مارچ ۲۰۱۰ء

مسلکی اختلافات اور امام اہل سنتؒ کا ذوق و مزاجمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
علوم اسلامی کی تجدید اور شاہ ولی اللہؒمحمد سلیمان اسدی 
مادری زبانوں کا عالمی دن ۔ کیا ہم شرمندہ ہیں؟پروفیسر شیخ عبد الرشید 
بنگلہ دیش کا ایک مطالعاتی سفرمحمد عمار خان ناصر 
اسلامی بینکاری: غلط سوال کا غلط جواب (۳)محمد زاہد صدیق مغل 
مکاتیبادارہ 
الشریعہ اکادمی میں مولانا سید عدنان کاکاخیل کی آمدادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 

مسلکی اختلافات اور امام اہل سنتؒ کا ذوق و مزاج

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

آج کی نشست میں، میں مسلکی اختلافات ومعاملات کے حوالے سے والد محترم، امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور ان کے دست راست حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمہما اللہ کے ذوق وفکر اور طرز عمل کا ایک سرسری خاکہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں، اس لیے کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران پورے برصغیر میں حضرت والدمحترم کو علماء دیوبند کے مسلکی ترجمان کی حیثیت حاصل رہی ہے اور پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے دیوبندی علما انھیں اپنا مسلکی اور علمی راہ نما سمجھتے آ رہے ہیں۔
مسلکی اختلافات اور ان کے حوالے سے طرز فکر اور راہ عمل کے سلسلے میں حضرت والد محترم کے ذوق واسلوب کو تین حصوں میں تقسیم کروں گا:
  • موجودہ معروضی حالات میں مسلکی اختلافات کے بارے میں ان کا اصولی موقف کیا تھا؟
  • دوسرے مسالک کے حضرات کے ساتھ ان کے معاشرتی تعلقات ومعاملات کی نوعیت کیا تھی؟
  • مشترکہ ملی مقاصد کے لیے جدوجہد کے میدان میں دوسرے مسالک کے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں ان کا طریقہ اور ذوق کیا تھا؟
اس وقت کے موجودہ معروضی حالات میں مسلکی تقسیم کو مندرجہ ذیل دائروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
  • سنی شیعہ اختلافات،
  • دیوبندی بریلوی اختلافات،
  • حنفی اہل حدیث اختلافات،
  • جماعت اسلامی کے ساتھ اختلافات،
  • حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سماع موتی کا تنازعہ۔
سنی شیعہ اختلافات کے حوالے سے حضرت والد محترم کا موقف یہ تھا کہ یہ اصولی اختلافات ہیں اور ان کا تعلق ایمان وعقیدہ سے ہے۔ انھوں نے اس پر ’’ارشاد الشیعہ‘‘ کے نام سے مستقل کتاب لکھی ہے جس میں انھوں نے اس موقف کی تفصیل کے ساتھ وضاحت کی ہے۔ وہ اہل تشیع کی اور ان میں سے خاص طورپر اثنا عشریہ کی تکفیر کرتے تھے اور اس سلسلے میں ان کے موقف میں کوئی لچک نہیں تھی جبکہ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی اصولی طورپر اس موقف سے متفق ہوتے ہوئے بھی اس کے اظہار کے لیے الگ اسلوب رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ لفظ شیعہ کو تکفیر کی بنیاد بنانے کی بجائے عقائد کی بنیاد پر تکفیر کرنی چاہیے، مثلاً یہ کہ جو شخص قرآن کریم میں تحریف کا قائل ہے یا صحابہ کرام کی تکفیر کرتا ہے وغیر ذالک تو وہ کافر ہے۔ خود میرا ذوق بھی اس حوالے سے حضرت صوفی صاحب والا ہے، اس لیے کہ عالم اسلام میں شیعہ کہلانے والے ایسے گروہ بھی موجود ہیں جن کی ائمہ اہل سنت نے تکفیر نہیں کی۔ مثلاً یمن میں زیدی فرقہ کے لوگوں کی تعداد پچیس فی صد سے زائد ہے۔ ان میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو زیدی اور شیعہ کہلانے کے باوجود اہل سنت جیسے عقائد رکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں پاکستان میں بھی ایسے بزرگ موجود ہیں جو متصلب سنی ہیں لیکن زیدی کہلاتے ہیں۔ حضرت سید نفیس شاہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے نام کے ساتھ زیدی لکھتے تھے، امام زید کے ساتھ گہری عقیدت رکھتے تھے، امام زید بن علی پر انھوں نے الاستاذ ابو زہرہ کی کتاب ’’الامام زید بن علی‘‘ بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کی تھی۔ اپنے مکان کے قریب انھوں نے جو دینی مدرسہ قائم کیا، اس کا نام ’’مدرسہ زید بن علی‘‘ ہے اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ میری پسندیدہ ترین شخصیتیں تین ہیں۔ ایک امام زید بن علی، دوسرے خواجہ گیسو دراز اور تیسرے سید احمد شہیدؒ ۔
ایران کے اہل تشیع زیدیوں کو شیعہ کا فرقہ قرار دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ایران کے دستور میں زیدیوں کو شیعہ اکثریت کا حصہ تسلیم کرنے کی بجائے حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی کے ساتھ اقلیتوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اس لیے اثنا عشری شیعہ کی تکفیر میں کوئی کلام نہ ہونے کے باوجود عمومی تکفیر میں عالم اسلام کے مجموعی تناظر کو ملحوظ رکھنا بھی میرے نزدیک ضروری ہے، البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ حضرت والد محترمؒ کا موقف اس بارے میں بے لچک تھا اور جن تحفظات کا ہم اظہار کرتے ہیں، وہ ان کو چنداں اہمیت نہیں دیتے تھے۔
دیوبندی بریلوی اختلافات کے حوالے سے بھی ان کا موقف یہ تھا کہ یہ عقائد کے اختلافات ہیں اور اصولی اختلافات ہیں۔ انھوں نے ان اختلافات کے ہر پہلو پر کتابیں لکھی ہیں اور تفصیل کے ساتھ لکھی ہیں۔ ان اختلافات کی تنقیح وتوضیح میں وہ جس گہرائی تک گئے ہیں، وہ انھی کا امتیاز ہے اور یہی انھیں دیوبندیوں کا علمی ترجمان قرار دیے جانے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
دیوبندی بریلوی اختلافات کو کم کرنے اور باہمی مفاہمت کا ماحول پیدا کرنے کے لیے مختلف مواقع پر کوششیں ہوئی ہیں اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ ،حضرت مولانا سید حامدمیاںؒ اور حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ جیسی شخصیات بھی ان مساعی کا حصہ رہی ہیں۔ عام طور پر اس سلسلے میں جب بات ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اصل تنازعہ اکابر علماء دیوبند کی چند مبینہ طو رپر متنازعہ عبارات ہیں جن پرمولانا احمد رضا خان اور ان کے رفقا نے علماء دیوبند کی تکفیر کی ہے۔ اگر ان عبارات کو حذف کر دیا جائے یا ان سے براء ت کا اظہار کر دیا جا ئے یا ان کی فریقین کے اتفاق سے کوئی متفقہ تاویل وتعبیر کر دی جائے تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ لیکن حضرت والد محترم کا موقف اس سے مختلف تھا۔ وہ یہ فرماتے تھے کہ:
  • تنازعہ صرف چند عبارات کا نہیں بلکہ عقائد اور ان کی تعبیرات کا بھی ہے، اس لیے عبارات کے ساتھ ساتھ متنازعہ عقائد اور ان کی تعبیرات پر بھی بات ہونی چاہیے۔
  • عبارات میں صرف یک طرفہ طور پر علماء دیوبند کی عبارات مابہ النزاع نہیں ہیں، بلکہ اسی نوعیت کی بریلوی علماء کی بعض عبارات پر بھی اختلاف ہے، اس لیے عبارات کے حوالے سے گفتگو دو طرفہ بنیاد پر ہونی چاہیے۔
اس سلسلے میں مولانا عبد الستار خان نیازی نے ایک بار دیوبندی بریلوی اتحاد کے لیے چار نکاتی فارمولا پیش کیا تھا جس پر میں نے حضرت والد محترم سے بات کی۔ انھوں نے فرمایا کہ اس بارے میں خود ان کی مولانا عبد الستار خان نیازی کے ساتھ حرم مکہ میں گفتگو ہوئی تھی اور انھوں نے نیازی صاحب سے کہا تھا کہ معاملہ صرف ایک طرف کی عبارات کا نہیں، بلکہ دوسری طرف کی عبارات بھی مابہ النزاع ہیں، اس لیے اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ علماء دیوبند کی متنازعہ عبارات کی نشان دہی کریں اور ہم بریلوی علماء کی متنازعہ عبارات کی نشان دہی کرتے ہیں اور ان پر آپس میں بیٹھ کر خالص علمی ماحول میں گفتگو کر لیتے ہیں اور درمیان میں ہائی کورٹ کے جج صاحبان کاایک پینل بٹھا لیتے ہیں۔ ہم جن عبارات پر اس پینل کی موجودگی مں آپ حضرات کومطمئن نہ کر سکے، ان پر ہم نظر ثانی کر لیں گے اور جن عبارات پر آپ حضرات ہمیں مطمئن نہ کر سکے، ان سے آپ کو براء ت کرنا ہوگی۔ اس پر مولانا نیازی نے وطن واپس پہنچ کر اپنے ساتھیوں سے مشورہ کے بعد جواب دینے کا وعدہ کیا لیکن اس کی تکمیل کی نوبت نہ آ سکی۔
یہ بات جو حضرت والد محترم نے مجھے زبانی طور پر فرمائی تھی، بعد میں میرے نام ایک خط میں بھی انھوں نے لکھ دی جو ان کی یاد میں شائع ہونے والی ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کی خصوصی اشاعت میں شائع ہو چکا ہے۔
حنفی اہل حدیث اختلافات بھی حضرت والد محترم کی تدریس وتصنیف کا مستقل موضوع رہے ہیں اور وہ نہ صرف ترمذی شریف کی تدریس میں ان مباحث پر باحوالہ تحقیقی گفتگو کرتے تھے بلکہ ان میں سے بہت سے مسائل پر انھوں نے مستقل کتابیں بھی لکھی ہیں،لیکن یہ تنازعہ ان کے نزدیک دیوبندی بریلوی تنازعہ کی طرح اصولی نہیں تھا بلکہ وہ ان مسائل کو فروعی مسائل کا درجہ دیتے تھے۔ حضرت والد محترمؒ کے شاگرد مولانا حافظ محمد یوسف (الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ) نے اپنے ایک مضمون میں جو ’’امام اہل سنت کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق‘‘ کے عنوان سے الشریعہ کی خصوصی اشاعت میں شائع ہوا ہے، جامعہ نصرۃ العلوم میں سالانہ دورۂ تفسیر کے آغاز کے موقع پر حضرت امام اہل سنت کے خطاب کا ایک پورا اقتباس یوں درج کیا ہے کہ:
’’قرآن کریم کی تفسیر میں ہم ان مسائل کو نہیں چھیڑیں گے جو فروعی مسائل کہلاتے ہیں، کیونکہ اتنا وقت نہیں ہوتا۔ اگر ہم یہ بحث شروع کر دیں کہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنی ہے یا نہیں پڑھنی، آمین جہر کے ساتھ ہے یا سر کے ساتھ تو مہینہ اسی میں گزر جائے گا۔‘‘
یعنی اہل حدیث حضرات کے اعتراضات کے جواب میں وہ حنفی موقف کی مدلل وضاحت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے تھے، لیکن ان اختلافات کا درجہ ان کے نزدیک عقیدہ اور اصول کے اختلاف کا نہیں تھا اور وہ اسی درجے میں ان مسائل پر بات کرتے تھے۔
جماعت اسلامی کے ساتھ اختلافات میں وہ جمہور کے ساتھ تھے اور ہر ضروری موقع پر جمہور اہل سنت کے موقف کی ترجمانی اور وضاحت کرتے تھے۔ اس سلسلے میں ایک اہم واقعہ بھی ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں۔
یہ اس دور کی بات ہے جب جمعیۃ علماء اسلام درخواستی گروپ اور فضل الرحمن گروپ کے نام سے دو دھڑوں میں تقسیم تھی۔ ایک دھڑے کے امیر حضرت درخواستی اور دوسرے کے امیر حضرت مولانا سید حامدمیاں تھے۔ لاہور میں حضرت درخواستی کے نائب امیر کے طور پر حضرت مولانا محمد اجمل خان جماعتی قیادت کی ذمہ داریاں سرانجام دیتے تھے، جبکہ قاضی حسین احمد صاحب جماعت اسلامی کے قیم (سیکرٹری جنرل) ہوا کرتے تھے۔ قاضی صاحب محترم نے حضرت مولانا سید حامد میاں اور حضرت مولانا محمد اجمل خان سے رابطہ قائم کر کے یہ پیش کش کی کہ مولانا مودودی کی جن عبارات پر علماء اہل سنت کو اعتراض ہے، ان کے بارے میں ہم جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ میں قرارداد منظور کر دیتے ہیں کہ یہ مولانا مودودی کی ذاتی آرا ہیں، جماعت اسلامی کا بحیثیت جماعت یہ موقف نہیں ہے اور جماعت اسلامی اس حوالے سے وہی موقف رکھتی ہے جو جمہور اہل سنت کا ہے۔ اگر ہم یہ قرارداد کر دیں تو کیا جمعیۃ علماء اسلام ہمارے ساتھ مذہبی اختلاف ختم کرنے کا اعلان کر سکتی ہے؟
دونوں بزرگوں یعنی حضرت مولانا سید حامد میاں اور حضرت مولانا محمد اجمل خان نے باہمی مشورہ سے راقم الحروف کے ذمے لگایا کہ میں اس سلسلے میں تین بزرگوں یعنی حضرت مولانا قاضی مظہر حسین، حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ سے بات کر کے ان کا موقف معلوم کروں، اس کی روشنی میں ہم فیصلہ کریں گے۔ میں نے تینوں بزرگوں کی خدمت میں حاضر ہو کر بات کی۔ تینوں بزرگوں کا جواب مختلف تھا۔ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین نے فرمایا کہ جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کو اپنی قرارداد میں مولانا مودودی کی عبارات کے ساتھ ساتھ خود مولانا مودودی کے بارے میں بھی اپنے موقف کا اظہار کرنا ہوگا۔ والد محترم نے فرمایا کہ اگر جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ قرارداد منظور کر کے مولانا مودودی کی متنازعہ عبارات سے براء ت کا اعلان کر دیتی ہے تو ہمارے پاس اختلافات کو باقی رکھنے کا کوئی شرعی اور اخلاقی جواز باقی نہیں رہ جائے گا۔ جبکہ حضرت علامہ خالد محمود نے فرمایا کہ خالی قرارداد سے بات نہیں بنے گی، اس لیے کہ اصل تنازعہ جماعت اسلامی کے دستور کی اس دفعہ سے شروع ہوا تھا جس میں جماعت اسلامی کا رکن بننے کے لیے پر کیے جانے والے حلف نامے میں موجود یہ اقرار نامہ تھا کہ وہ ’’رسول خدا کے سوا کسی کو معیار حق نہیں سمجھے گا، کسی کو تنقید سے بالاتر نہیں سمجھے گا اور کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہیں ہوگا۔‘‘
اس اقرار نامے پر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نے اعتراض کیا تھا کہ اس میں صحابہ کرا م کے معیار حق ہونے اور ان کے تنقید سے بالاتر ہونے کی نفی کی گئی ہے اور ذہنی غلامی کے نام سے تقلید کو رد کیا گیا ہے جبکہ صحابہ کرام کا معیار حق اور تنقید سے بالاتر ہونا اہل سنت کے مسلمات میں سے ہے۔ علامہ خالد محمود صاحب کا ارشاد یہ تھا کہ جب تک دستور میں یہ شق موجود ہے، جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کی قرارداد کے باوجود اصل تنازعہ باقی رہے گا، اس لیے اگر جماعت اسلامی دینی حلقوں کے ساتھ مصالحت چاہتی ہے تو قرارداد کے ساتھ دستور کی اس شق میں بھی ترمیم کرے، ورنہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
میں نے یہ رپورٹ جمعیۃ علماء اسلام کے دونوں بزرگوں کو پیش کی تو انھوں نے حضرت علامہ خالد محمود صاحب کی رائے سے اتفاق کیا اور میری ہی ڈیوٹی لگائی کہ میں قاضی حسین احمد صاحب کو یہ بات پہنچا دوں۔ قاضی صاحب محترم نے یہ بات سن کر فرمایا کہ میں مجلس شوریٰ میں قرارداد تو کروا سکتا ہوں، مگر دستور میں ترمیم کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ اس پر یہ گفتگو اس وقت آگے نہ بڑھ سکی۔ بعدمیں اس گفتگو کے اور مراحل بھی آئے جن کا ذکر کسی اور مضمون میں تفصیل سے کروں گا، لیکن تازہ صورت حال یہ ہے کہ میری معلومات کے مطابق جماعت اسلامی کی موجودہ مجلس شوریٰ نے اس دستوری دفعہ میں ترمیم کا اصولی طور پر فیصلہ کر لیا ہے اور اس کے لیے باقاعدہ کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ خدا کرے کہ کوئی بہتر صورت نکل آئے۔ آمین یا رب العالمین۔
جہاں تک سماع موتی، حیات النبی اور ان کے ساتھ چند دیگر مسائل کا تعلق ہے تو والد محترم نے ان مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو کی ہے بلکہ جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے جماعتی موقف کا تعین حضرت والد محترم کے ذمے لگایا تھا جس پر انھوں نے ’’تسکین الصدور‘‘ نامی کتاب لکھی اور اکابر جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری اور حضرت مولانا شمس الحق افغانی نے اسے حرف بہ حرف سن کر اس کی تصدیق کی اور اسے جمعیۃ اسلام کا جماعتی موقف قرار دیا۔ حضرت والد محترم کا موقف یہ تھا کہ عام اموات کے سماع میں امت کے اہل علم میں شروع سے اختلاف چلا آ رہا ہے اور دونوں طرف دلائل موجود ہیں، اس لیے جس کا جس موقف پر اطمینان ہو، وہ وہی موقف رکھے لیکن اسے دوسرے موقف والوں کی تکفیر، تضلیل اور تحقیر کا حق نہیں ہے۔ البتہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عند القبر سماع اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی قبر میں حیات پر اہل السنۃ والجماعۃ کا شروع سے اتفاق چلا آ رہا ہے، اس لیے اس کا انکار اہل السنۃ کے اجماعی موقف سے انحراف ہے۔
یہ میں نے ایک ہلکا سا خاکہ موجودہ معروضی صورت حال میں فرقہ وارانہ اختلافات کے حوالے سے حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے موقف کے بارے میں پیش کیا ہے اور کم وبیش یہی موقف ان مسائل کے بارے میں حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کا بھی تھا۔ لیکن مختلف سطح پر ان اختلافات کے باوجود دوسرے مکاتب فکر کے اہل علم کے ساتھ ان کے معاشرتی تعلقات کی صورت حال یہ تھی کہ شیعہ اور بریلوی حضرات کے ساتھ کسی اشد مجبوری کے سوا ان کا رابطہ وتعلق نہیں ہوتا تھا، جبکہ اہل حدیث حضرات کے ساتھ ان کے روابط رہتے تھے۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کے جنازے میں یہ دونوں بزرگ شریک ہوئے تھے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ حضرت مولانا حافظ محمد گوندلویؒ کی وفات کا حضرت والد محترم کو دوسرے دن بتایا گیا تو انھوں نے ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ مجھے کل کیوں نہیں بتایا گیا؟ میں ان کے جنازے میں شریک ہونا چاہتا تھا۔ حضرت مولانا قاضی شمس الدینؒ کے جنازے میں بھی دونوں بزرگوں نے شرکت کی ہے بلکہ حضرت قاضی صاحب کی وفات سے چند دن قبل حضرت والد محترم ان کی عیادت کے لیے گئے تو میں اور عزیزم عمار ناصر بھی ہمراہ تھے۔ میں نے اس موقع پر قاضی صاحب سے عرض کیا کہ ’’حضرت! تین پشتیں حاضر ہیں‘‘ تو حضرت قاضی صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ صاحب مدظلہ حضرت والد محترم کی عیادت کے لیے متعدد بار گکھڑ گئے ہیں اور علالت کے باوجود جنازے کے لیے بھی گکھڑ پہنچے ہیں۔ حضرت والد محترم بھی ایک موقع پر قلعہ دیدار سنگھ کے ایک سفر میں قاضی صاحب محترم سے ملاقات کے لیے ان کے گھر گئے ہیں۔ حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ صاحب کی والدہ محترمہ کا جنازہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے پڑھایا ہے اور میرا تو معمول ہے کہ جب بھی قلعہ دیدار سنگھ کسی حوالے سے حاضری ہوتی ہے تو حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کی بیمار پرسی کرتا ہوں اور ان سے دعا کی درخواست کرتا ہوں۔ میں اپنے دوستوں سے اکثر یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ حضرت والد محترم کی وفات کے بعد ہمارے ارد گرد دو ہی بزرگ رہ گئے ہیں جن کی خدمت میں دعا اور استفادہ کے لیے حاضری کو جی چاہتا ہے۔ ایک ڈسکہ کے حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقب فاضل دیوبند اور دوسرے قلعہ دیدار سنگھ کے حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ صاحب۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں کو صحت وعافیت سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
حیات النبی کے مسئلے کے سلسلے میں ایک بات اور بھی عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ چند سال قبل علاقہ چھچھ کے علماء کرام نے حضرو کے حضرت مولانا عبد السلام صاحب مدظلہ کی راہ نمائی میں اس تنازعہ کے حل کے لیے کوشش کی اور اس کے لیے یہ راستہ اختیار کیا کہ ایک موقع پر حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ نے پاکستان تشریف لا کر راول پنڈی میں دونوں طرف کے بزرگوں کو جمع کر کے ایک متفقہ تحریر لکھوائی تھی جس پر دونوں طرف کے ذمہ دار حضرات نے دستخط کر دیے تھے، لیکن بعد میں یہ اتفاق قائم نہ رہ سکا۔ مولانا عبد السلام صاحب اور ان کے رفقا نے اس تحریر پر دوبارہ دستخط کرانے کی مہم شروع کی۔ اس پر شیخ الحدیث حضرت مولانا قاری سعید الرحمن نے میری رائے دریافت کی کہ کیا اس تحریر پر دستخط سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ میں نے عرض کیا کہ ذاتی طور پر تو میرے نزدیک مسئلہ حل ہو جانا چاہیے، لیکن حضرت والد محترم سے بات کرنے کے بعد ہی حتمی طورپر کچھ عرض کر سکوں گا۔ چنانچہ میں نے اس پر حضرت والدمحترم سے بات کی تو انھوں نے کھلے دل سے فرمایا کہ جو حضرات، حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی والی تحریر پر دستخط کر دیں گے، ان سے ہمارا کوئی اختلاف باقی نہیں رہے گا۔ میں نے یہ بات مولانا قاری سعید الرحمن کو بتائی تو وہ بہت خوش ہوئے اور اس کے بعد مولانا عبد السلام کی قیادت میں علاقہ چھچھ کے بہت سے علماء کرام نے اس تحریر پر دستخط کر کے اس کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔
آخر میں حضرت والد محترم اور حضرت صوفی صاحب کے حوالے سے یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ تمام تر اختلافات کے باوجود مشترکہ دینی مقاصد کے لیے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کی مشترکہ جماعتوں اور متحدہ محاذوں میں ہمارے یہ دونوں بزرگ شریک رہے ہیں اور ان میں عملی کردار ادا کیا ہے۔ حضرت والد محترم نے اپنی خود نوشت سوانح میں جو ’الشریعہ‘ کی خصوصی اشاعت میں چھپ چکی ہے، خود لکھا ہے کہ وہ قیام پاکستان سے پہلے دس سال تک مجلس احرار اسلام کے کارکن رہے ہیں اور یہ دور وہ تھا جب مجلس احرار اسلام کی مرکزی قیادت میں حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی اور امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ساتھ ساتھ مولانا سید محمد داؤد غزنوی، صاحب زادہ سید فیض الحسن آف آلو مہار شریف اور مولانا مظہر علی اظہر بھی شامل تھے اور اس مشترکہ قیادت کے تحت حضرت والد محترم دس سال تک ایک کارکن کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد ۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں حضرت والد محترمؒ اور حضرت صوفی صاحبؒ دونوں نے حصہ لیا ہے، دونوں جیل میں گئے ہیں اور کئی ماہ تک جیل میں رہے ہیں۔ اس تحریک کی قیادت میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ساتھ مولانا سید ابو الحسنات قادری، مولانا سید محمد داؤد غزنوی اور حافظ کفایت حسین مجتہد شامل تھے۔
جمعیۃ علماء اسلام کے ضلعی امیر کی حیثیت سے حضرت والد محترم مسلسل پچیس برس تک خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ اس دوران جمعیۃ علماء اسلام نے متعدد بار متحدہ محاذوں میں شرکت کی ہے اور ہر متحدہ محاذ میں والد محترمؒ نے بھی کردار ادا کیا ہے، حتیٰ کہ جمعیۃ علماء اسلام میں جب حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی اور حضرت مولانا مفتی محمود کے درمیان اختلاف ہوا تو حضرت مولانا ہزاروی کا موقف یہ تھا کہ مفتی صاحب نے مودودیوں سے اتحاد کر لیا ہے اور وزارت عظمیٰ کے انتخاب میں مسٹر ذو الفقار بھٹو کے مقابلے میں مولانا شاہ احمد نورانی کو امیدوار بنا کر مسلکی حمیت سے انحراف کیا ہے۔ حضرت مولانا ہزاروی ہمارے ان دونوں بزرگوں کے استاذ تھے اور ایک استاذ کی حیثیت سے وہ ان کا بہت احترام کرتے تھے، لیکن جب مولانا ہزارویؒ ان دونوں شاگردوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے گوجرانوالہ آئے تو دونوں بزرگوں نے عرض کیا کہ آپ ہمارے مخدوم اور بزرگ ہیں، لیکن ہم مولانا مفتی محمود کے موقف کو صحیح سمجھتے ہیں، اس لیے اس اختلاف میں ان کے ساتھ ہیں۔
حضرت والد محترم اور حضرت صوفی صاحب نے ۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی میں کئی جلوسوں کی قیادت کی اور حضرت والد محترم ایک ماہ تک جیل میں بھی رہے، حتیٰ کہ ایف ایس ایف کے کمانڈر کی طرف سے گولی مار دینے کی دھمکی کے باوجود کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے ریڈ لائن کراس کرنے کا واقعہ بھی اسی تحریک کا ہے۔ 
۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت اور ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت بھی مشترکہ قیادت کے تحت چلائی گئی تھی اور ان قیادتوں میں حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ اور حضرت مولانا مفتی محمود کے ساتھ ساتھ مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبد الستار خان نیازی، مولانا معین الدین لکھوی، علامہ احسان الٰہی ظہیر، قاضی حسین احمد، پروفیسر غفور احمد، سید مظفر علی شمسی اور علامہ علی غضنفر کراروی بھی شامل تھے۔ ہمارے ان دونوں بزرگوں یعنی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی نے ان تحریکات میں سرگرم کردار ادا کیا اور متعدد جلوسوں کی قیادت کی، بلکہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر جمعیۃ علماء اسلام کے ضلعی امیر کی حیثیت سے ان متحدہ محاذوں کا باقاعدہ حصہ رہے اور ان کی حیات کے آخری دور میں تمام مکاتب فکر کے مشترکہ پلیٹ فارم ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ کی بھی حضرت والد محترم نے حمایت کی اور اس کے امیدواروں کو کھلم کھلا سپورٹ کیا۔ اس لیے مسلکی اختلافات اور فرقہ وارانہ ترجیحات میں واضح اور دوٹوک موقف اور رویہ رکھنے کے باوجود ملک میں نفاذ شریعت اور ختم نبوت کی تحریکات میں یہ دونوں بزرگ متحدہ محاذوں اور مشترکہ پلیٹ فارم کا آخر دم تک حصہ رہے ہیں۔
آخر میں ان دونوں بزرگوں کے حوالے سے اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ مسلکی اختلافات کے اظہار میں ان دونوں بزرگوں نے ہمیشہ تصنیف اور تدریس کو ہی ذریعہ بنایا ہے اور ان دو دائروں سے ہٹ کر عام جلسوں، جمعۃ المبارک کے خطبات اور مسجد میں دیے جانے والے عام دروس میں مسلکی اختلافات پر، خواہ وہ دیوبندی بریلوی ہوں، حنفی اہل حدیث ہوں یا حیات النبی کا مسئلہ ہو، گفتگو سے ہمیشہ گریز کیا ہے۔ جہاں ضروری ہوا ہے، وہاں مسئلہ کی وضاحت ضرور کی ہے اور اس کے دلائل بھی پیش کیے ہیں، لیکن کسی اختلافی مسئلے کو موضوع بنا کر خطبہ جمعہ، پبلک اجتماع کی تقریر یا عمومی درس میں بات نہیں کی۔ اگر کوئی دوست ان بزرگوں کے طرز عمل کا جائزہ لینا چاہیں تو دونوں بزرگوں کے خطبات جمعہ اور عمومی دروس کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان خطبات اور دروس کے مرکزی اور ذیلی عنوانات کی فہرست پر نظر ڈال لیں۔ اختلافی مسائل کا تناسب شاید کھینچ تان کر بمشکل پانچ فی صد تک پہنچ جاتا ہو، ورنہ ان کے خطبات جمعہ اور عمومی درس کے موضوعات اصلاحی مضامین اور مثبت انداز میں عقائد واعمال کی اصلاح کے حوالے سے ہوتے تھے۔
اس سلسلے میں یہ واقعہ ایک سابقہ مضمون میں ذکر کر چکا ہوں کہ ایک مجلس میں گکھڑ کے ایک جدید تعلیم یافتہ دوست نے حضرت والد محترم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ فرقہ وارانہ اختلافات میں نہیں پڑتے تھے اور مثبت انداز میں لوگوں کی دینی راہ نمائی کرتے تھے۔ ان صاحب کے چلے جانے کے بعد حضرت کے ایک شاگرد نے مجھ سے سوال کیا کہ یہ صاحب کیا کہہ رہے تھے؟ اگر حضرت امام اہل سنت فرقہ وارانہ اختلافات میں نہیں پڑتے تھے تو اور کون پڑتا تھا؟ ان کی ساری تصانیف فرقہ وارانہ اختلافات کے حوالے سے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ بھی ٹھیک کہہ رہے ہیں اور یہ صاحب بھی درست فرما رہے تھے، اس لیے کہ آپ نے حضرت کی کتابیں پڑھی ہیں اور ان سے حدیث کے اسباق پڑھے ہیں جن میں مسلکی اختلافات کی پورے دلائل کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے اور یہ صاحب حضرت کامسجد کا عمومی درس اور جمعۃ المبارک کے خطابات سنتے رہے ہیں جن میں عام طور پر ایسے مسائل پر بحث نہیں ہوتی تھی۔ بس یہی توازن ہے جس کا حضرات شیخین کریمین کے حوالے سے لحاظ رکھنا ضروری ہے۔

علوم اسلامی کی تجدید اور شاہ ولی اللہؒ

محمد سلیمان اسدی

اسلام خالق کائنات کی طرف سے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لیے آیا ہے۔ کائنات اور زمانہ ترقی پذیر ہے۔ اس کے تقاضے اور ضروریات ہر آن بدلتے رہتے ہیں۔ نئے نئے تقاضے اور پہلو سامنے آتے رہتے ہیں۔ اس لیے قرآن وسنت میں اتنی گہرائی، وسعت اور ہمہ گیری قدرت نے پنہاں کر دی کہ قیامت تک ہر ہر زمانہ ومکان کی انسانی ضروریات کے لیے کافی ہوں، مگر قرآن وسنت کی گہرائی میں غواصی کر کے وقت کے تقاضوں میں ان سے رہبری حاصل کرنا ہر کس وناکس کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر صدی میں ایسے اشخاص رونما ہوتے رہے ہیں جو دین کو ہر طرح کی آمیزش، تحریف اور غلط تاویلات سے نکھار کر اسے اپنی اصل شکل وصورت میں لے آتے ہیں جیسے کسی بیش قیمت ہیرے پر سے گرد وغبار کو صاف کر دیا جائے تو وہ اصل حالت میں چمکنے دمکنے لگتا ہے اور مرور زمانہ کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
ان میں سے بعض شخصیات ایسی جامعیت وعبقریت لیے ہوتی ہیں کہ ان کی فکری اور دماغی قوت وبصیرت اپنے دور سے بہت بعد تک کے حالات کا احاطہ کر لیتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ وقت آ جاتا ہے تو ان کے علوم وافکار اور نتائج اجتہاد نکھر کر سامنے آتے ہیں۔ مثلاً شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کے علوم وافکار سے اگرچہ محدود طور پر ہر زمانے میں اہل علم واقف تھے، مگر ان کی وفات کے تقریباً ۶۰۰ سال بعد سعودی عرب میں آل سعود کی حکومت قائم ہوئی جس نے حنبلی فقہ ومسلک کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ امام ابن تیمیہ کے اجتہادات کا وکیل اور ترجمان بن کر اپنے وسیع وسائل سے امام موصوف کی تمام کتب آب وتاب سے شائع کر کے دنیا بھر میں پھیلا دیں۔ اسی طرح امام ولی اللہ دہلویؒ (۲۱؍ فروری ۱۷۰۳-۲۰؍ اگست ۱۷۶۲ھ) کے افکار ونظریات ایک طویل زمانے تک زاویہ خمول میں رہے اور ان سے بس خاص خاص اہل علم ہی واقف تھے۔ 
امام ولی اللہ دہلوی کے متعلق مولانا شبلی نعمانی علم الکلام پر اپنی مایہ ناز تصنیف میں لکھتے ہیں:
’’ابن تیمیہؒ اور ابن رشد ؒ کے بعد بلکہ خود انھی کے زمانے میں مسلمانوں میں جو عقلی تنزل پیدا ہوا تھا، اس کے لحاظ سے یہ امید نہ رہی تھی کہ پھر کوئی صاحب دل ودماغ پیدا ہوگا، لیکن قدرت کو اپنی نیرنگیوں کا تماشا دکھلانا تھا کہ اخیر زمانے میں جبکہ اسلام کا نفس باز پسیں تھا، شاہ ولی اللہ جیسا شخص پیدا ہوا جس کی نکتہ سنجیوں کے آگے غزالی، رازی اور ابن رشد کے کارنامے ماند پڑ گئے۔‘‘(۱)
آپ کی پہلی کتاب آپ کی وفات سے تقریباً ۱۲۰ سال بعد ۱۸۸۰ء میں محدودتعداد میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد ۱۹۱۱ء میں مصر کے مشہور مطبع بولاق نے ’’حجۃ اللہ البالغہ ‘‘ شائع کی جس سے امام ولی اللہ دہلوی کا چرچا برصغیر سے نکل کر عرب دنیا میں شروع ہوا۔ بیسویں صدی کے آخر تک آپ کی بیشتر کتب برصغیر کے مختلف اداروں سے شائع ہو کر گھر گھر پہنچ چکی تھیں۔ جگہ جگہ آپ کے نام پر ادارے، اکیڈیمیاں اور ریسرچ سنٹر قائم ہوئے۔ آپ کے نام پر ایوارڈز کا سلسلہ شروع ہوا۔ برصغیر اور دنیا بھر کی یونیورسٹیوں نے آپ کے نام پر چیئرز اور تحقیقی شعبے قائم کیے۔ آپ کی فکر اور علوم پر وسیع کام شروع ہوا، حتیٰ کہ امریکہ کی ایک نومسلم اسکالر ڈاکٹر مارسیا کے ہرمینسن (Marcia K. Hermansen) نے آپ کی فکر پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا۔
حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی حیات طیبہ سے قدر مشترک تین پہلو نمایاں ہوتے نظر آتے ہیں:
(۱) دینی علوم کو اسلام کے بنیادی مآخذ قرآن وحدیث سے منسلک کرنا۔
(۲) نصوص شرعیہ سے استنباط واستخراج کے ذریعے احکام شرعیہ سے آگاہی اور معرفت کی راہ ہموار کرنا اور امت مسلمہ میں اجتہادی فکری بیداری پیدا کر کے اجتماعیت پر کھڑا کرنا۔
(۳) نصوص شرعیہ کے ذریعے فقہی احکام ومسائل میں جمع وتطبیق کی راہ ہموار کی جائے اور حتی الوسع مذاہب مشہورہ میں جمع وتطبیق پیدا کی جائے اور اختلاف کی وجہ سے جمع ممکن نہ ہوتو اس مذہب کو اختیار کیا جائے جو ازروئے حدیث زیادہ قوی اور قریب ہو۔ (۲) 
حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کی سب سے نمایاں خصوصیت جامعیت وتطبیق ہے۔ شیخ محمد اکرام کے بقول: ’’وہ اختلافی مسائل میں ایسا راستہ ڈھونڈتے ہیں اور اپنی علمی وسعت اور ذہانت کی مدد سے اکثر ایسا راستہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس پر فریقین متفق ہو سکیں۔‘‘ (۳) شاہ صاحب خود اپنا مسلک یوں بیان کرتے ہیں کہ:
’’بقدر امکان جمع می کنم در مذاہب مشہورہ مثلاً : صوم وصلوۃ ووضوء وغسل وحج بوصفی واقع میشود کہ ہمہ اہل مذاہب صحیح دانند وعند تعذرالجمع باقوی مذاہب از روئے دلیل موافقت صریح حدیث عمل می نمایم‘‘۔ (۴)
اس کی مزید توضیح آپ کے درج ذیل قول سے نمایاں ہوتی ہے :
’’اس وقت جو امر حق ملا اعلیٰ کے علوم سے مطابقت رکھتا ہے، وہ یہ ہے کہ (فقہ حنفی وفقہ شافعی) دونوں کو ایک مذہب کی طرح کر دیا جائے۔ دونوں کے مسائل کو حدیث نبوی کے مجموعوں سے مقابلہ کر کے دیکھا جائے۔ جو کچھ ان کے موافق ہو، اس کو رکھا جائے اور جس کی کچھ اصل نہ ہو، اس کو ساقط کر دیا جائے۔ پھر جو چیزیں تنقید کے بعد ثابت نکلیں، اگر وہ دونوں میں متفق علیہ ہوں تو مسئلہ میں دونوں قول تسلیم کیے جائیں۔‘‘ (۵)
جہاں تک کہ اول الذکر مسئلہ کا تعلق ہے توحضرت شاہ صاحب ؒ سے قبل برصغیر پاک وہند میں علماء کرام کا دستور یہ تھا کہ پہلے تو قرآن حکیم کومحض تلاوت کی خاطر پڑھا دیتے اور پھر اگر انہی طلبہ کو قرآن کے مطالب ومعانی کی تعلیم دینا مقصود ہوتا تو جس فن سے خود انہیں دلچسپی اورلگن ہوتی، اس فن کے نقطہ نظر سے قرآن مجید کی جو تفسیر وتشریح وہ مناسب جانتے ، انہیں پڑھا دیتے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ طلبہ کے نزدیک قرآن شریف صرف اسی فن کی ایک اعلیٰ کتاب بن جاتی اور اس سلسلے میں جو خیالات اورتصورات استاد کے ذہن میں پہلے سے موجود ہوتے ، تفسیر پڑھنے سے وہی باتیں طلبہ کے ذہنوں میں نقش ہو جاتیں بلکہ وہ اور راسخ ہو جاتیں۔ حضرت شاہ صاحب ؒ نے اس رجحان سے ہٹ کر متن قرآن کو شروع تا آخر بڑی تحقیق اور بصیرت کے ساتھ پڑھا دیتے جس سے طلبہ کی قرآن کے جملہ مطالب اور معانی تک براہ راست رسائی اورپیغام قرآن سے مجموعی طور پر آشنائی ہو جاتی ،بجائے اس کے کہ متن قرآن محض تلاوت کی غرض سے پڑھا جائے یا کسی خاص فن کی تحصیل کے لیے قرآن کے مطالب تفسیر کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ حضرت شاہ صاحب ؒ اپنی جستجو اورکاوش میں کافی حد تک کامیاب رہے اور برصغیر پاک وہندمیں قرآن وحدیث کا سلسلہ تدریس وتصنیف کی صورتوں میں جاری رکھا جو وسیع تر ہوتا گیا اور اپنی نوعیت کی ایک مثال بن کر منظر عام پر آیا۔ مزید برآں حضرت شاہ صاحب ؒ کے زمانے میں ہندوستانی مسلمانوں کی رسمی زبان فارسی تھی۔چنانچہ آپ نے قرآن کریم کے متن کا ہندوستانی مسلمانوں کے لیے قابل فہم بنانے کی خاطر ’’ فتح الرحمن‘‘ کے نام سے فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ اس پر مستزادیہ کہ شاہ صاحب ؒ نے قرآن مجید کے مطالب کو ا س شکل میں پیش کرنے پر صرف اکتفا نہیں کیا، بلکہ انہوں نے اپنے صحبت یافتہ لوگوں میں سے اس طریقے پر سوچنے والی ایک جماعت بھی پید اکر دی۔
علم حدیث کے مطالعہ اور اس کی تحقیق کے ضمن میں عام طور پر اہل علم میں جو ناہمواریاں اور خرابیاں پیدا ہوگئی تھی، ان کو دور کرنے کے لیے بھی شاہ صاحب نے بہت کام کیا۔ حدیث شریف میں اس طرح سے تحقیق کاسلسلہ بہم کرنے کامیلان مسلمانوں میں مدتوں سے ناپید تھا اور خاص طور پر تیسری صدی ہجری کے بعد تو اس کی مثال کہیں مشکل سے ملتی ہے۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے محققین محدثین پیدا کرکے سلف کے طریقے کو زندہ کر دیا۔ 
یہ بات بھی بعید از فہم نہیں کہ لوگوں میں حدیث شریف کے معاملے میں زیادہ تر ذہنی اختلال اس وجہ سے ہوا کہ فن حدیث میں محض تقلید سے کام لیا جاتا اور خاص طور پر کسی حدیث کی صحت جانچنے کے لیے تو تمام تر دوسروں کی رائے پر ہی اکتفا کیا جاتا۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے محسوس کیا کہ یہ کام مشکل ہو گیا ہے، کیوں کہ ایک تو راویوں کے طویل سلسلے کو پرکھنا اور جانچنا ہوتا ہے ، اس میں مزید الجھن یہ پڑتی ہے کہ ان رواۃ کے متعلق ’’ اسما ء الرجال‘‘ والوں کی آراایک سی نہیں۔ کسی راوی کو اسماء الرجال کا ایک نقاد ضعیف قرار دیتاہے ، لیکن دوسرا اس کی ثقاہت کا دعوے دارہے۔ دوسری مشکل یہ ہے کہ صحیح حدیث کی تعریف میں کئی آرا ہیں ۔ یہ دشواریاں ہیں جو علم حدیث کے متعلق طلبہ میں کوئی ملکہ پیدا نہیں ہونے دیتیں۔ نتیجتاً طلبہ مجبوراً حدیث شریف کو چھوڑ کر فقہ پڑھتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب ؒ نے بڑی جانکاہی سے اس مرض کی تشخیص کی اور پھر اس کے ازالہ کے لیے نصاب تیار کیا اور کے مطابق تعلیم دینا بھی شروع کر دی۔
احادیث کی تدریس میں امام ولی اللہ دہلویؒ کا طریقہ جو آپ نے موطا امام مالک کی عربی وفارسی شروح ’المسویٰ‘ اور ’المصفیٰ‘ میں اختیار فرمایا تھا، جاری رہتا تو بڑی حد تک فقہی اختلافات کی شدت اٹھارویں اور انیسویں صدی عیسوی ہی میں ختم ہو جاتی اور ملت اسلامیہ کے عوام الناس کے لیے دین پر چلنے کی ایک متفقہ شاہراہ سامنے ہوتی۔ مگر بدقسمتی سے حضرت شاہ ولی اللہؒ کے فوراً بعد ہندوستان کا علمی مرکز ثقل دہلی سے لکھنو منتقل ہو گیا جہاں غالی اہل تشیع کی حکومت نے قرآن وحدیث کے درس کو ختم کرنے اور معقولات کی ترویج کی ہر امکانی کوشش کی۔ خود دہلی میں ابو المنصور صفدر جنگ نے مغلیہ سلطنت پر غاصبانہ قبضہ کر کے یہی کچھ کیا۔
جہاں تک کہ مختلف فقہی مذاہب اور ان کے پیروکاروں کے جمود کا تعلق ہے تو شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ لوگوں کے مختلف اقوال کو شدّومدّکے ساتھ بیان کرنا، ایک مخصوص شخص کے مذہب پر فتویٰ صادر کرنا، اس کے قول کو اختیار کر کے اسی کے مذہب و مسلک پر اعتماد کرنا پہلی اور دوسری صدی ہجری کے مسلمانوں کا دستور یا وطیرہ نہ تھا۔ (۶) پھر فرماتے ہیں کہ یہی صورت ایک زمانہ میں اہل ایمان کو پیش آئی کہ مخصوص مسلک کے پیروکار ہونے کی وجہ سے باہمی منازعت شدت اختیار گئی اور لوگوں کے دلوں سے قرآن وحدیث کے صحیح فہم وادراک کی امانت رخصت ہوئی اور وہ تقلیدمیں پڑکر دین کے معاملے میں غوروفکر سے بیگانہ ہو گئے۔ اب ان کے لیے یہ امر ہی باعث تسکین تھا کہ یہی سب ہمارے آبا و اجداد بھی کیا کرتے تھے اورہم انہیں کے نقش قدم پر گامزن ہیں۔ (۷)
شاہ صاحب نے تقلید جامد کی مخالفت اور شدید مذمت کی اور تقلید کے ضمن میں ارباب فقہ کے غلو کو توڑنے کی کوشش فرمائی۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ اس وقت عالم اسلام کے ہر علاقے میں لوگ متقدمین کے فقہی مذاہب میں سے کسی ایک خاص مذہب کی پابندی کرتے ہیں اور اس سے خروج کو، چاہے وہ کسی ایک آدھ مسئلے میں ہی ہو، ملت سے نکل جانے کے مترادف سمجھتے ہیں، یوں جیسے اس مذہب کا امام کوئی نبی مبعوث ہو جس کی طاعت ان پر فرض کی گئی ہو۔ (۸) چنانچہ آپ نے لوگوں میں تقلید کے جمود کو توڑنے کے لیے اور نصوص شرعیہ میں اجتہادکی ضرورت کے پیش نظر آپ نے حدیث کے مطالعے اور اس کی تحقیق پر کافی زور دیا ہے۔آپ نے تعصب کو بھولے سے بھی پاس نہ پھٹکنے دیا اور تفریع الفروعات اور تخریج المخرجات میں عدل وانصاف کے دامن کو ہاتھ سے کبھی نہ جانے دیا۔ (۹)
حضرت شاہ صاحب ؒ نے مروجہ تقلید پر شدید تنقیدیں بھی کی ہیں کہ لوگوں میں علمی شعور ومناسبت کم ہوگئی ہے۔ وہ قرآن وحدیث کے مقابلے میں عام اور غیر معصوم بشری آرا و اقوال کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ کہہ دیتے ہیں کہ ’’ چونکہ یہ قول ہمارے امام، مقتدا اور پیشوا کا ہے، لہٰذا یہ درست اور حرف آخر ہے ‘‘۔ اس صورت حال پر حضرت شاہ صاحب ؒ نے اپنی تصانیف میں سخت رد عمل ظاہر کیا (۱۰) بلکہ جب لوگوں میں یہ شدت مزید بڑھتی دیکھی تو اسے دین قیم میں تحریف کے اسباب میں شمار کیا، کیوں کہ لوگ دین حنیف کی اصل صورت سے اتنے بیگانہ اور دور گئے ہیں کہ غیر معصوم افراد کے ذہنی تخیلات اور تصورات کو اہمیت دیتے ہوئے سرتسلیم خم کرتے ہیں اور حقیقی اسلامی مآخذ کو ترک کر دیتے ہیں۔ (۱۱)
شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ امت مسلمہ میں یہ ذوق اور جذبہ اجا گر کرنا چاہیے کہ نصوص شرعیہ سے متفقہ طرق کے ذریعے راہنمائی حاصل کی جائے اور اس لحاظ سے صحابہ کرامؓ کو ایک مضبوط اتھارٹی سمجھا جائے۔ ہاں، اگر ان میں بھی اختلاف رائے نظر آئے تو پھر اصل نصوص شرعیہ کی طرف رجوع کرنے میں ہی بہتری ہے۔ فرماتے ہیں:
’’چون صحابہ مختلف شوند و مأخذ اقوال ایشان از کتاب و سنت ظاہر شود تأمل درآن مأخذ باید کرد و ازان جہت باب ترجیح باید کشاد‘‘ (۱۲)
’’جب کسی مسئلے میں صحابہ کرامؓ کا آپس میں اختلاف ہو، نیز ان کے اقوال کے مأخذ قرآن و سنت سے ظاہر ہو جائیں تو اس صورت میں مأخذ ہی پر غور و فکر کیا جائے ۔ اس سے کسی چیز کو راجح اور وزنی قرار دینے کا راستہ کھلے گا۔‘‘ 
شاہ صاحب نے دیکھا کہ نصوص شرعیہ سے امت مسلمہ بے بہرہ ہو کر رہ گئی ہے جو کہ ایک خطرناک اورگھمبیر صورت حال ہے۔ لوگ اسلام کے بنیادی مآخذ سے دور ہو چکے ہیں اور ان کے رہنما وپیشوا اسلام کی صحیح ترجمانی کرنے کی بجائے گمراہی وضلالت کی طرف لیے گامزن ہیں۔ اس کی سب سے بڑی اوراہم وجہ اجتہاد سے عدم التفات ہے۔ ان دنوں برصغیر میں وعاظ اور مبلغین کی یہ حالت تھی کہ وہ اپنی تقاریر میں بے محابہ موضوع اور محرف احادیث بیان کرتے تھے جس سے سادہ لوح، ضعیف اور رکیک القلب افراد دین اسلام سے اچھی طرح واقف نہ رہے تھے۔ (۱۳)
حضرت شاہ صاحب ؒ کے دورکا آج کے دورکے ساتھ تقابل کیا جائے تو بآسانی کہا جا سکتا ہے جو چیزیں حضرت شاہ صاحب ؒ نے تجویز فرمائی تھی، بجا طور پر درست تھیں۔ خصوصاً عصر حاضر میں اختلافات کی شدت کم کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ زمین کی طنابیں کھینچ دی گئی ہیں اور پوری دنیا ایک بستی (گلوبل ولیج) بن چکی ہے اور پوری دنیا پر اہل شر وفساد اور معاندین اسلام کا پوری طرح تسلط قائم ہو چکا ہے۔ ان احوال میں فروعی اختلافات اور مسلک وذوق کے اختلافات میں فکر ولی اللہی کے مطابق اعتدال وتوازن اور وسعت ظرفی کے ساتھ تطبیق کی اشد ضرورت ہے۔ یہ اس دور کا اہم تقاضا ہے کہ فروعی اختلافات میں شدت کو ختم کر کے دین کو ایک متفقہ لائحہ عمل کے طور پر سامنے لایا جائے۔

حوالہ جات

۱۔ شبلی نعمانی: علم الکلام والکلام، ( نفیس اکیڈمی ، اردو بازار ، کراچی، ۱۹۷۹ء) ،ص۸۷ 
۲۔ شاہ ولی اللہ : انصاف فی بیان سبب الاختلاف، (محکمہ اوقاف ، لاہور، ۱۹۷۱ء )ص۷۰
۳۔شیخ محمد اکرام : رود کوثر،( ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور،۱۹۹۷ء) ص ۵۳۶ 
۴۔ رحیم بخش :حیات ولی ،( مکتبہ سلفیہ ، لاہور، ۱۹۵۵ء) ص۲۹۶
۵۔ شیخ محمد اکرام :رود کوثر ،ص ۵۸۲ ۶۔شاہ ولی اللہ : الانصاف فی بیان سبب الاختلاف، ۴۱
۷۔ المرجع السابق، ص۶۶ ۸۔ شاہ ولی اللہ : تفہیمات الہیہ،( مدینہ برقی پریس، بجنور) ۱/ ۲۰۹ ۔۲۱۰ 
۹۔ شاہ ولی اللہ :حجۃ اللہ البالغہ ،( المکتبۃ السلفیہ، لاہور، سن ندارد ) ۱؍۱۰
۱۰۔ شاہ ولی اللہ : عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید، (مطبع مجتبائی ،دہلی ، سن ندارد)۷۱۔۷۲
۱۱۔ شاہ ولی اللہ : حجۃ اللہ البالغہ،۱؍۱۲۱ ۱۲۔شاہ ولی اللہ : المصفی فی احادیث موطا ( مکتبہ رحیمیہ، دہلی، سن ندارد ) ۱؍۲۷
۱۳۔ شاہ ولی اللہ : تفہیمات الہیہ، ا؍۱۵ 

مادری زبانوں کا عالمی دن ۔ کیا ہم شرمندہ ہیں؟

پروفیسر شیخ عبد الرشید

زبان فکر و خیال یا جذبے کے اظہارو ابلاغ کا ذریعہ ہے۔ اس کاکام یہ ہے کہ لفظوں اور فقروں کے توسط سے انسانوں کے ذہنی مفہوم و دلائل اور ان کے عام خیالات کی ترجمانی کرے۔ Oliver Wendell Holmesکے مطابق:
"Language is the blood of the soul into which thoughts run and out of which they grow."
زبان ایک ایسا سماجی عطیہ ہے جو زمانے کے ساتھ ساتھ ایک نسل سے دوسری نسل کو ملتا رہتا ہے اس طرح زبان انسان کی تمام پچھلی اور موجودہ نسلوں کا ایک قیمتی سرمایہ اور اہم میراث ہے ۔زبان ایک ایسے لباس کی طرح نہیں ہے کہ جسے اُتار کر پھینکا جا سکے بلکہ زبان تو انسان کے دل کی گہرائیوں میں اُتری ہوئی ہوتی ہے۔یہ خیالات کی حامل اور آئینہ دار ہی نہیں ہوتی بلکہ زبان کے بغیر خیالات کا وجودممکن نہیں۔ کہتے ہیں کہ کوئی ایسا خیال کہ جس کے لیے کوئی لفظ نہ ہو دماغ میں نہیں آ سکتا۔ شاید اسی لیے یونانی زبان کا ترجمہ کرتے ہوئے انسان کو حیوانِ ناطق کہا گیا۔ حیوان ناطق سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ انسان بول سکتا ہے، بولتے تو سب جانور ہیں اِس سے مراد ہے کہ انسان سوچ سمجھ کر بول سکتا ہے۔ لارڈ ٹینی سن (Lord Tennyson)نے کیا خوب کہا تھا کہ 
"Words like nature, half reveal 
And half conceal the soul within"
زبان انسانی زندگی کا اہم جُز ہے اسی لیے مولوی عبدالحق کہا کرتے تھے کہ ’’زبان پر جو چوٹ پڑتی ہے، وہ زبان پر نہیں پڑتی، دلوں پر پڑتی ہے‘‘۔ مقامی یا مادری زبانوں کوانسان کی دوسری جلد (Second Skin)بھی کہا جاتا ہے۔ مادری زبانوں کے ہر ہرلفظ اور جملے میں قومی روایات ، تہذیب وتمدن، ذہنی و روحانی تجربے پیوست ہوتے ہیں، اسی لیے انہیں ہمارے مادی اور ثقافتی ورثے کی بقا اور اس کے فروغ کا سب سے مؤثر آلہ سمجھا جاتا ہے چنانچہ کسی قوم کو مٹانا ہو تو اس کی زبان مٹا دو تو قوم کی روایات اس کی تہذیب ، اس کی تاریخ ، اس کی قومیت سب کچھ مٹ جائے گا۔ Berton کی کہاوت ہے کہ "Help brezhoneg, breizh ebat'، یعنی(without Breton, there is no Brittany) (برٹن زبان کے بغیربرٹنی بھی نہیں ہے)۔ بلاشبہ مادری زبان کسی بھی انسان کی ذات اور شناخت کا اہم ترین جزو ہے اسی لیے اسے بنیادی انسانی حقوق میں شمار کیا جاتا ہے۔ اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق پر بین الاقوامی معاہدے کے مشمولات کے علاوہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت کی قرار دادوں کی صورت میں اس حق کی ضمانت دی گئی ہے۔قومیتی شناخت او ر بیش قیمت تہذیبی و ثقافتی میراث کے طور پر مادری زبانوں کی حیثیت مسلمہ ہے چنانچہ مادری زبانوں کے فروغ اور تحفظ کی تمام کوششیں نہ صرف لسانی رنگا رنگی اور کثیر اللسانی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں بلکہ یہ دنیا بھر میں پائی جانے والی لسانی اور ثقافتی روایات کے بارے میں بہتر آگہی بھی پیدا کرتی ہیں اور عالمی برادری میں افہام و تفہیم،رواداری اور مکالمے کی روایات کی بنیاد بنتی ہے۔ 
اسی لیے اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیمUNESCOکے رُکن ممالک کے نیز تنظیم کے صدر دفتر میں ہر برس21فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن (IMLD)منایا جاتا ہے اس دِن کا مقصد لسانی و ثقافتی رنگا رنگی اور کثیر اللسانیت کو فروغ دینا ہے۔ اس وقت کرۂ ارض پر انسان ۶۷۰۰ سے زیادہ زبانیں بولتے ہیں مگر ان مادری اور مقامی زبانوں کو چند زبانوں کے وائرس سے شدیدخطرات لاحق ہیں۔ خاص طور پر انگریزی زبان دنیا کی ہزاروں مقامی زبانوں کو نگل گئی ہے اور ابھی بھی اس کی زبان خوری ختم نہیں ہوئی۔ چند اقوام اور طبقات کی لسانی دہشت گردی سے زبانیں محبت و اُخّوت کی بجائے نفرت و تقسیم کا موجب بننے لگی ہیں۔ اس سے عالمگیر یت کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ عالمی امن کے لیے مادری اور مقامی زبانوں کا تحفظ و احترام نا گذیر ہے تاکہ لسانی رنگا رنگی سے برداشت و رواداری کا کلچر فروغ پائے۔ چنانچہ نومبر ۱۹۹۹ء میں یونیسکو کی انسانی ثقافتی میراث کے تحفظ کی جنرل کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ ہر سال ۲۱ فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جائے گا ۔ ایسے زمانے میں جب عالمگیریت کی ترجیحات میں صرف چند زبانیں ہی خاص اہمیت کی حامل ہیں ۔ اقوامِ متحدہ اور یونیسکو نے لسانی تنوع اور کثیر ا للسانی تعلیم و تدریس کے فروغ و تحفظ کا بیڑہ اُٹھایا ہے۔ مادری زبانوں کے عالمی دن کا تصور یونیسکو کو کینیڈا کی ایک تنظیم "Mother Language Lovers of the World"نے تجویز کیا اس پر یونیسکو کا کہنا تھا کہ یہ تجویز کسی ممبر ملک کی طرف سے آنی چاہیے۔ چنانچہ بنگلہ دیش نے یہ مہربانی کی اور اس دن کے لیے۲۱ فروری کے دن کوبھی بنگالی زبان کی لسانی تحریک کے دن کے حوالے سے اہمیت دیتے ہوئے منتخب کیا گیا۔ 
مادری زبانوں کا عالمی دن مشرقی پاکستان میں ’’لسانی تحریک کے دن‘‘ ۲۱؍ فروری۱۹۵۲ء کی یاد میں منایا جاتا ہے جب ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبا لسانی مسئلے پر دفعہ ۱۴۴ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ صبح سوا گیارہ بجے سے یہ ہڑتال اور احتجاج جاری تھا۔ دوپہر ۲ بجے دستور ساز اسمبلی کے اراکین کا راستہ روکا گیا تو پولیس حرکت میں آگئی۔ سہ پہر ۳بجے کے قریب فائرنگ ہو گئی جس سے طلبا عبدالجبار اور رفیق الدین احمد موقع پر جاں بحق ہو گئے جبکہ ابوالبر کات زخمی ہو کر رات ۸بجے دم توڑ گیا۔ اس سے سارا مشرقی پاکستان سراپا احتجاج بن گیا۔ ۲۲ فروری کو بڑا احتجاج ہو ا جس پر فائرنگ سے ۴سے۸لوگ مارے گئے ۔ لسانی مسئلے پر ریاستی پولیس نے بنگالی بولنے والوں کا قتل عام کیا ۔بنگلہ دیش(مشرقی پاکستان) میں لوگ غیر سرکاری طور پر یہ دن مناتے رہے، تا ہم ۱۹۵۶ء میں پہلی مرتبہ ۲۱ فروری کو حکومتی سرپرستی میں یہ دن منایا گیا اور اسی روز مادری زبان کی جدوجہد کی تحریک میں جاں بحق ہونے والوں کی یاد میں شہید مینار کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ پھر ۲۹فروری۱۹۵۶ء کو بنگالی کو سرکاری سطح پر پاکستان کی بنیادی ریاستی زبانوں میں سے ایک کا درجہ دے دیا گیا۔ یہی لسانی تحریک بعد ازاں سقوط ڈھاکہ کا ایک اہم سبب ثابت ہوئی۔ اسی دن کی یاد میں یونیسکو کے ممبر کی حیثیت سے بنگلہ دیش نے مادری زبانوں کے عالمی دن کی تجویز منظور کروائی۔ 
مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر آسٹریلیا میں مقیم ہنگری نژاد پروفیسر سٹیفن و ورم Stephen Wurmکو بھی خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے جو خود پچاس سے زیادہ زبانوں کو جانتا اور مہارت رکھتا ہے اور جس نے"Atlas of the world's Language in Danger of Disappearing" مرتب کیا ۔ اس اٹلس میں پروفیسر سٹیفن وورم نے وضاحت کی ہے کہ اس وقت دنیا میں تین ہزار سے زیادہ مادری اور مقامی زبانیں خطرات کا شکار ہیں اور کرۂ ارض سے آہستہ آہستہ ماں بولیاں معدوم ہوتی جار ہی ہیں ان کا تحفظ اور بقاء ضروری ہے ۔ مادری زبانوں کی بقاء اور تحفظ کی کاوشوں کے ثمرات کی ایک مثال انگلینڈ کی ایک مقامی ماں بولی کورنش "Cornish"کی ہے جو کہ متروک ہو گئی تھی مگر حالیہ کاوشوں سے اس ماں بولی کا کامیابی سے احیاء ہوا ہے اور اب ایک ہزار سے زائد لوگ کورنش زبان بولنے لگے ہیں۔ مادری زبانیں بطور ذریعۂ اظہار و ابلاغ فرد کی شخصیت کی تشکیل و تکمیل میں موثر کردار اداکرتی ہیں۔ چیک ری پبلک کے صدر Jan Kavanنے جنرل اسمبلی سے مادری زبانوں کے حوالے سے خطاب میں کہا تھا کہ 
"Mother Language is the most powerful instrument of preserving and developing our tangible and intangible heritage."
یونیسکو کے۳۱ ویں سالانہ اجلاس منعقدہ ۲نومبر۲۰۰۱ء کے بعد یونیسکو نے ثقافتی رنگا رنگی کے حوالے سے جاری کردہ عالمی اعلامیے کی منظوری دی جس میں یونیسکو کی تنظیم نے لسانی رنگا رنگی کی حوصلہ افزائی کرنے والے رُکن ممالک کو مکمل تعاون فراہم کرنے کا عہد کیا۔ زبانیں ہمارے مادی اور ثقافتی ورثے کی بقا اور اس کے فروغ کا سب سے مؤثر آلہ ہیں۔ مادری زبانوں کے فروغ اور تحفظ کی تمام کاوشیں نہ صرف لسانی رنگا رنگی اور کثیر اللسانی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں بلکہ یہ دنیا بھر میں پائی جانے والی لسانی اور ثقافتی روایات کے بارے میں بہتر آگہی بھی پیدا کرتی ہیں اور عالمی برادری میں افہام و تفہیم ، رواداری اور مکالمے کی روایات کی بنیاد پر بین الاقوامی یکجہتی کو بڑھا وا دینے کا اہم ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔ لسانی اور ثقافتی رنگارنگی اُن آفاقی اقدار کی نمائندگی کرتی ہے جو معاشروں کے اتحاد اور ہم آہنگی کو تقویت دیتی ہیں۔ لسانی رنگا رنگی ہر انسان کے لیے اس کی مادری زبان اور خاص کر اس میں بنیادی تعلیم کی اہمیت کے ادراک نے یونیسکو جیسے ادارے کو مادری زبانوں کا عالمی دن منانے کے بارے میں فیصلہ کرنے پر مائل کیا۔ 
اسے بد قسمتی کے سوا کیا کہیے کہ مادرِ وطن میں مادری زبانوں کے ساتھ سوتیلا سلوک عام ہے اور ہم نے عصری اور عالمی فکرو دانش سے بھی کچھ نہیں سیکھا۔ متحدہ پاکستان میں لسانی مسئلے سے دنیا بھرنے سبق سیکھ لیااور عالمی سطح پر مادری زبانوں کا دن منایا جاتا رہے مگر ہم آج بھی لسانی رنگا رنگی کی مہک سے محروم اور زبانوں کے مسئلے کا شکار ہیں۔ ہم سے سبق سیکھ کر کئی ممالک نے اپنی لسانی پالیسوں کو از سرِ نو مرتب کیا اور اب بہت سے ممالک اپنے علاقوں میں روایتی طور پر نظر انداز کی جانے والی یا خطرات سے دو چار زبانوں کو تحفظ اور فروغ دے رہے ہیں۔ جبکہ ہم آج بھی علاقائی ، مادری اور قومی زبانوں کی کشمکش سے دو چار ہیں۔ ہمارے ہاں لسانی مسئلے نے جو گہرے اور منفی اثرات مرتب کیے، ان کی قیمت ہم ۱۹۷۱ء میں بھی چکا چکے ہیں۔ جمہوری ممالک میں جمہور کی زبان یا زبانیں ہی قومی یا سرکاری زبانیں ہو سکتی ہیں۔عوام کا دل موہ لینے کے لیے عوام ہی کی بولی کارگر ہو سکتی ہے۔ ہم نے علاقائی اور مادری زبانوں سے جس سوتیلے سلوک کو روا رکھا اس کا خمیازہ ہم بھگت رہے۔ آج ہم تہذیبی شناخت اور تاریخی سانجھ سے محروم ہو کر قومیتی مسائل میں دھنس کر رہ گئے ہیں۔ ہم نے لسانی مسئلے کو غیر فطری طور پر حل کرنے کی کوشش کی اور قوم کو اپنی اپنی علاقائی زبانوں سے محروم کرنے کا جبر روارکھا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری قوم نے کھرے، سچے اور سماجی تناظر میں سوچنے کی بجائے غیروں کی زبانوں سے غیروں کے انداز میں سوچنا شروع کر دیا۔ ہم نے انگریزی اور اردو کے ذریعے قومی یکجہتی کے حصول کی کوشش کی اور جارج برنارڈ شاہ کی اس بات کو فراموش کر دیا ہے کہ 
"England and America are two countries divided by common language" 
بلاشبہ پھولوں کی رنگارنگی گلدستے کا حُسن اور طاقت ہوتی ہے قباحت اور کمزوری نہیں۔ جس قوم کو اپنی کوئی چیز اچھی نہ لگے اور دوسروں کی ہر ادا پر فریفتہ ہو وہ کیا زندہ رہ سکتی ہے۔ قوم بے جان افراد کے مجموعے کا نام نہیں ہوتا بلکہ قوم معتقدات، تاریخ، عصبیت ، ثقافت اور انفرادیت پر اصرار سے ہی وجود میں آتی ہے اور استحکام حاصل کرتی ہے ۔ مذکورہ قومی عناصر کے اظہارکا اہم ذریعہ زبان ہی تو ہوتی ہے۔ جب لوگوں سے انکی زبان چھین لی جائے تو ان سے سب کچھ چھین لینے کے مترادف ہی ہوتا ہے۔ ہمیں بھی قومی یکجہتی کے گلدستے کی تشکیل کے لیے زبانوں کی رنگا رنگی کو اہمیت اور فروغ دینا ہو گا۔ ہمارے ہاں سندھی، پشتو، بلوچی ، پنجابی ، سرائیکی جیسی زبانیں ہماری اجتماعی غفلت کا شکار ہیں۔ جب تک ہم مادری زبانیں بولنا، انہی میں سوچنا اور انہیں تعلیم و تحقیق کا ذریعہ نہیں بنائیں گے قومی یکجہتی سے محروم رہیں گے۔یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب ہم اپنے بچوں کو ابتدائی تعلیم ان کی مادری زبان میں دینگے۔ مادری زبان کے ذریعے ہی وہ تعلیم و تربیت مانوس اور جانے پہچانے ماحول میں حاصل کرسکتا ہے۔ اپنے ماحول اور مٹی سے جڑے رہنے اور اس کے ساتھ اُنسیت سے ہی بچوں میں اعتماد، توازن، احساسِ ملکیت اور قومی یکجہتی پیدا ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں تعلیم و تدریس کے جدید نظریات میں بچوں کو ابتدائی تعلیم ان کی مادری زبان میں ہی دی جاتی ہے۔ آج کے جدید دور میں مادری زبان میں تعلیم بنیادی انسانی حق ہے ۔کسی ملک، علاقے یا صوبے کے لوگوں کو ان کی مادری زبان سے محروم رکھنا انسانی حقوق کی کُھلی خلاف ورزی ہے ۔کیا ایسی ریاستیں جہاں انسانی حقوق کی کُھلے عام خلاف ورزی ہو آئینی، قانونی، اخلاقی ، سیاسی اور سماجی حوالے سے جدید جمہوری ریاستیں کہلانے کی حقدار ہو سکتی ہیں؟ ستم ظریفی دیکھئے کہ پاکستان میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص ہمار ا اجتماعی رویہ اور حکمرانی انسانی حقوق کی کھلی خلا ف ورزی کر رہا ہے اور ہم پھربھی خود کو مہذب انسان سمجھنے کے فریب میں متبلا ہیں۔ ڈاکٹر ہرشندر کور نے درست تجزیہ کیا ہے کہ مادری زبان بچے کی شخصیت کو اُبھارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اپنی ماں بولی کو حقیر اور چھوٹا سمجھنے والے اپنے آپ کو اور اپنی تہذیب کو بھی کم تر اور حقیر سمجھنے لگتے ہیں اور جن کی تہذیب حقیر ہو، وہ زمانے میں معتبر نہیں ہوسکتے۔ پنجابیوں نے پنجابی زبان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہے، اس نے دھیرے دھیرے پنجابیوں کو ان کی اصل سے دور کر دیا ہے۔ ہمیں یہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کی زبان کے راستے میں رکاوٹ بنے۔ 
۲۱ فروری کو ہر سال منعقد ہونے والامادری زبانوں کا عالمی دن ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے ہم کب تک اپنی مادری زبان سے یہ سلوک جاری رکھ سکتے ہیں۔ ہم نے اپنی مادری زبان کے ساتھ جو کیا ہے ہم سب اس پر شرمندہ ہیں میں اپنی بات کو مشہور شاعرہ میری ڈورو کی نظم ’’زبان کا سوگ‘‘ پر ختم کرنا چاہتا ہوں جس کا ترجمہ خالد سہیل نے کیا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ میری ڈورو کی یہ نظم ہمیں شرمندہ کرپاتی ہے کہ نہیں۔ کہتے ہیں کہ شرمندگی کا پسینہ قوموں کی زندگی میں ترقی کے سفر میں زادِ راہ کا کام کرتاہے۔ میری ڈورو لکھتی ہے کہ 

’’زبان کا سوگ‘‘

میں اپنی مادری زبان ڈائرنگن سے محروم ہو گئی ہوں 

میں افسردہ ہوں 

اس تباہی پر میری آنکھیں پرنم ہیں 

میری زبان کے نرم و گداز الفاظ 

چکنا چور ہو کر ماضی میں بکھر گئے ہیں 

ہم پر جب انگریزی مسلط ہو گئی 

تو ہم اپنی مادری زبان ڈائرنگن بُھلا بیٹھے 

اور اسے تہذیب و ثقافت کی بھینٹ چڑھا دیا 

اے میری مادری زبان 

تمہیں کھونے پر 

ہم بہت شرمندہ ہیں


بنگلہ دیش کا ایک مطالعاتی سفر

محمد عمار خان ناصر

۱۰ جنوری سے ۱۴ جنوری ۲۰۱۰ء تک مجھے ڈھاکہ میں منعقد ہونے والے Leaders of Influence (LOI) Exchange Program میں شرکت کے سلسلے میں بنگلہ دیش کا سفر کرنے کا موقع ملا۔ یہ پروگرام US-AID یعنی یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجنسی فار انٹر نیشنل ڈویلپمنٹ اور ایشیا فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقد ہوا اور اس میں پاکستان، بھارت، نیپال، تھائی لینڈ اور افغانستان سے آئے ہوئے وفود نے شرکت کی۔ پاکستانی وفد میں راقم الحروف کے علاوہ شریعہ اکیڈمی، اسلام آبا کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی، بہاؤ الدین زکریا یونی ورسٹی ملتان کے شعبہ اسلامیات کے صدر ڈاکٹر محمد اکرم رانا اور اسلام آباد سے سما ٹی وی کی نمائندہ محترمہ مریم وقار شامل تھیں۔ اس تین روزہ پروگرام کا بنیادی مقصد شرکا کو ان کوششوں اور تجربات سے متعارف کرانا تھا جو US-AID اور ایشیا فاؤنڈیشن، بنگلہ دیش میں اسلامک فاؤنڈیشن کے تعاون سے ائمہ اور خطبا کو سماجی ترقی میں متحرک کردار ادا کرنے اور مختلف سماجی مسائل ومشکلات کے حل کے لیے اپنی مذہبی حیثیت اور اثر ورسوخ کو استعمال کرنے کے سلسلے میں کر رہی ہے۔ 
تین روزہ پروگرام کا پہلا دن LOI پروگرام کے پس منظر، مقاصد، مختلف پہلوؤں اور اس میں کردار ادا کرنے والے اداروں، خاص طور پر اسلامک فاؤنڈیشن اور امام ٹریننگ اکیڈمی کے حوالے سے تعارفی بریفنگ کے لیے مخصوص تھا۔ دوسرے دن شرکاکو دو مختلف گروپوں کی صورت میں اس پروگرام کے بعض عملی مراکز اور سرگرمیوں کے مشاہدہ کے لیے چٹا گانگ اور سلہٹ لے جایا گیا، جبکہ تیسرے دن کے اختتامی سیشن میں شرکا کو خاص طور پر اس پہلو سے اپنے تاثرات کے اظہار کا موقع دیا گیا کہ اس پروگرام سے انھوں نے کیا سیکھا ہے اور وہ اپنے اپنے ملکوں کے مخصوص حالات میں عملی طور پر اس سے کیا رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
پہلے دن کے تعارفی سیشن میں یو ایس اے آئی ڈی کے مسٹر رسل پے پے، ایشیا فاؤنڈیشن بنگلہ دیش کے مسٹر نذر الاسلام اور اسلامک فاؤنڈیشن کے مسٹر مسعود اور مسٹر شہاب الدین کے علاوہ بنگلہ دیش کی قومی مسجد کے خطیب مولانا صلاح الدین نے گفتگو کی۔ ان سب حضرات کی گفتگو سے ہمیں جو معلومات حاصل ہوئیں، ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
بنگلہ دیش میں رجسٹرڈ مساجد کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق ڈھائی سے تین لاکھ ہے اور ہر مسجد میں اوسطاً تین افراد امام، خطیب اورموذن وخادم کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی آبادی پندرہ کروڑ کے لگ بھگ ہے اور عام لوگوں میں مذہبی رجحان غالب ہے جس کا ایک مظہر یہ ہے کہ کم وبیش آٹھ کروڑ لوگ ہر جمعے کے دن جمعہ کی نماز مسجد میں باجماعت ادا کرتے اور جمعے کا خطبہ سنتے ہیں۔ مساجد کے ائمہ وخطبا اور مذہبی راہ نماؤں کو عمومی طور پر احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور لوگ ان کی بات پر توجہ دیتے اور ان کی گفتگو کا اثر قبول کرتے ہیں۔ اس تناظر میں بنگلہ دیش میں حکومتی سطح پر یہ احساس پیدا ہوا کہ مذہبی راہ نماؤں کے معاشرتی مقام ورسوخ کو بنگلہ دیش کے مختلف اور متنوع سماجی مسائل کے حل اور معاشرے کی ترقی جیسے مثبت مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے، چنانچہ ۱۹۸۹ء میں وزارت مذہبی امور کے تحت اسلامک فاؤنڈیشن کے نام سے ایک خود مختار ادارہ قائم کیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ بنگلہ دیشی ائمہ مساجد اور خطبا کو درپیش سماجی مسائل کے حوالے سے ادراک وشعور سے بہرہ ور کیا جائے، انھیں ان مسائل پر عوام کی راہ نمائی کی تربیت دی جائے اور انھیں آمادہ کیا جائے کہ وہ معاشرے کی بہبود اور ترقی کے لیے بھرپور، موثر اور قائدانہ کردار ادا کریں ۔ اسلامک فاؤنڈیشن نے اس مقصد کے لیے امام ٹریننگ اکیڈمی کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس میں ائمہ وخطبا کو ایک ۴۵ روزہ تربیتی کورس کے مرحلے سے گزارا جاتا ہے۔ اس تربیتی پروگرام کے نصاب میں چھ بنیادی موضوعات یعنی اسلامیات، توہمات کے خاتمے، ایڈز سے حفاظت کی تدابیر، پولٹری اور فشریز سے متعلق شرکا کو راہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ ۱۹۸۹ء سے اب تک بیس سال کے عرصے میں پینسٹھ ہزار ائمہ کو اس تربیتی مرحلے سے گزارا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ۲۰۰۴ء سے US-AID اور ایشیا ٰفاؤنڈیشن کے تعاون سے امام ٹریننگ اکیڈمی سے تربیت حاصل کرنے والے ائمہ کے لیے مزید تین روزہ تربیتی ورک شاپس کے انعقاد کا اہتمام کیا جاتا ہے جسے Leaders of Influence (LOI) Program کا عنوان دیا گیا ہے اور اس پروگرام کے تحت اب تک دس ہزار ائمہ کو اضافی تربیت دی جا چکی ہے۔
ہمیں بتایا گیا کہ امام ٹریننگ اکیڈمی سے تربیت پانے والے ائمہ اور خطبا کی سرگرمیوں اور خدمات میں حسب ذیل تبدیلیاں مشاہدے میں آئی ہیں:
  • o تربیت یافتہ ائمہ اپنے خطبات جمعہ میں بڑے اہتمام سے انسانی حقوق، سماجی انصاف، خواتین کے حقوق، کرپشن، ایڈز، تعلیم، خواتین اور بچوں کی اسمگلنگ، خاندانی منصوبہ بندی اور اس طرح کے دوسرے سماجی موضوعات پر گفتگو کرتے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عوام کی راہ نمائی کرتے ہیں۔
  • o بعض علاقوں میں امام حضرات نے خود بھی مچھلی فارم اور مرغی فارم قائم کیے ہیں جس سے وہ انفرادی طور پر اپنے ذرائع آمدن میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملک کی خام قومی پیداوار (GDP) میں بھی اضافے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
  • o بعض علاقوں میں امام حضرات نے ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے لیے درختوں کی کاشت کاری کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور ایک خاص علاقے میں امام حضرات کی کوشش سے پینتیس ہزار درخت لگائے گئے ہیں۔
  • o دیہی علاقوں میں ائمہ وخطبا ابتدائی تعلیم کے فروغ کے لیے مساجد کو بطور تعلیمی مراکز استعمال کر رہے ہیں۔
پروگرام کا دوسرا دن فیلڈ اسٹڈی کے لیے مخصوص تھا جس کے لیے پانچ ملکی وفود کو دو ٹیموں میں تقسیم کر کے افغانستان اور تھائی لینڈ کے وفود کو چٹا گانگ جبکہ پاکستان، بھارت اور نیپال کے وفودکو سلہٹ لے جایا گیا۔ سلہٹ میں ہم نے یو ایس اے آئی ڈی کے زیر اہتمام کام کرنے والے ایک مرکز صحت The Smiling Sun health Centre کا دورہ کیا جہاں متوسط اور زیریں طبقات کی خواتین کو علاج معالجہ کی ارزاں سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں اور جو مریض استطاعت نہ رکھتے ہوں، ان کا مکمل طور پر مفت علاج بھی کیا جاتا ہے ۔ ہمیں اس سنٹر کے مختلف شعبے دکھائے گئے اور وفد کے شرکا نے ان شعبوں میں کام کرنے والے حضرات سے مختلف سوالات کر کے عملی تفصیلات معلوم کیں۔ 
اسی دن ہوٹل Fortune Garden سلہٹ میں ایشیا فاؤنڈیشن کے LOI پروگرام کے تحت ائمہ کے لیے ایک ورک شاپ جاری تھی جس میں ہمیں مہمان کے طور پر لے جایا گیا۔ یہاں ہم نے مختلف سماجی مسائل مثلاً کرپشن، خواتین کی اسمگلنگ، ناخواندگی، کثرت آبادی، ایڈز اور خواتین کے مسائل جیسے موضوعات پر آٹھ مختلف presentations سنیں جو شرکا نے مختلف گروپوں کی صورت میں باہمی مشاورت سے تیار کی تھیں اور ان میں ہر مسئلے کی مشکلات اور چیلنجز کی نشان دہی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات تجویز کیے گئے تھے۔ خواتین کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ایک امام صاحب نے جن مشکلات کا ذکر کیا، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جیسے ہی کوئی امام یا خطیب منبر پر خواتین کے مسائل یا حقوق کی بات کرتا ہے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ امام صاحب ایک سیاسی تقریر کر رہے ہیں۔ میرے ذہن میں فوراً یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ مشکل لوگوں کی نہیں، بلکہ خود ائمہ اور خطبا کی پیدا کردہ ہے، کیونکہ لوگوں میں اس تاثر کا پیدا ہونا کہ خواتین کے مسائل یا حقوق کی بات مذہب سے نہیں بلکہ سیاست کے دائرے سے تعلق رکھتی ہے، خود مذہبی راہ نماؤں کی اس روش کا نتیجہ ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ اپنے خطبات وتقاریر میں اس موضوع کو کبھی نہیں چھیڑتے، بلکہ اس موضوع کو مکمل طور پر اس طرح نام نہاد لبرل طبقات کے سپرد کر دیا گیا ہے کہ خواتین کے حقوق یا مسائل کے حوالے سے اٹھنے والی کوئی بھی بحث عام طور پر قوم کو مذہبی اور غیر مذہبی کیمپوں میں تقسیم کر دیتی ہے جس میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کا علم لبرل طبقات کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور مذہبی طبقات ان کے خلاف صف آرا ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے امام صاحب نے کثرت آبادی کے حوالے سے اپنی گفتگو میں یہ نعرہ دہرایا کہ ’’بچہ، ایک ہی اچھا‘‘۔ اس پر ہمارے وفد کی رکن محترمہ مریم وقار نے حیرت کا اظہار کیا اورکہا کہ ایک مولوی صاحب کی زبان سے انھوں نے یہ بات پہلی مرتبہ سنی ہے، کیونکہ عام طور پر مذہبی لوگ خاندانی منصوبہ بندی کو مطلقاً مذہبی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہیں۔ 
اسی نشست میں ایڈز یا نشے کے مریضوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے معاشرتی سلوک کا نکتہ زیر بحث آیا تو میں نے گزارش کی کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ نفرت گناہ سے کرنی چاہیے نہ کہ گناہ گار سے، اور خاص طور پر نشے یا اس کی طرح کی کسی دوسری علت میں گرفتار ہو جانے والے افراد ایک خطا کار اور کمزور انسان کی حیثیت سے اس بات کے مستحق ہیں کہ انھیں ہمدردی اور محبت کے ساتھ اس سے نجات دلانے کی کوشش کی جائے۔ اس پر میں نے یہ واقعہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صحابی شراب نوشی کی عادت کی وجہ سے بار بار پکڑ کر آپ کی خدمت میں لائے جاتے اور آپ کے حکم پر انھیں سزا دی جاتی۔ اسی طرح کے ایک موقع پر کسی شخص نے ان پر لعنت کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند کیا اور فرمایا کہ لا تعینوا الشیطان علی اخیہ،یعنی اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بنو۔ میں نے عرض کیا کہ مذہبی لوگ اسلام کی اس روحانی اور اخلاقی تعلیم کو معاشرے میں عام کرنے کے سلسلے میں زیادہ موثر کردار ادا کر سکتے ہیں اور انھیں یہ کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنا چاہیے۔
۱۲؍ جنوری کے دورۂ سلہٹ میں ہماری مصروفیات کا آخری حصہ سلہٹ میں امام ٹریننگ اکیڈمی کے سنٹر کا مختصر دورہ تھا۔ یہاں زیر تربیت ائمہ کی ایک کلاس کے سامنے اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جناب فرید الدین نے مہمانوں کو اس تربیتی پروگرام کے مختلف پہلووں کے حوالے سے بریفنگ دی جس کے آخر میں مہمانوں میں سے ایک نمائندے سے اپنے تاثرات کے اظہار کی فرمائش کی گئی۔ یہ خدمت جناب ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی نے انجام دی اور اپنی مختصر لیکن موثر گفتگو میں حصول علم کے حوالے سے اسلامی نقطہ نظر حاضرین پر واضح کیا۔ ڈاکٹر فاروقی نے کہا کہ اسلام علم کے حصول کو بنیادی اہمیت دیتا ہے اور اس ضمن میں ذرائع اور ماخذ کے بارے میں متعصبانہ رویے کی آبیاری کے بجائے یہ تلقین کرتا ہے کہ کوئی مفید بات جہاں سے بھی ملتی ہو، اسے لے لینا چاہیے۔ نیز یہ کہ اسلام میں دینی اور دنیاوی علم کی کوئی تفریق نہیں، کیونکہ علم اللہ کی صفت ہے اور اللہ کا علم ہر طرح کی باتوں کو محیط ہے، اس لیے مذہبی وغیر مذہبی اور دینی ودنیاوی ہر طرح کا علم اسلام کی نظر میں مطلوب ہے۔ ڈاکٹر فاروقی کی گفتگو پر حاضرین نے بہت پرجوش انداز میں اپنے مثبت تاثر کا اظہار کیا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ڈاکٹر فاروقی نے اپنی گفتگو میں انھی کے جذبات واحساسات کی ترجمانی کی ہے جس پر وہ بے حد خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ وقت چونکہ بہت مختصرتھا، اس لیے تقریب کے اختتام پر منتظمین نے فوراً واپسی کا حکم نامہ جاری کر دیا اور زیر تربیت ائمہ سے گفتگو اور تبادلہ خیال نہ ہو سکنے کی تشنگی نہ صرف ہمیں بلکہ ائمہ کرام کو بھی محسوس ہوئی۔ میں ہال سے نکلنے والا آخری فرد تھا، چنانچہ ائمہ میرے قریب جمع ہونا شروع ہو گئے اور مصافحہ اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار ہونے لگا۔ ایک بزرگ امام صاحب نے فرط محبت سے مجھے سینے سے لگا لیا۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ باقی سب مہمان جا چکے ہیں، میں جلدی سے اجازت لے کر نکلنے لگا کہ دور سے کچھ امام حضرات ’’پاکستانی بھائی‘‘ پکارتے ہوئے بھاگ کر آئے اور آکر مصافحہ کیا۔ سب حضرات کی محبت دیدنی اور اپنے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے اور تبادلہ خیال کا اشتیاق دیدنی تھا۔ یہ دیکھتے ہوئے منتظمین کو مداخلت کرنا پڑی اور انھوں نے آکر ائمہ کرام کو سختی سے روک دیا اور مجھ سے کہا کہ آپ چلیے، کیونکہ گاڑیاں ڈھاکہ واپسی کے لیے تیار ہیں۔
پروگرام کے تیسرے روز آخری سیشن میں تمام شرکا سے فرداً فرداً اپنے تاثرات کے اظہار کی فرمائش کی گئی۔ میں نے عرض کیا کہ ان تین دنوں میں بنگلہ دیش کی حکومت، مذہبی طبقات اور سماجی مسائل سے دلچسپی رکھنے والی این جی اوز کے مابین تعاون واشتراک کی جو صورت حال ہمارے سامنے رکھی گئی ہے، وہ پاکستان کے معروضی تناظر میں بھی بے حد سبق آموز اور قابل استفادہ ہے، کیونکہ تیسری دنیا کے ممالک کے سیاسی اور سماجی مسائل کم وبیش ایک نوعیت کے ہیں اور ایک ملک کی معاشرتی صورت حال کے حوالے سے کیے جانے والے تجزیے اور اس ضمن میں کیے جانے والے تجربات دوسرے ممالک کے لیے بھی اتنے ہی بامعنی اور مفید (relevant) ہوتے ہیں۔ میں نے اس ضمن میں پاکستان کے حوالے سے خاص طور پر تین نکات کی طرف توجہ دلائی:
ایک یہ کہ بنگلہ دیش میں مساجد کی عمارتوں اور ائمہ مساجد کی کھیپ کو ابتدائی سطح کی تعلیم کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کا جو منصوبہ اس وقت روبعمل ہے، پاکستان میں اسی نوعیت کا ایک منصوبہ کافی عرصہ پہلے غالباً جنرل ضیاء الحق کے دور میں ’’مسجد مکتب اسکیم‘‘ کے نام سے شروع کیا گیا تھا جسے کاغذی سطح پر باقاعدہ منظوری حاصل ہونے کے باوجود بغیر کوئی ظاہری سبب بتائے ختم کر دیا گیا، البتہ باخبر ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے مذہب بیزار سیکولر بیورو کریسی کے یہ تحفظات کار فرما تھے کہ اگر نئی نسل کو سرکاری وسائل سے مساجد کے ائمہ کے ہاتھوں تعلیم اورتربیت کے مواقع فراہم کیے گئے تو یہ انتہا پسندی کے عمل (Radicalization) کو فروغ دینے کے مترادف ہوگا۔ میں نے عرض کیا کہ بنگلہ دیشی حکومت کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے سماجی مسائل اور مختلف سماجی طبقات کی صلاحیتوں اور ان سے استفادہ کے امکانات کے معاملے میں زیادہ forward-looking اور بصیرت کی حامل ہے اور پاکستان کے مقتدر طبقات کو اپنی محدود سوچ سے نجات حاصل کرنے اور ملک کی تعمیر وترقی کے لیے تمام طبقات کی صلاحیتوں اور کردار سے استفادہ کا حوصلہ اور بصیرت پیدا کرنے میں بنگلہ دیش کے اس تجربے سے بھرپور راہ نمائی لینی چاہیے۔
دوسرے یہ کہ بنگلہ دیش میں ائمہ مساجد کو سماجی موضوعات پر عوام کی راہ نمائی اور ان میں سماجی مسائل کے حل میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے جو منظم کوشش کی گئی ہے، اس سے بھی روشنی لی جانی چاہیے اور ائمہ وخطبا کے ہاں عمومی طور پر اپنے آپ کو مسجد کی چار دیواری تک محدود اور معاشرتی مسائل سے لاتعلق کر لینے کا جو مزاج پایا جاتا ہے، اس کی اصلاح کے لیے بنگلہ دیش کے ائمہ کے کردار اور سرگرمیوں کو ایک قابل تقلید نمونے کے طور پر سامنے رکھنا چاہیے۔
تیسرے یہ کہ مذہبی طبقات اور مختلف سماجی مسائل پر ارتکاز کرنے والی تنظیموں اور اداروں کے مابین باہمی رابطے کے فقدان اور اس سے جنم لینے والی بد اعتمادیوں اور غلط فہمیوں کی فضا ہمارے ہاں بھی پوری طرح موجود ہے اور دونوں طرح کے طبقات ایک دوسرے کے بارے میں شدید تحفظات کا شکار ہیں۔ اس صورت حال کے ازالے کے لیے اسی طرح مختلف فورمز وجود میں آنے چاہییں جو فریقین کے مابین رابطے کا کام دیں، مختلف موضوعات پر مکالمے کا اہتمام کریں اور افہام وتفہیم پر مبنی ایک مثبت فضا میں سوسائٹی کے ان الگ الگ فکری دھاروں کو اس بات کا موقع بہم پہنچائیں کہ وہ ایک دوسرے کو براہ راست سمجھیں، تحفظات وخدشات پر باہم گفتگو کریں، ایک دوسرے کے زاویہ نظر اور تجربات سے استفادہ کریں، خیر خواہی اور ہمدردی پر مبنی تنقید کے ذریعے ایک دوسرے کی اصلاح کریں اور معاشرتی بہبود اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کے امکانات اور دائروں کو دریافت کریں۔
اختتامی سیشن میں ہی ہر ملک کے نمائندہ وفود سے کہا گیا کہ وہ باہمی مشاورت کے بعد متعین نکات پرمبنی ایسا لائحہ عمل تیار کریں جو وہ بنگلہ دیش کے تجربے کی روشنی میں اپنے اپنے معاشرے کے معروضی حالات کے تناظر میں تجویز کر سکتے ہیں۔ پاکستانی وفد کے شرکا نے باہمی مشاورت سے حسب ذیل لائحہ عمل مرتب کیا جسے وفدکی نمائندگی کرتے ہوئے محترمہ مریم وقار نے شرکا کے سامنے پیش کیا:
  • پاکستان میں ناخواندگی کو ختم کرنے اور ابتدائی سطح کی تعلیم کے فروغ کے لیے مسجد مکتب اسکیم کا احیا کیا جائے۔
  • کسی مستند اور با اعتماد علمی ادارے (مثلاً دعوہ اکیڈمی) کے زیر اہتمام ائمہ وخطبا کی راہنمائی کے لیے مختلف سماجی ومعاشرتی موضوعات پر ماڈل خطبے تیار کروائے جائیں تاکہ موضوعات کے انتخاب اور مستند علمی مواد کی فراہمی میں خطبا کو سہولت ہو اور وہ معاشرتی اصلاح کے سلسلے میں دین کا پیغام موثر طریقے سے لوگوں تک پہنچا سکیں۔
  • ایسے فورمز قائم کیے جائیں جہاں معاشرے کے مختلف طبقات، خاص طور پر مذہبی وغیر مذہبی طبقات بلکہ خود مختلف مذہبی مکاتب فکر کو باہمی مکالمہ کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
  • دینی مدارس سے وابستہ لوگوں کو دوسرے سماجی اداروں اور تنظیموں کا دورہ کروایا جائے اور ان کی سرگرمیوں اور خدمات سے واقفیت حاصل کرنے کا موقع دیا جائے۔ اسی طرح مختلف این جی اوز کو مدارس اور مذہبی اداروں کے دورے کروائے جائیں اور وہاں کے ماحول اور نظام کا براہ راست مشاہدہ کرنے کا موقع مہیا کیا جائے۔
  • مختلف سماجی مسائل پر میڈیا میں جو تشہیری مہمیں چلائی جاتی ہیں، ان میں عام طور پر مذہبی راہ نما دیکھنے میں نہیں آتے، اس لیے میڈیا کو توجہ دلائی جائے کہ وہ رائے عامہ کوباشعور بنانے اور انھیں مطلوبہ اقدامات پر آمادہ کرنے کے لیے مذہبی راہ نماؤں کے اثر ورسوخ کو بھی استعمال کریں اور ان کے پیغامات کو شامل کر کے اپنی مہم کو زیادہ موثر بنائیں۔
  • ائمہ وخطبا کی تربیت اور ان میں سماجی سطح پر موثر کردار ادا کرنے کی استعداد پیدا کرنے کے سلسلے میں دعوہ اکیڈمی کا تربیتی پروگرام بہت مفید ہے ، لیکن وسائل کے لحاظ سے اس کا دائرہ بہت محدود ہے۔ یہ سلسلہ زیادہ بڑے اور وسیع پیمانے پر شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ائمہ وخطبا کو معاشرہ کی اصلاح اور ترقی کے عمل کا حصہ بنایا جا سکے۔
بہت سے دوسرے شرکا نے اپنی گفتگو میں جو نکات اٹھائے، ان میں سے اہم حسب ذیل ہیں:
بعض شرکا نے اس طرف توجہ دلائی کہ ائمہ مساجد اورخطبا کے وژن اور عملی کردار کے حوالے سے LOI پروگرام کے حقیقی عملی اثرات اور نتائج پر خاطر خواہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور مہیا کردہ معلومات سے یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ تربیتی پروگراموں میں شریک ہونے والے ائمہ اور خطبا جب واپس اپنے ماحول میں جاتے ہیں تو کس حد تک مطلوبہ سماجی مسائل ومشکلات میں دلچسپی لیتے ہیں اور یہ کہ اس پروگرام کی قدر پیمائی (evaluation ) کے لیے کوئی قابل اعتماد نظام موجود ہے یا نہیں۔ مسٹر رسل پے پے نے اس کے جواب میں بتایا کہ LOIپروگرام میں شرکت کرنے والے ائمہ اورخطبا کو کورس کے اختتام پر ایک گائیڈ بک مہیا کی جاتی ہے جس میں اس بات کی تفصیلی راہ نمائی موجود ہے کہ وہ مختلف سماجی مسائل کے حوالے سے عملاً کام کرنا چاہیں تو اس کا طریقہ کیا ہے اور اس ضمن میں وہ کون کون سے اداروں سے رابطہ کر کے مزید راہ نمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ مزید برآں ہر چار ماہ کے بعد شرکا کو ایک سوال نامہ بھیجا جاتا ہے اور اس کی مدد سے یہ جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ سماجی سطح پر کس حد تک مطلوبہ مقاصد کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً مختلف علاقوں کا دورہ کر کے عملی صورت حال معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مسٹر رسل نے کہا کہ اس سے زیادہ فرداً فرداً ہر شخص کی کارکردگی جانچنے کا کوئی نظام ان کے پاس موجود نہیں ہے۔
ایک سوال یہ اٹھایا گیا کہ جن سماجی مقاصد کے لیے پروگرام ترتیب دیا گیا ہے، وہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ترقی پسندانہ (Progressive) ہیں جبکہ مذہبی لوگ قدامت پسند ہوتے ہیں تو انھیں ان مقاصد کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنے پر کیونکر آمادہ کیا جا سکتا ہے؟ اس پر مسٹر رسل پے پے نے کہا کہ تربیتی پروگرام کے شرکا کو مختلف مراکز میں لے جا کر عملی صورت حال کا مشاہدہ کرنے اور اس طرح سماجی مسائل سے براہ راست واقفیت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے جس سے ان کا exposure وسیع ہوتا ہے اور ان کے اندر کردار ادا کرنے کا داعیہ بیدار ہوتا ہے۔ انھوں نے مثال کے طورپر یہ واقعہ سنایا کہ ایک موقع پر پروگرام کے شرکا کو ایک HIV-AIDS سنٹر لے جایا گیا جہاں ایڈز سے متعلق لوگوں کوراہنمائی فراہم کی جا رہی تھی۔ وہاں ایک نوجوان قحبہ (Prostitute) بھی موجود تھی۔ شرکا سے جب اس کا تعارف کرایا گیا تو ایک مولوی صاحب نے بہت سخت لہجے میں اسے وعظ کرنا شروع کر دیا کہ تم جو کام کرتی ہو، وہ حرام اور گناہ ہے، اس لیے تمہیں چاہیے کہ اس پیشے کو فوراً ترک کر دو۔ اس کے جواب میں اس خاتون نے دو باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ اس پیشے سے وابستہ خواتین یہ پیشہ شوق سے نہیں، بلکہ غربت اور مجبوری کی وجہ سے اختیار کرتی ہیں، اس لیے اگر آپ لوگ ان کفالت کا ذمہ اٹھا لیں تو وہ یہ پیشہ چھوڑ دینے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری یہ کہ آپ جیسی معزز اور شریفانہ شکل وصورت رکھنے والے حضرات دن کے وقت ہمیں گناہ اور ثواب کا وعظ کرتے ہیں اور رات کو ہماری خدمات حاصل کرنے کے لیے ہمارے پاس پہنچے ہوتے ہیں جو ایک منافقانہ روش ہے۔ خاتون کی اس بات پر مولوی صاحب ذرا ٹھنڈے ہوئے اور انھیں اندازہ ہوا کہ اس نوعیت کے سماجی مسائل اتنے سادہ نہیں ہوتے کہ انھیں محض وعظ کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ مسٹر رسل نے یہ واقعہ بطور مثال بیان کر کے کہا کہ ان کا ادارہ ائمہ اور خطبا کو اسی طرح مشاہدہ، تجربے اور میل جول کے ذریعے سماجی مسائل اور ان کی پیچیدگیوں سے عملی طور پر روشناس کرانے کی کوشش کرتا ہے اور اس مقصد میں انھیں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ (اس پر مجھے چند سال قبل عالمی ادارۂ صحت کی وہ رپورٹ یاد آ گئی جس میں ایشیائی ممالک میں جسم فروشی کے کاروبار اور اس کے ساتھ وابستہ خطرات اور بیماریوں کی نشان دہی کے باوجود یہ کہا گیا تھا کہ بعض ممالک میں اس کاروبار پر علی الفور قانونی پابندی عائد کرنے کی سفارش نہیں کی جا سکتی، اس لیے کہ غربت اور افلاس کا یہ عالم ہے کہ بے شمار خواتین محض جسم وجان کا تعلق قائم رکھنے کے لیے بھی اپنا جسم بیچنے پر مجبور ہیں۔)
مسٹر نذر الاسلام نے اس پرمزید یہ اضافہ کیا کہ ایک امام صاحب جو پہلے اپنے خطبات جمعہ میں ایڈز کا شکار ہونے والے مریضوں کے خلاف سخت تقریریں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ لوگ حرام کاری اور گناہ میں ملوث ہیں، اس لیے انھیں سماج میں الگ تھلگ کر دینا چاہیے، LOIپروگرام کے ذریعے اس مسئلے سے قریبی واقفیت حاصل کرنے کے بعد انھوں نے ایک ماڈل خطبہ تیار کیا ہے جس میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں لوگوں کی راہ نمائی کی گئی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کریں۔ (اس موقع پر مجھے وہ حدیث یاد آ گئی جس میں بیان ہوا ہے کہ جب ایک شخص نے رات کے اندھیرے میں نادانستہ صدقے کا مال ایک چور اور ایک بدکار عورت کو دے دیا اور پھر پتہ چلنے پر اپنے صدقے کے رائیگاں چلے جانے پر افسوس کا اظہار کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے خواب میں یہ بتایا گیا کہ اس کا صدقہ ضائع نہیں ہوا، کیونکہ عین ممکن ہے کہ اس رقم سے اپنی ضرورت پوری ہو جانے کی وجہ سے چور، چوری سے اور بدکار عورت بدکاری سے باز آ گئی ہو۔) 
اختتامی سیشن میں ایشیا فاؤنڈیشن بنگلہ دیش کے نمائندہ مسٹر حسان نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے جب وہ ایشیا فاؤنڈیشن کے ساتھ وابستہ ہوئے اور انھیں LOI پروگرام کا علم ہوا تو وہ اس کی کامیابی کے بارے میں شکوک وشبہات کا شکار تھے اور ان کا خیال تھا کہ امام صاحبان خاصے قدامت پسند ہوتے ہیں اور صرف مذہبی موضوعات پر ہی بات کرنا پسند کرتے ہیں، اس لیے انھیں سماجی مسائل کے حوالے سے کوئی مثبت کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنے میں زیادہ کامیابی نہیں ہوگی، لیکن عملی تجربے کے بعد اب ان کے شکوک وشبہات باقی نہیں رہے۔ مسٹر حسان نے بتایا کہ انھوں نے ایک پروگرام کے شرکا کے ساتھ تبادلہ خیال کیا تو وہ ان کے خیالات سن کر بے حد متاثر ہوئے، کیونکہ امام صاحبان ان مسائل میں گہری دلچسپی لے رہے تھے اور بہت اشتیاق اور گہرے مخلصانہ جذبے کے ساتھ معاشرتی اصلاح اور سماجی تبدیلی کے لیے متحرک کردار ادا کرنا چاہتے تھے۔
مسٹر رسل پے پے نے کہا کہ LOI پروگرام کے سلسلے میں انھیں عملی طور پر جس مشکل کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ مذہبی لوگوں اور لبرل طبقات کے مابین بداعتمادی کی فضا ہے، کیونکہ مذہبی لوگوں کے ذہنوں میں این جی اوز کا ایک عجیب وغریب تصور جاگزیں ہے اور لبرل طبقے مذہبی لوگوں کا نام سنتے ہی بدک جاتے ہیں۔
بنگلہ دیش کا یہ تین روزہ دورہ وہاں کے مذہبی و لبرل طبقات کے باہمی تعاون واشتراک پر مبنی اس سماجی تجربے کے بارے میں جاننے کے حوالے سے بے حد مفید رہا اور مجھے ذاتی طور پر اس سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، البتہ ایک تشنگی محسوس ہوتی رہی کہ پورے پروگرام میں نہ تو منتظمین کی طرف سے اس کا اہتمام کیا گیا تھا کہ مہمانوں کو LOI پروگرام کے تحت تربیت حاصل کرنے والے ائمہ اور خطبا کے ساتھ براہ راست تبادلہ خیال کا موقع فراہم کیا جاے اور نہ شیڈول میں اس کی گنجائش نکل سکی کہ ازخود اس کا موقع پیدا کر لیا جائے۔ میری خواہش تھی کہ اس تجربے کے حوالے سے خود ائمہ اور خطبا کے خیالات و تاثرات نیز خدشات اور تحفظات براہ راست ان سے معلوم کیے جائیں تاکہ صورت حال کا معروضی تجزیہ کرنے میں مدد مل سکے، لیکن افسوس کہ اس کا کوئی مناسب موقع نہ مل سکا اور منتظمین کے مرتب کردہ بے لچک شیڈول میں رسمی علیک سلیک کے علاوہ ہم بنگلہ دیش کے ائمہ وخطبا سے کوئی تفصیلی تبادلہ خیال نہ کر سکے۔ میری تجویز ہوگی کہ اس نوعیت کے آئندہ پروگراموں میں یہ پہلو بطور خاص شیڈول کا حصہ بنایا جائے اور مقامی ائمہ وخطبا کے ساتھ مہمانوں کی ملاقات اور تبادلہ خیال کے لیے ایک مستقل سیشن وقف کیا جائے تاکہ انھیں ایک کھلے ماحول میں اس تجربے میں شریک تمام فریقوں کا زاویہ نگاہ سمجھنے اور اپنے تجزیے کی بنیاد مکمل اور براہ راست حاصل کردہ معلومات پر رکھنے میں مدد ملے۔
۱۱؍ جنوری کی شب کو یو ایس اے آئی ڈی کے نمائندہ مسٹر رسل پے پے نے مہمانوں کے اعزاز میں اپنی رہائش گاہ پر ایک پرتکلف عشائیے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ مسٹر رسل پے پے کیتھولک ہیں اور کینیڈا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں کیتھولک مسیحیوں کی روایتی مذہبی اسپرٹ پوری طرح زندہ محسوس ہوئی اور انھوں نے متعدد مواقع اپنے کیتھولک ہونے کا ذکر بڑے تاثر کے ساتھ کیا۔ آخری ملاقات میں جب میں نے ان سے کہا کہ میں نے آپ کا ای میل ایڈریس لے لیا ہے اور ان شاء اللہ ہم رابطے میں رہیں گے تو انھوں نے ’’ان شاء اللہ‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں بھی بالکل یہی روایت ہے، کیونکہ میری والدہ کیتھولک تھیں اور جب میں تعلیم کے زمانے میں ہاسٹل سے انھیں فون پر بتاتا کہ اس ویک اینڈ پر میں ان سے ملنے آؤں گا تو وہ کہتیں: God willing، یعنی ان شاء اللہ۔ 
مسٹر رسل کی رہائش گاہ پر ہماری ملاقات کینیڈا ہی کے ایک دراز قد، ذہین اور خوش مزاج نوجوان Daniel Jones سے ہوئی۔ جب میری پہلی نظر ڈینئل پر پڑی تو وہ نیپال سے آئے ہوئے ہمارے نوجوان دوست نرجن رائے سے محو گفتگو تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر ان کی گفتگو میں مخل ہوتے ہوئے دونوں سے مصافحہ کیا اور مذاق کے طور پر ڈینئل سے پوچھا کہ کیا آپ بھی نیپال سے ہیں؟ وہ حیرانی سے بولے کہ کیا میں شکل سے نیپالی لگتا ہوں؟ میں نے کہا کہ مجھے بھی اسی بات پر حیرت ہے کہ آپ شکل سے تو نیپالی نہیں لگتے۔ میرے اس مذاق پر وہ بہت ہنسے اور ہمارے درمیان فوراً بے تکلفی کی فضا قائم ہو گئی۔ ڈینیئل نے بتایا کہ وہ سوشل سائنسز میں ایم فل کی ڈگری کے امیدوار ہیں اور اپنے مقالے کی تکمیل ہی کے سلسلے میں بنگلہ دیش آئے ہوئے ہیں۔ میں نے ان سے مقالے کا عنوان پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ انھوں نے "Men's Sexual Health" (مردوں کی جنسی صحت) کے موضوع پر ریسرچ کی ہے اور ان کا مقالہ www.icddrb.org پر دستیاب ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو بہت دلچسپ اور حساس موضوع ہے تو ڈینئل نے اس کی تائید کی اور کہا کہ یہاں بنگلہ دیش میں انھیں لوگوں سے اس موضوع پر بات کرنے اور ان سے معلومات حاصل کرنے میں خاصی دقت پیش آئی، کیونکہ مشرقی معاشروں میں جنسی مسائل اور موضوعات پر سنجیدہ گفتگو نہیں کی جاتی۔ ڈینئل نے کہا کہ یہاں بے شمار لوگ شادی سے پہلے جنسی تعلق قائم کرتے ہیں، موبائل فون پر جنسی تفریح کرتے ہیں اور مختلف جنسی مسائل اور بیماریوں کا شکار ہیں، لیکن اس پر گفتگو کرنے سے شرماتے ہیں۔ ڈینئل نے بتایا کہ انھوں نے نوجوانوں سے اس موضوع پر معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک دلچسپ طریقہ اختیار کیا۔ وہ یہ کہ وہ کالج یا یونی ورسٹی میں کسی جگہ جا کر بیٹھ جاتے اور بہت سے نوجوان یہ دیکھتے ہوئے کہ ایک انگریز یہاں بیٹھا ہوا ہے، تجسس سے ان کے پاس آکر بیٹھ جاتے اور ان سے مختلف سوال کرنا شروع کر دیتے کہ تم یہاں کیوں بیٹھے ہو اور کس مقصد کے لیے بنگلہ دیش آئے ہو؟ اس طرح آہستہ آہستہ وہ ان نوجوانوں سے بے تکلفی پیدا کر لیتے جو مطلوبہ معلومات کے حصول کے لیے خاصی مدد دیتی۔ 
ڈینئل نے کہا کہ ان کا مشاہدہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی نئی نسل مختلف عوامل کے تحت زیادہ کھلے ذہن سے سوچتی ہے اور بہت سے سوالات پر ازسرنو غور کرنے کے لیے تیار ہے۔ میں نے کہا کہ پاکستان میں بھی بلکہ کم وبیش ہر جگہ یہی صورت حال ہے۔ ڈینئل نے پوچھا کہ تم اس صورت حال کو کیسے دیکھتے ہو؟ میں نے کہا کہ یہ ایک اچھی اور مثبت تبدیلی ہے۔ ایک مولوی کے منہ سے یہ جواب سن کر ڈینئل خاصے حیران ہوئے اور پوچھا کہ کیا تم اپنی بات کی وضاحت کرو گے؟ میں نے کہا کہ میری رائے میں اس وقت ہمیں سیاسی، سماجی اور مذہبی سطح پر جو مسائل درپیش ہیں، ان کا ایک بڑا سبب بہت سے لگے بندھے خیالات (Stereotypes) ہیں جو ایک تیزی سے بدلتے ہوئے سماج میں اپنی معنویت کھو چکے ہیں، اس لیے اگر نئی نسل سوالات اٹھانے اور نئے سرے سے مسائل پر غور کرنے پر آمادہ ہے تو یہ یقیناًایک مثبت چیز ہے جسے اگر دانش مندی اور بصیرت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو وہ درپیش مسائل کے حل میں کارآمد ثابت ہوگی۔
۱۴؍ جنوری کو ہم بنگلہ دیش سے واپسی کے لیے روانہ ہوئے۔ ہمارا سفر امارات کی ایئر لائن کے ذریعے سے تھا، چنانچہ ۱۴ اور ۱۵ جنوری کی درمیانی شب ہمیں دوبئی ایئر پورٹ پر گزارنا پڑی۔ دبئی ایئر پورٹ فی الواقع بہت بڑا ہے او ر سہولتوں اور انتظامات کے لحاظ سے اس کا شمار دنیا کے بہترین ایئرپورٹوں میں ہوتا ہے۔ ہم نے بارہ گھنٹے کو محیط اپنے قیام کا وقت زیادہ تر یہاں بنائی گئی وسیع وعریض مارکیٹ کی دوکانوں پر گھومتے پھرتے گزرا۔ دبئی ایک اسلامی ملک ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے دنیا کے ایک بڑے تجارتی مرکز کی حیثیت بھی حاصل ہے اور مشرق ومغرب کے عین وسط میں واقع ہونے کی وجہ سے دبئی ایئر پورٹ دنیا بھر کے مختلف ملکوں، نسلوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے مسافروں کی اجتماع گاہ ہے۔ ایک طرف روایتی طور پر اسلام کے ساتھ وابستگی کے تقاضوں کو نباہنے اور دوسری طرف دنیا بھر کے سیاحوں اور کاروباری لوگوں کے لیے کشش پیدا کرنے کی خواہش کی بدولت یہاں کی حکومتی پالیسیوں میں ’دین‘ اور ’دنیا‘ کا ایک عجیب امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ اس ’امتزاج‘ کا نمونہ ایئر پورٹ پر بھی دیکھنے کوملتا ہے جہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ مسجدیں موجود ہیں اور ہر نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر پر باقاعدہ اذان دی جاتی ہے جو ایئر پورٹ کے ہر کونے میں سنائی دیتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ شراب کی بڑی بڑی دکانیں بھی پوری آب وتاب کے ساتھ سجی ہوئی ہیں جہاں دنیا بھر سے منگوائی جانے والی مختلف برانڈ کی مہنگی ترین اور نفیس ترین شرابیں سرعام میسر ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آ سکا کہ سوائے تجارتی مقاصد یا لبرل ازم کی نمائش کے، ایسی کون سی حقیقی مجبوری ہو سکتی ہے جس کے تحت ایک مسلمان ملک کے ایئر پورٹ پر ام الخبائث کی ایسی پر رونق دکانیں سجانے کی اجازت دی جائے۔ بنگلہ دیش کے ایئر پورٹ پر بھی یہی منظر دیکھنے میں آیا۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے ملک کے ایئر پورٹ اس ’’کفر بواح‘‘ سے محفوظ ہیں۔ جناب ڈاکٹر یوسف فاروقی سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے عرض کیا کہ عرب امارات کے حکمرانوں نے اس خطے کے جغرافیائی محل وقوع اور خدا کے دیے ہوئے وسائل کے تناظر میں دنیا بھر کے تاجروں کی توجہ حاصل کرنے اور عالمی سرمایے کو کھینچ کر یہاں لانے کے لیے تو بہت منظم منصوبہ بندی کی ہے، لیکن افسوس ہے کہ عالمی روابط اور مشرق ومغرب کی قوموں کے اختلاط کے اس ماحول کو اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔ میرے ذہن میں آیا کہ یہاں شراب کی دکانوں جتنا بڑا نہ سہی، لیکن کسی نمایاں جگہ پر اگر ایک ایسا ڈیسک قائم کیا جاتا جہاں دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن وحدیث اور کتب سیرت کے تراجم اور اسلامی تعلیمات کے تعارف پر مبنی لٹریچر مفت دستیاب ہوتا اور اس منصوبے کو حکومت امارات کی سرپرستی حاصل ہوتی تو شایدوہ خدا کے دیے ہوئے مال کے بارے میں ’فیم انفقہ‘ کے سوال کا بہتر جواب دینے کی پوزیشن میں ہوتی۔
دبئی ایئر پورٹ کی مختلف دکانوں پر کاروباری خندہ پیشانی چہرے پر سجائے مرد اور خواتین تو ہر جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں، لیکن مجھے یہاں ایک حقیقی خوش اخلاقی کا تجربہ بھی ہوا۔ ایک بک اسٹال پر کتابیں دیکھتے دیکھتے مجھے مشہور امریکی مستشرق جان ایل اسپوزیٹو کی کتاب ’’Who Speaks for Islam?‘‘ کا عربی ترجمہ بعنوان ’’من یتحدث باسم الاسلام؟‘‘ نظر پڑ گیا جو دار الشروق، مصر کے زیر اہتمام طبع ہوا ہے۔ کتاب پر قیمت ۴۸ درہم درج تھی، جبکہ میرے پاس کھلی رقم ۴۵ درہم کی تھی اور سردست کوئی بڑا نوٹ کھلا کرانے کا ارادہ نہیں تھا۔ میں کتاب کاؤنٹر پر کھڑی سیلز گرل کے پاس لے گیا، جس کا تعلق غالباً فلپائن یا کوریا سے تھا، اور اس سے پوچھا کہ کیا تم یہ کتاب مجھے ۴۵ درہم میں دے سکتی ہو؟ اس نے ذرا تردد کے بعد پوچھا کہ کیا تمھارے پاس صرف ۴۵ درہم ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ اس نے کہا کہ ٹھیک ہے، اتنے ہی دے دو۔ میں نے جیب سے ۴۵ درہم نکال کر اسے دے دیے، لیکن جب اس نے مشین سے بل نکال کر میرے ہاتھ میں تھمایا تو وہ ۴۸ درہم کا تھا۔ مجھے اس پر سخت خلش محسوس ہوئی، کیونکہ میرا خیال تھا کہ وہ رعایت کر کے قیمت میں سے ۳ درہم کم کر دے گی، لیکن غالباً یہ اس کے اختیار میں نہیں تھا۔ میں پلٹ کر اس کے پاس گیا اور کہا کہ بل پر تو قیمت ۴۸ درہم ہی درج ہے۔ اس نے کہا کہ کوئی بات نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ تین درہم یقیناًتمھیں اپنے پاس سے ادا کرنا پڑیں گے جو مجھے ہرگز پسند نہیں۔ اس پر وہ ہنس پڑی اور تھوڑا سوچ کر کہنے لگی کہ ہمارے پاس حساب کتاب کی کمی بیشی کو پورا کرنے کے لیے کچھ زائد رقم موجود ہوتی ہے۔ تاہم میں مطمئن نہیں ہوا اور اس سے کہا کہ میرے پاس درہم تو نہیں، البتہ سو ڈالر کا نوٹ موجود ہے، تم اس میں سے یہ رقم منہا کر لو، لیکن اس نے انکار کر دیا اور اصرار سے کہنے لگی کہ تم کتاب لے جاؤ، یہ صرف تین درہم کی تو بات ہے۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور بڑے تردد کے ساتھ وہاں سے چلا آیا، لیکن تھوڑی دیر کے بعد سو درہم کا نوٹ لے کر دوبارہ اس کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ اس میں سے تین درہم کاٹ لو۔ اس نے پیسے لینے سے انکار کر دیا اور بڑی معصومیت سے باربار It's OK, sir (بس ٹھیک ہے جناب) کہتی رہی۔ میں پھر وہاں سے واپس چلا آیا، لیکن کافی دیر کے بعد جب کچھ مزید خریداری کرتے ہوئے میرے پاس چند سکے جمع ہو گئے تو میں تین درہم کا قرض ادا کرنے کے لیے خاصا فاصلہ طے کر کے دوبارہ اسی بک اسٹال پر پہنچ گیا، لیکن اب کاؤنٹر پر ایک دوسری خاتون کھڑی تھی۔ میں نے صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے تین درہم اس کو دیے اور وہاں سے واپس آ گیا۔ 
۱۵ جنوری کو رات کے پچھلے پہر امارات کی ایئر لائن دوبئی سے روانہ ہو کر صبح ۸ بجے کے قریب اسلام آباد ایئر پورٹ پر اتری اور اس طرح یہ مطالعاتی سفر اختتام کو پہنچا۔ میں ان تمام اداروں اور حضرات کا شکر گزار ہوں جن کے تعاون اور انتظام سے اس تین روزہ مطالعاتی دورے میں شرکت اور استفادہ کا موقع میسر ہوا۔ بنگلہ دیش میں قیام ایک پر سکون اور دوستانہ ماحول میں رہا جس کے لیے ایشیا فاؤنڈیشن بنگلہ دیش کے منتظمین کا شکریہ ادا کرنا واجب ہے، جبکہ ایشیا فاؤنڈیشن، پاکستان کی سینئر پروگرام آفیسر محترمہ نادیہ طارق علی اور ان کے معاونین اس پہلو سے شکریے کے مستحق ہیں کہ انھوں نے بعض الجھنوں کے باوجود بڑے خلوص اور دلچسپی کے ساتھ کوشش کر کے اس سفر کو ممکن بنایا۔

اسلامی بینکاری: غلط سوال کا غلط جواب (۳)

محمد زاہد صدیق مغل

۳) اسلامی بینکنگ کے امکانات کا جائزہ 

بینکنگ کے درست تصور کو سمجھ لینے کے بعد اب ہم اس کی اسلامیت کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس بحث کو ہم درج ذیل امور پر تقسیم کرتے ہیں۔ 

۳.۱: بینکنگ کی شرعی حیثیت 

جیسا کہ ابتدائے مضمون میں ذکر کیا گیا تھا کہ بینکنگ کی اسلام کاری ممکن ہونے کا دعوی دوشرائط کی تکمیل پر منحصر ہے۔ اول fractional reserve banking کاشرعاً جائز ہونا، دوئم نظام بینکاری کو سود کے بجائے بیع میں تبدیل کرلینا۔ مجوزین بینکاری نظام کا غلط تصور قائم کرنے کی وجہ سے صرف ’غیر سودی بینکاری ‘ کے امکانات کی ثانوی بحث میں الجھے رہتے ہیں ، گویا ان کے نزدیک بینکنگ کی واحد خرابی اس کا ’سود‘ استعمال کرنا ہے، اور جواز بینکاری کی ساری بحث کو وہ اسی ایک مسئلے پر مرتکز کردیتے ہیں۔ اس ناقص فہم کے باعث وہ fractional reserve banking کی پوری بحث پس پشت ڈال دیتے ہیں، جبکہ بینکنگ کی اسلام کاری ممکن ہونے کی بحث میں بینک کا سودی یاغیر سودی ہونا ثانوی مسئلہ ہے بنیادی بحث یہ ہے کہ بینک جو زر تخلیق کرتا ہے اسکی شرعی حیثیت کیا ہے۔ آگے بڑھنے سے قبل درج بالا گفتگو سے اخذ ہونے والے تین اہم مقدمات اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے: 
۱۔ جب تک اکانومی میں ایک ایسا ایجنٹ موجود رہے گا جو بیک وقت لوگوں سے رقم (deposit) وصول بھی کرے اور ادھار (financing) بھی دے، اس وقت تک ’فرضی زر کی تخلیق‘ کا عمل جاری رہے گا اور یہ ایجنٹ (یا ادارہ) لازماً (جعلی) ’قرض کی رسید‘ (promise of payment) کو آلہ مبادلہ (means of payment) کی حیثیت دے کر اصل زر کے خاتمے کا باعث بنے گا۔ ظاہر ہے اگر بینک ڈپازٹس (جو promise of payments کی رسید ہوتے ہیں) کو بطور آلہ مبادلہ استعمال کرنے کی اجازت نہ ہو تو اس صورت میں بینک کی قرض دینے کی صلاحیت ختم ہوجائے گی اور وہ محض ایک ایسے ادارے کی حیثیت اختیار کرلے گا جہاں لوگ اپنی امانت حفاظتی نقطہ نگاہ سے جمع کراتے ہوں ۔ مگر ایسے کسی ادارے کو کسی بھی تعریف (یہاں تک کہ مجوزین کی تعریف ) کی رو سے بینک نہیں کہا جاسکتا۔ چنانچہ ثمن حقیقی پر مبنی مالیاتی نظام میں ’بیت المال‘ وغیرہ تو ہوسکتے ہیں، مگر بینک نہیں ہوسکتے ۔
۲۔ لہٰذا بینکنگ ’صرف اور صرف ‘ ایک ایسے مالیاتی نظام ہی میں ممکن ہے جہاں ثمن حقیقی یا اصل زر کے بجائے قرض پر مبنی زر (promise of payment) بطور آلہ مبادلہ (means of payment) استعمال ہو اور ایک ایسا مالیاتی نظام جہاں ثمن حقیقی یا اصل زر بطور قانون رائج ہو وہاں بینک کا وجود کالعدم ہوجائے گا۔ یعنی وجود بینکنگ کے لیے لازم ہے کہ قرض لوگوں کا ذاتی معاملہ نہ رہے بلکہ اسے بطور آلہ مبادلہ استعمال کیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ اکانومی میں ایک شخص قرض دینے اور ڈپازٹس وصول کرنے کا کام بھی کررہا ہو مگر قرض کی رسید بطور آلہ مبادلہ استعمال نہ ہورہی ہو ۔
۳۔ یہی وجہ ہے کہ بینکنگ کو شرکت و مضاربت کے اصولوں پر چلانا نا ممکن ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شرکت و مضاربت کے معاہدات میں تخلیق زر کی صورت قطعاً پیدا نہیں ہوتی، کیونکہ یہ ’نجی معاہدات ‘ ہوتے ہیں نہ کہ آلہ مبادلہ کے طور پر استعمال ہونے والے مالی دعوے۔ شرکت و مضاربت کے اصولوں پر بینکاری ممکن ہونے کا وہم صرف انہی حضرات کو ہوسکتا ہے جو بینک کو غلط طور پر زری ثالث سمجھ بیٹھے ہوں۔ (۲۱) 
ان بنیادی مقدمات کو ذہن نشین کرلینے کے بعد نظام بینکاری کی شرعی حیثیت سمجھ لینا بالکل آسان ہوجاتا ہے۔ اس گفتگو کے دوتناظر ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ بینک ڈپازٹس کی شکل میں جو زر تخلیق کرتا ہے، وہ ’جعلی قرض کی رسید ‘ ہوتا ہے۔ دوئم یہ زر کسی حقیقی اثاثے کی بنیاد پر قائم شدہ قرض ہوتا ہے۔ (یہ دوسری صورت محض بحث کے لیے فرض کی گئی ہے، کیونکہ fractional reserve banking میں یہ بہر حال امر محال ہے)۔ 

بینک زر بطور حقیقی قرض کی رسید

قرض کی رسید کو بطور آلہ مبادلہ استعمال کرنے کا عدم جواز علماء کرام کیلئے کوئی نئی بحث نہیں اور اسکے دلائل ذکر کرنا تحصیل حاصل کے زمرے میں شمار ہوگا لہذا خوف طوالت کی بنا پر اس سے سہو نظر کرتے ہیں، اس ضمن میں موطا امام مالک ؒ میں یحیی سے روایت شدہ درج ذیل واقعہ راہنمائی کیلئے کافی ہے: 
  • مروان بن حکم کے دور میں جب مرکز سے رقم (درہم و دینار) پہنچنے میں تاخیر ہوئی تو صوبے کے گورنر نے لوگوں کو بازار کی اشیاء خریدنے کیلئے رسیدیں جاری کر دیں جنہیں لوگوں نے خرید نا اور بیچنا شروع کردیا۔ حضرت زید بن ثابتؓ نے مروان سے کہا کہ کیا تم سود کو حلال کررہے ہو؟ مروان نے کہا کہ میں اس چیز سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں؟ آپؓ نے فرمایا کہ پھر یہ رسیدیں کیا ہیں جنہیں لوگ خرید اور بیچ رہے ہیں؟ اسکے بعد مروان نے وہ رسیدیں لوگوں سے واپس لے لیں۔ اس روایت میں اہم بات یہ ہے کہ حضرت زید بن ثابتؓ نے ان رسیدوں (promise of payment) کے استعمال کو سود کہا جنہیں لوگ اشیا کی خرید و فروخت کیلئے استعمال کررہے تھے۔ معلوم ہوا کہ قرض کی رسید (دین) کو بطور آلہ مبادلہ استعمال کرنا شرعاً ناجائز ہے، یعنی قرض (دین) جس مال (عین) کی رسید ہو مبادلے سے قبل اس مال پر قبضہ کئے بغیر رسیدوں ہی کو بطور آلہ مبادلہ استعمال کرنا درست نہیں۔ اسی اصول کو یوں بھی بیان کیا جاتا ہے کہ قرض کی خرید و فروخت ناجائز ہے۔ شرع قرض کو ایک نجی معاہدے کی حیثیت دیتی ہے اور معاہدے کو نجی حیثیت سے نکال کر ’بطور آلہ مبادلہ ‘ استعمال کرنا درست نہیں اور بینکاری (بشمول اسلامی بینکاری) درحقیقت اسی عمل کی آفاقیت کا دوسرا نام ہے۔ 

بینک زر بطور جعلی قرض کی رسید

اس صورت پر درج بالا کے علاوہ دو مزید اشکالات پیدا ہوتے ہیں: 

۱۔ کیا شرعاً ایسا وعدہ کرنا جائز ہے جسے پورا کرنا عملاً ناممکن ہو اور وعدہ کرنے والا اس حقیقت سے واقف بھی ہو؟ اگر یہ جائز ہے تو کیا صرافوں کا ایسا کرنا بھی جائز تھا؟ اس سلسلے میں مجوزین کے نظریہ زر کے مطابق دوسری اہم بات یہ ہے کہ بینک کا زر درحقیقت افراط زر کا باعث بھی بنتا ہے جسکے نتیجے میں لوگوں کی قوت خرید اور اثاثوں کی مالیت میں کمی واقع ہوجا تی ہے اور اس کا اثر ہر خاص و عام پر بلکہ غریب عوام پر زیادہ پڑتا ہے (۲۲) ۔ یوں قوت خرید زر استعمال کرنے والے ایجنٹ سے زر تخلیق کرنے والے ایجنٹ (حکومت و بینک) کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طریقے سے لوگوں کی مال و دولت ہتھیا لینا شرعاً جائز ہے؟ قرآن مجید میں ارشاد ہوا: 
لاَ تَأْکُلُوا أَمْوَالَکُمْ بَیْْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَن تَکُونَ تِجَارَۃً عَن تَرَاضٍ مِّنکُمْ (نساء: ۲۹) 
’آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے مت کھاؤ، بلکہ باہمی رضا مندی سے لین دین ہونا چاہئے‘‘’
ظاہر ہے فرضی زر تخلیق کرکے لوگوں کے مال ہتھیا لینے کا شمار تجارت میں نہیں ہوسکتا، پس اس طرح مال کھانا ’باطل‘ طریقوں سے لوگوں کے مال کھانے کے زمرے میں شامل ہوگا۔ 
۲۔ آخر اس بات کی کیا شرعی و عقلی دلیل ہے کہ ایک ایجنٹ (بینک یا حکومت) کو تخلیق زر کی کھلی اجارہ داری دے دی جائے اور وہ محض زر تخلیق کرکے رقم بناتا پھرے (۲۳) ؟ ظاہر ہے بینک جو زر تخلیق کرتا ہے ایک طرف وہ اسے قرض پر دیکر نفع کماتا ہے تو دوسری طرف ان (جعلی ) قرضوں کو بطور اثاثہ بنا کر ان کا مالک بن بیٹھتا ہے۔ اگر ایسا کرنا ٹھیک ہے تو سب لوگوں کو اس چیز کی قانونی اجازت ملنی چاہئے کہ وہ اپنے اپنے نوٹ چھاپ کر (یا سرکاری نوٹوں کی فوٹو کاپیاں بنا کر) استعمال کریں۔ 

۳.۲: دفاع بینکاری کے لایعنی عذر 

جب بینکنگ کے درست تصور کی حقیقت واضح کردی جائے تو مجوزین بے سروپا تاویلوں اور عذروں کی بنیاد پر اسکا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن میں چند ایک کا ذیل میں مختصر تجزیہ کیا جاتا ہے۔ 
  • تمام لوگ کبھی بینک سے اصل زر نکلوانے نہیں آتے، لہذا بینکنگ درست ہوئی: اس عذر کا اصل بحث سے کچھ لینا دینا ہی نہیں، دھوکہ آخر دھوکہ ہے چاہے کوئی اس کی شکایت کرے یا نہ کرے۔ اگر کوئی شخص مہارت کے ساتھ لوگوں کی جیب کاٹتا رہے اور کسی کو معلوم نہ ہو نیز کوئی اسکے خلاف مقدمہ بھی درج نہ کرائے تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ اس طرح چوری کرنا درست عمل ہے؟ 
  • بینک یہ سب حکومت کی اجازت سے کرتا ہے: یہ عذر بھی غیر متعلق ہے کیونکہ حکومت کا کسی فعل کو جائز کہہ دینا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ شرعاً بھی جائز ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو یورپ میں شراب کی خرید وفروخت اور زنا حکومت اور قانون کی اجازت سے کیے جاتے ہے تو کیا یہ سب بھی جائز ہونگے؟ اسی طرح مسلم ممالک میں سود ی لین دین بھی حکومت کی اجازت ہی سے ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ حکومت کو شریعت کی پابند ی کرنا ہے نہ کہ شرع کو حکومت کی 
  • سو فیصد reserve  بینکنگ کے ساتھ بینکاری جائز ہوگی (۲۴): یہ کہنے والے حضرات درحقیقت بینکاری کو سمجھے نہیں، اوپر یہ واضح کیا گیا کہ جب تک اکانومی میں ایک ایسا ایجنٹ موجود رہتا ہے جو بیک وقت رقوم وصول کرنے اور قرض دینے کا کام کرتا ہے اس وقت تک فرضی زر کی تخلیق کا عمل جاری رہے گا۔ یہ عمل صرف اس وقت ختم ہوگا جب اصل زر کے علاوہ اور کوئی شے بطور آلہ مبادلہ استعمال نہ کی جائے۔ ظاہر ہے اگر بینک سو فیصد reserve بینکنگ کے اصول پر کام کرنے لگیں تو وہ سرے سے بینک رہیں گے ہی نہیں کیونکہ اس صورت میں انکی قرض دینے کی صلاحیت سلب ہوجائے گی۔ پھر فرض کریں اگر اس اصول کے مطابق بینکاری کی بھی جانے لگے تو یقین مانئے صفحہ ہستی سے ختم ہونے والا سب سے پہلا کاروبار بینکاری ہی ہوگا کیونکہ اس صورت میں یہ ہرگز بھی نفع بخش نہ رہے گا۔ بینکوں کی آسمان سے باتیں کرتی عمارتیں، خوبصورت فرنیچر، ان کے ملازمین کی لاکھوں روپے کی تنخواہیں وغیرہ درحقیقت وہ ثمرات ہیں جن کا حصول سو فیصد reserve بینکنگ میں ممکن نہیں رہتا۔ آخری بات یہ کہ فی الوقت دنیا میں اس اصول کے مطابق بینکاری (بشمول اسلامی بینکاری) کی ہی کہاں جارہی ہے کہ ہم اس فرضی اور غیر موجود امکان کو بنیاد بنا کر حاضر و موجود کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کریں؟ 
  • بینک زر کا استعمال عموم بلویٰ کی بنا پر ناگزیر ضرورت بن چکا ہے:  مجوزین کا یہ ایک عمومی حربہ ہے کہ اولاً وہ اپنے حق میں اصولی جواز اور دلائل پیش کرتے ہیں مگر جب ان کے تمام دلائل کو علمی طور پر رد کردیا جائے تو پھر ’ضرورت کی دہائی‘ دینا شروع کردیتے ہیں۔ اسلامی بینکاری کے حق میں نظریہ ضرورت کا تجزیہ راقم نے اپنے مضمون ’سودی بینکاری کے فلسفہ متبادل کا جائزہ‘ میں تفصیل سے پیش کیا ہے، قارئین اسے وہاں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ فرض کریں یہ مان لیا کہ بینک زر ایک ایسی برائی ہے جو عام ہوچکی ہے، مگر اس کے بعد سوال یہ ہے کہ اسلامی بینکاری کے نام پر برائی کے فروغ میں حصے دار بن جانا کہاں کی عقل مندی ہے؟ درحقیقت ضرورت کے تحت حرام کو حلال کرنے کا مقصد ایسے ماحول کو ختم کردینا ہوتا ہے جو حرام کو ضرورت بناتا ہے نہ یہ کہ اس ماحول کو ہمیشہ کیلئے قائم و دائم رکھنا۔ دوسری بات یہ کہ کسی حرام فعل کا عام ہوجانا اسکے حلال ہوجانے کی دلیل نہیں بن جاتی۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر سب سے پہلے تو سود ہی کو حلال ہوجانا چاہئے کہ موجودہ دور میں اس سے زیادہ عام اور کوئی دوسری وبا نہیں 
  • جزوی اصلاح کی کوشش میں خرابی کیا ہے؟  درج بالا بحث کے بعد اسلامی بینکاری کے حق میں ایک عذر یہ بھی پیش کردیا جاتا ہے کہ اس میں شک نہیں کہ موجودہ نظام باطل مگر غالب نظام ہے، نیز فی الحال ہمارے پاس اتنی قوت نہیں کہ ہم اسے تہس نہس کرسکیں۔ لہذا اگر پورے شر سے بچنے کیلئے موجود نظام کی جتنی اصلاح فی الحال ممکن ہو وہ کرلی جائے تو اس میں کیا خرابی ہے؟ ظاہر ہے بڑے شر کے مقابلے میں چھوٹے شر کو اپنانا شرع کا بھی حکم ہے اور عقل کا تقاضا بھی۔ اصولی طور پر یہ دعوی درست ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اس حکمت عملی کے تحت جس شے کو اپنایا جارہا ہے اسے ’شر‘ سمجھ کر احساس گناہ کے ساتھ ہی اختیار کیا جائے، اس پر ’اسلامی‘ کا لیبل چسپاں کرکے نہ تو اسلام کو بدنام کیا جائے اور نہ ہی آنے والی نسلوں کو ’شر‘ پر راضی رہنے کا جواز فراہم کیا جائے۔ موجود نظام کی کسی ادارتی تنظیم کی اصلاح کرکے اسے اسلامی قرار دینے کے لیے دو شرائط کا پورا ہونا لازم ہے:
    (۱) تبدیلی کے بعد اس شے کا قواعد شریعہ کے مطابق ہونا ممکن ہو اور واقعتا وہ ایسی ہو بھی جائے
    (۲) تبدیلی کے بعد وہ شے مقاصد الشریعہ کے حصول کا ذریعہ بھی بن جائے 
اگر ماہرین اسلامی بینکاری یہ ثابت کردیں کہ اسلامی بینکاری ان دونوں شرائط پر پوری اترتی ہے تو فبہا، ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ مگر اصل مسئلہ یہی ہے کہ اولاً نہ تو قواعد شریعہ کے مطابق بینکاری ممکن ہے اور جو شے عملاً ’اسلامی بینکاری‘ کے نام پر موجود ہے وہ بھی قواعد شریعہ کے مطابق نہیں، دوئم موجود اسلامی بینکاری مقاصد الشریعہ کے بجائے سرمایہ دارانہ مقاصد کے حصول میں مصروف عمل ہے۔ جب اسلامی بینکاری کے معاملے میں یہ دونوں شرائط ہی مفقود ہیں تو پھر اسے ’اسلامی‘ کہنے کا جواز ہی کیا ہے؟ اگر مجوزین یہ مان لیں کہ اسلامی بینکاری اصولاً ’ناجائز بینکاری ‘ ہے تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں رہے گا کیونکہ اصل مسئلہ یہی ہے کہ ماہرین اسلامی معاشیات اسلام کے نام پر ایک غیر اسلامی شے کو کیوں فروغ دے رہے ہیں؟ بلکہ اسلامی بینکاری کو ضرورت کا شاخسانہ کہنے کا تقاضا ہی یہ ہے کہ اس کا نام اسلامی بینکاری کے بجائے ’حرام بینکاری‘ رکھا جائے تاکہ لوگ ا سے بطور ایک برائی سمجھ کر کم سے کم استفادہ کریں نیز ان میں اس سے بچنے کا جذبہ بھی بیدار ہو۔ 

۳.۳: متبادل کیا ہے؟ 

یہ سوال کہ اگر بینکاری نہ کریں تو کیا کریں، تو اسکا اصولی جواب یہ ہے کہ ہماری جدوجہد کے دو بنیادی مقاصد ہونے چاہئیں: 
  • اولاً سرمایہ داری اور اسکے تمام مظاہر اداروں (خصوصاً کارپوریشن، بینک اور اسٹاک ایکسچینج ) سے گلو خلاصی حاصل کرنا ۔
  • ثانیاً زر حقیقی (سونے چاندی) پر مبنی مالیاتی نظام کا احیا۔
ایسی ہر جدوجہد جو سرمایہ دارانہ ریاستی و ادارتی صف بندی ’کے اندر ‘ رہتے ہوئے اسلامی اصلاح کو مطمع نظر بنائے گی وہ بالآخر سرمایہ داری ہی کی تصویب کا باعث بنے گی (۲۵)۔ یہ مسئلہ کہ درج بالا مقاصد کے حصول کو ممکن بنانے والی جدوجہد کیسے مرتب کی جا سکتی ہے تو یہ الگ موضوع ہے جسکی تفصیلات بیان کرنا یہاں ممکن نہیں ، اس نوع کی جدوجہد اور اسکے خدوخال جاننے کیلئے نوٹ نمبر ۲۶ میں جن کتب کا حوالہ دیا گیا ہے انکا مطالعہ کیا جاسکتا ہے (۲۶)۔ 

نتائج 

مضمون کا اختتام ہم چند اصولی کلمات پر کرتے ہیں: 
۱۔ مجوزین جس نظریہ بینکنگ کی بنیاد پر اس کی اسلام کاری ممکن سمجھتے ہیں، وہ نظریہ ہی سرے سے غلط ہے۔ دوسرے لفظوں میں جواز اور امکان اسلامی بینکاری کی کل عمارت غلط نظریات پر قائم ہے ۔
۲۔ جس چیز کو بینکاری کہتے ہیں اسکی اسلام کاری کا کوئی امکان موجود نہیں کیونکہ بینکاری کی اسلام کاری ثابت کرنے کے لیے یہ ماننا لازم ہے کہ شرعاً قرض کو بطور آلہ مبادلہ استعمال کرنا جائز ہے، اتنا ہی نہیں بلکہ یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ شرعاً جھوٹا وعدہ کرنا اور جعلی قرض کی رسیدیں چلانا بھی جائز ہے۔ ظاہر ہے یہ تمام مفروضات باطل ہیں ۔
۳۔ شرکت و مضاربت کے اصولوں کے مطابق تمویل درست ہوسکتی ہے بشرطیکہ یہ معاہدات دو افراد کا نجی معاملہ رہیں۔ ثمن حقیقی پر مبنی مالیاتی نظام میں بینک کو شرکت و مضاربت کے اصولوں پر چلانا ممکن نہیں ۔
در حقیقت درست اسلامی تمویل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے مدارس اور اسلامی تحریکات کے تحت منظم نہ کیا جائے۔ نفع خوری کو بڑھاوا دینے کے لیے قائم کردہ نجی تمویلی نظام سرمایہ داری ہی کی تقویت کا باعث بنے گا نہ کہ احیائے اسلام کا۔ 
اگر اہل علم حضرات مضمون کے تجزئیے میں کوئی سقم اور غلطی محسوس کریں تو اسپر مطلع کرکے ہماری راہنمائی فرمائیں۔ وما علینا الا البلاغ 

ضمیمہ بابت ’اسلامی بینکاری: غلط سوال کا غلط جواب‘

اس ضمیمے میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ موجودہ بینکاری نظام fractional reserve banking کے جس اصول کے تحت چلتا ہے، وہ کیسے کام کرتا ہے۔ تفیہم مباحث کیلئے اپنی گفتگو کو ہم چند سطحوں پر تقسیم کئے دیتے ہیں۔ 

پہلی سطح

ایک ایسی اکانومی کا تصور کیجئے جہاں کسی قسم کا کوئی بینک موجود نہیں اور تخلیق زر کا واحد ذریعہ صرف حکومت کا مرکزی بینک ہے۔ فرض کریں مرکزی بینک 1000 روپے کے نوٹ چھاپ دیتا ہے (یہ نوٹ وہ کس چیز کے عوض چھاپتا ہے یہاں ہم اس بحث سے اغماز کرتے ہیں) اور حکومت یہ اعلان کردیتی ہے کہ آج کے بعد قرضوں کی ادائیگی صرف ان نوٹوں کی صورت میں ہی تسلیم کی جائے گی۔ مرکزی بینک کی بیلنس شیٹ کچھ اس طرح دکھائی دے گی: 

اس صورت حال میں چونکہ سارا کا سارا زر کرنسی کی صورت میں موجودہ ہے لہذا زر کی رسد برابر ہوگی کل کرنسی کی رسد کے، یعنی: 
زر کی رسد 236 کرنسی نوٹ 

دوسری سطح

فرض کریں کہ ایسے کمرشل ادارے یا بینک قائم ہوتے ہیں جو قرض نہیں دیتے بلکہ انکا مقصد محض لوگوں کی بچتوں وغیرہ کی حفاظت کرنا ہے ۔ بحث کو آسان کرنے کیلئے فرض کریں کہ لوگ سارے سرکاری نوٹ ان بینکوں میں جمع کرادیتے ہیں اور خرید و فروخت کیلئے بینکوں کی رسیدیں استعمال کرنے لگتے ہیں (ارتقاء بینکنگ میں صرافوں کا دوسرا دور)۔ اس مثال میں چونکہ بینکوں نے تمام ڈپازٹس اپنے پاس بطور reserves رکھے ہیں لہذا اس بینکاری نظام کو 100% reserve banking (سو فیصد reserve بینکنگ) کہتے ہیں۔ کمرشل بینکوں کی بیلنس شیٹ کچھ یوں ہوگی: 

اب چونکہ سارا کا سارا زر ڈپازٹس کی صورت میں استعمال ہورہا ہے لہذا زر کی رسد برابر ہوگی بینکوں کے کل ڈپازٹس کے، یعنی: 
زر کی رسد 236 بینک ڈپازٹس 

تیسری سطح

درج بالا دو سطحیں محض تفہیم کے لیے بیان کی گئیں تھیں کیونکہ حقیقتاً کوئی بھی بینک سو فیصد reserve بینکنگ کے اصول پر کام نہیں کرتا (اور نہ ہی کرسکتا ہے)۔ اب فرض کریں کہ بینک اپنے ڈپازٹس کا ایک حصہ (مثلاً 20% ) اپنے پاس بطور reserves رکھ کر بقیہ رقم قرض کے طور پر چلاتے ہیں۔ کیونکہ اب بینک اپنے ڈپازٹس کا محض ایک حصہ اپنے پاس رکھتے ہیں لہذا اس نظام بینکاری کو fractional reserve banking (سو فیصد سے کم reserve بینکاری) کہتے ہیں۔ بینک کل ڈپازٹس کے جتنے فیصدی حصے کو بطور reserves رکھتے ہیں اسے reserve requirement (rr) یا reserve ratio کہا جاتا ہے (ہماری مثال میں rr بیس فیصد ہے)۔ reserve ratio کتنا ہونا چاہئے اسکا فیصلہ عموماً مرکزی بینک کرتا ہے۔ ان reserves کواپنے پاس رکھنے کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگ اپنی روز مرہ ضروریات کی تکمیل کے لیے کرنسی نوٹ بینکوں سے نکلواتے رہتے ہیں (وہ اور بات ہے کہ یہ نوٹ بالآخر گھوم کر پھر بینکوں کے پاس ہی آجاتے ہیں، کسی مخصوص وقت میں کرنسی نوٹوں کا ایک محدود حصہ ہی نظام بینکاری سے باہر لوگوں کے پاس موجود ہوتا ہے)۔ بینکوں کے پاس زیادہ reserves بچ رہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کے انہیں خاطر خواہ مقدار میں قرض کے قابل بھروسہ طلب گار نہیں مل پاتے۔ الغرض اس نظام میں ڈپازٹس کے دوحصے ہوجاتے ہیں، ایک وہ جو reserves کی شکل میں رکھ لیا جاتا ہے اور دوسرا وہ جو قرض کی صورت میں دے دیا گیا۔ بینک موخر الذکر پر سود کماتا ہے جبکہ اول الذکر پر وہ کچھ نہیں کماتا۔ 
اس اصول بینکاری کو سمجھنے کے لیے فرض کریں کہ اکانومی میں بہت سے بینک ہیں اور ابتداً سو روپے کے ڈپازٹس بینک الف میں جمع کرائے گئے تھے۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ اب 1000 روپے کے ڈپازٹس کا بیس فیصد یعنی 200 روپے بطور reserves بینک الف کے پاس محفوظ ہونگے جبکہ بقیہ 800 روپے وہ زید کو قرض پر دے دیتا ہے (عملاً بینک کچھ رقم ذاتی سرمایہ کاری کیلئے بھی استعمال کرتا ہے مگر یہاں ہم اس سے سہو نظر کرتے ہیں کیونکہ اسکا تخلیق زر کے عمل سے کوئی تعلق نہیں )۔ اب بینک الف کی بیلنس شیٹ کچھ یوں ہوگی: 

بینک عموماً قرض نوٹوں وغیرہ کی صورت میں نہیں دیتے بلکہ اسکا طریقہ صرف یہ ہوتا ہے کہ زید کا ایک اکاؤنٹ کھول کر اسے چیک بک جاری کردی جاتی ہے اور یوں قوت خرید زید کو منتقل ہوجاتی ہے۔ مگر فرض کریں کہ بینک الف زید کو نوٹوں کی صورت میں قرض دیتا ہے۔ چونکہ اس سطح تک ہم نے یہ فرض کیا ہے کہ لوگ نوٹوں کے بجائے صرف بینکوں کی رسیدیں ہی بطور کرنسی استعمال کرتے ہیں تو زید یا تو اس رقم کو بینک الف میں اپنا اکاؤنٹ کھول کر جمع کروادے گا اور یا پھر کسی دوسرے بینک (مثلاً بینک ب) میں جمع کروائے گا۔ فرض کریں یہ رقم وہ بینک ب میں جمع کرواتا ہے۔ چونکہ بینک ب بھی اپنے ڈپازٹس کا محض بیس فیصد ہی اپنے پاس reserves کی صورت میں رکھتا ہے، لہٰذا وہ 800 روپے میں سے 160 روپے اپنے پاس رکھے گا جبکہ بقیہ 640 روپے بطور قرض آگے برھا دے گا۔ بینک ب کی بیلنس شیٹ کچھ اس طرح دکھائی دے گی: 

نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ اب دونوں بینکوں کے کل ڈپازٹس ملا کر 1800 روپے ہوگئے، یعنی اب زرکی کل مقدار 1800 روپے ہوگئی کیونکہ اب بینکوں کی 1800 روپے مالیت کی رسیدیں یا چیک بطور زر استعمال ہورہے ہیں۔ ظاہر ہے قرض دینے کا یہ عمل ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ اگر بینک ب نے 640 روپے کا یہ قرض ناصر کو دیا ہے تو ناصر اسے اسی بینک میں یا بینک ج میں کروادے گا۔ بینک ج بھی اس رقم 640 روپے کا بیس فیصد اپنے پاس رکھ کر بقیہ ادھار پر چلا دے گا جسکے نتیجے میں بینک ج کی بیلنس شیٹ ذیل ہوگی: 

اب مجموعی ڈپازٹس یعنی زر کی کل رسد بڑھ کر 2,440 روپے ہوگئی۔ یہ عمل بینک ج سے آگے چلتا رہے گا۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہر چکر میں قرضوں سے تخلیق ہونے والے ڈپاذٹس کم ہوتے چلے جارہے ہیں لہذا یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ عمل کسی مقا م پر جا کر ضرور ختم ہوجائے گا۔ یہ سوال کہ اس عمل کے اختتام پر کل ڈپازٹس کتنے ہوں گے تو اسے درج ذیل فارمولے سے اخذ کیا جا سکتا ہے: 
زر کی کل رسد 236 (rr/1 ) 235 اول ڈپازٹس 
ہماری مثال میں rr بیس فیصد جبکہ اول ڈپازٹس 1,000 روپے فرض کئے گئے تھے، تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ بینک 1,000 روپے کے ڈپازٹس سے مجموعی طور پر 5,000 روپے کے ڈپازٹس تخلیق کردے گا: 
زر کی کل رسد 236 (0.20/1 ) 235 1000 236 5000
ان پانچ ہزار کے ڈپازٹس میں سے ایک ہزار کی پشت پر تو مرکزی بینک کے اصل نوٹ (جنہیں اصل ڈپازٹس کہا گیا ہے) ہونگے جبکہ دیگر چار ہزار قرض کی صورت میں تخلیق ہوئے۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرلینی چاہئے کہ نئے بینک ڈپازٹس درحقیقت قرضوں سے جنم لے رہے ہیں۔ تمام بینکوں کی مجموعی بیلنس شیٹ کچھ اس طرح دکھائی دے گی: 

دھیان رہے کہ نظام بینکاری چار ہزار کے یہ قرض ان معنی میں بلا کسی عوض تخلیق کرتے ہیں کہ انہیں ادا کرنے کیلئے انکے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی بلکہ زر کی یہ مقدار محض کمپیوٹر کی یاداشت میں محفوظ ہوتی ہے۔ ڈپازٹس تخلیق کرتے وقت اصولاً بینک یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ان تمام ڈپازٹس کے مالکان جب چاہیں اپنے ڈپازٹس کو حکومتی نوٹوں میں تبدیل کرواسکتے ہیں مگر حقیقتاً یہ ایک ناممکن الوفا وعدہ ہوتا ہے۔ اگر تمام لوگ ایک ہی وقت میں بینکوں سے اپنے ڈپازٹس طلب کر لیں تو بینک دیوالیہ ہوجائیں گے کیونکہ انکے پاس ڈپازٹس کے مساوی رقم کبھی موجود ہی نہیں ہوتی۔ جب کبھی ایسے حالات پیش آئیں کہ لوگ بینکوں کے پاس موجود reserves سے زائد رقم طلب کرنے لگیں تو ایسی صورت میں بینک مصیبت سے دوچار ہو جاتے ہیں اور اس موقع پر مرکزی بینک انہیں قرض فراہم کرکے ان کے reserves میں اضافہ کر دیتا ہے (مرکزی بینک کے اس کردار کو lender of the last resort کہتے ہیں)۔ یاد رہے کہ مرکزی بینک بھی یہ قرض بلا کسی عوض تخلیق کرتا ہے۔ گویا جھوٹ اور فریب کے اس نظام کو بحران سے بچانے کے لیے ریاستی جبر بھی استعمال کیا جاتاہے۔ کھاتے داروں کی ڈپازٹس سے زیادہ رقم طلب کرنے کی وجہ سے بینکوں کے مصیبت میں پھنس جانے کی ایک مثال سن ۱۹۸۵ میں شمال مشرقی امریکی ریاستوں کے بینکوں کا دیوالہ ہوجانا تھا ۔ اسی طرح ۲۰۰۱ میں ارجنٹائن کے بینکوں کی مثال بھی موجود ہے جہاں کھاتے داروں کو اپنے ڈپازٹس سے رقم نکلوانے اور بینک کے اندر داخل ہونے سے روکنے کے لیے باقاعدہ پولیس فورس کا استعمال کیا گیا۔ بعض اوقات پورے بینکاری نظام کو دیوالیہ پن سے بچانے کے لیے کسی ایک بینک کو بند کرکے اس کی قربانی دے دی جاتی ہے۔ اسی طرح ماضی قریب میں پاکستان میں جب بینک الفلاح سے متعلق افواہیں اڑنے لگیں تو لوگ بڑی تعداد میں اپنے ڈپازٹس بینک سے نکلوانے لگے اور بینک کی مالی ساخت بری طرح متاثر ہونے لگی ۔ اس موقع پر عوام میں بینک کی ساخت بحال کرنے کیلئے حکومت و مرکزی بینک کو مداخلت کرنا پڑی اور اعداد وشمار کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ بینک الفلاح ایک نہایت مضبوط اور قابل اعتبار بینک ہے۔ الغرض بینکاری کا جو نظام بظاہر نہایت ہموار اور محفوظ طرز پر چلتا دکھائی دیتا ہے، اس کی وجہ اس کی پشت پر ریاستی جبر وذرائع کا موجود ہونا ہے۔ 
بینک زر کی یہ فرضی مقدار کیسے تخلیق کرتے ہیں اسکی وضاحت اصل مضمون میں کی گئی تھی کہ بینک جب کسی شخص کو قرض دیتا ہے تو وہ کسی ایک شخص کی قوت خرید کسی دوسرے فرد کو منتقل نہیں کرتا بلکہ نئے سرے سے نئی قوت خرید تخلیق کرتا ہے۔ اس بحث سے یہ سمجھنا بھی آسان ہو جاتا ہے کہ آخر بینک کرنسی (cash) کے بجائے اپنے کارڈز (ATM, Debit and Credit cards) کو فروغ دینے کی کوشش کیوں کرتے ہیں۔ بینکار (ابتداً صراف) خوب جانتے تھے (اور جانتے ہیں) کہ وہ عوام الناس کو محض دھوکہ دے کر جھوٹے وعدے کررہے ہیں لہٰذا وہ شعوری طور پر اس چیز کی کوشش کرتے کہ لوگ کرنسی (سونے چاندی یا نوٹوں) کے بجائے بینک کی رسیدیں و چیک بطور آلہ مبادلہ استعمال کریں اور لوگوں کی ترجیحات میں یہ تبدیلی لانے کے لیے کئی مارکیٹنگ ہتھکنڈے بطور ہتھیار استعمال کیے گئے (اور کیے جاتے ہیں)، مثلاً: 
  • لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے بینکوں کی برانچیں شہر کے اہم مقامات پر کھولی جاتیں اور ان برانچوں کو خوبصورت بنانے کے لیے ہر قسم کے سامان تعیش سے مزین کیا جاتا ۔
  • مختلف حیلوں بہانوں سے لوگوں کو یہ باور کرایا جاتا کہ سونے اور نوٹ وغیرہ استعمال کرنا ٹھیک نہیں (مثلاً انہیں استعمال کرنا محفوظ نہیں وغیرہ)۔
  • اشتہار ات کے ذریعے لوگوں کو بینکوں کے فراہم کردہ کرنسی کے متبادل ذرائع (مثلاً کارڈز اور ٹریولرز چیک وغیرہ) استعمال کرنے کی ترغیب دینا۔
  • ہر بڑے شاپنگ سینٹر وغیرہ پر کرنسی کی جگہ بذریعہ بینک کارڈز خریداری کی سہولت فراہم کرنا (یورپ وغیرہ میں اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ اگر آپ کے پاس بینک کارڈ کے بجائے سرکاری نوٹ ہیں تو آپ کے لیے خریداری کرنا مشکل ہوجائے گی کیونکہ ہر بڑا دوکاندار اور شاپنگ سینٹر کیش کے بجائے کارڈ کی صورت میں ادائیگی کوترجیح دیتا ہے) ۔
  • حکومتی مدد سے بہت سی خریدوفروخت اور ادائیگیوں کیلئے کرنسی کے بجائے بینک زر کو قانوناً لازم قرار دینا ۔
ان سب کا مقصد صرف یہ ہے کہ جھوٹ اور دھوکے پر مبنی بینکاری نظام کو محفوظ طریقے سے قابل عمل رکھا جاسکے اور بینکوں کو کم از کم رقم اپنے پاس بطور reserves رکھنا پڑے کیونکہ اوپر دئیے گئے فارمولے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ reserve ratio (rr) جتنا زیادہ ہوگا بینکوں کی قرض دینے کی صلاحیت اتنی ہی کم ہوگی۔ اگر reserve ratio صفر کردیا جائے تو بینک لامحدود قرض دینے کی صلاحیت حاصل کرلیں گے، یعنی لوگ جس قدر قرض چاہیں بینک سے حاصل کرکے ادائیگیوں کیلئے استعمال کرسکیں گے اور بینک ان کی یہ طلب پوری کرنے کا مکلف ہو گا (معاشیات کے Post Keynasian فرقے خصوصاً Kaldor  وغیرہ کے پیروکار اسی نقطہ نظر کے حامی ہیں کہ بینک جتنی قوت خرید چاہے پیدا کرسکتا ہے، مرکزی بینک کا کام ایسی زری پالیسی بنانا ہوتا ہے جو زر کی کسی بھی مخصوص طلب کے جواب میں تخلیق کئے گئے زر کو regulate سکے)۔ درحقیقت Electronic money کا استعمال جس رفتار سے بڑھے گا بینکوں کی لامحدود قرض دینے کی صلاحیت میں بھی اسی رفتار سے اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور یہی وجہ ہے کہ بینک ہمیشہ electronic money کے استعمال اوراسکے فروغ کو ترویج دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

چوتھی سطح

اس تجزئیے کی چوتھی سطح یہ ہوگی کہ ہم یہ فرض کریں کہ لوگ بینک ڈپازٹس کے علاوہ سرکاری نوٹ بھی بطور آلہ مبادلہ استعمال کرتے ہیں۔ اس صورت میں درج بالا فارمولا ذرا پیچیدہ ہوجائے گا جس کی تفصیلات بیان کرنا یہاں ایک تو نہایت مشکل امر ہے، نیز اس بحث سے درج بالا نتیجے (کہ بینک فرضی زر تخلیق کرتا ہے) میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی (سوائے اس سے کہ بینک کی اس صلاحیت میں ذرا کمی آجاتی ہے)۔ لہٰذا ہم اس بحث سے صرف نظر کرتے ہیں، شوقین حضرات اسکی تفصیلات macroeconomics کی درسی کتب میں ملاحظہ کرسکتے ہیں (مثلاً دیکھئے Abel and Barnanke کی کتاب Macroeconomics )۔ 
اس بحث سے درج ذیل باتیں واضح ہوئیں: 
۱۔ بینک قرض بچتوں سے نہیں دیتے، یعنی بینک ہرگز ایک زری ثالث نہیں ہوتا ۔
۲۔ بینک ’قرضے ڈپازٹس کا باعث بنتے ہیں‘ کے اصول پر کام کرتا ہے۔
۳۔ بینک کے قرض کبھی بھی بچتوں کے برابر نہیں ہوسکتے۔
۴۔ بینک جو زر تخلیق کرتا ہے، وہ قرض کی صورت میں (یعنی debt money) ہوتا ہے ۔
۵۔ نظام بینکاری مالیاتی و زری نظام کو قرض پر مبنی زر پر منتج کرتا ہے ۔
۶۔ چونکہ مرکزی اور کمرشل بینک یہ قرض سود پر دیتے ہیں، لہٰذا بینک سود کو بذریعہ debt money پورے معاشروں پر غالب کردیتے ہیں۔ (انہی معنی میں آج ہر وہ شخص جو ریاستی نوٹ اور بینک کے چیک استعمال کرتا ہے درحقیقت سود کھا رہا ہے ) ۔
۷۔ بینکنگ فی الحقیقت جھوٹ، فریب اور چال بازی پر مبنی ہے ۔
۸۔ بینک کی اصل آمدن کا ذریعہ یہی جھوٹ اور فریب پر مبنی وعدے ہوتے ہیں ۔
۹۔ مرکزی بینک کے بغیر بینکاری کا یہ نظام محفوظ طریقے سے چلنا نہایت مشکل امر ہے ۔
بینک سرکاری نوٹوں کے مقابلے میں کس قدر زیادہ زر جاری کرتے ہیں اسے سمجھنے کیلئے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جون ۲۰۰۸ کے یہ اعداد و شمار ہی کافی ہیں: 

اس کا مطلب یہ ہوا کہ کمرشل بینکوں نے مرکزی بینک کے ہر ایک نوٹ کے بدلے تقریباً پونے پانچ روپے تک ڈپازٹس جاری کردیے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اکانومی میں کل زر کا صرف بیس فیصد نوٹوں کی شکل میں جبکہ بقیہ قرض پر مبنی جاری کردہ رسیدوں (ڈپازٹس ) کی صورت میں موجودہ ہے (یہاں بینکوں کا اپنے کھاتے داروں سے یہ وعدہ بھی یاد رہے کہ وہ جب چاہیں اپنے ڈپازٹس کو نوٹوں میں تبدیل کرواسکتے ہیں)۔ پاکستان کے مقابلے میں دیگر ترقی یافتہ ممالک جہاں زر کی مارکیٹیں بھی بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں وہاں یہ تناسب اس سے بھی زیادہ ہے (مثلاً برطانیہ میں یہ تناسب نوے فیصد سے بھی زیادہ ہے)۔ ان اعداد وشمار سے دوسری بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ کل زر کا بڑا حصہ کمرشل بینک جاری کرتے ہیں نہ کہ مرکزی بینک (جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے)۔ 

حواشی 

۲۱۔ جو لوگ نظام بینکاری کی حقیقت اور وہ معاشی ماحول جس میں یہ کام کرتا ہے اسے درست طریقے سے سمجھنے سے قاصر رہے وہ اسلامی تاریخ میں بینک تلاش کرنے کی غلط فہمی کا شکار ہوگئے۔ مجوزین میں سے بعض کا یہ دعوی ہے کہ بینکاری کی ابتدا امام ابوحنیفہؒ سے ہوئی جن کے پاس لوگ اپنی امانتیں رکھواتے اور وہ انہیں کاروبار کیلئے آگے قرض وغیرہ پر دے دیا کرتے۔ فرض کریں مجوزین کا یہ دعوی تاریخی طور پر درست ہے کہ امام صاحب ایسا کیا کرتے تھے، مگر سوال تو یہ ہے کہ اس سارے عمل سے بینک کی صورت کہاں پیدا ہوئی؟ بینکنگ کی صورت حال تب پیدا ہوتی ہے جب قرض نجی معاملے سے آگے بڑھ کر آلہ مبادلہ کی حیثیت اختیار کرلیتا۔ کیا امام صاحب (۱) پھر انہی مقروض لوگوں سے دوبارہ امانتیں (deposits) وصول کرکے اپنے فنڈ میں جمع کرلیا کرتے تھے جنہیں وہ قرض دیا کرتے تھے؟ اور (۲) اپنے قرض خواہوں اور مقروضوں کو اصل زر کے بجائے قرض کی رسیدیں بطور آلہ مبادلہ استعمال کیلئے جاری کیا کرتے تھے؟ اگر کوئی یہ کہے کہ امام صاحبؒ ایسا کرتے تھے تو وہ ان کی ذات پر بہت بڑا بہتان باندھے گا ۔ درحقیقت امام صاحبؒ کے طرز عمل کو وہی شخص بینکنگ کہہ سکتا ہے جو نیوکلاسیکل نظریہ بینکاری کو درست سمجھنے کی غلط فہمی کا شکار ہو ۔
۲۲۔ غریب طبقے پر زیادہ اثرات اس لیے پڑتے ہیں کہ اسے اضافی (relative) اعتبار سے قوت خرید میں زیادہ کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
۲۳۔ یعنی ایک مزدور دن رات محنت کرکے اپنی روزی کمائے، کارخانے دار اپنے سرمائے کو کاروبار میں لگا کر آمدن کمائے مگر بینک محض زر تخلیق کرکے مزے کرتا پھرے؟ 
۲۴۔ Reserve سے مراد کل ڈپازٹس کا وہ حصہ ہے جسے بینک کرنسی (Cash) کی شکل میں اپنے اور مرکزی بینک کے پاس جمع رکھتے ہیں۔ سو فیصد reserve banking کامطلب ایسی بینکاری ہے جہاں بینک کل ڈپازٹس کے برابر (یعنی ڈپازٹس کا سو فیصد) reserve کی شکل میں اپنے پاس محفوظ رکھیں اور کسی قسم کا قرضہ جاری نہ کریں 
۲۵۔ یہ بات درست ہے کہ موجودہ حالات میں علماء خود کو اس امر پر مجبور پاتے ہیں کہ وہ لوگوں کو ’قابل عمل فتوے‘ دیں کیونکہ لوگ ان سے اسی مقصد کیلئے سوال کرتے اور اپنے مسائل کے حل کیلئے رجوع کرتے ہیں۔ مگر سرمایہ دارانہ نظام کا مسلط کردہ یہ ’دائرہ جبر‘ تب ہی تو کم ہوگا جب علماء اس نظام سے باہر ’دائرہ اختیار‘ قائم کرنے اور اسے بڑھانے کی کوئی جدوجہد کریں گے۔ ہمیشہ ایسے فتوے دینے کی حکمت عملی پر کاربند رہنا جس کا مقصد لوگوں کے لیے خود کو موجود نظام کے اندر سمونا ممکن بنانا ہو (how to fit in the given environment) درحقیقت دائرہ جبر کو مزید بڑھانے کی حکمت عملی ہے۔ اسلامی بینکاری نہ صرف اس دائرہ جبر کو بڑھا رہی ہے بلکہ اس کے جبر ہونے کا احساس بھی دلوں سے نکال رہی ہے ۔
۲۶۔ سرمایہ دارانہ نظام کیا ہے اور اس کا مکمل انہدام کیوں ضروری ہے، اس کے لیے دیکھئے : 
  • ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری، ’Rejecting Freedom and Progress‘، جریدہ ۲۹، کراچی یونیورسٹی 
  • ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری، ’عالم اسلام اور مغرب کی کشمکش‘، کتاب ’سرمایہ دارانہ نظام ایک تنقیدی جائزہ‘ (ص: ۱۹۲-۲۴۵) 

سرمایہ دارانہ معاشی و ریاستی صف بندی کی حقیقت جاننے کے لیے دیکھئے : 

  • ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری، ’سرمایہ دارانہ معیشت‘، کتاب ’سرمایہ دارانہ نظام ایک تنقیدی جائزہ‘ (ص: ۱۱۰-۱۲۱) 
  •  ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری، ’لبرل سرمایہ دارانہ ریاست‘، کتاب ’سرمایہ دارانہ نظام ایک تنقیدی جائزہ‘ (ص: ۱۶۰-۱۸۲) 
سرمایہ داری کے خلاف اسلامی انقلابی جدوجہد کے خدو خال کیا ہوسکتے ہیں اس کے لئے دیکھئے : 
  • ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری، ’جماعت اسلامی کی انقلابی جدوجہد برائے ۲۰۰۸-۲۰۱۳‘، کتاب ’جمہوریت یا اسلام‘ (ص: ۲۶۳-۲۷۸) 
بینکاری کا متبادل کیا ہوسکتا ہے، نیز زر اصلی کی طرف کیسے لوٹا جاسکتا ہے، اس کے لیے دیکھئے : 
  • یونس قادری، ’کھاتے دار تمویلی ادارے: ایک متبادل‘، جریدہ ۳۷، کراچی یونیورسٹی پریس 
  • یونس قادری ،’Can we create our own Currency?‘، Pakistan Business Review Vol 11 (1) 
  • Tarek Al Dewani، History of Banking: An Analysis، www.islamic-finance.com 
  • Tarek Al Dewani، The Problem with Interest ، Polity Press

مکاتیب

ادارہ

(۱)
ڈیئر عمار خان ناصر صاحب
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ خداوند تعالیٰ آپ کا حامی وناصر ہو۔
عرض یہ ہے کہ پڑھنے کے لیے اتنا کچھ سامنے پڑا ہوتا ہے کہ زندگی اور اس کے تمام لمحات انتہائی قلیل دکھائی دیتے ہیں۔ مجبوراً انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ روایتی مذہبی میگزین یا رسالوں کے لیے تو کوئی گنجائش نہیں نکلتی، لیکن آپ کا ’الشریعہ‘ جب ہاتھوں میں آتا ہے تو نہ نہ کرتے ہوئے بھی محض ورق گردانی کے دوران اس کے بیشتر حصے پڑھتا چلا جاتا ہوں۔ یہ آپ کے میگزین کی خوبی یا دلچسپی ہے کہ چھٹتی نہیںیہ کافر منہ کو لگی ہوئی۔ آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ ہر ماہ مجھے یہ دارو فی سبیل اللہ ارسال فرما دیتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ میں آپ ہی کا نہیں، آپ کے باپ دادا کا بھی قدیمی ماننے والاہوں۔ ویسے آپ کے والد محترم بڑے خطرناک آدمی ہیں۔ ہم نئی نسل کو جس مذہبیت سے بچانے کے لیے کوشاں ہیں، روایتی علماء دین ہمارے کام کو جس قد سہل بناتے ہیں، آپ کے والد محترم عصری تقاضوں سے آگہی اورشعوری ہتھیاروں کی کارفرمائی سے اسے اتنا ہی مشکل بنا دیتے ہیں۔ بہرحال ناچیز ان کے انسانی جذبے کو سلام پیش کرتا ہے۔
محترم عمار صاحب! آج مجھے آپ سے بات کرنے کے لیے کاغذ قلم کا سہارا س لیے لینا پڑا ہے کہ مجھے آپ کے حالیہ شمارے کے دو مضامین بہت پسند آئے ہیں۔ ایک ’’موجودہ عیسائیت کی تشکیل تاریخی حقائق کی روشنی میں‘‘ اور دوسرا ’’خواجہ حسن نظامی کی خاکہ نگاری‘‘ جس کے لیے ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہان پوری کے ساتھ پروفیسر میاں انعام الرحمن بھی لائق تحسین ہیں۔ عمران چوہان صاحب نے ڈین براؤن کے ناول ’’دا ڈاونچی کوڈ‘‘ کے جس حصے کا انتخاب کیا ہے، یہ یقیناًخوب صورت کاوش ہے۔ اس اتنی بڑی کاوش یا جسارت پر میں جناب کی خدمت میں ایک سوال رکھنا چاہتا ہوں کہ جسے اپنے نظریے اور شعورکی سچائی پر کامل اعتماد یا ایقان ہوتا ہے، کیا اسے شدید ترین تنقید یا اعتراضات کی بوچھاڑ سے گھبرانا چاہیے؟ ’’دا ڈانچی کوڈ‘‘ لکھنے پر جناب ڈین براؤن کی حقیقت بیانی وحقیقت نگاری ہی ہمارے سامنے نہیں آتی ہے، بلکہ مغربی تہذیب ومعاشرت کی عظمت اور مسیحیت کے جذبہ برداشت کو بھی داد دینی پڑتی ہے۔ مغرب میں حریت فکر اور آزادئ اظہار رائے کو سامنے رکھ کر جب میں اپنی سوسائٹی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے یہ بونوں کی سوسائٹی دکھائی دیتی ہے۔ 
آپ کی خدمت میں میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہماری مسلم سوسائٹی اپنے کسی ڈین براؤن کو ’’دا ڈاونچی کوڈ‘‘ لکھنے کی اجازت دے سکتی ہے؟ مجھے معلوم ہے آپ کا فوری جواب یہ ہوگا کہ ہمارے ہاں تو کوئی ’’قسطنطین‘‘ ہوا ہی نہیں۔ ہماری تو ہر چیز ’’لاریب‘‘ ہے۔ جب ہم راسخ العقیدہ مسیحیوں کو ملتے ہیں تو ان کے احساسات یا تعصبات بھی اسی نوع کے ہوتے ہیں۔ آخر دنیا میں کون سا ایسا مذہبی شخص ہے جس کو اپنے مذہب سے پیار نہ ہو اور جسے اپنے عقیدے کی سچائی پر ایمان کامل نہ ہو؟ بحیثیت مسلمان میں بھی یہی کہوں گا کہ میرا مذہب کائنات کا سب سے پکا سچا دین ہے اور یہ آخری دین ہے۔ گزارش صرف یہ ہے کہ اگر ہمارا ایمان واعتماد اتنا پختہ ہے تو پھر ذرا ذرا سی بات پر آگ بگولا کیوں ہو جاتے ہیں؟ مغرب میں سیدنا مسیح (Jesus) کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا، لکھا اور دکھایا جا رہا؟ آفرین ہے اس سوسائٹی پر کہ وہ تو اس پر کہیں آپے سے باہر نہیں ہو رہی۔ شعور انسانی کی عظمت پر اس قدر مطمئن ہے کہ ہر منطقی وغیر منطقی سوال یا استدلال کو خندہ پیشانی سے قبول کرتی ہے اور ہم ہیں کہ محض عقیدے کی بنیاد پر دنیا کو آگ لگا کربھسم کر دینا چاہتے ہیں۔ کوئی ہمارے عقیدے میں آئے تو مولفۃ القلوب کا حق دار ٹھہرے اور واپس جائے تو گردن زدنی قرار پائے! اس پر ابدی دعویٰ یہ ہے کہ دنیا میں ہم سے زیادہ عادل وروادار کوئی پیدا نہیں ہوا۔
اگر آج ہمارے درمیان کوئی سرپھرا یہ جائزہ لینا چاہے کہ پیغمبر اسلام اور قرآن نے جو کچھ چودہ سو سال پہلے پیش فرمایا، اس کی تمام تر جڑیں اس دور کے عرب کلچر اورعرب سوسائٹی سے پھوٹتی ہیں، کوئی ایک چیز بھی زمان ومکان سے ہٹ کر نہیں ہے تو کیا میں اور آپ ایسے شخص کو اس نوع کے جائزے لینے اور ان کی تفصیلات پیش کرنے کی اجازت دیں گے؟ نوم چومسکی کو ہمارے یہاں بڑا ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ اصل ہیرو وہ مغربی سوسائٹی اور اس کے خواص وعوام ہیں جہاں چومسکی دھڑلے سے وہ سب کچھ کہہ رہا ہے اور کوئی اس کی طرف غلط نظر ڈالنا بھی جائز نہیں سمجھتا۔ کیا کوئی مسلم سوسائٹی اپنے درمیان کسی نوم چومسکی یا ڈین براؤن کو قبول اور برداشت کرنے کے لیے تیار ہے؟ مجھے، آپ کو اور ہماری قوم کو آج یہی سوال درپیش ہے کہ ہم اپنی مسلم سوسائٹی کی شعوری سطح اتنی بلند کیسے اور کب کر پائیں گے؟
آج پوری دنیا ہم مسلمانوں سے اور ہمارے عقیدے سے خوف زدہ ہے۔ پوری دنیا کو ہم نے آگے لگایا ہوا ہے، لیکن دعویٰ یہ ہے کہ ہم توپیدا ہی انسانوں سے محبت کی خاطر ہوئے ہیں۔ میں اس وقت پوری دنیا میں بدمعاشی، قتل وغارت گری اور دہشت گردی کے پیچھے اپنی اس عدم برداشت اور رواداری کے فقدان کو دیکھ رہا ہوں۔ جس روز فکری آزادی کو ہم نے انسانیت کی مسلمہ مثبت واعلیٰ قدر کی حیثیت سے مان لیا، اس روز دنیا میں قیام امن کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
افضال ریحان
۴۱۔ جیل روڈ، لاہور
(۲)
محترم المقام جناب حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! مزاج گرامی بخیر 
ماہنامہ الشریعہ کا گذشتہ پانچ سال سے باقاعدہ قاری ہوں۔آپ نے آزادانہ علمی بحث کے ذریعے مسائل کو سمجھنے کا بہترین طریقہ اختیار فرمایا ہے جو انتہائی قابل قدر ہے اور اس سے ایک دوسرے کو سمجھنے سمجھانے کا بہت اچھا فائدہ حاصل ہوا ہے۔ ماہنامہ الشریعہ کا نومبر، دسمبر ۲۰۹ء کا مشترکہ شمارہ میرے سامنے ہے۔ مکاتیب کے عنوان تلے صفحہ۱۱۵ پر برادر مکرم جناب عمار خان ناصرزید مجدہم کے نام کامرہ کلاں ضلع اٹک سے سید مہر حسین بخاری صاحب کا ایک خط شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’’میں شیعہ کے کفر کا قائل نہیں جیسے صوفی عبد الحمید سواتی ؒ قائل نہ تھے‘‘۔ حضرت صوفی عبد الحمید سواتیؒ شیعہ کے علی الاطلاق کفر پر تحفظات رکھتے تھے، لیکن شیعہ اثنا عشریہ کے متعلق ان کا وہی عقیدہ تھا جو حضرت صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے استاذ امام اہل سنت حضرت مولانا علامہ عبد الشکور لکھنوی فاروقیؒ کا تھا۔ بخاری صاحب اگلی لائن میں لکھتے ہیں کہ حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب شیعہ کو زیادہ سے زیادہ بدعتی کہتے ہیں، کافر نہیں کہتے حالانکہ رابطۃ العالم الاسلامی کے ایک اجلاس میں مفتی محمد تقی عثمانی زید مجدہم نے شیعہ نمائندہ کے ساتھ بیٹھنے سے انکار اور خمینی کے کفر کا اظہار بھی کیا تھا۔ میری معلومات کے مطابق شیخ حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کے تحفظات بھی علی الاطلاق کفر پر ہیں، شیعہ اثنا عشریہ کو وہ بھی کافر سمجھتے ہیں۔میں نہیں سمجھتا کہ وہ اپنے والد گرامی قدر مفتی اعظم حضرت مفتی محمد شفیعؒ کے اس فتویٰ سے جو فتاویٰ دارالعلوم دیوبند کی جلد نمبر۲صفحہ نمبر ۵۰۶ پر درج ہے، روگردانی کریں گے۔
اگلے پیرے میں سید مہر حسین بخاری صاحب لکھتے ہیں کہ’’ اگرچہ بعض کتب شیعہ میں تحریف قرآن کی روایات پائی جاتی ہیں لیکن شیعہ اپنی عقائد کی کتابوں میں تحریف کے قائل نہیں‘‘۔ دلیل دیتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ’’ جیساکہ قرآن مجید کی متعدد تفاسیر شیعہ علماء نے لکھی ہیں‘‘۔
جناب والا!یہی وہ الفاظ ہیں جو آپ کو خط لکھنے کا سبب بنے ہیں۔ ایک سنی مسلمان ہونے کے ناتے اپنے مذہب کا دفاع ضروری سمجھتا ہوں اور آپ کے مؤقر جریدہ کے ذریعے سید مہر حسین بخاری صاحب کی یہ غلط فہمی دور کرنا چاہتا ہوں کہ’’ شیعہ عقائد کی کتابوں میں تحریف کے قائل نہیں‘‘۔ یہ محض جھوٹ اور دھوکہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ شیعہ اثنا عشریہ کی بنیادی اور مسلمہ کتابوں کے مطالعہ سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اثنا عشریہ کا عقیدہ یہ ہے کہ موجودہ قرآن محرف ہے، اس میں اسی طرح تحریف ہوئی ہے جیسی اگلی آسمانی کتابوں تورات، انجیل وغیرہ میں ہوئی تھی، وہ بعینہ وہ کتاب اللہ نہیں ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت جبرئیل امین کے واسطے سے نازل فرمائی گئی تھی۔اثناعشریہ کی حدیث کی ان کتابوں میں جن میں ائمہ معصومین کی روایات جمع کی گئی ہیں اور جن پر شیعہ مذہب کا دارومدار ہے، خود ان کے اکابرین، محدثین ومجتہدین کے بیانات کے مطابق دوہزار سے زیادہ ائمہ معصومین کی وہ روایات ہیں جن سے قرآن کا محرف ہونا ثابت ہوتا ہے اور ان کے ان علماء ومجتہدین نے جو اثنا عشری مذہب میں سند کا درجہ رکھتے ہیں، اپنی کتابوں میں اعتراف کیا ہے کہ یہ روایات متواتر ہیں اورتحریف قرآن پر ان کی دلالت صاف اور صریح ہے جس میں کوئی ابہام واشتباہ نہیں ہے اور یہ کہ یہی ہمارا عقیدہ ہے اور تیسری صدی ہجری کے آخر بلکہ چوتھی صدی ہجری کے قریباً نصف تک پوری شیعہ دنیا کا یہی عقیدہ رہا۔ اس صدی کے قریباً وسط میں سب سے پہلے صدوق ابن بابویہ قمی (متوفی ۳۸۱ھ) نے اور اس کے بعد پانچویں صدی ہجری میں شریف مرتضیٰ (متوفی ۴۳۶ھ) اور شیخ ابو جعفر طوسی(متوفی ۴۶۰ھ) نے اور چھٹی صدی ہجری میں علامہ طبرسی مصنف ’’تفسیر مجمع البیان‘‘ (متوفی ۵۴۸ھ) نے اپنا یہ عقیدہ ظاہر کیا ہے کہ وہ قرآن کو عام مسلمانوں کی طرح محفوظ اور غیر محرف مانتے ہیں، لیکن شیعہ نے ان کی اس بات کو قبول نہیں کیابلکہ ائمہ معصومین کی متواتر اور صریح روایات کے خلاف ہونے کی وجہ سے رد کردیا۔ 
مختلف زمانوں میں شیعوں کے اکابر واعاظم علماء ومجتہدین نے قرآن کے محرف ہونے کے موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔اس سلسلے کی سب سے اہم کتاب شیعوں کے ایک بڑے مجتہد اور خاتم المحدثین علامہ حسین محمد تقی نوری طبرسی کی کتاب ہے جس کا نام ’’فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب‘‘ ہے۔ یہ عربی زبان میں باریک قلم سے لکھی ہوئی ۳۹۸ صفحات پر مشتمل کتاب ہے۔ اس کے مصنف نے یہ بات ثابت کرنے کے لیے کہ قرآن میں ہر طرح کی تحریف ہوئی ہے، دلائل کے انبار لگادیے ہیں۔اس کے علاوہ مصنف نے ان کتابوں کی طویل فہرست دی ہے جو مختلف زمانوں میں شیعہ اثنا عشریہ کے اکابر علماء ومجتہدین نے قرآن کو محرف ثابت کرنے کے لیے لکھی ہیں۔اس کتاب کا مطالعہ کرلینے کے بعد اس میں شک نہیں رہتا کہ شیعہ کا عقیدہ قرآن پاک کے بارے میں یہی ہے کہ اس میں تحریف ہوئی ہے اور ہر طرح کی تحریف ہوئی ہے۔ شیعہ کے جن علماء ومصنفین نے تحریف کے عقیدہ سے انکار کیا، اس کی سمجھ میں آنے والی کوئی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکتی کہ انہوں نے یہ انکار کچھ مصلحتوں کے تقاضے سے کیا ہے (یعنی تقیہ کیا ہے)۔ سید نعمت اللہ الجزائری جنہیں شیعی دنیا میں نہایت بلند پایہ عالم ومصنف،جلیل القدراور عظیم المرتبت محدث وفقیہ اور ملا باقر مجلسی کا خصوصی اور قابل اعتماد شاگرد مانا جاتا ہے، بڑی صفائی کے ساتھ لکھتے ہیں کہ 
’’والظاہر ان ہذا القول صدر منہم لاجل مصالح کثیرۃ .... کیف وھؤلاء رووا فی مؤلفاتھم اخباراً کثیرۃ تشتمل علیٰ تلک الامور فی القرآن وان الآیۃ ھکذ انزلت ثم غیرت الیٰ ھذا‘‘ (الانوار النعمانیہ صفحہ ۳۵۷جلد۲)
ترجمہ: ’’اور یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ ہمارے ان حضرات (شریف مرتضیٰ، صدوق،شیخ طبرسی)نے یہ بات بہت سی مصلحتوں کی وجہ سے (اپنے عقیدہ اور ضمیر کے خلاف) لکھی ہے۔یہ ان کا عقیدہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ خود انہوں نے اپنی کتابوں میں بڑی تعداد میں وہ حدیثیں روایت کی ہیں جو بتلاتی ہیں کہ قرآن میں مذکورہ بالا ہر طرح کی تحریف ہوئی ہے اوریہ کہ فلاں آیت اس طرح نازل ہوئی تھی،پھر اس میںیہ تبدیلی کردی گئی۔‘‘
آخر میں ایک عبارت ایسی نقل کررہا ہوں جس سے شیعہ کے اکابر علماء ومشائخ کے تحریف قرآن کے متعلق عقیدہ کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ ملا محسن فیض کاشانی اپنی مایہ ناز تفسیر ’’تفسیر صافی‘‘ کی پہلی جلد میں مقدمہ نمبر۶ کے تحت لکھتے ہیں :
واما اعتقاد مشائخنا فی ذالک فالظاہر من ثقۃ الاسلام محمد ابن یعقوب الکلینی طاب ثراہ انہ کان یعتقد التحریف والنقصان فی القرآن وکذالک استاذہ علی ابن ابراہیم القمی فان تفسیرہ مملوء منہ ولہ غلو فیہ وکذالک شیخ احمد بن ابی طالب الطبری فانہ ایضاً نسخ علی منوالھما فی کتاب الاحتجاج (تفسیر صافی صفحہ ۳۴جلد۱مطبوعہ ایران)
ترجمہ:’’جہاں تک تحریف کے بارے میں ہمارے مشائخ کا اعتقاد ہے تو یہ بات ظاہر ہے کہ محمد بن یعقوب کلینی قرآن مجیدکی تحریف اور اس میں کمی واقع ہوے کا عقیدہ رکھتے تھے اور اسی طرح ان کے استاذ علی بن ابراہیم قمی کیونکہ ان کی تفسیر تو تحریف روایات سے بھری ہوئی ہے اور تحریف کے موضوع پر ان کے ہاں بڑی شدت ہے۔ اسی طرح احمد بن ابی طالب طبرسی بھی اپنی مشہور کتاب ’’الاحتجاج‘‘ میں انہی کے طریق پر چلے ہیں‘‘۔
اب اس عبارت کے بعد بھی کیا یہ بات باقی رہ جاتی ہے کہ شیعہ عقائد کی کتابوں میں تحریف کے قائل نہیں اور شیعہ کے اکابر واعاظم نے تحریف قرآن کے قائل ہونے سے انکار کیا ہے؟
میں طوالت کے پیش نظر یہاں ’’فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب‘‘ کی عبارتیں نقل نہیں کررہا بلکہ سید مہر حسین بخاری صاحب کی خدمت میں عرض گذار ہوں کہ وہ بنظر عمیق اس کتاب کا مطالعہ فرمالیں۔ اگر یہ نہیں کرسکتے تو کم ازکم اپنے اکابر علماء اہل سنت کی رد شیعیت پر مشتمل کتب کا مطالعہ کرلیں۔ اس حوالے سے امام اہل سنت حضرت علامہ عبد الشکور لکھنوی فاروقی ؒ کی’’ تنبیہ الحائرین‘‘، شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی ’’شیعہ سنی اختلافات اور صراط مستقیم‘‘ اور امام اہل سنت حضرت شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی کتاب ’’ارشاد الشیعہ‘‘ کا مطالعہ بہت مفید رہے گا۔ 
باقی یہ کہنا کہ تحریف قرآن کی لچر اور بیہودہ روایات تو بعض کتب اہل سنت میں بھی موجود ہیں تویہ صرف اور صرف کذب بیانی اور جہالت پر مبنی بات ہے۔ ناسخ اور منسوخ کی روایات کو تحریف قرآن کی روایات پر محمول کرنا جہالت نہیں تو اور کیا ہوسکتا ہے؟ اگر کسی مفسر یا مصنف نے ناسخ ومنسوخ یا اسی طرح قراء ات شاذہ کی روایات کو تحریف کی روایات کہا تو وہ سنی نہیں، بلکہ اس نے سنی بن کر مذہب اہل سنت کو بدنام کرنے اور بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ شیعہ کے ہاں ناسخ ومنسوخ کی روایات نہیں ہیں، جیساکہ فصل الخطاب نوری طبرسی میں لکھا ہے کہ’’ان نسخ التلاوۃ غیر واقع عندنا‘‘ (فصل الخطاب نوری طبرسی صفحہ ۱۰۶)۔
اہل سنت کی عقائد کی کتابوں میں شیعوں کو اسلامی فرقہ شمار نہیں کیا گیا۔ اگر کیا گیا ہے تو ہم اسے محدث عظیم حضرت سید انور شاہ کاشمیریؒ کی کتاب فیض الباری میں منقول اس عبارت من لم یکفرہم لم یدر عقائدہم (جن حضرات کو ان کے عقائد کا علم نہیں ہو سکا، انہوں نے ان کی تکفیر نہیں کی) پر محمول کرتے ہیں۔یہ کہنا کہ حضرت مجدد الف ثانیؒ پر خودبھی کفر کا فتویٰ لگا تھا تو وہ دوسروں کو کیسے کافر کہہ سکتے ہیں تو جناب سید مہر حسین بخاری صاحب ! اس حوالہ سے گذارش یہ ہے کہ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے ’’رد روافض‘‘ نامی ایک رسالہ تحریر فرمایا تھا جو دراصل علماء ماوراء النہرکے اس فتویٰ کی تائید میں تھا جو انھوں نے روافض کی تکفیر کے سلسلہ میں تحریر فرمایا تھا۔ اس رسالہ کی اشاعت کے بعدحضرت مجدد الف ثانیؒ پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا تھا اور یہ کفر کا فتویٰ لگانے والے شیعہ ہی تھے جو بظاہر سنی بن کر حضرت مجددصاحبؒ کی شخصیت کو مجروح کررہے تھے۔ آج تک کسی بھی ایسے شخص نے جس نے شیعہ کے کفر پر اختلاف کیا ہو، اس بات کو بطور دلیل کے پیش نہیں کیا سوائے آپ کے۔ دشمن کی اس سازش سے صرف آپ متأثر ہوئے ہیں اور اس کی وجہ ان بدطینت لوگوں کی صحبت ہے۔اللہ رب العزت ہم سب کو دین حق اسلام پر استقامت عطافرمائے اور مذہب اہل سنت والجماعت کی پیروی اور حفاظت کرنے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
محمد یونس قاسمی 
ایڈیٹر: نظام خلافت راشدہ فیصل آباد
(۳)
مولانا حافظ محمدعمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
فروری ۲۰۱۰ء کا شمارہ ملا اور ولولہ تازہ نصیب ہوا۔ ’’دینی جدوجہد کے عصری تقاضے اور مذہبی طبقات‘‘ کے حوالے سے مولانا زاہد الراشدی مدظلہ کی تحریر کافی فکر انگیز تھی۔ ’’خواجہ حسن نظامی کی خاکہ نگاری‘‘ پڑھ کر ڈاکٹر اقبال مرحوم کا ایک قول یاد آ گیا کہ ’’اگر مجھے خواجہ حسن نظامی کی سی نثر نگاری پر قدرت ہوتی تو میں شاعری کو کبھی ذریعہ اظہار نہ بناتا۔‘‘
سید مہر حسین بخاری صاحب نے ایک بار پھر ہمیں یاد فرمایا ہے۔ یہ پڑھ کر کہ وہ ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف میں مبتلا ہیں، قلبی صدمہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ انھیں جلد صحت یاب فرمائے۔ فی زمانہ علمی وتحقیقی انداز میں اپنا نقطہ نظر پیش کرنے والوں کو صدمات میں گھرا دیکھ کر دل ڈوب اور جی اوب جاتا ہے۔
بخاری صاحب نے اپنے پہلے مکتوب میں لکھا تھا کہ ’’تحریف قرآن کی لچر اور بے ہودہ روایات تو بعض کتب اہل سنت میں بھی موجود ہیں۔‘‘ راقم السطور نے جب اس پر گرفت کی تو انھوں نے یوں جواب دیا کہ ’’راقم نے لچر اور بے ہودہ کے الفاظ قرآن حکیم کے مخالف پر استعمال کیے ہیں، جیسا کہ مشہور ناصبی اور منکر حدیث تمنا عمادی نے ’’جمع القرآن‘‘ نامی کتاب میں بہت سی روایات اکٹھی کی ہیں۔‘‘ حیرت واستعجاب کے بھنور میں ہوں کہ دعوے کے مطابق بے ہودہ روایات کتب اہل سنت میں ہیں اور دلیل میں تمنا عمادی جیسے ناصبی اور منکر حدیث کی جمع القرآن؟کیا ناصبی اور منکر حدیث کی لکھی کتاب بھی ’’کتب اہل سنت‘‘ میں شمار کی جاتی ہے؟ دعوے اور دلیل میں کچھ تو مطابقت ہو۔
بخاری صاحب نے شعلہ بداماں ہو کر شکوہ کیا ہے کہ ’’مجھے بڑی حیرت ہے کہ اسلامی مدارس کے علما وفضلا بھی مہذب اور شستہ زبان کے استعمال سے قاصر ہیں۔‘‘ حالانکہ راقم السطور نے ’’لچر‘‘ اور ’’بے ہودہ‘‘ کے جملے انھی کے نقل کیے ہیں تو پھر غیر شستگی کس کی جانب سے ہوئی؟ دراصل آج کل اپنے آپ کو ماڈرن اور لبرل منوانے کا مختصر اور آسان طریقہ یہی ہے کہ اسلامی مدارس اور ان کے فضلا پر ’’ملاعین وطواغیت‘‘ کی تہمت لگا دی جائے۔
راقم نے اپنے مکتوب میں لکھا تھا کہ ’’قمی وکلینی اور علامہ نوری طبرسی کی جمع کردہ تحریف قرآن کی روایات کی بنا پر کل شیعہ آبادی کو محرف قرآن ٹھہرایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ یہ ایک الگ اور مستقل بحث ہے۔‘‘ اس کے جواب میں جو کچھ لکھا گیا، وہ میری اس عبارت کا جواب نہیں ہے۔ اور مغلوب الغضب ہو کر بخاری صاحب لکھتے ہیں کہ ’’حافظ عبد الجبار سلفی شاید نسخ اور اختلاف قراء ت کی اصل حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے۔ نسخ، اختلاف قراء ت اور تحریف میں نمایاں فرق ہے۔‘‘ اس کے بعد انھوں نے تین عدد کتب کے نام لکھ کر راقم کو جماعتی وابستگی سے ہٹ کر ان کی مراجعت کا مشورہ دیا ہے۔ جماعتی وابستگی سے بخاری صاحب کی مراد تحریک خدام اہل سنت ہے، حالانکہ جماعتی وابستگی کے ہوتے ہوئے بھی ان کتب کا مطالعہ ہو سکتا ہے اور بفضل اللہ تعالیٰ راقم نے اس سے پہلے بالاستیعاب کر رکھا ہے۔ تبادلہ فکر وخیال میں وابستگیوں اور نسبتوں پر طنز نہیں کیا جاتا۔ راقم نے تو نہیں کہا کہ بخاری صاحب نے شیعہ محقق دوست کی وابستگی سے ہٹ کر تحریف قرآن پر فلاں فلاں کتاب کا مطالعہ کریں۔
جہاں تک شیعہ مذہب کے علما کا تعلق ہے تو سوائے چار کے (شیخ صدوق، ابن طالب طبرسی، شریف رضی، علامہ طوسی) سب تحریف کے قائل ہیں۔ یہی بات علامہ نوری طبرسی نے اپنی کتاب ’’فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب‘‘ ص ۳۱ اور ۳۵ پر لکھی ہے اور اسی موقف کو بعد ازاں اپنی کتاب ’’رد الشبہات عن فصل الخطاب‘‘ میں ثابت کیا ہے۔ شیخ صدوق (جنھیں ابن بابویہ قمی بھی کہا جاتا ہے) کے رسالہ اعتقادی کی مفصل شرح شیعہ عالم محمد حسین ڈھکو صاحب (فاضل نجف اشرف عراق) نے لکھی ہے۔ ڈھکو صاحب برملا کہتے ہیں کہ ’’ہاں یہ درست ہے کہ ہمارے بعض علماء تحریف کے قائل ہیں۔‘‘ (احسن الفوائد ص ۴۹۱) اسی سے ملتی جلتی بات علامہ الحائری نے اپنی تفسیر ’’لوامع التنزیل‘‘ پارہ ۱۴ ص ۱۵ پر لکھی ہے، بلکہ علامہ نوری طبرسی نے تویہاں تک لکھا ہے کہ تحریف قرآن کی روایات ہماری کتابوں میں دو ہزار سے متجاوزہیں اور یہ قول انھوں نے مشہور شیعہ عالم علامہ نعمت اللہ الجزائری سے نقل کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو فصل الخطاب ص ۲۵۱ مطبوعہ عراق)
بخاری صاحب فرقوں کے مابین اختلاف ختم کرنے کی گنجائش مانگتے ہیں، حالانکہ اختلاف تو علمی وسعت کی دلیل ہے جو بہرحال رہے گا۔ ہاں صبر وتحمل اور رواداری کے ساتھ اپنا نقطہ نظر پیش کرکے ’’مخالفت‘‘ ختم کی جا سکتی ہے۔ اختلاف میں نظر دلائل پر ہوتی ہے اور مخالفت میں محض اسٹائل پر۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم نصیب فرمائیں۔ آمین ثم آمین
حافظ عبد الجبار سلفی
خطیب جامع مسجد ختم نبوت
ملتان روڈ، لاہور
(۴)
محترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
مقام مسرت ہے کہ آنجناب اور ’الشریعہ‘ کے باصلاحیت نوجوان مدیر جناب عمار خان ناصر صاحب اس سوسائٹی کے جذباتیت اور سطحیت زدہ مذہبی ماحول میں واقعی تعمیری فکر و جذبے کے ساتھ سر گرم کار ہیں۔’الشریعہ‘کا ہر صاحب دل ونظر قاری محسوس کر سکتا ہے کہ آپ جیسے صاحبانِ علم کا قلم نفرتوں کی بھسم کرتی ہوئی آگ پر محبتوں کی برکھا برسانے اور قومی وجود پر جگہ جگہ موجود زخموں پر پھاہے رکھنے کی اپنی سی کوشش میں مصروف ہے۔ہر چند کہ کم ہیں، مگر اپنی خاکستر میں موجود اس نوع کی چنگاریاں امید بندھاتی ہیں کہ محبت، تحمل، برداشت، رائے کا احترام، اخوت و اتحاداور اعلیٰ اخلاقی اقدار پرسوسائٹی اور نظمِ اجتماعی کی تشکیل،جیسا کہ ہمارے اجداد کا ورثہ ہے،اب بھی ناممکن الحصول نہیں۔
یہ کافروہ فاسق،یہ گمراہ وہ بدعتی،یہ مشرک وہ گستاخ، شیعہ فلاں فلاں’ ’اکابر‘‘ کے فتاویٰ کی روشنی میں کافر، بریلوی ان ان وجوہ سے مشرک، دیوبندی اس اس لحاظ سے منافق، وہابی اس دلیل سے گستاخ، غیر مقاتلین کا قتل یوں جائز، خود کش بمباروں کابے گناہ شہریوں اور معصوم مسلمانوں کو خاک وخوں میں نہلا دینا اس دلیل سے روا۔ خدا کی پناہ! یہ کس علم کی خدمت ہے؟ یہ کس دین کی نصرت ہے؟ ؂
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
بخدادل سے دعا نکلتی ہے، اس صاحب فکر وقلم کے لیے جواس غایت درجہ سطحی اور ابنائے ملت کے لیے سم قاتل اپروچ سے اوپراٹھ کر سوچتا اور لکھتا ہے۔میرے دونوں ممدوح بے شبہ اسی قبیل کے صاحبانِ فکر وقلم ہیں۔ ’الشریعہ‘ کے صفحات گواہی دے رہے ہیں کہ محترم عمار خان ناصرمسلمانوں کی تکفیر وتفسیق کے آگے ڈھال بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ابھی پچھلے ہی دو ماہ یعنی جنوری اور فروری ۲۰۱۰ء کے شماروں میں تکفیر شیعہ کے حوالے سے مضمون نگاروں کی تحریروں پر موصوف کے وضاحتی نوٹ قابل ملاحظہ ہیں۔ایک نوٹ میں آپ نے برصغیر کے مذہبی عبقری شاہ ولی اللہؒ اوردوسرے نوٹ میں اپنے مفسرِقرآن عم محترم صوفی عبدالحمید خاں سواتی کے ایک خطبہ جمعہ کے حوالے سے تکفیر شیعہ سے برأت کے رویے کو قرین صواب باور کرانے کی سعی کی ہے۔یہ ایک قابل تعریف وتقلید مثال ہے۔ اگر آپ برداشت، اعتدال، احترام اور محبت و ہمدردی کا رویہ اپنائیں گے تو نہ صرف سوسائٹی میں ان اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ دوسرے کو اس کی غلطی کا احساس دلانے اور باہمی اختلافات میں کسی نتیجہ خیزی کی بھی توقع کی جا سکے گی۔آپ کسی مسلمان کو کافر قرار دیں گے تو وہ جواب میں آپ کو پھولوں کے ہار تو نہیں پہنانے والا۔ وہ بھی آپ کو کافر کہے گا۔کافر کافر کی اس رٹ کا نتیجہ؟ یہی نفرتیں، دوریاں، بغض، کینے، فساد، تشدد، قتل وغارت، انارکی، مذہب اوراہل مذہب کی بدنامی۔کاش مذہب کے یہ ہمدرد اور اسلام کے یہ شیدائی،ان دونوں صورتوں کے بدیہی نتائج کا ادراک کرسکیں۔
مولانا زاہد الراشدی کی ملک وملت کے لیے درد مندانہ اور مصالحانہ فکر و مساعی پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے،لیکن یہاں میں طوالت سے بچنے کی غرض سے فروری ۲۰۱۰ء کے شمارہ میں موصوف کے ’کلمہ حق‘ کا حال دینے پر اکتفا کروں گا۔زیر نظر تناظر میں مذکورہ کلمہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔بلا شبہ دینی حلقوں کی باہمی کشمکش ،عدم برداشت اور ایک دوسرے کا استخفاف واستحقاراس قوم کے لیے زہر قاتل ہے۔ہمارے مذہبی طبقات آج اس قوم کی سب سے بڑی خدمت اگر کوئی کر سکتے ہیں تو وہ یہی ہے کہ وہ باہمی منافرت پر قابو پائیں اورایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے مشترکہ اعلیٰ اسلامی آئیڈیلز کے حصول کی خاطرباہمی احترام اور مشاورت و مفاہمت کی فضا قائم کریں۔مولانا کو تعجب ہے کہ جب وہ اپنے طلبہ کوانسانی حقوق، معاصر مذاہب کے تعارف،ماضی قریب کی دینی تحریکات اور پاکستان میں نفاز اسلام کی جدو جہد کے فکری وعلمی پہلوؤں کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان کے منہ کی طرف دیکھتے ہیں کہ جیسے وہ اس دنیا کی نہیں بلکہ کسی اور دنیا کی بات کر رہے ہوں اور شاید وہ انہیں گمراہ کر کے ’اکابر سے مسلک سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں مولانا کی خدمت میں عرض گذار ہوں کہ آپ بالکل متعجب نہ ہوں۔ آپ واقعی اپنے طلبہ سے ان کی ’’دنیا‘‘ کی بات نہیں کر رہے۔ آپ بلاشبہ ان کو ’’اکابر‘‘ کے مسلک سے ہٹانے کی کوشش میں مصروٖف ہیں۔ آپ سچ مچ اپنے طلبہ کو مشکل میں ڈال رہے ہیں۔ ؂
آئین نوسے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
مگرمولانا !آپ کو اپنے ’’نو نہالوں‘‘کو اس ’’دوسری دنیا‘‘ کی یہ’’ انرجیٹک غذا‘‘ دیتے رہنا پڑے گا تا آنکہ یہ ’’سن شعور‘‘ کو پہنچ جائیں۔
محترم ناظرین !کیا آپ نے کبھی غور کیاکہ آج تقریباً ہر جگہ مذہب کے بجائے سیکولرزم اور مذہبی قوتو ں کے بجائے سیکولر قوتیں غالب کیوں نظر آتی ہیں؟ میری ناچیزرائے میں اس کی بہت کچھ ذمہ داری مذہبی طبقات پر عائد ہوتی ہے۔مذہبی لوگوں کے بارے میں پوری دنیا میں ایک عمومی تاثر شدت پسندی،عدم برداشت اور رجعت پسندی کا پایا جاتا ہے۔مذہبی لوگ جب تک اس تاثر کو زائل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے ،مذہب سیکولرزم اور مذہبی قوتیں سیکولر قوتوں کی جگہ نہیں لے سکتیں۔اگر ہم مغرب کی بات کریں تو وہاں نشاۃ ثانیہ کے بعد سے یہ تصور انتہائی پختہ ہو گیاکہ مذہب رجعت ،تشدد، جہالت اور خلاف عقل و منطق تصورات و نظریات سے عبارت ہے۔ لہٰذا کوئی وجہ نہ تھی کہ وہاں مذہب اور اہل مذہب کو قائدانہ کردار ادا کرتے رہنے دیا جاتا۔آج مغرب میں یہ تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ کوئی ایک انسان یا جماعت مذہب کے عنوان کے تحت کسی سوسائٹی یا ملک کی رہنمائی کی اہل ہو سکتی ہے۔اگرچہ اسلام عیسائیت سے یکسر مختلف ہے اور مسلمان بجا طور پر یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ اسلام آج بھی انسانی سوسائٹی اور سٹیٹ کی بہتری ،ٖفلاح و بہبود اور ترقی و کامرانی کے لیے وہی کردار ادا کر سکتا ہے، جو وہ سینکڑوں سال پہلے اداکر چکا ہے۔لیکن مغرب اس بات کو بالکل تسلیم نہیں کرتا۔ہم یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے یا حقائق سے آنکھیں چرا لیتے ہیں کہ مغرب تو اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ہے،وہ اسلام کو انسانی فلاح کے ضامن کے طور پر کیوں مانے گا؟مگر نہ جانے ہم اس بات پر کیوں غور نہیں کرتے کہ کیا ابتدائے اسلام میں سارے لوگ اسلام کو انسانی فلاح کے ضامن کے طور پر ماننے کے لیے تیار بیٹھے تھے کہ ادھر وحی آئی اور ادھر لوگ اسے اپنے درد کا درماں سمجھ کربے تابانہ اس کی طرف لپک پڑے۔ظاہر ہے اسلام کے بارے میں ان لوگوں کے تعصبات و تحفظات آج کے انسانوں سے کہیں زیادہ تھے۔آج توعلم ہے ،روشنی ہے اورسب سے بڑھ کر یہ کہ سائنسی اور تحقیقی وتجرباتی علم نے بہت سے لوگوں میں اپنے مخالف نظریات وافکارکے حوالے سے معروضی رویہ پیدا کردیا ہے۔جبکہ اس دور میں ،جہالت تھی،تاریکی تھی اور مخالف افکار ونظریات سے متعلق اکثر لوگوں میں موضوعی رویہ پایا جاتا تھا۔ 
پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کی مذہب کی جس شدت کے ساتھ مزاحمت کا ماحول اس عہد میں پایا جاتا تھاعصر رواں میں اس کی تمام تر خرابیوں کے باوجود وہ ماحول نہیں پایا جاتا۔ابتدائے اسلام میں اسلام کی مزاحمت کی شدت کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جا سکتا ہے جس میں آنحضورؐ نے فرمایا تھاکہ اللہ کی راہ میں جس قدر میں ستایا گیا ہوں،کوئی نبی نہیں ستایا گیا۔پھر کیا وجہ تھی کی اجڈ،جاہل،وحشی ،موضوعی سوچ کے حامل اور اسلام کی مزاحمت میں انتہائی سخت لوگ کچھ ہی عرصہ میں اسلام کے سایہ میں عافیت محسوس کرنے لگے؟بات بالکل واضح ہے کہ حضورؐ اورآپ کے ساتھیوں کے رحمت و رافت،احسان و مروت،صبر وتحمل اور نیکی وخیر خواہی کے عملی رویے نے ان پر روز روشن کی طرح عیاں کر دیا تھاکہ ان لوگوں کے مذہب کا مقصدانسانیت کی فلاح و کامرانی اور بہتری و بھلائی کے سوا کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔آج کامذہب بھی اگر اس طرح کے عملی رویے پیش کر سکے توکوئی وجہ نہیںآج کا انسان اس دور کی تپتی ہوئی دھوپ سے بچنے کے لیے اس کے سایہ میں پناہ لینے پر آمادہ نہ ہو۔مگر افسوس اے اسلام کے نام لیواؤ!’’تم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہے‘‘؟ ؂
تم ہو آپس میں غضبناک وہ آپس میں رحیم
تم خطا کار وخطا بیں،وہ خطا پوش وکریم
خود کشی شیوہ تمہارا وہ غیور وخوددار
تم اخوت سے گریزاں، وہ اخوت پہ نثار
تم ہو گفتار سراپا، وہ سراپا کردار
تم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکنار
چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیم
پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیم
آج کے مذہبی حلقے غیر مسلموں اورمذہب سے یکسر دورلوگوں کو نظم اجتماعی کے ضمن میں مذہب کی اہمیت سے متعلق قائل کرنے میں تو کیا کامیاب ہوں گے،وہ خود مسلمانوں اوراسلام کے بارے میں اپنے دلوں میں نہایت اچھے جذبات رکھنے والے افراد کو بھی اس حوالے سے قائل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ مسلم معاشرے میں مسلم عوام بالعموم مذہبی طبقات کی بجائے اپنی سیاسی و سماجی رہنمائی کا فریضہ ان لوگوں کو سونپنے پر آمادہ ہوتے ہیں جن کا جھکاؤ سیکولرزم کی طرف ہو یا جن کی شناخت اور پہچان روایتی اعتبار سے مذہبی نہ ہو؟ کیا ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ سیکولر شناخت کے حامل لوگ عوام کے زیادہ ہمدرد، زیادہ دیانتدار، زیادہ پاک وصاف، معاملات کازیادہ فہم رکھنے والے اور زیادہ قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں؟ظاہر کہ ایسا نہیں ہے اور کوئی بھی باشعورآدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ چیزیں سیکولر شناخت رکھنے والے افراد سے خاص ہیں، بلکہ ممکن ہے کہ عوام کی اکثریت ان چیزوں میں سے بیشتر کو مذہبی لوگوں سے خاص سمجھے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے عہد اور ہماری سوسائٹی بلکہ ماضی قریب میں بھی مسلمانوں نے قیادت و رہنمائی کے سوال پراپناوزن ہمیشہ مذہبی شناخت نہ رکھنے والے افراد اور جماعتوں ہی کے پلڑے میں ڈالا ہے؟ اس سوال کو تو شایدناقابل معافی جرم سمجھا جائے کہ قائد اعظمؒ کی جگہ کوئی مذہبی رہنما کھڑا ہوتا تو کیا کبھی پاکستان بن پاتا؟یہی بتا دیجیے کہ ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجوداسلام کے نام پر پاکستان کی خاطرسب کچھ قربان کر دینے والوں نے مذہبی رہنماؤں اور جماعتوں کو ہر دور میں کیوں مسترد کیا؟
راقم الحروف کے نزدیک اس کے دو بنیادی اسباب ہیں۔پہلا سبب یہ ہے کہ تمام مذہبی طبقے عوام کو یہ یقین دلانے میں ناکام رہے ہیں کہ وہ اپنے زیر قیادت اپنے سے مختلف مذہبی فکر ونظریات کے حامل افراد سے روادارانہ اور پر امن بقائے باہمی کا رویہ اپنائیں گے،تشدد اور عدم برداشت سے گریز کریں گے،دوسروں کی رائے کا احترام کریں گے اوراپنے مذہبی نظریات کو عوام الناس پر جبراً مسلط نہیں کریں گے۔ دوسرا یہ کہ مذہبی طبقوں نے اپنے اپنے زیر اثر لوگوں کو مذہبی حوالے سے اس قدر متعصب اور تنگ نظر بنا دیا ہے کہ وہ کسی بھی مذہبی شخصیت یا جماعت کومسلکی عینک لگائے بغیر دیکھتے ہی نہیں۔ لہٰذا کسی بھی مذہبی شخصیت یا جماعت کا ایک مشترکہ مسلم رہنماکے طور پر سامنے آنا محال بن کر رہ گیا ہے۔ کوئی مذہبی شخصیت خواہ وہ کتنی بھی پارسا اور دیانتدار ہو، اگر کسی دوسرے مسلک سے تعلق رکھتی ہے تو اس کے مقابلے میں مذہبی شناخت نہ رکھنے والی ایک کرپٹ اور بددیانت شخصیت بھی قابل ترجیح ٹھہرتی ہے۔یہ چیز عام دیکھنے میں آتی ہے کہ مختلف دفاتراور اداروں وغیرہ میں عام حالات میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ نہایت ہنسی خوشی اور بغیر کسی مسلکی تعصب کے کام کر رہے ہوتے ہیں،لیکن جونہی مذہب کے عنوان کے تحت کسی قائد و رہنما کے بارے میں رائے کا سوال آتا ہے ،وہ فوراًشیعہ،بریلوی ،دیوبندی اور وہابی وغیرہ بن جاتے ہیں۔ سوسائٹی میں مسلکی تعصبات کی گہرائی کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اگر کوئی اجنبی کسی جگہ مذہبی تناظر میں اپنا تعارف کراتے ہوئے خود کو صرف مسلمان کہنے پر اکتفا کرے تو لوگ متعجب ہوتے ہیں کہ گویا وہ شخص اپنے اصلی ’’مذہب‘‘کو چھپا رہا ہے اور انہیں اس وقت تک اطمینان قلب نصیب نہیں ہوتا جب تک وہ کسی نہ کسی مسلکی وابستگی کا اظہار نہ کرے۔گویا اللہ اور اس کے رسول کی دی ہوئی پہچان، پہچان ہی نہیں اور ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِنَ (الحج۲۲:۷۸) جیسے نصوص کے کوئی معنی ہی نہیں۔
مذہبی طبقات اگر واقعی اس بات کے خواہشمند ہیں کہ سیکولرزم کے مقابلہ میں مذہب کو غلبہ حاصل ہو تو ان کو نہ صرف خودمسلکی تعصبات سے بالاتر ہو کراسلامی نظام کے قیام کے لیے باہم مل جل کر اور ایک ہو کر مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی، دوسروں کے مذہبی جذبات اور رائے کے احترام کا رویہ اپنانا ہو گا،عوام الناس کے مذہبی قوتوں کے تحت تشدد و تصلب، رجعت پسندی،عدم رواداری اور ترقیٔ معکوس کے اندیشوں کو دور کرنا ہوگا،بلکہ اپنے اپنے حلقۂ اثر کے لوگوں میں مسلکی تعصبات کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی اور انہیں اس بات پر آمادہ کرناہو گاکہ وہ مذہبی قوتوں کی حمایت کے سلسلہ میں مذہبی اختلاف رائے کو آڑے نہ آنے دیں۔اگر کچھ مذہبی قوتیں تطہیر اور خود احتسابی کے اس عمل سے گزرے بغیرمذہب کو سیکولرزم پر غالب کرنا چاہتی ہیں تو انہیں جان لینا چاہیے کہ ایں خیال است و محال است و جنوں۔
ڈاکٹر محمد شہباز منج
شعبہ ا سلامیات،یونیورسٹی آف سرگودھا
drshahbazuos@hotmail.com

الشریعہ اکادمی میں مولانا سید عدنان کاکاخیل کی آمد

ادارہ

(مولانا سید عدنان کاکا خیل ۱۲؍ فروری بروز جمعۃ المبارک جامعۃ الرشید کے ایک وفد کے ہمراہ تعلیمی دورے پر گوجرانوالہ تشریف لائے۔ مدرسہ نصرۃ العلوم میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمانے کے بعد انھوں نے ’’الشریعہ اکادمی‘‘ میں حاضرین سے ایک مختصر خطاب کیا جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)

امابعد! ھوالذی ارسل رسولہ بالھدٰی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔
مفسرین کے ایک گروہ کا خیا ل ہے کہ آیت میں مذکور غلبہ و اظہار دلیل و حجت کا غلبہ ہوگا ۔سیاسی و عسکری غلبہ کا جہاں تک تعلق ہے، اس میں تو دو رائیں ہو سکتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدینؓ کے زمانے میں حاصل ہو نے والا سیاسی و عسکری غلبہ اب موجود ہے یا نہیں؟ یعنی اس غلبہ کی نوعیت بدل سکتی ہے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی دلیل و حجت ہر زمانہ میں تمام ادیان پر غالب و ظاہر رہے گی، یعنی اس نوعیت کا غلبہ ہر وقت موجود رہے گا۔ گویا اس آیت کا کم از کم یہ مفہوم ہر زمانے میں مراد لیا جا سکتا ہے۔
ا س ضمن میں یہ بات بھی گوش گزار کروں گا کہ عصر حاضر کو ڈائیلاگ کا دور کہا جاتا ہے۔ آج وہ فورمز بہت زیادہ ابھر کر سامنے آئے ہیں جن میں گفت و شنید کے ذریعے کسی بات کا حق یا نا حق ہونا طے ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے اداروں کی بہت زیادہ ضرورت ہے جو اس کلچر کو رواج دیں۔ معاشرے میں ابھی تک اہل حق کی جانب سے ایسے ٹھوس فکری ادارے بہت کم تعداد میں وجود میں آئے ہیں۔ دوسرے طبقات نے تو اس ماحول سے خاطر خواہ فائدہ بھی اٹھایا ہے اور اس حوالے سے بہت ساری چیزیں بھی منظر عام پر لائے ہیں، اس لیے ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ اس نسبتاً چھوٹے شہر سے ایک بڑے کام کی ابتدا ہوئی۔ ایسا ادارہ قائم ہوا جس کی بنیاد اس سوچ اور فکر پر ہے کہ یہاں دلیل سے بات ہو گی، یہاں حجت سے بات ہو گی،یہاں گفتگو ہو گی، بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کیا جائے گا۔ 
زمانہ طالب علمی میں عام طور پر بغاوت کا شوق ہوتا ہے خواہ ماحول کے اثر کے باعث ہو یا پھر نظام سے موافقت نہ ہونے کی وجہ سے، اور دل چاہتا ہے کہ پہلے سے طے شدہ چیزوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جائے ۔میں نے بھی طالب علمی کے دور میں منصوبہ بنایا تھا کہ میں ایسا رسالہ نکالوں گا جس پر لکھا ہوگا کہ ’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ‘‘ اور اس میں ہر کسی کو اپنی بات کہنے کی کھلی اجازت ہوگی، ہر چیز لکھنے کی اجازت ہو گی۔ میرے خیال میں مولانا زاہد الراشدی نے بھی اسی نقطہ نظر سے یہ رسالہ شروع کیا ہے،اس لیے اس رسالہ کو پڑھ کر ہمارے زمانہ طالب کے ان باغیانہ جذبات کی تسکین ہوتی ہے جو ہمارے اندر سر اٹھایا کرتے تھے۔
موجودہ دور میں دوطبقات باہم گفتگو کے فریق ہیں۔ ایک فریق وہ ہے جس کی نظریاتی بنیادیں اپنے ماضی کے ساتھ پورے طور پر وابستہ نہیں۔ وہ فکری و نظریاتی طور پر آزاد سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے ہاں گفتگو کے لیے کسی بھی وقت کوئی بھی مسئلہ کھڑا کیا جا سکتاہے اور کوئی بھی اس پر بحث کر سکتا ہے۔ جبکہ دوسرا فریق وہ ہے جو بات چیت سے پہلے یہ طے کرتا ہے کہ ایسے کون سے مسائل ہیں کہ جن پر بات ہونی چاہیے یا ہو سکتی ہے؟ کون سا مسئلہ مجتہد فیہ ہے اور کون سا حکم معلو ل بالعلۃ ہے؟ کس مسئلے کا مدار عرف پر ہے اور کس کی اساس میں تعامل الناس کا اصول کار فرما ہے؟ پھر گفتگو کرنے والوں کی اہلیت کیا ہو گی؟ ان کے مصادر و مراجع کیا ہوں گے جن کی طرف بحث کو لوٹایا جائے گا؟یہ تمام باتیں طے ہوں گی تو پھر بحث کا آغاز ہو گا اور گفتگو کا ماحول بنایا جائے گا۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ جس طرح ریاضی کی درسی کتب میں سوالوں کے جوابات آخر میں دیے ہوتے ہیں اور سوال حل کرنے کا خواہ کوئی طریقہ اختیار کیا جائے ،جواب وہی آنا چاہیے جو آخر میں درج ہے۔ اسی طرح متفق علیہ مسائل میں تحقیق کا چاہے جو بھی راستہ چنا جائے، جواب وہی آنا چاہیے جس پر امت اتفاق کر چکی ہے۔ اگر اس طرز کو چھوڑ کر تحقیق کار کو آزادی دی جائے گی تو معاملہ بگڑنے کا اندیشہ ہے، جیسا کہ مودودی صاحب مرحوم جب تحقیق شروع کرتے تو فرماتے کہ میری تحقیق مجھے جہاں لے جائے گی، وہی میرا نتیجہ ہو گا۔ اسی وجہ سے بعض اوقات ان کے اور جمہور امت کے نتائج تحقیق میں فرق آیا ہے۔ ایسے تحقیق کاروں کی زندگی کے ابتدائی، درمیانی اور آخری حالات میں بڑا تغیر و تبدل نظر آتا ہے، جبکہ دیگر حضرات کے ہاں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کے ابتدائی و انتہائی حالات میں کوئی بڑی تبدیلی آئے ۔عصر حاضر میں اسے جمود کا نا م دیا گیا ہے لیکن ہم اسے ثبوت و استقرار کہتے ہیں۔
[ماہنامہ ’’الشریعہ ‘‘ کی خصوصی اشاعت بیاد حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ] اکابر میں سے جب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو ان سے متعلق مجلات کی طرف سے ان پر خصوصی نمبر شائع کرنے کا رواج ہے اور تقریباً تمام ہی اکابرین پر یہ نمبر شائع ہو چکے ہیں۔ جب ہمیں ’’الشریعہ ‘‘ کا امام اہل سنت نمبر پڑھنے کا موقع ملا تو ہم سب کی رائے یہ تھی کہ ’’اس کو پڑھ کر لطف آیا‘‘۔ کہیں بھی کسی قسم کی ملمع سازی یا اطرا کا رنگ نظر نہیں آیا۔واقعی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہم ایک انسان کی سیرت کا مطالعہ کر رہے ہیں، پندرہویں صد ی ہجری کے ایک عالم دین کی سیرت پڑھ رہے ہیں۔ تمام معلومات اپنی اپنی جگہ حقیقت کے خانے میں فٹ معلوم ہوتی ہیں۔ مولانا ندویؒ نے اپنے والد محترم کی کتاب ’’نزہۃ الخواطر‘‘ کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ بر صغیر میں اکابر و اولیا کی سیرتیں ایسے لکھی گئی ہیں کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ آدمی فطرت اور اللہ تعالیٰ کی سنت کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔ اللہ کی طرف سے دنیا کو چلانے کے لیے جو عادات طے ہیں اور وہ جس ڈھب اور جس طریقے پر دنیا کو چلانا چاہتے ہیں، اولیا کا کام اس کے خلاف کرنا ہے۔ اگر وہ نظام فطرت کے ساتھ توافق میں چل رہے ہیں تو ان کی ولایت میں ضرور گڑ بڑ ہے۔ اس زمانے میں سیرو سوانح لکھنے کا ایک عمومی رواج تھا جس کو ’’نزہۃ الخواطر‘‘ میں تبدیل کیا گیا اور اولیا و اکابر کے تذکرے کو حقیقی انداز میں بیان کیا گیا۔ بالکل یہی رنگ ہمیں ماہنامہ ’’الشریعہ ‘‘ کے خصوصی شمارے میں نظر آیا۔
(ترتیب وتدوین: حافظ عبد الرشید)

مولانا لالہ عبد العزیز رحمہ اللہ کی وفات

مولانا عبد العزیز صاحب مرحوم و مغفور ۱۷ ؍نومبر ۲۰۰۹ ء کو دار البقاء کی طرف کوچ کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مرحوم ملک کی عظیم دینی درسگاہ مدرسہ نصرۃ العلوم کے ابتدائی مدرسین میں سے تھے ۔ مدرسہ سے وابستگی کی طویل مدت ( جو تقریبا ۴۰ سال بنتی ہے) میں انہوں نے ناظم ، ناظم کتب خانہ ، ناظم امتحانات اور مدرس کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔ ہمارے زمانہ طلب علمی میں وہ ناظم امتحانات تھے ۔ اس وقت وہ اگرچہ خاصے معمر تھے مگر حوصلہ و ہمت وہی جوانوں والی۔ امتحانات کے لیے پرچے بنوانا، انھیں چیک کروانا، رزلٹ تیار کرنا، تمام امور مناسب وقت پر بطریق احسن انجام پاتے تھے۔ اگر کبھی نتیجہ میں تاخیر ہوتی تو پوچھنے پر بعض ایسے جملے ارشاد فرماتے جن کی معنی آفرینی پنجابی کے ’’ ادب لطیف‘‘ کا خاص حصہ ہے۔ 
وہ آخر عمر تک مدرسہ سے متعلق رہے اور اتنی طویل مدت کی وابستگی کسی ’’ مکین ‘‘ کو ’’ مکان ‘‘ سے وہی تعلق عطاکر دیتی ہے جو مجنوں کو صحرا سے، لیکن مولانا نے قدرت اللہ شہاب کی ’’ماں جی ‘‘ کی طرح کہ ’’ جس خاموشی سے دنیا میں رہی تھیں، اسی خاموشی سے عقبیٰ کو سدہار گئیں‘‘، گمنامی کی چادر یوں اوڑھی کہ خود اس گلشن کے رہنے والوں کو جس کی یاسمین و نسترن اور روشوں کی پھبن کو انہوں نے جگر کا خون دے کر سینچا تھا، اس کی خبر حافظ مہر محمد صاحب کے خط کے پرزے سے کئی دنوں بعد ملی جو گویا ساغر کی زبان سے یوں شکوہ سنج تھی :
یاد رکھنا ہماری تربت کو 
قرض ہے تم پہ چار پھولوں کا 
مولانا ۲۰۰۳ ء تک مدرسہ سے متعلق رہے اور ہزاروں تلامذہ کو اپنا علمی وارث چھوڑا جن میں شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی جیسے بالغ نظر صاحب فکر اور مولانا عبد القدوس قارن مدظلہ جیسے محدث شامل ہیں۔ مدرسہ نصرۃ العلوم کے ارباب بست وکشاد کو چاہیے کہ مولانا کی حیات کو تذکرے کی شکل میں سینہ قرطاس پہ محفوظ کریں۔ شاید کبھی ’ نصرۃ العلوم ‘ کے متعلقین میں سے کوئی اسے دیکھے تو امرؤ القیس کے الفاظ میں ’’قفا نبک من ذکری حبیب ومنزل‘‘ کہتے ہوئے اشکبار آنکھوں سے کلمات دعا ادا کرے۔ 
اللہ تعالیٰ مولانا کی مغفرت کرے اور اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے ۔ آمین
(وقار احمد ۔ ایم فل کلیہ اصول الدین
بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد)

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’علامہ اقبال اور قادیانیت‘‘

انیسویں صدی کے آخر میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی ظلی نبوت کے عنوان سے برصغیر میں ایک نیا باب الفتن کھولا تو سادہ لوح عوام کو اس کے دجل وفریب سے آگاہ کرنے کے لیے اہل حق کو میدان میں آنا پڑا اور اہل علم نے علمی وتحقیقی اور مناظرانہ ومجادلانہ، ہر دو انداز میں پوری مستعدی سے قادیانی نبوت کی تاویلات وتحریفات کا پردہ چاک کیا۔ اہل دین کی کم وبیش پون صدی کی مسلسل جدوجہد قادیانی فرقے کو عالم اسلام میں قانونی اور آئینی سطح پر غیر مسلم قرار دینے پر منتج ہوئی۔ اس تحریک کی قیادت اور راہ نمائی بنیادی طور پر علما نے کی، تاہم اس کی کامیابی میں بہت سی ایسی شخصیات کا حصہ بھی کم نہیں جو روایتی مذہبی حلقے کی نمائندہ نہیں سمجھے جاتیں۔ ان شخصیات میں علامہ محمد اقبالؒ کا نام سرفہرست ہے۔ 
قادیانی گروہ نے اپنی معاشرتی حیثیت کو مستحکم کرنے کے لیے لوگوں کو مذہبی تاویلات اور گورکھ دھندوں میں الجھانے کے ساتھ ساتھ کئی سیاسی اور سماجی عوامل کا بھی سہارا لینے کی کوشش کی۔ برصغیر کی فضا مختلف مذہبی گروہوں کی طرف سے ایک دوسرے کی تکفیر کے واقعات سے مانوس تھی، جبکہ مرزا غلام احمد دعواے نبوت سے پہلے کئی سال تک ہندووں اور عیسائیوں کے مقابلے میں دفاع اسلام کے محاذ پر محنت کر کے اپنے حق میں ہمدردی کی فضا بڑے پیمانے پر پیدا کر چکے تھے، چنانچہ جب ان کے دعواے نبوت پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا تو ایک وقت تک ناواقف مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اسے روایتی مذہبی فتوے بازی ہی کا ایک نمونہ سمجھتی رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ نہ صرف انگریز سرکار بلکہ اسلام سے محض نسبت کا تعلق رکھنے والے نام نہاد لبرل طبقات کی ہمدردیاں بھی اس نوزائیدہ گروہ کو حاصل تھیں۔ اس تناظر میں علامہ اقبال جیسی قد آور اور معتبر ملی شخصیت کا قادیانی نبوت کے خلاف دو ٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا ان تمام طبقات پر مذہبی علما کے موقف کا وزن واضح کرنے میں بے حد موثر ثابت ہوا جو کسی بھی وجہ سے اس معاملے میں تردد یا دو ذہنی کا شکار تھے۔ 
زیر نظر کتابچہ میں مولانا مشتاق احمد چنیوٹی نے، جو اس موضوع کے متخصص ہیں، قادیانیت کے بارے میں علامہ محمد اقبال کی تحریروں، گفتگووں اور بیانات کا ایک مختصر مگر نمائندہ انتخاب جمع کر دیا ہے جو اس حوالے سے ان کے زاویہ نظر اور استدلال کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اقبال کے طرز استدلال کا ایک امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے مسلمانوں کا مقدمہ خالص کلامی بنیاد پر پیش کرنے کے بجائے پنے مخاطب طبقات کی ذہنی رعایت سے، اس عقیدے کی اہمیت کو سماجی اصولوں کی روشنی میں واضح کیا اور یہ بتایا کہ بحیثیت ایک گروہ کے مسلمانوں کے مذہبی تشخص کی بنیاد اسی عقیدے پر ہے اور اس کی حفاظت کے لیے یہ ان کا مذہبی، اخلاقی اور جمہوری حق ہے کہ کسی نئی نبوت پر ایمان لانے والے گروہ کو ان کا حصہ سمجھنے کے بجائے ایک نیا مذہبی گروہ قرار دے کر قانونی اعتبار سے ان سے الگ کر دیا جائے۔ (ص ۱۶، ۱۷) 
اسی طرح انھوں نے قادیانی گروہ پر زندقہ وارتداد کے روایتی فقہی احکام (یعنی سزاے موت) جاری کرنے کے بجائے جدید جمہوری تناظر میں یہ تجویز کیا کہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کر لیا جائے اور پھر مسلمان ان کے بارے میں ویسے ہی مذہبی اور معاشرتی رواداری سے کام لیں گے جیسے وہ دوسرے مذاہب کے بارے میں لیتے ہیں۔ (ص ۱۱) یہ بات اس پہلو سے بہت اہم اور حکیمانہ تھی کہ قانونی تکفیر کے باوجود اس سے آگے چل کر ان ہزاروں لوگوں کے لیے اسلام کی طرف واپسی کا راستہ کھلا رہتا جو مختلف وجوہ سے قادیانیت کے پرفریب جال کا شکار ہو کر جادۂ حق سے بھٹک گئے، جبکہ موجودہ صورت حال میں مسلمان مناظرین کے اختیار کردہ لب ولہجہ اور طرز استدلال نیز قادیانیوں کی نئی نسل کا مسلمانوں کے ساتھ اختلاط بالکل مفقود ہونے کی وجہ سے یہ راستہ کم وبیش بند دکھائی دیتا ہے، چنانچہ مرزا طاہر احمد کے دست راست حسن محمود عودہ نے بیس سال قبل اپنے قبول اسلام کے موقع پر ایک انٹرویو میں قادیانی امت کے اپنی گمراہی پر قائم رہنے کا ایک بڑا سبب اس چیز کو قرار دیا تھا کہ ان کی مسلمان علما تک رسائی نہیں ہے اور قادیانی قیادت اس خلیج کو برقرار رکھنے میں ہی اپنا بھلا سمجھتی ہے۔
بہرحال اس نازک مسئلے پر اقبال جیسے بالغ نظر مدبر کے نقطہ نگاہ اور طرز استدلال کو سمجھنے کے لیے زیر نظر کتابچہ بہت مفید ہے۔ ۳۲ صفحات پر مشتمل یہ مختصر رسالہ انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان کی طرف سے شائع کیا گیا ہے اور اسے جامعہ عربیہ چنیوٹ، مکتبہ سید احمد شہید، اردو بازار لاہور اور مکتبہ رشیدیہ، راجہ بازار راول پنڈی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
(محمد عمار خان ناصر)

’’مسلمان مثالی اساتذہ ، مثالی طلبہ‘‘

مولف: سید محمد سلیم
ناشر : زوار اکیڈیمی پبلی کیشنز، ۴۔۱۷ ناظم آباد نمبر ۴، کراچی
صفحات: ۱۳۶۔ قیمت: ۱۳۰ روپے
پروفیسر محمدسلیم نامور استاد ہیں۔ تنظیم اساتذہ پاکستان کے رہنماؤں میں سے ہیں۔ موضوع بالا پر ان کا قلم اٹھانا ان کا حق اور منصب ہے، کتاب طلبہ اور اساتذہ کے لئے رہنما حیثیت رکھتی ہے۔ مستند مواد کی مدد سے با کمال ترتیب پیش کی گئی ہے۔ اس میں ان کا قلم رسا بھی پوری شان کے ساتھ کار فرما ہے۔ میں نے ان کی پہلی ہی کتاب دیکھی ہے۔ اس لیے ان کے انداز نگارش سے شناسائی کا پہلا موقع ہے۔ 
مختصر سی کتاب ہے مگر اپنے اندر بے پناہ تاثیر رکھتی ہے۔ کتاب پڑھ کر، گردو پیش پر نظر ڈالی جائے تو شدت سے احساس ہوتا ہے کہ وہ اساتذہ اور طلبہ جن میں تدریس اور مطالعے کا جنوں اپنی معراج پر تھا، اب کہاں ہیں۔ تنظیم اساتذہ اور جمعیت طلبہ بھی اس طرح کے جنوں کو فروغ دینے کو اپنی ترجیحات میں رکھنے میں سنجیدہ نہیں رہیں۔ وہاں ٹریڈ یونین ازم چھا چکا ہے۔
کتاب میں بعض چیزیں البتہ کھٹکتی ہیں۔ ایک تو اختصار کی حدوں کے اندر رہ کر موضوع سے کافی زیادتی کی گئی ہے۔ حوالوں کا فقدان ہے۔ اقتباسات کتاب کو کافی معتبر بناتے ہیں مگر حوالہ جات کم ہی درج ہوئے ہیں۔ آخر پر مآخذ کی فہرست کفایت نہیں کر سکتی۔ حوالوں سے یہ بے نیازی سید صاحب کے مقام سے کچھ فرو تر ہے۔ اکیڈیمی کے سید عزیزالرحمن صاحب نے پیش گفتارمیں لکھا ہے کہ کتاب میں اشعار کی اصلاح کے لیے ایک صاحب کا تعاون حاصل کیا گیا۔ ہمارے نزدیک حوالوں کی تکمیل کے لیے بھی کسی کا تعاون حاصل کر لیا جاتا تو کتاب کا معیار اور بھی بہتر ہو جاتا۔
ایک اور کھٹکنے والی بات موضوع سے غیر متعلق مواد کا جزوِ کتاب ہو جانا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس پہلو سے میری رائے عمومی سطح پر سخت محسوس ہو۔ وجہ یہ ہے کہ پیشے کے لحاظ سے ہمارے ہاں ربط و تعلق کا زیادہ لحاظ رکھا جاتا ہے۔ غیر متعلق مواد کی چھانٹ ہمارے ہاں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ بہر صورت میری اس رائے کی درستی کا اندازہ کرنے کے لیے فہرست مضامین پر ایک نظر ڈالنا پڑے گی۔ 
بہرحال کتاب تدریس و مطالعے کا جنوں پیدا کرنے میں پورا اثر رکھتی ہے۔ اس سے مولف کے خلوص کا اعتراف کرنا پڑے گا۔کتاب اختصار کے باوجود اپنے مقصد کے لحاظ سے بڑی کامیاب کوشش ہے۔ پڑھ کر ہل من مزید کی طلب ہوتی ہے۔
(چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ)