اپریل ۲۰۱۰ء

دستوری ترامیم اور حکمران طبقے کا رویہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
سید ابوالحسن علی ندویؒ: فکری امتیازات و خصائصڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
اسلامی اخلاقیات کے سماجی مفاہیم (۱)پروفیسر میاں انعام الرحمٰن 
علمِ حدیث پر مستشرقین کے اعتراضات (جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ کے افکار کا خصوصی مطالعہ)پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک 
ایک نئی دینی تحریک کی ضرورتڈاکٹر محمد امین 
مذہبی شدت پسندی اور اس کے سدباب کی حکمت عملیخورشید احمد ندیم 
’’میڈیا کے چیلنج اور پیغام کی اثر انگیزی‘‘ (۱)محمد عمار خان ناصر 
مکاتیبادارہ 
حالات و واقعاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
الشریعہ اکادمی میں سیرت النبیؐ کے حوالے سے مختصر تقریبادارہ 

دستوری ترامیم اور حکمران طبقے کا رویہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دستور پاکستان ایک بار پھر ترامیم کا سامنا کر رہا ہے اور ان سطور کی اشاعت تک دستور پر نظر ثانی کے لیے پارلیمنٹ کی قائم کردہ کمیٹی کی سفارشات منظر عام پر آ چکی ہوں گی۔ ۱۹۷۳ء میں منتخب دستور ساز اسمبلی نے یہ دستور منظور کیا تھا اور اس وقت کی پارلیمنٹ کو یہ اعزاز حاصل ہوا تھا کہ اس نے قیام پاکستان کے ربع صدی بعد ملک کو ایک ایسا متفقہ دستور دیا جو قوم کے تمام طبقوں اور علاقوں کے لیے قابل قبول تھا اور پوری قوم نے اس پر اتفاق کرتے ہوئے ایک نئی دستوری زندگی کا آغاز کیا تھا۔ اس دستور کی بنیاد تین امور پر تھی: اسلام، جمہوریت اور وفاق۔ یہی تین دستوری بنیادیں قوم کے اتفاق واتحاد کی علامات قرار پائیں، مگر ۱۹۷۳ء سے اب تک یہ دستور سترہ ترامیم کے مراحل سے گزر چکا ہے اور اب اٹھارویں ترمیمی بل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان دستوری ترامیم میں سے بعض ایسی بھی ہیں جو قوم کے اجتماعی مطالبے پر کی گئیں اور ایسی بھی ہیں جو کسی نہ کسی ڈکٹیٹر نے اپنی آمرانہ ترجیحات اور ضروریات کے مطابق دستور میں شامل کر دیں۔ ان آمرانہ ترامیم نے دستور کو موم کی ناک بنا دیا جو آمروں اور ڈکٹیٹروں کے رحم وکرم پر تھا اور اس کا نقشہ وقتاً فوقتاً بدلتا رہا۔ یہ آمر طاقت کی نمائندگی بھی کرتے تھے اور کچھ آمر وہ بھی تھے جنھوں نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ لیا تھا اور اس کی آڑ میں انھوں نے آمرانہ مزاج اور روایات کو دستور کا حصہ بنا دیا۔
ہمارے ہاں اصل میں دو مغالطے ہمیشہ کار فرما رہے۔ ایک یہ کہ آمریت اور جمہوریت میں فرق یہ ہے کہ حکمرانی کے منصب پر فائز شخص عوام کا نمائندہ ہے یا صرف طاقت کی نمائندگی کرتا ہے، حالانکہ آمریت کا تعلق ووٹ سے نہیں بلکہ مزاج اور نفسیات سے ہوتا ہے اور اس کا فیصلہ عوامی رجحانات کا احترام کرنے یا اسے پامال کر دینے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اس مغالطے نے ووٹ اور الیکشن کے ذریعے آنے والے بعض حکمرانوں کے ہاتھ میں بھی آمریت کی تلوار تھما دی اور اس کا نشانہ غریب دستور بنتا چلا گیا۔ دوسرا مغالطہ یہ کہ شاید سارے کام دستور ہی کرتا ہے اور اس میں رد وبدل کرنے سے پالیسیاں اور طرز عمل بھی خود بخود تبدیل ہو جایا کرتے ہیں، جبکہ اصل بات دستور کو چلانے والوں کی ذہنیت، نفسیات اور طرز عمل ہے۔ اگر عمل کرنے والوں کی نیت درست ہے، وہ قومی مفادات کو اپنے ذاتی، گروہی اور طبقاتی مفادات سے مقدم رکھتے ہیں اور عوام کی رائے ان کے نزدیک محترم ہے تو دستور وقانون اس کے مطابق حرکت کرتے ہیں اور اگر حکمرانوں کی نفسیات اور ترجیحات اس سے مختلف ہیں تو دستور وقانون کے لیے ان کے اشارۂ ابرو کے مطابق گھومتے چلے جانے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہوتا اور پاکستان کے دستور وقانون کے ساتھ اب تک یہی ہوتا آ رہا ہے۔
پاکستان کے دستور کی تینوں بنیادوں پر نظر ڈال لیجیے کہ اسلام، جمہوریت اور وفاق میں سے کس کے ساتھ اب تک وفا کی گئی ہے اور ہماری رولنگ کلاس کا رویہ ان میں سے کس کے ساتھ مثبت رہا ہے! ہمارے حکمران طبقات نے جب چاہا ہے، ضرورت پڑنے پر ان میں سے ہر بنیاد کو ہتھیار کے طو رپر ضرور استعمال کیا ہے لیکن ملک کے نظام اور معاشرتی ماحول میں ان میں سے کسی کو بھی عمل داری کے لیے آزاد نہیں چھوڑا گیا اور پھر ستم بالاے ستم یہ کہ ہماری رولنگ کلاس کے اوپر ایک اور ’’رولنگ کلاس‘‘ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کی صورت میں مسلط ہے جو پہلے ان دیکھی اور خفیہ ہوتی تھی، اب کھلم کھلا ملک کے ہر شہری کو دکھائی دے رہی ہے اور صورت حال یہ ہے کہ دستور وقانون کی جو صورت ان دونوں کے مفاد میں ہوتی ہے اور اس پر عمل درآمد سے ان میں سے کسی کا مفاد مجروح نہیں ہوتا، وہ کسی درجے میں عمل میں آ جاتی ہے، لیکن جمہوریت، راے عامہ اور دستور وقانون کی جو تعبیر ان میں سے کسی کی ترجیحات کے لیے رکاوٹ بنتی ہے، وہ ان دیکھے فریزر میں منجمد ہو کر رہ جاتی ہے۔
دستور کی اسلامی دفعات پر عمل درآمد، پارلیمنٹ کی بالادستی اور وفاق کے تقاضوں کے مطابق صوبوں کے حقوق اور اسٹیٹس کی بحالی کے مسائل ربع صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود جوں کے توں پڑے ہیں اور اس کی تازہ ترین عملی مثال یہ ہے کہ مبینہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے قوم کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ قرارداد کی صورت میں جو قومی موقف طے کیا تھا، وہ خدا جانے کون سے فریزر میں منجمد پڑا ہے اور جن پالیسیوں کو عوام نے دو سال قبل عام انتخابات میں کھلم کھلا مسترد کر دیا تھا، ان کا تسلسل نہ صرف جاری ہے بلکہ اسے تحفظ فراہم کر کے عوامی رائے اور مینڈیٹ کا کھلم کھلا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ دستور پاکستان پر جتنی بار چاہیں، نظر ثانی کر لیں اور جتنے بھی ترمیمی بل منظور کرا لیں، اگر رولنگ کلاس کا رویہ، نفسیات اور ترجیحات تبدیل نہیں ہوں گی تو بار بار کی دستوری ترامیم سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت فدویانہ طرز عمل کو بدلنے کی ہے، نوآبادیاتی نظام اور سوچ سے پیچھا چھڑانے کی ہے، ملک کی دستوری بنیادوں اسلام، جمہوریت اور وفاق کے تقاضوں کو بروے کار لانے کی ہے اور عوام کے جذبات ورجحانات کے آگے سرنڈر کرنے کی ہے۔ اگر رولنگ کلاس اس کے لیے تیار ہے تو حالات میں اصلاح کی توقع کی جا سکتی ہے، ورنہ
گر یہ نہیں ہے بابا پھر سب کہانیاں ہیں

سید ابوالحسن علی ندویؒ: فکری امتیازات و خصائص

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

انیسویں صدی کے اواخر میں عالم اسلام سیاسی، عسکری اور علمی و فکری زوال کی انتہا کو پہنچ رہا تھا اور بیسویں صدی کے آغاز تک مغربی استعمار عالم اسلام کے حصے بخیے کرنے اور خلافت کے ادارہ کو توڑنے میں کامیاب ہوچکاتھا۔اس ناگفتہ بہ صورت حال نے عالم اسلام میں بے چینی کی ایک لہر دوڑادی اور ہر طرف علماے راسخین اور مجاہدین آزادی اٹھ کھڑے ہوئے۔ مختلف اسلامی تحریکات اور شخصیات دنیائے اسلام کے کونے کونے میں پان اسلام ازم اور احیائے اسلام کے مبارک و مقدس کاز کے لیے سرگرم عمل ہوگئیں۔ 
یہ زمانہ افکار و نظریات کی شکست و ریخت کا زمانہ تھا۔ مغرب کے صنعتی و سائنسی انقلاب نے وہاں کے حالات یکسر بدل دیے تھے۔ افکار و خیالات کی دنیا میں ایک نمایاں تغیر آچکا تھا، اب جاگیر داری ختم ہورہی تھی اور اس کی جگہ شراکت جمہور نے لے لی تھی۔ سرمایہ داری کی پرانی شکلیں تبدیل ہوکر اب بین الاقوامی تجارتی ادارے (M.N.C.S) قائم ہورہے تھے۔ موروثی بادشاہت اور آمریت کی طنابیں بیسویں صدی کی ہوائے حریت سے یکے بعد دیگرے ٹوٹ رہی تھیں۔ مزدوروں کے استحصال نے سرمایہ دارانہ نظام اور بورژروا طبقہ کے خلاف سخت معاندانہ رجحانات پیداکردیے تھے۔انفرادی ملکیت کی بجائے اب سیاست و معیشت کے اداروں میں پرولتاریہ خیالات کی گونج سنائی دے رہی تھی اور یہ فکر زندگی کے ہر شعبہ کو شدت سے متاثر کرنے لگا تھا۔
مغربی نشاۃ ثانیہ کی پرورش و پرداخت اصلاً یہودی دماغ نے کی تھی، چنانچہ الحاد، بے دینی اور اخلاق سے بیزاری اس نئی تہذیب اور نئی بیداری کی نمایاں علامتیں بن گئیں۔ اب عقل انسانی ہی ہر چیز کی میزان، اور افادیت و نفع بخش ہی تمام اعمال کے خیروشر ہونے کا پیمانہ بن گئے۔ مذہبیات اور روحانیات پر الحادو تشکیل کی ہوائیں چلنے لگیں اور نئی نسلوں کے اذہان و قلوب کو متاثر کرنے لگیں۔ قومیت اور نیشنل ازم کی آوازیں اس زور سے اٹھیں کہ وطن پرستی ہی ’’روح عصر‘‘ سمجھی جانے لگی۔ عالم اسلام خود مختلف عصبیتوں اور قومیتوں کا شکار ہوگیا۔ فکری زعامت اور علمی و تحقیقی امامت بھی مشرق سے چھن کر اب مغرب کو منتقل ہوچکی تھی۔عالم اسلام پر اب عسکری و سیاسی حملوں کے بجائے علمی و فکری یلغار یں زیادہ ہورہی تھیں اورحکومت و ریاست اور سیاست ومعیشت کے مختلف اور متعدد نظریات سامنے آرہے تھے۔
ایسی صورت حال میں عالم اسلام میں اٹھنے والی مختلف تحریکات اور ان کے فکری رہنماؤں کی تحریرو ں اور تعبیروں میں خارج کے دباؤ کے تحت کچھ افراط و تفریط کا آجاناکچھ زیادہ تعجب کی بات نہیں ہے، کیونکہ انسان ہر حال میں اپنے ماحول اور اردگرد کی فضا سے اثر پزیر ہوتاہے۔چنانچہ برصغیر میں مدرسہ مودودیؒ کے پیداکردہ لٹریچر اور اس کے بانی کی خاص مصطلحات میں اس کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔ ۱ ؂ اسی طرح عالم عرب میں عظیم اسلامی تحریک ’’الاخوان المسلمون‘‘ کے ایک بڑے فکری رہنما اور مجاہد سید قطبؒ شہید کی بعض تحریروں میں بھی انہیں خیالات کی بازگشت ملتی ہے۔ ۲؂ بر صغیر کی بعض دوسری اور تحریکوں میں بھی افراط و تفریط کی یہی صورت حال نظر آتی ہے۔ ان میں سے بعض مغربی انقلاب سے شدید طور پر متاثر تھیں اور بعض خالص صوفیانہ نقشہ کے ساتھ اصلاح کا کام کرنا چاہتی تھیں۔ ۳؂ 
تحریکی و انقلابی تصور دین کی علمبردار جماعتوں اور تحریکوں نے بلاشبہ دین کی مدافعت ونصرت کی ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ انھوں نے کئی نسل کو الحاد و تشکیک کے حملوں سے بچایا، مستشرقین اور متجددین کے اعتراضات کے جواب دیے، اسلام سے متعلق مختلف پہلؤوں پر عصری اسلوب و آہنگ میں لٹریچر فراہم کیا۔بایں ہمہ چونکہ ان میں سے بیشتر اسلامی تحریکات کا پہلا دور جوش و خروش اور انقلابی جزیات اور تبدیلی کے ایک عمومی نشانہ کو لے کر ہوا تھا، اس بڑھی ہوئی انقلابیت کی وجہ سے کہیں پر جابر و مستبد مسلمان حکمرانوں سے ٹکراؤ اورتصادم کی کیفیت پیدا ہوگئی اور کہیں پر بنیادی فکر اور لٹریچر میں دین کی تعبیر و تشریح کے سلسلہ میں افراط و تفریط نے راستہ پالیا،حتی کہ جو شیلے نوجوان کارکن اور نسبتاً زیادہ انقلابی افراد ان تحریکوں سے بھی مایوس ہوکر الگ الگ گروپ بنانے میں جٹ گئے اور نیا خون کم ملنے کی وجہ سے اب اکثر تحریکیں تعصب وتحزب اور جمود فکری کا شکار ہونے لگی ہیں۔ 
دنیا کی دوسری قوموں کے مقابلہ میں بحکم ’’خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی ‘‘ امت مسلمہ کی ۱۴ سو سالہ تاریخ زوال و ادبار، انحطاط و تنزل کے ساتھ ہی اصلاح و تجدید سے بھی معمور رہی ہے۔امت کی اس پوری تاریخ میں عام روایت یہ رہی ہے کہ مصلحین و مجددین بلا استثنا پوری قوم کو اپنا مخاطب بناتے تھے۔ انھوں نے کسی تحریک و تنظیم کے تصور کی اساس پر کام نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اصلاح و تجدید کی تاریخ میں عمر بن عبدا لعزیز رضی اللہ عنہ سے لے کر حسن بصریؒ ، عبدالقادر جیلانیؒ ، غزالیؒ واشعریؒ تک اور ابن تیمیہؒ وابن خلدون ؒ سے لے کر امام ربانی مجدد الف ثانی سرہندیؒ اور امام ولی اللہ محدث دہلویؒ تک سب کے سب امت کی مشترکہ میراث بن گئے اور آنے والی نسلوں نے ان سے بلا استثنا کسب فیض کیا۔ ان عبقری شخصیات نے فقہی جمود، مسلکی اور جماعتی تعصب کی تنگ نائیوں اور محدود یتوں سے نکل کر فکر اسلامی کے آفاقی اور وسیع تصور کو سامنے رکھا۔
بیسویں صدی میں اٹھنے والی انقلابی تحریکیں امت میں ایک نئی روایت کا آغاز تھیں۔ ان سے امت کی اصلاح و تجدید کا یہی نکتہ پوشیدہ رہ گیا۔ بطور خاص بر صغیر میں دین کی تعبیر کے لیے جو اسلوب اختیار کیا گیا، جو لب ولہجہ اپنایا گیا، وہ یہاں کے لیے ایک نئی اور نامانوس بات تھی۔ اس کے باعث، نیز یہاں کے مخصوص حالات کے پیش نظر علما کی بڑی تعداد اس تحریک سے دور و نفور ہی رہی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک مخصوص فکری حلقہ پیدا کرنے کے علاوہ یہ تحریکیں کوئی ہمہ گیر شکل اختیار نہ کر سکیں۔ عوام قابل ذکر تعداد میں ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور ساری صلاحیتوں اور امکانات کے باوجود ان کے اثرات عام طور پر بہت محدود ہوکر رہ گئے۔
مذکورہ تحریکات کی نشوونما اور ارتقا کا زمانہ مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے عنفوان شباب کا زمانہ ہے۔مولانا نے ان میں سے بیشتر تحریکات اور ان کے بانیوں کو دیکھا، پرکھا اور برتا تھا۔ کئی ایک سے ان کی عملی وابستگی بھی رہی اپنے فکری سفر کے ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے بالآخر وہ خود ’’ایک شخص ایک کاروان‘‘ کی شکل اختیار کرگئے۔گزشتہ نصف صدی کی عظیم علمی و فکری شخصیات کے مابین مولانا تنہا ایک ایسے داعی ومفکر اور روحانی قائد اور مرشد امت ہیں جو ان ساری محدودیتوں سے نکل کر بذات خود ایک مدرسہ فکر کی حیثیت اختیار کرگئے۔ مولانا ندوی ؒ کی زندگی ، ان کی عقلیت کے تکوینی عناصر، ان کا خاندانی پس منظر، ان کے اساتذہ گرامی قدر، ان کی تعلیم و تربیت اور فکری نشوونما، ان کی تصنیفات، ان کے عملی کارناموں اور ان کی اصلاحی و دعوتی جد وجہد کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے، بہت کچھ لکھا جاچکا ہے، اور آیندہ بھی ان پہلووں پر بہت ساکام ہوگا۔ میں یہاں اختصار کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتاہوں کہ مولانا کا فکری خمیر تحریک شہیدین کی جامع روح پرور اور انقلابی و تجدیدی دعوت سے اٹھا تھا۔یہی تحریک تھی جو ان کے دل میں جاگزیں ہوگئی تھی اور کہا جاسکتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد وہ اسی تحریک کو مثالی اور آئیڈیل نمونہ تصور کرتے تھے، اور اسی کے عملی مظاہر اور تقاضوں کی تلاش و جستجو میں انھوں نے مختلف شخصیات اور مختلف مراکز دعوت و فکر کی طرف قدم بڑھائے تھے۔ سید مودودی ؒ سے ان کا فکری رشتہ اسی کی خاطر استوار ہواتھا۔ بستی نظام الدین کے مرکزتبلیغ کی طرف ان کے قدم تبلیغی تحریک کے وسیع تناظر کو دیکھتے ہوئے ہی اٹھے تھے جو افسوس کہ بانی تبلیغ ،مصلح ا مت مولانا محمدالیاس کاندھلویؒ کے ذہن ہی میں رہا اور ان کی وفات پر ان کے ساتھ ہی رخصت ہوگیا۔ عالم عربی کے مجدد امام حسن البناءؒ کی تحریک اور ان کا منہج عمل اپنے جلال و جمال میں اسی تحریک کا پر تو نظر آیااور مولانا نے اس سے فیض اٹھانے میں کمی نہیں کی۔غرض یہ کہ ان کا اصل مایہ خمیر تحریک شہیدین تھی، اسی مشن کو انھوں نے اپنا مشن بنایا اور تاحیات اس مشن کے وفادار رہے، اور خود ان کا وجود مسعود بھی اس تحریک کا معنوی و امتداد و تسلسل بن گیا۔ 
مولانا ندوی کا بنیادی وصف یہ تھا کہ وہ عالم اسلام میں منصب توجیہ و ترشید پر فائز تھے۔عصر حاضر میں دین کی نئی تعبیر و تشریح کا مسئلہ پیش آیا اور بعض مفکرین سے اس سلسلہ میں بعض تسامحات ہونے لگے تو مولانا نے اس موضوع پر قلم اٹھایا اور اس ضمن میں اپنے بعض محبوب رفقا اور دوستوں پر بھی علمی تنقیدو محاسبہ کا فرض انجام دیااورعصرحاضرمیں دین کی تشریح و توضیح کے سلسلہ میں مولانا مودودیؒ کی تعبیری فر و گزاشتوں کا بھی مؤاخذہ کیا۔ ۴؂  ارید ان اتحدث الی الاخوان اور کتاب ’’البصائر‘‘، ’’عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح‘‘ اور ترشید الصحوۃ الاسلامیۃ سب اسی ترشیدی و توجیہی سلسلہ کی مختلف کڑیاں ہیں۔جب بر صغیر کے ایک تحریکی حلقہ میں یہ مسئلہ بڑے شد و مد کے ساتھ اٹھایا گیا کہ قرآن کے مخصوص مصطلحات کے معنی و مفہوم پر صدیوں پردہ پڑا رہ گیا تھا تو مولانا نے اس بات کی شدت کے ساتھ تردید کی اور علمی اور مثبت انداز میں ’’دعوت و عزیمت‘‘ کا ایک تاریخی سلسلہ لکھا۔ یہ پورا سیٹ اصلاً ان کے اس دعوے کا علمی ثبوت تھا کہ امت میں اصلاح و تجدید کا ایک تاریخی تسلسل قائم رہا ہے اور کسی مرحلہ میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ دین کے مجموعی مفاہیم امت سے مستور ہوگئے ہوں۔ ماذا خسرالعالم بانحطاط المسلمین اور ’’الصراع بین الفکرۃ الغربیۃ والفکرۃ الاسلامیۃ‘‘ میں انھوں نے مختلف اسلامی ممالک میں امت کے ماضی حال و مستقبل کا ایک بصیر ت افروز اور مؤر خانہ و ناقدانہ جائزہ لیا، زوال و ادبار کے عوامل کی نشاندہی بھی کی اور موجودہ حالات میں عالم اسلام کس راستہ کو اختیار کرے، اس سوال کا جواب دیا اور واضح منہج عمل مسلمانوں کے سامنے رکھا۔ واقعہ یہ ہے کہ عالم اسلام نے مولانا کی اس توجیہ و ترشید کو دل سے قبول کیا ہے، چنانچہ تحریکات اسلامیہ کے موجودہ منہاج عمل اور عملی طریقہ ہائے کار میں اس کے اثرات کو صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔اس لحاظ سے مولانا اس صدی کے بہت بڑے فکری قائد اور روحانی مرشد ہیں۔
مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ کا دوسرا بڑا وصف یہ ہے کہ وہ فقہی توسع کے قائل اور اس کے علمبردار تھے۔ انھوں نے جمود و تقلید کے بجائے ہمیشہ اجتہاد کی دعوت دی۔ عشق رسول، اتباع سنت، اور احترام سلف کے ساتھ تربیت باطن اور تزکیہ و احسان کو مطلوب شرعی قرار دیتے رہے۔ انھوں نے تصوف کو بدعات و خرافات اور عجمی اثرات سے پاک کرنے کی دعوت دی اور کتاب وسنت پر مبنی تصوف (احسان) کو روح دین سے کبھی متصادم نہیں سمجھا بلکہ اگر دیکھا جائے تو صحیح معنی میں انھوں نے ہی برصغیر میں پہلی بار علم تزکیہ (تصوف) کی تجدید کی اور اسے بدعات و شرکیہ اعمال سے اس کی تطہیر کی بنارکھی۔ اسی سلسلہ میں ان کے گہربار قلم سے ربانیۃ لا رھبانیۃ نکلی۔انھوں نے پوری ملت کو اپنا مخاطب سمجھا اور بنایا۔ جماعت دیوبند سے بھی انھیں ویسی ہی محبت تھی جیسی تحریک ندوہ سے۔ محدثین کے مسلک سے بھی انھیں عقیدت تھی اور متبع سنت صوفیا اور سلاسل تصوف کے بھی وہ قدر دان تھے۔گویا ان کی ذات میں تحریک ندوہ کی بازیافت ہوئی تھی اور اس کی اصل روح عود کرآئی تھی۔ المیہ یہ ہے کہ مولانا کے اس فکری اور عملی توسع کو بعض خوردہ بیں اور کوتاہ چشم فکر و عمل کا تضاد سمجھتے ہیں۔
مولانا ندوی ؒ نے دین کی سیاسی تعبیر پر تنقید کی، تاہم وہ اپنی زندگی کے کسی لمحہ میں بھی دین و سیاست کی دوئی اور تفریق کے قائل نہیں رہے۔انھوں نے اسلا م کی شوکت،خلافت کے ادارہ کے احیا اور عالم اسلام کے اتحاد اور قوت کی آرزو کی، اس کے لیے کوششیں کیں اور عالم اسلام کے سربراہوں، امرا، مفکروں اور دانشوروں سے جماعتوں اور ان کے قائدین سے اس سلسلہ میں کھلی باتیں کیں۔ ان کا سلسلہ ’’اسعمیات‘‘‘ اس پر شاہدعدل ہے۔ انھوں نے عالم اسلام کے مسائل سے ہمیشہ تعلق رکھا، مسلمان امرا کو ان کے فرائض سے متعلق آگاہ کرتے رہے، انھوں نے مصر کی ناصریت، عربی قومیت اور ترکی کی کمالیت پر تنقید کی، مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ فلسطین کے مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
امت کے ضیاع پر مولاناابوالحسن علی ندوی (جوعرف عام میں علی میاں ندوی کے نام سے معروف ہیں)انگاروں پر لوٹتے تھے، لیکن ان کا یہ درد محض احساس و شعور اور قرطاس و قلم تک ہی محدود نہ تھا، انھوں نے امت کا مرثیہ پڑھنے اور آہ وبکا کرنے پر بھی اکتفا نہیں کیا۔ وہ قنوطیت اور یاسیت کے بھی شکار نہ تھے نہ ہی خوش فہمیوں میں مبتلا رہے، بلکہ میدان عمل میں آکر ایک دیدہ ور سپاہی کی طرح اور ایک با شعور اور بابصیر ت قائد کی طرح ہر محاذ پر آگے نظر آئے۔ وہ ڈرائنگ روم مفکروں، گوشہ نشین علما و مدرسین اور زمانے کے اندھیروں اور اجالوں سے بے خبر ’’ہو حق‘‘ کی ضربیں لگانے والے عابدوں اور زاہدوں میں سے نہیں تھے بلکہ ان کی پوری زندگی تمام تر علمی و تحقیقی مشغولیتوں، عبادات کے ذوق و شوق اور روحانی ریاضتوں کے باوجود سر تاپا جہد وعمل سے عبارت تھی۔ وہ عالم اسلام میں ہونے والے ہر قسم کے تعلیمی و تربیتی، دعوتی اور اصلاحی کاموں میں تعاون کرتے اور اصلاحی تحریکات کے پشت پناہ اور مؤید اور ان کے لیے دعا گو بھی تھے۔
مولاناندویؒ کو فکر ارجمند کے ساتھ دل درد مند بھی عطا ہواتھا۔ دین ظلم سے، کفر اور شرک سے نفرت سکھاتا ہے، لیکن ایک انسان کے ساتھ (چاہے وہ کافر و مشرک ہی کیوں نہ ہو) وہ فرخ دلانہ، مصلحانہ اور ناصحانہ رویہ کا طالب ہے۔ ہر نبی کی کی دعوت میں یہ چیز نہایت ابھر ی ہوئی ہے کہ ہر نبی نے اس راہ کی تمام مشکلات کو خندہ جبینی سے برداشت کیااور قوم کی طرف سے پیش آنے والی مصیبتوں اور اذیتوں کے باوجود انا لکم ناصح امین ہی کہا۔ علماے حق اور مصلحین امت بھی انبیا کی نیابت کرتے ہیں۔بنی آدم کے لیے ہمدردی و غم گساری، بلند انسانی قدروں کی حفاظت، حق کی طرف داری، مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانا، اور ظلم کے خلاف احتجاج کرنا وغیرہ جیسے عناصر کا پایا جانا دعوت واصلاح کی تاریخ کا ایک ناگزیر حصہ ہے ۔مولانا کی ’’پیام انسانیت‘‘ کی تحریک دراصل ایسی جذبہ واحساس کی ایک تعبیر ہے۔
آج عقلیت کا دوردورہ ہے۔ سائنٹفک ریسرچ و تحقیق کے نام پر الحادی تہذیب اور تشکیک کی فضا پھیلائی جارہی ہے۔ اس صورت حال میں دینی مفاہیم اور تعلیمات کی تشریح کے لیے عصری اسلوب کا استعمال و قت کا تقاضا اور ایک ناگزیر دعوتی ضرورت ہے۔ اس صدی کے کئی بہترین دماغوں نے عقلی اور استدلالی اسلحوں سے لیس ہوکر اسلام کی نصرت و اشاعت کاکام کیا ہے جس کی مثال میں مولانا وحیدالدین خان کی شاہکار کتاب ’’مذہب اورعلم جدید کا چیلنج‘‘ کو پیش کیا جاسکتاہے اور ان کا یہ کام اپنی جگہ نہایت مہتم بالشان اور ضروری ہے اور مولانا ندوی ؒ عصری اسلوب میں کام کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ تاہم یہ ایک نفسیاتیحقیقت ہے کہ انسان عقل و منطق کے سہارے زندگی نہیں گزارسکتا۔ عقل اور سائنس انسان کے دل میں شکوک و شبہات کے بیج بو سکتے ہیں، اسے ایمان و یقین کی حرارت اور طمانیت قلب کی دولت نہیں دے سکتے ۔ یہ چیز تو اسے صرف قلب و روح کی تسکین اور جذبہ و ضمیر کے اطمینان کے راستے سے مل سکتی ہے۔مولانا کا یہ ایک بہت بڑا امتیاز ہے کہ وہ عقل سے زیادہ جذبہ کی تطہیر اور فکر سے زیادہ عمل کی دعوت دیتے ہیں۔ یہی انبیا و مصلحین کی دعوتوں کا مزاج بھی رہا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں اس حقیقت کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ ’’الا ان فی الجسد لمضغۃ اذا صلح صلح الجسد کلہ واذا فسد فسد الجسد کلہ، الا وھی القلب‘‘۔ 
موجودہ زمانہ فن کا زمانہ ہے۔ آج فن سے کا م لے کر لوگ اس فکر و خیال کی بھی جاندار و شاندار ترجمانی کردیتے ہیں جن سے انہیں کوئی قلبی تعلق اور دلی وابستگی نہیں ہوتی۔غالباً یہ بھی ایک وجہ ہے کہ داعیوں کی کثرت اور مطبوعہ اور مسموعہ لٹریچر کی زیادتی کے باوجود متوقع اثرات و نتائج حاصل نہیں ہورہے ہیں۔ آج کتنے ہی سحر انگیز خطیب، کتنے ہی وسیع المطالعہ دانشور اور بلیغ طرز ادا کے مالک مصنفین اور جادو نگار ادیب اور محقق مل جائیں گے جن کے فکر وعمل میں واضح تضاد ملتا ہے، جن کے بولنے اور لکھنے پر فدا ہونے والے اور سن کر مسحور ہوجانے والے ان کی سیرت و کردار کو دیکھیں تو یقیناًانہیں ان کی سطح سے بہت گرا خیال کریں اور ان پر نفرین بھیجنے لگیں۔ دانشوروں کی اس بھیڑ میں مولاناعلی میاںؒ کا ایک امتیاز یہ ہے کہ ان کے ہاں دانش و بنیش بھی ہے اور ایمان ایقان کی سرور آگیں کیفیت بھی ۔ان کے حرف حرف سے اخلاص و للٰہیت ٹپکی پڑتی ہے۔ ان کی پرشکوہ اور خطیبانہ طرز کی تحریروں و تقریروں میں فصاحت و بلاغت کی چاشنی بھی ہے ، حرارت قلب اور جوش عشق کا سامان بھی۔ کثرت معلومات اور تحقیق کے اعلیٰ درجہ پر ہوتے ہوئے بھی ان کے بول بول میں ایک عجیب طرح کی روحانی کشش ولذت پائی جاتی ہے۔ ان کا قاری انہیں پڑھ کر جوش عمل سے سرشار ہوجاتا ہے اور اسے کہیں بھی قول وفعل میں تضاد یا دورنگی کا احساس نہیں ہوتااور مصنوعیت اور لفاظی کا خیال نہیں ہوتا۔
مولانا علی میاںؒ کے ہاں فن بھی ہے اور فنی نزاکتوں کا بھر پور احساس بھی ، تاہم فن سے زیادہ مقصدیت ان کے پیش نظر ہوتی ہے۔ وہ ادب برائے ادب کی تخلیق نہیں کرتے بلکہ ادب کو ایک اعلیٰ اور بلند انسانی زندگی کی تعمیر کے لیے استعمال کرتے ہیں اور عالمی رابطہ ادب اسلامی ۵؂ دراصل ان کے اسی ادبی فکر کا عملی مظاہرہ ہے۔ کوئی شک نہیں کہ وہ اردو و عربی دونوں کے ایک صاحب طرز انشا پرداز ادیب ہیں، اسی طرح وہ ایک کامیاب سوانح نگار، اور صاحب نظر ناقد و مؤرخ ہیں،لیکن اس سب سے زیادہ وہ ایک دل درد مند رکھنے والے داعی، دیدہ ور مصلح اور صاحب فراست مربی ہیں۔

حواشی 

۱؂ مولانا مودودی اور سید قطب کی تحریروں میں دین کے سیاسی پہلو پر غیر ضروری زور دیاگیا اور ان کی تشریح کی رو سے دین کی سماجی واجتماعی نظام زندگی کی حیثیت زیادہ ابھر کر سامنے آئی اور اس کا تعبدی پہلوکمزور پڑگیا جس کے اثرات ان کے پیداکردہ لٹریچر میں بھی صاف دیکھے جاسکتے ہیں۔ مولانا مودوی کا یہ فکر تفہیم القرآن ،اسلامی عبادات پر ایک تحقیقی نظر ،اور ’خطبات ‘میں نظر آتا ہے، تاہم اس کو خاص منضبط انداز میں انہوں نے’ قرآن کی چار بنیادی اصطلاحوں‘میں پیش کیاہے جس میں انہوں نے الٰہ، رب ،عبادت اور دین کے معانی ومفاہیم لغت عرب کی بنیاد پر متعین کیے ہیں،ان کے مطابق صفات الٰہیہ میں حاکمیت الٰہ اور اقتدار اعلی ہی اصل او ر بنیادی صفت ہے ۔اس فکر پر مفصل نقد کے لیے ملاحظہ ہو ’’تعبیر کی غلطی‘‘ مؤلفہ مولاناوحیدالدین خان اور ’’عصرحاضرمیں دین کی تفہیم و تشریح پر ایک نظر‘‘ از مولانا ابوالحسن علی ندوی۔
۲؂ سید قطب نے بھی معالم فی الطریق اور فی ظلال القرآن میں متعدد مقامات پر اس فکر کی ہم نوائی کی ہے،وہ لکھتے ہیں کہ اخص خصائص الالوھیۃ الحاکمیۃ۔ 
۳ ؂ اصل میں دین کی عصری تعبیر ایک دودھاری تلوار کی طرح ہے جس میں اگر ذرا سا بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے اور حد سے تجاوز ہوجائے تو بات کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے۔چنانچہ عنایت اللہ مشرقی جیسے عبقری اور ذہین انسان نے جب ٹھوکر کھائی تو خاکسار تحریک چلائی اور دین کی عصری تعبیر کے نام پر علما کی شدید و بے جا مخالفت شروع کردی۔عبادات کے نظام اور قرآن کی ترتیب اور نظم کی تفہیم میں من مانی تاویلات کیں،نماز کو فوجی پریڈ بنادیا۔ علما سے سائنس داں مراد لیے ۔مشرقی صاحب کی یہ نئی تاویلات ان کی کتاب تذکرہ میں خاص طور پر نمایاں ہیں۔اس کتاب اوراس کے تکملہ میں انہوں قرآن کی نزولی ترتیب وضع کی ہے،اور اسی کو اصل قرار دیاہے ،نیز علما کی مخالفت میں ’’ملاکا نیادین‘‘ ۱۔۲۔۳ نہایت استہزائیہ انداز میں لکھی۔ اسی طرح غلام احمد پرویز نے دین کی معاشی اور سوشلسٹ تعبیر کی اور زکوٰۃ کا پوراسسٹم انہیں ذاتی ملکیت کے خلاف نظر آیا جیساکہ ان کی کتاب ’’لغات القرآن‘‘ اور ’’نظام ربوبیت ‘‘ سے معلوم ہوتاہے ۔ان کے ہاں انکار حدیث کا رجحان اس پر مستزاد ہے ۔ 
۴؂یہ نقطہ نظراصلاً صوفیا کا تھا جن کے ہاں مخاطب کی رعایت، انسان دوستی و خدمت خلق کے فلسفہ کے باعث کفر واسلام کے مابین امتیاز بھی ختم سا ہوگیاتھا۔ بعض اوقات انھوں نے مقامی تصورات و رسوم کو بھی وسیلہ تبلیغ کے طورپراختیار کرلیا۔ بلاشبہ محقق صوفیا ہمیشہ ان غالی خیالات کی تردید کرتے رہے، لیکن ان کے اکثر طبقات و سلاسل پر یہی رجحانا ت غالب رہے جس میں وحدت الوجود کے فلسفہ نے توحید و شرک کے مابین سارے فاصلے ہی ختم کر دیے۔ دور جدید میں تصوف کے زیر اثر حلقوں میں ایک اور فلسفہ نمودار ہوا جس کی ترجمانی بر صغیر میں تبلیغی جماعت کا پیٹرن کرتا ہے۔یہ صحیح ہے کہ مسلمان عوام پر اصلاح و تبلیغ کے اس فکر کے گہرے اثرات پڑے ہیں، تاہم اس کا یہ پہلو بہت کھٹکتا ہے کہ اس میں نھی عن المنکر کے پہلو کو مکمل طور پر فراموش کرکے امر بالمعروف اور بشارت کے پہلو پر زیر صرف کیا جاتا ہے اور احادیث فضائل سے خاص طور پر مددلی جاتی ہے۔
۵؂ ملاحظہ ہو عصر حاصر میں دین کی تشریح وتفہیم پر ایک نظر ۔
۶ ؂ یہ خیال مولانا مودودی نے اپنی کتاب ’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘ کے مقدمہ میں ( ص ۴تا۶)میں ظاہر کیاہے۔
۷ ؂ مصرمیں ناصری مظالم کی شدت کے وقت جیلوں میں بندچند اخوانی نوجوانوں میں ردعمل کی کیفیت پیداہوئی اور انہوں نے صدر ناصر اور اس کے حواری مواریوں کی تکفیر شروع کردی تو اس شدت کے خلاف اخوان کے مرشد عام استاذ حسن الہضیبی نے ایک کتاب لکھی ’دعاۃ لاقضاۃ‘ کہ ہم داعی ہیں، خدائی فوجدار نہیں۔یہ کتاب گویا مولاناعلی میاں ؒ کے خیالات کی تائید ہی تھی۔

اسلامی اخلاقیات کے سماجی مفاہیم (۱)

’’راہ عمل‘‘ کا ایک مطالعہ

پروفیسر میاں انعام الرحمٰن

خالد سیف اللہ رحمانی ، ہندوستان کے معروف عالمِ دین ہیں ۔ ان کے مختلف اوقات میں لکھے گئے مضامین کے مجموعے عوامی پذیرائی حاصل کر چکے ہیں ۔ اب ان مجموعوں کا مجموعہ ، پاکستان میں زم زم پبلشرز کراچی نے ’راہِ عمل ‘ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ راہِ عمل دو جلدوں پر مشتمل ہے اور اس کے پانچ حصے ہیں ۔ جلد اول میں تین اور جلد دوم میں دو حصے ہیں۔ ان حصوں کے عنوانات بالترتیب (۱) نقوشِ موعظت، کل صفحات ۳۶۶ (۲) حقائق اور غلط فہمیاں، کل صفحات ۲۱۲ (۳) نئے مسائل ، اسلامی نقطہ نظر، کل صفحات ۲۷۰ (۴)عصرِ حاضر کے سماجی مسائل، کل صفحات ۲۲۴(۵) دینی و عصری تعلیم اور درس گاہیں:مسائل اورحل، کل صفحات ۲۶۰ہیں۔ یوں ’راہِ عمل ‘ کی دو جلدوں اور پانچ حصوں کے مجموعی صفحات ۱۳۳۲ ہیں۔ 
اس تالیف کے عنوان اور مولف کے نام کے ساتھ ’مولانا‘ کے سابقے سے ہماری یہ گھڑی گھڑائی رائے تھی کہ کاغذ قلم جیسے انتہائی اہم وسائل اور قارئین کے قیمتی اوقات کے ضیاع کی خاطر ، روایتی طرز کے مباحث مولویانہ اسلوب میں بیان کیے گئے ہوں گے، لیکن ’راہِ عمل‘ کی ورق گردانی نے خوش گوار حیرت سے دوچار کردیا کہ طبقہ علما میں اپنے زمانے اپنے معاشرے سے جڑے ہوئے خالد سیف اللہ رحمانی جیسے صاحبِ نظر جہاں دیدہ افراد بھی پائے جاتے ہیں جو زندہ معاشرتی موضوعات پر نہ صرف سوچنے کی جرات کر سکتے ہیں بلکہ اپنی سوچ کو انتہائی دلکش ادبی اسلوب میں الفاظ کا جامہ پہنانے پر بھی قادر ہیں ۔اس لیے کم از کم علما کو تو ’راہِ عمل ‘ کا سنجیدگی سے لازماََمطالعہ کرنا چاہیے تاکہ انہیں معاصر مسائل سے کما حقہ آگاہی حاصل ہو سکے ، اگرچہ بحیثیت مجموعی اس تالیف کے مخاطب عوام الناس ہیں ۔ 
خالد سیف اللہ رحمانی نے قلم اٹھاتے ہوئے، وقت کی نزاکت، قلم کی حرمت اور اپنے مقام (بطور عالم دین) کا بہت دھیان رکھا ہے ۔ اس لیے ’راہِ عمل ‘ کا تنقیدی مطالعہ قاری پر یہ تاثر چھوڑتا ہے کہ خالد صاحب بہت سنبھل کر اور نہایت محتاط انداز میں اپنا مافی الضمیر اس ڈھنگ سے بیان کرنے کے خوگر ہیں کہ ابلاغ بھی ہو جائے اور کتمانِ حق کی تہمت بھی ان کے دامن کو تر نہ کر سکے ۔ان کے اس اسلوب کی شہادت زیرِ نظر تالیف کے ایسے سینکڑوں صفحات با بانگِ دہل دے رہے ہیں جن میں مولف محترم نے ہندوستان جیسی کثیر مذہبی کثیر لسانی کثیر ثقافتی کثیر نسلی ریاست میں ، جہاں مسلمان اقلیت کی حیثیت میں جی رہے ہیں ، مسلم شناخت کی بازیافت کی صدا اس سلیقے سے لگائی ہے کہ نہ صرف ان کے غیر مسلم ہم وطنوں کی کوئی دکھتی رگ نہ چھڑے بلکہ ممکن حد تک تو وہ اس صدا کی سلیقگی پر ریجھ بھی سکیں ۔
’’راہِ عمل‘‘ کے مضامین اخباری ہوتے ہوئے بھی اخباری نہیں ہیں۔ مولف محترم نے دعوت و ابلاغ کے لیے پلیٹ فارم کے انتخاب میں زمینی حقائق کو پیشِ نظر رکھا ہے، لیکن طرزِ تحریر اور اسلوبِ بیان میں صحافتی سطح سے بہت بلند ہو کر تحقیقی، علمی، تنقیدی، تقابلی، تنقیحی اور توضیحی اسلوب دیدہ و دانستہ اپنایا ہے اورخوب نبھایا ہے ۔ ہمارے بیان کو مبالغہ آرائی پر محمول خیال نہ کیا جائے ، کیونکہ زیرِ نظر تالیف کے مضامین میں بیسیوں کتب کے حوالے، قرآن مجید اور احادیث نبوی کا استناد کے ساتھ بیان اور ان سے استدلال کے جاں فزا نمونے ہماری رائے کی ثقاہت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اگرچہ بعض مقامات پر موضوع کی حساسیت نے خالد صاحب کو جذباتی اظہار پر مائل کیا ہے، لیکن ان کے قلم کی جولانی کہیں بھی ایسی متلاطم دھارا کا روپ نہیں دھار سکی جو ان کی فکری لگام سے مکمل آزادا ور بے نیاز ہو سکے، لہٰذا آج کے انتہائی پر آشوب ماحول کی مناسبت سے مولف محترم کے اسلوب کوبلا خوفِ تردید ’’ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔
زبان و محاورے پر گرفت کے باوجود ہمارے ممدوح کہیں کہیں تسامح کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اگر ایسا کسی نام نہاد ترقی پسند ادیب سے سرزد ہوا ہوتا تو شایدہم گرفت نہ کرتے، لیکن خالد سیف اللہ صاحب رحمانی اپنی تحریر کے بین السطور جس فکری بلندی پر متمکن نظر آتے ہیں، اس سے ہمیں ہرگز توقع نہ تھی کہ وہ بعض محاوروں میں مستور اس ’تحقیر ‘سے آگاہ نہ ہوں گے جو اپنی اصل میں ہمارے زوال کی زندہ علامت ہے اور اقوامِ عالم میں بالعموم اور ہندوستان میں بالخصوص، ہر اعتبار سے ہماری ذہنی خجالت کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔ مثلاً ’’گداگری اور اس کا سدِ باب‘‘ کے زیرعنوان خالد صاحب رقم طراز ہیں : 
’’ کچھ فرزانے ایسے بھی ہیں جو آپ کو دو چار صلواتیں سنانے سے بھی نہیں چوکتے۔ وہ اس طرح سوال کرتے ہیں کہ ناواقف آپ کو ان کا مقروض سمجھ بیٹھے‘‘۔ (ج۲، ح۴، ص۱۱۲)
ظاہری اعتبار سے یہ فقرہ بہت زبردست ہے ، چست ، تیکھا ، تیر بہدف۔اس فقرے کا دوسرا حصہ : ’’وہ اس طرح سوال کرتے ہیں کہ ناواقف آپ کو ان کا مقروض سمجھ بیٹھے‘‘ خالد صاحب کی ایسی ظرافت کا غماز ہے جس کے پیچھے انتہائی سنجیدہ مشاہداتی مزاج پوشیدہ ہے لیکن اس فقرے کا پہلا حصہ جس میں ’صلواتیں سنانے ‘ کا ذکر کیا گیا ہے ، محاورۃََ ہمارے تہذیبی زوال کا تراشیدہ تو ہے ہی، اس کا مسلم لکھاریوں کے ہاں برتا جانا ایسی پس ماندہ نفسیات کا آئینہ دار ہے جس کے بعد ذہنی خود کفالت کی بابت سوچنا بھی محال ہے۔ ہمارے دین میں صلوٰۃ کا جو مقام ہے، خالد سیف اللہ صاحب ہم سے بہتر جانتے ہیں، اسی لیے ان کا اس محاورے کو اپنے احاطہ تحریر میں لانا ہمیں چبھ گیا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک مقام پرخود لکھتے ہیں کہ :
’’کسی بھی زبان میں ایک لفظ کا جو حقیقی معنی ہوتا ہے، وہ براہ راست اور بالواسطہ مناسبتوں کی وجہ سے نئے نئے پیکر میں ڈھلتا رہتا ہے۔‘‘ (ج ۱، ح ۲، ص ۹۴)
اس کا مطلب یہ ہوا کہ خالد صاحب کی تنقیدی نظر سے زبان و بیان کے اطراف و اکناف کا کوئی پہلو پوشیدہ نہیں۔ لفظ کا اپنی اصل کی مناسبت سے نئے نئے پیکروں میں ڈھلنابتا رہا ہے کہ ان کی نگاہِ ناز الفاظ کی ساخت و ماہیت کے اسرار و رموز پر بھی ہے، جبھی تو یوں رقم طراز ہیں:
’’شعرا اور نئی روشنی کے لوگ تو ان کی تحقیر سے بھی نہیں چوکتے تھے اور ان کو ’’تنگ نظر ملا‘‘ اور ’’ دورکعت کا امام‘‘ جیسے الفاظ سے یاد کرتے تھے‘‘۔ (ج ۲، ح ۵، ص ۴۴)
اسے ستم ظریفی ہی کہیے کہ اس کے باوجود نادانستگی میں سہی، لیکن اسی تحقیر کے بقلم خود مرتکب ہوئے ہیں اور تحقیر بھی کسی فرد یا طبقے کی نہیں بلکہ دینِ اسلام کے ایک بنیادی رکن کی ۔ اس واحد تسامح کے علاوہ اور کہیں ان سے زبان و بیان کی حد تک غالباً چوک نہیں ہوئی ، بلکہ جابجا ایسے دل کش فقرے بکھرے ہوئے ہیں کہ قاری نہ صرف حقیقت آفرینی کا لطف اٹھاتا ہے بلکہ زبان کا چٹخارہ بھی لیتا ہے، مثلاً : 
’’حقیقت یہ ہے کہ رائی کو پہاڑ بنانے اور پہاڑ کو رائی میں سمیٹنے کی مثال کوئی شخص دیکھنا چاہے تو صحافت کی ’’افسانوی دنیا‘‘ میں دیکھ سکتا ہے۔‘‘ (ج ۲، ح ۴، ص ۷۱)
’’ فرقہ بندیوں اور باہمی عداوتوں نے ہمیں سمندر کی سی طاقت رکھنے کے باوجود قطروں میں تقسیم کر دیا ہے، ایسا قطرہ جسے دھوپ کی ہلکی سی تمازت اور ہوا کا معمولی سا جھونکا بھی وجود سے محروم کر سکتا ہے‘‘۔ (ج ۱، ح۱، ص ۱۷۴)
’’قومی یک جہتی نفرت کا پتھر پھینک کر حاصل نہیں کی جا سکتی ، اس کے لیے محبت اور پیار کے پھول برسانے ہوں گے۔ ‘‘ (ج ۲، ح ۴، ص ۷۰)
’’جس سفینہ کا ناخدا ہی آدابِ سفر سے بے بہرہ ہو، کون ہے جو اسے ساحل سے ہم کنار کرے؟‘‘ (ج ۲، ح۴، ص۱۵۶)
’’یلغار کے مظالم یا افغانستان کی جنگ سے مسلمانوں کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے اور نہ ان کے ایمان کا سودا کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ نشہ ہے کہ جس قدر اتارنے کی کوشش کی جائے، اسی قدر چڑھتا ہے ، یہ وہ پودا ہے کہ جس قدر تراشا جاتا ہے، اسی قدر سربلند اور سایہ دار ہوتا جاتا ہے۔‘‘ (ج ۱، ح ۱، ص ۲۵۸)
’’یہ عجیب بات ہے کہ یہ ملک جس کو مسلمانوں نے وسعت و وحدت عطا کی، معاشی فراخی دی، امن و امان دیا، عدل و مساوات سے آشنا کیا، سماجی انصاف کی دولت دی، اس کے چپہ چپہ پر تاریخی عظمت کے نقوش سجائے اور اسی زمین کو اپنا مسکن اور مدفن بنایا، ان کی قربانیوں کو وہ لوگ مسخ کرنا چاہتے ہیں جن کے تلووں میں اس ملک کے بنانے، سنوارنے اور بچانے میں شاید ایک کانٹا بھی نہ چبھا ہو۔‘‘ (ج ۱، ح ۱، ص ۲۸۶)
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ تحریر شخصیت کی عکاسی کرتی ہے اور اہلِ نظر کہتے ہیں کہ کسی شخص کی اصلیت دیکھنی ہو تو اسے غم و غصہ کی حالت میں دیکھو۔ معلو م ہوتا ہے کہ ہمارے محترم کی جمالیاتی حس غم و غصہ میں بطورِ خاص بیدار ہو جاتی ہے، اسی لیے ان کے مزاج میں موجود عمومی شائستگی نے ایک دل خراش واقعہ یوں قلم بند کیا ہے:
’’آہ ، اے مظلومانِ گجرات ! اور صد آہ، اے ستم زدگانِ دنیائے بے ثبات !! جو مظالم تم بے گناہوں پر ڈھائے جارہے ہیں، کیوں کر ان کا بیان ہو ؟ قلم کا جگر شق ہو جائے تو تعجب نہ ہونا چاہیے ، کہ اگر پتھروں کو دیکھنے کی قوت میسر ہوتی تو شاید وہ بھی اس بربریت کو دیکھ کر ریزہ ریزہ ہو جاتے اور سمندر کو رونے والی آنکھیں نصیب ہوتیں تو شاید ان کے بھی سوتے خشک ہوجاتے۔ ایسا جورو جفا جنہیں دیکھ کر درندے بھی شرم سے پانی پانی ہو جائیں اور ایسا ظلم و ستم جنہیں سن کر تاریخ کے ستم شعار لوگوں کی روح بھی وجد میں آ جائے۔ زبان و قلم کی کیامجال کہ ان مظالم کے شایانِ شان مرثیہ کہے، ان آنکھوں کے سفید اور ٹھنڈے آنسو اس انسانیت سوزی پر کیا قربان ہوں! اگر قلب و جگر کی آنکھیں ہوتیں اور وہ گرم و حرارت انگیز خون و لہو کے آنسو نچھاور کر سکتیں تو شاید کچھ اس غم کا بیان ہو سکتا۔...... صدہزار رحمتیں ہوں تمہاری جان پر سوز اور روحِ شہادت شعار پر جو جرمِ بے گناہی کی سزا پا رہے ہیں اور جنہیں صرف اس لیے آتشِ نمرود میں جھونکے جانے کی سنت ادا کرنی پڑ رہی ہے کہ وہ خوئے آزری کو قبول کرنے کو تیار نہیں اور دینِ ابراہیمی کا علم تھامے ہوئے ہے۔ ..... تم پر خدا کی بے پناہ رحمتیں ہوں اور تمہارے لیے خدا کے نام پر مرنا مبارک ہو !!‘‘ (مردم سوزی ۔۔ انسانیت سوزی کا بدترین نمونہ: ج۱، ح۱، ص۱۹۹)
اس تالیف میں ہمارے محترم نے دینی مدارس کے نظام و نصاب اور طریقہ تعلیم وغیرہ پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔ دینی مدارس کی اصلاحِ احوال کا گہرا احساس رکھنے کے سا تھ ساتھ ان کی نظر مدارس سے وابستہ لوگوں کی امتیازی صفات پر بھی ہے، اسی لیے بہت طمطمراق سے لکھتے ہیں : 
’’یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی ’’اجرت‘‘ کے بجائے ’’اجر‘‘ پر نظر رکھنے، تعلیم کو ایک مقدس فریضہ سمجھنے اور طلبہ سے محبت و شفقت کا برتاؤ کرنے کی جو روایت باوجود بہت سارے انحطاط کے ان مدارس میں پائی جاتی ہے، شاید ہی کہیں اور اس کی مثال مل سکے ‘‘۔ (ج۲، ح۵، ص۱۴۰)
’’اجرت کے بجائے اجر‘‘ میں حرفی تکرار سے قاری کو نعرے کی طرز کی قوتِ محرکہ ملتی محسوس ہوتی ہے ۔ اسے ’’اجرت نہیں، اجر‘‘ کے روپ میں باقاعدہ نعرہ بھی بنایا جا سکتا ہے، لیکن کوئی ستم ظریف اسے ’’ اجرت، نہیں اجر ‘‘ کا لبادہ اوڑھا سکتا ہے، اس لیے ہم نعروں میں خوامخواہ الجھنے کے بجائے خالد صاحب کے بیان ’’اجرت کے بجائے اجر‘‘ پر قناعت کرنا پسند کریں گے کہ پہلے نعرے میں مذہب، افیون بنتا نظر آتا ہے اور دوسرے نعرے میں اخلاقیات کا جنازہ نکلتا دکھائی دیتا ہے۔ بہر حال ! اسی قبیل کی بحث مولف محترم نے ’’اپنی عیال کو آگ سے بچائیے‘‘ (ج ۱، ح ۱، ص ۱۳۲، ۱۳۳) کے عنوان سے کی ہے:
’’ قابلِ فکر امر یہ ہے کہ آخر علمِ دین کی طرف سماج کے اونچے طبقے کی توجہ کیوں نہیں ہے؟ حال آں کہ ہر شخص کو اس بات کا اعتراف ہے کہ جو بچے دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں، ان میں تہذیب و شائستگی اور بڑوں کی توقیر ، چھوٹوں کے ساتھ شفقت ، اپنے پرائے کے ساتھ حسنِ سلوک ، نگاہ اور زبان کی حفاظت اور اپنے فرائض کے تئیں جواب دہی کے احساس کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن کیا بات ہے کہ اس کے باوجود علم کا یہ شعبہ لوگوں کے التفات سے محروم ہے؟ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ جو لوگ دین اور علمِ دین کی خدمت میں مشغول ہیں ، ان کے پاس مادی وسائل کم ہیں، ان کو کم تن خواہوں پر اکتفا کرنا پڑتا ہے ، یہی ایک بات ہے جس نے مادہ پرست اذہان اور حریصانہ فکر و ذہن کے حاملین کو علمِ دین کی طرف آنے سے روکا ہوا ہے ، وہ سمجھتا ہے کہ ان کے بچوں کا مستقبل کیا ہو گا ؟وہ کیا کھائیں گے ؟ اور کیوں کر زندگی گزاریں گے؟ اس سلسلے میں مسلمان سماج کے لیے دو باتیں قابلِ توجہ ہیں : اول یہ کہ کیا مسلمانوں کا معاشرہ اپنے دینی تحفظ کے لیے ایک ایسے طبقہ کی صحیح طریقہ پر کفالت نہیں کر سکتا جن کی تعداد بہ مشکل ایک فی ہزار ہو گی؟ اگر مسلمان اپنی دوسری ضروریات کی طرح دینی خدمت گزاروں کو بھی اپنے لیے ایک ضرورت باور کریں اور فراخ حوصلگی کے ساتھ ان کے تعاون کے لیے ہاتھ بڑھائیں اور خادمینِ دین کو کم سے کم معاشی اعتبار سے اس لائق بنائیں کہ وہ متوسط طریقہ پر سماج میں اپنی زندگی بسر کر سکیں تو یقیناًاس علم سے بے اعتنائی اور بے رغبتی کی یہ کیفیت باقی نہیں رہے گی۔‘‘ 
اس اقتباس پر تنقیدی نظر ڈالیے کہ خالد صاحب نے ایک ہی سانس میں کم تن خواہوں کی وجہ سے علمِ دین کی طرف راغب نہ ہونے والوں کو ’’مادہ پرست اذہان اور حریصانہ فکروذہن‘‘ کے حاملین قرار دیا ہے اور مسلم سماج کی توجہ اس طرف بھی مبذول کرائی ہے کہ وہ خادمینِ دین کی کم سے کم متوسط طریقہ پر گزر بسر کے لیے اپنا کردار ادا کرے ۔ ہم گزارش کریں گے کہ مذہبی طبقے کی کم زور معاشی حالت کی وجوہات میں سے ایک وجہ دنیا کی مکمل نفی پر مبنی ’’مادہ پرست اذہان اور حریصانہ فکروذہن‘‘ جیسی طعنہ دینے والی غیر حقیقی سوچ کا معاشرے میں رواج پانا بھی ہے جس کے نتیجے میں، جیسا کہ سطورِ بالا میں اشارتاً ذکر ہوا، مذہب عوام کے لیے واقعتا افیون بن کر رہ گیا ہے۔ اسی سلسلے کی دوسری بات یہ ہے کہ خالد سیف اللہ صاحب مذہبی طبقے کی متوسط درجے میں کفالت کے خواہش مند ہیں تو کیا یہ حقیقت ان سے ڈھکی چھپی ہے کہ زرعی دور کی فرسودہ دینی تعبیر سے طبقہ علما جس شدت سے چمٹا ہوا ہے، اس کے انتہائی تباہ کن اثرات کے بعد مسلم معاشرے کے متوسط طبقے کی اتنی پسلی رہ جاتی ہے کہ وہ چاہتے ہوئے بھی طبقہ علما کو معاشی اعتبار سے اوسط درجے میں لے آئے؟جب کہ حقیقت یہ ہے کہ علما کی فرسودہ دینی تعبیرات سے متاثر یہ طبقہ تو خود اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ یہ نکتہ تو ہمارے محترم پر واضح ہی ہو گا کہ امرا اور جاگیرداروں کو لوٹ کھسوٹ کے نت نئے حربوں کو عملی جامہ پہنانے سے فرصت نہیں ملتی، اس لیے مجموعی طور پر ہمیشہ غریب اور متوسط طبقہ ہی آگے بڑھ کر کفایت کے درجے میں سہی، لیکن حفاظتِ دین میں ہراول دستے کا کردار ادا کرتا آیاہے۔اسی بحث کے ضمن میں ’’مسلم پرسنل لا : ایک غلط فہمی کا ازالہ ‘‘ کے زیرِ عنوان خالد سیف اللہ صاحب کا مضمون اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں اجمالی طور پر سہی، لیکن کم ازکم دینی تعبیر کی ماہیت کی بابت اصولی بحث تو کی گئی ہے ، ملاحظہ کیجیے:
’’ آپ محسوس کریں گے کہ تغیر پذیر محض اسباب ہیں، انسان کی فطرت اپنی جگہ قائم ہے ۔ وہ جس طرح کل کبھی رنج و غم اور کبھی مسرت و شادمانی محسوس کرتا تھا، آج بھی کرتا ہے۔ پہلے آہ واہ سے اس کا اظہار کرتا تھا، اب بھی کرتا ہے ۔ کل جس طرح اس کے دل میں اپنے دشمنوں کے خلاف انتقام کا شعلہ سلگتا تھا ، آج بھی سلگتا ہے اور جس طرح کل اس کا سینہ مال و دولت اور حرص و ہوس کی آماج گاہ تھا، آج بھی اقتصادی ترقی کا بھوت اس کے ہوش و حواس پر سوار ہے۔ آج بھی اس کا نفس اس کو اخلاقی تقاضوں کے بالائے طاق رکھ دینے کی تلقین کرتا رہتا ہے ، جس طرح ماضی کا نقشہ ہمارے سامنے ہے ۔ جس طرح کل جاگیرداری اور زمین داری کی تمنا اس کو بے چین کیے رہتی تھی ، آج بھی اس کے دل میں حکومت اور اقتدار کی آرزوئیں چٹکیاں لیتی رہتی ہیں ۔ ..... اسلام اور اس کے قانونی نظام کا اصل موضوع اسباب و وسائل نہیں ہیں بلکہ اس کا موضوع انسان اس کی فطرت اور اس کے فطری تقاضوں کی مناسب حدود میں تکمیل ہے ، پس جس طرح انسان ایک غیر متبدل حقیقت ہے اسی طرح ظاہر ہے کہ اس سے تعلق رکھنے والا قانون بھی ابدی اور دائمی ہو گا۔
لیکن اس کے باوجود ان نو دریافت وسائلِ زندگی، بدلتے ہوئے عرف اور زندگی کے معاشرتی ، معاشی اور سیاسی ڈھانچہ میں غیر معمولی تبدیلی ضرور چاہے گی کہ قانون میں اس کی کچھ رعایت کی جائے اور ان تقاضوں اور وسائل سے اسلامی قانون کو ہم آہنگ کیا جائے اور جزوی اور فروعی حدود میں اسلام ان تقاضوں کو قبول کرے۔ اس سلسلہ میں ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ اسلام نے بعض قانونی اور فکری امتیاز اور بنیادی اصول کو جوں کا توں باقی رکھتے ہوئے ایک مخصوص حد میں ضروری تغیر و تبدل اور واقعی تقاضوں کی تکمیل کے لیے ایسی لچک باقی رکھی ہے جو اس کو فرسودگی سے بچائے رکھے۔ چنانچہ مشہور فقیہ اور مزاجِ شریعت کے رمز شناس حافظ ابنِ قیم ؒ اپنی گراں قدر کتاب ’’ اعلام الموقعین ‘‘ میں اس موضوع پرایک مستقل باب(جلد دوم میں ) قائم کرتے ہوئے لکھتے ہیں : 
’’عرف و عادت ، حالات و مقاصد اور زمان و مکان کے تغیر کی بنا پر مسائل میں اختلاف اور تغیر و تبدل کا بیان ، یہ بڑی مفید اور اہم بحث ہے جس سے ناواقفیت کی بنا پر شریعت میں بڑی غلطیاں واقع ہوئی ہیں ، جس نے دشواری ، تنگی اور استطاعت سے ماورا تکلیف پیدا کر دی ہے ، جب کہ یہ بات معلوم ہے کہ شریعت جو مصالح کی غیر معمولی رعایت کرتی ہے ، ان ناقابلِ برداشت کلفتوں کو گوارا نہیں کرتی ، اس لیے کہ شریعت کی اساس سراپا رحمت اور سراپا مصلحت ہے ، لہٰذا جب کوئی حکم عدل کے دائرہ سے نکل کر ظلم و زیادتی ، رحمت کی حدوں سے گزر کر زحمت ، مصلحت کی جگہ خرابی اور کارآمد ہونے کے بجائے بے کار قرار پائے تو وہ شرعی حکم نہیں ہو گا۔‘‘ (ج۱، ح۲، ص۱۴۸، ۱۴۹، ۱۵۰) 
حافظ ابنِ قیم ؒ نے کھلے الفاظ میں دینی تعبیرات میں ملحوظ مقصدیت کی صراحت کی ہے اور خود ہمارے ممدوح مولف کا رجحان بھی اسی جانب ہے لیکن اس رجحان پر نفسیاتی تحفظات غالب آتے نظر آتے ہیں ۔ تغیر و تبدل جیسی حقیقت سے آشنائی کے بعد بھی ان کا یہ کہنا کہ’’ اسلام نے بعض قانونی اور فکری امتیاز اور بنیادی اصول کو جوں کا توں باقی رکھتے ہوئے ایک مخصوص حد میں ضروری تغیر و تبدل اور واقعی تقاضوں کی تکمیل کے لیے ایسی لچک باقی رکھی ہے جو اس کو فرسودگی سے بچائے رکھے‘‘، بعض سوالات پیدا کرتا ہے کہ زرعی دور میں تراشے گئے ’’بنیادی اصول‘‘ آخر کیوں کر اتنے بنیادی ہیں کہ فقط انہی کے دائرے میں رہتے ہوئے واقعی تقاضوں کی تکمیل کی جائے ؟ اس نظری سوال سے قطع نظر ، کیا واقعی ان کی مدد سے واقعی تقاضوں کی تکمیل (نظری اعتبار سے نہیں بلکہ) عملی طور پر ثمر آور نتائج کے ساتھ ممکن ہے؟ سوال تو یہ ہے کہ آخر آج کے دور میں قرآن و سنت سے براہ راست ’’بنیادی اصول‘‘ کیوں دریافت نہیں کیے جا سکتے؟ ہم گزارش کریں گے کہ جس پہلو سے انسان غیر متبدل حقیقت ہے ، اس پہلو سے اسلامی قانون کی ابدیت صرف اور صرف قرآن و سنت سے مخصوص ہے نہ کہ کسی دور یا کسی امام کے اختراع کردہ بنیادی اصولوں سے ، چاہے یہ قرآن و سنت سے اخذ شدہ ہی ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو اس کا مطلب سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اماموں کو شارح کے بجائے شارع تسلیم کرلیا جائے۔ 
سطورِ بالا میں علمِ دین سے لوگوں کی عدم دلچسپی پر خالد سیف اللہ صاحب کی فکر مندی کا جو جائزہ لیا گیا ہے، اس کے تناظر میں ہم خود کو یہ رائے دینے کا پابند خیال کرتے ہیں کہ مولف محترم کی دردمندی و غم گساری نے انہیں مسلم معاشرے کی زبوں حالی کی طرف متوجہ تو ضرور کیا ہے لیکن ان کی یہ توجہ ایسی ’’مربوط فکر‘‘ میں نہیں ڈھل سکی جو زرعی دور کی نفسیاتی حدود کو پھلانگ کر آج کے دور کے سنجیدہ مسائل کا عملی حل پیش کر سکتی ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولف محترم چھکڑے میں بیٹھ کر جہاز کی سی تیزی سے سفر کرنا چاہتے ہیں۔ 
’ ’راہِ عمل‘‘ کی جلد دوم حصہ چہارم صفحہ نمبر ۸۹ پر اپنے ایک مضمون ’’گناہ جو کبھی معاف نہیں ہوگا‘‘ میں خالد صاحب نے سورۃ النساء آیت ۹۳ کے حوالہ سے مومن کے قاتل پر انتہائی شدت سے گرفت کی ہے، لیکن ہمیں حیرت ہے کہ خالد سیف اللہ رحمانی جیسی صاحبِ نظرشخصیت بھی مومن کے قاتل کے لیے مقتول کے اولیا کی طرف سے معافی اور دیت کی قائل ہے اور اس کے لیے انھوں نے استدلال سورۃ البقرۃ آیت ۱۷۸ سے کیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں آیات کے جدا جدا محل ہیں۔ سورۃ البقرۃ آیت ۱۷۸ کے مطابق مقتول کے ورثا کو واضح طور پر فریق تسلیم کرتے ہوئے معاف کرنے اور دیت لینے کا حق دیا گیا ہے جبکہ سورۃ النساء آیت ۹۳ کے مطابق مسلمانوں کی کوئی اجتماعی ہیئت (ریاست وغیرہ) ہی قاتل کی فریق معلوم ہوتی ہے۔ دیت لینا اور معاف کرنا تو کجا، قاتل کو قصاص یعنی برابری ملحوظ رکھتے ہوئے قتل کرنے سے بہت بڑھ کر، عبرت انگیز انداز میں قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس کی داخلی شہادت آیتِ مبارکہ میں قصاص کے بجائے ’’جزا‘‘ کالفظ دے رہا ہے اور جزا کے قرآنی اطلاقات کے مطالعہ سے یہی قرآنی منشا ابھر کر سامنے آتا ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ خالد سیف اللہ رحمانی جیسی قدآور علمی شخصیت کی فقیہانہ نگاہوں سے’’ قصاص اور جزا ‘‘ کے انتخاب و اطلاق میں مضمر حکمت کیسے چھپی رہ گئی؟حالانکہ اس نوع کے قرآنی و نبوی اسلوب کی شہادت وہ خود ایک مقام پر دیتے ہیں:
’’ قرآن مجید میں عورت کی عدت کے لیے تین’قرء‘ گزارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ’قرء‘ کے معنی حیض کے بھی ہیں اور زمانہ پاکی کے بھی، اسی لیے بعض فقہا نے تین حیض مدت قرار دی ہے اور بعض نے تین پاکی۔ ظاہر ہے کہ ’قرء‘ کے دونوں معانی اللہ تعالیٰ کے علمِ محکم میں پہلے سے تھے، اگر اللہ تعالیٰ کا یہ منشا ہوتا کہ احکامِ شرعیہ میں کوئی اختلافِ رائے نہ ہو تو قرآن میں بجائے’قرء‘ کے صریحاََ حیض یا طہر کا لفظ استعمال کیا جاتا ۔ یہی صورتِ حال احادیث نبوی میں بھی ہے، مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حالتِ اغلاق کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ اغلاق کے معنی جنون و پاگل پن کے ہیں اور اکراہ و مجبوری کے بھی، چنانچہ اپنے اپنے فہم کے مطابق بعضوں نے ایک معنی کو ترجیح دی ہے اور بعضوں نے دوسرے معنی کو، حال آں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افصح العرب یعنی عرب کے سب سے زیادہ فصیح شخص تھے، اگر آپ چاہتے تو ایسی واضح تعبیر اختیار فرماتے کہ ایک ہی معنی متعین ہو جاتا، دوسرے معنی کی کوئی گنجایش باقی نہ رہتی‘‘۔ (اختلاف میں اعتدال: ج۲، ح۴، ص۳۲)
تشویش ناک بات یہ ہے کہ مولف محترم (ج۱، ح۲، ص۱۰۱،۱۰۲) اسلامی ریاست میں مرتد کے قتل کے اس لیے قائل ہیں کہ اس کا ارتداد ملک و سیاسی نظام سے بغاوت کے متراف ہے ، لیکن جناب کی نگہِ التفات مومن کے قتل کے ’’بالفعل ارتداد‘‘ کی جانب نہیں اٹھی۔ اس موضوع پر چونکہ ہم قدرے تفصیلی بحث ماہنامہ الشریعہ میں ’’قرآن مجید میں قصاص کے احکام‘‘ کے زیرِ عنوان کر چکے ہیں، لہٰذایہاں محض توجہ دلانے پر اکتفا کرتے ہیں۔
تاریخ کاایک ادنیٰ طالب علم بھی یہ بات جانتا ہے کہ برِ عظیم میں مغلیہ سلطنت کے زوال اور انگریزوں کی آمد کے بعد مسلم فکر دو متوازی دھاروں میں منقسم رہی ہے: ایک دھارا علی گڑھ تحریک کی صورت میں نمودار ہوا ، اور دوسرا دھارا جو اس تحریک سے بھی پہلے کسی نہ کسی روپ میں موجود تھا، اس تحریک کے بعد اس کی مخالفت میں زیادہ شدت سے ابھرا ۔ اس خطہ کے مسلم سماج کی داخلی تقسیم میں ان دونوں دھاروں کاتقریباً یکساں کردار رہا ہے۔ اگرچہ ہر دو نے اپنے اپنے فکری منہج کے مطابق مسلم سماج کی تشکیل و احیا میں بھی اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے، لیکن یہ دوئی اور تفریق اکیسویں صدی میں بھی پوری آب و تاب سے موجود ہے اور صورتِ حال کو تشویش ناک حد تک بگاڑنے کا باعث بن رہی ہے۔ خالد سیف اللہ صاحب کو اس بگاڑ کا پورا پورا احساس ہے، اس لیے ’’کس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیات‘‘ کے عنوان سے وسیع المشربی کا ثبوت دیتے ہوئے علما کی توجہ مسلم سماج کے اس اہم پہلو کی جانب مبذول کراتے ہیں : 
’’ امت کا ایک بہت بڑا طبقہ وہ ہے جس نے جدید علوم کو حاصل کیا ہے ، جیسے ہمارے علما دین کا وجود ایک ضرورت ہے ویسے ہی عصری علوم کے ماہرین بھی ہمارے لیے بہت بڑی ضرورت ہیں ہم ان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کر سکتے ، یہ قوم کا بہت بڑا اثاثہ ہیں ، یہ عام طور پر اسلام کے بارے میں مخلص بھی ہیں ، اگر کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں جو دین کے مزاج و مذاق کے خلاف ہیں ، تو یہ زیادہ تر ان کی ناواقفیت اور نہ آگہی کی وجہ سے ہے اور باہمی غلط فہمی کی وجہ سے ، علما اور جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے درمیان ایک خلیج سی پیدا ہوتی جارہی ہے ، یہ بہت افسوس ناک ہے اور اس میں زیادہ تر محض باہمی دوری اور غلط فہمی کو دخل ہے ۔ علما کا فریضہ ہے کہ وہ اس طبقہ کو امت کی بہترین امانت سمجھ کر قریب کریں ، ان کے شکوک و شبہات کو تحمل کے ساتھ سنیں اور محبت کے ساتھ ان شکوک کے کانٹوں کو ان کے دلوں سے نکالیں ۔ امت میں جو لوگ فکری اعتبار سے راہِ مستقیم سے منحرف ہوں ، ان کے ساتھ ہمارا سلوک وہی ہونا چاہیے جو ایک ہم درد اور فرض شناس معالج کا اپنے نا سمجھ مریض کے ساتھ ہوتا ہے ۔ ہمارا رویہ ان کے ساتھ فریق اور رقیب کا نہ ہو ، بلکہ رفیق اور صدیق کا ہو ‘‘(ج۲، ح۵، ص۷۲، ۷۳) 
(جاری)

علمِ حدیث پر مستشرقین کے اعتراضات (جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ کے افکار کا خصوصی مطالعہ)

پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

ڈاکٹر محمد اکرم وِرک (شعبہ اسلامیات، گورنمنٹ ڈگری کالج، پیپلز کالونی، گوجرانوالہ)
محمد ریاض محمود (شعبہ اسلامیات، گورنمنٹ مولانا ظفر علی خان ڈگری کالج، وزیرآباد)

سترھویں، اٹھارویں اور کسی حد تک انیسویں صدی کے آغاز میں مستشرقین کی جو کتابیں منصہ شہود پر آئیں، ان میں بیشتر حملے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی پر کیے گئے ۔اس مہم کے قافلہ سالار مشہور مستشرق سر ولیم میور(م ۱۹۰۵ء) (Sir william Muir) ہیں جنھوں نے چار جلدوں پر مشتمل اپنی کتاب The Life of Muhammad میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو ہدفِ تنقید بنایا۔ یہ کتاب بڑی تہلکہ خیز ثابت ہوئی جس نے مسلمان اہلِ علم کو شدید اضطراب میں مبتلا کردیا۔ سر سید احمد خانؒ (م ۱۸۹۸ء )،اللہ تعالیٰ ان کو غریقِ رحمت فرمائے، وہ اوّلین شخص تھے جنھوں نے ۱۸۷۰ء میں ’’ خطباتِ احمدیہ‘‘ میں مستشرق مذکور کے اعتراضات کاعلمی اسلوب میں جواب دیا۔ سرسید نے اس کتاب کو محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جس جذبے سے سر شار ہو کر مرتب کیا اوراس کی تکمیل کے لیے انگلستان کے سفر سمیت جو صعوبتیں برداشت کیں، وہ ان کے عشقِ رسول اور ایمانی حرارت کا بین ثبوت ہے۔ (1) علامہ شبلی نعمانی ؒ (م ۱۹۱۴ء ) کی قابلِ قدر تصنیف ’’ سیرۃ النبی‘‘ بھی دراصل سیرت پر مستشرقین کے اعتراضات ہی کا ردِ عمل ہے۔ عالمِ اسلام کے دیگرحصوں میں بھی مسلمان اہلِ علم نے مستشرقین کا علمی تعاقب کیا۔
اس دور میں مستشرقین کی یہ حکمتِ عملی نظر آتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات چونکہ اسلام کا مرکز و محور ہے، اس لیے کسی طرح اہلِ اسلام کے دلوں میں رسولِ خدا کی والہانہ محبت کو، جو دراصل اسلام کی روح ہے، ختم کیا جائے ۔ شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال ؒ نے (م ۱۹۳۸ء) اہلِ مغرب کی اس سازش کو بھانپتے ہوئے ان الفاظ میں اس کا پردہ چاک کیاہے :
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمد اس کے بدن سے نکال دو 
فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو 
(ضرب کلیم)
بہت جلد مستشرقین کو اس بات کا احساس ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر ان کے یہ الزامات اتنے کمزور اور بودے ہیں کہ علمی دیا نت کا خو گر کوئی بھی منصف مزاج انسان ان الزامات کو قبول نہیں کر سکتا ۔ دوسری طرف مسلمان اہلِ علم نے سیرت پر مستشرقین کے اعتراضات کی سطحیت کو دلائل و براہین کے ترازو میں رکھ کران کی علمی بد دیانتی کو مبرہن کرکے رکھ دیا۔ نتیجے کے طور پر مستشرقین میں سے ہی کئی معتدل مزاج اہلِ علم نے اپنے بھائی بندوں کے اس نوعیت کے اعتراضات پر افسوس کا اظہار کیا،چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے دور میں مستشرقین نے اپنی تحریروں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نسبتاً احترام کے ساتھ کیا ہے۔(2) 
سیرت کے محاذ پر جب مستشرقین کو منہ کی کھانی پڑی تو انھوں نے اپنا رخ قرآن مجید کی طرف موڑ دیا اوران لوگوں نے ان تمام اعتراضات کو قرآن پرلوٹانے کی کوشش کی جو عام طور پر بائیبل پر کیے جاتے ہیں ۔ اس مہم کا آغاز ۱۸۶۱ء میں جارج سیل (Gorge Sale) نے "The Koran"سے کیا اورمعروف آسٹریلوی مستشرق آرتھر جیفری Jeffery) (Arthur نے اس تحریک کو نقطۂ عروج تک پہنچایا ۔ موصوف نے اپنی کتابوں"The Koran: selected Suras"،اور"Islam, Muhammad and his Religion" نیز قرآنیات پر اپنی مشہور کتاب Materials for the history of the Text of the Quran" "میں قرآن کے متن کے غیرمحفوظ ہونے کے اعتراضات اٹھائے، لیکن مستشرقین کی یہ مہم بھی بہت جلد کمزور ہوگئی۔ صرف چالیس پچاس سال کی محنت کے بعد ہی مستشرقین کو اندازہ ہوگیا کہ قرآن اتنی مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہے کہ اس کو محض الزامات سے ہلانا ممکن نہیں۔ (3) 
اب ایک اور مہم شروع ہوئی اور ان لوگوں نے اپنا رخ حدیثِ رسول کی طرف کرلیا ، لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ مستشرقین نے سیرت اورقرآن پر اعتراضات سے کلی طور پر صرفِ نظر کر لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اب بھی سیرت اور قرآن پر اعتراضات کرتے ہیں، لیکن ان میں اب وہ پہلے جیسی شدت نہیں ہے ۔ حالات کے جبر نے مستشرقین کو مجبور کیا کہ وہ اسلام کے خلاف کسی اور محاذ پر نئی صف بندی کریں چنانچہ انھوں نے قرآن کے بعد اسلام کے دوسرے بنیادی مأخذ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تختۂ مشق بنانے کا فیصلہ کیا ۔
ڈاکٹر اسپرنگر (Sprenger) نے تین جلدوں میں سیرت پر کتاب لکھی تو اس میں حدیث کی روایت اور اس کی حیثیت پر بھی تنقید کی۔ سرولیم میور نے سیرت پر اپنی کتا ب میں حدیث پر اس بحث کو مزید آگے بڑھایا ، لیکن حدیث پر جس شخص نے سب سے پہلے تفصیلی بحث کی ،وہ مشہور جرمن مستشرق گولڈ زیہر (م ۱۹۲۱ء) (Gold Zehr)ہے۔ اس نے اپنی کتاب "Muslim Studies"کی دوسری جلد میں علمِ حدیث پر تجزیاتی انداز میں تنقید کی ہے۔ بعد کے دور میں تمام مستشرقین نے گولڈ زیہر ہی کے اصولوں کا اتباع کیا ہے۔ پروفیسر الفرڈ گیوم (Alfred Guillaume)نے اپنی کتاب "Islam" اور "Traditions of Islam"میں گولڈ زیہر کی تحقیق کو آگے بڑھایا ہے۔ جوزف شاخت (Joseph Schacht)نے اپنی کتاب "The Origins of Muhammadan Jurisprudence" میں گولڈ زیہر کے اصولوں کی روشنی میں اسلامی قانون کے مصادر ومنابع کاتجزیہ کیا ہے اور حدیث کے ظہور اور ارتقا پر بحث کرتے ہوئے حدیث کی نبوی کی ؑ حیثیت کو مشکوک قرار دیا ہے۔اس کے علاوہ مارگولیتھ (م ۱۹۴۰ء) (Margoliouth)، رابسن(Robson)، گب(م ۱۹۶۵ء)(Gibb)،ول ڈیورانٹ(م ۱۹۸۱ء) (Will Durant)،آرتھر جیفری (Arthur Jaffery)، منٹگمری واٹ (م ۱۹۷۹ء)(Montgomery Watt) ، ہوروفیتش (Worowitz)، وان کریمر (Von Kremer)، کیتانی (Caetani) ،اور نکلسن(Nicholson) وغیرہ نے بھی اپنے حدیث مخالف نظریات پیش کیے۔
عصر حاضر میں مستشرقین نے اسلام کے خلاف ایک اور محاذ کھول رکھا ہے اور ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح اسلامی تعلیمات کو غیر عقلی اور غیر فطری ثابت کیا جائے اور یہ باور کروایا جائے کہ اسلامی احکامات بنیادی انسانی حقوق سے متصادم اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہیں ۔ اس وقت یہ محاذ مسلمان اہلِ علم کی فوری توجہ کا متقاضی ہے ۔ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ (م ۱۷۶۴ء ) نے ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں جس طرح مقاصدِ شریعت کو واضح کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو انسانی عقل و دانش کا تقاضا قرار دیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کی زبان اور محاورے میں دین کی تعبیر و تشریح کے اس اسلوب کو جدید علمِ کلام کی روشنی میں بیان کیا جائے ۔ فی الوقت یہ موضوع ہمارے پیشِ نظر نہیں ہے، اس لیے ان سطور میں ہم اپنی گفتگو کو علم حدیث تک ہی محدود رکھیں گے۔ 
مستشرقین میں سے علمِ حدیث پر بنیادی کام گولڈ زیہراورشاخت ہی کا ہے۔ یہ دونوں یہودی ہیں اوران کا تعلق جرمن سے ہے۔ جن دیگر مستشرقین نے حدیث نبوی کو اپنی تحقیقات کا موضوع بنایا ہے، انھوں نے اسلامی مصادر سے براہِ راست استفادہ کرنے کی بجائے زیادہ تر گولڈ زیہر اور شاخت کی تحقیقات کو ہی اپنے خیالات کی بنیادبنایا ہے ۔ آزادانہ تحقیق کے دعوے دار مغربی اہلِ علم کے اس اسلوبِ تحقیق پرجسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ (م۱۹۱۸ ۔۱۹۹۸ء) تعجب کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’حیرت کی بات ہے کہ اصولِ حدیث اور تاریخِ حدیث پر مسلمانوں کی بے شمار کتابیں دنیا کی لائبریریوں میں موجود ہیں۔ حدیث طیبہ کے بارے مسلمانوں کا جو موقف ابتدا سے رہا ہے، وہ ہر دور کی تصانیف میں درج ہے لیکن مستشرق محققین نہ تو مسلمانوں کے موقف کی طرف اپنی توجہ مبذول کرتے ہیں اور نہ ہی حدیث کے متعلق مسلمانوں کے چودہ سو سالہ ادب کو کوئی اہمیت دیتے ہیں، بلکہ ان پر جب حدیث کے متعلق تحقیق کا بھوت سوار ہوتا ہے تو گولڈ زیہر اور اس کے نقالوں کی تصانیف کو ہی قابلِ اعتماد مصادر قرار دیتے ہیں۔‘‘ (4) 
حضرت پیرمحمد کرم شاہ الازہری ؒ نے علم حدیث کے دِفاع پر اپنی مستقل کتاب ’’سنت خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ میں مستشرقین اور منکرینِ حدیث کے اہم اعتراضات کا جائزہ پیش کیا ہے ،تاہم فاضل مصنفؒ نے موقع کی مناسبت سے سیرت پر اپنی کتاب ’’ضیاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ میں بھی علم حدیث پر مستشرقین کے اعتراضات کا جائزہ لیا ہے۔ پیر صاحب ؒ کی اس قابلِ قدر تصنیف کی یہ ایک نمایاں خصوصیت ہے کہ اس کی پہلی پانچ جلدوں میں سیرت کے عمومی بیان کے بعد آخری دو جلدوں میں اسلام کے بنیادی مآخذ، سیرت رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن حکیم اور حدیثِ رسول پرمستشرقین کے بنیادی اعتراضات کا خالص علمی اسلوب میں تجزیہ کیا گیا ہے۔سیرت کے موضوع پرلکھی گئی کتابوں میں ’’ضیاء النبی‘‘ کا یہ خاص امتیاز ہے کہ اس میں قرآن و حدیث کو شعوری طور پر سیرت ہی کا لازمی حصہ سمجھتے ہوئے موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ اس کتاب کی یہ خصوصیت بذات خود اس حقیقت کی غماز ہے کہ فاضل مصنفؒ کی نظر میں قرآن مجید در حقیقت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا بیان اور حدیث و سنت اس کی عملی تشریح و تعبیر ہے، اس لیے ان کی نظر میں مستشرقین کا قرآن و سنّت کو تنقید کا نشانہ بنانا براہِ راست سیرت پر تنقید ہی کے مترادف ہے۔ مستشرقین نے حدیثِ رسول کو من گھڑت اور جعلی قرار دینے میں جو سخت مشقتیں اٹھائی ہیں، پیر صاحب ؒ اس کی اصل وجہ بیان کرتے ہوئے رقمطرازہیں:
’’ قرآن حکیم کی مخالفت کرتے ہوئے مستشرقین کو یہ مشکل پیش آئی کہ وہ قرآن حکیم کی من مانی تشریح نہیں کرسکتے تھے کیونکہ قرآن حکیم کی وہ تشریح جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کی تھی، وہ احادیث طیبہ کی شکل میں مسلمانوں کے پاس موجود تھی۔ تاریخ کے کسی دور میں جب کسی قسمت آزما نے قرآن حکیم کو اپنی مرضی کے معانی پہنانے کی کوشش کی تو ملتِ اسلامیہ کے علمائے ربانیین نے احادیثِ طیبہ کی مدد سے ان کا منہ توڑ جواب دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن حکیم کی معنوی تحریف کی کوششیں ہمیشہ احادیثِ طیبہ کی مضبوط چٹان کے ساتھ ٹکرا کر پاش پاش ہوئیں۔ ‘‘ (5) 
’’مستشرقین جب قرآن حکیم کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام کہتے تھے تو وہ مجبور تھے کہ احادیث طیبہ کے متعلق کوئی اور مفروضہ تراشیں ۔یہ با ت انھیں مناسب معلوم نہ ہوتی تھی کہ قرآن حکیم اور احادیث طیبہ دونوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام قرار دیں ۔مستشرقین کے تخیل کی پرواز ویسے ہی بہت بلند ہوتی ہے، اس لیے انھوں نے احادیث طیبہ کے مصادر تلاش کرنے کے لیے بھی اپنے تخیل کے گھوڑے دوڑائے اور ایک نہیں بلکہ احادیث طیبہ کے کئی مصادر تلاش کر لیے ۔‘‘(6) 

علمِ حدیث پر مستشرقین کے بنیادی اعتراضات

مستشرقین نے علمِ حدیث پرجو بنیادی اعتراضات کیے ہیں، سب سے پہلے تو ہم اپنے قارئین کی خدمت میں ان کا خلاصہ پیش کریں گے اور پھرجسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ کے افکار کی روشنی میں ان اعتراضات کا جائزہ لیں گے۔ 
(۱)مستشرقین نے حدیث کے بارے میں یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ دورِ اوّل کے مسلمان حدیث کو حجت نہیں سمجھتے تھے ،مسلمانوں میںیہ خیال بعد کے دور میں پیدا ہوا۔ (7) جوزف شاخت نے لکھا ہے کہ امام شافعی ؒ (م ۲۰۴ھ) سے دو پشت پہلے احادیث کی موجودگی کا کوئی اشارہ ملتا ہے تو یہ شاذ اور استثنائی واقعہ ہے۔ (8) آرتھر جیفری (Arthur Jeffery)کہتا ہے کہ پیغمبر ؑ کے انتقال کے بعد ان کے پیرو کاروں کی بڑھتی ہوئی جماعت نے محسوس کیا کہ مذہبی اور معاشرتی زندگی میں بے شمار ایسے مسائل ہیں جن کے متعلق قرآن میں کوئی راہنمائی موجود نہیں ہے،لہٰذا ایسے مسائل کے حل کے لیے احادیث کی تلاش شروع کی گئی۔(9) 
(۲)محدثین کے ہاں اسناد کی جو اہمیت ہے، وہ دلائل کی محتاج نہیں ہے حتی کہ انھوں نے اسناد کو دین قرار دیا ۔ مستشرقین چونکہ اسناد کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہیں، اس لیے انھوں نے اسناد کے من گھڑت ہونے کا اعتراض کرکے احادیث کو ناقابلِ اعتبار قرار دینے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ اُس دور میں لوگ مختلف اقوال اور افعال کو محمد ؑ کی طرف منسوب کردیا کرتے تھے ۔کتانی (Caetani) (10) اور اسپرنگر (Springer) (11) ان مستشرقین میں شامل ہیں جن کے نزدیک اسناد کاآغاز دوسری صدی کے آواخر یا تیسری صدی کے شروع میں ہوا۔گولڈ زیہر موطأ امام مالک ؒ پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ امام مالک ؒ (م ۱۷۹ھ) نے اسناد کی تفصیل بیان کرنے کے لیے کوئی مخصوص طریقہ اختیار نہیں کیا بلکہ اکثر و بیشتر وہ عدالتی فیصلوں کے لیے ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جن کا سلسلۂ اسناد صحابہ تک ملا ہوا نہیں اور اس میں متعدد خامیاں ہیں۔ (12) جبکہ جوزف شاخت کا کہنا ہے کہ اس مفروضے کو قائم کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ اسناد کے باقاعدہ استعمال کارواج دوسری صدی ہجری سے قبل ہو چکا تھا۔(13) منٹگمری واٹ (Montgomery Watt)نے اسناد کے مکمل بیان کو امام شافعی ؒ (م ۲۰۴ھ) کی تعلیمات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔(14) 
(۳) مستشرقین نے قرآن مجید کی طرح احادیث پر بھی یہ اعتراض کیا ہے کہ بہت ساری روایات یہودو نصاریٰ کی کتب سے متأثر ہوکر گھڑی گئی ہیں ۔وہ احادیث جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی معجزانہ شان کا ذکر ہے،ان پر تبصرہ کرتے ہوئے ول ڈیورانٹ(م ۱۹۸۱ء) (Will Durant)کہتاہے کہ بہت ساری احادیث نے مذہبِ اسلام کو ایک نیارنگ دے دیا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ ان کے پاس معجزات دکھانے کی قوت ہے ، لیکن سینکڑوں حدیثیں ان کے معجزانہ کارناموں کا پتہ دیتی ہیں جس سے واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ اکثر احادیث عیسائی تعلیمات کے زیر اثر تشکیل پذیر ہوئیں۔ (15) اس قسم کا دعویٰ کرنے والوں میں فلپ کے حتی (Philip.K.Hitti) بھی قابلِ ذکرہے۔ (16) 
(۵)مستشرقین کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث کی کتابت سے منع کردیا تھا، اس لیے دورِ اوّل کے علما نے علمِ حدیث کی حفاظت میں سستی اور لاپرواہی سے کام لیا جس کے نتیجہ میں احادیث یا تو ضائع ہوگئیں یا پھران میں اس طرح کا اشتباہ پیدا ہوگیا ہے کہ پور ے یقین کے ساتھ کہنا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ، ممکن نہیں ہے۔مستشرق الفرڈگیوم (Alfred Guillaume) لکھتا ہے کہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ حدیث کے بعض مجموعے اموی دورکے بعد جا کر مدون ہوئے۔ (17) مشہور مستشرق میکڈونلڈ (Macdonold) لکھتا ہے کہ بعض محدّثین کا صرف زبانی حفظ پر اعتماد کرنا اور اُن لوگوں کو بدعتی قرار دینا جو کتابتِ حدیث کے قائل تھے، یہ طرزِ عمل بالآخر سنّت کے ضائع ہونے کا سبب بنا۔ (18) 
مستشرقین نے ایک خاص حکمتِ عملی کے تحت ان عظیم شخصیات کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو حدیث و سنّت کی جمع و تدوین اور حفاظت میں بنیادی پتھر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مستشرقین نے اس مقصد کے لیے جن شخصیات کو خاص طور اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ان میں ایک تو مشہور صحابی حضرت ابو ہریرہؓ( م ۵۹ھ) اور دوسرے نامور تابعی امام ابنِ شہاب زہری ؒ (م ۱۲۴ھ) ہیں۔ گولڈ زیہر (م ۱۹۲۱ء )نے حضرت ابو ہریرہؓ پر وضعِ حدیث کا الزام عائد کیا ہے اور محدّث امام ابنِ شہاب زہریؒ پر اِتّہام باندھا ہے کہ وہ بنو اُمیّہ کے دینی اور سیاسی مقاصد کوپورا کرنے کے لیے احادیث وضع کیا کرتے تھے۔ (19) جوزف شاخت (Joseph Schacht)امام اوزاعی ؒ (م ۱۵۷ھ ) پر وضعِ حدیث کا الزام عائد کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ان کے زمانے میں مسلمانوں میں جو بھی عمل جاری تھا ،اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردینے کا رجحان تھا تاکہ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویب حاصل ہو جائے، خواہ احادیث اس عمل کی تائید کرتی ہوں یا نہ کرتی ہوں۔امام اوزاعی ؒ کا یہی عمل تھا اور اس رجحان میں عراقی فقہا امام اوزاعیؒ کے ساتھ شریک تھے۔(20) 

اعتراضات کا تنقیدی جائزہ

علمِ حدیث کے بارے مستشرقین کے ان گمراہ کن نظریات کی ایک وجہ تو ان کی ہٹ دھرمی اور اسلام سے عدوات کو قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ مستشرقین کا طریقۂ واردات ہی یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو ان کے اہداف کے حصول میں رکاوٹ بنتی ہے، اگر اس کو کلی طور پر رد کرنا ممکن نہ ہو توکم از کم اس میں اشتباہ ضرور پیدا کردیا جائے ۔علمِ حدیث کے بارے میں یہ لوگ اپنے مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں، اس کا اندازہ ہر وہ شخص آسانی سے کر سکتا ہے جو عالمِ اسلام میں برپا ہونے والے ’’فتنۂ انکارِ حدیث ‘‘ سے واقفیت رکھتا ہے۔اہلِ علم سے یہ بات مخفی نہیں ہے کہ فتنہ انکارِ حدیث کی تحریک کا فکری سر چشمہ مستشرقین کے افکار و نظریات ہی ہیں ۔ مستشرقین کے حدیث مخالف نظریات کی دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ زیادہ تر مستشرقین نے حقائق کی جستجو میں اسلام کے اصل مصادرو مراجع کی طرف رجوع کرنے کی بجائے ثانوی مأ خذ پر ہی اکتفا کیا ہے، اس لیے حقیقت ان کی نظروں سے اوجھل ہوگئی ہے۔ بدقسمتی سے حدیث پر تحقیق کرتے ہوئے مستشرقین کے ہاں گولڈ زیہر کو ’’امام معصوم‘‘ کا درجہ حاصل ہے اور اس کی تحقیقاتِ حدیث ہر طرح کی تنقید سے بالا تر سمجھی جاتی ہیں۔ چونکہ دیگر مستشرقین گولڈ زیہر کے قائم کردہ معیارات اور اصولوں کی روشنی میں ہی حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں، اس لیے منطقی طور پر اس اندازِ فکر نے مستشرقین کوایک بنیادی غلطی میں مبتلا کردیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ گولڈ زیہر نے جہاں جہاں غلطیاں کی ہیں، دیگر مستشرقین بھی اس کے اصولوں کی پیروی میں اس جیسی غلطیوں ہی کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ مابعددور کے مستشرقین پر گولڈ زیہر کی تحقیقاتِ حدیث کے اثرات کا تجزیہ کرتے ہوئے ڈاکٹر فواد سیزگین لکھتے ہیں :
’’گولڈزیہر نے اپنے خیالات کا اظہار اپنی کتاب ’’دراساتِ محمدیہ‘‘ میں کیا جو1890ء میں جرمن زبان میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد حدیث پر تحقیق کے لیے یہ کتاب اہلِ مغرب کے لیے بنیادی دستاویز بن گئی ۔بیشتر مستشرقین اس کتاب کے حوالے سے اپنے نتائج فکر پیش کرتے رہے۔پروفیسر شاخت (J.Schacht) نے فقہی احکام سے متعلق احادیث پر کام کیا ،گلیوم (A.Guillaume)کی’’ ٹریڈیشنز آف اسلام ‘‘ وجود میں آئی ،جو گولڈ زیہر کی تحقیقات کا چربہ تھی ۔مار گولیتھ (Margoliouth)نے گولڈ زیہر کے افکار کی روشنی میں اپنے نظریات پیش کیے ۔علاوہ ازیں ہوروفتش (J.Horowitz) ہورست (H.Hosrt)، فون کریمر (A.Von.Kremer)، مویر (W.Wuir) ، کتانی(L.Caetani)، اور نکلسن (A.R.Nicholoson) وغیرہ نے بھی اس میدان میں اپنے اپنے نتائج فکر بیان کیے ہیں جو سارے کے سارے کم و بیش گولڈ زیہر ہی کے افکار کی صدائے باز گشت ہیں‘‘۔(21) 
مستشرقین کایہ الزام کہ مسلمانوں میں حدیث کی اہمیت اور اس کی حجیت کا تصور بعد کے دور کی پیدا وار ہے ، انتہائی خطرناک ہے ۔اس الزام کو تسلیم کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کو اس کے اصل تشخص ہی سے محروم کردیا جائے ۔ پیر صاحب ؒ مستشرقین کے اس الزام پرتنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’اگر احادیث طیبہ کی اہمیت اور حجیت کا ثبوت صرف احادیث طیبہ اور تاریخِ اسلام کی مدد سے پیش کرنا پڑتا تو مستشرقین اپنے مزعومات کے مطابق اسے بڑی آسانی سے رد کرسکتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ ’’بکل شئ علیم‘‘ ہے۔ وہ اسلام کے خلاف اٹھنے والے ان سب فتنوں کو جانتا تھا، اس لیے اس نے احادیث طیبہ کی اہمیت اور حجیت کو قرآن حکیم کے ذریعے بیان کردیا۔ قرآن حکیم کی بے شمار آیتیں احادیث طیبہ کی اہمیت کو ثابت کر رہی ہیں۔ مستشرقین کی ایک معقول تعداد اب یہ تسلیم کرتی ہے کہ آج مسلمانوں کے ہاتھوں میں جو قرآن ہے ، یہ بعینہ وہ ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس لیے وہ قرآن حکیم کی کسی آیت کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ بعد کے مسلمانوں نے خود گھڑی ہے ۔جب قرآن حکیم کی بے شمار آیات کریمہ احادیث طیبہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت کو بیان کرر ہی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دورِ رسالت کے مسلمانوں نے احادیثِ طیبہ کو کوئی اہمیت نہ دی ہو اور صدی، ڈیڑھ صدی بعد مسلمانوں کو مجبوراً احادیث کی طرف متوجہ ہونا پڑا ہو؟‘‘(22) 
پیر صاحب ؒ کے استدلال کی بنیاد وہ تمام آیات ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اتباع کا حکم ہے کہ جب مستشرقین کی ایک معقول تعداد بھی یہ تسلیم کرتی ہے کہ قرآن مجید اپنی اصل شکل میں محفوظ ہے تویہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمانوں نے ان آیات کو کوئی اہمیت ہی نہ دی ہوجن میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کو جزوِ ایمان قرار دیا گیا ہے ۔ کئی صفحات پر پھیلی ہوئی اس بحث میں پیر صاحب ؒ نے متعدد آیات سے استدلال کیا ہے اور پوری بحث کو سمیٹتے ہوئے مستشرقین کے سامنے جو بنیادی سوالات رکھے ہیں، ان سے صرفِ نظر کرنامستشرقین کے لیے آسان نہیں ہے۔ فرماتے ہیں: 
’’کیا قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کو ان تمام آیاتِ قرآنی کا علم نہ تھا جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے؟کیا ان مسلمانوں کو قرآن حکیم کو سمجھنے اور اس کے احکام پر منشائے خداوندی کے مطابق عمل کرنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی؟کیاانہیں یہ معلوم نہ ہوسکا تھا کہ ان کا نبی صرف مبلغ کتاب ہی نہیں بلکہ معلمِ کتاب و حکمت بھی ہے؟وہ چیزیں جن کی حرمت کا فیصلہ قرآن حکیم نے نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، کیا قرونِ اولیٰ کے مسلمان ان چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے تھے؟ بڑی عجیب بات ہے کہ مستشرقین اور ان کے ہم نوا دیگر اہلِ مغرب چودہویں صدی کے مسلمانوں کو تو بنیاد پرست سمجھتے ہیں اور قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کے متعلق سمجھتے ہیں کہ قرآن حکیم کی بے شمار آیات جو اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم دے رہی تھیں، ان آیات کی طرف ان کی توجہ ہی نہ تھی۔ اگر یہ سچ ہے کہ ہر زمانے کے مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو فرض سمجھتے تھے، قرآن حکیم کے اسرار و رموز کو سمجھنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی کو ضروری سمجھتے تھے ، وہ احکامِ قرآنی پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونے کی روشنی پر عمل کرتے تھے، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معلم کتاب و حکمت اور مزکئ قلوب سمجھتے تھے تو پھر یہ بھی سچ ہے کہ وہ جس طرح قرآن حکیم کو دین کا اول مصدر سمجھتے تھے، اسی طرح وہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور احادیثِ طیبہ کو دین کا مصدرِ ثانی سمجھتے تھے۔‘‘ (23) 
قرآن مجید کے کتنے ہی احکامات ایسے ہیں جن پر اس وقت تک عمل ممکن ہی نہیں جب تک حدیث و سنّت کو ساتھ نہ ملایا جائے۔ مثلاً : نماز ،روزہ ،زکوٰ ۃ اور حج جیسی بنیادی عبادات پر اس وقت تک عمل نہیں کیا جا سکتا جب تک سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہادی اور راہنما نہ بنایا جائے ۔فاضل مصنفؒ نے لفظ ’’حکمت ‘‘ کو خصوصی طور پر اپنی توجہ سے نوازا ہے اور پختہ دلائل سے ثابت کیا ہے کہ حکمت سے مراد حدیث و سنّت ہے اور وہ بھی قرآن حکیم کی طرح منز ل من اللہ ہے ۔ (24) 
پیر صاحب ؒ مستشرقین پر طنز کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان لوگوں نے وضعِ حدیث کے جس فتنے کا ذکر کیا ہے یہ کوئی ایسا ’’انکشاف‘‘ نہیں ہے جس سے مسلمان آگاہ نہیں تھے اور محض مستشرقین ہی ہیں جنھوں اپنی تحقیقات سے یہ پتہ چلایا ہے کہ دورِ اوّل میں احادیث وضع کی گئی تھیں، بلکہ حفاظتِ حدیث کے پورے نظام پر نظر رکھنے والا کوئی بھی شخص باور کر سکتا ہے کہ محض یہ کہہ دینے سے کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے لوگ مطمئن نہیں ہو جاتے تھے بلکہ خبر کی پوری تحقیق کے بعد ہی اسے کو قبول کیا جاتا تھا۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں یہودو نصاریٰ اور منافقین اہلِ ایمان کے خلاف مسلسل بر سر پیکار تھے ، مسلمانوں کے لیے ضروری تھا کہ کسی بھی خبر کو قبول کرنے سے پہلے خبر لانے والے کے کرداراور عمومی طرزِ عمل کو بھی پیشِ نظر رکھیں۔ اس لیے ایک ایسا معاشرہ جس کے افراد کی تربیت روایت اور درایت کے لازوال اصولوں کی روشنی میں ہو ئی ہو، ان میں موضوع روایات کارواج پذیر ہونا کسی صورت ممکن نہ تھا ۔پیر صاحبؒ وضعِ حدیث کے فتنے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’اس بات سے انکار نہیں کہ دشمنانِ اسلام نے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چشمۂ صافی کو گدلا کرنے کی کوشش کی اور انہوں نے ایسی باتوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے کی کوشش بھی کی جو آپ نے نہ فرمائی تھیں، لیکن صورتِ حال یہ نہ تھی کہ ایسے کم بختوں کی مذموم کارروائیوں کو کسی نے روکا نہ ہو ۔ حدیث گھڑنے والے گھڑتے رہے، لیکن وہ لوگ جن کی نظریں قرآن حکیم کی ان آیات پر تھیں جو کسی خبر پر یقین کرنے سے پہلے تحقیق کرنے کا سبق دیتی ہیں یا جو افتراء علی اللہ کو ظلم عظیم قرار دیتی ہیں اور جن لوگوں کی نظریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پاک پر تھیں جو جھوٹی حدیث گھڑنے والوں کو دوزخ کا ٹھکانا دکھا رہی ہے، ایسے لوگوں نے کبھی ان لوگوں کو کھل کھیلنے کا موقع نہیں دیا جو احادیث طیبہ کے چشمۂ صافی کو گدلا کرنا چاہتے تھے ۔قرآن حکیم نے انہیں فاسق کی خبر کے متعلق محتاط رہنے کا حکم دیا تھا۔‘‘(25) 
اسماء الرجال جیسے فن کی ایجاد کا سہرا مسلمانوں کے سر ہے جس میں دنیا کی کوئی قوم ان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ اس علم کی بدولت محدثین نے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کے شب و روز، ان کے اخلاق و کردار اور ان کے اندازِ زیست کا ریکارڈ جمع کردیا اور ہر خبر کے راویوں کے سلسلے کا کھوج لگایا تاکہ یہ پتہ چلایا جاسکے کہ کسی حدیث کے سلسلۂ سند میں کسی فاسق و فاجر اور کذاب کا نام تو نہیں آتا۔ محدثین کی ان عظیم الشان کوششوں کا اعتراف مستشرقین نے بھی کیا ہے۔ ڈاکٹر اسپرنگر (Springer) لکھتے ہیں :
"The glory of the literature of the Mohammadans is its literary biography. There is no nation nor has there been any which like them has during the 12 centuries recorded the life of every man of letters. If the biographical records of the musalmans are collected, we should probably have accounts of the lives of half a million of distinguished persons, and it would be found that there is not a decennium of their history, nor a place of importance which has not its representatives"(26) 
’’مسلمانوں کے علمی ذخیرے کی شان ان کے سوانحی ادب میں نمایاں ہوتی ہے۔ (دنیا میں) ایسی کوئی قوم نہ تھی نہ ہے جس نے مسلمانوں کی طرح بارہ صدیوں میں علم وادب سے تعلق رکھنے والے ہر آدمی کے حالات زندگی محفوظ کیے ہوں۔ اگر مسلمانوں کے سوانحی ذخیرے کو جمع کیا جائے تو ہمیں کم وبیش پانچ لاکھ ممتاز افراد کے حالات زندگی میسر ہوں گے اور یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ان کی تاریخ کا کوئی عشرہ یا کوئی اہم مقام نہیں جس کی نمائندگی کرنے والے لوگ (اس ذخیرے میں) نہ پائے جاتے ہوں۔‘‘
مشکوٰ ۃ المصابیح کا مترجم رابنسن (Robson)کہتا ہے:
"In the gospels as they stand we don't have the various elements of the sources separated out for us as we do through the "Island" of muslim traditions where at least apparently, the transmission is traced back to the source"(27) 
’’اناجیل میں، جیسا کہ وہ ہمارے پاس موجود ہیں، ہمیں یہ شکل دکھائی نہیں دیتی کہ مختلف مآخذ سے لی جانے والی معلومات الگ الگ ہمارے سامنے پیش کی گئی ہوں، جیساکہ ہمیں مسلمانوں کی روایات میں یہ چیز دکھائی دیتی ہے جہاں کم از کم ظاہری طور پر روایات کی کڑی ان کے اصل ماخذ کے ساتھ ملائی جاتی ہے۔‘‘
لہٰذا روایت اور درایت کے ان سنہری اصولوں کی موجودگی میں ،جس کا اعتراف مستشرقین کو بھی ہے، کسی جعلی روایت کا لوگوں میں قبولیت حاصل کرنا ممکن نہ تھا ۔ اسلامی احکامات کو کذب و افترا سے محفوظ رکھنے کے لیے اسلام نے لوگوں کی جو تربیت کی، اس کی بنیاد پر یہ بات دعوے سے کہی جاسکتی ہے کہ صحابہ کرامؓ اور راسخ العقیدہ اہلِ ایمان کی طرف سے تو اس کا کوئی امکان نہ تھا کہ وہ کسی بات کو اپنی طرف سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیں جبکہ دیگر لوگوں کی روایت کو سخت شرائط کے ساتھ ہی قبول کیا جاتا تھا ۔اس پس منظر میں مستشرقین کا یہ الزام کہ بہت ساری احادیث عیسائی اور یہودی روایات کے زیر اثر تشکیل پذیر ہوئی ہیں ، اپنے اندر کوئی وزن نہیں رکھتا ۔ہم یہ وضاحت کرنا ضروری خیال کرتے ہیں کہ تمام الہامی ادیان کی بنیادی تعلیمات ایک ہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے یہ دعویٰ کبھی نہیں کیا کہ وہ کسی نئی دعوت کا علمبردار ہے ،بلکہ اسلام تو پہلے ہی اس بات کا داعی ہے کہ اس کی دعوت سابقہ انبیا کی دعوت کا تسلسل ہے اور اسلام اس دین کا مکمل ترین ایڈیشن ہے جس کی ابتدا حضرت آدم ؑ سے ہوئی تھی۔ لہٰذا اگر اسلام کی بنیادی تعلیمات کی اصالت سابقہ الہامی کتابوں میں پائی جائے تو یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے ، کیونکہ اصولی طور پر اسلام اور سابقہ انبیا کی دعوت کے بنیادی نکات ایک ہی ہیں۔ خود قرآن کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ سابقہ الہامی کتابوں کی غیر محرّف تعلیمات کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس کی اصل شکل کو بیان کرنے والا ہے۔ (28) یہی وہ پسِ منظر ہے جس میں قرآن نے اہلِ کتاب کو خطاب کرتے ہوئے صاف طور پر کہا ہے: ’’اے اہلِ کتاب ! آؤ اس کلمہ کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان ایک ہے وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔‘‘ (آل عمران،۳:۶۴)دوسری اہم بات یہ ہے کہ اسلام کا مرکز ومحور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اور کسی بھی شخص کا دعواے اسلام اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں رکھتا جب تک اس کادل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے لبریز نہ ہواور وہ اپنی جبین نیاز کو آپ کے حضور خم نہ کردے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسل کی اطاعت کے وجوب پر کثیر آیات نازل فرمائی ہیں۔ (29) 
دوسری طرف خود جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ بولنے والوں اور آپ کی طرف جھوٹی بات کو منسوب کرنے والوں کوسخت الفاظ میں وعید سنائی ہے: ’’من کذب علیّ متعمدًا فلیتبوّأ مقعدہ من النار‘‘ (30) ، ’’جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔‘‘ مزید فرمایا: ’’من حدّث عنی بحدیث یری أنہ کذب فھو أحد الکاذبین‘‘ (31) ’’جس شخص نے علم کے باوجود جھوٹی حدیث کو میری طرف منسوب کیا، وہ جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔‘‘ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ کتاب کی اتباع اور اقتدا سے بھی سختی سے منع کیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لتتّبعنّ سنّۃ من کان قبلکم باعًا بباع وذراعًا بذراعٍ وشبرًا بشبرٍ، حتی لودخلوا فی جحر ضب لدخلتم فیہ ، قالوا: یارسول اللّٰہ! الیہود والنصاری؟ قال:فمن،اِذًا؟‘‘ (32) ’’تم اپنے سے پہلے لوگوں کے نقش قدم کی ہو بہو پیروی کرو گے، حتیٰ کہ اگر وہ بجو کے بل میں گھسے ہوں گے تو تم بھی اس میں گھسو گے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ کی مراد یہود ونصار یٰ ہیں؟ آپ نے فرمایا: تو اور کس سے ہے۔‘‘ 
یہی وجہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ ایسے اعمال سے بچتے رہے جن سے یہود و نصاریٰ سے مشابہت پیدا ہوتی ہے ۔ صحابہ کرامؓ نے ہمیشہ اس بات کی حوصلہ شکنی کی کہ لوگ قرآن کی موجودگی میں اہلِ کتاب کی روایات کو آگے بیان کریں۔ حضرت عمر فاروقؓ کو علم ہوا کہ ایک شخص کتابِ دانیال دوسروں کو نقل کرواتا ہے تو آپؓ نے اس کو بلایا اس کی پٹائی کی اور حکم دیا کہ جو کچھ اس نے لکھا ہے اس کو مٹا دے اور وعدہ کرے کہ آئندہ نہ تو وہ اس کتاب کو پڑھے گا اور نہ ہی کسی کو پڑھائے گا اور پھر حضرت عمر فارووقؓ نے یہود و نصاریٰ کی کتب کے نقل کرنے کی ممانعت کے سبب کے طور پر خود اپنا واقعہ بیان کیاکہ ایک موقع پر جب انھوں نے یہی عمل کیا تھا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر شدید غصے اور ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ (33) اس لیے مستشرقین کے اس اعتراض میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ احادیث کا مأخذ بائیل اور اسرائیلی روایات ہیں ۔
ہماری یہ دیانت دارانہ رائے ہے کہ علوم الحدیث کے فن سے متعارف کوئی بھی شخص مستشرقین کے مذکورہ دعویٰ کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ اس میں شک نہیں کہ کئی تابعین نے اسرائیلی روایات کو بیان کیا ہے تاہم ان کی نقل کردہ روایات محض کسی حکم کی تائید یاتوضیح کے لیے ہیں نہ کہ ہدایت اور راہنمائی کے لیے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اسرائیلی روایات اسلامی عقائد و نظریات کی بنیاد نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اہلِ کتاب کے اس طرزِ عمل کا خاص طور پر ذکر کیا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی نازل کردہ کتابوں کو بازیچۂ اطفال بنا رکھا تھا اور ان کتابوں میں اپنی خواہشِ نفس سے کمی بیشی کرتے رہتے تھے ۔ قرآن مجیدنے اسی پس منظر میں مسلمانوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اس فعل شنیع کے قریب نہ جائیں ۔ پیر صاحب ؒ نے ’’احادیث طیّبہ کو کذب و افتراء سے محفوظ رکھنے کا اہتمام ‘‘ کے زیر عنوان سیر حاصل بحث کی ہے۔ (34) 
جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ نے مستشرقین کے اس اعتراض پر کہ روایات دو اڑھائی صدیوں کے کہیں بعد جا کر مدون ہوئی ہیں، تنقید کرتے ہوئے اپنے استدلال کی بنیاد ایک بارپھر قرآنی آیات پر رکھی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن تو مسلمانوں کو حکم دے رہا ہو کہ ان میں سے ہر قبیلے اور خاندان میں ایک ایسا گروہ ہونا چاہے جو قرآن کا فہم حاصل کرے۔ (سورۂ ال عمران،۳:۱۰۴ )پیر صاحب ؒ کا استد لال یہ ہے کہ اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ حدیث و سنّت کو نہ صرف خود سمجھا جائے بلکہ دوسروں بھی سکھایا جائے ۔پیر صاحب ؒ نے خطبہ حجۃ الوداع اور اس کے پس منظر میں متعدد احادیث اور واقعات سے استدلال کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو متعدد مواقع پر تاکید فرمائی کہ وہ مجھ سے سنی ہوئی باتوں کو یاد رکھیں اور اس کو دوسرے لوگوں تک پہنچائیں ۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ نے حدیث کی حفاظت اور ترویج و اشاعت میں اپنی زندگیاں وقف کردیں ۔پیر صاحب ؒ کو مستشرقین کے اس نقطۂ نظر سے بھی شدید اختلاف ہے کہ حفاظتِ حدیث کا صرف ایک ہی قابلِ اعتماد ذریعہ ہے اور وہ ہے تدوینِ حدیث ۔آپؒ فرماتے ہیں : 
’’عام مصنفین نے ’’تدوینِ حدیث‘‘ کے عنوان کے تحت ہی حفاظت حدیث کے متعلق اپنے نتائج فکر کو بیان کیا ہے۔ ہم نے ’’تدوین حدیث‘‘ کی بجائے ’’ حفاظتِ حدیث‘‘ کو اپنے موضوع کا عنوان بنانا مناسب سمجھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے حدیث طیبہ کی حفاظت کے لیے صرف تدوین حدیث کے طریقے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے اس کار خیر کے لیے متعدد ایسے طریقے اپنائے ہیں جن کی مستشرقین کو ہوا بھی نہیں لگی۔ مستشرقین کے ساتھ مباحثے میں ضروری نہیں کہ ہم ہمیشہ اسی محاذ پر ان کا مقابلہ کریں جس محاذ کو وہ خود منتخب کریں۔ اگر تدوین کے بغیر دینی پیغام کی حفاظت کا کوئی طریقہ مستشرقین کے ہاں مروج نہیں تو یہ ان کا قصور ہے ، ہم ان کی اس کوتاہی کی وجہ سے امت مسلمہ کی ان خصوصیات کو کیوں نظرانداز کردیں جو اس ملت کا طرۂ امتیاز ہیں؟‘‘ (35) 
عربوں کے بے مثل حافظے کے ساتھ ساتھ ان کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو والہانہ محبت تھی، اس کی بنا پر انھوں نے آپ کے اقوال کو اپنے دل و دماغ میں پوری طرح محفوظ کرلیا ۔ ’’حدیثِ تقریری ‘‘ اور سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت میں مفہوم کی یکسانیت کے باوجود الفاظ کا مختلف ہوجانا عین ممکن ہے لیکن جہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کا معاملہ ہے، اگرچہ ان کی روایت میں محدثین نے صحابہ کرامؓ کے لیے روایت بالمعنی کے جواز کو تسلیم کیا ہے، کیونکہ وہ رسولِ خدا کے براہِ راست مخاطب ہونے کی وجہ سے مرادِ رسول کو پوری طرح سمجھتے تھے لیکن اس کے باوجود صحابہ کرامؓ جس لفظی صحت کے ساتھ ان اقوال کو محفوظ رکھتے تھے، پیر صاحب ؒ نے اس پرکئی واقعات بطور دلیل ذکر کیے ہیں۔(36) 
پیر صاحب ؒ فرماتے ہیں کہ مستشرقین کا یہ دعویٰ کہ تدوین کا کام کرنے والوں کا بھروسہ صرف اور صرف زبانی مصادر پر تھا، اس لیے ان کے خیال میں جو چیز صدیوں غیر مدون شکل میں رہی، اس کے متعلق یہ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنی اصلی حالت میں ہے۔ گو مستشرقین کا یہ شوشہ بھی بالکل بے بنیاد ہے کہ تدوین کے بغیر کسی چیز کی حفاظت ممکن نہیں اور ا س کی ایک بہت بڑی دلیل یہ ہے کہ برطانیہ جو اکثر مستشرقین کا وطن ہے، اس ملک کا آئین تحریری شکل میں موجود نہیں لیکن مدون نہ ہونے کے باوجود وہ آئین محفوظ ہے اور برطانوی لوگ اسی آئین کے مطابق اپنے ملک کو چلارہے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا ملک ہی اصل جمہوری ملک ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ان کا آئین ان کی قومی زندگی کا حصہ بن چکا ہے، اس لیے تحریری شکل میں موجود نہ ہونے کے باوجود زندہ ہے اور ان آئینوں کی نسبت زیادہ قوت کے ساتھ زندہ ہے جو تحریری شکل میں موجود تو ہیں لیکن متعلقہ قوموں کی زندگیوں میں ان کی روح نظر نہیں آتی۔ مسلمانوں نے جس انداز میں احادیثِ طیبہ کو اپنی زندگیوں میں نافذ کیا تھا، اگر احادیث تحریری شکل میں موجود نہ ہوتیں تو بھی احادیث کی صحت ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر رہتی لیکن یہ تصور کرنا بالکل غلط ہے کہ مسلمانوں نے پورے دو سو سال احادیث طیبہ کی تدوین کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ حق یہ ہے کہ گو مسلمانوں نے حفاظتِ حدیث کے سلسلہ میں کتابت کے علاوہ دیگر وسائل پر زیادہ بھروسہ کیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے احادیث کی کتابت کو بالکل نظر انداز کردیا۔ حضرت پیر کرم شاہ الازہری ؒ نے ’’حفاظتِ حدیث ‘‘ کے زیرعنوان ۷۵ صفحات پر مشتمل جو معرکہ آرا بحث کی ہے، وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
پیر صاحب ؒ نے ’’احادیث لکھنے کی ممانعت کا مسئلہ ‘‘ کے زیر عنوان حضرت ابو سعید الخدریؓ (م ۷۴ھ )سے مروی صحیح روایت ’’لا تکتبوا عنی شیئاً غیر القرآن‘‘ کی اہلِ علم کی آرا کی روشنی میں ایسی توجیہ کی ہے جس سے مستشرقین کا اعتراض رفع ہوجاتا ہے ، اس پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ:
(۱) کتابتِ حدیث کی ممانعت والی روایات منسوخ ہیں، کیونکہ ان روایات کا سیاق و سباق ، تاریخی پس منظر اور دیگر شواہداس مؤقف کی تائید کرتے ہیں اور پھر صحابہ کرامؓ کی کثیر تعدادکا کتابتِ حدیث کی طرف عملی رجحان ان احادیث کے مفہوم کو متعین کرنے میں ہمارے لیے حجت ہے ۔
(۲) جمع و تطبیق کے اصول کی روشنی میں بھی ان روایات کا مفہوم متعین کیا سکتا ہے یعنی نہی نزولِ قرآن کے وقت التباس کی وجہ سے کی گئی ہے، لیکن جب التباس کا خطرہ نہ رہا تو آپ نے احادیث لکھنے کی اجازت دے دی۔
(۳) ان روایات کی ایک توجیہ یہ بھی کی جا سکتی ہے کہ آ پ نے ایک ہی صفحہ پر قرآن مجید کے ساتھ احادیث لکھنے سے منع فرمایا تھا ،جیسا کہ کئی روایات سے یہ اشارہ ملتا ہے جبکہ احادیث کو الگ صفحات پر لکھنے کی اجازت تھی۔ 
(۴) یا ممانعت کا حکم ان لوگوں کے لیے تھاجو حدیث کے حفظ کرنے میں اور باہم مذاکرہ کرنے میں کاہلی کا شکار ہو رہے تھے اور صرف کتابتِ حدیث پر تکیہ کیے ہوئے تھے،شاید اسی پسِ منظر میں آپ نے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی جو حدیث کو یاد کرتے ہیں اور اس کو دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔جبکہ جولوگوں حفظ کے خو گر تھے، ان کو آپ کی طرف سے احادیث لکھنے کی اجازت تھی۔(37) 
جہاں تک مستشرقین کے اس اعتراض کا تعلق ہے کہ دورِ اوّل میں صحابہ کرامؓ تذبذب شکار رہے کہ ا حادیث کو لکھا جائے یا نہ لکھا جائے جس کی وجہ سے ابتدائی دور میں حدیث کی حفاظت کے لیے کوئی منظم کوشش نہ کی جاسکی اور جب دوسری اور تیسری صدی ہجری میں احادیث کی جمع و تدوین کا کام شروع ہوا تو اس وقت تک حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا حصّہ ضائع ہو چکا تھا، اہلِ علم نے اپنی تحقیقات کے نتیجے میں مستشرقین کے اس اعتراض کو بے وزن کردیا ہے ۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ (م ۲۰۰۱ء) نے اپنی مرتب کردہ کتاب’’الوثائق السیاسیۃ ‘‘میں ۲۸۱ ایسے خطوط اور وثائق کا ذکر کیا ہے جن کاتعلق صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرمی سے ہے۔ (38) اسی طرح ڈاکٹر صاحبؒ موصوف نے ہمام بن منبّہ(م ۱۰۱ھ) جو ابو ہریرہؓ (م ۵۹ھ) کے شاگرد ہیں،کی طرف منسوب ’’صحیفہ ہمام بن منبّہ‘‘ ایڈٹ کرکے شائع کیا ہے جس میں ۱۳۸ ؍ا حادیث درج ہیں، اس مخطوطے کی دریافت قرنِ اوّل میں کتابتِ حدیث کی بہت بڑی شہادت ہے۔ (39) علاوہ ازیں ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ نے شاہانِ عالم کے نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی خطوط بھی دریافت کیے ہیں۔ چونکہ ان میں سے کئی خطوط حدیث کی مستند کتابوں میں بھی منقول ہیں، اس لیے نو دریافت شدہ خطوط اور کتبِ حدیث میں مطابقت کا پایا جانا بھی کتبِ حدیث کے مستند ہو نے اور قرنِ اوّل ہی میں کتابتِ حدیث پر دلالت کرتے ہیں۔ (40) اس موضوع پر ڈاکٹر محمد مصطفی الاعظمی کا پی ایچ ڈی کا مقالہ "Studies in Early Hadith Litereture" جو ’’دراسات فی الحدیث النبوی وتاریخ تدوینہ‘‘ کے عنوان سے دو جلدوں میں عربی زبان میں شائع ہو چکا ہے ، خاص طور پر قابلِ مطالعہ ہے۔ اس کتاب میں ڈاکٹر صاحب موصوف نے نہ صرف حدیثِ نبوی کی جمع و تدوین کی تاریخ کا تفصیلی حال بیان کیا ہے بلکہ باون (۵۲) صحابہ کرامؓ اور دو سو باون(۲۵۲) تابعین عظام ؒ کے صحائف کا ذکر کیا ہے جس سے قرنِ اوّل میں حدیث کی کتابت اور حفاظت کے لیے کی جانے والی ہمہ گیر کوششوں پر روشنی پڑتی ہے۔ (41) پیر صاحبؒ نے بھی عہدِ نبوی سے لے کر صحاح ستّہ کی تدوین تک کی مختصر تاریخ بیان کرکے مستشرقین کے اعتراضات کی سطحیت کو واضح کردیا ہے۔ (42) نتیجۃ البحث کے طور پر پیر صاحب ؒ فرماتے ہیں :
’’مسلمانوں نے اپنے علمی سرمائے کو محفوظ رکھنے کے لیے جو کوششیں کی ہیں وہ کسی دوسری قوم نے اپنے علمی سرمائے کی حفاظت کے لیے نہیں کیں۔ حیرت کی بات ہے کہ جن لوگوں کواپنے دینی اور علمی ورثے کی حفاظت کا سلیقہ نہ تھا، وہ اس ملت کے علمی سرمائے پر ہاتھ صاف کرتے ہیں جس ملت نے اپنے علمی سرمائے کی حفاظت کے لیے بے نظیر کام کیا ہے۔ احادیث طیبہ کی حفاظت کے لیے مسلمانوں نے مختلف طریقے استعمال کیے ۔ احادیث طیبہ کے حصول کے لیے محیر العقول کاوشیں، احادیث طیبہ کو سینوں میں محفوظ کرنا، احادیث طیبہ کے پیغام اور تعلیم کو فردوقوم کی عملی زندگی میں جذب کرنا، احادیث سننے اور سنانے کی محفلیں منعقد کرنا، تدریسِ حدیث کے حلقے، حدیث کی کتابت، حدیث کی تدوین، فنِ اصولِ حدیث متعارف کرانا، احادیث کی سندوں کی چھان بین ، احادیث کے متن پرکھنا، رواۃِ حدیث کے حالاتِ زندگی اور ان کے اخلاق و کردار کو محفوظ کرنا، احادیث کے مختلف درجے متعین کرنا،ایسی کتابوں کی تیاری جن سے صرف صحیح احادیث کا بیان ہو، ہر حدیث کی فنی حیثیت متعین کرنا، ان راویوں سے ملت کو آگاہ کرنا جو وضعِ حدیث کے لیے مشہور ہیں اور ایسی کتابیں مرتب کرنا جن میں تمام موضوع روایات کو جمع کردیا جائے تاکہ لوگ ان موضوع روایات کو قولِ رسول سمجھ کر دھوکا نہ کھا جائیں ۔ یہ وہ مختلف طریقے تھے جو مسلمانوں نے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیش بہا خزانے کی حفاظت کے لیے استعمال کیے۔‘‘ (43) 
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مستشرقین جس فکری کج روی کا شکار ہوئے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حدیث سے متعلق اپنے نظریات کو ثابت کرنے کے لیے انہوں نے قرآن مجید کو بالکل ہی نظر انداز کردیا ہے حالانکہ قرآن مجید میں حدیث کی حجیت اور اس کی حفاظت کے واضح شواہد موجود ہیں۔ پیر صاحب محترمؒ نے مستشرقین کو قرآن مجید کی طرف متوجہ کیا ہے کہ جب وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن اپنی اصل شکل میں موجود ہے تو اسی قرآن کی متعدد آیات کا تقاضا ہے کہ حدیث و سنت بھی محفوظ ہو ورنہ قرآن کا فہم اور اس کے متعدد احکام پر عمل ممکن ہی نہیں۔
یہ بات بڑی قابلِ قدر ہے کہ پیر صاحبؒ نے حدیث کا دفاع کرتے ہوئے معذرت خواہانہ انداز اختیار نہیں فرمایا بلکہ مستشرقین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے خیالاتِ فاسدہ کو مسلمانوں کے خیالات بنا کر پیش کرنے کے بجائے مسلمہ علمی طریقے کے مطابق مسلمانوں کے بنیادی مصادر کی طرف رجو ع کریں کیونکہ انہیں یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسلام کی عمارت کو اپنے نظریات پر تعمیر کرنے کی کوشش کریں۔ غور کیا جائے تو مستشرقین کا بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ وہ کسی بھی اسلامی مسئلہ پر مسلمانوں کے نقطۂ نظر سے بحث نہیں کرتے بلکہ غلط طور پر یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں یہی مسلمانوں کا نقطۂ نظر ہے۔ شاید یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس نے مستشرقین کے مطالعات میں عجیب و غریب قسم کے نتائج پیدا کر دیے ہیں۔

حواشی و تعلیقات

(1) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو :
’’حیا ت جاوید ‘‘ (از مولانا الطاف حسین حالی ؒ ) ۲/۱۲ تا ۱۸، (ارسلان بکس علامہ اقبال روڈ ،میرپور ،آزاد کشمیر ،مئی ۲۰۰۰ء) 
(2)مثلاً اس حوالے سے، رچرڈ سائمن ، پیئربائیل ،سائمن اوکلے ،ھادریان ریلانڈ ،مائیکل ایچ ہارٹ ،ڈاکٹر مورس بکائے، تھامس کارلائل کیرن آرم سٹرانگ ، منٹگمری واٹ،جان بیگٹ ، الفریڈ اسمتھ اور کئی دیگر مستشرقین کے نام بطور مثال پیش کیے جاسکتے ہیں ۔
(3)مثلاً :Kenneth Craggانجیل اور بائبل کاقرآن سے تقابلی جائزہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ : بائیبل اور انجیل کو صدیوں بعد جمع کیا گیا جبکہ قرآن محمد ﷺ کی زندگی میں ہی وجود میں آ چکا تھا۔(''The Event of The Quran-Islam in its Scripture'', P:178,(George Allen & Unwin, London)۔ اسی طرح انیسویں صدی کے مشہور مستشرق سر ولیم میور قرآن کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: یہ ایک حقیقت ہے کہ آیات کی ترتیب صرف اور صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تھی اور ہی کی ہدایت پر حفظ کی جاتی تھیں یا لکھ لی جاتی تھیں ۔چنانچہ اس طور پر عہدِ رسالت میں قرآ ن سامنے آچکا تھا یہی نہیں بلکہ اس پر یقین کرنے کی کافی وجوہا ت ہیں کہ آپ کی زندگی میں ہی آپ کے صحابہ کے پاس قرآن کے بہت سے نسخے موجود تھے ۔(Sir william Muir:"The Life of Muhammad",John Grant-1894 edition,P:xix)،اسی حقیقت کا اعتراف سٹینٹن (H.U.W.Stanton) جان برٹن (John Burton)اورکئی دوسرے مستشرقین نے بھی کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو:
H.U.W.Stanton:"The teaching of Quran" Darf Publications Ltd, London, 1919 Revised 1987,P:11
John Burton:"The collection of Quran" University of St Andrews,University Press 1977 P:4) 
(4) ضیاء النبی ﷺ، 25/7،(ضیاء القرآن پبلی کیشنز ،لاہور،۱۴۱۸ھ)
(5) ضیاء النبیﷺ ، 15-16/7
(6) ضیاء النبیﷺ ، 17/7
(7) Gibb,(1965) "Islam" "The Encyclopedia Of Loving Faith", p:171, (London,1884)
(8) "The origins of Muhammadan Jurisprudence".(Oxford press 1950),P:3 
(9) Arthur Jeffery,"Islam,Muhammad And His Religion", P:12, (Indiana,1979)
(10) J.Robson,"The Isnad in Muslim Tradition"P:18 (Glasgow University,Oriential Society) 1955
(11) Ibid,P"18
(12) Gold zhiher,(1921)"Muslim Studies"p:213,Vol:2,(George Allen & Unwin LTD,London,1971)
(13) Josefh Schacht, "The origins of Muhammadan Jurisprudence" P:36 -37, (Oxford at the clarendon prss 1950)
(14) Watt,Montgomery,(1979) "Muhammad At Medina",p:318,(Oxford Press London),1956
(15) Will Durant,(1981)"The Age of Faith",211-212, (New York,1950)
"Islam and the west" , (New jersey, U.S.A,1962) p:105-107 (16) Philip.K.Hitti,
(17) Alfred Guillaume,"Islam" , p:89-90 ,(London 1963) 
(18) Dancan B.Macdonald,"Muslim Theology , Jurisprudence and constitution Theory", p:76-77,(Beirut Khayats, 1965)
(19) "Muslim Studies",P:56,40-45,Vol:2
(20) "The origins of Muhammadan Jurisprudence"P:72-73 
(21) ڈاکٹر فواد سیز گین،’’مقدمہ تاریخ تدوین حدیث‘‘،(مترجم:سعید احمد)،ص:18،(ادارہ تحقیقاتِ اسلامی ،اسلام آباد، 1985)
(22) ضیاء النبیﷺ ، 28/7
(23) ضیاء النبی ﷺ،54/7
(24) ضیاء النبیﷺ ،56-40/7
(25) ضیاء النبیﷺ ، 60-61/7
(26) Abn-Hajar, "Al-Isabah"(Introduction by Springer) Biship's College Press Calcutta, 1856)
(27) Robson, "Ibn-i-Ishaq's use of Isnad" ,P.449, (Bulletin of the John Rylands library Manchster,March 2, 1956)
(28) (النساء ، ۴/۴۷)،(المائدۃ،۵/۴۸)
(29) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:(الانفال، ۸/۱)،(الانفال ،۸/۲۰)،(محمد،۴۷/۳۳)،(التغابن، ۶۴/۱۲)،(ال عمران، ۳/۳۲)،)ال عمران،۳/۱۳۲)، (النساء، ۴/۵۹)مذکورہ بالا آیات میں اطاعتِ رسولصلی اللہ علیہ وسلم کو لازمی حکم کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سی آیات ایسی بھی ہیں ، جن میں اطاعتِ رسول اور اس کی جزا ذکر کی گئی ہے، چند آیات ملاحظہ ہوں مثلاً: (النساء،۴/۱۳)، (الاحزاب،۳۳/)، (النساء، ۴:۶۹)، (النساء،۴:۸۰)، (الاحزاب،۳۳:۳۶) (الجن،۷۲:۲۳)
(30) مسلم بن حجاج بن مسلم القشیریؒ ، الامام ابو الحسین ، (۲۰۴۔۲۶۱ھ) صحیح مسلم، مقدمہ، باب تغلیظ الکذب علی رسول اللّٰہ ﷺ ،ح: ۴ ،ص:۸ ،( دارالسلام للنشر والتوزیغ، الریاض، ۱۹۹۸ء )
(31) صحیح مسلم، مقدمہ، باب وجوب الروایۃ عن الثقات وترک الکذابین،ح:۱ ،ص:۷
(32) ابن ماجہؒ ، محمد بن یزید، (۲۰۹۔۲۷۳ھ) ابن ماجۃ ،کتاب الفتن، باب افتراق الامم ، ح:۳۹۹۴ ،ص:۵۷۴ ، (دارالسلام للنشر والتوزیع، الریاض، ۱۹۹۹ء )
(33) الخطیب البغدادیؒ ، ابوبکر احمد بن علی بن ثابت، (۳۹۲۔۴۶۳ھ) ’’ تقیید العلم‘‘، (تحقیق : یوسف العش)، ص:۵۰،۵۱،(دار احیاء السنۃ النبویۃ،انقرہ، ۱۹۷۴ء)
(34) ملاحظہ ہو:ضیاء النبی ﷺ،۷/۵۶۔۷۱
(35) ضیاء النبیﷺ ، ۷/۷۵
(36) تفصیل کے ملاحظہ:ضیاء النبیﷺ ، ۷/۷۷۔۸۲
(37) ضیاء النبیﷺ ، ۷/۱۱۲۔۱۲۴
(38) محمد حمید اللہ ،ڈاکٹر ،(م ۲۰۰۱ ء) ’’مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ فی العھد النبوی والخلافۃ الراشدۃ‘‘، (قاہرۃ، ۱۹۴۱ء)
(39) ’’صحیفہ ہمام بن منبّہ‘‘، (بیکن بکس، لاہور، 2005ء)
(40) ’’رسول اکرم ﷺ کی سیاسی زندگی‘‘،(دار الاشاعت ،کراچی،1987ء)
(41) محمد مصطفی الاعظمی ،ڈاکٹر، ’’دراسات فی الحدیث النبوی و تاریخ تدوینہ‘‘، ۱؍۹۲۔۳۲۵ (المکتب الاسلامی ، بیروت ،۱۹۹۵ء) 
(42) ضیاء النبیﷺ ، 155-124/7
(43) ضیاء النبیﷺ ، 76-77/7

ایک نئی دینی تحریک کی ضرورت

ڈاکٹر محمد امین

یہ چند سال پہلے کی بات ہے کہ ہم نے ایک دن شہید ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب سے کہا کہ ہمارے دینی سیاسی لوگ اکٹھے نہیں ہوتے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہاں ’کرسی‘ کا مسئلہ ہے لیکن دعوت و اصلاح جیسے غیر سیاسی کام میں دینی لوگ کیوں جمع نہیں ہوسکتے جبکہ اس کام کی بڑی سخت ضرورت بھی ہے۔ کہنے لگے کہ اس میں کوئی بڑی رکاوٹ بظاہر تونظر نہیں آتی ۔ چنانچہ ہم نے باہم مشورہ کر کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور سول سوسائٹی کے دیندار افراد کا ایک اجتماع جامعہ نعیمیہ میں رکھا جس کا ایجنڈا اور ورکنگ پیپر راقم نے تیار کرکے شرکا کو بھجوا دیا۔ اس اجلاس کی دونشستیں عصر سے عشا تک ہوئیں۔ ایجنڈے کا اہم نکتہ دعوت و اصلاح اور فرد کی تربیت تھا لیکن افغانستان اور عراق کا مسئلہ اور پاکستان کے سیاسی حالات جیسے اجتماعی مسائل شرکاء کے ذہنوں پر چھائے رہے اور ہم کوشش کے باوجود شرکا کو دعوت و اصلاح کی کسی اجتماعی حکمت عملی کی طرف نہ لاسکے۔
یہ بات ہمیں اس حوالے سے یاد آئی کہ مولانا زاہد الراشدی صاحب نے اپنے جریدے ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ کے فروری۲۰۱۰ء کے شمارے میں منجملہ دوسری باتوں کے پاکستان میں نفاذِ شریعت کے لیے سارے مکاتب فکر کے علماء کرام پر مشتمل ایک نئی دینی جماعت کے قیام کی ضرورت کا ذکر کیا ہے جو انتخاب و اقتدار کی سیاست میں پڑے بغیر اجتماعی جدوجہد کرے۔ مولاناکی بات سرسری اور مجمل ہے اور غالباً کوئی منضبط اور تفصیلی تجویز پیش کرنا ان کے مدنظر نہیں تھا۔ ہم چونکہ اس موضوع پر سوچتے رہتے ہیں لہٰذا ہمارے ذہن میں ایک نئی دینی تحریک کا پورانقشہ موجود ہے جو ہم اہل فکر و نظر کے سامنے رکھ رہے ہیں تاکہ وہ اس پر غور فرمائیں اور اس کے حسن و قبح پر بحث کے نتیجے میں کوئی اچھی اور قابل عمل بات سامنے آسکے۔

(۱)

بنیادی بات یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمیں اپنی موجودہ زندگی اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق گزارنا ہے تاکہ ہم اخروی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرسکیں اور اس کی نعمتوں کے سزاوار ٹھہریں۔ اگر ہم بحیثیت معاشرہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی زندگی گزاریں گے تو ہم ان شاء اللہ اس دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور زوال کے گڑھے سے نکل کر عزت و عظمت کی راہ پر گامزن ہو سکیں گے۔ دنیا میں ہمارے زوال کا ایک بنیادی سبب ہماری اپنے نظریۂ حیات (اسلام) سے دوری اور اس کے تقاضوں پر عمل نہ کرنا ہے جس کی وجہ سے ہمارے اندر وہ صلاحیتیں پنپ نہیں پارہیں جو دنیا میں جمع اسباب اور ترقی و غلبے کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ 
یہ بنیادی فکری پہلو ہم نے ابتدا ہی میں اس لیے واضح کردیا کہ ہمارے نزدیک یہی دنیا میں مسلمانوں کی ترقی اور کامیابی کی اساس ہے نہ کہ اس مغربی فکر و تہذیب کی پیروی جواپنی اساس میں غیر اسلامی ہے۔ دنیا اور آخرت میں بیک وقت کامیابی کے اسی نظریے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرے کی بنیاد رکھی جسے آپؐ کے صحابہ کرام نے بھی جاری رکھا اور وہ ربع صدی کے اندر نہ صرف جزیرہ نما عرب بلکہ اس وقت کی ورلڈ پاورز پر غالب آگئے اور ایسی خوشحالی پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ مسلم معاشرے میں زکوٰۃ لینے والا کوئی نہ رہا۔ لہٰذا آج بھی ہماری ترقی اور کامیابی کی اساس دین سے ایسی وابستگی ہے جو ہمارے دنیا کے مسائل بھی حل کر دے اور آخرت میں بھی ہماری کامیابی کے راستے کھول دے۔

(۲) 

اس نظریاتی پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے آئیے یہ دیکھیں کہ وہ کون سے گھمبیر مسائل ہیں جو ہمیں (پاکستان کے مسلم معاشرے میں) درپیش ہیں اور جن کا حل ہمیں ڈھونڈنا ہے۔ ہمارے نزدیک اہم ترین مسائل چار ہیں: i۔ اخلاقی ابتری، ii۔ افتراق ، iii۔ جہالت، iv۔ غربت۔ لیکن پیشتر اس کے کہ ہم ان مسائل کے حل کے لائحہ عمل کے بارے میں کچھ عرض کریں ، کچھ حقائق کا ادراک اور کچھ تصورات کا صحیح فہم ضروری ہے جن کے بغیر شائد ہماری بات صحیح تناظر میں سمجھی نہ جاسکے:

اولاً

بدقسمتی سے ہماری حکومتیں اکثر وبیشتر عامۃ الناس کی خواہشات اور تمناؤں کے برعکس عمل پیرا ہیں اور یہ عموماً یورپ و امریکہ کی دریوزہ گر ہیں جن کی فکر و تہذیب اس وقت دنیا پر غالب ہے لہٰذا ہم ان بنیادی مسائل کے حل کے لیے صرف اپنی حکومت پر انحصار نہیں کر سکتے۔اگرچہ ہم ان دینی قوتوں کی حمایت کرتے ہیں جو موجودہ حکومتوں کو مؤثراسلامی حکومتوں میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں یا ان پر دباؤ ڈال کر ان سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ ان مسائل کو حل کریں، لیکن ان بنیادی مسائل کو بہرحال صرف ایسی حکومتوں کی صوابدید اور رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا جنہیں ان مسائل کے حل سے نہ صرف یہ کہ کوئی حقیقی دلچسپی نہیں بلکہ وہ انہیں اسلام کی بجائے مغربی فکر و تہذیب کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش میں انہیں مزید الجھا رہی ہیں جن سے بگاڑکم ہونے کی بجائے بڑھ رہا ہے، بلکہ ہمیں عوام کی حمایت سے ان مسائل کو صحیح اسلامی تناظر میں حل کرنے کے لیے پرائیویٹ سیکٹر میں خود مقدور بھر کوشش کرناہے جس کی وسیع گنجائش موجودہے۔

دوم

’نفاذِ شریعت ‘ کے بارے میں ہمارے ذہن بالکل واضح نہیں۔ ہمارا عمومی تصور یہ رہاہے کہ یہ صرف ’حکومت‘ کے کرنے کا کام ہے۔ چنانچہ پہلے تو بعض دینی عناصر یہ تصور پیش کرتے رہے کہ نفاذِ شریعت کا مطلب ہے ’اسلامی قانون کا نفاذ‘ اور وہ ہر حکومت سے مطالبہ کرتے تھے کہ شریعت اور اسلامی نظام نافذ کرو مطلب یہ کہ اسلامی قوانین نافذ کرو۔چنانچہ جب ضیاء الحق صاحب نے ۱۹۷۹ء میں اسلامی حدود نافذ کردیں تو دینی لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد یں دیتے تھے کہ اسلامی قوانین نافذ ہوگئے ہیں۔ پھر جب ان قوانین پر نہ عمل ہوا اور نہ ان کے خوشگوار اثرات ظاہر ہوئے تو نفاذِ شریعت بذریعہ اسلامی قوانین کے تصور کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔پھر یہ تصور ابھارا گیا کہ ہمارے دنیا دار سیاستدان شریعت نافذ کرنے کے نہ اہل ہیں اور نہ اس کی سچی خواہش و جذبہ رکھتے ہیں بلکہ جب علماء اور دینی عناصر کی حکومت آئے گی تو وہ شریعت نافذ کرے گی لیکن صوبہ سرحد میں ملک کے اہم دینی عناصر کو اقتدار مل گیا تو وہاں بھی شریعت نافذ نہ ہوسکی۔اب یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس صوبے میں اختیارات کم تھے اگر مرکز میں ہماری حکومت ہوتی تو ہم شریعت نافذ کردیتے۔ ہم کہتے ہیں کہ ان کو مرکز میں حکومت بنانے کا موقع مل جائے تو بھی یہ مؤثر طور پر شریعت نافذ نہیں کرسکتے سوائے چند قوانین پاس کردینے یا کچھ سطحی قسم کے ظاہری اقدامات کر دینے کے۔ کیونکہ شریعت تو معاشرے میں اس وقت نافذ ہوگی جب ہر فرد اپنے آپ کو شریعت کے مطابق بدلنا چاہے گا یعنی جب لوگوں کے ذہن وقلوب بدلیں گے اور اداروں کے اور ان کے چلانے والوں کی سوچ اور ڈھب بدلیں گے۔اگر کوئی سمجھتا ہے کہ موجودہ سیاسی نظام، تعلیمی اداروں، میڈیا، پولیس، وکلاء،عدلیہ اور بیوروکریسی کے ہوتے ہوئے اور ان کے ذریعے شریعت نافذ ہوسکتی ہے تومعاف کیجئے وہ جنت الحمقاء میں بستا ہے ۔
پس جب نفاذِ شریعت کی حقیقی ضرور ت یہ ہے کہ لوگوں کے ذہن و قلوب کو بدلاجائے اور ان کی سوچ، ان کے کردار اور ماحول کو بدلاجائے تاکہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اسلامی احکام پر خوشی سے عمل کرنے لگیں تو اس کے لیے اقتدار کا انتظار کیوں ضروری ہے؟ دینی عناصر عوام کے تعاون سے اور اقتدار کے بغیر، جو بھی وسائل میسر ہیں ان کو استعمال میں لاتے ہوئے یہ کام کیوں نہیں کرتے اور کس نے ان کا ہاتھ پکڑا ہے کہ وہ یہ کام نہ کریں؟ خلاصہ یہ کہ نفاذِ شریعت کا صحیح مفہوم اور طریقہ یہ ہے کہ دینی عناصر کوایک ہمہ گیر دینی تحریک کے ذریعے تعمیر اخلاق، خاتمۂ افتراق، صحیح رخ میں تعلیمی اداروں اور میڈیا چینلز کے قیام اور غربت کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت سے بھی ان کاموں کا مطالبہ کرتے رہنا چاہئے اور جو لوگ ایک صالح حکومت کے قیام کے لیے عملی کوششیں کر رہے ہیں، ان کی بھی حمایت کرنی چاہیے۔

سوم

ہم جس دینی تحریک کی بات کر رہے ہیں اس سے مراد محض علماء کرام کی کوئی نئی جماعت نہیں بلکہ یہ پاکستانی مسلمانوں کے دینی و دنیاوی اہداف کے حصول کی ایک اجتماعی تحریک ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ’ اسلامی‘ اور’ دینی‘ کا سابقہ یا لاحقہ اس کے نام کا حصہ ہو تاہم اس تحریک کا تناظر اور اہداف دینی ہیں اور رہیں گے ۔ مختلف مکاتب فکر کے معتدل مزاج علماء کرام، جو دین کے عصری تقاضوں کا ادراک رکھتے ہیں، یقینااس تحریک کا ہراول دستہ ہوں گے لیکن اس کی حقیقی قوت سول سوسائٹی کے اسلام پسند افراد ہوں گے بلکہ ہر وہ مسلمان اس کا فعال حصہ ہوسکتا ہے جو اچھے مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزارنے کا خواہاں ہو،انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اسلامی اصولوں پر استوار کیے جانے کا متمنی ہو اور دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی چاہتا ہو۔

چہارم

مجوزہ دینی تحریک غیر سیاسی ہوگی۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ خدانخواستہ سیاست میں حصہ لینا غیر اسلامی حرکت ہے بلکہ سیاسی قوت کو دینی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور موجودہ سیاسی نظام کی اسلامی حوالے سے اصلاح کی کوشش کرنا ایک اہم دینی ضرورت ہے لیکن سیاسی جدوجہد کی صرف ایک ہی صورت نہیں کہ پاور پالیٹکس میں حصہ لیا جائے اور حصول اقتدار کے لیے انتخابی اکھاڑے میں کودا جائے لہٰذا مجوزہ دینی تحریک اجتماعی سیاسی قوت کو اسلام کے حق میں استعمال کرنے کے لیے حسب ضرورت متعدد اقدامات کر سکتی ہے لیکن انتخابی سیاست میں حصہ نہ لے گی کیونکہ آج کل کے معروضی حالات میں انتخابی جدوجہد ایک کُل وقتی کام ہے اور اس کے کرتے ہوئے دوسرے اہم دعوتی، اصلاحی اور عملی کام نظر انداز ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے اور مجوزہ تحریک چونکہ ان غیر سیاسی دینی کاموں کو بھی اہمیت دیتی اور اس پرافراد کی صلاحیتیں لگانا چاہتی ہے لہٰذا نہ وہ پاور پالیٹکس میں حصہ لے گی اور نہ کسی کی حریف بنے گی۔

پنجم

مجوزہ تحریک بنیادی طور پردعوت و اصلاح کی تحریک ہوگی ۔ دعوت و اصلاح کا کام نیچے سے شروع ہوکر اوپر کو جاتا ہے یعنی پہلے فرد کی اصلاح ، پھر اہل خانہ اور اعزہ و اقربا، برادری و قبیلہ ، گلی و محلے کی اصلاح اور پھر اداروں اور ریاست و معاشرے کی اصلاح ۔ معاشرہ افراد سے مل کر بنتا ہے جب افراد کی اصلاح ہوگی تو معاشرے اور ریاستی اداروں کی بھی بتدریج اصلاح ہوتی چلی جائے گی۔
فرد کی اصلاح ہمارے نزدیک بنیادی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ:
  • قرآن حکیم سے ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ تمام انبیاء کرام اور خصوصاًآخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطبین کی اصلاح کا جو لائحہ عمل دیا گیا تھا وہ تعلیم کتاب و حکمت کے ذریعے ان کے نفوس کے تزکیہ و تربیت ہی کا تھا لہٰذا تبدیلی کا نبوی منہاج بھی یہی ہے کہ فرد کی تبدیلی پر ترکیز کی جائے۔ 
  • یہ فرد ہے جسے آخرت میں اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہونا ہے نہ کہ کسی تحریک یا قوم کو۔
  • معاشرے اور ریاست کے قیام اور ان کی ضرورت و اہمیت کی کنہ پر اگر غور کیا جائے تو ہم بالآخر اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ اس کا سبب بھی یہی ہے کہ فرد کو راہ راست پر چلنے میں معاونت ملے اور اس کی زندگی سکھ اور سکون سے گزرے۔
  • دنیا میں آج تک جتنے بھی انقلاب آئے ہیں اور تہذیبیں قائم ہوئی ہیں ان کی اساس فرد میں تبدیلی تھی نہ کہ محض نظم اجتماعی کی بہتری بلکہ اوّل الذکر ایک لحاظ سے ثانی الذکر کی پیشگی ضرورت (pre-requisite) ہے۔
  • لاریب اجتماعی تبدیلی بھی اہم اور مطلوب ہے لیکن اس کی بنیاد فرد کی تبدیلی ہی ہے لہٰذا فرد اور اس کی سیرت، اس کی تمناؤں، آدرشوں اور اہداف کو تبدیل کیے بغیر، تبدیلی کو محض ریاستی قوت سے اور اوپر سے تھونپا اور مسلط نہیں کیا جا سکتا اور اگر بالفرض کر بھی دیا جائے تو وہ عارضی اور نا پائیدار ثابت ہوتی ہے لہٰذامعاشرے میں پائیدار تبدیلی لانے کے لیے فرد کی تبدیلی اہم تر ہے۔
خلاصہ یہ کہ مجوزہ تحریک جو تبدیلی پاکستان کے مسلم معاشرے میں اجتماعی سطح پر لانا چاہتی ہے اس کے لیے وہ فرد کی تبدیلی کا راستہ اختیار کرے گی۔

ششیم

بعض علماء کرام اور دینی لوگوں کو اس مجوزہ تحریک کا لائحہ عمل دیکھ کریہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ اس میں عقیدے کی اصلاح اور نماز، روزے اور داڑھی وغیرہ پر زور نہیں دیا گیا تو یہ کیسی دینی تحریک ہے؟ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جو تصور دین شائع اورمروج ہے، اس میں علماء کرام ان باتوں پر پہلے سے خوب توجہ دے رہے ہیں اس لیے ہم نے ان پر زور دینا ضروری نہیں سمجھا کہ یہ تحصیل حاصل ہوگا۔ دوسرے یہ کہ ہمارے ہاں جوتصور دین بدقسمتی سے شائع اورمروج ہے اس میں دو باتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں ہمارے ہاں کے سارے مکاتب فکر کے ثقہ اور سنجیدہ علماء کرام خوب جانتے اور مانتے ہیں کہ وہ غلط ہیں لیکن حالات کے جبر نے انہیں نمایاں کردیا ہوا ہے۔ ان میں سے ایک تو دین و دنیا کی تفریق کا مسئلہ ہے (جسے آج کل کی زبان میں سیکولرزم کہا جاتا ہے)۔ سارے علماء کرام جانتے اور مانتے ہیں کہ اسلام میں دین و دنیا کی کوئی تفریق نہیں ہے اور اسلام ادخلوا فی السلم کا فۃ کا علم بردار ہے لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ اگر محلے کے لوگ نماز نہ پڑھیں تو یہ ’اسلامی مسئلہ‘ ہے لیکن محلے کا ایک مسلمان بھوک سے مر رہا ہو تو یہ ’اسلامی مسئلہ‘ نہیں ہے۔ ہماری رائے میںیہ غلطی مضمون سب پر واضح ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آج کل مسلک کو دین کا مترادف سمجھ لیا گیاہے جو کہ ظاہر ہے سارے سنجیدہ علماء کرام جانتے اور مانتے ہیں کہ غلط ہے ۔
غرض یہ کہ دینیاتی امور اور عبادات وغیرہ کو ہم نے بظاہر اس تحریک میں براہ راست فوکس اور نمایاں نہیں کیا لیکن پوری تحریک کا تناظر اور فریم ورک ایسا رکھا ہے کہ یہ مقصد ان شاء اللہ بالواسطہ طور پرحاصل ہوجائے گا۔

ہفتم

اس وقت ملک میں کئی دینی سیاسی جماعتیں اسلامی حوالے سے سیاست کے میدان میں کام کر رہی ہیں اور بہت سی دعوتی و اصلاحی تحریکیں ، تنظیمیں اور ادارے دعوتی و اصلاحی میدان میں کام کررہے ہیں ۔ مجوزہ نئی تحریک ان میں سے کسی کی حریف نہیں ہوگی اور ان پر تنقید اوران کی تنقیص نہیں کرے گی بلکہ تحریک کا ماٹو سب کے لیے محبت اور ہر خیر سے تعاون ہوگا۔

(۳)

اس ناگزیر تمہیدی گفتگو کے بعد آئیے اب مذکورہ چار بنیادی مسائل کے حل کے لائحہ عمل کی طرف۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے حل کے لیے مجوزہ تحریک کو چار شعبے یا چار طرح کے ادارے قائم اور متحرک کرنے پڑیں گے:

۱۔ تعمیر اخلاق

اگر آپ دقت نظرسے دیکھیں اور غور کریں تو آپ پر عیاں ہوجائے گا کہ ہمارا اصل بحران اخلاقی ہے۔ حبِّ دنیا، حبِّ مال، حبِّ جاہ، جھوٹ، فریب، دھوکہ، رشوت، کرپشن،چوری، ڈاکے ، فحاشی ، عریانی وغیرہ ہماری سیرت بن چکے ہیں اور اس اخلاقی ابتری نے ہمیں دنیا میں کمزور ، رسوا اور تماشا بنا کر رکھ دیا ہے اور مسلم روایت میں اس کا علاج ہے ایمان اور تعلق باللہ کی مضبوطی اور فکر آخرت لہٰذا اس تناظر میں مجوزہ تحریک لوگوں کے تعمیر اخلاق کے لیے چار سطحوں پر کام کرے گی:
i۔ نسل نو کی تربیت کے لیے تعلیمی اداروں میں صحیح تعلیم و تربیت کا فعال نظام۔
ii۔ بڑوں (grown ups) کے لیے ایسی تربیت گاہوں کے قیام کی حوصلہ افزائی جن میں فرد میں تبدیلی کے لیے صحبت صالح اور کثرت ذکر جیسے منصوص اور آزمودہ وسائل استعمال ہوں اور جن میں تصوف کی مروجہ غیر اسلامی رسوم و بدعات قطعاً نہ ہوں۔
iii۔ میڈیا کے ذریعے مناسب ذہن اور ماحول کی تیاری۔
iv۔ گلی محلے کی سطح پر اخلاق سدھار کمیٹیوں کا قیام جو منکرات کو پھیلنے سے روکیں اور اوامر و معروفات پر عمل کرائیں اور اس کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں۔

۲۔ اتحاد

باہمی افتراق و انتشار نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اختلاف رائے کو ہم بڑی مہارت سے دشمنی اورنفرت میں بدل لیتے ہیں اور حق کو صرف اپنی رائے اور مسلک تک محدود اور اس میں محصور سمجھتے ہیں۔ مجوزہ تحریک کا قیام ہی تحمل، بردباری اور اختلاف رائے کو برداشت کرنے کامظہر ہوگا کیونکہ اس میں مختلف دینی مسالک اور متنوع سیاسی مکاتب فکر کے لوگ باہم مل جل کر کام کریں گے۔ اس تحریک کا تعلیمی شعبہ بھی کوشش کرے گا کہ دینی تعلیم میں فرقہ واریت اور مسلک پرستی کا رجحان کمزور ہو اور مشترکہ پہلوؤں کو ابھارا جائے۔ اسی طرح اس تحریک کے تحت جو تربیت گاہیں کام کریں گی یا بزنس فورم قائم ہوں گے یا فلاحی مرکز بنیں گے وہ بھی بلا لحاظ دینی و سیاسی مسلک کام کریں گے اور اس طرح قوم میں اتحاد و یکجہتی کی فضا پروان چڑھے گی۔ اسی طرح تحریک بین الاقوامی سطح پر اتحاد امت اور قوموں کے درمیان پُر امن بقائے باہمی کی نقیب ہوگی۔

۳۔ تعلیم اور میڈیا

جہالت ہمارے معاشرے کا ایک انتہائی بنیادی مسئلہ ہے کہ کم شرح تعلیم نہ صرف بیروزگاری کا سبب ہے اور اس نے سیاسی عمل کی افادیت کو گہنا دیا ہے بلکہ ہمیں اخلاقی و معاشرتی مسائل سے بھی دوچار کر رکھا ہے کیونکہ یہ صحیح تعلیم و تربیت ہی ہے جو دماغوں کو روشن کرتی اور دلوں کو بدلتی ہے۔ ترکی اور انڈونیشیا میں ہزاروں سکول اور بیسیوں کالج اور یونیورسٹیاں وہاں کی دینی تحریکیں چلارہی ہیں تو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟ لہٰذا تحریک کوشش کرے گی کہ ہر سطح کے ماڈل تعلیمی ادارے قائم کرے(اور موجودہ اداروں کی اصلاح کرے)تاکہ جو طلبہ جدید تعلیم حاصل کریں وہ دینی تعلیم و تربیت سے بھی بہرہ ور ہوں اور اچھے ڈاکٹر، انجنئیر۔۔۔بننے کے ساتھ ساتھ وہ اچھے مسلمان بھی ہوں ۔ اور جو طلبہ دینی مدارس میں اسلام کی تخصصی تعلیم حاصل کریں وہ جدید علوم سے ناآشنا اور عصری تقاضوں سے غافل نہ ہوں تاکہ آج کے معاشرے کی مؤثر رہنمائی کرسکیں۔ ظاہر ہے اس کے لیے نصابات اور تربیت اساتذہ کے موجودہ مناہج پر نظر ثانی کرناہوگی اور تعلیمی اداروں کے موجودہ ماحول کو بدلنا ہوگا جس کا بنیادی نکتہ یہ ہوگا کہ تعلیم اسلامی اقدار کے تناظر میں دی جائے نہ کہ مغربی تہذیب کی اندھی پیروی کرتے ہوئے۔
میڈیا آج کل غیر رسمی تعلیم کا بہت بڑا ذریعہ ہے جو لوگوں کے اذہان و قلوب اور فکر و عمل پر شدت سے اثر انداز ہو رہاہے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر جو عناصر مسلمانوں کی راہ کھوٹی کرنا چاہتے ہیں وہ تعلیم اور میڈیا کو اسلام اور اسلامی اقدار سے انحراف کے لیے استعمال کر رہے ہیں ۔ اس لیے تحریک نہ صرف اپنا ٹی وی چینل کھولے گی بلکہ موزوں تعلیم و تربیت سے ایسے ماہرین بھی تیار کرے گی جو ابلاغ کے فن میں مہارت رکھتے ہوں اور اسلامی ذہن بھی رکھتے ہوں تاکہ وہ جہاں بھی کام کریں اسلامی نظریات و اقدارکی حفاظت کی کوشش بھی کریں۔

۴۔ غربت کا خاتمہ

مجوزہ تحریک غربت کے خاتمے اور غریبوں کی مد دکے لیے مندرجہ ذیل پہلوؤں پر کام کرے گی:
i۔ بزنس فورم کا قیام: تحریک ان لوگوں کو جو صنعت و تجارت کے شعبے میں کام کررہے ہیں اور تحریک کے مقاصد سے اتفاق رکھتے ہیں منظم کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس سے ان کو اپنی صنعت و تجارت کوبڑھانے کا موقع ملے گا، باہمی روابط اور مواقع بڑھیں گے اور ان کا کاروبار پھلے پھولے گا۔تجارت کے غیر شرعی طریقوں سے بچنے کی مشاورت کے ساتھ ساتھ تحریک ان کو فی سبیل اللہ انفاق پر ابھارے گی اور ایسے شعبوں میں کام کرنے کا مشورہ دے گی جو اسلامی اور ملی لحاظ سے زیادہ اہمیت و افادیت رکھتے ہوں مثلاً تعلیم ،میڈیااور دیہی علاقوں میں چھوٹی صنعتوں کا قیام۔۔۔وغیرہ
ii۔ فلاحی مراکز کا قیام: تحریک گلی محلے کی سطح پر ایک ملک گیر نیٹ ورک قائم کرے گی جو اس علاقے کے کھاتے پیتے لوگوں کی اعانتوں سے ایک فنڈ قائم کرے گا اور اسی علاقے کے مستحق غریبوں ، یتیموں ، بیواؤں اور بیروزگاروں پر خرچ کرے گا تاکہ ان کے علاقے میں کوئی بھو ک سے خود کشی نہ کرے، لوگ بنیادی ضروریات کو نہ ترسیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہوں۔ اس فنڈ سے علاقے میں فری ڈسپنسریاں قائم کی جائیں گی، غریب بچیوں کی شادیاں کی جائیں گی اور دیگر فلاحی کام کیے جائیں گے۔
iii۔ تحریک عمومی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کے ووکیشنل ٹریننگ سنٹر قائم کرے گی تاکہ غریبوں کے بچے وہاں کوئی ہنر سیکھ کر جلد اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔

مجوزہ تحریک کی ضرورت و اہمیت

کسی ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں پہلے سے بہت سے دینی ادارے ، تنظیمیں اور جماعتیں موجود ہیں تو اب ایک نئی دینی تحریک کی ضرورت کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کسی جماعت اور تنظیم کے کام کی تنقیص نہیں کرتے لیکن جو تنظیمیں اور ادارے اس وقت موجود ہیں اور کام کر رہے ہیں، ان کی محنت و کوشش کے باوجود معاشرے کے بگاڑ کا حال ہمارے سامنے ہے۔ اس کاواضح مطلب یہ ہے کہ بگاڑ کی قوتیں زیادہ منظم اور طاقتور ہیں اور ان کے برے اثرات کا رد کرنے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ نیز یہ کہ کام کرنے کے جو منہاج یہ جماعتیں اور ادارے اختیار کرچکے ہیں، ان کی ممکنہ افادیت تو حاصل ہوچکی اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی کام کے نئے منہاج سوچے اور آزمائے جائیں۔ موجودہ کاوشوں کے ناکافی ہونے کے دو ثبوت اظہر من الشمس ہیں:
ایک: یہ کہ پاکستانی معاشرہ بڑی تیزی سے مغربی فکر و تہذیب کے سیلاب میں بہتاچلاجا رہاہے اور اسلامی اقدار پر عمل دن بدن کم اور کمزور ہوتا جارہا ہے۔
دوم: دینی عناصر کی اصلاح کی موجودہ پُر امن کوششوں کے غیر مؤثر ہونے اور حکومتوں کے ناروا غیر اسلامی رویوں سے مایوس ہو کر اور تنگ آکر شمال مغربی سرحدی قبائلی علاقوں کے بعض دینی عناصر نے بذریعہ قوت اصلاح کا طریقہ اختیار کر لیاہے ۔ حکومت پاکستان اور ان عناصر کے درمیان مسلح جنگ نے خطے کے پیچیدہ حالات اور یورپ و امریکہ اور بھارت کی موجودگی اور مداخلت کی وجہ سے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں دونوں طرف سے مسلمانوں کا خون بے دردی سے بہہ رہا ہے۔ مطلب یہ کہ مذکورہ بالا حالات یہ ثابت کرر ہے ہیں کہ پاکستانی معاشرے کو اسلامی اساس پر قائم رکھنے کے لیے کی جانے والی موجودہ پُر امن کوششیں ناکافی ہیں اور یہ کہ موجودہ حالات پر غور کر کے کام کے نئے راستے نکالنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ چنانچہ ایک نئی دینی تحریک کی ہماری تجویز ایک بہت بڑے خلا کو پُر کرسکتی ہے بشرطیکہ یہ بھر پور قوت سے معاشرے میں روبہ عمل آجائے۔

کیا یہ سب کچھ ممکن ہے؟

کئی لوگ یہ تحریرپڑھ کر تبصرہ کریں گے کہ یہ ایک یوٹوپیا ہے، ایک تصوراتی بات ہے جو قابل عمل نہیں ہے ۔ ہم کہتے ہیں نہیں، یہ بالکل قابل عمل منصوبہ ہے۔ ایسی تحریک چل سکتی ہے بلکہ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور ایسی تحریک ضرور چلنی چاہئے ۔ دیکھئے، آپ کے سامنے مثالیں موجود ہیں، خود پاکستان کی مثال لیجیے۔ اکیلا ایدھی زبردست فلاحی نیٹ ورک چلا رہا ہے ۔ ’اخوت‘ کروڑوں کے چھوٹے قرضے دے کر غریبوں کے چولہے جلا رہی ہے، اسی طرح کا کام بنگلہ دیش میں گرامین بنک کر رہا ہے۔انڈونیشیا کی جماعت نہضۃ العلماء ۱۳ یونیورسٹیاں، بیسیوں کالج اور ہزاروں سکول چلا رہی ہے۔ ترکی کی نورسی تحریک نے اپنے ملک میں تعلیمی اداروں کا جال پھیلانے کے علاوہ وسط ایشیائی ریاستوں میں ۶یونیورسٹیاں اور ۳۰۰ اسکول قائم کردیے ہیں۔ ان کے ۱۰۰ سکول امریکہ میں قائم ہیں جہاں امریکی بچے پڑھتے ہیں۔ غرض یہ نہ کہیے کہ کام نہیں ہوسکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہو تو اچھی پلاننگ اور مؤثر لیڈر شپ سے یہ کام ہوسکتے ہیں اور ہمارے ملک میں ، الحمدللہ، ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ چونکہ اس تحریک کی بنیاد دینی ہے لہٰذا سب سے پہلے ایسے علماء کرام کو سامنے آنا چاہئے جو اس طرح کی تحریک کی بنیاد رکھیں۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ ساتھ پھراگر اخلاص ، محنت، حکمت اور جذبہ آپ کے ساتھ رہا تو اس سوسائٹی سے آپ کو ایسے افراد ، ان شاء اللہ، بڑی تعداد میں مل جائیں گے جو اس تحریک کو اٹھا سکیں۔ اس کام کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ اس موضوع پر سوچ بچار کی جائے۔ ہم نے محض کچھ تجاویز سامنے رکھی ہیں جن میں سے کوئی چیزحرفِ آخر نہیں۔ ضروری ہے کہ بحث و تنقید سے اس تصور کو منقح کیا جائے تاکہ کوئی متفقہ اور قابل عمل بات سامنے آسکے۔

تلخیص مباحث

ہماری گزارشات کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے کو اسلام پر قائم رکھنے کے حوالے سے موجودہ دینی کاوشیں ناکافی ثابت ہورہی ہیں اور وقت کا تقاضا ہے کہ ایک نئی دینی تحریک اٹھے جس کے خدوخال یہ ہوں:
  • یہ ایک غیر سیاسی اصلاحی تحریک ہو۔
  • اس میں سارے دینی مسالک ، سیاسی مکاتب فکر اور سول سوسائٹی کے لوگ شامل ہوں۔
  • یہ تحریک سوسائٹی کے مؤثر طبقات اور افراد کو گراس روٹ لیول پر منظم اور متحرک کرے، ماڈل تعلیمی ادارے اور میڈیا چینلز قائم کرے، بزنس فورم اور فلاحی مراکز قائم کرے اور ان کے ذریعے تعمیر اخلاق اور غربت و جہالت کے خاتمے کی جدوجہد کرے۔ ھذا ما عندنا والعلم عند اللہ۔

مذہبی شدت پسندی اور اس کے سدباب کی حکمت عملی

خورشید احمد ندیم

صدمے کے شدید احساس کے ساتھ مولانا سعید احمد جلال پوری کی شہادت پر لکھنے کے لیے قلم اُٹھایا ہی تھا کہ لاہور میں قتل عام کی خبر نے اپنے حصار میں لے لیا۔
آج وطن کی فضا لہو رنگ ہے۔کراچی میں دو المناک واقعات ایک ہی دن ہوئے۔ گزشتہ روز خبر ملی کہ مولانا عبدالغفور ندیم اپنے بیٹے سمیت گولیوں کی زد میں تھے۔رات گہری ہونے لگی تو مولانا جلال پوری کی شہادت کی خبر سنی۔شب بھر ماضی کی راکھ کریدتا رہا۔ ۱۲؍ربیع الاوّل کا فیصل آباد، ۱۰؍محرم کا کراچی۔ بہت کچھ یاد آیااور نہیں معلوم کب صدمے کی شدت پر نیند نے غلبہ پا لیا۔ آج جمعہ کی نماز کے بعدکالم لکھنے کے لیے بیٹھا ہی تھا کہ ٹیلی ویژن کی سکرین پرنظرپڑی اور لاہور میں ایک اور بڑے حادثے کی خبر نے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ مولانا سعید احمد جلال پوری کی شہادت کا دکھ مزید گہرا ہو گیا۔ جو بات میرے لیے اس سارے معاملے کو مزید المناک بناتی ہے،وہ یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کہیں نہ کہیں مذہب کا ذکر ہے، وہ مذہب جو عالم انسانیت کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی نوید سنانے آیا ہے۔ 
ان واقعات میں مذہب دو حوالوں سے زیر بحث ہے۔ایک مسلکی اور دوسرا سیاسی۔ مولانا عبدالغفور ندیم پر حملہ اور فیصل آباد کے واقعات کا رشتہ مسلکی اختلافات سے جوڑا جا رہا ہے۔مولانا سعید احمد جلال پوری کی شہادت پر مجلس تحفظ نبوت نے جن کوملزم ٹھہرایا ہے،ان سے اختلاف بھی مذہبی بنیاد پر تھا۔ مجلس کے ذمہ داران کے پاس ممکن ہے کچھ شواہد ہوں لیکن میرا احساس ہے کہ کسی حتمی رائے کے اظہار سے پہلے تمام ممکنہ پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ یہ سب لوگ پاکستانی ہیں اور مسلمان بھی۔ہم نے کم و بیش تین عشرے اس معرکہ آرائی میں صرف کر ڈالے کہ بندوق کے زور پر دوسرے مسلک والوں کو مٹایا جا سکتا ہے۔ آج تیس برس بعد ہمیں حساب کرنا چاہیے کہ ہم نے اپنے کتنے لوگ گنوائے ہیں اور دوسروں کو ختم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ میرا خیال ہے مسلکی تشدد میں گرفتار ہر گروہ جب اس کا جائزہ لے گا تو اسے احساس ہو گا کہِ اس کا حاصل زیاں کے سوا کچھ نہیں۔ اس لیے ان سب لوگوں سے میری درخواست ہوگی کہ وہ رک جائیں اور تحمل کے ساتھ یہ سوچیں کہ کیا اس حکمت عملی پر اصرار درست ہے؟ میری یہ بھی خواہش ہوگی کہ مسلکی بنیاد پر قائم تنظیمیں مل بیٹھیں اور ایک ضابط اخلاق کا تعین کریں۔ اس ضابطہ اخلاق میں چند نکات کی حیثیت بنیادی ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر:
  • ہر مسلک کے لوگ اپنے نقطہ نظر کو علمی طور پر بیان کریں گے اور اسے دعوت تک محدود رکھیں گے۔
  • دوسرے مسلک کے نزدیک برگزیدہ شخصیات کو سب و شتم کا عنوان نہیں بنائیں گے۔ اگر کسی گروہ میں سے کوئی فرد تحریراً، تقریراً یا کسی اور طرح سے اس جرم میں ملوث پایا گیا تو وہ گروہ اس سے اعلانِ برأت کرے گا اور اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔
  • ہر مسلکی اجتماع پبلک مقامات کے بجائے عبادت گاہوں میں منعقد ہو گا۔
  • جمعہ اور عوامی خطبات میں مسلکی اختلافات کو موضوع بنانے سے اجتناب کیا جائے گا۔
یہ آخری بات کچھ ایسی مشکل نہیں ہے، اگر کوئی علمی مباحث اور اصلاحی خطبات کے فرق کو جانتا ہو۔اس کی ایک مثال مسلکِ دیوبند کے نامور عالم مولانا سرفراز خان صفدر کا طرزِ عمل ہے۔ ان کا اکثر تصنیفی کام ان موضوعات پر مشتمل ہے جن کا تعلق مسلکی اختلافات سے ہے، لیکن اگر ان کے جمعہ اور عوامی خطبات کو دیکھا جائے تو خیال ہوتا ہے کہ جیسے یہ اختلاف کبھی ان کا موضوع نہیں رہا۔
اگر کسی ثالث کی موجودگی میں مسلکی مبلغین مل بیٹھیں اور ایسے نکات پر مشتمل ایک ضابطہ اخلاق تشکیل دے سکیں تو میرا خیال ہے کہ اس میں مسلمانوں کے لیے خیر ہے۔
لاہور کے واقعات کا تعلق سیاسی اختلاف سے ہے۔ہمارے ہاں ایک گروہ یہ خیال کرتا ہے کہ پاکستان کی فوج امریکا کی لڑائی لڑ رہی ہے اور یوں اس کے خلاف لڑنا مسلمانوں کے مفاد کا تقاضا ہے کیونکہ امریکا مسلمانوں کا دشمن ہے۔اس مقدمے کواگر ہم کچھ دیر کے لیے درست مان لیں اور یہ سوچیں کہ پاکستانی فوج کو کمزور کرنے سے امریکا کو فائدہ ہے یا نقصان؟ہم اس سوال پر جتنا غور کریں گے، اس نتیجے تک پہنچیں گے کہ اس سے پاکستان کمزور ہوگا، پاکستانی فوج کمزور ہوگی اور یہ وہ دیرینہ خواب ہے جو اسلام اور پاکستان کے دشمن مدت سے دیکھ رہے ہیں۔ پھر یہ پہلو بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ لاہور جیسے واقعات میں بے شمار بے گناہ مسلمان مارے جاتے ہیں۔ کیا کوئی مسلمان ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کی جان لے اور یہ سمجھے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے حضور میں اپنے اقدام کا دفاع کر سکے گا؟ جو لوگ ان واقعات میں ملوث ہیں، انہیں ضرور اس سوال پر غور کرنا چاہیے۔ اگر انہیں پاکستانی حکومت اور فوج سے شکایت ہے تو اس کا ایک طریقہ ہمارے پاس موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ جمہوری طریقے سے جدوجہد کرتے ہوئے، ان لوگوں کو اقتدار تک پہنچایا جائے جو ان امور میں دوسری رائے رکھتے ہیں۔اس سے ممکن ہے کامیابی نہ ہو، لیکن یہ ضرور ہوگا کہ لوگ اﷲ تعالیٰ کے حضور میں مواخذے سے بچ جائیں گے اور ان کے ہاتھوں پر کسی بے گناہ کا خون نہیں ہوگا۔ موجودہ حکمت عملی کا یہ نتیجہ تو ہمارے سامنے ہے کہ دنیا کا وہ واحد ملک جو اسلام کو اپنے وجود کی اساس مانتا ہے، کمزور سے کمزور تر ہو رہا ہے۔
پاکستان کی حکومت میں خرابیاں ہو سکتی ہیں۔ اس ملک میں ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو ظالم ہیں یا جو ہمارے مسلک کے لیے نقصان دہ ہیں، لیکن اس میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں۔ہم نے اگر پاکستان میں اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرنی ہے تو اس اقدام سے گریز کرنا ہوگا جس سے پاکستان کمزور ہوتا ہے۔ یہ ۱۰؍ محرم کا واقعہ ہو یا ۱۲؍ربیع الاوّل کا حادثہ، مولانا عبدالغفور ندیم پر حملہ ہو یا مولانا سعید احمد جلال پوری کی شہادت، لاہور کا سانحہ ہو یا پشاور کا، ان سب کا ایک نتیجہ ہے کہ پاکستان بطور ملک اور پاکستانی بحیثیت قوم کمزور سے کمزور تر ہو رہے ہیں۔ اگر ہم اسلام اور پاکستان سے مخلص ہیں تو ہمیں ہر ایسے اقدام سے گریز کرنا ہو گا جس کے نتیجے میں پاکستان کمزور ہوتا ہے۔ اسلام کو پاکستان کی مضبوطی کا عنوان بننا چاہیے، کمزوری کا نہیں۔

کالعدم تنظیمیں اور حکومت

گورنر پنجاب کو تو معذور سمجھنا چاہیے، اس لیے ان کی گل افشانی پر کچھ کہنا وقت کا بہترمصرف نہیں۔ صاحب حال، نہیں معلوم کب اناالحق کانعرہ بلندکر دے۔ اس بنا پرانہوں نے کالعدم تنظیموں کے بارے میں جو کچھ کہا، اس پر مجھے کچھ نہیں کہنا۔ تاہم وزیر داخلہ کا معاملہ دوسرا ہے کہ انہیں میں ذی شعور اور ذی فہم خیال کرتا ہوں۔ اس لیے جب انہوں نے کالعدم تنظیموں کو یہ وارننگ دی کہ وہ سیاسی سرگرمیوں سے دور رہیں تو مجھے ان کی بصیرت پر شبہ ہونے لگا۔ سادہ سا سوال ہے کہ یہ تنظیمیں اگر سیاسی میدان سے دور رہیں گی تو پھر کیاکریں گی؟ ظاہر ہے وہی کچھ جس پر اس وقت وزیر داخلہ کو اعتراض ہے۔ کالعدم تنظیمیں کیا کہتی اور کیا کرتی ہیں؟ اس سوال پر غور کرنے کے بعد یہ معلوم ہو سکے گا کہ مجھے وزیر داخلہ کی بصیرت پر کیوں شبہ ہوا ہے۔
اس وقت ملک میں جن تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے، وہ دو طرح کی ہیں۔ ایک وہ جو فرقہ وارانہ اور مسلکی معاملات میں ایک رائے رکھتی ہیں۔ دوسری وہ جو سیاسی نقطہ نظر رکھتی ہیں۔ ان دونوں طرح کی تنظیموں پر یہ اعتراض ہے کہ ان کی حکمت عملی تشدد پر مبنی ہے جس کی وجہ سے ریاست کا قانون انہیں گوارا نہیں کرتا۔ فرقہ واریت کے حوالے سے جو تنظیمیں کالعدم قرار دی گئی ہیں، ان میں سے ایک کا تعلق اہل سنت اور دوسری کا اہل تشیع سے ہے۔ ان تنظیموں نے جو مؤقف اپنایا ہے، وہ نیا نہیں۔اس سے پہلے بھی ملک میں ایسی تنظیمیں موجود تھیں اور افراد بھی جو ایک دوسرے کے بارے میں اسی طرح کے خیالات رکھتے تھے۔ اس طرح کی تنظیمیں کبھی کالعدم نہیں قرار پائیں کیونکہ ان کی حکمت عملی تشدد پر مبنی نہیں تھی۔وہ اپنی بات تحریر کے ذریعے، تقریر سے یا کسی موجود ذریعہ ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے دوسروں تک پہنچاتے تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مؤقف میں شدت ہوتی تھی لیکن اس کا ظہور ان کے طرزِ عمل میں نہیں ہوتاتھا۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب بعض ایسی تنظیمیں وجود میں آئیں جنہوں نے اپنے نقطہ نظر کے فروغ کے لیے تشدد کو بطور حکمت عملی اختیار کیا۔ اس کے بعد ریاست کو مداخلت کی ضرورت پیش آئی اور انہیں کالعدم قرار دیا گیا۔اس سارے معاملے میں جو بات قابلِ غور ہے، وہ یہ ہے کہ جب کالعدم تنظیموں پر پابندی لگی تو اس سے یہ تو ہوا کہ وہ علانیہ اپنی سرگرمیوں کوجاری نہیں رکھ سکیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کانقطہ نظر بھی کالعدم ہو گیا۔ وہ نقطہ ہائے نظر اپنی جگہ موجود رہے اور جب انہیں تنظیمی وحدت میں ظہور کرنے کی اجازت نہ ملی تو انہوں نے خفیہ سرگرمیاں شروع کر دیں۔ تشدد ظاہر ہے کہ پہلے بھی اعلانیہ نہیں ہوتا تھا۔ لہٰذا تشدد کا سلسلہ تو روکا نہ جا سکا، البتہ ان تنظیموں کو ایک خاص نام کے ساتھ کام کرنے سے روک دیا گیا۔اب اس مسئلے کا حل یہ تھا کہ ریاست ان تنظیموں کو پابند کرتی کہ وہ ایک ضابطہ اخلاق بنائیں اور اس کے تحت اعلانیہ اپنی سرگرمیوں کا آغاز کریں۔ اس سے ریاست کے لیے یہ جاننے کا موقع تھا کہ کیا بات خلافِ قانون ہو رہی ہے اور وہ اس پر قانونی کاروائی کر سکتی تھی۔ ریاست کے قانون کے تحت، اپنی بات کہنے کا ایک جائز طریقہ سیاست ہے۔ حکومت اگر حکیمانہ طرزِ عمل اختیار کرتی تو ان تنظیموں کا رخ سیاست کی طرف کر دیتی۔
سیاست کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ آدمی میں وسعت پیدا کرتی ہے اور اس سے یہ موقع پیدا ہوتا ہے کہ آپ دوسرے کے نقطہ نظر کو جانیں اور ایک دوسرے کے ساتھ سماجی نظم و ضبط بڑھائیں۔سیاسی عمل جب جاری رہتا ہے تو اس سے تشدد میں کمی آتی ہے کیونکہ اس سے گھٹن پیدا نہیں ہوتی۔کالعدم تنظیموں کے افراد نے جب سیاست میں حصہ لینا شروع کیا تو یہ ایک مثبت پیش رفت تھی۔ مثال کے طور پر سپاہ صحابہ یا تحریک جعفریہ سے متعلق شخصیات جب سیاست میں متحرک ہوئیں تو ایک طرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ جیسی قومی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے عمل کا آغاز ہوا اور دوسری طرف وہ میڈیا پر دوسری تنظیموں اور جماعتوں کی قیادت کے ساتھ مکالمے کے ایک عمل کا حصہ بنے ۔مکالمہ وہ ایک مثبت عمل ہے جو ایک دفعہ شروع ہو جائے تو پھر تشدد میں یقیناًکمی آنے لگتی ہے۔اس کا ایک اور فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایک تنظیم کا نقطہ نظر اور طرزِ عمل دونوں قوم کے سامنے زیرِ بحث آتے ہیں اور جو لوگ اس حوالے سے کسی غلط یا بے بنیاد مؤقف پر کھڑے ہوتے ہیں، وہ قوم کی نظروں میں نا قابلِ اعتبار ٹھہرتے ہیں۔ حکومت میں اگر بصیرت ہوتی تو وہ اس تبدیلی کا خیر مقدم کرتی اور ان تنظیموں کو یہ دعوت دیتی کہ وہ مکالمے کا حصہ بنیں اور اپنی بات کو دلائل کے ساتھ قوم کے سامنے رکھیں۔میرا خیال اس سے خود بخود اس تشدد میں کمی آتی، حکومت جسے ختم کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔
حکومت کو اس معاملے میں جو کردار ادا کرنا چاہیے، اس کا تعلق ایک ضابطہ اخلاق کی تشکیل سے ہے یا پھر اس باب میں موجود قوانین کے نفاذ سے۔ فرقہ وارانہ اختلاف نہ تو نئے ہیں نہ انہیں ختم کیا جا سکتا ہے،انہیں صرف آداب کا پابند بنانے کی ضرورت ہے۔واقعہ یہ ہے کہ فرقہ واریت کے حوالے سے تشدد اس طرح در آتا ہے جس طرح عام سیاسی و سماجی معاملات میں تشدد کا آغاز ہوتا ہے۔جب کسی ملک میں قانون مغلوب ہو جاتا ہے یا ظالم کے سامنے قانون بے بس ہوتا ہے اور مظلوم کی داد رسی نہیں کرتا تو پھر لوگ قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں۔ پھر وہ اپنے ہاتھوں سے ظلم ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جب مذہبی معاملات میں قانون متحرک نہیں ہوتا اور لوگوں کے مذہبی جذبات کے احترام سے معذور ہوتا ہے تو پھر لوگ اپنے جذبات کی تسکین کے لیے خود میدان میں نکل آتے ہیں۔مثال کے طور پر اس ملک میں قانون موجود ہے کہ کہ مسلمانوں کی برگزیدہ شخصیات پر سب و شتم ممنوع ہے۔ جب ایسے واقعات ہوتے ہیں اور قانون مجرموں کو سزا نہیں دیتا تو پھر تشدد جنم لیتا ہے۔حکومت اگر اس معاملے میں سنجیدہ ہے تو اسے تین کام کرنے چاہییں:
۱۔ مذہبی حوالے سے موجود قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
۲۔ حکومت اس کی حوصلہ افزائی کرے کہ یہ جماعتیں دعوتی، علمی اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہوں اور اعلانیہ کام کریں۔
۳۔ ان کی مشاورت سے ایک ضابطہ اخلاق وضع کیا جائے جس پر عمل درآمد کو حکومتی انتظام سے یقینی بنایا جائے۔
سیاسی حوالے سے حکومت نے لشکر طیبہ پر پابندی لگائی ہے ، ہمیں معلوم ہے کہ یہ پابندی دوسرے ممالک کے مطالبے پر لگائی گئی ہے۔ان سے امریکا کو شکایت تھی اور بھارت کو۔ وہ داخلی طور پر کسی پر تشدد کاروائی میں ملوث نہیں رہے۔ ان کے حوالے سے اربابِ اقتدار کو یہ دیکھنا چاہیے کہ حکومت کی بین الاقوامی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں کیا ہیں اور وہ انہیں کس حد تک ادا کر رہی ہے۔جہاں تک جماعت الدعوہ کا تعلق ہے تو وہ اصلاً دعوت اور خدمت خلق کا کام کرتی ہے، اس لیے اس پر پابندی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اسی طرح خود حکومت یہ کہتی ہے کہ حافظ سعید صاحب پر بھارت جو الزام عا ئد کر تا ہے،اس کے تسلی بخش ثبوت مو جو دنہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو حکومت کو پابندی کا حق ہے نہ گرفتاری کا۔ بظاہر اس معاملے میں حکومت کا مقدمہ اتنا کمزور ہے کہ اگر جماعت الدعوہ عدالت میں چلی جائے تو شاید حکومت اپنا موقف ثابت نہ کر سکے۔
اس دراز نفسی کا حاصل یہ ہے کہ اگر کالعدم جماعتیں تشدد کی جگہ سیاسی میدان میں کام کرتی ہیں تو حکومت کو اس کی حوصلہ افزائی کر نی چا ہیے اور جن کے بارے میں اس کا اپنا موقف یہ ہے کہ ان کے خلاف کو ئی ثبوت نہیں تو ان پر اسے پا بندی کا کوئی حق نہیں۔

طالبان اور شہباز شریف

جناب شہباز شریف نے الفاظ کے انتخاب میں ممکن ہے احتیاط روا نہ رکھی ہو، لیکن دانا الفاظ کے پیچ و خم میں نہیں الجھتے۔ ان کی نظر مفہوم پر ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے مفہوم اور معانی واضح ہیں اور ان پر بھی بات ہونی چاہیے!
شہباز شریف کی تقریر اور پھر اس کی شرح کو سامنے رکھیں تو ان کا کہنا یہ ہے کہ طالبان بظاہر جو خیال پیش کر رہے ہیں،انہیں اس پر اعتراض نہیں ہے لیکن طالبان نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے، ا نہیں اس سے اتفاق نہیں ہے۔ میرا تأثر ہے کہ اس وقت پاکستانی عوام کی اکثریت کا مؤقف بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ دیگر باتوں کے ساتھ طالبان کا کہنا یہ ہے کہ پاکستان کو ایک خود مختار ملک کی طرح اپنی ترجیحات خود متعین کرنی چاہییں اور امریکا کی غلامی سے خود کو آزاد کرنا چاہیے اور یہ کہ ہمیں اس خطے میں امریکا کی جنگ نہیں لڑنی چاہیے۔
اس مؤقف پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ سوال یہ ہے، اس چاہیے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ طالبان بزبانِ حال اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ ایک منظم گروہ کو مسلح کرکے حکومت پر قبضہ کر لینا چاہیے اور اس طرح نظامِ حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لینی چاہیے۔ اگر اس میں ملک کی فوج مزاحم ہوتو اسے ہدف بنانا چاہیے۔ اگر خود کش حملوں کے ذریعے اس فوج کو کمزور کیا جا سکتا ہے، تو یہ راہ بھی اپنائی جا سکتی ہے۔اس کے نتیجے میں اگر عام لوگ مرتے ہیں تو اسے ایک ناگزیر نقصان کے طور پر قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ گیہوں کے ساتھ گھن تو پستا ہی ہے۔مزید یہ کہ بین الاقوامی قوانین اور سرحدوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہم انہیں قبول کرنے پر آمادہ نہیں اور انہیں راہ میں حائل نہیں ہونے دیں گے۔
شہباز شریف کہتے ہیں کہ انہیں اس حکمت عملی سے اتفاق نہیں۔ وہ جمہور ی طریقے سے تبدیلی پر یقین رکھتے ہیں۔میرا خیال ہے کہ اس پر اہلِ دانش میں گفتگو ہونی چاہیے کہ تبدیلی کیسے ممکن ہے۔ اگر ہم معاشرے میں مسلح جدوجہد کے ذریعے تبدیلی پر یقین رکھتے ہیں تو عملاً یہ کس حد تک ممکن ہے؟ پھریہ کہ اس طرح کیا کسی کوشرعاً اور اخلاقاً حق اقتدار حاصل ہو جاتا ہے؟
دوسرے سوال کو پہلے دیکھیے! اگر بندوق اور اسلحہ کے زور پر اقتدار پر قبضہ جائز ہے تو پھر ملک میں آنے والی تمام فوجی حکومتوں پر کوئی اخلاقی اعتراض نہیں اُٹھایا جا سکتا۔ یہی نہیں، اس کی جلو میں اور بہت سے سوالات بھی ہمارے منتظر ہیں۔
ہم آج ایک عمرانی معاہدے کے تحت ایک ریاست کی صورت میں رہ رہے ہیں۔ یہ معاہدہ ۱۹۷۳ء کا آئین ہے۔اس ملک میں بسنے والے تمام لوگوں نے اپنے نمائندوں کے ذریعے اس کو قبول کیا ہے۔اس معاہدے میں یہ طے ہے کہ ملک میں تبدیلی کیسے آئے گی۔اخلاقی اور شرعی اعتبار سے اس معاہدے سے روگردانی جائز نہیں ہے۔ اگر اس پس منظر میں مسلح جدوجہد کا جائزہ لیا جائے تو یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ اس کو کسی طرح قبول نہیں کیا جا سکتا۔
جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے تو اسے تاریخی تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ تاریخ کا کہنا یہ ہے کہ تشدد پر مبنی تحریک دنیا کے کسی معاشرے میں کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔ یہ تحریک صحیح مؤقف پر اُٹھی ہو یا غلط بنیاد پر، اس سے یہ تو ہوا کہ صفحہ ہستی پر ایک عرصے کے لیے ہنگامہ برپا رہا، لیکن دس بیس سال سے زیادہ اس کی عمر نہیں ہوئی۔خوارج ہوں یا مختار ثقفی، یہ ابن سبا کی تحریک ہو یا سعودی حکومت کے خلاف بیسویں صدی کی بغاوت، ریاست کے مقابلے میں ایسی تحریکیں ہمیشہ ناکام رہی ہیں۔ تاہم ان کے نتیجے میں معاشرہ جس عذاب اور فساد سے گزرتا ہے، اس کی تلافی مدتوں نہیں ہو سکتی۔اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ طالبان کا سیاسی مؤقف اگر درست ہو تو بھی اس حکمت عملی سے کامیابی ممکن نہیں۔میرا خیال ہے کہ شہباز شریف بھی شاید یہ کہنا چاہ رہے ہیں۔
شہباز شریف صاحب کی گفتگو پر البتہ یہ سوال ضرور اُٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا وہ فی الواقع یہی مؤقف رکھتے ہیں اور اگر کل اقتدار ان کے حوالے کر دیا جائے تو کیا قوم یہ امید کر سکتی ہے کہ وہ طالبان کے مؤقف کے مطابق تبدیلی لے آئیں گے، یعنی پاکستان امریکی اثرات سے آزاد ہو جائے گااور یہ ملک اپنے فیصلوں میں خود مختار ہوگا؟ میرا خیال ہے، یہ بات کہنا اتنا آسان نہیں ہے۔واقعہ یہ ہے کہ شہباز شریف جانتے ہیں کہ اس ملک کے عام آدمی کی سوچ یہی ہے۔ سیاست دان عوامی جذبات کا سوداگر ہوتا ہے،وہ ان کی رعایت سے گفتگو کرتاہے۔شہباز شریف بھی یہی کر رہے ہیں۔اس طرح کا ایک مظاہرہ چند روز پہلے قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف نے بھی کیا تھا۔ حامد کرزئی جب پاکستان کے دورے پر آئے تو وہ اس ضیافت میں شریک نہیں ہوئے جو ان کے اعزاز میں وزیر اعظم نے دی۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ کرزئی پاکستان کے خلاف بیان دیتے ہیں اور امریکی ڈکٹیشن پر چلتے ہیں، اس لیے وہ احتجاجاً اس دعوت میں شریک نہیں ہوں گے۔ ان کی خدمت میں یہ سادہ سا سوال رکھا جا سکتا ہے کہ امریکا سے آنے والے ہر تیسرے درجے کے افسر کے ساتھ ملاقات کے لیے وہ شریف برادران کے شانہ بشانہ پنجاب ہاؤس میں موجود ہوتے ہیں۔ اب ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے کسی امریکی افسر سے محض اس بنا پر ملنے سے انکار کیا ہو کہ وہ پاکستان کے مفاد کے خلاف کاروائیوں میں ملوث ہیں۔
شہباز شریف صاحب بھی اگر طالبان کی تائید کررہے ہیں تو یہ ایک سیاسی ضرورت ہے۔ جہاں تک اقتدار کی ضروریات ہیں تو وہ ان سے واقف ہیں اور ان کو معلوم ہے کہ اس وقت تیسری دنیا کا کوئی ملک خود مختاری کا دعویٰ تو کر سکتا ہے، اپنے طرز عمل سے اس کی دلیل فراہم نہیں کر سکتا۔ ان کو معلوم ہے کہ کارگل کی لڑائی بند کرانی ہو تو وزیر اعظم پاکستان کو امریکا کے صدر ہی سے درخواست کرنی پڑتی ہے۔ اس بنا پر میر اکہنا یہ ہے کہ شہباز شریف صاحب جو کچھ کہہ رہے ہیں، اسے بہت سنجیدہ نہ لیا جائے۔اس میں جو بات قابل غور ہے، اس پر توجہ دی جائے اور وہ میں نے اس کالم میں لکھ دی ہے۔اہل سیاست کی اپنی ضروریات ہیں۔ان کے بیانات کو اس حوالے سے دیکھنا چاہیے۔جو کچھ گورنر صاحب فرما رہے ہیں، اس پربھی کسی سنجیدگی کی ضرورت نہیں۔ان کا اپنا کام ہے، سو وہ ان کو مبارک۔ کارخانہ سیاست میں اس طرح کی رونق رہے گی۔
یہ چمن یوں ہی رہے گا اور ہزاروں جانور
اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اُڑ جائیں گے
(بشکریہ ’’اوصاف‘‘ اسلام آباد)

’’میڈیا کے چیلنج اور پیغام کی اثر انگیزی‘‘ (۱)

ایک تربیتی ورک شاپ کی روداد

محمد عمار خان ناصر

جنوری ۲۰۱۰ء کے آغاز میں مجھے پاکستان کے دینی جرائد کے مدیران اور نمائندوں کے ایک گروپ کے ہمراہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ’’میڈیا کے چیلنج اور پیغام کی اثر انگیزی‘‘کے زیر عنوان منعقد کی جانے والی ایک سہ روزہ تربیتی ورک شاپ (۳ تا ۵ جنوری ۲۰۱۰ء) میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ اس ورک شاپ کا اہتمام اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے الائنس آف سویلائزیشنز (AoC) نے کیا تھا۔ اس ادارے کے قیام کی تجویز ۲۰۰۵ء میں اقوام متحدہ کی ۵۹ ویں جنرل اسمبلی میں اسپین کے صدر Jos233 Luis Rodrguez Zapatero نے ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان کی تائید کے ساتھ دی تھی۔ اس کے پس منظر میں بنیادی طو رپر یہ سوچ کارفرما ہے کہ دنیا میں مختلف تہذیبوں کے مابین تصادم کا نظریہ درست نہیں اور انسانی حیثیت سے تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کی اقدار اور ضروریات آپس میں ملتی جلتی ہیں، اس لیے تہذیبوں کے مابین اختلافات کے بجائے مشترکات کو اجاگر کرنا چاہیے اور اختلاف اور تنوع کو ایک منفی چیز سمجھنے کے بجائے انسانوں کے باہمی استفادہ اور ذہنی وعملی ترقی کا ایک ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ الائنس آف سولائزیشنز کے ساتھ اس ورک شاپ کے انتظام وانصرام میں ایک دوسری بین الاقوامی تنظیم سرچ فار کامن گراؤنڈ (SFCG) شریک تھی جو مذکورہ مقاصد ہی کے لیے سرگرم ہے۔ اس کا ہیڈ کوارٹر بلجیم میں ہے اور بہت سی دوسری سرگرمیوں کے علاوہ یہ ’’انسانیت میں شریک کار‘‘ (Partners in Humanity) کے عنوان سے ایک ہفتہ وار نیوز سروس بھی جاری کرتی ہے جس میں تہذیبی، مذہبی اور سیاسی اختلافات کے حوالے سے ایسے تجزیاتی مضامین شائع کیے جاتے ہیں جو مسئلے کے پرامن حل کے لیے مفید ہوں۔ یہ نیوز سروس پانچ زبانوں میں شائع ہوتی ہے اور http://www.commongroundnews.org/ پر اس کے مضامین ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔ ورک شاپ میں الائنس آف سولائیزیشنز کی نمائندگی دانش مسعود جبکہ سرچ فار کامن گراؤنڈ کی نمائندگی راشد بخاری اور ان کے معاون مظہر حسین کر رہے تھے۔ واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک آئی سی آر ڈی کے نمائندے اظہر حسین اور اسلام آباد کے کہنہ مشق صحافی اور روزنامہ ’’آج کل‘‘ کے کالم نگار ارشاد محمود اس سفر میں بطور ٹرینر ہمارے ساتھ رہے۔ 
ورک شاپ میں پاکستان کے بہت سے نمایاں جرائد کے نمائندے شامل تھے، مثلاً ماہنامہ ’’السعید‘‘ ملتان کے مدیر طاہر سعید کاظمی، ماہنامہ ’’عرفات‘‘ لاہور کے مدیر راغب حسین نعیمی، ماہنامہ ’’منہاج القرآن‘‘ لاہور کے مدیر ڈاکٹر علی اکبر الازہری، ماہنامہ ’’پیام‘‘ اسلام آباد کے مدیر ثاقب اکبر، ماہنامہ ’’الخیر‘‘ ملتان کے مدیر مولانا محمد ازہر، ماہنامہ ’’العصر‘‘ پشاور کے نمائندہ مولانا حسین احمد، ماہنامہ ’’ضیاے حرم‘‘ کے نائب مدیر محبوب الرحمن، روزنامہ اوصاف اور روزنامہ اسلام کے کالم نگار مولانا عبد القدوس محمدی، ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ کے مدیر حافظ احمد شاکر، ماہنامہ ’’وائس آف پیس‘‘ کے ایڈیٹر قاضی عبدالقدیر خاموش، ماہنامہ ’’نداء الاسلام‘‘ پشاور کے مقصود احمد سلفی، ہفت روزہ ’’حدیبیہ‘‘ کراچی کے سید عامر نجیب، ماہنامہ ’’میثاق‘‘ لاہور کے وسیم احمد، ’’ندائے خلافت‘‘ کے مرزا محمد ایوب بیگ، ہفت روزہ ’’ایشیا‘‘ اور ماہنامہ ’’آئین‘‘ لاہور کے مرزا محمد الیاس، پندرہ روزہ ’’صحیفہ اہل حدیث‘‘ کراچی کے عبد الخالق آفریدی اور ماہنامہ ’’اذان فجر‘‘ لاہور کے مولانا محمد عزیر روحانی بازی۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے مختلف قومی ومقامی اخبارات وجرائد کی نمائندگی کرتے ہوئے قاضی عبد الصمد، عبد الواحد شہوانی اور عبد القادر قریشی نے بھی اس ورک شاپ میں شرکت کی۔ ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے نائب مدیر امجد عباسی اور ماہنامہ ’’محدث‘‘ کے مدیر حافظ حسن مدنی کسی وجہ سے اس ورک شاپ کے لیے نیپال کا سفر نہ کر سکے، البتہ وہ اس ورک شاپ کے پہلے حصے میں، جو اکتوبر ۲۰۰۹ء میں بھوربن کے پی سی ہوٹل میں منعقد کیا گیا تھا، شریک تھے اور اس حوالے سے حسن مدنی صاحب کے تفصیلی تاثرات ’’محدث‘‘ کے ایک حالیہ شمارے میں شائع ہو چکے ہیں۔ 
پروگرام کے اصل شیڈول کے مطابق ان سب حضرات کو ۲ جنوری کو اسلام آباد سے کھٹمنڈو کی فلائٹ پر اکٹھے سفر کرنا تھا، لیکن دھند کی وجہ سے لاہور سے تعلق رکھنے والے حضرات بروقت اسلام آباد نہ پہنچ سکے، چنانچہ وہ بعد میں ۴ جنوری کو نیپال پہنچے۔ باقی سب حضرات ایک ہی فلائٹ سے سفر کر رہے تھے۔ اتنی نمایاں تعداد میں ڈاڑھی اور ٹوپی سے مزین مذہبی لوگوں کا ایک جگہ جمع ہونا لوگوں کے لیے اچنبھے کا باعث بنا رہا۔ ہم اسلام آباد سے پی آئی اے کے جس جہاز پر بیٹھے، اس کے عملے کے ایک آفیسر خاصی معلومات رکھنے والے اور باتونی قسم کے تھے۔ وہ اڑان کے آغاز میں ہی میرے اور وفاقی وزیر مذہبی امور جناب حامد سعید کاظمی کے چھوٹے بھائی اور ماہنامہ ’’السعید‘‘ ملتان کے مدیر برادرم طاہر سعید کاظمی کے سامنے اپنے لیے مخصوص نشست پر بیٹھ گئے اور سارا راستہ دلچسپ باتیں کرتے رہے۔ بیٹھتے ہی گفتگو کا آغاز انھوں نے ذرا تحیر آمیز انداز میں اس سوال سے کیا کہ اتنے سارے مولوی حضرات اکٹھے ہو کر نیپال کس غرض سے جا رہے ہیں؟ مجھے مذاق سوجھا اور میں نے ان سے کہا کہ ہم اپنا پروگرام وقت سے پہلے نہیں بتایا کرتے۔ میرے جواب سے ان کے چہرے پر کچھ پریشانی کے آثار دکھائی دینے لگے تو میں نے فوراً وضاحت کی کہ آپ بے فکر رہیں، یہ صرف ایک مذاق تھا۔ نیپال میں بھی ہمارا گروپ اپنی مخصوص مذہبی شناخت کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا، بلکہ اپنی والدہ کے ہمراہ غالباً سیاحت کی غرض سے آئی ہوئی ایک نوجوان انگریز لڑکی نے، جو اسی ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھی، ہمارے منتظم دوست مظہر حسین سے باقاعدہ دریافت کیا کہ یہ اتنے سارے مولوی صاحبان یہاں کر رہے ہیں؟ اس نے کہا کہ وہ اتنے سارے باریش لوگوں کو دیکھ کر خوف زدہ ہو گئی ہے اور اس نے اپنی والدہ سے کہا ہے کہ وہ صورت حال پر غور کریں۔ مظہر حسین نے اسے اس گروپ کی آمد کا پس منظر بتایا تو اسے کچھ اطمینان محسوس ہوا اور اس نے کہا کہ اچھا، آپ ان لوگوں کو اعتدال پسند بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔
ورک شاپ کا بنیادی موضوع، جیسا کہ اس کے عنوان سے ظاہر ہے، یہ تھا کہ ابلاغ عامہ کے دائرے میں کیا چیلنجز درپیش ہیں اور مذہبی صحافت سے وابستہ لوگ اس میں کیا کردار ادا کر سکتے اور اپنے پیغام کو کیسے موثر طریقے سے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ عنوان اپنی نوعیت کے اعتبار سے خاصا وسیع تھا، تاہم ورک شاپ میں عملاً جس نکتے پر زیادہ ارتکاز رہا، وہ یہ تھا کہ نفسیاتی اور سماجی اعتبار سے ’’شناخت‘‘ کی اہمیت کیا ہے، کسی گروہ کا سماجی رویہ اور کردار متعین کرنے میں اس کا کس قدر دخل ہے، شناخت کے قائم رہنے یا کسی خطرے کی زد میں آنے کا سوال کیسے سماجی سطح پر مختلف گروہوں کے مابین تنازعات کو جنم دیتا ہے اور ایسے تنازعات کو حل کرنے کی تدابیر کیا ہو سکتی ہیں۔ ورک شاپ کے پہلے حصے (اکتوبر ۲۰۰۹ء) میں اظہر حسین کے علاوہ سرچ فار کامن گراؤنڈ کے راشد بخاری اور ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور کے حافظ عبد الغنی اور سلیم قیصر عباس نے الگ الگ نشستوں میں متعلقہ عنوانات پر گفتگو کی تھی، تاہم کھٹمنڈو کی ورک شاپ میں گفتگو کی ذمہ داری زیادہ تر اظہر حسین نے انجام دی، جبکہ راشد بخاری اور دانش مسعود وقتاً فوقتاً ان کا ساتھ دیتے رہے۔ جناب ارشاد محمود نے ایک مستقل نشست میں اس موضوع پر تفصیلی اور معلومات افزا گفتگو کی کہ مذہبی صحافت سے وابستہ لوگ اگر عمومی صحافت میں اپنی جگہ بنانا چاہیں تو اس کے لیے انھیں کون سے راہ نما اصولوں کو سامنے رکھنا چاہیے۔ 
اظہر حسین پاکستانی ہیں۔ ان کی پیدائش اور ابتدائی تعلیم وتربیت کراچی میں ہوئی۔ تقریباً چار دہائیاں قبل وہ اپنے والد کے مشورے پر امریکہ منتقل ہو گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ چالیس سال قبل یہاں کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے ان کے والد نے اپنی بصیرت کی بنا پر اس بات کی پیش بینی کر لی تھی کہ پاکستانی معاشرہ جن خطوط پر آگے بڑھ رہا ہے، اس کا نتیجہ شدید نسلی ولسانی منافرتوں کی صورت میں نکلے گا، چنانچہ انھوں نے ایک تفصیلی خط لکھ کر انھیں آنے والے منظر کی ایک جھلک دکھائی اور انھیںآمادہ کیا کہ وہ امریکہ منتقل ہو جائیں، البتہ انھوں نے انھیں اس بات کا بھی پابند کیا کہ وہ دنیا میں جہاں بھی رہیں، پاکستان اور پاکستانی معاشرے کی بہتری کے لیے کوشش کرتے رہیں اور جس قدر ممکن ہو، اس میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں۔ 
اظہر حسین اس وقت امریکہ میں قائم ایک تھنک ٹینک انٹر نیشنل سنٹر فار ریلجن اینڈ ڈپلومیسی (ICRD) کے نائب صدر ہیں۔ مغرب کے سماجی علوم میں تنازعات کے تصفیے (Conflict Resolution) کے موضوع سے خاص دلچسپی رکھتے ہیں اور اس موضوع سے متعلق نظری وعلمی بحثوں کے علاوہ دنیا بھر کے مختلف علاقوں میں پائے جانے والے لسانی، مذہبی اور نسلی تنازعات کی نوعیت اور صورت حال پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ جس ادارے سے وابستہ ہیں، اس کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ دنیا میں موجود مختلف تنازعات کے حل کے لیے مذہب اور مذہبی راہ نماؤں کا کردار بہت اہم ہے اور ان تنازعات کے حل کے عمل میں مذہبی عناصر کو شریک کرنا اور ان کے اثر ورسوخ سے مدد لینا بہت مفید، معاون اور نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔ ان کی سرگرمیوں اور تعلقات کا دائرہ پاکستان کے مذہبی وسیاسی راہ نماؤں سے لے کر سعودی عرب کے شاہی خاندان اور امریکی سینٹ اور ہیئت مقتدر ہ کے کارپردازوں تک وسیع ہے اور وہ اپنے موضوع سے متعلق ان سب دائروں میں راہ نماؤں اور سماجی کارکنوں کی تربیت اور راہ نمائی کی خدمت انجام دیتے ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے اظہر حسین کی دلچسپی اور کاوشوں کا مرکز ومحور یہ نکتہ ہے کہ پاکستانی معاشرہ نسلی، لسانی، علاقائی اور مذہبی بنیادوں پر جس تقسیم اور تشتت کا شکار ہے، اسے اس سے نکالا جائے اور مختلف گروہوں کے مابین تناؤ کو دور اور تنازعات کو حل کرنے کے لیے مکالمہ اور برداشت کی فضا پیدا کی جائے۔ 
اظہر حسین نے شناخت اور تنازعات کا باہمی تعلق واضح کرتے ہوئے کہا کہ کسی نہ کسی مذہبی، تاریخی اور سماجی حوالے اپنی شناخت متعین کرنا افراد اور گروہوں کی شخصیت کا ایک ناگزیر حصہ ہے، لیکن جب شناخت میں یہ چیز شامل ہو جائے کہ ہم دوسروں سے برتر ہیں تو یہ تباہ کن بن جاتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی گروہ اپنی شناخت کو خطرے میں محسوس کرتا ہے تو اس میں تشدد پیدا ہوتا ہے جو تنازع کو جنم دیتا ہے۔ جو سیاسی یا سماجی تنازعات مفادات کے ٹکراؤ پر مبنی ہوں، ان کا حل نسبتاً آسان ہوتا ہے جبکہ نظریہ اور اقدار پر مبنی تصادم صدیوں چلتے ہیں۔ اس لحاظ سے تصادم کے اسباب میں سے ایک بہت بڑا سبب مذہب رہا ہے، کیونکہ مذہب اپنی اصل تعلیمات کے لحاظ سے پرامن اور ایثار اور اخلاص پر مبنی ہوتا ہے، لیکن انسانوں کو مختلف شناختوں میں تقسیم کرنے کی وجہ سے یہ نزاع اور تصادم کا باعث بنتا ہے۔ مزید برآں مذہبی قیادت طاقت اور اقتدارکے حصول کے لیے جبر سے کام لیتی ہے اور لوگوں کی غلط راہنمائی اور تعصبات کو فروغ دینے جیسے ہتھکنڈے استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتی اور اس طرح مذہب سیاسی اور معاشرتی سطح پر منافرت، تشدد اور تقسیم پیدا کرنے کا ایک آلہ بن جاتا ہے۔
اظہر حسین نے کہا کہیورپ میں کئی سو سال تک کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مسیحی مذہبی اختلاف کی بنا پر ایک دوسرے کو قتل کرتے رہے اور مجموعی طور پر ان لڑائیوں میں ساٹھ ملین (چھ کروڑ) افراد تہہ تیغ کیے گئے۔ ہر چرچ میں مخالف فرقوں کے افراد کو قتل کرنے اور عبرت کا نشانہ بنانے کے لیے باقاعدہ انتظام موجود تھا۔ ۱۷۷۹ء میں انقلاب فرانس سے پہلے تک یہ کیفیت بہت زیادہ تھی جبکہ دوسری جنگ عظیم تک بھی یہ سلسلہ کسی نہ کسی حد تک چلتا رہا۔ آئر لینڈ میں دس بارہ سال پہلے تک پروٹسٹنٹ اور کیتھولک ایک محلے میں نہیں رہ سکتے تھے، لیکن اہل مغرب نے اس صورت حال پر کامیابی سے قابو پایا ہے۔ ایک وقت وہ تھا کہ بلجیم سے جرمنی کا ویزا نہیں ملتا تھا، لیکن اب یورپی ممالک نے اپنے آپ کو متحد کر کے یورپی یونین کی شکل میں ڈھال لیا ہے۔ اس وقت دنیا میں ۶۳سیاسی وسماجی تنازعات موجود ہیں جن میں اچھی خاصی تعداد مذہبی تشخص پر مبنی تنازعات کی ہے اور یہ زیادہ تر مسلم معاشروں اور دنیا کے ترقی پذیر یا پس ماندہ ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً فلپائن کے ایک جزیرے میں، جہاں مسلمانوں کے تین ہزار مدارس ہیں، عیسائیوں کا وجود برداشت نہیں کیا جا رہا اور چند ماہ قبل پچاس سے زائد مسیحیوں کے سر کاٹ دیے گئے ہیں اور انھیںیہ دھمکی دی گئی ہے کہ اگر مسیحی اس علاقے سے نہ گئے تو ان کا صفایا کر دیا جائے گا۔ (حال ہی میں ملائشیا میں ایک عدالتی فیصلے پر، جس میں غیر مسلموں کو لفظ ’’اللہ‘‘ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے، احتجاج کرتے ہوئے بہت سے گرجوں کی توڑ پھوڑ اور جلانے کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔) 
اظہر حسین نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے تک مغرب میں کوئی تنازعہ اس وقت تک حل نہیں ہوتا تھا جب تک دونوں فریق تھک نہ جائیں، جبکہ مسلم معاشروں میں زیادہ سمجھ داری کا رویہ پایا جاتا ہے اور اس بات کو مغربی تجزیہ نگاروں نے بھی نوٹ کیا ہے۔ گویا ہماری اجتماعی بصیرت اور تحمل وبرداشت کی صفت مغرب سے بہتر ہے۔ امریکہ کے ایک تھنک ٹینک آئی ڈی ایف اے (Institute of Defence Analysis) کی ایک رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ چونکہ مسلم معاشرے وسیع پیمانے پر قتل وغارت کے تجربے سے نہیں گزرے، اس لیے وہ اپنے داخلی تنازعات کے حل کے بارے میں زیادہ سنجیدہ نہیں ہیں، اس لیے ان کے معاملات میں زیادہ مداخلت کرنے کے بجائے انھیں اس مرحلے تک جانے دینا چاہیے تاکہ یہ تجربے سے گزر کر خود سیکھیں۔ اس کے برعکس ایک دوسرے تھنک ٹینک USIP (یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس) کا موقف یہ ہے کہ مغرب کو وسائل صرف کر کے مسلم معاشروں کی سول سوسائٹی کو تربیت دینی چاہیے اور ان میں شعور پیدا کرنا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کو مثبت رخ پر لے جائیں۔ روزنامہ ’’آج کل‘‘ کے کالم نگار جناب ارشاد محمود نے، جو اس ورک شاپ میں بطور ٹرینر شریک ہوئے تھے، اس کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی معاشروں میں غصہ نکالنے کے لیے Safety Valve لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے تھوڑا بہت غصہ نکال کر لوگوں کا کتھارسس ہو جاتا ہے اور اجتماعی قتل وغارت کے مرحلے تک بات نہیں پہنچتی۔ انھوں نے مثال کے طور پر پاکستانی معاشرے کے مثبت پہلو کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ یہاں سخت فرقہ وارانہ کشیدگی کے ماحول میں ایم ایم اے بنی اور اس نے فرقہ وارانہ تناؤ کو کم از کم بالائی سطح پر کنٹرول کیا۔ اسی طرح موجودہ دہشت گردی کے حوالے سے رائے عامہ ابتدا میں کافی کنفیوزڈ تھی، لیکن آہستہ آہستہ یکسوئی پیدا ہوتی گئی کہ ہم تشدد کو بہرحال گوارا نہیں کریں گے اور تمام بڑے گروپ اس کو جواز فراہم کرنے کا راستہ ترک کر چکے ہیں۔ مرزا محمد الیاس نے اس پر مزید اضافہ کیا کہ کسی بھی تشدد پسند گر وہ کو اس کے اپنے حلقہ فکر کے لوگ بھی own نہیں کرتے اور نہ ان کے ساتھ اپنی شناخت کو وابستہ کرتے ہیں۔ 
سید عامر نجیب نے تبصرہ کیا کہ ہمارے ہاں دکھ، تکلیف اور آزمائش کو نظریاتی اور اعتقادی بنیاد پر جواز مہیا کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے اور اس سے ہم اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کا کام لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں فرد بھی اس وقت تک اپنی تکلیف یا بیماری کی طرف سنجیدگی سے متوجہ نہیں ہوتا جب تک کہ مسئلہ خاصا سنگین نہ ہو جائے۔ اصلاح کے لیے محض وقتی قسم کی کوششیں کی جاتی ہیں اور کنویں کو کتے سے پاک کرنے کے بجائے پانی نکالنے پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ عامر نجیب نے کہا کہ تشدد پسند عناصر کو ان کے سرپرست گروہوں نے نظر انداز کیااور ان کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے انھیں تنہا چھوڑ دیا۔ عامر نجیب نے کہا کہ مذہبی صحافت آزاد نہیں ہے اور مذہبی جرائد پر اداروں، جماعتوں اور حلقہ ہائے فکر کی پالیسیوں کا جبر بہت سخت ہے جس کی وجہ سے مذہبی صحافت میں معروضی تجزیے اور خود تنقیدی کا فقدان ہے، جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی جذباتی قوم کو مزید جذباتی بنانے کے بجائے حالات کا ہر پہلو سے درست اور غیر جانب دارانہ تجزیہ کرنے کی روایت کو فروغ دیں۔
سماجی سطح پر مختلف حوالوں سے پائے جانے تعصب آمیز رویے بھی اس گفتگو میں زیر بحث آئے۔ مولانا عبد القدوس محمدی نے صحافت کے میدان میں اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کیا اور بتایا کہ جب انھوں نے اپنے صحافتی سفر کے آغاز میں مختلف اخبارات سے رابطہ قائم کیا تو ان کی مولویانہ وضع قطع اور دینی تعلیم کا پس منظر دیکھتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی، البتہ ان کی تحریروں کے نمونے دیکھ کر آزمائشی موقع دیا گیا۔ تاہم بعد میں ان کی اچھی کارکردگی سامنے آنے پر بعض مدیران نے اپنے سابقہ رویے پر معذرت کی اور ان کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے اخبار کے میگزین کا انچارج تک بنا دیا گیا۔ جناب ارشاد محمود نے دنیاے صحافت کے تعصبات کے ایک اور پہلو کی نشان دہی کی۔ انھوں نے کہا کہ اگرکوئی پاکستانی لکھاری کسی بین الاقوامی ویب سائٹ پر یا اخبار میں پاکستان کے حوالے سے کوئی مثبت بات لکھنا چاہے تو اسے کئی طرح کے سوالات اور تحفظات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنی پڑتی ہے کہ وہ انتہا پسند نہیں ہے، لیکن اگر آپ منفی اندازمیں لکھنا چاہیں تو اس کی فوراً پذیرائی ہوتی ہے۔ اظہر حسین نے اس کی تائید کی اور کہا کہ دراصل اخبارات تجارتی بنیادوں پر چلتے ہیں اور انھیں فوری نوعیت کی اور سنسنی آمیز خبریں چاہیے ہوتی ہیں، کیونکہ اخبارکے عام قارئین کو سنجیدہ تجزیوں سے زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی۔ دانش مسعود نے ایک اور اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی۔ انھوں نے کہا کہ مغرب میں مسلمان معاشروں کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ یہاں انتہا پسندی کا دور دورہ ہے اور اسی وجہ سے وہی اخبار زیادہ بکتا ہے جو اس تاثرکی موافقت کرتا ہو اور اس کو مزید بڑھاتا ہو۔ انھوں نے کہا کہ مغرب کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ مسلم معاشروں میں صرف انتہا پسندی نہیں بلکہ اور بھی بہت سے مسائل ہیں جن پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔مزید یہ کہ اس انتہا پسندی کے اسباب کو متعین کرنے اور ان کا حل ڈھونڈنے کی ضرورت ہے، ورنہ اس صورت حال کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ 
مولانا محمد ازہر نے اس مرحلے پر یہ سوال اٹھایا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کس چیز کو کہا جاتا ہے ؟ دانش مسعود نے اس سوال کی اہمیت کااعتراف کیا اورکہا کہ عام طور پر بعض بڑے بڑ ے الفاظ بول دیے جاتے ہیں لیکن ذہنوں میں ان کا کوئی متعین اور واضح مصداق نہیں ہوتا۔ انھوں نے اس ضمن میں دہشت گردی، شدت پسندی اور عدم رواداری جیسے الفاظ کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ سب رویے افراد، گروہوں اور حکومتوں میں یکساں پائے جاتے ہیں۔ تاہم اظہر حسین نے کہا کہ ان اصطلاحات کے بعض مصداقات یقیناًایسے ہیں جن پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی گروہ اپنے مذہبی تصورات یا کسی سیاسی مطالبے کو منوانے کے لیے حکومت یا کسی سماجی گروہ کے خلاف تشدد اور طاقت کا استعمال کرے یا بعض سماجی مقاصد یا مفادات کے حصول کے لیے ایک گروہ کے جذبات کو دوسرے گروہ کے خلاف انگیخت کرے تو اسے دہشت گردی یا انتہا پسندی قرار دینے میں کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ 
سماجی شناخت کے سوال ہی کے ضمن میں ’’سید‘‘ ہونے اور اس سے متعلقہ معاشرتی تصورات پر بھی گفتگو ہوئی۔ جناب طاہر سعید کاظمی نے کہا کہ ان کا تعلق سادات سے ہے اور وہ اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس پرمولانا محمد ازہر نے معارضہ کیا کہ فخر تو ایسی چیز پر کیا جاتا ہے جو اختیاری ہو جبکہ غیر اختیاری چیزوں پر شکر کرنا چاہیے، لیکن کاظمی صاحب نے کہا کہ انھیں جس طرح اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے، اسی طرح سید ہونے پر بھی فخر ہے۔ نداء الاسلام پشاور کے نمائندے مقصود احمد سلفی نے کہا کہ سید ہونے کے ساتھ بعض ایسے تصورات وابستہ ہو گئے ہیں جو معاشرتی سطح پر مشکلات کا باعث ہیں اور جنھیں اسلامی تعلیمات کا عکاس نہیں کہا جا سکتا، مثلاً سادات اپنی خواتین کا نکاح غیر سادات سے کرنے کو اپنی تحقیر سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے شادی کے قابل بہت سی خواتین طویل عرصے تک کنواری بیٹھی رہتی ہیں۔ طاہر سعید کاظمی نے اس پر وضاحت کی کہ ان کے خاندان میں ایسا نہیں ہے اور ان کی زیادہ تر ہمشیرگان کا نکاح غیر سادات خاندانوں میں ہی ہوا ہے، البتہ انھوں نے اعتراف کیا کہ بعض سید خاندانوں میں اس حوالے سے اس قدرشدت پائی جاتی ہے کہ وہ کسی شیعہ سید کو تو رشتہ دے سکتے ہیں لیکن کسی غیر سید سنی سے اپنی خواتین کا نکاح کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ماہنامہ ’’افکار محسن‘‘ حیدر آباد کے مدیر سید ارشد رضا بخاری نے کہا کہ اب زیادہ تر پڑھے لکھے شیعہ حضرات اپنی لڑکیاں غیر سید خاندانوں میں دینے لگے ہیں۔ انھوں نے عراق کے شیعہ مرجع آیت اللہ سیستانی کے اس فتوے کا بھی حوالہ دیا کہ غیر سید مومن (یعنی شیعہ) کے ساتھ سید لڑکی کا نکاح کیا جا سکتا ہے۔
ورک شاپ کی ایک نشست میں اتفاق سے پاکستان میں شیعہ سنی کشمکش کا موضوع چھڑ گیا اور پھر موضوع کی اہمیت اور شرکاے مجلس کے اشتیاق اور دلچسپی کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے یہ نشست اسی موضوع پر باہمی تبادلہ خیال کے لیے مخصوص کر دی۔ یہ ایک مفید اور فکر انگیز نشست تھی، اس لیے یہاں ذرا تفصیل سے اس کی روداد درج کی جا رہی ہے۔
ماہنامہ ’’پیام‘‘ اسلام آباد کے مدیر جناب ثاقب اکبر نے کہا کہ اہل تشیع اور اہل سنت کے مابین اختلاف اور اتفاق کا تناسب یہ ہے کہ اختلافی چیزیں گنی جا سکتی ہیں جبکہ اتفاقی امور شمار سے باہر ہیں، اس لیے اختلافات کو اجاگر کرنے کے بجائے اتفاقات کو نمایاں کرنا چاہیے۔ (میرے خیال میں اہل تشیع اور اہل سنت کے مابین اختلافات اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایسے بنیادی اور اصولی ہیں کہ ان کے سامنے اتفاقات اپنی اہمیت کھوبیٹھتے ہیں، کیونکہ دو گروہوں کے مابین اتحاد واشتراک یا افتراق کا سوال مختلف فیہ امور کی تعداد یا تناسب سے نہیں بلکہ اختلافات کی نوعیت اور سنگینی سے طے پاتا ہے۔)
مولانا محمد ازہر نے یہ سوال اٹھایا کہ اہل سنت اور اہل تشیع کے باہمی اختلافات میں جارحیت کا رویہ کس طرف سے اپنایا جاتا ہے؟ انھوں نے کہا کہ اہل سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت رضوان اللہ علیہم سے نفرت نہیں کرتے بلکہ محبت رکھتے ہیں۔ جہاں تک سیدنا علیؓ سے دوسرے اصحاب کے مقابلے میں زیادہ محبت رکھنے کی بات ہے تو یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں، لیکن اہل تشیع کی مجالس او ر تحریروں میں خلفاے ثلاثہ کے بارے میں جو زبان استعمال کی جاتی ہے، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، حالانکہ وہ ان بزرگوں سے عقیدت نہ رکھتے ہوں تو بھی اہل سنت کے جذبات کے احترام میں انھیں چاہیے کہ وہ ان کے بارے میں نازیبا زبان استعمال نہ کریں۔ مولانا نے کہا کہ اس حوالے سے اسلام کی اخلاقی تعلیم تو یہ ہے کہ ایک مسلمان تو کیا، کسی غیر مسلم کو برا بھلا کہنے سے بھی اگر کسی مسلمان کے احساسات کو ٹھیس پہنچتی ہو تو اس سے گریز کرنا چاہیے۔ مولانا نے سیرت نبوی سے یہ مثال پیش کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عکرمہ بن ابی جہل کے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں کو عکرمہ کے سامنے ابوجہل کو برا بھلا کہنے سے منع کر دیا اور فرمایا کہ لا تسبوا الاموات فتؤذوا الاحیاء، یعنی مرنے والوں کو برا مت کہو کیونکہ اس سے ان کے زندہ عزیزوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ (کتب حدیث وسیرت میں آپ کا یہ ارشاد مختلف مواقع پر مختلف افراد کے حوالے سے نقل ہوا ہے۔ ایک موقع پر ایک شخص نے عبد المطلب کو جہنمی کہا تو سیدنا عباس نے اسے تھپڑ رسید کر دیا۔ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تو آپ نے مذکورہ جملہ ارشاد فرمایا۔ ایک دوسرے موقع پر سیدنا صدیق اکبر نے ایک مشرک کی قبر دیکھ کر اس پر لعنت کی تو اس کے بیٹے نے، جو وہاں موجود تھا، جواب میں سیدنا صدیق کے والد جناب ابوقحافہ پر لعنت کر دی۔ اس موقع پر بھی آپ نے یہی بات ارشاد فرمائی۔ اسی طرح ایک موقع پر ابوجہل کے بارے میں اورایک دوسرے موقع پر عمومی طور پر غزوۂ بدر میں قتل ہونے والے تمام مشرکین کے بارے میں یہی ہدایت فرمائی کہ ان کو برا بھلانہ کہا جائے کہ اس سے ان کے مسلمان عزیزوں کو اذیت پہنچتی ہے۔ یہ سب روایات علامہ ابراہیم بن محمد الحسینی نے اپنی کتاب ’’البیان والتعریف‘‘ ۲/۲۷۷ میں جمع کر دی ہیں۔)
اس پر اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے جناب اعجاز حسین نے کہا کہ اہل سنت کے علماء بھی جناب ابو طالب کے کفر وایمان کی بحث چھیڑتے ہیں اور ان کا کفر پر مرنا ثابت کرنے کے لیے مضامین اور کتابیں لکھی جاتی ہیں جس سے شیعہ حضرات کو تکلیف ہوتی ہے۔ اس پر مولانامحمد ازہر نے کہا کہ یہ ایک بالکل مختلف معاملہ ہے اور اہل سنت کے علما علمی طور پر اور تاریخی روایات کی روشنی میں جناب ابو طالب کے ایمان نہ لانے کے موقف کو ترجیح دینے کے باوجود کبھی ان کی توہین وتنقیص کا رویہ اختیار نہیں کرتے، بلکہ اکابر علماء اہل سنت کے ہاں اس کی تصریح ملتی ہے کہ اس مسئلے کو زیادہ زیر بحث نہ لایا جائے کیونکہ اس سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچتی ہے۔ (خود اپنے مذہبی جذبات کے حوالے سے شیعہ کمیونٹی کی نازک مزاجی کی کیفیت یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک درس میں ڈاکٹر اسراراحمد صاحب نے محض ضمنی طور پر وہ معروف روایت بیان کی جس میں تحریم خمر سے پہلے کے دور میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے شراب پی کر نماز پڑھانے اور نتیجتاً قرآن مجید کی غلط قراء ت کرنے کا ذکر ہوا ہے تو شیعہ حضرات نے اسے سیدنا علی کی توہین کا رنگ دے کر اس پر ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ اسی طرح برادرم حافظ طاہر اسلام نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ کہہ دیا کہ امام حسین کی جدوجہد حالات کی عدم موافقت کی وجہ سے بظاہر ناکام رہی تو ان پر توہین امام کا الزام لگا کر احتجاجی جلوس نکالے گئے اور انھیں جان کی دھمکیاں دی گئیں۔)
مولانا محمد ازہرکے اصل سوال پر بات کرتے ہوئے اظہر حسین نے کہا کہ اہل سنت کی یہ شکایت بجا ہے اور میں نے اکابر شیعہ علما سے اس مسئلے پر بات کی ہے اور وہ سب اس طرز عمل کی مذمت کرتے ہیں، بلکہ عراق کے بزرگ شیعہ عالم جناب آیت اللہ سیستانی نے تو ایسے لوگوں کو برادری باہر (ex-communicate) کرنے کی سفارش کی ہے، لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ شیعہ حلقوں میں عوامی سطح پر یہ طرز عمل نہ صرف رائج بلکہ بے حد مقبول ہے۔ اظہر حسین نے، جو خود خاندانی طور پر شیعہ پس منظر رکھتے ہیں، کہا کہ شیعہ مجالس میں کسی مقرر کی تقریر کا لطف ہی اس وقت آتا ہے جب ذاکر کسی کو گالی دے، لیکن ہم نے امریکہ میں ایسے لوگوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ شیعہ گھرانوں میں بھی نئی نسل آزادی سے سوچنے کا حق مانگتی ہے، چنانچہ ان کے ایک خاندانی عزیز نے سلفی فکر کو سمجھنے کے لیے سعودی عرب میں جا کر تعلیم حاصل کی جبکہ ایک عزیزہ نے پی ایچ ڈی کے لیے ملائشیا کا انتخاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سنی اسلام کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ 
جناب ثاقب اکبر نے کہا کہ خلفاے ثلاثہ کی توہین وتنقیص کا مسئلہ ایک بنیادی مسئلہ ہے اور میں اپنے شیعہ پس منظر کی وجہ سے اہل سنت کی اس شکایت کو قبول کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے پاس حقیقت میں یہی دلیل اور ہتھیار ہے اور ملک کے اکابر سنی اور شیعہ علما کو اکٹھے ہوکر اس پر سوچ بچار کرنی چاہیے۔ ثاقب اکبر نے کہا کہ اہل تشیع کے پڑھے لکھے لوگ شیعہ ذاکرین اور خطبا سے تنگ ہیں کیونکہ وہ نفرت پھیلاتے ہیں اور تقسیم پیدا کرتے ہیں۔ سنجیدہ شیعہ علما اپنی نجی مجالس میں ان حضرات سے یہ توکہتے ہیں کہ وہ سرعام ایسے خیالات کا اظہار نہ کیا کریں جس سے اہل سنت کے جذبات مجروح ہوں، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ عوامی سطح پر بھی اس رویے سے براء ت کا اعلان کریں۔ انھوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اندر ایسے عناصر کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں ہے اور ہم لوگوں کے سامنے اتحاد اتحاد کی ظاہری باتیں کر نے کے بعد اپنے گھر میں جا کر وضاحتیں پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ 
میر ے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ اہل سنت کے اکابر کی توہین وتنقیص کو عام واعظوں اور ذاکروں کا طرز عمل کہہ کر اس سے کیسے بری الذمہ ہوا جا سکتا ہے جبکہ توہین وتنقیص کی بے حد ناگوار مثالیں اہل تشیع کے بڑے بڑے علما اور مراجع کے ہاں بھی موجود ہیں اور یہ چیز امامت کے بارے شیعہ حضرات کے مخصوص نظریے کے مطابق ان کے عقیدہ وایمان کا تقاضا ہے؟ خود ایرانی انقلاب کے پیشوا جناب خمینی کی بعض عبارتیں بھی اس ضمن میں پیش کی جاتی ہیں۔ (ثاقب اکبر نے مجھے بتایا کہ خمینی صاحب کی ابتدائی دور کی لکھی ہوئی صرف ایک کتاب ہے جس میں ایسی باتیں موجود ہیں۔ بعد میں جب ان کے خیالات میں وسعت پیدا ہوئی تو وہ مسلمانوں کے مختلف گروہوں کے اتحاد اور باہمی احترام کے داعی بن گئے تھے۔ میرے لیے خمینی صاحب کی تحریروں سے براہ راست کوئی واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے اس پر کوئی رائے دینا مشکل ہے)۔ یہ سوال غالباً ثاقب اکبر کے ذہن میں بھی موجود تھا، چنانچہ انھوں نے بات کو بڑھاتے ہوئے یہ کہا کہ ان کی رائے میں اہل تشیع کو نہ صرف خلفاے ثلاثہ کی توہین وتنقیص کا رویہ ترک کرنا چاہیے بلکہ اصولی طور پر بھی خلفاے ثلاثہ کی خلافت کے جواز وعدم جواز کے سوال پر ازسرنو غور کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی بحث ہے اور تاریخی طور پر پہلی خلافت حضرت ابوبکر اور چوتھی حضرت علی کو ملی تھی۔ آج ہم اس ترتیب کو بدل نہیں سکتے، اس لیے آج اس تاریخی بحث کے تصفیے سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم خلافت اسلامیہ کے تحت اسلامی معاشرے کے اوصاف حمیدہ سے آج کی نسل کو روشناس کرائیں۔ ثاقب اکبر نے کہا کہ وہ اس حوالے سے درج ذیل تین سوالات غور وفکر کے لیے اہل تشیع کے سامنے پیش کیا کرتے ہیں:
۱۔ کیا حضرت علی نے خلافت کے مسئلے پر اختلاف کیا؟ جواب یہ ہے کہ ہاں، کیا۔
۲۔ کیا اختلاف کے باوجود انھوں نے خلفاے ثلاثہ کی تائید اور حمایت کی؟ جواب یہ ہے کہ ہاں، کی۔
۳۔ کیا انھوں نے اختلاف کی بنیاد پر خلفاے کے خلاف جتھہ بندی کی؟ جواب یہ ہے کہ نہیں کی۔
یہ تینوں چیزیں تاریخ سے ثابت ہیں۔ اس بنیاد پر میں اہل تشیع سے کہتا ہوں کہ اگر آپ شیعان علی ہیں تو آپ کو اس مسئلے میں حضرت علی سے بازی لے جانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ جب سیدنا علی کے اختلاف کو اس وقت کے مسلم معاشرے نے قبول نہیں کیا تو انھوں نے مسلمانوں کی مرکزیت کو قائم رکھنے کے لیے خلفا سے تعاون کیا، چنانچہ اہل تشیع کو بھی خلفاے ثلاثہ کے پیروکاروں سے تعاون کرنا چاہیے اور ان کے ساتھ مل کر رہنا چاہیے۔ اسی طرح اہل سنت کو چاہیے کہ وہ جیسے سیدنا علی سے محبت اور احترام کا تعلق رکھتے ہیں، اسی طرح ان کے ماننے والوں سے بھی محبت رکھیں۔
ثاقب اکبر نے مزید کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں عہد صحابہ کے باہمی اختلافات ومشاجرات کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ اور قدیم الاسلام صحابہ اور ان کے بالمقابل طلقا کے مابین فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے اور سیدنا علی اور خلفاے ثلاثہ کے اختلاف اور اسی طرح سیدہ عائشہ اور حضرت زبیر کے ساتھ حضرت علی کی جنگ کے معاملے میں فریقین کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسے اجتہادی اختلاف کا درجہ دینا چاہیے، البتہ طلقا اور صحابہ کو ایک درجے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ (اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ سیدنا معاویہ اور سیدنا علی کے باہمی اختلاف میں سیدنا معاویہ کو ’’اجتہادی اختلاف‘‘ کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ میرے خیال میں اگر صرف شخصیات کے فرق مراتب کو سامنے رکھنے کے بجائے سیدنا عثمان کی شہادت کے بعد رونما ہونے والی اس معروضی صورت حال کو بھی سامنے رکھا جائے جس میں سیدنا عثمان کے قاتلین نے سیدنا علی کے کیمپ میں پناہ لے رکھی تھی تو سیدنا معاویہ کے لیے، جن کا مطالبہ اصلاً قاتلین عثمان سے قصاص لینے کا تھا، اجتہادی اختلاف کی گنجائش تسلیم کیے ہی بنتی ہے، چنانچہ سیدنا علی کا مصالحت کی غرض سے حکمین کے تقرر پر راضی ہونا دوسرے فریق کے موقف میں صحت کا امکان تسلیم کیے بغیر ممکن نہیں تھا۔ سیدنا حسن نے بھی ان کی امارت کو بالفعل یوں قبول کیا کہ ان کے مطالبے پر سیدنا معاویہ نے انھیں ایک لاکھ کی رقم بھیجی۔ سیدنا علی نے اس پر اعتراض کیا تو سیدنا حسن نے ان سے کہا کہ ’بل حرمتنا انت وجاد ہو لنا‘ (البدایہ والنہایہ ۸/۱۳۷) یعنی آپ تو ہمیں محروم رکھتے ہیں، جبکہ انھوں نے فیاضی سے کام لیا ہے۔) 
مولانا عبد القدوس محمدی نے کہا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے کے سلسلے میں ایک اچھی مثال کے طور پر اتحاد تنظیمات مدارس کو پیش کیا جا سکتا ہے کہ تمام مکاتب فکر کے باہمی اتحاد کی وجہ سے مدارس کے کردار اور ان کے مفاد کا تحفظ اور دفاع ممکن ہوا۔ انھوں نے کہا کہ باہمی روابط کے اس سلسلے کو نیچے تک پھیلانا چاہیے اور جس طرح قائدین اور راہ نماؤں کی سطح پر شخصی اور ذاتی تعلقات کا سلسلہ قائم ہے، اسی طرح مختلف مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کے مابین بھی ملاقاتوں اور باہمی نشستوں کے ذریعے تفاعل (Interaction) پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کسی بھی مکتب فکر کے واعظین اور عوامی مقررین سے شدت کا ہتھیار چھین لینا چاہیے۔ مزید یہ کہ محرم کے تعزیتی جلوسوں کو ایک مخصوص مکتب فکر کی عبادت کی حیثیت سے محدود جگہوں پر منعقد کرنا چاہیے، عوامی مقامات تک ان کو پھیلانے کا کوئی جواز نہیں۔
ماہنامہ ’’العصر‘‘ کے مولانا حسین احمد نے کہا کہ مذہبی اختلافات دنیا کے ہر معاشرے میں موجود ہیں، لیکن ہمارے ہاں مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے بری طرح استعمال کیا گیا ہے، چنانچہ ایرانی انقلاب کے بعد عراقی سفیر نے دینی مدارس میں آنا جانا شروع کر دیا اور ایران کے خلاف فضا بنانے کی کوشش کی۔ اس کے مقابلے میں ایرانی سفیر بھی مدارس میں آنے جانے لگے۔ شیعہ سنی مسئلے کا پس منظر سیاسی ہے اور اس آگ کو بھڑکانے کے لیے عرب ممالک نے بھی پیسہ دیا اور امریکہ نے بھی شیعہ سنی منافرت پھیلانے میں اپنا حصہ ڈالا۔ شدت پسندی کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اب حالات اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ بظاہر ان سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا اور اکابر اور سنجیدہ علما کے لیے بھی کوئی عملی کردار ادا کرنا اس لیے مشکل ہے کہ مولانا حسن جان شہید کی مثال سب کے سامنے ہے۔ مزید یہ کہ قربانی دینے سے بھی کوئی مثبت نتیجہ یا فائدہ حاصل ہونے کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ (ایک نشست میں جناب ثاقب اکبر نے بھی شیعہ سنی کشیدگی کے اس تجزیے سے اتفاق کیا اور کہا کہ یہ دراصل خلیج کی سیاسی کشمکش کے اثرات ہیں جو ہمارے ہاں نمودار ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ اس میں انقلاب ایران کے اثرات کو وسیع تر کرنے کی پالیسی کا بھی دخل ہے اور انقلابی قیادت کو اس معاملے میں زیادہ محتاط اور دانش مندانہ راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔)
بلوچستان کے قاضی عبد الصمد نے فرقہ وارانہ اختلافات کی نفسیات پر تبصرہ کرتے ہوئے بلتستان میں نور بخشی اہل تشیع کے راہ نما علامہ موسوی کا یہ دلچسپ قول سنایا کہ ’’یہ عجیب بات ہے کہ ہاتھ چھوڑ کر اور ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے والے ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں، لیکن جو لوگ بالکل نماز نہیں پڑھتے، انھیں کوئی کافر نہیں کہتا۔‘‘ 
(جاری)

مکاتیب

ادارہ

محترم مولانا عمار خان ناصر صاحب
سلام مسنون۔ امید ہے مزاج بخیر ہوں گے!
ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ [فروری ۲۰۱۰] میں سید مہر حسین بخاری صاحب کا جوابی مکتوب پڑھا۔ موصوف نے خوامخواہ بحث کو طول دینے اور اپنے پلڑے میں وزن ڈالنے کے لیے حضرت صوفی صاحب نوراللہ مرقدہ کے شیعہ کے بارے میں نظریہ سے متعلق بحث میں دارالعلوم دیوبند کے مفتی اول صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ بھی نقل کردیا، حالانکہ اس عاجز نے تو فقط حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ کے نظریہ سے متعلق چند گزارشات کی تھیں۔ اب جبکہ وہ خود میدان میں اتر آئے ہیں تو مجبوراً ہمیں بھی چند گزارشات کرنا پڑیں۔خدا تعالیٰ حق سچ کہنے اور لکھنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔آمین۔ 
چند حوالہ جات پیش خدمت ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
[۱] ’’روافض میں تفصیل ہے۔ جو قطعیات کا منکر ہے اور سب شیخینؓ کرتا ہے اور حضرت عائشہؓ پر تہمت لگاتا ہے اور صحابہ کرام کی تکفیر کرتا ہے، وہ کافر اور مرتد ہے۔ ان سے مناکحت اور مجالست حرام ہے اور واضح ہو کہ روافض تبرا گو ہی ہوتے ہیں، اگر چہ بوجہ تقیہ کے (جو ان کے نزدیک شرائطِ ایمان میں سے ہے) اپنے آپ کو چھپاتے ہیں اور اپنے عقائد مخفی رکھتے ہیں، لہٰذا ان کے قول وفعل کا اعتبار نہ کیا جائے بلکہ ان کے اصول مذہب کو دیکھا جائے۔‘‘ [فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۸ ص ۴۵۵]
[۲] ’’جوتمام صحابہؓ کو برا کہتا ہے، وہ پورے دین کا انکار کرتا ہے، ہم قطعی فیصلہ رکھتے ہیں ایسے آدمی کے بارے میں جو ایسا قول کرے جس سے تمام امت گمراہ ہوتی ہو کہ وہ کافر ہے۔‘‘ [فتاویٰ سیوطیؒ ، ج ۲ ص ۵۷۷]
[۳] ’’من انکر امامۃ ابی بکر الصدیقؓ فہو کافر، وقال بعضہم ھو مبتدعٌ ولیس بکافرٍ، والصحیح انہ کافر، وکذالک من انکر خلافۃ عمرؓ فی اصح الاقوال، کذا فی الظہیریۃ ویجب اکفارہم بانکار عثمانؓ و علیؓ وطلحہؓ وزبیرؓ وعائشہؓ ‘‘ [فتاویٰ عالمگیری ج۲ ص۲۳۹، الباب التاسع فی احکام المرتدین]
[۴] ’’من سبَّ شیخین او طعن فیہما فقد کفر ویجب قتلہ ثم ان رجع وتاب وجدد الاسلام ھل تقبل توبتہ ام لا؟ قال صدر الشہید لاتقبل توبتہ واسلامہ، وھو المختارللفتویٰ ای عندی‘‘ [البحرالرائق ج۵ ص۱۲۶]
[۵] ’’وفی الروافض ان فضل علیاً بالثلاثۃ فھو مبتدعٌ وان من انکر خلافۃ الصدیق او عمر فھو کافر‘‘ [فتح القدیر ج۷ ص ۳۶۰]
[۶]’’در مذہب حنفی موافق روایت معنی براست حکم فرقہ شیعان حکم مرتدان است‘‘ [فتاویٰ عزیزی ج۱ ص۱۲]
[۷]’’حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ نے تکفیر شیعہ کے تین اسباب بیان کیے ہیں۔۔۔ [۱]تحریف قرآن۔۔۔ [۲]نظریہ امامت۔۔۔ [۳]سبِّ صحابہؓ جو شیعہ یہ تینوں یا ان میں سے کوئی ایک نظریہ رکھتا ہے وہ بالاتفاق کافر ہے اور اس کے کفر میں اہل سنت کے ہاں کوئی اختلاف نہیں، حضرت عمی مکرم رحمہ اللہ(حضرت صوفی صاحب ؒ ) بھی مذکورہ عقائد کے ساتھ شیعہ پر فتویٰ کفر سے کوئی اختلاف نہیں رکھتے تھے۔‘‘ (از مضمون : مولانا عبدالحق خان بشیرؔ مدظلہ ماہنامہ ’’نصرۃ العلوم‘‘ مفسر قرآن نمبر ص۲۳۶)

[۸]اہل تشیع کا یہی وہ عقیدہ (تحریفِ قرآن ) ہے جس کی بناء پر حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی رحمہ اللہ نے علی الاعلان شیعہ کی تکفیر کا فتویٰ دیا۔ اور پھر اس فتویٰ کو[۱] حضرت مدنی رحمہ اللہ، [۲]حافظ عبدالرحمن امروہی رحمہ اللہ، [۳]مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری رحمہ اللہ، [۴]مولانا مفتی مہدی حسن رحمہ اللہ، [۵]مولانا اعزاز علی رحمہ اللہ، [۶]مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ،[۷] مولانا اصغر حسین رحمہ اللہ، [۸]مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ،[۹] قاری محمد طیب رحمہ اللہ وغیرہم جیسے اکابرومشائخ اور اصحابِ فتویٰ کی تصدیقات کے ساتھ شائع کیا۔ واضح رہے کہ مولانا عبد الشکور لکھنوی رحمہ اللہ نے جو فتویٰ دیاتھا اس میں انہوں نے شیعہ کے عقائد پر فتویٰ نہیں لگایا بلکہ شیعہ کو انہوں نے بحیثیت فرقہ کے خارج از اسلام قرار دیا، چنانچہ لکھتے ہیں کہ شیعہ اثناعشری قطعاً خارج از اسلام ہیں۔[ماہنامہ بینات خصوصی اشاعت ص۱۷۰]

[۱۰]’’ شیعہ کی نمازِ جنازہ پڑھانا جائز نہیں آج کل کے شیعہ حضراتِ شیخین (ابوبکرؓوعمرؓ)وصحابہ کرامؓ کو سبّ(گالی)بکنا ثواب خیال کرتے ہیں اور حضرت عائشہؓ کے متعلق افتراء باندھتے ہیں اس لیے ان کے کفر پر ائمہ کا اتفاق ہے حضرت عائشہؓ کی براء ت قرآن میں منصوص ہے اس لیے ان کا قائل ہونا قرآن کریم کی آیات کا انکار ہے جو بالا تفاق کفر ہے ............ باقی شیعہ صاحبان کے ساتھ مودت دوستی نہیں رکھنی چاہیے صحابہ کرامؓ اور حضرت عائشہؓ کے دشمنوں کے ساتھ کیا دوستی ہوسکتی ہے ؟واللہ اعلم ‘‘[فتاویٰ مفتی محمودؒ جلد۳ص۶۶]
[۱۱] ’’تنبیہ الولاۃ الحکام علیٰ احکامِ شاتمِ خیر الانام لمولٰنا محمد امین الشہیر با بن عابدین الشامی رحمہ اللہ کے صفحہ ۲۶۷میں ہے: واما من سبّ احدا من الصحابۃ فھو فاسقٌو مبتدعٌ بالاجماع الااذا اعتقد انہ مباحٌاو یترتب علیہ الثواب کما علیہ بعض الشیعۃ او اعتقد کفر الصحابۃ فانہ کافرٌ بالاجماعِ ۔
موجودہ وقت میں پاکستان کے شیعہ صحابہ کرامؓ کے سبّ(گالی )کو حلال موجبِ ثواب سمجھتے ہیں اس لیے اسلام سے خارج ہیں ۔‘‘(ماخوذ از فتاویٰ مفتی محمود جلد سوم ص۶۶،۶۷)
[۱۲]’’دین کے بارے میں ہم کسی کا پاس نہیں رکھتے ۔الحمد للہ کہ یہ ورثہ ہمیں اپنے اکابر سے حاصل ہوا ہے۔ لیکن قطعی اور واضح ثبوت کے بغیر ہم کسی کی تکفیر کرنے کے لیے بھی ہر گز تیار نہیں ہیں، اختلاف کا مقام اور ہوتا ہے اور تکفیر کا اور ،دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔‘‘ (بابِ جنت ص۲۷۱)
اس قدراحتیاط کے باوجود حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ 
’’اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ فرمائیں اور اس کی نگرانی اپنے ذمہ لیں اور کھلے کافر بھی اس کی اصلی صورت میں محفوظ رہنے کا اقرار کریں مگر شیعہ شنیعہ یہ کہیں کہ ہمارے علما اور مجتہدین کی تحقیق سے تواتر کے ساتھ اس میں تحریف اور کمی بیشی ثابت ہے اور شیعہ کے چار علما کے بغیر ان کے باقی تمام متقدمین اور متأخرین کا اس پر اتفاق و اجماع ہے کہ موجودہ قرآن محرف اور مبدل ہے کیا شیعہ شنیعہ کی تکفیر کے لیے یہی ایک نص قطعی کا فی نہیں ہے؟ الغرض دیگر بے بنیاد اور باطل عقائد شیعہ کے اپنے مقام پر ہیں جو سبب کفر ہیں اور قرآن کریم کی تحریف کا دعویٰ اپنی جگہ قطعاً اور یقیناًان کی تکفیر کا موجب ہے جس میں ایک رتی بھر بھی شک و شبہ نہیں۔’’لاریب فیہ‘‘
یہی وجہ ہے کہ جملہ اہل حق کھلے طور پر شیعہ کی تکفیر کرتے ہیں اور یہ ان کا اسلامی اور قانونی حق ہے مگر بایں ہمہ وہ امن عامہ کو بگاڑنے اور خراب کرنے کی پالیسی پر گامزن نہیں ہیں کیونکہ وہ مسئلہ کے ساتھ مصلحت کو نظر انداز نہیں کرتے ۔‘‘ (ارشادالشیعہ ص ۳۸)
[۱۳]’’ہمارے ایک ساتھی کہتے تھے کہ شیعہ اثنا عشریہ امامیہ کو کافر نہیں کہنا چاہیے کیونکہ ازہر یونیورسٹی کے پرنسپل ان کو کافر نہیں کہتے۔ حالانکہ حضرت امام اہل السنۃ رحمہ اللہ تو سبق کے اندر بھی فرماتے تھے کہ شیعہ اثنا عشریہ امامیہ جو کہ تحریف قرآن کے قائل ہیں اور امام کے مرتبہ کو نبوت سے افضل سمجھتے ہیں اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ایمان تک کے منکر ہیں (معاذاللہ)، ان کو کافر کہنا فرض ہے۔ اس پر حضرت رحمہ اللہ نے مستقل کتاب ’’ارشاد الشیعہ‘‘ نامی تحریر فرمائی ہے ۔اس لیے میں نے اس ساتھی کو کہا کہ آؤ حضرت شیخ رحمہ اللہ کی خدمت میں گکھڑ جاکر پوچھ لیتے ہیں۔ جب ہم نے سوال کیا تو حضرت نے فرمایا کہ ’’ان کو کافر کہنا فرض ہے‘‘۔ ہمارے اس ساتھی نے اعتراض کیا کہ ازہر یونیورسٹی کے پرنسپل ان کو کافر نہیں کہتے تو حضرت رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر وہ ان کے عقائد جانتے ہیں اور ان کو کافر نہیں کہتے تو خود کافر ہیں اوراگر ان کو ان کے عقائد معلوم نہیں تو پرنسپل کس بات کے ہیں؟‘‘ (مجلہ ’’المصطفیٰ‘‘ امام اہل سنت نمبر، ازمضمون مولانا نور محمد آصف)
[۱۴]’’راقم اثیم دیانۃً اس کا قائل ہے کہ اسلام کو جتنا نقصان روافض نے پہنچایا ہے، وہ مجموعی لحاظ سے کسی کلمہ گو فرقے سے نہیں پہنچا۔ ‘‘(ارشاد الشیعہ ص ۳۰)
دیکھئے! حضرت امام اہل سنتؒ شیعہ پر فتواے کفر کے باوجود ان کو’’ کلمہ گو فرقہ‘‘ فرما رہے ہیں۔ نیز ایک اور مقام پر بھی حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمۃ نے ان کو اہل السنۃ والجماعۃ سے متصادم گروہ میں شمار کیا ہے نہ کہ اسلام کے مقابل مذاہب باطلہ میں۔ [ ملاحظہ ہو عقائد اہل السنۃ والجماعۃاز: مولانا مفتی محمدطاہر مسعود، ص ۳۶] کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی کو کلمہ گو اور اسلامی فرقہ کہنے سے اس کی تکفیر پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ نیز اس کی وجہ مولانا عبدالقدوس قارن مدظلہ یوں لکھتے ہیں:
’’اس کی وجہ یہ ہے کہ شیعہ حضرات خود کو اسلام کی جانب منسوب کرتے ہیں تو منسوب الی الاسلام ہونے کی وجہ سے ظاہر کے اعتبار سے ان کو مسلمان کہہ دیا گیا، جیسا کہ حضرات علماء کرام نے معتزلہ وغیرہ فرقوں کو کافر کہا اور اس کے باوجود ان کو اسلامی فرقہ کہنے کے اعتراض کے جواب میں کہا کہ ان کو اسلامی فرقے اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے آپ کو اسلام کی جانب منسوب کرتے ہیں۔ اسی سے ملتا جلتا نظریہ حضرت صوفی صاحب نے خوارج اور روافض کے بارے میں پیش کیا ہے اور لکھا ہے کہ ’’خوارج اور روافض وغیرہ ایسے ہیں کہ آخرت میں ان کا حکم کفار جیسا ہوگاتاہم دنیا میں وہ جماعت المسلمین کے افراد شمار ہوں گے۔‘‘ [ترجمہ سنن ابن ماجہ ص۵۷۶] اور ایک مقام پر حضرت صوفی صاحبؒ خوارج کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’حالانکہ بظاہر وہ لوگ کلمہ گو، نمازی اور روزہ دار بھی ہوں گے مگر فاسد العقیدہ ہونے کی وجہ سے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہی ہوں گے۔‘‘ [ترجمہ سنن ابن ماجہ ص ۵۷۱،بحوالہ رافضی کیا ہیں؟ ص ۳۰])
[۱۵] ’’وفی کتاب السنۃ للآجری من طریق الولید بن مسلم عن معاذ بن جبل قال.....الخ [کتاب الاعتصام ص ۵۲ للشاطبی]
ترجمہ:’’ امام آجری رحمہ اللہ کی کتاب السنۃ میں ولید بن مسلم کے طریق سے حضرت معاذ بن جبل کی روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میری امت میں بدعات ظاہر ہوں اور میرے صحابہ کو برا کہا جائے تو عالم پر لازم ہے کہ اپنا علم ظاہر کرے، جس نے ایسا نہ کیا تو اُس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہوگی۔‘‘
یہ حدیث مبارکہ بمع ترجمہ پیش کرنے کے بعد حضرت امام اہل السنۃ فرماتے ہیں:
’’عقلی اور عرفی قاعدہ ہے کہ جب کسی خزانہ اور دولت پر چور اور ڈاکو آپڑتے ہیں تو چوکیدار اور پہرہ دارہی اصحاب دولت کو آ گاہ کرتے ہیں۔ اگر ایسا نہ کریں تو یہ سمجھا جا تا ہے کہ یہ بھی چوروں اور ڈاکوؤں سے ملے ہوئے ہیں اور جس سزا کے چور اور ڈاکو مستحق ہیں، اس کے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سزا کے چوکیدار حقدار ہیں ۔ ایسے دور میں جس میں بدعات ورسوم کا خوب زور ہو اور وہ نقطۂ عروج پر ہوں اور حضرات صحابہ کرام کو بر ملا برا کہا جاتا ہو تو علما کا شرعی اور علمی فریضہ ہے کہ وہ باطل کی تردید کریں اور تبلیغ کا فریضہ ادا کریں کیونکہ علما دین کے چوکیدار اور پہرہ دار ہیں۔ اگر علما خاموشی اختیار کریں گے تو وہ اللہ تعالیٰ اور تمام فرشتوں انسانوں کی لعنت کے مستحق ہوں گے کیونکہ انہوں نے اپنی ڈیوٹی ادانہیں کی اور وہ لالچ یاڈر کے اسیر ہو گئے۔‘‘ ( ارشاد الشیعہ ص ۷۶، ۷۷)

[۱۶] شیعہ کے عقائد ظاہر نہ ہونے اور ان کے تقیہ کرنے کی وجہ سے ہمارے بعض اکابر احتیاطاًیہی کہا کرتے تھے کہ شیعہ کی تکفیر نہ کی جائے، جیسا کہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ نے فرمایا ’’مَن لَّم یُکَفِّرھُم لَم یَدرِ عَقَاءِدَہُم‘‘ (فیض الباری ص ۱۳۰ج۱)’’جس نے انہیں کافر نہیں کہا تو اس وجہ سے کہ اسے ان کے عقائد معلوم نہیں۔‘‘

ماضی قریب کے حضرت مولانا منظور احمد نعمانی رحمہ اللہ کا بھی ابتداءً یہی رویہ تھا، لیکن خمینی انقلاب کے بعد جب ان کی کتابیں منظر عام پر آئیں تو مولانا منظور احمد نعمانی رحمہ اللہ نے نہ یہ کہ خود علی الاعلان شیعہ کی تکفیر کی بلکہ اس فرقہ کی تکفیر کو اسلام کے دفاع کے لیے ضروری اور وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہوئے پاکستان ،ہندوستان ،برطانیہ ،بنگلہ دیش ودیگر ممالک کے علماءِ کرام ومفتیانِ عظام سے اس فرقہ کے متعلق فتویٰ طلب کیا اور پھر ان فتاویٰ جات کو وقت کی ضرورت سمجھتے ہوئے اپنے رسالہ الفرقان میں ’’خمینی اور اثنا عشریہ کے بارہ میں علماءِ کرام کا متفقہ فیصلہ‘‘ کے عنوان سے خصوصی اشاعت کے طور پر شائع کیا۔ پھر اسی متفقہ فیصلہ کو (جس میں سینکڑوں ہزاروں علماءِ ومفتیانِ کے مطلق شیعہ اثناعشریہ کی تکفیر کے فتاویٰ وتصدیقات ہیں) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدرحمہ اللہ نے بھی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی پاکستان کے ماہنامہ ’’بینات‘‘ کی طرف سے اسی عنوان کے ساتھ شائع کیا۔
[۱۷]’’تیسری وجہ یہ ہے کہ شیعہ کے نزدیک ان کے دین کے دس حصوں میں سے نوحصے تقیہ میں مضمر ہیں ‘‘۔
آگے چل کر حضرت امام اہل سنتؒ تحریر فرماتے ہیں کہ:
’’ وہ مسلمانوں جیسے نام بھی رکھتے ہیں اوراسلام کے دعوے داربھی ہیں تو عوام بے چارے کیا خواص بھی ان کی تکفیر میں تامل کرسکتے ہیں۔یہ وہ اہم وجوہ ہیں جنکی وجہ سے شیعہ کی تکفیر عیاں نہیں ہو ئی جیسا کہ ہونی چاہیے تھی۔‘‘ (ارشاد الشیعہ ص۲۸، ۲۹)
[۱۸]بلکہ خود مذہب شیعہ میں تقیہ کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے چنانچہ اصولِ کافی (جو شیعہ مذہب کی بنیادی کتاب ہے) میں امام جعفر صادق کی طرف یہ منسوب ہے :
’’قَالَ الِامَامُ جَعفَر الصَّادِق عَلَیہِ السَّلامُ لا اِیمَانَ لِمَن لَّا تَقِیَّۃَ لَہٗ‘‘ [اصول کافی ص۴۸۲] 
’’اِنَّ تِسعَۃَ اَعشَارِ الدِّینِ فِی التَّقِیَّۃِ وَلادِینَ لِمَن لَّا تَقِیَّۃَ لَہٗ‘‘ [اصول کافی ج۲ص۲۱۷طبع تہران](بحوالہ شمشیر حق)
ترجمہ :دین کے نو حصے (نوے فیصد )تقیہ میں ہیں اور جو تقیہ نہیں کرتا اس کا کوئی ایمان نہیں ۔

[۱۹] یہی اشکالات جو موجودہ دور کے چند علماء کو پیش آئے ہیں، کچھ عرصہ قبل حضرت مولانا عبدالماجد دریا آبادیؒ کو بھی پیش آئے تھے جس کا پس منظر یہ ہے کہ جب مولانا عبدالشکور لکھنوی فاروقی رحمہ اللہ نے شیعہ اثنا عشریہ کے خارج از اسلام ہونے کے بارے میں فتویٰ مرتب کرکے شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہ اور دیگر اکابرعلماء واصحابِ فتویٰ کی تصدیقات کے ساتھ شائع کیاتو مولانا عبد الماجد دریابادیؒ نے حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی خدمت میں حاضر ہوکر اس بارے میں اپنے اشکالات وشبہات تحریراً عرض کیے۔ حضرت تھانویؒ نے اپنے معمول کے مطابق مولانا دریابادی ؒ کے خط کے ہر جز کا الگ الگ جواب تحریر فرمایا تھا۔ وہ خط اور حضرت تھانویؒ کا جواب ملاحظہ ہو! (نوٹ: ’’السوال‘‘ اور ’’تتمۃ السوال‘‘ کے زیر عنوان مولانا دریابادیؒ کے خط کی عبارت ہے اور ’’الجوب‘‘ اور ’’تتمۃ الجواب‘‘ کے زیرعنوان حضرت حکیم الامتؒ کا جواب ہے۔)

’’السوال:ایک فتوے کی نقل مرسل خدمت ہے۔ اس پر علاوہ دوسرے مستند علماء حضرت مولانا[حسین احمد] مدنی تک کے دستخط ثبت ہیں، لیکن میں عرض کروں کہ مجھے شرحِ صدر اب بھی نہیں۔ شیعوں کو ’’مبتدع‘‘، ’’فاسق‘‘ اور ’’فاسد العقیدہ‘‘ وغیرہ اور جو کچھ کہہ لیا جائے، اس کا میں بھی پوری طرح قائل ہوں، لیکن کافر اور خارج ازاسلام کہنے سے جی لرز اٹھتاہے۔
الجوب: یہ علامت ہے آپ کی قوتِ ایمانیہ کی، مگر جنہوں نے فتویٰ دیاہے، اس کا منشأ بھی وہی قوتِ ایمان ہے کہ جس کو ایمانیات کا منکر دیکھا، بے ایمان کہہ دیا۔
تتمۃ السوال:اگر ہر گمراہ فرقہ یوں ہی خارج از اسلام ہوتا رہا تو مسلمان رہ ہی کتنے جائیں گے؟
تتمۃ الجواب: اس کا کون ذمہ دار ہے؟ خدا نہ کردہ اگر کسی مقام میں کثرت سے لوگ مرتد ہوجائیں اورتھوڑے ہی مسلمان رہ جائیں تو کیااس مصلحت سے ان کو بھی کافر نہ کہا جاوے گا؟
تتمۃ السوال: شیعوں سے مناکحت اگر تجربہ سے مضر ثابت ہوئی ہے تو بس ’’تہدیداً‘‘ اس کا روک دینا کافی ہے....؟
تتمۃ الجواب: اس تہدید کا عنوان بجز اس کے کوئی اور ہے ہی نہیں، غور فرمایا جائے۔
تتمۃ السوال: میرا دل تو قادیانیوں کی طرف سے ہمیشہ تاویل ہی تلاش کرتا رہتا ہے....۔
تتمۃ الجواب: یہ غایت شفقت ہے، لیکن اس شفقت کا انجام سیدھے سادے مسلمانوں کے حق میں ’’عدمِ شفقت‘‘ ہے، وہ اچھی طرح ان کا شکار ہوا کریں گے۔
تتمۃ السوال:جو بناءِ تکفیر قرار دی گئی ہے یعنی تحریف قرآن، مجھے اس میں تأمل ہے۔ اگر یہ عقیدہ ان کے مذہب کا جزو ہوتا تو حضرت شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ وغیرہ سے مخفی نہ رہتا....۔
تتمۃ الجواب:جب ان کی مسلم کتابوں سے جزئیت ثابت ہے، پھر حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کا اگر سکوت ثابت ہو جس کی مجھ کو تحقیق نہیں تو ان کے سکوت میں کچھ تاویل ہوگی نہ کہ جزئیت میں۔‘‘
(ضروری وضاحت :حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کی مشہور کتاب ’’تحفہ اثنا عشریہ ‘‘ غالباًمولوی عبد الماجد صاحب رحمہ اللہ کی نظر سے نہیں گزری ور نہ اشکال کی نوبت نہ آتی، کیونکہ اس کے تتمۃ الباب چہارم میں جوتقریباً بیس صفحے ’’دلائل شیعہ ‘‘ پر ہیں، ان میں متعدد جگہ شیعوں کے عقیدۂ تحریفِ قرآن کا ذکر ہے ۔حضرت شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ کی ان عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ شاہ صاحب پر ان کا عقیدۂ تحریف قرآن مخفی نہیں تھا ۔)
’’تتمۃالسوال :بہت زائد خلش مجھے اس امر سے ہورہی ہے کہ اب تک ہم آریوں اور عیسائیوں کے سامنے کلام مجید کے غیر محرف ہونے کو بطور ایک بالکل مسلّم اور غیر مختلف فیہ عقیدہ کے پیش کرتے رہے ہیں،اب لوگوں کے ہاتھ میں ایک نیا حربہ آجائے گا کہ دیکھو خود تمہارا ہی کلمہ پڑھنے والے اور تمہارے قبلہ کو ماننے والے لاکھوں کروڑوں افراد قرآن کو ناقص اور محرّف مان رہے ہیں ۔
تتمۃ الجواب :اس سے تو اور زیادہ ضرورت ثابت ہوگئی ان کی تکفیر کی۔ پھر ہمارے پاس صاف جواب ہوگا کہ وہ مسلمان ہی نہیں۔ (اب سے قریباًایک ہزار سال پہلے عیسائیوں کی طرف سے یہی اعتراض کیا گیا تھا۔ اس وقت علامہ ابن حزم اندلسی نے اپنی کتاب ’’الفصل‘‘ میں اس کا یہی جواب دیا تھا کہ شیعہ مسلمان ہی نہیں، لہٰذا ان کے عقیدۂ تحریف قرآن سے کوئی اثر ہمارے عقیدۂ محفوظیت قرآن پر نہیں پڑتا۔)
تتمۃ السوال :حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کا جو مکتوب سرسید احمد کے نام تھا، مجھے اس قدر پسند آیاتھا کہ میں نے اہتمام کے ساتھ اسے ’’سچ‘‘میں شائع کیا تھا۔ پس میری فہمِ ناقص میں اسی کو معیار بنا لینا چاہیے اور اسی کے مطابق معاملہ تمام گمراہ فرقوں سے رکھنا چاہیے، یعنی نہ مداہنت نہ اتنی مخالفت کہ ان میں اور آریوں، عیسائیوں وغیرہ میں کوئی فرق ہی نہ رکھا جائے۔
تتمۃ الجواب: لیکن اگر وہ خود ہی اپنے کو کافر بنائیں (بالنون )تو کیا ہم اس وقت بھی ان کو کافر نہ بتائیں (بالتاء)؟ دنیا میں اپنے کو آج تک کسی نے کافر نہیں کہا بلکہ کوئی عیسائی کہتا ہے کوئی یہودی ۔مگر چونکہ ان کے عقائد کفریہ دلائل سے ثابت ہیں، اس لیے ان کو کافر ہی کہا جاوے گا ۔تو مدارِاس حکم کا عقائد کفریہ پر ٹھہرا ۔تو اگر ایک شخص اپنے کو فرقہ شیعہ سے کہتا ہے اور کوئی عقیدہ کفریہ اس مذہب کے اجزا یا لوازم سے ہے تو اپنے کو اس فرقہ میں بتلانا بدلالتِ التزامی اس عقیدہ کو اپنا عقیدہ بتلانا ہے تو عدمِ تکفیر کی کیا وجہ؟ اور اگر ان کے یہاں یہ عقیدہ مختلف فیہ ہوتا، تب بھی کسی کی تکفیر میں تردد رہتا ،لیکن یہ بھی نہیں۔ اور جو اختلاف ہے، وہ غیر معتد بہٖ ہے جس کو خود ان کے جمہور رد کرتے ہیں۔ اس حالت میں اصل تو کفر ہوگا۔ البتہ کوئی صراحۃًکہے کہ یہ عقیدہ میرا نہیں ہے یاکوئی فرقہ اپنا لقب جدا رکھ لے، مثلاًجو علما ان کے تحریف کے نافی ہیں ،ان کی طرف اپنے آپ کومنسوب کیا کریں، مثلاً اپنے کو صدوقی یا قمی یا مرتضوی یا طبرسی کہا کریں، مطلق شیعی نہ کہیں تو خاص اس شخص کو یا اس فرقہ کو اس عموم سے مستثنیٰ کہہ دیں گے، لیکن ایسے استثناؤں سے قانونی حکم نہیں بدلتاہے۔ حرمت نکاح اور حرمت ذبیحہ احکام قانونی ہیں۔اس پر بھی جاری ہوں گے،جب تک وہ فرقہ متمیّز ومشہور نہ ہوجائے۔ خصوص جب تقیہ کا بھی شبہ ہو تو خواہ سوءِ ظن نہ کریں، مگر احتیاطاًعمل تو سوءِ ظن ہی ایسا (جیسا )ہوگا،البتہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا معاملہ وہ اس کے عقیدہ کے مطابق ہوگا۔ اگر کوئی ہندو توحید کا بھی قائل ہو او رسالت کا بھی، لیکن اپنے کو ہندو ہی کہتا ہو ،گو کچھ تأویل ہی کرتا ہو تو اس کے ساتھ آخر کیا معاملہ ہوگا؟ یہی حالت یہاں کی ہے ۔ضلع فتح پور میں ہندووں کی ایک جماعت ہے جو قرآن اور حدیث پڑھتے ہیں ،اور نماز روزہ کرتے ہیں ،مگر اپنے کو ہند و کہتے ہیں۔ لباس اور نام سب ہندو جیسا رکھتے ہیں۔ اور اگر وہ اپنے کو ہندو کہیں اور اپنا مشرب ظاہر نہ کریں تو کیا سامع کے ذمہ تفصیل واجب ہوگی کہ اگر ایسے عقیدہ کا ہے تو مسلمان ؟
تتمۃ السوال : آپ کو ہر معاملہ میں اپنا کچا چٹھا لکھ بھیجتا ہوں ،خدا کرے اس باب میں بھی آپ کا جواب بالصواب میرے حق میں ذریعہ تشفی ہو ۔
تتمۃ الجواب : تشفی کا ذمہ تو مشکل ہے، خصوصی اسی خشیت کا غلبہ خود مجھ پر بھی ہے، مگر حضرت جنید رحمہ اللہ نے لرزتے ہوئے ہاتھ سے حسین ابن منصور کے خلاف فتویٰ لکھا تھا محض حفاظت شرع کے لیے ۔ہم لوگ بھی انہی کے متبع ہیں اور راز اس کا وہی ہے کہ اس رعایت میں سادہ لوح مسلمانوں کی ہلاکت ہے۔‘‘ [امداد الفتایٰ ج ۴ ص ۵۸۴ تا ص۵۸۷ طبع دیوبند]
ویسے تو ہمارے تمام اکابر ہمیشہ دینی ودنیوی امور میں نہایت احتیاط سے کام لیتے ہیں لیکن حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے تقویٰ وطہارت سے ہر خاص وعام بخوبی واقف ہے، کہ امورِ دینیہ ودنیویہ میں کس قدر احتیاط ان کے پیش نظر رہتی ۔اس احتیاط کے باوجود حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے اس فرقہ کے متعلق جو رویہ اختیار کیا، وہ قارئین کے سامنے ہے۔ اس کے بعد اس فرقہ کے کفر میں کسی قسم کے شک وتردد کی گنجائش نہیں رہتی۔ 
[۱۹]شیعہ اور روافض کے بارہ میں دروس القرآن اور (حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ) کی دیگر کتب میں مذکور حوالجات کی روشنی میں برملا کہا جاسکتا ہے کہ جس فرد یا گروہ میں ایسے عقائد ونظریات پائے جاتے ہیں ان کو حضرت صوفی صاحب کافر، منافق، ملحد، بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج ہی سمجھتے ہیں، جیسا کہ ان کی پیش کردہ عبارات سے واضح ہے، البتہ بعض عبارات جن میں حضرت صوفی صاحب نے شیعہ کو مسلمان کہا، ان سے اشکال ہوتا ہے اور یہی بعض ساتھیوں کی پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔ اس لیے یہ ملحوظ رہے کہ حضرت صوفی صاحب نے شیعہ کو مسلمان کہا ہے اور اس سے مراد وہ شیعہ ہیں جن میں کفریہ عقائد نہ پائے جاتے ہوں ، اسی لیے جن میں کفریہ عقائد پائے جاتے ہیں ان کو حضرت صوفی صاحب نے ’’رافضی‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ (چنانچہ فرماتے ہیں خمینی انقلاب کے بعد وہ اپنے لٹریچر میں اپنے آپ کو اسلامی نمائندہ کے طور پر پیش کرتے ہیں حالانکہ وہ رافضی ہیں۔ (معالم العرفان ج۱۰ ص۸۸۴) اس لیے جہاں شیعہ کو مسلمان کہا گیا ہے اس سے وہ مراد ہیں جو روافض یعنی کفریہ عقائد والے نہ ہوں یا ان پر مسلمان کا اطلاق ظاہر کے اعتبار سے ہے جبکہ حقیقت کے اعتبار سے کفریہ عقائد والے شیعہ کافر ہی ہیں۔
نیز یہ عبارات اس وقت کی ہیں جب ابھی شیعہ کے عقائد پر مشتمل کتب منظر عام پر نہ آئی تھیں، مگر جب شیعہ کے خفیہ عقائد منظر عام پر آئے تو علماء کرام نے اپنے لچکدار نظریہ پر نظرِثانی کی اور شیعہ کو علی الاعلان کافر کہا۔ چنانچہ حضرت صوفی صاحب فرماتے ہیں کہ آج کے پریس کے زمانہ میں لوگ شیعوں کے اس قسم کے عقائد پڑھ کر حیران ہوتے ہیں۔ اب تک تو یہ حضرات اپنے بعض عقائد کو چھپاتے رہے ہیں، مگر اب ظاہر ہوئے تو معلوم ہوا کہ ان کے عقائد حق سے کسی قدر دور ہیں۔ (معالم العرفان ص ۳۰۲ ج ۱۵) [ملخص از رافضی کیا ہیں؟ افادات مولانا صوفی عبدالحمید سواتیؒ ، مرتب: مولانا عبدالقدوس خان قارن مدظلہ ص۲۸ تا ۳۱]
محترم بخاری صاحب! مذکورہ بالا حوالہ جات سے درج ذیل امور خوب واضح ہوجا تے ہیں:
[۱]جمہور اہل السنۃ والجماعۃ اکابرین دیوبند سبّ صحابہؓیا تکفیر صحابہؓ کے مرتکب، حضرت عائشہؓ پر افترا باندھنے والے اور انکار خلافت شیخین، تحریف قرآن، عقیدہ امامت، وغیرہ عقائد یا ان میں سے ایک عقیدہ رکھنے والے افراد وگروہ کوقطعی کافر، منافق، ملحد، بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں اور حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ ان اکابر سے اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں رکھتے تھے۔
[۲]شیعہ اثنا عشریہ کو بطور فرقہ خارج از اسلام قرار دیتے ہیں۔نیز پاکستان کے تمام شیعہ کافر ہیں۔
[۳]تکفیر شیعہ میں احتیاط برتنے والے اکابرین کے بارے مں یہ فرماتے ہیں کہ وہ شیعہ کے تقیہ کی وجہ سے ان کے عقائد سے کما حقہ واقف نہیں تھے۔ 
[۴] جو شیعہ اثنا عشریہ امامیہ کے عقائد سے پوری واقفیت کے باوجود ان کو مسلمان سمجھتا ہے، وہ خود کافر ہے۔
[۵]شیعہ پر فتویٰ کفر کے باوجود ان کو ’’کلمہ گو‘‘، ’’اسلامی فرقہ‘‘یا ’’مسلمان‘‘ کہنے کا یہ معنی ہے کہ وہ خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور اسلام کا نام لیتے ہیں،لیکن عقائد کے فساد کی وجہ سے وہ کافر ہی ہیں۔ 
[۶]روافض تبرا گو ہی ہوتے ہیں۔
[۷]تقیہ کی وجہ سے ان کے اپنی اصولی کتب میں مذکور عقائد سے ظاہری انکار کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔
[۸]ان کو مسلمان کہنے میں سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان کو شدید خطرہ لاحق ہے بلکہ ان کے لیے ہلاکت ہے۔
[۹] علی الاعلان تکفیر شیعہ جملہ اہل حق کا اسلامی اور قانونی حق ہے۔
[۱۰]حضرات صحابہ کرام کو بر ملا برا کہا جاتا ہو تو علما کا شرعی اور علمی فریضہ ہے کہ وہ باطل کی تردید کریں اور تبلیغ کا فریضہ ادا کریں، کیونکہ علما دین کے چوکیدار اور پہرہ دار ہیں۔ اگر علما خاموشی اختیار کریں گے تو وہ حدیث نبوی کے مطابق اللہ تعالیٰ اور تمام فرشتوں انسانوں کی لعنت کے مستحق ہوں گے۔ ’’تلک عشرۃ کاملۃ‘‘
حسین احمد مدنی
متعلم دارالعلوم مدنیہ
ماڈل ٹاؤن بی، بہاولپور

حالات و واقعات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

کراچی میں علما کی شہادت

کراچی ایک بار پھر علما کی قتل گاہ بن گیا ہے اور مولانا سعید احمد جلال پوریؒ اور مولانا عبد الغفور ندیمؒ کی اپنے بہت سے رفقا سمیت الم ناک شہادت نے پرانے زخموں کو پھر سے تازہ کر دیا ہے۔ خدا جانے یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا اور اس عفریت نے ابھی کتنے اور قیمتی لوگوں کی جان لینی ہے۔
مولانا سعید احمد جلال پوری شہید حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کے قافلے کے فرد تھے، ان کے تربیت یافتہ تھے اور انھی کی مسند پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ بڑی شخصیات کا خلا تو کبھی پورا نہیں ہوا کرتا، لیکن اگر ان کے مشن کا تسلسل جاری رہے اور خود ان کے تربیت یافتہ لوگ ان کے کام کو جاری رکھے ہوئے ہوں تو دلوں کو تسلی رہتی ہے اور خلا کا احساس کسی قدر کم ہو جاتا ہے۔ مولانا سعید احمد جلال پوری کو حضرت لدھیانوی کی مسند پر بیٹھا دیکھ کر کچھ اسی قسم کی کیفیت دل میں ابھرتی تھی اور خوشی کے ساتھ ان کے لیے دل سے دعائیں بھی اٹھتی تھیں۔ قادیانیت کے خلاف محاذ کو سرگرم رکھنے کے ساتھ ساتھ نئے ابھرنے والے فکری اور اعتقادی فتنوں کی نشان دہی اور ان کا تعاقب ان کے ذوق ومشن کا اہم حصہ تھا۔ کراچی میں اس محاذ کو جس طرح حضرت لدھیانوی اور ان کی راہ نمائی میں مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید اور مولانا سعید احمد جلال پوری نے منظم کر رکھا تھا اور ایک پورا حلقہ اپنے ساتھ جوڑا ہوا تھا، اسے دیکھ کر تسلی ہوتی تھی کہ حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کے ذوق کے لوگ ابھی موجود ہیں اور یہ محاذ خالی نہیں ہوا۔
مولانا عبد الغفور ندیم شہید کے ساتھ میرا کچھ زیادہ رابطہ نہیں تھا۔ شاید ایک آدھ دفعہ کہیں ملاقات ہوئی ہو، مگر اتنی بات کافی تھی کہ وہ مولاناحق نواز جھنگوی شہید کے قافلے کے رکن تھے اور ان کے مشن کو جاری رکھنے والے راہ نماؤں میں سے تھے۔ اس قافلے نے قربانیوں کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے اور ناموس صحابہ رضی اللہ عنہم کے تحفظ کے عنوان سے شہادتوں کی لائن لگا دی ہے۔ ان کے طریق کار سے اختلاف کے باوجود ان کا خلوص اور استقامت ہمیشہ مسلمہ رہی ہے۔
بہرحال مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا عبد الغفور ندیم اور ان کے رفقا کی شہادت پورے اہل دین کے لیے باعث صدمہ ہے اور دینی جدوجہد کے کسی بھی شعبے میں کام کرنے والوں کو اس سے دکھ پہنچا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کی قربانیاں قبول فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق ارزانی فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

مولانا محمد فیروز خان ثاقب کا انتقال

حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقب بھی انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ شاید فضلاے دیوبند میں سے ہمارے علاقے میں آخری بزرگ تھے۔ ابھی چند ماہ قبل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے سابق ناظم اور محکمہ اوقاف کے سابق ڈسٹرکٹ خطیب مولانا لالہ عبد العزیز سرگودھوی کا انتقال ہوا تو ان کے بعد ہم کہا کرتے تھے کہ اب دیوبند کی آخری نشانی ہمارے پاس حضرت مولانا محمد فیروز خان رہ گئے ہیں۔ وہ بھی ۹ مارچ کو ہم سے رخصت ہو گئے۔
ان کا تعلق آزاد کشمیر کی وادئ نیلم سے تھا۔ غالباً ۱۹۵۶ء میں دار العلوم دیوبند میں دورۂ حدیث کیا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی کے شاگرد تھے اور ان سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔ دار العلوم دیوبند سے فراغت کے بعد ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں آ گئے اور دار العلوم مدنیہ کے نام سے دینی ادارہ قائم کیا جو اب ضلع سیالکوٹ کے بڑے دینی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور قادیانی امت کے عالمی لیڈر چودھری ظفر اللہ خان کا تعلق بھی ڈسکہ سے تھا اور ان کا خاندان ایک عرصہ تک یہاں آباد رہا ہے۔ مولانا فیروز خان نے ظفر اللہ خان کی خاندانی حویلی کے سامنے ایک خالی جگہ پر ڈیرہ لگا لیا۔ مزاج میں جلال غالب تھا۔ متحرک اور فعال عالم دین تھے اور دینی حمیت وغیرت کا مجسمہ تھے، اس لیے خوب گہما گہمی رہی اور ’’اٹ کھڑکا‘‘ وقتاً فوقتاً ہوتا رہا۔ دار العلوم مدنیہ کے جلسے کا اسٹیج چودھری ظفر اللہ خان کی خاندانی حویلی کے سامنے ہوتا تھا، اس لیے اس اسٹیج پر احراری خطابت کی گھن گرج عجیب سماں پیداکرتی تھی۔
حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقب اعلیٰ پایے کے مدرس تھے، بالخصوص ادب اور معقولات میں چوٹی کے اساتذہ میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ دینی تحریکات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ خود ان کا اپنامزاج تحریکی تھا۔ جب تک صحت نے ساتھ دیا، دینی معاملات میں کسی نہ کسی حوالے سے پیش رفت کرتے رہتے تھے۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت، ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی، ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت اور ۱۹۸۷ء کی شریعت بل کی تحریک میں ہمارا ساتھ رہا۔ ان کا جوش وجذبہ اور عزم واستقلال دیکھ کر مایوس دلوں میں حوصلہ پیدا ہو جاتا تھا اور خاموش مزاج لوگوں کا بھی بولنے اور کچھ کر گزرنے کو جی چاہنے لگتا تھا۔ وہ بے باک اور دبنگ مقرر تھے۔ پبلک اجتماع ہو یا خصوصی محفل، کارکنوں کا اجلاس ہو یا اعلیٰ سطح کی شورائی میٹنگ، ہر جگہ وہ دو ٹوک اور بے لچک بات کرتے تھے۔ غیر ضروری مصلحتوں کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور جہاں ضرورت محسوس کرتے تھے، ڈٹ جاتے تھے۔ وہ قید وبند کی صعوبتوں سے کئی بار دوچار ہوئے، مگر ہر آزمائش سے سرخرو نکلے۔
والد محترم حضرت مولانا سرفراز خان صفدر اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کے ساتھ ان کا ہمیشہ قریبی تعلق رہا۔ مسلکی، جماعتی اور تعلیمی معاملات میں مشاورت وتعاون کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ تینوں فضلاے دیوبند تھے اور تینوں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگرد تھے۔ اس نسبت کا رابطہ الگ سے لطف دیتا تھا۔ میری ہمیشہ ان سے نیاز مندی رہی ہے اور میں نے ان سے نہ صرف بہت سے معاملات میں استفادہ کیا ہے بلکہ راہ نمائی بھی لی ہے۔ آج اس روایت ومزاج کے حضرات کم سے کم تر ہوتے جا رہے ہیں اور میں ذاتی طور پر اب زیادہ تنہائی محسوس کرنے لگا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلیٰ جگہ سے نوازیں اور ان کے فرزندوں اور اہل خاندان کو ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق دیں۔ آمین یا رب العالمین۔

مولانا شمس الحق مشتاقؒ کی وفات

گزشتہ دنوں اچھڑیاں، ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے ہمارے عزیز اور ساتھی مولانا شمس الحق مشتاق کابھی انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا شمس الحق مشتاق کے ایک بھائی مولانا قاری اسرار الحق بھی گزشتہ عید الفطر کو اچھڑیاں میں نماز عید کا خطبہ دیتے ہوئے وفات پا گئے تھے۔ ان کے والد محترم مولانا محمد معینؒ اچھڑیاں کے خطیب تھے اور جمعیت علماء اسلام کے متحرک راہ نماؤں میں سے تھے۔ مولانا شمس الحق مشتاق نے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تعلیم پائی اور پھر کراچی کو اپنی جماعتی اور دینی سرگرمیوں کی جولان گاہ بنا لیا۔ کچھ عرصہ پہلے تک وہ کراچی میں جمعیت علماء اسلام کے سرگرم حضرات میں شمار ہوتے تھے۔ چند سال قبل برطانیہ چلے گئے جہاں وہ برمنگھم کی ایک مسجد میں خطابت کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔ جماعتی سرگرمیاں وہاں بھی ان کے ساتھ رہیں، جمعیت علماء برطانیہ میں متحرک رہے اور اس میں اپنا ایک گروپ تشکیل دے کر اس کی امارت کے منصب پر فائز تھے۔ 
گزشتہ سال میری برطانیہ حاضری کے موقع پر انھوں نے اپنے سفر فلسطین کی تفصیلی روداد سنائی کہ جب غزہ کا محاصرہ کیا گیا اور اسرائیل نے اس مظلوم شہر کا رابطہ پوری دنیا سے منقطع کر دیا تو برطانیہ سے علماے کرام اور سماجی کارکنوں کا ایک بھرپور قافلہ امدادی سامان لے کر بذریعہ سڑک فلسطین پہنچا اور غزہ میں محصور فلسطینی بھائیوں کی امداد کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار بھی کیا۔ اس قافلہ کے راہ نماؤں میں مولانا شمس الحق مشتاق بھی تھے۔ انھوں نے اپنے سفر کی خاصی تفصیلات بیان کیں جن کے میں نے نوٹس بھی لیے۔ خیال تھا کہ یہ ساری روداد قارئین کو بتاؤں گا مگر وہ نوٹس کہیں ادھر ادھر ہو گئے اور میرے ذہن سے بھی بات نکل گئی۔
مولانا مشتاق کچھ دنوں سے بیمار تھے۔ چند دن کراچی میں علاج ہوتا رہا، پھر اسلام آباد آ گئے اور ۱۲؍۱۳ مارچ کی درمیانی شب کو ان کا انتقال ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

الشریعہ اکادمی میں سیرت النبیؐ کے حوالے سے مختصر تقریب

ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں یکم مارچ بروز پیر کو جناب عثمان عمر ہاشمی کی زیر صدارت سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان سے ایک مختصر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں عوام الناس کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں خصوصی خطاب مولانا عبدالواحد رسول نگری نے فرمایا جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما اور ممبر قومی اسمبلی جناب عثمان ابراہیم مدعو تھے۔ مولانا عبدالواحد رسول نگری نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس اور تقاریب کا انعقاد، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی سن اور سنا کر آپ سے محبت اور عقید ت کا اظہارکیاجاتا ہے، ایک خوش آئندہ بات ہے جونسل نو کی تربیت کے لیے بہت موثر ہے، لیکن ان تقاریب میں جہاں عشق ومحبت کا اظہارہوتا ہے، وہاں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بھی اجاگر کرنا چاہیے تاکہ سننے والوں میں معاشرتی فلاح وبہبود کے لیے کام کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ 
جناب عثمان ابراہیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ عصر حاضر میں ہمیں جو مسائل درپیش ہیں، خواہ وہ امن عامہ کے حوالے سے ہوں یا معاشرتی ومعاشی نا ہمواری کے پہلو سے، ان کا حل ہر سطح پر اسوۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا ہونے میں ہی ہے اور آج ہمیں جن ناموافق حالات کا سامنا ہے، وہ اسی صورت میں سازگار بن سکتے ہیں جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کو مشعل راہ نا کر اپنی نجی، قومی اور بین الاقوامی زندگی کی تعمیر کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں علماے کرام کا کردار بہت اہم ہے، کیونکہ ہم سیاسی لوگ اگر کوئی بات کہیں گے تو وہ لوگوں پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوگی اور لوگ اسے سیاسی مفاد کے حصول کی کوشش ہی سمجھیں گے، لیکن اگر علماے کرام بات کریں گے تو لوگ توجہ سے سنیں گے بھی اور عمل پر بھی آمادہ ہوں گے۔
اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کہا جناب عثمان ابراہیم ہماے پرانے دوست اور ساتھی ہیں اور میں اس تقریب میں تشریف آوری پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

مولانا عبد الحفیظ مکی مدظلہ کی تشریف آوری

عالم اسلام کی معروف شخصیت اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا ؒ کے خلیفہ مجاز مولانا عبدالحفیظ مکی دامت برکاتہم ۲۱؍ مارچ بروز اتوار بعد از نماز مغرب الشریعہ اکادمی میں تشریف لائے اور حاضرین سے مختصر خطاب فرمایا۔ انھوں نے کہا کہ عام طور پر لوگوں پر ما یوسی چھائی ہوئی ہے اور ہر شخص یہ کہتا ہے کہ کیا بنے گا حالانکہ اگر آج سے ۷۰سال پیچھے دیکھا جائے تو اس وقت سارے اسلامی ملک غلام تھے ،کوئی آزاد نہیں تھا۔ جتنی بھی تحریکیں اس وقت چلیں وہ ساری کی ساری آزادی کی تحریکیں تھیں۔ اب تو پچاس سے زائد اسلامی ملک آزاد ہیں اور افغانستان کے مبارک جہاد کی برکت سے سوویت یونین کو اللہ نے توڑا اور سات اسلامی ملک اس میں سے آزاد ہوئے۔ ان میں سے ہر ملک کا آزادی سے پہلے حال یہ تھا کہ وہاں اگر کسی کے گھر سے قرآ ن کریم کا ایک ورق مل جاتا تو یہ سارے خاندان کے جیل جانے کے لیے کا فی تھا اور اب حالت یہ ہے کہ قرآن کریم انھیں ملکوں کے پریسوں سے چھپ رہے ہیں اور ہزاروں مسجدیں ایک رات میں کھل گئیں۔ 
مولانا مکی نے کہا کہ اس وقت ایک معرکہ برپا ہے۔ ہم نظریاتی سطح پر بھی اور مسلح طور پر بھی لڑ رہے ہیں اور نظر آ رہا ہے کہ کفر ٹوٹ رہا ہے۔ سوویت یونین ٹوٹ چکا ہے اور امریکہ عنقریب ٹوٹنے والا ہے۔ امریکہ کی چھ ریاستوں نے باقاعدہ اپنے وفاق کو یہ درخواست دے دی ہے کہ ہمیں الگ کیا جائے ، ہم وفاق کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ یورپ اور امریکہ میں گرجے بک بک کر مسجدیں بن رہی ہیں اور مدارس قائم ہو رہے ہیں۔ جب پرویز مشرف نے امریکی ایما پر پاکستان میں بیرونی طلبہ پر پابندی لگا دی تو امریکہ و یورپ میں موجود مدارس میں دینی تعلیم کو فرو غ حاصل ہوا۔ اس سے پہلے امریکہ کے مدارس میں صرف درجہ سادسہ تک تعلیم ہوتی تھی، اس کے وہ طلبہ کو ہندوستان، پاکستان یا بنگلہ دیش بھیج دیتے تے۔ پرویز مشرف کے اس اقدام کے بعد وہاں کے لوگوں نے سادسہ سے آگے کے درجات کی تعلیم بھی وہیں دینے کا فیصلہ کر لیا اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکہ میں تقریباً ۲۴ مقامات پر دورۂ حدیث کا باقاعدہ درس ہوتا ہے ۔
مولانا مکی نے کہا کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے ، بلکہ حق و باطل کے درمیان برپا اس معرکے میں ہمت اور حوصلہ مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دینے کی تیاری کرنی چاہیے اور اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے کہ وہ اس شر میں سے ہمارے لیے ضرور خیر پیدا فرمائے گا۔

سانحہ فیصل آباد کی عدالتی تحقیقات کی ضرورت

پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ ۱۲؍ ربیع الاول کو غلام محمد آباد میں پیش آنے والا سانحہ اور ملک کے نامور عالم دین مولانا ضیاء القاسمی مرحوم کے گھر کو جلانے کا واقعہ کسی گہری منصوبہ بندی کا حصہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے اور دینی حلقوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنا تھا تاہم فیصل آباد کے علما اور عوام نے اس الم ناک سانحہ پر صبر وتحمل کا مظاہرہ کر کے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف خود اپنی پوزیشن صاف کرنے کے لیے سانحہ کی جوڈیشل انکوائری کرائیں کیونکہ مذہبی حلقوں میں ان کے متعلق بھی تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے مولانا ضیاء القاسمی کے گھر کے دورے کے دوران مولانا زاہد محمود قاسمی اور مولانا خالد محمود قاسمی سے ملاقات کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر مولانا جمیل الرحمن اختر، مولانا محمد عبدالرزاق اور حافظ محمد ریاض چشتی قادری بھی موجود تھے۔