موجودہ صورتحال میں علمائے دیوبند کا اجتماعی موقف
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ایک مدت کے بعد دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے سرکردہ علماے کرام کا ایک نمائندہ اجتماع جامعہ اشرفیہ لاہور میں ۱۵؍ اپریل جمعرات کو منعقد ہوا جس کی صدارت وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سربراہ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم نے فرمائی اور ملک بھر سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ علماے کرام نے شرکت کی۔ اس سے قبل پندرہ بیس کے لگ بھگ سرکردہ اہل علم نے جامعہ اشرفیہ میں ہی مسلسل مشاورت کی جو دو روز تک جاری رہی۔ اس میں ملک کی موجودہ صورت حال اور خاص طور پر علماے دیوبند کو مختلف جہات سے درپیش مسائل اور چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ایک مشترکہ موقف اعلامیہ کی صورت میں مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ قومی خود مختاری کے تحفظ، بیرونی مداخلت کے سدباب، ملک میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کے حوالے سے عملی پیش رفت اور دینی حلقوں کے درمیان مفاہمت کے فروغ کے سلسلے میں آئندہ حکمت عملی کے خدوخال طے کیے گئے۔ اس طویل مشاورت میں شریک ہونے والے حضرات میں حضرت مولانا سلیم اللہ خان، مولانا عبیداللہ اشرفی، مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا عبدالرحمن اشرفی، مولانا حافظ فضل الرحیم، مولانا مفتی عبدالرحیم، مولانا مفتی غلام الرحمن، مولانا فضل الرحمن ، مولانا سمیع الحق، مولانا عبدالحفیظ مکی، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا سید عبدالمجید ندیم، مولانا انوارالحق حقانی، مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا امداداللہ ، مولانا عبیداللہ خالد، مولانا محمد امجد خان اور راقم الحروف بھی شامل تھے۔
دو روزہ طویل مشاورت کے نتیجے میں مشترکہ اعلامیہ طے پایا جو مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے مرتب فرمایا اور اس کے مختلف نکات پر تفصیلی بات چیت کے بعد اس کی منظوری دی گئی اور پھر اسے ۱۵؍ اپریل کو ڈیڑھ سو کے لگ بھگ سرکردہ علماے کرام کے ہاؤس کے سامنے پیش کیا گیا اور اس پر بیسیوں علماے کرام نے اظہار خیال فرمایا جس کی روشنی میں اس میں متعدد ترامیم کے بعد اسے آخری شکل میں منظور کیا گیا جبکہ راقم الحروف کی مرتب کردہ قراردادیں بھی انہی مراحل سے گزر کر متفقہ طورپر منظور ہوئیں۔ اس موقع پر یہ بھی طے پایا کہ نفاذِ شریعت، ملکی سا لمیت و خودمختاری کے تحفظ، دینی مدارس کی جدوجہد کو موثر بنانے اور ان کے تحفظ اور اسلامی ثقافت و روایات کے دفاع کے لیے مشترکہ طو ر پر جدوجہد کی جائے گی اور اس کی خاطر مشترکہ مشاورتی اجتماعات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
مذکورہ اجتماع کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ موجودہ ملکی اور علاقائی صورت حال میں دیوبندی مکتب فکر کے علماے کرام کے متفقہ موقف کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی اسی اہمیت کی وجہ سے اسے یہاں ’کلمہ حق‘ کے طور پر شائع کیا جا رہا ہے۔
رئیس التحریر
بعد الحمد والصلوٰۃ!
ملک بھر کے علما کا یہ اجتماع عام مسلمانوں کے اس احساس میں برابر کا شریک ہے کہ ہمارا ملک جن گوناگوں مسائل سے دو چار ہے اور اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نفاذِ اسلام کے جس عظیم مقصد کے لیے یہ مملکت خداداد حاصل کی گئی تھی، اس کی طرف سے مجرمانہ غفلت برتی گئی ہے اور عملاً اسلامی نظام زندگی اور اسلامی نظام عدل کی طرف پیش قدمی کی بجائے ہم اس منزل سے دور ہوتے چلے گئے ہیں۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک بھر کے عوام ہمہ جہتی مسائل کی چکی میں پس رہے ہیں، دولت کی تقسیم کا نظام اس قدر مہیب ہے کہ ایک طرف دولتوں کے ڈھیر ہیں اور دوسری طرف لوگ فقر و افلاس سے مجبور ہو کر خودکشیاں کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں کسی کی جان و مال کو تحفظ نہیں ہے، قتل وغارت گری اور دہشت گردی سے ہر شخص سہما ہوا ہے اور مجرم دندناتے پھرتے ہیں، سرکاری محکموں میں رشوت ستانی اور بدعنوانی کا عفریت ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے اور عوام کے لیے اپنا جائز حق حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف بن گیا ہے۔ جو شخصیتیں ملک کا عظیم اثاثہ تھیں، وہ برملا قتل کی جاتی ہیں اور قاتلوں کو سزا نہیں دی جاتی۔ بے گناہ بچوں کو دھڑلے سے اغوا کیاجاتا ہے اور ملوث افراد کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ ناقص منصوبہ بندی کے نتیجے میں مہنگائی اور بجلی کی قلت نے عوام کو عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے جس سے بے روزگاری میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری طرف ہمارے ملک کے بہترین وسائل ان عوامی امنگوں کو دور کرنے اور ان کے اسباب کا ازالہ کرنے کی بجائے امریکہ کی مسلط کی ہوئی جنگ میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے خرچ ہو رہے ہیں جبکہ امریکہ کی طرف سے ہماری سرحدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر کے ان ڈرون حملوں کا سلسلہ برابر جاری ہے جن میں ہمارے بے گناہ شہریوں، عورتوں او ر بچوں کی بہت بڑی تعداد شہید ہو کر بستیاں اجڑ چکی ہیں اوریہ بات واضح ہے کہ امریکہ نے اپنی بالادستی قائم کرنے اور عالم اسلام کے وسائل پر قبضہ کرنے اور اسلام اور امت مسلمہ کے تہذیب و تمدن کو تباہ کرنے کی کاروائیوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر جگہ جگہ مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے اور خود ہمارے شہریوں کے ساتھ امریکہ میں بدترین ذلت آمیز سلوک کیا جاتا ہے اور امریکہ مسلسل ہمارے بجائے بھارت کو نوازتے رہنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
اس سب کے باوجود حکومت کی پالیسیوں میں امریکی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ملکی مفادات کو بے دھڑک قربان کیا جا رہا ہے۔ جب اجتماعی سطح پر مسلمانوں کو اس قسم کے مسائل در پیش ہوں تو اس وقت بطور خاص اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے اس کی نافرمانیوں سے بچا جائے، لیکن ان حالات میں بھی ملک میں بددینی کو فروغ مل رہا ہے، عریانی و فحاشی پر کوئی روک نہیں، نفاذ شریعت کی پرامن کوششوں کو درخوراعتنا ہی نہیں سمجھا جاتا اور سود ، قمار اور دوسری محرمات کو شیر مادر سمجھ لیا گیا ہے۔ ان تمام حالات میں ملک کے درد مند مسلمان سخت بے چینی کا شکار ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسا دین عطا فرمایا ہے جس میں نہ مایوسی کی کوئی گنجائش ہے اور نہ بے عملی کی۔ لہٰذا یہ تمام حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ملک کے ارباب حل وعقد اور عوام ایک دوسرے کو نشانہ ملامت بنانے کی بجائے مل جل کر اپنے طرزعمل میں انقلابی تبدیلیاں لائیں، اسی طرح ملک کی کشتی گرداب سے نکل سکتی ہے۔ اسی غرض کے لیے علماے کرام کایہ اجتماع بلایا گیا تھا کہ وہ اس صورت حال پر غور کر کے قرآن و سنت کی روشنی میں وہ طریقے تجویز کریں جو ملک کو اس صورت حال سے نکالنے کے لیے ضروری ہیں۔ چنانچہ یہ اجتماع متفقہ طو ر پر سمجھتا ہے کہ مندر جہ ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
۱۔ اس بات پر ہمارا ایمان غیر متزلزل ہے کہ اسلام ہی نے یہ ملک بنایا تھا اور اسلام ہی اسے بچا سکتا ہے، لہٰذا حکومت کا فرض ہے کہ وہ ملک میں اسلامی تعلیمات اور قوانین کو نافذ کرنے کے لیے موثر اقدامات کرے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طر ف سے ہمارا دینی فریضہ بھی ہے اور ملک کے آئین کا اہم ترین تقاضا بھی اور اسی کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ملک میں انتہاپسندی کی تحریکیں اٹھی ہیں۔ اگر ملک نے اپنے مقصد وجود کی طرف واضح پیش قدمی کی ہوتی تو ملک اس وقت انتہا پسندی کی گرفت میں نہ ہوتا، لہٰذا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے کہ پرامن ذرائع سے پوری نیک نیتی کے ساتھ ملک میں نفاذ شریعت کے اقدامات کیے جائیں۔ اس غرض کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور فیڈرل شریعت کورٹ کو فعال بنا کر ان کی سفارشات اور فیصلوں کے مطابق اپنے قانونی اور سرکاری نظام میں تبدیلیاں بلا تاخیر لائی جائیں اورملک سے کرپشن، بے راہ روی او ر فحاشی و عریانی ختم کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔
۲۔ تمام سیاسی اور دینی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے دوسرے مقاصد پر نفاذ شریعت کے مطالبے کو اولیت دے کر حکومت پردباؤ ڈالیں اور اس غرض کے لیے موثر مگر پر امن طور پر جدوجہد کا اہتما م کریں اور عوام کا فرض ہے کہ جو جماعتیں اور ادارے اس مقصد کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ، ان کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
۳۔ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کو قرار دیا جا رہا ہے اوراس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی نے ملک کو اجاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی۔ جگہ جگہ خود کش حملوں اور تخریبی کاروائیوں نے ملک کو بدامنی کی آماجگاہ بنایا ہوا ہے۔ ان تخریبی کاروائیوں کی تمام محب وطن حلقوں کی طرف سے بار بار مذمت کی گئی ہے اور انہیں سراسرناجائز قرار دیا گیا ہے، لیکن اس تمام مذمت کے باوجود یہ کاروائیاں مستقل جاری ہیں۔ لہٰذا اس صورتحال کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر ملک بھر کی متفقہ مذمت اور فوجی طاقت کے استعمال کے باوجود یہ کاروائیاں کیوں جاری ہیں اور اس کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟ ہماری نظر میں اس صورت حال کا بہت بڑا سبب وہ افغان پالیسی ہے جو جنرل پرویز مشرف صاحب نے غلامانہ ذہنیت کے تحت کسی تحفظ کے بغیر شروع کر دی تھی اور آج تک اسی پر عمل ہوتا چلا آ رہا ہے جب کہ یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ اس نے ہمارے ملک کو زخمی کرنے کے سوا کوئی خدمت انجام نہیں دی۔ لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت امریکہ نوازی کی اس پالیسی کو ترک کر کے افغانستان کی جنگ سے اپنے آپ کو بالکل الگ کرے اور امریکی افواج کو مدد پہنچانے کے تمام اقدامات سے دستبردار ہو۔
۴۔ لیکن یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کا مطلب یہ نہیں ہم خود اپنے گھر کو آگ لگا بیٹھیں، لہٰذا ہم پورے اعتماد اور دیانت کے ساتھ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں نفاذ شریعت اور ملک کو غیر ملکی تسلط سے نجات حاصل کرنے کے لیے پرامن جدوجہد ہی بہترین حکمت عملی ہے اور مسلح جدوجہد شرعی اعتبار سے غلط ہونے کے علاوہ مقاصد کے لیے بھی سخت مضر ہے اور اس کا براہ راست فائدہ ہمارے دشمنوں کو پہنچ رہا ہے اور امریکہ اسے اس علاقے میں اثر و رسوخ کو دوام بخشنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اگر کوئی شخص اخلاص کے ساتھ اسے دین کا تقاضا سمجھتا ہے تو یہ اجتماع اس بات پر اتفاق کرتا ہے کہ ایسے حضرات کو حالات کے تقاضو ں اور ضرورتوں سے آگاہ کر کے مثبت کردار کی ادائیگی پر آمادہ کرنے کے لیے ناصحا نہ اور خیرخواہانہ روش اختیار کی جائے۔
۵۔ حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ اس بات کا احساس کرے کہ اندرونی شورشوں کاپائیدار حل بالآخر پر امن مذاکرات کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ چنا نچہ ملک کی پارلیمنٹ نے اس موضوع پر اپنی متفقہ قرار داد میں ایک طرف سابق حکمرانوں کی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے اور ڈرون حملوں اورغیر ملکی مداخلت کے بارے میں قومی خودمختاری کے تحفظ پر زور دیا تھا اور دوسری طرف اندرونی شورش کے لیے مذاکرات کا ہی طریقہ تجویز کیا تھا، لیکن پارلیمنٹ کی اس قرار داد کوعملاً بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے، لہٰذا حکومت کافرض ہے کہ وہ اس قرارداد کے مطابق اپنی حکمت عملی کو تبدیل کر کے خانہ جنگی کا خاتمہ کرے۔
۶۔ دینی مدارس کا فرض یہ ہے کہ وہ تعلیم و تربیت سے متعلق اپنے اصل مقاصد تک ا پنی توجہ مرکوز رکھیں اور اس نظام کوزیادہ موثر بنانے کی پوری کوشش کریں جس سے اپنے زیر تربیت افراد میں تدین، امانت اور سچائی کی اس طرح روش پیدا کریں کہ وہ اسلام کے زریں اصولوں کی صحیح عملی تصویر اور آئینہ دار ہوں اور مجسم دعوت و تبلیغ کاذریعہ بنیں۔
۷۔ عام مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مشکلات اور مصائب کا اصل حل اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ساتھ اس کی رحمتیں حاصل نہیں کی جا سکتیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ہر طرح کے گناہوں سے توبہ کر کے رشوت ستانی اور ہر طرح کی حرام آمدنی، بے حیائی اور فحاشی، جھوٹ اور دنیوی اغر اض کے لیے باہمی جھگڑوں سے پرہیز کریں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے رجوع کی طرف متوجہ ہوں ، شرعی فرائض کو بجا لائیں اور اتباع سنت کا اہتمام کریں۔
ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا انتقال
گزشتہ ماہ کے دوران ملک کے معروف مذہبی دانش ور محترم ڈاکٹر اسراراحمد صاحب کا رات انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی وفات سے پاکستان میں نفاذ شریعت کی جدوجہد ،جس کا میں خود بھی ایک کارکن ہوں، ایک باشعور اور حوصلہ مند رہنما سے محروم ہوگئی۔ میری ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اس جدوجہد کے حوالے سے طویل رفاقت رہی ہے اور بہت سی تحریکات میں اکٹھے کام کرنے کا موقع ملا۔
انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز جمعیت طلبہ سے کیا اور پھر جماعت اسلامی کے قافلے کا حصہ بنے، مگر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے بعض افکار اور طریق کار سے اختلاف کے باعث الگ ہو گئے۔ جماعت اسلامی سے اپنا راستہ الگ کیا، لیکن نفاذ اسلام کی جدوجہد سے دست برداری اختیار نہیں کی اور آخر وقت تک مصروف عمل رہے۔ اس بڑھاپے میں نفاذ شریعت کے لیے ان کی تڑپ اور محنت قابل رشک تھی جسے دیکھ کر جوانوں کو بھی حوصلہ ملتا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندی ؒ نے برطانوی استعمار کے خلاف آزادی وطن کی جدوجہد میں مالٹا جزیرے میں ساڑھے تین سال کی قید و بند کے بعد واپسی پر اپنی جدوجہد کا جو راستہ اختیار کیاتھا، وہی اس محنت کا صحیح راستہ ہے اور وہ خود کو شیخ الہند ؒ کی اس تحریک کا تسلسل قرار دیتے ہوئے آخر عمر تک اس پر گامزن رہے۔
مالٹا جزیرے میں ساڑھے تین سال گزارنے کے بعد شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندی ؒ واپس ہندوستان پہنچے تو انھوں نے برطانوی استعمار کے خلاف مسلح جدوجہد کا راستہ ترک کر کے پر امن جدوجہد کا راستہ اختیار کیا اور اپنے پیروکاروں کو تلقین کی کہ وہ اب ہتھیار اٹھانے کی بجائے آزادی وطن کے لیے سیاسی جدوجہد کریں اور پرامن عوامی جدوجہد کے ذریعے آزادی کی منزل کی طرف پیش رفت کریں۔ اس موقع پر شیخ الہند ؒ نے، جو نہ صرف اس وقت دیوبندی فکر اور تحریک کے سب سے بڑے قائد تھے بلکہ اب بھی انہیں دیوبند ی مسلک کے تمام داخلی مکاتب فکر میں متفقہ قائد کی حیثیت حاصل ہے، آئندہ جدوجہدکے لیے تین نکات کا ایجنڈا پیش کیا:
* مسلمان باہمی اختلافات سے گریز کرتے ہوئے متحدہ کردار ادا کریں۔
* قرآن کریم کی تعلیمات کے فروغ اور عام مسلمان کو قرآن کریم سے شعوری طور پر وابستہ کرنے کے لیے ہر سطح پر دروس قرآن کا اہتمام کیا جائے۔
* مسلمان اپنے شرعی معاملات طے کرنے کے لیے امارت شرعیہ کا قیام عمل میں لائیں اور ایک باقاعدہ امیر منتخب کر کے اس کی اطاعت میں کام کریں۔
ڈاکٹر اسرا ر احمد کا موقف تھا کہ وہ شیخ الہند ؒ کے اسی تین نکاتی پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں جبکہ ان کے بقول شیخ الہند ؒ کے تلامذہ اور ان کے حلقے کے لوگ اس ایجنڈے پر قائم نہیں رہ سکے۔ ڈاکٹر اسرار احمد کے اس موقف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ وہ خود اسی ایجنڈے پر کام کرتے رہے اور انہوں نے اس مقصد کے لیے ملک بھر میں احباب اور رفقا کاایک پورا حلقہ تیار کیا تھا جو اب ’’تنظیم اسلامی‘‘ کے نام سے ڈاکٹر صاحب کے فرزند جناب حافظ محمد عاکف سعید کی امارت میں متحرک اور سرگرم عمل ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے قرآن فہمی کے ذوق کو فروغ دیااور ہر سطح پر اس کے حلقے قائم کیے۔ انہوں نے قرآن کالج کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کا قرآن کریم کے ساتھ فہم و شعور کا تعلق قائم کرایا۔ لاہور میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے ذوق اور رہنمائی کے مطابق قرآن کریم کے دروس کے آغاز کا اعزاز شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اوران کے تلامذہ کو حاصل ہے، مگر ان کے حلقہ سے باہر اس ذوق کو بڑھانے میں اگر میری اس بات کو مبالغہ پر محمول نہ کیا جائے تو ڈاکٹر اسرار احمد کی جدوجہد سب سے نمایاں نظر آتی ہے۔
وہ نفاذ شریعت کی ہر جدوجہد اور تحریک کاحصہ رہے اور انہوں نے اسلامی تحریکات میں ہمیشہ ہر اول دستہ کاکردار ادا کیا۔ انہوں نے نفاذ اسلام کے لیے مسلسل جدوجہد ہی نہیں کی بلکہ اسلامی نظام کی اصل اصطلاح خلافت کو زندہ رکھنے اور نئی نسل کو خلافت کی اصطلاح سے مانوس کرنے کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ ایک امیر کی بیعت اور اس کی اطاعت میں کام کرنے کی ترغیب دیتے رہے اور ان کا زندگی بھر اصرار رہا کہ ایک امیر اور اس کے ساتھ سمع و طاعت کا تعلق دینی تقاضوں میں سے ہے۔ وہ خلافت، امام مہدی کے ظہور اور ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے حوالہ سے بعض تعبیرات میں تفرد بھی رکھتے تھے جس سے بہت سے علمائے کرام کو اتفاق نہیں تھا۔ خود راقم الحروف نے بھی ان متعدد ملاقاتوں میں ان کی بعض تعبیرات پر تحفظات کا اظہار کیا، لیکن ان کا خلوص اور اپنے مشن کے ساتھ ان کی بے لچک اور جذباتی وابستگی ہمیشہ قابل احترام اور قابل رشک رہی۔ وہ میرے بزرگ دوست تھے ، تحریک نفاذ اسلام کے فکری رہنما تھے اور شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے ایک ایسے عقیدت مند تھے جو آج کے دور میں بھی شیخ الہند ؒ کانام لینے اور انہیں رہنما قرار دینے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا انتقال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
گزشتہ ماہ کے دوران ملک کے معروف مذہبی دانش ور محترم ڈاکٹر اسراراحمد صاحب کا رات انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی وفات سے پاکستان میں نفاذ شریعت کی جدوجہد ،جس کا میں خود بھی ایک کارکن ہوں، ایک باشعور اور حوصلہ مند رہنما سے محروم ہوگئی۔ میری ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اس جدوجہد کے حوالے سے طویل رفاقت رہی ہے اور بہت سی تحریکات میں اکٹھے کام کرنے کا موقع ملا۔
انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز جمعیت طلبہ سے کیا اور پھر جماعت اسلامی کے قافلے کا حصہ بنے، مگر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے بعض افکار اور طریق کار سے اختلاف کے باعث الگ ہو گئے۔ جماعت اسلامی سے اپنا راستہ الگ کیا، لیکن نفاذ اسلام کی جدوجہد سے دست برداری اختیار نہیں کی اور آخر وقت تک مصروف عمل رہے۔ اس بڑھاپے میں نفاذ شریعت کے لیے ان کی تڑپ اور محنت قابل رشک تھی جسے دیکھ کر جوانوں کو بھی حوصلہ ملتا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندی ؒ نے برطانوی استعمار کے خلاف آزادی وطن کی جدوجہد میں مالٹا جزیرے میں ساڑھے تین سال کی قید و بند کے بعد واپسی پر اپنی جدوجہد کا جو راستہ اختیار کیاتھا، وہی اس محنت کا صحیح راستہ ہے اور وہ خود کو شیخ الہند ؒ کی اس تحریک کا تسلسل قرار دیتے ہوئے آخر عمر تک اس پر گامزن رہے۔
مالٹا جزیرے میں ساڑھے تین سال گزارنے کے بعد شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندی ؒ واپس ہندوستان پہنچے تو انھوں نے برطانوی استعمار کے خلاف مسلح جدوجہد کا راستہ ترک کر کے پر امن جدوجہد کا راستہ اختیار کیا اور اپنے پیروکاروں کو تلقین کی کہ وہ اب ہتھیار اٹھانے کی بجائے آزادی وطن کے لیے سیاسی جدوجہد کریں اور پرامن عوامی جدوجہد کے ذریعے آزادی کی منزل کی طرف پیش رفت کریں۔ اس موقع پر شیخ الہند ؒ نے، جو نہ صرف اس وقت دیوبندی فکر اور تحریک کے سب سے بڑے قائد تھے بلکہ اب بھی انہیں دیوبند ی مسلک کے تمام داخلی مکاتب فکر میں متفقہ قائد کی حیثیت حاصل ہے، آئندہ جدوجہدکے لیے تین نکات کا ایجنڈا پیش کیا:
- مسلمان باہمی اختلافات سے گریز کرتے ہوئے متحدہ کردار ادا کریں۔
- قرآن کریم کی تعلیمات کے فروغ اور عام مسلمان کو قرآن کریم سے شعوری طور پر وابستہ کرنے کے لیے ہر سطح پر دروس قرآن کا اہتمام کیا جائے۔
- مسلمان اپنے شرعی معاملات طے کرنے کے لیے امارت شرعیہ کا قیام عمل میں لائیں اور ایک باقاعدہ امیر منتخب کر کے اس کی اطاعت میں کام کریں۔
ڈاکٹر اسرا ر احمد کا موقف تھا کہ وہ شیخ الہند ؒ کے اسی تین نکاتی پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں جبکہ ان کے بقول شیخ الہند ؒ کے تلامذہ اور ان کے حلقے کے لوگ اس ایجنڈے پر قائم نہیں رہ سکے۔ ڈاکٹر اسرار احمد کے اس موقف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ وہ خود اسی ایجنڈے پر کام کرتے رہے اور انہوں نے اس مقصد کے لیے ملک بھر میں احباب اور رفقا کاایک پورا حلقہ تیار کیا تھا جو اب ’’تنظیم اسلامی‘‘ کے نام سے ڈاکٹر صاحب کے فرزند جناب حافظ محمد عاکف سعید کی امارت میں متحرک اور سرگرم عمل ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے قرآن فہمی کے ذوق کو فروغ دیااور ہر سطح پر اس کے حلقے قائم کیے۔ انہوں نے قرآن کالج کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کا قرآن کریم کے ساتھ فہم و شعور کا تعلق قائم کرایا۔ لاہور میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے ذوق اور رہنمائی کے مطابق قرآن کریم کے دروس کے آغاز کا اعزاز شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اوران کے تلامذہ کو حاصل ہے، مگر ان کے حلقہ سے باہر اس ذوق کو بڑھانے میں اگر میری اس بات کو مبالغہ پر محمول نہ کیا جائے تو ڈاکٹر اسرار احمد کی جدوجہد سب سے نمایاں نظر آتی ہے۔
وہ نفاذ شریعت کی ہر جدوجہد اور تحریک کاحصہ رہے اور انہوں نے اسلامی تحریکات میں ہمیشہ ہر اول دستہ کاکردار ادا کیا۔ انہوں نے نفاذ اسلام کے لیے مسلسل جدوجہد ہی نہیں کی بلکہ اسلامی نظام کی اصل اصطلاح خلافت کو زندہ رکھنے اور نئی نسل کو خلافت کی اصطلاح سے مانوس کرنے کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ ایک امیر کی بیعت اور اس کی اطاعت میں کام کرنے کی ترغیب دیتے رہے اور ان کا زندگی بھر اصرار رہا کہ ایک امیر اور اس کے ساتھ سمع و طاعت کا تعلق دینی تقاضوں میں سے ہے۔ وہ خلافت، امام مہدی کے ظہور اور ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے حوالہ سے بعض تعبیرات میں تفرد بھی رکھتے تھے جس سے بہت سے علمائے کرام کو اتفاق نہیں تھا۔ خود راقم الحروف نے بھی ان متعدد ملاقاتوں میں ان کی بعض تعبیرات پر تحفظات کا اظہار کیا، لیکن ان کا خلوص اور اپنے مشن کے ساتھ ان کی بے لچک اور جذباتی وابستگی ہمیشہ قابل احترام اور قابل رشک رہی۔ وہ میرے بزرگ دوست تھے ، تحریک نفاذ اسلام کے فکری رہنما تھے اور شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے ایک ایسے عقیدت مند تھے جو آج کے دور میں بھی شیخ الہند ؒ کانام لینے اور انہیں رہنما قرار دینے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
اسلامی اخلاقیات کے سماجی مفاہیم (۲)
پروفیسر میاں انعام الرحمن
(’’راہ عمل‘‘ کا ایک مطالعہ۔)
خالد سیف اللہ صاحب خواہ مخواہ کی قانونی موشگافیوں میں الجھنے کے بجائے اسلامی تعلیمات اور صدرِ اسلام کے واقعات سے استدلال کرکے چھوٹے چھوٹے نتایجِ فکر ، قارئینِ کے سامنے رکھتے جاتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کسی نظامِ حیات کا کوئی ایسا واحد بڑا سچ نہیں ہوتا جس کے بل بوتے پر مقصود سماج کی تشکیل کی جا سکتی ہو ، بلکہ ہوتا یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے سچ اکھٹے ہوکر ایک بڑی سچائی کے ظہور کا سبب بنتے ہیں ۔ اس لیے ہمارے ممدوح کا طرزِ استدلال عملی مثالی اور قابلِ تحسین ہے ۔ اس سلسلے کا ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے :
’’ جب مدینہ میں ۸۰؍اشخاص نے اسلام قبول کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تربیت کے لیے حضرت معصب بن عمیرؓ کو بھیجا ، اس سے معلوم ہوا کہ کم سے کم ہر ۸۰/ مسلمان پر ایک عالم ہونا چاہیے ‘‘ (ج۲، ح۵، ص۲۵)
زیرِ نظر تالیف کی امتیازی خصوصیت یہی ہے کہ خالد سیف اللہ صاحب رحمانی ’’لٹھ ملا‘‘ کے سے انداز میں اسلام کا فقط قانونی پہلو ملحوظ رکھتے ہوئے ’’فتوی‘‘ دیتے نظر نہیں آتے بلکہ موصوف کی نگاہِ انتخاب نے دینِ اسلام کی سماجی جہت اور اس سے وابستہ اخلاقی قدروں کی صباحتوں کو بہت نمایاں ، نہایت اجلا ااور عطر بار کیا ہے ۔اس لیے قرآن و سنت کے وہ اہم پہلو جو علما کی نگاہِ ناز سے عموماََ اوجھل رہ جاتے ہیں، خالد صاحب کی نظر میں خاص طور پر جچے ہیں:
’’ ایک صاحب کا مقدمہ خدمتِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میں آیا ۔ گواہان نہیں تھے، اس لیے فریقین کا بیان سن کر آپ نے ایک کے حق میں فیصلہ فرمایا۔ پھر فرمایا کہ ممکن ہے کہ میں نے تمہاری چرب زبانی سے متاثر ہو کر تمہارے حق میں فیصلہ کر دیا ہو۔ حال آں کہ فی الحقیقت وہ زمین تمہاری نہ ہو، تو اگر ایسا ہو تو یہ تمہارے حق میں زمین کا نہیں بلکہ جہنم کا ٹکڑا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سننی تھی کہ وہ صاحب زمین سے دست بردار ہو گئے اور دوسرے فریق نے بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بالآخر آپ نے وہ زمین دونوں میں نصف نصف تقسیم فرمائی۔ اس لیے جب تک دل کی دنیا نہ بدلے اور بنیادی فکر اور سوچ میں انقلاب نہ آئے، سماج کو جرایم سے پاک کرنا ممکن نہیں۔‘‘ (جرایم ۔۔مرض اور علاج: ج۲، ح۴، ص۸۶)
کسی بگڑے ہوئے سماج میں ، دور رس ، ثمر آور اور دیرپا تبدیلی کے لیے ، فقط قانون کے نفاذ کے بجائے دل کی دنیا بدلنے کی نبوی حکمت سے فیض یاب ہوتے ہوئے، خالد صاحب مسایل کو جڑ سے اکھاڑنے کی بات اس طرح کرتے ہیں:
’’ اگر کوئی برائی جڑ پکڑ چکی ہے اور مدتِ دراز سے اس کی خو چلی آتی ہو ، تو بیک لمحہ اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی اور ایسی اصلاح سے اندیشہ ہے کہ فائدہ کم اورنقصان زیادہ ہو ، اسی لیے احکام شریعت میں تدریج کا لحاظ رکھا گیا ہے ۔ اکثر محرمات بہ تدریج حرام قرار دی گئیں اور شراب کا معاملہ تو بالکل واضح ہے ، وہ تین مرحلوں میں حرام ہوئی ۔ اس لیے یہ بات ضروری ہے کہ حکمت و مصلحت کے پہلو کو ہمیشہ ملحوظ رکھا جائے ۔ انسان جو کچھ کہے حق کہے ، لیکن ہر حق بات کا ہر وقت کہہ دینا ضروری نہیں ۔ بعض دفعہ مرحلہ وار حق کا اظہار زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے ۔ اگر علما اس بات کو ملحوظ رکھیں تو بہت سے باہمی اختلاف جو مسجدوں اور دینی کاموں میں پیدا ہو جاتے ہیں ، ان کی نوبت نہ آئے ۔‘‘ (کس سے کہوں کے زہر ہے میرے لیے مئے حیات: ج۲، ح۵، ص۷۱، ۷۲ )
اس قتباس کا تنقیدی جائزہ چند سوالات جنم دیتا ہے کہ خالد سیف اللہ صاحب کیا واقعی احکامِ شریعت میں اصولِ تدریج میں مضمر حکمتوں کے عملی طور پر قائل ہیں ؟ یا یہ محض خالی خولی لفاظی ہے یا قلم کی روانی میں یہ الفاظ غیر شعوری طور نکل گئے ہیں؟ محترم نے مثال بھی شراب کی دی ہے ، ہم استفسار کریں گے کہ کیا شراب کی حرمت کے تدریجی احکام آج بھی اسی طرح موثر ہیں جیسے عہدِ نبوی میں موثر تھے یا کہ ان کے پاس بھی ’’ناسخ‘‘ کا کلہاڑا موجود ہے جو انھوں نے اس مضمون کی رعایت سے تو چھپا رکھا ہے لیکن کسی دوراہے پر اسے چلانے سے نہیں چوکیں گے اور’’منسوخ‘‘ کے ڈھیر لگاتے جائیں گے؟ بڑی عجیب بات ہے کہ ایسے فقہا جو کئی آیات مبارکہ کو منسوخ قرار دیتے ہیں، ان کی نگاہوں سے یہ سامنے کی بات کیسے اور کیوں کر اوجھل رہ جاتی ہے کہ ان کے اس طرزِ استدلال سے احکامِ شریعت کے اصولِ تدریج کی حکمتیں کا فور ہو جاتی ہیں۔ اس سے زیادہ حیرت ناک بات یہ ہے کہ ’’اکمل دین‘‘ کی غلط تعبیر کی آڑ میں وہ قرآن مجید میں مذکور کفار کے اس اعتراض کو ایک لحاظ سے حق بجانب قرار دیتے ہیں کہ قرآن مجیدپورے کا پورا ایک ہی بار نازل کیوں نہیں کر دیا جاتا۔ پھر اس سے بھی زیادہ بڑی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اللہ رب العزت کے اس منشا کو ، جو اللہ تبارک تعالی نے کفار کے اعتراض کے باوجود ، نزولِ قرآن مجید کے سلسلے میں جاری و ساری رکھی ، نہ صرف بیک جنبشِ قلم نظرانداز کر دیا جاتا ہے ، بلکہ اس کے ساتھ نتیجے کے طور پر یہ بھی باور کرا دیا جاتا ہے کہ صحابہ کرامؓ جیسی تاریخ کی منتخب شخصیات کو (جن کے درمیان نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ نفیس موجود تھے ) تدریجی احکام کی اس لیے ضرورت تھی کہ شراب نوشی جیسی برائیاں ان کی ’’خو ‘‘میں موجود تھیں ، جبکہ اب (یعنی عہدِ صحابہؓ کے بعد) منسوخ احکام اس لیے منسوخ قرار دیے گئے ہیں کہ لوگ خود کار انداز میں کسی تربیت کے بغیر ہی، صرف مسلمانوں والا نام رکھنے سے ایسی کسی ’’‘خو‘‘ سے چھٹکارہ پا کر صحابہ کرامؓ جیسی وہ پارسائی پا سکتے ہیں جس سے صحابہؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی میں آہستہ آہستہ بتدریج مشرف ہوئے ۔(سبحان اللہ) ۔ مطلب یہ ہوا کہ آج کے نومسلم کو منسوخ احکام کی رعایت حاصل نہیں ہے اسے اسلام قبول کرنے کے فوراََ بعد شراب نوشی وغیرہ جیسی برائیوں سے(جو اس کی گھٹی میں پڑی ہیں ) فوراََ کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے ، یعنی صحابہ کرامؓ کے لیے تدریجی احکام اور آج کے نومسلم یا نام کے مسلم کے لیے غیر تدریجی فقط آخری ناسخ حکم ۔ پھر کہیے سبحان اللہ ۔چونکہ ہم ماہنامہ الشریعہ میں بعنوان ’’معاصر تہذیبی تناظر میں مسلم علمی روایت کی تجدید‘‘ اس سلسلے میں اصولی بحث کر چکے ہیں ، لہذا یہاں اسی پر اکتفا کرتے ہوئے اتنا ضرور چاہیں گے کہ خالد سیف اللہ صاحب اس موضوع پر اپنا موقف امت کے سامنے ضرور رکھیں کہ آج کی عالم گیریت کی فضا میں ایسے موضوعات پر واضح ہونا بہت ضروری ہے ۔ ویسے ان کے ایک مضمون (زنا کی سزا۔۔موجودہ سماجی ماحول میں) سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ شرعی احکامات کی تنفیذ میں مطلوب تقاضوں اور مقاصد پر گہری نظر رکھتے ہیں، ملاحظہ کیجیے :
’’ ہندوستان میں اولاََ تو جرم کے محرکات کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، فحش فلموں کا بازار گرم ہے، عریاں ویڈیو کیسٹ ملتے ہیں، ٹی وی نے حیا کی چادر اتار پھینکی ہے، فحش لٹریچر کا سیلاب ہے، بے شرمی پر مبنی عشقیہ گانے بچہ بچہ کی زبان پر ہیں، بے پردگی اور عریانیت نے پورے ماحول کو مسموم بنا دیا ہے، تعلیم گاہوں سے لے کر دفاتر تک ایک مخلوط نظام کو اپنی ترقی کی علامت تصور کیا جاتا ہے، شراب عام ہے اور ایک طبقہ کو زنا کے لائسنس جاری کیے جاتے ہیں، بلکہ غیر شادی شدہ عورتوں سے باہمی رضامندی سے بدکاری کی جائے تو قانون کی نظر میں وہ زنا ہے ہی نہیں، پھر قانونِ شہادت اتنی بے احتیاطی پر مبنی ہے کہ محض ایک شخص کی گواہی پر بھی اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ان حالات میں زنا کی سزا پھانسی کو قرار دینا میرا خیال ہے کہ کوئی قرینِ انصاف بات نہ ہو گی۔ اسی لیے فقہا نے حدود شرعیہ کے جاری ہونے کے لیے ’’دارالاسلام‘‘ کی شرط لگائی ہے۔ زانی بے شک سخت ترین سزا کا مستحق ہے، لیکن تقاضا انصاف یہ ہے کہ اس کو جرم سے بچنے کا ماحول دیا جائے ۔ جو ماحول قدم قدم پر گناہ کی دعوت دیتا ہو، اس ماحول میں مجرم کو اس طرح کی سزا دیا جانا یقیناََ محلِ نظر ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ پہلے ایسے قوانین بنائے جو جرم کے عوامل اور محرکات کو روک سکے اور ایسے پاکیزہ سماج کی تعمیر ہوسکے جس میں انسان گناہ کی طرف ہاتھ بڑھانے میں سو دفعہ سوچنے پر مجبور ہو، پھر زنا کی قرار واقعی سزامقرر کرے۔‘‘ (ج۱، ح۲، ص۲۰۱، ۲۰۲)
خالد صاحب کے موقف سے بحیثیت مجموعی اتفاق کرنا پڑتا ہے لیکن وہ فقہا کی شرط ’دارالاسلام‘ تائیدی انداز میں لائے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آج کی عالم گیریت کی فضا میں دارالاسلام اور دارالحرب میں دنیا کی تقسیم محلِ نظر ہے۔ جدید گلوبل دنیا ، ایک نئی فقہ کا تقاضا کر رہی ہے۔ دینی اخلاقیات کے کلی مفاہیم اگر پیشِ نظر رکھے جائیں تو جدید دنیا دارالدعوۃ قرار پاتی ہے اور اسی دارالدعوۃ کی بنیاد پر گلوبل فقہ کی پر شکوہ عمارت کھڑی کی جاسکتی ہے۔
اب ہم قارئین کے لیے زیرِ نظر تالیف میں سے چندایسے اقتباسات نقل کرنا چاہیں گے جن سے اندازہ ہوگا کہ ہمارے ممدوح کے ہاں انسانی زندگی کے ایسے منفی پہلو ، جنہیں توجہ کا مرکز بنائے بغیرصحت مند سماج کی تشکیل نہیں کی جا سکتی، کس قدر اہمیت کے حامل ہیں۔ قابلِ افسوس بات ہے کہ مسلم سماج اور اس سے وابستہ و پیوستہ اخلاقی اقدار کی باز یافت اور استقلال ، اکثر علما کے بیان و ابلاغ میں ’متروک کے منصبِ جلیلہ ‘ پر فائز ہو چکے ہیں۔ اس اعتبار سے موصوف کی تحریرکا یہ نمایاں پہلو گویا ’فرضِ کفایہ‘کی ادائیگی کی ایک سبیل بھی ہے ، ملاحظہ کیجیے :
’’ عین میدانِ جنگ میں بھی غیر معمولی حالات کے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت نہیں چھوٹتی تھی اور مرضِ وفات میں اس وقت بھی آپ نے جماعت میں شرکت کا اہتمام فرمایا جب خود چلنے کی طاقت بھی باقی نہیں رہی ، لیکن اس کے باوجود قبیلہ بنی عمروبن عوف میں ایک جھگڑا رفع کرنے اور مصالحت کرانے کے لیے آپ اپنے رفقا کے ساتھ بنفسِ نفیس تشریف لے گئے اور اس فریضہ مصالحت میں اتنی تاخیر ہو گئی کہ حضرت بلالؓ نے حضرت ابوبکرؓ کو امامت کے لیے آگے بڑھا دیا۔ نماز شروع ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کی نگاہ میں مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کی کیااہمیت تھی۔‘‘ (صلح کرانا ۔۔ایک اہم اسلامی فریضہ : ج۲، ح۴، ص۵۳)
’’ منشیات کی مضرتوں کا سماجی پہلو یہ ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے جس سے مختلف لوگوں کے حقوق اور ذمہ داریاں متعلق ہیں، ایک شخص باپ ہے تو اسے اپنے بچوں کی پرورش و پرداخت کرنی ہے، نہ صرف اس کے روزہ مرہ کی کھانے پینے کی ضروریات کو پورا کرنا ہے بلکہ اس کی تعلیم کی بھی فکر کرنی ہے۔ وہ بیٹا ہے تو اسے اپنے بوڑھے ماں باپ اور اگر خاندان کے دوسرے بزرگ موجود ہوں تو ان کی پرورش کا بار بھی اٹھانا ہے۔ شوہر ہے تو یقیناََ بیوی کے حقوق اس سے متعلق ہیں، بھائی ہے تو چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش اور شادی بیاہ کا فریضہ اسی کے کاندھوں پر ہے۔ نشہ انسان کو اپنے گرد و پیش سے بے خبر اور غافل بنا دیتا ہے اور اس بدمستی میں نہ اس کو لوگوں کے حقوق یاد رہتے ہیں، نہ اپنے فرایض و وجبات، بعض اوقات تو وہ ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے کہ ا پنے ساتھ دوسروں کی زندگی بھی تباہ و برباد کر دے‘‘ (منشیات ۔۔بڑھتا ہوا سماجی ناسور:ج۲، ح۴، ص۱۴۸)
’’ مذہب کی راہ سے جو رشوت آتی ہے وہ تقدس کا لباس زیب تن کیے ہوئے ہوتی ہے، لوگوں کو اس کے رشوت ہونے کا خیال بھی نہیں ہوتا ، اس مذہبی رشوت کی حقیقت جاننے کے لیے کلیساؤں کی تاریخ پڑھیے، جہاں مغفرت نامے فروخت کیے جاتے تھے۔ ۔۔۔۔مذہبی رشوت کی روایت آج بھی ختم نہیں ہوئی ہے، قادیانی حضرات کے یہاں آج بھی بہشتی مقبرہ، قادیان میں اصل اور دوسرے مقامات پر اس کی نقل کی شکل میں موجود ہیں، جس میں کثیر رقم لے کر تدفین کی اجازت دی جاتی ہے اور لوگ اس تصور کے ساتھ اس میں دفن ہوتے ہیں کہ یہاں دفن ہوتے ہی اب وہ داخلِ بہشت ہوں گے۔ ۔۔۔۔ اگر کسی لڑکے کے بارے میں یہ بتایا جائے کہ یہ چور اور ڈاکو ہے تو شاید ہی کوئی شخص اس سے رشتہ کرنے کو تیار ہو، لیکن یہ جاننے کے باوجود کہ فلاں شخص کی اوپر کی آمدنی اتنی ہے، ماں باپ اس کی ہوش مندی کے ثنا خواں ہوتے ہیں اور لوگ اپنی لڑکی کے لیے اس مہذب چور بلکہ سینہ زور کا انتخاب کرتے ہیں ‘‘ (رشوت اور ہمارا سماج:ج۲، ح۴، ص۱۳۸، ۱۴۰)
خالد سیف اللہ صاحب ، دین کی سماجی تعبیر پر یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے وہ آدم بیزار صوفیوں کی طرز پر کسی گوشے میں بیٹھ کر’خاموش رہنے کی آزادی‘ سے بہرہ مند نہیں ہونا چاہتے۔ انہوں نے ایک روایت سے Social Activism کی ایسی راہ نکالی ہے، جو سماج کی خاموش اکثریت کو لب کشائی پر آمادہ کرتی نظر آتی ہے، ملاحظہ کیجیے:
’’ احتجاج کے لیے ایسے ذرائع کا اختیار کرنا جس سے عام لوگوں کو نقصان نہ پہنچے ، اس کی بھی گنجایش ہے ۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک صاحب خدمتِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرا ایک پڑوسی ہے جو مجھے اذیت پہنچاتا رہتا ہے ۔ آپ نے اس سے ارشاد فرمایا کہ اپنا سامان نکال کر راستہ پر رکھ دو ، اس شخص نے اپنا سامان نکال لیا اور راستہ پر ڈال دیا ، جو بھی وہاں سے گزرتا استفسارِ حال کرتا ، وہ شخص کہتا کہ میرا پڑوسی مجھے اذیت دیتا ہے اس لیے میں نے یہ سامان باہر نکال رکھا ہے ، گزرنے والا کہتا اس پر اللہ کی لعنت ہو ، اللہ اسے رسوا کرے ۔ آخر پڑوسی آیا اور اس نے درخواست کی کہ اپنے گھر لوٹ چلو، اب میں تم کو کبھی اذیت نہیں دوں گا ‘‘ ( ہڑتال۔۔اسلامی نقطہ نظر: ج۱، ح۳، ص۸۸)
معاصر مسلم سماج کے مسایل میں سے ایک اہم مسئلہ ، دین کے نام پر لوگوں کے لیے مسایل کے انبار کھڑا کرنے کی روش ہے۔اگر مذہبی حلقے کو اس طرف متوجہ کیا جائے تو عام طور پر یہی سننے کو ملتا ہے کہ ایسے امور میں دنیاوی لحاظ سے لوگوں کو تکلیف نہیں ہوتی، لیکن خدا کے لیے ایسا کیا جائے تو لوگ چوں چراں کرتے ہیں۔ خالد صاحب نے بلا جھجھک ایسے نام نہاد دینی شعایرِ کی بیخ کنی کرتے ہوئے، ایک طرف مذہبی رویے کی اصلاح کی ہے اور دوسری طرف بال سول سوسائٹی کے کورٹ میں پھینک دی ہے کہ وہ اصلاحِ احوال کے لیے اپنا کردار ادا کرے:
’’ قرآن کی تلاوت میں بھی آواز کو معتدل ہونا چاہیے، ....فقہا نے بھی اس پہلو کو ملحوظ رکھا ہے چنانچہ مشہور فقیہ علامہ حصفکی ؒ فرماتے ہیں کہ : ’’امام جماعت کے اعتبار سے ہی جہر کرے گا اگر اس سے زیادہ زور سے پڑھے تو اس نے نامناسب عمل کیا ‘‘۔ علامہ شامی ؒ نے نقل کیا ہے کہ’’ اتنی بلند آوازجو خود اس کو تھکا دے اور دوسرے کے لیے اذیت کا باعث ہو ، اچھی بات نہیں‘‘ .... اسلام میں صرف اذان کے لیے بلند آواز کو پسند کیا گیا ہے کیونکہ اس کا مقصد ہی اظہار و اعلان ہے اور وہ اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلالؓ کو اسی لیے اس خدمت پر مامور فرمایا کہ ان کی آواز بلند تھی ۔ لیکن اذان میں بھی ایسی ہی آواز مطلوب ہے جو اہلِ محلہ تک پہنچ جائے ۔ سیدنا حضرت عمرؓ کے سامنے ایک صاحب نے اذان دی اور آواز کو بلند کرنے میں بہت تکلف سے کام لیا تو آپؓ نے اس پر نا پسندیدگی کا اظہار فرمایا ۔۔۔۔۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سماج میں اسلامی زندگی کے صحیح خدوخال پیش کریں ‘‘ ( عبادت گاہوں سے صوتی آلودگی پھیلنے کا مسئلہ: ج۱، ح۳، ص۷۹، ۸۰، ۸۱)
’’ خود سوزی کے تو بہت سے واقعات پیش آتے رہتے ہیں لیکن مال سوزی اور اپنا مال آپ جلانے کے واقعات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں، بلکہ اگر کوئی شخص اپنا مال آپ جلا لے تو لوگ اسے پاگل اور دیوانہ ہی سمجھیں گے، لیکن مال سوزی کی کچھ ایسی صورتیں بھی ہیں جو ہیں تو پاگل پن ہی، لیکن معاشرہ انہیں پاگل نہیں کہتا۔ شادیوں میں جو پٹاخہ بازیاں ہوتی ہیں، کیا یہ اپنے پیسوں کو آپ جلانا نہیں ہے؟شبِ برات ایک مبارک رات ہے، عبادت اور ذکر و تلاوت کی رات ہے، لیکن کیا مسلمان محلوں میں یہ رات پٹاخوں کی گھن گرج اور آتش بازیوں کی خیرہ کر دینے والی روشنیوں سے نہیں پہچانی جاتی ہے؟ ...... آتش بازی کی وجہ سے لوگوں کا آرام و سکون غارت ہوتا ہے، راستہ چلنے والوں کو دقت پیش آتی ہے بلکہ کئی ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ لوگوں کی جانیں تک چلی گئیں یا بعض گھروں کو آگ لگ گئی۔ دوسروں کی ایذا رسانی حرام اور گناہِ شدید ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی گھر پر دستک دینا ہوتا تو ہتھیلیوں کے بجائے انگلیوں کے پور سے دستک دیتے، تاکہ بے ہنگم اور غیر متوازن آواز نہ ہو‘‘ (اپنے روپے آپ نہ جلایے: ج۲، ح۴، ص۱۲۶، ۱۲۷)
مغربی سماج کو بے جا ڈسپلن کی وجہ سے چیونٹیوں کا سماج کہا جاتا ہے ، جب کہ مشرقی سماج بھیڑ چال کا عادی ہے۔ خالد سیف اللہ رحمانی ، اس بھیڑ چال پر اپنی خفگی کا اظہار کرنے سے نہیں چوکے۔ وہ مذہبی حلقے سے خاص طور پر نالاں ہیں کہ عملی افادیت کے حامل ایسے اقدامات، جن کے ذریعے سماجی تبدیلی کے امکانات وا ہو سکتے ہیں ، کیوں اختیار نہیں کیے جاتے:
’’ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ علما کی ساری تعلیمی اور دعوتی سرگرمیاں شہروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں ، شہر میں نہ صرف یہ کہ ہمارے دینی تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ بعض مقامات پر جو زائد از ضرورت ادارے قائم ہو رہے ہیں ، چھوٹے چھوٹے محلوں میں ایک سے زیادہ درس گاہیں قائم ہیں ، وہاں طلبہ کی تعداد اتنی کم ہے کہ ایک ادارہ ان کے لیے کافی تھا ۔ پھر ان اداروں میں باہم کمرشل اداروں کی طرح رقابت اور منافست کی کیفیت بھی ہے ۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کمیٹی میں اختلاف ہو گیا ، ایک گروہ مدرسہ پر قابض ہو گیا ، دوسرے گروہ نے قریب ہی دوسرا مدرسہ کھول لیا ۔ گویا ادارے کی ضرورت یا خدمت کی کسی نئی جہت کے لیے قائم کرنے کے بجائے محض مقابلہ اور تفاخر کے جذبہ سے بھی قائم کیے جا رہے ہیں ۔ یہ کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ ایک دینی کام دینی جذبہ سے خالی ہو کر انجام دیا جائے ‘‘ (دینی مدارس کے فضلا۔۔ صبرو برداشت ضروری ہے : ج۲، ح۵، ص۶۳، ۶۴)
’’ زبان سمجھنے اور سمجھانے کا محض ایک ذریعہ ہے، زبان کبھی مقصود نہیں ہوتی، نہ زبان کا کوئی مذہب اور عقیدہ ہوتا ہے۔ ..... لیکن بد قسمتی سے ہندوستان میں اب بھی دین داروں کا ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو عربی اور اردو کے علاوہ دوسری زبانوں کو اچھوت اور بے برکت سمجھا ہوا ہے اور صرف اردو زبان میں تھوڑا سا کام کرکے قانع اور مطمئن ہے کہ اس نے اسلام کی دعوت کا حق ادا کر دیا ہے‘‘ (دعوتِ دین سب سے اہم فریضہ: ج۱، ح۱، ص۳۰۷، ۳۰۸)
رفع یدین، نور بشر، حیاتی مماتی وغیرہ، جدید تکنیکی دور میں بھی علمائے دین کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ ہمیں حیرت نما خوشی ہے کہ خالد سیف اللہ صاحب ، سماجی اصلاح و اخروی نجات کے لیے خود کو ان موضوعات کا مکلف نہیں ٹھہراتے، بلکہ متقدمین کے نقوش کی پیروی میں خیر تلاش کرتے ہیں، موصوف لکھتے ہیں:
’’ امام شافعی ؒ کے ایک شاگرد یونس بن عبدالاعلیٰ صدفی ہیں، ان کا ایک بار اپنے استاد امام شافعیؒ سے ایک مسئلہ میں بھی مباحثہ ہوگیا اور دونوں کسی ایک رائے پر متفق نہ ہو سکے، پھر جب امام شافعیؒ کی ان سے ملاقات ہوئی تو امام صاحب ؒ نے ہاتھ تھاما اور فرمایا کہ کیا یہ بہتر نہیں کہ گو ایک مسئلہ میں بھی ہمارا اتفاق نہ ہو لیکن پھر بھی ہم بھائی بھائی بن کر رہیں۔ ......اختلاف کو مذموم سمجھنا سلف کے طریقہ کے بھی خلاف ہے اور عقلِ سلیم کے بھی مغایر، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اختلافات کے معاملہ میں انسان کا قلب وسیع ہو، تمام سلف صالحین کے بارے میں اس کی زبان محفوظ اور اس کا قلم محتاط ہو، وہ صلحائے امت کے اختلاف کے بارے میں حسنِ ظن رکھے اور اختلاف رائے کو برداشت کرے۔ یہ وہ مسایل نہیں ہیں جن کی امت پر تبلیغ کی جائے اور اس کو اپنی دعوت کا موضوع بنایا جائے، اسی طرح اعتقادی احکام کی تشریح میں اہلِ سنت و الجماعت کے درمیان جو معمولی سا اختلاف ہے اور اکثر یہ اختلاف محض تعبیر کا ہوتا ہے ، ان میں غلو اور ان کی بنیاد پر دوسروں کو گم راہ قرار دینا نہایت ہی مذموم اور نا شائستہ بات ہے‘‘ (اختلاف میں اعتدال:ج۲،ح۴،ص۳۴، ۳۶)
’’ یوں تو اختلاف کے مختلف اسباب ہیں ، سیاسی ، خاندانی ، کاروباری وغیرہ ، لیکن مذہبی اختلاف کا مسلم سماج پر زیادہ گہرا اثر پڑتا ہے اور اس کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مساجد ، دینی درس گاہیں اور دینی اجتماعات اورمذہبی تقریبات جن کو امت کے اتحاد و اتفاق کا نمونہ ہونا چاہیے ، وہی اختلاف و انتشار کا سبب بن جاتا ہے اور جو لوگ امت کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں ، وہی اختلاف کے علم بردار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ تو ایسی صورت میں کون ہے جو ان بکھرے ہوئے تسبیح کے دانوں کو پرو سکے اور شکستہ دلوں پر مرہم رکھ سکے (کس سے کہوں کے زہر ہے میرے لیے مئے حیات: ج۲، ح۵، ص۷۲ )
’’ اگر سونے چاندی یا مٹی اور پتھر کی مورتیاں بنا دی جائیں ان کو ایک جگہ بٹھا دیا جائے تو یقیناََ اختلاف نہ ہو گا ، نہ کوئی اپنی جگہ سے آگے بڑھے گی نہ پیچھے ہٹے گی نہ ایک دوسرے کے خلاف اظہار خیال کرے گی۔ لیکن چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے جیتے جاگتے انسان کو اس طرح متفق اور مہر بہ لب رکھنا ممکن نہیں۔ ..... اس لیے جیسے ’اتحاد‘‘ سیکھنے کی ضرورت ہے اس لیے ’’اختلاف‘‘ بھی سیکھنے کی ضرورت ہے‘‘ (اختلاف کا طریقہ:ج۲، ح۴، ص۳۸)
’’اگر کوئی انسان چاہے کہ تمام انسان اسی کے ہم رنگ ہو جائیں ، جس طرح وہ سوچتا ہے ، اسی طرح سب سوچیں، اس کی پسند سب کی پسند ہو اور اس کی نا پسند سب کی نا پسند ہو، تو انسانی سماج مختلف پھولوں کا گل دستہ نہ رہے گابلکہ سرسوں کا کھیت بن جائے گا کہ پورا کھیت زرد اور یک رنگ نظر آئے۔ ...... یک جہتی تو اس طرح ممکن نہیں کہ تمام انسانیت ہم رنگ ہو جائے ، ان میں فکرونظر، تہذیب و تمدن اور زبان و بیان کا کوئی فرق باقی نہ رہے، ایسی یک جہتی تو شاید قبرستان کے شہرِ خموشاں کے سوا کسی زندی انسانی آبادی کے درمیان ممکن نہ ہو، یک جہتی ’’جیو اور جینے دو‘‘ کے اصول پر ہی پیدا کی جا سکتی ہے ‘‘(قومی یک جہتی ۔۔کیوں اور کس طرح:ج۲،ح۴، ص۶۶،۶۷)
سماجی حالات کے موافق، سماجی اخلاقیات کی ترجیحات میں تغیر و تبدل ، بعض اوقات بہت ضروری ہوتا ہے۔ لیکن مسلم سماج میں ایسے افراد کی کمی نہیں، جو اسلامی اخلاقیات کی سماجی جہت سے نابلد رہنے کے باعث ، اخلاقی بے راہ روی کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے افراد ذہنی حالت کے لحاظ سے اپنے تئیں متقی بنے ہوتے ہیں۔ تقوے کا ہیضہ ان سے، حالات کی نبض پر انگلی رکھنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے۔نتیجے کے طور پر ’ذریعہ‘ مقصد بن جاتا ہے اور مقصود ’خیر‘ روپوش ہوجاتا ہے۔ خالد سیف اللہ صاحب رحمانی نے کسی قسم کے تحفظات کے بغیر، اسلامی اخلاقیات کی اس گم گشتہ جہت کو بے نقاب کیا ہے:
’’ ایسی سچائی جو سماج کو فایدہ کے بجائے نقصان پہنچائے، جو خیر کی اشاعت کے بجائے بدی کی تشہیر کا باعث ہو، جو لوگوں کو شرافت و صالحیت کے بجائے بد خوئی کی طرف لے جاتی ہو، اس سچائی کو ظاہر کرنے سے چھپانا بہتر ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے، کیوں کہ یہاں جھوٹ بہ مقابلہ سچ کے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے۔ اگر ایک مظلوم اور کم زور شخص نے آپ کے یہاں پناہ لے رکھی ہے، ایک بے بس عورت اپنی عصمت و عزت کی حفاظت کے لیے چھپی ہوئی ہے اور ایک ظالم اس مظلوم کے قتل اور ایک اوباش اس عورت کی عصمت ریزی کے درپے ہو اور آپ کے جھوٹ سے اس شخص کی جان اور اس عورت کی عزت بچ سکتی ہو، اورآپ کے سچ سے جان جا سکتی ہو اور ایک عورت کی چادرِ عفت تار تار ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ضرورت ہے کہ ان حالات میں آپ کے لیے جھوٹ بولنا ہی واجب ہے، اور سچ بولنا اس جرم میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔‘‘ (پانی جس نے آگ لگا دی:ج۲، ح۴، ص۱۶۰)
اپنے ایک مضمون ’’مذہب کی تبدیلی‘‘ میں خالد سیف اللہ صاحب نے ہندوستان میں عیسائیت کے فروغ اور اسلام کے عدم فروغ کے اسباب کے واقعاتی تجزیے سے سماجی مفاہیم اخذ کیے ہیں:
’’ یہ ایک حقیقت ہے کہ عیسائیت کا کوئی سماجی تشخص نہیں ہے ، شادی ، بیاہ ، سماجی رسم و رواج وغیرہ میں وہ ہندو سماج ہی کا ایک حصہ بن گئے ہیں۔ .....اس لیے جب کوئی ہندو عیسائی مذہب قبول کرتا ہے تو اسے بہت ہی معمولی تبدیلیوں سے گزرنا پڑتا ہے ، اس کی عملی زندگی میں تو کوئی انقلاب آتا ہی نہیں اور اسے فکر و عقیدہ کے اعتبار سے بھی کسی غیر معمولی تبدیلی سے گزرنا نہیں پڑتا ۔ ۔۔۔اسلام مذہب کے معاملہ میں دورنگی اور دو عملی کو روا نہیں رکھتا ۔ اسلام قبول کرنے کا مطلب خداؤں میں ایک خدا کا اضافہ نہیں بلکہ اللہ سے رشتہ جوڑ کر تمام توہمات سے رشتہ توڑنا ہے۔ .....گویا مسلمان ہونے کے بعد انسان ایک سماج سے دوسرے سماج کی طرف ہجرت کرتا ہے۔‘‘ (ج۱، ح۲، ص۱۰۰)
اس اقتباس کے آخری جملے کی معنویت پر غور کیجیے کہ دینِ اسلام کی اصالت اور معاشرتی رموز سے اس کے ربط کو کتنا ایجازی رنگ دیا گیا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ فکرِ اسلامی کی اصالت میں مضمر سماجی دلالتوں پر ہمارے محترم کی نہایت گہری نظر ہے اس کا بخوبی اندازہ ان کی ان تحریروں سے ہو تا ہے جن میں خواتین کی سماجی حیثیت اور نسائی مسایل زیرِ بحث لائے گئے ہیں ، مثال کے طور پر :
’’ حقیقت یہ ہے کہ تعددِ ازدواج کی اجازت ایک سماجی و عمرانی ضرورت اور عفت و پاک دامنی کی حفاظت کا ذریعہ ہے اور اپنے نتایج و اثرات کے اعتبار سے خود عورتوں کے لیے بعض حالات میں باعثِ رحمت ہے، البتہ یہ بات ضروری ہے کہ تعددِ ازدواج کے لیے شریعت نے جو حدود و قیود مقرر کی ہیں ان کا لحاظ رکھا جائے ورنہ یہ قانون حکمِ شریعت کا استعمال نہیں بلکہ ’استحصال‘ ہو گا۔‘‘ (تعددِ ازدواج کا مسئلہ: ج۱، ح۲، ص۱۷۴)
’’ بعض نوجوان اصل شباب گزارنے کے بعد ، جب عمر میں ڈھلاؤ شروع ہوتا ہے تو نکاح کرتے ہیں، یہ نہایت ہی غلط رجحان ہے اور اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں ۔۔۔۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ دیر سے نکاح کرنے کے واقعات زیادہ تر تعلیم یافتہ اور مرفہ الحال خاندان میں پیش آتے ہیں، اس لیے اس کو معاشی مفلوک الحالی کا نتیجہ قرار دینا قرینِ انصاف نہیں۔ ......یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے سماج میں مطلقہ عورتوں اور بیوہ خواتین کے نکاح کی طرف بہت کم توجہ دی جاتی ہے، بلکہ بچوں کی پرورش کے نام پر اس کو نظر انداز کیا جاتا ہے، یہ صحیح سوچ نہیں ہے۔ .....رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن ازواج مطہراتؓ سے نکاح فرمایا، ان میں صرف حضرت عائشہؓ کنواری تھیں، حضرت زینبؓ مطلقہ تھیں، اور باقی امہات المومنینؓ بیوہ تھیں ۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں حضرت رقیہؓ ، حضرت امِ کلثومؓ ، ابولہب کے بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے منسوب تھیں، ابو لہب کے کہنے پر ان بدبختوں نے طلاق دے دی۔ آپ ﷺ نے ان دونوں کو یکے بعد دیگرے حضرت عثمانؓ کے عقد میں دیا۔ .... جن مردوں کی بیویوں کا انتقال ہو گیا ہے ان کے دوبارہ نکاح کرنے کو بھی پسند نہیں کیا جاتا ، بعض لوگ تو سن رسیدہ لوگوں کی بیوی کے انتقال کے بعد دوسرا نکاح کرنے کو حرص و ہوس سمجھتے ہیں اور خود بال بچے والد کے نکاح کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ .....فقہا نے لکھا ہے کہ بہ وقت ضرورت باپ کا نکاح بھی اولاد پر اس کا ایک حق ہے ‘ ‘ (ایک اہم سماجی مسئلہ : ج۲، ح۴، ص۱۹۹، ۲۰۰، ۲۰۱، ۲۰۲)
’’ لیکن انسانی تجارت کی ایک اور صورت ہے جو اس وقت سماج کے مہذب لوگوں کے درمیان رایج ہے، جس میں انسان اپنے لڑکوں کو آپ فروخت کرتا ہے اور فروخت کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں حسرت و افسوس کے آنسو نہیں بلکہ خوشی کے آنسو ہوتے ہیں، دل حسرت و یاس کی تپش سے ابلتا نہیں بلکہ حسین آرزوؤں کے تصور سے اچھلتا اور کودتا ہے، یہ عجب منڈی ہے جہاں پڑھے لکھے، اہلِ دانش، اصحابِ ثروت، اعلیٰ عہدوں پر فائز خوشی خوشی اپنے لڑکوں کا سودا لے کر آتے ہیں اور اس کی تعلیم، معاشی امکانات، خاندانی پس منظر، یہاں تک کہ شکل و صورت اور آباو اجداد کی شرافت کی دہائی دے کر ڈاک لگاتے اور زیادہ سے زیادہ قیمت کے خواست گار ہوتے ہیں ، انہیں اپنے لڑکوں کو فروخت کرنے اور ان کی جوانی کی قیمت لگانے میں نہ کوئی شرم ہوتی ہے نہ کوئی عار۔ آپ سوچیں گے یہ کون سی منڈی ہے؟ کیا کوئی ماں باپ اپنے لڑکوں کو بیچ بھی سکتا ہے، کہیں انسانوں کی بھی خریدو فروخت ہوتی ہے، کیا عہدِ غلامی پھر واپس آ گیا ہے ؟۔ لیکن آپ کو اس پر تعجب نہ ہونا چاہیے ، ہمارا پورا سماج انسانی تجارت کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ہر گھر میں ایک دکان ہے اور ہر خاندان میں کچھ تاجر اور کچھ گاہک ہیں ...... کیا لڑکی والوں سے گھوڑے جوڑے کے نام پر رقم وصول کرنا، ان سے جہیز کا مطالبہ کرنا ، اپنے مدعووین کو ان کے سر تھوپ دینا اور ان سے منہ مانگا کھانا طلب کرنا، تجارت اور اپنے لڑکے کی قیمت لگانا نہیں ہے ؟ قیمت روپوں میں بھی ادا کی جاتی ہے، سامان و اسباب کے ذریعہ بھی اور ہوٹلوں میں شکم پروری کے ذریعہ بھی، یہ سب قیمت کے مختلف عنوان اور الگ الگ انداز ہیں۔ لڑکا اور اس کے والدین ان تمام طریقوں سے لڑکے کی قیمت وصول کرتے ہیں اور اس کی جوانی کا منہ مانگا دام پاتے ہیں، اس کے تجارت ہونے میں کیا شبہ ہے؟ ...... جوانی کی قیمت تو جانوروں کی لگائی جاتی تھی اور اعلیٰ نسل کے جانور حاصل کیے جاتے تھے، کیا شادی کے موقع سے لڑکے والوں کی جانب سے مطالبہ اس حیوانی کردار کی پیروی نہیں ہے اور جو لوگ پیسے لے کر شادی کرتے ہیں، کیا وہ مرادنہ تعظیم و وقار اور بحیثیت شوہر تکریم و توقیر کے مستحق ہیں ؟ جب کہ قرآن نے مردوں کو بلند رتبہ اس بنیاد پر قرار دیا تھا کہ وہ خرچ کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونچا یعنی دینے والا ہاتھ نچلے یعنی لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ تو جو شوہر اپنا ہاتھ نیچے رکھتا ہو اور اپنی بیوی اور اس کے اولیا کو اپنا ہاتھ اونچا رکھنے پر مجبور کرتا ہو، وہ کیسے اپنی بیوی سے بلند رتبہ ہو سکتا ہے؟ ......تاجر خریدار کا احسان مند ہوتا ہے نہ کہ خریدار تاجر کا، اس لیے جس لڑکی اور اس کے سرپرست نے دولہا کی قیمت ادا کی ہے،آخر وہ اس مرد اور اس کے اہلِ خانہ کے احسان مند کیوں کر ہوں، جس کی قیمت ان لوگوں نے اپنا خونِ جگر بیچ کر ادا کی ہو۔ اسی لیے آج کل یہ شکایت عام ہے کہ جب بہو گھر میں آتی ہے وہ خدمت و اطاعت کے جذبہ سے خالی و عاری ہوتی ہے اور گھر سے متعلق فرایض اور اپنی ذمہ داریوں کو اداکرنے میں کوتاہ‘‘ (لڑکوں کی تجارت: ج۲، ح۴، ص۲۰۸، ۲۰۹، ۲۱۰، ۲۱۳)
جدید تکنیکی ترقی نے انسانی سماج پر جو مثبت اثرات مرتب کیے ہیں اس سے کسے نکار ہو سکتا ہے؟۔ زیرِ نظر تالیف میں خالد سیف اللہ صاحب بھی اس کی سماجی افادیت کے قایل معلوم ہوتے ہیں، لیکن ان کی تیکھی نظر سے جدید تکنیک کی ایسی خامیاں چھپی نہیں رہ سکیں، جو انسانی سماج کو کسی بڑے اخلاقی بحران سے دوچار کر سکتی ہیں:
’’ ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے اجنبی مرد و عورت کے مادہ تولید کو باوآور کرنا یا اجنبی اور غیر معروف مردوں کے مادہ تولید کو عورت کے رحم میں منتقل کر کے اس کو ماں بنانا کھلی ہوئی بدکاری اور انسانوں کو حیوان کی سطح پر اتارنا ہے۔ انسان کو نسب اور اپنی شناخت سے محروم کر دینا اخلاق و شرافت کے بالکل مغایر ہے اور شاید ہی کوئی مذہب ہو جو اس کو جایز رکھتا ہو۔ اسلامی تعلیمات اس سلسلہ میں بالکل واضح ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خدا و آخرت پر ایمان رکھنے والے کسی شخص کے لیے یہ قطعاََ حلال نہیں کہ وہ اپنے پانی یعنی مادہ تولید سے دوسرے کی کھیتی یعنی اپنی بیوی کے علاوہ کسی ا ور خاتون کے رحم کو سیراب کرے۔‘‘ (پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے:ج۲، ح۴، ص۱۸۸)
’’ چند سو روپے خرچ کر کے (Sex Determination Test) کرایا جا سکتا ہے اور معلوم کیا جا سکتا ہے کہ رحمِ مادر میں لڑکا ہے یا لڑکی؟ ایک معمولی اندازہ کے مطابق اس ٹیسٹ پر مبنی اطلاعات کی روشنی میں روزانہ پانچ تا چھ سو لڑکیاں اس عالمِ رنگ و بو میں آنے سے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتار دی جاتی ہیں۔ یہ قتل دشمنوں اور غیر سماجی عناصر یا غنڈوں کے ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ شفیق باپ اور ’’ممتا سے معمور ماں‘‘ کے ہاتھوں ہوتا ہے اور خاندان کے بزرگوں اور خیر خواہوں کا مشورہ بھی اس میں پوری طرح شریک رہتا ہے، گو انسانی حقوق اور خواتین کی مختلف تنظیموں کے احتجاج اور مطالبہ پر قانوناََ ایسے ٹیسٹ کو منع کر دیا گیا ہے، لیکن جب تک اندازِ فکرمیں تبدیلی نہ آئے، قانون شکنی کو کب روکا جا سکے گا؟ ..... اگر ہم صرف والدین کو دختر کشی کی اس ’’جاہلیت جدیدہ‘‘ کا مجرم قرار دیں تو شاید انصاف نہ ہو، پورا سماج اس کا مجرم ہے۔ وہ ظالم سماج جو اپنے لڑکوں کو بازار کے سامان کی طرح اونچی قیمتوں پر فروخت کرتا ہے، جو چاہتا ہے کہ لڑکیوں کے والدین سے ان کی رگِ گلو کا آخری قطرہ خون بھی وصول کر لے، جس کو حرص و طمع نے سیم و زر کا ایسا پیاسا بنا دیا ہے کہ جیسے کوئی سگ گزیدہ مریض ، اور جس کی بے رحمی و شقاوت اور سنگ دلی پر شاید درندے بھی شرماتے ہیں، جب تک ہم اس اصل مرض کا علاج کرنے میں کامیاب نہ ہوں، دختر کشی کی اس نئی لہر کو روک نہیں سکتے‘‘ (دختر کشی۔۔عہدِ جدید میں: ج۲، ح۴، ص۱۹۶، ۱۹۷)
ذرا غور کیجیے کہ خالد صاحب نے جدید تکنیک کے ایک غلط استعمال کو ، سماج کے گرے ہوئے رویے سے کیسے relate کیا ہے۔ انہوں نے تکنیکی ترقی کو کو ہدفِ تنقید نہیں بنایا اور نہ ہی ’قانون‘ نافذ کرنے کے لیے آ ستینیں چڑھا کر چیخ پکار کی ہے۔ وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ معلوم ہوتے ہیں کہ قانونی سزا کے بجائے سماجی سزا زیادہ خوف ناک ہوتی ہے۔ قانون کا شکار صرف مجرم ہوتا ہے جب کہ سماج کی دی ہوئی سزا مجرم کے پورے خاندان اور اس کی آنے والی نسل کو بھی جھیلنی پڑتی ہے۔ اس لیے کسی متوقع مجرم کا خاندان ، سماجی کلنک کے ڈر سے اسے قابو میں رکھتا ہے۔درج ذیل اقتباس سے ان کی سوچ کے اس رخ پر مزید روشنی پڑتی ہے کہ محض قانون بنا کر بری الذمہ نہیں ہوا جا سکتا، بلکہ لوگوں کو متحرک کر کے ہی حقیقی اصلا ح کی جا سکتی ہے:
’’ پھر خاص کر اسلام نے مردوں پر عورتوں کی حفاظت کی ذمہ داری رکھی ہے اور یہی مطلب ہے مرد کے ’’قوام‘‘ ہونے کا۔ اسی لیے سماجی حقوق میں اسلام نے اکثر مواقع پر خواتین کو مقدم رکھا ہے ...... غرض طلاق اور کسی مناسب ضرورت کے بغیر دوسر نکاح ایک ’’ناخوش گوار واقعہ‘‘ ہے لیکن یہ اس سے زیادہ ناخوش گوار واقعہ کو روکنے کا باعث ہے ، اسی لیے اسلام نے اس کی اجازت دی ہے ..... اور ان سب کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو بدترین لوگ ہوں گے وہی عورتوں پر ہاتھ اٹھائیں گے۔ ...... ضرورت اس بات کی ہے کہ سماج کو اس سلسلے میں باشعور بنایا جائے ، توہماتی تصورات سے ان کو آزاد کیا جائے ، معاشرہ میں حوصلہ و ہمت پیدا کیا جائے کہ اگر ایک ہاتھ ظلم و جور کے لیے اٹھے تو کتنے ہی ہاتھ اس ہاتھ کو روکنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں ، کتنی ہی زبانیں اس پر لعن طعن کے تیر برسائیں اور سماج میں وہ اپنے آپ کو تنہا اور الگ تھلگ محسوس کرنے لگے ، ہر آنکھ جو اس پر اٹھے وہ اسے اس کی ذلت و رسوائی کا احساس دلائے اور ہر زبان جو اس پر کھلے وہ اس کی شناعت اور گراوٹ کا اعلان کرنے لگے ‘‘ (ایک حادثہ ۔۔ لرزہ خیز ، الم انگیز : ج۲، ح۴، ص۹۵، ۹۶، ۹۸، ۹۹)
(جاری)
ایک تربیتی ورک شاپ کی روداد (۲)
محمد عمار خان ناصر
فرقہ وارانہ کشیدگی اور شدت پسندی کے ضمن میں ایک اہم سوال یہ بھی زیر بحث آیا کہ جب سبھی مذہبی مکاتب فکر کے اکابر اور سنجیدہ علما اس کو پسند نہیں کرتے تو پھر وہ اپنے اپنے حلقہ فکر میں شدت پسندانہ رجحانات کو روکنے کے لیے کوئی کردار کیوں ادا نہیں کرتے اور اگر کرتے ہیں تو وہ موثر کیوں نہیں ہو پاتا؟ جناب ثاقب اکبر کی فرمائش تھی کہ اس سوال کے جواب میں، میں کچھ گزارشات پیش کروں۔ میں نے عرض کیا کہ دراصل عوامی سطح پر حلقہ ہاے فکر کے مزاج کی تشکیل کے لیے مسلسل محنت، لوگوں کے ساتھ مستقل رابطہ اور روز مرہ معاملات میں ان کو عملاً ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ سنجیدہ اہل علم اپنی افتاد طبع اور علمی وتدریسی مصروفیات کی بنا پر اس کے لیے فارغ نہیں ہوتے اور یہ خلا مختلف سطحوں پر دوسرے، تیسرے اور چوتھے درجے کے لوگوں کو پر کرنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کا علم وفہم، بصیرت وفراست اور اخلاقی کمٹ منٹ اس درجے کی نہیں ہوتی، جبکہ گروہی عصبیت کو انفرادی اور جماعتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کے محرکات زیادہ قوی ہوتے ہیں۔ حلقہ ہاے فکر کے عوامی مزاج کی تشکیل اسی سطح کے لوگوں کے ہاتھوں ہوتی ہے اور ان پر عملاً اثر انداز بھی وہی ہوتے ہیں۔ جہاں تک اکابر اہل علم کا تعلق ہے تو ان کی حیثیت عام طور پر علم وتقویٰ کے ایک symbol کی ہوتی ہے جن کے علم وتحقیق پر فخر اور ان کی سرپرستی کی خواہش بھی کی جاتی ہے، لیکن عملی دائرے میں ان کے طرز عمل، مزاج اور ہدایات کی پابندی ضروری نہیں سمجھی جاتی۔ (مثلاً تکفیر شیعہ کے حوالے سے شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی ’’ارشاد الشیعہ‘‘ کو تو اپنے موقف کی بنیاد کے طور پر پیش کیا جائے گا، لیکن انھوں نے ’’کافر کافر‘‘ کی عوامی مہم کے ذریعے منافرت پھیلانے کے طریقے پر جو تنقید کی اور اسی طرح اجتماعی مصالح کے تناظر میں ’’متحدہ مجلس عمل‘‘جیسے پلیٹ فارمز پر شیعہ سنی اشتراک کی جس حکمت عملی کی تائید اور حمایت کی، اسے کوئی وقعت نہیں دی جائے گی۔) میں نے مثال کے طور پر جامعہ حفصہ کے سانحے کاحوالہ دیا کہ اس موقع پر دیوبندی حلقے کے چوٹی کے علما اور اکابر نے غازی برادران کو اپنا طرز عمل بدلنے پر آمادہ کرنے کی آخر دم تک پوری کوشش کی، لیکن اس میں انھیں ناکامی ہوئی بلکہ آپریشن کے بعد یہ تمام حضرات خود دیوبندی حلقے کے غم وغصہ اور تنقید کا نشانہ بن گئے۔ اس وجہ سے مختلف مذہبی گروہوں کے عمومی مزاج کو بدلنے کے لیے ان کے اکابر سے کسی موثر کردار کی توقع رکھنا فضول ہے اور یہ مقصد مذہبی حلقوں کے مجموعی معاشرتی وژن اور خاص طور پر ان کی تعلیم وتدریس اور فکری تربیت کے موجودہ سانچے میں جوہری تبدیلیاں پیدا کیے بغیر ممکن نہیں۔ اظہر حسین نے میری تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہی غلط فہمی مغرب کے پالیسی سازوں کے ہاں بھی پائی جاتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے بڑے بڑے علما مل کر خود کش حملوں کے خلاف فتویٰ جاری کر دیں تو اس سے مسئلہ حل ہو جائے گا جس پر مجھے انھیں سمجھانا پڑتا ہے کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے اور اس طرح کا کوئی فتویٰ سامنے آ جانے سے بھی عملی صورت حال میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔
اس سفر کی بعض مجلسوں میں اکابر اہل علم اور ان کے مقابلے میں مقبول عام واعظوں اور خطیبوں کے سماجی اثر ورسوخ کے ضمن میں بعض دلچسپ واقعات بھی سننے سنانے کا موقع ملا۔ ایک نشست میں، میں نے خطیب بغدادی کی ’’تاریخ بغداد‘‘ (۱۳/۳۶۶) کے حوالے سے یہ واقعہ بیان کیا کہ امام ابوحنیفہؒ کے زمانے میں کوفہ کی ایک مسجد میں زرعہ نامی ایک قصہ گو وعظ کہا کرتا تھا اور اپنے مواعظ کی بدولت عوام میں بڑا معروف ومقبول تھا۔ ایک موقع پر امام ابوحنیفہؒ کی والدہ کو کوئی مسئلہ پوچھنے کی ضرورت پیش آئی تو امام صاحب نے انھیں مسئلہ بتایا، لیکن وہ مطمئن نہ ہوئیں اور کہا کہ میں تو زرعہ سے دریافت کر کے عمل کروں گی ۔ اس پر امام صاحب اپنی والدہ کو لے کر زرعہ کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ میری والدہ تم سے فلاں مسئلے کے بارے میں فتویٰ لینا چاہتی ہیں۔ اس نے کہا کہ آپ مجھ سے زیادہ علم رکھتے اور فتویٰ دینے کے اہل ہیں۔ امام صاحب نے کہا کہ میں نے تو انھیں یہ فتویٰ دیا ہے ، لیکن یہ تمہارے فتوے پر عمل کرنا چاہتی ہیں۔ زرعہ نے کہا کہ میرا فتویٰ بھی وہی ہے جو آپ کا ہے۔ اس پر امام ابوحنیفہ کی والدہ مطمئن ہو کر وہاں سے تشریف لے گئیں۔ نیپال کے سفرکے متصل بعد بنگلہ دیش کے سفر کے سلسلے میں اسلام آباد جانا ہوا تو میں نے برادرم خورشید احمد ندیم صاحب کی مہمانی سے لطف اندوز ہونے کا فیصلہ کیا اور ان کی رہائش گاہ پر ایک طویل نشست میں مختلف مسائل پر ان سے تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ اتفاق سے وہاں بھی یہی بات چل نکلی تو میں نے انھیں ایک دوست کا بیان کردہ یہ واقعہ سنایا کہ کسی موقع پر ایک صاحب کے سامنے، جو ملک کے ایک معروف خطیب کی خطابت سے بے حد متاثر اور ان کے شیدائی تھے، حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور ان کے علم وفضل کا ذکر ہوا تو انھوں نے پوچھا کہ یہ کون بزرگ ہیں؟ انھیں بتایا گیا کہ یہ ایک بہت بڑے عالم، محقق اور محدث ہیں تو انھوں نے اپنے ممدوح خطیب صاحب کا نام لے کر تعجب سے پوچھا کہ اچھا، وہ ان سے بھی بڑے عالم ہیں؟ اس کے جواب میں خورشید ندیم صاحب نے مجھے اردو ادب کے ممتاز مزاح نگار جناب مشتاق احمد یوسفی کا واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ وہ امریکہ گئے تو ان کے مداحوں اور عقیدت مندوں نے کسی ہال میں ان کے ساتھ ایک شام منانے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے وسائل جمع کرنے کی غرض سے مختلف اہل ثروت سے رابطہ کیا گیا تو ایک صاحب نے پوچھا کہ جن صاحب کے لیے یہ اہتمام کیا جا رہا ہے، ان کا تعارف کیا ہے؟ انھیں بتایا گیا کہ یہ اردو کے بہت بڑے مزاح نگار ہیں تو انھوں نے دریافت کیا کہ کیا وہ معین اختر (معروف ٹی وی کامیڈین) سے بھی بڑے مزاح نگار ہیں؟
جناب ثاقب اکبر نے اس صورت حال کے ایک دوسرے پہلو کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایسے اہل فکر جو اپنے اپنے حلقے کے گروہی ومسلکی تعصبات سے بلند ہو کر وسیع تر فکری دائرے میں سوچتے اور اپنی فکری وعملی ترجیحات اپنے خاص زاویہ نگاہ سے متعین کرنا چاہتے ہیں، ان کی ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ خود ان کا اپنا حلقہ فکر انھیں قبول کرنے اور بعض اوقات گوارا تک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا اور ایسے حضرات اپنے حلقہ فکر میں کوئی موثر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔ ’’آج کل‘‘ کے کالم نگار جناب ارشاد محمود نے، جو مسئلہ کشمیر کے متخصص سمجھے جاتے ہیں، اس ضمن میں اپنا تجربہ بھی بیان کیا۔ انھوں نے کہا کہ ابتدا میں وہ مسئلہ کشمیر کے تناظر میں پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے وہی نقطہ نظر رکھتے تھے جس کی نمائندگی مثال کے طور پر جناب مجید نظامی اور جنرل حمید گل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ایک عرصے تک اسی زاویے سے تحریریں لکھتے رہے جس سے قارئین کا ایک بڑا حلقہ ان سے وابستہ ہو گیا، لیکن پھر رفتہ رفتہ ان کے فکر وخیال میں تبدیلی آتی گئی اور ان پر واضح ہوا کہ پاکستان اور بھارت کے مسلمانوں کی بہتری اس خطے کی مجموعی بہتری کے ساتھ وابستہ ہے اور خطے کے مجموعی مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ یہ دونوں ملک پرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کریں اور حکمت اور دانش کے ساتھ آپس کے تنازعات کا حل نکالیں، اس لیے محدود دائرے میں عسکری تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے زیادہ توجہ سیاسی اور سفارتی محاذ پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ ارشاد محمودنے کہا کہ نقطہ نظر میں اس تبدیلی کے نتیجے میں انھیں اپنے حلقہ قارئین کی طرف سے سخت منفی رد عمل کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ جب آپ کا زاویہ نگاہ اپنے حلقہ فکر سے کسی معاملے میں بنیادی طور پر مختلف ہو جائے تو یقیناًآپ کو اس حلقے کی ہمدردی اور تعاون وتائید حاصل نہیں رہتی، لیکن اگر آپ اخلاص اور استقلال واستدلال کے ساتھ اپنی بات کہتے رہیں تو اس کی بنیاد پر ایک نئے حلقہ فکر کی تائید آپ کو حاصل ہو جاتی ہے۔
یہ صورت حال، ظاہر ہے کہ کسی ایک خاص مکتب فکر یا دائرے کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ گروہی تعصبات سے بالاتر ہو کر آزادی کے ساتھ غور وفکر کرنے والے لوگوں کو ہر جگہ اسی صورت حال سے سابقہ ہے اور یہ کوئی ناقابل فہم بات نہیں بلکہ سماجی نفسیات کے اصولوں کے مطابق ایک ناگزیر امر ہے۔ جہاں تک اس صورت حال میں کوئی مخصوص لائحہ عمل اختیار کرنے یا عملی ترجیحات متعین کرنے کا سوال ہے تو اس میں افتاد طبع بڑی حد تک فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔ میرا مسلک اس ضمن میں یہ ہے کہ ایک دیانت دار صاحب فکر کو اپنی ترجیحات وسیع تر اور دیرپا مصالح اور مقاصد کی روشنی میں متعین کرنی چاہییں اور فکر ونظر کے جن زاویوں کو وہ اپنے فہم اور ضمیر کے مطابق زیادہ قابل اطمینان سمجھتا ہے، بلا خوف لومۃ لائم پوری وضاحت سے انھی کی ترجمانی کرنی چاہیے۔ کسی خاص حلقہ فکر کی نظر میں شخصی اعتبار اور وقعت حاصل کرنے کو اگر فی نفسہ مطمح نظر بنایا جائے تو یہ اخلاقی لحاظ سے کوئی مستحسن چیز نہیں اور اگر اسے حکمت عملی کے طور پر اختیار کیا جائے تو ایسی کوئی مثال ہمارے سامنے نہیں جس میں کوئی شخصیت ایک خاص درجے کا اعتبار اور استناد حاصل کرنے کے بعد اپنے شخصی وزن کی بنا پر کسی مخصوص حلقہ فکر کے مجموعی مزاج میں کوئی فوری یا بنیادی تبدیلی لانے میں کامیاب ہوئی ہو۔ (مولانا محمد تقی عثمانی کو ہی دیکھ لیجیے جو اپنے تمام تر علم وفضل اور علمی وجاہت کے باوجود علما کے ایک ’’متفقہ فتوے‘‘ کا نشانہ بن گئے ہیں جس کے اسباب میں ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ انھوں نے بعض فقہی معاملات میں حنفی دائرۂ اسلام سے خروج کا ارتکاب کیا ہے۔) حلقہ ہائے فکر جب ایک خاص ذہنی سانچے میں ڈھل جاتے ہیں تو پھر ان میں فکری تبدیلی افراد اور شخصیات سے نہیں بلکہ بے شمار عوامل کے اشتراک سے رفتہ رفتہ اور تدریجاً ہی آ سکتی ہے اور ان میں اہم ترین عامل خود داخلی سطح پر غور وفکر، نظر ثانی اور اصلاح احوال کا جذبہ نہیں، بلکہ ارد گرد کے ماحول میں لوگوں کے عمومی فہم اور تصورات میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا خارجی جبر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر برصغیر میں احناف کے ہاں فقہ حنفی کے ساتھ ساتھ حدیث سے اعتنا اور دوسرے فقہی رجحانات کو گوارا کرنے کے حوالے سے جتنی کچھ وسعت ظرفی اس وقت دیکھنے کو ملتی ہے، ارباب نظر بجا طور پر اسے تحریک اہل حدیث کی مساعی کا ایک ثمر قرار دیتے ہیں۔ اس کے برعکس داخلی سطح پر اصلاح احوال کی کوششوں کی صورت یہ ہے کہ ہمارے ہاں دینی مدارس کے تعلیمی منہج اور ترجیحات اور اسی طرح فقہ وافتا کے دائرے میں جمود کا رونا بڑے بڑے معتبراکابر اب سے نہیں، بلکہ ایک طویل عرصے سے رو رہے ہیں، لیکن ان دونوں دائروں میں جو ’’بہتری‘‘ پیدا ہو سکی ہے، وہ محتاج بیان نہیں۔ اس لیے میرے نزدیک تبدیلی اور اصلاح کے خواہاں اہل فکر کو ساری توجہ اپنے پیغام اور استدلال کو زیادہ محکم اور موثر بنانے اور اسے پوری وضاحت کے ساتھ مسلسل پیش کرتے رہنے پر مرکوز رکھنی چاہیے اور ایسا کرتے ہوئے نہ تو اپنے فکر وفہم پر اثر انداز ہونے والے عوامل کے حوالے سے کوئی معذرت خواہانہ رویہ اپنانا چاہیے، نہ اپنی فکری وابستگیوں کو چھپانا چاہیے اور نہ کسی خاص ذہنی سانچے کی حساسیت سے خوف زدہ ہو کر اپنے نتائج فکر کو صاف لفظوں میں پیش کرنے سے گھبرانا چاہیے۔ ویسے بھی اللہ نے چند روزہ زندگی کی یہ امانت اس لیے دی ہے کہ آدمی اپنے ضمیر کے مطابق اپنی دلچسپی کے دائرے میں معاشرے کی کوئی خدمت انجام دینے کی کوشش کرے۔ اسے اگر لوگوں کے چہروں کا اتار چڑھاؤ دیکھنے میں گزار دیا جائے تو شاید یہ اس کا کوئی اچھا مصرف نہیں ہوگا۔
شیعہ سنی کشیدگی کے حوالے سے مذکورہ نشست کے اختتام پر اظہر حسین نے قائد اعظم محمد علی جناح کے اس مشہور قول کا حوالہ دیا کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ شیعہ ہیں یا سنی تو انھوں نے جواب میں کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم شیعہ تھے یا سنی؟ میں نے اس پر فوراً لقمہ دیا کہ آپ کے سنی ہونے میں تو کوئی شبہ ہی نہیں۔ اظہر حسین نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ میں نے کہا، اس لیے کہ شیعہ تو تاریخی طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بہت بعد پیدا ہوئے ہیں۔ اس پر مجلس میں ایک اجتماعی قہقہہ بلند ہوا اور ایک نازک اور سنجیدہ بحث خوش گوار انداز میں اختتام کو پہنچی۔
عالم اسلام کے حوالے سے مغربی دنیا کے طرز عمل اور پالیسیوں سے متعلق بھی کئی نوعیت کے سوالات ورک شاپ کے دوران میں مختلف مراحل پر زیر بحث آتے رہے۔
اظہر حسین نے بتایا کہ امریکہ میں تھنک ٹینکس کا کام یہ ہے کہ وہ دنیا کے مختلف خطوں میں ہونے والی متوقع پیش رفت کی پیش بینی کریں اور امریکہ کے پالیسی ساز اداروں کو امریکی مفادات کے تناظر میں راہ نمائی اور تجاویز فراہم کریں۔ یہ رپورٹس باقاعدہ شائع کی جاتی ہیں اور اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دوسرے نقطہ ہائے نظر کو ان پر تنقید پر موقع مل جاتا ہے۔ کانگریس کے پاس تجزیے کا وقت نہیں ہوتا، چنانچہ مختلف تھنک ٹینکس کی تیار کردہ رپورٹس کی روشنی میں تجزیے کا کام CSIS (یعنی سنٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز) نام کا ایک ادارہ کرتا ہے جو مختلف ماہرین کو جمع کرتا ہے اور ان کے بحث ومباحثہ کے نتیجے میں سامنے آنے والی تجاویز مرتب کر کے کانگریس اور دوسرے پالیسی ساز اداروں کو بھیج دیتا ہے۔ مختلف تھنک ٹینکس کی رپورٹس کے حوالے سے مختلف حکومتوں کی ترجیحات بھی الگ الگ ہوتی ہیں۔ مثلاً رینڈ کارپوریشن کی تجاویز Conservative رجحانات کی حامل ہوتی ہیں جنھیں بش انتظامیہ بہت اہمیت دیتی تھی لیکن اوباما کی حکومت زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ اظہر حسین نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے اسی قسم کی ایک رپورٹ میں مستقبل کے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر پاکستان کی موجودہ صورت حال اسی طرح آگے بڑھتی رہی اور تنازعات کو حل نہ کیا گیا تو فاٹا یا بلوچستان کے علاقے پاکستان سے الگ ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا نے سنسنی خیزی پھیلانے کے لیے ایسی رپورٹس کو ’’امریکی منصوبے‘‘ کی صورت میں پیش کیا، حالانکہ یہ کوئی خواہش یا منصوبہ نہیں تھا بلکہ ایک تجزیہ تھا اور اسی رپورٹ میں اس نتیجے سے بچنے کے لیے کئی تجاویز بھی دی گئی تھیں اور کہا گیا تھا کہ اگر حکومت اور سول سوسائٹی مل کر کوشش کریں تو اس انجام سے بچا جا سکتا ہے۔
(میرے ذہن میں آیا کہ اگر امریکہ یا دوسری عالمی طاقتیں اپنے اہداف اور عزائم کے تناظر میں اس طرح کے منصوبے فی الواقع بناتی ہوں، بلکہ یقیناًبناتی ہوں گی، تو اس پرشکوے کے کیا معنی؟ یہ تو وہ حمام ہے جس میں دنیا کی تمام عالمی اور علاقائی طاقتیں ننگی ہیں اور سبھی اپنے اپنے مفادات کے لحاظ سے دوسرے ملکوں کی داخلی سیاست کا نقشہ ترتیب دینے کو اپنا حق سمجھتی ہیں۔ امریکہ اور بھارت تو خیر ’’کفار‘‘ ہیں، ہمارے بہت سے برادر مسلم ممالک کی مہربانیاں بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ اظہر حسین نے بتایا کہ انھوں نے ایک موقع پر دوستانہ ماحول میں سعودی وزیر داخلہ شہزادہ ترکی الفیصل سے کہا کہ آپ لوگوں نے ۸۰ء کی دہائی میں ہمارے ساتھ کیا کیا؟ اس کے جواب میں ترکی الفیصل نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر صاف کہا کہ جو لوگ پیسے کے لیے سب کچھ کر سکتے ہیں، ان کے ساتھ سب کچھ کیا جا سکتا ہے۔ اظہر حسین کے بقول ترکی الفیصل نے اس ضمن میں مذہبی طبقوں کا بطور خاص ذکر کیا۔ خود ہمارے عسکری منصوبہ ساز نہ صرف انڈیا کو تقسیم کرنے کے لیے خالصتان جیسی علیحدگی پسند تحریکوں کی پشت پناہی کرتے رہے ہیں،بلکہ افغان مجاہدین کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیے رکھنے اور پاکستان کے سٹریٹجک مفادات کے لحاظ سے اپنی پسند کے گروہوں کی تائید وامدادکا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ حال ہی میں مغربی طاقتوں نے طالبان کے ساتھ سیاسی مصالحت کے لیے گفت وشنید کا ڈول ڈالا تو طالبان کی اعلیٰ سطحی قیادت کو گرفتار کر کے دنیا کو یہ صاف پیغام دیا گیا کہ افغانستان کی سیاسی نقشہ گری کی کوئی کوشش پاکستان کے تعاون اور اس کی ترجیحات کو مدنظر رکھے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔)
اظہر حسین نے کہا کہ سماجی اور سیاسی شعور کے فقدان کی وجہ سے پاکستان میں بہت سے لوگ اپنے مسائل کا حل یہ سمجھتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر ’’صفایا‘‘ کیے بغیر تبدیلی نہیں آئے گی، بلکہ ایک سابق آرمی جنرل نے CSIS کی ایک میٹنگ میں امریکی پالیسی سازوں سے یہ کہا کہ پاکستان کے تیس پینتیس بڑے خاندانوں کو ختم کرنے میں آپ ہماری مدد کریں، اس سے ہمارے سارے مسئلے حل ہو جائیں گے اور اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ پاکستان کی باقی ساری آبادی کے ساتھ امتیازی سلوک برت رہے ہیں۔
اظہر حسین نے کہا کہ ہمارے تعلیمی نظام میں طلبہ کو تجزیہ کرنااور ابہام کے موقع پر اپنی تجزیاتی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی تربیت نہیں دی جاتی۔ سلیم علی نامی ایک مصنف کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مصنف نے سترہ مدرسوں کے طلبہ سے انٹرویو کے بعد اپنا تجزیہ مرتب کیا ہے اور بتایا ہے کہ مدارس کے کلچر میں ہر مسئلے کا تجزیہ ’’نظریہ سازش‘‘ کی روشنی میں کیا جاتا ہے اور بالکل نوعمر بچے کسی قسم کی معلومات کے بغیر پو ری حتمیت سے رائے زنی کر دیتے ہیں کہ فلاں بات میں سازش پائی جاتی ہے۔ اظہر نے کہا کہ ان کی رائے میں یہ رویہ ذہنی کاہلی اور ناکارہ پن کی علامت ہے اور اس نظریے کے اس قدر عام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ معروضیت کے بجائے جہالت کا کلچر پروان چڑھ رہا ہے۔ اظہر نے کہا کہ ہر معاملے میں دوسروں کو اپنے نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا کسی مثبت وژن کے فقدان کی علامت ہے اور یہ رویہ آپ کو کوئی نتیجہ خیز حکمت عملی اپنانے سے روک دیتا ہے۔ اظہر حسین نے کہا کہ ان کا عام مشاہدہ ہے کہ جب مسلمانوں کو ان کی اندرونی کمزوریوں اور خامیوں پر توجہ دلائی جائے تو وہ دفاع کے طور پر دوسری قوموں کے ظلم اور نا انصافی کی مثالیں بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اظہر حسین کا تجزیہ یہ تھا کہ مغرب کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے والی سخت بنیاد پرست تحریکیں دراصل مغرب سے شدید مرعوب ہیں، کیونکہ گہرے نفسیاتی تجزیے کی رو سے غصے اور نفرت کا معمول سے بڑھا ہوا اظہار درحقیقت لاشعور میں پیوست شدید مرعوبیت کی علامت ہوتا ہے۔ اظہر حسین نے کہا کہ اپنے مخالفین کے ظلم وستم کی نشان دہی اور اس پر احتجاج کرنا آسان ہے، لیکن ہمارے مذہبی اور سیاسی گروہ عام طور پر اپنے ہاں کی نا انصافی اور ظلم وستم کو نظر انداز کر دیتے یا ان کی پردہ پوشی کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، اس پر پورا ملک سراپا احتجاج ہے لیکن بلوچستان میں بے شمار خواتین اسی طرح کے ظلم وستم کا شکار ہیں اور اس پر کبھی کسی کے ضمیر کو احساس نہیں ہوتا۔
نیپال میں منعقد ہونے والی تربیتی ورک شاپ کے اخراجات اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے الائنس آف سولائزیشنز نے برداشت کیے جبکہ بنگلہ دیش کے تین روزہ پروگرام کے انعقاد کے لیے USAID اور ایشیا فاؤنڈیشن نے وسائل فراہم کیے جو دونوں امریکی تنظیمیں ہیں۔ اس تناظر میں ان دونوں اسفار کے دوران میں یہ سوال کسی نہ کسی حوالے سے زیر بحث آتا رہا کہ مغربی حکومتوں اور غیر سرکاری اداروں کی طرف سے مشرقی اور خاص طور پر اسلامی ممالک کو سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر دی جانے والی مختلف نوعیت کی مالی امداد کے محرکات اورمقاصد کیا ہیں، ان کا اصل ایجنڈا کیا ہے اور اس امداد پر مبنی پروگراموں اور سرگرمیوں میں شرکت، مقاصد میں تعاون اور مغربی وسائل سے استفادہ کا دائرۂ کار اور حدود کیا ہونے چاہییں۔ یہ سوال اکتوبر ۲۰۰۹ء میں بھوربن میں منعقد ہونے والی ورک شاپ میں بھی ذرا دبے لفظوں میں زیر بحث آیا تھا، لیکن نیپال کی ورک شاپ میں منتظمین اور مدعوین کے باہمی حجابات خاصی حد تک اٹھ جانے اور بے تکلفی کی فضا پیدا ہو جانے کے باعث اس پر زیادہ کھلے انداز میں گفتگو ہوئی اور ایک پوری نشست اسی سوال کے مختلف پہلووں پر مرکوز رہی۔ ورک شاپ میں ٹرینر کی ذمہ داری انجام دینے والے اظہر حسین نے، جو اس سارے عمل سے بہت قریبی واقفیت رکھتے ہیں اور خود ایک تھنک ٹینک کے قیام اور انتظام وانصرام کا تجربہ رکھتے ہیں، اس ضمن میں مغربی زاویہ نگاہ کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ مغربی ممالک کی طرف سے ترقی پذیر ممالک کو دی جانے والے امداد کے محرکات عام طور پر دو ہوتے ہیں: ایک یہ کہ جن سماجی اقدار مثلاً جمہوریت، آزادی رائے اور خواتین کے حقوق وغیرہ پر ان کا اعتقاد ہے، انھیں دنیا میں فروغ دیا جائے اور دوسرا یہ کہ دنیا کے لوگوں میں اپنے بارے میں اچھے اور مثبت جذبات پیدا کیے جائیں۔
جہاں تک کسی منصوبے کی عملی تشکیل کے لیے اپنے مخصوص تصورات کو ٹھونسنے کا تعلق ہے تو اظہر حسین کی رائے میں اس کا تقاضا امداد دہندگان کی طرف سے کم ہوتا ہے جبکہ ہمارے یہاں کے مرعوب ذہنیت رکھنے والے امداد خواہ انھیں مطمئن کرنے کے لیے اس کی کوشش زیادہ کرتے ہیں۔ مثلاً انھوں نے بتایا کہ ایک این جی او کو فاٹا کے پس ماندہ علاقے میں اسکول قائم کرنے کے لیے فنڈ دیا گیا تو اس نے اچھی خاصی رقم اسکول میں جدید طرز کا ایک خوب صورت آرٹ سنٹر بنانے پر صرف کر دی، حالانکہ نہ تو وہاں کے ماحول میں اس کی کوئی ضرورت تھی اور نہ فنڈ دینے والوں کا ایسا کوئی تقاضا تھا، لیکن اس این جی اوز کے منتظمین نے امداد دہندگان کو اپنا ’’لبرل پن‘‘ دکھانے کے لیے ایسا کرناضروری سمجھا۔ اسی طرح ایک صاحب کو ایسے ڈرامے تیار کرنے کے لیے فنڈ ملا جو پاکستان میں خواتین کی معاشرتی حیثیت کو بہتر بنانے میں مدد دیں تو انھوں نے سمجھا کہ بعض علاقوں میں خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے منفی طرز عمل کو زیادہ اجاگر کرنے اور اس کی انتہائی شکلوں کو پیش کرنے سے امداد دہندگان زیادہ مطمئن ہوں گے، حالانکہ ان کی طرف سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں تھا اور مثبت نوعیت کے ڈرامے بنا کر بھی مطلوبہ مقصد حاصل کیا جا سکتا تھا۔ اظہر حسین نے یہی شکایت سرکاری سطح پر ترقیاتی منصوبوں کے لیے دی جانے والی امداد کے حوالے سے کی اور کہا کہ مغربی ادارے عام طور پر کسی منصوبے کی بنیادی تفصیلات اور اس کے قابل عمل ہونے کا اطمینان حاصل کرنے کے بعد عملی تفصیلات میں الجھنا پسند نہیں کرتے، لیکن ہمارے یہاں کے متعلقہ حضرات خواہ مخواہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں ان سے ہدایات طلب کرنے لگتے ہیں۔ البتہ کسی منصوبے کی تکمیل کے لیے مدت کی تعیین اور پھر اس مدت کے اندر اسے عملاً پایہ تکمیل تک پہنچانا، یہ مغربی مزاج اور کلچر کا حصہ ہے اور وہ اسی کے مطابق امدادی منصوبوں کے ذمہ دار حضرات سے رپورٹ طلب کرتے ہیں جسے ہمارے ہاں ’’مداخلت‘‘ کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
ڈھاکا میں یو ایس آئی ڈی کے نمائندے رسل پے پے نے بھی مجھ سے یہی بات کہی۔ مغربی اداروں کی طرف سے ڈکٹیشن دیے جانے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ That is not the western way of doing things. (اہل مغرب کا کام کرنے کا طریقہ یہ نہیں ہے)۔ رسل نے کہا کہ اگر ہم ایسا کرنے لگیں تو کام نہیں ہو سکتا۔ مثال کے طور پر انھوں نے بتایا کہ انھوں نے حال ہی میں یو ایس آئی ڈی کے زیر اہتمام پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے اہل علم سے اسلام میں خواتین کے حقوق کے موضوع پر ایک کتاب کا مسودہ مرتب کروایا ہے جس کا طریق کار یہ رہا ہے کہ ابتدائی طور پر ہر ملک کی ایک تین رکنی ٹیم نے اپنا اپنا مسودہ تیار کیا۔ (ہمارے وفدکے رکن اور بہاؤ الدین زکریا یونی ورسٹی، ملتان کے شعبہ اسلامیات کے صدر ڈاکٹر محمد اکرم رانا بھی اس میں شریک تھے۔) پھر تینوں ٹیموں نے اکٹھے ہو کر اپنے مسودات کا تقابلی جائزہ لیا اور اس کی روشنی میں ایک متفقہ مسودہ تیار کیا گیا۔ اس کے بعد یہ مسودہ پچاس اہل علم کو بھیجا گیا تاکہ وہ اس کا تنقیدی جائزہ لے کر اصلاح وترمیم کے حوالے سے اپنی تجاویز دیں۔ اس سارے عمل کے نتیجے میں ایک متفقہ مسودہ کی تیاری آخری مراحل میں ہے جسے ان تینوں ممالک میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے تعلیمی وتربیتی پروگراموں کے لیے بنیاد کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ رسل نے کہا کہ اس پورے پراسس میں ہم نے سوائے سہولیات فراہم کرنے کے اور کوئی کردار ادا نہیں کیا، کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے کوئی ایسی دستاویز موجود ہو جسے مسلمان اہل علم نے اسلامی تصورات کے مطابق مرتب کیا ہو اور اسے ان کا پورا پورا اعتماد حاصل ہو تاکہ اس کی بنیاد پر معاشرے میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کیا جا سکے۔ اگر ہم اس مسودے کی تیاری میں مغربی تصورات اور معیارات مسلط کرنے کی کوشش کرتے تو یہ کام سرے سے ہو ہی نہ پاتا۔
میرے ذہن میں یہ سوال آیا کہ کچھ عرصہ پہلے جب ہم نے افغانستان میں روس کے خلاف جہادی سرگرمیوں کو کامیاب بنانے کے لیے امریکی تعاون کو قبول کیا تو مذہبی ذہن نے اس پر کوئی تحفظات محسوس نہیں کیے۔ اسی طرح ۲۰۰۷ء میں کشمیر اور بالاکوٹ میں زلزلے کی تباہیوں کے بعد بحالی کے لیے پوری دنیا سے امداد آئی اور ہم نے اسے بلا تردد قبول کیا۔ اس کے برعکس جب مغربی ممالک مدارس کے نظام کی اصلاح کے لیے یا انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے فروغ یا معاشرتی بہبود کے عنوان پر امداد دینا چاہتے ہیں تو مذہبی ذہن اس پر شدید تحفظات اور خدشات کا شکار ہو جاتا ہے اور ایسے کسی کام میں تعاون یا اشتراک کو آلہ کار بننے کے مترادف سمجھتا ہے، کیونکہ وہ مخصوص مفہوم میں مدارس کی اصلاح یا انسانی حقوق یا مخصوص سماجی مسائل کو دراصل ’’اپنا‘‘ مسئلہ نہیں سمجھتا یا ان مقاصد کی عملی صورت کے حوالے سے مغربی تصورات سے اتفاق نہیں رکھتا اور بعض صورتوں میں خود اپنے رجحان اور زاویہ نظر کی تعیین میں دو ذہنی اور ابہام کا شکار ہے۔ ظاہر بات ہے کہ مقصد کی واضح تعیین اور اس پر فریقین کے اتفاق رائے کے بغیر عملاً کوئی تعاون لینے کا بھی کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے مختلف کھلے اور چھپے مقاصد کے تحت خطیر قسم کی مالی امداد ترقی پذیر ممالک کو دی جاتی ہے اور معاشرتی ترقی کے بعض مخصوص میدانوں مثلاً تعلیم اور صحت میں نسبتاً کم تحفظات کے ساتھ اس امداد کا اچھا اور موثر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہماری مذہبی قیادت نے اپنے کارکنوں کو جذباتی اور غیر عملی نعرے رٹانے اور کسی بھی عملی دائرے میں معاشرے کی خدمت کے امکانات، مواقع اور تربیت سے انھیں محروم رکھنے کا جو وطیرہ اپنائے رکھا ہے، وہ نئی نسل میں انتہا پسندی، تشدد اور معمول کی دینی جدوجہد سے مایوسی پیدا کرنے کے اسباب میں ایک بڑا سبب ہے۔ اس تناظر میں میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی نئی اور تازہ دم مذہبی تنظیم تعلیم اورصحت کے خالصتاً سماجی مقاصد پر ارتکاز کرتے ہوئے مذہبی کارکنوں کی فکری وعملی تربیت کر کے انھیں ان میدانوں میں کھپانے کا اہتمام کر سکے اور اس مقصد کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر میسر وسائل کو پاکستانی معاشرے کی دیانت دارانہ اور موثر خدمت کے لیے استعمال کرنے کا کوئی اچھا اور مثالی نمونہ پیش کر سکے تو شاید یہ ملک، قوم، معاشرے اور خود مذہبی طبقات کی ایک خدمت ہی ہوگی۔ اگر محدود سیاسی مفادات یا فرقہ وارانہ مقاصد کے اشتراک کی بنیاد پر ہماری مذہبی تنظیموں کو سعودیہ، عراق اور ایران بلکہ امریکہ تک سے تعاون حاصل کر کے ملک میں فرقہ وارانہ فساد پھیلانے کی اجازت ہے تو پاکستان کے عوام کو تعلیم اور صحت کے میدانوں میں تھوڑا سا ریلیف فراہم کر دینے سے بھی کوئی گناہ کبیرہ سرزد نہیں ہو جائے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نوعیت کی سرگرمیوں کے اہداف ومقاصد کے حوالے سے تحفظات اور کسی خفیہ ایجنڈے کی موجودگی پر اطمینان رکھنے کے باوجود ورک شاپ کے شرکا میں سے کسی کے ہاں بھی عملاً ایسے اسفار میں شرکت کے حوالے سے کوئی تردد یا ہچکچاہٹ دیکھنے میں نہیں آئی، بلکہ مختلف حضرات کی طرف سے آئندہ ورکشاپ کے انعقاد کے لیے دوبئی، دوحہ اور امریکہ وغیرہ کے انتخاب کی تجاویز بھی بے تکلف سامنے آ رہی تھیں۔
مذکورہ دونوں ورک شاپس کے شرکا کا عمومی تاثر یہ تھا کہ منتظمین کے کچھ خفیہ مقاصد (Hidden Agenda) بھی ہیں جن میں ایک مثلاً یہ ہے کہ دینی صحافت سے وابستہ لوگوں میں مغرب یا امریکہ کے حوالے سے نرم گوشہ پیدا کیا جائے۔ میرے ذاتی تجزیے میں، جہاں تک مغربی ممالک یا بین الاقوامی اداروں کا اس نوعیت کے پروگراموں کے لیے وسائل مہیا کرنے کا تعلق ہے تو یقیناًاس کے محرکات میں سے ایک محرک یہ بھی ہوگا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے اہم عنصر کو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ عنصر مختلف مسلمان معاشروں سے تعلق رکھنے والے ان بے شمار افراد کا ہے جو ایک طرف دنیوی ترقی کے مختلف معیارات کے لحاظ سے مغربی معاشروں کے مقابلے میں اپنے معاشروں کو بہت پس ماندہ دیکھتے ہیں اور دوسری طرف انھیں مغرب کے سیاسی وسماجی نظام اور وہاں کے پالیسی ساز اداروں کا قریبی مطالعہ کرنے اور ان مواقع اور امکانات کو جانچنے کا موقع ملا ہے جو اس نظام میں موجود ہیں اور جنھیں مثبت طور پر مسلم دنیا کے فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس مخصوص اکسپوژر کی بدولت ایسے لوگ مسلم معاشروں کو درپیش مسائل اور مشکلات کا تجزیہ صرف ’’نظریہ سازش‘‘ (Conspiracy Theory) کی روشنی میں کرنے پر اپنے آپ کو آمادہ نہیں پاتے، بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان معاشروں کے تنزل وانحطاط کا اصل سبب ان کی داخلی کمزوریاں اور تضادات ہیں ۔ چنانچہ عالم اسلام کی عام سیاسی اور مذہبی قیادت کے برعکس، جو مغرب کے سیاسی، تہذیبی اور معاشرتی استیلا کو مشکلات ومسائل کا اصل منبع اور اس کے خاتمے کو مسائل کے حل کے لیے کلید سمجھتی ہے، یہ عنصر مذکورہ میدانوں میں اہل مغرب کو حاصل فوقیت کو بالفعل تسلیم کرتے ہوئے اس پر شکایت اور ردعمل کی نفسیات ظاہر کرنے کے بجائے عالم اسلام کے مسائل کے حل کے لیے مثبت ذہن کے ساتھ ان کے سماجی تجربات، سیاسی اثر ورسوخ اور معاشی وسائل سے استفادے کی راہ کو زیادہ قابل عمل اور بہتر تصور کرتا ہے اور اس کا زاویہ نظر یہ ہے کہ اگر مسلم معاشرے داخلی طور پر استحکام حاصل کر لیں تو خارجی مشکلات اور چیلنجز کا مقابلہ حکمت ودانش اور بصیرت سے کیا جا سکتا ہے۔ میں ذاتی طور پر مسلمان معاشروں سے تعلق رکھنے والے اس عنصر کے زاویہ نگاہ کو ہمدردی کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ میرے نزدیک اس حلقے کے تجزیوں اور ذہنی وفکری اور عملی ترجیحات سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کا زاویہ نگاہ بہرحال ایک مخصوص اکسپوژر کی پیداوار ہے جس سے مسلم معاشروں کے راہ نما بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
ورک شاپ کی باقاعدہ نشستوں کے علاوہ بعض انفرادی نشستوں میں بھی اظہر حسین کے تبصرے اور تجزیے سننے اور باہمی دلچسپی کے معاملات میں ان سے تبادلہ خیال کا موقع ملتا رہا۔ ایک نجی نشست میں اظہر حسین کے ساتھ افغانستان اور طالبان کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔ اظہر حسین نے بتایا کہ انھوں نے پشین میں طالبان کے وزرا کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کی ہے۔ وہ بہت اچھے اور سادہ لوگ ہیں اور اپنے موقف کے بارے میں اپنے آپ کو بالکل حق بجانب سمجھتے ہیں۔ اظہر نے بتایا کہ ان کی ملا شبیر سے ذاتی دوستی بھی ہے جو ملا محمد عمر کے مشیر تھے۔ میں نے اظہر حسین سے پوچھا کہ کافی عرصے سے وقتاً فوقتاً ایسی چھوٹی چھوٹی خبریں دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ، افغانستان میں طالبان کے ساتھ کوئی سیاسی معاملہ کرنے کے امکان پر غور کر رہا ہے اور شاید اس سلسلے میں درون خانہ کوئی گفت وشنید بھی ہو رہی ہے، اس سلسلے میں ان کی معلومات کیا ہیں؟ (یہ جنوری ۲۰۱۰ء کے آغاز کی بات ہے، جبکہ اس کے بعد طالبان کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ مذاکرات کے ضمن میں ہونے والی باقاعدہ پیش رفت میڈیا میں رپورٹ ہو چکی ہے۔) اظہر حسین نے کہا کہ یہ بات درست ہے اور یہ رجحان امریکی انتظامیہ میں کافی عرصہ قبل پیدا ہو چکا تھا، البتہ امریکی اداروں میں داخلی طور پر اس حوالے سے ایک اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا نقطہ نظر یہ رہا ہے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہ کرے، بلکہ طالبان سے کہا جائے کہ وہ القاعدہ اور اس کے اہداف سے اپنے آپ کو الگ کرنے کی شرط پر کرزئی حکومت کے ساتھ مصالحت کر کے افغانستان کے موجودہ دستوری ڈھانچے کے دائرے میں شریک اقتدار ہو جائیں، لیکن اب اوباما کی حکومت میں اس بات پر بھی آمادگی پائی جاتی ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکہ، طالبان اور کرزئی حکومت کی صورت میں ایک سہ فریقی مذاکراتی عمل کا آغاز کیا جائے۔ اظہر حسین نے بتایا کہ بہت سے صلح پسند عام طالبان کرزئی حکومت کی طرف سے معافی کے اعلان سے فائدہ اٹھا چکے ہیں اور افغانستان کے سابق صدر صبغت اللہ مجددی کی زیر سرپرستی قائم کیے گئے Amnesty Reconciliation Centre میں چھ سات ہزار طالبان ایمنسٹی لے چکے ہیں، تاہم فنڈز کم ہونے کی وجہ سے مطلوبہ نتائج نہیں مل سکے۔ اظہر نے یہ بھی بتایا کہ افغانستان کی تعمیر نو کے لیے دی جانے والی رقم کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ پائپ لائن میں مزید رقم ڈالنے کی گنجائش نہیں، لیکن امن نہ ہونے کی وجہ سے ۸۰ کے قریب تعمیری منصوبے معطل ہیں اور ان پر کام شروع نہیں ہو سکتا۔
جہاں تک پاکستانی طالبان کا تعلق ہے تو اظہر حسین نے کہا کہ وہ مذہبی راہ نما جو پاکستان میں ہونے والے خود کش حملوں میں طالبان کا کوئی کردار تسلیم نہیں کرتے اور اسے بیرونی سازش قرار دیتے ہیں، حقائق کی پردہ پوشی کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ۲۰۰۹ء میں وزیرستان کا دورہ کیا اور ایک رپورٹ کی تیاری کے سلسلے میں، بذات خود طالبان کے پاس اسلحہ کے غیر محدود ذخائر دیکھے اور ایک سو سترہ خود کش بمباروں سے انٹرویو کیا جن کی عمر ۱۳ سے ۱۷ سال کے درمیان تھی۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ وہ چاندنی چوک میں جا کر خود کش حملہ کرے گا۔ جب اس سے کہا گیا کہ اس سے تو مسلمان مریں گے تو اس نے کہا کہ نہیں، اس حملے سے اول تو کسی مسلمان کو نقصان ہی نہیں پہنچے گا اور اللہ تعالیٰ اسے محفوظ رکھیں گے اور اگر کچھ مسلمان مر بھی گئے تو وہ سیدھے جنت میں جائیں گے۔ اظہر حسین نے بتایا کہ جب لال مسجد کا ڈرامہ چل رہا تھا تو وہ خود وہاں گئے تھے اور وہاں کے طلبہ سے گفتگو کی تھی۔ ان طلبہ کی ذہنی تربیت ایسی کی گئی تھی کہ انھوں نے کہا کہ جب ہم باہر کے ماحول میں جاتے ہیں تو ہمارا دم گھٹتا ہے۔
دینی صحافت کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ اسی ورک شاپ کے منتظمین کی طرف سے مین اسٹریم میڈیا کے ایک گروپ کے لیے بھی تربیتی ورک شاپ کا اہتمام کیا گیا تھا جس کا آغاز ہماری ورک شاپ کے آخری روز ہوا، چنانچہ ۵ جنوری کو دونوں گروپوں کا ایک مشترکہ سیشن منعقد کیا گیا اور دونوں طرف کے حضرات کو مختلف ٹولیوں کی شکل میں مخلوط کر کے باہمی تعارف اور تبادلہ خیال کا موقع دیا گیا۔ یہ تجربہ دلچسپ رہا اور دونوں طرف کے حضرات نے خاصی بے تکلفی اور کھلے دل سے ایک دوسرے کی سرگرمیوں اور خیالات سے آگاہی حاصل کی۔ اس سیشن میں مختلف افراد کو اپنے تاثرات کا اظہار کرنے کی دعوت دی گئی تو طرفین کے نمائندوں نے خوش گوار حیرت کا مظاہرہ کیا۔ ایک صحافی نے کہا کہ ہم مولوی صاحبان کو خاصا سخت مزاج سمجھتے ہیں، لیکن ان سے گفتگو کر کے ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ کئی باتوں میں ہم سے زیادہ ’’کھلے ڈلے‘‘ ہیں۔ مولانا محمد ازہر نے کہا کہ اسی قسم کا تاثر ہم نے بھی لیا ہے اور ہمیں محسوس ہوا ہے کہ ظاہری وضع قطع جو بھی ہو، اندر سے یہ حضرات بھی ’’مسلمان‘‘ ہیں۔ سنجیدہ اور خشک موضوعات کے درمیان یہ نشست سب سے زیادہ دلچسپ محسوس کی گئی اور بعد میں بھی اس حوالے سے خوش گوار تاثرات کا اظہار کیا جاتا رہا۔
ورک شاپ کے اختتام پر شرکا سے تجاویز طلب کی گئیں تو میں نے عرض کیا کہ اگر پاکستانی معاشرے میں تصادم اور تنازعات کو حل کرنا مقصود ہے تو اس نوعیت کی ورک شاپس میں بطور خاص ان لوگوں کو دعوت دے کر باہمی مکالمہ کے مواقع فراہم کرنے چاہییں جو کسی بھی نوعیت کے تنازعات میں عملاً فریق اور شریک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اب تک جن لوگوں کو بلایا گیا ہے، وہ پہلے سے ہی اعتدال پسندانہ رجحانات رکھتے ہیں اور اپنے اپنے دائرۂ اثر میں اس کی آواز بھی بلند کرتے رہتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ عملاً شدت پسندانہ رجحانات کے ترجمان اور نقیب ہیں، ان کے ذہنی افق کو وسیع کیا جائے اور ان میں اس بات کی صلاحیت اور حوصلہ پیدا کیا جائے کہ وہ مذہبی وسماجی تنازعات کو محدود گروہی زاویے سے دیکھنے کے بجائے وسیع تر معاشرتی وقومی اور فکری وتہذیبی تناظر میں دیکھیں اور اپنے اثر ورسوخ کو تفریق او ر تصادم کو بڑھانے کے بجائے اسے کم کرنے کے لیے استعمال کریں۔ اظہر حسین نے اس سے اتفاق کیا، لیکن کہا کہ وہ پہلے ہی مرحلے پر براہ راست ایسے عناصر کو اکٹھے ایک میز پر نہیں بٹھا سکتے۔
میری دوسری تجویز یہ تھی کہ اگر آئندہ اس نوعیت کی کوئی ورک شاپ منعقد کی جائے تو درج ذیل دو موضوعات پر تفصیلی بریفنگ اس کا حصہ ہونی چاہیے: ایک یہ کہ مغرب کا سیاسی اور سماجی نظام کیا ہے، دنیا کے دوسرے معاشروں اور ثقافتوں کے بارے میں اہل مغرب کا زاویہ نگاہ کیا ہے اور خاص طور پر سیاسی اور معاشی سطح پر پالیسی ساز ی کا عمل کیسے طے پاتا ہے اور اس میں کون کون سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ (اس کی ضرورت میری نظر میں اس پہلو سے ہے کہ ہمارے ہاں عام طور پر مغربی حکومتوں کے سیاسی اقدامات، اہل مغرب کی عمومی سیاسی سوچ اور وہاں کی سول سوسائٹی کے رجحانات، ان تینوں دائروں کو باہم گڈمڈ کر کے ’’مغرب‘‘ کو ایک کل کی شکل میں دیکھا جاتا ہے اور ناقص اور سطحی معلومات پر بڑے بڑے سیاسی، معاشی اور تہذیبی تجزیوں کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔) دوسرے یہ کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں رنگ، نسل اور مذہب وغیرہ کی بنیاد پر جو تنازعات موجود ہیں، مغرب میں سماجی اصولوں کی روشنی میں ان کے سنجیدہ مطالعہ اور تجزیہ کی ایک اچھی اور قابل قدر روایت موجود ہے۔ اگر تصفیہ تنازعات کے نظری اصولوں کے ساتھ ساتھ اس ضمن میں کیے جانے والے بعض عملی تجربات او ر کوششوں کا بھی تعارف کروایا جائے تو شرکا کو اس سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا اور وہ ان سے راہنمائی لے کر اپنے اپنے دائرے میں کچھ نہ کچھ کردار ادا کر سکیں گے۔
بہرحال ایک بے حد سنجیدہ موضوع پر منعقد کی جانے والی یہ ورک شاپ بہت مفید اور فکر انگیز رہی اور دینی صحافت کے وابستگان کو اپنی ذمہ داریوں اور کردار کے حوالے سے ایک مختلف زاویہ نگاہ سے واقفیت حاصل کرنے کے علاوہ خود آپس میں بھی ایک دوسرے کے خیالات سے استفادہ کرنے اور شخصی سطح پر روابط قائم کرنے کا موقع ملا۔ ذہنی وفکری پس منظر اور زاویہ نگاہ کے ممکنہ اختلاف کے باوجود اس میں شبہ نہیں کہ منتظمین نے اس ورک شاپ کے ذریعے سے دینی صحافت کے نمائندوں کو تنازعات اور تصادم کے تناظر میں زیادہ موثر اور فعال کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنے کی مخلصانہ کوشش کی جس کے لیے یہ سب حضرات یقیناًتحسین اور حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں۔
اس سفر کے بعض ضمنی مشاہدات اور تجربات کا ذکر بھی یہاں دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔
کھٹمنڈو میں ہمارے قیام کا انتظام ریڈی سن ہوٹل (Raddison Hotel) میں کیا گیا تھا جو بہت خوب صورت اور اعلیٰ معیار کا تھا اور اس میں ہوٹلنگ کے جدید معیار کے مطابق تمام سہولتیں میسر تھیں، لیکن پاکستانی وفد کے لیے یہ مسئلہ خاصا پریشان کن رہا کہ رہائشی کمروں کے باتھ رومز میں پانی سے استنجا کی سہولت موجود نہیں تھی اور صرف ٹشو پیپر رکھا گیا تھا۔ اس صورت حال سے سبھی دوست خاصے نالاں تھے اور باہم اس کا تذکرہ بھی ہوتا رہا، لیکن کوئی حل بظاہر سمجھ میں نہ آیا، تا آنکہ ماہنامہ ’’منہاج القرآن‘‘ کے ڈاکٹر علی اکبر الازہری صاحب نے، جو ورک شاپ کے دوسرے روز شام کو پہنچے تھے، تیسرے دن ایک نشست میں ساتھیوں کو بتایا کہ کمرے میں رکھا ہوا ایک مخصوص ڈیکوریشن پیس ایسی طرز پر بنا ہوا ہے کہ اس سے بآسانی لوٹے کا کام لیا جا سکتا ہے اور انھوں نے ایسا ہی کیا ہے۔ یہ انکشاف دلچسپ تھا، البتہ یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ان کے تجربے سے باقی حضرات نے بھی کوئی فائدہ اٹھایا یا نہیں۔ ہوٹل کی انتظامیہ نے چیک ان کے وقت ایک فارم پر ہم سے ہمارا نام پتہ اور ای میل ایڈریس لے لیا تھا، چنانچہ جب ہم پاکستان واپس پہنچے تو ہوٹل کی طرف سے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں درخواست کی گئی تھی کہ ہم ایک مہمان کے طور پر ہوٹل کے انتظامات اور سہولیات کے حوالے سے اپنے تاثرات ہوٹل کی ویب سائٹ پر درج کر دیں تاکہ اس کی روشنی میں ہوٹل کے انتظامات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ میں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دو تجاویز تحریر کر دیں۔ ایک یہ کہ مسلمان وزیٹرز کے لیے باتھ رومز میں استنجا کے لیے پانی کی سہولت فراہم کی جائے اور دوسری یہ کہ ہر کمرے میں نماز کی ادائیگی کے لیے قبلہ کی سمت بتانے کے ساتھ ساتھ ایک جائے نماز بھی مہیا کی جائے۔
۴؍ جنوری کو مغرب کے بعد ہمیں کھٹمنڈو کے کسی نواحی علاقے میں واقع بدھ مذہب کی ایک عبادت گاہ میں لے جایا گیا۔ یہاں انتظامیہ کی طرف سے سیاحوں کے لیے پچاس روپے کا ٹکٹ مقرر گیا تھا۔ ہم سولہ آدمی تھے، لیکن اتفاق سے ثاقب اکبر کے علاوہ کسی کے پاس نیپالی کرنسی نہیں تھی۔ انھوں نے آٹھ سو روپے ٹکٹ گھر کی کھڑکی پر ادا کیے، لیکن اس کے عوض میں انھیں صرف دس ٹکٹ دیے گئے۔ انھوں نے پلٹ کر گنتی درست کرنے کی کوشش کی تو ٹکٹ گھر سے جواب ملا کہ اس وقت بجلی گئی ہوئی ہے اور کوئی آپ کی تعداد نہیں گنے گا، اس لیے آپ اتنے ہی ٹکٹ لے جائیں۔ تاہم ثاقب اکبر ان غریبوں کی اس اضافی کمائی پر راضی نہیں ہوئے اور وہاں سے پورے سولہ ٹکٹ لے کر ہی ٹلے۔ پہاڑ کے اوپر تعمیرکی گئی یہ عبادت گاہ خاصی وسیع وعریض تھی اور اس میں جگہ جگہ گوتم بدھ کے چھوٹے بڑے بہت سے مجسمے نصب تھے۔ یہاں جو چیز میرے لیے خاص طور پر تعجب کا باعث بنی، وہ درجنوں کی تعداد میں مختلف نسلوں کے کتے تھے جو وسیع وعریض عبادت گاہ کے ہر کونے میں دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے گائیڈ سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے کہا کہ یہ چوروں سے حفاظت کے لیے ہیں، لیکن یہ جواب میرے لیے تسلی بخش نہیں تھا۔ میرے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید بدھ مذہب میں کتے کو کوئی خاص تقدس حاصل ہے جس کی وجہ سے اسے عبادت گاہ میں بطور خاص اس کثرت سے رکھا گیا ہے۔ عبادت گاہ میں ایک جگہ قوالی کی طرز کی کوئی عبادت بھی انجام دی جا رہی تھی۔ دو تین سازندے ساز بجا رہے تھے جبکہ ایک لامہ صاحب (بدھ مذہب میں روحانی ریاضت ومجاہدہ کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دینے والوں کو ’’لامہ‘‘ کہا جاتا ہے) کسی کتاب کو کھول کر اس میں سے کچھ کلمات سریلے انداز میں پڑھ رہے تھے۔ کلام تو ہماری سمجھ سے بالاتر تھا، تاہم تھوڑی دیر کے لیے ہم ساز سے ضرور لطف اندوز ہوتے رہے۔ مولانامحمد ازہر نے یہ دیکھ کر کہا کہ ہمارے ہاں جس قسم کا اسلام معاشرتی سطح پر رائج ہے، وہ تو بہت کچھ انھی رسومات سے ملتا جلتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ یہ بات بالکل بجا ہے اور ہمارا کمال یہ ہے کہ ہم تحقیق کرتے کرتے یہاں اس کے اصل ماخذتک آپہنچے ہیں۔ مولانا ازہر اس نکتہ آفرینی پر بہت محظوظ ہوئے۔
ریڈی سن ہوٹل کے ساتھ ہی ہوٹل کی انتظامیہ نے ہوٹل کے تہہ خانے میں ایک جوا خانہ (Casino) بھی قائم کر رکھا ہے۔ مولانامحمد ازہر نے خواہش ظاہر کی کہ جوا خانے کے ماحول اور سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کے لیے اندر جا کر ایک نظر ڈالنی چاہیے۔ میں نے اتفاق کیا اور ہم دونوں جوا خانے کی طر ف گئے، لیکن راستہ تلاش نہ کر سکے اور بھٹک کر دوسری طرف جا نکلے۔ اگلے دن مولانا عبد القدوس محمدی نے اسی تجسس کا اظہار کیا۔ انھیں راستہ معلوم تھا، چنانچہ ہم دونوں اندر چلے گئے، لیکن اندازہ نہیں تھا کہ وہاں صرف جوا خانہ نہیں بلکہ نائٹ کلب کی رونقیں بھی سجائی گئی ہیں۔ ہم نے اندر داخل ہو کر دیکھا تو اسٹیج پر نیم برہنہ رقاصائیں اپنے فن اور جسم، دونوں کا مظاہرہ کر رہی تھیں۔ حاضرین پر نظر ڈالی تو بعض رفقاے سفر وہاں پہلے سے موجود تھے اور ٹکٹکی باندھے اس منظر سے پوری طرح لطف اندوز ہو رہے تھے، لیکن قوت ایمانی کمزور ہونے کی وجہ سے ہماری نگاہیں اس منظر کی تاب نہ لا سکیں۔ میں نے مولانا محمدی کا ہاتھ پکڑا اور ہم وہاں سے ہٹ کر اس حصے کی طرف چلے گئے جہاں لوگ مختلف میزوں پر مشینی جوا کھیل رہے تھے۔ ہم نے تھوڑی دیر یہ روکھا پھیکا منظر دیکھا اور پھر وہاں سے واپس آ گئے۔ ہماری ورک شاپ کے آخری روز جب پاکستان سے مین اسٹریم میڈیا کا ایک گروپ اسی نوعیت کی ایک ورک شاپ میں شرکت کے لیے ہوٹل پہنچا تو یہ خبر گرم تھی کہ کچھ صحافی حضرات نے آتے ہی کیسینو کا رخ کیا ہے اور پینے پلانے کی سہولیات سے مستفید ہوئے ہیں۔
ایک دن ہمارا ارادہ ہوا کہ مغرب یا عشا کی نماز کسی مسجد میں جا کر پڑھی جائے اور گھوم پھر کر شہر کا جائزہ لیا جائے۔ مختلف حضرات الگ الگ ٹولیوں کی صورت میں نکلے۔ مجھے مولانا محمد ازہر کی رفاقت میسر ہوئی اور ہم نے مغرب کی نماز شہر کی ایک خاصی بڑی جامع مسجد میں ادا کی جس کا نام اب ذہن میں نہیں۔ مسجد خاصی وسیع تھی اور اس کے ساتھ غالباً کسی اسکول یا مدرسے کی ایک بڑی عمارت ملحق تھی جبکہ صدر دروازے میں داخل ہوتے ہی بائیں ہاتھ سبز رنگ سے ڈھکا ہوا کسی بزرگ کا مزار تھا۔ ہم نے وہاں سے نکل کر کسی دیوبندی مسجد کی جستجو کی جو اتفاق سے تھوڑے ہی فاصلے پر مل گئی۔ ہم نے نائب امام صاحب کے حجرے میں ان سے ملاقات کی اور کھٹمنڈو شہر میں مسلمانوں کے حالات سے متعلق چند معلومات حاصل کیں۔ امام صاحب کی میز پر انگریزی کی کچھ کتابیں رکھی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ انڈیا کے ایک معروف دینی ادارے (جس کا نام افسوس ہے کہ ذہن سے نکل گیا) کے فارغ التحصیل ہیں اور کسی سرکاری امتحان کی تیاری کر رہے ہیں۔ اتفاق سے اسی مسجد میں پاکستان سے آئی ہوئی ایک تبلیغی جماعت بھی ٹھہری ہوئی تھی اور اس کے قیام کا وہ آخری دن تھا۔ ہم ان حضرات سے ملنے کے لیے مسجد کے اندر چلے گئے۔ جماعت کے ساتھیوں نے بڑی محبت اور اپنائیت کا اظہار کیا اور ہمارے دریافت کرنے پر بتایا کہ وہ چار ماہ کاعرصہ نیپال کے سرحد ی علاقوں میں گزارنے کے بعد اگلے روز واپس جا رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جس علاقے میں ان کی تشکیل ہوئی تھی، وہاں کے مسلمان غریب اور سادہ لیکن بہت ملنسار اور مروت والے لوگ ہیں۔ اس حوالے سے چند ایک ایمان افروز واقعات بھی انھوں نے سنائے۔ پردیس میں اپنے وطن کے لوگوں اور خاص طورپر تبلیغ کی غرض سے نکلے ہوئے مخلص مسلمانوں سے مل کر فی الواقع بہت اطمینان محسوس ہوا۔
۶ جنوری کو ہمیں پی آئی اے کی پرواز سے کراچی اور پھر وہاں سے اسلام آباد آنا تھا۔ اسلام آباد ایئر پورٹ پر دھند کی وجہ سے فلائٹ اسلام آباد کے بجائے لاہور جا اتری۔ لاؤنج میں پہنچے تو دیکھا کہ بہت سے مسافر ایک کاؤنٹرکے گرد جمع ہیں اور ہلچل کی سی کیفیت ہے۔ معلوم ہوا کہ ہم سے پہلے بھی ایک دو جہازوں کے مسافروں کے ساتھ یہی معاملہ ہو چکا ہے۔ رات کا پچھلا پہر تھا اور کوئی بااختیار اور ذمہ دار آفیسر وہاں موجود نہیں تھا، چنانچہ کچھ سیکورٹی گارڈ اور کاؤنٹر پر کھڑی عملے کی ایک دو خواتین مسافروں کے تیز وتند تبصروں اور سوالات کی زد میں تھیں۔ مسافروں میں سے اکثر اپنی وضع قطع سے تعلیم یافتہ دکھائی دے رہے تھے، لیکن کسی کے طرز عمل سے اس کا شبہ تک نہیں ہو رہا تھا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ موسم کی خرابی کو دور کرنا انسانوں کے بس میں نہیں اور یہ کہ ان کے سامنے کوئی با اختیار آفیسر نہیں بلکہ محض معمول کے احکام بجا لانے والا عملہ کھڑا ہے، بے شمار افراد اپنے اپنے انداز میں اور کچھ لوگ فرفر انگریزی جملوں میں اپنی قابلیت کا اظہار کرتے ہوئے سخت توہین آمیز لہجے میں ان بے چاروں پر اپنا غصہ نکال رہے تھے، جبکہ کچھ حضرات احتجاجاً لاؤنج کے شیشے توڑ دینے کی دھمکیاں تک دے رہے تھے۔ میرا تجزیہ ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ اور سیاسی وسماجی قیادت نے حکومتی اور انتظامی اداروں پر تنقید کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر اس بے دردی سے استعمال کیا ہے کہ موقع ومحل اور صورت حال کی مناسبت کا لحاظ کیے بغیر اس طرح کی جائز یا ناجائز تنقیدیں ہمارے مزاج اور نفسیات کا ایک حصہ بن گئی ہیں اور اس سے زیادہ بدبختی یہ ہے کہ ایسے کسی موقع پر جوشیلے پن کا اظہار کر کے اپنے حقوق مانگنا اور متعلقہ حکام کے خلاف ’’کلمہ حق‘‘ بلند کرنا پڑھا لکھا، باشعور اور دبنگ ہونے کی علامت سمجھا جانے لگا ہے۔ مجھے اس صورت حال پر سخت کوفت ہوئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ رویہ کسی بہتر سماجی تربیت کا مظہر نہیں، بلکہ اخلاقی اتھلے پن اور انسانی وسماجی آداب سے بے بہرہ ہونے کی غمازی کرتا ہے۔ پڑھا لکھا ہونا اگر کسی کو مہذب نہیں بناتا تو وہ نری جہالت ہے اور تنقید میں اگر موقع ومحل کی مناسبت ملحوظ نہ رہے تو اسے نفسیاتی ناہمواری کی پیداوار سمجھا جانا چاہیے۔ کاش ہمارے سماجی راہنما اور ذرائع ابلاغ مسائل ومشکلات کو سیاسی زاویے سے exploit کرنے کے بجائے سماجی آداب کے حوالے سے قوم کی شعوری واخلاقی تربیت کو اپنا ہدف بنا لیں۔
بلا سود بینکاری کا تنقیدی جائزہ ۔ منہجِ بحث اور زاویۂ نگاہ کا مسئلہ (۱)
مولانا مفتی محمد زاہد
غیر سودی بینکاری آج کی معیشت خصوصا فائنانس کی دنیا کا نیا مظہر phenomenon ہے جس کی کل عمر تقریباً تین عشرے ہے۔ اس مدت کا تقابل اگر روایتی بنکاری کی صدیوں پر محیط عمر کے ساتھ کیا جائے تو اسے اب بھی بلا تردد دورِ طفولت کہا جا سکتاہے۔ دورِ طفولت میں ہونے کے ناطے اسے نشو ونما کے لیے غذا کی ضرورت ہے۔ کسی بھی نئے تجربے کے لیے اس سے بہتر کوئی بات نہیں ہوسکتی کہ اسے جاری کرنے کے بعد اس کی کارکردگی اور خوبیوں اور خامیوں، کامیابیوں اور ناکامیوں کا مسلسل جائزہ لیا جاتارہے۔ جو لوگ غیر سودی بینکاری کے اس نئے نظام کے حامی نہیں ہیں، ان کے مطابق تو تنقید کی اہمیت ہے ہی، اسے جاری رکھنے کے حامیوں کے نقطۂ نظر سے بھی اس نئے تجربے کا مسلسل تنقیدی جائزہ لیا جاتا رہنا مفید بلکہ ضروری ہے۔ آنے والی سطور کا مقصد کسی مسئلے یا ایشو کے بارے میں اپنی رائے پیش کرنا نہیں بلکہ اس بات کا طالب علمانہ جائزہ لینا ہے کہ اس طرح کے کسی جائزے کی کون کون سی سطحیں ہوسکتی ہیں اور کس سطح پر بحث کا منہج کیا ہونا چاہیے۔ آج کل اسلامی بینکاری کا عموماً دوسطحوں پر جائزہ لیا جارہاہے۔ ایک توخالص فقہی نقطۂ نظر سے یہ دیکھا جارہاہے کہ ان بینکوں میں طے پانے والے معاملات کس حدتک عقودِ صحیحہ کے دائرے میں آتے ہیں اور کس حد تک عقودِ فاسدہ یا باطلہ کے دائرے میں۔ بحث کی دوسری سطح اسلامی بینکاری کا اس پہلو سے جائزہ لینے کی ہے کہ معیشت کی عمومی سطح (macro level) پر اس کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیںیا ہوسکتے ہیں۔ دونوں سطح کی بحثوں کی نوعیت اور طرزِ استدلال ایک دوسرے سے الگ ہوتاہے۔ اس وقت کے ماحول میں مقدم الذکر بحث غالب ہے اور اس پہلو سے مختلف آرا سامنے آچکی ہیں۔ عالمِ اسلام کی بہت سی علمی شخصیات اور فقہی فورمز نے ان عقود کو جائز اور درست قرار دے کر ان بینکوں سے معاملات کرنے کی اجازت دی ہے اور بعض علمانے فقہی اعتبار سے ان عقود پر اعتراضات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں غیر شرعی قرار دیاہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں بحث پر فقہی زاویۂ نگاہ کے غالب ہونے والی یہ صورتِ حال درست نہیں ہے۔ ان کے خیال میں مسئلے کا عمومی معاشی تجزیہ پہلے ہونا چاہیے، فقہی جواز یا عدمِ جواز کی بحث بعد میں ہونی چاہیے، وہ بھی تب جبکہ معاملہ پہلے ٹیسٹ میں پاس میں ہو جائے۔ کچھ اسی طرح کی رائے کا اظہار جناب زاہد صدّیق مغل صاحب نے ماہنامہ ’الشریعہ‘ کی اشاعت جنوری ۲۰۱۰ء تا مارچ ۲۰۱۰ء میں اپنے قسط وار شائع شدہ مضمون میں کیا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے مروّجہ اسلامی بینکاری کے جواز اور عدمِ جواز کے قائلین دونوں کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے اپنے اس خیال کا اظہار کیاہے کہ دونوں فریقوں نے بحث کی ترتیب کو الٹ دیاہے۔ جناب مغل صاحب کے علاوہ بھی کئی لوگ ایسے ہوں گے جنہیں یہ جاننے میں دشواری پیش آرہی ہوگی کہ بظاہر معاشی نوعیت کے نظر آنے والے مسئلے میں فقہی پہلو کیوں غالب ہے اور وہ دینی مراکز جو معاشیات کے متخصص ہونے کی بجائے فتوے کی دنیا میں مرجعیت رکھتے ہیں، ان کی اس سے اتنی دلچسپی اور ان کا اس میں اتنا کردار کیوں ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے مسئلے کے اصل پس منظر کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ اصل پس منظر ذہن میں ہوتو بہت سی الجھنیں یا تو سرے سے پیداہی نہیں ہوتیں ، یا وہ دور ہوجاتی ہیں۔
مسئلے کا فقہی پس منظر
موجودہ دور میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے سلسلے میں جن موضوعات پر بحث ومباحثہ ہوا، ان میں سود کا مسئلہ خاص طور پر شامل تھا۔ اس بات سے تو کوئی اختلاف کرہی نہیں سکتا کہ قرآن وحدیث نے ربا سے شدت کے ساتھ منع کیا ہے ، البتہ جدید دور میں جب بینکوں اور مالیاتی اداروں کی شکل میں سود کو ایک منضبط شکل ملی اوروہ کاروباری ہی نہیں عام معاشی زندگی اور سرگرمیوں کا بھی اہم جز بن گیا تو مسلمانوں میں یہ سوال اٹھا کہ آیا بینکوں یا اس طرح کے دیگر تمویلی اداروں کے معاملات میںیا مختلف قسم کے تمسکات کی صورت میں اصل زر پر جو زائد مقدار لی اور دی جاتی ہے، وہ اس ربا میں داخل ہے یا نہیں جسے اسلام میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں خصوصی طور پر وہ سود موضوعِ بحث بنا جو استہلاکی مقاصد کی بجائے استثماری مقاصد کے لیے ہو، یعنی قرض حاصل کرنے والے کا مقصد اس سے اپنی ذاتی ضرورتوں کو پورا کرنا نہیں بلکہ اس سے کوئی کاروبار اور نفع بخش کام کرنا ہو۔ اس مسئلے پر برّ صغیر اور عالمِ عرب سمیت مختلف جگہوں پر بحثیں ہوئیں اور اس بارے میں مختلف آرا سامنے آئیں۔ زیادہ معروف آرا دو تھیں۔ ایک یہ کہ بینکوں کے لین دین میں جسے انٹرسٹ کہا جاتا ہے، وہ بھی اسی طرح ربا میں داخل ہے جس طرح عام سیدھا سادہ سود ، جبکہ ایک دوسرا نقطۂ نظر یہ سامنے آیا کہ مروّجہ بینکوں کا انٹرسٹ اسلام کے منع کردہ ربا میں داخل نہیں ہے۔ اس مؤخرالذکر نقطۂ نظر میں کچھ لوگوں کا تو یہ سطحی استدلال تھا کہ اسلام زمانے کے ساتھ چلنے کا کہتاہے اور موجودہ دور میں سود معاشی اور کاروباری زندگی کا لازمی جز بن گیا ہے ، اس کے بغیر ترقی کرنا ممکن نہیں ہے، اس لیے مسلمان علما کو چاہیے کہ وہ کوئی ’ اجتہاد‘ کرکے سود کو جائز قرار دے دیں، لیکن کچھ حضرات خصوصاً عالمِ عرب کی بعض ایسی شخصیات بھی اس دوسرے نقطۂ نظر یا اس کے قریب قریب کی حامی تھیں جن کی نہ تو علمی حیثیت کا انکار کیا جاسکتاہے اور نہ ہی اس بات کا کہ انہوں نے جس رائے کا اظہار کیا، وہ واقعی ان کی دیانت دارانہ رائے تھی۔ ان حضرات نے بھی علمی استدلال کے ساتھ اپنی رائے پیش کی۔ (ان بحثوں کے ایک اجمالی جائزے کے لیے عربی دان حضرات عبد الرزاق السنہوری کی کتاب ’’ مصادر الحق فی الفقہ الإسلامی‘‘ کا تیسرا جز ملاحظہ کرسکتے ہیں )۔ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ مؤخر الذکر رائے پس منظر میں جاتی رہی اور اسے نہ تو مسلمان فقہا میں قبولِ عام حاصل ہوا اور نہ ہی ان معیشت دانوں میں جو معیشت کا اسلامی زاویۂ نگاہ سے مطالعہ کررہے تھے۔ اس کے برعکس پہلی رائے کو مسلمانوں کے علمی اور اقتصادی حلقوں میں قبولِ عام حاصل ہوگیا۔ تقریباً ہر وہ قابلِ ذکر فورم جس پر یہ مسئلہ زیرِ بحث آیا، پہلی رائے ہی کو زیادہ پذیرائی ملی اور اب مسلمان مفکرین کی بہت واضح اور نمایاں اکثریت اسی رائے کو اختیار کر چکی ہے، تاہم یہ کہنا شاید مشکل یا قبل از وقت ہو کہ بحث بالکلیہ ختم ہو چکی ہے۔
اس بحث میں جن لوگوں نے حصہ لیا، ان میں ایک طبقہ علما اور فتوے کے شعبے سے وابستہ حضرات کا بھی تھا۔ یہ طبقہ بھی پہلے نقطۂ نظر کی نمائندگی کرنے والوں میں شامل تھا۔ اس طبقے کے لیے محض نظریاتی اور اکادیمی بحث تک محدود رہنا ممکن نہیں ہوتا، اس لیے کہ انہیں روز مرّہ کی زندگی میں لوگوں کے پوچھنے پر انہیں بتانا ہوتا ہے کہ وہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ زیرِ بحث مسئلے میں انہوں نے لوگوں کو یہی بتایا کہ وہ بینکوں کے انٹرسٹ کے لین دین سے گریز کریں، لیکن اسی کے ساتھ ان کے سامنے ایسے واقعات بھی بکثرت آئے جہاں محسوس ہوا کہ ان کے فتوے پر عمل کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے یا کم از کم یہ کہ کاروبار میں اپنے دیگر ہم پیشہ لوگوں سے پیچھے رہنا پڑرہا ہے، مثلاً زید اور عمرو ٹیکسٹائل کے ایسے شعبے سے منسلک ہیں جس میں انہیں روئی خریدنی ہوتی ہے۔ روئی کی خریداری کے ساز گار سیزن میں دونوں کے پاس نقد رقم نہیں ہے۔ عمرو تو کسی بنک سے سود پر قرض لے لیتاہے اور بروقت سستی روئی خرید لیتاہے ، جبکہ سود کی حرمت کے پیشِ نظر زید ایسا نہیں کرتا۔ وہ بعد میں روئی خریدتا ہے جس کی وجہ سے اسے روئی مہنگی پڑتی ہے۔ اس طرح سے اس کے لیے مارکیٹ میں عمرو سے مقابلہ کرنا مشکل ہوجاتاہے ، یا عمرو مناسب وقت پربنک سے قرض لے کر ایک نیا یونٹ لگا کر اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا لیتاہے ، جبکہ زید کے پاس اس وقت پیسے نہ ہونے کے باعث وہ ایسا نہیں کرپاتا۔ جب اس کے پاس پیسے آتے ہیں تو نیا یونٹ لگانے کے لئے وقت اتنا موزوں نہیں رہتا جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہ محسوس کررہاہے کہ کاروبار میں پیچھے رہنے کی شکل میں وہ اس فتوے پر عمل کی قیمت ادا کررہا ہے جس کے بارے میں اسے بتایا جاتاہے کہ اسے آخرت میں اس کا بھر پور صلہ ملے گا۔ دوسری طرف مجیدہ اور حمیدہ دو بیوہ خاتون ہیں جن کے پاس ان کے خاوند کی چھوڑی ہوئی کچھ رقم موجود ہے۔ مجیدہ اسے بنک میں جمع کرادیتی ہے اور بنک اسے اس پر ماہانہ یا سالانہ رقم دیتاہے جس سے وہ گذر اوقات کرتی ہے۔ حمیدہ علماء کرام سے فتویٰ لیے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتی، اسے بتایا جاتاہے کہ بنک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانا جائز نہیں ہے۔ اب وہ کیا کرے؟ خود وہ کچھ کرنہیں کر سکتی، کسی کے انفرادی کاروبارمیں رقم لگانے کے لیے اسے کسی پر اعتماد نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ عورت مشکل صورتِ حال سے دوچار ہوگئی ہے۔ پہلی مثال میں زید اور دوسری مثال میں حمیدہ جس صورتِ حال سے دوچار ہیں، اس سے ایک طرف تو بنک انٹرسٹ کو ناجائز کہنے والوں میں سے جو لوگ فتوے یا عام لوگوں کی دینی راہ نمائی کے کام سے منسلک تھے اور ان کی خدمات کا دائرہ اکادیمی نوعیت کی کاوشوں تک محدود نہیں تھا، ان پر ’’ ہم کیا کریں ؟ ‘‘ کے سوال کا دباؤ بڑھ رہا تھا جس کا پورے طورپر اندازہ محض معاشی تجزیہ کاری کرنے والے کو نہیں ہوسکتا۔ دوسرے اس سے انہیں بنک انٹرسٹ کی حرمت کے بارے میں اپنا کیس کمزور ہوتا محسوس ہورہاتھا ، دلیل کے اعتبار سے نہیں ، بلکہ لوگوں کو مطمئن کرنے اور سود سے گریز پر آمادہ کرنے کے اعتبارسے۔ لوگ یہ کہتے تھے کہ مولوی لوگ فتوی تو دے دیتے ہیں، لوگوں کی مشکلات کو نہیں دیکھتے۔ اگر ہم ان مولویوں کی ماننے لگے تو دنیاسے پیچھے رہ جائیں گے۔ اس تنقید میں بذاتِ خود کتنا وزن تھا، یہ الگ بات ہے ، بادی النظر میں سود کی حرمت کے کیس پر اس کے اثرات پڑ رہے تھے اور کئی لوگوں کے لیے یہ کہنا آسان ہوگیا تھا کہ سود سے بچ کر ہم دنیا کے ساتھ چل نہیں سکتے۔ اس طرح سے ان علماکے معتقدین اور پیروکار بھی ان کے اس فتوے کو زیادہ عملی اہمیت نہیں دے رہے تھے۔ اس صورتِ حال کو یہ حضرات کس طرح محسوس کررہے تھے، اس کا اندازہ مولانا مفتی محمد شفیع ؒ کی اس عبارت سے لگایا جاسکتا ہے :
’’ہاں !اس میں شبہ نہیں کہ مشرق سے مغرب تک تمام تجارتوں میں سود کا جال اس طرح بچھا دیا گیاہے کہ آحاد ووافراد کیا ، کوئی جماعت مل کر بھی اس سے نکلنا چاہے تو تجارت چھوڑنے یا نقصان اٹھانے کے سوا کچھ ہاتھ آنا مشکل ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ عام تاجروں نے اب یہ سوچنا بھی چھوڑدیاہے کہ سود جو حرام ترین چیز اور بد ترین سرمایہ ہے، اس سے کس طرح نجات حاصل کریں۔ عام بے فکرے دین داروں کا تو کیا ذکر، وہ دین دار ، پرہیزگار مسلمان جو نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ میں شریعت کے پورے متبع ، تہجد گزار اور ذکراللہ میں مشغول رہنے والے ہیں، وہ رات کو تہجد ونوافل اور ذکر وفکر کا شغل رکھتے ہیں تو صبح دکان پر پہنچ کر ان میں اور ایک بئیے یا یہودی تاجر میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ...‘‘ ( مسئلہ سود ص ۸ مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی )
اسی کے ساتھ ان حضرات کی فقہی دسترس نے انہیں توجہ دلائی کہ زید جیسے لوگوں کے مسئلے کا حل بعض ایسے معاملات کے ذریعے ممکن ہے جو فقہِ اسلامی کے لیے اجنبی نہیں بلکہ ہمیشہ سے امت میں ان کا تعامل چلا آرہاہے، مثلاً عمرو نے اگر سستے زمانے میں روئی کی خریداری کے لیے بنک سے سودی قرضہ لیاہے تو زید یہ کرسکتاہے کہ وہ خود روئی ادھار پر خرید لے ، جیسے عمرو کو قرض پر سود کی شکل میں اضافی لاگت پڑے گی، اسی طرح زید ادھار ہونے کی وجہ سے کچھ زیادہ ریٹ لگا دے، گویا بیعِ مؤجل کے ذریعے اس کا یہ مسئلہ حل ہوسکتاہے جوتقریباً تمام فقہا کے نزدیک ایک جائز عقد ہے ، لیکن اگر کوئی روئی بیچنے والا اس طرح ادھار سودا کرنے کے لیے تیار نہ ہو ، یا تو اس لیے کہ اسے خود پیسوں کی فوری ضرورت ہے یا اس لیے کہ وہ زید کو نہیں جانتا نیز کسی دَین (مؤخر ادائیگی )کی توثیق کے لیے کیا کچھ کیا جاسکتاہے، اس کی مہارت اس کے پاس موجود نہیں ہے تو زید کیا کرے۔ اس کا حل فقہِ اسلامی کے ایک اور عقد میں انہیں نظر آیا ، اور وہ ہے مرابحہ موجلہ ، یعنی کوئی تیسرا شخص جس کے پاس پیسے ہوں ، وہ نفع بھی کمانا چاہتاہو اور زید پر اعتماد کرنے کے لیے بھی تیّار ہو، یا اس کے پاس توثیقِ دین کی وہ مہارتیں موجود ہوں جن کی بنیاد پر اسے اطمینان ہو کہ میں زید سے اپنے پیسے نکلوا سکتا ہوں، یہ تیسرا شخص اس روئی کو نقد خرید کر اپنی تحویل میں لے لے اور کچھ نفع رکھ کر ادھار زید کو بیچ دے۔ اسی چیز کا تذکرہ کرتے ہوئے مندرجہ بالا اقتباس سے کچھ آگے چل کر مولانا مفتی محمد شفیع ؒ لکھتے ہیں :
’’یہ مرض تو عام ہو گیا کہ بہت سے مسلمانوں کو یہ خبر نہیں کہ فلاں معاملہ سودی ہونے کی وجہ سے حرام ہے ، فلاں میں قمار پایا جاتاہے ، ان میں سے بہت سے ایسے معاملات بھی ہیں جن کی مروّجہ شکل سود وربا پر مشتمل ہے لیکن اگر بازار والے چاہیں تو اس کو آسانی سے ایسے معاملے کی صورت میں بدل سکتے ہیں جو سود سے خالی ہو ، اگر وہ کم ازکم ایسے نجی معاملات ہی درست کرلیں تو سود کی لعنت سے اگر کلّی نجات نہ ملے تو کم از کم تقلیل تو ہو ....‘‘
یوں فقہی نقطۂ نظر سے سود کے متبادل کاروبار کا تصور سامنے آتاہے جو درحقیقت حرمتِ سود کے فتوے پر دین داروں میں بھی عمل نہ ہونے پر کڑھن کا نتیجہ تھا، جیساکہ اوپر والے اقتباس سے واضح ہے ۔ یہ کا م انفرادی طور پر بھی ہوسکتے تھے ، لیکن خود مفتی محمد شفیع صاحب ؒ نے آگے چل کر ذکر کیاہے کہ اس کے لیے اجتماعی کاوشوں کی ضرورت ہے۔ مذکورہ مثالوں میں جہاں زید جیسے بے شمارلوگ معاشرے میں موجود ہوں گے جو یہ چاہتے ہوں گے کہ کوئی شخص اپنی رقم لگاکر اس کا مسئلہ حل کردے، وہیں حمیدہ جیسے بھی کئی لوگ ہوں گے جو یہ چاہتے ہوں گے کہ ان کا پیسہ فالتو پڑا رہنے کی بجائے کسی ایسی جگہ لگ جائے جہاں سے اسے حلال نفع حاصل ہوجائے۔ جب معاشرے میں متفرق طور پر ایک دوسرے کو نہ جاننے والے متضاد معاشی رغبات رکھنے والے لوگ موجود ہوں مثلا کچھ لوگ کوئی چیز لینا چاہتے ہوں اور کچھ لوگ وہی چیز دینا چاہتے ہوں تو درمیان میں کسی ایسے ثالث کا پیدا ہونا فطری بات ہے جو دونوں قسم کی رغبات کے درمیان پل کا کام دے۔ اگر تو فقہِ اسلامی اور شریعت کے مطابق کاروبار کاتسلسل اور فطری ارتقا جاری رہتا اور درمیان میں استعماری انقطاع یا فقہ میں جمود اور اجتماعی معاملات میں اسلامی تعلیمات کو زیادہ عملی اہمیت نہ دینے کا دور نہ آتا تو شاید اس طرح کی ثالثی کے لیے الگ نوعیت کے ایسے ادارے وجود میں آچکے ہوتے جو مسلسل اسلامی معاشرے ہی کے عمل کا تسلسل ہوتے، لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا، اس لیے لوگوں کو سود سے بچانے کے مذکورہ کام کو اجتماعی شکل دینے اور ایک ثالث وجود میں لانے کے لیے جب ایک ایسے ادارہ جاتی ڈھانچے کی ضرورت محسوس ہوئی جسے قانونی تحفظ بھی حاصل ہو اور اس کے پاس دیون کی واپسی یقینی بنانے سمیت متعلقہ مہارتیں بھی موجود ہوں تو اس مقصد کے لیے کوئی نیا ادارہ جاتی ڈھانچا تشکیل دینا کوئی آسان کام نہیں تھا، خاص طور پر ایسے حالات میں جبکہ ریاستی ادارے تو درکنار دین دار کاروباری لوگوں میں بھی اس مقصد سے دلچسپی نہ ہونے کے برابر تھی ۔ جیسا کہ مفتی محمد شفیع صاحب ؒ کی مذکورہ عبارت سے بھی واضح ہے ۔ ، ایسے میں ان مقاصد کے قریب ترین جو ادارہ ہوسکتاتھا کہ ظاہر ہے کہ وہ بنک ہی تھا۔
اس مقصد کے لیے بنک کی طرف ذہن جانا اس لیے بھی قرینِ قیاس تھا کہ بحث ہی ساری بنکوں کے سود کی ہورہی تھی اور اس سود کی حمایت کرنے والوں کا ایک استدلال یہ بھی تھا کہ سود کے بغیر بنک نہیں ہوسکتا اور بنک کے بغیر کاروبار نہیں ہو سکتا، اس لیے انہوں نے مناسب سمجھا کہ اسی ڈھانچے کو درست طریقے سے استعمال کرکے دیکھ لیا جائے ،( تاہم یہ بات ان کے ذہن میں ضرور تھی کہ شرعی طریقے استعمال کرنے کی صورت میں بنک اپنی بعض روایتی خصوصیات کھو دے گا ، جیسا کہ آگے چل کر اس کو ذکر کیا جائے گا)۔ مروّجہ غیر سودی بینکاری کے بارے میں بعض ناقدین نے ’’ نئی بوتل میں پرانی شراب‘‘ کا محاورہ استعمال کیا ہے ، جبکہ مفتی محمد شفیع ؒ ، مولانا محمدیوسف بنوری ، مفتی رشید احمد لدھیانوی اور مفتی محمد تقی عثمانی جیسے ان حضرات کی جد وجہد کا حاصل یہ نکلتاہے کہ شراب تو نئی ہو یعنی عقود تو فقہِ اسلامی سے مستفاد ہوں ، لیکن اس نئی شراب کے لیے بوتل ( ادارہ جاتی ڈھانچا) انہیں نئی نہیں دستیاب ہوسکی، اس لیے بوتل پرانی ہی استعمال کرنا پڑی۔ اب اگر بوتل (ادارہ جاتی ڈھانچا)بھی نئی اور متبادل دستیاب ہوجائے تو ظاہر ہے کہ ان حضرات کا اس پر اصرار نہیں ہوگا کہ اس مقصد کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچا بعینہ یہی ہونا چاہیے، البتہ اس موقع پر یہ سوال پیدا ہونا ایک فطری امر تھا کہ ادارہ جاتی ڈھانچا وہی سہی،جو عقود اس میں طے پا رہے ہیں وہ درست ہیں یا نہیں، یعنی بوتل پرانی ہی سہی، کہیں محض لیبل بدل کرشراب بھی وہی تو نہیں ڈال دی گئی۔ یہی وہ سوال ہے جس کا جائزہ مختلف دارالافتا لے کر اب تک مختلف فتوے جاری کرچکے ہیں۔ بعض حضرات کی رائے میں بعض طے شدہ اور شریعہ بورڈز کی طرف سے منظور شدہ ایسے تمویلی طریقے بھی ممکن اور موجود ہیں جن پر اگر درست طریقے سے عمل کیا جائے تو فقہی اعتبار سے وہ جائز عقد ہوگا، جبکہ بعض اہلِ فتوی کی رائے میں اب تک جو تمویلی طریقے تجویز کئے گئے ہیں، ان پر فقہی اشکالات موجود ہیں ، اس لیے غیر سودی بینکاری کے نام سے جو معاملات ہورہے ہیں ان میں شریک ہونا جائز نہیں ہے۔ دونوں طرف سے دلائل پیش کیے گئے ہیں اور پیش کیے جارہے ہیں۔ اگر کل علمی اختلاف رحمت تھا تو آج یہ کلیہ اور اصول ختم نہیں ہوگیا ، آج کے اختلاف کے بارے میں بھی ہمیں یہی امید رکھنی چاہیے کہ وہ باعثِ رحمت ہی ہوگا۔ اختلاف کا علمی حدود میں رہنا کل بھی شرط تھا آج بھی ہے، تاہم یہ ساری کی بحث فقہی نوعیت کی ہے۔ یہ صورتِ حال صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا میں ہے کہ اس بحث سے منسلک لوگوں کی بڑی تعداد ان علما کی ہے جن کا بنیادی میدان فقہ ہے۔ (مولانا مفتی محمد شفیع ، مولانا محمد یوسف بنوری اور مولانا مفتی رشید احمد وغیرہ حضرات کی غیر سودی بینکاری کے سلسلے میں کیا کاوشیں اور فکر مندیاں رہی ہیں، ان کے اجمالی جائزے کے لئے مولانا محمد تقی عثمانی کی کتاب ’’ غیر سودی بینکاری: متعلقہ فقہی مسائل کی تحقیق اور اشکالات کا جائزہ‘‘ ص ۱۵ تا ۵۴ اور جامعۃ الرشید کے اہلِ افتا کی کتاب غیر سودی بینکاری ص ۹ تا ۲۵ کا مطالعہ کیا جاسکتاہے) ۔
فقہا کے اس میدان سے منسلک ہونے کے پس منظر کو اگر پورے طور پر سامنے رکھا جائے تو درجِ ذیل بنیادی حقائق سامنے آتے ہیں :
۱۔ غیر سودی بینکاری کے ساتھ ان اہلِ فقہ کی دلچسپی درحقیت بینکوں کے سود کے خلاف ان کی جد وجہد کا اگلا مرحلہ ہے اور اس طرف ان کی توجہ درحقیقت اس احساس کا نتیجہ ہے کہ اس کے بغیر لوگوں کو سودی معاملات سے منع کرنا انتہائی دشوار ہے ۔
۲۔ غیر سودی بینکاری کے حامی علماکااصل مقدمہ یہ نہیں ہے کہ بینکاری ضرور ہونی چاہیے، ایک شکل میں نہیں تو دوسری میں سہی ، بلکہ ان کا اصل مقدمہ یہ ہے کہ تمویلی ربا سمیت ہر قسم کے ربا سے بچنا چاہیے، لہٰذا اگر کوئی شخص سرے سے بینکاری کی کسی سہولت سے فائدہ ہی نہیں اٹھانا چا ہتا، ایسا شخص ان علمایا ان کے فتوے کا مخاطب نہیں ہے ، ان کا مخاطب بنیادی طور پر وہ شخص ہے جو عام بینکوں سے سود ی قرضے لیتا یا ان میں روپیہ جمع کراکے اس پر سود لیتا ہے ، چنانچہ خود مولانا محمد تقی عثمانی لکھتے ہیں: ’’ جن بینکوں سے معاملے کو میں جائز سمجھتا ہوں ان کے بارے میں بھی اگر کوئی مشورہ کرے تو میں یہ کہتا ہوں کہ اگر آپ بینک سے تمویل حاصل کئے بغیر کام چلا سکتے ہوں تو یہ زیادہ بہتر ہے ، البتہ اگر آپ تمویل حاصل کرنے کا فیصلہ کر چکے ہوں تو سودی بینکوں کے بجائے ان سے رجوع کریں ‘‘ ، اسی طرح اگر بینک کے علاوہ کوئی اور ادارہ جاتی ڈھانچا ربا کے متبادل جائز تمویلی سہولتیں دینے کے لیے وجود میں لایا جاتاہے جوجز محفوظاتی بینکاری fractional reserve banking کے طریقے پر کام نہیں کرتا، یا سرے سے کوئی ادارہ ہی نہیں ہوتا بلکہ اسی طرح کے عقد لوگ انفرادی طور پر ہی کرنے لگ جاتے ہیں تو اس پر بھی ان علما کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔
۳۔ وجہ اس کی واضح ہے کہ اصل صورتِ حال یہ نہیں تھی کہ ان حضرات کی طرف سے بینکوں کے سود کی حرمت کے فتوے کی وجہ سے بینکوں کا وجود خطرے میں پڑا ہوا تھا، کچھ بینکاروں نے کچھ علما کی منت سماجت کی کہ ہمارے بینکوں کو بچا نے کے لیے کوئی راستہ نکالا جائے ، اس پر انہوں نے کچھ ایسے طریقے دریافت کیے جن کے ذریعے یہ بینک بھی بچ سکیں اور سود کی حرمت کے فتوے کا بھی بھرم رہ جائے، بلکہ معاملہ برعکس تھا کہ مفتی محمد شفیع ؒ جیسے لوگوں کو احساس تھا کہ ہمارے تہجد گذار پیروکار بھی اس معاملے میں ہمارے فتوے پر عمل کے لیے تیار نہیں ہیں اورہمارے فتوے سے بینکوں کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔ لوگ ان سودی بینکوں کے ساتھ بے دھڑک لین دین کرہے ہیں ، جب تک لوگوں کو متبادل نہیں بتایا جائے گا، اس وقت تک لوگوں کو سودی معاملات سے روکا نہیں جاسکتا۔ جہاں تک بینکوں کے وجود کا تعلق ہے تووہ غیر سودی بینکاری سے پہلے بھی موجود تھے اور اب بھی اگر غیر سودی بینکاری کو بالکلیہ ختم کردیا جائے تب بھی موجود رہیں گے۔ جو حضرات کہتے ہیں کہ بینک کا ادارہ خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو بذاتِ خود غیر اسلامی ہے، وہ اگر بینکنگ کو صفخۂ ہستی سے مٹانے کی کوئی سبیل نکال بھی لیتے ہیں۔ جس کے لیے جد وجہد کرنے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا ۔ تو یہ علما یہ کہہ کر کبھی اس میں حائل نہیں ہوں گے کہ بینکنگ تو شرعاً بہت ضروری ہے اس لیے اس کے خاتمے کی جد وجہد ناجائز ہے۔ چونکہ ان علما کے پیشِ نظر جائز عقود کی خاص نوعیت ہے ، ( جیسا کہ جناب زاہد صدیق مغل صاحب کا شکوہ ہی ان علما سے یہ ہے کہ وہ عقود کی سطح ہی کی بات کرتے ہیں) یہ عقود بینکوں یا جزمحفوظاتی بینکوں کے خاتمے کی صورت میں بھی ممکن العمل ہوں گے ، جن عقود کو یہ حضرات بنیاد بناتے ہیں، ان کے لیے بینکوں کا وجود کوئی ناگزیر امر نہیں ہے ، اس لیے اگر کچھ حضرات بینکنگ کا بالکلیہ خاتمہ کرنا چاہتے ہوں تو یہ عقود کی سطح کی بحث اس میں حائل نہیں ہوسکتی ، بہر حال ان علما کا اصل مسئلہ بینکاری کا بقا نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ جب تک بنک موجود ہے، اسے سود کے عنصر سے پاک کرنا ہے۔
۴۔ یہی وجہ ہے کہ سود کے بغیر تمویلی طریقوں یا اسلامی بینکاری کے سلسلے میں علما کے وہی حلقے زیادہ پیش پیش نظر آتے رہے ہیں جو بینکوں کے سود کی حرمت کے معاملے میں پیش پیش تھے ، اسی طرح اسّی (۸۰) کی دہائی میں محض لفظی اور کاغذی تبدیلیوں کی بنیاد پر بینکوں کے سود کو ختم کرنے کا جو سرکاری دعوی پاکستان میں کیا گیا تھا، اس کے خلاف بھی انہی حلقوں کی آواز سنائی دی تھی جواب غیر سودی بینکاری کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔ ان میں مولانا مفتی محمد شفیعؒ اور مولانا مودودی ؒ کے حلقہ ہائے فکر خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
۵۔ فقہ اسلامی اور فتوے سے منسلک ان حضرات نے اگرچہ بینکوں کے سود کی حرمت پر بحث کرتے ہوئے عمومی سطح پر اس کے معاشی نقصانات یا برے اثرات بھی بیان کیے ہیں، لیکن جو شخص بھی ان کے منہجِ فکر سے کچھ واقفیت رکھتا ہے، اس کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ یہ باتیں ان کے ہاں الزامی یا اقناعی جواب کی حیثیت رکھتی تھیں، مناط الحکم کا درجہ نہیں۔ سود کی حرمت میں ان کے نقطۂ نظر کا دار و مدار نصوص اور عقد کی نوعیت پر تھا نہ کہ اس کے عمومی سطح پر مرتب ہونے والے معاشی اثرات پر، ( اس لیے ان حضرات کی طرف سے بینکوں کے سود کے جو مفاسد بیان کیے گئے ہیں، ان کا ازسرِ نو جائزہ لیا جاسکتاہے کہ کس حد تک وہ امرِ واقعہ کے مطابق ہیں اور کہیں ایسا تو نہیں کہ ان میں بعض اثرات میں خود سودی نظام نے اپنے اندر تبدیلیاں لا کر کمی کرلی ہو ، یا اسی طرح کے اثرات بعض ایسے عقود میں موجود ہوں جنہیں فقہاہمیشہ جائز کہتے چلے آئے ہیں ،البتہ اس طرح کے جائزے کا ان روایتی فقہی حلقوں کے مطابق سود کے عدمِ جواز پر اثر مرتب نہیں ہوگا ، کیونکہ یہ چیزیں ان کے ہاں علت یا مناط الحکم کا درجہ نہیں رکھتیں۔ یہ بات کہ شرعی جواز وعدمِ جواز کا دار و مدار عقد کی نوعیت پر ہے نہ کہ اس پر مرتب شدہ معاشی اثرات پر ،مروّجہ غیر سودی بینکاری کو جائز یا ناجائز کہنے والے دونوں طرف کے اہلِ فتوی کے ہاں قدرِ مشترک ہے ) اصل قضیہ چونکہ بینکوں کے سود کی حرمت سے شروع ہوا اور علما کے یہ حلقے (خواہ وہ موجودہ غیر سودی بینکاری کی حمایت کررہے ہوں یا مخالفت ) بینکوں کے سود کی حرمت پر متفق تھے اور یہ حرمت بھی ان کے ہاں عقد کی نوعیت پر مبنی تھی ، اس لیے جب ان حلقوں میں یہ سوال اٹھے گا کہ فلاں قسم کی بینکنگ سود کے اس ناجائز عنصر سے خالی ہوگئی ہے یا نہیں تو اس پر بحث کے دوران عقود کی نوعیت کے جائزے کا پہلو ہی غالب ہوگا۔ یہ سوال کہ یہ علما خواہ غیر سودی بنکنگ کے مجوّزین ہوں یا ناقدین، مسئلے کو جزوی طور پر عقود کی نوعیت کے حوالے سے ہی کیوں لے رہے ہیں، بحث کے پورے پس منظر کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہے۔
۶۔ چونکہ اس نئی بینکاری کا مقصد ہی یہ تھا کہ لوگوں کے لیے سود سے بچنا آسان ہو جائے، عمومی سطح پر معیشت میں کوئی بڑا اور فوری انقلاب بپا کرنا ان کے پیشِ نظر نہیں تھا، اس لیے ابتدا میں پاکستان میں اس کے لیے ’’ بلا سود بینکاری ‘‘ یا ’’ غیرسودی بینکاری ‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی رہی ہے۔ عربوں کے ہاں بھی ’’ البنک اللاربوی ‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ یہ واضح نہیں کہ’’ اسلامی بینکاری‘‘ کی اصطلاح کہاں سے اور کیسے مروّج ہوئی، بہر حال اسلامی بینکاری کا مطلب بھی ایسی جائز بینکاری لیا جانا چاہیے جو ان فقہا کے نقطۂ نظر سے عقودِ فاسدہ سے خالی ہے ، اسے اس سے زائد حیثیت دینا اور یہ توقع رکھنا کہ اس سے عمومی معاشی سطح پر کوئی فوری انقلاب بپا کرکے احیاے اسلام کا راستہ ہموار ہوگا، یہ بھی مبالغہ ہوگا۔ اس لیے بھی کہ فائنانسنگ معیشت کا ایک شعبہ ہے ، صرف ایک شعبے کو کتنا ہی مثالی کیوں نہ بنالیا جائے اس کے اثرات محدود ہی ہوں گے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ بعض خارجی عوامل اور نیت کی وجہ سے ایک جائز اور مباح کام کرنا یا اس کی ترویج کی کوشش کرنا مستحسن بن جاتاہے ، جیسے عصری تعلیم حاصل کرکے کوئی ملازمت اختیار کرنا ایک جائز اور مباح کام ہے ، لیکن جس معاشرے میں اَن پڑھ نوجوان آوارہ گردی اور بے راہ روی میں مبتلا ہورہے ہوں، وہاں انہیں پڑھا لکھا کر یا کوئی ہنر سکھا کر کسی ملازمت پر لگانے کی مہم شروع کرنااور اس مقصد کے لیے ادارے قائم کرنا صرف جائز ہی نہیں مستحسن ہوگا۔ اسی طرح جو لوگ بینکوں کے سود کو بھی عام سود کی طرح حرام اور موجبِ وعید سمجھتے ہیں، ان کے نقطۂ نظر سے ایسی کوشش کرنا جس سے لوگوں کے لیے اس حرام سے بچنا آسان ہو جائے، مستحسن شمار ہوگا ، البتہ جن کے نزدیک اس سود میں کوئی قباحت ہی نہیں ہے یا اس کا ناجائز ہونا ثانوی سا مسئلہ ہے، ان کی بات اور ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے اس طرف توجہ دلانا بھی مناسب معلوم ہوتاہے کہ ہمارے ہاں فقہ کے بارے میں مختلف رجحانات پائے جاتے ہیں۔ بعض حضرات، متأخرین بالخصوص عالمگیریہ اورشامیہ وغیرہ کی عبارات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، بعض حضرات اس سے ذرا پیچھے جاکر سرخسی ، کاسانی اور مرغینانی کی ذکر کردہ تعلیلات وغیرہ کو بھی پیشِ نظر رکھتے ہیں، بعض حضرات اس دائرے کو وسیع کرتے ہوئے دیگر معروف مذاہبِ فقہیہ سے بھی استفادہ کرتے ہیں، صحابہ وتابعین کے آثاراور نصوص کی طرف بھی رجوع کرتے ہیں۔ ان سب رجحانات کے منہجِ فکر اور فکری سرچشموں میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے، یہ سب اسی علمی اور فقہی روایت کا تسلسل ہیں جو صدیوں سے امت میں چلی آرہی ہیں۔ اس منہج کے حاملین کو آج کل عموماً روایتی علما اور اس فقہ کو روایتی فقہ بھی کہا جاتاہے،اگر یہ اصطلاح نامناسب معلوم ہوتو ہم آسانی کے لیے اسے مدوّن فقہ کہہ سکتے ہیں۔ اس میں وہ حضرات بھی شامل کیے جاسکتے ہیں جو کسی متعین فقہ کی تقلید کے قائل نہیں ہیں۔ اس مدوّن یا روایتی فقہ سے ہٹ کر جدید دور کے بعض مفکرین کے ہاں ایسے رجحانات بھی موجود ہیں جن میں اس مدوّن فقہ سے استفادہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے ہاں زیادہ زور ان کے فہمِ قرآن اور چند اصول وکلیات پر ہوتاہے ، ان میں سے بعض تو سنت اور آثار کی حجیت کے قائل ہی نہیں ہیں یا پھر ان کی وہ اہمیت ان کے ہاں نہیں ہے جو روایتی حلقوں کی نظر میں ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک یہ دوسری قسم کے رجحانات مسلمانوں کے عمومی اور مرکزی دھارے سے کٹے ہوئے تھے، تاہم میڈیا کے پھیلاؤ کے بعد روایتی حلقوں کے جدید میڈیا کے بارے میں تحفظات، اس سے عدمِ استفادہ، مناسب اندازِ تخاطب کے فقدان ، بعض اہم اور زندہ مسائل سے نظر چرانے کی کوشش وغیرہ مختلف وجوہات کی وجہ سے ان غیر روایتی رجحانات نے بھی اپنی جگہ بنائی ہے، لیکن اب بھی مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت جب کسی مسئلے میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں راہ نمائی حاصل کرنا چاہتی ہے تو روایتی حلقوں ہی کی طرف رجوع کرتی ہے، اس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ آج بھی مسلمانوں کی دینی ضروریات کے پورا کرنے میں اپنے تمام داخلی رجحانات سمیت اس روایتی یا مدوّن فقہ کاسب سے بڑا اور مرکزی حصہ ہے۔ اس روایتی یا مدوّن فقہ نے حالیہ دور میں معاملاتِ مالیہ کے بارے میں بہت زیادہ پیش رفت کی ہے اور فقہ المعاملات پر عربی انگریزی اور اور اردو سمیت متعدد زبانوں میں خاصا مواد سامنے آچکا ہے۔ غیر روایتی مفکرین کی کاوشیں اپنی جگہ، لیکن اس طرح کی کوئی فکر یا فقہ روایتی فقہ کے متبادل کے طورپر ابھری تو اس کے خدوخال واضح ہونے اور crystalize ہو کر سامنے آنے میں شاید ابھی وقت لگے۔ تب تک اس مدوّن فقہ سے صرفِ نظر کرنا آسان نہیں ہوگا۔ یہی وہ فقہ ہے جس کی رو سے ہمارے ہاں غیر سودی بینکاری کے جواز وعدمِ جواز پر بحث ہورہی ہے۔
جناب زاہد صدیق مغل صاحب کس منہجِ فکر سے وابستہ ہیں، یہ بات ان کے مذکورہ مضمون یا ان کے دیگر مضامین سے واضح نہیں ہوپائی ، بلکہ اس حوالے سے ابہام اورتضاد نظر آیا ہے۔ ایک طرف تو وہ مقاصد الشریعہ پر زور دیتے اور ان میں اس بات کو شمار کرتے ہیں کہ ریاستی جبر کے تمام اختیارات علما کے ہاتھ میں دے کران علما کی theocracy قائم کردی جائے۔ علما سے ان کی کیا مراد ہے؟ غیر روایتی منہجِ فکر رکھنے والے اہلِ علم تو کسی theocracy کے سرے سے قائل ہی نہیں ہیں۔ دوسری طرف عموماً ہمارے عرف میں جن کو علما کہا جاتاہے، ان پر وہ تنقید کررہے ہیں ، خواہ وہ غیر سودی بینکاری کے مجوزین ہوں یا ۔ خود مغل صاحب کے لفظوں میں ۔ ناقدین کی بڑی اکثریت ہو۔ مثال کے طور پر یہ مسئلہ کہ روایتی بینکوں کی اصل خرابی کیا ہے،اس میں ان کے مضمون کا نچوڑ یہی نکلتاہے بلکہ انہوں نے خود نکالا ہے کہ روایتی بینکنگ میں اصل خرابی یہ نہیں کہ اس میں سود پایا جاتا ہے۔ یہ تو ثانوی درجے کا مسئلہ ہے ، اصل خرابی ۔ سود سے بھی بڑی خرابی ۔ ان بینکوں کا جزوی محفوظات پر مبنی تمویل(fractional reserve financing) کرکے زر کی رسد میں اضافے کا باعث بنناہے۔ ان کی یہ بات روایتی علما کے منہجِ فکر کے بالکل خلاف ہے اور شاید ہی کوئی عالم ان کی اس بات سے اتفاق کرے، اس لیے کہ بینک کی یہ خرابی جسے وہ بیان کررہے ہیں، ایک رائے اور اجتہاد کا درجہ رکھتی ہے جس کے بارے میں وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ غیر سودی بینکاری کے مجوزین اور ناقدین نے اس سے سہوِ نظر کیا ہے۔ ان سہوِ نظر کرنے والے والوں میں برّ صغیر اور شرقِ اوسط سمیت دنیا بھر کے بے شمار علما اور بحث وتحقیق کے بڑے بڑے فورمز شامل ہیں۔ یہ بات بذاتِ خود اس بات کا اعتراف ہے کہ یہ کوئی ایسی خرابی نہیں ہے جسے روزِ روشن کی طرح عیاں کہا جاسکے ، بلکہ آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ جناب مغل صاحب کی رائے کے برعکس بعض دیگر مسلمان ماہرین معیشت اس استدلال کو تسلیم ہی نہیں کرتے کہ بینکوں کا تخلیق کردہ زر out of nothing ہوتا ہے، مثلاً ملاحظہ ہو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا کے شعبہ معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر زبیر حسن کا مضمون بعنوان : Credit creation and control : an unresolved issue in Islamic banking جبکہ سود کی بطور ایک عقد کے حرمت منصوصِ قطعی ہے اور قرآن وحدیث میں اس پر شدید وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔ ایسے میں شاید ہی کوئی عالم ہو جو یہ تسلیم کرنے کے تیار ہو کہ ایک رائے اور اجتہاد کے نتیجے میں سامنے آمنے والی خرابی اوّلیں مسئلہ ہے اور جس کی حرمت منصوص ہے، اس کی شناعت ثانوی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے کہ وہ علما غالباً جن کی تھیوکریسی فاضل مضمون نگار قائم کرنا چاہتے ہیں، وہ بینکوں کے سود کوبھی عام سود کی طرح صرف ناجائز ہی نہیں ،حرامِ قطعی سمجھتے اور اسے قرآن وحدیث کی وعیدوں میں داخل کرتے ہیں اور ان کے ہاں یہ بھی طے شدہ امر ہے کہ مستنط چیز منصوص کے برابر نہیں ہوسکتی ۔
سچی بات یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل کراچی کے بعض مراکزِ افتا یا دینی اداروں کی مروّجہ اسلامی بینکاری کے خلاف تحریریں سامنے آئیں تو راقم الحروف کا ابتدائی تأثر یہ تھا کہ ان میں دو ایسے حلقوں کی سوچ کی جھلک نظر آرہی ہے جن کے منہجِ فکر میں عام حالات میں بعد المشرقین ہوتاہے۔ ایک وہ حلقہ ہے جو فقہی جزئیات کو اتنی اہمیت دیتاہے کہ اس سے ہٹ کر سوچنے کو وہ ایسے ’ اجتہاد ‘میں داخل سمجھتاہے جس کی آج کے زمانے میں کوئی گنجائش نہیں ہے، مقاصدِ شریعت جیسے الفاظ انہیں اتنے اپیل نہیں کرتے۔ کچھ عرصہ قبل ایک فتوے میں اسلامی بینکاری سے جوڑے گئے تصویر کے مسئلے میں یہی اندازِ فکر نمایاں نظر آتاہے ، بلکہ اس میں اس بات کا اظہار بھی دکھائی دیتاہے کہ ہمارے بہت قریب کے بزرگوں کی تصریحات بھی حرفِ آخر کا درجہ رکھتی ہیں ، ان سے انحراف یا حالات کی تبدیلی کی وجہ سے غور کے نئے گوشے مدنظر رکھنا بھی مذموم خود رائی میں داخل ہے۔ دوسری طرف وہ حلقہ ہے جو جزئیات کو اتنی اہمیت نہیں دیتا اور یہ ضروری سمجھتاہے کہ کسی بھی مسئلے کو اصول وکلیات یا جسے وہ مقاصد الشریعہ کہتے ہیں، کی روشنی میں دیکھا جائے۔ بینکوں کے انٹرسٹ کو جائز کہنے والے تقریباً تمام حضرات دوسری قسم کے حلقوں سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ مروّجہ اسلامی بنکاری کے مجوّزین دونوں حلقوں کی طرف سے اعتراضات کی زد میں ہیں۔ ایک طرف سے ان پر یہ اعتراض ہے کہ انہوں نے متأخرین کی جزوی تصریحات سے انحرف کیا ہے، دوسری طرف سے ان پر اعتراض ہے کہ وہ عمومی اجتہاد کی بجائے روایتی فقہی انداز سے مسئلے کولیتے ہیں۔ غیر سودی بینکاری کے خلاف بعض تحریروں میں ان دونوں حلقہ ہائے فکر کا ایک عجیب امتزاج سا نظر آتا ہے۔ اس طرح کی تحریروں سے ابھرنے والا یہ تاثر جناب زاہد صدیق مغل صاحب کے اس مضمون سے اور زیادہ نمایاں ہوگیا ہے۔ بعض جگہوں پر فاضل مضمون نگار روایتی علما کی بہت زیادہ حمایت کرتے ہوئے نظر آتے بلکہ ان کی تھیوکریسی قائم کرنے کے قائل نظر آتے ہیں اور کہیں ان سب پر تنقید کرتے ہوئے یا ان کے مشترکہ منہجِ فکر سے ہٹ کر بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، کہیں وہ یہ تجویز دیتے ہیں کہ بنک جیسے تمام اداروں کو مدارسِ دینیہ کے ماتحت کردیاجائے اور دوسری طرف جو بنک انہی مدارس کی بعض شخصیات یا فضلا کی نگرانی میں ہیں، اسے درست نہیں سمجھ رہے۔ اگر بنکوں کو دینی مدارس کے ماتحت کرنا مقاصدِ شریعت میں سے ہے تو مذکورہ بنکوں کوجن کی نگرانی علما کررہے ہیں، ان کو اس مقصد کی طرف ایک قدم تو ضرور قرار دینا چاہیے۔ یک رخی کایہ فقدان جو بظاہر نظر آرہاہے، وہ فاضل مضمون نگار کی طرف سے ابلاغ کی کمی کا نتیجہ ہے ، واقعی فکری اور ذہنی الجھاؤ ہے یا بعض باتیں محض کسی طبقۂ فکر کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ہیں، اس کے بارے میں راقم الحروف کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
(جاری)
مکاتیب
ادارہ
(۱)
برادرم جناب مولانا حافظ محمد عمار خان ناصر صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
والد ماجد مفسرِ قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتیؒ کے بارے میں ’’تکفیرِ شیعہ‘‘ کے حوالے سے کافی گرما گرم بحث ومباحثہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے گزشتہ کئی ماہ کے شماروں میں نظر سے گزرا۔ مناسب معلوم ہوا کہ اس سلسلے میں ہم بھی کچھ گزارشات قارئین ’’الشریعہ‘‘ کی خدمت میں پیش کر دیں۔
تکفیرِ شیعہ کے حوالے سے والد ماجدؒ کا اصولی موقف وہی ہے جس کے بارے میں آپ نے سید مشتاق علی شاہ صاحب کے مضمون (جنوری ۲۰۱۰ء) میں حاشیہ لگا کر صحیح ترجمانی کر دی ہے۔ اس ضمن میں جن احباب نے آپ کی وضاحت سے اختلاف کیا ہے، انہیں مکمل معلومات حاصل نہیں ہیں۔ ذیل میں صرف تین باتیں پیش خدمت ہیں:
۱۔ جب ہزار علماء کا فتویٰ جاری ہوا تھا جس میں اثنا عشریہ کو علی الاطلاق کافر قرار دیا گیا تھا تو اس فتوے سے جن محققین علماء کرام اور مفتیان عظام نے اختلاف کیا تھا، ان میں والد ماجدؒ بھی تھے اور اس فتوے پر انہوں نے دستخط نہیں فرمائے تھے۔
۲۔ امام اہل السنۃ حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدرؒ نے اس فتوے پر نہ صرف دستخط فرمائے تھے بلکہ ’’ ارشاد الشیعہ‘‘ نامی مستقل کتاب بھی تصنیف فرمائی تھی اور اس کتاب کو والد ماجدؒ نے ادارہ نشرو اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم سے طبع فرمایا تھا۔ ایک موقع پر امام اہل سنت ؒ نے مفسر قرآن ؒ کوایک طویل خط بھی لکھا جو احقر کے پا س محفوظ ہے۔ اس خط میں انہوں نے اپنے موقف کے ساتھ اس مذکورہ فتوے میں انہیں شامل ہونے کی بھرپور دعوت دی، لیکن انہوں نے جواباً فرمایا کہ ’’ مجھے اس پر شرح صدر نہیں ہے‘‘۔
۳۔ مفسر قرآن ؒ کی حیات طیبہ میں ایک پمفلٹ شائع ہوا تھا جس کا عنوان تھا: ’’رافضی (شیعہ) کیا ہیں؟‘‘ اس میں مرتب نے والد ماجدؒ کے افادات کے عنوان سے ان کے دروس، خطبات اور تحریرات سے کچھ عبارات نقل کر کے ان کے موقف کی بظاہر ترجمانی کی بلکہ بعض مقامات پر فہمائش کی کوشش بھی کی تھی، چنانچہ والد ماجدؒ نے تحریری طور پر اس پمفلٹ سے بیزاری کا اظہار فرما دیا تھا اور احقر کے ذریعے ایک تحریر لکھوائی تھی جس پر انہوں نے دستخط ثبت فرمائے تھے۔ وہ تحریر احقر کے پاس محفوظ ہے۔ چنانچہ مرتب نے اس پمفلٹ کو اسی وقت مکمل ضائع کرا دیا تھا۔ اس لیے جن احباب نے اس پمفلٹ کا سہارا لے کر والد ماجدؒ کے موقف کی ترجمانی کی کوشش کی ہے، وہ نہ صرف غلط ہے بلکہ اگر دانستہ طورپر ایسا کیا ہے تو یہ بددیانتی بھی ہے۔
میرا مقصد اس بحث کو دلائل کے ساتھ طول دینا نہیں ہے، بلکہ جو احباب مفسر قرآن کے موقف سے ناواقف ہیں، صرف ان کے علم میں لانا ہے، چونکہ اس باب میں اکابر علماے دیوبند کے دونوں طرف فتاویٰ موجود ہیں اور ہم دونوں پہلوؤں کادل وجان سے احترام کرتے ہیں اور ایک پہلو کو راجح اور دوسرے کو مرجوح گردانتے ہیں۔ خود ہمارے شیخین کریمین ؒ نے ہر دو فتاویٰ پر الگ الگ عمل کرتے ہوئے زندگی بھر ایک دوسرے کوبرداشت کیا اور احترام کی نظر سے دیکھا ہے جو ہمارے لیے ایک مستقل راہنما اصول ہے۔
آخر میں عصر حاضر کے نامور فقیہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی زیدمجدہ کا ایک فتویٰ جو دارالعلوم کراچی کے دارالافتاء سے جاری ہوا تھا، اس کی نقل حاضر خدمت ہے جو قارئین کے لیے دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔ اس فتوے کی اشاعت سے قارئین کے سامنے صرف یہ بات لانا مقصود ہے کہ موجودہ دور کے محقق مفتیان مسلک دیوبند بھی مفسر قرآنؒ جیسا موقف رکھتے ہیں اور ایسے موقف والوں کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد ہے۔ اللہ رب العزت سب کاحامی و ناصر ہو۔
احقر محمد فیاض خان سواتی
مہتمم جامعہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تکفیر شیعہ کے بارے میں مولانا محمد تقی عثمانی کا فتویٰ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترمی و مکرمی!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جو شیعہ کفریہ عقائد رکھتے ہوں، مثلاً قرآن کریم میں تحریف کے قائل ہوں یا یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ حضرت جبریل علیہ السلام سے وحی لانے میں غلطی ہوئی یا حضرت عائشہؓ پر تہمت لگاتے ہوں، ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں لیکن یہ بات کہ تمام شیعہ یہ یا اس قسم کے کافرانہ عقائد رکھتے ہوں، تحقیق سے ثابت نہیں ہوئی، کیوں کہ بہت سے شیعہ صراحتاً ان عقائد کاانکار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ الکافی یا اصول الکافی وغیرہ میں جتنی باتیں لکھی ہیں، ہم ان سب کو درست نہیں سمجھتے۔ دوسری طرف کسی کو کافر قرار دینا چونکہ نہایت سنگین معاملہ ہے، اس میں احتیاط ضروری ہے۔ اگر بالفرض کوئی تقیہ بھی کرے تو وہ اپنے باطنی عقائد کی وجہ سے عنداللہ کافر ہو گا، لیکن فتوی اس کے ظاہری اقوال پر ہی دیا جائے گا۔ اسی لیے چودہ سو سال میں علمائے اہل سنت کی اکثریت تمام شیعوں کو علی الاطلاق کافر کہنے کے بجائے یہ کہتی آئی ہے کہ جو شیعہ ایسے کافرانہ عقائدرکھے، وہ کافر ہے اور یہی طریقہ بیشتر اکابر علماء دیوبند کا رہا ہے اور چونکہ جمہور علماء کے اس طریقے میں کوئی تبدیلی لانے کے لیے کافی دلائل محقق نہیں ہوئے، اس لیے دارالعلوم کراچی حضرت مفتی اعظم مولانا مفتی محمد شفیع صاحب قدس سرہ کے وقت سے اکابر کے اسی طریقے کے مطابق فتویٰ دیتا آیا ہے کہ جو شیعہ ان کافرانہ عقائد کا قائل ہو، وہ کافر ہے مگرعلی الاطلاق ہر شیعہ کو، خواہ اس کے عقائد کیسے بھی ہوں، کافر قرار دینے سے جمہور علماء امت کے مسلک کے مطابق احتیاط کی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شیعوں کی گمراہی میں کوئی شبہ ہے۔ جن شیعوں کو کافر قرار دینے سے احتیاط کی گئی ہے، بلاشبہ وہ بھی سخت ضلالت اور گمراہی میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان گمراہیوں سے ہر مسلمان کی حفاظت فرمائیں۔ آمین۔
احقر محمد تقی عثمانی
دارالافتاء ، دارالعلوم کراچی۱۴
۱۴ ۔ ۱ ۔ ۱۴۱۲ھ
(۲)
مولانا حافظ محمد عمار خان ناصر صاحب دام مجدکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بندہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا ریسرچ سکالر ہے۔ چند ہی دن ہوئے کہ آپ کے موقر جریدہ ’’الشریعہ‘‘ کے مطالعہ کاموقع ملا۔ خاص کر مکاتیب کے زیر عنوان دل چسپ علمی مباحث پڑھ کر فرط نشاط اپنے رگ وپے میں محسوس ہوئی۔ اتحاد بین المسلمین کے روح رواں ڈاکٹر محمد شہباز منج نے اپنے مکتوب گرامی کے ذریعے عصری تقاضوں کے پیش نظر اتحاد کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے مذہبی انتہا پسندی کی احسن انداز میں مذمت بیان کی ہے، البتہ چندایک مکاتیب میں دینی شدت پسندی کا پہلو نمایاں دکھائی دیا، مثلاً محترم محمد یونس قاسمی صاحب کامکتوب جس میں انھوں نے شیعوں کے غیر محقق نظریہ کو جزوِعقیدہ و اساسِ مذہب قرار دیا۔ بندہ حقیر تقابل ادیان سے خصوصی دلچسپی رکھتا ہے اور خاص طورپر تمام اسلامی مکاتب فکر کے بنیادی معتقدات و نظریات سے بھی قدرے آشنا ہے۔ یہاں اہلِ تشیع کے نزدیک نظریہ تحریف قرآن کے حوالے سے چند معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔قاسمی صاحب سے توقع ہے کہ ان پر ضرور فراخ دلی سے غور فرمائیں گے۔
یہ کہناکہ ’’شیعہ اثنا عشریہ کا عقیدہ یہ ہے کہ موجودہ قرآن محرف ہے‘‘ اصل حقیقت کے سراسر منافی ہے، کیوں کہ زمینی حقائق اس کے خلاف ہیں۔ قرآن مجید کی عظمت، منزل من اللہ ہونے اور عدم تحریف پر تمام اسلامی مکاتبِ فکر کااتفاق ہے۔ البتہ اسلامی مکاتبِ فکر کی کتب میں ایسی روایات پائی جاتی ہیں جو موہمِ تحریف ہیں، مگر ہر مکتبِ فکر ایسی روایات کو مخالف قرآن سمجھ کر یکسر مسترد کرتا ہے، لہٰذا کسی مکتب فکر کے ہاں اس قرآن مجید کے علاوہ کوئی دوسرا قرآن نظر نہیں آتا اور نہ پریس سے چھپ کر منظر عام پر آیا ہے۔ اگر چند ایک افراد قائل بھی ہوں تو پورے مکتب فکر پر اس نظریہ کو تھوپا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس کی وجہ سے اس مکتب فکر کو مطعون کیا جا سکتا ہے۔ تمام مکاتبِ فکر کی تفاسیر کو دیکھا جائے کہ وہ اس قرآن مجید کے علاوہ کسی دوسرے قرآن کی تفسیر ہیں تو جواب نفی میں ملے گا۔ ماننا پڑے گا کہ ہر مکتبِ فکر یقیناًاسی قرآن مجید پر ایمان رکھتا ہے اور اسے حرزِجان سمجھتا ہے۔ اسلام ظواہر پر حکم لگاتا ہے۔ اگر روایات کے بل بوتے پر کسی کو قائلِ تحریف ٹھہرایا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی الزام سے نہ بچ پائے گا۔
بدقسمتی سے امت اسلامیہ کے بعض نافہم افراد محض فرقہ وارانہ تعصب کے باعث اس پروپیگنڈے کو ہوا دے رہے ہیں کہ شیعہ قرآن مجید کی تحریف کے قائل ہیں۔ ایسے نادان دوست یہ نہیں سوچتے کہ اس الزام کالازمی نتیجہ یہ ہے کہ کتاب اللہ ہی مشکوک اور متنازع حیثیت اختیار کر لے گی۔ اس طرح اغیار کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اسلام کے بنیاد ی مآخذ کے بارے میں کہہ سکیں کہ خود مسلمان ہی اس قرآن پر متفق نہیں ہیں۔ جب مستشرقین کی جانب سے یہ اعتراض اٹھا کہ مسلمانوں کا ایک فرقہ (شیعہ) تحریفِ قرآن کا قائل ہے تو اس وقت کے معروف عالم و محقق مولانا رحمت اللہ کیرانوی عثمانیؒ بانی مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ نے اس کا بھرپور دفاع کیا کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی فرقہ تحریف قرآن کاقائل نہیں ہے، یعنی شیعہ تحریفِ قرآن کے ہرگز قائل نہیں ہیں۔ا س ضمن میں انہوں نے شیعوں کے مشہور محققین علما کے نظریات لکھے۔ اس سلسلہ میں ان کی معرکۃ الآراء کتاب ’’اظہا رالحق‘‘ کا، جو مسلمانوں کی جانب سے رد عیسائیت اور ابطالِ تثلیث میں لکھی جانے والی کتب میں ایک امتیازی حیثیت کی حامل ہے، مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ حضرت مولانا مفتی شیخ اکبر سہارنپوری استاذ الحدیث دارالعلوم کراچی کے ترجمہ اور حضرت مولانا جسٹس (ر) محمد تقی عثمانی مدظلہ کے حواشی وشرح اور تحقیق کے ساتھ ’’اظہار الحق ‘‘ کا اردو ترجمہ بنام’’ بائبل سے قرآن تک ‘‘ مکتبہ دارالعلوم کراچی سے شائع ہو چکا ہے۔ اصل کتاب کی جلد دوم صفحہ ۹۰، ۹۱، ’’الفصل الرابع فی دفع شبہات القسّیسین الواردۃ علی الاحادیث النبویۃ‘‘ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ یہی بات دیگر اکابر علما نے کہی ہے جن میں سابق شیخ التفسیر دارالعلوم دیوبند وشیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ ڈابھیل حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ ، حضرت مولانا عبدالحق حقانی دہلوی صاحب تفسیرِ حقانی، حضرت مولانا مظہرالدین بلگرامی فاضل مظاہرالعلوم سہارنپور و استاد مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، حضرت مولانا حکیم نجم الغنی خان رام پوری، علامہ شیخ محمد مدنی الازہر یونیورسٹی، علامہ شیخ محمد غزالی، حضرت علامہ خیر الدین ابوالبرکات نعمان آفندی ابن سید محمود آلوسیؒ ، استاد محمد سالم النبہانی اخوان المسلمین، علامہ محمد شبلی نعمانی، مولانا وحیدالدین خان، ڈاکٹر حامد حفنی داؤداستاد ادب عربی قاہرہ، حضرت مولانا شیخ اکبر سہارنپوری استاذ حدیث درالعلوم کراچی، خواجہ حسن نظامی ، پروفیسر محمد اسلم جیراج پوری اور ڈاکٹر اسرار احمد وغیرہ شامل ہیں۔
رہا قاسمی صاحب کا یہ کہنا کہ ’’ مختلف زمانوں میں شیعہ کے اکابر و اعاظم علماء و مجتہدین نے قرآن مجید کے محرف ہونے کے موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کتاب شیعوں کے ایک بڑے مجتہد علامہ حسین محمد تقی نوری طبرسی کی کتاب ہے جس کانام ’’ فصل الخطاب فی اثباتِ تحریفِ کتابِ ربِ الارباب ‘‘ہے‘‘ تو اس کے متعلق گزارش یہ ہے کہ اس کتاب کے علاوہ کوئی اور کتاب شیعوں کی طر ف سے منظر عام پر نہیں آئی جس میں تحریفِ قرآن کا اثبات کیا گیا ہو۔ قاسمی صاحب کایہ دعوی بلادلیل ہے۔ ’’فصل الخطاب ‘‘ کے رد میں اس وقت کے شیعہ علماء نے کئی کتابیں تحریر کیں جن میں ایک کتاب ’’کشف الارتیاب فی عدمِ تحریف الکتاب‘‘ مولفہ شیخ محمود بن ابو القاسم طہرانی ‘‘ ہے اور اس وقت سے آج تک شیعہ علماء نے اس کتاب کو ردکیا اوراسے کتب ضالہ میں شمار کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک یہ کتاب شیعوں کے مراکز سے شائع نہیں ہوئی۔ مثال کے طور پر شیعوں کے آیۃ اللہ العظمیٰ محمد آصف المحسنی ایک بحث کے ضمن میں نوری کے کلام پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’لا یجوز لطلاب الحق وارباب الاستنباط ان یغتروا بتوثیقاتہ وان یعتمدوا علی آراۂ فان ذلک یبعدہم عن الحق بعداً‘‘ (بحوث فی علم الرجال ص۳۷، مطبوعہ ایران)
قاسمی صاحب نے شیعوں کے سید نعمت اللہ جزائری کی عبارت نقل کی ہے جو یہ ہے: ’’والظاہر ان ہذا القول صدر منہم لاجل مصالح کثیرۃ ..... کیف وھولآء رووا فی مولفاتہم اخباراً کثیرۃ ....‘‘ (الانوار النعمانیہ) بہتر ہوتا کہ قاسمی صاحب فراخ دلی سے کتاب کے اسی صفحہ پر شیعوں کے علامہ محمد علی القاضی طباطبائی کا مبسوط حاشیہ بھی ملاحظہ کر لیتے جو صفحہ ۳۵۷ سے ۳۶۴ تک پھیلا ہوا ہے اور ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے:
’’ہذا الکلام من السید المصنف عجیب ومبنی علی مسلک اصحاب الحدیث وجری علی طریقہ الاخباریین التی لایعبا بہا والعجب من قولہ : ان اصحابنا قد اطبقوا علی صحۃ تلک الروایات والتصدیق بھا الخ۔ لیت شعری متی اطبق اصحابنا علی صحۃ تلک الروایات واین صدقوھا ولا ادری من ہم المراد من قولہ (اصحابنا) ہل المراد منہم جمع من اہل الجمود من الاخباریین او المراد منہم اصحابنا اہل النظروالتحقیق وکبراء الدین من الفقہاء والمجتہدین؟ وحاشاہم ان ما قولوا بمقالۃ .... ما اجاد فی تالیفہ ولا وافق الصواب فی جمعہ ..... الخ
قاسمی صاحب نے شیعوں کی تفسیر صافی کی پہلی جلد مقدمہ نمبر ۶ کی عبارت نقل کی ہے جس میں شیعوں کے محقق کلینی کے قائل تحریف ہونے کی دلیل دی گئی ہے، مگر درمیان سے عبارت حذف کردی جو یہ ہے: ’’لانہ روی روایات فی ہذا المعنی فی کتابہ ولم یتعرض لقدح فیہا مع انہ ذکر فی اول الکتاب انہ یثق بما رواہ فیہ۔‘‘ (تفسیر صافی، المقدمہ السادسۃ ص۱۳) اس عبارت میں کلینی کے معتقد تحریف ہونے کی یہ علت بیان کی گئی ہے کہ اس نے تحریف والی روایات پر تنقید نہیں کی اور اول کتاب میں اپنی روایات کی توثیق کی ہے۔ تاہم ہر قسم کے تعصب سے بالاتر ہو کر شیعوں کی کتاب ’’اصول کافی‘‘ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ کلینی نے کسی روایت کی نہ تو ثیق کی ہے اور نہ ہی تنقید۔ وہ صرف ناقل ہے بلکہ کلینی نے مقدمہ میںیہ بات کہی ہے کہ ’’جو روایت موافق قرآن ہو، اسے لے لو اور جو مخالف قرآن ہو، اسے رد کر دو‘‘ اور اسی کے متصل لکھاہے کہ ’’خذوا بالمجمع علیہ فان المجمع علیہ لاریب فیہ‘‘ (اصول کافی ص۶، طبع لکھنو)
بنا بریں کلینی نے صرف روایت نقل کی ہے، کسی روایت پر حکم نہیں لگایا۔ چونکہ یہ مسلمہ اصول ہے کہ ’’مجرد نقل الحدیث لا ینم عن عقیدۃ ناقلہ ما لم یتعہد صحۃ ما یرویہ والتزامہ بہ‘‘ یعنی صرف حدیث کانقل کرنا ناقل کے عقیدے کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ جب تک وہ مروی عنہ کی صحت اور اس کے التزام کاعہد نہ کرے،اس وقت تک اس پر کسی طرح کاحکم نہیں لگایا جا سکتا۔ متکلمین کا اصول ہے کہ ’’ان التزام الکفرکفر لا لزومہ‘‘ التزام کفر کفر ہے، لزومِ کفر کفر نہیں ہے۔ (النبراس شرح شرح عقائد للعلامہ عبدالعزیز پرہاروی، ص۱۹۹) جب کہ شیعوں کی تفسیرصافی کی محولہ بالاعبارت کے ذیل میں یہ صراحت موجود ہے کہ ’’والصحیح من مذہب اصحابنا خلافہ‘‘ اور صحیح یہ ہے کہ ہمارے فقہا کا مذہب اس کے خلاف ہے یعنی وہ عدم تحریف کے قائل ہیں۔ نیز محولہ بالاعبارت کے ماقبل ومابعد عدم تحریف پر دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ شیعوں کی کتب کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے چند اخباریوں کے سوا باقی سب عدم تحریف کے قائل ہیں۔ لہٰذا بقول ڈاکٹر اسرار احمد صاحبؒ کے ہمیں شیعوں کے اس موقف کو قبول کر لینا چاہیے۔
رہا یہ کہنا کہ ’’اہل سنت کی عقائد کی کتابوں میں شیعوں کو اسلامی فرقہ شمار نہیں کیا گیا۔ اگر کیا گیا ہے کہ توہم اسے محدث عظیم حضرت انور شاہ کشمیری کی کتاب فیض الباری میں منقول عبارت من لم یکفرہم لم یدر عقائدہم پر محمول کرتے ہیں‘‘ تو اس سلسلے میں مزید کتب کی طرف توجہ دلانے کی ضرور ت نہیں ہے، صرف کتاب ’’المصباح فی رسم المفتی ومناہج الافتاء بشرح اصول الافتاء لسماحۃ الشیخ المفتی محمد تقی عثمانی‘‘ تالیف مفتی محمد کمال الدین احمد راشدی کی یہ عبارت ملاحظہ فرما لی جائے:
’’الشیعۃ: فرقۃ من الفرق الاسلامیۃ سمیت بذلک لاعلانہا مشایعۃ علی واودلادہ رضی اللہ عنہم بالذہاب الی انہم ہم الاحق بالخلافۃ بعد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘‘ (ص۱۵۴، طبع ماریہ اکیڈمی، کراچی)
اس پیرا گراف میں خاتم المحدثین حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ کی فیض الباری کے حوالے سے قاسمی صاحب نے ادھوری عبارت نقل کی ہے۔ فیض الباری کی اصل عبارت یوں ہے: ’’اختلفوا فی اکفار الروافض ولم یکفرہم ابن عابدین واکفرہم الشاہ عبدالعزیز وقال ان من لم یکفرہم لم یدر عقائدہم‘‘ یعنی روافض کی تکفیر میں اختلاف کیا گیا ہے۔ علامہ ابن عابدین شامی ؒ ان کی تکفیر نہیں کرتے اور شاہ عبدالعزیز ؒ نے ان کی تکفیر کی ہے اور کہا ہے کہ جوان کی تکفیر نہیں کرتا، وہ ان کے عقائد سے آگاہ نہیں ہے۔ (فیض الباری ۱؍ ۱۲۰، طبع قاہرہ) فیض الباری کے فاضل جامع و محشی حضرت مولانا بدرعالم میرٹھی ؒ اسی صفحہ کے حاشیے پر اپنے استاد محترم حضرت انور شاہ کشمیری کے درس کا اقتباس نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : قال (الاستاذ): والشاہ عبدالعزیز معاصر لابن عابدین الشامی ولکنہ افقہ منہ عندی۔ شاہ عبدالعزیز ابن عابدین شامی کے ہم عصر تھے، لیکن میرے نزدیک وہ شاہ عبدالعزیز سے بہت بڑے فقیہ تھے۔ کیا افقہ الفقہاء علامہ شامی اور ان کے علاوہ دیگر محققین علماء نے شیعوں کی عقائد پر مشتمل کتب کا مطالعہ نہیں کیا ہوگا؟
اسلام دشمن طاقتیں اسلام اور مسلمانوں کوشدید نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ مسلمانوں میں اختلافات کا بیج بویا جائے، ان کو آپس میں لڑایا جائے اور ان کی آئینی و اساسی کتاب قرآن مجید‘کو متنازع بنا کر اسلامی عقائد و اعمال کی پوری عمارت کو زمین بوس کر دیا جائے، لہٰذا ہم قرآن کریم کی عظمت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے اختلافات فراموش کر دیں اور بے بنیاد روایات ونظریات کی بنیادپر ایک دوسرے کو مطعون کرنے سے اجتناب کیا جائے کہ اسی میں اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی اور بہتری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو باہمی الفت و محبت کی فضا قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دشمنان اسلام یہود ونصاریٰ کے گھناؤنے عزائم کو خاک میں ملا دے اور ہم سب کو صراط مستقیم پر گامزن رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔
محمد عامر شہباز
ڈی اے وی، کالج روڈ، راولپنڈی
(۳)
گرامی قدر جناب برادرم مولانا عمار خان ناصر صاحب مدظلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ۔ مزاج گرامی بخیر
آنجناب کا مؤقر جریدہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ انتہائی اہم خصوصیات کا حامل ایک خوبصورت علمی جریدہ ہے۔ جولائی تا اکتوبر ۲۰۰۹ء کی مشترکہ خصوصی اشاعت پر، جو امام اہل سنت حضرت مولانا شیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات پر مشتمل ہے، ’’الشریعہ اکیڈمی ‘‘اور ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے تمام احباب مبارک باد کے مستحق ہیں ۔اللہ رب العزت میرے مخدوم ومشفق حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم اور آپ کو بمع احباب سلامت رکھے اور یوں ہی ہم سب سے دین کی خدمت لیتا رہے۔
اس خصوصی شمارہ کے صفحہ نمبر ۳۸۰پر آپ کے مضمون میں ایک پیرا پڑھ کر دکھ ہوا کہ آپ نے اتنے بڑے کا م کا سہرا اور کریڈٹ کالعدم تنظیم سپاہ صحابہؓ کے کھاتے میں ڈال دیا ہے جبکہ حقیقت اس کے خلاف ہے۔ شیعہ اثنا عشریہ کے متعلق علماء کرام، محققین کا فتویٰ اور شیعہ کے خلاف تکفیری مہم سپاہ صحابہؓ نے نہیں چلائی۔ سپاہ صحابہؓ کی پیدائش تو۱۴۰۵ھ کی ہے جبکہ شیعہ کے خلاف تکفیری مہم کم ازکم اس صدی میں شروع نہیں ہوئی۔ ویسے تو اس مرتد گروہ کے متعلق کفر کا فتویٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال زریں اور تابعین، تبع تابعین، مجتہدین، فقہائے کرام اور اولیاء کرام کی کتب میں موجود ہے مگر اس طرح متفقہ فیصلہ یا اس فیصلہ کے متعلق باقاعدہ تحریکی صورت اور مہم جوئی کا شرف متقدمین دارالعلوم دیوبندرحمہم اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃ کو حاصل ہے جس پر شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمد مدنیؒ ، خاتم المحدثین حضرت مولاناسید محمد انور شاہ کشمیریؒ ، مفتی اعظم ہند حضرت مولانامفتی کفایت اللہ دہلویؒ ، شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ، حضرت مولانامسعوداحمدؒ ، حضرت مولانامفتی مہدی حسن شاہجہان پوریؒ جیسے اکابرین، محققین، مفتیان کے دستخط موجود ہیں۔ ان متبرک اکابرین اور دارالعلوم دیوبند کی ان برگزیدہ شخصیات سے یہ شرف فضیلت چھین کر شاگردی میں ان حضرات کے پوتوں پڑپوتوں کے حوالے کردینا، عقل وانصاف اس بات کوجائز قرار نہیں دیتا۔
سپاہ صحابہؓ کی قیادت وکارکنان نے شیعہ کی تکفیری مہم کا آغاز نہیں کیا بلکہ اس تکفیری مہم کے نتیجہ میں آنے والے علمائے کرام، محققین اہل سنت کے اس متفقہ فیصلہ کو فروغ بخشنے، اسے عام کرنے اور شیعہ کے کفریات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی محنت کی ہے اور اخلاص وللہیت سے شروع کی گئی اس محنت میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔
امید کرتا ہوں کہ آپ ریکارڈ کی درستگی کے لیے میری اس گزارش پر غور فرمائیں گے۔
محمد یونس قاسمی
ایڈیٹر:نظام خلافت راشدہ فیصل آباد
myqasmi786@yahoo.com
(۴)
محترمی و مکرمی جناب مولانا زاہدالراشدی صاحب حفظکم اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مارچ کے الشریعہ پر کہیں نظر ڈالنے کاموقع مل گیا۔ آپ کی ادارتی تحریر نے اپنی طرف کھینچ لیا اور جلدی میں خاصا حصہ دیکھ لیا۔ آپ کا اخلاص اور دردمندی متاثر کیے بغیر نہ رہ سکا۔ فرقہ واریت اور کل حزب بما لدیہم فرحون اور اعجاب کل ذی رای برایہ کے اس کشیدہ ماحول میں ایسی کاوشیں ہوا کا تازہ جھونکا محسوس ہوتی ہیں۔ مذہبی حلقوں کو راہ اعتدال اور علم و تحقیق کی شاہراہ پر لانے اور ان کے اختلافات کی خلیج کو پاٹنے کی ضرورت کاشدت سے احساس ہوتا ہے۔
آپ کی تحریر اس وقت سامنے نہیں، ایک عمومی تاثر ذہن میں ہے۔ باقی فرقوں سے قطع نظر، فی الحال جماعت اسلامی کے حوالے سے آنجناب کے نقطہ نظر کے سلسلے میں گزارشات کی جسارت کر رہا ہوں۔ جماعت سے اختلاف کی بنیاد کو جناب نے (یا ان مولانا صاحب نے) غالباً دستور جماعت کی ایک شق تک سمیٹ لیا۔ یہ ایک مستحسن اقدام ہے۔ اگر یہی بات ہے تو راقم کے ناقص فہم کے مطابق اس کا بھی حل ڈھونڈا جا سکتا ہے اور ’’معیار حق‘‘ کے مسئلہ کوکتاب و سنت اور ائمہ سلف کی آرا کی روشنی میں طے کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے اہل علم کی تحریروں کو بھی سامنے رکھا جا سکتا ہے۔ سردست میں آنجناب کی خدمت میں ایک وضاحتی تحریر کی کاپی ارسال کر رہا ہوں جو مولانا مودودیؒ کے قریبی رفیق جسٹس ملک غلام علی مرحوم کے قلم سے ہے جس میں صحابہ کرامؓ کے معیارحق ہونے نہ ہونے کے حوالے سے علمی وتحقیقی انداز سے بحث کی گئی ہے۔ آپ اپنے معروف وسیع المشربی اور وسعت نظری والے انداز سے اس مسئلہ پر بھی بے لاگ انداز سے قلم اٹھائیں اور نتائج تحقیق سے ہم جیسے عامی قارئین الشریعہ کو مستفیض فرمائیں تو یہ چیز افادیت سے خالی نہ ہو گی۔
ایک عرصہ ہوا بندہ نے ایک اور تحریر بھی کہیں دیکھی تھی جس میں دستور جماعت اسلامی کی اس شق کے حوالہ سے مولانا ابوالکلام آزاد ؒ کی رائے نقل کی گئی تھی۔ کسی صاحب نے ان سے اس حوالے سے استفسار کیا تھا تو مولانا آزادؒ نے جواب میں کہاتھا کہ مجھے اس میں کوئی چیز از روئے شریعت قابل اعتراض نظر نہیں آتی۔ اس کے علاوہ حلقہ دیوبند کے ممتاز محقق عالم اور دارالعلوم دیوبند کے تحقیقی ادار ے ندوۃ المصنفین کے رفیق مولانا بدرعالم مدنیؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’ ترجمان السنۃ‘‘ ۳؍۴۲۶ میں بھی وہی کچھ فرمایاہے جو اس شق میں مذکور ہے۔ فرماتے ہیں:
’’ رسول کے فیصلے کے سوا کسی کے فیصلے کو الٰہی فیصلہ اور قضائے الٰہی نہیں کہا جا سکتا اور نہ رسول کے علاوہ کسی اور بشر کا فیصلہ نکتہ چینی سے بالاتر ہو سکتا ہے اور اس لیے رسول کے علاوہ ہرانسان کے فیصلہ پر دل وجان سے راضی ہونا لازم قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘‘
اب دستور کے متعلقہ شق کو دیکھیں اور دونوں میں خود ہی موازنہ فرمائیں:
’’ رسول خدا کے سوا کسی انسان کو معیار حق نہ بنائے، کسی کوتنقید سے بالاتر نہ سمجھے، ہر ایک کو خدا کے بنائے ہوئے اسی معیار کامل پر جانچے اور پرکھے، اور جو اس معیار کے لحاظ سے جس درجہ میں ہو، اس کو اسی درجہ میں رکھے۔‘‘
انصاف فرمائیں! کیا ان دونوں عبارتوں میں سرمو کوئی جوہری فرق ہے؟
جماعت کے بزرگ کہتے ہیں کہ اس میںیہ بات سرے سے مذکور ہی نہیں کہ صحابہ کرامؓ معیار حق ہیں یا نہیں، بلکہ اس میں صرف یہ کہا گیاہے کہ اصل معیار حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ معترضین اس عبارت کایہ فقرہ صاف نظر انداز کر جاتے ہیں کہ ’’جو اس معیار کے لحاظ سے جس درجہ میں ہو، اس کو اسی درجے میں رکھے‘‘۔ یہ فقرہ ان کے اعتراضات کی پوری بنیاد ہی کو منہدم کر دیتا ہے۔
’’معیار حق‘‘ اور ’’تنقید‘‘ کی تشریح مولانا مودودیؒ نے بعض سوالات کا جواب دیتے ہوئے یوں کی ہے:
’’ ہمارے نزدیک معیارحق سے مرادوہ چیز ہے جس سے مطابقت رکھنا حق ہو اورجس کے خلاف ہونا باطل ہو۔ اس لحاظ سے معیار حق صرف خدا کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ صحابہ کرامؓ معیار حق نہیں ہیں، بلکہ کتاب و سنت کے معیار پر پورے اترتے ہیں۔ کتاب وسنت کے معیار پرجانچ کر ہم اس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ یہ گروہ برحق ہے۔ ان کے اجماع کو ہم اسی بنا پر حجت مانتے ہیں کہ ان کا کتاب و سنت کی ادنیٰ سی خلاف ورزی پر بھی متفق ہو جانا ہمارے نزدیک ممکن نہیں ہے‘‘۔ ( ترجمان القرآن، جلد ۵۶، عدد ۵)
’’ تنقید کے معنی عیب چینی ایک جاہل آدمی تو سمجھ سکتا ہے مگر کسی صاحب علم سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اس لفظ کا یہ مفہوم سمجھے گا۔ تنقید کے معنی جانچنے اور پرکھنے کے ہیں اور خود دستور کی مذکورہ بالاعبارت میں اس معنی کی تصریح بھی کر دی گئی ہے۔‘‘ (رسالہ ’’کیا جماعت اسلامی حق پر ہے؟‘‘)
ان تشریحات اور حقائق کی روشنی میں جناب سے بے لاگ عدل و انصاف پر مبنی محاکمہ کی درخواست ہے۔ عجلت میں لکھی گئی اس بے ربط تحریر کے لیے معذرت خواہ ہوں۔
ڈاکٹر عبدالحی ابڑو
اسلام آباد
(۵)
ہفت روزہ وزارت لاہور کی مورخہ ۸؍ جولائی ۲۰۰۹ء کی اشاعت میں شیخ الحدیث حضرت اقدس مولانا زاہدالراشدی مدظلہ کا مضمون بعنوان ’’اکابر علماء دیوبند کی خدمت میں ایک خصوصی عرض داشت‘‘ شائع ہوا ہے جس میں حضرت نے اس وقت ملکی صورت حال کے اسباب پر اکابر علماء دیوبند کو توجہ دلائی ہے۔ ملکی حالات اس وقت واقعتا انتہائی پریشان کن اور خطرناک ہونے کی بنا پر جید اکابر علما سے خصوصی توجہ کے طالب ہیں۔ حضرت نے اپنی تحریر میں بنیادی طور پر دو باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے:
۱۔ افغان جہاد سے واپسی پر مجاہدین کو مصروف رکھنے میں سستی کا مظاہرہ اور اس کے نتیجے میں موجودہ مسلح یورشیں۔
۲۔ بہاولپور میں دیوبند سے تعلق رکھنے والی جہادی تحریک کی طرف سے بریلوی مکتب فکر کو ہونے والی شکایت۔
حضرت شیخ الحدیث کے بیان کردہ اسباب سے اختلاف کرتے ہوئے بوجوہ ڈر بھی لگتا ہے کہ ایک طالب علم کی معلومات اور تجزیے کی ان کے افکار کے سامنے کیا حیثیت ہے، لیکن حضرت کے مزاج وسوچ (کہ خلوص نیت پر مبنی اختلافات ایک زندہ معاشرہ کی پہچان ہے) سے جرات پا کر چند سطور حوالہ قلم کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
حضرت اقدس کا یہ فرمانا کہ افغان جہاد میں شرکت کر کے واپس آنے والے ہزاروں مجاہدین کو مصروف نہیں رکھا گیا اور اس حوالے سے دینی رہنماؤں نے اپنی ذمہ داری کو پورا نہیں کیا، یہ بات قبائل میں موجود بعض لوگوں کے حوالے سے حضرت کی معلومات کے مطابق شاید درست ہو، لیکن بالکلیہ تمام مجاہدین کے بارے میں یہ سطور محل نظر ہیں، اس لیے کہ افغان جہاد سے واپسی پر ان نظموں کے ذمہ داران نے اپنے کارکنوں کو ذہنی و فکری تربیت کی طرف متوجہ رکھا ہے اور ان نظموں کے مجلات، رسائل، دروس، کانفرنسیں اس پر شاہد ہیں اور معاشرے میں موجود لوگوں کو عملی جہاد تربیت ان کا ہدف رہا ہے۔ دیگر مفید اصلاحی سلسلے ان کی مہمات کاحصہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ عصری و دینی علوم کے ادارے قائم کرنے میں ان میں باقاعدہ مسابقت کا ماحول رہا ہے۔ معاملات کا بگاڑ تب آیا جب حکومت نے راتوں رات بیرونی اشاروں پر بلکہ بیرونی حکم پر ان محب وطن ہزاروں مجاہدین کومشکوک بلکہ دہشت گرد اور وطن دشمن قرار دے دیا اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے سابقہ وابستگیوں کو بنیاد بنا کر گرفتاری و نظربندی کا سلسلہ شروع کیا گیا۔
اس موقع پر ان نظموں کے ذمہ داران کی طرف سے حکومت کو اچھی اور مثبت پیش کش بھی ہوئی کہ آپ ان تنظیموں پر مکمل پابندی نہ لگائیں بلکہ ان کو سوشل ورک اورمفادعا مہ کے کاموں میں شریک رہنے کی اجازت دیں، ورنہ یہ ہزاروں تربیت یافتہ افراد (جو اس وقت اپنے نظموں میں ڈسپلن اور قواعد وضوابط کی پابندی کے ساتھ مصروف تھے) مرکزی چھتری سے محروم ہونے کی بنا پر حکومت کے لیے مسائل پیدا کریں گے۔ اس بات کی تفصیل کے لیے روزنامہ اسلام کے غالباً ۲۰۰۲ء کے مضامین ’’کالی آندھی اوراس سے بچنے کا طریقہ‘‘ درویش کے قلم سے ہے، اس کو ضرور ملاحظہ فرمائیے گا۔ لیکن اس مثبت اور معقول پیش کش کے جواب میں وہ کچھ ہوا جو ہمارے ہاں کی روایت ہے کہ طاقت کا نشہ اور اقتدار کی مدہوشی معاملات کے سمجھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔ چنانچہ وہی ہوا جس کا خدشہ تھا کہ حکومت نے ان نظموں کی قیادت کو گرفتار اور نظر بند کر دیا اورکسی کو مخصوص طریقے سے بدنام کرنے کی کوششیں کی گئی جس کے نتیجے میں ان نظموں سے وابستہ افراد نے مرکزی قیادت (جنہوں نے حقیقتاً ان نوجوانوں کو شریعت کی حدود اور قانون کی دائرے میں پابند کیا ہو اتھا) سے کٹ آف ہو کر اپنی اپنی سوچ اور ترجیحات کے مطابق شریعت اور قانون کی حدود کی پروا کیے بغیر اقدامات شروع کر دیے جسے انہوں نے جہاد کا نام دیا۔ اس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان نظموں کی قیادت کی سنجیدہ اور مثبت پیش کش کو مان کر درمیانی راہ نکال لی جاتی، لیکن حکومت نے کریک ڈاؤن، سرچ آپریشن وغیرہ کے خطرناک اور غیر ضروری راستے اپنائے۔ اس کے علاوہ مختلف اقدامات مثلاً متعدد مدارس پر چھاپے اور لال مسجد آپریشن وغیرہ نے ایسے افراد کو تقویت پہنچائی جو حکومت کو امریکی پٹھو قرار دے کر مسلح ہوئے تھے۔ عرض کرنے کامقصد یہ ہے کہ حالیہ یورش کا سبب حکومت کے غلط اقدامات اور بالخصوص ان قانون کی پابندی کرنے والے نظموں پر پابندی عائد کرنا ہے۔
دوسری بات جس کی طرف حضرت مدظلہ نے ماہنامہ ضیائے حرم کے مضمون (شائع شدہ جون ۲۰۰۹ء) کے حوالہ سے توجہ دلائی ہے، یہ ہے کہ بہاولپور میں دیوبندی مکتبہ فکر کی جہادی تنظیم کی طرف سے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جس سے بریلوی مکتبہ فکر کو شکایات ہیں کہ بہاولپور کے پورے علاقے کوایک کالعدم تنظیم نے دہشت زدہ کر رکھا ہے، اس نے اپنے ہیڈکوارٹر کے سامنے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے اور قبضہ کرنے کے لیے یا قبضہ چھڑانے کے لیے ان کے کرائے کے بدمعاش ہر وقت تیار رہتے ہیں۔
حضرت کے اس مضمون پرتوجہ دلانے کے متعلق عرض ہے کہ یہ ایک فریق کی طرف سے الزامات ہیں۔ واقعتا اکابر علماء دیوبند کو ایک وفد کی شکل میں سرکاری و سیاسی ذمہ داروں اور صحافیوں کو ساتھ لے کر بہاولپور شہر کا دورہ کرنا چاہیے۔ اگر اس کالعدم تنظیم پر لگائے گئے الزامات واقعی درست ہوں تو مدمقابل فریق کو اس کے جائز حقوق نہ صرف لے کر دیے جائیں بلکہ اپنے مسلک سے متعلق اس تنظیم کے ارکان کی فہمائش و اصلاح کا راستہ بھی نکالنا چاہیے۔ اور اگر یہ الزامات بھی دیگر الزامات کی طرح عالمی پروپیگنڈے کا حصہ ہو ں اور مقصد تنظیم کے نام پر جہاد کو کمزور کرنا ہو تو پھر اکابر علما کو اس تنظیم کے (جس نے اپنے اراکین اور ذمہ داران بلکہ سرپرستوں تک کے جنازے اٹھا کر بھی کبھی وطن عزیز میں احتجاج کے نام پر اپنوں پر چند گھنٹوں کے لیے تنگی کو بھی برداشت نہ کیا ہو اور وطن عزیزمیں شریعت کی حدود کو پامال کر کے مسلح جدوجہد سے انکار کا صلہ جس کو اپنوں کی بے وفائی، جماعت کی تقسیم، کراچی سے پشاور تک بدنام کرنے کی سپیشل مہمات وغیرہ کی صورت میں ملا ہو اور پھر بھی وہ تمام تر عسکری وزن کفار کے مقابلے میں ڈالے ہوئے ہوں تو پھر ان) نوجوانوں کو شاباش دینا اور ان کی معاونت و سرپرستی پہلے سے بڑھ کر کر ناچاہیے تاکہ شریعت و قانون کی حدود کی پابندی کرنے والے نظموں کے افراد کی حوصلہ افزائی ہو۔
عبدالمالک طاہر
جامعہ فاروقیہ ، شیخوپورہ
(۶)
’الشریعہ‘ کے ا پریل کے شما رے میں ڈاکٹر غطریف ندوی صا حب نے ایک مضمون بنام ’’سیدابوالحسن علی ندوی: فکری امتیازات وخصا ئص‘‘ لکھا ہے۔ اس مضمون میں ڈاکٹر صا حب نے کچھ نئے ا نکشا فات کیے ہیں جو انتہائی تعصب اورغیرذمہ داری پرمبنی ہیں۔
محترم ڈاکٹر صا حب نے اپنے مضمون میں حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندویؒ کاسیداحمدشہیدؒ اور شاہ اسمعٰیل شہیدؒ کی تحریک سے متا ثر ہونا بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ اور کہا جا سکتا ہے کہ صحا بہ ر ضوان اﷲعلیہم اجمعین کے بعدوہ اسی تحریک کو مثالی اور آئیڈ یل تصور کرتے تھے‘‘۔ مولانا علی میاںؒ نے اپنی کتاب ’’تاریخِ دعوت وعزیمت‘‘ میں جس طرح علما وبزرگانِ سلف کا تذ کرہ کیا ہے، اْس سے یہ غلو دَر غلو ثا بت نہیں ہوتا جوڈاکٹر صا حب تحریر کررہے ہیں کہ مولانا علی میاںؒ صحا بہؓ کے بعد تحریک شہیدین کو آئیڈ یل تصور کرتے تھے۔ شہیدین سے پہلے شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ، حافظ ا بن قیمؒ ، مجدد الف ثانیؒ اور شاہ ولی اللہ جیسی عظیم عبقری شخصیات کا تذ کرہ بھی مولانا علی میاں نے شاندار الفاظ میں تحریر کیا ہے۔
ڈاکٹر صا حب نے بستی نظام الدین سے اْٹھنے والی ’’تحریکِ ایمان‘‘کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’بستی نظام الدین کے مرکزتبلیغ کی طرف اْن کے قدم تبلیغی تحریک کے وسیع تناظرکو دیکھتے ہوئے ہی اْٹھے تھے جوافسوس کہ بانی تبلیغ، مصلح اْمت مولانامحمدالیاس کا ندھلویؒ کے ذہن میں ہی رہا اوراْن کی وفات پراْن کے ساتھ ہی رخصت ہو گیا‘‘۔
ڈاکٹر صاحب نے اس انکشاف کی کوئی دلیل نہیں دی۔ جن لوگوں نے حضرت مولانامحمدالیاس صا حبؒ کی زندگی میں اْن کی ز یارت کی اور اْن کے ساتھ دعوت کی محنت میں حصّہ لیا، اْنہوں نے تو کبھی اْس ’’وسیع تناظر‘‘ کے بارے میں ایسا انکشاف نہیں کیا جو ڈاکٹر صا حب کر رہے ہیں۔ سب سے بڑی مثال خود حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندویؒ کی ہے جنہیں حضرت مولانامحمدالیاس صا حبؒ کوقریب سے دیکھنے اوراْن کاترجمان بننے کا موقع ملااور اْن کی وفات سے اپنی وفات تک اِس تحریک کی مسلسل سرپرستی کرتے رہے۔ اگر حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندویؒ کی زندگی پرغورکیا جائے تویہ بات کْھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ مولانا علی میاںؒ کی تبلیغی تحریک کے ساتھ زیادہ وابستگی حضرت مولانامحمدیوسف کا ندھلویؒ کے زمانے میں رہی ہے۔ مولانامحمدیوسف کا ندھلویؒ نے مولانا علی میاںؒ کی عربی ادب میں مہارت کو تبلیغی کام کے لیے خصوصًا حجاز میں متعارف کروانے کاذر یعہ بنایاتھا۔ مولانا علی میاںؒ نے حجاز میں تبلیغی کام متعارف کروانے کاحق اداکیا تھا۔کون نہیں جانتاکہ بھوپال کے سالانہ اجتماع میں مولانا علی میاںؒ کا خصوصی خطاب ہوتارہاہے اور تبلیغی تحریک کے اکابرین ہمیشہ مولانا علی میاںؒ سے مشورے کرتے رہے اور مولانا علی میاںؒ نے کْھل کرسر پرستی کی تھی۔ شایدڈاکٹر صا حب نے مولانا علی میاںؒ کی لکھی ہو ئی کتاب ’’مولانا محمد الیاس ؒ اور اْن کی دینی دعوت‘‘ کا بغور مطالعہ نہیں کیا۔ کیا ڈاکٹر صا حب اْس کتاب میں کوئی ایسی عبارت یا دلیل بتا سکتے ہیں جس میں اْنہوں نے کو ئی ایسی بات تحریر کی ہو؟
ڈاکٹر صا حب نے مولانا علی میاںؒ کو داعی ومفکر، روحانی قائداور مر شدِاْمت لکھاہے اور بعض لوگوں کی بے اعتدالیوں پر مولانا علی میاںؒ کی زودار گرفت کاتذکرہ کیا ہے۔ جب مولانا علی میاںؒ دین کے معا ملے میں اْن لوگوں کی گرفت کرتے رہے جن کے ساتھ اْن کی وابستگی رہی توسوال یہ ہے کہ ۱۹۴۴ء میں مولاناالیاس صاحبؒ کی وفات کے بعد تحریک کی ’’بے اعتدالیوں پر ’’مرشدِ اْمت‘‘ کیوں خاموش رہے اور جس ’’وسیع تناظر‘‘ کا انکشاف ڈاکٹر صا حب کررہے ہیں، اْس کے بارے میں اْمت کو کیوں نہیں بتایا؟
ڈاکٹر صا حب مولانا علی میاںؒ کے بارے میں تحریرکرتے ہیں کہ ’’اْنھوں نے تصوف کو بدعات وخرافات اورعجمی اثرات سے پاک کر نے کی دعوت دی اورکتاب و سنت پر مبنی تصوف (احسان) کو روحِ دین سے کبھی متصادم نہیں سمجھا، بلکہ اگردیکھا جائے تو صحیح معنی میں اْنھوں نے ہی بر صغیرمیں پہلی بار علم تزکیہ (تصوف) کی تجد ید کی اور بد عات و شر کیہ ا عما ل سے اس کی تطہیرکی بنارکھی‘‘۔
جو اہلِ علم، اہل تصوف کی تاریخ کے بارے میں جانتے ہیں، اْن پر یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ مولانا علی میاںؒ تصوف کی تطہیر کرنے والے پہلے شخص نہیں ہیں بلکہ اْن سے پہلے ہرزمانے میں ہزاروں لوگوں کو اللہ ربّ العزت اْٹھاتا رہا ہے جن کی زبردست دینی واصلاحی خدمات ہیں۔ خود ڈاکٹر صا حب نے مولانا علی میاںؒ کی کتاب ’’تاریخِ دعوت وعزیمت ‘ ‘ کاحوالہ دیا ہے۔ کیا جن عظیم شخصیات کا تذکرہ مولانا علی میاںؒ نے اپنی اِس کتاب میں کیا ہے،اْ نہوں نے تصوف سے بدعات وخرافات کی تطہیر نہیں کی؟
ٓٓخود ڈاکٹر صا حب اپنے مضمون کے حاشیہ نمبر۴ میں لکھتے ہیں کہ،’’بلاشبہ محْقق صوفیا اِن غالی خیالات کی تردید کرتے رہے‘‘۔
ڈاکٹر صا حب نے اہل تصوف کے طبقات و سلاسل کے با رے میں اپنے مضمون کے حاشیہ نمبر۴ میں تحر یر کیا ہے کہ ’’وحدت الوجود کے فلسفہ نے توحید وشرک کے مابین سارے فاصلے ہی ختم کر دیے‘‘۔ کاش ڈاکٹر صا حب نے ’’تاریخِ دعوت وعزیمت‘‘ کی جلد نمبر۲ کا مقدمہ ہی بغور مطالعہ کیا ہوتا تو شرک کا یہ فتوی اِن کے قلم سے صادر نہ ہوتا۔ مولانا علی میاںؒ ، ’’تاریخِ دعوت وعزیمت‘‘ کی جلد نمبر۲ کے مقدمہ میں تحر یر فرماتے ہیں: ’’اِس دوسری جلد کی ا شاعت کے مو قع پر اس حسرت اور دلی قلق ہے کہ فا ضِل گرامی مولاناسید مناظر گیلانیؒ اور مولانا حلیم عطاموجود نہیں ہیں جو اِس سلسلہ کے سب سے بڑے قدرداں اور مویدتھے۔ پہلی جلد شائع ہوئی تو سب سے زیادہ مسرت کا اظہار مولانا گیلانی نے فرمایا، کتاب کالفظ لفظ ذوق و شوق سے پڑھا اور بڑے جو ش وتاثر کا خط لکھا۔ مرحوم اگرچہ (ہمارے علم میں) شیخ اکبر کے علوم کے ہند ستان میں بہت بڑے عارف وعامل تھے‘‘۔
ڈاکٹر صا حب یقیناًجانتے ہوں گے کہ محی الد ین ابنِ عر بیؒ اْ ن بڑے لو گوں میں سے ہیں جو وحدت الوجود کانظر یہ رکھتے تھے۔ اِس کے علا وہ جنید بغدادیؒ ، علامہ شبلیؒ ، شیخ عبد القادر جیلانیؒ ، شیخ ابو سعید مخزومیؒ ، جلال الد ین رومیؒ ، ملا جا میؒ ، شیخ عبدالقدوس گنگوہیؒ ، شاہ ولی اللہؒ ، شاہ عبد العزیزؒ، سیداحمدشہیدؒ اور شاہ اسمعٰیل شہیدؒ ، یہ تمام اکابر ین وحدت الوجود کانظر یہ رکھتے تھے۔ ڈاکٹر صا حب کے فتواے شرک کی زد میں یہ سارے بز رگ آ رہے ہیں۔ کیا ڈاکٹر صا حب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اِن تمام بزرگوں نے توحید وشرک کے مابین سارے فاصلے ہی ختم کر د یے تھے؟ کیا ڈاکٹر صا حب اِن تمام بزرگوں سے زیادہ بڑے مو حد ہیں؟
ڈاکٹر صا حب نے اپنے مضمون کے حاشیہ نمبر۴میں تحر یر کیا ہے کہ ’’ دورِ جد ید میں تصوف کے زیرِاثرحلقوں میں ایک اور فلسفہ نمودار ہوا جس کی تر جما نی بر صغیر میں تبلیغی جما عت کا پیٹرن کر تا ہے‘‘۔
اِنتہا ئی حیرت ہے کہ ڈاکٹر صا حب تبلیغی تحریک کی Nature)) کو ہی نہیں سمجھے۔ یہ بات انتہا ئی غلطی پر مبنی ہے کہ تبلیغی تحریک تصوف سے (Derive) ہو نے والی کو ئی محنت ہے۔ شاید ڈاکٹر صا حب کو یہ غلط فہمی اِس وجہ سے ہو ئی کہ حضرت مولانامحمدالیاس صا حبؒ َ حضرت مولانارشید احمد گنگوہیؒ کے خادم رہے ہیں اور انھوں نے ان سے اپنا اصلاحی تعلق قائم کیا اور بعد میں صاحبِ بذل المجہود حضرت مولاناخلیل احمد سہا رنپوری ؒ کے سا تھ بھی اپنا اصلاحی تعلق قائم رکھا۔ تبلیغی محنت میں دوسروں کے پاس چل کر جانا پڑ تا ہے اور لوگوں کے تمسخر، گالیوں اور مارپیٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تصوف کی محنت کہتی ہے کہ لوگ اپنی اصلاح کے لیے ہما رے پاس چل کرآئیں۔ تبلیغی محنت گئے ہوئے دین کی طلب پیدا کرنے کے لیے ہے اور تصوف کی محنت اْن لوگوں کے لیے ہے جن کے اندر دین کی طلب پیدا ہو چکی ہو۔
ڈاکٹر صاحب نے مزید لکھا ہے کہ ’’یہ صحیح ہے کہ مسلما ن عوام پر اصلاح وتبلیغ کے اِس فکر کے گہرے اثرات پڑے ہیں، تا ہم اِس کا یہ پہلو بہت کھٹکتا ہے کہ اِس میں نہی عن المنکر کے پہلو کو مکمل طور پرخاموش کر کے امربا لمعروف اوربشارت کے پہلو پر صرف کیاجاتا ہے اور احادیثِ فضا ئل سے خاص طور پرمددلی جاتی ہے‘‘۔
اللہ ربّ العزت نے فرمایا ہے کہ اِنَّ الصَّلٰو ۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآ ءِ وَ الْمُنْکَرِ (سور ۃ العنکبو ت اّیت نمبر۴۵) ’’بے شک نمازروکتی ہے بے حیائی سے اورناشا ئستہ حر کتوں سے‘‘۔ جب ایک شخص میں د ین پر چلنے کی استعداد نہ ہو تو اگرکوئی اس کونماز کے فضا ئل سْنا کر نماز پرکھڑا کر دے تو یہ بات یقینی ہے کہ نماز اپنے اندر ایسی استعداد رکھتی ہے کہ وہ بْرائیوں سے بچائے گی۔ الحمد للہ لوگوں کی قربانیوں اوررونے دھونے سے اللہ ربّ العزت نے ایکٹرز، کرکٹرز، اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے والوں کی زندگیوں میں تبد یلی پیدا کی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ڈاکٹر صا حب کو منکرات سے لوگوں کو بچانے کا یہ مثبت پہلو نظر نہیں آرہا۔ مجھے ڈاکٹر صا حب کی اِس بات سے ایک لطیفہ یاد آگیا جو ایک مرتبہ رائے ونڈکے اجتماع میں حضرت مولانامحمد احمد انصاری صاحب نے سْنایاتھا۔ لطیفہ اِس طرح ہے کہ ایک مرتبہ ایک کمرے میں پنکھے اور ٹیوب لائٹس جل رہی تھیں کہ اچانک بجلی چلی گئی۔ باہر سے ایک شخص ڈانڈالے کر کمرے میں داخل ہوا اور زورسے کہا کہ میں اِن پنکھوں اور ٹیوب لائٹس کو چلاؤں گا۔ کسی بھائی نے اْس کوسمجھایا کہ دیکھو پنکھوں اور ٹیوب لائٹس کا رابطہ Power House سے ٹوٹ گیاہے اور کرنٹ نہیں آ رہا، اس لیے یہ نہیں چلیں گے۔ اْس شخص نے کہا ان کی اِیسی کی تیسی، میں اِن کو چلاؤں گا۔ اْس شخص نے کسی کی ایک نہ سْنی اور ڈانڈا لے کر زور زور سے پنکھوں اور ٹیوب لائٹس پر مارنا شروع کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پنکھوں اور ٹیوب لائٹس کا بیڑہ غرق ہوگیااور ہاتھ کچھ نہ آ یا۔
دعوت وتبلیغ کی محنت میں یہ کہا جا رہاہے کہ اْ مت کا رابطہ اللہ سے ٹوٹا ہواہے، دعوت الی اللہ اور ایمان کی محنت سے اْ مت کا رابطہ اللہ سے جوڑ دیاجا ئے گا تو اْمت خودہی دین پر چلے گی۔
آخر میں ڈاکٹر صا حب سے درخواست کروں گاکہ اگر آپ کو تبلیغ کی محنت کے بارے میں اِشکا لات ہیں تو دہلی میں بستی نظام الدین جاکر بزرگوں کے سامنے پیش کریں اور اِس محنت کے بارے میں لوگوں کو متنفر کرنے کاذریعہ مت بنیں۔
عاطف مقبول خان (طالبِ فن،ایم فل اکنا مکس)
بین الا قوامی اِسلامی یونیورسٹی،اِسلام آ باد۔ atifdai313@gmail.com
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’سیرت سیدنا عمرؓ ‘‘ / ’’سیرت سیدنا ابو ہریرہؓ ‘‘
مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی ہمارے دور کے ان فاضل علماء کرام میں سے ہیں جو دینی وعلمی محاذ پر ہر وقت متحرک و چوکنا رہتے ہیں اور دینی و مسلکی حوالہ سے جہاں بھی کوئی خطرہ یا خدشہ محسوس کرتے ہیں، ان کا قلم حرکت میں آ جاتا ہے۔ ان کے والد محترم مولانا ابراہیم یوسف باوا ؒ برطانیہ میں دعوت و تبلیغ اور اصلاح و ارشاد کی محنت کرنے والے سرکردہ حضرات میں سے تھے اور ان کے بھائی مولانا بلال احمد مظاہری شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ کے خلیفہ مجاز اور دارالعلوم بری کے استاذِحدیث ہیں۔ اس علمی خاندان کی خدمات کا دائرہ متنوع اور وسیع ہے اور مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی بطور خاص اس سلسلہ میں سرگرم عمل رہتے ہیں۔ وہ ایک عرصہ تک اسلامک اکیڈمی مانچسٹر میں مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود دامت برکاتہم کی سرپرستی میں کام کرتے رہے ہیں اور انہیں برس ہا برس تک حضرت علامہ خالد محمود صاحب کے دست راست اور معاون خاص کی حیثیت حاصل رہی ہے، اس لیے ان پر حضرت علامہ صاحب کے متکلمانہ ذوق کا رنگ غالب ہے اور وہ انہی کے لہجے میں لکھتے اور بات کرتے ہیں۔ اب کچھ عرصہ سے انہوں نے ادارہ اشاعت الاسلام اور مسجد امدادیہ کے نام سے ایک مستقل مرکز قائم کر کے اپنی سرگرمیاں وہاں منتقل کر لی ہیں اور مجھے کم و بیش ہر سال وہاں جانے اور ایک دو نشستوں میں شرکت کا موقع ملتا ہے۔
حافظ صاحب میرے انتہائی قریبی دوستوں اور معاونین میں سے ہیں اور ان کے ساتھ مختلف علمی و فکری مسائل پر باہمی مشاورت و معاونت کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ حافظ محمد اقبال رنگونی نے اب تک مختلف عنوانات پر جو چھوٹے بڑے مضامین تحریر کیے ہیں، ان کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز ہو گی جب کہ ان کی باقاعدہ تصانیف بھی ایک درجن سے زائد ہیں۔ اس وقت ان کی دو ضخیم کتابیں میرے سامنے ہیں۔ ایک سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کی سوانح، ان کی خدمات کا تعارف، ان پر مختلف حوالوں سے کیے جانے والے اعتراضات کے جوابات اور ان کو خراج عقیدت پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب دو جلدوں میں ہے۔ پہلی جلد ساڑھے پانچ سو سے زائد صفحات اور دوسری جلد سوا چار سو کے لگ بھگ صفحات پر محیط ہے۔ یہ کتاب حضرت عمرؓ کی حیات و خدمات اور ان کے بارے میں علمی مباحثات کے کم و بیش تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے اور اعتراضات و جوابات کے حوالہ سے بہت بڑے علمی ذخیرے کو اس میں سمو دیا گیا ہے جو دفاع صحابہؓ کے محاذ پر کام کرنے والے علماء کرام اور کارکنوں کے لیے یقیناًایک بڑا تحفہ ہے۔
دوسری کتاب سیدنا حضرت ابوہریرہؓ کی حیات وخدمات پر ہے، حضرت ابوہریرہؓ جناب نبی کریم صلی ا للہ علیہ وسلم کی احادیث و ارشادات کے سب سے بڑے راوی ہیں اور اسی وجہ سے منکرین حدیث کے اعتراضات کا سب سے بڑا ہدف بھی ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ نے جس ذوق و شوق، محنت و جستجو اور ایثار و استقامت کے ساتھ ارشادات نبوی کو جمع و محفوظ کیا اور اگلی نسلوں تک پہنچایا، وہ ان کی حوصلہ و عزیمت کا ایک مستقل اور روشن باب ہے جو بجائے خود علم و فضل کے متلاشیوں کے لیے مشعل راہ ہے اور احادیث نبویہ کے ایک بڑے ذخیرہ کو امت تک منتقل کرنے کے لیے ان کی یہ محنت جہاں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ہے، وہاں یقیناًحضرت ابوہریرہؓ کی کرامت بھی شمار ہو گی۔ حافظ محمد اقبال رنگونی نے اسی داستان عشق و محبت کو دل چسپ پیرایے میں بیان کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت ابوہریرہؓ کا علمی جدوجہد کے مراحل و مظاہر کے بارے میں معلومات کا بہت بڑا ذخیرہ جمع کیا ہے اور استفادہ وافادہ کے باب میں حضرت ابوہریرہؓ کے ذوق و اسلوب سے اپنے قارئین کا آگاہ کرنے کے علاوہ ان پر کیے جانے والے اعتراضات کے تسلی بخش جوابات بھی شامل کتاب کر دیے ہیں۔
حدیث و سنت کی اہمیت اور حجیت پر کام کرنے والے علماء کرام اور طلبہ کے لیے یہ کتاب بطور خاص استفادہ کی چیز ہے۔ یہ کتابیں ادارہ اشاعت الاسلام پوسٹ بکس ۳۶ مانچسٹر M167AN(UK) نے شائع کی ہیں اور پاکستان میں صدیقی ٹرسٹ المنظر اپارٹمنٹ ۴۵۸ گارڈن ایسٹ نزد بس بیلہ چوک کراچی ۷۴۸۰۰ سے طلب کی جا سکتی ہیں۔
(ابو عمار زاہد الراشدی)
’’جماعت اسلامی پاکستان: ایک حاصل مطالعہ‘‘
مولف: ثاقب اکبر
ناشرا ن : البصیرہ، گلی نمبر ۲۹۹، جی نائن تھری، اسلام آباد
صفحات : ۱۵۲۔ قیمت: ڈیڑھ صد روپے
یہ ایک مختصر کتاب ہے۔ مولف نے خود اسے کتابچہ کہا ہے۔ مولف کے مطالعے کا واقعی حاصل ہے۔ مولف نے دیباچے کو ’’پہلی بات‘‘کا عنوان دیا ہے۔ اس میں مولف نے لکھا ہے کہ ’’اس تحریر میں اصولی اور اجمالی طور پر جماعت کے تقریباً تمام اہم پہلوؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دیگر مصروفیات اور وقت کی قلت بھی موضوع کو محدود رکھنے کی متقاضی تھی، لہٰذا زیرنظر کتابچے کو اسی پس منظر میں پڑھنے کی ضرورت ہے۔‘‘ مولف کے مطابق اہم پہلوؤں کا ذکر اور موضوع کو محدود رکھنے کا تقاضا، دو متضاد سمتوں کو اختیار کرنے کا کام ہے۔ ہم اس کا لحاظ رکھ کرکتابچے کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔
کتاب کی تالیف کا فوری محرک ایرانی انقلاب کا پس منظر ہے۔ جماعت کی قیادت کی جانب سے انقلاب کا خیر مقدم ہوا تو مولف نے جماعت پر لکھنے کی ضرورت محسوس کی۔ یہ شوق و جذب، انقلاب کی وہ مشترک خواہش ہے جو جماعتی حلقوں میں پون صدی سے پرورش پا رہی ہے اور ایران میں یہ انقلاب عملی صورت میں موثر ہوا۔ جماعتی حلقوں میں اس انقلاب کا مطالعہ بھی اسی جذبِ مشترک کے تحت ہوا۔ مولف نے اس مطالعے کے حوالے بھی تفصیل کے ساتھ پیش کیے ہیں۔ کتاب میں سب سے زیادہ سیر حاصل بحث بھی اسی حوالے سے کی گئی ہے۔ یہ بحث کافی معلومات افزا اور دلچسپ ہے۔ اس میں جماعتی قیادت کی انقلاب کے بارے میں مختلف مراحل میں بدلتی ہوئی روش کا بھی اچھا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کا یہ حصہ کتاب کا حاصل ہے۔ مولف نے خوب جم کر لکھا ہے۔ اس سے مولف کے ذہنی رجحان کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
کتاب کے بعض دیگر حصوں سے واضح ہوتا ہے کہ مولف نے کافی محنت اور جستجو سے کام لیا ہے۔ موصوف کا مطالعہ اور مشاہدہ کافی وسیع ہے ۔ مولانا مودودی اور بعض زعما سے ملاقاتوں کو بھی اپنے پیش کردہ نتائج کی تائید میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود کتاب کا معیار صحافیانہ معیار سے کسی طرح اونچا نہیں۔ بعض پہلوؤں سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولف کا مطالعہ بہت سرسری، ناقص اور ادھورا ہے۔ موضوع کے پھیلاؤ نے اسے اور بھی اجمالی بنا دیا ہے۔ اس سے مدعا کی معنویت بھی کافی مجروح ہوئی ہے۔ زیادہ اچھا ہوتا کہ کسی ایک پہلو کو سیر حاصل مطالعے کے طور پر پیش کیا جاتا۔ موضوع کے پھیلاؤ کا اندازہ کرنے کے لیے فہرست مضامین جسے مولف نے ’’اجمال مطالب ‘‘ کے عنوان کے تحت درج کیا ہے، دیکھی جا سکتی ہے۔ ایک خاص بات جو مجھے بہت کھٹک رہی ہے، یہ ہے کہ حاصل مطالعہ تو جماعت کا پیش کیا جا رہا ہے مگر ساتھ ہی بانی جماعت کے عقائد اور افکار کو جماعت کے عقائد و افکار کے طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔ جماعت کے عقائد، نصب العین اور مقاصد کی تفصیل جماعت کے دستور میں پوری شرح و بسط کے ساتھ درج کر دی گئی ہے۔ مولف نے کتاب میں اس کا بہت اچھا خلاصہ دیا ہے۔ مولانا مودودی کے عقائد اورافکار کو دستور جماعت کی سطح پر کسی طرح متعلقہ بنانا درست معلوم نہیں ہوتا۔ مولانا مودودی نے اس بارے میں کئی بار خود بھی وضاحت کی ہے۔ اس طرح کتاب کے بنیادی عنوان سے بھی تجاوز ہوا ہے۔ اس لحاظ سے مولف نے جماعت کے بارے میں فرقہ واریت کا تاثر پیش کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ اسی کا شاخسانہ نظر آتی ہے۔
کتابچے کے بعض حصے مولف کی معلومات کے ادھورے پن کی نشاندہی کرتے ہیں۔ صفحہ نمبر ۱۸ پر لکھا ہے کہ ’’جماعت کی رکنیت کے تین درجے میں، متفق، امیدوار رکنیت اور رکن‘‘۔ مولف سے یہ امر صرف نظر ہو گیا ہے کہ قاضی حسین احمد کے دورِ امارت میں ایک چوتھا درجہ ممبر کا بھی شامل کیا گیا۔ اس کو دستور اور تنظیم کا حصہ تو نہیں بنایا گیا تھا مگر اس کے لیے بڑی مہمات چلائی گئیں اور ان کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی گئی۔ اس سب کچھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بلاشبہہ جماعت کو عوامی بنانے کا یہ اجتہاد قاضی صاحب کے ذہن کی اختراع تھا۔ اسے بعد میں، قاضی صاحب کے دور میں بھی اہمیت نہیں دی گئی۔ وقتی ہونے کے باوجود یہ پیش رفت اہم رہے گی۔ اس موقع پر تو یہ استدلال بھی کیا گیا کہ ممبر ہونے کے لیے مسلمان ہونا بھی شرط نہیں۔
مولف نے صفحہ ۱۸ پر لکھا ہے کہ ’’رکن جماعت کے لیے علم و عمل کی انتہائی سخت شرائط جماعت کے دستور میں درج کی گئی ہیں۔ مثلاً دستور کے مطابق وہ فرائض شرعی کا پابند ہو، دین کے بارے میں ضروری علم رکھتا ہو جماعت کے عقیدے کو اس کی تشریح کے ساتھ قبول کرے، جماعت کے نظم کی پابندی کا عہد کرے اور کسی ایسے ادارے کارکن نہ ہو جو جماعت کے عقیدے سے مختلف عقیدہ رکھتا ہو۔‘‘ ایسی شرائط کو انتہائی سخت قرار دینا ہجوم اور جماعت کے فرق کو نظر انداز کیے بغیر ممکن نہیں۔ اعلیٰ مقاصد کی جانب جد و جہد کے لیے انتہائی مضبوط اور مستحکم تنظیم لازم ہے۔ تنظیم کے لیے شرائط جتنی سخت ہو ں گی، اتنی ہی وہ مضبوط ہو گی۔ جماعت میں رکنیت کی شرائط کم سے کم ہیں ۔ تنظیمی استحکام کے لیے ان شرائط کو اور بھی سخت ہونا چاہیے تھا۔ تنظیمی قوت کا راز تعداد پر نہیں، ذہنی صلاحیت اور معیار کردار پر ہے۔ تحریکوں اور انقلابوں کی تاریخ میں کبھی کثرتِ تعداد کی بنا پر کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ انسانی ذہن خدا کے بعد سب سے بڑی قوت ہے۔ اگر اسے بروئے کار لایا جائے تو قلیل سے قلیل تعداد کی مدد سے بڑے سے بڑے مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک مستقل موضوع ہے۔ بہرصورت اس پہلو سے مولف کا نقطہ نظر گہرائی سے خالی معلوم ہوتا ہے۔ یہ شرائط رکنیت پر روایتی اعتراض ہے جو مولف نے شاید روا روی میں دہرا دیا ہے۔
مولف نے صفحہ نمبر ۲۳، ۲۴ پر جماعت کے عقائد کے بارے میں لکھا ہے کہ جماعت کے عقائد و افکار بر صغیر کے فرقہ وارانہ ماحول کے پیش نظر مرتب کیے گئے ہیں۔ اس میں بریلوی اور اہل تشیع کے لیے کچھ کشش نہیں۔ وہ جماعت کے قریب کم ہی آئے ہیں۔ جماعت دیوبندی مکتب فکر کی ایک شاخ سمجھی جاتی ہے۔ مولف کا یہ قرار دینا کسی طرح درست نہیں۔ جماعت نے فرقہ وارانہ بنیادوں سے بلند ہو کر اپنے عقیدے اور نصب العین کو پیش کیا ہے۔ جس نے بھی فرقہ وارانہ تصورات سے بلند ہو کر جماعت کے عقیدے کو قبول کیا ،وہ جماعت میں شامل ہوا۔ شمولیت کے بعد، اس کی اپنے مسلک سے وابستگی ذیلی نوعیت کی ہو گئی۔ جماعت میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر وابستگی کا کوئی سروے نہیں ہوا۔ اہل حدیث مسلک سے وابستہ لوگوں کی خاصی تعداد جماعت میں ہمیشہ موجود رہی ہے۔ گوجرانوالہ میں تو جماعت کی اولین پناہ ہی مولانا محمد عبداللہ مرحوم کی مسجد دال بازار تھی۔ مولانا مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر رہ چکے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مقامی سطح پر سیاسی اختلافات کی وجہ سے مولانا عبد اللہ جماعت سے نالاں ہوئے تو دور ہی ہوتے گئے۔ اہل تشیع اور بریلوی مکتب کے نمایاں لوگوں میں سے تو یقیناًجماعت سے کوئی وابستہ نہ ہوا۔ کسی مسلک کے نمایاں لوگ کم ہی کبھی متاثر ہو کر کسی تنظیم کا جزو بنتے ہیں۔ عام لوگوں میں سے اہل تشیع کی مثالیں کافی موجود ہیں۔ بریلوی مکتب سے متعلقہ لوگوں کی بھی کافی تعداد جماعت میں موجود ہے۔ ان میں سے نمایاں خود پروفیسر غفور احمد کی مثال تو خوب معلوم ومعروف ہے۔
مولف نے صفحہ نمبر ۱۰۹ پر قاضی حسین احمد کے ذکر میں لکھا کہ وہ قیم جماعت منتخب ہوئے، حالانکہ قیم جماعت کا انتخاب نہیں، تقرر ہوتا ہے۔ جماعت کے دستور اور تنظیمی ڈھانچہ کا اگر مولف نے بغور جائزہ لیا ہوتا تو یہ آسانی سے واضح ہو جاتا کہ جماعت کا تمام تر نظم نامزدگیوں پر مبنی ہے۔ امیر جماعت کا ارکان براہ راست انتخاب کرتے ہیں۔ بقایا جملہ امرا کا عزل و نصب بالائی نظم کی صوابدید پر ہے۔ استصواب کا ذکر موجود ہے مگر استصواب کی عملی اہمیت برائے نام رہ گئی ہے۔ البتہ شوریٰ ہر سطح پر منتخب کی جاتی ہے۔ لیکن اگر جماعت کے پورے نظام قیادت و شوریٰ کا اعداد و شمار اور ریکارڈ کی رو سے جائزہ لیا جائے تو اس نظام کا انتخابی پہلو محض نمائشی ہے۔ یہ نظام تسلسل و تواتر پر مبنی ہے۔ امیدواری اور کنونسنگ کے بغیر کوئی انتخاب انتخابی نہیں ہو سکتا۔ بہر حال یہ ایک مستقل موضوع ہے۔
مولف نے صفحہ ۶۳ پر پروفیسر غفور احمد اور قاضی حسین احمد کے بارے میں تحریر کیا کہ انتخابی مہم میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے خلاف اشتعال انگیز، جارحانہ اور بعض اوقات غیر شائستہ زبان استعمال کی۔ میرے نزدیک ان کا یہ لکھنا بالکل بے جا ہے۔ ہر دود عمائدین جماعت کے بارے میں اس طرح بات کہنا غلط ہے۔ اس کی شہادت پیش نہیں کی جا سکتی۔ مولف کا یہ لکھ دینا ناقابل فہم ہے۔ کتاب میں ایک آدھ مقام پر طلبہ اور ذیلی تنظیموں کے حوالے سے غیر معیاری طرز عمل کے حوالے سے مولف نے بہت کچھ لکھا ہے۔مگر یہ سب کچھ نہیں۔
کتاب میں جماعتی لٹریچر کے حوالے موجود ہیں، مگر جماعت کی دو جلدوں پر مشتمل تاریخ مرتبہ آباد شاہ پوری کا کوئی حوالہ موجود نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ مولف اس کتاب سے شناسا نہیں۔ آباد شاہ پوری نے جس بھر پور انداز سے جماعت کی تاریخ کو پیش کیا ہے، وہ حرفِ آخر ہوتی اگر اس کی تکمیل ہو جاتی۔ دونوں ضخیم جلدیں ۱۹۴۷ء تک پہنچتی ہیں۔ اس کی ترتیب کا اہتمام جماعتی ادارے معارف اسلامی نے کیا ہے۔ مابعد جماعت کے دور کو مرتب کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ معلوم نہیں جماعت کے اندر اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے یا نہیں۔ علاوہ ازیں کتاب میں تنقیدی رجحان خاص قوی ہے۔ اس کے لیے تازہ او مستند ترین مواد میاں طفیل محمد کا طفیل نامہ ہے۔ اسے پروفیسر وقار احمد نے ترتیب دیا اور میاں طفیل صاحب نے اس پر نظر ثانی کی۔ فیصل بک سیلرز اردو بازار لاہور سے مل جاتی ہے۔ مولف کی نظر سے یہ کتاب بھی شاید نہیں گزری۔
آخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مولف کی نظر اس پہلو پر نہیں گئی کہ اگر سید مودودی جماعت میں مجتمع دینی ٹیلنٹ کو ساتھ رکھ کر اپنی جد و جہد کو جاری رکھنے میں کامیاب ہو جاتے اور ایسی حکمت عملی مرتب کرتے جو اقتدار میں جلد آنے کے شوق میں تنہا پرواز کے بجائے ساتھیوں کے ساتھ زمینی حقائق کے شعور اور ادراک پر مبنی ہوتی تو نہ جماعت اپنا کردار اور ساکھ برباد کرتی اور نہ ہی منزل کھوٹی ہوتی۔ یقینی طور پر جماعت اپنی منزل پا لیتی۔ یہ جماعت سید مودودی کا شاہکار ہے۔ یہ شاہکار، کامل شاہکار بن جاتا۔ اس سلسلے میں امیر جماعت کے طور پر ساتھیوں کے بچھڑنے کی ذمہ داری سید مودودی پر ہی عائد ہو گی۔ اس میں قصور وار کون تھا اور کون نہیں تھا، اس کا فیصلہ ہمارے بس سے باہر ہے۔ البتہ تاسیس جماعت کے بعد ابتدائی دو تین سال میں جماعت چھوڑنے والے اکابرین جماعت اور ذمہ داران جماعت کی خط و کتابت سے اختلافات کی نوعیت واضح ہو جاتی ہے۔ اس کے پیش نظر یہ آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ ان اختلافات کی بنا پر جماعت چھوڑنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ہاں اس خط و کتابت میں ذمہ داران جماعت بشمول سید مودودی کے انداز کلام سے مایوسی ضرور ہوتی ہے۔ خطوط کے جواب میں ذمہ داران کا لہجہ بے نیازی، گریز اور فرار کا رہا۔ یہ رویہ مخاطب کے لیے اشتعال کا باعث ہو سکتا ہے۔ سید مودودی نے یہ محسوس نہ کیا کہ اگر تاسیس کے وقت اتفاق رائے سے منزل تک کا عہد سفر کرنے والے ان کے برابر کے لوگ ساتھ نہ رہے، وہ ان کو چھوڑ گئے تو منزل کھوٹی ہوگی، تحریک کبھی راہ پر محو سفر نہ رہے گی۔ چنانچہ بعد میں دوسری صف کے لوگوں کے ہاتھ میں قیادت آئی تو ان کی ترجیحات بدل گئیں۔ آج کی قیادت، ہر سطح پر تحریک کے مقاصد کو ثانوی ترجیح میں رکھے ہوئے ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ معاشی مقاصد پورے ہو رہے ہیں اور تحریک اپنے حقیقی مقاصد سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
در اصل سید مودودی کے ذہن میں شروع ہی سے جو مقاصد تھے، تاسیس کے وقت ایک سمجھوتے کے تحت ان کو موخر کرکے سفر شروع کیا گیا۔ سید مودودی کا تنہا پرواز کا شوق وقتی طور پر ترک کیاگیا۔ یہ سمجھوتہ کبھی باقی نہیں رہ سکتا تھا۔ ایک چیز سید مودودی نے میزبان اور موسس کے طور منوالی کہ وہ پانچ سال کے لیے امیر منتخب ہوئے۔ بار بار کے انتخاب پر کوئی پابندی نہ تھی۔ اس طرح نظام انتخاب بھی ایسا رہا کہ متبادل قیادت رائے دہندگان کی نظر سے اوجھل رہے۔ اوپر کی ٹیم میں برابری کی سطح کے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہو لیکن اعلیٰ ترین مناصب پر بدل بدل کر ، ہر ایک کے لیے اپنی متنوع صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم نہ کیے جائیں توتنہا پرواز کے شوق کو پورے کرنے کے مواٰقع پیدا ہو جاتے ہیں اور ساتھی ساتھ چھوڑ ہی جایا کرتے ہیں۔ تنظیم بھی متنوع سمتوں میں سفر کے بجائے ایک ہی مزاج اور سمت کی آئینہ دار بن کر ادھورے پن کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس میں اجتماعی فکر کے بجائے ایک شخصیت کا پرتو غالب آ جاتا ہے۔ یہی کچھ ہوا اور جماعت موجودہ پوزیشن پر پہنچ گئی۔ ایک بار یہی سوال میں نے جناب جاوید غامدی سے کیا تو انہوں نے کہا کہ جماعت کے نظام میں اتنا حبس تھا کہ کسی ذہین آدمی کے لیے کھپ جانے کا کوئی موقع ہی نہیں ہوسکتا۔ جو لوگ ایک عرصہ تک جماعت میں ساتھ رہے، وہ بھی مولانا مودودی کے حسن طبع کی وجہ سے رہے۔ جماعت کے نظام میں اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں تھی۔ مولف کتاب نے اس پہلو پر بالکل توجہ نہیں دی، حالانکہ یہ پہلو سب سے اہم معلوم ہوتا ہے۔
بہرحال کتاب کے بارے میں، میں نے جن تحفظات کا اظہار کیا ہے اس کے باوجود کتاب خاصی دلچسپ اور متوازن پیرایہ بیان رکھتی ہے۔ کافی معلومات افزا ہے۔ آزاد ذہن کے ساتھ پڑھنے والے کو اس میں کافی کچھ پڑھنے کو مل سکتا ہے۔
(چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ)