دسمبر ۲۰۱۰ء

نفاذ شریعت کی جدوجہد: ایک علمی مباحثہ کی ضرورتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اتحاد تنظیمات مدارس اور حکومت کا معاہدہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دینی مدارس اور حکومت کے مابین معاہدہمولانا قاری محمد حنیف جالندھری 
اتحادِ تنظیمات مدارس دینیہ اور حکومت کا نیا معاہدہمولانا مفتی محمد زاہد 
گجرات کا ’’بیت الحکمت‘‘پروفیسر شیخ عبد الرشید 
قرار داد مقاصد کا متنادارہ 
تمام مکاتب فکر کے ۳۱ اکابر علماء کرام کے طے کردہ متفقہ ۲۲ دستوری نکاتادارہ 
اسلام کا نظام خلافت اور دور حاضر میں اس کا قیام ۔ اذان ٹی وی کے سوال نامہ کے جواباتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
معاشرہ، قانون اور سماجی اخلاقیات ۔ نفاذ شریعت کی حکمت عملی کے چند اہم پہلومحمد عمار خان ناصر 
مکاتیبادارہ 
امراض گردہ اور بد پرہیزیحکیم محمد عمران مغل 

نفاذ شریعت کی جدوجہد: ایک علمی مباحثہ کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’الشریعہ‘‘ کے صفحات پر جہاد کی شرعی حیثیت، موجودہ معروضی حالات میں اس کی عملی صورتوں اور دنیا کے مختلف حصوں میں جہادی تحریکات کے طریق کار کے حوالے سے مباحثہ کا سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے اور کم وبیش اس سلسلے میں رائے رکھنے والے اکثر دوستوں کا نقطہ نظر کسی نہ کسی پہلو سے سامنے آ چکا ہے۔ ہمارا مقصد اس قسم کے مباحث سے یہی ہوتا ہے کہ ملی اور قومی سطح کے مسائل میں علمی اور فکری طور پر رائے رکھنے والے حضرات کا نقطہ نظر قارئین کے سامنے آئے تاکہ انھیں کھلے ماحول میں مسئلہ کے تمام پہلووں کو ملحوظ رکھتے ہوئے رائے قائم کرنے میں آسانی ہو۔ اس کے ساتھ ہی ہماری کوشش یہ بھی ہوتی ہے کہ کسی بھی مسئلے پر بحث ومباحثہ ’’مکالمہ‘‘ کے دائرے میں رہے اور باہمی مورچہ بندی کی شکل نہ اختیار کرنے پائے، چنانچہ اس سلسلے میں جاری بحث ومباحثہ کا رخ اسی مسئلے کے ایک دوسرے اہم پہلو کی طرف موڑتے ہوئے ہم ایک علمی وفکری مکالمہ کا آغاز کر رہے ہیں جو نہ صرف ملت اسلامیہ کی نئی پود کے ذہنوں میں بیسیوں سوالات کی صورت میں گردش کر رہا ہے بلکہ عالم اسلام میں نفاذ اسلام کی تحریکات کی بھی ایک علمی وفکری ضرورت ہے۔
یہ سوال قیام پاکستان کے فوراً بعد اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ایک نئی نظریاتی ریاست کا دستوری ڈھانچہ کیا ہوگا اور اس کی تشکیل میں مختلف مذہبی مکاتب فکر کے باہمی اختلافات کا کس حد تک عمل دخل ہوگا؟ چنانچہ اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام نے ۲۲ متفقہ دستوری نکات قوم کے سامنے پیش کیے تھے تاکہ پاکستان کے دستوری ڈھانچے اور قانونی نظام کے بارے میں دینی حلقوں کا متفقہ موقف سامنے آ جائے اور یہ بات بھی واضح ہو جائے کہ یہ مذہبی مکاتب فکر تمام تر باہمی اختلافات کے باوجود دستوری اور قانونی نظام کے معاملات میں یکسو اور متفق ہیں اور ان کے اختلافات ملک کو ایک نظریاتی ریاست کی حیثیت دینے میں رکاوٹ نہیں ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی منظوری اور اس پر تمام دینی حلقوں کا اتفاق بھی دستور وقانون کے بارے میں ان کے اتفاق اور ہم آہنگی کا مظہر تھا، حتیٰ کہ ۱۹۷۳ء کے دستور میں اسلامی دفعات کی شمولیت اور جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور تک اسلامائزیشن کے لیے ہونے والی پیش رفت کا پس منظر بھی یہی تھا، لیکن ’’جہاد افغانستان‘‘ کے بعد رونما ہونے والی علاقائی تبدیلیوں کے ماحول میں اس دستوری جدوجہد کے بارے میں دو م مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آئے ہیں:
ایک نقطہ نظر سیکولر حلقوں کا ہے کہ قرارداد مقاصد سے اب تک نفاذ اسلام کے لیے ہونے والے تمام اقدامات غلط ہیں اور ان سب پر خط تنسیخ کھینچنے کی ضرورت ہے۔
دوسرا نقطہ نظر بعض دینی حلقوں کی طرف سے یہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے پرامن دستوری اور آئینی جدوجہد ناکام ہو چکی ہے اور اب ہتھیار اٹھائے بغیر اس ملک میں نفاذ شریعت کی کوئی عملی صورت باقی نہیں رہی۔
چنانچہ اس فضا میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کشمکش او رمحاذ آرائی کے جو نئے رخ سامنے آئے ہیں، اس میں یہ سوال ایک بار پھر اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ:
  • آج کے دور میں پاکستان یا کسی بھی اسلامی ریاست کا دستوری ڈھانچہ کیا ہو سکتا ہے اور خلافت کی عملی شکل کیا ہوگی؟
  • ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے : (۱) دستوری اور قانونی جدوجہد (۲) عوامی دباؤ اور احتجاج کا تحریکی راستہ اور (۳) ہتھیار اٹھا کر عسکری جدوجہد میں سے کون سا طریقہ قابل عمل ہے اور ملک کے دینی حلقوں کو اس حوالے سے کیا کرنا چاہیے؟
ہم اس حوالے سے جس مباحثہ کا آغاز کر رہے ہیں، وہ انھی دو سوالات کے دائرے میں ہوگا اور اس سلسلے میں کسی بھی نقطہ نظر کے بارے میں ایسی تحریریں شامل اشاعت کی جائیں گی جو خالصتاً علمی وفکری بنیاد پر شستہ اور مثبت انداز میں تحریر کی گئی ہوں اور مناظرانہ اسلوب اور باہمی تحقیر واستہزا کے مواد سے خالی ہوں۔ بحث کے آغاز میں ہم ایجنڈے کے طور پر قرارداد مقاصد اور علما کے ۲۲ نکات کے علاوہ ایک تفصیلی مضمون بھی شائع کر رہے ہیں جو راقم الحروف نے کراچی کے ایک نشریاتی ادارے کے سوال نامے کے جواب میں تحریر کیا ہے۔
ارباب علم ودانش سے گزارش ہے کہ وہ وقت کی اس اہم ترین ضرورت کی طرف توجہ فرمائیں اور ایک خوب صورت اور معیاری علمی وفکری مباحثہ کی شکل میں امت مسلمہ کی نئی نسل کے ساتھ ساتھ ایک اسلامی ریاست کی تشکیل کے دستوری اور قانونی تقاضوں کے سلسلے میں عالم اسلام کی دینی تحریکات کی بھی راہ نمائی فرمائیں۔ اللہم ارنا الحق حقا وارقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ۔ آمین یا رب العالمین

اتحاد تنظیمات مدارس اور حکومت کا معاہدہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ اور وفاقی حکومت کے درمیان مبینہ طور پر ہونے والے معاہدے اور اس کے تحت ’’وفاقی مدرسہ بورڈ‘‘ کے قیام کے حوالے سے ۶؍ نومبر کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں مختلف دینی مدارس کے اساتذہ اور ذمہ دار حضرات کی ایک مجلس مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔ راقم الحروف کے علاوہ مولانا سید عبد المالک شاہ، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا عبدالحق خان بشیر، مولانا حافظ محمد یوسف، حافظ محمد عمار خان ناصر، پروفیسر محمد اکرم ورک، پروفیسر حافظ منیر احمد اور پروفیسر غلام حیدر نے مباحثہ میں حصہ لیا اور مبینہ معاہدہ اور وفاقی مدرسہ بورڈ کے بارے میں اب تک کی معلومات کی بنیاد پر کچھ آرا اور تجاویز پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مذاکرہ میں مبینہ معاہدے کے پس منظر اور اہم نکات کے حوالے سے وفاق المدارس العربیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کے مضمون کے ساتھ ساتھ وفاقی مدرسہ بورڈ کے چیئرمین جناب وکیل احمد خان کا روزنامہ پاکستان میں ۲۳؍ اکتوبر کو شائع ہونے والا تفصیلی انٹرویو اور مولانا مفتی محمد زاہد آف فیصل آباد کا تجزیاتی مضمون پڑھ کر سنایا گیا اور مجموعی طور پر مولانا محمد زاہد صاحب کے تجزیے سے اتفاق کرتے ہوئے شرکاے مذاکرہ نے مختلف پہلووں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس بات کا بطور خاص نوٹس لیا گیا تھا کہ اگر وفاقی مدرسہ بورڈ کے چیئرمین جناب وکیل احمد خان کے بقول مدارس دینیہ کا معاملہ صرف حکومت اور دینی مدارس کا معاملہ ہے اور اس میں کسی غیر ملکی طاقت اور بیرونی ایجنڈے کا کوئی دخل نہیں ہے تو یہ معاملات وزارت تعلیم کے ساتھ طے پانے کی بجائے وزارت داخلہ کے ذریعے کیوں طے کیا جا رہے ہیں؟ کیونکہ اگریہ صرف تعلیمی مسئلہ ہے اور حکومت اپنے نقطہ نظر سے دینی مدارس کے نصاب ونظام میں بہتری پیدا کرنا چاہتی ہے تو اس مسئلے کو وزارت تعلیم کے ذریعے ڈیل کیا جانا چاہیے، وزارت داخلہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وزارت داخلہ کے ذریعے دینی مدارس کے ساتھ معاملات طے کرنے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اصل مسئلہ تعلیم کا نہیں اور اس کے پیچھے یقیناًبعض بین الاقوامی حلقوں کی یہ خواہش کارفرما ہے کہ دینی مدارس کی آزادی اور خود مختاری کو کنٹرول کیا جائے اور انھیں کسی نہ کسی انداز میں سرکاری کنٹرول کے دائرے میں لایا جائے، ورنہ وزارت داخلہ کے لیے اس میں دخل اندازی کی کوئی تک نہیں بنتی۔
دوسری بات جس کا مذاکرہ میں بطور خاص تذکرہ کیا گیا، یہ ہے کہ اتنا بڑا فیصلہ اعلیٰ ترین سطح پر ہو گیا ہے، مگر مدارس دینیہ کے عمومی ماحول میں اس سلسلے میں باخبری کی کوئی فضا موجود نہیں ہے اور نہ ہی اکثر مدارس کے ذمہ دار حضرات کو بحث ومباحثہ اور اظہار خیال کا موقع دیا گیا ہے۔ اتنا اہم فیصلہ جس کے ساتھ دینی مدارس کا مستقبل وابستہ ہے، اس میں ان کی آزادی اور خود مختاری کے حوالے سے سراسر ابہامات کی فضا نظر آ رہی ہے جبکہ اس کے لیے بڑے جامعات اور دینی جماعتوں میں باہمی تبادلہ خیالات اور متعلقہ امور پر اظہار خیال کا ماحول فیصلے سے قبل ضروری تھا جو دکھائی نہیں دے رہا، بلکہ ایک بڑی اکثریت کو سرے سے معاملات کی نوعیت اور تفصیلات کا علم تک نہیں ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس اہم فیصلے کے بارے میں دینی مدارس کے عمومی ماحول کو اعتماد میں لیا جائے اور صرف اعلیٰ سطحی مذاکرات پر اکتفا نہ کیا جائے۔
شرکاے مذاکرہ خیال تھا کہ دینی مدارس کے وفاقوں کو سرکاری سطح پر بورڈ کے طور پر تسلیم کیا جانا ایک اچھی پیش رفت دکھائی دیتی ہے کیونکہ اس میں خود وفاقوں کے اپنے مطالبہ کی تکمیل ہوتی ہے، لیکن ان وفاقوں کے اپنے اپنے بورڈز کے اوپر ’’وفاقی مدرسہ بورڈ‘‘ کی تلوار لٹکائی جا رہی ہے اورمعاہدہ یا اس سلسلے میں بیان کی جانے والی تفصیلات میں وفاقی مدرسہ بورڈ کے دائرۂ کار، اختیارات اور عملی کردار کے بارے میں کوئی وضاحت موجود نہیں ہے۔ یہ بات محل نظر ہے اور وفاقوں کو بورڈ کا درجہ دیے جانے کی یہ قیمت کہ وہ وفاقی مدرسہ تعلیمی بورڈ کے دائرۂ اختیار میں شامل ہو جائیں، اسے بہت مہنگا بنا رہی ہے۔ شاید دینی مدارس اپنے اہداف ومقاصد اور ڈیڑھ سو سالہ ماضی کے تسلسل پر قائم رہتے ہوئے اتنی بڑی قیمت ادا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں۔
بہرحال شرکاے مذاکرہ نے مجموعی طو رپر ا س مبینہ معاہدے پر اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کم وبیش سب حضرات نے مولانا مفتی محمد زاہد کے تجزیے کو بروقت اور صحیح قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دینی مدارس کے ذمہ دار حضرات کو اس تجزیاتی مضمون کے مطالعہ کے بعد اس سلسلے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنی چاہیے۔

دینی مدارس اور حکومت کے مابین معاہدہ

مولانا قاری محمد حنیف جالندھری

گزشتہ دنوں اتحاد تنظیماتِ مدارس اور حکومت کے مابین دینی مدارس کے حوالے سے کچھ امور پر اصولی اتفاق کیا گیا۔ اس اتفاق کے بارے میں بہت سے حلقوں میں مختلف قسم کا ابہام پایا جاتا ہے بالخصوص مذہبی طبقے اور مدارس کی دنیا میں ان مذاکرات کی تفصیل،پس منظر، متفقہ نکات اور ان کے نتائج کے حوالے سے مکمل اور درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے بعض احباب کی طرف سے تشویش کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ تشویش، سوالات اور مدارس کے حوالے سے بیداری اور حساسیت بہت غنیمت ہے۔ زیر نظر مضمون میں ان مذاکرات میں طے پانے والے امور کے حوالے سے حقیقی صورت حال واضح کرنا مقصود ہے تاکہ ابہام دور ہو اور اس معاملے کی حقیقی تصویر سب کے سامنے آسکے۔ ۷؍اکتوبر ۲۰۱۰ء کو حکومت اور مدارس دینیہ کی قیادت کے مابین جن امور پر اصولی اتفاق کیا گیا، وہ درج ذیل ہیں:
۱۔ حکومت دینی مدارس کے پانچوں نمائندہ وفاقوں کو خود مختار تعلیمی اور امتحانی بورڈ کا درجہ دے گی اور ایگزیکٹو آرڈر یا ایکٹ آف پا رلیمنٹ کے ذریعے اس بورڈکو قانونی اور آئینی حیثیت دی جائے گی۔
۲۔ دینی مدارس میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ تک عصری مضامین کو شامل کیا جائے گا۔
۳۔ دینی مدارس گورنمنٹ کی طرف سے شائع کردہ متعلقہ کلاس کی عصری مضامین کی کتب پڑھائیں گے، اپنے لیے کوئی الگ نصاب یاکتب تیار نہیں کریں گے۔
۴۔ درس نظامی اور دینی علوم کے حوالے سے حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہو گا، مدارس دینیہ اپنے نصاب کی تشکیل وتعیین اور تدریس وتعلیم کے سلسلے میں مکمل طور پر آزاد اورخود مختار ہوں گے۔
۵۔ ہر وفاق کی نصاب کمیٹی میں حکومت کے دو نمایندے ہوں گے جو بوقت ضرورت صرف عصری مضامین کی تعلیم وتدریس اور معیار کے حوالے سے ہونے والی مشاورت میں شریک ہوں گے۔ ان دونوں نمائندوں کا دینی نصاب ونظام سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔
۶۔عصری مضامین کے نصاب تعلیم، معیار تعلیم اور معیار امتحان میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے مدارس کے نمائندہ وفاقوں اور حکومت کے درمیان ایک مشترکہ ادارہ بنے گا، جس کا نام،دائرہ اختیار،دائرہ کار اور ہیئت کے حوالے سے اگلے اجلاس میں مشاورت کی جائے گی۔
۷۔ رجسٹریشن ایکٹ جو ۲۰۰۶ء میں جاری ہو چکا اور نافذ العمل بھی ہے، دینی مدارس اس کی مکمل پاسداری کریں گے۔
۸۔ حکومت کسی بھی مدرسے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی تاوقتیکہ وہ ٹھوس ثبوت کے ساتھ متعلقہ وفا ق کو اعتماد میں نہ لے۔
۹۔ ایکٹ آف پارلیمنٹ ؍ایگزیکٹو آرڈر کا مسودہ حکومت اور اتحاد تنظیمات مدارس کی باہمی مشاورت سے تیار کیا جائے گا، حکومت یک طرفہ طور پر کوئی مسودہ پیش نہیں کرے گی۔
یاد رہے کہ یہ معاہدہ حادثاتی طو رپر اور اچانک نہیں ہو گیا، بلکہ اس سلسلے میں گزشتہ دس سالوں سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس عرصے میں ان مذاکرات میں مختلف نشیب وفراز آئے، بعض مواقع پر ڈیڈلاک بھی پیدا ہوا اور بعض مواقع پر یوں محسوس ہوا جیسے حکومت اور مدار س کی قیادت کسی حتمی نتیجے اور منزل تک پہنچ جائے گی، مگر یہ سلسلہ جاری رہا اور آیندہ بھی جاری رہے گا۔ ان مذاکرات کے دوران ہر مرحلے پر مدارس کی تمام نمائندہ تنظیموں نے اپنی اپنی مجالس عاملہ کے مختلف اجلاسوں میں تفصیل سے حکومت اور مدارس کے مابین زیر بحث آنے والے امور پر تبادلہ خیال اور غور وخوض کیا اور اس کے ممکنہ نتائج واثرات اور فوائد ونقصانات پر تفصیلی بات چیت ہوئی، پھر اتحاد تنظیماتِ مدارس کے پلیٹ فارم پر بھی مشاور ت ہوتی رہی حتی کہ بعض قانونی،تعلیمی اور سیاسی ماہرین سے بھی رہنمائی طلب کی گئی اور آئندہ بھی کوئی فیصلہ مدارس کی نمایندہ تنظیموں کی مجالس عاملہ ومجالس شوریٰ اوردیگر ارباب مدارس کو اعتماد میں لیے بغیر نہیں کیا جائے گا۔
جہاں تک اس اتفاق کے نتیجے میں طے پانے والی عصری تعلیم کا معاملہ ہے، اس کے بارے میں اربابِ مدارس یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ عصری تعلیم جبراً مدارس پرمسلط نہیں کی جائے گی اور کوئی بھی مدرسہ عصری تعلیم دینے کا پابند نہیں ہوگا، کیونکہ پاکستان کے آئین کے مطابق تعلیم کی آزادی کا حق مسلّم ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی قدغن نہیں لگائی جا سکتی، تاہم جو مدارس اپنے ہاں عصری تعلیم نہیں دیں گے ان کی اسناد کی حیثیت بھی عصری تعلیم دینے والے اداروں کے مساوی نہیں ہو گی۔
یہ بھی یاد رہے کہ عصری تعلیم کو مدارس میں شامل کرنا کوئی بیرونی ایجنڈا نہیں، بلکہ وفاق المدارس کی قیادت اور ہمارے اکابر نے اس کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے آج سے دو دہائیاں قبل ۱۹۸۹ء میں مڈل تک عصری تعلیم کو شامل نصاب کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات وغیرہ کا کوئی سلسلہ نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود اس وقت مڈل تک نصاب میں انگریزی،ریاضی سمیت جملہ عصری مضامین کی تدریس کا سلسلہ شروع کیا گیا اور متوسطات کے نام سے مڈل تک عصری تعلیم دی جانے لگی اور ۱۹۸۹ء سے لے کر اب تک متوسطہ باقاعدہ مدارس کے نظام کا حصہ ہے۔اس کے بعد ۲۰۰۲۔۲۰۰۳ء میں نویں اور دسویں کلاس کی تعلیم کو از خود وفا ق المدارس نے اپنے نصاب میں شامل کیا، جو آج تک اختیاری طور پر نصاب میں شامل ہے۔ اب صرف ایک قدم آگے بڑھ کر انٹر میڈیٹ تک تعلیم دینے کا ارادہ کیا گیا ہے، کیونکہ وفاق المدارس کی ہمیشہ یہ پالیسی رہی ہے ایسی عصری تعلیم جو ہمارے مقاصد میں مخل نہ ہو، بلکہ ممد ومعاون ہو اسے نصاب میں شامل کرنے میں ہمیں کوئی تردد نہیں ہو گا۔
البتہ اس اتفاق کے تناظر میں بعض حلقوں کی طرف سے اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اس فیصلے سے ہماری دینی تعلیم متاثرہو گی۔ اس بارے میں اکابر علمائے کرام اور ارباب علم ودانش کو سوچنا چاہیے اور اس کا کوئی بہتر حل تجویز کرنا چاہیے۔ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ درسِ نظامی کاحجم کم نہ کیا جائے، بلکہ تعلیم کا دورانیہ بڑھا دیا جائے۔
دوسری بات جس پر ہمارے ہاں بہت حساسیت پائی جاتی ہے وہ حکومتی مداخلت ہے۔اس حوالے سے یاد رہے کہ حکومتی نمائندے مدارس کی تنظیموں کی مجالس عاملہ یا مجالس شوریٰ میں شامل نہیں ہوں گے، بلکہ محض نصابی کمیٹی میں شامل ہوں گے اور وہ بھی صرف اس اجلاس میں شریک ہوں گے جس کے ایجنڈے میں عصری تعلیم کے حوالے سے کوئی مشاورت یا غور وخوض کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دینی معاملات اور دینی امور کے ساتھ ان کا کوئی سروکار نہیں ہوگا۔یوں تیس افراد پر مشتمل امتحانی کمیٹی میں ان دو افراد کی موجودگی معاونت کے لیے ہوگی، مداخلت کے لیے نہیں۔
بہرحال مدارس دینیہ کی قیادت نے پوری دیانت داری، ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ یہاں تک سفر کیا ہے اور ابھی بہت سفر اور کئی مراحل باقی ہیں۔ اکابر کی رہنمائی، مجالس عاملہ ومجالس شوریٰ کی مشاورت اور ارباب مدارس کی آراء وتجاویز کی روشنی میں آگے بڑھاجائے گا۔
میں سمجھتا ہوں کہ اب تک کی پیش رفت ہماری کامیابی ہے، کیونکہ مدارس کے نمائندہ وفاقوں کو خود مختار امتحانی بورڈ کا درجہ دینے کا مطالبہ ہمارا دیرینہ مطالبہ تھا اور ہمارے ہر اجلاس،ہر قرار داد اور اعلامیے میں بار بار اس کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح مدارس کی تحتانی اسناد کی عدم قبولیت بھی ہمارا ایک دیرینہ مسئلہ تھا۔اس سے قبل حکومت مدارس کے سسٹم اور حیثیت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھی، لیکن اس فیصلے سے ہم اپنا تشخص منوانے میں بھی کامیاب ہوئے،اپنی تعلیمی اور امتحانی حیثیت قبول کروانے میں بھی کامیاب رہے،اپنی تحتانی اسنادکی حیثیت بھی منو الی۔
باقی یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ مدارس کی قیادت مدارس کے معاملے میں کسی بھی شخص سے زیادہ محتاط اور حساس ہے اور تمام قائدین کو اس بات کا بخوبی احساس وادراک ہے کہ اس وقت دینی مدارس بیرونی قوتوں کے ایجنڈے پر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس کی قیادت کو چومکھی لڑائی لڑنی پڑ رہی ہے۔ تمام احباب خاطر جمع رکھیں، ایسا کوئی فیصلہ قطعاً قبول نہیں کیا جائے گا، جس سے مدارس کی حیثیت، مقاصد یا حریت و آزادی پر کوئی حرف آئے۔ وما توفیقی الا باللہ۔

اتحادِ تنظیمات مدارس دینیہ اور حکومت کا نیا معاہدہ

مولانا مفتی محمد زاہد

اخباری اطلاعات کے مطابق دینی مدارس کے پانچوں وفاقوں کو تعلیمی بورڈز کا درجہ دینے کا فیصلہ آخری مراحل میں ہے۔ اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ کے نمائندوں نے بھی اس پر اصولی آمادگی ظاہر کردی ہے ۔ چونکہ اس منصوبے کو ابھی حتمی شکل بھی نہیں ملی بلکہ کئی ایشو ابھی طے ہونا باقی ہیں، اس لیے فی الحال اس منصوبے پر کوئی حتمی تبصرہ کرنا تومشکل ہے تاہم موضوع چونکہ پر انا ہے اس لیے کچھ طالب علمانہ گذارشات پیشِ خدمت ہیں۔
کسی بھی موضوع پر کوئی پالیسی وضع کرتے ہوئے ضروری ہوتاہے کہ اس پالیسی سے متاثر ہونے ہونے والے یا اس سے تعلق رکھنے والے تمام حلقوں اور stake holders میں اس پر مباحثہ اور ڈسکشن ہو۔ دینی مدارس کے متعلقہ فریق طور پر تین ہیں۔ ہر ایک کے اپنے اپنے concerns ہیں۔ سب سے پہلا فریق دینی مدارس کے اندر کے لوگ ہیں جن میں وہاں کے منتظمین ، اساتذہ اور طلبہ شامل ہیں۔ ان کے نزدیک ان مدارس کا بنیادی مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو علومِ دینیہ سے گہری وافقیت رکھتے ہوں، ان علوم میں تدریس، تحقیق وتصنیف، وعظ ونصیحت اور دعوت وتبلیغ جیسی سرگرمیوں کے ذریعے لوگوں کی دینی ضروریات بھی پوری کرسکیں اور ان علوم کو اگلی نسلوں تک منتقل بھی کرسکیں۔ دوسرا اہم فریق مسلمان معاشرہ ہے۔ یہ بھی اس موضوع کا بہت اہم فریق ہے، اس لیے کہ اسی کی مالی اور اخلاقی مدد کے ذریعے یہ مدارس چل رہے ہیں، اس لیے کوئی بھی پالیسی وضع کرتے ہوئے اس امر کو پیش نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ سوسائٹی ان مدارس سے کیا توقعات رکھتی اور کس طرح کے نتائج چاہتی ہے۔ سوسائٹی کی ضرورت یا ان کی توقعات کو دیکھا جائے تو اسے چند نکات میں اختصار کے ساتھ بیان کیا جاسکتاہے۔ 
پہلی بات تو یہ کہ دینی رسوم وعبادات کی ادائیگی کے لیے انہیں کوالیفائڈ افراد کی ضرورت ہے۔ انہیں ضرورت ہے ایسے لوگوں کی جو انہیں نمازیں پڑھا سکیں، اذانیں دے سکیں، بچوں کو قرآن اور بنیادی دینی امور کی تعلیم دے سکیں، جنازہ پڑھا سکیں، وغیرہ وغیرہ ۔ دوسری بات یہ کہ کچھ لوگ ایسے ہوں جو اس سے ذرا آگے بڑھ کر زندگی کے روز مرہ پیش آنے حالات و واقعات کے بارے میں دینی تعلیمات کی روشنی میں راہ نمائی کرسکیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوں جو نئے حالات کے مطابق اجتہادی بصیرت سے کام لے سکیں۔ تیسری بات یہ کہ ریاست سے لے کر عام معاشرے تک میں دین کی تنفیذ کے سلسلے میں تحقیقی کام اور تجاویز پیش کرسکیں اور یہ بات ثابت کرسکیں کہ زندگی کے جس شعبے کے متعلق بھی اسلامی تعلیمات ہیں، وہ آج بھی نہ صرف یہ کہ قابلِ عمل ہیں بلکہ کسی بھی اور نظام کی تعلیمات سے بہتر ہیں۔ چوتھی بات یہ کہ ہر مسلمان کی یہ خواہش ہے کہ اسلام کا پیغام غیر مسلموں تک بھی پہنچے اور اس سے متاثر ہو کر اسے قبول بھی کرسکیں۔ اس سلسلے میں کچھ ذمہ داری تو ہر مسلمان پر عائد ہوتی ہے، لیکن ایسے علما کی بھی ضرورت ہے جو ہر طبقے کے لوگوں تک دین کا پیغام ان کے لیے قابلِ فہم زبان میں قابلِ قبول انداز میں پیش کرسکیں اور اسلامی تعلیمات پر پیدا کیے جانے والے شکوک وشبہات کا تسلی بخش انداز میں جواب دے سکیں۔ پانچویں بات یہ ہے کہ ان مدارس سے ایسے لوگ پیدا ہوں جو سماج دوست ہوں، سوسائٹی کے خلاف نفرت رکھنے والے، اس کے خلاف یا اس کے درمیان نفرت پھیلانے والے نہ ہوں۔ وہ سماج میں پائی جانے والی خامیوں کی نشان دہی ضرور کریں، لیکن دوستانہ انداز اور اپنائیت کے رنگ میں، جس سے یہ محسوس ہو کہ یہ خود کو بھی اسی سوسائٹی کا حصہ سمجھتے اور اس کے دکھ درد اور امنگوں میں شریک ہیں، نہ کہ خدا کی طرف سے ان کے اوپر مسلّط کردہ کوئی بالائی مخلوق ہیں۔
میرے خیال میں دینی مدارس کے بارے میں بنیادی فریق یہی دو ہیں، یعنی خود یہ دینی مدارس اور پبلک۔ انہی کے باہمی تعاون اور مشترکہ کاوشوں سے یہ مدارس چل رہے ہیں۔ان دو کے بعد تیسرا فریق ریاست پاکستان ہے۔ ریاست پاکستان کی بنیادی حیثیت اس لیے نہیں ہے کہ یہ مدارس عموماً اس سے براہِ راست کوئی مالی تعاون وغیرہ حاصل نہیں کررہے، تاہم متعدد پہلوؤں سے ریاست کا بھی اس معاملے میں کردار بنتاہے۔ ایک تو اس وجہ سے کہ یہ مدارس جن کی یہاں بات کی جارہی ہے، وہ پاکستان کی حدود کے اندر واقع ہیں اور ریاست کی یہ ذمہ داری اور اس کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی حدود میں واقع ہونے والی سرگرمیوں سے ایک حد تک آگاہ رہے۔ یہ بھی پاکستان جیسی دیگر جمہوری ریاستوں کاان مدارس کے حوالے سے مثبت کردار ہے کہ انہوں نے اپنے ہاں اس طرح کے آزاد دینی مدارس کو چلنے دیا ہے، وگرنہ کئی مسلم اور غیر مسلم ملک ایسے ہیں جہاں اس طرح کے مدارس کے قیام کا خواب دیکھنابھی مشکل ہے۔ 
دو چیزوں نے حکومت پاکستان کی وساطت سے ریاست کا کردار بڑھا دیا ہے۔ ایک تو دینی مدارس میں دی جانے والی تعلیم کا حکومتی سطح پر اعتراف اور اس کی recognition کا مسئلہ ہے کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی اسناد کو حکومتی اور ریاستی ادارے بھی تسلیم کریں۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی حکومت جس حد تک وہ اس تعلیم کے تحت دی جانے والی اسانید کو تسلیم کرے گی، اسی حد تک وہ اپنے مطالبات (demands) اور متطلبات (requirements) بھی پیش کرے گی۔ یہ چیز بہت مشکل ہے کہ کسی سے آپ کچھ لیں تو سہی اس کے بدلے میں دینا کچھ نہ پڑے ۔ نیز ہر ریاست کا ایک عمومی نظامِ تعلیم اور تعلیمی پالیسی ہوتی ہے، کسی تعلیم کے تحت دی گئی اسناد کو ریاستی سطح پر تسلیم کرنے کے لیے اس نظام اور عمومی پالیسی سے استثناء ات ایک خاص حد تک ہی مل سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ یہ بات انتہائی بعید ہے کہ آپ یہ خواہش تو کریں کہ آپ کی تعلیم کو کسی ملک کا عمومی تعلیمی دھارا تسلیم کرے، لیکن آپ اس عمومی دھارے کا حصہ بننے یا اس کے خد وخال کو کسی بھی درجے میں قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔
ریاست کی دینی مدارس کے ساتھ دلچسپی کی دوسری وجہ موجودہ مخصوص حالات کی پیدا کردہ ہے۔ بوجوہ کچھ تو یہ تاثر پیدا ہوگیا ہے اور کچھ پیدا کردیا گیا ہے کہ یہ مدارس ایک سیکورٹی رسک بن چکے ہیں۔ اس وقت بظاہر یہی تاثر حکومت کو اس معاملے میں متحرک اور فعال کیے ہوئے ہے جس کی سب سے واضح علامت یہ ہے کہ اس سارے معاملے کو بنیادی طور پر وزیر داخلہ ڈیل کر رہے ہیں۔ نیز اب تک اس معاملے پر نہ تو اہل مدارس کو کسی سطح پر مشاورت میں شامل کیا گیا ہے اور نہ ہی عمومی ملک کے اکادیمی حلقوں (academia) میں اس پر کوئی خاص مباحثہ ہوا ہے اور یہ سب کچھ ایسے وقت میں سامنے آیا کہ جبکہ حکومت پاکستان کے امریکا کے ساتھ سٹریٹیجک مذاکرات کا نیا دور واشنگٹن میں ہونے والا تھا۔ ان ساری باتوں کو ملانے سے بظاہر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ حالیہ دنوں میں جو پیش رفت ہوئی ہے، یہ تعلیمی سے زیادہ انتظامی اقدام ہے، اس لیے اسے ڈیل بھی وہ وزارت کررہی ہے جس کا بنیادی کام’’ شرارتی بچوں‘‘ کو ٹھیک کرنا ہے۔ کیا واقعتا دینی مدارس اپنی یہ حیثیت تسلیم کرنے کے لیے تیا ر ہوجائیں گے؟ 
چوتھا فریق جس کا اصولی طور پر بذاتِ خود اس معاملے میں کوئی کردار نہیں بنتا، لیکن معروضی حالات نے اسے رائے زنی کا موقع فراہم کردیا ہے بلکہ اس معاملے میں خاصا فعال ہے، وہ ’’بین الاقوامی برادری‘‘ نام کی کوئی چیز ہے جس کی سب سے زیادہ نمائندگی بلکہ ٹھیکہ داری کا دعویٰ امریکا کو ہے۔ بین الاقوامی برادری کی اس موضوع سے دلچسپی کی نوعیت دفعِ مضرت کی ہے، یعنی بقول ان کے انہیں ان مدارس اور ان کی تعلیم سے کچھ نقصانات کے اندیشے اور اس کے بارے میں کچھ تحفظات ہیں۔ بین الاقوامی برادری کے یہ خدشات، ریاست پاکستان کے سکیورٹی کے حوالے سے خدشات اور ان مدارس سے وابستہ عوامی توقعات کے اوپر ذکر کردہ پانچواں نکتہ، یہ تینوں چیزیں آپس میں بہت حد تک رل مل گئی ہیں۔ ان تینوں پہلوؤں سے مدارس کی طرف اٹھنے والی انگلیاں خواہ حقائق پر مبنی ہوں یا محض تاثرات پر، بہر حال اہل مدارس کو چاہیے کہ وہ اپنے طور پراس معاملے کو حقیقت پسندانہ انداز سے سنجیدگی کے ساتھ لیں۔ جہاں واقعتا اپنی کوتاہی ہو، اسے تسلیم کرکے اپنے طور پر اس کی اصلاح کی کوشش کریں اور جو محض غلط تاثر ہو، اسے زائل کرنے کی کوشش کریں۔ تاہم دینی مدارس کے معاملات کی اکادیمی نوعیت کو بالکلیہ نظر انداز کرکے انہیں محض سیکورٹی کے نقطۂ نظر سے لیا جانا اور ان کے معاملے کو سیکورٹی رسک کے انداز سے ڈیل کیا جانا یا اس کا تاثر پیدا ہونا کسی طور پر بھی خوش گوار منظر نہیں ہے۔
اس تمہید کے بعد اب ہم بات کرتے ہیں اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے ذمہ داران اور وزیرِ داخلہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی۔ اس موقع پر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ دینی مدارس میں جدید علوم کی تدریس ہونی چاہیے یا نہیں۔ راقم الحروف دینی مدارس میں بعض عصری علوم کی تدریس سمیت ان مدارس کے نصاب ونظام میں متعدد تبدیلیوں کا قائل ہے، لیکن ایسی تبدیلیاں جن میں بنیادی طور پر پہلے دو فریقوں (دینی مدارس کے اندر کے لوگ اور سوسائٹی) کے مقاصد اور امنگوں کو پیشِ نظر رکھا جائے، بہر حال یہ الگ موضوع ہے، لیکن اس وقت اصل موضوع یہ نہیں ہے۔ اس وقت جو بات چل رہی ہے، وہ وفاقوں کی اسنادکے سرکاری سطح پر اعتراف (recognition) کے تناظر میں ہے۔ ان وفاقوں کی طرف سے جاری ہونے والی آخری اسانید کو تو پہلے ہی بعض قیود کے ساتھ ایم اے کے برابر تسلیم کیا جاچکاہے۔ تحتانی اسناد کا مسئلہ کافی عرصے سے معلق تھا، اس لیے کہ ایک آدمی ماسٹر تو ہو لیکن میٹرک، انٹر اور گریجویشن کی سطح کی سند اس کے پاس موجود نہ ہو تو یہ صورتِ حال اس کے لیے کئی مشکلات کا باعث بنتی ہے۔ اس وجہ سے عرصے سے یہ مطالبہ چلا آرہا تھاکہ وفاقوں اور چند اداروں کی طرف سے جاری کردہ آخری سند کے علاوہ تحتانی اسناد کو بھی تسلیم کیا جائے۔ اس سلسلے میں ایک تجویز یہ بھی تھی کہ ان پانچوں وفاقوں کو تعلیمی بورڈز کا درجہ دیا جائے اور اس طرح سے ان کی جاری کردہ سند دیگر سرکاری بورڈز کی جاری کردہ میٹرک اور انٹر کی سند کی طرح مقبول ہو۔ اب اسی تجویز کو کچھ پذیرائی ملی ہے اور اسی تسلسل میں مذکورہ معاہدہ طے پایا ہے۔ 
اس سلسلے میں پہلی گذارش تو یہ ہے کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ ہیں جن کا خیال ہوتاہے کہ ہمیں اپنی تعلیم کی سرکاری سطح پر کسی اعتراف کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے نہ تو مزید تعلیم کے لیے سرکاری اداروں میں داخلہ لینا ہوتاہے اور نہ ہی کہیں ملازمت کے لیے درخواست دینی ہوتی ہے، چنانچہ خود وفاقوں سے ملحق مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والوں میں اس ذہن کے بے شمار لوگ مل جائیں گے۔ اس کے علاوہ کئی دینی مدارس بلکہ دینی تعلیم کے نیٹ ورک ایسے موجود ہیں جو یا تو سرے سے سند جاری ہی نہیں کرتے یا ان کی سند کسی سطح پر تسلیم شدہ نہیں ہے۔ اس میں مثال کے طور پر تبلیغی جماعت کے تحت چلنے والے نیٹ ورک کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس نیٹ ورک کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد اتحادِ تنظیمات میں شامل متعدد وفاقوں سے زائد ہوگی۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ اس ذہن سے تعلیم حاصل کررہے ہیں، ان کا یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جن کا خیال ہوتا ہے کہ ہم اگر دینی تعلیم بھی حاصل کریں تو وہ ایسی ہو کہ اس کی بنیاد پر دینی مدارس ومساجد کے علاوہ بھی کسی میدان میں جا سکیں، مثلاً سرکاری محکموں یا اداروں میں ملازمت حاصل کرسکیں، مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے سرکاری جامعات میں انہیں داخلہ مل سکے۔ آج جبکہ دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والوں کی تعداد مدارس ومساجد کی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے۔ ایسے میں یہ خواہش یا سوچ اتنی غلط بھی نہیں ہے، البتہ اس کے طریق کار کے بارے میں بات کی جا سکتی ہے۔ 
آخری سند کا مسئلہ تو اکثر وفاقوں اور بعض مدارس ( جو ۸۰ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق مرحوم کے زیادہ قریب تھے) کی حد تک حل شدہ ہے، اس لیے کہ ایچ ای سی نے ان کی عالمیہ کی سند کو ایم اے (سولہ سالہ) کے برابر تسلیم کر رکھا ہے۔ اب مسئلہ صرف اس سے نیچے کا ہے ۔ اس سلسلے میں راقم الحروف کا نقطہ نظر جس کا اظہارپہلے بھی کرچکاہے، یہ ہے کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والوں کو اول تو یہ طے کرنا چاہیے کہ وہ کس نقطہ نظر سے یہ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اگر پہلا نقطۂ نظر اختیار کرکے تعلیم حاصل کررہے ہیں تو ظاہر ہے کہ انہیں اپنی سند کے اعتراف کا خیال ہی دل سے نکال دینا چاہیے، جیساکہ تبلیغی جماعت کے نیٹ ورک کی صورتِ حال ہے۔ اور اگر دوسرا نقط نظر ہے اور دینی تعلیم حاصل کرنے والے یہ چاہتے ہیں کہ ان مدارس ومساجد کی لائن سے باہر بھی وہ خود کو میٹرک، ایف اے یا گریجویٹ منوائیں تو اس کے لیے حکومتوں سے مختلف قسم کی رعایتوں اور اعتراف کی بھیک مانگنے کی بجائے ذراہمت اور جرأت سے کام لے کر وہی راستہ اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے جو اس مقصد کے لیے پاکستان کا عام شہری اختیار کرتا ہے۔ یعنی اسے اس میدان میں through proper channel آنا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر کسی جگہ داخلے یا کسی ملازمت کے لیے میٹرک کی شرط ہے تو بجائے کہ اس کے کہ دینی مدرسے کا پڑھا ہوا درخواست کرے کہ میری ثانویہ عامہ کی سند کو میٹرک کے برابر تسلیم کیا جائے، اس کے لیے زیادہ بہتر ہوگا کہ وہ بھی اسی راستے سے میٹرک کی سند لے کر آئے جس راستے سے باقی امیدوار لے کر آئے ہیں۔ یہی بات انٹر اور بیچلر وغیرہ کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ اس صورت میں چونکہ وہ کوئی رعایت نہیں لے رہا ہوگا، اس لیے اس میں خود اعتمادی بھی زیادہ ہوگی اور مستقبل میں پیش آنے والی کئی پیچیدگیوں سے بچ بھی جائے گا۔ اور یہ کام ایسا نہیں ہے جو ناممکن ہو۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم ، ڈاکٹر محمد الغزالی ، ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی، ڈاکٹر علی اصغر چشتی، ڈاکٹر محمود الحسن عارف ، بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر فیوض الرحمن ، ڈاکٹر خالد علوی مرحوم ، پروفیسر انوار الحسن شیرکوٹی مرحوم وغیرہ ناموں کی ایسی طویل فہرست پیش کی جاسکتی ہے جنہوں نے درسِ نظامی کی تعلیم اس زمانے میں حاصل کی جب کہ اس کی کسی سند کے اعتراف کا کوئی تصور نہیں تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے عصری جامعات یا سرکاری اداروں میں نہ صرف اپنی جگہ بنائی بلکہ ان میں اعلیٰ مناصب پر بھی پہنچے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ یہ سب کے سب عام راستہ اختیار کرکے ہی یہاں پہنچے ہیں، کسی مدرسے کی سند کی بنیاد پر کوئی رعایت حاصل کرکے نہیں۔ ایسے نوجوانوں کی فہرست تو بہت طویل ہوگی جنہوں نے بی اے تک کے امتحانات تو عام نظام کے تحت دیے اور اس کے بعد وفاق کی سند کے ایم اے کے ساتھ معادلے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے لیے راہ بنائی ۔ 
حالیہ معاہدے کے ذریعے دینی مدارس کے طلبہ کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے، اس کا جائزہ لینے سے پہلے یہ ذہن میں رہنا ضروری ہے کہ اس مقصد کے حصول کے متبادل کیا راستے موجود ہیں ۔ اس وقت عملی صورتِ حال یہ ہے کہ دینی مدارس میں درسِ نظامی میں داخلہ لینے والوں کی خاصی تعداد ایسی ہے جو میٹرک یا اس سے اوپر کی تعلیم عام عصری اداروں میں حاصل کرکے آئی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس وقت متعدد مدارس ایسے ہیں جنہوں نے اپنے طلبہ کو خود میٹرک تک تعلیم دینے کا انتظام بھی کیا ہواہے اور یہ طلبہ اپنے اپنے علاقوں کے سرکاری بورڈز سے نہ صرف امتحان دے رہے ہیں بلکہ کئی اپنے اپنے بورڈز میں نمایاں پوزیشنیں بھی حاصل کررہے ہیں۔ مزید برآں ان مدارس میں خاصی تعداد ایسے طلبہ کی بھی ہے جو اپنے طور پر تعطیلات میں یا چھٹی کے اوقات میں تیاری کرکے میٹرک ، انٹر اور بی اے کے امتحانات دے لیتے ہیں اور انہوں نے چونکہ اسی نظام کے تحت یہ امتحانات دیے ہوتے ہیں جس کے تحت کوئی اور نوجوان امتحان دے کر آیا ہوتاہے، اس لیے وہ نہ تو کسی کے زیرِ بارِ احسان ہوتے ہیں ، نہ انہیں کسی سے مذاکرات یا لجاجت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماسٹر لیول سے نیچے کی اسناد کا ایک حل تو یہ ہے جو محض تجویز نہیں ہے بلکہ وسیع پیمانے پر اس پر عمل ہورہا ہے۔ چونکہ ان مداس میں بڑی تعداد میں طلبہ میٹرک کرکے آتے ہیں، کئی مدارس نے خود میٹرک تک تعلیم شروع کر رکھی ہے، اس لیے میٹرک کی حد تک تو سمجھنا چاہیے کہ مسئلہ تقریباً حل شدہ ہے۔ اس سے اوپر چونکہ ریاضی لازمی مضامین میں شامل نہیں ہے، ان میں انگریزی ، مطالعۂ پاکستان اور اسلامیات لازمی ہوتے ہیں، اس لیے ان امتحانات میں کامیاب ہونا طلبہ کے لیے میٹرک کے مقابلے میں بہت آسان ہے۔ اگر مدارس چاہیں تو ان امتحانات کو کسی حدتک اپنے نظام کے اندر بھی جگہ دے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر درجہ ثالثہ میں منطق کی کتاب شرح تہذیب کی بجائے انٹر کی انگریزی پڑھادیں تو طلبہ کے لیے انٹر کے امتحان میں بہت آسانی ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ وہ اگر چاہیں تو اسلامیات اختیاری، عربی، فارسی، ایجوکیشن اور سوکس جیسے آسان مضامین رکھ کر بہت اچھے نمبروں میں کامیاب ہوسکتے ہیں اور اگر چاہیں تو معاشیات وغیرہ ذرا مشکل مضمون رکھ کر اپنی معلومات اور استعداد میں اضافہ بھی کرسکتے ہیں اور اگر کوئی مدرسہ یا اس کے طلبہ یہ محسوس کریں کہ ہم نے روایتی درسِ نظامی ہی کی تعلیم حاصل کرنی ہے، اس کے ساتھ کوئی پیوند کاری نہیں کرنی، ان کے لیے یہ راستہ بھی کھلا رہے گا۔
دوسرا راستہ وہ ہے جس کا آغاز علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے اس زمانے میں کیا تھا جب ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی وہاں کلیہ علومِ اسلامیہ کے ڈین تھے۔ وزارتِ تعلیم اور وفاق المدارس العربیہ کے نمائندے اس میں شامل تھے۔ خود حضرت مولانا سلیم اللہ خاں صاحب مدظلہم اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے اس کے متعدد اجلاسوں میں شرکت کی۔ بعض اجلاسوں میں حضرت مولانا فضل الرحیم، حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی بھی شریک ہوئے۔ اس کے مطابق یہ طے کیا گیا کہ جس طرح آرٹس گروپ ، سائنس گروپ ، کامرس گروپ وغیرہ ہوتے ہیں، اسی طرح میٹرک سے لے کر بی اے کی سطح تک درسِ نظامی گروپ کا آغاز کیا جائے ۔ چنانچہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور وزاتِ تعلیم دونوں نے اسے منظور کیا اور یونیورسٹی اور بعض سرکاری بورڈز نے اس پر عمل درآمدبھی شروع کیا۔ اس اسکیم کا لب لباب یہ ہے کہ میٹرک ، انٹر اور بی اے کی سطح تک لازمی مضامین مثلاً انگریزی ، مطالعۂ پاکستان کے علاوہ درسِ نظامی ہی کے بعض مضامین کا ان طلبہ سے امتحان لے لیا جائے، مثلاً انٹر کی سطح کی انگریزی ، مطالعۂ پاکستان اور اسلامیات لازمی کے علاوہ ثانویہ خاصہ ہی کے بعض مضامین کا ان سے امتحان لے لیا جائے اور انہیں باقاعدہ اوپن یونیورسٹی یا سرکاری بورڈ سے ایف اے کی سند جاری کردی جائے۔ ثانویہ خاصہ کے یہ مضامین چونکہ انہوں نے پڑھے ہوئے ہوتے ہیں، اس لیے ان کے لیے دیگر اختیاری مضامین کے مقابلے میں آسانی ہوگی۔ اُس وقت صدرِ وفاق حضرت مولانا سلیم اللہ خاں صاحب نے مدارس کو اس سکیم کا حصہ بننے سے منع فرمادیا تھا، تاہم پرائیویٹ طور پر بڑی تعداد میں طلبہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ ( تازہ ترین صورتِ حال کا مجھے علم نہیں ہے)۔
تیسرا راستہ اس سلسلے میں یہ ہے کہ طالب علم میٹرک یا انٹر کے صرف لازمی مضامین کا امتحان دے ، میٹرک کے ساتھ کسی وفاق کی ثانویہ عامہ کی سند اور انٹر کے ساتھ ثانویہ خاصہ کی سند لگا کر اسلام آباد میں واقع انٹر بورڈ چئیر مین کمیٹی سے، جسے ہم سمجھنے میں آسانی کے لیے عصری بورڈز کا وفاق کہہ سکتے ہیں، میٹرک یا انٹر کے ساتھ معادلے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرلے۔ ایک عرصے تک طلبہ اس سہولت سے بھی فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، تازہ ترین صورتِ حال کا علم نہیں ۔ تاہم یہ راستہ اگر آج کل دستیاب نہیں ہے تو اس کی بحالی کی کوشش نسبتاً آسان ہے۔
جو طالب علم درسِ نظامی کی تعلیم کے بعد کسی اور لائن کی طرف جانا چاہتا ہے، اس کے لیے یہ تین راستے تو پہلے سے موجود ہیں جن میں سے سب مؤثر اور قابلِ اعتماد پہلا راستہ ہے اور جیسا کہ عرض کیا وہ اتنا مشکل بھی نہیں ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے وفاقوں کو بورڈز کا درجہ دیے جانے کی صورت میں ایک چوتھا راستہ سامنے آجائے گا ، لیکن کیا اس سے دینی مدرسے کے طالب علم کوئی بہت بڑا فائدہ یا سہولت حاصل ہوگی اور اس سہولت کی قیمت ان وفاقوں اور مدارس کو کیا ادا کرنی پڑے گی، اس بات پر تمام وفاقوں اور اہلِ مدارس کو بہت ہی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ یہ بات تو پہلے تین راستوں اور اس نئے راستے میں قدرِ مشترک ہے کہ جو طالب علم میٹرک ، انٹر یا بی اے کی سند حاصل کرنا چاہتاہے، اسے اس مرحلے کے لازمی مضامین کا امتحان بہر صورت دینا ہوگا۔ لازمی مضامین سے چھوٹ تو کسی صورت میں نہیں مل سکتی، زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ نئے سیٹ اپ میں لازمی عصری مضامین کا امتحان خود وفاق لے گا اور وفاق کے باقی مضامین میٹرک، انٹر وغیرہ کے اختیاری مضامین کے قائم مقام ہوجائیں گے۔ لیکن اس میں پہلا سوال تو یہ ہے کہ طالب علم کے لیے اصل مشکل تو لازمی مضامین ہی ہوتے ہیں۔ ان کو پڑھنے اور پاس کرنے کے بعد ہاتھی نکل جاتاہے، صرف دُم ہی رہ جاتی ہے،اس دُم کے لیے اسے کسی خاص رعایت اور مہربانی کی ضرورت بھی ہے یا نہیں، اس لیے کہ عام بورڈز میں بھی ایسے اختیاری مضامین موجود ہیں جن میں دینی مدرسے کا طالب علم بہت ہی سہولت کے ساتھ کامیابی حاصل کرسکتاہے، جیسے انٹر کی سطح پر عربی اور اسلامیات اختیاری وغیرہ ( اس عربی سے واقعتا طالب علم کی عربی استعداد میں بھی اضافہ ہوتاہے)۔ تو ایسے میں ایک طالب علم کے لیے وفاق کی جاری کردہ میٹرک اور انٹر کی سند میں زیادہ کشش ہوگی یا کسی سرکاری بورڈ کی سند میں؟ اس لیے کہ وفاق لازمی مضامین کے نصاب اور امتحان میں نرمی برتتاہے تو سند کی وقعت ویسے ہی گر جائے گی ، اور اگر پورا معیار برقرار رکھتا ہے (جس کے بارے میں وفاقوں کی صلاحیت تا حال سوالیہ نشان ہے) تو تب بھی ’’ مولویانہ میٹرک‘‘، ’’ مولویانہ ایف اے‘‘ اور ’’ عام میٹرک‘‘، ’’عام ایف اے‘‘ کا تاثر باقی رہے گا ۔ کیا کسی طالب علم کے لیے اس بات میں کشش ہوگی کہ وہ اتنی ہی محنت کرکے عام میٹرک یا انٹر کی بجائے ’ مولویانہ ‘‘ میٹرک یا ’مولویانہ‘ انٹر کی سند حاصل کرے؟ حاصل یہ کہ ایک طالب علم کے لیے اس نئے مجوّزہ سسٹم کے اندر کوئی بڑا ریلیف موجود نہیں ہے۔ البتہ اس سے اس کے لیے متعدد پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں ، مثلاً یہ کہ اگر ایک طالب علم ایک طرف وفاق کے تحت ثانویہ عامہ کرنا چاہتاہے، لیکن دوسری طرف وہ میٹرک عام سرکاری بورڈ کے تحت کرنا چاہتاہے تو چونکہ وفاق بھی ایک تعلیمی بورڈ ہی ہوگا، اس لیے دونوں طرف امتحان دینے میں ڈبل انرولمنٹ کا مسئلہ رکاوٹ بن جائے گا۔
یہ تو تھا دینی مدرسے کے ایک طالب علم کے نقطہ نظر سے جائزہ ۔ خود مدارس پر اس کاکیا اثر مرتب ہوگا، تو بظاہر یہ نظر آرہا ہے کہ مذکورہ معمولی سے فائدے، جس کے متعدد متبادل پہلے ہی سے موجود ہیں، کے بدلے میں وفاقوں یا دینی مدارس کو مندرجہ ذیل چیزیں قبول کرنا پڑیں گی جنہیں قبول کرنے کے لیے وہ ابھی تک تیار نہیں تھے ۔
(۱)وفاقوں کی نصاب کمیٹیوں میں دو دو سرکاری نمائندے شامل ہوں گے۔ اگرچہ ابتدا میں یہی کہا جائے گا کہ وہ صرف عصری مضامین کے بارے میں رائے دینے کے لیے ہیں، لیکن آگے کیا ہوتاہے، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
(۲)پانچوں وفاقوں کے معیارِ تعلیم ، نصابِ تعلیم اور معیارِ امتحان میں یکسانیت کے لیے ان کے اوپر ایک ادارہ قائم ہوگا جس کی تشکیلی صورت (composition) تادمِ تحریر مبہم ہے۔ واضح رہے کہ طے شدہ معاہدے یا مفاہمت کی یادداشت میں میں باقی شقوں میں تو عصری تعلیم کا ذکر ہے، لیکن اس مشترکہ ادارے جو بظاہر اس پورے معاہدے کا کسٹوڈین اور نگران ہوگا، کے لیے معاہدے میں عصری تعلیم کی قید کی بجائے صرف معیار تعلیم اور نصابِ تعلیم جیسے الفاظ مذکورہیں جس میں بظاہر پوری کی پوری تعلیم داخل ہے۔ اس طرح کا ادارہ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ( جسے مدارس پہلے رد کرچکے ہیں) سے کتنا مختلف ہوگا، ایسے ادارے کا وفاقوں اور مدارس میں کردار کتنا مفید یا مضر ہوگا اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ کردار کم ہوگا یا بڑھے گا، یہ اہم سوال ہے ۔ 
(۳)سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک میں قائم ہونے والی کسی بھی تنظیم کو سوسائٹیز ایکٹ ۱۸۶۰ء کے تحت اپنی رجسٹریشن کرانے کا حق حاصل ہوتاہے، لیکن عرصے سے مدارس کی رجسٹریشن رکی ہوئی تھی۔ بار بار کے مطالبے کے بعد رجسٹریشن کا سلسلہ ۲۰۰۵ء میں شروع تو ہوا، لیکن دودھ میں مینگنیاں ڈال کر ۔ اس طرح سے کہ مدارس کی رجسٹریشن کے لیے اسی ایکٹ میں ایک ترمیمی آرڈیننس جاری کیا گیا اور مدارس کی صرف اس ترمیمی آرڈیننس کے مطابق رجسٹریشن شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ حالانکہ یہ قانون بالکل امتیازی تھا ، شاید ابتدا میں وفاق المدارس نے اسے مسترد کرنے کا اعلان بھی کیا تھا، تاہم بعد میں شاید معمولی رد وبدل کے بعد اس کے تحت رجسٹریشن کرانا قبول کرلیا گیا تھا۔ اس امتیازی قانون کے خلاف بآسانی عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا جاسکتا تھا، اس لیے کہ یہ ترمیم امتیازی ہونے کے ساتھ اصل قانون کے مقاصد اور اس کے عمومی مزاج سے بالکل میل نہیں کھاتی (اس نکتے تفصیل کا یہاں موقع نہیں) لیکن ایک فوجی آمر کی موجودگی کی وجہ سے اُس وقت کی عدلیہ سے کوئی توقع نہیں کی جاسکتی تھی، اس لیے خیال تھا کہ شاید بدرجۂ مجبوری خاموشی اختیار کرلی گئی ہے، مناسب وقت پر اس امتیازی قانون کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی ۔ لیکن عدلیہ کی آزادی اور فوجی آمریت کے خاتمے کے بعد نامعلوم کسی نے اس کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی۔ اب وفاقوں کو بورڈز کا درجہ دیے جانے ( جس کے فوائد جیساکہ عرض کیا گیا بہت محدود ہیں )کے عوض خود اتحادِ تنظیمات نے مدارس کے خلاف اس امتیازی قانون کو قبول کرنے کا تحریری معاہدہ کرلیا ہے، بلکہ ہر مدرسے کی طرف سے اس کا عہد کرلیا گیا ہے کہ وہ اس ترمیمی آرڈیننس کے تحت اپنی رجسٹریشن کرائے گا۔ کیا مدارس اس معمولی سے فائدے کے بدلے میں ان کی طرف سے اس تحریری التزام کو بخوشی قبول کرلیں گے یا کیا انہیں ایسا کرنا چاہیے؟ جس اتحادِ تنظیمات کا کام مدارس کا کیس لڑنا ہے، کیااس کے اکابر اسی کے ہاتھوں ہتھیار ڈالے جانے کو قبول کر لیں گے؟ نیز اس معاہدے کے نتیجے میں ایک طرح سے حکومت اور وفاقوں کے درمیان شراکت داری وجود میں آرہی ہے جس میں ایک شریک یعنی حکومت کی مستقبل کی بلکہ حال کی پالیسیوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کیا اس پارٹنر شپ کو ان وفاقوں کے اکابر بآسانی قبول کرلیں گے؟ ان سوالوں کا حتمی جواب تو آنے والے وقت ہی میں ملے گا ، تاہم اندازے کے طور پر دیگر وفاقوں کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جاسکتا، لیکن وفاق المدارس العربیہ کے ماضی کے جرأت مندانہ ریکارڈ کے پیشِ نظر اس کا امکان کم ہی نظر آتاہے کہ وہ اس طرح کے سیٹ اپ کی حتمی منظوری دیں، اس لیے کہ یہ حضرات اس سے ملتی جلتی کئی تجاویز کو مسترد کرچکے ہیں۔ نوے کی دہائی میں جب اوپر ذکر کردہ درسِ نظامی گروپ کی تجویز سامنے آئی جو موجودہ تجویز کے مقابلے میں کہیں بے ضرر تھی تو اس کے بارے میں حضرت صدرِ وفاق مدظلہم نے مدارس کو اس میں شرکت سے منع کرنے کے بارے میں باقاعدہ مراسلہ لکھا تھا۔
یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ کسی بھی وفاق یا ادارے کو تعلیمی بورڈکا درجہ دینے کا معاملہ اتنا سادہ نہیں ہوتا جتنا ہمارے ہاں عموماً سمجھ لیا جاتاہے ۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ دفعہ وارایک قانون بنتاہے جس میں تمام تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر فیڈرل بورڈ کے قیام کے قانون (مجریہ ۱۹۷۵ء ) کو اگر دیکھیں تو اس کی دفعہ پانچ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بورڈ کن کن ارکان پر مشتمل ہوگا جن میں مثلاً دو یونیورسٹیوں کے چانسلر ( جن کی تعیین ایچ ای سی کرے گی)، وزارتِ تعلیم کے دونمائندے، کسی ایک کالج اور ایک سکول کا نمائندہ جس کا تعین الیکشن سے ہوگا، قومی اسمبلی کے تین ممبران جن میں سے کم از کم ایک خاتون ہوگی، دو سینیٹ کے ارکان ، آزاد کشمیر اور تمام صوبوں ، فاٹا اور گلگت بلتستان میں ہر ایک کا ایک نمائندہ ، وغیرہ وغیرہ۔ اس مثال سے صرف یہ اندازہ کرانا مقصود ہے کہ کسی ادارے کو بورڈکا درجہ ملنے کا باقاعدہ ایک سسٹم اور قانونی طریقِ کا ر اور اس کا ایک مخصوص مزاج ہوتا ہے، جبکہ وفاقوں کے حوالے سے ان امورپر تا حال مکمل ابہامات ہی ابہامات ہیں۔ تاہم اتنی بات واضح ہے کہ جب کسی وفاق یا تنظیم کو تعلیمی بورڈ کا درجہ ملے گا تو وہ خود بخود پہلے سے موجود تعلیمی بورڈز کے نظام کا حصہ بن جائے گا۔ اس عمومی نظام کے مشمولات سے استثنا ایک خاص حد تک ہی مل سکے گا۔ چونکہ ان وفاقوں کو مکمل بورڈ کا درجہ ملنا ہے ، ان کی سند مکمل میٹرک یا ایف اے تسلیم کی جائے گی، صرف چند لازمی عصری مضامین کی حدتک نہیں ، اس لیے بظاہر اس وفاق کا پورا نظام اس عمومی تعلیمی سسٹم کا حصہ بن جائے گا۔ جب میٹرک یا انٹر کی سند کی بنیاد وفاق کے دینی مضامین بھی بن رہے ہوں گے تو ظاہر ہے کہ وہ بھی ملک کی عمومی تعلیمی پالیسی کا حصہ بن جائیں گے ۔ ایسا فوری طور پر نہ ہو تب بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ تدریجاً ایسا ہی ہوگا۔ 
اس وقت مجھے اپنی رائے پیش کرنا نہیں ہے ، بلکہ اس مجوزہ اقدام کے ممکنہ نتائج کی طر ف توجہ دلانا ہے ، اگر ہمارے اکابر اور اہلِ مدارس ان نتائج کو قبول کرنے کے لیے ذہناً تیار ہیں تو الگ بات ہے ، لیکن اگر یہ نتائج منظور نہیں اور بظاہر ایسا ہی ہوگا تو ابھی اس معاملے پر بہت سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ معاملات ایک ڈگر پر چل پڑنے کے بعد واپسی بہت مشکل ہوجاتی ہے۔پھرچونکہ یہ سب کام قانون سازی کے ذریعے ہوگا، اس لیے اصل فیصلہ مقننہ نے کرنا ہے جو اتحادِ تنظیمات اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کا حصہ ہی نہیں ہے، بالخصوص صوبائی حکومتیں اورمقننہ ، اس لیے کہ اس کا بھی اس معاملے میں بڑا کردار ہوگا ۔ کسی بھی قانون کا حلیہ قانون سازی کے مختلف مراحل سے گذرتے ہوئے کیا سے کیا ہوجاتاہے، یہ محتاجِ وضاحت نہیں۔ اس لیے اتنے غیر واضح ، مبہم اور خدشات کے حامل معاہدے کو موجودہ حالت میں کامیابی قرار دینا جلد بازی ہی معلوم ہوتاہے۔
پھر یہ بات بھی سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے کہ جب یہ پارٹنر شپ وجود میں آئے گی تو ظاہر ہے کہ آئے روز حکومتی نمائندوں سے بات چیت اور مذاکرات کا عمل چلتا رہے گا، اس لیے کہ پارٹنر شپ کا یہ منطقی اور لازمی نتیجہ ہے۔ یہ بات چیت عموماً بیورو کریسی کے ساتھ ہوگی جو انتہائی تجربہ کار اور چالاک ہوتی ہے ۔ کیا ان وفاقوں کے نمائندوں کے بارے میں یہ ضمانت دی جاسکتی ہے کہ وہ ہمیشہ ایسے ہی ہوں گے جو اس چالاک بیوروکریسی کے ساتھ نمٹ سکیں ؟ چونکہ اس نئے سیٹ اپ میں سب وفاقوں کو ایک ساتھ چلنا ہوگا، اس لیے کیا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ کل کلاں چند ایک وفاقوں کی قیادت میں ایسے لوگ آجائیں جو بہت بھولے بھالے ہوں اور آسانی سے اس بیوروکریسی سے مات کھا جائیں یا خدا نخواستہ کسی وقت ایسے لوگ آجائیں جو اپنے بزرگوں والی پختگی اور استغنا سے خالی ہوں اور ان کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات تک رسائی اور اعلیٰ حکام تک شرفِ بار یابی ہی معراجِ ترقی ہو اور اسی دام میں ان سے شعوری یا غیر شعوری طور پر ایسے فیصلے کروالیے جائیں جو دینی مدارس کے مقاصد کے مستقبل کے لیے بہتر نہ ہوں، لیکن دوسری طرف وہ اپنے زورِ بیان اور اختیارات کی بنیاد پر مدارس کو مطمئن یا خاموش کرالیں؟ موجودہ وقت کے بارے میں جو مرضی کہہ لیں، آنے والے وقت کی ضمانت کون دے سکتا ہے کہ کس سیٹ پر کس طرح کا آدمی ہوگا؟ تو کیا اس طرح کا رسک لے کر حکومت کے ساتھ یہ شراکت داری کرنے یا اس سے مراعات لینے، سودا بازی کرنے سے بہتر نہ ہوگا کہ اب تک جس طرح کام چل رہا ہے، چلنے دیا جائے۔ جو ان وفاقوں کا کام اور ان کا دائرۂ اختصاص ہے یعنی دینی تعلیم کا امتحان لے کر سندات دینا، یہ اپنا یہ کام آزادی کے ساتھ کسی کے زیر بارِ احسان ہوئے بغیر کرتے رہیں اور جو عصری اداروں کا کام ہے یعنی عصری تعلیم کا امتحان لے کر سرٹیفیکیٹ جاری کرنا، وہ اپنا کام کرتے رہیں۔ جو نوجوان صرف دینی تعلیم پر اکتفا کرنا چاہتا ہے، وہ وفاق کے امتحانات پر قناعت کرے، جوکسی دوسری طرف جانا چاہتے ہیں ان کے لیے راستے پہلے بھی بند نہیں ہیں۔ اس طرح ہر کوئی اپنے اپنے دائرۂ اختصاص میں کام کرتا رہے۔
جہاں تک تعلق ہے مدارس کے طلبہ کو عمومی دھارے کے قریب لانے اور انہیں عصری تعلیم دینے کا تو حقیقت یہ ہے کہ مدارس میں عصری تعلیم کا کام کافی حدتک پہلے سے ہورہاہے۔ پہلے بڑی ہچکچاہٹوں کے بعد مڈل تک آئے تھے، اب کافی حد تک بات میٹرک تک پہنچ چکی ہے۔ اگر مدارس کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے تو اس میں مزید پیش رفت کے امکانات بھی ہیں۔ جو عصری مضامین پڑھنا پڑھانا چاہتے ہیں، وہ عام سرکاری بورڈز سے امتحانات دیں گے تو مستقبل میں ان کا فائدہ بھی ہوگا اور وہ عام دھارے کے زیادہ قریب آئیں گے۔ اب تک جو اپنے طور پر مدارس میں تبدیلی آرہی ہے یا جس کی توقع کی جارہی ہے، وہ اگرچہ بظاہر سست رفتار ہے لیکن وہ چونکہ مدارس کے اندر سے پھوٹنے والی تبدیلی ہے اور اس تبدیلی کا بنیادی سرچشمہ ان مدارس کے اصل دو فریق یعنی اہلِ مدارس اور سوسائٹی ہیں، اس لیے اس تبدیلی کے مؤثر پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ اس سے مدارس کی آزادی متاثر ہونے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوگا، خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ اس کے لیے انہیں نہ تو کسی کا زیرِ احسان ہونا پڑتاہے اور نہ ہی کسی سے مذاکرات کرنا پڑتے ہیں۔ البتہ اس تبدیلی میں یہ’خامی‘ ضرور ہے کہ اس سے کسی وزیر یا بیورو کریسی کے نمبر نہیں بنتے کہ اس نے بڑی تگ ودو اور مذاکرات کے بعد مدارس کو اس لائن پر لگا دیا ہے۔

گجرات کا ’’بیت الحکمت‘‘

پروفیسر شیخ عبد الرشید

لائبریریوں کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی تہذیبِ انسانی۔اوراقِ تاریخ شاہد ہیں کہ قوموں کے عروج و زوال میں کُتب خانوں کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ٹیکسلا میں قدیم ترین لائبریری کے آثار ملے ہیں۔ یونان میں سقراط یا ارسطو کے ذاتی کتب خانے ہوں یا قدیم مصر کی عبادت گاہوں میں کتب کی موجودگی، شور بنی پال کی نینوا کے مقام پر مٹی کے الواح پر مشتمل لائبریری ہو یا قبل مسیح کے اسکندریہ اور پر گامم کے عظیم کتب خانے یا پھر قرونِ وسطیٰ کے شاندار اسلامی کتب خانے سب علم کے روشن میناروں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کے عہد عروج میں مساجد و مدارس ہی نہیں گھروں کے طاق بھی کتابوں سے سجے رہتے تھے۔ بغداد اور اُندلس کے گلی محلوں میں کتب فروشوں کی دکانیں عام تھیں نیز سرکاری اور نجی لائبریریوں کی بھی بھرما ر تھی۔ بلاشبہ قومیں کتب خانوں سے بنتی ہیں۔ جس طرح ہوا اور پانی کے بغیر جینا ممکن نہیں اسی طرح کتاب کے بغیر انسانی بقا اور ارتقا محال ہے۔ قوموں کی زندگی میں جیسے علاقائی دفاع کے لیے منظم فوجی چھاؤنیوں کا قیام لازم ہے بعینہٖ علم و دانش اور سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے لائبریریوں کا قیام وانتظام ضروری ہے۔ لائبریریاں نظریاتی و معاشرتی دفاع کا مؤثر ترین حصار ہی نہیں جہالت و ناخواندگی کے خلاف مضبوط قلعوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پاکستان میں اس وقت کم و بیش آٹھ ہزار لائبریریاں موجود ہیں ۔سکھر کی جنرل لائبریری ۱۸۳۵ء میں قائم ہوئی۔ اسے ملک کی قدیم ترین لائبریری سمجھا جاتا ہے۔ پنجاب سول سیکریٹریٹ کی لائبریری ۱۸۵۸ء میں قائم ہوئی۔ جبکہ اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی لائبریری بیت الحکمت ہمدرد یونیورسٹی کراچی میں ہے۔
۱۹۹۹ء میں مجھے اپنے تحقیقی مقالے کے لیے مواد کے حصول کے لیے ’’بیت الحکمت ‘‘کراچی جانے اور اس سے استفادے کا موقع ملا تو میں نے وہاں کے عملے کے تعاون اور ذخیرۂ کتب سے متاثر ہو کر حکیم محمد سعید کی قبر پر خصوصی دُعائے مغفرت کی جنہوں نے یہ مدینۃ الحکمت آباد کیا۔ گیارہ سال بعد ۱۳نومبر کو علم و تحقیق کے حوالے سے میرے اس خوشگوار تجربے کی یاد ایک بار پھر تازہ ہو گئی جب میں گجرات کے کتاب دوست قلمکار عارف علی میر کے گھر میں قائم المیر ٹرسٹ لائبریری واقع میر سٹریٹ بھمبر روڈ گجرات پہنچا تو اُنہوں نے نہ صرف خوش دِلی سے جی آیاں نوں کہا بلکہ پر تکلف چائے سے تواضع بھی کی۔ علاقہ میں بجلی کی بندش کے باعث لائبریری دیکھنے سے پہلے عارف علی میر صاحب نے لائبریری کے قیام و کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مبینہ طور پر ’’خطہ یونان‘‘ کی شہرت رکھنے والے شہر گجرات میں روز بروز کھانے پینے کے ہوٹلوں اور دکانوں کے بڑھتے ہوئے طوفان میں معدے کی بجائے دماغ سے سوچنے والوں کے لیے یہ کتب خانہ اُمید کا ایسا چراغ ہے جس کی روشنی میں عظمتِ رفتہ کے آثار دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جلالپورجٹاں سے تعلق رکھنے والے علم دوست غضنفر علی میر کی وفات کے بعد زمیندار کالج کے انگریزی زبان و ادب کے سابق ہر دلعزیز اُستاد پروفیسر حامد حسین سید اور پنجابی زبان و ادب کے ممتاز ادیب و محقق شریف کنجاہی نے مسلسل چالیس دِن تک عارف علی میر کے ہاں اس لائبریری کے قیام کے لیے ’’چلہ ‘‘ کاٹا اور انہیں قائل کیا کہ ’’والد محترم کے ایصالِ ثواب‘‘ کے لیے سب سے مستحسن عمل یہ ہے کہ ان کی علم دوستی کو کتاب دوستی کی تحریک میں بدل کر صدقہ جاریہ کا روپ دے دیا جائے۔ وضع دار عارف علی میر کو یہ بات پسند آئی اور اُنہوں نے اپنے والد کی پہلی برسی ۲۹ جنوری ۱۹۹۷ء کو المیر ٹرسٹ کے زیر اہتمام پہلی کتاب’’کلام حق الحیات‘‘شائع کرکے اس نیک کام کا آغاز کیا۔نیزلائبریری کے خواب کو بھی حقیقت کا روپ دیا۔ حامد حسن سید کو المیر ٹرسٹ کا پہلا سرپرست نامزد کیا گیا۔ انہی بزرگوں نے آہستہ آہستہ عارف علی میر کو اپنی گاڑی فروخت کرکے عمارت کی تعمیر پر آمادہ کیا۔ حامد حسن سید کی وفات کے بعد محترم شریف کنجاہی سرپرست بنے ان کے بعد آج کل پروفیسر ڈاکٹر نصیر الدولہ المیر ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ ہیں تاہم اس ٹرسٹ کی روح رواں شروع سے ہی عارف علی میر رہے ہیں۔ ان کی شب و روز کاوشوں اور محبت و لگن سے المیر ٹرسٹ لائبریری آج گجرات میں علم و ادب اور تحقیق و تحریرکا ذوق و شوق رکھنے والوں کے لیے نعمت کدہ بن چکی ہے۔ 
عام طور پر لائبریری کا بنیادی مقصد ہر قاری کو اس کی ضرورت اور ذوق کے مطابق کتاب فراہم کرکے انسانی زندگی کو ترقی او ر بہتری دینا ہوتا ہے۔ المیر ٹرسٹ لائبریری میں دس ہزار سے زاید کتب موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر ریفرنس بکس ہیں۔ ادب، تاریخ ، سیاست ، معاشرت ، معیشت، تصوف سمیت متنوع موضوعات کا احاطہ کرنے والی کتب نمایاں ہیں۔ تاریخ گجرات او رگجراتی مصنفین کی عام و نایاب کتب بھی موجود ہیں۔ اس لائبریری میں مذاہب عالم کے حوالے سے بھی خصوصی کولیکشن ہے۔ اس لائبریری کا ایک اور قابل قدر پہلو ’’گوشہء شریف کنجاہی‘‘ ہے جس میں شریف کنجاہی جیسے عالمی شہرت کے حامل عالم و قلمکار کا نجی کتب خانہ رکھا گیا ہے جس میں موجود نادر و نایاب کُتب نے اس لائبریری کی اہمیت کو دو چند کر دیا ہے۔یہاں نہ صرف کتب کا ذخیرہ موجود ہے بلکہ لائبریری میں اس کی تنظیم و آرائش بھی دیدہ زیب ہے ۔ یہ کتب خانہ جس ٹرسٹ کے زیر انتظام ہے اسے صرف عارف علی میر کے خاندان کی سرپرستی حاصل ہے۔ کسی اور ذریعے سے فنڈز اکٹھے نہیں کیے جاتے۔ اس لائبریری کی ممبر شپ فیس بھی نہیں رکھی گئی۔ کوئی بھی خواہشمند جب چاہے جتنا چاہے استفادہ کر سکتا ہے اُسے عارف علی میر کی ہنس مکھ شخصیت کی میزبانی کا بونس بھی ملے گا۔ 
المیر ٹرسٹ لائبریری کو کئی کتاب دوستوں سے پذیرائی بھی ملی ہے۔ شریف کنجاہی نے اپنے نجی کتب خانے کا بڑا حصہ خود اس لائبریری کے لیے وقف کیا ان کی وفات کے بعد ان کے اہل خانہ نے باقی ماندہ کتب بھی اس لائبریری کو عطیہ کر دیں۔ مرحوم ایم زمان کھوکھر نے ایک سو کتب کا تحفہ دیا۔ گوجرانوالہ کے شاعر و ادیب محمد امین خیال نے دو سو کتب جبکہ لاہور کے مرزا پرویز رضا نے ادارۂ ثقافت اسلامیہ کی شائع کردہ کتب کا سیٹ عطیہ کیا۔ جنہیں عارف علی میر نے کمال محبت سے نہ صرف لائبریری کی زینت بنایا بلکہ عطیہ کرنے والوں کے لیے تشکر کا اظہار بھی کیا۔ 
المیر ٹرسٹ لائبریری اس بات کا کُھلا ثبوت ہے کہ فردِ واحد نے ایک تنظیم اور ادارے کا کردار ادا کرکے قومی فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا۔ غیر سرکاری طورپر چلائی جانے والی یہ لائبریری اربابِ اقتدار و اختیار کی نظرِ کرم کی حقدار ہے۔ سرکار اس نیک کام کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا حصہ ڈال کر حوصلہ افزائی کرے۔علم دوست اور لائبریری سائنس کے شعبے کے افراد بھی عارف علی میر کا ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔ اس لائبریری میں جدید کیٹیلاگ کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ لائبریری سائنس سے تعلق رکھنے والے افراد یاادارے اس لائبریری کی رضا کارانہ فہرست سازی کرکے صدقہ جاریہ میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ 
گجرات و گرد و نواح میں موجود نجی لائبریریوں کے حامل اگر اپنی زندگی میں ہی اپنے علمی ذخیرے کو محفوظ کرنے کے لیے اس ٹرسٹ لائبریری کو عطیہ کر دیں تو یہ کارِخیر ہوگا بصورتِ دیگر گجرات کے کئی نامور افراد کے ورثاء نے ان کے بعد بندرِبانٹ میں جس طرح ان کی کتب کو جلایا یا ردی میں فروخت کیا اسی کا ایکشن ری پلے نادر کتب کے ضیاع کا سبب بن جائے گا۔ کتابوں سے محبت کرنے والوں کے ذاتی کتب خانے اور کو لیکشنز نااہل اولاد کی وراثت نہیں ہوتے بلکہ ان پر اس علاقے کے کتب خانوں کا حق ہوتا ہے۔ 
اس لائبریری کی تمام تر افادیت اپنی جگہ مگر اس سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد کسی طور پر بھی قابل رشک نہیں۔ہمارے سماج میں کتب بینی کے شوق کے زوال کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ ہمیں نسلِ نو کو کتب بینی کی طرف راغب کرنے کے لیے ایسی لائبریریوں کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔ عارف علی میر خونِ دل دے کر رُخ برگِ گلاب نکھارنے کے لیے کوشا ں ہیں۔ اُنہوں نے فکری بیداری کے لیے گجرات میں اہم قلعہ تعمیر کیا اور جہالت کے خاتمے کے لیے اپنے حصے کا دیپ جلا رکھا ہے جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ بیت الحکمت ہمدرد یونیورسٹی لائبریری کو دیکھا، مستفید ہونے پر حکیم سعید کے لیے دِل سے دُعا نکلی۔ المیر ٹرسٹ لائبریری گجرات دیکھی اور استفادہ کرکے دِل خوش ہوا اور دِل کی گہرائیوں سے دُعا نکلی کہ پروردگار عارف علی میر کو اس کارِ خیر کا اجر عظیم دے کہ اُنہوں نے گجرات میں ’’بیت الحکمت‘‘ قائم کر رکھا ہے۔ جہاں نہ صرف کتب جمع کی گئی ہیں بلکہ کتب کی فی سبیل اللہ اشاعت و تقسیم کی تحریک بھی جاری کی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر ’’شام ہمدرد‘‘کی طرح یہاں ہفتہ وار محفلِ نقد و نظر اور علمی و ادبی سیمینارز اور تقریبات کا اہتمام بھی شوق سے کیا جاتا ہے۔بلاشبہ المیرٹرسٹ لائبریری گجرات میں محض کتب خانہ ہی نہیں بلکہ فکری و قومی بیداری کی تحریک کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ 

قرار داد مقاصد کا متن

ادارہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
’’اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے۔ اس نے جمہور کے ذریعے مملکت پاکستان کو جو اختیار سونپا ہے، وہ اس کی مقررہ حدود کے اندر مقدس امانت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
مجلس دستور ساز نے، جو جمہور پاکستان کی نمائندہ ہے، آزاد و خود مختار پاکستان کے لیے ایک دستور مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے:
  • جس کی رو سے مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔
  • جس کی رو سے اسلام کے جمہوریت، حریت، مساوات، رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں کا پورا تباع کیا جائے گا۔
  • جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو قرآن و سنت میں درج اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق ترتیب دے سکیں۔
  • جس کی رو سے اس امر کا قرار واقعی اہتمام کیا جائے گا کہ اقلیتیں اپنے مذاہب پر عقیدہ رکھنے، عمل کرنے، اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دینے کے لیے آزاد ہوں۔
  • جس کی رو سے وہ علاقے جو اَب تک پاکستان میں داخل یا شامل ہو جائیں، ایک وفاق بنائیں گے جس کے صوبوں کو مقررہ اختیارات و اقتدار کی حد تک خود مختاری حاصل ہو گی۔
  • جس کی رو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں جہاں تک قانون و اخلاق اجازت دیں، مساوات، حیثیت و مواقع، قانون کی نظر میں برابری، عمرانی و اقتصادی و سیاسی انصاف، اظہار خیال، عقیدہ، دین، عبادت، اور جماعت سازی کی آزادی شامل ہو گی۔
  • جس کی رو سے اقلیتوں اور پسماندہ و پست طبقوں کے جائز حقوق کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے گا۔
  • جس کی رو سے نظام عدل گستری کی آزادی پوری طرح محفوظ ہو گی۔
  • جس کی رو سے وفاق کے علاقوں کی صیانت، آزادی، اور جملہ حقوق، بشمول خشکی و تری اور فضا پر صیانت کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔
تاکہ اہل پاکستان فلاح و بہبود کی منزل پا سکیں اور اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز و ممتاز مقام حاصل کریں اور امن عالم اور بنی نوع انسان کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کر سکیں۔‘‘

تمام مکاتب فکر کے ۳۱ اکابر علماء کرام کے طے کردہ متفقہ ۲۲ دستوری نکات

ادارہ

مدت دراز سے اسلامی دستور مملکت کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں لوگوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اسلام کا کوئی دستور مملکت ہے بھی یا نہیں؟ اگر ہے تو اس کے اصول کیا ہیں اور اس کی عملی شکل کیا ہو سکتی ہے؟ اور کیا اصول اور عملی تفصیلات میں کوئی چیز بھی ایسی ہے جس پر مختلف اسلامی فرقوں کے علماء متفق ہو سکیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے متعلق عام طور پر ایک ذہنی پریشانی پائی جاتی ہے اور اس ذہنی پریشانی میں ان مختلف دستوری تجویزوں نے اور بھی اضافہ کر دیا ہے جو مختلف حلقوں کی طرف سے اسلام کے نام پر وقتاً فوقتاً پیش کی گئیں۔ اس کیفیت کو دیکھ کر یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ تمام اسلامی فرقوں کے چیدہ اور معتمد علیہ علماء کی ایک مجلس منعقد کی جائے اور وہ بالاتفاق صرف اسلامی دستور کے بنیادی اصول ہی بیان کرنے پر اکتفار نہ کرے بلکہ ان اصولوں کے مطابق ایک ایسا دستوری خاکہ بھی مرتب کر دے جو تمام اسلامی فرقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
اس غرض کے لیے ایک اجتماع بتاریخ ۱۲۔۱۳۔۱۴ اور ۱۵ ربیع الثانی ۱۳۷۰ھ مطابق ۲۱۔ ۲۲۔ ۲۳ اور ۲۴ جنوری ۱۹۵۱ء بصدارت مولانا سید سلیمان ندوی، کراچی میں منعقد ہوا۔ اس اجتماع میں اسلامی دستور کے مندرجہ ذیل بنیادی اصول بالاتفاق طے ہوئے۔ 

اسلامی مملکت کے بنیادی اصول

اسلامی مملکت کے دستور میں حسب ذیل اصول کی تصریح لازمی ہے:
۱۔ اصل حاکم تشریعی وتکوینی حیثیت سے اللہ رب العالمین ہے۔
۲۔ ملک کا قانون کتاب وسنت پر مبنی ہوگا اور کوئی ایسا قانون نہ بنایا جا سکے گا، نہ کوئی ایسا انتظامی حکم دیا جا سکے گا جو کتاب وسنت کے خلاف ہو۔
(تشریحی نوٹ): اگر ملک میں پہلے سے کچھ ایسے قوانین جاری ہوں جو کتاب وسنت کے خلاف ہوں تو اس کی تصریح بھی ضروری ہے کہ وہ بتدریج ایک معینہ مدت کے اندر منسوخ یا شریعت کے مطابق تبدیل کر دیے جائیں گے۔
۳۔ مملکت کسی جغرافیائی، نسلی، لسانی یا کسی اور تصور پر نہیں بلکہ ان اصول ومقاصد پر مبنی ہوگی جن کی اساس اسلام کا پیش کیا ہوا ضابطہ حیات ہے۔
۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ قرآن وسنت کے بتائے ہوئے معروفات کو قائم کرے، منکرات کو مٹائے اور شعائر اسلامی کے احیا واعلا اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری اسلامی تعلیم کا انتظام کرے۔
۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانان عالم کے رشتہ اتحاد واخوت کو قوی سے قوی تر کرنے اور ریاست کے مسلم باشندوں کے درمیان عصبیت جاہلیہ کی بنیادوں پر نسلی ولسانی، علاقائی یا دیگر مادی امتیازات کے ابھرنے کی راہیں مسدود کر کے ملت اسلامیہ کی وحدت کے تحفظ واستحکام کا انتظام کرے۔
۶۔ مملکت بلا امتیاز مذہب ونسل وغیرہ تمام ایسے لوگوں کی لابدی انسانی ضروریات یعنی غذا، لباس، مسکن، معالجہ اور تعلیم کی کفیل ہوگی جو اکتساب رزق کے قابل نہ ہوں یا نہ رہے ہوں یا عارضی طو رپر بے روزگاری، بیماری یا دوسرے وجوہ سے فی الحال سعی اکتساب پر قادر نہ ہوں۔
۷۔ باشندگان ملک کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو شریعت اسلامیہ نے ان کو عطا کیے ہیں، یعنی حدود قانون کے اندر تحفظ جان ومال وآبروا، آزادئ مذہب ومسلک، آزادئ عبادت، آزادئ ذات، آزادئ اظہار رائے، آزادئ نقل وحرکت، آزادئ اجتماع، آزادئ اکتساب رزق، ترقی کے مواقع میں یکسانی اور رفاہی ادارات سے استفادہ کا حق۔
۸۔ مذکورہ بالا حقوق میں سے کسی شہری کا کوئی حق اسلامی قانون کی سند جواز کے بغیر کسی وقت سلب نہ کیا جائے گا اور کسی جرم کے الزام میں کسی کو بغیر فراہی موقع صفائی وفیصلہ عدالت کوئی سزا نہ دی جائے گی۔
۹۔ مسلمہ اسلامی فرقوں کو حدود قانون کے اندرپوری مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔ انھیں اپنے پیرووں کو اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا حق حاصل ہوگا۔ وہ اپنے خیالات کی آزادی کے ساتھ اشاعت کر سکیں گے۔ ان کے شخصی معاملات کے فیصلے ان کے اپنے فقہی مذہب کے مطابق ہوں گے اور ایسا انتظام کرنا مناسب ہوگا کہ انھی کے قاضی یہ فیصلہ کریں۔
۱۰۔ غیر مسلم باشندگان مملکت کو حدود قانون کے اندر مذہب وعبادت، تہذیب وثقافت اور مذہبی تعلیم کی پوری آزادی حاصل ہوگی اور انھیں اپنے شخصی معاملات کا فیصلہ اپنے مذہبی قانون یا رسم ورواج کے مطابق کرانے کاحق حاصل ہوگا۔
۱۱۔ غیر مسلم باشندگان مملکت سے حدود شرعیہ کے اندر جو معاہدات کیے گئے ہوں، ان کی پابندی لازمی ہوگی اور جن حقوق شہری کا ذکر دفعہ نمبر ۷ میں کیا گیا ہے، ان میں غیر مسلم باشندگان ملک اور مسلم باشندگان ملک سب برابر کے شریک ہوں گے۔
۱۲۔ رئیس مملکت کامسلمان مرد ہونا ضروری ہے جس کے تدین، صلاحیت اور اصابت رائے پر جمہور اور ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد ہو۔
۱۳۔ رئیس مملکت ہی نظم مملکت کا اصل ذمہ دار ہوگا، البتہ وہ اپنے اختیارات کا کوئی جزو کسی فرد یا جماعت کو تفویض کر سکتا ہے۔
۱۴۔ رئیس ممالکت کی حکومت مستبدانہ نہیں بلکہ شورائی ہوگی، یعنی وہ ارکان حکومت اور منتخب نمائندگان جمہور سے مشورہ لے کر اپنے فرائض انجام دے گا۔
۱۵۔ رئیس مملکت کو یہ حق حاصل نہ ہوگا کہ وہ دستور کوکلاً یا جزواً معطل کر کے شوریٰ کے بغیر حکومت کرنے لگے۔
۱۶۔ جو جماعت رئیس مملکت کے انتخاب کی مجاز ہوگی، وہی کثرت آرا سے اسے معزول کرنے کی بھی مجاز ہوگی۔
۱۷۔ رئیس مملکت شہری حقوق میں عامۃ المسلمین کے برابر ہوگا اور قانونی مواخذہ سے بالاتر ہوگا۔
۱۸۔ ارکان وعمال حکومت اور عام شہریوں کے لیے ایک ہی قانون وضابطہ ہوگا اور دونوں پر عام عدالتیں ہی اس کو نافذ کریں گی۔
۱۹۔ محکمہ عدلیہ، محکمہ انتظامیہ سے علیحدہ اور آزاد ہوگا تاکہ عدلیہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ہیئت انتظامیہ سے اثر پذیر نہ ہو۔
۲۰۔ ایسے افکار ونظریات کی تبلیغ واشاعت ممنوع ہوگی جو مملکت اسلامی کے اساسی اصول ومبادی کے انہدام کا باعث ہوں۔
۲۱۔ ملک کے مختلف ولایات واقطاع مملکت واحدہ کے اجزاء انتظامی متصور ہوں گے۔ ان کی حیثیت نسلی، لسانی یا قبائلی واحدہ جات کی نہیں، محض انتظامی علاقوں کی ہوگی جنھیں انتظامی سہولتوں کے پیش نظر مرکز کی سیادت کے تابع انتظامی اختیارات سپرد کرنا جائز ہوگا، مگر انھیں مرکز سے علیحدگی کا حق حاصل نہ ہوگا۔
۲۲۔ دستور کی کوئی ایسی تعبیر معتبر نہ ہوگی جو کتاب وسنت کے خلاف ہو۔
(نوٹ: بزرگ عالم دین مولانا مجاہد الحسینی آف فیصل آباد کی روایت کے مطابق مجلس احرار اسلام پاکستان کی تجویز پر اکابر علماء کرام نے ان دستوری نکات میں قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے ۲۳ ویں نکتے پر بھی اتفاق کر لیا تھا۔)

اسمائے گرامی حضرات شرکائے مجلس

۱۔ (علامہ) سلیمان ندوی (صدر مجلس ہذا)
۲۔ (مولانا) سید ابو الاعلیٰ مودودی (امیر جماعت اسلامی پاکستان)
۳۔ (مولانا) شمس الحق افغانی (وزیر معارف، ریاست قلات)
۴۔ (مولانا) محمد بدر عالم (استاذ الحدیث، دار العلوم الاسلامیہ اشرف آباد، ٹنڈو الٰہ یار، سندھ)
۵۔ (مولانا) احتشام الحق تھانوی (مہتمم دار العلوم الاسلامیہ اشرف آباد، سندھ)
۶۔ (مولانا) محمد عبد الحامد قادری بدایونی (صدر جمعیۃ علمائے پاکستان، سندھ)
۷۔ (مفتی) محمد شفیع (رکن بورڈ آف تعلیمات اسلام، مجلس دستور ساز پاکستان)
۸۔ (مولانا) محمد ادریس (شیخ الجامعہ، جامعہ عباسیہ بہاولپور)
۹۔ (مولانا) خیر محمد (مہتمم خیر المدارس، ملتان)
۱۰۔ (مولانا مفتی) محمد حسن (مہتمم جامعہ اشرفیہ، نیلا گنبد لاہور)
۱۱۔ (پیر صاحب) محمد امین الحسنات (مانکی شریف، سرحد)
۱۲۔ (مولانا) محمد یوسف بنوری (شیخ التفسیر، دار الاسلامیہ اشرف آباد، سندھ)
۱۳۔ (حاجی) خادم الاسلام محمد امین (خلیفہ حاجی ترنگ زئی، المجاہد آباد، پشاور صوبہ سرحد)
۱۴۔ (قاضی) عبد الصمد سربازی (قاضی قلات، بلوچستان)
۱۵۔ (مولانا) اطہر علی (صدر عامل جمعیۃ علماے اسلام، مشرقی پاکستان)
۱۶۔ (مولانا) ابو جعفر محمد صالح (امیر جمعیت حزب اللہ، مشرقی پاکستان)
۱۷۔ (مولانا) راغب حسن (نائب صدر جمعیت علمائے اسلام، مشرقی پاکستان)
۱۸۔ (مولانا) محمد حبیب الرحمن (نائب صدر جمعیۃ المدرسین، سرسینہ شریف، مشرقی پاکستان)
۱۹۔ (مولانا) محمد علی جالندھری (مجلس احرار اسلام پاکستان)
۲۰۔ (مولانا) داؤد غزنوی (صدر جمعیۃ اہل حدیث پاکستان)
۲۱۔ (مفتی) جعفر حسین مجتہد (رکن بورڈ آف تعلیمات اسلام، مجلس دستور ساز پاکستان)
۲۲۔ (مفتی حافظ) کفایت حسین مجتہد (ادارۂ عالیہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان، لاہور)
۲۳۔ (مولانا) محمد اسماعیل (ناظم جمعیت اہل حدیث پاکستان، گوجرانوالہ)
۲۴۔ (مولانا) حبیب اللہ (جامعہ دینیہ دار الہدیٰ، ٹھیڑی، خیر پور میرس)
۲۵۔ (مولانا) احمد علی (امیر انجمن خدام الدین شیرانوالہ دروازہ، لاہور)
۲۶۔ (مولانا) محمد صادق (مہتمم مدرسہ مظہر العلوم، کھڈہ، کراچی)
۲۷۔ (پروفیسر) عبد الخالق (رکن بورڈ آف تعلیمات اسلام، مجلس دستور ساز پاکستان)
۲۸۔ (مولانا) شمس الحق فرید پوری (صدر مہتمم مدرسہ اشرف العلوم ڈھاکہ)
۲۹۔ (مفتی) محمد صاحب داد عفی عنہ (سندھ مدرسۃ الاسلام، کراچی)
۳۰۔ (مولانا) محمد ظفر احمد انصاری (سیکرٹری بورڈ آف تعلیمات اسلام، مجلس دستور ساز پاکستان)
۳۱۔ (پیر صاحب) محمد ہاشم مجددی (ٹنڈو سائیں داد، سندھ)

اسلام کا نظام خلافت اور دور حاضر میں اس کا قیام ۔ اذان ٹی وی کے سوال نامہ کے جوابات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سوال نمبر۱: اسلامی نظام اور خلافت کیا ہے؟
جواب: قرآن و سنت میں انسانی زندگی کے انفرادی، خاندانی، معاشرتی، قومی او ر بین الاقوامی مسائل کے بارے میں جو ہدایات و احکام موجود ہیں، ان کا مجموعہ اسلامی نظام ہے اور ان کے عملی نفاذ کا سسٹم خلافت کہلاتا ہے۔
سوال نمبر ۲: اسلامی نظام کے نفاذ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب: قرآن و سنت کے تمام احکام و قوانین ایک مسلمان کے لیے واجب الاتباع ہیں اور ان میں شخصی، خاندانی یا معاشرتی قوانین کی تفریق نہیں ہے، اس لیے جس طرح ایک مسلمان شخص کے لیے نماز، روزہ اور عبادات کے احکام پر عمل کرنا ضروری ہے ، اسی طرح مسلمان سوسائٹی کے لیے اجتماعی احکام و قوانین پر عمل کرنا بھی ضروری ہے اور بحیثیت مسلمان سب اس کے پابند ہیں۔ 
سوال نمبر ۳: اسلامی نظام کو لانے کا کوئی خاص طریقہ کار ہے یا کوئی بھی مروجہ طریقہ انقلاب ہو، وہ اپنایا جا سکتا ہے؟
جواب: اسلامی نظام تو ایک اسلامی حکومت ہی نافذ کرے گی جب کہ ایک اسلامی حکومت کے قیام کے لیے سب سے بہتر اور آئیڈیل طریق کار وہی ہے جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کرامؓ نے حضرت ابوبکرصدیقؓ کوباہمی مشورہ او ربحث و مباحثہ کے بعد اتفاق رائے سے خلیفہ منتخب کر کے اختیار کیا تھا۔ اس کے بعد مختلف خلفائے راشدین کے انتخاب کے طریقے اور حضرات صحابہ کرامؓ کی اختیار کردہ متفقہ صورتیں بھی اس طریق کار کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں، لیکن ان کے لیے پہلے سے خلافت کا نظام اور سسٹم موجود ہونا ضروری ہے۔ آج کل چونکہ از سر نو خلافت کے ڈھانچے کی تشکیل کامرحلہ در پیش ہے، اس لیے حضرت صدیق اکبرؓ کے انتخاب والا طریقہ ہی اس کے لیے درست طریق کار ہے۔ 
سوال نمبر۴: اسلامی نظام نے ماضی میں انسانیت کودرپیش اہم مسائل کو کیسے حل کیا؟ تاریخ کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں؟
جواب: اسلامی نظام کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ اس نے شخصی حکومت کے طریق کار کو ختم کر کے دستوری حکومت قائم کی جس کا نقطہ آغاز حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ کے یہ اعلانات ہیں کہ ہم اگر کتاب و سنت کے مطابق چلیں تو لوگوں پر ہماری اطاعت واجب ہے اور اگر قرآن وسنت سے انحراف کریں تو عوام کو ہماری اصلاح کا نہ صرف حق حاصل ہے بلکہ یہ ان کی دینی ذمہ داری ہے۔ 
  • خلفائے راشدین نے خود کو عوام کے سامنے احتساب کے لیے نہ صرف پیش کیا بلکہ ہر وقت اپنے آپ کو عوامی احتساب کے دائرے میں رکھا اور ہر شہری کویہ حق دیاکہ وہ ان کی کسی بات پر کسی وقت اورکسی جگہ بھی ٹوک سکتا ہے اور وہ اس کا جواب دینے کے پابند ہیں۔ 
  • خلفائے راشدینؓ نے عملی طور پر ایک ویلفیئر سٹیٹ کا نمونہ پیش کیا اور حکومت کو عوام کی جان ومال اور عزت کی حفاظت کا ذمہ دارقرار دینے کے ساتھ ساتھ ان کی ضروریات زندگی کی فراہمی اور کفالت کی ضمانت بھی دی جس کا آج کی دنیا بھی اعتراف کر رہی ہے۔ 
  • خلفائے راشدینؓ نے حکمرانوں اور حکام کوسادہ زندگی، قناعت اور غریب عوام کے ساتھ ان کی سطح پر رہنے کا خوگر بنایا اور صحیح معنوں میں ایک عوامی حکومت کا تصور پیش کیا۔ 
  • اسلامی نظام نے صحیح معنوں میں سوسائٹی کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ قائم کیا اور تمام تر طرز عمل اورپالیسیوں کی بنیاد خوف خدا اور آخرت کی جوابدہی پر رکھی۔
سوال نمبر۵: آپ کے نزدیک آج کے دور میں عالمی سطح کے وہ کون سے پانچ بڑے مسائل ہیں جن کو اسلامی نظام ہی حل کر سکتا ہے اور وہ کیسے کر سکتا ہے؟
جواب: آج کی دنیا اور انسانی سوسائٹی آسمانی تعلیمات اور اپنے پیدا کرنے والے خدا کے احکام سے بے گانہ بلکہ باغی ہو چکی ہے۔ سوسائٹی کو وحی الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کی طرف واپس لانے کے لیے اس وقت دنیا کے پاس اسلامی نظام کے سوا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔ 
  • آج کی دنیا نے ان کی سوسائٹی کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے: ایک قانون بنانے والے اور دوسرے وہ جن پر قانون نافذ ہو گا ۔ اس تفریق کے منطقی نتائج اور منفی اثرات کو تمام تر کوششوں کے باوجود ختم نہیں کیا جا سکا اور دنیا حکمران اور محکوم کے دائروں میں بدستور بٹی ہوئی ہے۔ اس کاحل صرف اسلام کے پاس ہے کہ قانون بنانے والا صرف ایک ہے اور تمام انسان اس ایک ذات کے بنائے ہوئے قوانین واحکام کے یکساں طور پر پابند ہیں۔ 
  • سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم کی عالمی کشمکش اوراس کے بعد سود، منافع خوری اور سٹہ پر مبنی اور حلال و حرام سے بے نیاز مارکیٹ اکانومی نے جس خوفناک معاشی بحران سے دنیا کو دو چار کر دیا ہے، اس کا حل اس کے سوا کوئی نہیں ہے کہ دنیا کو آسمانی تعلیمات کی بنیاد پر حلال وحرام کے دائرے کی طرف واپس لایا جائے اور یکطرفہ منافع کی بجائے دو طرفہ منفعت اور عوامی مفاد پر مبنی معاشی اصولوں کو اختیار کیا جائے جو اس وقت صرف اسلام کے پاس ہیں۔ 
  • صحیح معنوں میں ایک ویلفیئر ریاست کے قیام کے لیے آج بھی دنیا کے سامنے آئیڈیل صرف خلافت راشدہ بالخصوص حضرت عمربن خطابؓ اور حضرت عمربن عبدالعزیزؒ کی شخصیات ہیں اور جزوی طور پر کچھ معاملات میں ان کی پیروی بھی کی جا رہی ہے، لیکن کسی نظام کے صرف جزوی پہلوؤں کو اختیار کر کے اس کے ثمرات حاصل نہیں کیے جا سکتے بلکہ اس سے صحیح استفادہ کے لیے پورے سسٹم کو اپنانا ضروری ہوتا ہے۔ 
  • قومیتوں ، علاقائیت اور لسانی عصبیتوں نے ایک بار پھر انسانی سوسائٹی پر غلبہ حاصل کر لیا ہے اور آج کی عالمی دنیا میں انسانی سوسائٹی کے معاملات پھر سے قوم اور ملک کے حوالہ سے طے ہو رہے ہیں۔ اسلام نے انہیں جاہلی قدریں قرار دے کر قوم، زبان اور ملک کے تصور کو صرف تعارف اور امتیاز کی حدود میں پابند کر دیا تھا اور نسل انسانی کو ان عصبیتوں کے استحصالی کردار سے عملاً نجات دلا دی تھی۔ آج پھر اس کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اوراس سلسلہ میں صرف اسلام ہی کردار ادا کر سکتا ہے۔ 
سوال نمبر۶: اسلامی نظام یا خلافت کا کیاکوئی خاص حکومتی ماڈل ہوتا ہے؟ مثلاً شوریٰ کے چند ممبران یا پارٹی اور پارلیمنٹری سسٹم یا ایک حاکم وقت جو اپنے فیصلے قرآن وسنت کی روشنی خود کرتا ہو؟ آخر اسلامی حکومت کا ماڈل کیسا ہو گا؟ 
جواب: خلافت کا بنیادی تصور یہ ہے کہ خلیفہ خود مستقل حکمران نہیں ہوتا بلکہ حکمرانی کے معاملات میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت و خلافت کرتا ہے اور اس طرح وہ خود حکومت کرنے کی بجائے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق حکمرانی کوان کی تعلیمات و ہدایات کے دائرے میں رہتے ہوئے نیابتاً استعمال کرتا ہے۔
  • خلیفہ کا انتخاب حضرت ابوبکرصدیقؓ کی طرح عوام کی اجتماعی رائے سے ہوتا ہے۔ عوام کا اعتماد وانتخاب ہی اس کے حق حکمرانی کی بنیاد ہے۔ 
  • وہ اپنی معاونت و مشاورت کے لیے اہلیت اور صلاحیت رکھنے والے افراد کاانتخاب کرے گا اور ان کے مشورہ سے حکومتی نظام چلائے گا۔ 
  • یہ طرز حکومت بظاہر شخصی ہے، لیکن خلیفہ چونکہ قرآن و سنت کی ہدایات و تعلیمات کا پابند ہے ، اس لیے وہ اپنی ذاتی خواہش کی بنیاد پر کوئی کام کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ 
  • رعیت کے ہر فرد کو بلاامتیاز مذہب خلیفہ سے کھلے بندوں باز پرس کا حق حاصل ہے، او ر وہ ہر شخص کومطمئن کرنے کا پابند ہے۔ 
  • خلیفہ کے کسی بھی حکم کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور وہ عدالت کی حاضری اور جوابدہی سے مستثنیٰ نہیں ہے۔
  • خلافت ان اصولوں کی بنیاد پر قائم ہو گی مگر اب اس کی عملی تفصیلات اور طریق کار ہر زمانے میں اور ہر علاقے کے ماحول اور ضروریات کو دیکھ کر ارباب حل و عقد طے کریں گے۔ 
  • ہمارے نزدیک قیام پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی نے جو قرار داد مقاصد منظور کی تھی اور پھر تمام مکاتب فکر کے اکتیس سرکردہ علمائے کرام نے جو بائیس دستوری نکات متفقہ طور پر دیے تھے، وہ آج کے دور میں اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی نظام کے نفاذ کی بہترین بنیاد بن سکتے ہیں اور اس کا خلاصہ دو اصولوں کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے:
    (۱) حکومت کا قیام عوام کی رائے سے ہو گا۔
    (۲) حکومت قرآن وسنت کے احکام کی پابند ہو گی۔ 
سوال نمبر۷: اسلامی نظام میں غیر مسلموں کو کیا حقوق یا فوائد حاصل ہیں جو ان کو اس کے بغیر حاصل نہیں؟
جواب: اسلامی نظام میں مسلمان ریاست کے غیر مسلم باشندوں کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو ان کے مسلمان ریاست کا شہری قرار پانے کے لیے باہمی معاہدہ کی صورت میں طے ہو جائیں گے۔ مثلاً اس وقت پاکستان میں جو دستور نافذ ہے، وہ غیر مسلم باشندوں کی رضا مندی کے ساتھ طے پایا تھا اور ان کی شراکت کے ساتھ نافذ ہوا تھا۔ اس دستور کی حیثیت معاہدہ کی ہے۔ پاکستان میں بسنے والی غیر مسلم سوسائٹیاں معاہد ہیں اور انہیں اس طرز پر دستور میں طے شدہ تمام حقوق حاصل ہیں۔ 
اسلامی تعلیمات کے مطابق مسلم اکثریت اپنے غیر مسلم ہم وطنوں کی جان و مال اور عزت وآبرو کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔ انہیں اپنے مذہب پر عمل کرنے، اپنی نئی نسل کو مذہبی تعلیم دینے اور اپنے مذہبی تشخص کے تحفظ کا پورا حق ہے۔ البتہ وہ ملک کے ریاستی نظریے کے خلاف کام کرنے کے مجاز نہیں ہیں اور انہیں ملک کے نظریاتی تشخص کی نفی کرنے اور اس کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ 
سوال نمبر ۸: اسلامی نظام اگر باعث رحمت ہے اور ضروری ہے تو کسی بھی مسلم ملک نے کیوں نہیں اس کا پورا نفاذ کیا اور اس کے نفاذ میں کیا پیچیدگیاں ہیں؟ 
(۹): پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ میں کیا بنیادی مشکلات ہیں اور ان کیا حل ہے؟ 
جواب۸۔۹ : مسلم ممالک میں اسلامی نظام نافذ نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ان کی رولنگ کلاس اور حکمران طبقات ہیں جن کی تعلیم و تربیت اسلامی تعلیمات اور ماحول میں نہیں ہوئی۔ ان کے مفادات مغرب کے ساتھ وابستہ ہیں ، ان کی بود و باش اور طرززندگی اسلامی نہیں ہے اور اسلامی نظام کے نفاذ کووہ اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں، اس لیے اسلامی نظام کی مخالفت کا حوصلہ نہ ہونے کے باوجود وہ اس کے نفاذ میں رکاوٹ ہیں۔ 
  • مسلم ممالک میں اسلامی نظام کے نافذ نہ ہونے کی دوسری بڑی وجہ موجودہ عالمی ماحول او ر سسٹم ہے۔ موجود عالمی نظام جو اقوام متحدہ او راس میں ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ممالک کی پالیسیوں اور خواہشات پر مرتب ہوا ہے اور چلایا جا رہا ہے، اس کی بنیاد وہی خلافت کی نفی اور انسانی سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کی بے دخلی پر ہے ۔ اس لیے موجودہ عالمی نظام انسانی سوسائٹی میں اسلامی نظام کی صورت میں آسمانی تعلیمات کی عملداری دوبارہ قائم ہونے کی مخالفت بلکہ مزاحمت کر رہا ہے اور اس کے لیے اپنے تمام وسائل اور توانائیاں صرف کر رہا ہے۔ 
  • مسلم ممالک میں اسلامی نظام کے نافذنہ ہونے کی تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ اسلامی نظام کا نفاذ چاہنے والے دینی حلقوں کی اکثریت آج کے معروضی حالات ، رکاوٹوں، مشکلات اور مناسب طریق کار کے ادراک سے یا تو بہرہ ور نہیں ہے اور یا عمداً انہیں نظر انداز کر کے محض جذبات اور میسر طاقت کے ذریعے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے جس کے نتائج وہی ہو سکتے ہیں جو نظر آ رہے ہیں ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد کرنے والوں کے درمیان مفاہمت و معاونت کی فضا موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کسی سطح پر ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اسی طرح مسائل ومعاملات کے تجزیہ ، تحقیق اور منفی ومثبت پہلوؤں کو سامنے رکھ کر ان کی روشنی میں ٹھوس لائحہ عمل طے کرنے کاکوئی ذوق دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ 
سوال نمبر ۱۰: پچھلے پچاس سال میں اسلامی نظام کے لیے جو کوششیں مسلم ممالک میں کی گئی، وہ کیا تھیں اور وہ کیوں ناکام ہوئیں؟ 
سوال نمبر ۱۱: حال میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جو عالمی سطح پر کوششیں ہو رہی ہیں، وہ کون سی ہیں اور آپ کیا کسی کو صحیح معنوں میں کامیاب ہوتا دیکھتے ہیں؟
جواب۱۰۔۱۱: بیشتر مسلم ممالک نوآبادیاتی دور سے گزر رہے ہیں۔ برطانیہ ، فرانس، ہالینڈ، پرتگال او ردوسرے استعماری ممالک نے اپنے دور تسلط میں ان مسلم ممالک میں مسلم سوسائٹی کے اجتماعی مزاج کو بگاڑنے پر زیادہ کام کیا ہے اور ان ممالک کی آزادی کے بعد ان میں نو آبادیاتی نظام ابھی تک باقی ہے اور وہ معاشرتی مزاج کے بگاڑ کو درست کرنے کی طرف بھی کوئی کوشش نہیں کی گئی جس کی وجہ یہ ہے کہ آزادی کے بعدجن طبقات نے نظام سنبھالا ہے، وہ نوآبادیاتی نظام ہی کے پروردہ او ر تربیت یافتہ تھے جنہیں نظام کی تبدیلی میں اپنے لیے خطرات محسوس ہو رہے ہیں اور وہ اس کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مسلم ممالک کے عوام اسلامی نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل داری میں دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن حکمران طبقات اور ریاستی ڈھانچہ اس کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ پاکستان میں قرار داد مقاصد کی منظوری اور ۱۹۷۳ء کے دستور میں اسلامی دفعات کی شمولیت کے ساتھ قرآن و سنت کے احکام کو نافذ کرنے اور خلاف قرآن و سنت قوانین کی منسوخی کی جو دستوری ضمانت دی گئی ہے، اس کے بعد قرآن وسنت کے احکام کے نفاذ میں کوئی اصولی رکاوٹ باقی نہیں ہے، لیکن عالمی استعماری قوتوں کا دباؤ اور نو آبادیاتی نظام کے تسلسل کی وارث بیوروکریسی اپنے مفادات کی وجہ سے دستور کی اسلامی دفعات پر عملد رآمد نہیں ہونے دے رہی اور پاکستان سمیت مسلم ممالک میں اسلامی تحریکات کی اب تک ناکامی کا سب سے بڑا سبب یہی ہے جب کہ موجودہ حالات میں جب تک اسلامی نظام کے نفاذ کے خواہاں حلقے اپنی حکمت عملی اورطرز عمل پر نظر ثانی کرکے موجودہ حالات و ضروریات کوسامنے رکھ کر باہمی مشاورت و مفاہمت کے ساتھ کوئی مشترکہ حکمت عملی طے نہیں کرتے، تب تک مسلم ممالک میں نفاذ اسلام کی تحریکات کی کامیابی کے (خاکم بدہن) کوئی آثار بظاہر دکھائی نہیں دیتے۔ 
سوال نمبر۱۲: حدیث کی روشنی میں بتائیے کہ اسلامی خلافت کے بارے میں کچھ بتایا گیا ہے یعنی پیشگوئیاں؟
جواب: جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیسیوں احادیث میں خلافت کے بارے میں جو پیشگوئیاں فرمائی ہیں، ان کے مطابق خلافت کے دودرجے ہیں: ایک خلافت علیٰ منہاج النبوۃ جسے ہم آئیڈیل خلافت کہہ سکتے ہیں، دوسرا درجہ مطلق اسلامی خلافت کا ہے۔ آئیڈیل خلافت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ وہ ان کے بعد تیس سال تک رہے گی اور پھر قیامت سے پہلے امام مہدی کے ظہور او ر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے دور میں دوبارہ قائم ہو گی جبکہ خلافت عامہ کاتسلسل جاری رہا ہے اور ۱۹۲۴ء میں ترکی کی خلافت عثمانیہ کے خاتمہ تک خلافت کا نظام کسی نہ کسی سطح پر موجود رہا ہے، مگر آج کے دور میں دنیا ’’خلافت‘‘ کے وجود سے خالی ہے جس پر فقہائے امت کے ارشادات کی روشنی میں امت مسلمہ بحیثیت امت ایک فریضہ کی تارک او رگنہ گار ہے۔ 
سوال نمبر۱۳: اسلامی نظام میں عورت کو کیا حقوق حاصل ہیں؟ 
جواب : اسلام میں عورت کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو مرد کو ہیں البتہ اس کی صنفی اورمعاشرتی ذمہ داریوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے حقوق و فرائض کا مرد سے امتیاز رکھا گیا ہے جو فطری طور پر ناگزیر ہے اور سوسائٹی میں خاندان کے یونٹ کو برقرار رکھنے اور اسے استحکام دینے کے لیے خاندانی سسٹم میں مرد کی فوقیت اور سنیارٹی کو ضروری سمجھا گیا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ادارہ برابر کے اختیارات کے حامل دو افراد کی سربراہی میں نہیں چل سکتا اور خاندانی نظام میں مرد کی سربراہی کی نفی کرکے مغربی دنیا اس کا خمیازہ خاندانی نظام کے بکھر جانے کی صورت میں بھگت رہی ہے، چنانچہ صنفی اور معاشرتی ذمہ داریوں کے حوالہ سے ناگزیر فرق و امتیاز سے ہٹ کر باقی تمام معاملات میں مردا ور عورت برابر ہیں اور دونوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ 
سوال نمبر۱۴: اسلام میں سیاست کا کیا تصور ہے؟ لسانی اور فرقے کی بنیاد پر سیاسی جماعتیں بنا نا کیا درست ہے؟ 
جواب: بخاری شریف کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل میں سیاسی قیادت انبیاء کرام علیہم السلام کے پاس تھی مگر اب چونکہ نبوت کا دروازہ بند ہو گیا ہے اور کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، اس لیے سیاسی قیادت کی ذمہ داری خلفا کو منتقل ہو گئی ہے۔ اس حدیث مبارکہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خلافت کے نظام کے ساتھ وابستگی اور وفاداری کی تلقین بھی فرمائی ہے۔ 
اسلام کا سیاسی نظام خلافت کہلاتا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مہاجرین، انصار اور خا ندان نبوت کا اپنا اپنا سیاسی موقف الگ طور پر طے کرنا اور پھر صحابہ کرامؓ کے دور میں شیعان عثمان، شیعان علی اور شیعان معاویہ کے نام سے الگ الگ سیاسی گروہوں کی موجودگی یہ بتاتی ہے کہ اسلامی نظام میں مختلف سیاسی گروہوں کی موجودگی کی مطلقاً نفی نہیں کی جا سکتی اور گروہی بنیاد پر سیاسی معاملات طے کرنا بھی اسلامی نظام میں نامانوس نہیں ہے، البتہ ان کی بنیاد ’’تعاونوا علی البر والتقوی ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان‘‘ پر ہوگی او ر حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے حوالے سے موافق اور مخالف دھڑوں کی آج کے مروجہ دور میں جو تقسیم پائی جاتی ہے، اس کی گنجائش اسلامی نظام میں موجود دکھائی نہیں دیتی۔ ایک گروہ کی ہر حال میں حمایت اور دوسرے کی ہر صورت میں مخالفت کا تصور اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی طرح مذہبی فرقہ بندی اور لسانیت کی بنیاد پر سیاسی جماعتیں بنانا بھی درست نہیں ہے۔ 
سوال نمبر۱۵: کسی بھی بڑے مقصد کے لیے اتحاد ضروری ہے۔ اسلامی نظام کا ہدف حاصل کرنے کے لیے جہاں عمومی مسلمانوں کا اتحاد ضروری ہے، اس سے پہلے علماے امت کا اتحاد ضروری ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ علما اس عظیم مقصد کے لیے اتحاد کیوں نہیں کرتے؟ 
جواب: جہاں تک پاکستان میں نفاذ اسلام کا تعلق ہے، دینی جماعتوں اور علماے کرام نے اس کے لیے ہمیشہ اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔ اکابر علمائے کرام کے متفقہ بائیس دستوری نکات سے لے کر ۱۹۷۳ء کے دستور میں اسلامی دفعات کی شمولیت ، عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا دستوری فیصلہ اور اسلامائزیشن کے سلسلہ میں ہونے والے اب تک کے تمام اقدامات تمام مکاتب فکر کے علماے کرام کے اتحاد اور دینی جماعتوں کی مشترکہ جدوجہد کے ذریعہ ہی ہوئے ہیں۔ کم از کم پاکستان کی حد تک کوئی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جا سکتی کہ نفاذ اسلام کی دستوری اور قانونی جدوجہد کے کسی ضروری مرحلہ میں دینی جماعتوں نے اتحاد کا مظاہرہ نہ کیا ہو اور مشترکہ طور پر عوام کی رہنمائی نہ کی ہو ۔ ہمارا المیہ اس سے آگے شروع ہوتا ہے کہ دینی جماعتوں کی مشترکہ جدوجہد اور تمام مکاتب فکر کے علماے کرام کے اتحاد کے ذریعہ جو مقاصد اور نتائج حاصل ہوتے ہیں، انہیں ہماری اسٹیبلشمنٹ طے شدہ پالیسی کے مطابق سبوتاژ کر دیتی ہے، اور اس میں اسے ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت اور پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔ 
سوال نمبر ۱۶: شریعت اور خلافت میں کیا فرق ہے اور موجودہ دور میں اس کے لیے کیا شکل ہو سکتی ہے؟
جواب: شریعت اسلامی احکام و قوانین کے مجموعہ کو کہتے ہیں اور خلافت ان کے نفاذ کا نظام اور سسٹم ہے۔ آج کے دور میں خلافت کے حوالہ سے دو باتیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔ ایک یہ کہ خلافت کا قیام دنیا بھر کے مسلمانوں کا دینی فریضہ اور پوری مملکت اسلامیہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ 
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے قیام خلافت کے فرض ہونے پر دوباتوں سے استدلال کیا ہے۔ ایک یہ کہ قرآن وسنت کے بہت سے اہم احکام ایسے ہیں جن پر حکومت ہی عمل کر سکتی ہے اور حکومتی نظام کے بغیر ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکتا، اس لیے ایسے قرآنی احکام کی عملداری کے لیے خلافت کا قیام ضروری ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرات صحابہ کرامؓ نے سب سے پہلا کام یہ کیا تھا کہ حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ منتخب کر کے خلافت کا ادارہ قائم کیا حتیٰ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین بھی اس کے بعد ہوئی۔ اس طرح صحابہ کرامؓ نے اس سے پہلے اجماعی فیصلے کی صورت میں خلافت کے قیام کو ’’ اہم الواجبات ‘‘ کا درجہ دے دیا۔ 
دوسری عملی صورت یہ ہے کہ کسی ایک اسلامی ملک پر کوئی دینی قوت طاقت کے ذریعہ برسراقتدار آجائے اور ایک اسلامی امارت کی حیثیت سے عالمی سطح پر خلافت کے نظام کے لیے محنت کر کے اس کے قیام کا راستہ نکالے۔ ہمارے خیال میں اس کے سوا کوئی صورت آج کے معروضی حالات میں قابل عمل نہیں ہے۔ 
سوال نمبر ۱۷: موجودہ دور کی جمہوریت اور خلافت کا موازنہ کریں۔ مسلمانوں نے ہمیشہ خلافت کے نظام میں ہی ترقی کی ہے۔ آج کی دنیا میں خلافت کے سسٹم کو پرانا سسٹم کیوں کہا جاتا ہے؟
سوال نمبر ۱۸ :شریعت قائم کرنے کے اصول کیا ہیں؟
جواب ۱۷۔۱۸: جمہوریت انسان پر انسان کی حکمرانی کی ہی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔ پارلیمنٹ کو بلاتفریق ہر قسم کا اختیار دے کر آسمانی تعلیمات کے نفاذ یا عدم نفاذ کو بھی اسی کے دائرہ اختیار میں شامل کر دیا گیا ہے اور اسے احکام خداوندی پر بھی نعوذباللہ بالادستی دے دی گئی ہے جب کہ اس کے برعکس خلافت اگرچہ عوام کے اعتماد واختیار کے ذریعہ ہی تشکیل پاتی ہے، لیکن اس میں خلیفہ یا اس کی شوریٰ یا پھر عوام کی منتخب پارلیمنٹ کو قرآن وسنت کا پابند رہنا پڑتا ہے اور اسلامی احکام سے انحراف کی اجازت نہیں ہوتی۔ 
مغرب نے جب بادشاہت ، پاپائیت اورجاگیرداری پر مشتمل تکون کے صدیوں سے چلے آنے والے مظالم سے تنگ آ کر ان تین ظالم طبقوں کے گٹھ جوڑ کے خلاف بغاوت کی اور بادشاہت اور جاگیرداری کی طرح مذہب کو بھی معاشرتی زندگی سے بے دخل کیا ہے تو نئے مذہب بیزار نظام کی کامیابی کے لیے اس نے ضروری سمجھا کہ یورپ اور ایشیا کے سنگم پر خلافت عثمانیہ پر بھی راہ سے ہٹائے، چنانچہ خلافت عثمانیہ کے خلاف مسلسل سازشیں کر کے اسے ختم کر دیا گیا اور آج بھی مغرب کے ایجنڈے میں سرفہرست یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں خلافت کے قیام اور شریعت کے نفاذ کو روکا جائے کیوں کہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں آسمانی تعلیمات کی بنیاد پر کوئی ریاست وحکومت وجود میں آتی ہے او ر کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے مغرب کے اس مذہب بیزار فلسفہ ونظام کی نفی ہو جائے گی جسے وہ دنیا بھر پر مسلط کرنے کی مسلسل تگ ودو کر رہا ہے۔ جب کہ مسلمانوں کے لیے آج بھی خلافت ہی واحد سیاسی نظام ہے جو پوری دنیائے اسلام کی اجتماعیت کا مرکز بن سکتا ہے اور اس کے زیرسایہ دنیا بھر کے مسلمان برکات وثمرات کے ساتھ ساتھ دنیاوی اقتدار اور ترقی سے بہرہ ور ہو سکتے ہیں۔
سوال نمبر ۱۹: پاکستان میں سیاسی، مذہبی جماعتوں کا کیا مستقبل ہے، کیوں کہ اسلامک سسٹم میں جماعتیں نہیں ہوتیں؟ 
جواب: سیاسی جماعتوں کے حوالہ سے جواب سوال ۱۴کے ضمن میں گزر چکا ہے جب کہ پاکستان کی بیشتر مذہبی جماعتیں صرف پریشر گروپ ہیں جو مذہبی مکاتب فکر کی بنیاد پر جداگانہ تشخص کے ساتھ کام کر رہی ہیں ۔ ان کے پاس جب تک پریشر پاور ہو گی، اپنے محدود دائرے میں کام کرتی رہیں گی او رقومی سیاست میں بھی اسی حد تک شریک رہیں گی۔ اس سے زیادہ یہ کوئی رول ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، البتہ متحدہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کر کے یہ ایک طاقت ور پریشر گروپ کی صورت میں ملک میں مزید اسلامی قوانین واحکام کے نفاذ اور خلاف اسلام امور کی روک تھام کے لیے زیادہ موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس حوالے سے اصل ضرورت ایک ایسی سیاسی پارٹی کی ہے جس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علمائے کرام پارٹی ممبر کے طور پر شریک ہوں، مختلف طبقات کے سرکردہ حضرات بھی اس کا حصہ ہوں اور سب مل کر ملک کی قومی سیاست میں اسلامی اقدار کی سربلندی کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔ 
سوال نمبر ۲۰: میڈیا قوم میں بیداری پیدا کرنے کے لیے بہت کام کر سکتا ہے، اس کے لیے ہمارے میڈیا میں کن اقدامات کی ضرورت ہے؟ 
جواب: میڈیا اس وقت ابلاغ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور قوم کی بہتری او رنئی نسل کی ذہن سازی اور تعلیم وتربیت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی حوالہ سے اس کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ ہم اس وقت مغربی تہذیب وثقافت اور ہندوتہذیب وثقافت کی دو طرفہ یلغار کی زد میں ہیں۔ ان دونوں ثقافتوں سے اسلامی ثقافت کے فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے پروگراموں کو اس انداز سے پیش کرنا ہمارے میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ اسلامی ثقافت کو فروغ حاصل ہو اور نئی نسل کو ہندو اور مغرب کی تہذیبی یلغار سے بچایا جائے۔ 
اسی طرح اسلامی اقدار وروایات اور احکام وقوانین پر آج کے عالمی فلسفہ ونظام بالخصوص انسانی حقوق کے حوالہ سے جو اعتراضات کیے جا رہے ہیں اور شکوک وشبہات پھیلائے جا رہے ہیں، ان کا جواب اور آج کے عالمی تناظر میں اسلامی تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے علمی و فکری نوعیت کے پروگرام پیش کیے جائیں اور مختلف مکاتب فکر کے ایسے سرکردہ علمائے کرام اور دانش وروں کو سامنے لایا جائے جو آج کے حالات اور تقاضوں سے باخبر ہوں اور آج کے اسلوب میں بات کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی اپنی نئی نسل کو ماضی سے وابستہ رکھنے کے لیے عظیم اسلامی شخصیات اور تحریکات کے بارے میں معلوماتی پروگرام پیش کیے جائیں۔ آج کے سیکولر میڈیا کی یہ مخصوص تکنیک ہے کہ اسلام اور اسلامی اقدار وروایات کے خلاف تو باشعور اور جدید اسلوب سے بہرہ ور افراد کو قوم کے سامنے لایا جا تا ہے، مگر ان کے جواب اور ان سے مکالمہ کے لیے جان بوجھ کر ایسی مذہبی شخصیات کو ان کے سامنے بٹھا دیا جاتا ہے جو تمام تر احترام کے باوجود آج کے حالات اور اسلوب کے واقف نہیں ہوتے۔ اس تکنیک کا توڑ کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں میڈیا کے دیندار حضرات کے ساتھ دینی اداروں اور دینی حلقوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورت حال کا ادراک کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

معاشرہ، قانون اور سماجی اخلاقیات ۔ نفاذ شریعت کی حکمت عملی کے چند اہم پہلو

محمد عمار خان ناصر

کسی معاشرے میں شرعی احکام وقوانین کے نفاذ کی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟ یہ سوال چند دوسرے اور اس سے زیادہ بنیادی نوعیت کے سوالات کا ایک حصہ ہے جن سے تعرض کیے بغیر اس سوال کے مضمرات کی درست تفہیم ممکن نہیں۔ مثلاً:
۱۔ ایک اسلامی معاشرہ کے بنیادی اوصاف وخصائص کیا ہیں اور وہ کون سی چیزیں ہیں جن کا اہتمام کرنے کا شارع نے مسلمانوں کے ایک معاشرے سے تقاضا کیا ہے؟ 
۲۔ معاشرے کی عمومی اخلاقی سطح اور شرعی قوانین کے مابین کیا تعلق ہے؟ آیا قانونی نوعیت کے احکام کا نفاذ ایک مطلوب اسلامی اور اخلاقی معاشرہ پیدا کرنے کی کافی ضمانت ہے یا ان احکام کی تاثیر اور افادیت بذات خود کسی اخلاقی سانچے کی محتاج ہے؟
۳۔ نفاذ شریعت کے حوالے سے معاشرے اور نظم اجتماعی کے مابین تعلق اور باہمی ذمہ داریوں اور فرائض کی نوعیت کیا ہے؟ 
۴۔ اگر کوئی معاشرہ مناسب اخلاقی تربیت سے محروم ہو اور نفاذ قانون کے ادارے بد عنوانی کا عنوان بن چکے ہوں، وہاں شرعی قوانین کے نفاذ کی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟
مذکورہ سوالات کی ترتیب میں ایک منطقی ربط پایا جاتا ہے اور اسی ترتیب کے ساتھ ان کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ 
پہلے سوال کو لیجیے:
قرآن وسنت کے نصوص میں جس معاشرے کو خدا کا مطلوب معاشرہ قرار دیا گیا ہے، اس کا سب سے بنیادی وصف یہ ہے کہ اس پر اللہ کی عبودیت اور بندگی کی چھاپ نمایاں ہو اور لوگ نماز اور زکوٰۃ کی عبادتوں کو پورے دینی جذبے اور اہتمام کے ساتھ بجا لائیں۔ انفرادی اور اجتماعی معاہدے ایفا کیے جائیں؛ ذاتی یا گروہی مفاد کی پروا کیے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کو خاطر میں لائے بغیر حق کی گواہی دینے کا جذبہ زندہ ہو اور مسلمانوں کا اجتماعی وجود دنیا میں حق کی شہادت کا عنوان ہو؛ والدین اور اعزہ واقربا کی ضروریات وحاجات کا خیال رکھا جائے؛ یتیموں کے حقوق محفوظ ہوں؛ فحاشی اور بے حیائی ایک مبغوض چیز ہو اور اس کے فروغ کے تمام راستے مسدود کرنے کا اہتمام کیا جائے؛ نظم ریاست لوگوں کو قتل، چوری، ڈاکہ، تہمت طرازی اور جان ومال وآبرو پر تعدی کی دوسری صورتوں سے بچانے کے لیے ہمہ وقت چوکس ہو اور اس طرح کے مجرموں پر خدا کی مقرر کردہ سزائیں کسی رو رعایت کے بغیر نافذ کی جائیں؛ معاشرے میں خیر کی طرف دعوت دینے اور برائی سے روکنے کی عمومی فضا قائم ہو اور معاشرہ ہر سطح پر اس حوالے سے حساس ہو؛ لوگوں کے مقدمات کے فیصلے رشوت اور سفارش کے بجائے عدل وانصاف کی بنیاد پر کیے جائیں؛ کوئی بالادست کسی زیر دست پر زیادتی یا اس کی حق تلفی نہ کر سکے؛ لوگوں کو اپنی اپنی قابلیتوں کے مطابق علمی وعملی ترقی کرنے اور اپنے اپنے ذوق کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے مواقع میسر ہوں؛ دولت کی تقسیم کا نظام عادلانہ اور منصفانہ ہو اور نظم اجتماعی اس میں پیدا ہونے والی ناہمواریوں کو دور کرنے کے لیے ہمہ وقت متحرک رہے؛ خدا کی شریعت کی پاس داری کا ہر سطح پر پورا پورا اہتمام ہو اور کوئی خوف، مفاد، لالچ یا دباؤ اس پر عمل درآمد کی راہ میں حائل نہ ہونے پائے؛ اخوت، بھائی چارے، ہم دردی اور خیر خواہی کا رویہ عام ہو اور لوگ ذاتی یا گروہی ناپسندیدگی کی بنا پر ایک دوسرے کا تمسخر اڑانے، ایک دوسرے کے عیب ڈھونڈ کر ان کی تشہیر کرنے یا نسلی وقبائلی تفاخر کے امراض میں مبتلا نہ ہوں؛ دین اور دینی شعائر کا پورا پورا احترام کیا جائے؛ مساجد ومکاتب آباد ہوں اور دین کی تعلیم اور اس کی نشر واشاعت معاشرے کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہو؛ اللہ کے دین کی نشر واشاعت اور اس کا بول بالا کرنے کے لیے جان ومال کی قربانی کا جذبہ دلوں میں موج زن ہو؛ اقلیتی گروہوں کو جان ومال کا تحفظ اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہو اور وہ سیاسی ومعاشرتی حقوق سے پوری طرح بہرہ مندہوں----- مختصر الفاظ میں ایک اسلامی معاشرہ وہ معاشرہ ہے جس میں اجتماعی سطح پر اعلیٰ اخلاقی اوصاف کا رنگ غالب ہو اورخالق اورمخلوق، دونوں کے حقوق ایک اعلیٰ اخلاقی احساس ذمہ داری کے ساتھ پورے پورے ادا کیے جائیں۔ 
ایک حقیقی اسلامی معاشرے کے خط وخال کی یہ تفصیل پیش نظر رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے ہاں نفاذ شریعت کی بحث معاشرے کی اصلاح وتربیت کے حوالے سے کسی مثبت اور جامع فکری اور مذہبی غور وفکر کا نتیجہ نہیں، بلکہ اصلاً اس سیاسی کشمکش کا ایک ذیلی نتیجہ (bi-product) ہے جو پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ملک کی آئینی ودستوری حیثیت کے تعین کے ضمن میں پیدا ہو گئی۔ آئندہ دستوری مراحل میں بھی نفاذ اسلام کی بحث نظری اور سیاسی سطح پر زندہ رہی اور ابھی تک زندہ ہے اور نفاذ شریعت کے عنوان سے کی جانے والی ساری جدوجہد اور اقدامات کا محور یہی سیاسی نزاع ہے۔ اس پس منظر میں نفاذ اسلام کی یہ جدوجہد اپنے ہدف کے اعتبار سے اعلیٰ ترین سطح پر دستور اور قانون تک محدود رہی اور مذہبی طبقات نے اپنی جدوجہد سے دستوری سطح پر مملکت کے نظریاتی تشخص کی حفاظت میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ عملاً جن قوانین مثلاً قادیانیوں کے خلاف امتناعی قوانین یا توہین رسالت کی سزا وغیرہ پر عمل درآمد پر اصرار کیا گیا، ان کے پس منظر میں زیادہ تر عوامی سطح پر پائے جانے والے جذبات کارفرما تھے جبکہ حقیقی معاشرتی اصلاح کا پہلو ان میں نمایاں نہیں تھا۔ گویا یہ ساری جدوجہد اصلاً چند خطرات اور تحفظات کے تناظر میں تھی اور اس کے محرکات میں اسلام کے ریاستی ومعاشرتی کردار کے تحفظ کے مخلصانہ جذبے کے ساتھ ساتھ مذہبی طبقات کی سیاسی اور معاشرتی بقا (Political & Social Survival) کا سوال بھی یقیناًکار فرماتھا۔ اس محدود اور یک رخی اپروچ سے نفاذ اسلام کا جو تصور نہ صرف عوام بلکہ خود مذہبی طبقات میں پروان چڑھا، وہ مثبت معنوں میں ایک پاکیزہ اور خدا کے مقرر کردہ حدود کے پابند معاشرے کا تصور نہیں، بلکہ محض یہ تھا کہ بعض خلاف اسلام عناصر کے خلاف امتناعی اور تعزیری اقدامات کتاب قانون میں شامل کر لیے جائیں۔ اس سے ہٹ کر لوگوں کے اخلاق وکردار کو بہتر بنانے، معاشرے میں تعلیم کو عام کرنے، غربت اور ناداری کے خاتمے کے لیے سماجی سطح پر محنت کرنے، کمزور اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے، لوگوں کو علاج کی سہولتیں فراہم کرنے، نزاعات کے پرامن تصفیے کے لیے کوئی غیر سرکاری نظم قائم کرنے اور اس طرح کی دوسری سماجی سرگرمیوں کو ’’نفاذ اسلام کی جدوجہد‘‘ سے غیر متعلق سمجھا جاتا ہے۔
اب دوسرے سوال کو لیجیے:
ہمارے ہاں بالعموم شریعت کے قانونی احکام کے نفاذ کو اسلامی معاشرہ قائم کرنے کے ہم معنی سمجھا جاتا اور یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ایسا کرنے سے کسی معاشرے کو اسلامی معاشرہ بنانے کے تمام تقاضے خود بخود پورے ہو جائیں گے۔ یہ غلط فہمی شریعت اور معاشرے کے ایک ناقص اور محدود فہم اور اخلاقیات اور شرعی قوانین کے باہمی تعلق کو معکوس کر دینے کا نتیجہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن وسنت کے نصوص میں بیان ہونے والے قانونی احکام خود مکتفی (self-contained) قسم کی ہدایات کا کوئی مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مربوط فکری واعتقادی اور اخلاقی نظام کا جز ہیں۔ قرآن مجید کتاب وحکمت کی تعلیم کی غایت اور احکام شریعت کا مقصد افراد اور معاشرے کا تزکیہ اور اخلاقی تطہیر بیان کرتا ہے۔ قرآن میں شریعت کے تمام احکام اسی تناظر میں وارد ہوئے ہیں اور تمام احکام کے پیچھے کارفرما اخلاقی اصولوں کو نمایاں انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے کہیں بھی مجرد طور پر شرعی احکام وقوانین کی فہرست بیان کرنے پراکتفا نہیں کی، بلکہ اس کے ساتھ مابعد الطبیعیاتی یعنی علمی واخلاقی اساسات کی روشنی میں ان قوانین کے اصل مقصد کو بھی واضح کیا ہے۔ یہ اعتقادی واخلاقی اساسات شرعی احکام کے لیے منبع اور سرچشمہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور قانونی احکام سے درحقیقت انھی کی پاس داری اور تحفظ مقصود ہے۔ 
الف۔ قرآن کاعام اسلوب یہ ہے کہ وہ اخلاقی تزکیہ وتطہیر کے مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے موقع کی مناسبت سے پیش نظر ہدایات بیان کرنا شروع کر دیتا ہے اور انھی کے ضمن میں وہ احکام بھی شامل ہو جاتے ہیں جن کی تنفیذ اپنی نوعیت کے لحاظ سے معاشرے کے ارباب حل وعقد کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ قرآن ان احکام کو نہ تو عمومی اخلاقی ہدایات سے الگ کر کے بیان کرتا ہے اور نہ ان کو ممتاز کرنے کے لیے کوئی مخصوص اسلوب اختیار کرتا ہے۔ قرآن کی نگاہ میں یہ سب ہدایات اصلاً اخلاقی ہدایات ہیں جن کا مخاطب پورا معاشرہ ہے، جبکہ ان میں سے خالص قانونی نوعیت کی ہدایات اور ان احکام کو ممتاز کرنے کی ضرورت جن کی تنفیذ کے ذمہ دار ارباب حل وعقد ہیں، دراصل قرآن کے مخاطبین کے لیے ان ہدایات کو رو بعمل کرنے کے ایک عملی تقاضے کی حیثیت سے سامنے آتی ہے۔ 
مثال کے طورپر سورۃ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے وہ اخلاقی حدود وآداب بیان کیے ہیں جن کا لحاظ اہل ایمان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اور خود مسلمان مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کے حوالے سے رکھنا چاہیے۔ اس ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کے مقابلے میں کوئی رائے پیش کرنے اور آپ کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کرنے کی ممانعت بیان ہوئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے اورپکارتے ہوئے آپ کی شان نبوت کو ملحوظ رکھا جائے۔ اہل ایمان کے باہمی آداب کے حوالے سے کسی فاسق کی اطلاع پر اقدام کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرنے کی تاکید کی گئی ہے جبکہ اہل ایمان کے مختلف گروہوں کو ایک دوسرے کا مذاق اڑانے، برے القاب رکھنے، بدگمانی کرنے، دوسروں کے معاملات کی ٹوہ میں لگنے اور غیبت وغیرہ جیسی اخلاقی برائیوں کی شناعت کی گئی ہے۔ انھی ہدایات کے ضمن میں یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو دوسرے مسلمان ان کے مابین صلح کرانے کی کوشش کریں اور اگر کوئی ایک گروہ زیادتی کرنے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف لڑائی کر کے اسے راہ انصاف پر لائیں۔ یہ ہدایت بدیہی طور پر نظم اجتماعی سے متعلق ہے، لیکن قرآن نے یہاں اسلوب تخاطب میں کوئی فرق پیدا نہیں کیا اور اس طرح نہایت بلاغت کے ساتھ یہ واضح کیا ہے کہ نظم اجتماعی کی قانونی ذمہ داریاں اور اختیارات دراصل عمومی اخلاقی اصولوں ہی سے پھوٹتے اور ان کی توسیع ہوتے ہیں اوریہ کہ قانونی سطح پر ان کی تنفیذ خارج سے معاشرے پر مسلط کی جانے والی چیز نہیں ہوتی بلکہ درحقیقت معاشرے ہی کے اجتماعی اخلاقی شعور کی عکاسی اور اس کی نمائندگی کرتی ہے۔
ب۔ قرآن کے بیان کردہ بیشتر احکام اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایسے ہیں کہ ان کی عملی تنفیذ اصلاً کسی قانونی اتھارٹی پر منحصر نہیں، بلکہ ان میں معاملے کے فریقین اور معاشرے کی عمومی اخلاقی حس کو اپیل کی گئی ہے۔ گویا قرآن یہ فرض کرتا ہے کہ حقوق وفرائض اور عدل وانصاف کا تصور اور اس کے مطابق کسی معاملے کا تصفیہ کرنے کا بنیادی اخلاقی ڈھانچہ تو خارج میں موجود ہے، جبکہ قرآن اپنی ہدایات کے ذریعے سے صرف یہ راہنمائی کرنا چاہتا ہے کہ کسی مخصوص معاملے میں اخلاقی اصولوں کو عملاً متشکل کرنے کی بہتر اور پاکیزہ صورت کیا ہو سکتی ہے اور یہ کہ اگر کسی موقع پر فریقین کی طرف سے جذبات یا مفادات کی رو میں بہہ کر اخلاقی طرز عمل سے گریز کا رویہ پیدا ہو سکتا ہے تو اسے برسر موقع متنبہ کرتے ہوئے راہ راست کو واضح کر دیا جائے۔
اس کی ایک نمایاں مثال خاندان کے دائرے میں مرد اور عورت کے باہمی حقوق وفرائض کامسئلہ ہے۔ مرد کو جسمانی اور انتظامی پہلو سے جو برتری فطری طور پر حاصل ہے، اس کے نتیجے میں انسانی معاشرے کا بڑی حد تک ایک مردانہ معاشرے (Patriarchal Society) کی صورت اختیار کر لینا ناگزیر ہے۔ شریعت اسی عملی حقیقت کی روشنی میں مرد اور عورت کے دائرہ ہاے کار اور حقوق وفرائض کی تعیین میں بعض پہلووں سے حکیمانہ امتیاز کو ملحوظ رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ انسانی تاریخ میں مردانہ معاشرے میں خواتین ہمہ جہت استحصال اور نا انصافی کا شکار رہی ہیں۔ تاہم قرآن نے اس استحصال کے خاتمے کے لیے جدید مغربی مفہوم میں ’’مساوات پر مبنی معاشرے‘‘ (Egalitarion Society) کے تصور کو نہ کہیں آئیڈیل کی حیثیت سے بیان کیا ہے، نہ معاشرتی وقانونی سطح پر اس کے حصول کی کوئی کوشش کی ہے اور نہ اس حوالے سے کسی طبقاتی کشمکش کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس کے بجائے قرآن کی ہدایت کا سارا زور مردوں کو مخاطب بنا کر ایثار اور ترحم کے اعلیٰ اخلاقی اوصاف کو نمایاں کرنے اور ان کی بنیاد پر خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے معاشرے کی اخلاقی حس کو اپیل کرنے پر ہے۔ چنانچہ قرآن نے زوجین کے حقوق وفرائض کی جو تقسیم بیان کی اور مختلف احوال سے متعلق جو ہدایات دی ہیں، ان کا مخاطب ایک ایسا معاشرہ ہے جو اخلاقی اعتبار سے مردہ نہیں بلکہ زندہ ہے، اورجو نزاع کی صورت میں اپنی داخلی اخلاقی قوت کی بنیاد پر قرآن کی ہدایات کو شارع کے حقیقی منشا کے مطابق رو بعمل کر سکتا ہے۔ 
مثال کے طور پر قرآن مجید نے بیویوں کی سرکشی اور نشوز کی صورت میں آخری چارے کے طور پر شوہروں کو ان کی مناسب جسمانی تادیب کا اختیار دیا ہے، تاہم حکم کے موقع ومحل سے واضح ہے کہ یہ اختیار ایک نہایت محدود قانونی (strictly legal) مفہوم میں بیان کیا گیا ہے، نہ کہ ایک اخلاقی آئیڈیل کے طور پر، اور اس نہایت محدود قانونی اختیار کے عملی استعمال پر بھی شریعت نے نہایت سخت اخلاقی قدغنیں عائد کی ہیں۔ حق تادیب کا استعمال بدیہی طورپر ایک خانگی معاملہ ہے اور اس میں قانونی سطح پر عائد کی جانے والی کسی پابندی کے موثر ہونے کا امکان عملاً نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے بدیہی طورپر اس حق کو مذکورہ اخلاقی حدود کا پابند بنانے کا انحصار افراد کی اخلاقی تربیت اور مجموعی معاشرتی رویے پر ہے۔ نزول قرآن کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اس توازن کو قائم کرنے کی موثر ضمانت تھی اور یہ آپ ہی کی ذات گرامی کا احترام تھا کہ آپ کی محض ایک ہدایت پر شوہروں نے اپنا حق تادیب استعمال کرنا چھوڑ دیا، لیکن ظاہر ہے کہ اس اخلاقی آئیڈیل کو معاشرے میں زندہ رکھنا آپ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ دین کا ایک مستقل اور ابدی اخلاقی مطالبہ ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ مذہبی واخلاقی تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ ایک ایسی سماجی فضا بھی موجود ہو جو اس اختیار کے سوء استعمال کو روکنے کے لیے موثر کردار ادا کر سکتی ہو۔ 
اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن نے شوہروں کو بیویوں کی جسمانی تادیب کا جو اختیار دیا ہے، وہ کوئی بے قید اور مطلق اختیار نہیں، بلکہ بہت سی اخلاقی حدود وقیود کا پابند اختیار ہے اور اس کی معنویت اسی صورت میں برقرار رہ سکتی ہے جب اسے قرآن کے بیان کردہ اخلاقی فریم ورک کے اندر رو بعمل کیا جائے۔ اس اخلاقی فریم ورک اور معاملے کے دوسرے فریق سے متوقع اخلاقی تقاضوں سے الگ کر کے اس اختیارکو شرعی اختیار نہیں کہا جا سکتا اور اگر شوہر کو تجاوز سے روکنے کا کوئی سماجی واخلاقی نظام موجود نہ ہو تو اسے یک طرفہ طور پر یہ حق دے دینا شریعت کا مقصود نہیں بلکہ قطعی طور پر اس کے منشا ومقصود کے خلاف ہوگا۔
ج۔ قرآن کے اس زاویہ نگاہ کوزیادہ نمایاں انداز سے واضح کرنے والی مثالیں وہ ہیں جن میں قرآن ایک ہی مسئلے سے متعلق ہدایات کا ایک مجموعہ بیان کرتا ہے اور ان میں سے بعض ہدایات نجی یا سماجی سطح پر افراد معاشرہ سے متعلق ہوتی ہیں جبکہ بعض نظم اجتماعی سے۔ ہدایات کا یہ مجموعہ قرآن کی نظر میں بحیثیت کل مطلوب ہوتا ہے اور ان پر جزوی طور پر عمل کا طریقہ قرآن کے مقصود کو پورا نہیں کرتا۔ قرآن معاشرے اور اس کے نظم اجتماعی کو یہاں بھی دو جدا جدا وجود (entities) تصور کر کے الگ الگ مخاطب نہیں کرتا اور نہ اپنے اسلوب سے اس امر کی کوئی گنجایش پیدا ہونے دیتا ہے کہ معاشرہ یا نظم اجتماعی اپنے اپنے دائروں میں اس مجموعہ کے بعض اجزا کو رو بعمل کر لیں تو قرآن کا مطلوب پورا ہو جائے گا۔ قرآن اس مجموعے کو بحیثیت مجموعے کے رو بعمل دیکھنا چاہتا ہے اور یہ توقع کرتا ہے کہ معاشرہ اور نظم اجتماعی پوری ہم آہنگی اور توافق اور یکساں احساس ذمہ داری کے ساتھ اس کی ہدایات کو بجا لاتے ہوئے کسی مخصوص معاملے میں دینی واخلاقی اصولوں اور عدل وانصاف کے تقاضوں کو عملی صورت میں متشکل کریں گے۔
مثال کے طور پر قتل کے معاملے کو لیجیے۔ قرآن مجید نے قصاص کا قانون دو مقامات پر نہایت موکد انداز میں بیان کیا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے میں قانون اور عدالت کی طرف سے کسی نرمی اور مداہنت کو روا نہیں ٹھہراتا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ قرآن نے دونوں جگہ مقتول کے ورثاکو نہایت بلیغ انداز میں قاتل کو معاف کر دینے کی ترغیب بھی دی ہے۔ ورثا کی طرف سے معافی کا یہ فیصلہ ظاہر ہے کہ قانون اور عدالت کے فیصلے پر بھی اثر انداز ہوگا، لیکن اصلاً یہ عدالت کے قانونی دائرۂ اختیار سے ماورا ہے اور اس کے لیے ورثا میں ترغیب اور آمادگی پیدا کرنا اصلاً سماجی سطح پر بہی خواہوں سے مطلوب ہے۔ یہی معاملہ قتل خطا کے احکام کا ہے جہاں قرآن نے قاتل پر قتل ہونے والے مسلمان کی دیت ادا کرنے کے علاوہ اپنی غلطی کے کفارے کے طور پر ایک مومن غلام کو آزاد کرنا یا اس کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں دو مہینے کے متواتر روزے رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن کو ان ہدایات پر عمل اپنے کل میں مطلوب ہے اور اس کے نزدیک قتل خطا کے مرتکب کے تزکیہ اور خدا کی رحمت کے اس پر متوجہ ہونے کا عمل دیت کی ادائیگی اور غلام کی آزادی دونوں سے مشروط ہے۔ یہاں بھی دیت کی ادائیگی تو ایک قانونی معاملہ ہے لیکن غلام کی آزادی یا روزے رکھنا سراسر ایک انفرادی فعل ہے جس سے قانون کو کوئی سروکار نہیں ہو سکتا اور نہ جبراً کسی کا غلام آزاد کرنے یا اسے روزے رکھوانے سے فرد کو وہ تزکیہ حاصل ہو سکتا ہے جو اس ہدایت سے قرآن کا مقصود ہے۔ 
قرآن مجید نے چوری، قذف اور زنا پر متعین سزائیں بیان کی ہیں اور اہل ایمان سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ ترس کھائے بغیر ان سزاؤں کو مجرم پر نافذ کر دیں۔ تاہم یہ اس صورت میں ہے جب معاملہ عدالت کے نوٹس میں آ جائے اور وہ اس پر قانونی کارروائی کرنے کی پابند قرار پائے۔ جہاں تک اس ضمن میں معاشرتی سطح پر مطلوب رویے کا تعلق ہے تو وہ اس سے بالکل مختلف ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے شریعت کا عمومی رجحان یہ سامنے آتا ہے کہ اس کا اصل زور مجرم کو ہر حال میں سزا دینے پر نہیں، بلکہ جہاں تک ممکن ہو، اسے سزا سے بچاتے ہوئے اصلاح احوال کا موقع فراہم کرنے پر ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پہلو سے ان لوگوں کو جن سے جرم سرزد ہو جائے، یہ ترغیب دی ہے کہ وہ اپنے جرم پر پردہ ڈالے رکھیں اور توبہ واستغفار کے ذریعے سے اسے اللہ تعالیٰ سے معاف کرانے کی کوشش کریں۔ آپ نے معاشرے کے لوگوں کو بھی یہی ترغیب دی ہے کہ وہ ایسے مجرموں کو عدالت میں پیش کرنے سے گریز کریں، کیونکہ مقدمہ عدالت میں پیش ہو جانے کے بعد مجرم پر سزا کا نفاذ قاضی کی ذمہ داری قرار پاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ضمن میں ارباب حل وعقد کے لیے بھی یہ راہنما اصول بیان فرمایا ہے کہ ان کی اصل دلچسپی مجرم کو سزا دینے سے نہیں بلکہ عدل وانصاف کے حدود میں رہتے ہوئے اس کے لیے معافی کی گنجایش تلاش کرنے سے ہونی چاہیے۔اسی طرح قرآن نے یہ پہلو بھی کم وبیش ہر موقع پر نمایاں کیا ہے کہ اگر مجرم حقیقتاً توبہ واصلاح پر آمادہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرنے اور گناہوں کو بخش دینے والے ہیں اور اس سے مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے معاشرے کو بھی چاہیے کہ وہ توبہ واصلاح کی راہ اختیار کرنے والے مجرموں کو معمول کی معاشرتی زندگی بسر کرنے میں پورا تعاون فراہم کرے اور امتیازی رویہ اختیار کر کے انھیں سماجی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی کوشش نہ کرے۔ 
شریعت کے اصل مقصود یعنی تزکیہ اخلاق کے پہلو سے یہ ایک بے حد اہم بات ہے اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک صاحب ایمان جیسے اپنے لیے دوسرے انسانوں کے سامنے رسوائی کو پسند نہیں کرتا، اسی طرح اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کے لیے بھی اس کا جذبہ اور کوشش یہی ہونی چاہیے کہ انھیں رسوائی اور سزا کا سامنے کیے بغیر توبہ اوراصلاح کاموقع مل جائے۔ اہل ایمان کو خود اپنے گناہوں کو یاد رکھتے ہوئے گناہ کے مرتکب ہونے والے اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی ستر او رپردہ پوشی کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس سے انھیں اس بات کی یاد دہانی ہوگی کہ ان کے نامہ اعمال میں بھی بہت سے گناہ ہیں جن پر خدا نے پردہ ڈال رکھا ہے۔ اگر کسی معاشرے میں لوگوں کا عمومی مزاج اس کے برعکس تشکیل پا جائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ایک برخود غلط رویے (self-righteousness) کا شکار ہو چکا ہے اور دوسرے انسانوں سے ہمدردی کے بجائے ان کی رسوائی سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ یہ اخلاقی لحاظ سے ایک نہایت پست اور منفی رویہ ہے، اور سیدنا مسیح علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں پائے جانے والے اسی رویے کی قباحت واضح کرتے ہوئے ایک واقعے میں، جس میں لوگ بدکاری کی مرتکب ہونے والی ایک خاتون کو پورے مذہبی جوش وخروش کے ساتھ سنگ سار کرنے کے لیے لے جا رہے تھے، ان سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اسے سنگ سار کرنے کے لیے پہلا پتھر وہ شخص اٹھائے جس نے زندگی میں خود کبھی بدکاری نہ کی ہو۔ اب ظاہر ہے کہ اگر کسی معاشرے کی اخلاقی تربیت اس نہج پر نہ ہوئی ہو اور گناہ گار انسانوں کے ساتھ ہمدردی اور انھیں سزا دلوانے کے بجائے سزا سے بچاتے ہوئے اخلاقی اصلاح کی ترغیب دینے کا رویہ عام نہ ہو اور ایک مرتبہ جرم کا راستہ اختیار کر لینے والوں کے لیے پلٹ کر معمول کا طرز زندگی اختیار کرنے کے سارے راستے بند ہوں اور وہ باقی کی زندگی گزارنے مجرمانہ ماحول ہی میں گزارنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ پائیں تو اپنے اخلاقی رویے کے اعتبار سے ایسے معاشرے کو شارع کا مطلوب معاشرہ نہیں کہا جا سکتا۔
ریاست سے متعلق اسلام کے بیان کردہ احکام وہدایات کا اہم ترین حصہ ارباب حل وعقد کی ذمہ داریوں اور طرز حکمرانی سے متعلق ہے۔ ان تمام ہدایات کا محور ایک بنیادی اخلاقی اصول ہے،یعنی یہ کہ اختیار واقتدارکو ایک امانت اور ذمہ داری سمجھا جائے اور اسے خوف خدا اور خدمت خلق کے جذبے کے ساتھ خالصتاً لوگوں کی فلاح وبہبود کے لیے استعمال کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ حکمران طبقے میں ایک خاص اخلاقی رویے کی آبیاری کیے بغیر مذکورہ طرز حکمرانی کا رائج ہونا محض چند قوانین منظور کر لینے سے ممکن نہیں۔ کسی قوم کے حکمران طبقے کا طرز عمل درحقیقت اپنے معاشرے ہی کی عکاسی کرتا ہے اور اس کے اچھے یا برے اوصاف بحیثیت مجموعی قوم کے اخلاقی رجحانات ہی کی تصویر ہوتے ہیں۔ چنانچہ حکمران طبقے کے بعض افراد تو مستثنیٰ ہو سکتے ہیں، لیکن حکمران طبقے سے بحیثیت ایک طبقے کے معاشرے کے عمومی اخلاقی معیار سے ہٹ کر کسی اخلاقی رویے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب بعض روایات میں ’کما تکونون یومر علیکم‘ کے الفاظ میں غالباً اسی پہلو کو بیان کیا گیا ہے، یعنی جس طرح کے تم ہوگے، اسی طرح کے حکمران تم پر حکمرانی کریں گے۔ (القضاعی، مسند الشہاب، رقم ۵۷۷۔ بیہقی، شعب الایمان، رقم ۷۳۹۱) 
قرآن نے اپنے اس زاویہ نگاہ کو ان مقامات پر مزید موکد کیا ہے جہاں اس نے بنی اسرائیل میں شرعی قوانین کی پاس داری نہ کرنے یا ان کو پامال کرنے کا مجرم صرف ان کے ارباب حل وعقد کو نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی پورے گروہ کو قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ایسے معاملات میں قانونی وانتظامی ڈھانچے کو یک طرفہ طور پر مجرم نہیں ٹھہراتا، اس لیے کہ مثال کے طور پر اگر کسی معاشرے میں عدالتیں اور نفاذ قانون کے ادارے انصاف فراہم نہیں کرتے تو بظاہر یہ اگرچہ حکومتی نظام کا قصور ہے، لیکن اس کے محرکات کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوگا کہ حکام کے ہاں اخلاقی حدود کی پامالی کا اصل منبع خود معاشرے کا اخلاقی فساد ہے اور حاکم، قاضی یا کوئی دوسرا انتظامی منصب دار جب فیصلہ یا اقدام کرتے ہوئے عدل وانصاف کو پس پشت ڈال دیتا ہے تو اس کے لیے تحریک پیدا کرنے، دباؤ ڈالنے اور تحریص وترغیب یا تخویف کے سارے اسباب فراہم کرنے کا عمل درحقیقت خود معاشرے میں ہو رہا ہوتا ہے۔ پھر یہ کہ ریاستی نظام کو چلانے کے لیے کل پرزے ظاہر ہے کہ معاشرے ہی سے فراہم ہوتے ہیں اور ان کے اخلاقی رجحانات کی تشکیل بھی عمومی معاشرتی اثرات ہی کے تحت ہوتی ہے، چنانچہ ان کے لیے اپنی منصبی حیثیت میں بھی اس سے بلند تر کسی اخلاقی معیار کی توقع کرنا عبث ہے، بلکہ یہ واقعہ ہے کہ ایسے معاشرے میں کسی دیانت دار فرد کے لیے اپنے ضمیر کے مطابق منصبی ذمہ داریاں انجام دینا ہی کم وبیش ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جہاں لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھانے اور انصاف کو خریدنے کی ممانعت بیان کی ہے، وہاں اس کا نقطہ آغاز حکام کو نہیں بلکہ خود معاشرے کو قرار دیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے:
وَلاَ تَأْکُلُواْ أَمْوَالَکُم بَیْْنَکُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُواْ بِہَا إِلَی الْحُکَّامِ لِتَأْکُلُواْ فَرِیْقاً مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (البقرہ ۲:۱۸۸)
’’اور ایک دوسرے کامال باطل طریقے سے نہ کھاؤ اور نہ مال کے ذریعے حکام تک رسائی حاصل کرو تاکہ لوگوں کے مال کا ایک حصہ حق تلفی کرتے ہوئے کھا سکو، جب کہ تم جانتے ہو۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم سیاسی اور انتظامی سطح پر ارباب اختیار کو بحیثیت مجموعی ان اوصاف کا نمونہ دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اجتماعی اخلاقی آدرشوں کی آبیاری کو تعلیم وتربیت کے نظام کا حصہ بلکہ مقصود بنایا جائے، رشوت اور بدعنوانی کے معاشی ومعاشرتی اسباب کا ازالہ کیا جائے اور ظلم، ناانصافی اور استحصال کو جنم دینے اور اس کو تحفظ فراہم کرنے والے سیاسی اور سماجی کلچر کا خاتمہ کیا جائے۔ 
اب تیسرے سوال کا جائزہ لیجیے:
اوپرکی سطور میں ہم نے جو بحث کی ہے، اس سے واضح ہے کہ شریعت کے بیان کے حوالے سے قرآن کا مطمح نظر فقہ اور قانون کے زاویہ نگاہ سے کہیں زیادہ وسیع، جامع اور ہمہ گیر ہے۔ فقہ کا دائرہ شرعی احکام کے ان پہلووں تک محدود ہے جنھیں متعین قانونی ضابطوں کی صورت میں بیان کرنا اور ان پر فقہی جواز یا عدم جواز کا حکم لگانا ممکن ہو۔ قانون کا دائرہ اس سے بھی زیادہ تنگ اور محدود ہو جاتا ہے، کیونکہ وہاں صرف وہ چیزیں زیربحث آ سکتی ہیں جن کا تعلق عدالت وقضا سے ہو اور جن میں ریاستی نظام کی مداخلت ممکن ہو۔ قرآن کا زاویہ نگاہ چونکہ ان دونوں محدودیتوں سے بلند تر ہے اوروہ شریعت کو اخلاقی تزکیہ وتطہیر کے حصول کا ایک ذریعہ قرار دیتا ہے، اس لیے اس نے ان دونوں پہلووں کو الگ الگ بیان نہیں کیا اور نہ ریاست اور عدالت کو براہ راست کہیں مخاطب کیا ہے۔ قرآن کے اس اسلوب سے اس کا یہ زاویہ نگاہ واضح ہوتا ہے کہ وہ شریعت کے احکام پر عمل درآمد اور ان کے نفاذ کے جذبے کو خود معاشرے کے اندر سے پھوٹا ہوا دیکھنا چاہتا ہے اور اس کے نزدیک آئیڈیل یہ نہیں کہ کوئی قانونی اتھارٹی محض حاکمانہ اقتدار کے بل بوتے پر شرعی حدود وضوابط کی پاس داری اور ان کی تنفیذ کا فرض انجام دے دے، بلکہ یہ ہے کہ خدا کی شریعت کی پیروی اور اس کے نفاذ کے لیے قوت محرکہ (driving force) خود معاشرہ ہو جو اس مقصد کے لیے مناسب قانونی وانتظامی ادارے بھی وجود میں لائے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی کے حوالے سے ان کی کارکردگی کا مسلسل محاسبہ بھی کرتا رہے۔
علم عمرانیات کی رو سے قرآن کے اس زاویہ نگاہ کی اہمیت اور معنویت بے حد واضح ہے۔ معاشرہ اصلاً چند مشترک مقاصد اور منافع کے حصول کے لیے تشکیل پاتا ہے اور اس کی تشکیل کے لیے افراد یا گروہ اگر اپنی آزادانہ مرضی اور اختیار کو قربان کرتے ہیں تو انھی مشترکہ مقاصد اور منافع کے پیش نظر کرتے ہیں۔ چنانچہ معاشرے کے نظام کے لیے شیرازہ بندی کا کام اصلاً حقوق وفرائض کے حوالے سے ان اساسی تصورات کے ساتھ وابستگی سے حاصل ہوتا ہے جن کی روشنی میں معاشرتی نظام اور قوانین تشکیل دیے جاتے ہیں۔ سماجی سطح پر ان تصورات کے عمومی شعور سے مقاصد اور منافع کی نگہبانی کا ایک خود کار نظام وجود میں آ جاتا ہے اور معاشرہ اپنی روز مرہ سرگرمیوں کے تسلسل میں اصلاً اسی سماجی نظام پر انحصار کر رہا ہوتا ہے ۔ جہاں تک رسمی قانون کا تعلق ہے تو وہ معاشرے سے مقدم نہیں ہوتا اور نہ اس کی تشکیل کے بنیادی اصولوں کو پیشگی منضبط کرتا ہے۔اس کے برعکس وہ کسی معاشرے کے اساسی فلسفہ حیات اور اس کے تحت پیدا ہونے والی عملی رسوم اور حدود وقیود کی فرع ہوتا اور ان کے رائج اور مستحکم ہو جانے کے بہت بعد وجود میں آتا ہے۔ پھر یہ کہ معاشرتی نظم کو برقرار رکھنے کے لیے نفاذ قانون کے رسمی اداروں کی مداخلت کا کم سے کم ہونا اور ناگزیر صورتوں تک محدود ہونا بہتر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ حد سے زیادہ مداخلت نہ صرف قانونی اداروں کی ذمہ داریوں میں ناقابل برداشت اضافہ کر سکتی ہے بلکہ قانونی اداروں پر زیادہ انحصار خود معاشرے کی اپنی داخلی قوت کو کمزور کرنے پر منتج ہو سکتا ہے۔
اس تفصیل سے واضح ہے کہ سماجی نظام کی شیرازہ بندی میں قانون کا کردار بنیادی اور ہمہ گیر نہیں، بلکہ ثانوی ، جزوی اور محدود ہے اور اگر قانون کی پشت پر کسی معاشرے کی ذہنی ہم آہنگی اور اس کی پابندی کرنے کا جذبہ موجود نہ ہو تو محض قانون کے زور پر کسی معاشرے کو مخصوص خطوط پر استوار نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی معاشرے میں نظری سطح پر مروجہ قانونی ڈھانچے کی اساسات کو چیلنج کر دیا جاتا اور اس کے اخلاقی جواز یا عملی افادیت پر سوالات اٹھا دیے جاتے ہیں تو رفتہ رفتہ لوگوں کی اس کے ساتھ وابستگی کمزور ہو نا شروع ہو جاتی ہے اور معاشرہ اور قانون، دونوں بتدریج نئے تصورات کے مطابق ڈھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔
اب ہم آخری سوال کی طرف آتے ہیں جو اس بحث کا اصل سوال ہے، یعنی یہ کہ اگر کوئی معاشرہ اپنے مذہبی شعور اور اخلاقی تربیت کے لحاظ سے اس سطح پر نہ ہو کہ اس سے اپنی داخلی اخلاقی قوت کی بنیاد پر شرعی احکام وقوانین کی پاس داری کی توقع کی جا سکے تو قانونی سطح پر اس حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے؟ قرآن مجید سے ہمیں اس سوال کا جواب بھی ملتا ہے۔ ہم واضح کرچکے ہیں کہ قرآن کے زاویہ نگاہ کی رو سے شریعت دراصل ایمان واخلاق کی فرع ہے اور جب وہ معاشرے کو بحیثیت مجموعی شرعی احکام کا مخاطب بناتا ہے تو یہ فرض کر کے بناتا ہے کہ معاشرے میں ایمان واخلاق کی اقدار اس درجہ مستحکم ہو چکی ہیں کہ معاشرہ اپنی مجموعی حیثیت میں اولاً خود ان احکام کی پابندی کو قبول کرنے اور ثانیاً اپنے سماجی اداروں کی وساطت سے ان کے قانونی نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح آمادہ ہے۔ چنانچہ قرآن مجید نے شرعی قوانین کی اعتقادی واخلاقی اساسات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نفسیات اور انسانی معاشرے کی طبعی ساخت کے تناظر میں اس حکمت عملی کے بنیادی پہلووں پر بھی روشنی ڈالی ہے جو کسی معاشرے میں شرعی احکام وہدایات کی عمل داری قائم کرنے کے لیے اختیار کی جانی چاہیے۔ 
قرآن مجید کے نزول کے مختلف مراحل کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ اس نے مکی دور کی سورتوں میں شریعت کے عملی حدود وقیود سے تعرض کرنے کے بجائے توحید اور آخرت کے ان بنیادی تصورات کو دلوں میں راسخ کرنے کی کوشش کی ہے جو انسان اور اس کے رب کے باہمی تعلق کو صحیح اساسات پر استوار کرتے، اس میں اطاعت اور تقویٰ کے لیے آمادگی پیدا کرتے اور زندگی کے معاملات کے حوالے سے جواب دہی کا اخلاقی احساس بیدار کرتے ہیں۔ اس کے بعد مدنی دور میں مختلف معاملات سے متعلق شرعی حدود وقیود کی تعیین کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا، تاہم یہاں بھی شرعی احکام کی فہرست یک بارگی نازل کرنے کے بجائے تدریج کا طریقہ اختیار کیا گیا اور جن احکام کی قانونی سطح پر فوری تنفیذ ممکن یا قرین مصلحت نہیں تھی، ان میں پہلے اصل رکاوٹ کو دور کرنے کا اہتمام کیا گیا اور اس کے بعد مطلوب احکام دیے گئے۔ 
یہاں قرآن مجید کے ان احکام کا ایک سرسری مطالعہ مفید ہوگا:
سورۂ بقرہ کی آیت ۱۸۴ میں اللہ تعالیٰ نے روزے کی فرضیت بیان کرتے ہوئے اس بات کی اجازت دی ہے کہ اگر کوئی شخص سفر یا بیماری کے باعث رمضان کے مقررہ دنوں میں روزہ نہ رکھ سکے اور باقی دنوں میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنے میں بھی نفسیاتی مشکل محسوس کرے تو وہ روزہ رکھنے کے بجائے فدیہ دے دے۔ بعد میں اس رخصت کو منسوخ کرتے ہوئے یہ قرار دیا گیا کہ رمضان میں کسی عذر کے تحت چھوڑے جانے والے روزوں کی گنتی دوسرے دنوں میں بہرحال پوری کرنی ہوگی۔ روزہ رکھنے کے بجائے فدیہ دینے کی ابتدائی رخصت کی حکمت واضح ہے کہ اس سے مقصود ان لوگوں کے احوال کی رعایت کرنا تھا جن کا تعارف اسلام کے ساتھ بالکل نیا تھا اور رمضان کے روزے ایک مرتبہ چھوٹ جانے کے بعد انھیں انفرادی طورپر دوسرے دنوں میں قضا کرنے کی ہمت وہ اپنے اندرنہیں پاتے تھے۔
سورۂ بقرہ کی آیت ۱۸۰ میں اللہ تعالیٰ نے مرنے والے کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے مال میں معروف کے مطابق والدین اور دیگر اقربا کے لیے وصیت کر دے۔ یہ ایک ابتدائی ہدایت تھی جس میں اقربا کے حصوں کی تعیین معروف کے مطابق مرنے والے کی صواب دید پر چھوڑ دی گئی تھی۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے مرنے والے کے ساتھ اقربا کے رشتے کی نوعیت اور ان کے مابین منفعت کے تناسب کو سامنے رکھتے ہوئے والدین، اولاد، میاں بیوی اور بہن بھائیوں کے حصوں کو خود متعین فرما کر ان کی پابندی کو لازم قرار دیا۔ یہ حصے ابتدائی حکم میں بھی متعین کیے جا سکتے تھے، لیکن چونکہ عرب معاشرت میں تمام حق داروں میں وراثت کی منصفانہ تقسیم کا تصور ہی بالکل اجنبی اور نامانوس ہو چکا تھا اور یتیموں کا مال ہڑپ کرنا ایک عام اخلاقی برائی کی صورت اختیار کر چکا تھا، اس لیے ضروری تھا کہ ابتدائی مرحلے میں اس حکم کو لوگوں کے لیے مانوس اور معروف بنانے کے لیے وصیت کا طریقہ تجویز کیا جائے تاکہ مرنے والے اور اس کے ورثا، دونوں کے ہاں منصفانہ تقسیم کا جذبہ بیدار ہو اور وہ اگلے مرحلے میں اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ تقسیم کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو سکیں۔
سورۂ نساء کی آیت ۲۵ میں زنا سے متعلق عبوری احکام بیان ہوئے ہیں۔ یہاں بدکاری کی زیادہ سنگین صورتوں یعنی پیشہ ورانہ بدکاری اور یاری آشنائی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ قرآن نے اس مرحلے پر اصلاً کسی باقاعدہ سزا کے بیان کو موضوع نہیں بنایا، بلکہ ایسے اقدامات تجویز کیے ہیں جو قحبہ عورتوں کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کو ناممکن بنا دیں اور یاری آشنائی کا تعلق رکھنے والے جوڑے اپنے طرز عمل سے تائب ہو جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں زنا عام ہو اور لوگوں کے اندر اس کے بارے میں اخلاقی حساسیت مردہ چکی ہو، وہاں کوئی قانونی اقدام کرتے ہوئے ابتدائی مرحلے پر جرم کی ایسی صورتوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی جو بدکاری کے فروغ کے لیے منبع ومصدر کی حیثیت رکھتی ہوں اور جن کو ختم کیے بغیر سماجی یا انفرادی سطح پر عفت وعصمت کے تصور کی آبیاری اور اس کے مطابق پاکیزہ اخلاقی زندگی کی فضا پیدا کرنا ناممکن ہو۔ مزید یہ کہ جرم کے حوالے سے کیے جانے والے تادیبی اقدامات کا فوری مقصد بھی جرم کی قرار واقعی سزا دینے کے بجائے محض جرم کی ان صورتوں کا سدباب ہوگا اور جرم کے مرتکبین کو پورا پورا موقع دیا جائے گا کہ وہ توبہ واصلاح کا راستہ اختیار کر لیں۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ عہد نبوی میں شرعی احکام کے نزول کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد ایک خاص وقت تک شراب اور سود کو حرام نہیں کیا گیا۔ یہ تعبیر زیادہ درست نہیں ہے۔ شراب، جوا اور سود اپنی نوعیت کے لحاظ سے کوئی ’’فقہی احکام‘‘ نہیں بلکہ اخلاقی برائیاں ہیں اور انھیں مثبت معنوں میں شرعی طور پر جائز قرار دیے جانے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن نے ان کی ناپسندیدگی اور شناعت کے ضمن میں اپنا رجحان ابتدا ہی سے واضح رکھا ہے۔ درست بات یہ ہے کہ انھیں قانونی طور پر جرم اور قابل مواخذہ قرار دینے کے لیے اس وقت کا انتظار کیا گیا جب لوگ ذہنی طور پر ان کی شناعت سے مانوس ہو جائیں اور قانونی پابندی کے نافذ ہونے کے بعد ان کے ترک کرنے میں عملاً زیادہ مشکل پیش نہ آئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی قانون کو اگر کتاب قانون میں تو درج کر دیا جائے، لیکن معاشرہ ابھی ذہنی طور پر اس کی پابندی کے لیے تیار نہ ہو یا عملی پیچیدگیوں کی وجہ سے قانونی سطح پر اس کا موثر نفاذ ممکن نہ ہو تو اس کے نہایت منفی نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ قانون کی حرمت اور اس کی تاثیر اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب وہ عملاً نافذ بھی ہو رہا ہو۔ بصورت دیگر قانون نہ صرف اپنی نفسیاتی تاثیر سے محروم ہو جاتا ہے بلکہ الٹا قانون شکنی کا رجحان پیدا کرنے اور قانون کی پابندی کے تصور کو بحیثیت مجموعی کمزور کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہانے اسی پہلو کو یوں بیان کیا ہے کہ قرآن میں زنا اور شراب کی حرمت کا حکم پہلے ہی دن نازل نہیں کر دیا گیا بلکہ پہلے تذکیر اور وعظ ونصیحت کے ذریعے سے لوگوں میں خوف خدا کا جذبہ پیدا کیا گیا، ورنہ اگر ابتدا ہی میں یہ ممانعت نازل کی جاتی تو لوگ کہتے، بخدا ہم کبھی زنا اور شراب کو نہیں چھوڑیں گے۔
روایتی مذہبی نقطہ نظرمیں بالعموم تدریجی مراحل میں نازل ہونے والے شرعی احکام کو محض تاریخی اہمیت کا حامل جبکہ عملاً بے مصرف سمجھا جاتا ہے۔ تاہم قرآن مجید کے ایک آفاقی پیغام ہونے کے تناظر میں قرآن کی حتمی ترتیب میں ان ابتدائی اور تدریجی احکام کو بھی پوری طرح محفوظ رکھا جانا اپنے اندر اس سے کہیں زیادہ معنویت رکھتا ہے اور ان کو محفوظ رکھنے کا مقصد انسانی ذہن کو اس نکتے کی طرف متوجہ رکھنا ہے کہ شریعت کے حتمی احکام کو عملاً کسی معاشرے میں نافذ کرتے ہوئے اس کے احوال وظروف کی رعایت ملحوظ رکھی جانی چاہیے اور حالات یا موانع کا تقاضا ہو تو معاشرے کو ایک مبنی بر مصلحت تدریج کے ساتھ ہی اصل آئیڈیل کی طرف لے جانا چاہیے۔ جلیل القدر حنفی اصولی اور فقیہ ابوبکر الجصاص نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ قرآن مجیدمیں کوئی منسوخ حکم ایسا نہیں جسے ہر اعتبار سے ناقابل عمل قرار دیا گیا ہو، بلکہ حکم میں تبدیلی کا تعلق دراصل احوال میں تبدیلی سے ہے اور اگر وہ حالات دوبارہ پیدا ہو جائیں جن میں پہلا حکم دیا گیا تھا تو حالات کے تقاضے سے پہلا حکم بھی عود کر آئے گا۔ ہمارے نزدیک جصاص کی یہ بات دو ترامیم کے ساتھ درست ہے: 
ایک یہ کہ انھوں نے یہ بات ایک محدود اور جزوی فقہی مفہوم میں بیان کی ہے جو بجاے خود درست ہے، تاہم اس سے کسی مخصوص معاشرے میں نفاذ شریعت کی حکمت عملی کا ایک عمومی اصول بھی اخذ کیا جا سکتا ہے، چنانچہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے شرعی احکام وقوانین کے مخصوص مزاج کے ساتھ مناسبت یا عدم مناسبت کے تناظرمیں غیر عرب معاشروں میں شریعت کے نفاذ میں تدریج کی جو حکمت عملی بطور اصول تجویز کی ہے، کسی معاشرے کی ذہنی وفکری اور اخلاقی سطح کے تناظر میں بھی نفاذ شریعت کے لیے وہی حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔ 
دوسرے یہ کہ قرآن مجید میں عبوری نوعیت کے جو احکام محفوظ رکھے گئے ہیں، ان کی حیثیت نظائر کی ہے جنھیں تجویز کرتے وقت عرب معاشرے کے ان مخصوص عبوری حالات کو ملحوظ رکھا گیا تھا جن میں یہ احکام دیے گئے۔ بعد کے زمانوں میں ایسی صورت حال سے سابقہ پیش آنے پر ان نظائر سے اصولی راہنمائی تو لی جائے گی، لیکن یہ کسی باقاعدہ شرعی حکم کی حیثیت نہیں رکھتے جنھیں بعینہ اسی صورت میں اختیار کرنا لازم ہو۔ اس کے بجائے اقدامات کی عملی صورت تجویز کرتے وقت اس مخصوص معاشرے کے حالات وضروریات سامنے رکھنا ضروری ہوگا جسے عبوری اور تدریجی مراحل سے گزارکر اصل شریعت کی پیروی کے قابل بنانا مقصود ہے۔
مذکورہ سطور میں کی جانے والی بحث کا خلاصہ حسب ذیل نکات کی صورت میں پیش کیا جا سکتا ہے:
۱۔ کسی معاشرے کو ’اسلامائز‘ کرنے کا عمل اپنے بنیادی تصورات اور نوعیت کے لحاظ سے اصلاً معاشرے میں ایمان واخلاق کی جوت جگانے، اس کی ذہنی وفکری سطح بہتر بنانے اور اس کی سماجی سرگرمیوں کو اخلاقی حدود کا پابند بنانے سے عبارت ہے۔ شریعت کا مقصد بھی انسان کا اخلاقی تزکیہ ہے اور قرآن مجید نے اسی پہلو سے ہر شرعی حکم کی ایمانی واخلاقی اساسات اور اس کو محیط مختلف اخلاقی پہلووں کی طرف اہتمام کے ساتھ توجہ دلائی ہے۔ گویا قرآن کے زاویہ نگاہ سے قانونی احکام کوئی الگ تھلگ (separable) ہدایات نہیں بلکہ ایمان واخلاق پر مبنی ایک وسیع تر نظام کا حصہ ہیں اور اس سے الگ کر کے نہ تو ان کی علمی وعقلی اساسات اور حکمتوں کی توضیح ممکن ہے اور نہ تزکیہ وتطہیر کا وہ مقصد ہی حاصل کیا جا سکتا ہے جس کے پیش نظر شارع کی طرف سے یہ احکام دیے گئے۔ چنانچہ اگر نفاذ شریعت کا مقصد کسی معاشرے کو اسلامی معاشرہ بنانا ہے تو اس کے لیے منظم کی جانے والی جدوجہد کا ہدف بھی معاشرے کا اسلامی تصور بحیثیت کل ہونا چاہیے نہ کہ محض اس کے بعض اجزا۔ 
۲۔ شریعت کے نفاذ کے لیے معاشرہ اور نظم اجتماعی کی تقسیم محض انتظامی پہلو سے ہے، جبکہ اخلاقی ذمہ داری کے اعتبار سے معاشرہ ایک ناقابل تقسیم کل کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن ہر جگہ اپنے احکام کا مخاطب بحیثیت مجموعی اہل ایمان کے پورے معاشرے کو بناتا ہے اور انھیں اسی حیثیت میں ان کی پابندی کامکلف ٹھہراتا ہے، جبکہ یہ حکم کی نوعیت ہوتی ہے جو یہ طے کرتی ہے کہ ان میں سے کون سی چیزیں فرد سے متعلق ہیں، کن ہدایات کی تنفیذ کی ذمہ داری سماجی سطح پر معاشرے پر عائد ہوتی ہے اور کون سے امور ہیں جن پر عمل درآمد ایک با اختیار قانونی اتھارٹی پر منحصر ہے۔ یوں قرآن شریعت پر عمل اور اس کی پابندی کو بحیثیت مجموعی پورے معاشرے کی ذمہ داری قرار دیتا ہے اور اس کے نزدیک نفاذ شریعت کا معیاری تصور یہ ہے کہ شرعی حدود کی پاس داری کا جذبہ پورے معاشرے پر غالب ہو اور قانونی وسماجی اداروں کو اس مقصد کے حصول کے لیے وسیلے کی حیثیت سے استعمال کیا جائے، نہ یہ کہ ارباب حل وعقد محض حاکمانہ اختیار کے زور پر سوسائٹی پر دین کے چند مظاہر کو نافذ کر دیں۔ 
۳۔ قانون کے موثر اور با مقصد نفاذ کے لیے سوسائٹی میں ان ایمانی واخلاقی اساسات اقدار کا احیا اور استحکام ضروری ہے جو قانون کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مذہبی شعور اور اخلاقی حس کو بیدار کیے بغیر قوانین کا ایک ظاہری ڈھانچہ کھڑا کر دینے سے نہ معاشرے کے تزکیے کا مقصد حاصل ہو سکتا ہے اور نہ قانون ہی پر پوری طرح عمل درآمد ممکن ہے۔ اس لیے اگر سوسائٹی کی عمومی ذہنی وفکری فضا کسی قانونی پابندی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو اور قانون کا موثر نفاذ ممکن نہ ہو تو اصل توجہ ایمان واخلاق کو بہتر بنانے اور نفاذ شریعت کے لیے فکری واخلاقی سطح پر زمین ہموار کرنے پر مرکوز کرنی چاہیے جبکہ قانون کے نفاذ میں حالات کی رعایت سے تدریج کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اسی طرح ایسی فاسد رسوم جو معاشرے میں رچ بس گئی ہوں، ان کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے محض قانونی حکم کا بیان کر دینا کافی نہیں، بلکہ سماجی عوامل اورمحرکات کے ذریعے سے لوگوں کے تصورات کی اصلاح کی جانی چاہیے۔
اس بحث کی روشنی میں دیکھیے تو ہمارے ہاں رائج مذہبی تصورات اور ان کی بنیاد پر کی جانے والی جدوجہد سے نفاذ اسلام کی ایک بے حد مسخ شدہ اور نہایت غیر متوازن تصویر سامنے آتی ہے۔ مثلاً:
  • اگر کسی معاشرے میں شارع کی ہدایت کے مطابق شادی کے لیے بیٹی بلکہ بیٹے کی مرضی کو بھی کوئی اہمیت نہ دی جاتی ہو اور اس معاملے میں ماں باپ کی پسند کے مقابلے میں اپنا انتخاب بیان کرنے کو غیر صحت مندانہ سماجی رویہ سمجھا جاتا ہو، وہاں یک طرفہ طور پر باپ کے حق ولایت کو قانونی طور پر نافذ کر دینا اور اگر کوئی لڑکی اپنے حق کے استعمال کا موقع نہ پا کر عدالت کے ذریعے سے یا اس کی وساطت کے بغیر اپنی پسند کی شادی کر لے تو کیا اس کے نکاح کو باطل قرار دے کر ’حدود آرڈیننس‘ کے تحت اس کے خلاف بدکاری کا مقدمہ درج کرنے کو شارع کامنشا قرار دیا جا سکتا ہے؟
  • اگر کسی معاشرے کی اخلاقی حالت یہ ہو کہ مختلف مذہبی گروہ اعتقادی وفقہی تعبیرات کے اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہوں، ایک دوسرے کو گستاخ رسول، گستاخ امام اور منکر حدیث کہتے ہوں، ایک دوسرے کے خلاف توہین رسالت کے مقدمے درج کراتے ہوں، اور جہاں گروہی مذہبی یا سیاسی اختلافات کی چوکھٹ پر انسانی جان ومال اور آبرو کی قربانی چڑھانا عین دین وایمان کا تقاضا سمجھا جاتا ہو، وہاں یہ فرض کرنے کی گنجایش کس حد تک درست ہوگی کہ کوئی مسلمان توہین رسالت کے سوال کو اپنے کسی ذاتی یا گروہی مفاد کے لیے استعمال نہیں کر سکتا، اس لیے کسی شخص کے خلاف توہین رسالت کا الزام عائد کیا جانا ہی اس کا جرم ثابت ہونے کے مترادف ہے؟
  • اگر کسی معاشرے میں کشف والہام انفرادی دائرے سے اٹھ کر ایک باقاعدہ اداراتی صورت اختیار کر چکے ہوں، ان کی بنیاد پر شخصیات اور جماعتوں کے عند اللہ مقبول ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے کیے جاتے ہوں، لوگوں کی ان کی طرف دعوت جاتی اور ان کے ساتھ وابستہ ہونے والوں کو نجات کی بشارت دی جاتی ہو، القا والہام کی بنیاد پر مراقبہ وسلوک کے نظام مرتب کیے جاتے بلکہ سیاسی ومذہبی اختلافات میں بھی حق وباطل کی تفریق کرنا ایک عام چلن ہو، جہاں خواب اور بشارات کسی کے مامور من اللہ ہونے کا ایک مستند ذریعہ سمجھے جاتے ہوں، ایسی فضا میں اگر کوئی شخص ’’شبانی سے کلیمی دو قدم ہے‘‘ کا نعرۂ مستانہ بلند کر دے اور عام لوگ اس کے فریب میں مبتلا ہو کر اسے ایک ’’امتی نبی‘‘ مان لیں تو انھیں کس حد تک اس کا قصور وار ٹھہرایا جا سکتا اور راہ راست پر لانے کی ہمدردانہ کوشش کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے محض ان کا معاشرتی مقاطعہ کرنے اور قانونی اقدامات کے ذریعے سے انھیں مسلمانوں سے الگ کر دینے پر اکتفا کے طرز عمل کو کس حد تک اخلاق، حکمت اور دعوت دین کے تقاضوں کے مطابق قرار دیا جا سکتا ہے؟ 
  • ایک ایسی سوسائٹی جس میں فحاشی اور جنسی بے راہ روی کے محرکات وترغیبات بکثرت میسر جبکہ مناسب عمر میں آسان شادی کے مواقع معدوم ہوں، جہاں عالمی سرمایہ دارانہ معیشت کے تحت در آنے والے تہذیبی واخلاقی اثرات اور ایک ناہموار سماجی ڈھانچے سے پیدا ہونے والی ترجیحات بنیادی کردار ادا کرتی ہوں، جہاں پیشہ ورانہ بدکاری معاشرے میں خواتین کی محکومانہ حیثیت اور ان کے استحصال پرمبنی ایک مضبوط نظام کی پیداوار ہو، اس صورت حال میں زنا کی سزا کو محض قانون کی کتاب میں درج کر دینے سے معاشرے کی اخلاقی تطہیر وتربیت کے وہ تقاضے کیونکر پورے ہوں گے جو شریعت کا اصل مطلوب ہے اور کیا دین کے تجویز کردہ اخلاقی وسماجی ڈھانچے کے بغیر یہ سزائیں ایک بے جوڑ سی چیز دکھائی نہیں دیں گی؟ 
  • ایک ایسے معاشرے میں جہاں تقسیم دولت میں تفاوت اور طبقاتی تفریق جرم کے محرکات میں ایک اہم محرک کی حیثیت رکھتا ہو، روزگار اور معاشی مواقع سے محروم نوجوان چوری ڈاکے کو ذریعہ روزگار بنا لینے پر مجبور ہو جائیں، نظام انصاف ظلم اور نا انصافی کا نمونہ بن چکا ہو اور جھوٹے مقدمات کا تناسب اگر زیادہ نہیں تو جینوئن مقدما ت سے کم بھی نہ ہو، معاشرے کے طاقتور طبقات قانون کی گرفت سے کلیتاً آزاد ہوں جبکہ قانون کا پھندا صرف کمزور اور سیاسی پشت پناہی سے محروم مجرموں کے گلے میں پورا آتا ہو، ایسے معاشرے میں سرقہ اور حرابہ کی سزاؤں کو قانون کا حصہ بنا دینے اور سوسائٹی کی اخلاقی صورت حال سے صرف نظر کرتے ہوئے انھیں جوں کا توں نافذ کرنے پر اصرار کو کیا جائز طور پر نفاذ شریعت کی طرف پیش رفت کہا جا سکتا ہے؟
  • ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگوں کی اکثریت طلاق کے شرعی طریقے اور اس کی حکمتوں سے ناواقف ہو، جہاں معاشرتی اور معاشی مشکلات ومسائل نے لوگوں سے صبر وحوصلہ اور تحمل چھین کر انھیں ذہنی تناؤ کا مریض بنا دیا ہو، جہاں مطلقہ عورت کے لیے باعزت زندگی گزارنا یا عقد ثانی کرنا بے حد مشکل ہو اور طلاق مرد کے بجائے حقیقت میں عورت کے لیے سزا قرار پائے، کیا ایسے معاشرے میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کو لازماً نافذ قرار دینا حکمت ومصلحت پر مبنی شریعت کا منشا ہوگا اور کیا اس سے اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کو پامال کرنے کی سزا فی الواقع اس کے اصل مجرم یعنی شوہر ہی کو ملے گی؟
یہ چند سوالات محض نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں، ورنہ نفاذ اسلام کے ناقص، محدود اور یک طرفہ تصور کے تحت کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیجیے توقدم قدم پر وہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے جسے سیدنا مسیح علیہ السلام نے اپنی الہامی زبان میں ’’مچھروں کو چھاننے اور اونٹوں کو نگل لینے‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر شرعی احکام کے درست اور منصفانہ نفاذ کے لیے انفرادی وسماجی اخلاقیات کا ڈھانچہ موجود نہ ہو جو اپنے داخلی اور خارجی دباؤ کے تحت قانون پر اس کی لفظ اور روح کے مطابق عمل درآمد کرا سکے، اور اس کی غیر موجودگی میں دوسرے درجے میں ہی سہی، کمزور طبقات کی داد رسی کے لیے موثر اور منصفانہ قانونی انتظام بھی موجود نہ ہو تو قانون کی کتاب میں درج کی جانے والی اسلامی شقیں بھی عملاً کمزور اور بے بس طبقات کے استحصال پر منتج ہوں گی۔ مذہبی طبقے کا یہ استدلال یقیناًدرست ہے کہ غیر منصفانہ نظام کے تحت قانون کے غلط استعمال کا ذمہ دار اصل قانون کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا، لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی اتنی ہی درست ہے کہ اگر عملی قانونی ڈھانچہ ظلم وستم اور نا انصافی پر مبنی ہو اور اس میں کوئی بہتر سے بہتر قانون بھی انصاف فراہم کرنے کے بجائے ظلم پر منتج ہو جائے تو ایسے نظام پر اسلامی قوانین کی چادر ڈال کر مطمئن ہو جانا بھی دین یا معاشرے کی کوئی خدمت نہیں اور اس سے زیادہ اہم چیز یہ ہے کہ قانونی ڈھانچے میں ان بنیادی تبدیلیوں کے لیے جدوجہد کی جائے جن کے بغیر شرعی قوانین کے فوائد اور برکات سے مسلمانوں کا معاشرہ بہرہ مند نہیں ہو سکتا۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
(زیر نظر تحریر میں فاضل مکتوب نگار نے اکتوبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں شائع ہونے والی بحث کے بعض اہم نکات کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر واضح کیا ہے۔ میرے خیال میں سابقہ بحث کی روشنی میں ان میں سے بیشتر نکات پر تبصرہ محض تکرار ہوگا، البتہ مکتوب نگار نے ریاست پاکستان کی خارجہ پالیسیوں اور پاکستانی شہریوں کے لیے ان کی پابندی کے ضروری یا غیر ضروری ہونے کے ضمن میں بعض اہم علمی اور اصولی سوالات اٹھائے ہیں اور اس طرح یہ بحث دور جدید میں اسلامی ریاست کے عملی ڈھانچے اور موجودہ مسلم حکومتوں کی شرعی حیثیت کے اس موضوع سے مربوط ہو گئی ہے جس پر ’الشریعہ‘ کے زیر نظر شمارے سے بحث ومباحثہ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ ان تمام سوالات کے حوالے سے راقم الحروف اپنا نقطہ نظر القاعدہ کے راہ نما جناب ایمن الظواہری کی کتاب ’’سپیدۂ سحر اور ٹمٹماتا چراغ‘‘ پر اپنے مفصل تبصرے میں پیش کرے گا، ان شاء اللہ۔ مدیر)

بعض قابل قدر مضامین کے ساتھ ساتھ ’الشریعہ‘ کے شماروں میں ایسے گل بھی کھلتے ہیں جن کا ظاہر دلنواز ہونے کے باوجود خوشبو سے بالکل محروم ہوتا ہے۔بحث ومباحثہ کا حصہ گویا ایک اکھاڑہ ہے جس میں مختلف پہلوان اپنا زور دکھاتے ہیں۔ راقم تماشائی بن کر فن کاروں کے مظاہرے دیکھتا ہے۔ ایک دفعہ اس اکھاڑے میں اترنے کی کوشش بھی کی مگر ’الشریعہ‘ کے صفحات نے جگہ نہ دی۔ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جناب عمار خان نے القاعدہ وطالبان او رموجودہ افغان جنگ کے عنوان سے اکتوبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں یہ نیا گل کھلایا ہے۔ اس سلسلے میں راقم کی رائے اور بعض چیدہ چیدہ نکات پر تبصرہ درج ذیل ہے۔
افغانستان پر امریکی حملے کے حوالے سے جناب نے پہلے ہی پیراگراف میں لکھا: ’’جس نے بہت جلد انتہا پسندی اور تشدد پسندی کی شکل اختیار کر لی۔‘‘ 
اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ جناب کئی سیڑھیاں بیک وقت پھلانگ کر بات کو اس نتیجے تک لے آئے۔ اس انتہا تک پہنچانے میں اس حملے کے علاوہ دیگر بہت سے عوامل کا اہم کردار ہے جن سے صرف نظر درست نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ انتہا پسندی اور شدت پسندی موجودہ دور کی ایسی اصطلاحات ہیں جن کے واضع کفار ہیں اور وہ ان کا عملی اطلاق مسلمانوں اور بالخصوص جہاد ومجاہدین پر کرتے ہیں۔ انھوں نے ’’صلح کلیت‘‘ کو اعتدال کے ہم معنی قرار دے کر مسلمانوں کے ہر اس عمل کو ان کی سند دینا شروع کر دی جو اس مزعومہ اعتدال کے خلاف ہو۔ فی نفسہ ہر دو رویوں کو مذموم مان لیا جائے، تب بھی کسی فعل پر انھیں منطبق کرنا ایک اضافی امر ہے۔ ہو سکتاہے آپ کسی فعل پر یہ حکم لگائیں اور اس کے برعکس فاعل اسے اعتدال قرار دے۔ انھیں درست طو رپر اپلائی کرنے کے لیے خاص طور پر ان حالات کا مطالعہ ضروری ہے جن کے تقاضے پر فاعل نے ایسا فعل انجام دیا ہے۔ ممکن ہے جن حالات سے وہ دوچار ہو، وہ اسی ’’انتہا اور تشدد‘‘ کا تقاضا کرتے ہوں۔ ان مخصوص حالات میں یہ فعل عین اعتدال ہو، مگر حالات کے اس تناظر سے ہٹ کر دیکھا جائے تو پر تشدد اور تطرف نظر آئے۔ کفار کے ہاں سے درآمد شدہ ایسی اصطلاحات کے الم غلم استعمال سے اجتناب بہتر ہے۔
مولانا سنبھلی کے نقل کردہ اقتباس سے بھی میں اتفاق نہیں کرتا۔ یہ حکیمانہ تدبیر اور جرات کا ثبوت نہیں بلکہ احمقانہ تدبیر اور حماقت کا ثبوت ہوتا۔ یہ تدبیر حکمت کی آڑ میں بزدلی کا سبق ہے جس کی علت جبار وقت کے حرب وضرب کا خوف ہے۔ جابر وظالم کے سامنے سر جھکا کر اس کے جائز ناجائز مطالبات مانتے چلے جانے کا نام قطعاً حکمت نہیں۔ جرات کے اس ثبوت سے شہ پا کر کل کلاں کو وہ مزید مطالبات کی فہرست ہاتھوں میں تھما دیتا تو تب کیا ہوتا؟ خلافت کو آمریت کہہ کر جمہوریت کے قیام کا مطالبہ کرتا تو؟ انسانی حقوق کی پامالی کو حملے کے لیے وجہ جواز بنا لیتا تو؟ جیسے دہشت گردی کی اس جنگ میں امریکہ کا رفیق سفر بننے کے باوجود آئے دن پاکستان سے ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ ابوجندل کے واقعے سے استدلال دو وجوہ سے خام ہے۔ان میں سے ایک یہ کہ وہ انھی کی قید سے بھاگ کر آئے تھے اور جانا نہیں چاہ رہے تھے۔ آقاے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے حکماً انھیں واپس بھیجا۔ بہتر تھا ملا عمر پر دباؤ ڈال کر ان کے حکم کے ذریعے اسامہ کو حوالہ امریکہ کر دیا جاتا۔
تمام شرکاے بحث نے بالواسطہ یا بلا واسطہ یہ تسلیم کیا کہ القاعدہ نے ٹاورز پر حملہ کر کے ارتکاب جرم کیا، ماسوائے مغل صاحب کے۔ میں اس معاملے میں جناب زاہد صدیق مغل کا ہم نوا ہوں۔ جناب محمد عمار خان نے اس جرم کی بنا دو اصول قرار دیے۔ ایک یہ کہ جن پر حملہ ہوا، وہ غیر مقاتلین تھے اور غیر مقاتلین پر حملہ ناجائز اور گناہ ہے۔ دوسرا یہ کہ القاعدہ نے ایک اسلامی ریاست کو مستقر بنا کر طالبان سے بالا بالا ہی یہ کام کر ڈالا۔ شرعی اصول یہ تھا کہ انھوں نے اقدام کرنا تھا تو ملکی قیادت سے اجازت لیتے۔ اگر اجازت ملتی، تب یہ قدم اٹھاتے (گو کہ حملہ اس صورت میں بھی جائز نہ ہوتا کیونکہ پہلے شرعی اصول کی خلاف ورزی پھر بھی لازم آتی)۔ اس تنقیح کے بعد مدار بحث صرف پہلا اصول رہ گیا کہ غیر مقاتلین پر حملہ کیا۔ میں یہاں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ یہ اصول انھیں (یعنی القاعدہ کو) بھی تسلیم ہے۔ اس پر تو کوئی اختلاف نہیں۔ اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ موجودہ جمہوری حکومتوں میں وہ عوام کو زمرۂ مقاتلین میں شمار کرتے ہیں اور آپ نہیں کرتے، لہٰذا اسے آپ ان کی خطا سے تو تعبیر کر سکتے ہیں، شرعی اصول کی پامالی کا الزام نہیں دے سکتے۔ اگرجناب محمد عمار خان کا فہم دین انھیں رائے رکھنے اور دینے کا حق دیتا ہے تو انھیں اس حق سے کس بنیاد پر محروم کیا جا سکتا ہے؟ غیر مقاتلین جیسے عورتیں، بچے، تاجر، کسان، خدام، مزدور، قیدی اور زخمی وغیرہ کو قتل نہ کرنے سے متعلق جو احادیث جناب محمد عمار خان نے مغل صاحب کے جواب میں پیش کیں، اگرچہ ان میں اس بات پر کوئی دلالت نہیں کہ موجودہ جمہوری نظام کے حصہ دار غیر مقاتلین ہوں گے، مگر مان بھی لیا جائے تب بھی بات خطا یا تاویل سے آگے نہیں جا سکتی۔
ان دواصولوں پر تفریع بٹھاتے ہوئے جناب محمد عمار خان نے موجودہ افغان جنگ کے جہاد ہونے سے ہی انکار کر دیا۔ اس کا جو جواب جناب زاہد الراشدی صاحب نے دیا، وہ خوب ہے۔ میں یہاں تین باتوں کی وضاحت کرتا ہوں۔
۱۔ جناب محمد عمار خان نے اس پر جو احادیث پیش کیں، شاید اس موقع پر المطلق اذا اطلق یراد بہ الفرد الکامل کے معروف قاعدے سے ذہول ہو گیا، ورنہ لا دین لمن لا امانۃ لہ، لا صلاۃ لم یقرا بفاتحۃ الکتاب، لا وضو لمن لم یقرا ببسم اللہ اور آیۃ المنافق ثلاث ..... وان صام وصلی وزعم انہ مسلم جیسی احادیث سے اس طریق استدلال کے مطابق نہ وضو ہوگا نہ نماز نہ اسلام نہ دین۔
۲۔ جناب عمار کے پیش کردہ دو اصولوں کے درمیان جو باریک اور دقیق فرق ہے، اسے ایک تاریخی واقعے سے واضح کرنا چاہوں گا۔ خوارزم شاہ علاؤ الدین نے چنگیز خان کے سفرا یا تجار کو بلا کسی معقول وجہ کے قتل کرا دیا جو ایک قبیح فعل اور شرع کی خلاف ورزی تھا۔ یہ واقعہ تاتاریوں کی صورت میں عالم اسلام پر ہولناک تباہی کا سبب بنا۔ جو کچھ ہوا، ہوا۔ کسی ایک عالم نے بھی یہ رائے نہیں دی کہ تاتاریوں سے جنگ جہاد نہیں، کیونکہ پہلے شرعی اصول کی خلاف ورزی ایک مسلم حکمران کی طرف سے ہوئی، بلکہ ابن تیمیہ جیسے جبل علم نے ان کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا اور بنفس نفیس تلوار اٹھا کر میدان میں آئے۔
۳۔ امریکہ نائن الیون سے پہلے کا مسلمانوں کے ساتھ حالت جنگ میں ہے، ۱۹۹۰ء میں ہونے والی خلیج کی پہلی جنگ کے وقت سے۔ بلکہ نائن الیون سے پہلے اور ۱۹۹۰ء کے بعد بل کلنٹن کے زمانہ صدارت میں بھی افغانستان کے خلاف باضابطہ طبل جنگ بجا چکا ہے جب اس نے کروز میزائل کے ذریعے اسامہ پر حملہ کیا تھا اور طالبان کی خود مختاری کو پامال کیا تھا، بلکہ عالمی اصول جنگ کی خلاف ورزی بھی کی تھی۔ خلاصہ یہ کہ نائن الیون کا واقعہ اس کی ابتدا ہے نہ بنیاد۔
جناب محمد عمار خان کا یہ فرمان بہت حد تک محل نظر ہے کہ ’’یہ ہر قانونی تعریف کے مطابق دہشت گردی کا ایک واقعہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ پوری مسلم دنیا نے بیک زبان اس کی مذمت کی۔‘‘ 
ابھی تک دہشت گردی کی کوئی ’’قانونی‘‘ تعریف طے نہیں کی جا سکی۔ اگر اس کا کوئی خاص تصور ذہن میں رکھ کر جناب عمار نے یہ بات لکھی ہے تو اسے زینت قرطاس بنائیں تاکہ اس کا جائزہ لیا جا سکے۔ پوری مسلم دنیا کی طرف سے اس کی مذمت اور اس سے براء ت کا اعلان یہ ثابت کرنے کے لیے قطعاً مفید نہیں کہ یہ دہشت گردی تھی، اس لیے کہ باستثناے چند پوری مسلم دنیا کے دل امریکی حرب وضرب کے خوف سے معمور ہیں۔ انھوں نے جہاد کو جمہوری جدوجہد یعنی جلسے جلوس، احتجاج، ہڑتالیں، دھرنے، سیاسی جماعتیں تشکیل دینے، اپنے حکمرانوں سے اقتدار لینے، خود حکومت کرنے یا حکمرانوں کی طرف سے مخالف آوازوں کو دبانے میں ہی محدود کر دیا ہے۔
جناب عمار خان کا یہ کہنا کہ مسلم ریاست کے شہریوں کے لیے اپنے نظم اجتماعی کے فیصلوں سے ہٹ کر کوئی اقدام کرنا جائز نہیں بلکہ پاکستانی شہریت کے حامل ہوتے ہوئے طالبان افغانستان کے ساتھ شریک جنگ ہونا بھی جائز نہیں، ایک نئی بحث کا دروازہ کھولتا ہے۔ اس کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ ہر حلف اور معاہدہ معروف کی شرط سے مشروط ہوتا ہے، یہاں تک کہ اطاعت امیر بھی۔ اس حلف ومعاملہ کی پابندی کیا شرعی حیثیت رکھتی ہے جس میں معروف سے تجاوز کیا گیا ہو؟
۲۔ ملکوں کی موجودہ تقسیم بیسیویں صدی کی جدت ہے، یعنی ہر ملک کی مخصوص قانونی سرحد ، ان کے اندر مخصوص قانون اور پالیسیوں کا نفاذ، شہری حقوق کے لیے شہریت کا لزوم، عبور سرحد کے لیے ریاستی اجازت کی ضرورت وغیرہ۔ ان تمام امور کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ سیاسی تفریق نہیں؟ مذہبی تفریق اگر سم قاتل ہے تو کیا سیاسی تفریق زہر کا پیالہ نہیں؟
۳۔ کیا اسلامی نظم مملکت میں یہ تجزی ہے کہ کوئی فرد مخصوص علاقے کا قانونی باشندہ ہے، دوسرے کا نہیں؟ باجازت ریاست دوسرے ملک میں جا سکتا ہے مگر قانوناً وہاں کے معاملات میں دخیل نہیں ہو سکتا؟ یہاں تک کہ ایک طرف یہ انتظامی امور ہوں اور دوسری طرف شرعی فریضہ ہو تو اس کی ادائیگی کے لیے اس قانون شکنی سے وہ گناہ گار تصور ہوگا۔ کیوں؟
۴۔ ان ملکوں کے امرا وحکام کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا ان کی اطاعت بھی اسی طرح لازم ہے جس طرح خلیفۃ المسلمین کی؟ کیا ان کے خلاف خروج پر بھی وہی وعید ہے جو خلفاے وقت کے خلاف خروج پر تھی؟
۵۔ کیا اسلامی نظم مملکت میں کثیر مستقل بالذات حکمرانوں کی گنجائش ہے؟ یا لازمی ہے کہ تمام مسلمین کا امیر واحد ہو اور دیگر علاقوں کے ولاۃ اسی کے حکم سے معزول ومنصوب ہوں اور اس کے ماتحت تصور کیے جائیں؟
۶۔ اصل اسلامی نظم مملکت کیا ہے؟ خلافت؟ جمہوریت؟ شخصی حکومت وبادشاہت یا حالات کے اعتبار سے جس کو بھی اختیار کر لیا جائے، درست ہوگا؟
۷۔ مسلم دنیا کا موجودہ حکومتی نظم عبوری ہے یا اصل ہے؟ عبوری ہے تو اس کے احکام کیا ہیں؟
حافظ محمد سمیع اللہ کا یوں فرمانا کہ ’’کیا القاعدہ کا کوئی وجود بھی ہے؟‘‘ میں سمجھ نہیں سکا کہ یہ واقعی لاعلمی کا اظہار ہے یا طنز ہے؟ اگر اظہار حقیقت ہے تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ القاعدہ عرب محاربین پر مشتمل ایک عسکری تنظیم ہے، ۱۹۸۴ء میں جس کی بنیاد ڈاکٹر عبد اللہ عزام شہید نے رکھی تھی۔ آپ مصری الاصل اور اسلام آباد کی اسلامی یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔ جہاد افغانستان کے ساتھ خاص تعلق تھا۔ اسامہ بن لادن وغیرہ کا جہاد کی طرف متوجہ ہونا ڈاکٹر عزام شہید کی کوششوں کا ثمرہ تھا۔ ۱۹۸۹ء کی کسی تاریخ کو آپ پشاور میں بم بلاسٹ میں شہید کیے گئے۔
آگے صفحہ ۴۷ پر مزید گزارشات کے عنوان سے دو اڑھائی صفحات میں جناب عمار خان نے جو کچھ سپرد قلم کیا ہے، سچی بات یہ کہ پوری کوشش اور کئی دن کے غور کے بعد بھی اسے مکمل نہیں سمجھ سکا۔ نہ ربط میسر ہوا، نہ پیرا گرافس واضح ہوئے، نہ جملوں کا مفہوم ہی متعین کر سکا۔ ایسا لگتا ہے جیسے کہنے والا خود بھی ذہنی تذبذت کا شکار ہے اور یکسو نہیں۔ جو کچھ وہ کہنا چاہتا ہے، وہ کہہ نہیں پا رہا۔ مگر یہ سوچ کر دل کو مطمئن کیا کہ ’الشریعہ‘ میں ان افراد کے مضامین چھپتے ہیں جو جدید اہل علم وفن میں بالغ نظر ہیں اور جن کا ذہنی وفکری افق بہت وسیع ہے۔ ہم جو کہ بڑے روایتی مذہبی طبقے کے فرد ہیں، اسے کہاں سمجھ سکتے ہیں۔ بہرحال صحیح یا غلط، جو بھی سمجھا، سپرد قلم کرتا ہوں۔
جناب نے فرمایا:
۱۔ جہادی عناصر کے ساتھ ہمارا رویہ رومانوی اور تخیلاتی ہے۔ ہم انھیں تنقید سے مبرا سمجھتے ہیں۔ 
میرے خیال میں یہ کہنا بجائے خود ایک خیال ہی ہے جو زمینی حقائق کے برعکس اور ان کے بارے میں دیے گئے کمنٹس کی غلط تعبیر پر مبنی ہے۔ کسی کی تعریف وتمجید کا یہ مطلب لینا کہ اسے تنقید سے مبرا سمجھا جاتا ہے، غلط ہے۔ میں ایسے کئی افراد وبزرگوں کی نشان دہی کر سکتا ہوں جنھوں نے طالبان کے کئی کاموں پرتنقید کی اور جذبہ خیر خواہی کے ساتھ انھیں سمجھایا۔ ہاں، اسے وہ میڈیا پر اور عوام میں لے کر نہیں آئے۔
۲۔ زمینی حقائق کے مطابق طالبان کا برسر اقتدار آنا اولاً سیاسی اور ثانیاً مذہبی ونظریاتی مسئلہ ہے۔
ثانیاً مذہبی ونظریاتی مسئلے کا مطلب تو میں نہیں سمجھ سکا، مگر پہلے حصے سے یہ سمجھا ہوں کہ اس وقت کے سیاسی حالات افغانستا ن میں ایسی کسی بھی قوت کا تقاضا کر رہے تھے کہ جو قوت بھی ان سے فائدہ اٹھاتی، وہ اقتدار حاصل کر لیتی، چنانچہ طالبان نے اس سے فائدہ اٹھایا اور برسر اقتدار آ گئے۔ افغانستان کا کوئی ایسا مخصوص جغرافیہ بھی جناب کی نظر میں ہوگا جس نے طالبان کی مدد کی، مگر ان کے علاوہ کسی کی مدد نہیں کر سکا، یہاں تک کہ امریکہ کی بھی نہیں۔ لہٰذا ان کا ورد ہونا کوئی اعجوبہ نہیں۔ اگر ہم یہ کہیں کہ اللہ کی مدد ونصرت ان کے ساتھ تھی جس نے فتح دلوائی، اسی نے ایسے حالات تخلیق کیے اور راستے ہموار کیے جن کے نتیجے میں طالبان کا ورود ہوا، ایسے ہی بے کس مجاہدین کے ہاتھوں اللہ نے روس کو پٹوایا، آگے کے حالات بھی اسی کے پیدا کردہ ہیں جو پٹنے کے لیے وہ امریکہ بہادر کو افغانستان لے آیا اور اب اللہ پھر کم من فئۃ قلیلۃ الخ ولیمحص اللہ الذین آمنوا الخ اور لا تخافوا الخ کا منظر دکھا رہا ہے تو یہ رومانی اور تخیلاتی رویہ ہوگا۔ اس کا مطلب یہ بنے گا کہ ہم زمینی حقائق کا ادراک نہیں رکھتے جس کا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ ہم انھیں تنقید سے مبرا سمجھتے ہیں۔ یا اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا برسر اقتدار آنا کوئی شرعی مسئلہ یا کسی ایسے شرعی فرض کی تکمیل نہیں جس کی پیروی ہمارے اوپر لازم ہو اور ہم بھی خواہی نخواہی اسے یہاں لاگو کرنے کی کوشش کریں، بلکہ سیاسی طور پر جیسے ہمارے یہاں حکومتوں میں ادل بدل ہوتا ہے، ایسے ہی وہاں بھی پہلو کے بعد حکومت ان کے ہاتھ آ گئی۔ جغرافیائی طور پر یہ ایک الگ مملکت ہے جس کے افراد اپنا نظم طے کرنے میں آزاد ہیں۔ ان کا نظم ہمارے لیے لائق تقلید ہو تو ہو، واجب التقلید بہرحال نہیں، کیونکہ ہم جغرافیائی طور پر الگ اور مستقل مملکت کے حامل ہیں۔
۳۔ طالبان کا مخصوص مذہبی پس منظر ہے۔ معلوم نہیں اسے طالبان کی خصوصیت قرار دینے کی کیا وجہ ہے؟ ہمارے یہاں تو ہر طبقے اور جماعت بلکہ ہر فرد یہاں تک کہ جناب کا بھی مخصوص مذہبی پس منظر اور مخصوص فکری سانچہ ہے۔
۴۔ اسی پس منظر کی وجہ سے ان کا اقتدار کچھ مضمرات اور کچھ نیم مذہبی وسیاسی فوائد کا حامل بھی ہے، مگر مضمرات زیادہ اور فوائد کم ہیں، وہ بھی خاص زاویے سے۔ گویا عملاً فائدہ کالمعدوم ہی ہے۔ مذہبی فائدہ قدیم خلافت (جو کہ قصہ پارینہ ہو چکی) کے طلب گاروں کی محض جذباتی تسکین اور سیاسی فائدہ اہل تشیع کے سامنے رکاوٹ ہے۔ یہی اہم ترین فوائد ہیں اور وغیرہ سے جن کی طرف اشارہ کیا گیا، وہ یقیناًان سے کم ہیں۔ اسلام کا نفاذ اگرچہ اپنے مخصوص مذہبی پس منظر کے مطابق ہی ہو، منکرات کا خاتمہ، مظالم واستحصالات سے نجات، امن وامان کا قیام، سادہ طرز حکمرانی، اسلام اور امت سے بے لچک وابستگی وغیرہ قابل قدر تو ہے مگر ......۔
۵۔ پاکستان اپنے مفادات کی خاطر طالبان کا ہم درد ہے، جبکہ میرے خیال میں یہ ماضی کا قصہ ہے، حال کی واردات نہیں۔
۶۔ بعض معاملات میں سمجھ داری کا ثبوت فراہم کرنے کے باوجود وہ زیادہ سمجھ دار نہیں، کیونکہ کئی معاملات میں انھوں نے عالمی سیاست کے ڈائنامکس کا خیال نہیں رکھا۔ عالمی سیاست جس میں مسلمان تھالی کا بینگن اور مصلحت پسند ہیں، اس کے علی الرغم انھوں نے کسی ’’مصلحت‘‘ کو روا نہیں رکھا، یہاں تک کہ نہ صرف بدھا کے مجسمے منہدم کرا دیے بلکہ القاعدہ جیسے تخریب کاروں کو بھی پناہ دے دی۔ انھیں چاہیے تھا کہ وہ عالمی سیاسی ’’مصلحتوں‘‘ کا خیال کرتے اور ہرگز یہ کام نہ کرتے۔
۷۔ طالبان ہمارے یہاں کے اہل علم سے راہ نمائی لینے کے محتاج ہیں۔
مگر یہاں کے وہ اہل علم کون سے ہیں؟ جملہ مذہبی عناصر تو یوں نکل گئے کہ اپنی جذباتیت ورومانویت کی وجہ سے یہاں کی قدیم مذہبی قیادت کی بصیرت وتجربہ کو خود فراموش کر چکے، جبکہ روایتی اور عام مذہبی حلقے صورت حال کو سطحی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ پس یہ کیا راہ نمائی دیں گے؟ نیز روایتی مذہبی قیادت ذہنی طو رپر یکسو نہیں، وہ مصلحت پسندی اور نام نہاد حمیت کا شکار ہیں تو راہ نمائی دینے والا کون رہا؟ میر ے خیال میں ماڈریٹ اہل علم مودودی واصلاحی مکتب فکر کے لوگ یا غامدی صاحب اور ان کے خوشہ چین یا وہ جو کھلے عام طالبان کی تنقید کا فریضہ سرانجام دیں، جن کے نزدیک جہاد ایک فکر یا درس وتدریس کی کوئی چیز ہے، جو ۳۲ سال سے مسلسل برسر پیکار بندۂ صحرائی اور مرد کہستانی کی نفسیات واخلاق سے واقفیت نہیں رکھتے۔ دونوں کے زاویہ نظر اور نقطہ نگاہ میں ہی فرق ہے۔
اس سب کے باوجود میں حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کے ان الفاظ سے اتفاق کرتا ہوں جنھیں رسالے کے سرورق پر چھاپا گیا ہے۔
محمد بدر عالم
ibntaqi1970@gmail.com
(۲)
بخدمت گرامی قدر حضرت علامہ زاہد الراشدی مدظلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟
۱۔ اسلامی دنیا کے عظیم اسکالر ڈاکٹر محمود احمد غازی بھی اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچ گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ چنیوٹ کے احباب انھیں ایک سیمینار میں بلانا چاہتے تھے، لیکن ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ غازی صاحب کی وفات کا صدمہ صرف ان کے خاندان کا صدمہ نہیں، سبھی اہل علم دل تھامے بیٹھے ہیں۔ افسوس کہ ایک اور دیدہ ور دنیا سے چلا گیا۔ ان کے نام کے ساتھ ’ڈاکٹر‘ کا سابقہ ان کے شایان شان نہ تھا۔ وہ علم ونظر کی بلندیوں میں پروفیسروں سے بہت آگے تھے۔ بلاشبہ وہ نابغہ عصر شخص تھے۔
ڈاکٹر صاحب مرحوم گزشتہ سال جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد تشریف لائے تھے تو ان سے استفادہ کا موقع ملا۔ ایک نجی مجلس میں احباب ان کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف رہے حالانکہ ان سے سوال وجواب کی صورت میں استفادہ کرنا چاہیے تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائیں اور ان کی مغفرت فرما دیں۔ آمین
۲۔ کراچی کے علماء کرام نے اسلامی معیشت او راسلامی بینکاری کی جو بحث چھیڑی تھی، الشریعہ میں اس پر تحریری مباحثہ جاری ہے۔ خالص فقہی مباحث میں کوئی رائے دینے کا احقر اہل نہیں ہے، صرف ایک سوال اٹھانا چاہتا ہے۔ بینکوں کے طریق کار کو غیر اسلامی قرار دے کر پاکستان بھر کے مفتی حضرات نے فتویٰ جاری کیا تھا اور اسے زبان حال سے اجماع کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ یہ فتویٰ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کی طرف سے شائع ہوا۔ جوابی طور پر مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ نے اس متفقہ فتویٰ کی بارہ غلطیاں واضح کیں کہ ان محترم حضرات نے لکھا ہے کہ بنکوں کا طریق کار یہ ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بینکوں کے طریق کار کے متعلق بارہ غلط اطلاعات کی بنیاد پر جو فتویٰ جاری کیا گیا تھا، اس کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ کیا کسی نے مولانا عثمانی مدظلہ کی تصحیح کو چیلنج کیا ہے؟ اگر نہیں تو کیا محترم مفتیان کرام اپنے اس ’اجماعی‘ فتوے پر نظر ثانی کریں گے؟ کیا سنی سنائی باتوں کو بنیاد بنا کر فتویٰ دیا جا سکتا ہے؟
مشتاق احمد
ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد، چنیوٹ
(۳)
مکرمی جناب مولانا عمار خان ناصر صاحب
ماہ اکتوبر کے شمارے میں آنجناب کے افکار ونظریات اور اکابر علما کے رشحات قلم نظر سے گزرے۔ آپ کے پیش کردہ موقف اور تجزیہ سے اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ، مگر اس حساس موضوع پر غور وخوض، تحقیق وتنقید اور فکر وتدبر کا دروازہ آپ نے بہرحال کھول دیا ہے۔ آپ کی یہ محنت قابل قدر اور لائق تحسین ہے۔ اب اصحاب علم وتحقیق کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ کے پیش کردہ موقف کا مختلف پہلووں سے جائزہ لیں اور راہ مستقیم کی طرف ہماری راہنمائی کریں۔
آپ کے موقف میں القاعدہ پر تنقید درست مگر پرویزمشرف کی امریکہ نواز پالیسی کی پابندی اور ایک اسلامی خطے کے باشندوں کا دوسرے خطے کے باشندوں کا ساتھ نہ دینا اور اپنی دفاعی پوزیشن میں امریکہ کے خلاف لڑنے کو ’’جہاد‘‘ نہ سمجھنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ افغانستان میں روس او راب امریکہ کے خلاف لڑائی کو ہمارے تمام اکابر نے جہاد ہی کہا ہے۔ آنجناب کا جہاد نہ سمجھنا آپ کی ذاتی رائے تو ہو سکتی ہے، جمیع اکابر علما کا موقف نہیں۔بہرحال یہ موضوع قابل غور فکر ہے، لہٰذا اکابر علما کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ موجودہ حالات میں علما اور نوجوانوں کے کردار کے حوالے سے صحیح راستے کا تعین فرمائیں اور نائن الیون کے بعد پیدا شدہ صورت حال اور افغان جنگ کے پاکستان پر اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی نسل کی راہ نمائی کریں تاکہ ہمارے نوجوان جذباتیت سے ہٹ کر صحیح راہ پر گامزن ہو سکیں۔
حافظ خرم شہزاد
گوجرانوالہ

امراض گردہ اور بد پرہیزی

حکیم محمد عمران مغل

دولت کی فراوانی اور بھرپور جوانی کے ٹکراؤ سے جو شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے ہیں، انھوں نے کئی گھروں کا ستیاناس کر دیا ہے۔ آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گاکہ دنیا کے تمام مذاہب کی برگزیدہ ہستیوں نے دولت کی دیوی کو ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ بہت سے مریضوں کے واقعات ایسے ہیں کہ ہر واقعہ داستان عبرت لیے ہوئے ہے۔ 
گورنر ہاؤس لاہور کے سامنے چھوٹی سی آبادی میں ایک گھرانے کا مریض اکرام چنہ ہاؤس گردوں کے امراض میں مبتلا ہے۔ دائیں بائیں معالجین صاحبان نے گردے فیل قرار دے کر گھر بھیج دیا کہ گردہ بدلنا پڑے گا۔ باری باری مزید معالج آ جا رہے ہیں۔ اتفاق سے مجھے بھی دعوت دی گئی تو پتہ چلا کہ مریض کھانے پینے کا حد سے زیادہ رسیا ہے اور بدپرہیز بھی ہے۔ مجھ سے پہلے طب مشرق کو آزمانا مناسب نہیں سمجھا۔ دل کی بے قاعدہ حرکات، بی پی ہائی، سانس اور جسم پھولا ہوا، رنگت پیلی۔ میرے ذہن میں آیا کہ مریض ہیپا ٹائٹس سی کا شکار ہے۔مریض کا باپ بھی صحت مند تھا اور اس کے جوان بچے بھی ہر وقت پاس رہتے تھے۔ میں نے گردوں کے امراض کو نہ چھیڑا، بلکہ اپنے طور پر ہیپا ٹائٹس کی ادویہ جیسے عرق کاسنی، عرق مکوہ، جوارش انارین، جوارش کمونی، جوارش جالینوس، شربت عناب سے مرض کو کنٹرول کیا۔ اللہ نے کرم کیا۔ دو ہفتے کے بعد مریض نے بستر چھوڑ دیا۔ پھر خمیرہ ابریشم حکیم ارشد والا دیا تو مریض چل کر اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے ہاں گیا۔ گردوں نے باقاعدہ کام شروع کر دیا۔ گاہے گاہے اکسیر جگر اور حب کبد نوشادری استعمال کرنے کی تاکید کر کے مریض کے والدین اور بیوی کو بتا دیا گیا کہ باقی زندگی میں دو کام بالکل بند ہی رکھیں۔ ایک تو آپ نے ساری زندگی گوشت کھایا ہے، اب ایک ماہ میں صرف ایک بار گوشت سبزی ڈال کر کھائیں۔ دوسرا کام یہ کہ آپ نے ازدواجی تعلقات کا سلسلہ ترک کرنا ہے۔ ان شاء اللہ گردے کام کرتے رہیں گے۔