فروری ۲۰۱۰ء

دینی جدوجہد کے عصری تقاضے اور مذہبی طبقاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
موجودہ عیسائیت کی تشکیل تاریخی حقائق کی روشنی میںڈین براؤن 
خواجہ حسن نظامی کی خاکہ نگاریپروفیسر میاں انعام الرحمن 
اسلامی بینکاری: غلط سوال کا غلط جواب (۲)محمد زاہد صدیق مغل 
یہ جواب نہیں ہےمولانا عبد المالک طاہر 
مکاتیبادارہ 
’’مسلمان مثالی اساتذہ ، مثالی طلبہ‘‘چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ 

دینی جدوجہد کے عصری تقاضے اور مذہبی طبقات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

متحرک جماعتی زندگی سے کنارہ کشی کے بعد گزشتہ دو عشروں سے راقم الحروف دینی جدوجہد کے عصری تقاضوں اور دینی جماعتوں اور طبقات کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کچھ نہ کچھ گزارشات پیش کر رہا ہے۔ معروضی حالات کے تناظر میں اس ’’صدائے فقیر‘‘ کے بعض پہلووں کو یہاں دہرانا مناسب معلوم ہوتا ہے:
  • پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے صرف سیاسی اور پارلیمانی جدوجہد کافی نہیں ہے، بلکہ پبلک دباؤ اور عوامی قوت بھی اس کی ناگزیر ضرورت ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کی طرح غیر سیاسی دینی قوتیں اور جماعتیں بھی میدان میں متحرک رہیں۔ بالخصوص اس وقت ایک نئی دینی جماعت کی ضرورت ہے جو غیر سیاسی ہو اور مختلف مکاتب فکر کی نمائندگی کرتی ہو۔ ’’غیر سیاسی‘‘ سے میری مراد یہ ہے کہ وہ جماعت ووٹ، الیکشن اور اقتدار کی سیاست سے الگ رہے، پاور پالیٹکس کا حصہ بننے کی بجائے مشترکہ دینی، ملی اور قومی مقاصد کے لیے تحریکی انداز میں کام کرے اور رائے عامہ، عوامی دباؤ اور اسٹریٹ پاور کے اس خلاکو پر کرنے کی کوشش کرے جو دینی تحریکات کی اصل قوت ہوا کرتی تھی اور جو ہم نے خاصی حد تک کھو دی ہے۔
  • دینی جماعتوں اور حلقوں کے درمیان کشمکش اور ایک دوسرے کے کام کی نفی اور استخفاف واستحقار کا روز افزوں ذوق ومزاج ہمارے لیے زہر قاتل ہے۔ اس کی حوصلہ شکنی ضروری ہے اور دینی جدوجہد کو صحیح رخ پر آگے بڑھانے کے لیے انتہائی درجہ میں لازم ہے کہ ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کیا جائے، ایک دوسرے کے کام کا احترام کیا جائے اور باہمی مشاورت، مفاہمت اور تعاون کی فضا قائم کی جائے۔
    ہماری دینی جدوجہد خصوصاً نفاذ اسلام کی تحریک کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس سلسلے میں کام کرنے والی بہت سی جماعتیں مسلکی دائروں میں محدود ہیں جس کی وجہ سے وہ ایک خاص حد سے آگے بڑھ نہیں پا رہیں۔ میں اس سلسلے میں یہ حوالہ دینا چاہوں گا کہ انقلاب ایران کے بعد مجھے علماء کرام اور وکلا کے ایک وفد کے ساتھ ایران جانے کا موقع ملا جس میں مولانا منظور احمد چنیوٹی اور حافظ حسین احمد بھی شامل تھے۔ یہ ۱۹۸۷ء کی بات ہے۔ اس موقع پر ایک مجلس میں یہ سوال سامنے آیا کہ کیا پاکستان میں کوئی عالم دین اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ خمینی صاحب کی طرح ایک عوامی انقلاب کی قیادت کر سکے؟ میں نے عرض کیا کہ ایک نہیں بلکہ ہمارے پاس دو شخصیات ایسی موجود تھیں جو خمینی بن سکتی تھیں۔ ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی کے بعد مولانا مفتی محمود یا مولانا شاہ احمد نورانی میں سے جو بھی آگے بڑھتا، قوم اس کو خمینی کا مقام دینے کے لیے تیار ہوتی، مگر مصیبت یہ ہے کہ مولانا مفتی محمود آگے بڑھتے تو مولانا شاہ احمد نورانی کے پیروکار ان کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے اور اگر مولانا شاہ احمد نورانی پیش رفت کرتے تو یہ بات مولانا مفتی محمود کے پیروکاوں کے لیے قابل قبول نہ ہوتی۔
    ہمارے ہاں نفاذ اسلام کی جدوجہد کا گیئر ہمیشہ اس مقام پر آکر پھنس جاتا ہے۔ یہ ایک معروضی حقیقت ہے جس کی جتنی بھی تاویل کر لی جائے، مگر اس کے وجود سے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ اس لیے میرے نزدیک کسی دینی جدوجہد یا تحریک کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلکی ترجیحات سے بالاتر ہو اور اس کے لیے میرے خیال میں قیام پاکستان سے پہلے کی ’’مجلس احرار اسلام‘‘ ایک اچھی مثال ہے کہ مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور دیگر طبقات کے اہل دانش نے مل کر ایک جماعت تشکیل دی اور مسلکی ترجیحات سے بالاتر ہو کر ملی وقومی مقاصد کے لیے عوامی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔
  • ہمارے دینی مدارس فکری تربیت کے حوالے سے بانجھ ہو چکے ہیں اور وہ فضا اب کسی حد تک بھی موجود نہیں ہے جو اب سے تیس برس پہلے تک مدارس میں فکری، اخلاقی بلکہ دینی تربیت کے حوالے سے دکھائی دیتی تھی۔ ہمارے طلبہ بلکہ مدرسین کی اکثریت کو یہ معلوم نہیں ہے کہ ہماری ماضی قریب کی دینی وملی تحریکات کن مقاصد کے لیے تھیں، جنگ آزادی میں کون کون سے حضرات نے قائدانہ کردار ادا کیا اور دیگر ملی تحریکات کے اہداف کیا تھے۔ ہمارے مدارس میں ذہنی تیاری اور فکری تربیت کے دائرے محدود سے محدود تر ہوتے جا رہے ہیں جس سے کنفیوژن اور ذہنی انتشار بڑھتا جا رہا ہے اور اسی کیفیوژن اور ذہنی انتشار سے بہت سی پس پردہ قوتیں مسلسل ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ یہ مسئلہ بڑے دینی مدارس اور وفاق المدارس کے سوچنے کا ہے، مگر وہاں بھی اس کے بظاہر کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
    اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ کئی برس سے میرا معمول ہے کہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث کے طلبہ کو ہفتہ وار لیکچر کی صورت میں انسانی حقوق، معاصر مذاہب کے تعارف، ماضی قریب کی دینی تحریکات اور پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کے فکری وعلمی پہلووں کی طرف سرسری انداز میں توجہ دلانے کی کوشش کرتا ہوں تو بہت سے طلبہ میرے منہ کی طرف یوں دیکھتے ہیں جیسے میں اس دنیا کی نہیں، بلکہ کسی اور دنیا کی بات کر رہا ہوں اور شاید میں انھیں اس طرح گمراہ کر کے ’’اکابر‘‘ کے مسلک سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہوں۔
  • ہمارے ہاں فکری تربیت کے فقدان کا ایک نامحمود نتیجہ اور ثمرہ یہ بھی ہے کہ ہم سب نے خود کو اختلاف او ر تنقید سے بالاتر سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک دوست میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ فلاں صاحب نے آپ کے خلاف کتاب لکھی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اگر انھیں میری کچھ باتوں سے اختلاف ہے تو ان پر لکھنا ان کا حق ہے۔ فرمانے لگے کہ انھوں نے آپ پر سخت تنقید کی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بھی ان کا حق ہے۔ اس پر انھوں نے کہا کہ آپ اس کا جواب لکھیں۔ میں نے عرض کیا کہ میں اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ میرا موقف بھی لوگوں کے سامنے ہے، ان کا موقف بھی آ گیا ہے۔ لوگ خود فیصلہ کر لیں گے کہ کس کی بات درست ہے۔ میں نے ان سے یہ بھی گزارش کی کہ جماعت اسلامی کے ساتھ ہمارا نصف صدی سے یہ اختلاف چلا آ رہا ہے کہ انھوں نے اپنے دستور میں صحابہ کرام کو تنقید سے بالاتر تسلیم نہیں کیا، حالانکہ اہل سنت کا صدیوں سے یہ موقف ہے کہ صحابہ کرام تنقید سے بالاتر ہیں، مگر اب صورت حال یہ ہے کہ ہم نے صحابہ کرام کے ساتھ تنقید سے بالاتر ہونے والوں کا دائرہ بہت زیادہ وسیع کر لیا ہے جسے مزید وسیع کرتے جا رہے ہیں اور خود بھی اس میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
  • نفاذ شریعت کا راستہ روکنے کا کام عالمی سطح پر ہے اور بین الاقوامی لابیاں اس کے لیے مسلسل متحرک ہیں۔ ان کے کام کو سمجھنا، طریق واردات سے واقفیت حاصل کرنا اور ان کے سد باب کے لیے منصوبہ بندی کرنا بھی دینی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔ نفاذ شریعت کے لیے سطحی نعرے بازی اور جذباتی تقریروں سے آگے بڑھ کر ذہن سازی، ہوم ورک، لابنگ، ذرائع ابلاغ کا بھرپور استعمال اور دینی قوتوں کا باہمی ربط وتعاون بھی ضروری ہے۔ ہمارے مدارس کے طلبہ، مدرسین، دینی جماعتوں کے راہ نما اور کارکن اور مساجد کے ائمہ وخطبا کی غالب اکثریت اسلام اور مغرب کے درمیان انسانی حقوق کے عنوان سے لڑی جانے والی عالمی ثقافتی جنگ سے سرے سے واقف نہیں ہے، اس لیے مدرسین اور طلبہ کو اس کے لیے تیار کرنا اور یونانی فلسفہ کی طرح مغربی فلسفہ کو تدریسی نصاب میں شامل کرنا دینی مدارس کے فرائض میں شامل ہے۔ اسی طرح علمی مسائل اور خاص طور پر جدید فکری اور ثقافتی مسائل پر باہمی بحث ومباحثہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور محاذ آرائی سے ہٹ کر علمی انداز میں اس بحث ومباحثہ کو آگے بڑھانے اور اس کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔



الحاج حافظ شیخ بشیر احمد کا انتقال

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے امیر الحاج حافظ شیخ بشیر احمد گزشتہ دنوں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ اور ان کے والد محترم حاجی شیخ علم الدین مرحوم، امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر اور مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمہما اللہ تعالیٰ کے ابتدائی ساتھیوں میں سے تھے۔ ایک عرصہ تک انھوں نے مدرسہ نصرۃ العلوم اور جامع مسجد نور کی انتظامیہ کے سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں، مگر بعد میں ایک مرحلے پر اختلافات کی وجہ سے وہ مدرسہ اور مسجد کی انتظامیہ سے الگ ہو گئے۔ وہ شہر کی متعدد مساجد اور مدارس کی خدمت کرتے تھے اور نیک دل اور مخیر بزرگ تھے۔ انھوں نے ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں جمعیۃ علماء اسلام کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لیا اور جمعیۃ علماء اسلام کی جماعتی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ آخری عمر میں کئی برسوں سے وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے امیر تھے اور دلچسپی کے ساتھ جماعتی سرگرمیوں میں شریک ہوتے تھے۔
ان کی نماز جنازہ ان کے فرزندان کی خواہش پر راقم الحروف نے پڑھائی جس میں شہر کے بزرگ علماء حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی ار حضرت مولانا مفتی محمد اویس سمیت علماء کرام اور دینی کارکنوں اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ 
مدرسہ نصرۃ العلوم میں میری طالب علمی کا سارا زمانہ ان کے دور میں گزرا ہے اور بعد میں بھی جماعتی ودینی سرگرمیوں میں ان کے ساتھ مسلسل رفاقت رہی ہے۔ ان کی وفات کے اس غم میں ہم ان کے فرزندان اور دیگر اہل خاندان کے ساتھ شریک ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت مرحوم کی حسنات کو قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور سب پس ماندگان کو صبر وحوصلہ کے ساتھ ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

موجودہ عیسائیت کی تشکیل تاریخی حقائق کی روشنی میں

ڈین براؤن

مترجم: عمران الحق چوہان ایڈووکیٹ
(ڈین براؤن گزشتہ چند برسوں میں مقبولیت حاصل کرنے والے مصنف ہیں اور ان کا شمار اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مصنفین میں ہوتا ہے۔ ان کی حقیقی شہرت کا آغاز ان کے ناول ’’دا ڈاونچی کوڈ‘‘ (ناشر: کورگی بکس، سال اشاعت: ۲۰۰۳ء) سے ہوا۔ یہ ناول اگرچہ ایک دلچسپ روایتی جاسوسی ناول ہے، لیکن اس میں مروجہ عیسائی مذہبی اعتقادات اور رسوم کے متعلق کچھ ایسی باتیں تحریر کی گئیں جن سے مغربی معاشرے میں ایک ہیجان پیدا ہو گیا اوردیکھتے ہی دیکھتے یہ ناول عام موضوع بحث کی صورت اختیار کر گیا۔ معاملات عدالت تک بھی پہنچے، لیکن اس کے باوجود اس کی شہرت ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلتی گئی اور اس کی مقبولیت کودیکھتے ہوئے ہالی وڈ نے اس پر فلم بھی بنا ڈالی۔ مروجہ عیسائیت کے عقائد سے متعلق مصنف کے نظریات سے آگہی مسلم قارئین کے لیے دل چسپی اورمعلومات کا باعث ہو سکتی ہے۔ ذیل میں ان کے ناول کے باب ۵۵ کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ مترجم)

لینگڈن کے پہلو میں دیوان پر بیٹھی سوفی نے چائے کا گھونٹ بھرا اور کیفین کے خوشگوار اثرات محسوس کرنے لگی۔ سرلیہ ٹی بنگ آتش دان کے سامنے ڈگمگاتے ہوئے ٹہل رہے تھے۔ ان کی ٹانگوں پر چڑھے آہنی شکنجے کی آواز پتھر کے فرش پر گونج رہی تھی۔ 
مقدس جام ٹی بنگ نے خطیبانہ لہجہ میں کہا: ’’ اکثر لوگ مجھ سے صرف اس کے مقام کے متعلق پوچھتے ہیں اور شاید اس کا جواب میں کبھی نہیں دے پاؤں گا‘‘۔ وہ مڑا اور براہ راست سوفی کی طرف دیکھا۔ ’’تاہم اس سے کہیں زیادہ متعلقہ سوال یہ ہے کہ ’’ مقدس جام ہے کیا؟ ‘‘
سوفی نے اپنے دونوں مرد ساتھیوں میں علمی تجسس پیدا ہوتے محسوس کیا۔ ’’ جام کومکمل طور پر سمجھنے کے لیے‘‘، ٹی بنگ نے بات جاری رکھی، ’’ہمیں پہلے بائبل کو سمجھنا چاہیے۔ تم عہد نامہ جدید کے متعلق کس حد تک جانتی ہو؟ ‘‘
سوفی نے کندھے اچکائے۔ ’’حقیقتاًکچھ بھی نہیں۔ دراصل میری پرورش ایسے شخص نے کی ہے جو لیونار ڈو ڈاونچی کا پجاری تھا‘۔‘ 
ٹی بنگ بہ یک وقت متحیر اور مسرور دکھائی دیا۔ ’’ایک منور روح، شان دار۔ پھر تو تمہیں علم ہی ہو گا کہ لیونار ڈو مقدس جام کے راز آشناؤں میں سے ایک تھا اور اس نے اپنے فن میں اس کے سراغ چھپائے تھے‘‘۔
اس حد تک رابرٹ نے مجھے بتایا ہے۔ 
’’اور عہد نامہ جدید کے متعلق ڈاونچی کے نظریات؟ ‘‘
’’ مجھے کوئی اندازہ نہیں۔‘‘
ٹی بنگ نے مسکراتی آنکھوں کے ساتھ کمرے کے دوسرے سرے پر رکھے بک شیلف کی طرف اشارہ کیا۔ ’’رابرٹ، تم تکلیف کرو گے؟ سب سے نچلے شیلف میں۔ لیونا ڈوکی کہانیاں‘‘۔ لینگڈن کمرے کے دوسرے سرے پر گیا۔ ایک بڑی سی آرٹ کی کتاب ڈھونڈی اور واپس لا کر دونوں کے بیچ میز پر رکھ دی۔ کتاب کا رخ سوفی کی طرف گھما کر ٹی بنگ نے وزنی جلد کھولی اور پس ورق پرلکھے متعدد اقوال کی طرف اشارہ کیا۔ ’’ڈاونچی کی یوں مکس اینڈ سپیکیولیشن کے دفتر سے‘‘ ۔ اس نے خصوصاً ایک قول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’ میراخیال ہے کہ یہ تمہیں موضوعِ گفتگو سے متعلق محسوس ہوگا۔‘‘
سوفی نے الفاظ پڑھے:
’’ بہت سے لوگوں نے احمقوں کو دھوکہ دیتے ہوئے جھوٹے معجزوں اورفریب کی تجارت کی ہے۔ ‘‘
لیونارڈوڈاونچی 
’’یہ ایک اور رہا ۔‘‘ ٹی بنگ نے ایک دیگر قول کی طرف اشارہ کیا:
’’اندھی جہالت ہمیں گم راہ کرتی ہے۔ اسے بد نصیب فاتیو! آنکھیں کھولو!‘‘
لیونارڈوڈاونچی 
سوفی کو سردی سی محسوس ہوئی۔ ’’ڈاونچی بائبل کے متعلق کہہ رہا ہے؟ ‘‘
ٹی بنگ نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’بائبل کے متعلق لیونار ڈو کے محسوسات کا تعلق براہ راست مقدس جام سے ہے۔‘‘
درحقیقت ڈاونچی نے حقیقی جام کو مصوربھی کیا ہے جو میں ابھی تمہیں دکھاؤں گا، لیکن پہلے بائبل پر بات ہونی چاہیے۔ ٹی بنگ مسکرایا۔ ’’اور ہر وہ چیز جو بائبل کے متعلق تمہیں جاننا چاہیے، اس کا خلاصہ عظیم ڈاکٹر مارٹن پر سی نے یوں کیا ہے، ’’ ٹی بنگ نے گلاصاف کرتے ہوئے کہا:’’ بائبل آسمان سے بذریعہ فیکس نہیں اتری۔ ‘‘
’’میں معافی چاہتی ہوں؟؟‘‘
’’بائبل، میری عزیز! انسان کی تخلیق ہے، اللہ کی نہیں۔ بائبل جادوئی طریقے سے بادلوں سے نہیں ٹپکی تھی۔ انسان نے پر آشوب ادوار کا تاریخی ریکارڈ رکھنے کے لیے اسے تخلیق کیا تھا اور یہ بے شمار ترجموں، اضافوں اور نظرثانیوں کے بعد وجود میں آئی ہے۔ تاریخ میں کبھی اس کتاب کاکوئی مصدقہ نسخہ نہیں رہا‘‘۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘
’’عیسیٰ مسیح غیر معمولی موثر تاریخی شخصیت تھے، شاید دنیا کے سب سے پراسرار او راثر انگیز راہ نما۔ بطور مسیح موعود، عیسیٰ نے شہنشاہوں کے تخت الٹے، لاکھوں لوگوں کومتاثر کیا اور نئے فلسفیوں کی بنیاد رکھی۔ شہنشاہ سلیمان اور شہنشاہ داؤد کی نسل سے ہونے کے ناتے عیسیٰ یہودیوں کے بادشاہ کے تخت کے جائز حق دار بھی تھے۔ قابل فہم طورپر ان کے حالات زندگی علاقے کے ہزارہا پیروکاروں نے محفوظ کیے۔‘‘
ٹی بنگ چائے کا گھونٹ بھرنے کے لیے رکا اور پھر کپ واپس مینٹل پر رکھا۔ ’’عہدنامہ جدید کے لیے اسی سے زیادہ اناجیل پر غور کیا گیا اور صرف چند متعلقہ اناجیل کو شمولیت کے لیے چنا گیا جن میں میتھیو، مارٹ، لیوک اور جان بھی تھے‘‘۔
’’شمولیت کے لیے اناجیل کا انتخاب کس نے کیا؟‘‘ سوفی نے پوچھا۔
’’آہا! ٹی بنگ نے جوش سے کہا۔ ’’عیسائیت کا بنیادی تضاد۔ بائبل، جس انداز میں ہمیں آج ملتی ہے، اس کی تالیف ملحد رومی شہنشاہ قسطنطین اعظم نے کی تھی۔ ‘‘
’’میرے خیال میں تو قسطنطین عیسائی تھا۔‘‘ سوفی نے کہا۔
’’بہ مشکل‘‘۔ ٹی بنگ کھکارا۔ ’’ وہ تا حیات ملحد رہا جسے بستر مرگ پر بپتسمہ دیا گیا۔ وہ اتنا نحیف ہو چکا تھا کہ احتجاج بھی نہ کر سکا۔ قسطنطین کے عہد میں روم کا سرکاری مذہب سورج پرستی تھا، یعنی ناقابل تسخیر سورج کا مذہب اور قسطنطین اس کا بڑا پروہت تھا۔ اس کی بدقسمتی سے بڑھتی ہوئی مذہبی بے چینی روم کو گرفت میں لے رہی تھی۔ عیسیٰ کے مصلوب کیے جانے کے صدیوں بعد عیسیٰ کے پیروکاروں میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا۔ عیسائیوں اورملحدوں میں لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ یہ اختلاف اس قدر بڑھاکہ روم کی تقسیم کا خطرہ لاحق ہو گیا ۔ قسطنطین نے سوچا کہ کچھ کرناپڑے گا۔ ۳۲۵ (ب ،م) میں اس نے روم کوایک مذہب، عیسائیت کے تحت متحد کرنے کا فیصلہ کیا۔‘‘
سوفی بہت حیران ہوئی۔ ’’لیکن ایک ملحد بادشاہ نے سرکاری مذہب کے طورپر عیسائیت کا انتخاب کیوں کیا؟‘‘
ٹی بنگ ہنسا۔ ’’ قسطنطین بڑا اچھا کاروباری تھا۔ اس نے دیکھا کہ عیسائیت عروج حاصل کر رہی ہے۔ لہٰذا اس نے جیتنے والے گھوڑے پر داؤ کھیل دیا۔ یہ بات آج بھی مورخین کو ورطہ حیرت میں ڈالے ہوئے ہے کہ قسطنطین نے کس عمدگی سے سورج پرست ملحدوں کوعیسائیت کی طرف مائل کیا۔ ملحدانہ علاقوں، تاریخوں اور رسموں کو پھیلتی ہوئی عیسائی روایت میں ملا کر اس نے ایک ایسا دوغلا مذہب بنایاجو ہر دو فریقین کے لیے قابل قبول تھا۔‘‘
لینگڈن نے کہا:’’ عیسائی شعائر میں ملحدانہ مذہب کے سراغ ناقابل تردید ہیں۔ مصریوں کا کرہ سورج کیتھولک اولیاء کا ہالہ بنا۔ معجزانہ طور پر پیدا ہونے والے بیٹے ہورس کو دودھ پلاتی ہوئی آئسس (isis) کی شبیہ ہمارے ہاں ننھے یسوع کو دودھ پلاتی کنواری مریم میں بدل گئی، اور درحقیقت کیتھولک رسوم کے سارے عناصر، بشپ کی کلاہ، قربان گاہ، حمد ربانی اور عشائے ربانی، خدا خوری کا عمل ، براہ راست سابق ملحدانہ باطنی مذاہب سے لیے گئے ہیں۔‘‘
ٹی بنگ نے گہری آواز میں کہا: ’’ اس ماہر علامات کو عیسائی آئی کنز کے متعلق نہ چھیڑ لینا۔ عیسائیت میں کچھ بھی حقیقی نہیں ہے۔ قبل از عیسائیت خدامت ھراس جسے خدا کا بیٹا اور نورجہاں کہا جاتا ہے، ۲۵؍دسمبر کو پیدا ہوا، مرا، ایک چٹانی مقبرے میں دفنایا گیا اور پھر تین یوم بعد دوبارہ زندہ ہوا۔ برسبیل تذکرہ ، ۲۵؍دسمبر ، اوسائی رس، اڈنس اورڈائی اونی سس کی بھی تاریخ پیدا ئش ہے۔ نومولود کرشن کوبھی تحفۃً سونا اور عودولوبان پیش کیے گئے تھیحتی کہ عیسائیت کاہفتہ وار مقدس دن بھی ملحدوں سے چرایا گیا تھا۔‘‘
کیا مطلب ہے آپ کا؟
’’دراصل‘‘، لینگڈن بولا، ’’عیسائیت بھی یہودیوں کے ہفتہ کے سبت کا احترام کرتی تھی۔ لیکن قسطنطین نے ملحدوں کے سورج کی تعظیم کے دن سے مطابقت کے لیے اسے بدل دیا۔‘‘ وہ رکا، مسکرایا۔ ’’تاحال زیادہ تر گرجا جانے والے اتوار کی صبح سروس میں شریک ہوتے ہیں، اس بات سے قطعی لا علم کہ وہ کافروں کے سورج دیوتا کی ہفتہ وار تعظیم کے دن کی بنیاد پر آئے ہیں۔ ‘‘
سوفی کا سرگھوم رہا تھا۔ ’’اور سب کا تعلق جام سے ہے؟‘‘
بالکل۔ ٹی بنگ نے کہا۔ ذرا متوجہ رہنا۔ اس مذہبی ادغام کے دوران قسطنطین کو عیسائی روایت کو مضبوط کرنے کی ضرورت تھی۔ عالمی عیسائی اتحاد کے لیے اس نے مشہور اجتماع کیا جو کونسل آف نقایہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔‘‘
سوفی اس سے محض Nicene creedکی جائے پیدائش کے حوالے سے واقف تھی۔ 
’’اس اجتماع میں ‘‘، ٹی بنگ نے کہا، ’’عیسائیت کے بہت سے پہلوؤں پر بحث اور رائے شماری ہوئی۔ مثلاً قیام مسیح کی تاریخ، بشپس کاکردار، مذہبی رسوم کاطریقہ کار، اور رہاں، یسوع کی الوہیت بھی‘‘۔
’’ میں سمجھی نہیں، ان کی الوہیت؟‘‘
’’ میری عزیز!‘‘ ٹی بنگ نے بتایا، ’’تاریخ کے اس لمحے تک ، یسوع کے پیروکار اسے ایک فانی نبی کے طور پر ہی دیکھتے تھے، ایک عظیم اور طاقت ور آدمی لیکن بہ ہر حال ایک آدمی ،ایک فانی۔‘‘
’’ اللہ کا بیٹا نہیں؟‘‘
’’صحیح‘‘۔ ٹی بنگ نے کہا۔ ’’ یسوع کو بطور ’’ابن اللہ ‘‘ کونسل آف نقایہ میں سرکاری طور پر تجویز کیا گیا اور رائے شماری کروائی گئی۔‘‘
’’ ذرا ٹھہریں، آپ کہہ رہے ہیں کہ عیسیٰ کی الوہیت رائے شماری کا نتیجہ تھی؟ ‘‘
’’نسبتاً کافی قریبی تناسب سے‘‘۔ ٹی بنگ نے بات بڑھائی۔ ’’یوں بھی یسوع کی الوہیت رومی سلطنت اور نئے مرکز طاقت ویٹی کن کے مزید اتحاد کے لیے اہم تھی۔ سرکاری طور پر عیسیٰ کو ابن اللہ قرار دے کر قسطنطین نے عیسیٰ کوایک ایسی روحانی شخصیت بنادیا جو انسانی دنیاسے ماورا تھی۔ ایسی ذات جس کی طاقت ناقابل تسخیر تھی۔جس نے عیسائیت پر مزید ملحدانہ چیلنجوں کی راہ مسدود کر دی، لیکن اس سے عیسیٰ کے پیروکاروں کے پاس نجات کے لیے صرف ایک ہی طے شدہ مقدس ذریعہ رہ گیا، رومن کیتھولک چرچ۔‘‘ 
سوفی نے لینگڈن پر نظر ڈالی اور تائید کے طور پر سر کو جنبش دی۔
’’یہ سب کچھ طاقت کے حصول کے لیے تھا۔ عیسیٰ بطور مسیحا، چرچ اور ریاست کی کارکردگی کے لیے بے حد اہم تھا۔ ’’ ٹی بنگ نے بات جاری رکھی۔ ’’بہت سے علماء کا دعوی ہے کہ ابتدائی چرچ نے حقیقی معنوں میں عیسیٰ کو ان کے پیروکاروں سے چرا لیا۔ ان کے انسانی پیغام کے اغوا کے بعد اسے الوہیت کے ناقابل عبور لبا دے میں لپیٹ دیا گیا اور اسے اپنی طاقت کے پھیلاؤ کے لیے استعمال کیا گیا۔ میں نے اس موضوع پر بہت سی کتب تحریر کی ہیں۔‘‘
’’ اور میرا خیال ہے کہ سرگرم عیسائی روزانہ آپ کو نفرت آمیز خطوط ارسال کرتے ہوں گے؟‘‘
’’ وہ ایسا کیوں کرنے لگے؟‘‘ ٹی بنگ نے جواب دیا۔ ’’پڑھے لکھے عیسائیوں کی کثیر تعداد اپنے مذہب کی تاریخ سے واقف ہے۔ بے شک یسوع ایک عظیم اور طاقت ور شخصیت تھے۔ قسطنطین کی خفیہ سیاسی چالیں بھی حیات عیسیٰ کی عظمت کم نہیں کر سکیں۔ کوئی نہیں کہتا کہ عیسیٰ دھوکے باز تھے۔ نہ کوئی اس سے انکار کر سکتا ہے کہ وہ اسی زمین پر چلتے پھرتے تھے اور انہوں نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں بہتری کے اثرات مرتب کیے۔ ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ قسطنطین نے عیسٰی کے رسوخ اور اہمیت سے فائدہ اٹھایا اورایسا کرتے ہوئے اس نے عیسائیت کو وہ شکل دی جس میں ہم آج اسے دیکھتے ہیں۔ ‘‘
سوفی نے سامنے رکھی آرٹ کی کتاب پر نگاہ ڈالی۔ اس کے دل میں صفحے الٹ کر ڈاونچی کی ’’ مقدس جام‘‘ کی تصویر دیکھنے کا اشتیاق تھا۔ 
’’اس میں دلچسپ بات یہ ہے‘‘، ٹی بنگ نے تیز تیز بولتے ہوئے کہا ’’ کہ قسطنطین نے عیسیٰ کی وفات کے چار صدیوں بعد ان کا مرتبہ بڑھایا تھا، مگر تب تک بطور ایک فانی انسان کے ان کی ہزاروں سو انحی دستاویزات لکھی جا چکی تھیں۔ قسطنطین کو علم تھا کہ تاریخ کی کتب کو از سر نو لکھنے کے لیے بڑا قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس سے عیسائیت کی تاریخ کا سب سے اہم لمحہ جو وقوع پذیر ہوا۔‘‘ ٹی بنگ رکا اور سوفی کو دیکھا۔ ’’قسطنطین نے نئی بائبل کے لیے کمیشن بٹھایا اور سرمایہ فراہم کیا جس نے ان تمام اناجیل کوحذف کردیاجن میں عیسیٰ کے انسانی خصائل کا ذکر تھا اوران اناجیل کو سجا سنوار کر پیش کیا گیا جو انہیں اللہ کا مثل بتاتی تھیں۔ سابق اناجیل کو متروک قرار دے کر اکٹھا کرکے نذر آتش کر دیا گیا۔‘‘
’’ ایک دل چسپ بات۔‘‘ لینگڈن نے اضافہ کیا۔ ’’جس کسی نے قسطنطین والی اناجیل کے بجائے ممنوعہ اناجیل کا چناؤ کیا، اسے ’’بدعتی ‘‘ قرار دے دیا گیا۔ تاریخ میں بدعتی کالفظ وہاں سے شروع رائج ہوا۔ لاطینی لفظ (Heareticas) کا مطلب ہے ’’انتخاب‘‘۔ وہ لوگ جنہوں نے عیسیٰ کی حقیقی تاریخ کا انتخاب کیا، دنیا کے پہلے بدعتی تھے۔‘‘
’’مورخین کی خوش قسمتی سے‘‘، ٹی بنگ بولا، ’’ان گاسپلز میں سے جنہیں قسطنطین نے مٹانے کی سعی کی تھی، کچھ بچ گئیں۔ بحر مردار کے طومار (the dead sea scrolls) ۱۹۵۰ء میں Judacan desert میں قمر ان کے قریب واقع ایک غار سے دریافت ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ ۱۹۴۵ء میں nag Hammadi سے ملنے والے coptic scrolls بھی تھے۔ جام کی اصل کہانی بیان کرنے کے علاوہ وہ عیسیٰ کے انسانی خصائل کا ذکر بھی کرتے تھے۔ ویٹی کن نے گم راہ کنی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے ان طوماروں کو دبانے کی بھرپور کوشش کی اور وہ ایسا کیوں نہ کرتے؟ ان طوماروں نے اظہر من الشمس تاریخی تضادات اور خود ساختہ کہانیوں کو کھول کر رکھ دیا تھا اور اس بات پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ جدید بائبل ان لوگوں نے مرتب کی ہے جن کا واضح سیاسی ایجنڈا تھا، جوایک بشر عیسیٰ مسیح کی الوہیت کو فروغ دے کر ان کے اثر کو اپنے مرکز قوت کی مضبوطی کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔‘‘ 
’’لیکن پھر بھی‘‘،لینگڈن نے دفاع کیا، ’’یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ان طوماروں کو چھپانے کی چرچ کی خواہش ان کے عیسیٰ کے متعلق طے شدہ نظریات پر مخلصانہ اعتقاد کی بنا پر تھی۔ ویٹی کن انتہائی نیک لوگوں پر مشتمل ہے جو ایمان داری سے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ متضاد دستاویزات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔‘‘
ٹی بنگ، سوفی کے مقابل کرسی میں دراز ہوتے ہوئے ہنسا۔ ’’جیسا کہ تم دیکھ سکتی ہو کہ روم کے لیے میری نسبت ہمارا پروفیسر کہیں زیادہ نرم گوشہ رکھتا ہے۔ تاہم اس حد تک وہ درست ہے کہ جدید کلرجی ان مخالف دستاویزات کو جھوٹ سمجھتی ہے۔ یہ بات قابل فہم ہے۔ قسطنطین کی بائبل صدیوں سے ان کے لیے سچائی بنی ہوئی ہے۔ بنیاد رکھنے والے سے زیادہ بنیاد پرست کوئی نہیں ہوتا۔‘‘
’’ اس کا مطلب ہے،، لینگڈن نے کہا ’’ کہ ہم اپنے اجداد کے خداؤں کی پرستش کرتے ہیں؟‘‘
’’میرا مطلب یہ ہے‘‘ ٹی بنگ نے وضاحت کی ’’کہ ہمارے آبا واجداد نے جو کچھ بھی ہمیں عیسیٰ کے متعلق بتایاہے، وہ جھوٹ ہے۔ بالکل مقدس جام کی کہانیوں کی طرح۔ ‘‘ 
سوفی نے پھر سامنے پڑے ڈاونچی کے قول کودیکھا۔ ’’اندھی جہالت ہمیں گمراہ کرتی ہے۔ او بدنصیب انسانو! اپنی آنکھیں کھولو۔ ‘‘
ٹی بنگ نے کتاب اٹھائی اوروسط کے صفحے الٹنے لگا۔ ’’اور آخر میں قبل اس کے کہ میں تمہیں ڈاونچی کی بنائی ہوئی مقدس جام کی تصویر دکھاؤں، میں چاہوں گا کہ تم اس پر ایک سرسری نگاہ ڈال لو۔‘‘ اس نے کتاب کے دوصفحوں پر پھیلی خوش رنگ تصویر کھولی۔ ’’میرا خیال ہے تم اس فریسکو کو پہچانتی ہو۔‘‘
’’ وہ مذاق کر رہے ہیں، ہے نا؟‘‘ سوفی دنیا کی مشہور ترین فریسکو کو ٹکٹکی لگا کر دیکھ رہی تھی۔ آخری عشائیہ میلان کے santa Masca delle Grazie کی دیوار پر بنی ڈاونچی کی دیو مالائی شہرت کی تصویر ان سے غداری کرے گا۔ ہاں میں ، اس فریسکو کوجانتی ہوں۔ ‘‘
’’پھر تو شاید تم میرے ساتھ ایک چھوٹے سے کھیل میں شریک ہونا چاہو گی۔ مناسب سمجھو تو ذرا آنکھیں بند کرو۔‘‘ سوفی نے ہچکچاتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں۔ 
’’ یسوع کہاں بیٹھے ہیں؟‘‘ ٹی بنگ نے پوچھا۔
’’ وسط میں‘‘۔
’’ بہت اچھے، اور وہ اوران کے حواری کون سی غذا کے لقمے توڑ کر کھا رہے ہیں؟‘‘
’’روٹی، ظاہر ہے۔ ‘‘
’’ واہ۔ اوران کا مشروب؟‘‘
’’ انگور کی شراب ۔ انہوں نے وائن پی تھی۔‘‘
’’ کیا بات ہے! اوراب آخری سوال۔ میز پر شراب کے کتنے گلاس ہیں؟‘‘
سوفی رکی۔ اسے احساس ہوا کہ یہ الجھاؤ والا سوال ہے۔ اورعشائیے کے بعد، اپنے حواریوں کے ساتھ بانٹتے ہوئے عیسیٰ نے شراب کا گلاس اٹھایا۔ ’’ایک گلاس‘‘، اس نے کہا۔ the chaliceعیسیٰ کا پیالہ۔ مقدس جام، ’’عیسیٰ نے شراب کا واحد جام ہی پھرایا تھا، جیساآج کل کے عیسائی عشائے ربانی کے موقع پر کرتے ہیں۔ ‘‘
ٹی بنگ نے لمبی سانس لی۔ ’’اپنی آنکھیں کھولو۔ ‘‘
اس نے ایسا ہی کیا۔ ٹی بنگ شرارت سے مسکرا رہا تھا۔ سوفی نے نیچے تصویر پر نگاہ ڈالی اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ عیسیٰ سمیت میز پر موجود ہر شخص کے پاس جام شراب تھا۔ تیرہ کپ، مزید یہ کہ یہ کپ چھوٹے، بے تنے کے اور شیشے کے تھے۔ تصویر میں کوئی پیالہ ، کوئی مقدس جام نہیں تھا۔
ٹی بنگ کی آنکھیں چمکیں۔ ’’تھوڑا عجیب ہے نا؟ کیا خیال ہے؟ ذرا سوچو، ہماری بائبل اورہماری مروجہ جام کہانی اسی لمحہ کومقدس جام کی آمد کے طور پر مناتی ہے۔ حیران کن طور پر لگتا ہے کہ ڈاونچی عیسیٰ کاپیالہ مصور کرنا بھول گیا ہے۔‘‘ 
’’یقیناًماہرین فن نے اس بات پر غور کیا ہوگا۔ ‘‘
’’تمہیں یہ جان کر صدمہ ہوگا کہ جو غیر از معمول باتیں ڈاونچی نے شامل کی ہیں، زیادہ تر ماہرین فن کویا تو دکھائی نہیں دیںیا محض نظرا نداز کر دی گئیں۔ یہ فریسکو دراصل مقدس جام کے راز کی مکمل کلید ہے۔ آخری عشائیہ میں ڈاونچی نے ہر بات کھول کر آگے رکھ دی ہے۔‘‘
سوفی نے غور سے فن پارے کاجائزہ لیا۔ ’’کیایہ فریسکو جام کی حقیقت بتاتی ہے؟‘‘
’’یہ نہیں کہ وہ کیا ہے۔‘‘ ٹی بنگ نے آہستگی سے کہا۔ ’’یہ کہ وہ کون ہے۔ مقدس جام کوئی شے یا چیز نہیں ہے۔ یہ دراصل ایک شخصیت ہے۔‘‘ 

خواجہ حسن نظامی کی خاکہ نگاری

پروفیسر میاں انعام الرحمن

اردو ادب میں شاید ہی کوئی دوسرا انشاپرداز ہو جو خواجہ حسن نظامی مرحوم (۱۸۷۸۔۱۹۵۵)سے بہتر طور پر ’آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ‘ کا مصداق ہو ، حال آں کہ خواجہ صاحب کا شمار اردو ادب کے ان خاکہ نگاروں میں کیا جا سکتا ہے جنہوں نے اس ادبی صنف کو بال و پر عطا کیے اور یہ صنف ’فن‘ سمجھی جانے لگی ۔ ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہان پوری نے ’’خواجہ حسن نظامی: خاکے اور خاکہ نگاری ‘‘ کے عنوان سے تالیف پیش کرکے اس اوجھل پہاڑ کو منظرِ عام پر لانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس مدون تالیف میں ڈاکٹر معین الدین عقیل کے حوصلہ افزا وقیع پیش لفظ کے بعد ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہان پوری ’’ شذراتِ تقدیم‘ ‘ کے زیرِ عنوان خواجہ حسن نظامی کی شخصیت و فن کے مختلف پہلو زیرِ بحث لائے ہیں جس کے مطالعہ سے قارئین، خواجہ صاحب کی شخصیت کے تقریباََ تمام ادبی و شخصی پہلوؤں سے متعارف ہو جاتے ہیں ۔ ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہان پوری نے خواجہ حسن نظامی کی خود غرضانہ تلون مزاجی کا جو نقشہ ’’شذراتِ تقدیم‘‘ میں کھینچا ہے، ہم بوجوہ اس کا مطالعہ اور فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں۔ یہاں یہ بیان کرنا بھی مناسب ہو گا کہ طوالت سے بچنے کی خاطر، ہم آیندہ آنے والی سطور میں صرف اور صرف خواجہ حسن نظامی کے رشحاتِ قلم ، موضوع سخن بنائیں گے۔ 
اس تالیف میں مذکور خاکوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ حصہ اول میں مذہبی علمی فنی ادبی شخصیات کے خاکے اور حصہ دوم میں تاریخی و سیاسی شخصیات کے خاکے ہیں۔ حصہ سوم میں’ ’تصویرِ خصایل : ایک نفسیاتی مطالعہ‘ ‘ کے عنوان سے ، قومی، وطنی، طبقاتی، پیشہ وارانہ ، کاروبارِ شیطنت اور فن کار کے دلچسپ خاکے پیش کیے گئے ہیں ۔ آخر میں۲۳ صفحات پر مشتمل ایک ضمیمہ ہے جس میں خود ڈاکٹر صاحب نے’’بہارستانِ ناز‘‘ اور ’’آبِ حیات‘‘ کو ایک نئے رخ سے دیکھتے ہوئے مختلف عنوانات کے تحت خاکہ نگاری کی تاریخ اور اقسام بیان کی ہیں ۔
اس مدون تالیف کا پہلا خاکہ ہی چونکا دینے والا ہے ، اسلوبِ نگارش یا مواد وغیرہ کی یک تائی کی وجہ سے نہیں ، بلکہ اس ہستی کی وجہ سے جس کا خاکہ پیش کرنے کی کاوش کی گئی ہے ۔ یہ کوئی بڑی ادبی شخصیت نہیں ، نہ ہی کوئی قدآور سیاسی مدبر ہے اور نہ ہی تاریخ کا دھارا بدل دینے والا کو ئی نابغہ روزگار۔ یہ ہستی ہے اللہ میاں کی۔ جی ہاں! اللہ میاں۔ خاکے کے لیے اللہ میاں کے چناؤ جیسی خیال کی ندرت اور اسے پیش کرنے کے نرالے ڈھنگ جیسے اسالیب کی بدولت ہی خواجہ صاحب اردو ادب کے غیر روایتی اور عام فہم انشا پرداز ہیں۔عام فہم، زبان و بیان کے اعتبار سے بھی اور اس پہلو سے بھی کہ اللہ میاں سے سارا جہان واقف ہے ، اس لیے عام سطح کا قاری بھی خاکے میں مذکور ہستی کو مستور خیال نہیں کرتا اورپوری طرح لطف اندوز ہوتا ہے۔ اس اولین خاکے کا عنوان، ایک لحاظ سے خواجہ صاحب کی ان جسارتوں اور بے باکیوں کا نقیب بھی ہے جن سے قارئین کو دیگر خاکوں میں واسطہ پڑتا ہے۔اگر بات یہیں تک رہتی تو ٹھیک تھی لیکن خواجہ صاحب کی خوبات بڑھانے والی ہے۔ وہ اپنے خاکوں کو صوفیانہ مشرب میں رنگنے کی کوشش کرتے ہیں، ملاحظہ کیجیے:
’’آگے جا کر جس موجودات اور مخلوقات کے حلیے ایک خاکی بشر کے قلم سے نکل نکل کر کاغذی مجلس میں آراستہ ہوئے ہیں ، بس یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان سب کے اندر اللہ میاں کا حلیہ موجود ہے ، کیوں کہ اس نے خود اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے فرمایا ہے :
ان اللہ خلق ادم علےٰ صورتہٖ 
اللہ نے آدمؑ کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے ۔ جو اس کو مانے وہ بھی ان جان اور جو نہ مانے وہ بھی نادان! لہٰذا یہ کہہ کر ختم کر دینا چاہیے کہ واہ سبحان، واہ سبحان! تو تو بس بے صورت کی ایک مورت ہے‘‘۔ (غیر مرئی وجود: اللہ میاں، ص۱۰۲)
لاادری اور ہمہ اوست کے اس آمیزے کو خاکہ نگاری کی بنیاد کے طور پر ، ادبی اعتبار سے کہاں تک قابلِ قبول قرار دیا جا سکتا ہے ، اس سے قطع نظر کہ اس کا فیصلہ طویل بحث کا متقاضی ہے ، یہاں ایک احساس بہرحال کسی بھی مسلم قاری کو رکنے اوریہ تاثر لینے پر مجبور کر دیتا ہے کہ خاکہ نگار کسی نہ کسی درجے میں ’’صلح کل‘‘ کا پرچار کر رہا ہے اور شاید اس کا قلم مذہبی حد ود کو پامال کرنے سے رک نہ پائے گا ۔ یہ تاثر صفحہ نمبر ۱۶۱ پر قاری کی مذہبی حساسیت کو بیدار کرتا ہے جہاں آنجہانی چوہدری سر ظفراللہ خاں کے خاکے میں لکھا گیا ہے ’’قوم مسلمان، عقیدہ قادیانی‘‘۔ پھر صفحہ نمبر ۱۸۷ پرمولانا محمد علی جوہر کے خاکے میں قادیانیوں کی اسلامیت پر گواہی اس طرح دی گئی ہے : 
’’ تین بھائی ہیں ۔ بڑے بھائی شوکت علی ہیں ، ایک بھائی کا نام ذوالفقار علی ہے، وہ قادیانی ہو گئے ہیں۔ گویا ماں باپ کی تین یادگاریں ہیں اور تینوں دین و قوم و ملک پر قربان ہیں‘‘ ۔
اس کے بعد راہ ہم وار ہونے پر ’’ضمیمہ‘‘ کے عنوان سے صفحہ نمبر ۱۹۱، ۱۹۲ پر تین قادیانیوں کے خاکے، ان کی مذہبی عقل کے اعتراف کے ساتھ دیے گئے ہیں۔کوئی بھی مسلم قاری اس مطالعہ سے دو قسم کے تاثرات لیتا ہے : ایک ، فوری ، دوسراتاخیری۔ فوری تاثر میں خواجہ مرحوم موردِ الزام ٹھہرتے ہیں لیکن ذرا غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کے اس دور میں جب یہ خاکے لکھے گئے تھے ، برِ عظیم پاکستان و ہند کے مسلمانوں کی فکری قیادت کرنے والی اکثر شخصیات قادیانیوں کی بابت بہت نرم گوشہ رکھے ہوئے تھیں حتیٰ کہ علامہ اقبال ؒ جیسی صاحبِ بصیرت شخصیت بھی ان کے حق میں رطب للسان تھی۔ یہ بہت بعد میں ہوا کہ اقبالؒ ، علامہ انور شاہ کشمیریؒ سے مکالمے کے نتیجے میں قادیانیت کی اصلیت سے آگاہ اور تائب ہوئے۔ لہٰذا تاخیری تاثر میں خواجہ حسن نظامی مرحوم رعایتی نمبر وں سے خلاصی پا جاتے ہیں۔ اب اگر سوال اٹھتا ہے تو فقط اس تالیف کے پیش کار کی آنکھ مچولی کی بابت اٹھتا ہے کہ صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے نہیں جیسے اطوار اپنائے ہوئے ہیں۔ موصوف ، تاریخی اعتبار سے ایسے دور میں ہیں جہاں امت کے اجتماعی ضمیر اور ریاستی قانون نے قادیانیت کو نہایت صراحت سے خارج از اسلام قرار دیا ہے، تو پھر وہ غیر محسوس انداز میں ظفراللہ اور ذوالفقار کی اسلام شناسی کی شہادت دے کر ضمیمے کے تھیلے میں سے بلی نکال کر ، کس قسم کی ادبی خدمت سر انجام دینا چاہتے ہیں؟ بہتر تو یہ تھا کہ ڈاکٹر ابوسلمان صاحب sugar coated چھابڑی لگانے کے بجائے قادیانیت کی ’’حقانیت‘‘ کے حق میں مفصل کتب کی دکان سجاتے ۔ ہم برملا کہیں گے کہ اس قسم کی نفسیاتی چھیڑ چھاڑ کا مقصد اگر مسلمانوں کی حساسیت کے گراف کو چیک کرنا ہے اور انہیں آہستہ آہستہ قادیانیت کی قبولیت کے لیے تیار کرنا ہے تو ڈاکٹر صاحب جیسے ’’دور اندیشوں‘‘ کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ 
زیرِ نظر تالیف میں اللہ میاں کے خاکے کے بعد حسبِ توقع فرشتوں کا خاکہ ہے جس میں فرشتوں کے بارے میں ضروری معلومات دی گئی ہیں۔ اس کے بعد گناہ گاروں کے لیڈر شیطان کا خاکہ ہے جو کافی دلچسپ ہے، ملاحظہ کیجیے: 
’’ فرشتوں کی ملکوت یونی ورسٹی میں پرنسپل بن کر سبق پڑھا چکا ہے۔ ذاتِ اقدس کی تجلیاتِ جباری او رکبریائی میں فنا ہو کر منصور کی طرح انا الخیر (میں اچھا) ہوں، (انا من النار) میں آگ سے بنا ہوں ! نعرے لگا چکا ہے ۔ مگر کوئی مولوی اس وقت عالمِ وجود میں موجود نہ تھا جو اس کی انانیت کو سولی پر چڑھاتا ، اس واسطے خدا نے اس کو خود سولی پر چڑھایا‘‘۔ (غیر مرئی وجود: گناہ گاروں کے لیڈر شیطان کا حلیہ، ص۱۰۳) 
یہ درست ہے کہ مولوی حضرات ’انانیت‘ کو سولی پرچڑھا کر ہی دم لیتے ہیں۔ شاید اسی لیے اقبالؒ نے انانیت کو خودی کا نام دے کر اپنی جان بچائے رکھی اور مولویوں کے تیر و تفنگ کے آگے ’شکوہ‘ کر دیا۔ خواجہ صاحب بھی اکثر ادیبوں کی طرح مولوی پر وار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ان کے کئی خاکوں میں بے چارہ مولوی تختہ مشق بنا ہے ، ملاحظہ کیجیے کہ طنز کے تیر کیسے ٹھاہ نشانے پر لگے ہیں:
’’ ان کے والد صوفی تھے ، خود ان کا دل بھی صوفی ہے مگر دل کے اوپر مولویت کا پردہ ڈالے رکھتے ہیں ۔ دوستوں کے ساتھ مروت وخلوص سے پیش آتے ہیں۔ بہت کھانے کا شوق نہیں ہے اور اس لحاظ سے ان کی مولویت میں نقص ہے۔‘‘ (علمائے کرام: مولانا سید سلیمان ندوی، ص۱۱۲) 
’’مزاج میں غرور و تمکنت نہیں ہے، دیکھنے میں مولوی بھی نہیں معلوم ہوتے۔‘‘ (علمائے کرام: مفتی کفایت اللہ، ص۱۱۴)
’’ ملا رموزی بھوپال میں رہتے ہیں ۔ ان کے مضامین سے سمجھا جاتا ہے کہ وہ کوئی مولوی ہیں مگر درحقیقت نئے زمانے کے ایک مہذب نوجوان ہیں۔‘‘ (اردو کے ظرافت نگار، ص۱۲۲)
’’ اگر امریکہ میں ہوتے تو فورڈ موٹر والے سے کوئی بڑا کارخانہ بناتے ۔ ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں ، اس لیے جتنا کماتے ہیں اس سے زیادہ کھلا دیتے ہیں ۔ ذہین ہیں ، حرفتی سمجھ بہت اچھی ہے ۔ کئی بچوں کے باپ ہیں ، مگر کئی بیویوں کے شوہر نہیں ہیں ، حالاں کہ مولوی کے لیے یہ بہت عجیب ہے کہ وہ ایک ہی بیوی رکھتا ہو۔‘‘ (تاجر:مولوی محمد ادریس ہاشمی، ص۱۳۸)
’’ اگران کی ڈاڑھی لمبی ہوتی تو شاید وہ بھی مولویوں کی طرح فقط دعوت کھایا کرتے، کھلانے سے احتیاط کرتے اور مجرد بھی نہ رہتے بلکہ چار نکاح کرتے۔‘‘ (ممبرانِ اسمبلی و کونل آف سٹیٹ : سر محمد یعقوب، ص۱۶۵)
’’ اگر وہ انگریز ہوتیں تو لیڈی ولنگٹن کی طرح مشہور ہوتیں اور ہندو ہوتیں تو مسز نیڈو سے زیادہ شہرہ آفاق مانی جاتیں، مگر خدا کے فضل سے مسلمان ہیں اس لیے ان کی قوم دلوں میں تو ان پر فخر کرتی ہے مگر زبان سے کچھ نہیں کہتی کہ ایک تارک پردہ عورت کی تعریف کرے تو مولوی صاحب فتوی نہ دے دیں ۔ جہاں آرا نے ثابت کیا ہے کہ پردہ اٹھانے والی عورتیں ایسی ہو سکتی ہیں۔‘‘ (رہنمایانِ ملک و قوم:بیگم میاں شاہ نواز، ص۱۷۸)
مولوی محمد ادریس ہاشمی کے خاکے میں’’حال آں کہ مولوی کے لیے یہ بہت عجیب ہے کہ وہ ایک ہی بیوی رکھتا ہو‘‘ کے بجائے اگر ایسا کہا جاتا کہ ’’حال آں کہ مولوی ہیں‘‘ تو کفایت لفظی کنائے کا لطف بھی دے جاتی۔ بہر حال ! یہ بات تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ خواجہ صاحب نے تیر برسانے سے قبل انہیں حقیقت کے زہر میں خوب بھگویا ہے ، اب مولوی اگر سخت جان نکلے تو بے چارے خواجہ کا کیا قصور؟ بات مولویوں کی چل نکلی ہے تو اسی رو میں ہم برِ عظیم کے چند معروف علما کے خاکوں کی جھلکیاں پیش کیے دیتے ہیں:
’’ کفر کا فتوی دینے میں بڑی مہارت تھی ۔ ایک شخص کو ایک گناہ کے عوض کئی کئی ہزار کے کفر کے فتوے دیتے تھے اور عجیب و غریب باریکیاں کفر سازی کی ان کے ذہن میں آتی تھیں ‘‘ (علمائے کرام:مولانا احمد رضا خان، ص۱۰۹)
ہمیں تو ایسی ’’کفر ساز مولویانہ خو‘‘ نے قدیم ایتھنز کے مقنن ڈریکو کی یاد دلا دی ہے جس کے بارے میں طنزاََ کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے قوانین روشنائی کے بجائے خون سے تحریر کیے تھے، مثلاََ سبزی چور اور توہینِ مذہب دونوں کے لیے موت کی سزا مقرر کی تھی۔جب ڈریکو سے اس سنگ دلی کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے جواب دیا کہ خفیف جرایم، سزائے موت ہی کے مستحق ہیں اور رہے بڑے جرم تو ان کی سزا اس مجبوری سے مقرر کئی گئی کہ کوئی اور بڑی سزا ہو نہ سکتی تھی۔ خواجہ حسن نظامی کو خدا کا شکر بجا لانا چاہیے کہ مولانا اور ڈریکو ہم عصر نہ تھے، ورنہ باریک بین اور فربہ نظر مل کر نجانے کیا قیامت ڈھاتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ صاحب کی مولانا احمد سعید دہلوی ؒ سے گاڑھی چھنتی تھی اس لیے وہ ان کے بارے میں یہاں تک کہتے ہیں: ’’خلوت میں کچھ اور جلوت میں کچھ اور‘‘۔ یہ تعریف ہے یا تنقیص ؟ فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ غالباََ ، جمعیت علما ہند کے ناظم کی حیثیت میں ان کی سیاسی حکمت عملی خواجہ صاحب کو ضرورت سے زیادہ ’’بھا‘‘ گئی ہے، تبھی تو وہ لکھتے ہیں: 
’’ دل میں کچھ اور ہوتا ہے ، کہتے کچھ اور ہیں ۔ ... ان کی زندگی امیر معاویہ کے اصحاب سے مشابہ ہے اس لیے ایک نمونے کی زندگی ہے ، کمان ایک طرف کھینچتے ہیں، تیر دوسری طرف چلاتے ہیں۔‘‘ (علمائے کرام:مولانا احمد سعید، ص۱۱۰)
تقریباََ ہر معروف عالمِ دین سے خواجہ صاحب چونچ لڑاتے نظر آتے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ کی زندگی کے مختلف ادوار (۱۹۲۲، ۱۹۳۶، ۱۹۴۳) کے تین خاکے ، خاکہ نگار کی ان سے قلبی قربت اور میلانِ طبع کی غمازی تو کرتے ہی ہیں، لیکن مولاناآزادؒ کی ذاتِ گرامی کے احترام سے بڑھ کر شاید ان کی انشاپردازی کی جولانی کا خوف ہے کہ خواجہ صاحب قلم کو پوری ہوش مندی سے حرکت میں لاتے ہیں ، گو چوٹ کرنے سے باز نہیں آتے : 
’’ تصور کی طاقت ، چیونٹی کی ناک اور چیل کی آنکھ سے بڑھی ہوئی ہے .... اگر ان کو ہندوستان کا بادشاہ بنا دیا جائے تو ایک دن کم بارہ مہینے سوتے رہیں ، صرف ایک دن بیدار ہو کر کام کریں کیونکہ یہ کسی کام کو جلدی کرنے کے عادی نہیں ہیں .....سر سٹیفورڈ کرپس کے دل سے کوئی پوچھے تو یہ جواب ملے کہ ہندوستان میں گاندھی جی سیاسی درویش ہیں ، جواہر لال یورپ کی سیاست کا عکس ہیں کیونکہ جو دل میں ہوتا ہے وہی زبان سے کہتے ہیں، حال آں کہ نئے زمانے کی سیاست میں یہ بات گناہ کبیرہ ہے ۔ صرف مولانا ابوالکلام چالیس کروڑ باشندوں میں ایک ایسے ہندوستانی ہیں جو یورپ کی سیاست کو انگریزی نہ جاننے کے باوجود سمجھتے بھی ہیں اور اس کے وار کو بغیر ڈھال کے روکتے بھی ہیں اور مسکرا کر ایک نکیلا سیاسی نشتر حریف کے مارتے جاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں ’ ’غالباََ کچھ زیادہ تکلیف نہ ہوئی ہو گی ، یہ انجکشن آپ کی بیماری کے لیے بہت ہی مفید ہے‘ ‘ ...... ہوش سنبھالتے ہی مسلم لیگ کو سمجھ لیا تھا ۔ ۱۹۰۸ میں مسٹر زاہد سہروردی کے مکان پر انھوں نے حسن نظامی کے ایک کاغذ پر یہ لکھا تھا ’’ سب باتیں منظور ہیں با ستثنائے شرکتِ مسلم لیگ‘‘ ..... بہرحال مولانا ابوالکلام آزاد موجودہ ہندوستان کے لیے سیاسی سورج ہیں اور سیاسی چاند ہیں ۔ ان کو سیاسی چراغ بھی کہا جا سکتا تھا ، اگر دوسرے سیاسی چراغوں کو روشن کر سکتے ، جس کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔ ‘‘ (رہنمایانِ ملک و قوم : مولان ابوالکلام آزاد، ص۱۷۲، ۱۷۳، ۱۷۴)
بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر جناح کا خاکہ بھی قارئین کی نذر کر دیا جائے کہ آزاد و جناح کی تقابلی تصویر جو خواجہ حسن نظامی نے کھینچی ہے شاید کسی نگاہ میں جچ جائے:
’’ان کی سیاسی سمجھ مسلمان قوم میں سب سے زیادہ ہے ۔ ان کے ہم نام محمد علی مرحوم اس گہری بات کو جانتے تھے اس لیے اپنے دور میں محمد علی جناح کے میدان میں نمایاں ہونے کی مزاحمت کرتے تھے۔ مگر ان کے جوہرنے اِن کو ان کی زندگی ہی میں نمایاں کر دیا تھا اور اِن کے چودہ نکات مرحوم نے بھی قبول کر لیے تھے .... مولانا ابوالکلام انگریزی جانتے ہوتے تو مسٹر جناح ہوتے اور مسٹر جناح عربی اردو جانتے ہوتے تو مولانا ابوالکلام ہوتے۔‘‘(رہنمایانِ ملک و قوم : مسٹر جناح کی صورت و سیرت، ص۱۷۸، ۱۷۹)
مولانا محمد علی جوہر کے متعلق خواجہ صاحب کے ارشاد نے ہمیں اکسایا ہے کہ یہیں اسی مقام پر ان کے خاکے کی ایک جھلک دکھائی جائے:
’’ قیامت تک زندہ رہیں گے مگر قیامت کے بوریے نہیں سمیٹیں گے..... وہ بڑے وضع دار ہیں۔ جس سے جو برتاؤ شروع ہو جائے تو آخر دم تک نباہنے کا خیال رکھتے ہیں ااور یہی جوہر اصلی مشرقی میں ہونا چاہیے ‘‘ (رہنمایانِ ملک و قوم : مولانا محمد علی ، ص۱۸۷)
اصلی مشرقی کہہ کر شاید علامہ عنایت اللہ مشرقی پر چوٹ کی گئی ہے۔ چوں کہ زیرِ نظر تالیف میں علامہ کا خاکہ نہیں ہے اس لیے اس چوٹ کے زخم پر نمک چھڑکنا یا مرہم لگانا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ لہذا چوٹ قیاس کر لینا ہی کافی ہے۔مولانا محمد علی جوہر کے بھائی مولانا شوکت علی کا خاکہ، جہاں ان کی سادگی کا آئینہ دار ہے وہاں برِ عظیم میں انگریز کے خلاف تحریکِ آزادی میں ان کے سیاسی کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے:
’’ ایک زمانے میں پورے صاحب بہادر تھے اب پورے وحشی مسلمان ہیں ۔ شوکت علی نہ ہوتے تو محمد علی کا کام ادھورا رہتا ۔ مگر بعد کے تجربے سے معلوم ہوا کہ شوکت علی جیسا آدمی مسلمانوں میں پیدا نہ ہوتا تومہاتما گاندھی کی شخصیت بھی ناقص رہ جاتی ...... وہ بولنے میں بونگے اور غیر مدبر معلوم ہوتے ہیں ...... سرسری بات چیت سے آدمی خیال کرتا ہے کہ وہ مہذب و سنجیدہ نہیں ہیں ، لیکن کچھ دیر کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ سنجیدگی کی تہہ میں جو خود پسندی ہوا کرتی ہے اس کو مٹانے کے لیے وہ غیر مہذب باتیں کرتے ہیں ...... انگریزوں میں آج کل قوت پر بھروسہ کرنے والے بہت ہیں ، اپنی ذات و خصلت کی خوبی پر اعتماد کرنے والا کوئی ہوتا تو شوکت علی اس قدر نہ چمکنے پاتے ...... اگرچہ آج کل وہ جیل خانہ میں ہیں مگر ہندوستان کے بچے بچے کو انہوں نے اپنا اسیر بنا رکھا ہے‘‘ (رہنمایانِ ملک و قوم:مولانا شوکت علی، ص۱۸۱، ۱۸۲)
دو مختلف جہتوں میں رواں دواں دو مختلف لفظوں(جیل خانہ ، اسیر) کی معنوی تکرار، سلاست کے ساتھ ادبی شان لیے ہوئے ہے اور اس تاریخی حقیقت کی ترجمانی کر رہی ہے کہ آزادی کی تحاریک میں سرکاری جیلوں کے اسیر، ہمیشہ سے جیل سے باہر کے پورے سماج کو اسیر بنائے رکھتے ہیں۔رہی اس فقرے کی بات کہ ’’انگریزوں میں آج کل قوت پر بھروسہ کرنے والے بہت ہیں ، اپنی ذات و خصلت کی خوبی پر اعتماد کرنے والا کوئی ہوتا تو شوکت علی اس قدر نہ چمکنے پاتے ‘‘، خواجہ صاحب قاری کو گومگو میں مبتلا کر جاتے ہیں ا گرچہ انگریز کوواضح طور پر بری طرح لتاڑتے ہیں لیکن شوکت علی کے ساتھ وہی کچھ کر گئے ہیں جو انہوں نے مولانا احمد سعید کے بارے میں کہا ہے کہ’ کمان ایک طرف کھینچتے ہیں اور تیر دوسری طرف چلاتے ہیں‘۔ کیا خیال ہے کہ خواجہ صاحب کے ترکش سے نکلا ہوا تیر شوکت علی کی ’’اسیری پر قایم ہیروشپ‘‘ کے غبارے سے ہوا نکال نہیں دیتا؟
زیرِ نظر تالیف میں مولانا حسرت موہانی کا خاکہ ، ان کے ایثار، خلوص ، حب الوطنی اور بے لوث کردار کی بھر پور نمائندگی کرتاہے، ملاحظہ کیجیے: 
’’ پستہ قد ، گداز جسم ، گندمی رنگ ، گول چہرہ ، لمبی ڈاڑھی ، آنکھیں بڑی بڑی ، آواز عورتوں کی طرح نازک اور گوش نواز ، جلدی جلدی گھبرا گھبرا کر بولتے ہیں ، تیز چلتے ہیں ، جس شہر میں جاتے ہیں وہاں کے ہر اچھے برے ملکی کام کرنے والے سے ملتے ہیں ۔ صبح سے شام تک سڑکوں ، گلیوں اور عام راستوں پر ان کے پیچھے دوڑتے دوڑتے سی آئی ڈی والے سپاہی پسینہ پسینہ ہو جاتے ہیں ااور دل ہی دل میں ان کو اور اپنے خفیہ محکمہ کو گالیاں دیتے ہیں مگر یہ خدا کا آہنی بندہ ذرا نہیں تھکتا اور پنکھے کی طرح برابر گردش میں رہتا ہے ...... جیل خانہ گئے ، گھر نیلام ہوا، پریس ضبطی میں آیا، چکیاں پیسیں۔ مگر جب رہا ہوکر گھر پہنچے تو پھر وہی گناہ گاری کی باتیں کرنے لگے ، معصوم لوگوں کا دل دکھانے لگے ...... مہاتما گاندھی نے ان کو خبطی کا خطاب دیا ہے اور اس میں کچھ شک بھی نہیں کہ ان کی ملکی محبت کا شوق خبط کی حد تک پہنچ گیا ہے ...... چالاک لیڈر آگے بڑھ گئے اور یہ غرارے دار پاجامہ پہننے والا جوتیاں چٹخاتا پیچھے چلتا رہ گیا ، کیونکہ اس کو خفیہ آدمی میسر نہ تھے جو دلالوں کی طرح اس کو بڑاآدمی بڑا آدمی ہر جگہ کہتے پھرتے ‘‘(رہنمایانِ ملک و قوم:مولانا حسرت موہانی، ص۱۷۹، ۱۸۰، ۱۸۱) 
تعجب ہے کہ اس زمانے میں بھی قایدین ’’خفیہ اداروں‘‘ کے پروردہ تھے، آج کل تو خیر سے خفیہ ہاتھ کی مدد کے بغیر قیادت ہو ہی نہیں سکتی۔ مہاتما گاندھی زمینی حقایق کے مطابق پینترے بدلنے میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے ، شاید اسی لیے مولانا کا آئیڈیل ازم ان کی نظر میں خبط ٹھہرا ہے۔خود گاندھی بھی خبط سے مبرا نہیں تھے لیکن ان کے خبط کی نوعیت بہت مختلف تھی، خواجہ حسن نظامی کی زبان سے ہی سنیے: 
’’ان میں ذہنی اور دماغی تدبر اور دور اندیشی کی بہت کمی ہے مگر یہ عیب ان کے خداداد جوہرِ صداقت و استقلال کی چادر میں چھپا رہتا ہے ......وہ توحید و رسالت کا علی الاعلان اقرار کرتے ہیں مگر ہندو ہونے کے فخر کو آخر تک ہاتھ سے نہیں دیتے ...... گاندھی جی کی جیب عمرو عیار کی زنبیل ہے کہ بڑے بڑے موٹے موٹے آدمی ان کی جیب میں آ جاتے ہیں اور وہ خود بھی چھوٹی سے چھوٹی جیب کے اندر سما جاتے ہیں۔‘‘ (رہنمایانِ ملک و قوم:مہاتما گاندھی ، ص۱۸۴، ۱۸۵)
مطلب یہ ہوا کہ آنجہانی گاندھی اپنے ہندو ہونے کے فخر کے خبط میں ایسے مبتلا تھے کہ دیکھی ان دیکھی اور سنی ان سنی کر دیتے تھے۔ باقی رہی بات ، بڑے بڑے موٹے موٹے آدمیوں اور گاندھی کی جیب کی، تو تاریخی قراین بتاتے ہیں کہ صرف مولانا شوکت علی مرحوم ہی ماشاء اللہ اتنے لحیم شحیم تھے کہ گاندھی کی جیب چوہے کے بِل کا منظر پیش کرتی ہو گی ، تبھی تو موصوف چھوٹی سے چھوٹی جیب میں سما جاتے ہوں گے۔ اب ذرا ذایقہ بدلنے کے لیے چند ایسے خاکوں پر نظر ڈالتے ہیں جن میں خواجہ حسن نظامی نیم رضامندی سے کمان گلے میں لٹکا کر قلم سنبھالے دکھائی دیتے ہیں: 
’’ان کے ڈراموں سے ان کے ذوق کی بلندی ہفت افلاک تک پہنچی ہوئی نظر آتی ہے۔ آنے والے ہندوستانی ان کو شیکسپیر سے زیادہ اونچے درجے پر بٹھائیں گے لیکن وہ ہندو ہوں گے کیوں کہ مسلمان یہی سوچتے رہ جائیں گے کہ ڈرامہ نویس کی عزت ااور قدر کرنی جایز بھی ہے یا نہیں ؟‘‘ (آغا حشر، ص۱۱۹)
’’اردو کے حوصلہ مند اور بہادر سپاہی ، ان کی تحریر ہندی روڑوں کے لیے سڑک دبانے کا بیلن ہے ...... ان کے کریکٹر کی ٹھیک تعریف یہ ہے کہ یہ گنبد کی آواز ہیں کہ جیسی کہو ویسی سنو‘‘ (مدیرانِ اخبارات و رسایل :سید بقائی، ص۱۲۴)
’’ ان کے عقاید وہابی ہیں مگر انہوں نے لقب صوفی رکھا ہے‘‘ (مدیرانِ اخبارات و رسایل :مولانا سالک، ص۱۲۴)
’’قادر الکلام ہیں مگر قادرالمزاج نہیں ہیں ۔ بھک سے اڑ جانے والی ایک قسم کی انسانی بارود ہیں ...... قادیانی ہوتے تو اپنی بے نظیر اور دل و دماغ پر نقش ہو جانے والی نظموں کو وحی اور الہام کہتے ۔ ہندو ہوتے تو کسی بنیہ کو کنجوس نہ رہنے دیتے ، انگریز ہوتے تو برٹش قوم کا شاہ خرچی سے دیوالا نکال دیتے ‘‘(مدیرانِ اخبارات و رسایل :مولانا ظفر علی خاں، ص۱۲۵)
’’ والیانِ ریاست کی طرح زیادہ سوتے ہیں ۔ ہندوؤں کی طرح کفایت شعار نہیں ہیں‘‘ (مدیرانِ اخبارات و رسایل :مفتی شوکت علی فہمی، ص۱۲۶)
’’باوجود اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے مزاج میں بچوں کا سا بھولپن ہے‘‘(لقمان الملک حکیم نابینا صاحب، ص۱۳۴)
’’ کانوں سے ذرا کم سنتے ہیں اس لیے جب کسی سے بات کرتے ہیں تو اس کو بہرا سمجھ کر آواز سے بولتے ہیں‘‘ (ڈاکٹر سید سجاد، ڈینٹسٹ، ص۱۳۴)
’’ ان کے دل کی بات اور روپیہ جمع کرنے کے مقصد کو سوائے ان کے دوسرا دنیا میں کوئی بھی نہیں جانتا ‘‘ (ریاست حیدر آباد دکن: حضور نظام، ص۱۴۹)
’’ اردو اور انگریزی کے بہت ماہر مضمون نگار ہیں ۔ اگر وزیرِ اعظم نہ ہوتے تو کسی سرکار پسند اخبار کے ایڈیٹر ہوتے‘‘ (نواب قاضی سر عزیزالدین احمد، ص۱۵۷)
’’ حدِ شرع کے اندر رہ کر عقد کرنا امرائے قدیم کی ایک وضع تھی ، یہ بھی اسی پر عمل کرتے ہیں اور ستر برس کی عمر میں بھی ان کے عقد کی خبریں سنی جاتی ہیں ‘‘ (نواب سر امیرالدین احمد، ص۱۵۹)
’’ مچھلی کی طرح ان کے خیالات کبھی دریا کی تہہ میں جاتے ہیں اور کبھی دریا کی سطح پر اچھلنے لگتے ہیں ۔ اگر یہ اسمبلی میں نہ ہوں تو ایسا معلوم ہو کہ اسمبلی ہال جگر کے بیماروں کا اسپتال ہے کیوں کہ جگر کے مریض ہمیشہ بد مزاج اور ناک بھوں چڑھائے رہتے ہیں اور ان کے اندر خوش طبعی کے جذبات بہت ہی کم پائے جاتے ہیں ‘‘ (ممبرانِ اسمبلی و کونسل آف سٹیٹ : کبیرالدین احمد، ص۱۶۴)
’’ ہندو ہوتے تو خلوص کے دیوتا اور دھرماتما مانے جاتے، انگریز ہوتے تب بھی سیاسی میدان میں وعدہ پورا کرتے ، کانگرسی ہوتے تو اعتدال پسندوں کے ساتھ رہتے ، صوفی ہوتے تب بھی قوالی نہ سنتے ‘‘ (ممبرانِ اسمبلی و کونسل آف سٹیٹ : حاجی وجیہ الدین، ص۱۶۶)
’’ انگریز سرکار کے عشق میں قیس عامری ہیں ۔ فرق یہ ہے کہ قیس کو عشق بے نتیجہ نے لاغر کر دیا تھا اور یہ نتیجہ خیز عشق کے سبب فربہ ہوگئے ہیں۔ قدرت نے ان کو جسم عرض و طول مربع دیا ہے اور جس رخ سے دیکھو مساوی نظر آتا ہے ۔ ایسے ہی دماغ اور دل میں یکسانیت ہے ...... اردو کو انگریزی لباس پہنا کر انگریزی زبان بنا دینا ان کو خوب آتا ہے ۔ مگر میری تحریر کا انگریزی ترجمہ یہ بھی نہیں کرسکتے ، اس لیے جو چاہتا ہوں لکھ ڈالتا ہوں اور جو دل میں آتا ہے کہہ دیتا ہوں ‘‘ (گورنمنٹ کے ستون : سید جعفری، ص۱۶۷) 
’’ ہنستے کم ہیں ، طبی ضرورت سے شاید کبھی مسکرا لیتے ہوں گے ......سنجیدگی اور کم سخنی کے بازوؤں پر ہاتھ کر زندگی کا راستہ چلتے ہیں ‘‘ (رہنمایانِ ملک و قوم :ڈاکٹر انصاری ، ص۱۷۴، ص۱۷۵)
’’ ان کا کمال یہ ہے کہ کسی قوم کے خلاف یا کسی مضمون کے خلاف تقریر کرتے ہیں تو حریف کسی لفظ کی گرفت نہیں کر سکتا اور یہ سب کچھ کہہ جاتے ہیں اور حریف مبہوت رہ جاتا ہے ...... وہ اقوام کی دماغی تبدیلی کا گر سب سے زیادہ جانتے ہیں اور چند جملوں میں لاکھوں ، کروڑوں آدمیوں کی ذہنیت بدل دیتے ہیں اس لیے مالوی ہندوؤں کے سب سے بڑے آدمی ہیں‘‘ (رہنمایانِ ملک و قوم :مالوی جی، ص۱۸۶)
’ ’نرم چوب ہیں مگر ایسی نرمی نہیں ، جس کو کیڑا لگ جائے ۔ شریفانہ وضع داری کی ملائمت ہے ۔ سب کو خوش کر سکتے ہیں اور کمال یہ ہے کہ سب سے خوش رہ بھی سکتے ہیں ‘‘ (رہنمایانِ ملک و قوم:ڈاکٹر سید محمود، ص۱۸۸)
’’ پہلے ڈاڑھی منڈواتے تھے ، پھر ڈاڑھی بڑھائی ، اور میں نے کئی سال تک ان کی ڈاڑھی کی سال گرہ کے جلسے کیے ، جس میں دہلی کے عماید اور ممبرانِ اسمبلی بھی نہایت لطف و دل چسپی کے ساتھ شریک ہوتے تھے ‘‘ (خان نعمت اللہ خان، ص ۱۸۹)
خواجہ صاحب نے سکندر حیات خان کو شرارتی سیلوٹ کیا ہے ، ذرا دیکھیے: 
’’ پنجاب کے قایم مقام گورنر رہ چکے ہیں ۔ ان کے دادا فوجی افسر تھے ۔ ایک انگریز کی جاں نثاری کے صلے میں اس خاندان کو عروج ہوا ......میں انگریز ہوتا تو ان کو وایسرائے بنادیتا اور اپنی سوسایٹی سے کہتا کہ دیکھو میری حکمت کہ نام ایک ہندوستانی کا ہے مگر کام میری قوم کا ہو رہا ہے ‘‘ (ممبرانِ اسمبلی و کونسل آف سٹیٹ :سر سکندر حیات خاں، ص۱۶۰)
پنجاب کے سر فضل حسین برطانوی ہندوستان کے مرکز اور پنجاب میں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ غالباََ مسلمانوں کے لیے ان کی گراں قدر خدمات نے خواجہ صاحب کو خاکہ کشی کی ترغیب دی ہے: 
’’ ہندوؤں میں متعصب مسلمان مشہور ہیں ، لیکن عقل کا کمال تعصب سے اونچا رہتا ہے اس واسطے یہ ہر قسم کے تعصب سے اعلیٰ و برتر ہیں ، البتہ بعض اوقات دل ہی دل میں اپنی عقل پر تعلّی کرنے لگتے ہیں۔‘‘ (ممبرانِ اسمبلی و کونسل آف سٹیٹ : میاں سر فضل حسین، ص۱۶۴)
سر فضل حسین ، ہندوؤں میں متعصب کیوں مشہور تھے اس کی ایک وجہ ہم بیان کیے دیتے ہیں۔ بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں مانٹیگو چیمسفورڈ آئینی اصلاحات کی سکیم نافذ کی گئی۔ حال آں کہ یہ مسلمانوں کے حقوق ملحوظ رکھتے ہوئے نہیں بنائی گئی تھی، لیکن اس کے تحت مسلمانوں کو خاطر خواہ فایدہ ہوا۔ اس سکیم کے تحت پنجاب کے پہلے وزیرِ تعلیم سر فضل حسین (۱۹۲۱۔۱۹۲۶) نے انتظامی اقدامات کے ذریعے سرکاری تعلیمی اداروں میں مسلمان طلبا کے ۴۰222 داخلوں کو یقینی بنادیا۔ اس وقت پنجاب کی مسلم آبادی ۵۵222 تھی، اس لحاظ سے یہ ایک معتدل اور قدرے معذرت خواہانہ قدم تھا ، مگر اس پر بھی ہندوؤں نے ہر مرحلے پر اسے سختی سے چیلنج کیا۔خیال رہے کہ اس وقت پنجاب یونی ورسٹی اور اس سے ملحق ادارے غیر مسلم کنٹرول میں تھے اور انہیں اکثر غیر مسلم مفادات کے لیے ہی استعمال کیا جاتا تھا۔ یہاں یہ بیان کرنا بھی بر محل ہو گا کہ اس وقت کے برطانوی ہندوستان میں صرف پنجاب ہی واحد مسلم اکثریتی صوبہ تھا ۔ بنگال میں مسلمان بمشکل ہندوؤں کے برابر تھے۔ ۱۹۰۵ کی تقسیم بنگال کے تحت مشرقی بنگال اور آسام پر مشتمل مسلم اکثریتی صوبہ وجود میں آیا تو ہندوؤں نے اس پر خوب واویلا کیا اور ۱۹۱۱ میں تقسیم کی تنسیخ کرا کے ہی دم لیا۔ 
ڈاکٹر ذاکر حسین مرحوم کو خواجہ حسن نظامی ایوارڈ دیا جانا چاہیے، اگرچہ کافی تاخیر ہوگئی ہے لیکن بعد از مرگ، دیر آید درست آید کے مصداق ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ، لیکن قبل از قیامت کی شرط بھی ضروری ہے۔ قارئین حیران ہو رہے ہوں گے کہ ہم اتنی شدومد کے ساتھ ڈاکٹر ذاکر مرحوم کو ایوارڈ دینے کی وکالت کیوں کر رہے ہیں، لیجیے خود ہی فیصلہ کیجیے: 
’’ ڈاکٹر ذاکر حسین دو صدی پہلے پیدا ہو جاتے تو ہماری سلطنت غارت نہ ہوتی ۔ وہ سلطنت قایم کرنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے ہیں بلکہ ہندوستانیوں کو انسان بنانے کے لیے انہیں پیدا کیا گیا ہے ۔ اگر عمر کا منتقل کرنا ممکن ہوتا تو میں اپنی زندگی کے پانچ مہینے ان کو دے سکتا تھا، زیادہ نہیں کیوں کہ میں فضول خرچی کو برا سمجھتا ہوں‘‘ ( ڈاکٹر ذاکر حسین، ص۱۳۵)
حیرت ہوتی ہے کہ خواجہ صاحب غلامی کے دور میں بھی برطانوی پارلیمانی نظام کو اچھی طرح سمجھتے تھے ، جب کہ اچھے اچھوں کو آزادی کے بعد بھی (بلکہ ابھی تک) اس کی الف ب پلّے نہیں پڑی۔مولوی تمیزالدین کیس میں خواجہ صاحب کا درج ذیل خاکہ پیش کیا جاتا تو شاید ’’ماماجج‘‘ درست فیصلہ کر پاتا: 
’’ ان کی حکومت کے اراکین سب کام ان کے نام پر کرتے ہیں اور دنیا کو بے علم سمجھتے ہیں کہ سارا اختیار شہنشاہ جارج کے ہاتھ میں ہے ۔ حال آں کہ سب اختیار اراکینِ حکومت نے آپس میں بانٹ لیے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گھر کے دادا جان ایک بڑے پلنگ پر دری چاندنی بچھائے گاؤ تکیے سے لگے بیٹھے ہیں اور ان کے چاروں طرف ان کے بیٹے پوتے جمع ہیں ۔ ایک کہتا ہے کہ ایک کروڑ کے ہوائی جہاز خرید لو ، بادشاہ سلامت کا ارشاد ہے۔ دوسرا کہتا ہے کہ فلاں قوم کے ہتھیار چھین لو ، بادشاہ سلامت حکم دیتے ہیں ۔ تیسرا کہتا ہے ، حضور جہاں پناہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہندوستان ابھی مکمل آزادی کے قابل نہیں ہوا ہے ۔ 
بادشاہ سلامت سب کی باتیں سنتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ نہ میں نے ایک کروڑ روپے کے ہوائی جہاز خریدنے کے لیے کہا ، نہ میں نے کسی قوم کو ہتھیاروں سے محروم کرنے کا حکم دیا اور نہ میرا یہ خیال ہے کہ ہندوستانی آزادی کے لایق نہیں ہیں! مگر یہ میری اولاد کیسی گستاخ اور دلیر ہے کہ میرے ہی سامنے جھوٹ بولتی ہے ۔ میں تو چاہتا ہوں کہ میری ساری رعایا آزاد ہو ، میری ساری رعایا امن پسند ہو ، میری ساری رعایا عیش میں ہو ، میں کچھ چاہتا ہوں یہ کچھ کہتے ہیں! پھر بھی غنیمت ہے کہ انہوں نے مجھے گاؤ تکیے سے لگا کر بٹھا تو رکھا ہے ‘‘ (شہنشاہ جارج پنجم کا حلیہ، ص۱۴۴) 
جارج پنجم کے اس خاکے میں نہایت لطیف کنائے میں جمہوریت پر چوٹ بھی کی گئی ہے اور بادشاہت کی وضع دار صفات کی عقدہ کشائی بھی۔ ذرا غور کیجیے کہ جب شہنشاہ ہر پہلو سے اپنی ’’رعایا‘‘ کی بہتری کا خواہاں ہے تو پھر آخر رعایا کے نام پر اقتدار سنبھالنے والے رعایا کا جینا کیوں حرام کیے ہوئے ہیں؟۔ یہ سوال آج بھی اتنا ہی جواب طلب ہے جتنا خواجہ مرحوم کے دور میں تھا۔ زیرِ نظر تالیف میں ایک بہت دل چسپ خاکہ ، خواجہ صاحب کی مشاہداتی حس کی بھر پور نمایندگی تو کرتا ہی ہے مگر اس کے ساتھ کسی مکروہ حقیقت کو انتہائی مناسب الفاظ میں ڈھال کر سماجی ضمیر کو کچوکے لگانے کے فن کی نیو بھی رکھتا ہے ، بغور پڑھیے: 
’’ ٹھگنا قد جیسے ورزش کا مگدر ، موٹا بدن ، جیسے ڈنلاپ ٹایر کی اشتہاری تصویر ، رنگ نہ گورا نہ کالا ، نہ گندمی نہ سانولا، نہ پھیکا نہ میٹھا، نہ کڑوا نہ کسیلا، بلکہ کالے سفید تلوں کی ملی ہوئی بھوسی کی رنگت ہے۔ چہرہ سلولائٹ ساخت کے کھولوں سے مشابہ ہے ، نہ گول ہے نہ کتابی۔ دیکھنے میں انسانی صورت ہے مگر فرشتوں کے ہاتھ کی بنی ہوئی نہیں بلکہ شداد نے اپنی بہشت بناتے وقت کسی کمہار سے بنوائی ہو گی۔ آنکھیں مگرمچھ کی طرح چھوٹی چھوٹی، زمین کی طرف جھکی ہوئی ۔ گردن صراحی دار نہیں ہے ، نہ لمبی ہے بلکہ بہت کوتا ہ ہے۔ پیشانی کنجوس کا دل ہے۔ بولنے کا ڈھنگ نہ چینی ہے نہ جاپانی ، ایرانی ہے نہ تورانی۔ جب بولتا ہے تو الفاظ منہ سے اس طرح اچھل اچھل کر، ابل ابل کر، چٹخ چٹخ کرباہر گرتے ہیں جیسے مکئی کے دانے بھاڑ سے بھن بھن کر باہر گرا کرتے ہیں یا جیسے ربڑ کی پچکاری سے جیبی قلم میں روشنائی کے قطرے ٹپکائے جاتے ہیں۔ ازل کے دن جب خندہ پیشانی تقسیم ہو رہی تھی تو یہ ذرا سو گیا تھا اس لیے اس کا منہ ہر وقت غصہ سے سوجا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ اپنی عارضی چند روزہ نوکری کی خاطر سے کبھی مسکرانا چاہتا ہے تو اجالے میں اندھیرا ہو جاتا ہے اور کاینات کی زندہ دلی سہم کر چھپ جاتی ہے۔ چلتا ہے تو مکھنے ہاتھی یا ارنے بھینسے کی طرح جھومتا ہوا چلتا ہے اور فارسی کا یہ مصرع پڑھنا پڑتا ہے کہ
مردم بہ ایں طرز خرا میدانِ تو!
عمر چالیس سال سے زیادہ ہے اور خود اس کے کان میں کہا کرتی ہے کہ 
’’چہل سال عمرِ عزیز ت گزشت ۔ مزاجِ تو از حالِ طفلی نہ گشت‘‘ 
تین ہزار روپے ماہوار کماتا ہے مگر تین پیسے ماہوار کی حیثیت میں دکھائی دیتا ہے۔ آدمی ہے مگر آدمیت سے محروم۔ ہندوستانی ہے لیکن اگر اس کے سارے جسم کو کھرچ ڈالا جائے تو تین ماشے چار رتی ہندوستانیت بھی اندر سے نہ نکلے گی مگر نخوت، تکبر، خود پسندی، بے رحمی، مردم آزاری کے برادے کا ایک انبار پایا جائے گا۔ اس کا نام مسلمانوں کا سا ہے مگر اسلامی نام سے نفرت کرتا ہے اور مسلمانوں کو ستانے اور نقصان پہنچانے میں اس کو مزہ آتا ہے۔ نماز پڑھنے والوں کو مکار، روزہ رکھنے والوں کو احمق، زکوۃ دینے والوں کو فضول خرچ ، حج کرنے والوں کوعقل باختہ تصور کرتا ہے ۔ 
اپنی ساری زندگی میں کبھی کسی مسلمان کو فایدہ پہنچانے کا گناہ نہیں کیا۔ صبح سے شام تک سوچتا رہتا ہے کہ مسلمانوں کو کیوں کر نقصان پہنچائے!‘‘(نئی روشنی کا فرعون: ایک سرکاری آفیسر، ص۱۶۹، ۱۷۰)
خیال رہے زیرِ نظر تالیف میں دہلی کے ایک کمشنر ، دو ڈپٹی کمشنرز اور دو مجسٹریٹس کے خاکے بھی شامل ہیں۔خواجہ صاحب نے ان سبھوں کے اخلاق اور کام میں پختگی کی تعریف کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سرکاری آفیسر کا جو خاکہ ابھی آپ نے ملاحظہ کیا ، کسی بیوروکریٹ کا نہیں بلکہ عام چھوٹے موٹے افسر کا ہے۔ ہمیں خواجہ صاحب کی خوش قسمتی پر رشک آرہا ہے کہ ان کے دور میں کم از کم اعلیٰ سرکاری افسران تو بااخلاق اور عوام کے لیے بے لوث کام کرنے والے تھے ، ان کی بدولت نچلے افسران بھی کچھ نہ کچھ عوامی انداز اپنا لیتے ہوں گے۔ جب کہ ہمارے زمانے میں بیورو کریٹس ، ذہنی اعتبار سے اتنے پست ہو چکے ہیں کہ خاکہ پڑھ کر سب سے پہلے انہی کی طرف دھیان جاتا ہے۔ چلیں! یہ تو ہو گیا آج کے بیوروکریٹ کا خاکہ، سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج کے عام سرکاری افسر کا خاکہ کس کا قلم کھینچے گا؟
خواجہ صاحب نے ایک مثالی جوڑے کا خاکہ بھی پیش کیا ہے۔ اس جوڑے کی داخلی دنیا کیسی تھی، اس سے ہمیں زیادہ تعرض نہیں کرنا چاہیے، ویسے خواجہ مرحوم نے خانگی امور کی عمدگی کی بابت بھی دو چار اشارے کیے ہیں ، لیکن اس جوڑے کا جو روپ دنیا کے سامنے تھا ، بلاشبہ قابلِ تعریف اور بے مثال تھا۔ دیکھیے خواجہ نے کتنے دل نشین پیرائے میں خامہ فرسائی کی ہے :
’’بولتے ہیں تو چہرے کے اعصاب کی حرکات میں موسیقی کے پردوں کی جنبش پیدا ہو جاتی ہے اور دل کا مطلب ایک عمدہ شعر کی صورت بن کر ان کے چہرہ پر آ جاتا ہے ...... فرشتوں نے پیرس کی مٹی سے ان کا پتلا بنایا ہو گا اور دہلی اور لکھنو کی خاک سے رنگ آمیزی کی ہو گی‘‘ (رہنمایانِ ملک و قوم : مسٹر آصف علی، ص۱۷۱)
’’ عورت کا غرور ، عورت کی ضد ، عورت کی خود پسندی ، عورت کی نازک مزاجی سے کوسوں دور ہیں ، اس لیے عورتوں کے روپ میں مرد ہیں۔ مرد کی بے وفائی ، مرد کی خود غرضی ، مرد کی حاکمیت ، مرد کی تلون مزاجی نہیں ہے ، اس لیے اصلی اور خالص عورت ہیں ‘‘ (رہنمایانِ ملک و قوم: بیگم آصف علی، ص۱۷۶) 
ہمیں تو ریاست رام پور کے حکم ران کا خاکہ پڑھ کر وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف یاد آگئے جنہیں یار لوگوں نے ’’بلڈ پریشر وزیرِ اعلیٰ‘‘ کا خطاب دے رکھا ہے کہ نہ خود آرام کرتے ہیں اور نہ ہی کام میں ہر وقت جٹے ہوئے معصوم بیورو کریٹس کے آرام کا خیال کرتے ہیں ۔ شاید تاج دارِ رام پور کی روح وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف میں حلول کر گئی ہے ، ملاحظہ کیجیے:
’’ ایک بڑی سڑک بنانے کا حکم دیا کہ آٹھ روز میں تیار ہو جائے! حال آں کہ وہ آٹھ مہینے میں تیار ہونے کے لایق تھی ۔ یہ حکم دیتے ہی انہوں نے محمود و تیمور کی طرح کام کی یلغار شروع کر دی اور آٹھ دن مسلسل کام کراتے رہے اور خود اپنی ذات کا آرام ترک کر دیا ، نتیجہ یہ ہوا کہ سڑک آٹھ روز میں تیار ہو گئی‘‘ (ریاست رام پور: تاج دار رام پور، ص۱۵۳)
لیکن رام پور کے تاج دار ایک لحاظ سے ہمارے وزیرِ اعلیٰ پر کافی بھاری ہیں ۔ ظاہر ہے اتنا مستعد بندہ جسمانی اعتبار سے بھاری نہیں ہو سکتا ، اس لیے وہ کم از کم وزن میں تو بھاری نہیں ہیں ، وہ بھاری ہیں تو صرف اور صرف اپنی صفتِ مردم شناسی میں۔ ان کے مقرر کردہ پولیٹیکل منسٹر کا خاکہ کافی متاثر کن ہے ۔ ایک دو سطریں نمونے کے لیے حاضر ہیں : 
’’ دنیا میں جو دماغی اور ذہنی تبدیلیاں ہو رہی ہیں ان کو اس طرح سمجھتے ہیں یا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں گویا قدرت نے ان کو اسی کام کے لیے بنایا ہے ‘‘ (انتظامیہ رام پور: زیدی صاحب، ص۱۵۴)
گویا بیسیویں صدی کے پہلے نصف میں دنیا کی سطح پر جو تبدیلیاں ہو رہی تھیں موصوف کی ان پر گہری نظر تھی ، حال آں کہ اس دور کی دنیا گلوبل ولیج بننے سے کوسوں دور تھی ، اس لیے گہری کے بجائے سرسری نظر سے بھی کام چل سکتا تھا۔ جب کہ ہمارے وزیرِ اعلیٰ کی ٹیم اکیسویں صدی کے پہلے عشرے کے تقریباََ اختتام پر ، گلوبل ولیج کو بیسویں صدی کے آغاز کی دنیا تسلیم کیے ہوئے ہے۔کاش! زیدی صاحب کی روح بھی کسی ’’بٹ‘‘ میں حلول کر جاتی۔ 
برِ عظیم کی مسلم ریاستوں کے زوال میں مسلم حکم رانوں کے لچھن کس حد تک دخیل تھے ، اس کی ایک جھلک خواجہ حسن نظامی نے ریاست مانگرول کے نواب جہانگیر میاں کے توصیفی خاکے میں جملہ معترضہ کے طور پر پیش کی ہے:
’’ان کی ریاست جونا گڑھ کے برابر ہوتی تو ہندوستان کے ہر صوبے میں ایک قومی یونی ورسٹی اپنے خرچ سے بنا دیتے اور جونا گڑھ کی طرح کتوں میں روپیہ برباد نہ کرتے‘‘ (ریاست مانگرول: نواب صاحب مانگرول، ص۱۵۶)
اب ہم حصہ سوم کے خاکوں کاجایزہ لیتے ہیں جنہیں ’تصویرِ خصایل: ایک نفسیاتی مطالعہ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ انگریز وں کو خواجہ مرحوم نے قریب سے دیکھا تھا اس لیے ان کا خاصا دل چسپ اور مبنی بر حقیقت خاکہ سپردِ قلم کیا ہے : 
’’ وہ دبتا ہے تو چیونٹی بن کر کاٹتا ہے، دباؤ سے نکلتا ہے تو بھی ہاتھی بن کر سونڈ ہلاتا ہے ...... اس کو جاہل اور بے عقل آدمیوں سے ایسا کام لینا آتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے ...... تجارتی مال دکانوں پر سجانے اور ان کے پارسلوں کو عمدہ بنا کر بیچنے میں کمال حاصل ہے‘‘(قومی خصایل: انگریز کے خصایل، ص۱۹۵)
خواجہ صاحب نے یہ جو فرمایا ہے کہ ’’اس کو جاہل اور بے عقل آدمیوں سے ایسا کام لینا آتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے‘‘، ہمارے لیے حیرت انگیز نہیں ہے ۔ کیوں کہ ہم اس آفاقی سچ سے اچھی طرح واقف ہیں کہ ہر انسان کے اندر’عزتِ نفس‘ نامی ایک میٹر لازماََ لگا ہوتا ہے چاہے وہ جاہل ہو یا عالم۔ اس لیے جس انسان سے کام لینا مقصود ہو ،اگر اس کی عزتِ نفس کو مسلسل ملحوظ رکھا جائے تو ایسا واقعہ استثنائی ہو گا کہ انسان بھر پور لگن ، دل جمعی اور دیانت داری سے کام نہ کرے۔ خواجہ صاحب کی حیرت بھی بجا ہے کیوں کہ مسلم سوسائٹی میں ، چاہے وہ ان کے زمانے کی ہو یا ہمارے عہد کی، سرے سے عزتِ نفس کے وجود سے ہی انکار کیا جاتا ہے چہ جائے کہ اس کا احترام کیا جائے۔اب ذرا ہندو کے خصایل دیکھ لیجیے: 
’’روپے کے معاملے میں بڑا ہوشیار ، پتھر میں جونک لگانے والا، سود لینے میں بے رحم اور ہر سچائی کو چھوڑ سکنے والا ہے ...... ہندو کو کیمیا آتی ہے مگر اس کیمیا کے شوق سے بھاگتا ہے جہاں کچھ خرچ کرنا پڑے‘‘(قومی خصایل: ہندو کے خصایل، ص۱۹۶) 
مسلمان کے خصایل سپردِ قلم کرتے ہوئے خواجہ صاحب کا قلم ڈگمگایا نہیں ، دیکھیے ذرا:
’’لمبی ڈاڑھی، مونچھ کتری ہوئی اور آج کل ڈاڑھی منڈوائے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ پہلے ہندوستان کا حاکم تھا اب انگریزوں اور ہندوؤں سے حکومت مانگا کرتا ہے اور قدیمی ہمت کو بھول گیا ہے۔ مذہب کا دیوانہ ہے ۔ فرہاد سے زیادہ عقیدے کو شیریں سمجھتا ہے ۔ مذہب کی معمولی بات پر جان دے ڈالتا ہے ۔ بڑا بھولا ہے ، ملائی کی رکابی چرا کر لے لو اور اس کے بدلے دھنکی ہوئی روئی رکھ دو مگر ذرا تعریف کر لو تو روئی کو ملائی تسلیم کرکے روکھی روٹی اس کو لگا کر کھا لیتا ہے ’’چکھ ڈال مال دھن کو ، کوڑی نہ رکھ کفن کو‘‘ اس کا مقولہ بھی ہے اور اسی پر اس کا عمل بھی ہے ایک روپے کی آمدنی ہو تو ایک سو روپے خرچ کرنا پڑتا ہے ۔ عورتوں اور سود خواروں سے تعلق پیدا کرنا اس کی عادت ہو گئی ہے ۔ ...... سیاسی عقل کم زور ہے ۔ تاج و تخت لینے کی بات ہو تو مسجد کے سامنے نفیری بند کرانے کو اپنے لیے کافی سمجھ لیتا ہے اور تاج کی پرواہ نہیں کرتا ۔ دنیا میں سب سے بڑا فضول خرچ مگر سب سے بڑا شجاع ہے ۔ آج کل اس کو غصہ جلدی آ جاتا ہے اور غصہ پی جانے کا قرآنی حکم یاد نہیں کرتا ۔ اس کو مولوی اور سیاسی لیڈر بہت جلدی گرفتار کر سکتے ہیں اس لیے چالاک لوگ مذہب کا نام لے کر اس کو احمق بناتے رہتے ہیں ‘‘ (قومی خصایل : مسلمان کے خصایل ، ص۱۹۶، ۱۹۷) 
خواجہ صاحب کو انگریز پر حیرت تھی لیکن ہمیں مسلمان پر حیرت ہے کہ متلون اشتعالی نفسیات کا مظاہرہ کرنے میں اتنا زیادہ’’ مستقل مزاج‘‘ واقع ہوا ہے کہ استقلال کو اس پر رشک آتا ہے(اگر استقلال مونث ہوتا تو رشک کے بجائے حسد کرتا)۔ کئی عشروں کے بعدبھی اور زمینی حقایق میں انقلابی تبدیلی کے باوجود بھی مسلمان کے خصایل میں بہتری رونما کیوں نہیں ہوئی ، اس کا جواب خواجہ مرحوم کے اسی خاکے میں مل جاتا ہے کہ ’’ اس کو مولوی اور سیاسی لیڈر بہت جلدی گرفتار کر سکتے ہیں اس لیے چالاک لوگ مذہب کا نام لے کر اس کو احمق بناتے رہتے ہیں‘‘ ، مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ مسلمان کی راہنمائی کر کے صورتِ حال کو بہتر کر سکتے ہیں درحقیقت وہی لوگ اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ کی خاطر اسے ذہنی پستی میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں۔ 
جب سکھوں کی بات ہو اور کوئی لطیفہ پیش نہ کیا جائے تو اسے بھی لطیفہ ہی سمجھا جاتا ہے ۔ خواجہ صاحب نہایت لطافت سے ’سکھ کے خصایل ‘ میں خاکے کے تقاضے نبھاگئے ہیں:
’’ جسم مضبوط ، دل قوی ، مزاج کا ضدی ، بات کا پورا ، اس کو جس پہلو سے الٹو ہر رخ سے سکھ نظر آتا ہے ...... اس کی عقل جان بل کی طرح ذرا موٹی ہے مگر اس کی جرات کو دیکھ کو سب اس کی عقل کو نازک اندام کہنے لگتے ہیں‘‘ (قومی خصایل : سکھ کے خصایل ،ص ۱۹۷)
پنجاب کے دریاؤں سے اٹھتی ، اس کی زمین سے وابستہ ’’پنجابی‘‘ کی تعریف و تنقیص ملاحظہ کیجیے:
’’پانچ دریاؤں کی زمین میں رہنے کے سبب اس کا خیال بھی پانی کی طرح پتلا ہو جاتا ہے جس میں نئی بات اور نئے عقیدے کا رنگ فوراََ مل جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو نئی تحریکیں ملک میں پیدا ہوتی ہیں ان کو سب سے زیادہ پنجاب میں مقبولیت ہوتی ہے ۔ پنجابی کی محنت و جفا کشی نے اس کو بنگالی کی ذہانت پر غالب کر دیا ہے ۔ وہ دنیا کے ہر ملک اور ہندوستان کے ہر مقام میں موجود ہے اور ہر کام میں اس کا دخل ہے ۔ مگر دریا کی طرح اس کی خصلت میں اتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے‘‘ (وطنی خصایل : پنجاب والہ کے خصایل، ص۱۹۸، ۱۹۹) 
یو پی کے لوگوں کے خصایل بھی خواجہ صاحب نے خوب پیش کیے ہیں:
’’نازک اندام ، نازک خرام، عقل کا پتلا، کام چور، محنت کوخلافِ انسانیت سمجھنے والا۔ سازش میں کامل، ظاہرداری کا بادشاہ، ذکاوت و ذہانت کا خزانے دار، بناؤ سنگار کا شوقین، بول چال کی نفاست کا شیدا۔ پنجابیوں کی جفاکشی کو آدمیت کے خلاف سمجھنے والا۔ قدامت کی خوبیوں کا گرویدہ۔ تقریر و تحریر میں اعجاز دکھانے والا، مگر پنجابی کی طرح تحریروں کا انبار نہیں لگا سکتا‘‘ (وطنی خصایل : یوپی والہ کے خصایل، ص ۱۹۹)
سرکاری افسر کے خاکے کی طرز کی ایک خاصے کی چیز ماڈرن معشوق کے خصایل ہیں، ملاحظہ کیجیے خواجہ کے طرح دار قلم نے انہیں کیسے صفحہ قرطاس پر منتقل کیا ہے:
’’پہلے سرو کی طرح لمبا، کھجور کی ٹہنی کی مثل دبلا ، گیسو سانپ ، ماتھا چاند ، رخسار سیب ، ٹھوڑی کنواں ، ہونٹ یاقوت اور لعل ، دانت موتی ، گردن صراحی ، چھتیاں سنگ خارا ، کمر غائب ، بھویں کمان ، پلکیں برچھیاں ، آنکھیں شراب کا جام، نظریں تیر تلوارخنجر تھیں اور شاعر ان تشبیہات کو مختلف طریقوں سے بیان کرتے تھے ، مگر آج کل کے ماڈرن معشوق کا حلیہ اور اس کی تشبیہات یہ ہیں ؛
قد ایسا جیسا اخبار کا کالم ، بال ایسے جیسے تن خواہوں کی تخفیف ، پیشانی ایسی جیسے وہائٹ پیپر ، بھویں ایسی جیسے اسمبلی ہال ، پلکیں لکھنے کا باریک نب ، آنکھیں ایکشا نمبر ون کے ننھے ننھے دو گلاس ، نگاہیں کنزرویٹو گورنمنٹ کی پالیسی ، رخسار بالشویک یا سرحدی سرخ پوش ، تھوڑی برٹش ڈپلومیسی ، ہونٹ انگریزی کھانے کی لال جیلی ، دانت کانگرسی زبان کا جیل خانہ ، گردن جودھ پوری برجس ، چھاتیاں پنیر کی چکتیاں ، کمر ہندوستان کا اتفاق ، بالوں کی کتر شامیانے کی جھالر ، بالوں کا تیل چھچھوندر کے آنسو ، چہرے کا پوڈر ملکی ہم دردی ۔ ایسا نازک جیسے خطاب پرست کا دل ، ایسا ضدی جیسے پولیس کا سپاہی ، ایسا بے وفا جیسے دیسی لیڈر اور ایسا ہرجائی جیسے تمباکو اور ایسا منہ چڑھا جیسے چائے کی پیالی ۔ چلتا ہے تو سگریٹ کے دھوئیں کی طرح بل کھاتا ہوا ، دیکھتا ہے تو خورد بین بن جاتا ہے ، بولتا ہے تو پیانو معلوم ہوتا ہے ۔ وہ پہلے درخت تھا جانور تھا اور ایک ڈراؤنا ہوّا تھا ۔ اب آدمی تو بن گیا ہے مگر کچھ گورا ہے ، کچھ کالا ہے ، کچھ کچا ہے ، کچھ پکا ہے ۔ 
پہلے فرہاد ، مجنوں اور رانجھا اس کے عاشق تھے اور وہ شیریں ، لیلی ، ہیر کے نام سے پکارا جاتا تھا اور اب سب عورت مرد معشوق بن گئے ہیں ۔ کیوں کہ ہر شخص مخاطب کو چاہے عورت ہو یا مرد ، ڈیر(پیارا ۔پیاری) کہتا اور لکھتا ہے ۔ گویا معشوقیت میں بھی جمہوریت ہو گئی ہے ۔ 
پہلے جوانی میں یاد آتا تھا ، اب طبی کمپنی دہلی کے فاسفورس کے تیل کی طرح بچپن اور بڑھاپے میں کام آتا ہے ، پہلے رقیب ہی پر مہربان تھا ، شاعر کو بہت ستاتا تھا ۔ اب بہت ملن سار ہو گیا ہے ، اچھوت ذاتوں کے آغوش میں بھی چلا جاتا ہے ، پہلے دل لیتا تھا اب روپیہ لیتا ہے ۔ پہلے گلیوں میں رہتا تھا اب کوٹھیوں اور بنگلوں میں رہتا ہے ۔ پہلے کافر تھااب عیسائی ہو گیا ہے ۔ پہلے بت تھا بولتا نہ تھا اب باتونی ہو گیا ہے ۔ 
نئی روشنی کا یہ معشوق مہنگا نہیں ہے ارزاں ہے ، ہر جگہ مل جاتا ہے۔‘‘ (طبقاتی خصایل :ماڈرن معشوق کے خصایل : ص۲۰۱، ۲۰۲) 
’’ڈاکٹر کے خصایل‘‘ میں خواجہ صاحب نے ضمنی طور پر بعض ایسی باتیں کہی ہیں جن کی عام طور پر اس قسم کی انشا پردازی میں توقع نہیں کی جاتی۔ذرا دیکھیے کہ درآمد و برآمد میں توازن اور زرِ مبادلہ کے ذخایر کی اہمیت سے خواجہ حسن نظامی نہ صرف واقف ہیں بلکہ موقع پا کر مطلب کی بات بھی کہہ گئے ہیں: 
’’ڈاکٹر پڑھتا ہے تو ایسی محنت سے کہ اس کی آنکھ اور اس کا دماغ اور اس کا دل اور اس کا معدہ بیمار ہو جاتا ہے اور پڑھ کر فارغ ہوتا ہے تو ہر مرض کی دوا بن جاتا ہے ...... ڈاکٹر غریب و مفلس ہندوستان میں بہت مہنگا معالج ہے اور اس کی وجہ سے ہر سال ۹۵ کروڑ روپے کی دوائیں اور آلات غیر ملک سے آکر اس ملک میں بِک جاتے ہیں اور ملک کی دولت باہر چلی جاتی ہے ۔ ڈاکٹر لکیر کا فقیر نہیں ہوتا ‘‘ (پیشہ وارانہ خصایل؛ ڈاکٹر کے خصایل، ص۲۰۲)
خواجہ صاحب کا یہ کہنا کہ’’ ڈاکٹر لکیر کا فقیر نہیں ہوتا‘‘، جارج برنارڈ شاہ کے فرمودہ سے بالکل مختلف ہے۔ شاہ نے اپنے مضمون Are Doctors Men of Science? میں ڈاکٹرز کے لکیر کے فقیر ہونے کو ثابت کرکے ان کا کافی تمسخر اڑایا ہے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ خواجہ مرحوم نے ڈاکٹرز کے مقابل حکیموں کی خوب درگت بنائی ہے ،ذرا تصور کیجیے کہ اگر برنارڈ شاہ حکیموں پر قلم اٹھاتا تو کیا قیامت ڈھاتا: 
’’کنوئیں کے اندر رہتا ہے اور کہتا ہے کہ دنیا بس یہی ہے باہر کچھ بھی نہیں ہے۔ حکیم کو اس عقیدے پر اتنا اصرار ہے کہ اپنی طب کی ایک لمبی لکیر کا فقیر بنا بیٹھا رہتا ہے ...... حکیم پیشے کی رقابت میں ہر پیشہ ور سے بڑھا ہوا ہے۔ اپنے نسخے کو اکسیر اور دوسرے کے نسخے کو زہر کہتا رہتا ہے اور ڈاکٹری اس کی اس خصلت سے فایدہ اٹھاتی رہتی ہے ...... حکیم مفید دواؤں کو اپنی اولاد سے بھی مخفی رکھتا ہے اور کسی کو نہیں بتاتا اور قبر میں ساتھ لے جاتا ہے ‘‘ (پیشہ وارانہ خصایل؛ حکیم کے خصایل، ص۲۰۳)
سرجن حضرات کیسے کیسے گل کھلاتے ہیں ، خواجہ صاحب کی زبان سے ہی سنیے:
’’ ہندوستان میں ڈاکٹر اور ڈاکٹری کا جب سے رواج ہے ، بیماریاں بڑھ گئی ہیں ...... یہ بے ضرورت آپریشن یعنی جراحی کرتے ہیں ...... لکھنو کے ایک ڈاکٹر کا حال سنا کہ اس نے ایک مریض کے آپریشن کی فیس تین سو روپے بتائی اور جب معاملہ طے ہو گیا اور مریض کو آپریشن کے کمرے میں میز پر لٹا دیا گیا تو ڈاکٹر نے مریض کے وارثوں سے کہا کہ میں نے فیس کم کہی ، اب مریض کو اچھی طرح دیکھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ آپریشن بہت بڑا ہے اور پانچ سو روپے سے کم اس کی فیس نہ ہو گی ۔ وارثوں نے مجبوراََ پانچ سو روپے منظور کر لیے اور ڈاکٹر نے مریض کو بے ہوش کر کے پیٹ میں شگاف بھی دے دیے ۔ اس کے بعد ڈاکٹر کمرے کے باہر آیا اور وارثوں سے کہا کہ شگاف دینے کے بعد یہ ظاہر ہوا کہ آپریشن بہت پیچیدہ ہے اور اس میں مجھے بہت زیادہ محنت کرنی پڑے گی ورنہ مریض کی جان کا خطرہ ہے ۔ لہذا آپریشن کی فیس ایک ہزار روپے لوں گا ۔ وارثوں نے یہ بات سنی تو اپنے بیمار کی جان بچانے کے لیے بادلِ نخواستہ ہزار روپے فیس منظور کر لی اور تب اس ڈاکٹر نے آپریشن کو مکمل کیا ...... وکالت اور ڈاکٹر اور رنڈی کا پیشہ یہ سب ہندوستان کو مفلس بنانے والے ہیں۔‘‘(پیشہ وارانہ خصایل : آپریشن کے ڈاکٹر، ص۲۰۳، ۲۰۴)
خواجہ صاحب وکیلوں کی خبر لینے سے بھی نہیں چوکے۔ شاید تحریکِ خلافت میں وکلا نے ایسا پرجوش کردار ادا نہ کیا ہو جیسا ہمارے دور میں چیف جسٹس کی بحالی میں ان کا رہا ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو ، وکلا حضرات اپنا خاکہ پڑھ کر بغلیں جھانکتے نظر آئیں گے: 
’’اکثر جرایم پیشہ لوگوں کے لیڈر وکیلوں اور بیرسٹروں کے علاوہ رشوت خور پولیس والے بھی ہوتے ہیں لیکن مجرموں کی لیڈری کا بڑا حصہ وکیلوں ہی کے حصے میں آتا ہے ...... ہندوستان میں جتنے سیاسی لیڈر ہیں وہ سب یا اکثر پہلے وکالت کا پیشہ کرتے تھے ، ان میں سے بعض اس پیشے کی برائیوں کو محسوس کرکے تارک ہو گئے ، جیسے کہ گاندھی جی ہیں اور مالوی جی ہیں اور مسٹر سی آر داس تھے اور نہرو جی تھے ۔ مگر بعض لیڈر ایسے ہیں جو اب تک وکالت کا پیشہ بھی کرتے ہیں اور لیڈری بھی کرتے ہیں ...... ہندوستان میں آدھی تباہی رنڈیوں کے ہاتھوں سے ہو رہی ہے اور آدھی تباہی وکیلوں کے اور مقدمے بازیوں کے ذریعے ہو رہی ہے۔‘‘ (پیشہ وارانہ خصایل : مجرموں کے لیڈر وکیل ، ص۲۰۴، ۲۰۵) 
اب نجانے کون سی بات درست ہے کہ سیاسی لیڈر ، وکالت کے پیشے کی برائیوں کو محسوس کرکے تارک ہوگئے تھے اور ہو جاتے ہیں یا وکالت کی نسبت سیاست میں برائیوں کے زیادہ امکانات کی وجہ سے پورے سیاس ہوگئے تھے اور ہو جاتے ہیں؟ ہم فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں۔البتہ ایک پتے کی بات گوش گزار کریں گے کہ اگر بیرسٹر اعتزاز احسن کے کرداری پنڈولم پر نظر رکھی جائے تو فیصلہ کرنے میں آسانی رہے گی۔
خواجہ مرحوم کی خاکہ نگاری کم نگاہی سے مملو نہیں ہے۔ انہوں نے سستی شہرت کے لیبل سے بچنے کی خاطر ایسے متنازعہ موضوعات پر قلم اٹھانے سے گریز نہیں کیا، جن کی بابت مشرقی معاشرے میں کافی حساسیت پائی جاتی ہے۔ خواجہ حسن نظامی ، ایک ناول نگار کے مانند زندگی کو اس کی پوری جزئیات سمیت دیکھتے اور قبول کرتے ہیں، یہ جزئیات چاہے کتنی ہی مکروہ ہوں۔ اس لیے ان کے خاکے یک رخے ہونے کے بجائے تنوع کے حامل ہیں ۔ آنکھیں بند کرنے سے حقیقت بدل نہیں جاتی، لہذا آنکھیں کھول کر زندگی کے اس روپ کو بھی دیکھیے: 
’’نایکہ ظاہر میں ایک سن رسیدہ ، خاموش اور دنیا سے بے زار عورت معلوم ہوتی ہے ، لیکن وہ شیطان کی خالہ ہے اور گربہ مسکین ہے ۔ دنیا کے تمام سیاسی مدبرین ترازو کے ایک پلڑے میں رکھے جائیں ااور دوسرے پلڑے میں ہندوستان کی کسی نایکہ کو رکھ دیا جائے تب بھی ڈپلومیسی اور فریب کاری اور غلط بیانی میں نایکہ کا پلہ جھک جائے گا ‘‘(کاروبارِ شیطنت : نایکہ کے خصایل ، ص۲۰۶) 
اگر قارئین تصرف کی اجازت دیں تو معروضی حالات کے پیشِ نظر یہاں ’’ ہندوستانی نایکہ‘‘ کے بجائے’’ ہندوستان‘‘ حقیقت کی بہتر ترجمانی کرے گا۔ خیر! یہ ایک جملہ معترضہ تھا۔ خواجہ صاحب نے نایکہ کے کردار کا درست نقشہ کھینچا ہے ...... لیکن اگر اسے نایکہ ہی کا نقشہ تصور کیا جائے ، کیونکہ ذرا غور کرنے سے یہ پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ دنیا کے تمام سیاسی مدبرین، فریب کاری اور غلط بیانی میں ایسا یدطولیٰ رکھتے ہیں کہ خاکہ نگار کی نظروں میں نایکہ کی بدکرداری کے ابلاغ کے لیے اور کوئی کردار جچا ہی نہیں ۔ یہ نکتہ پہلودارضرور ہے لیکن دوراز کار ہرگز نہیں ، کیونکہ عمومی طور پر سیاسی مدبرین کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے جب کہ نایکہ کا کردار دنیا کے ہر سماج میں منفی اور قابلِ مذمت سمجھا جاتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ خواجہ صاحب نے کنائے میں سیاسی مدبرین کی ایک نمایاں ’خصوصیت ‘ کاخوب خاکہ اڑایا ہے ۔ اپنے سماج کے مختلف طبقات کے طور اطوار پر خواجہ صاحب کی اتنی کڑی نظر ہے کہ بعض اوقات گمان ہوتا ہے کہ کہیں وہ خود بھی انہی کا حصہ نہ ہوں۔دیکھیے ذرا ، زبان و بیان کی لطافت کا لبادہ اوڑھا کر سماجی کثافت کا اظہار کتنے حقیقی پیرائے میں کیا گیا ہے : 
’’ یہاں ہر رنڈی کے گھر میں ایک مکھی مار کاغذ رہتا ہے جس پر بہت سی عیاش مکھیاں آ کر بیٹھتی ہیں اور چپک کر رہ جاتی ہیں اور بہت عرصے تک جان کنی میں مبتلا رہ کر مر جاتی ہیں ...... یہ رنڈی ہندوستان کی آدھی تباہی کا باعث ہے ۔ جتنی جائیدادیں سود خواروں کے پاس دولت مندوں کی رہن اور بیع کے ذریعے جاتی ہیں ، ان میں زیادہ حصہ رنڈی بازی کی وجہ سے ہوتا ہے ‘‘ (کاروبارِ شیطنت : رنڈی، ص۲۰۷)
آج بھی غیر جانب دارانہ سروے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آئے گی کہ وطنِ عزیز کی تباہی کے جملہ عناصر میں رنڈی بازی بدرجہ اتم موجود ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہی ایک اداکارہ اور ایک سرمایہ دار کی توں تکار میڈیا میں موضوع سخن بنی رہی ۔خواجہ صاحب کی خاکہ کشی سے قطع نظر، حکیم الامت علامہ اقبال ؒ نے اپنے تصورِ خودی کے تناظر میں اداکاری کو پسندیدگی سے نہیں دیکھا تھا کہ اس سے اداکار پنی خودی کو مسل کر شترِ بے مہار بن جاتا ہے ۔ اب اگر پورا سماج ، شترِ بے مہار کی پیروی پر اتر آئے (خیال رہے اتباع و پیروی ، مقصود بھی ہوتی ہے کہ تفریح سے ہٹ کر ، ہر ڈرامے فلم وغیرہ کا مرکزی خیال عام طور پر اصلاحی ہوتا ہے جس کے ابلاغ کے ذریعے معاشرتی سدھار کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن زیادہ تر ہوتا یہ ہے کہ تماشائی، اصلاحی پیغام کے بجائے کسی فن کار کی اداؤں پر فریفتہ ہو جاتے ہیں ، اس کے اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے بولنے اور لباس پہننے [معاف کیجیے گا، اتارنے تک] کی اندھا دھند تقلید کرتے جاتے ہیں ، اور اصلاحی مقصد دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے )، تو غور کیجیے گا کہ کتنی خودیوں کا خون ہوتا ہے اور وہ بھی کسی بڑی خودی کے بے مہابا فروغ کے باعث نہیں ، بلکہ کسی فن کار کی اپنی خودی کی نفی سے۔ خواجہ حسن نظامی نے اسی اقبالی فکر کو اپنے الفاظ کا جامہ اس طرح پہنایا ہے : 
’’ وہ اور اس جیسی سب خوب صورت ایکٹرسیں جب ڈرامہ نوسیوں کے ان الفاظ کو تماشائیوں کے سامنے بولتی ہیں جن میں بیسوا کی برائیاں ہوتی ہیں تو ان کا دل ہنسا کرتا ہے کیوں کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ان الفاظ سے طوایف بازی کا ذوق کم نہیں ہوتا بلکہ جذبات میں نیکی آمیز گناہ پیدا ہو جاتے ہیں ‘‘ (فن کار : کجن ، ص۲۰۸) 
’’نیکی آمیز گناہ‘‘ پر غور کیجیے کہ اس ترکیب سے ایک نفسیاتی حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ انسان اپنے گناہ کے جواز کے لیے عموماََ ایسا افسانہ گھڑ لیتا ہے جس سے اس کا گناہ ، مزین ہو کر اس کے سامنے آتا ہے اور احساسِ گناہ کا تڑپا دینے والا جذبہ رخصت ہو جاتا ہے ۔ایسا نیکی آمیز گناہ ، حقیقی گناہ سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ اس میں ندامت دلانے والی بے کیف رکھنے والی ضمیری رگ کو تھپک تھپک کر سلا دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقی گناہ میں ضمیر کی خلش انسان کو سکون و چین کی نیند نہیں سونے دیتی اور انسان کروٹیں بدل بدل کر بے حال ہو جاتا ہے ۔ 
’’فن‘‘ کے نام پر ’’فن کار‘‘ کیا کیا گل کھلاتے ہیں ، جھوٹ و غلط بیانی کے کتنے لق و دق صحرا ہر روز عبور کرتے ہیں اور اپنے چاہنے والوں کو سراب میں مبتلا کر کے ان کی جمع پونجی اینٹھ کر نو دولتیوں کا ایک جاہل مگر بااثر طبقہ کیسے کھڑا کرتے ہیں، خواجہ صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں اس کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے :
’’ عمر تم پوچھو تو سولہ ، وہ پوچھیں تو کبھی سولہ سے کم ، کبھی سولہ سے بہت زیادہ ، ااور کبھی ان جان ہو کر کہے اماں کو معلوم ہے کہ میں کتنے برس کی ہوں ...... اس کا اثر فلم دیکھنے والے ہندوستان کے لیے طاعون اور ہیضے اور ملیریا کے جراثیم سے زیادہ متعدی ہے ۔ وہ اسٹیج کی حکم ران ہے جو توپوں ، ہوائی جہازوں اور تباہ کن کشتیوں کے بغیر سینما دیکھنے والوں پرحکومت کرتی ہے ۔ اس کے دیکھنے میں ، اس کے بولنے میں اور اس کے متحرک ہونے میں ایک جادو چھپا رہتا ہے ...... وہ بولتی ہوئی جھاڑو ہے جو غریب ہندوستانیوں کی جیب صاف کر کے دولت کا سارا کوڑا فلم کمپنیوں کی جیب میں پھینکتی رہتی ہے ‘‘ (فن کار : سلوچنا ، ص۲۰۹)
اس تالیف کو پورب اکادمی اسلام آباد نے نہایت خوب صورتی سے پیش کیا ہے ۔ ۲۳۲ صفحات کی اوسط درجے کے کاغذ پر طبع کتاب کی قیمت ۲۲۵روپے بہت زیادہ نہیں ہے۔ آج کل ان پیج کمپوزڈ کتب، پروف ریڈنگ کے اعتبار سے قاری کو مطمئن نہیں کر پا رہی ہیں لیکن اس کتاب میں پروف ریڈنگ کا معیار نہایت اعلیٰ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پورب اکادمی کے ذمہ داران ادبی ذوق رکھنے کے علاوہ جدیدتکنیکی تقاضوں سے بھی کافی آگاہ ہیں، اس لیے پوری کتاب میں ہمزہ کے ترک کے ساتھ ساتھ لفظوں کو ممکن حد تک توڑ کر املا کیا گیا ہے جس پر پورب اکادمی کے ذمہ داران مبارک باد کے مستحق ہیں۔
ویب سائٹ www.poorab.com.pk ، ای میل:info@poorab.com.pk 

اسلامی بینکاری: غلط سوال کا غلط جواب (۲)

محمد زاہد صدیق مغل

۲) مجوزین کے نظریہ بینکاری کا جائزہ 

اس مختصر وضاحت کے بعد ہم درج بالا نظریہ بینکنگ (جو درحقیقت مجوزین اسلامی بینکاری کا نظریہ بینکنگ بھی ہے) کا تنقیدی جائزہ پیش کرتے ہیں۔ بحث کو سادہ اور عام فہم رکھنے کے لیے حد امکان تک علم معاشیات کے ٹیکنکل مواد سے صرف نظر کرنے کی کوشش کی جائے گی، اسی لیے بہت سی دیگر تفصیلات کونظر انداز کرتے ہوئے ہم درج بالا تصور بینکنگ کی دو خامیوں پر اکتفا کریں گے (۱۳)۔ 

۲.۱: نیوکلاسیکل نظریہ بینکنگ کی بنیادی خامیاں 

نیوکلاسیکل مفکرین کا یہ اصول کہ ’بینک کو بچتوں سے زائد قرض فراہم نہیں کرنے چاہیے ‘ ان مفروضوں پر مبنی ہے کہ (۱) چونکہ بینک کے قرضوں کا منبع لوگوں کی بچتیں ہوتی ہیں لہذا بچتوں کے بغیر بینک قرض نہیں دے سکتا، نیز (۲) اس کے قرضے بچتوں کے برابر ہوسکتے ہیں۔ ذیل میں ان دونوں دعووں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ 

بینک کے قرض بچتوں کے برابر ہوسکنے کا دعویٰ

اس بینکاری نظام (جسے fractional reserve banking کہتے ہیں) میں بینکوں کے قرض اس کی بچتوں کے برابر ہونا ایک امر محال ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بینک اپنے قرض لوگوں کی بچتوں سے نہیں دیتا بلکہ وہ ’بلا کسی عوض‘ (out of nothing)قرض دے کر تخلیق زر کا باعث بنتا ہے۔ (اس عمل کی مکمل تفصیل مضمون کے ضمیمے میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے یہاں صرف خلاصہ بیان کیا گیا ہے) محض دوباتوں پر غور کرلینے سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے: 
اولاً ایک شخص مثلاً زید جب بینک میں اپنا اکاؤنٹ کھلواتا ہے تو وہ اپنی رقم (liquidity) خرچ کرنے سے دستبردار نہیں ہوجاتا بلکہ وہ ’کسی بھی وقت ‘ اپنی ’جمع شدہ کل رقم کے برابر‘ قوت خرید استعمال کرسکتا ہے (چاہے یہ استعمال بذریعہ چیک ہو یا Debit کارڈ ) ۔
ثانیاً بینک جب کسی شخص مثلاً ناصر کو نیا قرض جاری کرتا ہے تو وہ زید کے اکاؤنٹ سے کوئی رقم منہا نہیں کرتا بلکہ ناصر کو ’نئی قوت خرید‘ دیتاہے ۔
فرض کریں زید بینک الف میں سو روپے جمع کراتا ہے اور اب وہ کسی بھی وقت سو روپے تک چیک لکھ کر اشیا خرید سکتا ہے- (اس مثال میں سمجھانے کے لیے مجوزین کے اس مفروضے کو درست تسلیم کر لیا گیا ہے کہ بچت قرضوں سے پہلے آرہی ہے جبکہ یہ بھی غلط ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے)۔ اب فرض کریں بینک ناصر کو پچاس روپے کی قوت خرید (liquidity) قرض دیتا ہے۔ اگر تو یہ پچاس روپے زید کے اکاونٹ سے نکال کر دئیے گئے ہوتے تو بینک زید کے اکاؤنٹ کو پچاس سے منہا کردیتا مگر بینک ایسا کبھی نہیں کرتا بلکہ زید اب بھی سو ہی روپے کی قوت خرید کامالک رہتا ہے اور ناصر کو بھی پچاس روپے مل جاتے ہیں۔ ظاہر ہے جو پچاس روپے ناصر کو دئیے گئے ہیں وہ یا تو ناصر کے پاس ہونگے یا پھر بینک کے، اس رقم کا ایک ساتھ دو لوگوں کی ملکیت میں ہونا محال ہے۔ عموماً بینک قرض اکاؤنٹ کی شکل میں دیتا ہے یعنی ہماری مثال میں وہ ناصر کا پچاس روپے کا اکاؤنٹ کھول کر اسے بذریعہ چیک پچاس روپے تک خریداری کی اجازت دے گا۔ یوں مجموعی اکاؤنٹس بڑھ کر ایک سو پچاس روپے ہوجاتے ہیں (یعنی سو زید کے اور پچاس ناصر کے)۔ دیکھئے یہاں بچت تو سو روپے ہی رہی مگر زید و ناصر دونوں کے ڈپازٹس بڑھ کر ایک سو پچاس روپے ہوگئے۔ لہذا جب بینک قرض دیتا ہے تو وہ ایک شخص سے قوت خرید لے کر کسی دوسرے شخص کو نہیں دیتا بلکہ نئے سرے سے قوت خرید تخلیق کرتا ہے اور یہ قوت خرید بینک بلا کسی عوض تخلیق کرتا ہے جس کے بدلے دینے کے لیے اس کے پاس (سوائے ایک ناممکن الوقوع جھوٹے وعدے کے ) کچھ نہیں ہوتا (۱۴)۔ 
ایک اہم غلط فہمی کا ازالہ: مجوزین اسلامی بینکاری کو یہ غلط فہمی لاحق ہے کہ چونکہ وہ قرض کے بجائے اثاثوں پر مبنی بینکنگ کرتے ہیں، لہٰذا اسلامی بینکاری درج بالا تمام برائیوں سے پاک بینکنگ ہے۔ مجوزین کا یہ دعویٰ محض سطح بینی کا نتیجہ ہے۔ اوپر دی گئی مثال میں فرض کریں زید سو روپے بینک میں جمع کرواتا ہے اور اب ناصر اسلامی بینک کے پاس آکر مشین خرید نے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے جس کی قیمت پچاس روپے ہے۔ اسلامی بینک ناصر سے بیع مرابحہ کرکے اسے پچاس روپے کی مشین ساٹھ روپے میں بیچ دیتا ہے۔ فرض کریں یہ مشین صہیب سے خریدی گئی تھی۔ اب صورت حال یہ ہوگی: 
  • زید کے پاس بدستور سو روپے کی قوت خرید موجود ہے، یعنی وہ سور وپے تک اشیا خرید سکتا ہے ۔
  • ناصر اسلامی بینک کا مقروض ہوگیا ۔
  • صہیب پچاس روپے کی قوت خرید کا مالک بن گیا ۔
دیکھئے یہاں پھر وہی صورت حال درپیش ہے جو اوپر بیان کی گئی۔ دونوں میں فرق ’نوعیت مسئلہ اور نتیجے ‘ کا نہیں بلکہ محض کاروائی درج کرنے کے طریقے کا ہے یعنی جو کام عام بینک ایک کاروائی میں کرتے ہیں اسلامی بینک اسے دو اندراجوں میں مکمل کرتے ہیں۔ عام بینکوں میں ناصر بینک کا مقروض ہونے کے ساتھ پچاس روپے کی (فرضی) قوت خرید کا مالک بھی بن جاتا ہے جبکہ اسلامی بینکوں میں یہ قوت خرید ناصر کے بجائے صہیب کو ملتی ہے۔ جس طرح عام بینک یہ قوت خرید کسی عوض کے بغیر محض کمپیوٹر کی یاداشت (memory) میں ایک نمبر تحریر کرکے تخلیق کرتے ہیں، اسی طرح اسلامی بینک بھی یہی کام کرتے ہیں۔ دونوں کا نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے یعنی ’بلا کسی عوض قرض پر مبنی زر کی تخلیق‘ (مزید تفصیل ضمیمے میں)۔ چنانچہ یہ خیال کہ اثاثوں پر مبنی بینکاری سے تخلیق زر کی صورت پیدا نہیں ہوتی، قلت تدبر کا نتیجہ ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ عام بینک بھی جو قرض جاری کرتے ہیں، قرض خواہ ان سے بھی کسی نہ کسی اثاثے کی خرید وفروخت عمل میں لاتے ہی ہیں، یہاں فرق صرف اتنا ہورہا ہے کہ قرض خواہ کے بجائے اسلامی بینک خود اس فرضی قوت خرید سے خریدوفروخت کا معاملہ کرتا ہے اور بس۔ 
یہ غلط فہمی کہ اثاثوں پر مبنی بینکاری سے تخلیق زر کی صورت پیدا نہیں ہوتی اس خیال سے بھی پیدا کی جاتی ہے کہ چونکہ روایتی بینک بیع کے بجائے اپنے گاہک کو اکاؤنٹ (deposit) کی صورت میں قرض دیتے ہیں، اسی وجہ سے یہ جعلی زر تخلیق کرتے ہیں، اس کے مقابلے میں اسلامی بینک چونکہ اثاثے کی خرید کے لیے پوری قیمت ادا کردیتے جسکے نتیجے میں قوت خرید اسلامی بینک کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے لہذا یہ اس برائی سے پاک ہیں۔ درحقیقت یہ دعوی بھی اصل معاملے پر غور نہ کرنے کا ہی کا نتیجہ ہے کیونکہ تخلیق زر کا تعلق اس بات سے نہیں کہ آیا بینک کرنسی کی صورت میں کوئی ادائیگی کرتا ہے یا نہیں بلکہ اس امر سے ہے کہ ادا کردہ رقم پوری یا اس کا ایک حصہ دوبارہ بینکنگ نظام میں واپس آتا ہے یا نہیں۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو معاملہ یوں بنتا ہے کہ اسلامی بینک جو قیمت ادا کرتا ہے وہ دو میں سے کسی ایک حال سے خالی نہیں ہوتی، فرض کریں اسلامی بینک ٹویوٹا کمپنی سے دس لاکھ روپے مالیت کی ایک گاڑی خرید تا ہے: 
۱) اس کی قیمت یاتو چیک کی صورت میں ادا کی جاتی ہے یعنی اسلامی بینک ٹویوٹا کمپنی کو اپنا جاری کردہ دس لاکھ روپے مالیت کا چیک دیتا ہے جسے ٹویوٹا کمپنی اپنے بینک میں بھیج کر رقم منتقل کروالیتی ہے۔ اس صورت میں پوری ادا کردہ رقم دوبارہ بینکنگ نظام میں واپس آجاتی ہے اور یوں بینکاری نظام مجموعی طور پر دس لاکھ روپے کے نئے ڈپازٹ تخلیق کردیتا ہے کیونکہ اس ادائیگی کے بعد بینک اپنے کسی بھی گاہک کی قوت خرید کو منہا کئے بغیر کمپنی کے کھاتے میں دس لاکھ روپے جمع کردیتا ہے ۔
۲) زیادہ تر قیمت کی ادائیگی اوپر بیان کردہ یعنی بینک چیک کی صورت ہی میں ادا کی جاتی ہے، مگر اس کا دوسرا امکان یہ ہے کہ اسلامی بینک یہ قیمت کرنسی کی صورت میں ادا کرے، یعنی اسلامی بینک ٹویوٹا کمپنی سے دس لاکھ روپے مالیت کی گاڑی بعوض کرنسی خرید لیتا ہے۔ اس صورت میں کمپنی یا تو پوری کی پوری رقم یا اس کے محض ایک حصے کو اپنے پاس کیش کی صورت میں رکھ کر بقیہ (فرض کریں آٹھ لاکھ روپے) کو اپنے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرادیتی ہے اور یوں پھر پہلی صورت ہی کی طرح نئے ڈپازٹ تخلیق ہوجاتے ہیں ۔
یہاں یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ کمپنی پوری کی پوری قیمت کو بصورت کیش اپنے پاس رکھ لے۔ اس میں شک نہیں کہ کمپنی کے لیے ایسا کرنا ممکن ہے، مگر یہ طرز عمل بینک کے کسی ایک گاہک کے لیے تو تصور کیا جا سکتا ہے لیکن اگر تمام لوگ اسی طرح ہر معاہدے کے بعد ادا کردہ کیش اپنے پاس رکھنے لگیں اور ہر بیع بعوض کیش ہی کرنے لگیں تو بینک دیوالیہ ہوجائیں گے۔ ایسا اس لیے کہ اگر رقم یوں ہی بینکوں سے نکلتی رہے تو بینک اپنے کھاتے داروں کو رقم کی ادائیگی کہاں سے کرے گا؟ لہذا یہ سمجھنا کہ اسلامی بینکوں کا اثاثوں پر مبنی بینکنگ کرنا انہیں روایتی بینکوں سے ممیز کردیتا ہے ایک غلط فہمی کے سواء اور کچھ نہیں کیونکہ تخلیق زر کے عمل کا تعلق بذریعہ قرض یا بیع بینکاری کرنے سے نہیں بلکہ fractional reserve banking (اصل زر کے محض ایک مخصوص حصے کو بطور کرنسی اپنے پاس رکھنے ) کے اصول سے ہے۔ 

بینک ڈپازٹ کی قرض پر اولیت کا دعویٰ 

اب تک کی بحث سے یہ واضح ہوجانا چاہیے کہ چاہے مرکزی بینک ہو یا کمرشل بینک، دونوں جس زر کو تخلیق کرتے ہیں، وہ ’قرض‘ کی رسید (promise of payment) سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا (۱ور وہ بھی ایسا قرض جسکا عوض ادا کرنا ناممکن الوقوع ہوتا ہے جیسا کہ ضمیمے سے واضح ہے)۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ مالیاتی و زری نظام کو Debt or Credit Money System (قرض پر مبنی نظام زر ) کہتے ہیں۔ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سمجھنا بالکل آسان ہوجاتا ہے کہ بینک ’بچتیں قرض کا باعث بنتی ہیں‘ کے بجائے ’قرضے ڈپازٹس کو جنم دیتے ہیں‘ (loans create deposits model) کے اصول پر کام کرتا ہے (اور کرسکتا ہے)۔ ہم دیکھیں گے کہ ایک بینک اکاؤنٹ قائم ہونے سے ’قبل‘ ایک قرض تخلیق ہونا ضروری امر ہے۔ سادہ تفہیم کے لیے (۱۵) بات یہاں سے شروع کرتے ہیں کہ فرض کریں ایک شخص (زید) کسی خدمت کے عوض حکومت سے نوٹ (legal tender) وصول کرتا ہے۔ اس موقع پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر یہ شخص اس رقم (یا اس کے ایک حصے ) کو کسی کمرشل بینک میں جمع کراتا ہے تو یہ اکاؤنٹ بنا کسی ماقبل قرض قائم ہوجائے گا، لہٰذا ثابت ہوا کہ ڈپازٹ قرض سے ماقبل ہوتاہے۔ یہ خیال درست نہیں کیونکہ سوال یہ ہے کہ حکومت نے زید کو یہ رقم کس مد سے ادا کی؟ اس کا جواب دو میں سے کسی ایک صورت سے ہوسکتا ہے: 
۱۔ اگر یہ قوت خرید ٹیکسوں کی آمدنی سے ادا کی گئی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکومت نے عوام کی قوت خرید عوام کو واپس لوٹا دی (کیونکہ ٹیکس کی آمدن عوام سے ہی وصول کی گئی تھی)۔ اس صورت میں زر کی مقدار پر حکومت کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور کسی قسم کی کوئی قوت خرید وجود میں نہیں آئے گی۔ دوسرے لفظوں میں اس صورت حال میں گویا ہم ایک غیر سرمایہ دارانہ مالیاتی نظام میں ہونگے جہاں نہ تو تخلیق زر کا عمل ہوگا اور نہ ہی زر اعتباری کا کوئی وجود، لہٰذا کمرشل بینک بھی کوئی ڈپازٹ لینے کے لائق نہ ہوں گے (اس لیے کہ ڈپازٹ قائم کرکے وہ زر اعتباری یعنی ’بینک ڈپازٹس ‘ ہی تو تخلیق کرتے ہیں ) ۔
۲۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ حکومت نے یہ رقم نئے نوٹ وغیرہ چھاپ کر ادا کی۔ مگر اوپر ہم دیکھ آئے ہیں کہ نوٹ چھاپنے کا مطلب حکومت کا خود کو قرض دینا ہوتا ہے کیونکہ نوٹ سرکاری قرضہ ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں ڈپازٹ سے پہلے قرض پایا گیا۔ الغرض بینک ڈپازٹ قائم ہونے کے لیے پہلے قرض کا پایا جانا ضروری ہے ۔
ایک دفاع کا ازالہ: مشہور نیوکلاسیکل (زیادہ صحیح الفاظ میں کنیزین) معیشت دان Tobin نے روایتی اصول ’بچتیں قرض کا باعث بنتی ہیں‘ کا ایک دفاع پیش کرنے کی کوشش کی۔ Tobin اس بات پر زور دیتا ہے کہ بینک ڈپازٹ وجود میں آنے کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ معاشرے میں ایک ایسا ایجنٹ (صارف، فرم وغیرہ) موجود ہو جو اس اکاؤنٹ کا مالک بننا چاہتا ہو بصورت دیگر بینک ڈپازٹ کبھی قائم نہیں ہوسکتا۔ اس سادہ بحث سے Tobin یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ بینک ڈپازٹ کے وجود کا انحصار بینک کے قرض دینے یا نہ دینے پر نہیں بلکہ فرد کے اس فیصلے پر ہے کہ وہ اپنی دولت کا ایک حصہ بینک اکاؤنٹ کی صورت میں رکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔ اگر تمام افراد اپنی دولت بینک ڈپازٹ کے بجائے کسی دوسری صورت (مثلاً سونا، اشیا یا سیکیورٹیز وغیرہ) میں رکھنے کا فیصلہ کرلیں تو بینک ڈپازٹ کا وجود ختم ہوجائے گا۔ لہٰذا Tobin کے خیال میں بینک ڈپازٹ کی مقدار کا تعین بینکوں کے جاری کردہ قرضوں کی مقدار سے نہیں بلکہ بینک ڈپازٹ کی طرف لوگوں کی ترجیحات سے ہوتا ہے۔ بظاہر Tobin کی یہ دلیل خاصی وزنی معلوم ہوتی ہے البتہ ذرا غور کرنے سے اس کی غلطی واضح ہوجاتی ہے۔ پہلی بات یہ کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگ اپنی دولت کو مختلف شکلوں میں محفوظ رکھنے کی ترجیحات خود طے کرتے ہیں مگر فرد کی اس فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اپنے فیصلے اور ترجیحات سے بینک کے ’مجموعی ڈپازٹس‘ کی مقدار زیادہ یا کم کر سکتا ہے۔ مثلاً فرض کریں زید اپنی دولت کی حفاظت سے متعلق اپنی ترجیحات کو تبدیل کرنا چاہتا ہے (دھیان رہے کہ اس مثال کا تعلق ایسے مالیاتی نظام سے متعلق ہے جہاں صرف ’بینک زر‘ بطور زر استعمال کیے جاتے ہیں) ۔ اگر زید اپنے بینک ڈپازٹ کو بڑھانا چاہتا ہے تو ایسا کرنے کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی دولت کے کسی دوسرے اثاثے (مثلاً اشیا، سونے یا سیکیورٹیز وغیرہ) کو بیچے ۔ اسی طرح اگر وہ اپنے بینک ڈپازٹ کو کم کرنا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ بینک ڈپازٹ سے کچھ رقم نکال کر کوئی دوسرا اثاثہ خریدلے۔ زید کے ان دونوں فیصلوں کے روبا عمل ہونے کے لیے معاشرے میں کسی ایسے دوسرے فرد (مثلاً ناصر ) کا ہونا ضروری ہے جو زید کے فیصلے کا بالکل الٹ کرنے کے لیے تیار ہو۔ اس پوری صورت حال کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجموعی بینک ڈپازٹس کی مقدار جوں کی توں بدستور برقرار رہی جس سے ثابت ہوا کہ بینک کے مجموعی ڈپازٹس کا افراد کی ترجیحات سے کوئی تعلق نہیں۔ 
یہ سوال کہ اگر بینک ڈپازٹس کی مقدار میں اضافے یا کمی کا انحصار افراد کی ترجیحات پر نہیں ہوتا تو پھر کس چیز پر ہوتا ہے، تو اس کا جواب ہے بینکوں کا قرض زیادہ یا کم ہوجانا۔ ڈپازٹس کی مقدار میں اضافہ تب ہوتا ہے جب بینک قرضوں کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے اور کمی اس وقت ہوتی ہے جب فرد ڈپازٹ کی شکل میں بینک کا قرض واپس کرتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ یہاں دلیل کا رخ یہ نہیں کہ بینک کا ہر قرض لازماً ڈپازٹ کی شکل اختیار کرتا ہے بلکہ یہ ہے کہ بینک ڈپازٹ قائم ہونے سے قبل ایک قرض کا پایا جانا ضروری ہے اور Tobin کی وضاحت اس پہلو کو رد کرنے میں کوئی مدد فراہم نہیں کرتی۔ 
اس ساہ مثال کے بعد اب ایسے مالیاتی نظام کی مثال لیجئے جہاں بینک ڈپازٹس کے علاوہ زر قانونی بھی بطور کرنسی استعمال ہوتا ہو یعنی جہاں دو چیزیں بطور آلہ مبادلہ (means of payment) چلتی ہوں ایک بینک ڈپازٹس دوسری زر قانونی (جیسا کہ دور حاضر کا حال ہے)۔ فرض کریں زید اپنے بینک ڈپازٹ کی مقدار کم کر کے زر قانونی کی زیادہ مقدار حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ اگر ڈپازٹس کے بجائے کرنسی کی ترجیح میں اضافہ ہوجائے تو بینکوں کی قرض دینے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے (دیکھئے ضمیمہ) لہذا اس صورت میں بینک اپنے قرض اور نتیجتاً ڈپازٹس کم کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ مگر قرضوں میں کمی کا یہ عمل ڈپازٹس میں کمی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ بینک قانوناً اس پر مجبور ہوتے ہیں کہ انہیں Reserves کی ایک کم از کم مقدار اپنے پاس محفوظ رکھنا ہوتی ہے۔ 
قرضوں کے پس پشت ڈپازٹس کا وجود ثابت کرنے کا آخری امکان یہ فرض کیا جاسکتا ہے کہ بحیثیت مجموعی لوگوں کی اپنی بچت ڈپازٹس کی صورت میں جمع کرنے کی ترجیح میں اضافہ ہوجائے (یعنی مثلاً پہلے اگر وہ دس فیصد بچت ڈپازٹس میں رکھتے تھے تو اب بیس فیصد رکھنے لگے)۔ ایسی صورت حال میں عموماً بینکوں کے جاری کردہ قرض زیادہ ہوجاتے ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بینک قرض اپنے ڈپازٹس سے جاری کرتا ہے۔ البتہ یہ امکان بھی درست نہیں کیونکہ مفروضہ صورت حال کا مطلب یہ ہوا کہ بچتوں کا زیادہ حصہ اب ڈپازٹس کی طرف جانے لگا جبکہ تمسکات (۱۶) (securities) وغیرہ کی مد میں محفوظ کیا جانے والا حصہ کم ہوگیا۔ ایسی صورت حال میں کمپنیاں بینکوں سے زیادہ قرض لینے پر مجبور ہوں گی اور یوں وہ زیادہ مقدار میں بینکوں کی مقروض ہوجائیں گی۔ گو یہاں بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بینک کے قرضوں کی مقدار میں اضافہ بینک ڈپازٹس کی طلب بڑھ جانے کی وجہ سے ہوا مگر قرضو ں میں یہ اضافہ کمپنیوں کی قرض کی طلب بڑھ جانے کی وجہ سے ہوتا ہے نہ کہ بچت کی رسد بڑھ جانے سے۔ 
’بچت قرضوں کا باعث بنتی ہے ‘ کا اصول اپنالینے کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ معیشت دان ’ایک بینک ‘ کے اس عمل کو سامنے رکھ کر نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہر بینک زیادہ سے زیادہ reserves اور ڈپازٹس حاصل کرنے کے لیے دوسرے بینکوں سے مسابقت کرتا ہے جس سے یہ محسوس ہوتا ہے گویا قرضے ڈپازٹس سے دئیے جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بینک کے reserves بڑھ جانے سے اس کی قرض دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہوجاتا ہے مگر (ا) یہ اصول کسی ’ایک بینک ‘ کے لیے تو درست ہے البتہ ’بینکنگ بحیثیت مجموعی ‘ کے لیے قابل عمل نہیں کیونکہ بینکوں کے مجموعی ڈپازٹس میں اضافہ صرف اس وقت ممکن ہے جب مرکزی بینک نیا قرض جاری کرے، علی الرغم اس سے کہ یہ قرض ایک بینک کو دیا جائے یا حکومت کو (ب) اس کی وجہ ڈپازٹس کے پس پشت مخصوص مقدار میںreserves رکھنے کی قانونی پابندی سے ہے، اگر اس پابندی کو ختم کردیا جائے تو بینکوں کی قرض دینے کی صلاحیت لامحدود ہوجائے گی۔ پس ایسا مالیاتی نظام جہاں (۱) زر قانونی بطور کرنسی استعمال ہو اور (۲) بینکنگ نافذ العمل ہو، وہاں ہر ڈپازٹ سے ’ قبل‘ ایک قرض کا پایا جانا منطقی لازمہ ہے۔ پس ہم نظام بینکاری کے اصل تصور کو درج ذیل شکل سے سمجھ سکتے ہیں۔ اس تصویر میں یہ بات دکھائی گئی ہے کہ بینک قرض کی صورت میں قوت خرید کی منتقلی لوگوں کی بچتوں سے نکال کر نہیں دیتا بلکہ محض کمپیوٹر میں چند اعداد وشمار لکھ کر تخلیق کرلیتا ہے ۔ اس قرض پر بینک سود کماتا ہے۔ دوسری طرف بینک کھاتے داروں سے ڈپازٹس وصول کرتا ہے تاکہ بینک کو اپنی فرضی رسیدوں کی پشت پناہی کے لیے کچھ رقم ملتی رہے اور اس کا کاروبار محفوظ طریقے سے چلتا رہے۔ بینک اپنے کھاتے داروں کو رقم کی ادائیگی اسلیے کرتا ہے کہ وہ بینک کے ساتھ مخلص رہیں اور بینک ڈپازٹس کھلواتے رہیں۔ 

۲.۲: بینکاری تاریخی پس منظر میں 

اس مقا م پر موجودہ بینکنگ کو اس کے تاریخی پس منظر میں سمجھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ موجودہ بینکاری (بشمول اسلامی بینکاری) نظام اسی دھوکے اور جھوٹ پر مبنی ہے جو سولہویں اور سترہویں صدی کے صراف یورپ کے عیسائیوں اور دیگر اہل مذاہب کو دیا کرتے تھے۔ بینکنگ کے ارتقاء کو ہم چند ادوار (stages) میں تقسیم کرکے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں (یہ تقسیم واقعاتی ترتیب کے اعتبار سے نہیں بلکہ محض تفہیم کے نقطہ نظر اختیار کی گئی ہے، تاریخی طور پر یہ سارے ادوار اس ترتیب سے گزرے یا نہیں ایک الگ موضوع ہے)۔ 
پہلا دور:  یورپ میں بینکنگ کا پہلا دور یہ تھا کہ لوگ اپنا سونا و چاندی (زر اصلی) بطور امانت صرافوں کے پاس رکھوا دیتے۔ یہ امانتیں عموماً حفاظتی و سفری ضرورتوں کی بناء پر جمع کرائی جاتی تھیں۔ صراف ان امانتوں کے بدلے ’صاحب امانت کے نام‘ رسیدلکھ دیتے جو اس بات کی ضمانت ہوتی تھی کہ رسید پر درج نامی شخص فلاں مقدار سونے کا مالک ہے جسے وہ جب چاہے صراف سے واپس لے سکتا ہے۔ ابتداً یہ رسیدیں بذات خود زر یا مال تصور نہیں کی جاتی تھیں، بلکہ محض ’قرض کی رسید‘ (debt receipts or promise of payment)سمجھی جاتی تھیں۔
دوسرا دور: رفتہ رفتہ یورپ میں ان رسیدوں پر اعتماد بڑھنے کے ساتھ لوگوں نے ہر دفعہ سونا نکال کر اشیا خریدنے کے بجائے براہ راست ان رسیدوں کو اشیا کے تبادلے کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔ دھیان رہے کہ اب بھی یہ رسیدیں محض ’قرض کی رسیدیں‘ ہی سمجھی جاتی تھیں مگر اب انہیں بطور ’سونے کے متبادل‘ آلہ مبادلہ استعمال کرنا شروع کردیا گیا۔ (یہیں سے ساری خرابی شروع ہوتی ہے جیسا کہ آگے واضح کیا جائے گا۔) 
تیسرا دور: جب یورپی صرافوں نے دیکھا کہ لوگ عموماً رسیدوں ہی سے معاملات کر لیتے ہیں اور سونا نکلوانے کم ہی آتے ہیں تو انہوں نے جمع شدہ سونے کو سود پر ادھار دیکر پیسہ بنانا شروع کردیا۔ البتہ انہیں اپنی جاری کردہ رسیدوں کا کچھ فیصد سونا بہر حال اپنے پاس رکھنا پڑتا تھا تاکہ اگر کوئی صاحب سونا لینے آئیں تو ان کی یہ طلب فوراً پوری کی جا سکے۔ اس مقام پر آکر ایک اہم فرق رونما ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ ’سونے کے بدلے جاری کردہ قرض کی رسیدیں ‘ اور ’بعینہ وہی سونا‘ ’ایک ساتھ ‘ بطور آلہ مبادلہ استعمال ہونے لگے اور یوں یورپی صراف خفیہ طور پر زر کی رسد بڑھانے کا باعث بننے لگے۔ مثلاً فرض کریں تمام لوگوں نے مجموعی طور پر 100گرام سونا صرافوں کے پاس جمع کرایا جس کے بدلے 100 رسیدیں (فی رسید ایک گرام سونا کے حساب سے) جاری کردی گئیں۔ اگر پچاس گرام سونا قرض دے دیا گیا تو ایک طرف قرض خواہ سو رسیدیں (یعنی سو گرام سونا) بطور آلہ مبادلہ استعمال کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف صرافوں کے مقروض پچاس گرام سونا بھی استعمال کررہے ہیں۔ یوں زر کی کل رسد بڑھ کر 150 گرام سونے کے برابر ہوگئی۔ اس مقام پر پہنچتے ہی گویا بینک پیدا ہوگئے (کہ بینک کا اصل کام زری ثالثی نہیں بلکہ بلا کسی عوض تخلیق زر ہے جیسا کہ واضح کیا گیا)۔ دوسرے لفظوں میں ’قرض کی رسید‘ (Promise of payment) اب دو افراد کا باہمی معاملہ (private contract) نہیں رہا بلکہ اسے بطور زر عام خریدا اور بیچا جانے لگا ۔
چوتھا دور: یہ روش آگے بڑھتی گئی اور لوگ زیادہ بڑی مقدار میں سونا یورپی صرافوں کے پاس جمع کرانے لگے۔ جب ان صرافوں نے غور کیا کہ چونکہ لوگ ہماری کل جاری کردہ رسیدوں کی ایک خاص مقدار (فرض کریں 20 فیصد) سے زیادہ سونا کبھی نکلواتے ہی نہیں نیز لوگ ہماری جاری کردہ رسید کی صورت میں بھی قرض وصول اور ادا کرنا قبول کرلیتے ہیں (کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دوسرے لوگ ان رسیدوں کے بدلے اشیاء کی خریدوفروخت کے لیے تیار ہیں) تو انہیں یہ ترکیب سوجھی کہ سونے کے بجائے رسیدوں کی صورت میں قرض دینا شروع کیا جائے اور چونکہ لوگ جاری کردہ رسیدوں کی محض مخصوص مقدار کے برابر سونا نکلواتے ہیں تو جمع شدہ سونے سے زیادہ رسیدیں جاری کردینے میں کچھ حرج نہیں، لہٰذا انہوں نے ایسا کرنا شروع کردیا۔ فرض کریں اگر سب لوگوں نے مل کر 100گرام سونا جمع کروایا اور لوگ جاری کردہ رسیدوں کے بیس فیصد سے زیادہ سونا کبھی نہیں نکلواتے تو اس صورت میں صراف 100 گرام سونے کے بدلے 500 گرام ’تک‘ رسیدیں جاری کرسکتے (500 رسیدوں کا بیس فیصد یعنی 100 گرام سونا وہ اپنے پاس رکھتے، گویا 100 گرام سونا 500 رسیدوں کی پشت پناہی کرنے کے لیے کافی ہوسکتا تھا، مزید تفصیل ضمیمے میں دیکھئے)۔ دھیان رہے کہ ان پانچ سو رسیدوں میں سے صرف سو رسیدوں کے برابر سونا اکانومی میں موجود ہوتا جبکہ بقیہ چار سو قرض کی رسیدیں محض فرضی و جعلی طور پر وجود میں لائی جاتیں جن کے عوض ادا کرنے کے لیے صرافوں کے پاس کوئی اثاثہ موجود نہ ہوتا۔ اب نوعیت معاملہ میں یہ واضح تبدیلی آگئی کہ قرض کی جن رسیدوں (promise of payments)کو ’ذریعہ ادائیگی‘ (means of payment) کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تھا، ابتداً جب تک ان کے پیچھے مساوی مقدار میں سونا موجود تھا، اس وقت تک یہ کسی ’حقیقی دعوے و وعدے‘ (factual claim and true promise of payment) کی رسیدیں تھیں، مگر اب یہ محض ’فرضی دعوی و وعدہ‘ (fictious claim and false promise of payment) بن کر رہ گئیں، ایک ایسا وعدہ جسے پورا کرنا عملاً ناممکن الوقوع تھا۔ ظاہر ہے 100 گرام سونا 500 رسیدوں کے بدلے کبھی ادا نہیں کیا جاسکتا۔ یعنی صرافوں کے کاروبار کا انحصار اس بات پر تھا کہ لوگ کبھی ان کی تمام رسیدوں کے برابر سونے کی طلب نہ کریں، جس دن ایسا ہوا صرافوں کے دھوکے کی پول کھل جائے گی۔ 
اس مقام پر ذہنوں میں یہ سوال آسکتا ہے کہ بینک رسیدیں لکھ کر اور پھر انہیں قرض پر دیکر سود کمانے کے لمبے چکر میں کیوں پڑ تے تھے، اس کے بجائے وہ ان رسیدوں کو براہ راست اشیاء و خدمات کی خریداری کے لیے بذات خود کیوں استعمال نہ کرتے؟ درحقیقت یہ حکمت عملی بارآور ثابت نہ ہوسکتی تھی کیونکہ خریدی گئی اشیاء کا مالک ان رسیدوں کے عوض بینک سے سونے کی طلب کرے گا اور بینکوں کے پاس یہ سونا ہوتا ہی کب تھا۔ چونکہ اس طرح سے خرچ کی گئی رسیدیں گھوم کر پھر انہی بینکوں کے سامنے سونے کی طلب کے ساتھ آنا تھیں لہذا بینکوں کے لیے اپنی ہی تخلیق کردہ رسیدیں خود استعمال کرنا اپنے ہی پیر پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا۔ پس بینکوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ ان رسیدوں (جو اس وقت زر کی حیثیت اختیار کر چکی تھیں) کو سود کے بدلے قرض پر دے کیونکہ اس کا فائدہ یہ تھا کہ جب بینکوں کا قرض بذات خود ان رسیدوں کی ہی شکل میں ادا کیا جاتا تھا تو رسیدوں کی صورت میں تخلیق کیا گیا زر خود بخود ختم ہوجاتا اور اس کا کوئی ثبوت باقی نہ رہتا جبکہ بینک اپنا ’نفع‘ کھرا کرلیتا۔ اسی طرح بینکوں کے لیے یہ بھی ممکن نہ تھا کہ وہ شرکت وغیرہ کی بنیاد پر قرض دیکر کاروبار کرتے کیونکہ ان کا کاروبار پہلے ہی ایک بڑے خطرے (risk) سے دو چار تھا کہ وہ اصل زر (سونے) کی واپسی کے وعدہ پر اصل سے بہت زیادہ فرضی زر تخلیق کئے بیٹھے تھے اور یہ وعدہ نبھانا انکے لیے ممکن نہ تھا۔ شرکت پر کاروبار کرنے کا مطلب اپنے اس کاروبار کو دہرے خطرے سے دوچار کرنے کے مترادف ہوتا کہ اگر ان قرضوں پر نقصان ہوا تو بینک اس نقصان کا ذمہ دار ہوگا اور جو سونے کی شکل میں قابل ادا ہوگا۔ اس لیے بینک سودی قرضے دیتے جن سے ایک طرف انکا نفع یقینی ہوجاتا اور دوسری طرف اصل بھی محفوظ رہتا۔ اس اصل کو مزید محفوظ بنانے کے لیے بینک قرض کے برابر شے بطور رہن رکھوانے کی شرط بھی رکھتے۔ اس طرح یہ ایک محفوظ و مامون کاروبار کی صورت اختیار کرتا چلا گیا (۱۷) ۔ 
یورپ کے اندر اس سارے عمل کے نتیجے میں بینکاری ایک انتہائی ’نفع بخش‘ (بصورت سود) کاروبار بن گیا کیونکہ معاملہ گویا یہ تھا کہ صرافوں کے ہاتھ زر تخلیق کرکے پیسہ کمانے کا دھندہ آگیا تھا۔ حالات کا اندازہ لگا کر دیگر چالاک لوگوں نے بھی اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کے لیے یہ کاروبار شروع کردیا۔ اب یورپی صراف قرض کی رسیدیں ’قرض خواہ کے نام‘ (bearers name) کے بغیر ’اپنے نام سے جاری کرتے‘ تاکہ ان کی قبولیت مزید بڑھ جائے (جیسے آج کل حکومت وقت کا نوٹ ہوتا ہے جس پر وصول کنندہ کا نام تحریر نہیں ہوتا)۔ اس کاروبار کے پھیلاؤ اور رسیدوں کے عام استعمال میں آنے سے اکانومی میں قرض پر مبنی زر (debt money) بڑھنے لگا اور آہستہ آہستہ معاشرے صرافوں (قدیم بینکوں) کے مقروض ہونے لگے (کیونکہ بینک کی جاری کردہ رسید لازماً کسی نہ کسی پر قرض ہی ہوتی ہے)۔ جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا کہ بینکوں کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ اپنی جاری کردہ رسیدوں کا کچھ فیصد سونے کی صورت میں سنبھال رکھیں تاکہ لوگوں کی سونے (آج کل کے محاورے میں Cash) کی روز مرہ ضروریات پوری کی جاس کیں۔ جب لوگ زیادہ مقدار میں بینک سے سونا نکلواتے تو بینک مصیبت میں پھنس جاتے اور بینک اس طلب کو دوسرے بینکوں سے سونا قرض پر اٹھا کر پورا کرتے۔ یورپ و امریکہ میں اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں جنہیں "Note Wars" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، یعنی ایک بینک اپنے مد مقابل بینک کی زیادہ سے زیادہ رسیدیں اکھٹی کرکے اس کے سامنے ایک ہی دن میں ادائیگی کے لیے پیش کرنے کی کوشش کرتا تاکہ دوسرا بینک دیوالیہ ہوجائے اور اس کے لیے میدان صاف ہوجائے۔ 
مزے کی بات یہ ہے کہ یہی وہ دور ہے جب یورپ میں سود کے جواز کی فکری و علمی بنیادیں نیز اس کے ’مذہبی متبادل‘ فراہم کرنے کی روش عام ہوئی، گویا سود کے جواز ومتبادل کا مسئلہ کسی علمی و فطری ارتقاء کی وجہ سے نہیں بلکہ بینکنگ کا ادارہ عام ہوجانے کے بعد پیدا ہوا۔ اس سلسلے میں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ آج اسلامی معاشیات و بینکاری کے نام پر جس طرح سرمایہ دارانہ اداروں کی تھوک کے حساب سے اسلام کاری کی مہم جاری ہے بعینہہ یہی عمل عیسائی یورپ میں ’اصلاح مذہب‘ کا نعرہ لگانے والے حضرات کرگزرے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں گروہوں کے طریقہ واردات اور دلائل میں بھی حیرت انگیز طور پر یکسانیت پائی جاتی ہے (۱۸) ۔ 
پانچواں دور: یہ دور نجی سطح پر جاری بینکنگ کے حکومتی تحویل و نگرانی میں آکر مرکزی بینک میں تبدیل ہوجانے سے تعلق رکھتاہے۔ یہ سوال کہ یہ عمل کس طرح رونما ہوا مختلف معیشت دان اس کے مختلف جواب دیتے ہیں۔ نیوکلاسیکل طرز کے معیشت دان جو ہر سرمایہ دارانہ ادارتی تنظیم کو فطری ارتقاء کا نتیجہ قرار دیتے ہیں انکے خیال میں بینکاری کا یہ ارتقاء بھی ایک رضاکارا نہ فطری عمل کا نتیجہ تھا۔ یعنی نظام بینکاری بحیثیت مجموعی جس خطرے سے دوچار تھا اسے اس سے محفوظ رکھنے کے لیے چند اصول و اصلاحات (rules and regulations) کا فریم ورک وضع کرکے نافذ کرنا ضروری تھا اور ظاہر ہے یہ کام ریاستی جبر کے تحت ہی ممکن تھا۔ انکے نزدیک مرکزی بینکنگ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سامنے آئی، یعنی جس طرح دیگر سرمایہ دارانہ حکومتی ادارے مارکیٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے حکمت عملی وضع کرتے ہیں اسی طرح مرکزی بینک کا کام نجی بینکوں کی کارگزاری (operations) کو کنٹرول کرنے کے لیے زری پالیسی (monetary policy) بنانا ہوتاہے۔ مگر تاریخی شواہد اس ’ارتقائی تعبیر ‘ کا ساتھ نہیں دیتے۔ دیگر معیشت دانوں کے مطابق (۱۹) یورپ میں مرکزی بینک کی صورت اس وقت پیدا ہوئی جب قوم پرستانہ سرمایہ دارانہ ریاستوں کے بادشاہوں کو اپنی طویل جنگی مہمات کے اخراجات پورا کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ ان بھاری اخراجات کو پورا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا تھا کہ عوام الناس پر بھاری ٹیکس عائد کردئیے جائیں، مگر جنگی حالات کی ماری ہوئی عوام ان ٹیکسوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصر تھی۔ ان حالات میں بادشاہوں کو یہ ترکیب سوجھی کہ بڑے بڑے بینکوں کو نجی تحویل میں لیکر انہیں مرکزی بینک کا درجہ دے دیا جائے اور بینکوں کی رسیدوں کو سرکاری نوٹوں میں تبدیل کرکے نوٹ چھاپ چھاپ کر اپنے اخراجات پورے کرنا شروع کردئیے جائیں۔ گویا اس موقع پر جھوٹ اور فریب پر مبنی نظام بینکاری کو قانونی سند عطا کردی گئی اور پہلے جو بدمعاشی و ظلم نجی سطح پر عام بینکار کیا کرتے تھے اب اسے ریاستی پشت پناہی فراہم کردی گئی۔ ابتداً ان نوٹوں کی پشت پر سونے کی ایک مخصوص مقدار رکھنا ضروری سمجھی جاتی تھی مگر گردش زمانہ اور حالات کی تبدیلی کے تحت اس خانہ پوری سے جان چھڑا لی گئی اور اب جس چیز کو ’سرکاری نوٹ‘ کہا جاتا ہے وہ محض ’زر قانونی‘ (legal tender) کی حیثیت رکھتا ہے جسکے پس پشت کسی قسم کا کوئی اثاثہ موجود نہیں ہوتا بلکہ یہ محض ایک ’قرض کی رسید‘ ہے جو مرکزی بینک حکومت کو اپنے اخراجات وغیرہ پورا کرنے کے لیے جاری کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید ماہرین معاشیات موجودہ مالیاتی نظام پر مبنی اکانومی کو Barter نہیں مانتے بلکہ وہ اس کا تجزیہ Credit economy کے تحت کرتے ہیں۔ Barter اکانومی وہ ہوتی ہے جہاں اشیاء کی لین دین مساوی قدر کی اشیاء سے ہوتی ہو اور اس کے لیے ضروری ہے کہ جس شے کو بطور آلہ مبادلہ یا زر استعمال کیا جائے وہ ’حقیقی قدر‘ (نہ کہ قانونی قدر یا Token value ) کی متحمل ہو جیسے کہ سونا یا چاندی وغیرہ (۲۰) ۔ 
نظام بینکاری کے ارتقا سے متعلق یہ تفصیلات جاننے کے بعد اس حوالے سے مولانا تقی عثمانی صاحب کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے : 
’’لوگ اپنا سونا بطور امانت صرافوں کے پاس رکھ دیتے تھے اور سنار رسید لکھ دیتے تھے، پھر رفتہ رفتہ ان رسیدوں سے ہی معاملات شروع ہوگئے۔ لوگ اپنا سونا واپس لینے کم آتے تھے تو یہ صورتحال دیکھ کر صرافوں نے سونا قرض دینا شروع کردیا۔ پھر جب یہ دیکھا کہ لوگ عموماً رسیدوں سے ہی معاملات کرتے ہیں تو صرافوں نے بھی قرض خواہوں کو سونے کے بجائے رسیدیں دینا شروع کردیں۔ اس طرح بینک کی صورت پیدا ہوئی۔‘‘ (ص: ۱۱۵) 
ہو سکتا ہے مولانا نے یہ مختصر انداز بیان محض ’سمندر کو کوزے میں بند کرنے‘ کی خاطر اپنا یا ہو، مگر اس تحریر کو پڑھنے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مولانا بینکاری نظام کو کسی قسم کے جھوٹ، فریب اور دھوکہ دھی پر مبنی نہیں سمجھتے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس ’جھوٹ اور فریب‘ کا ’اسلامی متبادل‘ ممکن سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر (اور ضمیمے میں) واضح کیا گیا کہ موجودہ نظام بینکاری درحقیقت اسی جھوٹ اور فریب پر مبنی ہے جو پچھلے دور کے صراف عوام الناس کو دیا کرتے تھے، فرق صرف یہ ہے کہ پہلے اسے دھوکہ سمجھا جاتا تھا اور اب قانون کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ مگر یہ بات بالکل بدیہی ہے کہ کسی باطل عمل کو قانونی سند عطا کردینے سے وہ ’حق‘ نہیں بن جا تا۔ اگر آج تمام لوگ اپنے ڈپازٹس میں جمع شدہ رقوم کی وصولی کے لیے بینکوں کا دروازہ کھٹکھٹانے لگیں تو بینکوں کا جھوٹ اور فریب روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے گا۔ 

خلاصہ مباحث 

آگے بڑھنے سے قبل ہم اب تک کے مباحث کا خلاصہ بیان کیے دیتے ہیں: 
۱۔ بینک کو ’زری ثالث ‘ سمجھنا غلط فہمی اور دھوکے کے سوا اور کچھ نہیں ۔
۲۔ حقیقتاً اور اصلاً بینک زر کی لین دین نہیں بلکہ اس کی تخلیق کا کام سر انجام دیتا ہے ۔
۳۔ بینک جو قوت خرید و زر تخلیق کرتا ہے، وہ ’قرض‘ کی صورت میں ہوتا ہے، اسی لیے مروجہ زر کو debt money (قرض پر مبنی زر ) کہتے ہیں ۔
۴۔ بینک کے قرض بچتوں کے برابر ہونا نا ممکن الوقوع شے ہے ۔
۵۔ بینک قرضے ڈپازٹس سے نہیں دیتا بلکہ اس کے برعکس اس کے ڈپازٹس قرضوں سے وجود میں آتے ہیں ۔
۶۔ بینکنگ کا اصل دھندہ بلا کسی عوض قرض پر سود (اور اسلامی بینکوں کا ’سود نما‘ نفع) کمانا ہے۔
۷۔ بینکنگ اصلاً جھوٹ، فریب اور چال بازی پر مبنی ہے ۔
۸۔ مرکزی بینکنگ کا مقصد جھوٹ و فریب پر مبنی زری نظام کو محفوظ طریقے سے چلانے کے لیے حکمت عملی تیار کرنا ہوتا ہے ۔
۹۔ مرکزی بینک جو نوٹ جاری کرتا ہے وہ محض قرض کی رسید (promise of payment) ہے ۔
۱۰۔ قرض کی یہ رسید ان معنوں میں جعلی ہے کہ اسے جاری کرنے سے قبل اس کی پشت پر ادائیگی کے لیے کوئی اثاثہ موجود نہیں ہوتا ہے۔ 

حواشی

۱۳۔ نیوکلاسیکل مکتبہ ہائے فکر کی ایک بنیادی خامی موجودہ زر کو exogenous فرض کرکے سرمایہ دارانہ معیشتوں کا تجزیہ کرنا ہے۔ یہ مفروضہ علم معاشیات کے تقریباً ہر جدید نظریے میں رد کیا جا چکا ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ یا مروجہ زر ایک endogenous (داخلی) عنصر کی حیثیت رکھتا ہے جس کی مقدار کا تعین اشیا کی لین دین کے لیے کی جانے والی طلب سے ہوتا ہے ، دیکھئے Post-Keynasian Theories، مثلاً: 
  • Philip Arestis and Thanos Skouras کی کتا ب Post Keynesian Economic Theory 
  • Louis Philippe and Sergio Rossi کی کتا ب Modern Theories of Money 
  • Philip Arestis and Malcom Sawyer کی کتا ب A Handbook of Alternative Monetary Economics
۱۴۔ مشہور معیشت دان Schumpeter نے یہ بات 1934 میں اپنی کتاب Theory of Economic Development, Chap 3 part I میں بیان کردی تھی 
۱۵۔ نیوکلاسیکل نظریہ معاشیات میں بچتوں کو سرمایہ کاری سے قبل فرض کرنے کی کوئی علمی بنیاد موجود نہیں کیونکہ ان کے نظریہ تقسیم دولت (جسے marginal productivity theory کہتے ہیں ) کے مطابق تمام ذرائع پیداوار کو ان کی اجرت وغیرہ پیداواری عمل مکمل ہونے کے بعد ادا کی جاتی ہے، لہٰذا ان نکے ماڈل میں پیداواری عمل شروع کرنے سے قبل کسی سرمایہ کاری کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اسکے برعکس کلاسیکل مفکرین (جیسے ریکارڈو اور مارکس) وغیرہ کے خیال میں اجرتیں پیداواری عمل مکمل ہونے سے قبل ادا کی جاتی ہیں لہٰذا ایک ابتدائی سرمایہ کاری فرض کرنا لازم ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف کلاسیکل مفکرین تقسیم دولت کی marginal productivity theory کو تسلیم نہیں کرتے (جو نیوکلاسیکل مکتبہ فکر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے) اور دوسری طرف انکے خیال میں بچت اور سرمایہ کاری معیشت کے دو علیحدہ ایجنٹ (بالترتیب عام صارفین اور کاروباری طبقہ) نہیں کرتے جیسا کہ نیوکلاسیکل مفکرین کا خیال ہے بلکہ یہ دونوں کام ایک ہی ایجنٹ یعنی سرمایہ کار کرتے ہیں 
۱۶۔ تمسکات (securities) بھی فائنانشل دعوے ہوتے ہیں جنہیں عام طور پر کاروباری و مالیاتی ادارے جاری کرتے ہیں اور ان کا مقصد قرض پر رقم کا حصول ہوتا ہے ۔
۱۷۔ ظاہر ہے اس عمل کے نتیجے میں تقسیم دولت کے نظام پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہوئے کیونکہ اب قرض کی صورت میں دولت کا جھکاؤ ان لوگوں کی طرف ہوگیا جو پہلے سے اتنے امیر ہوں کہ قرض کی مطلوبہ رقم سے زیادہ رہن جمع کرواسکتے ہوں۔ بینکنگ کی اسی حکمت عملی پر یہ طنزکسا گیا ہے کہ ’بینک آپ کو قرض تب دے گا جب پہلے آپ یہ ثابت کردیں کہ آپ کو اس قرض کی ضرورت نہیں‘۔ موجودہ دور میں دولت کی ہوش ربا غیر منصفانہ تقسیم در حقیقت نتیجہ ہے اس ظلم کا جو صدیوں تک نظام بینکاری کے نام پر قانوناً لوگوں پر روا رکھا گیا۔ افسوس کہ مجوزین کو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے اسی بینکاری کا حصہ بن جانے کی فکر لاحق ہے ۔
۱۸۔ یہ تمام تفصیلات نفس موضوع سے متعلق نہیں، اس کے لیے دیکھئےTawney کی کتاب Religion and the Rise of Capitalism (خصوصی طور پر باب نمبر دو The Continental Reformers ) 
۱۹۔ دیکھئے Malcolm Sawyer کی کتاب The Political Economy of Central Banking 
۲۰۔ Barter economy، monetary economy اور credit economy کا فرق سمجھنے کے لیے دیکھئے Augusto Graziani کی کتاب The Monetary Theory of Production, Chap 3
(جاری)

یہ جواب نہیں ہے

مولانا عبد المالک طاہر

ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ (مئی/جون ۲۰۰۹ء) کے صفحہ ۱۴۵تا ۱۴۸ پر حافظ زبیر صاحب کامضمون شائع ہوا جو انہوں نے راقم کے مضمون بعنوان ’’جہادی تنظیموں کے تنقیدی جائزہ پرایک نظر‘‘ (الشریعہ، مارچ ۲۰۰۹ء، صفحہ ۴۳ تا ۴۷) میں اٹھائے جانے والے اعتراضات وسوالات کے جواب کے طورپر لکھا ہے۔ مضمون کا عنوان ’’عبد المالک طاہر کے اعتراضات کے جواب میں‘‘ دیکھ کر یہ گمان ہوا کہ راقم کی طرف سے اپنے مضمون میں اٹھائے جانے والے اعتراضات کے جوابات ہوں گے، لیکن عنو ان اور نفس مضمون کا باہمی تعلق ایسا ہی ہے جیساکہ جناب کا (اپنی تحریروں کی روشنی میں) جہاد و مجاہدین کے ساتھ ہے۔ جناب نے منطقی انداز کو اختیار کرنے کی کوشش میں خلط مبحث کی طرف پہلا قدم اٹھایا ہے جو بحث کے نتیجہ خیز ہونے میں نہ صرف مانع ہوگا بلکہ ایسی بحث بے فائدہ اور شاید مضر بھی ہو۔ لہٰذاراقم اولاً اپنے سابقہ مضمون (مارچ ۲۰۰۹ء) کے سوالات واعتراضات کاذکر ضروری سمجھتا ہے تاکہ قارئین کو علم ہو کہ یہ راقم کے سوالات کے جواب نہیں بلکہ مزید اعتراضات ہیں۔ 
سوالات کچھ یوں ہیں:
اول: جناب نے اپنے مضمون بعنوان ’’پاکستان کی جہادی تحریکیں: ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ‘‘ (الشریعہ نومبر؍دسمبر ۲۰۰۸ء) میں لکھا ہے کہ لاعلم، سیدھے سادھے جذباتی نوجوانوں کے لیے جہادی تحریکوں کے معسکرات خرکار کیمپ ثابت ہوتے ہیں۔ جناب نے ان مجبور مجاہدین کے کچھ الفاظ بھی نقل کیے ہیں۔ اس پر سوال یہ تھاکہ ان خرکار کیمپوں کی لسٹ اور ان مجبور مجاہدین کے کوائف قوم کے سامنے لائیں تاکہ قارئین کو حقائق کا علم ہو سکے۔ جواب کے جلی عنوان کے باوصف اس سوال پر جناب کی نظر کرم نہیں ہوتی۔ 
ثانی: آ پ نے لکھا کہ روس کو افغان جہاد میں شکست مجاہدین نے نہیں بلکہ امریکہ وپاکستان نے دی۔ اس پر راقم نے تین سوالات کیے تھے۔
(الف) اس بات کا ثبوت کہ امریکہ وپاکستان کا عمل جارحیت کے کتنے سال بعد ہوا تھا؟
(ب) اس دخل سے قبل جنگی صورت حال کیا تھی؟
(ج) امریکی وپاکستانی عمل دخل کس نوعیت کا تھا؟
ثالث: آپ نے جہاد کو نماز پر قیاس کیا۔ اس پر سوال تھاکہ 
(الف) ایسا جہاد جس میں تمام مسلمانوں پر صرف لڑنا ہی فرض ہو، مسلسل کیسے چلے گا؟ 
(ب) طبعی ضروریات کا نظام کیونکر چلے گا؟ 
(ج) نئے افراد کی ذہن سازی وتربیت کے بغیر ایک مکمل نظام کتنا عرصہ چل سکے گا؟
رابع: حافظ صاحب نے بعض مفروضوں (یا جزوی واقعات) کو بنیاد بنا کر انتہا پسندانہ رائے قائم کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کیا اور ثبوت طلب کرنے پر جوابی تحریر میں کسی قسم کی شہادت پیش کرنے کی بجائے مزید سوالات کے ضمن میں پھر وہی لہجہ اختیار کیا جس میں مجاہدین کے طریقہ کار پر تنقید کی بجائے جہاد سے تنفر زیادہ نظر آرہا ہے۔ 
خامس: زبیر صاحب کے مطابق غیر سرکاری جہاد سے کفار کو شکست دینا ناممکن ہے، جب کہ امریکی نمائندے مارک اسمتھ سمیت دیگر عسکری کمانڈروں نے اپنی شکست تسلیم کی ہے۔ ان مبتلیٰ بہ امریکی افواج کی (اب تک) کی تسلیم شدہ شکست کے مقابلہ میں زبیر صاحب اپنے نظریہ پر کوئی ثبو ت پیش کریں۔ 
سادس: حافظ صاحب نے اپنے مضمون میں علت قتال ظلم کو قرار دیا۔ اس پر سوال تھاکہ بالفرض اگر کوئی کفریہ اسٹیٹ غیر ظالم ہوتو اس کے خلاف جہاد ہو گا کہ نہیں؟ 
یہ چند سوالات اٹھائے گئے تھے جس پر حافظ صاحب نے جواب دینے کی بجائے بحث کارخ دوسری طرف پھیرنے کی کوشش کی ہے۔ کاش ! جواب والے جلی عنوان کی طرح مضمون کے اندر جوابات بھی اسی تناسب کے ساتھ ہوتے۔ گزارش ہے کہ ان سوالات کی طرف اورا پنے جوابی مضمون کی طرف نظر فرمائیں۔ 
جہاں تک حافظ صاحب کے مضمون (بعنوان ’’عبدالمالک طاہر کے اعتراضات کے جواب میں‘‘، مئی ؍جون ۲۰۰۹ء) میں اٹھائے گئے سوالات کاتعلق ہے تو ان کا جواب حوالہ قلم کرنے سے قبل عرض ہے کہ آئندہ بحث میں اگر محترم کایہی طرز (اعتراض برائے اعتراض، جواب کے نام پر بھی سوال) رہا تو بندہ کے لیے قارئین کے وقت اور الشریعہ کے صفحات کی قدر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایسی بے نتیجہ بحث کو جاری رکھنا مشکل ہو گا۔
اب الشریعہ مئی ؍جون ۲۰۰۹ء کے شمارے میں اٹھائے گئے سوالات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ 
سوال نمبر۱: موجودہ حالات میں جہادفرض عین ہے کہ نہیں؟ اگر ہے تو جہادی تحریکوں کے امراء ومسؤلین تو قتال نہیں کر رہے۔ (الشریعہ مئی ؍جون ۲۰۰۹ء، ص ۱۴۵) 
اس سوال کا منشا اورا س کی تفصیل میں چھپے استہزا پرمبنی اعتراضات در حقیقت جہاد کی اقسام ،ان اقسام کے حکم اور کس پر کون سا جہاد فرض ہے جیسے امور سے لاعلمی کا نتیجہ ہیں۔ شریعت اسلامیہ کے احکامات کے مطا بق جہاں کفار حملہ آور ہیں، ان مسلمانوں پر جہاد (قتال) فرض عین ہے، جب کہ پڑوس کے مسلمانوں پر بدرجہ ضرورت اقرب فالاقرب کے اصول کے تحت ضروریات کا پورا کرنا استطاعت کے مطابق فرض ہے۔ یعنی سب سے اول فرض ان مسلمانوں پر متوجہ ہوتا ہے جن پر کفار نے حملہ کیا ہے۔ ان کی کمزوری کی صورت میں آس پاس والے مسلمانوں پر الاقرب کے اصول کے تحت فرض ہے۔ 
فقہاے اسلام جہاد کو دوقسموں پر تقسیم کرتے ہیں: اقدامی جہاد جسے جہاد الطلب بھی کہتے ہیں اور دفاعی جہادجسے جہاد الدفع بھی کہا جاتاہے۔ اقدامی جہاد یہ ہے کہ ازخود مجاہدین کفار پرحملہ کریں۔ دفاعی جہاد کا مطلب ہے کفار کے مسلما ن ملک پر حملہ کی صورت میں مسلمانوں کا دفاعی لڑائی کرنا۔ صاحب قدوری اقدامی جہاد کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
الجہاد فرض علی الکفایۃ اذا قام بہ فریق من الناس سقط عن الباقین وان لم یقم بہ احد اثم جمیع الناس بترکہ، وقتال الکفار واجب وان لم یبدء ونا ( المختصر للقدوری، کتاب السیر، ص ۲۲۴) 
’’جہاد (عمومی حالات میں) فرض کفایہ ہے۔ اگر ایک جماعت اس فرض کو ادا کرے تو باقی کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گااورا گر کوئی بھی اس فرض کفایہ کو ادا نہ کرے تو سب گناہ گار ہوں گے۔ اگر کفار از خود لڑائی کی ابتدا نہ بھی کریں تو جہاد واجب ہے۔‘‘
کنزالدقائق میں جہاد کی پہلی قسم (اقدامی جہاد ) کا ذکر ان الفاظ میں ہے:
الجہاد فرض کفایۃ ابتداء فان قام بہ قوم سقط عن الکل والا اثموا بترکہ (ص ۱۹۹) 
کنزالدقائق کی مذکورہ بالاعبارت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ ابن نجیم ؒ فرماتے ہیں: ’’بیان لحکم فرض کفایۃ‘‘ کہ مذکورہ حکم فرض کفایہ جہاد کا حکم ہے۔ (البحرالرائق ، کتاب السیر ۵/۷۱)
اقدامی جہاد سے متعلق علامہ ابن عابدین ؒ فرماتے ہیں:
فیجب علی الامام ان یبعث سریۃ الی دارالحرب کل سنۃ مرۃ او مرتین وعلیٰ الرعیۃ اعانتہ الا اخذ الخراج فان لم یبعث کان کل الاثم علیہ۔
یعنی مسلمانوں کے امام ی ذمہ داری ہے کہ وہ سال میں ایک مرتبہ یا دو مرتبہ دارالحرب کی طرف لشکرروانہ کرے اور رعایا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں امام کی اعانت کرے سوائے اس کے کہ امام پہلے کفار سے جزیہ وصول کرتا ہو۔ اگر امام لشکر نہ بھیجے تو گناہ کا بو جھ اسی پر ہوگا۔ (حاشیہ ابن عابدین ۳/۲۳۹) 
جہاد کی دو سری قسم یعنی دفاعی جہاد کے متعلق صاحب قدوری فرماتے ہیں:
فان ہجم العدو علی بلد وجب علی جمیع المسلمین الدفع تخرج المراۃ بغیر اذن زوجہا والعبد بغیر اذن الولی ( المختصر للقدوری، کتاب السیر ص ۲۲۳) 
یعنی اگر دشمن مسلمانوں کے کسی علاقے پر حملہ آور ہو تو تمام مسلمانوں پر دفاع (دشمن کو روکنا اور نکالنا) واجب ہے، حتی کہ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر اور غلام آقا کی اجازت کے بغیر نکلے گا۔
دفاعی جہاد کے متعلق کنزالدقائق کی عبارت یوں ہے:
وفرض عین ان ہجم العدو فتخرج المراۃ والعبد بلا اذن زوجہا وسیدہ (کنزالدقائق، ص ۲۰۰)
اسی عبارت پرعلامہ ابن نجیم ؒ فرماتے ہیں:
لان المقصود عند ذلک لا یحصل الا باقامۃ الکل فیفترض علی الکل فرض عین فلا یظہر ملک الیمین ورق النکاح فی حقہ کما فی الصلوۃ والصوم۔
آگے چل کر ارشاد فرماتے ہیں:
والمراد ہجومہ علی بلدۃ معینۃ من بلاد المسلمین۔ فیجب علی جمیع اہل تلک البلد، وکذا من یقرب منہم ان لم یکن باہلھا کفایۃ۔ وکذا ممن یقرب ممن یقرب ان لم یکن ممن یقرب کفایۃ او تکاسلوا عصوا وہکذا الی ان یجب علی جمیع اہل الاسلام شرقا وغربا کتجہیز المیت والصلوۃ علیہ یجب اولاً علی اہل محلیۃ فان لم یفعلوا عجزاً وجب علی من بعدہم علی ما ذکرنا۔ (البحراالرائق، کتاب السیر ۵/۷۲) 
یعنی عورت اور غلام پر خاوند اور آقا کی اجازت اس لیے ضروری نہیں کہ مقصود (دشمن کادفع کرنا) تمام لوگوں کے جہاد پر نکلے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا سب پر فرض عین قرار دیاجائے گا۔ اس لیے ملک یمین اور رق النکاح کے اثرات اس کے حق میں ظاہر نہ ہوں گے جیسے کہ نماز روزہ ہیں۔ پھر فرماتے ہیں کہ حملہ سے مراد کفار کا مسلمانوں کے کسی معینہ شہر پر حملہ کرنا ہے۔ جب ایسی صورت پیدا ہو تواس شہر کے تمام باشندوں پر دفاع فرض ہوگا۔ یہ لوگ اگر کافی نہ ہوں تو قریب والوں پر فرض ہوگا۔ اگر وہ بھی کفایت نہ کریں یا سستی ونافرمانی کا مظاہرہ کریں توان کے قریب والوں پر دشمن کو روکنا فرض ہو گا۔ اس طرح مشرق ومغرب کے تمام مسلمانوں پر جہاد فرض ہوگا۔ جیسے کہ میت کی تجہیز اوراس پر نماز جنازہ اولاً اس کے محلہ والوں پر فرض ہے ۔ اگر وہ عاجز ہوں تو یہ فریضہ ادا نہ کرسکیں توا ن کے بعدوالوں پر ایسے ہی فرض ہے، جیساکہ ہم نے ذکر کیا۔
دفاعی جہاد کے متعلق علامہ ابن عابدینؒ فرماتے ہیں کہ اگر دشمن کسی اسلامی سرحد پر حملہ آور ہو جائے تو وہاں بسنے والوں پر جہاد فرض عین ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ان کے قرب وجوار والوں پر بھی فرض عین ہو جاتا ہے۔ البتہ جو لوگ ان سے پیچھے دشمن سے فاصلہ پر ہوں، ان پر جہاد اس وقت تک فرض کفایہ ہوتا ہے جب تک ان کی ضرورت نہ پڑے۔ لیکن اگر کسی وجہ سے ان کی ضرورت پڑ جائے۔ مثلاً 
۱۔ جس علاقے پر دشمن حملہ آور ہو، اس کے قرب وجوار کے لوگ دشمن کی مزاحمت کرنے میں بے بس ہو جائیں۔ 
۲۔ یا بے بس تو نہ ہوں، لیکن سستی کی وجہ سے جہاد نہ کریں۔ ایسی صورت میں ان کے ارد گرد بسنے والوں پر جہاد نماز روزہ کی طرح فرض عین ہو جاتا ہے اوراسے ترک کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ پھر فرضیت کا دائرہ اس کے بعد اورپھر اس کے بعد والوں تک حسب ضرورت پھیلتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اسی تدریج سے بڑھتے ہوئے ایک (ہی) وقت میں مشرق ومغرب میں بسنے والے ہر مسلمان پر جہاد فرض عین ہو جاتا ہے۔ ( حاشیہ ابن عابدین ۳/۲۳۸۔ نیز بدائع الصنائع جلد ۷ و فتح القدیر لابن ہمام جلد ۵۔ بحوالہ ’’ایمان کے بعد اہم ترین فرض عین‘‘ از عبداللہ عزام) 
مذکورہ بالاعبارات میں ہر مسلمان پر جہاد کو فرض عین قرار دینے سے یہ بات ہی واضح ہو جاتی ہے کہ ایسی حالت میں صرف حکومت پر جہاد فرض قراردینا اور خود سے فرضیت کو (از خود بلادلیل شرعی) ساقط کرنا غلط ہے۔ بندہ کے اس دعوی پر بین دلیل شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ کی مندرجہ ذیل عبارت ہے:
واما قتال الدفع فھو اشد انواع دفع الصائل عن الحرمۃ والدین فواجب اجماعاً۔ فالعدو الصائل الذی یفسد الدین والدنیا لا شئ اوجب بعد الایمان من دفعہ فلا یشترط لہ شرط (کالزاد والراحلۃ) بل یدفع بحسب الامکان۔ وقد نص علی ذلک العلماء، اصحابنا وغیرہم۔ 
’’اور جہاں تک با ت ہے دفاعی قتال کی تو حرمتوں اور دین پر حملہ آور دشمن کو پچھاڑنے کے لیے یہ قتال کی اہم ترین قسم ہے اوراسی لیے اس کے فرض ہونے پر امت کا اجماع ہے۔ ایمان لانے کے بعد سب سے اہم فریضہ دین ودنیا کو برباد کرنے والے حملہ آور دشمن کو پچھاڑنا ہے۔ اس کی فرضیت کے لیے کوئی شرط نہیں۔ (مثلاً زاد راہ اورسواری موجود ہونے کی شرط بھی ساقط ہو جاتی ہے) بلکہ جس طرح بھی ممکن ہو، دشمن کو پچھاڑا جائے گا۔ یہ بات علماء نے صراحتاً کہی ہے، خواہ وہ ہمارے فقہی مذہب کے علماء ہوں یا دیگر فقہی مذاہب سے ہوں۔‘‘ ( الفتاوی الکبرٰی ۴/۵۲۰، بحوالہ ایما ن کے بعد اہم ترین فرض عین۔ اردو ترجمہ: الدفاع عن اراضی المسلمین اہم فروض العیان بعد الایمان۔ از ڈاکٹر عبداللہ عزام شہیدؒ )
مذکورہ فقہی عبارات کی روشنی میں جن علاقوں پر کفار حملہ آور ہیں ،ان پر جہاد فرض عین ہے۔ اس ادائیگی جہاد میں اصل مقصود تو لوجہ اللہ قتال ہے۔ دیگر تمام شعبے اسی کی مضبوطی اور قیام کے لیے ہوں گے۔ جبکہ دوسرے درجہ میں پڑوسی ممالک کے مسلمانوں پر ان مظلوم مسلمانوں کی مقدور بھر امداد وتعاون واجب ہے۔ 
پاکستانی جہادی نظم اسی دوسرے درجے میں مقدور بھر امداد وتعاون کی راہ اپنائے ہوئے ہے جو صرف تحریر وتقریر کی حد تک محدود نہ ہے بلکہ عملی قتال بھی ان نظموں کا اصل کام ہے۔ جہاں تک ان کے امراء، مسؤلین اور غیر جماعتی حمایتی لوگوں کی کاوشوں، تحریر و تقریر کے ذریعے ( جب کہ وہ حقیقتاً جہاد کے لیے مفید بھی ہو نہ کہ تنقید کے نام پر الزامات کا پلندہ) جہاد کی حمایت کے درمیان فرق کا ذکر ہے کہ مسؤول پاکستان میں یہی کام کرے تو جہاد میں شریک کہلائے جب کہ دوسری طرف غیر جماعتی لوگ اسی کام کے کرنے کے باوجود جہاد میں شریک نہ کہلائیں، دونوں میں فرق کیا ہے؟ تو جہادی نظموں کے طریقہ کار پر غور کرنے سے یہ فرق سمجھ آ سکتاہے۔کہ جہادی نظم صرف تحریر وتقریر تک اپنی حمایت کو محدود نہیں رکھتے، بلکہ عملی طور پر اصلی میدان (قتال) سے وابستہ ہونے کی بنا پر انہیں قتال کی حقیقی ضروریات کا علم ہوتا ہے اوروہ یہ ضروریات تمام تر مشکلات ومصائب کے باوجود بطریق احسن پوری کرتے ہیں۔ اس میں صرف تجزیہ کے نام پر بے جاتنقید، تبصرہ کے نام پر الزامات یا بند کمرے میں بیٹھ کر مفت مشورے دینے تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اموال کی بہم ترسیل، افراد کی مسلسل فراہمی اور تمام ضروریات کو مد نظر رکھ کر نظام کار وضع ہوتا ہے جس کی کچھ تفصیل آئندہ سطور میں بھی آ رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں حافظ زبیر صاحب جیسے افراد ایک طرف جہاد ومجاہدین کے متعلق ہتک آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں اور دوسری طرف خود کوجہاد میں معروف منوانے پر بھی مصر ہیں۔ 
حافظ صاحب ہی بتائیں کہ کیاجہادی علماء، مسؤلین کی طرح تحریروں سے ہٹ کر بھی ان کی عملی کاوشیں میدان قتال کے لیے ہیں؟ افراد کی فراہمی، امداد کی ترسیل، اپنی تیاری، ضرورت پڑنے پر میدان قتال میں وقتاً فوقتاً خود اترنا اور ان کاموں پر مشتمل کوئی نظام ہے؟ انگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام لکھوانے کی روایت ماضی سے چلی آرہی ہے۔ حافظ صاحب توقلم گھسا کر شہیدوں میں نام لکھوانے کی ریت ڈالنا چاہتے ہیں۔ (وہ بھی حمایت کی بجائے مخالفت کر کے) 
امید ہے کہ ان سطور سے حافظ صاحب کواپنے تعاون (وہ بھی اپنے تئیں) اورجہادی علماء و امراء کے تعاون کا فرق معلوم ہو گیا ہوگا۔ مقصدیہ ہے کہ حافظ صاحب جس تنقید کو تعاون ہی کی صورت قرار دے رہے ہیں، اگر فی الواقع وہ مثبت تنقید ہو تو تب بھی صرف تنقید، تائید تحریر وتقریر اور جہادی نظموں سے متعلق افراد کے کام میں بہت بڑا فرق موجود ہے۔ جہادی نظموں کا حدود اربعہ تنظیم اسلامی کی طرح صرف اخبارات، میڈیا کے کیمروں اورائیر کنڈیشن دفاتر تک محدود نہیں، بلکہ اسلام آباد کے دفاتر اور بعض اداروں سے کشمیر وافغانستان کے پہاڑوں تک اموال ودیگر ضروریات اور افراد کی تسلسل کے ساتھ فراہمی، پاکستان کے سینکڑوں مجاہدین کا ان پہاڑوں پر بکھرا ہوا خوشبو بکھیرتا سرخ لہو، اس بات پر شاہد ہے کہ یہ جماعتیں ممکنہ وسائل کی حد تک مظلوم مسلمانوں کی ضروریات پوری کر رہی ہیں۔ اگر پاکستان کی قومی پالیسی پر بزدلی کی دھند نہ ہوتی توان مقدس ہستیوں کے اسماے گرامی نقل کرتا جو علم کی دنیا سے متعلق ہیں، لیکن ان جماعتوں کے ذریعہ نہ صرف عملی جہاد ( قتال) میں شریک رہے بلکہ اب بھی شریک ہیں۔
اپنے مضمون کے نکتہ نمبر ۲ کے ضمن میں حافظ صاحب حق تنقید کاجواز ثابت کرکے اپنی تحریری کاوشوں کوجہاد منوانے پر مصر ہیں۔ (الشریعہ مئی؍جون ۲۰۰۹ء، ص ۱۴۶) یقیناًاہل علم کوجہادی نظموں کے طریق کار پر بحث، تنقید کا حق نہ صرف حاصل ہے بلکہ آئندہ بھی رہے گا، بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہے کہ اہل علم کا فریضہ ہے کہ وہ تنقید وبحث کے ذریعے نظام کار کی خامیوں کی نشاندہی کریں، مفید مشورے دیں اور حق تنقید ادا کریں، لیکن یہ تنقید حقیقی تنقید ہو نہ کہ بلا ثبوت الزامات ۔ صرف اتہامات کو تنقید قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 
دوسری بات یہ کہ بند کمروں میں محض تحریر، یا جلسوں کی تقاریر اور مثبت تنقید جب کہ اپنی حدود وشرائط کے ساتھ ہوتو یقیناًجہادو مجاہدین کے ساتھ بہترین تعاون ہے۔ لیکن یہ جہادی نظموں کے کام کے برابر یا فریضہ جہادکی ادائیگی کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ ان نظموں سے منسلک علماء، امراء کی تحریر، تقریر اور فتاوٰی پر اپنی تنقید کو قیاس کرنا اس لیے بھی محل نظر ہے کہ یہ علماء عظام، مسوولین ، مفتیان کرام ایک نظم کے تحت یہاں مامور ہوتے ہیں ۔ اگر میدان قتال میں ان کی تشکیل کی جائے تو نہ صرف تیار بلکہ اس کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔ مجاہدین کی نصرت میں لگے یہ علماء کرام دھکے اور دھونس سے عملی مجاہدین کے فضائل کو خود پر منطبق کرنے پر اصرار نہیں کرتے بلکہ وہ خود کو ان مجاہدین کے خادم کہلوانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ان تحریکوں کی خدمات اور دیگر افراد کی انفرادی کوششوں، تعاون اورمشاورت کے درمیان یہی بنیادی فرق ہے کہ جہادی نظم عملی طور پر شعبہ قتال سے متعلق ہونے کی بنا پر اپنی ہمتوں کا اصل میدان جہاد (قتال) کو بناتے ہیں۔ عملاً وابستہ ہونے کی وجہ سے انہیں قتال کی حقیقی اور واقعی ضروریات کا مکمل ادراک ہوتا ہے۔ دیگر شعبہ جات عموماً اسی اصل کو مضبوط کرنے کے لیے قائم کرتے ہیں جیسے میدان قتال میں اموال کی فراہمی، افراد کی تشکیل ، خالص جہادی مسلمان بنانے کے لیے اورعملاً وابستہ کرنے کے لیے ذہنی وفکری تربیت۔ اس کے علاوہ مستند علماء کی زیر نگرانی کام کرنے والے نظموں میں کامل دین پر عمل پیرا ہونے کے لیے دین کے تمام شعبوں کے احیا کی تڑپ دیکھی جا سکتی ہے جس میں مثال کے طور پر اپنی اصلاح کے لیے فکر مند ہونا اور دیگر مسلمانوں کو متوجہ کرنا، اصلاحی مجالس قائم کرنا، معروف معنوں میں باقاعدہ اصلاحی بیعت، تصوف اور ذکر اللہ کی مجالس کا قیام، تمام کارکنوں کی اصلاحی تربیت کے لیے مستند علما کی کتب کا مطالعہ لازمی قرار دینا، ہر ماہ عام لوگوں کے لیے بنیادی دینی مسائل سکھانے کا منظم طریقہ، نماز جیسے اہم فریضہ کی طرف مسلمانوں کو متوجہ کرنے کے لیے ملک گیر اقامت صلوٰۃ مہم، دعوت جہاد، دورات تفسیر آیات جہاد کا سلسلہ، ادائیگی عشر وزکوٰۃسمیت دیگر اجتماعی وانفرادی فرائض کی طرف عامۃ الناس کو متوجہ کرنے کی ملک گیر مہمات، زلزلہ زدگان اور متاثرین سوات جیسے ہزاروں بے سہارا وبے گھر افراد کی کفالت۔ 
ان جہادی نظموں کی خدمات کا وہ روشن باب ہے جس کا اعتراف جنرل پرویز مشرف جیسا لبرل ( مجاہدین کش) لیڈر بھی کرتا رہا۔ مورخہ ۲۵؍جون ۲۰۰۹ء کو نوائے وقت لاہور کی خبر کے مطابق اقوام متحدہ اور واشنگٹن پوسٹ کے ایک گروپ کے مطابق اب تک کی رپورٹوں کے مطابق جہادی گروپ سوات متاثرین کی امداد میں سب سے آگے ہیں۔ اس کے علاوہ نکاح مسنون کو آسان اور سہل طریقہ پر کرنے کے لیے اداروں کی صورت میں خدمات اور اس جیسے دیگر اسلامی احکامات کی طرف عامۃ المسلمین کو متوجہ کرنا ان جہادی نظموں کی تاریخ کا حسین باب کہلائیں گے۔ 
تیسرے نمبر کے ضمن میں حافظ صاحب نے لکھا ہے کہ جب جہادی تحریکوں میں جہاد (قتال) کے طریقہ کار، منہج اور تطبیق کے حوالے سے اختلافات ہو جائیں تواس کے باوجود وہ مجاہدین اور غازی کہلاتے ہیں۔ (الشریعہ مئی؍جون ۲۰۰۹ء ص۱۴۶) 
اس عبارت میں حافظ صاحب نے بنیادی طور پر دو چیزیں لکھی ہیں: 
(الف) اگر جہادی تحریکوں کے باہمی شدید اختلافات ، اختلافی نظریات کے باوجود بھی وہ جہاد کر رہے ہیں توان کی ( حافظ صاحب کی) مخالفت کیسے جہاد نہیں قرار دی جا سکتی؟ جواباً عرض خدمت ہے کہ اس حوالے سے سابقہ سطور کو مد نظر رکھنا ہی مفید ہوگا کہ کفار کے خلاف کفار کے مقبوضہ علاقوں میں جہاد کرنے والے تمام نظم باہمی اختلافات کے باوجود بہرحال جہاد کررہے ہیں۔ یہ لوگ محض قلمی ٹارزن نہیں ہیں۔ ( ہماری بحث سے مسلم ممالک میں برسرپیکار نوجوان خارج ہیں)۔ مقبوضہ مسلم علاقوں میں کفار کے خلاف لڑنے والی جماعتوں میں تمام تر نظریاتی وفکری اختلافات کے باوصف، طریقہ کار کے فرق کے باوجود ان کا اصل میدان قتال فی سبیل اللہ ہے نہ کہ تنقید کے نام پہ تنقیص۔ 
محترم بحث کے نام پر بے جا الزامات لگا کر بھی مجاہدین کی صف میں کھڑے نظر آنا چاہتے ہیں۔ اگر جناب کو فضائل جہاد اتنے اچھے لگتے ہیں (کہ ہر سطر میں وہ خود کو ان نظموں کے برابر جہاد کرنے و الا باور کروانا چاہتے ہیں) اور قرآن کی آیات جہاد آنکھوں کے سامنے ہیں تو طریقہ یہ ہے کہ آئیے خود کو خطرات میں ڈالیے، گھر سے دور تشکیل، ایجنسیوں کا واچ اورنگرانی کے نام پر تنگ کرنا، اپنوں کے طعنے، ساتھیوں کی گرفتاری کا غم، پیاروں کی شہادت کا دکھ، اپنی گرفتاری کا خوف، ذمہ داریوں کے بکھیڑے، ہمہ وقت صرف لاالہ الااللہ کا ویزا قرار دے کر باڈر کراس کرنے پر تیار، عملی میدان میں آگ وبارود کو سامنا، یہ تمغے سینے پر سجائیے، پھر اختلافی آرا دیجیے، بحث کیجیے، تنقید کا فرض ادا کیجیے اور خود کو مجاہد بھی کہلوائیے۔ 
(ب) زبیر صاحب کے مطابق جہادی تحریکوں کے اختلافات عامۃ الناس کے لیے کنفیوژن کا سبب ہیں کہ اگر سب جہاد ہی کر رہے ہیں تو ان میں اتنے دھڑے کیوں ہیں او ر عام آدمی کس تنظیم کے ساتھ مل کر جہاد کرے۔ 
حافظ صاحب نے اعتراض کے اس حصے میں ایک گھسا پٹا سوال کر کے چلے ہوئے کارتوس کو چلانے کی کوشش او ر سعی کی ہے۔ گزارش ہے کہ اگر اختلاف کو بنیاد بنا کر یہی سوال کوئی مسلکی اختلافات کے بارے میں کرے یا مسلمانوں میں موجود متعدد طبقوں کے مختلف نظریات کو سامنے رکھ کر اس اختلاف کو سلام سے چھٹی کاعذر بنائے تو کیا اس کا یہ نقطہ نظر درست ہوگا؟ یا کوئی فلسفی انسانوں کے اختلافات بلکہ فسادات، قتل وغارت کو بنیاد بنا کر جانوروں کی کسی پرامن قسم میں جا پہنچے اور خود کو انہیں میں سے قرار دے تو کیا اس کا یہ عمل دیگر عقل انسانوں کے ہاں درست قرار دیا جائے گا؟ 
اگر اختلاف کی بنیاد پر اسلام سے نکل کر کفر میں جانااور انسانیت سے نکل کر جانوروں میں جانا درست ہے تو فرمائیں۔ اور اگر درست نہیں اور یقیناًدرست نہیں تو پھر جہادی تحریکوں کے اختلاف کی بنا پر ترک جہاد کیسے درست ہوگا؟ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ انسان ان مختلف لوگوں میں سے کس کے ساتھ ہو تو انسانوں کے اختلاف پر، مسلمانوں کے اختلاف پر جیسے عامی آدمی کرتا ہے، ویسے ہی یہاں بھی کرے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عقل کو استعمال کرے، مختلف نظموں کے حالات سے واقفیت پیدا کرے اورجس نظم کومعتبر علماء واکابر کی تائیدات حاصل ہوں، اس نظم سے تعلق جوڑے۔
چوتھے نمبر کے ضمن میں حافظ صاحب رقم طراز ہیں کہ امریکہ، اسرائیل، انڈیا کے خلاف جہاد فرض عین ہے، لیکن کس پر ؟ اس کے جواب میں خود ہی کہا ہے کہ حکمرانوں پر نہ عوام پر، بلکہ عوام پر پرامن طریقوں، جلسوں، مظاہروں کے ذریعے حکمرانوں کو مجبور کرنے کی ذمہ داری ہے یا عوام الناس کی اصلاح کی کوششوں میں معروف ہونے کی ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بعض نظموں کی مثال دے کر عدم تشدد پرمبنی جدوجہد کا سبق مجاہدین کو دینے کی کوشش کی ہے اور ساتھ ہی جہاد فرض عین کے فتاویٰ جاری کرنے والے علما پر پھبتی کسی ہے۔ 
ان سطور کے جواب کاایک حصہ تو گزشتہ صفحات میں آ چکا ہے۔ خلاصہ کے طور پر مکرر عرض ہے کہ جہاد کی دو قسمیں ہیں۔ اقدامی جہاد اصلاً حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ از خود کفار پر حملہ آور ہو جس کے ترک پر حکمران گناہ گار ہیں۔ (بحوالہ حاشیہ ابن عابدین ۳؍۲۳۹) اگرچہ بعض مخصوص صورتو ں میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کی اقدامی کاروائیاں بھی حقیقی اقدامی جہاد کا حکم رکھتی ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں المبسوط للسرخسی،کتاب السیر، باب مااصیب فی الغنیمۃ مما کان المشرکون اصابوہ من مال المسلم، ۱۰؍۸۲بحوالہ ماہنامہ الشریعہ نومبر ؍دسمبر ۲۰۰۸ء، ص۷۳) 
موجودہ حالات میں جن خطوں میں جہاد ہو رہا ہے، وہ دفاعی ہیں نہ کہ اقدامی۔ ان عبارات سے واضح معلوم ہو رہا ہے، کہ دفاع کی ذمہ داری (اگرچہ اولاً حکمرانوں کی ہے) عام لوگوں کی بھی ہے۔ فقہاء کی عبارات میں ’’فان ھجم العدو وجب علی جمیع المسلمین الدفع‘‘ کے الفاظ ہیں کہ کافروں کے حملے کی صورت میں تمام مسلمانوں پر سرزمین اسلام کا دفاع اور دشمن کا روکنا فرض ہے، جیساکہ راقم مذکورہ بالا سطور میں امام ابن تیمیہؒ اور علامہ ابن عابدین ؒ کی عبارات سے کافی وضاحت کر چکا ہے، بلکہ یہ الفاظ بھی فقہی کتابوں میں نمایاں ہیں کہ ’’تخرج المراۃ بغیر اذن زوجہا، والعبد بغیر اذن المولی‘‘ کہ ایسے حالات میں عورت خاوند کی اجازت کے بغیر اور غلام آقا کی اجازت کے بغیر نکلیں گے۔ 
فقہاء کرام جس فرض پر علی جمیع المسلمین کے واضح الفاظ لا رہے ہیں اور ابن تیمیہ ’’ فلایشترط لہ شرط‘‘ فرما رہے ہیں، حافظ صاحب اس کو ’’ہمارے نزدیک یہ گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے‘‘ کہہ کر بغیر ثبوت ودلیل اور حجت کے قرآن وسنت سے متصادم نظریہ پیش کر کے پھر منوانے پر مصر بھی ہیں۔ حکمرانوں کو فرائض ادائیگی کی طرف دعوت اور مختلف طریقوں سے ان کا قبلہ درست کرنے کی کوشش یقیناًعلمائے کرام اور عوام کی ذمہ داری ہے، اس سے مفر نہیں اور جہادی نظموں سے منسلک افراد اس فریضے کی ادائیگی بھی بحمداللہ کرتے ہیں اوراس کی بھاری قیمت بھی چکانا پڑتی ہے، لیکن اس کایہ مطلب بھی نہیں کہ حکمرانوں کی درستگی تک تعطل جہاد کا علم تھا م لیاجائے۔ زبیر صاحب نے مجاہدین کو پرامن مظاہروں کی ترغیب دیتے ہوئے مفتیان کرام کے فتاویٰ کو ان کی نفسیاتی تسکین کی حد تک مقید کہا ہے تو جناب عرض ہے کہ ان مفتیان کرام ( فنافی اللہ کادرجہ پانے والوں) کے فتاوی کی قوت آج بھی بطور مثال پیش کیے جانے والے مظاہروں سے سو فی صد زیادہ ظاہر اور نتیجہ خیز ہے۔ 
آپ کے ان مظاہروں سے، جلسوں سے قوم کو جو کچھ ملا، وہ اور اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ جب کہ آپ کے مطعون علماء کے فتاویٰ کی روشنی میں جو قوت جہاد ومجاہدین کی شکل میں سامنے آئی، وہ ماضی اورحال میں دو سپر پاوروں کو مکمل شکست دینے کے بعد تیسری سپر پاور کو بھی شکست دینے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ زبیر صاحب سرپھڑوانے کی مثالیں ان کو دے رہے ہیں جوان راہوں پر چلتے چلتے جانیں تک لٹا رہے ہیں، جن پر یہ آیت صاد ق آتی ہے: ’’فمنہم من قضی نحبہ ومنہم من ینتظر‘‘۔
آخر میں دو باتوں کی طرف متوجہ کرنا مفید سمجھتا ہوں۔ ایک یہ کہ حافظ صاحب نے اپنی تحریر میں کسی دلیل شرعی اور حجت وثبوت کے بغیر ’’ہمارے نزدیک‘‘ کا لفظ استعمال کیا اور پھر اپنے قائم کردہ نظریہ پر کوئی حجت شرعی نہیں لا سکے۔ وہ مجاہدین کو اخلاص کے ساتھ علم سے مزین ہونے کا صائب مشورہ (اشارۃً) دیتے ہیں، لیکن خود ’’ہمارے نزدیک‘‘ جیسے جملے استعمال کر کے یوں سمجھ رہے ہیں جیسے یہ تحریر الشریعہ کے قارئین کے لیے نہیں بلکہ تصوف کے سلسلے کے مریدین کے لیے ہے۔ گزارش ہے کہ اپنے نظریات وافکار کو سند تصور کر کے لوگوں پر مسلط کرنے کی بجائے دلیل وحجت کی دنیا میں تشریف لائیں۔ 
دوسری بات کہ انہوں نے مجاہدین کو تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی، تنظیم اسلامی اور تحریک نفاذ شریعت محمدی کے نہج پرکام کرنے کی دعوت دی ہے۔ وضاحت کے طور پر کچھ سطور تحریر کی جاتی ہیں کہ تنظیم اسلامی کے متعلق گذشتہ صفحات میں جو سطور آ چکی ہیں، وہی مجاہدین کے نظم اور تنظیم اسلامی کے درمیان موجود واضح فرق کو بیان کر نے کے لیے کافی ہیں۔ جہاں تک بات جماعت اسلامی اورتحریک نفاذ شریعت محمدی کی ہے (بعض جزوی اختلافات کے باوجود) یہ واضح ہونا چاہیے کہ یہ جماعتیں صرف قلمی جہاد اور دفتری اسلام کے قائل نہیں ہیں بلکہ دین کے تمام شعبوں پر عمل کی فکر کے ساتھ قربانیوں کی لازوال تاریخ رکھتی ہیں جن میں کشمیر وافغانستان کے پہاڑوں کی گواہیاں بھی موجود ہیں جو کہ حافظ صاحب کے مطابق درست نہیں۔ رہا تبلیغی جماعت کا معاملہ تو اب ان کی اکثریت ایک محدود نصاب تربیت کوکل دین تصور کرتی اور (مزعومہ مجہول درجہ کے) یقین کے حصول تک تعطل جہاد کی فکر رکھتی ہے جو الگ درد ناک موضوع ہے۔ تبلیغی جماعت کی اصلاحی کوششوں اور ان کے مفید نتائج سے انکار نہیں ، تاہم ان کی فکری بے اعتدالیوں کو علماء حق کی سوچ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 

مکاتیب

ادارہ

(۱)
مکرمی جناب عمار خاں ناصر صاحب 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
سب سے پہلے تو آپ کا شکر گذار ہوں کہ آپ نے میری تحریر ’’پر تشدد تحریکیں اور دیوبندی فکر ومزاج ‘‘ کو ’الشریعہ‘ کے نومبر/ دسمبر ۲۰۰۹ء کے شمارے میں جگہ دے کر ان خیالات کو اس قابل سمجھا کہ انہیں اپنے قارئین تک پہنچائیں۔ اس سے پہلے شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خاں صاحب ؒ کے بارے میں الشریعہ کا ضخیم خصوصی نمبر ملا۔ اتنے قلیل عرصے میں اتنی ضخیم اور معیاری پیش کش پر آپ، حضرت ؒ کے تمام عقیدت مندوں اور مداحوں کی طرف سے مبارک باداور شکریے کے مستحق ہیں، البتہ حضرت کے تلامذہ اور اور اولاد واحفاد کے حوالے سے ایک مستقل باب کی کمی محسوس ہوئی، اس لیے کہ حضرت جیسی شخصیت کا تعارف اس کے بغیر نامکمل سا محسوس ہوتا ہے ۔
الشریعہ کے دسمبر/ نومبر کے شمارے میں آپ کا مضمون بعنوان: ’’ جہاد کی فرضیت اور اس کا اختیار : چند غلط فہمیاں ‘‘ بھی نظر نواز ہوا ۔ ایک طالب علم کے طور پر مضمون کا اپنے استفادے کے لیے مطالعہ کیا۔ اسی وقت سے ارادہ ہورہا تھا کہ اس پر کچھ عرض کروں، لیکن ماشاء اللہ آپ کے مضامین میں علمی گہرائی اور گیرائی ہوتی ہے، اس لیے اس پر کچھ کہنے کے لیے بھی محنت اور مراجعتِ کتب کی ضرورت ہوتی ہے جس کا موقع نہیں مل سکا۔ خیال ہواکہ کچھ غیر مربوط سے خیالات ہی آپ کے ملاحظے کے لیے پیش کردیے جائیں۔
مضمون کے دو مرکزی سوالات (۱) جہاد کی فرضیت میں عملی حالات اور کسی پالیسی کے ممکنہ اثرات ونتائج کا دخل (۲) جہاد کا فیصلہ کرنے کا اختیار کس کو حاصل ہے، ان دونوں سوالات پر اپنے نقطۂ نظر کو فقہی عبارات کی روشنی میں ثابت کرنے میں آپ کامیاب رہے ہیں۔ جس انداز سے آپ نے مختلف مقامات سے فقہی عبارات کو جمع کردیا ہے، وہ صرف قابلِ مباک باد ہی نہیں قابلِ رشک بھی ہے۔ حضرت شیخ الحدیث ؒ کی تیسری نسل میں کتابی کیڑا ہونے کا وائرس اور علمی عرق ریزی کی روایت منتقل ہوتا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے،اللہم زد فزد۔
میرے ناقص سے خیال میں ان دو سوالوں میں سے پہلے سوال کو مزید بعض پہلوؤں سے بھی دیکھا جاسکتا ہے ، مثلاً :
(۱) آپ کا موضوع اگرچہ ان دونوں سوالوں کو فقہی زاویے سے دیکھنا ہے ، لیکن ان میں سے پہلے سوال پر سیرتِ طیبہ کی روشنی میں بھی کافی کام کی گنجائش ہے ۔ عہدِ رسالت کے غزوات اور سرایا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے طرزِ عمل میں اس حوالے سے کافی روشنی ملنے کی امید ہے۔
(۲) یہ بات فقہاء واصولیین کے ہاں مسلّمہ ہے کہ ہر حکمِ شرعی میں استطاعت کی شرط ملحوظ ہوتی ہے۔ جہاد جیسے حکم میں استطاعت ہونے یا نہ ہونے کا معیار بظاہر کسی کاروائی کے ممکنہ نتائج کو بنایا جاسکتاہے۔ اس وقت بالتعیین حوالہ تو یاد نہیں آرہا، لیکن مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے کسی جگہ تغییرِمنکر والی مشہور حدیث ’’ من رأی منکم منکراً الخ ‘‘ کی تشریح میں یہ فرمایاہے کہ تغییر بالید یا تغییر باللسان کی استطاعت سے مراد محض یہ نہیں کہ انکارِ منکر کے لیے آپ کوئی عملی یا زبانی قدم اٹھا سکیں ، بلکہ مراد یہ ہے کہ اس اقدام کے نتائج کا تحمل بھی ہوسکے۔ مولانا تھانوی ؒ کا استدلال یہ ہے کہ مثلاً ایک آدمی شراب کا جام پینے کے لیے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ہے ۔ اس موقع پر یہ تو ہوسکتاہے کہ ایک شخص میں اتنی جسمانی طاقت ہو کہ وہ اس سے یہ جام چھین لے یا اسے چھَلکا کر شراب گرا دے اور دوسرا شخص اتنی طاقت نہ رکھتا ہو، لیکن زبان سے کہنے کی حد تک تو ہر وہ شخص جو گونگا نہیں ہے، اسے یہ کہنے کی طاقت رکھتا ہے کہ یہ حرام ہے، اسے مت پیجئے، جبکہ حدیث میں تغییر باللسان کے بارے میں بھی ’’فإن لم یستطع‘‘ کے لفظ ہیں جو زبان کے بارے میں بھی استطاعت کے پائے جانے یا نہ پائے جانے کی دوصورتوں کو فرض کررہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں استطاعت سے مراد محض زبان سے کہہ دینے کا کام نہیں ہے، بلکہ اس سے آگے کی کوئی چیز مراد ہے اور وہ یہی ہے کہ بات کہہ دینے کے بعد اس کے ممکنہ نتائج کا تحمل بھی ہو۔ اگر کسی شخص میں ان نتائج کا تحمل نہیں ہے تو اس میں تغییر باللسان کی استطاعت نہیں ہے۔ بظاہر استطاعت کی یہی تشریح حدیث کے تغییر بالید والے حصے اور اسی نوعیت کے دیگر ا حکام میں ہونی چاہیے۔
(۳) استطاعت ہی کے سلسلے کی ایک کڑی یہ ہے کہ سورۂ انفال کی آیت ’’الآن خفف اللہ عنکم الخ‘‘ کا مطلب تمام فقہاء کے ہاں یہی ہے کہ اگر دشمن کی تعداد دوگنی سے زائد ہو تو میدان سے بھاگنے کی گنجائش ہے۔ جہاں میدان سے بھاگنے کی گنجائش ہوگی، وہاں قتال نہ کرنے یا دشمن کی طاقت دیکھ کر جو بچتاہے، کم ازکم وہ بچانے کی خاطر کسی قدر کمپرومائز کی بھی گنجائش ہوگی۔ موجودہ حالات میں یہ بات دیکھنے کی ہے مسلمان اور مدّ مقابل کافر طاقت میں صرف تعداد ہی کا توازن دیکھا جائے گا یا طاقت کے دوسرے پہلوؤں کو بھی مدّنظر رکھا جائے گا؟ اس لیے کہ جدید ذرائعِ جنگ نے تعداد کی اہمیت کم کردی ہے۔ عین ممکن ہے کہ تلاش کرنے سے قدیم فقہاء اور مفسّرین کے ہاں بھی اس سوال کا صریح جواب مل جائے۔ ۲۰۰۱ء میں جب طالبان نے کابل ،بگرام اور قندھار سمیت بہت سے شہروں اور محاذوں سے باقاعدہ انخلا کا فیصلہ کیا تھا جسے شکست کی بجائے ’’ حکمت عملی‘‘ سے تعبیر کیا گیا تھا، اس کے لیے مجھے یاد نہیں کہ ان حضرات کے پیشِ نظر کیا شرعی دلیل تھی۔ بظاہر ان کے پاس شرعی جواز یہی ہوگا کہ انہوں نے محسوس کیا ہوگا کہ دشمن کی طاقت اتنی زیادہ ہے کہ اب ان محاذوں پر رہتے ہوئے مقابلہ کرنا مشکل ہے۔
(۴) فقہاء واصولیین کے ہاں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ جہاد حسن لغیرہ ہے ، حسن لعینہ نہیں ہے۔ حسن لغیرہ ہونے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ حسن تب بنے گا جبکہ اس کے ذریعے وہ غیر حاصل کرنا ممکن ہو جس کے لیے اسے حسن قرار دیا گیا ہے۔ اس کا حاصل بھی یہی نکلتاہے کہ جہاد یا قتال جیسے امور میں ان مرتب ہونے والے ممکنہ نتائج کی خاص اہمیت ہے۔ غالباً اسی امر کی طرف حضرت ابنِ عمرؓ نے اپنے اس جملے میں اشارہ کیا ہے: ’’ وأنتم تریدون أن تقاتلوا حتی تکون فتنۃ ویکون الدین لغیر اللہ‘‘ ۔
(۵) اسی طرح ایسٹ انڈیا کمپنی کی برّ صغیر میں آمد سے لے کر ۱۹۴۷ء تک یہاں کے فقہا اور مسلمان مفکرین کی سوچ اور اس میں ارتقا کا جائزہ بھی موضوع کے کئی گوشے مزید واضح کرسکتاہے۔
آپ کے اس مضمون میں میرے لیے خوشی کا باعث بننے والی ایک بات یہ بھی ہے کہ آپ نے (ص ۴۲ ) غزوۂ بدر کے بارے میں ابنِ ہشام کے حوالے سے یہ تحریر کیاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا میں صحابہ کو نکلنے کی جو ترغیب دی تھی، وہ قریش کے تجارتی قافلے کے حوالے سے تھی، جبکہ جس حلقۂ فکر کی طرف عموماً لوگ آپ کو منسوب کرتے ہیں، اس کی بعض شخصیات سے میں نے سنا کہ وہ اس بات کو نہ صرف قرآن کے خلاف قرار دیتے تھے بلکہ اسے لوٹ مار کی ایک شکل قرار دیتے تھے جس کی نسبت ظاہر ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں کی جاسکتی۔ آپ کی ذکر کردہ بات سے اندازہ ہوا کہ آپ اپنے حلقۂ فکر میں پائے جانے والی آرا سے اختلاف بھی فرماتے ہیں اور یہی اہلِ علم کا طریقہ رہا ہے۔
ص ۶۰ پر آپ نے رد المحتار کی جو عبارت ’’کل مصر فیہ والٍ مسلم الخ‘‘ پیش کی ہے، اس سے آپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ غیر مسلم حکومت کے زیرِ سایہ مسلمانوں کو دیے گئے اختیارت سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے، لیکن اس ناچیز کو اس عبارت سے ایسا کرنے کا جواز تو واضح طور پر ثابت ہوتا معلوم ہورہا ہے، وجوب پر اس عبارت کی دلالت راقم الحروف سمجھ نہیں سکا۔ ممکن ہے جناب کے ذہن میں وجوب ثابت کرنے کے لیے کوئی اضافی مقدمہ ہو جو ذکر سے رہ گیا ہو ۔ 
مسلم علاقوں پر غیر مسلموں کے تسلّط کی جو تقسیم آپ نے کی ہے، وہ آپ کی دقیقہ رسی کی آئینہ دار ہے ، لیکن اس سلسلے میں مزید دو صورتوں پر شاید مستقل بحث کی ضرورت ہو۔ آپ نے جو چار امکانات بیان کیے ہیں، وہ اس صورت سے متعلق معلوم ہوتے ہیں جبکہ کوئی کافر قوم محض عسکری قوت کے بل بوتے پر مسلمانوں کے کسی خطے پر قابض ہوجائے یا اس کی ابھی کوشش کرہی ہو ، جبکہ ایک ممکنہ صورت یہ ہے کہ کسی کافر قوم کی عمل داری محض عسکری طاقت کے ذریعے سے نہ ہو، بلکہ کچھ لڑ کر، کچھ آنکھیں دکھاکر، کچھ بہلا پھسلا کر اور سب سے بڑھ کر مسلمان حکومت کی اپنی اندورونی کمزوریوں اور مجبوریوں سے فائدہ اٹھاکر خود ان کے حکمرانوں ہی سے پروانے حاصل کرکے بتدریج اپنی عمل داری قائم کرلی جائے اور ’’ خلق خدا کی، ملک [مسلمان] بادشاہ کا ، حکم کمپنی کا‘‘ والی صورتِ حال پیدا ہو جائے، جیساکہ ہندوستان میں مغلیہ دور کے آخر میں تھی۔ یہ صورتِ حال اس لیے قابلِ غور معلوم ہوتی ہے کہ اس صورت میں اگرچہ شاہ عبد العزیز وغیرہ نے ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا فتوی دیا تھا اور اس کی تائید میں بر صغیر کے دیگر علما کے فتاوی بھی موجود ہیں، لیکن اول تو اسے متفقہ فتویٰ قرار دینا مشکل ہے، اس سے مختلف فتاوی بھی مل سکتے ہیں۔ دوسرے جہاں تک میری یاد داشت اور معلومات کا تعلق ہے، شاہ عبدالعزیز کے دارالحرب کے فتوے میں بھی جہاد کی فرضیت وغیرہ کا ذکر نہیں ہے۔ نہ تو انگریزوں کے خلاف جہاد کا ذکر ہے اورنہ ہی مسلمان بادشاہ یا دیگر مسلم حکام کے خلاف جنہوں نے انگریزاور اس کی فوج کو بہت سی سہولتیں دے رکھی تھیں جنہیں آج کل کی زبان میں انگریزوں کے ایجنٹ یا ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے والا کہا جا سکتا ہے۔ بعد کے بعض واقعات کی کڑیاں شاہ عبد العزیز سے ملاتے ہوئے ہمارے کئی تاریخ نگار حضرات نے لگتا ہے ’’نکتہ بعد الوقوع‘‘ سے بھی کام لیا ہے۔ ۱۸۵۷ء کے واقعات اچانک ایک وقتی معاملے (انگریزی فوج میں کام کرنے والے ہندوستانی فوجیوں کے زیرِ استعمال کارتوس کا مسئلہ) سے پھوٹے تھے ، وگرنہ انگریزوں کے خلاف بے چینی کی وجوہات (جن کا ذکر سرسید احمد خاں نے ’’اسبابِ بغاوتِ ہند ‘‘ میں بھی کیا ہے) کے باوجود علما اورعامۃ المسلمین کا عام رویّہ صورتِ حال کو برداشت کرنے ہی کا تھا۔ ہندوستان کے دار الحرب ہونے کا فتوی جاری کرنے کے باوجود نہ صرف اسے دار الاسلام بنانے کے لئے فوری طور پر جہاد کی فرضیت کا فتوی نہیں دیا گیا بلکہ انگریزوں وغیرہ کی ایسی ملازمتیں جن میں کوئی ناجائز کام نہ کرنا پڑے، انہیں ناجائز قرار بھی نہیں دیاگیا۔ تحقیق کی جائے تو بہت سے اچھے اچھے لوگوں کا اس زمانے میں سرکار کی ملازمت اختیار کرنا بھی ثابت ہوجائے گا۔ (اس سلسلے میں مولانا مملوک علی پرنسپل عربک کالج دہلی کی مثال دی جاسکتی ہے جو مولانامحمد یعقوب نانوتویؒ کے والد اور مولانا محمد قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے استاذ تھے) ۔ خود ۱۸۵۷ء کے واقعات کے اولین کرداربننے والے فوجی بھی اب تک سرکار کی ملازمت ہی کررہے تھے۔ ۱۸۵۷ء کے حوالے سے انگریزں کے مستامن ہونے کا شبہ سرسید احمد خاں کے حوالے سے تو معروف ہے ہی، ممکن ہے دیگر حضرات کے ہاں بھی مل جائے۔
۱۸۵۷ء کا جہاد کا فتوی بھی کوئی متفقہ نہیں تھا۔ خود شاہ اسحاق صاحب کے بعض شاگردوں کو بھی اس سے اختلاف تھا۔ اس مسئلے پر شاہ اسحاق صاحب کے شاگردوں میں اختلافِ رائے کا تذکرہ تو مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے بھی کیا ہے، اور اس فتوے سے اتفاق نہ کرنے والوں کے لیے کثیر ‘کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ان واقعات کے لیے جہادِ آزادی کی بجائے ’’غدر ‘‘ کا لفظ صرف سرسید جیسے لوگوں کے ہاں ہی نہیں، دیگر کئی علما کے ہاں بھی ملتاہے ، مثلاً مولانا تھانویؒ کے ملفوظات میں بکثرت یہ لفظ مل جائے گا،مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ کی مولانا محمد قاسم نانوتویؒ پر سوانحی رسالے میں۔ اس دور کا یہ اختلافِ رائے بھی ظاہر ہے فقہی تراث میں ہی آتا ہے۔ ان اقوال اور ان کے دلائل کی روشنی میں اس مخصوص صورتِ حال کے حکم پر بحث ہوسکتی ہے ۔
دوسری صورت جس پر شاید ذرا تفصیل سے بحث کرنے کی ضرورت ہو یہ ہے کہ پہلے تو عموماً یہ ہوتا تھا کہ کسی علاقے کے دارالحکومت، اہم شہروں اور آبادیوں پر جب کسی طاقت کا تسلّط ہوجاتا تھاتو عملًا یہ سمجھ لیا جاتا تھا کہ ان کا استیلا ہوگیا ہے اور عموما شکست کو تسلیم کرلیا جاتا تھا اور ایک طرح سے لڑائی کا خاتمہ ہوجاتا تھا، لیکن اب افغانستان اور عراق میں بظاہر شہروں کی حد تک امریکی تسلط یا طالبان کے’’ حکتِ عملی‘‘ پر مبنی انخلا کے باوجود وضعت الحرب أوزارہا  والی کیفیت پیدا نہیں ہوئی، بلکہ پہاڑوں ، جنگلوں اور غاروں میں جاکر قابض فورسز کے خلاف گوریلا جنگ کا آغاز کردیاگیا۔ دوسری طرف قابض قوّت نے ظاہری طور پر اپنی عمل داری قائم کرنے کی بجائے اسی ملک کے کچھ لوگوں کو آگے لا کر ان کی حکومت قائم کردی۔ کٹھ پتلی ہی سہی، حکمران ہیں تو مسلمان اور اسی ملک کے باشندے، پھرانتخابات کراکے ان پر عوامی نمائندگی کاغازہ بھی مل دیا گیا اور سارے نظام کو ایک دستورکے بھی تابع کردیا گیا جس پر الفاظ کی حد تک شایدزیادہ اعتراض کی گنجائش موجود نہ ہو۔ افغانستان کے حالیہ دستور میں تو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے بارے میں ہماری قرار دادِ مقاصد سے ملتے جلتے الفاظ بھی موجود ہیں۔ ایسے ملک کو مسلمانوں کی عمل داری والا ملک کہا جائے گا یا کافروں کی؟ یہ دار الحرب ہوگا یا دار الاسلام؟ وہاں کے سیاسی نظام کا حصہ بننے کا کیا حکم ہوگا؟ ( برِّ صغیر میں تو اکابر علماء نے انگریزکے بنائے ہوئے اور انہی کی ماتحتی میں چلنے والے سیاسی نظام میں شرکت بھی کی تھی اور اسی سے آزادی کی راہ کے متلاشی بھی تھے ) کیا کسی مسلمان کو محض اس نظام کا حصہ بننے کی وجہ سے غدار اور مباح الدم قرار دیا جا سکے گا ؟ ان سوالات پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔
مطالعے کے دوران آپ کے مضمون کے بعض حصّے کشمیر اور فلسطین جیسے مقبوضہ خطوں کے حوالے سے کھٹکتے رہے ، البتہ مضمون کے آخر میں آپ نے وضاحت کردی کہ اس طرح کے مسائل میں مروّجہ بین الأقوامی عرف کو بھی مدّ نظر رکھا جانا چاہیے، یعنی کفار کے ایسے مقبوضہ علاقے جن پر قابض قوتوں کے قبضے کے جواز کو نہ تو وہاں کے باشندوں نے باقاعدہ طور پر تسلیم کیا ہے اور نہ ہی بین الاقوامی عرف اور قانون اسے تسلیم کرتاہے، وہاں کا حکم مختلف ہوگا۔ ایسے علاقے کے باسیوں کے لیے تو اپنے حقِّ خود ارادیت کے لیے لڑنے کے حق کو آپ نے ایک شرط کے ساتھ شرعی طور پر تسلیم کیا ہے، لیکن بحیثیتِ مجموعی آپ کے مضمون سے محسوس یہ ہوتا ہے کہ آپ ایسے علاقے کے کسی ہمسایہ مسلم ملک کے اس حق کو تسلیم نہیں کرتے کہ وہ اس معاملے میں فوجی مداخلت کرے یا اپنے شہریوں کو ان کی مدد کے لیے جانے کی اجازت دے، خاص طور پر جبکہ اس ہمسایہ مسلمان ریاست کا ظاہری اور علانیہ موقف یہی ہو کہ وہ عسکری مداخلت نہیں کررہی ، صرف خفیہ طورپر اپنے لوگوں بھیج رہی ہو یا اس کی اجازت دے رہی ہو۔ بظاہر آپ کی بات سے یہ معلوم ہوتاہے کہ یہ مداخلت واضح طور پر اخلاقی جواز سے خالی ہے، اس لیے کہ یہ دونوں ملک اقوامِ متحدہ اور بعض دیگر تنظیموں کے رکن ہونے کی وجہ سے یا دو کسی دو طرفہ معاہدے کی وجہ سے ایک دوسرے کے معاہد ہیں۔ میرے خیال میں یہ بحث اتنی سادہ نہیں ہے۔ اس وقت اس پر کچھ لکھنے کا موقع نہیں ہے۔ اس پر مولانا مودودی ؒ اور علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ کے درمیان خط وکتابت بھی موجود ہے جس کا آپ نے بھی حوالہ دیاہے۔ ( اگر یہ خط وکتابت بھی الشریعہ میں چھپ جائے تو بہت سے لوگوں کے علم میں اضافے کا باعث ہوگی۔ ویسے بھی مولانا انوار الحسن شیرکوٹی کی جس کتاب میں یہ خط وکتابت شامل ہے، وہ آج کل عموماً دستیاب نہیں ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کے علاوہ کسی اور عام دستیاب کتاب میں بھی یہ خط وکتابت شامل ہے یا نہیں) 
مجھے اس وقت دو باتوں کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ ایک یہ کہ آج کل صلح کے بین االأقوامی معاہدات موجود ہونے کے باوجود بھی بعض ملک بالخصوص بڑی طاقتیں دوسرے ملکوں میں (covert actions)کرتی ہیں اور انہیں عملاً برداشت بھی کیا جاتا ہے۔ ایسی خفیہ کاروائیوں کی خود بین الاقوامی قانون اور عرف میں کیا حیثیت ہے اور اس عرف سے آج کے دور میں مقبوضہ مسلمان خطوں کے ہمسایہ ملک (خاص طور پر جو بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کے مسلمہ فریق بھی ہیں) کس حد تک استفادہ کرکے اپنی کاروائیاں کرسکتے ہیں؟ یہ سوال قابلِ غورہے۔ اگر بین الاقوامی عرف کے ہم پابند ہیں تو جہاں یہ عرف ہمارے حق میں جاتا ہو، اس سے فائدہ اٹھانا بھی ہمارا حق ہے۔ اگر معاہدات آج کے ہیں تو ان کی خلاف ورزی ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ بھی آج ہی کے عرف کی روشنی میں بظاہر ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ کسی کاروائی کو محض اس وجہ سے غیر قانونی یا خلافِ عرف ومعاہدہ نہیں کہا جاسکتاکہ مسلمانوں کے ہاں اس کا نام جہاد ہے۔ میرا مقصد کوئی رائے قائم کرنا نہیں، محض سوال ہی سامنے رکھنا ہے، اس لیے کہ میں خود بین الاقوامی قانون اور عسکری امور سے ناواقف ہوں، لیکن میرا یہ سوال صرف ہمسایہ ریاست کے حوالے سے ہے، خود اس غیر مسلم ملک کے شہریوں کے بارے میں نہیں اور وہ بھی صرف اس صورت سے متعلق ہے جبکہ ایک ذمہ دار ریاست تما م عواقب ونتائج دیکھ کر اس طرح کی کسی مداخلت کا فیصلہ کرتی ہے۔ فرض کریں فلسطین کی کوئی ہمسایہ ریاست اس طرح کا فیصلہ کرتی ہے اور اس بات کا بھی یقین ہے کہ وہ کاروائیاں اس ریاست کے ہاتھ ہی میں رہیں گی، غیر ذمہ دارانہ ہاتھوں میں نہیں چڑھ جائیں گی۔
دوسری بات جس کی طرف اس وقت توجہ دلانا مقصود ہے، وہ یہ ہے کہ فقہا کے ہاں ایک اصول ’’ ظفر بالحق ‘‘ کا بھی ہے جس میں یہی ہوتا ہے کہ ایک چیز جس طریقے سے آپ حاصل کررہے ہوتے ہیں، وہ بذاتِ خود کوئی اچھا طریقہ نہیں ہوتا لیکن آپ چونکہ اس ذریعے سے جو کچھ حاصل کررہے ہوتے ہیں، وہ آپ کا حق ہوتا ہے اور آپ کو یقین ہوتا ہے کہ معروف طریقے سے یہ حق مجھے ملنے والا اور سیدھی انگلیوں سے یہ گھی نکلنے والانہیں ہے، اس لیے آپ اپنے حق کے حصول کے لیے کوئی ایسا راستہ اختیار کرتے ہیں جو عام حالات میں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ اس کی متعدد فقہا بعض احادیث کی روشنی میں اجازت دیتے ہیں۔ جن جگہوں پر کسی قوت کا قبضہ بین الاقوامی طور پر غیر قانونی ہونا مسلمہ ہے ، اس کے باوجود بین الاقوامی برادری کا رویہ بے حسی ہی نہیں، مجرمانہ طور پر دوہرے معیار کا شکار ہو ، جیسے ہم دیکھ رہے ہیں کہ کشمیری ساٹھ سال سے استصواب اور حق خودارادیت کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں اور بھارت کے وعدوں پر عمل در آمد کا انتظار کررہے ہیں اور اب کم ازکم بزبانِ حال تقادم کا بہانہ بناکر ’’ رات گئی بات گئی ‘‘ پر عمل کا مسئلے کے متعلقہ فریقوں کو مشورہ دیا جارہا ہے۔ یہی صورتِ حال فلسطین کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی متعدد قرار دادوں کی ہے۔ اس کے بر عکس مشرقی تیمور میں ( جہاں عیسائی اکثریت آباد ہے ) دیکھتے ہی ریفرنڈم بھی ہوتاہے اورعیسائی اکثریت پر مشتمل آزاد خود مختار ریاست بھی وجود میں آجاتی ہے، سوڈان کو جنوب میں ریفرنڈم کرانے کا اعلان کرنا پڑتا ہے، دار فور کے لوگوں کی داد رسی کے لیے دنیا بھر کا سوڈان پردباؤ ہے۔ ایسے میں اگر کسی مقبوضہ علاقے کی ہمسایہ ذمہ دار ریاست کو اس بات کا یقین ہوجاتاہے کہ یوں بیٹھے رہنے یا محض رسمی طور پر انٹر نیشنل فورمز پر آواز اٹھاتے اور لابنگ کرتے رہنے سے بات نہیں بنے گی، اس کے ساتھ یہ ذمہ دار ریاست تمام عواقب ونتائج پر اچھی طرح غور کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ اس مسلمہ حق کے حصول کے لیے فلاں قسم کی کاروائی ناگزیر ہے جو دوسرے ذمہ دار ممالک بھی کرلیتے ہیں اور انہیں کوئی نہیں پوچھتا، اگرچہ علانیہ طور پر وہ اس طرح کی کاروائیوں کو own نہیں کرتی، لیکن اس میں حصہ لینے والوں کو پتا ہے کہ یہ ریاست کا ذمہ دارانہ فیصلہ ہے تو کیا اسے بھی محض ظاہری اور تکنیکی طور پر عہد کی خلاف ورزی قرار دے کر اخلاقی اصولوں سے خارج قرار دیا جائے گا؟
روسی مداخلت کے خلاف افغانستان میں ہونے والی مزاحمت کے دوران امریکا یا اس وقت کی آزاد دنیا کہلانے والے ملکوں نے کبھی بھی سرکاری سطح پر اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ وہ وہاں مسلح کاروائیوں کی حمایت کرہے ہیں، یہی کہا جاتا تھاکہ ہم افغان مجاہدین کی اخلاقی اور سفارتی مدد کرتے رہیں گے، لیکن اصل حقیقت اس وقت بھی بچے بچے کو معلوم تھی۔ بین الاقوامی قانون اور عرف میں اس طرزِ عمل کو بین الاقوامی معاہدات کی خلاف ورزی کس حد تک سمجھاگیا تھا؟ اس سے بھی زیادہ واضح مثال ۱۹۷۰ء میں بہارت کی مکتی باہنی اور دسرے ذرائع سے مشرقی پاکستان میں مسلح مداخلت کی دی جاسکتی ہے۔ افغانستان میں تو کم از کم روس کی شکل میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کا بہانہ تھا، مشرقی پاکستان میں تو یہ بات بھی نہیں تھی۔ پھر کشمیر اور فلسطین میں مسلمہ بین الاقوامی سرحد کا معاملہ نہیں ہے۔ پاکستانی اور ہندوستانی کشمیر کے درمیان بین الاقوامی سرحد نہیں ہے، صرف کنٹرول لائن ہے ، اور کشمیر وفلسطین دونوں تصفیہ طلب متنازعہ خطے تسلیم کیے جاتے ہیں، جبکہ مشرقی پاکستان متنازعہ خطہ بھی نہیں تھا اور بھارت نے باقاعدہ بین الاقوامی سرحد پار سے مسلح مداخلت کی تھی۔ اس پر بھارت کے خلاف بین الاقوامی قانون کتنا حرکت میں آیا؟ چلو ریاستوں کا معاملہ تو الگ رہا، مکتی باہنی کے ہاتھوں لٹ پٹ کر آنے والے عام خاندان اب بھی موجود ہیں۔ اب یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آچکی ہے کہ مکتی باہنی اس وقت بھارت ہی کا ایک ہاتھ تھا۔ کیا مکتی باہنی کا کوئی متاثرہ خاندان بھارت کے خلاف کسی فورم پرکوئی قانونی چارہ جوئی کرسکتاہے ؟
میرا مقصد اپنی رائے قائم کرنا نہیں ہے ، بلکہ بین الاقوامی قانون ، معاہدات اور عرف کے بارے میں اہلِ علم کے سامنے سوال ہی رکھنا ہے کہ اس طرح کی صورتِ حال میں بین الاقوامی عرف اور قانون کیا کہتاہے؟ کیا ایسے حالات میں کسی نظر انداز شدہ مقبوضہ اور تصفیہ طلب علاقے کے لوگوں کے لیے قضیے کے مسلّمہ ہمسایہ فریق کے لیے مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں نکلتی اور کیا اس کے لیے فقہا کے ’’ ظفر بالحق ‘‘ والے اصول سے کوئی سند نہیں ملتی؟ اسی بات کو یوں بھی کہا جاسکتاہے کہ ایک ملک کے دوشہری بھی ایک دوسرے کے معاہد ہوتے ہیں۔ فرض کریں کہ اس طرح کا ایک شہری دوسرے کا موبائل چھیننے کی کوشش کرتاہے ، دوسرا اپنا موبائل بچانے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس کا روائی میں چھیننے والے کا بازو مروڑ دیتاہے یا اسے دوچار طمانچے رسید کردیتاہے جسے فقہا دفع الصائل سے تعبیر کرتے ہیں ، کیا اس کے اس عمل کا ان کے اس باہمی معاہدے پر اثر پڑے گا یا کیا ان کا باہمی معاہد ہونا اس کے اس عمل کے جواز پر اثر انداز ہوگا؟ قضیہ کشمیر کی ابتدا کی صورتِ حال ( خاص طور پر سیز فائر سے پہلے ) کم از کم یہی تھی۔ بھارت کی طرف سے تقسیمِ ہند کے طے شدہ فامولوں اور اصولوں سے انحراف ہورہا تھا، اگر کسی ریاست کے حکمرانوں کے فیصلے کا بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق میں اعتبار تھا جیسا کہ کشمیر میں بھارت کی پوزیشن تھی تو اسی اصول کے مطابق حیدرآباد اور جونا گڑھ پر اس کا کوئی حق نہیں بنتا تھا اور عوام کی رائے کا اعتبار تھا تو کشمیر پر اس کا حق نہیں بنتا تھا، کیونکہ اب تو پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔ اُس وقت تو کشمیری عوام کی بہت بھاری اکثریت واضح طور پر پاکستان کے سا تھ الحاق کے حق میں تھی۔ برّ صغیر کی عمومی فضا ہی کچھ ایسی تھی۔ اس لحاظ سے تو استصواب اب اگر ہو بھی جائے تو تب بھی محض تاخیر بھی عالمی برادری کی طرف سے مجرمانہ ناانصافی ہوگی۔
اس سے بحث نہیں کہ ایسے حالات میں بہتر اور مفید پالیسی کیا ہوسکتی ہے اور کیا مذکورہ بالا نوعیت کی مداخلت کاراستہ اختیار کرنا مقصد کے حصول کا واقعی ذریعہ ہوسکتا ہے یامقبوضہ علاقے کے لوگوں کی پر امن سیاسی جدو جہد کی بھر حمایت کرنا زیادہ فائدہ مند ہوسکتاہے۔ اس بحث سے قطع نظر ہمسایہ ملک کی مسلح مداخلت کے بارے میں مذکورہ بالا سوالات بہرحال موجود ہیں اور ایسی مداخلت کا اخلاقی جواز سے عاری ہونا اتنا بھی واضح اور بدیہی نہیں لگتا ، بالخصوص جبکہ اس بات کا یقین ہو کہ اس پالیسی سے کسی دوسری جماعت کو ہم خطرات سے دو چار نہیں کررہے ، جس کی مثالی صورت یہی ہے کہ لوگوں کی نمائندہ ذمہ دار حکومت اس طرح کا فیصلہ کرے ، یعنی اس طرح کا اگر فیصلہ ہو تو وہ واقعی پولٹیکل فیصلہ ہو۔ ایسا نہ ہوکہ وہ دکھاوے کی حدتک تو حکومتی اور سیاسی فیصلہ ہو حقیقت میں محض پروفیشنل فیصلہ ہو، اور اس فیصلے میں حکومت اپنے ہی کسی ماتحت ادارے کے آگے مجبور ہو۔ ( عالمِ اسلام میں بدقسمتی یہ ہے کہ اس میں یا تو صحیح معنی میں نمائندہ حکومتیں ہوتی ہی نہیں ہیں۔ اگر ہوں بھی تو ٹیکنو کریسی والی ذہنیت بہت سی جگہوں پر غالب نظر آتی ہے۔ یا تو چند پڑے لکھے ’’بابو‘‘ سیاسی قیادت کو بے وقوف سمجھنے پرتلے ہوتے ہیں یا بعض اداروں کی طرف سے اسے بزدل قرار دے کر فیصلے کرنے کا صحیح موقع نہیں دیا جاتا۔) اگرریاست کا کوئی ماتحت ادارہ یا اس کے کچھ افراد اپنی حدود سے تجاوز کرکے حکومتِ وقت کو غافل رکھ کر اس کی اس اجازت کے بغیر اس طرح کا کوئی قدم اٹھاتاہے (جس کی ایک مثال شاید کارگل کا واقعہ ہو) تو اس طرح کا ایکشن بظاہر rogue ہوگا، اس میں اور کسی پرائیویٹ تنظیم کے از خود اسی طرح کے کسی اقدام میں بڑا فرق ڈھونڈنا مشکل ہوگا ۔ 
یہ تو چند باتیں بطور سوال کے عرض کی ہیں۔ مزید دوباتوں پر اپنے ناقص خیال کا بھی اظہار کرنا چاہتاہوں۔ ایک تو یہ کہ آپ نے اپنے مضمون میں کلاسیکل فقہ کی اصطلاح استعمال کی ہے اور بظاہر آپ کی گفتگو سے یہ تأثر ابھرتا ہے (ہو سکتا ہے میں غلط سمجھاہوں) کہ بعض مسائل میں کلاسیکل فقہ تو کوئی راہ نمائی نہیں کررہی، البتہ اس سے ہٹ کر بعض دیگر زاویوں سے دیکھا جائے تو مسئلے کا جواب مل جاتاہے۔ میں کلاسیکل فقہ کی اصطلاح کے مفہوم سے تو واقف نہیں، البتہ اتنی بات واضح ہے کہ اس وقت فقہی مسائل، بالخصوص اجتماعی مسائل کے بارے میں تین بڑے رجحانات موجود ہیں: 
ایک یہ کہ فقہی کتب اور وہ بھی متاخرین کی کتب کی عبارات اور جزئیات کو اساس بنایا جائے اور حتی الامکان ان سے باہر نہ نکلا جائے۔ ہمارے ہاں فتوی سے متعلق بیشتر حضرات اسی رجحان پر عمل پیرا ہیں۔ 
دوسرا رجحان یہ ہے کہ فقہا کی کاوشوں سے استفادہ تو ضرور کیا جائے لیکن استدلال کی اصل بنیاد براہِ راست قرآن وسنت اور مقاصدِ دین اور ایک وسیع دائرہ رکھنے والے اجتہاد کو بنایا جائے۔
تیسرا رجحان ان دونوں کے درمیان ہے ، وہ یہ کہ اصل راہ نمائی تو مدوّن فقہ سے ہی لی جائے البتہ فقہاء کی جزئیات پر انحصار کرنے کی بجائے ان کی تعلیلات اور ادلہ کو بھی مدِّنظررکھا جائے جس بنیاد پران فقہا نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس کی صورت اگر تبدیل ہوگئی ہو تو اس کے مطابق حکم بھی تبدیل کرلیا جائے ، اگرچہ وہ حکم بظاہر بعض عبارات سے متصادم ہو ۔ مخصوص فقہ کے ساتھ ساتھ دوسرے فقہا سے بھی استفادہ کرلیا جائے ۔
آپ نے مضمون کے آخر میں بعض مسائل میں عصرِ حاضر کے بین الاقوامی قانون اور عرف کو بنیاد بنانے کی بات کی ہے جو بذاتِ خود درست ہے ، لیکن کلاسیکل فقہ سے آپ کی مراد اگر صرف پہلا رجحان ہے تو آپ کی یہ بات بھی درست ہوسکتی ہے کہ اس کلاسیکل فقہ میں اس مسئلے کا حل نہیں ملتا یا اس سے کچھ اور مستفادہوتاہے۔ اگر تیسرا رجحان بھی کلاسیکل فقہ میں داخل ہے تو چونکہ فقہا کے ذکرکردہ بہت سے احکام کی وجہ ہی اس زمانے کا بین الاقوامی عرف تھا، اس لے اس بنیاد یعنی عرف کے بدلنے سے حکم کی تبدیلی بذاتِ خود کلاسیکل فقہ کے اس شعبے کا تقاضاہے۔ اس وقت اس سے بحث نہیں کہ ان رجحانات میں سے کون سا زیادہ قابلِ عمل ہے یا سب ہی سے مختلف دائروں اور سطحوں پر استفادہ ہوسکتا ہے، کہنا یہ مقصود ہے کہ جس چیز کو آپ کلاسیکل فقہ کہہ رہے ہیں، اس میں فقہاء کی تعلیلات اور ان سے استفادہ بھی شامل ہے تو یہ تاثر صحیح نہیں ہوگا کہ ان مسائل میں اس فقہ نے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں اور وہ ہمارے سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے ۔
دوسری بات جو اگرچہ آپ کے مضمون سے متعلق تو نہیں لیکن اسے عرض کرنا بہت ضروری معلوم ہوتاہے، وہ یہ کہ جناب حافظ محمد زبیر صاحب نے اپنے ایک مضمون میںیہ لکھا ہے کہ موجودہ حکمران چونکہ غاصب اور ظالم ہیں، اس لیے بذاتِ خود تو اس قابل ہیں کہ ان کے خلاف خروج نہ صرف جائز بلکہ واجب بھی ہو، مسئلہ صرف استطاعت کاہے۔ یہ بات دیگر بعض علما سے بھی سننے میں آئی ہے۔ پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں پر اور لوگوں کی طرح مجھے بھی بہت سے اعتراضات ہیں، لیکن انہیں غاصب کہنا درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ غاصب وہ ہوتا ہے جس نے کوئی چیز ناجائز ذریعے سے حاصل کی ہو۔ پاکستان میں ایک آئین موجود ہے اور اس آئین میں حکمرانی حاصل کرنے کا طریقہ بھی درج ہے۔ اس آئین اور اس طریقۂ کار پر دینی حلقوں سمیت سب نے بنیادی طور پر اتفاق کیا ہواہے۔ موجودہ حکومت بنیادی طورپر اسی طریقِ کار کے مطابق برسرِ اقتدار آئی ہے، عوام نے اسے حقِ حکمرانی دیاہے اور تقریباً تین سال بعد اس نے اپنی پانچ سالہ کارکردگی لے کر دوبارہ عوام کے سامنے پیش ہوناہے۔ ساتھ ساتھ بھی اس کی کارکردگی مختلف سطحوں پر جانچی جاتی رہتی ہے۔ ایسے میں اسے غاصب قرار دینے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ اگر یہ بھی غاصب ہیں تو جائز حق حکمرانی کس کو حاصل ہے؟ اس کے علاوہ حکمرانی حاصل کرنے کا ذریعہ تو ڈنڈا ہی ہوسکتا ہے۔ کیا ایک فریق کے لیے طاقت کے زور پر حکومت کے حصول کو جائز اور دوسرے کے لیے ناجائز کہا جاسکتا ہے ؟مذکورہ بالا نوعیت کی آرا کے اظہار کے نتائج بڑے دور رس ہوتے ہیں، اس لیے ان کے اظہار سے پہلے تمام پہلوؤں پر اچھی طرح غور کرلینا چاہیے۔
یہ کچھ سرسری سی بے ربط سی باتیں عرض کی ہیں جن میں سے بیشتر کا مقصد چند سوالات ہی اہلِ علم کے سامنے رکھنا ہے۔ ممکن ہے آپ یا کسی اور صاحبِ علم کی طرف سے ان پر مزید روشنی ڈالی جاسکے۔ میں خود کو اس وقت سوال کرنے سے زیادہ کی پوزیشن میں نہیں پاتا۔ ان سطور سے اگر آپ کی تضییع وقت ہوئی ہوتو معذرت خواہ ہوں۔
(مولانا مفتی) محمد زاہد 
جامعہ اسلامیہ امدادیہ، ستیانہ روڈ، فیصل آباد
zahidimdadia@yahoo.com
(۲)
مخدوم محترم حضرت مولانا زاہد الراشدی زیدت معالیکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ کرے مزاج گرامی بعافیت ہوں۔ الشریعۃ کی خصوصی اشاعت ابھی چند دن پہلے موصول ہوئی۔ اللہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو اعلیٰ علیین میں مقام عطا فرمائے، پڑھ کر طبیعت بے انتہا متأثر ہوئی۔ برا ہو ان سرحدوں کا، ہم کیسے عظیم خیر سے محروم رہے۔ لکھنے والوں نے جو حالات لکھے ہیں اور ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر لکھے ہیں، وہ واضح طور پر صدیقیت کی علامت ہیں۔ ’’والذین آمنوا باللہ ورسولہ اولٰئک ہم الصدیقون والشہداء عند ربہم، لہم اجرہم ونورہم‘‘ کے مصداق ان حضرات کی زندگی میں ایک خاص نور نظر آتا ہے۔
آپ اور سارے ہی اہل خانہ قابل رشک ہیں کہ ایسی عظیم نعمت پائی۔ ہمارے گھر میں حضرت مولانا صدیق صاحب باندوی ؒ کا تذکرہ بہت رہتا ہے۔ حضرت والد ماجدمولانا محمد زکریا سنبھلی مد ظلہم حضرت کی خدمت میں آٹھ سال رہے ہیں۔ اسی نسبت سے والد صاحب کے یہاں ان کا بڑا تذکرہ رہتا ہے۔ الشریعہ کا نمبر آیا تو گھر کی خواتین نے بھی پڑھا۔اب حضرت کے ایمان افروزحالات ہر مرد وزن کی زبان پر ہیں اور اسی طرح ہر مجلس میں بات بات پر حضرت کے واقعات ، حالات اور ملفوظات سنائے جارہے ہیں۔ لوگوں نے حضرت کو ایک عالم کی حیثیت سے تو بہت جانا ہے مگر مجھے تو خالص علمی پہلو سے کہیں زیادہ اہم ایک داعی ومصلح اور ربانی عالم کی شخصیت دیدہ زیب نظر آرہی ہے۔ اور الشریعہ اس اعتبار سے بڑی مبارک باد کا مستحق ہے کہ اس نے ان پہلووں کو اور یہاں تک کہ گھریلو زندگی کو بھی خالص عالمانہ پہلو سے دبنے نہیں دیا ہے۔ اللہم لا تحرمنا أجرہ ولا تفتننا بعدہ۔ 
دعاؤں کا طالب ہوں ، کاش آپ حضرات کی خدمت میں حاضری زیادہ مشکل نہ ہوتی۔
والسلام
نیاز مند: یحییٰ نعمانی
(مدیر ماہنامہ الفرقان، لکھنو)
(۳)
گرامی قدر مولانا عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم 
الشریعہ کے شمارہ نومبر/دسمبر ۲۰۰۹ء کے اکثر مضامین کامطالعہ کیا۔ ان میں خاص طورپر حضرت الاستاذ مولانا زاہد الراشدی صاحب کا انٹرویو، محترم جناب ڈاکٹر ممتاز احمد کی گفتگو اور محترم زاہد صدیق مغل کا مضمون کافی پسند آیا۔ مکتوبات میں محترم جناب سید مہرحسین بخاری کا خط پڑھ کر حیرت ہوئی کہ موصوف حضرت شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدرؒ سے عقیدت بھی رکھتے ہیں، اس کے باوجود حضرت شیخؒ کے شیعہ کے بارے میں بیان کردہ موقف کے برعکس اپنے مکتوب میں شیعہ کے کفر کے قائل نہ ہونے کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔ موصوف حضرت شیخ الحدیثؒ کی رد شیعیت میں لکھی گئی کتاب ’’ارشاد الشیعہ‘‘ کا ہی مطالعہ کر لیتے تو اتنی بڑی ٹھوکر نہ کھاتے۔ مذکورہ کتاب میں حضرت شیخؒ نے واضح الفاظ میں شیعہ کے کفر کا اظہا ر کیا ہے۔ لگے ہاتھوں موصوف نے حضرت مولانا صوفی عبدالحمیدخان سواتی ؒ کی طرف بھی شیعہ کے کفر کے قائل نہ ہونے کی نسبت کر دی، حالانکہ حضرت صوفیؒ صاحب علی الاطلاق شیعہ کے کفر کے قائل نہ تھے، لیکن شیعہ اثنا عشریہ کو وہ بھی کافر ہی سمجھتے تھے۔ اس مسئلے پر صوفی صاحبؒ کے بڑے بیٹے محتر م مولانا فیاض خان سواتی سے میری تفصیلی بات ہوئی۔ وہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ ہم تمام شیعہ فرقوں کو کافر نہیں کہتے، لیکن شیعہ اثنا عشریوں کو ہم بھی کافر سمجھتے ہیں جو کہ پاکستان میں شیعوں کا اکثریتی فرقہ ہے۔ 
موصوف نے شیعہ کی طرف تحریف قرآن کی نسبت کو بھی غلط کہاہے، جبکہ حضرت صوفیؒ اپنی مشہور تفسیر معالم العرفان کی جلد اول کے صفحہ ۸۳ پر اصول کافی (جو کہ شیعہ کی معتبر ترین حدیث کی کتاب ہے) کی مشہور روایت نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو قر آن حضرت جبرائیل حضورعلیہ الصلوۃوالسلام پر لائے تھے، اس کی سترہ ہزار آیتیں تھیں۔ اس سے معلوم ہو اکہ حضرت صوفی صاحبؒ کے نزدیک بھی شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں۔ تحریف قرآن کے قائل کو بھلا حضرت صوفی صاحبؒ کیسے مسلمان کہہ سکتے ہیں!
علاوہ ازیں موصوف نے حضرت مولانا تقی عثمانی کی طرف بھی شیعہ کو کافر نہ کہنے کی نسبت کی ہے۔ ہماری حضرت تقی عثمانی سے تو کبھی ملاقات نہیں ہوئی، البتہ حضرت تقی مدظلہ کے والد گرامی مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیعؒ کا فتویٰ ہماری نظر سے گزرا ہے۔ اس میں مفتی صاحبؒ نے شیعہ کے بعض فرقوں کو کافر لکھاہے۔ مذکورہ فتویٰ ماہنامہ بینات کی خصوصی اشاعت بعنوان ’’خمینی اور اثناعشریہ کے بارے میں علماء کرام کا متفقہ فیصلہ‘‘ میں موجود ہے۔ مفتی تقی صاحب مدظلہ اپنے والد گرامی کے اس فتوی سے کیسے عدول کر سکتے ہیں؟ 
علاوہ ازیں، علماء کرام کے متفقہ فیصلہ میں مفتی اعظم ہندوستان حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکیؒ نے متفقہ طور پر شیعہ اثنا عشریہ کوکافر لکھا ہے۔ مذکورہ فتویٰ پر ہندوستان اور پاکستان کے تقریباً تمام جید علماء کرام اورمفتیان عظام نے دستخط کیے ہیں۔ پاکستان کے جن علماء کرام نے اس فتوی پر دستخط کیے ہیں، ان کے نام سن کر یقیناًبخاری صاحب بھی حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ دستخط کرنے والوں میں چند نام یہ ہیں:
مفتی نظام الدین شامزئی شہید، کراچی۔ مفتی زین العابدین، فیصل آباد۔ مفتی عبدالستار، خیرالمدارس ملتان۔ حضرت خواجہ خان محمد، امیرعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت۔مولانا عبداللہ شہید، اسلام آباد۔ مولانا سرفراز خان صفدرؒ ، گوجرانوالہ۔ مولانا عبداللہ آزاد۔ مولانا عبید اللہ، مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور۔ مولانا محمد مالک کاندھلویؒ ۔ شیخ موسیٰ خان روحانی بازیؒ ، جامعہ اشرفیہ۔ مولانامحمد اجمل قادری۔ مولانا عبدالحق خان، اکوڑہ خٹک۔ مولانا عادل خا ن ۔ سیدنفیس الحسینی شاہؒ ۔ قاضی عبداللطیف جہلمیؒ ۔ مولانا عبدالمجید کہروڑپکا۔ حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ ۔ مفتی رشید احمد لدھیانویؒ اورمولانا یوسف لدھیانویؒ ۔ 
یہ وہ حضرات ہیں جن کے علم وتقویٰ پر تمام اہل علم اعتماد کرتے ہیں۔ یہ سب متفقہ طور پر شیعہ کو کافر لکھ رہے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی پاک وہند برطانیہ اور دیگر ممالک کے سینکڑوں علماء کرام کے دستخط اس فتویٰ پرموجود ہیں۔ گویا کہ شیعہ کے کفر پر تمام علماء کا اجماع ہے۔ مزید اگر تسلی مقصود ہوتو محترم بخاری صاحب سے گزارش ہے کہ شیعہ کے بارے میں علماء کے متفقہ فیصلہ کے علاوہ حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی تصنیف ’’ارشاد الشیعہ‘‘، مولانا منظور احمد نعمانی کی ’’ایرانی انقلاب اور شیعیت‘‘، مولانا ضیاء الرحمن فاروقی کی ’’خمینی ازم اوراسلام‘‘، مولانا مہر محمد کی ’’تحفہ امامیہ‘‘ اور بریلوی مسلک کے عالم دین مولانا محمد علی کی ’’تحفہ جعفریہ‘‘اور علامہ احسان الٰہی ظہیر کی ’’الشیعہ والقرآن‘‘ کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔ قوی امید ہے کہ ان شاء اللہ شیعہ کے کفر پر شرح صدر نصیب ہو جائے گا۔ 
حافظ محمد عثمان 
فاضل جامعہ اشرفیہ ، لاہور
(۴)
برادر مکرم مولانا محمد عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔
ماہنامہ ’الشریعہ‘ (جنوری ۲۰۱۰ء) میں مجلہ المصطفیٰ کے ’’امام اہل سنت نمبر‘‘ پر آپ کا تبصرہ پڑھا۔ ماشاء اللہ آپ نے بہت خوب لکھا اور کمال ذکاوت سے چند اقتباسات کا انتخاب کر کے انھیں بیچ میں سجا دیا۔ جزاک اللہ خیراً۔ البتہ ایک بات آپ کے علم میں نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو اعتراض ہوا، اس کی وضاحت کرتا چلوں۔ 
آپ نے بہت اچھا کیا کہ حضرت مفتی رفیع عثمانی صاحب مدظلہ کے مضمون سے وہ اقتباس جو دادا جان رحمہ اللہ کے موقف کی درست ترجمانی نہیں کرتا، نقل کر کے ہم پر گرفت کی کہ دیگر مضامین کی طرح اس مضمون کے ان اقتباسات کے بارے میں ’’بے لاگ احقاق حق‘‘ کی روایت برقرار نہیں رکھی جا سکی۔ واقعتا ایسا ہی ہے کہ جلد بازی کی وجہ سے احقر اس مضمون کے حاشیے میں اختلافی ووضاحتی نوٹ نہ لگا سکا۔ آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ کس قدر جلد بازی میں ہم نے یہ نمبر ترتیب دیا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ’’کسی وضاحتی نوٹ کے بغیر اس کی شمولیت نہ اس اشاعت کے مرتبین کو کھٹکی اور نہ موصولہ مواد پر نظر ثانی کر کے منظوری دینے والے بزرگوں کو۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ یہ مضمون مرتب بے چارے کو بھی کھٹکا اور نظر ثانی کرنے والے بزرگوں (تایا جان مولانا عبد القدوس خان قارن مدظلہ) نے بھی اس کے نیچے حاشیہ میں ایک نوٹ لگانے کا حکم فرمایا تھا۔ فرمایا کہ حاشیے میں ابا جی (حضرت امام اہل سنتؒ ) کی وہ گفتگو جو مولانا نیازی سے ہوئی تھی، درج کر دینا اور وہ تمہارے ابو (مولانا عبد الحق خان بشیر مدظلہ) کو یاد ہوگی، ان سے لکھوا لینا۔ احقر نے والد مکرم کو مضمون دکھایا تو انھوں نے چند جملے حذف کرنے کے بعد فرمایا کہ میں ان شاء اللہ جلد ہی نوٹ لکھ کر بھیج دوں گا، لیکن اپنی شدید مصروفیات کی وجہ سے وہ نوٹ تحریر کر کے ارسال نہ فرما سکے جس کی وجہ سے وہ شامل اشاعت نہ ہو سکا۔
بہرحال توجہ دلانے کا ازحد شکریہ۔ آئندہ ایڈیشن میں ان شاء اللہ العزیز دادا جان رحمہ اللہ کا وہ مکتوب گرامی جو مولانا عبد الستار خان نیازی مرحوم کی طرف سے دیوبندی بریلوی مصالحت کے لیے کی جانے والی کوشش کے سلسلے میں ’الشریعہ‘ کی اشاعت خاص میں شائع ہوا ہے، حضرت مفتی صاحب مدظلہ کے مضمون کے حاشیہ میں درج کر دیا جائے گا۔ آپ بھی اگر مناسب سمجھیں تو احقر کے اس مکتوب کو ’الشریعہ‘ میں شائع فرما دیں تاکہ حضرت مفتی صاحب کے اس مضمون سے (جو ماہنامہ ’’البلاغ‘‘ اور روزنامہ ’’اسلام‘‘ میں بھی طبع ہو چکا ہے) دادا جان کے موقف کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور ہو سکیں اور حضرت امام اہل سنت کے متعلقین ان کے درست موقف سے آگاہ ہو سکیں۔ 
باقی رہی بات ماہنامہ ’’ہدی للناس‘‘ گوجرانوالہ سے ماخوذ مواد بلا حوالہ درج کرنے کی تو وہ واقعتا احقر کی غلطی ہے جس پر میں ماہنامہ ’’ہدی للناس‘‘ کے منتظمین سے معذرت خواہ ہوں۔ دراصل جلد بازی، وقت کی کمی، ناتجربہ کاری، اکیلے پن، بجلی کی بے ڈھنگی لوڈ شیڈنگ کے باعث پریشانی اور دیگر بہت سے عوارض کی وجہ سے خصوصی نمبر میں بہت سی غلطیاں اور کمیاں کوتاہیاں رہ گئی ہیں جس کا اندازہ جابجا آپ کو بھی ہوا ہوگا۔ چند ایک کا تذکرہ آپ نے اپنے تبصرے میں بھی کیا۔ بہرحال بہت شکریہ۔ احسن بھائی جان نے بھی اس طرف توجہ دلائی ہے۔ جزاکم اللہ تعالیٰ خیراً۔ دوسرے ایڈیشن میں ان شاء اللہ ماخذ کا ذکر کر دیا جائے گا۔
نمبر کے بعض حصے پر جاندار تبصرہ فرمانے کا بھرپور شکریہ!
سرفراز حسن خان حمزہ
متعلم دار العلوم مدنیہ، بہاولپور
(۵)
مکرم جناب مولانا عمار خان ناصر صاحب زیدت معالیکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
راقم الحروف نے ایک نجی نوعیت کا عریضہ آنجناب کی خدمت عالیہ میں ارسال کیا تھا جو ماہنامہ الشریعہ دسمبر کے شمارے میں شائع کر دیا گیا۔ اس کے رد عمل کے طور پر جنوری ۲۰۱۰ء کے شمارے میں حافظ عبد الجبار سلفی صاحب نے تبصرہ فرمایا ہے اور دار العلوم مدنیہ بہاول پور کے ایک طالب علم نے مفصل مکتوب لکھا ہے۔ 
حسین احمد صاحب متعلم دار العلوم مدنیہ کی خدمت میں عرض ہے کہ الشریعہ جنوری ۲۰۱۰ء ہی کے شمارے میں سید مشتاق علی شاہ صاحب کے مضمون پر جو حاشیہ صفحہ ۲۰ پر آنجناب کے قلم سے ہے، وہی ان کے لیے کافی ہے۔ مشہور مقولہ ہے کہ ’’صاحب البیت ادریٰ بما فیہ‘‘، یعنی گھر والا بہتر جانتا ہے جو گھر میں ہے۔ یقیناًآنجناب حضرت شیخ الحدیث صاحبؒ اور حضرت صوفی عبد الحمید صاحبؒ کے علوم ومعارف کے حقیقی وارث اور شارح ہیں۔ حسین احمد مدنی صاحب سے گزارش ہے کہ وہ آنجناب کے مذکورہ حاشیہ کو کھلے دل سے دو تین بار مطالعہ فرمائیں، ان شاء اللہ سکون قلب میسر ہوگا۔ * مزید تسلی کے لیے دار العلوم دیوبند کے پہلے مفتی صاحب کا فتویٰ پیش خدمت ہے:
’’محققین حنفیہ شیعہ تبرا گو اور منکر خلفاء ثلاثہ کو کافر نہیں کہتے۔ اگرچہ بعض فقہاء نے ان کی تکفیر کی ہے، مگر صحیح قول محققین کا ہے کہ سب شیخین اور انکار خلافت خلفاء کفر نہیں ہے، فسق وبدعت ہے۔‘‘ (فتاویٰ دار العلوم دیوبند (عزیز الفتاویٰ) کتاب المیراث جلد۷ و ۸، ص ۳۵۰، مطبوعہ کتب خانہ امدادیہ دیوبند)
حافظ عبد الجبار سلفی صاحب نے اپنے تبصرہ میں میری اس عبارت پر کہ ’’تحریف قرآن کی لچر اور بے ہودہ روایات تو بعض کتب اہل سنت میں بھی موجود ہیں‘‘ یہ خامہ فرسائی کی ہے کہ یہ عبارت بذات خود لچر اور بے ہودہ ہے۔ راقم نے لچر اور بے ہودہ کے الفاظ قرآن حکیم کے مخالف پر استعمال کیے ہیں، جیسا کہ مشہور ناصبی اور منکر حدیث تمنا عمادی نے ’’جمع القرآن‘‘ نامی کتاب میں ایسی بہت سی روایات اکٹھی کی ہیں اور مسلمانوں کا قرآن پر ایمان متزلزل کرنے کی سعی نامشکور کی ہے۔ مجھے بڑی حیرت ہے کہ اسلامی مدارس کے علماء وفضلا بھی مہذب اور شستہ زبان کے استعمال سے قاصر ہیں۔ 
حافظ عبد الجبار سلفی صاحب شاید نسخ اور اختلاف قراء ت کی اصل حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے۔ مکتب دیوبند کے سرمایہ افتخار انور شاہ صاحب کشمیری نور اللہ مرقدہ نے بھی فیض الباری ج ۳ ص ۳۹۵ میں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ بعض علما نے اس عبارت کا جواب دینے کی کوشش کی ہے ، تاہم عقلی ونقلی طور پر وہ صحیح نہیں ہے اور اس جواب سے یہود ونصاریٰ کی براء ت ہوتی ہے جو خود قرآن حکیم کے خلاف ہے۔ نسخ، اختلاف قراء ت اور تحریف میں نمایاں فرق ہے۔ سلفی صاحب کے اضافہ معلومات کے لیے گزارش ہے کہ جماعتی وابستگی سے ہٹ کر درج ذیل کتب کی طرف مراجعت فرمائیں:
(۱) فضائل القرآن، تالیف الامام ابی عبید القاسم بن سلام، المتوفی ۲۴ھ، مطبع دا ر الکتب المصریہ ص ۱۶۱، ۱۹۰، ۱۹۳ و۱۹۵ وغیرہ۔
(۲) کتاب المصاحف للحافظ ابوبکر عبد اللہ بن داؤد السجستانی، المتوفی ۳۱۶ھ، مطبع دار الکتب العلمیہ بیروت، ص ۴۳ و ۱۳۰۔
(۳) ’’الفرقان‘‘ لابن الخطیب، مطبع دار الکتب المصریہ قاہرہ،ص ۴۱، ۴۲، ۴۳، ۴۵ و ۵۰۔
چونکہ الشریعہ کے صفحات ایسی فرقہ وارانہ بحث کی اجازت نہیں دیتے، اس لیے تفصیل سے گریز کیا گیا ہے۔ راقم اثیم کو نہ مفتی ہونے کا دعویٰ ہے نہ عالم ہونے کا۔ حقائق سے رو گردانی اہل اہوا کا شیوہ ہے اور بات بات پر کفر کے فتوے، یہ اسلام کی خدمت نہیں ہے۔ ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہہ رہا ہے۔ اگر یہ اسلام کی خدمت ہے تو حافظ عبد الجبار سلفی صاحب بتائیں کہ اسلام کہاں ہے اور مسلمان کہاں ہیں؟ 
تمام اسلامی فرقے جن کی وضاحت امام ابو الحسن اشعریؒ ، عبد القاہر بغدادیؒ اور شہرستانیؒ جیسے علما وفضلا کر چکے ہیں، قرآن مجید کی حقانیت پر کامل ایمان رکھتے ہیں، جیسا کہ ’’اظہار الحق‘‘ کے عالی قدر مصنف مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ نے بھی تحریر فرمایا ہے۔ دار العلوم کراچی سے شائع ہونے والے اس کتاب کے ترجمہ ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ میں، جو مولانا تقی عثمانی صاحب جیسے نابغہ روزگار عالم کے محققانہ قلم سے نکلنے والے علمی مقدمہ سے مزین ہے، یہ عبارت موجود ہے، تاہم اب سعودیہ سے شائع ہونے والے نئے عربی ایڈیشن میں ناشرین نے علمی خیانت کا ارتکاب کرتے ہوئے یہ عبارت حذف کر دی ہے جو نہایت افسوس ناک امر ہے۔ شیعہ حضرات کی عقائد کی کتابیں ’’اعتقادات شیخ صدوق‘‘، ’’اوائل المقالات للشیخ مفید‘‘، ’’تصحیح الاعتقاد للشیخ مفید‘‘، ’’اعتقادات شیخ بہائی‘‘، ’’عقائد الامامیہ للشیخ محمد رضا مظفر‘‘ قرآن مجید کے غیر محرف ہونے پر شاہد ہیں۔
آخر میں سلفی صاحب کی خدمت میں گزارش ہے کہ جو فنی سہولتیں اپنے لیے پسند فرماتے ہیں، وہ دیگر تمام فرقوں کے لیے بھی پسند فرمائیں تو ان شاء اللہ اختلاف کی گنجائش ختم ہوگی۔ اللہ تعالیٰ قدیم وجدید تمام فتنوں سے حفاظت فرمائے اور اسلاف کے دامن سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔
راقم ناکارہ گزشتہ ایک ماہ سے ریڑھ کی ہڈی میں شدید تکلیف کے باعث چارپائی پر ہے اور لیٹے لیٹے یہ عریضہ ارسال کیا ہے۔ بہت سی کتابوں کی طرف مراجعت نہ کر سکا۔ محض یادداشت کی بنا پر چند گزارشات پیش کی ہیں۔ یہ عریضہ بھی بحث برائے بحث نہیں ہے۔ ناقدین حضرات اس بات کو ملحوظ خاطر رکھیں۔
سید مہر حسین بخاری
کامرہ
* اس ضمن میں ماہنامہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ’’مفسر قرآن نمبر‘‘ (اگست تا اکتوبر ۲۰۰۸ء) کے صفحہ ۴۷۱ پر حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ کے ایک خطبہ جمعہ سے نقل کیا جانے والا حسب ذیل اقتباس بھی قابل ملاحظہ ہے:
’’ایران وعراق گزشتہ دوسال سے آپس میں دست وگریبان ہیں۔ ہزاروں مسلمان ہلاک ہوچکے ہیں، املاک تباہ ہوچکی ہیں مگر ان کے درمیان صلح کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ دونوں ملکوں کی آبادی کلمہ گو مسلمان ہیں۔ شیعہ اور سنی کہلانے والے بھی دونوں ممالک میں موجود ہیں، مگر پستی کا یہ عالم ہے کہ صلح کے متعلق کسی کی بات بھی سننے کے لیے تیار نہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر مسلمان آپس کے حالات کو درست نہیں کریں گے، آپس میں ہی لڑ لڑ کر کمزور ہوجائیں گے تو بیرونی طاقتیں تم پر چھا جائیں گی۔ تمہارا ملک اور دولت بھی چھین لیں گے اور تمہاری عزت و آبرو کو خاک میں ملادیں گے۔ اس وقت تمہاری یہ سودخوری، رشوت خوری اور عیش وعشرت سب ختم ہوجائیں گے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، اے ایمان والو! واصلحوا ذات بینکم آپس کے حالات کو درست کرلو، وگرنہ تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔‘‘ (خطبہ جمعہ ۳۰ ؍اپریل ۱۹۸۲ء) 
(مدیر)
(۶)
محترم جناب محمد عمار خان ناصر صاحب 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں نے آج کل سرگودھا یونیورسٹی جوائن کر لی ہے۔’الشریعہ‘ باقاعدگی کے ساتھ گھر کے پتہ پر موصول ہو رہا ہے۔آپ کی علمی کاوشیں انتہائی قابل قدر اور لائق ستائش ہیں۔ ہمارے شعبہ اسلامیات میں چند ماہ بعد پی ایچ ڈی پروگرام شروع ہونے والا ہے۔ آپ کی محققانہ کاوش ’’حدود تعزیرات: چند اہم مباحث‘‘ پی ایچ ڈی پروگرام کے کورس ورک کے تیسرے پیپر Shariah Law کی مجوزہ کتب میں شامل کی گئی ہے۔ ع 
اللہ کرے زورقلم اور زیادہ
’الشریعہ‘ جنوری ۲۰۱۰ میں مجلہ ’المصطفیٰ‘ کے امام اہل سنت نمبرپر آپ کے تبصرہ کے حوالے سے کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔ آپ نے بریلوی دیوبندی اختلاف کے ضمن میں مذکورہ مجلہ میں جناب مولانا مفتی رفیع عثمانی صاحب کے پیش کردہ تصور پرتحفظات ظاہر کیے ہیں۔ راقم دو جملوں کے حوالے سے، جو آپ نے انڈر لائن کیے ہیں، آپ کی توجہ کا طالب ہے۔پہلا جملہ ہے: ’’(بریلوی اور دیوبندی مکاتب فکر میں) حقیقت میں ایساکوئی اختلاف عقائد کے باب میں نہیں ہے جس کی بنا پر ایک دوسرے کو گمراہ یا فاسق قرار دیا جائے۔‘‘ اور دوسرا جملہ ہے: ’’(مفتی صاحب نے دیوبندی بریلوی ہم آہنگی کے حوالے سے مولانا سرفراز خاں صفدر مرحوم کے حضور اپنا مدعا بیان کیا تو انہوں نے) اس پر مسرت کا اظہار کیااور اس کی تائید فرمائی۔‘‘
آپ کا کہنا ہے کہ ’’بریلوی دیوبندی اختلاف سے متعلق مفتی صاحب کا یہ تجزیہ حضرت شیخ الحدیث کے منہج فکر سے کتنا ہم آہنگ ہے، یہ نکتہ زیادہ محتاج وضاحت نہیں، لیکن کسی وضاحتی یا اختلافی نوٹ کے بغیر اس کی شمولیت نہ اس اشاعت کے مرتبین کو کھٹکی ہے اور نہ موصولہ موادپر نظر ثانی کر کے اس کی منظوری دینے والے بزرگوں کو۔‘‘
میری گزارش یہ ہے کہ آپ جس نکتے کو زیادہ محتاج وضاحت نہیں سمجھ رہے، وہ بہت سے لوگوں کے نزدیک سخت محتاج وضاحت ہے۔ آپ براہ کرم یہ وضاحت ضرور شائع فرمائیں کہ مفتی رفیع عثمانی صاحب کا یہ خیال کہ’’ عقائد کے باب میں دونوں مکاتب فکر (بریلوی دیوبندی) کا اختلاف بڑی حد تک صرف تعبیر اور الفاظ کا اختلاف ہے،‘‘ آپ کے نزدیک کیوں محل نظر ہے۔ فرض کریں دونوں مکاتب فکر کا یہ اختلاف بڑی حد تک الفاظ کا اختلاف نہ بھی ہوتو بھی مفتی صاحب کا یہ جذبہ بے حد قابل تحسین ہے کہ دیوبندی اور بریلوی مکاتب فکر میں بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنا چاہیے اور ایک دوسرے کو گمراہ و فاسق قرار دینے سے احتراز کا رویہ اپنانے کی راہ ہموار کرنا چاہیے۔ ورنہ اگر بدقت نظر دیکھیں تو مفتی صاحب سے سو فیصد اتفاق کرنا پڑے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ بریلوی دیوبندی اختلافات کی بنیادوں میں بالعموم ہر دو طرف سے ضد، تعصبات اور حسد کے جذبات کارفرما نظر آتے ہیں۔ دونوں مکاتب فکر کے بڑے بڑے ناموں کے بے حد احترام کے باوصف میں یہ کہنے کی جسارت کروں گاکہ یہ نور بشر، علم غیب اور حاضر ناظر وغیرہ پر نفیاً یا اثباتاً تالیفات عام طور پر سطحی محرکات کی پیداوار ہیں۔ یہ بات کتنی حیرت انگیز ہے کہ شارع ؐنے تو واضح طور پر بتا دیا کہ ان ان کا عقائدکا حامل مسلمان ہے اور یہ وہ عقائد ہیں جن کا زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق ہر مسلمان کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کے بغیر وہ مسلمان نہیں، مگر ہمارے کرم فرما ہیں کہ ان کے بیان کردہ عقائد کو شاید ہی کوئی سادہ مسلمان سمجھ سکتا ہو۔شارع ؐکے ہدایت فرمودہ عقائد تو ایک سطر میں بیان ہو سکتے ہیں مگر ہمارے مہربانوں نے دفتروں کے دفتر سیاہ کر دیے ہیں لیکن عقائد کا بیان ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آتا۔ مان لیتے ہیں کہ عقائد کی بہت ساری تفصیلات ہوتی ہیں جن کی تعبیر وتشریح اہل علم کو کرنا ہوتی ہے۔ تو جی بسم اللہ کرتے رہیے، لیکن اپنی اپنی ان موضوعی تعبیرات وتفصیلات کو خدارا عوام الناس پر تو یوں نہ تھوپیے کہ وہ شارع ؐ کے تعلیم فرمودہ عقائد کو ماننے کے باوجود اس وقت تک صحیح مسلمان (صحیح کا لفظ میں مروۃًاستعمال کر رہا ہوں، ورنہ زیر نظر اختلافات میں بہت سے مواقع پرتو اس کی گنجائش بھی نہیں چھوڑی جاتی) کہلانے کے مستحق نہ ہوں جب تک آپ کے پیش فرمودہ عقائد کو دل و جان سے نہ مان لیں۔ کاش مذکورہ قسم کے عقائدبرصغیر کے علماء میں بحث اور معرکے کا میدان نہ بنے ہوتے اور ان لایعنی مجادلوں پرکتابیں اور مضامین لکھ لکھ کر وقت اور انرجی کا ضیاع نہ کیا جاتا۔ یوں نہ صرف یہ قوم فتنہ و فساد میں مبتلا ہونے سے بچ جاتی بلکہ اقبال کی تعبیر کے مطابق قابل فخر’’ذہن ہندی‘‘کا مذہبی عنصردیگر واقعی مطلوب علمی معرکے سر کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کر سکتا۔ مگرع اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔
محترم عمار صاحب! مفتی رفیع عثمانی صاحب کے مذکورہ الفاط راقم آثم کے نزدیک توبریلویوں اور دیوبندیوں کو اپنے اپنے مدارس کے باہر سائن بورڈز پر لکھ کرآویزاں کر لینے چاہییں کہ یہ ان کا بالخصوص موجودہ حالات میں ملک و ملت پر بہت بڑا احسان ہو گا۔
جہاں تک مفتی صاحب کے اس جملے پر آپ کے تحفظات کا تعلق ہے ،جس میں انہوں نے اپنی مذکورہ خواہش پر حضرت شیخ الحدیث کی مسرت و تائید کا ذکر فرمایا ہے تو اس کی وضاحت تو بطور خاص آپ کو لازماً کرنا چاہیے کہ کیا پھرآپ کے جد محترم اس خواہش پر ناراض ہوئے ہوں گے اور اس کی تائید نہیں فرمائی ہو گی؟ (جیسا کہ آپ کے تحفظات سے لگتا ہے کہ ایسا ہی ہوا ہو گا۔) نیز پھرحضرت شیخ الحدیث مرحوم ومغفور کے اس دوسرے رویہ کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر محمد شہباز منج
یونیورسٹی آف سرگودھا
drshahbazuos@hotmail.com

’’مسلمان مثالی اساتذہ ، مثالی طلبہ‘‘

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

مولف: سید محمد سلیمؒ 
ناشر : زوار اکیڈیمی پبلیکیشنز،۴۔۱۷ ناظم آباد نمبر ۴ کراچی
اشاعت سوئم:۲۰۰۸۔ صفحات:۱۳۶۔ قیمت: ۱۳۰ روپے
پروفیسر محمدسلیمؒ نامور استاد اور تنظیم اساتذہ پاکستان کے رہنماؤں میں سے تھے۔ موضوع بالا پر ان کا قلم اٹھانا ان کا حق اور منصب ہے۔ کتاب طلبہ اور اساتذہ کے لیے رہنما حیثیت رکھتی ہے۔ مستند مواد کی مدد سے با کمال ترتیب سے پیش کی گئی ہے۔ اس میں ان کا قلم رسا بھی پوری شان کے ساتھ کار فرما ہے۔ یہ مختصر سی کتاب ہے مگر اپنے اندر بے پناہ تاثیر رکھتی ہے۔ کتاب پڑھ کر، گردو پیش پر نظر ڈالی جائے تو شدت سے احساس ہوتا ہے کہ وہ اساتذہ اور طلبہ جن میں تدریس اور مطالعے کا جنوں اپنی معراج پر تھا، اب کہاں ہیں۔ تنظیم اساتذہ اور جمعیت طلبہ بھی اس طرح کے جنوں کو فروغ دینے کو اپنی ترجیحات میں رکھنے میں سنجیدہ نہیں رہیں۔ وہاں ٹریڈ یونین ازم چھا چکا ہے۔ کتاب اس پہلو سے تدریس و مطالعہ کا جنوں دینے میں پورا اثر رکھتی ہے۔ اس سے مولف کے خلوص کا اعتراف کرنا پڑے گا۔ اختصار کے باوجود اپنے مقصد کے لحاظ سے بڑی کامیاب کوشش ہے۔ پڑھ کر ہل من مزید کی طلب ہوتی ہے۔
البتہ دو چیزیں کھٹکتی ہیں۔ ایک تو حوالوں کا فقدان ہے۔ اقتباسات کتاب کو کافی معتبر بناتے ہیں مگر حوالہ جات کم ہی درج ہوئے ہیں۔ آخر پر مآخذ کی فہرست کفایت نہیں کر سکتی۔ حوالوں سے یہ بے نیازی سید صاحب کے مقام سے کچھ فرو تر ہے۔ زوار اکیڈیمی کے سید عزیز الرحمن صاحب نے پیش گفتارمیں لکھا ہے کہ کتاب میں اشعار کی اصلاح کے لیے ایک صاحب سے تعاون حاصل کیا گیا۔ ہمارے نزدیک حوالوں کی تکمیل کے لیے بھی کسی کا تعاون حاصل کر لیا جاتا تو کتاب کا معیار اور بھی بہتر ہو جاتا۔
دوسری کھٹکنے والی بات موضوع سے غیر متعلقہ مواد کا جزوِ کتاب ہو جانا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس پہلو سے میری رائے عمومی سطح پر سخت محسوس ہو۔ وجہ یہ ہے کہ پیشے کے لحاظ سے ہمارے ہاں ربط و تعلق کا زیادہ لحاظ رکھا جاتا ہے۔ غیر متعلق مواد کی چھانٹ ہمارے ہاں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ بہر صورت میری اس رائے کی درستی کا اندازہ کرنے کے لیے فہرست مضامین پر ایک نظر ڈالنا پڑے گی۔ اختصار کی حدوں کے اندر رہ کر موضوع سے کافی زیادتی کی گئی ہے۔