اکتوبر ۲۰۱۰ء

چند بزرگ اہل علم کا سانحہ وفاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒمحمد عمار خان ناصر 
کیا اب اسلام جیت نہیں سکتا؟مولانا مفتی محمد زاہد 
القاعدہ، طالبان اور موجودہ افغان جنگ ۔ ایک علمی و تجزیاتی مباحثہمحمد عمار خان ناصر 
مکاتیبادارہ 
’’نقد فراہی‘‘ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر 
گلے کے کینسر کا ایک اچھوتا نسخہحکیم محمد عمران مغل 

چند بزرگ اہل علم کا سانحہ وفات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۲۰ ستمبر کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں منعقدہ تعزیتی نشست میں ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی کی گفتگو۔)

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد!
حدیث مبارک میں ہے کہ اذکروا موتاکم بالخیر، جانے والوں کا اچھے انداز میں تذکرہ کیا کرو۔ قرآن کریم کا ایک بڑا حصہ بزرگوں، انبیاے کرام اور نیک لوگوں کے تذ کرہ پر مشتمل ہے ۔اس تذکرہ سے مقصود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حوصلہ دلانا، تسلی دینا اور شاہراہ حیات میں رہنمائی کرنا ہے۔ گویا نیک لوگوں کا تذکرہ کرنے سے انسان کو تسکین، حوصلہ اور رہنمائی ملتی ہے، اسی لیے ہم اپنے بزرگوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں تھوڑے تھوڑے وقفہ سے ہمارے تین بزرگ اور جید علماے کرام دار فانی سے دار بقا کی طرف رخصت ہو گئے۔ ان میں سے ایک پلندری (کشمیر) کے بزرگ حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ ، دوسرے حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ آف کلاچی اور تیسرے وانا کی بزرگ شخصیت حضرت مولانا نور محمدؒ ہیں۔ آج کی نشست میں ان بزرگوں کا مختصر تعارف، ان سے اپنے تعلق کی نوعیت اور ان کی دینی و سیاسی خدمات کا مختصر تذکرہ مقصود ہے۔ 

حضرت مولانا محمد یوسف خان آف پلندری

مولانا محمد یوسف خان ؒ کی ولادت ۲۰۔۱۹۱۹کی ہے۔ کشمیر کے علاقہ’’ منگ‘‘ کے ایک اچھے بااثر خاندان سے تعلق تھا۔ انھوں نے دینی تعلیم حاصل کی اور ۴۱۔۱۹۴۰ میں دارالعلوم دیوبند سے دورۂ حدیث کیا۔ حضرت والد صاحب ؒ نے بھی اسی زمانے میں دورۂ حدیث کیا تھا۔ آپ مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ کے ممتاز تلامذہ میں سے تھے۔ اس زمانے میں کشمیر پر ڈوگرہ حکمران تھے۔ مولانا کو اللہ تعالیٰ نے حق گوئی و بے باکی عطا فرمائی تھی۔ جب آپ دورہ حدیث سے فراغت کے بعد واپس اپنے علاقے میں پہنچے تو اس وقت اہل کشمیر پر بڑی آزمائش کا دور تھا،ڈوگرہ فوج نے لوگوں پر مظالم کی انتہا کر دی تھی۔ مولانا کا جوان خون تھا، نیا نیا علم تھا، اپنے استاد سید حسین احمد مدنی ؒ کو تحریکیں چلاتے اور ان کی قیادت کرتے دیکھا تھا۔ اس وقت لوگوں میں دارالعلوم دیو بند سے فارغ التحصیل علماء کا بڑ ا احترام تھا، اس لیے آپ سے عید کی نماز پڑھا نے کے لیے کہا گیا۔ آپ نے کھل کر ڈوگرہ فوج کے مظالم کی مخالفت کی جس کی پاداش میں اگلے ہی دن گرفتار ہو کر پونچھ جیل میں پہنچ گئے۔ یہ ان کی عملی زندگی کی ابتدا تھی۔ 
مولانا کا شمار ان علما میں ہوتا ہے جنھوں نے کشمیر کی آزادی کے لیے سب سے پہلے جہاد کا فتویٰ دیا اور تحریک اور جہاد کشمیر میں عملاً شریک ہوئے،جنگ لڑی اور آزاد کشمیر حاصل کیا۔
مولانا علم میں بھی بہت پختہ تھے اور ان کا شمار پاکستان ہی نہیں، برصغیر کے بڑ ے محدثین میں ہوتا تھا۔ علم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بصیرت بھی عطا کی تھی، بڑے صاحب فراست آدمی تھے اور اظہار خیال کا سلیقہ بھی خوب ملا تھا۔ چوٹی کے مدرس تھے۔ دارالعلوم تعلیم القرآن جو کشمیر کے مدارس میں سب سے قدیم درس گاہ ہے، وہاں انھوں نے ۶۰ سال تک تدریس کی۔ 
میرے نزدیک ان کا سب سے بڑا کارنامہ ریاست کے نظام میں اسلامی روایات کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے کامیاب اقدامات کرنا ہے۔ جب ریاست کا قیام عمل میں آیا تو اس کے نظام کی تشکیل میں مولانا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ آج بھی آزاد کشمیر کی عدالتوں میں بہت سے فیصلے شریعت کے مطابق ہوتے ہیں اور یہ حضرت مولانا محمد یوسف ؒ اور ان کے رفقا کی طویل جدوجہد کا ثمرہ ہے۔ جب آزاد جموں و کشمیر کی عدالتوں میں شرعی قوانین کے نفاذ کا فیصلہ ہو رہا تھا تو انتظامیہ اور عدلیہ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس صراف نے اس حوالے سے اپنے اشکالات اور اعتراضات دو گھنٹے کے خطاب میں تفصیل کے ساتھ پیش کیے۔ حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ نے اس کے جواب میں تین گھنٹے تقریر کی اور ان کے اشکالات کے اس قدر مدلل جوابات دیے کہ خود جسٹس موصوف نے اسی محفل میں برملا اعتراف کیا کہ مولانا یوسف خانؒ کے مفصل خطاب نے نہ صرف ان کے بہت سے اشکالات دور کر دیے ہیں، بلکہ ان کے ذہن کا رخ بھی بدل ڈالا ہے۔
میرا ان کے ساتھ چار عشروں کا تعلق تھا جو چچا اور بھتیجے کا تعلق بھی تھا، استاد اور شاگرد کا بھی، راہ نما اور کارکن کا بھی اور نفاذ شریعت کی جدوجہد میں علمی و فکری استفادے کا بھی۔ میری دلچسپی کا میدان مغربی تہذیب و فلسفہ ہے۔ اس میدان میں کئی ایسے موڑ بھی آئے کہ خود میرا ذہن بھی الجھن کا شکار ہو جاتا تھا۔ ایسے موقع پر دو آدمی ایسے تھے جو میری اس الجھن کو حل فرما دیا کرتے تھے۔ ایک حضرت مولانا مفتی محمود ؒ اور دوسرے حضرت مولانا محمد یوسف خان۔ میں ان کے پاس جاتا، الجھن پیش کرتا۔ وہ کوئی بات، کوئی جملہ ارشاد فرماتے اور ذہن بالکل مطمئن ہو جاتا۔
انھوں نے اپنے آپ کو کشمیر تک محدود کر رکھا تھا۔ اکثر میں انھیں کشمیر سے باہر نکلنے کا کہتا اور بسا اوقات جھنجھلا کر میں انھیں کہتا کہ آپ کشمیری کیوں ہیں؟ تو وہ مسکرا کر جواب دیتے کہ تم کشمیری کیوں نہیں ہو؟ جس پر مجھے خاموشی اختیار کرنی پڑتی۔ وہ تھے تو کشمیری، لیکن انھوں نے وہاں بیٹھ کر کتنا کام کیا، اس کا اندازہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان کے ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ مولانا محمد یوسف خان صرف آزاد کشمیر کے اور پاکستان کے نہیں، بلکہ عالم اسلام کی شخصیت تھے۔ سردار صاحب نے ان کے بارے میں ایک مغربی دانش ور کا یہ قول بیان کیا کہ کسی چھوٹے آدمی کا بڑی جگہ پر بیٹھ کر کام کرنا بڑی بات نہیں ہے، بلکہ بڑے آدمی کا چھوٹی جگہ پر بیٹھ کر اپنے کمالات کا اظہار کرنا اور انہیں منوانا اصل کمال کی بات ہے اور یہ مقولہ مولانا محمد یوسف خان کی جدوجہد پر صادق آتا ہے۔ آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار محمد انور خان نے کہا کہ مولانا محمد یوسف خان کی خدمات کو صرف دینی دائرے میں محدود کرنا درست نہیں ہے، وہ تحریک آزادی اور نفاذ اسلام کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی محاذ پر بھی ہمارے راہ نما تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کو موت بھی عجیب عطا فرمائی۔ ۹۰ سال سے زیادہ ان کی عمر تھی، انھوں نے رمضان کے پورے روزے رکھے، تراویح کی نماز مسجد میں اہتمام کے ساتھ باجماعت ادا کی، وفات کے دن بھی مغرب کی نماز گھر میں باجماعت پڑھی، نماز کے بعد معمول کے مطابق وظائف میں مصروف تھے اور تسبیح ہاتھ میں لیے ذکر کر رہے تھے کہ اچانک سینے میں تکلیف محسوس ہوئی اور تسبیح ہاتھ سے گر گئی اور حضرت، جناب باری تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کے لیے اس دار فانی سے رحلت فرما گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی علمی و دینی خدمات کو اپنی بارگاہ عالیہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے اور ہمیں ان کے مشن کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ،اٰ مین ۔

حضرت مولاناقاضی عبداللطیف آف کلاچی

حضرت مولانا قاضی عبداللطیف ؒ ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ کلاچی میں ان کا مدرسہ نجم المدارس کے نام سے قرآن و سنت کی تعلیمات لوگوں تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔ حضرت قاضی صاحب ؒ کلاچی کے عوام کا مرجع تھے۔ لوگ دور دور سے راہ نمائی اور اپنے معاملات کے فیصلے کروانے کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔ 
وہ ہمیشہ جمعیت علماء اسلام میں سر گرم رہے۔ جب میں گوجرانوالہ میں جمعیت کا سیکرٹری جنرل تھا، اس وقت وہ کلاچی میں جمعیت کے سیکرٹری جنرل تھے۔ علما میں ایسے افراد بہت کم ہیں جو آج کے قانون اور بیوروکریسی کی اصطلاحات اور زبان کو سمجھ سکیں۔ قاضی صاحب ؒ کو یہ ملکہ حاصل تھا کہ وہ آج کے قانون، بیوروکریسی اور سرکاری ڈرافٹس وغیرہ کی زبان سمجھنے میں بہت مہارت رکھتے تھے۔ ۸۵ء میں جب شریعت بل اسمبلی میں پیش ہوا تو اس کو منظور کروانے میں جن لوگوں نے علمی جنگ لڑی، ان میں قاضی عبداللطیفؒ اور جسٹس افضل چیمہ سرفہرست ہیں۔ ایک موقع پر جسٹس وسیم سجاد نے کہا کہ قرآن کریم قانون کی نہیں، اخلاقیات کی کتاب ہے۔ قاضی صاحب نے اس کے ساتھ تین گھنٹے مذاکرات کیے اور اس کو لاجواب کر دیا۔ 
۷۵ء اور ۸۰ء کے درمیان حضرت مولانا مفتی محمود صاحب ؒ کے چار نائبین سمجھے جاتے تھے: مولانا محمد اجمل خاںؒ ، مولانا غلام ربانیؒ ، قاضی عبداللطیف ؒ اور چوتھا فقیر میں تھا۔ حضرت قاضی صاحب ؒ نے آج سے چار سال پہلے کسی ملاقات میں فرمایا تھا کہ ان قبائل کو سنبھالو۔ گویا آج قبائل اور بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا انھوں نے کافی عرصہ پہلے ادراک کر لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی مساعی کو اپنی جناب میں قبول فرمائے۔ آمین

حضرت مولانا نور محمد آف وانا 

حضرت مولانا نور محمد صاحب ؒ سے عام طور پر بہت کم لوگ واقف ہیں۔ میں نے ان کو پہلی مرتبہ ۶۷ء میں دیکھا جب میں ایک طالب علم تھا۔ اس وقت اسرائیل نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تھا۔ مفتی محمود صاحب ؒ نے ایک جلسے میں فرمایا کہ اگر حکومت ہمیں اجازت دے تو ہم اپنے خرچے پر وہاں جہاد کے لیے جائیں گے۔ مفتی صاحب ؒ کے بعد ایک نوجوان کھڑا ہوا اور بڑے جوشیلے انداز میں اس نے اس با ت کا اعلان کیا کہ اگر حکومت اجازت دیتی ہے تو میں قبائل کی طرف سے دس ہزار کا لشکر فراہم کروں گا۔ میں نے بڑے تعجب سے اس کی طرف دیکھا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ بعد میں میں نے مفتی صاحب ؒ سے پوچھا کہ حضرت یہ نوجوان کون ہیں اور اتنا بڑا دعویٰ کیسے کر رہے ہیں؟مفتی صاحب ؒ نے فرمایا: یہ دے دے گا، یہ وزیروں کا لیڈر ہے۔
مولانا نور محمد ؒ نے وانا میں جمعیت کی بنیاد رکھی۔ قبائل کا علاقہ دینی علاقہ ہے۔ بھٹو صاحب مرحوم نے اپنے دور اقتدار میں ایک مرتبہ قبائل کا دورہ کیا۔ وہاں کے پولیٹیکل ایجنٹ نے مولانا سے ملاقات کی کہ بھٹو صاحب ؒ کا استقبال کیسے کیا جائے۔ انھوں نے فرمایا کہ میں بے مثال استقبال کروں گا، لیکن کروں گا جمعیت کے پلیٹ فارم سے، جبکہ وہ لوگ چاہتے تھے کہ پیپلز پارٹی کے جھنڈے تلے استقبال ہو۔ جب بھٹو صاحب ائیر پورٹ پر اترے تو ہر طرف جمعیت کے ہزاروں پرچم لہرا رہے تھے۔ اس کی مولانا کو پھر سزا بھی دی گئی، انھیں ایک مقدمے میں الجھایا گیا، وانا بازار کو بلڈوز کر دیا گیا اور مولانا سات آٹھ سال تک جیل میں رہے۔
مولانا نے جہاد افغانستان میں بہت سرگرم کردار ادا کیا اور سب سے پہلے جو کتاب جہاد افغانستان کی شرعی حیثیت کو واضح کرنے کے لیے لکھی گئی، وہ مولانا نے ہی لکھی تھی۔ میں بھی اس وقت ایسی کتاب کی ضرورت محسوس کر رہا تھا ۔ ہمارا جب بھی ان علاقوں کا سفر ہوتا تو ہم مولانا کے پاس ٹھہرتے اور ان سے استفادہ کرتے۔ ایک مرتبہ میں افغانستان جا رہا تھا تو راستے میں مولانا کے پاس ٹھہرا۔ انھوں نے فرمایا کہ میں نے جہاد افغانستان پر ایک کتاب لکھی ہے جو چھپنے کے قریب ہے۔ انھوں نے اس کا مسودہ مجھے بھی دکھایا۔ کتاب میں نے اسی رات ساری دیکھی اور صبح ان سے عرض کی کہ میں نے ساری کتاب دیکھ لی ہے۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ نے یہ کتاب صرف پٹھانوں کے لیے لکھی ہے یا سب کے لیے؟ انھوں نے کہا کہ سب کے لیے۔ میں نے کہا کہ اس کی زبان تو صرف پٹھانوں والی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ فرماتی ہے وغیرہ۔ اس کی زبان پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ فرمانے لگے کہ نظر ثانی کون کرے گا؟ میں نے کہا کہ میں کروں گا۔ میں وہ کتاب ساتھ لے آیا اور اس کی زبان کی اصلاح کی اور پھر وہ کتاب چھپی۔ اس طرح ان کی برکت سے مجھے یہ شرف بھی حاصل ہوا کہ جہاد افغانستان پر لکھی جانے والی سب سے پہلی کتاب پر نظر ثانی کا موقع ملا۔ اس کتاب پر مقدمہ بھی میں نے ہی لکھا ہے۔
مولانا کے پاس علم بھی تھا، وجاہت بھی تھی اور مقام و مرتبہ بھی تھا۔ آپ قبائل کے لیڈر تھے، اگر کسی ایک شخصیت کا نام پوچھا جائے کہ جس پر تمام وزیر قبائل کو اکٹھا کیا جا سکتا تھا تو وہ نام مولانا نور محمد ؒ ہی کا تھا۔ گزشتہ دنوں وہ ایک خود کش حملے میں شہید کر دیے گئے۔ وہ نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر تشریف لائے تو ایک نوجوان ان سے آ کر گلے ملا اور گلے ملتے ہی اس نے اپنے آپ کو بم سے اڑا دیا اور مولانا سمیت ۳۲؍ افراد شہید ہو گئے۔ ان کی موت سے دیگر نقصانات تو ایک طرف،ایک بہت بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ اب شاید کوئی ایسی شخصیت نہ ملے جس پر سب قبائل کو جمع کیا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اعلیٰ علیین میں ارفع و اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اٰمین۔ 

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

محمد عمار خان ناصر

۲۶ ستمبر کو میں ’الشریعہ‘ کے زیر نظر شمارے کی ترتیب کو آخری شکل دے رہا تھا کہ صبح نو بجے کے قریب جناب مولانا مفتی محمد زاہد صاحب نے فون پر یہ اطلاع دی کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی انتقال کر گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ خبر اتنی اچانک اور غیر متوقع تھی کہ ایک لمحے کے لیے مجھے یقین نہیں آیا، لیکن مفتی صاحب نے بتایا کہ خبر مصدقہ ہے اور وہ ڈاکٹر محمد الغزالی سے بات کرنے کے بعد ہی مجھے اطلاع دے رہے ہیں۔ میں نے فوراً ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی صاحب سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ گزشتہ رات بارہ بجے کے قریب ڈاکٹر صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا جس پر انھیں اسپتال لے جایا گیا۔ فجر کی نماز کے وقت ان کی طبیعت قدرے بہتر تھی اور انھوں نے نماز بھی ادا کی، لیکن نماز کے بعد دوبارہ ہارٹ اٹیک ہوا جس سے ڈاکٹر صاحب جانبر نہ ہو سکے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل یہ کیفیت ہے کہ کم وبیش ہر مہینہ دینی جدوجہد کے مختلف شعبوں میں نمایاں مقام رکھنے اور گراں قدر خدمات انجام دینے والے اہل علم وفضل کی جدائی کا پیغام لے کر آتا ہے اور بظاہر اگلی نسل میں ان کی جگہ لینے والے افراد دکھائی نہیں دیتے، جبکہ ڈاکٹر محمود احمد غازی کے علم وفضل اور دینی خدمات کا تو دائرہ بھی وہ تھا کہ جس میں امت کی راہ نمائی کی اہلیت رکھنے والے حضرات کو انگلیوں پر شمار کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب قدیم وجدید علوم پر گہری نظر رکھتے تھے، دور جدید کے فکری وتہذیبی مزاج اور نفسیات سے پوری طرح باخبر تھے اور آج کے دور میں اسلام اور مسلمانوں کو فکر وفلسفہ، تہذیب ومعاشرت، علم وتحقیق اور نظام وقانون کے دائروں میں جن مسائل کا سامنا ہے، وہ وسعت نظر، گہرائی اور بصیرت کے ساتھ ان کا تجزیہ کر سکتے تھے۔ ان کی عملی خدمات کا دائرہ بھی مختلف شعبوں میں پھیلا ہوا تھا اور انھوں نے بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، ادارۂ تحقیقات اسلامی اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسے اداروں کے ساتھ ساتھ بیرون ملک کی اعلیٰ جامعات کو بھی اپنے علم وفضل سے سیراب کیا،جبکہ وفات کے وقت وہ وفاقی شرعی عدالت کے جج کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے۔ 
۲۰۰۵ء میں ڈاکٹر صاحب نے الشریعہ اکادمی میں دور جدید کے فکری وتہذیبی چیلنج کے حوالے سے اہل علم کی ذمہ داریوں کے موضوع پر ایک وقیع خطبہ ارشاد فرمایا تھا جو بے حد مقبول ہوا اور برصغیر کے دسیوں رسائل وجرائد میں اسے نقل کیا گیا۔ اسی تناظر میں گزشتہ رمضان کے دوران میں، اکادمی کی طرف سے ڈاکٹر صاحب سے گزارش کی گئی کہ وہ دوبارہ یہاں تشریف لائیں اور ’’دینی مدارس میں تدریس قرآن‘‘ کے موضوع پر مجوزہ سیمینار میں اپنے نتائج فکر سے اہل علم کو مستفید فرمائیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ازراہ عنایت یہ دعوت قبول فرمائی اور ان کے مشورہ سے اس سمینار کے لیے ۳؍ اکتوبر کی تاریخ طے ہوئی، لیکن قضا وقدر کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں اور ان کی حکمتیں خالق کائنات خود ہی جانتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ڈاکٹر صاحب اور دیگر مرحوم بزرگوں کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے، ان کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبولیت سے مشرف فرمائے اور ان حضرات کے رخصت ہو جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اس کی تلافی کے لیے امت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ اللہم لا تحرمنا اجرہم ولا تفتنا بعدہم۔ آمین

کیا اب اسلام جیت نہیں سکتا؟

مولانا مفتی محمد زاہد

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بات کا آغاز دو جلیل القدر علما کے واقعات سے کیا جائے۔ پہلا واقعہ مفتی الٰہی بخش کاندھلوی ؒ کا ہے۔ مفتی الٰہی بخش کاندھلوی ؒ اپنے وقت کے جلیل القدر علما اور باکمال اولیا میں سے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس کے خاندان کے معروف بزرگوں میں سے ہیں۔ تقویٰ وپرہیزگاری اور تواضع وغیرہ میں ان کے عجیب وغریب واقعات نقل کیے گئے ہیں۔ ان کے زمانے میں کاندھلہ کے ایک قطعۂ زمین کے بارے میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا۔ مسلمانوں کا دعویٰ تھا کہ یہ جگہ ہماری ہے اور وہ شاید وہاں مسجد بنانا چاہتے تھے اور ہندودعوے دار تھے کہ یہ جگہ ہماری ہے، وہ وہاں مندر بنانا چاہتے تھے۔ ایسے موقع پر جھگڑا محض زمین کا نہیں رہتا بلکہ ایمان وکفر کا مسئلہ بن جایا کرتاہے۔ انگریزوں کا زمانہ تھا ، مقدمہ عدالت میں چلا گیا۔ انگریز جج نے کہا کہ بہتر ہے کہ تم لوگ باہمی رضامندی سے مصالحت کی کوئی شکل نکال لو۔ اس پر ہندوؤں نے کہا کہ ہم عدالت کو مسلمانوں کے ایک عالمِ دین کا نام پیش کردیں گے، عدالت ان کی گواہی سن لے، اس کے جو مطابق جو فیصلہ ہوگا ہمیں منظور ہے۔ چونکہ بات مسلمانوں ہی کے ایک عالم پر آکر ختم ہورہی تھی، اس لیے مسلمانوں نے بھی اس پیش کش کو بخوشی قبول کرلیا، بلکہ ان کا خیال ہوگا کہ سمجھو، اب ہمارے حق میں فیصلہ ہوگیا۔ ہندوؤں نے جج کو مفتی الٰہی بخش کاندھلویؒ کا نام پیش کردیا ۔ بظاہر یہ بات مسلمانوں کے لیے اطمینان کاباعث تھی کہ اتنے بڑے عالم اور اتنے نیک شخص مسلمانوں اور کفار یا مسجد اور مندر کے اس طرح کے مسئلے میں ’’اسلامی حمیت‘‘ کے خلاف بات کیسے کرسکتے ہیں۔ 
مفتی الٰہی بخش ؒ کو عدالت میں طلب کیا گیا۔ مفتی صاحب اپنی انتہائی سادہ وضع کے ساتھ انگریز حاکم کے سامنے کھڑے ہیں۔ ابتدائی تکنیکی اور تعارفی نوعیت کے سوالات کے بعد جج نے پوچھا کہ فلاں جگہ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں کہ وہ کس کی ہے۔ مسلمانوں، کئی ہندؤوں اور جج کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب مفتی صاحب کے منہ سے بلاتکلف یہ الفاظ نکل رہے تھے کہ میرے علم کے مطابق یہ جگہ ہندؤوں کی ہے، وہ اس پر جو چاہیں بناسکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ طے شدہ معاملے کے مطابق جج کو ہندؤوں ہی کے حق میں فیصلہ کرنا پڑا۔ مسلمان بھی چونکہ مفتی صاحب کی گواہی پر اتفاق کرچکے تھے، اس لیے ان کے سامنے بھی فیصلہ ماننے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی ؒ نے اس واقعہ پر یہ دلچسپ تبصرہ بھی نقل کیا ہے کہ اس مقدمے میں مسلمان اگرچہ ہار گئے، لیکن اسلام جیت گیااور اس کے نتیجے میں کئی ہندو مسلمان ہوگئے۔یہ ٹھیک ہے کہ اس فیصلہ کی رو سے مسلمان وہ جگہ حاصل نہ کرسکے، لیکن اسلام کی یہ جیت کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ مسلمان اگرچہ زمین پر وہ جگہ حاصل نہ کرسکے، لیکن نہ معلوم کتنے دلوں میں اسلام کے لیے جگہ حاصل کرلی جس کی قدر وقیمت قطعۂ زمین سے کسی بھی لحاظ سے کم نہیں ہے۔ اگر اس واقعے میں محض مسلمانوں کی جیت ہوتی تو اس معاملے کا تاریخ میں ہمیں کوئی تذکرہ ہی نہ ملتاکیونکہ اس نوعیت کے تنازعات میں ایک فریق کی جیت اور دوسرے کی ہار تو معمول کا واقعہ ہوتاہے۔ مسلمانوں کی بجائے اسلام ہی کی جیت نے اس واقعے کو زندہ جاوید بنادیا۔ یہ واقعہ میں نے متعدد جگہوں پر پڑھا بھی ہے اور متعدد بزرگوں سے سنا بھی ہے۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی ؒ نے بھی اپنی معروف عربی کتاب ’’ما ذاخسر العالم بانحطاط المسلمین‘‘ میں ص ۲۱۹ پر اس کا ذکر کیا ہے۔ مفتی الٰہی بخش ؒ کوئی ماڈرن قسم کے مولوی نہیں تھے، بلکہ مولانا علی میاں نے اسی کتاب میں لکھا ہے کہ انہیں انگریز سے اتنی نفرت تھی کہ ان کی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتے تھے، چنانچہ انہوں نے مذکورہ گواہی بھی جج کی طرف پیٹھ کرکے دی تاکہ انگریز کا چہرہ نہ دیکھنا پڑے۔
اسی طرح کا ایک واقعہ اس سے بھی قریب زمانے کاہے۔ یہ واقعہ قیامِ پاکستان سے کچھ عرصہ پہلے کاہے۔ پانی پت میں ایک بڑے عالم تھے مولانا قاری محی الاسلام عثمانیؒ ۔ قرآنِ کریم کی تعلیم میں مشہور پانی پتی سلسلہ جس کا فیض اب پوری دنیا میں پھیل چکاہے، بھی انہی قاری محی الاسلام ؒ کے اجل تلامذہ کا مرہونِ منت ہے۔ انگریز ہی کے دور میں ایک دفعہ پانی پت میں کسی غیر مسلم فرقے نے سورج غروب ہوتے ہی اپنی عبادت گاہوں میں گھنٹیاں بجانے کا سلسلہ شروع کردیا۔ چونکہ اسی وقت مسلمان مغرب کی نماز ادا کررہے ہوتے ہیں، اس لیے اس پر مسلمانوں میں اچھا خاصا اشتعال پیدا ہوگیا۔ خطرہ تھا کہ حالات کی کشیدگی کسی بڑے جھگڑے کا سبب بن جاتی۔ حکام کی مداخلت سے طے یہ ہواکہ جتنی دیر مسلمانوں کو مغرب کی نماز کی ادائیگی میں لگتی ہے، سورج غروب ہونے کے اتنا وقت بعد تک غیر مسلم اپنے عبادت خانوں میں کوئی گھنٹیاں نہیں بجائیں گے، اس کے بعد وہ آزاد ہوں گے ۔ اب یہ فیصلہ کیسے ہو کہ نمازِ مغرب کی ادائیگی میں مسلمانوں کو کتنا وقت لگتاہے، اس کے لیے طے یہ ہواکہ حاکمِ شہر خود مغرب کی نماز کے وقت کسی مسجد میں اپنی ٹیم لے کر جائے گا اور دیکھے گا کہ نماز کی ادائیگی میں کتنا وقت لگتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسی مسجد کا انتخاب ہوا جس میں قاری محی الاسلامؒ صاحب امامت فرماتے تھے ۔ مسلمانوں کے کرتا دھرتا لوگ قاری صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مسئلہ مسلمانوں اور کفار کا ہے، ہم یہ چاہتے ہیں کہ کفار کو زیادہ دیر کے لیے گھنٹیاں بجانے سے منع کیا جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس دن حکام مغرب کے وقت مسجد میں مشاہدے کے لیے آئیں، اس دن آپ مغرب کی نماز خلافِ معمول طویل فرما دیجیے۔ اس طرح سے ہما را یہ مقصد حاصل ہوجائے گا۔ قاری صاحب نے جواب میں جو کچھ فرمایا، اس کا حاصل یہ تھا کہ اس دن میری نماز صرف نماز نہیں ہوگی بلکہ ایک شہادت بھی ہوگی اور شہادت اپنوں کے بارے میں ہو یا پرایوں کے،اس میں غلط بیانی یا ڈنڈی مارنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا، اس لیے قاری صاحب نے اس تجویز کو رد کرتے ہوئے فرمایا کہ معمول کے مطابق مغرب کی نماز میں جتنی مسنون تلاوت میں کیا کرتاہوں، اتنی ہی کروں گا، اس سے زیادہ نہیں ۔ چنانچہ قاری صاحب نے عملاً ایسا ہی کیا، اس پر کئی مسلمانوں نے قاری صاحب کو برا بھلا بھی کہا، اس لیے کہ ان کے مطابق ’’اسلامی حمیت‘‘ کا یہ لازمی تقاضا تھا کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے اس جھگڑے میں غیر مسلموں کے خلاف اگر غلط بیانی اور جھوٹی گواہی کا ارتکاب بھی کرنا پڑے تواس سے بھی گریز نہ کیا جائے۔
ویسے تو مسلمانوں کی تاریخ اس طرح کے سنہری واقعات سے بھری ہوئی ہے، قرونِ اولیٰ کے ایسے واقعات پر پورا مقالہ لکھا جاسکتاہے جن سے پتا چلتا ہے کہ اس زمانے میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کی آواز کسی جدت پسند طبقے کی بجائے مسلمان علما اٹھایاکرتے تھے، لیکن ان دو واقعات کا ذکر اس لیے کیا کہ یہ واقعے قرونِ اولیٰ کے نہیں ، بلکہ نسبتاً کافی قریب کے زمانے کے اور اس دور کے ہیں جو ہر اعتبار سے مسلمانوں کے انحطاط کا دور کہلاتاہے۔ ان دونوں جلیل القدر بزرگانِ دین نے جو کچھ کیا، وہ اسلامی تعلیمات کا عین تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 
’’اے ایمان والو! تم اللہ کے لیے انصاف کی بات کی گواہی کے ساتھ کمربستہ ہوجاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم بے انصافی کرنے لگو۔ انصاف کرو، یہی خوفِ خداوندی کے زیادہ قریب ہے ، اور اللہ سے ڈرتے رہو ، یقیناًاللہ تعالیٰ تمہارے تمام کاموں سے با خبر ہے ‘‘ ( المائدۃ: ۸ ) 
اسی سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 
’’اور کسی قوم کے ساتھ تمہاری یہ دشمنی کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام میں آنے سے روکا تھا، تمہیں اس پر آمادہ نہ کرے کہ تم زیادتی کرنے لگو اور تم نیکی اور تقوے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو، گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو‘‘ ( المائدہ:۲) 
یہ بات یہاں خاص توجہ کی مستحق ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے اندر ارشاد فرمائی ہے جس کا باقی حصہ شعائر اللہ کی تعظیم سے متعلق ہے جو کہ اسلامی حمیت کا اہم تقاضا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ایک کے لیے عدل کی بات کا اسلامی حمیت کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مشہور مفسر ابنِ کثیر ؒ نے ایک جملہ لکھاہے: ’’ انصاف ہر ایک پر لازم ہے، ہرایک کے لیے ہے اور ہرحالت میں ضروری ہے‘‘۔ اوپر ذکر کردہ دونوں آیتوں میں دو دو مرتبہ تقوے کا ذکرہے۔ قرآن وحدیث میں بے شمار جگہوں پر مسلمان کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرے، لیکن دو مواقع ایسے ہیں جو اس سے مستثنیٰ ہیں۔ ایک تو یہی عدل وانصاف کا موقع ہے۔ کسی مسلمان کی حمایت میں یا کسی بھی اور عنوان سے کسی غیر مسلم کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی کرنا کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہے۔ دوسرا موقع عہد کی پاس داری کاہے۔ قرآنِ کریم کی سورۂ انفال جس کا بنیادی موضوع ہی جہاد ہے، اس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’ اگر (ہجرت نہ کرنے والے مسلمان) دین کی وجہ سے تم سے مدد طلب کریں تو تم پر ان کی مدد کرنالازم ہے، سوائے اس صورت کے کہ یہ مدد کسی ایسی قوم کے خلاف ہو جس کا تمہارے ساتھ کوئی عہد ہوا ہے۔‘‘ اسلامی حمیت، تقویٰ اور جہاد کے سیاق میں قرآن کریم اپنے ماننے والوں کو عدل اور اعلیٰ اخلاقی معیار کا پابند بنا رہا ہے۔ اگر اسلامی حمیت، شعائر اللہ، تقویٰ وپر ہیز گاری اور جہاد جیسے عنوانات ہی ان قرآنی تعلیمات کی خلاف ورزی کا ذریعہ بن جائیں تو یہ ایک لمحۂ فکریہ ہی ہوسکتا ہے۔
آج کل وکلا، ڈاکٹرز، میڈیا والوں سمیت ہر شعبۂ زندگی میں ’’پیٹی بھائیوں‘‘ کی ہر قیمت پر اور ہر حالت میں حمایت کرنے کی جس طرح کی وبا چلی ہوئی ہے، مذکورہ آیات اور واقعات ہمیں اس پر نظرِ ثانی کی دعوت دیتے ہیں۔ آج ہمارے ماحول میں صورتِ حال کچھ ایسی بن چکی ہے کہ کسی شعبۂ زندگی میں سانس لینے اور ’اِن ‘ رہنے کے لیے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اگر اس شعبے کے حوالے سے مسئلہ بنے تو آپ ہر قیمت پر اس شعبے کے لوگوں کی ہی حمایت کریں، خواہ آپ اپنی دیانت دارانہ رائے کے مطابق اسے غلطی پر ہی کیوں نہ سمجھتے ہوں۔ آج ایک وکیل‘ وکیلوں میں، ایک ڈاکٹر‘ ڈاکٹروں میں، ایک میڈیا پرسن‘ میڈیا والوں میں اور ایک سیاست دان اپنی سیاسی پارٹی میں تب تک سرخ رو نہیں ہو سکتا جب تک نہ صرف یہ کہ وہ ہر جائز ناجائز بات میں اپنے طبقے کی حمایت نہ کرے بلکہ یہ ثابت نہ کرے کہ اس معاملے میں وہ ’’مجاہد اعظم‘‘ ہے۔ اس طرزِ عمل کو ہوسکتاہے کئی لوگ خوبی سمجھتے ہوں لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں اسے ’’ عصبیت‘‘ قرار دیا گیاہے جو کہ احادیث کی روشنی میں انتہائی بد بودار چیز ہے۔
اس صورتِ حال کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ مرض بہت حد تک ہمارے دینی حلقوں میں بھی عام ہوگیا ہے۔ ہمارے ہاں اقلیتوں کے بعض لوگ ایسے مطالبات شروع کردیتے ہیں جن کا کوئی بھی جواز نہیں بن رہا ہوتا، پھر اس اقلیت کے باقی لیڈروں کو بھی ’’پیٹی بھائی‘‘ ہونے کے ناطے اس کی حمایت کرنا پڑتی ہے، لیکن یہاں بات غیر مسلموں کی نہیں ہورہی، ان کی ہورہی ہے جو اللہ و رسول کو مانتے اور ان کے نام لیوا ہیں۔اگر کسی معاملے میں کوئی مسلمان کسی غیر مسلم پر زیادتی کررہاہو تو اسلام اس بات کی قطعاَ اجازت نہیں دیتا کہ محض مسلمان ہونے کی وجہ سے زیادتی کرنے والے شخص کی حمایت کی جائے۔ ہمارے ہاں مسلم غیر مسلم کی بات تو بہت دور کی ہے، خود مسلمانوں کے مختلف فرقوں اور گروہوں کے بارے میں یہ سوال سنجیدہ توجہ کا مستحق ہے کہ کیا ہمارے مذہبی رجحانات اور رویوں میں مفتی الٰہی بخش کاندھلوی ؒ اور قاری محی الاسلام عثمانی ؒ کی جھلک نظر آتی ہے؟ کیا ہمارے ہاں ایسا ممکن ہے کہ کسی عالمِ دین کو اگر یہ شرحِ صدر ہو جائے کہ فلاں معاملے میں میرے فرقے کے لوگوں کی طرف سے زیادتی ہورہی ہے تو وہ اپنی اس رائے کا اظہار کھل کر کر سکے؟ اب تک کی عمومی صورتِ حال کے مطابق تو اس کا جواب نفی میں ہوگا ۔ اگر کہیں ہمیں ’’مسلکی حمیت‘‘ سے ہٹ کر کوئی بات کہنی پڑ بھی جائے اور حقائق وحالات اس پر مجبور کر دیں تو اس کے ساتھ چونکہ ، چنانچہ اور لیکن وغیرہ کے اتنے سابقے اور لاحقے لگے ہوتے ہیں کہ اصل بات انہی کے اندر کہیں چھپ جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ’’پیٹی بھائی‘‘ کی حمایت اور عصبیت پر مبنی عام بھیڑ چال کی رَو میں دینی مقتدا بھی بہہ گئے ہیں۔ آج بھی اگرہر مکتبِ فکر میں ایک مناسب تعداد مفتی الٰہی بخش ؒ اور قاری محی الاسلام ؒ جیسے حضرات کی پیدا ہوجائے تو ہم اسلام کو جیتتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔ کیا دینی غیرت وحمیت سے سرشار ہمارے دینی حلقے اسلام کی جیت کو حاصل کرنے کے اس راستے پر سنجیدگی سے غور فرمائیں گے؟
میں نے اپنے ہاں ایک خطاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیثِ مبارک کا ذکر کیا جس کا حاصل یہ ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے کسی عہد والے غیر مسلم (جس میں غیر مسلم اقلیتوں کے سارے لوگ شامل ہیں) پر کوئی زیادتی کی، اس پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ ڈالا، اس کا حق دینے میں کوئی کمی کوتاہی کی یا اس کی دلی رضامندی کے بغیر اس کی کوئی چیز لے لی تو قیامت کے دن اس غیر مسلم کی طرف سے مقدمہ میں خود لڑوں گا۔ (ابو داود) اندازہ لگائیے، جس شخص کے مقابلے میں مقدمہ لڑنے کے لیے اللہ کی بارگاہ میں اللہ کے نبی کھڑے ہوں گے، اس کا کیا بنے گا۔ اقلیتوں کے حق کو زیادہ اہمیت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے دی ہے کہ وہ خودکو بعض اوقات مجبور اور بے بس محسوس کرسکتے ہیں۔ یہ میرے نبی کی عظمت ہی کا ایک پہلو ہے کہ وہ قیامت کے دن بھی مجبوروں اور مظلوموں کے ساتھ ہوں گے ۔ میری بات سے حوصلہ پاکر یہی حدیث ایک نوجوان عالم نے اپنے ہاں جمعے کے بیان میں ذکرکی۔ ممکن ہے بعض لوگوں کو ایسی حدیثوں کا ذکر کرنا اسلامی حمیت کے معیار سے کم تر معلوم ہوا ہو، لیکن اِن نوجوان عالم نے بتایا کہ جمعے کے بعد ایک ماڈرن قسم کا نوجوان کہنے لگا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اسلام اتنا عظیم مذہب ہے۔ ان نوجوان عالم نے تو یہ بات خوشی خوشی سنائی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں یہ بات سن کر افسردہ سا ہو گیا۔ اس ماڈرن نوجوان کی یہ بات کہ ’’مجھے نہیں اندازہ تھا کہ اسلام اتنا عظیم مذہب ہے‘‘ اس چیز کی غماز ہے کہ ہماری نئی نسل میں نہ معلوم کتنے لوگ ایسے ہوں گے جو پیدائشی طور پر تو مسلمان ہیں، لیکن شعوری طور پر اتنے مسلمان نہیں جتنا انہیں ہونا چاہیے۔ ہم بات تو اسلام کے غلبے کی کر رہے ہیں، لیکن ہمارے معاشرے کے اندر سے اسلام ہار رہاہے یعنی ناواقفیت کی وجہ سے اس کے ساتھ لگاؤ کم ہو رہا ہے، اس لیے کہ اسلام تو کاندھلے اور پانی پت جیسے واقعات سے جیتتا ہے۔ اوپرعہد والے غیر مسلموں کے بارے میں مذکورہ حدیث بھی اسی رخ کی نشان دہی کررہی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی قرآنی تعلیمات اور حدیثیں نہ سناکر ہم اسلام کو ہرا رہے ہیں یا جتوارہے ہیں!
ہوسکتا ہے کہ بعض قارئین کو یہ خیال ہوکہ یہ باتیں تو علما سے کہنے کی ہیں، عام آدمی کا اس چیز سے کیا تعلق ؟ ایک حد تک یہ بات درست ہونے کے باوجود ہم پیشہ ورانہ، لسانی ، علاقائی اور سیاسی عصبیتوں کے شانہ بشانہ فرقہ وارانہ عصبیت کا جو ماحول دیکھ رہے ہیں، اس کا ذمہ دار صرف مولوی نہیں ہے اور نہ ہی اکیلے مولوی کے بس میں یہ بات رہی ہے کہ وہ اس صورتِ حال کو تبدیل کرسکے۔ مثال کے طور پر مساجد میں علماءِ کرام جمعہ سے پہلے عام لوگوں سے اردو یا کسی مقامی زبان میں خطاب فرماتے ہیں۔ یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ علما کیا کہتے ہیں، لیکن اس پہلو کی اہمیت کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہم لوگ کیا سننا پسند کرتے ہیں۔ ہمارے کانوں کا ذائقہ بہت حد تک بدل چکاہے۔ آج ملک بھر کی تمام مساجد کا سروے کرلیا جائے کہ محتاط، نپی تلی اور معتدل بات کرنے والے علما خود کو زیادہ مشکل میں محسوس کرتے ہیں یا شعلہ بار خطابت کرنے والے ۔ ایک دفعہ دعوہ اکیڈمی اسلام آباد کا ایک وفد میرے پاس آیا۔ تربیتِ ائمہ کے سلسلے میں بات ہوئی۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ جہاں ائمہ وخطبا کی تربیت کے آپ پروگرام کرتے ہیں، وہیں مساجد کے منتظمین کی تربیت کی بھی ضرورت ہے۔ اس طرح کی شکایات بکثرت موصول ہوتی رہتی ہیں کہ کوئی صاحب اپنے حلقے میں محض اس وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں یا زیرِ عتاب ہیں کہ انہوں نے کسی فرقے یا مسلک کے خلاف اس طرح کی ’’اسلامی حمیت‘‘ کا مظاہر ہ نہیں کیا جس کی بعض لوگ ان سے توقع رکھتے تھے۔ یہ المیہ صرف پاکستان میں نہیں ہے، ان دیارِ غیر میں بھی ہے جہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد آبادہے۔ بالخصوص برطانیہ سے اس طرح کی اطلاعات سننے میں آتی رہتی ہیں۔ خود اس گنہ گار نے بعض نامی گرامی علما سے نجی طور پر کچھ اور سنا، لیکن عمومی خطاب میں انہوں نے بات وہی کی جو سامعین ان سے سننا چاہتے تھے، اگرچہ وہ بات ان کی ذاتی اور دیانت دارانہ رائے کے خلاف یا کم از کم اس سے ہٹ کر تھی، اس لیے کہ وہ ’’اسلامی حمیت‘‘ میں خود کو کسی سے کم تر دکھانے کے روا دار نہیں تھے۔ اس میں جہاں ان علما کی یہ کوتاہی ہے کہ ان میں اس جرأتِ اظہار کی کمی ہوتی ہے جو اصولی طور پر ایک عالمِ دین کا طرّۂ امتیاز ہونی چاہیے جس کے بغیر ایک عالم پیشوا کی بجائے اپنے سامعین یا قارئین کا پیروکار بن کر رہ جاتا ہے، وہیں ہمارا عمومی ماحول بھی اس کا ذمہ دار ہے۔ آج کوئی عالم اگر عام روِش سے ہٹ کر اپنے ضمیر کے مطابق کوئی بات کہہ دے تو اس کی جو درگت بنتی ہے، ہم سب یاتو اس کا حصہ ہوتے ہیں یا محض خاموش تماشائی۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ’’اوپر‘‘ تک رسائی بھی انہیں لوگوں کی ہوتی ہے جو ’’ماحول‘‘ دیکھ کر بات کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ معتدل، نپی تلی اور انصاف کے مطابق بات کرنے والے اور مفتی الٰہی بخش جیسا مزاج رکھنے والے حضرات چونکہ خود دار واقع ہوئے ہوتے ہیں، اس لیے یہ ’’اوپر‘‘ والوں کے کام کے بھی نہیں ہوتے۔ ایسے میں سارا الزام اکیلے مولوی پر رکھ کر ہم فارغ کیسے ہوسکتے ہیں؟ غرضیکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے ماحول میں جذباتی اور عصبیت پر مبنی باتوں کو زیادہ پذیرائی ملتی ہے یا کسی موضوع پر دیانت دارانہ تجزیے اور اس کے بے لاگ اظہار کو بھی گوارا کیا جاتاہے؟ یہ صحیح ہے کہ ایک شخص جس بات کو انصاف سمجھ کر کہہ رہا ہے، دوسرے شخص کی دیانت دارانہ رائے اس سے مختلف ہو، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ہاں ایسا ماحول موجود ہے جہاں کسی کو اپنی رائے کے بے تکلف اظہار اور دوسرے کو اس سے اختلاف کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ ہو؟
بہرحال ! رہ رہ کر یہ خیال دل میں پیدا ہوتا ہے کہ آج مفتی الٰہی بخش ؒ اور قاری محی الاسلامؒ جیسے لوگ اتنے ناپید کیوں ہیں؟ آج مسلمان معاشروں کے رویّے اوپر ذکر کردہ سورۂ مائدہ کی آیتوں کے مطابق اور اس رنگ میں رنگے ہوئے کیوں نظر نہیں آتے؟ آج ہم ہر سطح پر کسی نہ کسی قسم کی عصبیت کا شکار کیوں ہیں؟ یقیناًیہ سوال میرے جیسے اور بھی کئی سیدھے سادے مسلمانوں کے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہوگا۔ اگر سوال ہم سب کا سانجھا ہے تو اس کا جواب بھی ہم سب کو مل جل کر تلاش کرنا چاہیے۔ ہم سب یہ کوشش بھی کرنی چاہیے اور دعا بھی کہ خدا کرے کاندھلے اور پانی پت جیسے واقعات ہمارے اندر عام ہوں اور اسلام کی جیت ہو۔ 
(بشکریہ ماہنامہ ’’الصیانہ‘‘ لاہور)

القاعدہ، طالبان اور موجودہ افغان جنگ ۔ ایک علمی و تجزیاتی مباحثہ

محمد عمار خان ناصر

۲۰۰۱ء میں امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہونے والے حملوں کے بعد امریکہ نے ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے عنوان سے افغانستان پر حملہ کر کے طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا تو ان سے ہمدردی اور خاص طور پر ان کے مخصوص اسلامی طرز حکومت سے جذباتی وابستگی رکھنے والے مذہبی حلقوں کے لیے یہ ایک ناقابل برداشت صدمہ تھا۔ فطری طور پر اس کا شدید رد عمل ہوا جس نے بہت جلد انتہاپسندی اور تشدد پسندی کی شکل اختیار کر لی، تاہم طالبان حکومت کے انتہائی بہی خواہ، ہمدرد اور سنجیدہ اہل علم ودانش نے اس صورت حال میں محض یک طرفہ رد عمل ظاہر کرنے کے بجائے خود طالبان اور دیگر جہادی عناصر کی حکمت عملی اور پالیسیوں کا بھی کھلا ناقدانہ جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ مثال کے طور پر مکتب دیوبند کے ایک بزرگ اور محترم عالم جناب مولانا عتیق الرحمن سنبھلی نے طالبان کے طرز حکومت اور پالیسیوں کے بارے میں ’’خواب جو بکھر گیا‘‘ کے عنوان سے ایک مفصل تنقیدی مضمون لکھا۔ اس مضمون میں انھوں نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے تناظر میں اسامہ بن لادن کی حوالگی کے ضمن میں لکھا کہ:
’’ہرچند کہ یہ مہم عربی واسلامی دنیا میں امریکن خرمستیوں سے مشتعل ہونے والے مومنانہ جذبات کا نتیجہ ہو مگر اس سے اس کی حقیقت ایک خود کشی کے اقدام سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی تھی؟ اور خود کشی بھی فرد واحد کی نہیں، کل ملت افغان کی! اور اس صورت حال میں ان کے جذبات کی پوری قدر وعزت کے باوجود ہمارے محترم علماء پاکستان کا پورا اور باصرار وزن نہ صرف افغان علماء کونسل کے اس فیصلے ہی میں پڑنا تھا کہ شیخ اسامہ سے کہا جائے کہ وہ اپنی مرضی سے افغانستان چھوڑ دیں، بلکہ اس سے بھی آگے اور شیخ اسامہ سے کھلی اپیل کی جانی تھی کہ امارت اسلامیہ افغانستان ہی کی سلامتی کا خطرہ نہیں، کل ملت اسلامیہ اور بالخصوص پاکستان کی عزت وآبرو بچانے کی خاطر وہ خود کو جبار وقت کے حوالے کردیں اور اپنے لیے حدیبیہ کے حضرت ابوجندل کا کردار قبول کر لیں، اس لیے کہ بیچ کی کوئی راہ نہ تھی۔ یا یہ ہونا تھا اور یا افغانستان پر وہ حملہ جس کے تیور جانچ کر پوری اسلامی دنیا نے دم سادھ لیا! اے کاش کہ اسامہ خود سے جرات کا ثبوت دے کر اسلامی تاریخ میں وہ نام پالیتے کہ اسلامی دنیا میں ان کے جو مخالف بھی تھے، وہ بھی تحسین وستائش کے سوا اور دوسری بات کے روادار نہ رہ پاتے۔‘‘ (الشریعہ، جنوری ۲۰۰۳ء، ص ۳۷)
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے امریکی حملے کے بعد ماہنامہ ’’البلاغ‘‘ میں متعدد اداریے تحریر کیے اور طالبان کے موقف کے بھرپور دفاع کے ساتھ ساتھ پوری صورت حال کا خود احتسابی کے جذبے کے ساتھ ناقدانہ جائزہ لینے کی ضرورت کو بھی واضح کیا۔مولانا نے لکھا کہ:
’’دوسرا کام یہ ہے کہ وہ ٹھنڈے دل ودماغ اور خود احتسابی کے مخلصانہ جذبے کے ساتھ اپنے طرز عمل کا جائزہ لے کہ اس میں کہاں کہاں غلطی تھی؟ جو قوم خود احتسابی کی اس جرات کا مظاہرہ کر سکتی ہو، اس کی شکست درحقیقت شکست نہیں، آئندہ فتوحات کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ ..... اگر ایمان کے ظاہری تقاضے پورے ہوں، لیکن حکمت میں (جو درحقیقت ایمان ہی کا ایک حصہ ہے) کمزوری ہو، تب بھی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو عالم اسباب بنایا ہے، لہٰذا اسباب سے جو اللہ تعالیٰ ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں، کلی طور پر صرف نظر کرنا بھی مسلمان کا کام نہیں ہے۔ افغانستان میں پچھلے دنوں جو المناک حالات پیش آئے، ان پر اب اسی نقطہ نظر سے ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے آگے سر تسلیم ختم کر کے اپنے طرز عمل کا اخلاص کے ساتھ جائزہ لیں اور جہاں کہیں ایمان وحکمت کے تقاضوں میں کوئی کمی نظر آئے، اس کی تلافی کر کے اپنا سفر جاری رکھیں۔‘‘ (ماہنامہ البلاغ، جنوری ۲۰۰۲ء، ص ۶، ۷)
اسی طرح والد گرامی مولانا زاہد الراشدی نے لکھا: 
’’طالبان حکومت کے بارے میں بحث کے حوالے سے مجھے اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں ہے کہ ان کی پالیسیوں پر بحث نہیں ہونی چاہیے اور ان کی کوتاہیوں کو سامنے نہیں آنا چاہیے۔ ان کے اخلاص، ایثار، قربانی، للہیت اور صدق وصفا میں کوئی شبہ نہیں، لیکن اس کا مطلب معصوم ہونا نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ خود احد اور حنین کے حوالے سے صحابہ کرام جیسی پاک باز ہستیوں کی بشری غلطیوں کو قرآن کریم میں اجاگر کر سکتے ہیں تو ہمیں ا س میں تامل نہیں ہونا چاہیے کہ پوری سنجیدگی اور گہرائی کے ساتھ اس امر کا جائزہ لیں کہ کہاں کہاں غلطی ہوئی ہے اور ماضی کی غلطیوں کے ازالے کے لیے مستقبل میں کیا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ میرے نزدیک اس صورت حال پر مباحثہ کی ضرورت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے لیے ابھی شاید وقت موزوں نہ ہو، لیکن جلد یا بدیر ہمیں اس مرحلہ سے گزرنا ہوگا، ورنہ مستقبل کی صحیح منصوبہ بندی میں ہم کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔‘‘ (الشریعہ، نومبر ۲۰۰۲)
یہ تمام مشورے تو نائن الیون کے بعد کی صورت حال میں دیے گئے، جبکہ مستند اور مصدقہ معلومات کے مطابق جامعہ اشرفیہ لاہور کے استاذ حدیث اور بزرگ عالم دین مولانا محمد موسیٰ خان روحانی بازیؒ نائن الیون سے بہت پہلے اپنے درس میں خداداد بصیرت کی بنیاد پر بن لادن وغیرہ کے بارے میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ میں ان لوگوں کی وجہ سے طالبان پر بہت بڑی تباہی آتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ مولانا مرحوم نے اپنی ملاقات کے لیے آنے والے متعدد طالبان راہنماؤں اور نمائندوں سے بھی یہ بات کہی، لیکن اس پر کوئی توجہ نہ دی گئی، تا آنکہ نائن الیون کا واقعہ ہوا اور اس کے نتیجے میں افغانستان پر امریکی حملے کی صورت میں یہ تباہی ملت افغان پر بالفعل مسلط ہوگئی۔ تاہم اس کے بعد بھی ان نہایت خیر خواہانہ مشوروں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور خود احتسابی کے بجائے ہر بات کا تجزیہ خارجی سازش کے تصور کے تحت کرنے کی عمومی روش اپنا لی گئی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج مذہبی طبقہ طالبان تو کجا، القاعدہ جیسے عناصر کے بارے میں بھی کوئی تنقیدی تبصرہ یا تجزیہ سننے کا روادار نہیں ہے اور اس حوالے سے کوئی بھی سنجیدہ سوال اٹھانے کو جس میں ان گروہوں کے اقدامات کی شرعی حیثیت یا ان کی حکمت ودانش کو موضوع بنایا گیا ہو، فوراً ’’دشمنان اسلام‘‘ کے ہاتھ مضبوط کرنے کے ہم معنی قرار دیا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں اگر طالبان کو دوبارہ افغانستان میں سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع ملتا ہے، جیسا کہ حالات کا رخ بتا رہا ہے، تو اس بات کا شدید خدشہ ہے کہ ہمارے جذباتی مذہبی عناصر طالبان کے حقیقی فائدے میں کوئی کردار ادا کرنے کے بجائے اپنی بے جا توقعات اور غیر حکیمانہ ترجیحات کی وجہ سے پہلے کی طرح اب بھی ان کے لیے نادان دوست ہی کا کردار ادا کریں گے۔
گزشتہ دنوں ایک استفسار میں افغانستان کی موجودہ جنگ اور اس میں شرکت کی شرعی حیثیت کی بابت راقم الحروف کی رائے دریافت کی گئی۔ میں نے اس کے جواب میں اپنا نقطہ نظر رائے زنی کے لیے مختلف اصحاب فکر کو بھیجا جس پر بعض حضرات نے بڑی دلچسپی کے ساتھ حصہ لیتے ہوئے تائیدی یا تنقیدی نکات اٹھائے اور گہرائی کے ساتھ مسئلے کے مختلف پہلو اجاگر کیے۔ جواب میں مجھے بھی اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کا موقع ملا اور یوں دہشت گردی کے حملوں، القاعدہ اور طالبان کی پالیسیوں اور موجودہ افغان جنگ کی شرعی حیثیت کے مختلف پہلووں پر ایک مفید مباحثہ سامنے آ گیا۔ ابھی اس بحث کے بہت سے پہلو تشنہ ہیں اور خاص طور پر القاعدہ کے نقطہ نظر کو درست سمجھنے والوں کی کماحقہ نمائندگی اس میں نہیں ہو سکی۔ حال ہی میں القاعدہ کے راہ نما شیخ ایمن ظواہری کی کتاب کا اردو ترجمہ ’’سپیدۂ سحر اور ٹمٹماتا چراغ‘‘ کے نام سے منظر عام پر آیا ہے جس میں پاکستان کو ایک غیر اسلامی ریاست قرار دیتے ہوئے جہاد اور خروج کا جواز پیش کیا گیا ہے۔ راقم کے قلم سے اس کا ایک مفصل جائزہ زیر ترتیب ہے جو ان شاء اللہ جلد پیش کیا جائے گا۔ یہ تمام سوالات بدیہی طور پر نازک اور حساس سوالات ہیں اور ان کی حساسیت میں جذبات کی شدت اور تناؤ نے مزید اضافہ کر دیا ہے، تاہم فقہ وشریعت اور مذہبی اخلاقیات کی رو سے ان سوالات پر سنجیدہ غور وفکر کی ضرورت ہے۔ اسی تناظر میں یہ مباحثہ نقد ونظر کی عام دعوت کے ساتھ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ 
بحث کا آغاز جس تحریر سے ہوا، وہ مختصر تھی، چنانچہ بحث کے نتیجے میں جو قابل توضیح نکات سامنے آئے، انھیں اس میں شامل کر کے بہت حد تک مفصل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح دوران مکالمہ میں بھی موقع بہ موقع بعض ایسے نکات کا اضافہ کیا گیا ہے جو بعد میں ذہن میں آئے، لیکن مدعا کی توضیح مزید کے پہلو سے مفید ہیں۔ اس بحث کے حوالے سے دو وضاحتیں ضروری ہیں:
ایک یہ کہ بہت سے حضرات نے میرے نقطہ نظر کے لیے ’’فتویٰ‘‘ کی تعبیر اختیار کی ہے۔ اگرچہ لغوی اعتبار سے فتویٰ اور رائے میں کوئی خاص فرق نہیں، لیکن ہمارے ہاں عرفی مفہوم میں ’’فتویٰ‘‘ ایک نوعیت کے مذہبی فیصلے کا درجہ رکھتا ہے جو کسی مسلمہ مذہبی اتھارٹی یا ادارے کی طرف سے جاری کیا گیا ہو۔ اس لحاظ سے میری گزارشات کوئی ’’فتویٰ‘‘ نہیں ہیں اور ان کی نوعیت واقعاتی اور شرعی اعتبار سے صورت حال کے محض ایک طالب علمانہ تجزیے کی ہے۔ 
دوسری یہ کہ یہ بحث ’’مباحثہ ومکالمہ‘‘ کے صفحات پر شائع کی جا رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ زیر بحث نقطہ نظر راقم کا ذاتی نقطہ نظر ہے اور ضروری نہیں کہ ادارہ بھی اس کے جملہ پہلووں سے اتفاق رکھتا ہو۔ امید ہے کہ اہل علم اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے اس مباحثے کو آگے بڑھائیں گے اور ملت اسلامیہ اس مسئلے کے بارے میں جس فکری کنفیوژن کا شکار ہو گئی ہے، اسے اس سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کر یں گے۔ 
(عمار ناصر)

سوال: اگر کوئی شخص افغانستان جا کر اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر ان کے ملک کو حملہ آور فوجوں سے خالی کرانے کے لیے جنگ میں شریک ہوتا ہے تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ’’جہاد‘‘ کر رہا ہے یا اسلامی جنگ لڑ رہا ہے؟ یا اس کو اسلامی جنگ قرار دینے کے لیے کچھ اور شرائط کا موجود ہونا بھی ضروری ہے؟

محمد عمار خان ناصر

امریکی افواج کے خلاف افغانستان کی موجودہ جنگ کی شرعی حیثیت متعین کرتے ہوئے اس کے دو بنیادی کرداروں یعنی القاعدہ اور طالبان میں فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
افغانستان پر امریکی حملے کا ظاہری سبب گیارہ ستمبر کا وہ حادثہ ہے جس میں القاعدہ کی فکری تربیت اور منصوبہ بندی کے تحت چند مسلمانوں نے عام مسافر طیاروں کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ایسے مراکز کو نشانہ بنایا جہاں ایسے لوگ مصروف عمل تھے جو کسی طرح بھی مقاتلین کے زمرے میں نہیں آتے تھے، جبکہ اسلام کی جنگی اخلاقیات غیر مقاتلین کو جنگ میں بطور ہتھیار استعمال کرنے یا انھیں براہ راست حملے کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتی۔ یہ ہر قانونی تعریف کے مطابق ’’دہشت گردی‘‘ کا ایک واقعہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ پوری مسلم دنیا نے بیک زبان اس واقعے کی مذمت کی اور اس سے براء ت کا اعلان کیا۔ تاہم القاعدہ کی منصوبہ ساز قیادت نے اس اقدام کو جائز قرار دیتے ہوئے اسے اپنی کامیابی شمار کیا اور ’’مجاہدین‘‘ کو اس پر مبارک باد دی۔ القاعدہ نے اس اقدام میں شریعت کے ایک دوسرے اہم اصول کی خلاف ورزی بھی کی اور ایک ایسے اسلامی ملک کو اپنی قیادت کے مستقر کے طو رپر منتخب کیا جہاں کی حکومت، تمام میسر قرائن اور شواہد کی روشنی میں، نہ اس فیصلے میں شریک تھی اور نہ اس کے نتائج کی متحمل ہو سکتی تھی۔ یوں ایک چھوٹے سے گروہ نے ازخود ایک ایسا اقدام کر ڈالا جس کی ذمہ داری نتیجتاً طالبان حکومت پر عائد ہو گئی اور انھیں اقتدار سے محروم جبکہ لاکھوں افغان عوام کو ناقابل بیان جانی ومالی نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔
طالبان حکومت کے بارے میں یہ بات تجزیاتی سطح پر ثابت ہے کہ وہ ریاست کی سطح پر امریکہ میں ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی میں شریک نہیں تھے، چنانچہ خود امریکی انتظامیہ کی طرف سے سرکاری طور پر تیار کی جانے والی ’’نائن الیون کمیشن رپورٹ‘‘ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ملا محمد عمر نے امریکہ پر حملے کی مخالفت کی تھی اور یہ مخالفت امریکہ کے ڈر سے نہیں بلکہ نظریاتی بنیاد پر تھی، لیکن اسامہ بن لادن ان کی اور اپنے بہت سے دوسرے ساتھیوں کی مخالفت کے باوجود اپنے منصوبے پر عمل کر گزرے، اس وجہ سے گیارہ ستمبر کے حملوں کے جواب میں طاقت کے بے محابا اور غیر ضروری استعمال سے پورے ریاستی نظم کو تباہ کر دینے کا کوئی جواز نہیں تھا اور دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے متبادل اور زیادہ حکیمانہ طریقے اختیار کیے جا سکتے تھے۔ چنانچہ ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر طالبان یقیناًاس کا حق رکھتے تھے اور رکھتے ہیں کہ اپنی حکومت اور اقتدار کا دفاع کریں اور اسے بچانے یا بحال کرنے کے لیے حملہ آور طاقتوں کے خلاف جنگ کریں۔ اس لحاظ سے افغانستان کی موجودہ جنگ کی صحیح نوعیت میرے نزدیک مسلمانوں کی ایک حکومت کی طرف سے اپنے اقتدار کو بحال کرنے او رحملہ آور فوجوں کو اپنے ملک سے باہر نکالنے کی جنگ کی ہے۔ 
جہاں تک اس جنگ کو یا مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین کسی بھی جنگ کو ’’جہاد‘‘ قرار دینے کا تعلق ہے تو اس کے لیے ازروے شریعت یہ ضروری ہے کہ جنگ کا باعث اور محرک مسلمانوں کی طرف سے کوئی ایسی چیز نہ بنی ہو جو اخلاقی اور شرعی طور پر قابل اعتراض ہو۔ اگر مسلمانوں کا کوئی ناجائز اور غیر شرعی اقدام جنگ کا سبب بنا ہو تو اسے ’’جہاد‘‘ جیسے مقدس فریضے کا عنوان دینا درست نہیں۔ اسلام کا تصور جہاد جنگی اخلاقیات کے حوالے سے اتنا حساس ہے کہ ایک غزوے کے موقع پر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ مسلمانوں کے لشکر کے کچھ لوگوں نے لوگوں کے اترنے کی جگہ کو تنگ کر دیا اور راہ گیروں کو لوٹا ہے تو آپ نے ایک منادی کو بھیج کر اعلان کروایا کہ:
ان من ضیق منزلا او قطع طریقا فلا جہاد لہ (ابو داؤد، رقم ۲۶۲۹)
’’جس نے اترنے کی جگہ تنگ کی یا راہ گیروں کو لوٹا، اس کا کوئی جہاد نہیں۔‘‘
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کسی غزوے سے واپس آیا تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ شاید تم نے کسی کی کھیتی جلائی ہو۔ اس نے کہا، ہاں۔ انھوں نے کہا کہ شاید تم نے کسی کھجور کے باغ کو ڈبو دیا ہو۔ اس نے کہا، ہاں۔ انھوں نے کہا کہ شاید تم نے کسی عورت یا بچے کو قتل کیا ہو۔ اس نے کہا، ہاں۔ اس پر ابن مسعودؓ نے فرمایا:
لتکن غزوتک کفافا (سنن سعید بن منصور، رقم ۲۶۳۰)
’’(ثواب کی امید نہ رکھو) تمھیں اس غزوے کا حساب نہ دینا پڑ جائے تو بہت ہے۔‘‘
موجودہ افغان جنگ کے پس منظر میں چونکہ بہرحال گیارہ ستمبر کے واقعات موجود ہیں جس کی ذمہ دار القاعدہ کی قیادت اس سے بہت پہلے امریکہ کے خلاف برسر جنگ ہونے کا اعلان کر چکی تھی، اس لیے اسے افغانستان میں جاے پناہ فراہم کرنے کی وجہ سے ایک نوع کی ذمہ داری طالبان حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے اور انھیں بالکلیہ بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر مذکورہ دونوں پہلووں کو ملحوظ رکھا جائے تو میرے ناقص فہم کے مطابق موجودہ افغان جنگ کے فی نفسہ جائز اور مشروع ہونے کے باوجود شریعت کے اعلیٰ وارفع تصورات کی روشنی میں اسے ’’جہاد‘‘ کا عنوان دینے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ البتہ جو حضرات القاعدہ کے انتہا پسندانہ نظریات اور گیارہ ستمبر جیسی دہشت گردی کی کارروائیوں کو شرعاً غلط سمجھتے ہوئے صرف اس جذبے سے امریکہ کے خلاف لڑ رہے ہیں کہ وہ افغانستان کی اسلامی حکومت پر حملہ آور ہوا ہے، ان کے خلوص میں کوئی شبہ نہیں اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے ساتھ ان کی نیت اور جذبے کے مطابق ہی معاملہ کیا جائے گا۔
دوسری بات یہ سامنے رہنی چاہیے کہ کسی مسلمان ریاست کے شہریوں کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس ملک کے شہری ہوتے ہوئے کسی معاملے میں، خاص طور پر خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات میں اپنے نظم اجتماعی کے فیصلوں سے ہٹ کر کوئی اقدام کریں۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد پاکستان کے لیے چند بدیہی وجوہ سے اس جنگ میں طالبان کا ساتھ دینا ممکن نہیں تھا، کیونکہ گیارہ ستمبر کا پس منظر اخلاقی طور پر جبکہ طاقت کا عدم توازن عملی طو رپر اس کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ البتہ میری رائے میں اس جنگ میں امریکی افواج کو لاجسٹک سپورٹ مہیا کرنے کا فیصلہ بھی درست نہیں تھا اور پاکستان کے لیے اس معاملے میں غیر جانب دار رہنا شرعی اصولوں کے زیادہ قریب ہوتا۔ تاہم عالمی دباؤ کے تحت پاکستان نے حملہ آور طاقتوں کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا اور یہی پالیسی علانیہ طور پر اب تک ریاستی سطح پر چلی آ رہی ہے۔ 
ملک و قوم کے جن معاملات کا فیصلہ نظم اجتماعی کے سپرد ہو، ان میں عوام نظم اجتماعی کے فیصلوں کے عملاً پابند ہوتے ہیں، اگرچہ انھیں اس پر تنقید کرنے اور اسے تبدیل کروانے کے لیے پرامن کوشش کرنے کا حق ہوتا ہے۔ اس وجہ سے پاکستان کے شہریوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ پاکستان کی شہریت کو برقرار رکھتے ہوئے طالبان کی حمایت میں افغانستان کی جنگ میں شریک ہوں، بلکہ اگر حکومت بھی عالمی برادری کے سامنے اپنے علانیہ اور ظاہری موقف سے ہٹ کر خفیہ طور پر اس جنگ میں طالبان کی حمایت کرتی ہے تو وہ بھی غدر اور خیانت جیسے غیر اخلاقی اور غیر شرعی اقدام کی مرتکب ہوتی ہے۔ پاکستانی حکومت کے لیے طالبان کی حمایت کا جائز شرعی طریقہ یہ ہے کہ وہ امریکہ اور نیٹو کی فوجوں کے ساتھ تعاون کا معاہدہ ختم کر دے، جو ان افواج کی طرف سے جنگی قوانین کی سنگین پامالیوں کی وجہ سے ویسے بھی دین وشریعت کا تقاضا ہے، اور اس کے بعد حکومت قائم کرنے یا موجود نظم حکومت میں شریک ہونے میں سیاسی اور سفارتی سطح پر طالبان کی مدد کرے۔ اسی طرح اگر انفرادی سطح پر کوئی شخص یا گروہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے اس جنگ میں طالبان کا ساتھ دینا چاہیے تو اخلاقی اور شرعی طور پر اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان کی شہریت چھوڑ کر اس کی حدود سے باہر چلا جائے تاکہ اس کے کسی فعل کی ذمہ داری ریاست پاکستان پر عائد نہ ہو۔ ہذا ما عندی والعلم عند اللہ

مولانا مفتی محمد زاہد

 اس جیسے حساس لیکن عملی نتائج کے اعتبار سے انتہائی اہم مسئلے میں اہل علم وفکر کی طرف سے آزادانہ اور دیانت دارانہ اظہار رائے کی ضرورت ہے اور یہی آرا مکالمے کی بنیاد بنتی اور رائے عامہ اور اہل علم کو بہتر فیصلے تک رسائی میں مدد دیتی ہیں۔ افسوس ہے کہ اہل علم کی یہ ذمہ داری مصلحتوں اور غیر مقبولیت کے خوف تلے دبی ہوئی ہے۔ ایسے میں آپ کا اپنی دیانت دارانہ رائے کا اظہار باران رحمت کا قطرہ ہے۔ میں آپ کی جرات اظہار کو سلام پیش کرتا ہوں۔ اس وقت مجھے اس مسئلے میں اپنی حتمی رائے ذکر کرنے کی فرصت بھی نہیں ہے اور بعض معاملات میرے ذہن میں ابھی زیر غور ہیں۔ بہرحال آپ کے بہت سے نکات کو میں درست یا کم از کم اس قابل ضرور سمجھتا ہوں کہ ان پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ آج اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی گروہ کو ناقابل تنقید حد تک مقدس قرار دینے اور کسی پالیسی کو عملاً وحی کا درجہ دینے کے رویے کی جگہ اپنی اپنی دیانت دارانہ رائے کے اظہار، ایک دوسرے کی بات پر سنجیدہ غور کا ماحول بنایا جائے۔ جس رائے کا بھی اظہار ہو، اس انداز سے ہو کہ اس پر حکومتی ٹھپا ہونے کا شائبہ تک نہ ہو، ورنہ صحیح اور مدلل بات بھی بے اثر ہو جاتی ہے۔ بالخصوص ہماری دیوبندی قیادت جس قسم کے جذباتی اور پروپیگنڈا باز نوجوانوں سے مرعوب اور خوف زدہ رہتی ہے، وہ تمام ’’احتیاطوں‘‘ کے باوجود بھی شاید ان کو ریلیف دینے کے لیے تیار نہ ہوں۔ ان کے راضی ہونے کی شرط غالباً صرف ’حتی تتبع ملتہم‘ ہی ہے۔

محمد عمران خان

آپ کا فتویٰ پڑھنے کو ملا۔ آپ کی نوازش۔ مجھے اس کے مندرجات سے اختلاف ہے۔ سب سے پہلے یہ بات ہی غلط ہے کہ اس حملے میں القاعدہ ملوث ہے، کیونکہ اس بات کا امریکہ کوئی ثبوت نہیں دے سکا، نہ ہی طالبان کو اور نہ ہی دنیا کو۔ اور جب ایسی بات ہے تو پھر ہماری شرعی ذمہ داری ہے کہ ہم امریکا کے الزامات کی تصدیق نہ کریں، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ ’’دلیل مدعی کے ذمے ہے‘‘۔ اور یہ بات تو اب مغرب کی غیر جانب دار شخصیات بھی کہہ رہی ہیں کہ اس حملے سے امریکی مفاد وابستہ ہے اور امریکہ کا اس حملے میں ملوث ہونا بعید از قیاس نہیں ہے، جیسا پرل ہاربر کے اٹیک کا بہانہ بنا کر جاپان پر ایٹمی اٹیک کیا گیا۔ ان شخصیات میں یہ چند لوگ شامل ہیں:
۱۔ پال کریگ رابرٹس (ریگن انتظامیہ میں اسسٹنٹ سیکرٹری آف دی ٹریژری)
۲۔ جارج گیلو وے (برطانوی ممبر پارلیمنٹ)
۳۔ ڈیوڈ گریفن (پروفیسر آف فلاسفی آف ریلجن)
۴۔ مشل چوسو ڈوسکی (پروفیسر آف اکنامکس)
۵۔ سنتھیا این مک کنی (سابقہ امریکی رکن کانگریس)
۶۔ ویبسٹر گریفن ٹارپلے (مصنف، صحافی)
۷۔ کارلوس ارون Est233vez aka Charlie Sheen (امریکی اداکار)
۸۔ جم مارس (مصنف، صحافی)
۔ ڈاکٹر ہنری میکو (مصنف، صحافی)
یہ فہرست نہ ختم ہونے والی ہے۔ آپ کو اپنے فتوے پر نظر ثانی کرنی چاہیے، کیونکہ یہ کوئی معقول استدلال پیش کرنے سے زیادہ امریکی مفادات کو قوت پہنچانے کے مترادف ہے۔

ڈاکٹر حسن الامین

۱۔ میرے خیال میں عمار صاحب کی تحریر میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ وہ کوئی ’’فتویٰ‘‘ جا ری کر رہے ہیں۔میرے خیال میں زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ انھوں نے اپنی رائے دی ہے، نہ کہ کوئی فتویٰ۔
۲۔ آپ کو وہ دسیوں ویڈیوز اور وہ سیکڑوں بیانات اور فتوے دیکھنے چاہییں جو اسامہ اور الظواہری سمیت القاعدہ کے مختلف لوگوں نے جاری کیے ہیں اور ان میں امریکہ پر حملوں کے جواز اور امریکی شہریوں اور افواج کو زک پہنچانے سے متعلق اپنے نظریات بالکل واضح طریقے سے بیان کیے ہیں۔ اگر آپ سرے سے القاعدہ، اسامہ اور طالبان کے وجود ہی کا انکار کرتے ہیں تو پھر پاکستان میں ہونے والی قتل وغارت اور خود کش حملوں کا ذمہ دار آخر کون ہے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ بھارتی یا یہودی ہیں تو پھر یہ قاضی حسین احمد اورمولانا فضل الرحمن جیسی ساری مذہبی قیادت کو قتل کیوں نہیں کر رہے؟
۳۔ کیا آپ ہمیں کوئی ایسی گواہی یا ثبوت بتا سکتے ہیں جو محمد بن قاسم نے کراچی/دیبل پر اور طارق بن زیاد نے اسپین پر حملہ کرنے کے لیے پیش کی ہو؟ یقیناًآپ کا جواب یہی ہوگا کہ یہ حملے صرف اس وقت بطور سپر پاور مسلمانوں کی فوجی طاقت کے بل بوتے پر کیے گئے تھے۔ اگر یہ بات ہے تو ازراہ کرم یہ بات سمجھنے کی کوشش کریں کہ اسامہ اور اس کے ساتھی مختلف ذریعوں سے گزشتہ کئی سالوں سے، حتیٰ کہ نائن الیون سے بھی پہلے، اپنا یہ پیغام دنیا تک پہنچا رہے ہیں کہ وہ امریکہ کے خلاف برسر جنگ ہیں۔ گیارہ ستمبر کا حادثہ اس جنگ کا آغاز نہیں بلکہ اس کا نقطہ عروج تھا۔

محمد عمران خان

 ۱۔ کسی مذہبی معاملے سے متعلق کسی اسلامی اسکالر کا رائے دینا ہی فتویٰ کہلاتا ہے۔
۲۔ مجھے کوئی ایسی ویڈیو بھیج دیں جس میں انھوں نے اس کا اعتراف کیا ہے۔
۳۔ محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کچھ مسلمان قیدیوں کو چھڑانے کے لیے کیا تھا جبکہ طارق بن زیاد نے اسپین پر حملہ وہاں کے مسیحی مذہبی راہنماؤں کی دعوت پر کیا تھا۔ آپ کو اپنا تاریخ کامطالعہ تازہ کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر حسن الامین

 ۱۔ آپ نے کہا کہ ’’کسی مذہبی معاملے سے متعلق کسی اسلامی اسکالر کا رائے دینا ہی فتویٰ کہلاتا ہے۔‘‘ کیا یہ اتنی سادہ بات ہے؟ فتویٰ سماجی طور پر ایک نہایت محدود مذہبی رائے کو کہتے ہیں۔ عمار صاحب کی رائے اختلاف کی ایک وسیع گنجائش دیتی ہے، جبکہ آپ حضرات کے سیاسی محرکات کے تحت اور مخصوص تاریخی اور سماجی ماحول کے زیر اثر دیے جانے ولے فتوے ایسی کوئی گنجائش تسلیم نہیں کرتے، چاہے بظاہر اس کا دعویٰ ہی کرتے ہوں۔
۲۔ اگر آپ کی نظر سے اسامہ وغیرہ کے جاری کردہ ایسے تمام بیانات اور ویڈیوز نہیں گزریں تو پھر آپ اتنا بڑا دعویٰ لے کر اس بحث میں شریک کیوں ہو گئے ہیں؟ لگتا یہ ہے کہ آپ یا تو ان بیانات کو پڑھنا اور سننا نہیں چاہتے یا سیدھا سیدھا ان پر ’’جھوٹا‘‘ ہونے کا لیبل لگا دینا چاہتے ہیں۔ 
۳۔ آپ کو ثبوت اور جواز میں فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ محمد بن قاسم اور طارق بن زیاد نے جو کچھ دیا، وہ جواز تھا نہ کہ ثبوت۔ اسی طرح امریکی افغانستان میں اپنے دشمنوں کو گرفتار کرنے کے لیے آئے اور اقوام متحدہ اور ساری مسلم دنیا نے امریکی حملے کا جواز تسلیم کیا۔ سپر پاورز کبھی ثبوت نہیں دیتیں۔ وہ صرف اپنی جنگوں کا کوئی نہ کوئی جواز بتاتی ہیں، قطع نظر اس سے کہ حملہ آور محمد بن قاسم ہو یا جارج بش۔

محمد عمران خان

۱۔ آپ یہ کیسے جانتے ہیں کہ میں نے کبھی سیاسی محرکات کے تحت اور سماجی ماحول سے متاثر ہو کر فتوے دیے ہیں؟ ازراہ کرم مفروضات قائم کرنے کے غیر مختتم چکرمیں نہ پڑیں۔
۲۔ یہ بے بنیاد مفروضہ ہے۔ آپ جس انبار کی بات کر رہے ہیں، اس میں سے صرف ایک ویڈیو کا حوالہ دے دیں۔
۳۔ یعنی آپ کامطلب یہ ہے کہ کسی حملہ آور سپر پاور کے خلاف لڑنا جہاد نہیں ہے۔ پھر مجھے یہاں جواز اور ثبوت میں بھی کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ جواز کامطلب ہے کسی کے مجرم ہونے کا ثبوت جس پر اسے سزا دی جا سکے۔ آسان لفظوں میں اگر کسی کے زنا کا مرتکب ہونے کا ثبوت موجود نہیں تو اسے کوڑے مارنے کا بھی کوئی جواز نہیں۔ 

محمد عمار خان ناصر

میرے خیال میں سوال القاعدہ کے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے ’’قانونی ثبوت‘‘ کا نہیں بلکہ حق کی گواہی دینے کی اس ذمہ داری کا ہے جو شریعت مسلمانوں پر ہر حال میں عائد کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر کسی معاملے میں مجرم کے ارتکاب جرم کو عدالت میں قانونی معیار پر ثابت کرنا ممکن نہ ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ سرے سے جرم کا ارتکاب ہی نہیں ہوا۔ سماجی اور معاشرتی سطح پر حق کی گواہی دینے اور کسی فرد یا گروہ کے غیر شرعی اقدامات پر تنقید کرنے یا اپنے دائرۂ اختیار میں اس کے خلاف کوئی قانونی اقدام کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ آپ اپنے ذرائع معلومات سے اس کے ثبوت پر مطمئن ہوں، چاہے مدعی نے کسی باقاعدہ عدالت میں ثبوت جرم کے دلائل پیش نہ کیے ہوں۔ میرے نزدیک دوسرے قرائن وشواہد سے قطع نظر، القاعدہ کے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے لیے یہ ثبوت کافی ہے کہ دس سال سے ساری دنیا اس کا نام لے کر اس پر یہ الزام لگا رہی ہے ، لیکن القاعدہ کی قیادت نے آج تک ایک مرتبہ بھی اس کی تردید نہیں کی، بلکہ ان واقعات کو ’’مجاہدین‘‘ کی کامیابی قرار دیا اور اس پر انھیں مبارک باد پیش کی ہے۔ ایسی صورت حال میں یہ کہنا کہ ’’انھوں نے اس کا اعتراف کب کیا ہے؟‘‘ ایک حیرت انگیز سوال ہے۔

محمد عمران خان

آپ کو القاعدہ کے نائن الیون حملوں میں ملوث ہونے کا کوئی قانونی ثبوت نہیں چاہیے۔ چلیں اس کو آپ کی پسند قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن طالبان کا امریکہ سے قانونی ثبوت کا مطالبہ کرنا (۲۰۰۱ء میں) کیا جائز اور عین شریعت کے مطابق نہ تھا؟ اگر وہ مطالبہ کرنا جائز تھا تو کیا ان پر ہونے والے امریکی حملے کے جواب میں ان سے لڑنا جہاد نہیں؟ اور کیا امریکہ کا عراق پر حملہ کرنا بغیر کسی WMD کے ثبوت کے دہشت گردی نہیں تھا؟ اور کیا اگر اسی طرح امریکہ پاکستان پر حملہ کرتا ہے کہ یہاں القاعدہ موجود ہے تو کیا اس کا مقابلہ کرنا جہاد نہیں ہوگا؟ 

ڈاکٹر حسن الامین

القاعدہ کئی سال سے جو دعوے کر رہی ہے، تقویٰ اور جہاد کے نام پر جن کاموں کی تائید کرتی ہے اور جس چیز کو ایک آئیڈیالوجی کے طو رپر پھیلا رہی ہے، اگر آپ اس سب سے صرف نظرکر کے ’’ثبوت‘‘ مانگنے پر اصرار کرنا چاہتے ہیں تو پھر مزید بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔ دونوں زاویہ ہاے نظر واضح ہیں۔ میں گزارش کروں گا کہ ازراہ کرم القاعدہ کے قائدین نے وقتاً فوقتاً جو بیانات جاری کیے ہیں اورجو میڈیا میں شائع ہو چکے ہیں، ان پر ایک نظر ڈال لیں۔ 
جی ہاں، میں پرزور انداز میں کہتا ہوں کہ ثبوت اور جواز میں فرق ہے۔جب محمد بن قاسم سندھ پر حملہ کر رہے تھے تو راجہ داہر نے اصرار کیا تھا کہ بحری لٹیرے اس کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں لیکن کوئی ثبوت دیے بغیر ہم نے اس پر حملہ کیا کیونکہ ہمارے پاس (کچھ مسلمانوں کو آزاد کرانے کا) جواز موجود تھا۔ القاعدہ گزشتہ کئی سالوں سے اپنے خلاف ثبوت خود مہیا کر رہی ہے۔ اگر آپ اس سے انکار کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ القاعدہ نے ایسا کوئی دعویٰ نہیں تو میں یہ کہنے کے سوا آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں کہ ان کے جاری کردہ پیغامات اور بیانات پر نظر ڈال لیں۔ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں، اس سے ہماری معلومات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، کیونکہ امریکیوں سمیت بہت سے لوگ گیارہ ستمبر کے بعد سے یہ بات کہہ رہے ہیں۔ آپ اسی پرانے خیال کو دہرا رہے ہیں۔

محمد عمران خان

بحث کو مزید طول نہ دینے پر شکریہ۔ بہرحال آپ کو میڈیا پر جتنا یقین ہے، میرے خیال میں آزادانہ رائے قائم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ میڈیا کی مسلط کردہ جس نفسیاتی جنگ کا ہمیں دن رات سامنا ہے، اس کو بہتر طو رپر سمجھنے کے لیے آپ کو نوم چومسکی کی کتاب Manufacturing Consent کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ مزید یہ کہ عقل واستدلال کی دنیا میں ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کا اصول کوئی جواز نہیں رکھتا۔ راجہ داہر نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ بحری لٹیرے اس کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں، بلکہ اس نے انھیں تحفظ فراہم کیا۔ (یہ بھی میڈیا کی سکھائی ہوئی غلط تاریخ کی ایک مثال ہے۔)
درج ذیل ویب سائٹ پر ایک دلچسپ اور چشم کشا مضمون ملاحظہ کریں جو واضح کرتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں کیوں آیا ہے۔ وہ دراصل اپنی ’معاشی آزادی‘ کا تحفظ چاہتے ہیں:
http://www.huffingtonpost.com/john-perkins/will-us-enslave-afghanist_b_632424.html

حافظ محمد سمیع اللہ فراز

میں نے آپ کا فتویٰ پڑھا ہے، تاہم بعض وجوہ سے میں آپ کے خیالات یا دلائل سے متفق نہیں، خاص طورپر آپ نے القاعدہ کے متعلق جو بات کہی ہے کہ اس نے گیارہ ستمبر کے واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ آپ کا فتویٰ اسی نکتے پر مبنی ہے۔ پہلی بات جو واضح ہونی چاہیے، یہ ہے کہ کیا القاعدہ کا کوئی وجود بھی ہے؟ اگر یہ بات صاف ہو جائے تو آپ کے جواب کا اگلا حصہ درست سمجھا جائے گا۔
القاعدہ امریکہ کا تخلیق کردہ ایک مفروضہ ہے اور یہ بات خود امریکی تجزیہ نگاروں نے بھی ثابت کی ہے۔ میں اپنا مضمون بھیج رہا ہوں جو امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز میں چھپا تھا اور امید ہے کہ برطانیہ کے گارجین میں بھی جلدی چھپ جائے گا، ان شاء اللہ۔ اب مغرب میں القاعدہ کے مفروضے کے بارے میں انتہائی دانش ورانہ بحث ہو رہی ہے اور مجھے امید ہے کہ جلد یا بدیر بالکل واضح ہو جائے گاکہ نائن الیون کا ڈرامہ اور القاعدہ کا کردار سیاسی مقصد کے تحت تخلیق کیا گیا تھا۔ اب مغربی دانش وروں کا فہم اس مفروضے کے بارے میں بیدار ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس کا ایک کھلا ثبوت گارجین کا ایک مضمون ہے جس کا ترجمہ الشریعہ میں بھی اداریے کے طور پر شائع کیا گیا تھا۔ گارجین کا اصل مضمون "We would not lose our conscience" (ہم اپنے ضمیر کو مردہ نہیں ہونے دیں گے) کے عنوان سے چھپا تھا اور اس پر ۷۱ لوگوں نے دستخط کیے تھے۔ اس لیے اب اس مفروضے کا پردہ چاک ہونے والا ہے۔ آپ کو فتویٰ جاری کرنے میں انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے، کیونکہ اس کی بنیادیں مضبوط نہیں ہیں بلکہ صرف مفروضے ہیں۔

محمد عمار خان ناصر

آپ کا ارسا ل کردہ مختصر مضمون میں نے دیکھا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مضمون جتنے بڑے دعوے پر مبنی ہے (یعنی یہ کہ القاعدہ کا سرے سے کوئی وجود نہیں اور یہ کہ گیارہ ستمبر کے واقعات میں بن لادن اور الظواہری وغیرہ کی آئیڈیالوجی اور انتہا پسند مسلمانوں کا کوئی کردار نہیں اور یہ سارا کھیل امریکا نے صرف عراق اور افغانستان پر حملہ کرنے کے لیے رچایا تھا)، پیش کردہ شواہد سے اس کا ثابت ہونا تو کجا، کوئی سنجیدہ اور حالات وواقعات پر نظر رکھنے والا مبصر اسے قابل غور سمجھنے پر بھی آمادہ نہیں ہو سکتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جس نہج پر لڑی گئی، اس میں امریکا کے چھپے عزائم اور مخفی مفادات بالکل کھلے ہوئے ہیں اور یقیناًالقاعدہ کی ممکنہ صلاحیت اور استعداد کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، لیکن مسلمانوں کے انتہا پسند گروہوں اور خاص طور پر بن لادن اور الظواہری کی قبیل کے نظریہ سازوں کو بالکل معصوم بنا کر پیش کرنا میرے نزدیک اخلاقی جرات کے فقدان کی علامت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود القاعدہ کی قیادت نے کبھی اپنی کوئی صفائی پیش نہیں کی اور نہ آج تک یہ کہنے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ ساری دنیا اسے جس الزام کا مورد ٹھہرا رہی ہے، اس کا دامن اس سے پاک ہے۔ اس کے برعکس درجنوں ایسے بیانات اور خطابات موجود ہیں جن میں ان حضرات نے ساری مسلم دنیا کے برعکس گیارہ ستمبر اور سات جولائی جیسے اقدامات کو جائز قرار دیا اور انھیں مجاہدین کی فتح اور کامیابی شمار کیا ہے۔
اگر آپ کی رسائی جہادی عناصر تک ہو اور آپ اپنی تحقیق کا ماخذ مغربی صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کے سیاسی بیانات کے بجائے ان عناصر کے ذمہ دار حضرات کے نظریات، عزائم اور معلومات کو بنائیں تو آپ کو حقیقت حال تک پہنچنے میں زیادہ مدد ملے گی۔ اس وقت امت کی خیر خواہی کا تقاضا لیپا پوتی کر کے حقائق پر پردہ ڈالنا اور ریت میں سر دے کر مطمئن ہو جانا نہیں، بلکہ جرات اور دیانت داری کے ساتھ اس بحران کا سنجیدہ تجزیہ کرنا ہے جس میں ہماری مذہبی اور عسکری قیادت نے اپنی بے بصیرتی سے مذہبی رجحانات رکھنے والی ایک پوری نسل کو مبتلا کر دیا ہے۔ اللہ کرے کہ آپ جیسے نوجوان اصحاب قلم اس طرف متوجہ ہوں اور اس ذمہ داری کو فرض کفایہ ہی کے درجے میں سہی، ادا کرنے کی کوئی صورت پیدا ہو۔

حافظ محمد سمیع اللہ فراز

تبصرے کا بہت شکریہ۔ میرے خیال میں ایک غلط فہمی کا ازالہ ہونا چاہیے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں ان دہشت گرد گروہوں کا دفاع کر رہا ہوں تو ایسا ہرگز نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ بحث اس پر نہیں ہے کہ ’’یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟‘‘ اور ’’ان کے پاس اس کا کیا جواز ہے؟‘‘۔ بحث ا س پر ہو رہی ہے کہ آیا آپ کے اور میرے علم اور اطلاعات کے مآخذ قابل اعتماد ہیں یا اس کے برعکس؟ 
مثال کے طور پر آپ نے اپنی سابقہ ای میل میں جہادی لیڈروں اور ان کی ویڈیوز اور خطابات کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے، میں یہ پوچھنے کی جسارت کروں گا کہ ان معلومات کا ماخذ آپ کے پاس کیا ہے؟ کیا آپ کی یا کسی متعلقہ آدمی کی کبھی القاعدہ کے عناصر سے ملاقات ہوئی ہے؟ (طالبان کی بات نہیں کر رہا کہ وہ ایک الگ ایشو ہے)۔ مثال کے طورپر مغربی میڈیا میں مصر کے ایک دہشت گرد گروپ جماعہ اسلامیہ مسلحہ کا مسلسل ذکر ہو رہا ہے،جبکہ مصر میں ا س کا کوئی وجود نہیں۔ اسی طرح شمالی وزیرستان کے مولانا نصیر الدین سے میری بات ہوئی ہے جو افغانستان کے طالبان کا ترجمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ افغانستان کے طالبان نے پاکستان کے اندر خود کش حملوں جیسے کسی بھی اقدام کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔
اس لیے میرانقطہ نظر یہ ہے کہ اس وقت معلومات کے تمام ذرائع کنٹرولڈ ہیں، خاص طور پر مجھے اور آپ کو ملنے والی معلومات یک طرفہ اور مسخ شدہ ہوتی ہیں۔ اس صورت حال میں، میری صرف یہ درخواست ہے کہ چونکہ فتویٰ ایک حتمی فیصلہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے اسے فریقین کے موقف کا جائزہ لینے کے بعد جاری کیا جانا چاہیے تھا۔ اگر آپ تحقیق کی کوشش کریں تو آپ کو صورت حال اس سے مختلف نظر آئے گی جس کا میڈیا پراپیگنڈا کر رہا ہے۔

محمد عمار خان ناصر

آپ کی جوابی ای میل نظر نواز ہوئی۔ آپ کا زاویہ نگاہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور اس نوعیت کے دوسرے واقعات میں القاعدہ کے کردار سے متعلق دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ جو اطلاعات، رپورٹس اور تجزیے پیش کر رہے ہیں اور القاعدہ کے راہ نماؤں کی تقریروں پر مشتمل جو دسیوں ویڈیوز کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والے ہر شخص کو دستیاب ہیں، وہ سرتاسر من گھڑت ہیں اور میڈیا نے محض پراپیگنڈا کے زور سے ایک بالکل بے بنیاد بات اتنے بڑے پیمانے پر دنیا سے تسلیم کروا لی ہے۔ غالباً آپ کے نزدیک اس معاملے میں براہ راست مشاہدے یا ’حدثنا واخبرنا‘ کے طریقے پر ملنے والی کسی اطلاع کے علاوہ کوئی دوسری بات قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ 
آپ کا یہ زاویہ نگاہ بجاے خود نہایت محل نظر ہے، تاہم میں اس پر کوئی تبصرہ کرنے کے بجائے یہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ میرے ذاتی تجزیے کی بنیاد جن معلومات پر ہے، ان میں عام ذرائع سے میسر ہونے والی معلومات کے علاوہ مذکورہ نوعیت کی موثق اطلاعات بھی شامل ہیں۔ گیارہ ستمبر کے حادثے کے فوراً بعد صف اول کی ایک متحرک جہادی تنظیم کے نظم سے تعلق رکھنے والے ایک نہایت ذمہ دار عالم نے مجھے تنظیم کے ایک اعلیٰ سطحی راہنما کے حوالے سے، جو ان دنوں بن لادن وغیرہ کے ساتھ رابطے میں تھے، بتایا کہ بن لادن اس حملے کی منصوبہ بندی کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور اس کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ امریکہ کی طاقت کو زک پہنچانے کے لیے اس طرح کا اقدام ہمارے لیے ناگزیر ہو چکا تھا۔ 
واقعہ یہ ہے کہ گیارہ ستمبر کے بعد کم از کم افغانستان پر امریکی حملے تک طالبان حکومت کے نہایت قریبی حلقوں میں اس حوالے سے کوئی سنجیدہ سوال نہیں پایا جاتا تھا کہ اس واقعے میں القاعدہ کا کوئی کردار ہے یا نہیں، بلکہ طالبان حکومت کے سقوط کے بعد افغانستان میں رفاہی خدمات انجام دینے والے پاکستان کے ایک بڑے مذہبی نیٹ ورک کے ایک اعلیٰ سطحی راہنما نے، جن کے براہ راست روابط اس وقت تک ملا محمد عمر وغیرہ کی سطح کی شخصیات سے تھے، اپنی نجی مجلسوں میں یہ کہا کہ بن لادن نے ایک بے حد سطحی اور جذباتی قدم اٹھایا ہے جس کی قیمت مسلمانوں کو امارت اسلامیہ کے سقوط کی صورت میں ادا کرنا پڑی ہے۔ (یہ بات مجھے اس راہنما کے ایک حاضر باش رفیق نے خود بتائی۔) میں نے اسی لیے عرض کیا ہے کہ اگر آپ اس نکتے کو موضوع تحقیق بنا کر جہادی تنظیموں کے ان ذمہ دار افراد سے جو اندرونی صورت حال سے قریبی واقفیت رکھتے ہیں، اس نوعیت کی روایات جمع کرنا شروع کریں تو شواہد کا ایک انبار آپ کے سامنے آ جائے گا۔ 
عوامی سطح پر بھی پہلے پہل کیفیت یہ تھی کہ امریکہ کی رسوائی پر مذہبی بلکہ عام لوگوں کی خوشی چھپائے نہیں چھپتی تھی اور اسامہ نے ایک عظیم ہیرو کا درجہ اختیار کر لیا تھا جس کے نام پر نومولود بچوں کا نام رکھنا باعث سعادت سمجھا جانے لگا تھا۔ پھر جب امریکی حملے کے نتیجے میں طالبان کی حکومت ختم ہو گئی، امریکہ کی وحشت ناک بمباریوں کے واقعات منظر عام پر آئے، عراق پر حملے کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی کا مفروضہ جھوٹا ثابت ہوا، ابو غریب، بگرام ایئر بیس اور گوانتا نامو کے عقوبت خانوں کی داستانیں سامنے آئیں اور امریکی مداخلت کے سلسلے نے بڑھتے بڑھتے پاکستانی علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تو غم وغصے کی شدت میں فطری طور پر عوام بھی یہ بھول گئے کہ اس بدمست ہاتھی کو یہاں آنے کی دعوت کس نے اور کیسے دی تھی اور مذہبی وسیاسی قائدین نے بھی اس دباؤ کے سامنے حقیقت پسندانہ موقف اختیار کرنے کے بجائے حقائق سے نظریں چرانے میں ہی عافیت سمجھی، چنانچہ گیارہ ستمبر جیسے واقعات کو شرعاً واخلاقاً ناقابل دفاع پاتے ہوئے ’’خدا اور صنم‘‘ دونوں کو راضی رکھنے کا طریقہ یہ ڈھونڈا گیا کہ دنیا کو منہ دکھانے کے لیے ان واقعات کی مذمت تو کی جائے، لیکن عوامی غیظ وغضب سے بچنے کے لیے ان کے ذمہ دار عناصر سے براء ت کے بجائے بعض مغربی تجزیہ نگاروں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ساری ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں پر ڈال دی جائے اور ایسا کرتے ہوئے اس بات کی طرف مطلق توجہ نہ دی جائے کہ عقل عام، منطق اور استدلال اس بات کا کتنا مضحکہ اڑائیں گے۔ 
میرے نزدیک اس معاملے میں انتہا پسند عناصر نے روایتی مذہبی قیادت کے مقابلے میں کہیں زیادہ اخلاقی جرات کا ثبوت دیا ہے۔ مجھے ان کی آئیڈیالوجی اور حکمت عملی، دونوں سے شدید اختلاف ہے، لیکن Give the devil his due کے بموجب یہ ماننا پڑتا ہے کہ انھوں نے کسی دوغلے پن کا مظاہرہ نہیں کیا اور مغربی ممالک میں کیے جانے والے حملوں سے لے کر پاکستانی فوج اور ایجنسیوں، شدت پسندی کی مخالف شخصیات، مخالف فرقوں کی عبادت گاہوں اور پبلک مقامات پر کیے جانے والے حملوں تک جس گروہ نے جو بھی اقدام کیا ہے، اس کو علانیہ جائز قرار دیا اور حسب مصلحت بہت سی صورتوں میں اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان عناصر کی سرگرمیوں کا نیٹ ورک خفیہ ہے، لیکن ان کا موقف (’’جنگ میں سب جائز ہے‘‘)، ان کا پیغام اور ان کا ہدف بالکل واضح ہے اور اسی لیے وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے ہمہ تن سرگرم ہیں۔ ادھر ہماری ’’امن پسند‘‘ مذہبی قیادت کا حال یہ ہے کہ ایک بڑی مذہبی جماعت کے محترم قائد ملک کے ایک بڑے اردو روزنامے میں مضمون تحریر کرتے ہیں اور اس میں اپنی فہم وفراست اور اخلاقی جرات کی کیفیت بقلم خود یوں رقم فرماتے ہیں کہ [پاکستان کے] طالبان لاکھ خود کش حملوں کی ذمہ داری قبول کریں، ہم یہ بات تسلیم نہیں کریں گے اور اسے امریکہ، بھارت اور اسرائیل کی سازش ہی قرار دیتے رہیں گے۔
ان حضرات کی ’’مجبوریاں‘‘ قابل فہم ہیں کہ ان کے ارادت مندوں اور پیروکاروں کا ایک وسیع حلقہ ہے جس کے سامنے انھیں جواب دہ ہونا پڑتا ہے اور اپنے حلقے کا اعتماد اور مقبولیت ہی ان کے لیے سرمایہ حیات کا درجہ رکھتا ہے، لیکن جب آپ جیسے نوجوان اصحاب فکر بھی، جن پر نہ کسی جماعتی نظم کا دباؤ ہے اور نہ کسی ہجوم کی عقیدت مندی کا طوق ان کی گردن میں پڑا ہوا ہے، فقیہ شہر ہی کی زبان بولتے دکھائی دیتے ہیں تو سخت مایوسی ہوتی ہے کہ آوازۂ حق کے بلند کیے جانے اور ’ولو علی انفسکم‘ گواہی سننے کی امید سے آدمی دیکھے تو آخر کس کی طرف دیکھے!
کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب
اک آبلہ پا وادئ پرخار میں آوے
امید کرتا ہوں کہ میری یہ معروضات زیادہ گراں بارئ خاطر کا موجب نہیں ہوں گی۔ آپ سے ایک پرانا تعلق خاطر بھی ہے اور اچھے علمی مستقبل کی امید بھی وابستہ ہے، اس لیے یہ تلخ محسوسات بے اختیار صفحہ قرطاس پر منتقل ہوتے چلے گئے، ورنہ یہی باتیں ہر روز مذہبی رسالوں اور اخباروں میں دیکھنے کو ملتی ہیں اور کبھی کسی کو درد دل کہنے کی تحریک نہیں ہوتی۔ اللہم اجعلنا ممن یجاہرون بالحق ولا یخافون فیک لومۃ لائم۔

حافظ محمد سمیع اللہ فراز

آپ کا خط موصول ہوا۔ احقر کے لیے آپ کے انتہائی مثبت جذبات واحساسات نے قلب وجان میں آپ کی قدر میں مزید اضافہ کیا ہے جس پر آپ کا بے حد شکر گزار ہوں۔
میرے زاویہ نگاہ کے ایک حصے کو آپ صحیح سمجھے ہیں کہ میرے نزدیک انسانیت کی موجودہ پستی، باہمی دوری اور مفادات کے تصادم کے زمینی محرکات اور اسباب میں سے ایک سبب موجودہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا ہے جس نے غلط فہمیوں کے ازالہ کی بجائے مخصوص طاقتوں کے آلہ کار کا کردار ادا کیا ہے۔
قومی سطح پر اس کی ایک مثال ’’سوات ویڈیو‘‘ کا ایشو ہے۔ چند برس قبل اس میں کچھ ’’طالبان‘‘ کے ہاتھوں ایک لڑکی کو کوڑے مارتے دکھایا گیا ہے جس پر نہ صرف میڈیا نے ایک طوفان بدتمیزی برپا کیا تھا بلکہ اس واقعے کی آڑ میں اسلامی سزائیں بھی نام نہاد ’’ٹی وی اسکالرز‘‘ کا موضوع بحث بنی رہیں۔ حالیہ برس کے فروری میں اسلام آباد کی ایک این جی او نے پانچ لاکھ روپے کے عوض اس ویڈیو کی تیاری کا اعتراف کیا، لیکن کسی غیرت مند صحافی کو اپنے کیے پر ذرا بھر بھی پچھتاوا نہیں ہوا۔ موجودہ ذرائع ابلاغ کے اسی کردار نے اس کی حیثیت کو مشکوک بنا کر رکھ دیا ہے جس کی بنا پر کسی واقعے کے بارے میں یک طرفہ دستیاب معلومات کی بنا پر کچھ کہنا ادبی بے احتیاطی محسوس ہوتا ہے۔
رہی بات مسلم شدت پسندی کی تو اس ضمن میں جہاں یہ بجائے خود قابل مذمت وتنقید ہے، وہیں اس کے پس پردہ محرکات میں سے شعوری یا غیر شعوری طو رپر کسی کے ہاتھوں میں استعمال ہونا بھی اس کے عناصر کی بنیادی خامی رہی ہے۔ میرے خیال میں تو حالیہ اسلامی تاریخ کا یہ المیہ رہا ہے کہ ہمیں بعد از فتح معلوم پڑتا ہے کہ شاید یہ ہماری فتح نہیں۔ سوویت جہاد اس کی زندہ مثال ہے۔
میں ایک بار پھر آپ جناب کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اپنے قیمتی اوقات میں سے بروقت اپنے تجزیہ سے مشرف کیا۔ میری ایک رائے تھی جو غلط بھی ہو سکتی ہے جس کا اظہار آپ کی خدمت میں اپنی اصلاح کی خاطر کر دیا۔

زاہد وزیر

آپ نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں میں القاعدہ کے ملوث ہونے کی وجہ سے افغانستان میں امریکہ کے خلاف لڑائی کو جہاد نہیں کہا جا سکتا، لیکن کہا جاتا ہے کہ القاعدہ کو خواہ مخواہ ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے اور اس کا ان واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔ اس صورت میں آپ کا سارا استدلال بے بنیاد ہو جاتا ہے۔

محمد عمار خان ناصر

القاعدہ کے وجود یا گیارہ ستمبر جیسے واقعات میں اس کے کردار کی نفی دو طرح کے حلقے کر رہے ہیں:
ایک، مغربی دنیا کے وہ صحافی اور تجزیہ نگار جو امریکہ کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے ناقد ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو امریکی تسلط کی توسیع کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہ تنقید اپنی جگہ بے حد وزن رکھتی ہے، تاہم میرے نزدیک القاعدہ کے وجود اور سرگرمیوں سے انکار ایک مبالغہ پر مبنی رد عمل ہے۔
دوسرے، مسلمانوں کے وہ مذہبی وسیاسی قائدین جو ایک طرف دہشت گردی کے واقعات کا دفاع بھی نہیں کرنا چاہتے اور دوسری طرف ان واقعات کے ذمہ دار انتہا پسند عناصر سے علانیہ براء ت کا حوصلہ بھی نہیں رکھتے۔
ان دو عناصر کے علاوہ جہاں تک جہادی عناصر اور خاص طور پر نائن الیون کے وقت بن لادن وغیرہ سے قریبی تعلق رکھنے والے لوگوں کا تعلق ہے، ان کے ہاں اس ضمن میں کوئی ابہام نہیں پایا جاتا۔ وہ ان حملوں کو جائز سمجھتے اور موقع ملنے پر مزید ایسی کارروائیاں کرنے کے عزائم رکھتے ہیں۔ خود آج تک القاعدہ کی قیادت نے ایک دفعہ بھی یہ کہنے کی ضرورت نہیں سمجھی کہ اسے دہشت گردی کے جن واقعات کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے، اس سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس کے برعکس متعدد وڈیوز میں القاعدہ کے مختلف راہنما ان حملوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ’’مجاہدین‘‘ کو کامیابی پر مبارک باد دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ القاعدہ کے زاویہ فکر سے اتفاق رکھنے والے جہادی طبقات کا فکری لٹریچر بھی اس معاملے میں بالکل واضح ہے۔ یہاں نمونے کے طو رپر صرف ایک اقتباس درج کرنا کافی ہوگا جو الہجرہ پبلی کیشن، کراچی کے زیر اہتمام شائع ہونے والی کتاب ’’برمودا تکون اور دجال‘‘ سے ماخوذ ہے۔ اس کے مصنف مولانا عاصم عمر ہیں اور اس میں جدید مغربی تہذیب کی فتنہ سامانیوں کے تناظر میں جہادی عناصر کے نظریات کی ترجمانی کی گئی ہے۔ مصنف نے اس کے صفحہ ۱۵۴، ۱۵۵ پر لکھا ہے:
’’جو لوگ ۱۱ ستمبر کے حملوں کو یہودیوں کی کاروائی قرار دیتے ہیں، اس کی اصل وجہ بھی میڈیا کا بنایا ہوا ذہن ہے۔ میڈیا نے دنیا کی تمام برائیاں، بے غیرتی کے کام، بزدلی، افراتفری، انتشار پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے کھاتے میں ڈال دیے ہیں اور تمام اچھائیاں، بہادری کے کارنامے اور امن وسکون مغربی معاشرے یا ہندو معاشرے میں پائی جاتی ہیں۔ گویا کوئی مسلمان اس قابل ہی نہیں کہ دنیا میں کوئی بہادری کا کام انجام دے سکے۔ یہ سوچ عام ہے جو آپ کسی بھی میڈیا پر نظر رکھنے والے کی زبان سے سنتے رہتے ہیں۔ جو لوگ ۱۱ ستمبر کے حملوں کو مجاہدین کی کاروائی تسلیم نہیں کرتے، اس میں بنیادی عنصر یہی کارفرما ہے کہ ان کے ذہنوں میں یہ بٹھا دیا گیا ہے کہ کوئی مسلمان اس قابل ہے ہی نہیں۔ یہ بے چارے اس دنیا کو ابھی تک اسی کی دہائی والی دنیا ہی سمجھ رہے ہیں۔ ان کو علم نہیں کہ امت محمدیہ بیدار ہے اور بازی الٹ چکی ہے۔
ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ لوگ میدان جہاد سے بہت دور ہیں اور ان کو جہاد کے میدانوں سے کوئی خبر نہیں مل پاتی بلکہ ان کی تمام معلومات اخبارات اور ٹی وی رپورٹوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ نیز یہ حضرات نہ تو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی حقیقت کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی پینٹاگون کو۔ وہ بس اتنا جانتے ہیں کہ یہ دو عمارتیں تھیں۔ یہ درحقیقت دو بت تھے جس کی تمام دنیا پوجا کرتی تھی۔ یہ عمارتیں ’’طاغوت‘‘ تھیں جن کو رازق مانا جاتا تھا۔ یہ ابلیس کی سیکڑوں سال کی محنت تھی جس کو اس نے گزشتہ صدی میں عملی صورت میں پیش کیا، لیکن چند اللہ والوں نے لمحوں میں ملیامیٹ کر دیا۔ یہ افواہ خود یہودی دانش وروں کی جانب سے مغربی میڈیا کے ذریعہ پھیلائی گئی۔ اس کے بعد مسلمانوں میں موجود صحافیوں نے اس کو بڑی گہری تحقیق سمجھ کر پھیلانا شروع کر دیا۔ یہ یہ خبر جہاد کے دشمنوں کی خواہشات کے مطابق تھی سو انھوں نے بھی اس کو من وعن قبول کر لیا۔
اس کھلی اللہ کی مدد کو یہودیوں کے کھاتے میں ڈالنے کا مقصد یہ تھا کہ ایک تو مسلمانوں کے حوصلے بلند نہ ہو جائیں کہ جہاد کی قوت کے ذریعے امریکہ کو شکست دی جا سکتی ہے۔ دوسرا خود یہودیوں کو سہارا دینا مقصد تھا کہ گھبرانے کی بات نہیں ہے۔ اگر یہودیوں کو یہ نہ بتایا جاتا تو دنیا بھر کے یہودی اسرائیل جانے سے انکار کر دیتے۔ وہ کہہ سکتے تھے کہ تم خود امریکہ میں محفوظ نہیں ہو تو ہمیں اسرائیل میں کس کے بھروسے بھیجتے ہو۔
اس بارے میں جتنے بھی دلائل دیے گئے، سب یہودی دماغوں کی خرافات تھیں جو وہ ہمیشہ حق کو مشتبہ بنانے کے لیے شکوک پیدا کیا کرتے تھے۔ ان کے دیے گئے دلائل میں ہی اگر عقل رکھنے والا غور کرے تو تمام دلائل کو ایک دوسرے سے متضاد پائیں گے۔‘‘ 
القاعدہ اور اس کے ہم نوا جہادی عناصر کے اس زاویہ فکر کو سامنے رکھا جائے تو ان کے دفاع میں سخن سازیاں کرنے والے حضرات پر ’’مدعا علیہ سست، وکیل صفائی چست‘‘ کی مثال پوری طرح صادق آتی ہے۔
یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ بعض مغربی تجزیہ نگار گیارہ ستمبر کے حادثے کی بعض عملی اور تکنیکی تفصیلات اور چند دیگر قرائن کی روشنی میں جو شبہات پیش کر رہے ہیں، ان کا حاصل یہ ہے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور انھیں رو بعمل کرنے میں امریکی ایجنسیاں ’’بھی‘‘ ملوث ہو سکتی ہے۔ یہ کہنا کہ اس میں مسلمانوں نے سرے سے کوئی کردار ہی ادا نہیں کیا، مکابرہ اور انکار عیان کا درجہ رکھتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نظریہ سازش کے مویدین امریکی ایجنسیوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے مغربی صحافیوں کے تجزیوں اور رپورٹوں کی دہائی تو دیتے ہیں، لیکن یہ بالکل نہیں بتاتے کہ انھی میں سے بعض یہ دعویٰ بھی کرتی ہیں کہ بن لادن کے باقاعدہ امریکی ایجنسیوں سے رابطے تھے۔ مثال کے طور پر ایک تجزیاتی ڈاکومنٹری میں برطانوی اخبار گارجین کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن جو ۱۹۹۸ء کے بعد سے امریکہ کو مطلوب تھے، ۴؍ جولائی ۲۰۰۱ء کو انھوں نے دوبئی میں ایک امریکی ہسپتال میں طبی امداد لی اور سی آئی اے کے ایک عہدے دار نے ان سے ملاقات کی۔ (دیکھیے: http://www.safeshare.tv/v/7U9My36B4Ps)
میں اس تجزیے کی صداقت یا واقعیت کے بارے میں تیقن سے کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں، اس لیے کہ میری معلومات کی حد تک علمی طور پر اس کی حیثیت ابھی تک ایک فرضیے کی ہے، البتہ اتنی بات واضح ہے کہ امریکی پالیسی سازوں نے اس واقعے کو اپنے عالمی مفادات اور ترجیحات کے حصول کے لیے ناجائز طور پر استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اب اگر فی الواقع اس واقعے کے پیچھے خود امریکہ کی پیشگی منصوبہ بندی موجود تھی تو میرے نزدیک اس سے القاعدہ کے جرم کی سنگینی کم نہیں ہوتی بلکہ اور زیادہ بڑھ جاتی ہے، اس لیے کہ اس طرح اس نے نہ صرف یہ کہ ایک غیر شرعی عمل کا ارتکاب کیا، بلکہ دانستہ یا نادانستہ امریکی استعمار کے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے عملاً راہ ہموار کرنے کا کردار بھی ادا کیا۔ چنانچہ ان حملوں میں امریکی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کی مفروضہ صورت حال القاعدہ کو بری الذمہ قرار نہیں دیتی بلکہ امت مسلمہ کی طرف سے ایسے عناصر کے کڑے مواخذہ واحتساب کی ضرورت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔

حافظ محمد سمیع اللہ فراز

جہاد افغانستان کے حوالے سے آپ کے دیے گئے فتوے کو جس تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، اسے ’ممکنہ رد عمل‘ بھی کہہ سکتے ہیں، تاہم اپنے موقف کے دفاع میں آپ کے دلائل اور طرز استدلال آپ کے نقطہ نظر کی مضبوطی کے بجائے کمزوری کا باعث بنے ہیں، کیونکہ:
۱۔ اگر آپ کے بقول ثبوت جرم نہ ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جرم ہی نہیں ہوا تو اس کا لازمی تتمہ بھی سامنے رہنا چاہیے کہ اگر جرم ثابت نہ ہو سکے تو کوئی عدالت یا اتھارٹی اس پر قانونی یا شرعی سزا کا حکم عائد نہیں کر سکتی۔ کیا ۱۱ ستمبر میں القاعدہ کا جرم ثابت ہو گیا ہے؟ اگر نہیں تو کیا ان پر حملہ یا ان کے نام پر کسی اسلامی مملکت پر حملہ کوئی اخلاقی جواز رکھتا ہے؟
۲۔ ’حدثنا واخبرنا‘ کی صورت میں آپ کا ’تکنیکی مزاح‘ دراصل سنجیدگی کا بھی متقاضی ہے، کیونکہ تحقیق کی دنیا میں اس کی حیثیت مسلم ہے۔ اگر حدثنا واخبرنا اور مشاہدہ کو ذرائع علم سے خارج کر دیا جائے یا ان پر اعتماد کی بجائے محض سماع پر اعتبار کیا جائے تو فرمائیں کہ ثبوت وشواہد کی بنیاد پر جاری تحقیق کا طالب علم اور کن ذرائع پر اعتماد کرے؟ اس کے مقابلے میں موجودہ میڈیا کی سجائی ہوئی افواہ سازی کی صنعت کی بنیاد پر ہم نے فیصلہ سازی یا فکری تشکیل انجام دینی ہے تو اس سے بڑھ کر غیر سنجیدہ وغیر تحقیقی رویہ نہیں ہو سکتا۔ کیا ’یا ایہا الذین آمنوا ان جاء کم فاسق بنبا فتبینوا‘ اس موقع پر ہم سے کسی تقاضے کا متحمل نہیں؟
۳۔ ’القاعدہ‘ کے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کا آپ کی طرف سے پیش کردہ ’اکلوتا‘ ثبوت بھی فہم میں جگہ نہیں پا سکا کہ القاعدہ کی قیادت نے آج تک اس کی تردید نہیں کی۔ اگر کسی کا اعتراف جرم سے انکار یا واقعہ کی تردید اس کی بریت کے لیے کافی ہے تو شاید ہر مجرم ایسا کرنے کے لیے تیار ہو۔
۴۔ ’’دس سال سے ساری دنیا اس کا نام لے کر اس پر یہ الزام لگا رہی ہے‘‘ کا جملہ بھی آپ کے موقف کی کمزوری کا سبب ہے۔ ساری دنیا سے مراد اگر تو انسانی رائے عامہ ہے تو آپ کا استدلال صائب نہیں۔ اگر آپ میڈیا کو ’ساری دنیا‘ قرار دے رہے ہیں تو آپ کی بات درست ہے۔
۵۔ تحقیقی ذوق کا تقاضا ہے کہ یہ بات واضح ہو کہ جس طرح دیگر بیسیوں اسلامی تحریکیں اپنی زمینی تاریخ کی حامل ہیں کہ وہ کب قائم ہوئیں؟ کن مقاصد اور طریقہ ہاے کار پر ان کی بنیاد رکھی گئی؟ بنیاد رکھنے والے کون تھے؟ ان کے مخاطبین یا متاثرین کی تفصیل کیا ہے؟ ہر ایک اسلامی تحریک ان بنیادی سوالات کا جواب رکھتی ہے، سوائے القاعدہ کے جو کبھی اپنی کسی طبعی تاریخ کی حامل نہیں رہی اور جو تاریخ ہے بھی، وہ غیر مستند اور جانب دار ذرائع اطلاعات سے۔
اگر تو صرف اسامہ بن لادن اور الظواہری کا نام القاعدہ ہے تو تاریخ کا طالب علم جانتا ہے کہ کسی تحریک یا نظریہ کی پاسدار جماعت کا یہ نظم کبھی نہیں ہوتا اور اگر ایک رائے کے مطابق اسامہ اور الظواہری کسی بوگی مین کا کردار ادا کر رہے ہیں تو اس سے دیگر جہادی عناصر کو بدنام کرنے یا مسلم کشی کی امریکی مہم میں ہمیں حصہ دار نہیں بننا چاہیے۔
۶۔ چنانچہ ایک غلط مفروضے کی بنیاد پر جاری جنگ کبھی صحیح نتیجے پر منتج نہیں ہو سکتی۔ جھوٹ اور گناہ کی بنیاد پر شروع ہونے والی لڑائی کا دفاع ’تعاونوا علی البر والتقوی‘ کے زمرے میں آتا ہے، چنانچہ اسے جہاد یا اسلامی لڑائی نہ کہنا بھی حق کی حمایت نہیں۔ اگر اس معاملے میں کوئی انفرادی رائے کا حامل ہو تو اس کا شیوع بھی میرے نزدیک اہل علم وتحقیق کی رائے پر سنجیدگی سے غور وفکر اور حقائق سے بتکلف اغماض کے مترادف ہے۔ واللہ اعلم

محمد عمار خان ناصر

۱۔ افغانستان پر حملے کے متعلق میرا کہنا یہ ہے کہ اگر امریکہ القاعدہ کے ملوث ہونے کا قانونی ثبوت فراہم کر دیتا تو بھی یہ حملہ جائز نہیں تھا۔ بین الاقوامی قانون میں اس طرح کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مختلف طریقہ تجویز کیا گیا ہے جس کی امریکہ نے خلاف ورزی کی۔ لیکن امریکہ کے ناجائز حملہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس سے پہلے القاعدہ جو ناجائز حملہ کر چکی تھی، وہ جائز ہو جائے یا قانونی معیار سے ہٹ کر دیگر قرائن وشواہد سے القاعدہ کا ملوث ہونا ثابت ہو تو بھی محض امریکہ کی مخالفت میں ’’کتمان حق‘‘ کو ’’اسلامی حمیت‘‘ کے نام پر اختیار کر لیا جائے۔
۲۔ براہ راست اطلاعات یا معلومات کے استناد کی نفی نہیں کی گئی، بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ ہر معاملے میں رائے قائم کرنے کے لیے سند متصل کے ساتھ اطلاع ملنا ضروری نہیں ہوتا۔ براہ راست اور بالواسطہ دونوں طرح کی معلومات کی اپنی اپنی اہمیت ہے اور بہت سے قرائن وشواہد مل کر اگر بالواسطہ حاصل شدہ معلومات کی تائید کر رہے ہوں تو وہ بھی ایک قابل اعتماد ذریعے کا درجہ رکھتے ہیں۔ مزید برآں میں نے ’’حدثنا واخبرنا‘‘ کے ساتھ ملنے والی بعض اطلاعات کا حوالہ بھی دیا ہے جو القاعدہ کے ارتکاب جرم کا ثبوت مہیا کرتی ہیں۔
۳۔ کسی ملزم کے اپنے اوپر لگائے جانے والے الزام کی تردید کرنے سے یقیناًیہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بے گناہ ہے، لیکن اگر وہ الزام کی تردید نہ کرے تو اسے اس کے اقرار کے مترادف سمجھنا کامن سینس کی بات ہے۔ فقہ میں پڑھا ہوگا کہ مدعی ثبوت پیش نہ کر سکے تو مدعا علیہ سے قسم طلب کی جائے گی۔ اگر وہ قسم نہ کھائے تو یہ اقرار کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ لعان میں بھی عورت کا جوابی قسمیں نہ کھانا اعتراف ہی سمجھا جاتا ہے۔ یہ استدلال عجیب ہے کہ اگر الزام کی تردید کرنے سے بے گناہ ہونا ثابت نہیں ہوتا تو تردید نہ کرنے سے گناہ گار ہونا بھی ثابت نہیں ہوتا۔ خود غور فرمائیں۔
۴۔ ذرائع ابلاغ سے ملنے والی بعض اطلاعات کے غلط ثابت ہو جانے سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ ان کی پیش کردہ تمام معلومات، اطلاعات اور تجزیے غلط ہیں، موجب حیرت ہے۔ آخر اس طرز فکر میں اور مستشرقین کے طرز فکر میں کیا فرق ہے جو ذخیرۂ حدیث میں موجود وضع کے بعض شواہد کی روشنی میں یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پورا ذخیرۂ حدیث ہی ناقابل اعتماد ہے اور پہلی صدیوں میں مسلمانوں کی ساری علمی مشینری کا ہمہ تن شغل یہی تھا کہ وہ حدیثیں گھڑ گھڑ کر پیغمبر کی طرف منسوب کرتی رہے؟ 

محمد عمران خان

۱۔ جیسا کہ آپ یہ مانتے ہیں کہ طالبان جو کہ ایک اسلامی حکومت ہے، اس پر امریکہ کا حملہ ظالمانہ تھا تو کیا اس کا منطقی نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ طالبان کا اپنا دفاع کرنا جہاد کہلائے گا؟
۲۔ لیکن القاعدہ پر الزام جرم کو ہی دلیل جرم کہہ رہے ہیں۔ یہ آپ جیسے اسکالر سے بعید ہے۔ اور جو آپ اس کے صحیح ہونے کے نظائر پیش کر رہے ہیں، وہ سارے قاضی سے متعلق ہیں نہ کہ کوئی کافر حکومت ان الزامات اور نیم پختہ دلیل کو استعمال کرتے ہوئے حملہ کر دے تو اس کا دفاع کرنا جہاد نہ قرار دیا جائے۔
۳۔ آپ نے میرے چند سوالات کا جواب نہیں دیا:
الف۔ کیا امریکہ کا عراق پر حملہ کرنا بغیر کسی WMD کے ثبوت کے دہشت گردی نہیں تھا؟
ب۔ کیا اگر اسی طرح امریکہ پاکستان پر حملہ کرتا ہے کہ یہاں القاعدہ موجود ہے تو کیا اس کا مقابلہ کرنا جہاد نہیں ہوگا؟ 
ج۔ آپ دہشت گردی کی کوئی ایسی تعریف کر دیں جس میں القاعدہ آ جائے اور امریکہ نکل جائے۔

محمد عمار خان ناصر

۱۔ طالبان کے حق دفاع کی تائید کے باوجود اسے ’’جہاد‘‘ کہنے سے گریز کی وجہ میں تفصیل سے واضح کر چکا ہوں۔ اگر یہ حملے صرف طالبان کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے ہوتے تو یقیناًیہ جنگ، جہاد ہوتی، لیکن ان حملوں کا ظاہری جواز امریکہ میں دہشت گردی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی بنا اور بن لادن وغیرہ کے طالبان حکومت کی پناہ میں ہونے کی وجہ سے ان کی حکومت بھی زد میں آئی۔ ادھر امریکہ کا اتنے بڑے پیمانے پر رد عمل ظاہر کرنا بھی درست نہیں تھا۔ اس طرح اس جنگ میں حق اورباطل اس طرح سے مخلوط ہو گئے ہیں کہ میرا فہم دین اسے ’’جہاد‘‘ سے تعبیر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ تاہم یہ رائے کا معاملہ ہے۔ دوسرے حضرات یقیناًاس سے اختلاف کر سکتے ہیں۔
۲۔ ارتکاب جرم کی تردید نہ کرنے سے ملزم کو معترف تصور کرنے کی جو مثالیں ذکر کی گئیں، وہ یقیناًعدالت سے متعلق ہیں، لیکن وہ جس اصول پر مبنی ہیں، وہ ایک عام عقلی اصول ہے۔ سادہ بات ہے کہ اگر ملزم، مجرم نہیں ہے تو اسے الزام کی تردید کرنی چاہیے۔ اگر وہ تردید نہیں کرتا اور الٹا جرم کے ارتکاب کو جائز قرار دیتا اور اسے انجام دینے والوں کو مبارک باد پیش کرتا ہے تو یہی سمجھا جائے گا کہ وہ اعتراف کر رہا ہے۔
۳۔ امریکہ کے عراق یا پاکستان پر حملہ کرنے کی حیثیت اسی اصول سے اخذ کی جا سکتی ہے جو میں نے افغانستان سے متعلق عرض کیا ہے۔ خاص طور پر پاکستان نے القاعدہ کو کوئی پناہ فراہم نہیں کی، بلکہ ا س کے خلاف کارروائی کر رہا ہے، اس لیے بین الاقوامی قانون کی رو سے امریکہ کے لیے پاکستان کی ریاستی خود مختاری کو پامال کرنا جائز نہیں۔ طالبان نے بن لادن وغیرہ کو پناہ دے رکھی تھی، جبکہ وہ القاعدہ کے پلیٹ فارم سے امریکہ کے مفادات اورتنصیبات وغیرہ پر حملوں کا اعلان بہت پہلے سے کر چکے تھے، اس لیے کسی عملی کارروائی میں طالبان شریک نہ ہوں، پھر بھی ایک نوع کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ 
اگر پاکستانی حکومت اور ایجنسیاں بھی درون خانہ القاعدہ کی قسم کے عناصر کو پناہ اور مدد فراہم کر رہی ہوں اور خدانخواستہ اس کے نتیجے میں کوئی جنگ پاکستان پر مسلط ہو جائے تو میرے نزدیک یہ بھی دفاع وطن ہی کی جنگ ہوگی، ’جہاد‘ نہیں۔ ’جہاد‘ ایک نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ مذہبی فریضہ ہے۔ اس کا معیار محض ایک فریق کا مسلمان اور دوسرے فریق کا غیر مسلم ہونا نہیں۔ مال ومنال اور حصول اقتدار کے جذبے سے، دوغلے پن اور خیانت کی اساس پر اور شریعت کے مقرر کردہ اخلاقی ضوابط کو پامال کر کے لڑی جانے والی کوئی جنگ ’جہاد‘ نہیں کہلا سکتی۔ ایسی صورت حال میں میرا تبصرہ جنگ کے تمام فریقوں پر وہی ہوگا جو ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے بنو امیہ کے زمانے کی شورشوں پر کیا تھا:
ہذہ الدنیا التی افسدت بینکم، ان ذالک الذی بالشام واللہ ان یقاتل الا علی الدنیا، وان ہولاء الذین بین اظہرکم واللہ ان یقاتلون الا علی الدنیا، وان ذالک الذی بمکۃ واللہ ان یقاتل الا علی الدنیا (بخاری، رقم ۷۱۱۲)
’’یہ تو دنیا ہے جس نے تمھارے مابین فساد برپا کر رکھا ہے۔ بخدا، یہ جو شام میں ہے، وہ بھی صرف دنیا کے لیے لڑ رہا ہے اور بخدا، یہ جو (بصرہ میں) تمھارے درمیان ہیں، یہ بھی صرف دنیا کے لیے لڑ رہے ہیں اور بخدا، یہ جو مکہ میں ہے، وہ بھی صرف دنیا کے لیے لڑ رہا ہے۔‘‘
جہاں تک امریکہ کے دہشت گرد ہونے یا نہ ہونے یا دہشت گردی کی کوئی ایسی تعریف بیان کرنے کا تعلق ہے جس سے امریکہ نکل جائے تو یہ نہ ہمارا موضوع ہے اور نہ مقصد۔ ہمیں خواہ مخواہ نہ امریکہ کی تائید کرنی ہے اور نہ طالبان یا کسی اور کی۔ شرعی اوراخلاقی ضوابط کی پامالی کسی بھی فریق کی طرف سے سامنے آئے، چاہے وہ امریکہ ہو یا القاعدہ یا پاکستانی فوج یا طالبان یا دوسرے انتہا پسند عناصر، یکساں قابل مذمت ہے۔ ویسے بھی دہشت گردی کی قانونی تعریف ایک تکنیکی مسئلہ ہے۔ اگر امریکہ کے بہت سے اقدامات تکنیکی طور پر دہشت گردی قرار نہ دیے جا سکیں تو بھی مسلمہ اخلاقی معیارات کے مطابق ان کے ظلم اور ناجائز ہونے میں کوئی کلام نہیں ہو سکتا۔
میرے خیال میں اب تک کی گفتگو سے زیر بحث نکات کی کافی حد تک تنقیح ہو چکی ہے اور جیسا کہ محترم مولانا مفتی محمد زاہد صاحب نے فرمایا، اس بات پر ہمارے مابین اتفاق ہے کہ نائن الیون جیسے واقعات ہر حال میں ناجائز اور غیر شرعی ہیں اور اس کا ارتکاب کرنے والوں کی تائید نہیں کی جا سکتی۔ میرے خیال میں یہ اتفاق بھی معمولی نہیں بلکہ بہت قیمتی ہے۔ نزاعی نکات پر بھی یقیناًاس گفتگو سے غور وفکر کے بہت سے پہلووں کی تنقیح ہوئی ہے۔ اللہ کرے کہ ہم صحیح بات تک پہنچنے کے لیے دیانت داری کے ساتھ کوشش کرتے رہیں۔ آمین

محمد عمران خان

آپ نے فرمایا کہ ’’اگر یہ حملے صرف طالبان کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے ہوتے تو یقیناًیہ جنگ، جہاد ہوتی، لیکن ان حملوں کا ظاہری جواز امریکہ میں دہشت گردی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی بنا اور بن لادن وغیرہ کے طالبان حکومت کی پناہ میں ہونے کی وجہ سے ان کی حکومت بھی زد میں آئی۔‘‘
جس میں یہ فرض کیا گیا ہے کہ نائن الیون کے واقعات کی ذمہ دار القاعدہ ہے جبکہ یہی تو ثابت نہیں ہے۔ طالبان نے اس کا ثبوت امریکا سے طلب کیا تھا جو کہ اس نے نہیں دیا تو اس حدیث کے مطابق ’المسلم اخو المسلم لا یظلمہ ولا یسلمہ‘ طالبان نے اسامہ کو ان کے حوالے نہیں کیا۔ تو جب بغیر ثبوت کے امریکا نے افغانستان پر حملہ کر دیا تو ان کا مقابلہ کرنا جہاد کیوں نہیں ہے؟
آپ نے فرمایا کہ ’’اس طرح اس جنگ میں حق اورباطل اس طرح سے مخلوط ہو گئے ہیں کہ میرا فہم دین اسے ’’جہاد‘‘ سے تعبیر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔‘‘ 
معلوم نہیں آپ امریکہ کو حق اور طالبان کو باطل کہتے ہیں یا اس کا عکس۔ بہرحال یہ آپ کا ’فہم دین‘ کون سی دلیل ہے! اور یہ تو مسلمہ بات ہے کہ جب مفتی پر حق اور باطل مختلط ہو جائیں تو اس کو توقف کرنا چاہیے نہ کہ ترجیح بلا مرجح کو اختیار کرے۔ اور جب تک حق واضح نہ ہو جائے، کوئی فتویٰ نہ دے۔ تو اس صورت میں آپ کا اپنی رائے کا اظہار بغیر اس اطلاع کے کہ حق اور باطل آپ پر مختلط ہیں، خطرناک ہے اور تحکم ہے جبکہ آپ صحابہ کی بات کو بھی بغیر دلیل کے نہیں مانتے۔ ایں چہ بو العجبی است!
آپ نے فرمایا کہ ’’اگر وہ تردید نہیں کرتا اور الٹا جرم کے ارتکاب کو جائز قرار دیتا اور اسے انجام دینے والوں کو مبارک باد پیش کرتا ہے تو یہی سمجھا جائے گا کہ وہ اعتراف کر رہا ہے۔‘‘
اگر آپ کو یاد ہو تو میں نے پچھلی ای میل میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ یہ تمام باتیں اسامہ نے افغانستان پر حملے کے بعد کی ہیں تو اس سے ان کا اقرار جرم نہیں ثابت ہوتا کیونکہ اس میں یہ قوی احتمال ہے کہ یہ باتیں انھوں نے امریکا کو ذہنی طور پر پریشان کرنے (psychological warfare) کے لیے کی ہوں۔ اگر آپ کے بقول ان کا انکار نہ کرنا اقرار ہے تو یہ سب تو امریکی حملے کے بعد معلوم ہوا ہے تو اس کے بہ سبب امریکی حملے کا کوئی جواز تلاش کرنا میرے فہم سے بالاتر ہے۔ یہ بات بھی محل نظر ہے کہ انکار نہ کرنا ہر وقت اقرار ہوتا ہے۔ ایک صریحاً انکار ہوتا ہے اور ایک اشارتاً انکار اور کیونکہ انکار کی صورت میں مدعی کے مطالبہ پر قسم دلائی جاتی ہے اور اگر مدعا علیہ قسم سے انکار کرتا ہے تو اس صورت میں اس کو بعض دفعہ اقرار سے تعبیر کیا جاتا ہے، چہ جائیکہ مدعی قسم کا مطالبہ ہی نہ کرے۔ اس صورت میں مدعی (امریکہ) نے قسم کا مطالبہ بھی نہیں کیا اور ثبوت بھی نہیں پیش کیا تو اس کے پاس کیا اخلاقی جواز تھا افغانستان پر حملہ کرنے کا؟

محمد عمار خان ناصر

۱۔ یہ بات دوبارہ یاد دلانا چاہوں گا کہ القاعدہ کے حملوں میں ملوث ہونے کے اثبات سے مقصود امریکی حملے کو جواز فراہم کرنا نہیں۔ قانونی طور پر طالبان کا ثبوت مانگنا بالکل درست تھا اور یہ بھی ان کا حق تھا کہ وہ ثبوت نہ دیے جانے پر بن لادن کو امریکہ کے حوالے نہ کریں۔ فرض کریں امریکہ ثبوت دے دیتا اور طالبان اسامہ کو حوالے نہ کرتے، تب بھی بین الاقوامی قانون کی رو سے حملے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ سوال امریکی حملے کے جواز کا نہیں اور نہ ہم اس وقت نائن الیون کے فوراً بعد کی صورت حال میں کھڑے ہو کر یہ بحث کر رہے ہیں۔ میں نے جو گزارش کی ہے، وہ یہ ہے کہ مختلف ذرائع معلومات، قرائن وشواہد اور خود القاعدہ کے حملوں سے پہلے اور بعد کے بیانات ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتے ہیں کہ وہ ان حملوں میں ملوث ہے، اس لیے اگر اس کی سرکوبی کے لیے حملہ ہوا ہے تو اس کے مقابلے کے لیے کی جانے والی جنگ کو ’’جہاد‘‘ نہیں کہا جا سکتا۔ جہاں تک طالبان کی ذمہ داری کا تعلق ہے تو آپ کی یہ بات درست نہیں ہے کہ القاعدہ نے حملوں کی تائید کی باتیں نائن الیون کے بعد کیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس سے بہت پہلے امریکی مراکز اور مفادات پر حملہ آور ہونے کا اعلان کر چکی تھی۔ خلیج میں امریکی افواج کی موجودگی کے خلاف اس کا رد عمل اور عزائم بہت واضح تھے اور اسی پس منظر کی وجہ سے انھیں سوڈان وغیرہ کو چھوڑ کر افغانستان میں پناہ لینا پڑی تھی۔ اس پس منظر میں اگر طالبان نے درون خانہ حقیقت حال سے واقف ہوتے ہوئے القاعدہ کو پناہ دیے رکھی تو ان پر ذمہ داری عائد ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا اور اگر اس وقت ان پر یہ بات واضح نہیں تھی اور انھوں نے اپنی معلومات کے مطابق ایک بے گناہ شخص یا گروہ کو پناہ دی تو بھی ان کی اس ناواقفیت سے معاملے کی حقیقی صورت تبدیل نہیں ہو جاتی۔ طالبان نے اگر فی الواقع دیانت داری سے، میسر معلومات کی بنا پر یہ اجتہادی خطا کی تو اس پر ملنے والے اجر میں، جو پہلے ہی آدھا ہے، ہم سب نے حصہ دار بننے کی قسم کیوں کھا رکھی ہے؟ ہماری ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ ہم ان معلومات کی بنیاد پر رائے قائم کریں جو رائے قائم کرتے وقت خود ہمیں میسر ہیں۔ 
۲۔ حق وباطل کے مخلوط ہو جانے کے ضمن میں شاید آپ میری بات سمجھ نہیں سکے۔ توقف اس صورت میں ہوتا ہے جب انسان کے ذہن پر حق اور باطل مشتبہ ہو جائے اور وہ دونوں میں فرق نہ کر سکے، جبکہ میں نے اپنے ذہن میں معاملے کی نوعیت کے مشتبہ ہو جانے کی بات نہیں کی، بلکہ نفس معاملہ میں حق کے ساتھ باطل کے مخلوط ہو جانے کا ذکر کیا ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ میرا ذہن یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا۔ اس جنگ میں حق اور باطل کے دونوں پہلو میرے سامنے بالکل واضح ہیں۔ طالبان کے حق دفاع میں کوئی کلام نہیں، لیکن نائن الیون میں القاعدہ کے کردار اور طالبان کے ان کو پناہ دینے کی وجہ سے اس میں باطل کا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے اور یہی وہ چیز ہے جو میرے لیے اس جنگ کو ’’جہاد‘‘ کا عنوان دینے سے مانع ہے۔
۳۔ جہاں تک انکار اور اقرار کی بحث کا تعلق ہے تو یہ گزارش پہلے بھی کر چکا ہوں کہ ہم یہ گفتگو دار القضاء میں بیٹھ کر نہیں کر رہے جہاں کسی دعوے کے اثبات کے لیے اختیار کردہ طریقے کی بہت سی عملی محدودیتیں ہوتی ہیں۔ ہم تو عقل عام کی بات کر رہے ہیں کہ اگر کسی شخص پر تسلسل کے ساتھ ایک الزام عائد کیا جا رہا ہو اور اس کی بنیاد پر اس کے خلاف بلکہ اس کے پورے کنبے قبیلے کے خلاف عملی اقدام کر ڈالا گیا ہو اور وہ پھر بھی الزام کی تردید نہ کرے تو انسانی عقل اس سے کیا نتیجہ اخذ کرے گی؟ آپ عام انسانی زندگی میں اس کا تجربہ کر کے دیکھ لیں۔ یہاں تو معاملہ اس سے بھی بڑھ کر ہے، کیونکہ القاعدہ نے صرف ’’سکوت‘‘ سے کام نہیں لیا، بلکہ وہ بہت پہلے سے امریکی مراکز کو نشانہ بنانے کا اعلان کر چکی تھی جبکہ حملوں کے بعد سے اس نے مسلسل ان پر تحسین وتبریک اور ایسے مزید حملوں کی حوصلہ افزائی کا طریقہ اپنا رکھا ہے۔ ایسی صورت میں آپ تکنیکی قانونی نکتے اٹھا کر اور کمزور احتمالات کو ’’قوی احتمالات‘‘ کا نام دے کر اپنے آپ کو تو مطمئن کر سکتے ہیں، لیکن عقل عام کے نزدیک اس کی حیثیت ’’یہ خیال اچھا ہے‘‘ سے زیادہ نہیں ہوگی۔
میرے خیال میں اب تک جو گفتگو ہو چکی ہے، اس سے فریقین کا نقطہ نظر اور استدلال بہت واضح ہو گیا ہے اور سردست مزید گفتگو محض تکرار کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ بہتر ہے کہ ہم اپنے اپنے موقف پر قائم رہیں اور اپنی جگہ معاملے پر مزید غور کرتے رہیں۔ مکالمے کا مقصد ہر حال میں اتفاق پیدا کرنا نہیں ہوتا۔ میں ساری گفتگو کے بعد بھی آپ کے استدلال سے مطمئن نہیں ہوا، اس لیے اپنی رائے پر قائم ہوں۔ یہی حق آپ کو بھی حاصل ہے۔ البتہ آپ کی توجہ درج ذیل دو مضامین کی طرف ضرور دلانا چاہوں گا جن سے واضح ہوتا ہے کہ نائن الیون اور امریکی حملے کے بعد طالبان اور جہادی عناصر سے ہمدردی رکھنے والے سنجیدہ اور جید دیوبندی علما صورت حال کو کس نظر سے دیکھتے تھے اور جو نقصان ہوا، اس میں طالبان اور القاعدہ کو کس حد تک ذمہ دار سمجھتے تھے۔
۱۔ ’’جہادی تحریکات کا مستقبل‘‘، از مولانا زاہد الراشدی (الشریعہ، جنوری ۲۰۰۲)
http://www.alsharia.org/mujalla/2002/jan/kalmahaq.php
۲۔ ’’خواب جو بکھر گیا‘‘، از مولانا عتیق الرحمن سنبھلی (الشریعہ، جنوری ۲۰۰۳)
http://www.alsharia.org/mujalla/2003/jan/taliban_by_sanbhli.php

محمد عمران خان

آپ نے فرمایا: ’’میں نے جو گزارش کی ہے، وہ یہ ہے کہ مختلف ذرائع معلومات، قرائن وشواہد اور خود القاعدہ کے حملوں سے پہلے اور بعد کے بیانات ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتے ہیں کہ وہ ان حملوں میں ملوث ہے، اس لیے اگر اس کی سرکوبی کے لیے حملہ ہوا ہے تو اس کے مقابلے کے لیے کی جانے والی جنگ کو ’’جہاد‘‘ نہیں کہا جا سکتا۔‘‘
جبکہ معلومات اور قرائن یہ بتاتے ہیں کہ امریکہ ان حملوں میں خود ملوث تھا۔ درج ذیل کتابوں کامطالعہ کریں:
A New Pearl Harbor, Crossing the Rubicon, The Terror Timeline
آپ نے فرمایا: ’’اگر اس وقت ان پر یہ بات واضح نہیں تھی اور انھوں نے اپنی معلومات کے مطابق ایک بے گناہ شخص یا گروہ کو پناہ دی تو بھی ان کی اس ناواقفیت سے معاملے کی حقیقی صورت تبدیل نہیں ہو جاتی۔‘‘ 
اس معاملے میں آپ القاعدہ کا قصور وار ہونا پہلے سے فرض کر رہے ہیں جبکہ انھوں نے طالبان کے سامنے اس واقعے میں ملوث ہونے سے جب انکار کر دیا تو پھر ان کے بے گناہ ہونے میں طالبان کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ باقی القاعدہ آپ کے سامنے آ کر بھی انکار کرے تو یہ قریباً ناممکن ہے۔
آپ نے فرمایا: ’’لیکن نائن الیون میں القاعدہ کے کردار اور طالبان کے ان کو پناہ دینے کی وجہ سے اس میں باطل کا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے اور یہی وہ چیز ہے جو میرے لیے اس جنگ کو ’’جہاد‘‘ کا عنوان دینے سے مانع ہے۔‘‘ 
القاعدہ کے ملوث ہونے کے بارے میں آپ کو اب جا کر یقین ہوا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اب سے پہلے آپ کے نزدیک بھی یہ جہاد ہی تھا۔ اور اب کا یقین، یہ تحریر بر آب کی مانند ہے کیونکہ یہ ایک بہت بڑے مفروضے پر کھڑا ہے، یعنی کہ القاعدہ کا میڈیا پر انکار نہ کرنا ان کے ملوث ہونے کی دلیل ہے جبکہ وہ طالبان کے سامنے انکار کر چکے ہیں اور امریکا سے وہ ویسے ہی جنگ میں ہیں۔ وہ ان سے کیوں انکار کریں گے!
آپ نے فرمایا: ’’میرے خیال میں اب تک جو گفتگو ہو چکی ہے، اس سے فریقین کا نقطہ نظر اور استدلال بہت واضح ہو گیا ہے اور سردست مزید گفتگو محض تکرار کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ بہتر ہے کہ ہم اپنے اپنے موقف پر قائم رہیں اور اپنی جگہ معاملے پر مزید غور کرتے رہیں۔ ‘‘
آئیے، اختلاف پر اتفاق کر لیتے ہیں۔

محمد عمار خان ناصر

درست کہا۔ آئیے اختلاف پر اتفاق کر لیں، کیونکہ ہم دونوں اپنا اپنا نقطہ نظر بہت وضاحت سے بیان کر چکے ہیں۔ بحث میں دلچسپی اور خلوص کے ساتھ حصہ لینے کا بہت شکریہ!

مولانا مفتی محمد زاہد

بظاہر بحث میں حصہ لینے والوں کا اس بات پر اتفاق نظر آتا ہے کہ گیارہ ستمبر کا حملہ یقیناًغلط اقدام تھا۔ اختلاف اس میں نظر آ رہا ہے کہ القاعدہ وغیرہ اس میں ملوث ہے یا نہیں۔ راقم اس سلسلے میں فتوے کی کوئی بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور نہ ہی پالیسی کے بارے میں فی الحال اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتاہے، اس کے لیے فرصت کا اور تفصیل سے بات کے موقع کا انتظار ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ مذکورہ ایشو میں امر واقعہ جاننے کے لیے یا تو جہادی لٹریچر کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے یا سب سے معقول راستہ یہ ہے کہ خود اسامہ یا ملا عمر وغیرہ سے پوچھ لیا جائے۔ لیکن مسئلہ یہاں یہ ہے کہ اب سنیوں کے ہاں بھی’ امام غائب‘ کا تصور آ گیا ہے۔ یہ شاید اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہورہا ہے کہ اتنی بڑی تحریک بلکہ عالمی جنگ ہے، اس لیے کہ طالبان کے برعکس القاعدہ کا ایجنڈا عالمی ہے ، لیکن یہ سب کچھ ایسی لیڈر شپ کے تحت ہورہا ہے جس کے بارے میں اتا پتا نہیں کہ وہ کہاں ہیں ، ان سے کوئی ان کی طرف منسوب کسی بات کی تصدیق نہیں کرسکتا ، ان سے کوئی رابطہ نہیں کرسکتا۔ قیادت کی ایسی غیبوبت طویلہ کی مثال اہل السنۃ کے ہاں شاید پہلی مرتبہ دیکھنے میں آئی ہے۔ اصل بات ہمارے جہادی نوجوانوں اور کافی حد تک دینی مدارس کے طلبہ کے مائنڈ سیٹ کی ہے۔ آج بھی نائن الیون یا داتا دربار پر حملے جیسی حرکت کے غلط ہونے کا ذہن ان مدارس کے نوجوانوں میں کس حد تک موجود ہے اور ہماری درس گا ہیں اس سلسلے میں اپنا فرض ادا کرنے میں کتنی کامیاب ہیں، یہ اہم سوال ہے۔ یہ تصور کرنا کہ امریکا نے جو کچھ کیا، وہ اخلاقی جواز کے تحت خلوص نیت سے دنیا کو پرامن بنانے کے لیے کیا، خود فریبی ہے۔ آج اصل چیز پالیسی سازوں کے مفادات ہوتے ہیں، جواز اس کے مطابق گھڑ لیے جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ فتوے کا نہیں، پالیسی کا ہے۔ اگر ہم واقعی امت ہیں اور پاکستانی اور افغانی ہونے کی حیثیت سے قوم ہیں تو ہمارے بھی ملی اور قومی مفادات ہوں گے۔ اصل دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اپنے ملی اور قومی مفادات کے سلسلے میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے۔ امریکا سے زیادہ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے جس کا طریقہ یہ ہے کہ بے لاگ تجزیہ کیا جائے کہ کس سے کہاں کیا غلطی ہوئی ہے؟ خواہ وہ پرویز مشرف ہو (جو میرے خیال میں اس موقع پر سب سے زیادہ ناجائز فائدہ اٹھانے والا کردار ہے)، ملا عمر ہو، اسامہ ہو یا کوئی اور۔ یہ غلطی مفاد اور لالچ کے تحت ہوئی ہو یا سادہ لوحی اور کم فہمی کی وجہ سے۔ کم از کم سنیوں کے ہاں ’’ائمہ معصومین‘‘ کا تصور نہیں ہونا چاہیے۔ افسوس ہے کہ صرف اس نقطے پر ہی لوگوں کو لانے کے لیے خاصی محنت درکار ہے۔ باقی اصل بحث کے بارے میں فی الحال میں اپنی رائے نہیں دے رہا ، میرے خیال میں مثبت مباحثے کا ماحول زیادہ اہم مسئلہ ہے ۔

مولانا محمد الیاس نعمانی

شکر گزار ہوں کہ آپ نے جہاد افغانستان کے بارے میں اپنی رائے ارسال کی، اسی کی بابت کچھ عرض کرنے کا ارادہ ہے۔ آپ نے جو کچھ پاکستانی عوام کی بابت جہاد افغانستان کے حوالہ سے تحریر کیا ہے اس سے تو اس عاجز کواتفاق ہے، لیکن افغانیوں کے لیے اس جنگ کی حیثیت کی بابت میں آپ کی رائے سے اتفاق نہ کرسکا۔ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں، آپ کی عبارت کا حاصل یہ ہے کہ:اگر چہ آپ کے نزدیک ۱۱؍ستمبر کے حملوں کے لیے القاعدہ کے تیار کردہ ذہن ذمہ دار تھے ، لیکن طالبان ان حملوں کی منصوبہ بندی میں شریک نہیں تھے، لہٰذا امریکہ اور اس کے معاونین کے لیے آپ کے نزدیک اس کا کوئی جواز نہیں تھا کہ وہ ’’گیارہ ستمبر کے حملوں کے جواب میں طاقت کے بے محابا اور غیر ضروری استعمال سے پورے ریاستی نظم کو تباہ‘‘ کرتے، اور جب انہوں نے ایسا کیا تو ’’ طالبان یقیناًاس کا حق رکھتے تھے اور رکھتے ہیں کہ اپنی حکومت اور اقتدار کا دفاع کریں اور اسے بچانے یا بحال کرنے کے لیے حملہ آور طاقتوں کے خلاف جنگ کریں۔‘‘اب آپ غور فرمائیں کہ کسی اسلامی حکومت کے خلاف اگر کوئی ملک بلا جوازطاقت کے بے محابا اور غیر ضروری استعمال سے توپ وتفنگ کی بارش کردے، اور ان جنگی جرائم کا مرتکب ہو جن کا ارتکاب امریکہ کی قیادت میں وہاں مختلف ملکوں کی فوجوں نے کیا ہے تو کیا ان کا مقابلہ کرنا اور اسلامی حکومت کو بچانا جہاد نہیں تھا، شاید آپ نے اسی سوال کا جواب دینے کے لیے تحریر فرمایا ہے کہ:
’’جہاں تک اس جنگ کو یا مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین کسی بھی جنگ کو ’’جہاد‘‘ قرار دینے کا تعلق ہے تو اس کے لیے ازروے شریعت یہ ضروری ہے کہ جنگ کا باعث اور محرک مسلمانوں کی طرف سے کوئی ایسی چیز نہ بنی ہو جو اخلاقی اور شرعی طور پر قابل اعتراض ہو۔ اگر مسلمانوں کا کوئی ناجائز اور غیر شرعی اقدام جنگ کا سبب بنا ہو تو اسے ’’جہاد‘‘ جیسے مقدس فریضے کا عنوان دینا درست نہیں۔‘‘
یعنی چونکہ آپ کے نزدیک اس جنگ کی بنیاد نائن الیون کا دہشت گردانہ حملہ تھا اور وہ مسلمانوں نے کیا تھا، اس لیے اس کو جہاد نہیں کہا جاسکتا، لیکن آپ ذرا غور فرمائیں کہ یہ حملہ اگر القاعدہ کے لوگوں نے کیا بھی تھا تو اس کی ذمہ دار حکومت تو نہیں تھی، اور امریکہ وغیرہ نے جنگ القاعدہ سے نہیں طالبان اور افغانیوں سے کی تھی، لہٰذا اس جنگ کی اس بنیاد کی ذمہ دار جب طالبان کی اسلامی حکومت نہیں تھی تو ا س کے خلاف چھیڑی گئی جنگ اور افغانیوں کے گھر پر کیے گئے حملے سے نپٹنا کیا ان کے لیے جہاد نہیں تھا، آپ کہہ سکتے ہیں کہ اگر چہ اس حملہ میں وہ شریک نہیں تھے لیکن انہوں نے اس کے اصل ذمہ داروں کو پناہ دی ہوئی تھی، اور یہ ان کا جرم تھا، لیکن کیا جنگ کے آغاز کے وقت طالبان کو ایسے ثبوت دے دیے گئے تھے جس کی بنا پر وہ نائن الیون کے حملہ میں القاعدہ کی افغانستان میں مقیم قیادت کی ذمہ داری کا یقین کرلیتے؟یقیناًنہیں، اب ذرا دیکھیں تو آپ کے نزدیک طالبان کی اسلامی حکومت کے خلاف امریکہ کی جانب سے چھیڑی گئی جنگ ایک ایسے واقعہ کی بنیاد پر تھی جس کا افغانستان کی حکومت اور افغانیوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، آپ کی نگاہ میں اس کے جو مجرم تھے وہ اگر چہ ان کے یہاں مقیم تھے لیکن کم از کم حکومت کے نزدیک ابھی جرم ثابت نہیں ہوا تھا، تو ایسی صورت میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے چھیڑی گئی جنگ کا مقابلہ افغانیوں کے لیے جہاد کیوں نہیں ہے؟

محمد عمار خان ناصر

میرے نقطہ نظر پر آپ کے نقد علمی کا بے حد شکریہ! میرے خیال میں جو نکتہ آپ نے بیان کیا ہے، وہی ہے جو اس معاملے کو پہلو دار بناتا اور ایک سے زیادہ آرا کی گنجائش پیدا کرتا ہے۔ میں اپنے زاویہ نگاہ کی اساس سابقہ بحث میں واضح کر چکا ہوں۔ اول تو یہ فرض کرنا بے حد مشکل ہے کہ القاعدہ کے عزائم اور منصوبوں کے بارے میں طالبان حکومت آگاہ نہیں تھی۔ وہ سادہ ضرور تھے، لیکن اتنے نہیں۔ پھر مجھے خوب یاد ہے کہ ان حملوں کے فوراً بعد اسامہ کا وہ پہلا ویڈیو خطاب منظر عام پر آ گیا تھا جس میں حملے پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے مجاہدین کی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔ خود طالبان شوریٰ نے اسامہ سے ازخود افغانستان سے چلے جانے کی جو اپیل کی تھی، وہ بھی اسی کی غمازی کرتی ہے کہ وہ القاعدہ کے کردار سے خوب واقف تھے۔ 
افغان امور کے معروف تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی نے، جنھیں ملا محمد عمر سے تقریباً ایک درجن ملاقاتیں کرنے کا موقع ملا، اپنے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ ۱۹۹۸ء میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملوں کے بعد طالبان اور بن لادن کے تعلقات کافی کشیدہ ہو گئے تھے اور طالبان نے بن لادن کو چیچنیا بھیج دینے کی کوشش بھی کی تھی، لیکن بوجوہ اس پر عمل نہ ہو سکا۔ (دیکھیے: http://www.youtube.com/watch?v=Vmc6_wKaziM)
اسی بات کی تصدیق طالبان کے سابق وزیر خارجہ ملا وکیل احمد متوکل نے بھی کی ہے، چنانچہ مغربی صحافی گیرتھ پورٹر (Gareth Porter) نے ملا متوکل کے ساتھ اپنی براہ راست گفتگو کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان نے اسامہ کو افغانستان میں رہنے کی اجازت اس شرط پر دی تھی کہ وہ طالبان حکومت کی رضامندی کے بغیر ذرائع ابلاغ کو کوئی انٹرویو نہیں دیں گے اور یہ کہ ان کی طرف سے امریکہ پر حملے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ مذکورہ صحافی نے یہ بھی بتایا ہے کہ ۱۹۹۸ء کے بعد بن لادن کی نقل وحرکت پر زیادہ کڑی نظر رکھے جانے لگی تھی اور طالبان حکومت نے ان سے ان کا سیٹلائیٹ فون بھی واپس لے لیا تھا۔ (دیکھیے: http://www.youtube.com/watch?v=Cl6i1kdKj-g)
میرے خیال میں امریکہ نے طالبان حکومت کو باقاعدہ قانونی ثبوت نہ دیے ہوں، پھر بھی اسلامی اخلاقیات کی رو سے طالبان کی ذمہ داری بنتی تھی کہ جب وہ اصل حقیقت سے باخبر ہیں تو ازخود اس سلسلے میں اقدام کریں۔ بظاہر ان کے لیے اس میں جو چیز مانع بنی، وہ غیرت کا روایتی افغانی تصور اور اسلامیان پاکستان کی نظر میں سیاسی ونظریاتی وقار کا سوال تھا۔ پھر فرض کریں کہ طالبان اس وقت حقائق سے باخبر نہیں تھے تو ان کی اس اجتہادی غلطی کا دائرۂ انھی تک محدود رہنا چاہیے۔ وہ اپنے تئیں حق بجانب تھے تو انھیں اس جنگ کو ’’جہاد‘‘ سمجھ کر لڑنے کا پورا حق ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ جب ہم اس جنگ کی شرعی تکییف کریں تو حقائق کی بنیاد پر کریں یا طالبان کی اس وقت کی مفروضہ ناواقفیت کی بنیاد پر؟ میرا رجحان پہلی طرف ہے، لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا، یہ معاملہ پہلودار ہے اور آپ یا دوسرے اہل علم اس کا پورا حق رکھتے ہیں کہ دوسرے پہلو کو ترجیح دیتے ہوئے رائے قائم کریں۔

محمد زاہد صدیق مغل

موجودہ افغان جہاد کی شرعی حیثیت پر آپ کا ارسال کردہ بحث نامہ موصول ہوا۔ علی الرغم اس بات سے کہ بحث میں بظاہر کس فریق کا پلہ بھاری محسوس ہوا، اب تک کی ساری بحث کا مرکز ی نقطہ یہ رہا ہے کہ آیا القاعدہ کا امریکہ پر حملہ شواہد و قرآئن کی روشنی میں ثابت بھی ہے یا نہیں۔ بظاہر (جیسا کہ آپ نے نشان دہی بھی فرمائی کہ) فریقین میں یہ قدر مشترک پائی جاتی ہے کہ ’اگر القاعدہ نے اس فعل کا ارتکاب کیا ہے تو ایسا کرنا بہر حال نا جائز تھا‘۔ قلت وقت و ذرائع کے سبب تفصیلات میں جانا ممکن نہیں، راقم کے نزدیک یہ ایک ثانوی بحث ہے کہ آیا القاعدہ نے اس فعل کا ارتکاب کیا یا نہیں، نیز آیا ان پر اس فعل کا ارتکاب شواہد کی روشنی میں ثابت شدہ ہے یانہیں، کیونکہ طرفین کے دلائل پڑھ کر یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ دونوں ہی اپنے موقف کو قطعی طور پر (دو اور دو چار کی طرح ) ثابت کرنے کے لیے کافی مواد نہیں رکھتے بلکہ ہر فریق اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے ’مختلف قسم‘ کے تاریخی شواہد و قرائن کو بطور دلیل پیش کررہا ہے اور دوسرے فریق کے شواہد کو یا تو نظر انداز کررہا ہے اور یا اپنے انداز فکر کے مطابق ان کی کوئی دوسری علمی توجیہ پیش کرنے پر مصر ہے۔ فریقین کی اس ساری بحث میں اصل مشکل یہ ہے کہ دونوں فریقوں کے مابین ایسا کوئی علمی پیمانہ موجود نہیں جس کی بنیاد پر دونوں کی طرف سے پیش کردہ ’مختلف‘ تاریخی شواہد کے درمیان ترجیح کا کوئی پیمانہ قائم کیا جاسکے (کیونکہ جو بھی پیمانہ قائم کیا جائے گا، وہ دونوں میں سے کسی ایک کے انداز فکر ہی کا عکاس ہوگا)۔ 
راقم الحروف کے نزدیک اصل ضرورت دونوں فریقوں کے درمیان پائے جانے والی قدر مشترک پر غور کرنے کی ہے۔ آپ کے موقف کے مطابق افغان جہاد کے ’جہاد ‘ نہ کہلاسکنے کی اصل وجہ اس کا محرک مسلمانوں کی طرف سے امریکہ کے خلاف ایک غیر شرعی فعل کا اقدام کیا جانا تھا۔ اس مقام پر دو مختلف نکات قابل غور ہیں: 
اول: آپ کی اس دلیل میں القاعدہ کے امریکہ پر حملے سے قبل امریکہ کو معصوم فرض کرلیا گیا ہے جو کہ تاریخی حقائق کی روشنی میں درست مفروضہ نہیں۔ اگر اس پہلو سے زیر بحث معاملے پر غور کیا جائے تو القاعدہ و طالبان (طالبان کو اس لیے شامل کرلیا گیا ہے کیونکہ آپ کے نزدیک القاعدہ کے پشتی بان ہونے کی وجہ سے وہ بھی شامل جرم ہیں) کے امریکہ پر حملے کا جواز دووجوہ سے ثابت کیا جاسکتا ہے۔ (جواز تو ہر چند مزید وجوہ سے بھی پیش کیا جا سکتا ہے مگر ذیل کی بحث میں آپ کے فکری پس منظر کی رعایت کرتے ہوئے دلائل دینے کی کوشش کی گئی ہے، کیونکہ انداز فکر تبدیل ہونے سے بحث کا رخ بدل جائے گا): 
۱) ریڈ انڈینز کی نسل کشی سے لے کر عراق و افغانستان میں قتل عام تک سینکڑوں ناقابل تردید تاریخی حقائق امریکہ کی ’اقدامی‘ سفاکیت، ظلم و دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ (چند تفصیلات کے لیے دیکھیے Micheal Man کی کتاب The Dark Side of Democracy)۔ اکیس انسانی تہذیبوں کی تاریخ گواہ ہے کہ پوری نسل انسانی میں آج تک کسی ریاست نے اتنے بے گناہ انسانوں کا قتل عام نہیں کیا جتنا اکیلے امریکہ نے کردکھایا ہے۔ چنانچہ قیام امریکہ سے لے کر آج تک کوئی ایک ایسی دھائی نہیں گزری جس میں امریکہ نے کسی دوسری ریاست پر یا تو براہ راست اقدامی حملہ نہ کیا ہو اور یا پھر اس فعل میں کسی کا ساتھ نہ دیا ہو (گویا امریکی ریاست مستقل حالت جنگ میں رہتی ہے)۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا کسی مسلمہ دہشت گرد و ظالم ریاست پر حملہ کرنا شرعا ناجائز فعل ہے؟ اگر راقم کا یہ مفروضہ درست ہے کہ آپ مباحث جہاد میں جاوید احمد غامدی صاحب کے نظریات کو صائب سمجھتے ہیں تو ان کے نظریہ جہاد کی رو سے بھی یہ حملہ عین جائز ٹھہرتا ہے کیونکہ غامدی صاحب کے نزدیک جہاد کی واحد علت ’ظلم‘ کا خاتمہ کرنے کی کوشش کرنا ہی ہے۔ 
اگر اس مقام پر آپ یہ عرض کریں کہ طاقت کے عدم توازن کی بنا پر یہ حملہ درست نہیں تھا تو عرض یہ ہے کہ ’طاقت کا توازن و عدم توازن بطور شرائط جہاد‘ ایک علیحدہ مستقل بحث ہے جس کا آپ کی موجودہ بحث سے تعلق نہیں کیونکہ آپ کی رائے (فتوے) کی بنا اس نکتے پر نہیں بلکہ اس بنیادی مقدمے پر قائم نظر آتی ہے کہ القاعدہ و طالبان کا یہ اقدام اس لیے غیر شرعی تھا گویا اس میں ایک ’معصوم ریاست‘ کے ’معصوم شہریوں‘ کے خلاف جارحیت اختیار کی گئی تھی اور اسی لیے آپ اسے ہر تعریف کی رو سے دہشت گردانہ فعل قرار دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ (یہ اور بات ہے کہ آپ نے دہشت گردی کی کوئی ’ایک‘ بھی تعریف معین نہیں فرمائی!)۔ جہاں تک رہ گئی یہ بات کہ اس حملے میں غیر محاربین قتل ہوئے تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ محاربین و غیر محاربین کے درمیان فرق کے حوالے سے موجودہ ہتھیاروں کی نوعیت سامنے رکھنے کے بعد ہی کوئی رائے قائم کی جانی چاہیے۔ (اس معاملے پر دیکھیے راقم کا استفسار، ماہنامہ الشریعہ جنوری ۲۰۰۹)۔ نیز یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس حملے میں صرف ورلڈ ٹریڈ سینٹر ہی نہیں بلکہ پنٹا گون اور وائٹ ہاؤس کو بھی نشانہ بنا نے کی کوشش کی گئی تھی جو ہر لحاظ سے حربی مقامات میں شامل ہیں۔ پھر ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کو اس طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ عمارت امریکہ کی شان و شوکت کی علامت سمجھی جاتی تھی، لہٰذا اسپر حملہ گویا امریکہ کی عظمت پر حملہ کرنے کے مترادف تھا! ان تمام پہلووں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ القاعدہ و طالبان کا نشانہ براہ راست امریکی شہری نہیں بلکہ امریکی ریاست کی شان و شوکت کا اظہار کرنے والے چند اہم مقامات تھے۔ 
درج بالا عذر کی طرح اس حملے کا عملاً مسلمانوں کے حق میں موثر یا غیر موثر، مفید یا مضر ہونے کی بحث کا بھی زیر غور قضیے سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ ایک مستقل اور الگ نوعیت کی بحث ہے (ویسے بھی فائدہ اور نقصان طے کرنے کے لیے یہ طے کرنا ہوگا کہ انہیں ماپنے کے لیے کس شے کو بطور پیمانہ استعمال کیا جانا چاہیے)۔ 
۲) پھر صرف اتنا ہی نہیں کہ امریکہ نے دنیا بھر میں ظلم و دہشت کی تاریخ رقم کررکھی ہے بلکہ 9/11 کے واقعے سے قبل امریکہ کی طرف سے متعدد بار ملت اسلامیہ افغانستان پر میزائل برسائے گئے (جن میں سے ایک عدد نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں چلایا گیاتھا، راقم کو معین تاریخ فی الحال یاد نہیں) جس میں بے گناہ مسلمان شہید ہوئے۔ اس صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے کیا اس پر غور نہیں کرنا چاہیے کہ حملے کی ابتدا کس کی طرف سے ہوئی؟ نیز اگر ان حملوں کے خلاف جوابی کاروائی کے طور پر مسلمان امریکہ پر حملہ کریں تو کیا ایسا کرنا ناجائز ٹھہرے گا؟ اور اگر اس جوابی حملے پر جوابی کاروائی کرتے ہوئے امریکہ مزید ظلم کرے تو کیا اس ظلم کے خلاف لڑنا جہاد نہیں ہوگا؟ 
ان نکات کا حاصل یہ ہے کہ امریکہ پر حملے کا جواز دو بنیادوں پر پیش کیا جا سکتا ہے، اولاً امریکہ کا فی نفسہ ظالم ریاست ہونا، ثانیاً امریکہ کا اسلامی ریاست پر ابتداء اً حملہ کرنا (اس مقام پر ہم امریکہ کی ان تما م کاروائیوں سے صرف نظر کیے لیتے ہیں جو وہ برائے نام ’عالمی قوانین ‘ سے رو گردانی کرتے ہوئے خفیہ طور پر اسلامی ریاستوں کو کمزور کرنے کے لیے روا رکھے ہوئے ہے)۔ 
دوئم: خود آپ کو بھی قبول ہے کہ امریکہ کا ملت افغانستان پر حملہ کرنا شرعاً، اخلاقاًو قانوناً جرم و ظلم کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ اگر آپ کے اس مقدمے کو مان بھی لیا جائے کہ غلطی کی ابتدا بہر حال مسلمانوں کی طرف سے ہوئی، تب بھی یہ نتیجہ تو اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ جو مسلمان امریکہ سے اس وجہ سے لڑ رہا ہے کہ وہ مسلمانوں پر ظلم و بربریت مسلط کررہا ہے، کم از کم اس کا لڑنا تو جہاد ہی ہوگا۔ آپ کے قائم کردہ مقدمے میں اس شخص کے فعل کو جہاد سے خارج کرنے کے لیے کیا دلیل موجود ہے؟ 
جملہ معترضہ کے طور پر عرض ہے کہ آپ کے دیے گئے ایک اقتباس میں مولانا عتیق سنبھلی مد ظلہ العالی کا حضرت ابوجندلؓ کے واقعے سے شیخ اسامہ کے خلاف استدلال کچھ سمجھ نہیں آیا کیونکہ ان دونوں واقعات میں کئی اعتبار سے فرق ہے: 
  • حضرت ابو جندلؓ کو کفار مکہ کے حوالے نہ کرنے کے سلسلے میں اسلامی ریاست کی طرف سے طے شدہ اور واضح معاہدے کی مخالفت کا معاملہ در پیش تھا جبکہ شیخ اسامہ کی حوالگی کے معاملے میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ بلکہ بقول آپ کے عالمی قوانین (جنکی آپ کے نزدیک بہت قدر منزلت ہے) کے مطابق امریکہ کو یہ حق ہی نہیں تھا کہ وہ اسامہ کی حوالگی کا مطالبہ کرتا، زیادہ سے زیادہ وہ شیخ اسامہ کو عالمی عدالت انصاف میں پیش کرنے کا مطالبہ کرسکتا تھا اور بس۔ 
  • حضرت ابو جندلؓ کو اسلامی ریاست کے سربراہ نے پناہ دینے سے معذرت کرلی تھی جبکہ شیخ اسامہ کو ریاست اسلامی نے بذات خود پناہ دی۔
  • معلوم نہیں کہ مولانا عتیق صاحب حضرت ابو جندلؓ کے معاملے میں ان کی حوالگی کے علاوہ واقعے کی دیگر تفصیلات کو بھی لائق استدلال سمجھتے ہیں یا نہیں، کیونکہ یہ بھی تاریخی حقائق ہیں کہ آپؓ کفار کی قید سے نہ صرف یہ کہ فرار ہوئے بلکہ اپنے طور پر ان کے خلاف خفیہ کاروائیاں کرنے کے لیے ایک ایسے مقام کا انتخاب کیا جہاں سے دشمن کی سپلائی لائن کو نقصان پہنچایا جا سکے وغیرہ۔ اگر شیخ اسامہ امریکی قید سے فرار ہوکر اس کے خلاف خفیہ کاروائیوں میں مصروف ہوجائیں تو کیا یہ صورت حال مولانا کے نزدیک قابل قبول ہوگی؟ 
  • اگر قیاس ہی کرنا ہے تو شیخ اسامہ کے خود کو امریکہ کے حوالے نہ کرنے کے معاملے کو حضرت عثمان غنیؓ کے اپنے مخالفین کے پرزور مطالبے کے باوجود خود کو منصب خلافت سے معزول نہ کرنے پر کیوں قیاس نہ کرلیا جائے؟ پھر کوئی نکتہ شناس یہ بھی تو کہہ سکتا ہے کہ اگر حضرت عثمان غنیؓ مسلمانوں کے وسیع تر مفاد میں منصب خلافت سے دستبردار ہوجاتے تو مسلمان آپس میں دست و پا نہ ہوتے، جیسا کہ خود آپؓ کو بھی معاملے کی نزاکت کا پورا احساس تھا تب ہی تو آپؓ نے فرمایا تھا کہ لوگو اگر آج تم نے مجھے قتل کیا تو پھر تم کبھی متفق نہیں ہو سکو گے! درحقیقت کسی جنگی صورت حال کے نتائج دیکھنے کے بعد آرام سے بیٹھ کر اس کا تجزیہ کرکے رائے دینے (after thoughts) اور عین اس صورت حال سے دوچار ہونے کی حالت میں فیصلہ کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک درپیش معاملے کے بارے میں کسی انسان کے فہم اور کئے گئے فیصلوں کی معقولیت کا انحصار بہت حد تک اس بات پر ہوتا ہے کہ آیا وہ شخص خود اس معاملے کا ’حصہ ‘ ہے یا اس سے ’باہر‘ (whether or not he is part of it)۔ 
ان گزارشات کو پیش کرنے کا مقصد القاعدہ و طالبان کے اقدامات کی حمایت یا مخالفت کرنا نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کے طور پر اس بحث میں سوالات پیش کرنا ہے جو فریق مخالف کی پوزیشن سمجھانے اور انکے دلائل واضح کرنے کی کوشش کررہاہو۔ آپ نے خود ہی عرض کیا ہے کہ آپ نے جن مباحث کو اٹھایا ہے ان پر غور و فکر کی ضرورت ہے، لہٰذا اسی مقصد کیلئے یہ اشکالات پیش کئے ہیں تاکہ واضح ہوسکے کہ معاملے کی سنگینی اتنی سادہ نہیں جتنی اب تک کی بحث سے سامنے آسکی ہے۔ پھر ان گزارشات کا یہ مطلب بھی نہ سمجھا جائے کہ راقم مجاہدین کی حکمت عملی میں کسی قسم کی اصلاح کا قائل نہیں، یقیناًاس میں بہتری کی گنجا ئش موجود ہے خصوصاً مجاہدین کا دیگر اسلامی تحریکات (جو جہاد کے بجائے تعلیم وتزکئے اور دعوت و تبلیغ کے کام میں مصروف ہیں) اور مکاتب فکر کے بارے میں فکری و عملی رویہ ہر لحاظ سے قابل اصلاح ہے کیونکہ اپنی غیر دانشمندانہ حکمت عملی کی بنا پر مجاہدین نے ان مذہب پسند عناصر کو بھی اپنے مخالفین کی صفوں میں جا پہنچایا ہے جو فکری و جذباتی ہر اعتبار سے انکے فطری حلیف بننے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ 

محمد عمار خان ناصر

جہاد افغانستان کی بحث پر آپ کا تفصیلی تبصرہ موصول ہوا۔ حسب توقع آپ کے تبصرے میں بحث کے بعض ایسے گوشے نمایاں کیے گئے ہیں جو اب تک کی بحث میں سامنے نہیں آئے تھے اور مجھے امید ہے کہ اس سے بحث کی تنقیح وتفہیم میں ان شاء اللہ بہت مدد ملے گی۔
آپ نے اپنے تبصرے میں جو نکات اٹھائے ہیں، ان میں سے بعض تو ایسے ہیں جو اس وقت نہ زیر بحث ہیں اور نہ موجودہ افغان جنگ کی شرعی حیثیت کی تعیین میں ان کا کوئی بنیادی دخل ہے، بلکہ بعض نکات میں میرے نقطہ نظر کو بھی درست نہیں سمجھا گیا۔ مثلاً آپ نے فرمایا ہے کہ ’’آپ کی اس دلیل میں القاعدہ کے امریکہ پر حملے سے قبل امریکہ کو معصوم فرض کرلیا گیا ہے، جو کہ تاریخی حقائق کی روشنی میں درست مفروضہ نہیں‘‘ جبکہ میرا مقدمہ استدلال یہ ہرگز نہیں ہے کہ امریکہ چونکہ معصوم ہے، اس لیے اس پر حملہ ناجائز تھا۔ ایک سپر پاور کی حیثیت سے امریکاکی طرف سے مسلمہ اخلاقیات کی پامالی اور ظلم وستم کا ارتکاب یا اس کی پشت پناہی ایک امر واقعہ کے طور پر ناقابل انکار ہے اور اگر شرعی واخلاقی حدود کی پاس داری کرتے ہوئے اس پر حملہ کیا جائے تو کوئی شخص اسے اصولی طو رپر ناجائز نہیں کہہ سکتا، چنانچہ مثال کے طو رپر طالبان، افغانستان پر میزائل حملوں کے جواب میں ریاست کی سطح پر اس کا جواب دیتے ہوئے امریکہ کے کسی حربی ہدف پر حملہ کرتے تو اس کے جواز میں کوئی کلام نہ ہوتا۔ طاقت کے توازن یا عدم توازن یا بہتر حکمت عملی یا کسی اقدام کے عملاً مضر یا مفید ہونے کی بحث، جیسا کہ آپ نے درست طور پر فرمایا، ایک الگ بحث ہے۔ 
اسی طرح اسامہ کی حوالگی کے معاملے کو ابو جندل پر قیاس کرنے کا معاملہ بھی اضافی اور ثانوی ہے اور مولانا عتیق الرحمن سنبھلی صا حب کا مدعا بھی شاید وہ نہیں ہے جو آپ کے تبصرے سے مترشح ہوتا ہے۔ وہ اس واقعے سے کوئی فقہی اور قانونی استدلال نہیں کر رہے، بلکہ اس سے حکمت عملی اور مجموعی مفاد کی خاطر شخصی قربانی کی جو مثال سامنے آتی ہے، اس کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔ بہتر ہے کہ ان کے موقف کو درست سیاق وسباق میں سمجھنے کے لیے ان کی اصل تحریر ملاحظہ کر لی جائے۔ میں نے اس اقتباس کا حوالہ صرف اس پہلو سے دیا ہے کہ اکابر دیوبندی علما نے عین اس وقت جب امریکی حملے شروع ہو چکے تھے، طالبان یا اسامہ کے طرز عمل کا ناقدانہ جائزہ لینے کی ضرورت محسوس کی تھی، اس لیے آج جبکہ صورت حال نسبتاً خاصی بدل چکی ہے، اس ضرورت سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے بھی آخری پیرا گراف میں، ایک خاص پہلو سے ہی سہی، تنقیدی تجزیے کی ضرورت واہمیت کو واضح کیا ہے۔
راقم نے جو نقطہ نظر پیش کیا ہے، اس سے آپ کے تبصرے کا براہ راست تعلق رکھنے والا حصہ وہ ہے جس میں آپ نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے شرعاً جائز ہونے کو موضوع بنایا ہے۔ آپ نے ان حملوں کے شرعی جواز کی توجیہ یہ پیش فرمائی ہے کہ: ’’جہاں تک رہ گئی یہ بات کہ اس حملے میں غیر محاربین قتل ہوئے تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ محاربین و غیر محاربین کے درمیان فرق کے حوالے سے موجودہ ہتھیاروں کی نوعیت سامنے رکھنے کے بعد ہی کوئی رائے قائم کی جانی چاہیے۔‘‘ نیز یہ کہ: ’’یہ کہا جا سکتا ہے کہ القاعدہ و طالبان کا نشانہ براہ راست امریکی شہری نہیں بلکہ امریکی ریاست کی شان و شوکت کا اظہار کرنے والے چند اہم مقامات تھے۔‘‘ 
اس استدلال کو بنیادی طور پر درست فرض کر لیا جائے تو بھی دیکھنا یہ ہے کہ خود اس حملے کا ارتکاب کرنے والوں کا زاویہ نظر اس معاملے میں کیا ہے۔ کیا وہ امریکی یا برطانوی شہریوں کو براہ راست حملے کا نشانہ بنانے کو ناجائز سمجھتے ہیں اور کیا ا ن کی طرف سے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو ہدف بناتے ہوئے اس بات کی ہر ممکن کوشش کی گئی کہ وہاں کام کرنے والے لوگ حملے کی زد میں نہ آنے پائیں اور کیا اس واقعے میں عام شہریوں کا جانی نقصان ہتھیاروں کی مخصوص نوعیت کی وجہ سے ناگزیر طور پر ہوا یا قصداً ایسا طریقہ اختیار کیا گیا کہ عمارت کے ساتھ ساتھ لوگ بھی حملے کی زد میں آئیں؟ افسوس ہے کہ واقعات آپ کے مفروضے کی تائید نہیں کرتے، کیونکہ نہ صرف حملے کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کیا گیا جب لوگ وہاں کام میں مصروف تھے، بلکہ حملے میں ہتھیار کے طور پر بھی ایسے طیاروں کو استعمال کیا گیا جن میں سوار تمام کے تمام مسافر عام اور بے گناہ شہری تھے۔ برطانیہ کی عام مسافر ٹرینوں میں ہونے والے حملے بھی اسی بات پر دلالت کرتے ہیں کہ القاعدہ اور اس کے ہم نوا جہادی عناصر دشمن کے عام شہریوں کو بھی براہ راست حملے کا نشانہ بنانے کو جائز سمجھتے ہیں، بلکہ اس ضمن میں باقاعدہ یہ فقہی استدلال پیش کیا جاتا ہے کہ چونکہ ان ممالک کے شہری اپنی حکومتوں کو ٹیکس دیتے ہیں، اس لیے حکومتیں جو بھی سیاسی یا عسکری اقدامات کرتی ہیں، ان کے شہری بھی ان کی ذمہ داری میں پوری طرح شریک ہیں اور انھیں حملے کا براہ راست نشانہ بنانا جائز ہے۔ خود آپ نے اپنے مضمون ’’معاصر مجاہدین کے معترضین سے استفسارات‘‘ (الشریعہ، نومبر/دسمبر ۲۰۰۹ء) میں اس زاویہ نگاہ کی ترجمانی ان الفاظ میں کی ہے کہ :
’’اس وقت پاکستان پر جو امریکی حملے جاری ہیں (اور اس سے قبل امارت افغانستا ن پر جو حملے ہوئے) وہ اصولاً ہماری پارلیمنٹ کی اجازت سے ہو رہے ہیں اور پارلیمنٹ محض عوام کی نمائندہ ہے۔ کیا اس منطق سے ساری پاکستانی عوام حربی نہیں ٹھہری کہ وہ ایک حربی کافر کا ساتھ دے رہے ہیں؟ ظاہر ہے پاکستانیوں نے ان امریکی حملوں کے خلاف اتنی چستی بھی نہیں دکھائی جتنی کہ چیف جسٹس کی بحالی کے لیے دکھائی۔‘‘
میرا حسن ظن ہے کہ آپ مذکورہ استدلال کی بنیاد پر ’’مقاتلین‘‘ کے دائرے کو عام شہریوں تک وسیع کرنے کے حقیقتاً موید نہیں ہیں۔ بہرحال میں نے ایک الگ تحریر میں اس استدلال کا شرعی نقطہ نظر سے جائزہ لیا ہے جو آپ کے ملاحظہ کے لیے منسلک ہے۔
آپ نے فرمایا ہے کہ ’’جو مسلمان امریکہ سے اس وجہ سے لڑ رہا ہے کہ وہ مسلمانوں پر ظلم و بربریت مسلط کررہا ہے، کم از کم اس کا لڑنا تو جہاد ہی ہوگا۔ آپ کے قائم کردہ مقدمے میں اس شخص کے فعل کو جہاد سے خارج کرنے کے لیے کیا دلیل موجود ہے؟‘‘ 
میں عرض کر چکا ہوں کہ امریکی حملے کے خلاف طالبان کی جنگ بالکل جائز اور مشروع ہے اور جو حضرات اس پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے جو آپ نے ذکر کیا ہے، ’’جذبہ جہاد‘‘ کے ساتھ اس میں شریک ہیں، اخروی جزا وسزا کی حد تک امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کی نیت اور جذبے کے مطابق ہی معاملہ کرے گا۔ البتہ بحیثیت مجموعی اس جنگ کو ’’جہاد‘‘ کہنے میں مجھے اس لیے تردد ہے کہ میرے نزدیک اس کا براہ راست ظاہری سبب بننے اور امریکہ کو حملے کی دعوت دینے والا واقعہ شرعاً جائز نہیں تھا اور طالبان نے ان حملوں کی منصوبہ بندی میں شریک نہ ہونے کے باوجود اس کے ذمہ داروں کے حوالے سے جو پالیسی اختیار کی، وہ انھیں کسی نہ کسی درجے میں ان کا شریک بناتی ہے۔ دراصل کسی جنگ کو ’’جہاد‘‘ کا عنوان دینا اسے ایک نہایت اعلیٰ روحانی اور اخلاقی درجہ دینا ہے اور اس کے لیے شرعی واخلاقی اصولوں کی مکمل پاس داری ضروری ہے، کیونکہ کسی فریق کی طرف سے جنگ کی دینی اور اخلاقی ساکھ کا حوالہ اسی صورت میں زیب دیتا ہے جب وہ اپنے دائرۂ اختیار کی حد تک شریعت کے قائم کردہ حدود کا پابند رہا ہو۔ اگر ایک فریق کی طرف سے جنگی اخلاقیات کی خلاف ورزی کے واقعات صرف اس لیے کم رہ گئے ہوں کہ اس کی عملی استطاعت محدود ہے جبکہ دوسرا فریق برتر مادی طاقت کی بنا پر اس سے ہزار گنا زیادہ بد اخلاقی کا مظاہرہ کرنے کے قابل ہو تو ایسی صورت میں دونوں فریقوں میں کوئی اصولی فرق کرنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔ بہرحال یہ ایک نازک مقام ہے اور میں خود اس جنگ کو ’’جہاد‘‘ کہنے سے گریز کے باوجود طالبان کے حق مدافعت کی حد تک نظری طور پر مخالف زاویہ نگاہ کی گنجائش کو تسلیم کرتا ہوں۔
آخر میں اپنے قیمتی اور قابل غور تبصرے کے ساتھ اس بحث میں شرکت پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اللہ کرے کہ ہم اخلاص اور دیانت داری کے ساتھ معاملات پر غور کرتے ہوئے صحیح بات کے قریب تر پہنچنے کی کوشش کرتے رہیں اور ہمارے شخصی یا قومی تعصبات ہماری شرعی آرا پر اثر انداز نہ ہونے پائیں کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کا معیار یہی چیز ہے نہ کہ کسی معاملے میں متعین طور پر کسی ایک یا دوسری رائے کا حامل ہونا۔ 

محمد زاہد صدیق مغل

ممکن ہے میں اپنے نکات کو واضح طور پر قابل فہم صورت میں پیش نہ کر سکا ہوں، اس لیے میں مختصراً ان کا خلاصہ دوبارہ پیش کر دیتا ہوں۔ نائن الیون کے عدم جواز سے متعلق آپ کی ارسال کردہ تحریر میں ان لوگوں کے نقطہ نظر پر تبصرہ کیا گیا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ (کسی بھی وجہ سے) امریکہ وغیرہ کے غیر مقاتلین کو قتل کرنا جائز ہے۔ میرے پیش کردہ نکات یہ تھے کہ:
گیارہ ستمبر کا حملہ جائز تھا کیونکہ امریکہ اپنے آغاز سے ہی ایک ظالم، وحشی اور دہشت گرد ریاست رہی ہے اور خود آپ کے اپنے موقف کے مطابق ظلم کے خلاف جہاد کرنا جائز ہے۔ مزید یہ کہ مجاہدین کا براہ راست ہدف امریکی شہری نہیں بلکہ امریکی شان وشوکت کی علامت کی حیثیت رکھنے والے مقامات یعنی جڑواں ٹاورز، وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون تھے۔ 
صورت حال یہ نہیں ہے کہ مجاہدین نے امریکہ پر حملہ کرنے میں پہل کی، بلکہ یہ ہے کہ خود امریکہ نے نائن الیون سے پہلے کم از کم دو مرتبہ افغانستان پر میزائل حملے کر کے جوابی حملوں کی تحریک پیدا کی تھی۔ 
مجھے ان نکات پر کوئی تبصرہ آپ کی تحریر میں نہیں ملا۔ امید ہے کہ اب آپ ان پر تبصرہ کریں گے۔

محمد عمار خان ناصر

میرے خیال میں ان دونوں نکات کے حوالے سے میری گزارشات سابقہ خط میں موجود ہیں۔ پہلے نکتے کے جواب میں، میں نے عرض کیا ہے کہ:
’’ایک سپر پاور کی حیثیت سے امریکاکی طرف سے مسلمہ اخلاقیات کی پامالی اور ظلم وستم کے ارتکاب یا اس کی پشت پناہی ایک امر واقعہ کے طور پر ناقابل انکار ہے اور اگر شرعی واخلاقی حدود کی پاس داری کرتے ہوئے اس پر حملہ کیا جائے تو کوئی شخص اسے اصولی طو رپر ناجائز نہیں کہہ سکتا۔‘‘
یعنی اعتراض امریکہ پر حملہ کرنے پر نہیں، بلکہ شرعی واخلاقی ضوابط کو پامال کرنے پر ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ نائن الیون کے حملے میں اصل ہدف بے گناہ شہری نہیں تھے تو میں نے آپ کی توجیہ پر واقعاتی شواہد کے علاوہ یہ اصولی سوال اٹھایا ہے کہ:
’’القاعدہ اور اس قبیل کے جہادی عناصر دشمن کے عام شہریوں کو بھی براہ راست حملے کا نشانہ بنانے کو جائز سمجھتے ہیں، بلکہ اس ضمن میں باقاعدہ یہ فقہی استدلال پیش کیا جاتا ہے کہ چونکہ ان ممالک کے شہری اپنی حکومتوں کو ٹیکس دیتے ہیں، اس لیے حکومتیں جو بھی سیاسی یا جنگی اقدامات کرتی ہیں، ان کے شہری بھی ان کی ذمہ داری میں پوری طرح شریک ہیں اور انھیں حملے کا نشانہ بنانا جائز ہے۔‘‘
دوسرے نکتے کے جواب میں بھی یہی گزارش ہے کہ اصل مسئلہ امریکہ پرحملے کے جائز یا ناجائز ہونے کا نہیں، شرعی ضوابط کی پاس داری کا ہے۔ القاعدہ نے اس حملے میں دو واضح شرعی اصولوں کی خلاف ورزی کی: ایک یہ کہ افغانستان میں رہتے ہوئے امریکہ پر حملے کی منظوری دینے کی مجاز اتھارٹی بن لادن نہیں بلکہ ملا محمد عمر تھے۔ دوسرے یہ کہ حملے میں پینٹاگون اور شان وشوکت کی حامل امریکی عمارتوں کے ساتھ ساتھ قصداً عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارنا بھی القاعدہ کا ہدف تھا۔ اگر بن لادن وغیرہ کی طرف جاری کیے جانے والے بیانات اور فتوے آپ کے سامنے ہوں تو معلوم ہوگا کہ وہ واضح طور پر تمام امریکیوں کو، چاہے وہ فوجی ہوں یا سویلین، قتل کرنے کو جائز بلکہ فرض سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ۲۳؍ فروری ۱۹۹۸ء کو برطانیہ کے عربی جریدے ’’القدس العربی‘‘ میں اسامہ بن لادن اور الظواہری وغیرہ کی طرف سے جاری کردہ ایک فتوے کا متن شائع ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ:
’’ان حکم قتل الامریکان وحلفاۂم مدنیین وعسکریین فرض عین علی کل مسلم امکنہ ذلک فی کل بلد تیسر فیہ‘‘
’’امریکہ اور اس کے حلیف ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو قتل کرنا، خواہ وہ عام شہری ہوں یا فوجی، ہر اس مسلمان پر اور ہر اس ملک میں فرض ہے جہاں اس کے لیے ایسا کرنا ممکن ہو۔‘‘
امید ہے ان گزارشات سے میرا مدعا واضح ہو گیا ہوگا۔

خود کش حملوں کا جواز 

[سابقہ سطورمیں عام شہریوں پر حملے کے حق میں پیش کیے جانے والے استدلال کے شرعی جائزے سے متعلق جس تحریر کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ حسب ذیل ہے۔ (عمار ناصر)]

سوال: ۱۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق بنی اسرائیل کے ایک راہب کو جب ایمان قبول کرنے کی پاداش میں قتل کرنے کی کوشش کی گئی اور اللہ کی مدد سے یہ کوشش بار بار ناکام ہوئی تو اس نے خود اپنے آپ کو قتل کرنے کا طریقہ یہ تجویز کیا کہ لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا جائے اور پھر سب کے سامنے ’باسم رب ہذا الغلام‘ کہہ کر اس پر تیر چلایا جائے تو اس کی موت واقع ہو جائے گی۔ کیا اس سے خود کش حملے کا جواز ثابت ہوتا ہے؟
۲۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کے شہری چونکہ اپنی حکومتوں کو ٹیکس دیتے ہیں، اس لیے اگر ان ممالک کی حکومتیں مسلمانوں پر ظلم کرتی یا ظلم کرنے والوں کے ساتھ تعاون کرتی ہیں تو ان کے شہری بھی اس میں شریک ہیں۔ چنانچہ اگر اسرائیل کے ظلم وستم کا شکار ہونے والا کوئی فلسطینی امریکہ یا برطانیہ میں جا کر ان کے عام شہریوں پر حملہ کرے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟
جواب: ۱۔ خود کشی کے بارے میں یہ بات بطور اصول سمجھنی چاہیے کہ شریعت میں اس کی ممانعت اصلاً اس صورت کے لیے آئی ہے جب انسان زندگی کی تکالیف او رمصائب سے گھبرا کر خدا کی تقدیر پر صبر ورضا کا رویہ اپنانے کے بجائے اپنی زندگی کے خاتمے کا فیصلہ کر لے۔ یہ رویہ چونکہ خدا اور قضا وقدر کے فیصلوں پر ایمان کے منافی ہے، اس لیے اس کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے۔ اگر یہ صورت نہ ہو اور مثال کے طو رپر انسان اپنے دین وایمان کی حفاظت کی خاطر یا اس کی دعوت کے راستے میں اپنی جان قربان کرنے کا فیصلہ کر لے تو اس صورت پر حرمت کا اطلاق نہیں ہوتا۔ 
آپ نے جس روایت کا حوالہ دیا ہے، اس میں بیان ہونے والے واقعے کی نوعیت یہی ہے۔ اس راہب پر یہ بات واضح تھی کہ ایمان لانے کے جرم میں کافر بادشاہ کے ہاتھوں اس کا مرنا یقینی ہے، البتہ اللہ کی حکمت کے تحت اس کی اب تک کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔ اس وجہ سے اس نے یہ مناسب سمجھا کہ اپنی موت کا ایک ایسا طریقہ خود تجویز کر دے جس میں اسے لوگوں تک توحید کا پیغام پہنچانے کا موقع بھی میسر آ جائے۔ قتل کی متعدد کوششوں سے اس کا بچ نکلنا لوگوں میں معروف ہو چکا تھا اور یقیناًوہ ایسے شخص کے بارے میں جاننے کا تجسس بھی رکھتے تھے، اس لیے اس بات کی قوی امید تھی کہ اگر اسے اس کے تجویز کردہ طریقے کے مطابق ’باسم رب ہذا الغلام‘ (اس لڑکے کے رب کے نام سے) کہہ کر قتل کیا گیا تو یہ چیز لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد تک حق کا پیغام پہنچانے کا ذریعہ بن جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا اور روایت کے مطابق اس کی شہادت کا منظر دیکھنے والے لوگوں کی اکثریت نے ایمان قبول کر لیا۔ اسی روایت میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جب بادشاہ کو اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے ایمان لانے کی خبر ملی تو اس نے ایک بڑی آگ بھڑکا کر ان سب لوگوں کو جمع کیا اور حکم دیا کہ یا تو وہ اپنے ایمان سے دست بردار ہو جائیں اور یا پھر ایک ایک کر کے اس آگ میں کود جائیں۔ اہل ایمان نے خود آگ میں کود کر جان دینا منظور کر لیا لیکن ایمان سے دست بردار نہ ہوئے، بلکہ ایک خاتون اپنے دودھ پیتے بچے کے ساتھ لائی گئی اور اس نے بھڑکتی ہوئی آگ کو دیکھ کر کچھ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تو اللہ کی قدرت سے اس کے دودھ پیتے بچے نے اس سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’یا امہ اصبری فانک علی الحق‘ (اے میری ماں، صبر سے کام لو کیونکہ تم حق پر ہو) اور بچے کی اس حوصلہ افزائی پر اس کی ماں بھی آگ میں کود گئی۔ (مسلم، رقم ۳۰۰۵)
جہاں تک جنگ میں شہادت کے حصول کی غرض سے دشمن پر خود کش حملہ کرنے کا تعلق ہے تو اس ضمن میں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ شہادت دراصل کفار کے ہاتھوں قتل ہونے کو کہتے ہیں، نہ کہ دشمن کو نقصان پہنچانے کی غرض سے ازخود اپنے آپ کو قتل کرنے کے اقدام کو۔ چنانچہ ایک غزوے میں جب ایک صحابی دشمن پر وار کرنے کی ناکام کوشش میں خود اپنی ہی تلوار سے زخمی ہو کر فوت ہو گئے تو صحابہ کو اس پر تردد ہوا کہ آیا یہ ان کی شہادت کی موت ہے یا خود کشی کی، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو دوہرا اجر ملے گا۔ (مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۷۸۲۸) یعنی چونکہ اس کی نیت خود کشی کی نہیں تھی اور ایسا خطا سے ہوا ہے، اس لیے اسے اللہ کے ہاں شہید ہی شمار کیا جائے گا۔ البتہ مخصوص حالات میں، خاص طور پر جب کہ میدان جنگ میں موت یقینی دکھائی دے رہی ہو، اپنی جان کی قربانی دے کر مسلمانوں کو کسی بڑے نقصان سے بچانے کے لیے دشمن پر خود کش حملے کے جواز سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح اگر دشمن کی پیش قدمی کو روکنے یا طاقت کے تناسب کو متوازن کرنے کا اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہ ہو تو اس صورت حال میں بھی اس کا جواز اور مشروعیت تسلیم نہ کرنے کی بظاہر کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ تاہم ایسے کسی بھی اقدام کے جواز کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ اس میں شریعت کے کسی دوسرے اصول اور ضابطے کی خلاف ورزی نہ کی گئی ہو۔ یعنی اگر جنگ کسی مشروع اور جائز مقصد کے لیے لڑی جا رہی ہواور اس میں دشمن کو بھاری نقصان پہنچانے کے لیے خود کش حملہ زیادہ موثر ہو اور اس کا نشانہ مقاتلین (combatants) ہی کو بنایا جائے تو اصولی طور پر اس خود کشی کو اس وعید کے تحت نہیں لایا جا سکتا جو حدیث میں بیان ہوئی ہے۔ البتہ اگر جنگ کا محرک ہی ناجائز ہو اور حملے کا نشانہ دشمن کے مقاتلین کے بجائے عام انسانوں کو بنایا جائے تو اس صورت میں خود کش حملہ بھی اسی طرح ناجائز ہوگا جیسے کسی بھی دوسرے ہتھیار کا استعمال ناجائز ہے۔
۲۔ یہ استدلال کہ چونکہ امریکہ یا برطانیہ کے شہری اپنی حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں جس کی مدد سے حکومت جنگ لڑتی ہے، اس لیے ٹیکس دینے والے تمام شہری ’مقاتلین‘ (combatants) ہیں اور انھیں جنگی حملے کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے، شرعی اصولوں کی رو سے کسی طرح درست نہیں۔ اسلامی شریعت کی رو سے عام لوگ جو جنگ میں براہ راست شریک نہیں، انھیں ’مقاتل‘ قرار نہیں دیا جا سکتا، چاہے وہ اپنی حکومت کو ٹیکس دیتے ہوں اور جنگ کے فیصلے کو ان کی اصولی تائید حاصل ہو۔ ’مقاتل‘ اس کو کہا جائے گا جو جنگ میں براہ راست شریک ہو یا بالفعل لڑنے والوں کی ایسی مدد کر رہا ہو جو ’’لڑائی میں مدد‘‘ کے زمرے میں آتی ہو۔ اس سے ہٹ کر اصولی طو ر پر جنگ کے فیصلے کی تائید کرنے والوں یا مقاتلین کی مدد کی بعض دوسری صورتیں اختیار کرنے والوں کو ’مقاتل‘ نہیں کہا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عین میدان جنگ میں دشمن کے لشکر کے ساتھ آئی ہوئی خواتین اور کام کاج کرنے والوں خادموں کو، جو ظاہر ہے کہ اپنے لشکر کی مدد ہی کے لیے ساتھ آئے تھے، قتل کرنے سے منع فرمایا۔ 
حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غزوے میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم نے ایک عورت کو مقتول دیکھا اور لوگ اس کے ارد گرد جمع تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو آپ نے فرمایا:
ما کانت ہذہ تقاتل فی من یقاتل، انطلق الی خالد فقل لہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یامرک یقول لا تقتلن ذریۃ ولا عسیفا (ابن ماجہ، رقم ۲۸۴۲)
’’یہ لڑنے والوں کے ساتھ لڑائی میں تو شریک نہیں تھی۔ .... خالد کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں حکم دیتے ہیں کہ بچوں اور خادموں کو ہرگز قتل نہ کرنا۔‘‘
ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں:
وجدت امراۃ مقتولۃ فی بعض مغازی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فنہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن قتل النساء والصبیان (بخاری، رقم ۳۰۱۵)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک غزوے میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو آپ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سردار ابن ابی الحقیق کو قتل کرنے کے لیے صحابہ کا دستہ بھیجا تو انھیں عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ اس دستے کے ایک مجاہد عبد اللہ بن انیس بتاتے ہیں کہ:
برحت بنا امراۃ ابن ابی الحقیق بالصیاح فارفع السیف ثم ذکرت قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاکفہ ولولا ذالک لاسترحنا منہا (مسند ابی عوانہ، ۶۵۸۷۔ مسند ابی یعلی، رقم ۹۰۷)
’’ابن ابی الحقیق کی بیوی نے چیخ کر ہمارے خلاف مدد کے لیے بلانا چاہا تو میں نے تلوار بلند کر لی، لیکن پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم یاد آ گیا اور میں نے اپنی تلوار روک لی۔ اگر آپ کا حکم نہ ہوتا تو ہم اس کی بیوی کا قصہ بھی پاک کر دیتے۔‘‘
یہاں دیکھ لیجیے، خاتون کے چیخ پکار کے ذریعے سے مجاہدین کو خطرے میں ڈالنے کے باوجود انھوں نے اسے قتل کرنے سے گریز کیا۔
ایک اور روایت میں بیان ہوا ہے کہ:
نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن قتل العسفاء والوصفاء (سنن سعید بن منصور، رقم ۲۶۲۸)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدوروں اور خادموں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔‘‘
سیدنا عمر نے اپنے فوجی سالاروں کو ہدایت دی کہ:
اتقوا اللہ فی الفلاحین فلا تقتلوہم الا ان ینصبوا لکم الحرب (سنن بیہقی، رقم ۱۷۹۳۸)
’’ان کسانوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو اور انھیں قتل نہ کرو، الا یہ کہ وہ تمھارے مقابلے میں آکر جنگ کریں۔‘‘
ظاہر ہے کہ دشمن کے جن کسانوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا، وہ لازماً اپنی زمین کی پیداوار کا ٹیکس حکمرانوں کو دیتے ہوں گے اور جنگ کے عسکری اخراجات میں ان کا بالواسطہ حصہ پڑا ہوگا، لیکن اس کے باوجود سیدنا عمر نے انھیں ’مقاتل‘ شمار نہیں کیا، الا یہ کہ وہ بالفعل جنگ میں حصہ لیں۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
کانوا لا یقتلون تجار المشرکین (ابن ابی شیبہ، رقم ۳۳۱۳۰)
’’صحابہ مشرکین کے تاجروں کو قتل نہیں کرتے تھے۔‘‘
یہاں بھی دیکھ لیجیے، صحابہ نے دشمن کے ایسے تاجر اور مال دار حضرات کو قتل کرنے سے گریز کیا ہے جن کے سرمایے سے یقیناًان کی فوجیں بھی فائدہ اٹھاتی ہوں گی۔
عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے ’وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم ولا تعتدوا ان اللہ لا یحب المعتدین‘ (اور اللہ کے راستے میں ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو، کیونکہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا) کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے لکھا کہ:
ان ذلک فی النساء والذریۃ ومن لم ینصب ذلک الحرب منہم (ابن ابی شیبہ، رقم ۳۳۱۲۶)
’’یہ ممانعت عورتوں، بچوں اور ان لوگوں سے متعلق ہے جو مقابلے کے لیے میدان میں نہ آئے ہوں۔‘‘
اسی طرح فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ہدایت دی کہ:
الا لا یجہزن علی جریح ولا یتبعن مدبر ولا یقتلن اسیر (ابو عبید، الاموال، ص ۱۴۲)
’’سنو، کسی زخمی کو قتل نہ کیا جائے، کسی بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیا جائے اور کسی قیدی کو قتل نہ کیا جائے۔‘‘
مذکورہ ہدایات سے واضح ہوتا ہے کہ دشمن قوم کے جو افراد بعض پہلووں سے دشمنوں کے لشکر کی مدد کرنے کے باوجود خود جنگ میں شریک نہ ہوں یا جنگ میں شریک ہونے کے بعد زخمی یا گرفتار ہو جانے کی وجہ سے لڑنے کے قابل نہ رہے ہوں، شریعت اسے قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ غیر مقاتلین کا حملے کی زد میں آجانا صرف اس صورت میں معاف ہے جب حملے کا ہدف اصلاً مقاتلین ہوں اور تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود قصد اور نیت کے بغیر ناگزیر طور پر یا اتفاقاً کچھ غیر مقاتلین بھی زد میں آ جائیں۔ 
مذکورہ تشریح کی روشنی میں بعض لوگوں کے اس نقطہ نظر کی غلطی بالکل واضح ہو جاتی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر فلسطین میں اسرائیل کے ظلم وستم کا شکار ہونے والا کوئی شخص امریکہ یا برطانیہ میں جا کر وہاں کے ٹیکس دینے والے عام لوگوں پر خود کش حملہ کر دے تو یہ جائز ہوگا۔ 



سابقہ صفحات میں قارئین نے بحث کے مختلف پہلووں کے حوالے سے اہل فکر کے متنوع زاویہ ہاے نگاہ ملاحظہ کیے۔ راقم الحروف نے بھی اپنے نقطہ نظر کی تفصیلی وضاحت دوران بحث میں کر دی ہے، البتہ جہادی تحریکات، خاص طور پر افغانستان کے طالبان کی حکمت عملی کے ناقدانہ جائزے کی ضرورت کے حوالے سے کچھ مزید گزارشات پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
ہمارے ہاں اس پچھلے دور میں جہاد کے عنوان سے اٹھنے والی کم وبیش ہر تحریک کے بارے میں یہ جذباتی رویہ بہت عام رہا ہے کہ ان حضرات کو یا تو صحابہ کے قافلے سے بچھڑ جانے والے لوگ باور کرایا جائے یا امام مہدی کے لشکر کا ہراول دستہ اور یوں انھیں تقدس کے ایسے اونچے سنگھاسن پر بٹھا دیا جائے جو دین وشریعت،علم واخلاق اور عقل وفہم کی روشنی میں نقد وانتقاد کے دائرے سے ماورا ہے۔ یہ رویہ سراسر ایک رومانوی اور تخیلاتی ذہن کی پیداوار اور جہادی تحریکات کی مسلسل ناکامیوں کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب ہے۔ طالبان تحریک کے بارے میں بھی یہی تاریخ دہرائی گئی ہے اور اگر اس طرز فکر سے نجات حاصل نہ کی گئی تو اس کا دوبارہ دہرایا جانا بھی ہرگز بعید از امکان نہیں ہے۔
میرے نزدیک طالبان سے ہمدردی رکھنے والے اہل مذہب کو جذباتی اور رومانوی فضا سے باہر نکل کر زمینی حقائق کی روشنی میں اس حقیقت کا ادراک حاصل کرنا چاہیے کہ افغانستان میں طالبان کا برسر اقتدار آنا بنیادی طور پر ایک سیاسی وجغرافیائی جبکہ ثانوی طور پر ایک مذہبی ونظریاتی مسئلہ ہے اور اس مسئلے کی بہت سی الجھنوں کا حل اسی حقیقت کے ادراک میں مضمر ہے۔ طالبان چونکہ بدیہی طور پر ایک مخصوص مذہبی پس منظر رکھتے ہیں، اس لیے ان کے اقتدار کے بہت سے politico-religious مضمرات اور ایک خاص زاویے سے دیکھا جائے تو کچھ نیم مذہبی نیم سیاسی فوائد بھی ہیں، مثلاً ایک قدیم طرز کی امارت اسلامیہ کے قیام کی تمنا رکھنے والے مذہبی عناصر کی جذباتی تسکین اور شرق اوسط اور خلیج میں اہل تشیع کی ابھرتی ہوئی سیاسی طاقت کو توازن اور اعتدال میں رکھنے کے لیے ایک موثر کردار وغیرہ۔ پاکستان بھی خطے میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تناظر میں طالبان کے ساتھ ایک قابل فہم ہمدردی رکھتا ہے اور طالبان نے بھی، جنرل مشرف کے دور حکومت میں کیے جانے والے سیاسی فیصلوں اور بعد میں ان کا تسلسل قائم رہنے کے باوجود پاکستان کے اندر شورش برپا کرنے والے مذہبی عناصر سے قطعی لاتعلقی ظاہر کر کے اپنی وسعت ظرفی، ہوش مندی اور سیاسی مستقبل بینی کا ثبوت دیا ہے۔ تاہم بہت سے حوالوں سے طالبان کی سیاسی سمجھ بوجھ اور خاص طو رپر عالمی سیاست کے dynamics کے مدبرانہ فہم کی صلاحیت پر کئی سوالیہ نشان لگے ہوئے ہیں اور اس ضمن میں سامنے کی مثال کے طور پر بدھا کے مجسموں کے انہدام اور القاعدہ جیسے عناصر کو پناہ دینے کے واقعات پیش کیے جا سکتے ہیں۔ طالبان کے مخصوص مذہبی وسیاسی مائنڈ سیٹ کی وجہ سے افغانستان کی مسلمہ سیاسی قوتوں کو اقتدار میں شریک کر کے ملک کو سیاسی استحکام کی طرف لے جانے کی بھی کوئی صورت کم از کم ان کے پچھلے عرصہ اقتدار میں سامنے نہیں آ سکی۔ 
جہاں تک اسلام کی مذہبی اور اجتماعی قدروں کا عملی نمونہ پیش کرنے کا تعلق ہے تو طالبان کی اسلام اور امت مسلمہ کے ساتھ بے لچک نظریاتی وابستگی، چاہے وہ ان کے مخصوص فہم اسلام ہی کی صورت میں ہو، ان کا سادہ طرز حکمرانی، ملک میں امن وامان کا قیام، پوست وغیرہ کی کاشت پر پابندی اور اس نوع کے بعض دیگر مظاہر موجودہ دور کے بیشتر مسلم حکمرانوں کے تقابل میں فی الواقع بے حد قابل قدر ہیں اور اگر ان کی حکومت کا تسلسل قائم رہتا تو یقیناًپاکستان کے طرز حکمرانی پر بھی اس کے مثبت اور مفید اثرات مرتب ہوتے، تاہم یہاں بھی بعض پہلووں سے مثلاً خواتین کے حقوق، عمومی طور پر سیاسی وسماجی آزادیوں اور جمہوری طرز حکمرانی کے ضمن میں ان کے تصورات، جنھیں صرف افغان کلچر کے حوالے سے نہیں، بلکہ اسلام کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، ناقابل رشک ہیں۔ 
یہ ساری صورت حال یہ بتاتی ہے کہ افغانستان کے طالبان کم از کم مستقبل دیدہ کی حد تک فکری ونظریاتی اور عملی طور پر پاکستان کے اسلام پسندوں کو، جن کا ذہنی وفکری افق اور عملی اکسپوژر بدیہی طو رپر کہیں زیادہ وسیع ہے، راہنمائی ’’دینے‘‘ کی پوزیشن میں نہیں، بلکہ یہاں کے اہل علم کے علم وفہم اور تجربہ وبصیرت سے راہنمائی ’’لینے‘‘ کے محتاج ہیں۔ اسی طرح اپنے حالات کے لحاظ سے وہ ہرگز اس بات کے متحمل نہیں ہیں کہ القاعدہ جیسے بے خانماں عناصر کو، جن کی ساری تگ وتاز کا ہدف تعمیر نہیں بلکہ صرف تخریب ہے، محض جذبہ جہاد میں اشتراک کی بنا پر اپنے ساتھ نتھی کر لیں جبکہ دونوں کے عملی اہداف اور ان کی تکمیل کے لیے مطلوب حکمت عملی میں اگر کوئی نسبت پائی جاتی ہے تو وہ صرف ’تخالف‘ کی ہے۔ 
افغانستان میں طالبان کا موثر سیاسی کردار افغانستان کے مفاد میں بھی ہے، پاکستان کے مفاد میں بھی اور کئی پہلووں سے خود اسلام کے مفاد میں بھی، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کے مذہبی عناصر جذباتیت اور رومانیت سے بلند ہو کر معروضی صورت حال کے ساتھ ساتھ طالبان کی ممکنہ استعداد اور کمزوریوں، دونوں کا حقیقت پسندانہ، غیر جانب دارانہ اور بے لاگ تجزیہ کریں اور اپنی خام توقعات اور غیر حکیمانہ ترجیحات کا بار ان پر لادنے کے بجائے انھیں اس بصیرت اور تجربے میں شریک کرنے کی کوشش کریں جس کے نمونے پچھلی ڈیڑھ سو سال کی تاریخ میں برصغیر کی اعلیٰ سطحی مذہبی قیادت کے ہاں قابل لحاظ تعداد میں پائے جاتے ہیں اور جنھیں جہاد اور غلبہ اسلام کے عالمی احیاکی ایک جذباتی اور رومان پرور فضا میں، جو ہمارے اپنے ہی تخیل کی تخلیق ہے، ہم خود بھی فراموش کر چکے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ افغان عوام اور افغانستان کی سیاسی قوتیں دہری بلکہ تہری مظلوم ہیں۔ ایک طرف انھیں القاعدہ جیسے نادان دوستوں کی دوستی میسر ہوئی، دوسری طرف امریکہ اپنی اندھی طاقت کے ساتھ ان پر چڑھ دوڑا اور تیسری طرف پاکستان سمیت خطے کی تمام طاقتیں خود افغان عوام کے مفاد اور ان کے سیاسی حق خود ارادیت کا احترام کرنے کے بجائے اپنے اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر سیاسی وتزویراتی کھیل کھیلنے اور صورت حال کو پیچیدہ سے پیچیدہ تر بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس صورت حال میں سطحی نظر سے دیکھا جائے ، جیسا کہ عام مذہبی حلقے دیکھ رہے ہیں، تو طالبان کی ہمدردی کا تقاضا یہ دکھائی دیتا ہے کہ ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی مکمل پردہ پوشی کی جائے اور ان کی تنقید میں ایک لفظ بھی زبان سے ادا نہ کیا جائے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ راستہ نہ دانش مندی کا ہے اور نہ دور اندیشی کا۔ اگر مستقبل کی بہتری ماضی کی غلطیوں کی اصلاح سے مشروط ہے، اور یقیناًایسا ہی ہے، تو طالبان کی حقیقی خیر خواہی اور ہمدردی کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے حق میں آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شرعی، اخلاقی اور سیاسی غلطیوں کو بھی دوٹوک انداز میں ان پر واضح کیا جائے اور کسی نام نہاد سیاسی مصلحت یا غیرت وحمیت کو اس میں آڑے نہ آنے دیا جائے۔ اگر امریکی حکومت کی پالیسیوں پر خود امریکہ میں داخلی سطح پر آزادانہ اور کھلے نقد ومباحثہ کو قومی مفاد اور مصلحت کے منافی نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ایک مفید، مثبت اور تعمیری عمل سمجھ کر اس سے راہنمائی لی جاتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے مذہبی طبقات ’’حمیت‘‘ اور ’’مصلحت‘‘ کے ایک محدود اور سطحی مفہوم کو معیار بنا کر داخلی نقد واحتساب سے گریز کو خود بھی ایک مستقل روش کے طو رپر اختیار کر لیں اور امت کو بھی یہی سجھانے لگ جائیں کہ وہ اسلام اور ملت اسلامیہ کے مفاد کو متعین کرنے کا استحقاق چند مخصوص ذہنوں کے لیے تسلیم کر کے ’’تو مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر‘‘ کے مصداق اپنے لیے صرف ان کے فیصلوں کے نتائج بھگتنے کا کردار قبول کر لیں۔
اس ضمن میں جہادی عناصر کے ساتھ نتیجہ خیز مکالمے میں کوئی موثر کردار ادا نہ کیے جا سکنے کا ایک بہت بڑا سبب یہ ہے کہ اس حوالے سے روایتی مذہبی قیادت اپنے موقف اور رجحان کی تعیین میں ذہنی طور پر یکسو نہیں ہے اور اس کے پاس جہادی عناصر کے لیے جو پیغام ہے، وہ واضح اور دوٹوک شرعی واخلاقی اصولوں کے حوالے سے نہیں بلکہ بنیادی طور پر معروضی حالات کی سازگاری اور عملی مصلحت کے تصور کو اپیل کرتا ہے جبکہ عملی مصلحت ایک ایسی چیز ہے جس کی تعیین میں بنیادی کردار کسی بھی شخص یا گروہ کے ہاں پہلے سے طے شدہ ذہنی ترجیحات اور ان کے حصول کے لیے درکار عزم وہمت اور جذبہ قربانی کا ہوتا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ذہنی ترجیحات اور عزم وہمت کے دائرے میں روایتی قیادت اور مذکورہ عناصر کے مابین کوئی ایسی قدر مشترک موجود ہی نہیں جس کی بنیاد پر کوئی مفید مکالمہ ہو سکے یا ایک دوسرے کو اپنا نقطہ نظر سمجھانے کی کوشش کی جا سکے۔ خاص طور سے عزم وہمت کے باب میں دونوں کے مابین جو فرق ہے، وہ وضاحت کا محتاج نہیں۔ ایک فریق کے عزم وہمت کی کیفیت یہ ہے کہ وہ اپنے موقف کی خاطر خود اپنے جسم پر بم باندھ کر جان کا نذرانہ پیش کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتا، جبکہ دوسری طرف یہ حال ہے کہ کوئی ذمہ دار مذہبی راہ نما کسی نازک اور حساس مسئلے پر دوٹوک موقف بیان کرنے سے ڈرتا ہے کہ کہیں اگلے خود کش حملے کا نشانہ اسی کو نہ بنا لیا جائے۔ اسی طرح عام طور پر روایتی لوگوں کی طرف سے اس معاملے میں قتل وغارت اور خون خرابے کی صورت حال کو بنیاد بنا کر جہادی عناصر کی اخلاقی حس کو اپیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ جب ایک فریق اصولی طور پر اپنے آپ کو اس وقت کے پورے سیاسی اور تہذیبی نظام کے خلاف حالت جنگ میں سمجھتا ہے تو اس کے لیے یہ اپیل بے معنی ہے، کیونکہ جنگ بہرحال قدموں کے نیچے سرخ قالین بچھانے اور سروں کے اوپر سے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے کا نہیں بلکہ قتل وغارت اور خون خرابے ہی کا کا نام ہے۔ اس وجہ سے میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں ’’مصلحت‘‘ جیسے مبہم اور غیر متعین تصور کے بجائے شرعی واخلاقی ضوابط کی روشنی میں ایک واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر روایتی مذہبی قیادت نہ تو اپنی شرعی ودینی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو سکتی ہے اور نہ امت کو ذہنی کنفیوژن سے نکالنے میں ہی کوئی خاطر خواہ کردار ادا کر سکتی ہے۔

ابو عمار زاہد الراشدی

کسی مباحثے میں ہر علمی رائے کو فتویٰ کے عنوان سے پیش کرنا یا ہر رائے کو فتویٰ قرار دے دینا درست نہیں ہے۔ فتویٰ کا دائرہ علمی مباحثہ کے دائرے سے مختلف ہے اور اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
  • جہاد کو محض ایک نظری حیثیت دینے کے نقطہ نظر سے مجھے اتفاق نہیں ہے۔ مسلمانوں کی ہر وہ جنگ جو شرعی جواز رکھتی ہے، جہاد ہی کے دائرے کی جنگ ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ اعلان جنگ کیے بغیر بھی مسلح کارروائیاں کی ہیں۔
    ۱۔ یمن میں مسلم اقتدار ختم ہونے پر اسود عنسی کی حکومت ختم کرانے کے لیے چھاپہ مار کاروائی کا طریقہ اختیار کیا گیا۔
    ۲۔ کعب بن اشرف اور ابو عامر کو بھی چھاپہ مار کاروائی کے ذریعے قتل کرایا گیا ہے۔
    ۳۔ حضرت ابو جندلؓ اور حضرت ابو بصیرؓ کا چھاپہ مار کیمپ صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی تھی اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کھلم کھلا براء ت کا اظہار کیا تھا، لیکن ان چھاپہ مار کارروائیوں سے حاصل ہونے والے نتائج کو نہ صرف قبول کیا بلکہ ان چھاپہ ماروں کی طرف سے قریش مکہ کے ساتھ مذاکرات خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیے۔ پھر ان چھاپہ ماروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا اور کسی قسم کی کوئی سزا نہیں دی۔
    محدثین نے ان تمام کاروائیوں کو ’’جہاد‘‘ کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ اگر ابو جندلؓ اور ابو بصیرؓ کی کاروائیاں بھی جہاد کے دائرے میں شامل ہیں تو پھر ’’جہاد‘‘ کو محض ایک نظری اور آئیڈیل درجہ دے کر چھوئی موئی بنا دینے کا کیا جواز ہے؟
  • اگر خود امریکی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے میں طالبان ملوث نہیں ہیں تو اس حملہ کو افغانستان پر فوج کشی کے جواز کا سبب کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا کسی ملک میں دشمن کا موجود ہونا یا کسی حکومت کا کسی حکومت کے دشمن کو پناہ دینا اس ملک پر حملے کا جواز بن جاتا ہے؟ خود امریکہ سمیت مغربی حکومتوں نے دنیا کی کتنی حکومتوں کے دشمنوں کو سیاسی پناہ دے رکھی ہے۔ کیا یہ سیاسی پناہ ان حکومتوں کو ان مغربی ممالک پر فوج کشی کا حق دیتی ہے جن کے دشمنوں کو سیاسی پناہ دی گئی ہے؟
  • جوں جوں افغانستان میں طالبان کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں، اس بات کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے کہ طالبان کے وجود میں آنے سے اب تک کی ان کی جدوجہد اور پالیسیوں کا پوری تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور ان کا علمی بنیادوں پر حقیقت پسندانہ تجزیہ کر کے کوتاہیوں کی وضاحت اور ان کے سد باب کے لیے تجاویز پیش کرنے کا اہتمام کیا جائے اور اس کے لیے غزوۂ احد کے بارے میں قرآن کریم کے ارشادات کو سامنے رکھا جائے، کیونکہ طالبان کو اپنے مستقبل کی بہتر صورت گری کے لیے اس مرحلے میں اہل علم ودانش کی طرف سے اسی قسم کا تعاون اور راہ نمائی درکار ہے۔
  • طالبان اور القاعدہ کے باہمی معاملات کے حوالے سے راقم الحروف نے اپنے ایک تفصیلی تجزیاتی مضمون میں جو الشریعہ کے نومبر/دسمبر ۲۰۰۹ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا، جو کچھ عرض کیا تھا، اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہ کرتے ہوئے دوبارہ پیش کر رہا ہوں:
’’یہی وہ موقع ہے جب پاکستان میں، جو جہا د افغانستان کا سب سے بڑا پشت پناہ اور مجاہدین کا بیس کیمپ تھا، حکومتی سطح پر اختلافات پیدا ہوئے۔ جنرل محمد ضیاء الحق شہید اس جنگ کواس کے منطقی نتائج تک پہنچانے اور افغان مجاہدین کی حکومت کے قیام اور استحکام تک اس میں عملاً شامل رہنے کا عزم رکھتے تھے، جب کہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو مرحوم اس جنگ کواسی مرحلہ پر مکمل سمجھتے ہوئے اس سے کنارہ کشی کا فیصلہ کر چکے تھے۔ اسی کشمکش کی فضا میں جنیوا معاہدہ نے جنم لیا جو جہاد افغانستان اورافغان عوام کے بارے میں عالمی قوتوں کی منافقانہ پالیسیوں کا شاہکار تھا اور اس نے افغانستان میں ایک مستحکم حکومت ونظام کے قیام کی بجائے خانہ جنگی اور خلفشار کا ماحول پیدا کیا۔ 
اسی خلفشار اور خانہ جنگی سے طالبان نے جنم لیا جنھوں نے افغانستان کے ایک بڑے حصے کو کچھ عرصے کے لیے بدامنی اور لاقانونیت سے تو نجات دلا دی لیکن وہ اپنی حکومتی ترجیحات میں ایسی ترتیب قائم نہ کر سکے کہ اپنے اصل اہداف کی طرف موثر پیش رفت جاری رکھ سکتے۔ ظاہر بات ہے کہ طالبان کی حکومت کا وجود میں آنا مقامی حالات کا نتیجہ تھا جوعالمی قوتوں کے ایجنڈے اور مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، چنانچہ کچھ عرصہ تک تو ان کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی اور انھیں عالمی ایجنڈے میں فٹ کرنے کے لیے اپنے ڈھب پر لانے کی کوشش ہوتی رہی لیکن جب یہ بات طے ہوگئی کہ انھیں عالمی ایجنڈے اور پروگرام میں ایڈجسٹ کرنا کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے تو ان سے جان چھڑانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ یہ مرحلہ وہ تھا جب افغانستان کے جہاد میں شریک ہونے والے عرب مجاہدین نے مشرق وسطی میں اسرائیل، بیت المقدس، تیل کی دولت کے استحصال اورامریکی افواج کی موجودگی کے تناظر میں اپنا ایجنڈا طے کیا اور اس کی طرف پیش رفت کاپروگرام بنایا اور ظاہر بات ہے کہ یہ بھی عالمی قوتوں کے مفاد اور ایجنڈے سے متصادم بات تھی۔ 
افغان طالبان اور عرب مجاہدین کا دائرۂ کار الگ الگ تھا، لیکن نظریاتی اہداف مشترک تھے، اس لیے ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی، ہم آہنگی اور تعاون کی فضا موجود تھی۔ دوسری طرف یہ دونوں گروہ عالمی استعمار کے پروگرام اور ایجنڈے کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتے تھے، کیوں کہ مشرق وسطی میں اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنا اور افغانستان میں ایک نظریاتی اسلامی حکومت کا راستہ روکنا عالمی استعمار کی اولین ترجیحات تھیں، چنانچہ وہ جنگ جو اس سے پہلے افغان مجاہدین اور سوویت افواج کے درمیان تھی، اب وہی معرکہ افغان مجاہدین، عرب مجاہدین اور امریکی استعمار کے درمیان معرکہ آرائی میں تبدیل ہوگیا۔
ہمارے خیال میں اس مرحلے میں مجاہدین کی قیادت کو اپنی ترجیحات کے تعین میں حقیقت پسندانہ طورپر معروضی حالات کا لحاظ رکھنا چاہیے تھا جو نہیں رکھا جا سکا اور بازی الٹ گئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر دونوں جنگیں بیک وقت لڑنے کی بجائے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو مستحکم کرنے کو ترجیح دی جاتی جس کے لیے ایک دستوری حکومت کا قیام، عالمی سطح پر حکمت عملی کے ساتھ رائے عامہ کی حمایت کاحصول اور عالم اسلام کی دینی قوتوں کو نظریاتی اورملی اہداف کے لیے مجتمع کرنا سب سے زیادہ ضروری امور تھے۔ مشرق وسطی کی جنگ کو اس وقت تک تھوڑا موخر کر لیا جاتا تو یہ ایک بہتر حکمت عملی ہوتی، لیکن ایسانہ ہو سکاا ورہم اس امکان کو نظر انداز نہیں کرتے کہ ایسا نہ ہوسکنے کے پیچھے ان دونوں گروہوں کے مجاہدین کے ا نتہائی خلوص کے باوجود ان دیکھے ہاتھ حرکت میں رہے ہوں گے۔ 
نائن الیون کے المناک سانحہ نے اس صورت حال میں ڈرامائی تبدیلی پیدا کر دی اور وہ کام جو ابھی کئی سالوں میں ہونے تھے، اس کے لیے مہینے اور ہفتے بھی طویل دکھائی دینے لگے۔ اس مرحلہ میں افغان طالبان اور عرب مجاہدین میں سے کسی ایک کو دوسرے کے لیے قر بانی دینا تھی اور ہمارے خیال میں اگر یہ قربانی عرب مجاہدین دے دیتے تو افغان طالبان کو سنبھلنے اور عالم اسلام میں اپنے بہی خواہوں سے رابطہ و مشاورت کے ساتھ کوئی نہ کوئی راستہ نکالنے کا تھوڑا سا موقع مل جا تا، لیکن یہ بھی نہ ہوا اور اپنے عرب مجاہدبھائیوں کی خاطر افغان طالبان نے پورے خلوص کے ساتھ اپنی حکومت کی قربانی دے دی۔ یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر عرب مجاہدین افغا ن طالبان کے لیے قربانی دیتے، تب بھی بالآخر نتیجہ یہی ہونا تھا اور جوکچھ ہو رہا ہے، اس کا ہونا طے پا چکا تھا۔ ہمیں اس سے اتفاق ہے، لیکن ہمارا وجدان یہ کہتا ہے کہ اگر طالبان حکومت اور عالم اسلام میں ان کے بہی خواہوں کو باہمی مشاورت ورابطہ اور کوئی راستہ نکالنے کے لیے سنبھلنے کا تھوڑا سا وقت مل جاتا تو نتائج کی شدت کو کم کر نے کے امکانات بہرحال موجود تھے۔ بہرحال اب جو ہونا تھا ہوچکا اور اس کے بعد کے مراحل بتدریج طے ہو رہے ہیں۔ ہمیںیقین ہے کہ افغان قوم کے موجودہ حالات زیادہ دیر تک قائم نہیں رہیں گے اور ان میں نئی کروٹ کے آثار اب افق پر واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ اس لیے افغان طالبان کو ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے مستقبل کی نئی منصوبہ بندی اورصف بندی کرناہوگی اور دوست دشمن کی پہچان بلکہ نادان اور دانا دوستوں کے درمیان فرق کے لیے زیادہ سنجیدگی کے ساتھ غور وخوض کرنا ہو گا۔‘‘
  • جہاں تک کسی مسلم ملک میں اسلامی حکومت کے قیام کے لیے دستوری ڈھانچے کا تعلق ہے، اس کے لیے راقم الحروف کے خیال میں دستور پاکستان میں شامل ’’قرارداد مقاصد‘‘ اور تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام کے ’’۲۲ متفقہ دستوری نکات‘‘ ہی آج کے دور میں صحیح بنیاد بن سکتے ہیں۔ میں نے طالبان کے دور حکومت میں قندھار اور کابل حاضری کے موقع پر طالبان کے متعدد قائدین کو اسی بنیاد پر اپنا حکومتی نظام تشکیل دینے کا مشورہ دیا تھا اور آئندہ کے لیے بھی ان کے لیے میرا مخلصانہ مشورہ یہی ہے۔ اس سے ہٹ کر عثمانی اور عباسی خلافتوں کے شخصی اور خاندانی ڈھانچے نہ آج کے حالات سے ہم آہنگ ہیں اور نہ ہی اسلامی خلافت کے معیاری تصورات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ طالبان ہوں یا کوئی بھی دینی قوت، اسے ایک صحیح اسلامی ریاست کے لیے قیام کے لیے بالآخر وہی راستہ اپنانا ہوگا جس کا فیصلہ قیام پاکستان کے بعد اکابر علماء کرام نے ۲۲ دستوری نکات کی صورت میں کر دیا تھا۔

محمد عمار خان ناصر

آپ کے تبصرے کے ایک نکتے کے حوالے سے کچھ عرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس کی زد میرے خیال میں براہ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور سیرت پر پڑتی ہے۔ میں نے القاعدہ اور طالبان کے طرز جنگ پر یہ اعتراض کیا ہے کہ غیر مقاتلین کو قصداً جنگی حملے کا نشانہ بنانا یا ایسی کسی کارروائی کے ذمہ داروں کو پناہ اور تحفظ فراہم کرنا شرعاً واخلاقاً درست نہیں۔ اس کے جواب میں آپ کسی شرعی توجیہ سے غیر مقاتلین پر حملے کا جواز واضح فرماتے تو بات بالکل اور ہوتی، لیکن آپ نے اس کے بجائے عہد نبوی کی بعض چھاپہ مار اور گوریلا طرز کی جنگی کارروائیوں کا حوالہ دے کر فرمایا ہے کہ اگر یہ جہاد ہیں تو پھر القاعدہ یا طالبان کے طریقے کو جہاد کیوں نہیں کہا جا سکتا۔ اب میرے مذکورہ استدلال کے جواب میں آپ کی اس بات کا مطلب بظاہر یہ بنتا ہے کہ مذکورہ کارروائیوں میں بھی کچھ اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور اس کے باوجود انھیں جہاد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اگر یہی واقعتا آپ کی مراد بھی ہے تو میرے خیال میں یہ ایک انتہائی نازک بات ہے، کیونکہ نہ صرف اعتقادی طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی اخلاقی اصول کی خلاف ورزی یا اس کی تائید کی نسبت کرنا بڑا حساس مسئلہ ہے، بلکہ عملاً بھی جن واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے، ان میں سے کسی میں بھی کسی شرعی واخلاقی اصول کی کوئی خلاف ورزی نہیں پائی جاتی۔ مثلاً چھاپہ مار کارروائی لڑائی کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے اور فی نفسہ اس میں کوئی اخلاقی قباحت نہیں پائی جاتی۔ اخلاقی ممانعت خفیہ اور غیر علانیہ حملہ کرنے کی نہیں، بلکہ بے گناہ افراد کو قتل کرنے اور غدر، خیانت اور بد عہدی کی ہے جو ان واقعات میں سے کسی میں نہیں پائی جاتی۔ اسود عنسی کا معاملہ واضح ہے۔ وہ مدعی نبوت تھا اور طاقت کے زور پر مسلمانوں پر مسلط ہوا تھا، اس لیے اسے قتل کر دینا اور اس سے اقتدار واپس لینا مسلمانوں کا بالکل جائز حق تھا۔ کعب بن اشرف اور ابو رافع وغیرہ اپنی شخصی حیثیت میں نقض عہد اور محاربہ کے مرتکب تھے، چنانچہ ان کے خلاف اقدام میں بھی کوئی شرعی واخلاقی مانع نہیں تھا۔ ابو بصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے گروہ کی کارروائیوں کو صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کہنا اس لیے درست نہیں کہ وہ سرے سے اس معاہدے کے فریق ہی نہیں تھے۔ معاہدہ ریاست مدینہ اور قریش کے مابین ہوا تھا، جبکہ مکہ کے مستضعفین ریاست مدینہ کو ذمہ داری میں شریک کیے بغیر قریش کے خلاف کسی بھی قسم کا اقدام کرنے کے لیے کلیتاً آزاد تھے۔ ان کی طرف سے قریش کے تجارتی قافلوں پر حملے کرنا بھی بالکل جائز تھا، کیونکہ برسر جنگ دشمن کا مال جنگی اخلاقیات کی رو سے دوسرے فریق کے لیے مال غنیمت اور مباح ہوتا ہے، الا یہ کہ کسی باہمی یا بین الاقوامی معاہدے کی رو سے ایسا نہ کرنے کی پابندی قبول کر لی جائے۔ ایسے مواقع پر اگر قافلے والوں نے مزاحمت کی اور ان میں سے کچھ لوگ مسلمانوں کی تلوار کا نشانہ بن گئے تو بھی یہ جنگی اخلاقیات کے عین مطابق تھا، کیونکہ اس صورت میں مزاحمت کر کے لڑائی کرنے والے ’’مقاتلین‘‘ کے زمرے میں آ جاتے ہیں۔ 
جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ہے تو آپ کی طرف سے معاہدہ حدیبیہ کی ادنیٰ خلاف ورزی بھی نہیں کی گئی، کیونکہ سیدنا ابو بصیر اور ان کے ساتھیوں کو مدینہ منورہ میں قیام کی اجازت دینے کا فیصلہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ طو ر پر نہیں، بلکہ دوسرے فریق کی رضامندی اور خواہش پر معاہدے میں باقاعدہ ترمیم کے بعد بالکل علانیہ کیا گیا تھا۔ خلاصہ یہ کہ مذکورہ اقدامات میں سے ہر اقدام ’’جہاد‘‘ کے لیے شریعت میں مقرر کڑے اخلاقی معیار پر پورا اترتا ہے اور فقہا ومحدثین نے اگر انھیں ’’جہاد‘‘ کے عنوان سے ذکر کیا ہے تو بالکل درست کیا ہے۔ القاعدہ کی جنگی کارروائیوں اور طالبان کے انھیں پناہ اور تحفظ دینے کا معاملہ ا س کے بالکل برعکس ہے اور حدیث وسیرت کے ذخیرے سے اس کے لیے مذکورہ واقعات کے بجائے ان احادیث کا حوالہ دینا زیادہ مناسب ہے جن کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان کارزار میں ایک خاتون کو مقتول دیکھ کر فرمایا کہ: ’ما کانت ہذہ تقاتل‘ اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بعض ناجائز جنگی اقدامات کا علم ہونے پر فرمایا کہ ’اللہم انی ابرا الیک مما صنع خالد‘۔ پھر ظاہر ہے کہ اگر کسی اخلاقی اصول کی خلاف ورزی انفرادی سطح پر ہوئی ہے تو شرعی حکم اسی دائرے تک محدود رہے گا اور اگر بحیثیت مجموعی پوری جنگ کے پیچھے ایک سنگین اخلاقی تجاوز کار فرما ہے تو حکم بھی اسی سطح پر لگے گا۔

ابو عمار زاہد الراشدی

میرے تبصرے کے اس حصے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جو جنگ شرعاً جواز کا درجہ رکھتی ہے، اسے جہاد قرار دینے میں کون سی بات مانع ہے؟ جنگ کی تمام صورتوں کو محدثین نے جہاد کے ابواب میں بیان کیا ہے اور وہ جہاد ہی کے مختلف درجات اور شکلیں ہیں۔ یہ بات مجھے حدیث وفقہ کے ذخیرے میں کہیں نظر نہیں آئی کہ ایک جنگ شرعی طور پر تو جائز ہے، مگر اسے جہاد نہیں کہا جا سکتا۔ میرا تاثر یہ ہے کہ جہاد سے انکار کی ایک محتاط صورت یہ بھی ہے کہ جہاد سے انکار تو نہ کیا جائے، لیکن اس کی عملی صورت کو اس طرح محدود کر دیا جائے کہ وہ کسی درجے میں قابل عمل نہ رہے۔
جنگی اخلاقیات اور کسی شرعی فریضہ کے قابل عمل ہونے کی صورتیں ہر دور میں اس دور کے تقاضوں کے مطابق پاتی ہیں، اس لیے طالبان یا عرب مجاہدین کی جنگی پالیسیوں کو ہمیں آج کے معروضی تناظر اور اجتماعی اخلاقیات کی بنیاد پر دیکھنا ہوگا، آج کی مجموعی صورت حال میں ان کی شرعی حیثیت کا تعین کرنا ہوگا اور جنگ کے تمام فریقوں کے طرز عمل کو سامنے رکھ کر موقف طے کرنا ہوگا۔
حضرت خالد بن ولید یا بعض دیگر صحابہ کرام کے واقعات پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نکیر فرمائی ہے، وہ شخصی واقعات کے حوالے سے ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایسی غلطی کرنے والے حضرات نے جس جنگ میں یہ غلطی کی ہے، وہ جنگ ہی سرے سے جہاد نہیں رہی۔ یہ خوارج کا اسلوب ہے کہ جو اعلیٰ درجے کا مسلمان نہیں ہے، وہ سرے سے مسلمان ہی نہیں ہے۔ اس موقف میں بھی اسی اسلوب کی جھلک دکھائی دیتی ہے کہ جو اعلیٰ درجے کا جہاد نہیں، وہ سرے سے جہاد ہی نہیں ہے۔ جہاد کے مختلف درجات ہیں اور متنوع اسالیب ہیں اور جو جنگ شرعاً جائز ہے، اسے جہاد قرار دینے میں کوئی اصولی رکاوٹ موجود نہیں ہے۔

محمد عمار خان ناصر

اس بحث میں بنیادی طور پر دو گروہوں یعنی طالبان اور القاعدہ کا کردار اور طرز عمل شرعی واخلاقی تناظر میں زیر بحث رہا ہے۔ جہاں تک طالبان اور بن لادن کے باہمی روابط کا تعلق ہے تو اس ساری بحث میں ایک بے حد اہم نکتہ طرفین کی طرف سے نظر انداز کیا گیا، یعنی یہ کہ طالبان کی طرف سے بن لادن کی سرگرمیوں کی نگرانی بلکہ اس پر مقدمہ چلانے کے حوالے سے تعاون کی پیش کش بھی موجود تھی۔ ایک اخباری اطلاع کی حد تک یہ بات میرے علم میں تھی، لیکن میرا تاثر یہ تھا کہ طالبان کی طرف سے یہ بات نائن الیون کے بعد کی صورت حال میں کسی مرحلے پر محض دفع الوقتی کے طور پر کہی گئی ہوگی، لیکن کل ہی برادرم شاہد حنیف صاحب نے مجھے اس موضوع پر کچھ مواد بھیجا ہے جس میں طالبان کے اس وقت کے سفری سفیر سید رحمت اللہ ہاشمی صاحب کی ایک تقریر بھی شامل ہے جو انھوں نے ۱۰؍ مارچ ۲۰۰۱ء کو لاس اینجلس میں یونی ورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا میں اساتذہ اور طلبہ کے سامنے کی۔ اس کا اردو ترجمہ ماہنامہ ’’البلاغ‘‘ کراچی کے نومبر ۲۰۰۱ء کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ اس میں انھوں نے دوسرے بہت سے سوالات کے علاوہ دہشت گردی کی سرپرستی کے الزام کے ضمن میں بھی طالبان حکومت کے موقف کی وضاحت کی ہے۔ اسامہ بن لادن کی حوالگی کے مسئلے پر رحمت اللہ ہاشمی کہتے ہیں:
’’ہم اس معاملے میں بہت کھلے ذہن کا ثبوت دیتے رہے ہیں۔ ہم نے کہا کہ اگر یہ آدمی واقعی کینیا اور تنزانیہ کے واقعات میں ملوث ہے، اگر کوئی ہمیں ان بھیانک واقعات میں اس کے ملوث ہونے کے شواہد دے دے تو ہم اسے سزا دیں گے، لیکن کسی نے ہمیں ثبوت نہیں دیے۔ ہم نے پینتالیس دن اس پر مقدمہ چلایا اور کسی نے ہمیں کسی قسم کا ثبوت نہیں دیا۔ امریکہ نے ہمیں کہا کہ ہمیں آپ کے عدالتی نظام پر اعتبار نہیں ہے۔ .... چنانچہ ہماری پہلی تجویز مسترد کر دی گئی۔ کہا گیا کہ ہمیں آپ کے عدالتی نظام پر بھروسہ نہیں ہے اوریہ کہ ہمیں لازماً اسامہ کو نیو یارک بھیجنا ہوگا۔
اس پہلی تجویز کے مسترد کیے جانے کے بعد ہم نے کہا کہ ہم اس بات پر تیار ہیں کہ ایک بین الاقوامی مانیٹرنگ گروپ افغانستان بھیجا جائے اور اسامہ کی نگرانی کی جائے تاکہ کوئی ایسی کارروائی دوبارہ نہ ہو سکے، اگرچہ اس کے پاس مواصلاتی نظام بالکل نہیں ہے، لیکن ہماری یہ تجویز بھی مسترد کر دی گئی۔
چھ ماہ پیشتر ہم نے تیسری تجویز دی اور وہ کہ ہم اسامہ بن لادن پر کسی تیسرے ملک میں سعودی عرب اور پاکستان کی رضامندی سے مقدمہ چلانے کے لیے تیار ہیں۔ یہ تجویز بھی مسترد کر دی گئی۔
ہم پھر بھی ابھی تک کھلے ذہن کے ساتھ سوچ رہے ہیں اور اب چوتھی بار میں اپنی اعلیٰ قیادت کی طرف سے ایک خط لے کر آیا ہوں جو میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو عنقریب پیش کر دوں گا، اس امکان پر کہ شاید وہ مسئلے کا حل نکالیں لیکن میں نہیں سمجھتا کہ وہ ایسا کریں گے۔‘‘ (البلاغ، نومبر ۲۰۰۱ء، ص ۲۹، ۳۰)
بعض دوسری رپورٹوں سے، جن میں سے بعض کا میں سابقہ بحث میں حوالہ دے چکا ہوں، یہ پتہ چلتا ہے کہ بن لادن کے خلاف باقاعدہ قانونی ثبوت نہ ہونے کے باوجود اس کے عزائم اور اہداف کے پیش نظر طالبان نے بیرونی دنیا کے ساتھ اس کے رابطوں کو محدود کرنے کا اقدام کیا بلکہ اسے کسی دوسرے ملک میں بھیج دینے کامعاملہ بھی زیر غور آیا۔ نائن الیون کمیشن رپورٹ میں درج اطلاعات اور مواد سے بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ ملا محمد عمر، بن لادن کی طرف سے امریکہ کے خلاف جہاد کے فتوے جاری کرنے اور حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے خلاف تھے اور اپنی حد تک وہ بن لادن کو اس سے روکنے کی کوشش بھی کرتے رہے، البتہ وہ عالمی دباؤ کے سامنے سر جھکاتے ہوئے بن لادن سے تعلق ختم کرنے یا اسے سعودی عرب یا امریکہ کے سپرد کرنے پر آمادہ نہ ہو سکے۔ تاہم رحمت اللہ ہاشمی کی مذکورہ تقریر سے یہ پہلو واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ طالبان کی طرف سے بن لادن کو ہر قیمت پر تحفظ دینے کی کوشش نہیں کی گئی، بلکہ وہ نائن الیون سے بہت پہلے اس کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے، اسے دہشت گردی کی منصوبہ بندی سے روکنے اور اس پر لگائے جانے والے الزامات کی عدالتی تحقیق کے لیے عالمی برادری کو مسلسل تعاون کی پیش کش کرتے رہے، لیکن نہ تو ان تجاویز پر توجہ دی گئی اور نہ کوئی ایسی متبادل تجویز پیش کی گئی جس میں ایک آزاد ریاست کے طور پر طالبان کا اطمینان بھی شامل ہوتا۔ اس صورت حال میں یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ طالبان کو بعض وقتی اور محدود سیاسی مصالح کی قربانی دیتے ہوئے بن لادن کے معاملے میں زیادہ مضبوط، دو ٹوک اور ذمہ دارانہ موقف اختیار کرنا چاہیے تھا، لیکن انھیں القاعدہ کے پروگرام کے ساتھ ہمدردی یا اس کی خفیہ تائید کا مجرم بہرحال نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ مذکورہ پہلو سامنے آنے کے بعد طالبان کی حکمت عملی پر سخت تحفظات کے باوجود، میرے خیال میں ان کی موجودہ مزاحمت کی شرعی حیثیت کے بارے میں اشکال کی شدت نمایاں طور پر بہت کم ہو جاتی ہے، خاص طور پر جب یہ بات بھی سامنے رکھی جائے کہ نائن الیون کے بعد امریکہ کی طرف سے عالمی برادری اور مسلم دنیا کو کوئی متبادل حل تلاش کرنے کی مہلت اور موقع بالکل نہیں دیا گیا اور انتقام کے جوش میں طاقت کے اندھا دھند استعمال کو ہی واحد حل قرار دے دیا گیا۔ 
البتہ جہاں تک جنگی اخلاقیات اور قوانین وضوابط کے حوالے سے ’’عرب مجاہدین‘‘ کے طریقے کو آج کے ’’معروضی تناظر‘‘ اور ’’تمام فریقوں کے طرز عمل‘‘ کی روشنی میں دائرۂ جواز میں شمار کرنے کا تعلق ہے تو آپ کا موقف میرے لیے الجھن کا باعث ہے۔ اگر تو یہ بات امریکہ وغیرہ کے اخلاقی طرز عمل کے جواب میں محض الزامی طور پر کہی جائے تو اس کا ایک محل ہے، بلکہ اسلامی یونیورسٹی میں جناب مشتاق احمد کی کتاب ’’جہاد، مزاحمت اور بغاوت‘‘ کی تقریب رونمائی میں، میں نے کہا تھا کہ جنگ کے ایک فریق کی طرف سے جنگی اخلاقیات کی سنگین پامالی کو نظر انداز کرتے ہوئے دوسرے فریق کو یک طرفہ طور پر بد اخلاقی کا مجرم ٹھہرانا میرے نزدیک بجاے خود بد اخلاقی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس حد تک تو بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن اس سے آگے بڑھ کر القاعدہ کے فلسفہ جنگ کو باقاعدہ شرعی جواز فراہم کرنا خود آپ کی اپنی سابقہ تصریحات کی روشنی میں میرے لیے ناقابل فہم ہے۔ اگر تو آپ کے سابقہ زاویہ نظر میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے تو اس کی وضاحت ہونی چاہیے، ورنہ ۲۰۰۲ء میں دہشت گردی سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک سوال نامہ کے جواب میں آپ نے لکھا ہے کہ:
’’چوتھا سوال یہ ہے کہ اگر کسی طبقہ کے کچھ افراد نے ظلم کیا ہے تو کیا مظلوموں کو یہ حق حاصل ہے کہ اس طبقے کے دوسرے افراد کو انتقام کا نشانہ بنائیں جو اس عمل میں شریک نہیں تھے؟ اس سلسلے میں عرض ہے کہ جہاں تک غیر متعلقہ لوگوں کو انتقام کا نشانہ بنانے کا تعلق ہے، اسلام اس کی کسی صورت میں اجازت نہیں دیتا۔ یہ بھی اسی طرح کا ظلم ہوگا جس کا وہ مظلوم خود نشانہ بن چکے ہیں۔ البتہ ظالموں کے خلاف کارروائی کے دوران کچھ لوگ ناگزیر طور پر زد میں آتے ہوں تو ان کا معاملہ مختلف ہے۔ ‘‘ (الشریعہ، اکتوبر ۲۰۰۲، ص ۸)
’’عالم اسلام کی ان عسکری تحریکات سے بھی گفتگو کی ضرورت ہے جو مختلف محاذوں پر مصروف کار ہیں اور جنہیں دہشت گرد قرار دے کر ان کو کچلنے کا عمل مسلسل جاری ہے۔ ان تحریکات کی قیادتوں کو دو باتیں سمجھانے کی ضرورت ہے۔ ایک یہ کہ ہر مسئلے کا حل ہتھیار نہیں ہے اور نہ ہی ہر جگہ ہتھیار اٹھانا ضروری ہے۔ جہاں کسی مسئلہ کے حل کا کوئی متبادل راستہ موجود ہے، اگرچہ وہ لمبا اور صبر آزما ہی کیوں نہ ہو، وہاں ہتھیار سے کام لینا ضروری نہیں ہے بلکہ بعض صورتوں میں شاید شرعاً جائز بھی نہ ہو۔ ہتھیار تو آخری حربہ ہے۔ جہاں اور کوئی ذریعہ کام نہ دیتا ہو اور کسی جگہ مسلمانوں کا وجود اور دینی تشخص حقیقی خطرات سے دوچار ہو گیا ہو تو آخری اور اضطراری حالت میں ہتھیار اٹھانے کی گنجائش نکل سکتی ہے، اس لیے اضطرار بلکہ ناگزیر اضطرار کے بغیر ہتھیار کو ہاتھ میں نہ لیا جائے۔
دوسری بات ان سے یہ عرض کرنے کی ہے کہ آزادی، تشخص اور خود مختاری کے لیے اضطرار کی حالت میں قومیں ہتھیار اٹھایا کرتی ہیں۔ یہ زندہ قوموں کا شعار ہے اور آزادی کی عسکری تحریکات سے دنیا کی تاریخ بھری پڑی ہے، لیکن غیر متعلقہ لوگوں کو نشانہ بنانا اور بے گناہ لوگوں کا خون بہانا نہ شرعاً جائز ہے اور نہ ہی دنیا کا کوئی اور قانون وضابطہ اس کی اجازت دیتا ہے۔ ان تحریکات کو اس حوالے سے شرعی احکام وقوانین کی پابندی کا ایک بار پھر عہد کرنا چاہیے اور شرعی احکام بھی وہ نہیں جو خود ان کے ذہن میں آ جائیں بلکہ وہ قوانین وضوابط جو امت کے اجماعی تعامل وتوارث کے ساتھ تسلیم شدہ چلے آ رہے ہیں اور جنہیں وقت کے اکابر علما وفقہا کی طرف سے ضروری قرار دیا جا رہا ہو۔ اس کے بغیر کوئی بھی تحریک اور جدوجہد تمام تر خلوص وجذبہ اور ایثار وقربانی کے باوجود خلفشار پیدا کرنے کا باعث بنے گی اور اس سے اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی ہوگی اس لیے ایسی تحریکات کو کسی بھی ایسی بات سے قطعی طور پر گریز کرنا چاہیے جو:
  • معروف اور مسلمہ شرعی اصولوں کے مطابق نہ ہو۔
  • جس سے مسلمانوں کی مشکلات میں بلاوجہ اضافہ ہوتا ہو۔
  • جو اسلام کے لیے بدنامی کا باعث بن سکتی ہو۔
  • اور جس سے خود ان تحریکات کی قوت کار اور دائرہ عمل متاثر ہوتا ہو۔‘‘ (ص ۹)
جب آپ خود لڑائی میں حصہ نہ لینے والے لوگوں پر حملوں کو ’’ظلم‘‘، ’’شرعاً ناجائز‘‘ اور ’’معروف اور مسلمہ شرعی اصولوں‘‘ کے خلاف کہہ کر ان پر تنقید کر رہے ہیں اور جہادی تحریکات کو اس حوالے سے ’’شرعی احکام وقوانین کی پابندی کا ایک بار پھر عہد‘‘ کرنے کی تلقین فرما رہے ہیں تو آخر میں نے اس سے مختلف کون سی بات کہی ہے؟ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کسی جنگ میں شخصی سطح پر شرعی ضابطوں کی خلاف ورزی سے ’’یہ لازم نہیں آتا کہ ایسی غلطی کرنے والے حضرات نے جس جنگ میں یہ غلطی کی ہے، وہ جنگ ہی سرے سے جہاد نہیں رہی‘‘ تو مجھے اس بات سے پورا اتفاق ہے، لیکن صورت حال یہ ہے کہ القاعدہ کے طرز جنگ میں ایسے واقعات شخصی نہیں بلکہ ان کے فلسفہ جنگ کا باقاعدہ حصہ ہیں اور وہ دشمن کے حربی اہداف کے ساتھ ساتھ ان کے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کو بھی مستقلاً جائز قرار دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں، میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ القاعدہ کی دہشت گردی کی کارروائیوں کو شخصی خلاف ورزی کہہ کر ان کے طرز جنگ کو ’’جہاد‘‘ ہونے کی سند عطا کرنا کس اصول کی رو سے درست ہے۔
میرا خیال ہے کہ اس بحث کے حوالے سے سبھی زاویہ ہائے نگاہ خاصی وضاحت کے ساتھ سامنے آ چکے ہیں، اس لیے مناسب ہے کہ آپ اب تک کی بحث کے رخ کو سامنے رکھتے ہوئے بحث کو مزید آگے بڑھانے کے لیے قابل تنقیح نکات کے حوالے سے اختتامی سطور تحریر فرما دیں تاکہ اس بحث کو سمیٹا جا سکے۔

ابو عمار زاہد الراشدی

میرے خیال میں بحث اب بہتر رخ کی طرف پیش رفت کر رہی ہے، البتہ اس کے بہت سے پہلووں پر ابھی مزید گفتگو کی گنجائش بلکہ ضرورت موجود ہے۔
عرب مجاہدین کی جدوجہد کے بارے میں میرا موقف اب بھی وہی ہے جس کا سطور بالا میں اسلامی نظریاتی کونسل کے سوال نامہ کے جواب کے حوالے سے ذکر ہوا ہے اور میں اسے ان الفاظ میں دوبارہ ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں:
  • اپنے مقاصد کے حوالے سے ان کی یہ جدوجہد جائز بلکہ ان کا حق ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجوں کی موجودگی اور کردار کے خلاف جدوجہد کریں اور عرب ممالک کی قومی خود مختاری کی بحالی کی آواز اٹھائیں۔
  • ان کی عسکری جدوجہد میں غیر متعلقہ لوگوں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر میرے بھی تحفظات ہیں اور جو لوگ جنگ میں براہ راست شریک نہیں ہیں، انھیں کسی تاویل کے ساتھ شریک جنگ قرار دے کر نشانہ بنانے کو بھی میں درست نہیں سمجھتا۔
  • عسکری جدوجہد کرنے والے گروپوں کو، خواہ وہ غلطی پر ہی ہوں، ہر حال میں کچل دینے اور ختم کر دینے کی پالیسی منصفانہ نہیں ہے، بلکہ ان کے ساتھ مذاکرات اور گفتگو کے ذریعے انھیں سمجھانے اور راہ اعتدال پر لانے کی ضرورت ہے۔
  • جس عمل کو مسلسل دہشت گردی کہا جا رہا ہے، اس کے اسباب اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے والوں کے یک طرفہ طرز عمل اور کاروائیوں نظر انداز کر دینا یا سرسری انداز مین اس کا ذکر کر کے آگے بڑھ جانا بھی قرین انصاف نہیں ہے۔ اس فریق کے طرز عمل اورمبینہ دہشت گردی کے اسباب وعوامل کی نشان دہی اور انھیں ہر سطح پر اجاگر کرنا ضروری اور انصاف کا تقاضا ہے۔
  • میرے نزدیک اس سارے کنفیوژن کی بنیاد یہ ہے کہ دہشت گردی کی کوئی مسلمہ تعریف طے کیے بغیر اس کے خلاف جنگ کا بگل بجا دیا گیا ہے، ا س لیے جب تک معروضی حقائق کی بنیاد پر دہشت گردی کی کوئی متفقہ تعریف طے نہیں کر دی جاتی اور جہاد، دہشت گردی اور قومی آزادی کی جنگ میں فرق کو واضح کر کے اسے عالمی سطح پر تسلیم نہیں کر لیا جاتا، اس وقت تک یہ کنفیوژن باقی رہے گا اور اس کے تلخ ثمرات دنیا تب تک سمیٹتی رہے گی۔
بہرحال یہ بحث نہ صرف مفید بلکہ وقت کا تقاضا ہے جس میں شریک ہونے والے سب حضرات کا میں ذاتی طور پر بھی شکر گزار ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ خالصتاً علمی انداز اور افہام وتفہیم کے ماحول میں اسے جاری رکھا جائے گا۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
(زیر نظر مکتوب کی اشاعت سے مقصود زیر بحث مسئلے پر کسی کلامی مناقشے کی دعوت دینا نہیں، بلکہ محض علمی مسائل میں اختلافی تعبیرات کے حوالے سے وسعت نظرکے پہلو کو اجاگر کرنا ہے۔ مدیر)

مکرمی ومحترمی حضرت مولانا مفتی عبد الشکور ترمذی صاحب دامت مکارمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عذاب قبر کے متعلق آنجناب کا محققانہ مضمون عرصہ سے آیا ہوا ہے، مگر مطالعہ کا موقع نہ مل رہا تھا۔ حال میں اس کا حرفاً حرفاً مطالعہ کیا۔ ماشاء اللہ بہت مفید مضمون ہے۔ احقر کو بہت فائدہ ہوا، البتہ اس کے مطالعہ سے احقر اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب عذاب قبر کے علی الاطلاق منکر نہیں بلکہ برزخ میں روح کے عذاب وثواب کے قائل ہیں۔ جسد عنصری کے ساتھ روح کے عذاب وثواب کے قائل نہیں، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ یہ عالم برزخ کا عذاب اجسام مثالیہ کی وساطت سے روح پر وارد ہوتا ہے۔ یہ بات اگرچہ جمہور اہل سنت کے مسلک کے خلاف ہے، لیکن کسی نص صریح کے بھی خلاف ہے؟ یہ بات اس مضمون سے ثابت نہیں ہوتی۔
پھر مولانا موصوف کا یہ قول بھی آنجناب نے نقل فرمایا ہے کہ عالم برزخ میں تعلق روح بابدان عنصریہ کے بارے میں سکوت سب سے احوط مسلک ہے، کیونکہ قرون مشہود لہا بالخیر میں تعلق کا کوئی ذکر اذکار نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جسد عنصری کے ساتھ روح پر عذاب کی نفی پر بھی ان کو اصرار نہیں، ہاں اثبات کے دلائل سے بھی وہ مطمئن نہیں۔ 
خلاصہ کلام یہ کہ اس مضمون کے پڑھنے سے یہ بات سامنے آئی کہ ان کا مسلک اتنا غلط اور بے بنیاد نہیں جتنا کہ یہ سننے سے سمجھا تھا کہ ’’وہ عذاب قبر کے منکر ہیں۔‘‘ بہرحال ان کا مسلک علماء دیوبند اور جمہور سے مختلف ضرور ہے۔ اگر قرآن کریم یا سنت کی کوئی نص صریح صحیح ان کے مسلک کے ابطال پر آنجناب کے علم میں آئی ہو تو ضرور مطلع فرمائیں۔
یہ سطور بہت عجلت میں حوالہ قلم کی ہیں۔ فرو گذاشت درگزر فرما کر ممنون فرمائیں۔ دعا کی درخواست ہے۔
(مولانا مفتی) محمد رفیع عثمانی
(بشکریہ مجلہ ’’الحقانیہ‘‘ ساہیوال، ستمبر ۲۰۱۰ء)
(۲)
محترم ومکرم حضرت مولانا ابو عمار زاہد الراشدی صاحب مدظلہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں اور دینی خدمات صدق واخلاص کے ساتھ ترقی پذیر ہوں۔ آمین
یہ عریضہ ایک ضروری امر کی طرف توجہ مبذول کرانے کی خاطر آنجناب کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ یہ کہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے جولائی ۲۰۱۰ء کے شمارے میں حکیم ظل الرحمن صاحب کا ایک مضمون بعنوان ’’فتاویٰ کے اجراء میں احتیاط کی ضرورت‘‘ شائع ہوا ہے جس میں موصوف نے حضرت والد ماجد مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے ایک موقعہ پر طلاق ثلاثہ کے مسئلے میں اہل حدیث کے مسلک پر تحریری فتویٰ دینا منسوب کیا ہے۔ بندے کے علم میں کوئی ایسا واقعہ نہیں ہے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات تحقیق کے بغیر لکھی گئی ہے۔ ان سے پوچھنا بھی چاہیے ان کی اس حکایت کا ماخذ کیا ہے؟ نیز مسئلے کی حساس نوعیت کے پیش نظر آنجناب سے موصوف کو اس پر متنبہ فرمانے کی درخواست ہے کہ ایسے حساس مسائل پر بلا تحقیق قلم اٹھانے سے گریز فرمائیں۔ نیز چونکہ اس قسم کے مسائل پر تبصرہ یا گفتگو جب عوام تک پہنچتی ہے تووہ اکثر الجھن کا شکار ہوتے ہیں اور بات کو اس کے سیاق سے ہٹ کر سمجھنے لگتے ہیں۔ اس لیے بندے کا نہایت ادب کے ساتھ مخلصانہ مشورہ ہے کہ آیندہ ایسے مضامین کو ’’الشریعہ‘‘ میں شامل نہ کیا جائے، نیز اگلے شمارے میں ذکر کردہ واقعہ کے بارے میں وضاحت شائع فرمانے کی بھی درخواست ہے۔
امید ہے کہ ان مودبانہ گزارشات پر جناب والا ضرور توجہ فرمائیں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ آنجناب کی دینی خدمات میں ترقی عطا فرمائیں۔ آمین۔ بندے کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد فرمانے کی درخواست ہے۔
بندہ محمد تقی عثمانی
جامعہ دار العلوم کراچی
(۳)
محترم عمار خان ناصر صاحب 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الشریعہ اگست ۲۰۱۰ء میں آپ کا دلچسپ اورمعلومات افزا سفرنامہ لبنان ’’حزب اللہ کے دیس میں‘‘ نظر سے گزرا جس میں آپ نے اہل تشیع کے حوالے سے عمدہ معلومات فراہم کی ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ اگر ممکن ہو تو اپنے بیان کو مزید مفصل فرمائیں جس سے بہتوں کا بھلا ہوگا۔
اس میں آپ نے ایک جگہ مولانا مودودیؒ سے یہ بات منسوب کی ہے کہ ’’غالباً مولانا مودودی نے کسی مغربی ملک کے سفر سے واپسی پر یہ تبصرہ کیا تھا کہ وہاں کی ہر چیز پھیکی ہے، یہاں تک کہ عورتیں بھی۔‘‘ دست بستہ عرض ہے کہ مولانا سے اس کا انتساب درست نہیں۔ خود آپ نے یہ بات ’’غالباً‘‘ سے شروع کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اس بات کا یقین نہیں کہ بات مولانا نے کہی ہے۔ اسی ’’غالباً‘‘ سے یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ یہ بات سنی سنائی ہے۔ ویسے بھی یہ بات بے معنی ہے۔ مغرب کی ہر چیز پھیکی نہیں ہے او رعورتوں کا پھیکا ہونا ان سے لطف اندوز ہونے والا ہی بیان کر سکا ہے جبکہ مولانا دو دفعہ بیماری کی حالت میں وہاں گئے اور وہ وہاں پاکستانی کھانا ہی کھاتے رہے۔ میرا خیال ہے کہ جس بات کا یقین نہ ہو تو اس کو مجہول کر دینا زیادہ مناسب ہے تاکہ اللہ کی پکڑ سے بچا جا سکے، جیسے کہ ایک عالم نے یا اہل علم نے یا اہل دین نے یہ فرمایا۔
شمس الرحمن 
نزد اسلامیہ کالج، کراچی

’’نقد فراہی‘‘

ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مولانا حمید الدین فراہیؒ کا نام گرامی برصغیر کے علمی حلقوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ قرآن مجید کے فہم وتدبر کے باب میں مجتہدانہ انداز فکر کی بدولت مولانا علیہ الرحمۃ کی ایک امتیازی شان ہے اور اہل علم کا ایک مستقل حلقہ مولانا کے علمی وتحقیقی کام کے زیر اثر انھی کے منہج پر قرآنی علوم ومعارف کی خدمت کا تسلسل قائم رکھے ہوئے ہے۔ مولانا فراہی کی بلند پایہ تحقیقات کو جہاں اہل علم کے ہاں غیر معمولی پذیرائی ملی، وہیں قدرتی طور پر ان کی بعض منفرد اور اچھوتی آرا نقد وجرح کا موضوع بھی بنیں، بلکہ ان میں سے بعض تو اہل علم کے مابین معرکہ آرا بحثوں کا عنوان بھی بن گئیں۔ ایسی کم وبیش سبھی آرا کے پس منظر میں یہ اصولی بحث کارفرما ہے کہ تفسیر وحدیث کے ذخیرے میں موجود ان روایات کا علمی درجہ اور ان سے استفادہ کا صحیح منہج کیا ہے جو قرآن مجید کی آیات کے مطالب یا ان کے پس منظر پر مختلف حوالوں سے روشنی ڈالتی ہیں۔ مولانا فراہی کے منہج فکر میں ایسی روایات تفسیر کے ماخذ کے طور پر بنیادی نہیں، بلکہ ثانوی درجہ رکھتی ہیں اور انھیں قبول کرنے کے لیے ضروری ہے کہ خود قرآن کے داخلی نظام اور متن کی اندرونی دلالتوں کی حاکمیت ان پر قائم رکھی جائے، چنانچہ انھوں نے اپنے فہم کے مطابق اس معیار پر پورا نہ اترنے والی متعدد تفسیری روایات کو جو اس سے پہلے عام طور پر مستند سمجھی جاتی تھیں، قبول کرنے سے انکار کر دیا بلکہ ان پر شدید تنقید کی۔ ظاہر ہے کہ اس پر علمی بحث ومناقشہ کا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔
زیر نظر کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس کے مصنف ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی بھارت کی معروف علمی شخصیت ہیں جو متنوع علمی موضوعات پر پچاس سے زائد کتابوں کے مصنف ہونے کے علاوہ مشہور تحقیقی جریدے ’’تحقیقات اسلامی‘‘ کی ادارت کی خدمت بھی انجام دے رہے ہیں۔ زیر نظر کتاب ان کے پانچ علمی مقالات کا مجموعہ ہے جو مولانا فراہی کے تفسیری منہج اور بعض تفسیری آرا کے تجزیہ وتنقید کے ضمن میں مختلف اوقات میں تحریر کیے گئے اور مختلف علمی جرائد میں شائع ہوتے رہے۔ اب انھیں افادۂ عام کی خاطر زیر نظر مجموعے میں یکجا کر دیا گیا ہے۔
پہلا مقالہ ’’تفسیر سورۃ الفیل‘‘ کے عنوان سے ہے اور اس میں سورۂ فیل کی تفسیر کے ضمن میں مولانا فراہی کی اس معروف رائے کا ناقدانہ جائزہ لیا گیا ہے جس کی رو سے ابرہہ کے لشکر پر سنگ باری اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پرندوں نے نہیں بلکہ اہل مکہ نے کی تھی اور اللہ نے تیز وتند ہوا بھیج کر اس سنگ باری میں ایسی طاقت پیدا کر دی تھی جس سے ابرہہ کا پورا لشکر تہس نہس ہو کر رہ گیا۔ مولانا کی رائے میں سورۂ فیل میں جن پرندوں کا ذکر ہوا ہے، وہ مردار خور پرندے تھے جو سنگ باری کے لیے نہیں بلکہ ابرہہ کے لشکر کی لاشوں کو نوچنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ فاضل مصنف نے اس ضمن میں مولانا اور ان کے علمی مویدین کی طرف سے قرآن کے متن اور تاریخی روایات واشعار کے حوالے سے پیش کردہ دلائل وقرائن کا مفصل ناقدانہ جائزہ لیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ واقعہ فیل کی عملی تفصیلات کے حوالے سے عام مفسرین کی رائے ہی درست اور راجح ہے۔
راقم کی نظر میں فاضل مصنف کا اخذ کردہ نتیجہ درست ہے، البتہ دوسرے ناقدین کی طرح انھوں نے بھی زیادہ توجہ مولانا فراہی اور ان کے مویدین کے پیش کردہ تاریخی قرائن وشواہد اور قیاسات پر مرکو ز رکھی ہے جس سے خود قرآن کی زبان، اسلوب اور داخلی قرائن کی روشنی میں اس نقطہ نظر کی کمزوری واضح کرنے کا پہلو دب گیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مولانا کا زیربحث نقطہ نظر خود ان کے اپنے تفسیری منہج سے ہٹا ہوا ہے، کیونکہ اس پوری بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ سورۂ فیل میں ’ترمیہم‘ کا فعل پرندوں کے لیے استعمال ہوا ہے یا اہل مکہ کے لیے۔ عام مفسرین اس کا فاعل ’طیرا’ کو قرر دیتے ہیں جبکہ مولانا فراہی کی رائے میں یہ مخاطب کا صیغہ ہے جس کا فاعل قریش ہیں۔ تاہم خود مولانا کے تفسیری اصول کے مطابق تفسیری وتاریخی روایات اور کسی بھی قسم کے خارجی قیاسات سے خالی الذہن ہو کر قرآن کے نفس متن کو پڑھا جائے تو ’وارسل علیہم طیرا ابابیل ترمیہم بحجارۃ من سجیل‘ کا بے تکلف اور متبادر مفہوم یہی بنتا ہے کہ رمی کو طیر سے متعلق قرار دیا جائے۔ کلام کو اس کے بالکل متبادر مفہوم پر محمول کرنا، جب تک کہ اس کے خلاف خود کلام میں کوئی داخلی قرینہ نہ ہو، مولانا کا بلکہ تمام مفسرین کا مسلمہ اصول ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہاں وہ کون سا قرینہ صارفہ ہے جو ’ترمی‘ کو ’طیرا‘ کے ساتھ متعلق ہونے سے روکتا ہے؟ مولانا اصلاحی نے اس کے جواب میں یہ نکتہ پیش کیا ہے کہ ’’فعل ’ترمی‘ چڑیوں کے لیے کسی طرح موزوں ہے ہی نہیں۔ چڑیاں اپنی چونچوں اور چنگلوں سے سنگ ریزے تو گرا سکتی ہیں، لیکن اس کو رمی نہیں کہہ سکتے‘‘، لیکن یہ ایک کمزور بات ہے، کیونکہ عربی زبان میں کسی فعل کے لیے اس کے نتیجے کے لحاظ سے لفظ استعمال کرنا ایک عام اسلوب ہے۔ پرندوں کا پتھر گرانا فی نفسہ یقیناً ’رمی‘ نہیں ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ تیز وتند ہوا بھیج کر اس سے وہی کام لے لیا جو رمی سے لیا جاتا ہے، چنانچہ اس کے لیے لفظ ’رمی‘ کا استعمال ہر اعتبار سے اسالیب زبان کے مطابق بلکہ بلاغت کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔ راقم الحروف نے یہ اعتراض ایک موقع پر استاذ گرامی جاوید احمد صاحب غامدی کی خدمت میں عرض کیا تو انھوں نے فرمایا کہ لفظ ’رمی‘ کے پرندوں کے لیے ناموزوں ہونے کا نکتہ بنیادی استدلال نہیں بلکہ بہت سے دوسرے قرائن کے ضمن میں ایک تائیدی نکتہ ہے۔ یہ بات درست ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی درست ہے کہ اس نکتے کے علاوہ خود کلام میں داخلی طو رپر اور کوئی قرینہ ایسا نہیں ہے جو ’ترمی‘ کو ’طیرا‘ سے متعلق ماننے سے روکتا ہو۔ مزید یہ کہ ’ارسل علیہم طیرا‘ کی تعبیر بھی اس صورت میں زیادہ بلیغ اور موثر محسوس ہے جب ان پرندوں کو عذاب الٰہی بنا کر بھیجا گیا ہو، نہ کہ عذاب کا شکار ہونے والے لشکر کی لاشوں کو نوچنے کے لیے۔ 
دوسری طرف ’ترمی‘ کو مخاطب کا صیغہ مان کر قرآن کے مخاطب اہل مکہ کو اس کا فاعل قرار دینا بھی بالکل تکلف لگتا ہے۔ اسے ’ارایت‘ اور ’الم تر‘ کے اسلوب پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے لفظ رؤیت یا اس کے ہم معنی افعال اس کے پوری طرح متحمل ہیں کہ ان کی نسبت کلام کے ہر مخاطب اور سامع کی طرف کر دی جائے ، جبکہ فعل ’رمی‘ کی نوعیت یہ نہیں ہے۔ اسی طرح اسے ’تقتلون انبیاء اللہ‘ جیسی مثالوں پر بھی قیاس نہیں کیا جا سکتا جہاں عہد نبوی کے یہود کی طرف صدیوں پہلے ان کے آباواجداد کے ارتکاب کردہ جرم کی نسبت کی گئی ہے، کیونکہ اس اسلوب میں کسی گروہ کو بحیثیت گروہ مخاطب بنایا جاتا ہے اور اس کے لیے جمع کا صیغہ لایا جاتا ہے نہ کہ واحد کا، چنانچہ اگر سورۂ فیل میں یہ اسلوب اختیار کرنا پیش نظر ہوتا تو ’ترمیہم‘ کے بجائے ’ترمونہم‘ کا صیغہ استعمال کیا جاتا۔ خلاصہ یہ کہ عام مفسرین کی اختیار کردہ رائے کلام سے بالکل متبادر طو ر پر مفہوم ہے اور اس کے خلاف کوئی قرینہ صارفہ موجود نہیں، جبکہ مولانا فراہی کی تاویل کی صورت میں کلام میں ایک ایسا اسلوب فرض کرنا پڑتا ہے جو غیر معروف اور غیر مانوس ہے اور بعض ملتے جلتے اسالیب پر قیاس کے علاوہ بعینہ اس اسلوب کی کوئی نظیر کم از کم قرآن میں موجود نہیں۔ ان نکات کی روشنی میں، راقم کے نزدیک مولانا فراہی کی زیربحث تاویل خود ان کے اپنے تفسیری اصول سے متجاوز قرار پاتی ہے۔ 
بہرحال مصنف نے متعدد پہلووں سے اس رائے پر عمدہ علمی نقد کیا ہے، لیکن توازن کو ملحوظ رکھتے ہوئے بعض ناقدین کی طرح مولانا کی اس راے کے ڈانڈے انکار معجزات یا نیچریت کے ساتھ ملانے کے بجائے (جس کا کوئی جواز اس لیے نہیں کہ مولانا کی بیان کردہ صورت یعنی اہل مکہ کی سنگ باری سے اصحاب فیل کے تہس نہس ہو جانے میں بھی معجزے کا پہلو پوری طرح پایا جاتا ہے) اس کے وجود میں آنے کا سبب یہ متعین کیا ہے کہ ’’اشعار عرب کے وسیع وعمیق مطالعہ کے نتیجہ میں مولانا کے ذہن میں عربوں کی اخلاقی عظمت، شجاعت وبہادری، شہ سواری اور شمشیر زنی کی تصویر مرتسم ہو گئی تھی، اس لیے ان کو شبہ ہوا کہ انھوں نے لشکر ابرہہ سے ضرور مقابلہ آرائی کی ہوگی۔‘‘ (ص ۴۲)
’’تفسیری روایات‘‘ کے زیر عنوان دوسرے مقالے میں تفسیری روایات سے متعلق مولانا فراہی کے زاویہ نظر کو موضوع بنایا گیا ہے اور ان کے اصولی مسلک کے علاوہ تفسیری روایات کی تنقید کے مختلف پہلو بھی مثالوں کے ساتھ واضح کیے گئے ہیں۔ مصنف نے بتایا ہے کہ مولانا کے ہاں بعض روایات سے غلط استشہاد کی مثالیں موجود ہیں۔ اسی طرح مولانا نے اپنے زاویہ نگاہ کے تحت بہت سی صحیح روایات کو رد جبکہ بعض ضعیف روایات کو قبول کیا ہے۔ مصنف نے اپنی تحقیق کا حاصل یہ بتایا ہے کہ ’’تفسیر قرآن میں تفسیری روایات جتنی اہمیت کی مستحق تھیں، مولانا فراہیؒ نے انھیں اتنی اہمیت نہیں دی ہے۔‘‘ راقم کی رائے میں تفسیری روایات اور خاص طو رپر شان نزول کی روایات کو، چاہے ان کی سند صحیح ہو، زیادہ اہمیت نہ دینے کے معاملے میں مولانا فراہی اصولی طو رپر منفرد نہیں ہیں۔ یہ مسلک تفسیر بالماثور کے منہج کے مطابق اگرچہ نہیں، لیکن ایک مستقل تفسیری مسلک کے طو رپر اکابر مفسرین کے ہاں اس کی نمائندگی ملتی ہے۔ البتہ اس معاملے میں یقیناًمولانا فراہی سے اختلاف کیا جا سکتا ہے کہ جن مخصوص روایات کو انھوں نے رد کیا ہے، وہ فی الواقع قرآن کی داخلی دلالتوں کے منافی ہیں بھی یا نہیں۔
’’حدیث فہمی‘‘ کے عنوان سے تیسرے مقالے میں مولانا فراہی کے ہاں حدیث کے فہم اور اس سے علمی استفادہ کے متنوع پہلووں پر روشنی ڈالی گئی ہے، جبکہ ’’کچھ احادیث سے غلط استدلال‘‘ اور ’’کچھ احادیث کی صحت سے انکار‘‘ کے ذیلی عنوانات کے تحت بعض آرا پر تنقید بھی کی گئی ہے۔ اسی مقالے میں ’ویعلمہم الکتب والحکمۃ‘ کی تفسیر میں مولانا فراہی کی اس رائے پر بھی تنقید کی گئی ہے کہ یہاں ’الکتاب‘ سے مراد قرآن اور ’الحکمۃ‘ سے مراد سنت نہیں، بلکہ ’الکتاب‘ سے مراد قرآن مجید میں بیان کیے جانے والے احکام وقوانین جبکہ ’الحکمۃ‘ سے مراد عقائد، اخلاق فاضلہ اور حکمت شریعت ہے، گویا یہ دو الفاظ قرآن مجید ہی کے دو مختلف پہلو رکھنے والے مضامین کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ مولانا نے اپنی اس رائے کے تفصیلی دلائل اپنی کتاب ’’مفردات القرآن‘‘ میں بیان کیے ہیں، تاہم مصنف کو اس سے اتفاق نہیں ہے۔ یہاں مصنف کی تنقید سرسری اور غیر اطمینان بخش محسوس ہوتی ہے اور دیگر نکات کے علاوہ مولانا فراہی کا یہ نکتہ بے حد قابل غور دکھائی دیتا ہے کہ حدیث وسنت میں حکمت پائے جانے کے باوجود اس کے لیے خاص طور پر ’الحکمۃ‘ کا عنوان اختیار کرنا اس لیے موزوں نہیں کہ اس میں قوانین اور احکام بھی بکثرت موجود ہیں۔ راقم کا طالب علمانہ رجحان یہ ہے کہ ’یتلوا علیہم آیاتہ‘ کے بعد ’ویعلمہم الکتب والحکمۃ‘ کو قرآن کے مضامین کے ساتھ مخصوص ماننے یا ’الحکمۃ‘ کا مصداق خاص طور پر سنت کو قرار دینے کے بجائے ان دونوں الفاظ کو عموم پر رکھتے ہوئے ’الکتاب‘ سے احکام وقوانین جبکہ ’الحکمۃ‘ سے عقائد واخلاق وغیرہ مراد لینا زیادہ موزوں ہے، خواہ یہ قرآن میں وارد ہوئے ہوں یا حدیث وسنت میں، کیونکہ آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کار منصبی کی وضاحت کی گئی ہے اور آپ نے احکام شریعت اور حکمت دین کی تعلیم امت کو قرآن کی صورت میں بھی دی ہے اور سنت اور حدیث کی صورت میں بھی۔ 
چوتھے مقالے میں مصنف نے مولانا فراہی کی ایک ناتمام اور غیر مطبوعہ تصنیف ’’احکام الاصول باحکام الرسول‘‘ کے بعض اقتباسات کا ترجمہ پیش کیا ہے جو ڈاکٹر معین الدین اعظمی کے پی ایچ ڈی کے مقالے ’’الفراہی واثرہ فی تفسیر القرآن‘‘ سے ماخوذ ہیں۔ مولانا نے اس کتاب میں حدیث اور قرآن کے باہمی تعلق کے مختلف پہلووں پر اپنے اصولی نقطہ نظر کی وضاحت کی ہے اور احادیث کے ذریعے قرآن میں نسخ یا تخصیص کے نظریے کی تردید کرتے ہوئے ایسے تمام احکام کو قرآن مجید پر مبنی اور ان سے ماخوذ قرار دیا ہے۔ اسی کتاب میں مولانا نے زانی کے لیے سزاے رجم کے قرآن کی آیت محاربہ پر مبنی ہونے کی وہ مشہور رائے ظاہر کی ہے جسے بعد میں مولانا امین احسن اصلاحی نے زیادہ شرح وبسط کے ساتھ ’’تدبر قرآن‘‘ میں پیش کیا اور جو ایک زور دار علمی مباحثے کا عنوان بنی رہی۔ مصنف نے اس مختصر مقالے میں مولانا کی ان آرا پر کوئی تعلیق یا تبصرہ کرنے کے بجائے صرف اقتباسات کا ترجمہ کرنے پر اکتفا کی ہے۔
کتاب کا آخری مقالہ ’’مناسک حج کی تاریخ‘‘ کے زیر عنوان ہے اور اس میں صفا ومروہ کی سعی، رمی جمار اور سیدنا اسماعیل کو ذبح کرنے کے حوالے سے حضرت ابراہیم کے خواب سے متعلق مولانا فراہی کی مخصوص آرا کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی بعض مرفوع روایات کی بنیاد پر عام رائے یہ ہے کہ صفا ومروہ کے مابین سعی حضرت ہاجرہ کی اس بھاگ دوڑ کی یاد میں کی جاتی ہے جو انھوں نے سیدنا اسماعیل کے لیے پانی کی تلاش میں کی جبکہ جمرات پر کنکر مارنا حضرت ابراہیم کے شیطان کو پتھر مارنے کی یاد کو تازہ کرتا ہے۔ مولانا فراہی نے ان روایات پر تنقید کرتے ہوئے متبادل توجیہ یہ پیش کی ہے کہ صفا ومروہ کی سعی کی رسم دراصل حضرات ابراہیم کی اس دوڑ دھوپ کی علامت ہے جو انھوں نے راہ خدا میں کی جبکہ جمرات کی رمی شیطان کے بجائے ابرہہ کے لشکر پر اہل مکہ کی طرف سے کی جانے والی سنگ باری کی یادگار ہے۔ اسی طرح ان کے خیال میں حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے سے متعلق جو خواب دیکھا، وہ ایک تمثیلی خواب تھا اور اس میں انھیں بیٹے کو حقیقتاً ذبح کرنے کا نہیں بلکہ راہ خدا میں نذر کر دینے اور خدا کے گھر کی خدمت کے لیے وقف کر دینے کا حکم ہوا تھا جسے انھوں نے ظاہری اور لفظی مفہوم میں لے کر اس پر عمل کرنا چاہا۔ مولانا فراہی کی مذکورہ آرا کی تائید مولانا شبلی نعمانی اور سید سلیمان ندوی کے ہاں بھی ملتی ہے۔ مصنف نے ان آرا پر نقد کرتے ہوئے نہایت قابل غور علمی سوالات اٹھائے ہیں اور مقبول عام موقف کی عمدہ اور مضبوط ترجمانی کی ہے۔ (رؤیائے ابراہیمی کے مفہوم ومطلب کے حوالے سے مذکورہ رائے کی تنقید میں جناب مولانا ارشاد الحق اثری نے بھی ایک فاضلانہ مقالہ سپرد قلم کیا ہے جو چند ماہ قبل ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ لاہور میں قسط وار شائع ہوا ہے۔)
۲۱۶ صفحات کے مختصر حجم پر مشتمل یہ کتاب عمدہ علمی نکات اور قابل مطالعہ مواد پر مشتمل ہے جس سے قرآنی علوم کے شائقین کو ضرور استفادہ کرنا چاہیے۔ مصنف کا تنقیدی اسلوب علمی، مدلل اور سلجھا ہوا بھی ہے اور متعلقہ علمی مباحث پر ان کی پختہ گرفت کا آئینہ دار بھی۔ البتہ یہاں یہ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ مولانا فراہی اور ان کے علمی کام کا اصل تعارف سورۂ فیل کی تفسیر یا مناسک حج وغیرہ سے متعلق ان کی منفرد آرا نہیں۔ ان کی مرجوح اور علمی طو رپر کمزور آرا کو یقیناًنقد وجرح کا موضوع بننا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ یہ توازن بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ مولانا قرآنی علوم ومعارف کے ایک بلند پایہ محقق ہیں اور کئی پہلووں سے ان کے افادات وتحقیقات نے قرآن پر غور وفکر کے بالکل نئے باب وا کیے ہیں۔ فاضل مصنف نے اسی تناظر میں کتاب کے ’’پیش لفظ‘‘ میں یہ برمحل وضاحت کی ہے کہ: ’’وہ شخص بڑا نادان ہوگا جو ان سے یہ تاثر قائم کرے کہ ان میں مولانا فراہیؒ کی تنقیص اور ان کی عظمت کو داغ دار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان مقالات سے ان کی عظمت پر کوئی حرف آنے والا نہیں ہے۔ انھوں نے تدبر قرآن کی جو جوت جگائی ہے اور قرآن کریم کو تمام علوم میں مرکزی مقام دینے کی جو تحریک برپا کی ہے، اس کی بنا پر وہ بجا طو رپر عہد حاضر کے امام قرار پاتے ہیں۔‘‘ (ص ۱۲)
کتاب عمدہ کاغذ پر معیاری انداز میں طبع کی گئی ہے۔ اس کی قیمت ۱۰۰ روپے درج ہے اور اسے دج ذیل پتے سے طلب کیا جا سکتا ہے:
مکتبہ اسلام، نشیمن مارکیٹ، میڈیکل کالج روڈ، علی گڑھ۔۲۰۲۰۰۲ 

گلے کے کینسر کا ایک اچھوتا نسخہ

حکیم محمد عمران مغل

یہ طریق علاج جس کو ہم طب مشرق کہتے ہیں، ہزاروں سال پرانا ہے لیکن اس قدامت کے باوجود اس میں مکمل تازگی ہے۔ ایک طویل عرصہ تک اس کا زندہ رہنا اور دو سو سال تک مکمل غیر ملکی اقتدار کو سوتیلے سلوک کو برداشت کرنا اس کی جان پر دال ہے۔ اسپین، سسلی اور اٹلی کے ذریعے سے عربوں کے علوم سارے مغرب میں پھیلے۔ اس حقیقت کو خود مغرب کے مفکرین، محققین اور مصنفین بھی مانتے ہیں کہ عرب اطبا دنیا موجودہ طب اور سائنس کے پیش رو اور امام ہیں اور ہم مقتدی۔ خلیفہ مامون نے بغداد میں بیت الحکمت قائم کر کے دنیا بھر سے کتابیں منگوائیں اور ان کا عربی میں ترجمہ کروایا۔ ابن رشد، زہراوی، ابن بیطار، جابر بن حیان، ابن سینا، رازی نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر جو موتی اکٹھے کیے، انھیں خاندان شریفی نے کمال محنت اور ایمان داری سے اگلی نسلوں تک پہنچایا۔ ان بزرگ اطبا کے اقوال سے اشارے یک جا کر کے میں نے گلے کے کینسر کا معما حل کیا ہے۔ اگرچہ کتب طبیہ میں کچھ رد وبدل کے ساتھ یہ نسخہ پیٹ کے امراض کے لیے تجویز کیا گیا ہے، لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ دوسراپیش خدمت ہے۔
اس میں تازہ تمہ (حنظل) شرط ہے۔ تازہ تمہ کو آلووں کی طرح اوپر سے چھیل لیں۔ پھر کتر کر کسی بڑے برتن یا پرات میں ڈال لیں۔ اگر ایک کلو کترا ہوا تمہ ہو تو اس میں چاروں اجوائنیں (ول، کرفس، دیسی، خراسانی) ملا کر اس طرح شامل کریں کہ ایک کلو تمے کے مقابلے میں یہ چاروں اجوائنیں آدھا کلو ہوں،مگر اجوائن خراسانی ایک تولہ سے زیادہ نہ ہو۔ باقی وزن تین اجوائنیں ڈال کر پورا کریں۔ اگر اجوائنیں آدھا کلو سے کچھ زیادہ بھی ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ اسے آٹا گوندھنے کے طریقے سے گوندھیں۔ برتن تمہ کے پانی سے بھر جائے گا، اسے گرنے نہ دیں۔ ایک دو دن کے وقفے سے یہ گارا کیچڑ کی شکل اختیار کر لے گا۔ اب محنت کر کے اس کے بیج چن کر پھینک دیں۔ پھر پلاسٹک کی شیٹ پر ڈال کر سائے میں پھیلا دیں اور صبح وشام اسے الٹ پلٹ کرتے رہیں۔جب بالکل پتھر کی مانند خشک ہو جائے تو باریک کر کے کیپسول میں بھر لیں۔
میں نے اس نسخے سے بڑے پیچیدہ امراض کا علاج کیا ہے۔ یہ نسخہ بدن میں باقی جگہ بھی کام کرے گا، ان شاء اللہ، لیکن گلے میں، میں نے اسے خوب آزمایا ہے۔ یہ میری ذاتی تحقیق ہے۔ علاوہ ازیں تمام بلغمی امراض اور پیٹ کے امراض کو بیخ وبین سے اکھاڑتا ہے۔ باقی فوائد پھر عرض کروں گا۔
خوراک: کھانے کے بعد صبح وشام ایک بڑا کیپسول یا دو چھوٹے کیپسول سادہ پانی سے کھا لیں۔ پانی ہمیشہ تازہ اور سادہ ہو، کسی بھی طریقے سے ٹھنڈا نہ کیا گیا ہو۔ بازاری شربت اور بوتلیں اور پیکٹوں میں بند تمام اشیا ہمیشہ کے لیے ترک کر دیں۔