جنوری ۲۰۱۰ء

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علماءمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مساجد و مدارس کے ملازمین کے معاشی مسائلمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اصطلاحات کا مسئلہ : ایک تنقیدی مطالعہعثمان احمد 
پاکستانی عدلیہ: ماضی کا کردار اور آئندہ توقعاتچوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ 
حضرت شیخ الحدیثؒ اور حضرت صوفی صاحبؒ کی چند مجالسسید مشتاق علی شاہ 
اسلامی بینکاری: غلط سوال کا غلط جواب (۱)محمد زاہد صدیق مغل 
مکاتیبادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علماء

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

علماء کرام سے ملک کے بعض حلقوں کا یہ مسلسل مطالبہ ہے کہ وہ خود کش حملوں کے خلاف اجتماعی فتویٰ جاری کریں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومتی پالیسی کی حمایت کا دو ٹوک اعلان کریں، لیکن موجودہ صورت حال میں یہ بات بہت مشکل ہے کہ علماء کرام حکومت کی پالیسیوں کی آنکھیں بند کر کے حمایت کریں اور نہ ہی حکومت کو اس کی توقع کرنی چاہیے، اس لیے کہ جو بات جس حد تک درست ہوگی، اس کی ضرور حمایت کی جائے گی، لیکن جو بات درست نہیں ہوگی، اس کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ بالخصوص موجودہ صورت حال میں دینی جماعتوں اور علماء کرام کے کچھ تحفظات ہیں جن کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مثلاً:
  • دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت دینی حلقوں کی بھرپور حمایت کی خواہش تو رکھتی ہے، لیکن اپنی پالیسیوں پر انھیں اعتماد میں لینے کی ضرورت حکمران حلقوں نے کبھی محسوس نہیں کی۔ اگر آپ حمایت چاہتے ہیں تو اعتماد میں بھی لیجیے کہ جب تک صحیح صورت حال سے واقفیت نہیں ہوگی اور اعتماد نہیں ہوگا تو حمایت بھی مشکل ہوگی۔
  • قومی خود مختاری کے حوالے سے ملک بھر کے عوام کی طرح دینی حلقے بھی شدید تحفظات اور بے چینی کا شکار ہیں اور ان کا اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔ بعض حکومتی پالیسیاں اور اقدامات کنفیوژن میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ حکومت کو اس سلسلے میں بھی دینی حلقوں اور علماء کرام کو اعتماد میں لینا ہوگا، ورنہ کنفیوژن اور بے اعتمادی کی اس فضا میں دینی حلقے حکومتی پالیسیوں کے بارے میں تذبذب کا شکار رہیں گے۔
  • ۷۳ء کے دستور میں واضح طور پر ضمانت دی گئی ہے کہ ملک میں قرآن وسنت کے قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا اور قرآن وسنت کے منافی کوئی قانون نافذ نہیں کیا جائے گا۔ اس دستوری ضمانت کو چھتیس برس گزر چکے ہیں، مگر ابھی تک صورت حال جوں کی توں ہے اور حکومت اس سلسلے میں کسی پیش رفت پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔ ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ رکاوٹ کون ہے اور رکاوٹیں کہاں کہاں ہیں؟ جب تک اس کی وضاحت نہیں ہوتی، تذبذب کی فضا باقی رہے گی۔
  •  جہاں تک دہشت گردی اور خود کش حملوں کا تعلق ہے، علماء کرام متعدد بار یہ موقف پیش کر چکے ہیں اور اس کی وضاحت کر چکے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حدود میں کسی بھی مطالبہ اور مقصد کے لیے ہتھیار اٹھانا اور حکومتی رٹ کو چیلنج کرنا شرعاً درست نہیں ہے اور جو لوگ ایسا کر رہے ہیں، وہ غلط کر رہے ہیں۔ بالخصوص پرامن شہریوں، مساجد اور امام بارگاہوں کو اس کا نشانہ بنانا انتہائی مذموم فعل ہے جس کی ہم نے ہمیشہ پرزور مذمت کی ہے اور اب بھی کرتے ہیں۔ یہ موقف بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی تردد نہیں ہے، لیکن یہ موقف الگ چیز ہے اور حکومتی پالیسیوں کی حمایت اور اس کے ساتھ کھڑا ہونا اس سے مختلف امر ہے۔
  • دہشت گردی کے ان مذموم واقعات میں بیرونی عوامل، بالخصوص امریکہ، بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ اور اس کے مقاصد کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اس سلسلے میں ملکی رائے عامہ اور دینی حلقوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
اصل یہ ہے کہ فتویٰ میں ذمہ دار مفتیان کرام کو صرف یہ نہیں دیکھنا ہوتا کہ مسئلہ کی نوعیت کیا ہے، بلکہ یہ دیکھنا بھی مفتی کی ذمہ داری ہوتا ہے کہ فتویٰ کیوں لیا جا رہا ہے اور فتویٰ پوچھنے والے کے مقصد کو سمجھنا بھی ضروری ہے تاکہ فتویٰ کسی غلط کام کے لیے استعمال نہ ہو سکے۔ اس لیے ذمہ دار علماء کرام جب کسی مسئلے پر فتویٰ دیں گے تو پوری صورت حال اور سارے پہلووں کو سامنے رکھ کر دیں گے اور پوری صورت حال اور تمام پہلووں کو سامنے لانا فتویٰ پوچھنے والوں کی ذمہ داری بنتی ہے۔ ہمارے خیال میں موجودہ صورت حال میں علماء کرام کو اگر مجموعی طور پر کوئی اجتماعی فتویٰ دینا ہے تو وہ باہمی مشورہ سے تمام مکاتب فکر کے ذمہ دار مفتیان کرام کو مل کر جاری کرنا چاہیے اور اس کے لیے استفتاء کی ترتیب میرے ذہن میں کچھ اس طرح بنتی ہے:
’’کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
  • پاکستان کے قیام کا مقصد قائد اعظم محمد علی جناح نے واضح طور پر یہ بتایا تھا کہ اس میں قرآن وسنت کی حکمرانی ہوگی اور دستور پاکستان میں بھی اس بات کی واضح طور پر ضمانت دی گئی ہے۔ جو لوگ گزشتہ ساٹھ برس سے اس میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، ان کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
  • جن لوگوں نے ملک میں نفاذ شریعت کے نام پر ہتھیار اٹھا رکھے ہیں اور حکومتی رٹ کو چیلنج کر کے بد امنی اور قتل وغارت کا باعث بنے ہوئے ہیں، بالخصوص مساجد، عبادت گاہوں اور پر امن شہریوں پر خود کش حملے کرنے والوں کا شرعی حکم کیا ہے؟
  • ملک میں دہشت گردی کے تمام عوامل کی چھان بین کرنا اور اس کے اندرونی وبیرونی محرکات کا سراغ لگا کر انھیں بے نقاب کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ اور تحقیق کے بغیر ان سب کارروائیوں کا الزام کسی ایک طبقے پر لگا دینا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟ بینوا توجروا۔‘‘

مساجد و مدارس کے ملازمین کے معاشی مسائل

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

کراچی کے جناب افتخار احمد کی طرف سے بجھوایا جانے ولا ایک استفتاء ان دنوں ملک کے مختلف مفتیان کرام کے ہاں زیر غور ہے جو مساجد اور دینی مدارس میں کام کرنے والے ملازمین اور ائمہ واساتذہ کی تنخواہوں اور دیگر حقوق کے معیار ومقدار کے حوالے سے ہے۔ راقم الحروف کو بھی اس کی کاپی موصول ہوئی ہے۔ میں عام طور پر فتویٰ نہیں دیا کرتا، البتہ عمومی تناظر میں کچھ اصولی گزارشات ضرور کرنا چاہوں گا۔
مساجد ومدارس کے ملازمین کو تنخواہیں اور دیگر مراعات ان کے معاشرتی مقام سے بہت کم ملتی ہیں اور ان کی بنیادی ضروریات کے حوالے سے یہ بہت ہی کم ہیں۔ یہ ایک معروضی حقیقت ہے جس کا چند بڑے اور معیاری اداروں کو چھوڑ کر، جن کا تناسب مجموعی طور پر شاید پانچ فیصد بھی نہ ہو، ملک میں ہر جگہ مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، لیکن امام، خطیب، مدرس، مفتی، حافظ، قاری اور موذن قسم کے لوگ اپنی تربیت کے لحاظ سے تنخواہ اور معاشی مفادات کے لیے احتجاج، ہڑتال، جلوس، مظاہرہ اور بائیکاٹ وغیرہ کے عادی نہیں ہیں اور اسے قناعت اور خلوص کے خلاف سمجھتے ہیں اور جو لابیاں اور این جی اوز ملک میں اس قسم کے مسائل کے لیے آواز اٹھاتی ہیں، انھیں اس مخلوق کے وجود اور بقا سے سرے کوئی دل چسپی نہیں ہے، بلکہ بہت سے حلقوں کے نزدیک اس قسم کے لوگوں کا معاشرے میں موجود نہ رہنا ہی ان کے لیے عافیت کا باعث ہے، اس لیے مساجد ومدارس کے نظام سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی معاشی ضروریات، معاشرتی اسٹیٹس اور حقوق عام طور پر بہت کم زیر بحث آتے ہیں۔ لیکن اگر کچھ باہمت اور باذوق صحافی ملک کے کسی بھی حصے میں ایک علاقے کو مخصوص کر کے وہاں کی مساجد ومدارس کے ملازمین کی، جن میں خطباء، اساتذہ اور دیگر ملازمین شامل ہیں، تنخواہوں، مراعات، معیار زندگی اور بنیادی ضروریات کے بارے میں ایک معروضی اور تجزیاتی رپورٹ مرتب کر سکیں تو یہ انتہائی چشم کشا رپورٹ ہوگی اور آپ دیکھیں گے کہ دنیا میں الزامات کا سب سے زیادہ ہدف بننے والے اس طبقے کی غالب اکثریت کس کس مپرسی اور بے سر وسامانی کے ماحول میں زندگی بسر کر رہی ہے۔
یہ دراصل ایک بڑے اجتماعی مسئلہ بلکہ المیہ کا ایک جزوی پہلو ہے جس کا تعلق ہمارے مجموعی معاشی نظام اور معاشرتی رویوں سے ہے۔ ہمارے موجودہ معاشی نظام کی بنیاد جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام اور سوچ پر ہے، اس لیے یہ معاشی اور معاشرتی دونوں حوالوں سے طبقاتی ہے، اونچ نیچ کی نفسیات کے حوالے سے ہے اور بعض طبقوں کی ہر حال میں بالاتری اور بالادستی کی اساس پر ہے جس کے افسوس ناک مظاہر ہمیں قدم قدم پر دکھائی دیتے ہیں، مگر ہم خاموشی کے ساتھ آنکھیں بند کر کے وہاں سے گزر جاتے ہیں۔ میں پنجاب میں پیدا ہوا ہوں اور پنجاب میں ہی رہتا ہوں، مگر میرا اصل تعلق مانسہرہ (ہزارہ) کی سواتی برادری سے ہے۔ گزشتہ ماہ میں مانسہرہ گیا تو مجھے بتایا گیا کہ وہاں محکمہ مال کے کاغذات میں امام مسجد اور مولوی کو ’’کمین‘‘ کے خانے میں لکھا جاتا ہے اور وہ اسی اسٹیٹس کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ خدا جانے پنجاب اور اور سندھ کی کیا صورت حال ہے، لیکن ہزارہ کے بارے میں مجھے یہی بتایا گیا ہے۔ 
یہاں دو سوال سامنے آتے ہیں۔ ایک یہ کہ کیا مالک اور کمین کی یہ اصطلاح اورمعاشرتی درجہ بندی شرعی احکام کے حوالے سے درست ہے؟ اور دوسرا سوال یہ کہ خدا نخواستہ اس تقسیم کو کسی درجے میں تسلیم بھی کر لیا جائے تو کیا مولوی، امام اور دینی خدمات سرانجام دینے والے لوگ اسی حیثیت کے حامل ہیں کہ انھیں ’’کمین‘‘ کے کھاتے میں شمار کیا جائے؟ میرے نزدیک یہ دونوں سوال سنجیدگی کے ساتھ غور وخوض کے متقاضی ہیں۔ اس صورت حال کی اصلاح کے لیے معاشی نظام اور معاشرتی رویے دونوں میں انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اگر ایک اسلامی ریاست کی تشکیل اور اسلامی معاشرہ کے قیام میں ہمارے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور خلافت راشدہ کے فیصلے معیار اور راہ نما ہیں تو ہمیں جاگیردارانہ نظام اور جاگیردارانہ کلچر دونوں سے نجات حاصل کرنا ہوگی اور سرمایہ دارانہ نفسیات اور سوچ سے پیچھا چھڑانا ہوگا جس کے لیے طبقاتی نظام کا خاتمہ سب سے زیادہ ضروری ہے۔ یہ بات بھی ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے کہ معاشرتی انقلاب اور تبدیلیاں محض قانون سے نہیں ہوا کرتیں۔ قانون بھی ایک درجے میں ضروری ہے، لیکن اصل تبدیلی اور اصلاح ایمان وعقیدہ اور اخلاق وعادات کے ذریعے ہوتی ہے اور اس کے لیے مسلسل فکری اور سماجی جدوجہد درکار ہے۔ ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ہر سماجی تبدیلی اور معاشرتی اصلاح کے لیے سیاسی نعرے بازی کو ضروری قرار دے لیا ہے اور صرف قانون کے نفاذ کو کافی سمجھ رکھا ہے جس کی وجہ سے کسی صحیح مقصد کے لیے بھی ہماری جدوجہد ایک حد سے آگے بڑھ کر ناکامی کا شکار ہو جاتی ہے۔
جمعیۃ علماء اسلام نے ۱۹۷۰ء کے عام انتخابات کے موقع پر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی، مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولاناپیر محسن الدین احمد (مشرقی پاکستان) اور مولانا عبید اللہ انور رحمہم اللہ کی قیادت میں اپنے انتخابی منشور میں اس مسئلے کے حل کی طرف پیش رفت کے لیے سرکاری زمینیں بے زمین کاشت کاروں میں تقسیم کرنے، انگریزی استعمار کے دور میں دی گئی جاگیریں ضبط کرنے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ہوش ربا تفاوت کو ختم کر کے پہلے ایک اور دس کے تناسب پر لانے اور پھر بتدریج ایک اور پانچ کے تناسب پر فکس کر دینے کا وعدہ کر کے مسئلے کے حل کے آغاز کی ایک صورت پیش کی تھی۔ جمعیۃ علماء اسلام کی موجودہ قیادت کو اپنے مرحوم بزرگوں کا یہ موقف اور ۱۹۷۰ء کا یہ انتخابی منشور خواب میں بھی شاید یاد نہ آتا ہو، مگر جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام، کلچر اور نفسیات کے خاتمے کا آغاز اسی قسم کی کارروائیوں سے ہوگا اورکسی انقلابی عمل کے بغیر محض نعروں سے کچھ نہیں ہوگا۔
مسجد ومدرسہ کا نظام بھی اسی معاشرے اور کلچر کا حصہ ہے اور عام طور پر دینی تعلیم وتربیت کے باوجود اسے اس کلچر اور مجموعی نفسیات سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ظاہر بات ہے کہ جب مولوی اور امام مسجد کمیوں اور لاگیوں میں شمار ہوگا تو اس کے ساتھ معاملہ بھی اسی جیسا ہوگا، خصوصا جب اس کمی اور لاگی کو معاشرے کے لیے غیر ضروری، بلکہ معاشرے پر بوجھ سمجھا جائے گا تو وہی کچھ ہوگا جو ہو رہا ہے، اس لیے اصل ضرورت تو اس نظام اور کلچر کو بدلنے کی ہے اور اس کے لیے عوامی سطح پرمنظم اور مربوط تحریک اور جدوجہد ناگزیر ہے، لیکن اس سے ہٹ کر اس مسئلے سے نمٹنے اوراس کی تلخی کو کم کرنے کے لیے دینی جماعتوں، بڑے مدارس کے منتظمین اور خاص طور پر دینی مدارس کے وفاقوں کو اس پر غور کرنا چاہیے اور میں طالب علمانہ حیثیت سے اس سلسلے میں دو اصولوں کی طرف مساجد ومدارس کے منتظمین اور ان کو چلانے والی کمیٹیوں کو توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔
شاید کہ اتر جائے ’’کسی‘‘ دل میں مری بات
ایک یہ کہ جب کوئی شخص خود کو کسی اجتماعی دینی کام کے لیے وقف کر دے اور کسی ادارے سے اس طور پر وابستہ ہو جائے کہ وہ اپنی ضروریات کے لیے اور کوئی کام نہ کر سکتا ہو تو اس کی اور اس کے زیر کفالت افراد کی معاشی کفالت شرعاً اس ادارے کے ذمے ہوتی ہے اور کفالت کا معیار اس ادارے کے افراد اپنی مرضی سے نہیں طے کریں گے، بلکہ انھیں دوسرے عام شہریوں کے معیار زندگی کو لا وکس فیہا ولا شطط کے درجے میں بنیاد بنانا ہوگا۔ 
دوسری بات یہ کہ صاحب ہدایہ نے حضرت امام ابو حنیفہؒ کا بیان کردہ یہ اصول ذکر کیا ہے کہ لا رضاء مع الاضطرار، یعنی مجبوری کی رضا کا اعتبار نہیں ہے۔ اس کامطلب مذکورہ مسئلہ کے حوالے سے میری سمجھ میں یہی آتا ہے کہ کوئی شخص اگر اضطرار یا مجبوری کی وجہ سے اپنے معروف حق سے کم پر راضی ہو گیا ہے تو اس کی اس رضا کا اعتبار نہیں ہے اور شرعاً وہ اسی حق کا حقدار ہے جو معروف حق کے طور پر اسے حاصل ہونا چاہیے۔
میرا خیال ہے کہ اگر چند بڑے دار الافتاء اور وفاق المدارس العربیہ اس سلسلے میں تمام پہلووں کا جائزہ لے کر ملک بھر کی مساجد ومدارس کے لیے کوئی اجتماعی ضابطہ اخلاق طے کر دیں تو دینی خدمات سرانجام دینے والے، معاشرے کے اس مظلوم ترین طبقے کی داد رسی کی کوئی صورت نکل سکتی ہے۔

اصطلاحات کا مسئلہ : ایک تنقیدی مطالعہ

عثمان احمد

علوم و فنون اپنی مرتب، مکمل اور مدون شکل میں اصطلاحات کے ذریعے ظہور پذیر ہوتے ہیں اور با لعموم مخصوص اصطلاحات کا نظام ہی کسی فکر،علم یا فن کی شناخت ہوتاہے۔ فرہنگ آصفیہ کے مطابق ’’جب کوئی قوم یا فرقہ کسی لفظ کے معنی موضوع کے علاوہ یا اس سے ملتے جلتے کوئی اور معنی ٹھہرا لیتا ہے تو اسے اصطلاح یا محاورہ کہتے ہیں، کیونکہ اصطلاح کے لغوی معنی باہم مصلحت کرکے کچھ معنی مقرر کر لینے کے ہیں ۔اسی طرح وہ الفاظ جن کے معنی بعض علوم کے واسطے مختص کر لیے جاتے ہیں، اصطلاحِ علوم میں داخل ہیں۔ خیال رہے کہ اصطلاحی اور لغوی معنوں میں کچھ نہ کچھ نسبت ضرور ہوتی ہے۔‘‘ (۱)
علی بن محمد بن علی الجرجانی لکھتے ہیں:
’’الاصطلاح: عبارۃ عن اتفاق قوم علیٰ تسمےۃ الشیء با سم ما ےُنقَل عن موضعہ الاول ، واخراج اللفظ من معنی لغویّ الیٰ آخر لمناسبۃ بینھما۔ وقیل :الاصطلاح :اتفاق طائفۃ علیٰ وضع اللفظ بازاء المعنی۔ وقیل : الاصطلاح:اخراج الشیء عن معنی لغوی الی معنی آخر ، لبیان المراد۔وقیل: الاصطلاح: لفظ معین بین قوم معیَّنِین‘‘ (۲)
’’اصطلاح کسی قوم کا کسی شے کے نام پر اتفاق کر لینا ہے جو کہ اس کے پہلے معنی موضوع سے منتقل کر دے اور لغوی معنی کی بجائے کسی مناسبت کے باعث دوسرے معنی مراد لینا ہے۔ اور کہا جاتاہے کہ اصطلاح کسی گروہ کا کسی مخصوص معنی کے لیے لفظ کا وضع کر نا ہے ۔اور کہا جاتاہے کہ اصطلاح مراد کے بیان کے لیے کسی چیز کا اس کے لغوی معنی سے کسی دوسرے معنی کی طرف لے جانا ہے۔اور کہا جاتاہے کہ اصطلاح کسی متعین لفظ کو کہتے ہیں جو متعین کرنے والوں کے درمیان متعین معنوں میں مستعمل ہو۔‘‘
انگریزی میں اصطلاح کے لیے مستعمل لفظ TERM ہے:
Terms are words and compound words that are used in specific context. (3)
اصطلاحات وہ مفرد اور مرکب الفاظ ہیں جو مخصوص پس منظر میں ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اصطلاحات کا وضع کرنا حقائق کی تخلیق یا اظہار کا نام نہیں بلکہ ادنیٰ یا اعلی ٰموجو د اتِ ذہنی و مادی کو مخصوص الفاظ کے ساتھ معروف کر نے کا نام ہے۔بسا اوقات بالکل عام اور سطحی باتیں اور ادنی ٰ انسانی جذبات وخواہشات کو سنہری اصطلاحات کے ذریعے مستورمگر مقبول کیا جاتا ہے جیسا کہ جدید انتظامی علوم انہی اصطلاحات کا مجموعہ ہیں۔ (۴) بعض علوم تو اصطلاحات کا ایسا گورکھ دھندا ہیں کہ اس کا کل سرمایہ مغلق اصطلاحات ہیں ۔ ایسی اصطلاحات جن کے معنی کا تعین ناممکن حد تک مشکل ہے۔ (۵)
صاحب کشاف اصطلاحات الفنون اصطلاح کے بارے میں لکھتے ہیں۔
’’ان اکثر ما یحتاج بہ فی تحصیل العلوم المدونہ و لفنون المروجہ الی الاساتذہ ھو اشتباہ الاصطلاح ، فان لکل اصطلاح خاص بہ اذا لم یعلم بذلک لایتیسر للشارع فیہ الاھتداء الیہ سبیلا والی ٰانغمامہ دلیلا فطریق علمہ اما الرجوع الیہم‘‘ (۶)
’’مدون علوم اور مروج فنون کے حصول میں اکثر جس چیز کی احتیاج اساتذہ کی طرف رجوع پر مجبور کرتی ہے وہ اصطلاح کا اشتباہ ہے ۔ ہر اصطلاح کے خاص معنی ہوتے ہیں اوران کو جانے بغیر (علم کی راہ پر) کسی چلنے والے کے لیے کوئی راہ ہدایت اور تاریکی میں کو ئی دلیل نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ ان اصطلاحات کے علم کے لیے ان (اساتذہ) کی طرف رجوع کرے۔ ‘‘
محمد اسلم سہیل لکھتے ہیں:
ًً’’یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ علوم مدونہ اور فنون مروجہ میں ہر قسم کے علم و فن کے اصول و مبادی اور کلیات و جز ئیات تک رسائی اور ان پر مکمل دسترس کا دارو مدار، ان علوم کے متعین بنیادی اصطلاحات کی صحیح تفہیم و تحقیق ، ان کے معانی و مطالب کی صحیح تعبیر و تشریح، ایک جیسی مختلف اصطلاحات میں موجود لطیف نکتہء اتحاد اور دقیق فنی اختلاف کے ادراک و شعور،اور اسی طرح مختلف علوم و فنون کے متفرق مباحث سے متعلق اصطلاحات کی باہمی مماثلت و مشابہت کے درمیان نازک اور بادی النظر میں غیر محسوس فرق کو سمجھ کر ان کی صحیح تو ضیح و تعریف کرنے اور ان کے مناسب استعمال کی اعلیٰ درجے کی صلاحیت و قابلیت اور غیر معمولی علمی و فنی مہارت پر موقوف ہے ‘‘(۷)
اصطلاحات کے سلسلے میں درج ذیل اصولی باتوں کو ملحوظ رکھنا خلط مبحث سے بچنے ، معانی کے صحیح ابلاغ اور انتشار سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے:
۱۔ کوئی اصطلاح مجرد لفظ نہیں ہوتی ۔ہر اصطلاح کا اپنا مخصوص فکری،علمی یا مذہبی پس منظر ہوتا ہے اور اس کے معانی کا تعین اس کے مخصوص پس منظر سے صرفِ نظر کرکے نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر کوئی فرد کسی مخصوص اصطلاح کو محض لغوی معنی میں استعمال کرنا چاہے تو اسے صراحتاً اس کا ذکر کرنا چاہیے کہ اس کی مراد محض لغوی نہ کہ اصطلاحی۔ کسی اصطلاح کا واضع ہی وہ بنیادی منبع ہے جو کسی اصطلاح کے معانی کے تعین میں بنیادی حوالہ ہوتا ہے ۔مثلاً DEMOCRACY کی اصطلاح کے معنی متعین کرنے کے لیے افلاطون،جان مل ، روسو اور مغربی تاریخ (انقلاب فرانس ، تحریک تنویروغیرہ)بنیادی ذریعہ ہیں نہ کہ قرآن و سنت۔ (۸) کیا کوئی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ DEMOCRACYکا تصور کوئی مخصوص تاریخی ،علمی، ثقافتی اور اخلاقی پس منظر نہیں رکھتا ۔ یقیناًرکھتا ہے تو یہ کس طرح درست ہو گا کہ اس کے معنی کا تعین قرآن و سنت سے کیا جائے(قرآن و سنت سے تو محاکمہ ہوگا)۔یا اس کے وہ معنی متعین کیے جائیں جو اس کے مخصوص تاریخی ،علمی، ثقافتی اور اخلاقی پس منظر سے علاقہ نہ رکھتے ہوں۔ 
اگر ہم اس بات کو رد کرتے ہیں کہ جہاد کی اسلامی اصطلاح کے معنی کا تعین کرنے کا استحقاق مستشرقین یا مغربی سکالرز کو نہیں ہے بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں فقہاء عظام نے جو معنی متعین کیے ہیں وہی اصل ہیں تو مسلم علماء کو حق کیسے حاصل ہے کہ وہ مخصوص تاریخی ،علمی، ثقافتی اور اخلاقی پس منظر کو نظر انداز کرکے DEMOCRACY کے معنی متعین کریں۔اسی طرح کسی اصطلاح کے ساتھ اسلامی کا سابقہ یا لاحقہ لگانے سے یہ سمجھنا کہ وہ اپنے مخصوص فکری،علمی ، اخلاقی اورمذہبی پس منظر سے کٹ گئی ہے محض خوش فہمی ہے ۔ اس کے نتیجے میں باطل افکار کو فروغ و جواز تو مل سکتا ہے لیکن اصطلاحات کی تطہیر نہیں ہو سکتی۔ کیا سوشلزم، جمہوریت، بنکنگ اور انشورنس کی اصطلاحات کے ساتھ ’’اسلامی‘‘ لگانے سے سوشلزم، جمہوریت، بنکنگ اورانشورنس میں جوہری تبدیلی واقع ہو جائے گی اور وہ اپنی مخصوص تاریخی، علمی، ثقافتی اور اخلاقی پس منظرسے کٹ جائیں گی؟
۲۔ہر اصطلاح ایک کل کی حیثیت رکھتی ہوتی ہے اور اس کے معانی بھی کلی حیثیت سے طے کیے گئے ہوتے ہیں ۔ کسی بھی اصطلاح کو بالاقساط یا بالاجزاء بیان کرکے یہ کہنا کہ اس میں یہ جز درست اور یہ جز باطل ہے غلط ہے۔ مثلاً Democracy ایک مکمل نظام ہے۔ اس کا جائزہ مکمل نظام کی حیثیت سے لیا جائے گا نہ کہ ووٹ، پارلیمنٹ، اقتدار اعلیٰ کو علیحدہ علیحدہ کرکے۔اس کے نتیجے میں کیا گیا تجزیہ غیر حقیقی ہو گا۔
۳۔ کسی اصطلاح کا ترجمہ دوسری زبان میں پورے معانی کے ساتھ ممکن نہیں ہوتا اور اس کے لیے اقرب ترین لفظ ہی استعمال ہو سکتا ہے ۔ اور اکثر اصطلاحات کا ترجمہ مسائل کا باعث بنتا ہے ۔اللہ جل شانہ کا اسم ذاتی اللہ ہے۔ اس کا کوئی ترجمہ ممکن نہیں لفظِ اللہ کا متبادل GOD خدا یا ایشور یا رام نہیں اور یہ تمام الفاظ اپنا مخصوص پس منظر رکھتے ہیں ۔اسی طرح اردو میں اکثر مغربی اصطلاحات کا ترجمہ الفاظ کا ترجمہ ہے نہ کہ مکمل اصطلاحی معنی اس میں سمٹ آئے ہیں۔ HUMAN RIGHTS کا ترجمہ انسانی حقوق کیا جاتا ہے جو محض لفظی ترجمہ ہے ۔ اس کے معانی کے بیان کے لیے وہ مکمل مخصوص فکری،علمی ، ثقافتی اور تاریخی پس منظر سے واقفیت ضروری ہے جہاں سے اس اصطلاح نے نشو و نما پائی ہے۔
۴۔ کوئی اصطلاح اگر کسی دوسری فکر،فن،عمل یا چیز کے لیے اس کثرت سے استعمال کی جائے کہ وہ اپنے مخصوص فکری،علمی یا مذہبی پس منظر سے بالکل لاتعلق (Detach ) ہو جائے تو نئے معانی اس کے اصل معانی قرار پائیں گے اور گزشتہ معانی کی حیثیت لغوی یا تاریخی رہ جائے گی۔اب اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ نماز تو دراصل مجوسیوں کی عبادت کا نام ہے (۹) لہٰذا مسلمانوں کی تکبیر تحریمہ ،قیام ،رکوع و سجودپر مشتمل عبادت کو نماز کہنا درست نہیں تو یہ دعویٰ باطل ہو گا کیونکہ بر صغیر پاک و ہند کے مسلمان معاشرے میں یہ لفظ انہی معنوں میں معروف اور مستعمل ہونے کے بعد متعین ہو چکا ہے کہ اس کے کوئی اور معنی کسی کے ذہن میں نہیں آتے ۔ کسی اصطلاح کے اپنے مخصوص فکری،علمی یا مذہبی 
پس منظر سے لاتعلق ہوجانے کی علامت یہ ہے کہ اس اصطلاح کے استعمال سے اس کے سابقہ معانی کا گمان بھی نہ ہو۔ 

حوالہ جات و حواشی

۱۔خاں صاحب مولوی سید احمد دہلوی، فرہنگ آصفیہ ،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، وزارت ترقی انسانی وسائل، حکومت ہند، ویسٹ بلاک۔I ،آر۔کے۔پورم۔ نئی دہلی،طبع چہارم،ج1،ص184 ،1998 ء
۲۔جرجانی، علی بن محمد بن علی،کتاب التعریفات،دارالکتاب العربی بیروت،ص30 ،2002 ء
۳۔
Http://en.wikipedia.org/wiki/terminology
۴۔ Management Sciences نے مارکیٹنگ کے نام سے جس علم کی بنیاد رکھی ہے وہ انسانی سطحی جذبات و خواہشات کی اصطلاحاتی تشکیل اور تصور حلال و حرام کے بغیر اشیاء و سہولیات کو فروخت کرنے کے لیے تزویراتی جال ہے ۔ مسابقت کا بے لگام جذبہCompetition کا اصطلاحاتی نام پاتا ہے ۔ انسانی ذہن پر مسحور کن تصویری ماحول کے ذریعے اپنی گرفت کرنے کا نام Advertising ہے ۔
۵۔ جیسا کہ فلسفہ کی اصطلاحات۔بعض فلاسفہ کی اختراع کردہ اصطلاحات ہمیشہ سے اہلِ علم میں معرکہ آرائی کا باعث ہیں۔
۶۔ محمد علی بن علی الفاروقی التھانوی، کشاف اصطلاحات الفنون،سہیل اکیڈمی ،اردو بازارلاہور،طبع اول،ص:۱، جز اول، ۱۹۹۳ء
۷۔ محمد اسلم سہیل ،اردو مقدمہ کشاف اصطلاحات الفنون، سہیل اکیڈمی اردو بازارلاہور،طبع اول،ص:ا، جزاول ، ۱۹۹۳ء
۸۔ 
 Plato, The Republic, revised/trans. by Desmond Lee, Harmondsworth, UK: Penguin Books, 1974, 2nd edition.
Mill, J. S., 1861, Considerations on Representative Government, 
Buffalo, NY: Prometheus Books, 1991. 
Rousseau, J.-J., 1762, The Social Contract, trans. Charles Frankel, 
New York: Hafner Publishing Co., 1947. 
۹۔ عمادالحسن فاروقی، دنیا کے بڑے مذاہب ،مکتبہ تعمیر انسانیت ، اردو بازار لاہور،ص۱۸۷ ،۱۸۹، س ن

پاکستانی عدلیہ: ماضی کا کردار اور آئندہ توقعات

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

پاکستان کی دستوری تاریخ میں، مولوی تمیزالدین کیس پہلا اہم کیس ہے۔ اس کیس کے پس منظر میں اختیار کی وہی لڑائی موجود ہے جو آج تک جاری ہے۔ دستور اور مقننہ توڑنے کے شوق کا اظہار ۲۴؍اکتوبر ۱۹۵۴ کو ہوا اور پھر ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ ۷؍اکتوبر ۱۹۵۸ء، ۲۵؍ مارچ ۱۹۶۹ء، ۵؍جولائی ۱۹۷۷ء اور ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ء کی تاریخوں کو بھی سپہ سالاران فوج نے اسی ہوسِ غصب کا مظاہرہ کیا۔ البتہ ۹؍مارچ ۲۰۰۷ء اور ۳؍نومبر ۲۰۰۸ء کے مشرفی اقدام کا نشانہ ، مقننہ کے بجائے بالترتیب چیف جسٹس اور پھر سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس تھے۔ پہلے اقدامات میں مقننہ اور حکومت نشانہ بنتی تھی، مگر اس بار مقننہ نے بطور یرغمالی کے، اعلیٰ عدلیہ کے خلاف سپہ سالار کا ساتھ دیا۔ پہلے اقدامات میں، ہٹائے جانے والے حکمرانوں نے پر سکوت تعاون اختیار کی، لیکن عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے اس بار غیر دستوری اقدام کے خلاف فیصلہ کن مزاحمت کا اعلان کیا۔ وکلا برادری اور سول سوسائٹی، غرض پوری قوم، اپنی تاریخ کے ہر اہم موقعے کی طرح، گلی گلی اور روش روش صف آرا ہو گئی۔ حالات نے اپنا رخ اور سمت تبدیل کر لی ہے، مگر جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ جنگ جاری ہے۔ آج کا ’’جمہوری‘‘ صدر بھی، ماضی کے حکمرانوں کی طرح پارلیمنٹ کو یرغمال بنائے ہوئے ہے اور غریبوں کے نام پر غریبوں کا جینا حرام کر رہا ہے۔ حکمرانوں کی آمرانہ روش ایک سی ہے۔ پس منظر میں سپہ سالار فوج کا کردار کار فرما ہے۔ یہ سلسلہ روز و شب ۱۹۵۴ء سے شروع ہوا اور تواتر کے ساتھ چل رہا ہے۔ 
اگر دستور کو تعمیر یا عمارت تصور کر لیا جائے تو اس کی پہلی اینٹ تو یقیناًقاعد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ نے رکھی۔ انہوں نے اسے سیدھا ہی رکھا۔ اینٹ کا سیدھا ہونا مضبوط تعمیر کے لیے کتنا ضروری ہے، کہنے کی بات نہیں۔ ہر کوئی جانتا اور مانتا ہے۔ اس کے باوجودقائد کی رحلت کے بعدحضرت قائد کے جانشینوں نے اسے ٹیڑھا نصب کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بگاڑ کی ابتدا میں اینٹ کو سیدھا رکھنے کی تمام تر کوشش مولوی تمیز الدین کے کھاتے میں جا ئے گی۔ یہ کوشش کسی طرح بھی کمزور نہیں تھی، مگر یہ حقیقت ہے کہ کوشش کرنے والا شخص بے حد کمزور تھا۔ لہٰذا ہر کمزور شخص کی کوشش کی طرح یہ کوشش بھی ناکام ہو گئی۔ ٹیڑھی اینٹ رکھنے والے طاقتور اور مکار تھے، لہٰذا وہ کامیاب ہوئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ اینٹ ایسی ٹیڑھی ہوئی کہ آج تک سیدھی نہ ہو سکی۔ 
منیر ایسے ججوں کا پورا سلسلہ ، انوارالحق، ارشاد حسن خان، عبدالحمیدڈوگر جیسے ناموں کے تحت، کل تک غصب و عبث میں غرق رہا۔ کمزور اور طاقتور کے مابین کشمکش میں غلبہ طاقت ور کو ہی نصیب ہوتا ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ تاریخ نے سربلندی کا اعزاز کمزوروں کو ہی عطا کیا ہے۔ مولوی تمیزالدین خان کو، پاکستان کی دستوری تاریخ کا معمارِ اول کہا جاسکتا ہے۔ ان کے مقابل، مسمار اول، ملک غلام محمد گورنرجنرل تھے۔ ان کے سر پر ماما جی کی طرز پر عدالت بیٹھی تھی۔ یاد رہے کہ اس عدالت کو فیڈرل کورٹ کہتے تھے اور اس کے چیف جسٹس محمد منیر تھے۔ مسمار اول کو چیف کی صورت میں عدالتی ’’مزدور‘‘ مل گیا۔ ان کے فیصلے غالب آئے اور آج تک اپنے غالب اثرات کے ساتھ دستور کے اندر بطور ٹائم بم موجود ہیں۔ مگر ان فیصلوں کے ساختہ پرداختہ کتنے رو سیاہ ہوئے ہیں، یہاں ان کے ذکر کا موقع نہیں۔
قیام پاکستان کے بعد ابتدائی دور تھا۔ اس دور میں بھی مولوی تمیزالدین کو اکیلا نہ سمجھا جائے۔ وہ خوف و ہراس کی فضا کو توڑ کر سندھ چیف کورٹ پہنچے تو پوری سندھ چیف کورٹ کے درِ انصاف سے داد رسی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ سندھ چیف کورٹ کے فل بنچ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا اور ملک غلام محمد کے دستوریہ توڑنے کے فیصلے کو حرفِ غلط قرار دیا۔ عدالت کے چیف جسٹس کونسٹین ٹائن تھے۔ ساتھی ججوں میں جسٹس ویلانی، جسٹس محمد باچل اور جسٹس محمد بخش میمن شامل تھے۔ تمام ججوں کا فیصلہ متفقہ تھا۔ وفاق کی جانب سے،فیصلے کے خلاف، فیڈرل کورٹ میں اپیل دائر ہوئی۔ ملک غلام محمد کے ’’ماموں‘‘ محمد منیرچیف جسٹس تھے۔ انہوں نے فیصلے کو تلپٹ کر دیا۔ اپیل کنندگان کے طور پر روسیاہ ہونے والوں میں، بعد ازاں آئین، قانون، انصاف اور جمہوریت کے بننے والے چیمپئن بھی شامل تھے۔ ان میں سے چودھری محمد علی کا نام لکھتے ہوئے مجھے اذیت محسوس ہوتی ہے۔ ان کو خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان کی صف میں بیٹھے دیکھنا کتنا بڑا مذاق ہے۔ آخر کار سروس کی بھائی بندی بھی کوئی چیز ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس کیس میں سندھ چیف کورٹ میں مولوی صاحب کی جانب سے ایک جونیر کونسل کے طور پر سید شریف الدین پیرزادہ بھی پیش ہوئے۔ ریکارڈ میں اس وقت وہ سید بھی نہیں تھے اور پیرزادہ بھی نہیں۔ کیوں کہ سید شریف الدین پیرزادہ کے طور پر وہ اب تک زندہ ہیں مگر شریف الدین کے طور پر صرف اورصرف سندھ چیف کورٹ کے ریکارڈ پر ہیں۔ (تصدیق کے لیے ملاحظہ ہو پی ایل ڈی ۱۹۵۵ سندھ بر صفحہ نمبر ۱۰۱)۔ اسی صفحے پر مولوی صاحب کے ایک اور وکیل صاحب کا نام ہے، وہ ہیں وحید الدین احمد، جن کے فرزند سعادت مآب جناب جسٹس وجیہ الدین احمد ہیں کہ ہماری دستوری تاریخ کے سب سے بڑے غاصب، جنرل پرویز مشرف کے مقابلے پر وکلا کے صدارتی امیدوار ہونے کا اعزازپا گئے ۔
’’جسٹس ماما محمد منیر‘‘نے گورنرجنرل کو اشیر باد دے دی۔ دوسرے لفظوں میں اینٹ کے ٹیڑھ کو سیدھا قرار دے دیا۔ باقی چار مسلمان ججوں نے اس ٹیڑھ میں حصہ داری کا پورا ثواب کمایا۔ البتہ ایک غیر مسلم جج، جناب اے آر کارنیلیس نے پاکستان کی دستوری عمارت کی بنیاد میں پہلی اینٹ کو، ٹیڑھا نصب کرنے پر، چیف جسٹس کے ہاتھوں پر تیشی اور کانڈی کے ساتھ زور دار ضربیں لگائیں۔ باقی مسلمان ججوں نے ’’ماما‘‘ جج کے فیصلے سے اتفاق کیا، مگر غیر مسلم جج نے اختلافی فیصلہ لکھنے کی جسارت کی۔ جسارت ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اس خشت اول کو سیدھا کرنے کے لیے ایسی بنیاد فراہم کر دی کہ جب بھی اینٹ سیدھی کی جائے گی تو یہی بنیاد بروئے کار آئے گی۔ جسٹس اے آر کار نیلیس کا اختلافی فیصلہ آج بھی روشن ہے۔ 
دستوریہ توڑنے کے اقدام کو کالعدم کروانے کے لیے مولوی صاحب نے سندھ چیف کورٹ میں رٹ درخواست دائر کی۔ دستوریہ نے سو روز قبل مورخہ ۱۶؍ جولائی ۱۹۵۴ کو، ہائیکورٹس کو writ رٹ کا اختیار فراہم کیا تھا۔ اس کے لیے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ میں دفعہ ۲۲۳۔الف ایزاد کی گئی تھی۔ اس وقت تک یہ دستوری روایت بڑی مستحکم ہو چکی تھی کہ دستوریہ جو قانون بھی بناتی، دستوریہ کے صدر اس پر تصدیقی دستخط کرتے اور اپنے اختیار کے تحت سرکاری گزٹ میں شائع کر ادیتے۔ اس طرح اسے جائز قانون کا درجہ مل جاتا۔ یہ دستوریہ کے قواعد کار کے قاعدہ نمبر ۶۲ کے تحت تھا۔ قاعدہ کا متن درج ذیل ہے:
’’بلوں کی تصدیق: جب دستوریہ ایک بل پاس کرتی ہے تو اس کی ایک نقل پر صدر دستخط کریں گے اور پھر صدر کے اختیار سے گزٹ میں اشاعت کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔ ‘‘
یہ امر اہم ہے کہ دستوریہ کا وہ اجلاس جس نے رول ۶۲ پاس کیا، اس کی صدارت قائد اعظم محمد علی جناح نے کی۔ قائد اعظم کی رہنمائی میں پاس ہونے والے رول کو قانون نہ ماننے والے کس منہ سے بات کرتے ہیں۔ مگر یہاں تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ قائد کے لیگی جانشینوں (بقول قائد کھوٹے سکوں) نے قائد، ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح علیہا الرحمہ کے ساتھ کیا کیا؟ محترمہ کی موت کو غیر طبعی قرار دینے والے، سید شریف الدین پیرزادہ، ہر فرعونِ وقت کے نفس ناطقہ اور دماغ بن کر رہے، اس کے باجود، انہوں نے آج تک اس امر کی رپورٹ ابتدائی تک درج کرانے کی کوشش نہیں کی۔ ان کے ساتھ ہی نہیں، ان کے دیے ہوئے وطن کو کس انجام سے دوچار کیا۔ ایسے لوگوں نے رول، قانون، دستوراور اصول کو نہ مانا تو تبصرہ کرنے کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے۔ 
بہر صورت سندھ چیف کورٹ کے فیصلے پر، سب سے بڑا بنیادی عذر یہ لیا گیا کہ ہائیکورٹ کو رٹ کا اختیار دینے والا قانون جائز نہیں کیونکہ اس کی منظوری گورنرجنرل نے نہیں دی۔ سندھ چیف کورٹ نے اس بنیادی عذر کو تفصیلی غور و خوض کے بعد مسترد کر دیا۔ فیڈرل کورٹ نے چیف جسٹس کی قیادت میں باقی ججوں کے ساتھ اس عذر کو قبول کیا اور اسی ایک فنی نکتے پر فیصلہ کرتے ہوئے وفاق کی اپیل منظور، سندھ چیف کورٹ کے فیصلے کو منسوخ اور مولوی صاحب کی رٹ درخواست خارج کردی۔ اس طرح فیڈرل کورٹ نے متنازعہ اعلان کے دیگر فنی اور واقعاتی میرٹس کو ایک طرف رکھ دیا اور فنی سہارے پر گورنر جنرل کو قائم و دائم کر دیا۔ بنیادی سوال آج بھی جواب طلب ہے کہ اگر سندھ چیف کورٹ کو ۲۲۳۔الف کے تحت اختیار سماعت نہیں تھا اور اس کی وجہ یہ قرار دی گئی کہ عدالت کو یہ اختیار دینے والی ترمیم کی منظوری گورنر جنرل نے نہیں دی تھی تو فیڈرل کورٹ کا قیام جس قانون کے تحت ہوا، وہ بھی تو گورنرجنرل کی منظوری کے بغیر تھا۔ پاکستان کی فیڈرل کورٹ کے قیام سے پہلے لندن میں پریوی کونسل، عدالت عظمیٰ کے طرز پر کام کرتی تھی۔ پریوی کونسل کی جگہ فیڈرل کورٹ قائم کی گئی۔ اس کے قیام کے لیے جو قانون، دستوریہ نے پاس کیا اس کا نام:
The privy Council (Abolition of Jurisdiction) Act 1950 
تھا۔ اس قانون کی بھی گورنرجنرل نے منظوری نہیں دی تھی۔ اسی طرح دستوریہ توڑنے کے چار دن پہلے تک وفاق، حکومت، مقننہ کا متواتر طرز عمل اور موقف، اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے، یہاں تک کہ برطانوی حکومت اور پارلیمنٹ کا رویہ بھی یہی تھا کہ دستوریہ کامل مقتدر ہے۔ اس کا دستوری قانون، گورنرجنرل کی منظوری کے بغیر ہی جائز اور موثر قانون ہے۔ اس کے علاوہ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قیام پاکستان، ۱۹۴۷ سے لے کر دستوریہ تحلیل کرنے کے حکم ۲۴۔اکتوبر ۱۹۵۴ تک، دستوریہ ۴۶ قوانین پاس کر چکی تھی۔ ان میں سے کسی ایک کی بھی منظوری کا کوئی سوال نہیں اٹھا۔ ان سب قوانین کو گورنر جنرل کی منظوری کے بغیر ہی جائز قانون کا مقام حاصل رہا۔ ان کو گورنر جنرل سمیت سب نے جائز قانون مانا۔ مگر ستم ظریفی کی انتہا ’’ماما جی‘‘ کا فیصلہ ہے۔ فیصلے کی منطق کی رو سے تو فیڈرل کورٹ، ہائیکورٹ (سندھ چیف کورٹ) کی طرح اختیار سماعت نہیں رکھتی تھی۔ اس طرح فیڈرل کورٹ کو خود کو تحلیل کر کے پریوی کونسل سے رجوع کی ہدایت کے ساتھ کیس نبٹا دینا چاہیے تھا۔ جناب اے آر کار نیلیس نے ماما جی کے فیصلے کی جس طرح ٹھوس فنی حوالوں، دلائل اور پھر پوری دلیری کے ساتھ دھجیاں بکھیری ہیں، ان کو صدیوں تک بھی جمع کیا جائے تو جمع نہیں ہو سکتیں۔ منیر کے فیصلے میں الجھاؤ، تضادات، مکذبات اور محرفات اتنے کہ پڑھنے والے کو پڑھنے سے پیشتر، اپنے ذہن کی سلامتی کا بیمہ کرانا ہو گا۔ میں کہ ایک ادنیٰ سیاسی کارکن ہوں، میں نے اس طور ، اپنی سی سطح پر، آئین، قانون اور انصاف کے لیے عمر بھر کام کیا ہے۔ اگر میرے کھاتے میں کوئی نیکی ہو تو اسے جناب اے آر کارنیلیس کے ایصالِ ثواب کے لیے نثار کرنے کوتیار ہوں۔ اسی لیے میں نے، اپنی تازہ تالیف ’’انصاف کرو گے؟‘‘ کو جناب اے آر کار نیلیس کے نام منسوب کیا ہے۔
تاریخ جب معماران قوم اور مسماران قوم کی فہرست مرتب کرے گی تو مولوی تمیزالدین کے ساتھ کارنیلیس کانام آئے گا۔ ان کے ساتھ اس فہرست میں سندھ چیف کورٹ کے تمام ججوں (چیف جسٹس کونسٹین ٹائن، جسٹس ویلانی، جسٹس محمد باچل، جسٹس محمد بخش میمن) کے نام بھی ستاروں کی طرح چمکتے رہیں گے۔ چاند اور ستاروں کی یہ کہکشاں ہماری تاریخ کا اثاثہ ہے۔ اس میں بھی جسٹس محمدبخش میمن کا مفصل، مدلل اور ٹھوس فیصلہ، درجے میں تو ہائیکورٹ کا فیصلہ ہے، اس وجہ سے اس کو جناب اے آر کار نیلیس کے فیصلے کے ساتھ میزان میں نہیں رکھا جاسکتا کہ اس میں حفظ مراتب حائل ہو گا، لیکن سند ھ چیف کورٹ کے ججوں کے فیصلوں میں ایک بات بطور خاص برتر ہے کہ ان میں اختیار سماعت کے نکتے کے علاوہ باقی متعلقہ واقعات اور حقائق کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے، جب کہ فیڈرل کورٹ میں صرف اختیار سماعت سے متعلقہ امور پر فیصلہ فرمایا گیا۔ اسی طرح چیف کورٹ کے ججوں نے حالات کو وسیع اور حقیقی تناظر میں طے کیا ہے، جب کہ فیڈرل کورٹ کے ججوں نے صرف ایک نکتے کو پھیلا کر اسی پر کیس کو نبٹا دیا۔ پھر یہ کہ کہ سندھ چیف کورٹ کا فیصلہ چیف جسٹس کی قیادت میں متفقہ تھا۔ ملک میں عمومی فضا بھی اس کے حق میں تھی۔ اگر اس وقت وکلا کو اعتزاز احسن، منیر اے ملک، علی کرد، طارق محمود، حامد خان، فخرالدین جی ابراہیم، ایم انور (مرحوم) جیسے لوگوں کی قیادت نصیب ہوتی تو شاید ہماری تاریخ کی سمت گم نہ ہوتی۔ 
یہاں واضح کر دوں کہ ہماری برادری کے قائدین کا جو کچھ بھی کردار سامنے آیا، اس کا بھی حقیقی کریڈٹ یقیناًچیف جسٹس افتخار کو ہی جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ جس طرح وہ ایوان صدر سے رخصت کر کے گھر میں بند کر دیے گئے، لفٹر کے ذریعے ان کی سرکاری رہائش سے گاڑیاں اٹھا لی گئیں، فون منقطع کر دیے گئے، قائم قام چیف جسٹس کو جنگی بنیادوں پر حلف دیا گیا، سی۔۱۳۰ کے براقی ذریعے سے ابلیس کی مجلس شوریٰ کی طرز پر سپریم جوڈیشل کونسل جمع کی گئی، چار دن بعد چیف، اس کونسل کے سامنے پیش ہونے کے لیے اپنے گھر سے باہر آئے تو پولیس نے ان سے ہاتھا پائی کی، ان کا کوٹ پھاڑ ڈالا، مگر یہ کوہ گراں اللہ پر بھروسہ کر کے بر سر پیکار ہو گئے۔ جبری قید کے ان چار دنوں میں باہر کا منظر بدل چکا تھا۔ پیشی والے دن شاہراہ دستور پر وکلا فوج در فوج، رواں دواں تھے، ہر طرف ایک نعرہ تھا: ’’چیف تیرے جاں نثار،بے شمار بے شمار‘‘۔
یہ منظر مولوی تمیزالدین خان سے مشابہہ بھی ہے اور متفرق بھی۔ دستوریہ کے صدر کے طور پر جانشینِ قائد، مقننہ کے سپیکر، سرکاری رہائش گاہ پر مقید، رہائش خالی کرنے کا نوٹس دیا جا چکا تھا۔ سرکاری رہائش پر حکومت کی جانب سے متعینہ ملازم ان کی جاسوسی پر مامور کر دیا گیا۔ مسلم لیگی قیادت کم و بیش روپوش ہو گئی۔ وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نئے بھی ہوگئے۔ مولوی صاحب کی جیب بھی خالی تھی۔ وہ مایوسی اور حزن کی تصویر بنے بیٹھے تھے۔ اس کے باوجود دل میں طوفان لیے ہوئے تھے۔ ایسے میں جماعت اسلامی کے قیم جناب میاں طفیل محمد مرحوم، سید مودودی علیہ الرحمہ کی ہدایت پر، رات گئے ان سے ملنے آتے ہیں۔ اس ملاقات کے لیے جانے سے پہلے، میاں صاحب رشید پارک اچھرہ کے ٹھیکیدار عبدالرشید سے پانچ ہزار روپے کا عطیہ لے کر گئے۔ میاں صاحب نے یہ رقم ان کی جیب میں ڈال دی تاکہ خالی جیب کا معاملہ تو دور ہو اور ان کے دل میں موجزن طوفان کی حدوں کو توڑ کر باہر نکلنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جاسکے۔ اس کے بعد ان سے عدالتی چارہ جوئی کی درخواست کی تو انہوں نے مسلم لیگی رہنماؤں سے مشورہ کی مہلت لی۔ میاں صاحب ان کے متوقع مشیروں کو، اپنے تئیں، سیدھا کرنے کی ضرورت کے تحت ملتے ہیں۔ آخر کار مولوی صاحب ایک موجِ بلا خیز کی صورت میں باہر آتے ہیں۔ ۷۔نومبر کا دن، ۱۹۵۴ کا سال، انصاف کی راہ کا پہلا قدم اٹھنا شروع ہوا۔ مولوی صاحب رٹ دائر کرنے نکلتے ہیں تو برقعہ پوشی کی احتیاط کے ساتھ رکشا پر سوار، ہو کر سندھ چیف کورٹ جاتے ہیں۔ اس منظر اور ۱۳ مارچ ۲۰۰۷ کے منظر میں گہری مشابہت کے باوجود، فرق بھی بہت ہے۔ 
اس وقت وکلا برادری کے قائدین اے کے بروہی، شیخ منظور قادر جیسے لوگ مستقبل کے شریف الدین پیرزادہ اور ملک محمد قیوم کے ’’ارادت مند‘‘ معلوم ہوتے ہیں۔ اس سے فرق یہ ہو اکہ مولوی تمیز الدین کے ساتھ سول سوسائٹی اور وکلا برادری میدان میں نہ آئی، وگرنہ دستوریہ بھی بحال ہوتی اور مولوی تمیزالدین خان بھی چیف جسٹس افتخار کی طرح اپنے منصب پر واپس آتے۔ لیکن صورت حال یہ تھی کہ قائد اعظم علیہ الرحمہ سے قوم محروم ہو چکی تھی۔ لیاقت علی خان اپنے گرد سازشیوں کو جمع کرنے کے بعد، ان کی سازشوں کا نشانہ بن گئے۔ مسلم لیگی قیادت، نئی شیروانیوں کے ساتھ پی سی او کا حلف لینے پر تیار قطاروں میں کھڑی ہو گئی۔ملک بھر میں سکون کی لہریں بہہ رہی تھیں۔ قبرستان کی سی خاموشی طاری تھی۔ ایسے میں فیڈرل کورٹ کے لیے سندھ چیف کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کرنا کچھ مشکل نہ تھا ۔ طالع آزماؤں اور غاصبوں کی موج ہو گئی۔ ان کے خریدے ہوئے بے ضمیر ججوں کو وہی کچھ کرنا تھا جو بے ضمیری کا تقاضا تھا۔ مگر ایک روشن ضمیر، روشن دماغ اور روشن کردار جسٹس اے آر کار نیلیس اپنے ضمیر پر قائم ہوا۔ آج کے نوجوانوں کو ایسے روشن مینار سے روشناس کرانا میرے لیے سعادت ہے۔
بہر صورت جناب اے آر کارنیلیس کافیصلہ چیف جسٹس سے اختلاف کرتے ہوئے صادر ہوا۔ اختلاف کی جرات اور جسارت، تاریخ میں اتنا بلند مقام پیدا کر لیتی ہے کہ اس پر کوئی حسد بھی نہ کر سکے۔ 
تمیزالدین کیس میں حکومتی وکلا نے دلائل میں یہ کہا کہ:
’’انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ کے تحت، پاکستان برطانیہ کی ایک ڈومینین dominionہے۔ جب تک قانون سازی کے ذریعے اس حیثیت کو تبدیل نہ کیا جائے، ہر ڈومینین، جہاں مقننہ موجود ہے، تاج برطانیہ کو کامن لا کے تحت مقننہ کی تحلیل کا اختیار ہے۔ البتہ اگر تحلیل کا یہ اختیار ختم کر دیا جائے تو دوسری صورت ہو گی۔ مقننہ کی تحلیل تاج کی پری راگیٹو ہے۔ یہ پری راگیٹو prerogative گورنر جنرل کو انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ کی دفعہ ۵ کے تحت حاصل ہے۔ اس طرح دستوریہ کی تحلیل مکمل طور پر جائز ہے۔‘‘
اگر میں یہ پوچھوں کہ اس طرح کا استدلال پیش اور قبول کرنا، مملکت خدا داد پاکستان کی آزادی کی نفی نہیں؟ کیا اس سے مملکت کے وجود کو چیلنج نہیں کیا گیا؟ کیا اس سے مملکت اور اس کے نظام سے بغاوت کی بو نہیں آتی؟ اگر میں مطالبہ کروں کہ ایسے استدلا ل کو پیش اور قبول کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دو، تو کیا میرا یہ مطالبہ غلط ہو گا۔ میرا مطالبہ مانا جائے یا نہ مانا جائے، مجھے بتایا جائے کہ میں اس مطالبے سے پیچھے کیسے ہٹ جاؤں؟ ساٹھ سال کی جد و جہد میں میری جدو جہد کے پینتالیس سال بھی تو شامل ہیں۔ میں اپنی جد و جہد کے یہ ماہ و سال فروخت کر دوں؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟
سلام و افتخار اس پر کہ جو حالات کو یہاں تک لے آئے کہ آج غاصبوں کو کٹہرے کی جانب کھینچا جا رہا ہے۔ اس نے ہم کو بھی سر بلند کیا ہے۔ ہم اس کے ساتھ ہیں اور جہاں تک ماحول کا تعلق ہے تو یقیناً، ہم اس سے باغی ہیں اور باغی رہیں گے۔ میرا ایمان ہے، عافیہ صدیقی کی قید و بند کے ایک ایک لمحے کاحساب ہو گا۔ لال مسجد کو خون سے نہلانے والوں کو ایک ایک قطرے کا حساب دینا پڑے گا۔ مالاکنڈ کے جری لوگوں کو جس طرح مار مار کر دہشت گرد بنایا گیا، ہمارے سپہ سالار، پلٹن میدان ڈھاکہ کی وہ صبح بھول گئے ہیں جب جنرل ٹائیگر (جنرل امیر عبداللہ خان نیازی) نے اروڑا سنگھ کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔ میں تو آج بھی اس منظر کو عزیز جانتا ہوں۔ آج مالا کنڈ میں اپنے شہریوں کے خلاف فضائیہ، توپخانہ، غرض پوری فوجی طاقت استعمال کی جا رہی ہے۔ لگتا ہے کہ آخری چارہ کار کے طور پر امریکہ، بحیرہ عرب کو اٹھا کر مالا کنڈ ڈویژن میں لا بسائے گا تاکہ جری، خود دار اور حریت پر جان دینے والے قبائل پر بحری قوت بھی بروئے کار لائی جاسکے۔ کیا کوئی اخلاق، قانون، ملکی و غیر ملکی اپنے شہریوں کے خلاف، اس طرح کے طاقت کے استعمال کی اجازت دیتا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ لوگ دہشت گرد ہو گئے۔ ایجنسیوں کے ہاتھوں بک گئے۔ سوال یہ ہے اس خطہ امن کو اس صورتِ ظلمت تک لانے کے ذمہ دار کون ہیں؟جس طرح مشرقی پاکستان کو، پاکستان سے دھکے دے دے کر نکالا گیا تھا، وہی صورت یہاں حکمرانوں نے پیدا کی اور یہ طے ہے کہ حکمرانی بہر صورت فوج ہی کی رہی، براہ راست یا بالواسطہ۔ اس میں سپہ سالار ہی ذمہ دار نہیں ہو گا، تمام جرنیل ذمہ دار بنتے ہیں۔ یہ کوئی ڈسپلن نہیں کہ سپہ سالار صاحب جو حکم دیں، اسے ’’اندھوں، بہروں، گونگوں اور مہر زدہ لوگوں‘‘ کی طرح مان لیا جائے۔ ایسے میں
میرے وطن کے رقبے تمام
بے غیرت جرنیلوں کے نام
کی حد تک تو صورت حال قابل برداشت ہے مگر بیٹیوں کو فروخت کرنے اور اپنے شہریوں پر فوجی طاقت کے استعمال کا جرم، جنگی جرم بھی ہے اور خدا کے خلاف جنگ بھی۔ ایسے جنگجوؤں کو ہم اپنا پیٹ کاٹ کر اس لیے نہیں پال سکتے کہ وہ نہتے شہریوں کو لوہے اور بارود کی بارش سے بھسم کردیں۔ ہماری فوج کو ڈسپلنڈ فورس کہنے والے احمق جواب دیں کہ ساٹھ سال میں سپہ سالاران نے کس موقع پر ڈسپلن کا مظاہرہ کیا؟ اپنی قوم کو مارنے اور فتح کرنے کی مشق کے سوا جرنیلوں کا کردار ہی کیا ہے؟ اگر یہ ڈسپلن ہے تو پھر انڈسپلن indisciplineکیا ہوتا ہے؟ آزاد ملکوں میں اسلحہ رکھنا شہریوں کا بنیادی دستوری حق ہے۔ امریکی دستور میں دوسری ترمیم (بل آف رائٹس)کے الفاظ اس طرح ہیں:
''Amendment 2` Right to keep arms:
the right of the people to keep and bear arms shall not be infringed.
’’لوگوں کے اسلحہ رکھنے اور اٹھانے کے حق کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔‘‘
یہاں پر امن رہنے بھی نہ دیا جائے، اسلحہ رکھنے کا حق بھی تسلیم نہ کیا جائے، ایجنسیاں بندے اٹھالیں، غیر ملکیوں کے حوالے کر دیں، بیچ دیں، پھر اسلامی مملکت کی سالاری کا دعویٰ بھی رکھیں،
ایسے امام سے گزر ، ایسے سالار سے گزر
باسٹھ سال کے تمام تر حالات کے ذمہ دار فوجی جرنیل، سول انتظامیہ اور پھر سیاستدان ہیں۔ سب کو ٹھکانے لگا دینا انصاف کا تقاضا ہے۔ سوات جیسے خطہ امن کو دہشت گردی کی آماجگاہ کس نے بنایا، کیا مجھے یہ سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں؟ میں یہ سوال کسی حاکم کا گریبان پکڑ کر نہیں کر رہا (حالانکہ مجھے اس کا پورا پورا حق ہے)۔ یہ تو ابھی خود کلامی کی صورت میں ہے۔ کیا مجھے اپنے آپ سے بھی پوچھنے کی اجازت نہیں؟ یہ سعودی عرب نہیں کہ جہاں امام کعبہ کو بھی حق سچ بات کہنے کی توفیق ہے اور نہ اجازت۔ میں سعودی شہری بھی نہیں، پاکستانی شہری ہوں۔ یہاں میں سب کچھ کہنے کے لیے آزاد ہوں، مجھے اپنی آزادی جان سے عزیز تر ہے:
تو تیر آزما، ہم جگر آزمائیں
خدا موجود ہے۔ اس کا اپنا نظام ہے۔ مکافات عمل بھی موجود ہے۔ دنیاوی اور اخروی مکافات سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ کسی کو وہم ہو تو پچھلوں کا انجام دیکھ لے۔ کوئی نہیں دیکھنا چاہتا، بلی کی طرح آنکھیں بند رکھنا چاہتا ہے تو وہ اس کا اختیار رکھتا ہے، لیکن ایسے کو جان لینا چاہیے کہ آنکھیں نہیں کھولیں گے تو آنکھیں پھاڑنے والے بھی آ سکتے ہیں۔ ذرا انتظار کر لو۔ مکافات اپنا کام کر رہی ہے، لیکن ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم اپنی تاریخ کا خود حساب کریں۔ اس تباہی اور خوں آشامی کے ذمہ داروں کو پکڑ کر کٹہرے تک لایا جائے۔ میں تو ۱۹۵۴ سے احتساب کا قائل ہوں۔ نئے دور کی تخلیق کے لیے تاریخ میں حق و ناحق کا تعین لازم ہے۔ پوری تاریخ کو غسل دے کر پاک و صاف کرنا ہو گا۔ اس کے بغیر قومی تعمیر نو کا کوئی امکان نہیں ہو سکتا، لیکن اب اس جانب سفر شروع ہوا چاہتا ہے۔ یہاں میں اپنی بات کو مکمل کرنے کے لیے جناب مسعود مفتی کے تازہ انٹرویو سے چند سطور مستعار لیتا ہوں:
’’آج کی بظاہر بد امنی، در اصل زچگی کا وہ درد اور کرب ہے جس کے ذریعے ہماری قوم بالآخر ایک متحرک معاشرے (سول سوسائٹی) اور عوامی قوت کو جنم دے رہی ہے۔ وکلا کا تعلیم یافتہ گروپ یہ چاہتا ہے کہ یہ جنم قدرتی طریقے سے ہو مگر شدت پسند اسے آپریشن کے تشدد سے جنم دینا چاہتے ہیں۔ مقصد دونوں کا ایک ہی ہے کہ قوم کے اندر چھپے ہوئے جذباتی ہیجان کو اب ایک فعال بدن اور احتجاجی روح میں بدل دیا جائے جو کھلی فضاؤں میں اپنی آواز بلند کر سکے۔‘‘  (سنڈے ایکسپریس، ۳۰ اگست ۲۰۰۹ صفحہ نمبر ۷ کالم نمبر ۲)

حضرت شیخ الحدیثؒ اور حضرت صوفی صاحبؒ کی چند مجالس

سید مشتاق علی شاہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ سے احقر کی پہلی ملاقات چودہ پندرہ سال کی عمر میں ہوئی۔ اس کے بعد مسلسل تعلق قائم رہا۔ میں کافی عرصہ تک حضرت کے ترجمہ وتفسیر کے درس اور بخاری شریف کے سبق کا سماع کرتا رہا۔ پھر ۱۹۸۶ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم کے شعبہ نشر واشاعت میں ملازمت اختیار کر لی جو ۱۳ سال تک جاری رہی۔ اس دوران حضرت شیخ الحدیث اور حضرت صوفی صاحب سے استفادہ کا مسلسل موقع ملتا رہا۔ یہاں اس دوران اپنے مشاہدے میں آنے والی چند باتیں اور تاثرات تحریر کیے جا رہے ہیں۔
۱۔ جس دن میں نے ملازمت اختیار کی، اس سے اگلے دن حضرت شیخ نے مجھے بلا کر بہت سی باتیں سمجھائیں اور خاص طور پر فرمایا کہ اگر میری اولاد میں سے بھی کوئی آپ سے ادھار کتاب مانگے تو نہ دینا یا میری وجہ سے رعایت یا لحاظ کا معاملہ نہ کرنا، میں ہرگز کسی بات کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ 
۲۔ حضرت شیخ الحدیثؒ علم کے سمندر اور ہر فن مولا تھے۔ احقر نے ایک مرتبہ حضرت صوفی صاحب سے عرض کیا کہ اس وقت علم حدیث کا سب سے بڑا عالم کون ہے؟ صوفی صاحب نے فرمایا کہ ایمان داری کی بات یہ ہے کہ میرے علم کے مطابق حضرت شیخ سے بڑا محدث اس وقت کوئی نہیں ہے۔ فرمایا کہ یہ بات میں اللہ کو حاظر وناظر جان کر کہہ رہا ہوں، نہ کہ ان کے ساتھ اپنی رشتہ داری کی وجہ سے۔ یہی سوال احقر نے مولانا عبد القیوم ہزاروی دامت برکاتہم سے کیا تو انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں فرمایا کہ جنی دیا بچیا! میں نے بہت پہلے حضرت کو محدث اعظم مان لیا تھا۔ پھر ایک واقعہ سنایا کہ ۱۹۵۳ء کے لگ بھگ قادیانیوں کی طرف سے کچھ سوالات شائع کیے گئے جن کے جوابات ہماری جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت نے دینے تھے۔ اس سلسلے میں مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا اور یہ طے پایا کہ جو آدمی بھی لکھ سکتا ہے، وہ اپنے جوابات لکھ کر لائے تاکہ ان کا جائزہ لیا جا سکے۔ میں بھی اجلاس میں شریک تھا اور میں نے یہ رائے پیش کی کہ ان سوالات کے جوابات میرے استاذ حضرت شیخ الحدیثؒ ہی دے سکتے ہیں۔ پھر میں اجلاس میں طے ہونے والی بات کے مطابق خود گکھڑ حاضر ہوا اور حضرت شیخ کو اس پر آمادہ کیا۔ چونکہ قادیانیوں کی کتب زیادہ تر ختم نبوت کے دفتر میں تھیں، اس لیے جوابات لکھنے کے لیے دفتر میں قیام کرنے کی بھی ضرورت تھی۔ حضرت شیخ ایک دن اس کام کے لیے دفتر تشریف لے گئے تو میں موجود نہیں تھا اور دفتر کا ناظم حضرت کو نہیں جانتا تھا۔ اس نے حضرت سے کہا کہ کیا آپ لکھنے کے لیے کاغذ قلم وغیرہ ساتھ لائے ہیں؟ حضرت اس پر واپس تشریف لے گئے اور اپنی جیب سے کاغذ قلم وغیرہ خرید کر دوبارہ دفتر گئے اور تین دن تک جوابات کے سلسلے میں کام کرتے رہے۔ 
جب مقررہ تاریخ پر اجلاس ہوا تو اس میں سب نے اپنے اپنے تحریر کردہ جوابات پیش کرنے تھے اور آپس میں بحث ومباحثہ کے بعد یہ فیصلہ کیا جانا تھا کہ کس کے جوابات سب سے بہتر ہیں۔ اجلاس میں پاکستان کے بڑے بڑے علما، مفتیان کرام اور مناظر حضرات بھی موجود تھے جن میں مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ ، مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ، مولانا خیر محمد جالندھریؒ اور علامہ محمد یوسف بنوریؒ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ مختلف حضرات کے جوابات پڑھ کر سنائے جاتے اور پھر ان پر تنقید کی جاتی۔ زیادہ تر حضرت شیخ الحدیثؒ ہی تنقید فرماتے تھے۔ جب مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کا مضمون پڑھ کر سنایا گیا تو اس میں زیادہ تر مواد امام سیوطیؒ کے حوالے سے نقل کیا گیا تھا۔ حضرت شیخ نے غالباً اس میں نقل کردہ روایات کی اسنادی حیثیت پر تنقید کی تو مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ، جو حضرت شیخ کے استاذ بھی تھے، غصے میں آ گئے اور فرمایا کہ اگر سیوطیؒ جیسا محدث بھی معتبر نہیں تو اور کون ہوگا؟ بہرحال آخر میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے لکھے ہوئے جوابات پڑھے گئے اور حضرت نے کہا کہ اس پر تنقید کریں، لیکن کسی نے کوئی اعتراض نہ کیا اور اجلاس میں وہی جوابات منظور کر لیے گئے۔ 
یہ واقعہ سنا کر مولانا عبد القیوم ہزاروی مدظلہ نے فرمایا کہ میں نے تو اسی وقت سمجھ لیا تھاکہ حضرت استاذ سے بڑا محدث اس وقت او رکوئی نہیں ہے۔
۳۔ جب شیعہ کی تکفیر کے بارے میں ایک استفتا پورے ملک کے علما کے سامنے پیش کیا گیا تو حضرت شیخ نے اس پر تائیدی دستخط کیے جبکہ حضرت صوفی صاحب کی رائے اس کے حق میں نہیں تھی۔ حضرت شیخ نے احقر سے کہا کہ: صوفی اپنے موقف کا پکا ہے اور میری بات تسلیم نہیں کرتا۔ تم صوفی کے پاس اٹھتے بیٹھتے ہو، اسے سمجھاؤ کہ وہ اپنی رائے رکھے، لیکن ایک ہی ادارے سے متضاد قسم کی باتیں عوام کے سامنے نہیں آنی چاہییں۔ اس سے لوگ برا تاثر لیں گے کہ بڑا بھائی کچھ کہتا ہے اور چھوٹا کچھ۔ 
حضرت صوفی صاحب کی رائے یہ تھی کہ کسی گروہ کو مطلقاً تکفیرکا نشانہ بنانا درست نہیں، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ جو شخص مثلاً شیخین کی تکفیرکا قائل ہو، سیدہ عائشہ پر تہمت لگاتا ہو یا قرآن کومحرف مانتا ہو، وہ کافر ہے۔ ایک موقع پر مولانا عزیز الرحمن صاحب مرحوم نے حضرت صوفی صاحب سے اس پر بحث کی کہ اس وقت کوئی شیعہ ایسا نہیں جو امامت کو اپنا بنیادی عقیدہ نہ مانتا ہو تو پھر تکفیر کے لیے تخصیص کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن حضرت صوفی صاحب یہی اصرار کرتے رہے کہ بس یہ کہنا چاہیے کہ جو شخص فلاں فلاں عقیدہ رکھتا ہو، وہ کافرہے۔ اسی طرح حضرت جلسے جلوسوں میں کافر کافر کے نعرے لگانے کو بھی پسند نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو طریقہ اس سے پہلے ہمارے بزرگوں کا چلا آرہا ہے، وہی ٹھیک ہے۔ *
۴۔ ایک مرتبہ احقر نے حضرت شیخ سے گزارش کی کہ آپ نے ’’تنقید متین‘‘ میں لکھا ہے کہ میں نور وبشر کے مسئلے پر ایک مستقل کتاب لکھوں گا، مگر ابھی تک نہیں لکھی۔ آپ نے علم غیب، حاظر ناظر اور مختار کل میں سے ہر مسئلے پر دو دو کتابیں لکھی ہیں، لیکن نور وبشر پر ایک بھی نہیں لکھی۔ حضرت نے فرمایا کہ میں کاروباری آدمی نہیں ہوں۔ میں نے جو لکھا ہے، وہ ضرورت کے تحت اور عقیدہ کی اصلاح کے لیے لکھا ہے۔ میری دیگر کتابوں میں نور وبشر کا مسئلہ تفصیل سے آ چکا ہے اور الگ کتاب لکھنے کی ضرورت نہیں۔ میں نے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو آپ کی مختلف کتابوں سے مواد جمع کر کے ایک یکجا مرتب کر دیا جائے؟ حضرت نے فوراً اجازت مرحمت فرما دی اور احقر نے مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی صاحب کے ساتھ مل کر ’’نور وبشر‘‘ کے نام سے ایک الگ کتاب مرتب کر دی۔
۵۔ جب ملک میں عورت کی حکمرانی کے جواز وعدم جواز کی بحث چلی تو مدرسہ نصرۃ العلوم کے دار الافتاء کے پاس بھی یہ سوال آیا۔ اس وقت دار الافتاء کے صدر مفتی محمد عیسیٰ صاحب مدظلہ نے اس سلسلے میں حضرت صوفی صاحب سے مشورہ کیا۔ انھوں نے فرمایا کہ جب تک آپ شیخ الحدیث صاحب سے مشورہ نہ کر لیں، فتویٰ نہ لکھیں۔ اگلے دن جب حضرت شیخ اسباق سے فارغ ہو کر صوفی صاحب کے پاس چارپائی پر بیٹھے ہوئے تھے تو مولانا مفتی محمد عیسیٰ صاحب مدظلہ اور مولانا مفتی عبد الشکور کشمیری مدظلہ دونوں حاضر ہوئے اور جہاں تک مجھے یاد ہے، حضرت تھانویؒ کا ’’امداد الفتاویٰ‘‘ بھی ساتھ لے آئے۔ حضرت شیخ نے دیکھتے ہی فرمایا: ’’امداد الفتاویٰ کو ہاتھ بھی نہ لگانا۔ حضرت تھانویؒ نے آپ حضرات کے لیے کوئی گنجایش نہیں چھوڑی۔‘‘ پھر دونوں مفتی حضرات کو فتویٰ کے متعلق ہدایات دیں اور حکم دیا کہ جب تک لکھ کر مجھے دکھا نہ لیا جائے، فتویٰ جاری نہ کیا جائے۔
۶۔ ایک مرتبہ میں نے دریافت کیا کہ جمعیت اشاعت التوحید والسنۃ کے حضرات کہتے ہیں کہ مولانا سرفراز صاحب نے اپنی کتاب ’’راہ سنت‘‘ میں تحریف کر دی ہے، کیونکہ پہلے ایڈیشنوں میں انھوں نے ایک جگہ لکھا تھا کہ
’’شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان صاحب خطیب راول پنڈی پر پشاور میں اور شیخ التفسیر حضرت مولانا سید عنایت اللہ شاہ صاحب بخاری گجراتی پر منڈی بہاؤ الدین میں قاتلانہ حملہ ہوا۔‘‘
لیکن بعد میں یہ عبارت نکال دی گئی۔ حضرت نے فرمایا کہ اس کو تحریف نہیں کہتے۔ مصنف کو اپنی زندگی میں حق ہوتا ہے کہ وہ کتاب میں جیسے چاہے، رد وبدل اور کمی بیشی کرے اور ہمیشہ اس کی آخری بات کا اعتبار ہوتا ہے۔ فرمایا کہ میں نے ’’راہ سنت‘‘ میں عرض حال لکھتے ہوئے حضرت شیخ القرآن اور سید عنایت اللہ شاہ صاحب بخاری کے بارے میں یہ لکھا تھا، لیکن جب شاہ صاحب نے علماے دیوبند سے الگ راہ نکالی اور اس پر محاذ آرائی شروع کر دی تو بہت سے احباب نے مشورہ دیا کہ یہ عبارت حذف کر دی جائے، اس لیے میں نے اکابر علما کے مشورے سے یہ عبارت نکال دی ہے۔
۷۔ ایک مرتبہ احقر نے عرض کیا کہ بریلوی حضرات کہتے ہیں کہ آپ نے ’’گلدستہ توحید‘‘ کی طبع اول میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کے کفر وایمان سے متعلق جو کچھ لکھا تھا، اس سے رجوع کر لیا ہے کیونکہ اگلے ایڈیشنوں میں وہ عبارت موجود نہیں ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ ہاں، گلدستہ توحید کی طبع اول میں، میں نے یہ بات لکھی تھی، لیکن پھر مولانا محمد علی جالندھریؒ یا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ (حضرت نے دونوں بزرگوں میں سے ایک کا نام لیا) نے فرمایا کہ یہ بات آپ کو لکھنے کی ضرورت نہیں، اسے کتاب سے نکال دیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا یہ بات غلط ہے؟ تو انھوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ بات غلط ہے، لیکن یہ ہمارا حکم ہے، اس لیے میں نے اکابر کا حکم سمجھتے ہوئے وہ عبارت کتاب سے نکال دی۔ (گلدستہ توحید، طبع دوم کے ص ۲۱ پر اس کی وضاحت موجود ہے۔)
۸۔ ایک دفعہ احقر نے حضرت صوفی صاحب سے سوال کیا کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ مولانا سرفراز صاحب، قاضی شمس الدین صاحب کے شاگرد ہیں، اس کی کیا حقیقت ہے؟ فرمایا کہ استاذ نہیں، وہ تو ہمارے استاذ الاستاذ ہیں۔ میں یہ سمجھا کہ حضرت نے اس سوال کا برا منایا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے وضاحت چاہی تو فرمایا کہ ہمارے استاذ مفتی عبد الواحد صاحبؒ تھے اور ان کے استاذ قاضی شمس الدین صاحبؒ تھے۔ اس طرح قاضی صاحب ہمارے استاذ الاستاذ ہوئے۔ پھر میں نے پوچھا کہ مفتی صاحب نے قاضی صاحب سے کیا پڑھا تھا؟ حضرت نے فرمایا کہ یہ دونوں بزرگ علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد ہیں۔ قاضی صاحب نے ایک کتاب شاہ صاحب سے پڑھی ہوئی تھی جو مفتی صاحب نے نہیں پڑھی تھی تو انھوں نے نسبت قائم کرنے کے لیے قاضی صاحب سے کہا کہ آپ مجھے یہ کتاب پڑھا دیں۔ اسی طرح ایک کتاب قاضی صاحب نے بھی مفتی صاحب سے پڑھی تھی اور دونوں ایک دوسرے کے استاذ بھی تھے اور شاگرد بھی۔ فرمایا کہ ہم قاضی صاحب کا ادب واحترام اپنے اساتذہ ہی کی طرح کرتے ہیں۔ وہ ہمارے بزرگ تھے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔
۹۔ حضرت صوفی صاحب نے دار العلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کا یہ واقعہ سنایا کہ ہم دونوں بھائی علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے صاحبزادے مولانا ازہر شاہ قیصرؒ سے ملاقات کی غرض سے ان کی رہائش گاہ پر گئے۔ وہاں بہت ہجوم تھا اور ملاقات کے لیے لوگوں کی قطار لگی ہوئی تھی۔ ہم بھی لائن میں لگ گئی، لیکن کافی تاخیر ہو گئی۔ شیخ الحدیث صاحب کے گھٹنوں میں درد بھی تھا۔ مجھے مخاطب کر کے کہنے لگے کہ صوفی! میں ایک نسخہ آزماتا ہوں، ہو سکتا ہے کامیاب ہو جائے۔ پھر انھوں نے اپنی جیب سے ایک چٹ نکال کر اس پر لکھا کہ ’’احسن الکلام‘‘ اور ’’عمدۃ الاثاث‘‘ کا مصنف آیا ہے اور آپ کے دروازے پر ملاقات کے لیے کھڑا ہے۔ اندر آنے کی اجازت مرحمت فرما دیں۔ جو صاحب دروازے پر کھڑے تھے، انھوں نے وہ چٹ جا کر ان کو دے دی۔ حضرت نے جب چٹ پڑھی تو فوراً ہمیں اندر بلا لیا اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور شیخ صاحب کو اپنی جگہ پر بٹھا دیا۔ لوگ بہت حیران ہوئے کہ یہ کون بزرگ آئے ہیں۔ شاہ صاحب نے حضرت شیخ کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ اس زمانے کے امام الموحدین تشریف لائے ہیں۔ یہ احسن الکلام اور عمدۃ الاثاث کے مصنف ہیں۔ صوفی صاحب نے فرمایا کہ ان کا یہ کہنا تھا کہ لوگ ملنے کے لیے اس طرح لپکے کہ ہمیں جان چھڑانی مشکل ہو گئی۔
۱۰۔ حضرت شیخ نے ایک مرتبہ ذکر فرمایا کہ میں نے مشکوٰۃ شریف کی ایک کاپی سالہا سال کی محنت سے تیار کی تھی جس میں زمانہ طالب علمی میں حضرت مولانا عبد القدیر صاحبؒ سے سنے ہوئے درسی افادات بھی شامل تھے اور پھر میں نے دوران تدریس اپنے مطالعے سے اس میں بہت سے اضافے بھی کیے تھے۔ فرمایا کہ ایک دفعہ یہ کاپی مجھ سے صوفی نے لے لی اور اس سے کوئی آدمی مانگ کر یا چرا کر لے گیا۔ کچھ عرصے کے بعد میں نے کاپی کے بارے میں پوچھا تو صوفی نے آرام سے کہہ دیا کہ وہ تو گم ہو گئی ہے۔ میں نے کہا کہ تم نے تو بس زبان ہلا دی کہ گم ہو گئی ہے اورمیری سالہا سال کی محنت ضائع ہو گئی۔ اس پر صوفی کہنے لگا کہ ’’چلیں جو بھی لے کر گیا ہے، وہ پڑھے گا ہی نا! تو آپ کو ثواب ہوگا۔‘‘ فرمایا کہ میں اسی لیے اسے ’’صوفی‘‘ کہتا ہوں۔
۱۱۔ ایک دفعہ حضرت شیخ کے پاس ایک عورت آئی جس کے گھر میں جنات کے اثرات تھے۔ اس نے تعویذ مانگا تو حضرت نے کہا کہ بی بی، تعویذ لینا ہے تو لے لے، لیکن میں جنات کا عامل نہیں ہوں۔ وہ خاتون اصرار کر کے تعویذ لے گئی، لیکن اس سے جنات اور چڑ گئے اور اس کے گھر میں پاخانہ اور گندگی پھینکنا شروع کر دی۔ وہ تعویذ واپس لے آئی اور کہا کہ اس سے تو معاملہ زیادہ خراب ہو گیا ہے۔ حضرت شیخ نے فرمایا کہ میں نے تو پہلے ہی تم سے کہا تھا کہ میں جنات کا عامل نہیں ہوں۔
۱۲۔ ایک مرتبہ حضرت صوفی صاحب مدرسے کے صحن میں دھوپ سینکنے کے لیے چارپائی پر تشریف فرما تھے کہ قاضی عصمت اللہ صاحب تشریف لائے۔ میں نے حضرت کو بتایا تو باوجودیکہ حضرت سے اٹھا نہیں جا رہا تھا، اٹھ کر ان کا استقبال کرنے کی کوشش کی۔ پھر بڑے اکرام اور محبت سے انھیں بٹھایا اور خصوصی طو رپر گھر سے پر تکلف چائے منگوائی۔ قاضی صاحب بھی بڑے مودبانہ انداز میں حضرت کے پاس بیٹھے رہے۔ حضرت صوفی صاحب نے ان سے فرمایا کہ آپ کے والد مولانا قاضی نور محمد صاحبؒ ہمارے بزرگ تھے اور اہل اللہ تھے۔ آپ ان کی اولاد ہیں، آپ ہمارے لیے دعا فرمائیں کہ خاتمہ ایمان پر ہو۔ قاضی نور محمد صاحب کا ذکر کرتے ہوئے صوفی صاحب رونے لگ گئے۔ پھر قاضی صاحب کو رخصت کرنے کے لیے اٹھنے لگے تو قاضی صاحب نے ان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ دیے اور کہا کہ حضرت، آپ تشریف رکھیں، لیکن صوفی صاحب ان کو مدرسے کے گیٹ تک رخصت کر کے آئے۔
۱۳۔ حضرت صوفی صاحب فروعی اختلافی مسائل کے بارے میں تشدد کو بالکل پسند نہیں فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ ہمارے ساتھی قاری عبید الرحمن صاحب سے، جو مکہ مکرمہ میں مقیم ہیں، پوچھا کہ بھئی، وہاں تمہارے ساتھ کوئی سختی والا معاملہ تو نہیں ہوتا؟ پھر فرمایا کہ بابا، وہاں کے ماحول میں رفع یدین کر لیا کرو۔ کوئی حرج کی بات نہیں۔ حضرت صوفی صاحب نے ’’نماز مسنون‘‘ لکھی تو اس کا ایک نسخہ مولانا امین صفدر اوکاڑوی کو بھی بھیج دیا۔ مولانا اوکاڑویؒ نے بتایا کہ اسی دن میرے پاس ایک پروفیسر صاحب آئے تو میں نے کتاب مطالعے کے لیے انھیں دے دی۔ وہ کچھ دنوں کے بعد کتاب لے کر آئے اور کہا کہ آپ تو رفع یدین اور آمین بالجہر وغیرہ کے متعلق بہت سخت موقف رکھتے ہیں، جبکہ اس کتاب میں یہ لکھا ہے کہ دونوں طریقے حدیث سے ثابت ہیں اور دونوں کی گنجایش موجود ہے۔ اوکاڑوی صاحب کہتے تھے کہ یہ کتاب مدرسہ نصرۃ العلوم کی چار دیواری کے اندر رہنی چاہیے، عوام تک نہیں جانی چاہیے۔ اوکاڑوی صاحب مجھے کہتے تھے کہ صوفی صاحب ان مسائل کے بارے میں بہت نرم ہیں۔ تم حضرت کے پاس اٹھتے بیٹھتے ہو، حضرت کو ’’پکا‘‘ کرنے کی کوشش کرو۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ تو کہا کہ غیر مقلدین کی طرف سے ہمارے خلاف جو بھی کتاب یا رسالہ لکھا جائے، وہ حضرت تک پہنچایا کرو۔ 
۱۴۔ ایک مرتبہ میں نے حضرت صوفی صاحب سے پوچھا کہ آپ کے بارے میں سنا ہے کہ آپ شاعری کا بڑا اچھا ذوق رکھتے ہیں۔ حضرت کی اپنی ایک بیاض بھی تھی جو حضرت نے اپنے دوسرے مسودات کے ساتھ حاجی محمد فیاض صاحب کے سپرد کر دی تھی۔ حضرت نے فرمایا کہ میں تو نہیں، البتہ استاد (حضرت شیخ الحدیث صاحب) اس فن کے بڑے ماہر ہیں۔ اس پر ایک واقعہ سنایا کہ جب ہم دار العلوم دیوبند میں پڑھتے تھے تو ہر سال دیوبند میں بیت بازی کا ایک مقابلہ ہوا کرتا تھا جو ہمیشہ لکھنو سے آنے والے ایک بابا جی جیت جایا کرتے تھے۔ ہمارے استاذ (مولانا اعزاز علی صاحبؒ یا مولانا مفتی ریاض الدین صاحبؒ ) نے کہا کہ یہ تو بڑی شرم کی بات ہے۔ اس پر مولانا سرفراز صفدر صاحب مقابلے کے لیے تیار ہو گئے۔ جب مقابلہ ہوا تو لکھنو والے بابا جی نے عربی، فارسی، اردو وغیرہ کے اشعار پڑھنے شروع کر دیے۔ وہ جس زبان کے اشعار پڑھتے، شیخ صاحب بھی اسی زبان میں اس کے مقابلے میں شعر پڑھتے۔ آخر حضرت شیخ نے اپنی مادری زبان ہندکو میں شعر پڑھنا شروع کر دیے جس پر وہ بابا جی لاجواب ہو گئے اور شیخ نے مقابلہ جیت لیا۔ اس پر اساتذہ کی طرف سے بھی حضرت کو بہت داد اور انعام ملا اور لکھنو والے بابا جی نے بھی ان کی شعری مہارت کو تسلیم کیا۔
۱۵۔ حضرت صوفی صاحب نے یہ واقعہ سنایا کہ دار العلوم دیوبند کے قیام کے دوران ایک مرتبہ رات کے وقت گھنٹی بجی اور اعلان ہوا کہ حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ تشریف لائے ہیں۔ سب طلبہ ان کے پاس جمع ہو گئے۔ حضرت کی شخصیت کا بڑا رعب اور دبدبہ تھا اور کوئی ان سے بات کرنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔ ایک طالب نے حضرت سے کہا کہ کوئی نصیحت فرما دیں۔ حضرت کچھ دیر خاموش رہے، پھر ایک دم کہا: ’’موت ہے، موت ہے، موت ہے۔‘‘ اس کے بعد وضاحت کی کہ نصیحت تو قرآن کی صورت میں بہت پہلے آ چکی ہے۔ اب نئی نصیحت کیا کروں! جب قرآن سے نصیحت حاصل نہیں کرتے تو پھر تو موت کے سوا کوئی نصیحت نہیں۔
صوفی صاحب نے فرمایا کہ ایک مرتبہ پیر صبغت اللہ بختیاری سفر میں حضرت سندھی کے ساتھ تھے۔ پیر صاحب جبہ قبہ اور چوغا پہنے رکھتے تھے جبکہ حضرت سندھی چست لباس پہنتے تھے۔ انھوں نے دیوبند کے اسٹیشن سے ریل پر سوار ہونا تھا۔ جب گاڑی مختصر وقفے کے لیے رکی تو حضرت سندھی تو فوراً دوڑ کر سوار ہو گئے جبکہ پیر صاحب اپنا لباس سنبھالتے رہے اور مشکل ہی سے سوار ہو سکے۔ اس پر حضرت سندھی نے انھیں وہیں بے نقط سنانا شروع کر دیں کہ اس دور میں ایسے بھاری بھرکم لباس کے ساتھ کیسے دنیا میں کام کر سکو گے!
۱۶۔ حضرت صوفی صاحب نے فرمایا کہ ہمارے سب سے پہلے مربی اور دیوبندیت سے ہمیں روشناس کرانے والی شخصیت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی تھی۔ ہم ان کا احسان کبھی نہیں بھلا سکتے۔ حضرت نے فرمایا کہ ہم سیاسی طور پر مفتی محمود صاحبؒ کے موقف کی تائید کرتے ہیں، لیکن جو لوگ حضرت ہزاروی کی ذات پر طعن اور الزام طرازی کرتے ہیں، وہ بہت زیادتی کرتے ہیں۔ حضرت ہزاروی تو ایسے تھے کہ ایک مرتبہ ہم ان کے گھر گئے تو ان کے گھر میں کچھ بھی نہیں تھا، حتیٰ کہ صابن بھی نہیں تھا۔ ہم نے ایک پروگرام پر جانا تھا اور حضرت کے پاس ایک ہی جوڑا تھا۔ میں ان کے ساتھ دوکان پر گیا جہاں سے انھوں نے ادھار صابن خریدا۔ پھر میرے کہنے کے باوجود خود ہی اپنا پہنا ہوا لباس اتار کر اسے دھویا اور خشک ہونے کے بعد اسے ہی پہن کر جس پروگرام کے لیے جانا تھا، اس کے لیے روانہ ہو گئے۔
۱۷۔ حضرت مولانا عبید اللہ انور رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ سمجھ ہی نہیں سکے کہ وہ کتنے بڑ ے آدمی تھے اور کس درجے پر فائز تھے۔ فرمایا کہ وہ مرد قلندر تھے۔ ایک واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ میں مری میں مقیم تھا کہ مولانا عبید اللہ انور بھی وہاں آئے اور میرا پتہ چلنے پر میری قیام گاہ پر تشریف لے آئے۔ وہاں ان سے ملنے کے لیے بہت سے لوگ اور عقیدت مند آ گئے جنھوں نے مری کے لوگوں کے طریقے کے مطابق کپڑے کی پوٹلیوں میں باندھ کر کثرت سے نذرانے پیش کیے۔ اب جو بھی نذرانہ آتا، مولانا عبید اللہ انور اسے میرے سپرد کر دیتے، حتیٰ کہ میرا کمرہ نذرانوں سے بھر گیا، لیکن انھوں نے کسی چیز کو کھول کر دیکھا تک نہیں کہ اس میں کیا ہے۔ پھر جب رخصت ہونے لگے تو مجھے اس سارے سامان کا امین بنا دیا اور کہا کہ آپ اپنی صواب دید کے مطابق اسے مستحقین میں تقسیم کر دیں۔ ہم نے اسے کھول کر دیکھا تو اس میں نقد رقم، سونا چاندی اور بہت سی قیمتی چیزیں تھیں جو ہم نے تقسیم کر دیں۔ صوفی صاحب نے فرمایا کہ ہم نے ایسا پیر نہیں دیکھا۔
راقم نے حضرت مولانا عبید اللہ انور کی بیعت کی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد حضرت شیخ سے نئی بیعت کے لیے کہا تو حضرت نے فرمایا کہ مرنے سے بیعت نہیں ٹوٹتی اور میں بیعت ثانی کا قائل نہیں۔ آپ کے مرشد جو اوراد ووظائف آپ کو بتا گئے ہیں، ان کا معمول جاری رکھیں۔ حضرت صوفی صاحب کو علم ہوا تو انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ مولانا انورؒ نے آپ کو کیا وظیفہ بتایا ہے؟ میں نے کہا کہ وہ فرماتے تھے کہ ہر وقت اللہ اللہ کرتے رہا کرو۔ صوفی صاحب نے فرمایا کہ یہ بہت بڑا وظیفہ ہے، اسے معمولی نہ سمجھنا۔
۱۸۔ میں نے صوفی صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ کسی کے خلیفہ بھی ہیں؟ حضرت نے فرمایا کہ بلیک میلنگ نہیں کرتا۔ میں حضرت مدنی کا مرید ہوں، لیکن خلیفہ کسی کا نہیں ہوں۔ فرمایا کہ ہم نے بیعت سے پہلے بے شمار بزرگوں اور پیروں کی زیارت کی، حتیٰ کہ تھانہ بھون میں حضرت تھانویؒ کی زیارت کے لیے بھی حاضر ہوئے لیکن کہیں دل کا اطمینان نہیں ہوا۔ آخر اللہ نے دل میں یہ خیال ڈالا کہ اپنے استاد ہی کی بیعت کر لو۔ فرمایا کہ مولانا عبیداللہ انورؒ نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا تھا کہ آپ کچھ عرصہ ہمارے طریقے کے مطابق اوراد ووظائف کر لیں، میں آپ کو خلافت دے دیتا ہوں، لیکن میں نے ان سے کہا کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں۔
۱۹۔ میں نے حضرت صوفی صاحب سے پوچھا کہ یتیمۃ البیان میں مولانا یوسف بنوریؒ نے مولانا ابو الکلام آزادؒ کو ملحد اور زندیق لکھا ہے۔ فرمایا کہ یہ زیادتی ہے۔ اسی طرح مولانا ادریس کاندھلویؒ نے عین اس وقت جب مسلم لیگ او رکانگریس کی سیاسی کشمکش چل رہی تھی، مولانا آزاد کی تفسیر پر تنقید شائع کر کے زیادتی کی۔ صوفی صاحب نے فرمایا کہ مولانا آزاد عظیم انسان تھے۔ میری ان سے ایک ملاقات ہوئی ہے۔ جب ہم دیوبند میں دورۂ حدیث کے طالب علم تھے تو کچھ دوست ان سے ملاقات کے لیے دہلی میں ان کے دفتر گئے۔ وہاں ملاقات کے لیے بہت سے لوگ بیٹھے تھے۔ ہم نے بتایا کہ ہم دیوبند کے طالب علم ہیں تو انھوں نے سب سے پہلے ہمیں اندر بلایا۔ گفتگو میں انھوں نے ہمیں انگریز کے خلاف نصیحتیں کیں اور جب ہم نے ایک کاپی پر ان سے آٹو گراف مانگا تو اس میں بھی یہی لکھا کہ کبھی انگریز کو اپنا خیر خواہ نہ سمجھنا۔ مولانا نے ہمیں چائے بھی پلائی اور ہمیں رخصت کرنے کے لیے اٹھ کر دروازے تک ہمارے ساتھ آئے۔ اس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ شخص علم کا بہت قدردان ہے۔
۲۰۔ میں نے عرض کیا کہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اپنا شجرۂ نسب مولانا آزاد سے ملاتے ہیں کہ میں نے مولانا مودودیؒ سے استفادہ کیا ہے اور مولانا مودودیؒ نے مولانا آزادؒ سے۔ فرمایا کہ مودودی صاحبؒ کے دس صفحے ابوالکلامؒ کی دس سطروں کے برابر بھی نہیں ہیں۔ صوفی صاحب نے فرمایا کہ جب مولانا حسین احمد مدنی او ر مولانا آزاد اکٹھے چلتے تھے تو مولانا آزاد ہمیشہ ان سے چار پانچ قدم پیچھے رہتے تھے، کبھی ان سے آگے نہیں بڑھتے تھے۔
۲۱۔ جس زمانے میں حضرت صوفی صاحب فجرکے بعد درس قرآن دیا کرتے تھے، ان کے کمرے کی الماری مختلف تفاسیر رکھی ہوتی تھیں جن کا حضرت مطالعہ کیا کرتے تھے۔ میں اس الماری کی صفائی کیاکرتا تھا۔ ان کتابوں میں دوسری تفاسیر کے علاوہ تفسیر عثمانی بھی پڑی ہوتی تھی۔ میں نے ایک دن حضرت سے اس تفسیر کے متعلق پوچھا تو حضرت نے فرمایا کہ بابا! یہ مختصر تفسیروں میں بہترین تفسیر ہے۔ بعض جگہ بڑی بڑی تفسیروں میں وہ نکتے کی بات نہیں ملتی جو اس میں مل جاتی ہے۔ اسی طرح حضرت درس قرآن کے لیے جن کتابوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے، ان میں مودودی صاحب کی تفہیم القرآن اور پرویز صاحب کی مفہوم القرآن وغیرہ بھی شامل تھیں۔ میں نے حضرت سے ان کتابوں کے مطالعے کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ عوام کو تو ہم منع کرتے ہیں، لیکن اہل علم کو، جو صحیح اور غلط بات کا فرق سمجھتے ہیں، ان کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ فرمایا کہ ان میں بھی بعض اوقات ایسی کام کی باتیں مل جاتی ہیں جو دوسری کتابوں میں نہیں ملتیں۔
۲۲۔ ایک مرتبہ میں نے حضرت صوفی صاحب سے عرض کیا کہ مختلف آیات کی تشریح میں ہمارا بریلوی حضرات سے جو اختلاف ہے، کیا اس کے تصفیے کے لیے ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ کسی ایک مستند تفسیر مثلاً روح المعانی یا مظہری وغیرہ کو معیار قرار دے لیا جائے اور ہر جگہ دونوں فریق اس میں درج تشریح کو قبول کریں؟ حضرت نے فرمایا کہ نہ بابا نہ، اس طرف بالکل نہیں جانا۔ ہر تفسیر میں کہیں نہ کہیں ایسی بات مل جاتی ہے جس سے بریلوی حضرات کی تائید ہوتی ہے۔
۲۳۔ ایک دفعہ میں نے حضرت صوفی صاحب سے مولانا اللہ یار خان چکڑالوی کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ دیوبندی تھے؟ حضرت نے فرمایا کہ بالکل نہیں۔ ان کو حیض (صوفیا کی اصطلاح میں کشف وغیرہ) زیادہ آنا شروع ہو گیا تھا اور ہمارے اکابر ان کے ہاں تصوف کے اس رنگ سے نالاں تھے۔
۲۴۔ روزے کی حالت میں انجکشن لگوانے سے متعلق حضرت صوفی صاحب کی رائے مفتیان کرام کی عام رائے سے مختلف تھی اور حضرت اسے روزے کے لیے ناقض سمجھتے تھے۔ حضرت نے اپنے موقف کی وضاحت کے لیے ایک تفصیلی مقالہ تحریر کیا جو ’’مقالات سواتی‘‘ میں شامل ہے۔ حضرت نے یہ مقالہ ملک کے تمام بڑے مفتیان کرام کو بھیجا اور ان سے ان کی رائے طلب کی، لیکن مفتی جمیل احمد صاحب تھانوی اور مفتی عبد الستار صاحب کے علاوہ کسی نے جواب نہیں دیا۔ یہ مقالہ تنقید کے لیے حضرت شیخ الحدیث صاحب کو بھی دیا گیا تھا۔ حضرت نے اسی مقالے پر اپنا مختصر تبصرہ یوں تحریر کیا کہ: ’’صوفی کی تحریر عمدہ ہے۔ احقر کا مسلک جمہور والا ہے۔‘‘ مولانا عبد القیوم ہزاروی صاحب نے فرمایا کہ صوفی صاحب کے دلائل وزنی ہیں، لیکن میں اکیلے صوفی صاحب کا فتویٰ نہیں مانتا۔ اگر دو تین اور مفتی اس کی تائید کر دیں تو پھر میرا موقف بھی یہی ہے۔ حضرت صوفی صاحب نے فرمایا کہ مفتیوں نے میری بات کو اہمیت نہیں دی۔ مفتی عبد الستار صاحب تو میری بات ہی نہیں سمجھے جبکہ مفتی جمیل احمد صاحب بات تو سمجھ گئے ہیں، لیکن انھوں نے جواب بہت مختصر لکھا ہے۔ فرمایا کہ دیکھنا، آج نہیں تو کل ان حضرات کو میرے موقف پرہی آنا پڑے گا۔
۲۵۔ حضرت صوفی صاحب کسی علمی غلطی کو قبول کرنے میں بالکل تردد ظاہر نہیں فرماتے تھے، بلکہ بات سمجھ میں آنے پر فوراً تسلیم کر لیتے تھے۔ حضرت نے ’’فیوضات حسینی‘‘ کا ترجمہ شائع کیا تو ایک جگہ اس کے متن کی ایک عبارت کا ترجمہ بلاارادہ چھوٹ گیا۔ عبارت یہ تھی کہ ’’اول ما خلق اللہ نوری‘‘ کی روایت کے بارے میں شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ نے لکھا ہے کہ اس کی کچھ اصل ہے۔ اس پر بریلوی عالم مولانا ابو داؤد محمد صادق نے تحریف کا الزام لگایا تو حضرت صوفی صاحب نے فرمایا کہ بخدا، ہم نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا، غلطی سے ہو گیا ہے، اس لیے اس کو فوراً ٹھیک کر دو۔ چنانچہ اس وقت جو ایڈیشن دستیاب ہے، اس میں مذکورہ عبارت کا ترجمہ شامل ہے۔
اسی طرح ’’مقالات سواتی‘‘ میں حضرت صوفی صاحب کا جو مضمون مودودی صاحب کے بارے میں شائع ہوا ہے، اس میں ایک جگہ حضرت نے ’’خلافت وملوکیت‘‘ کے حوالے سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اقربا نوازی کے الزام کا ایسے انداز میں ذکر کیا تھا جو ’’خلافت وملوکیت‘‘ میں اس طرح نہیں ملتا۔ میں نے حضرت سے عرض کیا کہ یہ بات اصل کتاب میں تو یوں نہیں ہے تو فرمایا کہ مودودی صاحب نے جو کچھ لکھا ہے، ا س سے یہی اخذ ہوتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اخذ کرنے میں تو پھر بھی کمی بیشی کا امکان ہے تو فرمایا کہ اچھاتم اصل کتاب کو سامنے رکھ کر اس عبارت کو ٹھیک کر دو۔ چنانچہ حضرت کے کہنے پر ہم نے اصل کتاب کی روشنی میں عبارت درست کر کے حضرت کو دکھا دی۔
۲۶۔ حضرت صوفی صاحب فرماتے تھے کہ مودودی صاحب کا ترجمہ قرآن بڑا آسان اور عام فہم ہے، البتہ ان کی تفسیر میں گڑبڑ ہے۔ فرماتے تھے کہ اس سے بھی زیادہ آسان اور بہتر ترجمہ مولانا محمد علی کاندھلوی کا ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ میری مولانا مودودی کے ایک معتقد سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ آپ مولانا حسین احمد مدنی کا شاگرد ہونے کی وجہ سے مولانا مودودی کی مخالفت کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ حاشا وکلا، ہرگز ایسا نہیں ہے۔ ہم مودودی صاحب کی باتوں کو واقعی قابل اعتراض سمجھتے ہیں اور اگر وہ ان باتوں سے رجوع کر لیں تو ہمارا ان سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔
۲۷۔ ایک مرتبہ حضرت صوفی صاحب نے فرمایا کہ میرا زندگی بھر کا تجربہ یہ ہے کہ غیر مقلد حضرات اپنے مسلک یا جماعت کا فائدہ دیکھے بغیر دین یا علم کا کوئی کام نہیں کرتے، جبکہ ہمارے بزرگ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے اور دین اور علم کی خدمت کے جذبے سے کام کرتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا کہ ایک مرتبہ اہل حدیث عالم مولانا خالد گرجاکھی نے علامہ ابن حزم کی کتاب ’’جوامع السیرۃ‘‘ شائع کی تو میں بڑا حیران ہوا کہ اس سے ان کو کیسے دلچسپی پیدا ہوئی۔ مجھے یقین تھا کہ اس میں بھی یقیناًان کے مسلک کا کوئی نہ کوئی فائدہ ہوگا۔ میں نے یہ سمجھنے کے لیے پوری کتاب کا بالاستیعاب مطالعہ کیا تو واقعی اس میں دو تین باتیں ایسی موجود تھیں جس سے ان کے مسلک کی تائید ہوتی تھی۔ فرمایا کہ نصرۃ العلوم کے کتب خانے میں جو نسخہ موجود ہے، اس پر میرے نشانات لگے ہوں گے۔
ذیل کے واقعات راقم نے ماسٹر محمد صدیق صاحب کی زبانی سنے ہیں۔ ماسٹر محمد صدیق صاحب کی عمر اس وقت ۷۵ سال کے قریب ہے۔ وہ کافی عرصہ گکھڑ میں رہے ہیں، اہل حدیث مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور حافظ محمد یوسف صاحب گکھڑویؒ کے شاگرد ہیں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ بھی ان کا عقیدت واحترام پر مبنی بہت قریبی تعلق رہا ہے۔ یہ واقعات انھی کی زبانی یہاں درج کیے جا رہے ہیں: 
۲۸۔ ایک مرتبہ ہمارے ہاں کوئی تقریب تھی جس کے لیے ہم نے مولانا سرفراز صاحب اور ان کے اہل خانہ کو بھی مدعو کیا اور دعوت نامہ پر ’’بیگم مولانا محمد سرفراز خان صفدر‘‘ کے الفاظ لکھے۔ جب میں دعوت نامہ لے کر حاضر ہوا تو مولانا نے ’’بیگم‘‘ کا لفظ کاٹ کر ’’زوجہ‘‘ لکھ دیا اور فرمایا کہ صدیق صاحب! بیگم بڑے آدمیوں کی بیوی کو کہتے ہیں، ہم تو چھوٹے ہیں۔
۲۹۔ ایک مرتبہ میں نے مسئلہ رفع یدین کے متعلق سوال کیا تو مولانا نے فرمایا کہ دیانت داری کی بات یہ ہے کہ رفع یدین کرنے اور نہ کرنے، دونوں کے حق میں احادیث موجود ہیں۔ چونکہ ہم مقلد ہیں اور ہمارے امام نہ کرنے کے قائل ہیں، اس لیے ہم رفع یدین نہیں کرتے۔
۳۰۔ ایک مرتبہ گکھڑ میں بریلوی حضرات نے علم غیب اور حاظر ناظر وغیرہ مسائل پر بہت چیلنج بازی کی اور مولانا عبد الصبور ہزاروی اور مولانا ابو النور بشیر (کوٹلی لوہاراں والے) کو مناظرے کے لیے بلایا گیا۔ مولانا سرفراز صاحب نے جواب میں ان سے فرمایا کہ مسئلہ علم غیب اور حاظر ناظر پر میں خود مناظرہ کروں گا جبکہ دوسرے چھوٹے موٹے مسائل پر حافظ محمد یوسف صاحب مناظرہ کریں گے۔ جب مولانا نے یہ اعلان کیا تو بریلوی حضرات چپ ہو گئے اور مناظرہ کی طرف نہیں آئے۔
۳۱۔ ایک دفعہ گوجرانوالہ اور لاہور سے کچھ اہل حدیث علما قراء ۃ خلف الامام کے موضوع پر مولانا سرفراز صاحب سے مناظرہ کرنے کے لیے گکھڑ پہنچ گئے، لیکن حضرت نے فرمایا کہ میری صحت ٹھیک نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ مناظرہ نہیں کر سکتے تھے یا معاذ اللہ ان کے پاس علم نہیں تھا، کیونکہ میں نے ’’احسن الکلام‘‘ پڑھی ہوئی ہے۔ استغفر اللہ، ہم ایسی بات مولانا کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتے۔ لیکن معلوم نہیں کہ واقعتا اس دن ان کی طبیعت ناساز تھی یا وہ اس موضوع پر مناظرہ کرنے کو ویسے ہی پسند نہیں کرتے تھے۔
۳۲۔ حضرت اپنی تقریر میں اکثر یہ جملہ بڑے خاص انداز میں فرمایا کرتے تھے کہ ’’سمجھ آئی؟‘‘ یہ جملہ مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔
۳۳۔ ایک مرتبہ میں کافی عرصے کے بعد مولانا سرفراز صفدر سے ملاقات اور تعویذ لینے کے لیے مدرسہ نصرۃ العلوم میں حاضر ہوا۔ جب حضرت گاڑی سے باہر نکلے تو میں آگے بڑھ کر ملا اور پوچھا کہ حضرت! مجھے پہچانا ہے؟ حضرت ہنس پڑے اور فرمایا کہ ’’صدیق! ایہہ وی کوئی گل اے کہ تینوں بھل جاواں؟‘‘ (صدیق، یہ بھی کوئی بات ہے کہ تمھیں بھول جاؤں؟)
۳۴۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں، میں جوان تھا اور ہم نے دن رات مولاناسرفراز صاحب کے ساتھ کام کیا۔ ہم مولانا کا جوش اور ولولہ دیکھ کر حیران ہو جاتے تھے جو ہم نوجوانوں کے جوش کو مات دیتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔

اسلامی بینکاری: غلط سوال کا غلط جواب (۱)

محمد زاہد صدیق مغل

مروجہ سودی بینکاری کو ’مسلمان بنانے‘ کی مہم پچھلی دو دہائیوں سے اپنے عروج پر ہے اور نہ صرف یہ کہ مجوزین اسلامی بینکاری بلکہ ان کے ناقدین کی ایک اکثریت نے بھی یہ فرض کرلیا ہے کہ اس مہم کے ذریعے نظام بینکاری کو کسی نہ کسی درجے (زیادہ یا کم کے اختلاف کے ساتھ) اسلامی بنا ہی لیا گیا ہے۔ اگر اصولاً یہ مقدمات درست مان لیے جائیں کہ (۱) اپنے مقاصد اور طریقہ کار (procedure) دونوں اعتبارات سے بینک کی اسلام کاری ممکن ہے، نیز (۲) اسلامی بینکاری درست سمت میں رواں دواں ہیں تو ان کے منطقی لازمے کے طور پر جو بحث ابھرے گی، وہ اس نظام میں ’مزید اصلاح‘ کی کوشش کرنے ہی کی ہوگی نہ کہ اس جدوجہد کو ’لاحاصل قرار دے کر ترک‘ کر دینے کی۔ چنانچہ اسلامی بینکاری کی اسلامیت کے ضمن میں مجوزین اور ناقدین کی ایک اکثریت کے درمیان اختلاف کی بنیاد یہ نہیں کہ بینکاری اصولاً اسلامی ہو ہی نہیں سکتی بلکہ یہ رہی ہے کہ ’مروجہ ‘ اسلامی بینکاری ’کتنی اسلامی‘ ہے۔ مجوزین کے نزدیک مروجہ اسلامی بینکاری میں موجود ’اسلامیت کی مقدار‘ اس نظام کو اسلامی کہنے کے لیے بہت کافی ہے جبکہ ناقدین کے خیال میں مروجہ نظام میں ابھی تک ’مطلوبہ اسلامیت‘ پیدا نہیں کی جاسکی۔ گویا ناقدین بھی اس مفروضے کو قبول کرتے ہیں کہ جو کچھ بھی خرابی ہے، وہ ’مروجہ‘ اسلامی بینکاری میں ہے، لہٰذا کوئی ایسی ’غیر مروجہ‘ اسلامی بینکاری بھی ممکن ہے جو ان خرابیوں سے پاک ہوگی۔ مجوزین اور ناقدین اسلامی بینکاری کی ایک اکثریت کے درمیان یہ قدر مشترک اس لیے پائی جاتی ہے کہ دونوں گروہ درج بالا مفروضہ مقدمات کو قبول کرتے ہیں۔ 
اس کے برخلاف ناقدین کا دوسرا گروہ وہ ہے جس کے خیال میں بینکاری اپنے مقاصد اور عمل دونوں لحاظ سے غیر اسلامی شے ہے اور اس کی اسلامیت ناممکن ہے۔ چونکہ اس گروہ اور مجوزین کے مقدمات ہی میں بنیادی فرق ہے، لہٰذا ان دونوں کے درمیان کوئی قدر مشترک نہیں اور دونوں کی بحث کا حاصل ’مروجہ اسلامی بینکاری کی اصلاح‘ نہیں بلکہ اس جدوجہد کی ’بقا و عدم ‘ کا ہے، یعنی مجو زین کے نزدیک اسے جاری رہنا چاہیے جبکہ ناقدین کے خیال میں یہ جدوجہد احیائے اسلام کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہے، لہٰذا اسے لازماً ترک کرنا ہوگا۔ ناقدین اسلامی بینکاری کے دونوں گروہوں کا مجوزین سے اختلاف کرنے میں نوعیت اختلاف کا فرق درحقیقت اس بنا پر ہے کہ اسلامی بینکاری کا تنقیدی مطالعہ کرتے وقت تین سطحوں پر گفتگو کرنا ممکن ہے : 
۱۔ اسلامی و سودی بینکاری کا تطبیقی جائزہ: یعنی یہ سمجھنے کی کوشش کرنا کہ آیا اسلامی بینک اور سودی بینکوں کے مقاصد میں کیسا تعلق ہے، کیا یہ دونوں کسی ایک ہی نظام زندگی (سرمایہ داری) کے مقاصد حاصل کرنے کے دو مختلف وسائل ہیں یا ان کے مقاصد میں کوئی تفریق موجود ہے۔ اس بحث میں اسلامی بینکاری کو جزوی طور پر نہیں بلکہ ایک بڑے نظامہائے زندگی کے ایک پرزے کے طور پر جانچ کر یہ دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آیا اس طریقہ کار سے مقاصد الشریعہ کا حصول ممکن ہے بھی یا نہیں۔ گویا یہاں گفتگو کا محور ’جزو‘ نہیں بلکہ ’کل‘ ہوتا ہے۔
۲۔ اسلامی بینکاری کے امکانات کا جائزہ: یعنی یہ تجزیہ کرنا کہ آیا موجودہ نظام بینکاری کو اسلامیانے کا کوئی طریقہ ممکن بھی ہے یا نہیں۔ اس تجزیئے میں یہ بحث کی جاتی ہے کہ بینکنگ اصلاً کیا ہے؟ کیا واقعی بینک ایک زری ثالث (financial intermediary) ہوتا ہے جیسا کہ مجوزین اسلامی بینکاری کا خیال ہے؟ اگر اس کی حقیقت اس کے علاوہ کچھ اور ہے تو کیا اسے اسلامی بنانا ممکن ہے؟ 
۳۔ اسلامی بینکاری کے طریقہ کاروبار کا فقہی جائزہ: اس سطح پر جزواً جزواً یہ دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسلامی بینک جو زری سروسز اور پراڈکٹس (Financial products and services) مہیا کررہے ہیں، وہ قواعد شریعہ کی شرائط پر پورا اترتی ہیں یا نہیں۔ اس تجزیئے میں اسلامی اور مروجہ بینکاری نظام کا اس اعتبار سے تطبیقی موازنہ بھی کیا جاتا ہے کہ آیا واقعی اسلامی بینک موجودہ بینکاری نظام سے علیحدہ کوئی کام کربھی رہے ہیں یا محض ’نئی بوتل میں پرانی شراب‘ والا معاملہ ہے۔ گویا یہاں بحث کا مرکزی نکتہ ’جزو‘ ہوتا ہے۔ ناقدین کی وہ اکثریت جو اپنے مقدمات میں مجوزین کے مماثل ہے، درحقیقت پہلی دونوں سطحوں سے سہو نظر (by pass) کرتے ہوئے اپنی تنقید کی بنیاد اس تیسری سطح پر رکھتی ہے۔ گویا مجوزین اور ناقدین کی اس اکثریت کے درمیان قدر مشترک تنقید کی اول دو نوں سطحوں کو نظر انداز کرنا ہے۔
اسلامی بینکاری بطور ایک ’کل‘، یعنی اس کے مقاصد کے شرعاً باطل ہونے کی بحث پر راقم الحروف نے دو الگ مضامین تحریر کیے ہیں جن کی تفصیلات وہاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ (۱) ز یر نظر مضمون کا نفس موضوع اسلامی بینکاری پر تنقید کی دوسری سطح پر بحث کرنا ہے، یعنی یہاں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ آیااپنے عمل کے اعتبار سے بینک کی اسلام کاری ممکن ہے یا نہیں؟ ہم دیکھیں گے کہ مجوزین (اور ناقدین کی ایک اکثریت) بینکنگ کے جس تصور کو بنیاد بنا کر اس کی اسلام کاری ممکن سمجھتے ہیں (یا اس پر تنقید کرتے ہیں)، درحقیقت وہ تصور بینکنگ ہی سرے سے غلط ہے، گویا ان کی دلائل کی عمارت ہی بے بنیاد ہے۔ مجوزین کے خیال میں بینک محض ایک زری ثالث (financial intermediary) ہے جس کا کام بچتوں اور سرمایہ کاری میں تعلق پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں موجودہ بینکنگ کی ’اصل خرابی ‘ یہ ہے کہ اس تعلق کے قیام کے لیے وہ ’سود‘ کا راستہ اختیار کرتی ہے، لہٰذا اگر اس کے طریقہ کار کی اصلاح کر کے اس تعلق کو سود کے بجائے ’شرکت و مضاربت‘ وغیرہ کے اصولوں پر قائم کردیا جائے تو بینک کو کلمہ پڑھانا ممکن ہے۔ مگر ہم دیکھیں گے کہ بینکنگ کا یہ تصور درست نہیں اور نہ ہی بینکنگ کو شرکت وغیرہ کے اصولوں پر چلانا ممکن ہے۔ بینکنگ کو درست طور پر نہ سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجوزین مسئلے کی اصل حقیقت تک پہنچ نہ سکے اور اس ظاہر بینی کا نقصان یہ ہوا کہ سرمایہ داری کے سب سے بڑے ادارے یعنی بینک کو اسلامی لبادہ اوڑھادیا گیا۔ چنانچہ اسلامی بینکاری پر تنقید کے درج بالا ڈھانچے کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ مجوزین اسلامی بینکاری دوہری غلطی کے مرتکب ہورہے ہیں: 
  • ایک طرف جب وہ احیائے اسلام کے لیے ’سودی بینکنگ کا متبادل کیا ہے‘ کا سوال اٹھا کر اس کا حل پیش کرنے کا بیڑا اٹھاتے ہیں تو اپنے مقاصد کے اعتبار سے ایک غلط سوال اٹھا کر اس کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ (مجوزین کا سوال کیونکر غلط ہے؟ اس کا تعلق تنقید کی اول سطح سے ہے ) ۔
  • اور دوسری طرف اس کا متبادل دینے کی کوشش میں بھی وہ پوری تحقیق سے کام لیے بغیر ’بینکنگ کیا ہے‘ کا ایک غلط جواب دے کر اپنی عمارت قائم کرتے ہیں۔ (گویا ظلمت بعضہا فوق بعض)۔ دوسرے لفظوں میں مجوزین کا سوال اور جواب دونوں ہی غلط ہیں۔ 
مجوزین کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سرمایہ داری کو فطری انسانی تقاضوں کا ارتقا سمجھتے ہیں اور اسی لیے وہ ہر سرمایہ دارانہ ادارے کی اسلام کاری ممکن سمجھتے ہیں۔ (۲) مجوزین کا عمومی طریقہ کار یہ ہے کہ وہ بینکاری نظام میں جاری لین دین کی ’مخصوص شکلوں‘ (transactions forms) کی اصلاح کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں مگر وہ لین دین جس ’معاشی ماحول اور حالات ‘ میں ہورہی ہیں، اس سے یکسر سہو نظر کرتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امرکی ہے کہ اس معاشی ماحول (economic environment) کا درست تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے جس کے اندر بینک کا وجود ممکن ہے اور یہ دیکھنے کی کوشش کی جائے کہ آیا اس معاشی ماحول کو ختم کردینے کے بعد بھی بینکاری ممکن رہتی ہے یا نہیں، نیز کیا اس معاشی ماحول کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کرنا ممکن ہے یا نہیں۔ 
بینک کی اسلامیت کا امکان ثابت کرنے کے لیے دو شرائط کا پورا ہونا لازم ہے: 
۱) یہ ثابت کرنا کہ fractional reserve banking اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والانظام زر شرعاً جائز ہے۔
۲) بینک کے سود کو شرکت و مضاربت کے اصولوں سے تبدیل کرنا ممکن ہے۔
ہم دیکھیں گے کہ اسلامی بینکار دونوں میں سے پہلی شرط سے کلیتاً سہو نظر کرتے ہوئے بحث کا سارا رخ ’سود‘ کو ’نفع‘ سے تبدیل کردینے کی طرف موڑ دیتے ہیں جبکہ اس دوسری بحث کی نوبت تب آتی ہے جب پہلی شرط پوری ہونا ممکن ہو (جو کہ ہم دیکھیں گے کہ ممکن نہیں ہے)۔ درحقیقت پہلی شرط کا تعلق اس معاشی ماحول سے ہے جس میں بینکاری ممکن ہوپاتی ہے، لہٰذا اس مضمون میں اسی پہلو سے متعلق تفصیلات واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ 
اپنے مضمون کو ہم تین حصوں میں تقسیم کریں گے۔ پہلے حصے میں مجوزین اسلامی بینکاری کا نظریہ بینکنگ بیان کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ہم پاکستان میں اسلامی بینکاری کے سرخیل مولانا تقی عثمانی صاحب کے نظریات کو بنیاد بنائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ہم علم معاشیات کی روشنی میں مجوزین اسلامی بینکاری کے نظریہ بینکنگ کی علمی بنیادیں و فکری پس منظر واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ دوسرے حصے میں مجوزین اسلامی بینکاری کے نظریہ بینکنگ کی بنیادی خامیاں نیز بینکنگ کا مختصر تاریخی ارتقاء بیان کرکے درست نظریہ بینکنگ کی وضاحت کی جائے گی۔ اس تجزئیے کے بعد آخری حصے میں بینکاری نظام کی اسلامیت اور اس کے امکانات کا مختصر جائزہ پیش کرکے دفاع بینکاری کی چند دلیلوں کا جواب دیا جائے گا۔ وما توفیقی الا باللہ 

۱) مجوزین اسلامی بینکاری کے نظریہ بینکنگ کی فکری بنیادیں 

مجوزین اسلامی بینکاری اوپر بیان کردہ جس تصور بینکنگ کو بنیاد بنا کر بینک کی اسلام کاری ممکن سمجھتے ہیں، وہ درحقیقت علم معاشیات کے نیو کلاسیکل مکتبہ ہائے فکر سے ماخوذ ہے (۳) جو سرمایہ دارانہ معیشت کو ایک Barter اکانومی کے طور پر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مکتبہ فکر کے مطابق معاشی لین دین میں زر ایک غیر فعال (neutral) سیال کے طور پر کام کرتا ہے، نیزبینک محض بچتوں اور سرمایہ کاری میں توازن پیدا کرنے کا ایک ادارہ ہے۔ گویا ان مفکرین کے خیال میں بینکنگ ’بچتیں سرمایہ کاری کو جنم دیتی ہیں‘ (savings create loan model) کے اصول پر کام کرتی ہے۔ اس نکتے کی تفصیل سے قبل ہم مولانا تقی عثمانی صاحب کی کتاب ’اسلام اور جدید معیشت و تجارت‘ سے ان کا نظریہ بینکاری واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ 

۱.۱: مجوزین کا نظریہ زر و بینکاری 

مولانا کا نظریہ بینکنگ درج بالا تصور کی ہو بہو تصویب ہے۔ (۴) چونکہ نظریہ زر و بینکنگ باہم مربوط تصورات ہیں، لہٰذا پہلے ہم مولانا کا نظریہ زر بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ مولانا تقی عثمانی صاحب زر کی تعریف اس طرح فرماتے ہیں: 
’’جو چیز آلہ مبادلہ (exchange of goods) کے طور پر استعمال ہوتی ہو اور وہ قدر کا پیمانہ (unit of account) ہو اور اس کے ذریعے مالیت کو محفوظ کیا جاتا (store of value) ہو، اسے زر کہتے ہیں۔‘‘ (ص: ۹۵) 
پھر نوٹ کی فقہی حیثیت پر مختلف نظریات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس نقطہ نظر کہ ’نوٹ قرض کی رسیدیں ہیں‘ کو رد کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’صحیح نقطہ نظر یہ ہے کہ نوٹ رسید نہیں بلکہ خودمال ہیں، سونے چاندی کی طرح ثمن حقیقی نہیں بلکہ ثمن عرفی ہیں۔‘‘ (ص: ۱۰۴-۱۰۶) اس سے معلوم ہوا کہ مولانا تقی عثمانی صاحب کے نزدیک مروجہ رائج زر جسےfiat money کہتے ہیں، بنیادی طور پر قرض کی رسید نہیں بلکہ آلہ مبادلہ اور ثمن عرفی ہے۔ پھر مولانا بینکاری کی بحث اس تعریف سے شروع کرتے ہیں: 
’’بینک ایک ایسے تجارتی ادارے کا نام ہے جو لوگوں کی رقمیں اپنے پاس جمع کرکے تاجروں، صنعت کاروں اور دیگر ضرورت مندافراد کو قرض فراہم کرتا ہے۔‘‘ (ص: ۱۱۵) 
’’بینک عوام کی بچتوں کو یکجا جمع کرکے تاجروں اور صنعت کاروں کو سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔‘‘ (غیر سودی بینکاری: ص ۳۱) 
’’بینک ..... لوگوں کی منتشر بچتوں کو یکجا کرکے انہیں صنعت و تجارت میں استعمال کرنے کا ذریعہ بنتا ہے ..... بینک کی حیثیت محض ایک ایسے ادارے کی ہے جو روپے کا لین دین کرتا ہے۔‘‘ (ص: ۱۳۳ -۱۳۴) 
ان اقتباسات سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ اولاً مولانا تقی عثمانی صاحب کے نزدیک بینک کا بنیادی مقصد سرمایہ کاروں (investers) اور بچت کرنے والوں (savers) کے درمیان تعلق پیدا کرنا ہوتا ہے۔ دوئم بینک محض زر کی لین دین (exchange of money) سر انجام دینے کا ذریعہ ہے۔ پھر مولانا کھاتوں (deposits) کی مختلف اقسام (کرنٹ اکاؤنٹ، سیونگ اکاؤنٹ، فکسڈ اکاؤنٹ) کا تعارف کرانے کے بعد فرماتے ہیں کہ جب ان ڈپازٹس سے بینک کے پاس سرمایہ جمع ہوجاتا ہے اور اس کے ساتھ بینک بھی اپنا ابتدائی سرمایہ لگا دیتا ہے تو اس تمام سرمایے کو درج ذیل طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے : 
۱۔ سرمایے کا ایک حصہ سیال شکل میں اسٹیٹ بینک کے پاس جمع کرادیا جاتا ہے ۔
۲۔ بینک کچھ سرمایہ اپنے پاس رکھتے ہیں تاکہ کھاتے داروں کے مطالبات پورے کرسکیں ۔
۳۔ اس کے بعد بینک کئی وظائف ادا کرتے ہیں، مثلاً تمویل (financing)، درآمدات و برآمدات میں ادائیگی کی سہولت فراہم کرنا، تخلیق زر ۔ (ص: ۱۱۶ ) 
اس تفصیل سے یہ اہم بات معلوم ہوئی کہ مجوزین کے نزدیک بینک پہلے بچتیں جمع کرتا ہے اور پھر انہیں قرض پر دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں بینک ’بچتیں قرضوں کا باعث بنتی ہیں‘ کے اصول پر کام کرتا ہے۔ اس مقام پر یہ تضاد بھی نوٹ کرلینا چاہیے کہ ایک طرف تو مولانا تقی عثمانی صاحب بینک کا کام یہ بتاتے ہیں کہ ’بینک محض زر کی لین دین کرتا ہے‘ مگر ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ ’بینک کے وظائف میں تخلیق زر بھی شامل ہوتا ہے‘۔ ظاہر ہے اگر بینک محض زر کی لین دین (exchange of money) کرتا ہے تو تخلیق زر (creation of money)کسی بھی طرح اس کے وظائف میں شامل نہیں ہوسکتا، کیونکہ تخلیق زر کسی بھی طرح ’زر کی لین دین‘ میں شامل نہیں کیا جاسکتا ، اور اگر بینک تخلیق زر کا باعث بنتا ہے تو بینک کی یہ تعریف درست نہیں کہ وہ محض زر کی لین دین کرتا ہے۔ اس تضاد کو رفع کرنے کی ذمہ داری مجوزین کے ذمہ ہے۔ ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ مجوزین کے اس تضاد کی وجہ ان کا بینکاری نظام اور تخلیق زر کی اصل حقیقت کو درست طور پر نہ سمجھ پانا ہے۔ المختصر مجوزین کے نظریہ زر و بینکاری کو ہم تین نکات میں سمو سکتے ہیں: 
i۔ موجودہ دور میں رائج شدہ زر ’آلہ مبادلہ ‘ (means of exchange) ہے جسے شرعاً ثمن عرفی کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے ۔
ii۔ بینک سرمایہ کاروں اور بچت کرنے والوں کے درمیان تعلق پیدا کرتا ہے، یعنی بینک محض زر کا لین دین سرانجام دیتا ہے۔ اس بات کو علم معاشیات کی اصطلاح میں یوں کہا جائے گا کہ بینک اصلاً ایک financial intermediary (ترسیل زر کے ثالث ) کا کردار ادا کرتا ہے ۔
iii۔ بینک ’بچتیں قرضوں کا باعث بنتی ہیں‘ کے اصول پر کام کرتا ہے ۔
بینکاری کا یہ روایتی تصور درج ذیل تصویر میں دکھایا گیا ہے جس کے مطابق بینک فرد الف (عموماً صارفین) سے رقم وصول کر کے فرد ب (عام طور پر سرمایہ کار) کو قرض فراہم کرتاہے۔ اس کے بدلے بینک ب سے چند فیصد سود لے کر اس سود کا ایک حصہ الف کو دے دیتا ہے اور سود کی وصولی و ادائیگی کا یہ فرق اس کی آمدنی ہوتی ہے۔ مجوزین کے اسلامی بینک کا ماڈل شکل نمبر ۲ میں دکھایا گیا ہے۔ 

۱.۲: مجوزین اور نیوکلاسیکل اکنامکس کے نظریات کا تعلق 

اب ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ مجوزین اسلامی بینکاری کا درج بالا نظریہ بینکاری درحقیقت علم معاشیات کے (رد شدہ ) مکتبہ فکر نیوکلاسیکل اکنامکس نظریات کا ہو بہو چربہ ہے۔ نیوکلاسیکل اکنامکس پورے معاشرے کو ایک مارکیٹ کے طور پر دیکھتی ہے جہاں اپنی ذاتی اغراض کی تکمیل میں مصروف افراد اشیاء کی لین دین کے لیے دوسرے افراد کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہیں۔ نیوکلاسیکل نظرئیے کے مطابق ایک Barter (اشیاء کی براہ راست لین دین پر مبنی) اکانومی اور monetary (زرپر مبنی) اکانومی میں اصلاً کوئی فرق نہیں، یعنی دونوں میں اشیاء کی اصل قیمتیں اور مقدار یکساں متعین ہوتی ہیں۔ ان مفکرین کے خیال میں لوگ اشیاء کی براہ راست لین دین کے بجائے زر کو اس لئے ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اشیاء کے تبادلے میں متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ مثلاً سامان کے نقل و حمل میں مشکلات، طلب و رسد کا ایک ساتھ ملاپ لازم ہونا (یعنی اگر ایک شخص گندم کے بدلے مرغی لینا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ دوسرا شخص مرغی کے بدلے گندم لینے کے لیے تیار ہو) وغیرہ۔ لہٰذا زر کے استعمال سے مارکیٹ کی استعداد کار (efficiency) میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اشیاء کا تبادلہ تیز رفتاری سے ممکن ہوپاتا ہے۔ چنانچہ زر کے ذریعے ایک طرف اشیاء کا تبادلہ ہوتا ہے اور دوسری طرف ان کی قدر کی نقدی اکائیوں (monetary units) میں پیمائش ہوتی ہے۔ مثلاً اگر ایک کلو گندم کی قیمت 30 روپے ہو اور ایک کلو چینی کی قیمت 60 روپے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک کلو گندم کی قدر آدھا کلو چینی جبکہ ایک کلو چینی کی قدر دو کلو گندم ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں زر کا کام اشیاء کی باہمی قدر کو نقدی اکائیوں میں بیان کرنا ہے۔ 
نیوکلاسیکل مفکرین زر کے درج بالا تصور (کہ اصلاً یہ آلہ مبادلہ ہے) سے دو اہم نتائج اخذ کرتے ہیں: 
  • اولاً یہ کہ زر ایک غیر فعال (neutral) سیال ہے، یعنی زر کے زیادہ یا کم ہوجانے سے اشیاء کی مقدار (quantities) میں کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ محض ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ بطور ایک سادہ مثال فرض کریں کسی ملک میں محض دس کلو گندم پیدا ہوئی اور 100 روپے کرنسی جاری کی گئی (۵)۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گندم کی قیمت 10 روپے فی کلو متعین ہوگی۔ اگر کرنسی کی مقدار بڑھا کر 200 روپے کردی جائے مگر گندم کی مقدار میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو گندم کی قیمت بڑھ کر 20 روپے ہوجائے گی۔ دوسرے لفظوں میں جتنے تناسب سے زر کی مقدار بڑھائی جائے گی اتنے ہی تناسب سے قیمتوں میں بھی اضافہ ہوجائے گا ۔
  • ثانیاً زر ایک exogenous (لین دین کے عمل سے ماوراء ) عنصر ہے یعنی اسکی مقدار اشیاء کی لین دین سے کوئی تعلق نہیں رکھتی بلکہ یہ اس سے باہر اور علاوہ متعین ہوتی ہے۔ یہ سوال کہ اسکی مقدار کون اور کیسے متعین کرتا ہے نیوکلاسیکل مفکرین کے خیال میں یہ ذمہ داری ریاست (state) ادا کرتی ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ مرکزی بینک (Central Bank) ریاست کو قرض دیتی ہے جو دو میں سے کسی ایک شکل میں ہوتا ہے: (۱) مرکزی بینک T-Bill (۶) جاری کرتی ہے جنہیں مختلف فائنانشل ادارے وغیرہ خرید تے ہیں اور اس طرح حکومت قرض حاصل کرتی ہے، (۲) مرکزی بینک براہ راست نوٹ جاری کرکے حکومت کو قرض دیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں زر بصورت قرض تخلیق ہوتا ہے (۷)۔ اکثر و بیشتر یہ قرض حکومت کا مالیاتی خسارہ (fiscal deficit) پورا کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ درحقیقت آج جسے زر قانونی (legal tender or fiat money) کہا جاتا ہے وہ یہی قرضہ ہے (۸)۔ دھیان رہے کہ مرکزی بینک T-Bills اور نوٹوں کی صورت میں یہ قرضہ کسی حقیقی اثاثے کی بنیاد پر نہیں بلکہ بلا کسی عوض تخلیق کرتا ہے نیز یہ قرضہ کسی بھی چیز کی ملکیت (ownership) کی رسید یا دعوی (claim) نہیں ہوتا یعنی جس شخص کے پاس یہ نوٹ موجود ہے مرکزی بینک اسے کچھ بھی ادا کرنے کا پابند نہیں ہوتا بلکہ ان کی حیثیت محض ’قانونی دستاویز‘ کی ہے جسے ریاست ’بذریعہ قانونی جبر‘ لین دین کے عمل کے لیے قابل قبول بناتی ہے (۹)۔ 
اوپر ذکر کیا گیا کہ اکثر و بیشتر حکومتیں اپنا مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لیے نوٹ (fiat money) چھاپ کر جاری کرتی ہیں۔ جیسا کہ درج بالا بحث سے واضح ہواکہ نیوکلاسیکل مفکرین کے مطابق اگر زر کی مقدار میں اضافہ کردیا جائے تو اس کے نتیجے میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے (۱۰)۔ قیمتوں میں اضافے سے زر کی قوت خرید کم ہوجاتی ہے۔ نتیجتاً عام لوگ جو حکومت کے شائع کردہ نوٹ استعمال کرتے ہیں ان کی قوت خرید کم ہوجاتی ہے اور اس کمی کے برابر اصل اشیاء و خدمات حکومت کو منتقل ہوجاتی ہیں۔ زر کی مقدار بڑھنے سے بوجہ افراط زر جو قوت خرید زر استعمال کرنے والے فرد سے زر تخلیق کرنے والے ایجنٹ کی طرف منتقل ہوتی ہے اسے افراط زر ٹیکس (inflation tax) کہا جاتا ہے۔ (اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے، کیونکہ ذیل میں ہم اسے زیر بحث لائیں گے)۔ 
اب تک نیوکلاسیکل نظریہ زر بیان کیاگیا اب ہم اس سے اخذ ہونے والا نظریہ بینکنگ واضح کرتے ہیں۔ نیوکلاسیکل مفکرین کے خیال میں بینک کا بنیادی کام بچتوں کو یک جا کرکے کاروباری حضرات کی سرمایہ کاری کے لیے فراہم کرنا ہے یعنی اس کا کردار بچت کرنے والوں اور سرمایہ کاری کرنے والوں کے درمیان زری ثالثی (financial intermediary) کا ہے ۔ اس تصور بینکنگ کے خدوخال درج ذیل ہیں (۱۱): 
الف: لوگوں کی بچتوں کو قرض پر دینے سے ’پہلے ‘ ڈپازٹ کی صورت میں جمع کیا جاتا ہے۔ بینک کے پاس ڈپازٹ تب آتے ہیں جب کوئی شخص اپنی بچت بینک کے پاس جمع کراتا ہے۔ بینک ان بچتوں کو سرمایہ کاری کے لیے بطور قرض (۱سلامی بینکاری کی اصطلاح میں بطور بیع) فراہم کرتا ہے ۔
ب: معاشی توازن (macroeconomic equilibrium) قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بچتیں سرمایہ کاری کے برابر ہوں (۱۲)، چونکہ بینک بچتوں اور سرمایہ کاری کے درمیان واسطے کا کام کرتے ہیں لہٰذا بینکاری نظام کا ’درست طرزعمل‘ پورے معاشی عمل کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔
ج:بینکنگ کا درست طرز عمل یہ ہے کہ وہ ’بچتوں سے زائد قرضے جاری نہ کرے‘، یعنی اس کے مجموعی قرضے اسکی مجموعی بچتوں سے زیادہ نہ ہوں۔ جب کبھی بینک اس اصول کی خلاف ورزی کرے گا تو وہ پورے معاشی عمل کو عدم توازن سے دوچار کرے گا۔
د:اگر بینک اس اصول پر کابند رہے تواس کے عمل سے زر کی مقدار میں بحیثیت مجموعی کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ 

حواشی

۱۔ اسلامی بینکاری پر نظاماتی حوالے سے تنقید کے لیے دیکھیے راقم الحروف کے مضامین: 
  • ’اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز‘ ، ماہنامہ الشریعہ اگست تا اکتوبر ۲۰۰۸ 
  • ’سودی بینکاری کے فلسفہ اسلامی متبادل کا جائزہ ‘ ، مضمون مکمل مگر اشاعت کا منتظر ہے 
اس ضمن میں پروفیسر محمد امین صاحب کا مضمون ’اسلامی بینکاری کی شرعی حیثیت: ایک اصولی بحث‘ بھی لائق مطالعہ ہے۔ دیکھئے ماہنامہ محدث، شمارہ ستمبر- اکتوبر ۲۰۰۹، لاہور۔ اس کے علاوہ ماہنامہ ساحل کراچی میں بھی اس موضوع پر قیمتی مواد موجود ہے ۔
۲۔ مجوزین کس طرح تمام سرمایہ دارانہ محرکات اور اداروں کی اسلام کاری کرتے ہیں، اس کی تفصیلات مولانا تقی عثمانی صاحب کی کتاب ’اسلام اور جدید معیشت و تجارت‘ میں دیکھی جا سکتی ہیں جس کا تجزیہ راقم نے اپنے مضمون ’اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز‘ میں پیش کیا ہے ۔
۳۔ اسلامی بینکاری کے مجوزین علماء کی تحریروں سے مانوس قاری شدت کے ساتھ یہ تاثر لیتا ہے کہ جب خالصتاً دینی مسائل پر ان علماء کی کتب کا مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ علم کا کوئی بحر بیکراں ہے جو ایک طرف اسلاف کی کتب کا وسیع مطالعہ رکھتا ہے تو دوسری طرف علم و حکمت کے موتی بکھیرنے میں بھی ید طولیٰ رکھتا ہے، مگر جونہی ان علماء کی ان کتب کی طرف رجوع کیا جاتا ہے جو دور جدید کے معاشی یا فائنانشل نظاموں سے متعلق ہیں تو حقیقت کچھ یوں عیاں ہوتی ہے گویا یہ سب باتیں کسی سے سن کر یا دوسرے اور تیسرے درجے کے مصنفین کی کتابوں سے پڑھ کر اور حق سمجھ کر لکھ دی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ علماء کرام روایتی مکتبہ فکر پر کی جانے والی تنقیدات اور جدیدنظریات سے واقف نہیں ہوتے۔
۴۔ درحقیقت نظریہ بینکنگ ہی نہیں بلکہ جس چیز کو ’اسلامی معاشیات‘ کے نام پر فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ سب نیوکلاسیکل (یا لبرل) اکنامکس ہی کا چربہ ہے۔ چونکہ اسلامی معاشیات کی حیثیت نیوکلاسیکل اکنامکس کے محض ایک فٹ نوٹ (foot-note) کی سی ہے، لہٰذا یہ نیوکلاسیکل نظریہ زر و بینکاری کو مفروضے کے طور پر قبول کرنے پر مجبور ہے۔
۵۔ زر ، اشیاء کی قیمتوں اور ان کی مقدار کا تعلق جس مساوات سے ظاہر کیا جاتا ہے، اسے Quantity Theory of Money کہتے ہیں ۔ یہ مساوات درج ذیل ہے: 
M x V = P x Y
یہاں M سے مراد زر کی رسد  (money supply)۔ V سے  Velocity of money۔ P سے قیمتوں کا اشاریہ (price level)۔ اورY سے مجموعی پیداوار (output or GDP) ہے۔ نیوکلاسیکل مفکرین کے خیال میں Y (مقدار پیداوار)کا انحصار رسد سے متعلق عناصر پر ہوتا ہے لہذا زر کی رسد بڑھانے سے یہ غیر متبدل رہتا ہے۔ اسی طرح V کی مقدار بھی ایک عرصے تک غیر متبدل رہتی ہے، لہٰذا اس مساوات سے ظاہر ہے کہ اگر V اور Y کی مقدار تبدیل نہ ہو اور M میں اضافہ کردیا جائے تو اس کا نتیجہ صرف P یعنی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ مضمون کی مثال میں V کی مقدار ’ایک ‘ فرض کی گئی ہے ۔
۶۔ T-Bill ایک قلیل المدت فائنانشل دعوی ہوتا ہے جو مرکزی بینک حکومت کے لیے قرض پر رقم کے حصول کے لیے جاری کرتا ہے ۔
۷۔ دونوں میں فرق یہ ہوتا ہے کہ T-Bills کے ذریعے حاصل کردہ قرض پر سود کی شرح زیادہ ہوتی ہے جبکہ نوٹوں پر واجب الاداء سود نہایت کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ IMF وغیرہ حکومتوں پر یہ دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ نوٹ چھاپنے کے بجائے T-Bills وغیرہ کے ذریعے قرض حاصل کریں کیونکہ زیادہ سود کی ادائیگی حکومتوں کو کم قرض لے کر زر کی رسد میں کم اضافہ کرنے پر مجبور کرے گی ۔
۸۔ نیوکلاسیکل نظریات میں زر کی رسد کو درج ذیل مساوات کی صورت میں ظاہر کیا جاتا ہے: 
M(t) = M(t-1) + G - T - [Bg(t) - Bg(t-1)]
 یہاں M سے مراد زر کی رسد، G سے حکومتی اخراجات، T سے ٹیکس وصولیاں اور Bg سے سرکاری بانڈز ہیں (t اور t-1 سے مراد موجودہ اور پچھلا سال ہے)۔ اس مساوات سے عین واضح ہے کہ زر کی رسد سے مراد وہ حکومتی اخراجات ہیں جو حکومت ٹیکس وصولیوں کے بغیر قرض پر مبنی زر سے پورا کرتی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ مولانا تقی عثمانی صاحب اپنی کتاب ’اسلام اور جدید معیشت و تجارت‘ میں زر قانونی کی بات تو کرتے ہیں مگر اس چیز کا کوئی ذکر نہیں کرتے کہ یہ قرض ہوتا ہے ۔
۹۔ نیوکلاسیکل مفکرین کا یہ خیال کہ سرمایہ دارانہ (یعنی قرض پر مبنی ) زر کسی فطری ارتقا کی پیداوار ہے ایک جھوٹا دعویٰ ہے، بلکہ یہ لعنت معاشروں پر بذریعہ ریاستی جبر اور نظام بینکاری مسلط کی جاتی ہے۔ نوعیت و ارتقاء زر پر نیوکلاسیکل مفکرین کے خیالات کے لیے دیکھیے Menger کا مضمون
 On the Origins of Money 
۱۰۔ نیو کلاسیکل اکنامکس کے جدید (مثلاً کنیزین) نظریات میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ زر میں اضافہ اشیاء کی مقدار میں اضافے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اس صورت میں اشیاء کی قیمتوں اور مقدار دونوں میں کتنا اضافہ ہوگا، اس کا انحصار Elasticity of the supply of goods (رسد کی لچک ) پر ہے، اگر رسد مکمل طور پر غیر لچک دار ہو (جیسا کہ روایتی نیوکلاسیکل مفکرین کا خیال ہے کہ وہ قلیل اور طویل دونوں مدتوں میں ہوتی ہے) تو زر کا نتیجہ صرف و صرف افراط زر ہوتا ہے 
۱۱۔ دیکھئےHayek کی کتاب Prices and Production (1935) یا Money and Banking کی کوئی سی کتاب جیسے The Economics of Money, Banking and Financial Markets by Frederic Mishkin 
۱۲۔ saving-investment equilibrium درحقیقت نیوکلاسیکل macroeconomics میں کسی معیشت کی حالت توازن بیان کرنے کی ایک اہم مساوات ہے، یعنی کوئی معیشت اس وقت حالت توازن میں ہوتی ہے جب وہاں بچتیں سرمایہ کاری کے برابر ہوں ۔
(جاری)

مکاتیب

ادارہ

(۱)
عزیزنا الوفی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
قرأت مقالتکم فی فرصۃ یسیرۃ۔ أرید أن ألفت أنظارکم إلی الامور التالیۃ الناشءۃ عن الفکرۃ التی قدمتم إلی الجمہور۔
۱۔ لا یجوز للمسلمین أن یقوموا ضد العدو الغاشم مہما کانت الظروف والاحوال إذا لم یکن لدیہم الاستعداد الکامل۔
۲۔ الحرکات الجہادیۃ المعاصرۃ لا علاقۃ لہا بالجہاد وبالتالی ہذا العمل إضاعۃ للنفوس والمال لا یترتب أی أثر علی الامۃ الاسلامیۃ بل ہو ضار للمسلمین لأن العصابات لا تقوم مقام الخلیفۃ أو الإمام۔
۳۔ ہناک مصطلح جدید من حضرتکم، ألا وہو ’’کلاسیکل فقہ‘‘۔ أخی العزیز! بون شاسع بین الفقہ الکلاسیکی وبین الفقہ الاسلامی۔ الفقہ الاسلامی مستورد ومستنبط من المنابع الاسلامیۃ وہما القرآن والسنۃ۔ أما الفقہ الکلاسیکی، بما یسمی ’’روایتی فقہ‘‘، فمستنبط وماخوذ من آراء الناس وأعرافہم، لا علاقۃ لہا بالقرآن والسنۃ، وإن کان ہناک بعض القواعد تتوافق عشوائیا مع القرآن والسنۃ کالاقدار العالمیۃ (Universal Truth) مثل الحمیۃ، الحق، الملک، التصرف للمالک، الخیار۔ ولکن الفقہ من حیث المجموع مرتبط بالاحکام القرآنیۃ والسنۃ النبویۃ۔لذا أری أن ہذا المصطلح خطیر جدا یجب الحذر منہ۔
۴۔ ہل ہناک ’’إمام المسلمین‘‘ فی العالم الاسلام الذی یقوم باداء مہمات المسلمین؟ جمیع من یسمون أنفسہم بأئمۃ المسلمین أو لڈراۂم ہم عملاء الاستعمار الغربی أو الشیوعی۔ فما رأیکم فی الاحوال الراہنۃ؟
۵۔ ما رأیکم حول تحریر الأراضی المسلمۃ من أیدی الکفار وما ہو المقیاس للإستعداد؟ ہل قام أبو بصیر بإقامۃ منظمۃ إرہابیۃ بإذن الرسول علیہ السلام أم قام من عند نفسہ ورأیہ؟
أنصح لک: قبل أن تطبع الکتاب وأن یوضع الکتاب علی المکاتب التجاریۃ، قدم الکتاب إلی العلماء الراسخین حتی لا یکون جہدک ہباء ا منثورا۔
محمد رویس خان الأیوبی
میر پور۔ کشمیر الحرۃ
(۲)
برادر عزیز مولانا حافظ محمد عمار خان ناصر صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟
اہل علم کی کئی محافل میں احقر سے الشریعہ کی خصوصی اشاعت بیاد امام اہل السنۃ کی مندرجہ ذیل عبارت کے بارے میں استفسار ہوا ہے:
’’وہ (امام اہل السنۃ) نزول مسیح کو ایک اعتقادی مسئلہ قرار دے کر اس کا انکار کرنے والے کو کافر کہتے تھے، جبکہ حضرت صوفی صاحب کی رائے اس سے مختلف تھی۔‘‘ (ص ۷۱۹)
نیز صفحہ ۳۸۱  میں افتخار تبسم صاحب کے حوالے سے جو بات نقل کی گئی ہے اور اس کے متعلق آپ نے جو توجیہ کی ہے، وہ درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ حضرت صوفی صاحب نے تفسیر معالم العرفان فی دروس القرآن ج ۵ ص ۶۴۷ میں بڑی وضاحت کے ساتھ فرمایا ہے:
’’عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کا عقیدہ بنیادی عقیدہ ہے۔ اہل حق میں سے اس بارے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ متواتر اور صحیح احادیث اس کثرت سے ہیں کہ ان کا انکار کفر ہے۔ ایسا شخص اسلام سے خارج سمجھا جائے گا۔‘‘
نیز ’’مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے علوم وافکار‘‘ ص ۷۳ میں لکھتے ہیں:
’’عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع الی السماء اور نزول، یہ اہل اسلام کے نزدیک اتفاقی عقائد ہیں۔ یہود ونصاریٰ میں البتہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ مسئلہ حیات ونزول مسیح علیہ السلام امت کے جمیع طبقات کے درمیان ایک مسلمہ مسئلہ ہے اور یہ اعتقادی مسئلہ ہے۔ اس میں تشکیک پیدا کرنا ازحد غلط اور گمراہ کن بات ہے۔ قرآنی آیات میں اورصحیح اور صریح احادیث مبارکہ میں اس کی مکمل تشریح موجود ہے۔ حضرت حکیم الامت امام شاہ ولی اللہؒ اور ان کے تمام پیروکار اور علماء دیوبند کا متفقہ عقیدہ ہے اور مولانا سندھیؒ کا بھی یہی عقیدہ ہے۔‘‘ 
ہم نے اسباق، دروس اور خطبات کے علاوہ کسی نجی محفل میں بھی اس کے خلاف نہیں سنا۔ قرین قیاس یہ ہے کہ تبسم صاحب صحیح طور پر انگیخت نہیں کر سکے جس سے شکوک وشبہات کا باب وا ہوا ہے۔
(مولانا حاجی) محمد فیاض خان سواتی
مہتمم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
(۳)
عزیز القدر عامر سلمہ اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
امید ہے مزاج اور صحت بعافیت ہوں گے اور معمولات بخیر وخوبی جاری ہوں گے۔
منکرین حدیث کے ساتھ انٹرنیٹ پر جاری جس مباحثے کا آپ نے ذکر کیا ہے، میرے لیے اس میں براہ راست شریک ہونا بوجوہ ممکن نہیں، البتہ اس حوالے سے اپنے فہم کے مطابق چند بنیادی نکات عرض کر دیتا ہوں۔ ان کی روشنی میں امید ہے کہ آپ اس مباحثے میں درست موقف کی موثر ترجمانی کر سکیں گے۔
جو حضرات قرآن مجید کے ابلاغ وتبلیغ سے ہٹ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریعی مقام کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں، میرے خیال میں ان کی غلطی حسب ذیل نکات کی روشنی میں واضح کرنے کی کوشش کرنی چاہیے:
۱۔ ایک مسلمان اصلاً واساساً اور براہ راست قرآن پر ایمان نہیں لاتا، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لاتا ہے، کیونکہ قرآن کو خدا کا کلام ماننے سے پہلے اس کو پیش کرنے والی ہستی کو اللہ کا پیغمبر ماننا ضروری ہے۔ پیغمبر کے واسطے کے بغیر خدا کے کلام تک رسائی یا اس پر ایمان کی کوئی صورت ممکن نہیں۔
۲۔ کسی انسان کو پیغمبر ماننے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ خدا کی طرف سے اس کا دین لوگوں تک پہنچانے پر مامور ہے اور وہ جو چیز بھی اس اعلان کے ساتھ لوگوں کو دے گا کہ یہ خدا کا دین ہے، اسے ماننا لازم ہوگا۔ چنانچہ وہ خدا کے نازل کردہ کلام کے طور پر کوئی چیز پیش کرے یا اس کے علاوہ کوئی حکم یا ہدایت یہ کہہ کر لوگوں کو دے کہ یہ خدا کا دین ہے، ہر صورت میں اس کے پیش کردہ دین کو ماننا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہے۔ فرض کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رسالت کا اعلان کرنے کے بعد کلام الٰہی کے طو رپر قرآن کو سرے سے پیش ہی نہ کرتے اور اس کے بجائے محض یہ فرماتے کہ میں خدا کا رسول ہوں اور اس حیثیت سے تمھیں فلاں بات کا حکم دیتا اور فلاں بات سے روکتا ہوں تو بھی اس کی اطاعت بدیہی طور پر لازم ہوتی، کیونکہ اس کے بغیر آپ کو ’’رسول‘‘ ماننے کا کوئی مطلب ہی نہیں بنتا۔ دوسرے لفظوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مستقلاً اور مطلقاً واجب الاطاعت ہونا قرآن پر ایمان لانے سے مقدم ہے، وہ اس پر موقوف نہیں کہ اس کے حق میں قرآن سے دلیل پیش کی جائے۔ یہ بات کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مستقلاً مطاع ہیں، قرآن سے بھی ثابت ہے، لیکن اس پر موقوف نہیں۔ فرض کر لیں کہ پورے قرآن میں کہیں یہ بات مذکور نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت مطلقاً فرض ہے، تب بھی صورت حال میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا، کیونکہ یہ چیز قرآن پر ایمان سے پہلے آپ کو ’’رسول‘‘ مان کر الگ سے تسلیم کی جا چکی ہے۔ قرآن، رسول کے مقام ومنصب کی تعیین کے لیے ماخذ نہیں۔ وہ تو خود کلام الٰہی کی حیثیت سے اپنا استناد تسلیم کرانے میں اس کا محتاج ہے کہ اسے رسول کی تائید وتصدیق حاصل ہو۔ 
البتہ اگر قرآن نے کسی مقام پر رسول کی ذمہ داری اور منصب اور اس کے دائرہ کار کی کوئی ایسی تحدید بیان کی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر اللہ کا کلام لوگوں تک پہنچانے کے علاوہ کوئی اختیار نہیں رکھتا تو یقیناًوہ زیر بحث آنی چاہیے۔ ہمارے فہم کے مطابق قرآن میں کوئی ایسی تحدید بیان نہیں ہوئی۔ اگر کسی آیت یا بعض آیات سے کسی کو شبہ ہوا ہے تو ان مقامات کو سیاق وسباق کی روشنی میں الگ الگ زیر بحث لانا چاہیے۔
۳۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح امت کو قرآن دیا ہے، اسی طرح قرآن کے علاوہ بھی بہت سے احکام اور ہدایات بطور دین دی ہیں اور ان کی پابندی امت پر لازم ٹھہرائی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دین کی اس دوسری صورت کی نسبت اسی طرح یقینی ہے جس طرح قرآن کی نسبت یقینی ہے۔ امت جس طرح اپنے دور اول سے آج تک قرآن کو اس حیثیت سے مانتی آئی ہے کہ یہ اللہ کا وہ کلام ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیا ہے، اسی طرح قرآن سے الگ دین کے ایک مفصل عملی ڈھانچے اور اس کی تعبیر وتشریح کے ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو بھی اسی حیثیت سے اور اسی یقین کے ساتھ مانتی چلی آ رہی ہے کہ اللہ کے رسول نے یہ چیزیں بھی دین ہی کی حیثیت سے امت کو دی ہیں۔ بعض جزوی امور کی نسبت آپ کی طرف درست ہونے یا نہ ہونے میں یقیناًاہل علم کے مابین اختلاف ہوتا رہا ہے، لیکن اصولی طور پر قرآن سے باہر بھی دین کا پایا جانا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت کو یقینی سمجھنا امت کے اہل علم کے ہاں ہمیشہ متفق علیہ اور اجماعی رہا ہے۔ اس لحاظ سے قرآن کے اندر اور قرآن سے باہر پائے جانے والے ’’دین‘‘ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثبوت یکساں درجے کا ہے۔ اگر قرآن سے باہر پائے جانے والے دین کی نسبت اور ثبوت میں امت کا اجماع اور تعامل قابل اعتبار نہیں تو وہ قرآن کی نسبت او ر ثبوت کے معاملے میں بھی قابل اعتماد نہیں ہو سکتا۔ ہذا ما عندی والعلم عند اللہ
محمد عمارخان ناصر
(۴)
بخدمت جناب مولانا محمد عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
ماہنامہ الشریعہ کا ضخیم ’’امام اہل سنت‘‘ نمبر باصرہ نواز ہوا۔ محسوس ہوتا ہے کہ ایک ایک سطر خوش رنگ شگوفوں اور گلِ تر سے لکھی گئی ہے۔ اہل علم مشک وخستن اور صندل وعنبر سے اس کی تائید لکھیں گے۔ راقم الحروف نے بھی اپنے نحیف وناتواں قلم کے اشہب کو جولانی دی ہے اور تبصرہ لکھا ہے جو ماہنامہ ’’طائفہ منصورہ‘‘ اور ماہنامہ ’’فقاہت‘‘ میں شائع ہوگا۔ آپ کو بھی ارسال کر دوں گا۔ آنکھوں میں جچا تو زہے نصیب ورنہ ڈسٹ بن تو ہے ہی۔ 
آج ہی اپنی مسجد سے واپس گھر پہنچا تو اکتوبر ونومبر کا خوبصورت شمارہ آنگن کو روشن کیے ہوئے تھا۔ بھوکے کو کیا چاہیے؟ کھانا۔ بس مطالعہ شروع کیا اور ۱۶۸ صفحات پر مشتمل رسالہ پڑھ ڈالا۔ ماشاء اللہ، آپ کے حوصلوں کا بانکپن جوان ہے۔ آپ کے مضامین میں بعض اقتباسات سے بدہضمی سی ہوتی ہے، تاہم آپ کی نثر نگاری اور اسلوب تحریر کا قتیل ہوں۔ ’’دینی مدارس کا نظام: بین الاقوامی تناظر میں‘‘ کے زیر عنوان ڈاکٹر ممتاز احمد صاحب کی گفتگو پڑھ کر تارے رقص کرنے لگے۔ اللہ، اللہ! باریک عنوان پر ایسا گھاگ اور بے لاگ تبصرہ متاثر کیے بغیر نہ رہ سکا۔ کلمہ حق میں مولانا زاہدالراشدی کا اداریہ کافی فکر انگیز تھا۔ 
مکاتیب میں سید مہر حسین بخاری کا یہ کہنا کہ ’’تحریف قرآن کی لچر اور بیہودہ روایات تو بعض کتب اہل سنت میں بھی موجود ہیں‘‘ بذات خود لچر اور بے ہودہ پن ہے۔ بخاری صاحب جن روایات کو تحریف کہہ رہے ہیں، وہ دراصل نسخ اور اختلاف قراء ت کی روایات ہیں۔ خود اہل سنت کے علماء نے اس کی تصریح کر دی ہے۔ نیز اہل سنت کی یہ روایات اخبار آحاد ہیں، متواتر نہیں ہیں۔ اہل تشیع تحریف قرآن کے قائل ہیں یانہیں؟ قمی، کلینی اور علامہ نوری طبرسی کی جمع کردہ تحریف قرآن کی روایات کی بنا پر کل شیعہ آبادی کو محرف قرآن ٹھہرایا جاسکتاہے یا نہیں؟ یہ ایک الگ اورمستقل بحث ہے، لیکن اس ضمن میں اہل سنت کی نسخ والی روایات کو لچر، بے ہودہ اور تحریف کہنا اہل تحقیق کا مزاج نہیں ہے۔ یہ دفاع تشیع ہی ہے جس سے بخاری صاحب انکاری ہیں۔ اسی طرح بخاری صاحب کایہ کہنا کہ راقم آثم اہل تشیع کے کفر کا قائل نہیں، یہ فتویٰ کی زبان ہے، رائے نہیں۔ لیکن چونکہ پہلے وہ لکھ آئے ہیں کہ ایک محقق شیعہ نوجوان عالم میرے دوست ہیں، اس لیے اب علمی وفکری طور پر کچھ لکھنا عبث ہے، کیونکہ ہمارے ہاں دوستی میں سب چلتا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر گامزن رکھے۔ والد گرامی کی خدمت میں سلام مسنون پیش فرما دیں۔ 
حافظ عبدالجبار سلفی 
جامع مسجد ختم نبوت، لاہور
(۵)
محترم المقام معالی الشیخ حافظ محمد عمار خان ناصرصاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ 
الشریعہ کا انتہائی جامع ومبسوط خصوصی شمارہ موصول ہوا۔ کتابت، طباعت، ترتیب وتہذیب اور عناوین کے اعتبار سے یہ ایک مثالی اور تاریخی اشاعت ہے۔ جب اس نمبرکو پہلی بار دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا اور جب اسے پڑھ لیا تو ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔ اللہ اکبر! اتنی عظیم شخصیت کے متعلق ایسی دلچسپ اور مفید معلومات اتنی کم مدت میں آپ اور آپ کے رفقاے کرام نے جمع کر کے پیش کردیں۔ میں اسے حضرت امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی مذہبی وعلمی خدمات کا زندہ معجزہ اور کرامت کہہ سکتا ہوں اور آپ کی محنت اور کوشش کا نتیجہ کہہ کر اس کی غیرمعمولی اہمیت کوکم کرنا پسند نہیں کر سکتا۔ 
الشریعہ کی خصوصی اشاعت بیاد مولانا سرفراز خان صفدرؒ دینی، مذہبی اور ادبی رسالوں کی تاریخ میں اپنی نظیر نہیں رکھتی۔ حضرت کی شخصیت اور ان کے متعلق قلم کاروں کی بوقلمونیاں، رسالے کی ضخامت، اس کی حسین طباعت، غرض ہر ایک چیز آپ کی اور آپ کے معاونین کی خوش ذوقی، بے پناہ محبت اور اولو العزمی کا پتہ دیتی ہے۔ یہ خصوصی اشاعت ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جو آئندہ آنے والی کئی نسلوں اور مورخین کے لیے قابل قدر ماخذ کا کام دے گی۔ یہ بہت بڑا کارنامہ ہے جو آپ نے سرانجام دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول ومقبول فرمائے۔ اس اشاعت کے گراں بہاہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ اس تاریخی خصوصی اشاعت کی قدر نہ کرنا پرلے درجے کی سنگدلی ہے۔ اللہ تعالیٰ الشریعہ کو آسمان صحافت کا چمکتا دمکتا آفتاب بنائے۔
راقم آثم اس خصوصی اشاعت پر آپ کو، آپ کے والد گرامی مولانا زاہدالراشدی حفظہ اللہ کو اور آپ کے رفقاے کار کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہے۔ 
ابوسفیان محمد خان محمد ی
ملکانی شریف، ضلع بدین سندھ
(۶)
محترمی جناب سید مہرحسین بخاری 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ماہنامہ الشریعہ نومبر /دسمبر ۲۰۰۹ء کے شمارے میں ایک دوست نے آنجناب کا مکتوب دکھلایا جس میں چند باتیں احقر کی ناقص معلومات کے مطابق خلاف حقیقت تھیں۔ ارادہ ہوا کہ ماہنامہ الشریعہ کے ذریعے ہی آنجناب کو مطلع کیا جائے۔ امیدہے کہ اس طالب علم کی گزارشات پر غور فرمائیں گے۔ 
۱۔ آپ نے لکھا کہ ’’ راقم آثم حضرت مولانا صوفی عبدالحمیدخان سواتی ؒ کی طرح اہل تشیع کے کفر کا قائل نہیں ہے‘‘، حالانکہ حضرت صوفی صاحبؒ کے خطبات ودروس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اہل تشیع کی تکفیر فرماتے تھے۔ چند عبارات پیش خدمت ہیں: 
۱لف۔ ’’غرضیکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کا ایمان اس قدر پختہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود جو لوگ ان کے ایمان میں شک کرتے ہیں اور ان کے متعلق شکوک وشبہات پیدا کرتے ہیں، وہ یقیناًمنافق، زندیق اور کافر ہیں۔‘‘ (معالم العرفان ۱۷/۲۱۶)
ب۔ ’’ ہم تو صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے والوں کو بھی ملعون ہی سمجھتے ہیں۔ روافض کے ساتھ ہمارا یہی جھگڑا ہے۔ خوارج کے ساتھ بھی ہمارا یہی تنازعہ ہے۔ اہل بیت کی توہین کرنے والا بھی مردود ہے۔ کسی بھی صحابی کی توہین کرنے والا مومن نہیں ہو سکتا۔‘‘ (خطبات سواتی، ۴/۳۶)
ج۔ ’’شیعہ حضرات کی کتب میں ان کا یہ نظریہ موجود ہے کہ خلفاے ثلاثہ مسلمان ہی نہیں تھے، صرف چوتھے خلیفہ حضرت علی ہی کامل ایمان تھے۔ یہ درحقیقت کفر کی بات ہے جو آدمی کو ایمان اور اسلام سے ہی خارج کر دیتی ہے۔‘‘ (خطبات ۵/۴۴)
د۔ اذ یقول لصاحبہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:
’’ صاحب سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔ گویا آپ کی صحابیت نص قرآنی سے ثابت ہے، اس لیے حضرت صدیق کی صحابیت کے منکر کے خلاف علماء حق کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں، کیوں کہ یہ نص قرآنی کا انکار ہے۔‘‘ ( معالم العرفان ۸/۳۷۳)
ہ۔ ’’نبی کی بیویوں کی توہین کرنے والا شخص یا تو منافق ہے یا بے ایمان۔ رافضی لو گ ام المومنین حضرت عائشہؓ کی توہین کے مرتکب ہوئے، حالانکہ ان کی براء ت کا ذکر ہم سورۂ نور میں پڑھ چکے ہیں۔‘‘ ( معالم العرفان ۱۶/۲۰۵ بحوالہ ’’رافضی کیا ہیں؟‘‘ جمع وترتیب مولانا عبد القدوس خان قارن مدظلہ)
۲۔ آنجناب رقم طراز ہیں کہ ’’ اگر چہ بعض کتب شیعہ میں تحریف قرآن کی روایا ت پائی جاتی ہیں، لیکن شیعہ عقائد کی کتابوں میں وہ تحریف قرآن کے قائل نہیں‘‘، حالانکہ شیعہ عقائد کی ایک کتاب میں تو یوں لکھا ہے:
’’قرآن کے متعلق ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے سامنے موجود ہے، حرف بحرف خدا کا کلام ہے لیکن یہ موافق تنزیل نہیں۔ اس میں مکی اورمدنی سورے ملے ہوئے ہیں، حالانکہ اول مکی ہونے چاہیے تھے، پھر مدنی۔ سورۃ اقرا جو سب سے پہلی سورۃ تھی، وہ پارہ آخر میں ہے اور ’’اکملت لکم دینکم‘‘ جو آخری آیت تھی، وہ سورۃ مائدہ میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آیات کی ترتیب میں بھی فرق ہے، بعض سوروں سے آیات کم بھی کر دی گئی ہیں۔‘‘ (عقائد الشیعہ ص ۳۸ مولفہ ادیب اعظم مترجم اصول کافی سید ظفر حسین امروہوی) 
۳۔ آنجناب فرماتے ہیں کہ ’’حضرت مجددالف ثانیؒ پر خود بھی کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے، وہ کیسے دوسروں کو کافر کہہ سکتے ہیں؟ ‘‘ حالانکہ حضرت امام اہل السنۃ ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے ’’رد روافض‘‘ میں رافضیوں کے مسلمان نہ ہونے کی تین وجوہ بیان فرمائی ہیں: 
(۱) وہ اس قرآن کو اصلی قرآن نہیں مانتے اور ظاہر بات ہے کہ جو شخص موجودہ قرآن کو اصلی قرآن نہ مانے، وہ کیسے مسلمان ہو سکتا ہے؟
(۲) مہاجرین اور انصار صحابہ کو کافر کہتے ہیں، جبکہ رب تعالیٰ نے ان کے متعلق فرمایا ہے: اولئک ہم المومنون حقا، یہ پکے مومن ہیں۔ اور پارہ ۲۶ میں فرمایا: لقد رضی اللہ عن المومنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ۔ البتہ راضی ہوگیا اللہ ان ایمان والوں سے جنھوں نے آپ کی بیعت کی درخت کے نیچے۔ 
(۳) یہ ائمہ کو معصوم مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اماموں پر وحی نازل ہوتی ہے۔ تو پھر نبی اور امام میں کیا فرق ہوا؟ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بارہ نبی مانتے ہیں، یہ ختم نبوت کا انکار ہوا۔ (ذخیرۃ الجنان، ۸/۱۲۸) 
آنجناب کے مکتوب گرامی کے حوالے سے یہ چند گزارشات ذہن میں آئی تھیں جو اخلاص کے ساتھ عرض کر دی ہیں۔ خداوند قدوس تادم آخر اکابرین اہل السنۃ والجماعۃ علماء دیوبند کے دامن سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم 
حسین احمدمدنی 
متعلم دارالعلوم مدنیہ، بہاولپور 
(۷)
محترم جناب مدیر الشریعہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
ماہنامہ الشریعہ کے نومبر دسمبر کے شمارے میں حافظ محمد زبیر صاحب کا مضمون باصرہ نواز ہوا۔ حافظ صاحب کے مضمون میں بہت سی باتیں قابل غور ہیں۔ بندہ ان میں سے چند اہم نکات پر بحث کرنا ضروری سمجھتا ہے۔
۱۔ حافظ صاحب نے مولانا فضل محمد صاحب کے مضمون کو علماء دیوبند کامتفقہ موقف قرار دیا ہے جو کہ حقائق سے چشم پوشی یا علماء دیوبند کی غلط ترجمانی کے مترادف ہے۔ یہ درست ہے کہ مولانا فضل محمد صاحب کے مضمون کے لہجے میں تندی وتیزی تھی، لیکن حافظ صاحب کو ان کے جواب میں حقائق کو اصل روپ میں پیش کرنا چاہیے تھا۔ انھوں نے ایسا نہیں کیا جس کی وجہ سے ان کے مضمون کی ثقاہت کو نقصان پہنچا اور ایک پوری جماعت کی دل آزاری ہوئی۔
۲۔ حافظ صاحب نے پاکستانی حکومت کی تکفیر، اس کے خلاف خروج اور خود کش حملوں کی تحریک کو اصلاً دیوبندی تحریک کہا ہے جو کہ دیوبندی فکر ومزاج رکھنے والوں پر محض الزام ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ حافظ صاحب جیسی باشعور شخصیت کے قلم سے ایسا غیر محتاط تبصرہ کیسے نکل گیا۔ علماء دیوبند نے ہمیشہ ملک وقوم کے مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھا۔ ملک میں خصوصاً قبائلی علاقوں میں موجودہ شورش وفساد میں اکثر وہ جماعتیں شامل ہیں جو باوجود اپنے آپ کو علماء دیوبند کی طرف منسوب کرنے کے، علماء دیوبند سے بعض عقائد ومسائل میں شدید اختلاف رکھتی ہیں۔ مثلاً سوات کے مولوی فضل اللہ، باجوڑ کے مولوی فقیر محمد اور باڑہ کے منگل باغ وغیرہ کا تعلق اشاعۃ التوحید والسنۃ (پنج پیر) سے ہے جن کا علماء دیوبند سے اختلاف کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اس کے باوجود علماء دیوبند نے تمام اختلافات کوپس پشت ڈال کر وسعت فکری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس آگ کو بجھانے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ اہل حدیث کی ایک بڑی جماعت (شاہ جی گروپ) باجوڑ میں حکومت کے خلاف لڑ رہی ہے۔ یہ گروپ بعض مسائل (طالبان) میں بھی ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا تھے، مگر کسی دیوبندی مولوی یا سیاست دان نے یہ نہیں کہا کہ یہ نہیں کہا کہ یہ اہل حدیث یا اشاعۃ التوحید والسنۃ کا مسئلہ ہے۔ بے چارے دیوبندی تو یہی صدا بلند کرتے رہے:
میں خود غرض نہیں، میرے آنسو پرکھ کے دیکھ
فکر چمن ہے مجھ کو، غم آشیاں نہیں
۳۔ حافظ صاحب کو شکوہ ہے کہ علماء دیوبند نے دہشت گردی کے مسئلے میں کوئی بنیادی کردار ادا نہیں کیا۔ غالباً حافظ صاحب تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں، ورنہ یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مفتی نظام الدین شامزئ سے لے کرمولانا شیخ حسن جان مدنی تک نابغہ روزگار شخصیات کی شہادت کا اصل سبب ملک میں موجودہ شورش وفساد کے خلاف ان کا بنیادی کردار تھا۔ کیا حافظ صاحب اپنی جماعت کے کسی بھی فرد کا نام بتا سکتے ہیں جس کو اس مسئلے کے حل میں بال برابر بھی نقصان اٹھانا پڑا ہو؟
۴۔ حافظ صاحب کو ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی ایک دو پریس کانفرنسیں تو نظر آتی ہیں، لیکن یہ نظر نہیں آتا کہ جب سوات میں حکومت نے آپریشن کا ارادہ کیا تو معروف دیوبندی عالم دین مولانا رشید احمد سواتی نے سوات کے دو لاکھ لوگوں کو طالبان اور حکومتی آپریشن کے خلاف احتجاج کے لیے نکالا جس کے نتیجے میں حکومت نے مولانا سواتی کو اشتہاری مجرم قرار دے دیا اور کئی ہفتے قید وبند میں رکھا اور ان کے مدرسے کو بلڈوز کیا گیا۔
۵۔ حافظ صاحب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ علماء دیوبند کی سیاسی نمائندگی کرنے والی تمام شخصیات نے طالبان کے طرز عمل کی شدید مخالفت کی اور موجودہ صورت حال میں حکومت کے خلاف خروج کو ناجائز کہنے کے باوجود حکومت کی ناقص پالیسیوں کو صورت حال کے بگاڑ کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ پشاور جیسی حساس جگہ میں شیعہ، اہل حدیث اور جماعت اسلامی وغیرہ کے قائدین کو جمع کر کے ایک لاکھ کے قریب عوام پر مشتمل کانفرنس منعقد کرنے والے صرف دیوبندی علماء تھے۔ اس کانفرنس کا اعلامیہ ریکارڈ پر موجود ہے جس میں ایک طرف مسلح جدوجہد کو ناجائز ٹھہرایا گیا ہے اور دوسری طرف ڈرون حملوں اور افواج پاکستان کے ظلم وبربریت پر بھی انتہائی بے چینی کا اظہار کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ کانفرنس لاہور کے کسی آڈیٹوریم یا قرآن اکیڈمی کی وسیع مسجد میں نہیں، بلکہ پشاور جیسے خطرناک علاقے میں منعقد ہوئی۔
۶۔ حافظ صاحب کا خیال ہے کہ علماء دیوبند ایک طرف تو مختلف فروعی مسائل میں الجھ کر ایک دوسرے کے خلاف کتابیں لکھ رہے ہیں جبکہ دوسری طرف وقت کے اہم مسئلے یعنی ملک کی موجودہ بد امنی کی صورت حال سے اغماض برت رہے ہیں۔ حافظ صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ جن فروعی مسائل کا حوالہ آپ نے دیا ہے، وہ بغیر بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے حل نہیں ہوتے، جبکہ موجودہ صورت حال کا واحد حل جدوجہد ہے نہ کہ تحریریں اور مقالہ جات۔
آخر میں حافظ صاحب سے مخلصانہ گزارش ہے کہ وہ جماعت یا مسلک کے کسی ایک فرد کی تحریر کو پوری جماعت کاموقف نہ سمجھیں اور نہ اس کی وجہ سے پوری جماعت کو معتوب بنائیں۔ ان کے مضمون سے یقیناًدیوبندی جماعت کی دل آزاری ہوئی ہے جس پر ان کو معذرت کرنی چاہیے اور حالات کی درست تحقیق پیش کرنی چاہیے۔ 
یاد رہے کہ سرحد میں جتنے بھی دیوبندی یا دوسرے مکاتب فکر کے علما نے مصالحت کی کوشش کی، ان تمام حضرات کو مشق ستم بنایا گیا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
ابن مدنی 
ایڈیٹر اذان حق
(۸)
محترم جناب حافظ محمد زبیر صاحب! 
السلام علیکم 
الشریعہ نومبر/دسمبر ۲۰۰۹ء کے شمارے میں ’’مولانا فضل محمد صاحب کے جواب میں‘‘ آپ کا مضمون پڑھا جس میں آپ نے بہت سی ادھر ادھر کی باتیں جمع فرما کر خواہ مخواہ بحث کو طول دیا ہے۔ اسی مضمون کے حوالے سے چند سوالات آپ کی خدمت میں پیش ہیں:
۱۔ آپ نے تحریر فرمایاہے کہ : ’’ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ عمامہ باندھ کر، داڑھی چھوڑ کرا ور شلوار ٹخنوں سے اوپر کر کے جہاد کا نعرہ لگا نے والے ہر شخص کی اندھا اور بہرا ہو کر حمایت نہیں کرنی چاہیے‘‘۔
جناب من! آپ کا ارشاد سر آنکھوں پر، لیکن مولانا فضل محمد صاحب نے یہ دعویٰ کیا ہی کب تھاکہ عمامہ باندھ کر، داڑھی چھوڑ کر اور شلوار ٹخنوں سے اوپر کر کے جہاد کا نعرہ لگانے والے ہر شخص کی اندھا اور بہرا ہو کر ضرورحمایت کرنی چاہیے؟ آپ نے خود ہی ایک دعویٰ ان کے سر منڈھ دیا اور خود ہی اس کا جواب دینا شروع کر دیا۔ اگر ناراض نہ ہوں تو اپنے اس زریں اصول میں چند الفاظ کا اضافہ بھی فرما لیں، وہ یہ کہ جس طرح جہاد کا نعرہ لگانے والے ہر شخص کی حمایت نہیں کرنی چاہیے، اسی طرح جہاد کا نعرہ لگانے والے ہر شخص کی اندھا اور بہرا ہو کر مخالفت بھی نہیں کرنی چاہیے اور چند غلط افراد کی آڑ لے کرمجاہدین فی سبیل اللہ کی مخالفت پر بھی کمربستہ نہ ہونا چاہیے۔ 
آپ نے فرمایا ہے کہ ’’امریکہ بدمعاش نے افغانستان میں لڑنے والے طالبان کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کر دیا ہے۔ اس طرح اس نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں، اپنی جان بھی بچالی ہے اور پاکستان کو کمزور بھی کیا ہے۔‘‘
حافظ صاحب! آپ کی رائے قطعاً درست نہیں۔ امریکہ بدمعاش نے طالبان کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا نہیں کیا، بلکہ امریکہ بدمعاش نے پاکستان کے بدمعاش حکمرانوں کو طالبان کے خلاف کھڑا کیا ہے۔ تعجب ہے کہ ایک طرف آپ ان طالبان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : ’’ ان قبائلیوں کا یہ دفاعی جہاد اور ان کا اپنے اوپر حملہ کرنے والے مقاتل ومحارب سیکیورٹی فورسز کو قتل کرناہمارے نقطہ نظر میں بالکل درست تھا۔ اب تک ہمارے علم کی حد تک یہ ایک دفاعی جہاد ہے‘‘۔
سوال یہ ہے کہ اگر ان طالبان کو امریکہ نے مسلمانوں کے خلاف کھڑا کیا ہے توان کا جہاد دفاعی کیسے ہے؟ کیا محترم حافظ صاحب اس گتھی کو سلجھا سکیں گے؟ کیا جہاد امریکہ کے کھڑا کرنے سے بھی ہوتا ہے؟ 
آپ نے امام باڑوں اورمساجد پر حملوں سے متعلق مولانا فضل محمد صاحب کی رائے نقل فرما کر بڑے شاہانہ جلال اور طنطنے سے فرمایاہے کہ 
’’یہاں آپ کی دینی حمیت اور غیرت کو کیا ہو گیا ہے؟ حافظ زبیرنے تو ایک علمی رائے کا اظہار کیا تھا اور آپ نے اسے راندۂ درگاہ، ملحد اور ظالم تک قرار دے دیا اور یہاں جہاد کے نام پر معصوم شہریوں کو شہید کیا جا رہا ہے اور آپ اس کو بس ’’ناجائز‘‘ کہہ کر گزر جاتے ہیں۔ کیوں نہیں کہتے کہ ایسے خود کش حملہ آور’’ مردار‘‘ ہیں اوریہ جہاد نہیں ’’فساد فی الارض ‘‘ ہے؟‘‘
بالکل بجا فرمایا۔ مولانا فضل محمد صاحب کوچاہیے کہ ہر فتویٰ لکھنے سے پہلے اس کے الفاظ کی منظوری حافظ زبیر سے لے لیاکریں کہ عالی جاہ! کس کس مقام پر صرف ناجائز لکھنا چاہیے اور کون کون سے مقام ایسے ہیں جہاں’’ مردار، حرام‘‘ اور فساد وغیرہ کے پر جلال الفاظ ضروری ہیں۔ لیکن حافظ صاحب! کیا میں آپ سے پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں کہ جب مولانا فضل محمد صاحب ایک کام کو ناجائز کہتے ہیں تو آپ کو اسے ’’حرام‘‘ قرار دینے بلکہ انہی سے ’’حرام‘‘ قرار دلوا نے پرہی کیوں اصرار ہے؟ اور آپ کے سینے میں وہ کون سی آگ بھڑک رہی ہے جسے ’’مردار‘‘ وغیرہ الفاظ استعمال کیے بغیر سکون ہی نہیں ملتا؟ اور اگر ان ظالموں کومردار کہنا ایسا ہی ضروری ہے تو وزیرستان اور لال مسجد پر حملہ کرنے والوں کے بارے میں آپ نے کیوں یہ ارشاد نہیں فرمایا کہ وہ ’’مردار ‘‘ ہیں، حرام کام کر رہے ہیں؟ کیا محترم حافظ زبیر صاحب اس بات پر غور فرمانا پسند فرمائیں گے؟
حافظ صاحب موصوف نے ’’وما کان المومنون لینفروا کافۃ‘‘ کی آیت سے علماے کرام کے جہاد سے استثنا پر ناراض ہوتے ہوئے نرالی بات ارشاد فرمائی ہے۔ فرماتے ہیں کہ 
’’طائفۃ جمع کا صیغہ ہے اور تین سے جمع شروع ہو جاتی ہے۔ پس مولانا کے نقطہ نظر کے مطابق جامعہ بنوری ٹاؤن کے تین اساتذہ کے علاوہ بقیہ پر تو جہاد فرض عین ہو جاتا ہے‘‘۔
سبحان اللہ! اس آسمان کے نیچے ایسے ایسے لطائف اور شگوفے بھی پھوٹتے ہیں۔ محترم طائفۃ جمع کاصیغہ نہیں، بلکہ اسم جمع ہے۔ اس کے معنی جماعت اور گروہ کے ہیں اوراس کی جمع طائفات اور طوائف آتی ہے۔ اگر یہ جمع کا صیغہ بھی ہوتا تو بھی اس سے آنجناب کامندرجہ بالا استدلال انتہائی مضحکہ خیز ہوتا، کیونکہ جمع کم از کم تین کے لیے استعمال ہوتی ہے، مگر اس سے تین سے زیادہ افراد پر جمع کا اطلا ق کیسے ممنوع ہوا؟ کیا تین سے زیادہ افراد پر جمع کا اطلاق نہیں ہو سکتا؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قبیلے والوں سے یہ فرمایا تھاکہ تم میں سے صرف اور صرف تین آدمی حصول علم دین کے لیے نکلیں، خبردار کوئی چوتھا نہ نکلنے پائے ورنہ جمع کااطلاق غلط ہو جائے گا؟ 
حضرت! اس آیت سے علماء وطلبہ کرام کا فرضیت جہاد سے استثنا بالکل درست ہے، کیوں کہ پاکستان کی ہر قوم اور ہر قبیلہ ایک ’’فرقہ‘‘ ہے اور ہرفرقے میں سے چند منتخب لوگوں کا ایک ’’طائفۃ‘‘ حصول علم دین کے لیے مدارس کی خاک چھانتا ہے۔ اور پھر آپ نے یہ کیسے فرض کرلیا کہ دیوبند کے ساڑھے بارہ ہزار مدارس کے ۳۰ لاکھ طلبہ میں سے کوئی بھی جہاد کے لیے نہیں جاتا؟ آپ کا کیا خیال ہے کہ جو جہاد پر جایا کرے، وہ اشتہار دیا کرے یا لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کر کے جایا کرے؟ اگر آپ زمینی حقائق دیکھنے سے معذور ہیں تو حسن ظن سے کام لینے میں آخر کیا قباحت ہے؟
آنجناب نے قبائلیوں کی پاک فوج کے خلاف جنگ کو دفاعی جہاد قرار دیا ہے اور پاکستان میں ہونے والے فدائی حملوں کو ناجائز قرار دیا ہے۔ کیوں؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ پاکستان میں فوجیوں پر ہونے والے حملے اسی ’’دفاعی جہاد‘‘ کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہیں؟ مجاہدین وزیرستان نے مسلسل کئی سال کی ظالمانہ بمباریوں، آپریشنوں اور ڈرون حملوں پر مجبور ہو کر جنگ کی حکمت عملی کو تبدیل کیا ہے اور اس کا دائرہ کار وزیرستان کی پہاڑیوں سے پنجاب کے شہروں تک پھیلا دیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ وزیر ستان میں موجود فوج پر حملہ کرنا جائز اور پنجاب میں ناجائز ہے؟ کیا یہ فوج ان کے خلاف جنگ میں شریک نہیں ہے؟ اگرنہیں تو وزیرستان میں فوج کے قلعوں اور کیمپوں پر ہونے والے حملے کیونکر جائز ہیں جبکہ ان میں موجود فوج بھی بالفعل جنگ میں شریک نہیں؟ وہاں جائز اور یہاں ناجائز ہونے کی وجہ؟ پاکستانی فوج نے تو وتیرہ بنا رکھا ہے کہ آئے روز ان پر وحشیانہ بمباریاں اور ڈرو ن حملے کرتے رہتے ہیں۔ کیا وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں؟ کیوں؟ 
آپ نے فرمایا ہے کہ: ’’ جب ایک خود کش حملہ آور کو معلوم ہے کہ اس کے حملے سے پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ عام شہری بھی شہید ہوں گے تو کیا اب بھی یہ قتل عمد نہیں ہے؟‘‘ 
محترم! آپ کی حالت قابل رحم ہے۔ ذرا بتلائیے کہ اس زمانے میں حملے کا وہ کون سا طریقہ ہے جس میں کسی بے گناہ شہری کی ہلاکت کا کوئی امکان بھی نہ ہو اور وہ کون سا ہتھیار ہے جو پھٹنے سے پہلے بے گناہوں کو تو ایک کونے میں لے جا کر کھڑا کر دے اور پھر سب گناہگاروں کے درمیان جا کر پھٹ جائے جس سے گناہگاروں کے تو پرخچے اڑ جائیں اور بے گناہ شہریوں کو خراش بھی نہ آئے؟ جناب من! کیا افغانستان اورعراق میں امریکی افواج پر ہونے والے فدائی حملوں کی زد میں بھی عام شہری نہیں آجاتے؟ ان فدائی حملہ آوروں کے بارے میں آنجناب کا کیا فتویٰ ہے؟ کیا وہ بھی قتل عمد کے سنگین جر م کی وجہ سے ملعون، جہنمی اور مغضوب علیہم ہیں؟ اگر نہیں تو پھر یہ کیوں؟ اس زمانے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں سے تو عام شہریوں کو بالکل بچانا تو بے حد مشکل ہے۔ توآپ کا کیا مشورہ ہے کہ مجاہدین صرف ڈنڈوں اور سونٹوں سے جنگ کیا کریں؟ 
آپ نے فرمایاہے کہ : ’’ اورجب تک پاکستان میں شریعت نافذ نہیں ہوتی، اس وقت تک کشمیر کوآزاد کروا کر پاکستان سے اس کے الحاق کے لیے ہونے والے اس جہاد کو اعلائے کلمۃاللہ کے لیے ہونے والا جہاد فی سبیل اللہ قرار دینا ایک زیادتی اور خلاف واقعہ امر ہے۔ کشمیر کا موجودہ جہاد بھی جہاد ہے، لیکن جہاد آزادی ہے۔‘‘
بندہ اس بات کامفہوم بالکل بھی نہیں سمجھا۔ یہ جہاد آزادی کیا ہوتا ہے؟ اس کی کیا حیثیت ہے؟ اور کفار سے آزادی حاصل کرنے کے لیے جہاد کرناکیوں جہاد فی سبیل اللہ نہیں ہے؟ اور کشمیر کا یہ جہاد آزادی جائز ہے یا ناجائز؟ نیز فلسطینیوں کے جہاد آزادی کے بارے میں محترم کی کیا رائے ہے؟
آخری بات آپ کی خدمت میںیہ عرض ہے کہ موجودہ حالات میں علماء دیوبند سے آپ کا شکوہ کسی حد تک بجا ہے، لیکن اگر آپ ان کی مجبوریوں پر ایک نگاہ ڈال لیتے تو ان سے اس قدر خفا نہ ہوتے۔ اس وقت ملک میں افراتفری اور نفسانفسی کا عالم ہے۔ حکومتی پروپیگنڈا مشینری رات دن پورے زور وشور سے ان کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ہے۔ ان کی حمایت کرنا یا ان کے موقف کو بیان کرنا حکومت سے ٹکر لینے کے مترادف ہے۔ میں خود تو ٹی وی نہیں دیکھتا، مگر سنا ہے کہ جب کسی چینل پر حکومتی مفادات کے خلاف کوئی بات دکھائی جانے لگے تو اسی وقت اس کی اسکرین آف کردی جاتی ہے۔ ضرب مومن پر کئی بار پابندی لگ چکی ہے اوراب ’’اسلام‘‘ حکومتی دباؤ کے نیچے سسک رہا ہے۔ دن رات پھیلائے جانے والے مکروہ پروپیگنڈے کی رو میں بڑے بڑے بہہ رہے ہیں۔ دیوبندی علماء کرام تک جو خبریں پہنچ رہی ہیں، وہ حکومتی ذرائع سے نشرشدہ ہیں جن پر یقین کرناحماقت ہے۔ مجاہدین کاعلماء کرام سے ملنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے کہ وہ انہیں صحیح حالات بتاسکیں اور نہ ہی علماے کرام کے لیے ہرایک پر اعتماد کرناممکن ہے۔ ایک دھند چھائی ہوئی ہے جس میں صحیح حالت کا پتہ لگانا بے حد مشکل ہے۔ اور پھر علماء کرام کواس بات کاخیال کرنا بھی ضروری ہے کہ اگر وہ عمومی فتویٰ جاری کریں توکوئی غلط گروہ اس سے فائدہ نہ اٹھائے۔ لہٰذا ان حالات میں اگر دیوبندی علماء کرام کسی نتیجے پرنہیں پہنچ پاتے یا اپنے موقف کا برسر عام اظہار نہیں کرسکتے تو انہیں مطعون کرناکوئی شرافت نہیں۔ حافظ صاحب ! اس وقت پاکستانی حکومت مجاہدین کو ملیا میٹ کرنے پر تلی ہوئی ہے اور یوں کہا جائے تو بے جانہ ہو گا کہ اس وقت ان مجاہدین کی چند غلطیوں کی یا چند ایک غلط افراد کی آڑ لے کر ان کے خلاف نفرت پھیلانا اور مضمون با زی کابازار گرم کرنا امریکہ کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔
انھی گزارشات پر اکتفا کرتا ہوں۔ گستاخی پر معذرت!
عبد الرحیم خان
زیرگی، ڈومل، بنوں
(۹)
مولانا عمار خان ناصر صاحب زیدت معالیکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج مع الخیرہوں گے۔
الشریعہ کے نومبر دسمبر کے شمارے میں جہاد کے حوالے سے آپ کا مقالہ نہایت پر مغز اور منطقی استدلال کی قوت سے بہرہ ور ہے۔ اسلوب کی ندرت، استدلال، موضوع کا پہلو دار تجزیہ غالب کے الفاظ میں ’’گنجینہ معنی کا طلسم‘‘ ہوتا ہے اور ذہن میں کسی کہنہ مشق مفکر کا تاثر ابھرتا ہے اور دینی مدارس کی خاموش فضا کے پروردہ دانش ور کا تصور کر کے شعور کے نقار خانے میں گفتہ اقبال کا زمزمہ گونجنے لگتا ہے کہ
ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی
اللہ تعالیٰ آپ کی فکر ارجمند کو امت کے نفع اور آخرت میں اپنی رضا کا ذریعہ بنائے اور ا س نہج پر استوار رکھے جو اس کے ہاں فی الواقع درست ہو، اگرچہ ’متفق گردید راے بو علی با راے من‘ کامصداق نہ بھی ہو۔
سید عبد المتین کشمیری
ایم فل اسکالر، کلیہ اصول الدین
اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
(۱۰)
محترم عزیزی محمد عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ 
مجھے افسوس ہے کہ میں محترم استاذ گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر صاحب کی یاد میں ’’الشریعہ‘‘ کے وقیع خصوصی شمارے کے لیے تحریری شکل میں کوئی حصہ نہیں ڈال سکا۔ دیگر بے شمار لوگوں کی طرح مجھے بھی حضرت مرحوم ومغفور کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کرنے کا شرف حاصل ہے۔ میں نے ۱۴۰۳ھ کے شعبان اور رمضان میں مسجد نور میں انعقاد پذیر ہونے والے دورۂ تفسیر میں شرکت کی تھی۔ جہاں تک مجھے یاد ہے، اس دورے میں کوئی ساٹھ کے قریب طلبہ شامل تھے اور ان میں سے بعض کا تعلق پاکستان کے دور دراز علاقوں سے تھا۔
استاذ گرامی آیات اور سور کا ربط بڑے اہتمام سے بیان فرماتے تھے اور تشریح طلب نکات کے لیے بیضاوی سے لے کر روح المعانی تک کے حوالہ جات بیان فرماتے تھے۔ اس سے طلبہ بجا طورپر یہ محسوس کرتے کہ گویا کتب تفسیر ان کے سامنے کھول کر رکھ دی گئی ہیں۔ تمام طلبہ آپ کے قوی حافظے اور ضبط علم کے بڑے معترف تھے۔ ضعف وپیری کے باوجود حوالہ جات کے لیے آپ کی یادداشت سب کے لیے قابل رشک تھی۔ استاذ گرامی اشعار کا حوالہ بھی بکثرت دیا کرتے۔ بعض اوقات تاریخ، جغرافیہ اور فلسفے کے حوالے سے کوئی بات ہوتی تو آپ میری طرف خصوصی التفات فرماتے۔ شاید ان کی نگاہ میں، میں ان علوم سے کسی قدر آشنا تھا، حالانکہ مجلس میں بڑے بڑے صاحبان علم بھی موجود ہوتے تھے۔ بہرحال حصول علم کے وہ ایام میری زندگی کے قیمتی ترین ایام تھے۔ اولاً اس لیے کہ دن کا ایک معتد بہ حصہ مسجد میں گزرتا۔ ثانیاً کثیر اہل علم کی صحبت میسر آتی اور ثالثاً فہم قرآن کے لیے استاذ گرامی کے تبحر علمی سے فائدہ ملتا۔ 
استاذ گرامی کے تقویٰ وورع کا تو ایک جہان معترف ہے، آپ کا شمار یقیناًاللہ تعالیٰ کے مقربین میں بھی ہوتا ہے۔ اس کا واضح ثبوت آپ کی نماز جنازہ کے لیے خلق خدا کا کثیر تعداد میں حاضر ہونا تھا۔ میں نے زندگی بھر کسی جنازے پر لوگوں کا اس قدر جم غفیر نہیں دیکھا۔ ہزاروں نے آپ کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور ہزاروں حاضر ہونے کے باوجود شرکت سے محروم رہ گئے۔ میں بھی ایسے ہی محرومین میں شامل تھا۔ اس کی بڑی وجوہات بندگان خدا کا انبوہ کثیر، نقل وحرکت میں بے پناہ دقت اور جنازہ گاہ میں مزید گنجائش کا فقدان تھیں۔ اللہ تعالیٰ حاضر ہونے والے محرومین کو بھی اجر عطا فرمائے۔ آمین
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ راحتیں ارزاں فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ 
ڈاکٹر محمد شریف چودھری
کوٹلی رستم، گلی 1، گوجرانوالہ
(۱۱)
محترم المقام جناب حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب
سلام مسنون مع نیاز مقرون
حضرت شیخ ؒ کے نمبر کے مضامین کے ظاہری ومعنوی حسن نے شیخ کے موفق من اللہ ہونے کی مہر ثبت کر دی ہے۔ شیخ کے نمبر نے علم کلام کو جدید انداز میں پیش کر کے ماخذ قدیم، دلائل جدید کی بنیاد فراہم کر دی ہے۔ مبارک ہو۔
نمبر میں مولانا عبد الحق خان بشیر صاحب کے مضمون نے شیخ کے علوم کی جو شرح کی ہے، وہ پوری کتاب کا متن ہے۔ آنے والا مورخ اسی ایک مختصر پر کئی مطول تیار کرے گا۔ مولانا بشیر صاحب کے مضمون سے قلمی نسبت شاید ان کے حصے میں آئی۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ! البتہ مولانا عبد الحق صاحب کے مضمون کے حوالے سے مفتی محمد عیسیٰ صاحب کے ارشاد پر عمل مفید معلوم ہوتا ہے۔
ماہنامہ الشریعہ نومبر/دسمبر میں مولانا یاسین ظفر صاحب نے مولانا مفتی محمد طیب صاحب پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’اختلاف امتی رحمۃ‘‘ حدیث نہیں ہے اورمزید فرمایا کہ کسی ضعیف سند کے ساتھ بھی اس کا ذکر نہیں ملتا۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ امام بیہقی کی کتاب ’’المدخل‘‘ میں یہ روایت موجود ہے، امام زرکشی وغیرہ نے بھی اس کا ذکر کیا ہے اور امام سیوطی کے ہاں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے مولانا ظفر اقبال صاحب کی کتاب ’’موضوع روایات‘‘ (شائع کردہ مکتبہ رحمانیہ) ص ۳۱ ملاحظہ فرمائیں۔
مولانا فضل محمد صاحب کے جواب میں حافظ زبیر صاحب کا مضمون عالمانہ سے زیادہ مجادلانہ ہے۔ تحقیق وانصاف کی عدالت میں دلائل کو دیکھا جاتا ہے، الزامات اہل قلم کے شایان شان نہیں ہوتے۔ 
نصرۃ العلوم، دسمبر ۲۰۰۹ء کے شمارے میں مولانا فیاض خان صاحب کا مضمون ’’جانشین امام اہل السنۃ کے ناقدین کے نام کھلا خط‘‘ بڑا اچھا ہے۔ اگر مولانا ابو الحسن علی ندویؒ زندہ ہوتے تو یقیناًفیاض صاحب کو اس پر انعام دیتے۔
(مولانا قاری) محمد عبد اللہ
سوکڑی کریم جان، بنوں

تعارف و تبصرہ

ادارہ

مجلہ ’’المصطفیٰ‘‘ کا امام اہل سنت نمبر

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کی وفات کے موقع پر ملک کے متعدد جرائد نے ان کی یاد میں مختصر نوعیت کی خصوصی اشاعتیں پیش کیں، جبکہ جامعہ مدنیہ بہاولپور کے ترجمان مجلہ ’’المصطفیٰ‘‘ کی طرف سے ایک مفصل اشاعت پیش کرنے کا اعلان کیا گیا جو زیرنظر ضخیم مجلد کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ اس کی تیاری اور ترتیب وتدوین کا سہرا زیادہ تر ہمارے عم زاد، برادرم حافظ سرفراز حسن خان حمزہ کے سر ہے جنھوں نے بڑی محنت اور کاوش سے متنوع مضامین جمع کیے اور سلیقے سے انھیں قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔
اس اشاعت کے مندرجات کا ایک بڑا حصہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے اہل خاندان کے معلوماتی اور تاثراتی مضامین پر مشتمل ہے اور یہی حصہ اس نمبر کی اصل زینت ہے۔ خاندان کے بزرگ اہل قلم کے علاوہ نوجوانوں میں سے برادرم ممتاز الحسن احسن اور برادرم سرفراز خان حمزہ نے اپنے تفصیلی مضامین میں حضرت کی خدمت میں گزارے ہوئے اوقات سے متعلق اپنی یادداشتیں بہت خوبی سے جمع کی ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے اکابر علما ومشائخ اور معروف اہل قلم کے مضامین کی بڑی تعداد جبکہ حضرت رحمہ اللہ کے مکاتیب اور تحریروں کا ایک مختصر انتخاب بھی شامل اشاعت کیا گیا ہے۔ یہ تمام مواد حضرت رحمہ اللہ کی شخصیت، مزاج، کردار، طرز عمل اور ان کی حیات وخدمات کے مختلف گوشوں پر بھرپور روشنی ڈالتا ہے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت کی شخصیت اور خدمات سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے ذوق کی تسکین کے لیے اس نمبر میں بہت عمدہ لوازمہ موجود ہے۔ چند نمونے ملاحظہ فرمائیں:
’’طبیعت میں ظرافت کا عنصربھی نمایاں تھا۔ تقاریر میں بسا اوقات ظرافت کا یہ عنصر سامعین کو بے حد ’’محظوظ‘‘ کرتا، لیکن عام پیشہ ور مقررین کی طرح آپ کی ’’ظرافت‘‘ خلاف حقیقت اور خلاف واقعہ نہ ہوتی تھی بلکہ اس ظرافت میں بھی آپ پورا مسئلہ سمجھا دیتے تھے۔ ایک دفعہ جمعہ کی تقریر میں ایک شخص نے چٹ لکھی کہ ’’جیب میں اگر تصویر ہو تو نماز ہوتی ہے یا نہیں؟‘‘ آپ نے ازراہ مزاح فرمایا کہ جس کو شبہ ہو، وہ اپنی جیب میں سے وہ تمام نوٹ جن پر بانی پاکستان کی تصویر ہے، مجھے دے دیں۔‘‘ (ص ۳۲، مضمون از مولانا عبد الحق خان بشیر)
’’وہ عام جلسہ، خطبہ جمعہ اور عمومی درس میں اصلاحی عنوانات پر گفتگو کرتے تھے اور بالکل سادہ لہجے میں عقیدۂ توحید کی وضاحت، سنت کی اہمیت، عام مسلمانوں کی اخلاقی اصلاح اور حلال وحرام کے مسائل پر بات کیا کرتے تھے، البتہ اختلافی سمجھے جانے والے مسائل میں سے کوئی مسئلہ درمیان میں آ جاتا تو اسے نظر انداز کرکے آگے نہیں گزر جاتے تھے، بلکہ ا س پر اپنا موقف دوٹوک انداز مین بیان کر کے ضروری دلائل کا حوالہ بھی دیتے تھے۔ حضرت امام اہل السنۃ رحمہ اللہ کے طرز عمل کا یہ پہلو عام طور پر سب حضرات کے سامنے نہیں ہوتا، اس لیے بسا اوقات الجھن پیدا ہونے لگتی ہے۔‘‘ (ص ۷۴، مضمون از مولانا زاہد الراشدی)
’’ایک دفعہ محترم جناب حاجی اللہ دتہ صاحب کے ساتھ ایک وکیل آیا جو غالباً ڈسکہ کا رہنے والا تھا۔ ان کو بیٹھک میں بٹھایا گیا اور ان کے لیے چائے تیار کی جا رہی تھی کہ اچانک بیٹھک سے حضرت کی زور دار آواز گونجنے لگی۔ میں دوڑ کر گیا تو دیکھا کہ حضرت کے ہاتھ میں کلہاڑی پکڑی ہوئی ہے اور محترم بٹ صاحب درمیان میں حائل ہیں اور وہ وکیل ایک جانب کھڑا ہے۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ بٹ صاحب کو کہہ رہے تھے کہ اس کو فوراً میری بیٹھک سے نکال دو، میں اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا۔ جلدی سے اس کونکال دیا گیا۔ کچھ اور حضرات بھی جمع ہو گئے اور حضرت سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ وکیل صاحب نے باتوں باتوں میں کہہ دیا کہ اسلام کو نقصان پہنچانے والے بنو امیہ ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ سارے بنو امیہ کے بارے میں ایسا نہ کہیں، اس لیے کہ اس میں حضرت عثمان اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما بھی آتے ہیں تو اس نے کہا کہ اصل تو یہی ہیں۔ اس کے ان الفاظ پر مجھے غصہ آیا اور بٹ صاحب سے کہا، اسے یہاں سے نکال دو۔‘‘ (ص ۸۳، مضمون از مولانا عبد القدوس خان قارن)
’’ایک مرتبہ مجھے خود بتایا کہ تعلیم کے زمانے میں مجھے اور صوفی کو دن رات میں صرف ایک روٹی ملتی تھی، وہ بھی بغیر سالن کے۔ میں اپنے حصے کی روٹی بھی صوفی کو دے دیتا تھا کہ یہ چھوٹا ہے، بھاگ نہ جائے۔ میں نے پوچھا کہ پھر آپ خود کیا کھاتے تھے؟ فرمایا کہ لوگ بھینسوں کو شلجم وغیرہ کے پتے ڈالتے تھے۔ وہ بچے ہوئے میں دھو کر کھا لیتا تھا۔‘‘ (ص ۲۰۳، مضمون از حافظ ممتاز الحسن خان احسن)
’’۲۰۰۲ء کے الیکشن سے قبل جب دینی جماعتوں کا اتحاد ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ کی شکل میں سامنے آیا تو آپ نے اس کی بھرپور حمایت اور تائید فرمائی اور باقاعدہ جمعہ میں ان کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا، حالانکہ وہ دیوبندی بھی نہیں تھا۔ بعض حضرات نے راقم کے سامنے اس سلسلے میں آپ رحمہ اللہ سے گزارش کی کہ اگر صرف اہل السنۃ والجماعۃ والے ہی سب مل جائیں اور کسی دوسرے کو نہ ملائیں تو کیا یہ بہتر نہیں تھا؟ تو آپ نے فرمایا کہ مولانا! ان کی مجبوری ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو حکومت کو بہانہ مل جاتا۔ ایک صاحب نے زیادہ الجھنے کی کوشش کی تو آپ نے ان کو خاموش کرا دیا۔‘‘ (ص ۳۰۸، مضمون از حافظ سرفراز خان حمزہ)
اس خصوصی اشاعت میں فطری طور پر حضرت شیخ الحدیث رحمہ کا منہج فکر اور مسلک ومشرب بھی زیر بحث آیا ہے اور مختلف اہل قلم نے اس کے مختلف پہلووں کو اپنے اپنے ذوق اور انداز سے واضح کیا ہے۔ اسی ضمن میں بعض تحریروں میں مولانا محمد طارق جمیل کے خیالات، مولانا محمد الیاس گھمن کا طرز عمل اور راقم الحروف کی بعض آرا بھی نقد وتبصرہ کا موضوع بنی ہیں، لیکن ’’بے لاگ احقاق حق‘‘ کی یہ روایت ہر جگہ برقرار نہیں رکھی جا سکی۔ ذرا دار العلوم کراچی کے مہتمم مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب کی درج ذیل تحریر ملاحظہ فرمائیے:
’’۱۹۸۶ء عیسوی کی دہائی میں ناچیز لاہور سے سفر کر کے آپ کی خدمت میں گکھڑ منڈی خاص اس مقصد کے لیے حاضر ہوا کہ دیوبندی اوربریلوی مکاتب فکر کے درمیان جو خلیج بڑھتی جا رہی ہے، اسے کم بلکہ ختم کرنے کی راہ تلاش کی جائے۔ اس مقصد کے لیے پہلے ہی ہماری کئی ملاقاتیں مولانا مفتی محمد حسین نعیمی صاحب سابق مہتمم دار العلوم نعیمیہ لاہور، مفتی ظفر علی نعمانی سابق مہتمم دار العلوم امجدیہ کراچی، علامہ عبد المصطفیٰ ازہری سابق شیخ الحدیث دار العلوم امجدیہ کراچی اور مولانا محمد شفیع اوکاڑوی وغیرہم سے ہو چکی تھیں۔ان سب حضرات کا تعلق بریلوی مکتبہ فکر سے ہے۔ ان ملاقاتوں سے میں ا س نتیجہ پر پہنچا تھا کہ عقائد کے باب میں دونوں مکاتب فکر کا اختلاف بڑی حد تک صرف تعبیر اور الفاظ کا اختلاف ہے۔ حقیقت میں ایسا کوئی اختلاف عقائد کے باب میں نہیں ہے جس کی بنا پر ایک دوسرے کو گمراہ یا فاسق قرار دیا جائے۔ ہاں بہت سے اعمال میںیہ اختلاف ضرور ہے کہ ہم انھیں بدعت کہتے ہیں اور ان کے نزدیک وہ بدعت میں داخل نہیں۔‘‘ (ص ۳۷۴)
’’یہ تھا وہ پس منظر جس کے تحت ناچیز امام اہل السنۃ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ سے ملاقات کرنے اور رہنمائی حاصل کرنے کے لیے گکھڑ منڈی حاضر ہوا تھا۔ حضرت نے بہت شفقت فرمائی اور جس مقصد کے لیے حاضر ہوا تھا، اس پر مسرت کا بھی اظہار فرمایا اور اس کی تائید فرمائی، لیکن طبیعت ناساز تھی۔ زیادہ گفتگو نہ ہو سکی۔‘‘ (ص ۳۷۶)
بریلوی دیوبندی اختلاف سے متعلق مفتی صاحب کا یہ تجزیہ حضرت شیخ الحدیث کے منہج فکر اور نظریات سے کتنا ہم آہنگ ہے، یہ نکتہ زیادہ محتاج وضاحت نہیں، لیکن کسی وضاحتی یا اختلافی نوٹ کے بغیر اس کی شمولیت نہ اس اشاعت کے مرتبین کو کھٹکی ہے اور نہ موصولہ مواد پر نظر ثانی کر کے اس کی منظوری دینے والے بزرگوں کو۔ اس کے وجوہ اور مصالح غالباً زیادہ ناقابل فہم نہیں ہیں۔
ص ۲۳۲ پر اسلامی ٹی وی چینل کے جواز وعدم جواز کے تناظر میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا موقف بیان کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ: ’’دادا جان آخر تک سختی سے ٹی وی کی حرمت کے قائل رہے اور اس بارے میں ان کا رویہ بے لچک رہا۔‘‘ یہ بات واقعاتی طور پر پوری طرح درست نہیں، اس لیے کہ حضرت رحمہ اللہ کی طرف سے ٹی وی چینل کے عدم جواز کا فتویٰ سامنے آنے کے بعد عم مکرم مولانا قاری حماد الزہراوی مدظلہ نے اس مسئلے پر ان کے ساتھ متعدد مواقع پر گفتگو کی اور یہ گزارش کی کہ جب شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے لیے تصویر بنوانے کو ایک دینی ضرورت کے تحت جائز قرار دیا جا رہا ہے کہ حج وغیرہ دینی فرائض اس پر موقوف ہیں بلکہ وفاق المدارس کے امتحانات کے لیے محض ایک عملی ضرورت کے تحت تصویر کو نہ صرف جائز بلکہ لازم قرار دیا گیا ہے تو آخر اسلام کے دفاع وتحفظ اور دین دشمن عناصر کی فکری یلغار سے نئی نسل کو بچانے کے لیے ٹی وی چینل کو کیوں عملی جواز کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا؟ عم مکرم کی روایت کے مطابق حضرت رحمہ اللہ نے اس پر ان سے فرمایا کہ تمہارا یہ نکتہ قابل غور ہے، اس لیے تم اپنا موقف تحریری صورت میں مولانا محمد تقی عثمانی اور مولانا سلیم اللہ خان کے پاس بھیجو اور ان کی طرف سے جو جواب آئے، اس سے مجھے آگاہ کرو۔ اس کے بعد حضرت رحمہ اللہ نے ازخود دو تین مرتبہ عم مکرم کو اس کی یاد دہانی کرائی اور تاکید کی کہ وہ اپنی تحریر جلد مذکورہ دونوں بزرگوں کی خدمت میں روانہ کریں۔ عم مکرم کی اس روایت کی روشنی میں یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ حضرت کا رویہ اس معاملے میںآخر تک ’’بے لچک‘‘ رہا۔
خصوصی اشاعت کے مضامین کا عمومی انداز اور اسلوب سنجیدہ اور باوقار ہے، لیکن بعض تحریروں کا معیار خاصا پست اور کسی مزاحیہ اسٹیج ڈرامے کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ معلوم نہیں، اہل سنت کے ایک بلند پایہ عالم اور محقق کے افکار وتحقیقات کے تعارف کے لیے اس اسلوب کو کیسے گوارا کیا گیا ہے۔
مضامین کے آخر میں خالی جگہ کو پر کرنے کے لیے حضرت رحمہ اللہ کے مختلف واقعات درج کیے گئے ہیں جو زیادہ تر ماہنامہ ’’ہدی للناس‘‘ گوجرانوالہ کی خصوصی اشاعت میں شائع ہونے والے ایک مضمون سے ماخوذ ہیں۔ بہتر تھا کہ ان کا حوالہ درج کر دیا جاتا تاکہ قارئین کے سامنے اصل ماخذ بھی آ جاتا اور صحافیانہ اخلاقیات کی بھی پاس داری ہو جاتی۔
۸۶۲ صفحات پر مشتمل یہ اشاعت دار العلوم مدنیہ، ماڈل ٹاؤن بی، بہاول پور نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۳۵۰ روپے ہے۔
(تبصرہ نگار: محمد عمار خان ناصر)

’’حدود وتعزیرات۔ چند اہم مباحث‘‘

پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل ایک اعلیٰ سطحی علمی ادارہ ہے جسے سرکاری سرپرستی حاصل ہے اور وقت کے جید علماء کرام، ماہرین شریعت وقانون اس سے وابستہ رہے ہیں۔ یہ بات اور ہے کہ پاکستان کے اہل سیاست اور اہل اقتدار جو کہ نفاذ اسلام کے سلسلے میں سنجیدہ ومخلص کبھی نہیں رہے، بلکہ نفاذ اسلام کو ایک سیاسی نعرے کے طورپر استعمال کیا گیا، اس لیے اس کونسل کی سفارشات بھی سرد خانے کی نذر زیادہ ہوتی رہی ہیں۔ 
۲۰۰۷ء میں حدود وتعزیرات سے متعلق اسلامی نظریاتی قوانین کے نفاذکے بارے میں کونسل نے اپنی ۱۰ نکاتی سفارشات پیش کی تھیں جن پر وقت کے اہل علم واصحاب رائے سے کونسل نے تبصرہ کرنے کی گزارش کی تھی۔ ان سفارشات پر تنقید، جائزہ واحتساب اور رد عمل کے سلسلے میں ایک تحریر جناب مولانا محمد عمار خان ناصر صاحب نے بھی لکھی تھی جسے خود کونسل نے شائع کیا۔ زیرنظر کتاب اصلاً اسی علمی تبصرے کی توسیع شدہ صورت ہے۔
کتاب کے مصنف محمد عمار خان ناصر ایک علمی خانوادے کے چشم وچراغ ہیں۔ ان کے دادا مشہور محدث مولانا سرفرازخاں صفدرؒ ہیں جبکہ والد مولانا زاہد الراشدی بھی پاکستان کے علماء میں علمی تبحر، فکری پختگی، وسعت مطالعہ اور عصری ضرورتوں کے ادراک کے لحاظ سے اپنی نمایاں اور ممتاز شناخت رکھتے ہیں۔ محمد عمار خان ناصر معروف علمی مجلہ ’’الشریعہ‘‘ کے مدیر ہیں۔ انھوں نے اس کتاب میں شرعی احکام کے نفاذ کے حوالے سے روایتی فقہی موقف سے مختلف بعض نئی آرا وافکار پر تبصرہ بھی کیا ہے اور ان کے علمی پس منظر اور بنائے استدلال کو بھی واضح کیا ہے۔ اس زاویے سے یہ کتاب فکر اسلامی اور فقہیات کے ذخیرے میں متعدد نئے اور معرکۃ الآراء مباحث کا اضافہ کرتی ہے۔
دیباچہ، پیش لفظ اور تمہید کے علاوہ کتاب تیرہ اہم مباحث پر مشتمل ہے جن میں شرعی سزاؤں کی ابدیت، سزاؤں کے نفاذ اور اطلاق کے اصول، قصاص کے معاملے میں ریاست کا اختیار، دیت کی بحث، قصاص ودیت میں مسلم وغیر مسلم کا امتیاز، زنا، قذف، سرقہ، حرابہ، ارتداد اور توہین رسالت کی سزائیں، شہادت کا معیار اور نصاب، غیر مسلموں پر شرعی قوانین کا نفاذ، قصاص اور شہادت کے لیے غیر مسلموں کی اہلیت جیسے مباحث پر مشتمل ہے۔ مصنف نے اکثر مباحث میں فقہاء قدیم وجدید کے موافق اور ان کی آرا کے پہلو بہ پہلو بعض نئے علما ومفکرین اور ان کے خیالات بھی پیش کیے ہیں، مختلف آرا کا جائزہ لیا ہے اور بے لاگ، منصفانہ وتنقیدی محاکمہ کر کے دلائل کی روشنی میں جو پہلو یا رائے قابل ترجیح محسوس ہوئی، اس کا اظہار جرات سے کر دیا ہے۔ آخر میں ایک ضمیمہ ’’شریعت، مقاصد شریعت اور اجتہاد‘‘ بھی کتاب میں شامل کیا ہے۔
مولف کا طرز بیان سادہ رواں، اسلوب منطقی وسائنٹفک اور مجموعی اپروچ غیر جانب دارانہ اور منصفانہ ہے۔ علمی امانت ودیانت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ہر مبحث پر سیر حاصل گفتگو کرنے کی انھوں نے کوشش کی ہے اور اس میں بڑی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ان کی تمام رایوں اور نتیجوں سے اتفاق کیا جائے، تاہم مولف اس لحاظ سے قابل مبارک باد ہیں کہ انھوں نے ماضی کے علمی ورثے اور فقہی ذخیرے سے استفادہ کرتے ہوئے اور اس کے مسلمہ اصولوں کو برتتے ہوئے بین الاقوامی مسائل اورمطالبات کے حل کی عملی صورتیں نکالنے کی اجتہادی کوشش کی ہے۔
فقہاء نے فساد فی الارض کے اصول کے تحت مبتدعانہ افکار کو پھیلانے والے اور اہل بدعت وزندیقوں کے لیے سزائے موت کا جواز اخذ کیا ہے، لیکن فقہا کی اس رائے پر عصر حاضر کے پس منظر میں مصنف نے بہترین محاکمہ کیا ہے۔ ان کا جامع ومختصر نوٹ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ (دیکھیے صفحہ ۱۹۸، ۱۹۹) رجم کے سلسلے میں بھی انھوں نے تمام مباحث کو اختصار وجامعیت کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ رجم کے سلسلے میں مختلف روایات اور قرآن مجید کے ساتھ اس حکم کی توفیق وتطبیق کرتے ہوئے اس ضمن میں جو قدیم وجدید علمی توجیہات پیش کی گئی ہیں، ان کا ذکر کرتے ہوئے بیشتر پر تنقید کی ہے۔ انھوں نے خود کوئی حتمی رائے نہیں دی، تاہم ان کاکہنا ہے کہ ’’اس ضمن میں اب تک جو توجیہات سامنے آئی ہیں، وہ اصل سوال کا جواب کم دیتی اور مزید سوالات پیدا کرنے کی موجب زیادہ بنتی ہیں۔‘‘ (ص ۱۶۵) اس کے بعد انھوں نے عقلاً ترجیح کے اصول پر کسی متعین رائے کو اختیار کرنے کے طریقے بیان کیے ہیں۔ البتہ اس بحث میں مبصر کی رائے یہ ہے کہ عبادہ بن صامت والی روایت: خذوا عنی خذوا عنی قد جعل اللہ لہن سبیلا ... جلد ماءۃ وتغریب عام  پر سند ومتن کے لحاظ سے کلام کیا گیا ہے اور ایک جدید تحقیق کی رو سے یہ روایت کمزور ہے، لہٰذا اسے مدار بحث بناتے وقت اس کی اس پوزیشن کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ (دیکھیں: علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھی، مفتاح القرآن، سورۃ النساء ص ۳۱ تا ۲۳)
موجودہ دور میں سب سے زیادہ زیر بحث موضوع ارتداد کی سزا ہے۔ جناب عمار خان ناصر اس سلسلے میں کلاسیکل فقہی رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔ انھوں نے اپنی جامع بحث میں قدیم فقہا کا موقف اوران کے دلائل بیان کر دیے ہیں اور اس سلسلے میں جدید اہل علم ونظر کا موقف بھی بیان کر دیا ہے۔ ا س سلسلے میں ایک جدید نقطہ نظر یہ ہے کہ ’’قتل مرتد کا حکم شریعت کا عمومی ضابطہ نہیں، بلکہ اس کا تعلق صرف مشرکین بنی اسماعیل سے ہے جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد براہ راست اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت موت کی سزا نافذ کی گئی تھی۔‘‘ (جاوید احمد غامدی، برہان ۱۳۹-۱۴۳) ناصر صاحب اصولی طور پر اس رائے سے اتفاق کرتے ہوئے اس میں یہ توسیع کرتے ہیں کہ ’’اہل کتاب کو بھی اس کے دائرۂ اطلاق میں شامل سمجھنے میں کوئی مانع نہیں۔‘‘ (ص: ۲۲۷)
کتاب کے تمام مباحث کا جائزہ لینے سے تبصرہ طویل ہو جائے گا اور تبصرہ کی حدود سے نکل کر مضمون کی شکل اختیار کرلے گا، اس لیے مختصراً یہ کہنا مناسب ہوگا کہ یہ کتاب اسلامی حدود وتعزیرات سے متعلق نئے مباحث کی تفہیم میں مفید ومددگار بھی ہے اور علمی بحث ومباحثہ کو آگے بڑھانے کی ایک صحت مندانہ کوشش بھی۔ امید ہے کہ اہل علم اس سے کماحقہ استفادہ کریں گے اور علمی تنقید وتنقیح کے ذریعے اس سلسلہ بحث کو آگے بڑھایا جا سکے گا۔
(تبصرہ نگار: ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی۔ بشکریہ مجلہ ’’ترجمان دار العلوم‘‘ انڈیا)