قادیانی مسئلے کو ری اوپن کرنے کی تمہیدات؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
سانحہ لاہور کے بعد میڈیا پر مختلف اطراف سے قادیانیت کے حوالے سے ہونے والی بحث کے نئے دور نے ملک بھر کے دینی حلقوں کو چونکا دیا ہے اور میاں محمد نواز شریف کے ایک بیان نے انھیں مزید حیرت سے دوچار کیا ہے۔ اگر یہ بحث ومباحثہ سانحہ لاہور اور قادیانی مراکز پر مسلح حملوں کے سیاق وسباق تک محدود رہتا اور ان حملوں کے اسباب وعوامل اور محرکات ونتائج کے حوالے سے گفتگو آگے بڑھتی تو شاید یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی، لیکن اصل مسئلے پر بات بہت کم ہو رہی ہے جبکہ قادیانی مسئلہ اور اس کے بارے میں دستور وقانون کے فیصلوں کو ازسرنو زیر بحث لا کر اس مسئلے کو ’’ری اوپن‘‘ کرنے کی مہم زیادہ سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے جس سے یہ شکوک وشبہات ذہنوں میں سر اٹھانے لگے ہیں کہ شاید یہ سب اسی لیے ہوا ہے کہ قادیانی مسئلے کو ازسرنو زیر بحث لایا جائے اور اسے ’’ری اوپن‘‘ کر کے بحث ومباحثہ کے نئے ماحول میں دستور وقانون کے فیصلوں پر نظر ثانی کی راہ ہموار کی جائے۔
لاہور میں قادیانی مراکز پر مسلح حملوں کی تمام دینی حلقوں نے یکساں طور پر مذمت کی ہے اور اس کے محرکات وعوامل کو ان کی طرف سے جلد از جلد بے نقاب کرنے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ قادیانیوں کے بارے میں تحریک ختم نبوت کے قائدین نے گزشتہ ایک صدی کے دوران کبھی تشدد کی پالیسی اختیار نہیں کی۔ وقتی اور مقامی اشتعال کے باعث اکا دکا واقعات وقتاً فوقتاً ہوتے رہے ہیں، لیکن اجتماعی طور پر کبھی تشدد اور مسلح کارروائیوں کو روا نہیں رکھا گیا اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اب بھی تحریک ختم نبوت میں شریک جماعتوں اور کارکنوں کا طرز عمل یہی ہے کہ وہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب کے لیے دستور وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں اور تشدد کی کسی کارروائی کو درست نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام دینی جماعتوں نے لاہور کے واقعات کی مذمت کی ہے اور ان سے براء ت کا اظہار کیا ہے، لیکن میڈیا اور لابنگ کے بعض مخصوص حلقے اس واقعے کی آڑ میں قادیانیوں کے کفر واسلام کو ازسرنو زیر بحث لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور پاکستان کے دستور وقانون میں جو متفقہ فیصلے جمہوری عمل کے ذریعے ہو چکے ہیں، ان کو متنازعہ بنانے کی طرف ان کی توجہ زیادہ ہے، حالانکہ معروضی حقائق یہ ہیں کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کی امت مسلمہ قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے پر متفق ہے، ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ دستوری ترمیم کے ذریعے انھیں ملک کی غیر مسلم اقلیتوں میں شمار کیا ہے اور عدالت عظمیٰ کا فل بنچ بھی یہی فیصلہ دے چکا ہے، مگر قادیانی گروہ ان میں سے کسی فیصلے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور امت مسلمہ کے متفقہ فیصلے کے ساتھ ساتھ دستور وقانون کو بھی مسترد کرتے ہوئے وہ ان کے خلاف دنیا بھر میں کیمپین کر رہے ہیں، حتیٰ کہ سانحہ لاہور کے حوالے سے جو قادیانی راہ نما میڈیا پر آئے ہیں، انھون نے بھی کھلم کھلا اس موقف کو دہرایا ہے کہ وہ دستوری ترمیم اور امتناع قادیانیت آرڈی ننس کو نہیں مانتے اور پوری امت مسلمہ کے علی الرغم خود کو مسلمان قرار دینے پر مصر ہیں جو عملاً دستور پاکستان کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
جہاں تک میاں محمد نواز شریف کے بیان کا تعلق ہے تو دینی حلقوں کو میاں صاحب سے اس قسم کے بیان کی توقع نہیں تھی، اس لیے کہ قادیانیوں کے خلاف قومی فیصلے میں خود پاکستان مسلم لیگ شریک رہی ہے اور دستوری ترامیم کے ساتھ ساتھ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے نافذ کردہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کی تشکیل ونفاذ میں خود میاں محمد نواز شریف ان کے شریک کار رہے ہیں۔ اس لیے میاں صاحب موصوف کو اپنے سابقہ کردار، قادیانیوں کے غلط موقف اور امت مسلمہ کے عقائد وجذبات سے آگاہی رکھنے کے باوجود یہ کہنا زیب نہیں دیتا کہ قادیانی محب وطن ہیں اور ہمارے بھائی ہیں۔ انھیں اعتدال وتوازن کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اور معروضی حقائق کو کسی طرح بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ قادیانیوں کو امت مسلمہ سے الگ ایک غیر مسلم اقلیت کا درجہ دینے کی تجویز مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے پیش کی تھی اور انھوں نے اس موضوع پر پنڈت جواہر لال نہرو کے ساتھ تفصیلی خط وکتابت میں اپنے موقف کو دلائل کے ساتھ واضح کیا تھا۔ چنانچہ میاں محمد نواز شریف کا اس تاریخی حقیقت کو نظر انداز کر دینا دینی حلقوں کے لیے بجا طور پر حیرت کا باعث بنا ہے۔
بہرحال لاہور کے سانحہ کے ذمہ دار عناصر جو بھی ہیں، انھوں نے ملک، دین اور قوم تینوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اگر خدا نخواستہ کسی انتہا پسند تنظیم نے اس کی پلاننگ کی ہے تو یہ قادیانیوں کے ساتھ نمٹنے کا انتہائی غلط طریق کار ہے اور اگر یہ کارروائی پس پردہ خفیہ ہاتھوں کی کارستانی ہے تو ملک کو نقصان پہنچانے اور پاکستان کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کا دائرہ کار وسیع کرنے کی کسی سازش کاحصہ ہے۔ اس بات کا فیصلہ کرنا قانون اور عدالت کا کام ہے کہ اس افسوس ناک واقعہ کے عوامل واسباب کیا ہیں اور یہ کن لوگوں کی کارروائی ہے، لیکن نتائج وعواقب کے حوالے سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ ملک وقوم، دینی حلقوں اور تحریک ختم نبوت کے لیے شدید نقصان کا باعث ہے۔
سر سید احمد خان کی تفسیری تجدد پسندی۔ ایک مطالعہ (۲)
ڈاکٹر محمد شہباز منج
آدم اور ڈاروینی ارتقائیت
تمام الہامی کتابوں کے مطابق آدم علیہ السلام وہ پہلے انسان اور پیغمبر ہیں جنہیں خدانے اپنے دستِ قدرت سے الگ اور مستقل مخلوق کے طور پر تخلیق فرمایا اور اس کے بعد دنیا کے سارے انسان انہیں سے پیدا ہوئے، لیکن مغرب میں نیچریت اور مادیت پر مبنی تصورِ ارتقاء کے پیش نظر مذکورہ مذہبی تصور کو غلط ٹھراتے ہوئے انسان کے ارتقائی ظہور کا نظریہ پیش کردیا گیا۔انسانی ارتقاء کا نظریہ زیادہ منظم اور مدلل انداز میں چارلس ڈارون کی ۱۸۵۹ء میں شائع ہونے والی شہرہ آفاق کتاب ’اصل الانواع‘ (Origin of Species) میں سامنے آیا ۔اس نظریہ کی رو سے انسان کسی فوق الطبیعی قوت یا صانع و حکیم کی الگ طور سے تخلیق کردہ مخلوق نہیں ہے، بلکہ یہ لاکھوں برس پہلے کیڑے کی شکل میں رینگتی ہوئی زندگی سے انتخابِ طبیعی (Natural Selection) اوربقائے اصلح (Survival of the Fittest) کے اصولوں کے تحت مرحلہ وار ترقی کرتا ہوا موجودہ شکل میں نمودار ہوا ہے۔ ابتدائے حیات، تسلسلِ حیات، تدریج و ارتقا اور کاروبارِ کائنات کے لیے کسی خدا کی ضرورت نہیں بلکہ یہ سب کچھ خود بخود میکانکی انداز میں ہوتا جاتا ہے۔ نظریۂ ارتقا اگرچہ سائنسی دلائل کے لحاظ سے انتہائی کمزور تھا ۴۲ تاہم اسے اس کی مذہب بیزاری کی بنا پر قبولیتِ عامہ حاصل ہو گئی اور پروفیسر ایم اے قاضی کے بقول کمیونسٹ اور غیر مذہبی رجحانات کے حامل افراد اورروایتی دینی تصورات سے بر سرِجنگ سائنسدانوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ۴۳
سر سید احمد خاں نے مغربی اہلِ فکر سے اپنے غیر ضروری تاثر کی بنا پر نظریۂ ارتقا کو بھی من وعن قبول کر لیا اور اپنی تفسیر میں تخلیق و ہبوطِ آدم سے متعلق آیات کو ڈاروینی ارتقائیت سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں شروع کر دیں ۔سورہ البقرہ کی آیت ۳۱ کی تفسیر میں اسی کوشش میں آدم کے شخصی وجود سے انکار کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’آدم کے لفظ سے وہ ذاتِ خاص مراد نہیں جس کو عوام الناس اور مسجد کے ملا باوا آدم کہتے ہیں، بلکہ اس سے نوعِ انسانی مراد ہے۔‘‘ ۴۴ سر سید نے یہ ثابت کرنے کوشش کی ہے کہ قصہ آدم کوئی واقعی قصہ نہیں بلکہ فطرت انسانی کا زبانِ حال سے بیان ہے۔ جنت میں رہنا اس کی فطرت کے اس حال کا بیان ہے جب وہ امر و نہی کا مکلف نہیں تھا، شجرِ ممنوعہ کے پاس جانا اور اس کا پھل کھانا اس حالت کا بیان ہے جب وہ مکلف ہوا اور ہبوط سے اس کی فطرت کی اس حالت کا تبدل مراد ہے جبکہ وہ غیر مکلف سے مکلف ہوا۔ وہ قرآنِ پاک کی مختلف آیات کا حوالہ دینے کے بعد انسان کو متعدد اشیا کی ترکیبِ کیمیاوی کے نتیجہ کے طور پر سامنے آنے والی مخلوق قرار دیتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’ترکیبِ کیمیاوی یہ ہے کہ دو چیزیں آپس میں اس طرح ملیں کہ از خود جدا نہ ہو سکیں بلکہ وہ دونوں مل کر ایک تیسری چیز بن جاوے ۔پس تراب اور طین اور صلصال اور حماءِ مسنون اور ماء کی ترکیبِ کیمیاوی سے جو چیز پیدا ہوئی ہے اس سے انسان پیدا ہوتا ہے ۔وہ چیز غالباً وہ ہوتی ہے جو سطح آب پر جمع ہو جاتی ہے اور نہ مٹی ہوتی ہے اور نہ ریت گارا نہ کیچڑ ،بلکہ ان سب کی ترکیبِ کیمیاوی سے ایک اور ہی چیز بن جاتی ہے، اور معلوم ہوتا ہے کہ اسی سے تمام جاندار ، انسان وحیوان مخلوق ہوتے ہیں اور یہی بات قرآن سے پائی جاتی ہے۔‘‘۴۵
ڈاروینی ارتقائیت پر دلائل لاتے ہوئے سرسید نے مزید لکھا ہے کہ قرآن کی رو سے قانونِ ارتقا مخلوقات کی ایک نوع کے دوسری نوع سے تعلق وارتباط میں کار فرما نظر آتا ہے۔ ’فی‘ یا ’تخم‘کا خیالی کنایہ ،جسے حیات کے مرکزہ سے تعبیر کرتے ہیں،حیات کی ابتدائی حرکت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو داخلی مادہ سے برآمد ہوتا ہے ۔قرآن پاک اور عہد نامہ عتیق میں اللہ تعالیٰ نے تخلیقِ کائنات کے باب میں جو لفظی حوالہ دیا ہے، وہ بغرضِ دلیل عام عقیدہ کے لحاظ سے دیا گیا ہے۔ الہامی کتاب کو چونکہ عام لوگو ں سے قریب ہونا اور ان سے تخاطب کرنا اشد ضروری ہوتا ہے، اس لیے وہ ان کے ذخیرۂ علم،ان کے فہم،ان کی لوک حکایات اور ایک ایسے دائرۂ اظہار کی صورت میں کلام کرتی ہے جو ان کے لیے قابلِ فہم ہو۔ چنانچہ ہبوطِ آدم کی حکایت استعاراتی اور آدم فطرتِ انسانی کا مظہر ہے ۔۴۶
اسلامی سزائیں
اسلام نے اپنی تعلیمات میں انسانی سوسائٹی کی ضروریات کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہوئے جرم وسزا کا ایک واضح فلسفہ اور مختلف جرائم کی نوعیت اور مضرت رسانی کی ٹھیک ٹھیک تعین کے بعد انتہائی موزوں اور مناسب حال سزاؤں کا تصور پیش کیا ہے ،لیکن مستشرقین نے اسلامی سزاؤں کو بے جا طور پر ہدفِ تنقید بناتے ہوئے انہیں ناقابلِ برداشت حد تک سخت ظاہر کرنے کی سعی کی۔۴۷ انہوں نے مسلمانوں کو شکوک وشبہات میں ڈالنے اور اپنے اس مقصود کی طرف راغب کرنے کے لیے کہ مسلمان اسلامی سزاؤں کو ان کی خواہشات کے مطابق ڈھال کر اپنے دین کا حلیہ بگاڑنے کے مرتکب ہوں ،یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ قرآن میں مذکور اسلامی سزائیں تو بلا شبہ ناقابلِ برداشت حد تک سخت ہیں، تاہم فقہائے اسلام نے(نعوذباللہ)قرآن کے تصورِ سزا کی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے، اس کی بیان کردہ سخت سزاؤں کومختلف طریقوں سے نرم کرنے کی کوششیں کیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے جرائم کے ثبوت اور تنفیذِ عقوبات سے متعلق اسلامی قانون کی تصریحات کو فقہاء کی ذاتی ترمیمات و تحدیدات سے تعبیر کیا ہے۔۴۸
سر سید کی تفسیری نگارشات میں اسلامی سزاؤں کے حوالے سے بھی استشراقی ومغربی ذہنیت سے مرعوبیت کے واضح آثار دکھائی دیتے ہیں ۔تفسیرالقرآن میں سورہ المائدہ کی آیت ۳۳ کی تفسیر میں یہ مرعوبیت یوں نمایاں ہوتی ہے۔ لکھتے ہیں کہ ان آیات میں جو ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کا حکم ہے، نیز اس آیت میں جس میں چور کا صرف ہاتھ کاٹنے کاحکم ہے، یہ ضروری نہیں ہے ،اور جن لوگوں نے اسے ضروری سمجھا ہے انہوں نے استنباطِ مسائل میں غلطی کی ہے۔ قرآن قید کرنے اور ہاتھ پاؤں کاٹنے میں سے حسبِ رضائے حاکم سزاتجویز کرنے کااختیار دیتا ہے۔ فقہا کی طرف سے ہاتھ کاٹنے کے سلسلہ میں چوری شدہ مال کی مقدارکے تعین کی کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے نزدیک بھی چوری کی سزا میں ہاتھ کاٹنا ضروری نہیں۔ عہدِ صحابہؓ میں بھی ایسے نظائر ملتے ہیں کہ چور کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا بلکہ صرف قید کیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ اس دور میں ڈاکو یہی سمجھتے تھے کہ پکڑے گئے تو قید کر دیے جائیں گے، ہاتھ کٹ جانے کا تو کسی کو خیال تک نہ تھا۔ ۴۹ سر سید کا کہنا ہے کہ ا سلام نے بجز زنا کے کوئی بدنی سزا نہیں رکھی۔قرآن میں زنا کے علاوہ جن بدنی سزاؤں کا ذکر ملتا ہے، ان کی نوعیت قطعاًاضطراری ہے، اور وہ زمانہ کی اس حالت سے متعلق ہیں جب ملک میں قید خانوں کا نظام موجود نہ ہو اور نہ ہی ایسے جزائر پر دسترس حاصل ہو جہاں مجرم جلا وطن کیے جا سکیں۔جب ملک میں تسلط حاصل ہواور قید خانوں کا انتظام موجود ہو تو قرآن کی رو سے بدنی سزا دینا کسی طرح جائز نہیں ۔ ۵۰
تنقیدِ حدیث
اسلام میں حدیث کی حجیت واہمیت مسلمہ اور ناقابلِ انکار ہے، لیکن مستشرقینِ یورپ اسلامی قانون کے اس ماخذِ ثانی کو مشکوک ومشتبہ بنانے کے لیے اس پرنہایت زور وشور سے حملہ آور ہوئے ہیں ۔حدیثِ نبوی پر اعتراضات کے حوالے سے مستشرقین کا سرِ خیل مشہور یہودی مستشرق گولڈ زیہر ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ احادیث اسلام کے عہدِ طفولیت کی تاریخ کے لیے قابل اعتبار ماخذ نہیں ہیں ۔یہ پہلی اور دوسری صدی ہجری میں اسلام کے دینی، تاریخی اور اجتماعی ارتقا کا نتیجہ ہیں۔۵۱ گولڈزیہر نے اموی حکمرانوں اور علمائے صالحین ، جن میں حدیث کے عظیم امام زہری خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں، پر اپنے مقاصد کے لیے حدیثیں وضع کرنے کا الزام عائد کیا۔ ۵۲اس کے نزدیک اولین راویانِ حدیث بھی حدیث کے سلسلہ میں غیر دیانتدارانہ اور خود غرضانہ محرکات سے آزاد نہ تھے، اور اپنی ذاتی اغراض کو بلا جھجک بطورِ حدیث پیش کر دیا کرتے تھے۔۵۳ گولڈ زیہر کے بعد حدیث کے حوالے سے سامنے آنے والے استشراقی خیالات، بقول ڈاکٹر ٖفواد سیزگین، گولڈ زیہر ہی کے افکار کی صدائے باز گشت ہیں۔۵۴ اے گیوم نے اپنی کتاب(The Traditions of islam) میں جگہ جگہ گولڈ زیہر کے خیالات کو دہرایا ہے۔۵۵ جوزف شاخت۵۶، چارلس آدم ۵۷ اور آرتھر جیفری ۵۸ وغیرہ نے بھی گولڈ زیہر کی فراہم کردہ بنیادوں پر حدیث پر اپنے اعتراضات کی عمارات کھڑی کی ہیں۔
حدیث کے ضمن میں سر سید پر استشراقی اثرات کا واضح اظہار حدیث سے متعلق ان کے ان شکوک و شبہات سے ہوتاہے جو انہوں نے اپنی تفسیری کاوشوں کے دوران جگہ جگہ ظاہر کیے ہیں۔تفسیرِ قرآن کے دوران جہاں کہیں کوئی حدیث ان کی من پسند تعبیر میں آڑے آتی ہے،وہ اسے بلا جھجک مسترد کر دیتے ہیں ۔سورہ الکہف کی تفسیر میں قصۂ خضر و موسیٰ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اس واقعہ سے متعلق بخاری کی احادیث پر تفصیلی بحث کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان میں باہم اس قدر تضاد و تناقص ہے کہ انہیں کسی طرح قابلِ اعتبار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ۵۹ وہ قصص سے متعلق احادیث کو پرانے بزرگوں کے روایتی قصے کہانیوں کے ساتھ ملاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قدیم زمانے کے پارسا ل افرادمیں یہ عام رواج تھا کہ لوگوں کے دلوں میں خدا کا ڈر بٹھانے اور اس کی شانِ قدرت جتانے کے لیے ایسے قصے بنا لیے کرتے تھے جن میں اصل پر بہت کچھ اضافہ کر دیا جاتا تھا ۔ لا طینی زبان میں قدیم زمانے کے اس طرح کے بہت سے قصے موجود ہیں۔حکایاتِ لقمان اور مثنوئ مولانا روم بھی ایسے ہی قصوں سے مملو کتابیں ہیں ۔اسی طرح یہودیوں کے علما اور واعظوں نے حضرت موسی کے شہر سے نکلنے اور مدین تک پہنچنے کے سفر میں جو واقعات پیش آئے، ان میں بہت سی عجیب وغریب باتیں ملا دیں۔ انہی باتوں میں موسیٰ سے ایک فرضی شخص خضر کا ملنا بھی شامل ہے۔ صحابہ وتابعین نے یہ قصہ بطورِ قصۂ یہود بیان کیا ہوگا اور بعد کے راویوں نے یہ سمجھ کر کے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے سنا ہوگا، اسے بطورِ حدیث نقل کر دیا۔۶۰ سرسید کا کہنا ہے بہت سے راوی اسناد کو اندازاً حضور تک پہنچا دیا کرتے تھے۔ احادیث میں بکثرت ایسی روایات منقول ہیں جن کا قرآن سے کچھ تعلق نہیں۔ ۶۱
مشہور محقق پروفیسر عزیز احمد نے لکھا ہے کہ حدیث کے چھ کلاسیکی مجموعہ ہائے حدیث سے متعلق سر سید کے شکوک وشبہات مغربی مستشرقین مثلاً گولڈ زیہر اور شاخت کے اخذ کردہ نتائج سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں ۔ان کا نظریۂ تنقیدِ حدیث جسے بعد میں چراغ علی نے زیادہ دیدہ ریزی سے تکمیل کو پہنچایا،یہ تھا کہ کلاسیکی احادیث کا بیشتر حصہ جو عقلِ انسانی کے لیے ناقابلِ قبول ہو ،یک قلم مسترد کر دیا جائے۔ ہر ایسی حدیث کو بھی مسترد کر دینا چاہیے جو پیغمبرانہ شان کے متضاد ہو۔ مستند احادیث صرف تین قسموں کی ہو سکتی ہیں۔ وہ جوقرآن کے مطابق ہوں اور اس کے احکامات کی تکرار پر مشتمل ہوں؛وہ جو احکاماتِ قرآنی کی تشریح یا وضاحت کرتی ہوں؛یاپھر وہ احادیث جو ان بنیادی قانونی ضابطوں سے متعلق ہوں جن کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔جو حدیث کسی قرآنی حکم کی تنقیص کرتی ہو ،وہ یقیناًموضوع ہوگی۔ یہاں تک کہ وہ احادیث جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات صحیحہ کی واضح عکاس کے طور پر مسلمہ ہیں ،ان میں بھی یہ امتیاز کرنا پڑے گا کہ ان میں سے کون سی حدیثیں آپ نے بطورِ پیغمبرِ خدا ارشاد فرمائیں اور کون سی ایسی ہیں جو آپؐ کے ذاتی خیالات یا پسند و ناپسند کی مظہر ہیں ۔عظیم کلاسیکی مجموعہ ہائے احادیث میں شامل اکثر احادیث کی بنیاد قانون کے قطعی اصول پر قائم نہیں ۔ یہ احادیث مسلمانوں کی چند ابتدائی نسلوں کے خیالات و رجحانات کا تاریخی عکس ہیں جن میں بہت کچھ من گھڑت ،ما فوق الفطرت واقعات اور خوش اعتقادی سے عبارت ہے ۔ ۶۲
ناسخ و منسوخ،اعجاز القرآن اور قصصِ قرآنی
جمہور اہلِ اسلام اور محقق علما کے ہاں قرآن میں نسخ کاوقوع ،قرآن کا باعتبارِ فصاحت وبلاغت معجزہ ہونااور تاریخی واقعات سے متعلق قصصِ قرآنی کی مسلمہ حیثیت ، ایسے امور ہیں جو تسلیم شدہ اور ناقابلِ انکارعلمی حقائق کا درجہ رکھتے ہیں، لیکن مستشرقینِ یورپ نے اپنے اسلام مخالف مقاصد کے پیشِ نظر ان امور سے متعلق شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوششیں کیں۔ناسخ ومنسوخ کے تصور سے مستشرقین نے قرآن میں تضاد بیانی ثابت کرنے کی جسارت کی۔ مثلاً انہوں نے لکھا کہ ناسخ ومنسوخ مسلم علماء کا وضع کردہ وہ طریق ہے جس کے ذریعے وہ قرآنی آیات میں موجود تضاد کو رفع کرنے کی سعی کرتے ہیں۔۶۳ انہوں نے ناسخ ومنسوخ کو اسلام کی کمزوری باور کرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خدا کے استقلالِ فیصلہ میں نقص لازم آتا ہے اور یہ ماننا پڑتا ہے کہ خدا کا ذہن تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ وہ ایک حکم دیتا ہے، لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ پہلا حکم مناسب نہیں تھا لہٰذا دوسرا حکم نافذ کر دیا جاتا ہے۔۶۴ اعجازالقرآن کے ضمن میں عیسائی اہلِ قلم اس حقیقت سے انکار کرتے ہیں کہ قرآن فصاحت وبلاغت کے ایسے انتہائی معیار پر پہنچا ہوا ہے جو انسان کی دسترس سے باہر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قرآن کو انتہائی فصیح و بلیغ کلام مان بھی لیا جائے تو بھی اسے معجزہ اور کلامِ الٰہی کیونکر کہا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہی ہو تو لاطینی و یونانی زبانوں کی فصیح و بلیغ کتابیں بھی معجزہ اور کلامِ الٰہی ماننی پڑیں گی۔ ۶۵ قصصِ قرآنی سے متعلق مستشرقین نے ہرزہ سرائی کی کہ یہ عہد نامہ قدیم و جدید بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ان غیر مستند انجیلوں اور روایات سے ماخوذ ہیں جو عہدِ نزولِ قرآن کے یہودیوں اور عیسائیوں میں مروج تھیں ۔۶۶
زیرِ نظرامورکے حوالے استشراقی اثر ات کے زیرِ اثر سر سید نے نسخ اور قرآن کے بلحاظ فصاحت وبلاغت معجزہ ہونے کا انکار کیا ہے اورقصصِ قرآنی سے متعلق دورازکار تاویلات سے کام لیا ہے۔نسخ کے ضمن میں سورہ البقرہ کی آیت ۱۰۶ کی تفسیر میں جمہور علماء کے موقف کو سختی سے رد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں ہمارے مفسرین نے بے انتہا کج بحثیاں کی ہیں اور اسلام بلکہ خدا کو بدنام کیا ہے اور قرآن کو ایک شاعر کی بیاض بنادیا ہے۔ ان لوگوں نے نہایت غلط طور پرلفظ آیت کو قرآنی آیت پر محمول کرتے ہوئے جھوٹی اور مصنوعی روایات کے زور پرقرآن میں نسخ کے حولے سے اپنی تفسیروں کے ورق کے ورق سیاہ کر ڈالے ہیں، حالانکہ یہ بات نہ صرف خداکی شان کے خلاف ہے بلکہ قرآن کے ادب کے بھی خلاف ہے ۔یہ بات تو مانی جا سکتی ہے کہ کچھ احکام شرائع سابقہ میں مامور بہ تھے مگر شرائع ما بعد میں نہیں رہے، لیکن یہ بات کوئی ذی عقل کسی طور نہیں مان سکتا کہ شریعتِ محمدی میں پہلے ایک حکم دیا گیااور بعد میں کسی دوسرے وقت میں منسوخ کر دیا گیا۔ ۶۷ اعجازالقرآن کے حوالے سے سورہ البقرہ کی آیت۲۳ کی تفسیر کے سلسلہ میں قرآن کے بلحاظِ فصاحت و بلاغت معجزہ ہونے کا انکار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ کہنا کہ قرآن کی مثل کلام کوئی شخص پیش نہیں کر سکتا، قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔کسی کلام کی نظیر نہ ہونا اس بات کی تو دلیل ہو سکتا ہے کہ اس جیسا کوئی دوسرا کلام نہیں ،مگر اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ خدا کی طرف سے ہے ۔انسانوں کے بہت سے ایسے کلام دنیا میں موجود ہیں کہ فصاحت و بلاغت میں کوئی دوسرا کلام ان کی مثل نہیں،مگر وہ من جانب اللہ تسلیم نہیں کیے جاتے۔ اعجازالقرآن سے متعلق جو آیات پیش کی جاتی ہیں ،ان میں کہیں اس بات کی طرف اشارہ موجود نہیں کہ فصاحت وبلاغت میں قرآن کی مثل کوئی کلام نہیں ہو سکتا ۔ ہاں یہ بات ضرور ثابت ہوتی ہے کہ قرآن جس طرح کی ہدایت دیتا ہے ،کوئی دو سر ی کتاب اس طرح کی ہدایت فراہم نہیں کر سکتی۔ ۶۸
(جاری)
حوالہ جات و حواشی
۴۱۔وہی مصنف،تفسیرالقرآن مع اصول تفسیر،ص۶۱۳۔۶۲۴،وہی مصنف ،تفسیر الجن ولجان،آگرہ،۱۸۹۲ء ، ص۲۔
۴۲۔سائنسی اعتبار سے اس نظریہ کی کمزوری اس حقیقت سے بھی عیاں ہے کہ اس کے پر جوش متبعین اپنی جاں گسل کاوشوں کے باوصف اسے آج تک حتماًثابت نہیں کر سکے۔معروف ماہرِ حیاتیات ڈاکٹر ہلوک نور باقی نے حیاتیات کے معروف ماہر اور نظریۂ ارتقاء کے پر جوش حامی آر۔ بی۔گولڈ شمڈٹ(R. B. Gold Shemidt )کے حوالے سے لکھا ہے کہ نظریۂ ارتقاء کے ثبوت میں آج تک ایک بھی شک و شبہ سے بالا تر سائنسی شہادت میسر نہیں آ سکی ۔ڈاکٹرصاحب کے مطابق جدید سائنس دان دواں گش (Duan Gish )کے نزدیک ا نسان کا جانور سے ارتقاء پذیر ہونا محض ایک فلسفیانہ تخیل ہے جس کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں۔ڈاکٹر باقی نے پر زور سائنسی دلائل کی بنا پر ڈارونزم کی زبردست تردید کی ہے ۔آپ نے اپنی تصنیف میں نظریۂ ارتقاء کے خلاف معتبر سائنسی شہادتوں کا انبار لگادیا ہے۔
تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو:ہلوک نور باقی ،ڈاکٹر ،قرآنی آیات اور سائنسی حقائق (مترجم ،سید محمد فیروز شاہ گیلانی)، کراچی، انڈس پبلشنگ کارپوریشن،۱۹۹۴ء،ص۱۸۵۔۱۹۵۔
۴۳۔
Kazi, M.A,Quranic Concepts and Scientific Theories,Jordan, Amman,Islamic Academy of Sciences,1999,pp.28-29
۴۴۔سر سید احمد خاں ،تفسیرالقرآن مع اصولِ تفسیر،ص۱۲۴۔
۴۵۔ایضاً،ص۱۳۰۔
۴۶۔ایضاً،۱۳۲۔۱۳۸،۷۷۹۔۷۸۱۔
۴۷۔
See for example; Coulson, N.J, Conflicts and tentions in Islamic Jurisprudence, London, The University of Chicago press, N.D.p.78, Encyclopedia of Crime and Justice, The free press, New York, 1983, Vol. 1, p. 194
۴۸۔
See for detail: The Encyclopedia of Religion,Op.Cit,Vol.7, pp.310-311, Encyclopedia of Crime and Justice, Op. Cit,p195.
۴۹۔ سر سید احمد خاں ،تفسیر القرآن مع اصولِ تفسیر،ص۵۱۸۔۵۱۹۔
۵۰۔ایضاً،ص۵۲۰۔۵۲۵۔
۵۱۔
Goldziher, Ignaz, Muslim Studies, translated by C.R.Barber $ S. M. Stern. Chicago, IL! Aldine Publishing, 1973, Vol. II.p.18.
۵۲۔
Ibid.p.44.
۵۳۔
Ibid.p.56.
۵۴۔فواد سیزگین ،ڈاکٹر،مقدمہ تاریخِ تدوینِ حدیث،(مترجم،سعید احمد)،اسلام آباد،ادارہ تحقیقاتِ اسلامی ،۱۹۸۵، ص۱۸ ۔
۵۵۔
See for example; Guillume, Alfred, The Traditions of Islam, Beirut, Khayats, 1966, pp.15, 47-50,60,78.
۵۶۔
Shacht,.J,The Origins of Muhammadan Jurisprudence, Oxford,1950,p.149,Idem, Introduction to Islamic law, Oxford,1964,p,34.
۵۷۔
The Encyciopedia Americana, Grolier incorporated, 1984,Vol.
۵۸۔
Jeffery, Arthur,Islam Muhammad and his Religion,Indiana polus, 1979, p.12.
۵۹۔سرسید احمد خاں ،تفسیرالقرآن، حصہ ہفتم، لاہور، دوست ایسوسی ایٹس،۱۹۹۶ء ،ص۶۴۔۷۳۔
۶۰۔ایضاً،ص۷۱۔
۶۱۔ایضاً،ص۷۱۔۷۲۔
۶۲۔عزیز احمد، پروفیسر، برِ صغیر میں اسلامی جدیدیت ،(مترجم، ڈاکٹر جمیل جالبی)،لاہور، ادارہ ثقافتِ اسلامیہ،۱۹۸۹ء،ص۸۰،۸۱۔
۶۳۔
Sale,George, The Quran, New York, 1890, p.52.
۶۴۔
Palmer, E, The Quran with an Introduction by R.Nicholson, first published 1880,Oxford University press, 1928, p.53.
۶۵۔رحمت اللہ کیرانوی، مولانا،بائبل سے قرآن تک،(مترجم،اکبر علی)،کراچی،مکتبہ دارلعلوم،۱۳۸۹ھ،جلد دوم ،ص۳۶۵۔
۶۶۔
Sale, George, The Quran, p.49.
۶۷۔سر سید احمد خاں،تفسیر القرآن مع اصول تفسیر،ص۲۳۶۔۲۴۵۔
فتاویٰ کے اجرا میں احتیاط کی ضرورت
حکیم ظل الرحمن
۱۱ مئی ۲۰۱۰ء، وقت ساڑھے آٹھ تا ساڑھے نوبجے شب۔ شرکا: (۱) نمائندہ این ڈی ٹی وی (۲) جناب پروفیسر اختر الواسع ۳) قاضی شہر لکھنؤ فرنگی محلی (۴) سعدیہ دہلوی صاحبہ (۵) جناب جاوید اختر۔
یہ پورا پروگرام دار العلوم دیوبند کے اس فتوے پر کہ ’’مردوں کے ساتھ عورتوں کا کام کرنا غیر اسلامی ہے‘‘ ایک تبادلہ خیال کا پروگرام تھا۔ قاضی شہر کلیتاً محدود تعبیر مسئلہ پر گفتگو فرما رہے تھے اور صرف فتوے کی حیثیت سے آگے ان کی گفتگو نہیں بڑھ رہی تھی۔ پروفیسر اختر الواسع کلیتاً اسلامی نمائندہ تھے۔ سعدیہ دہلوی ایک معتدل مزاج مسلمان کی نمائندگی فرما رہی تھیں۔ جناب جاوید اختر کلیتاً دانش وران ملت کے، جو مذہب کو ماڈرن شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں، نمائندہ تھے۔ میں یہاں بحث کی تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے مسئلے کی قرآن اور حدیث کی روشنی میں تصویر اور اس کی وسعتوں پر کچھ ]گزارشات[ پیش کرنا چاہوں گا۔
فتوے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ ’’کیا عورتوں کا مردوں کے ساتھ کام کرنا غیر اسلامی ہے؟‘‘ اس تصویر کے درج ذیل رخ ہیں اور ہر ایک رخ کی اسلامی حیثیت علیحدہ علیحدہ ہے۔
(۱) مخلوط تعلیم گاہوں میں لڑکے اور لڑکیوں کی ایک ساتھ تعلیم جہاں ان میں آپسی اختلاط کے بہت پہلو ہوتے ہیں اور جنسی آزادی کی فضا بھی موجود ہوتی ہے۔
(۲) دفاتر میں مردوں کا عورتوں کے ساتھ ایک جگہ بیٹھ کر کام کرنا۔
(۳) کسی عورت کا کسی ادارے، سرکار، حکومتی شعبہ یا خود اپنے ہی کاروبار کی سربراہی کرنا۔
اب اس ضمن میں قرآن اور حدیث کی ہدایت ملاحظہ فرمائیں۔ ان ہدایات کا بنیادی مقصود ناجائز اختلاط پر روک لگانا ہے۔ اسی وجہ سے اسلام نے نکاح کے لیے محرم اور غیر محرم کی قید لگائی ہے۔ پس اگر کسی مجبورئ حالات کے تحت ضرورت یا مجبوری ہے، اس میں بھی تحفظ عصمت کے امکانا ت موجود ہیں تو پھر یہ ایک قابل معافی گناہ شمار ہو سکتا ہے۔
(۱) عورتوں پر مردوں کو نگران بنایا گیا ہے۔ جو لوگ ’’قوامون‘‘ کا ترجمہ حاکمیت سے کرتے ہیں، وہ درست نہیں ہیں۔ نگران کی حیثیت ایک اچھے مشیر کی ہوتی ہے۔ البتہ کبھی کبھی اسے خانگی معاملات میں کچھ ایمرجنسی اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں۔ اعتدال کی زندگی میں ان اختیارات کا استعمال شاذ ونادر ہی ہوتا ہے۔
(۲) عورتوں کے لیے بہتر جگہ ان کے گھر ہیں، البتہ مجبوریوں کے تحت ان کو گھر سے باہر جانے کی بھی اجازت ہے۔
(۳) عورتوں کا پردہ ایسا لباس ہے جس میں جسم کے حصے نمایاں نہ ہوں۔ چہرہ، ہاتھ اور پیر کھلے رکھے جا سکتے ہیں۔ موجودہ برقع اسلامی پردہ نہیں بلکہ ہمارا تہذیبی ورثہ ہے اور اس میں بھی بالعموم چہرہ اور پیر کھلے رہتے ہیں۔
(۴) عورت کی زیب وزینت صرف اپنے شوہر کے لیے وقف ہے۔ باہر نکلنے کی صورت میں اس کو ایسی زیب وزینت کی اجازت نہیں ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کی طلبیدہ نگاہیں اس کا تعاقب کریں۔
(۵) مالیات کے حصول کی تمام تر ذمہ داری اسلام مرد پر عائد کرتا ہے، البتہ حالات کی مجبوری کے تحت عورت بھی اس مد میں مرد کو اپنا تعاون دے سکتی ہے۔ وہ لڑکیوں کے اسکولوں میں استاد بن سکتی ہے۔ اسے ہر وہ کام کرنے کی اجازت ہے جس میں اس کی عصمت کا تحفظ ممکن ہو اور یہ تحفظ اسے خود ہی کرنا ہوتا ہے۔
آئیے مندرجہ بالا صورتوں پر علیحدہ علیحدہ غور کریں:
(۱) حدیث میں آتا ہے کہ آج اسلام کا دسواں حصہ چھوڑنے پر اس امر کا امکان ہوتا ہے کہ وہ آدمی دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائے، لیکن قرب قیامت میں گناہ کی کثرت، معاشرے کی بد حالی، دولت کی فراوانی اور اس کے نتیجے میں منکرات کا عام ہو جانا، زنا کی کثرت کے دور میں اگر کوئی مسلمان اسلام کے دسویں حصے کا بھی پابند ہوگا تو وہ مسلمان شمار ہوگا۔ آج ہم اسی دور سے گزر رہے ہیں۔
(۲) مخلوط تعلیم گاہوں میں عورت او رمرد کا اختلاط، ا س کا انحصار تعلیم گاہ کے اندرو نی نظم ونسق اور اختلاط کے ماحول پر ہے جو بلاشبہ بالعموم آج موجود نہیں ہے۔ اس کی وجہ ہم خود ہیں۔ کبھی تعلیم گاہ میں جا کر اپنے بچوں کی تعلیم کی خبر نہیں لیتے۔ ابتدائی گھریلو زندگی میں رشتوں کا احترام کرنا ہم اپنے بچوں کو نہیں سکھاتے۔ اچھے گھرانوں میں بچوں کو نوکروں کا بھی ادب کرنا ہوتا ہے۔ تعلیم گاہ کو تربیت گاہ بھی ہونا چاہیے جو آج نہیں ہے۔
میں نے بی اے میرٹھ کالج سے ۱۹۵۵ء میں پاس کیا جہاں مخلوط تعلیم تھی،لیکن اخلاقی ڈسپلن کا حال یہ تھا کہ :
(الف) لڑکیوں کا کامن روم علیحدہ تھا، وہاں بالعموم لڑکوں کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔
(ب) پروکٹوریل سسٹم دو حصوں پر مشتمل تھا۔ کالج کی حدود میں پروکٹر، معاون پروکٹر، اساتذہ اور ہر کلاس میں ایک سینئر طالب علم مانیٹر اخلاقی ڈسپلن کا ذمہ دار ہوتا تھا۔
(ج) شہر میرٹھ کے ہر محلے میں رہنے والے اساتذہ اور طلبا کی تقسیم براے نگرانی کردار اور ان کے والدین سے رابطہ ہوتی تھی۔
۱۹۵۳ء سے ۱۹۵۵ء تک کالج میں رہا، مگر پورے دو سال میں ایک بھی شکایت کسی لڑکی کی طرف سے کسی لڑکے کے خلاف کسی بدتمیزی کی انتظامیہ کو نہیں ملی۔ ہم لوگوں کو اساتذہ یہ اخلاقی تعلیم دیتے تھے کہ یہ سب تمھاری بہنیں ہیں۔ خود اساتذہ کا کردار بھی بہت پاکیزہ ہوتا تھا۔
لہٰذا اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ لڑکیوں کو مخلوط تعلیم گاہوں میں پڑھنے کے لیے نہ بھیجا جائے، بلکہ جس حد تک ممکن ہو، ان کو طالبات کی تعلیم گاہوں میں داخل کرائیں۔ اگر وہاں گنجائش نہ ہو تو مخلوط تعلیم گاہوں میں داخل کرائیں۔ اسلام نے ہر مسلمان کے لیے حصول تعلیم کو فرض قرار دیا ہے۔ اس میں عورت اور مرد دونوں شامل ہیں۔ اس کے لیے ضروری یہ بھی ہے کہ والدین تعلیم گاہ کے ذمہ دار اساتذہ کے مسلسل رابطے میں رہیں۔
(۲) اب دوسرا مسئلہ آتا ہے۔ دفاتر میں مرد اور عورتوں کا ایک جگہ رہ کر کام کرنا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ غیر شادی شدہ لڑکیوں کو ایسی جگہ ملازمت کرنا مناسب نہیں ہے جہاں جوان لڑکے بھی ملازم ہوں اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوتا ہے۔ نوجوان کی عمر کچی ہوتی ہے اور اس میں جنسی بے راہ روی کا امکان خصوصاً آج کے دور میں جہاں جنسی اختلاط کے لیے ہر طرح کی سہولیات حاصل ہوں اور لڑکے ان پر دولت لٹانے کے لیے تیار ہوں، بہت زیادہ ہوتا ہے۔ شادی شدہ عورتیں بالعموم جنسی طور پر تسکین شدہ ہوتی ہیں اور اپنی عصمت اور آبرو بچانے پر قادر ہوتی ہیں۔ واضح رہے کہ جنسی اختلاط کے لیے دو طرفہ طلب کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہمارے معاشرے کی خرابی یہ ہے کہ ہم نے خود کو نمائش اور ترغیب کا ایک ذریعہ بنا لیا ہے۔ استقبالیہ پر بالعموم خوب صورت لڑکیوں کو فیشن ایبل لباس کے ساتھ بٹھایا جاتا ہے۔ یہ قطعاً نامناسب ہے۔ بلاشبہ عورت اپنی اقتصادی مجبوری کے تحت کسی بھی جگہ ملازمت کر سکتی ہے جہاں اس کی عزت وعصمت محفوظ رہے۔ اس کا انحصار خود عورت کے اپنے اعمال اور کردار پر بھی ہوتا ہے۔ باحیا عورت پر بری نظر ڈالنے کی ہمت آسانی سے نہیں ہوتی۔ اداروں کو بھی چاہیے کہ مردوں اور عورتوں کے کام کی نشستیں اس طرح رکھیں کہ اختلاط کم سے کم ہو۔ خود ذمہ داران ادارہ بھی اپنے ماحول میں سرپرستی کی اخلاقی ذمہ داری کو قبول کریں۔ والدین کا بھی فرض ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنی بچیوں اور بچوں کو مذہبی اخلاقیات سے بہرہ ور کرائیں۔ ان شاء اللہ باوجود اختلاط کے عورتوں کی عصمت بے داغ رہے گی۔ تعلیم میں اخلاقیات کی تعلیم کا رواج قائم کیا جائے جس کی قانونی اجازت ہے۔
(۳) اب تیسری چیز عورت کی سربراہی ہے، وہ کسی ادارہ کی ہو یا ریاست کی۔ یہاں ہمیں عورت کی تین حیثیتوں پر علیحدہ علیحدہ غور کرنا ہوگا: ماں، بہن، بیٹی۔ ماں خود اپنے گھر کی سربراہ ہوتی ہے اور داخلی امور کی خود مختار بھی۔ بہن بڑی ہونے کی صورت میں اپنے بھائیوں کی ہر طرح مشیر اور چھوٹی بہن کی صورت میں وہ زیر تربیت اولاد کے مماثل ہوتی ہے۔ بیٹی اپنی تربیت کی وجہ سے ایک زیر تربیت طالب علم کا درجہ اپنے ہی گھر میں رکھتی ہے۔
اب کسی ادارے کی سربراہی ہو یا کسی ریاست کی سربراہی، آج اس کا کلیتاً حاکمانہ تصور جاتا رہا ہے۔ اب ہر سربراہ کو اپنے مشیروں کی صلاح پر سربراہی کرنی ہوتی ہے یہاں تک کہ صدر جمہوریہ بھی کیبنٹ کا پابند ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کسی سربراہی کی ممانعت نہیں کرتا۔ صرف عصمت اور ناموس کا تحفظ چاہتا ہے۔ بھوپال میں نواب شاہ جہاں بیگم سربراہ ریاست تھیں، لیکن ان کے تمام احکام کی تعمیل نواب محسن الملک کیا کرتے تھے۔ بعد میں انھوں نے ان سے شادی بھی کر لی تھی۔ آپ اگر مسز اندرا گاندھی کی مثال دینا چاہیں تو یہ نامناسب ہے کیونکہ ہندوستان کوئی اسلامی مملکت نہیں ہے اور نہ وہ مسلمان تھیں۔ الرجال قوامون کی غلط تعبیر پر فتوے دینا کوئی اچھا عمل نہیں ہے۔ آخر مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نے نواب شاہ جہاں بیگم کی سربراہی کے حق میں فتویٰ دیا تھا۔
ہماری ایک خرابی یہ ہے کہ ہم ہندوستان جیسے غیر اسلامی ملک میں اسلامی مملکت کے فتاویٰ جاری کرتے ہیں اور ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ہم قرب قیامت کے دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ دور رسول اکرم میں اگر کوئی دس فیصد حصہ اسلام کو ترک کر دے تو اس سے دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کا امکان پیدا ہو جاتا تھا، لیکن قرب قیامت کے دور میں جس میں گناہوں کی کثرت، برائیوں کے انبار اور معاشرے میں زنا کی کوئی بری حیثیت عدم تسلیم ہو رہی ہو، معاشیات اور کاروبار سود پر ترقی پذیر ہو تو اس دور میں اگر کوئی شخص صحیح اعتقادات اور دس فیصد شریعت پر بھی عمل پیرا ہو تو صحیح مسلمان شمار ہوگا۔......
ہماری اسلامی تشریحات کی ایک کمی یہ ہے کہ ہم صرف مسلک حنفیہ کی تشریحات پر زور دیتے ہیں اور دوسرے ائمہ کے فتوے کے لیے اس قدر قید لگاتے ہیں کہ ان پر فتوے کا امکان ہی نہیں ہوتا، حالانکہ ائمہ اربعہ کو برحق مانتے ہیں اور اس کے لیے کتاب موسوعہ موجود ہے جس کی ۴۲ جلدوں کا ترجمہ اسلامی فقہ اکیڈمی دہلی کر چکی ہے اور پہلی جلد طبع ہو چکی ہے اور واقعہ یہ ہے کہ شافعی مسلک اور بعض مسائل میں مالکی مسلک دوسرے مسالک کے اعتبار سے زیادہ معتدل ہیں۔
Relaxation کی ایک مثال بیان کر دوں۔ یہ جناب مفتی محمد شفیع صاحب کا فتویٰ ہے۔ ایک انگریز عیسائی جوڑے نے جس کو اسلام قبول کیے ہوئے دس بارہ سال ہی ہوئے تھے، اپنی بیوی کو تین طلاقیں بہ یک وقت دے دیں۔ تمام علما نے حلالہ کا فتویٰ دیا۔ کسی نے مشورہ دیا کہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے اجلاس میں مفتی محمد شفیع صاحب آئے ہوئے ہیں، ان سے رجوع کرو۔ وہ مفتی صاحب کے پاس گیا۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ صبح کو اپنے تمام واقعات کو لکھ کر لے آؤ۔ وہ صبح آئے۔ مفتی صاحب نے دوسرے مفتی صاحبان کو جو تشریف رکھتے تھے، وہ کاغذ دکھایا۔ سب نے حلالہ کا فتویٰ دیا۔ جناب مفتی صاحب نے اس پر فتویٰ تحریر کیا:
’’مسلمانوں کے ایک مسلک موسومہ بہ اہل حدیث کے نزدیک ایک ہی طلاق ہوئی، رجوع کر لیا جائے۔‘‘
وہ چلے گئے اور رجوع کر لیا۔ جب وہ چلے گئے تو مفتی صاحب نے فرمایا: ’’اگر اس وقت میں یہ فتویٰ نہ دیتا تو یہ جوڑا پھر عیسائی ہو جاتا کہ جس اسلام میں میری ایک ذرا سی غلطی کی تلافی ممکن نہیں ہے، وہ مذہب صحیح نہیں ہو سکتا۔‘‘ مفتی کفایت اللہ صاحب کی کفایت المفتی میں فتویٰ ہے کہ اگر کوئی شخص اہل حدیث سے فتویٰ لے کر رجوع کر لے تو اسے مطعون کرنا جائز نہیں ہے۔ خود مفتی صاحب نے بہت سے فتاویٰ مالکی مسلک پر دیے ہیں۔ اب غور فرمائیے کہ ہمارے اکابر میں تو اس قدر وسعت فکر تھی اور ہم ہیں کہ ذرا ذرا سی باتوں پر فتوے دے رہے ہیں۔ ]مثلاً[ ٹیلی وژن گھر میں رکھنا حرام ہے۔
ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے کہ جب میں نے مسلمان ہونے کے لیے اسلام کا مطالعہ کیا تو میں کسی فیصلے پر پہنچ ہی نہیں سکا کہ اسلام کیا ہے۔ دیوبندی اسلام، بریلوی اسلام، شافعی اسلام، مالکی اسلام، حنبلی اسلام، اہل حدیث اسلام، شیعہ اسلام، قادیانی اسلام وغیرہ وغیرہ۔ آج لوگ نماز ہی نہیں پڑھنے کے لیے تیار ہیں اور ہم اعلان کر رہے ہیں کہ ایسے نماز پڑھی ہوگی تو نماز قبول نہیں۔ دعا ہاتھ پھیلا کر مانگو، جوڑ کر مت مانگو۔ آج ملت تعلیم کی محتاج ہے جس کے بغیر اسے دنیا میں اعزاز نہیں مل سکتا اور وہ بعض جگہ مخلوط تعلیم کے ذریعے ملتی ہے تو بجائے اس کے کہ ہم ان طالبات کے لیے اپنے غیر مخلوط تعلیم کے ادارے قائم کریں یا ان ہی اداروں میں اخلاقی رہنمائی اور دینیات کی تعلیم کا مزید انتظام کریں، خواہ مراسلاتی کورسوں کے ذریعے ہی ہو، ہم ان کو تعلیم گاہوں سے روکنے کی تبلیغ کرتے ہیں۔ جہاں تک روزگار کا تعلق ہے، مسلمان کاروباری ادارے مسلمان عورتوں کو اس انداز سے ملازمت دیں کہ ان کی عصمت محفوظ رہے۔
تیسرا عنوان سربراہی کا ہے۔ آج کی سربراہی محتاج مشاورت ہے۔ آج صدر جمہوریہ بھی دوسروں کے مشورہ کا محتاج ہوتا ہے تو عورت اگر کسی ادارے یا خود اپنے کاروبار کی سربراہ ہے تو یہ غیر اسلامی نہیں کہا جا سکتا، بشرطیکہ وہ خود اپنے اسلامی اقدار واخلاقیات کا تحفظ رکھے ہوئے ہو۔
ہمارا مزاج کچھ عجیب بن گیا ہے۔ ملت کے جو اصل مسائل ہیں، ان پر تو کسی جماعت کی توجہ نہیں ہے۔ اسلام کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے لانے کی ہدایت پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حجۃ الوداع میں دی ہے، کسی کو ان فرائض کی کوئی فکر نہیں ہے، مگر ہم ثانیہ کے لباس پر مراسلہ بازی کرتے ہیں۔ کسی بھی آدمی کو اپنے فرائض کی کوئی فکر نہیں، دوسروں کے فرائض اسے سب یاد ہیں۔ فتویٰ دینے کو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ فتویٰ کو کون اور کس مقصد کے لیے مانگ رہا ہے۔ بیشتر حضرات انتشار کی خاطر فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ الفتنۃ اشد من القتل۔ مفتیان کرام جیسے صاحب نسبت روحانی حضرات نہ پہچانیں گے تو اور کون پہچانے گا؟ اس کی ایک مثال دے دینا چاہوں گا۔
اس وقت تک ٹی وی ایجاد نہیں ہوا تھا۔ آل انڈیا ریڈیو کی بارہ حضرات کی ایک ٹیم فیملی پلاننگ پر مولانا قاری محمد طیب صاحب کے پاس انٹرویو لینے پہنچی۔ قاری صاحب نے شرافت نفسی کی بنا پر ان کو ڈھائی گھنٹے انٹرویو دیا۔ ا س ٹیم نے ریڈیو پر دس منٹ کا حصہ نشر کر دیا کہ قاری طیب صاحب نے فیملی پلاننگ کو جائز قرار دے دیا۔ قاری صاحب کے سلسلے میں مسلمانوں میں ایک ہیجان پیدا ہو گیا۔ بارہ حضرات کی یہی ٹیم مولانا سید ابو الحسن علی میاں ندویؒ کے پاس پہنچی۔ وہاں سیاسی شعور تھا۔ انھوں نے سمجھ لیا کہ کسی نیک نیتی سے نہیں آئے ہیں۔ انھوں نے جواباً کہا: میرے پاس تمھارے لیے صرف دو جملے ہیں۔ کھڑے کھڑے نوٹ کرنا چاہو تو کھڑے کھڑے نوٹ کر لو۔ بیٹھنا چاہو تو بیٹھ کرنوٹ کر لو۔ ’’فیملی پلاننگ اسلام میں حرام ہے۔‘‘ یہ ٹیم اپنا سا منہ لے کر لوٹ آئی۔
اس وقت کے علما فتویٰ مانگنے والوں کو پہچاننے کی کوشش کریں تاکہ حالات حاضرہ کے شعور کی روشنی میں قرآن وحدیث، ائمہ اربعہ ودیگر فقہا کی آرا پر ممکنہ وسعتوں کے ساتھ مفصل فتاویٰ دیے جائیں۔ فتویٰ دینے والوں کی سب سے بڑی ضرورت غیر درسی کتب کا مسلسل اور کثرت سے مطالعہ ہے تاکہ اسلام کی یہ تصویر کہ وہ آسانیوں کا مذہب ہے، دنیا کے سامنے لائی جا سکے اور جس حد تک بھی کسی مسئلے میں شرعی حدود میں وسعت ممکن ہو، فتاویٰ میں وسعت دینی چاہیے۔
(بشکریہ ہفت روزہ دعوت، نئی دہلی)
حزب اللہ کے دیس میں (۱)
محمد عمار خان ناصر
انٹر نیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (ICRC) ایک معروف بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا صدر دفتر سوئٹزر لینڈ میں واقع ہے جبکہ سرگرمیوں کا دائرہ پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ ایک غیر جانب دار اور خود مختار ادارہ ہے جسے اقوام عالم کی طرف سے یہ مینڈیٹ دیا گیا ہے کہ وہ جنیوا کنونشنز (۱۹۴۹ء) اور اضافی پروٹوکولز (۱۹۷۷ء) کے مطابق مسلح نزاعات کے متاثرین کے تحفظ اور امداد کے لیے کام کرے۔ جنگ سے متعلق کسی بھی مجموعہ قانون کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک علۃ القتال (jus ad bellum) یعنی یہ بحث کہ اخلاقی طور پر جنگ کی وجہ جواز کیا ہے، اور دوسرے آداب القتال (jus in bello) یعنی وہ اخلاقی حدود وقیود اور قواعد وضوابط جن کی پاس داری جنگ کے دوران میں فریقین پر لازم ہے۔ جدید قانونی اصطلاح میں دوسری نوعیت کے قوانین کو بین الاقوامی انسان قانون (International Humanitarian Law) کا عنوان دیا گیا ہے اور اس کے تحت آنے والے قوانین دو بنیادی اصولوں پر مبنی ہیں: ایک یہ کہ جو اشخاص حالت جنگ میں براہ راست لڑائی میں شریک نہیں یا کسی وجہ سے لڑائی میں حصہ لینا چھوڑ چکے ہیں، انھیں جنگی کارروائی کی زد میں آنے سے محفوظ رکھا جائے اور دوسرا یہ کہ دوران جنگ میں جو ہتھیار، اسالیب اور طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، وہ ایسے ہونے چاہییں جن سے غیر متعلق افراد متاثر نہ ہوں اور جن سے جانی ومالی نقصان ناگزیر حد تک اور کم سے کم ہو۔ ریڈ کراس کا دائرۂ کار آداب القتال سے متعلق ہے اور یہ ادارہ جنگ اور آفت زدہ علاقوں میں متاثرین کی امداد، جنگی قیدیوں کی صورت حال کا جائزہ لینے، جنگوں، قدرتی حادثات یا اجتماعی نقل مکانی کے نتیجے میں گم شدہ افراد کی تلاش اور ان کے اہل خاندان کے ساتھ ان کا رابطہ بحال کرانے اور آفت زدہ علاقوں میں زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم لوگوں تک پانی، خوراک اور طبی امداد پہنچانے کی عملی سرگرمیوں کے علاوہ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطالعہ وتحقیق اور اس کو بہتر سے بہتر بنانے اور عالمی قوانین کو نئے حالات سے ہم آہنگ بنانے کے ضمن میں اپنی تجاویز بھی پیش کرتا ہے۔
اس تنظیم کی بنیاد سوئٹزر لینڈ کے ایک تاجر ہنری دوناں (Henry Dunant) نے رکھی تھی۔ ا س کا پس منظر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ۱۸۵۹ء میں ہنری دوناں کو شمالی اٹلی کے ایک شہر سولفرینو میں آسٹریا اور فرانس کی فوجوں کے مابین ایک معرکے کا براہ راست مشاہدہ کرنے کا موقع ملا اور اس نے دیکھا کہ چند گھنٹوں کے اندر میدان جنگ چار ہزار مقتولوں او رزخمیوں سے بھر گیا ہے۔ ہنری دوناں نے جذبہ انسانیت کے تحت مقامی آبادی سے تعاون کی اپیل کی اور جس حد تک ممکن ہوا، زخمیوں کو فوری طبی امداد پہنچائی گئی۔ اس واقعے کا ہنری دوناں پر اتنا گہر ا اثر ہوا کہ وطن واپس جا کر اس نے ’سولفرینو کی یادیں‘‘ (A Memory of Solferino) کے نام سے اپنے مشاہدات کو ایک باقاعدہ کتاب کی صورت میں شائع کیا اور اس میں یہ تجویز پیش کی کہ ایسی امدادی تنظیمیں قائم کی جانی چاہییں جو دوران جنگ میں زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوں اور ایسی تنظیموں کو بین الاقوامی قانون میں تحفظ فراہم کرتے ہوئے دوران جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے کی سہولت دی جائے۔ ہنری دوناں کی اپیل پر ۱۹۶۳ء میں زخمیوں کی امداد کے لیے ایک بین الاقوامی تنظیم کی بنیاد رکھی جس نے بعد میں انٹر نیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کی شکل اختیار کر لی۔
بین الاقوامی انسانی قانون کے میدان میں انٹر نیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کی متنوع سرگرمیوں میں سے ایک اس قانون کے بارے میں عمومی آگاہی کو فروغ دینے کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف سطحوں پر تربیتی کورسز اور ورک شاپ کا اہتمام کرنا بھی ہے۔ اسی سلسلے کا ایک تربیتی کورس ۲۹؍ مارچ تا ۹؍ اپریل ۲۰۱۰ء لبنان کے دار الحکومت بیروت میں منعقد کیا گیا جو اصلاً عرب ممالک کے قانون دانوں، سفارت کاروں اور تعلیم وذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے لیے تھا، تاہم اس میں پاکستان اور ایران سے بھی چند افراد کو دعوت دی گئی تھی۔ پاکستان سے جانے والے وفد میں وفاق المدارس العربیہ کے جنرل سیکرٹرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، ادارۂ تحقیقات اسلامی اسلام آباد کے شعبہ فقہ کے صدر ڈاکٹر عصمت عنایت اللہ اور راقم الحروف شامل تھے، جبکہ ایران سے جامعہ شہید بہشتی قم کے ایک فاضل استاذ الشیخ ابراہیمی کو مدعو کیا گیا تھا۔ کورس میں متعلقہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے ساٹھ کے قریب افراد شریک تھے جو سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور اسی مناسبت سے تدریس کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے بھی مصر، تیونس، لبنان، مراکش اور سوئٹزر لینڈ سے بین الاقوامی انسانی قانون کے ممتاز ترین ماہرین کو دعوت دی گئی تھی۔
بین الاقوامی انسانی قانون، ریڈ کراس کی سرگرمیوں اور بیروت کے اس تربیتی کورس کی علمی بحثوں سے متعلق آئندہ نشستوں میں ذرا تفصیل سے گفتگو کی جائے گی۔ یہ نشست اس سفر کے ذرا عمومی پہلووں کے لیے خاص رہے گی۔
کورس کے انعقاد کے لیے لبنان کے دار الحکومت بیروت کا انتخاب کیا گیا تھا جو ایک قدیم تاریخی شہر ہے اور اس وقت شرق اوسط کے حساس ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ لبنان کے شمال اور مشرق میں سوریا، جنوب میں اسرائیل جبکہ مغرب میں بحیرۂ روم واقع ہے جسے انگریزی میں Mediterranean Sea اور عربی میں البحر الابیض المتوسط کا نام دیا جاتا ہے۔ ساحل سمندر پر واقع ہونے کی وجہ سے اس علاقے کو تاریخی طور پر بحیرہ روم کے دوسرے کناروں پر آباد تہذیبوں اور بلاد عرب کے مابین ایک نقطہ اتصال کی حیثیت حاصل رہی ہے اور یہاں کا نسلی، ثقافتی اور مذہبی تنوع اسی کی یادگار ہے۔ میسر تاریخی شواہد کے مطابق لبنان میں انسانی بود وباش اور تہذیب کا ثبوت سات ہزار قبل تک ملتا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ علاقہ فینیقی تہذیب کا مرکز رہا ہے جو ۳۰۰۰ قبل مسیح سے تقریباً ۵۰۰ قبل مسیح تک اس علاقے کی ایک متمدن اور ترقی یافتہ تہذیب رہی ہے۔ یونانی فاتح اسکندر اعظم کے حملوں میں فینیقی تہذیب کا نمایاں ترین مرکز ٹائر (Tyre) تباہ ہو گیا۔ اس کے بعد لبنان کی پوری تاریخ مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے طالع آزماؤں اور فاتحوں کی یورش اور تسلط سے عبارت ہے اور یہاں ایرانی، اشوری، یونانی، رومی، عرب، سلجوقی، مملوک، صلیبی اور عثمانی فاتحین یکے بعد دیگرے حملہ آور ہوتے اور حکومت کرتے رہے ہیں۔
ساتویں صدی عیسوی میں جب اسلامی سلطنت دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئی تو اس وقت جزیرۂ عرب کے شمال میں واقع یہ سارا علاقہ جو اب سوریا، فلسطین، اردن، لبنان اور اسرائیل جیسے چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم ہے، مجموعی طور پر بلاد الشام کہلاتا تھا اور اس وقت رومی سلطنت کا حصہ تھا۔ سیدنا عمر کے عہد میں یہ سارا علاقہ اسلامی سلطنت کے زیرنگیں آ گیا اور اسے بے شمار صحابہ وتابعین اور اس کے بعد صدیوں تک اسلامی تاریخ کے بڑے بڑے اکابر کا مولد ومسکن بننے کی سعادت حاصل ہوئی۔ سیدنا علی کے دور میں اسلامی سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی اور حجاز کے بالمقابل شام کا علاقہ سیدنا امیر معاویہ کی امارت میں اموی خلافت کا مرکز قرار پایا اور پھر سیدنا حسن اور سیدنا معاویہ کے مابین صلح کے بعد کم وبیش ایک صدی تک دمشق کو اموی سلطنت کے پایہ تخت کی حیثیت حاصل رہی۔ اموی خلافت کے خاتمے کے بعد یہاں عباسی سلطنت کا پرچم لہرایا گیا اور پھر عباسی سلطنت کے زوال واضمحلال کے زمانے میں مختلف عربی وعجمی خاندان وقتاً فوقتاً یہاں حکومت کرتے رہے۔ سولہویں صدی میں شام کا علاقہ سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں آ گیا اور کم وبیش چار صدیوں تک اسی کا حصہ رہا۔ پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں خلافت عثمانیہ کا تسلط ختم ہونے پر یورپی طاقتوں نے شام کے علاقے کی آپس میں بندر بانٹ کی تو برطانیہ اور فرانس کے مابین باہمی معاہدے کے تحت فلسطین کو برطانیہ جبکہ سوریا کو فرانسیسی انتداب میں دے دیا گیا۔ فرانسیسیوں نے اپنی سیاسی مصلحتوں کے تحت ۱۹۲۶ء میں جبل لبنان اور اس سے متصل علاقے کو سیریا سے الگ ایک مستقل ملک کا درجہ دے دیا اور اس طرح موجودہ لبنان دنیا کے سیاسی نقشے پر نمودار ہوا۔
لبنان اپنے باشندوں کے مذہبی اور ثقافتی تنوع کے اعتبار سے خاصا منفرد ملک بھی ہے اور حساس بھی۔ یہاں چالیس فی صد کے قریب مسیحی، تیس فی صد کے قریب اہل تشیع اور اسی کے لگ بھگ اہل سنت بستے ہیں۔ مسیحیوں میں زیادہ تعداد مارونی کیتھولک مسیحیوں کی ہے جو پانچویں صدی عیسوی کے ایک شامی راہب مارون کی طرف منسوب ہیں اور مذہبی معاملات میں پاپاے روم کی اطاعت کو قبول کرتے ہیں۔ یونانی آرتھوڈوکس دوسرے نمبر پر ہیں اور ان کے علاوہ بھی بہت سے چھوٹے چھوٹے مسیحی گروہ موجود ہیں۔ اہل سنت زیادہ تر شافعی المسلک ہیں، جبکہ اہل تشیع میں اثنا عشریہ کے علاوہ دروز اپنا الگ اور مخصوص مذہبی تشخص رکھتے ہیں اور شام، لبنان، اسرائیل اور اردن میں ایک مستقل مذہبی گروہ کی حیثیت سے منظم ہیں۔ دروز اپنے آپ کو اہل التوحید کہتے ہیں اور ذات باری کے لیے ذات سے الگ صفات کے مستقل اثبات کو توحید اور تنزیہ کے منافی سمجھتے ہیں۔ اس لحاظ سے ان کا کلامی عقیدہ معتزلہ کے بہت قریب ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان میں باطنی تصوف کا بھی ایک گہرا عنصر موجود ہے ، چنانچہ وہ آیات واحادیث کے ظاہری اور لفظی معانی کے علاوہ ان کے ایک خاص باطنی مفہوم کے بھی قائل ہیں جس تک ان مخصوص افراد ہی کی رسائی ہو سکتی ہے جو معرفت اور عرفان کا ایک خاص مقام حاصل کر لیں۔ ایک داخلی تقسیم کی رو سے دروز کمیونٹی دو بڑے حصوں میں تقسیم ہے۔ عوام الناس کو ’جہال‘ کہا جاتا ہے اور پڑھے لکھے افراد کو ’عقال‘۔ ان میں سے ’جہال‘ یعنی عوام کو ’عقال‘ یعنی خواص کے مذہبی لٹریچر تک رسائی کی اجازت نہیں اور نہ وہ ان کے مخصوص مذہبی اجتماعات میں شریک ہو سکتے ہیں۔ ’عقال‘ میں سے بھی زیادہ ممتاز لوگوں پر مشتمل ایک خاص حلقہ ’اجاوید‘ کہلاتا ہے اور اسی حلقے کے لوگ دروز کی مذہبی راہ نمائی کے منصب پر فائز ہوتے ہیں۔
۱۹۴۳ء میں لبنان نے فرانس سے آزادی حاصل کی تو ایک غیر تحریری قومی معاہدے کے تحت یہاں کے سیاسی راہ نماؤں نے مختلف مذہبی گروہوں کے مابین اقتدار کے اشتراک پر مبنی ایک منفرد سیاسی نظام قائم کیا جس کی رو سے یہاں کا صدر مارونی کیتھولک، وزیر اعظم سنی، پارلیمنٹ کا اسپیکر شیعہ جبکہ ڈپٹی اسپیکر یونانی آرتھوڈوکس ہوتا ہے۔ اس وقت میشال سلیمان صدر، سعد رفیق الحریری وزیر اعظم جبکہ نبیہ بری اسپیکر پارلیمنٹ ہیں۔ آزادی کے بعد ۱۹۷۵ء تک لبنان میں عمومی طور پر امن وامان اور خوش حالی کی کیفیت قائم رہی اور خاص طور پر سیاحت، زراعت اور بینکنگ کے شعبوں میں لبنان نے خاصی ترقی کی۔ اس دور میں اسے مشرق کا سوئٹزر لینڈ جبکہ سیاحوں کی کثرت کی وجہ سے شرق اوسط کا پیرس کہا جاتا تھا۔ تاہم ۱۹۷۵ء سے ۱۹۹۰ء تک لبنان مسلم اور مسیحی گروہوں کے مابین شدید تصادم اور خانہ جنگی کا شکار رہا۔ اس پندرہ سالہ خانہ جنگی میں نہ صرف لبنان کی معیشت برباد ہو گئی بلکہ انسانی جانوں اور املاک کا بھی شدید نقصان ہوا۔ ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ لاکھ جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ دو لاکھ کے قریب لوگ زخمی ہوئے اور نو لاکھ کے قریب لوگ بے گھر ہو گئے جو اس وقت لبنان کی آبادی کا پانچواں حصہ بنتا ہے۔ ۱۹۹۰ء میں سعودی عرب کی کوششوں سے متحارب فریقوں کے مابین طائف کے مقام پر ایک معاہدہ ہوا جس کے نتیجے میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا اور امن وامان کی صورت حال بحال ہو گئی۔ تاہم امن وامان کی ظاہری بحالی کے باوجود مذہبی اور نسلی تفریق کا سوال انتہائی حساسیت کے ساتھ بدستور موجود ہے۔
ہمیں صورت حال کی حساسیت کا اندازہ اس سے ہوا کہ ہمارے ساتھ تربیتی کورس میں لبنانی فوج کے ایک حاضر سروس عمید (کرنل) بھی شریک تھے۔ ایک دن چائے کے وقفے میں ڈاکٹر عصمت اللہ نے ان سے فوج میں مسلم مسیحی تناسب کے بارے میں سوال کیا تو وہ نہ صرف طرح دے گئے، بلکہ فوراً کوئی چیز لینے کے بہانے سے ہمارے پاس سے چلے گئے۔ لبنان کے نائب امین الفتویٰ الشیخ طاہر سلیم کردی سے ملاقات کے دوران میں، جس کا ذرا تفصیلی ذکر آگے آئے گا، شیعہ سنی اختلاف کی صورت حال پر بات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ ۲۰۰۶ میں لبنان کے وزیراعظم رفیق الحریری کے قتل کے بعد شیعہ سنی تعلقات میں ایک تناؤ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ بعض حلقوں کی طرف سے رفیق الحریری کے قتل میں حزب اللہ کے ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ہم نے پوچھا کہ کیا آپ کے خیال میں حزب اللہ ملوث ہے تو انھوں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے، بلکہ ہم عوامی سطح پر اس مسئلے پر گفتگو کرنا بھی پسند نہیں کرتے کیونکہ اس سے تناؤ اور کشیدگی کو ہوا ملنے کا خدشہ ہے۔
یہاں کی ایک نہایت ذمہ دار شخصیت نے رازداری کی شرط پر ہمیں یہ بات بتائی کہ کچھ عرصہ قبل کچھ عرب شیوخ نے، جو ہر سال گرمی کے موسم میں سیاحت کی غرض سے لبنان آتے ہیں اور ایک ایسے علاقے میں ٹھہرتے ہیں جہاں مسیحی آبادی کی اکثریت ہے، اس بات کی کوشش کی کہ وہاں ایک مسجد تعمیر کر دی جائے۔ مقامی مسیحیوں کو پتہ چلا تو انھوں نے یہ کہہ کر اس میں رکاوٹ ڈال دی کہ یہاں مسلمان سرے سے آباد ہی نہیں، اس لیے مسجد کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد ان عرب شیوخ نے لبنان کے مذہبی راہ نماؤں سے رابطہ کیا اور ہمیں یہ بات بتانے والی شخصیت نے کہا کہ وہ اس میٹنگ میں موجود تھے جس میں لبنان کے مفتی عام اور ان شیوخ کے مابین باقاعدہ یہ منصوبہ طے پایا کہ مسیحیوں کے اس علاقے میں مسلمانوں کے لیے ایک مکان خریدا جائے اور پھر مناسب موقع پر پوری تیاری کے ساتھ ساتھ راتوں رات وہاں مینار کھڑا کر کے اسے مسجد کی حیثیت دے دی جائے تاکہ اس کے بعد اگر مسیحی اسے گرانا چاہیں تو مسلمان اشتعال میں آ جائیں اور خانہ جنگی کی صورت دوبارہ لوٹ آئے۔ اس شخصیت نے کہا کہ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ کچھ ایسے اسباب پیدا ہو گئے کہ ان عرب شیوخ کا یہاں آنا جانا بند ہو گیا اور یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا، ورنہ کچھ خبر نہیں کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا۔ مجھے اس پر کسی بزرگ کا وہ تبصرہ ذہن میں آ گیا جو والد گرامی نے ایک موقع پر سنایا تھا کہ ’’تیل کا پیسہ ہے۔ جہاں جائے گا، آگ ہی لگائے گا۔‘‘
اس شدید فرقہ وارانہ کشیدگی کے اثرات یہاں کے تمام سیاسی معاملات پر بہت نمایاں ہیں۔ مثال کے طور پر ۱۹۴۸ء کی عرب اسرائیل جنگ میں جو ایک لاکھ کے قریب فلسطینی مسلمان ہجرت کر کے لبنان آ گئے تھے اور جنھیں جنگ ختم ہونے کے بعد اسرائیل نے واپس قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، ان کو اور ان کی اگلی نسل کو آج بھی لبنان کی شہریت حاصل نہیں ہے اور ادارہ جاتی سطح پر ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے، چنانچہ ۲۰ شعبوں میں فلسطینیوں کے لیے ملازمت کرنا ممنوع ہے۔ اب ان فلسطینی مہاجروں اور ان کی اگلی نسل کی تعداد چار لاکھ تک پہنچ چکی ہے جن میں سے نصف کے قریب مہاجر کیمپوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اسی طرح یہاں کے قانون کے مطابق کوئی لبنانی خاتون جس نے کسی غیر لبنانی مرد سے شادی کی ہو، اپنے بچوں کو لبنانی شہریت منتقل نہیں کر سکتی اور لبنان کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں بعض مقدمات میں اس قانون کی ازسرنو توثیق کی ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی بتائی جاتی ہے کہ اگر غیر لبنانی شوہروں کے بچوں کو لبنانی شہریت دی گئی تو مذہبی اور نسلی اعتبار سے یہاں کی آبادی کا موجودہ تناسب بدل سکتا ہے جس کے اثرات مستقبل میں سیاسی سیٹ اپ پر بھی لازماً پڑیں گے۔
بیروت شہر دو اطراف سے بلند وبالا پہاڑوں اور ایک سے طرف سمندر کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ کسی بلند مقام سے شہر کا نظارہ کیا جائے تو ایک دل فریب منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ پہاڑوں کے اوپر سے مکانات اور عمارتوں کی صورت میں انسانی آبادی ایک تسلسل کے ساتھ نیچے اترتی ہوئی ساحل سمندر کے ساتھ آکر مل جاتی ہے۔ ایئر پورٹ بھی بالکل ساحل کے ساتھ تعمیر کیا گیا ہے اور جب بیروت کی طرف آنے والا جہاز سمندر کے اوپر اڑتا ہوا نیچے اترنے کے لیے زمین کے قریب ہونا شروع ہوتا ہے تو آخر وقت تک یہی محسوس ہوتا ہے کہ شاید جہاز سمندر میں ہی اترنے والا ہے۔ لبنان اپنے خوب صورت سیاحتی مقامات کے لیے پوری دنیا میں معروف ہے اور خاص طور پر بیروت اور اس کے گرد ونواح میں عالمی شہرت کے حامل سیاحتی مقامات موجود ہیں۔ تربیتی کورس کے منتظمین کی طرف سے ۴؍ اپریل اتوار کا دن سیاحت کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔ اس دن ہم نے مغارۃ جعیتا، مقدسہ مریم کا کنیسہ اور جبیل کے علاقے میں قدیم تاریخی شہرکے کھنڈر دیکھے۔
مغارۃ جعیتا (Jeita grottos) بیروت کے شمال میں ۱۸ کلو میٹر کے فاصلے پر تاریخی دریاے کلب کی وادی میں واقع ہے اور اسے بجا طور پر لولوۃ السیاحۃ اللبنانیۃ (Jewel of tourism in Lebanon) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا غار ہے جس میں لاکھوں سال کے کیمیاوی عمل سے پتھروں اور چٹانوں نے نہایت حیرت انگیز اور شان دار قدرتی آرٹ کے نمونوں کی شکل اختیار کر لی ہے۔ انسان انھیں دیکھ کر فی الواقع حیرت سے دنگ رہ جاتا ہے اور قدرت کی صناعی اسے تبارک اللہ احسن الخالقین کا ورد کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ مغارۃ جعیتا کو سیاحوں کے لیے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہاڑ کی بلندی پر واقع حصے میں غار کے بیچوں بیچ سلیقے سے ایک پختہ راستہ بنایا گیا ہے جو غار کے آخر تک چلا جاتا ہے اور سیاح اس راستے سے گزرتے ہوئے دائیں بائیں، اوپر اورنیچے قدرتی صناعی کے حیرت انگیز نمونوں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ غار کے نچلے حصے میں دریاے کلب کا ایک حصہ بہتا ہے۔ اس حصے کی سیاحت کے لیے کشتیوں کا انتظام کیا گیا ہے اور سیاح ٹھنڈے اور شفاف پانی میں مختلف کھلی اور تنگ جگہوں سے گزرتے ہوئے قدرت کی کاری گری کے نمونوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ۱۸۳۶ء میں تھامسن نامی ایک مسیحی مناد نے غار کے زیریں حصے کو دریافت کیا تھا جسے ۱۹۵۸ء میں عام لوگوں کی سیاحت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ پھر ۱۹۵۸ء میں ہی زیریں غار سے راستہ بناتے ہوئے غار کے بالائی حصے کو بھی دریافت کر لیا گیا اور ۱۹۶۹ء میں مناسب انتظامات کے بعد اسے بھی عام سیاحت کے لیے کھول دیا گیا۔ غار میں مصنوعی روشنی کا مناسب انتظام کیا گیا ہے۔ مختلف مقامات پر چھت اور دیواروں سے قدرتی طور پر پانی ٹپک رہا ہے اور غار کے اندر کا موسم مجموعی طور پر ٹھنڈا اور خوش گوار ہے۔ بالائی غار کا درجہ حرارت سارا سال ۲۲ سنٹی گریڈ جبکہ زیریں غار کا ۱۶ سنٹی گریڈ رہتا ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے غار کے اندر تصویر کشی ممنوع ہے اور سیاحوں کے موبائل یا کیمرے وغیرہ اندر داخل ہونے سے پہلے لے لیے جاتے ہیں، تاہم یاد پڑتا ہے کہ اکا دکا افراد نظر بچا کر موبائل اندر لے جانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ انٹر نیٹ کی بعض ویب سائٹس پر اس کی کچھ تصاویر جبکہ یو ٹیوب پر مختصر ویڈیو کلپس میسر ہیں۔ غار کے قریب جگہ جگہ ایسے سائن بورڈ آویزاں ہیں جن پر سیاحوں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ انٹر نیٹ پر ان غاروں کو دنیا کے سر فہرست عجائب میں شامل کرنے کے حق میں ووٹ دیں۔
مغارۃ جعیتا کے بعد ہمیں مقدسہ مریم کے کنیسہ میں لے جایا گیا جو سمندر کے کنارے ایک بلند وبالا پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے۔ یہاں گرجے کی چھت پر سیدہ مریم کا ایک دیو ہیکل مجسمہ نصب کیا گیا ہے۔ مسیحی حضرات یہاں دعا ومناجات کے لیے آتے ہیں جبکہ عمومی طور پر اسے ایک سیاحتی مقام کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ یہ ایک وسیع کمپلیکس ہے جس میں گرجے کی عمارت کے علاوہ لائبریری، سیاحتی یادگاروں (souvenirs) اور مسیحی مذہبی کتب اور سی ڈیز کی دوکانیں بھی موجود ہیں۔ میں نے بھی یہاں سے کتاب مقدس سے متعلق بعض معلوماتی کتب اور سی ڈیز خریدیں۔
ہمارے سیاحتی دورے میں تیسرا اور آخری مقام جبیل کا علاقہ تھا جو آثار قدیمہ کی بعض تاریخی یادگاروں کے حوالے سے معروف ہے۔ جبیل، بیروت سے ۳۷ کلو میٹر کے فاصلے پر شمال میں بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع ہے اور پانچ ہزار قبل مسیح پرانا مانا جاتا ہے۔ یونانیوں نے اس کا نام Babylos یعنی کتابوں کا گھر رکھا تھا۔ یہاں قدیم شہر کی گلیوں بازاروں، محلات اور عبادت گاہوں کے کھنڈر موجود ہیں۔ یہاں قائم کیے گئے میوزیم میں اس شہر کے آخری بادشاہ احیرام کے دور کا ایک کتبہ محفوظ ہے جس پر فینیقی زبان کی عبارت کندہ ہے۔ اس کے علاوہ مختلف تختیوں پر ان کھدائیوں کی تفصیل درج ہے جو مختلف اوقات میں اس شہر میں ہوتی رہیں۔ یہاں وہ بندرگاہ بھی موجود ہے جسے دنیا کی قدیم ترین بندرگاہ مانا جاتا ہے اور جو دو ہزار قبل مسیح میں فینیقیوں اور مصر اور یونان کے شہروں کے مابین تجارت کا مرکز تھی۔ ازمنہ وسطیٰ میں یہاں ایک قلعہ بھی تعمیر کیا گیا۔ قلعے کے ساتھ ہی جبیل کا قدیم بازار آباد ہے جہاں ملبوسات، زیورات اور مختلف مجسموں کی صورت میں سیاحوں کے لیے یادگاری چیزیں میسر ہیں۔ اس علاقے میں مارونی مسیحی اکثریت میں ہیں، جبکہ دس گیارہ فیصد شیعہ آباد ہیں۔ لبنان کے موجودہ صدر العماد میشال سلیمان کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔
اس طرح ۴؍ اپریل کا یہ سارا دن کسی آرام کے بغیر مسلسل سفر کرتے گزرا اور ہم شام کو مغرب کے بعد ہوٹل واپس پہنچے، لیکن تھکن کا احساس بالکل نہیں ہوا بلکہ سب دوستوں کا تاثر یہ تھا کہ یہ سیاحت واقعتا بے حد پرلطف رہی۔
مذکورہ مقامات کی سیاحت کے علاوہ ہمیں خاص بیروت کے کچھ حصے دکھانے اور بعض اہم ملاقاتیں کروانے کا اہتمام یہاں کے ایک بے حد مہربان دوست نوجوان عارف حسین نے کیا جن سے سے رابطہ کر کے انھیں بلوانے کی خدمت قاری محمد حنیف جالندھری صاحب نے انجام دی۔ عارف حسین بیروت میں اپنا کاروبار بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مذہبی اور دعوتی سرگرمیوں میں بھی پوری طرح شریک رہتے ہیں۔ نہایت فصیح اور عمدہ عربی بولتے ہیں اور ان کا چہرہ مہرہ اور بالوں کا اسٹائل دیکھ کر سیدنا مسیح علیہ السلام کا وہ نقشہ ذہن میں آ جاتا ہے جو مسیحی حضرات کے ہاں تصویروں اور مجسموں میں دکھایا جاتا ہے۔ عارف حسین سب سے پہلے ہمیں جامع العمری الکبیر میں لے گئے جہاں ہم نے عصر کی نماز ادا کی۔ یہ ایک عظیم الشان مسجد ہے اور تقریباً ایک ہزار سال قبل بڑے بڑے پتھروں سے تعمیر کی گئی اس کی عمارت اصل حالت میں اب بھی قائم ہے۔ مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے اس کے تاریخی تعارف پر مبنی ایک مختصر کتابچہ ہمیں فراہم کیا گیا۔ اس کے مطابق ۱۴ ہجری (۶۳۵ عیسوی) میں جب سیدنا عمر کے زمانے میں بیروت فتح ہوا تو اس جگہ ایک مسجد تعمیر کی گئی تھی جس کا نام تکریماً مسجد عمری رکھا گیا۔ صلیبی جنگوں کے دور میں جب یہ علاقہ مسیحیوں کے قبضے میں آیا تو انھوں نے اس مسجد کو گرجے میں تبدیل کر دیا۔ پھر ۵۸۳ھ (۱۱۸۷ عیسوی) میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیروت کو دوبارہ فتح کیا تو اس کو دوبارہ مسجد کی حیثیت سے بحال کر دیا گیا۔ اس کے دس سال بعد مسیحی دوبارہ بیروت پر قابض ہوئے تو یہ مسجد پھر گرجا بن گئی۔ اس کے بعد ممالیک کے عہد میں ۶۹۰ھ (۱۲۹۱ عیسوی) میں مسلمانوں نے اس شہر اور مسجد کو دوبارہ حاصل کیا، لیکن پوری عمارت کو ازسرنو تعمیر کرنے کے بجائے جزوی ترمیمات کے ساتھ گرجے ہی کی عمارت کو برقرار رکھا، چنانچہ آج بھی گرجے کی طرز پر بڑے بڑے ستونوں پر قائم ایک بڑا اور لمبا سال ہال ہے جس میں قالین نما مصلے بچھا کر نماز ادا کی جاتی ہے۔
اس مسجد کو جامع عمری کے علاوہ جامع التوبہ اور جامع النبی یحییٰ علیہ السلام بھی کہا جاتا ہے۔ مسجد کے محراب کے ساتھ ایک بڑا سا آہنی دروازہ ہے جس کے پیچھے بعض تاریخی روایات کے مطابق حضرت یحییٰ علیہ السلام کے جسد مبارک کا ایک حصہ مدفون ہے۔ اس روایت کی صحت کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے، کیونکہ حضرت یحییٰ کی ایک قبر دمشق میں بھی ہے۔ بہرحال ترکی کے سلطان عبد الحمید نے ۱۳۰۵ھ (۱۸۸۷ عیسوی) میں اس حصے کے آگے جہاں عام روایت کے مطابق حضرت یحییٰ کے جسد مبارک کا کوئی حصہ مدفون ہے، ایک مضبوط آہنی دروازہ نصب کروا دیا تھا جو آج بھی موجود ہے۔ مسجد ہی سے متصل ہم نے وہ حجرہ بھی دیکھا جہاں تاریخی روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ موے مبارک ایک صندوق میں محفوظ رکھے گئے تھے اور لوگ ان کی زیارت کیا کرتے تھے۔ یہ صندوق ۱۹۷۵ء کی خانہ جنگی کے دوران یہاں سے گم ہو گیا۔ مسجد کے ساتھ ہی چند قدم کے فاصلے پر مسیحیوں کا ایک بہت بڑا گرجا قائم ہے اور ارد گرد خوب صورت اور عالی شان تجارتی عمارتیں موجود ہیں۔ عارف حسین نے بتایا کہ خانہ جنگی کے زمانے میں یہ پورا علاقہ مکمل طور پر تباہ وبرباد ہو کر کھنڈر کی صورت اختیار کر گیا تھا، لیکن موجودہ صورت میں اس علاقے کو دیکھ کر کوئی شخص اس بات کا اندازہ نہیں کر سکتا۔
بیروت کے سفر میں دلچسپی کا ایک بہت بڑا باعث یہاں کے وہ اشاعتی ادارے بھی تھے جو عالم اسلام کے علمی حلقوں میں مشہور ومعروف ہیں۔ دار الفکر، دار العلم للملایین، دار احیاء التراث العربی، دار البشائر، دار ابن حزم وغیرہ بڑے بڑے اشاعتی اداروں کا مرکز یہیں پر ہے۔ ہمارا تاثر یہ تھا کہ ان اشاعتی اداروں کی جو شہرت اور تعارف پورے عالم اسلام میں ہے، بیروت میں تو یقیناًہوگی اور ہر پڑھا لکھا آدمی ان سے واقف ہوگا، لیکن یہ محض تاثر ہی تھا۔ ہم کافی دن تک ہوٹل کے کارکنوں اور تربیتی کورس کے شرکا سے مختلف مکتبوں کا نام لے کر معلوم کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ وہ کہاں واقع ہیں اور وہاں تک جانے کی کیا صورت ہو سکتی ہے، لیکن کوئی ہماری داد رسی نہ کر سکا۔ بہرحال عارف حسین سے رابطہ ہوا تو ہم نے ان سے خاص طور پر درخواست کی کہ وہ ہمیں یہاں کے چند مکتبے بھی دکھائیں، تاہم وقت کی قلت کی وجہ سے وہ ہمیں صرف دار البشائر کے گودام میں لے جا سکے۔ یہ گودام متوسط قسم کے علاقے کی ایک مناسب سی عمارت کے تہہ خانے میں قائم ہے۔ وقت کم تھا۔ ہم نے تقریباً ایک گھنٹہ یہاں مختلف کتابیں دیکھتے ہوئے گزارا اور جیب جس قدر اجازت دیتی تھی، اس کے لحاظ سے اپنی دلچسپی کی کچھ کتابیں بھی منتخب کیں۔ بہت احتیاط سے انتخاب کرنے کے باوجود میرے پاس بیس پچیس کتابیں جمع ہو گئیں۔ ادھر ریڈ کراس نے بھی بین الاقوامی انسانی قانون سے متعلق آٹھ دس تعارفی اور دستاویزاتی کتب کا سیٹ کورس کے شرکا کو عنایت کیا تھا۔ ان سب کتابوں کو جمع کر کے ایک ڈبے میں ڈالا تو اچھا خاصا وزن بن گیا، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ واپسی پر ایئر پورٹ پر کوئی مشکل پیش نہیں آئی اور سامان کی چیکنگ کرنے والے عملے نے کتابوں سے بھرا ہوا کارٹن دیکھ کر احترام سے فوراً آگے جانے دیا۔
بیروت میں اسلامی تاریخ کے عظیم فقیہ امام اوزاعی کا مرقد بھی ہے جو ان کے نام پر قائم محلہ اوزاعی میں واقع ہے۔ ہماری بہت خواہش تھی کہ امام صاحب کی قبر پر ضرور حاضری دی جائے، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ عارف حسین نے بتایا کہ امام صاحب کی قبر ایک خاص احاطے میں واقع ہے جسے غالباً شام چار بجے کے بعد بند کر دیا جاتا ہے، اس لیے اگر قبر کی زیارت مقصود ہو تو دن کو کسی وقت جانا پڑے گا، لیکن ٹریننگ کورس کے سیشن دن بھر جاری رہنے کی وجہ سے ہمارا دن کو نکلنا ناممکن تھا، سو یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ امام اوزاعی کو اس خطے کے مسیحیوں کے ہاں خاص احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ تاریخی طورپر یہ ہے کہ امام اوزاعی کے زمانے میں جبل لبنان میں مقیم مسیحیوں میں سے کچھ لوگوں نے بعبلبک کے افسر محصولات سے کسی شکایت کی بنا پر بغاوت کر دی۔ مسلمان حاکم صالح بن علی بن عبد اللہ نے ان میں سے شر پسند عناصر کی سرکوبی کے بعد آئندہ اس قسم کے واقعات سے بچنے کے لیے اس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو، جن کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا، وہاں سے جلا وطن کر دیا۔ (بلاذری، فتح البلدان، ص ۱۶۹) اس پر امام اوزاعی نے اسے تفصیلی خط لکھا جس کا کچھ حصہ امام ابوعبید نے اپنی کتاب ’’الاموال‘‘ میں نقل کیا ہے۔ امام صاحب نے فرمایا:
’’جبل لبنان کے جن اہل ذمہ کو جلا وطن کیا گیاہے، ان کے بغاوت کرنے پر ساری جماعت متفق نہیں تھی، اس لیے ان میں سے ایک گروہ کو (جس نے بغاوت کی) قتل کرو اور باقی لوگوں کو ان کی بستیوں کی طرف واپس بھیج دو۔ کچھ افراد کے عمل کی پاداش میں سارے گروہ کو کیونکر پکڑا جا سکتا اور انھیں ان کے گھر بار اور اموال سے بے دخل کیا جا سکتا ہے؟ .... یہ لوگ غلام نہیں ہیں کہ تمھیں ان کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے کی آزادی حاصل ہو۔ وہ آزاد اہل ذمہ ہیں (جو بہت سے قانونی حقوق اور ذمہ داریوں میں ہمارے برابر ہیں، مثلاً) ان میں سے کوئی شادی شدہ فرد زنا کرے تو اسے رجم کیا جاتا ہے اور ان کی جن عورتوں سے ہمارے مردوں نے نکاح کیا ہے، وہ دنوں کی تقسیم اور طلاق وعدت میں ہماری عورتوں کے ساتھ برابر کی شریک ہوتی ہیں۔‘‘ (الاموال، ص ۲۶۳، ۲۶۴)
یہ واقعہ پڑھ کر میرے دل میں حسرت سی پیدا ہوئی کہ کاش ہمارے آج کے مذہبی راہ نما بھی محض سیاسی ضرورتوں کے لیے نہیں، بلکہ حقیقی اسلامی جذبے سے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی آواز بلند کرنے کو اپنی ذمہ داری سمجھیں تو :
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے
(جاری)
ایک تحریک بغاوت کی ضرورت
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ
محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد امین کا مضمون الشریعہ کے اپریل ۲۰۱۰ء کے شمارے میں دیکھا تو بڑی الجھن ہوئی۔ دقت یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب سے پرانی یاد اللہ ہے۔ وہ سید مودودی کے فکری حلقے سے متعلق ہیں۔ غامدی صاحب کے ساتھ بھی ان کو بحث کرتے دیکھا۔ سید مودودی نے انقلاب کی جو چنگاری ان کے ذہن میں سلگا دی، وہ ابھی تک سرد نہیں ہوئی۔ وہ تعلیم و تدریس کے شعبہ سے متعلق ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس شعبے میں ان کی کارکردگی غیر معمولی ہو، مگر سید کے حلقے میں فکری اور عملی لحاظ سے انہیں قبولیت نصیب نہیں ہوئی۔ لہٰذا وہ نوابزادہ نصراللہ کی طرح اتحادی ذہن کو بروے کار لانے کی جانب مائل ہوئے۔ اس کے لیے ان کے سامنے سید کے حلقے سے وابستگان کی ٹکڑیاں تھیں مگر ان ٹکڑیوں نے ان کو میزبانی کی حیثیت دینے سے انکار کر دیا۔ اس پس منظر سے نکل کر انہوں نے موجودہ مضمون تحریر کیا۔ مضمون کا عنوان ہے: ’’ایک نئی دینی تحریک کی ضرورت‘‘۔
عنوان سے ’’ایک صالح جماعت کی ضرورت‘‘ کی نقالی کا تاثر واضح ہے۔ اسی طرح کی نقالی کا مظہر ڈاکٹر فاروق خان کی کتاب ’’ایک نئی سیاسی جماعت کی ضرورت‘‘ کے عنوان میں بھی ہے۔ نقالی کے مظاہر جماعت اسلامی، تنظیم اسلامی، تحریک اسلامی کے ناموں کے اختیار کرنے میں واضح ہیں۔ ان جماعتوں کے دساتیر کو دیکھا جائے تو وہ جماعتی دستور کا بہت کمزور چربہ ہیں۔ کہیں تخلیقی اور اجتہادی بصیرت نظر نہیں آتی۔ ان میں اسلامی جمعیت طلبہ کے دستور سے بھی زیادہ کمزور نقالی پائی جاتی ہے۔ محترم ڈاکٹر امین صاحب، میری طرح،اپنے قلب و ذہن میں ساری عمر انقلاب کی آرزو پالتے رہے۔ ہر قدم پر شکست کی مایوسیوں نے گہرے صدمے دیے، اس کے باوجود انقلاب کی آرزو کو مرنے نہیں دیا۔ تازہ صورت یہ ہے کہ اسے زندہ رکھنے کے لیے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا ہوا ہے۔ اوکسیجن، گلو کوز اور مصنوعی خون کے سہارے فراہم کرنے کا پورا اہتمام کر رکھا ہے۔ محترم جناب ڈاکٹر محمد امین کا تازہ مضمون پڑھ کر ان کی سخت جانی کی داد دینا پڑتی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم اپنی صلاحیت، اوقات اور حالات کار کو پہچانے بغیر ایسی پرواز پر مائل ہو جاتے ہیں جس کے لیے ہمارے مصنوعی تصورات بھی ہمارا ساتھ نہیں دیتے۔ در اصل نقال ذہنیت جب مفکرانہ مقام پر فائز ہونے کی کوشش کرے تو ایسے لطیفے سر زد ہو جاتے ہیں۔ دینی جماعتوں کے مایوس کن کردار اور کارکردگی سے صرف نظر کر کے انتخابی کشا کش سے عافیت کی بنیاد پر، دینی تحریک کی ضرورت پر ذہنی قوتوں کو صرف کر کے مضامین تو طویل سے طویل لکھے جا سکتے ہیں، مگر معاشرے میں کسی تبدیلی کا خواب نہیں دیکھا جا سکتا۔ حالات کا اندازہ زمینی حقائق کی روشنی میں قائم کیا جائے تو یہ امر واضح ہے کہ روایتی یا نیم روایتی، کسی طرح کی تنظیم یا تحریک کی محترم ڈاکٹر امین صاحب ضرورت پیش نہیں کر سکے۔
اچنبھے کی بات یہ ہے کہ انقلاب کی آرزو بھی کی جاتی ہے اور مداہنت کو بطور پالیسی، اعلان کر کے اختیار کیا جائے۔ انقلابی سوچ کا تقاضا تو یہ ہے کہ دین و سیاست کے نام پر آج تک کے کرداروں کا بھرپور تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ ان کی کامیابیوں و ناکامیوں کا میزان تیار کیا جائے۔ کردار و بد کرداریوں کا پورا محاکمہ کیا جائے۔ بالکل اسی طرح جس طرح سید مودودی نے خلافت و ملوکیت میں تاریخ پر نقد کیا۔ یہی نہیں، سید مودودی نے ایک صالح جماعت کے قیام کی ضرورت سے پہلے بر صغیر کی سیاسیات کا کتنا بھر پور جائزہ پیش کیا، محترم ڈاکٹر امین صاحب اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش ‘‘ کے عنوان کے تحت طویل سلسلہ ہاے مضامین جماعت کے قیام کا پس منظر تھا۔ جناب غامدی صاحب نے بھی ایک دور میں انصار المسلمون قائم کی۔ اس سے پہلے انہوں نے جماعت اسلامی، فکر پرویز، تبلیغی جماعت غرض کم و بیش دینی حوالے سے کام کرنے والی ہر تحریک کا بھر پور جائزہ پیش کیا۔ قاضی حسین احمد کے اسلامک فرنٹ میں بھی شامل ہوئے، مگر آخر کار المورد کے ذریعے تحقیقی اور دعوتی سرگرمیوں کے لیے اپنے آپ کو مخصوص کر لیا۔ یہاں بھی ان کا دعویٰ احقاق حق ہے۔اپنی اس حیثیت کو وہ کس حد تک بر قرار رکھ سکے ہیں، یہ اس مضمون کا موضوع نہیں۔ محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کا دینی جماعتوں اور تحریکوں کے ماضی کے کردار سے صرف نظر کر کے کسی تحریک کی ابتدا کی دعوت دینا اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر صاحب اپنے مضمون میں ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں:
’’اس ملک میں کئی دینی سیاسی جماعتیں اسلامی حوالے سے سیاست کے میدان میں کام کر رہی ہیں اور بہت سی دعوی و اصلاحی تحریکیں، تنظیمیں اور ادارے دعوتی واصلاحی میدان میں کام کر رہے ہیں۔ مجوزہ نئی تحریک ان میں سے کسی کی حریف نہیں ہو گی اور تنقید اور ان کی تنقیص نہیں کرے گی، بلکہ تحریک کا ماٹو سب کے لیے محبت اور ہر خیر سے تعاون ہو گا۔‘‘ (الشریعہ اپریل ۲۰۱۰ء، ص ۳۷)
محبت کے نام پر مداہنت کی یہ معراج اور پھر انقلاب کی آرزو،
خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھیے
باقی مضمون میں وہ روایتی انداز فکر سے کچھ بھی ہٹے بغیر وہ سب کچھ کہتے ہیں جو سید مودودی کے حلقے کے لوگ کہتے ہیں۔ پھر اس تناظر میں انقلابی فکر اختیار کرنا بے جوڑ ہے۔ مولانا مودودی علیہ الرحمہ بلا شبہہ انقلابی رجحانات رکھتے تھے، مگر انہوں نے ان رجحانات کو ایک طرف رکھ کر، روایتی فکر اور اقدامات کی راہ اختیار کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے جو طاقت جمع کی، وہ دین کی بنیاد پر تھی۔ دینی مزاج کے لوگ ہی ان کے گرد جمع ہوئے۔ ان میں انقلابی فکر راہ نہیں پا سکتی تھی۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ دینی جذبے کی بنیاد پر قائد اعظم نے ایک مملکت کے حصول میں کامیابی حاصل کر لی ہے، لہٰذا انہوں نے بھی اسی جذبے کو کیش کرانے کی حکمت عملی اختیار کی۔
یہ سب کچھ اپنی جگہ ٹھیک ہو سکتا تھا، مگر انہوں نے اپنی انتہائی طاقت ور تحریروں کے ذریعے بر صغیر کے دینی ٹیلنٹ کو اپنے گرد جمع کیا۔ اس طرح جو طاقت جمع ہوئی، اسے تحریکی اور انقلابی بنیاد فراہم کرنے کے بجائے ایک ایسے طاقت ور جمودی ڈھانچے پر متفق کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کے جمود کو آج ستر سال گزرنے کے بعد بھی کوئی توڑ نہیں سکا۔ مولانا علیہ الرحمہ انتہائی پڑھے لکھے شخص تھے۔ جدید و قدیم دینی و دنیاوی لٹریچر پر ان کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ میری ذہنی و تربیتی تشکیل ان کے لٹریچر اور شخصیت کا نتیجہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مجھے آزادی فکر دی ہے۔ انہوں نے مجھے حاضر و موجود سے بے نیاز بلکہ مکمل طور پر بیزار بنایا۔ اس سے بغاوت پر آمادہ کیا۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ سید علیہ الرحمہ انقلابی حکمت عملی کیوں نہ دے سکے۔ میں نے اس کی وجہ یہی سمجھی ہے کہ انہوں نے انقلاب کی جدید حکمت عملی کے مطالعے کے باوجود اس کے عملی تقاضوں اور افادیت کا ضروری احساس نہیں کیا۔ اس کے لیے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ انقلاب کو بنیاد بنانے کا دعویٰ کیا۔ ان کی تمام تر کوشش دین سے وابستگی کے جذبے کو کیش کرانے کی تھی ۔ انہوں نے قائد اعظم کی پر امن، آئینی اور قانونی جد و جہد سے استفادہ کیا۔ کانگریس اور جمعیت علماے ہند اور مسلم لیگ کے فکری اور عملی پہلوؤں پر حالات کے تناظر میں شدید تنقید کی۔ اس سے انہوں نے اپنا قد، اپنے تئیں قائد اعظم سے بھی بلند کر لیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ قومی سطح پر اپنے آپ کو قائد اعظم کے مرتبے پر فائز کرنے کی تیاری کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ اس خوش فہمی میں تھے کہ قائد اعظم کے بعد مسلم لیگ کے کھوٹے سکوں کو قوم مسترد کر دے گی اور ان کو قائد اعظم تسلیم کر لیا جائے گا۔ اس طرح وہ اسلامی انقلاب کا راستہ صاف طور پر دیکھ رہے تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے تیز رفتاری اور جلد بازی سے کام لیا۔ ان کے برابر کے ساتھی اس تیز رفتاری میں ان کا ساتھ نہیں دے سکتے تھے۔ چنانچہ جماعت کے قیام کے بعد دو سال کے اندر ہی وہ بہت سے گراں قدر ساتھیوں سے محروم ہو گئے۔ ساتھیوں کی محرومی کے بعد، وہ تنہائی کا احساس کرنے کے بجائے زیادہ طاقتور ہو کر بڑے سے بڑے چیلنجوں کو عبور کرنے پر میدان میں اتر آئے۔
قیام پاکستان کے فوراً بعد اسلامی دستورکے مطالبے کے لیے ان کی عوامی سطح پر مہم بڑی موثر تھی۔ ملک میں زبردست فضا قائم ہوئی۔ ۱۹۵۳ء کے انتخابی معرکے میں انہوں نے ایک ایسی انتخابی حکمت عملی اختیار کی جو واقعتا ہمارے معاشرے کے لحاظ سے بے مثال اور انتہائی موثر تھی۔ میں آج بھی اس کے محاسن یاد کر کے جھوم جاتا ہوں۔ اس سکیم کا پہلی بار تجربہ کچھ زیادہ خوش گوار نہیں تھا۔ نتائج کا جائزہ شروع ہوا تو جماعت میں توڑ پھوڑ کا عمل شروع ہو گیا۔ توڑ پھوڑ کا یہ عمل مولانا کی جلد بازی اور زمینی حقائق کے ادراک میں کمی کا نتیجہ تھا۔ جماعت کا جمودی ڈھانچہ جائزاتی عمل کا متحمل ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ اس سے اندرونی کھچاؤ کی جو صورت پیدا ہوئی، اس کے نتیجے میں جماعت میں مولانا کی برابری کا دعویٰ رکھنے والے آخری شخص، جناب امین احسن اصلاحی بھی جماعت سے باہر ہوگئے یا اس پر مجبور کر دیے گئے۔ مولانا مودودی نے اس کو جماعت کی قوت میں کمی کے بجائے اضافہ کے طور پر قیاس کیا۔انہوں نے جم کر اختلاف کرنے والی اس شخصیت سے نجات پا کر سکھ کا سانس لیا۔ ان کو جماعت سے باہر کا راستہ دکھانے کے لیے انہوں نے امارت جماعت سے استعفیٰ دے کر اسے خوب پھیلایا۔ ساتھ ہی یہ اصرار بھی پریس کے ذریعے پھیلایا گیا کہ وہ کسی قیمت پر اپنا ستعفیٰ واپس نہیں لیں گے۔ اس طرح کے ماحول اور فضا پیدا کر کے ماچھی گوٹھ کا اجتماع طلب کیا گیا۔ ارکان استعفیٰ سے سخت مشتعل تھے۔ وہ مولانا سے اختلاف کرنے والوں کو سکون و اطمینان سے سننے کے تیار نہ تھے۔ اس کے نتیجے میں اصلاحی صاحب اور ان کے ساتھیوں نے جماعت سے علیحدگی کی راہ اختیار کر لی۔ اسے فکری جمود کی طاقت و تاثیر قرار دینے کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں ۱۹۵۳ء کی انتخابی سکیم کو یکسر نظر انداز کر کے بغیر کسی اصول اور حکمت کے ہر انتخابی معرکے میں اترے۔ یہ معرکے چالیس پچاس سال پر محیط ہیں۔ ان معرکوں میں کامیابیوں اور ناکامیوں کا سنجیدہ جائزہ لینے کی کبھی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔ جماعت کے لیے ۱۹۵۳ء کا جائزہ ہی اتنا جان لیوا ثابت ہوا کہ بعد ازاں جائزہ لینے کی ضرورت ایسی جسارت تھی جو کہ اہل جمود کے لیے سرخ رومال بن گئی۔ لے دے کر ایک جناب خرم مراد تھے جو نقد و جائزے کے ذہن سے کام لیتے رہے اور اس کا بر ملا اظہار بھی کرتے رہے۔
ایک مرحلے پر قاضی حسین احمد کے ساتھ مل کر انہوں نے جماعتی جد وجہد کو انقلابی رجحانات پر استوار کرنے کی کوشش کی مگر روایتی ٹیم کے ساتھ انقلابی حکمت عملی اختیار کرنا کیسے ممکن تھا۔ اس سارے عمل میں صلاحیتوں، وسائل اور اوقات کا جو ضیاع ہوا، اس کا حساب تو حشر کے دن ہی ہو گا۔ سید مودودی سے لے کر سید منور حسن تک سب جواب دہ ہوں گے۔ ڈاکٹر امین اور جناب جاوید غامدی جیسے لوگوں کو اب بھی ٹامک ٹوئیاں مارنے سے فرصت نہیں۔ دونوں بزرگ میدان عمل سے پیچھے ہٹ کر سکون و عافیت میں بیٹھ کر اپنے تئیں فکری کام کر رہے ہیں، لیکن اس فکری کام اور میدان عمل کی جد و جہد کے تقاضوں میں کہیں کوئی ملاپ اور جوڑ کی صورت نظر نہیں آتی۔ ان کی تمام تر چاند ماری میدان عمل پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ خاص طور پر جناب جاوید غامدی کاطرز عمل زیادہ ہی جواں تر ہے۔ ان کی فکری کاوشیں جب اثرات پیدا کرتی ہیں تو پھر وہی میڈیا تک رسائی کے بدلے بلکہ خمیازے کے طور پر، سرکاری پروٹو کول اور پھر مملکت پاکستان سے عملی جلا وطنی کی نوبت آ جاتی ہے۔ اسے ہجرت سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے، مگر ہجرت میں سرکاری تراغیب و سہولیات قبول کرنا پڑتی ہیں۔ اس سے ان کی فکری حیثیت بری طرح مجروح ہوئی ہے۔
اس پس منظر میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کی پریشان فکری کی طرف واپس آتا ہوں۔ اگر ڈاکٹر صاحب اجازت دیں تو میں ان کی پریشان فکری میں حصہ دار بننا چاہتا ہوں۔ میرے نزدیک ڈاکٹر صاحب نے جس تصوراتی دنیا کی بات کی ہے، وہ عملاً سوسائٹی میں پہلے ہی مختلف صورتوں میں کار فرما ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی تمام تر فکری کاوش کسی نئی تحریک کا خاکہ دینے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ بین السطور میں وہ اس کا اعتراف بھی کر رہے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ مسئلہ عملی جدوجہد کا ہے مگر میدان اور زمینی حالات سے دوری کو پہلے سے بھی بڑھا کر عافیت گوشوں میں قید ہو کر اجتہادی کام کیا جا رہا ہے۔ ایک نئی دینی تحریک کی ضرورت سے پہلے یہ تو واضح کیا جانا چاہیے کہ اب تک کی دینی تحریکوں کا بنیادی روگ کیا ہے۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ماضی کا مکمل جائزہ آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے لازمی ہے۔ کم از کم یہ میرے نزدیک کردار و صلاحیت کا بحران بیماری کی اصل جڑ ہے۔ یہ امر تو بالکل واضح ہے کہ کردار اور صلاحیت کے ایک کم سے کم معیار کے بغیر تحریک دینی ہو یا سیاسی، یہاں تک کہ گمراہی کی تحریک بھی کردار و اصلاحیت کے بلند معیار کے بغیر پیش رفت نہیں کر سکتی۔ تن آسانی کی انتہا یہ ہے کہ ہم میدان میں موجود دینی سیاسی جماعتوں کے کھوکھلے کردار اور صلاحیت سے عاری ایک طویل دور سے آنکھیں بند کر کے ایک نئی تحریک کا جواز اور راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ دیانت و امانت دیندار اور دین سے عاری، دونوں کے لیے لازم ہے۔ جب ہم صرف ایک دیانت و امانت کے اصول پر ہی دینی و سیاسی بلکہ سماجی تنظیموں کو دیکھتے ہیں تو سخت مایوسی ہوتی ہے۔
میرا منشا یہ ہے کہ کسی بھی اجتماعی کام کے لیے بنیادی کردار کا اہتمام لازم ہے۔ یہ بنیادی کردار انسانی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ قرآن وسنت کی تعلیمات اس کردار کو پختہ تر کر سکتی ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ یہ کردار موجود ہو۔ اگر بنیادی کردار موجود ہی نہ ہو تو پھر دین داری اسے کھوکھلے پن کی معراج کی جانب لے کر جائے گی۔ قرآن میں ہے کہ نماز برائیوں سے روکتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ ہم نماز پڑھتے ہیں تو برائیوں سے لازماً رک بھی جاتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ نماز ہمیں برائیوں سے روکنے کے بجائے برائیوں کے انجام اور خمیازے سے بچانے کے لیے ذہنی طور پر آسودگی فراہم کرتی ہے۔ میں لاکھ بد دیانتیوں اور خیانتوں کے بعد بھی چار نماز وں یا دو چار حج کے فریضوں سے اپنے تئیں ہر طرح کی معافی کا حقدار بن جاتا ہوں۔ ایک نیک نیتی میرے حق میں رہے گی۔
ہمارے ہاں تنظیم کو بطور سائنس کے دیکھا ہی نہیں گیا۔ ہر سطح پر چھوٹی اور بڑی سے بڑی لا تعداد تنظیمیں قائم ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی تنظیمی اصولوں کی ابجد پر پورا نہیں اترتیں۔ وہ سب بلا استثنا بد انتظامی، کرپشن اور اپنے مقاصد سے دوری کا شکار ہیں۔ تنظیم جتنی بڑی ہو گی، اسے استوار رکھنا اتنا ہی مشکل اور پیچیدہ کام ہے۔ ہمارے ہاں نئی تنظیموں کی ضرورت پر تو نت نئے خاکے آتے رہتے ہیں، مگر آج تک کسی نے موثر اور شفاف تنظیمی ڈھانچہ مرتب کرنے کی جانب توجہ نہیں دی۔ سید مودودی نے بلا شبہہ جماعت کے قیام سے ایک تجربہ کرنا چاہا مگر یہ تجربہ روز اول ہی سے ناکامی کی بنیادوں پر استور کیا گیا۔
میرے نزدیک کسی نئی تحریک یا تنظیم کی ضرورت سے پہلے لازم یہ ہے کہ بغیر کسی دینی یا مذہبی حوالے کے، پختہ کردار اور اعلیٰ صلاحیت والے لوگوں کی ایک ایسی تنظیم قائم کی جائے جو اپنے متعین مقاصد کے لیے دنیا بھر میں مسلمہ تنظیمی اصولوں کی بنا پر استوار ہو۔ اس تنظیم میں اطاعت نظم کا اہتمام ہو، مگر اس سے زیادہ اہتمام نظم کے احتساب کا ہونا چاہیے۔ احتساب کے انتہائی موثر اور فعال اہتمام کے بغیر اطاعتِ نظم محض کرپش کے فروغ کا اہتمام بن کر رہ جاتا ہے۔ کرپشن کو راہ ملتے ہی نظم اور تنظیم اخلاقی زوال کی راہ پر چل نکلتی ہے جس کے بعد زوال کے عمل کو روکنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔ لہٰذا احتساب نظم کا اہتمام اتنا طاقت ور ہونا چاہیے کہ بغاوت کی سطح تک پہنچا ہوا ہو۔ بد عنوانی کو ناقابل برداشت ماحول کا سامنا کرنا پڑے، جس طرح حضور کا فرمان ہے کہ برائی کو ہاتھ اورزبان سے روکا جائے۔ احتساب نظم میں بغاوت کا ماحول کارکن کی تربیت کا بنیادی مزاج ہو گا۔ اطاعت نظم کا مزاج معاشرے میں بھی برائی کے خلاف معرکہ آرائی سے پہلو تہی کرتا ہے۔ بغاوت کا یہ مزاج سوسائٹی میں اسے باغی کے طور پر متعارف کرائے گی۔ اپنے اپنے دائرہ کار میں، مناسب ترجیحات کے تحت، ایشوز پر بغاوت کا اہتمام سوسائٹی کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہر کوئی اپنے ماحول میں باغی بنے، بغاوت کرے، بغاوت کے لیے معاشرے میں بیزاری پیدا کرے۔ بغاوت سے مراد مسلح بغاوت نہیں، بلکہ پر امن، قانون، آئین اور ضابطے کی حدود کے اندر رہ کر، ایشوز پر ترجیحات قائم کر ے، ٹائم شیڈول کے ساتھ طے شدہ ٹارگٹس حاصل کرنے کے لیے موثر لائحہ عمل اختیار کرے۔ ایشوز پر کام کی بہترین مثال حالیہ وکلا تحریک ہے۔ ایک ہی ٹارگٹ تھا اور وہ عدلیہ کی بحالی اور آزادی کا تھا۔ وہ پورا ہوا۔ خدا نہ کرے اسے نظر بد لگے۔ انصاف کسی کے لیے بھی خوشگوار نہیں۔ اسی رو میں انصاف کے لیے پریشر گروپس بنانے اور اوپر کی سطح پر ایشوز وار، تواتر کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک کے بعد دوسرا ایشو سامنے رکھ کر موثر جد و جہد، متعین وقت میں کامیابی کے ہدف کے ساتھ، اس طرح سوسائٹی میں خود اعتمادی پیدا ہو گی۔ یہی خود اعتمادی جد و جہد کا اثاثہ ثابت ہو گی۔یہاں ایشوز سے مراد لوگوں کے روز مرہ کے مسائل ہیں۔ ان میں مقامی اور قومی سطح کے ایشوز اہمیت رکھتے ہیں۔ ایشوز پر کام میں ترجیحات کی بنیاد متعینہ ٹائم کے اندر موثر اور نتیجہ خیز جد و جہد ہے۔
وکلا تحریک شروع ہوئی تو اس نے ہمارے ہاں سوسائٹی اور اس کے ہر طبقے کو متاثر کیا۔ وکلا سوسائٹی میں بہت مختصر تعداد میں ہیں۔ پندرہ کروڑ کی آبادی میں ایک لاکھ وکلا کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر تحریک میں براہ راست سرگرم شرکت کرنے والے وکلا کی تعداد مشکل ہی سے دس ہزار بھی نہیں ہو گی، لیکن عدلیہ کی آزادی اور بحالی کو ایک ایشو کے طور پر لے کر لگا تار جد و جہد کی گئی۔ مقابلہ فوج سے تھا۔ فوج کی تعداد پانچ چھ لاکھ بیان کی جاتی ہے۔ ان کے وسائل ، قوت اور غصبِ اقتدار کو دیکھا جائے تو عدلیہ کی بحالی کے امکانات کسی طرح آسان نہیں۔ فوج کا ایک جرنیل مان نہیں، پانچ جرنیلوں کے سامنے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا، یقیناًیہ بہت بڑا واقعہ تھا۔ پی سی او کے نفاذ کے وقت تریسٹھ ججوں نے چیف کے ساتھ یکجہتی کے طور پر استقامت دکھائی۔ فوج اقتدار سے رخصت ہوئی، انتخابات کرائے گئے، جنرل مشرف مستعفی ہوئے۔ سیاسی جماعتیں کونوں کتھروں میں تھیں۔ تمام بڑے لیڈر انتخابات سے پہلے تک جلا وطن تھے۔ مشرف ان کو کسی قیمت پر وطن آنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں تھے۔ آخر کار ایسا بھی ہو کر رہا۔ بے نظیر انتخابی مہم کی بھینٹ چڑھا دی گئی۔ سیاسی حکومت اور منتخب صدر ایوان صدر میں آئے مگر بحالی کا امکان پیدا نہ ہوا۔ وعدے پر وعدے ہوتے رہے۔ ججوں کو نئی تقرری کا جھانسا دے کر پھاڑا گیا۔ صرف پندرہ جج چیف جسٹس کے ساتھ کھڑے رہ گئے۔ انہوں نے تحریک کو بہر صورت منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیا۔
وکلا رہنماؤں نے کئی مواقع پر ان کو ایسے مشورے دیے جو چیف کے شایان شان نہ تھے۔ ان کو امریکہ یاترا بھی کرائی گئی۔ بحالی سے پہلے امریکہ جانا قبل ازوقت تھا۔ ہارورڈ یونیورسٹی اور نیو یارک بار ایسو سی ایشن کے اعزازات کی وصولی کے لیے چیف صاحب کا اصالتاً امریکہ جانا انتہائی بے موقع تھا۔ وکلا قائدین امریکہ میں ڈیل کے شواہد بہت واضح ہیں۔ البتہ چیف صاحب کے کردار اور موقف سالم و سلامت رہے۔ انہوں نے کسی طرح کی کوئی لچک نہ دکھائی۔ انہوں نے کسی ذمہ دار ریاست سے ملا قات نہیں کی۔ چیف کی استقامت ہی تحریک کا سب سے بڑا سبب ثابت ہوئی۔ چیف کا ذرا سا تزلزل پوری سوسائٹی کی قربانیوں اور جد و جہد کو ضائع کر سکتا تھا۔ چیف کو اللہ نے ایسی استقامت دی کہ بحالی کی منزل طے ہو کر رہی۔ سید مودودی نے درست کہا ہے کہ انقلاب ہمیشہ محدود اقلیت لے کر آتی ہے۔ میدان لگانے کی جرات کرنے والا شخص نایاب ہوتا ہے۔ ایسا شخص ہزاروں میں کوئی ہوتا ہے۔ ساٹھ سال کی ہماری تاریخ میں افتخار چوہدری تو ایک ہی ہوا ہے۔ میدان میں اتر کر استقامت اختیار کر لی جائے تو کامیابی یقینی ہے۔ وکلا تحریک کے مزاج پر پوری ایک کتاب لکھی جانی چاہیے۔ انقلاب کی حکمت عملی کے مطالعے کے طور یہ تحریک بہت اہم ہے۔ اعتزاز احسن نے عدلیہ کی آزادی اور بحالی کو ایشو بنانے اور زندہ رکھنے کے لیے جس قدر محنت اور اہلیت کا مظاہرہ کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
اوپر میں نے جس ہمہ جہت بغاوت اور مزاحمت کی تحریک کی اہمیت واضح کرنے کی کوشش کی ہے، اس کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کے لیے مزاحمت کاروں کی سوانحی خاکوں کو بغور دیکھنا ہو گا۔ ایسے مزاحمت کار اور باغی ہر جگہ موجود ہیں۔ ان کا بلا تعصب مطالعہ لازم ہے۔ ہمارے ہاں ڈاکٹر نذیر شہید کی مثال بڑی روشن ہے۔ ۸ جون ان کی برسی کا دن ہے۔ حالیہ دور میں جاوید ہاشمی کی مثال بھی بڑی زبردست ہے۔ ان کی کتاب ’’میں باغی ہوں‘‘ مطلوبہ تحریک بغاوت کی رہنمائی کے لیے بڑی جاندار اور موثر ہے۔ پیپلز پارٹی کے لاہور سے ایک سابق ایم این اے ڈاکٹر سید محمود بخاری کی پارٹی کے اندر ناقدانہ اور باغیانہ طرز عمل بھی بہت سبق آموز ہے۔ ان کی یاد داشتیں ’’روئدادِ وفا‘‘ کے نام سے پروین خان نے مرتب اور المعارف شاہ عالم مارکیٹ لاہور نے شائع کی ہیں۔ ماحول کے اندر رہ کر موثر طور پر بغاوت اور مزاحمت کو ایک موضوع کے تحت مطالعہ کرنا مقصود ہو تویہ شخصیات بڑی اہم ہیں ۔ ان کے کردار بڑے جاندار اور موثر رہے ہیں۔ ایسے کرداروں کو رہنما بنا کر پورے ماحول میں، ہر شعبے، ادارے اور جماعت میں پختہ کردار کے لوگوں کو اطاعت کے بجائے بغاوت پر آمادہ کرنا، سوسائٹی کی حقیقی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر امین صاحب بسم اللہ ہی دینی جماعتوں کے باہمی اختلافات اور ان کی کمزوریوں سے صرف نظر کرنے سے کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح کی مداہنت کو بطور پالیسی بنا کر چلنا چہ معنی دارد! ہماری سوسائٹی کا سب سے بڑا روگ ہی مداہنت ہے۔ سارتر نے کیا خوب کہا ہے کہ:
’’اچھائی اور برائی کے معرکے میں کوئی غیر جانبد ار نہیں رہ سکتا۔ خیر و شر کی معرکہ آرائی میں محض تماشائی کا کردار ادا کرنے والے یا تو بزدل ہوتے ہیں یا غدار۔‘‘
مداہنت اپنے اثرات کے لحاظ سے منافقت کا دوسرا نام ہے۔ یہ گناہ کبیرہ سے کسی طرح کم نہیں۔ یہ کفر سے بد تر ہے۔ اپنے گرد وپیش اور ماحول سے مصالحت اختیار کر کے حق و سچ کو زور کے ساتھ ظاہر نہ کرنا منافقت کی معراج ہے۔ اسے اختیار کر کے کوئی نتیجہ خیز جد جہد کرنا احمقوں کی جنت بسانے والی بات ہے۔ لوگوں کو درپیش مسائل سے بچ کر رشد و ہدایت کی محفلیں خدا کے ہاں اجر کا باعث ہوں تو ہوں مگر سوسائٹی میں ایسے لوگ کسی طرح قبولیت نہیں پا سکتے۔ کتنے ظالم ہیں وہ لوگ کہ جب چینی اور آٹے کے لیے قطاروں میں لوگ جانیں دے رہے تھے تو وہ عالی شان ہوٹلوں میں افطار پارٹیوں میں ایک گلاس پانی اور دو کھجوروں پر بد نظمی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ یہ اکا دکا واقعات نہیں، اجتماعی افطاریوں میں یہی کچھ ہوتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام پیغمبر غریبوں، مظلوموں اور روندے ہوئے طبقات کے محافظ تھے۔ تمام پیغمبروں نے ظالموں کا مقابلہ کیا ہے۔ فرعون، نمرود، شداد، اہل مدین جبر کے نمائندے تھے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے میں سمجھوتے، بے نیازی، مداہنت اور اور بے پروائی کے رویے کو ترک کر کے اپنے ماحول کے خلاف بغاوت، مزاحمت اور اسے چیک کرنے کے رویے کو فروغ دینے کے بارے میں سوچا جائے۔ ایسے لوگ ہزار میں ایک بھی پیدا نہیں کیے جا سکتے، مگر ایسا ایک شخص ہزار پر بھاری ہوتا ہے۔اوپر جو تفصیلات درج کی گئی ہیں، وہ میری انفرادی کوششیں ہیں۔ میں نے اپنے ماحول کو توڑا ہے۔ یہ مشکل کام ہے، مگر میں نے اسے انجام دیا ہے۔ اب تو یہ کام میرے مزاج کا حصہ بن گیا ہے۔ میں نے یہی مزاحمت اور بغاوت جماعت کے اندر جاری رکھی ہے۔ جماعت کے وکلا ونگ میں بھی اسے ترک نہ کیا۔ بار کے ممبر کے طور پر بھی میرا رول نمایاں ہے۔ موجودہ صدر جناب ضیغم اللہ سانسی کے اقدامات نے مجھے کچھ زیادہ ہی انسپائر کیا ہے اور کامیابی بھی بہت بڑی نصیب ہوئی ہے۔ اس موقعے پر ’’وار اگینسٹ کرپشن‘‘ کے نعرے کے تحت اس جد وجہد کو اداراتی شکل دینا چاہتا ہوں۔ انفرادی سطح پر جد و جہد کے معرکہ شروع کر رکھا ہے۔ کچھ عزیز اور دوست تعاون کر رہے ہیں۔ خواہش ہے کہ اسے باقاعدہ تنظیم کی صورت دی جائے۔ ایک سہ ماہی بلیٹن واک کے نام سے شروع کر کے اپنے قلم کی قوت کو کرپشن کے خلاف جنگ میں بروئے کار لانا چاہتا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ ابتدائی مرحلہ میں کرپشن کے خلاف جنگ پہلے محاذ کے طو رپر میدان لگا چکا ہوں۔ کرپشن کو ہدف بنا کر، ایک پر امن، قانون کے دائرے کے اندر مگر پوری جرات سے موثر احتجاجی اقدامات کے ذریعے کام کرنا چاہتا ہوں۔ موثر احتجاجی اقدامات کے طور پر میرا اعلان ایک اہم مثال ہے۔ میں نے یہ اعلان کیا تھا کہ بار میں کرپشن کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنے کالے کوٹ کو نذر آتش کروں گا۔ میرے اعلان کے عام ہونے کے بعد وکلا برادری اور میڈیا میں زلزلہ کی کیفیت پید ہو گئی۔ صوبائی حکومت کو ہر صورت اقدامات کرنا پڑے۔ میں نے پہلی بار دیکھا کہ رجسٹری برانچ سے رشوت مکمل طور پر ختم ہوئی ہے۔ اس کامیاب مرحلے کے بعد اپنی جد و جہد کو جاری رکھنا چاہتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے کہ اس طرح کے موثر اقدامات سے نتیجہ خیز جدوجہد ویک وسیع بنیاد رکھی جائے۔
قادیانی مسئلہ
خورشید احمد ندیم
مجلس تحفظ ختم نبوت نے سانحہ لاہور پر جوبیان جاری کیا ہے،اس میں کہی گئی ایک بات بطور خاص اہلِ مذہب اور ریا ست کی تو جہ چا ہتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ قادیانیت کے خلاف ہیں،قادیانیوں کے نہیں۔یہ جملہ اگر ہماری سمجھ میں آجا ئے تو شاید ہم اس آزمائش سے بخیر نکل سکیں،جس کا بطور قوم ہمیں اس وقت سامنا ہے۔ ۱۹۷۴ء سے پہلے قادیانیت ایک سماجی مسئلہ تھا۔جب ریاست نے اس گروہ کو غیر مسلم قرار دیا تواس کے بعد یہ ایک ریا ستی مسئلہ بھی ہے۔گویا اب اس کا ایک پہلو قا نو نی بھی ہے۔ضروری ہے کہ اس معا ملے کی ان دو جہتوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے سمجھاجا ئے۔جہاں اس کا تعلق سماج سے ہے وہاں یہ معا شرتی مسئلہ ہے،جہاں معا ملہ قانو ن کا ہے وہاں اس کا تعلق ریا ست سے ہے۔جب ہم اسے معاشرتی حوالے سے دیکھتے ہیں تو ہم پر علما کا کردار واضح ہو تاہے۔ریاست کی مداخلت وہاں ہو گی جہاں معا ملہ قانو نی ہو گا۔اس فرق کو اگر سمجھ لیا جائے تو شاید ہم اس پیچیدگی سے محفوظ ہو جا ئیں جس میں اس وقت الجھ گئے ہیں۔
مسلمانوں کے معا شرے میں علما کا ایک مستقل کر دار ہے جسے قرآن مجید انذار سے تعبیرکر تا ہے۔ (سورہ توبہ ۹:۱۲۲) اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر معاشرے میں کہیں اخلاقی فساد پیدا ہو تا ہے یا کسی گروہ یافرد کی طرف سے دین کی مخالفت ہو تی یا اس میں اضافے یا کمی کی جسارت کی جا تی ہے تو وہ اس باب میں لوگوں پر حق وا ضح کردیں۔واضح کر نے کا مطلب ہے،اپنی بات کا ابلا غ کر دینا۔یہ اگر چہ ایک مسلسل عمل ہے لیکن اس کا دا ئرہ یہی ہے یعنی ابلاغ۔یہی وہ کام ہے جو اس امت کی تا ریخ میں دعوت و تبلیغ کے عنوان سے جا ری ہے۔ہما ری پو ری تا ریخ میں جیدعلما کا یہی کر دار رہا۔انہوں نے اگر حکمرانوں کی طرف سے دینی انحراف دیکھا توانہیں متوجہ کیا۔اگر خود علما کے گروہ کی طرف سے دینی ضروریات کی خلاف ورزی ہو ئی تو انہیں متنبہ کیا۔اگر معاشرے میں کو ئی خلافِ دین تصور پھیلا تو اس پر عوام کی را ہنما ئی کی۔قرآن مجید کے مطا بق اس کام کی بنیاد ی شرط تفقہ فی الدین ہے۔یہ کام وہی کر سکتا ہے جو دین کاگہرا فہم رکھتا ہے۔یہ عام مسلمان کا کام نہیں ہے۔دعوت کے حوالے سے اس کا دائرہ عمل سورہ عصر میں بیان ہوا ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کو حق اور صبر کی تلقین کر تے رہیں۔اس طرف ایک مسلمان بیک وقت داعی ہے اور مدعو بھی۔البتہ معا شرے اور قوم کی سطح پر یہ کام وہی کرے جو دینی علم کا حامل ہو۔
قادیانیت کے باب میں بھی علما کا کر دار یہی ہے۔ وہ معاشرے کو بتا ئیں گے کہ یہ تعبیر کیسے دین کے بنیا دی مقد مات کے خلاف ہے اورکہاں یہ عقیدہ دینی مسلمات سے متصادم ہے۔یہ کام وہ تحریر ،تقریر اور ابلاغ کے دیگر میسر ذرائع کی مدد سے کریں گے۔اس حوالے سے ان کے مخاطب ایک طرف قادیانی ہوں گے اور دوسری طرف عام مسلمان۔دعوت کا یہ کام خیر خوا ہی کی بنیاد پر ہو تاہے۔اس میں وقار ہو تا ہے اور دردِ دل بھی۔اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ مخاطب اپنی غلطی پر متنبہ ہو اور اس ضلالت سے نجات حاصل کرے جس میں وہ آپ کے خیال میں مبتلا ہے۔منا ظرہ نہ صرف دعوت سے مختلف بلکہ اس کی راہ میں ایک بڑی رکا وٹ ہے۔یہی سبب ہے کہ رسوخ فی العلم رکھنے والوں نے ہمیشہ اس سے گریز کیا ہے۔امام غزالی نے زند گی کا ایک حصہ اس کی نذر کیا لیکن بعد میں جب ان پر اس کے مضر اثرات واضح ہو ئے تو اس طرزِ عمل سے رجوع کر لیا۔قادیانی مسئلے میں جہاں یہ دردِ دل اور عالمانہ وقاربر قرار ہے وہاں ہمیں اس دعوے کا ثبوت ملتا ہے کہ کیسے لوگ قادیا نیوں اور قادیانیت میں فرق کر رہے ہیں۔میرے نزدیک ہماری روایت میں اس کی بہترین مثال مو لانا ابو الحسن علی ندوی کی کتاب’’قادیانیت‘‘ہے۔میرا مشورہ ہے کہ یہ کتاب ہر قادیا نی کو اس لیے پڑ ھنی چا ہیے کہ وہ جان سکے کہ اہلِ اسلام نے اس کے مسلک کے خلاف جو مقد مہ قائم کیا ہے ،اس کی علمی بنیادیں کیاہے۔اسلوب کی شا ئستگی اسے مجبور کرے گی کہ اس کا دھیان نفسِ مضمون پر رہے۔یہ کتاب ردِ قادیانیت پر کام کر نے والوں کو اس لیے پڑھنی چا ہیے کہ کیسے قادیانیوں اور قادیانیت میں فرق کیا جاتا ہے۔
یہ بات مجھے اس لیے کہنا پڑی ہے کہ ہما رے ہاں بد قسمتی سے قادیانیت اور قادیانیوں میں فرق کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔اگر میری جسارت کو معاف کیا جائے تو میرے نزدیک اس کی وجہ مجلسِ احرارہے۔یہ قادیانیوں کے خلاف اٹھنے والی پہلی عوامی تحریک ہے۔اس کی قیادت خطیبوں کے ہاتھ میں تھی۔ خطیب کا مخاطب لو گوں کے جذبات ہو تے ہیں،ذھن اور فکر نہیں۔اس کی کا میا بی یہ ہے کہ وہ عوام سے دادِ تحسین وصول کرے۔سید عطا اللہ شاہ بخاری نے ایک مر تبہ اپنے سا معین کومخاطب کر تے ہو ئے یہ کہا تھا کہ تم کا نوں کے عیاش ہو۔کامیاب خطیب وہی ہے جو اس عیا شی کا اہتما م کر تا ہے۔میں یہ بات اپنے تجر بے کی بنیاد پر بھی کہہ سکتا ہوں۔میں نے بچپن میں تقریریں سننے کے لیے بارہا میلوں پیدل سفر کیا۔میں نے کئی مر تبہ سردیوں کی را تیں مسجد میں گزاریں کہ جلسہ ختم ہو نے کے بعد رات گئے گھر جا نا ممکن نہیں تھا۔کم و بیش تین عشروں کے اس تجربے کے بعد میں پورے اطمینان کے ساتھ شاہ صاحب کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ اس مشقت کا اصل محرک کانوں کی عیاشی تھا۔ اگر میرا رحجان مذہبی نہ ہو تا تو میں اپنے ذوقِ سماعت کی تسکین کے لیے گانوں کی مجا لس یا سینما گھروں کا رخ کر تا۔ہمارے ہاں خطیب مسلکی ہوتے ہیں یا سیاسی ۔ ان کی مقبولیت کا راز اس میں ہے کہ وہ دوسرے فریق کی تذلیل،تمسخر یا رد کا کتنا اہتمام کرتا ہے۔
احرار کا ہدف بد قسمتی سے قادیانیت کی بجا ئے قادیا نی بن گئے کیونکہ فنِ خطا بت کی ضرورت یہی تھی۔یہی اسلوب بعد میں بھی بر قرار رہا۔اب بجا ئے یہ بتانے کے کہ قادیانیت کیسے اسلام کے بنیادی عقائد سے متصادم ہے، سارا زور اس پر صرف ہو نے لگا کہ قادیانی کیسے اسلام، مسلمانوں اور پا کستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ اس اسلوب کے غلبے سے قادیا نیوں میں ایک ردِ عمل پیدا ہوا اور ان میں اصلاح کی بجا ئے دفاع کا جذبہ ابھرا۔ دوسری طرف ایک عام مسلمان پر یہ اثر ہوا کہ اس میں قادیانیوں سے نفرت اور نا پسندیدگی پیدا ہو ئی۔ ماہرین نفسیات بتاتے ہیں کہ تشدد کی اساس بھی انتہا ئی نفرت ہو تی ہے۔ میر احساس ہے کہ اگر اس تحریک کی قیادت خطیبوں کے بجا ئے مو لا نا ابو الحسن علی ندوی جیسے کسی جید عالم کے پاس ہو تی ہو تی تو قادیانیوں کی دوسری یا تیسری نسل میں شاید ہی کو ئی ہو تا جو اپنی گمراہی پر اصرار کرتا۔
۱۹۷۴ء میں جب ریاست نے قادیا نیوں کو غیر مسلم قراردیا تو اس معا ملے کی نئی جہت سامنے آئی۔یہ ملک کے سب سے بڑے آئین ساز ادارے کا فیصلہ تھا۔اس میں قادیانیوں کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا مرزا نا صر پارلیمان کے سامنے پیش ہوئے اور اپنا دفاع کیا۔اس فیصلے کے چند قا نو نی مضمرات تھے۔مثال کے طور پر اگر وہ غیر مسلم ہیں تو انہیں ایسے مذہبی شعائر کے اعلا نیہ استعمال سے روک دینا چا ہیے جس سے عام آدمی کے لیے مغا لطے کا کو ئی امکا ن پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ضیا الحق صاحب کے دور میں بعض قوا نین بنے جن کے تحت انہیں مسجد اور اس نو عیت کے الفاظ کے استعما ل سے روک دیا گیا۔قادیانیوں نے اس فیصلے کو قبو ل نہیں کیا۔ان کے اس ردعمل سے اس معا ملے کی نو عیت ایک عام مذہبی یا مسلکی تنا زعے کی نہیں رہی۔اب یہ ریا ست اور ایک گروہ کے مابین ایک اختلاف تھا۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں سے آئین اور دستور کے تحت معا ملہ کرے اور انہیں قانون کا پا بند بنا ئے۔ اگر کو ئی گروہ یہ کہتا ہے کہ وہ آئین یا اس کے کسی ایک حصے کو نہیں ما نتا تو ریاست اس کا حق رکھتی ہے کہ وہ نفاذِ آئین کے لیے کو ئی اقدام کرے۔تا ہم حق حاصل ہو نے کا یہ مطلب کبھی نہیں ہو تا کہ اس کو لازماً استعمال کیا جائے۔اس کا نحصار حالات پرہے۔پاکستان میں ریاست نے عام طور پر ان کے خلاف کو ئی اقدام نہیں کیا۔مثال کے طور پر وہ قانو ناً مسجد کی طرح عبادت گاہ تعمیر نہیں کر سکتے لیکن ہم نے دیکھا کہ لا ہور میں جو عبادت گاہ دہشت گردی کا نشانہ بنی،وہ ایک عام مسجد کی طرح تھی۔
ریاست نے جب قادیانیوں کے خلاف فیصلہ سنایا تو اب ان کی نا راضی کا ہدف خود ریاست تھی۔یہ بات قا بلِ فہم ہے۔یہ فیصلہ کسی مذہبی گروہ کا نہیں بلکہ ایک ایسی حکومت کا تھا جس کو اپنے مذہبی تشخص پر کبھی اصرار نہیں تھا۔ اس سے انہیں یہ تاثر ملا کہ غیر قادیانی بحیثیت مجمو عی ان کے خلاف ہیں۔یہی وہ گرہ ہے جس کے نہ کھلنے سے شکوک کا ایک جنگل آباد ہوا اور قادیا نیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹا نے کا مطا لبہ سامنے آیا۔ لوگ جب قا ئد اعظم کی طرف سے سر ظفر اللہ خان کو وزیر خارجہ بنا نے کا ذکر کر تے ہیں تو وہ اس بڑی تبدیلی کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ۱۹۷۴ء میں آئی ہے۔اب ریاست نے ان کے خلاف ایک فیصلہ سنا یا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اس کے بعد ریاست کے ساتھ ان کے جذبات کی نو عیت اب وہ نہیں رہی جو پہلے تھی۔ ریاست کے فیصلے کے بعد اب اس تنا زعے کے تین فریق ہیں: مذہبی گروہ با لخصوص جن کا ہدف قادیا نی ہیں، قادیانی اور ریاست۔اگر یہ تینوں مل کر یہ مسئلہ حل کر نا چا ہیں تو میرا خیال ہے کہ اس میں بڑی حد تک کمی آ سکتی ہے۔ مذہبی گروہ کے طرز عمل پر میں پچھلے کالم میں اپنی اصولی را ئے دے چکا۔قادیانیوں کو یہ بات سمجھنی چا ہیے کہ جب انہوں نے ایک مذہبی تعبیر کو اختیار کر لیا ہے تو اس کے کچھ نا گزیرمضمرات ہیں۔ایک یہ قا دیانیت کو اختیار کرنے کے بعد غیر قادیانی مسلمانوں کے ساتھ ان کا جو مذہبی اختلاف پیدا ہوا ہے ،اس کی نو عیت دیوبندی بریلوی اختلاف کی نہیں ہے۔قادیانیوں کے نزدیک غیر قادیا نی مسلمان نہیں ہیں۔غیر قادیانیوں کی طرف سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرارد ینے سے بہت پہلے قادیانی بزرگ یہ فتویٰ دے چکے۔ اگر آج کسی قادیانی کو شک ہو تو اِس کے لیے اسے اپنے علما سے رجوع کر نا چا ہیے۔
خود مرزا صاحب نے پاکستانی ریاست کے فیصلے سے ۷۴ سال پہلے ،۱۹۰۰ء میں،یہ فیصلہ سنا دیا تھا۔وہ کہتے ہیں:’’مجھے الہام ہوا ہے کہ جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہو گا،وہ خدا اور رسول کی نا فر مانی کر نے والا جہنمی ہوگا‘‘(معیار الاخبار)۔ایک اور جگہ لکھا:’’خدائے تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبو ل نہیں کیا ہے،وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘(ذکر الحکیم )۔ان کے ایک خلیفہ اور قادیانی جماعت کے مرکزی پیشوا مرزا بشیر الدین محمود نے ’’آئینہ صداقت ‘‘ میں لکھا؛’’کُل مسلمان جو حضرت مسیح مو عود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح مو عود کا نام بھی نہیں سنا،وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں‘‘۔اسی طرح جب ۱۹۷۴ء میں پارلیمنٹ نے مرزا ناصر سے یہ پو چھا کہ وہ غیر قادیا نیوں کو کیا سمجھتے ہیں تو انہوں نے کسی ابہام کے بغیر جواب دیا ’’کافر‘‘۔ اس بنا پر قادیانیوں کو یہ بات سمجھنی چا ہیے کہ ان کے نزدیک جب غیر قادیانی مسلمان نہیں ہیں تو اس کا نا گزیر نتیجہ یہ ہے کہ غیر قادیانیوں کے نزدیک وہ غیر مسلم قرار پائیں۔ اب جس ریاست میں غیر قادیانیوں کے حکومت ہو گی، وہاں لا زماً ان کے بارے میں وہی فیصلہ ہوگا جو پاکستانی پارلیمان نے کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی ملک کی باگ ڈور قادیانیوں کے پاس ہو گی تووہ غیر قادیانیوں کے بارے میں یہی فیصلہ دیں گے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ قادیانیوں کا اس بات کا ادراک کر نا چا ہیے۔جب انہوں نے ایک مذہبی تعبیر اختیار کی ہے تو اس کا یہ نا گزیر نتیجہ ہے جسے کسی طرح زیادتی نہیں کہا جا سکتا۔اگر وہ یہ مان لیں تو اس کے بعد وہ اس ریاست کے اسی طرح شہری ہیں جس طرح کو ئی دوسرا ہے۔
غلط یا صحیح کی تقسیم سے قطع نظر،یہ تاریخی حقیقت ہے کہ نئی نبوت کا دعویٰ لازماً ایک نئی امت کو جنم دیتا ہے اور اس امت کا حصہ بننے کا انحصار اس نبی کے اقرار پر ہو تا ہے۔یہ ایک سماجی حقیقت ہے جس کا تعلق کسی مذہبی عقیدے سے نہیں ہے۔جب مرزا صاحب نے نبی ہو نے کا دعویٰ کیا تو انہوں نے ایک امت کی بنیاد رکھ دی۔یہ پہلے سے مو جود امت سے علیحدگی کا اعلان ہے۔اس کے بعد پہلی امت کا حصہ بننے پر اصرار سماجی حقا ئق کا عدم فہم ہے۔یہ معاملہ صرف اسلام کے ساتھ نہیں ہے۔مسیحیت میں بھی ایسا ہی ہے۔کم و بیش اسی دور میں جب مسلمانوں میں مرزاصاحب کا ’’ظہور‘‘ ہوا،مسیحیت میں جوزف سمتھ نے دعویِٰ نبوت کیا۔اس نے کہا کہ وہ حضرت مسیح کا سچا پیرو کار ہے۔وہ عہد نامہ قدیم و جدید دونوں کو ما نتا تھا۔۱۸۳۰ء میں اس کی کتاب (Book of Mormon ) شائع ہوئی۔اس کا دعویٰ تھا کہ سنہری الواح (Golden Plates) پر لکھی یہ الہامی ہدایت تھی جو ایک فرشتے نے اس تک پہنچا ئی جسے اس نے الہیاتی صلاحیت سے ترجمہ کیا۔امریکا میں اس کے ما نے والوں کی ایک بڑی تعدار ہے جو ریاست یوٹا (Utah) میں آباد ہے۔سالٹ لیک سٹی ان کا مر کز ہے۔یوٹا کا شمار امریکا کی امیر ترین ریاستوں میں ہو تا ہے۔مجھے وہاں جانے اور مارمنز کے مراکز دیکھنے کا اتفاق ہوا۔بہت آسودہ حال لوگ ہیں۔ان کا مرکز جدید ترین سہولتوں سے آراستہ ہے اور وہاں اتنا خوبصورت اور جدید ایڈیٹوریم ہے کہ امریکا میں شاید ہی کوئی دوسرا ایسا شاندار ایڈیٹوریم ہو۔مسیحی انہیں مرتد کہتے اور اپنی امت کا حصہ نہیں مانتے۔با لکل یہی معا ملہ اسلام اورقادیانیت کا ہے۔اگر وہ اپنے مسلمان تشخص پر اصرار نہ کریں تو ریاست کے ساتھ ان کا تنا زعہ ختم ہوجاتا ہے اور معا شرے کے ساتھ بھی۔
اس کے بعد ریاست کا کردار شروع ہو تا ہے۔ریاست نے عملاً یہ ثابت کر نا ہے کہ ان کی حیثیت ذمی کی نہیں، معاہد کی ہے۔ انہیں وہ سب حقوق حاصل ہوں گے جن کاوعدہ قائد اعظم نے ۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کو اس ملک کے شہریوں سے کیا تھا۔ پوری قوم شرعاً، قانوناً اور اخلاقاً پا بند ہے کہ اس وعدے کی پا سداری کرے۔ ریاست کا کام یہ ہے کہ وہ اس کے نفاذ کو یقینی بنائے۔ اس کے بعد کسی کو ان کی جان، مال، عبادت گاہوں اور املاک پر کسی تصرف کا حق نہیں ہوگا۔ان کا یہ حق مسلمہ ہے کہ وہ اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزاریں۔ وہ ریاست کے اہم مناصب پر فائز رہ سکتے ہیں اور مذہبی حوالے سے ان کے ساتھ کوئی امتیاز جا ئز نہیں ہو گا۔
میری علما سے درخواست ہے کہ وہ اس پہلو سے عوام اور قادیانیت کو اپنا مخاطب بنائیں۔ قادیانی اس کا ادراک کریں اور ریاست آگے بڑھ کر ایسی صورت نکا لے کہ یہ معا ملہ قانون اور دستور کے مطابق اس طرح حل ہو کہ یہاں بلاامتیاز مذہب سب کی جانیں اور املاک محفوظ رہیں۔
(بشکریہ روزنامہ اوصاف)
بلا سود بینکاری کا تنقیدی جائزہ ۔ منہجِ بحث اور زاویۂ نگاہ کا مسئلہ (۳)
مولانا مفتی محمد زاہد
اسلامی یا غیر اسلامی ہونے میں اصل اہمیت دلیلِ شرعی کی ہے
اسلامی بینکاری کے موضوع پر بحث کرنے والے علما ( مجوّزین اور ناقدین ) کا اصل میدان معاشی علوم نہیں ، اس لیے اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ کسی معاشی پہلو کی طرف ان کی توجہ مبذول نہ ہوئی ہو اوروہ پہلو ایسا ہو جس سے مسئلے کا حکم تبدیل ہوجاتاہو ، ایسی صورت میں اگر کوئی ماہرِ معاشیات اس پہلو کی طرف توجہ دلاتے اور کسی معاشی حقیقت کے فہم میں غلطی کی نشان دہی کرتے ہیں تو اسے علمی دنیا پر احسان سمجھنا چاہئے ، اور علما کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیئے ، جس سے انہوں نے کبھی انکار بھی نہیں کیا ، لیکن ایسا انداز جس سے بظاہر کسی خاص شخصیت کی تجہیل کی ہوس ٹپک رہی ہو، اور اس طرح سے کھینچ تان کر کسی کی طرف خاص نظریہ منسوب کیا جارہا ہو یہ انداز علمی مباحثے کے مزاج سے میل نہیں کھاتا ، بہر حال اگر کوئی نیا ایسا پہلو سامنے آبھی جائے جس کی طرف اب تک اہلِ علم کی توجہ مبذول نہ ہوئی ہو تب بھی یہ فیصلہ کہ اس سے حکمِ شرعی پر کیا اثر مرتب ہوگا دلیلِ شرعی ہی کی بنیاد پر ہوگا ، جناب مغل صاحب کے مضمون کی تمہید دیکھ کر قاری یہ توقع قائم کرتا ہے کہ آگے چل کر اسلامیت یا غیر اسلامیت کی بحث میں مسئلے پر بہت اوپر کی سطح سے روشنی ڈالی جائے گی ، اب تک ہمیں درمختار اور ہدایہ وغیرہ کی سطح کی بحثیں دیکھنے کو ملتی تھیں ، اب شاہ ولی اللہ، شاطبی اور ابن القیم کی سطح کی بحث سے مستفید ہونے کا موقع ملے گا ، اور علم کے نئے باب وا ہوں گے، لیکن مضمون کے آخر میں جاکر جب اصل موضوع یعنی اسلامیت یا غیر اسلامیت کی بحث آتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ دلیلِ شرعی کے حوالے سے زید بن ثابتؓ کے ایک اثر اور ایک آیتِ کریمہ جس سے کوئی ادنی عالم بھی ناواقف نہیں ہوسکتا کے علاوہ کوئی اور دلیل پیش کرنے کی بجائے اسلامیت یا غیر اسلامیت کا فیصلہ بھی اپنی معیشت دانی کے زور پرکرنے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ،آگے بڑھنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتاہے کہ انہوں نے اپنے استدلال کے لیے کسی حدیث کی کتاب سے جو اکلوتی روایت پیش کی ہے اس کا کیا حشر انہوں نے کیا ہے یہ دیکھتے چلیں۔
ان کی پیش کردہ روایت کا پس منظر یہ ہے کہ فقہِ اسلامی کے مطابق جب کوئی شخص کسی چیز کو خرید کر آگے بیچنا چاہتاہے تو ضروری ہے کہ پہلے اس پر قبضہ کرے ،قبضہ کیے بغیر خریدی ہوئی چیز کو آگے بیچنا جائز نہیں ہے ، اتنی بات پر فی الجملہ فقہا کے ہاں اتفاق پایا جاتاہے ، تاہم یہ اصول کن اشیا پر لاگو ہوتاہے اس میں کچھ اختلاف ہے ،خوردنی اشیا ( طعام ) کے بارے میں تقریبا تمام فقہا متفق ہیں کہ قبضہ کیے بغیر ان کی بیع جائز نہیں ہے ، البتہ طعام میں بھی ایک صورت میں اختلاف ہے ، وہ یہ کہ ایک شخص نے اس بیچے جانے والے طعام کو نہ توخریدا ہے اور نہ ہی کسی عقدِ معاوضہ کے ذریعے وہ اسے حاصل ہوا ہے ، بلکہ اسے وہ غذائی جنس عطیہ وغیرہ کے طور پر حاصل ہوئی ہے، آیا اسے آگے بیچنے کے لیے بھی قبضہ ضروری ہے یا نہیں ، اس میں امام مالک ؒ کے دو قول منقول ہیں ( حنفیہ کے نزدیک تمام منقولہ اشیا میں ہر حال میں قبضہ ضروری ہے ) ایک یہ کہ ایسے طعام کی بیع سے پہلے بھی قبضہ ضروری ہے ، دوسرا یہ کہ اس میں بیع کے جواز کے لیے قبضہ ضروری نہیں ہے ، موطا سے بظاہر پہلا قول معلوم ہوتاہے ، اس سلسلے میں امام مالک ؒ نے زید بن ثابتؓ کا ایک اثر پیش کیاہے۔
اس اثر کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت معاویہؓ کے دور میں جب مروان مدینہ منورہ کا والی تھا اس زمانے میں جن جن لوگوں کو بیت المال سے غذائی اشیا کی متعین مقدار ملنی ہوتی تھی ان کے نام ایک رسید لکھ دی جاتی تھی ، ’الجار‘ نامی ایک بندرگاہ پر یہ اجناس جمع ہوتی تھیں ، وہاں سے لوگ یہ رسیدیں دکھا کر اپنا اپنا حق یا عطیہ وصول کرلیا کرتے تھے ، اس لیے ان رسیدوں کو ’ صکوک الجار ‘ کہاجاتا تھا ، بعض لوگ ایسا بھی کرتے کہ ان رسیدوں کی پشت پر جو طعام ہوتا تھاا عملاً ان پر قبضہ کرنے سے پہلے ہی ان کی خرید وفروخت شروع کردیتے ، ( جو امام مالک کے ایک قول کے مطابق جائز اور ایک کے مطابق ناجائز ہے)اسی طرح کا عمل ایک دفعہ مروان کی گورنری کے زمانے میں حضرت زید بن ثابتؓ نے ہوتے ہوئے دیکھا کہ لوگ اس طعام کی خرید وفروخت کررہے ہیں، زید بن ثابت اور ایک اور صحابی نے اس بارے میں مروان سے بات کی ، اس نے ان تمام بیوع کو واپس کرنے کا حکم جاری کیا ( تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو موطا امام مالک مع شرح اوجز المسالک از شیخ الحدث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ ۱۱/ ۲۰۲ ) یہ پس منظر ذہن میں رکھنے کے بعد موطا کی اصل عبارت اور جناب زاہد صدیق مغل صاحب نے اسے جس انداز سے پیش کیا ہے اسے ذرا ملاحظہ فرمائیں :
عن مالک أنہ بلغہ أن صکوکا خرجت للناس فی زمان مروان بن الحکم من طعام الجار، فتَبایَع الناسُ تلک الصکوکَ بینہم قبل أن یستوفوہا ، فدخل زید بن ثابت ورجل من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی مروان بن الحکم ، فقالا : أتحل بیع الربا یا مروان؟ فقال : أعوذ باللہ وما ذاک؟ فقالا : ہذہ الصکوک تبایَعَہا الناسُ ، ثم باعوہا قبل أن یستوفوہا ، فبعث مروان الحرس یبغونہا من أیدی الناس ویردونہا إلی أھلہا
اب ذرا دیکھئے جناب مغل صاحب اس واقعے کو کیسے نقل کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’مروان بن حکم کے دور میں جب مرکز سے رقم ( درہم ودینار ) پہنچنے میں تاخیر ہوئی تو صوبے کے گورنر نے لوگوں کو بازار کی اشیا خریدنے کے لیے رسیدیں جاری کردیں جنہیں لوگوں نے خریدنا اور بیچنا شروع کردیا۔ حضرت زید بن ثابتؓ نے مروان سے کہا کہ کیا تم سود کو حلال کررہے ہو ؟ مروان نے کہا کہ میں اس چیز سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ پھر یہ رسیدیں کیا ہیں جنہیں لوگ خرید اور بیچ رہے ہیں؟ اس کے بعد مروان نے وہ رسیدیں لوگوں سے واپس لے لیں۔‘‘ (الشریعہ مارچ ۲۰۱۰ء ص ۳۲ )
اس میں خاص طور پر خط کشیدہ الفاظ پر غور فرمائیں اور ان کا اصل عربی عبارت کے تقابل فرمائیں ، یہ بات کہ مرکز سے رقم ( درہم و دینار )آنے میں تاخیر ہوگئی تھی نہ معلوم کہاں سے اخذ کرلی ، جبکہ روایت میں صراحتاً طعام کا ذکر ہے ، اور سیاق وسباق میں بھی وہی روایات ہیں جن میں طعام کی قبضے سے پہلے بیع کے احکام مذکور ہیں ،گویا بات مبیع کی رسید کی ہورہی ہے اور اسے منطبق کردیا گیا ہے ثمن کی رسید پر ، حالانکہ مبیع کا عقد کے وقت قبضے میں ہونا تو شرط ہے ثمن کا پاس ہونا کسی فقیہ کے نزدیک بھی شرط نہیں ہے ، نیز یہ بات کہ صوبے کے گورنر نے بازار سے اشیا خریدنے کے لیے رسیدیں جاری کردیں نہ معلوم کن الفاظ سے اخذ کی گئی ہے ، خط کشیدہ عبارت سے معلوم ہوتا ہے جیسے روایت کو کھینچ تان کر بلکہ الٹ معنی پہنا کر یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہو کہ گورنر نے آج کی طرح کا کوئی کاغذی زر جاری کیا تھا، حیرت کی بات یہ ہے کہ پورے مضمون میں ہرہر بات کا باقاعدہ حوالہ دینے کا اہتما کیا گیا ہے لیکن اس روایت کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی کہ یہ موطا میں کہاں ہے ، اس کے باوجود ہم کسی کی نیت کے بارے میں بدگمانی کرنے میں جلد بازی نہیں کرسکتے ، اس لیے کہ روایتی فقہ سے بالا تر ہوکر ’ اجتہاد‘ کا شوق رکھنے والے علومِ اسلامیہ سے غیر وابستہ حضرات کے اس طرح کے لطیفے کوئی نئی بات نہیں ہے ، اور عموماً یہ حضرات تراث فہمی کی صلاحیت کی اس کمی کو اپنے لیے عیب بھی نہیں سمجھتے ، ان کے نزدیک ان کے حقِ اجتہاد کے لیے یا اسلامیت وغیر اسلامیت پر بحث کے لیے اتنی بات ہی کافی ہوتی ہے کہ وہ کسی جدید علم کے ماہر اور ڈگری یافتہ ہیں ، کوئی بعید نہیں کہ جن صاحب نے بھی یہ ترجمہ کیا ہو انہوں نے ’صکوک‘ کے معنی کسی جدید عربی ڈکشنری میں دیکھ لیے ہوں اور اس میں مزید ’اجتہاد ‘ کرکے اسے مذکور ہ روایت پر منطبق کردیا ہو۔
غلطی کی وجہ جو بھی ہو، بحیثیت مجموعی مضمون کے شرعی پہلو کو دیکھ کر یہ خیال ضرور ہوتا ہے کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ فاضل مضمون نگار بینکنگ کے معاشیاتی پہلو پر اپنا تجزیہ پیش کرکے اہلِ علم کے سامنے یہ سوال رکھ دیتے کہ اس پر غور کیا جائے کہ ان امور کا جن کی یہاں نشان دہی کی گئی ہے حکمِ شرعی پر اثر مرتب ہوتا ہے یا نہیں ، اگر ایسا ہوتا تو ان کے مضمون کی وقعت موجودہ حالت سے کہیں زیادہ ہوتی جس میں انہوں نے اسلامیت یا غیر اسلامیت کے بارے میں بھی اپنی رائے کو حتمیت کے ساتھ پیش کرنا اور تمام علما ( مجوّزین وناقدین ) کی منہجی غلطی کی نشاندہی کو ضروری سمجھا ہے۔ آخر میں انہوں نے یہ بھی فرمادیا ہے کہ دَین کی بیع کے بارے میں احکام علما کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔ بات ٹھیک ہے، علما کیا‘ قدوری اور ہدایہ بھی سمجھ کر پڑھا ہوا طالب علم جانتا ہے کہ دیون کے بارے میں تصرفات کے مستقل احکام ہیں، جیسے بیع الدین ، بیع بالدین ، حوالۃ الدین مقاصہ وغیرہ۔ افسوس ہے کہ مضمون نگار صاحب نے ان سب کو گڈ مڈ کردیا ہے۔ اگر وہ دَین کے انہی احکام کی بات کررہے ہیں جو علما کے لیے اجنبی نہیں ہیں تو پھر گھوم پھر کر بات وہیں آگئی کہ جواز عدمِ جواز کا فیصلہ عقود کی فقہی نوعیت کی بنیاد پر ہوگا۔ ایسی صورت میں مسئلہ بہت آسان ہوجاتا ہے اور اتنی لمبی تمہیدکی بجائے وہ بآسانی کسی ایسے کام کی نشان دہی کرسکتے تھے جو مروجہ اسلامی بینکنگ میں ہوتاہے اور وہ دَین کے ان احکام کے خلاف ہے جو فقہِ اسلامی میں معروف ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ دَین میں تصرف کے خاص احکام ہیں جو فقہِ اسلامی میں تفصیل سے مذکور ہیں، لیکن اسلامی بینکاری میں ان کی خلاف ورزی کی کوئی مثال ہمارے سامنے نہیں ہے اور نہ ہی غالباً اس بینکاری پر فقہی حوالے سے تنقید کرنے والوں نے کوئی ایسا مسئلہ ابھی تک اٹھایاہے۔
اگر ان کی مراد یہ ہے کہ کرنسی نوٹ بذاتِ خود قرض کی جعلی رسید ہے، اس لیے اس کے ذریعے معاملات کرنا ناجائز ہے ۔ جیسا کہ حضرت زید بن ثابتؓ کے اثر کی اپنی تشریح سے وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ تو یہ ایک ایسی بات ہے جو تمام علماکی رائے کے خلاف ہے، اس لیے کہ اوّل تو دنیا بھر کے علما کی بہت واضح اکثریت فقہی تکییف میں کرنسی نوٹوں کو یا تو ثمن عرفی قرار دیتی ہے یا اس سے بھی آگے بڑھ کر انہیں بعینہ سونا چاندی کے قائم مقام قرار دیتی اور وہی احکام ان پر جاری کرتی ہے۔ اوآئی سی کی مجمع الفقہ الاسلامی، رابطۃ العالم الاسلامی کی المجلس الفقہی الاسلامی اور اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا سمیت تقریباً تمام قابلِ ذکرفقہی فورمز کا یہی فیصلہ ہے۔ برّ صغیر کے ذراقدیم علما میں مولانا عبد الحی لکھنوی ، ان کے شاگرد مولانا فتح محمد اور مولانا احمد رضا خاں بریلوی کی بھی یہی رائے تھی۔ اگرچہ برّ صغیر کے بعض کبارِ علما کی رائے یہ بھی رہی ہے کہ کرنسی نوٹ پر سونے چاندی کی رسید کے احکام جاری ہوں گے، لیکن ایک تو اب وقت گزرنے اور عرف اور امرِ واقعہ میں نمایاں تبدیلی آنے کے ساتھ ساتھ یہ بہت ہی اقلیتی نقطۂ نظر بنتا جارہا ہے، چنانچہ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خاں کی سرپرستی اور دار الافتا جامعہ فاروقیہ کراچی کی نگرانی میں تیار ہونے والی فتاویٰ محمودیہ کی تعلیقات میں ہے: ’’دورِ حاضر کے اکثر علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ اب یہ نوٹ قرض کی دستاویز کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ اس پر مروّجہ سکّوں کے احکام جاری ہوں گے‘‘ ( فتاوی محمودیہ ۹/۳۸۶ مطبوعہ جامعہ فاروقیہ کراچی)
دوسرے یہ کہ جن علما نے اسے رسید کے حکم میں شمار بھی کیا ہے، انہوں نے بھی ان نوٹوں کے ساتھ لین دین سے منع نہیں کیا۔ اس صورت میں مطلب یہ بنتا ہے کہ جناب مضمون نگار نہ صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ علما سے بینکاری کو معاشی پہلو سے سمجھنے میں غلطی لگی ہے بلکہ دیون کے شرعی احکام سمجھنے میں بھی غلطی لگی ہے، بلکہ اس بارے میں پوری کی پوری فقہ اسلامی غلط پوزیشن پر کھڑی ہے۔ اگر وہ واقعی یہی کہنا چاہتے ہیں تویہ بات انہیں کھل کر کہنی چاہیے اور اس پر مضبوط دلیلِ شرعی بھی پیش کرنی چاہیے، اس لیے کہ کرنسی نوٹ یا بینکوں کے چیک وغیرہ کے ذریعے معاملاتِ مالیہ میں ادائیگی کو کسی نے بھی ناجائز قرار نہیں دیا۔ زیادہ سے ان کے ذریعے ادائیگی پر مرتب ہونے والے بعض احکام میں بحث ہوسکتی ہے ، مثلاً یہ کہ بینک چیک پر قبضہ ثمن پر قبضہ تصوّر ہوگا یا نہیں۔ اور اگر وہ تمام علما اور پوری کی فقہِ اسلامی سے ہٹ کر کوئی رائے قائم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اس پر واضح دلیل تو دینی چاہیے۔ یہاں ہم دیکھ رہے ہیں کہ موطا امام مالک کے مذکورہ اثر کی غلط تشریح کے علاوہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ زر کا بہتر سے بہتر نظام (monetary system)کیا ہونا چاہیے، نیز یہ کہ موجودہ نظامِ زر میں کیا کیا خامیاں ہیں۔ اس سلسلے میں مسلمان معاشی مفکرین اور مسلمان فقہا کی ایک جماعت یہ رائے رکھتی ہے کہ ہمیں طلائی معیار کی طرف دوبارہ لوٹنا پڑے گا۔ ( جدید معاشی مفکرین میں سے نمساوی مکتبِ فکر Austrian school of economists کا نقطۂ نظر بھی اس سے ملتا جلتا ہے ، تاہم معاشی اور اسلامی دونوں پہلوؤں سے بحث کی کافی گنجائش ہے)، لیکن اس بحث کے باوجود یہ الگ مسئلہ ہے کہ موجودہ کرنسی کے ساتھ لین دین کرنے اور اسے بطور زر استعمال کرنے کا حکم کیا ہے۔ اس کے ذریعے لین دین کرنے کے جواز پر تمام علما متفق ہیں اور اسے بذاتِ خود ثمن عرفی ، ثمن اصطلاحی یا ثمن قانونی قرار دینا علما کی واضح اکثریت کی رائے ہے، چنانچہ مجمع الفقہ الاسلامی کے جس اجلاس میں کرنسی نوٹ کے خود ثمن ہونے کی متفقہ قرار داد پاس ہوئی۔ اس کی کارروائی اگر دیکھیں تو اس میں موجودہ نظامِ زر پر تنقید اورسوفیصدطلائی معیار کی طرف واپس لوٹنے کی ضرورت کی صدائے باز گشت بھی سنائی دیتی ہے، لیکن اس پر قرار داد اس لیے پیش نہیں ہوتی کہ یہ بحث موضوع سے خارج ہے۔ ( ملاحظہ ہو : مجلۃ مجمع الفقہ الاسلامی ، العدد الثالث ) بہرحال اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ موجودہ نظامِ زر کی خامیوں سے آگاہی کے باوجود یہ علما فقہی تکییف میں کرنسی کو خود ثمن قرار دیتے ہیں، اصلی یا جعلی قرض کی رسید نہیں اور یہ کہ یہ رائے صرف مولانا محمد تقی عثمانی کی نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام کے علما کی بہت بڑی اکثریت کی ہے۔ ان کی اس رائے کی وجہ یہ نہیں کہ یہ سارے کے سارے جلیل القدر علما موجودہ نظامِ زر کو ہر قسم کی خامیوں سے پاک سمجھتے ہیں۔ بہرحال موجودہ نظامِ زر میں کون سی باتیں قابلِ اصلاح ہیں، یہ الگ بحث ہے اور موجودہ کرنسی کی فقہی تکییف کیا ہے اور اس کے لین دین کا حکم کیا ہے، یہ ایک الگ بحث ہے۔
حاصل یہ کہ جناب مغل صاحب نے بینکنگ کے اسلامی ہونے کے امکان کو دو بنیادوں پرمسترد کیا ہے۔ ایک یہ کہ قرض کی جعلی رسید کا لین دین درست نہیں، دوسرے یہ کہ قرض کی حقیقی رسید کے ساتھ لین دین کرنا درست نہیں ۔ اسلامی غیر اسلامی ہونے کے حوالے سے ان کے پورے مضمون کا لبّ لباب یہی دو مقدمات ہیں۔ اس پر سوال یہ ہے کہ رسید سے مراد اگر خود کرنسی نوٹ ہیں تو اوّل تو علما کی بہت بڑی اکثریت شرعی احکام میں انہیں رسید ہی نہیں مانتی، خود ثمن قرار دیتی ہے۔ دوسرے یہ کہ ان کے ساتھ لین دین کو کوئی بھی عالم ممنوع قرار نہیں دیتا۔ اور اگر اس سے مراد بینکوں کی دیگر دستاویزات ہیں جیسے بینک چیک تو اول تو ان کے ذریعے ادائیگی کو بھی فقہ اسلامی میں علی الاطلاق ناجائز قرار نہیں دیا جاتا اور نہ ہی کسی عالم کی یہ رائے ہے۔ دوسرے یہ کہ اس صورت میں انہیں اسلامی بینکوں کے کسی ایسے معاملے کی نشان دہی کرنی چاہیے تھی جس میں قرض کی رسید کے مسلمہ اسلامی احکام کی مخالفت ہورہی ہو ۔
آلۂ مبادلہ اور ذریعۂ ادائیگی میں فرق
در اصل جناب مضمون نگار صاحب کو یہاں دو بڑے مغالطے لگ گئے ہیں۔ ایک یہ کہ ان سے دو چیزیں خلط ملط ہو گئی ہیں، ایک ہے کسی چیز کا آلۂ مبادلہ ( medium of exchange ) ہونا اور وسرا ہے ذریعۂ ادائیگی ( means of payment ) ہونا۔ پہلے پر شرعاً نقود والے احکام جاری ہوں گے اور دوسرے پر حوالہ، توکیل بالقبض وغیرہ مختلف حالات میں مختلف احکام جاری ہوں گے۔ انگریزی اصطلاحات ذکر کرتے ہوئے تو جناب مضمون نگار نے دونوں کو الگ الگ مواقع میں ذکر کیا ہے، لیکن اردو ترجمے میں دونوں کا ترجمہ ’آلۂ مبادلہ ‘ سے کردیا ،حالانکہ مؤخر الذکر اصطلاح کا ترجمہ ’ذریعۂ مبادلہ ‘ کی بجائے ’ذریعہ ادائیگی ‘ ہونا چاہیے۔ پھر غالباً خود ہی اپنے کیے ہوئے ترجمے سے انہیں اشتباہ بھی ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آلۂ مبادلہ صحیح معنی میں صرف کرنسی ہی ہوتاہے، اس لیے کہ عام معاملات میں اسی کا حوالہ دے کر اور اسی کی متعین مقدار ذکر کرکے معاملہ طے کیا جاتا ہے، مثلاً سو پاکستانی روپے یااتنے سعودی ریال میں مَیں یہ چیز بیچ یا خرید رہاہوں۔ یہ آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ حبیب بنک کے سو چیک کے بدلے میں بیع ہورہی ہو ۔ نقود کے بارے میں فقہا کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ ان کی متعین مقدار اور نوعیت کا حوالہ دینا ہی کافی ہوتاہے، ان کا اس وقت عقد کرنے ولے کے پاس یا اس کی ملکیت میں ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ عقد اس کے بغیر ہی صحیح ہوجائے گا اور مذکورہ نقود مذکورہ مقدار میں اس عاقد ( مثلاً خریدار) کے ذمے واجب الادا ہو جائیں گے جسے فقہا کی اصطلاح میں واجب فی الذمۃ اور دَین کہا جاتا ہے۔
اب اگلا مسئلہ آتا ہے کہ اس دین کو ادا کیسے کرنا اور اس ذمہ داری سے سبک دوش کیسے ہوناہے؟ پہلا مسئلہ کسی چیز کو ثمن بنانے یا آلۂ مبادلہ کے طور پر استعمال کرنے کا تھا، دوسرا مسئلہ فراغِ ذمہ(settlement) اور ذریعۂ ادائیگی کا ہے۔ اس میں بھی فقہِ اسلامی کی رو سے کئی صورتیں جائز ہیں۔ مثلاً ایک صورت یہ ہے کہ جن نقود کی جتنی مقدار کاحوالہ دیا گیا تھا، انہی نقود کی اتنی مقدار دے دی جائے ، مثلاً پاکستانی روپے یا سعودی ریال کے نوٹ پکڑا دیے جائیں۔ ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ اس کے متبادل کوئی ایک چیز دینا باہمی رضامندی سے طے کرلیں، مثلاً اتنے ریال کی بجائے اتنے پاکستانی روپے لیے اور دیے جائیں گے یا اتنے ریال کی بجائے اتنے کلو کھجوریں دی جائیں گی۔ جب عملًا اتنی کھجوریں دے دی گئیں تو فراغِ ذمہ متحقق ہوگیا۔ یہ ادائیگی یا فراغِ ذمہ( settlement ) کا ایک طریقہ ہے جس کے لیے فقہِ اسلامی میں مستقل احکام ہیں، کیونکہ اس صورت میں مبادلہ کی شکل بھی بن رہی ہے، اس لیے بیع الدین یا بیع بالدین کے احکام لاگو ہوں گے۔ ایک صورت یہ ہے کہ جس کے ذمے اتنے سعودی ریال واجب الاداہیں، وہ دوسر ے فریق سے کہتا ہے کہ تم مجھ سے لینے کی بجائے فلاں شخص سے لے لو۔ اسے فقہا کے ہاں حوالہ کہا جاتاہے۔ اس کے مستقل احکام فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں ۔
جناب فاضل مضمون نگار صاحب نے جو بینک کی رسیدوں کے ساتھ تعامل کی بات کی ہے، وہ عموماً یا تو حوالہ میں آتی ہیں یا بعض علما اسے وکالہ میں بھی داخل کرتے ہیں۔ ان کے بھی مستقل احکام ہیں۔ اگر ان احکام کی خلاف ورزی ہوگی تو اسے ہر کوئی ناجائزکہے گا، خواہ روایتی بینک کی رسید ( مثلاً چیک ) ہو یا اسلامی بینک کی یا بینکوں کے علاوہ کسی فرد یا ادارے کی۔ اور اگر اس میں شرعی شرائط پور ی ہورہی ہیں تو کسی بھی بینک کی رسید ہو، اس کے ذریعے ادائیگی کو سب جائز کہیں گے۔ بہر حال یہ مسئلہ فراغِ ذمہ کے طریقے اور ذریعۂ ادائیگی کا ہے،آلۂ مبادلہ کا نہیں۔ ذریعۂ ادائیگی( means of payment or settlement ) میں کسی رسید کا استعمال جائز طریقے سے بھی ممکن ہے اور اس کے ناجائز طریقے بھی ہوسکتے ہیں، اس لیے یہ دعویٰ کہ بینکاری کی اسلامیت اس لیے ناممکن ہے کہ قرض کی حقیقی رسید بھی ہو، تب بھی اس کے means of payment کے طور پر استعمال کی کوئی جائز صورت نہیں ہوسکتی، ایسے دعوے پراسلامی علوم کا ایک طالب علم حیرت ہی کا اظہار کرسکتا ہے۔
کیا تخلیقِ زر والے معاملات ہر حال میں ناپسندیدہ ہیں ؟
یہاں ضمناً اس طرف بھی اشارہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اوپر ذکر کردہ نقود کے واجب فی الذمہ ہونے اور ادائیگی کے طریقے کی جو مثال دی گئی ہے اس میں بعض صورتوں میں عقد اور عملاً نقود کی ادائیگی کے درمیان کچھ مدت کا فاصلہ بھی ہوتاہے ، یعنی عقد آج طے ہورہا ہے ، ایک فریق کو چیز یا خدمت بھی ابھی مل گئی ہے ، لیکن معاوضے میں جن نقود کا حوالہ دیا گیا ہے ان کے بارے میں طے کرلیا گیا ہے کہ ان کی اتنی مدت بعد ادائیگی ہوگی ، ایسا ایسے کئی عقود میں ہوتاہے جن کا جواز یا تو منصوص ہے یا امت میں ان کا جواز مسلمہ چلا آرہا ہے ، جیسے بیع مؤجل وغیرہ ، ( بحث کی آسانی کے لیے یہاں ہم وہ بیع مؤجل فرض کرلیتے ہیں جس میں طے پانے والی قیمت مارکیٹ ریٹ کے برابر ہواور ادھار کی وجہ سے قیمت میں اضافہ نہ کیا گیا ہو) خود نبی کریم صلی اللہ علیلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری میں ایام میں کچھ خوردنی اشیا (طعام ) ادھار خریدی تھیں جن کے ثمن کی ادائیگی ابھی آپ نے نہیں فرمائی تھی کہ آپ کا انتقال ہوگیا اور اسی ادھار کے عوض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زرہ بھی رہن رکھی ہوئی تھی۔ ایسی حالت میں گویا ایک شخص نقود ( uints of currency ) یا آلۂ مبادلہ والا کام تو چلا رہا ہے لیکن عملاً اس کے پاس وہ نقود، آلۂ مبادلہ یا قوّتِ خرید کی نمائندگی کرنے والی چیز موجود نہیں ہیں ،بلکہ اس کی طرف سے اسے بعد میں ادا کرنے کاوعدہ ہے ، یہ واجب فی الذمہ نقود بعض شرعی حدود وقیود کے اندر ایک ذمہ سے دوسرے ذمہ کی طرف منتقل بھی ہوسکتے ہیں۔
اگلی بات کو مزید آسانی کے ساتھ سمجھنے کے لیے یہ بھی کہہ لیجئے کہ ایسے دیون کی رسیدیں بھی بن سکتی ہیں اور انتقالِ ذمہ کے عمل میں انہیں استعمال بھی کیا جاسکتا ہے ، ایک ایسا معاشرہ جس میں بینکوں کا سرے سے وجود ہی نہ ہو اور اس میں کاغذی نوٹ کی بجائے خود دھاتی سکے چل رہے ہوں ، مثلا وہاں زر کے طور پر صرف سونے کے دینار ہی استعمال ہوتے ہوں ، وہاں پر بھی مؤجل ادائیگیوں والے ان عقود کی وجہ سے یہ بات ممکن ہے کہ معاشرے میں اصل زر جتنا ہے عملاً اس سے زیادہ کا حوالہ دے کر عقود کیے جارہے ہوں ، یا یوں کہہ لیجئے کہ اصل مقدار سے زیادہ زر استعمال ہورہاہو ، اور یوں یہ عقود تخلیقِ زر کا باعث بن رہے ہوں اور یوں تخلیقِ زر کے عمل کو مکمل طور پر جدید بینکاری کے ساتھ خاص نہیں کیا جاسکتا، مثال کے طور پر کئی صدیاں پیچھے جاکر ہم فرض کرتے ہیں کہ ایک بستی ہے جس میں کل گیارہ آدمی رہتے ہیں ، اور اس میں بطور کرنسی صرف دینار استعمال ہوتے ہیں ، فرض کریں بستی میں موجود دیناروں کی مقدار کل ۱۰۰ ہے ، جن میں نو کے پاس دس دس دس دینار اور دو کے پاس پانچ پانچ دینار موجود ہیں ، ان پانچ دینار والوں میں سے ایک شخص آٹھ دینار والی اونٹنی ایک سال کے ادھار پر خرید لیتا ہے ، اس لیے کہ اسے توقع ہے کہ وہ سال بھر میں اتنا غلہ اگالے گا جس میں سے وہ اپنی ضرورت سے زائدغلہ کم از کم تین دینار میں بیچ کراس کے پاس پہلے سے موجود پانچ دینار ملاکر آٹھ دینار کی ادائیگی کردے گا۔
فرض کریں کہ باقی سارے لوگ بھی اپنے اپنے پاس موجود زر کوکسی نہ عقد میں استعمال کررہے ہیں ، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس معاشرے میں عملاً جو زر استعمال ہورہاہے وہ ایک سو تین دینار ہے ،جبکہ حسی طور پر اس کی مقدار کل سو(۱۰۰) دینارہے ، اسی طرح باقی سب لوگ بھی کئی ادھار معاملات کررہے ہوں تو عملاً جتنے دیناروں کا حوالہ دے کر معاملات کیے جارہے ہیں وہ اس معاشرے میں بالفعل موجود دیناروں کی مقدار سے کہیں زیادہ ہوں گے ، اس طرح سے ادھار کے یہ سارے معاملات ایک معنی میں تخلیقِ زر کا باعث بن رہے ہیں ، اور اسے فقہا کا یہ مسلمہ اصول جواز مہیا کررہاہے کوئی عقدِ معاوضہ کرتے وقت نقود کا قبضے یا ملکیت میں ہونا ضروری نہیں ہے ،اس لیے کہ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ زید نے بعد میں جو دینار دینے ہیں اس وقت اس کے پاس نہیں ہیں انہی دیناروں کواسی وقت کسی اور عقد میں بھی استعمال کیا جارہاہوگا ، اورفقہا کے اس اصول کو نصوص اور تعاملِ امت کی تایید بھی حاصل ہے ، یہ بھی ذہن میں رہے کہ تخلیقِ زر کی اصطلاح حقیقت پر پورے طور پر دلالت نہیں کرتی ، اگر فقہا کی اصطلاح استعمال کریں تو ہم تخلیق زر کی بجائے تخلیقِ دَین کہہ سکتے ہیں اور اگر جدید اصطلاح استعمال کریں تو بینکوں کے عمل کے لیے مروّجہ اصطلاح (creation of credit ) ہے اس کے لیے آج کل عربی میں خلق الاعتبار یا خلق الائتمان کا لفظ استعمال ہوتاہے ، یعنی کریڈٹ وجود میں لانا، اگر یہ اصول تسلیم کرلیا جائے کہ کریڈٹ تخلیق کرنے کا عمل بذاتِ خود بہت بڑی معاشی برائی ( جسے اسلام کے مطابق بنائے جانے کا سرے سے امکان ہی نہیں ہے )، استحصالی حربہ اور سرمایہ دارانہ مقاصد کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے تو یہ بات امت کی پوری کی پوری معاشی تاریخ کو گالی دینے کے مترادف ہوگی ، اس لیے کہ یہ بات تو ادھار کے تقریبا ہر معاملے میں ہوگی ، ادھار کے ہر معاملے میں creation of credit کے ذریعے کسی نہ کسی درجے میں زر کی رسد میں اضافہ ہوگا ، اور موجودہ زر کی ویلیو میں کمی واقع ہوگی۔
اس کو آسانی کے ساتھ یوں سمجھئے کہ اوپر ذکر کردہ مثال میں پانچ دینار کا مالک جب آٹھ دینار والی اونٹنی خریدنے کا ارادہ کرے گا تو اسے اگراونٹنی ادھار دستیاب نہ ہو تو اسے تین دینارکہیں نہ کہیں سے حاصل کرنا ہوں گے خواہ اپنی کوئی چیز مثلاً بکری اونے پونے داموں بیچ کر ہو ، اس طرح سے دینار کی طرف رغبت یا اس کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوگا ، اس طرح سے اشیا کی رسد اور اس کے بالمقابل دینار کی طلب میں اضافہ ہوگا ، لیکن اگر اسی شخص کو اونٹنی ادھار دستیاب ہوجاتی ہے تو وقتی طور پر ان دیناروں کی طرف رغبت میں اور ادھار نہ ملنے کی صورت میں جو اشیا اس نے بیچنی تھیں ان کی رسد میں کمی واقع ہوگئی ، اس کے نتیجے میں اشیا کی قیمت میں اضافہ اور زر کی قیمت میں کمی واقع ہوگی ، اور زر کے انہی یونٹس کی قوّتِ خرید میں کمی واقع ہوجائے گی ، یا یوں کہہ لیجئے کہ افراطِ زر کی کیفیت پیدا ہوجائے گی ، یہ سب کچھ ادھار کے معاملے کی وجہ سے ہوا ہے ، اس طرح کے معاملات کو کم تو کیا جاسکتاہے ، ختم نہیں ، اسے اگر کم کرنا ہو تو کیسے اور کتناکرنا ہے یہ شرعی سے زیادہ تدبیری مسئلہ ہے جو کافی حد تک انتم أعلم بأمور دنیاکم میں داخل ہے ، شریعت نے اسے تدبیری مسئلہ اس لیے بھی رکھا ہے کہ ضروری نہیں کہ زر کی رسد میں اضافہ ہر حال میں مضرہی ہو بلکہ بعض حالات میں اس میں اضافہ مفید ہوتا ہے اور بعض میں کمی ( عملاً ہر ملک میں مرکزی بینک تخلیق زر کے عمل کو کنٹرول کرنے کے لیے متعدد اقدامات کرتاہے ) ۔
جناب مغل صاحب کا بظاہر رجحان اس طرف معلوم ہوتاہے کہ زر (money) کو (exogenous) کی بجائے (endogenous) ہونا چاہیے۔ یہ بات ا پنی جگہ اہم اور درست معلوم ہوتی ہے ، خاص طور پر بعض جدید معاشی مفکرین کی یہ بات خاص توجہ کی مستحق ہے کہ زر میں ریاست کا کردار کم سے کم ہونا چاہئے ، فقہا نے بھی کسی چیز کے ثمن ہونے میں عرف اور لوگوں کے قبولِ عام کو خاص اہمیت دی ہے ، گویا فقہاکا نظریۂ زر عوامیت کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتا ہے ، اگرچہ وہ ریاست کے کردار کی بالکل نفی نہیں کرتے اور نہ ہی کی جاسکتی ہے ، کریڈٹ کی تخلیق کے ذریعے زر کی رسد بڑھانے کو اگرچہ بعض اوقات بہت بڑی معاشی برائی کے طور پر لیا جاتاہے ، جناب مغل صاحب نے بھی یہی انداز اختیار کیا ہے ، لیکن یہ پہلو بھی خاصی توجہ کا مستحق ہے کہ اس طرح کے عقود کو جائز قرار دینے سے زر کی رسد کا معاملہ مکمل طور پر ریاست کے ہاتھ میں نہیں رہتا بلکہ کافی حد تک عوامی بن جاتا ہے ، اس لیے کہ یہ عقود عام لوگوں نے کرنے ہوتے ہیں ، لہذا ان عقود کے ذریعے عوام خود فیصلہ کرتے ہیں کہ زر کی رسدکو بڑھانا ہے یا گھٹانا ، اس لیے اسلام نے اس طرح کے عقود پر شرعی مسئلے کے طور پر پابندی نہیں لگائی ، اسلامی تعلمیات کا نقطۂ ترکیز کریڈٹ یا دَین کی تخلیق نہیں ہے ، بلکہ اس عمل کے ذریعے نفع کمانے کا طریقہ ہے ، نفع کمانے کو بھی شریعت اسلامیہ میں بالکلیہ ناجائز نہیں کہا گیا بلکہ اس کا انحصار اس کے طریقِ کار پر رکھا گیا ہے ، اگر وہ معاملہ زر بمقابلہ اشیا یا خدمات ہے تواس میں نفع جائز ہے ، اور اگر زر بمقابلہ زر ہے تو ناجائز ہے ، اسی کو قرآن نے أحل اللہ البیع وحرّم الربوا سے تعبیر کیا ہے ( یہ نکتہ مزید وضاحت طلب ہے ، اس پر تفصیل سے بات اس موقع پر ہوگی جب ہم تخلیقِ زر کے مسئلے پر بات کریں گے ، یہاں محض اشارہ مقصود ہے ) ، ہاں البتہ عصرِ حاضر کے وہ علما جن کا غیر سودی بینکاری سے واسطہ رہاہے انہوں نے بطور معاشی پالیسی کے اس بات کو قابلِ ترجیح قرار دیاہے کہ تمویلی عمل میں زیادہ انحصار مداینات کی بجائے مشارکات پر ہو ، اس طرح کی بات سابقہ فقہا کے ہاں شایدصراحت کے ساتھ ہمیں نہ ملے ، ان علما نے غیر سودی بینکاری سے زیادہ سے زیادہ بہتر نتائج کے حصول اور انہیں مقاصدِ شریعت کے زیادہ قریب کرنے کے لیے بطور ایسی عمومی پالیسی کے کہی ہے جس کی طرف بڑھنے کو اپنا ہدف قرار دیا جانا چاہیے۔ ( اس کے باوجود ان علما کو مقاصدِ شریعت کو نظر انداز کرنے اور سرمایہ دارانہ مقاصد کی پشت پناہی کا طعنہ دیا جاتاہے ) ۔
حقیقی رسید اور ’جعلی‘ رسید
دوسرا بڑا اشتباہ یہاں یہ ہوگیا ہے کہ بینکوں کی رسیدیں بھی دو طرح کی ہیں ، ایک وہ جن کے پیچھے واقعی بینک کی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے وہ کسی فرضی کاروائی کا نتیجہ نہیں ہوتیں ، مثلاً زید ایک بینک میں اپنا اکاؤنٹ کھلواکر اس میں دس ہزار روپے جمع کرادیتاہے ، اب وہ خالد کو ہزار روپے کی ادائیگی کرنا چاہتا ہے تو اپنے اکاونٹ پر خالد کے نام ہزار روپے کا چیک کاٹ دیتاہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ زید اپنے بینک سے یہ کہہ رہاہے کہ میرے لیے تمہارے ذمے جو دس ہزار روپے واجب الادا ہیں ان میں سے ہزار روپے خالد کو دیدئیے جائیں ، اب اگر خالد بالفعل یہ ہزار روپے وصول نہیں کرتا بلکہ اپنے اکاؤنٹ میں جمع کرادیتاہے تب بھی یہ فرضی کاروائی نہیں ہے ، اس لیے کہ اس صورت میں بہت مختصرسے عرصے کے اندر زید اور اس کے بینک سے یہ قوّتِ خرید خالد اور اس کے بینک کی طرف منتقل ہوجائے گی ، پہلے یہ ہزار روپے زید کا اثاثہ اور اس کے بینک کی ذمہ داری تھی اب خالد کا اثاثہ اور اس کے بینک کی ذمہ داری بن گیا ہے ، اب خالد اپنے اکاونٹ پر ناصر کے نام اگر ہزار روپے کا چیک کاٹتاہے تو یہ بھی فرضی رسید نہیں ہے ، اس لیے کہ اس کی پشت پر ایک حقیقی ذمہ داری موجودہے، دوسری صورت ان رسیدوں کی وہ ہے جو کسی بینک کی طرف سے قرضہ جاری کرنے کی حالت میں ہوتی ہے، مثلا عبد الحمید ایک بینک سے دس ہزار روپے قرض لینے کی درخواست دیتاہے ، اس کی درخواست منظور ہوجاتی ہے ، اب جیساکہ عموماً ہوتا ہے بینک کی طرف سے قرض دینے کی صورت یہ اختیار کی جاتی ہے کہ وہ عبد الحمید کے نام کا اکاؤنٹ کھول کراس کے نام دس ہزار روپے لکھ دیتاہے ، جو عبد الحمید کے اثاثوں ( assets) میں شمار ہوں گے اور بینک کی ذمہ داریوں (liabilities) میں ، اب عبد الحمید دس آدمیوں سے مختلف اشیا خریدکر انہیں ادائیگی کرنے کے لیے اپنے اس اکاؤنٹ پر ان کے نام ہزار ہزار روپے کے چیک کاٹ کر انہیں دے دیتاہے ، مذکورہ مضمون میں جن جعلی رسیدوں کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد بظاہر یہی صورت ہوسکتی ہیں ، اس لیے کہ پہلی قسم کی رسیدیں تو کسی طرح بھی جعلی نہیں ہیں ، ان کے پیچھے تو سچ مچ کی ایک ذمہ دار ی یا دَین ہے ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دوسری قسم کی رسیدوں کو بالکل جعلی مان بھی لیا جائے توبھی اسلامی بینکوں کے عام تمویلی آپریشنز میں اس طرح کی رسیدیں سرے سے وجود میں ہی نہیں آتیں ، کیونکہ یہ رسیدیں قرض دینے کی ایک شکل ہیں ، اور اسلامی بنک نفع بخش تمویل کے طور پر قرض دیتا ہی نہیں ہے ، وہ یا تو کسی کاروبار میں شریک ہوتاہے یا اشیا یا خدمات فراہم کرتاہے ۔
مثال کے طور پر مرابحہ کو لے لیجیے۔ عبد الحمید دس آدمیوں سے دس چیزیں خریدنا چاہتاہے ، لیکن اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ، عبد الحمید ایسے ہی موقع پر ( پچھلی مثال میں ) جب روایتی بنک کے پاس گیا تھا تو اس نے دس ہزار روپے قرض کی منظوری دے کر دس ہزارروپے کا اکاؤنٹ کھول کر اسے چیک بک دے دی تھی ، جس سے اس نے دس آدمیوں کے نام ہزار ہزار روپے کے چیک کاٹے تھے( جبکہ بنک عبد الحمید سے واپس مثلا گیارہ ہزار لے گا ) ، اسلامی بنک ایسا نہیں کرے گا ، وہ یہ چیزیں خود ان دس آدمیوں سے ہزار ہزار روپے میں خرید کر عبد الحمید کو گیارہ گیارہ سو میں ادھار بیچ دے گا ، جس کے نتیجے میں اس کے ذمے گیارہ ہزار واجب الاداء ہوگئے ، اب اسلامی بنک اپنے کلائنٹ یعنی عبد الحمید کو توپیسے دے ہی نہیں رہا ، اسے تو اشیا دے رہا ہے ، لہذا اس طرف سے تو کسی رسید کے جاری ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہاں البتہ بنک ان دس آدمیوں کو جو دس دس ہزار کی ادائیگی کررہاہے وہ بظاہر چیک کے ذریعے ہوگی ، یہ چیک جعلی قرض کی رسید نہیں ہے ، بلکہ ان حقیقی اشیا کا معاوضہ ہے جو انہوں نے بنک کو بیچی ہیں ، اسی طرح سے یہ دس کے دس آدمی ان چیکوں کے ذریعے رقوم نکلوانے کی بجائے انہیں اپنے اکاؤنٹ میں جمع کرادیتے اور ان رقوم کے عوض خریداری کے لیے آگے مزید چیک کاٹتے ہیں ، تو یہ بھی اوپر ذکر کردہ دو صورتوں میں سے پہلی قسم میں داخل ہے ،جس میں خالد ، زید سے چیک لے کر اسے کیش کروانے کی بجائے اپنے اکاؤنٹ میں جمع کرادیتاہے ، اسے کسی بھی طرح جعلی قرض کی رسید نہیں کہا جاسکتا ، اس کے پیچھے حقیقی واجبات ہیں، لہذا یہ دعوی کہ اسلامی بینکنگ میں بھی جعلی رسیدوں کا لین دین ہوتاہے ناقابلِ فہم ہے ، ہاں یہ بات اپنی جگہ مسلّمہ ہے کہ مرابحہ مؤجلہ والی یہ کا روائی بعض امور میں قرض والی تمویل کے مشابہ ہے ، اس بات کو تو قرآن نے بھی ایک حدتک تسلیم کیاہے کہ کفار کے اس اعتراض کہ إنما البیع مثل الربا کے جواب میں یہ تو فرمایا وأحل اللہ البیع وحرم الربوا ، لیکن کفار کے اس دعوئ مثلیت کو بالکلیہ رد نہیں کیا۔
عموماً یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ فرق بہت معمولی ہے ، مثلاً مذکورہ مضمون میں کہا گیا ہے کہ جو کام عام بنک ایک اندراج میں کرتے ہیں ، وہی کام مرابحہ کی شکل میں دو اندراجوں میں کیا جارہاہے ، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کیسے ہوگا کہ یہ فرق چھوٹا ہے یا بڑا ، ظاہر ہے کہ اگر بحث یہ ہو کہ اس فرق سے اسلامی غیر اسلامی یا دوسرے لفظوں میں جائز یا ناجائز ہونے پر اثر پڑتاہے یا نہیں تو اس میں فیصلہ کن حیثیت دلیلِ شرعی کو حاصل ہوگی ، اسلامی یا غیر اسلامی ہونا تو خود اسلام ہی بتائے گا ، نہ کہ ہماری پسند یا ناپسند ، یا ہمارا دو چیزوں کو ایک جیسا سمجھنا یا الگ الگ ، اس بحث میں تو اسلامی نقطۂ نگاہ سے مناط الحکم کو دیکھنا ہوگا کہ اس کے اعتبار سے دو چیزیں الگ الگ ہیں تو یہ فرق اہم ہوگا اگرچہ باقی پہلوؤں سے یہ فرق معمولی نظر آرہاہو ، مناط الحکم جو مغل صاحب نے آخر میں نکالاہے وہ ہے جعلی قرضوں کی رسید کا لین دین ، اگر اس چیز کو ہی مناطِ حکم مان لیا جائے تو یہ ثابت کرنا انتہائی مشکل ہے کہ مرابحہ کے عمل میں بھی جعلی قرضوں کی کوئی رسید ہوتی ہے جس کا لین دین ہوتاہے ، اگر روایتی بنکوں میں ایسا ہوتابھی ہے تو اس کا حکم اسلامی بینکوں پر تو جاری نہیں ہوسکتا ، جس چیز کو وہ محض دو اندراج یا ایک اندراج ہونے کا فرق کہہ رہے ہیں وہ فرق تو ایسا ہے کہ ایک اندارج والی صورت (قرض پر مبنی تمویل )میں مغل صاحب کے بقول جعلی قرضوں کی رسیدیں وجود میں آرہی ہیں ، اور دو اندراج والی صورت ( مرابحہ والی تمویل )میں جو رسید وجود میں آتی ہے ان کو کسی بھی طرح جعلی رسید نہیں کہا جاسکتا ، وہ حقیقی مالی ذمہ داری کی نمائندگی کرتی ہے ، اس رسید کے پیچھے محض وعدہ نہیں ہے بلکہ وہ چیز ہے جو سچ مچ واجب الادا ہوچکی ہے ، کیا جعلی ہونا یا نہ ہونا معمولی فرق ہے!
قلم اٹھانے کا اصل مقصد یہ تھا کہ اس بات کاجائزہ لیا جائے کہ اسلامی بینکاری کو اگر مقاصدِ شریعت کے پیمانے سے دیکھنا ہوتو اس کا منہجِ بحث کیا ہوسکتاہے ، اسی کے ساتھ زر کے بارے میں کچھ امور پر بات کرنے کا اردہ تھا، خیال تھا کہ مذکورہ مضمون کے بارے میں کچھ چھوٹی چھوٹی باتیں عرض کرنے کے بعد اصل موضوع پر بات ہو جائے گی ، لیکن ان ابتدائی باتوں پر ہی گفتگو لمبی ہوگئی ، ایک ہی مضمون میں اس سے زیادہ بات کرنا قارئین پر بوجھ کا باعث ہوگا ، اس لیے انہی باتوں پر اکتفا کرتے ہوئے باقی بات کو آئندہ کسی مستقل مضمون پر چھوڑتے ہیں ،تاہم منہجِ بحث کے بارے میں اس نکتے کی طرف دوبارہ توجہ دلانا مناسب معلوم ہوتاہے کہ جب مقاصدِ شریعت کی رو سے کسی چیز کو دیکھنا ہوتو ایک تو یہ ضروری ہے کہ جس چیز کو دیکھا جارہا ہے اسی سے متعلق مقاصد پر ترکیز (focus) ہو ، نماز کے مقاصد کا اطلاق زکوٰۃ پر اور زکوٰۃ کے مقاصد کا اطلاق نماز پر درست نہیں ہوگا ، زیرِ بحث مسئلے میں ایک تو عمومی معاشی مقاصدِ شریعت دیکھنے ہوں گے ، لیکن اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ حرمتِ ربا میں کون سے مقاصد پنہاں ہیں یہ دیکھنا ہوگا ، اس لیے کہ بینکاری کے یہ ادارے سود کے متبادل کے طورپر سامنے آئے ہیں ، دوسری بات یہ ہے کہ مقاصدِ شریعت کا تعین بھی خود شرعی دلیل سے ہی ہوگا ، اس میں استخراجی انداز بھی اپنانا ہوگا جس میں نصوص کو دیکھنا پڑے گا ، اور استقرائی بھی ، یعنی یہ دیکھنا ہوگا کہ جن چیزوں کے خاتمے کو ہم مقاصدِ شریعت میں شمار کررہے ہیں کہیں شریعت کے بعض دیگر ثابت شدہ احکام سے وہی اثرات مرتب تو نہیں ہورہے ، اگر ایسا ہے تو جس چیز کے خاتمے کو ہم مقاصدِ شریعت سمجھ رہے تھے ہمیں اپنی اس بات پر ہی نظرِ ثانی کرنا ہوگی ، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کسی چیز کو ہم بہت بڑی معاشی برائی اور استحصالی ہتھکنڈا اور نہ معلوم کیا کچھ کہتے رہیں اور ہماری اس بات کی زد خلافتِ راشدہ بلکہ عہدِ رسالت پر جاکر پڑے ۔
آخر میں اس بات کا اعتراف ضروری ہے کہ جناب مغل صاحب نے جو اس طرف توجہ مبذول کرائی ہے کہ اسلامی بینک بھی زر کی رسد میں اضافے کا باعث بنتے ہیں یہ بات بذاتِ خود اہم ہے ، اس لیے کہ جس طرح سے عام طور پر روایتی بینکوں کے بارے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہ زر کی رسد میں اضافہ کرتے ہیں اس سے اس غلط فہمی کے جنم لینے کا امکان ہے کہ اسلامی بینک ایسا نہیں کرتے ، یہ بات بھی اہم ہے کہ زر کے اس اضافے میں دخل اس بات کو بھی ہے کہ ڈیپازیٹر اپنے زر کے استعمال کے حق سے دستبردار نہیں ہوتا ، اگرچہ روایتی اور اسلامی بینکوں کے ڈیپازٹس کی نوعیت میں کافی فرق ہوتاہے تاہم یہ بات اکثر ڈیپازٹس میں قدرِ مشترک ہے ، لیکن ان دونوں کے بذاتِ خود برائی ہونے یا ان کے غیر اسلامی ہونے پر کوئی واضح دلیلِ شرعی موجود نہیں ہے ، البتہ بعض حالات میں ان کے نامناسب معاشی اثرات ہوسکتے ہیں ، اس لیے ان دونوں چیزوں کو ایک حد میں رکھنے کے لیے کچھ طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں ، لیکن یہ مسئلہ بھی اپنی اہمیت کے باوجود بنیادی طور پر شرعی سے زیادہ تدبیری ہے ، دوسرے مسئلے کے حل کے لیے مثلا یہ کہا جاسکتاہے کہ عام سیونگ اکاؤنٹ کی بجائے فکسڈ ڈیپازٹس کی زیادہ حوصلہ افزائی کی جائے ، اس لیے کہ ان میں کھاتہ دار ایک محدود مدت تک اپنی لگائی گئی رقم کے استعمال سے مکمل طور پر دستبردار ہوجاتاہے ، بہر حال اس طرح کے تدبیری مسائل کے لیے جناب مغل صاحب سمیت معیشت دانوں کو آگے آنا چاہئے اور ان بینکوں کی راہ نمائی کرنی چاہئے کہ یہ بینک خود اس طرح کے مسائل کے حل کے لیے کیا کر سکتے ہیں ، ان کے شریعہ بورڈز اور شریعہ ایڈوائزرز کیا کرسکتے ہیں اور مرکزی بینک کا کیا کردار ہوسکتا ہے۔
’’فخر زمان: کل اور آج‘‘
پروفیسر میاں انعام الرحمن
جامعہ گجرات کے شعبہ تصنیف و تالیف نے انتہائی کم مدت میں جامعہ کو وطنِ عزیز کی نامور جامعات کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ شیخ عبدالرشید کے قلم سے نکلا ہوا ’جامعہ نامہ‘ ایک طرف اس درس گاہ کی متنوع سرگرمیوں کا عکاس تھا تو دوسری طرف ملک کے علمی و فکری حلقے میں جامعہ گجرات کے مثبت تعارف کا اشاریہ تھا۔ اہلِ علم اس’جامعہ نامہ‘ میں مستقبل کے عزایم کی جھلک دیکھ رہے تھے۔ انہی عزایم کی ایک عملی صورت اس وقت ہمارے پیشِ نظر ہے ۔ شیخ عبدالرشید اور طارق گوجر کی محنتِ شاقہ ’فخر زمان: کل او ر آج‘ کے عنوان سے جامعہ گجرات نے نہایت اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے۔ یہ ایک بڑی تقطیع کی مدون کتاب ہے جس کا سرورق امرتا پریتم کے شوہر امروز نے کچھ اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ اس کی کتاب دوستی اور امرتا پریتم سے محبت ، گلے ملتے دکھائی دیتے ہیں۔
کتاب کے آغاز میں شیخ عبدالرشید کے زور آور قلم سے ’عکسِ فخر‘ کے تحت فخر زمان کی زندگی کا خاکہ شامل ہے۔ اس خاکے میں ’فن اور شخصیت‘ کی روایتی بحث کو شیخ صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں لیتے ہوئے شخصیت کی اہمیت اس طرح واضح کی ہے:
’’سینت بیو کا تنقیدی اصول ہی یہ ہے کہ ہم کسی شخص کو جان لینے کے بعد ہی اس کی تحریروں اور فن و خدمات کا حقیقی ادراک کر سکتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ: ''When we know the tree, we know the fruit'' (عکسِ فخر، ص۱۸)
اس کے بعد یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد نظام الدین نے ادبی لطافت اور فلسفیانہ گہرائی کے خوبصورت امتزاج سے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے واقعاتی یا شخصی استدلال کے باوجود اصولیین کے سے انداز میں نتایجِ فکر بھی اخذ کیے ہیں ، ملاحظہ کیجیے:
’’ ہر زندہ عہد میں کوئی تفہیم اور وضاحت بہت حد تک اختلافی ہوتی ہے اور جو شخصیات اس اختلاف کی ترجمان بنتی ہیں وہ مزاحمت کی علم بردار ہونے کی بنا پر اپنے زمانے کے جبر کا شکار بھی ہوتی ہیں ۔ ’’چیلنج اور ریسپانس‘‘ کا یہی عمل انہیں منفرد اور سچا انسان بناتا ہے۔ ہمارا عہد پیغمبروں کا عہد نہیں ہے، اس لیے آج ہر سوچنے سمجھنے والے کو اپنی سچائیاں خود تلاش کرنی پڑتی ہیں۔ یہ سچائیاں اس واردات کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں جو کسی کھرے شخص کو راہِ حق میں پیش آئیں اور وہ ان سے نبرد آزما ہو‘‘۔ (ایک عہد کا ستعارہ، ص۲۹)
’’ فکر و آگہی کے اس دھول دھول سفر میں کتاب اور کہانی کے انقلابی سر کہیں گم ہو گئے ہیں۔ اب تو یہاں آمروں اور ڈکٹیٹروں کی پروردہ سیاسی پنیری ہے یا خال خال وہ انقلابی رہ گئے ہیں جو اس گلے سڑے بکھرتے نظام کے اندر سے خزانے ڈھونڈ لانا چاہتے ہیں۔ کیا خبر سرکاری ایوانوں اور سیاسی ایوانوں کے آرام دہ ماحول میں بیٹھے فخر زمان کی قبیل کے انقلابیوں کے ہاتھ بھی دوچار موتی آ جائیں۔ یہ موتی مل بھی گئے تو کون جانے کہ وہ لیلائے وطن کے ہاتھ میں سجیں گے یا زرداروں کی تجوری میں چلے جائیں گے‘‘۔ (ایک عہد کا ستعارہ، ص۳۰)
تاریخی اساطیری علامت کا ادبی مقام کیا ہے؟ اس کا جواب اسی مضمون میں ڈاکٹر محمد نظام الدین جھنجھوڑنے والے اسلوب میں دیتے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جامد مسلم سماج کے تعفن زدہ شعور میں کنکر نہیں مارے جا رہے بلکہ پورے کا پورا کوہ ہمالیہ ہی اس کے اندر الٹا دیا گیا ہے ، لیجیے خود ہی فیصلہ کیجیے کہ کیا ہم بیان میں مبالغہ سے کام لے رہے ہیں؟ :
’’ اپنی تاریخ کے پس منظر میں دیکھوں تو مجھے لگتا ہے کہ فخر زمان سمیت ہم سب لوگ سبیلیں لگائے جام آب ہاتھ میں لیے خلا میں گھور رہے ہیں کہ کہیں سے امام حسین ؑ آنکلیں اور ہم انہیں پانی پیش کریں۔ اس بھولپن میں ہم یہ فراموش کر بیٹھے ہیں کہ امام حسین ؑ تو یزیدیت کے ساتھ اپنے یدھ کے اس مرحلے پر ہیں جہاں پانی کا پورا دریائے فرات کسی کام کا نہیں رہا۔ آج حق اور استحصال کی جنگ میں سماج اپنی تشنگی سے بہت آگے نکل گیا ہے۔ اب تو لاشیں کندھوں پر اٹھانے کا وقت ہے بصورتِ دیگر ہمیں چلّو بھر پانی بھی کافی ہے‘‘ (ایک عہد کا ستعارہ، ص۳۰)
سنجیدہ اور گہرے ادبی اظہار کو عوام کی غالب اکثریت کی سطح تک لے جانا ، ابلاغ کے پہلو سے ہمیشہ ایک پیچیدہ مسئلہ رہا ہے۔ ڈاکٹر محمد نظام الدین ہمیں بتاتے ہیں کہ جناب فخر زمان کی تخلیقات صرف اظہار نہیں ہیں بلکہ ان میں ابلاغ کے تقاضے بخوبی نبھائے گئے ہیں:
’’ہمارے عہد کی ایک مشکل یہ ہے کہ آج کا ادب جن لوگوں کی راہِ عمل کا تعین کرتا ہے وہ اس تک رسائی اور پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور ہم جیسے لوگ جنہیں پڑھنے پڑھانے کا شوق بھی ہے اور دعوٰی بھی، جنہوں نے فخر زمان کی تخلیقات کا مطالعہ کیا ہے اس کی نثر و نظم کو اس کے عہد کی روشنی میں دیکھا ہے، اس کے ناولوں ڈراموں شاعری سیاست عہدوں مراتب اور اطوارِ حیات کو بغور دیکھا ہے، ہمارا خیال ہے کہ فخر زمان اپنے لفظوں اور جذبوں کو اس ان پڑھ لوکائی تک لے جانے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے، اس کے لیے جتن بھی کرتا ہے اور اس کی سرحدیں بھی پھلانگتا ہے۔ وہ ایسا سرگرم پنجابی ہے جو دوسرے صوبوں کے حقوق، ان کی زبانوں اور ثقافتوں کے تحفظ کی بات کرتا ہے‘‘۔ (ایک عہد کا استعارہ، ص۳۱)
ہم ڈاکٹر صاحب سے جزوی اختلاف کرتے ہوئے عرض کریں گے کہ ادبِ عالیہ کی حد تک، اظہار و ابلاغ کی بحث کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ ادبِ عالیہ کے چمن کے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ادیب خوشا چیں ہوتے ہیں او ر مختلف عہدوں پر فائز ہو کر ابلاغ در ابلاغ کے فرائض سر انجام دیتے رہتے ہیں۔ بہرحال! ہم نہایت مسرت و انبساط کے ساتھ ڈاکٹر محمد نظام الدین کے مضمون میں سے ایک اور اقتباس پیش کرنا چاہیں گے جس سے قارئین کو اندازہ ہوگا کہ ان کے ہاں حرکت اور حرکت کے رخ کے کیا معنی ہیں:
’’ کہا جاتا ہے کہ اس دھرتی پر زندگی بہت سست رو ہے اتنی کہ جمود کا گمان ہوتا ہے۔ یہاں کے لوگ آج موہنجوداڑو کی تہذیب کی طرز کے برتن استعمال کرتے ہیں، صدیوں پرانی طرز کا لباس پہننا پسند کرتے ہیں، عظمتِ رفتہ کے گیت گا گا کر تاریخی نرگسیت کے اسیر ہو کر رہ گئے ہیں، یہاں کی سوچ اورفکر کا دھارا آگے کے بجائے پیچھے کی طرف بہتا ہے۔ ذرا سوچیے تو سہی یہاں کے ادب میں ڈیڑھ سو سال پرانا شاعر غالب ؔ آج بھی انقلابی نظر آتا ہے‘‘۔ (ایک عہد کا استعارہ، ص۳۱)
سید شبیر حسین شاہ کا مضمون ’ایک سیاسی دانش ور‘ منفرد مضمون ہے۔ اس کا عنوان ہی چند سوالات پیدا کرتا ہے کہ کیا کوئی سیاسی دانش ور، بڑے پائے کا ادیب ہو سکتا ہے؟ یا کوئی بڑا ادیب ، عظیم سیاسی دانش ور بھی ہو سکتا ہے؟۔ اگر اس کا جواب اثبات میں دیا جائے تو مثالیں دینے کے لیے یہ رسک لیتے ہوئے ساری انسانی تاریخ کھنگالنی پڑے گی کہ شاید آخر میں ہاتھ کچھ نہ آئے۔ خیر! یہ ایک جملہ معترضہ تھا۔ اگرچہ عنوان ’’ایک سیاسی دانش ور‘‘ فخر زمان کے حوالے سے ہے ، لیکن شبیر شاہ صاحب نے موقع غنیمت جانتے ہوئے دل کی باتیں اہلِ علم کے سامنے رکھی ہیں۔ یوں سمجھیے کہ روایتی ساس کی طرح بیٹی کو کہہ کر بہو کو سنا رہے ہیں یا جگ بیتی کے روپ میں آپ بیتی بیان کر رہے ہیں ۔ لیجیے ملاحظہ کیجیے منطقی استدلالی نقطہ نظر سے اپنے سماج کے ماضی و حال کا کچا چٹھا ، اور مستقبل کا منظر نامہ:
’’ ہر کوئی اپنی مرضی کا انقلاب چاہتا ہے مگر یہ عجیب بات نہیں ہے کہ آپ انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں پنجابی رھتل میں اور طریقے برطانوی سیاست کے اور فلسفہ روسی استعمال کرتے ہیں۔ اگر پشکن، ٹالسٹائی، گورکی اور دوستو فسکی وغیرہ ایک انقلابی آہنگ پیدا کرتے ہیں جس میں سے لینن، ٹراٹسکی اور سٹالن مارکسی انقلاب برپا کر لیتے ہیں تو یہ کیوں ممکن نہیں ہوا کہ بابا بلھے شاہ، شاہ حسین اور سلطان باہو ایک انقلابی آہنگ پیدا کرتے اور کوئی انقلابی قاید انقلاب برپا کر لیتا۔ دراصل ہمارے سماج کی introvert psychy ان شاعروں کے درد کو، گھونٹ گھونٹ پی گئی ہے اور نعرہ انقلاب برپا نہیں کر سکی‘‘ (ایک سیاسی دانش ور، ص۳۲)
’’ زبان، قومی شناخت، کلچر، ادب، شاعری اور موسیقی کو Property Concept میں رکھ کر زندہ نہیں رکھا جا سکتا۔ تاریخ کے بے رحم فیصلے ہمیشہ طاقت ور عناصر کے حق میں ہوئے ہیں۔ گلوبل مارکیٹ کا پھیلتا ہوا طاغوت گاہک کی زبان اور اس زبان کے افسانہ نگاروں اور شاعروں سے کہیں خوف زدہ نہیں ہے۔ اس کی قوت Hi Tech Computer اور اعلیٰ سائنسز پر اس کی اجارہ داری ہے، اس کے عیسائی ہونے یا انگریزی بولنے میں نہیں ہے۔ لہذا اعلیٰ سائنسز کی Definations کو اپنے لہجے کی طاقت سے اپنے حق میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ لہجہ پتہ نہیں ماجھی ہو کہ پوٹھوہاری ہو۔ جرمن ہو یا سنہالی ہو، انقلاب کی بھی اپنی کوئی کلچرل شناخت نہیں ہوتی نہ بنائی جا سکتی ہے‘‘ (ایک سیاسی دانش ور، ص۳۳)
’’ سماج اور وقت اتنی تیزی سے تبدیل ہوتے رہے ہیں اور ہو رہے ہیں کہ پچھلے زمانوں کا کوئی بھی کتابی علم آج کے دور میں کوئی انقلاب پیدا کرنے کی خود کفیل صلاحیت نہیں رکھتا۔ خود مارکسزم کی بیسویں صدی کی Inspiration کم از کم تاریخی حرکت کے ایجنڈے سے Isolate ہو گئی ہے اور بہت گہرے اور پیچیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں‘‘ (ایک سیاسی دانش ور، ص۳۵)
’’مقامی انقلاب اب ممکن نہیں رہا ہے لہذا زبان چاہے وہ پنجابی اور سندھی ہے یا ملاوی اور سنہالی ہے صرف مقامی انقلاب کی ہی مدد گار ہو سکتی تھیں۔ فخر زمان کو اس سے اتفاق نہیں ہے۔ .... فخر زمان کا خیال ہے کہ یہ مائع سی شے جسے وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا علم کہتے ہیں اگر پنجابی زبان میں ڈھالی جائے تو ڈھل جائے گی۔ یہ تصور ایسے ہی کہ ایک جدید ترقی یافتہ کمپیوٹر (جو کہ ایک ٹیکنالوجی ہے) اس میں پنجابی زبان کا سافٹ وئیر ڈال دیں تو مسئلہ حل ہو جائے گا اور ہمارا دیس پنجاب سائنسی علوم کی آماج گاہ بن جائے گا۔ سائنسی علوم کوئی پرچیزایبل آئٹم تھوڑی ہے جو کسی بھی زبان اور کسی بھی قوم کی ملکیت بنا دی جائے یہ تو معروض کے ساتھ بہت گہرے Interaction کے نتیجے میں حاصل ہونے والی علمی صلاحیت کی کوکھ سے پیدا ہونے والا علم ہے یہ اسی کا ہوتا ہے جو اسے جنم دیتا ہے‘‘ (ایک سیاسی دانش ور، ص۳۵)
’’ اگر پنجابی بولنے والا سماج جدید دنیا کو Compete کرنے والے سائنس دان پیدا کرے تو وہ نئے بلھے شاہ اور نئے شاہ حسین پیدا کرنے سے بڑی بات ہو گی، کم از کم اس گلوبل عہد میں تو ضرور ہو گی۔ اسی لیے عالمی انقلاب برپا کرنے کے لیے ہمیں دانش مند انقلابیوں اور عالمی سطح کے سائنس دانوں کی ضرورت ہے جو ایک سماجی جدوجہد اور معروض کے ساتھ Interaction کے ذریعے ہی پیدا ہوں گے‘‘ (ایک سیاسی دانش ور، ص۳۵، ۳۶)
’’وہ اپنی پہچان میں ایک انقلابی ادیب ہے مگر دو حصوں میں منقسم ہے، پنجابی دوستی میں وہ پیچھے کی طرف سفر کرتا ہے اور سامراجیت کو منہدم کرنے کے لیے آگے کی طرف بڑھتا ہے۔ یہ ’کعبہ میرے آگے، کلیسا میرے پیچھے‘ والی بات ہے۔ برِ صغیر پاک و ہند کی لوکائی کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی نفسیات میں اندرون بین ہے۔ یہ سماج باہر سے جتنے بھی زخم کھاتا، ظلم سہتا ہے انہیں لے کر اندر کی طرف بھاگتا ہے۔ کبھی کبھی تاریخ میں چیختا ہوا باہر بھی نکلتا ہے مگر بے سمت اندھا دھند دوڑ پڑتا ہے اور پھر کسی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ ہندوستان میں پھوٹنے والے سارے نام نہاد انقلابیوں کا یہی حشر ہوا ہے۔ یہاں تو اسلام کو بھی ہندوانہ لباس پہننا پڑا ہے۔ ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ یہ محبت اور رواداری کا صوفیانہ پیغام بڑا حسین اور مدھ بھرا ہے مگر یہ انقلابی ہرگز نہیں ہے۔ اس کی اوقات میں یزیدیت کو گریبان سے پکڑنا ہے ہی نہیں۔ فخر زمان صوفی بھی ہے اور انقلابی بھی۔ وہ چیختا ہے تو انقلاب کی تلاش میں بھاگتا ہے، کبھی ماسکو کبھی بیجنگ کبھی چے گویرا اور کبھی ہیوگوشاویز کی طرف، مگر اسلام آباد کی آمریتوں کی جکڑ بندیوں کا قیدی یہ ادیب واپس صوفی ازم میں پلٹ آتا ہے، شاہ حسین اور بلھے شاہ کی مدھر کافیاں، وارث شاہ کی نشیلی شاعری اس کے لیے پناہ گاہ کا کام دیتی ہے‘‘۔ (ایک سیاسی دانش ور، ص۳۶)
’’ کارل مارکس نے جس جمود کا ذکر کیا تھا وہ کسی نہ کسی شکل میں آج بھی اس دھرتی پر موجود ہے۔ میری فخر زمان جیسے سوچنے والے ذہنوں سے اپیل ہے کہ آئیں ہم اپنی اگلی تاریخ کا ایک لائحہ عمل تشکیل دیں جو گلوبل سامراجیت کے اس عہد میں ہمیں وہ اہلیت اور صلاحیت فراہم کرے جس سے ہم ایک مقابلہ کرنے والی معاشرت بن سکیں وگرنہ درماندگی اور بے کسی تو نصیب میں ہے ہی۔‘‘ (ایک سیاسی دانش ور، ص۳۶)
ہم تبصرہ کرتے ہوئے فقط اتنا عرض کریں گے کہ فخر زمان صاحب کو سید شبیر حسین کی فلسفیانہ نصایح پر کان ضرور دھرنا چاہیے۔ زیر نظر کتاب میں برِ عظیم کی معروف ادیب و شاعرہ امرتا پریتم نے فراق گورکھ پوری کے حوالے سے ادیب و شاعر کی حساسیت کو بے نقاب کیا ہے۔ اگرچہ بادی النظر میں مذہب پر طنز محسوس ہوتا ہے لیکن حقیقت میں مذہب سے زیادہ مذہبی لوگوں کے عدمِ احساس پر شدید چوٹ کی گئی ہے:
’’ادبی تاریخ میں جنت اورجہنم کا مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب دنیا والوں نے دیکھا کہ یہ شاعر ادیب ہیں یہ پتہ نہیں عوام کا دکھ ایسے دلوں میں کیوں بسا لیتے ہیں کہ پھر ساری زندگی تڑپتے رہتے ہیں۔ وہ لوگ جنہیں عوام کے دکھ سے کوئی سروکار نہیں ہوگاانہوں نے زندگی کو دو نام دیے، ایک جنت جو ان کی اپنی زندگی کے لیے اور ایک دوزخ جو شاعروں اور ادیبوں کے لیے تھی۔ پھر ایک دفعہ جنت میں ایسی ٹھنڈی ہوا چلی کہ لوگ سردی سے کانپنے لگے، انہوں نے سوچا کہ جہنم میں بہت آگ جلتی بجھتی ہے اس لیے تھوڑی آگ جہنم سے مانگ لی جائے لیکن جب انہوں نے اہلِ جہنم سے آگ کی فرمایش کی تو جہنم سے جواب آیا کہ ادھر فالتو آگ نہیں ہوتی، ادھر جو لوگ آتے ہیں وہ اپنی آگ ساتھ لے کر آتے ہیں، تو ایسی ہی آگ شاعروں اور ادیبوں کے سینوں میں جلتی ہے اور یہ آگ کوئی دوسرا نہیں لے سکتا اور اس آگ کو حاصل کرنے کے لیے شاعر یا ادیب ہونا ضروری ہے‘‘ (جہنم کی آگ، ص۳۸)
حمید اختر صاحب نے اپنے مضمون میں حیرت کا اظہار کیا ہے کہ فخر زمان صاحب، بیک وقت مختلف النوع ذمہ داریوں سے کیسے نمٹتے ہیں:
’’میرے لیے یہ امر واقعی حیرت کا باعث ہے کہ کوئی بھی لکھنے والا اتنے وسیع پیمانے پر عملی کام کیسے کر سکتا ہے جیسا کہ فخر زماں تسلسل کے ساتھ کر رہا ہے۔ وہ محض قلم کی طاقت پر ہی بھروسہ نہیں کرتا بلکہ ملک کی سیاسی زندگی میں بھی عملی طور پر برابر شریک رہا ہے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے سربراہ کی حیثیت میں اس نے حیرت انگیز تنظیمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ میرے سامنے ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ کوئی لکھنے والا عملی سیاست میں آیا یا روزانہ صحافت سے منسلک ہوا تو اس کے لکھنے کی رفتار مدھم پڑ گئی، احمد ندیم قاسمی کی مثال میرے سامنے ہے، وہ بہت زیادہ لکھنے والے تھے لیکن امروز کی ادارت کے زمانے میں اور بعد ازاں روزانہ کالم لکھنے کی وجہ سے ان کے لکھنے کی رفتار میں نمایاں کمی آ گئی، فیض صاحب نقش فریادی کی اشاعت کے بعد فوج میں چلے گئے وہاں سے فارغ ہوئے تو پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر ہو گئے، چھ سات برس کے اس عرصے میں ان کی دو یا تین نظمیں سامنے آئیں، اس کے بعد کا جو کلام ہے وہ ان کے چار سالہ جیل کے زمانے کی دین ہے۔ مگر فخر زماں ایسا لکھنے والا ہے جو غیر ادبی اور سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں پوری طرح سرگرم رہنے کے زمانے میں بھی اپنے اصل کام یعنی ادب تخلیق کرنے کے عمل سے کبھی غافل نہیں ہوا‘‘ (عزم و استقلال کا کوہِ گراں، ص۴۰)
حمید اختر صاحب یہ کہنے سے یا تو کچھ جھجھک رہے ہیں کہ معیار سے قطع نظر ، مقدار و مواد کی حد تک فخر زمان اپنے تخلیقی عمل سے کبھی غافل نہیں ہوئے، یا احمد ندیم قاسمی اور فیض احمد فیض کی مثالیں دے کر قارئین کو اتنا عقل مند خیال کر رہے ہیں کہ ان کے لیے اشارہ ہی کافی ہے ، اس لیے خوامخواہ فخر زمان کی براہ راست مخالفت مول لینے کا کیا فایدہ؟ البتہ ڈاکٹر شاہ محمد مری نے اشارے کنائے کے بجائے کھل کر نشاندہی کی ہے کہ فخر زمان علمی و عملی لحاظ سے قبائلی طور طریقے اپنائے ہوئے ہیں۔ انسانی تہذیب کے مختلف مدارج طے کرتے وقت قبائلی سطح کو کس درجے میں رکھا جاتا ہے، اہلِ علم سے یہ امر پوشیدہ نہیں۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری نے درست کہا ہے کہ تہذیب کی اس سطح پر ’اگرمگر‘ کی گنجایش نہیں ہوتی، فقط ہدف پیشِ نظر ہوتا ہے ۔ آج کے دور میں وہ ہدف ، عہدے پلاٹ یا زمینوں وغیرہ کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے جسے ڈاکٹر صاحب نے ’نتیجہ‘ کا خوبصورت عنوان دیا ہے:
’’فخر زماں A man in hurry کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ یہ شخص اسباب و علل کی جمع تفریق سے بہت پہلے نتیجہ متعین کرنے والے الٹے دماغ کے آدمی ہیں اور وہ نتیجہ بھی بہت بڑامانگتے ہیں۔ عوامی فلاح سے انکار پر مشتمل سرکاری قوانین کے ہر پیچ و خم کو ملیا میٹ کرتا ہوا فخر زماں بہر صورت اپنے مقررہ نیک ہدف تک پہنچنے کو روانہ ہوتا ہے۔ وہ کوئی ’اگر، مگر‘ کی صدائیں نہیں سنتا اس لیے کہ دل و دماغ، کان، ناک، آنکھ، زبان سب کے سب ہدف تک رسائی کے لیے وقف ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہمیں ان کا یہ قبائلی انداز پسند ہے۔ جب جدید سرمایہ داری طریقے رائج نہیں ہوتے تو کم ازکم ہمارا اپنا دیہی طریقہ ہی چلایا جائے۔ جب کوئی منظم ساتھی نہ ہوں تو فخر زماں حق بجانب ہیں کہ وہ جلد از جلد وہ سب کچھ کر گزریں جو ایک بن سپاہ کا جرنیل کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔‘‘ (یک نفری فوج کا سپہ سالار، ص۴۸)
ڈاکٹرسلیم اختر نے ڈاکٹر شاہ محمد مری کے بیان کردہ قبائلی نکتے کے پرخچے اڑا دیے ہیں ۔ قبائلی سائیکی Assertion کی حامل ہوتی ہے جبکہ ڈاکٹر سلیم اختر کے مطابق فخر زمان مفاہمت کا حامی ہے ، اس لیے پنجابی زبان کے فوبیا میں مبتلا ہونے کے باوجود دوسری زبانوں کے وجود کو نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ ناگزیر خیال کرتا ہے:
’’وہ جس طرح سیاست میں آمریت کے خلاف ہے اسی طرح زبانوں میں بھی کسی ایک زبان کی تخت نشینی اور آمریت کے خلاف ہے۔ اس کے مفاہمتی رویہ کو لسانی جمہوریت قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘ (گرم دمِ جستجو، ص۴۹)
افضال شاہد صاحب نے فخر زمان کی جارحیت اور پیش قدمی کو سراہا ہے۔ ان کے خیال میں فخر زمان کی ڈکشنری میں پسپائی کا لفظ ہی نہیں ہے۔ وہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ فخر زمان محبت اور جنگ میں ’سب جائز‘ کے قائل ہیں۔ یعنی وہی مذکورہ قبائلی انداز کہ فقط ہدف پر نظر رکھی جائے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے طور طریقے کیا کسی ادیب اور سیاست دان کے شایانِ شان ہیں؟۔ کیا میکاولی کا مقولہ End Justifies the means کسی مہذب قوم کے لیے قابلِ قبول ہو سکتا ہے؟ہاں البتہ ، قبائلی سائیکی Assertion سے مطابقت پزیر ضرور ہو سکتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے کہ افضال شاہد نے کتنے دل فریب اسلوب میں عدم اخلاقیات کی ترجمانی کی ہے اور سہرا بے چارے فخر زمان کے سر باندھ دیا ہے:
’’غالباََ یہ نپولین بونا پارٹ سے منسوب ہے۔ کسی ایک مشکل محاذ پر اس نے اپنے ایک معتمد سالار کو بھیجا۔ معرکہ بڑاجان جوکھوں کا تھا۔ اس دور میں ہر میدان میں فوج کے ساتھ ایک بگل بجانے والا ہوتا تھا جو سالار کے کہنے پر حملہ(ATTACK) اور کسی ضروری مرحلے پر فوجی حکمتِ عملی کے تحت پسپا ہونا (RETREAT) بجایا کرتا تھا تا کہ فوج کا کم سے کم جانی نقصان ہو۔ اس معرکے میں بھی ایک وقت ایسا آیا جب سالار نے محسوس کیا کہ فوج بری طرح گھیرے میں آ چکی ہے اب وقتی طور پر پسپائی اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس نے بگلییر سے کہا کہ فوراََ RETREAT بجاؤ۔ اس نے ATTACKبجا دیا۔ میدانِ جنگ میں معجزے تو ہوتے ہی ہیں۔ فوج اتنی دلیری سے دوبارہ حملہ آور ہوئی کہ دشمن کے چھکے چھوٹ گئے اور وہ میدانِ کارزار چھوڑ کر بھاگ گیا۔ معرکہ فتح ہو گیا مگر بگل بجانے والے نے چونکہ سالار کی حکم عدولی کی تھی اس لیے فوجی قانون کے مطابق اسے موت کی سزا سنا دی گئی۔ عین اس وقت جب اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کیا گیا تھا، نپولین اپنے سالار کو مبارک باد دینے آن پہنچا۔ اس نے جب یہ منظر دیکھا تو حیران ہوا۔ پوچھا کہ کس کو موت کے گھاٹ اتار جا رہا ہے۔ سارا ماجرا سنایا گیا۔ نپولین نے کہا اس کی آنکھوں سے پٹی ہٹاؤ، ہٹائی گئی، نپولین اسے دیکھ کر مسکرایا اور کہنے لگا اسے چھوڑ دو، یہ بے قصور ہے۔ یہ میرا بگلیئر رہا ہے میں نے اسے RETREAT بجانا سکھایا ہی نہیں۔ فخر زماں بھی ایسا ہی سپہ سالار ہے جسے نہ تو خود یہ دھن بجانا آتی ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنے کسی سپاہی کو RETREAT بجانا سکھایا ہے۔‘‘ (RETREAT بجانا نہیں سکھایا، ص۶۴، ۶۵)
زیرِ نظر تالیف میں ڈاکٹر مزمل حسین نے شبیر احمد صاحب کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ان کے نقد (ص۳۶)پر نقد کرتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں:
’’ فاضل نقاد نے فخر زمان ایسے انقلابی اور مزاحمتی تخلیق کار کے باطن میں جھانکا نہیں۔ اگر تاریخِ عالم پر نگاہ ڈالیں تو دنیا کے عظیم مزاحمت کار اور انقلابی اندر سے بہت دور تک گداز، رحم دل اور جمالیاتی رویوں سے لبریز ہوتے ہیں۔ یزیدیت کا گریبان پکڑنے والے انقلابی نہیں عساکر ہوا کرتے ہیں اور ان کا حربہ لفظوں کے بجائے آتشیں اسلحہ ہوتا ہے اور اکثر ایسے انقلاب کے نتیجے میں تشدد جنم لیتا ہے اور یہ عارضی اور ہنگامی نتایج پر منتج ہوتا ہے ، جبکہ ادب آرٹ اور شاعری ایسے انقلاب اور مزاحمت کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے جو تہذیب، احترامِ انسانیت، کائناتی محبت، رواداری، جمہوریت اور انسان دوستی کو جنم دیتی ہے۔ فخر زمان ، شاہ حسین اور بلھے شاہ کی مدھر کافیاں، وارث شاہ کی نشیلی شاعری اور رانجھے کی ونجھلی کی تان میں انقلاب کے گیت الاپتا ہے۔ سماجی اور سیاسی شعور رکھنے والا یہ آرٹسٹ ایسے انقلاب کا متقاضی ہے جو ذلتوں کے مارے لوگوں کو انسانیت کی اعلیٰ ترین منزل تک پہنچا دے گا۔‘‘ (فخر زمان کا تصورِ فن، ص۶۸)
اس نقد کا جواب شبیر صاحب کے ذمے ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں نکتہ ہائے نظر میں جوہر کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ، البتہ تعبیر کا فرق ضرور ہے۔ اس سلسلے میں کوئی سنجیدہ مباحثہ جوہری مماثلت اور تعبیری فرق کی خاطر خواہ صراحت کر سکتا ہے۔ اگر یونی ورسٹی آف گجرات اس آزادانہ مباحثے کا اہتمام کرے تو ادب اور ملک و قوم کی خدمت ہو گی۔ بہرحال! ڈاکٹر مزمل صاحب نے اپنی فکر کے مخصوص رخ کا قدرے تفصیلی اظہار کیا ہے:
’’ تصوف یا صوفیانہ طرزِ احساس مشرقی ادبیات اور شعریات میں ایک توانا روایت کی شکل میں موجود ہے۔ تصوف کسی فلسفہ یا ڈسپلن کا نام نہیں بلکہ یہ ایک رویے کا نام ہے۔ یہ ہمیشہ مثبت سوچ، اعلیٰ تخیل اور پوتّر ذہن رکھنے والے کے یہاں اپنا ٹھکانہ بناتا ہے۔ تنہائی، اکلاپا، وچھوڑا، ہجر اور جدائی، انسانی دلوں کی اداس کہانیاں ہیں، کسی نہ کسی سطح پر یہ ہر انسان کا مقدر ہوتی ہیں۔ بڑا ذہن ان کہانیوں سے بڑی تخلیق کو سامنے لاتا ہے اور زمانے میں بڑے واقعات پیدا کرنے کے لیے کسی مثبت Inspiration کا سبب بنتا ہے، یقیناََ اس کے فکری تناظر میں اس کا صوفیانہ طرزِ احساس کبھی مبہم اور کبھی واضح شکل میں ہی موجود رہتا ہے۔‘‘ (فخر زمان کا تصورِ فن، ص۶۹)
ڈاکٹر صاحب کے خیالات سے اختلاف کرنا کافی مشکل ہے ، لیکن اس حوالے سے ان سے اتفاق کرنا بھی اتنا ہی مشکل ہے کہ ان کے گراں قدر نقد کا سزاوار ، فخر زمان کا تصورِ فن نہیں ہو سکتا۔ اگر ڈاکٹر صاحب اپنی تخلیقی فکر کا مصداق فخر زمان کو قرار دینے پر مصر ہیں اور تالاب کو سمندر ثابت کرنا چاہتے ہیں تو ہم ادباً خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ۔
زیرِ نظر کتاب کے ایک مدون شیخ عبدالرشید نے فخر زمان کے ’سرکاری پن‘ پر بڑی دلچسپ چوٹ کی ہے:
’’ انہوں نے اردو میں زیادہ تر شعر تب کہے جب وہ فیملی پلاننگ کے افسر تھے، اردو میں فخر کے صرف دو شعری مجموعے فیملی پلاننگ کے نعرے’بچے دو ہی اچھے‘ کا عملی ثبوت ہیں۔‘‘ (فخر زمان کی اردو شاعری کا مختصر جائزہ، ص۱۱۷)
ڈاکٹر مزمل اور شبیر صاحب کی بحث کا انتقادی امتزاج شیخ عبدالرشید کے ہاں ملتا ہے۔ موصوف لکھتے ہیں :
’’ عمرانی تجربوں نے ثابت کیا ہے کہ ہر وہ عمل جو زندگی کی وضاحت و تشریح نہیں کرتا ، ایک بے کار سی چیز ہے۔ چنانچہ شعری کینوس پر جب تک خارجی اور داخلی کیفیات کا بھرپور اظہار نہ ہو ، اس وقت تک وہ عمرانی معاہدوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتی اور محض ایک اسطورہ بن کر رہ جاتی ہے۔ فخر زمان کے سامنے بھی دو راستے تھے ایک وہ جو گل و بلبل کی وادی سے گزرتا ہے اور حسن و عشق کے عارضی و سطحی احساسِ نشاط کو جنم دیتا ہے ، دوسری طرف وہ راستہ جہاں حقیقت پسندی کی سنگلاخ چٹانوں میں فن کا فرہاد بن کر تیشے سے کام لینا پڑتا ہے، فخر زمان نے دوسرا راستہ اپنایا۔‘‘ (فخر زمان کی اردو شاعری کا مختصر جائزہ، ص۱۱۷)
معاشرے سے کٹا ہوا اور ادبی لطافت سے بے بہرہ بے ڈھنگا شعر شیخ عبدالرشید کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ ان کا یہ کہنا بجا ہے کہ مجموعی معاشرتی صورتِ حال پر گہری نظر رکھنے کے علاوہ یہ درحقیقت فن کار کے داخلی احساسات کی رقاقت کا کرشمہ ہے کہ اچھا اور تخلیقی ادب منصہ شہود پر آتا ہے:
’’ جمالیاتی خوبی اور سماجی افادیت کا امتزاج اچھے شعر کی مجموعی قدر ہے۔ چنانچہ اچھا شعر وہ ہے جو فن کے معیار پر نہیں زندگی کے معیار پر پورا اترے۔ ہنڈرسن کا خیال ہے کہ’’ شاعر معاشرے کا ایک ایسا رکن ہوتا ہے جس کی جلد (Skin) دوسرے افرادِ معاشرہ کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی باریک اور نازک ہوتی ہے۔‘‘ یعنی شاعر زمانے کے گرم سرد کو دوسروں سے کچھ زیادہ ہی شدت سے محسوس کرتا ہے۔ شعر میں فکر و احساس کی ہم آہنگی نہ ہو تو اس کا شعر ہونا مشکوک ہو جاتاہے۔ فخر زمان کو اپنے وقت کے شکستہ انسان، زخمی محسوسات، درد و غم، بے بسی، لا حاصلگی اور خستگی کی کیفیت کا پورا پورا احساس ہے جو آج کے انسان کا مقدر بن گئی ہے۔‘‘ (فخر زمان کی اردو شاعری کا مختصر جائزہ، ص۱۲۱)
اسی مضمون میں شیخ صاحب نے فخرزمان کے شعروں کا انتخاب بھی پیش کیا ہے جس سے ایک طرف شیخ صاحب کی افتادِ طبع اور دوسری طرف شاعر کی موزونی طبع کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے:
میں اک چوراہے پہ جا کے اکثر
کھڑا کھڑا دل میں سوچتا ہوں
یہ چاروں سڑکیں یہاں پہ آ کر
بچھڑ رہی ہیں کہ مل رہی ہیں
یہ جینا بھی کیا جینا ہے
خود اپنا لہو ہی پینا ہے
نئے طریق سے برسات اب کے آئی ہے
کہ لوگ ریت کے گھر بھی بنائے جاتے ہیں
کس کس کو دکھاتے رہیں جیبوں کے یہ سوراخ
ہر موڑ پہ کشکول لیے لوگ کھڑے ہیں
لمحوں کا بھنور چیرکے انسان بنا ہوں
احساس ہوں میں وقت کے سینے میں گڑا ہوں
زیرِ نظر کتاب میں تنقیدی مضامین و اشعار کے انتخاب کے ساتھ ساتھ جہاں فخر زمان کی زندگی کے مختلف ادوار کی تصاویر شائع کی گئی ہیں وہاں دو انٹرویوز بھی پیش کیے گئے ہیں۔ خاص طور پر گجرات ٹائمز کا انٹرویو ، جو شیخ عبدالرشید نے کیا ہے ، فکری و تیکھے سوالات پر مشتمل ہونے کے باعث قابلِ مطالعہ ہے۔ان انٹرویوز سے بلاشبہ کتاب کی افادیت میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔ شیخ صاحب نے فخر زمان کو منظوم خراجِ عقیدت (دھرتی زادہ ،ص۲۶۸)پیش کرکے اپنی بے پایاں محبت کا اظہار اس طرح کیا ہے:
بھنگڑوں اور گدّوں کے پِڑ میں
پر اسرار سی خاموشی
ایسے میں وہ دھرتی زادہ
اپنے ہاتھوں میں پھولوں کی اک ڈال لیے
ساری دھرتی کی رتوں کو جی آیاں نوں کہتا ہے
’’فخر زمان:کل اور آج‘‘ اس اعتبار سے جامعیت کی حامل ہے کہ اس میں اردو کے علاوہ پنجابی ، گرمکھی اور انگلش زبان کو بھی جگہ فراہم کی گئی ہے۔ پنجابی اور گرمکھی سے بوجوہ صرفِ نظر کرتے ہوئے ہم انگلش سیکشن میں سے ایک قابلِ غور اقتباس پیش کرنا چاہیں گے جس کے مصنف پروفیسر راشد بٹ ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:
Fakhar Zaman's plays are short and do not require long reading sessions. Knitting such plays is difficult in the sense that conclusion or end may create an impression that the element of probability, necessity or logicality has been damaged because of a short gap between beginning and end. This, however, is not the case with Fakhar's plays. Moving from the beginning to the end, he shows a perfect art of "precision in brevity" and does not let the readers and viewers feel that something is missing. (Fakhar Zaman's Dramatic Art, p. 13)
فخر زمان کے نثر پاروں کی بابت پروفیسر راشد بٹ کا یہ تبصرہ کفایت کرتا ہے۔ ’فخر زمان:کل اور آج‘کے مجموعی مطالعہ سے فخر زمان بہت خوش قسمت معلوم ہوتے ہیں کہ انہیں بہت اچھے نقاد ملے۔ گجرات یونی ورسٹی کے ذمہ داران نے فخر زمان کے گجراتی ہونے کے باعث ترجیحی بنیادوں پر یہ کتاب شائع کی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ادبی مقام اور حفظ مراتب ملحوظ رکھتے ہوئے جن گجراتیوں کے بارے میں تالیفات پہلے منظرِ عام پر آنی چاہیں تھیں ، دیر آید درست آید کے مصداق اب ان کی طرف بھی توجہ دی جائے گی، مثلاََ شریف کنجاہی مرحوم، انور مسعود وغیرہ۔