہ ’میاں یہاں عدت گزارنے کا طریقہ فقہ حنفی کے مطابق نہیں ہے‘ یا ’گواہ صفت عدالت سے متصف نہیں ‘ وغیرہ تو ایسے طریقہ اجتہاد کو کیا کہا جائے گا؟ کیا (کسی دوسری فقہ کی روشنی میں کوئی فقہی حل تجویز فرمادینے کے بعد ) عدت گزارنے کے طریقے کو درست کرلینے سے واقعی یہ ’اسلامی قحبہ خانے‘ کہلانے کے مستحق ٹھہریں گے اور ہم خلق خدا کو ’غیر اسلامی کوٹھوں‘ کے بجائے ’اسلامی قحبہ خانے‘ جانے کی ترغیب دلانے کے لیے اشتہاری مہمیں شروع کرنے پر زور دینے لگیں گے اورخود ان قحبہ خانوں میں کنسلٹنٹ بھرتی ہونے کی فکر کرنے لگیں گے کہ دیکھیں کہیں یہ ’غیر شرعی‘ اصولوں پر نہ چل نکلیں؟ ہوسکتا ہے کسی کو ’اسلامی قحبہ خانے‘ کی یہ مثال محض ایک ذہنی عیاشی لگتی ہو، لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ مصر کے فقیہ العصر علامہ یوسف قرضاوی صاحب نے نکاح المسیار کی اجازت دے کراسلامی قحبہ خانے بنانے کی راہ ہموار کردی ہے۔ اب ضرورت ہے تو بس ہمت کی۔ یقین مانیے جس معاشرتی ماحول کی اوپر منظر کشی کی گئی، وہاں ایسی کاوشوں کے حامی چند علماء کرام کا دستیاب ہوجانا نیز عوام الناس میں ان کا مقبول ہوجانا کوئی اچنبھے کی بات نہ ہوگی۔ اگر بات صرف جزو ہی کی ہے تو پھر ’اسلامی قحبہ خانے‘ کے مالک کا کیا قصور ہے کہ اس کا یہ ’شرعی جواز‘ نہ مانا جائے کہ اسلام نے شہوانی جذبے کا جائز طریقے سے اظہار حرام کب قرار دیا ہے، اگر ایسا ہوتا تو اسلام مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہی کیوں دیتا؟ نیز اسلامی بینکاروں کے فلسفے کو بنیاد بنا کر وہ بھی تو کہہ سکتا ہے کہ ’جناب اسلام میں جائز اور ناجائز کا فرق صرف طریقہ کار کی تبدیلی پر مبنی ہے، اگر جانور بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرلیا جائے تو وہ حلال ہوجاتا ہے ورنہ حرام، اسی طرح میں نے غیر اسلامی کوٹھوں کو غیر شرعی طریقوں سے پاک کرکے اصول شرعیہ (Shariah compliance) کی روشنی میں انہیں اسلامی قحبہ خانوں میں تبدیل کردیا ہے، ٹھیک ہے اس کوشش میں ابھی تک مجھے سو فیصد کامیابی نہیں ملی، لیکن ناقدین کو چاہیے کہ میری کاوشوں کو ’کل‘ کی روشنی میں جانچ کر رد کرنے کے بجائے اس سلسلے میں میری راہنمائی فرمائیں تاکہ اس کار خیر میں مزید بہتری لائی جاسکے‘۔
اس سلسلے میں مثالوں کا ایک دفتر پیش کیا جا سکتا ہے، مگر خوف طوالت کی بنا اسی ایک مثال پر اکتفا کرتے ہیں کیونکہ سمجھنے کے لیے اس میں بہت سا مواد موجود ہے۔ مسند امام احمد (۱۸۴) میں سالم بن عبداللہ کی روایت کا مفہوم ہے کہ غیلان بن سلمہ نے حضرت عمرؓ کے دور حکومت میں جب اپنی بیویوں کو طلاق دے کر اپنا مال بھائیوں میں تقسیم کردیا تو حضرت عمرؓ نے اسے بلا کر کہا کہ تمہیں اپنی بیویوں کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور تقسیم شدہ دولت واپس لینا ہوگی، بصورت دیگر میں (اسلامی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے) تمہاری بیویوں کو تمہارا وارث بناؤں گا ۔ ایک صحابیؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خوبصورت مگر بانجھ عورت سے نکاح کی تین مرتبہ اجازت طلب کی، آپ نے تینوں مرتبہ منع فرمادیا (ابن حبان ۳۹۸۸، ابو داؤد ۲۰۵۳، نسائی ۳۲۲۹) حالانکہ بانجھ عورت سے نکاح حرام نہیں ہے، لیکن چونکہ یہ مقاصد شریعہ کی کلیت کو متاثر کرتا ہے، لہٰذا اجازت نہ دی گئی۔ درج بالا مثال کی طرح ان چند روایات ہی پر اکتفا کرتے ہیں کیونکہ یہ موضوع بذات خود ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے (۵) ۔ اصل بات یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کے لیے اس وقت تک کوئی مثبت اسلامی حکمت عملی تیار نہیں کی جاسکتی جب تک تجزیے کا نقطہ ماسکہ جزوی تفصیلات نہیں بلکہ ’نظام‘ نہ بن جائے۔
اس مقام پر یہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ’مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری‘ کے مصداق خود مجوزین کے گھر سے ’کل‘ کی روشنی میں تجزیہ کرنے کے حق میں ثبوت پیش کردیا جائے۔ اس سلسلے میں ڈ اکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب کی کتاب ’مقاصد شریعت‘ کا باب نمبر ۶ (مقاصد شریعت کی روشنی میں معاصر مالیات کا جائزہ) چشم کشا حقائق کی نشاندہی کرتا ہے۔ مجوزین کے ہاں ڈاکٹر صاحب کی حیثیت ’استاذ الاساتذہ‘ کی سی ہے (کیونکہ خود مولانا تقی عثمانی بھی اسلامی معاشیات میں انہیں اپنا استاد مانتے رہے ہیں)۔ چونکہ ہمارامقصد صرف یہ دکھانا ہے کہ درج بالا اصول خود مجوزین کے نزدیک بھی معتبر ہے، لہذا ہم یہاں چند اقتباسات پیش کرتے ہیں، تفصیلات کے لیے کتاب کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔
- چنانچہ ڈاکٹر صاحب ایک بیع کے اندر ایک سے زائد معاہدات کو جمع کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’یہ اصول ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا کہ عام حالات میں، یا الگ الگ کیے جانے کی صورت میں، جو معاملات درست ہوں، وہ بھی اس صورت میں قابل قبول نہیں رہ جاتے جب ان کے نتیجے میں عدل و انصاف کی خلاف ورزی ہو رہی ہو، ظلم او رحق تلفی کا اندیشہ ہو اور مقاصد شریعت صراحۃً مجروح ہورہے ہوں‘‘۔ (ص : ۲۰۷)
- مجوزین اسلامی بینکاری کے طریقہ تحقیق کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کا مرکز توجہ اسلامی مالیاتی اداروں کے روز مرہ مسائل رہے، یہ ان کلی امور پر توجہ نہیں مرکوز کرسکے جو اسلامی نظام کو سرمایہ دارانہ نظام سے اور ان دونوں نظاموں کے مالیاتی اداروں کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتے ہیں‘‘۔ (ص : ۲۱۶) ۔۔۔ ’’معاملات کے باب میں خاص طور پر فقہ اسلامی کے ائمہ مثلاً ابوحنیفہؒ اور مالک بن انسؒ کسی طریقہ پر صاد کرنے سے پہلے عواقب اور مال کار پر ضرور نظر ڈالتے تھے۔ ان کا فیصلہ مصالح عامہ کو سامنے رکھ کر ہوتا تھا۔ امام ابوحنیفہؒ کے استحسان اور امام مالکؒ کے مصالح مرسلہ کی یہی نوعیت تھی۔ صرف متعلقہ عقود کی سلامتی کسی ایسے طریقہ پر صاد کرنے کے لیے کافی نہیں جس کے مفسدہ کا پلہ اس کی کسی منفعت پر بھاری ہو۔‘‘ (ص: ۲۱۷)
- مجوزین کے زاویہ نگاہ نے امت مسلمہ کو کیا دیا اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’گزشتہ تیس برسوں میں جزئی نظر اور روز مرہ مسائل کے حل پر مرکوز فتاوی نے آج اسلامک بینکنگ اور فنانس کو ایسی شکل دے دی ہے جو مال کار اور اپنے عواقب کے اعتبار سے ہمیں وہیں پہنچا رہی ہے جہاں سودی قرضوں پر مبنی بینکنگ اور فنانس نے پوری انسانیت کو پہنچا رکھا ہے‘‘۔ (۲۱۷)
- پھر قرض کی مثال دے کر جزوی اور کلی دونوں نقطہ نگاہ سے معاملے کا موازنہ کرنے کی اہمیت اجاگر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’یہ موازنہ دینی مدارس میں نہیں سکھایا جاتا، نہ ہی متعلقہ علوم دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہیں‘‘۔ (۲۱۷)
یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ سب زاہد مغل تحریر کررہا ہے، بلکہ مجوزین کے استاذ الاساتذہ فرمارہے ہیں۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب بذات خود سرمایہ دارانہ نظام کے جزوی ناقد ہیں، مگر یہاں اصل بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب جس حد تک اسلامی بینکاری کو مقاصد شریعت کے خلاف سمجھتے ہیں، اس قدر اسے غلط قرار دے رہے ہیں، چاہے اس میں ہونے والے انفرادی معاہدات جزوی سطح پر بظاہر ٹھیک ہی کیوں نہ نظر آرہے ہوں۔ ہمیں امید ہے کہ جب مجوزین موجودہ نظام کا مزید بہتر ادراک حاصل کرلیں گے تو ان شاء اللہ انہیں اپنی باقی ماندہ غلطی کا احساس بھی ہوجائے گا۔
نئی فکر ناقابل التفات نہیں ہوتی
مفتی صاحب نے صد فیصد درست فرمایا کہ جو گزارشات ہم پیش کررہے ہیں وہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں جن کا نقد و نظر کی چھلنی سے گزرنا ابھی باقی ہے، ایسی ابتدائی فکر کی بنیاد پر کسی چلتے ہوئے نظام کو ترک کرکے انارکی کی حالت اختیار نہیں کی جاسکتی۔ ہمیں اس انداز فکر پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ ہم نے یہ کب کہا کہ سب لوگ دل و دماغ بند کرکے ہماری فکر کے پیچھے چل پڑیں۔ اس کے برعکس یہ گزارشات پیش ہی اس لیے کی گئی ہیں کہ ’کھلے ذہنوں‘ کے ساتھ ان پر غور و فکر کیا جائے کہ اگر بیماری کی تشخیص اور اس کا علاج تجویز کرنے میں کوئی کسر رہ گئی ہے تو اس کی اصلاح ہوجائے۔ ’اب تک چھلنی سے نہ گزرنے ‘ کا یہ مطلب بھی نہیں نکلتا کہ چھلنی کا منہ بند کرکے کسی دوسری شے کو اس میں سے گزرنے ہی نہ دیا جائے یا اسے نا قابل التفات قرار دے دیا جائے۔ یہاں بنیادی بات یہ ہے کہ ایک فکر کو آپ ’کس فکری چھلنی‘ سے گزارنے کی کوشش کررہے ہیں، کیونکہ کسی فکری چھلنی کا منہ کس قدر کھلتا ہے، اس کا تعلق براہ راست اس فکر کے حاملین کے فکری پس منظر سے ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک کتنی تبدیلی درکار ہے۔ نئی فکر اگر کسی ایسی تبدیلی کا تقاضا کرے جس کی موجودہ فکر ی چھلنی متحمل ہی نہ ہو تو ایسی صورت میں چھلنی بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مجوزین اسلامی بینکاری کے جس فکری پیمانے کے ذریعے ’نئی فکر‘ کو جانچنے کی کوشش کی جارہی ہے، بذات خوداس پیمانے کو بھی تو جانچنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ محض اس بنیاد پر کہ وہ پیمانہ حاضر و موجود ہے یا چند نامور شخصیات نے انہیں تھام رکھا ہے، اس کے ٹھیک ہونے کی کوئی دلیل تو نہیں۔
پھر جہاں کسی نئی فکر کو تنقید کی چھلنی سے گزارنے کی بات کرنا ایک اہم علمی نکتہ ہے، وہیں ان اہل علم کو یہ اصول بھی یاد رکھنا چاہیے کہ باطل کی نفی اثبات حق پر نہ صرف مقدم ہے بلکہ اس کی پیشگی شرط بھی ہے (۶) ۔ کسی شے کے متبادل کی فراہمی میں یہ چیز فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے کہ معاشرے میں اس متبادل کی طلب کتنی شدت کے ساتھ پائی جاتی ہے اور شدت طلب کا انحصار اس بات پر ہے کہ لوگ کس قدر حاضر و موجود نظام سے نالا۶ ہیں اور اس سے براء ت چاہتے ہیں۔ متبادل کی نوبت تبھی تو آئے گی جب معاشرے کا ایک موثر طبقہ ’موجود‘ سے بیزار ہوگا۔ اگر آپ کسی کو معاشرے کے ایک طبقے کو موجود سے بیزار ہی نہ کرنے دیں گے اور متبادل نہ ہونے اور ’نئی فکر ‘ ہونے کے باعث چپ کراتے رہیں گے تو متبادل کی نوبت کیونکرآئے گی؟ چنانچہ جس شے کی عدم موجودگی کو دلیل بنا کر مجوزین اپنے ناقدین کو خاموش کرانے کی کوشش کرتے ہیں اس کا پایا جانا تو منحصر ہی اس بات پر ہے کہ معاشرے پر اثر انداز ہونے والے طبقے میں اس کے طلبگار پیدا ہوجائیں کیونکہ وہ بغیر طلب کے فراہم ہوجانے والی شے نہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی چیز کی معاشرے میں بالکلیہ طلب نہ ہو، مگر اس کی پیداوار کے ڈھیر لگ جائیں۔ اس کی پیداوار کے لیے جس قدر محنت کی ضرورت ہے، وہ اسی وقت فراہم ہو پائے گی جب معاشرہ اسے اپنی ناگزیر ضرورت سمجھے گا۔ یہ عجیب منطق ہے کہ غلط کو غلط مت کہو، اسے قائم و دائم رہنے دو اور اس کے خاتمے کا سوال بھی مت اٹھاؤ کیونکہ اسے غلط کہنے کے لیے جو چیز پاس ہونی چاہیے، اسلامی بینکاری کے ناقدین اپنے پاس نہیں رکھتے۔ پس یاد رکھنا چاہیے کہ متبادل سے بات ’شروع ‘ نہیں ہوگی بلکہ اس پر بات ’ختم‘ ہوگی۔ ظاہر سی بات ہے جب تک کسی چلتے ہوئے نظام کے خلاف کوئی دعوت اٹھے گی ہی نہیں تو وہ تبدیل کیسے ہوگا ؟
پھر کیا ہی اچھا ہو اگر یہی مشورہ اسلامی بینک قائم کرنے والے ماہرین اسلامی فائنانس اور علمائے کرام کو بھی دیا جائے کہ ان حضرات کو بھی اپنی فکر و حکمت عملی کو ہر قسم کی تنقید کی چھلنی سے گزارنے کے بعد ہی اسلامی بینک قائم کرنا چاہیے تھے، کیونکہ اپنے اس عمل کی وجہ سے انہوں نے امت کو شدید فکری الجھاؤ سے دو چار کردیا ہے۔ یہ تو عجیب بات ہے کہ یہ حضرات تو اس اصول سے مستثنیٰ ہو کر آئے دن اپنی خام فکر کی بنیاد پر (نام نہاد) اسلامی بینکنگ کے کاروبار کو وسعت دینے میں مصروف عمل رہیں، قریہ قریہ جا کر اپنی برانچیں کھولتے رہیں، اس کے نام پر دنیا بھر میں کھربوں ڈالر کا کاروبار چمکائیں مگر جب ناقدین کچھ کہنے کی جسارت کریں تو ان کے پلے یہ سنہرا اصول باندھ دیا جائے کہ ’جناب ابھی آپ کی فکر خام ہے، جب پختہ ہوگی تب اس پر کان دھریں گے‘۔ حضرت علیؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جس کے متعلق کوئی صریح حکم نہ ہو تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس سلسلے میں عبادت گزار فقہا سے مشورہ کرنا اور کوئی انفرادی رائے قائم کرنے سے احتراز کرنا۔ (مجمع الزوائد ۃ ۱/۱۷۸)۔ اس حدیث کے مطابق کیا عمائدین اسلامی بینکاری پر لازم نہ تھا کہ اپنی انفرادی رائے کی بنا پر امت کو اسلامی بینکاری کے خطرات میں مبتلا کرنے سے پہلے کم از کم دیوبندی حلقہ علماء ہی میں کوئی اجتماعی رائے قائم کرنے کا اہتمام فرماتے۔
اکابرین کے غیر متعلقہ اقوال کاحوالہ
مفتی صاحب نے یہ شکوہ (بلکہ بعض مقامات پر خبردار ) بھی کیا ہے کہ درحقیقت اپنے مضمون کے ذریعے پس پردہ ہم نے یک لحظہ ان تمام اکابر علمائے کرام کی تردید و تحقیر کردی ہے جو اسلامی بینکاری کے حق میں تھے یا ہیں۔ ہم امید کررہے تھے کہ مفتی صاحب ہمارے مضمون کے بنیادی مقدمے (کہ موجودہ بینک زر قرض کی جعلی رسید ہے نیز جز محفوظاتی بینکاری کے ہوتے ہوئے یہ دھوکہ بازی ختم کرنا نا ممکن ہے اور اسلامی بینک اس جرم میں برابر کے شریک ہیں) پر نقد فرماتے ہوئے علم معاشیات و ماہرین اسلامی معاشیات کے تجزیوں کی روشنی میں ہماری غلطی واضح کردیں گے مگر اس سلسلے میں ان کے پاس کہنے کے لیے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہ دنیا کے بڑے بڑے ماہرین اسلامی معاشیات و حامیین اسلامی بینکاری علمائے کرام اسے غلط نہیں کہتے۔ اگر مفتی صاحب واقعی یہ ثابت کردیں کہ اس مسئلے پر امت مسلمہ کا اجماع ہوچکا ہے تو ہمیں اپنی غلطی ماننے میں کوئی حجاب نہ ہوگا کیونکہ ہم اجماع کو حجت شرعی مانتے ہیں، لیکن اگر ایسا نہیں ہے جیسا کہ حقیقت واقعہ ہے تو ازراہ مہربانی عرض ہے کہ ان اکابر علمائے کرام نے بذات خود کبھی یہ نہیں لکھا کہ ہمارا نام لے کر تمہارے سامنے اگر کوئی شخص کوئی مسئلہ بیان کرے تو اسے بلا چوں چراں دلیل طلب کیے بغیر ہی قبول کرلینا۔ جہاں تک جدید اسلامی تحقیقاتی اداروں اور ان میں کام کرنے محققین کی بات ہے تو ان کے بارے میں ہماری رائے یہی ہے کہ ’ہم رجال و نحن رجال‘، جیسے اپنی تحقیق (صحیح یا غلط) کی بنیاد پر وہ اپنی رائے رکھنے کا حق رکھتے ہیں، اسی طرح ناقدین اسلامی بینکاری کو بھی اس کا حق ملنا چاہیے۔ ان قدآور شخصیات کے با وزن ناموں کے نیچے کسی کی آواز دبانے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے۔ مفتی صاحب ہم سے سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم ان تمام حضرات کو غلط کہنے کی جسارت کرنا چاہتے ہیں، ہم بصد ادب مفتی صاحب کی خدمت میں گزارش کرتے ہیں کہ اگر وہ ان سب حضرات کے معصوم عن الخطا ہونے کی گواہی دینے کے لیے تیار ہیں تو ہم آج ہی سے اسلامی بینکاری کی مخالفت ترک کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جہاں تک اکابر علماء کرام کی بات ہے تو اس کے بارے میں ہم آگے عرض کریں گے، مگر جہاں تک دور حاضر کے علمائے کرام کا تعلق ہے تو ان کی دینی علوم پر دسترس پر راقم کو کو ئی شک و شبہ نہیں اور نہ ہی ان کی تجہیل خدانخواستہ ہمارا مقصد رہا ہے، البتہ یہ تاثر بہر حال قائم ہے کہ اگر ایک طرف وہ ’مجتہد فی علوم الشرع‘ ہیں تو دوسری طرف ’مقلد فی علم الاقتصاد‘ ہیں اور درحقیقت یہی مسئلے کی اصل جڑ ہے۔
اسلامی بینکاری کے خلاف چھپنے والے علمائے کرام کے متفقہ فتوے کے جواب میں کچھ عرصہ قبل ’غیر سودی بینکاری‘ کے نام سے ایک کتاب چھپ کر منظر عام پر آئی جس کا پہلا باب ہی ’اسلامی متبادل‘ (خصوصاً بینکاری نظام کے متبادل ) کے امکانات و اہمیت سے بحث کرتا ہے۔ کتاب کے نہایت محترم اور فاضل مصنف اس باب میں بینکاری نظام کے اسلامی متبادل کے امکانات ثابت کرنے کے لیے یا تو پرانی دلیلوں کو بعینہہ دھرا دیا ہے (گویا ان دلیلوں کے خلاف آج تک کوئی تنقیدی بات کہی ہی نہ گئی ہو) اور یا پھر کوئی علمی دلیل قائم کرنے کے بجائے چند اکابر علمائے کرام ؒ (جن کا ذکر مفتی صاحب نے بھی فرمایا) کے اقوال نقل کرکے اپنے دعوے میں وزن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہمارے نزدیک اسلامی بینکاری کے حق میں اپنے پیش رو علمائے کرام کے اقوال پیش کرنا ہی محل نظر ہے کیونکہ انکے یہ اقوال اس دور پر محمول ہیں جب :
(۱) بینکاری نظام کی اصل حقیقت اور سرمایہ دارانہ نظام سے اس کا تعلق علمائے کرام پر مکمل طور پر واضح نہ ہو سکا تھا، لہذا علمائے کرام نے اس کے متبادل کے امکانات پر آراء کا اظہار فرمایا، مگر آج ان بنیادی مباحث کی وضاحت کے بعد ان آراء و اقوال کو اپنے حق میں استعمال کرنا درست نہیں۔ یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ جن اکابر علمائے کرام کے اقوال محترم مصنف نے بطور دلیل پیش کیے ہیں اگر ان علمائے کرام کے سامنے یہ مباحث پیش کردیے جاتے تو یقیناًوہ بینکاری کے اسلامی متبادل کا فتوی نہ دیتے کیونکہ ان علمائے کرام نے اسلامی بینکاری کا متبادل کسی دنیاوی منفعت، مال و متاع یا شہرت کے حصول کے لیے نہیں بلکہ محض رضائے الہی کے لیے پورے خلوص کے ساتھ حق سمجھ کر بیان کیا۔ اس مقام پر یہ گمان نہیں کرنا چاہئے گویا اس بحث سے اکابر علماء کرام پر نامکمل تحقیق کے بغیر فتوی دینے کا الزام عائد ہوجا تا ہے، حاشا و کلا۔ درحقیقت تحقیق ایک ’عمل ‘ کا نام ہے نہ کہ کسی ’واقع ‘ کا جو فوراً سے وقوع پزیر ہوجاتا ہو۔ اس بات کو اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ابتداً لاؤڈ سپیکر میں ادائیگی نماز کو جید علمائے کرام نے ناجائز کہا مگر جیسے جیسے تحقیق کا عمل آگے بڑھا ان جید علماء کے تلامذہ نے اپنے اساتذہ سے اختلاف کرتے ہوئے اسے جائز کہا۔ ظاہر ہے نئی تحقیق کی روشنی میں نیا فتوی دینے سے نہ تو اکابرین پر کوئی الزام عائد ہوتا ہے اور نہ ہی انکا علم و فضل کم ہوتا ہے
(۲) علمائے کرام نے ابتداً حیلوں پر مبنی اسلامی بینکاری کی اجازت اس امید پر دی تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ اپنی اصل بنیادوں (مشارکت و مضاربت) کی طرف بڑھتی چلی جائے گی مگر طویل عرصے پر محیط تجربے سے ثابت ہوچکا کہ اسلامی بینکاری اپنی اصل بنیادوں کی طرف بڑھنے کے بجائے حیلوں کو ہی مستقل اصول بنانے پر مصر ہوتی چلی گئی ہے (فاضل مصنف کی درج بالا مذکور کتاب اس رویے کی ایک واضح مثال ہے جس کا مقصد حیلوں کو عمومی و آفاقی اصولوں کے طور پر اپنانے کا سر توڑ جواز پیش کرنا ہے)۔ مثلاً سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سالانہ رپورٹس کے مطابق اسلامک بینکنگ میں مختلف طرق تمویل کی شرح استعمال کچھ اسطرح ہے:

اس گوشوارے کو دیکھنے سے بالکل واضح ہے کہ اسلامی بینکوں میں اب تک نوے فیصد (90%) سے زیادہ کام اجارہ، مرابحہ اور مشارکہ متناقصہ سے چلایا جارہا ہے جبکہ مجوزین اسلامی بینکاری کے بقول اصل اسلامی طرق تمویل یعنی مشارکہ اور مضاربہ کا فیصدی حصہ تین فیصد (3%) سے بھی کم ہے (یہاں ذہن میں یہ سوال مچلتا ہے کہ اگر واقعی اسلامی بینکاری کسی مجبوری کا نام ہے تو اسلامی بینکوں کو نفع کی لالچ کے سواء آخر کس چیز نے کھربوں روپے کے حیلہ طرق تمویل کرنے پر مجبور کررکھا ہے؟)۔ پھر ایسا بھی نہیں کہ اس پورے عرصے کے دوران دنیا بھر میں اسلامی بینکاری کی مقبولیت میں اضافہ نہ ہوا ہو۔ مثلاً سٹیٹ بینک آف پاکستان ہی کے مطابق ملک بھر میں سال ۲۰۰۳ سے لیکر ۲۰۰۸ تک اسلامی بینکوں کے کاروبار کی شرح نمو درج ذیل رہی:

دیکھئے ایک طرف تو اسلامی بینکاری کے حجم میں اس قدر ہوش ربا اضافہ ہورہا ہے مگر دوسری طرف یہ اپنی اصل کی طرف بڑھنے کے بجائے محض حیلوں بہانوں کو عام کرنے کی روش بدستور برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اب ایک طرف اسلامی بینکوں کی اس ’عملی روش‘ کو سامنے رکھئے اور دوسری طرف ماہرین اسلامی بینکاری کے یہ ’کتابی اصول ‘ ملاحظہ فرمائیے جن کے مطابق حیلہ طرق تمویل ’عبوری دور‘ سے متعلق ہیں:
چنانچہ مولانا تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں:
’’اسلامی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے شریعہ ایڈوائزری بورڈ اس نکتے پر متفق ہیں کہ یہ (مرابحہ اور اجارہ) فائنانسنگ کے مثالی طریقے نہیں ہیں اس لیے انہیں ’صرف‘ ضرورت کے موقع پر ہی استعمال کرنا چاہئے۔‘‘ (اسلامی بینکاری کی بنیادیں: ص ۱۹)
اسلامی نظریاتی کونسل اپنی تجاویز میں کہتی ہے: ’’یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ یہ طریقے بالآخر سودی لین دین اور اس سے متعلقہ برائیوں کے از سر نو رواج کے لیے چور دروازے کے طور پر استعمال ہونے لگیں۔ لہٰذا یہ امر ضروری ہے (کہ) ان طریقوں کا استعمال ’کم سے کم حد تک ‘ ’صرف‘ ان صورتوں اور ’خاص حالات‘ میں کیا جائے جہاں ’یہ ناگزیر‘ ہوں اور اس بات کی ’ہرگز اجازت نہ دی جائے‘ کہ یہ طریقے سرمایہ کاری کے ’عام معمول‘ کی حیثیت اختیار کر لیں‘‘۔ (رپورٹ بلاسود بینکاری: ص۱۳)
درج بالا حقائق کو نظر انداز کرکے آخر اسلامی بینکاری کے آہستہ آہستہ ’عبوری دور‘ سے نکل کر اپنی اصل کی طرف گامزن ہونے کی امیدوں کے سبز باغ دکھانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ خود مجوزین کو بھی قبول ہے کہ آج کی اسلامی بینکاری اس سے یکسر مختلف ہے جس کا خواب ابتداً دیکھا گیا تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب اسلامی بینکاری کا تعارف کراتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ابتداءً اسلامک بینکنگ کا ماڈل مضاربت پر مبنی تھا ۔۔۔ مگر جلد ہی زیادہ تر اسلامی بینکوں نے براہ راست پر خطر کاروبار سے اجتناب کرتے ہوئے ایک ایسا طریقہ اختیار کرلیا جس میں نفع تقریباً یقینی ہو اور اسکی شرح پہلے معلوم رہے، یہ بیع المرابحہ کا طریقہ تھا ۔۔۔ (انہی مرکبات) کے اجراء نے اسلامک بینکنگ کو عام کرنے اور اسے عوام سے قریب تر کرنے میں بڑا حصہ لیا ۔۔۔ مرابحہ، اجارہ منتہیہ بالتملیک، متوازی سلم، صکوک (جن کے بطن میں بیع الدین بھی جائز ہوگیا) اور اب حال میں تورق کے اضافے نے آج کی اسلامک بینکنگ کو اس سے بہت مختلف بنا دیا جس کا چرچابیسویں صدی کی پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں سامنے آنے والے لٹریچر میں ملتا ہے‘‘۔ (مقاصد شریعت، ص ۲۱۲ تا ۲۱۴)
چنانچہ جن حالات، شرائط اور امیدوں کی بنیاد پر اکابر علماء کرام نے جواز اسلامی بینکاری کے اقوال فرمائے تھے، ایک طرف وہ حالات ہی اب مکمل طور پر بدل چکے ہیں اور دوسری طرف انکی شرائط بھی پوری نہ ہوسکیں، لہذا بدلے ہوئے حالات میں ان اقوال کو بطور دلیل پیش کرنا اصولاً درست نہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ حقائق واضح ہوجانے کے بعد آج اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے انہیں اکابر علماء کے اقوال کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرنے کا رویہ بذات خود ان ربانی علماء کرام کی توہین کے زمرے میں شمار ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
جملہ معترضہ کے طور پر اس موقع پر ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی بینکاری کے مختلف طرق تمویل فروغ پانے کی وجہ کیا ہے؟ اس سوال کے دو ممکنہ جوابات ہوسکتے ہیں: اولاً یہ طرق تمویل تعلیمات شرع کے مطابق ہیں، دوئم یہ طرق تمویل سودی بینکاری نظام کی طرح باآسانی ’نفع کے نام ‘ پر سودی معاملہ کرنے میں مدد گار ہیں۔ ظاہر ہے اگر پہلا جواب درست ہوتا تو مرابحہ و اجارہ کی طرح شرکت و مضاربت بھی بڑے پیمانے پر فروغ پاتے مگر دنیا میں ایسا کہیں بھی نہیں(۷)۔ چنانچہ یہ اعدادو شمار چیخ چیخ کر یہ حقیقت بیان کررہے ہیں کہ اسلامی بینکاری کی مقبولیت کی وجہ اسکی اسلامیت نہیں بلکہ عالمی سودی نظام میں ضم ہوسکنے کی صلاحیت ہے اور اسی لیے اس کے ذریعے وہی طرق تمویل فروغ حاصل کررہے ہیں جو فرضی بیع اور نفع کے نام پر قرض پر سودی معاملات کرنے میں مدد گار ہیں۔ اسلامی بینکاری سے متعلق درج بالا اعدادو شمار کوئی حادثہ یا سازش نہیں بلکہ عین اسکی اصل کا اظہار ہیں کہ اسلامی معاشیات و بینکاری محض سرمایہ داری کا ایک نظریہ ہے (جیسا کہ راقم نے اپنے مضمون ’اسلامی معا شیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز ‘ میں واضح کیا ہے)۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اسلامی بینکاری درحقیقت سودی بینکاری کا متبادل کم اور تکملہ و مددگار (complement) زیادہ ہے کہ یہ اس کے شانہ بشانہ چلنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔
اس موقع پر ’مجوزین برائے فروغ حیلہ طرق تمویل ‘ یہ عجیب و غریب استدلال پیش کرتے ہیں کہ شرکت و مضاربت کے فروغ نہ پانے کی اصل وجہ عوام میں ایمانداری کا فقدان ہے۔ اس پر سوالات یہ پیدا ہوتا ہیں کہ کیا اسلامی بینکاری بے ایمان لوگوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے وضع کی گئی ہے؟ کیا واقعی شرعی حیلوں کا مقصد مسلمانوں کی کرپٹ آبادی کے مفادات کا تحفظ کرنا ہوتاہے؟ کیا ان کرپٹ منافقین کی خدمت کے لیے دین کا حلیہ بگاڑنا جائز ہے؟ ہمیں تو کہیں سے یہ خبر پہنچی تھی کہ اسلامی بینکاری علمائے کرام کے ’تہجد گزار‘ حلقہ احباب اور ’متقی‘ مریدین کے پرزور اصرار پر ان کی ناگزیر شرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی۔ اسلامی بینکاری بطور حکمت عملی کی اصل غلطی سمجھنا ہو تو اس کا تقابل دینی تعلیم کے فروغ کے لیے نجی سطح پر علمائے کرام کے قائم کردہ مدارس کے نظام سے کرلینا چاہئے جہاں موجودہ تعلیمی نظام کا کوئی ادنی شائبہ بھی نہ پڑنے دیا گیا۔ ذرا سوچئے کہ اس دینی نظام تعلیم کو نفع خوری سے کیوں محفوظ رکھا گیا؟ آخر اس کی مسند و تعلم کے دروازے حیلوں کی آڑ میں ہر شخص کے لیے کیوں نہ چوپٹ کھول دیے گئے؟ آخر یہاں موجودہ علوم سے کیوں اعتنا برتا گیا؟ علمائے کرام نے اپنی بے لوث قربانیوں کے ذریعے مدرسہ نظام تعلیم کو کس کس طرح سرمایہ دارانہ ساختوں سے محفوظ رکھا، اگر اس پر غور کر لیا جائے تو کام کرنے کا آئیڈئیل ماڈل ہمارے سامنے عیاں ہوجائے گا اور اسلامی بینکاری کی غلطی سمجھانے کے لیے طویل مضامین تحریر کرنے کی ضرورت بھی نہ رہے گی۔
حوالوں کا مسئلہ
ضمنی طور پر ایک بات عرض کرنا ضروری محسوس ہورہا ہے۔ مفتی صاحب نے ہمارے اصل مضمون میں درج ایک حدیث کا مکمل حوالہ نہ دینے پر چند عجیب و غریب شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ حوالوں کے متعلق یہ بات مسلمہ ہے کہ اس کی تفصیلات کی نوعیت مخاطب کی علمی استعداد نیز زیر بحث موضوع کی نوعیت (کہ وہ مخاطبین کے لیے کس قدر معلوم یا اجنبی ہے) کے مطابق ہوتی ہے۔ چونکہ راقم کے مخاطبین مجوزین اسلامی بینکاری علماء کرام تھے، لہٰذا ان کے بارے میں ہمارا یہ مفروضہ تھا کہ انہیں علوم اسلامی کی زیادہ تفصیلات بتانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس معاملے میں وہ راقم سے کئی گنا زیادہ علم رکھتے ہیں، البتہ معاشیات وغیرہ کی کتب کے ذرا تفصیلی حوالے پیش کر دیے گئے کیونکہ یہ ان کی سرگرمی کے اصل میدان نہیں اور نہ ہی ان کتب کی انہیں براہ راست واقفیت ہوتی ہے۔ امام غزالیؒ نے اپنی کتاب تہافت الفلاسفہ میں درجنوں یونانی افکار کا رد کیا مگر کوئی حوالہ نہ دیا کہ فلسفیوں کا فلاں نظریہ میں نے فلاں کتاب سے لیا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ امام صاحب حوالو ں سے بے خبر تھے، بلکہ اصل بات یہ تھی کہ جن مباحث پر آپ گفتگو فرمارہے تھے، وہ علماء کے لیے اجنبی مباحث نہ تھے کیونکہ اس دور کا تقریباً ہر عالم ان سے واقف تھا۔ مفتی صاحب ہم سے حدیثوں کے مکمل حوالے مانگ رہے ہیں، جب کہ ہمیں تو اس بات کا شکوہ ہے کہ آج ہمارے مدارس کے طلباء مغربی علمیت کی مبادیات تک سے اس قدر ناواقف کیوں ہیں کہ انہیں ان کے بارے میں بھی کتابوں کے حوالے دینے کی ضرورت پڑتی ہے، آخر ہمارے طلبا و علما امام غزالیؒ کے دور کے علما کی طرح جدید فلسفیانہ مباحث سے مانوس کیوں نہیں؟ چنانچہ حوالوں سے متعلق یہ اصول اس قدر مسلم ہے کہ خود مفتی صاحب کے زیر تبصرہ مضمون سے بھی اس کی مثالیں پیش کی جاسکتی ہے۔ مثلاً موجودہ نظام زر کے بارے میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایک جگہ مفتی صاحب فرماتے ہیں:
’’موجودہ نظامِ زر میں کیا کیا خامیاں ہیں ، اس سلسلے میں مسلمان معاشی مفکرین اور مسلمان فقہا کی ایک جماعت یہ رائے رکھتی ہے کہ ہمیں طلائی معیار کی طرف دوبارہ لوٹنا پڑے گا (جدید معاشی مفکرین میں سے نمساوی مکتبِ فکر Austrian school of economists کا نقطۂ نظر بھی اس سے ملتا جلتاہے) ‘‘
دیکھیے اس اقتباس میں مفتی صاحب نے علم معاشیات کے ایک مکتب فکر کے نظریے کے بارے میں سرے سے کوئی حوالہ دیے بغیر ہی ایک دعویٰ کرڈالاہے۔ (سر دست عرض ہے کہ مفتی صاحب کے اس اقتباس میں Austrian school of economists کے بارے میں ’جدید ‘ معاشی مفکرین کی اصطلاح کم از کم معیشت دانوں کے لیے نا قابل فہم ہوگی، کیونکہ اس مکتب فکر کا آغاز اٹھارہ سو ستر (۱۸۷۰) کی دہائی میں Carl Menger سے ہوتا ہے، بہر حال قدیم و جدید اضافی اصطلاحات ہیں۔ ہو سکتا ہے، مفتی صاحب نے انہیں اپنے وضع کردہ کسی معنی میں استعمال کیا ہو کیونکہ علم معاشیات کی تاریخ میں تو اس مکتب فکر کو اتنا ہی پرانا سمجھا جاتا ہے جتنا neoclassical economics کو)، بندہ ناچیز اس کے تحت وہ سب کچھ نہیں دہرائے گا جو مفتی صاحب نے ہمارے مکمل حوالہ نہ دینے پر تحریر کیا ہے کیونکہ ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ مفتی صاحب کا براہ راست مخاطب راقم الحروف ہے جو علم معاشیات کا طا لب علم ہے اور اس سے یہ توقع رکھنا جائز ہے کہ کم از کم وہ معاشیات کے چیدہ چیدہ مکاتب فکر کے اہم نظریات سے واقف ہوگا۔ لیکن اگر پھر بھی مفتی صاحب کی خواہش ہے کہ انہیں مکمل حوالے ہی چاہئیں تو ان شاء اللہ آئندہ اس کا اہتمام کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔
ایک گزارش
آخر میں مجوزین اسلامی بینکاری علمائے کرام کی خدمت میں دردمندانہ گزارش ہے کہ ایسی حکمت عملی سے اغماز کریں جس کے نتیجے میں موجودہ نظام کے اندر اسلام اور علمائے کرام کے مفادات (stakes) بڑھتے چلے جائیں کیونکہ کسی نظام میں جس قدر آپ کے مفادات بڑھ جاتے ہیں اسے چھوڑنا اتنا ہی مشکل ہوتا چلا جاتا ہے، اسی قدر آپ اس کے جواز اور اس میں شمولیت پر اصرار کرنے لگتے ہیں، اسی قدر آپ سمجھوتوں پر مبنی حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ (جمہوری بنیادوں پر جدوجہد کرنے والی اسلامی تحریکات کی مجبوریوں پر غور کرلینے سے یہ سب بخوبی عیاں ہوجاتا ہے)۔ استعمار کی کوشش یہی ہے کہ کسی طرح موجودہ ریاستی ادارتی صف بندی کے اندر علمائے کرام کے مفادات بڑھا کر انہیں اس میں شامل کرلیا جائے تاکہ اسے تبدیل کرنے کی بات کرنے والا کوئی منفرد گروہ باقی ہی نہ رہے (ظاہر ہے علمائے کرام کے علاوہ دوسرے کسی گروہ سے اس کی امید کرنا ہی عبث ہے)۔ علمائے کرام موجودہ تعلیمی نظام کی اسلام کاری سے اس لیے بے نیاز ہیں کیونکہ اسلامی علوم کے تحفظ اور فروغ کا کوئی مفاد اس نظام تعلیم سے وابستہ نہیں، یہ کل ختم ہونے کے بجائے آج ختم ہو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ جو علماء کرام اسلامی بینکاری سے منسلک ہیں، وہ پورے خلوص نیت کے ساتھ اسے خدمت اسلام سمجھتے ہیں۔ خدارا راقم الحروف جیسے دیگر ناقدین اسلامی بینکاری کی نیتوں پر شک کرکے انہیں علماء کرام کا مخالف (یا زبردستی گروہ متجددین کا ہم نوا) نہ سمجھا جائے۔ ہمارا مقصد تو صرف انہیں نظام کفر کی حقیقت اور اس میں شمولیت کے خطرات سے آگاہ کرنا ہے۔ کسی کی تجہیل یا تحقیر کرنا ہمارے مقاصد میں شامل نہیں۔
حواشی
۴۔ اسلامی بینکاری کا فکری تناظر سمجھنے کے لیے دیکھئے راقم الحروف کا مضمون ’اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز‘ (ماہنامہ الشریعہ اگست تا اکتوبر ۲۰۰۸)۔ اس مضمون میں ان کتب کے حوالے بھی دے دیے گئے جن کی مدد سے ماہرین اسلامی بینکاری کے اصل مقاصد جانے جا سکتے ہیں
۵۔ محض توجہ دلانے کے لیے عرض ہے کہ مفتی صاحب کتب اصول فقہ میں ’عوارض تقلید (سماویہ)‘ میں ’مریض‘ کے مباحث سے بخوبی واقف ہوں گے۔ علامہ شاطبیؒ نے بھی مقاصد شریعت اور حیلوں کی ممانعت کے تحت بہت سے قیمتی اصول بیان فرمائے ہیں۔ پھر اگر یہ دیکھنا ہو کہ جدید مظاہر کو اسلامیانے میں کیسی فاش غلطیاں سرزد ہورہی ہیں تو ماہنامہ ساحل (کراچی) کے شماروں کا مطالعہ کرلیا جائے، اس نوع کی بے شمار مثالیں وہاں مل جائیں گی۔
۶۔ مضمون کا یہ نکتہ جناب حامد محمود صاحب کے مضمون ’جمہوریت‘ سے اخذ کیا گیا ہے۔ (سہ ماہی ’ایقاظ ‘ اکتوبر۲۰۰۳)
۷۔ ایسا نہیں ہے کہ مختلف طرق تمویل میں حیلہ تمویل کے غالب استعمال کا رجحان شاید صرف پاکستان کے ساتھ خاص ہو بلکہ دنیا میں ہر جگہ اسلامی بینکاری کا یہی طریقہ کار ہے۔ مثلاً احمد حسین صاحب کی تحقیق کے مطابق اسلامی بینکاری کے ایک بڑے چمپئین ملک ملائشیا کے ایک بڑے اسلامی بینک کی ۱۹۹۹ میں طرق تمویل کے استعمال کی شرح کچھ اس طرح ہے:
Hussain Ahmad (2000), "Debt Financing", A Seminar paper on Islamic Banking and Finance, organized by the BIMB Institute of Research and Training Sdn Bhd
کچھ ایسی ہی کہانی سعودی عرب کے سب سے بڑے اسلامک بینک ’الراجح بینکنگ اینڈ انوسٹمنٹ کارپوریشن ‘ کی سالانہ رپورٹس میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جو بینک کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔