نومبر ۲۰۱۰ء

ہمارے معاشی مسائل اور مفتی محمودؒ کے افکار و خیالاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قرآن مجید میں قتلِ خطا کے احکام ۔ چند توجہ طلب پہلوپروفیسر میاں انعام الرحمن 
جہادِ کشمیر کی شرعی بنیادیںڈاکٹر عصمت اللہ 
دار العلوم دیوبند کی کشمیر کانفرنسعارف بہار 
مکاتیبادارہ 
ایں آہِ جگر سوزے در خلوت صحرا بہ!محمد عمار خان ناصر 
گلہڑ کا اچھوتا اور حیران کن علاجحکیم محمد عمران مغل 

ہمارے معاشی مسائل اور مفتی محمودؒ کے افکار و خیالات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

آج کی نشست میں پاکستان کے معاشی مسائل کے بارے میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے چند ارشادات وافکار کو پیش کیا جا رہا ہے جو مولانا ڈاکٹر عبدالحکیم اکبری (گومل یونیورسٹی، ڈیرہ اسماعیل خان) کی کتاب ’’مولانا مفتی محمودؒ کی علمی، دینی وسیاسی خدمات‘‘ سے ماخوذ ہیں۔ اس مرد درویش کے خیالات وارشادات ملاحظہ فرمائیے اور اس کی فراست وبصیرت پر اسے خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان فاصلوں کو بھی دیکھنے کی کوشش فرمائیے جو ان کی وفات کو صرف دو عشرے گزرنے کے ساتھ ہی ہمارے اور ان کے درمیان نہ صرف دکھائی دے رہے ہیں بلکہ دن بدن بڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ 
مولانا مفتی محمودؒ فرماتے ہیں:
’’اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت ملک میں سب سے اہم مسئلہ ملک کی ۹۰ فیصد آبادی کے بڑے طبقے اور غریب عوام کے مسائل ہیں جو ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں جنہیں اپنے وطن میں نہ مکان میسر ہے، نہ خوراک نہ لباس اور نہ زندگی کی دوسری سہولتیں میسر ہیں اور وہ یقیناًحیوانات سے بھی بدتر زندگی گزاررہے ہیں۔ جب تک ان کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، اس وقت تک پاکستان میں کسی کو امن وسکون حاصل نہیں ہوگا ۔اسلام اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ ایک عام مسلمان تو پاکستان میں محنت کرنے کے باوجود اپنے بچوں کا پیٹ نہ پال سکے اور بھوک اور فاقہ کشی کی زندگی گزارتا رہے جبکہ چند انسان یہاں خرمستیاں کرتے پھریں۔ خلیفۂ دوم حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ اگر ایک کتا بھی فرات کے کنارے بھوک سے مرتا ہے تو قیامت کے دن عمر(رضی اللہ عنہ) سے اس کا سوال کیا جائے گا۔‘‘
’’اس کے لیے بنیادی طورپر زمینداروں اور کارخانوں کے مسائل کا حل کرنا ضروری ہے ۔اسلام میں یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ غیرآباد زمین کو آباد کرنے والا شرعاً اس کا مالک ہوتا ہے۔ اس اصول کے مطابق وہ تمام زمینیں جوقریب کے زمانے میں آباد ہوئی ہیں ،ان کے آبادکار مزارعین ان زمینوں کے مالک قرار دیے جائیں اور قدیم آباد زمینوں سے متعلق یہ تحقیق کی جائے کہ آیا یہ اراضی کسی جائز طریقے سے حاصل کی گئی تھیں یا انگریزوں نے ’’حق الخدمت‘‘ میں بطور جاگیر کے کسی کو عطا کی تھیں؟ اگر ایسا ہے تو ایسی تمام اراضی کو لازماً واپس لے کر بے زمین لوگوں میں تقسیم کردیاجائے۔ اگر مزارعین کو اس کے باوجود مظلومیت محسوس ہوتو کوئی بھی اسلامی حکومت ضرورت کے تحت مزارعت کے سسٹم کو ناجائز قرار دے سکتی ہے ۔امام ابوحنیفہ ؒ ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ تینوں امام اس بات پر متفق ہیں کہ مزارعت کا معاملہ جائز نہیں۔ چونکہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے، اس لیے ضرورت کے تحت اس کو ممنوع قرارد ینا کسی طرح بھی قابل اعتراض نہیں ہوسکتا‘‘۔
’’رہا بڑے بڑے صنعت کاروں کا مسئلہ تو اس سے متعلق سب سے اچھی صورت یہ ہے کہ حکومت لازمی طور پر مزدوروں کی تنخواہوں کو اس حد تک بڑھادے کہ مزدور کو اپنی محنت کا پورا صلہ مل سکے جس سے اس کی زندگی کی بنیادی ضروریات، بچوں کی تعلیم اور علاج وغیرہ کی حسن وخوبی کے ساتھ کفالت ہوسکے۔‘‘
’’زراعت کو عام کیا جائے ،غیرآباد زمینوں کو آباد کیا جائے، زمینوں کو ناجائز طور پر سیاسی رشوتوں کے لیے الاٹ نہ کیا جائے، زمین بے زمین لوگوں میں الاٹ ہو، آب پاشی کے ذرائع میں توسیع ہو، مشینی آلات کے ذریعہ سے بھی ملکی زراعت کو ترقی دی جاسکتی ہے بشرطیکہ مشینی آلات کے تمام ذرائع اجتماعی طور پر استعمال ہوں، صرف ایک شخص کو یہ اختیارات حاصل نہ ہوں ،اس طرح مزدور کسان بے کار ہوجائیں گے۔‘‘
’’بڑے شہروں میں کارخانوں کے قیام نے دیہات کی ترقی تو کیا ان کے وجود ہی کو خطرے میں ڈال دیا ہے غریب لوگ دیہات سے بھاگ رہے ہیں ،شہروں میں کارخانوں( اور دیگر سرکاری وغیرسرکاری اداروں) میں ملازمت کرتے ہیں، شہروں کے مسائل بھی اس طرح بڑھ جاتے ہیں اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ دیہی ترقیاتی اسکیموں پر زور دیا دیا جائے ،اس لیے کہ ہمارے ملک کی غالب اکثریت دیہی آبادی پر مشتمل ہے، اس کے بغیر ہمارا ملک ترقی نہیں کرسکتا اور اس روش سے ملک کی زرعی معیشت بھی بہت متاثر ہوئی ہے۔‘‘
’’غریبوں سے ہمدردی رکھنے کی بنا پر بعض لوگ ہم پر ’’سوشلسٹ مولوی‘‘ ہونے کاالزام لگاتے ہیں حالانکہ اسلام غریبوں کا حامی اور مددگار بن کر آیا ہے۔ ہم اسلامی تعلیمات کے مطابق غریبوں کی مشکلات دور کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، ہم پاکستان میں سرمایہ داری کی حفاظت کے لیے اسلام کا نام استعمال نہیں ہونے دیں گے، سرمایہ داری کے ظالمانہ نظام کی حفاظت کے خواہاں اور امریکی سامراج کی مدد سے پاکستان کو ترقی دینے کے دعویدار پاکستان اور اس کے عوام کے دشمن ہیں۔‘‘
’’موجودہ سرمایہ دارانہ نظام معیشت جس میں غریب، غریب تر اور امیرامیرتر بنتے جارہے ہیں ،اسے بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکناچاہیے، مغربی استعماری نظام، مغرب زدہ ظالمانہ نظام ہمارے تمام مسائل کی بنیاد ہے جب تک اس کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، اس وقت تک معاشرے میں فلاح کا کوئی تصور بے سود ہے، بے کار ہے، خام خیالی ہے۔‘‘
’’سادگی اختیار کی جائے، وزیراپنا نمونہ پیش کریں، اپنے گھروں کی تزیین وآرائش پر ہزاروں روپے خرچ نہ کریں، ڈرائنگ روم میں قیمتی صوفوں کی بجائے چٹائی کیوں نہیں بچھائی جاسکتی؟ اور بیڈروم میں نفیس پلنگوں کی بجائے عام چارپائی کیوں کام نہیں دے سکتی؟ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ شہری علاقوں میں بڑے مکانوں کی تعمیر پر پابندی لگائی جائے۔ تین سو گزسے زیادہ مکان کسی صورت میں نہ بننے دیا جائے۔ ہمارے اکثر ملکی قوانین ایسے ہیں جو رشوت کا دروازہ کھولتے ہیں اور لوگوں کے مصائب میں اضافہ کرتے ہیں، ان کا جائزہ لے کرہر قانون میں چوردروازے بند کیے جائیں۔ رشوت بدعنوانی پر کڑی سزائیں دی جائیں اور ان کا قلع قمع کیا جائے۔ شلوار قمیص کی حوصلہ افزائی ہو، سرکاری ملازم دفتر میں قومی لباس پہن کر آئیں۔ اس طرح غیرملکی لباس جو نفسیاتی رعب داب عطا کرتا ہے اس سے نجات مل جائے گا۔ ایسے ضوابط بنائے جائیں کہ جھوٹ چھاپا یا لکھا نہ جاسکے۔ جھوٹ ایک زہر ہے، جو معاشرہ کی اچھائیوں کو ڈس لیتا ہے بے حیائی اور فحاشی کی روک تھام ہو اور ذرائع ابلاغ کی فوری اصلاح کی ضرورت ہے۔‘‘
’’ہم پاکستان کے غریب عوام، کسانوں، مزدوروں، طالب علموں اور تمام آدمیوں کو اس سطح پر لانا چاہتے ہیں جہاں پاکستان کے تمام مسلمان عملاً بھائی بھائی نظر آسکیں اور یہ اس وقت ممکن ہوگا جبکہ بے لاگ طور پر ملک میں قرآن وسنت کے احکام نافذ کردیے جائیں ،خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین رضی اللہ عنہم کے عہد کا عملی نمونہ اختیار کرلیاجائے اور ملک سے سیاسی، اقتصادی اور معاشی ظلم وجبر کا خاتمہ کردیا جائے۔‘‘

قرآن مجید میں قتلِ خطا کے احکام ۔ چند توجہ طلب پہلو

پروفیسر میاں انعام الرحمن

وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن یَقْتُلَ مُؤْمِناً إِلاَّ خَطَئاً وَمَن قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَئاً فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ إِلَی أَہْلِہِ إِلاَّ أَن یَصَّدَّقُواْ فَإِن کَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّکُمْ وَہُوَ مْؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَإِن کَانَ مِن قَوْمٍ بَیْْنَکُمْ وَبَیْْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ إِلَی أَہْلِہِ وَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃً فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْْنِ مُتَتَابِعَیْْنِ تَوْبَۃً مِّنَ اللّٰہِ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْماً حَکِیْماً (النساء ۰۴/ ۹۲)
’’کسی مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل کرے، سوائے یہ کہ اس سے خطا ہو جائے۔ اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو ایک مومن گردن آزاد کر ے اور مقتول کے گھر والوں کودیت دے مگر یہ کہ وہ صدقہ کردیں۔ لیکن اگر وہ مومن مقتول کسی ایسی قوم سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہو تو ایک مومن گردن کا آزاد کرنا ہے اور اگر وہ کسی ایسی قوم کا فرد تھا جس کے ساتھ تمہارا میثاق ہو تو اس کے وارثوں کو خون بہادیا جائے گا اورایک مومن گردن کو آزاد کرنا ہو گا۔ پھر جو نہ پائے، وہ پے در پے دو مہینے کے روزے رکھے۔ یہ اس گناہ پر اللہ سے توبہ کرنے کا طریقہ ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔‘‘ 
اس آیت میں قتل خطا کی تین صورتوں کو بیان کیا گیا ہے اور تینوں مقامات پر سزا کی ایک صورت (فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ) ’’ تو ایک مومن گردن آزاد کرے ‘‘ تکرار کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔ البتہ پہلے اور تیسرے مقام پر، بیان میں ترجیح کا فرق ضرور پایا جاتا ہے اور ظاہر ہے عملی و اطلاقی سطح پر ، مقصودو مطلوب میں بھی اس ترجیح کو ملحوظ رکھا جائے گا۔ پہلے مقام پر (فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ) کا بیان پہلے اور دیت یا اس کو صدقہ کرنے کا ذکر (وَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ إِلَی أَہْلِہِ إِلاَّ أَن یَصَّدَّقُواْ) بعد میںآیا ہے ۔ 
پہلے مقام (وَمَن قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَئاً فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ إِلَی أَہْلِہِ إِلاَّ أَن یَصَّدَّقُوا) میں دیت کے بیان کے ضمن میں إِلاَّ أَن یَصَّدَّقُوا مقتول کے ورثا سے اسی اخلاقی قوت کا تقاضا کر رہا ہے جس کا ذکر’’قرآن مجید میں قصاص کے احکام‘‘ (المائدۃ۵/۴۵) کے ضمن ہمارے سابقہ مضامین (ماہنامہ الشریعہ ستمبر، اکتوبر ۲۰۰۸، فروری ۲۰۰۹ء) میں ہو چکا۔ قابلِ غور امر یہ ہے کہ البقرۃ آیت ۱۷۸ میں مذکور (فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَان) کے برعکس یہاں براہ راست وَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ إِلَی أَہْلِہِ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔ دونوں مقامات پر بیان کا یہ نمایاں فرق ظاہر کرتا ہے کہ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوف کے مخاطب بنیادی طور پر مقتول کے ورثا ہیں اور وَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ إِلَی أَہْلِہِکامخاطب قاتل ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ النساء آیت ۹۲ میں مقتول کے ورثا کو، ایک فریق کے طور پر، البقرۃ آیت۱۷۸ کے ورثا جیسی اہمیت نہیں دی گئی، بلکہ مقتول کے ورثا کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی معروف کی اتباع کا حکم دیے بغیر، قاتل کو مسلمہ دیت کی ادائیگی کا فرمان جاری کیا گیا ہے۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ البقرۃ آیت۱۷۸ (فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَان) کے مفاہیم ، قانونی تسلط کے بجائے سماجی واخلاقی دباؤ پر دلالت کرتے ہیں اورفریقین گفت و شنید کے ذریعے معاملہ سلجھاتے نظر آتے ہیں۔ 
اس کے برعکس النساء آیت ۹۲  (وَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ إِلَی أَہْلِہ) میں اخلاقی دباؤ کے بجائے قانونی تسلط پایا جاتا ہے اوربغیر کسی گفت و شنید کے، قاتل کو قانونی جبر کے تحت دیت کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک اعتبار سے یہ قانونی جبر (دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ) مقتول کے ورثا سے چشم پوشی کی تلافی بھی کرتا نظر آتا ہے۔ اگرچہ اس کے بعد إِلاَّ أَن یَصَّدَّقُواْ کے الفاظ میں (المائدۃ ۵:۴۵کے مانند) مقتول کے ورثا کو دیت چھوڑ دینے کی بے انتہا ترغیب دی گئی ہے، لیکن اس سے قبل ایک مومن گردن کو آزاد کرنے (فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ) کے ضمن میں کسی قسم کی چھوٹ نہیں رکھی گئی جس سے شارع کا مقصود واضح ہو جاتا ہے کہ مومن گردن لازماً آزاد ہو اور دیت کو (تقریباً لازماً) چھوڑ دیا جائے ۔ شارع کے منشا کی مزید تصریح آیت کے اگلے حصے سے ہو جاتی ہے: فَإِن کَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّکُمْ وَہُوَ مْؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ (’’ لیکن اگر وہ مومن مقتول کسی ایسی قوم سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہو تو ایک مومن گردن کا آزاد کرنا ہے‘‘)۔ یہاں دیت کا سرے سے ذکر ہی نہیں، کیونکہ مقابل صرف غیر مسلم قوم نہیں بلکہ برسر پیکار قوم ہے ۔ اس لیے ان مخصوص حالات میں دیت کی ادائیگی کو کم زوری پر محمول کیا جائے گا اور پھر ہو سکتا ہے کہ حالت جنگ کی وجہ سے دشمن نے ایسا ضابطہ نافذ کر رکھا ہو جس کی وجہ سے وہ دیت کی پوری رقم بحق سرکار ضبط کرکے مسلمانوں ہی کے خلاف استعمال کر جائے یا پھر دشمن نے اپنے قانونی ڈھانچے میں یہ بات اصولی طورپر شامل کر رکھی ہو کہ دیت وغیرہ سے ملنے والی رقم کا ایک خاص فی صد سرکاری خزانے میں جمع کرانا لازمی ہے۔ اس لیے شارع نے مقتول کے مومن ہونے کے باوجود دیت کا حکم یہاں لاگو نہیں کیا جس سے شارع کا واقعیت پسندانہ رجحان (مثالی احکامات دینے کے بجائے انسانی احوال و ظروف کو پیشِ نظر رکھ کرفرمان جاری کرنا) سامنے آتا ہے۔ اب چونکہ اس مقام پر دیت کا حکم نہیں دیا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی متبادل بتایا گیا ہے، اس لیے ایک مومن گردن آزاد کرنے میں بھی کوئی گنجایش باقی نہیں رکھی گئی ۔ آیت کے اس سے اگلے حصے میں پہلے دو حصوں سے مختلف بیان ہے: وَإِن کَانَ مِن قَوْمٍ بَیْْنَکُمْ وَبَیْْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ  (’’اور اگر وہ کسی ایسی قوم کا فرد تھا جس کے ساتھ تمہارا میثاق ہو‘‘)۔ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ مقتول لازمی طور پر مومن نہیں ہے، کیونکہ پہلے دو مقامات پر مقتول کے مومن ہونے کا باقاعدہ ذکر کیا گیا ہے جبکہ یہاں نہیں کیا گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ یہاں دیت کی ادائیگی کا حکم پہلے دیا گیا ہے اور مومن گردن آزاد کرنے کا بعد میں اور کسی قسم کی چھوٹ، معافی یا گنجایش کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ دیت کی ادائیگی کے حوالے سے آیت کے دونوں مقامات (پہلے اور تیسرے) پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ پہلے مقام پر قاتل و مقتول ایک ہی قوم سے ہیں، اس لیے وہاں مومن گردن آزاد کرنے کا بیان پہلے ہوا ہے کہ اس پر زور دینا مقصود ہے۔ ایک تو اس لیے کہ قاتل کے عمل کی تلافی ہو جائے، دوسرا اس لیے کہ تلافی کی ایسی صورت کو معاشرتی اصلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس سلسلے میں معاشرے میں موجود ایسے غالب استحصالی رویوں کا قلع قمع کیا جائے جنہیں ناگزیر خیال کرتے ہوئے ریاست نے بھی اداروں کی شکل دے دی ہو۔(اس لیے دشمن قوم کے مومن مقتو ل کے بیان میں بھی مومن گردن آزاد کرنے کا حکم دیا گیا)۔ اس بیان کے بعد دیت کی ادائیگی اور اس کی معافی کے تذکرے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصول کی سطح پر’’ دیت‘‘ کا حکم دینے کے باوجود مقصود کی سطح پر ’’صدقہ‘‘ رکھنے کے خاص معانی ہیں۔یہ معانی استحصالی رویوں کے خاتمے سے آگے بڑھ کر، پہلی سطح پر خالصتاً قانونی انداز میں عدل و انصاف کی ریاستی قدر کی طرف لے جاتے ہیں اور دوسری سطح پر بے غرضانہ معافی کے عمل سے معاشرے کو اعلیٰ اخلاقی قدروں سے روشناس کراتے ہیں۔ جہاں تک تیسرے مقام کا تعلق ہے جہاں دیت کا ذکر پہلے ہوا ہے (صدقہ کی آپشن کے بغیر) اور مومن گردن آزاد کرنے کا بیان بعد میں تو اس کی وجہ بھی سمجھ میں آجاتی ہے۔ جس قوم سے میثاق کیا گیا ہو، اس کا مطلب ہے وہ ایک الگ منفرد قوم ہے ، اس لیے اس قوم کے مقتول کی دیت کی ادائیگی کا حکم پہلے بیان ہوا ہے کہ دیت فی الفور ادا کر دی جائے، باقی رہا مومن گردن آزاد کرنا تو یہ گھر کا مسئلہ ہے، اسے بعد میں دیکھا جا سکتا ہے۔ 
پہلے اور تیسرے مقام پر حکم کی ترتیب میں فرق صراحت کرتا ہے کہ مومنین میثاق کو انتہائی سنجیدگی اور حساسیت سے لیں، حتیٰ کہ میثاق کے مقابلے میں داخلی مسائل یا مومنین کا باہمی طرزِ عمل (گردن آزاد کرنا وغیرہ) ثانوی سطح پر رکھے جانے چاہییں۔ چونکہ میثاق والی قوم غیر مسلم ہے، اس لیے اس کو ’’صدقہ ‘‘ کرنے کی آپشن نہیں دی گئی، لیکن معافی کے لیے ’’صدقہ‘‘ کے علاوہ کسی دوسرے لفظ سے بھی دیت چھوڑنے کی آپشن رکھی جا سکتی تھی۔ آخر شارع نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ ہماری رائے میں اس کے پیچھے حکمت غالباً یہ ہے کہ چونکہ میثاق کے دو فریق ہیں اور دونوں الگ الگ قومیں ہیں، اس لیے کسی ایسے واقعہ کے رونما ہونے کے بعدطرفین میں ’’قومی حمیت‘‘ کا جذبہ بھڑک سکتا ہے، اس لیے دیت کے حکم کے ساتھ اگر چھوٹ کی گنجایش بھی رکھی جائے تو ایک تو مسلم قوم (خاص طور پر اگر وہ طاقت ور ہو )دیت کی ادائیگی سے انکاری ہو سکتی ہے اور دوسرا، میثاق والی قوم نفسیاتی طور پر خود کو مستقل دباؤ میں محسوس کرتی کہ معافی کی آپشن ہوتے ہوئے اسے خیر سگالی کے جذبے کے تحت لازماً معاف کر دینا چاہیے اور اس جبری خیر سگالی کے نتیجے میں طرفین کے تعلقات میں آہستہ آہستہ کشیدگی در آتی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر میثاق والی قوم اپنے طور پر دیت چھوڑ دینا چاہے تو کیا اسے اس کی اجازت ہے؟ ہماری رائے میں قرآنی بیان اس کا جواب نفی میں دیتا ہے۔ چونکہ میثاق والی قوم الگ اور منفرد ہے، اس لیے اس کی اخلاقی حالت کو اس حد تک سنوارنے کی ذمہ داری ہم پر نہیں ہے جس حد تک ’’صدقہ‘‘ کے بیان کے ضمن میں اخلاقی حالت کی بہتری کی طرف قرآنی اسلوب ہمیں لے جاتا ہے ۔ ( کہ اسے دخل در معقولات سمجھا جائے گا اور نتیجہ میثاق کی کم زوری کی صورت میں رونما ہو گا)۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک الگ منفرد قوم کے ساتھ عدل کی بنیاد پر قانونی لب و لہجہ میں ہی معاملات طے کیے جا سکتے ہیں نہ کہ اعلیٰ اخلاقیات کے ایجابی نظم سے۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں کہ میثاق والی قوم کی اخلاقی تربیت بالکل بھی ملحوظ نہیں رکھی گئی۔ دیت کی لازمی ادائیگی سے ان کو ایک خاص حد تک یہ اخلاقی پیغام دے دیا جاتا ہے کہ میثاق والی قوم کے فرد کی جان، انسانی حوالے سے ، کسی بھی اعتبار سے اور کسی بھی سطح پر کم تر نہیں ہے جس سے لازمی طور پر اس قوم میں انسانی جان کی حرمت اور عدل کی ہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ لیکن اس سارے عمل کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ کسی غیر مسلم قوم سے ایسا میثاق نہیں کیا جائے گا جس میں کوئی ایسی شق شامل ہو جس میں اس قوم کے مقتول کے بدلے میں دیت کو چھوڑ کر یا دیت سمیت کوئی اور حکم لگایا گیا ہو۔ اس آیت کے بین السطور قرآن کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ بین الاقوامی تعلق یا میثاق میں (البقرۃ آیت۱۷۸، المائدۃ آیت۴۵ جیسا) احسان و صدقہ پر مبنی حکم مسائل کے حل کے بجائے آگ بھڑکا سکتا ہے، اس لیے اخلاقی اور عملی اعتبار سے عدل پر مبنی واضح اور ٹھوس حکم ہی کسی میثاق کی پائیداری کی ضمانت ثابت ہو سکتا ہے کہ اس قسم کے کسی حکم سے فریقین میں سے کسی کی حق تلفی کا اندیشہ موجود نہیں رہے گا۔ (کسی دوسری قوم کے ساتھ کیے گئے میثاق کی اہمیت کے لیے دیکھیے النساء۴:۹۰، الانفال۸:۷۲)۔ 

یہاں ضمناً ایک نکتے کی صراحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ عدل کا خمیر اخلاقیات سے ہی اٹھا ہے، اس لیے اس کا جواز عارضی وقتی یا زمانی ومکانی اقدار و ضروریات کے بجائے اخلاقیات کے دوائر (چاہے مذہبی یا سیکولر) میں تلاش کرنا چاہیے۔ اندریں صورت عدل کی بنیاد پر میثاق کی بجاآوری یا میثاق کی بنیاد پر عدل کا قیام، ایک اخلاقی قدر کی ظاہری صورت قرار دی جا سکتی ہے۔ اسی سلسلے میں ایک ضروری گزارش یہ ہے کہ اخلاقی اقدار کی درجہ بندی میں عدل کا مقام پہلے آتا ہے اور احسان و معافی کا بعد میں۔ اس لیے کسی تہذیب میں عدل اخلاقی اعتبار سے اس کا ابتدائی دور ظاہر کرتاہے اور احسان و صدقہ ترقی یافتہ دور کو۔ یہی بات فر د کی بابت بھی سچ ہے کہ اس کا اخلاقی وجود عدل کے مرحلے سے نشوونما پا کر احسان و صدقہ کی منازل تک رسائی پاتا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی تہذیب کے افراد کی غالب اکثریت اگر احسان و صدقہ کو قبولیتِ عامہ کے شرف سے نوازے، تبھی وہاں حقیقی و عملی اعتبار سے ان اقدار کی تنفیذ ممکن ہو سکتی ہے، وگرنہ نہیں۔ اب یہ تو ممکن ہے کہ کسی مخصوص تہذیب کے افراد (جو اگرچہ مختلف ذہنیتوں کے حامل ہوں) عدل کے مانند بتدریج احسان و صدقہ پر بھی یک سو ہو جائیں، لیکن مختلف تہذیبوں کے مختلف ذہنیتوں کے حامل افراد کا احسان و صدقہ جیسی ترقی یافتہ ا قدار پر یک سو ہونا خاصا دشوار ہے۔ کہ تہذیبیں یکساں اخلاقی درجے پر فائز نہیں ہوتیں، کیونکہ ہر تہذیب کی منفرد داخلی ساخت اور افراد کی منفرد عمومی نفسیات تہذیبی خلیج کا باعث بنتے ہیں۔ البتہ آج کی عالم گیریت کی فضا میں کم از کم یہ سوال اٹھانا ممکن ہے کہ کیا کوئی ’’عالمی تہذیب‘‘ وجود میں آسکتی ہے؟ اور کیا وہ عدل کے مانند احسان و صدقہ سے بھی بہرہ مند ہو سکتی ہے؟ بہرحال، مسلم تہذیب کا تاریخی مطالعہ ہمیں تجرباتی بنیاد وں پر اس امر سے روشناس کراتا ہے کہ احسان و صدقہ جیسی جملہ اقدار کی داعی کوئی تہذیب داخلی و باطنی وسعتوں کی حامل ہوتی ہے۔ مثلاً ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی کے باوجود اس وقت کی مسلم تہذیب کی داخلی وسعتوں نے شکست کو فتح میں بدل دیا۔ اگر اس وقت کی مسلم تہذیب احسان و صدقہ جیسی اقدار کی حامل نہ ہوتی تو ایک خارجی دشمن کو اپنی وسعتوں میں سمونے کے بجائے ردِ عمل میں چنگیزی دیواروں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتی۔
یہاں ایک سوال البتہ ضرور اٹھتا ہے کہ ایسی شان دار صفات سے مزین یہ تہذیب آخر ہلاکو کی چنگیزیت کا شکار کیوں کر ہوئی؟ بادی النظر میں اس کا جواب یہی ہے کہ احسان و صدقہ جیسی خصوصیات کسی مہذب مہمان کی ضیافت کا سامان ضرور ہوتی ہیں، لیکن کسی وحشی اور اجڈ حملہ آور کی ہلاکت آفرینیوں کے مقابل فصیل کا کام ہرگز نہیں دے سکتیں۔ اس لیے ترقی یافتہ اخلاق کی حامل تہذیب اگر اپنے ابتدائی اخلاقی دور کی اقدار (عدل وغیرہ) سے مکمل صرفِ نظر کر لے تو کئی للچائی نگاہیں اسے اپنا ’’منظور نظر‘‘ بنا لیتی ہیں۔ لہٰذا اخلاقی اعتبار سے ترقی یافتہ ہونے کے باوجود ایسی تہذیب میں جملہ اخلاقی اقدار کا اپنے اپنے مقام پر موجود ہونا انتہائی ناگزیر ہوتا ہے۔ یوں سمجھئے کہ عدل وغیرہ کی اہمیت گھر کے دروازے کی سی ہے جسے ہر حال میں مضبوط ہی رکھا جانا چاہیے۔ اگر گھر کی اندرونی آرایش(احسان وصدقہ) کے مانند دروازے پر بھی تزئینی کام مضبوطی(عدل) کی قیمت پر آراستہ کیا جائے گا تو ایسا کرنا فقط آوارہ لفنگوں کو دروازہ پھلانگنے کی دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ یہی قانون فطرت بھی ہے کہ پھول کی ڈالی پر کانٹے پہلے اگتے ہیں اور پھول بعد میں، لیکن پھول کھلنے کے بعد کانٹے ختم نہیں ہوجاتے بلکہ ان کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذ ا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح چمن کی حسن و رعنائی کو جلا بخشنے میں کانٹوں کا وجود پھولوں کے مانند بھرپور اخلاقی جواز کا حامل ہوتا ہے، اسی طرح کسی قوم سے میثاق ہونے کے ناطے (احسان و صدقہ کے بجائے) عدل کی بجاآوری پر اصرار اخلاقیات ہی کی پیروی اور ترویج ہے اور اخلاقیات کی یہ جہت کسی بھی حوالے سے سلبی نہیں، بلکہ ہر اعتبار سے ایجابی ہے۔ 

قابلِ غور امر یہ ہے کہ قتل خطا کی تینوں صورتوں میں قرآن مجید نے مومن گردن آزاد کرنے کا حکم دیا ہے جس سے قرآن کا مقصود نہایت صراحت سے سامنے آتا ہے۔ پھر اس کے متبادل کے طور پر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن خیال رہے کہ یہ متبادل اس معنی میں نہیں کہ ایک مومن گردن آزاد کرو ’’یا‘‘ روزے رکھو، بلکہ جو شخص مومن گردن آزاد کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو، اسی کے لیے روزوں کی آپشن ہے ۔اگر یہاں شارع کی مرادگردن آزاد کرنا’’ یا‘‘ روزے رکھنا ہوتی تو اس کی باقاعدہ تصریح ’أَوْ‘ کے لفظ سے کی جاتی کہ یہی قرآنی اسلوب ہے، مثلاً : فَفِدْیَۃٌ مِّن صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ (البقرۃ ۰۲/۱۹۶) أَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسَاکِیْنَ أَو عَدْلُ ذَلِکَ صِیَاماً (المائدۃ ۰۵/ ۹۵) ۔ 
زیرِ نظر آیت ( النساء ۹۲) سے ملتا جلتا اسلوب مشتملات کی یکسانیت کے ساتھ ا س مقام پر بھی ملتا ہے : 
وَالَّذِیْنَ یُظَاہِرُونَ مِن نِّسَاءِہِمْ ثُمَّ یَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّن قَبْلِ أَن یَتَمَاسَّا ذَلِکُمْ تُوعَظُونَ بِہِ وَاللَّٰہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌ ۔ فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْْنِ مُتَتَابِعَیْْنِ مِن قَبْلِ أَن یَتَمَاسَّا فَمَن لَّمْ یَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْناً ذَلِکَ لِتُؤْمِنُوا بِاللّٰہِِ وَرَسُولِہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللّٰہِ وَلِلْکَافِرِیْنَ عَذَابٌ أَلِیْمٌ (المجادلۃ ۵۸/ ۳، ۴) 
’’اور جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کریں، پھر جو کچھ کہا ہے، اس کی تلافی کرنا چاہیں تو آپس میں تعلقات ازدواجی قائم کرنے سے پہلے ایک گردن آزاد کریں۔ اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ کو تمہارے سب اعمال کی خبر ہے۔ پھر جسے نہ ملے تو پے در پے دو ماہ کے روزے رکھے قبل اس کے کہ دونوں باہم اختلاط کریں۔ پھر جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلائے۔ یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے ‘‘۔ 
سورۃ المائدۃ میں ایک مقام پر متبادل اور سہولت، دونوں کا اہتمام کیا گیا ہے: 
لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْ أَیْْمَانِکُمْ وَلَکِن یُؤَاخِذُکُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الأَیْْمَانَ فَکَفَّارَتُہُ إِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِیْنَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَہْلِیْکُمْ أَوْ کِسْوَتُہُمْ أَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ ذَلِکَ کَفَّارَۃُ أَیْْمَانِکُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَیْْمَانَکُمْ کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (المائدۃ ۰۵/ ۸۹)
’’اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر۔ ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسموں کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا دینا، اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو، اس کے اوسط میں سے ، یا انہیں کپڑے دینا یا ایک گردن آزاد کرنا۔ تو جو ان میں کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے۔ یہ کفارہ ہے تمہاری قسموں کا جبکہ تم قسم کھا لو۔ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اسی طرح اللہ تم سے اپنی آیات بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو ‘‘۔
بہر حال قتل خطا کی تینوں صورتوں میں مومن گردن آزاد کرنے کا حکم ظاہر کرتا ہے کہ شارع کا منشا یہی ہے کہ ہماری توجہ اسی حکم کی طرف مبذول رہے اور ہم اسی کی تنفیذ کی کوشش کریں۔ روزوں کی آپشن ، متبادل کو نہیں بلکہ ناگزیر حالت میں ایسی سہولت کو ظاہر کرتی ہے کہ اگرمومن گردن کی آزادی ممکن نہ ہو تو پھر کم از کم روزے تو رکھ ہی لینے چاہییں۔ اس لیے مومن گردن کی آزادی تقریباً لزوم کے دائرے میں آ جاتی ہے۔ قرآنی بیان کا قرینہ ہماری رائے کی تصریح کرتا ہے۔ ذرا النساء ۴ آیت ۹۲کو دوبارہ دیکھیے کہ َ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃً کا بیان تین بار کیا گیا ہے جبکہ فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْْنِ مُتَتَابِعَیْْنِ کا بیان صرف ایک بار ہوا ہے۔ اگرَ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃً  پر زور دینا مقصود نہ ہوتا تو ایسا اسلوب اختیار کیا جا سکتا تھا جیسا فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْْنِ مُتَتَابِعَیْْنِ میں اختیار کیا گیا، یعنی ایک بیان کا، تینوں صورتوں پر اطلاق کر دیا جاتا۔ اس لیے ہر دواعتبار سے کہ فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْْنِ مُتَتَابِعَیْْن کو تین بار بیان نہیں کیا گیا اورَ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃً کا بیان ایک بار نہیں کیا گیا، صاف معلوم ہوتا ہے کہ مومن گردن کی آزادی پر شارع کا کتنا زور ہے۔ کسی نکتے پر زور دینے کے لیے تکرار کا ایسا اسلوب قرآن کا خاصا ہے، مثلاً:
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً ۔ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً (الم نشرح ۹۴/۵ ، ۶)
’’ پس بے شک سختی کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک سختی کے ساتھ آسانی ہے ‘‘ 
ایسے زوردار قرآنی اسلوب کے باوجود آج کے دور میں مومن گردن آزاد کرنے کے حکم کی بجا آوری کے بجائے مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنے کو ہی قابلِ عمل سمجھا جاتا ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے ایسے مقامات کیا محض ’’برکت ‘‘ کے لیے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو خیال رکھنا چاہیے کہ پھرقرآن مجید کا تقریبا دو تہائی حصہ ’’ برکتی تعلیم‘‘ پر مشتمل ہے، لہٰذا عملی طور پر متروک ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ترکِ قرآن کی یہی روش ہمیں تباہی کے دہانے پر لے آئی ہے۔ علمائے دین کی یہ توجیہ کہ کبھی پھر غلامی کا دور آئے گا تب یہ احکامات نافذ کیے جا سکیں گے، ضرورت سے زیادہ سادگی کی حامل ہے ۔ اگر یہ توجیہ مان لی جائے تو ’’بحالی غلامی کی تحریک ‘‘ شروع کرنی چاہیے نہ کہ پوری دنیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹا جائے کہ اسلام انسانی حقوق کا علم بردار ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ غلامی کی بحالی کی صورت میں صرف غیر مسلم ہی غلام نہیں ہوں گے،بلکہ چونکہ زیرِ نظر آیت میں مومن گردن کی آزادی کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے مسلمانوں کو بھی لازماً غلام بنانا ہوگا۔ سبحان اللہ، کیا حکیمانہ توجیہ ہے! ایسی توجیہ جو اسی آیت میں مذکور ، شارع کے منشا کی زبردست نفی کرتی ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ مومن گردن آزادکرنے کے تکراری حکم میں آخر کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ کیا یہی نہیں کہ معاشرے میں موجود اس استحصالی رویے کو جو ادارے کی سطح پر جا پہنچا ہے ختم کر دیا جائے؟ تو کیا ہمارے شارحین فقہا کرام ماضی کا استحصالی ادارہ بحال کرنے کے بعد اس کے خاتمہ کے خواہاں ہوں گے؟ فرض کریں ایسا استحصالی رویہ پنپنا شروع ہوتا ہے جو غلامی کی طرف لے جانے والا ہو تو کیا ہم اس کی تائید اس لیے کریں گے کہ غلامی کی بحالی کے بعدقرآن کے احکامات پر عمل ممکن ہوسکے گا؟
لہٰذا زیر نظر آیت کی یہ داخلی شہادت ، مومن گردن آزاد کرنے کے حکم کا مصداق دریافت کرنے کی ضرورت کا بھرپور احساس دلاتی ہے ۔ اس سلسلے میں نزولِ قرآن کے زمانے کی معاشرتی ساخت کے تجزیے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس میں موجود غلامی کے ادارے کا جواز، محل اور نوعیت واضح ہو سکے ۔ پھر اس سے حاصل ہونے والے نتائج کو معاصر معاشرے پر منطبق کر کے غلامی کا مصداق دریافت کیا جائے اور قرآنی احکامات کی بر محل تنفیذ کی جائے۔ بہرحال یہ یقینی بات ہے کہ غلامی کے ادارے کے محل،جواز اور نوعیت میں لازمی طور پر اتنے شدید اور کثیر منفی عناصر شامل تھے کہ قرآن نے قانونی حکم کے ذریعے اس کے فوری ظاہری (عارضی) خاتمے کے بجائے بالواسطہ طریق پر مختلف ترہیبات و ترغیبات کے ذریعے اس سے متعلق سماجی رویے کی بیخ کنی کی اور اس ادارے کے استقلال پر کاری ضرب لگائی۔

غور کیجیے کہ اگر مومن گردن آزاد کرنے کی کوئی سبیل نہ ہو (فَمَن لَّمْ یَجِدْ) تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے (فَصِیَامُ شَہْرَیْْنِ مُتَتَابِعَیْْنِ) ۔چونکہ روزے کا حکم ، مومن گردن آزاد کرنے کی کوئی سبیل نہ ہونے کی صورت میں لاگو ہوتا ہے، اس لیے یہ ایک لحاظ سے مومن گردن آزاد کرنے کے حکم کا قائم مقام بن جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ روزوں میں مضمر حکمت ایک لحاظ سے اس حکمت کی کسی نہ کسی درجہ میں نمائندگی کرتی ہے جو مومن گردن آزاد کرنے میں مطلوب ہے۔ روزوں کے بارے میں یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں کہ ان کا تعلق صرف بھوکے پیاسے رہنے سے نہیں ہے،بلکہ کم از کم مطلوب، فرد کی اخلاقی اصلاح ہے ۔اب اگرالنساء۴ آیت ۹۲ کے اسلوب کو پیشِ نظر رکھا جائے کہ کتنے اصرار و تاکید کے ساتھ مومن گردن آزاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے اورروزوں کو متبادل مقام دینے کے بجائے انتہائی ناگزیر حالت میں محض اجازت و سہولت کے درجے میں رکھاگیا ہے تو واضح ہو جاتا ہے کہ مومن گردن آزاد کرنے میں جو حکمت پوشیدہ ہے(جس کی ایک درجے میں نمائندگی روزے کر رہے ہیں )، وہ اخلاق و اصلاح کے اعتبار سے، نسبتاً کتنی بڑھی ہوئی اور پھیلی ہوئی ہے۔ روزہ اگر’’ فرد کی اصلاح ‘‘ہے تو گردن کی آزادی ’’معاشرتی اصلاح‘‘ ہے۔ گردن آزاد کرنے کے عمل میں کم از کم دو فرد براہ راست شریک اور متاثر ہوتے ہیں، ایک قاتل اور دوسرا غلام۔ جہاں کسی عمل میں دو فرد ملوث ہوں، وہاں معاشرتی عمل شروع ہو جاتا ہے۔ غور کیجیے کہ ایک جیتے جاگتے انسانی سماج میں آزادی دینے اور آزادی لینے سے زیادہ بہتر معاشرتی عمل اور کیا ہو سکتا ہے؟

بحث کے اس مقام پر اس بات کا جایزہ لینا ضروری ہے کہ کیا روزہ اپنی حقیقت میں فقط ایک فرد اور خدا کا معاملہ ہے؟ اور اسے سماج سے یا سماج کو اس سے کوئی غرض نہیں؟ یہ جائزہ لینا اس لیے ضروری ہے کیونکہ اس سے معلوم ہو سکے گا کہ قتلِ خطا کے اثرات کیا صرف قاتل و مقتول یا ان دو خاندانوں تک محدود ہیں یا سماج بھی کسی طور متاثرین میں شامل ہے؟۔ کیونکہ اگر سماج اس واقعے سے کسی بھی حوالے سے متاثر نہیں ہوتا تو سزا دینے کے عمل میں بھی سماجی تقاضے پیشِ نظر رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے کہ سزا کے حکم میں گردن کی آزادی کا تکراری بیان اس معاملے کی سماجی جہتوں کو بے نقاب کر رہا ہے۔ لیکن گردن کی آزادی کے متبادل حکم ’صیام‘ کی بابت عمومی رائے یہی ہے کہ اس کا تعلق کسی فرد کی اپنی ذات سے ہے۔ اس رائے کی ترویج و توقیر کے پیچھے غلط دینی تعبیر پائی جاتی ہے، جس کو تقویت دینے کی خاطر احادیث کا من مانے انداز میں سہارا لیا جاتا ہے۔ ہمیں اس مسئلے کی تنقیح کے لیے اس قرآنی مقام کو دیکھنا ہوگا جہاں اللہ رب العزت نے روزوں کی مقصدیت واضح کی ہے: 
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ (البقرۃ۰۲:۱۸۳)
’’ اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم (اللہ کے غضب سے) بچو۔ ‘‘
بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے کہ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ کی نسبت روزوں کی’’ فرضیت‘‘ سے ہے۔ حالاں کہ ذرا غور کرنے پر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ روزے اللہ کے غضب سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں نہ کہ ان کی فرضیت ۔ فرضیت کا پہلو، مومنین کے ہاں اللہ کے غضب سے بچاؤ کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ یعنی مومنین روزے رکھنے کے حکم کی تعمیل میں کہیں کسی قسم کی سستی کاہلی وغیرہ کا مظاہرہ نہ کریں اس لیے ڈھیلے ڈھالے اسلوب کے بجائے قطعی انداز میں روزوں کو فرض قرار دیا گیا ہے۔ اس دوسطری بحث سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ روزوں میں بنفسہ ، اتقا کو فروغ دینے کی خاصیت پائی جاتی ہے، اس لیے ان کا اصل مقصد، مومنین کو متقی بنانا ہے۔ لیکن قرآن مجید کے مطابق تقوی بھی خود مقصد نہیں ہے بلکہ ذریعے کے درجے میں ہے، ملاحظہ کیجیے: 
الم ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ (البقرۃ۲:۱،۲) 
’’الف لام میم۔ یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ، راہ بتانے والی ہے متقین کو‘‘
اس کا مطلب یہ ہوا کہ متقین’’ ہی‘‘ راہ پا سکتے ہیں اور جزوی کے بجائے پوری کی پوری کتاب (قرآن مجید) متقین کو راہ بتانے والی ہے، اس لیے اس سے مجموعی اور مکمل راہنمائی لینے کے لیے اسے وحدتی انداز میں لیا جانا ضروری ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ روزے اپنی مقصدیت (لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ) میں کسی نہ کسی درجے میں اسی وحدتی رخ کو اپنانے کی دعوت دیتے ہیں۔ اس کا ایک واضح مطلب یہ ہوا کہ مومنین روزوں کے توسط سے متقین کے مقام پر فائز ہوکر قرآن مجید سے راہ پانے کی کامیاب کوشش کر سکتے ہیں۔اس نکتے کے تناظر میں النساء۴ آیت۹۲ کی یہ معنوی پرت سامنے آتی ہے کہ مسلسل دو ماہ کے روزوں کے حکم میں اصل مقصود قاتل کو محض متقی بنانا نہیں ہے بلکہ حقیقت میں اسے اس قابل بنانا ہے کہ وہ الکتاب (قرآن مجید) سے راہ پانے کی صلاحیت (تقوی)حاصل کر سکے۔اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ تقوی کی کمی کی وجہ سے قاتل (سستی ، کاہلی اور بے راہ روی کا شکار ہو کر)قتلِ خطا کا مرتکب ہوتا ہے اور تقوی کی یہی کمی اس سے الکتاب سے راہ پانے کی صلاحیت چھین لیتی ہے۔ اسی لیے روزوں کے توسط سے اس کی کھوئی ہوئی اہلیت کی بحالی کی کوشش کی گئی ہے تاکہ الکتاب سے راہ پاسکے اور یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ الکتاب صرف فرد کی اصلاح پر زور نہیں دیتی بلکہ سماج کو بھی اپنا موضوع بناتی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انفرادی اصلاح کے علاوہ روزہ اپنے حتمی مقصد میں سماجی غرض و غایت بھی سموئے ہوئے ہے۔ بحث کے اس مقام پر اس بات کا جایزہ لینا ضروری ہے کہ قرآن مجید کے مطابق متقی کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں؟۔ اس سلسلے میں البقرۃ ۲ کی متصل آیات۳،۴ میں متقین کی بابت صراحت کی گئی ہے:
الَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْْبِ وَیُقِیْمُونَ الصَّلاۃَ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ، والَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْْکَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ وَبِالآخِرَۃِ ہُمْ یُوقِنُونَ (البقرۃ۲:۳،۴)
’’وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم کریں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے خرچ کریں۔ اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو آپ کی طرف اتاری گئی ہے اور ان پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری جا چکی ہیں اور آخرت پر بھی وہ لوگ یقین رکھتے ہیں۔‘‘
یہاں غیب پر ایمان اور قرآن مجید ا ور اس سے پہلے اتاری گئیں کتب پر ایمان کو متقین کے تقاضوں (شرائط)میں شامل کیا گیا ہے، اگر احتیاط ملحوظ رکھتے ہوئے یقین اور ایمان کو مترادف سمجھا جائے تو آخرت پر یقین کو آخرت پر ایمان گرداناجا سکتا ہے۔ جبکہ(البقرۃ۲:۱۸۳) میں مخاطبین (یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الصِّیَامُ) پہلے ہی سے ایمان کی دولت سے مالا مال ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ (النساء۴آیت۹۲میں) مسلسل دو ماہ کے روزوں کا حکم، (البقرۃ۲آیت۱۸۳) کے تناظر میں قاتل کے ایمان پر دلالت کرتا ہے۔ (جبکہ النساء۴ آیت۹۳ کے بیان کے مطابق قتلِ عمد کے مرتکب کا ایمان مشکوک ہو جاتا ہے، دیکھیے ماہنامہ الشریعہ فروری۲۰۰۹ ’’قرآن مجید میں قصاص کے احکام‘‘ )۔ 
البقرۃ۲ آیت۱۸۳ کے مطالعہ سے یہ نکتہ بھی برآمد ہوتا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ انسان ایمان رکھنے کے بعد لازماََ متقی بن جاتا ہے، البتہ ایمان کی موجودگی ایک مضبوط وجہ بن جاتی ہے کہ ایمان والے، روزے رکھ کر متقین کی صف میں شامل ہو جائیں۔ البقرۃ ۲ آیات ۳،۴، اور ۱۸۳ کے تقابلی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں مقامات پر ایمان کے بیان(مجمل و مفصل) کے باوجود ایک واضح فرق ہے۔ وہ فرق ہے ایک مقام پر صلاۃو انفاق کا بیان اور دوسرے مقام پر صیام کا بیان۔ پھر غور کیجیے کہ البقرۃ۲آیات۳،۴ میں متقین کی پوری صفات گنوا دی گئیں ہیں لیکن ان میں صیام کا کہیں ذکر نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صلاۃ و انفاق مل کر وہی کام کرتے ہیں جو صیام تنِ تنہا کرتے ہیں لیکن اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ صیام کے لازمی اجزائے ترکیبی صلاہ و انفاق ہیں،یعنی نماز قائم کیے بغیر اور اللہ کی راہ میں خرچ کیے بغیر ، روزے اپنی مقصدیت نہیں پا سکتے۔ اسی لیے ہر دو مقامات(البقرۃ۲:۳،۴، اور ۱۸۳) پر صلاۃ و انفاق اور صیام ، متوازی اور متبادل حیثیت میں خدائی منشا کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ صیام ان تمام اخلاقی صباحتوں سے لبریز ہیں جو صلاۃ و انفاق میں پائی جاتی ہیں اور یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ صلاۃ و انفاق بنیادی طور پر سماجی فعلیت کے مظاہر ہیں۔ اس داخلی شہادت سے روزوں کی سماجی دلالتیں نہایت واضح ہو جاتی ہیں۔ 
مذکورہ بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ النساء۴ آیت۹۲ میں روزوں کا حکم ، ایک طرف قاتل کے ایمان(اور ایمان کی حد تک تقوی) کی تصدیق کرتا ہے اور دوسری طرف تقوی کے ایک خاص پہلو، جو صلاۃو انفاق یا صیام سے گندھا ہوا ہوتا ہے، کی عدم دستیابی کی تلافی کرتا ہے۔ اس لیے صیام کے حکم کی حکمت کی تلاش میں صیام کو تحلیل کر کے اس کی دو بڑی داخلی جہتوں (صلاۃ و انفاق) کا تنقیدی و معنوی مطالعہ اگرچہ ناگزیر ہو جاتا ہے لیکن یہ مضمون اس طویل مطالعے کا متحمل نہیں۔ بہرحال! ضمناً یہ نکتہ پیشِ نظر رہے کہ البقرۃ۲ آیات۳،۴ کی بیان کردہ صفات (غیب پر ایمان، صلاۃ کا قیام، انفاق، قرآن مجید اور اس قبل اتاری گئی تمام کتب پر ایمان، آخرت پر یقین) اپنی ذات میں ہدایت نہیں ہیں، بلکہ ان سے متصف ہوکر انسان متقین کی صف میں جا کھڑا ہوتا ہے اور پھر انہی متقین کے لیے قرآن مجید راہ بتانے والی کتاب ہونے کا دعوی کرتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ قرآن مجید اگر آفتاب ہے تو اسے دیکھنے کے لیے یہ صفات آنکھوں کا کام کرتی ہیں۔ آخر کوئی نابینا آفتاب کو کیسے دیکھ سکتا ہے؟یا اگر آفتاب ہی نہ ہو تو کوئی بینا اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے سوا اور کیا کر سکتا ہے؟ جیسا کہ بیان ہوا: قُرآناً عَرَبِیّاً غَیْْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُونَ (الزمر۳۹:۲۸) ’’وہ قرآن ہے عربی ہے جس میں کوئی کجی نہیں تاکہ یہ لوگ ڈریں‘‘۔ 

اگر دینی تعبیر کے مروج اسالیب سے بے نیاز ہوکر قرآن مجید کا آزادانہ مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس کا بنیادی رجحان تجربی اور آزمایشی ہے۔ اس لیے گفتار کے غازیوں کو باور کرایا گیا ہے: 
أَحَسِبَ النَّاسُ أَن یُتْرَکُوا أَن یَقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُونَ (العنکبوت۲۹:۲)
’’ کیا یہ سمجھتے ہیں لوگ کہ چھوٹ جائیں گے اتنا کہ کر کہ ہم ایمان لائے اور ان کو آزما یا نہ جائے گا‘‘ 
قرآن مجید کا یہ تجربی و عملی اندازِ فکر، انسانی زندگی کو خوامخواہ کی علمی خیال آرائیوں(Exclusively Philosophic) میں الجھانے کے بجائے سماجی نتائجیت (Socio-Pragmatism)کی صورت میں سلجھا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ قتلِ خطا کی سزا کے ضمن میں بھی مومن گردن آزاد کرنے کے تاکیدی حکم کے مضمرات اسی قرآنی منشا کو سموئے ہوئے ہیں کہ شارع کے نزدیک زبانی جمع خرچ سے ،محض تو بہ توبہ کرنے سے ، کسی خطا کی تلافی نہیں ہو جاتی، خاص طور پر ایسی خطا کی ، جو کسی دوسرے شخص کو یا پورے سماج کو کسی نہ کسی طور متاثر کر رہی ہو۔ اس لیے انفرادی یا سماجی منفعت کا حامل عملی قدم، جس کے ذریعے سے خطا میں مضمر بشری کم زوری اور سماجی جبر کا دائرہ تنگ سے تنگ کرنے کا نتایجی اہتمام پایا جاتا ہو، شارع کے نزدیک تلافی کی مناسب اور موزوں صورت ہو سکتا ہے۔ اگر قرآن مجید کے فَلاَ تَخْشَوُاْ النَّاسَ وَاخْشَوْنِ (المائدۃ۵:۴۴)’’سو تم انسانوں سے نہ ڈرو بلکہ ( صرف) مجھ سے ڈرو ‘‘ ، جیسے بیانات کے تناظر میں غلامی جیسے مسایل کو سمجھا جائے تو عیاں ہوتا ہے کہ شارع کے نزدیک غلامی یا اس سے مماثل کوئی سماجی مظہر، (اصولی اعتبار سے)مسلمہ و مصدقہ نہیں ہے بلکہ سماجی جبر پر مبنی ایک منفی انسانی صورتِ حال کی زندہ جاوید تصویر ہے۔ اس لیے قرآن مجید میں جہاں کہیں غلامی کا ذکر کیا گیا ہے، صرف اور صرف منفی انسانی صورتِ حال کے ادراک کے طور پر کیا گیا ہے کہ اچھا خاصا جیتا جاگتا انسان خوامخواہ بے اختیار کٹھ پتلی بن کر رہ جاتا ہے۔ وَضَرَبَ اللّہُ مَثَلاً رَّجُلَیْْنِ أَحَدُہُمَا أَبْکَمُ لاَ یَقْدِرُ عَلَیَ شَئ (النحل۱۶:۷۵) ’’اللہ مثال پیش کرتا ہے ایک حلقہ بگوش غلام کی جو کسی بات پر قدرت نہیں رکھتا‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ غلام میں خلقی اعتبار سے بے اختیاری نہیں ہوتی، بلکہ صرف اورصرف انسانی سماج کی کوئی مکروہ فصیل اس کے اختیار کو پابند کیے ہوتی ہے۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ معاصر سماج میں(غلامی کے ظاہری خاتمے کے باوجود) یہ دیکھنے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ انسانی سماج کی وہ کون سی مکروہ فصیلیں ہیں جنہوں نے انسانی اختیار کی ایسی جہتوں کو پابند کر رکھا ہے جنہیں شارع نے خلقی اور خلقی لحاظ سے سے انسانی آزادی و انسانی حقوق میں شامل کر رکھا ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس زاویے سے معاصر سماج کا آزادانہ تنقیدی جایزہ، مختلف الخیال لوگوں کو بوجوہ، انسانی اختیار پر پابندی کی متخالف بلکہ متضاد منازل تک لے جا سکتا ہے، جس کا نتیجہ لایعنی مباحث پر مبنی باہم ٹکراؤ کے سوا اور کچھ نہیں ہو گا۔ اس لیے سمت کی درستی اور ترجیح کے تعین میں افراط و تفریط سے بچنے کی خاط قرآن و سنت سے راہنمائی ضروری ہو جاتی ہے۔ سورت النور کی ان آیات پر غور کیجیے: 
وَأَنکِحُوا الْأَیَامَی مِنکُمْ وَالصَّالِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَإِمَاءِکُمْ إِن یَکُونُوا فُقَرَاء یُغْنِہِمُ اللَّہُ مِن فَضْلِہِ وَاللَّہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۔وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُونَ نِکَاحاً حَتَّی یُغْنِیَہُمْ اللَّہُ مِن فَضْلِہِ وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُونَ الْکِتَابَ مِمَّا مَلَکَتْ أَیْْمَانُکُمْ فَکَاتِبُوہُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِیْہِمْ خَیْْراً وَآتُوہُم مِّن مَّالِ اللَّہِ الَّذِیْ آتَاکُمْ وَلَا تُکْرِہُوا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَاء إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّناً لِّتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَمَن یُکْرِہہُّنَّ فَإِنَّ اللَّہَ مِن بَعْدِ إِکْرَاہِہِنَّ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (النور۲۴:۳۲،۳۳)
’’ اور نکاح کرو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لایق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ انہیں غنی کر دے گا اپنے فضل کے سبب اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔ اور ایسے لوگوں کو کہ جن کو نکاح کامقدور نہیں، ان کو چاہیے کہ (اپنے نفس کو) ضبط کریں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (اگر چاہے) ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے (پھر نکاح کر لیں) اور تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتب ہو نے کے خواہاں ہوں تو (بہتر ہے کہ) ان کو مکاتب بنا دیا کرو اگر ان میں بہتری (کے آثار) پاؤ اور اللہ کے (دیے ہوئے) اس مال میں سے ان کو بھی دو جو اللہ نے تم کو دے رکھا ہے (تاکہ جلدی آزاد ہو سکیں) اور اپنی (مملوکہ) لونڈیوں کو زنا کرانے پر مجبور مت کرو (اور بالخصوص) جب وہ پاک دامن رہنا چاہیں محض اس لیے کہ دنیوی زندگی کا کچھ فایدہ (یعنی مال) تم کو حاصل ہو جائے اور جو شخص ان کو مجبور کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کے بعد (ان کے لیے) بخشنے والا مہربان ہے‘‘ 
ہم یہ کہنے کی جسارت کریں گے کہ ان آیات کا فہم، مسلم سماج میں بسنے والے مومن کے اختیار کی تحدید کی کسی بھی ایسی منفی صورت کو، جو عمومی لحاظ سے غالب سماجی جبر میں ڈھل چکی ہو، مومن گردن آزاد کرنے کے حکم کا مصداق قرار دیتا ہے۔ معاصر دنیا میں انفرادی آزادی کے نام پر سرمایہ دارانہ معیشت نے انسانی آزادی کی تحدید کا ایسا گھناؤنا کھیل شروع کر رکھا ہے جس کی وجہ سے قرض اور بدکاری، غالب سماجی جبر کی حیثیت میں سامنے آئے ہیں۔ سورت النور میں مذکور مکاتب، گلوبلایزیشن کی پیدا کردہ منفی صورتِ حال کے متاثرین، مومنین سے مماثل معلوم ہوتے ہیں جو اپنی آزادی کے حصول کے لیے انتہائی بے چارگی میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، لیکن افسوس! ان کے آقاؤں کے دماغ فرعونیت سے معمور ہیں۔اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام کی عالم گیر توسیع نے مادی آسایشوں کا پر فریب جال بن کر مومنین کے لیے مناکحت کو بھی مشکل ترین بنا دیا ہے اور اب اس کے جبر تلے بدکاری خوب پھل پھول رہی ہے۔ لہٰذا مومنین کے قرضوں کی ادائیگی اور ان کے نکاح میں حایل رکاوٹوں کا سدِ باب ، (اطلاقی سطح پر) مومن گردن آزاد کرنے کے مماثل ہو سکتے ہیں، جس کی ایک صورت اجتماعی شادیوں کی تقاریب بھی ہیں جن کا اہتمام عام طور پر کوئی صاحبِ ثروت کرتا ہے اور دستِ تعاون بڑھانے والا یہ فرد قرآنی حکم: فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ، وَمَا أَدْرَاکَ مَا الْعَقَبَۃُ، فَکُّ رَقَبَۃٍ، أَوْ إِطْعَامٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ، یَتِیْماً ذَا مَقْرَبَۃٍ، أَوْ مِسْکِیْناً ذَا مَتْرَبَۃٍ ]’’مگر اس نے دشوار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی، اور آپ کیا جانیں کہ وہ دشوار گھاٹی کیا ہے، وہ ہے کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا، یا فاقہ کے دنوں میں کھانا کھلانا، کسی قرابت دار یتیم کو، یا کسی خاک سار مسکین کو ‘‘ (البلد۹۰:۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶)[ کی بجا آوری کی لایقِ تحسین کوشش کرتا ہے۔ سورت البلد۹۰ کی (اور ان سے مماثل) آیات پر غور کیجیے کہ ان میں نہ تو کسی خطا کے کفارے وغیرہ کے طور پر حکم دیا گیا ہے بلکہ فرد کی عمومی اخلاقی حس کو انگیخت کیا گیا ہے کہ اسے سماجی مسایل کی تحدید کی کوشش کرتے رہنا چاہیے، اورنہ ہی غلام یتیم مسکین کے لیے ’مومن‘ ہونے کی قید لگائی گئی ہے، جس سے شارع کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ مومنین کو مسلم غیر مسلم کی تفریق میں الجھے بغیر عمومی سماجی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس لیے شارع نے (قتلِ خطا کی سزا کے طور پر ’مومن‘ گردن آزاد کرنے کے تاکیدی حکم کے ذریعے)، عمومی سماجی اصلاح سے ایک درجہ بڑھ کر خاص مومنین کی اصلاح کا بیڑہ اٹھایا ہے، جس کی ایک ضمنی جھلک سورت النور۲۴ آیات ۳۲، ۳۳ میں بدکاری کی روک تھام اور نکاح کی ترغیب کی صورت میں پیش کی گئی ہے۔ لہٰذا فرمانِ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں دینِ اسلام کے امتیازی وصف ’حیا‘ کی سماجی قدروقیمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے، سورت النور کے مطابق نکاح پر زور اور حتیٰ کہ لونڈیوں تک کو بد کرداری سے بچانے کے قرآنی مقصود کی تحصیل کی خاطر، معاصر سماج کی ان مکروہ فصیلوں کو ذہن میں لایے جو نکاح کے انسانی اختیار کو محدود سے محدود کرتے ہوئے صلاۃ جیسی بنیادی عبادت کے مقصود کو بھی پسِ پشت ڈالتے ہوئے منکرات و فواحش کو فروغ دے رہی ہیں اور(تکلف برطرف) تاحال فقیہِ شہر کو مسلسل للکار رہی ہیں اور فقیہِ شہر ہے کہ لمبی تان کر سو رہا ہے۔ 

زیرِ نظر آیت میں قاتل کے لیے گردن کی آزادی اور روزوں کے حکم کو عام طور پر کفارہ کے معنی پہنا دیے جاتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ کفارہ کے معنی لیے جا سکتے ہیں تو مقتول کے ورثا کو دیے گئے حکم میں سے لیے جا سکتے ہیں۔ دیت کے بیان کے ضمن میں الا ان یصدقوا کا بیان مقتول کے ورثا کے لیے انتہائی ترغیب کی علامت ہے۔ سورت المائدۃ ۵آیت۴۵ میں فَمَن تَصَدَّقَ بِہِ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہُ کے بیان سے صراحت ہوتی ہے کہ صدقہ، کفارہ بن جاتا ہے۔ النساء۴ آیت ۹۲ کے اختتام سے پہلے تَوْبَۃً مِّنَ اللّہِ کا بیان کافی اہم ہے ۔ اگر المائدۃ ۵ آیت ۴۵ کے بیان فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ کے ساتھ اس کا تقابل کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کفارہ ، صدقے کا نتیجہ ہے جبکہ یہاں توبہ کسی عمل کا نتیجہ نہیں ، بلکہ عمل بنفسہ توبہ ہے ۔ اس لیے توبہ کو کفارے کے معنی میں لینا مناسب نہیں ہے ۔نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ندامت ، توبہ ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی حدیث ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص خطا کرے کوئی سی خطا ، یا گناہ کرے کوئی سا گناہ ، اس کے بعد نادم و شرمندہ ہوجائے تو وہ اس کا کفارہ ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر توبہ بندے کی طرف سے ہو تو اس میں ندامت لازماََ پائی جاتی ہے اور یہ ندامت اس کا کفارہ بن جاتی ہے۔ لہٰذا اگر زیرِ نظر آیت میں قتلِ خطا کے مرتکب کی طرف سے توبہ کا بیان پایاجاتا تو اسے کفارہ کہا جا سکتا تھا۔ لیکن تَوْبَۃً مِّنَ اللّہ کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں توبہ بندے کی طرف سے نہیں ہے ۔ بندے کی طرف سے توبہ کرنے کے قرآنی بیان کی دو مثالیں ملاحظہ کیجیے ، جن سے تنقیح میں مدد ملے گی : تُوبُوا إِلَی اللَّہِ تَوْبَۃً نَّصُوحاً (التحریم ۶۶/۰۸)، فَإِن یَتُوبُواْ یَکُ خَیْْراً لَّہُمْ (التوبۃ ۰۹/۷۴)۔ اب اس بیان پر نظر ڈالیے جہاں اللہ کی طرف سے بندے کی توبہ قبول کرنے کا بیان ہوا ہے: 
أَلَمْ یَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ ہُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ وَیَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ وَأَنَّ اللّہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (التوبۃ ۹/ ۱۰۴)
’’ کیا انہیں خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقے خود اپنے دستِ قدرت میں لیتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ‘‘ 
یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ  پر غور کیجیے کہ اللہ اپنے بندوں کی ندامت و پشیمانی کو قبول کرتا ہے ، لیکن قبولیت کا یہ عمل اللہ کی رحمت کے بغیر نہیں ہوتا: وَأَنَّ اللّہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ ا س کا مطلب یہ ہوا کہ بندے کی طرف سے توبہ ، ندامت کی علامت ہے ، اور اللہ کی طرف سے اس کی قبولیت ، رحمت کا اظہار ہے ۔یعنی توبہ کر کے بندہ اللہ کی رحمت کا حق دار بن جاتا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوا کہ اگر بندہ توبہ نہیں کرتا تو نہ صرف اللہ کی رحمت کا حق دار نہیں بنتا بلکہ اللہ کے عذاب کو دعوت دیتا ہے جیسا کہ یہاں بیان ہوا : 
فَإِن یَتُوبُواْ یَکُ خَیْْراً لَّہُمْ وَإِن یَتَوَلَّوْا یُعَذِّبْہُمُ اللّہُ عَذَاباً أَلِیْماً فِیْ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ (التوبۃ ۰۹/۷۴)
’’ تو اگر وہ توبہ کریں تو ان کا بھلا ہے اور اگر منہ پھیریں تو اللہ انہیں دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب دے گا ‘‘
عذاب کے مقابل رحمت کے معنی میں توبہ کی یہ دو مثالیں دیکھیے : 
وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللّہِ إِمَّا یُعَذِّبُہُمْ وَإِمَّا یَتُوبُ عَلَیْْہِمْ وَاللّہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ (التوبۃ ۹/ ۱۰۶)
’’ اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم آنے تک ملتوی ہے ، یا ان پر عذاب کرے ، یا ان کی توبہ قبول کرے ، اور اللہ علیم حکیم ہے۔‘‘ 
لِیُعَذِّبَ اللَّہُ الْمُنَافِقِیْنَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکَاتِ وَیَتُوبَ اللَّہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَکَانَ اللَّہُ غَفُوراً رَّحِیْماً (الاحزاب ۳۳ / ۷۳)
’’ تاکہ اللہ عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو اور اللہ نظر توجہ مبذول فرمائے مومن مردوں اور مومن عورتوں پر ، اور اللہ غفور رحیم ہے‘‘ 
غور کیجیے کہ الاحزاب ۳۳ / ۷۳ کے مانند قرآن مجید میں ، جہاں جہاں اللہ کی طرف سے توبہ قبول فرمانے یا توجہ مبذول کرنے کا بیان ہو اہے، ان میں سے اکثر مقامات پر اللہ کی رحمت و مغفرت کا باقاعدہ ذکر ہوا ہے ، مثلاً: لَقَد تَّابَ اللہ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہَاجِرِیْنَ وَالأَنصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِن بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوبُ فَرِیْقٍ مِّنْہُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْْہِمْ إِنَّہُ بِہِمْ رَؤُوفٌ رَّحِیْمٌ (التوبۃ۹/۱۱۷)، ثُمَّ تَابَ عَلَیْْہِمْ لِیَتُوبُواْ إِنَّ اللّہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (التوبۃ ۹/ ۱۱۸)، فَتَابَ عَلَیْْہِ إِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (البقرۃ ۲/۳۷)، فَتَابَ عَلَیْْکُمْ إِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (البقرۃ۲/۵۴)، وَتُبْ عَلَیْْنَا إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (البقرۃ۲/۱۲۸)، ثُمَّ یَتُوبُ اللّہُ مِن بَعْدِ ذَلِکَ عَلَی مَن یَشَاءُ وَاللّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (التوبۃ ۹/۲۷)۔
اب النساء ۴/۹۲ میں مذکورتوبۃ من اللہ کی معنویت پر غور فرمائیے۔ یہ اللہ کی طرف سے توبہ ہے، یعنی اللہ نے بندے کی طرف توجہ مبذول فرمائی ہے، بندے کے توبہ کرنے کی وجہ سے نہیں جیسا کہ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ سے ظاہر ہوتا ہے، بلکہ اپنی خاص صفت (رحمت)کے اظہار کے لیے۔یعنی پہل بندے کی طرف سے نہیں ہوئی کہ اس نے توبہ کرلی تو رحیم غفور نے اس کی توبہ قبول کر لی۔ بلکہ پہل اللہ کی طرف سے ہوئی ہے ، چونکہ پہل اللہ کی طرف سے ہوئی ہے اس لیے ندامت و پشیمانی والے پہلو کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ نظر اس کی رحمت پر ہی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ نے رحمت کا اظہار کرتے ہوئے قتلِ خطا کی مختلف صورتوں کے لیے احکامات دے دیے ہیں ، یا حکم دینے کے عمل میں رحمت کوملحوظ رکھا ہے۔
سطورِ بالا میں ذکر ہوا کہ جہاں توبہ کا بیان اللہ کی طرف سے ہوا ہے (بمعنی رحمت ) وہاں آیات کا خاتمہ رحمت و مغفرت کے باقاعدہ بیان سے ہوا ہے، لیکن زیرِ نظر آیت میں ایسا نہیں ہوا۔ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ، غَفُورٌ رَّحِیْمٌ کے بجائے عَلِیْماً حَکِیْماً کے الفاظ سے آیت مکمل ہوتی ہے ۔ ہمارے علم کے مطابق توبۃ من اللہ کی ترکیب ، پورے قرآن میں منفرد استعمال ہوئی ہے ۔ اس سے توبۃ من اللہ میں مضمر یہ لطیف نکتہ سامنے آتا ہے کہ من اللہ کے الفاظ آیت کی تکمیل میں التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ، غَفُورٌ رَّحِیْمٌ کی عدم موجودگی کی کمی دور کر کے ان کا مصداق بنتے ہیں۔ 
اب ذرا فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْْنِ مُتَتَابِعَیْْنِ تَوْبَۃً مِّنَ اللّہِ کا البقرۃ آیت ۱۷۸ کے اس حصے ( فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَانٍ ذَلِک تَخْفِیْفٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ) کے ساتھ تقابل کریں تو معلوم ہو گا کہ توبۃ من اللہ رحمت کے علاوہ تخفیف کے معنی بھی لیے ہوئے ہے کہ مومن گردن آزاد کرنے کی کوئی راہ نہ پانے کی صورت میں تخفیف کرکے دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے کا حکم (رحمت کا اظہار کرتے ہوئے ) دے دیا گیا۔ لیکن اس تعبیر کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْءٌ اور فَمَن لَّمْ یَجِدْ کے زیادہ گہرے تقابلی مطالعے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فمن لم یجد کے ذکر سے قبل ، مومن گردن آزاد کرنے کا تاکیدی بیان اور فمن عفی لہ سے قبل کسی تاکیدی بیان کی عدم موجودگی، (توبۃ من اللہ) میں (مفروضہ) تخفیف کی نفی کرتی ہے۔ 
آیت کے اختتام پر اللہ کے علیم و حکیم ہونے کا بیان محض خانہ پری کے لیے نہیں، بلکہ اس سے مومن گردن آزاد کرنے کے تاکیدی حکم کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے۔ چونکہ اللہ علیم ہیں اس لیے قتلِ خطا کی صورتِ حال سے بخوبی واقف ہیں اور چونکہ اللہ حکیم ہیں، اس لیے صورتِ حال کے موافق سزا کا بیان اور خاص طور پر تاکیدی پہلو پر زور، اللہ کی حکمت کا مظہر ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوا کہ جب ایک خطا کی تلافی میں ، اللہ نے اپنی رحمت کا اظہار کرتے ہوئے ، انفرادی اور اس سے منسلک معاشرتی اصلاح کی راہ دکھائی ہے تو جو اس کے بعد اپنے تئیں خوامخواہ ہی ، مومن گردن آزاد کرنے کے حکم کی تعمیل کے بجائے دو ماہ کے روزے رکھنے کو ترجیح دے ، تو اچھی طرح جان لے کہ اللہ علیم و حکیم ہے کہ ایسا کرنے والا اللہ کی ان صفات کو چیلنج کرتا ہے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ فمن لم یجد اور وَکَانَ اللّہُ عَلِیْماً حَکِیْماً میں یک گونہ داخلی تعلق پایا جاتا ہے۔ 

النساء۴ آیت ۹۲ کی تفہیم کے ضمن میں ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے قتلِ خطا میں مکمل معافی کی گنجایش اس طرح نہیں رکھی، جس طرح البقرۃ۲ آیت ۱۷۸ اور المائدۃ ۵ آیت ۴۵ میں (سنگین صورتِ حال کے باوجود) نہ صرف گنجایش رکھی ہے بلکہ ترغیبی انداز میں اسی کو اختیار کرنے کی راہ بھی دکھائی ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر قتلِ خطا کسی دوسری نوعیت کے قتل سے کس حوالے سے اتنا مختلف ہے کہ اس کی سزا باقی رکھی گئی ہے اور دیگر میں مکمل معافی کی ترغیب دی گئی ہے؟ اگر قارئین ان اخلاقی دلالتوں کو ملحوظ رکھیں جن کا اجمالی ذکر ہم نے اپنے مضمون ’قرآن مجید میں قصاص کے احکام‘ میں کیا ہے( دیکھیے ماہنامہ الشریعہ ستمبراکتوبر۲۰۰۸،فروری۲۰۰۹ )، تو یہ نکتہ سامنے آئے گا کہ شارع نے احکام دیتے ہوئے انسانی احوال و ظروف کو خاص طور پر پیشِ نظر رکھا ہے۔ انسانی سماج میں ’تعامل‘ کے باعث شعوری سطح پر جھگڑوں کا پیدا ہونا اور ان جھگڑوں کا اس قدر پھیل جانا کہ نوبت قتل تک جا پہنچے، بعید از قیاس نہیں۔ لیکن چونکہ قتلِ خطا میں انسان کی غیر شعوری سطح ، شعوری سطح پر غلبہ پا کر جرم کرواتی ہے، اس لیے اس بے اختیاری (جسے ہم اپنی آسانی کے لیے غیر ذمہ داری اور ایک حد تک بے راہ روی بھی کہ سکتے ہیں) کی پاداش میں شارع نے ایسی سزا باقی رکھی ہے جس کے پیچھے یہ مقصد کارفرما ہے کہ انسان کو اپنے فعل کی بابت ہمیشہ ’بااختیار‘ ہی ہونا چاہیے۔ شارع کی مقرر کردہ سزا کی نوعیت، ایک اعتبار ہمارے موقف کو داخلی شہادت فراہم کر تی ہے۔ آخر ایک شخص جو خود راہ پر نہیں رہا ، ایک راہ والے (مومن غلام) پر کیسے تصرف رکھ سکتا ہے؟ پھر مومن گردن آزاد کرنے کے تکراری حکم پر غور کیجیے کہ ایک جہت سے یہ حکم اصرار و تاکید لیے ہوئے ہے اور دوسری جہت سے(ایک با اختیار) مومن مقتول کے بدلے (ایک بے اختیار) مومن غلام یا لونڈی کواختیار تفویض کرتا ہے اور تیسری جہت سے صراحت کرتا ہے کہ کوئی بے اختیار شخص (قتلِ خطا کا مرتکب) بے اختیار شخص(غلام و لونڈی) کی بابت بااختیار نہیں ہو سکتا(اس لیے اصولاََ اس کے نام نہاد اختیار سے تمام غلاموں لونڈیوں کو آزاد کیا جانا چاہیے)۔ لہٰذا اگر کوئی بے اختیار شخص(قتلِ خطا کا مرتکب) ، بے اختیار ہوتے ہوئے بھی غلام نہیں بلکہ آزاد کہلواتا ہے، تو اسے کم از کم ایک بے اختیار (غلام یا لونڈی) کو تو لازماََ آزاد کر کے اپنے غلاموں جیسے عمل کی تلافی کرنی چاہیے۔ چوتھی جہت سے یہ حکم آزاد ہونے والے غلام سے توقع کرتا ہے کہ بااختیار ہونے کے بعد وہ اپنے مالک کی سی غلطی نہیں دہرائے گا یعنی اختیار سے بے اختیاری کی طرف مراجعت نہیں کرے گابلکہ معاشرے کا ذمہ دار فرد بن کر زندگی بسر کرے گا۔ سورۃ الانعام کی یہ آیت قتلِ خطا کے مرتکب اور آزادی پانے والے غلام ، دونوں (بے اختیاروں)پر یکساں منطبق ہوتی ہے، غور فرمائیے: 
أَوَ مَن کَانَ مَیْْتاً فَأَحْیَیْْنَاہُ وَجَعَلْنَا لَہُ نُوراً یَمْشِیْ بِہِ فِیْ النَّاسِ کَمَن مَّثَلُہُ فِیْ الظُّلُمَاتِ لَیْْسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا کَذَلِکَ زُیِّنَ لِلْکَافِرِیْنَ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (الانعام۶:۱۲۲)
’’جو شخص مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کر دیا اور اس کے لیے ایسا نور مقرر کر دیا جس کے ذریعہ وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کیا یہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس کا حال یہ ہے کہ وہ اندھیریوں میں ہے ان سے نکلنے والا نہیں، کافر جو عمل کرتے ہیں وہ ان کے لیے اسی طرح مزین کر دیے گئے۔‘‘ 
قصہ آدم و ابلیس میں بھی فرشتوں کا بیان: قَالُواْ أَتَجْعَلُ فِیْہَا مَن یُفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاء (البقرۃ۲:۳۰)،انسانی شعوری سطح پر متوقع، انتہائی جارحیت کا بیان ہے۔ فرشتوں کے خدشے کے جواب میں قَالَ إِنِّیْ أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (البقرۃ۲:۳۰) کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ اللہ رب العزت کو بشری شعورکی ایسی جارحیت جو اسے بے اختیاری و بے علمی کی سطح پر لے آئے، قابلِ قبول نہیں ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ متصل آیت میں ہی متوقع انسانی جارحیت سے پھوٹتی امکانی بے اختیاری کی تحدید کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کُلَّہَا (البقرۃ۲:۳۱)۔ اس متوقع جارحیت کے عملی احوال کی تصویر کشی قرآن مجید میں دیگر مقامات پر ’’فساد فی الارض اور فتنہ قتل سے بڑھ کر ہے‘‘ جیسے اسالیب میں کی گئی ہے۔اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ فساد فی الارض برپا کرنے والی ذہنی حالت اور قتلِ خطا کے دوران میں طاری ذہنی حالت ، انسانی ذہن کی ایسی مخالف بُعدوں کی عکاس ہیں ، جن کی ساخت و ماہیت مختلف ہوتے ہوئے بھی (تقریباً) یکساں اثرات مرتب کرتی ہے۔ زمین میں فساد کرنے والی ذہنی حالت ، شعوری جارحیت کی انتہائی صورت میں انسانی بے اختیاری کو ظاہر کرتی ہے کہ ایسی حالت میں انسان کا اٹھایا گیا کوئی بھی قدم اس کے بشری شعور (یعنی، وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کُلَّہَا ) کی مطابقت میں نہیں ہوتا، لہذا نتیجے کے اعتبار سے انسان کا بے اختیار ہونا ظاہر کرتا ہے، جہاں انسان جانتے بوجھتے ایک ایسی راہ پر چل نکلتا ہے جو اسے بے اختیاری کی منزل پر لے جاتی ہے۔ اس سارے عمل کو عمداََ خطا کرنے سے موسوم کیا جا سکتا ہے۔ قرآن مجید میں خطا کی اس نوع کے نمونے ملاحظہ کیجیے:[ البقرۃ۲:۸۱، النساء۴:۱۱۲، الاسراء۱۷:۳۱، القصص۲۸:۸، الحاقۃ۶۹:۹،۳۷، نوح۷۱:۲۵، العلق۹۶:۱۶]۔ لیکن قتلِ خطا ، خطا کی مذکورہ نوع سے دو حوالوں سے مختلف ہے ایک تو یہ کہ اس عمل میں انسان جانتے بوجھتے ایسی راہ کا انتخاب نہیں کرتا جو اسے بے اختیاری سے ہم کنار کر دے۔دوسرا یہ کہ اس میں عمل بنفسہٖ ، بے اختیاری ظاہر کرتا ہے نہ کہ عمل کا نتیجہ۔اس لیے قتلِ خطا کا محرک، بھول چوک اور ایک حد تک غیر ذمہ داری (اور قدرے بے راہ روی) میں تلاش کیا جا سکتا ہے، جبکہ فرعونی خطا کے پیچھے فرعونیت کارفرما ہوتی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ ہر دو مقامات پر محرکات کے شدید اختلاف کے باوجود بشری شعور (وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کُلَّہَا) کی نفی پائی جاتی ہے۔ ایک مقام پر شعوری نفی اور دوسرے مقام پر غیر شعوری نفی، جو شارع کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ اسی لیے شارع نے سزا دیتے ہوئے (وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کُلَّہَا) کی نفی کیے جانے کا بھر پور التزام رکھا ہے، چاہے یہ نفی شعوری ہو یا غیر شعوری ۔ لہٰذا ہر دو مقامات پرمختلف النوع منفی انسانی صورتِ حال کے تدارک اور روک تھام کے لیے شارع نے معافی کی گنجایش رکھے بغیر حکامات دیے ہیں۔ یہیں پر یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ چونکہ البقرۃ ۱۷۸ اور المائدۃ ۴۵ میں بشری شعور (وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کُلَّہَا) کی نفی اس طور نہیں پائی جاتی جو جارحیت کی انتہائی سرحدوں کو چھوتے ہوئے مذکورہ شعوری نفی کے دائرے میں شامل کی جا سکتی ہو، اور نہ ہی یہ غیر شعوری نفی کے احاطہ میں سما سکتی ہے بلکہ بشری شعور کے ( تقریباً) موافق ٹھہرتی ہے ، اس لیے شارع نے یہاں (البقرۃوالمائدۃمیں) سزا تجویز کرتے وقت مکمل معافی کی پوری گنجایش(بلکہ ترغیب) رکھی ہے۔
اس بحث سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ شارع کو بشری شعور کی مطابقت میں انسانی اعمال کے ظہور سے خاص دلچسپی ہے۔ جہاں کہیں انسانی اعمال، بشری شعور سے روگردانی کرتے ہیں، افراط و تفریط کا شکار ہوتے ہیں، ، وہاں انہیں، کہیں تنبیہ کہیں سرزنش اور کہیں سزا کے ذریعے(ذمہ دارانہ) نقطہ اعتدال پر لانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ بشری شعور سے ملنے والی آزادی سے ذمہ داری برآمد ہوتی ہے۔ آزادی ملتے ہی ذمہ داری شروع ہو جاتی ہے اور آزادی کا دائرہ جوں جوں پھیلتا ہے توں توں ذمہ داری بڑھتی جاتی ہے۔اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے آزادی سکڑتے سکڑتے غلامی کے درجے تک جا پہنچتی ہے۔ سورۃ البلد میں بشری شعور سے موافق، انسانی آزادی کا بیان ہوا ہے:
وَہَدَیْْنَاہُ النَّجْدَیْْنِ (البلد۹۰:۱۰) 
’’اور اسے دو راہیں دکھلا دیں۔‘‘
اس کے بعد اس آزادی کو ملزوم ذمہ داری کا بھی واضح ذکر کیا گیا ہے: 
فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃ،َ وَمَا أَدْرَاکَ مَا الْعَقَبَۃ،ُ فَکُّ رَقَبَۃ،ٍ أَوْ إِطْعَامٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ، یَتِیْماً ذَا مَقْرَبَۃٍ، أَوْ مِسْکِیْناً ذَا مَتْرَبَۃٍ (البلد۹۰:۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶)
’’مگر اس نے دشوار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی، اور آپ کیا جانیں کہ وہ دشوار گھاٹی کیا ہے، وہ ہے کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا، یا فاقہ کے دنوں میں کھانا کھلانا، کسی قرابت دار یتیم کو، یا کسی خاک سار مسکین کو‘‘ ۔
بحث کے اس مقام پر یہ لطیف نکتہ سامنے آتا ہے کہ شارع کے نزدیک (بشری شعور کے حامل) آزاد انسان کو بغیر کسی حیل و حجت بغیر کسی دباؤ بغیر کسی کفارے وغیرہ کے، اتنا ذمہ دار ہونا چاہیے کہ وہ فقط بشری شعور کے تتبع میں، کوئی گردن چھڑائے، کسی فاقے کے مارے کو کھانا کھلائے، کسی رشتہ دار یتیم اور مسکین کے سر پر دستِ شفقت رکھے۔ قتلِ خطا وغیرہ میں (سزا و کفارہ کے طور پر) ان امور کی(قانوناً) انجام دہی کا بیان، درحقیقت اس مقصد کے لزوم کو ابھارنا ہے جو شارع کو(اخلاقاً) سماجی سطح پر مطلوب و مقصود ہے۔ کسی کو شک ہو تو سورت الماعون۱۰۷ پر غور و فکر ضرور کرے: 
أَرَأَیْْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْن، فَذَلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ، وَلَا یَحُضُّ عَلَی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ، فَوَیْْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ، الَّذِیْنَ ہُمْ عَن صَلَاتِہِمْ سَاہُونَ، الَّذِیْنَ ہُمْ یُرَاؤُونَ، وَیَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ
’’بھلا دیکھو تو جو دین کو جھٹلاتا ہے ، یہ وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، اور کسی غریب کو کھانا دینے پر لوگوں کو آمادہ نہیں کرتا، سو ایسے نمازیوں کے لیے خرابی ہے، جو اپنی نماز سے بے اعتنائی برتتے ہیں، جو دکھاوے سے کام لیتے ہیں، اور برتنے کی چیز مانگے نہیں دیتے‘‘
اگرسورت الکافرون ۱۰۹ کی تکمیلی آیت لکم دینکم و لی دین کواس سورت کی پوری معنویت ملحوظ رکھتے ہوئے، سورت الماعون کی آیت ارءیت الذی یکذب بالدین کے ساتھ اس سورت کی پوری معنویت کے تناظر میں سمجھا جائے تو بتائیے کہ دین کس صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے؟ دین کی عبادات و رسومات پر بے جا زور دینے والے علماے کرام اور مبلغینِ اسلام کو اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ 

قتلِ خطا کے عمل کے دوران میں طاری اور اس کا سبب بننے والی مخصوص داخلی نفسی اور ذہنی حالت کا تجزیہ قاتل کے عدم علم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ اشارہ آیت کے تکمیلی الفاظ عَلِیْماً حَکِیْماً کی ایک اور معنوی پرت سامنے لاتا ہے۔ البقرۃ ۲ آیت ۱۳۸: صِبْغَۃَ اللّہِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّہِ صِبْغَۃً وَنَحْنُ لَہُ عَابِدون کا فہم ذہن میں رکھتے ہوئے قاتل کے عدم علم اور تکمیلی الفاظ عَلِیْماً حَکِیْماً پر ذرا غور تو کیجیے۔ 

قتلِ خطا کی سزا کے ضمن میں مومن گردن آزاد کرنے پر اصرار اور تاکید اس لحاظ سے کافی اہم ہے کہ اس کے علاوہ جہاں کہیں گردن آزاد کرنے کا حکم آیا ہے ’مومن‘ کی قید نہیں لگائی گئی، مثلاً: البقرۃ۲: ۱۷۷، المائدۃ۵: ۸۹، التوبۃ ۹:۶۰، البلد۹۰:۱۳۔ ان مقامات پر گردن آزاد کرنے کی وجہ (قتلِ خطا کے مانند) کوئی غیر شعوری طرزِ عمل بھی نہیں۔ سورۃ المجادلۃ ۵۸ آیت۳ کو ہی لیجیے: 
وَالَّذِیْنَ یُظَاہِرُونَ مِن نِّسَاءِہِمْ ثُمَّ یَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّن قَبْلِ أَن یَتَمَاسَّا ذَلِکُمْ تُوعَظُونَ بِہِ وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌ 
’’ اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرنا چاہیں تو میاں بیوی کے مل بیٹھنے سے قبل ایک غلام آزاد کرنا ہو گا تمہیں اسی بات کی نصیحت کی جاتی ہے اور جو تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے‘‘ 
لہٰذا خاص طور پر قتلِ خطا کے حوالے سے’ مومن‘ گردن آزاد کرنے کا حکم ، صرف حکم نہیں بلکہ تاکیدی حکم ، آزادی و ذمہ داری کے مذکورہ دائرے کی ایسی مثالی توسیع پر دلالت کرتا ہے جس کے مطابق خاص طور پر مسلم سماج کو علم کی بنیاد پر ذمہ دارانہ آزادی جیسی بنیادی بشری قدر سے متصف کر کے ’بہترین امت‘ میں ڈھالنا اور دنیا کی مثالی راہنمائی کے قابل بنانا مقصود ہے۔ 

سورۃ البقرۃ آیت ۲۸۶ میں (رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِیْنَا أَوْ أَخْطَأْنَا) کا بیان، العنکبوت آیت ۱۲ (وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا لِلَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّبِعُوا سَبِیْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطَایَاکُمْ وَمَا ہُم بِحَامِلِیْنَ مِنْ خَطَایَاہُم مِّن شَیْْءٍ ٍ إِنَّہُمْ لَکَاذِبُونَ) کی تنقیح و تصریح لیے ہوئے ہے کہ بشری غیر ذمہ داری کی ذمہ داری متعلقہ بشر ہی اٹھا سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بشر کو خود ذمہ داری اٹھانے پر، معاف کیے جانے کا مژدہ بھی سنا دیا جاتا ہے: وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا (البقرۃ۲:۲۸۶)۔ قصہ آدم و ابلیس کے مطابق بھی جب حضرت آدم ؑ بھول کر عہد شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں تو انہیں معافی کا سندیسہ مل جاتا ہے۔ اس لیے قتلِ خطا جیسے (بھول وغیرہ پر مبنی)غیر ذمہ دارانہ فعل کی ذمہ داری بھی قاتل کو لازماََ اٹھانی چاہیے کہ اس سے گریز ، عمداََ غیر ذمہ داری (بمعنی شعوری جارحیت) کی طرف لے جائے گا اور صورتِ حال کو خطرناک حد تک بگاڑ دے گا۔ لہٰذا بے اختیاری میں کیے گئے فعل کا ذمہ اٹھانے کے بجائے اگر انسان خاموش رہے جس کے نتیجے میں کسی بے قصور پرخوامخواہ وبال آ پڑے یا قتلِ خطا کا مرتکب اپنا فعل کسی دوسرے کے سر منڈھنے کی کوشش کرے تو جان لے کہ: 
وَمَن یَکْسِبْ خَطِیْءَۃً أَوْ إِثْماً ثُمَّ یَرْمِ بِہِ بَرِیْئاً فَقَدِ احْتَمَلَ بُہْتَاناً وَإِثْماً مُّبِیْناً (النساء۴:۱۱۲)
’’ اور جو کوئی خطا یا گناہ کمائے پھر اسے کسی بے گناہ پر تھوپ دے تو اس نے ضرور بہتان اور کھلا گناہ اٹھایا ‘‘ 
نتیجتاً اسے معافی کے سندیسے (توبۃ من اللہ) سے محروم کر کے فرعونی خاطئین کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا۔

اگر النساء۴ آیت ۹۲ کی تفہیم کے ضمن میں اس نکتے کو ملحوظ رکھا جائے کہ اللہ رب العزت نے قتلِ خطا میں مکمل معافی کی گنجایش اس طرح نہیں رکھی، جس طرح البقرۃ۲ آیت ۱۷۸ اور المائدۃ ۵ آیت ۴۵ میں نہ صرف گنجایش رکھی ہے بلکہ ترغیبی انداز میں اسی کو اختیار کرنے کی راہ بھی دکھائی ہے ، تو اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہاں (النساء۴ آیت ۹۲ میں) قرآنی منشا کے مطابق مقتول پارٹی کو صدقہ کرنے کا اختیار لازماََ دیا جانا چاہیے لیکن قاتل کی بابت شارع کی حساسیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قتلِ خطا کا مرتکب اگر امیر کبیر شخص ہو تو مقتول پارٹی سے معافی ملنے کے باوجود ، ریاستی نظم میں ذمہ داری کے عنصر کو فروغ دینے کی خاطر اس سے دیت لے کر صدقہ کے قرآنی مصارف پر خرچ کر دی جانی چاہیے۔ کیوں کہ جب خدا نے معاف نہیں کیا اور غیر ذمہ داری و عدم علم پر کم ازکم سزا دو ماہ کے مسلسل روزے متعین کی ہے تو خدائی نظام کے نفاذ کی ذمہ دار کوئی بھی ہیئت اجتماعی(جسے آج کل ریاست کہتے ہیں) ایسی غیر ذمہ داری سے کیوں کر صرفِ نظر کر سکتی ہے؟ لیکن خیال رہے کہ ایسا اختیار صرف ایسے ریاستی نظم کے تحت ہی عمل میں جا سکتا ہے جو صحیح معنوں میں خدائی منشا کی نمائندگی کر رہا ہو۔

جہادِ کشمیر کی شرعی بنیادیں

ڈاکٹر عصمت اللہ

تغیر، ارتقا اور تبدیلی انسانی زندگی کا لازمی خاصہ ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ حرب و ضرب اور جنگ کے مفہوم میں بھی مرورِ ایام کے ساتھ کافی تبدیلی واقع ہو چکی ہے۔ اب یہ لفظ کئی طرح کی مختلف النوع جنگوں پر بولا جاتا ہے، مثلاً معروف عسکری زمینی جنگ، الیکٹرانک جنگ میڈیا کی جنگ، میزائیلوں کی جنگ، حیاتیاتی جنگ، کیمیائی جنگ، ایٹمی جنگ، نفسیاتی جنگ وغیرہ ۔ جنگ کی ان مختلف اقسام میں سے آخری قسم یعنی نفسیاتی جنگ اپنے نت نئے اور جدید ترین فکری اور نفسیاتی حربوں کی بدولت نظریاتی و جہادی تحریکوں کے حق میں دور حاضر کی سب سے خطر ناک اور تباہ کن جنگ تصور کی جاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نفسیاتی جنگ کا اصل ہدف وہ نظریات اور اصول ہوتے ہیں جن پرکسی تحریک کی پوری عمارت قائم ہوتی ہے۔ اس جنگ میں پس پردہ رہ کر کاروائی کی جاتی ہے اور ہمیشہ پیٹھ کے پیچھے سے وار کیا جاتا ہے۔ افواہ سازی کے ذریعہ حوصلے پست کیے جاتے ہیں، خفیہ اور غیر محسوس طریقے سے ذہنوں کے اندر خیالات اتارے جاتے ہیں، مسلمہ عقائد و نظریات کے بارے میں دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے جاتے ہیں تاکہ عقائد اور نظریات پر پختہ ایمان متزلزل ہو جائے اور لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر اندر ہی اندر سے شکست کھا جائیں۔ ان کے ایمان میں اتنی جان باقی نہ رہے کہ وہ انہیں کوئی بڑی قربانی دینے پر آمادہ کر سکے۔ یہ وہ خوفناک فکری و نفسیاتی چالیں ہیں جو اس جنگ میں استعمال کی جاتی ہیں۔ اسی بنا پر اس جنگ کو کھلے میدان میں لڑی جانے والی دو بدو عسکری جنگوں سے بدرجہا زیادہ خطر ناک سمجھا جاتا ہے۔ 
موجودہ زمانے میں نفسیاتی جنگ ہی اصل اور حقیقی لڑائی کی حیثیت اختیار کر چکی ہے جسے موثر اور کامیاب بنانے کے لیے باقی عسکری طاقت کو اس کی پشت پر رکھ کر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا طریق واردات یہ ہوتا ہے کہ بڑی محنت، توجہ، عرق ریزی، جستجو اورمکمل حساب کتاب کے بعد کچھ الفاظ، جملے، خیالات اور نظریات گھڑے جاتے ہیں جو اپنی فکری ہلاکت آفرینی کے اعتبار سے کسی طرح بھی مادی بموں اور میزائیلوں سے کم نہیں ہوتے۔ پھر ان مصنوعی افکار و نظریات کو بڑی چالاکی و مکاری سے دشمن کی صفوں میں پھیلا دیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دشمن کے سپاہیوں اور کارندوں کو اپنے موقف کی سچائی کے متعلق شک میں مبتلا کر دیا جائے، اپنے قائدین، راہنماؤں اور کمانڈروں پر ان کے اعتماد کو ختم کر دیا جائے۔ ان کے ذہن میں کسی طرح یہ بات بٹھا دی جائے کہ تمھارا موقف اور تمھاری حکمت عملی درست نہیں اور موجودہ طریقہ کار سے تم کبھی فتح حاصل نہیں کر سکتے۔ اس وقت چونکہ نفسیاتی جنگ اور اس کی تفصیلات ہمارا موضوع نہیں ہیں، اس لیے ہم اس تمہید کو یہیں سمیٹتے ہوئے اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ 
کشمیر کی تحریک جہاد جو بھارتی تسلط کے خلاف فلسطین کی تحریک انتقاضہ کے ساتھ ہی شروع ہوئی تھی، اسے اب نفسیاتی، اخلاقی اور فکری محاذوں پر بظاہر زبردست مزاحمت کا سامنا ہے۔ اس کے سامنے بھارتی ذرائع ابلاغ کی شکل میں صرف ایک دشمن نہیں ہے بلکہ بہت سے مسلمان اہل قلم،کئی معروف اسلامی شخصیات بھی دشمن کے شانہ بشانہ اس جنگ میں شریک ہیں۔ بھارت کے شاطر حکمران ان بزرگوں کو خوب خوب استعمال کر رہے ہیں اور ان کی علمی اور قلمی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کر رہے ہیں تاکہ بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کی برین واشنگ کی جائے، ان کے ذہنوں میں جعلی اور بے سروپا خیالات ڈال کر اسلامی عقائد و نظریات پر ان کے ایمان کو متزلزل کیا جائے اور اس طرح امت مسلمہ کی نظر میں ان کی جہادی تحریک کو بدنام کر کے اپنے مذموم سیاسی مقاصد حاصل کیے جائیں۔ 
بھارت نے کشمیر کے اندر عسکری قوت کے استعمال سے بہت پہلے کشمیری عوام کے خلاف نفسیاتی جنگ کا آغاز کردیاتھا۔ بھارتی حکمرانوں نے کشمیر ی قائدین میں سے بعض چوٹی کے رہنماؤں کو خریدا اور انہیں استعمال کرتے ہوئے ہر محاذ پر جنگ کا آغاز کر دیا ۔ آج بھارت کے پاس بہت سے زر خرید اہل قلم، منبر و محراب سے تعلق رکھنے والی کئی علمی شخصیات موجود ہیں جو اس کے مقاصد کے لیے دانستہ یا نادانستہ طور پر آلہ کار بنی ہوئی ہیں۔ مظلوم کشمیری عوام کی صفوں کو درہم برہم کرنے اور ان کے جہاد کو ناکامی و ہزیمت سے دوچار کرنے کے لیے وہ کچھ کر رہی ہیں جو بھارت کی آٹھ لاکھ کے قریب مسلح فوج بھی نہیں کر سکی تھی۔ 
بھارت کی اس پروپیگنڈا مہم کے سلسلے میں کچھ عرصہ قبل نئی دہلی سے نکلنے والے کچھ رسالوں اور اخبارات میں بعض مضامین شائع ہوئے ہیں ۔ مثلاً ’’جہاد کشمیر اور اسلام: ایک غیر جانبدارانہ جائزہ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون ماہنامہ ’’افکارِ ملی‘‘ دہلی میں شائع ہوا جسے ایک نامعلوم شخص محمد انیس نے تحریر کیا ہے جو علمی دنیا میں قطعاً ایک غیر معروف نام ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ محض ایک علامتی نام ہو۔ اور ابھی حال ہی میں راقم کے کئی سال قبل (۲۰۰۳ء اور ۲۰۰۴ء میں) ’’غزوۂ سند ھ وہند: ایک مبارک نبوی پیشین گوئی‘‘ کے عنوان سے لاہور اور لکھنو، انڈیا کے بعض رسائل ومجلات میں شائع ہونے والے ایک مضمون پر ایک تنقیدی مضمون ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے نومبر/دسمبر ۲۰۰۹ء کے شمارہ میں شائع ہوا جس کا عنوان ہے: ’’حدیث غزوۃ الہند اور مسئلہ کشمیر پر اس کا انطباق‘‘۔ مضمون نگار مولانا محمد وارث مظہری ہیں اور اسے مجلہ الشریعہ کی طرف سے ایک ادارتی وضاحت کے ساتھ شائع کیا گیاتھا کہ یہ ہندوستانی مسلمانوں کا نقطہ نظر ہے:
’’ہمارے ہاں جہادی تصورات وعزائم کے اظہار میں بالخصوص مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت میں مقیم مسلمانوں کے زاویہ نظر کو بالکل نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ ذیل کا مضمون اسی تناظر میں شائع کیا جا رہاہے۔ مصنف دار العلوم دیوبند کے قدیم فضلا کی تنظیم کے جنرل سیکریٹری اور ماہنامہ ’’ترجمان دار العلوم‘‘ کے مدیر ہیں۔‘‘
میں اس مضمون کو وقت پر نہ دیکھ سکا۔ برادر عمار ناصر صاحب کے ساتھ بیروت کے سفر (اواخر مارچ ۲۰۱۰ء ) سے کچھ ہی روز قبل یہ مجھے ملا۔ میں نے ماہنامہ ’’ترجمان دار العلوم‘‘ سے اس کے اولین اور متبادر مفہوم کو لیا کہ مجلہ مذکور ہندوستان بلکہ عالم اسلام کی عظیم درسگاہ دار العلوم دیوبند سے شائع ہوتاہے، لیکن مضمون کا مطالعہ کرنے کے بعددل ودماغ نے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ ایسا مضمون کسی مسلمان کا ہوسکتاہے، چہ جائیکہ وہ ایک عالم دین بھی ہو اور دار العلوم دیوبند سے ایسے شخص کی نسبت کو ماننے سے دل، جو اکابر دار العلوم دیوبند سے اپنے بے شمار اساتذہ ومشائخ کی محبت کے ذریعے سے جڑا ہوا ہے، بالکل ہی منکر ہوا تو میں نے تحقیق کی غرض سے ماہنامہ دار العلوم دیوبند کو برقی خط لکھا جہاں سے جواب آیا کہ مولانا محمد وارث مظہری اور ان کے رسالہ ’’ترجمان دار العلوم‘‘ کا دیوبند سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ نئی دہلی سے یہ رسالہ نکالتے ہیں۔ بہرحال ہم اس مقالہ میں انیس صاحب کے مضمون میں اٹھائے گئے نکات پر اپنی معروضات پیش کریں گے اور کسی دوسرے موقع پر مولانا مظہری صاحب کے مضمون میں اٹھائے گئے نکات پر بھی ایک تجزیہ قارئین الشریعہ کے سامنے رکھیں گے۔ 
محمد انیس صاحب کا مضمون ان افکار وخیالات کا نچوڑ ہے جسے وقتاً فوقتاً بعض بھارتی مسلمان جنہیں ہم (مستشرق کے وزن پر )مستغرب کہہ سکتے ہیں، پھیلاتے رہتے ہیں۔ انیس صاحب کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے :
  • اس وقت کشمیر کے اندر بعض جنگجو چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی شکل میں جو ایک خونریز جنگ لڑ رہے ہیں، یہ جہاد فی سبیل اللہ نہیں ہے، اس لیے کہ اس جنگ کا مقصد یا تو استصواب رائے سے متعلق اقوام متحدہ کے فیصلوں کانفاذ ہے یا آزادی کا حصول ہے اور یا پھر اس خطے کا پاکستان سے الحاق کرنا ہے۔ یہ سب سیاسی مقاصد ہیں، ان میں کوئی چیز بھی دینی حیثیت نہیں رکھتی۔ 
  • اس قسم کی گوریلا جنگ کا اسلام کی جہادی تاریخ میں کوئی تصو ر و وجود نہیں پایا جاتا، کیونکہ اس میں ’’ضرب لگاؤ اور بھاگو‘‘ کا اصول چلتا ہے جو کمزوری اور بے بسی کی دلیل ہے۔یہ ایک بزدلانہ طریقہ کار ہے جو اسلامی ہے نہ کسی مسلمان کے شایان شان۔ 
  • اس مسلح جدوجہد میں اسلامی جہاد کی اہم خصوصیات نہیں پائی جاتیں، مثلاً یہ کہ اسلا م میں جہاد کی حیثیت ایک دفاعی اقدام کی ہے نہ کہ پیش قدمی و چڑھائی کی۔ پھر یہ کہ مجاہدین کشمیر کے پاس بقدرضرورت جنگی طاقت ہے نہ سیاسی قیادت و متحدہ امارت، بلکہ وہ منتشر گروپوں اور تنظیموں میں بٹے ہوئے ہیں جو ان کے ضعف کی دلیل ہے۔ کمزور کے لیے واحد راستہ ہجرت ہے نہ کہ جہاد جیسے کہ اللہ کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مصر سے ہجرت کی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جب تک آپ مکہ میں کمزور حیثیت میں تھے، کوئی مزاحمت کی نہ جہاد کیا بلکہ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ 
اب ہم ان تمام اعتراضات اور شبہات کا قرآن و حدیث اور شرعی اصول وضوابط کی روشنی میں ایک جائزہ آپ کے سا منے رکھیں گے۔

مقدس و قابل احترام چیزوں کا دفاع انسانی فطر ت اور خدائی قانون

اللہ تعالیٰ نے انسان و حیوان دونوں کی فطرت میں یہ چیز ودیعت کی ہے کہ وہ اپنی ضروریات یا جدید محاورے کے مطابق اپنے بنیادی حقوق کا بھرپور دفاع کرتے ہیں اور بنیادی حقوق میں یہ چیزیں آتی ہیں :
  • دین اور عقیدہ 
  • جان یا زندگی 
  • انسانی عقل / حریت فکر 
  • نسب / عزت و آبرو 
  • مال و متاع
اِن پانچ بنیادی ضروریات کی حفاظت کے لیے انسان ہی نہیں، حیوان بھی مطلوبہ قوت طاقت اور دیگر مادی وسائل سے تہی دست ہونے کے باوجود جان پر کھیل جانے کو تیار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرغی ایک بے ضرر قسم کا گھریلو پالتوجانور ہے، لیکن اگر کوئی چیل اس کے بچوں پر دست درازی کرے تو وہ طیش میں آ کر اس پر حملہ کر دیتی ہے اور اپنے بچوں کو اپنے پروں کے نیچے حفاظت کی غرض سے چھپا لیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اپنا دفاع کرنا ہر جاندار میں فطری طور پر ودیعت کیا گیا ہے۔ 
دفاع نفس صرف فطرت ہی نہیں، شرعی حکم بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی کئی احادیث مروی ہیں جن سے بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص ناحق طور پر دوسرے کی عزت و حرمت پر دست درازی کرے تو حملہ آور کامقابلہ اور دفاع کرنا واجب ہے۔ اگر کوئی شخص جان، مال اور اولاد کا دفاع کرتے ہوئے قتل ہو جائے تو وہ شہید ہے۔ ایسی چند احادیث ائمہ حدیث کی تشریحات سے اخذ کردہ نتائج کے ساتھ ذیل میں پیش کی جاتی ہیں۔ 
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’جو شخص اپنے مال کے دفاع کے لیے لڑا اور مارا گیا، وہ شہید ہے۔ جو شخص اپنی جان کے دفاع کے لیے لڑا اور مارا گیا تو وہ بھی شہید ہے اور جو اپنے بیوی بچوں کے دفاع کے لیے لڑتے مارا گیا، وہ بھی شہید ہے۔‘‘ (۱)
امام بخاری نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت کیاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جو شخص اپنے مال کا دفاع کرتے ہوئے مارا گیا، وہ شہید ہے۔‘‘ (۲)
ایک صحیح روایت میں ہے کہ حضرت امیر معاویہ کے بھائی عنبسہ بن ابی سفیان نے، جو امیر معاویہ کی طرف سے مکہ اور طائف کے گورنر بھی تھے، ایک چشمہ کے پانی سے طائف میں اپنی زمین کو سیراب کرنے کے لیے نالہ کھدوایا۔ اتفاق سے راستے میں عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے خاندان کا ایک باغ رکاوٹ بن رہاتھا ۔ حضرت عنبسہ نے چاہا کہ باغ کے بیچ میں سے آبپاشی کا راجباہ گزار لیاجائے تو عبداللہ بن عمر واور ان کے ملازمین اسلحہ لے کر نکل آئے۔ کہنے لگے: خدا کی قسم! جب تک ہم میں سے ایک شخص بھی زندہ ہے، آپ لوگ اس باغ کے اندر سے نالہ نہیں گزار سکتے۔ جب وہ لڑا ئی پر تل گئے تو خالد بن العاص رضی اللہ عنہ عبداللہ بن عمروکے پاس گئے اور انہیں سمجھانے بجھانے کی کوشش کی تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: کیاآپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اپنے مال کا دفاع کرتے ہوئے مارا گیا، وہ شہید ہے!‘‘ (۳)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! یہ بتائیے اگر کوئی شخص میر امال چھیننے کے لیے آ جائے تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: اسے اپنا مال نہ دو ۔ اس نے پوچھا کہ اگر وہ مجھ سے لڑائی شروع کر دے تو؟ فرمایا : تم بھی اس سے لڑو۔ پوچھا:یہ بتائیے کہ اگر وہ مجھے قتل کر دے تو؟ فرمایا: تم شہید ہو گے۔ اس نے سوال کیا کہ اگر میں اسے قتل کردوں تو پھر آپ کا کیا خیال ہے؟ فرمایا: وہ جہنمی ہے۔ (۴)
ان احادیث سے چند باتیں معلوم ہوئیں :
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کہ ’’اسے اپنا مال نہ دو‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اسے تمھارا مال جبراً لینے کا قطعاً کوئی حق نہیں ہے۔ بظاہر یہ ممانعت ہے، اس لیے اس کا اولین مفہو م یہی ہوگا کہ زبردستی اور جارحانہ انداز سے قبضہ کی کوشش کرنے والے کے آگے مزاحمت کا بند باندھنا ضروری ہے اور اِس کے بغیر ’’قبضہ گروپ‘‘ جارحیت پسند لوگوں کے حوصلے بڑھیں گے۔ 
  • جو شخص اس طرح مال لینا چاہے، خواہ مال تھوڑا ہو یا زیادہ، اسے جان سے مار ڈالنا جائز ہے ۔ 
  • اپنی حرمت کا دفاع کرنا واجب ہے جیسے ، بیوی ، بچے ، عزت و آبرو وغیرہ۔ 
  • اپنی جان کا دفاع کرنا واجب ہے، خواہ اس کے نتیجے میں آدمی خود شہید ہوجائے یاحملہ آور کو قتل ہی کرنا پڑے ۔ 
  • حملہ آور کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: ’ہو فی النار‘ کامطلب یہ ہے کہ وہ اس سزا کا مستحق ہے ۔ اسے یہ سزا مل سکتی ہے اور معاف بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر وہ اس ظلم کو بلا تاویل جائز اورحلال سمجھے تو وہ کافر ہے، اسے معاف نہیں کیا جائے گا۔ 
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بنیادی انسانی حقوق اورحرمتوں کے دفاع میں قتل ہو جانے کو شہادت اور ایسے مقتول کو شہید فی سبیل اللہ قرار دیا ہے ۔ اس میں یہ ترغیبی اشارہ موجود ہے کہ حملہ آور غاصب کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالنے چاہییں بلکہ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے ۔
آل عمرو رضی اللہ عنہم کے قصے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآنی نہج پر نبی کے ہاتھوں تیار ہونے والی سب سے پہلی نسل یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ظلم کا مقابلہ کیا کرتے تھے اور اس راہ میں موت کو شہادت شمار کرتے تھے۔ 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 
أُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرٌ ۔ الَّذِیْنَ أُخْرِجُوا مِن دِیَارِہِمْ بِغَیْْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن یَقُولُوا رَبُّنَا اللَّہُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّہِ النَّاسَ بَعْضَہُم بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللَّہِ کَثِیْراً وَلَیَنصُرَنَّ اللَّہُ مَن یَنصُرُہُ إِنَّ اللَّہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ (الحج: ۳۹، ۳۰) 
’’اجازت دے دی گئی ہے (لڑائی کی)ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جارہی ہے اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے۔ وہ جنہیں ناحق طور پر ان کے گھروں سے نکال دیا گیا، صرف اس لیے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے۔ اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ ہٹاتا تو وہ گرجے، عبادت خانے اور مساجد ویران ہو جاتیں جن میں اللہ کا بہت ذکر کیا جاتا ہے۔ اور اللہ اُن لوگوں کی ضرور مدد کرے گا جو اس کے دین کے مدد گار ہیں۔ بے شک اللہ قوت والا اور غالب ہے ۔‘‘
نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 
وَقَاتِلُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُونَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبِّ الْمُعْتَدِیْنَ (البقرہ: ۱۹۰)
’’اور لڑو اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جو تم سے لڑتے ہیں، لیکن زیادتی نہ کرو اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔‘‘
پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مظلوم و ستم رسیدہ بندوں کو اجازت دی ہے جنہیں کفار نے ناحق طور پر ان کے وطن سے نکال دیا اور ہجرت پر مجبور کر دیا کہ وہ اس ظلم و ستم کا مقابلہ کریں اور اس زیادتی کا جواب دیں کیونکہ یہ ان کی طرف سے اپنی عزت و حرمت کا دفاع ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس اجازت دفاع و مزاحمت کی حکمت یہ بیان فرمائی کہ اگر مظلوم ظالم کے سامنے کھڑا نہیں ہوگا، اس کے ظلم و ستم کا جواب نہیں دے گا تو یہ خاموشی ظالم کو اور زیادہ جری و دلیر بنا دے گی اور اس کے کبروغرور میں اضافہ ہو گا۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ ظلم و زیادتی اور مظلوموں پر دست درازی کرے گا اور نتیجتاً لوگوں کے گھر بار تو کجا خدا کے گھر یعنی مساجد اور عبادت گاہیں تک محفوظ نہ رہیں گی جو فسادِ عظیم ہے ۔ جہاد فی سبیل اللہ کے انہی عظیم مصالح کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے صرف قتال کی اجازت پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ دوسری آیت میں حکم دیا کہ ایسے لوگوں سے لڑو۔ (۵)
نہتے کشمیری مسلمان بھی اس جنگ میں مظلوم ہیں جیسا کہ ’ان الکذوب قدیصدق‘ کے مصداق ہمارے فاضل مضمون نگار نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ اس جنگ میں قریب قریب یک طرفہ طور پر مسلم جانیں جا رہی ہیں، بے شمار عورتیں بیوہ، بے اولاد اور بے سہارا ہوگئی ہیں اور ہندوستانی حفاظتی دستے جب چاہیں بے گناہ مسلم شہریوں کو حراست میں لے کر ان پر تشدد کرتے ہیں۔ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی زبان سے بھی اس کھلی حقیقت کا اظہار کروا دیا ہے جو اپنے مسلمان بھائیوں کو چھوڑ کر بھارت کے وکیل و حمایتی بنے ہوئے ہیں تو کیا اب بھی وہ اپنے مظلوم کشمیری مسلمان بھائیوں کو جنہیں بھارت نے جموں ، راجوری ، پونچھ ، وادی اور دیگر کئی شہروں سے بے وطن کر کے ہجرت پر مجبور کر دیا ہے، یہ حق دینے کو تیار نہیں ہیں کہ وہ دشمن کی اس جارحیت کا جواب دیں؟ حالانکہ بین الاقوامی معاہدے اور قوانین بھی جارحیت کا شکار ہونے والے ایسے تمام لوگوں کو اپنی عزت و آبرو اور مقدس مقامات کے دفاع کا حق دیتے ہیں۔ ہماری اسلامی شریعت بھی مظلوموں کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ حملہ آور دشمن کا پیچھا کریں، اگر چہ دشمن حرم کے اندر ہو اور زمانہ اشہرحرم ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : 
وَلاَ تُقَاتِلُوہُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّی یُقَاتِلُوکُمْ فِیہِ فَإِن قَاتَلُوکُمْ فَاقْتُلُوہُمْ کَذَلِکَ جَزَاء الْکَافِرِینَ (البقرۃ: ۱۹۱)
’’اور ان دشمنوں سے مسجد حرام میں نہ لڑو جب تک وہ تم سے لڑائی نہ کریں، لیکن اگر وہ تم سے وہاں بھی لڑیں تو پھر انہیں قتل کرو۔ کافروں کی یہی سزا ہے ۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام کے پاس دشمنوں کے ساتھ لڑنے سے منع کیا ہے، لیکن اس صورت کومستثنیٰ رکھا ہے جب کفار خود مسجد حرام یاحدود حرم میں لڑائی کا آغاز کر دیں۔ اس وقت ان کی زیادتی و جارحیت کی وجہ سے ان کے ساتھ لڑائی کی جائے گی۔ اس دفاعی جنگ میں اگر کسی مقدس مقام یا زمانہ کی بے حرمتی ہورہی ہو، تب بھی دفاعی جنگ میں توقف نہیں آنا چاہیے کیونکہ اسلام کے بین الاقوامی قانون کی ایک دفعہ یہ بھی ہے کہ:مقدس مقامات جگہوں اور اوقات کے احترام میں بھی یک گونہ مساوات ملحوظ رکھی جائے گی: والحرمٰت قصاص۔ (نیز دیکھیے: البقرہ: ۲۱۷)
اگرچہ یہ آیت ابتدا میں حضرت عبداللہ بن حجش کے اس فوجی دستے کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے عمروبن الحضرمی کے قافلے پر حملہ کر کے ان کا مال واسباب لوٹ لیا تھا، لیکن اس کا حکم اپنے عموم کے لحاظ سے ہر اس لڑائی کو شامل ہے جو حرام مہینوں میں واقع ہو۔ چنانچہ علامہ عبدالرحمن بن ناصر السعدی نے اپنی مشہور تفسیر ’’تیسیرالکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان‘‘ میں اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ ا شہر حرم کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں جنگ حرام ہے اور اس سے مراد لڑائی کی ابتدا ہے۔ رہی دفاعی جنگ تو وہ جس طرح بلد حرام اورحرم میں جائز ہے، حرام مہینوں میں بھی جائز ہے۔ (۶)
مزید بر آں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
الشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُواْ عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَی عَلَیْکُمْ وَاتَّقُواْ اللّہَ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ مَعَ الْمُتَّقِینَ (البقرۃ: ۱۹۴)
’’محترم مہینہ ، محترم مہینے کا بدلہ ہے اور تمام حرمتوں میں باہمی مساوات و قصاص ملحوظ رکھاجائے گا۔ پس جو تم پر زیادتی کرے، تم بھی اس پر اتنی ہی زیادتی کرسکتے ہو جتنی ان نے تم پر کی ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ خدا ترسوں کے ساتھ ہے۔‘‘
اس آیت مبارکہ میں بین الاقوامی تعلقات کے سلسلے میں ایک اہم اور بنیادی اصول بیان کیا گیا کہ ہر مقدس و محترم چیز،مقامات، اوقات اور حالت احرام، کا احترم کیا جائے گا، خواہ وہ چیز شریعت کی نظر میں محترم ہو یا تمام بنی نوع انسان کی نظر میں ازخود احترام حاصل کرچکی ہو یا بین الاقوامی ومقامی انسانی اداروں نے اس کا احترام و تقدس ضروری قرار دیا ہو تو ایسی حرمت بھی واجب التسلیم ہوگی اور جو شخص ایسی کسی حرمت و قانون کی خلاف ورزی کرے گا، اس کا ویسا ہی جواب دیاجاسکتا ہے، چاہے اس میں بظاہر کسی تقدس کی پامالی ہی کیوں نہ ہوتی ہو۔ لہٰذا جو شخص حرمت والے مہینے میں لڑائی کرے گا، اس سے لڑائی کی جائے گی۔ جو شخص مسجد حرام کی یا کسی دوسری شرعی حرمت کی پامالی کرے گا تو اس سے بدلہ لیا جائے گا اور اس کی حرمت کا لحاظ نہیں کیا جائے گا، خواہ وہ حرم میں جا چھپے۔ 
گزشتہ سطور میں ہم نے جو قرآنی آیات اور احادیث ذکر کی ہیں، مجاہدین کشمیر نے اپنی جدوجہد اور جہاد کی بنیاد انہی خطوط پر استوارکی ہے اور وہ اپنے دفاع کا جائز اور مسلمہ حق استعمال کر رہے ہیں۔ 

کشمیری عوام کا جہاد دفاعی ہے نہ کہ اقدامی

کشمیر کے عوام نے اپنی ریاست کو ہندو کے غاصبانہ قبضہ سے آزادکرانے کے لیے جو جدجہد شروع کی ہے، وہ ہر اعتبار سے ایک دفاعی جنگ ہے نہ کہ اقدامی جیسا کہ بھارتی پراپیگنڈا بازوں کا دعویٰ ہے کیونکہ یہ جنگ کشمیر ی عوام نے نہیں بلکہ خود بھارت نے شروع کی ہے۔ بھارت نے ۱۹۴۸ء میں انگریز سامراج کے ساتھ ساز باز کر کے کشمیر میں اپنی فوج داخل کی تاکہ مسلم اکثریت کی حامل ریاست پر قبضہ کر سکے۔ کشمیری عوام اس ظلم کو برداشت نہ کر سکے۔ وہ قابض فوج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اورمقابلہ شروع کر دیا۔ کشمیری مسلمانوں کی یہ جدو جہد ایک معر وف تاریخی حقیقت ہے ۔ اس جد و جہد میں پاکستان کی حکومت اور عوام نے بھی اپنے کشمیری بھائیوں کا ساتھ دیا جس کے نتیجہ میں ریاست کا ایک تہائی حصہ آزاد کرا لیاگیا۔ اب یہ آزاد حصہ دو حصوں پر مشتمل ہے: 
(۱) گلگت بلتستان : یہ علاقہ چین کی سرحد کے ساتھ ملتا ہے اور انتظامی اعتبار سے ایک باقاعدہ معاہدہ کے تحت پاکستان کے حوالہ کیا گیا تھا جسے اب نیم صوبائی درجہ میں ایک وزیر اعلیٰ اور اسمبلی کا حق بھی دیاگیاہے۔
(۲) دوسرے حصے کانام آزاد کشمیر ہے جس میں نیم خود مختار آزاد حکومت قائم ہے۔ 
جو لوگ اس قسم کے غیر معمولی حالات میں غلامی کی زندگی میں مبتلا ہوجائیں، انہیں تمام بین الاقوامی انسانی قوانین اور خدائی قوانین اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ قابض دشمن کا مقابلہ کریں۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ اسی جنگ کے دوران بھارت خود اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے گیا جس نے یہ فیصلہ کیا کہ فوری طور پر جنگ بند کرادی جائے جس کے بعد اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کشمیر میں استصواب رائے کرایا جائے گا۔ بھارت، پاکستان اور کشمیری عوام نے اس فیصلے کو تسلیم کر لیا۔ مضمون نگار کا خیال ہے کہ اسی فیصلے کی وجہ سے کشمیری عوام اور بھارتی فوج کے درمیان لڑائی شروع ہوئی، حالانکہ اس جھگڑے کا سبب اقوامِ متحدہ کی یہ قرارداد نہیں ہے بلکہ یہ قرارداد اس جنگ کو ختم کرانے کے لیے منظور ہوئی جو انڈیا نے کشمیریوں پر مسلط کی تھی۔ بین الاقوامی اداروں نے مداخلت کر کے جنگ تو بند کرادی، لیکن جس قرارداد کی بنیاد پر یہ جنگ بندی عمل میں آئی تھی، وہ آج تک تشنہ تنفیذ ہے۔ بھارت نے اس قرارداد کی من مانی تشریح کی اور اپنے مفاد والے حصہ پر عمل درآمد کا یک طرفہ مطالبہ دوسرے فریقوں سے کرنے لگا، حالانکہ اس فیصلے پرمکمل عمل درآمد خود بھارت کے مفاد میں تھا۔
اس عارضی جنگ بندی کے بعد کشمیری عوام اس انتظار میں رہے کہ یہ بین الاقوامی ادارے جنہوں نے ہم سے ہتھیار رکھوائے ہیں اور استصواب رائے کروانے کا وعدہ کیا ہے، وہ اس مسئلے کو ضرور حل کریں گے، لیکن انہوں نے دیکھا کہ سالہا سال گزر جانے کے باجود ان اداروں نے اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی پیش رفت نہیں کی بلکہ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے، یہ ادارے مسئلہ کشمیر سے لاتعلق و کنارہ کش ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ جب نصف صدی کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد انہیں یقین ہوگیا کہ یہ ادارے غیر جانبدار نہیں ہیں بلکہ بڑی طاقتوں کے آلہ کار ہیں تو وہ اس مجرمانہ غفلت پر بھڑک اٹھے اور اپنی وہی جنگ جو انہوں نے ۱۹۴۸ ء میں کچھ وقت کے لیے عارضی طور پر بند کر دی تھی، دوبارہ شروع کر دی، لہٰذا اس وقت بھارتی فوج کشمیری عوام کے خلاف جو جنگ لڑرہی ہے، یہ اسی جنگ کا تسلسل ہے جو ۱۹۴۸ ء میں بھارت نے خود شروع کی تھی۔ 
اب صرف یہ جاننا باقی ہے کہ آیا کشمیر ی عوام کی طرف سے اقوام متحدہ کے فیصلوں کو تسلیم کرنا اور کشمیر کے جہادی و سیاسی قائدین کی طرف سے ان فیصلوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کرنا کشمیری عوام کے جہاد پر کسی طور اثر انداز ہوتا ہے یا نہیں؟ آیا وہ اس مطالبہ کے بعد جہاد کے اجروثواب کے عند اللہ مستحق رہتے ہیں یا نہیں؟ بعض لوگوں نے اس سلسلے میں بھی ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ 
اس کا واضح اور دو ٹوک جواب یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے فیصلوں اور قراردادوں کو قبول کرنے یا ان پر عمل درآمد کا مطالبہ کرنے سے جہاد پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیوں کہ اس قسم کے فیصلے اور قراردادیں تو ان مسلمہ قوانین و معاہدات کا فطری و طبعی نتیجہ ہیں جن پرمسلم امت سمیت پوری دنیا کی اقوام نے دستخط کیے ہیں اور یہ ادارے ان فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے ہی قائم کیے گئے ہیں تو پھر اس قسم کے فیصلوں و قراردادوں کا وجود میں آنا ایک فطری معاملہ ہے۔ کشمیری عوام و مجاہدین بھی چونکہ اسی انسانی معاشرے کا حصہ ہیں، لہٰذا ان کے لیے اس قسم کے فیصلوں کو قبول کرلینے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے کیونکہ ان مسلمہ قوانین و معاہدات کی حیثیت عرف عام کی سی ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا شریعت بھی اعتبار کرتی ہے۔ شریعت جب اس قسم کے معاشرتی معاہدے کرنے کی اجازت دیتی ہے تو ان کی تنفیذ کا مطالبہ کرنا کیسے ناجائز اور غیر شرعی ہو سکتا ہے؟ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں اس قسم کے معاہدات کا نمونہ موجود ہے جو صرف جائز و مباح ہی نہیں بلکہ واجب الاتباع بھی ہے۔ مثال کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنے ددھیال کے ساتھ جب حلف المطیبین میں شریک ہوا تو میں ایک نو عمر لڑکا تھا اور مجھے عربو ں کا قیمتی اور بہترین مال یعنی سرخ اونٹ بھی دیے جائیں تو مجھے اس معاہدے کو توڑنا پسند نہیں۔ (۷)
حلف الفضول کا مشہور معاہدہ قریش کے مابین ہونے والی مشہور لڑائی حرب فجار کے بعد ذیقعدہ کے مہینے میں عمل میں آیا۔ اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بیس سال تھی۔ سب سے پہلے زبیر بن عبدالمطلب نے اس معاہدے کی دعوت دی۔ پھر قبیلہ بنو ہاشم ، بنوزہرہ اوربنو تیم کے لوگ عبداللہ بن جدعان کے گھر میں جمع ہوئے، کھانا تیار کیا گیا جس کے بعد انہوں نے اللہ کے نام پر باہمی معاہدہ کیا کہ ہم ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دیں گے اور مکہ میں جس شخص پر بھی ظلم ہوگا، خواہ وہ مکہ کا باشندہ ہو یا پردیسی، ہم اس کا ساتھ دیں گے اور ظالم کے خلاف لڑیں گے یہاں تک کہ ظلم کا خاتمہ ہو جائے اور مظلوم کا حق ادا کر دیا جائے۔ اس معاہدے کا نام حلف الفضول اس وجہ سے ہے کہ قبل ازیں مکہ کی قدیم تاریخ میں بنوجرہم کے زمانہ میں بھی اسی نوعیت کا ایک معاہدہ ہوا تھا جس مین فضل بن حارث، فضل بن وداعہ اور فضل بن فضالہ ایک ہی نام کے تین اشخاص نے شرکت کی تھی۔ (۸) اس مشابہت کی بنا پر اس معاہدے کو بھی حلف الفضول کہا گیا یعنی فضل نامی اشخاص کے درمیان ہونے والے معاہدے کی طرز پر عہد و پیمان۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلمکا فرمان ہے کہ میں عبداللہ بن جدعان کے گھر میں طے پانے والے معاہدے میں شریک تھا اورآج بھی اگر مجھے ایسے کسی معاہدے کے لیے دعوت دی جائے تو میں تیار ہوں۔ (۹)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین عرب اور اہل کتاب یہود و نصاریٰ کے ساتھ معاہدے کیے اور ان سے تنفیذ کا مطالبہ بھی کیا، مثلاً صلح حدیبیہ کا معاہدہ۔ آپ نے بنو نضیر سے مطالبہ کیا کہ وہ ان دو مقتولوں کی دیت ادا کرنے میں ان کی مدد کریں جنہیں عمرو بن امیہ ضمری نے بئرمعونہ کے شہدا کے انتقام میں قتل کر دیا تھا۔ (۱۰) آپ کی عادت تھی کہ وعدہ ہر حال میں پورا کرتے تھے خواہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہوتا یا کفار کے ساتھ اور اپنے صحابہ کو بھی یہی تعلیم دیتے تھے۔
اس وضاحت کے بعد ہم یہ کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حیثیت دراصل ایک ایسے ادارے کی طرف سے جاری ہونے والے احکام اور قراردادوں کی سی ہے جس کے بارے میں عالمی معاشرے کے ساتھ ہم نے یہ اتفاق کیا ہے کہ اگر اس ادارے کے فیصلے ہماری شریعت سے متصادم نہیں ہوں گے تو ہم انہیں قبول کریں گے اور مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادیں شریعت کے خلاف نہیں ہیں بلکہ اگر انہیں نافذ کر دیا جائے تو وہ شریعت کے حق میں جاتی ہیں، لہٰذا ان کے نفاذ کا مطالبہ کرنے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں اور نہ جہاد کشمیر کی شرعی حیثیت پر اس کا کوئی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ 
یہ بھی کہا جاتا ہے (اور کہنے والے وہ اہل قلم ہیں جنہیں دین کی سمجھ ہے، نہ خدا اور رسول سے کوئی وفاداری وموالات ہے اور نہ اہل ایمان سے کوئی محبت)کہ کشمیریوں کی جدو جہد شرعی معیار کا جہاد نہیں ہے اور فی سبیل اللہ بھی نہیں ہے کیونکہ اس میں وہ خلوصِ نیت مفقود ہے جس کی بنا پر کوئی جنگ جہاد فی سبیل اللہ کہلانے کی مستحق بنتی ہے اور وہ اللہ کی رضا اور خوشنودی ہے اور کشمیر ی جنگجو اللہ کی رضا کے لیے نہیں لڑرہے ہیں بلکہ ان کی ساری جدوجہد کامقصد یا تو مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کروانا ہے تاکہ استصواب رائے عمل میں آ سکے یا آزادی کا حصول ہے یا پھر پاکستان کے ساتھ ریاست جموں و کشمیر کا الحاق ہے اور ان میں سے کوئی چیز بھی شرعاً ایسی حیثیت نہیں رکھتی کہ اس کی بنیاد پر کوئی خونریز جنگ چھیڑ دی جائے کہ ایک پوری قوم اس کی بھینٹ چڑھ کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اس شبہے کاجواب یہ ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مجاہدین کشمیر کا اس جنگ سے مقصود اور نیت اللہ کی رضا اور خوشنودی نہیں ہے، ایسے لوگ دراصل مجاہدین کی نیتوں پر حملہ کر رہے ہیں حالانکہ کسی انسان کی یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ کسی کے دل میں چھپی ہوئی نیت اور ارادے کو جان سکے کیونکہ دلوں کے راز غیبی معاملہ ہے اور غیب جاننے ولا صرف اللہ ہے۔ یہ ایک ایسی واضح اور بدیہی بات ہے جس کے لیے کسی دلیل و استدلال کی ضرورت نہیں اور اگر کسی کی نیت جاننی ہو تو نیت والے کی طرف ہی رجوع کرنا پڑے گا، کیونکہ اس معاملے میں اسی کی بات حرف آخر ہے۔ اور کسی بھی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ظاہری حالات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے کسی کا باطن کریدے اور دلوں کے اندر پوشیدہ نیتوں پر حکم لگائے۔ 
سورۂ نساء کی آیت ۹۴ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ جہاد کے لیے نکلیں تو ثابت قدمی دکھائیں اور تحقیق کر لیا کریں اور اگر کوئی شخص زبان سے مسلم ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کے ظاہری دعوے سے صرف نظر کر کے اس کے باطن کو کریدنے کی کوشش نہ کریں اور یہ نہ کہیں کہ وہ صرف جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھ رہا ہے اور اس کے دل میں اخلاص نہیں ہے، کیونکہ یہ حق انہیں حاصل نہیں ہے۔ ایک ایسے شخص کے لیے جو خدا کی راہ میں دشمنان اسلام سے لڑنے کے لیے جا رہا ہے اور قدم قدم پر اسے دشمن کی چالوں اور کاروائیوں سے واسطہ پڑ سکتا ہے، اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ اگر کوئی شخص اس کے سامنے اپنے مسلم ہونے کا دعویٰ یااقرار کرے تو وہ اس کے معاملہ میں غوروفکر، احتیاط اور تحقیق سے کام لے ، جھٹ سے اسے جھٹلانے کی کوشش نہ کرے، حالانکہ اس قسم کے حالات میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ شخص فی الواقع جان بچانے کے لیے ہی کلمہ اسلام کا سہارا لے رہا ہو، لیکن پھر بھی یہ حکم ہے کہ غوروفکر اور احتیاط سے کام لو اور تحقیق کر و۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن کریم کا منشا یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی شک والا معاملہ ہو، وہاں جلدی میں کوئی حکم لگانے سے پہلے تحقیق اور غورو فکر انتہائی ضروری ہے۔ 
حضرت خالد بن ولید نے ایسے ہی ایک شخص کے قتل کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا : مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دل چیروں اور ان کے پیٹ پھاڑ کر دیکھوں۔ (۱۱) ایک لڑائی میں حضرت اسامہ بن زیدنے ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا جس نے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ پڑھ کر دعوائے ایمان کر دیا تھا۔ جب یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں آئی تو آپ نے حضرت اسامہ سے فرمایا: کیا تو نے اسے لا الہ الا اللہ کہنے کے باوجود قتل کر دیا ؟ اُسامہ نے عرض کیا :یا رسول اللہ! اس نے تلوار کے خوف سے کلمہ پڑھا تھا۔ آپ نے فرمایا: تو تم نے اس کا دل کیوں نہ چیر کر دیکھ لیا کہ تمھیں پتہ چل جاتا کہ اس نے اخلاص سے کلمہ پڑھا ہے یا نہیں؟ حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ آپ یہ جملہ بار بار دہراتے رہے، حتیٰ کہ میرے جی میں آیا کہ کاش میں نے آج ہی اسلام قبول کیا ہوتا۔ (۱۲)
امام نووی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد (افلا شققت قلبہ) میں فقہ اور علم الاصول کے اس مشہور قاعدے کی دلیل ہے کہ فیصلہ ظاہر کے مطابق کیا جاتا ہے اور باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ (۱۳) مشہور محدث اور صحیح بخاری شارح امام ابن حجرعسقلانی نقل کرتے ہیں : تمام علما کا اس پر اجماع ہے کہ اس دنیا میں تمام فیصلے ظاہر کی بنا پر ہوتے ہیں اور دلوں کے حالات اللہ کے سپرد کیے جاتے ہیں۔ (۱۴)
ہر مسلمان اس بات کا پابند ہے کہ وہ ہمیشہ ظاہر کے مطابق فیصلہ کرے گا اور اس اصول سے تجاوز نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قاعدے سے کسی کو حتی کہ اپنے نبی کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا اور پوری امت کا اس اصول پر اتفاق و اجماع ہے تو پھر محمد انیس صاحب! آپ کو یہ حوصلہ کیسے ہوا کہ آپ کشمیری مجاہدین کی نیتوں پر حکم لگائیں یا تبصرہ کریں؟ حالانکہ وہ واضح طور پر کہہ بھی رہے ہیں کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہندؤوں کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ اپنی حدود سے تجاوز کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ اللہ سے توبہ کریں اور اس گناہ کی معافی مانگیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ جیسے دیگر افراد کو بھی ہدایت دے ۔ آمین 

اسلامی ممالک کی آزادی کے لیے کوشش جہاد میں داخل ہے

ان لوگوں کا یہ کہنا کہ اگر کوئی مسلمان اپنے مقبوضہ وطن کو آزاد کرانے کے لیے یا کسی اسلامی ملک کے ساتھ اس کا الحاق کرنے کے لیے جنگ کرے تو وہ جہاد فی سبیل اللہ نہیں ہے اور یہ چیز جہاد کی متفق علیہ تعریف میں نہیں آتی، قطعاً غلط اور دین و شریعت سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ اگر ان لوگوں کو اس قسم کے مسائل کا علم نہیں تو انہیں چاہیے کہ علما اور ماہرین شریعت سے پوچھیں جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: إِنَّمَا شِفَاءُ الْعِیِّ السُّؤَالُ (۱۵)۔
ہمارے اور جہاد کشمیر کے مسلمان مخالفین یا مترددین کے درمیان اس اختلافِ رائے میں قرآن و حدیث کی شرعی نصوص بہترین حکم ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 
أَلَمْ تَرَ إِلَی الْمَلإِ مِن بَنِی إِسْرَاءِیلَ مِن بَعْدِ مُوسَی إِذْ قَالُواْ لِنَبِیٍّ لَّہُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِکاً نُّقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللّہِ قَالَ ہَلْ عَسَیْتُمْ إِن کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ أَلاَّ تُقَاتِلُواْ قَالُواْ وَمَا لَنَا أَلاَّ نُقَاتِلَ فِی سَبِیلِ اللّہِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِن دِیَارِنَا وَأَبْنَآءِنَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْاْ إِلاَّ قَلِیلاً مِّنْہُمْ وَاللّہُ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِینَ. (البقرۃ: ۲۴۶)
’’کیا تم نے بنی اسرائیل کے ان سرداروں کو نہیں دیکھا جو موسیٰ کے بعد ہوئے تھے، جب انہوں نے اپنے نبی سے کہا کہ آپ ہمارا کوئی بادشاہ مقرر کر دیں تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں ۔ پیغمبر نے کہا: کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ اگر تم پر لڑائی فرض کر دی جائے تو تم نہ لڑو؟ انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ نہ کریں حالانکہ ہمیں اپنے گھروں اور بال بچوں سے نکال دیا گیا ہے۔ لیکن جب ان پر جنگ فرض کی گئی تو سوائے چند ایک کے سب پھر گئے اور اللہ ظالموں کو جانتا ہے۔‘‘
اس آیت مبارکہ سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں :
  • مظلوم کا ظالم سے نبردآزما ہونا ایک فطری امر ہے، خصوصاً جبکہ مظلوم کواپنے اہل وعیال اور وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا ہو۔ اور کسی کے اہل و عیال پرزیادتی کرنا، مال و اسباب لوٹ لینا، علاقوں پر قبضہ کرنا صریح ظلم ہے جو مظلوم کو غیظ و غضب میں مبتلا کر کے انتقام پر ابھارتا ہے۔ اسی بنا پر سرداران بنی اسرائیل نے وقت کے نبی کو تعجب کے اسلوب میں جواب دیا کہ ہم آخر کیوں نہ لڑیں گے جبکہ قتال کے تمام اسباب وجوہات موجود ہیں ۔ 
  • قابض دشمن سے مقابلہ کرنا اور اسے اپنی سرزمین سے بے دخل کرنا انبیا اور صالحین کی سنت ہے ۔ 
  • اللہ تعالیٰ نے اس واقعے میں اہل ایمان کی گفتگو ذکر کر کے پیغمبر وقت کی خاموشی اور عدم انکار بیان کیا ہے اور اصول فقہ کی روشنی میں اس طرح کی گفتگو ہمارے لیے شرعی قانون کا درجہ رکھتی ہے۔ شریعت اسلامیہ میں بھی ایسی بہت سی نصوص ہیں جواس چیز کی تائید و توثیق کرتی ہیں، مثلاً قرآنِ کریم کی یہ آیت: 
وَاقْتُلُوہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوہُمْ وَأَخْرِجُوہُم مِّنْ حَیْثُ أَخْرَجُوکُمْ وَالْفِتْنَۃُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلاَ تُقَاتِلُوہُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّی یُقَاتِلُوکُمْ فِیہِ فَإِن قَاتَلُوکُمْ فَاقْتُلُوہُمْ کَذَلِکَ جَزَاء الْکَافِرِینَ (البقرۃ: ۱۹۱)
’’تم انہیں جہاں بھی پاؤ، قتل کرو اور جہاں سے انہوں نے تمھیں نکالا ہے، تم بھی انہیں وہاں سے نکالو اور دین سے ہٹانا قتل سے زیادہ سخت گناہ ہے اور جب تک وہ تم سے نہ لڑیں، تم بھی مسجد حرام میں ان سے نہ لڑو، لیکن اگر وہ وہاں بھی تم سے لڑیں تو پھر انہیں قتل کرو۔ کافروں کی یہی سزا ہے۔‘‘
اس آیت میں اپنے سب ایمان والے بندوں کو، خواہ اپنے گھروں میں بس رہے ہوں یا انہیں گھروں سے بے گھر کیا گیا ہو، حکم دیا گیا ہے کہ وہ بہرحال ان شہروں سے کفار کو نکالنے کے لیے اٹھیں جن پر انہوں نے مسلمان باشندوں کو نکال کر قبضہ کر لیا ہے، کیونکہ ان علاقوں ، شہروں اور وہاں پر موجود مسلمانوں کے تمام مال و متاع کی خدا کی نظر میں وہی حرمت اور تعظیم ہے جو خود ایک مسلمان کی ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے مقبوضہ علاقوں کو کفار کے تسلط سے آزاد کرانا ایک شرعی حکم ہے جسے بجا لانا واجب ہے اور ظاہر ہے جو لڑائی بھی شرعی احکام کے تحت ہو، وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔ 

کیا کسی پڑوسی اسلامی ملک کے ساتھ الحاق چاہنے سے جہاد باطل ہوجاتا ہے؟

امت مسلمہ کے لیے رہنما اور اسوہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے۔ آپ امت کو اس حال میں چھوڑ کر گئے تھے کہ اس کے پاس ایک متحد اور مضبوط حکومت تھی ا ور ایک خلیفہ اور ا میر المومنین اس کی رہنمائی کر رہا تھا۔ اب اگر ہم اس بلند درجے تک نہیں پہنچ سکتے تو کم از کم اتنا تو کریں کہ جس حد تک ممکن ہو، امت کو ایک پرچم تلے جمع کر کے متحدہ امت بنانے کی کوشش کریں۔ کشمیری ایک مسلم قوم ہیں اور دین اسلام کو دل کی گہرائیوں سے پسند کرتے ہیں۔ یہ فطری بات ہے کہ جس چیز کا انسان کی محبوب ہستی سے تعلق ہو، انسان اس چیز سے بھی محبت کرتا ہے۔ پاکستان چونکہ ایک اسلامی جمہوریہ ہے اور اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے، لہٰذا کشمیری مسلمان اس دینی رشتے کی بنا پر یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کے لیے اسلامی پاکستان سے منسلک ہو جائیں۔ سورۂ آل عمران کی آیت ۱۰۳ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ اللہ کی رسی یعنی اس کے دین اور اس کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور تفرقے میں نہ پڑیں، لہٰذا ہر مسلمان فرد اور قوم پر شرعاً یہ لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، آپس میں جڑنے اور متحد ہونے کی کوشش کرے اور افتراق و انتشار سے بچنے کی کوشش کرے۔ کشمیری عوام کے پاکستان کے ساتھ بہت سے خونی رشتے بھی ہیں۔ مزید برآں ان کے تما م تجارتی راستے پاکستان سے ہو کر گزرتے ہیں، لہٰذا اگر یہ آر پار کے مسلمان بھائی آپس میں مل جائیں اور اس طرح ایک مضبوط اور متحد ملک بن جائیں تو اس میں کیا حرج ہے۔ ہمارا دین بھی اس کی اجازت دیتا ہے، پوری عالمی انسانی برادری بھی کشمیریوں کے اس حق کی تائید کررہی ہے تو جب اس جہاد کی اس قدر شرعی اور بین الاقوامی تائید وحمایت موجود ہے تو پھر آخر اسے غیر شرعی قرار دینے کی کیا وجہ ہے؟
مسلمانوں کا آزاد و خودمختار ہونا شرعاً ضروری ہے تاکہ شریعت اسلامیہ کا نفاذ ہو۔ یہ دعویٰ کہ آزادی کے لیے جدوجہد ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ نہیں ہے، احکام شریعت سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ ہر انسان ماں کے پیٹ سے آزاد پیدا ہوتا ہے اور اسے غلام بنانا خلاف اصول ہے اور ایک مومن اللہ کے سوا کسی کا بندہ اور غلام نہیں ہوتا اور اللہ اور اس کے رسول کے بعد اگر وہ کسی کی اطاعت کرتا ہے تو وہ ان دونوں کی اطاعت کے دائرے میں رہ کر کرتا ہے۔ شریعت سے ہٹ کر کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں پر سننا اور ماننا لازم ہے ہر پسند و ناپسند میں جب تک اسے گناہ کا حکم نہ دیا جائے، اگر اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو پھر اس پر سننا لازم ہے نہ ماننا۔ (۱۶) لہٰذا اگر کوئی مسلمان فرد یا گروہ اپنی مرضی کے خلاف محض مجبوری اور بے بسی کی وجہ سے کفار کی غلامی میں پھنس جائے تو شرعاً اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو ا س غلامی سے آزاد کروانے کے لیے پوری کوشش کرے اور امت پر بھی اس کی مدد و اعانت واجب ہے، اگرچہ اس کے لیے جنگ ہی کیو ں نہ کرنی پڑے کیونکہ آزادی ہر انسان کا فطری حق اور تقاضا ہے۔ مسلمان کے معاملے میں یہ اور بھی ضروری ہے کیونکہ مسلمان کے لیے آزادی ایک فطری تقاضے سے بڑھ کر شرعی مقاصد کے حصول کا ذریعہ اور سبب بھی ہے اور یہ مقصد مسلمانوں کا نفاذ شریعت کے مواقع حاصل کرنا ہے۔ جب مسلمان کسی ملک میں آزاد ہوں گے تو وہ آزادی کے ثمرات و برکات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شریعت کا نفاذ کر سکیں گے اور اہل علم جانتے ہیں کہ یہ ایک معروف اصول ہے کہ: لِلْوَسَاءِلِ حُکْمُ الْمَقاَصِدِ وَالْغَایَاتِ (۱۷) ’’وسائل وذرائع کا حکم و حیثیت اصل مقاصد کی ہوتی ہے‘‘ اور: مَا لَا یَتِمُّ الْوَاجِبُ إِلَّا بِہِ فَہُوَ وَاجِبٌ (۱۸) ’’جس چیز پر واجب کا دارو مدار ہو، وہ بھی واجب ہوتی ہے‘‘، لہٰذا آزادی کی خاطر جدجہد کرنا واجب شرعی ہے اور کشمیر کا جہاد اسی قبیل سے ہے ۔ 

مظلوم کو پنجہ استبداد سے چھڑانا واجب ہے

ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ شریعت اسلامیہ نے مظلوم مسلمانوں پر اپنی حرمتوں کا دفاع کرناواجب قراردیاہے۔ یہاں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جب مظلوم مسلمان کسی بھی وجہ سے اپنا دفاع نہ کر سکتے ہوں تو سب مسلمانوں کا شرعی فرض یہ ہے کہ ان کی مدد اور اعانت کریں اور انہیں پنجہ استبداد سے چھڑانے کی فکر کریں۔ 
سورۂ نساء کی آیات ۷۴، ۷۵میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے اور انہیں اس بات پر ابھارا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں جنگ کریں اور اس امر پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے کہ جب حالات جنگ کا تقاضا کر رہے ہوں تو مسلمان اللہ کی راہ میں لڑنے سے کیوں پہلو تہی کر رہے ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ سے کیوں کنی کترا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ کے اسباب میں اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ کفار نے مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کو کمزور اور بے بس سمجھ کر دبا لیا ہے اور ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں اور وہ پکار پکار کر اللہ سے دعائیں کر رہے ہیں کہ مولائے کریم! ہمیں ان ظالم انسانوں کی بستی سے نکال جو تیرے ساتھ کفروشرک کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور اہل ایمان کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچا رہے ہیں اور انہیں قانون الٰہی کے نفاذ اور دعوت الی اللہ سے روک رہے ہیں۔ 
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت موسیٰ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ایک دن حضرت موسیٰ چپکے سے شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو آدمی لڑرہے ہیں۔ ایک ان کی جماعت کا اور ایک ان کی دشمن کی جماعت کا تھا۔ جو آدمی حضرت موسیٰ کی جماعت سے تھا، اس نے اپنے دشمن کے خلاف حضرت موسیٰ کو مدد کے لیے پکارا۔ حضرت موسیٰ نے آکر مخالف کو گھونسہ دے مارا اور اس کا کام تمام کر دیا۔ پھر سوچا کہ یہ تو شیطانی کام ہے اور شیطان تو ہے ہی انسان کا دشمن اور گمراہ کرنے والا ۔ اگلے دن پھر یہی واقعہ ہوا اور اسی شخص نے جس نے گزشتہ روز موسیٰ علیہ السلام کو مدد کے لیے پکارا تھا، دوبارہ انھیں آواز دی۔ جب موسیٰ نے اس شخص پر جو ان کا کا دشمن تھا، ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کیا تو اسرائیلی کہنے لگا، اے موسیٰ، کیا تم مجھے بھی اسی طرح مارڈالنا چاہتے ہو جس طرح کل تم نے ایک آدمی کو مارڈالا تھا؟ لگتا ہے کہ تم دنیا میں ظالم بننا چاہتے ہو اور تمھارا اصلاح کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ (۱۹)
ان دو آیتوں سے ایک چیز یہ معلوم ہوتی ہے کہ ظالم کے مقابلے میں مظلوم کی مدد کرنا اور اسے ظالم کے ظلم و ستم سے نجات دلانا انبیا علیہم السلام اور رسولوں کی سنت ہے اور دوسری چیز یہ واضح ہوتی ہے کہ جو قومیں غلامی کی زندگی بسر کرتی ہیں اور ایک مدت تک طرح طرح کے مظالم اور بے انصافیوں کا شکار رہتی ہیں، ان کے اندر خوف کی نفسیات پید اہو جاتی ہیں اور ظلم اور ظالم ان کے ذہنوں پر اس طرح مسلط ہو جاتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نیکی اور خیرخواہی کے ارادے سے بھی ان کی طرف بڑھتا ہے تو وہ خوف زدہ ہو جاتے ہیں اور آسانی سے اس پر اعتماد کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے۔ 
ان آیات کی مزید وضاحت احادیث سے ہوتی ہے:
حضرت انس ابن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک شخص نے عرض کی یارسول اللہ! اگر میرا بھائی مظلوم ہو پھر تو میں اس کی مدد کروں گا، لیکن اگر وہ ظالم ہو تو پھر اس کی مدد کیسے کرو ں؟ آپ نے فرمایا: اگر تم اسے ظلم سے روک دو تو یہ تمھاری طرف سے اس کی مدد ہے۔ (۲۰) ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ تم اس کا ہاتھ پکڑ لو۔ مراد یہ ہے کہ اگر وہ زبانی طور پر سمجھانے سے باز نہ آئے تو اسے زبردستی روک دو ۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: اگر وہ ظالم ہو تو اسے ظلم سے منع کرو۔ یہ اس کی مدد ہے۔ (۲۱) حضرت عائشہ کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اگر وہ مظلوم ہوتو اس کا حق دلوا ؤ اور اگر وہ ظالم ہو تو خود اس کے نفس سے اس کا حق لو۔ (۲۲)
یعنی ظالم بھی درحقیقت مظلوم ہی ہے اور وہ دوسروں پر ظلم کر کے خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے اور حدیث کا منشایہ ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو، ظالم کو ظلم سے باز رکھنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ہر حال میں مسلمانوں کی مدد کریں۔ اگر وہ مظلوم ہوں تو ظالم سے ان کا حق دلا کر اور اگر وہ ظالم ہوں تو انہیں ظلم سے باز رکھ کر ۔ جب ایک ظالم مسلمان کے مقابلے میں مظلوم کی مدد کرنے کا حکم ہے تو غیر مسلم ظالم کے مقابلے میں تو ہم بطریق اولیٰ اس کے پابند ہیں۔ 
ان تمام آیات و احادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان پر اپنے مظلوم اور بے بس بھائیوں کی مدد کرنا واجب ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں بھی ہوں، رشتے داروں اور پڑوسیوں پر سب پہلے اور پھر درجہ بدرجہ سب مسلمانوں پر۔ پاک وہند کے مسلمانوں کی کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی نسبت اس وقت یہی پوزیشن ہے۔ وہ دینی رشتوں کے ساتھ خونی رشتوں میں بھی بندھے ہوئے ہیں۔ اب میں ان معترضین سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے یہ فریضہ ادا کر دیا ہے یا آپ صرف ان لوگوں کو ادائے فرض سے روکنے کے درپے ہیں جو اپنے طور پر اس فرض کو ادا کرنا چاہتے ہیں؟
قرآن و حدیث کی ان شرعی نصوص کے بعد جن کے ذریعے ہم نے ثابت کر دیا کہ کشمیر میں خالص شرعی جہاد ہورہاہے، ہم یہ ضرورت نہیں محسوس کرتے کہ ان نام نہاد معترضین کے ان مزعومات کا رد کیا جائے کہ آزادی یا الحاق پاکستان یا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کروانے کا مطالبہ کرنا سیاسی مقاصد ہیں نہ کہ دینی۔ ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ ثابت کر چکے ہیں کہ یہ سب شرعی اور دینی مقاصد ہیں۔ آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مصر سے ہجرت کو بطورِ مثال ذکر کر کے اپنے باطل اور اسلام ومسلم دشمن مشورہ کو دلیل فراہم کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ آپ موقف کی تائید نہیں بلکہ تردید کر رہا ہے اور اس قصے سے تو کشمیری عوام، مجاہدین اور ان کے سیاسی راہنماؤں کے لیے ایک بہترین رہنمائی مل رہی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہاتھا کہ تمھارا مجھ پر یہی احسان ہے کہ تم نے (میری قوم) بنی اسرائیل کو غلام بنالیا؟ (۲۳)گویا آپ نے اس کے اس فعل کی مذمت کی اور پھر اس سے یہ مطالبہ کیا کہ دیکھو میں تمھارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل لایا ہوں، لہٰذا تم بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو۔ (۲۴) قرآن کریم سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف حضرت موسیٰ کا نہیں بلکہ حضرت ہارون کامطالبہ بھی یہی تھا۔ (۲۵)
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بندگان خدا کو انسانوں بالخصوص اللہ کے باغی انسانوں کی غلامی سے چھڑانا وہ فریضہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو بھیجا، لہٰذا یہ نبیوں کی سنت ہے۔ حیرت ہے کہ جہادِ کشمیر کے مخالفین کی نظر میں یہ ایک سیاسی مقصد ہے! لگتا ہے کہ ایسے لوگوں کا اصل مقصد دین کو سیاست سے جدا کرنا ہے جیسا کہ لادین اور سیکولر ذہن رکھنے والوں کا وطیرہ ہے۔ ہم تو یہی دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان مخالفین کواور ان جیسے باقی لوگوں کو اس فکری بیماری سے نجات دے جس نے امت کو کمزور سے کمزور تر کردیا اور سامراج اور غلامی کے مقابلے کے قابل نہیں چھوڑا۔ 

حوالہ جات

(۱) سنن نسائی، کتاب تحریم الدم، باب من قاتل دون مالہ، ۴۰۹۴۔ سنن ابوداود، کتاب السنۃ، باب قتال اللصوص، ۴۷۷۲۔
(۲)صحیح بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب من قاتل دون مالہ، ۲۴۸۔
(۳)صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الدلیل علی ان من قصد اخذ مال غیرہ کان مہدر الدم، ۲۰۲۔
(۴) صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الدلیل علی ان من قصد اخذ مال غیرہ کان مہدر الدم، ۲۰۱۔
(۵) الصارم المسلول، ۲/۲۰۴-۲۰۷
(۶) تیسیر الکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان، ص ۹۷۔ المولف: عبد الرحمن بن ناصر السعدی (المتوفی: ۱۳۷۶ھ)۔ المحقق: عبد الرحمن بن معلا اللوسجق، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، الطبعۃ الاولی، ۱۴۲۰ھ/۲۰۰۰ء۔
(۷) مسند احمد/مسند عبد الرحمن بن عوف الزہری: ۱۶۵۸، ۱۶۷۹۔ امام مقدسی نے انھی کے حوالے سے اس حدیث کو الاحادیث المختارۃ ۳/۱۱۶ میں نقل کر کے صحیح قرار دیا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو: الطبقات الکبریٰ لابن سعد، نبی اکرم کی حلف الفضول میں شمولیت، ۱/۱۲۸، ۱۲۹۔ سیرت ابن ہشام ۱/۲۶۵۔
(۸) سیرت ابن ہشام ۱/۲۶۵۔
(۹) سنن البیہقی الکبریٰ، ۶/۳۶۷، حدیث: ۱۲۸۵۹۔
(۱۰) کتب سیرت، قصہ صلح حدیبیہ۔ صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث بنی نضیر۔
(۱۱) صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب بعث علی بن ابی طالب وخالد بن الولید الی الیمن، ۴۰۰۴۔ صحیح مسلم، الزکاۃ، باب ذکر الخوارج، ۱۷۶۳۔
(۱۲) صحیح مسلم، الایمان، باب تحریم قتل الکافر بعد ان قال لا الہ الا اللہ: ۱۴۰۔
(۱۳) شرح النووی علیٰ صحیح مسلم ۲/۱۰۷۔
(۱۴) فتح الباری ۱۲/۲۷۳۔
(۱۵) یہ حضرت جابر کی طویل حدیث کا حصہ ہے جس کو ایک قصہ کے ساتھ امام ابو داود نے السنن، الطہارۃ، باب المجروح یتیمم: ۳۳۶ میں نقل کیا ہے۔
(۱۶) سنن الترمذی، الجہاد، باب ما جاء لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق، ۱۷۰۷۔ امام ترمذی نے اس کو حدیث حسن قرار دیا ہے۔
(۱۷) ملاحظہ ہو: قواعد الاحکام فی مصالح الانام، ۱/۴۶، ۱۰۳، ۱۰۶، ۱۰۹۔
(۱۸) تہذیب الفروق ۲/۴۳، ۴۴ ونہایۃ السؤل ۱/۱۰۰ للامام جمال عبد الرحیم الاسنوی المتوفی سنۃ ۷۷۲ھ، مطبوع فی مصر مع شرح البدخشی۔
(۱۹) القصص: ۱۵، ۱۹۔
(۲۰) صحیح بخاری، الاکراہ، باب یمین الرجل لصاحبہ انہ اخوہ اذا خاف علیہ القتل، ۶۹۵۲۔
(۲۱) صحیح مسلم، البر والصلۃ، باب نصر الاخ ظالما او مظلوما، ۲۵۸۴ بروایۃ جابر۔
(۲۲) آداب الحکماء لابن ابی عاصم (بحوالہ ابن حجر، فتح الباری ۱۲/۳۲۶)۔
(۲۳) الشعراء: ۲۲۔ 
(۲۴) الاعراف: ۱۰۵
(۲۵) الشعراء: ۱۵-۱۷۔

دار العلوم دیوبند کی کشمیر کانفرنس

عارف بہار

دارالعلوم دیوبند برصغیر کی شہرہ آفاق دینی درسگاہ ہے جس نے برصغیر کی سیاست، صحافت، خطابت کو کئی جوہر قابل عطا کیے، لیکن یہ بات بھی تسلیم کی جانی چاہیے کہ برصغیر کی داخلی سیاست میں یہ دانش گاہ تعبیر کے جن سرابوں کے پیچھے بھاگتی رہی، ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ ۱۶؍ اکتوبر کو دارالعلوم دیوبند میں ہونے والی ایک روزہ کشمیر کانفرنس اس تعاقب کا ایک ثبوت ہی تھی جس میں ایک طرف تو کشمیر میں ظالمانہ قوانین کے خاتمے اور فوج کی تعداد کم کرنے کے مطالبے کی حمایت کی گئی، وہیں ایک قرارداد میں فتوے کے انداز میں کشمیر کو بھارت کا ا ٹوٹ انگ قرار دیا گیا۔ اس کانفرنس کی جو رپورٹس بھارتی اخبارات میں سامنے آئیں، ان کے مطابق جمعیت علمائے ہند کے ز یر اہتمام اس کانفرنس میں کئی علما، دانشوروں اور سیاسی کارکنوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور پورا دن مسئلہ کشمیر کی جزئیات اور اس کے بھارتی مسلمانوں پر اثرات پر بحث ہوتی رہی جس کے بعد یہ قرارداد سامنے آئی جس پر ’’جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی‘‘ کی بات صادق آتی ہے، یعنی کشمیر میں آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ کا نفاذ غلط لیکن کشمیر بھارت کا جزو لاینفک۔ 
دیوبند کی کشمیر کانفرنس پر ہر دو طرح کے تاثرات سامنے آرہے ہیں۔ایک تاثر یہ ہے کہ گزشتہ بیس برس میں پہلی بار بھارتی مسلمانوں کی قیادت کو کم از کم یہ احساس تو ہوا کہ کشمیر ایک قطعہ زمین ہے جہاں ان کے ملک کی فوج بیس برس سے بے پناہ ظلم وتشدد میں مصروف ہے۔ اگر انسان پورا سچ بولنے کی پوزیشن میں نہ ہوتو اسے آدھا سچ ہی بولنا چاہیے۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بولنا بھارت کی مسلمان قیادت کا آدھا سچ ہے۔ جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ بھارت کی مسلمان قیادت نے کانفرنس کے بعد ایک واضح سیاسی لائن لی۔ بھارت کی مسلمان قیادت اس وقت کئی طرح کے دباؤ کا سامناکر رہی تھی جس کے باعث وہ پورا سچ بولنے کی پوزیشن میں نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ جب یہ قیادت جب تک پورا سچ بولنے کی پوزیشن میں نہ آئے، خاموشی کو ہی ترجیح دینی چاہیے۔ 
کانفرنس میں دو طرح کے رویے نظر آئے۔ جمعیت العلمائے ہند کے مولانا محمود احمد مدنی کا یہ کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ بھارت کی مسلمان قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا۔ معروف صحافی اور ایشین ایج کے ایڈیٹر ایم جے اکبر کا کہنا تھا کہ اگر کشمیری بھارت کے دائرے میں رہ کر بات کریں تو میں سو فیصد ان کے ساتھ ہوں، اگر وہ علیحدگی کی بات کریں گے تو میں سوفیصد ان کا مخالف ہوں۔ ایم جے اکبر جیسے روشن خیال دانشور سے یہ پوچھنے والا شاید کوئی نہیں تھا کہ علیحدگی پسندوں کے بھی کچھ انسانی حقوق ہوتے ہیں جب کہ ان کے ہاتھ میں بندوق بھی نہ ہو۔ تو کیا ان کی عورتیں اور بچے انسانوں کے زمرے میں بھی نہیں آتے؟ اس کانفرنس میں ایک اور رویہ جماعت اسلامی ہندکے نمائندے کی طرف سے سامنے آیا جس نے کشمیر کانفرنس کے انعقاد کو جرات مندانہ قراردیا، کشمیریوں کے جائز مطالبات کی ]حمایت کی[، لیکن کشمیر کے سیاسی تنازعے پر لب کشائی نہیں کی۔ شایدیہی رویہ کشمیر، بھارت کی مسلمان قیادت سے چاہتا ہے۔
بھارت کے مسلمان اس ملک کے شہری ہیں۔ ان کی وفاداری کا مرکز و محور بھارت ہی ہے اور رہنا چاہیے۔قیام پاکستان کے بعد انہیں جس نفسیاتی دباؤ کا سامنا ہے، اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ سیاسی لائن اختیار کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیں۔ بھارت کی مسلمان قیادت کا اپنا ورلڈ، پاکستان اور کشمیر ویو ہے۔خود کشمیر کے اندر عمر عبداﷲکی صورت میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جو اس موقف سے قریب تر ہیں۔ بھارت کی مسلمان قیادت نے چمکتے دمکتے بھارت کی ترقی کے فوائد میں شریک ہونے کا شعوری فیصلہ کیا ہے۔ اس سے بہتر کوئی آپشن نہیں ۔مسئلہ ایک مائنڈ سیٹ کی تبدیلی کا ہے۔ 
پچھلے دنوں جمعیت العلمائے ہند کے مولانا محمو د احمد مدنی نے پاکستان کے ایک پرائیویٹ چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آج کشمیر کو آزادی دی جائے تو کل کسی اور علاقے میں مسلمان اکثریت میں آکر آزادی مانگیں گے، اس طرح تو یہ سلسلہ کہیں نہیں رکے گا۔ مسئلہ اکثریت اور اقلیت کا نہیں۔ جب بھارت میں راشٹریہ سویم سنگھ سے متاثر لابی نے پٹیل کی قیادت میں پنڈت نہرو کو کشمیر پر رائے شماری کا موقف ترک کرنے پر مجبور کیا تو پنڈت جی نے بھارت کی مسلمان قیادت کی حمایت حاصل کرنے کے لیے یہ تاویل گھڑ لی کہ ایک مسلم اکثریتی ریاست کا بھارت کے ساتھ رہنا نہ صرف بھارت کے سیکولر وجود بلکہ بھارتی مسلمانوں کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ عرب دنیا کو اس کا قائل کرنے کے لیے کہا جاتا رہا کہ اگر کشمیر بھارت سے الگ ہو گیا تو بھارتی مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس لیے مسلم دنیا کو پچاس ساٹھ لاکھ کشمیری مسلمانوں کے لیے دس بارہ کروڑ مسلمانوں کو داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔ کانگریس سے قریب تر مسلمان قیادت نے بھی اس فلاسفی کو قبول کر لیا، حالانکہ کشمیری او ر بھارتی مسلمانوں کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ تقسیم کے وقت کانگریس اور مسلم لیگ میں بھی ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہواکہ بھارتی مسلمانوں کی حفاظت کے لیے کشمیرکا بھارت کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔ اگر دو قومی نظریے پر، جو تقسیم کا بنیادی اصول تھا، من و عن عمل ہوجاتا تو کشمیر بھارت کے لیے ایک خواب ہی ہوتا۔ تب بھارت کے ان مسلمانوں کو جنہوں نے شعوری طور پر بھارت میں رہنے کا فیصلہ کر لیا تھااپنے، ہی دست و بازو پر زندہ رہنا تھا۔آج بھی وہ کشمیر کی وجہ سے بھارت میں زندہ نہیں بلکہ اپنے ہی دست و بازو کی بنیاد پر زندہ ہیں۔ کشمیر تو تریسٹھ برس سے ذہنی اور عملی طور پر بھارت سے فاصلہ رکھے ہوئے ہے۔ کشمیر کے مسئلے میں بھارتی مسلمانو ں کی قیادت کا کوئی کردار بنتا ہی نہیں۔ ان سے پوچھنے، انہیں اعتماد میں لینے کاکوئی سوال ہی نہیں۔ اس مسئلے کے تین فریق ہیں: کشمیری عوام، بھارت اور پاکستان۔ چونکہ یہ تینوں ایک میز پر بیٹھتے نہیں، اس لیے مسئلہ لٹکا ہوا ہے۔ اس میز پر بھارتی مسلمانوں کی نمائندگی بھارت کی حکومت کر رہی ہوگی۔ اس سلسلے میں مولانا وحید الدین خان کے صاحبزادے اور ملی گزٹ کے ایڈیٹر ظفر خان کاموقف زیادہ قرینِ حقیقت ہے جنہوں نے حال ہی میں کہا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کے مسائل بھارت کے مسلمانوں سے قطعی مختلف ہیں، مسئلہ کشمیر کے حل سے بھارتی مسلمانوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
دیوبند کانفرنس میں کشمیر کے سیاسی مسائل کو بھارتی مسلمانوں کے سماجی مسائل کے ساتھ گڈ مڈ کر دیا گیا۔ بھارت کی مسلمان قیادت کو اب کشمیر کو ڈھال کے طور استعمال کرنے کی بجائے خود اپنی بنیادوں پر کھڑے ہوکر بھارت کے نقشے میں اپنا مستقبل سنوارنا اور تلاشنا چاہیے۔ کشمیر ایک تاریخی تنازعہ ہے جس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں، جس کے کئی فریق ہیں، جس پر کئی جنگیں لڑی جاچکی ہیں، جس پر بے تحاشا لٹریچر چھپ چکا ہے، جس کی قیمت لاکھوں کشمیریوں نے اپنی جانوں کی شکل میں اداکی ہے،جو تین ایٹمی طاقتوں کو براہ راست متاثر کر رہا ہے۔ یہ محض کسی قطعہ زمین میں کسی ایک مذہب کے پیروکاروں کے اکثریت میں ہونے کا سوال نہیں۔اگر اس دلیل کو مان لیا جائے تو کل برطانیہ کے مسلمان اپنی سیاسی قوت بڑھانے اور ڈیموگرافی کی تبدیلی کے لیے حکومت برطانیہ کو کسی مسلمان ملک پر قبضہ کرنے کی ترغیب دیں گے۔ بھارت کی مسلمان قیادت کو بھارتی ڈھانچے میں کشمیر کے ستر اسی لاکھ مسلمانوں کو ہیومن شیلڈ کے طور دیکھنے کی بجائے بھارت کے درجہ اول شہری کے طور اٹھارہ کروڑ مسلمان آبادی کی قوت پر انحصار کرنا چاہیے اور اس خود اعتمادی کی بنیاد پر اپنے لیے سپیس پیدا کرنی چاہیے۔بھارت کی مسلمان قیادت کو رائے کے اظہار کا حق ہے، لیکن آدھا اور دل آزار سچ بولنے سے خاموشی ہزار درجے اچھی ہے۔ 
(بشکریہ روزنامہ اوصاف)

مکاتیب

ادارہ

(۱)
آپ کی جوابی تحریر موصول ہوئی۔ راقم آپ کی پہلی تحریر میں اپنے نکات سے متعلق جوابی سیکشن نہ دیکھ سکا تھا جس کی وجہ سے جواب نہ ملنے کی شکایت کی۔ اس کے لیے معذرت قبول کیجیے۔ قلت وقت کے سبب انتہائی اختصار کے ساتھ چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں: 
۱) آپ کی آخری تحریر سے یہ واضح ہوجا تا ہے کہ کم از کم آپ مجاہدین کے اس مقدمے سے متفق ہیں کہ (شرعی حدود کا لحاظ رکھتے ہوئے ) امریکہ پر اقدامی حملہ کرنا شرعاً و اصولاً جائز ہے ۔
۲) آپ کا فرمانا ہے کہ کسی جنگی اقدام کے جہاد کہلانے کی لئے ضروری ہے کہ اس میں ’کسی بھی ‘ شرعی اصول و تعلیم کی خلاف ورزی نہ کی گئی ہو۔ آپ کے نزدیک کیا یہ اصول صرف جہاد کے لیے خاص ہے یا دین کی دیگر تمام اجتماعی صف بندیوں کو پرکھ کر انہیں ’دینی‘ قرار دینے کے لیے اپنانا بھی ضروری ہے؟ اگر ضروری ہے (جیسا کہ منطقی طور پر ہونا چاہیے) تو کیا ہماری ہم عصر بہت سے ایسی صف بندیاں جنہیں ہم ’دین‘ کا کام قرار دیتے ہیں، کیا وہ بھی ’غیر دینی‘ نہ ہوجائیں گی؟ پھرکیا اس اصول پر عمل پیرا ہوکر ہم کسی معاشرے کو کبھی ’اسلامی‘ کہنے کی پوزیشن میں ہوں گے؟ 
۳) اگر آپ کا بیان کردہ اصول ایک شرعی ضابطہ ہے تو اسے لازماً زمان و مکان کی قیود سے آزاد ہونا چاہیے۔ اس طور پر غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اس اصول کو صرف معاصر مجاہدین ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری اسلامی تاریخ میں جہاں اور جب بھی کوئی جہادی کاروائی کی گئی، اس پر لاگو کرکے اس پر حکم لگانے کی سخت ضرورت ہے، علی الرغم اس سے کہ اس کی زد میں ٹیپو سلطانؒ آئیں یا پھر سید احمد بریلویؒ و شاہ اسماعیل شہیدؒ ۔ (ظاہر ہے سید احمد و شاہ اسماعیل کسی بھی اسلامی سلطنت کے امیر نہ تھے اور آپ کے اصول کے مطابق انہیں علم جہاد بلند کرنے کی ہرگز اجازت نہ تھی)۔ کیا واقعی آپ زمان و مکان سے ماورا ہوکر اس اصول کے مطابق حکم لگانے کے لیے تیار ہیں؟ 
۴) آپ کے دلائل سے اندازہ ہوتا ہے کہ دراصل آپ کو Twin Towers پر حملہ کرکے غیر حربی امریکیوں کو مارنے پر اعتراض نہیں، بلکہ حملہ کرنے والوں کے وجہ جواز پر اعتراض ہے، یعنی آپ کے نزدیک مسئلہ یہ نہیں کہ مجاہدین کی کارروائی میں چند غیر حربی امریکیوں کا قتل کیوں ہوا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ مجاہدین ایسا کرنے کو جائز سمجھتے ہیں۔ گویا اگر صرف حملے کا وجہ جواز تبدیل کردیا جائے تو آپ کے نزدیک بھی معاملہ درست ہوجائے گا۔ یعنی اگر Twin Towers پر حملے کا جواز یہ قرار دیا جائے کہ ’یہ امریکہ کی شان و شوکت کی علامت تھا، لہٰذا اس پر حملہ کرنا امریکہ کی عظمت پر حملہ کرنا تھا، البتہ موجودہ ہتھیاروں کے ساتھ غیر حربی کی رعایت کرنا ناممکن ہے‘ تو یہ کاروائی جائز قرار پائے گی۔ 
۵) جہاں تک غیر حربی امریکیوں کے قتل کی بات ہے تو اس میں دو امور قابل غور ہیں: 
(الف) موجودہ ہتھیاروں کے ساتھ حربی و غیر حربی کی رعایت قریب قریب ناممکن ہے۔ شرع میں بھی اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ اگر مخالفین مسلمانوں کو اپنی ڈھال بنالیں تو ایسی صورت میں ان مسلمانوں کو قتل کرکے کفار سے لڑنا جائز ہے۔ اس سے معلوم ہوا گویا کسی غیر حربی کا قتل ہر صورت میں ناجائز نہیں بلکہ اس طور پر ناجائز لگتا ہے کہ اس کے علاوہ دیگر آپشنز با سہولت موجودہ ہوں لیکن پھر بھی انہیں قتل کردیا جائے۔
(ب) اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی عوام ایسے حکمرانوں کو باخوشی ووٹ دیتی ہے جو مسلمانوں کا قتل عام کرتی ہے، اتنا ہی نہیں بلکہ افغانستان پر چلائے جانے والے کئی میزائلوں پر امریکی عوام کے دستخط اور یہ جملے پائے گئے ’a gift from US to Afghanistan‘۔ کتب کی عدم دستیابی کی بنا پر راقم کو حوالہ یاد نہیں مگر اسلامی غزوات میں ایسے لوگوں کی مثالیں موجود ہیں جنہیں اس بنا پر قتل کیا گیا کہ وہ اپنی شاعری وغیرہ کے ذریعے کفار کو مسلمانوں پر حملہ کرنے کی ترغیب دلاتے۔ کیا امریکی عوام کو اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا؟ 
ان تمام گزارشات کو راقم کی پوزیشن مت سمجھئے گا، یہ محض مجاہدین کا مقدمہ ہے۔ 
محمد زاہد صدیق مغل
(۲)
آپ کے ذکر کردہ نکات کے حوالے سے میری گزارشات، بالترتیب، حسب ذیل ہیں:
۱) درست فرمایا۔ اصولاً امریکہ پر یا کسی بھی دوسرے ملک پر حملہ کرنا جائز ہے، بشرطیکہ شرعی شرائط اور حدود کا لحاظ رکھا جائے، مثلاً جنگ کا شرعی جواز موجود ہو، حملے کا فیصلہ ایسی اتھارٹی نے کیا ہو جو شرعاً اس کی مجاز ہو، حملے میں کسی معاہدے کی خلاف ورزی نہ کی گئی ہو اور آداب القتال یعنی دوران جنگ کے شرعی واخلاقی ضوابط کی پاس داری کی جائے۔ مزید برآں حملے کے نتیجے میں مسلمانوں کے جانی ومالی نقصان کا پہلو ملحوظ رکھنا اگر قانونی وفقہی طور پر نہیں تو حکمت وسیاست شرعیہ کی رو سے بہرحال ضروری ہے۔ اگر تو کوئی مخصوص گروہ اپنی حد تک نتائج وعواقب سے بے پروا ہو کر کوئی ایسا اقدام کرنا چاہتا ہے جس کے اثرات اسی تک محدود رہیں گے تو یہ اس کا اجتہادی اختیار ہے، لیکن اگر اس کے اقدام کے نتائج ان لوگوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں جو اقدام کے فیصلے میں شریک نہیں اور اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی انھوں نے قبول نہیں کی تو یہ بات شرعاً واخلاقاً درست نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی باقاعدہ ریاست جنگ کا فیصلہ کر رہی ہے تو بھی وہ اپنی رعایا کی جان ومال کی حفاظت کی ذمہ دار ہے اور حکومتی سطح پر کوئی بھی اقدام کرتے ہوئے قوم پر مرتب ہونے والے نتائج کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
۲) اس کا تعلق شرعی اصول کی خلاف ورزی کی نوعیت سے ہے۔ اگر خلاف ورزی شخصی اور انفرادی سطح کی ہے تو اس کے مطابق حکم لگے اور اگر پوری جدوجہد کی اساس کسی خلاف شرع امر پر استوار ہے تو حکم اس کے مطابق لگے گا۔ یہ نہ تو کوئی معیار ہے اور نہ دین کا تقاضا کہ دین کے نام پر کی جانے والی کوئی ایسی جدوجہد بالفعل پائی جاتی ہو جسے ضرور ’دینی‘ یا ’اسلامی‘ کہا جائے۔ اصل چیز دینی واخلاقی معیار ہے۔ اگر اس پر کوئی عملی جدوجہد پورا نہیں اترتی تو یہ کوئی اصول نہیں کہ اس معیار کو اس لیے نظر انداز کر دیا جائے کہ پھر ہم ’دینی‘ یا ’اسلامی‘ جدوجہد کس کو کہیں گے؟ بحیثیت مجموعی معاشرے کو بھی اسی اصول پر دیکھنا چاہیے۔ وہ جن پہلووں سے ’اسلامی‘ اصولوں پر استوار ہو، اس حد تک اسے ’اسلامی‘ کہا جائے، جبکہ باقی پہلووں میں بہتری کی کوشش جاری رکھی جائے۔
۳) نکتہ نمبر ۲ کے تحت کسی معاملے پر شرعی یا غیر شرعی کا حکم لگانے کا جو اصول بیان کیا گیا ہے، یقیناًاس کا اطلاق زمان ومکان کی قید کے بغیر ہر معاملے پر ہوگا، خواہ اس کی زد میں کوئی بھی آئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے اپنے عہد میں رونما ہونے والے ایسے واقعات پر جو صحابہ کے ہاتھوں سرزد ہوئے، یہ حکم لگانے میں کوئی رعایت نہیں تو بعد کی کسی شخصیت یا کارروائی کو بھی کوئی استثنا نہیں دی جا سکتی۔ البتہ کسی مخصوص معاملے میں شرعی اصول کی خلاف ورزی فی الواقع ہوئی ہے یا نہیں، یہ ضرور دیکھ لینا چاہیے۔ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی جس سے یہ اخذ کیا جا سکے کہ چونکہ ’’سید احمد و شاہ اسماعیل کسی بھی اسلامی سلطنت کے امیر نہ تھے‘‘ اس لیے ’’انہیں علم جہاد بلند کرنے کی ہرگز اجازت نہ تھی۔‘‘ میرے نزدیک جہاد کا اقدام کرنے کے لیے کسی باقاعدہ سلطنت یا ریاست کا وجود ضروری نہیں۔ کوئی منظم گروہ بھی، مطلوبہ شرائط کے ساتھ، ایسا اقدام کر سکتا ہے۔ البتہ اس امر کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ وہ گروہ یا تو کسی آزاد خطے کو اپنا مرکز بنائے یا کسی ایسے علاقے کو جہاں پہلے سے قائم نظم اجتماعی، چاہے وہ قبائلی طرز کا ہو یا ریاست اور حکومت کی صورت میں، اس کے اقدامات کی علانیہ تائید اور پشت پناہی کرتا ہو اور ان کے نتائج کی ذمہ داری بھی قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔ سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل شہید کی جدوجہد کی تفصیلات باریکی کے ساتھ اس وقت پیش نظر نہیں ہیں کہ متعین طور پر کوئی رائے دی جا سکے، البتہ اصولی طور پر یہ بات واضح ہے کہ اگر ان کی جدوجہد میں کسی بھی شرعی اصول کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کے مطابق حکم یقیناًلگے گا۔
نکتہ نمبر ۴ اور ۵ کے جواب میں گزارش ہے کہ اگر دشمن نے شہری آبادی کو یا کسی غیر حربی مقام یا عمارت کو اپنے لیے ڈھال بنا رکھا ہو اور ان کے، حملے کی زد میں آئے بغیر جنگی ہدف کا حصول ممکن نہ ہو تو ’ضمنی نقصان‘ کے طو رپر ایسی ہلاکتوں کا شریعت اور موجودہ بین الاقوامی قانون میں جواز موجود ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسا کرنا ناگزیر ہو، بے گناہوں کو حتی الامکان حملے سے بچانے کی کوشش کی جائے اور جنگی ضرورت کے حد تک ہی نقصان گوارا کیا جائے۔ 
جہاں تک حربی ہدف کے علاوہ شان وشوکت رکھنے والے کسی مقام کو نشانہ بنانے کا تعلق ہے تو اس کے جواز کے لیے دو شرطوں کا پورا کیا جانا ضروری معلوم ہوتا ہے: 
ایک یہ کہ اس مقام پر جو غیر مقاتلین مصروف عمل ہوں، انھیں پیشگی متنبہ کر دیا جائے کہ یہ جگہ حملے کا ہدف ہے، اس لیے وہ یہاں موجود رہنے سے گریز کریں۔ حربی ہدف پر حملے کے لیے ایسی کسی پیشگی تنبیہ کی ضرورت نہیں، اس لیے کہ ایسے مقام پر موجود لوگ اصلاً مقاتلین ہوتے ہیں جن پر حملہ کرنا جائز ہے، لیکن غیر حربی ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے اس کا اہتمام اس لیے ضروری ہے کہ وہاں اصلاً غیر مقاتلین مصروف عمل ہوتے ہیں جنھیں حملے سے محفوظ رکھنا حتی الامکان ضروری ہے۔ اگر ایسے کسی مقام کو جو اصلاً غیر مقاتلین کی غیر حربی سرگرمیوں کا مرکز ہو، کسی پیشگی تنبیہ اور وہاں سے بحفاظت نکل جانے کا موقع دیے بغیر حملے کا نشانہ بنایا جائے تو یہ ’دہشت گردی‘ ہوگی۔ 
دوسری شرط یہ ہے کہ اگر کسی فریق نے حالت جنگ میں کچھ مخصوص قوانین اور ضوابط کی پابندی کسی معاہدے کے تحت قبول کر رکھی ہے جن کی رو سے حربی اہداف کے علاوہ دوسرے مقامات اور عمارتوں پر حملے کی اجازت نہیں تو ان کی پاس داری بھی ایفاے عہد کے اصول کی رو سے ضروری ہے۔
براہ راست جنگ میں حصہ نہ لینے والے لوگ اگر عام شہری ہیں تو ان کی ’خاموش تائید‘ کو ان پر حملے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ میں اپنی سابقہ تحریر میں واضح کر چکا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان جنگ میں دشمن کے لشکر کے ساتھ آنے والی خواتین ، غلاموں اور مزدوروں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، حالانکہ وہ ایک مفہوم میں اپنے لشکر کی مدد ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ہاں، دشمن کے ایسے اہل الرائے اور اثر ورسوخ رکھنے والے لوگ جو اپنی رائے، مشورے یا خطیبانہ صلاحیتوں سے جنگ کو بھڑکانے یا اپنی فوج کا مورال بلند کرنے یا جنگ میں کامیابی حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے رہوں، انھیں قتل کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ عہد نبوی کے محولہ بالا واقعات میں کیا گیا۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ معین طو رپر انھی مخصوص افراد کو، نہ کہ بلا تمیز سب عوام کو، نشانہ بنایا جائے جو یہ کردار ادا کر رہے ہوں۔ مذکورہ واقعات میں یہی طریقہ اختیار کیا گیا تھا۔ مزید برآں یہاں بھی یہ شرط لاگو ہوگی کہ اگر کسی فریق نے حالت جنگ میں کچھ مخصوص قوانین اور ضوابط کی پابندی کسی معاہدے کے تحت قبول کر رکھی ہے جو اسے جنگ میں بالفعل حصہ لینے والوں کے علاوہ دوسرے افراد کو نشانہ بنانے سے روکتے ہیں تو ان کی پاس داری بھی ایفاے عہد کے اصول کی رو سے ضروری ہوگی۔
امریکی عوام کو ایسے افراد پر قیاس کر کے ان پر براہ راست حملے کا جواز تسلیم کرنے میں مانع یہ ہے کہ انھیں زیادہ سے زیادہ ’خاموش تائید‘ کا ذمہ دار کہا جا سکتا ہے۔ پھر حتمی طور پر یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ ’a gift from US to Afghanistan‘ کا پیغام امریکی عوام ہی کی طرف سے دیا گیا نہ کہ ان کی افواج کی طرف سے۔ اور اگر بعض عوام نے ہی دیا ہو تو وہ متعین طو رپر معلوم نہیں ہیں، جبکہ امریکی عوام ہی کی ایک بڑی تعداد اپنی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اپنی ناراضی اور احتجاج باقاعدہ ریکارڈ کرا چکی ہے۔ ایسی صورت میں کچھ عوام کے پیغام کو بنیاد بنا کر بلا تمیز تمام امریکی عوام پر حملے کا جواز ثابت کرنا شرعاً وعقلاً قابل فہم نہیں ہے۔
محمد عمار خان ناصر
(۳)
جناب عمار ناصر صاحب
السلام علیکم۔ لنک ارسال کرنے کا شکریہ۔
ہمارے مذہبی حلقے بدقسمتی سے تاریخ کا مطالعہ بھی غالباَ وقت کا ضیاع گردانتے ہیں۔کیا انہوں نے کبھی غور کیا ہے کہ طالبان کم وبیش صرف ایک ہی لسانی گروہ پر کیوں مشتمل ہیں؟
میرا ایک مضمون جو نوائے وقت میں شائع ہوا ہے، اس پر کچھ روشنی ڈالتا ہے۔ اس کا لنک یہ ہے:
http://columns-izharulhaq.blogspot.com/2010/09/blog-post.html
اس موضوع پر میرا ایک مضمون آسٹریلیا کے وقیع انگریزی روزنامے ’’دی ایج‘‘ میں بھی شائع ہونے والا ہے۔
محمد اظہار الحق
izhar@izharulhaq.net
(۴)
محترم جناب عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ! امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔
الشریعہ کا تازہ شمارہ پڑھنے کو ملا اور جہاد افغانستان کے حوالہ سے علمی مباحثہ کا مطالعہ کیا۔ خود کش حملوں کے جواز اور اس کے فوراً بعد افغانستان جہاد میں حکمت عملی کے بارے جو گفتگو آپ نے فرمائی ہے، وہ ایسے ہی محسوس ہوتا ہے جیسے راقم کے دل کی آواز تھی جسے آپ نے الفاظ کا جامہ پہنا دیا۔ آپ کی نکتہ رسی اور فقہی بصیرت واقعتا قابل ستائش ہے۔ اللہ آپ کے علم وفضل میں برکت عطا فرمائے۔
جہاں تک طالبان کے جہاد کو جہاد کہنے یا نہ کہنے کے بارے اختلاف کا مسئلہ ہے تو کم ازکم افغانستان میں امریکہ کے محاربین، نہ کہ طالبان مخالف مسلمان جہادی گروپس، کے خلاف جنگ میرے خیال میں جہاد کہلائی جانے کی مستحق ہے اور اسے جہاد کہنا چاہیے، قطع نظر اس سے کہ طالبان نے اسامہ کو امریکہ کے حوالے نہ کر کے کوئی اجتہادی غلطی کی ہے یا نہیں کی۔ اجتہادی غلطی کو بھی اجتہاد ہی کہتے ہیں، یعنی بعض اوقات کسی فعل میں غلطی سے اس فعل پر اس کی متعلقہ اصطلاح کے اطلاق میں کوئی شرعی مانع موجود نہیں ہوتا، جیسا کہ اجتہاد میں غلطی بھی اجتہاد ہی کہلاتا ہے، لہٰذا جہاد میں اجتہادی، سیاسی، حکمت عملی کی خطا کم ازکم اس کو جہاد کہنے میں مانع نہیں ہونی چاہیے جبکہ اس کے بقیہ اصولوں کی پاسداری کی جا رہی ہو۔
بحث بہر حال دلچسپ تھی۔ موقع ملا تو تفصیلی طور پر کچھ گزرشات پیش کروں گا۔ و اللہ اعلم بالصواب
حافظ محمد زبیر
قرآن اکیڈمی، لاہور
(۵)
محترم ومکرم حضرت مولانا عمار خان ناصر صاحب حفظہ اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
’’الشریعہ‘‘ کی موجودہ پالیسی سے اختلاف واتفاق سے قطع نظر، بقول مولانا مفتی محمد زاہد ’’اسلامی حمیت‘‘ کے اس دور میں نہایت حساس مسائل کو ایسے انداز میں زیر بحث لانا جس سے ’’اسلامی حمیت کے فقدان‘‘، ’’اغیار کے فکری ایجنٹ‘‘ اور ’’اکابر کے جادۂ مستقیم سے برگشتہ‘‘ ہونے کا تاثر ملتا ہے، اگرچہ عند البعض اسلامی طریقہ نہ ہو مگر ہے بہت بڑی علمی جرات۔ خصوصاً ’’اسلامی عسکریت‘‘ کے موضوع پر روایتی رجحانات سے ہٹ کر کوئی اور موقف اختیار کرنا اس جذباتی دور میں انے پروانہ موت پر خود دستخط کرنے کے مترادف ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس تحریری صلاحیت اور قوت بیان کی نعمت سے نوازا ہے، ہم جیسے طالب علم ہر شمارے میں آپ کی تحریر کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ۲۰۰۴ء سے اب تک آپ کی جو نگارشات نظر نواز ہوئی ہیں، ان کی روشنی میں بندہ کے دو تاثرات ہیں:
(۱) اپنے ’’جمہور مخالف موقف‘‘ کے رد عمل میں تمام تند وتیز تبصروں، خطوط اور ناقدانہ تجزیوں کو آپ کمال حوصلہ کے ساتھ پڑھتے اور شائع کرتے رہتے ہیں۔ یہ آپ کی وسعت ظرفی کی بین دلیل ہے۔
(۲) مگر یاد نہیں پڑتا کہ فریق مخالف کے دلائل وبراہین کے پیش نظر آپ نے اپنے موقف سے رجوع فرما لیا ہو۔ (یقیناًاس کی کوئی معقول وجہ آپ کے پاس ہوگی۔) خداداد ذہنی وعلمی صلاحیت اور جولانی تحریر کو بروے کار لا کر ہر حال میں آپ ثابت قدم رہنا چاہتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے ہی مواقع پر آپ کا تحریری بانکپن اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ ہاں اگر بہت مجبوری کے عالم میں ماننا پڑے تو نہایت نپے تلے انداز میں صرف کچھ قریب آنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ مثلاً حالیہ افغان جنگ کی شرعی حیثیت کے تعین میں آپ اسے جہاد قرار دینے سے گریز فرما رہے ہیں، مگر دوسرے قرائن ودلائل جب سامنے آئے تو آنجناب نے صرف اتنا کہنے پر اکتفا فرما لیا کہ:
’’مذکورہ پہلو سامنے آنے کے بعد طالبان کی حکمت عملی پر سخت تحفظات کے باوجود میرے خیال میں ان کی موجودہ مزاحمت کی شرعی حیثیت کے بارے میں اشکال کی شدت نمایاں طور پر بہت کم ہو جاتی ہے۔‘‘ (الشریعہ، اکتوبر ۲۰۱۰ء، ص ۵۵)
بہرحال اپنے لیے اور تمام اہل علم ودانش کے لیے یہی دعا ہے کہ اللہم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ۔
حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ اہل علم ایک ایک کر کے رخصت ہو رہے ہیں، مگر عصر حاضر میں بہت سے ایسے مسائل ہیں جن کی عصری تقاضوں کے مطابق تنقیح وتطبیق اور واضح ہونے کی ضرورت ہے۔ اپنے محدود مطالعہ اور ناقص فہم کی بنیاد پر چند مسائل ومباحث کی نشان دہی کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ اہل علم ان پر خامہ فرسائی فرما کر علمی ذمہ داری کا ثبوت دیں:
(۱) ملک کے مختلف حصوں کی شورشوں (مثلاً قبائلی علاقوں میں پاک فوج اور پاکستانی طالبان کے مابین محاذ آرائی اور بلوچستان میں بلوچ سرفروشوں کی کارروائیاں وغیرہ) کی شرعی حیثیت اور قضیہ لال مسجد کی کربلا سے مماثلت کی بحث۔
(۲) عسکریت کی تمام مروجہ صورتوں کے تفصیلی جائزہ کے ساتھ اسلام کے تصور جہاد کی وضاحت۔
(۳) خود کش حملوں کا حقیقت پسندانہ جز رسی کے ساتھ شرعی جائزہ۔
(۴) اسلام کے نام پر موجودہ سیاست کی خوبیوں اور خامیوں کی نشان دہی اور ان کا حل۔
(۵) امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا اسلامی طریقہ، خصوصاً دور حاضر میں حکمرانوں کے اسلام مخالف طرز عمل اور پالیسیوں کے تناظر میں۔
(۶) تکفیر شیعہ کا مسئلہ (اس کے عملی نتائج میں سنی اور شیعہ کے مابین نکاح وغیرہ شامل ہیں۔)
(۷) اجتہاد کی حقیقت وضرورت اور معیارات۔
(۸) اکابر واسلاف سے وابستگی کے حدود ، دائرے اور معیارات۔
(۹) دینی مدارس کا نصاب ونظام حالیہ زمینی حقیقتوں کی روشنی میں۔
(۱۰) اسلام مخالف تحریکات ونظریات سے واقفیت اور ان سے نمٹنے کا لائحہ عمل۔
امید ہے کہ اہل علم اور سنجیدہ ومتحمل دانش وران ملت ان جیسے مسائل پر اپنی علمی توانائیاں صرف کر کے امت مسلمہ کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیں گے۔ واضح رہے کہ ان مسائل ومباحث میں ان اہل علم ودانش کی نگارشات کو پذیرائی ملنے کا امکان ہے جن پر پہلے سے ’’متجددین میں شمار ہونے‘‘ اور ’’اکابر سے بغاوت‘‘ جیسا ٹھپہ نہ لگا ہوا ہو۔
اللہ تعالیٰ ’’الشریعہ‘‘ کو امت مسلمہ کی بہتری کے لیے ایک بہترین علمی فورم کے طور پر ہمیشہ قائم ودائم رکھے۔ آمین
محمود خارانی
مدرسہ دار العلوم، خاران، بلوچستان
(۶)
مکرمی ومحترمی جناب عمار خاں راشدی صاحب زید فضلکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
امید ہے بعافیت ہوں گے۔ اس خادم کو آپ سے اور آپ کے خانوادے سے جو نیازمندانہ محبت ہے، اس پر اللہ تعالی سے اجر کی امید ہے اور اسی محبت کی بنا پر آپ کے لیے دعا کا اہتمام الحمد للہ اپنی سعادت سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شرافت نسبی اور مقام سے نوازنے کے بعد جو اعلیٰ علمی وفکری صلاحیت عطا فرمائی، وہ ہم سب کے لیے بڑی توقع کا باعث ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنے مقبول بندوں میں شامل فرمائے، اور شرور وفتن سے محفوظ رکھے۔
۱) افغان جہاد سے متعلق آپ کی رائے ایک عرصہ قبل موصول ہوئی تھی۔ محبت کا شکریہ۔ برادر عزیزمولوی الیاس نعمانی نے اس پر کچھ استدراک بھی لکھا تھا۔ میرا نقطۂ نظر بھی قریبا وہی تھا، اس لیے اعادہ کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ لیکن آپ کے نام ایک مراسلے سے ایسا محسوس ہوا کہ کسی صاحب کو آپ کے مضمون سے یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ مولانا عتیق الرحمن سنبھلی بھی افغان جنگ کے جہاد ہو نے کے بارے میں کچھ تحفظ رکھتے ہیں۔ یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ مولانا سے میری مستقل گفتگوئیں رہی ہیں، ان کا موقف یہ نہیں تھا۔ ان کے جس مضمون کا آپ نے حوالہ دیا ہے، اس میں انہوں نے طالبان کے بعض فیصلوں سے اختلاف کیا اور اِن فیصلوں کو شرعی حکمت کے خلاف بتایا تھا۔ ان کو اس باب میں اصل حیرت بلکہ شکوہ پاکستانی علما سے تھا جنہوں نے طالبان کی یقیناًبجا طور پر حمایت تو کی مگر ان کو حکمت کا سبق پڑھانے کی طرف توجہ نہیں فرمائی۔
۲) جہاں تک زیر بحث مسئلے کا تعلق ہے، مجھے اس مفروضے کے بارے میں شک ہے کہ امریکہ کے ٹریڈ ٹاور پر حملے میں القاعدہ نام کی کوئی تنظیم شریک ہے، بلکہ القاعدہ نام کی تنظیم کی اصلیت کیا ہے، یہ شاید ہم میں سے کسی کہ نہیں معلوم۔ القاعدہ کیا ہے؟ اس کی طرف سے جاری میڈیا بیانات یا تحریروں کی حقیقت کیا ہے؟ یہ وحی کہاں سے کس پر کب نازل ہوتی ہے، اور اس کا روح القدس کون ہے؟ یہ سب کسی کو نہیں معلوم۔ بلکہ اگر آپ نے اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ پر آنے والے فوٹو دیکھے ہوں گے تو ان میں واضح ان فرقوں پر آپ کی بھی نظر گئی ہو گی جن کو بہت سے میڈیا کے حضرات نے بھی شک شبہے کا سبب قرار دیا ہے۔ ۱۱/۹ کے فورا بعد القاعدہ کی جانب سے ایک خط جاری ہوا تھا اور اخبارات میں لیٹر ہیڈ کی امیج کے ساتھ چھپا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس کے لیٹر ہیڈ میں عربی میں القاعدہ کا املا ’’القائدہ‘‘ چھپا تھا۔ مجھے اسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ سب کس درجہ حماقت کے ساتھ کیا جانے والا فراڈ ہے۔ ایسی صورت حال میں آپ کی بات سے متفق ہونا مشکل ہے۔
۳) بلکہ اگر ایسا ہے بھی یعنی یہ حملے اسامہ اور القاعدہ کے لوگوں نے کیے تھے تو بھی امارت اسلامیہ افغانستان (طالبان) کی طرف سے جنگ کے ’’بظاہر‘‘ جہاد قرار پانے میں کوئی فرق اس لیے نہیں پڑتا کہ ان کے ہی نہیں دنیا کے سامنے کوئی ثبوت امریکہ آج تک، سوائے دھاندلی کے، نہیں پیش کر سکا۔ ایسی صورتحال میں محض اس مفروضے کی بنیاد پر کہ ’’ان کو پتہ ضرور ہوگا‘‘ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ ان کا عمل جہاد نہیں۔ایسے مفروضوں پر نتائج نہیں قائم کیے جاسکتے۔
۴) محترما! ایک سوال اور ہے۔ رسول اللہؐ کے عہد میں سریہ نخلہ والوں سے اشہر حرم میں ایک قتل ہو گیا تھا۔ یقیناًیہ عمل غلط تھا، اسی لیے رسول اللہ ؐ نے مقتول کی دیت دلوائی تھی۔ فرض کیجیے اگر مکہ والے کہتے کہ نہیں اس کے بدلے میں ہم کو تو مدینہ پر حملہ ہی کرنا ہے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دینی ہے، اور رسول اللہؐ مدینے کا اور اپنا دفاع کرتے تو آپ کے اختیار کردہ استدلال کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بھی بس ایک جائز جنگ ہوتی، جہاد نہیں!!!
۵) یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر مسلم ریاست کے کسی شہری نے کسی دوسری ریاست کے دائرے میں کوئی جرم کیا تو اس کو جرم ثابت ہونے پر سزا ملنی چاہیے، یعنی اگر القاعدہ کے حق میں جرم ثابت بھی ہوتا تو بھی اسلامی ریاست پر جو چیز واجب ہوگی، وہ مجرم کو سزا اور مقتولین کا عرف کے مطابق جان بہا ہے، مگر اس کے بہانے اگر دشمن ریاست حملہ کر دے تو اسلامی ریاست کا دفاع یقیناًجہاد ہوگا۔ آپ کے موقف کے مطابق اگر کسی مسلم ریاست کے شہری نے کوئی جرم کیا اور متأثرہ غیر مسلم ریاست مجرم کو سزا دلوانے کے قانونی طریق کار کو عمل میں لانے کے بجائے اس کو حملے اور جارحیت کے لیے بہانہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے مسلم ریاست پر حملہ کردے تو مسلم ریاست کا دفاع جہاد نہیں ہو گا۔
میرے محترم عزیز! غور فرمائیے، یہ بات کس قدر مجاہدین کی ہمت کم کرنے والی ہے۔ 
مخلص، یحییٰ نعمانی
(مدیر ماہنامہ الفرقان، لکھنؤ)
(۷)
مکرم ومحترم مولانا یحییٰ نعمانی صاحب زید مجدکم
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے تبصرے کا بے حد شکریہ! القاعدہ کے وجود یا سرگرمیوں کے بارے میں آپ کے ارشادت کے بارے میں میرا تبصرہ وہی ہے جو ’الشریعہ‘ میں چھپ چکا ہے۔ 
افغانستان کے طالبان کے بارے میں اس نکتے سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بن لادن کے فتووں اور عزائم سے بہرحال واقف تھے اور اسی وجہ سے اس کے خلاف قانونی ثبوت نہ ہونے کے باوجود انھوں نے اس پر بعض قدغنیں لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس ضمن میں سریہ نخلہ کے واقعے سے استدلال شاید زیادہ درست نہیں۔ وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب سریہ کا طرز عمل سامنے آنے پر نہ تو اہل مکہ سے ’’قانونی ثبوت‘‘ مانگا اور نہ ان کے ارتکاب جرم کا انکار کر کے پردہ پوشی کی کوشش کی۔ آپ نے معاملے کے لحاظ سے جو اخلاقی وقانونی اقدام مناسب تھا، فرمایا اور مقتول کی دیت ادا کی۔ اس کے بعد اگر قریش قتل کا بدلہ لینے کے لیے حملہ کرتے تو یقیناًاس کا مقابلہ جہاد ہی ہوتا۔ طالبان کا طرز عمل اس سے بالکل مختلف تھا۔
بہرحال میں پچھلی بحث کے آخر میں، سامنے آنے والے بعض شواہد کی روشنی میں عرض کر چکا ہوں کہ ’’طالبان کو بعض وقتی اور محدود سیاسی مصالح کی قربانی دیتے ہوئے بن لادن کے معاملے میں زیادہ مضبوط، دو ٹوک اور ذمہ دارانہ موقف اختیار کرنا چاہیے تھا، لیکن انھیں القاعدہ کے پروگرام کے ساتھ ہمدردی یا اس کی خفیہ تائید کا مجرم بہرحال نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ مذکورہ پہلو سامنے آنے کے بعد طالبان کی حکمت عملی پر سخت تحفظات کے باوجود، میرے خیال میں ان کی موجودہ مزاحمت کی شرعی حیثیت کے بارے میں اشکال کی شدت نمایاں طور پر بہت کم ہو جاتی ہے، خاص طور پر جب یہ بات بھی سامنے رکھی جائے کہ نائن الیون کے بعد امریکہ کی طرف سے عالمی برادری اور مسلم دنیا کو کوئی متبادل حل تلاش کرنے کی مہلت اور موقع بالکل نہیں دیا گیا اور انتقام کے جوش میں طاقت کے اندھا دھند استعمال کو ہی واحد حل قرار دے دیا گیا۔‘‘
میرے خیال میں طالبان کو بن لادن کے معاملے کا فیصلہ نائن الیون سے بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا اور اگر وہ مستقبل میں بھی، تمام حقائق سامنے آجانے کے باوجود القاعدہ کو پناہ فراہم کرتے ہیں تو عدم علم کا عذر دوبارہ پیش کرنے کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔
آپ کے جذبات محبت پر بے حد شکر گزار اور آپ اور آپ کے خانوادے کے لیے دعاگو ہوں۔ واجرکم علی اللہ
محمد عمار خان ناصر
(۸)
محترم جناب محمد عمار خان ناصر صاحب 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
’’القاعدہ ،طالبان اور موجودہ افغان جنگ ۔ایک علمی و تجزیاتی مباحثہ‘‘ میں اپنی رائے کے ساتھ شرکت سے بوجوہ قاصر رہا۔ الشریعہ اکتوبر ۲۰۱۰ء میں مذکورہ مباحثہ دیکھا تو کچھ کہنے کو جی چاہا۔ کسی خاص رائے پر کوئی باقاعدہ تبصرہ مقصود نہیں، مباحثے میں سامنے والے مختلف خیالات پر اپنے چند احساسات پیش کر رہا ہوں۔
القاعدہ کو مفروضہ سمجھنا ایک خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ القاعدہ کی کاروائیاں اور اس کا جہادی زاوےۂ نظر ایک زمینی حقیقت ہے۔ اسے اس کے محسوس ومشاہد تناظر میں دیکھنے والے اسلام کے کسی طالب علم کو اس حقیقت میں کوئی کلام نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی کارروائیوں اور جہادی تصور سے اسلام کے اصول مطلقاً ابا کرتے ہیں۔ پاکستان کے وہ عسکری عناصر جو اندرون ملک پر تشدد کارروائیوں کو جائز سمجھتے ہیں، سخت تر مجرم ہیں۔ ان دونوں قسم کے گروہوں سے مطلقاً برأت کا اظہاراسلام، اسلامی اخلاقیات اور عالم اسلام، سب کے مفادات کا تقاضا ہے۔ مذکورہ حوالے سے آپ کے درد دل کی عکاس یہ دعا کہ: اللھم اجعلنا ممن یجاھرون بالحق ولا یخافون لومۃ لائم بڑے وسیع مضمرات کی حامل ہے، لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ہماری مذہبی قیادتیں خوف لومۃ لائم کا بری طرح شکار ہیں۔ یہ بدیہی طور پر لا الیٰ ھولاء ولا الیٰ ھولاء  کا مصداق ہیں۔ یہ بات کس قدر افسوس ناک ہے کہ اپنے ہاں کی دہشت گردی کو ہم دہشت گردی کہتے بھی ہیں اور اس کے خلاف زبان بھی نہیں کھولتے۔ کیا ’’حق گوئی و بے باکی‘‘ کا واحد معیار امریکی دہشت گردی کے خلاف لب کشائی ہی ہے؟ سچ یہ ہے کہ ہمارے یہاں امریکہ پر لعن طعن ایک آسان اور محفوظ راستہ ہے اور خود احتسابی اور اپنے گمرہوں کوان کی گمرہی پر متنبہ کرنے کی راہ نہایت مشکل اور پر خطر۔ اگر ہمارے اہل مذہب واقعتا’’ اللہ کے شیر‘‘ ہیں تو انہیں داخلی سطح پر ’’روباہی‘‘ ترک کرنے میں کون سا امر مانع ہے؟ محترم عمار صاحب! آپ پرخطر راستے پر نکل کھڑے ہوئے ہیں، لیکن حق یہ ہے کہ آپ نے’’آئین جوانمرداں‘‘ اختیار کیا ہے۔
نائن الیون کے بعد طالبان کی حکمت عملی کا بے بصیرتی پر مبنی ہونابعد میں تو نہایت کھل کر سامنے آگیا، لیکن اس زمانے میں بھی کئی صاحبان فکر نے اس طرف توجہ دلائی تھی۔ آپ نے بھی بعض حوالہ جات دیے ہیں۔ مجھے اب تک یاد ہے کہ ارشاد احمد حقانی مرحوم نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ اگر طالبان اسامہ کو امریکہ کے حوالے کر دیتے تو امریکہ کے پاس افغانستان پر حملے کا کوئی اخلاقی جواز نہ ہوتا۔ حقانی صاحب کے اس خیال کے حوالے یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ کا اسامہ کی حوالگی کے باوصف افغانستان پر جنگ مسلط کرنے باز آجانا ضروری نہ تھا، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس صورت میں امریکہ کو عالمی برادری کی وہ اخلاقی حمایت حاصل نہ ہوتی جو بصورت دیگر حاصل ہوئی۔اور اس صورت میں جنگ ہوتی بھی تو اس کے نتائج موجودہ نتائج سے بہت مختلف ہوتے اور اہل اسلام کو اتنا نقصان نہ پہنچتا۔
طاقت کے توازن کے تناظر میں بہتر حکمت عملی کی ضرورت کے حوالے سے بعض جذباتی عناصر غزوۂ بدر میں طاقت کے توازن کا حوالہ دینے لگتے ہیں، لیکن یہ لوگ اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ اس وقت اسلام کی بقا کا مسئلہ درپیش تھااور وہاں پسپائی کی حکمت عملی اسلام کے وجود کو مٹانے پر منتج ہوتی۔ اس کے برعکس جب اسلام کے وجود کو خطرہ نہیں تھاتو صلح حدیبیہ میں واضح طور پر پسپائی کی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ نائن الیون کے بعد اسلام کے وجود کو خطرہ لاحق نہیں تھا۔ بنابریں طالبا ن کو صلح حدیبیہ کو مشعل راہ بنانا چاہیے تھا۔
میرے نزدیک طالبان کے پوسٹ نائن الیون طرز عمل کو محض اجتہادی خطا سے تعبیر کرنا معاملے کی نوعیت کی سنگینی کے صحیح ادراک کا مظہر نہیں ہے۔ یہ خطا کسی فرد یا اجتہادی ادارے کی محدود اثرات کی حامل خطا نہیں ہے، یہ ’’لمحوں کی خطا اور صدیوں کی سزا‘‘ والا وہ بلنڈر تھا جو عالم اسلام کو بہت بڑی تباہی سے دوچار کرنے والا اور نہایت دور رس اثرات کا حامل تھا۔ لہٰذا معاملہ صرف اجتہادی خطا کا نہیں، ان لوگوں کی سخت ناپختہ دینی واسلامی تربیت کاہے۔ نائن الیون سے پہلے،طالبان کے دور اقتدار میں، ایک موقع پرمحترم قاضی حسین احمد صاحب نے ان کی اس ناپختگی کو واضح کرتے ہوئے ایک نہایت خوبصورت جملہ کہا تھا جو اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہوا اور بہت مشہور ہوا تھاکہ: ’’طالبان کو عالمان کی ضرورت ہے۔‘‘ لہٰذا طالبان کو طالبان ہی سمجھنا چاہیے، عالمان اور مجتہدین نہیں۔
عہد نبوی کی چھاپہ مار کارروائیوں سے القاعدہ اور دیگر جہادی عناصر کی چھاپہ مار کارروائیوں پر دلیل لاناایک بہت ہی خطرناک غلطی ہے۔ یہ جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام ہے۔ آنحضورؐ نے کبھی بھی کسی معاہد کے خلاف چھاپہ مار کارروائی کا حکم دیا نہ اجازت۔ آپ کی خفیہ کارروائیاں بالکلیہ حربی اور نقض عہد کے مرتکب افراداور گروہوں کے خلاف تھیں۔ ایک ریاست میں بیٹھ کر کسی دوسر ی ایسی ریاست کے خلاف، جس سے اول الذکر علانیہ بر سر جنگ نہ ہو، چھاپہ مار کارروائی اور وہ بھی مقاتلین اور غیر مقاتلین کا لحاظ رکھے بغیر بلکہ دونوں کو علی اعلان ایک ہی صف میں شامل کرتے ہوئے، کسی طرح شرعاً جائز قرار نہیں دی جا سکتی۔
ابو جندلؓ اور ابوبصیرؓ والے معاملے سے طالبان کے لیے رہنمائی کا پہلو نکلتا تھا تو وہ یہ نہیں تھا کہ وہ ایک ایسے ملک کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں کرنے والوں کو جو ان کے خلاف بر سر جنگ نہیں تھا، اپنے ہاں پناہ اور تحفظ دیتے اور ان کے لیے اپنی اسلامی ریاست (جس حدتک بھی اسے اسلامی کہا جاسکے) کی بھی قربانی دیتے اور اپنے برادر ہمسایوں پر بالخصوص اور عالم اسلام پر بالعموم تباہی مسلط کروانے کا موجب بنتے، بلکہ یہ تھا کہ وہ ریاست مدینہ کے سربراہ کی پیروی کرتے ہوئے انہیں اپنے پاس رکھنے سے انکار کر دیتے۔ وہ کہیں اور بیٹھ کر اپنا کام کر تے۔ تاہم بلا تشبیہ و مثال ان کی ’’کامیابیوں‘‘ کا پھل کھانا ہی ضروری تھا تو مشرکین مکہ کی مانند جب امریکہ ان سے تنگ آ جاتااور طالبان سے انہیں اپنے ہاں بلانے کی درخواست کرتااور طالبان بھی اس پوزیشن میں آگئے ہوتے کہ امریکہ کے خلاف ’’فتح مکہ‘‘ کی تاریخ دہرا سکیں تو ان کو اپنے اندر جذب کر کے کفار کے خلاف طبل جنگ بجا دیتے۔
مستقبل میں اگر طالبان کو دوبارہ برسر اقتدار آنے کا موقع ملتا ہے تو ان کے لیے بہترین صورت راقم کے نزدیک یہ ہے کہ وہ ’’طالبانہ‘‘ کے بجائے عالمانہ انداز فکرو عمل اپنائیں۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کے پاکستانی فکری رہنماان کی مخلصانہ مدد کریں اورانہیں ان کی کوتاہیوں کا احساس دلائیں اور ان کی اصلاح پر آمادہ کریں نہ کہ خود عالمان سے طالبان ہو جائیں کہ: اذا زلّ العالِم زلّ بزلّیہ عالَم۔ 
ڈاکٹر محمد شہباز منج
شعبہ اسلامیات، یونیورسٹی آف سرگودھا
drshahbazuos@hotmail.com
(۹)
’’القاعدہ ، طالبان اور موجودہ افغان جنگ ‘‘کے موضوع پر آپ نے الشریعہ کے صفحات میں جس دلچسپ ، فکر انگیز اور مفید مباحثے کا اہتمام کیا ہے، اس میں اخلاص، سنجیدگی اور شائستگی نمایاں نظر آرہی ہے۔ میرے خیال میں القاعدہ اور طالبان کو پڑھنا، سمجھنا اور ان سے سبق حاصل کرنا مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بحالی کے عزائم رکھنے والوں کے لیے نا گزیر ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اسلامی تحریکوں اور اسلامی حلقوں میں آزادانہ بحث و مباحثے، علمی تجزیات اور تنقید کا کلچر بالکل اجنبی بن چکا ہے جبکہ اﷲ کی بنائی ہوئی اس دنیا میں ملتوں کے داخلی استحکام، ترقی و عروج اور سر بلندی کا راستہ ان ہی کٹھنائیوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ فکری جمود فکری تعفن پیدا کر تا ہے اور آج ہمارے ہاں اس تعفن سے فضا اتنی معمور ہے کہ سانس لینا دو بھر ہو رہا ہے۔ آزادانہ ماحول نہ ہونے کی وجہ سے امت کی ترقی کے لیے فکر مند رہنے والے بہت سے قیمتی زہن اپنے ضمیر کے بوجھ میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، کیونکہ وہ حالات حاضرہ اپنے ضمیر کے مطابق بول اور لکھ نہیں پا رہے۔ جان کا خطرہ تو اتنی بڑی بات نہیں تھی، لیکن عدم بر داشت کے اس ماحول میں ایمان اور عزت پر بھی حملے کیے جا تے ہیں۔ اسلام دشمن ، ملک دشمن ، دین کا باغی، پاکستان کا غدار، یہود و نصاریٰ کا آلۂ کار اور را کا ایجنٹ، اس طرز کی غیر ذمہ دارانہ الزام تراشیاں زبان کی نوک پر رکھی ہوئی ہیں۔ ایسا معاشرہ اور ماحول جہاں دلیل کے جواب میں الزام تراشی ہو اور دلیل کے ساتھ کندھا ملا کر کھڑے ہونے کی ہمت کرنے والے چند ایک ہوں اور الزام تراشی کو پذیرائی دینے والا سارا زمانہ ہو تو پھر وہاں جھوٹ کا کاروبار چمک اٹھتا ہے۔ ایسا معاشرہ حقیقی لیڈروں سے آزاد ہو کر مداریوں کے ہاتھوں یرغمال ہوجا تا ہے ۔ راہزن ہی رہنما قرار پاتے ہیں۔ خواہشات اور افواہیں معتبر خبریں بن جاتی ہیں۔ سچائی اور حقیقتیں پروپیگنڈے کے دبیز پردوں میں چھپ جاتی ہیں۔ خبر کے اعتبار کو جاننے کا پیمانہ اپنی خواہشات اپنی پسند نا پسند اور اپنے سیاسی و مذہبی تعصبات بن جاتے ہیں۔ اگر خبر اس پیمانے پر پوری اتر رہی ہو تو امریکی تھنک ٹینکس کی رپورٹیں مغربی میڈیا کے تجزیات اور خبریں بھی قبول ہیں اور اگر اس معیار پر نہ ہوں تو امام کعبہ کے فتوے اور طالبان اور القاعدہ کے ترجمانوں کے بیانات کو بھی قابل اعتبار نہیں سمجھا جا تا۔
آپ کے زیر بحث موضوع پر کچھ نکات پیش خدمت ہیں۔ میرے خیال میں موجودہ افغان جہاد کی شرعی حیثیت اور القاعدہ اور طالبان کے کر دار کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے انھیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
(۱) القاعدہ اور طالبان رد عمل کی تحریکیں ہیں اور رد عمل میں اٹھنے والی تحریکیں ان مخصوص حالات سے اوپر اٹھ کر نہیں سوچ پاتیں جن حالات میں انھوں نے جنم لیا ہو تا ہے۔ ایسی تحریکوں کے نظریات اور پالیسیاں حالات کے جبر کے تحت پہلے بنتی ہیں اور انکی تائید میں آیتیں اور حد یثیں بعد میں جمع کی جاتی ہیں۔ ایسی تحریکیں امت مسلمہ کے تمام مسائل اور حقائق کو نہ تو کما حقہ ‘ سمجھتی ہیں اور نہ سمجھنے کی کوشش کر تی ہیں۔ کیونکہ اس طرح انکے نظریات اور پالیسیوں پر حرف آتا ہے۔ جنگ کی کوکھ سے جنم لینے والی تحریکوں کے پاس امت کے مسائل کا حل اسکے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ مار دو یا مر جاؤ۔ یہ بھی ایک بحث کا موضوع ہے کہ القاعدہ اور طالبان کے نظریات ، پالیسیوں اور اقدامات نے اسلام اور مسلمانوں کو کتنا فائدہ یا نقصان پہنچایا؟ اور اس پر بھی بات ہونا چاہیے کہ جدید دنیا میں مسلمانوں کے داخلی استحکام اور ترقی اور اسلام کی سر بلندی کے لیے کس قسم کی تحریک کی ضرورت ہے؟
(۲) اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ المعروف افغان جہاد کو بطور جہاد امریکہ نے متعارف کرایا نہ کہ علما نے۔ امریکہ نے ہی جہاد کی اہمیت اور فیوض و برکات کی طرف عالم اسلام کے مذہبی عناصر کو متوجہ کیا۔ امریکہ نے ہی اپنے تمام ذرائع و وسائل کو عالم اسلام میں جہادی روح پھونکنے پر لگایا اور کائنات کے سب سے بڑے طاغوت روس کو شکست دینے کے لیے مسلمان حکومتوں اور سرمایہ دارانہ بلاک کے تعاون سے وہ حالات پیدا کیے کہ دنیا بھر کے اسلام پسندوں کا افغان جنگ میں شریک ہونا آسان اور قابل فخر بن گیا۔ بالخصوص عرب دنیا سے لا تعداد افراد اپنے جان و مال کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے افغانستان میں جمع ہوئے انھیں عسکری تربیت اور اسلحہ بلوا سطہ یا بلاواسطہ امریکہ نے فراہم کیا۔ پاکستان اپنے محل وقوع کی وجہ سے اس جنگ میں خصوصی اہمیت حاصل کر گیا۔ حکمرانوں، سیاستدانوں ، ریاستی اداروں اور مذہبی قوتوں نے عرب دنیا اور امریکہ سے اپنے اپنے کر داروں کو کیش کرایا۔ یہ موضوع بھی قابل بحث ہے کہ انفرادی مفادات تو بہت حاصل کیے گئے، لیکن ملک و قوم کو اس دولت سے کتنا فائدہ پہنچایا گیا جو پانی کی طرح پاکستان کی طرف بہہ رہی تھی؟
(۳) امریکہ کے زیر اثر عالمی میڈیا نے اور عالمی میڈیا کے زیر اثر اسلامی میڈیا نے افغان جنگ کے عسکری رہنماؤں کو اسلام کا ہیرو بنا کر پیش کیا۔ یوں مسلمان معاشروں میں ان ہیروز کو تقدس اور ان کے فرمودات اور خیالات کو پذیرائی ملی۔ عارضی مقاصد کے لیے ان نظریات کی تشکیل میں اس قدر مبالغے سے کام لیا گیا جو جھوٹ کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔ ہر جہادی گروپ نے جو مختلف ایجنسیوں کی سر پرستی میں کام کر رہے تھے، اﷲ کی تائید و نصرت کی ایسی ایسی کہانیاں وضع کیں کہ ایک موقع پر میں نے بے ساختہ کہا تھا کہ اﷲ کی اتنی مدد تو اسلام کی اولین تحریک میں بھی نازل نہیں ہوئی جتنی کہ ہمارے ان ’’مجاہدین‘‘ کو میسر آرہی ہے۔ یہ صورتحال فطری نتیجہ اس بات کا تھا کہ اس جہاد کا آغاز علما کی رہنمائی میں نہیں غیر مسلم قوتوں کے مفادات کے لیے اور ان کی مدد اور رہنمائی میں ہوا تھا۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ کتنے لوگ جو میدان جہاد میں گئے اور ’’عالم دین ‘‘ اور ’’مفتی‘‘ بن کر نکلے اور ان علما اور مفتیان کرام کو روایتی علما سے کہیں زیادہ تقدس ، اعتبار اور پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہ بھی ایک توجہ طلب اور طویل بحث ہو سکتی ہے کہ حقیقی علما کو غیر مؤثر کر کے مصنوعی مذہبی قیادت تیار ہوئی جو مسلمان معاشروں پر مسلط ہو گئی ۔ حقیقی علما کی رہنمائی کو مذاق بنانے اور ریڈی میڈ علما کی رہنمائی اور پر وپیگنڈے کی وجہ سے معاشرے کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا۔ اخلاقی اقدار کمزور ہوئیں، جذباتیت اور سطحیت معاشرے کے ساتھ ایسی چمٹیں کہ زندگی کا ہر شعبہ تنزلی کا شکار ہونے لگا۔
(۴) طالبان روسی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں ہونے والی بد ترین خانہ جنگی میں پاکستانی ایجنسیوں کے تعاون سے ابھرنے والی ایک تحریک ہے۔ خطے کے معروضی حالات اور پاکستان کے ریاستی مفادات اور ضرورتیں طالبان کے وجود کا سبب بنیں، گویا کہ ’’ میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں‘‘۔ سیکولر عناصر کی پروڈکٹ پر اگر کوئی اسلامی ذہن رکھنے والا تحفظات کا اظہار کرے تو اکثر وہ بیجا نہیں ہوتے۔ بلاشبہ پاکستان کی دیو بند مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی مذہبی قیادت طالبان کی حمایت میں نظر آئی، لیکن ان حمایتوں کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ان میں ایک گروہ ان علما کا تھا جو اپنے تحفظات کے باوجود طالبان کی حمایت کر رہے تھے کیونکہ ان کے نزدیک وہ اسلام سے قریب تر اور افغانستان میں قیام امن کے لیے مفید تر تھے۔ ایک دوسرا گروہ پے رول پر تھا اور تیسرا گروہ ان سادہ لوح اور مخلص لوگوں کا تھا جو پروپیگنڈا سے متاثر ہو کر یہ سمجھتے تھے کہ افغانستان میں اسلامی انقلاب آگیا ہے۔ وہ ملا عمر کو عمر فاروق ؓ اور عمر بن عبد العزیزؓ کے ہم پلہ تو نہیں لیکن ان کے قریب قریب ضرورسمجھ رہے تھے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا کہ طالبان کا تمام کروفراور اقتدار بیرونی قوتوں کا مرہون منت تھا۔ یہ کوئی طویل المیعاد تعلیم و تربیت اور تزکیے کی مضبوط بنیادوں پرا بھرا ہو انقلاب نہیں تھا بلکہ عالمی اور علاقائی قوتوں کی مجبوریوں کی وجہ سے حادثاتی طور پر رونما ہوا تھا۔ طالبان اور ان کے حمایتی خوش فہمیوں میں مبتلا ہوئے، اپنی محدودیت اور اپنی کمزوریوں کا ادراک نہ کر سکے اور اپنی قوت کا غلط اندازہ لگایا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ حملوں کی ڈیڈ لائن دے رہا تھا اور پاکستان میں طالبان حکومت کے سفیر ملا ضعیف عالمی میڈیا کے سامنے انتہائی غیر سنجیدگی کے ساتھ سپر طاقت کے خلاف طنز کے تیر بر سا رہے تھے۔ طالبان قیادت اس نازک موقع پر سعودی عرب اور پاکستان جیسے محسنوں کے مشوروں کو بھی خاطر میں نہ لا سکی۔ یوں نہ صرف اپنے اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے بلکہ معصوم افغان عوام کو بدامنی کے ایک نئے دور میں داخل کرنے کا سبب بنے۔
’’مجھے رہزنوں سے غرض نہیں تیری راہبری کا سوال ہے‘‘
(۵) یہ سوال بھی اہم ہے کہ طالبان قیادت نے دوست ممالک اور اپنے دیگر خیر خواہوں پر القاعدہ اور اسکی قیادت کو کیوں ترجیح دی؟ کیا طالبان قیادت القاعدہ کے نظریات و افکار سے متاثر ہوچکی تھی۔ جو یقیناًفقہ حنفی سے مطابقت نہیں رکھتے تھے یا طالبان قیادت القاعدہ سے بلیک میل ہو رہی تھی کسی کمزوری کی وجہ سے اور کیا القاعدہ نے طالبان قیادت کو بزور قوت یر غمال بنا لیا تھا؟
(۶) طالبان کی اخلاقی پوزیشن کے بارے میں رائے قائم کر تے ہوئے بھی چند چیزوں کو پیش نظر رکھنا ہو گا مثلاً دوران خانہ جنگی بے دریغ قتل جبکہ مد مقابل نہ صرف مسلمان تھے بلکہ جہاد افغانستان کے ہیروز تھے۔ اسی طرح طالبان کا ٹھیٹ حنفی دیو بندی ہونا بھی واضح ہے وہ کسی دوسرے مکتبۂ فکر کو بشمول اہلحدیث بر داشت کرنے پر آمادہ نہیں تھے اس بات سے بھی طالبان کی اخلاقی حیثیت پر حرف آتا ہے کہ طالبان کے جھنڈے تلے افغانستان کے پختون جمع ہوئے تھے۔ پاکستان میں بھی جو لوگ طالبان کے ساتھ والہانہ اور جذبات وابستگی اور سیاسی حمایت کر رہے تھے ان میں سے بھی زیادہ تر کا تعلق پختونخواہ سے تھا جبکہ افغانستان کے فارسی بولنے والے طالبان کے حق میں اکثر منفی رائے دیتے پائے جاتے ہیں۔
(۷) بیسا کھیوں کے سہارے اٹھنے والی قوتیں اگر طاقت نہ پکڑیں تو مختلف قوتوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر رہ جاتی ہیں۔ افغانستان میں اس وقت بیک وقت کئی قوتیں اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ بھارت نے افغانستان کے راستے بلوچستان میں آزادی کی تحریک برپا کر رکھی ہے۔ پاکستان کو سیاسی و معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار کرنے والے انتہا پسند عناصر بھی کسی نہ کسی طرح پاکستان کی دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ خطے میں موجود انتہا پسندوں کا خاص ٹارگٹ پاکستانی ریاست ہے۔ ایمن الظواہری نے پاکستانی ریاست کو عملی اور آئینی دونوں اعتبار سے غیر اسلامی ریاست ثابت کرنے کے لیے پوری کتاب لکھ ڈالی ہے۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر حملے بھی اب معمول کی بات ہیں۔ ایسی صورتحال میں جبکہ غیر واضح ہے کہ افغانستان میں کون سا گروہ دانستہ یا نا دانستہ کسی کے مفادات کے لیے استعمال ہو رہا ہے، موجودہ جنگ کی شرعی حیثیت کے بارے میں مثبت فتویٰ دینا بہرحال محل نظر ہے۔
(۸) سیرت نبویؐ کا درس یہ ہے کہ کسی معاملے کا اصولی طور پر درست ہونا ہی کافی نہیں بلکہ نتائج کو پیش نظر رکھ کر اقدام کیا جائے گا۔ مکی دور میں اگر مسلمان مشرکین کے ظلم اور تشدد کے جواب میں تلوار اٹھا لیتے تو اصولی طور پر تو غلط نہ ہوتا، لیکن اسلامی تحریک کے لیے ایسا اقدام نتائج کے اعتبار سے تباہ کن ہو تا، اسی لیے رسول اﷲ ؐ نے مسلح اقدام کی حکمت عملی اختیار نہیں کی۔
(۹) طالبان قیادت کے اقدامات اور فیصلوں کے نتائج سامنے آچکے ہیں۔ صرف طالبان تحریک ہی اقتدار سے محروم نہیں ہو ئی بلکہ افغان عوام جو پہلے ہی تباہ حال تھے، مزید تباہ حال ہو رہے ہیں۔ امن و امان کی غیر یقینی صورتحال نے انفراسٹرکچر کی تعمیر، تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی اور معاشی و سیاسی استحکام سے افغان عوام کو محروم کر دیا ہے۔ پچھلی نسل کے بعد اب نئی نسل بھی جہالت کی تاریکیوں میں گم ہونے کو ہے۔ پاکستان کے افغان بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور اکثر قابل ترس زندگی بسر کر رہے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ ساتھ اب پاکستان بھی امن و امان کی بدترین صورتحال اور معاشی بد حالی کا شکار ہے۔ ایسے میں طالبان قیادت کی بصیرت اور دعوؤں پر کیونکر اعتبار کیا جا سکتا ہے؟
(۱۰) پاکستان میں القاعدہ اور طالبان کے زیر اثر اہل توحید کی قیادتیں اور عوام بین الا قوامی ایشوز کی طرف متوجہ ہیں، صرف زبانی احتجاج اور بلند بانگ دعوؤں کا کلچر فروغ پا چکا ہے۔ محراب و منبر جنکی بنیادی ذمہ داری و عظ و نصیحت تذکیہ و تذکیر تھی، وہ اپنے ہدف کی طرف متوجہ نہیں رہے۔ معاشرے میں اسلامی اقدار کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔ شرک کی قوتیں طاقتور ہو تی جا رہی ہیں۔ میڈیا آزادی کے ساتھ مغربی اور ہندو کلچر کا مبلغ بنا ہوا ہے۔ شرک و بدعات اور گمراہ کن عقائد و نظریات کو آزادی سے فروغ دے رہا ہے۔ ظلم و زیادتیاں عام ہیں۔ مہنگائی ، بیروزگاری قوم پر مسلط ہیں۔ گویا پاکستان اسلام سے ماضی کے مقابلے میں مزید دور ہو چکا ہے۔
القاعدہ، طالبان اور موجود افغان جنگ کے موضوع پر ’الشریعہ‘ کے صفحات میں ہونے والی بحث کے مندرجات کو براہ راست ٹچ کیے بغیر کچھ نکات سامنے رکھے ہیں۔ میں نے کوشش کی ہے کہ تسلیم شدہ حقائق کی بنیاد پر اپنے تجزیے کی عمارت کھڑی کروں تاکہ حوالے پیش کر کے گزارشات کو طویل نہ کرنا پڑے۔ 
سید عامر نجیب
مدیر ہفت روزہ ’حدیبیہ‘ کراچی
(۱۰)
(گزشتہ شمارے میں جناب مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے مکتوب میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع ؒ کی طرف سے تین طلاق کے مسئلے میں اہل حدیث کے مسلک پر فتویٰ دیے جانے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار فرمایا تھا جس پر ماہنامہ ’الفرقان‘ لکھنو کے مدیر مولانا محمد یحییٰ نعمانی کے توسط سے حکیم ظل الرحمن صاحب سے وضاحت کی درخواست کی گئی۔ اس ضمن میں مولانا نعمانی کی مختصر ای میل یہاں درج کی جا رہی ہے۔ مدیر)
مکرمی! السلام علیکم
حکیم ظل الرحمن صاحب سے فون پر کل بات ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ بات مولانا رضوان صاحب بانی دارالعلوم سبیل السلام کی کتاب ’’شعور حیات‘‘ سے نقل کی ہے۔ وہ ای میل استعمال نہیں کرتے، فون نمبر یہ ہے: 
00919540890067
والسلام
مخلص یحییٰ

ایں آہِ جگر سوزے در خلوت صحرا بہ!

محمد عمار خان ناصر

ڈاکٹر محمد فاروق خان بھی شہادت کے اس مقام پر فائز ہو گئے جو اس دنیا میں ایک مرد مجاہد کی سب سے بڑی تمنا ہو سکتی ہے۔ پچھلے تیس سال سے ہماری مذہبی اور عسکری قیادت ا س خطے میں جو کھیل کھیلتی چلی آرہی ہے، اس کے نتیجے میں مذہبی انتہا پسندی ’فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ‘ کی صورت میں اپنے منحوس سایے پوری قوم اور پورے ملک پر پھیلا چکی ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس کی بھینٹ چڑھنے والے پہلے فرد نہیں، لیکن انھوں نے ایک مذہبی دانش ور کی حیثیت سے دینی استدلال کے ساتھ جس جرات واستقامت اور بے خوفی کے ساتھ اس کے خلاف کلمہ حق مسلسل بلند کیے رکھا، اس کی کوئی دوسری مثال شاید موجود نہیں۔ 
میری ان سے پہلی ملاقات چند سال قبل غالباً اس وقت ہوئی جب وہ والد گرامی مولانا زاہد الراشدی کی ملاقات کے لیے گوجرانوالہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ ۲۰۰۱ء میں علما کے سیاست میں حصہ لینے، نجی جہاد اور اسلامی ریاست میں زکوٰۃ کے علاوہ ٹیکس کے جواز وعدم جواز کے حوالے سے جناب جاوید احمد غامدی کے نقطہ نظر پر والد گرامی مولانا زاہدالراشدی نے سنجیدہ لہجے میں ایک علمی تنقید لکھی تو الموردکے حلقہ فکر کی طرف سے اس کا خیر مقدم کیا گیا اور جناب معز امجد اور جناب خورشید احمد ندیم نے اس لب ولہجے پر والد گرامی کا شکریہ ادا کیا۔ اس مباحثے میں ڈاکٹر محمد فاروق خان بھی شریک ہوئے اور اسی نے ان کے دل میں والد گرامی کی ملاقات کی تحریک پیدا کی۔ چنانچہ وہ چند دوستوں کے ہمراہ گوجرانوالہ تشریف لائے اور اس سلسلے میں خوشی اور مسرت کے جذبات کا اظہار کیا۔
وسعت نظر اور کھلا پن ان کے شخصی مزاج اور ان کے فکری پس منظر، دونوں کا حصہ تھا۔ ان کی ابتدائی فکری تربیت جماعت اسلامی کے زیر اثر ہوئی، لیکن مذہبی سیاست کے رخ اور خاص طو رپر دور جدید کے سماجی وسیاسی مسائل کے حوالے سے اہل مذہب کی تعبیرات نے ان کے ذہن میں کئی سوالات پیدا کیے جن کا شافی جواب انھیں روایتی مذہبی فکر میں نہیں مل سکا۔ انھوں نے تلاش حق کے جذبے سے ان تمام نقطہ ہاے نظر اور مکاتب فکر کا مطالعہ کیا جو دور جدید میں کسی بھی حوالے سے مذہب کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس فکری سفر کے نتیجے میں انھیں مذہب کی تفہیم تشریح کے علمی منہج کے حوالے سے دبستان فراہی اور دور جدید کے زندہ مسائل کے حوالے سے اسلامی قانون کی تعبیر نو کے ضمن میں جناب جاوید احمد غامدی کے نتائج فکر نے مطمئن کیا۔ یہ اطمینان حاصل ہونے کے بعد ان کی تمام دینی ودعوتی اور سیاسی وسماجی سرگرمیوں کا محور ومرکز اسی فکر کا ابلاغ قرار پایا اور وہ گویا اس کی ترجمانی اور ترویج واشاعت کے لیے وقف ہو کر رہ گئے۔ تاہم ان کا یہ اطمینان اصولی اور عمومی نوعیت ہی کا تھا اور اس میں اندھی تقلید کا رنگ موجود نہیں تھا۔ ہر سوچنے سمجھنے والے آدمی کی طرح وہ خود بھی ان نتائج فکر پر غور کرتے رہتے تھے اور مختلف آرا سے خود اختلاف کرنے کے علاوہ اس ضمن میں کسی بھی جانب سے مثبت اور تعمیری تنقید کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ 
ڈاکٹر محمد فاروق خان نے سماج اور سیاست کے زندہ مسائل کے بارے میں دینی نقطہ نظر سے اپنی دعوت قوم تک پہنچانے کے لیے بھرپور جدوجہد کی اور یقیناًایک بڑے وسیع حلقے تک روشنی کا پیغام پہنچانے میں کامیاب رہے۔ ان کے فکری سفر نے ان پر واضح کر دیا تھا کہ اس وقت مسلم امہ کے تمام بنیادی مسائل کی جڑ اس پر طاری فکری جمود میں پیوست ہے اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ آزادانہ غور وفکر، مثبت تنقید اور مباحثہ ومکالمہ کا ایک کھلا ماحول پیدا کیا جائے تاکہ لوگوں کے لیے اپنے اپنے تعصبات سے آزاد ہو کر حالات اور مسائل کو ان کے درست تناظر میں دیکھنے کا موقع ملے اور سب لوگ کھلے ذہن کے ساتھ ایک دوسرے کے زاویہ نظر سے استفادہ کریں۔ ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں ہم نے گزشتہ کچھ عرصے سے اپنی بساط کی حد تک یہی مزاج اور فضا پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور ڈاکٹر صاحب اس پر مسلسل ہماری حوصلہ افزائی کرتے رہتے تھے، بلکہ بعض اوقات متفکر ہو کر پوچھتے تھے کہ ’الشریعہ‘ نے جو طرز اختیار کیا ہے، وہ ہمارے روایتی مذہبی حلقے کے فکر ومزاج اور ذہنی سانچے کے لیے بالکل اجنبی ہے، اس لیے آپ حضرات اس کو کب تک نبھا سکیں گے؟ 
ڈاکٹر صاحب مذہبی انتہا پسندی اور خاص طو رپر جہادی تنظیموں کے طرز عمل کے سخت ناقد تھے، تاہم یہ اختلاف ہمدردی اور خیر خواہی کا اختلاف تھا اور وہ نظم ریاست کے خلا ف برسر پیکار عناصر کو ہر حال میں کچل دینے کے بجائے حکمت اور دانش کے ساتھ انھیں راہ راست پر لانے کی خواہش رکھتے تھے۔ سوات کی تحریک طالبان کی اعلیٰ ترین قیادت کے ساتھ ان کے ذاتی روابط تھے اور وہ ان تعلقات کو حکومت اور طالبان کے مابین اعتماد کی فضا پیدا کرنے اور دونوں فریقوں کو گفتگو کی میز پر لانے کے لیے استعمال کرنے کی بھی کوشش کرتے رہے۔ کچھ عرصہ پہلے سرحد حکومت اور تحریک نفاذ شریعت محمدی کے مابین سوات میں امن وامان کے قیام اور نفاذ شریعت کے حوالے سے جو معاہدہ ہوا، ا س میں طالبان کی طرف سے سوات میں ایک اسلامی یونی ورسٹی کے قیام کی شرط بھی رکھی گئی تھی جس کے وائس چانسلر کے طور پر فریقین کے اتفاق سے ڈاکٹر محمد فاروق خان کا نام تجویز کیا گیا۔ یہ ان کے خلوص اور صلاحیت پر فریقین کے اعتماد کا ایک اظہار تھا۔ ڈاکٹر صاحب اس تعلیمی منصوبے کی ذمہ داری ملنے پر بے حد خوش تھے اور انھیں توقع تھی کہ خلوص، محنت اور حکمت کے ساتھ اس منصوبے پر کام کیا جائے تو نہ صرف اس علاقے کے شدت پسند مذہبی عناصر کو اعتدال اور حکمت کے راستے پر لایا جا سکتا ہے بلکہ یہ ادارہ دینی علو م کے ایسے ماہرین بھی معاشرے کو فراہم کر سکتا ہے جو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق اسلام کی نمائندگی کر سکیں۔ اس توقع اور امکان نے ڈاکٹر صاحب کو بہت پرجوش بنا دیا تھا اور وہ وائس چانسلر کے طور پر اپنے تقرر کے فوراً بعد اس کے تعلیمی پروگرام اور نصاب وغیرہ کی ترتیب وتدوین کے سلسلے میں متحرک ہو گئے تھے۔ 
ڈاکٹر صاحب نے اس سلسلے میں بعض دیگر ہم خیال وہم مزاج ساتھیوں کے علاوہ شخصی طورپر مجھ سے بھی رابطہ کیا اور کہا کہ دینی علوم کے شعبے کو صحیح نہج پر استوار کرنے کے لیے وہ مجھے اپنے ساتھ اس کام میں شریک کرنا چاہتے ہیں، اس لیے مجھے اپنی تمام دوسری مصروفیات اور سرگرمیوں کو جیسے بھی اور جس قیمت پر بھی سمیٹنا پڑے، سمیٹ کر سوات منتقل ہو جانا چاہیے۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ سوات میں اسلامی یونی ورسٹی کے قیام کی یہ تجویز کسی باقاعدہ غور وفکر کے نتیجے میں نہیں بلکہ ایک ہنگامی قسم کے سیاسی معاہدے کے تحت سامنے آئی ہے اور سردست اس کا مستقبل سر تا سر سیاسی صورت حال پر منحصر ہے، اس لیے اس پہلو کو نظر انداز کر کے جلد بازی میں کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اس نوعیت کے خدشات سے ڈاکٹر صاحب کے جوش اور لگن میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی اور یہ منصوبہ آخر دم تک ان کی توجہ اور مساعی کا مرکز رہا۔ بہرحال بعد میں یہ معاہدہ برقرار نہ رہ سکا اور معاملہ اس حد تک جا پہنچا کہ حکومتی رٹ قائم کر نے کے لیے سوات میں ایک بڑا فوجی آپریشن کرنا پڑا۔ آپریشن کی کامیابی اور تحریک طالبان سوات کی طاقت ٹوٹ جانے کے بعد وہی ہوا جو ہونا تھا۔ حکومتی حلقوں میں سوات کی مجوزہ یونیورسٹی کے حوالے سے یہ بحث پیدا ہو گئی کہ اس کی صورت گری ایک عام یونیورسٹی کی طرز پر کی جائے یا اسلامی یونیورسٹی کی نہج پر۔ اس کے علاوہ دوسری بہت سی بیوروکریٹک پیچیدگیوں نے اس معاملے کو الجھائے رکھا تا آنکہ ڈاکٹر فاروق خان کا وقت مقرر آ پہنچا اور وہ یہ حسرت دل میں لیے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یقیناًوہ آخری آدمی تھے جو اس یونیورسٹی کو اصل منصوبے کے مطابق اعلیٰ دینی تعلیم کی ایک معیاری درس گاہ بنانا چاہتے تھے۔ ان کے بعد حکومت یا بیورو کریسی کے ذمہ داران سے اس کی توقع کیونکر کی جا سکتی ہے!
ڈاکٹر صاحب انتہا پسند عناصر کی پالیسیوں پر بلا خوف لومۃ لائم اپنے ناقدانہ خیالات کا اظہار ہر فورم پر کرتے رہے۔ انتہا پسند عناصر کے ذہنی سانچے میں درمیان کے آدمی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ ان کے نزدیک کوئی شخص یا تو ان کے ساتھ ہوتا ہے یا ان کا دشمن، اس لیے ان سے اختلاف کرنے والا آدمی خواہ مولانا حسن جان اور مولانا نور محمد آف وانا ہو اور چاہے وہ کتنی ہی ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ ایسا کر رہا ہو، دشمن کے کیمپ کا آدمی ہی سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا معاملہ بھی یہی تھا۔ انتہا پسندوں کی طرف سے ہدف کے طو رپر ان کے نام کا اعلان کئی سال پہلے مولانا حسن جان شہید کے نام کے ساتھ کیا جا چکا تھا اور ڈاکٹر صاحب اس کے بعد سے گویا ہتھیلی پر جان رکھ کر اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھے۔ سوات کے آپریشن کے بعد خود کش حملوں کے لیے تیار کیے جانے والے جو بہت سے نوجوان پکڑے گئے، سرحد حکومت نے ان کے ذہنوں سے انتہا پسندی کے اثرات زائل کرنے اور درست رخ پر ان کی فکری تربیت کا سلسلہ شروع کیا تھا جس میں ڈاکٹر صاحب بھرپور اورمتحرک کردار ادا کر رہے تھے۔ غالباً ان کے اسی کردار سے مخالفین کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور ان کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دینے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ ان کی شہادت جرات وعزیمت، استقامت او رقربانی کا ایک قابل رشک نمونہ پیش کرتی ہے۔ انھوں نے شدید خطرے کے ماحول میں بھی نہ تو اپنے ضمیر کے مطابق کلمہ حق کہنا چھوڑا، نہ اظہار رائے میں کوئی مداہنت اختیار کی اور نہ اپنی سماجی ودعوتی سرگرمیوں ہی میں کسی قسم کی کوئی کمی کی۔ ان کی شہادت صرف ’المورد‘ کے حلقہ فکر کے لیے نہیں بلکہ حقیقت میں ملک وقوم، معاشرے اور دینی جدوجہد کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ 
اللہ تعالیٰ ان کی حسنات اور خدمات کو بہتر سے بہتر اجر کا مستحق بنائیں، ان کی انسانی لغزشوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائیں اور ان کے پس ماندگان کو مصیبت کے اس وقت میں صبر وحوصلہ اور ایمان واستقامت کی نعمت سے بہرہ ور فرمائیں۔ اللہم اغفر لہ وارحمہ واکرم نزلہ ووسع معدخلہ۔ اللہم اوجرنا فی مصیبتنا واخلفنا خیرا منہ۔ اللہم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ۔ آمین

گلہڑ کا اچھوتا اور حیران کن علاج

حکیم محمد عمران مغل

’’امراض وعلاج‘‘ کے عنوان سے پیچیدہ امراض کے علاج کے حوالے سے طب مشرق کے تجربات وتحقیقات پر مشتمل یہ سلسلہ کئی سال کے کے بعد دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ قارئین اسے مفید پائیں گے۔ (مدیر)

یہ واقعہ باغبان پورہ لاہور برف خانہ کا ہے۔ مریضہ کا چچا ایک نامی گرامی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے علاج کی پوری کوشش کی۔ آخری چارے کے طور پر تھائی راکسن کا ہی انتخاب ہوا۔ یاد رہے تھائی راکسن دوا پر جلی حروف میں ’’پوائزن‘‘ لکھا ہوا ہے۔ مریضہ کی ماں نے مجھے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ بچی کو جب یہ دوا دی جاتی ہے تو چار گھنٹے تک بچی دنیا ومافیہا سے بالکل بے خبر اور بے ہوش ہو جاتی ہے اور مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوتا۔ علاج کے باوجود بچی دن بدن ہڈیوں کا ڈھانچہ بنتی جا رہی ہے۔ ایف اے کی طالبہ ہے۔ پڑھائی چھڑوا دی گئی۔ بچی کا قد بھی رک گیا ہے اور کھانا پینا بھی ختم۔ گویا مریضہ ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کا مصداق بن چکی تھی۔
طبیہ کالج میں استاذ پروفیسر فتاح شاہد صاحب دامت برکاتہم آف مردان نے فرمایا تھا کہ ایک قابل لبیب اور حکیم وہ ہے کہ جس کے کوئی ایسا مریض آئے جس کی شفا یابی کی مطلب میں کوئی مستقل دوا موجود نہیں، لیکن وہ دیگر موجود ادویہ کی توڑ پھوڑ سے نسخہ تیار کر لے۔ مجھے استاذ صاحب کی یہ نصیحت بہت پسند آئی، چنانچہ مذکورہ مریضہ کے لیے میں نے دیگر ادویہ کی توڑ پھوڑ کر کے نسخہ ترتیب دیا جو تیر بہدف ثابت ہوا۔ یہ مکمل نسخہ آپ کسی درسی کتاب میں نہیں پڑھیں گے۔ مگر یاد رہے کہ ایسے مریض کے خاندانی پس منظر، ماضی اور حال سب سے آپ واقف ہوں۔ خورد ونوش، بود وباش، حرکات وسکنات، مریض کی پسند ناپسند بھی آپ کے علم میں ہونی چاہییں۔ تہذیب جدید کے تحت مریض کو پریشانی اور ٹینشن بالکل نہ ہو، ورنہ گلہڑ اپنا رنگ دکھائے گا کہ ا س مرض کا نفسیات سے گہرا تعلق ہے۔
لوہاری دروازہ لاہور میں ایک عورت بچپن میں یتیم ہو گئی تو بے چاری کو گلہڑ نے دبوچ لیا۔ بالغ ہوئی تو اس کی شادی کر دی گئی۔ چار بچوں کی ماں بن گئی۔ گلہڑ کی وجہ سے اس کی چھاتی اور گردن نظر نہیں آتی تھی۔ اس کے میاں انار کلی میں ایک ہوٹل چلا رہے تھے۔ تیس سال پہلے انھوں نے سعودی عرب اور مصر سے آٹھ آٹھ ہزار روپے کی دوائیں منگوا کر دیں، لیکن اصل بات تشخیص کی ہے۔ مجھ سے رابطہ کیا تو میں نے ایک ہفتہ تشخیص پر لگا دیا۔ پھر کہا کہ اس وقت علاج سے زیادہ ضرورت پرہیز اور طرز زندگی کے بدلنے کی ہے، اللہ کے فضل سے اس بیماری سے جان چھوٹ جائے گی۔ ایسا ہی ہوا۔ مذکورہ دونوں مریضہ اس وقت لاہور میں کامیاب زندگی سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔ دونوں کا علاج بالکل یکساں تھا۔
اس مرض میں کھٹی اور بادی اشیا بالکل بند کر دی جائیں تو نصف علاج آپ سے آپ ہو جاتا ہے۔ آج سے ہی آلو، گوبھی، چاول، دال ماش، فارمی مرغی، بند پیکٹوں میں ملنے والی بازاری اشیا، برف اور قابض چیزیں بند کر دیں۔ ہمیشہ پسینے میں تر رہیں۔ اگر اس مرض کا مادہ خون سے خارج نہ ہو تو آنے والے سالوں میں لاتعدد امراض کے لیے تیار رہیں۔ میں نے اپنے استاذ محترم کے فرمان کے مطابق ادویہ کے جوڑ توڑ سے جو نسخہ ترتیب دیا ہے، وہ حاضر خدمت ہے۔
۱۔ صبح شام کھانے کے بعد ایک ایک چاول رسکپور مدبر بالائی یا مکھن میں رکھ کر دیں۔ دانتوں کو نہ لگے۔
۲۔ بڑا چمچہ لعوق خیار شنبر اور لعوق سپستان، دونوں کو یکجان کر کے دن میں تین بار جب وقت ملے، استعمال کریں۔
۳۔ اطریفل زمانی رات کو سوتے وقت چھوٹی چمچ سادہ پانی یا عرق سونف کے ساتھ مستقل جاری رکھیں۔
کچھ ادویہ ہر مریض کے حالات کے تحت بھی دینی پڑتی ہیں۔ مثلاً شربت صدر، حب کبد نوشادری (اجمل دواخانہ کی)، خمیرہ ابریشم سادہ یا حکیم ارشد والا وغیرہ ۔ اگر علاج اصول کے تحت نہ ہو تو ذہنی صلاحیت کے ساتھ قد بھی رک جاتا ہے۔ حلوائی اور بیکری کی اشیا ایسے مریض کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔