شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا تجدیدی منصوبہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
آج قارئین کے سامنے ایک پرانی داستان کی یاد تازہ کرنا چاہتا ہوں جو بہت سے دوستوں کو شاید یاد ہوگی۔ کم وبیش ربع صدی قبل کی بات ہے کہ گوجرانوالہ میں دیوبندی مسلک کے علماء کرام اور دیگر متعلقین نے جمعیت اہل السنۃ والجماعۃ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی جس کا مقصد مسلکی معاملات کی بجاآوری اور بوقت ضرورت دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے حلقوں اور جماعتوں کو باہمی اجتماع کے لیے مشترکہ فورم مہیا کرنا تھا۔ یہ جمعیت آج بھی موجود ہے، لیکن زیادہ متحرک نہیں رہی اور صرف علماء کرام تک محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔ابتدا میں دوسرے طبقات کے سرکردہ دیوبندی حضرات بھی اس کا حصہ تھے ،بلکہ اس کے صدر اور سیکرٹری جنرل بھی رہے ہیں۔
شہر کے ایک معروف صنعت کار الحاج میاں محمد رفیق رحمہ اللہ تعالیٰ اس دور میں جمعیت اہل السنۃ والجماعۃ کے صدر تھے۔ ان کا شیخوپورہ روڈ پر الہلال فونڈری کے نام سے کارخانہ تھا۔وہ حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی رحمہ اللہ تعالیٰ کے حلقۂ درس سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے قریبی عقیدت مندوں اور معتمدین میں سے تھے۔ان کے زیرصدارت ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ شہر کے وسط میں واقع ہونے کی وجہ سے اپنی عمارات میں مزید توسیع کا متحمل نہیں ہے ،اس لیے جی ٹی روڈ پر کوئی بڑا مدرسہ قائم ہونا چاہیے اور اس میں دینی علوم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کو بھی نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔ یہ بات مدرسہ نصرۃ العلوم کے ابتدائی مقاصد میں بھی شامل تھی اور حضرت مولانا صوفی عبدالحمیدسواتی رحمہ اللہ نے ۱۹۵۲ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم کے آغاز کے موقع پر ’’ہمارا تعلیمی وتبلیغی لائحہ عمل‘‘ کے عنوان سے جو پمفلٹ شائع کیا تھا،اس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا تھا ،لیکن حالات ووسائل کی نامساعدت کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا۔
والد محترم حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدرؒ ، عم مکرم حضرت مولانا عبدالحمیدسواتیؒ اور راقم الحروف کو جمعیت اہل سنت میں ابتدا سے ہی سرپرست کی حیثیت حاصل رہی ہے ،بلکہ ہمارے ایک مسلکی حریف بزرگ جو اب مرحوم ہوچکے ہیں، ہم تینوں کا ’’باپ، بیٹا اور روح القدس‘‘ کے عنوان کے ساتھ تعریضاً ذکر کیا کرتے تھے، چنانچہ رسمی سرپرست کے طور پر بھی اس فیصلے اور اس پر عملدرآمد کے مختلف مراحل میں شریک کار رہا ہوں ،جبکہ ہمارے ایک پرانے دوست حافظ عبدالماجد ایڈووکیٹ اس دور میں جمعیت اہل السنۃ والجماعۃ کے سیکریٹری جنرل تھے۔
ہم نے جی ٹی روڈ پر لاہور کی طرف جاتے ہوئے اٹاوہ کے قریب ریلوے پھاٹک کی دوسری طرف اٹھائیس ایکڑ زمین خرید کر ’’نصرۃ العلوم اسلامی یونیورسٹی‘‘ کے نام سے اس منصوبے کا آغاز کیا۔ حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتیؒ اس منصوبے کے بڑے سرپرست تھے اور انہوں نے ایک عرصہ تک اس کی عملی اور متحرک سرپرستی فرمائی مگر حضرت مولانا صوفی صاحبؒ کی رائے یہ تھی کہ یہ پروگرام درست ہے، جسے عمل پذیر ہونا چاہیے، لیکن یہ نیا تجربہ ’’نصرۃ العلوم‘‘ کے نام سے نہ کیا جائے۔ نصرۃ العلوم اپنی روایات کے مطابق اپنی جگہ کام کرتا رہے اور دینی وعصری تعلیم کے امتزاج کا یہ نیا منصوبہ کسی اور عنوان سے شروع کیا جائے چنانچہ ہم نے نام تبدیل کرکے ’’فاروق اعظمؓ اسلامی یونیورسٹی‘‘ کا عنوان اختیار کیا اور اس منصوبے کا دوسرا تعارف اس نام کے ساتھ شائع ہوا۔اسی سلسلہ میں حضرت صوفی صاحبؒ کے ساتھ ایک روز مشاورت ہورہی تھی تو انہوں نے فرمایا کہ ’’بھئی! جس کے پروگرام پر کام کرنا چاہتے ہو اس کا نام کیوں نہیں لیتے؟‘‘
ہم سمجھ گئے کہ وہ اس پروگرام کو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے اسم گرامی کے ساتھ موسوم کرنا چاہتے ہیں، اس لیے ہم نے دوسری دفعہ اس کا نام تبدیل کرکے ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے عنوان کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس مقصد کے لیے ’’شاہ ولی اللہ ٹرسٹ‘‘ کے نام سے ایک باقاعدہ ادارہ قائم کیا گیا، ٹرسٹ کے بنیادی ارکان چھ تھے:
(۱) حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدرؒ
(۲) حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتیؒ
(۳) الحاج میاں محمد رفیقؒ
(۴) الحاج شیخ محمد اشرف مرحوم
(۵) الحاج عزیز ذوالفقاراور
(۶) راقم الحروف ابوعمار زاہدالراشدی۔
’’باپ، بیٹا اور روح القدس‘‘ تینوں کو سرپرست کا درجہ دیاگیا۔ الحاج میاں محمدرفیقؒ ٹرسٹ کے چےئرمین اور الحاج شیخ محمد اشرف مرحوم اس کے سیکریٹری جنرل چنے گئے اور ٹرسٹ کو باضابطہ طور پر رجسٹرڈ کرالیا گیا۔الحاج عزیز ذوالفقار بھی شہر کے بڑے صنعت کار ہیں ،مگر وہ ابتداسے ہی اس پورے منصوبے سے لاتعلق رہے ،بلکہ بعد میں اس سے استعفا بھی دے دیا۔ اس لیے ٹرسٹ کے عملی ارکان پانچ ہی رہے، اس کے ساتھ ’’شاہ ولی اللہ ویلفےئرایجوکیشنل سوسائٹی‘‘ کے نام سے ایک اور ادارہ رجسٹرڈ کرایا گیا ،جس کی مشاورت اور دیگر معاملات میں شہر کے سرکردہ علماء کرام، پروفیسر حضرات اور تاجروصنعت کار دوستوں کو شریک کیا گیا۔زمین ٹرسٹ کے نام سے خریدی گئی اور تعلیمی وانتظامی امور سوسائٹی کے تحت انجام دیے جاتے رہے۔ بلڈنگ کا ایک حصہ تعمیر ہونے کے بعد ہم نے وہاں ’’شاہ ولی اللہ کالج‘‘ کے نام سے ایک تعلیمی پروگرام کا آغاز کیا جس کے تحت گوجرانوالہ تعلیمی بورڈ اور پنجاب یونیورسٹی کے نصاب کے تحت بی اے تک کالج کی تعلیم کی کلاس شروع کی گئی اور اس نصاب میں ضروری دینی تعلیم کو سموکر مشترکہ نصاب کا تجربہ شروع ہوا۔ ہمارے ساتھ شہر کی معروف تعلیمی شخصیت اور سینےئر استاذ پروفیسر غلام رسول عدیم بھی شروع سے آخر تک متحرک رہے ،جو گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ میں شعبۂ اردو کے سربراہ رہے ہیں۔ نصرۃ العلوم میں دورۂ حدیث میں ایک سال شریک رہے ہیں اور حضرت والدمحترم کے تلامذہ میں سے ہیں۔ راقم الحروف اس پروگرام کے تعلیمی بورڈ کا چےئرمین اور پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال لون سیکریٹری تھے، جبکہ راقم الحروف اس کالج کا ایڈمنسٹریٹر بھی تھا۔
اس پروگرام میں ہم نے درس نظامی کے فضلا کے لیے ایک کورس کا آغاز کیا ،جس کی بنیاد اس پر تھی کہ دینی مدارس کے وفاقوں کی اسناد کو ’’یونیورسٹی گرانٹس کمیشن‘‘ نے اس شرط پر ایم ۔اے اسلامیات وعربی کے برابر تسلیم کررکھا تھا کہ وہ اس سند کی بنیاد پر صرف تعلیمی شعبہ میں کام کرسکیں گے ،جبکہ دوسرے شعبوں میں اس سند کے ساتھ جانے کے لیے انہیں پانچ سو نمبر کا بی ۔اے کا ایک خصوصی امتحان دینا ہوگا۔ اس میں کامیابی پر ان کی سند کو مکمل ایم۔ اے کے برابر تسلیم کیا جائے گا۔ ہم نے یہ پروگرام بنایا کہ درس نظامی کے فضلاء کو اس خصوصی امتحان کے لیے ایک سال میں تیاری کرائی جائے وار ان کے لیے ایم فل اور پی ایچ ڈی میں آگے پڑھنے کے لیے راستہ ہموار کیا جائے، چنانچہ کالج اور درس نظامی کے فضلاء کے یہ دونوں تعلیمی پروگرام شروع کیے گئے اور ہماری دو تین کلاسیں بی ۔اے تک پہنچیں ،جبکہ فضلا کی دو کلاسوں نے بھی پنجاب یونیورسٹی سے پانچ سو نمبر کے بی ۔اے کے خصوصی امتحان کا مرحلہ عبور کیا ،مگر اس کے بعد دو وجہ سے اس پروگرام میں رکاوٹ پیدا ہونا شروع ہوگئی:ایک ،یہ کہ پنجاب یونیورسٹی نے ہمیں اس پروگرام کے تحت آگے بڑھنے کی سہولت دینے سے انکار کردیا اور ہمارے فضلا بی ۔اے کا خصوصی امتحان دینے کے بعد بھی آگے نہ بڑھ سکے ،جس کی وجہ سے درس نظامی کے فضلا والا یہ کورس اپنے مقاصد حاصل نہ کرسکا۔ دوسری وجہ ،یہ بنی کہ ہماری باہمی انڈر اسٹینڈنگ کمزور پڑنے لگی۔ اس منصوبے کے لیے سب سے زیادہ محنت، اخراجات اور وقت الحاج میاں محمد رفیق رحمہ اللہ تعالیٰ نے صرف کیا اور سب سے زیادہ انہوں نے قربانی دی ،لیکن چونکہ وہ تعلیمی مزاج اور میدان کے لوگ نہیں تھے ،اس لیے انتظامی وتعلیمی معاملات میں اختلافات کا سلسلہ شروع ہوگیا ،جو رفتہ رفتہ اس نتیجے تک پہنچا کہ میں نے اس منصوبے سے عملاً علیحدگی اختیار کرلی ،حتیٰ کہ مختلف وجوہ کی بنا پر ’’باپ، بیٹااورروح القدس‘‘ تینوں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی سے عملاً لاتعلق ہوگئے ۔اس کے بعد الحاج میاں محمد رفیقؒ ، شیخ محمد اشرفؒ ، میاں محمد عارف اور پروفیسر غلام رسول عدیم اور ان کے رفقاء میدان میں رہ گئے ۔ان حضرات نے بہت محنت کی اور کیڈٹ کالج، میڈیکل کالج، ہسپتال اور انجینئرنگ کالج کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے کئی برس صرف کیے ،لیکن کسی منصوبے میں کامیابی حاصل نہ کرسکے البتہ میاں محمدرفیق صاحب مرحوم کی محنت، خلوص اور ایثار وقربانی کے باعث بڑی بڑی بلڈنگیں تعمیر ہوتی رہیں اور انہوں نے دن رات ایک کرکے سیکڑوں وں کمروں پر مشتمل بڑی بڑی عمارتیں اور ایک بڑی مسجد کھڑی کردی۔
راقم الحروف نے پروگرام سے علیحدگی تو اختیار کرلی لیکن کھلے بندوں اس کی مخالفت نہیں کی اور ایک ٹرسٹی کے طور پر خاموش تعلق باقی رکھا ،حتیٰ کہ اکادکا پروگراموں میں بھی شریک ہوتا رہا۔ ٹرسٹ کے سیکریٹری جنرل الحاج شیخ محمد اشرف چند سال قبل انتقال کرگئے، جبکہ چےئرمین الحاج محمد رفیقؒ کا ابھی چند ماہ قبل انتقال ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حضرت والدمحترمؒ اور حضرت صوفی صاحبؒ کا بھی ایک سال کے وقفہ سے انتقال ہوگیا تو ٹرسٹ کے ارکان میں سے صرف میں ہی موجود تھا ،جبکہ عملاً کام کرنے والوں میں میاں محمد رفیق صاحب مرحوم کے دو بیٹے میاں محمد توفیق صاحب، میاں محمد توقیر صاحب اور پروفیسر غلام رسول عدیم صاحب اپنے دیگر رفقا کی ٹیم کے ساتھ متحرک تھے اور ہائی اسکول کی سطح کے ایک تعلیمی سلسلہ کے علاوہ ایک ڈسپنسری عملاً کام کررہی تھی۔ محترم میاں محمد رفیق صاحب مرحوم کی وفات کے بعد اس ورکنگ ٹیم نے محسوس کیا کہ کام کو اس رخ پر آگے نہیں بڑھایا جاسکتا اور کروڑوں روپے کے یہ منصوبے چلانا اس ٹیم اور گوجرانوالہ کے لوگوں کے بس میں نہیں ہے، اس کے لیے کسی بڑے ادارے سے رجوع کرنا چاہیے۔ ان حضرات نے مجھ سے رابطہ قائم کرکے اس صورت حال سے آگاہ کیا تو میرے دل میں فطری طور پر پہلی خواہش یہی تھی کہ اس منصوبے کو اپنی اصل کی طرف لوٹا دیا جائے اور ’’جامعہ نصرۃ العلوم‘‘ اس کو سنبھال لے مگر میری دیانتدارانہ رائے یہ تھی کہ عملاً ایسا نہیں ہوگا ۔اس لیے میں نے نصرۃ العلوم کے منتظمین کو جو میرے عزیز ہی ہیں، آگاہ کیا کہ اگرچہ میری پہلی خواہش یہی ہے لیکن عملاً مجھے یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ اس لیے میں سوچتا ہوں کہ بجائے اس کے کہ اس زمین اور بلڈنگ پر حکومت یا کوئی اور ادارہ قبضہ کرلے ہم خود کسی اچھے ادارے سے رابطہ کرکے اسے اس کے حوالہ کردیں۔ میری اس رائے سے پروفیسر غلام رسول عدیم صاحب اور الحاج میاں محمد رفیق مرحوم دونوں بیٹوں میاں محمد توفیق صاحب اور میاں محمد توقیر صاحب نے بھی اتفاق کیا اور محترم محمد رفیق صاحب مرحوم کی وفات کے وقت مشاورت کا جو نظام موجود تھا ،اس میں شریک حضرات کے ساتھ مختلف نشستیں منعقد کرنے کے بعد ان کو بھی اعتماد میں لے لیا گیا۔
میاں محمدتوفیق صاحب اور میاں محمد توفیق صاحب نے جو میاں محمد رفیق صاحب مرحوم کی وفات کے بعد اس ادارے کے عملاً منتظم تھے ،اس مقصد کے لیے مختلف اداروں کے نام لیے تو ان میں ایک نام ’’جامعۃ الرشید‘‘ کا بھی تھا جو میرے لیے انتہائی خوشی کا باعث بنا ،اس لیے کہ میں کئی بار اس بات کا اظہار کرچکا ہوں کہ جامعۃ الرشید کراچی میرے ان خوابوں کی عملی تعبیر ہے ،جو تعلیمی شعبہ کے حوالے سے ایک عرصہ سے دیکھتا آرہا ہوں اور جس کے لیے شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا پروگرام شروع کیا گیا تھا ۔اس لیے جب میاں محمد رفیق صاحب مرحوم کے بیٹوں نے ’’جامعۃ الرشید‘‘ کا نام لیا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی اور میں سالہاسال کی لاتعلقی کے بعد صرف اس لیے اس پروگرام کے ساتھ دوبارہ منسلک ہوگیا تاکہ اپنی نگرانی میں اس اچھی خواہش کو تکمیل تک پہنچا سکوں۔ الحاج میاں محمد رفیق صاحب مرحوم کی وفات کے وقت کام کرنے والے ورکنگ گروپ اور مشاورتی نظام کے ساتھ تفصیلی گفتگو کے بعد میں نے ان کی طرف سے جامعۃ الرشید کراچی میں حاضری دی اور حضرت مولانا مفتی عبدالرحیم صاحب دامت برکاتہم سے ذاتی طور پر درخواست کی کہ وہ ہمارے دوستوں کی اس خواہش اور پیشکش کو قبول کریں تاکہ گوجرانوالہ کے سینکڑوں لوگوں کی خلوص کے ساتھ لگی ہوئی وہ رقوم صحیح مصرف کی طرف لوٹ سکیں جو اس منصوبے پر اب تک خرچ ہوچکی ہیں اور خاص طور پر حضرت مولانا محمدسرفرازخان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبدالحمیدسواتیؒ جیسے بزرگوں کی دعائیں اور سرپرستی اس کی پشت پر رہی ہیں، اس پر جامعۃ الرشید کے شورائی نظام نے تفصیلی غور کیا اور ہمارے ساتھ بھی متعدد نشستیں ہوئیں جس کے بعد بحمداﷲتعالیٰ یہ بات طے پاگئی کہ جامعۃ الرشید کراچی کو چلانے والی مجلس علمی شاہ ولی اللہ ٹرسٹ اور شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے پورے نظام کو اپنی تحویل میں لے گی اور اسے جامعۃ الرشید کراچی کے ’’شاہ ولی اللہ تعلیمی پروجیکٹ‘‘ کے نام سے چلایا جائے گا، اس کے لیے نیا ٹرسٹ رجسٹرڈ کرایا جائے گا جس میں میاں محمد رفیق، میاں محمد توقیر اور راقم الحروف بھی شریک ہوں گے ،مگر اس کا پورا تعلیمی، مالیاتی اور انتظامی کنٹرول جامعۃ الرشید کی مجلس شوریٰ کے ہاتھ میں ہوگا۔
اس معاہدہ کے بعد جامعۃ الرشید نے شاہ ولی اللہ ٹرسٹ کے تحت تمام شعبوں کا انتظام سنبھال لیا ہے اور رمضان المبارک کے بعد کلاسوں کے باقاعدہ اجراء کے ارادے کے ساتھ اس کے مطابق بلڈنگوں کی تیاری اور مرمت کا کام شروع کردیا ہے۔مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ جو منصوبہ میرے دو بزرگوں کی دعاؤں اور سرپرستی سے شروع ہو اتھا، جس میں خود میرے کم وبیش دس سال صرف ہوئے ہیں اور جس میں گوجرانوالہ شہر کے بہت سے دیگر مخلصین کے ساتھ الحاج میاں محمد رفیق مرحوم کی محنت، ایثار اور قربانیوں کا بڑا حصہ شامل ہے یہ منصوبہ ضائع ہونے سے بچ گیا ہے اور اچھے لوگوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے، میں جامعۃ الرشید کو اس نئے منصوبے کے آغاز پر تہِ دل سے مبارک باددیتے ہوئے دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت جامعۃ الرشید کے ہاتھوں اس عظیم پروگرام کو شروع کرنے والوں کی نیتوں اور ارادوں کے مطابق تکمیل تک پہنچانے کی توفیق دیں !آمین یا رب العالمین۔ میری ملک بھر کے احباب سے اپیل ہے کہ وہ اس پروگرام کی کامیابی لیے پرخلوص دعاؤں کے ساتھ ساتھ عملی تعاون سے بھی نوازیں۔
عالم اسلام کے تکفیری گروہ: خوارج کی نشاۃ ثانیہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
جدہ سے شائع ہونے والے روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ نے ۱۳ جولائی ۲۰۱۰ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ سعودی عرب کی وزارت تعلیم وتربیت نے سعودی اسکولوں میں انتہا پسندانہ افکار پھیلانے پر دو ہزار سے زائد اساتذہ کو برطرف کر دیا ہے۔ مشیر معاون وزیر داخلہ برائے فکری سلامتی ڈاکٹر عبد الرحمن الہدلق نے یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ اساتذہ اسباق میں نصاب تعلیم کے اہداف ومقاصد کو پس پشت ڈال کر انتہا پسندانہ افکار اور تشدد پر مبنی خیالات پھیلا رہے تھے۔ الہدلق نے بتایا کہ ان میں سے بعض اساتذہ انگریزی سکھانے والے استاذ کو محض اس لیے کافر قرار دے رہے تھے کہ ان کی اپنی سوچ کے مطابق انگریزی کا معلم کفر کی زبان کا استاد بنا ہوا ہے۔ یہ لوگ انگریزی کی تعلیم کو کفر کی تعلیم کے مترادف قرار دیے ہوئے تھے۔
مذہبی تعلیمات کی بنیاد پر انتہا پسندی، تنگ نظری اور تشدد کے یہ رجحانات صرف سعودی عرب میں نہیں بلکہ مختلف مسلم ممالک میں موجود ہیں اور اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب سے دو عشرے قبل الجزائر میں دینی جماعتوں کے متحدہ محاذ اسلامک سالویشن فرنٹ نے ملک کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں ۸۰فی صد کے لگ بھگ ووٹ حاصل کیے تو اس نے بین الاقوامی اور ملکی سیکولر حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا اور الجزائر میں جمہوری ذرائع سے آنے والی اسلامی حکومت کا راستہ روکنے کے لیے نہ صرف انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے ملک کو فوج کی حکمرانی میں دے دیا گیا بلکہ مغربی استعمار کی مکمل پشت پناہی کے ساتھ دینی حلقوں اور مذہبی کارکنوں کے خلاف خوفناک آپریشن کا اہتمام کیا گیا جس کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ مذہبی حلقوں نے اس صورت حال کا متفق ہو کر مقابلہ کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے عائد کر کے الجزائر کے مسلمانوں کو خانہ جنگی سے دوچار کر دیا۔ اس باہمی تکفیر کی مہم کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد بیان کی جاتی ہے اور الجزائر کی دینی سیاست کی قوت اسی میں دم توڑ کر رہ گئی ہے۔
الجزائر کے مذہبی گروہوں میں ایک دوسرے کی تکفیر کی بنیاد پر ہونے والی خانہ جنگی نے قرون اولیٰ کے خارجیوں کی یاد تازہ کر دی جو بات بات پر مسلمانوں کی تکفیر کر کے ان پر چڑھ دوڑتے تھے اور ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے۔ بصرہ پر خارجیوں کے قبضے کے بعد کم وبیش چھ ہزار مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور کوفہ پر خارجیوں کے کمانڈر ضحاک کے تسلط کے بعد بھی یہی صورت حال پیدا ہو گئی تھی مگر امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کی مداخلت اور فراست وتدبر کے باعث کوفے والوں کی جان بچ گئی۔ خارجی کمانڈر ضحاک نے کوفہ کے گورنر عبد اللہ بن عمر کو، جو حضرت عمر بن عبد العزیز کے فرزند تھے، شکست دے کر کوفے پر قبضہ کر لیا اور جامع مسجد میں ہزاروں خارجیوں کو تلواربکف کھڑا کر کے اعلان کیا کہ کوفہ والے چونکہ مرتد ہو گئے ہیں، اس لیے وہ اس کے ہاتھ پر توبہ کر کے دوبارہ اسلام قبول کریں۔ امام ابوحنیفہ یہ بات سن کر ضحاک کے پاس چلے گئے اور فرمایا کہ ایک بات سمجھنے آیا ہوں کہ آپ نے کوفہ کے عام مسلمانوں کو مرتد قرار دے کر توبہ نہ کرنے اور دوبارہ ایمان قبول نہ کرنے والوں کو قتل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس نے کہا کہ ہاں، میں نے یہ اعلان کیا ہے، اس لیے کہ یہ سب لوگ مرتد ہو گئے ہیں اور مرتد کی سزا اسلامی شریعت میں قتل ہے۔ امام صاحب نے فرمایا کہ مرتد تو وہ ہوتا ہے جو اپنا دین چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کر لے اور ان لوگوں نے اپنا دین تبدیل نہیں کیا۔ وہ بدستور اسی دین پر ہیں جس پر وہ پیدا ہوئے تھے، اس لیے یہ مرتد کیسے ہو گئے؟ یہ بات ضحاک خارجی کو تھوڑی سمجھ میں آئی تو اس نے کہا کہ اپنی بات دوبارہ دہراؤ۔ امام صاحب نے اپنا ارشاد دہرایا تو ضحاک نے اپنی سونتی ہوئی تلوار جھکا دی اور کہا کہ ’اخطانا‘، ہم سے غلطی ہو گئی اور اس نے اپنے ساتھیوں کو تلواریں جھکا دینے کا حکم دے دیا۔ اس طرح حضرت امام اعظم کی فراست وتدبر اور حوصلے کے باعث کوفہ والوں کی جان بچ گئی جس پر حضرت ابو مطیع بلخیؒ فرمایا کرتے تھے کہ ’اہل الکوفۃ کلہم موالی ابی حنیفۃ‘، کوفہ والے سارے کے سارے ابو حنیفہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، اس لیے کہ ان کی وجہ سے کوفہ والوں کی جان بچ گئی ہے۔
عالم اسلام کے مختلف حصوں میں اس قسم کے تکفیری اور متشدد گروہوں کو دیکھ کر خوارج کے اس دور کی یاد پھر سے تازہ ہو گئی ہے اور میں علماء کرام سے یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ بات بات پر تکفیر اور اس کی بنیاد پر بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کی نفسیات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے خوارج کی تاریخ کا مطالعہ اوران کے مقابلے میں اہل سنت کے ائمہ کرام خصوصاً امام اعظم ابو حنیفہؒ کی سیاسی جدوجہد سے واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر آج کے متشدد گروہوں کی نفسیات اور ذہنیت کو پوری طرح سمجھنا آسان نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ہمیں آج ایک طرف نام نہاد روشن خیالی کا سامنا ہے جس کا مقصد مسلمانوں میں مغرب کی پیروی اور مغربی معاشرت وثقافت کا ماحول پیدا کرنا اور اسلامی اقدار وروایات کا خاتمہ کرنا ہے اور دوسری طرف اس تنگ نظری کے کانٹوں نے بھی ملت اسلامیہ کے دامن کو بری طرح الجھا رکھا ہے جس کا نتیجہ بات بات پر تکفیر وتفسیق کے فتوے صادر کر کے مسلمانوں میں خانہ جنگی اور باہمی بے اعتمادی کو فروغ دینا ہے۔ آج بھی ہمارے لیے اہل السنۃ والجماعۃ کے ائمہ اور اکابر ’’اسوہ‘‘ ہیں جنھوں نے معتزلہ کی نام نہاد ’’روشن خیالی‘‘ اور خوارج کی ’’تنگ نظری‘‘ دونوں کو مسترد کر کے اعتدال وتوازن کا راستہ اختیار کیا تھا اور امت مسلمہ کو ان دونوں انتہاؤں کا شکار ہونے سے بچا لیا تھا۔ خدا کرے کہ ہماری دینی قیادت اور علمی مراکز اس صورت حال کی نزاکت اور سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے اعتدال وتوازن کے ساتھ امت مسلمہ کی صحیح سمت میں راہ نمائی کا فریضہ سرانجام دے سکیں۔ آمین یا رب العالمین
علامہ محمد ناصر الدین الالبانیؒ ۔ ایک محدث، ایک مکتب فکر
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
انیسویں صدی کی آخری دہائی میں امت مسلمہ اپنی تاریخ کی نازک ترین گھڑیوں سے گزر ر ہی تھی کیونکہ موجودہ پرفتن دور میں جب کہ اسے شدید قحط الرجال کا سامنا ہے علماء امت کا لگاتار یکے بعد دیگرے اٹھتے چلے جانا یقیناًکسی ہرج مرج سے کم نہیں ہے۔ جانے والوں میں محققین، عُباد، زہاد، مبلغین، مصلحین، مفکرین، فقہاء اور دعاۃ بھی ہیں۔ مختلف علوم کے ماہرین اور بلند پایہ مصنفین بھی، قرآن کے مفسربھی ہیں حدیث کے ماہرین بھی، ادیب و شاعر بھی ہیں خطباء اور اسکالرز بھی۔ ابھی حال ہی میں عالم اسلام کی کئی جلیل القدر ہستیاں اللہ کو پیاری ہوگئیں جن میں مملکت سعودیہ کے مفتی شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن بازرحمہ اللہ بھی ہیں۔ مصطفی زرقاء جیسے فقیہ، علی الطنطاوی جیسے خطیب و ادیب کبیر، انور الجندی جیسے اسکالر، ڈاکٹر محمد حمید اللہ جیسے عظیم محقق، شیخ ناصر الدین البانی ؒ (۱) جیسے محدث جلیل اور علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھی جیسے محدث ومفسر اورعلامہ محمد بہجۃ الاثری، علامہ محمود محمد شاکر، علامہ محمد صالح العثیمین ،شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ رحمانی وغیرہم شامل ہیں۔ یہ سارے ہی لوگ مختلف مشرب رکھتے تھے اور مختلف مکاتبِ فکر سے ان کا تعلق تھا تاہم وہ سب پوری امت کی میراث اور عالم اسلام کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ ان میں سے کسی کی بھی رائے اور تحقیق سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کے خلوص، تقوی و للہیت پر شک و شبہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ اختلاف رائے کا حق ہر شخص کو حاصل ہے کہ امام دار الہجرت مالک رحمہ اللہ کے الفاظ میں ’’کل یؤخذ قولہ و یرد إلا صاحب ھذ القبر‘‘ کی رو سے مرجعیت حقیقی صرف اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔
دین کی اصل بنیاد قرآن کریم اور اس کی تشریح سنت صحیحہ ثابتہ ہیں۔ صحابہ اور سلفِ امت ہر معاملہ میں انھیں دونوں کی طرف رجوع کرتے تھے کیونکہ یہی دونوں أصالۃً فکر اسلامی کا اصل سرچشمہ ہیں،رہے اجماع(۲) واجتہاد (قیاس)(۳) تو وہ بھی مصدرشرعی ہیں لیکن یہ دونوں تبعاً مصدر ہیں یعنی قرآن و سنت ہی کے تابع ہوں گے۔ باقی رہیں علماء امت و ائمہ عظام کی آرا، اجتہادات اور مسالک فقہیہ و مشارب کلامیہ تو یقیناًوہ سب ہمارا سرمایہ ہیں، ہمیں عزیز ہیں، لیکن وہ بذات خود حجت و سند نہیں۔ ان کی صحت و سقم، غلطی و صواب کی اصل کسوٹی قرآن اور سنت صحیحہ ہیں۔ تمام محققین سلف کا بھی یہی طریقہ رہا ہے۔(۴) اسی کی رہنمائی قرآن یوں کرتا ہے:’’فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ‘‘(النساء:۵۹) ’’جب تم میں کسی چیز کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔‘‘
عالم اسلام پر طاری موجودہ زوال کا ایک بہت بڑا سبب یہ ہے کہ قرون مشہود لھا بالخیر کے معاًبعد اس رجحان میں نمایاں تغیر واقع ہو گیا۔ مختلف کلامی فرقے، فقہی تحزبات اور مکاتبِ فکر قائم ہوگئے، عجمی تصوف، یونانی تفلسف اور سیاسی دھڑے بندیوں نے اس زوال میں مزید اضافہ کر دیا۔ توحیدی فکر گم اور اسلامی شخصیت پژمردہ ہو کر رہ گئی۔ قرآن کو مختلف اور متضاد تاویلوں کا نشانہ بنا لیا گیا۔ حدیث کا انکار ہونے لگا۔ اسلامی عقیدہ مختلف ایجاد بندہ رسوم و بدعات کا شکار ہوگیا۔ اور وہ صورتِ حال مسلمانوں پر چھاگئی جس کا ماتم اقبالؔ جگہ جگہ کرتے ہیں۔ (۵)
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا تھا ’’لن یصلح آخر ہذہ الأمۃ إلا بما صلح بہ أولھا‘‘ (اس امت کے آخر کی اصلاح بھی اسی سے ہوگی جس سے اس کے اول کی اصلاح ہوئی تھی) اصلاح وتجدید کا یہ دائمی اصول ہے اور احیاء دین کی کوئی بھی کوشش اس کو نظر انداز کرکے کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اس اصول کا خلاصہ دو لفظوں میں قرآن اور سنت صحیحہ کی طرف دوبارہ رجوع کی دعوت ہے۔ زوال کے ادوار میں بھی خال خال ایسے مصلحین و مجددین پیدا ہوتے رہے ہیں جنھوں نے اس چشمۂ صافی کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دی، یہی حقیقی اسلامی فکر ہے اور یہی سلفیت حقہ ہے۔ محدث القرن العشرین، محی السنۃ علامہ محمد ناصر الدین البانی بھی اسی مبارک قافلے کے ایک رکن رکین تھے جنھوں نے دعوت و اصلاح، تجدید و ترشید اور تحقیق و اجتہاد سے بھرپور ایک عمر گزاری اور بہترین زاد راہ لے کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔ آئندہ سطور میں ہم علامہ البانی رحمہ اللہ کے مکتب فکر کے بعض امتیازات و خصائص پر روشنی ڈالیں گے۔
البانیہ (۶) کے سابق دار الحکومت اچک درہ (اشقو درہ) کے ایک مفلس لیکن متدین اور علمی گھرانے میں شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے آنکھیں کھولیں۔ ان کانسبی تعلق ترک نژاد اور ناؤط قبیلہ سے ہے۔ تاریخ پیدائش ۱۳۳۳ھ مطابق ۱۹۱۴ء ہے۔ ان کے والد الحاج نوح نجاتی ایک متصلب حنفی عالم اور صوفی تھے۔ جنھیں اس علاقہ میں دینی و علمی مرجعیت حاصل تھی۔ محمد ناصر الدین کی پیدائش کے چند سال بعد ہی اس خاندان کو البانیہ کو خیر باد کہہ دینا پڑا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ ترکی میں آنے والے انقلاب اور یوروپ کی ترقیات سے مرعوب ہو کر البانیہ کے والی احمد زاغو نے بھی اپنے ملک میں سیکولرزم کو اختیار کر لیا اور مذہبی لوگوں پر زیادتیاں شروع کر دیں اور جبراً مغربیت تھوپنے لگا۔ چنانچہ الحاج نوح البانیہ سے ہجرت کرکے دمشق (شام) چلے گئے اور وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی ۔ اس وقت دمشق میں ایک نیم سرکاری چیریٹبل سوسائٹی جمعیۃ الاسعاف الخیریہ تعلیمی و رفاہی کاموں میں سرگرم تھی۔ اس کے تحت چلنے و الے ابتدائی مدرسہ میں محمد ناصر الدین نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔
چونکہ ان کے والد سرکاری اسکولوں کے مخصوص رجحانات کے باعث ان کے نظام اور نصاب سے اختلاف رکھتے تھے اور اس تعلیم کے ثقافتی اثرات و نتائج سے مطمئن نہ تھے۔ لہٰذا اپنے بیٹے کے لیے خود ہی ایک خاص نصاب بنایا اور اسی کے مطابق ان کو حفظ قرآن، تجوید کے ساتھ ہی لغت، صرف و نحو اور فقہ حنفی کی تعلیم دی۔ حفظ و تجوید کی تکمیل بروایت حفص کی۔ پھر دمشق کے متعدد علماء و مشائخ سے مختلف علوم حاصل کیے، (۷)اس دیار کے مشہور عالم شیخ سعید البرہانی سے لغت و بلاغت و ادب کے ساتھ فقہ حنفی کی معروف کتاب مراقی الفلاح، شرح نور الإیضاح وغیرہ پڑھیں۔ اپنی تعلیم کے دوران ہی محمد ناصر الدین علامۃ الشام شیخ بہجہ البیطار کے علمی حلقہ میں آئے اور ان کے دروس و افادات سے فیضیاب ہونے لگے۔
اسی حلقہ کا اثر تھا کہ درسیات کے ساتھ ہی محمد ناصر الدین کو خارجی مطالعہ کا شوق بھی پیدا ہو گیا۔ ان کے مطالعہ میں بطورِ خاص شیخ سید رشید رضا(۸) کی تحریریں اور ان کا رسالہ المنار رہتا تھا۔ رشید رضا محی السنۃ کے نام سے جانے جاتے تھے اور مصرو شام میں رجوع الی القرآن و السنۃ کی تحریک کے اولین نقیب تھے۔ ان کی تحریروں سے غذا پاکر نوجوان ناصر الدین اپنے متشدد حنفی والد کی رائے اور رجحان کے برخلاف اجتہادی اور سلفی مکتبِ فکر سے قریب تر ہوتے چلے گئے۔ اور ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ اور ان کے استاذ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تحریروں کے مطالعہ نے مزید گہرائی اور رسوخ پیدا کر دیا۔
شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کو دمشق کے علمی مراکز سے سندیں اور ڈگریاں حاصل کرنے کا اتفاق تونہیں ہوا لیکن حدیث سے ان کی دل چسپی، انہماک اور تفوق کو دیکھتے ہوئے حلب کے مشہور عالم، محقق اور مورخ راغب الطباخ نے انھیں حدیث کی سند عطا کر دی۔ نوعمری میں ہی شیخ محمد ناصر الدین نے اپنے والد سے گھڑی سازی سیکھی اور بطور پیشہ اسی کو اپنایا۔ اس کی وجہ سے انھیں حدیث میں زیادہ سے زیادہ وقت لگانے کا موقع مل گیا کہ بقدر کفاف گھڑی سازی سے انہیں روزی حاصل ہوجاتی تھی۔ شروع میں وہ الساعاتی بھی کہے جاتے تھے۔ یاد رہے کہ الاخوان المسلمون کے بانی و مؤسس شیخ حسن البناء کے والد شیخ احمد البناء بھی گھڑی ساز تھے اور نامور محدث بھی جنھوں نے مسند احمد کی ایک ناتمام شرح الفتح الربانی کے نام سے لکھی ہے۔ (۹)
عمر کی دوسری دہائی میں شیخ محمد ناصر الدین نے اپنا پہلا حدیثی کارنامہ یہ انجام دیا کہ حافظ عراقی کی ’’المغنی عن جمل الأسفار فی تخریج مافی الإحیاء من الأخبار‘‘ پر تعلیقات چڑھائیں۔اس کام کی تقریب یوں پیدا ہوئی کی سید رشید رضا (۱۳۵۴ھ) کے مجلہ’’ المنار‘‘ میں انھیں کے قلم سے امام غزالی کی احیاء علوم الدین پر نقد و تبصرہ شائع ہوا۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے پڑھا اور اسی سے ان کو ’’الإحیاء‘‘ کے مطالعہ کا شوق ہوا۔ چنانچہ ’’احیاء‘‘ کو انھوں نے حافظ زین الدین العراقی رحمہ اللہ (۸۰۶ھ) کی تخریج احادیث کے ساتھ پڑھا۔ اور اس بالاستیعاب مطالعہ میں تعلیقات بھی لکھتے گئے۔ اسی مطالعہ نے انھیں تحقیق کی نئی راہ دکھا دی۔ آگے کی راہ بھی ہموار کر دی اور ان کا منہج عمل بھی متعین کر دیا۔ اب دمشق کے علمی حلقوں میں ان کی شہرت ہوگئی اور ان کا احترام کیا جانے لگا۔ حتی کہ شہر کے مشہور کتب خانہ ’’الظاہریہ‘‘ کے ذمہ داروں نے ان کی محنت، ذوق و شوق اور علمی لگن کو دیکھ کر ان کے مطالعہ کے لیے ایک کمرہ متعین کر دیا اور لائبریری کی چابی بھی انھیں دیدی کہ جس وقت چاہیں مطالعہ کر سکیں۔ (۱۰)
جس جگہ قبر ہو وہاں صلاۃ ادا کرنا اور اسے مسجد بنانا خاصا مختلف فیہ مسئلہ رہاہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ اس مسئلہ میں ابتداء ہی سے عدم جواز کی رائے رکھتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے ’’تحذیر الساجد من اتخاذ القبور مساجد‘‘ کے نام سے کتاب لکھی اور اس مسئلہ سے متعلق مختلف فقہی آراء کا تقابلی مطالعہ اور ان پر قرآن و حدیث کی روشنی میں محاکمہ کیا اور اپنی رائے کو مدلل طور پر پیش کیا۔ (۱۱) یہ بحث خاصی ہنگامہ خیز ثابت ہوئی اور کافی لے دے مچی۔ یہ کتاب کئی بار شائع ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ شیخ کے اولین کارناموں میں معجم طبرانی کی تخریج بھی ہے۔ جس کانام انھوں نے ’’الروض النضیر فی ترتیب و تخریج معجم الطبرانی الصغیر‘‘ رکھا۔شیخ البانی رحمہ اللہ کے ان تحقیقی کاموں نے دیار شام کے علماء میں انھیں ممتاز کر دیا اور شام کے محدث کبیر علامہ بدر الدین الحسینی کے جانشین کے طور پر دیکھے جانے لگے۔
حدیث و سنت کے دفاع، تحقیق و تنقید حدیث اور سلف صالحین کی فکر کی تشریح میں شیخ البانی کی تصنیفات کی تعداد تقریباً ۱۶۵تک پہنچتی ہے۔ جن میں بعض تالیفات ضخیم ہیں۔ بعض چھوٹے چھوٹے رسائل کی شکل میں ہیں۔ ان کتابوں میں اکثر شائع ہوچکی ہیں اور متعدد کا ترجمہ مختلف عالمی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ بعض کتابیں ابھی غیر مطبوع ہیں، عصر حاضر کے مستند اور علمی اسلامی لٹریچر میں ان تصنیفات کا مقام نہایت بلند ہے۔ ان کی چند اہم اور مشہور ترین کتابیں درج ذیل ہیں۔ (واضح رہے کہ ان کے مخطوطات، منافشات وغیرہ کو جمع کرکے یہ عدد ۲۲۱تک پہنچ جاتا ہے)
۱۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ۱۴ اجزاء ۵ جلدوں میں منظر عام پر آچکی ہے۔
۲۔ سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ و الموضوعۃ و أثرھا السیئ فی الأمۃ، فہارس ایک الگ جلد میں ہیں۔ یہ کتاب مکمل چھپ چکی ہے اور شیخ کی مقبول ترین کتابوں میں سے ہے۔ الصحیحۃ اور الضعیفۃ دونوں ہی شیخ کے ان قسطوار مضمونوں کا مجموعہ ہیں جو مجلۃ التمدن الإسلامی دمشق میں عرصہ تک شائع ہوتے رہے۔ بعد میں انہیں کتابی شکل دے دی گئی (۱۲) ۷ جلدیں شائع ہوگئیں۔ کل ۱۴ جلدوں میں آئے گی۔
۳۔ صحیح الجامع الصغیر و زیاداتہ ۔ طبع اول چھ جلدوں میں طبع ثانی دو جلدوں میں۔
۴۔ ضعیف الجامع الصغیر ۔ ۱۶؍ اجزاء مکمل دو جلدوں میں چھپ چکی ہے۔
۵۔ صحیح الترغیب و الترہیب للمنذری۔
۶۔ ضعیف الترغیب الترہیب للمنذری۔
۷۔ صحیح سنن أبی داوٗد۔
۸۔ ضعیف سنن أبی داوٗد۔
۹۔ صحیح سنن ابن ماجہ۔
۱۰۔ ضعیف سنن ابن ماجہ۔
۱۱۔ معجم الحدیث (۴۹ اجزا ) غیر مطبوع ہے۔ شیخ کی اکثر تخریجات و تحقیقات کی بنیاد یہی کتاب ہے۔ (۱۳)
۱۲۔ حجیۃ السنۃ مشہور کتاب ہے اور اس کے مختلف زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں، اردو میں ہمارے استاذ مولانا بدرالزماں نیپالی مدنی نے ترجمہ کیا ہے۔ اسی موضوع پر ان کا ایک اور رسالہ ’’منزلۃ السنۃ فی الإسلام‘‘ کے نام سے بھی شائع ہوا ہے۔
۱۳۔ تسدید الإصابۃ إلی من زعم نصرۃ الخلفاء الراشدین الصحابۃ ۔ ۵ جلد مطبوع ہے۔
۱۴۔ صفۃ صلاۃ النبی من التکبیر إلی التسلیم کأنک تراھا۔ یہ بھی شیخ کی مشہور ترین کتابوں میں سے ہے۔ اور اس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ (۱۴) اردو میں دو ترجمے پائے جاتے ہیں، ایک پاکستان میں ہوا ہے دوسرا ہندوستان میں۔
ان تصانیف کے علاوہ شیخ نے تقریباً ۵۰ کتابوں کی تخریج بھی کی ہے۔ ان پر تحقیقی حواشی اور تعلیقات لکھی ہیں۔ بیشتر طبع ہوچکی ہیں اور کئی کا متعدد زبانوں میں ترجمہ بھی ہو گیا ہے۔ ان کی مشہور ترین تخریجات یہ ہیں۔
۱۵۔ إرواء الغلیل فی تخریج أحادیث منار السبیل: ۷اجزاء۔ ایک علیٰحدہ جزء فہارس کا بھی ہے۔ منار السبیل فقہ حنبلی کی معروف کتاب ہے۔
۱۶۔ الذب الأحمد عن مسند الإمام أحمد۔ پاکستان کے ایک عالم نے مسند امام احمد کی اصلیت کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا اس کی تردید میں شیخ نے یہ کتاب لکھی ہے۔ (۱۵)
۱۷۔ تخریج احادیث کتاب شرح العقیدۃ الطحاویۃ مقدمہ اور تعلیقات کے ساتھ۔
۱۸۔ خطیب تبریزی کی مشکاۃ المصابیح کی تخریج ۳ جلد، مطبوع ہے۔
۱۹۔ ریاض الصالحین للإمام النووی کی تخریج مطبوع ہے۔
۲۰۔ مختصر صحیح مسلم للإمام المنذری کی تحقیق و تحشیہ مطبوع ہے۔
۲۱۔ الجمع بین میزان الاعتدال للذھبی و لسان المیزان لابن حجر کی تحقیق غیر مطبوع۔
۲۲۔ صحیح الأدب المفرد و ضعیف الأدب المفرد للامام البخاری رحمہ اللہ۔
۲۳۔ ان تحقیقات کے علاوہ حجاب المرأۃ المسلمۃ و لباسھا فی الصلاۃ لابن تیمیۃ رحمہ اللہ کو مزید تحقیق حواشی اور تعلیقات کے ساتھ شائع کیا۔ اس موضوع پر خود ان کی بھی مستقل کتاب موجود ہے جس کا نام حجاب المرأۃ المسلمۃ فی الکتاب و السنۃ ہے۔ اس کے دوسرے ایڈیشن میں شیخ نے مزید اضافے کیے اور یہی کتاب جلباب المرأ ۃ المسلمۃ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس میں شیخ نے اپنی تحقیق کی روشنی میں سفور (چہرہ کا پردہ نہیں) کوترجیح دی ہے ۔وہ چہرہ کے پردہ کے وجوب کے قائل نہیں تھے لیکن اسے مستحب سمجھتے تھے اور اپنی اہلیہ اور خواتین کو پردہ کراتے تھے۔یہ مسئلہ خاصا مختلف فیہ ہے اور بہت سے علماء نے اس مسئلہ میں شیخ سے اختلاف کیا ہے۔(۱۶) ذاتی طور پر ناچیز شیخ البانی کی تحقیق کو راجح سمجھتا ہے۔
علاوہ ازیں ۲۴۔ مختصر کتاب الإیمان لابن تیمیۃ، ۲۵۔ کتاب العلم لأبی خیثمۃ، ۲۶۔ رسالۃ فی الصیام لابن تیمیۃ، ۲۷۔ اقتضاء العلم و العمل، خطیب بغدادی، ۲۸۔ المسح علی الجوربین، جمال الدین القاسمی، ۲۹۔مختصر العلوللذھبی، ۳۰۔ مختصر صحیح البخاری، ۳۱۔ الروضۃ الندیۃ صدیق حسن خاں بھوپالی، ۳۲۔ فضل الصلاۃ علی النبی، قاضی اسماعیل، ۳۳۔ الکلم الطیب لابن تیمیۃ وغیرہ کو اپنی تحقیق و تخریج کے ساتھ شائع کیا۔ ان کے علاوہ: ۳۴۔ آداب الزفاف فی السنۃ المطھرۃ، ۳۵۔أحکام الجنائز وبدعھا، ۳۶۔ حجۃ النبی ﷺ کما رواھا جابرؓ شیخ البانی کی اہم تصانیف میں شمار ہوتی ہیں۔ مزید براں شیخ البانی نے محمد الغزالی کی فقہ السیرۃ، سعید رمضان البوطی کی فقہ السیرۃ (۱۷) شیخ یوسف القرضاوی کی الحلال و الحرام فی الإسلام اور مشکلۃ الفقر وکیف عالجھا الإسلام کی تحریج بھی کی ہے۔ ان کے علاوہ بھی متعدد کتابیں، رسالے اور مقالے ہیں جن میں دوسرے معاصر علماء پر نقد، بعض کتابوں کا جواب اور علمی تعاقب ہے۔ (۱۸)
شیخ البانی رحمہ اللہ کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ محض کتابی عالم اور گوشہ نشین محقق نہ تھے بلکہ محیر العقول علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہی انھوں نے تمام عمر اپنی دعوتی و اصلاحی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں۔ اس کے لیے انھوں نے اپنا اولین میدان دمشق (شام) کو بنایا تھا۔ جہاں غالی تصوف، متعصب و جامد فقہی مکاتبِ فکر اور شیعیت کے بطن سے جنم لینے والے نصیری، دروزی اور اسماعیلی جیسے گمراہ و بدعتی فرقوں کابڑا زور تھا اور صحیح اسلامی عقیدہ رفض و تشیع اور تصوف کی انھیں مختلف گمراہ کن شکلوں اور بدعات و خرافات کے گردو غبار میں روپوش تھا۔ انھوں نے عقائد کی اصلاح کے لیے چھوٹے بڑے رسائل بھی لکھے اور درسِ حدیث کے حلقے بھی قائم کیے۔ توحید، فقہی مسالک اور تقلید جامد جیسے مسائل پر ان کے اور مختلف مشائخ و فقہاء کے مابین مناظرے و مناقشے بھی ہوئے۔ شیخ ان مسائل میں بعض اوقات شدت اختیار کرلیتے تھے (جو کہ وقت کا تقاضا اور مطلوب تھی) اس کی وجہ سے مشائخ، صوفیاء اور عام مقلد علماء کے اندر شدید رد عمل ہوا۔ انھوں نے شیخ البانی رحمہ اللہ کی شدید مخالفت شروع کر دی۔
حتی کہ شیخ کے والد بھی جو ایک متشدد حنفی عالم اور صوفی تھے اور بیٹے کو بھی روحانی مراکز اور مزارات پر لے جانا چاہتے تھے ان کے خلاف ہوگئے۔ (۱۹) پورے علاقہ میں ان کے خلاف پروپیگنڈہ کے ذریعہ مخالفانہ فضا بنا دی گئی۔ لوگ انھیں ’’گمراہ وہابی‘‘ کہنے لگے۔ تاہم محقق اور راسخ العقیدہ علماء کی تائید و حمایت انھیں ہمیشہ حاصل رہی ۔ بطور خاص ان کے استاذ وشیخ علامہ بہجہ البیطار سے انھیں سرگرم حمایت و تقویت ملی نیز علامہ محب الدین الخطیب، شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز، علامہ عبد المحسنحمد العبّاد، ڈاکٹر ربیع ہادی اور علامہ مقبل بن ہادی وادعی اور شیخ محمد عبد الوہاب البنّاء وغیرہم نے آپ کی بھر پور تائید کی۔
اپنی اصلاحی ودعوتی سرگرمیوں کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہوا تھا۔ ایک میں وہ ہفتہ میں دو مرتبہ تصحیح عقائد اور علمی مسائل میں درس دیتے تھے جن میں شیخ کے تلامذہ و رفقاء کے علاوہ جامعات کے طلبہ بھی حصہ لیتے تھے۔ جن کتابوں کا درس دیا جاتا تھا ان میں خاص یہ ہیں: الروضۃ الندیۃ مؤلفہ صدیق حسن خاں رحمہ اللہ (نواب بھوپال) جو الدرر البھیۃ للشوکانی کی شرح ہے۔ أصول الفقہ شیخ عبد الوہاب خلاف، الباعث الحثیث شرح اختصار علوم الحدیث لابن کثیر (تحقیق احمد شاکر) منھاج الإسلام فی الحکم محمد اسد، فقہ السنۃ از سید سابق جسے شیخ حسن البناء کے ایماء پرترتیب دیا گیا تھا۔ شیخ البانی نے اس کتاب کا تکملہ و تصحیح نامہ بھی لکھا ہے جس کا نام تمام المنۃ علی فقہ السنۃ ہے۔ (۲۰)
اپنے اصلاحی کاموں کے دوسرے حصہ میں وہ ماہانہ ٹور کرتے جو باقاعدگی اور پابندی سے ہوتے اور ہفتہ ہفتہ جاری رہتے۔ ان سفروں میں وہ خاص کر شام اور اردن کے مختلف علاقوں، شہروں اور بستیوں کادورہ کرتے اور لوگوں کو اپنے اصلاحی مواعظ، تقاریر اور دروس سے مستفید کرتے تھے۔ شیخ البانی کے علمی و تحقیقی منہج درس اور اصلاحی پروگرام کے بہت مثبت اثرات پڑے۔ ان کی دور رسی کا اندازہ معاندین اہل بدعت کو بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ کے خلاف ان کو جو بھی موقع ملتا وہ اس کو ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے ان کی مسلسل سازشوں اور غلط بیانیوں کے باعث حکام کو شیخ کے خلاف کر دیا گیا چنانچہ ۱۹۶۷ء میں انھیں ایک مہینہ تک جیل میں ڈال دیا گیا۔ دوسری بار پھر ۶مہینہ کے لیے انھیں حوالۂ زنداں کر دیا گیا۔ لیکن ان ساری پریشانیوں کو انھوں نے خندہ جبینی سے برداشت کیا۔ جیل میں بھی سنتِ یوسفی جاری رہی اور قیدو بند کی آزمائشوں کے باوجود شیخ کا علمی، دعوتی اور تحقیقی سفر جاری رہا۔
علامہ البانی رحمہ اللہ موجودہ زمانہ میں عمل بالکتاب والسنۃ کے پر جوش داعی و علمبردار تھے۔ حق گوئی و بے باکی کے نتیجہ میں ہمیشہ جلا وطنی اور مہاجرت کی زندگی گزاری، غیر اسلامی اور غیر شرعی اعمال پر امراء اور اربابِ اقتدار کو بھی ٹوکنے اور متنبہ کرنے سے نہ چوکتے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ مختلف علاقوں میں قیام پذیر ہوتے رہے کبھی شام، کبھی کویت وحجاز اور کبھی اردن میں۔ ۲۰؍اکتوبر ۱۹۹۹ء کو عمان (اردن) میں انتقال ہوا۔ وہیں سپرد خاک ہوئے، وفات سے پہلے ہی آپ نے اپنی وصیت تحریر فرما دی تھی۔ (۲۱) اپنی عملی زندگی میں شیخ البانی رحمہ اللہ نے غیر معمولی نشاط وحرکت کا مظاہرہ کیا جس نے عالم اسلام کے اہم مراکز و رہنماؤں کو ان کی طرف متوجہ کر دیا اور مختلف جگہوں پر انھیں مختلف ذمہ داریاں تفویض کی گئیں جن میں سے کچھ خاص سرگرمیوں کا ذکر کیا جاتا ہے:
۱۔ شامی عالم و ادیب دکتور مصطفی السباعی رحمہ اللہ نے انھیں موسوعۃ الفقہ الإسلامی کے ابواب البیوع کی احادیث کی تخریج کے لیے منتخب کیا۔۱۹۵۵ء میں یہ موسوعہ شائع ہوا۔
۲۔ مصر وشام کے انضمام کے بعد متحدہ حکومت کے تحت ایک لجنۃ الحدیث کی تشکیل کی گئی جس کا مقصد کتبِ حدیث کی نشرواشاعت تھا۔ شیخ البانی کو اس لجنۃ (کمیٹی) کا ایک رکن منتخب کیا گیا۔
۳۔ ۱۳۷۳ھ میں سعودی عرب کے إدارۃ البحوث و الإفتاء و الدعوۃ و الإرشاد کی جانب سے شیخ نے مصر، مراکش اور برطانیہ کا دعوتی و تبلیغی سفر کیا اور عقیدہ، سنت اور اصول الدین پر اپنے محاضروں اوردرسوں سے اہل علم اور علمی مجالس کو مستفید کیا۔
۴۔ ۱۳۶۴ھ سے ۱۳۶۷ھ تک، تین سال آپ جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ میں استاذ حدیث و سنت رہے۔۱۳۹۵سے ۱۳۹۸ھ تک جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ کی مجلس اعلیٰ کے رکن رہے۔ واضح رہے کہ ۱۳۸۸ھ میں انھیں سعودی وزیرتعلیم نے ام القری مکہ مکرمہ کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کی صدارت کا عہدہ پیش کیا تھا۔ اسی طرح ہندوستان کی جامعہ سلفیہ بنارس نے بھی انھیں شیخ الحدیث کے منصب پر لانے کی کوشش کی تھی لیکن بعض وجوہات کی بنا پر شیخ البانی رحمہ اللہ دونوں ہی جگہ نہیں جا سکے۔
۶۔۱۹۹۹ء میں شیخ البانی رحمہ اللہ کو خدمتِ حدیث پر شاہ فیصل عالمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ویسے اس اعزاز سے علامہ کی قدرو منزلت میں کوئی اضافہ نہیں بلکہ خود اس ایوارڈ نے توقیر پائی۔ (۲۲)
عالم اسلام و عالم عرب میں البانی رحمہ اللہ ایک مستقل مدرسۂ فکر کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ جس کی بنیاد دو اصولوں تصفیۃ اور تربیۃ پر رکھی گئی ہے۔ مختصراً ان کا مفہوم یہ ہے کہ اسلام کے فکری و ثقافتی سرمایہ کو ضیعف، موضوع اور بے سروپا روایات و بدعات اور خرافات سے پاک صاف کرنا اور نئی نسلوں کی صحیح اسلامی عقیدہ کے مطابق روحانی اور اخلاقی تربیت کرنا۔ ان دواصولوں کی تشریح خود علامہ کی زبانی ملاحظہ کریں:
’’تصفیہ سے میری مراد مذہب اسلام کو ہر شک و شبہ سے پاک کرنا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ سنت مطہرہ کے ذخیرہ سے ضعیف و موضوع روایات کو چھانٹ کر الگ کر دیا جائے۔پھر قرآن کی اسی صحیح سنت اور سلف صالح کی فہم و فراستِ آیات کی روشنی میں تفسیر کی جائے۔ اس آخری شق کی تکمیل بغیر علوم حدیث خصوصاً جرح وتعدیل کا گہرا مطالعہ کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس سے میری مراد یہ نہیں ہے کہ میں تفسیر قرآن کو ان ہی حدود میں قید کرنا چاہتا ہوں جو سلف نے متعین کی ہیں بلکہ میری منشاء صرف یہ ہے کہ تفسیر کے باب میں منہج سلف کا التزام کیا جائے کیوں کہ اس التزام کا فائدہ یہ ہوگا کہ نتیجۂ فکر کا ارتکاز اور پراگندہ خیالی کا سد باب ہوجائے گا...‘‘۔
اس کے بعد دوسرے اصول کی توضیح یوں کی ہے:
’’اور تربیت سے میری مراد مسلم نسل کو قرآن و سنت سے ماخوذ صحیح اسلامی عقیدہ پر چلنا سکھانا ہے۔ یہاں پر یہ بات میں خصوصیت کے ساتھ ذکر کرنا چاہوں گا کہ مسلمان بچوں کو عبادت کا عادی بناتے ہوئے بعض لوگوں کی طرح ان بچوں کے سامنے عبادت کے مادی فوائد پر زیادہ کلام نہ کیا جائے اور اگر عبادت کے مادی فوائد کا ذکر ناگزیر ہی ہوجائے تو اسے آخری صورت کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ یہاں پر یہ بات کہہ دینا بھی میں نہ بھولوں گا کہ اسلامی قانونِ شریعت کو اللہ اور اس کے حکم کی تابعداری کے طور پر پڑھایا جائے اور وقتِ تدریس اس کے مادی فوائد کو بیان کرنے کا زیادہ اہتمام نہ کیا جائے...‘‘۔ (۲۳)
البانی رحمہ اللہ مکتبِ فکر کے راقم سطور کی نظر میں یہ چند اہم خصائص و امتیازات ہیں۔ چنانچہ ان کے نزدیک:
۱۔ دین کی وہی تعبیر درست و معتبر ہے جو قرآن و سنت اور فہم سلف کے مطابق ہو اور ناجی وہ ہے جو کتاب وسنت کے فہم کے لیے سبیل المومنین پر کار بند ہو۔
اسی پہلو سے انھوں نے متعدد معاصر مسلم شخصیات، مصنفوں اور تحریکات پر رد فرمایا ہے۔ شیخ کے ردود و تعقبات کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ انھوں نے اخوان المسلمون اور جماعتِ اسلامی وغیرہ اسلامی تحریکات سمجھی جانے والی جماعتوں اور ان کی کئی تعبیرات پر بھی تنقید فرمائی۔ یہ دونوں جماعتیں جاہلیۃ القرن العشرین کے عنوان سے ایک اصطلاح استعمال کرتی ہیں اور اس کو اتنا عام کرتی ہیں کہ مسلم ممالک اور ان کے حکمرانوں کو بھی اس عموم میں شامل کرتی ہیں۔ اخوان المسلمون کے متشدد دھڑے جماعۃ التکفیر والہجرۃ نے تو اس اصطلاح کے حوالہ سے معاصر مسلم حکمرانوں کی حکمرانی کو جاہلیت قرار دے کر ان کے خلاف تشدد و ارہاب اور خروج کو جائز قرار دیا تھا۔ اسی جماعت کے ایک رکن خالد اسلامبولی نے انور سادات (مصری صدر) کو کافر اور دشمنوں کا ایجنٹ قرار دے کر گولی مار دی تھی۔ شیخ البانی نے اس مروجہ اصطلاح کا رد فرمایا۔ اور کفر اعتقادی و کفر عملی میں فرق و امتیاز کی وضاحت عبد اللہ بن عباسؓ کی تفسیر اور شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور حافظ ابن القیم ؒ کے افکار کی روشنی میں فرمائی، انھوں نے ارہاب وتشدد کو حرام قرار دیا اور حکمرانوں کے خلاف خروج پر شدید نکیر فرمائی۔ (۲۴)
اپنے ایک طویل انٹرویو میں شیخ البانی نے فرمایا: تصفیہ و تطہیر کے اس عمل کے ساتھ ساتھ دوسری چیز جو اہم ہے وہ خالص اسلام کے سایہ میں نوجوان نسل کی تربیت اور انھیں پروان چڑھانے کا کام ہے۔ موجودہ صدی میں اسلام کے نام سے جو جماعتیں اور تنظیمیں وجود میں آئی ہیں جب ہم ان کے کاموں کا جائزہ لیتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان جماعتوں نے اس پہلو سے کوئی خاص استفادہ نہیں کیا ہے۔سوائے یہ چیخنے چلانے کے کہ وہ اسلامی حکومت کا قیام چاہتی ہیں۔ اپنی اس دلیل سے انھوں نے بہت سے معصوموں کے خون سے ہولیاں کھیلیں۔ ان کے کتاب و سنت سے متصادم عقائد و نظریات کی گونج برابر ہمارے کانوں میں سنائی دیتی رہی ہے۔ یہاں اسی مناسبت سے ہم ایک داعی کی بات نقل کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کے متبعین اس کا التزام کریں اور اسے عملی جامہ پہنائیں۔ وہ فرماتے ہیں:
’’أقیموا دولۃ الإسلام فی قلوبکم تقم لکم علی أرضکم‘‘ (حسن البناء ؒ )
’’اسلام کی حکومت پہلے اپنے دلوں پر قائم کرو زمین پر بھی قائم ہوجائے گی‘‘۔
یہ حقیقت ہے کہ مسلمان جب اپنے عقائد کتاب وسنت پر مبنی ، صحیح اور درست کرلیں گے تو ان کی عبادات اور اخلاق و سلوک بھی صحیح ودرست ہوجائیں گے لیکن افسوس ہے کہ اس حکیمانہ بات کی طرف لوگوں کی توجہ نہیں صرف حکومت الٰہیہ کے قیام کے لیے چیخنا چلانا رہ گیا ہے۔ شاعر نے ایسے لوگوں کے متعلق کہا ہے
ترجو النجاۃ و لم تسلک مسالکھا
إن السفینۃ لا تجری علی الیبس (۲۵)
۲۔ البانی مکتبِ فکر کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ تقلید کا قائل نہیں۔ بطور خاص اہل علم کے لیے تقلید جامد اس کی نظر میں جائز نہیں۔ اس اصول کی توضیح شیخ نے اپنی متعدد تالیفات میں بتکرار کی ہے۔ شیخ علمی و عملی طور پر خود بھی سختی سے اس اصول کی پیروی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے:
أن العلم لا یقبل الجمود فھو فی تقدم مستمر من خطأ إلی صواب و من صحیح إلی أصح۔ (۲۶)
’’علم جمود کو گوارا نہیں کرتا، وہ ہمہ وقت غلط سے صحیح اور صحیح سے صحیح تر کی طرف گامزن رہتا ہے‘‘۔
اپنی علمی تحقیقات، حد یث کی تخریجات اور تصحیح و تضعیف وغیرہ میں کسی مسلک و مشرب کی پیروی وہ نہیں کرتے، نہ کسی شخصیت سے متاثر ہو کر کوئی رائے قائم کرتے بلکہ ٹھیٹ علمی اصول و ضوابط کی پیروی کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں لکھا ہے:
ومماینبغی أن یذکر بہذہ المناسبۃ أنی لا أقلد أحداً فیما أصدرہ من الأحکام علی تلک الأحادیث و إنما أتبع القواعد العلمیۃ التی وضعھا أھل الحدیث، وصبروا علیھا فی إصدار أحکامھم علی الأحادیث من صحۃ أو ضعف۔ (۲۷)
’’اس مناسبت سے یہ ذکر کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں ان احادیث پر حکم لگانے کے عمل میں کسی کی تقلید نہیں کرتا بلکہ علماء حدیث کے وضع کردہ علمی قواعد و اصول کی پیروی کرتا ہوں جن کی کسوٹی پر انہوں نے احادیث پر صحت و ضعف کا حکم لگایا ہے‘‘۔
مولانا مودودی ؒ اور سید قطب ؒ نے بڑے شدو مد سے دعویٰ کیا ہے کہ أخص خصائص الألوھیۃ الحاکمیۃ یعنی تشریع اور قانون سازی کا حق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اس میں کوئی انسان اس کا شریک ہے نہ کوئی کمیٹی اور تنظیم۔ شیخ اس تشریح کو ناکافی سمجھتے ہیں اور اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’میں کہتا ہوں کہ اکثر تعلیم یافتہ نوجوانوں نے اسلامیات کے ان اسکالروں (اخوانیوں) کے ذریعہ یہ تو جان لیا کہ حاکمیت صرف اللہ کے لیے ہے۔ لیکن ٹھیک اسی وقت ان نوجوانوں میں سے اکثر کو اس کے بعد خیال نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ کے مبدأحاکمیت میں جس مشارک کی نفی کی گئی ہے اس کی بابت اس میں کچھ فرق نہیں کہ اللہ کو چھوڑ کر جس انسان کی پیروی کی گئی ہے وہ مسلمان ہو (جس نے اللہ کے کسی حکم کے اندر غلطی کی ہو) یا کافر ہو (جس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شارع بنا لیا ہو) یا عالم ہو یا جاہل۔ ان میں سے ہر ایک اللہ کے مبدأ حاکمیت کے منافی ہے‘‘۔ آگے مزید لکھتے ہیں: ’’یہ چیز ہے تقلید کو دین بنا لینا اور کتاب و سنت کی نصوص کو تقلید کی وجہ سے رد کر دینا۔‘‘ (۲۸)
۳۔ خبر واحد کی حجیت: عام طورپر اصول فقہ کی کتابوں میں خبر واحد کو ظنی کہا جاتا ہے جس سے گمان ہوتا ہے کہ اس سے کسی قطعی حکم کا ثبوت نہیں ہوتا۔ حضرات حنفیہ اس اصول پر بہت زور دیتے ہیں اور موجودہ زمانے کے بہت سے مسلم مصنفین و مفکرین نے اسے ایک علمی مسلمہ کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ حالانکہ یہ نظریہ اپنے آپ میں نہایت خطرناک ہے۔ پھر بھی عجیب بات ہے کہ اہل علم نے بڑی تعداد میں اس بے اصل رائے کو اختیار کر رکھا ہے۔ خبر واحد کی ظنیت کے نظریہ کی آڑ میں منکرین حدیث اور دیگر متشککین نے پورے ذخیرۂ حدیث کو مشتبہ ومستردکرنے کی نامسعود کوشش کی ہے۔ عالم عرب میں شیخ البانی نے ظنیت کے اس فاسد نظریہ کی پرزور دلائل سے تردید فرمائی۔ اور الحدیث حجۃ بنفسہ فی العقائد و الأحکام لکھ کر ثابت کیا کہ خبر واحد بھی اپنے حکم میں قطعی اور واجب العمل ہے۔ اس کے علاوہ حجیۃ السنۃ کے عنوان سے ایک مدلل مقالہ بھی اسی موضوع پر ارقام فرمایا۔ہندوستان میں راقم کے علم کی حد تک، اس سلسلہ میں بڑی عمدہ اور تحقیقی بحث علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھی رحمہ اللہ نے کی ہے۔ انھوں نے ناقابل تردید دلائل سے ثابت کیا ہے کہ خبر واحد کی ظنیت کا نظریہ غلط اور فاسد ہے اور خبر واحد کو یقینی اورواجب القبول سمجھنے پر صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع تھا۔ ان کی پوری بحث پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ (۲۹)
۴۔ فضائل اعمال میں بھی ضعیف احادیث پر عمل نہیں کرنا چاہیے: متعدد علماء وائمہ اور اکابر محدثین بھی باستثنائے چند فضائل اعمال کی احادیث کے سلسلہ میں تساہل برتتے آئے ہیں۔ تاہم محقق اور فقہاء محدثین اس بارے میں بھی سختی برتتے ہیں۔ شیخ البانی چونکہ ایک مجتہد محدث ہیں اس مسئلہ میں بھی اپنی ایک رائے رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ عبادات، عقائد و احکام، فضائل و مناقب، ترغیب وترہیب، زہد و رقاق غرض دین کے کسی بھی باب میں ضعیف احادیث پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔ یہ رائے بظاہر اجنبی سی لگتی ہے لیکن گہرائی سے جائزہ لینے سے یہی رائے قوی معلوم ہوتی ہے۔ تمام المنۃ علی فقہ السنۃ پر اپنے مقدمہ میں علامہ البانی نے اصول حدیث کے سلسلہ میں بعض نہایت جلیل الشان اور دقیق قواعد بیان فرمائے ہیں۔ ان میں بارہویں قاعدہ کے تحت انھوں نے جو کچھ لکھا ہے ان کے الفاظ میں ملاحظہ ہو:
ترک العمل بالحدیث الضعیف فی فضائل الأعمال: اشتھر بین کثیر من أہل العلم و طلابہ أن الحدیث الضعیف یجوز العمل بہ فی فضائل الأعمال و یظنون أنہ لا خلاف فی ذلک کیف لا؟ والنووی رحمہ اللہ نقل الاتفاق علیہ فی أکثر من کتاب واحد من کتبہ۔ و فیما نقلہ نظر، لأن الخلاف فی ذلک معروف فإن بعض العلماء المحققین علی أنہ لا یعمل بہ مطلقا لافی الأحکام ولا فی الفضائل۔ قال الشیخ القاسمی فی قواعد التحدیث (ص ۹۴): حکاہ ابن سید الناس فی ’’عیون الأثر‘‘ عن یحییٰ بن معین و نسبہ فی فتح المغیث لأبی بکر بن العربی و الظاہر أن مذہب البخاری و مسلم ذلک أیضا.... و ھو مذہب ابن حزم.... قلت: و ہذا ھو الحق الذی لا شک فیہ عندی لأمور۔ (۳۰)
’’فضائل اعمال کے باب میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا: بہت سے اہل علم وطلاب علم کے درمیان یہ نظریہ رواج و شہرت حاصل کر چکا ہے کہ فضائل اعمال کے باب میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے۔ ایسا کیوں کر نہ ہو جبکہ نووی رحمہ اللہ نے اپنی ایک سے زائد کتابوں میں اس سلسلے میں علماء کا اتفاق نقل کیا ہے؟ میں کہتا ہوں کہ نووی رحمہ اللہ نے جو اتفاقِ علماء نقل فرمایا ہے وہ محل نظر ہے کیوں کہ اس باب میں علماء کا اختلاف مشہور و معروف ہے۔ بعض محقق علماء کرام کہتے ہیں کہ ضعیف حدیث پر عمل نہ احکام میں کیاجائے گا اور نہ فضائل اعمال میں۔ شیخ قاسمی نے ’’قواعد التحدیث‘‘ ص۹۴ میں لکھا ہے جسے ابن سید الناس نے ’’عیون الأثر‘‘میں یحییٰ بن معین سے نقل کیا ہے اور فتح المغیث میں ابوبکر ابن العربی سے منسوب کیا ہے، سے یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ اس باب میں بخاری و مسلم رحمہما اللہ کا مسلک بھی یہی ہے.... اور ابن حزم کا بھی یہی.... میرا خیال ہے کہ متعدد وجوہات کی بناء پر یہی حق ہے‘‘۔
اس کے بعد تفصیل سے اپنے دلائل دیئے ہیں۔ اس کے علاوہ ضعیف الترغیب کے مقدمہ میں بھی اس مسئلہ پر تفصیل سے کلام کیا ہے۔ اور اپنی رائے کے متعدد دلائل دیئے ہیں۔ یہاں یہ اشارہ کرنا بھی مناسب ہوگا کہ علامہ البانی رحمہ اللہ کی کتابوں کے مقدمے بھی بے نظیر، دقیق اور مہتم بالشان فوائد و افادات کے حامل ہوتے ہیں۔
علامہ البانی کے فکر و مؤلفات پر عربی میں ان کی زندگی میں ہی کام شروع ہو گیا تھا۔ ان کے تلامذہ ان کے منہج کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ علماء حدیث نے ان کی بعض تحقیقات و تفردات سے اختلاف و تعقب بھی کیا۔ ہندوستانی علماء میں علامہ حبیب الرحمٰن اعظمی نے الألبانی أخطاء ہ و شذوذہ کے نام سے ان کی تحقیقات و آراء سے اختلاف کیا تھا لیکن عجیب بات یہ ہے کہ یہ کتاب ارشد السلفی کے نام سے چھاپی گئی۔ (۳۱) شیخ البانی کی معاصر علماء فقہ و حدیث سے بھی خاصی چشمک اور ردو کد رہی بعض اوقات بات علمی زبان و اسلوب سے نکل کر سخت لب ولہجہ اور شدید تنقید تک پہنچ گئی، فریق مخالف میں مشہور حنفی عالم شیخ زاہد الکوثری رحمہ اللہ اور ان کے تلمیذ شیخ عبد الفتاح ابو غدہ رحمہ اللہ سے علامہ البانی سخت ناراض تھے اور نہایت سخت اسلوب میں ان پر تنقید کرتے تھے۔ شیخ اسماعیل الانصاری سے بھی ان کے اختلافات رہے۔ انصاری نے شیخ کے رد میں تعقب لبعض أغلاط الألبانی کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ شیخ کے بعض ہم مشرب علماء ومحققین حدیث نے بھی شیخ البانی کے منہج تحقیق پر نقد کیا ہے جس کو ملخصاً یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
۱۔ شیخ البانی پر ایک اعتراض یہ ہے کہ وہ تدلیس کے مسئلہ میں زیادہ سختی برتتے ہیں۔ حالانکہ یہ ضروری نہیں کہ جس سند میں عنعنہ کرنے والا مدلس ہو وہ لازماً ضعیف ہی ہو بلکہ اس مسئلہ میں خاصی تفصیل ہے۔
۲۔ یہ بھی اعتراض ہے کہ وہ راویوں کے ایک دوسرے سے سماع پر زیادہ توجہ نہیں دیتے یہ چیز بھی حدیث پر حکم لگانے میں تساہل کا سبب ہے۔
۳۔ زیادۃ الثقۃ کے مسئلہ میں بھی ان کی الگ رائے ہے کہ اس میں انھوں نے بہت زیادہ توسع کا ثبوت دیا ہے اور بہت سے ان زیادات کو قبول کرلیا ہے جنہیں ائمہ حدیث نے شذوذ کے باعث ضعیف قرار دیا ہے۔
۴۔ علت و شذوذ کے مسئلہ میں عدم ترکیز کی بات کہی گئی ہے کہ شیخ بعض روایات کے بارے میں ائمہ متقدمین کے اقوال کی کچھ پرواہ نہیں کرتے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے متعدد ایسی باطل اور منکر احادیث کی تصحیح کر دی ہے جنھیں ائمہ متقدمین نے باطل قرار دیا ہے۔
۵۔ تصحیح احادیث میں تساہل: یعنی یہ کہ شیخ البانی رحمہ اللہ مستور، اسناد منقطع، مدلس اور صدوق سبھی کو شواہد ومتابعات میں قبول کر لیتے ہیں ظاہر ہے کہ یہ بھی تساہل کی بات ہے۔
۶۔ وہ شواہد و متابعات اور طرق ضعیفہ کی کثرت سے حدیث کو تقویت دے دیتے اور حسن قرار دیتے ہیں جبکہ سلف ایسا اسی وقت کرتے ہیں کہ طرق مضبوط ہوں۔
۷۔ شیخ البانی تخریج حدیث میں کبھی کبھی جلدی کر ڈالتے تھے اس عذر سے کہ متعلقہ ادارۂ نشر و اشاعت کام کی جلدی چاہتا ہے۔
۸۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیخ اپنی تحقیق میں تقریب التہذیب پر زیادہ اعتماد کرتے تھے۔ واضح رہے کہ تقریب التہذیب محض مختصر عنوانات کا مجموعہ ہے۔ متقدمین تقریب کی طرف صرف اسی وقت رجوع کرتے ہیں جب ترجیح بین الرواۃ کا معاملہ ہو سلف زیادہ تر مفصل تراجم کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ شیخ البانی پر اعتراض یہ ہے کہ وہ مفصل تراجم کی طرف کم رجوع کرتے تھے۔ یہ اعتراضات جو شیخ کے منہج تحقیق پروارد کیے گئے ہیں راقم سطور کا یہ منصب نہیں کہ وہ ان پراپنی رائے دے۔ حدیث کے ماہرین، اساتذہ اور البانیات کے اسکالرز ہی اس سلسلہ میں بہتر رائے دے سکتے ہیں۔ یہ اعتراضات ہم نے محض امانت علمی کے تحت نقل کر دیئے ہیں۔ شیخ البانی کی تنقیص حاشا و کلا بھی مقصود نہیں ہے۔ یہ تمام اعتراضات صرف شیخ البانی پر ہی نہیں بلکہ تمام ہی متاخرین پر صادق آتے ہیں۔ ودسرے یہ کہ ان انتقادات و اعتراضات سے شیخ کی جلالت علمی پر کوئی حرف نہیں آتا وہ ناصر السنۃ، قامع بدعۃ اور محدث القرن العشرین ہیں۔ جن اعتراضات کی تلخیص ہم نے نقل کی ہے ان کی تفصیل کے لیے انٹرنیٹ پر رجوع کریں: ملتقی أہل الحدیث: الانتقادات علی منھج الشیخ الألبانی رحمہ اللہ منھج المتأخرین۔ (۳۲)
حواشی
۱۔ شیخ البانی رحمہ اللہ کے تفصیلی حالات کے لیے دیکھئے:
الف۔ ابراہیم محمد العلی: محمد ناصر الدین الألبانی رحمہ اللہ، محدث العصر و ناصر السنۃ، دار القلم دمشق، طبعۃ ثانیۃ ۲۰۰۳ء۔
ب۔ محمد بن ابراہیم الشیبانی: حیاۃ الألبانی و آثارہ و ثناء العلماء علیہ۔
ج۔ عبد الباری فتح اللہ مدنی: ترجمہ اردو، صفۃ صلاۃ النبی ﷺ۔ شروع میں مترجم کے قلم سے شیخ کے حالات
نیز انٹرنیٹ پر دیکھیں:
(۱) www.N.eman.com نداء الإیمان عظماء فی الإسلام پر شیخ کی مختصر و مکمل سوانح۔
(۲) www.albany.net موقع الامام محمد ناصر الدین پر نبذۃ مختصرۃ عن سیرۃ الشیخ الألبانی
۲۔ اجماع کو عموماً شرع کے چار ماخذمیں سے ایک سمجھا جا تاہے لیکن یہ واضح رہنا چاہیے کہ اجماع محض اکثریت کی رائے کو نہیں کہاجا سکتا ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کتاب و سنت کے تابع ہو۔ طلاق ثلاثہ اور رکعات تراویح کے بارے میں صحیح احادیث موجود ہیں۔ جبکہ فقہاء اور علماء کی اکثریت دوسری رائے کی حامل ہے۔ یہاں صحیح احادیث کو یہ کہہ کر ناقابلِ عمل نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ وہ اجماع کے خلاف ہے۔ اسی طرح یہ مسئلہ کہ انسان اللہ کا خلیفہ ہے، اکثر مفسرین کرام انسان کو اللہ کا خلیفہ مانتے ہیں لیکن ان کی یہ رائے غلط اور کتاب و سنت کے خلاف ہے۔ اس لیے یہاں بھی اکثریت کے قول کا (بدلیل اجماع) اعتبار نہ ہوگا۔ اجماع کا مأخذ اصولیین سورۂ نساء کی آیت نمبر ۱۱۵(وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ الآیۃ)کو قرار دیتے ہیں۔ تاہم مفسرابن حیان اندلسی نے اس پر شدید نقد کیا ہے: لکھتے ہیں: ’’والآیۃ بعد ہذا کلہ ہی وعید للکفار فلا دلالۃ فیھا علی جزئیات فروع مسائل الفقہ‘‘ (البحر المحیط المجلد الثالث ص۳۵۰)امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا رجحان یہ ہے کہ اجماع صحابہ رضی اللہ عنہمتو حجت ہے، بعد کے لوگوں کا حجت نہیں۔ ماضی قریب کے ایک محقق اسکالر ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے اجماع کے بارے میں اپنے ایک لیکچر میں کہا: ’’اتفاق رائے یا کثرت سے فیصلہ کرنے کے لیے اجماع کی اصطلاح کا بہت ذکر کیا جا تاہے۔لیکن علماء کرام مجھے معاف فرمائیں تو میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اجماع فقط ایک مفروضہ اور افسانہ ہے۔ اس کا کوئی وجود نہیں اور چودہ سو برس میں اجماع کے ذریعہ فیصلہ کا کوئی طریقہ مقرر نہیں کیا گیا‘‘۔’’ غطریف شہباز ندوی: ڈاکٹر محمد حمید اللہ مجدد علوم سیرت‘‘صفحہ ۷۸۔ فاؤنڈیشن فار اسلامک اسٹڈیز نئی دہلی طبع ۲۰۰۳ء۔
۳۔ اصول فقہ کی کتابوں میں بالعموم قیاس کو تیسرا مأخذ شرعی بتایا جاتاہے۔ دور جدید کے بعض فقہاء مثلا شیخ مصطفی زرقاء کہتے ہیں کہ قیاس نہیں بلکہ اجتہاد کہا جانا چاہیے کیونکہ قیاس تو اجتہاد کے وسائل و ذرائع میں سے ایک ہے۔ یہی رائے قوی معلوم ہوتی ہے۔
۴۔ فقہاء محدثین بالعموم اسی طریقہ پر عامل رہے ہیں۔ اس کی علمی تأسیس و تنقیح میں سب سے بڑا حصہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے تلامذہ کا ہے۔ اس مکتبِ فکر کی اساس وہ حدیث صحیح ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: ترکت فیکم شیئین لن تضلوا ما تمسکتم بھما کتاب اللہ و سنتی۔ و لن یتفرقا حتی یردا علی الحوض۔(رواہ الحاکم عن أبی ہریرۃرضی اللہ عنہ صحیح الجامع الصغیر للألبانی رقم ۲۹۳۷)
۵۔ ایک جگہ کہتے ہیں:
خوار از مہجوری قرآں شدی
شکوہ سنج گردش دوراں شدی
اے چوں شبنم برزمین افتندئی
در بغل داری کتاب زندئی
۶۔ البانیہ یوروپ کے خطۂ بلقان میں واقع ہے۔ْ اس کے ایک طرف اٹلی، دوسری طرف یونان اور تیسری طرف جمہوریہ یوگوسلاویہ ہے۔ البانیہ میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد ہے۔ جو ترک نژاد ہیں۔ ماضی میں وہ خلافت عثمانیہ ترکیہ کا حصہ رہ چکا ہے۔
۷۔ تفصیل کے لیے دیکھیں إبراہیم محمد العلی: محمد ناصر الدین الألبانی صفحہ ۱۲، دراستہ و أہم شیوخہ، ناصر الدین بچپن سے مطالعہ کے بہت شوقین تھے، خود اپنے بارے میں لکھا ہے: ’’فی أول عمری قرأت ما یقرأ و مالا یقرأ‘‘ صفحہ ۱۳، آگے اس کی تفصیل بھی دی ہے: ’’أول ما أولعت بمطالعتہ من الکتب: القصص العربیۃ، کالظاہر و عنترۃ، والملک سیف، و ما إلیھا... ثم القصص البولیسیۃ المترجمۃ کأرسین لوبین و غیرھا۔ ثم وجدت نزوعاً إلی القرآت التاریخیۃ‘‘ نفس المصدر ص ۱۵۔ اس کے بعد مجلہ المنار اور الإحیاء کی تحقیق کا قصہ بیان کیا ہے۔ شیخ البانی کے اس متنوع مطالعہ کا فائدہ یہ ہوا کہ زبان و بیان اور طرز و اسلوب بالکل اہل زبان کا ہو گیا۔ ان کی تحریروں میں ادبی لطف بھی ہے اور شجاعت ادبیہ کا مزہ بھی کہیں پر بھی عجمۃ وتکلف کا گمان نہیں ہوتا۔
۸۔ سید رشید رضا شیخ مفتی محمد عبدہ رحمہ اللہ اور ان کے استاذ جمال الدین افغانی رحمہ اللہ کے خوشہ چیں ہیں۔ محمد عبدہ کو الاستاذ الامام کہتے تھے۔ شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ مسلمانوں کی علمی نشاأ ثانیہ کے علمبردار تھے۔ شیخ رشید رضا بھی اسی فکر کے آدمی ہیں۔ البتہ قرآن اور حدیث پر ان کی نظر زیادہ گہری تھی اور یہیں سے سلفیت کی طرف ان کا رجحان ہوا۔ ان کا یہ ذوق برابر ترقی کرتا گیا حتی کہ محی السنۃ اور امام سلفیت کہے جانے لگے۔
۹۔ شیخ ساعاتی رحمہ اللہ نے پہلے مسند احمد کی تبویب فقہی مباحث کے لحاظ سے کی جس کا نام الفتح الربانی فی ترتیب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشیبانی کے نام سے کی پھر اس کی شرح بلوغ الامانی کے نام سے لکھنی شروع کی۔ جس کی ۵ جلدیں شائع ہوگئی ہیں۔ یہ کتاب الصلاۃ تک ہے۔ پھر اس کو شیخ احمد شاکر مصری رحمہ اللہ نے بھی ایڈٹ کیا لیکن ان کا کام بھی ناتمام ہے۔ ہندوستان میں علامہ شبیر احمدازہر میرٹھی (وفات ۲۰۰۵ء) نے اردو میں مسند احمد کی مفصل شرح و تحقیق کا کام کیا۔ جو مسند سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ تک پہنچ گیا۔ یہ جلیل القدر علمی کا م بھی ناتمام رہ گیا۔ صرف پہلا حصہ ہی منظر عام پر آسکا جس کا نام نہایۃ التحقیق شرح مسند ابو بکر الصدیق ہے۔ بقیہ مسودات کی تفصیل حسبِ ذیل ہے: منتھی الآراب شرح مسند عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ۳ جلد۔ مواہب المنان شرح مسند عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ دوجلد، إرشاد الطالب شرح مسند علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ ۵ جلد، نیل المراد شرح مسند طلحۃ الجوادرضی اللہ عنہ ، نیل المرام شرح مسند الزبیر بن العوام رضی اللہ ایک جلد۔ درر الغواص شرح مسند سعد بن أبی وقاص رضی اللہ عنہ۔ یہ سب مسودات ابھی غیر مطبوعہ ہیں اور الماریوں کی زینت بنے ہیں۔ کاش کوئی صاحبِ خیر متوجہ ہو اور یہ منظر عام پر آسکیں )
۱۰۔ حتی إن إدارۃ المکتبۃ الظاہریۃ بدمشق خصصت غرفۃ خاصۃ لہ لیقوم فیھا بأبحاثہ العلمیۃ الخ۔ ملاحظہ ہو نبذۃ مختصرۃ عن سیرۃ الشیخ الألبانی (نیٹ پر) پہلا صفحہ۔ نیز حاشیہ پر ایک نمبر کے تحت مذکور تمام مراجع۔
۱۱۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ حافظ ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ، شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ اور علامہ امیر الصنعانی رحمہ اللہ اور محدثین ہند صدیق بن حسن، شمس الحق عظیم آبادی، عبد الرحمٰن محدث مبارکپوری وغیرہم رحمہم اللہ کی کتابوں سے شیخ البانی رحمہ اللہ نے سلفی منہج فکر اختیار کیا، اور اس کے پر جوش داعی بن گئے۔ انھوں نے اس کی ابتداء اپنے گھر، اقارب اور اساتذہ سے کی، ظاہر ہے کہ یہ بڑی عزیمت و استقلال کا کام تھا۔ ان کے و الد شیخ نوح نجاتی الألبانی مزارات سے استفادہ کے قائل تھے اور اپنے بیٹے کو بھی مقابر و مزارات پر لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ شیخ ناصر الدین نے توحید اور اس کے مسائل کے سلسلہ میں علمی دلائل کے ساتھ اپنے والد سے گفتگو کی۔ مزارات پر صلاۃ کے عدم جواز پر اپنے استاذ شیخ سعید البرھانی سے بات کی۔ اس کے بعد شہر کے دوسرے مشائخ سے وہ ملے، مناقشے کیے۔ اسی بحث و گفتگو کے دوران انھوں نے خود فقہ حنفی کی معتبر کتابوں سے استدلال کرتے ہوئے انبیاء و صالحین کی قبروں پر بنی مساجد میں صلاۃ کو مکروہ تحریمی قرار دیا اور کتاب تحذیر الساجد تالیف کی۔ کتاب میں دو امور پر ترکیز ہے۔ (۱) حکم بناء المساجد علی القبور (۲) حکم الصلاۃ فی ہذہ المساجد۔ ملاحظہ ہو إبراہیم محمد العلی: محمد ناصر الدین الألبانی محدث العصر و ناصر السنۃ ص ۲۲،۲۳۔
۱۲۔ ملاحظہ ہو مقدمہ کتاب الأحادیث الضعیفۃ و الموضوعۃ و أثرھا السئ علی الأمۃ للألبانی۔ المجلد الأول مکتبہ المعارف للنشر و التوزیع ریاض، الطبعۃ الثالثۃ ۲۰۰۰ء۔
۱۳۔ اس کتاب کی تقریبا ۴۹ جلدیں ہیں اور خود البانی صاحب فرماتے ہیں کہ ’’اس کتاب کی تالیف میں میں نے تیس سال سے زیادہ وقت صرف کیا ہے‘‘، اس میں ۱۶ ہزار مسند احادیث آگئی ہیں۔ تخریجِ احادیث میں شیخ البانی رحمہ اللہ عموما اسی کتاب پر اعتماد کرتے تھے۔ ابھی قلمی مسودہ کی شکل میں ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے عبد الباری فتح اللہ مدنی اردو ترجمہ کتاب صفۃ صلاۃ النبی للألبانی رحمہ اللہ ص ۶۳۔ مطبوعہ جمعیۃ أہل الحدیث التعلیمیۃ و الخیریۃ بالھند، دریاباد، یوپی۔
۱۴۔ ملاحظہ ہو وہی مرجع ص ۶۵۔
۱۵۔ پاکستان کے ایک عالم عبد القدوس ہاشمی نے یہ عجیب وغریب دعویٰ کیا کہ مسند احمد امام احمد کی کتاب نہیں ہے۔ اس کی نسبت ان کی طرف درست نہیں۔ اس کے راوی ابو بکر القطیعی عقیدۂ و اخلاق کے اعتبار سے ایک غلط آدمی تھے۔ انھوں نے مسند میں ضعیف و موضوع روایتیں بھر دی ہیں۔ اسی طرح امام احمد کے فرزند عبد اللہ بن احمد رحمہ اللہ نے اس میں اپنی مرویات کا اضافہ کرکے ابو بکر القطیعی کے واسطہ سے انھیں متصل بنا دیا ہے وغیرہ۔ شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ (مفتی کبیر سعودی عرب) کی ایماء پر علامہ البانی رحمہ اللہ نے مذکور عبد القدوس ہاشمی کے ان ہفوات کا رد فرمایا۔ اور ۱۰۱ صفحات پر مشتمل یہ رسالہ دار الصدیق سعودی عرب سے ۱۹۹۹ء میں شائع ہوا۔
۱۶۔ بعض علماء مثلا شیخ عبد الفتاح ابو غدہ وغیرہ نے شیخ کی اس کتاب پر اعتراض کرکے انہیں سفور (بے پردگی) کا علمبردار قرار دیا ہے۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے حجاب اسلامی کی ۸ شرطیں بتائی ہیں:
(۱) استیعاب جمیع البدن إلا ما استثنی (۲) أن لایکون زینۃ فی نفسہ (۳) أن یکون خفیقا لا یشف (۴)أن یکون فضفاضا غیر ضیق (۵) أن لا یکون مبخرا مطیبا (۶) ألا یشبہ لباس الرجال (۷) أن لا یشبہ لباس الکافرات (۸) أن لا یکون لباس شھرۃ۔
ان تمام شرطوں کی کافی ووافی وضاحت فرمائی ہے ۔البتہ انھوں نے چہرہ کے پردہ کو واجب قرا رنہیں دیا اور بڑے شرح و بسط کے ساتھ چہرہ کے پردہ کی حدیثوں پر بحث کی ہے۔ مضبوط علمی دلائل سے جو رائے ان کے نزدیک راجح قرار پائی اس کا اظہار کر دیا ہے۔ شیخ کی اس رائے سے اختلاف بھی کیا گیا ہے۔ تاہم ان کے دلائل کی قوت سبھی تسلیم کرتے ہیں۔
۱۷۔ محمد الغزالی رحمہ اللہ اور د.سعید رمضان البوطی دونوں نے فقہ السیرۃ کے نام سے الگ الگ کتابیں لکھیں ہیں جن کی شیخ نے تخریج کی ہے۔ لیکن دونوں ہی مصنفوں نے شیخ کی متعدد رایوں سے اتفاق نہیں کیا۔ اس سلسلہ میں شیخ کے اور ان کے مابین کافی تلخی بھی ہوئی۔ البوطی کے تعقب میں شیخ البانی نے الگ سے ایک رسالہ بھی لکھا ہے: دفاع عن الحدیث النبوی و الرد علی جھالات الدکتور البوطی فی فقہ السیرۃ۔
۱۸۔ شیخ البانی کی تعقیبات، تنقیدات، ردود و مناظرات کی تعداد تقریباً ۲۴ تک پہنچتی ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ابراہیم محمد العلی: محمد ناصر الدین الالبانی صفحہ ۹۴ تا ۱۱۳۔
۱۹۔ نفس مصدر صفحہ ۲۱ تا ۲۸۔
۲۰۔ فقہ السنۃ مصری عالم اور اخوان المسلمون کے رکن سید سابق رحمہ اللہ نے لکھی ہے جس میں مروجہ مذاہب فقہ کی بجائے سنت کو اصل بنیاد بنایا ہے۔ البتہ متعدد مسائل میں فقہ حنبلی کی طرف مصنف کارجحان بالکل واضح ہے۔ تاہم اس کتاب میں احادیث کی تصحیح و تحقیق میں متعدد فاش غلطیاں راہ پاگئی ہیں جس کی وجہ سے شیخ البانی نے اس کتاب پر تنقیدی نظر ڈالی اور اپنی تعلیقات کو ایک جلد میں جمع کر دیا ہے۔ جس کانام تمام المنۃ ہے۔ تمام المنۃ کے مقدمہ میں ترتیب وار سید سابق کی غلطیاں بیان کی ہیں۔ اس کے علاوہ ۱۵ علمی وتحقیقی قاعدے بھی بیان فرمائے ہیں۔ اس طرح دو سری کتابوں کے مقدموں کے ساتھ تمام المنۃ کا مقدمہ بھی بیش بہا علمی فوائد کا حامل اورخاصے کی چیز بن گیا ہے۔
۲۱۔ شیخ البانی دوبار شام میں قید کیے گئے۔ ایک بار ایک مہینہ تک اور دوسری بار ۶ ماہ تک۔ اس کے بعد رمضان ۱۴۰۰ھ میں دمشق سے عمان کو ہجرت پر مجبور ہوئے لیکن جلد ہی وہاں سے دمشق آنا پڑا۔ اس وقت خطہ کے حالات خاصے مخدوش تھے چنانچہ دمشق سے پھر بیروت گئے۔ بیروت میں زیادہ مدت تک قیام نہ رہ سکا۔ اور وہاں سے امارات آئے۔ امارات میں شیخ کے بعض احباء و تلامذہ نے پر جوش استقبال کیا۔ اور کافی مدت تک امارات میں قیام پذیر رہے اور علمی افادہ کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ امارات کے زمانۂ قیام ہی میں خلیج کی دوسری ریاستوں قطر و کویت وغیرہ میں آنے جانے کے مواقع ملے۔ تین سال سعودی عرب میں آپ کا قیام رہا۔ جب مدینہ میں جامعہ اسلامیہ کی تاسیس ہوئی اور اس کے پہلے صدر اور مملکت کے مفتی اکبر شیخ محمد ابراہیم آل الشیخ کی ایماء پر آپ وہاں تشریف لے گئے اور ۱۳۸۱ھ تا ۱۳۸۳ھ وہیں رہے۔ اور حدیث کی تدریس کے فرائض انجام دیئے۔ وہاں آپ کا عہدہ برصغیر کی اصطلاح میں شیخ الحدیث کا تھا۔ اسی مدت میں آپ کے فکری منہج کی گہری چھاپ جامعہ اسلامیہ مدینہ پر پڑ گئی۔ تاہم اس کے بعد بحکم المعاصرۃ أصل المنافرۃ بعض حاسدوں نے آپ کے خلاف مہم چلائی۔ لہٰذا اس کے بعد شیخ پھر مکتبہ ظاہریہ دمشق لوٹ آئے۔
۲۲۔ وفی عام ۱۴۱۹ھ ۱۹۹۹ء منح الشیخ جائزۃ الملک فیصل العالمیۃ للدراسات الإسلامیۃ وذلک تقدیراً لجھودہ القیمۃ فی خدمۃ الحدیث النبوی تخریجا و تحقیقا و دراسۃ۔ ملاحظہ ہو إبراہیم محمد العلی: محمد ناصر الدین الألبانی محدث العصر و ناصر السنۃ صفحہ ۳۹۔ نیز حاشیہ نمبر ۱ کے تحقیق مذکور تمام مراجع۔
۲۳۔ ابراہیم محمد العلی دکتور: محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ محدث العصر و ناصر السنۃ دار القلم دمشق صفحہ ۴۹-۵۰طبعۃ ۲۰۰۳ء
۲۴۔ ملاحظہ ہو شیخ البانی کا طویل انٹرویو شائع کردہ ماہنامہ ’’التوعیہ‘‘ مرکز ابو الکلام للتوعیۃ الاسلامیہ نئی دہلی نومبر ۱۹۹۵ء۔ انٹرویو کا ترجمہ مولانا رفیق احمد سلفی کے قلم سے۔
۲۵۔ مرجع مذکور عربی شعر کا ترجمہ ہے: تم نجات تو چاہتے ہو لیکن اس کے رستے پر نہیں چلتے ، کشتی خشکی پر چلتی ہے؟
۲۶۔ ملاحظہ ہو: محمد ناصر الدین الألبانی: سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ المجلد الأول مکتبۃ المعارف الریاض للنشر و التوزیع۔ طبع ثانی ۲۰۰۰ء صفحہ ۴۷۔
۲۷۔ مصدر سابق صفحہ ۴۲۔
۲۸۔ محمد ناصر الدین الألبانی: الحدیث حجۃ بنفسہ فی العقائد و الأحکام اردو ترجمہ ’’حجیت حدیث‘‘ بدر الزماں نیپالی صفحہ ۹۰۔
۲۹۔ شبیر احمد ازہر میرٹھی رحمہ اللہ: تقریب المأمول فی أصول حدیث الرسول مقدمہ نھایۃ التحقیق شرح مسند أبو بکر الصدیق جزء اول مکتبہ ازہریہ رائد میرٹھ یوپی صفحہ ۲۸ تا ۳۱۔
۳۰۔ ملاحظہ محمد ناصر الدین الألبانی رحمہ اللہ: مقدمۃ تمام المنۃ فی التعلیق علی فقہ السنۃ طبعۃ جدیدۃ دار الرایۃ للنشر و التوزیع ۱۴۲۲ھ-۲۰۰۱ء القاعدۃ الثانیۃ عشرۃ صفحہ ۳۴۔
۳۱۔ ملاحظہ ہو محمد ناصر الدین الألبانی: الأحادیث الضعیفۃ و أثرھا السیء علی الأمۃ۔ مقدمہ۔ المجلد الأول مکتبۃ المعارف للنشر و التوزیع الریاض طبع ثانی ۲۰۰۰ء۔ نیز مولانا ابو سحبان روح القدس ندوی کا مختصر مقالہ ’’محدث جلیل علامہ محمد ناصر الدین البانی، حیات و خدمات‘‘، مولانا ندوی نے یہ تو لکھا ہے کہ مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ نے الألبانی أخطاء ہ و شذوذہ کے نام سے عربی میں ایک رسالہ تحریر فرمایا ہے۔ جس میں شیخ کے تفردات اور تحقیق کی غلطی کا جائزہ لیا گیا ہے جس سے اہل علم واقف ہیں۔ مگر مولانا ندوی یہ ذکر کرنا بھول گئے کہ عالم عرب میں اس کتاب کو ارشد السلفی کے نام سے شائع کیا گیا تھا۔
۳۲۔ یہ انتقادات اس سائٹ پر ملیں گے:
http://www.ahlulhadeeth.net/cc/vb/showthread.php=616
حزب اللہ کے دیس میں (۲)
محمد عمار خان ناصر
امام اوزاعی نے جبل لبنان کے اہل ذمہ کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں جو ذمہ داری ادا کی، وہ اسلامی تاریخ کی کوئی نادر مثال نہیں ہے۔ اسی نوعیت کی ایک روشن مثال آٹھویں صدی کے عظیم مجدد اور مجاہد امام ابن تیمیہ کے ہاں بھی ملتی ہے۔ امام صاحب کے زمانے میں جب تاتاریوں نے دمشق پر حملہ کر کے بہت سے مسلمانوں اور ان کے ساتھ دمشق میں مقیم یہودیوں اور مسیحیوں کو قیدی بنا لیا تو امام صاحب علما کا ایک وفد لے کر تاتاریوں کے امیر لشکر سے ملے اور اس سے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ تاتاری امیر نے ان کے مطالبے پر مسلمان قیدیوں کو تو چھوڑ دیا، لیکن یہودی اور مسیحی قیدیوں کو رہا نہیں کیا۔ ا س پر امام صاحب نے اس سے کہا کہ :
’’تمھیں ان تمام یہودیوں اور مسیحیوں کو جو ہمارے اہل ذمہ ہیں اور تمھارے قبضے میں ہیں، چھوڑنا ہوگا۔ ہم تمہارے پاس اپنا کوئی قیدی نہیں چھوڑیں گے، خواہ وہ مسلمان ہو یا اہل ذمہ میں سے۔ اہل ذمہ کے وہی حقوق ہیں جو ہمارے ہیں اور ان کے فرائض بھی وہی ہیں جو ہمارے ہیں۔‘‘ (مجموع الفتاویٰ ۲۸/۶۱۷، ۶۱۸)
چنانچہ تاتاری امیر کو یہودی اور مسیحی قیدیوں کو بھی رہا کرنا پڑا۔
عارف حسین نے الشیخ طاہر سلیم کردی سے ہماری ملاقات کا اہتمام بھی کیا تھا جو لبنان کے نائب امین الفتویٰ ہیں۔ یہ ملاقات بیروت شہر کے عین وسط میں واقع بے حد خوب صورت جامع مسجد محمد خاتم النبیین کے ساتھ ان کے دفتر میں ہوئی۔ مسجد ایک چوک میں واقع ہے اور اس کے ارد گرد کا سارا علاقہ بیروت کا بلکہ شیخ کے بیان کے مطابق پورے شرق اوسط کا مہنگا ترین علاقہ ہے اور یہاں جائیداد کی قیمت دوبئی سے بھی زیادہ ہے۔ شیخ کے دفتر کی کھڑکی باہر کی طرف جس سڑک پر کھلتی ہے، شیخ نے بتایا کہ ۷۵ء سے ۹۰ء تک کی خانہ جنگی کے زمانے میں یہ سڑک متحارب فریقوں کے مابین حد فاصل کی حیثیت رکھتی تھی اور سڑک کے مغرب میں واقع علاقہ مسلمانوں کے جبکہ مشرق کی طرف کا علاقہ مسیحیوں کے زیر تصرف تھا۔ دونوں فریق مسلح تھے اور باقاعدہ منظم ہو کر ایک دوسرے کے علاقوں پر حملے کیا کرتے تھے۔ شیخ طاہر سلیم ماشاء اللہ نوجوان، وسیع المطالعہ اور صاحب علم وفضل شخصیت ہیں۔ علم حدیث سے خاص شغف رکھتے ہیں۔ انھوں نے مختلف مشائخ حدیث سے اپنی ملاقاتوں کے واقعات بھی سنائے۔ دوران گفتگو مولانا عاشق الٰہی بلند شہریؒ کا ذکر ہوا تو انھوں نے بڑی محبت اور عقیدت سے بتایا کہ وہ ان کے شاگرد ہیں اور مدینہ منورہ میں ان کی صحبتوں سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔ انھوں نے الشیخ عبد الفتاح ابوغدہؒ کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ شیخ کے انتقال سے کچھ ہی عرصہ پہلے ان کی شیخ سے آخری اور تفصیلی ملاقات ہوئی جسے انھوں نے ویڈیو کیمرے کے ذریعے سے باقاعدہ محفوظ کر لیا۔
شیخ طاہر سلیم نے کہا کہ فرانسیسی حکمرانوں نے اپنے دور انتداب میں مسلمانوں کے ساتھ دو بڑی زیادیاتیاں کیں۔ ایک یہ کہ ان کے تعلیمی ومذہبی اداروں کے اوقاف ضبط کر لیے جو بعد میں مختلف مذہبی گروہوں اور سرکاری تحویل میں چلے گئے۔ مثال کے طورپر انھوں نے بتایا کہ ساحل سمندر کے ساتھ واقع وہ سارا علاقہ جہاں اس وقت بیروت کا ایئر پورٹ قائم ہے اور بلاشبہ اربوں روپے کی ماہانہ آمدن کا ذریعہ ہے، یہ مسلمانوں کے اوقاف میں شامل تھا۔ شیخ نے دوسری زیادتی یہ بتائی کہ فرانس نے جانے سے پہلے یہاں تقسیم اقتدار کا ایسا فارمولا بنایا جس کی رو سے لبنان کی صدارت مستقل طور پر مارونی مسیحیوں کا حق قرار پائی۔ اس کے علاوہ بھی اہم سرکاری مناصب انھی کے پاس ہیں۔ شیخ نے بتایا کہ اب اہل تشیع اقتدار میں اشتراک کے اس فارمولے پر مطمئن نہیں ہیں اور اس تناسب کو بدلنے کے لیے وقتاً فوقتاً آواز بلند کی جا رہی ہے۔ شیخ نے یہ بھی فرمایا کہ لبنان میں مذہبی اور نسلی حوالے سے ایک خاص تناؤ پایا جاتا ہے اور مسلمانوں کو بہرحال بڑی احتیاط اور توازن سے کام لینا پڑتاہے، تاہم اس ماحول میں دعوت اسلام کے بھی بڑے امکانات ہیں اور ہم پر اس ضمن میں بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ شیخ نے لبنان کے اہل سنت کے زیر اہتمام قائم بعض جامعات اور دعوتی اداروں کے متعلق بھی بتایا اور فرمایا کہ اگر ہم وقت نکال سکیں تو وہ ہمیں ان اداروں کا وزٹ کرانے کا اہتمام کر سکتے ہیں، لیکن ہمارے تربیتی کورس کا پہلے سے طے شدہ شیڈول اس میں بھی مانع رہا اور کوئی صورت نہ بن سکی۔ شیخ طاہر سلیم سے ملاقات جتنی مفید اور معلومات افزا تھی، افسوس ہے کہ اتنی ہی مختصر بھی رہی۔ وہ اپنی مصروفیات میں سے خاص طور پر وقت نکال کر ہماری ملاقات کے لیے مسجد محمد میں تشریف لائے تھے اور اس کے بعد بھی انھیں کہیں جانا تھا۔ چنانچہ ہم عشا کی نمازپڑھ کر ان سے رخصت ہوئے۔
بیروت کے بعض حصوں کو دیکھنے کی تقریب ایران سے آئے ہوئے شیعہ عالم الشیخ محمد ابراہیمی نے پیدا کی۔ ریڈ کراس کے زیر اہتمام بین الاقوامی انسانی قانون سے متعلق تربیتی کورس کے لیے ہمیں بیروت کے محلے حازمیہ کے ایک مشہور اور معیاری ہوٹل فندق روتانا میں ٹھہرایا گیا تھا۔ حازمیہ مسیحی آبادی کا علاقہ ہے۔ میں نے ۲۸؍ مارچ کو ہوٹل میں پہنچتے ہی استقبالیہ سے معلوم کیا کہ یہاں قریبی مسجد کون سی ہے تو جواب ملا کہ مسجد یہاں سے خاصے فاصلے پر ہے اور شاید ٹیکسی لے کر وہاں جانا پڑے گا۔ خیر میں عصر کی نماز کے بعد باہر نکلا اور خاصی دور تک سڑکوں پر گھوم پھر کر مسجد تلاش کرتا رہا، لیکن واقعتا قریب میں کوئی مسجد نہیں تھی، البتہ ایک آدھ گرجا ضرور دکھائی دیا۔ اگلے دن فجر کے وقت مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے ہوٹل کے عقب میں دور سے کہیں اذان کی مدھم سی آواز آ رہی ہے۔ خیر میں نے ڈاکٹر عصمت اللہ صاحب کے کمرے میں ان کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنا شروع کر دی۔ ایک دو روز کے بعد قاری محمد حنیف جالندھری بھی پہنچ گئے اور پھر باقی ایام کے لیے وہی ہمارے مستقل امام قرار پائے۔ ہمارے قیام کے دوران میں دو جمعے آئے اور اہل عرب کو خطبہ جمعہ سنانے اور نماز کی امامت کرانے کا اعزاز باری باری قاری محمد حنیف صاحب اور ڈاکٹر عصمت اللہ صاحب کو ملا۔ قاری محمد حنیف صاحب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جوامع الکلم پر مشتمل وہ جامع خطبہ پڑھا جو برصغیر میں عام طور پر جمعہ کے موقع پر پڑھا جاتا ہے جس سے حاضرین بہت متاثر ہوئے اور متعدد حضرات نے ایسا فصیح وبلیغ اور جامع خطبہ پڑھنے پر انھیں داد دی۔ جمعے کی نماز سے فارغ ہوتے ہی بیشتر حضرات نے وہیں جمع بین الصلاتین کرتے ہوئے عصر کی نماز بھی ادا کرنا چاہی۔ قاری محمد حنیف صاحب نے حنفی فقہ کے مطابق معذرت کر لی تو امامت کے لیے ڈاکٹر عصمت اللہ صاحب کو آگے کر دیا گیا۔ بعد میں ایک موقع پر حالت سفر میں نماز قصر کرنے کا ذکر ہوا تو ڈاکٹر صاحب نے ایک عرب دوست کو بتایا کہ ہم حنفی ہیں اور احناف کے نزدیک پندرہ دن سے کم مدت سفر میں نماز قصر کی جاتی ہے۔ قاری حنیف صاحب تاک میں تھے۔ انھوں نے فوراً پھبتی کسی کہ ڈاکٹر صاحب مدت سفر کے معاملے میں تو حنفی ہیں لیکن جمع بین الصلاتین کے معاملے میں نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ان کی رائے میں جمع بین الصلاتین کے جواز پر احادیث میں مضبوط دلائل موجود ہیں، اس لیے وہ حنفی ہونے کے باوجود اس مسئلے میں دوسرے ائمہ کی راے کو زیادہ درست سمجھتے ہیں۔ راقم کی رائے میں بھی یہی موقف اقرب الی الصواب ہے، چنانچہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے حنفی ہونے کے باوجود دوسرے بہت سے مسائل کی طرح اس مسئلے میں بھی شوافع وغیرہ کے موقف کو ترجیح دی ہے۔ (ازالۃ الخفاء ۲/۹۵)
خیر ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ہم جس علاقے میں ٹھہرے ہوئے ہیں، وہ مسیحی آبادی کا ہے، چنانچہ تین چار روز تک ہم آپس میں اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے رہے کہ یہاں کے مسلمان دین سے کس قدر لا تعلق ہیں کہ پورے محلے میں کہیں کوئی مسجد نہیں ہے۔ ادھر ایران سے آئے ہوئے الشیخ محمد ابراہیمی اپنے طور پر ہوٹل سے خاصے فاصلے پر اہل تشیع کی ایک دو مسجدیں تلاش کر چکے تھے۔ ایک دن باہمی گفتگو میں مسجد کا ذکر ہوا تو انھوں نے بتایا کہ انھیں مسجد کا راستہ معلوم ہے اور وہ روزانہ ایک آدھ نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے وہیں جاتے ہیں۔ چنانچہ اس دن ہم عصر کے بعد اکٹھے نکلے اور شیخ کی راہ نمائی میں ایک مسجد جا پہنچے۔ ہماری خوش گمانی تھی کہ شاید یہ اہل سنت کی کوئی مسجد ہوگی۔ مسجد کے قریب پہنچے تو کوئی نوجوان لاؤڈ اسپیکر پر نہایت خوش الحانی سے قرآن مجید کی تلاوت کر رہا تھا اور ذرا فاصلے سے ہی اس کی آواز کانوں میں رس گھول رہی تھی، لیکن قریب جا کر دیکھا تو وہ اہل تشیع کی مسجد نکلی۔ اب شیخ ابراہیمی ساتھ تھے اور ہمارے لیے ’پاے رفتن نہ جاے ماندن‘ کی صورت حال تھی۔ بہرحال مغرب کی نماز میں ابھی کچھ وقت تھا۔ قاری محمد حنیف صاحب نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ابھی خاصا وقت ہے، اس لیے آگے کسی اور مسجد کی طرف چلتے ہیں۔ شیخ ابراہیمی بھی سادہ پرکار تھے، ہمیں لے کر آگے چل دیے اور تھوڑی ہی دور واقع مسجد الحسنین میں لے گئے جو لبنان کے سب سے بڑے شیعہ عالم اور مرجع الشیخ حسین فضل اللہ کی مسجد ہے جنھیں ان کے علمی مقام ومرتبہ اور تصنیفی وتحقیقی خدمات کی وجہ سے پوری شیعی دنیا میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ پتہ چلا کہ علامہ حسین فضل اللہ خود تو ان دونوں خاصے علیل ہیں اور نماز کی امامت اور خطبہ جمعہ وغیرہ کی ذمہ داری ان کے صاحبزادے کے سپرد ہے۔ (اخباری اطلاع کے مطابق گزشتہ دنوں ان کا انتقال ہو گیا ہے۔)
مسجد الحسنین ایران اور عراق کے مخصوص شیعہ طرز تعمیر کے مطابق بنائی گئی بے حد خوب صورت، شاندار اور وسیع مسجد ہے اور حسن انتظام، صفائی ستھرائی اور خوش سلیقگی کا بہت عمدہ نمونہ پیش کرتی ہے۔ ہم نے یہاں زندگی میں پہلی مرتبہ کسی شیعہ عبادت گاہ میں شیعہ امام کے پیچھے نماز مغرب ادا کی۔ میں صف میں کھڑا ہوا تو محسوس ہوا کہ میرے اور دائیں اور بائیں کھڑے نمازیوں کے مابین خاصا فاصلہ ہے، چنانچہ میں نے ایک طرف کے نمازی کے قریب ہو کر دوسری طرف کھڑے صاحب کو اشارہ کیا کہ وہ ساتھ ہو جائیں، لیکن انھوں نے کوئی توجہ نہ دی۔ اس پر دوسری طرف کے صاحب نے مجھے کہا کہ آپ واپس اپنی جگہ پر چلے جائیں۔ میں نے ذرا توجہ سے دائیں بائیں دیکھا تو پوری صف کی صورت حال یہ تھی کہ ہر نمازی مصلے پر بنی ہوئی محراب کی جگہ پر کھڑا تھا اور ہر دو نمازیوں کے مابین اتنی جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی کہ مجھ جیسا دبلا پتلا نمازی وہاں آسانی سے کھڑا ہو سکتا تھا۔ خیر نماز شروع ہوئی۔ طریقہ نماز یہ تھا کہ تکبیر تحریمہ لے کر سلام تک رکوع وسجود اور قومہ وجلسہ کی تسبیحات اور دعاؤں سمیت ساری نماز جہری تھی۔ امام صاحب نے اللہ اکبر کہتے ہی فوراً سورۂ فاتحہ کی تلاوت شروع کر دی۔ نماز کے ہر رکن میں ’’اللہم صل علی محمد وآل محمد‘‘ کا ورد کیا گیا، جبکہ دوسری یا تیسری رکعت میں دعاے قنوت بھی پڑھی گئی۔ آخر میں ایک سلام سے نماز ختم کی گئی اور شیعہ حضرات کے مخصوص طریقے کے مطابق بار بار ہاتھ اٹھا کر رفع یدین کیا گیا۔ سلام پھرنے کے بعد ہر آدمی نے دائیں بائیں نمازیوں سے مصافحہ کیا۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہوئی کہ جیسے ہی امام صاحب تیسری رکعت میں سجدے سے اٹھ کر تشہد کے لیے بیٹھے، میری بائیں جانب کھڑے صاحب، جو ابتدا سے نماز میں شریک تھے، امام صاحب کے سلام پھیرنے سے پہلے ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک رکعت مزید شامل کر کے چار رکعتیں مکمل کر لیں۔ پھر یہ محسوس کرتے ہوئے کہ میں یہاں نووارد اور شیعہ طریقہ نماز سے ناواقف ہوں، انھوں نے میرے سامنے باقاعدہ وضاحت کی کہ میں مغرب کی نماز پہلے پڑھ چکا ہوں اور یہ میں نے عشا کی نماز ادا کی ہے۔
بہرحال یہ تجربہ دلچسپ رہا۔ میرے ذہن میں اس سے پہلے شیعہ اور سنی طریقہ نماز کا نمایاں فرق یہی تھا کہ اہل سنت عام طور پر ہاتھ باندھ کرنماز پڑھتے ہیں اور شیعہ ہاتھ کھلے چھوڑ کراور یہ کہ وہ سجدے کے لیے ٹھیکری یا لکڑی کا کوئی ٹکڑا سامنے رکھ لیتے ہیں۔ (مسجد الحسنین میں، میں نے بعض لوگوں کو ٹشو پیپر پر سجدہ کرتے ہوئے بھی دیکھا۔) لیکن یہاں تو معاملہ وہ نکلا کہ:
مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا
شیعہ امام کے پیچھے نماز کا ارتکاب کرنے کے بعد ہم تینوں سنی اکٹھے ہوئے تو باہم مشورہ ہوا کہ نماز ہو گئی ہے یا نہیں؟ قاری محمد حنیف صاحب نے بتایا کہ انھوں نے نماز دہرا لی ہے، جبکہ ڈاکٹر عصمت اللہ نے کہا کہ وہ اس کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ بعد میں الشیخ طاہر سلیم کردی سے ملاقات میں ہم نے ان سے مسجد الحسنین میں نماز مغرب کی ادائیگی کا ذکر کیا اور پوچھا کہ شیعہ کے پیچھے نماز ادا ہو جاتی ہے یا نہیں؟ انھوں نے کہا کہ یہاں لبنان میں معمول یہی ہے کہ اہل سنت، شیعہ کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ ہم نے پوچھا کہ معمول سے ہٹ کر اصولی طور پر اس کی گنجائش ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں شیخ نے مالابار کے ایک معروف شافعی فقیہ کی کتاب ’’فتح المعین‘‘ کی یہ عبارت سنائی کہ: ’وتجوز الصلاۃ خلف الرافضی اذا لم یصرح بما یکفر بہ وکانت ارکانہا توافق ارکاننا‘ یعنی اگررافضی اپنے کفریہ عقائد کا برملا اظہار نہ کرتا ہو اور اس کی نماز کے بنیادی ارکان ہماری نماز کے ارکان کے مطابق ہوں تو اس کے پیچھے نماز ادا ہو جائے گی۔ مجھے یاد آیا کہ امام ابن تیمیہ نے بھی، جو اسلامی تاریخ میں شیعہ سنی علمی نزاعات کے حوالے سے اہل سنت کے شاید سب سے ممتاز وکیل ہیں، اپنے فتاویٰ میں روافض کے گمراہ کن اور کافرانہ عقائد پر سخت ترین تبصرے کرنے کے باوجود رافضی امام کی اقتدا میں نماز کو جائز قرار دیا ہے، بلکہ اس بات کو اہل سنت کے مقابلے میں گمراہ فرقوں کی خصوصیت شمار کیا ہے کہ وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے فرقے کے امام کے پیچھے نماز ادا کرنے کو جائز نہیں سمجھتے۔
شیخ محمد ابراہیمی جامعہ شہید بہشتی قم میں استاذ اور متعدد علمی کتابوں کے مصنف ہیں۔ نہایت سادہ، نرم خو اور مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کا جھکاؤ اہل تشیع کے طبقہ اصولیین کی طرف تھا، چنانچہ وہ بار بار قرآن اور اس کے بعد عقل کی اہمیت پر زور دیتے اور ان کے مقابلے میں اخبار وروایات کو زیادہ اہمیت نہ دینے پر اصرار کرتے تھے، بلکہ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ شیعہ اصول فقہ میں عقل کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اور ایک مجتہد اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے براہ راست نصوص سے استنباط کا اصولی طور پر اختیار رکھتا ہے، لیکن اہل تشیع کے مراجع بھی اب اس اصول سے عملاً کام نہیں لیتے اور تقلیدی منہج پر ہی فتوے جاری کرتے رہتے ہیں۔ شیخ ابراہیمی سے مختلف مسائل پر تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ خلافت وامامت کے موضوع پر بات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ یہ ایک اجتہادی اور سیاسی نوعیت کا اختلاف تھا۔ صحابہ کی اکثریت نے یہ سمجھا کہ حضرت ابوبکر اس منصب کے زیادہ حق دار ہیں اور انھوں نے انھیں خلیفہ منتخب کر لیا۔ جہاں تک روحانی فضیلت کا تعلق ہے تو تصوف کے زیادہ تر سلسلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ اپنی نسبت سیدنا علی کے واسطے سے جوڑتے ہیں جس کامطلب یہ ہے کہ اس معاملے میں حضرت علی کی افضلیت کو اہل سنت بھی تسلیم کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ مستند شیعہ اکابر کی تصریحات اس کے برعکس ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا علی کی بیعت نہیں کی، انھوں نے ارتداد کا ارتکاب کیا۔ شیخ نے اس کا دلچسپ جواب دیا اور کہا کہ ایسی عبارات میں ’ارتدوا‘ کا لفظ تردد اور اشتباہ کے معنی میں ہے، یعنی صحابہ کو اشتباہ لاحق ہو گیا اور وہ تردد میں پڑ گئے کہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کریں۔ تحریف قرآن کے حوالے سے شیخ نے کہا کہ اہل تشیع اس کے قائل نہیں اور موجودہ قرآن کو ہی اصل اور مکمل قرآن مانتے ہیں، بلکہ انھوں نے ایک دلچسپ بات یہ کہی کہ عام طور پر علامہ نوری طبرسی کی کتاب ’’فصل الخطاب‘‘ کو اس بات کی دلیل کے طورپر پیش کیا جاتا ہے کہ شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں، جبکہ مصنف نے یہ کتاب اس کے برعکس یہ ثابت کرنے کے لیے لکھی ہے کہ قرآن میں تحریف نہیں ہوئی۔ (حالانکہ مصنف نے کتاب کی تمہید میں صراحتاً اپنا مقصد ’’اثبات تحریف‘‘ بیان کیا ہے۔)
ایک دن کھانے کی میز پر ان سے جمع بین الصلاتین کے مسئلے پر بات ہوئی۔ میں نے شیخ ابراہیمی سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نماز کے پانچ اوقات مقرر کیے ہیں اور عام معمول میں ہر نماز اپنے اپنے وقت میں ہی ادا کی ہے تو پھر شیعہ حضرات ظہرین اور مغربین کو جمع کیوں کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک حدیث میں حالت حضر میں کسی عذر کے بغیر بھی آپ کے جمع بین الصلاتین کرنے کا ذکر ہوا ہے۔ ان کا اشارہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی اس مشہور حدیث کی طرف تھا جس میں من غیر خوف ولا مطر نمازیں جمع کیے جانے کا ذکر ہوا ہے۔ ڈاکٹر عصمت اللہ نے کہا کہ: ولکن ہذا الحدیث لم یاخذ بہ احد من الفقہاء (اس حدیث کو فقہا میں سے کسی نے بھی اختیار نہیں کیا)۔ اس پر شیخ نے برجستہ جواب دیا: نحن اخذنا بہ (ہم نے اختیار کیا ہے)۔ البتہ اس بات کا کوئی تشفی بخش جواب ان سے نہ مل سکا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر عذر کے ہی سہی، حضر میں جمع بین الصلاتین کرنے کا واقعہ ایک آدھ مرتبہ کا ہے تو پھر اہل تشیع کے ہاں اسے ایک مستقل معمول کی حیثیت سے کیوں اختیار کر لیا گیا ہے۔ بہرحال شیخ ابراہیمی کے حسن طبیعت کی وجہ سے ان سے بے تکلفی کا تعلق بن گیا اور عمر کے باہمی تفاوت کے باوصف ہم ان کے ساتھ مزاح بھی کرتے رہتے تھے جس کا انھوں نے بالکل برا نہیں منایا۔
بیروت میں دو ہفتے کے قیام کے دوران میں پہلی مرتبہ فصیح کتابی عربی سے ہٹ کر اس عامیانہ زبان سے واسطہ پڑا جس کے قصے اور لطائف اس سے پہلے بالواسطہ سننے میں آتے تھے۔ تربیتی کورس کے بیشتر محاضرات عربی زبان میں جبکہ چند ایک انگریزی زبان میں تھے جس کے لیے فوری عربی ترجمے کا انتظام کیا گیا تھا۔ زیادہ تر ماہرین نے فصیح عربی میں گفتگو کی اور ان کا مدعا سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی، تاہم مصر اور لبنان کے بعض حضرات کی زبان پر عامی لہجہ اتنا پختہ ہو چکا تھا کہ ایک علمی موضوع پر بات کرتے ہوئے بھی انھیں فصیح لہجے میں گفتگو کرنے میں دقت پیش آتی تھی۔ ڈاکٹر عصمت اللہ صاحب نے تو سترہ اٹھارہ سال سعودی عرب میں گزارے ہیں، اس لیے انھیں عامی لہجے سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی، تاہم ہمارے لیے ان حضرات کی گفتگو میں اکثر ’’زبان یار من عامی ومن عامی نہ می دانم‘‘ کی صورت حال پیدا ہو جاتی تھی۔ ڈاکٹر عصمت اللہ نے مختلف مواقع پر دو تین مرتبہ فاضل محاضر کو روک کر درخواست کی کہ بعض حضرات عامی لہجہ نہیں سمجھ سکتے، اس لیے ازراہ کرم فصحی میں گفتگو کی جائے۔ فاضل محاضر نے کہا کہ اچھا، میں کوشش کرتا ہوں، لیکن چند منٹ کے بعد بے ساختہ ان کی پٹڑی بدل جاتی اور وہ عامی لہجہ بولنا شروع کر دیتے۔ اس پر مجھے زمانہ طالب علمی کا ایک لطیفہ یاد آ جاتا۔ ۱۹۸۹ء میں، میں مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ میں درجہ رابعہ کا طالب علم تھا۔ شرح جامی کے نصف اول کی تدریس مولانا قاضی حمید اللہ خان کرتے تھے جبکہ نصف ثانی مولانا سید عبد المالک شاہ صاحب کے سپرد تھا۔ کلاس میں اکثریت پٹھان طلبہ کی تھی جبکہ ایک آدھ پنجابی طالب علم بھی تھا۔ سید عبد المالک شاہ صاحب ہماری رعایت سے اردو میں سبق پڑھانا شروع کرتے، لیکن تھوڑی دیر کے بعد انھیں محسوس بھی نہ ہوتا اور وہ پشتو بولنا شروع کر دیتے۔ کچھ وقت گزرنے پر انھیں تنبہ ہوتا تو وہ فرماتے، ’’او ہو، میں پشتو بول رہا ہوں‘‘۔ یہ کہہ کر وہ دوبارہ اردو میں تقریر شروع کرتے، لیکن یہ سلسلہ جاری رہتا۔
میں نے یمن کے الدکتور احمد سے کہا کہ مجھے مصری اور سوری لہجے سمجھنے میں کافی دقت پیش آتی ہے اور بعض اوقات لگتا ہے کہ ہم کوئی بالکل نئی زبان سیکھ رہے ہیں (انہ بمثابۃ تعلم لغۃ جدیدۃ تماما)۔ اس پر وہ بہت ہنسے اور کہا کہ بعض اوقات خود ہمیں بھی یہ لہجے سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے۔ بہرحال دو ہفتے کی مدت میں اس عامی عربی کے جو موٹے موٹے صرفی ونحوی قاعدے یا بے قاعدگیاں میری سمجھ میں آ سکیں، وہ یہ ہیں:
مضارع کے صیغوں پر باے جر داخل کرنا معمول ہے، مثلا: تَتَکلمُ کو بِتتکلمُ اور تشتری کو بِتشتری پڑھتے ہیں۔
حرف جر کے معمول اور مضاف الیہ پر جر کے بجائے رفع یا نصب پڑھا جاتا ہے، مثلاً: فی حدُّ ذاتُہُ، علی زیادۃُ وزنُہُ۔
’کُلُّہا‘ یا اس طرح کی تاکیدات میں متبوع کے اعراب کی موافقت کے بجائے ہر جگہ نصب پڑھتے ہیں۔ (الشیخ طاہر سلیم کردی نے گفتگو کرتے ہوئے اسی عادت کے مطابق دو تین دفعہ ’کُلَّہا‘ کہا لیکن پھر فوراً متنبہ ہو کر اعراب درست کیا اور مجلس میں موجود ایک نوجوان فاضل الاستاذ خلیل عجینہ کی طرف اشارہ کر کے، جو عربی ادب میں ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں، کہا کہ: ’ہو یحاسبنا علی ذالک‘ یعنی وہ اس طرح کی غلطیوں پر ہمارا محاسبہ کرتے ہیں)۔
نحن کو اِحنا بولا جاتا ہے اور کیف انت کو کیفک۔ اسی طرح إِنّہ اور أَنّہ کو مخفف کر کے إِنّو اور أَنّو پڑھا جاتا ہے اور الذی اور التی نے إِلِّی کی شکل اختیار کر لی ہے۔
مصری لہجے میں جیم مستقلاً گاف پڑھی جاتی ہے جبکہ ثاء کا تلفظ عامی زبان میں مستقلاً تا کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ قاف کو کبھی گاف سے اور کبھی ہمزہ سے بدل دیا جاتا ہے۔ مثلا یقول کو یگول یا یؤل پڑھا جائے گا۔ دلچسپ صورت حال ’دقائق‘ جیسے الفاظ میں پیدا ہوتی ہے جب وہ اس کو ’دء ائی‘ پڑھتے ہیں۔
لام تعریف کے ہمزہ وصل کو ملا کر پڑھنے کا کوئی تصور نہیں اور ہر کلمے کو الگ الگ ادا کیا جاتا ہے۔ مثلاً الاعترافُ الاقلیمیُّ بشرعیۃِ المُقاومۃِ الاِسْلامیَّۃ کو یوں پڑھا جائے گا: أَلإِعترافْ أَلْإِقلیمی بِشرعیۃْ أَلمُقاومۃْ أَلِاسلامیَّۃْ۔ اس میں غالباً اس پہلو سے سہولت ہے کہ ہر کلمے کا اعراب ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
تائے مدورہ والے ہر کلمے میں تا سے پہلے والے حرف پر کسرہ پڑھا جاتا ہے، مثلاً اللَّجنَۃُ الدَّولیَّۃُ کو اللَّجنِۃْ الدَّولیِّۃْ پڑھا جائے گا۔
’لِیْہ؟‘ یہ ’’کیوں‘‘ کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ دراصل لام تعلیل، اس کے بعد یاے اشباع اور آخر میں ہاے سکتہ سے مرکب ہے۔
’بس‘ کا لفظ بالکل اردو مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے، مثلاً: بس عشرۃ دقائق (بس دس منٹ)۔
الدکتور احمد ابو الوفا اپنی گفتگو میں بار بار ’خَدَّ لَکَ‘ کا لفظ بول رہے تھے۔ میں نے ڈاکٹر عصمت اللہ سے اس کا مطلب پوچھا تو انھوں نے کہا کہ غالباً یہ ’خُذْ بَالَکَ‘ (ذرا دھیان کرو) کا مخفف ہے۔
عربوں کے پھیکے اور ابلے ہوئے کھانے چکھنے کا بھی زندگی میں پہلی مرتبہ موقع ملا۔ غالباً مولانا مودودی نے کسی مغربی ملک کے سفر سے واپسی پر یہ تبصرہ کیا تھا کہ وہاں کی ہر چیز پھیکی ہے، یہاں تک کہ عورتیں بھی۔ بیروت میں یہ شکایت صرف کھانے کے بارے میں کی جا سکتی ہے۔ اسلامی تاریخ کے کسی معروف ماخذ میں یہ واقعہ پڑھنا یاد ہے کہ جب مسلمانوں نے بلاد شام کو فتح کیا تو ان کے امیر لشکر کی طرف سے سیدنا عمر کے نام یہ درخواست بھیجی گئی کہ مجاہدین کو یہاں کی خواتین کے حسن نے متاثر کیا ہے اور وہ آپ سے ان کے ساتھ شادی کی اجازت کے متمنی ہیں۔ کیا بھلا زمانہ تھا! البتہ یہاں حسن زن کے تجارتی استعمال کا رنگ وہی ہے جو ایک جدید مغرب زدہ معاشرے میں ہو سکتا ہے اور یہاں کی سڑکوں اور تجارتی پلازوں میں گھومتے ہوئے جگہ جگہ ایسی بے ہودہ اور واہیات تصویروں پر مشتمل سائن بورڈ نظر آتے ہیں جو نگاہوں کو شرم سے بے اختیار جھکنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ آداب طعام سے متعلق ایک خاص بد مذاقی جس کا مشاہدہ اپنے ملک میں ہوتا رہتا ہے، یہاں بھی دکھائی دی۔ بے حد تعلیم یافتہ اور مہذب لوگوں کو بھی دیکھا کہ کھانے کی پلیٹ خوب اچھی طرح بھر کر لے آئے اور پھر تقریباً آدھا کھانا پلیٹ میں ضائع ہونے کے لیے چھوڑ کر کوئی اور چیز لینے کے لیے چلے گئے۔ ڈاکٹر عصمت اللہ صاحب نے بتایا کہ یہ عربوں کا عام مزاج ہے اور عرب دنیا کے کھاتے پیتے لوگوں میں یہ منظر ہر جگہ دکھائی دیتا ہے۔
بیروت میں مجھے خاص طور پر یہ بات جاننے کا تجسس بھی رہا کہ یہاں کے اہل تشیع کا رویہ اہل سنت کے مذہبی احساسات وجذبات اور ان کی محترم مذہبی شخصیات کے بارے میں کیسا ہے۔ مسجد الحسنین کے باہر اہل تشیع کے ایک مکتبے پر میں کچھ دیر کتابوں کی ورق گردانی کرتا رہا۔ ایک کتاب کسی شیعہ عالم نے اہل سنت اور اہل تشیع کے مابین نزاعی مسائل کے بارے میں مناظرانہ اسلوب میں لکھی تھی۔ مناظرے کا مزاج اور نفسیات بھی عجیب ہوتی ہے۔ سیدنا عمر پر کیے جانے والے اعتراضات میں سے ایک اعتراض یہ تھا کہ صلح حدیبیہ تک ان کا ایمان پختہ نہیں ہوا تھا، کیونکہ اس موقع پر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی وجہ سے اسلام کی حقانیت کے حوالے سے سنگین شکوک وشبہات کا شکار ہو گئے تھے۔ اب اگر اس واقعے کو اس کے حقیقی تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر سیدنا عمر کے تحفظات اور شبہات دراصل ان کے ایمان واسلام کی غیر پختگی نہیں بلکہ اس کے ساتھ شدید جذباتی تعلق کا نتیجہ تھے اور وہ مشرکین مکہ کے ساتھ کسی بھی درجے کی مصالحت کو دینی غیرت کے منافی سمجھتے تھے، چنانچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ: ’لم نعطی الدنیۃ فی دیننا؟‘ یعنی ہم اپنے دین کے معاملے میں ایک کمزور پوزیشن کیوں قبول کر رہے ہیں۔ یہ مناظرانہ نفسیات کا کمال ہے کہ ان کے اس رد عمل کو وہ مفہوم پہنا لیا جائے جو مذکورہ شیعہ مصنف نے پہنایا ہے۔ بہرحال اس نوع کی مناظرانہ بحثوں سے قطع نظر، میں نے اس ضمن میں شام اور لبنان سے تعلق رکھنے والے جن مختلف حضرات سے صورت حال دریافت کی، ان سب کا جواب یہی تھا کہ یہاں اہل سنت کو شیعہ حضرات سے خلفاے ثلاثہ یا امہات المومنین کے بارے میں سب وشتم کے طرز عمل کی شکایت نہیں ہے۔ شیخ طاہر سلیم سے اس مسئلے پر بات ہوئی تو انھوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔ ’’ماذا تعرف عن حزب اللہ‘‘ کے عنوان سے علی الصادق کی لکھی ہوئی ایک کتاب میں بھی جو انٹرنیٹ پر عام دست یاب ہے اور جس میں حزب اللہ کے شیعی تشخص کا پہلو دلائل وشواہد کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے، یہ کہا گیا ہے کہ :
’’وہ کسی ایسے امر کا اظہار نہیں کرتے جس سے اہل سنت کے جذبات کو ٹھیس پہنچے (اور ایسا وہ تقیہ کے طور پر کرتے ہیں)، بلکہ وہ صرف مسلمانوں کی وحدت اور قابض یہودیوں کے خلاف جنگ کی بات کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کا لیڈر حسن نصر اللہ بھی اہل سنت اور شیعہ امامیہ کے مابین نزاعی مسائل میں الجھنے سے گریز کرتا ہے۔‘‘ (ص ۱۳۳)
بیروت سے میں نے جو مختلف کتابیں اور رسائل خریدے، ان میں ایک رسالہ مصر کے فاضل محقق الاستاذ محمد سلیم العوا کا ہے جو ’العلاقۃ بین السنۃ والشیعۃ‘ کے نام سے قاہرہ کے اشاعتی ادارے سفیر الدولیۃ للنشر نے شائع کیا ہے۔ مصنف نے اس کے صفحہ ۴۶، ۴۷ پر ڈاکٹر علی جمعہ کے حوالے سے، جو پہلے مصر کے مفتی عام تھے اور اب شیخ طنطاوی کی وفات کے بعد جامعہ الازہر کے سربراہ ہیں، بتایا ہے کہ کچھ عرصہ قبل بیروت کے ایک شیعہ ناشر نے معروف شیعہ عالم علامہ مجلسی کی ضخیم کتاب ’’بحار الانوار‘‘ شائع کی تو اس میں سے پوری پانچ جلدیں (۲۹ تا ۳۳) حذف کر دیں اور ڈاکٹر علی جمعہ کے دریافت کرنے پر بتایا کہ ان جلدوں میں ایسا مواد موجود ہے جو صحابہ کرام پر سب اور قدح کے زمرے میں آتا ہے اور اس کی اشاعت فتنے کا باعث بن سکتی ہے جس میں ناشر شریک نہیں ہونا چاہتا، البتہ اس نے دیانت داری کے تقاضے سے ۲۸ ویں جلد کے بعد ۳۴ ویں جلد میں روایات کے نمبر مسلسل درج نہیں کیے تاکہ قاری پر واضح رہے کہ درمیان سے کچھ جلدیں چھوڑ دی گئی ہیں۔ میرے نزدیک اس طرح کے مسائل میں یہی رویہ بہتر اور قابل تقلید ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے یہاں کے شیعہ مصنفین اور واعظین کو بھی اس طرز عمل سے راہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
(جاری)
مجوزہ نئی دینی تحریک: نوعیت اور حکمت عملی کی بحث
ڈاکٹر محمد امین
جناب محمد یوسف ایڈووکیٹ نے الشریعہ کے جون کے شمارے میں میرے اس مضمون پر تبصرہ کیا ہے جو الشریعہ اپریل ۲۰۱۰ء میں ’ایک نئی دینی تحریک کی ضرورت‘کے عنوان سے طبع ہوا تھا۔ اپنے اس مضمون میں انہوں نے راقم کے بارے میں جن تاثرات کا اظہار کیاہے، ان میں سے اکثر اصلاح طلب ہیں اور غالباً اس کی وجہ ہمارے بارے میں ان کی نامکمل اور بالواسطہ طور پر حاصل شدہ معلومات ہیں کیونکہ ایک طویل عرصے سے ہماری ان کی کوئی بالمشافہ تفصیلی ملاقات نہیں ہوئی۔
جہاں تک زیر بحث موضوع کا تعلق ہے، انہوں نے مجوزہ دینی تحریک کی حکمت علمی کی جزئیات کے حوالے سے جو باتیں لکھی ہیں، ہمیں ان سے اتفاق ہے مثلاً یہ کہ مجوزہ تنظیم کو جدید سائنٹیفک اصولوں پر منظم کرنا چاہیے، اس میں احتساب کا کڑا اہتمام ہونا چاہیے، یہ صاحب کردار اور باصلاحیت افراد پر مشتمل ہونی چاہیے، اسے کرپشن قابل قبول نہیں ہونی چاہیے، اس کے قیام سے پہلے، ما قبل تحریکوں کی خامیوں کا تجزیاتی مطالعہ کرنا چاہیے، ایشوز پر کام کرنا چاہیے وغیرہ۔ تاہم ہمارے اور ان کے درمیان مجوزہ تحریک کی ضرورت، نوعیت اور بنیادی حکمت عملی کے حوالے سے بعض اصولی اختلافات موجود ہیں جن کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ جماعت اسلامی سے اختلافات کے باوجود بنیادی طور پر سید مودودی کی تحریک کے فکری دائرے کے اندر رہتے ہوئے سوچتے ہیں جب کہ ہم اس دائرے سے باہر بیٹھے ہیں۔ اس بنیادی اختلافی سبب کی موجودگی میں اگرچہ یہ تومشکل ہے کہ وہ معروضی انداز میں ہماری گزارشات پر غور کرسکیں یا ہما رے ان کے اختلافات ختم ہو سکیں، تاہم اس بحث سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم کوشش کریں گے کہ ہم جناب محمد یوسف صاحب کے اعتراضات کی روشنی میں اپنا نقطۂ نظر مزید نکھار کر پیش کریں تاکہ وہ اور دیگر قارئین ہمارے نقطۂ نظر کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
۱۔ جناب محمد یوسف صاحب کی رائے یہ ہے کہ تعمیر سے پہلے تخریب ضروری ہے اور نئی تحریک کھڑی کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ پہلی جماعتوں کی تغلیط کی جائے اور ایسا نہ کرنے کو وہ مداہنت، منافقت اور بزدلی سمجھتے ہیں۔ ان کی اس سوچ کے پیچھے وہ تحریکی فکر کا رفرما ہے جو نئی جماعت کو ’اصولی جماعت‘ سمجھتی ہے جو تنہا ’حق‘ کی علمبردار ہوتی ہے اور اس کے باہر جو کچھ ہوتا ہے، وہ یا تو باطل اور گمراہی ہوتی ہے یا کم از کم غلطی اور غلط فہمی۔
* ہماری رائے اس کے برعکس یہ ہے کہ مسلم معاشرہ پچھلے چودہ سو سال سے قائم ہے جو اسلام کو اپنا دین سمجھ کر اس پر عمل کی کوشش کر رہاہے۔ دین کے فہم اور اس پر عمل و اطلاق میں افرادِامت میں کچھ کمی اور کجی ہوسکتی ہے جس کے لیے اصلاحی کوششوں کی ضرورت ہے، (ہماری دینی روایت میں انہیں امر بالمعروف ونہی عن المنکر، تبلیغ و تزکیہ اور دعوت و اصلاح وغیرہ کہاجاتا ہے)۔ یہ اصلاحی کوشش سیاست میں بھی ہوسکتی ہے، تعلیم میں بھی، اخلاق میں بھی اور کسی دوسرے شعبۂ زندگی میں بھی(اس کام کو کس سطح پر، کس انداز میں، کتنا اورکیسے کرنا ہے، یہ اجتہادی اور تدبیری امور ہیں)۔جناب محمد یوسف صاحب نے غور نہیں فرمایا کہ ہم نے اس کام کے لیے وہ اصطلاحات استعمال نہیں کیں جو ان کے ہم فکر احباب کرتے ہیں (جیسے اسلامی انقلاب، اقامت دین، حکومت الہیہ وغیرہ) کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور کئی جگہ پیغمبروں کا مقصد بعثت یہ بتایا ہے کہ وہ تعلیم و تزکیہ کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں،دیکھئے مثلاًسورۃ الاعلیٰ (آیت ۱۴تا۱۹)جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ صحف ابراہیم ؑ و موسی ؑ میں ہم نے یہی حکم دیا تھا کہ فلاح وہی پائے گا جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا اور ذکرو نماز کا راستہ اختیار کیا۔حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کعبہ کے وقت اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ! اس گھر کے ماننے والوں میں ایسا رسول بھیجیو جو ان کی تعلیم و تزکیہ کے لیے کام کرے(البقرہ ۱۲۹)۔ حضرت موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ جس نے سرکشی کا راستہ اختیارکر لیا ہے اور اسے (پیار و محبت سے) سمجھاؤ تاکہ اسے تزکیہ نفس کی ضرورت کا احساس ہو(النازعات ۱۸)۔ حضرت شعیب ؑ کے حوالے سے فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ میں مقدور بھر تمہاری اصلاح ہی تو کرنا چاہتا ہوں(ھود ۸۸)اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کار نبوت کے بارے میں تین جگہ قرآن حکیم میں فرمایا کہ یہ تعلیم کتاب و حکمت اور تزکیۂ نفس ہے(البقرہ ۱۵۱، آل عمران ۱۶۴، الجمعہ ۲)۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ختم نبوت کے اعلان کے بعد امت مسلمہ کی بھی یہی ذمہ داری لگائی کہ وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام کرے(آل عمران ۱۰۴)اور انذارکرے(التوبہ ۱۲۲)۔
چنانچہ انبیاء کرام کو یہی لائحہ عمل دیا گیا تھاکہ جو لوگ ان کی بات مان لیں، انہیں وہ اللہ کے رستے پر چلائیں او ر اگر معاشرے کی معتدبہ اکثریت اسلام قبول کرلے تو ان کی اجتماعی زندگی(یعنی ریاست و حکومت) بھی احکام الٰہی کے مطابق منظم کریں۔ الحمدللہ! کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ؐ کے صحابہؓ نے جو معاشرہ قائم کیا، وہ تب سے قائم چلا آرہا ہے اورآج بھی قائم ہے اور مسلمان اس میں دین اسلام پر عمل کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی حکمران نیک ہوتے ہیں توکبھی برے۔ عام افراد معاشرہ بھی اسلام پر عمل کرنے میں کبھی مستعدی دکھاتے ہیں اور کبھی ان میں کمزوریاں درآتی ہیں۔ علماء وصلحاء، حکمرانوں اور عوام کی اسلامی تناظر میں اصلاح کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ غرض یہ کہ ہمارے نزدیک علماء کرام اور دینی عناصر /دینی جماعتوں/تحریکوں کا بنیادی کام تعلیم و تزکیہ کے ذریعے مسلم عوام و خواص کی اصلاح ہے۔
* عصر حاضر میں اسلام کے لیے کام کرتے ہوئے جس بنیادی مسئلے کا ہمیں سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ یہ ہے کہ آج اسلام اور مسلمان مغلوب ہیں اور مغرب کی ملحدانہ فکر و تہذیب اور اس کے علمبردار ممالک دنیا میں غالب اور بالادست ہیں اور جب انہوں نے مسلم ممالک کو غلام بنایا تھا تو مسلمانوں کی قلبی و ذہنی تبدیلی کے لیے کامیاب کوششیں کی تھیں۔ آج اسلام پر عمل کرتے ہوئے اور اسلام کے لیے کام کرتے ہوئے جو چیلنج ہمیں درپیش ہے، وہ یہ ہے کہ ملحدانہ مغربی فکر و تہذیب کے حوالے سے ہمارا ردعمل کیا ہو اور اسلام کی کس تعبیر کے مطابق ہم کام کریں؟ ہم نے ’الشریعہ‘ (شمارہ نومبردسمبر ۲۰۰۸) میں اس موضوع پر کلام کرتے ہوئے مغرب کے خلاف مسلم رد عمل کو چار انواع میں تقسیم کیا تھا: ۱۔ مرعوبیت ۲۔مفاہمت ۳۔صرف نظر؛ اور ۴۔مزاحمت۔
۔ منہجِ مرعوبیت کے بانی حکمرانوں میں سے مصطفی کمال اتاترک او ررضا شاہ پہلوی تھے جنہوں نے مغربی طرز زندگی کو جبراًمسلم معاشرے میں نافذ کرنے کی کوشش کی اور علماء میں سے برصغیر میں سرسید احمد خان اور امیر علی سے لے کر پاکستان میں غلام احمد پرویز تک اس میں شامل ہیں جنہوں نے اسلا م کی کانٹ چھانٹ کر کے اسے مغربی فکر و تہذیب کے مطابق بنانے کی کوشش کی۔
۔ مفاہمت کے منہج کی حامل جدید دینی تحریکیں تھیں( منجملہ دوسرے دینی عناصر کے) جیسے جماعت اسلامی و اخوان المسلمون وغیرہ جنہوں نے مغرب کی کافرانہ جمہوریت میں چند اسلامی تبدیلیاں کر کے اسے مشرف بہ ’اسلامی جمہوریت‘ کیا اور مغرب کے کافرانہ سرمایہ دارانہ نظام کی علمبردار بنکنگ میں چند اسلامی تبدیلیاں لا کر اسے مشرف بہ’اسلامی بنکنگ‘ کیا۔ مغرب کے کافرانہ نظام تعلیم و تربیت میں’ اسلامیات لازمی‘ جیسے بعض اضافوں سے نظام تعلیم ان کے لیے اسلامی اور قابل قبول ہوگیا۔ وقس علیٰ ذلک۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلاہے ؟یہ کہ اسلام کے سیاسی اصول پاکستان کی سیاست سے، اسلام کی معاشی برکات اس کی معیشت سے اور اسلام کے تعلیمی اصول اس کے نظام تعلیم و تربیت سے اس طرح غائب ہوگئے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔اور مغربی فکر وتہذیب اور اس کے اصول و اقدار پاکستانی معاشرے میں سکہ رائج الوقت کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ ان تحریکوں کا تصور دین درحقیقت مغرب کے فکری و تہذیبی غلبے کا ردعمل ہے اور ردعمل کبھی متوازن نہیں ہوسکتا چنانچہ سیاسی شعبے میں اصلاح کے دینی کام کو ان تحریکوں نے پورا دین اوراسلام کو ایک تحریک، نظام حیات اور طرز زندگی بنا کر پیش کیا اور فرد اور معاشرے کی اصلاح کے ذریعے تبدیلی لانے کی بجائے انقلاب امامت یعنی حکومتی تبدیلی اور اسلامی قانون سازی کو اس کا بنیادی ذریعہ قرار دے دیا۔
۔ مغرب کی ملحدانہ فکر وتہذیب سے صرف نظر کی پالیسی اختیار کرنے والوں میں تبلیغی جماعت، دینی مدارس اور مولانا وحید الدین خان وغیرہ شامل ہیں جنہوں نے دین کو محض تبلیغ و دعوت اور عبادات و اخلاق تک محدود کر کے اجتماعی زندگی کو اس سے باہر سمجھ لیا۔ گویادین کااجتماعی، سیاسی اور تہذیبی غلبہ ان کے نزدیک مطلوب ہی نہیں۔
۔ مزاحمت کے منہج میں ہم نے جماعۃ التکفیر و الھجرہ، حزب التحریر، القاعدہ اور پاکستانی طالبان کا ذکر کیا تھااور کہا تھا کہ ان تحریکوں نے مسلم حکمرانوں کے خلاف ہتھیار اٹھا کر، جب کہ ان کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، اہل سنت کے اس اجماع کی خلاف ورزی کی ہے جس پر امت شہادت حسینؓ و عبداللہ بن زبیرؓکے بعد عامل ہوگئی تھی اور پچھلے تیرہ سو سال سے اس پر عامل ہے کہ غیر صالح مسلم حکمرانوں کے خلاف عملاً خروج اس وقت تک نہ کیا جائے (اگرچہ دیگر شرعی شرائط پوری ہو رہی ہوں) جب تک کہ کامیابی کا واضح یقین نہ ہو کیونکہ خروج و بغاوت سے مسلم معاشرہ انتشار و عدم استحکام کا شکار ہوجاتا ہے لہٰذا سسٹم کے اندر رہتے ہوئے اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔جہاں تک کفار کے خلاف مزاحمت کا تعلق ہے تو اس کے جہاد ہونے میں کسے کلام ہوسکتا ہے؟
* جناب محمد یوسف صاحب خوش ہو رہے ہوں گے کہ ہم ان کی دی ہوئی لائن پر چل پڑے ہیں اور ہم نے نئی تحریک کی فکر دینے سے پہلے، ماقبل کی تحریکوں پر کلہاڑا چلانا شروع کردیا ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جماعت اسلامی انسانوں کی جماعت ہے۔ اس میں کمزوریاں ہوسکتی ہیں، لیکن کیا اس میں کوئی خوبیاں نہیں؟ کیا اس کا کوئی مثبت کردار اور کارنامے نہیں؟ ایک ناانصاف شخص ہی جماعت اسلامی کے نظم و ضبط، اس کے کارکنوں کی دیانت و محنت، اسلامی آئین و قوانین کی تشکیل میں اس کے مثبت کردار اور ریاست و معاشرے کو اسلام کے مطابق چلانے کے لیے اس کی کوششوں کا انکار کر سکتا ہے۔ تو جماعت اسلامی میں خوبیاں ہیں، اس نے ایک خلا کوپُر کیا ہے اور بہت سارے امور میں تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ یہی حال تبلیغی جماعت کا ہے۔ وہ بھی انسانوں کی جماعت ہے اور اس میں بھی کمزوریاں موجود ہیں،اس کے چلانے والے بھی فرشتے نہیں لیکن کیا معاشرے میں اس کا کوئی تعمیری کردار نہیں؟ کیا یہ معمولی بات ہے کہ اس نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کو دین کے راستے میں متحرک کر دیا ہے اور ان کی زندگیاں بدل دی ہیں اور کسی نام و نمود اور شہرت کے بغیر اس کی قیادت اتنا بڑا دینی کام کر رہی ہے! کیا اس نے ایک خلاپُر نہیں کیا؟ کیا اس کے تعمیری کردار سے چشم پوشی کی جاسکتی ہے یا اس کا انکار کیا جا سکتا ہے؟ یہی حال دوسری جماعتوں کا ہے۔
تو آخر ہم کیوں سوچیں کہ ہم نے ضرورہی ان کی نفی کرنی ہے، ان میں کیڑے ڈالنے ہیں اور ان کو مٹا کر ان کی جگہ لینی ہے۔ جو اچھا کام یہ جماعتیں کر رہی ہیں، انہیں کرنے دیجئے اور جو اچھے کام وہ بوجوہ نہیں کر پارہیں، وہ آپ کرنا شروع کر دیجئے۔ لہٰذا مجوزہ تحریک کو کسی معاصر جماعت کا حریف بننے کی ضرورت ہی نہیں۔
۲۔ جناب محمد یوسف صاحب کی مخصوص تحریکی فکر انہیں اس پرمائل کرتی ہے کہ وہ سیاسی شعبے کے علاوہ دین کے دوسرے شعبوں میں کام کرنے والوں کو گوشۂ عافیت، علمی جدوجہد اور میدان عمل سے دوری کے طعنے دیں، حالانکہ اگر وہ غور فرمائیں تو بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ دین کے چار بڑے شعبے ہیں: ایمانیات، عبادات، اخلاقیات اور معاملات۔ معاملات کے بیسوں شعبوں میں سے ایک شعبہ سیاسیات کاہے۔ گویا سیاسی شعبہ دین کا مثلاً بیسواں حصہ ہے۔ ہماری خرابی دراصل یہ ہے کہ ہم میں سے جو دین کے کسی ایک شعبے میں کام کررہا ہے، وہ اسے کل دین بنا دینے پر مصر ہے۔ حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ اصل مقصود تو اللہ کو راضی کرنا ہے، دین کی خدمت کرنا ہے خواہ وہ جس شعبے میں بھی ہو اور جتنی بھی ہوسکے لہٰذا جو آدمی دین کے سیاسی شعبے کی اصلاح کی کوئی خدمت انجام دے رہا ہے، وہ بہت اچھا کام کر رہا ہے۔ اسی طرح جو آدمی شعبۂ تعلیم کی اصلاح کی کوشش کر رہاہے، وہ بھی نیک کام کررہا ہے، اس کا کام بھی قابل تحسین ہے اور جو آدمی معاشی شعبے کی اصلاح کے لیے کوشاں ہے، وہ بھی بہت نیک کام کررہا ہے۔ لہٰذاکسی ایک شعبے کی اصلاح کے کام کو عین دین اور دوسرے شعبوں کے کام کو حقیر سمجھنے کا کوئی جوازنہیں۔ ہماری اپروچ یہ ہے کہ جو جس شعبے میں بھی دین کی خدمت کے لیے کوشاں ہے وہ قابل تحسین ہے۔ اس کے کام کی بہتری اور کامیابی کے لیے دعا گو ہونا چاہیے اور ہوسکے تو اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور اگر اس کی رائے میں کوئی دوسرا شعبہ زیادہ کام کا مستحق ہے تو وہ اپنے حسبِ ذوق و صلاحیت اس شعبے میں کام کرے، لیکن دوسروں کے لیے خیر خواہی کے جذبات رکھنے میں کیا امر مانع ہے کہ فرمانِ رسول تو ’الدین النصیحہ‘ ہی کا ہے خواہ آدمی کی جو بھی پوزیشن ہو۔
۳۔جناب محمد یوسف صاحب کو ہماری اتحادی مساعی بھی تحریکی دائرے میں ناکامی کا رد عمل اور ایک گونہ فرار محسوس ہوتی ہیں حالانکہ مسلمانوں میں اتحاد شرعی تقاضا بھی ہے اور ان کی دینی و دینوی ضرورت بھی۔ آج ہماری کمزوری ہی یہ ہے کہ ہر آدمی صرف اپنے مؤقف کو واحد حق قرار دینے پر مصر ہے جب کہ اصل اہمیت اس چیز کی ہے کہ ’ واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا‘ کا رویہ اپنایا جائے لیکن ہم نے اپنے اپنے فقہی و کلامی مسلک کو دین بنا رکھا ہے اور اپنے اپنے جزوی کام کو کل دین قرار دینے پر مصر ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ امت کا اتحاد پارہ پارہ ہوچکا ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ اجتہاد اور تدبیر کے نام پر ایسا مؤقف اختیار کیا جاتا ہے جو ہمیں اسلام کے مرکزی دھارے یا اس کی مین اسٹریم سے کاٹ دیتا ہے۔ ظاہر ہے یہ رویہ مسلم معاشرے کے اتحاد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ دینی مفاد کے لیے نئی تحریک/جماعت/تنظیم/ادارہ قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ یہ مین اسٹریم اسلام کا حصہ رہے اور ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد نہ بن جائے۔
۴۔اب آئیے جناب محمد یوسف صاحب کے اس نکتے کی طرف کہ ہم اپنے مضمون میں ایک نئی دینی تحریک کی ضرورت اور جواز ثابت ہی نہیں کرسکے اور ہماری کاوش محض پہلے کام کی نقالی ہے۔ عرض یہ ہے کہ ایک نئی دینی تحریک کا تصور دینے کا عمل خود یہ واضح کرتا ہے کہ یہ مجوزہ تحریک کوئی خلا پُر کرنا چاہتی ہے اور کوئی ایسا کام کرنا چاہتی ہے جو پہلے نہیں ہورہا۔ ہم نے اپنے مضمون میں کچھ نکات کی طرف اشارہ کیا تھا لیکن یہ نکات جناب محمد یوسف صاحب کی توجہ اپنی طرف مبذول نہیں کراس کے اور یہ انہیں نئے یا پہلے تصورات سے منفرد نہیں لگے۔ہم دوبارہ کوشش کریں گے کہ اپنا نکتۂ نظر ان پر واضح کر سکیں:
i۔ اصلاح کا بنیادی ٹارگٹ فرد ہونا چاہیے کہ وہی ہر قسم کی اجتماعی تبدیلی کی بھی بنیاد ہے، لیکن اگر ہم اپنے معاشرے کی بڑی دینی تحریکوں اور اداروں کو دیکھیں تو جماعت اسلامی کا کام عملاً انقلاب امامت یعنی حکومتی تبدیلی بذریعہ اسلامی جمہوریت و الیکشن اور نفاذِ شریعت بذریعہ اسلامی قانون ہے۔ اس طرح جماعت فرد کی اصلاح کو فوکس ہی نہیں کرسکی۔ تبلیغی جماعت کا تصورِ دین اسے فردکی ایسی کامل اور متوازن تبدیلی کی طرف لاتا ہی نہیں جو معاشرے میں اجتماعی تبدیلی کی بنیاد بن سکے۔ دینی مدارس و مساجد کا سارا کام مسلک پرستی کی نظر ہو جاتا ہے اور تزکیے کا کام اکثر و بیشتر موروثی گدی نشینوں کا ’کاروبار‘ بن کر رہ گیا ہے۔ تعلیم و تربیت دینی کارکنوں کے لیے عمدہ ’بزنس‘ ہے۔ ان حالات میں فرد کی متوازن تعمیر شخصیت اور کردار سازی کے لیے محنت کرنے کی خاطر نئی دینی تحریک کی ضرورت ہے۔
ii۔اگر فرد پر فوکس کیا جائے اور اس سے مراد متوازن تعمیر شخصیت اور کردار سازی کے ذریعے قرآن کا انسانِ مطلوب تیار کرنا ہو جس کا بنیادی ذریعہ تعلیم کتاب و حکمت اور تزکیہ ہے تو اس کے نتیجے میں لازماًمعاشرے کی اصلاح ہوگی۔ معاشرے کی اصلاح سے مراد اتنا ہی نہیں کہ لوگ نماز یں پڑھنے لگیں اور روزے رکھنے لگیں بلکہ اس سے مقصود اسلامی اجتماعیت کا احیا بھی ہے۔اس وقت جو تصور دین ہمارے ہاں مروج ہے، اس کے نتیجے میں اہل دین معاشرے سے غیر مرتبط ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اہل دین معاشرے یا آج کی اصطلاح میں سول سوسائٹی کہہ لیجئے، اس سے غیر متعلق ہیں اور یہی ان کی ناکامی کا سبب ہے۔ نئی تحریک کی ضرورت اسی لیے ہے کہ وہ سول سوسائٹی کو متحرک کرے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ نئی تحریک سے وابستہ لوگ سول سوسائٹی کی مشکلات کو اپنی مشکلات سمجھیں اور ان کے حل کرنے کے لیے جدوجہد کریں۔ ماضی میں مسلمان مصلحین کی بنیادی پالیسی ہی یہ ہوتی تھی کہ اللہ سے محبت اور اس کی مخلوق سے محبت لہٰذا خدمت خلق اس کا لازمی جزو ہوتا تھا۔ آج اس روایت کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔
iii۔ دینی سیاسی جماعتوں نے مغرب کی ملحدانہ فکر و تہذیب کے سیاسی نظام کے بنیادی ادارے ’جمہوریت‘ میں کچھ اسلامی اصول داخل کر کے اسے’اسلامی جمہوریت‘ قرار دے دیا، لیکن اس کے نتیجے میں معاشرے میں اسلام تو نہیں آیا البتہ مغربی فکر و تہذیب کا سیلاب ہماری اکثر اخلاقی اور معاشرتی اقدار کو بہا کر لے گیا ہے۔ سیاست مکمل طور پر سیکولر ہوچکی ہے۔ بین الاقوامی طاقتوں اور ان کے ایجنٹ مقامی حکمرانوں اور ان کی خفیہ ایجنسیوں نے دینی عناصر کو ایک دوسرے سے لڑا کر اور انہیں انتشار و افتراق میں مبتلا کر کے ادھ مُوا کر دیا ہے اور مستقبل قریب میں بظاہر ان کی کامیابی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اور نہ ہی دینی سیاسی جماعتیں اپنے ڈھب بدلنے پر تیار ہیں۔ ان حالات کا تقاضا ہے کہ ایک طرف دینی سیاسی عناصر کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مفید مشورے اور تجاویز دی جائیں تو دوسری طرف پاکستانی معاشرہ سیکولرزم اور مادہ پرستی کی راہ پر جس بگٹٹ طریقے سے تباہی کے گڑھے کی طرف دوڑ رہا ہے، اس کو سنبھالنے کے لیے غیر سیاسی دینی کام منظم طریقے سے کیا جائے۔
iv۔ دینی سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی کام میں اتنی منہمک ہیں کہ ان کے پاس اور کسی کام کے لیے وقت نہیں اور اقتدار ان کے نزدیک وہ واحد نسخۂ کیمیا ہے جو سارے مسائل حل کرسکتا ہے۔ اس اپروچ کی وجہ سے وہ ہر اجتماعی کام کو حکومت پر چھوڑ دیتی ہیں۔اسی طرح دعوت و اصلاح کے کاموں میں مصروف دینی عناصر(مثلاً تبلیغی جماعت یا دینی مدارس وغیرہ) معاشرے کے سلگتے مسائل سے عملاً دور ہیں اور ان کے حل کی طرف ان کی توجہ نہیں ہے۔ مثلاً اگر محلے کے لوگ نماز نہ پڑھیں تو ان کے نزدیک یہ اسلامی مسئلہ ہے، لیکن اگر محلے کا ایک فرد بھوک سے خود کشی کر لے تو یہ ان کا درد سر نہیں ہے حالانکہ یہ مسائل اگر دینی تناظر میں حل کر دیے جائیں تو آدھی سے زیادہ شریعت تو اسی طرح نافذ ہوجاتی ہے، لیکن ہمارے سیاسی و اصلاحی دونوں طرح کے دینی عناصر اس کام کو حکومت پر چھوڑ کر خود اس ذمہ داری سے گویابری ہوگئے ہیں۔حالانکہ بہت سے کرنے کے کام ایسے ہیں جو وہ حکومتی مدد کے بغیر کر سکتے ہیں۔ مثلاً اکثر تعلیمی ادارے اس وقت پرائیویٹ سیکٹر میں ہیں تو دینی عناصر کیوں نہیں تعلیم و تربیت کو اسلامی بنیادوں پر استوار کر سکتے؟ وہ وکلاء اور ججوں کی اسلامی قانون میں تربیت اور کردار سازی کے لیے ادارے کیوں نہیں بناتے؟ غریبوں کو خود کشیوں سے بچانے کے لیے وہ کیوں منظم کوشش نہیں کرتے؟ عامۃ الناس کو میڈیا کی فحاشی و عریانی سے بچانے اور انہیں متبادل ذرائع مہیا کرنے کے لیے دینی عناصر کیوں حرکت میں نہیں آتے ؟ اس وقت ان کاموں کو کرنے کے لیے اگر کوئی دینی قوت موجود نہیں تو اس کے لیے ایک نئی دینی تحریک کیوں نہ اٹھائی جائے؟
دینی سیاسی جماعتوں کی ناکامی اور غیر سیاسی دینی عناصر کی بے عملی ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ کچھ دینی عناصر نے نفاذِ اسلام بذریعہ طاقت کاراستہ اپنا لیا ہے جس کی وجہ سے ملک میں شدید کشت و خون ہورہاہے۔ اگر ہمارے غیر سیاسی دینی عناصر ایشوز کی بنیاد پر منظم و متحرک ہو کر نتیجہ خیز جدوجہد کریں تو جن عناصر نے نفاذِ شریعت نہ ہونے کی وجہ سے اسلحہ اٹھا لیا ہے تو انہیں اس کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ دینی عناصر اورسول سوسائٹی کو اس جدوجہد پر اکسانے اور اس میں شامل کرنے کے لیے نئی تحریک کی ضرور ت ہے۔
v۔ہمیں تسلیم ہے کہ دین ایک کُل ہے جس میں سیاسی وغیر سیاسی ہر طرح کے کام شامل ہیں لہٰذا شرعی نقطۂ نظر سے سیاسی اور غیر سیاسی دینی کاموں میں تفریق ایک بے معنی عمل ہے لیکن ہم یہ تفریق شرعی لحاظ سے نہیں بلکہ انتظامی لحاظ سے زیر بحث لار ہے ہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی جدوجہد اب کسی شخص کے لیے بھی ایک فل ٹائم جاب سے کم نہیں ہے اور جوآدمی اسلام کے لیے سیاسی جدوجہد کر رہا ہو اس کے لیے دعوت و اصلاح اور دیگر دینی کاموں کے لیے وقت نکالنا مشکل ہے اور اس کے برعکس بھی صحیح ہے۔ لہٰذا اس کا حل یہی ہے کہ پورے دین کو مانتے ہوئے اپنی عملی جدوجہد کو کسی ایک شعبے کی اصلاح پر مرتکزکیا جائے اور اسے جزوی کام تسلیم کیا جائے اور دوسروں کے دینی کاموں کی بھی قدر افزائی کی جائے۔
vi۔ جناب محمد یوسف صاحب کے نزدیک مجوزہ تحریک کا لائحہ عمل احتجاجی اور مزاحمتی ہونا چاہیے؛ یہ بات قابل غور ہے۔ لیکن ہماری رائے یہ ہے کہ احتجاج، مزاحمت اور دباؤ سے کوئی مسئلہ تو حل ہوسکتا ہے، ظلم کو تو روکا جا سکتا ہے، اپنے حقوق تو حاصل کیے جا سکتے ہیں لیکن یہ طریقہ ردعمل کی نفسیات پیدا کرتا ہے اور نیکی پر چلنے کی متبادل اساس اور محرک فراہم نہیں کرتا۔اس کے لیے ہمارے نزدیک اصلاحی طریقہ زیادہ موزوں ہے۔ اصلاحی طریقے سے دل و دماغ کو بدل کر جو مستقل تبدیلی آتی ہے، ہمارے ممدوح کے دائرہ فکر کو اس کی سمجھ شائد نہ آئے لیکن تاریخی حقائق کا انکار کون کرسکتاہے۔ آدھی مسلم دنیا کو تاراج کرنے والے منگولوں کو کس نے زیر کیا؟ دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا (اور ساتھ جڑے ملائشیا) پر اسلامی پرچم کس نے لہرایا؟خود برصغیر میں اسلام کی اشاعت کس کی مرہون منت ہے؟ہم کسی روایتی صوفیانہ تحریک کی بات نہیں کررہے بلکہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کردار سازی اورپُرامن معاشرتی تبدیلی کے لیے مزاحمتی کی بجائے اصلاحی طریقہ ہماری رائے میں زیادہ اقرب الی الصواب اورقابل عمل ہے اور اس وقت اس طریقے پر متوازن انداز سے عمل کرنے کے لیے کوئی ادارہ اور تحریک موجود نہیں ہے لہٰذا اس خلا کو پُرکرنے کے لیے ہم نے ایک نئی تحریک کی ضرورت کا تصور پیش کیا ہے۔
یہ وہ چند گزارشات تھیں جو ہم اپنے مؤقف کی مزید وضاحت کے لیے پیش کرنا چاہتے تھے۔ جناب محمد یوسف صاحب اگر ان پر غور فرمائیں تو امید ہے کہ ہمارا مؤقف ان کی سمجھ میں آجائے گا خواہ وہ اس سے مکمل اتفاق نہ بھی کر سکیں۔
اسلامی بینکاری: زاویہ نگاہ کی بحث (۱)
محمد زاہد صدیق مغل
ماہنامہ الشریعہ شمارہ جون اور جولائی ۲۰۱۰ میں مفتی زاہد صاحب دامت برکاتہم نے راقم الحروف کے مضمون ’اسلامی بینکاری غلط سوال کا غلط جواب‘ کے تعقب میں اپنے مضمون ’غیر سودی بینکاری کا تنقیدی جائزہ‘ (حصہ دوئم و سوئم) میں ’زاویہ نگاہ کی بحث ‘ کے تحت چند مزید شبہات پیش کیے ہیں۔ مفتی صاحب کی طرف سے اٹھائے گئے دلائل و نکات پر ذیل میں راقم کا تبصرہ پیش ہے۔ چونکہ مفتی صاحب نے اپنی تنقید کا زیادہ تر حصہ ہمارے مضمون کے اصل موضوع کے بجائے ضمنی و اضافی پہلو (زاویہ نگاہ کی بحث) پر صرف کیا ہے لہٰذا پہلے ہم اسی پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہیں گے کیونکہ اپنے اصل مضمون میں راقم نے اس پہلو پر تفصیلاً کچھ نہیں کہا تھا اور یہی وجہ ہے کہ مفتی صاحب نے کئی مقامات پر بین السطور نتائج نکال کر انہیں راقم کی طرف منسوب کردیا ہے۔ جہاں تک اصل بحث پر اٹھائے گئے اعتراضات کا تعلق ہے ان پر علیحدہ سے تبصرہ کرنے کا ارادہ ہے، وما توفیقی الا باللہ ۔ ہم مفتی صاحب کے مشکور ہیں کہ ان کی تحریر نے ہمیں یہ گزارشات پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔
بینکاری ایک ناگزیر مجبوری کا دعویٰ
کسی نظام کی ناگزیریت پر گفتگو کرتے وقت ’مقامی پس منظر ‘ کا تعین کرنا نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے تاکہ جبر کے دائرے کا درست طور پر تجزیہ کرکے متبادل کام کے مواقع پہچانے جا سکیں، یعنی یہ طے کرنا کہ ہم کس معاشرے کی بات کررہے ہیں، وہاں کس حد تک سرمایہ دارانہ نظام غالب آچکا ہے، اور وہاں افراد کس حد تک جبر کا شکار ہوچکے ہیں، نیز متبادل کے مواقع کس حد تک موجود ہیں وغیرہ۔ ظاہر بات ہے واقعیت کی جو جکڑ بندیاں امریکی معاشرے میں افراد پر مسلط ہیں انہیں پاکستان کے لیے فرض کرکے کوئی حکمت عملی اختیار کرنا غلط ہوگا۔ یہ تمہید اس لیے عرض کی گئی کیونکہ مجوزین اسلامی بینکاری کا جواز عموماً حالات کی ناگزیریت اور جبر سے نکالتے ہیں، چنانچہ وہ بارہا یہ دعوی دہراتے ہیں کہ ’اگر اسلامی بینکاری نامی کسی شے کو جائز نہ کہا گیا تو مسلمان براہ راست سود جیسے عظیم الشان گناہ میں ملوث ہوجائیں گے، چونکہ دور جدید میں بینک کے بغیر گزارا نہیں، لہٰذا اسلامی بینکاری وقت کی اہم ضرورت ہے چاہے یہ بینکاری حیلوں، عذروں اور رخصتوں کی آفاقیت پر ہی کیوں نہ مبنی ہو‘۔ مفتی صاحب نے بھی یہ دلیل کچھ اس پیرائے میں بیان فرمائی ہے کہ جو لوگ اسلامی بینکاری کے کام سے وابستہ ہیں وہ گویا پاکستان کی ایک ’بڑی ‘ اور مجبور اکثریت کے ’مسائل و ضروریات ‘ کا حل تلاش کرنے میں کوشاں ہیں۔ چونکہ مجوزین کی طرف سے بینکاری کی ناگزیریت کے اس دعوے کو بطور ایک ڈھال استعمال کرنا ایک عام طریقہ بن چکا ہے لہٰذا یہاں اس دلیل کا ذرا تفصیلی تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نظریہ ضرورت کی بنیاد پر اسلامی بینکاری کا جواز شریعت کے مشہور اصول ’الضرورات تبیح المحظورات‘ (ضرورت کے وقت حرام شے بھی حلال ہوجاتی ہے) سے اخذ کیا گیا ہے۔ درحقیقت اس دلیل کے اندر تین دعوے کیے گئے ہیں: اول سود سے بچنا مقدم ہے، دوئم سودی بینکاری انسانی زندگی کا ایک لازمی جزو بن چکی ہے، سوئم لہٰذا اسلامی (یا غیر سودی ) بینکاری کو جائز ماننا ہوگا چاہے یہ حیلوں پر ہی کیوں نہ مبنی ہو۔ ان دعووں پر چند وجوہ سے غور کرنے کی ضرورت ہے:
۱۔ جس قدر یہ بات اہم ہے کہ امت کو سود کے گناہ سے بچایا جائے، اس سے بدر جہا اہم بات یہ ہے کہ سود کو کسی چور دروازے سے داخل ہونے کا موقع نہ مل سکے ، مبادا امت سود کے گناہ میں مبتلا ہو اور اسے خبر بھی نہ رہے جیسا کہ یہود و نصاریٰ کی تاریخ سے واضح ہے جنہوں نے بعینہ اسلامی بینکاری کی مانند حیلوں کی آڑ میں عملاً سود کو حلال کرلیا تھا۔ یہی وہ ذمہ داری ہے جو اسلامی بینکاری کے ناقدین علمائے کرام کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ امت مسلمہ کو اسلامی بینکاری کے خطرات سے آگاہ کرتے رہیں۔ یہ امر کہ مروجہ حیلے سود کے لیے چور دروازہ ثابت ہوسکتے ہیں محض کوئی وہم نہیں بلکہ خود اسلامی ماہرین معاشیات بھی اس کا خوب احساس رکھتے ہیں جیسا کہ اس مضمون میں ذرا آگے چل کر آنے والے حوالوں سے واضح ہوگا۔ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ امت مسلمہ میں اسلامی بینکاری کے نام پر حلت سود کی حالیہ جدوجہد اور یہود و نصاریٰ کے سود کو جائز قرار دینے کی تاریخ میں حیرت انگیز مماثلت نظر آتی ہے (۱)۔ مختصر یہ کہ عیسائی یورپ میں سود کی سختی سے ممانعت تھی مگر ابتداً اس کا دروازہ ایک بیع کے اندر بیک وقت درج ذیل تین معاہدات کے ذریعے سودی نفع کو یقینی بناکر کھولا گیا:
i۔ معاہدہ شرکت کرنا (Partnership contract)
ii۔ مستقبل کے غیر یقینی نفع کو ایک معین شرح نفع کے عوض بیچنا (Sale of a future uncertain profit)
iii۔ راس المال کو (بذریعہ بیمہ) تحفظ فراہم کرنا (Insurance contract)
مثلاً پہلے معاہدے میں زید ناصر کو 100 روپے قرض دے کر معاہدہ شرکت کرتا ہے۔ دوسرے معاہدے کے تحت زید ناصر کو 30 روپے سے زائدحاصل ہونے والے نفع کو 15 روپے فیس کے عوض بیچ دیتا ہے، اس طرح زید تیس روپے سے زائد ہونے والے تمام نفع سے دستبردار ہوکر 15 روپے کا نفع محفوظ کرتا ہے۔ تیسرے معاہدے کے تحت زید ناصر کو (یا کسی تیسرے ایجنٹ کو) 5 روپے سالانہ فیس (یا پریمیم ) دے کر راس المال میں نقصان سے تحفظ حاصل کرتا ہے۔ چونکہ یہ تمام معاہدات بیک وقت کیے جارہے ہیں لہٰذا زید ابتدائے بیع ہی سے اپنے لیے 10 روپے کا سودی نفع یقینی بنالیتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اپنی انفرادی حیثیت میں یہ تینوں معاہدات عیسائی تعلیمات میں عین جائز سمجھے جاتے تھے مگر ان کامجموعی اثر قرض کی رقم پر سود کی طرح یقینی نفع کا حصول تھا۔ پندرہویں وسولہویں صدی میں جب ’تین معاہدوں پر مبنی شرکت ‘ (The triple contract) کی یہ شکل یورپ میں عام کی جانے لگی تو راسخ العقیدہ عیسائیوں نے اس کی سخت مخالفت کی کیونکہ اسلام کی طرح عیسائی مذہب بھی سختی کے ساتھ سود کی تمام شکلوں کا مخالف رہاہے۔ مگر یورپ میں سرمایہ داری اور سائنسی علمیت کے بڑھتے ہوئے اثرات کی وجہ سے آہستہ آہستہ حرمت سود کے قوانین ختم ہوتے چلے گئے اور ’تین معاہدوں پر مبنی شرکت ‘ نے اس کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ صد افسوس کہ اسلامی بینکنگ بھی بیع مرابحہ، اجارہ و شرکت متناقضہ وغیرہ کے اندر فرداً فرداً جائز معاہدات جمع کرکے نفع کے نام پر سودی نظام کے مقاصد حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ اس مماثلت پر مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد آتی ہے کہ میری امت وہ سب کام کر گذرے گی جو یہودونصاریٰ نے کیے۔ (ترمذی ۲۷۱۱)
۲۔ فقہ کا درج بالا قاعدہ (ضرورت کے وقت حرام شے بھی حلال ہوجاتی ہے) اصلاً اس شے کی ’حرمت ‘ پر دلالت کرتا ہے جسے یہ بوقت ضرورت حلال قرار دیتا ہے، یعنی جب اس اصول کے تحت کسی شے کو حلال کہا جاتا ہے تو اصلاً وہ شے حرام ہی ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اسلامی بینکاری کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دینے کا تقاضا یہ ماننا بھی ہے کہ اسلامی بینکاری اصلاً حرام ہی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی بینکاری کے حامی اسے اصلاً جائز اور اصول شریعہ کے عین مطابق کہتے ہیں، اس کے جواز کے لیے دلیلیں وضع کرتے اور اس کے حق میں کتابیں لکھتے ہیں۔ تو اسلامی بینکاری کے جواز کے لیے اس اصول کا استعمال ایک تضاد بیانی سے زیادہ کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔ ظاہر ہے اگر اسلامی بینکاری اصلاً جائز ہے تو اسے نظریہ ضرورت کا تقاضا کہنے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ اگر واقعی اسلامی بینکاری محض ضرورت کے تحت جائز ہے تو اس کا نام اسلامی بینکاری کے بجائے ’حرام بینکاری‘ رکھا جانا چاہیے تاکہ لوگ ا سے بطور ایک برائی سمجھ کر کم سے کم استفادہ کریں نیز ان میں اس سے بچنے کا جذبہ بھی بیدار ہو ۔
۳۔ اگر بینکاری نظام سے واسطہ رکھنا واقعی کوئی ’حقیقی اور ناگزیر انسانی ضرورت ‘ بن چکی ہے تو اس کے نتیجے میں اسلامی بینکاری ہی نہیں بلکہ سودی بینکاری بھی حالت اضطرار کے تحت جائز قرار پائے گی، تو اس صورت میں اسلامی بینکاری نامی کوئی شے ’وضع‘ کرنے کی ضرورت ہی کیا پڑی ہے؟ مسلمان نظریہ ضرورت کے تحت سودی بینکوں سے بھی تعلقات استوار کر سکتے ہیں ۔
۴۔ فرض کریں اگر واقعی کوئی حقیقی ضرورت آن ہی پڑی ہے تو ’ضرورت کی مقدار ‘ کا تعین بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ظاہر ہے سود کی حرمت کوئی عام مسئلہ نہیں بلکہ یہ نص قطعی سے ثابت ہے (جیسا کہ مفتی صاحب نے بھی اس بات پر نہا یت زور دیا ہے)۔ اس درجے کی قطعی حرمت کو اسلامی بینکاری کے حیلوں کی آڑ میں حلت سے بدلنے کے لیے یقیناًضرورت بھی نہایت شدید درجے تک پہنچی ہونی چاہیے۔ فقہاء کے ہاں نص قطعی سے ثابت حرام کو حلال میں بدلنے کے لیے ضرورت کی مقدار ’جان کے ضیاع کا سخت اندیشہ ‘ ہوتاہے۔ ظاہر ہے اسلامی بینکاری کے جواز کے لیے اس قسم کا کوئی ’حقیقی ‘ خطرہ (کسی کو وہم ہو تو اور بات ہے) موجود نہیں، لہٰذا اس اصول کے تحت اسے جائز کہنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟
۵۔ اعدادوشمار کی روشنی میں یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ کم از کم پاکستان میں بینکنگ اکثریت عوام کی حقیقی ضرورت نہیں، لہٰذا ’بینکنگ نظام سے تعلق رکھنا عوام کی ایک ناگزیر مجبوری ہے‘ کا مفروضہ ہی محل نظر ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سالانہ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں کل کھاتہ داروں کا میزان درج ذیل ہے (آبادی کا تخمینہ اور کھاتہ داروں کا آبادی میں تناسب خود نکالا گیا ہے)۔
اس گوشوارے سے چند باتیں معلوم ہوئیں:
i۔ پاکستان کی ایک انتہائی قلیل آبادی بینکنگ نظام (یعنی سود کے بازاروں) سے وابستہ ہے۔ کھاتے داروں کا آبادی میں یہ تناسب پچھلی پوری ایک دھائی کے دوران کبھی بیس فیصد سے زیادہ نہیں رہا ۔
ii۔ کل آبادی میں کھاتے داروں کایہ تناسب بدستور کمی کا شکار ہے، یعنی آبادی کا وہ حصہ جو کسی بھی درجے میں بینک سے منسلک ہے وہ کم ہوتا چلا جارہا ہے۔ نظام بینکاری اگر اسی قدر ضروری ہوتا تو کھاتے داروں کے تناسب میں ضرور اضافہ ہونا چاہیے تھا ۔
iii۔ کھاتے داروں کا آبادی میں درج بالا تناسب اس مفروضے پر مبنی ہے کہ ہر شخص صرف ایک ہی اکاؤنٹ کا مالک ہے جبکہ ایسا ہرگز نہیں کیونکہ کھاتے داروں کی اکثریت ایک سے زیادہ اکاؤنٹ ہولڈر ہوتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک کھاتہ دار اوسطاً ڑیڑھ (ایک اعشاریہ پانچ) اکاؤنٹس کا مالک ہے، اس لحاظ سے آبادی میں کھاتے داروں کا تناسب دس فیصد سے بھی کم (9.3%) رہ جاتا ہے ۔
iv۔ گوشوارے میں دئیے گئے کھاتوں میں کئی لاکھ اکاؤنٹس وہ بھی شامل ہیں جو مختلف بینک دوسرے بینکوں میں نیز سرکاری و غیر سرکاری ادارے بھی اپنے اہداف کے لیے بینکوں میں کھلواتے ہیں (مثلاً صرف یونیورسٹیوں کے کئی سو کھاتے ہوتے ہیں جن میں ملازمین سمیت مختلف پراجیکٹس، گرانٹس، انسٹی ٹیوٹس وغیرہ کے کھاتے شامل ہوتے ہیں)، اگر انہیں کل کھاتوں سے منہا کردیا جائے تو کھاتے داروں کا یہ تناسب مزید کم ہو جائے گا ۔
v۔ اگر آبادی کا شرح نمو ڈھائی فیصد سے زیادہ فرض کیا جائے (جو کہ فی الحقیقت ہے بھی ) تو یہ شرح مزید سکڑ کر آٹھ فیصد تک رہ جائے گی ۔
سرکاری و غیر سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد بینک اکاؤنٹ کھلوانے پر محض اس بنا پر بھی مجبور ہے کہ انہیں اس کے ذریعے تنخواہ ملتی ہے۔ بینک کے مقابلے میں شئیرز کی خریدوفروخت (یعنی سٹے کے بازاروں ) سے تو آبادی کے نصف فیصد سے بھی کم لوگوں کا تعلق ہے۔ اسی طرح ایک سروے کے مطابق پاکستان کی محض تین سے چار فیصد آبادی بیمہ کمپنیوں سے منسلک ہے (اس میں سے بھی اکثریت ان کی ہے جو از خود نہیں بلکہ مختلف کمپنیوں میں نوکری کرنے کی وجہ سے غیر ارادی طور پر بیمہ پالیسی ہولڈر ہیں)۔ سوال یہ ہے کہ کیا آبادی کے اسقدر قلیل افراد کے عمل کو ’عوام کی ناگزیر ضرورت ‘ قرار دیا جاسکتا ہے؟ کیا پاکستان کی نوے فیصد سے زیادہ وہ اکثریت جو بینکوں، اسٹاک ایکسچینج اور بیمہ کمپنیوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتی زندگی کی نعمت سے محروم ہوچکی ہے؟ آخر آبادی کا یہ اکثریتی حصہ بینکوں کے بغیر اپنا معاش کیسے چلا رہی ہے؟ آخر اسلامی بینکاروں کو آبادی کی اس قدر ’محدود اقلیت ‘ کے ’مسائل ‘ (جن کی نوعیت بھی ذیل میں آرہی ہے) حل کرنے کی اتنی فکر کیوں لاحق ہوچلی ہے؟ سارے اجتہادات و توجہ کا محور و مرکز یہی محدود اقلیت کیوں ہے؟
پھر یہ بھی محض وہم ہے کہ بینکاری نظام کے بغیر کاروبار کرنا ممکن نہیں۔ دیکھئے پاکستان میں ہر سال عیدالاضحی کے موقع پر جانوروں کی خریدوفروخت کے سلسلے میں اربوں روپے اور لاکھوں جانوروں کے سودے بنا کسی بینکاری خدمات محفوظ طریقے سے عمل پزیر ہوجاتے ہیں۔ سبزی منڈیوں میں روزانہ کروڑوں روپے کا لین دین ہوتا ہے، اسی طرح چھوٹے کاروباری حضرات (مقامی دوکاندار، ٹیکسی اور رکشہ چلانے والے) بھی بینک اور اسٹاک ایکسچینج سے کوئی تعلق رکھے بغیر روزانہ اربوں روپے کی خریدوفرخت کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سود اور سٹے کے نظام سے باہر جو اس قدر وسیع کاروبار ہورہا ہے اسلامی بینکاری انہیں غیر سرمایہ دارانہ بنیادوں پر منظم کرنے میں کیا کردار ادا کررہی ہے؟ کیا اسلامی بینکاری اب تک جو کاروبار سرمایہ دارانہ نظام زر سے محفوظ ہے اسے مزید محفوظ بنانے کا باعث بن رہی ہے یا اسمیں ضم کرنے کا؟ مشاہدہ تو یہ ہے کہ جو لوگ پہلے اس بنیاد پر بینکوں سے بچتے تھے کہ یہ سودی کاروبارکرتے ہیں اب وہ بھی اسلامی بینکاری کے ذریعے عالمی نظام زر میں شامل ہو رہے ہیں، گویا عالمی نظام زر کے فروغ میں اسلامی بینکنگ کا کلیدی کردار یہ ہے کہ جو لوگ مذہبیت کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ نظام سے بچنا چاہتے ہیں انہیں مذہب کے راستے اس طرح اس نظام میں سمو دیا جائے کہ موجودہ نظام بھی پروان چڑھے اور لوگوں کی مذہبیت بھی مجروح نہ ہو۔ یہ عجیب منطق ہے کہ دس فیصد عوام کو بینکاری سے بچانے کے بجائے اسلامی کا لیبل چسپاں کرکے نوے فیصد کو اس میں شامل ہونے کے لیے ادارتی صف بندی فراہم کر دی جائے ، فیا للعجب
۶۔ اس پہلو پر بھی تفکر کی ضرورت ہے کہ جس ’ضرورت‘ کے نام پر اسلامی بینکاری کی آڑ میں رخصتوں اور حیلوں کو عمومی جواز فراہم کیا جارہا ہے وہ ضرورت ’کس کی ‘ ضرورت ہے۔ معمولی غور کرنے سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ مرابحہ، اجارہ و شرکت متناقضہ جیسے معاہدوں میں ایک بیع کے اندر ایک سے زیادہ معاہدات جمع کرنا، جبری صدقہ لگانا وغیرہ گاہک کی نہیں بلکہ سودی بینک کے خمیر سے گندھے اسلامی بینک کی ضرورت ہے جو ہر حال میں ’یقینی نفع‘ کمانا چاہتا ہے۔ ’ایک بیع کے اندر ایک سے زیادہ پیچیدہ معاہدات جمع کرنا‘ ہی وہ بنیادی ہتھیار تھا جسے استعمال کرکے یہودونصاری نے سود کا مذہبی جواز تلاش کیا تھا اور عین یہی روش اسلامی بینکاری نے بھی اپنا رکھی ہے۔ جس طرح پہلے یہ ہتھکنڈہ بینکوں کی ضرورت تھا، اسی طرح آج بھی اسلامی بینکوں ہی کی ضرورت ہے نہ کہ گاہکوں کی اور پہلے کی طرح آج بھی ’کاروباری خطرے ‘ کو ختم کرنے کے سوا اس کا کوئی دوسرا مقصد نہیں۔ خوب دھیان رہے کہ یہ ضرورت شریعت کی تعلیمات و مقاصد کو پامال کرکے پوری کی جارہی ہے۔
۷۔ پھر ضرورت کے تحت کسی شے کو جائز قرار دینے میں ایک اہم پہلو ’مقدار جواز ‘ (۲) کا بھی ہوتا ہے۔ فقہ کا قاعدہ ہے کہ ضرورتاً جائز قرار دی جانے والی شے بمقدار ضرورت ہی جائز ہوتی ہے نہ یہ کہ وہ اصلاً مطلوب یا حق سمجھ کر بھر پور انداز میں اختیار کر لی جائے۔ زندگی بچانے کے لیے حرام گوشت کھانے کی اجازت ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اب اس گوشت کے تکے اور کباب بنا کر کھائے جائیں، اس کی افزائش نسل کی فکر کی جائے، اس حرام کی طرف رغبت بڑھانے کے لیے اسلامی پرچوں میں اشتہار شائع کرکے لوگوں کی اشتہاء میں اضافہ کیا جائے تاکہ جو کوئی حرام سے بچ سکتا ہے اسے بھی اس کی طرف متوجہ کیا جائے۔ چنانچہ اسلامی بینکاری سے منسلک عمائدین کا رویہ نظریہ ضرورت کی بنیاد پر اسلامی بینکاری کے جواز کو سخت مشکوک بنا دیتا ہے۔ کیا نظریہ ضرورت کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی بینکاری سے زیادہ سے زیادہ مادی فوائد حاصل کیے جائیں؟ اس کی کنسلٹنسی کے نام پر بڑی بڑی تنخواہیں اور مراعات حاصل کی جائیں؟ اسے خود اور لوگوں کو بھی ’معیار زندگی ‘ بلند کرنے کی خاطر اپنانے کا درس دیا جائے اور ٹی وی و اخبارات پر اس کے اشتہارات دکھا دکھا کر لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کیا جائے؟ اس کے فروغ کے لیے بڑی بڑی کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کیے جائیں، دنیا بھر میں ہزاروں ادارے اس کی خدمت کے لیے وقف کردئیے جائیں ؟ آخر ضرورت کی دھائی دے کر مقصد بنالینے کا یہ دھوکہ کس کو دیا جارہا ہے؟
۸۔ یہ اہم پہلو بھی دھیان میں رہنا چاہیے کہ نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دی جانے والی شے کا مقصد اس غیر شرعی ضرورت کو ختم کردینا ہوتا ہے نہ کہ اسے زندگی کا لازمی حصہ بنا دینا۔ فقہ کا قاعدہ ہے کہ ما جاز لعذر بطل بزوالہ (یعنی جو چیز عذر کی بنا پر جائز ہو، وہ عذر ختم ہوجانے کے بعد جائز نہیں رہے گی)، یعنی ضرورتاً جائز قرار دی جانے والی شے کا مقصد ضرورت کو ’ختم ‘ کرنا ہوتا ہے نہ کہ اس ضرورت کو ’قائم و دائم‘ کردینا کیونکہ ضرورت کی بنیادی صفت ہی یہ ہے کہ وہ ’وقتی‘ (temporary) ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ضرورت کے نام پر اسلامی بینکاری کے ذریعے جو حل پیش کیا جارہا ہے وہ اسلامی انفرادیت، معاشرت و ریاست کے فروغ کا ذریعہ بن رہا ہے یا سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے تقاضوں کو ہمیشہ کے لیے اسلامی زندگی کا حصہ بنا رہا ہے؟ کیا ایسی حکمت عملی کو بھی ’اسلامی‘ کہا جا سکتا ہے جو ہمیشہ کے لیے ایک غیر اسلامی نظام (یعنی شر) کو خود پر مسلط کرلینے کی ترکیب ہو؟ کوئی بھی حکمت عملی تب ہی ’اسلامی ‘ کہلانے کی مستحق ٹھرے گی جب وہ مقاصد اسلامی کے حصول کا ذریعہ بنے نہ یہ کہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو نافذالعمل اور پختہ بنائے۔ اگر واقعی اسلامی بینکاری کسی نا گزیر مجبوری کے تحت چلائی جارہی ہے تو بادل ناخواستہ ایک آدھ بینک قائم کرکے اسے چھوڑ دیا جاتا، مگر یہ مجبوری کی کون سی قسم ہے کہ اس کے فروغ کے لیے تن من اور دھن سب کچھ وقف کردیا جائے؟ کیا اس طرز عمل کے نتیجے میں واقعی یہ اس ضرورت کو ختم کردے گی جس کے نام پر اسے اختیار کیا گیا تھا؟ اگر ماہرین اسلامی بینکاری کے نزدیک نظریہ ضرورت اسی شے کا نام ہے تو پھر انہیں حجاب اور مردو زن کے اختلاط سے متعلق اسلامی احکامات پر بھی نظریہ ضرورت کے تحت اجتہاد کرنا چاہیے کیونکہ یہ بھی ’وقت کا تقاضا‘ ہے اور مسلمانوں کو اس معاملے میں بھی گناہ سے بچانے کی اشد ضرورت ہے۔ ایک ایسی عورت جس کا کمانے والا کوئی محرم رشتہ دار نہ ہو اسے نوکری کرنے کی اجازت دینے کا مطلب یہ کہاں سے نکل آیا کہ women job promotion bureau (عورتوں میں نوکری کرنے کا شعور بیدار کرنے کا ادارہ) قائم کردیا جائے؟ اگر اسلامی بینکاری واقعی ضرورت کے نام پر وضع کی گئی تھی تو اس کا مقصد مسلمان معاشروں کو بینک کی ضرورتوں سے نجات دلانا ہوتا نہ کہ انہیں قائم کرنا اور فروغ دینا۔ افسوس کہ مجوزین اسلامی بینکاری کو ایک ضرورت کی نشان دہی کرکے اربوں روپے (۳) بنانے کی فکر تو لاحق ہے مگر اس ضرورت کو ختم کیسے کیا جائے اس بارے میں ان کی فکر یکسر خاموش ہے ( درحقیقت مجوزین بینکاری نظام سمیت موجودہ دور کی کسی ادارتی صف بندی کو ختم کرنے کے سرے سے قائل ہی نہیں ہیں جیسا کہ آگے نشان دہی کی جائے گی) ۔
۹۔ اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ اسلامی بینکاری رخصت کی ایک شکل ہے تو کیا رخصتوں کے فروغ کو ’بطور پالیسی‘ اختیار کرنے کا مطلب اسلامی نظام زندگی سے دستبردار ہو جانے کے ہم معنی نہیں؟ کیا حکمت عملی اپنانے کا مقصد ’رخصتوں‘ اور ’نظریہ ضرورت‘ کو عموم بخشنا ہوتا ہے یا اصل مطلوب اختیار کرنے کی طرف راہ ہموار کرنا؟ اسمیں شک نہیں کہ تبدیلی نظام کی جدوجہد میں ایک مرحلہ ایسا ضرور ہوتا ہے جب ’اصل مطلوب سے کم تر‘ یعنی رخصتوں پر عمل کیا جاتا ہے مگر رخصتوں پر عمل کی اجازت کو جانچنے کا معیار بذات خود یہی ہوتا ہے کہ ان پر عمل کے نتیجے میں اصل مطلوب پر عمل کرنا ممکن ہورہا ہے یا نہیں۔ اگر رخصتیں اصل مطلوب کو فوت کرکے اس کی طرف گامزن کرنے کے بجائے بذات خود مطلوب کے درجے میں اختیار کرلی جائیں تو وہ اپنا جواز کھو بیٹھتی ہیں کیونکہ یہ اپنا جواز از خود نہیں بلکہ حصول مطلوب کے آلے کی حیثیت میں ہی رکھتی ہیں۔ اسی بنیادی فرق کو نہ پہچاننے کی بنا پر مجوزین اسلامی بینکاری مدارس میں اختیار کردہ حیلے کو اپنے حیلوں کے حق میں بطور دلیل پیش کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مدارس میں اختیار کردہ حیلہ بے شمار ’اصل شرعی مقاصد‘ (فروغ علوم دینیہ وغیرہ) کے حصول کا باعث بن رہا ہے جبکہ اسلامی بینکاری کے حیلے بالذات مقصود بن کر اصل مقصد کے حصول میں مزاحمت کررہے ہیں۔ لہٰذا اسلامی بینکاری کے حیلوں کو مدرسے کے حیلے پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے
۱۰۔ ایک لمحے کے لیے مجوزین اسلامی بینکاری کی یہ بات مان لیتے ہیں کہ چونکہ ’مسلمانوں کی معاشی ترقی ‘ ایک ضرورت ہے اور بینک کے بغیر اس کا حصول ممکن نہیں لہٰذا اسلامی بینکاری لازم ٹھری۔ چلیے اگر اسلامی بینکاری ’مسلمانوں کی ترقی‘ ہی کو اپنا مطمع نظر بنا کر اس پر عمل پیرا ہوجاتی تو بھی ’مسلم قوم پرستانہ‘ تناظر میں ہی صحیح اس کے حق میں کچھ نہ کچھ عذر پیش کرہی دیا جاتا مگر یہاں تو معاملہ یہ بھی نہیں۔ اگر واقعی اسلامی بینکاری کو مسلمانوں کی ترقی کی فکر ہوتی تو یہ زرعی و صنعتی شعبہ جات میں زیادہ سے زیادہ سہولتیں اور آسان شرائط پر قرضہ جات فراہم کرنے پر یکسو دکھائی دیتی، لیکن اس تضاد کا کیا کیا جائے کہ اسلامی بینکاری سے استفادہ کرنے والی سب سے بڑی اکثریت کا تعلق عمل پیداوار کے بجائے عمل صرف (consumer sector) سے ہے۔ پاکستان اسلامک بینکنگ سیکٹر ریویو (ص ۵۰) کے مطابق اسلامک بینکنگ انڈسٹری سے مختلف معاہدات کی مد میں قرضہ لینے والوں کا تناسب ذیل کے گوشوارے سے واضح ہے ۔ ان اعداد وشمار سے صاف ظاہر ہے کہ اسلامی بینک ’مسلمانوں کی ترقی‘ سے زیادہ ’ان کامعیار زندگی بلند کرکے اپنے نفع‘ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اسی لیے یہ (پیچیدہ معاہدات کے ذریعے) زیادہ تر قرضے عمل صرف کے لیے فراہم کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسلامی بینکاری دین کے نام پر ’صرف کرنے والی معاشرت‘ (consumer society) کو عام کررہی ہے۔

کیا کوئی خدا ترس عالم دین اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا ہے کہ ’قرض کو فروغ دے کر consumer society کا حصول اور معیار زندگی میں اضافہ ایک شرعاً مطلوب مقصد ہے؟‘ اسلامی تہذیب تو کجا کسی دوسری مذہبی تہذیب میں بھی اگر ’معیار زندگی میں اضافہ‘ نامی کسی علمی اصطلاح و معاشرتی مقصد کا ذکر تک موجود ہے تو بتایا جائے؟ (براہ مہربانی ’نیا اجتہاد ‘ فرما کر قرآن و سنت کے نئے معنی متعین کرنے کے بجائے اسلامی علمی روایت سے اس کا ثبوت پیش کیا جائے)۔ اگر ایسا نہیں جیسا کہ امر واقعہ ہے تو پھر اسلامی بینکاری کے جواز میں آخر کیا عذر باقی رہ جاتا ہے؟ اشتہار بازی (یہاں تک کہ اسلامی پرچوں میں بھی ) کے ذریعے لوگوں کو نفس مطمئنہ سے محروم کرکے اعلیٰ سے اعلیٰ کی ایک ایسی دوڑ میں شامل کرنا جس کا کوئی معلوم معیار ہی نہیں کس دین کی خدمت ہے اور کتاب الرقاق وغیرہ کی روشنی میں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ جو بینکاری لوگوں کو نفس مطمئنہ ہی سے محروم کردے، آخر وہ اسلامی کیسے ہو سکتی ہے؟
منطقی تضادات پر مبنی الزامی دلیل
مفتی صاحب نے اسلامی بینکاری پر نظاماتی حوالے سے کی جانے والی تنقید کی غلطی واضح کرنے کے لیے ایک ایسی مثال کا سہارا لیا ہے جس کا ہدف براہ راست راقم الحروف ہے۔ چنانچہ مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ جس طرح کے نظاماتی اعتراضات ہم اسلامی بینکاری پر اٹھا رہے ہیں قریب اسی طرح کی بحث موجودہ تعلیمی نظام پر بھی کی جاسکتی ہے۔ غالباً اس مثال سے مفتی صاحب کا مقصد الزامی دلیل قائم کرنا ہے (کہ جو جواب یہاں دو گے وہی اسلامی بینکاری میں بھی معتبر سمجھ لو، گویا یہ مفروضہ قائم کرلیا گیا ہے کہ راقم اپنے دفاع کے لیے یقیناًموجودہ تعلیم کے حق میں کچھ نہ کچھ عذر ضرور پیش کرے گا) اور یہی وجہ ہے کہ مفتی صاحب خود ہی اس دلیل کو مناظرانہ دلیل قرار دیتے ہیں۔ اس مثال سے جو نتائج مفتی صاحب نے نکالے ہیں ان پر تبصرے سے قبل عرض ہے کہ خالصتاً مناظرانہ لحاظ سے بھی یہ دلیل محل نظر ہے:
- یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر ایک غلط عمل کسی دوسرے غلط عمل کی دلیل کس طرح بن سکتا ہے (منطق میں اسے Fallacy of two wrongs make a right کہتے ہیں)۔ پہلی بات یہ کہ راقم الحروف کے کسی جدید تعلیمی درسگاہ کا حصہ ہونے سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ وہ نظام تعلیم درست ہے؟ اس مثال کا مقصد اگر بینکاری کی اسلام کاری کو درست ثابت کرنا ہے تو یہ دلیل منطقی تضاد پر مبنی ہے کیونکہ ایک غلط بات کسی دوسرے مقدمے کی دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ مفتی صاحب کی راقم پر تنقید کا حاصل یہ ہے کہ تمہار عمل غلط ہے یعنی تم سرمایہ دارانہ نظام میں شامل ہو، لیکن راقم کا مؤقف یہ ہے کہ مجوزین اسلامی بینکاری کی فکر اور عمل دونوں ہی غلط ہیں۔ راقم کے غلط عمل کی بنیاد پر مجوزین اپنی غلط فکر کو درست ثابت نہیں کرسکتے ،لہٰذا مجوزین کو چاہیے کہ سب سے پہلے اس نظام بینکاری کا مذہبی جواز پیش کرنا ترک کردیں، اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ زاہد مغل کیا کررہا ہے
- پھر فرض کریں اگر اس مثال سے یہ ثابت ہو بھی جائے کہ راقم کے قول و فعل میں تضاد ہے (کہ ایک طرف وہ موجودہ نظام پر تنقید کررہا ہے اور دوسری طرف اس میں شامل ہے ) تب بھی اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ اب موجودہ نظام کو فطری سمجھتے ہوئے اس کی اسلام کاری کر لینی چاہیے؟ کیا دعوی کرنے والے کے قول و فعل کے تضاد سے اس کے دعوے کی منطقی تردید لازم آتی ہے؟ (منطق میں اسے Fallacy of Look who is talking کہتے ہیں)۔ سگریٹ کو برا کہنے والا اگر خود اس کے کش لگائے تو اس سے سگریٹ کے نقصانات غلط ثابت نہیں ہوجاتے
- اہم ترین بات یہ ہے کہ راقم جس طرح اسلامی بینکاری کو غلط سمجھتا ہے بالکل اسی طرح موجودہ تعلیمی نظام کو بھی غلط سمجھتا ہے، محض اس بنیاد پر کہ وہ ایسے کسی تعلیمی ادارے کا حصہ ہے اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ وہ اس نظام تعلیم کا حامی بھی ہے؟ راقم الحروف اور اسلامی بینکاری کے مویدین میں فرق یہ ہے کہ وہ حضرات نہ صرف یہ کہ سرمایہ دارانہ نظام میں شامل ہوتے ہیں بلکہ اسے فطری سمجھ کر اس کی اسلام کاری بھی کرتے ہیں جبکہ راقم نے نہ تو کبھی موجودہ نظام تعلیم کو فطری کہا، نہ اس کی اسلام کاری کی، نہ اس کے حق میں کتابیں لکھیں اور نہ ہی ایسی کسی نام نہاد اسلامیت کی بنیاد پر اپنے کاروبار کی دکان چمکائی، پھر دونوں میں مماثلت ہی کیا؟ راقم الحروف موجودہ نظام تعلیم کو سرمایہ دارانہ شخصیت کی تعمیر و تشکیل کا نظام سمجھتا ہے اور اپنے طلباء کو بھی حد الامکان اسی بنیادی حقیقت اور موجودہ تعلیمی نظام (خصوصاً علم معاشیات) کے تضادات سے آگاہی دینے کی کوشش کرتا ہے۔ کسی شے کو اختیار کرنے اور اس کی اسلام کاری کرکے اس پر راضی ہوجانے میں جو فرق ہے یہ ہر ذی شعور شخص پر واضح ہے۔ بدکاری میں ملوث ہونا اور اس کا مذہبی جواز پیش کرنا دو مختلف قسم کے رویے ہیں۔ موخر الذکر رویہ چونکہ غلطی و گناہ کا احساس ہی ختم کردیتا ہے لہٰذا اس کے نتیجے میں کوئی تبدیلی لانا نہ صرف یہ کہ نا ممکن ہوجاتا ہے بلکہ کسی تبدیلی کی بات کرنا بھی گناہ ٹھرتا ہے (جیسا کہ اسلامی بینکاری کے مویدین کا حال ہے اور جیسا کہ مفتی صاحب نے بھی بار بار راقم الحروف کو اسلامی بینکاری کے مویدین علمائے کرام اور اداروں کا نام لے کر سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ میاں ہوش کرو کیا تم انکے خلاف جانے کی جرات کرتے ہو)
انداز فکر کا مسئلہ
درج بالا مثال کے ذریعے درحقیقت مفتی صاحب یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ہر چیز کے بطور ’کل‘ جائزے ہی کو اسے اختیار کرنے یا ترک کرنے کا اصول اور معیار بنا لیا جائے تو بڑی مصیبت در پیش آجائے گی کیونکہ اس کی زد سے تو شاید ہی کوئی شے بچ پائے گی۔ چلیے اس دلیل کے ذریعے مفتی صاحب اور راقم الحروف اس قدر مشترک تک تو پہنچ گئے کہ جس بنا پر اسلامی بینکاری باطل ہے انہی بنیادوں پر جدید تعلیمی نظام بھی غلط ہے، البتہ مفتی صاحب کو یہ نتائج قبول کرنے میں پیش آنے والی ممکنہ ’عملی مشکلات ‘ بطور روکاوٹ نظر آرہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے اگر امر واقعی ایسا ہی ہو کہ موجودہ دور کی اکثر و بیشتر ادارتی صف بندیاں باطل کے قیام و فروغ کے لیے قائم ہوئی ہوں تو ان سب کو رد کرنے اور ان کی جگہ کسی دوسری صف بندی کے احیاء کی دعوت دینے میں آخر شرعاً و عقلاً قباحت کیا ہے؟ اگر ایک شخص مطالعے و غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ موجودہ دور کی دس میں سے آٹھ باتیں غلط ہیں تو اسے اس کا حق حاصل ہونا چاہیے کہ انہیں غلط کہے، اگر دوسرا شخص اپنے مطالعے کے بعد دو یا تین (اور وہ بھی جزوی طور پر ) ہی کو غلط سمجھتا ہے تو یہ اس کی اپنی رائے ہے، مگر یہ کہنا کہ کسی انداز فکر سے چونکہ موجودہ دور کی آٹھ باتیں غلط ماننا لازم آتی ہیں اور اس سے زندگی مشکل ہوجائے گی لہٰذا انہیں غلط کہنے کے بجائے کوئی دوسرا انداز فکر ہی اپنا لینا چاہیے، یہ کوئی علمی استدلال نہیں بلکہ علمی دنیا میں اسے pragmatism کہتے ہیں جو کوئی اصول، فلسفہ یا نظریہ حیات نہیں بلکہ صرف ’کام چلانے ‘ کا طریقہ ہے، درحقیقت یہ فرار کا راستہ ہے، حقائق سے آنکھیں نہ ملانے کی حکمت عملی ہے۔ مغربی فلسفے پر مبنی علمیت نے جدید انسان کو یہ سبق پڑھا دیا ہے کہ علم وہ ہے جو تمہارے فوری مادی مسئلے حل کر دے، اگر کوئی علم تمہارے مسئلے حل نہیں کر رہا تو وہ علم ہی نہیں۔ Pragmatic ہونے کا مطلب یہ ہے کہ میں زندگی کو کسی اصول کی بنیاد پر نہیں بلکہ سہولت، آرام اور کام چلانے کے نظرئیے کے تحت بسر کرنا چاہتا ہوں۔ میں کسی اصول اور اعلیٰ اقدار کے نظرئیے کوقبول نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ان اصولوں اور نظریوں کا ادراک میرے بوجھ اور ذمہ داریوں میں اضافہ کرے گا اور یہ بوجھ میری سہولتوں کی راہ میں قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کرے گا۔ کیا ان موانع کے خوف سے pragmatism کو اختیار کرلینا شرعاً جائز ہے؟
کسی انداز فکر کو جانچنے کا یہ کوئی معیار نہیں کہ آیا اس سے برآمد ہونے والے نتائج کسی دوسرے انداز فکر کے حاملین (یا اکثریت) کے لیے قابل قبول ہیں یا نہیں۔ کسی نافذ العمل نظام (جسے ہم status quo کہہ سکتے ہیں ) میں تبدیلی لانے کے لیے برپا کی جانے والی جدوجہد کی نوعیت، اس کے طریقہ کار اور نافذ العمل قانون کے بارے میں زاویہ نگاہ کا انحصار درج ذیل باتوں پر ہوتا ہے:
(اول) مطلوبہ تبدیلی کی نوعیت:
یعنی آپ کس قسم کی تبدیلی لانا چاہتے ہیں، موجودہ نظام کو برقرار رکھتے ہوئے اور اس کے اندر رہتے ہوئے اس کی غلطیوں کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں یا آپ کا مقصد اس کی جگہ کوئی دو سرانظام قائم کرنا ہے۔
(دوئم) مطلوبہ تبدیلی کی ہمہ گیریت:
اگر آپ نظام کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں یا اسے تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو کس حد تک، یعنی اس اصلاح یا تبدیلی کا مقصد انسانی زندگی کے تمام گوشوں پر اثر انداز ہونا ہے یا چند ایک پر ۔
چنانچہ جو شخص موجودہ نظام کو جس قدر حق سمجھتا ہوگا اتنا ہی وہ اس کے اندر رہنے اور اس کی اصلاح کا بھی قائل ہوگا، اسی قدر وہ نافذ العمل قانون کے دائرے کے اندر رہنے کی آواز اٹھائے گا اور اسی نسبت سے کسی انقلابی جدوجہد کے باطل ہونے پر بھی مصر ہوگا۔ اس کے برعکس جس شخص کا تصور تبدیلی جتنا زیادہ ہمہ گیر ہوگا وہ status quo سے اتنا ہی نالاں ہوگا، اسی قدر وہ انقلابی جدوجہد کا بھی قائل ہوگا۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ کسی نظام زندگی کے بارے میں دو لوگوں کے انداز فکر کا اختلاف اس بات کا غماز ہوتا ہے کہ وہ موجودہ نظام کے بارے میں کن مفروضا ت کی بنیاد پر نظریات قائم کرتے ہیں، یعنی دونوں کے نزدیک اس نظام کی حیثیت کیا ہے نیز اس میں کس قسم کی اور کتنی تبدیلی درکار ہے۔ اسلامی ماہرین معاشیات و فائنانس درحقیقت ’جو اچھا ہے اسے لے لو اور جو برا ہے اسے ترک کردو‘ کے اصول کے تحت مغرب اور اسلام میں مفاہمت کی پالیسی پر اس لیے عمل پیرا ہیں کیونکہ وہ سرمایہ دارانہ اداروں کو غیر اقداری اور فطری تصور کرتے ہیں، انکے خیال میں اسلامی تعلیمات کے اندر یہ گنجائش موجود ہے کہ وہ مغرب کو اپنے اندر سمو سکے اور یہی وجہ ہے کہ یہ ماہرین سرمایہ دارانہ اداروں میں چند جزوی اور عملی (operational) تر میمات و اصلاحات کے ذریعے ان کااسلامی متبادل تیار کرنا ممکن سمجھتے ہیں۔ مویدین اسلامی بینکاری اور انکے ناقدین کے درمیان اصل اختلاف اسی بات پر ہے کہ موجودہ نظام کی نوعیت کیا ہے، نیز اس کا اسلام کے ساتھ تعلق کیسا ہے۔ چونکہ راقم الحروف جیسے وہ حضرات جو ماہرین اسلامی معاشیات و فائنانس کی موجودہ نظام کے بارے میں تشخیص و تفہیم ہی کو درست نہیں سمجھتے، وہ انکے زاویہ نگاہ سے بھی اختلاف کرتے ہیں۔ ماہرین اسلامی معاشیات کے زاویہ نگاہ کو قبول کرنے کا مطلب صرف اور صرف یہ ہے کہ ناقدین اپنے بنیادی مقدمے سے دستبردار ہو کر مجوزین کے مفروضات کو من و عن قبول کرلیں، اور ظاہر ہے بلا دلیل ہمارے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں۔
مجوزین کی طرف سے ’جو اچھا ہے وہ لے لو اور جو برا ہے اسے ترک کردو‘ پر عمل پیرا ہونے کی اصل وجہ یہ نہیں کہ حدیث شریف میں یہ اصول بیان ہوا ہے بلکہ اسے اپنانے کی وجہ موجودہ نظام کے بارے میں ان کااپنا مخصوص زاویہ نگاہ اور فکری پس منظر ہے جسے جواز فراہم کرنے کے لیے حدیث کا سہارا لے لیا گیاہے۔ آخر اس حدیث سے یہ مفروضہ کب ثابت ہوتا ہے کہ ’ہر چیز کے لیے یہ اصول ضرور اپنا ؤ‘؟ (آگے چل کر ہم ’اسلامی قحبہ خانوں ‘ کی مثال عرض کریں گے، دیکھنا یہ ہے کہ حضرات مجوزین اس اصول کو وہاں کیسے منطبق کرتے ہیں)۔ آخر حدیث کا یہ مفہوم سمجھنے میں کیا چیز مانع ہے کہ ’جس شے کے اندر خیرکا پہلو شر پر غالب ہو وہاں خیر کو اختیار کرلو اور شر کو ترک کردو‘۔ آخر تھوڑا بہت خیر تو دنیا کی ہر ہی شے میں ہوتا ہے، خود قرآن کے مطابق شراب میں بھی نفع موجود ہے (بقرۃ : ۲۱۹) مگر کیا اس بناء پر شراب کے کاروبار کو فروغ دینا جائز ہوگا؟ پھر اس حدیث سے یہ بات بھی واضح ہے کہ اس کا اطلاق وہاں ہونا چاہیے جہاں خیر کو شر کا اثر زائل کرکے اپنانا ممکن ہو، دوسرے الفاظ میں اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت حال پر حدیث کا اطلاق درست نہ ہوگا۔ مجوزین کی یہ محض خام خیالی ہے کہ اسلامی بینکاری کے نام پر اختیار کردہ حکمت عملی کے سلسلے میں وہ حدیث شریف پر عمل پیرا ہیں کیونکہ اس حکمت عملی کے تحت حاصل ہونے والے خیر کی قیمت ’صرف‘ یہ ہے کہ:
- قرض پر مبنی زرو معیشت کو فروغ اور شرعی جواز مل رہا ہے۔
- سودی حیلے عمومیت اختیار کرتے جارہے ہیں ۔
- حرص و حسد (معیار زندگی بلند کرنے ) کی عقلیت کو اسلامی جواز مل رہا ہے۔
- مسلمان سرمایہ دارانہ نظام کے اندر خود کو سمو تے جارہے ہیں ۔
- نظام باطل کے اندر شمولیت کا احساس گناہ ختم ہوتا جارہا ہے۔
- مسلمانوں کے اموال استعماری قوتوں کے شکنجے میں کسے جارہے ہیں۔
اسلامی بینکاری کے راستے موجودہ مالیاتی نظام کا حصہ بننے کا ایک ثمر یہ ہے کہ مسلمانوں کے اموال موجودہ ادارتی صف بندی کی نگرانی و قابو میں آجاتے ہیں، اور اس طرح کوئی بھی مال ’اموال باطنہ ‘ نہیں رہ پاتا۔ نتیجتاً وہ لوگ جو پہلے دین کی بے دریغ خدمت کیا کرتے تھے ان کے اموال پر عالمی جاسوس اداروں کی نگرانی ہوجانے کی وجہ سے اب انکے لیے ایسا (مثلاً مجاہدین و مدارس کی مدد) کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ امریکہ میں اگر کوئی مسلمان بینک سے ایک خاص مقدار سے زائد رقم نکلوائے تو سی آئی اے اس کی نگرانی کرنے لگتی ہے کہ یہ رقم کب اور کہاں خرچ کی گئی۔ لہٰذا اسلامی تحریکات کی امداد کرنے والے ہاتھ اس نظام میں شمولیت کے ذریعے باندھ دئیے جاتے ہیں کیونکہ انکے اموال استعمار کے شکنجے میں آجاتے ہیں۔
کیا واقعی حدیث کا مفہوم یہی ہے کہ حکم شرع کے کسی ایک پہلو پر عمل کرنے کے لیے درجنوں احکامات شرع کو پامال کرنا جائز ہے؟ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ مجوزین جس زاویہ نگاہ کی عینک سے مسئلے کی نوعیت کو دیکھ رہے ہیں اس عینک سے ان مسائل کا ادراک نا ممکن ہے، لہٰذا انہیں ناقدین کو نصیحت کرنے کے بجائے اپنے انداز فکر پر نظر ثانی کی کوشش کرنا چاہیے۔ مجوزین کی طرف سے ہمیں انداز فکر تبدیل کرنے کا جو مشورہ دیا جارہا ہے اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کو باطل سمجھنے اور اسے تبدیل کرنے کے بنیادی مقدمے سے باز آجاؤ۔
مفتی صاحب نے اپنے اصول کو ثابت کرنے کے لیے بازار کی مثال بھی پیش کی ہے کہ باوجود اسے برے مقامات میں شامل کرنے کے ’کل‘ کی بنیاد پر اس میں جانا کلیتاً منع نہیں کردیا گیا۔ اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ ہم نے کب اس بات سے انکار کیا ہے کہ جہاں خیر کو شر کا اثر زائل کرکے اپنانا ممکن ہو وہاں بھی مت کرو؟ ہمارا کہنا تو یہ ہے کہ اسلامی بینکاری (بلکہ اکثر مغربی مظاہر کو مسلمان بنانے) کے معاملے میں آپ اس اصول کو غلط جگہ پر استعمال کررہے ہیں۔ بازار اور (علم معاشیات کے تصور) مارکیٹ میں نہایت بنیادی نوعیت کا فرق ہے (جسکی تفصیلات میں جانے کا یہ موقع نہیں)، بازار میں شمولیت کے جواز سے مارکیٹ میں شمولیت کا جواز ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بازار اسلامی ہو سکتا ہے مگر مارکیٹ اسلامی نہیں ہوسکتی کیونکہ بازار کی برائیاں اضافی (relative) نوعیت کی ہیں جن سے بچنا ممکن ہے، مگر مارکیٹ تو قائم ہی مذہبی اخلاقیات کے جنازے پر ہوتی ہے جسکی اصلاح ناممکن ہے، اس کی اصلاح کا واحد طریقہ اس کی بنیاد پر قائم تمام اجتماعیتوں کو ختم کردینا ہے۔ چونکہ مذہبی معاشرت کے قیام میں بازاروں کا اہم مقام ہے لہٰذا شرع میں اس کی گنجائش بھی رکھی گئی اور اس کے ذریعے مذہبی مقاصد کو فروغ دینے والے کو جنت کی بشارت بھی دی گئی، مگر مارکیٹ تو مذہبی معاشرت کا رد ہے۔ اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ بازار کی مثال پیش کرکے، اور پھر اس اصول کے تحت مارکیٹ کو بازار پر قیاس کرکے مارکیٹ پر مبنی اسلامی بینکاری کے لیے جگہ تلاش کی جاسکتی ہے تو اس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ اسے دونوں کا فرق معلوم نہیں۔
اگر مفتی صاحب جزئیات سے کلیات ہی اخذ کرنا چاہتے ہیں تو ان کی پیش کردہ مثال کے برعکس نظائر کی نشاندہی بھی کی جا سکتی ہے۔ مسجد اسلامی تہذیب کا لازمی جزو اور شعار ہے لیکن اگر مسجد کی اساس ہی غلط ہو، اسے تعمیر کرنے کا مقصد اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق جوڑنے کے بجائے امت میں انتشار پھیلانا ہو تو باوجود انتہائی مقدس مقام ہونے کے مسجد اپنا تقدس کھو دیتی ہے اور اسے مسجد ضرار قرار دے کر وہاں جانے سے روک دیا جاتا ہے (توبہ: ۱۰۷)۔ دیکھئے ایک انتہائی متبرک مقام بھی مقاصد تبدیل ہوجانے سے مقدس و متبرک نہیں رہتا، کہنے والا کہہ سکتا ہے مسجد کے بے شمار فوائد ہیں نمازی نماز ادا کرتے ہیں وغیرہ، مگر ’جو اچھا ہے وہ لے لو اور جو برا ہے اسے ترک کردو‘ کے تحت ان فوائد کا اعتبار نہ کیا گیا۔ اگر جزئیات کی بنیاد پر ہی قیاس کرنا ہے تو مارکیٹ کو بازار کے بجائے مسجد ضرار پر قیاس کرنا مناسب تر ہوگا۔
حواشی
۱۔ اس نکتے کی تفصیل کے لیے دیکھئے ساؤتھ افریقہ کے مدرسہ انعامیہ سے اسلامی بینکاری کے خلاف اور علمائے کرام کے حق میں جاری کیا گیا مقالہ "Riba in a new get-up"۔ یہ مضمون مدرسے کی ویب سائٹ www.al-inaam.com سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ زیر نظر مضمون میں ’نظریہ ضرورت ‘ کی بحث میں بہت سے نکات اسی مضمون سے اخذ کیے گئے ہیں ۔ عیسائی دنیا میں سود کی بتدریج حرمت کن حیلوں کی آڑ میں ختم کی گئی اور مذہبی پیشواؤں نے اس میں کیا کردار ادا کیا اس کی عمدہ تفصیل Tawney کی کتاب Religion and the Rise of Capitalism میں دیکھی جا سکتی ہے
۲۔ نوٹ نمبر ۳ میں دی گئی تفصیلات دیکھنے سے ’مقدار ضرورت ‘ کی حقیقت خوب واضح ہوجاتی ہے
۳۔ دھیان رہے کہ ’حیلوں کی مد میں اربوں کھربوں روپے کے مالی معاہدات کرنا‘ اسلامی بینکاری پر کوئی الزام نہیں بلکہ عین حقیقت ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ ’اسلامک بینکنگ بلیٹن بابت اکتوبر تا دسمبر ۲۰۰۸ کے مطابق اسلامک بینکوں نے مختلف طرق تمویل پر درج ذیل رقوم خرچ کررکھی ہیں:
بلیٹن کے مطابق اکتوبر تا دسمبر ۲۰۰۸ کے دوران اسلامی بینکوں کا کل اثاثوں پر آمدنی کا تناسب 7.9% رہا۔ اگر فرض کیا جائے کہ ’حیلہ طرق تمویل ‘ کی درج بالا رقوم (جو اسلامی بینکوں کے کل اثاثوں دوکھرب چھتر ارب کا تقریباً پچاس فیصد ہے) پر اوسطاً 8% نفع رہا ( جو یقیناًاس سے زیادہ ہوگا تب ہی تو بینک اس مد میں زیادہ رقوم خرچ کرتے ہیں) تو تین ماہ کے دوران حیلوں کی مد میں اسلامی بینکوں نے لگ بھگ دس ارب ستتر کروڑ روپے بنائے۔ کیا واقعی ضرورت اسی چیز کا نام ہے کہ کھربوں روپے کا کاروبار چمکا کر اس پر اربوں روپے کما لیے جائیں؟ درج بالا گوشوارے میں سب سے اہم چشم کشا حقیقت یہ امر ہے کہ اسلامی بینک ’قرض حسنہ‘ کی مد میں ایک دھیلہ بھی خرچ نہیں کرتے۔ کیا اس سے معلوم نہیں ہوجاتا کہ اسلامی بینکاری کے ’اصل مقاصد‘ کیا ہیں؟
(جاری)
مکاتیب
ادارہ
(۱)
۲۰۱۰۔۷۔۱۸
مکرمی جناب محمد عمار خان ناصر
السلام علیکم ورحمۃ اللہ مزاج گرامی
آپ کی توجہ اور عنایات سے آپ کا موقر مجلہ ’’الشریعہ‘‘ باقاعدگی سے ملتا ہے۔ اگرچہ اب میں ایک مدت سے ’’غیر فعال‘‘ ہوں، تاہم علمی جرائد اور مجلات کے توسط سے تحقیقی پیش رفت سے آگاہی ہوتی رہتی ہے۔
الشریعہ میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے غیر سودی نظام پر تنقید اور اس کے دفاع کا مباحثہ میں نے بہت شوق اور توجہ سے پڑھا، ہر چند کہ اکنامکس کا طالب علم نہ ہونے کے باعث بابجا الجھنیں پیش آتی رہیں۔ اس موضوع پر دو طرفہ علماء کرام اور فقیہان امت کی تالیفات اور فتاویٰ بھی دینی حلقوں میں گردش کناں ہیں جومستقبل میں پرستاران اسلاف کے لیے خاصی پریشانیاں پیداکر سکتے ہیں۔
اس مسئلے میں اگر دو اہم امور کو پیش نظر رکھا جاتا تو شاید ایک دوسرے پر تنقید میں اپنی صلاحیتیں صرف کرنے کے بجائے معاشی نظام کی تشکیل میں پیش رفت ہو سکتی:
۱۔ میرے علم کی حد تک حضرت عثمانی نے جو غیر سودی بنکاری کا خاکہ پیش کیا، وہ ان کے مطابق ان کی ایسی بلند آہنگ سوچ (Loud Thinking) تھی جو حتمی نہیں تھی اوراس کی تشکیل میں انھوں نے ماہرین معاشیات سے پرابلمز معلوم کر کے فقہ اسلامی سے ان کے حل تلاش کیے جو مستقل نہیں تھے بلکہ عبوری دور کے لیے تھے اور ان کی حیثیت جائز حیلوں یا مرجوح اقوال سے استفادے کے ذریعے سودکی لعنت سے نجات کے لیے سرنگ کھودنے کے مترادف تھی جس سے توقع کی جا سکتی تھی کہ تجربات کی روشنی میں اسے بہتر بنانے کا عمل جاری رہے گا، لیکن اس عبوری اضطراری حل کو عقیدت مندوں نے
’’اسلامی نظام معیشت کے بانی شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی‘‘
کے سیاسی نعرے میں تبدیل کر دیا۔ پھر جب اس سے متوقع فوائد حاصل نہ ہوئے تو یہ سوال سامنے آیا کہ کیا اسلامی نظام معیشت بانجھ ہو گیا ہے یا زیر نظر نظام اسلامی نہیں ہے۔
۲۔ اس اجتہاد کے منافع سمیٹنے والوں (Beneficiaries) میں حضرت عثمانی اور ان کا خاندان سرفہرست ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر محترم خاندان اپنے اجتہاد کو اپنے ذرائع آمدن میں اضافے کے لیے استعمال نہ کرتا۔ اسلامی روایت یہ رہی ہے کہ مجتہدین امت عوام کے لیے تیسیر ورخص اور اپنے لیے عزیمت اور مراعاۃ الخلاف کے اصول پر کاربند رہے۔
اگر ڈاکٹر محمد طاہر منصوری (ڈین شریعہ فیکلٹی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد) کی یہ روایت درست ہے کہ مذکورہ غیر سودی بنکاری نظام کی نگرانی کے لیے حضرت عثمانی نے بنکوں کے لیے جس شریعہ ایڈوائزری کی منظوری حاصل کی تھی، اس کی کوالیفکیشن اس نوعیت کی رکھی گئی کہ اس میں صرف دار العلوم کراچی کے مخصوص سند یافتہ ہی آ سکتے تھے، جب میں نے (یعنی ڈاکٹر منصوری نے) ڈاکٹر محمود احمد غازی کی توجہ اس طرف دلائی تو انھوں نے بحیثیت وزیر مذہبی امور اس میں ایل ایل ایم شریعہ، اسلامی یونیورسٹی کو بھی شامل کر لیا (گویا دونوں حضرات نے اپنے اپنے حلقے کے افراد کے روزگار کو اولیں ترجیح دی) اور اگر سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر محمد خالد مسعود کی یہ بات درست ہے کہ ان مشیران فقہ کو گراں قدر ماہانہ مشاہروں اور گوناگوں مراعات کے علاوہ ہر جائزہ کردہ ٹرانزکشن پر کمیشن بھی ملتا ہے تو کیا ایسا اجتہاد جو پیہم مفادات سے وابستہ ہو، لائق اعتنا ہو سکتا ہے؟
اس غیر سودی نظام کے اسلامی ہونے پر اکثر عرب علما اور عالم اسلام کے اجتہادی اداروں کو شدید تحفظات ہیں، بلکہ ڈاکٹر وہبہ الزحیلی نے ڈاکٹر ایس ایم زمان کے مرابحہ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں راقم کی موجودگی میں حضرت عثمانی کے بارے میں فرمایا: ’’ہو ابو الحیل، عاب علیہ علماء العرب‘‘۔
الشریعہ شکریے اور مبارک باد کا مستحق ہے کہ اس نے اس لوٹ کھسوٹ کے دور میں بھی علمی مباحثے کا فورم مہیا کیا ہوا ہے جس کے نتیجے میں گراں قدر علمی تحقیقات سے استفادے کا موقع میسر آ جاتا ہے۔
(ڈاکٹر) محمد طفیل ہاشمی
اسلام آباد
(۲)
برادر مکرم ومحترم سید عز یز الرحمن صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
’’تحقیقات حدیث‘‘ کا دوسرا شمارہ نظر نواز ہوا۔ ماشاء اللہ مضامین کا انتخاب عمدہ اور آپ کے علمی ذوق کا آئینہ دار ہے۔ میری خواہش بھی ہے اور امید بھی کہ یہ مجلہ ان شاء اللہ علوم حدیث کے حوالے سے بلند پایہ علمی مقالات کی پیش کش کا ذریعہ ثابت ہوگا۔
تازہ شمارے میں ’’برصغیر میں حجیت حدیث پر موجود لٹریچر کا جائزہ‘‘ کے زیر عنوان ڈاکٹر محمد سلطان شاہ کے مقالے میں ص ۱۹۹ پر جد مکرم شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا ذکر بھی ہوا ہے، لیکن غالباً ان کی تصانیف مقالہ نگار کے مطالعے میں نہیں رہیں جس کی وجہ سے مقالے میں ان کی تصنیف ’’راہ سنت‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے جو سرے سے حجیت حدیث کے موضوع سے متعلق ہی نہیں۔ حجیت حدیث کے موضوع پر حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تین مستقل تصانیف ’’شوق حدیث‘‘، ’’انکار حدیث کے نتائج‘‘ اور ’’صرف ایک اسلام بجواب دو اسلام‘‘ ہیں جن میں اس بحث کے مختلف گوشوں پر تفصیلی کلام کیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کی تقریرات بخاری کے مختصر مجموعہ ’’احسان الباری‘‘ میں بھی حجیت حدیث پر اصولی بحث موجود ہے۔
ص ۱۹۰ تا ۱۹۴ میں مولانا امین احسن اصلاحی کا ذکر ہوا ہے۔ اس بحث میں مولانا کے نقطہ نظر کی صحیح ترجمانی نہیں کی گئی۔ مثلاً ص ۱۹۲ پر کہا گیا ہے کہ ’’مولانا اصلاحی نے حد رجم کا انکار کیا‘‘ حالانکہ مولانا رجم کی سزا کے ثبوت کو احادیث پر منحصر ماننے کے بجاے براہ راست قرآن کی آیت محاربہ میں منصوص قرار دیتے اور اسے شرعی حدود میں شمار کرتے ہیں۔ ان کا اختلاف عام نقطہ نظر سے رجم کے شرعی حد ہونے یا نہ ہونے میں نہیں، بلکہ اس کے نفاذ کی شرائط میں ہے۔ اسی طرح یہ بیان کہ ’’خبر واحد کے سلسلے میں مولانا اصلاحی کاموقف ہے کہ یہ حجت نہیں ہے‘‘ (ص ۱۹۳) کسی طرح درست نہیں۔ خود مقالہ نگار نے ان کا جو اقتباس نقل کیا ہے، اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’اخبار آحاد محض آحاد ہونے کی بنا پر ناقابل اعتبار نہیں قرار دی جائیں گی، بلکہ ان پر اعتماد کیا جائے گا۔ ان میں ضعف کے جو پہلو ہیں، ان کی تلافی کی مختلف صورتوں پر ہمیشہ نگاہ رکھی جائے گی اور شبہ کو دور کرنے کے لیے جو وسائل وذرائع بھی استعمال ہو سکتے ہیں، وہ استعمال میں لائے جائیں گے۔‘‘ گویا مولانا کا موقف یہ ہے کہ خبر واحد علی الاطلاق حجت نہیں، نہ یہ کہ وہ مطلقاً حجت نہیں۔ یہی اس معاملے میں احناف، مالکیہ اور اصول فقہ وکلام کے بہت سے ممتاز محققین کا ہے۔
امید ہے نیک دعاؤں میں یاد فرماتے رہیں گے۔
محمد عمار خان ناصر
۸ جون ۲۰۱۰ء
انا للہ و انا الیہ راجعون
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ملک کے ممتاز اور بزرگ عالم دین مولانا قاضی عبد اللطیف آف کلاچی گزشتہ دنوں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ اور دیگر اکابر علما کی قیادت میں اسلامی دستور سازی کی جدوجہد میں شریک رہے ہیں اور ان کا شمار مدبر، معاملہ فہم اور صاحب دانش علما میں ہوتا تھا۔ کافی عرصہ علیل رہنے کے بعد گزشتہ ماہ آخر وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ابھی ایک آدھ ماہ قبل ہی ان کے بھتیجے مولانا قاضی عبدالحلیمؒ کا انتقال ہوا ہے۔ یہ پے در پے اموات نہ صرف ان کے خاندان کے لیے بلکہ پورے طبقہ علما کے لیے بے حد رنج اور صدمے کا باعث ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے، ان کے لیے آخرت کی منزلیں آسان فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل کے ساتھ دینی وعلمی خدمات کے سلسلے کو جاری رکھنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین یا الٰہ العالمین۔
گزشتہ ماہ کے دوران میں ہی جامعہ الہدیٰ (نوٹنگھم، برطانیہ) کے ناظم اور ہمارے قریبی عزیز جناب محمد ظہیر کی والدہ محترمہ، جو جامعہ الہدیٰ کے پرنسپل مولانا رضاء الحق سیاکھوی کی ممانی بھی تھیں، کئی سال کی علالت کے بعد دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ کینسر کے عارضے میں مبتلا تھیں اور زندگی کے آخری چند سال انھوں نے تکلیف اور پریشانی کے باوجود بڑی ہمت اور حوصلے کے ساتھ گزارے۔ وہ ایک نیک، دین دار اورباوقار خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائیں، ان کے درجات کوبلند کریں اور پس ماندگان کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
دعائے صحت
ممتاز عالم دین، ماہنامہ الفرقان لکھنو کے سرپرست اور ہمارے نہایت مشفق اور مہربان بزرگ حضرت مولانا عتیق الرحمن صاحب سنبھلی دام مجدہم گزشتہ چند ماہ سے علیل ہیں اوربڑھاپے اور ضعف کے علاوہ متعدد جسمانی عوارض سے نبرد آزما ہیں۔ قارئین سے درخواست ہے کہ ان کے لیے صحت کاملہ وعاجلہ کی دعا فرمائیں۔ اللہم اشف مرضانا ومرضی المسلمین شفاء لا یغادر سقما۔ آمین
The Quran: The Book Free of Doubt
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
(Exploratory Essays into I'jaz al-Quran and Other Topics)
(مصنف: سید منیر واسطی۔ صفحات: ۲۷۵۔ قیمت: ۳۵۰ روپے۔ ناشر: یونیورسٹی آف گجرات)
زیر نظر کتاب قرآن مجید اور قرآنی علوم کے بعض اہم پہلووں مثلاً تاریخ اور اعجاز وغیرہ پر تعارفی مضامین اور شذرات کا ایک مجموعہ ہے جو مصنف کے بقول اس موضوع پر ان کے کم وبیش چالیس سالہ مطالعہ کا نچوڑ ہے۔ کتاب کے مباحث کو چار بنیادی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ’’قرآنی متن‘‘ کے زیر عنوان پہلے حصے میں عربی زبان کے ارتقا، قرآنی متن کی تاریخ، اسباب نزول، سورتوں کی ترتیب، اقسام قرآن، اختلاف قراء ت اور دیگر موضوعات پر کلام کیا گیا ہے۔ ’’قواعد زبان‘‘ کے عنوان کے تحت دوسرے حصے میں قرآنی زبان کے مختلف اسالیب مثلاً مجاز، حذف وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ’’اعجاز القرآن‘‘ کے زیر عنوان اس موضوع پر مختلف مسلم اور غیر مسلم مصنفین کی آرا کا خلاصہ درج کیا گیا ہے۔ بعض جگہ مصنف کی طرف سے مختصر تبصرے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ’’عمومی مباحث‘‘ کے عنوان سے آخری حصے میں قرآن کے ترجمے اور تحریف قرآن سے متعلق اہل تشیع کے عقیدے پر گفتگو کی گئی ہے۔
کتاب کی نوعیت ایک مربوط تصنیف کے بجائے مجموعہ شذرات کی سی ہے جس میں موضوع سے متعلق متفرق نوٹس یا مختصر مضامین جمع کر دیے گئے ہیں۔ اسلوب کے اعتبار سے بھی اسے گہرائی کے ساتھ لکھی جانے والی کوئی تحقیقی کاوش قرار دینا مشکل ہے۔ البتہ ابتدائی مرحلے کے طلبہ اگر موضوع کے متفرق اجزا کا غیر مربوط تعارف حاصل کرنا چاہیں تو کتاب ایک حد تک ان کی معاون ہو سکتی ہے۔ کتاب کے آخر میں قرآن مجید کے مکمل اور جزوی انگریزی تراجم، قرآنی معاجم، اشاریہ جات، انسائیکلوپیڈیاز اور قرآنی علوم سے متعلق مستشرقین اور مسلم علما کی تصنیف کردہ انگریزی کتب کی ایک مفصل فہرست دی گئی ہے جو اس موضوع کے طلبہ اور محققین کے لیے خاص طور پر مفید ہے۔ کتاب کی زبان بھی مناسب ہے اور طرز تحریر انگریزی زبان سے مصنف کے دیرینہ تعلق کا پتہ دیتا ہے۔
یونیورسٹی آف گجرات کے شعبہ نشر واشاعت نے اس کتاب کو قیمتی کاغذ پر بہت باذوق انداز میں شائع کیا ہے اور معیار طباعت کے لحاظ سے اس پر درج قیمت بے حد مناسب دکھائی دیتی ہے۔