جون ۲۰۱۰ء

قرآن کریم اور دستور پاکستانمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
سر سید احمد خان کی تفسیری تجدد پسندی: ایک مطالعہ (۱)ڈاکٹر محمد شہباز منج 
اسلامی اخلاقیات کے سماجی مفاہیم (۳)پروفیسر میاں انعام الرحمٰن 
بلا سود بینکاری کا تنقیدی جائزہ ۔ منہجِ بحث اور زاویۂ نگاہ کا مسئلہ (۲)مولانا مفتی محمد زاہد 
اسلامی بینکاری: زاویہ نگاہ کی بحثمحمد زاہد صدیق مغل 
مولانا خواجہ خان محمد کی یاد میں تعزیتی نشستادارہ 
Historical Perspective Hussein`s Martyrdom inڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
انا للہ و انا الیہ راجعونادارہ 

قرآن کریم اور دستور پاکستان

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں اس وقت حکومت اور حکمرانوں کے حوالے سے بہت سے مقدمات زیر سماعت ہیں اور اس سلسلے میں عدالت میں پیشی سے صدر اور وزیر اعظم کی استثنا پر ملک بھر میں بحث وتمحیص جاری ہے۔ ایک جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اسلامی روایات وتعلیمات کے مطابق حاکم وقت بھی اسی طرح عدالت کے سامنے پیش ہونے کا پابند ہے جس طرح رعیت کے دوسرے لوگ پابند ہیں، جیساکہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مقدمے میں عدالت کے سامنے پیش ہو کر اس کا اظہار کیا تھا، جبکہ دوسری طرف سے اس بات پر دلائل دیے جا رہے ہیں کہ حاکم اعلیٰ کی عدالت میں پیشی سے استثنا ضروری اور مستحسن ہے۔ اس پس منظر میں وفاقی وزیر اطلاعات محترمہ فوزیہ وہاب نے یہ کہا ہے کہ حضرت عمرؓ عدالت میں اس لیے پیش ہو گئے تھے کہ اس وقت صرف قرآن تھا اور کوئی دستور موجود نہیں تھا۔ اب چونکہ دستور موجود ہے، اس لیے صدر اور وزیر اعظم عدالت میں پیش ہونے سے مستثنیٰ ہیں۔ اس پر اخبارات میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے جس میں دن بدن تیزی کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔
ہم اس وقت اس مسئلے کے صرف ایک پہلو کے بارے میں کچھ عرض کرنا ضروری خیال کر رہے ہیں کہ کیا قرآن کریم خود کسی اسلامی ریاست کے لیے دستور کی حیثیت نہیں رکھتا اور کیا قرآن کریم کو ریاست ومملکت کے تمام معاملات میں بالادستی حاصل نہیں ہے؟ ہمارا خیال ہے کہ خطبہ حجۃ الوداع میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی امت کو یہ تلقین فرمائی تھی کہ ’’اپنے حکمران کی اطاعت کرو خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، جب تک وہ تمھارے معاملات کو قرآن کریم کے مطابق چلاتا رہے‘‘ (ما یقودکم بکتاب اللہ) تو یہ قرآن کریم کی اسی حیثیت کا اعلان تھا کہ وہ اسلامی ریاست کا دستور ہے اور ریاست وحکومت کے تمام معاملات کا اسی دستور کے دائرے میں رہنا ضروری ہے۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین اور خلیفہ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے خطبے (پالیسی خطاب) میں فرمایا تھا کہ میں تم سے کتاب وسنت کے مطابق چلنے کا وعدہ کرتا ہوں۔ جب تک میں کتاب وسنت کے مطابق حکمرانی کروں، تم پر میری اطاعت واجب ہے اور اگر میں قرآن وسنت کی اطاعت سے ہٹ جاؤں تو تم پر میری ضروری نہیں ہے۔ خلیفہ اول نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں قرآن وسنت کے مطابق چلوں تو میرا ساتھ دو اور اگر اس سے ٹیڑھا ہونے لگوں تو مجھے سیدھا کر دو۔
ہم سمجھتے ہیں کہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کا یہ اعلان قرآن وسنت کی دستوری حیثیت کا اعلان تھا اور خلافت راشدہ کا آغاز قرآن وسنت کو اپنا دستور اور بالاتر قانون تسلیم کرنے کے ساتھ ہوا تھا۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق نے بھی اپنے پہلے خطبے میں یہی اعلان کیا تھا اور اس میں یہ اضافہ فرمایا تھا کہ میں قرآن وسنت کے ساتھ ساتھ اپنے پیش رو خلیفہ کی روایات بھی قائم رکھوں گا، جبکہ خلیفہ ثالث حضرت عثمان کی خلافت کا فیصلہ کرتے وقت اس کی مجاز اتھارٹی حضرت عبد الرحمن بن عوف نے امیر المومنین کی حیثیت سے حضرت عثمان بن عفان کی بیعت ہی اس شرط پر کی تھی کہ :
’’ابایعک علی سنۃ اللہ ورسولہ والخلیفتین من بعدہ‘‘ (بخاری، کتاب الاحکام) 
یعنی میں آپ کی بیعت اس شرط پر کرتا ہوں کہ آپ کتاب وسنت کی پیروی کریں گے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دو خلفا حضرت ابوبکر وعمر کی روایات کی پاس داری کریں گے۔ ان کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بھی اپنی حکومت کی بنیاد اسی اصول کو قرار دیا تھا جس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن وسنت اور خلفاے راشدین کے فیصلوں کو اسلامی ریاست میں صرف راہ نما اصول یا Source of Law (ماخذ قانون) کا درجہ حاصل نہیں ہے بلکہ یہ خود قانون اور دستور کی حیثیت رکھتے ہیں اور قرآن وسنت کی اسی اصولی حیثیت سے انکار آج کے دستور سازوں اور قانون سازوں کے ہاتھ میں قرآن وسنت سے انحراف کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
ہمارے ہاں قیام پاکستان کے بعد سے ہی یہ بحث جاری ہے کہ قرآن وسنت خود قانون ہیں یا انھیں صرف ’’سورس آف لا‘‘ کی حیثیت حاصل ہے؟ اور محترمہ فوزیہ وہاب کے اس بیان کے پس منظر میں بھی ہمیں اسی تردد اور ابہام کی جھلک دکھائی دے رہی ہے، لیکن جب ہم بانی پاکستان قائد اعظم جناب محمد علی جناح کے ان بیانات واعلانات کی طرف رجوع کرتے ہیں جو انھوں نے قیام پاکستان کے مقاصد کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمائے تھے تو ان میں ہمیں اس قسم کا کوئی ابہام نظرنہیں آتا۔ چنانچہ انھوں نے اگست ۴۴ء میں کانگرسی راہ نما گاندھی کو جو تفصیلی خط تحریر کیا، اس میں کہا کہ:
’’قرآن مسلمانوں کا ضابطہ حیات ہے۔ ا س میں مذہبی اور مجلسی، دیوانی اور فوج داری، عسکری اور تعزیری، معاشی اور معاشرتی غرضیکہ سب شعبوں کے احکام موجود ہیں۔ وہ مذہبی رسوم سے لے کر روزانہ امور حیات تک، روح کی نجات سے جسم کی صحت تک، جماعت کے حقوق سے لے کر فرد کے حقوق وفرائض تک، اخلاق سے لے کر انسداد جرم تک، زندگی میں سزا وجزا سے لے کر عقبیٰ کی جزا وسزا تک ہر ایک فعل، قول، حرکت پر مکمل احکام کا مجموعہ ہے۔‘‘
جبکہ اس سے قبل ۱۹۴۳ء میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم یہ فرما چکے تھے کہ:
’’مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کا طرز حکومت متعین کرنے والا میں کون؟ یہ کام پاکستان کے رہنے والوں کا ہے اور میرے خیال میں مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو قبل قرآن حکیم نے فیصل کر دیا تھا۔‘‘
قائد اعظم کے بیان کردہ دونوں نکتوں پر غور کر لیجیے:
۱۔ مسلمانوں کا طرز حکومت تیرہ سو قبل قرآن کریم نے طے کر دیا تھا۔
۲۔ پاکستان کا طرز حکومت طے کرنا پاکستان میں رہنے والوں کا کام ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم کی یہ دستوری حیثیت قائد اعظم کے ذہن میں بے غبار اور واضح تھی اور پاکستان کے رہنے والوں نے بھی طویل دستوری جدوجہد کے بعد ۱۹۷۳ء کے دستور کی صورت میں یہ بات طے کر دی تھی کہ قرآن و سنت کو ملک میں بالاتر حیثیت حاصل ہوگی اور دستور وقانون دونوں کو ان کے دائرے میں رہنا ہوگا۔ اس لیے محترمہ فوزیہ وہاب اور ان کے ہم نواؤں سے ہماری گزارش ہے کہ وقتی اور گروہی سیاسی مفادات کے لیے قرآن وسنت کی بالاتر اور دستوری حیثیت کو زیربحث لانے سے گریز کریں۔ قرآن وسنت کو خلافت راشدہ میں بالاتر درجہ حاصل تھا اور پاکستان کا دستور بھی انھیں بالاتر تسلیم کرتا ہے، اس لیے قرآن وسنت کی اس اصولی حیثیت کے بارے میں تردد اور ابہام پیدا کرنے کی کوئی بھی کوشش اسلامی تعلیمات اور دستور پاکستان، دونوں سے انحراف کے مترادف تصور ہوگی۔

سر سید احمد خان کی تفسیری تجدد پسندی: ایک مطالعہ (۱)

ڈاکٹر محمد شہباز منج

سرسید احمد خاں (۱۸۱۷ء۔۱۸۹۸ء) نے جس ماحول میں آنکھیں کھولیں، وہ مسلمانوں کی سیاسی،معاشی،تعلیمی اور سماجی پسماندگی کا دور تھا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کی ناکامی نے مسلمانوں کو شکستہ خاطر کر دیا تھا۔ قومی امنگ،جوش و خروش ، بلندی و برتری اورترقی و کامرانی کا تصور کوسوں دور تھا ۔سرسید نے کل کی حاکم قوم کو ذلت و پستی کے گڑھے میں گرے ہوئے دیکھا۔ انگریزوں کی حکومت اور ان کی ساحرانہ تہذیب کے مناظر دیکھے۔ان کو ملازمت،رفاقت اور دوستی و تعارف کے ذریعے مستشرقین اور انگریزحکمرانوں اور صاحبانِ علم و حکمت سے گہرا واسطہ پڑا۔وہ ان کی ذہانت، قوتِ عمل اورتمدن ومعاشرت سے ایسے متاثر ہوئے جیسے کوئی مغلوب غالب اور کمزور طاقت ور سے متاثرہوتا ہے۔ انہوں نے شخصی طور پرانگریزی تہذ یب اور معاشرت کو اختیار کیا اور بڑی گرم جوشی اور قوت کے ساتھ اس کی دعوت دی۔ ان کا خیال تھا کہ اس ہم ر نگی ،حاکم قوم کی معاشرت و تمدن اختیار کرنے اور ان کے ساتھ بے تکلف رہنے سے وہ مرعوبیت اور اوراحساس کہتری وغلامی دور ہو جائے گا جس میں مسلمان مبتلا ہیں،حکام کی نظر میں ان کی قدر ومنزلت بڑھ جائے گی اور وہ ایک معزز درجہ کی قوم کے افراد معلوم ہونے لگیں گے ۔ انہوں نے ۱۸۶۹ء میں لندن کا سفر اختیار کیا اور ۱۲؍اکتوبر ۱۸۷۰ء کو مغربی تہذیب کے گرویدہ اور ہندوستان کی مسلم سوسائٹی میں مغربی اقدار واصول کی بنیاد پر اصلاح وتغیر کے پر جوش داعی اور مبلغ بن کر اپنے سفرِانگلستان سے ہندوستان لوٹے ۔ان کا نقطہ نظر خالص مادی ہو گیا۔ وہ مادی طاقتوں اور کائناتی قوتوں کے سامنے بالکل سرنگوں نظر آنے لگے ۔وہ اپنے عقیدہ اور قرآن مجید کی تفسیر بھی اسی بنیاد پر کرنے لگے اور اس میں اس قدر غلو کیا کہ عربی زبان و لغت کے مسلمہ اصول و قواعد اور اجماع و تواتر کے خلاف کہنے میں بھی انہیں کچھ باک نہ رہا۔۱؂ 
قاضی جاوید نے لکھا ہے کہ سر سید اور ان کے رفقائے کار اور ہم خیال نو آبادیاتی نظام کے بد ترین اثرات کی تجسیم تھے۔اس نظام کے جبر نے انہیں نیم انسانوں کی سطح پر لا کھڑا کیا تھا بلکہ شاید وہ اس سے بھی بہت پست سطح پر گر گئے تھے۔ اپنے انسان ہونے کی صداقت کی نفی کر کے انہوں نے اپنی پناہ گاہ ڈھوندی تھی۔ سر سید نے اپنی نئی صداقت کے واضح اظہار میں کبھی تامل نہیں کیا ۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ انگریزں پر یہ الزام لگانا غلط ہے کہ وہ ہندوستان کے مقامی باشندوں کو جانور سمجھتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ہم در حقیقت جانور ہیں۔ ’’میں بلا مبالغہ نہایت سچے دل سے کہتا ہوں کہ تمام ہندوستانیوں کواعلیٰ سے لے کر ادنیٰ تک،امیرسے لے کر غریب تک ،سوداگر سے لے کر اہلِ حرفہ تک ،عالم فاضل سے لے کرجاہل تک ،انگریزوں کی تعلیم وتربیت اور شائستگی کے مقابلہ میں در حقیقت ایسی ہی نسبت ہے جیسے نہایت لائق اور خوبصورت آدمی کے سامنے نہایت میلے کچیلے وحشی جانور کو۔‘‘ سرسید کا خیال تھا کہ اگر ہندوستان کے باشندے اس بات کے خواہشمند ہیں کہ انگریز حکمران ان سے مہذب انداز میں پیش آئیں تو اس کے لیے انہیں اپنے آپ کواپنے آقاؤں کے قالب میں ڈھالنا ہو گا۔۲؂ 

نیاعلمِ کلام

سر سید احمد خاں اپنے مذکورہ مغرب پرستانہ رجحانات کے تناظرمیں برصغیرمیں تجددومغربیت کے ایک بہت بڑے داعی کی حیثیت سے سامنے آئے ۔اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ پاک وہند کی مسلم تجددپسندی کے تمام تر سوتے سرسید کی فکر سے پھوٹتے ہیں اور ان کے بعد جن لوگوں نے بھی تجدد پسندانہ افکار ونظریات پیش کیے، وہ محض ان کے خیالات کا چربہ تھے۔ سرسید نے اسلام اور مسلمانوں کو مغرب کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے جہاں دیگر کاوشیں کیں، وہاں قرآنی عقائد واحکام کی نئی تعبیر وتشریح کابھی بیڑا اٹھایااور اس سلسلہ میں ایک نئے علم کلام کی بنیاد ڈالی ۔سر سید کا نیا علم کلام اور اس کی بنیاد پر سامنے آنے والی تفسیری نگارشات ان کی فکر پر استشراقیت اور مغربیت کے گہرے اثرات کی واضح عکاس ہیں۔ سطور ذیل میں سر سید کی ’’تفسیرالقرآن‘‘کی روشنی میں اسی حقیقت کوسامنے لانے کی سعی کی جارہی ہے۔
سر سید نے اپنے علم کلام میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام کے تمام احکام عقل کے عین مطابق ہیں اور قرآن حکیم میں کوئی بات ایسی نہیں جو جدید تمد ن و ترقی کے منافی ہو۔۳؂ ان کے علم کلام کا کامل اظہاران کی ’’تفسیرالقرآن‘‘ میں ہوا ہے ۔انہوں نے اپنے مخصوص تجددپسندانہ نقطۂ نظر کے مطابق تفسیرقرآن کی خاطرکچھ تفسیری اصول وضع کیے ہیں۔ ان تفسیری اصولوں کے مطابق اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے،حاضرو ناظر ہے،خالق کائنات ہے ،اس نے وقتاًفوقتاً بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے انبیا مبعوث کیے جن میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں۔ قرآن وحی مستند اور کلام الٰہی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پربذریعہ وحی نازل کیا گیا ۔رہ گیا یہ سوال کہ یہ حضرت جبریل کے توسط سے بھیجا گیا یا اس کے الفاظ حضور کے دل پر القا ہوئے، کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔قرآن میں کوئی بات نادرست اور خلافِ واقعہ مندرج نہیں۔اللہ کے جن اوصاف کاقرآن میں ذکر ہے، وہ صرف اپنے جوہر کی صورت میں موجود ہیں اور اس کی ذات سے ہم آہنگ اور ابدی ہیں۔ان صفات کی کوئی حد ہے اورنہ انتہا،لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی دانائی اور اختیارِ کلی سے قوانینِ قدرت تخلیق کیے اور انہیں تخلیق اور وجود کے نظم و ضبط کے لیے قائم رکھتا ہے۔لہٰذا قرآنِ پاک میں کوئی شے بھی قوانینِ فطرت کے خلاف نہیں ہو سکتی ۔ قرآن مجیدکاموجودہ متن حتمی اور مختتم ہے جس میں کوئی چیز اضافی ہے اورنہ الحاقی۔ہر سورہ کی آیتیں اپنے موجودہ تسلسل میں تاریخی ترتیب سے پائی جاتی ہیں ۔قدیم تصورِ نسخ جو متن اور تفسیر میں مسلمہ حقیقت کا درجہ رکھتا ہے، اسے مطالعۂ قرآن کے سلسلہ میں رد کرنا ضروری ہے ،وحی نے بتدریج ترقی کی ہے ،قرآنی مسائلِ معاد متعلق بہ ملائکہ، عفریتیات اور کونیات سائنسی حقیقت کے متضاد نہیں ہو سکتے اور اسی اصول کی روشنی میں ان کی تشریح ہونی چاہیے ۔ قرآنِ حکیم کے بلاواسطہ یا بالواسطہ بیانات، جو انسانی تمدن کی ترقی کے امکانات اور اضافوں کا باعث ہو سکتے ہیں،کے مطالعہ کے لیے لسانی تحقیق ضروری ہے۔۴؂
سرسید کا اہم ترین تفسیری اصول یہ ہے کہ ورک آف گاڈیعنی قوانینِ فطرت اور ورڈ آف گاڈ یعنی قرآنی آیات واحکام میں کبھی اختلاف نہیں ہو سکتا۔ چونکہ یہ دونوں اللہ کے بنائے ہوئے ہیں،اس لیے ان دونوں میں ہم آہنگی ضروری ہے۔ بنا بریں قرآنی آیات کی تشریح وتعبیر کے ضمن میں اس اصول کو پیش نظر رکھا جائے گا کہ ورک آف گاڈاور ورڈ آف گاڈمیں توافق و تطابق پایا جائے ۔ بصورت دیگر قرآنی آیات واحکام میں تناقض لازم آئے گا۔۵؂اس تفسیری اصول کو مدِّ نظررکھتے ہوئے سر سید نے قرآنی آیات و تعلیمات کو عقل اور جدید سائنسی نظریات ومعلومات سے ہم آہنگ کرنے اورجدید ذہن کے لیے قابلِ قبول بنانے کی کوشش میں عقائدو احکام کے سلسلہ میں متجددانہ خیالات وآراکا اظہارکیا ہے ۔سید محمد عبداللہ کے بقول ’’تفسیر القرآن‘‘میں روایات سے بغاوت اپنی انتہاکوپہنچ جاتی ہے۔ اس میں اصول، طریقِ کار اور نصب العین سب کچھ پرانی تفسیروں سے مختلف معلوم ہوتا ہے ۔ سر سیدکے افکار کا محور یہ ہے کہ اسلام کا کوئی مسئلہ عقل اور اصولِ تمدن کے خلاف نہیں ۔دین میں صرف قرآنِ مجید یقینی ہے، باقی سب کچھ یعنی حدیث ،اجماع اور قیاس وغیرہ اصولِ دین میں شامل نہیں۔‘‘ ۶؂ مولانا حالی بیان کرتے ہیں کہ سر سید نے قطعی فیصلہ کرلیا کہ اسلام کے متعارف مجموعہ میں سے وہ حصہ جس کو تمام مسلمان ملہم من عند اللہ سمجھتے ہیں اور جس کی نسبت یقین رکھتے ہیں کہ وہ جس طرح خدا کی طرف سے نبی آخرالزمان کے دل میں القا ہواہے ،اسی طرح بے کم وکاست نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاتھوں ہاتھ ہم تک پہنچا ہے، صرف وہی حصہ اس بات کااستحقاق رکھتاہے کہ اس میں جو بات مسائلِ فلسفہ وحکمت کے خلاف ہو، اس میں اورمسائلِ حکمت میں تطبیق کی جائے یا مسائلِ حکمیہ کی غلطی ثابت کی جائے۔پس انہوں نے جیسا کہ حضرت عمرؓسے منقول ہے کہ ’’حسبنا کتاب اللّہ‘‘ اپنے جدید علم کلام کا موضوع اور اسلام کا حقیقی مصداق محض قرآن مجید کو قرار دیا اور اس کے سوا تمام مجموعہ احادیث کو اس دلیل سے کہ ان میں کوئی حدیث مثل قرآن کے قطعی الثبوت نہیں اور تمام علماء و مفسرین کے اقوال و آرا اورتمام فقہا و مجتہدین کے قیاسات و اجتہادات کو اس بنا پر کہ ان کے جوابدہ خودعلما ومفسرین اورفقہا ومجتہدین ہیں ،نہ اسلام ،اپنی بحث سے خارج کر دیا۔۷؂ 
حدیث کی اہمیت کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ سر سید نے یہ تصور بھی شد ومد سے پیش کیا کہ قرآن حکیم کی زبان اور اندازِ بیان تمثیلی اور علاماتی ہے ۔ اس طرح گویا قرآنی تعلیمات کی من مانی توجیہات کا جواز تلاش کر لیا گیا۔۸؂ ورک آف گاڈ اور ورڈ آف گاڈ کی موافقت سے متعلق سر سیدکے خیالات میں پراٹ (John H Prat) کی اس کتاب سے گہرا تاثر پایا جاتا ہے جس میں اس نے اپنے نتائجِ فکر بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ :’’کوئی نئی ایجاد خواہ کتنی ہی حیرت انگیز ہو، ہماری مقدس کتابوں کے کل مضامین کے الہامی ہو نے کے عقیدے میں خلل انداز نہیں ہوتی اورنہ سائنس کے ولولہ ہی کو کم کرتی ہے ۔ ‘‘۹؂ پراٹ نے اس سوال کے جواب کے لیے ایک پورا پیراگراف مخصوص کیا ہے کہ صحائف کے ان اقتباسات کو جن میں جنت کو ایک’’ شفاف مواد کا بڑا گنبد‘‘کہا گیا ہے ،سائنس اور معروضی بنیاد پر قائم حقائق سے کیسے ہم آہنگ کیا جائے۔اس کا حل یہ ہے کہ اصل عبرانی لفظ کو دیکھنا چاہیے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہفتاوی ترجمہ میں (Slereoma) اور انجیل کے لاطینی ترجمہ میں (Firmamentum)کا عبرانی میں مفہوم وسیع وقفہ یا کشادگی ہے۔ پراٹ نے اس مفہوم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدس روحانی مصنف نے اشیا کی ماہیت اور حقیقی ہےئت کے اظہار کے لیے مناسب ترین الفاظ کا استعمال کیا ۔صحائف تو شروع ہی سے صحیح تھے، تمام تر خلطِ مبحث صرف انسانی لا علمی اور ناقص تصورات کے سبب پھیلا۔تعقل اور مشاہدہ کا صحائف سے اختلاف دراصل صحائف کی غلط تعبیروں سے اختلاف ہے ۔۱۰؂
سرسیدنے ’’تبیین الکلام‘‘ میں پراٹ کی کتاب کا کئی جگہ حوالہ دیاہے۔پراٹ سے مشابہت ’’تفسیرالسموات‘‘ میں اور نمایاں ہو جاتی ہے جہاں وہ اس سوال سے متعلق اپنا جواب تفصیل سے دیتے ہیں کہ قرآن کی شہادتوں اور کوپر نیکی نظریات میں مطابقت کیسے پیدا کی جائے۔ ۱۱؂ ’’تفسیرالقرآن‘‘ میں اس سلسلہ میں سر سید نے مختلف الفاظِ قرآنی کو استعاراتی معنی پہناتے ہوئے مفسرین سے سخت اختلاف اور اپنے اختیار کردہ معنی کی درستگی پر اصرار کیا ہے ۔سورہ البقرہ کی آیت ۲۹ کی تفسیر میں سبع سموٰت کے تحت اس بات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہ سبع سماوات کا جو مفہوم اکثر مفسرین کے ہاں بیان کیا گیا ہے، وہ یونانی علم نجوم سے مستعار لیا گیا ہے اور قرآن کو اس سے کچھ علاقہ نہیں۔ لکھتے ہیں کہ ’’اس مقام پر سما کے لفظ سے وہ وسعت مراد ہے جو ہر شخص اپنے سر کے اوپر دیکھتا ہے ۔پس آیت کے یہ معنی ہیں کہ خدااس وسعت کی طرف متوجہ ہوا جو ہر شخص اپنے سر کے پر بلند دکھائی دیتی ہے اور ٹھیک اس کو سات بلندیاں کر دیا۔ سات سیارہ کواکب کو ہر کوئی جانتا تھا ۔عرب کے بدو بھی ان سے بخوبی واقف تھے ۔وہ ستارے اوپر تلے دکھائی دیتے ہیں۔ یعنی ایک سب سے نیچا دوسرا اس سے اونچا تیسرا سب سے اونچا اور علی ہذالقیاس ۔اور ان کواکب کے سبب جو بطور روشن نشانیوں کے اس وسعت مرتفع میں دکھائی دیتے ہیں، اس وسعت کے ساتھ جدا جدا حصے یا درجے یاطبقے ہو جاتے ہیں۔ پس اسی کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کو ٹھیک سات آسمان کر دیے۔‘‘۱۲؂
سورۃ الاعراف کی آیت ۵۴ کے الفاظ ثم استوی علی العرش تشریح میں فخر الدین رازی کی تفسیرپرتنقید کرتے ہوئے سوال کرتے ہیں کہ رازی جیسے مفسرین بعض جگہ عرش کا لغوی اور بعض جگہ استعاراتی مفہوم کیوں مراد لیتے ہیں۔ رازی کے اس اعتراض کاکہ بغیر کسی دلیل کے قرآن کی استعاراتی تعبیر کیوں مراد لی جاتی ہے ،جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ظاہری معنی صرف اس وقت ترک کیے جاتے ہیں جب مفسر کے پاس اس کا واضح ثبوت ہوتا ہے کہ ایک مخصوص سیاق و سباق میں متن کا یہ منشا نہیں ،لیکن معاملہ کو یہیں چھوڑ دینا اور زیر بحث لفظ کی تخصیص یا اس کے معنی کی تاویل نہ کرنا ،قرآن کو بے معنی کرناہے ۔آخرقرآن نازل ہی کیوں گیا تھا ۔یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن بلاشبہ کلام خداوندی ہے، لیکن یہ انسانی زبان میں ملفوف ہے ،اس لیے الفاظ قرآنی کے معنی اسی طرح متعین کرنے چاہییں جیسا کہ ہم یکساں مواقع پر انسانوں کے الفاظ کے معنی ومفہوم متعین کرتے ہیں۔ اس طریقہ کو تاویل کہنا غلط ہے ۔یہ تاویل نہیں بلکہ خدا نے ان الفاظ کو اسی مفہوم میں استعمال کیا ہے ۔۱۳؂
ڈاکٹر سی ڈبلیو ٹرول نے لکھا ہے کہ سر سید کا الہامی لفظ اور سائنس کے درمیان تعلق کا نظریہ ابن رشد کے معقول و منقول کے درمیان توافق کے مسئلے کے حل سے مماثلت رکھتا ہے ۔اس معاملے میں وہ ابن رشد کے موقف کو ’’انتہائی متوازن اور عقلی‘‘ کہتے ہیں۔اگر صحائف کے ظاہری معنی مبرہن نتائج سے متصادم ہوں تو ان کی استعاراتی تشریح لازمی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ صحائف کے خالق نے یہی تمثیلی واستعاراتی معنی مراد لیے تھے ۔وہ ابن رشد سے اس اعتبار سے البتہ مختلف ہیں کہ وہ جدید علوم طبعی کے نتائج کو ،ان تجرباتی اور استقرائی طریقوں کے باوجود جن پر علوم کی بنیاد ہے، پوری برہانی اہمیت دیتے ہیں اور اپنی اس علمیاتی رجائیت میں فرانسس بیکن اورجان سٹوارٹ مل کے عقائد کا اس سیاق وسباق میں ،بغیر واضح طور پر ان کا نام لیے یا حوالہ دیے تتبع کرتے ہیں۔۱۴؂ 

معجزات 

معجزات تمام مذاہب اور کتبِ سماوی کاایک اہم عنصر اور ناقابلِ استرداد حصہ رہے ہیں ۔۱۵؂از روئے قرآن و حدیث معجزات کا حق ہونا اتنا بدیہی ہے کہ تمام آئمہ محققین نے اس پر اتفاق کیا ہے ۔ ۱۶؂ فلاسفہ اور سائنسدانوں کی ایک کثیر تعداد نے بھی معجزات کے امکان ووقوع تسلیم کیا ہے۔۱۷؂ لیکن یورپ میں علمی نشأۃثانیہ کے ساتھ عقلیت پرستی کی جو تحریک اٹھی،اس کے نتیجے میں یورپ میں یہ تصور جڑ پکڑ گیا کہ معلوم و معروف قوانینِ فطرت سے ہٹ کر کسی واقعہ کے وقوع پذیرہونے پر ایمان رکھنا عقل و علم سے بیر اور جہالت و وہم پرستی کے سوا کچھ نہیں۔۱۸؂مغربی اہل فکرِ سے متاثر ہو کر سرسید نے بھی قوانینِ قدرت کا ایسا تصور قائم کر لیا جس میں معجزات کی کوئی گنجائش نہیں پائی جاتی۔چنانچہ انہوں نے معجزات کا مطلقاً انکار کر ڈالا ۔ان کا خیال ہے کہ پیغمبر چونکہ فطرت کے قوانینِ الٰہیہ کا نفاذ کرتے ہیں اور معجزات کا تصور ان قوانین کا غلط اور غیر قانونی طریقہ پر ابطال کرتا ہے ،اس لیے کتبِ سماوی میں معجزات کا جو ذکر ہے اسے استعاراتی، اشاریاتی یا افسانوی سمجھنا چاہیے۔ انکارِ معجزات کے حوالے سے انتہاپسندانہ موقف اختیار کرنے میں مافوق الفطرت اور معجزاتی عناصر پر ولیم میور کی تنقید نے سر سید پرخاصے اثرات مرتب کیے۔’’خطباتِ احمدیہ‘‘سرسید کی ان کوششوں کا بین ثبوت ہے جو انہوں نے سیرتِ طیبہ کو ان معجزات سے الگ کرنے کے لیے کیں۔بارہویں خطبہ میں وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے متعلق ما فوق الفطرت واقعات کو شاعرانہ تخلیق کہتے ہیں،جو اسلام کی حیرت انگیز کا میابی کے بعد اختراع کیے گئے۔۱۹؂ سر سیدنے سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت کی تفسیرکے سلسلہ میں معراجِ جسمانی سے متعلق احادیث وروایات کو ناقابلِ اعتباراور ان کے بیان کو خلافِ قانونِ فطرت اور ممتنعاتِ عقلی میں سے شمار کرتے ہوئے بالکل ڈیوڈ ہیوم کے اندازمیں ۲۰؂ معجزات کا انکارکیا ہے ۔لکھتے ہیں’’واقعات خلاف قانونِ فطرت کے وقوع کا ثبوت اگر گواہانِ روایت بھی گواہی دیں تو محالات سے ہے اس لیے کہ اس وقت دو دلیلیں جو ایک ہی حیثیت پر مبنی ہوں، سامنے ہوتی ہیں۔ایک قانون فطرت جو ہزاروں لاکھوں تجربوں سے جیلاًبعد جیلِِ وزماناًبعدزمانِِ ثابت ہے اورایک گواہانِ روایت جن کاعادل ہونابھی تجربہ سے ثابت ہوا ہے۔ پس اس کا تصفیہ کرنا ہوتا ہے کہ دونوں تجربوں میں سے کون سا تجربہ قابلِ ترجیح ہے ۔قانونِ فطرت کو غلط سمجھنا یا راوی کی سمجھ اور بیان میں سہو و غلطی کا ہونا۔کوئی ذی عقل تو قانونِ فطرت پر راوی کے بیا ن کو ترجیح نہیں دے سکتا ۔قولِ پیغمبر بلا حجت قابلِ تسلیم ہے مگر کلام تو اسی میں ہے کہ قولِ پیغمبر ہے یا نہیں۔‘‘اس استدلال کے بعد سر سید معراجِ رسول کو خواب میں پیش آنے والا ’’رویا‘‘قرار دیتے ہیں۔۲۱؂ اسی سے متصل شق صدر کے معجزہ پر بحث کرتے ہوئے اسے بھی شبِ معراج کے خواب کا حصہ قرار دیا ہے ۔۲۲؂
سورہ البقرہ کی آیت۵۰کے ضمن میں حضرت موسیٰ کے عصا کے ذریعے دریا کے معجزاتی طور پر پھٹ جانے کو باطل قرار دیتے ہوئے کہا ہے ’’اس وقت بسبب جوار بھاٹے کے جوسمندر میں آتا رہتا ہے کہیں خشک زمین نکل آتی تھی اورکہیں پایاب رہ جاتی تھی۔بنی اسرائیل پایاب وخشک راستہ سے راتوں رات بامن اتر گئے۔یہی مطلب صاف اس آیت سے پایا جاتاہے جو سورہ دخان میں ہے کہ ’’وَاتْرُک الْبَحْرَ رَھْوَا‘‘ جس کا ٹھیک ٹھیک مطلب یہ ہے کہ چھوڑ چل سمندر کوایسی حالت میں کہ اترا ہوا ہو ۔صبح ہوتے فرعون نے جو دیکھا کہ بنی اسرائیل پار اتر گئے، اس نے بھی ان کا تعاقب کیا اور لڑائی کی گاڑیاں اور سوار وپیادے غلط راستے پرسب دریا میں ڈال دیے اور وہ وقت پانی کے بڑھنے کا تھا ۔ لمحہ لمحہ میں پانی بڑھ گیاجیسا کے اپنی عادت کے موافق بڑھتا ہے اور ڈوباؤہو گیا جس میں فرعون اور اس کا لشکر ڈوب گیا۔‘‘۲۳؂ سورہ آل عمران کی آیت ۳۷کے سلسلہ میں قَالَتْ ھُوَ مِنْ عِنْدِاللّٰہ کی تشریح کے ضمن میں حضرت مریم کے پاس پھلوں کی معجزانہ آمد کی بجائے ابو علی جبائی معتزلی کے اس قول کو قابلِ اعتبار سمجھتے ہیں جس کے مطابق اللہ تعالیٰ ان ایمان والوں کے ذریعے ،جو زاہد و عابد عور توں کی خبر گیری کرتے تھے ،حضرت مریم ؑ کو رزق پہنچاتا تھا۔۲۴؂ 
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے تسلسل میں ان کی بن باپ معجزانہ پیدائش کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت اسحاق اور ان کی بیوی اور حضرت زکریا اور ان کی بیوی دونوں کی حالت اولاد ہونے سے مایوسی کی تھی، مگر دونوں سے اولاد کا بغیر باپ کے پیدا ہونا تسلیم نہیں کیا گیا ۔حضرت مریم ؑ کی تو حالت بھی اولاد ہونے سے مایوسی کی نہ تھی، لہٰذاصرف ان کے تعجب سے جو محض اس وقت کی کیفیت پر تھا جب کہ بشارت ہوئی تھی، نہ کہ آئندہ کی ہونے والی حالت پر،کیونکر حضرت عیسیٰ کے بغیر باپ کے پیدا ہونے پر استدلال ہو سکتا ہے ۔کیا عجب ہے کہ اس خواب کے بعد ہی حضرت مریم اور ان کے مربیوں کو حضرت مریم کی شادی کا خیال پیدا ہوا ہو جو آخر کاریوسف کے ساتھ عقدہونے سے پورا ہوا ۔۲۵؂ رفع عیسیٰ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب اس واقعہ پر مورخانہ طور سے نظر ڈالی جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ صلیب پر نہ مرے تھے بلکہ ان پر ایسی حالت طاری ہو گئی تھی کہ لوگوں نے ان کو مردہ سمجھا تھا۔ تاریخ میں صلیب پر سے لوگوں کے زندہ اترنے کی مثالیں موجود ہیں ۔حضرت عیسیٰ تین چار گھنٹے کے بعد صلیب سے اتار لیے گئے تھے اور ہر طرح پر یقین ہو سکتا ہے کہ وہ زندہ تھے ۔رات کو لحد سے نکال لیے گئے اور مخفی طور پر اپنے مریدوں کی حفاظت میں رہے ۔حواریوں نے ان کو دیکھا اور ملے اورپھر کسی وقت اپنی موت سے مر گئے ،اور یہودیوں کی عداوت کے خوف سے انہیں کسی نامعلوم مقام میں دفن کر دیا گیا۔حضرت علیؓکا جنازہ بھی خوارج کے خوف سے اسی طرح مخفی طور پر دفن کیا گیا تھا،حالانکہ خوارج کا خوف یہودیوں کی نسبت بہت کم تھا ،اور اسی طرح بعض شیعہ نے حضرت علیؓ کے متعلق کہہ دیا تھا کہ وہ آسمان پر چلے گئے۔ ۲۶؂
معجزات کی نفی کرتے ہوئے قدرے فیصلہ کن انداز میں سر سید نے تحریر کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معجزہ نہ ہونے کا ذکر قر آن میں موجود ہے ۔ حضرت محمد، جو افضل الانبیاء ہیں،کے پاس معجزہ نہ ہونے کے بیان سے ضمناً یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کہ انبیائے سابقین علیہم السلام کے پاس بھی کوئی معجزہ نہیں تھا، اور جن واقعات کو لوگ معروف معنوں میں معجزات سمجھتے تھے، وہ در حقیقت معجزات نہ تھے بلکہ قانونِ قدرت کے مطابق وقوع پذیر ہونے والے واقعات تھے ۔عام معروف معنوں میں انبیاء میں معجزات اور اولیاء اللہ میں کرامات کا یقین (گو یہ اعتقاد رکھا جائے کہ خدا نے ہی یہ قدرت ان کو عطا کی تھی )،توحید فی الصفات کو نامکمل کر دیتا ہے۔ اسلام اور بانئ اسلام کی کوئی عزت،کوئی تقدس،کوئی بزرگی اور کوئی صداقت اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی کہ انہوں نے صاف صاف لوگوں کو بتا دیا کہ معجزے وعجزے تو خدا کے پاس ہیں، میں تو تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں اور تمہیں خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی وحی کی تلقین کرتا ہوں۔۲۷؂

وحی ونبوت

اسلام کے نقطۂ نظر سے وحی نبی کی داخلی کیفیت یا فطری ملکہ نہیں بلکہ خارج سے بذریعہ فرشتہ نازل ہوتی ہے ۔ اس کی تصدیق نہ صرف صحفِ سماوی سے ہوتی بلکہ عقلاً بھی اس میں کوئی استبعاد نہیں۔مستشرقینِ یورپ خود دیگر انبیا پر نزولِ وحی کے قائل ہیں، لیکن وحی محمدیؐ سے انکار کی خاطر امغربی اہلِ قلم نے بر بنائے تعصب شدید ہرزہ سرائیاں شرو ع کر دیں۔ مثلاً انہوں نے نہایت دریدہ دہنی سے کام لیتے ہوئے آپ کو مصروع قراردے دیا۔ ۲۸؂وحی و نبوت کے حوالے سے استشراقی خیالات نے سرسید پر گہرا اثر ڈالا۔تفسیر القرآن میں وحی ونبوت سے متعلق سرسید کے خیالات پڑھ کر آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ کیا یہی وہ سر سید ہیں جنہوں نے ولیم میور کے زلاتِ علمی کے جوابات لکھنے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دینے اورکنگال ہو کر مر جانے کو سعادتِ دارین سمجھا تھا ؟ میور وغیرہ مستشرقین نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پرصرع اورمرگی کا جو الزام عائد کیاتھا، سر سید نے ’خطباتِ احمدیہ ‘ میں بلا شبہ اس کی زبردست تردید کی ہے لیکن ’تفسیرالقران ‘میں وہ وحی ونبوت کی ایسی توجیہ پیش کرتے ہیں کہ اپنے خیالات کو بالبداہت استشرا قی الزامات سے جا ملاتے ہیں۔ سرسید لکھتے ہیں کہ نبوت ایک فطری چیز ہے جوانسان میں اس کی دوسری صفات کی طرح خلقی طور پر موجودہوتی ہے ۔یہ فطری صفت مختلف ناموں سے پکاری جاتی ہے، مثلاًہدایتِ کامل کی فطرت،ملکۂ نبوت،ناموسِ اکبر اور جبریلِ اعظم وغیرہ۔خدا اور پیغمبر میں بجز اس ملکۂ نبوت کے جسے جبریل بھی کہا جا سکتا ہے اور کوئی ایلچی یا پیغام پہنچانے والا نہیں ہوتا ۔ نبی کا دل ہی وہ آئینہ ہے جس میں تجلیاتِ ربانی کا جلوہ دکھائی دیتا ہے ۔وہ خود ہی وہ مجسم چیز ہے جس میں سے کلامِ خدا کی آوازیں نکلتی ہیں۔وہ خود ہی وہ کان ہوتا ہے جو خدا کے بے حرف وصوت کلام کو سنتا ہے ۔اسی کے دل سے فوارہ کی مانند وحی اٹھتی ہے اور خوداسی پر نازل ہوتی ہے ۔اسی کا عکس اس کے دل پر پڑتاہے، جس کووہ خودہی الہام کہتا ہے۔اس کو کوئی نہیں بلواتا،وہ خود ہی بولتا ہے اور خود ہی کہتا ہے وَمَا ینْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ الاّ وَحْیٌ یوُحٰی۔وہ خود ہی اپنا کلام اپنے ظاہری کانوں سے یوں سنتا ہے ،گویا کوئی دوسرا شخص اس سے کلام کر رہا ہے اووراپنے آپ کو ان ظاہری آنکھوں سے یوں دیکھتا ہے ،گویاکوئی دوسرا شخص اس کے سامنے کھڑا ہے ۔ یوں سمجھیے جیسے مجنون بغیر کسی بولنے والے کے اپنے کانوں سے آوازیں سنتے اور تنہا ہوتے بھی اپنے سامنے کسی کو کھڑا ہوا اور باتیں کرتاہوا دیکھتے ہیں۔ لہٰذا ایسے شخص کوجوفطرت کی رو سے تمام چیزوں سے بے تعلق روحانیت میں مستغرق ہو ،ایسی واردات کا پیش آنا ہر گز خلافِ فطرتِ انسانی نہیں ۔دونوں میں فرق یہ ہے کہ پہلا مجنون ہے اور دوسرا پیغمبر۔کافر دوسرے کو بھی مجنون کہتے تھے۔چنانچہ وحی وہ چیز ہے جس کو قلبِ نبوت پراُسی فطرتِ نبوت کے سبب مبدأفیاض نے نقش کیا ہے۔یہی نقشِ قلبی کبھی بولنے والے کی مانند ظاہری کانوں سے سنائی دیتا ہے اور کبھی دوسرے بولنے والے کی شکل میں نظر آتا ہے، مگر بجز اپنے آپ کے نہ وہاں کوئی آواز ہے اور نہ بولنے والا ۔جس طرح تمام ملکاتِ انسانی کسی محرک کے پیشِ آنے پر اپنا کام کرتے ہیں،اسی طرح ملکۂ نبوت بھی کسی مخصوص امر کے پیشِ نظر فعال ہو جاتا ہے۔۲۹؂ 
غور کیجیے وحی ونبوت سے متعلق اپنے مذکورہ خیالات میں سر سید مستشرقین کے ان بیانات کے کس قدر قریب چلے گئے ہیں جن کے مطابق وہ وحی والہام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی داخلی کیفیت سے تعبیرکرتے ہیں ،جسے آپ (نعوذ بااللہ)غلط طور پر وحی سمجھ بیٹھے تھے، حالانکہ وہ جنون و مرگی کے دوران حضورؐپروارد ہونے والے خیالات ہوتے تھے، یا جن کے مطابق وحی آپؐ کے زمانے میں مکہ کے حالات اور آپ کی غیر معمولی فطری صلاحیتوں اور سوچ وبچارکے ذریعے اپنے معاشرے کو برائی سے بچانے کے لیے آپ کے نہاں خانۂ دل میں جاری کشمکش کا فطری اظہار تھی ۔  
وحی کو نبی کی داخلی کیفیت اور فطری ملکہ سے تعبیر کرنے کی بنا پر سر سید نے ختمِ نبوت سے متعلق ایسے خیالات کا اظہارکیا جس سے نئی نبوت کے دعویداروں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ختمِ نبوت سے متعلق سر سید کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے ڈاکٹر ٹرول لکھتے ہیں کہ سر سید کے نزدیک ختمِ نبوت کا اصول افراد میں ملکۂ پیغمبری یا اس صفت کے سبب انسانوں کو الوہی نعمتوں کے حصول کے اختتام کا مفہوم نہیں رکھتا ۔خدا ا پنی مخلوق سے کبھی بے نیاز نہیں رہتا، اس لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی لوگ اس خلقی تحفہ کے ساتھ پیدا ہوں گے۔ اس کے باوجود کوئی شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ تعلیم کی ہمہ گیر تکمیل اور صداقت میں کوئی اضافہ کرنے کے قابل نہیں ہو گا ۔یہی کامل توحید کا پیغام ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق اپنے خیالات میں ایک طرف تو سر سید ما فوق الفطرت واقعہ کے اصول سے احتراز کرنا چاہتے ہیں،یعنی یہ کہ خدا نے اس کام کے لیے حضور کا انتخاب نہیں کیا تھا اور اسی لیے انہوں نے ملکۂ نبوت کا نظریہ پیش کیا، مگردوسری طرف وہ اپنے پہلے نظریہ کے تسلسل میں توحید کے پہلے معلم کی حیثیت سے حضرت محمد کی منفرد حیثیت کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں۔ان کے نزدیک آپؐ کے پیغام میں ایک عالمگیر کشش ہے جو سب کے لیے قابلِ فہم ہے ۔اس لحاظ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری پیغمبر ہیں پھر بھی جیسے جیسے فطرت کا نظام کھلتا جاتا ہے ،بعد کے یکے بعد دیگرے آنے والوں میںیہ ملکہ فعال ہوتا رہتا ہے۔ایسی پارسا ہستیوں کی توقع کی جا سکتی ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نئی صورتِ حال میں توحید کا سبق سکھانے کی اہلیت اور قدرت رکھتی ہوں ۔۳۰؂ 
سرسید کے مذکورہ صدر خیالات واضح طور پر نئی نبوت کے لیے گنجائش پیدا کر رہے ہیں ۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مرزاقادیانی کو اپنی نئی نبوت کے لیے سر سید کے خیالات سے بھی شہ ملی۔سرسیدکی پیروی میں۳۱؂مرزاقادیانی نے بھی وحی کو ایک فطری ملکہ قرار دے کر اپنے اس مفروضے کی تائید کے لیے دلائل فراہم کرنے کی کوشش کی کہ نبی کی متابعت سے آدمی کا فطری ملکہ فعال ہو سکتا ہے اور وہ نبی ہی کی طرح وحی پا سکتا اورخدا کے مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف ہو سکتا ہے۔۳۲؂ 

مسائلِ معاد

قرآن مجید کی رو سے بعث بعد الموت اور جنت ودوزخ وغیرہ معاد سے تعلق رکھنے والے ایسے مسائل ہیں جن کو ماننا ایمان کی لازمی شرط ہے۔ نیز قرآن مجید سے مترشح ہوتاہے کہ کہ بعث بعد الموت اور جزاو سزائے اخروی کا معاملہ جسم و روح دونوں سے متعلق ہے۔معاد کے بارے میں حسی تصورات عیسائیت وغیرہ مذاہب میں بھی موجود رہے ہیں، لیکن یورپ میں سائنسی نشأۃ ثانیہ کے دور میں جہاں دیگر مذہبی عقائد شکست و ریخت کا شکار ہوئے، وہاں معاد سے متعلق نقطہ نظر بھی بدل گیا اور اخروی جزا وسزا کے جسمانی کی بجائے روحانی ہونے اور جنت و دوزخ کو مقامات کی بجائے کیفیات سے تعبیر کرنے کا رجحان پیدا ہو گیا ۔انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کامقالہ نگار لکھتا ہے: 
the most recent interpretations view Heaven symbolically as a state of life with Christ, rather than a place
ستم ظریفی یہ ہے کہ مغربی اہلِ فکر نے ایک طرف تو جسمانی جزا سزا کے مسیحی تصورات کو نئی تعبیردے کر روحانی بنانے کی کوششیں کیں اور دوسری طرف اسلام کو بدو عربوں کو متاثر کرنے کے لیے جزا سزا کے تصورات پر مسیحیت وغیرہ مذاہب کی تقلید میں حسیت کی چھاپ لگانے گا ملزم باور کرانے کی سعی کی۔ رچرڈ بیل کا اصرار ہے کہ حشرِ اجساد، جسمانی جزا سزا اور جنت ودوزخ کے واقعی وجود کے اسلامی تصورات بنیادی طور پر یہودیت، عیسائیت اور زردشت وغیرہ مذاہب سے ماخوذ ہیں جنہیں کچھ مقامی رنگ وروغن لگا کر پیغمبر اسلام نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ۔۳۴؂ ولیم میور کا خیال تھاکہ جنت ودوزخ کے قرآن میں بیان کیے جانے والے مناظرمادی مسرتوں اور حسی راحتوں کی صورت میں بیان کیے گئے ہیں اور اس سے مقصود یہ ہے کہ عربوں کے ذہن کو، جو بنجر اور بے آب و گیاہ زمین کے باسی تھے ،متاثر کیا جا سکے۔ وہ سورہ الرحمن کی آیات۴۳۔۵۸ کا حوالہ دیتے ہوئے قران مجید کے جنت و جہنم سے متعلق بیانات کو بناوٹی قرار دیتا ہے جن کے ذریعے بدو عربوں کے لیے متاثر کن خیالات گھڑے گئے۔۳۵؂ 
مغربی واستشراقی اہلِ فکر سے تاثر کے نتیجہ میں سر سیدنے معاد سے متعلق مسائل کو روحانی ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی۔ سورہ الاعراف کی آیت ۳۸ کی تفسیر میں حشرِ جسمانی کی تغلیط اور جزا وسزا کے روحانی ہونے پر استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ا نسانی روح ،جو حیوانی روح سے بنیادی طور پر مختلف اور لا فانیت کی حامل ہے ،اپنی لا فانیت میں جو خیر وشر جذب کرتی ہے ،اس کے لیے روزِ قیامت جوابدہ ہے ۔ قرآن میں روزِ قیامت پیش آنے والے جن کائناتی حوادث کا ذکر ہے ،وہ اس زمانے کے وحوش وطیورپر گزریں گے ،مگر اس سے پہلے مرنے والے انسانوں کے لیے قیامت ان کی موت ہی سے شروع ہو جاتی ہے ۔ قیامت در حقیقت تمام کائنات میں ایک لازمی بنیادی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔قرآن کی کسی آیت سے ثابت نہیں ہوتا کہ روزِ حشر لوگ موجودہ جسموں میں دوبارہ زندہ ہوں گے۔ قرآن کے زمانۂ نزول کے لوگ چونکہ روح پر یقین نہیں رکھتے تھے ،اس لیے جزا وسزا کی حقیقت سمجھانے کے لیے ان کے تخیل پر اثر انداز ہونے والا طریقہ اختیار کیا گیا جس سے مادی جسم کے از سر نوع اٹھائے جانے کا عقیدہ پیدا ہو گیا حالانکہ واقعۃً مادی اجسام دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے اور جزا وسزا محض روحانی ہو گی ۔ ۳۶؂سرسید نے جنت ودوزخ اور ان کے نعیم وآلام کو تمثیلی و استعاراتی قرار دینے کے ساتھ ساتھ انہیں حسی سمجھنے والوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن کے جنت ودوزخ کے وعدہ ووعید سے متعلق ایسے بیانات جو حسیت کا رنگ لیے ہوئے نظر آتے ہیں، ان کا مقصد در اصل جنگلی وبدوی اور غیر تربیت یافتہ انسانی دماغوں میں ان کے فہم کے مطابق انتہائی درجہ کے رنج و راحت کا احساس پیدا کرنا ہے ورنہ درحقیقت، جیسا کہ ایک تربیت یافتہ دماغ کوسمجھنے میں کچھ دقت پیش نہیں آتی ، ان بیانات میں ذکر کردہ اشیا سے بعینہ وہ اشیا مقصود نہیں۔کوڑ مغز ملا اور شہوت پرست زاہدجس طرح کی حسن پرستانہ اور شراب وکباب سے مزین جنت کا نقشہ پیش کرتے ہیں، ایسی جنت سے تو ہمارا یہ خرابہ بہتر ہے، چہ جائیکہ قرآن کے بیانات سے ایسی جنت کاذکر مطلوب ہو۔۳۷؂

ملائکہ،شیطان اورجنات

فرشتوں ،شیطان اور جنات کا تصور مختلف مذاہب میں موجود رہا ہے۔ اسلام نے بھی ان کا ذکر غیرمرئی واقعی وجودات کے طور پر کیا ہے۔ یورپ میں جدید سائنس اور مادی افکار کی اشاعت نے ان غیر مرئی مخلوقات کے انکار کا رجحان پیدا کر دیا۔ انسائیکلوپیڈیا آف ریلجین کے مقالہ نگار کے مطابق جدید روشن خیالوں نے Demons کے وجود کو پرانے لوگوں کے توہمات قرار دے دیا ۔اس سلسلہ میں معروف ماہرِ نفسیات فرائڈ نے خصوصی کردار ادا کیا ۔۳۸؂غیر مرئی مخلوقات سے متعلق مغربی اہلِ فکر کے خیالات سے متاثر ہو کر سر سید نے ملائکہ،شیطان اورجنات سے متعلق قرآنی بیانات کی معذرت خواہانہ توجیہات پیش کرتے ہوئے ان کے خارجی وجود سے انکار کر ڈالا ۔چنانچہ وہ اپنی تفسیر میں ملائکہ اور شیاطین کو خیر وشر کی قوتیں اور جنات کو جنگلی اور پہاڑی مخلوق قرار دیتے ہیں۔سورہ البقرہ کی آیت ۳۰ کی تفسیرمیں فرشتوں اورشیطان کی بابت لکھا ہے: ’’جن فرشتوں کا قرآن میں ذکر ہے، ان کا کوئی اصلی وجود نہیں ہو سکتا بلکہ خدا کی بے انتہا قدرتوں کے ظہور کو اور ان قوی کو، جو خدا نے اپنی مخلوق میں مختلف قسم کے پیدا کیے ہیں،ملک یا ملائکہ کہاہے جن میں سے ایک شیطان یا ابلیس بھی ہے ۔پہاڑوں کی صلابت ،پانی کی رقت ،درختوں کی قوتِ نمو،برق کی قوتِ جذب ودفع، غرضیکہ تمام قوی جن سے مخلوقات موجود ہوئی ہیں اور جو مخلوقات میں ہیں، وہی ملائک وملائکہ ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ انسان ایک مجموعہ قوائے ملکوتی اور قوئ بہیمی کا ہے ،اور ان دونوں قوتوں کی بے انتہا ذریات ہیں جو ہر ایک قسم کی نیکی اور بدی میں ظاہر ہوتی ہیں اور وہی انسان کے فرشتے اوران کی ذریات اور وہی انسان کے شیطان اور ان کی ذریات ہیں ۔‘‘ ۳۹؂ بالفاظِ دیگر سر سید کے ہاں قرآن کی اصطلاح میں ، اپنے ثانوی مفہوم میں، فرشتہ خدائی اخلاقی سہارا ہے جو انسان کی حد سے زیادہ ناخوش گوارحالات سے نپٹنے کی کوشش میں مدد کرتا ہے، اور شیطان یعنی مردود فرشتہ کو استعارۃً قرآن پاک میں مخلوقِ آتش سے موسوم کیا گیا ہے ،یہ در اصل انسان کے سیاہ شہوات کی جانب اشارہ ہے ۔۴۰؂ 
’’جن‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ جن اوراس مادہ سے بننے والے تمام الفاظ کے معنی مستور عن الاعین چیز کے ہیں۔ مشرکینِ عرب ایسے تمام واقعات کو جن کے اسباب ان کو معلوم نہیں ہوتے تھے اور اکثر بیماریوں کو، جن کے وجوہ سے وہ ناواقف ہوتے تھے ، غیر مرئی موثر کا اثر خیال کرتے تھے ،جیسا کہ اب بھی جہلا بیمار آدمی پر آسیب کا اثر خیال کرتے ہیں۔ مشرکینِ عرب اور یہودیوں میں جنوں کا عجیب وغریب تخیل مجوسیوں سے درآمد کیا گیا، جو ابتدا ہی سے اہرمن ویزداں کے قائل تھے ۔ مشرکینِ عرب کا یہ بھی خیال تھاکہ یہ مخلوق انسان کو بھلائی یا برائی پہنچانے کی قدرت رکھتی ہے اور مختلف اشکال میں متشکل ہو سکتی ہے ۔قرآن مجید میں کہیں استعارۃًجن کا اطلاق شیطان معنوی الانسان پر ہوا ہے ، کہیں وحشی اور شریر انسانوں پر اور کہیں بطورِ الزام و خطابیات کے اس وجودِ خیالی پر جس پر مشرکین یقین رکھتے تھے۔ مگر خطابیات کے طور پر بیان کرنے سے ایسی مخلوق کا وجود فی الواقع ثابت نہیں ہوتا ۔لفظ’ جن‘ قرآن میں پانچ مقامات پر لفظ’جان‘ کے مترادف کے طور پر استعمال ہوا ہے اور ان کے وجود کو فی الواقع تسلیم کیے بغیر ،ان مخلوقات پر عرب جاہلیت کے اعتقاد کی جانب اشارہ کیا ہے ۔قرآن پاک میں جنات معصیت،امراض اور دیگر مصائب کے مظاہر گردانے گئے ہیں ۔چند دیگر مقامات پر قرآن نے جنگلوں ، پہاڑوں اور ریگستانوں مین رہنے والے وحشی انسانوں کے لیے بھی یہ لفظ استعمال کیا ہے۔۴۱؂ 

حوالہ جات و حواشی

۱۔ابوالحسن علی ندوی، مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش، کراچی، مجلسِ نشریاتِ اسلام، ۱۹۸۱ء، ص ۹۵، ۹۶۔ نیز ملاحظہ ہو:سرسید احمد خاں،مضامین سرسید،(ترتیب ومقدمہ،ذوالفقار،غلام حسین،ڈاکٹر)،لاہو،سنگ میل پبلی کیشنز ۱۹۹۳ء، ص۱۔۴
۲۔قاضی جاوید،سرسید سے اقبال تک، لاہور تخلیقات، ۱۹۹۸ء، ص ۱۴۔۱۵،۱۷، نیز دیکھأ: ڈار، بشیراحمد،
 Religious Thought of Sayyed Ahmad Khan, Lahore, 1971, p. 268.
۳۔محمد اکرام شیخ،موجِ کوثر،لاہور،ادارہ ثقافتِ اسلامیہ، ۱۹۹۲ء، ص ۱۵۸۔ نیز ملاحظہ ہو:سید عبداللہ، سرسید احمد خاں اور ان کے ناموررفقاکی اردو نثر کا فنی و فکری جائزہ،اسلام آباد،مقتدرہ قومی زبان،۱۹۹۴،ص۳۰۔۳۳۔
۴۔ سرسید احمد خاں ، تفسیر القرآن مع اصولِ تفسیر، لاہور:دوست ایسوسی ایٹس،۱۹۹۵ء،ص۱۔۳۶۔
۵۔ سرسید کے اصولِ تفسیرپر نقد ونظر کے لیے ملاحظہ ہو: فضل الرحمن گنوری،’’سرسید کابنیادی اصول۔نیچراور لا آف نیچر‘‘ در ’تحقیقات اسلامی‘علیگڑھ،جولائی۔ستمبر ۱۹۹۰ء، ص۲۹۷۔۳۱۰۔ 
نیز دیکھئے: ظفرالحسن،سرسید اور حالی کا نظریۂ فطرت،لاہور،ادارہ ثقافت اسلامیہ،۱۹۸۷،ص۲۵۱۔۲۵۴۔
۶۔ سید عبداللہ ،سر سید احمدخاں اور ان کے ناموررفقاکی اردو نثر کا فنی وفکری جائزہ،حوالہ مذکور،ص۳۱۔۳۲۔
۷۔حالی ،الطاف حسین، مولانا،حیاتِ جاوید، لاہور، ہجرہ انٹر نیشنل،۱۹۸۴، حصہ اول،ص۲۳۱۔
۸۔قاضی جاوید ،سرسید سے اقبال تک،ص۲۵۔ 
۹۔
 Prat, John H, Scripture and Science not at variance, London, 1858, p. 95.
۱۰۔ 
Ibid, pp.8,11,17. 
۱۱۔ ٹرول،سی ڈبلیو،ڈاکٹر،سر سید احمد خاں۔۔۔فکرِ اسلامی کی تعبیرِ نو، (مترجمین،ڈاکٹر قاضی افضل حسین اور محمداکرام چغتائی)، لاہور، القمر انٹرپرائزز،۱۹۹۸ء،ص۱۸۳۔
۱۲۔سرسید احمد خاں،تفسیرالقرآن مع اصولِ تفسیر،ص۱۱۰۔۱۱۳۔
۱۳۔ایضاً،ص۶۷۹۔۶۹۱۔
۱۴۔ٹرول،سی ڈبلیو،ڈاکٹر،سرسید احمد خاں۔۔۔فکرِ اسلامی کی تعبیرِ نو،ص۱۹۳۔ 
۱۵۔عیسائیت میں معجزات ، خود مغربی اہلِ فکر کے اقرار کے مطابق ،اس قدر ضروری عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں کہ اس مذہب سے معجزات کو نکالنا ،مذہب کو باطل قرار دینے کے مترادف ہے۔
 Longman, Supernatural Religion, Green & Co, London, 1874, Vol. 1, pp. 9-10.
۱۶۔
See for detail; Bashir Ahmad Siddiqi,Dr, Modern trends in Tafsir Literature-Miracles, Lahore, Faculty of Islamic and Oriental Learning, Yuniversity of the Punjab, 1988,pp.138-182. 
۱۷۔ 
Ibid, pp.221-235. 
۱۸۔ 
Supernatural Religion, Op.Cit, Vol.II.p.480. 
۱۹۔ٹرول سی ڈبلیو، ڈاکٹر،سرسید احمد خاں۔۔۔فکرِ اسلامی کی تعبیرِ نو، ص۲۰۶۔۲۰۷۔
۲۰۔ انکارِ معجزات کے حوالے سے ڈیوڈہیوم کے جس استدلال کا سر سید یہاں تتبع کر رہے ہیں،اس کے تفصیلی مطالعہ کے لیے ملاحظہ ہو :
 Hume,David,Enquiries Concerning the Human Understandig, edited by L.A Selly,Bigge, 2nd ed; Oxford,1893, pp.114-127. 
۲۱۔سرسید احمد خاں ،تفسیر القرآن مع اصولِ تفسیر،ص۱۰۷۵۔۱۱۹۷۔ 
۲۲۔ایضاً،ص۱۱۹۷۔ ۱۲۰۵۔
۲۳۔سر سید احمدخاں،تفسیرالقرآن مع اصولِ تفسیر،ص۱۴۷۔۱۶۲۔
۲۴۔ایضاً، ص۳۹۹۔ 
۲۵۔ایضاً،ص۴۱۳۔
۲۶۔ایضاً،ص۴۲۶۔۴۲۷۔
۲۷۔ایضاً،ص۵۸۰۔
۲۸۔الزامِ صرع کے حوالے سے استشراقی ہرزہ سرایوں کی تفصیلات کے لیے دیکھیے:
Muir,William,Muhammad and Islam,London,N.D.pp.22,24. 
سرسید احمد خاں،سیرت محمدی،لاہور،مقبول اکیڈمی، ۱۹۹۷، ص۲۲۸۔ ۲۲۸ ۔ اکیڈمی،۱۹۹۷،ص۲۲۸۔۲۳۰۔ 
قرونِ وسطی اور بعدمیں بھی ایک عرصہ تک مستشرقین حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کی توجیہ مرگی کے دوروں ہی سے کرتے رہے (Muhammad Khalifa,The Sublime Quran and Orientalism ,London $ New York,Longman,1983,p.12 ) ،لیکن زمانۂ مابعد میں،جب اس بے ہودہ الزام کو خو مستشرقین ہی کی جانب سے تاریخی تنقید کے خلاف ایک جرم قرار دیا جانے لگا (Guillaume,A, Islam, ,Harmondsworth,Pelican Books,1961, p.25) تو مستشرقین نے پینترا بدلااورآپؐ پر وحی کی جدید فلسفیانہ توجیہات پیش کی جانے لگیں،تاہم اس استشراقی موقف میں کوئی تبدیلی نہ آئی کہ حضورؐ پر خارج سے کوئی وحی ناز ل نہیں ہوتی۔جدید توجیہات میں سب سے پر زور انداز سے پیش کی جانے والی توجیہ یہ ہے کہ وحی کے حوالے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش کردہ تصورات ، آپ کے لا شعور سے شعورمیں آنے والے وہ خیالات تھے جو مکہ کے اس زمانے کے حالات کا فطری ردِ عمل تھے۔ (Watt, W. M, Muhammad: Prophet and Statesman, Oxford Yniversity press,1961,p.14)
۲۹۔۔سرسید احمد خاں ،تفسیرالقرآن مع اصول تفسیر،ص۹۰۔۹۶،۵۶۵۔۵۷۸۔ 
۳۰۔ٹرول،سی ڈبلیو،ڈاکٹر ،سرسید احمد خاں ۔۔۔فکرِ اسلامی کی تعبیرِ نو، ص۲۱۷۔۲۱۸۔
۳۱۔مرزا قادیانی کا سر سید کا تتبع کوئی بے سند مفروضہ نہیں ہے بلکہ اہلِ تحقیق نے کئی مسائل میں مرزا کے سر سید اور ان کے ہم نوااہلِ فکر کے تتبع کی وضاحت کی ہے ۔مثال کے طور پر دیکھیے:محمد اکرام شیخ، موجِ کوثر،س۱۷۸۔ 
۳۲۔دیکھیے:قادیانی،غلام احمد ،مرزا،تفسیر سورہ فاتحہ،ربوہ، دار المصنفین،ص۲۵۰۔۲۶۰۔ 
۳۳۔
 The Encyclopaedia Britannica, Chicago,1986, Vol.5 .p.789. 
۳۴۔
 Vide, Bell, Richard, Introduction to the Quran, at the Edinburgh University press, 1963, pp. 156-161.
۳۵۔
Vide, Muir, William, The Life of Mahomet, London, Smith Elder & Co;1877,Vol.2.pp141-145.
۳۶۔سر سید احمد خاں،تفسیرالقرآن مع اصولِ تفسیر،ص۶۳۵۔۶۷۵۔ 
۳۷۔ایضاً،ص۱۰۶۔۱۰۸۔
۳۸۔
The Encyclopedia of Rrligion, Mircea Eliade, Editor in Chief, London & New York,1987,Vol.4.p.291.
۳۹۔ سرسیداحمد خاں، تفسیرالقرآن مع اصولِ تفسیر،ص۱۱۷۔
۴۰۔وہی مصنف ،تہذیب الاخلاق،لاہور، اشاعتِ ثانی،س.ن.حصہ دوم،ص۱۹۱۔
۴۱۔وہی مصنف،تفسیرالقرآن مع اصول تفسیر،ص۶۱۳۔۶۲۴،وہی مصنف ،تفسیر الجن ولجان،آگرہ،۱۸۹۲ء ، ص۲۔۱۹۔ 

اسلامی اخلاقیات کے سماجی مفاہیم (۳)

’’راہِ عمل‘‘ کا ایک مطالعہ

پروفیسر میاں انعام الرحمٰن

کسی سماجی مسئلے کی گتھی سلجھانے کے لیے مصلح کا غیر جانب دار ہونا نہایت ضروری ہے۔ یہ صفت مصلح کوتحریک دیتی ہے کہ زیرِ بحث مسئلے کا معروضی جایزہ لے۔ معروضی تجزیے کی یہ روش، مسئلے کے متعلق درست زاویے سے سوال اٹھانے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ ہماری رائے میں کسی مسئلے کے قابلِ قبول حل کے لیے پہلا قدم،اس کے متعلق درست سوال اٹھانا ہے۔ ملاحظہ کیجیے کہ خالد سیف اللہ صاحب نے آج کے ایک سنجیدہ مسئلے کو کتنے معروضیت پسندانہ اسلوب سے اڈریس کیا ہے: 
’’سوال یہ ہے کہ کم عمری کا نکاح زیادہ نقصان دہ ہے یا کم عمری کے جنسی تجربات؟ یقیناََ بے قید جنس پرستی زیادہ مضر ہے۔ تو اگر ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ ماں باپ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے اخلاق و کردار کی حفاظت کے لیے بلوغ کے بعد جلد سے جلد ان کا نکاح کر دینا مناسب سمجھتے ہوں تو کیا یہ بات مناسب نہیں ہو گی کہ انہیں اس عمر سے پہلے ہی نکاح کی اجازت دی جائے؟ تاکہ وہ اپنے بچوں کو فساد اور بگاڑ کے گڑھے میں جانے سے بچا سکیں۔ اصل مسئلہ child marriage کا نہیں، بلکہ child sex کا ہے۔ ‘‘ (کم عمری کی شادی: ج۱، ح۲، ص۱۶۴) 
خالد سیف اللہ صاحب کی سوچ کے اسی رخ نے انہیں ایسے خود ساختہ بے جان مسایل میں الجھنے نہیں دیا جن کا سماجی نشوونما سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا ،بلکہ ہوا یوں ہے کہ موصوف نے دینِ اسلام کی اصل روح پر مسلسل نظر رکھتے ہوئے ایسے زندہ معاشرتی مسایل کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے جن کی بابت مسلم سماج میں بہت زیادہ حساسیت پائی جانی چاہیے: 
’’ کون صاحبِ دل ہے جسے بچہ کی معصوم مسکراہٹ اپنی طرف متوجہ نہ کرتی ہو اور اس کا رونا اور بلکنا سخت سے سخت انسان کو بھی تڑپا نہ دیتا ہو ؟ بچہ خواہ خوش رنگ ہو یا کالا کلوٹا ، صاف ستھرا ہو یا میلا کچیلا ، کسی کاشانہ عشرت میں پیدا ہوا ہو یا آشیانہ غربت میں ، اس کا بچپن کشش سے بھر پور ہوتا ہے اور ممکن نہیں کہ کوئی حساس اور فطرتِ سلیمہ کا حامل اسے دیکھے اور دل بھر نہ آئے اور ماں باپ اور خاندان کے اہلِ تعلق کا کیا کہنا ، ان کو تو اپنے بچوں کے معصوم چہرہ میں لالہ و گل کا نکھار اور غنچہ و گل کی بوئے عطر بار کا احساس ہوتا ہے ۔ ...... بچوں کو کسبِ زر کا ذریعہ بنانا اور تعلیم و تربیت سے محروم رکھنا بڑی بے رحمی اور بد خواہی ہے ، کیونکہ یہ ہمیشہ کے لیے ان کو معاشی ، اخلاقی اور فکری اعتبار سے پس ماندہ اور محروم رکھنے کے مترادف ہے ، اس پس منظر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائی کہ کم عمر بچوں کو کسبِ معاش کا مکلف نہ کرو ، اس سے یہ ہو گا کہ کما نہ پائیں گے تو چوری کا ارتکاب کریں گے۔ .....کوئی غریب شخص معذور ہو جائے یا اس کا انتقال ہو جائے اور گھر میں کوئی کمانے والا موجود نہ ہو تو دکھیاری بیوہ کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں ہوتا کہ اپنے کم عمر نو نہالوں کو مشقت کی اس بھٹی میں ڈال کر چند پیسے حاصل کرے ، اسی سے اپنا تن ڈھانکے ، پیٹ بھرے ، اپنی اور گھر کی عزت و آبرو کی حفاظت کرے ۔ سماج اتنا ظالم اور خود غرض ہے کہ وہ کسی غریب کی جھونپڑی پر ترچھی نظر ڈالنے کو بھی تیار نہیں ہوتا اور مجبوری کو دیکھ کر اس کی رہی سہی پونجی بٹورنے بلکہ بعض اوقات اس کی عزت و آبرو کا بھی سودا کرنے کو کمر بستہ ہو جاتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے مواقع پر ان بے کس و بے آسرا لوگوں کو بچہ مزدوری کے سلسلہ میں قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ شریعت کا اصول یہی ہے کہ اگر دو خرابیوں میں سے ایک کے ارتکاب پر مجبور ہو جائے تو کم تر درجہ کی برائی اختیار کر لے۔ .....یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ حکومت محنت و مزدوری کے معاملہ میں ۱۵ سال کے لڑکے کو بالغ تصور کرتی ہے لیکن نکاح وغیرہ میں نابالغ‘‘ ( بچہ مزدوری ۔۔۔اسلامی نقطہ نظر: ج۱، ح۳، ص۶۵، ۶۶، ۶۸، ۷۰)
آپ نے ملاحظہ کیا کہ خالد صاحب نے این جی اوز کے مانند محض فنڈز بٹورنے کے لیے بچہ مزدوری کو Highlight نہیں کیا، بلکہ اسلامی حوالہ دیتے ہوئے جیتے جاگتے سماج کے تکلیف دہ حقایق کو پیش نظر رکھا ہے اوراس کے علاوہ جدید حکومتوں کی دوغلی پالیسی کو بھی بے نقاب کیا ہے جو وہ نام نہاد انسان دوستی کے نام پر اپنائے ہوئے ہیں۔ مذکورہ اقتباس کا آخری فقرہ صدا لگا رہا ہے کہ غیر حقیقت پسندانہ پالیسیاں، ذمہ داری سے فرار کے سوا اور کچھ نہیں ہیں۔
جدید مغربی سماج میں بڑھاپا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ وہاں اولڈ ہومز بھی ہیں اور والدین کے خصوصی دن بھی منائے جاتے ہیں۔ اب جدیدیت کا سیلاب، مشرقی سماج کا رخ کیے ہوئے ہے۔ اگرچہ اس کے مضر اثرات ابھی بہت واضح نہیں ہیں، لیکن خالد سیف اللہ صاحب ، خطرے کی بو سونگھ چکے ہیں ، اس لیے انہوں نے اس مسئلے پر بھی قلم اٹھایا ہے: 
’’جوانی کا زمانہ طاقت کے عروج اور صلاحیتوں کے کمال کا زمانہ ہے، اس زمانہ میں آدمی کے لیے یہ سوچنا بھی دشوار ہوتا ہے کہ پھر کبھی کم زوری اس پر اپنا سایہ ڈال سکے گی، چلتے ہوئے اس کے قدم لڑکھڑائیں گے بینائی اس کا ساتھ چھوڑ دے گی اور جسم کی ایک ایک صلاحیت دامنِ وفا چھوڑ کر رخصت ہو جائے گی، لیکن آخر ہوتا وہی ہے جس سے انسان بھاگنا چاہتا ہے، جوانی رخصت ہوتی ہے اور بڑھاپا اپنی پوری شان کے ساتھ سایہ فگن ہو جاتا ہے۔ اب آنکھوں پر موٹے چشمے ہیں، چہروں پر جھریاں ہیں، ہاتھوں میں عصا ہے، قدموں میں لرزہ ہے، حافظہ اور یاد داشت نے بھی ساتھ چھوڑ رکھا ہے، منہ دانت سے خالی ہے اور آواز ایسی ہے کہ بازو کا آدمی بھی بات سمجھ نہیں پاتا ہے، اس منزل کے بعد قبر ہی کی منزل ہے، انسان بچپن میں بھی محتاج اور عجز و نا طاقتی کا نمونہ ہوتا ہے اور بڑھاپے میں بھی، لیکن بڑھاپے میں یقیناًمجبوری کا احساس زیادہ ستاتا ہو گا ، جوانی کے ایک ایک قصے یاد آتے ہوں گے اور اشکِ افسوس سے ڈاڑھی تر ہوتی ہو گی۔ ..... پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب فرمایا ہے کہ تم لوگوں کو ضعفا اور کم زوروں ہی کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے۔ یہ بڑی اہم بات ہے ، آدمی ایسے بوڑھے اور معذور لوگوں کو اسی لیے تو بوجھ سمجھتا ہے کہ وہ صرف کھاتے ہیں کچھ لاتے نہیں ہیں ، ان کے پاس کھانے والے ہاتھ ہیں کمانے والے ہاتھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تصور ہی کی جڑ کو کاٹ دیا۔ .....بڑھاپے کی نفسیات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس عمر میں انسان چاہتا ہے کہ اس کے چھوٹے اس کے ساتھ عزت و توقیر کا معاملہ کریں، اس کو سماج میں بہتر مقام دیا جائے ۔ آپ نے اس کا بھی پاس و لحاظ فرمایا ہے ۔ ایک سن رسیدہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا ، لوگوں نے جگہ دینے میں دیر کی تو آپ نے تنبیہ کی اور فرمایا کہ جو شخص چھوٹے پر شفقت نہ کرے اور بڑوں کی توقیر نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ حضرت عبداللہ ابنِ عمرؓ کی ایک روایت میں ہے کہ جو بڑوں کا مقام نہ پہچانے ، وہ ہم میں سے نہیں۔ حضرت انس بن مالکؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو نوجوان کسی بوڑھے شخص کی اس کی عمر کی رعایت کرتے ہوئے تعظیم کرے گا تو جب وہ نوجوان اس عمر کو پہنچے گا تو اللہ اس کے لیے بھی ویسا ہی تعظیم کرنے والا مہیا کر دیں گے۔‘‘ (بوڑھے اور ہمارا سماج: ج۲، ح۴، ص۷۸، ۷۹، ۸۱)
انسانی نفسیات کی گہرائیوں کی گرہ کشائی اور پھر اسے سماجی حقیقت نگاری میں ڈھالنا آسان کام نہیں، خاص طور پر کسی مولوی سے اس کی توقع ہی عبث ہے۔ لیکن ہمارے ممدوح نے کمال دیانت سے یہ مشکل فریضہ سر انجام دیا ہے: 
’’جب انسان کسی معاملہ کو اپنے اور دوسرے کے درمیان رکھ کر سوچتا ہے تو غصہ بڑھتا ہے اور انتقام کی چنگاری شعلہ بن جاتی ہے اور وہی شخص جب اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان خدا کو رکھ کر سوچتا ہے تو غضب کی آگ محبت کی شبنم میں تبدیل ہو جاتی ہے اور معاف کرنا نہ صرف آسان ہو جاتا ہے بلکہ اس میں ایک لذت محسوس ہونے لگتی ہے‘‘ (بخش دو گر خطا کرے کوئی: ج۲، ح۴، ص۴۳)
’’ بعض لوگ طبعاََ برے نہیں ہوتے لیکن ان کی طبیعت میں مبالغہ ہوتا ہے ، وہ لفظوں کے ایسے بازی گر ہوتے ہیں کہ سننے والے کو رائی پہاڑ محسوس ہوتا ہے۔ کچھ لوگ شریف اور نیک خو ہوتے ہیں لیکن سادہ لوح اور بھولے بھالے ہونے کی وجہ سے ہر طرح کی باتوں کا یقین کر لیتے ہیں، کسی خبر پر جرح نہیں کرتے، اور اس کے کھرے کھوٹے کو پرکھے بغیر مان لیتے ہیں۔ بعض حضرات سے کسی بات کو سننے یا سمجھنے میں غلط فہمی بھی ہو جاتی ہے۔ یہ مختلف اسباب ہیں جن کی وجہ سے دانستہ یا نا دانستہ اور بالارادہ یا بلا ارادہ خلافِ واقعہ باتیں لوگوں میں چل پڑتی ہیں، ایسی ہی بے سرو پا باتوں کو ’ہوا‘ کہتے ہیں ‘‘ (افواہیں اور ہمارا رویہ:ج۲، ح۴، ص۱۶۳)
’’بعض لوگ بد زبان اور بد مزاج ہوتے ہیں، معمولی باتوں پر برہمی اور اپنے بزرگوں اور سماج کے باعزت لوگوں پر حرف گیری کا مزاج رکھتے ہیں، جس کو جو جی میں آیا کہہ دیا، بلکہ موقع ہوا تو دشنام طرازی سے بھی نہیں چوکتے، پھر اسے فخریہ بیان کرتے ہیں، اسے اپنا کمال سمجھتے ہیں، یا اسے صاف گوئی کا عنوان دیتے ہیں، حال آں کہ صاف گوئی کے معنی دوسروں پر طنز و تعریض یا تنقیص نہیں، اور اپنی نازیبا باتوں پر فخر بھی کرتے ہیں کہ ہم نے فلاں کو کھری کھری سنائی اور فلاں شخص کو بر سرِ عام ایسا اور ویسا کہا، حال آں کہ یہ سب قابلِ شرم باتیں ہیں نہ کہ قابلِ فخر، ان پر انسان کو شرمانا چاہیے نہ کہ اترانا‘‘ (گناہ پر فخر: ج۱، ح۱، ص۱۹۲) 
’’ضرورت اس بات کی ہے کہ خودکشی کے اخلاقی اور سماجی نقصانات لوگوں کو بتائے جائیں ، سماج میں لوگوں کی تربیت کی جائے کہ وہ تنگ دستوں اور مقروضوں کے ساتھ نرمی اور تعاون کا سلوک کریں، گھر اور خاندان میں محبت اور پیار کی فضا قایم کریں اور باہر سے آنے والی بہو کو محبت کا تحفہ دیں، رسم و رواج کی جن زنجیروں نے سماج کو زخمی کیا ہوا ہے ان کو کاٹنے کی کوشش کریں، شادی بیاہ کے مرحلوں کو آسان بنائیں اور جو لوگ ذہنی تناؤ سے دوچار ہوں اور مشکلات سے گھرے ہوئے ہوں، ان میں جینے اور مسایل و مشکلات سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ پیدا کریں ، کہ بقولِ حضرت کلیم:
سلگنا اور شے ہے جل کے مرجانے سے کیا ہو گا 
ہوا ہے کام جو ہم سے وہ پروانوں سے کیا ہو گا ‘‘
(خود کشی ۔۔تشویش ناک سماجی مسئلہ:ج۲، ح۴، ص۱۸۴) 
اسلامی اخلاقی اقدار کا جدیدطرزِ زندگی پر اطلاق، سماجی اجتہاد کا تقاضا کرتا ہے ۔ جس سے ایک طرف ان اقدار کی نئی معنویت ، انہیں سول سوسائٹی سے relate کرتی ہے اور دوسری طرف جدید زندگی کے مضر پہلو ، شعوری طور پر ناپسندیدہ قرار پاتے ہیں۔ خالد صاحب کی تحریر میں یہ وصف بہت نمایاں ہے، دیکھیے ذرا: 
’’جب آپ کہیں ملازمت کرتے ہیں تو سرکاری یا غیر سرکاری ادارہ میں جو اوقاتِ کار متعین ہوں، آپ ان اوقات میں اپنی ڈیوٹی پر حاضر رہنے کا عہد کرتے ہیں۔ اگر آپ ان اوقات کی پابندی نہ کریں، دفتر دیر سے پہنچیں، پہلے دفتر سے نکل جائیں، یا درمیان میں دفتر چھوڑ دیں، یا دفتر کے اوقات میں مفوضہ کاموں کو انجام دینے کے بجائے اپنے ذاتی کام کرنے لگیں، تو یہ بھی وعدہ کی خلاف ورزی میں شامل ہے۔ بعض شعبوں میں ملازمین کو خصوصی الاؤنس دیا جاتا ہے کہ وہ پرائی ویٹ طور پر کوئی اور کام نہ کریں، خاص کر میڈیکل شعبہ میں گورنمنٹ چاہتی ہے کہ ڈاکٹر کی پوری صلاحیت سرکاری دواخانے میں آنے والے مریضوں پر خرچ ہو، کیوں کہ انسان کی قوتِ کار محدود ہے اور جو شخص ہسپتال میں آنے سے پہلے اپنی قوت ڈھیر سارے مریضوں کو دیکھنے میں صرف کر چکا ہو، یقیناًاب جو مریض اس کے سامنے آئیں گے، وہ کماحقہ اس کی تشخیص نہیں کر سکے گا۔ ..... وعدہ کا تعلق ہماری تقریبات، جلسوں اور دعوتوں سے بھی ہے، مثلاََ دعوت نامہ میں لکھا گیا کہ نکاح عصر کے بعد ہو گا لیکن جب تقریب میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ نوشہ صاحب اپنی شانِ خاص کے ساتھ عشا کے بعد تشریف لائے۔ .... غور کیجیے کہ لوگ ایسی تقریبات میں شرکت اپنے تعلقات کی پاس داری میں کرتے ہیں کسی کے یہاں بیماری ہے، کوئی خود بیمار ہے، کسی نے تقریب کے وقت کے لحاظ سے آیندہ پروگرام بنا رکھا ہے۔ ایسے مواقع پر یہ تاخیر اس کے لیے کس قدر گراں گزرتی ہے، آکر واپس ہونے میں میزبان کی ناگواری کا اندیشہ اور انتظار کرنے میں دوسرے پروگرام متاثر۔ افسوس کہ دینی جلسوں اور پروگراموں میں بھی ہم اس کی رعایت ملحوظ نہیں رکھتے‘‘ (وعدہ خلافی ۔۔ہمارے سماج میں:ج۲، ح۴، ص۱۷۰، ۱۷۱، ۱۷۲)
مذہبی حدود کے خاص دائرے سے باہرانسانی زندگی کے کئی ایسے پہلو ہیں جہاں اسلام نے خاموشی اختیار کی ہے ۔ خالد صاحب کے نزدیک یہ خاموشی انسانی اختیار کے اثبات کے اعتبار سے دین ہی کا حصہ ہے: 
’’ شرعاََ ایک مسلمان کے لیے صرف یہ رعایت ضروری ہے کہ بیت الخلا کی نشست ایسی ہو کہ قضا ئے حاجت کرتے ہوئے چہرہ یا پشت قبلہ کی سمت میں نہ پڑے اور بس، مکان کے سلسلہ میں اس کے علاوہ انجینئر سے مشورہ کرنا چاہیے کہ مکان کس طرح کا ہو کہ ہوا اور روشنی پوری طرح بہم پہنچے، لیکن اس کا مشورہ بھی پنڈت سے کیا جاتا ہے جو محض چند پیسوں کے لیے لوگوں کو اوہام میں گرفتار رکھنا چاہتا ہے ، یہ تمام باتیں محض ایمان کی کم زوری اور ضعفِ عقیدہ کا نتیجہ ہیں۔ حد یہ ہے کہ اب بعض مسلمان بھی عقدِ نکاح کے وقت اور شادی کے جوڑوں کے سلسلہ میں عاملین سے مشورہ لیتے ہیں، گویا جس غلامی سے اسلام نے اسے آزاد کیا تھا خود ہی اپنے آپ اس میں مبتلا ہوتے ہیں‘‘ (اوہام پرستی اور اسلام:ج۲، ح۴، ص۲۴)
خالد سیف اللہ صاحب رحمانی، انسانی اختیار کی بے توقیری اور اس اختیار کے مذہبی لوگوں کے ہاں یرغمال بنائے جانے پر شکایت کناں ہیں۔ وہ مسلمانوں کو یاد دلاتے ہیں اور غیر مسلموں کو باور کراتے ہیں کہ: 
’’ اگر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا اسلام کو تھوپنا ہوتا تو نہ مدینے میں کوئی یہودی باقی رہتا اور نہ فتح مکہ کے بعد مکہ میں کوئی مشرک۔ اسلام کی آمد سے پہلے یہ مزاج تھا کہ سلطنت کا جو مذہب ہوتا تمام لوگ اسی مذہب کو قبول کرتے اور اس پر عمل کرنے کے پابند ہوتے، اسی لیے روم میں کوئی مشرک اقلیت تھی نہ ایران میں اہلِ کتاب کا کوئی گروہ تھا‘‘ (فاصلے کیوں کر گھٹیں گے؟: ج۱، ح۲، ص۱۳۶)
’’ جب بادشاہ کے تاج کی قیمت لاکھوں ڈالر ہوتی تھی اور غریب کسان گراں بار ٹیکسوں کے خوف سے پہاڑوں اور جنگلات کی پناہ لینے پر مجبور تھے، ان حالات میں مسلمان ایک نجات دہندہ قوم کی حیثیت سے ان ملکوں میں پہنچے اور انہوں نے بے جان زمینوں پر قبضہ کرنے سے زیادہ لوگوں کے قلوب کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کے لیے اس ملک میں باعزت زندگی گزارنے کی راہ یہی ہے کہ وہ نجات دہندہ قوم کی حیثیت سے سامنے آئیں اور نقشِ دیوار پڑھ کر اپنے لیے ایک ایسا منصوبہ بنائیں جو دیر سے سہی لیکن منزلِ مقصود کو پہنچاتا ہو اور محض حقیر اور وقتی مفادات پیشِ نظر نہ ہوں۔‘‘ (ایک اہم فریضہ جس سے ہم غافل ہیں: ج۱، ح۱، ص۳۱۴) 
یہ ایک اچھا خواب ہے کہ اسلاف کی طرز پر مسلمان آج پھر نجات دہندہ قوم کی حیثیت سے سامنے آئیں، لیکن آج کی عالمگیریت کی فضا میں نجات کا کوئی ایسا فارمولہ جو ہندوستان یا کسی بھی ملک کی علاقائی حدود کو ملحوظ رکھ کر بنایا گیا ہو، مطلوبہ مقاصد نہیں دے سکتا۔ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام نے آکٹوپس کی طرح حیاتِ انسانی کے تمام پہلوؤں کو انتہائی شدت سے جکڑا ہوا ہے ، اس کے خاتمے اور متبادل نظام کے لیے عالمی سطح پر نہایت سنجیدگی سے ہوم ورک کرنے کی ضرورت ہے۔ افسوس کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ مذہبی حلقے میں متبادل نظام دینے کی سنجیدہ سوچ تک نہیں پائی جاتی۔ ایسے گئے گزرے دور میں جب کہ سماجی اخلاقیات کا بھی جنازہ نکل چکاہے اور یار لوگ اسے قصہ پارینہ خیال کرتے ہیں، حتیٰ کہ ایسے ’سمجھ دار‘ لوگوں کی بھی کمی نہیں ، جو سماجی اخلاقیات کے کلاسیکی تصور کو زرعی دور سے مخصوص قرار دیتے ہیں، خالد سیف اللہ رحمانی نے سرمایہ داری کے فولادی خول میں چھید ڈالنے کی خاطر ، واشگاف الفاظ میں کئی مقامات پر صدائے احتجاج بلند کی ہے اور انسانی اجتماعی زندگی کے سب سے بڑے محور ریاست اور اس سے متعلق امور میں اخلاقی اقدار کی باز یافت کی بات چلائی ہے: 
’’عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اگر کسی ایسے امیدوار کو ووٹ دیا ہو جو کامیاب ہوا ہے تو اسے اپنی فتح سمجھتے ہیں ، حال آں کہ یہ امیدواروں کی شکست و فتح تو ہو سکتی ہے ووٹروں کی شکست و فتح نہیں ہو سکتی۔ اگر آپ نے کسی امیدوار کو دیانت داری کے ساتھ موزوں امیدوار سمجھ کر ووٹ دیا ہے ، تو گو وہ شکست کھا جائے پھر بھی آپ کی فتح ہے ، کہ شرعاََ آپ جس بات کے مکلف تھے آپ نے اسے پورا کر دیا ، اور اگر آپ کا ووٹ فتح یاب امیدوار کے حق میں گیا لیکن یہ جاننے کے باوجود کہ وہ اس کا مستحق نہیں ہے یا آپ نے کوئی مفاد حاصل کر کے ووٹ دیا اور گویا رشوت لے کر مستحق یا غیر مستحق شخص کے حق میں اپنے حق رائے دہی کو استعمال کیا تو امیدوار کے جیتنے کے باوجود آپ نے شکست کھائی ہے اور آپ نے پایا نہیں ہے بلکہ کھویا ہے کیوں کہ آپ ایک فعلِ گناہ کے مرتکب ہوئے اور اس کی کوتاہ کاریوں میں عنداللہ آپ شریک سمجھے جائیں گے۔ کتنی گھبرا دینے والی ہے یہ بات اور کتنا تشویش انگیز ہے الیکشن کا شرعی پہلو! ا‘‘ (ظفر آدمی اس کو نہ جانیے: ج۲، ح۴، ص۶۵) 
انسانی زندگی میں سماجی اخلاقیات کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دینے کے باوجود ہمارے ممدوح خرافاتی صوفی مشرب میں رنگے ہوئے نہیں ہیں۔ ان کا ذہن اور مزاج، منطقی اور استدلالی آہنگ لیے ہوئے ہے۔ اس مخصوص ذہنی سانچے کی بدولت وہ فکرِ اسلامی کی ثقاہت پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ نئے اسالیب میں اس کی توجیہ کی بھی کامیاب کوشش کرتے ہیں: 
’’ ایک صاحب اتنے غضب ناک تھے کہ لگتا تھا کہ اب ان کی ناک پھٹ پڑے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ کہے تو اس کا غصہ فرو ہو جائے۔ دریافت کیا گیا کہ وہ کیا کلمہ ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم (ابوداؤد، بخاری)وجہ اس کی ظاہر ہے کہ غصہ ایک شیطانی حرکت ہے جب انسان اس موقع پر تعوذ پڑھے گا تو اللہ کی مدد سے اس شیطانی حرکت پر غلبہ پا لے گا۔ نفسیاتی اعتبار سے بھی اس کلمہ کو پڑھتے ہوئے آدمی کا ذہن اس جانب منتقل ہوتا ہے کہ وہ اس وقت شیطان کا آلہ کار ہے، اس خیال سے وہ اپنے آپ کو موجودہ کیفیت سے بآسانی نکال سکے گا‘‘ (سب سے بڑی بہادری:ج۲، ح۴، ص۱۰۹)
خالد صاحب کی مذکورہ نکتہ طرازی مسلم سماج سے تقاضا کرتی ہے کہ اس کے افراد قرآن و حدیث کے ساتھ لفظی تعلق سے بڑھ کر معنوی آشنائی کا سنگِ میل عبور کر کے اس کی حقیقی روح سے شناسا ہوں۔ہماری رائے میں یہ کوئی غیر دانش مندانہ یا احمقانہ تقاضا نہیں، بلکہ حقیقی سماجی انقلاب برپا کرنے کا واحدحتمی ذریعہ ہے۔اس سلسلے میں دینِ اسلام کے بنیادی ماخذ قرآن مجید کے الفاظ سے کہیں بڑھ کر، اس کی تفہیم پر دلالت کناں سبعہ احرف روایت ، روشنی کا مینارہ معلوم ہوتی ہے۔ 
اس وقت مسلم دنیا کے سنجیدہ دانش ور مسلمانوں کی تکنیکی پس ماندگی سے بہت زیادہ خائف نہیں ہیں۔ جو خدشہ ا نہیں بے چین کیے رکھتا ہے، اس کا تعلق مسلم سماج کی اخلاقی گراوٹ سے ہے کہ آج کے مسلمان اپنے روایتی امتیازی کردار سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اب ان کے ہاں ان کے اسلاف کی سی للہیت نہیں رہی ۔ لیکن ہمارے محترم مولف نے اپناایک ذاتی واقعہ نقل کرکے امید بندھائی ہے کہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ، آج بھی غیروں کی نظر میں مسلم کردار کی وہی آن شان ہے جو ہمیشہ رہی ہے اور ظاہر ہے کہ غیر وں کا ایسا اعتراف کسی ہم دردی کا نتیجہ نہیں ، بلکہ امرِ واقعہ کا بیان یا کسی حقیقت کا ترجمان ہی ہو سکتا ہے ۔ واقعہ پڑھیے اور سر دھنیے: 
’’ کئی سال پہلے کی بات ہے ، میں دہلی سے حیدرآباد آ رہا تھا۔ .....کیبن میں تین برتھ تھے ، دہلی سے ہم دو ہی آدمی اس کیبن میں سوار ہوئے ، ایک طرف میں ، اور ایک طرف میرے ہی ہم عمر ایک مسافر جو سفید کرتے اور دھوتی میں ملبوس تھے ، اس کی پیشانی پر سرخ و سفید قشقے ہندومذہب پر اس کے ایقان اور اس کی مذہبیت کو ظاہر کر رہے تھے ، گاڑی جب بھوپال پہنچی تو ایک ہندو فیملی آئی ، ان کے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کی عمر اٹھارہ بیس سال رہی ہو گی ، یہ لوگ اصل میں ناگ پور کے رہنے والے تھے اور کسی ضروری امر کے تحت لڑکی کو اچانک بھیج رہے تھے ، لمبا راستہ اور ایک تنہا لڑکی کا سفر ، اس سے وہ لوگ پریشان تھے۔ ..... حالاں کہ وہ ہندو بھائی میرے سامنے ہی بیٹھے تھے اور میری شکل و صورت سے ان کے لیے یہ پہچاننا بالکل دشوار نہیں تھا کہ میں مسلمان ہی نہیں بلکہ ایک مولوی واقع ہوا ہوں۔ اس کے باوجود ہماری طرف مخاطب ہوئے اور کہنے لگے: ’’ مولانا صاحب ! اسے ناگ پور جانا ہے ، یہ اب آپ کی لڑکی ہے اور ہم اسے آپ کے حوالہ کر رہے ہیں۔ ....یہ لڑکی طالبہ تھی۔ .....اسلام میں خواتین کا کیا درجہ ومقام ہے ، اس بارے میں سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ .....اس نے مجھ سے بار بار اشتعال انگیز اور غصہ دلانے والے سوالات کیے لیکن میں نے ہمیشہ تحمل اور صبر کے ساتھ جواب دیا ، اس بات نے اسے خاص طور سے متاثر کیا اور کہنے لگی کہ کیا آپ کو غصہ آتا ہی نہیں ہے؟ میں نے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث سنائی جس میں بار بار آپ سے جینے کا طریقہ دریافت کیا گیا اور آپ نے ہر بار ایک ہی بات ارشاد فرمائی کہ غصہ نہ کرو ، لا تغضب۔ جب ٹرین ناگ پور پہنچی تو اس کے ماموں وغیرہ پلیٹ فارم پر موجود تھے۔ ...... اصل میں جس چیز نے مجھے متاثر کیا، وہ یہ کہ اس کیبن میں میرے برابر ہی ایک ہندو شخص موجود تھا اور اپنی ہندو پہچان کے ساتھ تھا ، نیز اسے بھی حیدرآباد آنا تھا ، انسان کے لیے عزت و آبرو کا مسئلہ جان و مال سے بھی زیادہ اہم ہوتا ہے ، لیکن بہ مقابلہ اس غیر مسلم کے ہندوستان میں ہندو فکر کے سب سے بڑے مرکز ناگ پور کے ہندوؤں نے ایک مسلمان مولوی پر زیادہ اعتماد کیا ، اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام اور حاملینِ اسلام کے بارے میں سماج کیا سوچتا ہے ؟ اور ظاہر ہے کہ یہ سوچ تجربات پر مبنی ہوتی ہے ‘‘ (پروپیگنڈہ کا جواب عمل سے: ج۱، ح۱، ص۲۹۴، ۲۹۵، ۲۹۶) 
مسلم کردار کی ایسی مثبت شناخت ، بلاشبہ قابلِ اطمینان اور تسلی بخش ہے۔ لیکن خالد صاحب اس پر قانع ہوتے نظر نہیں آتے، ان کی دور بین نگاہیں مسلم کردار کے ان پہلوؤں کا بھی تنقیدی جایزہ لے رہی ہیں ، جو ہماری ترجیحات میں کبھی شامل نہیں رہے۔ اگرچہ بعض این جی اوز فیشن کے طور پر ان عنوانات کے تحت فنڈز جمع کرتی رہتی ہیں لیکن جس سنجیدگی سے اس مسئلہ کو لیا جانا چاہیے ، وہ سنجیدگی عملاََ مفقود رہی ہے۔ ملاحظہ کیجیے کہ ہمارے ممدوح نے اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے راہنمائی لیتے ہوئے ایک انتہائی اہم لیکن ہماری نگاہوں سے اوجھل مسئلے پرکتنے موثر انداز میں خامہ فرسائی کی ہے: 
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ صحابہؓ کو ایک فوجی مہم پر روانہ کیا۔ یہ حضرات گئے، مقابلہ بھی بہادری کے ساتھ کیا، لیکن مقابلہ میں جم نہ سکے اور راہِ فرار اختیار کرنی پڑی۔ جب مدینہ واپس آئے تو مارے شرم کے چھپے پھرتے تھے اور آپ کا سامنا کرنے کی ہمت نہ پاتے تھے، کہتے تھے کہ ہم تو بھاگے ہوئے لوگ ہیں۔ ..... آپ نے محسوس کیا کہ یہ موقع زجر و توبیخ اور شرم ساروں کو مزید شرم سار کرنے کا نہیں، بلکہ ہمت بندھانے اور حوصلہ بڑھانے کا ہے۔ آپ نے لطف و کرم کا لب و لہجہ اختیار کیا اور فرمایا کہ تم بھاگے نہیں ہو بلکہ تم اس لیے پیچھے ہٹے ہو کہ پیچھے آ کر دوبارہ حملہ کرو، تم نے اس لیے پسپائی اختیار کی ہے کہ نئی کمک ساتھ لے کر مقابلہ پر اترو۔ ..... ملک میں جہاں مسلمانوں نے بہت سے فلاحی اور تعلیمی ادارے قایم کیے ہیں، وہیں ایک ایسے ادارہ یا ٹیم کی بھی ضرورت ہے جو مختلف میدانوں میں ان لوگوں کی اخلاقی مدد کرے اور حوصلہ افزا مشورے دے، جن کی ہمتیں ٹوٹ جائیں اور وہ پست حوصلگی کے باعث میدانِ مسابقت چھوڑنے لگیں۔ کتنے ہی مسلمان طلبہ ہیں جو ساتویں جماعت کے امتحان میں شریک ہوتے ہیں لیکن جماعت دہم تک نہیں پہنچ پاتے، کتنے مسلمان تاجر ہیں جو ابھرتے ہیں لیکن کسی وقتی واقعہ کے نتیجہ میں ہمیشہ کے لیے اس میدان کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔ یہی حال ہر شعبہ زندگی کا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو ہمت دلائی جائے اور ان کو اپنا سفر جاری رکھنے پر آمادہ کیا جائے۔ ..... کہ شکست کے احساس اور پست ہمتی کے ساتھ کوئی قوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔‘‘ (تم صرف پیچھے ہٹے ہو: ج۱، ح۱، ص۲۲۰، ۲۲۲، ۲۲۳)
خالد سیف اللہ صاحب نے پست ہمتی کی مذکورہ نوعیت سے ایک قدرے مختلف نوع پر بھی قلم اٹھایا ہے ، اسے اجتماعی پست ہمتی کا نام دیا جا سکتا ہے، جس کے پیچھے صبر کی کمی اور عجلت جیسی خامیاں کارفرما ہیں: 
’’جیسے جسمانی سطح پر الرجی انسان کو کم زور کر دیتی ہے اور اس کی معتدل کیفیت کو زیر و زبر کر کے رکھ دیتی ہے، اسی طرح قومیں بھی ’’الرجی‘‘ سے دوچار ہوتی ہیں۔ بعض قوموں اور گروہوں میں برداشت کی قوت ختم ہوجاتی ہے اور ردِ عمل کی کیفیت بڑھ جاتی ہے۔ وہ بات بات پر مشتعل ہوتے ہیں، مخالفین کا ایک بیان مہینوں ان کو الجھا کر رکھ دیتا ہے اور بے برداشت ہونے کی وجہ سے ایسی جذباتیت کا ان سے مظاہرہ ہوتا ہے جس کا نقصان خود ان کو پہنچتا ہے۔ ایسی قومیں دشمنوں اور بد خواہوں کی سازشوں کا شکار ہو کر اپنے حقیقی مسایل کی طرف توجہ نہیں دے پاتیں ، ہمیشہ ردِ عمل میں الجھی رہتی ہیں۔ دوسری قومیں تعلیمی ، معاشی اور دوسرے پہلوؤں سے آگے بڑھتی رہتی ہیں اور یہ سنہرا وقت مشتعل مزاج قوم ، ماتم و زاری اور سینہ کوبی میں گزار دیتی ہیں۔ ہندوستان میں مسلمان اس وقت ان ہی حالات سے گزر رہے ہیں۔ ہم ایک طرح کی قومی الرجی میں مبتلا ہیں ، ہمیں مشتعل کرنے کے لیے بے بنیاد افواہیں بھی کافی ہیں ..... حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص مال یا جان کے معاملہ میں آزمایش میں مبتلا کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں سے اس کا شکوہ نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہوجاتا ہے کہ وہ اسے معاف کر دے ۔ جیسے یہ بات افراد کے بارے میں کہی جا سکتی ہے، یہی بات قوموں اور گروہوں کے بارے میں کہی جائے تو بے جا نہ ہو، کہ جو قوم دوسروں کے سامنے کاسہ گدائی لے کر کھڑی رہے اور محض نا انصافی کا رونا روتی رہے، وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی توجہ بھی اس کی طرف سے ہٹ جاتی ہے ، اور جو قوم اللہ پر بھروسہ کر کے ناموافق باتوں کو برداشت کرتے ہوئے آگے بڑھتی جائے ، کامیابی اس کے قدم چومتی ہے اور اللہ کی رحمت اس پر سایہ فگن رہتی ہے۔ اسی لیے رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار صبر کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لیے امن اور ہدایت ہے ، یعنی صبر کی وجہ سے امن و امان کی حالت رہتی ہے اور وہ صحیح راہ پر گامزن رہتے ہیں۔‘‘ (صبر خوش تدبیری ہے نہ کہ بزدلی: ج۲، ح۴، ص۴۵، ۴۶، ۴۸، ۴۹)
حیرت ہے کہ ’راہِ عمل‘ کی دونوں جلدوں میں ہمیں ’یہود وہنود‘ کی مقبولِ عام ترکیب کہیں نہیں ملی، البتہ یہود و نصاریٰ سے سابقہ ضرور پڑا ہے۔ بہت سامنے کی بات ہے کہ خالد سیف اللہ صاحب کا فہمِ دین ، ہندوستان میں جمہوری نظام اور ہندو اکثریت کے خمیر سے اٹھا ہے اور پاکستان کے علما کا فہمِ دین ، داخلی اعتبار سے فروعی مسایل کے غلغلوں اور خارجی لحاظ سے یہودو ہنود کی ریشہ دوانیوں سے نشوونما پایا ہے۔ کسی غیر جانب دار مبصر کے لیے اکیسویں صدی کے گلوبل ولیج میں فہمِ دین کے اس قسم کے مختلف النوع دھارے قابلِ قبول نہیں ہو سکتے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دین اپنی اصالت میں اضافی ہے کہ زماں کے اشتراک کے باوجود محض مکاں کی تبدیلی سے دین کے ظہور کی صورتیں ہی بدل جائیں؟ خاص طور پر ایسے دور میں جب مکاں کی تبدیلی کی اہمیت بہت ہی کم ہو چکی ہو۔ بہر حال! خالد سیف اللہ صاحب کا فہمِ دین ، آج کی دنیا سے کافی لگا کھاتا ہے۔ وہ آنکھیں کھول کر آج کی دنیا میں سانس لینا چاہتے ہیں۔ اس لیے ان کے ہاں پٹے پٹائے موضوعات نہیں ، بلکہ ان کے قلم نے نئی دنیا کے نئے مسایل کو للکارا ہے۔ چند عنوانات ہی دیکھیے: مردم شماری میں حصہ لینا ۔۔ایک اہم دینی فریضہ/ ٹریفک ۔۔ شرعی ہدایات /ٹیلی فون ۔۔احکام و آداب /کھیل ۔۔آداب و احکام / میچ فکسنگ ۔۔مرض اور علاج /ووٹ ۔۔ اسلامی نقطہ نظر / ووٹ ۔۔ ایک امانت /مرض اور مریض ۔۔اسلامی تصور / جانور اور اسلامی تعلیمات /ایڈز۔۔حقیقی حل کیا ہے /ماحولیاتی آلودگی اور اسلام /نیوکلیر اسلحہ ۔۔اسلامی تصور /مزدوروں کے حقوق /کلوننگ ۔۔اسلامی نقطہ نظر، وغیرہ وغیرہ۔ پھر ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے صرف موضوعات کی حد تک جدید دنیا کو چھوا ہے اور زبان و بیان اور اسلوب میں فرسودگی اختیار کی ہے ، بلکہ ان کا اصل کمال یہی ہے کہ انہوں نے’ گلوبل ولیج کے مخاطب‘ کی ذہنی و نفسیاتی کیفیت کا پورا دھیان رکھا ہے جو دھونس زبردستی کے بجائے مکالمے کی فضا میں بات کرنا چاہتا ہے ، اسی لیے خالد صاحب اکثر مواقع پر اپنا موقف بیان کرنے سے قبل مخاطب کے مطلب کی بات کرتے ہیں یعنی ایک طرح سے اس کی بات سنتے ہیں ۔ بات سنے جانے کے احساس سے مخاطب کا ایک حد تک تزکیہ ہو جاتا ہے جس سے اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے کہ وہ خالد صاحب کے نکتے کو سمجھنے کی کم از کم کوشش ضرور کرے ۔ مثال کے طور پر (مجسمہ کا انہدام ۔۔غوروفکر کے چند پہلو: ج۱، ح۲،ص۸۵) پڑھ لیجیے ۔ 
زیرِ نظر تالیف کے کئی گراں قدر پہلو قارئین کی ضیافت کا سامان لیے ہوئے ہیں، لیکن ہم اختتامی کلمات کی طرف بڑھتے ہوئے کتاب کے ظاہری حسن کی بابت عرض کریں گے کہ ایک توجاذبِ نظر کے بجائے انتہائی خستہ کاغذ پر طبع، اس کی دونوں جلدوں کی ضخامت یکساں نہیں ہے۔ انیس بیس کا فرق قابلِ لحاظ ہوتا، لیکن یہاں تو فرق تقریبا سو فی صد کا ہے۔ پہلی جلد کے صفحات ۸۴۸، اور دوسری کے ۴۸۴ ہیں، اس لیے ظاہری اعتبار سے دوسری جلد، پہلی کا تتمہ معلوم ہوتی ہے۔ پھر اس بد نمائی میں سونے پر سہاگہ، اس کتاب کی عجیب و غریب ترتیب ہے۔ پرانے طرز پر صفحات نمبر کے تسلسل کے بغیر پانچ مختلف تالیفات کو دو جلدوں میں اس طرح سمویا گیا ہے کہ ’گھس بیٹھیوں‘ کا گمان ہوتا ہے۔ جب عکس لے کر کتاب شائع کی جائے تو ایسی غلطیاں سرزد ہوجاتی ہیں۔ سرورق میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ اگر نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہرِ مبارک کا عکس چھاپنا ہی ہے تو اسے اوپر کونے میں جہاں ’راہِ عمل‘پرنٹ ہے، شائع کیاجائے کہ احترام کا تقاضا یہی ہے۔ خالد سیف اللہ صاحب نے خود بھی (دستخط۔۔ اسلامی احکام: ج۱، ح۳، ص۲۰۸) اس احترام کی طرف توجہ دلائی ہے: 
’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہانِ عجم اور روسائے عرب کو دعوتی خطوط بھیجنے کا ارادہ فرمایا ۔ اس موقع سے بعض حضرات نے آپ سے عرض کیا کہ یہ حضرات مہر کے بغیر خطوط کو قبول نہیں کرتے ۔ چنانچہ آپ نے مہر بنوائی جس پر ’محمد رسول اللہ ‘ کندہ کیا گیا اور آپ نے کمال احترام کا لحاظ کرتے ہوئے نیچے ’’محمد‘‘ اس کے اوپر ’’رسول ‘‘ اور سب سے اوپر ’’اللہ‘‘ کے کلمات لکھے۔‘‘
املا کی اغلاط کے انبار نے، جو درحقیقت پروف ریڈنگ میں روا رکھی گئی انتہائی بے احتیاطی کا نتیجہ ہے ’راہِ عمل‘ کو ایک خاص پہلو سے بے عمل بھول بھلیوں کا روپ دے دیا ہے ۔ ظاہری تزئین میں مانع اس خامی نے، کتاب کے بامقصد مواد میں مضمر حقانیت کو بری طرح تو مجروح نہیں کیا لیکن خاطر خواہ حد تک برا تاثر ضرور پیدا کیا ہے ۔ صاف ظاہر ہے کہ اس خامی کے ذمہ دارہمارے ممدوح مولف نہیں ہیں بلکہ اس کا ’سہرا‘ صرف اور صرف پبلشر کے سر بندھتا ہے۔ املا کی اغلاط کے علاوہ تاریخوں اور حوالہ جات کے غلط اندراج سے بدنمائی میں مزید اضافہ ہوا ہے (اسی لیے ہم نے اقتباسات میں حوالہ دینے سے دانستہ چشم پوشی کی ہے)۔تذکیر و تانیث ، خلط ملط ہونے سے پٹھانی اردو کے نمونے بھی جابجا موجود ہیں ۔ راہِ عمل کی دونوں جلدوں میں بعض سنگین نوعیت کی غلطیاں بھی موجود ہیں، مثلاً جلد اول حصہ اول صفحہ نمبر ۱۱۹ پر حضرت انس رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ کے بجائے ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ شائع ہو گیاہے، صفحہ نمبر ۲۲۰ کی دوسری سطر پر ’راہ‘ کے ساتھ ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ لکھا گیا ہے۔ اسی طرح جلد دوم حصہ چہارم صفحہ نمبر ۷۵ پر فاطمہ بنتِ محمد لکھتے وقت محمد کے ساتھ ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ نہیں لکھا گیا ۔ 
اس کتاب کی قیمت ۶۰۰ روپے رکھی گئی ہے۔ اگر اس ایڈیشن کی تعداد ایک ہزار بھی ہو تو قیمت میں صرف پچیس روپے کے اضافے سے کسی بھلے مانس پروف ریڈر کو پچیس ہزار روپے مزید ادا کرکے اس اہم کتاب کی اسی طرح ’ذمہ دارانہ اشاعت‘ کا حق ادا ہو سکتا تھا جس ذمہ دارانہ اسلوب میں ہمارے مولف محترم نے اپنے خیالات کو صفحہ قرطاس پر منتقل کیا ہے۔ 

بلا سود بینکاری کا تنقیدی جائزہ ۔ منہجِ بحث اور زاویۂ نگاہ کا مسئلہ (۲)

مولانا مفتی محمد زاہد

مسئلے کا معاشی اور مقاصدِ شریعت کا پہلو

بہر حال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ روایتی علما کی واضح اکثریت جس میں غیر سودی بینکاری کے ناقدین اور مجوّزین دونوں ہی شامل ہیں، اگر مسئلے کو محض عقود کی سطح پر خالص فقہی انداز سے دیکھ رہی ہے تو اس معاملے کو اس کے پس منظر سمیت دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم اس خالص فقہی زاویۂ نظر کے علاوہ اس مسئلے کو دیکھنے کے کچھ اور پہلو بھی ہیں جن میں خاص طور پر روایتی اور غیر سودی بینکاری دونوں کا اس حوالے سے جائزہ شامل ہے کہ مجموعی سطح کی معیشت پر ان دونوں کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں یا ہوسکتے ہیں اوراسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان اثرات میں کس طریقے سے کیا رد وبدل ہوسکتاہے۔ اسی طرح غیر سودی بینکاری کا مقاصدِ شریعت کی روشنی میں جائزہ ، یعنی حرمتِ ربا کے سلسلے میں علۃ الحکم جو بھی ہو، اس حکم میں بہت سی حکمتیں بھی مضمر ہوں گی۔ وہ حکمتیں کیا ہیں ، موجودہ دور میں وہ کون سا میکنزم ہوسکتا ہے جس سے ان حکمتوں اور معاشی فوائد کو حاصل کیا جاسکے اور کیا یہ حکمتیں موجودہ غیر سودی بینکاری سے حاصل ہورہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ جواز وعدمِ جواز یا فتوے کے مقصد کے لیے پہلی سطح کی بحث کو کافی قرار دیا جائے، تب بھی اس دوسری سطح کی بحث اور مذکورہ سوالات پر غورکی اہمیت بوجوہ برقرار رہتی ہے ۔ اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ عبادات کے بر عکس اس طرح کے معاملات میں دعوتی نقطۂ نظر سے محض آخرت کے عذاب وثواب کا ذکر کافی نہیں ہوتا۔ کسی بھی کام کے لوگوں کی عملی زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات کی بھی اس میں خاص اہمیت ہوتی ہے۔ شعیب علیہ السلام کی ایک ’برائی‘ ان کی قوم کی نظر میں یہ تھی کہ وہ انہیں اپنے اموال میں اپنی مرضی کرنے سے منع کرتے ہیں۔ تقریباً ہر دور میں لوگوں کا یہ مزاج ہوتاہے، اس لیے لوگوں کے اموال کے معاملے میں انہیں اپنا عمل تبدیل کرنے کا کہنا دعوتی نقطۂ نظر سے خاصی احتیاط کا تقاضا کرتاہے، اس لیے بطور داعی ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ایک ناجائز کام کو چھوڑ کر جائز کام کی طرف اس انداز سے لوگوں کو لائیں کہ انہیں بتایا جاسکے کہ افراد کی سطح پر نہیں تو معاشرے کی سطح پر اس کے کیا بہتراثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ایک خالص فقہی حکم اور جائز یا نا جائزہونے کے پہلو سے تو علتِ حکم ہی کی اصل اہمیت ہوتی ہے، لیکن ایک عمومی معاشی پالیسی کی بحث میں حکمتوں اور مقاصدِ شریعت کی بھی اہمیت ہوتی ہے اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جب بات کی جارہی ہو عمومی معاشی پالیسی کی، بالخصوص ایک ریاست کے حوالے سے کہ اس کی معاشی پالیسی کے اصول اور بنیادی خدوخال کیا ہونے چاہئیں تواس کے لیے بحث کو پہلی سطح سے نکال کر دوسری سطح پر لانے کی ضرورت ناقابلِ انکار ہے۔
اسلامی بینکاری کا مطلب جائز تمویلی طریقے ہیں۔ جب شریعت کسی کام کو مباح قرار دیتی ہے تو اس کے اچھے یا برے نتائج کا ذمہ دار اسے اختیار کرنے والوں کو قرار دیتی ہے، اس لیے اس بینکاری کے نتائج کے ذمہ دار کافی حد تک اسے چلانے والے ہی ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ محض سود کی وعید کی آیات اور احادیث پڑھ پڑھ کے زیادہ عرصہ تک کام نہیں چلایا جاسکتا، اس کے لیے بہتر سے بہتر نتائج دکھانا ضروری ہے۔ اس کے لیے جہاں کچھ تدبیری نوعیت کی بحثیں ہوسکتی ہیں ۔۔۔ مثلاً مسلمان معاشی مفکرین میں جاری یہ بحث کہ روایتی بینکوں کی تخلیقِ زر کی صلاحیت کو کنٹرول کرنے کے لیے مرکزی بینک جس طرح کے اقدامات کرتا ہے، کیا اسلامی بینکوں کے لیے بھی وہی تکنیکس مؤثر ہوسکتی ہیں یا ان کے لیے الگ نوعیت کے اقدامات کی ضرورت ہے ۔۔۔ وہیں اس بینکاری کا شریعت کے عمومی مقاصد اور حکمتوں کے تحت جائزہ بھی اہم ہے۔ اگر چہ شریعت کے عمومی معاشی مقاصد کے حصول کی ذمہ داری صرف چند اداروں پر عائد نہیں کی جاسکتی بلکہ بنیادی طور پر یہ پورے معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری ہے ، تاہم یہ بینک چونکہ اسلام کا نام لے کر میدان میں آئے ہیں، اس لیے جہاں تک ان کے لیے ممکن ہو انہیں اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ راقم الحروف سے جب بھی کسی نے اسلامی بینکاری کے موضوع پر ایم فل یا ڈاکٹریٹ کی سطح کے کام کے بارے میں بات کی تو اس نے اسی دوسری نوعیت کے کام کی طرف توجہ دلائی، اس لیے کہ فقہی نوعیت کے مزید کام کی بھی اگرچہ گنجائش موجود ہے لیکن اس پر کافی کام ہوبھی چکاہے جبکہ دوسرے پہلو سے کام بہت کم ہوا ہے۔ ( تاہم یہ تأثر درست نہیں کہ سود کے متبادل بینکاری تجویز کرنے اور اسے فروغ دینے والے اہلِ علم نے اس پہلو کو بالکلیہ نظر اندازکیا ہے۔ ان کی طرف سے اس پہلو کو پیش نظر رکھنے کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ انہوں نے متبادل تمویلی طریقوں میں سے مشارکات پر مبنی طریقوں کو مداینات پر مبنی طریقوں کے مقابلے میں زیادہ قابلِ ترجیح قرار دیا ہے اور یہ بات اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ میں بھی کہی گئی ہے جو اس موضوع پر بالکل ابتدائی اور اساسی دستاویزات میں سے ہے،حالانکہ اگر محض فقہی عبارات کو دیکھا جائے تو دونوں طرح کے عقود کے جواز میں کوئی فرق نظر نہیں آتا یایوں کہیے کہ دونوں انواع کے اس فرق پر کوئی ’’صریح جزئیہ ‘‘ نہیں ملتا۔ یہ فرق عمومی معاشی اثرات اور مقاصدِ شریعت کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔) دوسری نوعیت کے کام کے حوالے سے دوسوال یہاں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ کیا جب تک دوسری نوعیت کی بحث مکمل نہ ہو جائے، فقہی حوالے سے مسئلے کا جائزہ لینا بے کار ہے؟ اور دوسرے یہ کہ اس دوسری نوعیت کی بحث کا منہج اور اس کے خد وخال کیا ہونے چاہییں؟ اب تک کی بحوث کی روشنی میں ایسے امور کی نشان دہی بھی ضروری ہے جو کسی غلط فہمی یا غلط نتائج تک پہنچنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔ 
جناب زاہد صدیق مغل صاحب نے بھی ماہنامہ ’الشریعہ‘ ( جنوری ، فروری ، مارچ ۲۰۱۰ ء ) میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں فقہی نوعیت کی اور عقد کی سطح کی بحث سے ہٹ کر مسئلے کے جائزے کی طرف توجہ دلائی اور اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ اسلامی بینکاری پر تین سطحوں پر بحث ہوسکتی ہے۔ پہلی سطح کی بحث کے تعارف میں وہ کہتے ہیں: ’’ یہ سمجھنے کی کوشش کرنا آیا اسلامی بینکاری اور سودی بینکوں کے مقاصد میں کیسا تعلق ہے، کیا دونوں ایک ہی نظامِ زندگی ( سرمایہ داری ) کے مقاصد حاصل کرنے کے دو مختلف وسائل ہیں یا ان کے مقاصد میں کوئی تفریق موجود ہیں .....آیا اس طریقِ کار سے مقاصد الشریعہ کا حصول ممکن ہے بھی یا نہیں‘‘۔ دوسری سطحِ بحث کے بارے میں وہ کہتے ہیں: ’’ یہ تجزیہ کرنا کہ آیا موجودہ نظام بینکاری کو اسلامیانے کا کوئی طریقہ ممکن بھی ہے یا نہیں‘‘۔ تیسری سطح کے بارے میں وہ کہتے ہیں: ’’ اس سطح پر جزواً جزواً یہ دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسلامی بینک جو زری سروسز اور پراڈکٹس مہیا کررہے ہیں، وہ قواعدِ شریعہ پر پوری اترتی ہیں یا نہیں‘‘۔ اس کے بعد وہ مروّجہ غیر سودی بینکاری کے مجوّزین اور ناقدین دونوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ ناقدین کی وہ اکثریت جو اپنے مقدمات میں مجوّزین کے مماثل ہے، درحقیقت پہلی دونوں سطح سے سہوِ نظر (by pass) کرتے ہوئے اپنی تنقید کی بنیاد اس تیسری سطح پر رکھتی ہے۔ گویا مجوّزین اور ناقدین کی اس اکثریت کے درمیان قدرِ مشترک تنقید کی اول دونوں سطحوں کو نظر انداز کرنا ہے‘‘۔ گویا ان کے نزدیک معاملہ جب تک پہلی دو سطحوں کی تنقید کے ذریعے کلئیر نہ ہوجائے، اس پر فقہی زوایۂ نگاہ سے بحث کرنا فضول ہے اور جو لوگ فقہ کے نقطۂ نظر سے بحث کررہے ہیں، وہ ترتیب الٹ کر ایک لا حاصل بحث میں الجھے ہوئے ہیں ۔

کیا خامی والی ہر چیز کو بطور کل رد کردینا چاہیے؟

انہوں نے جو ترتیب تجویز کی ہے، دیکھنے تو وہ بہت خوبصورت معلوم ہوتی ہے لیکن اسے اثرات و نتائج کے اعتبار سے دیکھیں تو صورتِ حال بہت مختلف نظر آتی ہے۔ اس کی تفصیل کی طرف آنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک مثال کے ذریعے بات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ فرض کریں ایک صاحب کسی جدید قسم کی یونیورسٹی میں تعلیم کے فرائض انجام دے کر اس کا معاوضہ وصول کرتے ہیں (جیسا کہ جناب زاہد صدیق مغل صاحب خود بھی ماشاء اللہ ایک جدید انداز کی دانش گاہ میں استاذ ہیں، غالباً انہوں نے اسی انداز کی کسی دانش گاہ میں تعلیم بھی حاصل کی ہوگی۔) وہ صاحب اس یونیورسٹی کو جو خدمات مہیا کرتے ہیں، وہ بالکل جائز ہیں، معاہدے میں کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ہے، محنت اور امانت داری سے اپنا کام کرکے رزقِ حلال حاصل کررہے ہیں۔ اب کوئی صاحب یہ کہتے ہیں کہ ان کا یہ ملازمت اختیار کرنا بالکل غیر اسلامی ہے، اس لیے کہ اصل مسئلہ اس خاص ملازمت کی نوعیت کا نہیں بلکہ اس پورے نظام کا ہے۔ موجودہ جدید تعلیمی نظام اپنے بنیادی مقاصد کے اعتبار سے ہی غلط اور استعماری اہداف کو پورا کرنے والا ہے، اس کی تطہیر ممکن ہی نہیں ہے ، جو لوگ اسے’ کلمہ پڑھانا‘ ممکن سمجھتے ہیں، ان کا اس تعلیمی نظام کا فہم ہی سرے سے غلط ہے۔ اس کے ساتھ وہ لارڈ میکالے پر لعنت بھیجتے ہوئے اور سرسید احمد خاں پر تبرا کرتے ہوئے موجودہ نظامِ تعلیم کی خامیوں کی ایک طویل فہرست ذکردیتے ہیں۔ اس پر یہ معلم صاحب کہتے ہیں کہ آپ کی یہ ساری باتیں بجا، مگر میں تو وہاں کوئی غلط کام نہیں کرتا، میں تو بالکل جائز خدمات فراہم کرتا اور ان کا معاوضہ لیتاہوں، میرے معاہدے میں تو کوئی خلافِ شریعت بات نہیں۔ اس پر وہ معترض صاحب کہتے ہیں، یہ دیکھنا کہ آپ کے معاہدے کی نوعیت کیا ہے، بعد کی بات ہے۔ پہلے تو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ نظامِ تعلیم بطور ایک ’کل‘ کے درست بھی ہے یا نہیں۔ وہ معترض صاحب مغل صاحب ہی کے الفاظ مستعار لے کر کہتے ہیں کہ ’’اس نظامِ تعلیم کو جزوی طور پر نہیں، ایک بڑے نظام ہائے زندگی کے پرزے کے طور پر جانچ کر یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا اس طریقۂ کارسے مقاصد الشریعہ کا حصول ممکن ہے بھی یا نہیں‘‘۔ وہ معلم صاحب یونیورسٹی کے ساتھ طے ہونے والا اپنا معاہدہ دکھاتے ہیں تو اس پر معترض صاحب کہتے ہیں: ’’آپ کا طریقِ کار یہ ہے کہ آپ معاہدے کی مخصوص شکل کی بات کررہے ہیں، مگر یہ معاہدہ جس ’ تعلیمی ماحول اور حالات ‘ میں ہورہاہے، اسے یکسر نظر انداز کررہے ہیں، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تعلیمی ماحول (educational environment) کا درست تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے جس کے اندر ایک جدید یونیورسٹی کا وجود ممکن ہے‘‘۔ وہ معلمّ صاحب کہتے ہیں کہ آخر مجبوری ہے، اس کے علاوہ کوئی راستہ بھی تو نہیں ہے۔ اس پر معترض صاحب ارشاد فرماتے ہیں: ’’ مجوّزین کا یہ ایک عمومی حربہ ہے کہ اوّلاً وہ اپنے حق میں اصولی جواز اور دلائل پیش کرتے ہیں، مگر جب ان کے تمام دلائل کو علمی طور پر رد کردیا جائے تو پھر ضرورت کی دہائی دینا شروع کردیتے ہیں‘‘۔ یہ کہہ کر وہ معترض صاحب ان معلّم صاحب کو ایک اور تجویز پیش کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ ہم نے دور دراز کے ایک پس ماندہ گاؤں میں ایک مدرسہ کھولا ہے جس میں بچوں کو ابتدائی نوعیت کے ضروری حساب کتاب کی تعلیم کے لیے ایک معلّم درکار ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہی وہاں تشریف لے چلیں، اتنا وظیفہ آپ کی خدمت میں پیش کردیا جائے گاجو قوت لا یموت کا کام دے سکے۔ اس میں ان غریب بچوں کا مستقبل سنور جائے گا اور آپ بڑے شہر کی اس جدید یونیورسٹی میں جو خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کا بھی کوئی نقصان نہیں ہوگا، اس لیے کہ اس میں تو آپ کے سیٹ خالی کرتے ہی بیسیوں بلکہ سینکڑوں لوگ اپنی خدمات پیش کردیں گے۔ اس گاؤں میں جانے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔ معلم صاحب کی طرف سے ذرا تردد کا انداز دیکھ کر وہ معترض ان کے سامنے ایک نیا وعظ شروع کردیتے ہیں۔ انہوں نے چونکہ جناب مغل صاحب کے کچھ مضامین سے استفادہ کیا ہوا ہے، اس لیے وہ ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ ترقی بطور قدر کے اصول پر چل رہے ہیں۔ آپ نے زیادہ سے زیادہ خواہشات پوری کرنے کو اپنا مطمحِ نظر بنایا ہوا ہے، آپ کے ہاں اصل مسئلہ تزکیہ نفس نہیں ہے، اس لیے نفع خوری کی خاطرآپ اس جدید ادارے سے وابستگی چھوڑکر گاؤں میں جانے کے لیے تیّار نہیں ہیں، اسی لیے تو ہم نے شروع میں ہی کہہ دیا تھا کہ یہ یونیورسٹیاں اپنی بنیاد ہی کے اعتبار سے غلط ہیں۔ یہ ڈگریاں لے کر بڑے بڑے مشاہرات اور مراعات والی ملازمتوں کے خواب دکھاتی ہیں، آپ پر بھی اسی طرح کی کسی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا یہ اثر ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ اس مکالمے کے بارے میں فاضل مضمون نگار جیسے حضرات کے احساسات کیا ہوں گے اور انہیں کس کے ساتھ ہمدردی ہوگی۔ کم ازکم مجھے اگر یہ کہا جائے کہ اس معترض کی طرح کسی جدید ادارے کے کسی استاذ سے اس انداز سے مکالمہ کروں تو میں خود کو اس کے لیے تیار نہیں پاؤں گا، اس لیے کہ اس اندازِ بحث سے اگرچہ مجھے یہ edge حاصل ہوگا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک نظام کے ناقد کے طور پر اور اعلیٰ ترین اصولوں کے مبلغ کے طور پر پیش کر لیا اور دوسرے فریق کو ایک دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جس میں وہ کتنی ہی معقول بات کرتا رہے، اس کے بارے میں غلط نظام کے وکیل ہونے کا تاثر اپنا کام دکھاتا رہے گا۔ پھر بھی میں اس طرزِ بحث کو اختیارکرنے کے لیے اس لیے تیار نہیں ہوں گا کہ اس طرح کی چالاکیاں روایتی قسم کے مناظروں میں تو بہت مفید ہوسکتی ہیں، ایک علمی بحث کے مناسب نہیں۔ بہرحال مذکورہ ایک مثال سے یہ سمجھنے میں یہ دشواری نہیں رہنی چاہیے کہ اگر ہر چیز کے بطور ’کل‘ جائزے ہی کو اسے اختیار کرنے یا ترک کرنے کا اصول اور معیار بنا لیا جائے تو دنیا کا کوئی کام بھی مشکل ہوجائے گا۔ یہ بات تو کسی نہ کسی طرح زندگی کے اکثر وبیشتر شعبوں کے بارے میں کہی جاسکتی ہے۔ ایک صاحب جدید میڈیکل سائنس کا علم حاصل کرکے خدمتِ خلق کرنا اور محنت ودیانت کے ساتھ رزقِ حلال کمانا چاہتے ہیں۔ ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ آپ اس کی بجائے ہمارے فلاں طبیہ کالج میں داخلہ لے لیں جہاں میٹرک پاس طلبہ کو تین اور میٹرک فیل طلبہ کو چار سال میں’’ طبیبِ حاذق‘‘ بنادیا جاتاہے، اس لیے کہ جدید دور کی میڈیکل سائنس سمیت تمام حیاتیاتی علوم کا ڈارون ازم کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ ان کے بنیادی مقاصد ہی میں نظریۂ ارتقا اور ڈارون ازم کو فروغ دینا شامل ہے، جبکہ شریعت کے مقاصد اس سے بالکل مختلف ہیں، لہٰذا پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ ان سائنسز سے مقاصد الشریعہ کا حصول ممکن بھی ہے یا نہیں۔ اور تو اور، بازار کو بطور ’کل ‘ اگر دیکھنے لگیں تو اس کے بارے میں تو نص موجود ہے کہ یہ زمین کے سب سے بُرے ٹکڑے ہیں، اگر کوئی شخص بطور ’کل ‘ دیکھنے والے اسی فلسفے کو لے کر بیٹھ جائے تو وہ یہی کہے گا کہ بازار میں جانا ہی نہیں چاہیے۔ وہ بازار کے عمومی حالات کو سامنے رکھ کر اس میں جانے کے خلاف بڑی’ اصولی‘ اور شان دار بحث کر سکتا اور یہ کہہ سکتاہے کہ بازار جانے کی حمایت کرنے والوں نے یہ غلط مفروضہ قائم کر رکھا ہے کہ اس بد ترین جگہ کو کسی نہ کسی طرح اسلامی بنا ہی لیا جائے گا اور اسے کلمہ پڑھا ہی لیا جائے گا ۔ اگر یہ کہا جائے کہ بازار جانا تو ضرورت ہے تو جواب میں وہ یہ کہہ سکتاہے کہ یہ آپ لوگوں کا حربہ ہے کہ جب کوئی اور بات نہیں بنتی تو ضرورت کی دہائی دینے لگتے ہو ، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف وہاں جاکر کاروبار کرنے کی اجازت دے رہے ہیں بلکہ یہ بھی فرمارہے ہیں کہ سچا اور امانت دار تاجر نبیوں ، صدیقوں اور شہدا کے ساتھ ہوگا۔ (جامع ترمذی ، کتاب البیوع: باب ماجاء فی التجار وتسمیۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم إیاہم ) اور اسے ’کلمہ ‘ پڑھانے کا یہ طریقہ بیان فرما رہے ہیں کہ کاروبار کے ساتھ صدقہ خیرات بھی کرتے رہا کرو (حوالہ بالا) اور اس بد ترین جگہ پر جانے کا ذکر لا إلہ إلا اللہ وحدہ الخ بھی تعلیم فرمارہے ہیں۔ ( جامع ترمذی ، کتاب الدعوات : باب مایقول إذا دخل السوق )۔
در حقیقت اصل مسئلہ کسی چیز کو بطور کل یا بطور جز دیکھنے کا نہیں، دین کے اوامر اور نواہی کی روشنی میں دیکھنے کا ہے۔ اگر ہم شر یعت کے عمومی مزاج کو دیکھیں تو اس میں کسی چیز کو بطور ’کل‘ کے دیکھ کر اسے رد کرنے کی بجائے خذ ما صفا ودع ما کدر کا اصول زیادہ استعمال ہوتا نظر آئے گا، یعنی اس میں جو اچھائی یا درست کام ہے، وہ لے لو اور برائی سے بچنے کی کوشش کرو۔ بازار کو بدترین جگہ قرار دینے کے باوجود حکمِ شرعی میں اس بات کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے کہ آپ نے وہاں جاکر کام کیا کرناہے۔ یہی منہج عمومی طور پر علما نے بینکنگ کے حوالے سے اختیار کیا ہے کہ روایتی بینکنگ کو بالکلیہ قبول یا بالکلیہ رد کرنے کی بجائے یہ کہاکہ دیکھا جائے کہ آپ نے بینک میں یا اس کے ذریعے کرنا کیا ہے، اسی کے مطابق آپ کے کام یا سرگرمیوں کو درست یا غلط کہا جاسکے گا۔ یہ منہجِ فکر اسلامی بینکاری کے حامیوں اور ناقدین میں قدرِ مشترک ہے، چنانچہ اسلامی بینکاری کے ناقد علما بھی بینکنگ کی بہت سی سروسز سے استفادے کو نہ صرف جائز کہتے ہیں بلکہ خود ان سے مستفید بھی ہوتے ہیں، علما کے انفرادی طور پر بھی اور وفاق المدارس سمیت کئی دینی تنظیموں ، اداروں اور مدارس وجامعات کے بینکوں میں کرنٹ اکاونٹ کھلے ہوئے ہیں اوروفاق المدارس سمیت کئی تو ان کے ذریعے لین دین بھی کرتے ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ سود سے تو خالی ہوتا ہے جو مغل صاحب کے خیال میں ثانوی درجے کی برائی ہے، ان کے خیال میں جو اصل برائی ہے یعنی تخلیقِ زر کا باعث بننا، وہ کرنٹ اکاؤنٹ میں کچھ زیادہ ہی ہوگی کم نہیں، اس لیے کہ کھاتہ دار کے اپنی قوتِ خرید سے دست بردار نہ ہونے والی بات اس میں زیادہ پائی جاتی ہے اور بنک کرنٹ اکاؤنٹ کے ساتھ بھی جزمحفوظاتی نظام کے تحت ہی برتاؤ کرتا ہے۔ یہ بات تو غیر سودی بینکاری کے مجوّزین نے شروع ہی میں کہہ دی تھی کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کام کرنے والا بینک نہ تو وہ تمام کام کرسکے گا جو روایتی بینک کرتے ہیں اور نہ ہی روایتی بینک کی تمام خصوصیات اس میں موجود ہوں گی ، جیسا کہ خود مولانا محمد تقی عثمانی نے ’’ اسلام اور جدید معیشت وتجارت ‘‘ میں اسے بیان کردیاہے ، چنانچہ وہ اس کتاب کے ص۱۳۳ پر فرماتے ہیں :
’’سودی بینکاری کا متبادل تلاش کرنے کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ مروّجہ بنک جتنے کام جس انداز سے کررہے ہیں، وہ سارے کام کم وبیش اسی انداز سے انجام دیے جاتے رہیں اور ان کے مقاصد میں کوئی فرق واقع نہ ہو، کیونکہ اگر سب کچھ وہی کرنا جو اب تک ہورہا ہے تو متبادل طریقِ کار کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی، بلکہ متبادل کا مطلب یہ ہے کہ بنک کے جو کام موجودہ تجارتی حالات میں ضروری یا مفید ہیں، ان کی انجام دہی کے لیے ایسا طریقِ کار اختیار کیا جائے جو شریعت کے اصولوں کے دائرے میں ہو اور جس سے شریعت کے معاشی مقاصد پورے ہوں اور جوکام شرعی اصولوں کے مطابق ضروری یا مفید نہیں اور جنہیں شرعی اصولوں کے مطابق ڈھالا نہیں جاسکتا، ان سے صرفِ نظر کیا جائے۔‘‘
حاصل یہ کہ یہاں اس بات پر علما کے درمیان اتفاق ہے کہ بینک کے ادارے کے ساتھ خذ ما صفا ودع ما کدر والا برتاؤ کیا جائے گا۔
پھر یہاں دو چیزوں میں خلط ہو گیا ہے۔ ایک ہے کسی چیز کو بطور ’کل‘ کے لینا اور ایک ہے کلیات اور قواعد کی روشنی میں دیکھنا۔ ایک بڑے کل کے اجزا کو الگ الگ دیکھتے ہوئے بھی شریعت کے عمومی قواعد یا مقاصدِ شریعت سے راہ نمائی لی جاسکتی اور لی جاتی ہے۔ شریعت کے مقاصد اور عمومی قواعد کو اگر دیکھیں تو ان میں تیسیر کا پہلو ہماری شریعت کے اہم مقاصد میں نظر آتا ہے۔ قرآن نے کئی جگہوں پر اس کے ساتھ باقاعدہ ارادے کا لفظ استعمال کیا ہے: ’’یرید اللہ بکم الیسر‘‘ (البقرۃ:۱۸۵)۔ اس موضوع پر اگر نصوص کی صرف فرست ہی درج کی جائے تو بات بہت لمبی ہوجائے گی۔ فقہانے جن پانچ قواعد کلیہ کو پوری شریعت کا محور قرار دیا ہے، ان میں سے تین کا تعلق کسی نہ کسی طرح تیسیر کے اصول سے بنتا ہے اور وہ ہیں: (۱) المشقۃ تجلب التیسیر (۲) الضرر یزال (۳) العادۃ محکمۃ۔ ان میں پہلا تو صراحتاً تیسیر سے متعلق ہے۔ ا س کا مطلب یہ ہے کہ تیسیر کل شریعت کا ۵/۳ یا کم ازکم ۵/۱ ضرور بنتا ہے۔ اس قاعدے کی اہمیت کے باوجود اس کے عملی انطباق میں اختلاف ہوسکتا ہے ، لیکن اس قاعدے کے استعمال کو ہی استہزا یا تہکم کا نشانہ یا اعتراض کی بنیادبنا لینا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ جناب مغل صاحب ایک طرف تو مقاصدِ شریعت کے بہت بڑے داعی اور مبلغ نظر آتے ہیں، دوسری طرف ضرورت وحاجت کی بات کرنے کو وہ ’’مجوّزین کا عمومی حربہ‘‘ اور ’’ ضرورت کی دہائی‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں،اگرچہ اسلامی بینکاری ساری کی ساری اس اصول پر مبنی نہیں ہے، بلکہ اس میں متعدد معاملات میں فی نفسہ جواز کے باوجود سدّ ذریعہ کے طور پر تضییق سے بھی کام لیا جاتا ہے۔ یہاں کہنا صرف یہ مقصود ہے کہ اگر واقعتا مقصود مقاصدِ شریعت کی بات کرنا ہے تو ضرورت وحاجت کا اعتبار اور تیسیر تو شریعت کا اہم ترین اور منصوص مقصد ہے۔ مقاصدِ شریعت کی بار بار بات کرنے والوں کو تو تیسیر یا ضرورت کی بات ’’حربہ‘‘ تو نظر نہیں آنی چاہیے۔

کیا عمومی سطح کے معاشی جائزے کے بغیر فقہی بحث غیر متعلق ہے؟

بہر حال ان چند مثالوں سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ معاملے کو بطور کل لینے کی بات دیکھنے میں جتنی خوبصورت اور اصولی لگتی ہے، واقعہ میں اتنی سادہ نہیں ہے ، اس لیے ان کی تجویز کردہ یہ ترتیب کہ جب تک مسئلہ پہلی دو سطحوں کی بحث میں پاس نہ ہوجائے، تب تک اس پر فقہی زوایۂ نگاہ سے بات نہیں کرنی چاہیے یا یہ کہ ان بینکوں میں طے پانے والے عقود کو فقہی لحاظ سے درست قرار دیا جائے جیساکہ ایک فریق کی رائے ہے یا فاسد جیساکہ دوسرے فریق کی رائے ہے، تب بھی جب تک مسئلہ پہلے دو ٹیسٹوں میں کلئیر نہ ہو جانے، یہ فقہی فیصلہ نافذ نہیں ہونا چاہیے، یہ ترتیب مسئلے کو فضا میں معلق کرنے یا اندھیری کوٹھڑی میں لے جانے کے مترادف ہے، اس لیے کہ مدوّن فقہ المعاملات ایک واضح، منضبط اور زیرِ عمل چیز ہے جس کے اصول وقواعد، جزئیات اور طریقہ ہائے استدلال سب چیزیں منقح اور واضح ہیں، جبکہ جس سطح کی بحث کی بات فاضل مضمون نگار فرمارہے ہیں، اس میں کوئی واضح اور نکھرا ہوا مواد موجود نہیں ہے ، جیسا کہ خود ان کا اپنا شکوہ ہے کہ اس سطح پر غور نہیں ہورہا۔ اس سطح کا جو کام ہوا ہے، اسے ابھی خود تنقید کی چھلنی سے گزرنا ہے۔ ایک نامکمل اور مبہم جائزے کی بنیاد پریا اس کی تکمیل کی انتظار میں ایک واضح، مدوّن اور زیرِ عمل چیز کے بارے میں حکمِ امتناعی کیسے جاری کردیا جائے؟ یہ ایسے ہی ہوگاجیسے کسی جگہ کوئی خاص قانون یا قانونی نظام رائج ہو، کسی صاحبِ دانش کو وہ قانون یا قانونی نظام پسند نہ ہو تو یہ ان کا حق ہے کہ وہ اس پر تنقید کریں، متبادل قانونی فکر کی تجویز دیں ، اس کے لیے لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کریں، لیکن پہلے ہی مرحلے میں وہ یہ بھی کہہ دیں کہ جس بحث کو میں نے چھیڑا ہے جب تک یہ پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ جائے، ججوں کو اس کے مطابق فیصلے کرنے اور قانونی مشیران کو اس کے مطابق قانونی مشورے دینے کا عمل بند رکھنا چاہیے، ظاہر ہے کہ کوئی شخص اس مشورے یا مطالبے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہوگا۔ موجودہ مدوّن یا روایتی فقہ درحقیقت ایک قابلِ ذکر متدیّن طبقے کا رائج الوقت شرعی قانون ہے، ریاست کے نافذ کردہ قانون کے معنی میں نہیں بلکہ ایسے قانون کے معنی میں جسے لوگ اپنی مرضی سے اپنے اوپر لاگو کررہے ہیں۔ اہلِ افتا اسی قانون کی روشنی لوگوں کی راہ نمائی کررہے ہیں۔ صرف اسلامی بینکاری ہی نہیں، بے شمار مسائل میں اسی فقہ کی روشنی میں غور کرتے ہوئے ان کے نتائجِ بحث یا فتاوے میں اختلاف بھی ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں جس کو جس رائے یا جس صاحبِ علم پر اطمینان ہوتاہے، اس پر عمل کرلیتا ہے۔ یہی کچھ اسلامی بینکاری کے مسئلے میں ہورہاہے۔ دونوں قسم کے فتاویٰ موجود ہیں اور لوگ دونوں پر عمل بھی کررہے ہیں۔ اب اگر اس رائج الوقت منہجِ فکر کا متبادل کسی کے ذہن میں موجود ہے تو وہ اسے اہلِ علم کے سامنے پیش کرنے کا حق رکھتا ہے۔ علمی حلقے اسے تنقید کی چھننی سے گزاریں گے، لیکن یہ کہنا کہ ہماری بحث مکمل ہونے تک پہلے سے موجود فتووں کو معطل رکھا جائے، یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی قانون یا قانونی نظام میں تبدیلی کے مشورے کے ساتھ ہی رائج قانون پر عمل سے روک دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ تعطل کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔
پھر فقہِ اسلامی میں اگرچہ ہمیں جدید معاشی اصطلاحات استعمال ہوتی نظر نہیں آتیں، اس میں معاشی تجزیے ، فارمولے، مساواتیں وغیرہ نہیں ہوتیں،اس میں ہمیں معاشی ماڈلز نہیں ملتے، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ اس کے احکام معاشی حکمت اور دانش سے بھی خالی ہیں۔ فقہِ اسلامی کا وہ حصّہ جو حصہ فقہ المعاملات المالیۃ کہلاتاہے، اسے ہم سمجھنے کے لیے اسلام کا قانونِ تجارت کہہ سکتے ہیں جسے غلطی سے یا شاید مجازاً اسلامی معاشیات بھی کہہ دیا جاتاہے۔ جدید معاشیات کی عمرتو اڑھائی صدی سے بھی کم بنتی ہے (جدید معاشیات کے بانی آدم سمتھ کی وفات ۱۷۹۰ء میں ہوئی) ، اس سے پہلے کا انسان بھی معاشی سمجھ بوجھ سے خالی نہیں تھا۔ کسی بھی قوم کے کاروباری ضوابط کے پیچھے اس کے معاشی تصورات موجود ہوتے ہیں۔ فقہِ اسلامی اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ اس کے ذکر کردہ احکام کے پیچھے بھی کچھ معاشی تصوّرات اور نظریات ہوتے ہیں جن کا کچھ اندازہ فقہا کی ذکر کردہ تعلیلات سے بھی ہو سکتاہے۔ ( اگرچہ ان تعلیلات میں معاشی سے زیادہ قانونی رنگ غالب ہوتا ہے) فقہِ اسلامی کا مطالعہ کرکے ان تصورات اور نظریات کو جدید معاشی اسلوب میں بھی بیان کیا جاسکتاہے، خاص طور پر زر (money) اور اس کے متعلقات وغیرہ کے بارے میں تو اسلامی فقہ کے تصورات بہت واضح ہیں۔ فقہا کے ہاں زر کے بارے میں اُس زمانے سے واضح اور بنیادی تصوّرات ملتے ہیں جبکہ مغرب کو اس پر بحث شروع کرنے میں بالخصوص جدید علمِ معیشت کے وجود میں آنے میں ابھی صدیاں پڑی تھیں۔ اس حوالے سے شاید ہی کوئی نظامِ فکر وعلم فقہ اسلامی پر سبقت کا دعوی کرسکے۔ فقہِ اسلامی فضا میں یا غاروں میں پروان نہیں چڑھی، اس نے مختلف علاقوں میں متنوع قسم کے حالات میں صدیوں تک معاشی مسائل میں لوگوں کی راہ نمائی کی ہے ۔ اس کا واسطہ مختلف قسم کی معیشتوں سے رہا ہے۔ اس نے ایسی معیشتوں کو بھی ڈیل کیا ہے جو اپنے وقت کی بالادست، طاقت ور اور بڑی معیشتوں میں سے تھیں، اس لیے مدوّن فقہ المعاملات بے چاری اتنی گئی گزری بھی نہیں ہے کہ یہ تصوّر کرلیا جائے کہ اس کے کسی فیصلے پر عمل سے پہلے معاملے کا کسی جدید معیشت دان سے تجزیہ کرانا ضروری ہے، اس کے بغیر اس فیصلے پر عمل معاشی دانش سے بالکل ہی خالی ہوگا ۔
در حقیقت جس نوعیت کا استدلال غیر سودی بینکاری کے یہ ناقدین کررہے ہیں، بالکل اسی نوعیت کا استدلال بینکوں کے انٹرسٹ کو ربا تسلیم نہ کرنے والوں کا تھا۔ ان کا کہنا بھی یہی تھا کہ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ عقد کی نوعیت کیا ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ قرآن نے جس ربا سے منع کیا ہے، یہ وہ ربا تھا جو ظلم پر مشتمل تھا اور یہی ظلم ربا سے منع کرنے کی اصل وجہ ہے، لہٰذا اصل دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس نئی نوعیت کے انٹرسٹ میں ظلم پایا جاتاہے یا نہیں۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اس میں ظلم نہیں پایا جاتا۔ اس پر وہ اپنے دلائل دیتے تھے۔ گویا فاضل مضمون نگار جیسے ناقدین اور بینکوں کے سود کو جائز کہنے والوں کے منہج استدلال میں بظاہر یہ بنیادی بات قدرِ مشترک لگ رہی ہے کہ قرآن وسنت سے ہم صرف بنیادی اصول لیں گے، مثلاً یہی کہ ظلم اور استحصال نہیں ہونا چاہیے۔ آگے معاملات پر اس کا انطباق کرنے کے لیے عقد کی نوعیت اور نصوص وغیرہ کو دیکھنے کی بجائے ہم اپنے معاشی تجزیے سے جائزہ لیں گے کہ کہاں یہ اصول کس طرح سے لاگو ہورہا ہے۔ بنیادی منہج ایک ہی ہے، البتہ اس مہنج کی رو سے معاشی تجزیہ دونوں کا الگ الگ ہوگیا۔ ایک کی رائے میں بینکوں کے سود میں ظلم نہیں پایا جاتا، اس لیے اگرچہ عقد کی نوعیت ایسی ہو کہ اس کا ناجائز ہونا منصوص ہو، پھر بھی اصل حکم وہی ہے جوہمارے معاشی تجزیے سے سامنے آیاہے، جبکہ دوسرے فریق کے معاشی تجزیے کے مطابق سود کی بات تو ثانوی ہے، خود بینکنگ ہی میں ظلم پایا جا رہا ہے، اس لیے بینکاری سودی ہویا غیر سودی، دونوں ہی اپنے اصل کے اعتبارسے غلط ہیں۔ ان کے خیال کے مطابق بھی ان کے اس تجزیے کی موجودگی میں فقہی جائزے اور عقد کی نوعیت کے اعتبار سے ان میں طے پانے والے عقود کو جائز کہیں یا ناجائز، یہ ان کے خیال میں غیر متعلق بات ہے ۔

کیا علما سے بینکنگ کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے؟

جناب زاہد صدیق مغل صاحب نے اپنے مضمون کا زیادہ تر حصہ اس بات پر صرف کیا ہے کہ اسلامی بنکاری کے مجوّزین نظامِ زر اور بینکاری کو صحیح طریقے سے سمجھے ہی نہیں۔ اب تک تو وہ مجوّزین اور ناقدین تمام علما پر تنقید کررہے تھے، لیکن یہاں پہنچ کر ان کا نشانہ صرف مجوّزین ہی رہ جاتے ہیں۔ یہ یاد رہے کہ مجوّزین میں عصرِ حاضر کے ایک آدھ عالم نہیں بلکہ بنیادی طور پران میں مولانا مفتی محمد شفیعؒ ، مولا نا محمد یوسف بنوریؒ ، مفتی رشید احمد لدھیانویؒ ، اسلامی نظریاتی کونسل کے ۱۹۸۰ء اور اس سے قبل کے زمانے کے فاضل ارکان، مجمع الفقہ الاسلامی جیسے متعدد بین الأقوامی فقہی فورمزکے ارکان اور عالمِ اسلام کی معروف شخصیات شامل ہیں۔ ان سب شخصیات اور فورمزسے علمی طور پر اختلافِ رائے کرنا بھی کوئی گناہ نہیں ہے، لیکن یہ ذہن میں رہنا ضروری ہے کہ اس رائے کی حامل ایک آدھ شخصیت نہیں ہے۔ ایک آدھ شخصیت کی آڑ لے کر سب کو ناواقف قرار دینا بہر حال کافی احتیاط کا متقاضی ہونا چاہیے۔ ویسے تو جناب مغل صاحب نے مجوّ زین کے تصورِ بینکاری کو پیش کرتے ہوئے جس طرح سے ایک مشہور علمی شخصیت کی باتوں کو اپنی مرضی کے معانی پہناکر انہیں ناواقف ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور خود ان کی اپنی باتوں میں کتنی ایسی ہیں جو کم ازکم مجھ سے طالب علم کو تضادات اور ابہامات نظر آتی ہیں، انہیں بیان کرنے کے لیے ایک مستقل مضمون درکار ہے ، لیکن چونکہ ہمارا مقصد نہ تو کسی کی تنقیص ہے اور نہ ہی کسی شخصیت کی تمجید، اس لیے یہاں اس بحث سے صرفِ نظر کرتے ہوئے صرف ایک بات کی طرف اشارہ ضروری سمجھتے ہیں جسے فاضل مضمون نگار نے ایک طرح سے چیلنج کے انداز میں پیش کیا ہے۔
ان کی اس بات کی طرف کی آنے سے پہلے یہ بات ذہن میں رہنا ضروری ہے کہ روایتی طور پر بنک کا کام یہ ہے کہ وہ خود اشیایا خدمات کے کاروبار میں ملوث نہیں ہوتا، بلکہ صرف اور صرف پیسے کا لین دین کرتاہے۔ ایک طرف سے پیسہ کم شرحِ سود پر لیتا اور دوسری طرف زیادہ شرحِ سود پر دیتاہے۔ اسلامی نقطۂ نگاہ سے زر (money) بذاتِ خود ایسی چیز نہیں کہ اس کے لین دین کو نفع کمانے کا ذریعہ بنایا جائے۔ نفع کمانے کا طریقہ تجارت ہے جس کے لیے اشیا یا خدمات کے لین دین میں خود یا اپنے وکیل کے ذریعے ملوّث ہونا ضروری ہے۔ ( اس نکتے کی زیادہ وضاحت خود مولانا کے لکھے ہوئے سپریم کورٹ کے سود کے خلاف فیصلے میں موجود ہے)۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی بینکاری میں بنک کبھی بھی محض پیسے پر نفع نہیں لیتا بلکہ یا تو خود کسی کاروبار میں مضارب یا شریک بن کر حصہ لیتا ہے یا اشیا یا خدمات فراہم کرکے اس پر نفع لیتاہے ۔ جناب مغل صاحب نے یہ تأثر دینے کی کوشش کی ہے کہ مجوّزین‘ بینک کو محض ایک زری ثالث سمجھتے ہیں، بینک کی دیگر اہم خصوصیات جیسے اس کا جزو محفوظاتی طریقے سے کام کرنا، تخلیقِ زر کاباعث بننا وغیرہ سے یہ علما واقف نہیں ہیں۔ صحیح صورتِ حال سے ناواقفیت کی وجہ سے علما غلط سوال قائم کرکے اس کا غلط جواب دے رہے ہیں۔ انہوں نے مولانا محمد تقی عثمانی سمیت تمام علما کے بارے میں یہ تأثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ان کے نزدیک بینک محض زری ثالث کا کردار ادا کرتا ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس کے لیے انہوں نے مولانا عثمانی کی ایک عبارت نقل کی ہے: ’’مروّجہ [ روایتی، سودی] بنکاری میں بینک کی حیثیت محض ایک ایسے ادارے کی ہے جو روپے کا لین دین کرتاہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی مولانا کی کتاب کے ص ۱۱۶ سے وہ عبارت نقل کی ہے جس میں انہوں نے بنک کے وظائف گنواتے ہوئے تخلیقِ زر کا بھی ذکر کیا ہے۔ جناب مغل کے خیال میں یہ ایسا تضاد ہے جسے رفع کرنا مجوّزین کے ذمہ ہے، اس لیے کہ بقول ان کے، اگر بینک محض روپے کے لین دین کا ادارہ ہے تو وہ تخلیقِ زر کا باعث کیسے بن سکتا ہے؟ اس موقع پر ہم حافظ شیرازی کے الفاظ میں یہی عرض کرسکتے ہیں : 
سخن شناس نہ ای دلبرا خطا این جاست
اگر مجھے معلوم ہوتا کہ جناب مغل صاحب کچھ درسِ نظامی بھی پڑھے ہوئے ہیں تو ان سے صرف ایک جملے میں بات کرتا کہ ’محض‘ کا لفظ حصر حقیقی کے لیے نہیں، حصرِ اضافی کے لیے ہے۔ بات وہی ہے جو اوپر عرض کی گئی کہ مولانا عام بنکوں اور اسلامی بنکوں میں فرق بیان کررہے ہیں کہ عام بنکوں کا بنیادی وظیفہ یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف روپے کا لین دین کرتاہے، یعنی اشیا وخدمات کی تجارت کا نہیں، چنانچہ شروع شروع میں بعض جگہوں پر اسلامی بنکوں کو یہ قانونی دشواری بھی پیش آئی کہ بنک تو خود کاروبار کرہی نہیں سکتا جبکہ اسلامی بینکاری میں بنک کرتا ہی کاروبار ہے ، تو عام روایتی بنکوں کے بارے میں’ محض ‘کا لفظ اشیا وخدمات کے کاروبار کی نفی کے لیے ہے نہ کہ تخلیقِ زر وغیرہ دیگر کرداروں کی نفی کے لیے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ فاضل مرتب (راقم الحروف کے چھوٹے بھائی) مفتی محمد مجاہد شہیدؒ ’محض ‘ کا لفظ ’روپے ‘ کے ساتھ ذکر کردیتے اور جملہ یوں ہوتا’ ’محض روپے کا لین دین کرتاہے [ یعنی اشیا وخدمات کا نہیں]‘‘ ۔۔جیساکہ اسی سے چند جملے آگے خود مولانا عثمانی کی اسی طرح کی عبارت ہے ۔۔ تو بات زیادہ واضح ہوجاتی۔ پھر بھی جس شخص کو مذکورہ پس منظر سے اور روایتی اور اسلامی بینکوں کے درمیان اس فرق سے آگہی ہو، وہ خود بات کو درست طریقے سے سمجھ سکتاہے اور اگر اس پس منظر سے صرفِ نظر بھی کرلیا جائے تب بھی مولانا کے اگلے جملے سے ہی مفہوم بہت واضح ہوجاتاہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مولانا کا پورا پیرا گراف نقل کردیا جائے : 
’’چنانچہ مروّجہ نظام بنکاری میں بنک کی حیثیت محض ایک ایسے ادارے کی ہے جو روپے کا لین دین کرتاہے، اسے اس بات سے سروکار نہیں ہے کہ اس روپے سے جو کاروبار ہورہا ہے اس کا منافع کتنا ہے اور اس سے کس کو فائدہ اور کس کو نقصان پہنچ رہا ہے ؟
اسلامی احکام کی رو سے بنک ایسے ادارے کی حیثیت میں باقی نہیں رہ سکتا جس کا کام صرف روپے کا لین دین ہو، اس کے بجائے اسے ایک ایسا تجارتی ادارہ بنانا پڑے گا جو بہت سے لوگو ں کی بچتوں کو اکٹھا کرکے ان کو براہِ راست کاروبار میں لگائے اور وہ سارے لوگ جن کی بچتیں اس نے جمع کی ہیں ، براہِ راست اس کاروبار میں حصہ دار بنیں اور ان کا نفع نقصان اس کاروبار کے نفع نقصان سے وابستہ ہو جو ان کے سرمائے سے بالآخر انجام دیا جارہاہے، لہٰذا سودی بنکاری کے متبادل جو انتظام تجویز کیا جائے گا، اس پر یہ اعتراض نہ ہونا چاہیے کہ بنک نے اپنی سابقہ حیثیت ختم کردی ہے ، اور وہ بذاتِ خود ایک تجارتی ادارہ بن گیا ہے ، کیونکہ اس کے بغیر وہ ضرورت [ یعنی سود کا خاتمہ ] پوری نہیں ہوسکتی جس کی وجہ سے متبادل نظام کی تلاش کی جارہی ہے۔‘‘
حیرت ہے کہ فاضل مضمون نگار سے اگلی ہی عبارت بلکہ اگلے ہی جملے سے صرفِ نظر کیسے ہوگیا۔
حقیقت یہ ہے کہ جس نے مولانا محمد تقی عثمانی کی کتابوں اور غیر سودی بنکاری پر ان کے اور دیگر علماکے مواد کا سرسری سا بھی مطالعہ کیا ہو، وہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ انڈا پہلے یا مرغی جیسی یہ بحث کہ ’’بچتیں قرضوں کو جنم دیتی ہیں یا قرضے بچتوں کو‘‘ کے علاوہ فاضل مضمون نگار نے بنکاری کے حوالے سے جن حقائق کی نشان دہی کی ہے، ان میں سے بیشتر ایسے ہیں جن سے مولانا یا دیگر مجوّزین غافل نہیں ہیں، مثلاً یہ کہ بنک تخلیق زر کا باعث بنتے ہیں، وہ محض کمپیوٹر کی یاد داشت میں زر تخلیق کرتے اور اس پر نفع کماتے ہیں جس کی وجہ سے بنیادی زر ( کرنسی ) کے مقابلے میں بنکوں کے تخلیق کردہ زر کا تناسب بہت زیادہ ہوجاتاہے۔ ( اس پہلو پر مولانا کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے جس کا اردو ترجمہ بھی دستیاب ہے) اور یہ کہ بنک کل محفوظاتی کی بجائے جزمحفوظاتی طریقے سے کام کرتے ہیں، یعنی کھاتہ داروں کی جتنی رقوم ان کے پاس ہوتی ہیں، ان کا کچھ حصہ رکھ کر باقی قرض دے دیتے ہیں ، اور یہ کہ بیشتر حالات میں کھاتہ دار کو بھی اپنے کھاتے پر چیک جاری کرنے کا اختیار ہوتاہے۔ اس طرح سے وہ اپنی قوّتِ خرید سے پورے طور پر دستبردار نہیں ہوتا اور یہ کہ checkable deposits یا IOU,s کی وجہ سے دیون کی رسیدیں بھی ادائیگیوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں بلکہ اصل کرنسی کی بجائے ان کا استعمال زیادہ ہوتاہے۔ اس طرح کے بیشتر نکات وہ ہیں جن سے مجوّزین غافل نہیں ہیں۔ اس پر ان حضرات خصوصاً مولانا عثمانی کی عبارات پیش کی جاسکتی ہیں، بلکہ یہ تو ایسی باتیں ہیں جن سے انٹر یا گریجویٹ کی سطح کی بینکنگ یا کامرس پڑھنے والا بھی ناواقف نہیں ہوسکتا، ہاں البتہ بعض چیزوں کے تجزیے اور ان کے آثارکے بارے میں زاویۂ نگاہ کا فرق ہوسکتاہے۔ جناب فاضل مضمون نگار کا زاویۂ نگاہ اپنی جگہ محترم اور ان کی کاوش اپنی جگہ قابلِ قدر، لیکن یہ فرق بظاہر رائے کا فرق ہوگا، واقفیت یا نا واقفیت کا نہیں۔ اصل دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ جس پہلو کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے، اس کا حکمِ شرعی پر بھی کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔ اس معاملے میں حرفِ آخر دلیلِ شرعی ہی ہوسکتی ہے نہ کہ کوئی معاشی جائزہ۔ ہم بڑی بے صبری کے ساتھ تین قسطوں تک اس بات کا انتظار کرتے رہے کہ جناب مغل صاحب آخر میں یہ بتائیں گے کہ جن پہلوؤں کی طرف انہوں نے توجہ دلائی ہے اور جن کے بارے میں ان کاکہناہے کہ مجوّزین ان سے ناواقف ہیں، ان پہلوؤں کا حکمِ شرعی پر کیا اثر مرتب ہوگا ، یہ بات وہ شرعی دلیل سے ثابت کریں گے ، لیکن ان کے مضمون کی آخری قسط پڑھ کر اس حوالے سے بہت مایوسی ہوئی، اس لیے کہ شرعی دلیل کے حوالے سے جناب مغل صاحب کا مضمون بہت ہی تشنہ ہے۔
مذکورہ مضمون کے مطالعے سے عمومی تاثر یہ ملتا ہے کہ جو لوگ بنک کو زری ثالث سمجھتے ہیں، وہ امرِ واقعہ کے اعتبار بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ اگر اس سے مراد یہ ہے کہ بنک کے زری ثالثی کے کردار کے علاوہ اس کے کسی اور کردار کی نفی کرنا غلط ہے تو یہ بات تو درست ہے، لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی صاحبِ علم جو بینکنگ وغیرہ کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات رکھتے ہوں، وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوں ، اس لیے کہ زری ثالثی کے علاوہ بنک کے کئی کردار تو بہت معروف اور واضح ہیں۔ فاضل مضمون نگار نے سب سے زیادہ زور بنک کے تخلیقِ زر کے کردار پر دیاہے ، مجوّزین میں سے مولانا محمد تقی عثمانی کی کتاب ’’ اسلام اور جدید معیشت وتجارت ‘‘ میں بھی بنک کے اس کردار کا تذکرہ ان لفظوں میں شروع کیاگیا ہے : ’’بنک کا ایک اہم کردار جس کا ذکر یہاں بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ بنک پہلے سے موجود زر میں اضافہ کرکے زر کے پھیلاؤ کو بڑھاتاہے ، اور زر کی رسد میں اضافے کا کام انجام دیتاہے ....‘‘ اور اگر مراد یہ ہے کہ بنک عام ڈپازیٹر اور قرض حاصل کرنے والوں کے درمیان واسطہ بننے کا فریضہ انجام دیتاہے( اگرچہ اس کے ساتھ دیگر وظائف بھی انجام دیتاہے ) تویہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا ، اس کے لیے زیادہ تعلیم اور مطالعے کی بھی ضرورت نہیں۔ کسی بھی بنک کی کسی اہم برانچ میں چندگھنٹے گزار کر وہاں ہونے والوں کاموں کا مشاہدہ کرنا ہی اس حقیقت کے ادراک کے لیے کافی ہوسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ مضمون پڑھ کر اوّل وہلہ میں تو ہم بھی کچھ مرعوب ہوگئے تھے، ہمیں تجسس پیدا ہوا تھا کہ ممکن ہے اب تک بینکنگ کی جو ماہیت سمجھی جارہی ہے، وہی غلط ہو۔ اس صورت میں اپنی پوری سوچ پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ چونکہ ان علما کا اصل میدان اسلامی علوم ہی ہیں، معاشی علوم ان کا اصل موضوع نہیں ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ دنیا بہت آگے جاچکی ہو اور زری ثالث ہونے کی بنک کی یہ خصوصیت اتنی کم حیثیت ہوگئی ہو کہ ناقابلِ ذکر ہوگئی ہو اور ان علماکو ہونے والی تبدیلی کا پتا ہی نہ چلا ہو اور وہ پرانی پوزیشن پر ہی کھڑے ہوں ، لیکن تھوڑی سی مراجعت سے اندازہ ہوا کہ بنک کی تعریف میں اس کی اس خصوصیت کا ذکر صرف بعض مجوّزین نے ہی نے نہیں کیا ۔ جن کے بارے میں مغل صاحب کو شکوہ ہے کہ وہ سنی سنائی یا دوسرے تیسرے درجے کے مراجع سے حاصل کردہ باتیں کرتے ہیں ۔بلکہ اس کا ذکر ایسے جدید مراجع میں بھی موجود ہے جن کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ سنی سنائی باتوں یا دوسرے تیسرے درجے کے مراجع پر انحصار کرنے والے یا معاشی علوم میں جدید رجحانات سے ناواقف ہیں۔ بطور مثال یہاں چند حوالے پیش کیے جاتے ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (ڈیجیٹل ایڈیشن ۲۰۰۷ ء)میں بنک کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے : 
an institution that deals in money and its substitutes and provides other financial services. Banks accept deposits and make loans and derive a profit from the difference in the interest rates paid and charged, respectively.
دی اوکسفرڈ ڈکشنری آف اکنامکس میں بنک تعریف ان لفظوں میں کی گئی ہے : 
A financial institution whose main activities are borrowing and lending money. Banks borrow by accepting deposits from the general public or other financial institutions. 
ایک آن لائن بزنس ڈکشنری میں بنک کی تعریف ان لفظوں میں کی گئی ہے : 
Establishment authorized by a government to accept deposits, pay interest, clear checks, make loans, act as an intermediary in financial transactions, and provide other financial services to its customers. http://www.businessdictionary.com/definition/bank.html last visited 02/10/2010))
ویکیپیڈیا والوں نے بنک کی تعریف ان لفظوں میں کی ہے :
A bank is a financial institution that accepts deposits and channels those deposits into lending activities.
مزے کی بات یہ ہے کہ مجوّزین کے نظریۂ بینکاری کی بات کرتے ہو ئے انہیں یہ تضاد محسوس ہوتا ہے کہ بنک اگر محض زر کی لین دین کا کام کرتاہے تو وہ تخلیقِ زر کا کام کیسے کرتا ہے، لیکن مضمون کے آخر میں جا کر انہیں خود احساس ہوجاتاہے کہ تخلیقِ زر درحقیقت زر کے لین دین کی ہی ایک خاص شکل کا نتیجہ ہے، اس لیے وہ بینکنگ کی ساری خرابیاں ذکر کر کے ان سب کا ’سہرا‘ اسی زری ثالثی والی خصوصیت کے سر باندھتے ہیں ، چنانچہ مضمون کی آخری قسط میں اپنے موقف کے اثبات کے لیے چند بنیادی مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں : 
’’جب تک اکانومی میں ایک ایسا ایجنٹ موجود رہے گا جو بیک وقت لوگوں سے رقم (deposits) وصول بھی کرے اور ادھار (financing) بھی دے، اس وقت تک’ فرضی زر کی تخلیق‘ کا عمل جاری رہے گا اور یہ ایجنٹ (یا ادارہ ) لازماً ( جعلی ) ’ قرض کی رسید‘ (promise of payment) کو آلۂ مبادلہ ( means of payment ) کی حیثیت دے کر اصل زر کے خاتمے کا باعث بنے گا۔‘‘ 
آگے چل کر مزید کہتے ہیں : 
’’یہ ناممکن ہے کہ اکانومی میں ایک شخص قرض دینے اور ڈپازٹس وصول کرنے کا کام بھی کررہا ہو مگر قرض کی رسید بطور آلۂ مبادلہ استعمال نہ ہورہی ہو۔‘‘
قطع نظر اس سے کہ ابھی ذکر کردہ مختصرسی عبارتوں میں کتنے مغالطے ہیں، ان میںیہ بات بہرحال تسلیم کی جارہی ہے کہ بینک کا اصل کردار رقوم وصول کرنا اور ادھار دینا ہے اور خود ان کے خیال میں بنک جن بنیادی خرابیوں پر مشتمل ہے، ان کی بنیاد بھی اس کا یہی زری ثالثی والا کردار ہے۔ گویا پہلے یہ کہا جارہا تھا کہ بنک اگر محض زر کا لین دین کرتا ہے تو تخلیقِ زر کیسے کرسکتاہے اور اب کہا جارہا ہے کہ چونکہ وہ زر کا لین دین کرتاہے، اس لیے لازماً تخلیقِ زر کاکام بھی کرے گا !
(جاری)

اسلامی بینکاری: زاویہ نگاہ کی بحث

محمد زاہد صدیق مغل

ماہنامہ الشریعہ شمارہ مئی ۲۰۱۰ میں مفتی زاہد صاحب دامت برکاتہم العالی نے راقم الحروف کے مضمون ’اسلامی بینکاری: غلط سوال کا غلط جواب‘ کے تعقب میں اپنے مضمون ’غیر سودی بینکاری کا تنقیدی جائزہ‘ (حصہ اول) میں ’زاویہ نگاہ کی بحث ‘ کے تحت چند گزارشات پیش کی ہیں جن پر مختصر تبصرہ کرنا راقم ضروری سمجھتا ہے۔ 
۱۔ راقم الحروف نے اپنے مضمون میں یہ بنیادی بحث اٹھائی تھی کہ اسلامی بینکاری کے حامیین نے اصل بحث کی ترتیب کو الٹ دیا ہے۔ مفتی صاحب نے بحث کی موجودہ ترتیب کے حق میں بجا طور پر یہ وضاحت فرمائی کہ علمائے کرام خود کو اس ترتیب پر اس لیے مجبور پاتے ہیں کہ وہ محض محققین نہیں بلکہ عملی میدان کے سوار ہیں جہاں انہیں لوگوں کے مسائل کے ’عملی حل ‘ پیش کرنا ہوتے ہیں۔ راقم الحروف کو اس بات سے صد فیصد اتفاق ہے اور ہم نے اپنے مضمون کے حاشیے میں بھی بعینہ اسی امر کی طرف اشارہ کیا تھا کہ ایسا کرنا علمائے کرام کی مجبوری ہے، مگر راقم کے نزدیک علمائے کرام کا بینکاری یا جمہوریت وغیرہ جیسے مسائل کے ساتھ’ اصول جبر‘ کے تحت معاملہ کرنا کوئی اتنا سادہ مسئلہ نہیں جتنا کہ مفتی صاحب نے بیان فرمایا بلکہ یہ ایک خاص فکری پس منظر کا نتیجہ ہے جس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ، مگر قلت وقت کے سبب یہاں چند اشاروں پر ہی اکتفا کروں گا۔ 
یہ بات عیاں ہے کہ ہمارے مدارس میں پڑھائے جانے والے درس نظامی کورس کی چند خصوصیات ہیں: 
اول: یہ ’اسلامی ریاست کی موجودگی‘ کو فرض کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس میں اسلامی ریاست پر مبنی مباحث سے متعلق کسی بڑے اسلامی سیاسی مفکر کی کوئی کتاب شامل نہیں۔
دوئم: درس نظامی کے اس کورس کا مقصد اسلامی ریاست اور اسلامی علمیت کے پس منظر میں مسائل کے حل کا طریقہ کار وضع کرنا ہے، دوسرے لفظوں میں یہ اسلامی ریاست کے لیے وہ رجال کار فراہم کرتا ہے جو اس کے معاملات کو اسلامی احکامات کے تحت چلاتے رہیں۔
سوئم: چونکہ یہ اسلامی ریاست کو مفروض کرتا ہے لہٰذا اس میں مسائل کے حل کا جو طریقہ سکھایا جاتا ہے، اسے ہم ’موجودہ حالات میں کیسے خود کو ڈھالو‘ (how to fit in oneself in the given environment) کے الفاظ سے تعبیر کرسکتے ہیں، یعنی اس کا طریقہ کار ہی یہ ہے کہ اسلامی علمیت کی بالادستی پر مبنی ریاستی و معاشرتی صف بندی کے اندر پیش آنے والے مسائل کو کیسے اس طرح حل کیا جائے کہ اسلامی روایت (تقلید) کا تسلسل جاری رہے ۔
چہارم: یہی وجہ ہے کہ فقہ کا طریقہ کار ہمیشہ جزو پر فتوی لگانا ہوتا ہے۔ چونکہ جس معاشرتی و ریاستی تناظر کے ’کل ‘ کو یہ فقہ مقدم طور پر فرض کرتی ہے، وہ حق یعنی اسلام پر مبنی ہوتا ہے لہٰذا یہاں معاملے کے جزوہی پر حکم لگانے کی نوعیت پیش آتی ہے ۔
اگر درج بالا تجزیہ درست ہے تو اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر اسلامی ریاست موجود ہو تو ’موجود کے اندر سموجانے ‘ یعنیfit in ہوجانے کے اس نہج سے بہتر اور علاوہ کوئی دوسرا طریقہ ممکن ہی نہیں۔ البتہ جب اسلامی ریاست ہی سرے سے مفقود ہو تو کل کو نظر انداز کرکے fit in ہونے کے اصول کے مطابق جزو پر فتوے دینا ایک دوسری تہذیب کو خود پر غالب آنے کا موقع فراہم کرنا ہے جیسا کہ عیسائیت کی شکست و ریخت سے واضح ہے ۔ علمائے کرام بالعموم نئے پیش آنے والے مسائل کو انکے کل سے کاٹ کر اسی fit in ہوجانے کے اصول کے تحت انکا تجزیہ کرکے ان پر حکم لگاتے ہیں جو بلا شک و شبہ اسلامی ریاست کے پس منظر میں ایک محفوظ طریقہ کار ہے، مگر سرمایہ دارانہ ریاستی صف بندی میں اسے اپنانا عمیق خطرات کا باعث ہے کیونکہ اب جس معاشرتی و ریاستی صف بندی میں fit in ہونے کا طریقہ کار وہ بتاتے ہیں، وہ ماحول ہی غیر اسلامی ہے اور اب اس طریقہ کار کا مطلب ’غیر اسلامی نظام زندگی کے اندر اسلامی زندگی گزارنے‘ کا نسخہ تیار کرنا ہے۔ اس fit in ہوجانے کے اصول کو اپنانے کے بے شمار نقصانات ہیں جن میں سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ سیکولر معاشرتی و ریاستی صف بندی ہم پر غالب آتی چلی جاری ہے، علمائے کرام ’رخصتوں‘ کی آفاقیت پر خود کو پہلے سے زیادہ مجبور محسوس کرنے لگے ہیں اور مطلوب کا حصول ناممکن سے ناممکن ہوتا چلا جارہا ہے۔ چنانچہ ہر نئے پیش آنے والے مسئلے کو جب اس کے کل سے کاٹ کر دیکھا جاتا ہے تو اس کی معنویت بدل جاتی ہے (کیونکہ معنی کل میں ہوتے ہیں) اور پھر اس مسئلے کو ایک غلط پس منظر میں سمجھنے کے بعد اس کا کوئی اسلامی متبادل وغیرہ فراہم کردیا جاتا ہے جس کی بے شمار مثالیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں اور اسلامی (یا غیر سودی) بینکاری بھی اسی نوع کی ایک مثال ہے۔ اسی fit in ہوجانے کے اصول کے تحت پہلے ہم نے پیپر کرنسی کو خود سے ’یہ قرض نہیں‘ فرض کر کے اس کا شرعی جواز پیدا کیا اور پھر سرمایہ دارانہ (یعنی بینک ) زر کا اسلامی جواز بھی ڈھونڈ لیا۔ اسی اصول کے تحت ہم نے اپنی ایک ہزار سالہ تاریخ میں جو ادارتی وریاستی نظم قائم تھا، اس سے منہ موڑ کر انگریزوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے احیائے خلافت کے بجائے خود کو انگریزوں ہی کی عطا کردہ جمہوری صف بندی کا حصہ بنایا اور مزے کی بات یہ ہے کہ آزادی حاصل کرلینے کے بعد بھی ہم نے اپنے تاریخی تسلسل (مثلا مغل یا ترک خلافت کی ادارتی صف بندی وغیرہ) کی طرف پلٹنے کے بجائے جمہوری صف بندی ہی کو اختیار کرلیا اور پھر اسی کو اسلامی بنانے کی ٹھان لی۔ چنانچہ علمائے کرام کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ’کل‘ کی بحث کو نظر انداز کرتے یاانتہائی ثانوی سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ بالعموم ریاستی تناظر سے بحث ہی نہیں کرتے بلکہ اکثر و بیشتر موجودہ نظم کو فطری و اسلامی فرض کرتے ہیں جیسا کہ اسلامی بینکاری کے مؤیدین علما کا حال ہے۔ 
مجوزین اسلامی بینکاری کے نزدیک بینکاری کی اسلام کاری نا صرف یہ کہ ممکن ہے بلکہ وہ موجودہ معاشی و ریاستی تناظر کو عین فطری اور اسلامی فرض کرتے ہیں جیسا کہ راقم نے اپنے مضمون ’اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز‘ میں مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی کے نظریات سے واضح کیا تھا۔ اسلامی بینکاروں کے ان واضح نظریات کی موجودگی کے باوجود یہ کہنا کہ ان علما کے نزدیک اسلامی بینکاری محض کوئی مجبوری ہے، راقم کے لیے ایک نا قابل فہم بات ہے۔ لہٰذا علمائے کرام کا (نام نہاد) اسلامی بینکوں میں مشیر بن جانے سے کوئی مطلوب تبدیلی رونما نہیں ہوگی کیونکہ علمائے کرام کا کام سرمایہ دارانہ نظم میں ’مشیر‘ بننا نہیں بلکہ اسلامی ریاست تعمیر کرکے اس کی ’حکمرانی‘ کرناہے اور جب تک وہ ایسا کرنے کی کوشش نہیں کریں گے، اس وقت تک اسلامی ریاست قائم نہیں ہوگی۔ لہٰذا یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ جو ریاستی و ادارتی نظم (بشمول پاکستان میں) اس وقت قائم ہے، وہ غیر اسلامی ہے اور اس کے اندر fit in ہوجانے اور جزو پر فتوی دینے کے طریقہ کار کو چھوڑکر کل کی بنیاد پر فتوی دینے کی طرف توجہ دینا ہوگی اور اس کے لیے اولاً علم الکلام کے فروغ کی ضرورت ہے نہ کہ فقہ المسائل کی، کیونکہ سرمایہ داری نے جو مسائل پیدا کیے ہیں، ان کا تعلق اصلاً کلام کے ساتھ ہے اور فروعاً فقہ کے ساتھ، لہٰذا یہ ترتیب ملحوظ خاطر رکھنا ہوگی بصورت دیگر جبر کا دائرہ بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ امید ہے اس وضاحت سے راقم کی فکر میں بظاہر نظر آنے والا یہ تضاد رفع ہوجائے گا کہ ایک طرف تو ہم علما کی تھیوکریسی کے قائل ہیں تو دوسری طرف ان کے اسلامی بینکوں کے مشیر بننے کے خلاف ہیں! جب راقم کے نزدیک بینک کی اسلام کاری ہی ممکن نہیں تو پھر اس کے ’اسلامی مشیر ‘ بننے کا کیا مطلب؟ 
۲۔ راقم الحروف کا اپنے مضمون میں یہ کہنا کہ ’’بینکوں کا سودی یا غیر سودی ہونا ایک ثانوی مسئلہ ہے‘‘ اس سے خدانخواستہ ہر گز یہ مقصود نہیں تھا کہ ہمارے نزدیک حرمت سود کوئی کم تر شے ہے، حاشا و کلا۔ بلکہ اس بات کا مطلب صرف اتنا تھا کہ بینکوں کے غیر سودی ہو سکنے کا امکان موجودہ بحث میں مقدمات کی ترتیب کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے اور بس۔ اگر اس کے علاوہ اس کا کوئی دوسرا مفہوم نکلتا ہے (جیسا کہ مفتی صاحب نے بیان فرمایا) تو راقم اس سے بری الذمہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور اس سے توبہ کرتا ہے۔
۳۔ مفتی صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ ہمارے مضمون سے انہیں ہمارے فکری پس منظر کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اپنے بارے میں ضروری وضاحت کردوں۔ راقم الحروف فی الحال نیشنل یونیورسٹی فاسٹ میں معاشیات کا استاد جبکہ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں پی ایچ ڈی معاشیات کا طالب علم ہے اور اس سے قبل ایم فل اکنامکس کرچکا ہے۔ میٹرک کے بعد کراچی کے مدرسے جامعہ علیمیہ اسلامیہ (مشہور بنام ’اسلامک سینٹر‘ قائم کردہ جناب ڈاکٹر فضل الرحمن انصاری قادری سجادہ نشین مولانا عبد العلیم صدیقی جو شاگرد خاص تھے مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلوی کے) سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کی۔ قدیم کلامی مسائل میں اشاعرہ و ماتریدیہ، فقہی مسائل میں فقہ حنفی جبکہ بر صغیرپاک و ہند میں جو مسائل ’شرک و بدعت‘ کے عنوان کے تحت باعث نزاع بنے، ان میں اکثر و بیشتر بریلوی مسلک کی رائے کو صائب جبکہ دیگر مکاتب فکر کی رائے کو ہر گز کفر یا فسق نہیں سمجھتا بلکہ اسے تعبیر اور تاویل کی غلطی سمجھتا ہوں کہ اگر ہمارے علمائے متقدمین باوجود اہم کلامی مسائل میں اختلافات کے اہل سنت والجماعت میں شمار ہوسکتے ہیں تو آج یہ امکان بند نہیں ہوجاتا۔ راقم کے نزدیک بریلویت، دیوبندیت اور سلفیت برصغیر میں اسلامی انفرادیت کے جائز اظہار کے مختلف دھارے ہیں اور اس خطہ ارضی میں فروغ اسلام کے لیے ان شناختوں کے قیام و بقا کو ضروری سمجھتا ہے، اس شرط کے ساتھ کے ایک دوسرے کو کافر و گمراہ نہیں بلکہ اپنا حلیف سمجھا جائے، کیونکہ اس خطہ ارضی میں استعماری غلبے کے بعد انہی اسلامی شناختوں نے ایک طرف اسلامی علمیت اور روایات کو محفوظ کیا اور دوسری طرف سرمایہ داری کے فروغ کا مقابلہ کیا۔ اس خطہ ارضی میں انہی شناختوں کا فروغ درحقیقت فروغ اسلام کا سہل ترین طریقہ ہے کیونکہ یہاں انہی کی تاریخی و فطری معاشرتی و نفسیاتی بنیادیں موجودہ ہیں، نیز ان شناختوں کو ہر گز تحلیل نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ایسا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے کیونکہ اس خطہ ارضی میں اسلامی انفرادیت کی پہچان کے یہی وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے یہاں سرمایہ دارانہ انفرادیت کی شناخت کو پروان چڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔ جب یہ روایتی شناختیں تحلیل ہوتی ہیں تو ان کی جگہ جو شے انفرادی شناخت کا ذریعہ بنتی ہے، وہ یا تو تجدد پسندانہ اسلام کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور یا پھر کالج ویونیورسٹی (مثلا Quaidian) یا کمپنی وغیرہ کی پہچان کی شکل میں جن کا اسلامی انفرادیت سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ (بہر حال یہ سب راقم کی ذاتی رائے ہے جس سے اختلاف ممکن ہے)۔ 

مولانا خواجہ خان محمد کی یاد میں تعزیتی نشست

ادارہ

حضرت مولانا خواجہ خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں کی وفا ت پر انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ۸؍ مئی کو ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت بزرگ عالم دین مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے کی اور پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی، جمعیۃ علماے اسلام (س) پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی اور الشریعہ اکادمی کے مولانا حافظ محمد یوسف نے خطاب کیا۔
مولانا عبد الرؤف فاروقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا خواجہ خان محمد کی وفات سے دینی، علمی اور روحانی حلقوں میں جو خلا پیدا ہوا ہے،اس کے پر ہونے کا دور دور تک امکان نظر نہیں آتااور ان کی وفات سے ہم ایک سرپرست بزرگ اور عظیم سرمایے سے محروم ہو گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے بزرگ ایک ایک کر کے ہم سے رخصت ہوتے جا رہے ہیں اور ہماری محرومیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے ہمیں پہلے سے زیادہ محنت کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔
مولانا زاہد الراشدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا خواجہ خان محمد کو تمام مکاتب فکر میں متفقہ راہ نما کی حیثیت حاصل تھی اور تحریک ختم نبوت میں مختلف دینی مکاتب فکر کے علما اور دینی جماعتوں نے کل جماعتی مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر مولانا خواجہ خان محمد کی قیادت میں حضرت مجدد الف ثانی کی تعلیمات کے مطابق سلسلہ نقشبندیہ کے علوم وکردار کو فروغ دینے والوں میں مولانا خواجہ خان محمد سرفہرست تھے اور انھوں نے قرآن وسنت کے مطابق تصوف وسلوک کی صحیح نہج سے لوگوں کو متعارف کرایا۔
مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا خواجہ خان محمد ہمارے دور میں اکابر علماے حق کی روایات کے امین اور ان کے مشن کے وارث تھے جنھوں نے زندگی بھر ملک میں قرآن وسنت کی تعلیمات کے فروغ، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور نظام شریعت کے نفاذ کے لیے جدوجہد کی اور ہزاروں علماے کرام اور مسلمانوں نے ان سے روحانی فیض حاصل کیا۔
تعزیتی نشست میں علماے کرام، دینی مدارس اور کالجوں کے اساتذہ اور مختلف طبقات کے افراد نے شرکت کی اور آخر میں حضرت مرحوم کی مغفرت اور بلندئ درجات کے لیے دعا کی گئی۔

دارالعلوم دیوبند کے فتوے کے خلاف حالیہ مہم پر مولانا عتیق الرحمان سنبھلی کا بیان

جماعت دیوبند کے بزرگ عالم اور معروف دانشور و مصنف مولانا عتیق الرحمان سنبھلی(مقیم لندن)نے دارالعلوم کے فتووں کے خلاف میڈیا کی حالیہ مہم کو نہایت غیر ذمہ دارانہ بلکہ معاندانہ قرار دیا ۔مولانا نے اپنے ایک اخباری بیان میں، جو آج دہلی سے جاری کیاگیا، کہا کہ دارلعلوم صرف ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں کا ایک اہم دینی و علمی مرکز ہے۔ میڈیا کے کچھ حلقے اور مسلم دشمن گروہ اس کو مستقل ایک بدنام کن مہم کانشانہ بنائے ہوئے ہیں۔
مولانا نے دارالعلوم کے دفتر اہتمام سے فرمائش کر کے متعلقہ فتووں کی کاپی منگواکر خود دیکھی اورصاف محسوس کیا کہ میڈیا نے توڑ مروڑ کر بات کو پیش کیا ہے۔ مولانا کا کہنا تھا کہ ملک اور بیرون ملک کے بعض اخبارات اور ٹی وی چینلز نے بالکل جھوٹ یہ بات نشر کی کہ دارلعلوم کی طرف سے عورت کی کمائی کو حرام کہا گیا ہے۔ اس کے برعکس دارلعلوم کے فتووں میں صراحت ہے کہ’’کمائی پر حرام ہونے کا حکم نہیں‘‘۔ بعض فتووں میں یہ بھی صراحت ہے کہ ’’عورت کے لیے کمانا ممنوع نہیں‘‘۔ ہاں! بجاطورپر شرعی لباس اور حیا کے تقاضوں کی پابندی کی شرط ہے۔ مولانا کا کہنا تھا کہ چونکہ اس زمانے میں آفسوں اور بازاروں کا ماحول نہایت بے حیائی کا ہے اور مغربی تہذیب و تعلیم نے ذہن ناپاک بنا دیے ہیں، آفسوں میں صنف نازک کے ساتھ زیادتیوں کے جس طرح کے واقعات عام ہیں، اس کے بیان کی ضرورت نہیں، اس لیے دارالعلوم کے فتووں میں خواتین کو بلا ضرورت سروس کرنے سے منع کیا گیا ہے اور یہ نہایت معقول بات ہے۔
مولانا نے بڑا افسوس ظاہر کیا کہ بعض مسلمان بھی حقیقت جانے بغیر میڈیا کے اس خلاف حقیقت پروپیگنڈے سے متاثر ہو جاتے ہیں اور یہ بات بھول جاتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند ہمارے عقیدہ و تہذیب کی آخری دفاعی لائن ہے۔مولانا نے مزید کہا کہ نہایت حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ ہمارے بعض اردو کے اخبارات بھی بسااوقات اس مہم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ حالاں کہ ان سے تو بجا تور پر یہ توقع ہوتی ہے کہ وہ دارالعلوم سے رابطہ کرکے اصل حقیقت جان لیں ،اور فتووں کو ان کے صحیح تناظر میں سمجھنے اور پیش کرنے کی کوشش کریں ۔ مولانا نے سارے مسلمانوں سے اپیل کی کہ یہ وقت دارالعلوم کی تائید و حمایت کا اور مغربی تہذیب کے مقابلہ میں اس کے رہنما کردار کو تقویت پہنچانے کا ہے نہ کہ اسلام دشمن طاقتوں کے سامنے سپراندازی کرنے کا۔

گوجرانوالہ میں ’اور‘ ڈائیلاگ فورم کا انعقاد

مسلمانوں کی علمی روایت ،رائے کا اختلاف پیش کرنے، اسے قبول کرنے اور اس کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے بہت روشن ہے۔ عدم رواداری پر مبنی ہمارے موجودہ رویوں اور نفسیات کی بنیاد نو آبادیاتی دور میں پائی جاتی ہے اور ہم نے اُس دور میں بحیثیت قوم اپنے ملی وجود اور روایت کو بچانے کے لیے جو تحفظاتی رویہ اختیار کیا تھا، وہ آج تک قائم ہے اور ہم اس نفسیات سے ابھی تک نجات نہیں پا سکے جبکہ علم وفکر اور ترقی کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے اس کی اشد ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز عالم دین مو لانا زاہد الرشدی نے’’اور قومی فورم برائے مکالمہ‘‘ کے زیراہتمام گوجرانوالہ میں فکری نشست سے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔ادارہ برائے تعلیم و تحقیق نے گوجرانوالہ میں مکالمہ کی ضرورت اور اہمیت کے عنوان سے اس فورم کا انعقادکیا جس میں گوجرانوالہ کے مختلف حلقہ ہاے خیال سے تعلق رکھنے والے علما، ارباب دانش اور سول سو سائٹی کی نما ئندہ شخصیات نے شرکت کی۔ 
ادارہ تعلیم وتحقیق کے چیرمین خورشید احمد ندیم نے ’’اور قومی فورم برائے مکالمہ‘‘ کے قیام کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس فورم کا نصب العین معاشرے میں رواداری، جمہوریت اور پرامن بقاے باہمی کو فروغ دینا اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں مکالمے اور تبادلہ خیال کو کلچر کی حیثیت حاصل ہو۔ جید عالم دین مولانا مفتی محمد شفیع کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اختلاف رائے دراصل علم وفہم اور دیانت کا اظہار ہے اور کسی جگہ کامل اتفاق رائے پائے جانے کا مطلب ہی یہ ہے کہ یا تو سب لوگ سمجھ بوجھ سے عاری ہیں اور یا اپنے ضمیر کے ساتھ خیانت کرتے ہوئے رائے کے اختلاف کو چھپا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مکالمے کا مقصد کسی بات کو صحیح یا غلط ثابت کرنا نہیں ہوتا، بلکہ ایک دوسرے کی بات کو سمجھنا اور یہ چیز سیکھنا ہوتا ہے کہ اختلاف رائے کے باوجود کیسے مل جل کر رہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ معاشرے میں مختلف مسائل کے حوالے سے پائی جانے والی پولرائزیشن بڑی حد تک غیر حقیقی ہے اور اس کی بڑی وجہ باہمی میل جول اور مکالمے کا فقدان ہے، کیونکہ تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ جب مختلف الخیال طبقات کو ایک جگہ بٹھا کر تبادلہ خیال کا موقع دیا جاتا ہے تو بہت سے خدشات اور غلط فہمیاں دور ہو جاتی ہیں اور معاشرے کے ارتقا کو مل جل کر آگے بڑھانے کے لیے بہت سے مشترک نکات نکھر کر سامنے آ جاتے ہیں۔
ممتاز دانش ور میر احمد علی نے کہا کہ ہر مذہب کے ماننے والے اپنے مذہب کے برحق اور سچا ہونے پر پختہ یقین رکھتے ہیں، اس لیے سب کے مذہبی جذبات کا احترام کرنا چاہیے اور پرامن طریقے سے مل جل کر رہنے کے لیے اختلاف کو برداشت کرنے اور مکالمے کا طریقہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں مغرب کے سائنسی اور سماجی علوم کا سکہ چل رہا ہے اور اس میدان میں دنیا کی دوسری قوموں پر برتری حاصل کیے بغیر مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بازیابی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
ماہنامہ الشریعہ کے مدیر محمد عمار خان ناصر نے کہا کہ اسلام دنیا میں مختلف مذاہب کے وجود میں آنے اور باقی رہنے کو ایک خدائی اسکیم کے طورپر بیان کرتا ہے یہی چیز مختلف مذاہب کے درمیان پر امن بقاے باہمی اور مکالمہ کی بنیاد ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مکالمہ اور رواداری کے کلچر کو ارباب دانش تک محدود رکھنے کے بجائے عوام کی سطح پر بھی فروغ دینا ضروری ہے اور اس سلسلے میں بلند پایہ مفکرین اور ان کے افکار وخیالات کو آسان اور قابل فہم زبان میں عوام کے لیے قابل رسائی بنانے کے لیے ایک علمی تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے۔
جلال ماڈل اسکول کے پرنسپل محمدطفیل بیگ نے کہا کہ مکالمے اور رواداری کی فضا کو عوامی سطح تک پھیلانے کی ضرو رت ہے کیونکہ مذہبی مکاتب فکر کے راہ نماؤں کے باہمی اختلافات کے اثرات عوام الناس تک پہنچتے ہیں اور تناؤ کی فضا میں وہ بھی باہمی میل ملاقات سے گریز کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
روزنامہ جنگ کے نمائندہ حافظ خلیل الرحمن ضیاء نے کہا کہ اعلیٰ او رمنصفانہ معاشرتی قدروں کے فروغ کے لیے اسلام بھرپور راہنمائی کرتا ہے اور قرآن وسنت کی تعلیمات کو اختیار کر کے ہم اپنے تمام مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔
ملک عبد الوکیل نے کہا کہ عدم برداشت کا رویہ بنیادی طور پر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی شخص علم اور فہم کے لحاظ سے اپنے آپ کو کامل سمجھ لیتا ہے کیونکہ ایسا سمجھنے کے بعد انسان میں مزید علم حاصل کرنے یا دوسرے کے خیالات سے استفادے کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔
نوجوان افسانہ نگار عامر رفیق نے کہا کہ مذہبی لوگوں کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ لوگوں کی آزادی فکر پر قدغن لگانا چاہتے ہیں، اس لیے مکالمے کی فضا پیدا کرنے کے لیے مذہبی لوگوں کے رویے اور کلچر کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
پولیس انسپکٹر محمد ناصر نے کہا کہ کوئی فرد یا طبقہ کس حد تک مکالمے کا قائل ہے، اس کی آزمائش مکالمے کے حق میں عمومی تقریروں سے نہیں بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب کسی اختلافی مسئلے پر عملاً مکالمہ کرنے کی کوشش کی جائے، کیونکہ ایسے موقع پر کوئی بھی فریق مکالمے کی روح اور آداب کا لحاظ رکھنے میں عام طور پر ناکام ثابت ہوتا ہے۔
سماجی تنظیم ’’چھاؤں‘‘ کی چیئر مین ثمینہ عرفان نے کہا کہ ہم اختلاف رائے کو گوارا کرنے کا سبق خود اپنے گھر سے سیکھ سکتے ہیں کیونکہ ماں باپ اپنی اولاد کے مزاج اور رجحانات کے اختلاف اور تنوع کو سمجھنے اور قبول کرنے کے بعد ہی اس قابل ہوتے ہیں کہ ان کی تربیت اور نشوو نما کا اہتمام کر سکیں۔
ترقی پسند دانش ور سید قربان رضا شاہ نے کہا کہ عام طور پر مارکسسٹ حلقوں کو مذہب مخالف سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ہمارا اختلاف خدا یا رسول یا دین کے بنیادی حقائق سے متعلق نہیں بلکہ صرف معاشی وسائل کی تقسیم کے طریقے پر ہے۔ انھوں نے کہا کہ جاگیرداری ہمارے موجودہ سماجی مسائل اور رویوں کی جڑ ہے اور جب تک یہ استحصالی نظام ختم نہیں ہوگا، معاشرے میں مثبت فکر اور رویے فروغ نہیں پا سکتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ تمام انبیا ایک ہی پیغام لے کر دنیا میں آئے اور سب انبیا کی تعلیمات انسانیت کی مشترکہ میراث ہیں، لیکن مختلف مذاہب نے مختلف پیغمبروں کو اپنے لیے مخصوص کر کے مذاہب کو جاگیریں بنا دیا ہے اور اب مذاہب کے مابین جنگ درحقیقت اپنی اپنی جاگیروں کی حفاظت کی جنگ ہے۔
ادیب اور دانش ور اسلم سراج الدین نے کہا کہ علمی دنیا میں مکالمے کی روایت کا آغاز افلاطون سے ہوتا ہے جس نے مکالمے کے ذریعے دوسروں کے خیالات اگلوانے کو بچے کی پیدائش کے عمل سے تشبیہ دی ہے اور کہا ہے کہ یہ کام اتنا ہی تکلیف دہ ہے جتنا ایک ماں کے لیے اپنے بچے کو جنم دینا۔ انھوں نے مغربی فلسفی ڈیکارٹ کے مشہور مقولے کے حوالے سے کہا کہ مکالمے کی بنیاد شک پر ہونی چاہیے اور ضروری ہے کہ آدمی خالی الذہن ہو کردوسرے کی بات سنے۔ انھوں نے قائد اعظم کی ۱۱؍ اگست کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم نے واضح طور پر یہ کہا تھا کہ مختلف مذاہب اپنے اپنے طریقے پر عبادت کرنے کے لیے آزاد ہیں اور ریاست کا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوگا جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پاکستان کو مذہبی ریاست نہیں بنانا چاہتے تھے۔
جماعت اسلامی کے راہ نما میجر (ر) ڈاکٹر عبد القیوم نے کہا کہ اسلام میں مکالمے کی بنیاد شک نہیں بلکہ یقین ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلام ایسے اختلاف کو پسند نہیں کرتا جو انانیت اور نفسانیت سے پیدا ہوا ہو، لیکن مثبت اور دیانت دارانہ اختلاف رائے ایک اسلامی قدر ہے اور اسلام معاشرے میں اختلاف اور تنوع کی پوری پوری حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
ڈاکٹر صولت ناگی نے کہا کہ نظریہ پاکستان کی کوئی حقیقت نہیں اور یہ نظریہ ۱۹۵۳ء میں احمدیوں کے خلاف اٹھنے والی مذہبی تحریک کو جواز فراہم کرنے کے لیے وجود میں لایا گیا۔ انھوں نے مذہبی طبقا ت کے خیالات اور رویوں پر تنقید کی اور کہا کہ ان کے قول وفعل میں تضاد ہے، کیونکہ وہ اسلام میں اختلاف رائے کی اہمیت کی باتیں تو کرتے ہیں جبکہ ان کا عمل اس کی تائید نہیں کرتا جس کی حالیہ مثال پنجاب یونی ورسٹی میں ہونے والے واقعات ہیں۔ 
الشریعہ اکادمی کے حافظ محمد رشید نے کہا کہ مذہبی اور غیر مذہبی طبقات کے مابین بے اعتمادی کی فضا ہے اور دونوں طرف کے حضرات ذہنی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ دوسری طرف کے حضرات کی بات کی کوئی وقعت نہیں، اس لیے اول تو ان کے درمیان مکالمہ ہی نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی تو اس ذہنی رویے کی وجہ سے مکالمے کے حقیقی فوائد حاصل نہیں ہوتے۔
فورم میں نقابت کے فرائض نوجوان دانش ور عمران حمید ہاشمی نے انجام دیے اور اس فورم کے انعقاد پر گوجرانوالہ کے علمی وفکری حلقوں کی طرف سے منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔

’’ماں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کے تحفظ میں علماء دین کا کردار‘‘

(قومی ادارہ برائے تحقیق وترقی (National Research & Development Foundation) گزشتہ کئی سال سے صوبہ سرحد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں تقریباً ایک ہزار علماے دین کے ساتھ مل کر ’’ماں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کے تحفظ‘‘ کے حوالے سے عوام الناس میں شعور وآگاہی پیدا کرنے کی ایک مہم کامیابی سے چلا رہا ہے۔ اس ضمن میں NRDF کے چیف کوآرڈی نیٹر جناب تحسین اللہ خان کی طرف سے ارسال کردہ ایک رپورٹ کے اہم نکات کا خلاصہ ان کے شکریے کے ساتھ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ (مدیر))
معاصر مسلم دنیا میں ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے مذہبی راہ نماؤں کے اثر ورسوخ کو استعمال میں لانے کا تجربہ کم ہی کیا گیا ہے، حالانکہ مسلم عوام کی اکثریت نہ صرف مذہب سے گہری وابستگی رکھتی ہے بلکہ علما کو بھی احترام کی نظر سے دیکھتی ہے۔ عوام میں پھیلے ہوئے بہت سے غلط تصورات کا ازالہ کرنے اور مثبت رویوں کے فروغ کے لیے مساجد اور مدار س کے وسیع نظام سے اور خاص طور پر خطبات جمعہ سے موثر مدد لی جا سکتی ہے۔ 
پاکستانی معاشرے میں روزی کمانے کی ذمہ داری بنیادی طور پر مرد انجام دیتا ہے اور خواتین کی صحت وغیرہ سے متعلق امور میں فیصلے کرنے کا اختیار بھی مردوں کو ہی حاصل ہے، اس لیے خواتین اور خاص طور پر ماں اور بچے کی صحت کی صورت حال کو بہتر بنانے کی مہم میں زیادہ سے زیادہ مردوں کی شمولیت بہت اہم ہے۔ اس پس منظر میں ۲۰۰۴ء میں یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجنسی فار ڈولپمنٹ (USAID) کے تعاون سے PAIMAN کے عنوان سے ایک منصوبہ تشکیل دیا گیا جس کا مقصد ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کے لیے عوام میں شعور پیدا کرنا اور اس ضمن میں سرکاری ونجی سطح پر کام کرنے والے اداروں کو ضروری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ یہ چھ سالہ منصوبہ تھا جس کے لیے آزاد جموں وکشمیر سمیت پورے ملک سے ۲۴ ؍ اضلاع کا انتخاب کیا گیا۔ مذکورہ منصوبے کا ایک اہم حصہ یہ بھی تھا کہ پاکستان کے مذہبی راہ نماؤں کو اس پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اپنے خطبوں اور تقریروں میں ماں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کے مسائل کو موضوع بنائیں اور اس سلسلے میں عوام کو راہ نمائی فراہم کریں۔ 
اس مقصد کے لیے متعلقہ علاقوں میں اہم مساجد اور مذہبی شخصیات کا انتخاب کیا گیا جبکہ قومی سطح پر معروف اور ممتاز علما پر مشتمل ایک مرکزی شوریٰ تشکیل دی گئی جو اس مہم کی نگرانی کرے۔ مختلف علما سے انفرادی طور پر ملاقات کر کے ان کے ساتھ منصوبے کی اہمیت اور اس کے خد وخال کے بارے میں گفتگو کی جاتی ہے۔ علما کو عملی شواہد کی روشنی میں ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے حقیقی صورت حال بتائی جاتی ہے اور انھیں آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے خطبات اور درسوں میں ان مسائل پر گفتگو کریں اور عام لوگوں میں آگہی پیدا کریں۔ منصوبے کے نفاذ کے لیے پہلے مرحلے کے طور پر بونیر اور بالائی دیر کا انتخاب کیا گیا جہاں جون ۲۰۰۶ء سے مارچ ۲۰۰۷ء تک یہ منصوبہ جاری رہا۔ اس سے حاصل ہونے والے تجربات کی روشنی میں ڈیرہ غازی خان، خانیوال، جہلم، راول پنڈی، سوات، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، چار سدہ اور مردان میں بھی اسی نوعیت کے منصوبے جاری کیے گئے۔
۲۰۰۸ء کے آخر میں اس منصوبے کے اثرات جانچنے کے لیے ڈیرہ غازی خان اور خانیوال کے ضلعوں میں ایک ریسرچ اسٹڈی کی گئی جس میں مذہبی راہ نماؤں کے رسپانس کے حوالے سے درج ذیل نتائج پیش کیے گئے ہیں: 
  • علما سماجی مسائل کو موضوع بنانے کی ضرورت کو شدت سے محسوس کرتے ہیں۔
  • علما کا عمومی خیال یہ ہے کہ کسی بھی مسئلے کو اگر قرآن وسنت کی روشنی میں فروغ دیا جائے تو علما یا عوام کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔
  • علما شروع شروع میں این جی اوز کے ساتھ تعاون کرنے سے ہچکچاتے ہیں، کیونکہ انھیں خدشہ ہوتا ہے کہ یہ تنظیمیں مغربی ایجنڈے کو فروغ دے رہی ہیں۔
  • علما کا اس پرعمومی اتفاق ہے کہ عوام تک کوئی پیغام پہنچانے کے لیے جمعے کے خطبات بہترین ذریعہ ہیں۔

ڈاکٹر عبد الماجد المشرقی کے لیے ’’قلم کا مزدور‘‘ ایوارڈ

یکم مئی کو الحمرا ہال نمبر ۲ لاہور میں پاکستان رائٹرز گلڈ کے زیر اہتمام ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں پاکستان کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے قلم کاروں کو ’’قلم کا مزدور‘‘ کے عنوان سے ایوارڈ دیے گئے۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق احمد بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے اور قلم کاروں کو ایوارڈ تقسیم کیے۔ صوبہ پنجاب سے اس ایوارڈ کا مستحق گوجرانوالہ کی معروف علمی وتعلیمی شخصیت ڈاکٹر عبد الماجد المشرقی (پرنسپل مشرق سائنس کالج) کو قرار دیا گیا اور ’’قلم کا مزدور‘‘ ایوارڈ اور سر ٹیفکیٹ کے علاوہ انھیں دو لاکھ روپے نقد بھی پیش کیے گئے۔

Historical Perspective Hussein`s Martyrdom in

(واقعہ کربلا اور اس کا تاریخی پس منظر)

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی مدظلہ کانام علمی دنیامیں محتاج تعارف نہیں ہے۔ علوم اسلامیہ پر گہری نگاہ کے ساتھ ہی ان کا امتیازہے کہ انہوں نے عصری تحقیقات وعلوم سے بھی خاصا استفادہ کیاہے۔وہ مدت دراز سے لندن میں مقیم ہیں، اس طرح مشرق و مغرب دونوں سے ان کی واقفیت راست اور مشاہدکی ہے۔ ان کی متعدد کتابیں اور مقالات کے مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں اور ان کے وسیع مطالعہ، دقیق مشاہدہ اور وسعت نظری اور حقیقت پسندی کے شاہد عدل ہیں۔ ’’واقعہ کربلا اور اس کا تاریخی پس منظر ‘‘مؤلفہ مولاناعتیق الرحمن سنبھلی اردو کے تحقیقی و فکری لٹریچر میں ایک گراں قدر اضافہ تھی اور اس کی اشاعت نے علمی حلقوں میں ایک تموج پیدا کر دیا تھا۔ اس کی تنقید اور تائیدمیں متعددمضامین لکھے گئے تھے۔ اب یہی کتاب انگریزی میں Historical Perspective Hussein's Martyrdom in کے نام سے شایع کی گئی ہے۔ 
یہ کتاب تاریخ اسلام کے ایک حساس ترین مسئلہ سے بحث کرتی ہے جس نے صدر اسلام میں ہی امت میں متعدد سیاسی، کلامی، عقائدی مباحث و اختلافات کو جنم دیاجو بالآخر اس میں سنی و شیعہ جیسے مستقل مکاتب فکر کے قیام پر منتج ہوئے۔ عام اسلامی تاریخ میں واقعہ کربلا اور اس کے مابعدرونما ہونے والے حادثات و المیوں کی ساری ذمہ داری یک طرفہ طور پر بنوامیہ کے سر ڈال دی جاتی ہے اور اعتراضات و نقد اور لعنت وملامت کا ہدف صرف یزید بن معاویہؒ ہی کو نہیں بنایاجاتابلکہ اس کی زد میں حضرت امیر معاویہؓ ،حضرت مغیرہ بن شعبہؓ ،حضرت عمروبن العاصؓ سے لے کرحضرت عثمان غنیؓ جیسے جلیل القدر صحابی بھی آتے ہیں جو ذوالنورین بھی ہیں اور عشرہ مبشرہ میں بھی شامل ہیں۔ تشیع کے اثرات اسلام کی تاریخ میں اتنے بڑے پیمانے پر پڑے ہیں اور ارد ولٹریچر خاص طور پر ان سے اتنا متاثر ہے کہ آج تک الاسلام یھدم ماکان قبلہ کے واضح ارشاد نبوی کے باوجود اردو مصنفین میں حضرت ہندؓ کو جگرخوار حمزہؓ، حضرت ابوسفیانؓ کو ’’طلقاء‘‘ جیسے مذموم القاب سے یاد کرنا ایک عام بات ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ واقعہ کربلا اور خلافت کے بتدریج ملوکیت میں تبدیل ہونے کے پورے پراسس میں اس کے حقیقی پس منظر، قتل عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو پوری طرح فراموش کردیاجاتاہے۔امت میں فتنوں کی شروعات کربلا نہیں بلکہ قتل عثمانؓ تھا۔ اردو کے اکثر مصنفین اس حقیقت کو نظر انداز کرکے مشہورعام لیکن بے سروپا روایات اور مبالغہ آمیز باتوں بلکہ سنی سنائی خرافات تک پر یقین کرکے اس مسئلہ پر بحث کرتے ہیں۔ ’’خلافت وملوکیت‘‘ جیسی تاریخ سازی نے جلیل القدر صحابہؓ کے خلاف اس پروپیگنڈے کو مزید دوآتشہ کردیا۔ ’’واقعہ کربلااور اس کاتاریخی پس منظر ‘‘اسی موضوع پر لکھی گئی ایک منفرد تحریرتھی جس کامقصد یہ تھا کہ واقعات و روایات کے انبار سے واقعہ کی صحیح اور حقیقی تصویر سامنے لائی جائے۔
مشاجرات صحابہ کے نازک موضوع پر اسلامی تاریخ میں کئی تحقیقی کتابیں موجود ہیں۔ بطور خاص عربی میں متعدد تحقیقات پائی جاتی ہیں جن میں قاضی ابن العربیؒ نے العواصم من القواصم میں حضرت عثمانؓ پر لگائے گئے سارے الزامات کے تاروپود بکھیر کر رکھ دیے ہیں۔ اسی طر ح امام ابن تیمیہؒ نے منہاج السنۃ میں واقعات کی تحقیق کی اور صحیح اور معتدل رویہ اختیار کیا۔ تاہم ماضی قریب میں بعض اہل علم نے متقدم محققین کی ان گراں قدر کاوشوں کو ’’وکالت صفائی‘‘ کے خانے میں ڈالنے اور اپنی ہی تحقیق کو حرف آخرقراردینے کی بھر پورکوشش کی۔ اس تحقیق کی رو سے خلافت کو ملوکیت میں بدلنے کے اس نارواعمل میں بعض جلیل القدر صحابی ؒ بھی شامل تھے اور اپنے ذاتی اغراض و مقاصد پورے کرہے تھے۔ ’’خلافت و ملوکیت ‘‘کا رد عمل بھی ہوا اور اس موضوع پر موافقت و مخالفت میں کافی کچھ لکھا گیا۔ چنانچہ محمود احمد عباسی صاحب نے اس سلسلہ میں ایک سیریز لکھی اور بالکل برعکس موقف اختیار کیا جس میں وہ جادۂ اعتدال سے ہٹ گئے اور یزید کو خلیفہ راشد قراردے ڈالا۔ ظاہرہے کہ یہ نری انتہا پسندی ہے۔ یہ قابل ذکرہے کہ زیر تبصرہ کتاب کسی رد عمل میں نہیں لکھی گئی، اس لیے وہ صحیح اورمسلک معتدل کی مؤثرترجمانی کرتی ہے۔ یہ پہلو بھی خوش آیند ہے کہ اب اس سلسلے میں نقد و نظر کا سلسلہ اردو میں بھی شروع ہوچکاہے اور زیر نظر کتاب کے علاوہ علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھی نے بھی اس موضوع پر تحقیقی کتاب لکھی ہے جو ابھی منظر عام پر نہیں آسکی۔اس کے علاوہ پروفیسرمحمد یاسین مظہر صدیقی کے متعدد تحقیقی مقالات اس موضوع پر سامنے آچکے ہیں۔
مولانا سنبھلی کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ سے حضرات حسنینؓ کے تعلقات نہایت خوش گوار اور مشفقانہ رہے۔ دوسری طرف یزید میں نہ صرف یہ کہ انتظامی صلاحیتیں تھیں بلکہ دینی واخلاقی لحاظ سے بھی اس کی تصویر وہ نہیں تھی جوغیر تحقیقی روایات پیش کرتی ہیں، حتی کہ اس کی خلافت کے مخالفین کے اختلاف کی وجہ بھی وہ نہیں تھی جو عام طور پر ظاہر کی جاتی ہے۔ ان کے اختلاف کی بنا تو یہ تھی کہ ان کے خیال میں یزیدکو موروثی طور پر خلافت دی گئی تھی جس کی اسلام میں گنجائش نہیں۔ تیسری طرف حضرت امیر معاویہؓ کا خیال یہ تھا کہ خلافت کے مسئلہ میں امت میں بہت تلوار چل چکی، اس لیے مناسب یہ ہے اور امت کا مفاد بھی اس میں ہے کہ اس کا انتظام اپنی زندگی ہی میں کردیاجائے۔ابن خلدونؒ کا خیال یہ ہے کہ اس کے ساتھ ہی شفقت پدری کے فطری جذبہ کا دخل بھی اس میں رہا ہوگا۔ محققین کا خیال یہ ہے کہ حضرت امیرمعاویہؓ کے اس فیصلہ کو کسی بدنیتی پر محمول کرنا بالکل غلط ہے۔ زیادہ سے زیادہ اسے ان کی اجتہادی غلطی کہا جا سکتا ہے۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے جب کوفیوں کے بلانے پرمکہ سے خروج کا ارادہ کیا تو متعد دکبارصحابہؓ نے ان کو اس فیصلہ پر نظر ثانی کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ ان حضرات میں امام حسینؓ کے اپنے بھائی محمد بن الحنفیہ، عبد اللہ بن مطیع، عبد اللہ بن عمرؓ، عبد اللہ بن عباسؓ اور عبد اللہ بن جعفرؓ،ابوبکر ابن عبد الرحمن، حضرت ابوسعید الخدریؓ ،جابر بن عبد اللہ،ؓ مسور ابن مخرمہؓ ،واسلہ بن واقد اللیثیؓ وغیرہم شامل تھے۔ ان لوگوں کے جو الفاظ روایات میں آتے ہیں، ان کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ محض شفقت کے باعث وہ آپ کو اس فیصلہ سے روک رہے تھے بلکہ اصولی طور پر وہ یہ سمجھتے تھے کہ خلیفہ وقت کے خلاف خروج صحیح نہیں کہ عملاً اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی سامنے رہے کہ خود حضرت حسینؓ نے اس وقت اپنا ارادہ تبدیل کرکے واپسی کا قصدکرلیا جب انہیں کوفہ میں مسلم بن عقیلؓ کے مشن کے فیل ہو جانے اور ان کی شہادت کی خبر ملی ۔تاہم مسلم بن عقیل کے بھائیوں اوربیٹوں نے باپ کے خون ناحق کا بدلہ لیے بغیر واپس لوٹنے سے انکار کردیا۔اس کے بعدجب قافلہ حسین میدان کربلا پہنچ گیا تو کوفی لشکر کے سربراہ عمر بن سعد کی مصالتی کوششوں کے بعد خود سیدنا حسینؓ نے کوفی لشکر کے سامنے یہ پیشکش کی کہ آپ کوتین میں میں کسی ایک چیزکی اجازت دی جائے :
۱۔یاتو آپ کو واپس جانے کی اجازت دے دی جائے ،
۲۔ یا دمشق امیر المومنین کے پاس جانے دیاجائے اور
۳۔ یا سرحدوں پر جہاد کے لیے جانے دیاجائے۔
واقعہ یہ ہے کہ یہ تینوں شرطیں نہایت مناسب اور معقول تھیں، تاہم شقی القلب عبید اللہ بن زیاد اور اس کے دست راست شقی شمر بن الجوشن اورحسین بن نمیرنے ان شریفانہ ومعقول شرطوں کو ماننے سے انکار کردیا اور نتیجہ میں اپنے بدبخت ہاتھوں کو نواسہ رسولؓ کے پاک خون سے رنگ لیا۔ مصنف نے مختصر طورپر اس پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ یزید نے خواتین اہل بیت کے ساتھ کریمانہ برتاؤ کیا، عبید اللہ بن زیاد کولعن طعن کی، مگر اس کو کوئی سزا نہیں دی ۔اپنے تجزیہ میں انہوں نے جذبات عقیدت کے بجائے حقیقت پسندی سے کام لیاہے، تاہم مبصرکے نزدیک اس سلسلے میں یزید کو کلیتاً بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی ایک صاحب اسلوب، رسرچ وتحقیق کے شناور اور منطقی و سائنٹیفک طرزاستدلال سے بہرہ ور مصنف ہیں۔ انہوں نے ہر قدم نہایت احتیاط سے رکھا ہے اور متعلقہ تاریخی مواد کے تحلیل و تجزیہ اور گہرے مطالعہ و محاکمہ کے بعد وہی راے اختیار کی جو راجح،اقرب الی الصواب اور افراط وتفریط سے دور لگی۔ انہوں نے محمود احمد عباسی صاحب کی طرح خام تاریخی مواد سے کھٹاکھٹ نتائج نہیں نکالے ہیں۔ 
کتاب کے انگریزی ترجمہ کی تصحیح اور مناسب ایڈیٹنگ جناب ضیاء الحق صاحب نے انجام دی ہے،جو انگریزی زبان کے ماہر ہیں ان کا نام اور کام کسی بھی ترجمہ کی صحت کی ضمانت دیتا ہے۔ ۲۱۴ صفحات پر مشتمل یہ کتاب اچھے گٹ اپ میں شایع کی گئی ہے امید ہے کہ باذوق حلقہ میں اس کو ہاتھوں ہاتھ لیاجائے گا۔
قیمت: 200روپے۔ ناشر: الفرقان بک ڈپو 114/31نظیر آباد لکھنؤ یوپی۔

انا للہ و انا الیہ راجعون

ادارہ

حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ 

۵ مئی کو حضرت مولانا خواجہ خان محمد بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ سال اسی تاریخ کو والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا انتقال ہوا تھا۔ وہ دونوں دار العلوم دیوبند میں ہم سبق رہے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگرد تھے۔ ان کا روحانی سرچشمہ بھی ایک ہی تھاکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں موسیٰ زئی شریف کی خانقاہ کے فیض یافتہ تھے۔ نقشبندی سلسلے کی اس خانقاہ کے حضرت خواجہ سراج الدین سے حضرت مولانا احمد خان نے خلافت پائی جو خانقاہ سراجہ کے بانی تھے اور اسی خانقاہ کے مسند نشین کی حیثیت سے مولانا خواجہ خان محمد ساٹھ برس سے زیادہ عرصے تک لوگوں کی پیاس بجھاتے رہے، جبکہ خواجہ سراج الدین کے دوسرے خلیفہ حضرت مولانا حسین علی مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے شیخ تھے۔
مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور مولانا خواجہ خان محمد تعلیمی اور روحانی طور پر دار العلوم دیوبند اور خانقاہ موسیٰ زئی شریف سے مشترکہ طور پر فیض یاب ہونے کے ساتھ ساتھ زندگی بھر ایک مشن اور پروگرام کے داعی رہے اور ایک سال کے وقفے کے ساتھ وفات بھی ایک ہی دن پائی۔ مولانا خواجہ خان محمد نے ۹۰ برس عمر پائی اور دینی جدوجہد کے مختلف میدانوں میں خدمات سرانجام دیں۔ وہ سلسلہ نقشبندیہ کے بلند پایہ شیخ تھے اور تصوف وسلوک کے ایسے مستند شارح بھی تھے جن کی خدمت میں بڑے بڑے علماے کرام حاضر ہو کر روح وقلب کی تسکین پاتے اور تصوف وسلوک کی پیچیدہ گتھیاں سلجھاتے تھے۔ وہ صاحب علم صوفی تھے، تصوف کے رموز واسرار سے نہ صرف آشنا تھے بلکہ ان کے ثقہ شارح بھی تھے۔ ایک بار امریکہ سے ایک نومسلم خاتون ڈاکٹر ایم کے ہرمینسن گوجرانوالہ آئیں جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے علوم سے خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں۔ انھوں نے حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی سے ملاقات کے دوران تصوف کے بعض حساس اور دقیق مسائل پر تبادلہ خیالات کیا اور دریافت کیا کہ تصوف کے علمی مسائل اور اشکالات پر مجھے کس بزرگ سے بات کرنی چاہیے؟ حضرت صوفی صاحب نے فرمایا کہ آپ حضرت مولانا عبید اللہ انور اور حضرت مولانا خواجہ خان محمد میں سے جن بزرگ سے بھی ملیں گی، آپ کو اپنے اشکالات وسوالات کا تسلی بخش جواب ملے گا۔
مولانا خواجہ خان محمد کی تگ وتاز کا دوسرا بڑا میدان جمعیت علماے اسلام اور نفاذ شریعت کی جدوجہد رہی ہے۔ وہ مولانا عبد اللہ درخواستی، مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا عبید اللہ انور کے قریبی رفقا میں سے تھے اور جمعیت علماے اسلام کی مرکزی قیادت میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ وہ ایک عرصے تک جمعیت کے مرکزی نائب امیر رہے اور انھیں جمعیت کے سرپرست اعلیٰ کی حیثیت حاصل تھی۔ ۱۹۷۷ء میں حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کی وفات کے بعد انھیں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا امیر منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد وہ زندگی کے آخری لمحات تک تحریک ختم نبوت کی قیادت کرتے رہے۔ ۱۹۸۴ء میں انھیں تمام مکاتب فکر کی مشترکہ مرکزی مجلس عمل ختم نبوت کا سربراہ منتخب کیا گیا اور ملک کے مختلف مکاتب فکر کے علماے کرام اور دینی جماعتوں نے ان کی قیادت میں ختم نبوت کے محاذ پر کئی بار متحد ہو کر جدوجہد کی۔ وہ دیوبندی مکتب فکر کی مختلف جماعتوں اور حلقوں میں نکتہ اتحاد اور مرجع کا مقام رکھتے تھے۔ دیوبندی مکتب فکر کی داخلی گروہ بندیوں میں جب بھی کسی مسئلے پر سب کو اکٹھا کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو مولانا خواجہ خان محمد نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا اور ان کی شخصیت وجہ اتحاد بن گئی۔ انھیں دیوبندی مکتب فکر کے دائرے سے ہٹ کر مختلف مکاتب فکر کے درمیان بھی یہ حیثیت حاصل تھی اور دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ مکاتب فکر کے علماے کرام اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے متعدد بار ان کی قیادت میں تحریک ختم نبوت میں مشترکہ تحریکات کا اہتمام کیا۔
مجھے یوں یاد پڑتا ہے کہ میں نے پہلی بار ان کی زیارت ۱۹۶۷ء میں ڈیرہ اسماعیل خان میں جمعیت علماے اسلام کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی آئین شریعت کانفرنس کے موقع پر کی تھی۔ وہ منظر اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی اور حضرت مولانا خواجہ خان محمد کا جلوس کی شکل میں استقبال کیا گیا تھا اور قبائلی عوام اپنے روایتی انداز میں ان دونوں بزرگوں کو جلوس کے ساتھ شہر کے مختلف بازاروں میں گھما رہے تھے۔ مجھے اس سفر کے دوران خانقاہ سراجیہ شریف میں حاضر ی کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ حضرت خواجہ صاحب کی آخری زیارت میں نے گزشتہ سال رجب کے دوران ایک سفر میں خانقاہ سراجیہ شریف میں حاضری کے موقع پر کی۔ اس سفر میں مجھے خانقاہ سراجیہ میں حاضری کے علاوہ رئیس الموحدین حضرت مولانا حسین علی رحمہ اللہ کی قبر پر حاضری کا شرف بھی حاصل ہوا۔
حضرت مولانا خواجہ خان محمد کے ساتھ میری نیازمندی کا عرصہ چار عشروں سے متجاوز ہے۔ سفر وحضر اور خلوت وجلوت کی سیکڑوں ملاقاتوں اور مختلف تحریکات میں ایک کارکن کے طور پر رفاقت کے شرف سے بہرہ ور رہا ہوں اور ان کی شفقتوں اور دعاؤں سے ہمیشہ فیض یاب ہوتا رہا ہوں۔ میں حضرت خواجہ صاحب کے خاندان، جماعت، مریدین، معتقدین اور متعلقین سے تعزیت کرتے ہوئے یہ سوچ رہا ہوں کہ تعزیت تو سب حضرات کو مجھ سے کرنی چاہیے کہ ایک کارکن سے اس کا امیر رخصت ہو گیا ہے، ایک گناہ گار سے دعاؤں کا سہارا چھن گیا ہے اور ایک راہ ر و سے اس کا رہبر جدا ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت خواجہ صاحب کی حسنات کو قبول فرمائیں، کوتاہیوں سے درگزر فرمائیں اور تمام پس ماندگان اور متعلقین کو یہ عظیم صدمہ صبر او رحوصلے کے ساتھ برداشت کرتے ہوئے حضرت خواجہ صاحب کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

مولانا قاضی عبد الحلیمؒ 

گزشتہ ماہ حضرت مولانا قاضی عبد الحلیم کلاچوی بھی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وہ کلاچی کے اس علمی خاندان کی روایات کے امین تھے جو کئی نسلوں سے علمی ودینی خدمات میں مسلسل مصروف ہے۔ انھوں نے ساٹھ برس سے زیادہ عمر پائی۔ دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے فاضل تھے۔ ایک عرصے سے اپنے والد مکرم حضرت مولانا قاضی عبد الکریم اور اپنے خاندان کی علمی ودینی روایات کو سنبھالے مصروف عمل تھے۔ میرے ساتھ ان کی اکثر خط و کتابت رہتی تھی۔ میرے مضامین اہتمام سے پڑھتے تھے۔ جو بات اچھی لگتی، اس پر داد دیتے اور جس سے اختلاف ہوتا، کھلے دل کے ساتھ اس سے اختلاف بھی کرتے۔ یہ توازن اب ہمارے اجتماعی مزاج سے نکلتا جا رہا ہے۔ وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔ ڈاکٹر صاحبان آپریشن پر زور دیتے رہے، مگر وہ مسلسل ٹالتے رہے کہ وقت اخیر آپہنچا اور وہ اپنے خاندان اور دوستوں کو سوگوار چھوڑکر مالک حقیقی کی بارگاہ میں پیش ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جوار رحمت میں جگہ دیں اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

مولانا قاضی بشیر احمدؒ 

گزشتہ ماہ کے دوران میں ہی آزاد کشمیر کے معروف عالم دین مولانا قاضی بشیر احمد کا ہاڑی گہل ضلع باغ میں انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آزاد کشمیر میں حضرت مولانا محمد یوسف خان آف پلندری اور ان کے رفقا کی محنت سے سیشن کورٹ کی سطح پر جج صاحبان اور علماے کرام کی مشترکہ عدالتیں قائم ہوئیں جو اب بھی کام کر رہی ہیں اور سیشن جج صاحبان کے ساتھ علماے کرام بھی بطور ضلع قاضی فیصلوں میں شریک ہوتے ہیں۔ جن فاضل علما نے سیشن جج صاحبان کے ساتھ بیٹھ کر سالہا سال تک مقدمات کے فیصلے کیے، عدالتی صلاحیت اور کارکردگی کے حوالے سے علماے کرام کی ساکھ قائم کی اور عملاً یہ ثابت کیا کہ دینی مدارس کے فضلا بھی عدالتی نظام کو چلانے اور فیصلے کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، ان میں مولانا قاضی بشیر احمد او رمولانا قاضی مقبول احمد سرفہرست ہیں۔ مولانا قاضی بشیر احمد دار العلوم کراچی کے فضلا میں سے تھے۔ کم وبیش ربع صدی تک آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں ضلع قاضی کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ہاڑی گہل میں دار العلوم امدادیہ کے نام سے دینی ادارہ قائم کیا اور تعلیمی خدمات سرانجام دیتے ہوئے گزشتہ ہفتے انتقال کر گئے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں بلند درجات سے نوازیں۔ آمین

میاں انعام الرحمن کی ہمشیرہ

گزشتہ ماہ کے دوران علامہ محمد احمد لدھیانوی مرحوم کی بیٹی اور پروفیسر میاں انعام الرحمن کی بڑی ہمشیرہ قضاے الٰہی سے گوجرانوالہ میں انتقال کر گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحومہ مولانا قاری محمد اسرائیل کی زوجہ اور نیک اور صالح خاتون تھیں۔ ان کے جنازے میں اعزہ واقربا کے علاوہ شہر کے علماے کرام اور معززین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائیں اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین